سَبْعَ عَشْرَةَ، وَحِينَ يُمْسِي عَشْرًا"۔
(طبرانی)
[449]
[6233]
درود پڑھیں تو یہ فوائد و ثمرات ملیں گے نہ پڑھیں تو ہماری مرضی بلکہ یہ معاملہ ایسا نہیں ہے۔ یہ صرف حب مصطفیٰ ﷺ کا تقاضا ہی نہیں بلکہ نبی اکرم ﷺ کا حق ہے اور یہ حق ادا نہ کرنے والوں کو سخت وعید بھی سنائی گئی ہے، جیسا کہ درج ذیل احادیث میں مروی ہے۔
فضل الصلوة على النبي ﷺ [حدیث: 11]
مشكاة مع تحقيق الألباني، رقم الحديث (925)
امام تقی الدین علی السُّبکی
کی عظیم کتاب
السيف المسلول على من سب الرسول
کا ترجمہ
اسلام اور احترامِ نبوت
٭
از
مفتی محمد جان قادری
کاروانِ اسلام پبلیکیشنز
نْ يُصْبِحَ عَشْرًا، وَ حِيْنَ يُمْسِيَ عَشْرًا، الْقِيَامَةِ ) [484] يث [6233]
کہ پڑھیں تو یہ فوائد و ثمرات ملیں گے نہ پڑھیں تو ہماری مرضی بلکہ یہ معاملہ نہیں ہے۔ یہ صرف حب مصطفی ﷺ کا تقاضا ہی نہیں بلکہ نبی اکرم ﷺ کا حق بھی ہے اور یہ حق ادا نہ کرنے والوں کو سخت وعید بھی سنائی گئی ہے، جیسا کہ یہ ذیل احادیث میں مروی ہے۔ فضل الصلوۃ علی النبی ﷺ [حدیث: 11] مشکاۃ مع تحقیق الألبانی، رقم الحدیث (925)
﴿جملہ حقوق محفوظ ہیں﴾
نام کتاب ۔۔۔۔۔۔۔ السیف المسلول علی من سب الرسول ﷺ مصنف ۔۔۔۔۔۔۔۔ امام تقی الدین علی السبکیؒ (۷۵۶ھ) اردو نام ۔۔۔۔۔۔۔۔ اسلام اور احترام نبوت ﷺ مترجم ۔۔۔۔۔۔۔۔ مفتی محمد خان قادری اہتمام ۔۔۔۔۔۔۔۔ محمد فاروق قادری ناشر ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کاروان اسلام اشاعت اوّل ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۲۰۰۶ء قیمت ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۲۰۰
ملنے کے پتے
- ٭ ضیاء القرآن پبلی کیشنز، لاہور / کراچی
- ٭ مکتبہ غوثیہ سبزی منڈی کراچی
- ٭ مکتبہ رضویہ دربار مارکیٹ لاہور
- ٭ مکتبہ اعلیٰ حضرت دربار مارکیٹ لاہور
- ٭ مسلم کتابوی گنج بخش روڈ لاہور
- ٭ زاویہ کتب خانہ دربار مارکیٹ لاہور
- ٭ نوری کتب خانہ دربار مارکیٹ لاہور
- ٭ روحانی کتب خانہ دربار مارکیٹ لاہور
- ٭ مکتبہ تنظیم المدارس لوہاری گیٹ لاہور
- ٭ فرید بک سٹال اردو بازار لاہور
- ٭ احمد بک کارپوریشن راولپنڈی
- ٭ اسلامک بک کارپوریشن راولپنڈی
- ٭ قادری رضوی کتب خانہ لاہور
- ٭ مکتبہ جمال کرم دربار مارکیٹ لاہور
- ٭ سنی کتب خانہ دربار مارکیٹ لاہور
- ٭ مکتبہ نوریہ رضویہ گنج بخش روڈ لاہور
- ٭ مکتبہ نبویہ گنج بخش روڈ لاہور
- ٭ مکتبہ نفیسیہ گڑھی شاہو لاہور
کاروان اسلام پبلیکیشنز
جامعہ اسلامیہ لاہور، ایچ سن ہاؤسنگ سوسائٹی (ٹھوکر نیاز بیگ) لاہور 0300,4407048/042,7580004,5300353,4
جس
حسن ترتیب
انتساب ابتدائیہ حمد وصلاۃ کے بعد آپ کی تعظیم ونصرت، فرض یہ چیزیں حرام کیں وجہ تصنیف کتاب کتاب کی ترتیب
باب اوّل
فصل اوّل
مسئلہ اولیٰ، علماء کی تصریحات اور کتاب وسنت کے دلائل سنت سے دلائل ضابطہء اذیت عبداللہ بن سعد ابی سرح کا واقعہ مرتد پر توبہ گستاخی کا جرم، ارتداد سے بڑھ کر اہل علم کا اختلاف
ن يُصْبِحَ عَشْرًا، وَ حِيْنَ يُمْسِيَ عَشْرًا، الْقِيَامَةِ ) [484] حدیث 6233]
کہ پڑھیں تو یہ فوائد و ثمرات ملیں گے نہ پڑھیں تو ہماری مرضی بلکہ یہ معاملہ ایسا نہیں ہے۔ یہ صرف حب مصطفیٰ ﷺ کا تقاضا ہی نہیں بلکہ نبی اکرم ﷺ کا حق بھی ہے اور یہ حق ادا نہ کرنے والوں کو سخت وعید بھی سنائی گئی ہے، جیسا کہ درج ذیل احادیث میں مروی ہے۔ فضل الصلوۃ علیٰ النبی ﷺ [حدیث: 11] مشکاۃ مع تحقیق الألبانی، رقم الحدیث (925)
ب سب الرسول ﷺ (۷۵۶ھ)
حسن ترتیب ۳
حسن ترتیب
انتساب ۱۷ ابتدائیہ ۱۹ حمد و صلاۃ کے بعد ۵۱ آپ کی تعظیم و نصرت، فرض ۵۲ یہ چیزیں حرام کیں ۵۵ وجہ تصنیف کتاب ۵۷ کتاب کی ترتیب ۵۹ باب اوّل ۶۱ فصل اوّل ۶۳ مسئلہ اولیٰ، علماء کی تصریحات اور دلائل ۶۵ کتاب و سنت کے دلائل ۷۵ سنت سے دلائل ۷۹ ضابطۂ اذیت ۸۰ عبداللہ بن سعد ابی سرح کا واقعہ ۸۲ مرتد پر توبہ ۸۴ گستاخی کا جرم، ارتداد سے بڑھ کر ۸۵ اہل علم کا اختلاف ۸۶
نگ) لاہور 030
مَنْ يُصْبِحُ عَشْرًا، وَ حِيْنَ يُمْسِيْ عَشْرًا، الْقِيَامَةِ) [484] حدیث [6233]
کہ پڑھیں تو یہ فوائد و ثمرات ملیں گے نہ پڑھیں تو ہماری مرضی بلکہ یہ معاملہ نا ضمیر ہے۔ یہ صرف حب مصطفیٰ ﷺ کا تقاضا ہی نہیں بلکہ نبی اکرم ﷺ کا حق بھی ہے اور یہ حق ادا نہ کرنے والوں کو سخت وعید بھی سنائی گئی ہے، جیسا کہ کچھ ذیل احادیث میں مروی ہے۔ فضل الصلاة على النبي ﷺ [حديث: 11] مشكاة مع تحقيق الألباني، رقم الحديث (925)
حسن ترتیب حسن ترتیب سند پر گفتگو ۸۸ بعد کے حکمرانوں کا عمل قیاسی دلیل ۸۹ آپ کے ترک کی حکمت مسئلہ ثانیہ ۹۱ سقوط پر دلائل قتل گستاخ کا سبب کفر یا حد؟ ۹۱ قتل کی دو علتیں حد کی تعریف ۹۴ مصنف کی دعا اہم فائدہ ۹۵ خاص و الگ مقام فصل ثانی ۱۰۱ اختلاف کی بنیاد مسئلہ اولیٰ، گستاخ کی قبول توبہ ۱۰۳ شوافع اور احناف کا موقف دومسلک ۱۰۹ استدلال کا جواب امام شافعی کا مشہور مذہب ۱۱۱ وجہ ثالث قبول توبہ پر دلائل ۱۱۶ صحیح ماخذ احادیث مبارکہ ۱۱۷ مصنف کی دعا مراتب کفر تین ہیں ۱۲۱ خاتمہ لطیف حکمت ۱۲۸ مسئلہ ثانیہ اہم فائدہ ۱۲۸ گستاخ سے توبہ کا مطالبہ اگر ثابت ہو جائے ۱۳۳ مدت توبہ آیت محاربہ اور گستاخ ۱۳۴ دوران مدت اس کے ساتھ طرز عمل سائل کی دلیل ۱۳۷ قول اوّل ، توبہ کا مطالبہ لازم
نْ يُصْبِحُ عَشْرًا، وَ حِيْنَ يُمْسِي عَشْرًا، لْقِيَامَةِ ) [484] ديث [6233]
کہ پڑھیں تو یہ فوائد و ثمرات ملیں گے نہ پڑھیں تو ہماری مرضی بلکہ یہ معاملہ گھمبیر ہے۔ یہ صرف حب مصطفی ﷺ کا تقاضا ہی نہیں بلکہ نبی اکرم ﷺ بھی ہے اور یہ حق ادا نہ کرنے والوں کو سخت وعید بھی سنائی گئی ہے، جیسا کہ ذیل احادیث میں مروی ہے۔ فضل الصلاة على النبي ﷺ [حديث: 11] مشكاة مع تحقيق الألباني، رقم الحديث (925)
۴ ۸۸ ۸۹ ۹۱ ۹۱ ۹۴ ۹۵ ۱۰۱ ۱۰۳ ۱۰۹ ۱۱۱ ۱۱۶ ۱۱۷ ۱۲۱ ۱۲۸ ۱۲۸ ۱۳۳ ۱۳۴ ۱۳۷
حسن ترتیب بعد کے حکمرانوں کا عمل ۱۳۹ آپ کے ترک کی حکمت ۱۳۹ سقوط پر دلائل ۱۴۰ قتل کی دو علتیں ۱۴۴ مصنف کی دعا ۱۴۵ خاص و الگ مقام ۱۴۶ اختلاف کی بنیاد ۱۴۷ شوافع اور احناف کا موقف ۱۴۷ استدلال کا جواب ۱۴۸ وجہ ثالث ۱۴۹ صحیح ماخذ ۱۴۹ مصنف کی دعا ۱۵۱ خاتمہ ۱۵۳ مسئلہ ثانیہ ۱۵۵ گستاخ سے توبہ کا مطالبہ ۱۵۵ مدت توبہ ۱۵۸ دورانِ مدت اس کے ساتھ طرز عمل ۱۵۹ قولِ اوّل، توبہ کا مطالبہ لازم ۱۶۱
مَنْ يُصْبِحُ عَشْرًا، وَ حِيْنَ يُمْسِي عَشْرًا، الْقِيَامَةِ )
[484] الحديث [6233]
کہ پڑھیں تو یہ فوائد وثمرات ملیں گے نہ پڑھیں تو ہماری مرضی بلکہ یہ معاملہ ہمہ گیر ہے۔ یہ صرف حب مصطفیٰ ﷺ کا تقاضا ہی نہیں بلکہ نبی اکرم ﷺ کا حق بھی ہے اور یہ حق ادا نہ کرنے والوں کو سخت وعید بھی سنائی گئی ہے، جیسا کہ مندرجہ ذیل احادیث میں مروی ہے۔ فضل الصلاة على النبي ﷺ [حديث: 11] مشكاة مع تحقيق الألباني، رقم الحديث (925)
حسن ترتیب حسن ترتیب اس قول کے دلائل ١٦١ امام فورانی کا کلام قول ثانی، توبہ کا مطالبہ مستحب ١٦٣ امام غزالی کا کلام دوران مہلت گرفتاری ١٦٤ فصل ثانی عدم طلب توبہ پر دلیل ١٦٤ نقض عہد پر اہل علم کی گفتگو طلب توبہ کے بغیر ١٦٦ حدیث کی توجیہ حکم گستاخ مرتد ١٦٧ ضروری تمہیدی مقدمہ باب ثانی ١٧١ عقد نہیں ٹوٹتا ذمی گستاخ کا حکم ١٧١ عقد قطعاً ٹوٹ جاتا ہے فصل اوّل ١٧٣ طریق اوّل حکم قتل اور اہل علم کی تصریحات ١٧٣ طریق ثانی حنابلہ کے فتاویٰ ١٧٧ طریق ثالث شوافع کے فتاویٰ ١٧٨ ان کی طرف سے جواب عبارت میں مقصودی مقام ١٨٦ شیخ ابن رفعہ کا قول اگر چوتھی صورت مراد نہیں ١٨٧ اب سنیے تین وجوہ سے درست نہیں ١٨٨ لیکن ہم کہتے ہیں یہ دونوں پہلے مسلمان تھے ١٩٠ دو طریقے امام رافعی کی گفتگو ١٩١ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے شرائط شیخ رویانی کی گفتگو ١٩٢ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی تحریر
يْنَ يُصْبِحُ عَشْرًا، وَ حِيْنَ يُمْسِي عَشْرًا، الْقِيَامَةِ )
[484]
حديث 6233]
کہ پڑھیں تو یہ فوائد وثمرات ملیں گے نہ پڑھیں تو ہماری مرضی بلکہ یہ معاملہ ضمیر ہے۔ یہ صرف حب مصطفی ﷺ کا تقاضا ہی نہیں بلکہ نبی اکرم ﷺ کا حق بھی ہے اور یہ حق ادا نہ کرنے والوں کو سخت وعید بھی سنائی گئی ہے، جیسا کہ ذیل احادیث میں مروی ہے۔ فضل الصلوة على النبي ﷺ [حديث: 11] شكاة مع تحقيق الألباني، رقم الحديث (925)
۶ ۱۶۱ ۱۶۳ ۱۶۴ ۱۶۴ ۱۶۶ ۱۶۷ ۱۷۱ ۱۷۱ ۱۷۳ ۱۷۳ ۱۷۷ ۱۷۸ ۱۸۶ ۱۸۷ ۱۸۸ ۱۹۰ ۱۹۱ ۱۹۲
حسن ترتیب
امام فورانی کا کلام ۱۹۴ امام غزالی کا کلام ۱۹۴ فصل ثانی ۱۹۷ نقض عہد پر اہل علم کی گفتگو ۱۹۷ حدیث کی توجیہ ۲۰۰ ضروری تمہیدی مقدمہ ۲۰۱ عقد نہیں ٹوٹتا ۲۰۱ عقد قطعاً ٹوٹ جاتا ہے ۲۰۲ طریق اوّل ۲۰۲ طریق ثانی ۲۰۳ طریق ثالث ۲۰۳ ان کی طرف سے جواب ۲۰۹ شیخ ابن رفعہ کا قول ۲۱۰ اب سنیے ۲۱۰ لیکن ہم کہتے ہیں ۲۱۰ دو طریقے ۲۱۲ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے شرائط ۲۱۴ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی تحریر ۲۱۵
مَنْ يُصْبِحُ عَشْرًا، وَ حِيْنَ يُمْسِيْ عَشْرًا، الْقِيَامَةِ ) ث [484] حدیث [6233]
کہ پڑھیں تو یہ فوائد وثمرات ملیں گے نہ پڑھیں تو ہماری مرضی بلکہ یہ معاملہ ناگزیر ہے۔ یہ صرف حب مصطفیٰ ﷺ کا تقاضا ہی نہیں بلکہ نبی اکرم ﷺ کا حق بھی ہے اور یہ حق ادا نہ کرنے والوں کو سخت وعید بھی سنائی گئی ہے، جیسا کہ درج ذیل احادیث میں مروی ہے۔ فضل الصلاة على النبيﷺ [حديث: 11] مشكاة مع تحقيق الألباني، رقم الحديث (925)
حسن ترتیب
نقض عہد پر دلیل ۲۱۸ فصل ثالث ۲۲۱ خواہ نقض عہد ہو یا عدم نقض اس سے عدم قتل لازم نہیں فصل رابع ۲۲۷ گستاخ ذمی کی سزا قتل پر دلائل ۲۲۷ اس پر چودہ دلائل ۲۲۹
- ۱۔ دلیل اوّل، واقعہ کعب بن اشرف ۲۲۹
خصوصی معاہدہ ۲۳۲ بعض مفسرین کی رائے ۲۳۳ بعض فقہاء کا مغالطہ ۲۳۷ یہ کہنا غلط ہے ۲۳۹ وجوہ استدلال ۲۴۰ دونوں میں فرق ۲۴۱ بعض کی رائے ۲۴۲ صلح کا نقض ۲۴۲ ایک معاملہ ۲۴۴ تین احتمالات ۲۴۵ اس پر دلائل ۲۴۲
حسن ترتیب
ایک اہم نکتہ ابن تیمیہ کا رد ابن تیمیہ کا تصرف حد بندی محل نظر ذمہ کا معنیٰ
- ۲۔ دلیل ثانی، یہودی ابو رافع بن ابی الحقیق کا قتل
- ۳۔ دلیل ثالث، یہودی ابو عفک کا قتل
- ۴۔ دلیل رابع، واقعہ انس بن زنیم دیلی
- ۵۔ دلیل خامس
سماع شعبی از سیدنا علی رضی اللہ عنہ فساد پر دلیل عمال کے نام خط
- ۶۔ دلیل سادس
لفظ مغول کی تحقیق
- ۷۔ دلیل سابع، عصماء بنت مروان یہودیہ کا قتل
- ۸۔ دلیل ثامن
- ۹۔ دلیل تاسع
- ۱۰۔ دلیل عاشر
مَنْ يُصْبِحُ عَشْرًا، وَ حِيْنَ يُمْسِيْ عَشْرًا، الْقِيَامَةِ )
[484]
...ديث [6233]
کہ پڑھیں تو یہ فوائد و ثمرات ملیں گے نہ پڑھیں تو ہماری مرضی بلکہ یہ معاملہ ... تعبیر ہے۔ یہ صرف حب مصطفیٰ ﷺ کا تقاضا ہی نہیں بلکہ نبی اکرم ﷺ کا حق ہے اور یہ حق ادا نہ کرنے والوں کو سخت وعید بھی سنائی گئی ہے، جیسا کہ مندرجہ ذیل احادیث میں مروی ہے۔
فضل الصلوة على النبي ﷺ [حدیث: 11] مشكاة مع تحقيق الألباني، رقم الحديث (925)
۸
حسن ترتیب
۲۱۸ ایک اہم نکتہ ۲۲۱ ابن تیمیہ کا رد ۲۲۱ ابن تیمیہ کا تصرف ۲۲۷ حدبندی محل نظر ۲۲۷ ذمہ کا معنیٰ ۲۲۹ ۲۔ دلیل ثانی، یہودی ابو رافع بن ابی الحقیق کا قتل ۲۲۹ ۳۔ دلیل ثالث، یہودی ابو عفک کا قتل ۲۳۲ ۴۔ دلیل رابع، واقعہ انس بن زنیم دیلی ۲۳۳ ۵۔ دلیل خامس ۲۳۷ سماع شعبی از سیدنا علی رضی اللہ عنہ ۲۳۹ فساد پر دلیل ۲۴۰ عمال کے نام خط ۲۴۱ ۶۔ دلیل سادس ۲۴۲ لفظ مغول کی تحقیق ۲۴۲ ۷۔ دلیل سابع، عصماء بنت مروان یہودیہ کا واقعہ ۲۴۴ ۸۔ دلیل ثامن ۲۴۵ ۹۔ دلیل تاسع ۲۴۲ ۱۰۔ دلیل عاشر
۹ ۲۴۷ ۲۴۹ ۲۵۰ ۲۵۲ ۲۵۲ ۲۵۵ ۲۵۶ ۲۵۷ ۲۶۰ ۲۶۰ ۲۶۲ ۲۶۳ ۲۶۶ ۲۶۸ ۲۶۸ ۲۷۳ ۲۷۴ ۲۷۵
حِيْنَ يُصْبِحُ عَشْرًا، وَ حِيْنَ يُمْسِي عَشْرًا، مِ الْقِيَامَةِ ) یث [484] الحدیث [6233]
سا کہ پڑھیں تو یہ فوائد و ثمرات ملیں گے نہ پڑھیں تو ہماری مرضی بلکہ یہ معاملہ کی تحقیر ہے۔ یہ صرف حب مصطفیٰ ﷺ کا تقاضا ہی نہیں بلکہ نبی اکرم ﷺ ق بھی ہے اور یہ حق ادا نہ کرنے والوں کو سخت وعید بھی سنائی گئی ہے، جیسا کہ چہ ذیل احادیث میں مروی ہے۔ فضل الصلوٰۃ علی النبی ﷺ [حدیث: 11] مشکاۃ مع تحقیق الألباني، رقم الحدیث (925)
حسن ترتیب ۱۱۔ دلیل حادی عاشر، صحابہ کا عمل ۲۷۵ ۱۲ دلیل ثانی عشر ۲۷۸ ۱۳۔ دلیل ثالث عشر ۲۷۸ ۱۴۔ دلیل رابع عشر ۲۷۸ چند اعتراضات کی حقیقت ۲۸۱ دو تنبیہات ۲۸۷ فائدہ ۲۸۷ پانچویں فصل ۲۹۱ کفر پر رہتے ہوئے ذمی کی توبہ صحیح نہیں ۲۹۱ دارالحرب واپس کرنے کا قول ضعیف ہے ۲۹۷ چھٹی فصل ۳۰۱ اگر ذمی اسلام قبول کر لے ۳۰۱ اہم نوٹ ۳۰۴ چند اہم امور ۳۰۵ اہم فائدہ ۳۰۶ ابن تیمیہ کا تذکرہ ۳۰۷ شیخ ابن دقیق العید (۶۲۵ : ۷۰۲) کا فتویٰ ۳۰۷ ضمیمہ متصل ۳۰۹
حسن ترتیب خاتمہ اس پر دلیل ساتویں فصل آٹھویں فصل باب ثالث مسلمانوں اور کفار کے الفاظ سب کا بیان اس میں دو فصول ہیں فصل اوّل، مسلمانوں سے سبّ فصل ثانی، کفار سے سبّ فصل اوّل الفاظ تنقیص حضور علیہ السلام کی کسی چیز کی اہانت کا حکم برے الفاظ سے تشبیہ دینے والے کی سزا صریح الفاظ میں تاویل کی اجازت نہیں اپنے بچاؤ کے لئے حضور پر طعن کی سزا فقہائے اندلس اور طلیطلی اہانت نبی اور کتاب وسنت امام الحرمین کا جواب
مَنْ يُصْبِحُ عَشْرًا، وَ حِيْنَ يُمْسِي عَشْرًا، الْقِيَامَةِ )
ف [484]
حدیث [6233]
۱۰ ۲۷۵ ۲۷۸ ۲۷۸ ۲۷۸ ۲۸۱ ۲۸۷ ۲۸۷ ۲۹۱ ۲۹۱ ۲۹۷ ۳۰۱ ۳۰۱ ۳۰۴ ۳۰۵ ۳۰۶ ۳۰۷ ۳۰۷ ۳۰۹
کہ پڑھیں تو یہ فوائد و ثمرات ملیں گے نہ پڑھیں تو ہماری مرضی بلکہ یہ معاملہ ناسمجھی ہے۔ یہ صرف حب مصطفیٰ ﷺ کا تقاضا ہی نہیں بلکہ نبی اکرم ﷺ کا بھی ہے اور یہ حق ادا نہ کرنے والوں کو سخت وعید بھی سنائی گئی ہے، جیسا کہ مندرجہ ذیل احادیث میں مروی ہے۔
فضل الصلوۃ علی النبی ﷺ [حدیث: 11]
مشکاة مع تحقيق الألباني، رقم الحدیث (925)
حسن ترتیب ۳۱۳ خاتمہ ۳۱۳ اس پر دلیل ۳۱۵ ساتویں فصل ۳۱۶ آٹھویں فصل ۳۱۹ باب ثالث ۳۱۹ مسلمانوں اور کفار کے الفاظ سب کا بیان ۳۱۹ اس میں دو فصول ہیں ۳۱۹ فصل اوّل، مسلمانوں سے سبّ ۳۱۹ فصل ثانی، کفار سے سبّ ۳۲۱ فصل اوّل ۳۲۱ الفاظ تنقیص ۳۲۲ حضور علیہ السلام کی کسی چیز کی اہانت کا حکم ۳۲۲ برے الفاظ سے تشبیہ دینے والے کی سزا ۳۲۳ صریح الفاظ میں تاویل کی اجازت نہیں ۳۲۴ اپنے بچاؤ کے لئے حضور پر طعن کی سزا ۳۲۴ فقہائے اندلس اور طلیطلی ۳۲۵ اہانت نبی اور کتاب وسنت ۳۲۶ امام الحرمین کا جواب
يُصْبِحُ عَشْرًا، وَ حِيْنَ يُمْسِي عَشْرًا، الْقِيَامَةِ ) حدیث [484] حدیث [6233]
کہ پڑھیں تو یہ فوائد وثمرات ملیں گے نہ پڑھیں تو ہماری مرضی بلکہ یہ معاملہ گمبھیر ہے۔ یہ صرف حب مصطفیٰ ﷺ کا تقاضا ہی نہیں بلکہ نبی اکرم ﷺ کا بھی ہے اور یہ حق ادا نہ کرنے والوں کو سخت وعید بھی سنائی گئی ہے، جیسا کہ چند ذیل احادیث میں مروی ہے۔
فضل الصلاة على النبي ﷺ [حديث: 11] مشكاة مع تحقيق الألباني، رقم الحديث (925)
حسن ترتیب کفر کی دو اقسام ۳۲۸ حضرت فاروق اعظم کا عمل ۳۲۸ الفاظ سب ۳۲۹ فرع، آپ کی والدہ اور سب ۳۲۹ فرع، سیدہ عائشہ اور سب ۳۳۰ فرع، دیگر ازواج مطہرات اور سب ۳۳۱ قول اوّل ۳۳۱ قول ثانی ۳۳۱ فرع، دیگر صحابہ کی گستاخی ۳۳۳ زبان کاٹ دوں ۳۳۶ فرع، حضور کی طرف جھوٹ منسوب کرنا ۳۳۶ فصل ثانی، کفار کا سب ۳۳۷ اعتقادا اور غیر کا فرق ۳۴۰ جزئیات کا تذکرہ ۳۴۰ گستاخی کی اقسام ۳۴۱ فرع، گستاخ کی وراثت ۳۴۲ میراث زندیق ۳۴۳ باب رابع ۳۴۵
حسن ترتیب مقام مصطفیٰ ﷺ اور آپ کے ہم پر ال اس کی چار اقسام ۱۔ اللہ تعالیٰ کے ہاں حضور ﷺ کی عظم ۲۔ حضور ﷺ تمام محاسن اور کمالات ۳۔ احادیث مبارکہ اور اللہ تعالیٰ نے ۴۔ آپ ﷺ کے ہاتھوں آیات و فصل اوّل فصل ثانی آپ ﷺ خُلق اور خلق میں تمام محا آپ ﷺ کا سراپا اقدس وقت کی تقسیم اہل مجلس کا ادب آپ ﷺ کا سکوت مبارک حکماء کا اتفاق قوت حواس ختنہ شدہ پیدا ہونا جسم نبوی کی خشبو اس راہ سے گزرے ہیں وہ
مَنْ يُصْبِحُ عَشْرًا، وَ حِيْنَ يُمْسِي عَشْرًا، الْقِيَامَةِ )
[484]
حديث [6233]
۱۲ ۳۲۸ ۳۲۸ ۳۲۹ ۳۲۹ ۳۳۰ ۳۳۱ ۳۳۱ ۳۳۱ ۳۳۳ ۳۳۶ ۳۳۶ ۳۳۷ ۳۴۰ ۳۴۰ ۳۴۱ ۳۴۱ ۳۴۲ ۳۴۳ ۳۴۵
کہ پڑھیں تو یہ فوائد و ثمرات ملیں گے نہ پڑھیں تو ہماری مرضی بلکہ یہ معاملہ ناگزیر ہے۔ یہ صرف حب مصطفیٰ ﷺ کا تقاضا ہی نہیں بلکہ نبی اکرم ﷺ کا حق بھی ہے اور یہ حق ادا نہ کرنے والوں کو سخت وعید بھی سنائی گئی ہے، جیسا کہ حسب ذیل احادیث میں مروی ہے۔
فضل الصلاة على النبي ﷺ [حدیث: 11]
مشكاة مع تحقيق الألباني، رقم الحديث (925)
حسن ترتیب
مقام مصطفیٰ ﷺ اور آپ کے ہم پر لازم حقوق ۳۴۵ اس کی چار اقسام ۳۴۵
- ا۔ اللہ تعالیٰ کے ہاں حضور ﷺ کی عظمت اور قرآن میں آپ کی تعریف ۳۴۵
- ۲۔ حضور ﷺ تمام محاسن اور کمالات کے جامع ہیں ۳۴۵
- ۳۔ احادیث مبارکہ اور اللہ تعالیٰ نے آپ کی تعظیم و ثناء کی ہے ۳۴۵
- ۴۔ آپ ﷺ کے ہاتھوں آیات و معجزات کا ظہور ۳۴۵
فصل اول ۳۴۷ فصل ثانی ۳۶۱ آپ ﷺ خلق اور خلق میں تمام محاسن کے جامع ہیں ۳۶۱ آپ ﷺ کا سراپا اقدس ۳۶۳ وقت کی تقسیم ۳۶۷ اہل مجلس کا ادب ۳۶۹ آپ ﷺ کا سکوت مبارک ۳۷۰ حکماء کا اتفاق ۳۷۰ قوت حواس ۳۷۱ ختنہ شدہ پیدا ہونا ۳۷۱ جسم نبوی کی خوشبو ۳۷۲ اس راہ سے گزرے ہیں وہ ۳۷۲
مَنْ يُصْبِحُ عَشْرًا، وَ حِيْنَ يُمْسِي عَشْرًا، الْقِيَامَةِ ) ند [484] حدیث [6233]
کہ پڑھیں تو یہ فوائد و ثمرات ملیں گے نہ پڑھیں تو ہماری مرضی بلکہ یہ معاملہ کا نہیں ہے۔ یہ صرف حب مصطفیٰ ﷺ کا تقاضا ہی نہیں بلکہ نبی اکرم ﷺ ں بھی ہے اور یہ حق ادا نہ کرنے والوں کو سخت وعید بھی سنائی گئی ہے، جیسا کہ جہ ذیل احادیث میں مروی ہے۔ فضل الصلوۃ علی النبی ﷺ [حدیث: 11] مشكاة مع تحقيق الألبانی، رقم الحديث (925)
حسن ترتیب
دل کا بیدار رہنا ۳۷۳ فصاحت لسانی ۳۷۳ فضیلت نسب مبارک ۳۷۵ زہد و عبادت ۳۷۵
فصل ثالث ۳۷۷
احادیث مبارکہ اور تعظیم و ثناء الہی ، آپ ﷺ کے ہاتھوں پر ۳۷۷ معجزات غالبہ کا ظہور ۳۷۷ معجزہ معراج ۳۸۵ حدیث معراج ۳۸۶ معراج اور دیدار الہی ۳۹۰ اللہ تعالیٰ سے راز و نیاز ۳۹۱ روز قیامت مقام مصطفیٰ ﷺ ۳۹۲ خوبصورت نکتہ ۳۹۲ حبیب و خلیل ۳۹۲ مقام وسیلہ اور بلند درجہ ۳۹۲ فضیلت دینے سے ممانعت کیوں؟ ۳۹۵ ہمارا چھٹا جواب ۳۹۶ اسماء مبارکہ ۳۹۶
حسن ترتیب
کنیت مبارکہ لفظ محمد واحمد ﷺ معجزہ قرآن معجزہ شق القمر سورج کا پلٹنا انگلیوں سے چشمے درختوں کا سلام قبولیت دعا
چوتھی فصل
مخلوق پر آپ ﷺ کے لازم حقوق محبت کی حقیقت ذکر کے آداب اسلاف کا طریقہ ادب درود و سلام کا لزوم بارگاہ اقدس کی حاضری
نْ يُصْبِحُ عَشْرًا، وَ حِيْنَ يُمْسِيْ عَشْرًا، الْقِيَامَةِ )
ث [484]
دِيث [6233]
۱۴ ۳۷۳ ۳۷۳ ۳۷۵ ۳۷۵ ۳۷۷ ۳۷۷ ۳۷۷ ۳۸۵ ۳۸۶ ۳۹۰ ۳۹۱ ۳۹۲ ۳۹۴ ۳۹۴ ۳۹۴ ۳۹۵ ۳۹۶ ۳۹۶
کہ پڑھیں تو یہ فوائد و ثمرات ملیں گے نہ پڑھیں تو ہماری مرضی بلکہ یہ معاملہ انتہائی گمبھیر ہے۔ یہ صرف حب مصطفیٰ ﷺ کا تقاضا ہی نہیں بلکہ نبی اکرم ﷺ کا حق بھی ہے اور یہ حق ادا نہ کرنے والوں کو سخت وعید بھی سنائی گئی ہے، جیسا کہ مندرجہ ذیل احادیث میں مروی ہے۔
[فضل الصلوٰة علی النبی ﷺ : حدیث: 11]
[مشكاة مع تحقيق الألباني، رقم الحديث (925)]
حسن ترتیب
کنیت مبارکہ ۳۹۹ لفظ محمد واحمد ﷺ ۴۰۰ معجزہ قرآن ۴۰۰ معجزہ شق القمر ۴۰۱ سورج کا پلٹنا ۴۰۲ انگلیوں سے چشمے ۴۰۲ درختوں کا سلام ۴۰۳ قبولیت دعا ۴۰۴
چوتھی فصل ۴۰۷
مخلوق پر آپ ﷺ کے لازم حقوق ۴۰۷ محبت کی حقیقت ۴۱۰ ذکر کے آداب ۴۱۲ اسلاف کا طریقہ ادب ۴۱۲ درود و سلام کا لزوم ۴۱۴ بارگاہ اقدس کی حاضری ۴۱۴
مَنْ يُصْبِحُ عَشْرًا، وَ حِيْنَ يُمْسِيْ عَشْرًا، الْقِيَامَةِ )
ث: 484]
الحديث 6233]
ا کہ پڑھیں تو یہ فوائد و ثمرات ملیں گے نہ پڑھیں تو ہماری مرضی بلکہ یہ معاملہ نا ضمیر ہے۔ یہ صرف حب مصطفیٰ ﷺ کا تقاضا ہی نہیں بلکہ نبی اکرم ﷺ ق بھی ہے اور یہ حق ادا نہ کرنے والوں کو سخت وعید بھی سنائی گئی ہے، جیسا کہ چہ ذیل احادیث میں مروی ہے۔
فضل الصلوٰة على النبي ﷺ [حدیث: 11]
مشكاة مع تحقيق الألباني، رقم الحديث (925)
انتساب
اُ چودہویں صدی کے سب پیشوائے اہل سنت امام
جنھوں نے عقائد و معمولات اسلام
علم وتحقیق سے ان
حبیب خدا ﷺ کے فضائل وکمالات
سر ہے وہ سر جو
انھیں جانا انھیں
للہ الحمد اللہ تعالیٰ ہم سب
مَنْ يُصْبِحُ عَشْرًا، وَ حِيْنَ يُمْسِي عَشْرًا، الْقِيَامَةِ ) [484] حدیث [6233]
کہ پڑھیں تو یہ فوائد و ثمرات ملیں گے نہ پڑھیں تو ہماری مرضی بلکہ یہ معاملہ نا ضمیر ہے۔ یہ صرف حب مصطفیٰ ﷺ کا تقاضا ہی نہیں بلکہ نبی اکرم ﷺ بھی ہے اور یہ حق ادا نہ کرنے والوں کو سخت وعید بھی سنائی گئی ہے، جیسا کہ ذیل احادیث میں مروی ہے۔ فضل الصلوٰۃ علی النبی ﷺ [حدیث: 11] مشکاۃ مع تحقیق الألبانی، رقم الحدیث (925)
انتساب
انتساب
چودہویں صدی کے سب سے بڑے محقق ،محافظ ناموس رسالت پیشوائے اہل سنت امام احمد رضا قادری کے نام جنھوں نے عقائد و معمولات اسلام کی حفاظت کے لئے تمام زندگی وقف کر دی
۔۔۔۔۔اور۔۔۔۔۔
علم و تحقیق سے ان کی آبیاری کر کے انھیں زندہ رکھا
۔۔۔۔خصوصاً۔۔۔۔
حبیب خدا ﷺ کے فضائل و کمالات پر گرانقدر علمی و تحقیقی کام انہی کا حصہ ہے
سر ہے وہ سر جو تیرے قدموں پہ قربان گیا
انھیں جانا انھیں مانا نہ رکھا غیر سے کام
للہ الحمد میں دنیا سے مسلمان گیا
اللہ تعالیٰ ہم سب کو ایسے ہی جذبات سے سرشار رکھے
محمد خان قادری
مَنْ يُصْبِحُ عَشْرًا، وَ حِينَ يُمْسِي عَشْرًا، مُ الْقِيَامَةِ )
یث 484]
الحديث 6233]
نا کہ پڑھیں تو یہ فوائد و ثمرات ملیں گے نہ پڑھیں تو ہماری مرضی بلکہ یہ معاملہ کی تعمیل ہے۔ یہ صرف حب مصطفیٰ ﷺ کا تقاضا ہی نہیں بلکہ نبی اکرم ﷺ ق بھی ہے اور یہ حق ادا نہ کرنے والوں کو سخت وعید بھی سنائی گئی ہے، جیسا کہ جہ ذیل احادیث میں مروی ہے۔
فضل الصلوۃ علی النبی ﷺ [حدیث: 11]
مشكاة مع تحقيق الألباني، رقم الحديث (925)
ابتدائیہ
ابت
بسم اللہ اللہ تعالیٰ نے ساری مخلوق کے لئے س مبعوث کیا ارشاد الہی ہے وما ارسلنک الا کافۃ للناس بشیرا ونذیرا دوسرے مقام پر فرمایا تبارک الذی نزل الفرقان علی عبدہ لیکون للعالمین نذیرا (الفرقان،۱) انہی کی شان میں فرمایا وما ارسلناک الا رحمۃ للعالمین خود رسول اللہ ﷺ کا فرمان ہے ارسلت الی الخلق کافۃ پھر اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کے ہر عمل ماضل صاحبكم وما غوى وما ينطق عن الهوى ان هو الا وحي يوحى (النجم ، ۴-۲)
ابتدائیہ
ابتدائیہ
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
اللہ تعالیٰ نے ساری مخلوق کے لئے سیدنا محمد ﷺ کو رسول اور رہنما اور رہبر بنا کر مبعوث کیا ارشاد الٰہی ہے
وما ارسلنک الا کافۃ للناس ہم نے آپ کو تمام لوگوں کے لئے بشارت بشیرا ونذیرا دینے والا اور ڈر سنانے والا بنا کر بھیجا
دوسرے مقام پر فرمایا
تبارک الذی نزل الفرقان بابرکت وہ ذات جس نے اپنے بندے علی عبدہ لیکون للعالمین پر قرآن نازل کیا کہ وہ تمام جہانوں کو نذیرا (الفرقان، ۱) انجام سے آگاہ کریں
انہی کی شان میں فرمایا
وما ارسلنک الا رحمۃ ہم نے آپ کو تمام جہانوں کے لئے للعالمین رحمت بنا کر بھیجا
خود رسول اللہ ﷺ کا فرمان ہے
ارسلت الی الخلق کافۃ مجھے ساری مخلوق کی طرف رسول بنایا گیا ہے
پھر اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کے ہر عمل، قول اور فعل کی ضمانت دی ارشاد فرمایا
ما ضل صاحبکم وما غوی تمہارے ساتھی نہ گمراہ ہوئے اور نہ بھٹکے وما ینطق عن الھوی ان ھو الا اور یہ خواہش سے نہیں بولتے یہ تو وحی ہے وحی یوحٰی (النجم، ۲:۴) جو ان کی طرف کی جاتی ہے
مَنْ يُصْبِحُ عَشْرًا، وَ حِيْنَ يُمْسِيْ عَشْرًا، الْقِيَامَةِ )
حدیث [484]
الحديث [6233]
تا کہ پڑھیں تو یہ فوائد وثمرات ملیں گے نہ پڑھیں تو ہماری مرضی بلکہ یہ معاملہ ایمانی ضمیر ہے۔ یہ صرف حب مصطفیٰ ﷺ کا تقاضا ہی نہیں بلکہ نبی اکرم ﷺ کا حق بھی ہے اور یہ حق ادا نہ کرنے والوں کو سخت وعید بھی سنائی گئی ہے، جیسا کہ مندرجہ ذیل احادیث میں مروی ہے۔
فضل الصلوة على النبي ﷺ [حدیث: 11]
مشكاة مع تحقيق الألباني، رقم الحديث (925)
ابتدائیہ
آپ ﷺ نے اپنوں اور بیگانوں میں ۶۳ سالہ ظاہری زندگی بسر کی وہ بھی بھر پور اہتمام کے ساتھ لین دین کیا، مسجد کے مصلیٰ سے لیکر سربراہ ریاست تک آپ نے معاملات سرانجام دیئے، اپنے تو کجا بیگانوں اور مخالفوں نے بھی تسلیم کیا کہ ان کی ذات اقدس معاملہ بھی اس قدر امین و پاکیزہ ہے کہ اس کی مثال نہیں ملتی، اس کے باوجود آپ ﷺ کو ساحر، کاہن اور مجنون کہتے
آپ ﷺ نے ساری ظاہری حیات میں کسی سے ذاتی انتقام نہیں لیا، ہاں حدود الٰہی توڑنے اور مخلوق پر ظلم و ستم کرنے والوں سے کبھی سمجھوتہ نہیں کیا
اب جبکہ آپ ﷺ کے بارے میں صحیح حقائق سامنے آنا شروع ہوئے اور تیزی سے اسلام پھیلنا شروع ہوا تو پھر مخالفین نے آپ ﷺ کے بارے میں رکیک حملے شروع کر دیئے، جنوری ۲۰۰۶ء میں ڈنمارک اور یورپی ممالک کے متعدد آوارہ ذہن لوگوں نے جو کچھ شائع کیا اسے زیر تحریر نہیں لایا جاسکتا، اس پر امت مسلمہ خصوصاً اہل لاہور نے تحفظ ناموس رسالت محاذ کی کال پر جو احتجاج کیا وہ بے مثال تھا اس کی تفصیل کے لئے ماہنامہ سوئے حجاز ماہ جون ۲۰۰۶ کا تحفظ ناموس رسالت نمبر کا مطالعہ مفید رہے گا
اس موقعہ پر یہ ضرورت بھی محسوس ہوئی کہ کوئی علمی اور تحقیقی کام بھی اس موضوع پر شائع ہونا چاہیے، امام تقی الدین السبکی کی کتاب ’السیف المسلول علی من سب الرسول‘ پہلی دفعہ شائع ہوئی اور اس کا ترجمہ بھی نہیں ہوا بندہ نے اس کا ترجمہ اگست ۲۰۰۳ء میں مکمل کیا تھا اس علمی ضرورت کو پورا کرنے کے لئے اس ترجمہ کو بنام ’اسلام اور احترام نبوت‘ شائع کیا جارہا ہے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ اقدس میں دعا ہے کہ وہ
ابتدائیہ
اسے قبول فرمائے اور ہم سب کو ہمیشہ اپنی توفیق عطا کرے
یاد رہے اس کے ساتھ ہمارے یہ کام بھی
- ۱۔ حضور ﷺ کا بدر میں فیصلہ ہرگز خطا نہ تھا
- ۲۔ علم نبوی اور منافقین
- ۳۔ علم نبوی اور متشابہات
- ۴۔ منہاج اصول الفقہ
- ۵۔ محافل میلاد اور شاہ اربل
- ۶۔ محافل میلاد اور شیخ ابوالخطاب بن دحیہ
- ۷۔ تفسیر کبیر کی آخری بائیس سورتوں کا ترجمہ
اللهم ارنا الحق حقاً وارزقنا اتباعه امين يا رب العالمين
نَ يُصْبِحُ عَشْرًا، وَ حِيْنَ يُمْسِي عَشْرًا، الْقِيَامَةِ )
يث [484] لحديث [6233]
کہ پڑھیں تو یہ فوائد و ثمرات ملیں گے نہ پڑھیں تو ہماری مرضی بلکہ یہ معاملہ کی تعمیل ہے۔ یہ صرف حب مصطفیٰ ﷺ کا تقاضا ہی نہیں بلکہ نبی اکرم ﷺ کا حق بھی ہے اور یہ حق ادا نہ کرنے والوں کو سخت وعید بھی سنائی گئی ہے، جیسا کہ مندرجہ ذیل احادیث میں مروی ہے۔
فضل الصلوٰۃ علیٰ النبی ﷺ [حدیث: 11] مشكاة مع تحقيق الألباني، رقم الحديث (925)
ظاہری زندگی بسر کی وہ بھی بھر پور مگر سربراہ ریاست تک آپ نے مخالفوں نے بھی تسلیم کیا کہ ان کی کہ اس کی مثال نہیں ملتی ، اس کے
میں کسی سے ذاتی انتقام نہیں لیا، ہاں سے کبھی سمجھوتہ نہیں کیا حقائق سامنے آنا شروع ہوئے اور آپ ﷺ کے بارے میں رکیک یورپی ممالک کے متعدد آوارہ کیا جاسکتا، اس پر امت مسلمہ خصوصا احتجاج کیا وہ بے مثال تھا اس کی تحفظ ناموس رسالت نمبر کا مطالعہ
کہ کوئی علمی اور تحقیقی کام بھی اس کتاب 'السیف المسلول علی کا ترجمہ بھی نہیں ہوا بندہ نے اس کا کو پورا کرنے کے لئے اس ترجمہ کو طٰہٰ کی بارگاہ اقدس میں دعا ہے کہ وہ
ابتدائیہ
اسے قبول فرمائے اور ہم سب کو ہمیشہ اپنی بارگاہ اور اپنے دوستوں کا ادب و احترام کی توفیق عطا کرے
یادر ہے اس کے ساتھ ہمارے یہ کام بھی شائع ہورہے ہیں
- ۱۔ حضور ﷺ کا بدر میں فیصلہ ہرگز خطا نہیں
- ۲۔ علم نبوی اور منافقین
- ۳۔ علم نبوی اور متشابہات
- ۴۔ منہاج اصول الفقہ
- ۵۔ محافل میلاد اور شاہ اربل
- ۶۔ محافل میلاد اور شیخ ابوالخطاب بن دحیہ
- ۷۔ تفسیر کبیر کا آخری بائیس سورتوں کا ترجمہ
اللهم ارنا الحق حقاً وارزقنا اتباعه وارنا الباطل باطلاً وارزقنا اجتنابه
امین یا رب العالمین
الفقیر الی اللہ محمد خان قادری ۱۰ جون ۲۰۰۶ء بروز ہفتہ بوقت ۱۰:۴۵ جامعہ اسلامیہ لاہور
مَنْ يُّصْبِحُ عَشْرًا، وَ حِيْنَ يُمْسِيْ عَشْرًا، الْقِيَامَةِ ) ث [484] حدیث [6233]
ا کہ پڑھیں تو یہ فوائد و ثمرات ملیں گے نہ پڑھیں تو ہماری مرضی بلکہ یہ معاملہ ی گھمبیر ہے۔ یہ صرف حب مصطفیٰ ﷺ کا تقاضا ہی نہیں بلکہ نبی اکرم ﷺ ق بھی ہے اور یہ حق ادا نہ کرنے والوں کو سخت وعید بھی سنائی گئی ہے، جیسا کہ چہ ذیل احادیث میں مروی ہے۔ فضل الصلوۃ علی النبی ﷺ [حدیث: 11] مشکاۃ مع تحقیق الألبانی، رقم الحدیث (925)
حالات مصنف
حالات مصنف رحمہ اللہ تعالیٰ
نام ونسب
شیخ امام، محقق، متفنن، القضاۃ شیخ الاسلام تقی الدین ابو
ولادت،
ماہ صفر ۶۸۳ ہجری
تعلیم وتربیت
ابتداً اپنے والد گرامی پڑھا جو اپنے دور کے عظیم فقیہ امام ابن بنت الاعز ، شیخ الاسلام سے فقہ پڑھی، علم کلام، علامہ شمس سیف الدین بغدادی سے، تفسی سے، وراثت، شیخ عبداللہ غماری سے نحو، شیخ ابو حیان اندلسی سے شیخ ہیں) سے پڑھا (۷۰۶) میں حصول قاہرہ آکر تصنیف وتدریس کا س
حج وزیارت
۷۱۶ کو سفر حج اور زیا
حالات مصنف رحمہ اللہ تعالیٰ
نام ونسب
شیخ امام، محقق، متفنن، حافظ، مفسر، مجتہد، متکلم، اصولی، نحوی، مناظر، قاضی القضاۃ شیخ الاسلام تقی الدین ابوالحسن علی بن عبدالکافی سبکی شافعی
ولادت،
ماہ صفر ۶۸۳ ہجری، مقام سبک العبید میں ہوئی
تعلیم وتربیت
ابتداءً اپنے والد گرامی شیخ زین الدین ابو محمد عبد الکافی (۶۵۹ : ۷۳۵) سے پڑھا جو اپنے دور کے عظیم فقیہ، متدین اور صالح ترین شخص تھے، پھر قاہرہ گئے وہاں امام ابن بنت الاعز ، شیخ الاسلام ابن دقیق العید اور شیخ الشافعیہ امام نجم الدین بن الرفعہ سے فقہ پڑھی، علم کلام، علامہ شمس الدین محمد بن یوسف جزری سے، منطق ومناظرہ، شیخ سیف الدین بغدادی سے، تفسیر شیخ علم الدین عراقی سے، قرأت، شیخ تقی بن صائغ سے، وراثت، شیخ عبد اللہ غماری مالکی سے اور حدیث امام حافظ شرف الدین دمیاطی سے نحو، شیخ ابو حیان اندلسی سے اور تصوف امام ابن عطاء اللہ سکندری (جو امام شاذلی کے شیخ ہیں) سے پڑھا
(۷۰۶) میں حصول حدیث کے لئے شام کا سفر کیا پھر (۷۰۷) میں واپس قاہرہ آکر تصنیف وتدریس کا سلسلہ شروع کیا
حج وزیارت
۷۱۶ کو سفر حج اور زیارت نبوی کے لئے حاضر ہوئے اس کے بعد سفر ترک کر
ن يُصْبِحُ عَشْرًا، وَ حِيْنَ يُمْسِي عَشْرًا، الْقِيَامَةِ ) ث [484] لمت [6233]
ں کہ پڑھیں تو یہ فوائد وثمرات ملیں گے نہ پڑھیں تو ہماری مرضی بلکہ یہ معاملہ ی تعمیر ہے۔ یہ صرف حب مصطفی ﷺ کا تقاضا ہی نہیں بلکہ نبی اکرم ﷺ ق بھی ہے اور یہ حق ادا نہ کرنے والوں کو سخت وعید بھی سنائی گئی ہے، جیسا کہ کچھ ذیل احادیث میں مروی ہے۔
فضل الصلوۃ علی النبی ﷺ [حدیث: 11]
مشکاۃ مع تحقیق الألباني، رقم الحدیث (925)
حالات مصنف رحمہ اللہ تعالیٰ
دیا، اسی دوران مسئلہ زیارت اور طلاق میں شیخ ابن تیمیہ کا رد لکھا
منصب قضا
۷۳۹ھ میں سلطان ناصر محمد بن قلاوون کے اصرار پر منصب قضا پر فائز ہوئے، امام ذہبی اسی سال کے بارے میں رقمطراز ہیں
قَدِمَ العَلامة شيخ الاسلام تقى | اس میں علامہ شیخ الاسلام تقی الدین سبکی الدين السبكى على قضاء | شام میں شوافع کے قاضی مقرر ہوئے جس الشافعية وفرح المسلمون به | پر اہل اسلام میں خوشی کی لہر دوڑ گئی
(ذیل العبر ۴، ۲۰۴)
سیرت واخلاق
تقویٰ، ورع، زھد اور عبادت میں بے مثل تھے تلاوت، ذکر اور تہجد ان کا دائمی عمل تھا کبھی ذاتی انتقام نہیں لیا، کسی کی غیبت ان سے نہیں سنی گئی حتیٰ کہ دشمن کی بھی، نیکی کا حکم دیتے اور برائی سے کبھی سمجھوتہ نہ کرتے، اس راہ میں انھیں بڑے مصائب بھگتنے پڑے، صالحین واولیاء سے محبت کرتے ، اہل علم کا ادب وتعظیم بجا لاتے، صوفیا کے بارے میں فرمایا کرتے
طريق الصوفي اذا صحت هي اگر کسی صوفی کا طریق درست اور صحت طريقة الرشاد التي كان کے ساتھ ثابت ہو تو یہی اسلاف کا السلف عليها طریق تھا
امام شمس الدین سخاوی نے موصوف کو ولی کامل قرار دیتے ہوئے لکھا، ان کی ذات
حالات مصنف رحمہ اللہ تعالیٰ
الحجة المناظر الولی العار قاضی القضاه شیخ الاسلا مجتهد الوقت (وجیز الکلام: ۱/۴۱)
اور یہ بات ان کے دور میں مشہور تھی گرفت فرماتا ہے اور اس کی وجہ ان کی
علمی مقام
اپنے دور میں تمام علوم وفنو مثال نہیں ملتی۔ امام اسنوی اسی جامع
ومن اجمعهم للعلو واحسنهم كلاماً في الاشي الدقيقة (طبقات الشافعیہ: ۲:۵)
امام ابن عابدین شامی حنفی معرفت م
لو درست المذاهب الار لاملأها من صدره
(مجموعہ رسائل، ۱:۳۲۴)
امام صفدی موصوف کی شخصیت کے خاکہ کچھ یوں بنتا ہے
كان اذا اخذای مسئلة کل ای باب كان عمل عليها م
ن يُصْبِحُ عَشْرًا، وَ حِيْنَ يُمْسِيْ عَشْرًا، الْقِيَامَةِ ) ث [484] الحديث [6233]
گا کہ پڑھیں تو یہ فوائد و ثمرات ملیں گے نہ پڑھیں تو ہماری مرضی بلکہ یہ معاملہ ی کی تعمیل ہے۔ یہ صرف حب مصطفیٰ ﷺ کا تقاضا ہی نہیں بلکہ نبی اکرم ﷺ کا حق بھی ہے اور یہ حق ادا نہ کرنے والوں کو سخت وعید بھی سنائی گئی ہے، جیسا کہ مندرجہ ذیل احادیث میں مروی ہے۔ فضل الصلوة على النبي ﷺ [حديث: 11] مشكاة مع تحقيق الألباني، رقم الحديث (925)
۲۴ ارد کھا اصرار پر منصب قضا پر فائز علامہ شیخ الاسلام تقی الدین سبکی شام کے قاضی مقرر ہوئے جس میں خوشی کی لہر دوڑ گئی
مشغل تھے تلاوت ، ذکر اور کی غیبت ان سے نہیں سنی گئی کسی سے سمجھوتہ نہ کرتے ، اس راہ کی پرواہ نہ کرتے : اہل علم جایا کرتے دین کا طریق درست اور صحت ثابت ہو تو یہی اسلاف کا
سے بلکہ ان کی ذات
حالات مصنف رحمہ اللہ تعالیٰ الحجة المناظر الولي العارف مناظرہ میں غالب، ولی عارف ، قاضیوں قاضى القضاه شيخ الاسلام کے سربراہ، شیخ الاسلام اور اپنے دور کے مجتهد الوقت (وجیز الکلام؛ ۸۲:۱) مجتہد ہیں اور یہ بات ان کے دور میں مشہور تھی جو ان کی مخالفت کرے گا، اللہ تعالیٰ اس کی جلد گرفت فرماتا ہے اور اس کی وجہ ان کا اللہ تعالیٰ کا دوست ہونا ہے
علمی مقام
اپنے دور میں تمام علوم وفنون میں جسقدر آپ کی شخصیت جامع ہے اس کی مثال نہیں ملتی۔ امام اسنوی اسی جامعیت کو یوں بیان کرتے ہیں ومن اجمعهم للعلوم علماء میں علوم کے جامع اور عمیق مسائل واحسنهم كلاماً في الاشياء میں خوبصورت تحریر و تقریر فرمانے الدقيقة (طبقات الشافعیہ؛ ۷۵:۲) والے تھے امام ابن عابدین شامی حنفی معرفت مذاہب کے حوالے سے لکھتے ہیں لو درست المذاهب الاربعة اگر مذاہب اربعہ دنیا سے ختم ہو جائیں تو لاملأها من صدره ان کے حفظ کی بنا پر انھیں دوبارہ مرتب (مجموعہ رسائل،۳۲۴:۱) کروا سکتے ہیں امام صفدی موصوف کی شخصیت کے مطالعہ کے بعد لکھتے ہیں بندہ کے ذہن میں ان کا خاکہ کچھ یوں بنتا ہے كان اذا اخذ اى مسئلة كانت من جب بھی کوئی مسئلہ سامنے آتا ہے (تو ای باب كان عمل عليها مجلدا اس پر ان کا اسقدر وسیع مطالعہ تھا)
مَنْ يُّصْبِحُ عَشْرًا، وَ حِيْنَ يُمْسِيْ عَشْرًا، الْقِيَامَةِ ) ث [484] لحديث [6233]
نا کہ پڑھیں تو یہ فوائد و ثمرات ملیں گے نہ پڑھیں تو ہماری مرضی بلکہ یہ معاملہ کی تعمیل ہے۔ یہ صرف حب مصطفیٰ ﷺ کا تقاضا ہی نہیں بلکہ نبی اکرم ﷺ حق بھی ہے اور یہ حق ادا نہ کرنے والوں کو سخت وعید بھی سنائی گئی ہے، جیسا کہ جہ ذیل احادیث میں مروی ہے۔
فضل الصلوة على النبي ﷺ [حديث: 11] مشكاة مع تحقيق الألباني، رقم الحديث (925)
حالات مصنف رحمہ اللہ تعالیٰ ۲۶
او مصنفاً لطيفا اعنى فى علوم کہ مستقل علمی کتاب تحریر فرما سکتے یعنی الاسلام من الفروع والاصلیین تمام علوم اسلام میں خواہ، وہ فقہ وعقائد والحديث والتفسير والنحو والمعانی ہوں یا حدیث، تفسیر، نحو، معانی، یا بیان والبیان واما العقليات فما كان فی ہو، رہا معاملہ عقلی علوم کا تو اس میں ان کی آخر وقته فيها مثله مثال کہاں؟
(اعیان العصر ، ۴۲۷:۳)
درجہ اجتہاد
بلکہ ان کی جامعیت، وسعت مطالعہ اور ملکہ استنباط و استخراج کا عالم یہ تھا کہ تمام اہل علم نے انھیں اپنے دور کا سب سے بڑے مجتہد کا درجہ دیا ہے امام ابن نقیب مصری کہتے ہیں ہم مکۃ المکرمہ میں علماء کی مجلس میں بیٹھے تھے، وہاں بات چل نکلی کہ آج کے دور میں آئمہ اربعہ کے بعد کون سی ہستی ہے جو درجہ اجتہاد پر فائز ہے اور تمام مذاہب سے آگاہ ہیں
فاتفق رائينا ان هذه المرتبة لا تعدو تو تمام کی متفقہ رائے تھی کہ اس مرتبہ پر الشيخ تقي الدين السبكى ولا ينتهى شیخ تقی الدین السبکی فائز ہیں اور ان لها سواه کے سوا وہاں تک کوئی نہیں پہنچتا
(حسن المحاضرة للسيوطی ، ۲۵۳:۱)
امام صفدی نے انھیں اوحد المجتهدين مجتہدین میں یکتا
(الوفی ، ۲۵۳:۲۱)
حالات مصنف رحمہ اللہ تعالیٰ
امام سخاوی نے مجتهد الوقت
(وجیز الکلام ، ۸۳:۱)
امام سیوطی نے بقية المجتهدين، المجتهد المطلق
(حسن المحاضرة ، ۶۷۴:۱)
قرار دیا ہے
بالاتفاق بحر العلوم آپ کے بحر العلوم ہونے پر اتفاق ہے ولا يختلف اثنان في انه البحر الذي لايساحل في ذلك
(طبقات الشافعیہ ، ۲۰۰:۱)
دوسرے مقام پر امام تاج الدین سبکیؒ نے ولا يختلف اثنان في انه اعلم اهل الارض فى كل علم
(ایضاً، ۱۷:۱)
حِيْنَ يُصْبِحُ عَشْرًا، وَ حِيْنَ يُمْسِي عَشْرًا، الْقِيَامَةِ ) [حديث: 484] [حديث 6233]
نا کہ پڑھیں تو یہ فوائد وثمرات ملیں گے نہ پڑھیں تو ہماری مرضی بلکہ یہ معاملہ ی ضمیر ہے۔ یہ صرف حب مصطفیٰ ﷺ کا تقاضا ہی نہیں بلکہ نبی اکرم ﷺ حق بھی ہے اور یہ حق ادا نہ کرنے والوں کو سخت وعید بھی سنائی گئی ہے، جیسا کہ مندرجہ ذیل احادیث میں مروی ہے۔ فضل الصلوة على النبی ﷺ [حدیث: 11] مشكاة مع تحقيق الألبانى، رقم الحديث (925)
۲۶ مستقل علمی کتاب تحریر فرما سکتے یعنی علوم اسلام میں خواہ وہ فقہ وعقائد ہوں یا حدیث، تفسیر، نحو، معانی، یا بیان رہا معاملہ عقلی علوم کا تو اس میں ان کی مثال کہاں؟
ملکہ استنباط واستخراج کا عالم یہ تھا کہ مجتہد کا درجہ دیا ہے المکرمہ میں علماء کی مجلس میں بیٹھے مجدد کے بعد کون سی ہستی ہے جو درجہ
عالم کی متفقہ رائے تھی کہ اس مرتبہ پر تقی الدین السبکی فائز ہیں اور ان علاوہ وہاں تک کوئی نہیں پہنچتا
ین میں یکتا
حالات مصنف رحمہ اللہ تعالیٰ
امام سخاوی نے مجتهد الوقت اپنے دور کے مجتہد
(وجیز الکلام، ۱: ۸۲)
امام سیوطی نے بقية المجتهدين، المجتهد مجتہدین کی یادگار کامل مجتہد المطلق
(حسن المحاضرہ، ۱: ۶۷۴)
قرار دیا ہے
بالاتفاق بحرالعلوم
آپ کے بحرالعلوم ہونے میں کوئی دوسری رائے نہیں بلکہ اس پر تمام کا اتفاق ہے
ولا يختلف اثنان فى انه البحر کسی کا اس میں اختلاف نہیں کہ آپ الذى لايساحل فى ذلك ایسا علمی سمندر ہیں جس کا کوئی ساحل نہیں
(طبقات الشافعیہ، ۱: ۲۰۰)
دوسرے مقام پر امام تاج الدین سبکی رقمطراز ہیں
ولا يختلف اثنان فى انه اعلم اس میں کسی کا اختلاف نہیں کہ آپ ہر اهل الارض فى كل علم علم میں تمام اہل زمین سے بڑے عالم تھے
(ایضاً، ۱۶۷)
حالات مصنف رحمہ اللہ تعالیٰ
تلامذہ
آپ کے چند تلامذہ کے نام اور ان کا علمی مقام بھی ملاحظہ کیجیے
- ۱۔ الامام الکبیر جمال الدین عبد الرحیم بن الحسن الاسنوی (۷۰۴ ، ۷۷۲) امام ابو زرعہ
عراقی نے ان کے بارے میں یہ الفاظ تحریر کیے ہیں ، الشیخ الامام العلامۃ مفتی المسلمین
(ذیل العبر ،۳۱۴:۲)
- ۲۔ شیخ الاسلام امام سراج الدین عمر بن رسلان بلقینی (۷۲۴ ، ۸۰۵)
شیخ ابن قاضی شہبہ ان کے بارے میں رقمطراز ہیں
جو بھی علوم شرعیہ اور دیگر کا فہم رکھتا ہے
من العلوم الشرعية وغيرها
اس کی گردن ان کے سامنے جھک
جائے گی
(الطبقات ،۳۹:۲)
امام سیوطی نے زمزم پیتے وقت یہ دعا کی تھی اے اللہ مجھے سراج الدین بلقینی جیسا علم عطا فرما
- ۳۔ امام اللغہ صاحب القاموس مجد الدین فیروز آبادی (۸۱۷)
اپنی تفسیر میں لوامعنا عیبہ پر گفتگو کرتے ہوئے لکھتے ہیں اس کے بارے میں مختلف آراء ہیں
لیکن تحقیق کے سب سے قریب
كلام شيخنا ابى الحسن بن
ہمارے استاذ ابو الحسن بن عبد الکافی کا
عبد الكافى.
قول ہے
(بصائر ذوی التمیز ، ۴۴۸:۴)
مَنْ يُصْبِحُ عَشْرًا، وَ حِيْنَ يُمْسِي عَشْرًا، الْقِيَامَةِ )
یث [484]
لحديث [6233]
ان کا علمی مقام بھی ملاحظہ کیجیے
حسن الاسنوی (۷۰۴، ۷۷۲) امام ابوزرعہ کہتے ہیں، الشیخ الامام العلامۃ مفتی المسلمین
(ذیل العبر ،۲: ۳۱۴)
جلال الدین بلقینی (۷۲۴، ۸۰۵) بارے میں رقمطراز ہیں جو بھی علوم شرعیہ اور دیگر کا فہم رکھتا ہے اس کی گردن ان کے سامنے جھک جائے گی
یں جیسا علم عطا فرما
الدین فیروز آبادی (۸۱۷) کرتے ہوئے لکھتے ہیں اس کے بارے میں
لیکن تحقیق کے سب سے قریب ہمارے استاذ ابو الحسن بن عبدالکافی کا قول ہے
تا کہ پڑھیں تو یہ فوائد وثمرات ملیں گے نہ پڑھیں تو ہماری مرضی بلکہ یہ معاملہ کی تعمیل ہے۔ یہ صرف حب مصطفیٰ ﷺ کا تقاضا ہی نہیں بلکہ نبی اکرم ﷺ حق بھی ہے اور یہ حق ادا نہ کرنے والوں کو سخت وعید بھی سنائی گئی ہے، جیسا کہ مندرجہ ذیل احادیث میں مروی ہے۔
(فضل الصلوٰۃ علی النبی ﷺ [حدیث: 11]
(مشکاۃ مع تحقیق الألبانی، رقم الحدیث (925)
حالات مصنف رحمہ اللہ تعالیٰ
اس سے موصوف کا علم نحو میں مقام بھی آشکار ہوتا ہے، اسی لئے امام سیف الدین حریری نے کہا
لم ار فی النحو مثله وهو عندی میں نے نحو میں ان کی مثل نہیں پایا بلکہ انحى من ابی حیان میرے نزدیک ان کا مقام اس علم میں (طبقات الشافعیہ،۱۰: ۱۹۶) امام ابو حیان سے بھی زیادہ ہے
- ۴۔ امام حافظ زین الدین عراقی (۷۲۵، ۸۰۶) یہ اپنے استاذ کو ہمیشہ شیخ الاسلام کا
لقب دیا کرتے، خود شیخ کے ذہن میں اس اپنے شاگرد کا بھی بڑا احترام تھا
(لحظ الالحاظ، ۲۲۳)
- ۵۔ امام حافظ مؤرخ تقی الدین ابن رافع السلامی (۷۰۴، ۷۷۴) یہ اپنے استاذ کو
عدیم النظیر قرار دیا کرتے
(وفیات، ۲: ۸۵)
یادرہے امام سبکی انھیں علم اصول حدیث میں حافظ ابن کثیر پر ترجیح دیا کرتے
(الدرر الکامنہ،۳: ۴۳۹)
- ۶۔ امام حافظ مؤرخ عبدالقادر القرشی حنفی (۶۹۶، ۷۷۵) الجواہر المضیئہ فی طبقات
الحنفیہ، انہی کی کتاب ہے یہ اپنے شیخ کو امام علامہ الحجۃ سے یاد کرتے
(طبقات، ۱: ۱۰)
- ۷۔ امام مؤرخ قاضی صلاح الدین الصفدی (ت ۷۶۴) انھیں اپنے استاذ سے
خوب محبت تھی، یہ اپنے استاذ کو ہمیشہ ان الفاظ سے یاد کرتے، سیدنا و مولانا شیخ الاسلام اوحد المجتہدین قاضی القضاۃ
- ۸۔ علامہ امام شہاب الدین احمد بن لؤلؤ المعروف بابن النقیب مصری (۷۰۲، ۷۶۹) عمدۃ
مَنْ يُصْبِحُ عَشْرًا، وَ حِيْنَ يُمْسِيْ عَشْرًا، الْقِيَامَةِ ) يث [484] لحديث [6233]
نا کہ پڑھیں تو یہ فوائد وثمرات ملیں گے نہ پڑھیں تو ہماری مرضی بلکہ یہ معاملہ ی ضمیر ہے۔ یہ صرف حب مصطفیٰ ﷺ کا تقاضا ہی نہیں بلکہ نبی اکرم ﷺ ق بھی ہے اور یہ حق ادا نہ کرنے والوں کو سخت وعید بھی سنائی گئی ہے، جیسا کہ جہ ذیل احادیث میں مروی ہے۔ فضل الصلوۃ علی النبی ﷺ [حدیث: 11] مشکاة مع تحقيق الألباني، رقم الحديث (925)
حالات مصنف رحمہ اللہ تعالیٰ
السالک (فقہ الشافعی) انہی کی کتاب ہے
- ۹۔ امام شمس الدین ذہبی بھی آپ کے تلامذہ میں شامل ہیں، ایک جگہ امام ذہبی لکھتے ہیں
سمعت منه وسمع منى میں نے ان سے اور انھوں نے مجھ سے (المعجم المختص، ۱۱۶) حدیث لی
ائمہ کی زبانی
کچھ ائمہ کی زبان سے ان کی عظمت و شان بھی ملاحظہ کیجیے
- ا۔ امام حافظ صلاح الدین العلائی فرمایا کرتے ،لوگوں کا یہ کہنا سراسر زیادتی وظلم ہے کہ
امام غزالی کے بعد ان جیسا نہیں آیا
وما هو عندي الا مثل سفيان میرے نزدیک امام سبکی کا مقام حضرت الثورى (طبقات الشافعیہ، ۱۰: ۱۹۷) سفیان ثوری کی طرح ہے
- ۲۔ امام ذہبی نے ان کی عظمت و شان میں قصیدہ لکھا، اس میں سے چند اشعار یہ ہیں
شيوخ العصر احفظهم جميعا واخطبهم واقضاهم على
(جامع اموی کے منبر کو مبارک ہو کہ اس پر علم کا سمندر قاضی تقی الدین تشریف فرما ہو گئے ہیں جو اپنے دور کے تمام مشائخ سے زیادہ حافظ اور خطیب ہیں)
بلکہ یہ بھی کہا کرتے
ما صدر هذا المنبر بعد ابن امام ابن عبدالسلام کے بعد اس منبر پر عبد السلام اعظم منه ان سے بڑھ کر کوئی تشریف فرما نہیں ہوا
حالات مصنف رحمہ اللہ تعالیٰ
ففى الاحكام اقضانا على و كابن معين في حفظ ونقد وفخر الدين في جدل وبحث (فیصلے میں حضرت علی اور خدمت میں ،حفظ ونقد میں امام ابن معین ، فتویٰ میں الدین اور نحو میں مبرد اور ابن مالک کی
- ۳۔ امام جلال الدین سیوطی کے الفاظ
امام وقته تفسيراً وحديثاً وفق وكلاماً واصولاً ومنقو ومعقولا بل المجتهد الذي تأت بعده مثله ولا قبله من ده طويل (تائید الحقیقہ، ۶۹)
- ۴۔ شیخ ابن تیمیہ کا اعتراف
شیخ ابن تیمیہ جو کم ہی کسی کے علم کے خوب لکھا جیسا کہ پیچھے گزرا اس کیا، مسئلہ طلاق میں جو کتاب امام تیمیہ نے بر ملا کہا
ما رد على فقيه غير السبكي
(اعیان العصر، ۳:)
حالات مصنف رحمہ اللہ تعالیٰ
و كابن معين في حفظ ونقد وفي الفتيا كسفيان و مالك
وفخر الدین فی جدل وبحث وفي النحو المبرد وابن مالك
(فیصلے میں حضرت علی اور خدمت میں حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہما کی طرح ، حفظ ونقد میں امام ابن معین، فتویٰ میں امام سفیان اور مالک، جدل و بحث میں امام فخر الدین اور نحو میں مبرد اور ابن مالک کی مثل تھے
(الطبقات الشافعیہ، ۱۰: ۱۹۷)
۳۔ امام جلال الدین سیوطی کے الفاظ میں شیخ تقی الدین سبکی
امام وقته تفسيراً وحديثاً وفقهاً اپنے دور میں تفسیر، حدیث، فقہ وكلاماً واصولاً ومنقولاً ، کلام، اصول، منقول و معقول کے ومعقولاً بل المجتهد الذى لم امام بلکہ ایسے مجتہد کہ طویل مدت نہ تأت بعده مثله ولا قبله من دهر ان سے پہلے اور نہ ان کے بعد ان کی طویل (تائید الحقیقہ، ۶۹) مثل آیا
۴۔ شیخ ابن تیمیہ کا اعتراف
شیخ ابن تیمیہ جو کم ہی کسی کے علم کے معترف ہیں، موصوف امام نے ان کی تردید میں خوب لکھا جیسا کہ پیچھے گزرا اس کے باوجود انھوں نے آپ کے علم کا اعتراف کیا، مسئلہ طلاق میں جو کتاب امام نے ان کے خلاف لکھی اس کے بارے میں ابن تیمیہ نے برملا کہا
ما رد علی فقیه غیر السبکی سبکی کے علاوہ میرا علمی رد کسی فقیہ نہیں (اعیان العصر، ۱۹۴:۳) لکھا
نَ تُصْبِحَ عَشْرًا، وَ حِيْنَ يُمْسِيْ عَشْرًا، الْقِيَامَةِ ﴾
[484]
حديث 6233]
کہ پڑھیں تو یہ فوائد وثمرات ملیں گے نہ پڑھیں تو ہماری مرضی بلکہ یہ معاملہ ی ضمیر ہے۔ یہ صرف حب مصطفیٰ ﷺ کا تقاضا ہی نہیں بلکہ نبی اکرم ﷺ حق بھی ہے اور یہ حق ادا نہ کرنے والوں کو سخت وعید بھی سنائی گئی ہے، جیسا کہ رجہ ذیل احادیث میں مروی ہے۔ فضل الصلاة على النبي ﷺ [حديث: 11] مشكاة مع تحقيق الألباني، رقم الحديث (925)
حالات مصنف رحمہ اللہ تعالیٰ ۳۲ ایک اور جگہ لکھتے ہیں لقد برز هذا على اقرانه انھیں اپنے معاصرین میں فوقیت علمی (طبقات الشافعیہ، ۱۹۴:۱۰) حاصل ہے شیخ ابن تیمیہ کے اس اعتراف کو امام صفدی نے اشعار میں یوں نقل کیا
يثنى عليه وقد ابدى بفكرته اوهامه فيذروها وهو يبتسم
وما اقر لمخلوق سواه و فى زمانه كل حبر علمه علم
(اعیان العصر، ۲۵۱:۳)
ان کی تصانیف
محقق کتاب شیخ ایاد احمد الغوج نے تصانیف کی تعداد (۲۱۱) اور ان کے اسماء بھی دیئے ہیں، تقریباً ہر فن پر آپ کی مستقل کتاب ہے
٭ أصول الدين (العقائد) :
- ۱۔ الاعتبار ببقاء الجنة والنار، مطبوع.
- ۲۔ الدلالة على عموم الرسالة، مطبوع.
- ۳۔ السيف الصقيل في الرد على ابن زفيل، مطبوع.
- ٤۔ غيرة الإيمان الجلي لأبي بكر وعمر وعثمان وعلي، مطبوع.
حالات مصنف رحمہ اللہ تعالیٰ
- ٥ - فتوى في فناء الأجسام وبقاء
- ٦ - القول المحمود في تنزيه داو
- ٧ - مسألة في التقليد في أصول ا
- ٨ - نقد كتاب «موافقة صريح ال
٭ التفسير :
- ٩ - الإقناع في تفسير قوله تعالى
- ١٠ - بَذْلُ الهِمَّة في إفراد العَمِّ و
- ١١ - تأويل الفطنة في تفسير الفا
- ١٢ - التعظيم والمنة في ﴿ لَتُؤْمِنُ
- ١٣ - تفسير سورة القَدْر، مخطو
- ١٤ - الدُّرُّ النَّظيم في تفسير القُر
- ١٥ - رسالة في تفسير قوله تعالى
- ١٦ - رسالة في تفسير قوله تعا
مطبوعة .
- ١٧ - سبب الانكفاف عن إقراء
- ١٨ - الفهم السديد من إنزال ا
- ١٩ - القول الصحيح في تعيين
- ٢٠ - الكلام على قوله تعالى: ﴿
٭ الحديث :
- ٢١ - أجوبة أهل مصر حول أ
- ٢٢ - ترتيب «معرفة الثقات»
- ٢٣ - تلخيص «التلخيص وتال
- ٢٤ - ثلاثيات مسند الدارمي،
- ٢٥ - رسالة في الأحاديث الو
- ٢٦ - ضياء المصابيح في اختص
- ٢٧ - كتاب في الحديث المس
مَنْ يُصْبِحُ عَشْرًا، وَ حِيْنَ يُمْسِي عَشْرًا، الْقِيَامَةِ )
[484]
الحديث 6233]
ما کہ پڑھیں تو یہ فوائد و ثمرات ملیں گے نہ پڑھیں تو ہماری مرضی بلکہ یہ معاملہ کی تعمیل ہے۔ یہ صرف حب مصطفیٰ ﷺ کا تقاضا ہی نہیں بلکہ نبی اکرم ﷺ کا حق بھی ہے اور یہ حق ادا نہ کرنے والوں کو سخت وعید بھی سنائی گئی ہے، جیسا کہ مندرجہ ذیل احادیث میں مروی ہے۔ فضل الصلوٰة علی النبی ﷺ [حدیث: 11] مشكاة مع تحقيق الألباني، رقم الحديث (925)
انھیں اپنے معاصرین میں فوقیت علمی حاصل ہے نے اشعار میں یوں نقل کیا
تأوى إليه فتاواها وهو يبتسم
زمانه كل حبر علمه علم
(اعیان العصر، ۴۵۱:۳)
کے تصانیف کی تعداد (۲۱۱) اور ان کے اسماء کی کتاب ہے
مطبوع. عثمان وعلي، مطبوع.
حالات مصنف رحمہ اللہ تعالیٰ
- ٥ ـ فتوىٰ في فناء الأجسام وبقاء الأرواح، مطبوعة .
- ٦ ـ القولُ المحمود في تنزيه داود، مطبوع .
- ٧ ـ مسألةٌ في التقليد في أصول الدين .
- ٨ ـ نقدُ كتاب «موافقة صريح المعقول لصحيح المنقول» لابن تيمية .
* التفسير: [١٢ تصنيفاً]
- ٩ ـ الإقناع في تفسير قوله تعالى : ﴿مَا لِلظَّالِمِينَ مِنْ حَمِيمٍ وَلَا شَفِيعٍ يُطَاعُ﴾، مطبوع.
- ١٠ ـ بَذْلُ الهِمَّة في إفراد العَمِّ وجمعِ العمَّة، مطبوع .
- ١١ ـ تأويلُ الفِطْنَةِ في تفسير الفتنة، مطبوع.
- ١٢ ـ التعظيمُ والمنَّة في ﴿لِتُؤْمِنُوا بِهِ وَلَتَنصُرُنَّهُ﴾، مطبوع .
- ١٣ ـ تفسير سورة القَدْر، مخطوط.
- ١٤ ـ الدُّرُّ النَّظيم في تفسير القرآن العظيم، مخطوط .
- ١٥ ـ رسالةٌ في تفسير قوله تعالى: ﴿يَا أَيُّهَا الرُّسُلُ كُلُوا مِنَ الطَّيِّبَاتِ وَاعْمَلُوا﴾.
- ١٦ ـ رسالةٌ في تفسير قوله تعالى: ﴿لَّا جُنَاحَ عَلَيْكُمْ إِن طَلَّقْتُمُ النِّسَاءَ مَا لَمْ تَمَسُّوهُنَّ﴾،
مطبوعة .
- ١٧ ـ سببُ الانكفاف عن إقراء الكشَّاف، مخطوط .
- ١٨ ـ الفهمُ السَّديد من إنزال الحديد، مطبوع .
- ١٩ ـ القولُ الصحيح في تعيين الذبيح، مخطوط .
- ٢٠ ـ الكلامُ على قوله تعالى: ﴿اسْتَطْعَمَا أَهْلَهَا﴾، مطبوع .
* الحديث: [١١ تصنيفاً]
- ٢١ ـ أجوبة أهلِ مصرَ حولَ «تهذيب الكمال» للمِزّي، مطبوعة .
- ٢٢ ـ ترتيبُ «معرفة الثقات» للعِجْلي، مطبوع .
- ٢٣ ـ تلخيص «التلخيص وتاليه» للخطيب البغدادي .
- ٢٤ ـ ثلاثيات مُسند الدارمي، مخطوطة .
- ٢٥ ـ رسالةٌ في الأحاديث الواردة في رفع اليدين عند الركوع والرفع منه، مطبوعة .
- ٢٦ ـ ضياء المصابيح في اختصار «المصابيح»، وهو مختصر «مصابيح السنة» للبَغَوي .
- ٢٧ ـ كتابٌ في الحديث المسلسل بالأولية .
نْ يُّصْبِحُ عَشْرًا، وَ حِيْنَ يُمْسِي عَشْرًا، الْقِيَامَةِ ) ث: 484] لحدیث: 6233]
ا کہ پڑھیں تو یہ فوائد وثمرات ملیں گے نہ پڑھیں تو ہماری مرضی بلکہ یہ معاملہ ی ضمیر ہے۔ یہ صرف حب مصطفیٰ ﷺ کا تقاضا ہی نہیں بلکہ نبی اکرم ﷺ ق بھی ہے اور یہ حق ادا نہ کرنے والوں کو سخت وعید بھی سنائی گئی ہے، جیسا کہ جہ ذیل احادیث میں مروی ہے۔ فضل الصلوٰة على النبي ﷺ [حديث: 11] مشكاة مع تحقيق الألباني، رقم الحديث (925)
حالات مصنف رحمہ اللہ تعالیٰ
- ۲۸۔ مختصرُ الأحاديث المرفوعة التي تضمّنها كتاب «جامع الأصول»، مخطوط .
- ۲۹۔ منتخَبٌ آخر من «التلخيص» للخطيب البغدادي .
- ۳۰۔ منتخب «تعظيم قَدْر الصلاة» للإمام محمد بن نَصْر المَرْوَزِي .
- ۳۱۔ منظومة في أقسام الحديث، مخطوطة .
- ۳۲۔ النُّكَت على صحيح البخاري، مخطوط .
* الفقه :
[93 مصنّفاً عدا الأوقاف]
- ۳۳۔ الابتهاج في شرح المنهاج، مخطوط .
- ۳۴۔ الأدلة في إثبات الأهِلَّة، مخطوط .
- ۳۵۔ إشراق المصابيح في صلاة التراويح، مطبوع .
- ۳۶۔ الاعتصام بالواحد الأحد من إقامة جمعتين في بَلَد، مطبوع .
- ۳۷۔ إيضاحُ كشف الدسائس في منع ترميم الكنائس، مطبوع .
- ۳۸۔ بيانُ الأدلة في إثبات الأهلَّة، مخطوط .
- ۳۹۔ بيعُ المُرْهون في غَيبة المَدْيون، مطبوع .
- ۴۰۔ التحبيرُ المُذْهَب في تحرير المَذْهَب .
- ٤١۔ التحقيق في مسألة التعليق، مخطوط .
- ٤٢۔ تعدُّدُ الجمعة وهل فيه متَّسَعٌ .
- ٤٣۔ تقييدُ التراجيح في صلاة التراويح .
- ٤٤۔ تكملة «شرح المهذّب» للنووي، مطبوعة .
- ٤٥۔ تنزيلُ السَّكِينة على قناديل المدينة، مطبوع .
- ٤٦۔ جزءٌ في فتاوى أبي هريرة رضي الله عنه .
- ٤٧۔ جوابُ المُكَاتَبة من حارة المغاربة .
- ٤٨۔ حُسْنُ الصَّنِيعة في حكم الوديعة .
- ٤٩۔ كتابُ الحِيَل .
- ٥٠۔ خروجُ المعتدّة في العِدّة .
- ٥١۔ الدُّرَّة المُضِيَّة في الردِّ على ابن تيمية، مطبوع .
- ٥٢۔ ذمُّ السُّمْعَة في منع تعدُّد الجمعة .
- ٥٣۔ رفعُ الشِّقاق في مسألة الطلاق .
حالات مصنف رحمہ اللہ تعالیٰ
- ٥٤۔ الردُّ على الشيخ زَيْن ا
- ٥٥۔ رسالةٌ في الردّ على ال
- ٥٦۔ رسالةٌ في أنّ مُدْرِكَ ال
- ٥٧۔ رسالة منظومة في الج
- ٥٨۔ الرَّقْمُ الإبريزي في ش
- ٥٩۔ الرياضُ الأنيقة في قس
- ٦٠۔ السهمُ الصائب في قب
- ٦١۔ السيفُ المسلول على
- ٦٢۔ شرح التنبيه .
- ٦٣۔ شفاء السَّقام في زيار
- * - شنُّ الغارة على مَن
- ٦٤۔ الصنيعة في ضمان ال
- ٦٥۔ ضرورة التقدير في نق
- ٦٦۔ ضوء المصابيح في
مخطوط .
- ٦٧۔ الطريقة النافعة في ال
- ٦٨۔ طلبُ السلامة في ت
- ٦٩۔ طليعة الفتح والنص
- ٧٠۔ طريقُ المعدلة في ق
- ٧١۔ العارضة في البيّنة ال
- ٧٢۔ عِقْدُ الجُمان في عَقْد
- ٧٣۔ عقود الجُمان في ع
- ٧٤۔ العَلَم المنشور في إ
- ٧٥۔ الغَيْث المُغْدِق في
- ٧٦۔ الفتاوى الكبرى، م
- ٧٧۔ فتوى أهل الإسكند
- ٧٨۔ الفتوى العراقية، م
- ٧٩۔ فتوى الفُتُوَّة، مطبو
حالات مصنف رحمہ اللہ تعالیٰ
- ٥٤ ـ الردُّ على الشيخ زَيْنِ الدين ابن الكِتْناني في اعتراضاته على «الروضة».
- ٥٥ ـ رسالةٌ في الردِّ علَى الإتقاني في مسألة رفع اليدين، مخطوطة.
- ٥٦ ـ رسالةٌ في أنَّ مُدْرِكَ الركوع ليس بمدرك للركعة، مطبوع.
- ٥٧ ـ رسالةٌ منظومةٌ في الحج.
- ٥٨ ـ الرَّقَمُ الإِبْريزي في شرح مختصر التبريزي.
- ٥٩ ـ الرياضُ الأنيقة في قسمة الحديقة.
- ٦٠ ـ السهمُ الصائب في قَبْضِ دَيْن الغائب، مخطوط.
- ٦١ ـ السيفُ المسلول علَى مَن سبَّ الرسول ﷺ، كتابُنا هذا.
- ٦٢ ـ شرحُ التنبيه.
- ٦٣ ـ شفاء السَّقام في زيارة خير الأنام ﷺ، مطبوع.
- * - شَنُّ الغارة علَى مَن أنكرَ السَّفَر للزيارة : نفسه «شفاء السقام».
- ٦٤ ـ الصنيعة في ضمان الوديعة، مخطوط.
- ٦٥ ـ ضرورة التقدير في تقويم الخمر والخنزير.
- ٦٦ ـ ضوء المصابيح في صلاة التراويح، وهو أكبرُ تصانيفه في هذه المسألة،
مخطوط.
- ٦٧ ـ الطريقة النافعة في الإجارة والمساقاة والمزارعة، مطبوع.
- ٦٨ ـ طلبُ السلامة في ترك الإمامة، مخطوط.
- ٦٩ ـ طليعة الفتح والنصر في صلاة الخوف والقصر.
- ٧٠ ـ طريقُ المعدَّلة في قتل مَن لا وارثَ له.
- ٧١ ـ العارضة في البينة المتعارضة.
- ٧٢ ـ عِقْدُ الجُمان في عَقْد الضمان، مخطوط.
- ٧٣ ـ عقود الجُمان في عُقُود الرَّهن والضَّمان، مخطوط.
- ٧٤ ـ العَلَم المنشور في إثبات الشهور، مطبوع.
- ٧٥ ـ الغيث المُغدِق في ميراثِ ابن المُعْتِق، مطبوع.
- ٧٦ ـ الفتاوى الكبرى، مطبوعة.
- ٧٧ ـ فتوى أهل الإسكندرية.
- ٧٨ ـ الفتوى العراقية، مطبوعة.
- ٧٩ ـ فتوى الفُتُوَّة، مطبوعة.
مَنْ يُصْبِحُ عَشْرًا، وَ حِيْنَ يُمْسِيْ عَشْرًا، الْقِيَامَةِ ) ث [484] لحديث [6233]
نا کہ پڑھیں تو یہ فوائد و ثمرات ملیں گے نہ پڑھیں تو ہماری مرضی بلکہ یہ معاملہ ی ضمیر ہے۔ یہ صرف حب مصطفیٰ ﷺ کا تقاضا ہی نہیں بلکہ نبی اکرم ﷺ ق بھی ہے اور یہ حق ادا نہ کرنے والوں کو سخت وعید بھی سنائی گئی ہے ،جیسا کہ رجہ ذیل احادیث میں مروی ہے۔ فضل الصلوٰة على النبي ﷺ [حديث: 11] مشكاة مع تحقيق الألباني، رقم الحديث (925)
حالات مصنف رحمہ اللہ تعالیٰ
- ٨٠- فصلُ المقال في هدايا العُمَّال، مخطوط.
- ٨١- الفوائدُ الفقهية في أطراف القضايا الحكمية، مخطوط.
- ٨٢- قضاءُ الأَرَب في أسئلة حَلَب، وهو فتاويه الحَلَبِية، مطبوع.
- ٨٣- قَطْفُ الثَّمَر في مسائل الدُّور.
- ٨٤- القولُ الجِدّ في تَبَعِية الجَدّ.
- ٨٥- القولُ المتَّبع في منعِ تَعَدُّدِ الجُمَع.
- ٨٦- الكافي، وهو المسألة السُّريجية.
- ٨٧- كشفُ الدَّسائس في ترميم الكنائس، مخطوط.
- ٨٨- كشفُ الغُمَّة في ميراث أهل الذِّمَّة، مخطوط.
- ٨٩- الكلامُ على الجمعِ في الحَضَر لعُذْر المَطَر.
- ٩٠- الكلامُ على أنهار دمشق، مطبوع، وله في المسألة عدّةُ تصانيف أخرى.
- ٩١- كيفَ التدبير في تقويم الخمر والخنزير.
- ٩٢- الكيلانية، مطبوعة.
- ٩٣- محلُّ استخارة في فرعَينِ من الإجارة، مخطوط.
- ٩٤- مختصرُ فصل المقال في هدايا العمّال، مطبوع.
- ٩٥- مختصرٌ في المناسك، مطبوع.
- ٩٦- مسألة تعارض البينتين، وهي غير «العارضة» المتقدّمة.
- ٩٧- مسألة زكاة مال اليتيم.
- ٩٨- مسألة «ضع وتعجَّل»، مطبوعة.
- ٩٩- مسائلُ التعريف لمواضع التحليف، مخطوط.
- ١٠٠- مسائلُ سُئِلَ عن تحريرها في باب الكتابة.
- ١٠١- مصنَّفٌ خامسٌ في منع تعَدُّد الجمعة.
- ١٠٢- مصنَّفٌ في أنه لا يتوقّف الحكمُ بإسلام مَنِ ادُّعِيَ عليه بالكفر - وهو يُنكر -
على تقريره به، ردّ فيه على شيخ الإسلام تقي الدين ابن دقيق العيد.
- ١٠٣- مصنَّفٌ في صلاة التراويح، سوى التي سبقت، وسوى «نور المصابيح»
الآتي، تمامُ السنة.
- ١٠٤- مصنَّفٌ في صلاة التراويح، تمامُ السبعة.
- ١٠٥- مصنَّفٌ في مسألة الدَّوْر، ثالثٌ سوى «قَطْف الثَّمَر» و«النُّور»، وثلاثتها في
الديار المصرية.
حالات مصنف رحمہ اللہ تعالیٰ
- ١٠٦- مصنَّفٌ في حكم الأكـ
على قارعة الطريق، أمـ
- ١٠٧- مصنَّفٌ في مسألة الد
مصر التي اختار فيها مـ
- ١٠٨- مصنَّفٌ في مسألة الدَّوْ
أملاهُ على ولده تاج الـ
- ١٠٩- المُلتقط في النظر المـ
- ١١٠- مناسخات بكتوت الغلـ
- ١١١- المناسك الصغرى، هـ
- ١١٢- المناسك الكبرىٰ.
- ١١٣- مُنبِّه الباحث في دَين الـ
- ١١٤- نَثْرُ الجُمان في عقود الـ
- ١١٥- النظرُ المحقَّق في الحـ
- ١١٦- نَقْدُ الاجتماع والافتراقـ
- ١١٧- النقولُ البديعة في أحـ
- ١١٨- منعُ الاستطراق في البـ
- ١١٩- نَوْرُ الرَّبيع من كتاب الـ
- ١٢٠- النُّور في الدَّوْر، مخطـ
- ١٢١- وقت الصحة (الفسـ
- ١٢٢- نورُ المصابيح في صـ
- ١٢٣- هربُ السارق.
- ١٢٤- الوَشْيُ الإِبْريزي في مـ
* أحكام الأوقاف(١):
- ١٢٥- أوّلُ مَرْمَاة في وقف ـ
- ١٢٦- بَرَاعة اليَراعة في وقفـ
- ١٢٧- بُغْيَةُ شُعَيب من غير ـ
- ١٢٨- تسريحُ الخاطر في الـ
- ١٢٩- التمهيد فيما يجِبُ فـ
حالات مصنف رحمہ اللہ تعالیٰ
- ١٠٦ - مصنّفٌ في حكم الأكل من رأس الثريد، والقِرانِ بين التمرتَين، والتَّعريسِ
على قارعةِ الطريق، أي النزول ليلاً، واشتمال الصمّاء، وغيرها .
- ١٠٧ - مصنَّفٌ في مسألة الدَّوْر، صنَّفَه في الشام، رجع فيه عن الثلاثة التي في
مصر التي اختار فيها مقالة الإمام ابن الحدَّاد .
- ١٠٨ - مصنَّفٌ في مسألة الدَّوْر، ألَّفه في الشام بعدَ السابق، وأحدُ هذين الأخيرين
أملاهُ علىٰ ولده تاج الدين عبد الوهَّاب .
- ١٠٩ - المُلتقَط في النظر المشترَط .
- ١١٠ - مناسخات بكتوت العلائي في الفرائض .
- ١١١ - المناسك الصغرىٰ، هو نفسُه : مختصرٌ في المناسك، الذي تقدَّم .
- ١١٢ - المناسك الكبرىٰ .
- ١١٣ - مُنبِّه الباحث في دَيْن الوارث، مطبوع .
- ١١٤ - نَثْرُ الجُمان في عقود الرَّهْن والضمان، مطبوع .
- ١١٥ - النظرُ المحقَّق في الحَلِفِ بالطلاقِ المعلَّق، مطبوع .
- ١١٦ - نَقْدُ الاجتماع والافتراق في مسألة الأيمان والطلاق، مطبوع .
- ١١٧ - النقولُ البديعة في أحكام الوديعة .
- ١١٨ - منعُ الاستطراق في الباب المستحِقِّ للإغلاق .
- ١١٩ - نَوْرُ الرَّبيع من كتاب الرَّبيع .
- ١٢٠ - النُّور في الدَّوْر، مخطوط .
- ١٢١ - وقت الصحَّة (الفسحة؟) في الحكم بالصحة .
- ١٢٢ - نورُ المصابيح في صلاة التراويح .
- ١٢٣ - هربُ السارق .
- ١٢٤ - الوَشيُ الإبْرِيزي في حلِّ التَّبْريزي .
* أحكام الأوقاف(١) :
[٢٣ مصنَّفاً]
- ١٢٥ - أولُ مَرماة في وقف حماة، مخطوط .
- ١٢٦ - بَراعة اليَراعة في وقف بني وَداعة، مخطوط .
- ١٢٧ - بُغيةُ شُعَيب من غير إثم ولا عَيْب، مخطوط .
- ١٢٨ - تسريحُ الخاطرِ في انعزال الناظر، مخطوط .
- ١٢٩ - التمهيد فيما يجِبُ فيه التحديد، مطبوع .
نْ يُصْبِحُ عَشْرًا، وَ حِيْنَ يُمْسِي عَشْرًا، الْقِيَامَةِ )
ث [484]
ديث [6233]
نا کہ پڑھیں تو یہ فوائد و ثمرات ملیں گے نہ پڑھیں تو ہماری مرضی بلکہ یہ معاملہ ی تعمیر ہے۔ یہ صرف حب مصطفیٰ ﷺ کا تقاضا ہی نہیں بلکہ نبی اکرم ﷺ ق بھی ہے اور یہ حق ادا نہ کرنے والوں کو سخت وعید بھی سنائی گئی ہے، جیسا کہ جہ ذیل احادیث میں مروی ہے۔
فضل الصلوٰة علی النبی ﷺ [حدیث: 11]
مشكاة مع تحقيق الألباني، رقم الحديث (925)
حالات مصنف رحمہ اللہ تعالیٰ
- ١٣٠ - تنصيصُ الشُّهُودِ على تشخيص الحدود .
- ١٣١ - ثاني مَرْمَاة في مسألة حماة ، مخطوط .
- ١٣٢ - الجوابُ الحاضر في وقف بني عبد القادر .
- ١٣٣ - جوابُ الكُماة عن وقف حماة، مخطوط .
- ١٣٤ - الجوابُ التَّقَوِي في الوقف التَّقْوِي، مخطوط .
- ١٣٥ - حكمُ الشرع المُطَهَّر في قصر أم حكيم ومرج الصُّفَّر ، مخطوط .
- ١٣٦ - دفعُ مَن تَغَلْبَك في مسألة مدرسة بعلبك .
- ١٣٧ - السكرية في السكرية، مخطوطة .
- ١٣٨ - الطَّوالعُ المشرقة في الوقفِ على طبقةٍ بعد طبقة ، مخطوطة .
- ١٣٩ - القولُ المُوعِب في القضاء بالمُوجَب ، مخطوط .
- ١٤٠ - المباحثُ المشرقة في الوقف على طبقةٍ بعد طبقة .
- ١٤١ - مَصْمَى الرُّماة في وقفِ حماة، مخطوط .
- ١٤٢ - موقِفُ الرُّماة في وقفِ حماة، مطبوع .
- ١٤٣ - النظرُ المُعِيني في محاكمَةِ أولاد اليونيني .
- ١٤٤ - النقولُ والمباحثُ المشرقة في الوقف على طبقةٍ بعد طبقة، مخطوط .
- ١٤٥ - وَشْيُ الوُشاة في وقفِ أَرْغُون شاه، مخطوط .
- ١٤٦ - وقفُ بني عساكر، مطبوع .
- ١٤٧ - وقفُ بيسان .
* أصول الفقه :
[١٢ مصنَّفًا]
- ١٤٨ - الإبهاج في شرح المنهاج، مطبوع .
- ١٤٩ - أجوبة مسائل في أصول الفقه سأله عنها ولده تاج الدين عبد الوهاب .
- ١٥٠ - أصلُ المنافع في إيداع الدوافع ، مخطوط .
- ١٥١ - الألفاظُ التي وُضِعت بإزاء المعاني الذهنية أو الخارجية .
- ١٥٢ - رسالةٌ في العام المخصوص والعام الذي يُرادُ به الخصوص، مخطوطة .
- ١٥٣ - رسالةٌ في الفرق بينَ صريح المصدر وأنْ والفعل، مطبوعة .
- ١٥٤ - رفعُ الحاجب عن مختصر ابن الحاجب(١) .
- ١٥٥ - قاعدةٌ لطيفةٌ في أقسام الحكم، مخطوطة .
حالات مصنف رحمہ اللہ تعالیٰ
- ١٥٦ - معنى قول الإمام المطَّلبي :
- ١٥٧ - المُفَرِّق في مُطلقِ الماءِ والمـ
- ١٥٨ - منتَخَبُ تعليقَةِ الأستاذ أبي
- ١٥٩ - وِرْدُ العَلَلِ في فهم العِلل، مـ
* المنطق :
- ١٦٠ - الكلامُ مع ابن أندراس في ا
* اللغة والنحو :
- ١٦١ - الاتساق في بقاء وجو الاشـ
- ١٦٢ - أحكام كُلِّ وما عليه تدلّ، مـ
- ١٦٣ - أسئلةٌ في العربية سأله عنهـ
- ١٦٤ - الإعمال في معنى الإبدال، مـ
- ١٦٥ - الإغريض في الحقيقة والمـ
- ١٦٦ - الإقناع في الكلام على أدبـ
- ١٦٧ - الاقتناص في الفرق بين المـ
- ١٦٨ - البصرُ الناقد في لا كَلَّمتُه
- ١٦٩ - بيانُ حُكمِ الرَّبْطِ في اعتراضـ
- ١٧٠ - بيانُ المحتمل في تعديةِ هـ
- ١٧١ - التهدّي إلى معنى التعدّي، مـ
- ١٧٢ - الحِلْمُ والأناة في إعراب
- ١٧٣ - الرُّفْدَة في معنى وَحْدَه، مـ
- ١٧٤ - قَدْرُ الإمكان المُخْتَصَم
- ١٧٥ - كشفُ القِناع في إفادة لو
- ١٧٦ - لُمْعَةُ الإشراق في أمثلة ا
- ١٧٧ - مسألةٌ في الاستثناءات الـ
- ١٧٨ - مسألةٌ : هل يُقال العشر
مَنْ يُصْبِحُ عَشْرًا، وَ حِيْنَ يُمْسِيْ عَشْرًا، الْقِيَامَةِ ) [484] الحديث [6233]
ا کہ پڑھیں تو یہ فوائد وثمرات ملیں گے نہ پڑھیں تو ہماری مرضی بلکہ یہ معاملہ کی تعمیل ہے۔ یہ صرف حب مصطفیٰ ﷺ کا تقاضا ہی نہیں بلکہ نبی اکرم ﷺ ق بھی ہے اور یہ حق ادا نہ کرنے والوں کو سخت وعید بھی سنائی گئی ہے، جیسا کہ کچھ ذیل احادیث میں مروی ہے۔ فضل الصلاة على النبي ﷺ [حديث: 11] مشكاة مع تحقيق الألباني، رقم الحديث (925)
۳۸ ج الصَّغِير، مخطوط. طبقة، مخطوطة. مخطوط. طبقة . طبقة بعد طبقة، مخطوط.
[۱۲ مصنفًا]
تاج الدين عبد الوهاب . الخارجية . به الخصوص، مخطوطة. العمل، مطبوعة .
حالات مصنف رحمہ اللہ تعالیٰ
- ١٥٦ - معنى قول الإمام المطَّلبي : إذا صح الحديث فهو مذهبي، مطبوع.
- ١٥٧ - المُفْتَرَق في مُطلق الماء والماء المطلق، مطبوع.
- ١٥٨ - منتخَبُ تعليقةِ الأستاذ أبي إسحاق الإسفراييني في الأصول.
- ١٥٩ - وِرْدُ العُلَل في فهم العلل، مخطوط.
* المنطق :
[مصنَّفٌ واحد]
- ١٦٠ - الكلامُ مع ابن أندراس في المنطق.
* اللغة والنحو :
[٢١ مصنَّفًا]
- ١٦١ - الاتساق في بقاء وجه الاشتقاق.
- ١٦٢ - أحكام كُلِّ وما عليه تَدُلُّ، مطبوع.
- ١٦٣ - أسئلةٌ في العربية سأله عنها محمد بن عيسى السَّكْسَكي (ت ٧٦٠هـ).
- ١٦٤ - الإعمال في معنى الإبدال، مخطوط.
- ١٦٥ - الإغريض في الحقيقة والمجاز والكناية والتعريض، مطبوع.
- ١٦٦ - الإقناع في الكلام على أنّ «لو» للامتناع.
- ١٦٧ - الاقتناص في الفرق بين الحَصْر والقَصْر والاختصاص.
- ١٦٨ - البصرُ الناقد في لا كَلَّمْتُ كلَّ واحد، مطبوع.
- ١٦٩ - بيانُ حُكم الرَّبْط في اعتراض الشرط على الشرط، مخطوط.
- ١٧٠ - بيانُ المحتمل في تعدية عَمِل، مخطوط.
- ١٧١ - التهدِّي إلى معنى التعدّي، مخطوط.
- ١٧٢ - الحِلْمُ والأناة في إعراب قوله تعالى : ﴿ غَيْرَ نَاظِرِينَ إِنَاهُ ﴾ ، مطبوع .
- ١٧٣ - الرِّفْدَة في معنى وَحْدَه، مطبوعة.
- ١٧٤ - قَدْرُ الإمكان المُخْتَطَف في دلالةِ : «كان إذا اعتكف»، مطبوع.
- ١٧٥ - كشفُ القِناع في إفادة «لو» للامتناع.
- ١٧٦ - لُمْعَةُ الإشراق في أمثلة الاشتقاق، منظومة مطبوعة.
- ١٧٧ - مسألةٌ في الاستثناءات النحوية، مطبوعة.
- ١٧٨ - مسألةٌ : هل يُقال العشر الأخير، مطبوعة.
نْ يُصْبِحُ عَشْرًا، وَ حِيْنَ يُمْسِي عَشْرًا، الْقِيَامَةِ ) [484] الحديث 6233]
ں کہ پڑھیں تو یہ فوائد وثمرات ملیں گے نہ پڑھیں تو ہماری مرضی بلکہ یہ معاملہ ی ضمیر ہے۔ یہ صرف حب مصطفیٰ ﷺ کا تقاضا ہی نہیں بلکہ نبی اکرم ﷺ ق بھی ہے اور یہ حق ادا نہ کرنے والوں کو سخت وعید بھی سنائی گئی ہے، جیسا کہ کچھ ذیل احادیث میں مروی ہے۔
فضل الصلوة على النبي ﷺ [حديث: 11] مشكاة مع تحقيق الألباني، رقم الحديث (925)
حالات مصنف رحمہ اللہ تعالیٰ
- ١٧٩ - مَدْحُ مَنْ فاه بما أعظم الله، مخطوطة.
- ١٨٠ - نيلُ العُلا في العطف بـ«لا»، مطبوع.
- ١٨١ - وَشْيُ الحُلا في تأكيد النفي بـ«لا».
- ١٨٢ - قصائدُ وأشعارٌ كثيرةٌ، تأتي في مجلَّدٍ لطيف.
* شروح الأحاديث : [٦ مصنَّفات]
- ١٨٣ - إبرازُ الحِكَم من حديث : رُفِعَ القلم، مطبوع .
- ١٨٤ - حديثُ نحر الإبل .
- ١٨٥ - جوابُ سؤالٍ عن حديث : «أسألكُ رحمةً من عندك تهدي بها قلبي»، مخطوط .
- ١٨٦ - فتوى في حديث : «كل مولودٍ يُولَدُ على الفِطْرَةِ»، مطبوعة .
- ١٨٧ - الكلامُ على حديث : «إذا مات ابنُ آدمَ انقطع عملُه إلا من ثلاث» .
- ١٨٨ - مَن أقسَطُوا ومَن غَلُوا في حكم مَن يقولُ لَوْ ، وهو شرحُ حديث : « . . وإن أصابك شيء فلا تقل : لو أني فعلتُ كان كذا وكذا . .»، مخطوط .
* التصوّف والأخلاق : [٨ مصنَّفات]
- ١٨٩ - الافتقار في أهل الغار، مخطوط .
- ١٩٠ - التحفة في الكلام على أهل الصُّفَّة، مخطوط .
- ١٩١ - حفظُ الصيام عن فَوْتِ التمام، مطبوع .
- ١٩٢ - رسالةٌ إلى الحضرة النبوية الشريفة في شأن ابن تيمية، مخطوطة .
- ١٩٣ - رسالةٌ في برِّ الوالدين، مخطوطة .
- ١٩٤ - طلبُ السلامة في ترك الإمامة، مخطوط .
- ١٩٥ - المحاورةُ والنشاط في المجاورة والرِّباط، مخطوط .
- ١٩٦ - وصيّةٌ (نصيحةُ) القضاة .
* التاريخ : [تصنيفٌ واحد]
- ١٩٧ - منتخبُ «طبقات الفقهاء» للإمام ابن الصلاح .
* تصانيفُ لم يتبيّنْ موضوع
- ١٩٨ - أجوبة أهل صَفَد .
- ١٩٩ - إحياءُ النفوس في صنعة إلـ
- ٢٠٠ - جوابُ سؤال عليِّ بن عبد
- ٢٠١ - جوابُ سؤالٍ من القدس ا
- ٢٠٢ - جوابُ سؤالٍ وردَ من بغدا
- ٢٠٣ - جوابُ سؤالاتِ الإمام نجـ
- ٢٠٤ - الرسالة العَلائية .
- ٢٠٥ - رسالةُ أهل مكة .
- ٢٠٦ - كشفُ اللّبْس عن المسائل
- ٢٠٧ - كم حكمةٍ أرَتْنا أسئلةُ «أرْ
- ٢٠٨ - المسائلُ الملخَّصة، مخطـ
- ٢٠٩ - المناقشات المصلحية .
- ٢١٠ - نقدُ كلام الجَزَري الخطيـ
- ٢١١ - النوادر الهمدانية .
مَنْ يُصْبِحُ عَشْرًا، وَ حِيْنَ يُمْسِي عَشْرًا، القيامة )
يث [484] لحديث [6233]
کہ پڑھیں تو یہ فوائد وثمرات ملیں گے نہ پڑھیں تو ہماری مرضی بلکہ یہ معاملہ کی ضمیر ہے۔ یہ صرف حب مصطفیٰ ﷺ کا تقاضا ہی نہیں بلکہ نبی اکرم ﷺ کا بھی ہے اور یہ حق ادا نہ کرنے والوں کو سخت وعید بھی سنائی گئی ہے، جیسا کہ درجہ ذیل احادیث میں مروی ہے۔
فضل الصلوة على النبي ﷺ [حديث: 11] مشكاة مع تحقيق الألباني، رقم الحديث (925)
٤٠
[٦ مصنَّفات]
ع .. رحمةً من عندك تهدي بها قلبي»،
الفطرة»، مطبوعة. يقع عمله إلا من ثلاث» .
ألؤ، وهو شرح حديث: «.. وإن كذا وكذا . . »، مخطوط.
[٨ مصنَّفات]
ابن تيمية، مخطوطة.
مخطوط.
[تصنيف واحد]
* تصانيف لم يتبين موضوعها إلى وقت هذه الكتابة:
- ١٩٨- أجوبة أهل صَفَد.
- ١٩٩- إحياء النفوس في صَنْعَة إلقاء الدروس.
- ٢٠٠- جواب سؤال عليّ بن عبد السلام.
- ٢٠١- جواب سؤال من القدس الشريف.
- ٢٠٢- جواب سؤال ورد من بغداد.
- ٢٠٣- جواب سؤالات الإمام نجم الدين الأصفوني.
- ٢٠٤- الرسالة العَلائية.
- ٢٠٥- رسالة أهل مكة.
- ٢٠٦- كشف اللبس عن المسائل الخمس.
- ٢٠٧- كم حكمةٍ أَرَتْنا أسئلةُ «أَرَتْنا».
- ٢٠٨- المسائل الملخَّصة، مخطوط.
- ٢٠٩- المناقشات المصلحية.
- ٢١٠- نقد كلام الجَزَري الخطيب.
- ٢١١- النوادر الهمدانية.
ن یُصْبِحُ عَشْرًا، وَ حِیْنَ یُمْسِیْ عَشْرًا، لْقِیَامَةِ ) ث 484] حدیث 6233]
کہ پڑھیں تو یہ فوائد و ثمرات ملیں گے نہ پڑھیں تو ہماری مرضی بلکہ یہ معاملہ ی ضمیر ہے۔ یہ صرف حب مصطفیٰ ﷺ کا تقاضا ہی نہیں بلکہ نبی اکرم ﷺ ق بھی ہے اور یہ حق ادا نہ کرنے والوں کو سخت وعید بھی سنائی گئی ہے، جیسا کہ جہ ذیل احادیث میں مروی ہے۔ فضل الصلوٰۃ علی النبی ﷺ [حدیث: 11] مشکاۃ مع تحقیق الألبانی، رقم الحدیث (925)
حالات مصنف رحمہ اللہ تعالیٰ ۴۲
وصال و جنازہ
۷۳ سال کی عمر میں ۵۷۶ھ میں وصال ہوا، جنازہ میں امام احمد بن حنبلؒ کی طرح کثیر لوگوں نے شرکت کی
اس موضوع پر مستقل کتب
زیر بحث مسئلہ کی اہمیت کے پیش نظر اس پر بہت کچھ لکھا گیا تقریباً فقہ کی ہر کتاب کے باب الردۃ ۔ باب الجزیہ اور باب السیر میں اس پر تفصیلی گفتگو موجود ہے لیکن بعض اہل علم نے اس موضوع پر مستقل کتب لکھیں ہیں ،ان کا تذکرہ درج ذیل ہے
- ۱۔ رسالۃ فیمن سب النبی ﷺ (حضور ﷺ کے گستاخ کا حکم)
یہ امام ابو عبد اللہ محمد بن سحنون قیروانی مالکی (۲۰۲۔۲۶۵) کا کام ہے یہ فقیہہ مغرب اور اپنے دور کے مالکیوں کے شیخ و امام تھے
(الدیباج المذہب لابن فرحون)
- ۲۔ الشفاء بتعریف حقوق المصطفیٰ ﷺ (حضور ﷺ کے حقوق کی معرفت سے شفا
پانا) امام کبیر قاضی عیاض مالکی (۴۷۶۔۵۴۴) کی تصنیف ہے، امام ابن فرحون اس کتاب کے بارے میں رقمطراز ہیں
وقد استوعب القاضی عیاض رحمہ اللہ تعالیٰ فی ھذا وما اشبھہ وما یترک لغیرہ مقالا
(تبصرۃ الحکام: ۲: ۶۸۳)
قاضی عیاض رحمہ اللہ تعالیٰ نے اس موضوع کا خوب احاطہ کیا اور دوسروں کے لئے بات کی گنجائش نہیں چھوڑی
مفسر قرآن امام جزی کلبی کے الفاظ ہیں
حالات مصنف رحمہ اللہ تعالیٰ
وقد استوفی القاضی ابو الفضل فی کتاب الشفاء احکام ھذا الباب وبین اصولہ وفصلہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ
(القوانین الفقھیۃ، ۳۵۷)
امام سیوطی فرماتے ہیں
فاستوفی
(تنزیہ الانبیاء)
واقعۃً بعد کے تمام لوگ اس کتاب پر (۱۰۱۲) اور امام خفاجی (۱۰۶۹) نے ا ہے، حافظ ابن حجر مکی نے 'الاعلام بـ مسائل پر خوب و اہم نوٹس تحریر کیے ہیں
- ۳۔ الصارم المسلول علی شاتم الرسول ﷺ
العباس احمد بن تیمیہ حنبلی (۶۶۱۔۷۲۸ استفادہ کیا، اس کا ترجمہ بھی دستیاب ہ کا تین جگہ حوالہ دیا، ان دونوں کتب ـ امام ابن عابدین شامی قـ تذکرہ یوں کرتے ہیں
مَنْ يُصْبِحُ عَشْرًا، وَ حِيْنَ يُمْسِي عَشْرًا، الْقِيَامَةِ )
دث [484]
حديث [6233]
یں کہ پڑھیں تو یہ فوائد و ثمرات ملیں گے نہ پڑھیں تو ہماری مرضی بلکہ یہ معاملہ ی ضمیر ہے۔ یہ صرف حب مصطفیٰ ﷺ کا تقاضا ہی نہیں بلکہ نبی اکرم ﷺ حق بھی ہے اور یہ حق ادا نہ کرنے والوں کو سخت وعید بھی سنائی گئی ہے، جیسا کہ چہ ذیل احادیث میں مروی ہے۔
فضل الصلوۃ علی النبی ﷺ [حدیث: 11]
مشکاة مع تحقيق الألباني، رقم الحدیث (925)
۴۲ صال ہوا، جنازہ میں امام احمد بن حنبل کی
نظر اس پر بہت کچھ لکھا گیا تقریباً فقہ کی اور باب السیر میں اس پر تفصیلی گفتگو موضوع پر مستقل کتب لکھیں ہیں، ان کا
ﷺ کے گستاخ کا حکم )
۷ ۔ ۶۷۵ ) کا کام ہے یہ فقیہ مغرب اور
(الديباج المذہب لابن فرحون)
اور ﷺ کے حقوق کی معرفت سے شفا ) کی تصنیف ہے، امام ابن فرحون اس
قاضی عیاض رحمہ اللہ تعالیٰ نے اس موضوع کا خوب احاطہ کیا اور دوسروں کے لئے بات کی گنجائش نہیں چھوڑی
حالات مصنف رحمہ اللہ تعالیٰ ۴۳
وقد استو فی القاضی ابو قاضی ابو الفضل نے کتاب الشفاء میں الفضل فی کتاب الشفاء احکام اس موضوع کو خوب نبھاتے ہوئے اس هذا الباب وبين اصوله وفصله کے اصول اور تفصیل لکھ دی ہے اللہ تعالیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنه انھیں جزا عطا فرمائے
(القوانین الفقیہۃ، ۳۵۷)
امام سیوطی فرماتے ہیں
جمع فیه فاوعی و حرر نہایت ہی جامع اور موضوع کا احاطہ کرنے فاستوفی (تنزیہ الانبیاء) والی کتاب لکھی
واقعۃً بعد کے تمام لوگ اس کتاب سے استفادہ کرتے ہیں، حضرت ملا علی قاری (۱۰۱۴) اور امام خفاجی (۱۰۶۹) نے اس کی شروحات لکھیں جو نہایت ہی قیمتی سرمایہ ہے، حافظ ابن حجر مکی نے ’الاعلام بقواطع الاسلام‘ میں اس کتاب کے بعض مسائل پر خوب و اہم نوٹس تحریر کیے ہیں، الشفاء کا اردو ترجمہ بھی دستیاب ہے
- ۳۔ الصارم المسلول علی شاتم الرسول ﷺ (گستاخ رسول پر تنی تلوار ) یہ کام حافظ ابو
العباس احمد بن تیمیہ حنبلی (۶۶۱، ۷۲۸ ) کا ہے اس کتاب سے بھی امت نے بہت استفادہ کیا، اس کا ترجمہ بھی دستیاب ہے، امام سبکی نے اپنی اس کتاب میں اسی کتاب کا تین جگہ حوالہ دیا، ان دونوں کتب کے موازنہ کے تحت کچھ گفتگو آرہی ہے
امام ابن عابدین شامی قاضی عیاض مالکی کی الشفاء کے بعد اس کتاب کا تذکرہ یوں کرتے ہیں
مَنْ يُصْبِحُ عَشْرًا، وَ حِيْنَ يُمْسِيْ عَشْرًا، الْقِيَامَةِ ) ث [484] الحدیث [6233]
ں کہ پڑھیں تو یہ فوائد و ثمرات ملیں گے نہ پڑھیں تو ہماری مرضی بلکہ یہ معاملہ ی ضمیر ہے۔ یہ صرف حب مصطفیٰ ﷺ کا تقاضا ہی نہیں بلکہ نبی اکرم ﷺ ق بھی ہے اور یہ حق ادا نہ کرنے والوں کو سخت وعید بھی سنائی گئی ہے، جیسا کہ جہ ذیل احادیث میں مروی ہے۔ فضل الصلوٰة علی النبی ﷺ [حدیث: 11] مشکاة مع تحقیق الألباني، رقم الحدیث (925)
حالات مصنف رحمہ اللہ تعالیٰ ۴۴ ثم تبعه على ذلك من ان کے بعد حنبلی امام شیخ الاسلام الحنابلة الامام شيخ الاسلام ابو العباس احمد بن تیمیہ نے ضخیم ابو العباس احمد بن تيمية کتاب لکھی اور اس کا نام الف فيها كتاباً ضخماً سماه الصارم المسلول رکھا الصارم المسلول
(مجموعہ رسائل ،۱: ۳۱۵)
- ۴۔ السیف المسلول علی من سب الرسول ﷺ (گستاخ پر تنی تلوار ) یہ اس موضوع پر
نہایت ہی انمول تحفہ ہے، پہلی دفعہ اس کی طباعت ۲۰۰۰ء میں ہوئی، بندہ کو اس کے ترجمہ کی سعادت نصیب ہو رہی ہے، اردو ترجمہ کا نام ’اسلام اور احترام نبوت‘ رکھا ہے
امام شامی نے اس کتاب کا تذکرہ یوں فرمایا
ثم تبعه على ذلك من الشافعية ان کے بعد شافعی عالم خاتمۃ المجتہدین خاتمة المجتهدين تقي الدين ابو شیخ تقی الدین ابو الحسن علی سبکی الحسن على السبكى والف فيها نے اس موضوع پر کتاب لکھی كتاباً سّماه السيف المسلول على اس کا السیف المسلول علی من من سب الرسول فتطفلت على سب الرسول رکھا بندہ نے انہی موائد هولاء الكرام بزرگوں سے خوشہ چینی کی ہے
(مجموعہ رسائل ،۱: ۳۱۵)
حالات مصنف رحمہ اللہ تعالیٰ
- ۵۔ السيف المشهور على الزنديق
الدین محمد بن قاسم رومی المعروف باخوین
- ۶۔ تنزيه الانبياء عن تسفيه الاغبـ
تصنیف ہے
- ۷۔ رساله فيها رد على الفقيهه ا
حسين بن عبد الرحمن المشہور بحسام چلپی ( نے فتاویٰ بزازیہ کے اس فتویٰ کا رد لکھا کہ ان مذهب ابی حنيفة عدم قبول توبة الساب
امام ابن عابدین شامی مصنف اور رسالہ کا تـ وللعلامة النحرير الشهير بحسام چلبى من عظماء علماء دولة السلطان سليم خان بن بايزيد خان العثمانی رسالة لطيفة الفها رداً على البزازية في حكم تلك المسالة...فقال اعلم ان سب النبي ﷺ كفر و ارتداد.... لكنه ان تاب وعاد الى الاسلام تقبل توبته فلا يقتل عند الحنيفة الشافعية خلافا للمالكية
نْ يُصْبِحُ عَشْرًا، وَ حِيْنَ يُمْسِي عَشْرًا، الْقِيَامَةِ ) ث [484] لحدیث [6233]
ں کہ پڑھیں تو یہ فوائد و ثمرات ملیں گے نہ پڑھیں تو ہماری مرضی بلکہ یہ معاملہ ی ضمیر ہے۔ یہ صرف حب مصطفیٰ ﷺ کا تقاضا ہی نہیں بلکہ نبی اکرم ﷺ ق بھی ہے اور یہ حق ادا نہ کرنے والوں کو سخت وعید بھی سنائی گئی ہے، جیسا کہ چہ ذیل احادیث میں مروی ہے۔ فضل الصلوٰۃ علی النبی ﷺ [حدیث: 11] مشكاة مع تحقيق الألباني، رقم الحديث (925)
۴۴ کے بعد حنبلی امام شیخ الاسلام العباس احمد بن تیمیہ نے ضخیم کتاب لکھی اور اس کا نام الصارم المسلول رکھا
ر (گستاخ پر تنی تلوار ) یہ اس موضوع پر اعت ۲۰۰۰ء میں ہوئی ، بندہ کو اس کے ترجمہ کا نام 'اسلام اور احترام نبوت' رکھا
ان کے بعد شافعی عالم خاتمۃ المجتہدین شیخ تقی الدین ابوالحسن علی سبکی نے اس موضوع پر کتاب لکھی اس کا السیف المسلول علی من سب الرسول رکھا بندہ نے انہی بزرگوں سے خوشہ چینی کی ہے
حالات مصنف رحمہ اللہ تعالیٰ ۴۵
- ۵۔ السيف المشهور على الزنديق وساب الرسول ، اس کے مولف ، امام تقی
الدین محمد بن قاسم رومی المعروف باخوین (ت،۹۰۲) ہیں
- ۶۔ تنزيه الانبياء عن تسفيه الانبيا ، امام جلال الدین سیوطی (ت،۹۱۱ء) کی
تصنیف ہے
- ۷۔ رساله فيها رد على الفقيه البزازي (ت، ۸۲۷) یہ علامہ حسام الدین
حسین بن عبد الرحمٰن المشہور بحسام چلپی (ت،۹۲۶) کی تالیف ہے اس میں انھوں نے فتاویٰ بزازیہ کے اس فتویٰ کا رد لکھا کہ ان مذهب ابي حنيفة عدم قبول امام ابو حنیفہ کا مذہب یہ ہے کہ گستاخ کی توبة الساب توبہ مقبول نہیں
امام ابن عابدین شامی مصنف اور رسالہ کا تذکرہ ان الفاظ میں کرتے ہیں وللعلامة التحرير الشهير بحسام علامہ المعروف حسام چلپی سلطان چلبی من عظماء علماء دولة السلطان سلیم خان بن بایزید خان عثمانی کا سليم خان بن بايزيد خان العثمانی یہ خوبصورت رسالہ ہے جو انھوں رسالة لطيفة الفها رداً على البزازية نے فتاویٰ بزازیہ میں اس مسئلہ فی حكم تلك المسالة... فقال اعلم کے حکم بارے میں تحریر کا رد کیا ہے ان سب النبی ﷺ کفر و ارتداد... لکھتے ہیں واضح رہے لكنه ان تاب وعاد الى الاسلام تقبل حضور ﷺ کی گستاخی کفر و ارتداد ہے توبته فلا يقتل عند الحنفية و لیکن اگر کوئی توبہ کر کے اسلام قبول کر الشافعية خلافا للمالكية لے تو اس کی توبہ مقبول ہو گی احناف
مَنْ يُّصْبِحُ عَشْرًا، وَ حِيْنَ يُمْسِيْ عَشْرًا، الْقِيَامَةِ ) ث 484] لحدیث 6233]
نا کہ پڑھیں تو یہ فوائد و ثمرات ملیں گے نہ پڑھیں تو ہماری مرضی بلکہ یہ معاملہ کی صوابدید پر ہے۔ یہ صرف حب مصطفیٰ ﷺ کا تقاضا ہی نہیں بلکہ نبی اکرم ﷺ کا حق بھی ہے اور یہ حق ادا نہ کرنے والوں کو سخت وعید بھی سنائی گئی ہے، جیسا کہ رجہ ذیل احادیث میں مروی ہے۔ فضل الصلوٰۃ علی النبی ﷺ [حدیث: 11] مشکاۃ مع تحقیق الألبانی، رقم الحدیث (925)
حالات مصنف رحمہ اللہ تعالیٰ ۴۶
الحنبلية على ما صرح به شيخ الاسلام علی السبکی فی کتاب السيف المسلول على من سب الرسول ﷺ
(تنبيہ الولاة والحکام، ۳۴۲)
و شوافع کے ہاں ایسا نقل نہیں کیا جائے گا بخلاف مالکیہ اور حنابلہ جیسا کہ اس پر شیخ الاسلام علی سبکی نے اپنی کتاب السیف المسلول علی من سب الرسول میں تصریح کی ہے
- ۸۔ السيف المسلول في سب الرسول ﷺ ، یہ علامہ شمس الدین احمد بن سلیمان
المعروف بابن کمال پاشا حنفی (ت، ۹۴۰) کا کام ہے
- ۹۔ رشق السهام فی اضلاع من سب النبی علیہ السلام ، تصنیف امام
محدث شمس الدین بن طولون حنفی (ت ، ۹۵۳)
- ۱۰۔ تنبیہ الولاة والحکام علی احکام شاتم خیر الانام ۔ یہ مشہور محقق فاضل امام ابن عابدین
شامی حنفی (ت، ۱۲۵۲) کی تصنیف ہے، اس مقالہ میں انھوں نے سولہ مقامات پر امام سبکی اور آٹھ مقامات پر شیخ ابن تیمیہ کی کتاب کا حوالہ دیا ہے مقالہ کی پہلی فصل کے مسئلہ اولیٰ کا افتتاح ہی ان الفاظ سے کرتے ہیں
قال الامام خاتمة المجتهدين تقی الدين ابو الحسن علی بن عبد الکافی السبکی رحمہ الله فی کتابه السيف المسلول على من سب الرسول ﷺ
(مجموعہ، ۳۱۶:۱)
امام خاتمة المجتہدین تقی الدین ابوالحسن علی بن عبد الکافی السبکی رحمہ اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب السیف المسلول علی من سب الرسول میں یوں لکھا ہے
حالات مصنف رحمہ اللہ تعالیٰ
- ۱۱۔ السيف البتار لمن سب النبی
غماری (ت ، ۱۴۱۳) کی ہے جس میں بحمد اللہ ، اردو زبان ان کتب کو ماخذ کا درجہ حاصل ہے
سیف اور صارم کے درمیان
- ا۔ دونوں کتب اپنے موضوع اور مواد
- ۲۔ امام سبکی کی کتاب کو ترتیب وتقسیم
- ۳۔ امام سبکی موضوع سے خارجی مسا
مسائل کی طرف نکل گے جبکہ وہ بھی زیادہ ہے
- ۴۔ دونوں مقالات کے مطالعہ کے بعد
سامنے آجائے گا کہ دونوں ہی نہایت ادق نظر و اکثر تدقیقاً طرز تفکر چنانچہ امام شامی کے الفاظ بھی قابل توجہ شیخ ابن تیمیہ کے لئے امام المجتہدین کے الفاظ لکھے جس سے آگے کتاب
مَنْ يُصْبِحُ عَشْرًا، وَ حِيْنَ يُمْسِي عَشْرًا، الْقِيَامَةِ ) [484] لمت [6233]
کہ پڑھیں تو یہ فوائد و ثمرات ملیں گے نہ پڑھیں تو ہماری مرضی بلکہ یہ معاملہ ی ضمیر ہے۔ یہ صرف حب مصطفیٰ ﷺ کا تقاضا ہی نہیں بلکہ نبی اکرم ﷺ حق بھی ہے اور یہ حق ادا نہ کرنے والوں کو سخت وعید بھی سنائی گئی ہے، جیسا کہ جہ ذیل احادیث میں مروی ہے۔ فضل الصلوٰة على النبي ﷺ [حدیث: 11] مشكاة مع تحقيق الألباني، رقم الحديث (925)
۴۶
ان کے ہاں اسے قتل نہیں کیا جائے گا خلاف مالکیہ اور حنابلہ جیسے اس پر شیخ الاسلام علی سبکی نے اپنی کتاب السیف المسلول علی من سب الرسول میں تصریح کی ہے
م، یہ علامہ شمس الدین احمد بن سلیمان کام ہے سب النبی علیہ السلام ،تصنیف امام ()
م۔ یہ مشہور محقق فاضل امام ابن عابدین مقالہ میں انھوں نے سولہ مقامات پر امام حوالہ دیا ہے ان الفاظ سے کرتے ہیں
امام خاتمۃ المجتہدین تقی الدین ابوالحسن علی بن عبد الکافی السبکی رحمہ اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب السيف المسلول على من سب الرسول میں یوں لکھا ہے
حالات مصنف رحمہ اللہ تعالیٰ
- ١١۔ السيف البتار لمن سب النبي المختار ، یہ کتاب عظیم محدث امام عبداللہ صدیق
غماری (ت ۱۳۱۳) کی ہے جس میں انھوں نے سلمان رشدی کی خوب خبر لی ہے بحمد الله ، اردو زبان میں بھی متعدد کتب اس موضوع پر موجود ہیں لیکن ان کتب کو ماخذ کا درجہ حاصل ہے
سیف اور صارم کے درمیان موازنہ
- ۱۔ دونوں کتب اپنے موضوع اور مواد کے اعتبار سے نہایت ہی مفید اور قیمتی ہیں
- ۲۔ امام سبکی کی کتاب کو ترتیب و تقسیم کے اعتبار سے فضیلت حاصل ہے
- ۳۔ امام سبکی موضوع سے خارجی مسائل کی طرف نہیں گئے جبکہ شیخ ابن تیمیہ خارجی
مسائل کی طرف نکل گئے جبکہ وہ بھی نہایت مفید اسی وجہ سے ان کی کتاب کی ضخامت زیادہ ہے
- ۴۔ دونوں کی گفتگو کے مطالعہ کے بعد ہر آدمی کی زبان پر شیخ صلاح الدین صفدی کے یہ
الفاظ آجائیں گے کہ دونوں ہی نہایت علمی مقام کے مالک ہیں مگر امام سبکی ادق نظر و اکثر تحقیقاً نظر وفکر میں گہرے اور تحقیق میں زیادہ وسعت رکھتے ہیں
(الوافی، ۲۱: ۳۵)
پیچھے امام شامی کے الفاظ بھی قابل توجہ ہیں شیخ ابن تیمیہ کے لئے امام اور شیخ الاسلام لیکن شیخ سبکی کے لئے خاتمة المجتہدین کے الفاظ لکھے جس سے امام سبکی کا مقام نہایت ہی آشکار ہو رہا ہے
آئیے کتاب کا مطالعہ شروع کرتے ہیں
اسلام اور احترام نبوت ﷺ ۴۸
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
تمام حمد، اللہ تعالیٰ کی جو اپنے دوستوں کا مددگار، اپنے دشمنوں سے انتقام لینے والا، اپنے زمین و آسمان میں معبود، اپنے اسماء وصفات میں مقدس ،اپنی عظمت و کبریائی میں یکتا، اپنی جبروتی میں قاہر و واحد، جس کی ازلیت کی اولیت اور بقا کی انتہا نہیں، رب صمد نہ کسی کی اولاد اور نہ اس کی اولاد، اس کے فیصلوں میں کوئی شریک نہیں، ایسا زندہ کہ ہر ایک پر فنا جاری کرنے والا، ایسا عالم کہ زمین و آسمان کا ذرہ اپنی حالت ظہور و خفا میں اس کے علم سے خارج نہیں، ایسا قادر کہ تمام ممکنات اس کے حکم و امر کے تابع، ایسا صاحب حکمت، جو بنایا خوب بنایا اس کی نعمتوں کے سمندر میں عقول حیران ہیں
میں حمد کرتا ہوں، اس نے اپنی نعمتوں سے نوازا اور اپنی عطا کے دریا بہا دیئے، میں اعلان کرتا ہوں اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں وہ وحدہ لاشریک ہے اور میں یہ گواہی روز قیامت کے لئے ذخیرہ کرنا چاہتا ہوں، میں یہ بھی اعلان کرتا ہوں حضرت محمد ﷺ اس کے برگزیدہ بندے رسول خاتم الانبیاء، رسولوں کے سربراہ و امین، نبی رحمت، شفیع امت، تکلیف و غم کو دور کرنے والے ہیں اللہ تعالیٰ کے حکم سے تاریکی سے نور کی طرف نکالنے والے، ہدایت و حکمت کے ساتھ مبعوث اور کفایت وعصمت سے مؤید کیے گئے، اللہ تعالیٰ نے انھیں تمام مخلوق سے اشرف و بزرگ بنایا اور ان کی مدد کے لئے انبیاء سے عہد و میثاق لیا، اللہ تعالیٰ کے حبیب وخلیل ،اس کی وحی پر امین و رسول، رب کے ہاں تمام مخلوق سے افضل ہیں آپ کے لشکر کی مدد کا وعدہ کیا گیا
لو لا كان للدنيا عين ولا اثر کیا جاتا نہ چاند اور دنیا کا نام و نشان تک نہ ہوتا
اسلام اور احترام نبوت ﷺ
حکمت و موعظت حسنہ کے ساتھ اپنے رب کی راہ کی طرف دعوت دینے والے ہیں ان کی تعظیم اور ان پر درود ہر زبان پر لازم
من وجبت نبوته و آدم بین ان کے لئے نبوت ثابت تھی جبکہ ابھی الروح والجسد و كان اسمه حضرت آدم روح وجسم کے درمیان تھے مكتوباً على العرش مع الفرد اور ان کا نام عرش پر اللہ تعالیٰ کے ساتھ الصمد مکتوب تھا
اللہ تعالیٰ نے ان کا ذکر اس طرح بلند فرمایا کہ اپنے ساتھ آپ کا ذکر متصل فرما دیا، آپ کی شریعت کو تمام شرائع کے لئے ناسخ قرار دے دیا اگر حضرت موسیٰ و عیسیٰ علیھما السلام دنیا میں ہوتے تو دونوں آپ ہی کی اتباع واقتدا کرتے ، ایک ماہ کی مسافت تک آپ کو دبدبہ دیا گیا، تا قیامت آپ کی کتاب باقی ہے آپ کی دعوت تمام کے لئے مخصوص ہے حالانکہ ہر نبی اپنی قوم کی طرف مبعوث ہوا، اس وقت شفاعت کبریٰ فرمائیں گے جب ہر آدمی اپنی اولاد، والد اور ماں سے بھاگ گیا ہوگا، حمد کا جھنڈا ان کے ہاتھ ہوگا حضرت آدم اور ان کے ماسوا تمام آپ کے جھنڈے کے نیچے ہونگے، قبور سے جب لوگ اٹھیں گے تو سب سے پہلے آپ کی تشریف آوری ہوگی جب رحمٰن کے سامنے آوازیں پست ہونگی (یعنی روزِ قیامت) تو اس وقت آپ حضرات انبیاء علیھما السلام کے امام اور نمائندہ وخطیب ہونگے ، جن کے سینہء اقدس کو شرح نصیب ہوئی ، ملائکہ وجبرئیل اور معجزات باہرہ اور آیات ظاہرہ سے تائید کی گئی ، ہر عیب ومیل سے پاکیزہ ، ہر شک وریب سے بالاتر ، جن کا نور حضرت آدم تا سیدنا عبداللہ کی پشتوں اور پیشانیوں میں منتقل ہوتا رہا ، ان کا نسب اللہ اور مخلوق کے ہاں تمام سے اطہر ، اعظم وارفع اور اکرم ہے ، ہر قسم کے جاہلیت کے نکاح فاسدہ سے مبرا ، اللہ تعالیٰ کے فضل
نَ يُصْبِحُ عَشْرًا، وَ حِينَ يُمْسِي عَشْرًا، الْقِيَامَةِ )
[484]
دیث 6233]
کہ پڑھیں تو یہ فوائد وثمرات ملیں گے نہ پڑھیں تو ہماری مرضی بلکہ یہ معاملہ ی ضمیر ہے۔ یہ صرف حب مصطفیٰ ﷺ کا تقاضا ہی نہیں بلکہ نبی اکرم ﷺ حق بھی ہے اور یہ حق ادا نہ کرنے والوں کو سخت وعید بھی سنائی گئی ہے، جیسا کہ کچھ ذیل احادیث میں مروی ہے۔
فضل الصلاة على النبي ﷺ [حدیث: 11]
مشكاة مع تحقيق الألباني، رقم الحديث (925)
۵۰ اسلام اور احترام نبوت ﷺ سے ہر عقدہ حل ہو گیا تھا حتیٰ کے آپ بصورت چودہویں کے چاند طلوع ہوئے ، آپ کی طلعت کی وجہ سے بت ٹوٹ گئے ، آپ کی بعثت پر داعیان شرک ڈوب گئے ، وجود کے مرکز و قطب کا ظہور ہو گیا سب سے اعلیٰ قبیلہ سے کائنات کا خلاصہ و مغز طلوع ہو گیا اور وہ تمام سے نفیس و عظیم بندے ، اپنی ذات وصفات میں کامل ، حرکات و سکنات میں محفوظ، جلوت وخلوت میں معصوم ، اور تمام قوم کے ہاں امین کا لقب پایا، رب العالمین کی عبادت میں قلب وقالب سے راغب، اعلان نبوت سے پہلے پتھروں نے انھیں سلام کیا، بادلوں نے سایہ کیا، ہر صاحب شعور نے مہک پائی کہ یہ مالک علام (اللہ تعالیٰ) کے رسول ہیں یہاں تک کے چالیس سال مکمل ہوئے تو جبریل امین کتاب مبین لے کر آئے جو ان تمام معجزات سے اعظم ہے جو بصورت سنگریزوں کی تسبیح ، ہاتھوں سے چشموں کا جاری ہونا، چاند دو ٹکڑے ہونا، آنکھ کو اپنی جگہ لوٹا دینا، قلیل شئی کا کثیر ہو جانا، دعا کی مقبولیت، معراج، اسرار، خلق وخلق میں کمال ، تمام مخلوق پر رحمت و رأفت ، انبیاء کی امامت ، تمام اولاد آدم کی سیادت تمام کائنات کے سامنے سورج کا پلٹ آنا ، اشیاء کا تبدیل ہو جانا، اندھوں کا آنکھیں پانا، اور دیگر بے شمار وبے حد نشانیاں اور باتیں ظہور پذیر ہوئیں آپ ﷺ پر اللہ کی اور رحمتیں ہوں، آپ کی آل ، ازواج اور ذریت پر اور کثرت کے ساتھ سلام جب تک فلک گردش میں، ملائکہ تسبیح میں، سورج طلوع وغروب، کبوتر و قمری خوش الحان بول رہی ہے جب تک دنیا و آخرت ہے اسی تعظیم کا حلہ فاخرہ پہنایا جائے ، مقام وسیلہ وفضیلت اور درجہ رفیعہ عطا کیا جائے ، مقام محمود پر فائز رکھا جائے اور ہماری طرف سے ہر وقت آپ کی خدمت میں نیا سلام ہو
اسلام اور احترام نبوت ﷺ
حمد وصلاۃ کے بعد
اللہ تعالیٰ کے بعد ہم پر ان سے بڑھ کر ہمارے ہاں کسی کـ نے ان کے ذریعے صراط مستقیم کی اللہ تعالیٰ کا ارشاد گرامی ہے لـقـد جـاء كـم رسـول انـفـسـكـم عـزيـز عليـ عـنـتـم حـريـص عليكـ لـمـؤمـنـيـن رؤف رحـيـم
(التوبہ، ۱۲۸)
انہی کے واسطہ سے ہمیں و تعالیٰ نے ہم پر باطنی وظاہـ بصارت، گمراہی کے بعد ہـ اللہ انہی کے سبب ہم خوف و روز قیامت ہمارے لئے ہماری سوچ سے بڑھ کر مقـ ان کا شکر یہ ادا کیوں نہ کر ادا نہ کریں؟
اسلام اور احترامِ نبوت ﷺ
حمد وصلاۃ کے بعد
اللہ تعالیٰ کے بعد ہم پر سب سے زیادہ احسان نبی کریم ﷺ کا ہے اور ان سے بڑھ کر ہمارے ہاں کسی بشر کو اسقدر فضیلتِ عام حاصل نہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ان کے ذریعے صراط مستقیم کی ہدایت دی اور ہمیں نار و دوزخ سے محفوظ کیا اللہ تعالیٰ کا ارشاد گرامی ہے
لقد جاء کم رسول من بے شک تمہارے پاس تشریف لائے تم انفسکم عزیز علیہ ما میں سے وہ رسول جن پر تمہارا مشقت عنتم حریص علیکم با میں پڑنا گراں ہے تمہاری بھلائی کے لمؤمنین رؤف رحیم نہایت چاہنے والے یہ مسلمانوں پر کمال (التوبہ، ۱۲۸) مہربان و رحیم ہیں
انہی کے واسطہ سے ہمیں دنیا و آخرت کے مصالح حاصل ہوئے ہیں، اللہ تعالیٰ نے ہم پر باطنی و ظاہری انعامات فرمائے ہیں، اندھے پن کے بعد بصارت، گمراہی کے بعد ہدایت، اور جہالت کے بعد علم ملا ، اور ان شاء اللہ انہی کے سبب ہم خوف کے بعد امن کے امیدوار ہیں، انہوں ﷺ نے روزِ قیامت ہمارے لئے اپنی دعا محفوظ رکھی ہوئی ہے وہ ہمارے لئے ہماری سوچ سے بڑھ کر مقامات ، اللہ تعالیٰ سے مانگنے والے ہیں تو پھر ہم ان کا شکریہ ادا کیوں نہ کریں ؟ ان کا ہم پر جو حق ہے اس کا سوواں حصہ بھی ادا نہ کریں؟
مَنْ يُّصْبِحُ عَشْرًا، وَ حِيْنَ يُمْسِيْ عَشْرًا، الْقِيَامَةِ )
دیث [484]
حدیث [6233]
ں کہ پڑھیں تو یہ فوائد وثمرات ملیں گے نہ پڑھیں تو ہماری مرضی بلکہ یہ معاملہ ی ضمیر ہے۔ یہ صرف حب مصطفیٰ ﷺ کا تقاضا ہی نہیں بلکہ نبی اکرم ﷺ ق بھی ہے اور یہ حق ادا نہ کرنے والوں کو سخت وعید بھی سنائی گئی ہے، جیسا کہ چہ ذیل احادیث میں مروی ہے۔
فضل الصلوٰة علی النبی ﷺ [حدیث: 11]
مشكاة مع تحقيق الألباني، رقم الحديث (925)
اسلام اور احترام نبوت ﷺ ۵۲
آپ کی تعظیم ونصرت ، فرض
مذکورہ وجہ اور اللہ تعالیٰ کے ہاں آپ کے بلند مرتبہ کی وجہ سے ہم پر آپ ﷺ کی تعظیم ، توقیر ، نصرت ، محبت اور ادب لازم ہے، اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے
انا ارسلنک شاھدا بے شک ہم نے تمہیں بھیجا گواہ اور خوشخبری ومبشرا ونذیراً لتؤ منوا بالله اور ڈر سناتا تاکہ اے لوگوں تم اللہ اور ورسوله وتعزروہ وتوقروہ اسکے رسول پر ایمان لاؤ اور رسول کی وتسبحوہ بكرة واصيلاً تعظیم و توقیر کرو اور صبح شام اللہ کی (الفتح، ۸: ۹) پاکیزگی بیان کرو
- ۲۔ الا تنصروہ فقد نصرہ الله اگر تم محبوب کی مدد نہ کرو تو بے شک اللہ
(التوبۃ، ۴۰) نے ان کی مدد فرمائی
- ۳۔ النبى اولى بالمؤمنین من یہ نبی مسلمانوں کا ان کی جان سے زیادہ
انفسھم (الاحزاب، ۶) حقدار ہے
- ۴۔ یا یھا الذین امنوا لا ترفعوا اے ایمان والو اپنی آوازیں اونچی نہ کرو اس
اصواتكم فوق صوت النبى ولا غیب کی خبریں بتانے والے (نبی) کی آواز تجهروا له بالقول كجهر سے اور ان کے حضور بات چلا کر نہ کہو جیسے بعضكم لبعض ان تحبط اعمالكم آپس میں ایک دوسرے کے سامنے چلاتے وانتم لا تشعرون ان الذین ہو کہ کہیں تمہارے عمل اکارت نہ يغضون اصواتهم عند رسول ہو جائیں اور تمہیں خبر نہ ہو بے شک جو اپنی الله اولئک الذین امتحن الله آوازیں پست کرتے ہیں رسول اللہ کے پاس
اسلام اور احترام نبوت ﷺ
قلوبهم للتقوىٰ لهم واجر عظيم (الحجرات
- ۵۔ ان الله وملئكته يصلون
النبی یایھا الذین امنوا عليه وسلموا تسليماً
(الاحزاب
- ٦۔ وان تظاهرا عليه فان
مولٰه وجبریل وصالح الم والملئكة بعد ذلک ظهی
(التحری
لقد من الله علی المؤم بعث فیھم رسولاً من یتلوا علیھم آیاته وی ویعلمھم الکتاب والحک کانوا من قبل لفی ضلل م
(آل عمران
جو آدمی پورے قرآن میں غور و پر مملو و معمور پائے گا جیسے اللہ تصدیق کے ساتھ دیگر ام
حِيْنَ يُصْبِحُ عَشْرًا، وَ حِيْنَ يُمْسِي عَشْرًا، يَوْمَ الْقِيَامَةِ )
[حدیث 484]
[الحديث 6233]
کہ پڑھیں تو یہ فوائد وثمرات ملیں گے نہ پڑھیں تو ہماری مرضی بلکہ یہ معاملہ کسی ضمیمہ پر ہے۔ یہ صرف حب مصطفیٰ ﷺ کا تقاضا ہی نہیں بلکہ نبی اکرم ﷺ کا حق بھی ہے اور یہ حق ادا نہ کرنے والوں کو سخت وعید بھی سنائی گئی ہے، جیسا کہ مندرجہ ذیل احادیث میں مروی ہے۔
فضل الصلوة على النبي ﷺ [حديث: 11]
مشكاة مع تحقيق الألباني، رقم الحديث (925)
مرتبہ کی وجہ سے ہم پر آپ ﷺ کی اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے بے شک ہم نے تمہیں بھیجا گواہ اور خوشی و ڈر سناتا تا کہ اے لوگوں تم اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لاؤ اور رسول کی تعظیم و توقیر کرو اور صبح شام اللہ کی بزرگی بیان کرو
محبوب کی مدد نہ کرو تو بے شک اللہ نے ان کی مدد فرمائی مسلمانوں کا ان کی جان سے زیادہ حق ہے
ایمان والو اپنی آوازیں اونچی نہ کرو اس غیب بتانے والے (نبی) کی آواز پر اور ان کے حضور بات چلا کر نہ کہو جیسے آپس میں ایک دوسرے کے سامنے چلاتے ہو، کہیں تمہارے عمل اکارت نہ ہو جائیں اور تمہیں خبر نہ ہو بے شک جو اپنی آوازیں پست کرتے ہیں رسول اللہ کے پاس
اسلام اور احترام نبوت ﷺ
قلوبهم للتقوى لهم مغفرة وہ ہیں جن کا دل اللہ نے پرہیزگاری کے لئے واجر عظیم (الحجرات، ۳) پرکھ لیا ہے ان کے لئے بخشش اور بڑا ثواب ہے
- ۵۔ ان الله وملئكته يصلون على بے شک اللہ اور اس کے فرشتے درود
النبى يا يها الذين امنوا صلوا بھیجتے ہیں اس غیب بتانے والے (نبی) عليه وسلموا تسليماً پر اے ایمان والو ان پر درود اور خوب (الاحزاب، ۵۶) سلام بھیجو
- ۶. وان تظاهرا عليه فان الله هو اور اگر ان پر زور باندھو تو بے شک اللہ
موله وجبريل وصالح المؤمنين ان کا مدد گار ہے اور جبریل اور نیک والملئكة بعد ذلك ظهير ایمان والے اور اس کے بعد فرشتے مدد (التحریم، ۴) پر ہیں لقد من الله على المؤمنین اذ بے شک اللہ کا بڑا احسان ہوا مسلمانوں بعث فيهم رسولاً من انفسهم پر کہ ان میں انھیں میں سے ایک رسول يتلوا عليهم آياته ويزكيهم بھیجا جو ان پر اس کی آیتیں پڑھتا ہے ويعلمهم الكتاب والحكمة وان اور انھیں پاک کرتا ہے اور انھیں کتاب كانوا من قبل لفي ضلل مبین وحکمت سکھاتا ہے اور وہ ضرور اس سے (آل عمران، ۱۶۴) پہلے کھلی گمراہی میں تھے
جو آدمی پورے قرآن میں غور و فکر کرے وہ اسے حضور ﷺ کی تعظیم و قدر و منزلت پر مملو و معمور پائے گا جیسے اللہ تعالیٰ نے ہم پر اپنی ذات اقدس اور اپنی وحدانیت کی تصدیق کے ساتھ دیگر اشیاء لازم کیں ہیں مثلاً ہمارے دلوں میں اس کی
حِينَ يُصْبِحُ عَشْرًا، وَ حِينَ يُمْسِي عَشْرًا، يَوْمَ الْقِيَامَةِ )
] [حديث : 484] [الحديث 6233]
اسلام اور احترام نبوت ﷺ
تعظیم، اجلال، ہیبت، خوف، رضا، توکل و شکر ہو ہماری زبانوں پر اسکی ثناء، ذکر، حمد و قرآت اور ہمارے جوارح سے نماز جیسے اعمال ہوں
اسی طرح اس نے اپنے نبی ﷺ کی ذات کی اور رسالت کی تصدیق کے ساتھ یہ چیز بھی لازم کی ہے مثلاً ہمارے دلوں میں ان کی تعظیم، توقیر و محبت، ہماری زبانوں پر درود، اذان، نماز، خطبہ میں شہادت رسالت اور ہمارے جوارح پر لازم ہے کہ ہم آپ کو اپنی ہر شئی سے مقدم اور آپ کے لئے ہر شئی قربان کر دیں اور اس کے علاوہ اللہ تعالیٰ نے جو کچھ آپ کے لئے ہم پر فرض کیا اسے نبھائیں، جہتِ رسالت کی وجہ سے جو آپکی تعظیم ہے یہ اس پر اضافہ ہے کیونکہ یہ چیزیں ہر رسول میں ہیں
حضور ﷺ کا فرمان ہے
لا يؤمن احدكم حتى اكون احب اليه من ولده و والده والناس اجمعين
تم میں کوئی مومن نہیں ہو سکتا جب تک میں اسے اولاد، والد اور تمام لوگوں سے محبوب نہ ہو جاؤں
(بخاری، ۱۵۔ مسلم، ۴۴)
حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے آپ ﷺ سے عرض کیا تھا، یا رسول اللہ
انت احب الي من كل احد الا نفسي
آپ مجھے اپنی جان کے علاوہ ہر شئی سے محبوب ہیں
آپ نے فرمایا
لا يا عمر حتى اكون احب اليه من نفسك
اے عمر نہیں یہاں تک کہ میں تمہیں جان سے بھی عزیز ہو جاؤں
عرض کیا
کہ پڑھیں تو یہ فوائد و ثمرات ملیں گے نہ پڑھیں تو ہماری مرضی بلکہ یہ معاملہ بھی گھمبیر ہے۔ یہ صرف حب مصطفیٰ ﷺ کا تقاضا ہی نہیں بلکہ نبی اکرم ﷺ کا حق بھی ہے اور یہ حق ادا نہ کرنے والوں کو سخت وعید بھی سنائی گئی ہے، جیسا کہ مندرجہ ذیل احادیث میں مروی ہے۔
فضل الصلوۃ علی النبی ﷺ [حدیث: 11]
مشكاة مع تحقيق الألباني، رقم الحديث (925)
اسلام اور احترام نبوت ﷺ
انت احب الي من نفسي قال فالآن (البخاری، ۶۶۳۲)
یہ چیزیں حرام ہیں
اسی طرح اللہ تعالیٰ نے تعظیم نبوی کی وجہ سے
وما كان لكم ان تؤذوا رسول الله ولا ان تنكحوا ازواجه من بعده ابداً ان ذلكم كان عند الله عظيما (الاحزاب، ۵۳)
ان الذين يؤذون الله ورسوله لعنهم الله في الدنيا والاخرة واعد لهم عذاباً مهيناً والذين يؤذون المؤمنين والمؤمنات بغير ما اكتسبوا فقد احتملوا بهتاناً واثما مبينا (الاحزاب، ۵۷۔۵۸)
یہاں غور کریں اذیت رسول اور ازواج مطہرات کے ساتھ نکاح حرام کر دیا ارشاد رب العزت ہے
ومنهم الذين يؤذون النبي ويقولون هو اذن قل
يُصْبِحُ عَشْرًا، وَ حِيْنَ يُمْسِي عَشْرًا، الْقِيَامَةِ ) ث [484] الحدیث [6233]
ا کہ پڑھیں تو یہ فوائد وثمرات ملیں گے نہ پڑھیں تو ہماری مرضی بلکہ یہ معاملہ ی ضمیر پر ہے۔ یہ صرف حب مصطفیٰ ﷺ کا تقاضا ہی نہیں بلکہ نبی اکرم ﷺ ق بھی ہے اور یہ حق ادا نہ کرنے والوں کو سخت وعید بھی سنائی گئی ہے، جیسا کہ چہ ذیل احادیث میں مروی ہے۔ فضل الصلوٰۃ علی النبی ﷺ [حدیث: 11] مشکاة مع تحقيق الألباني، رقم الحدیث (925)
۵۴ کی زبانوں پر اسکی ثناء، ذکر، حمد
کی اور رسالت کی تصدیق کے ان کی تعظیم، توقیر، محبت، ہماری ت اور ہمارے جوارح پر لازم ہر شئی قربان کر دیں اور اس کے اسے نبھائیں، جہت رسالت کی یں ہر رسول میں ہیں
ئی مومن نہیں ہوسکتا جب تک اولاد، والد اور تمام لوگوں نہ ہو جاؤں
یا رسول اللہ اپنی جان کے علاوہ ہر شئی سے
یہاں تک کہ میں سے بھی عزیز ہو جاؤں
اسلام اور احترام نبوت ﷺ انت احب الی من نفسی قال آپ مجھے اپنی جان سے بھی زیادہ فالآن (البخاری، ۶۶۳۲) محبوب ہیں فرمایا اب کام بنا
یہ چیزیں حرام کیں
اسی طرح اللہ تعالیٰ نے تعظیم نبوی کی وجہ سے ہم پر یہ چیزیں حرام کر دیں، ارشاد مقدس ہے وما كان لكم ان تؤذوا رسول اور تمہیں نہیں پہنچتا کہ رسول اللہ کو ایذا دو الله ولا ان تنكحوا ازواجه من اور نہ ان کے بعد کبھی ان کی بیویوں سے بعده ابداً ان ذلكم كان عند نکاح کرو بے شک یہ اللہ کے نزدیک الله عظيما (الاحزاب، ۵۳) بڑی سخت بات ہے
ان الذين يؤذون الله ورسوله بے شک جو ایذا دیتے ہیں اللہ اور اسکے لعنهم الله في الدنيا والاخرة رسول کو ان پر اللہ کی لعنت ہے دنیا اور واعد لهم عذاباً مهيناً والذين آخرت میں اور اللہ نے ان کے لئے يؤذون المؤمنين والمؤمنت ذلت کا عذاب تیار کر رکھا ہے اور جو بغير ما اكتسبوا فقد احتملوا ایمان والے مردوں اور عورتوں کو بے بهتاناً واثما مبينا وجہ ستاتے ہیں انھوں نے بہتان اور کھلا (الاحزاب، ۵۷-۵۸) گناہ اپنے سر لیا
یہاں غور کریں اذیت رسول اور اذیت مومنین میں کس قدر فرق ہے؟ آپ کی ازواج مطہرات کے ساتھ نکاح حرام کر دیا لیکن یہ مقام کسی مومن کی بیوی کو حاصل نہیں
ارشاد رب العزت ہے ومنهم الذين يؤذون اور ان میں کوئی وہ ہیں کہ ان غیب کی النبى ويقولون هو اذن قل خبریں دینے والے کو ستاتے ہیں اور
اسلام اور احترام نبوت ﷺ
اذن خير لكم يؤمن بالله ويؤمن للمؤمنين و رحمة للذين امنوا منكم والذين يؤذون رسول الله لهم عذاب اليم (التوبہ، ۶۱)
کہتے ہیں وہ تو کان ہیں تم فرماؤ تمہارے بھلے کے لئے کان ہیں اللہ پر ایمان لاتے ہیں اور مسلمانوں کی بات پر یقین کرتے ہیں اور جو تم میں سے مسلمان ہے ان کے واسطے رحمت ہیں اور جو رسول اللہ کو ایذا دیتے ہیں ان کے لئے دردناک عذاب ہے
ان ذلكم كان يؤذى النبى فيستحى منكم والله لا يستحى من الحق (الاحزاب، ۵۳)
بے شک اس میں نبی کو ایذا ہوتی تھی تو وہ تمہارا لحاظ فرماتے تھے اور اللہ حق فرمانے سے نہیں شرماتا
اللہ تعالیٰ نے اپنے اور رسول کے تقدم سے منع فرمایا، کوئی آدمی قولِ نبوی ﷺ سے آگے نہیں بڑھ سکتا، اسی طرح آپ سے تخلف حرام قرار دیا، ارشاد مقدس ہے
ما كان لاهل المدينة ومن حولهم من الاعراب ان يتخلفوا عن رسول الله ولا يرغبوا بانفسهم عن نفسه (التوبہ، ۱۲۰)
مدینہ والوں اور ان کے اردگرد دیہات والوں کو لائق نہ تھا کہ رسول اللہ سے پیچھے بیٹھ رہیں اور نہ یہ کہ ان کی جان سے اپنی جان پیاری ہے
حجروں سے باہر آواز لگا کر بلانا حرام فرما دیا اور ایسا کرنے والوں کو بے عقل کہہ دیا ہم
مَنْ يُصْبِحُ عَشْرًا، وَ حِيْنَ يُمْسِي عَشْرًا، الْقِيَامَةِ )
[484]
الحدیث [6233]
ا کہ پڑھیں تو یہ فوائد و ثمرات ملیں گے نہ پڑھیں تو ہماری مرضی بلکہ یہ معاملہ یا ضمیر ہے۔ یہ صرف حب مصطفیٰ ﷺ کا تقاضا ہی نہیں بلکہ نبی اکرم ﷺ حق بھی ہے اور یہ حق ادا نہ کرنے والوں کو سخت وعید بھی سنائی گئی ہے، جیسا کہ جہ ذیل احادیث میں مروی ہے۔
فضل الصلوة على النبي ﷺ [ حديث : 11]
مشكاة مع تحقيق الألباني، رقم الحديث (925)
ہیں وہ تو کان ہیں تم ہمارے بھلے کے لئے کان پر ایمان لاتے ہیں اور مسلمانوں پر یقین کرتے ہیں اور جو تم میں مان ہے ان کے واسطے رحمت جو رسول اللہ کو ایذا دیتے ہیں ان دردناک عذاب ہے اس میں نبی کو ایذا ہوتی تمہارا لحاظ فرماتے تھے اور جانے سے نہیں شرماتا
تی آدمی قول نبوی ﷺ سے فرمایا، ارشاد مقدس ہے اور ان کے ارد گرد دیہات دینہ تھا کہ رسول اللہ سے ہیں اور نہ یہ کہ ان کی جان پیاری ہے
ہوالوں کو بے عقل کہہ دیا ہم
اسلام اور احترام نبوت ﷺ
اس مقام پر ان تمام آیات قرآنیہ کا احاطہ نہیں کر سکتے جن میں آپ ﷺ کی قدر ومنزلت، بلندی درجات اور آپ کے ادب میں مبالغہ پر اشارہ اور صراحت موجود ہے ،اس طرح وہ آیات جن میں اللہ تعالیٰ نے آپ کی ثناء کی ، آپ کی حیات کی قسم اٹھائی ، آپ کو رسول و نبی کہہ کر بلایا، آپ کا نام لے کر نہیں بلایا حالانکہ دیگر انبیاء علیھم السلام کے نام لئے ہیں اور دیگر چیزیں جو اللہ تعالیٰ کے ہاں آپ کے بلند رتبہ پر دال ہیں اور یہ کہ کسی کا شرف آپ کے شرف کے برابر ومساوی نہیں
ہمارا آپ کی تعظیم بجالانا، اپنی جانوں کا آپ کے لئے نذرانہ پیش کرنا، آپ کی توقیر ونصرت ، اللہ تعالیٰ کے حکم کی بجا آوری اور لازم عبادت ہے، ہمارے نفوس آپ کے احسان کی بنا پر آپ کی طرف جھکے ہوتے ہیں کیونکہ احسان کرنے والے سے دل محبت کرتے ہیں اور ہاتھ و زبان مدد کرتے ہیں اگر ہاتھ جواب دے جائیں تو کم از کم زبان یہ کام کرتی ہے اس کتاب کا نام میں نے 'السیف المسلول على من سب الرسول'(حضور کے گستاخ پر تنی تلوار ) رکھا ہے
وجہ تصنیف کتاب
اس کے لکھنے کی وجہ یہ تھی میرے پاس ایک سوال آیا، ایک نصرانی نے گستاخی کی ہے اور وہ مسلمان بھی نہیں ہوا، میں نے لکھا اسے قتل کر دیا جائے جیسا کہ رسول اللہ ﷺ نے کعب بن اشرف کے قتل کا حکم دیا لہذا اس بلند بارگاہ کو اس کتے کے منہ ڈالنے سے پاک کر دیا جائے
مِّنْ يُصْبِحُ عَشْرًا، وَ حِيْنَ يُمْسِيْ عَشْرًا، الْقِيَامَةِ ) [484] [حدیث 6233]
کہ پڑھیں تو یہ فوائد وثمرات ملیں گے نہ پڑھیں تو ہماری مرضی بلکہ یہ معاملہ کا ضمیمہ ہے۔ یہ صرف حب مصطفیٰ ﷺ کا تقاضا ہی نہیں بلکہ نبی اکرم ﷺ حق بھی ہے اور یہ حق ادا نہ کرنے والوں کو سخت وعید بھی سنائی گئی ہے، جیسا کہ یہ ذیل احادیث میں مروی ہے۔ فضل الصلوٰۃ علی النبی ﷺ [حدیث: 11] مشکاۃ مع تحقیق الألباني، رقم الحدیث (925)
اسلام اور احترام نبوت ﷺ ۵۸
(اس وقت تک شرف رفیع محفوظ نہیں ہو سکتا جب تک دشمنوں کو قتل نہ کر دیا جائے) متعدد علماء شوافع اور مالکیوں نے بندہ کی تائید بھی کی لیکن کچھ لوگوں نے امام رافعی اور دیگر اصحاب کے قول سے استدلال کر کے ہماری مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اس نصرانی کے معاہدہ ختم ہونے میں اختلاف ہے گویا ان کے نزدیک عہد قائم رہنے کی وجہ سے اسے قتل نہیں کیا جائے گا اور جو میں نے کعب بن اشرف کی بات کی تھی اس پر تعجب کیا اور کہا یہ تو خاص واقعہ ہے جس سے استدلال نہیں کیا جاسکتا، ممکن ہے اسے بغیر سب وشتم قتل کیا گیا ہو
بعض مجادلین نے اسے حربی قرار دیا ہے ہمیں اس مجادل پر تعجب ہے جسے سیرت کے ساتھ مس اور فقہ کے ساتھ ادنیٰ انس ہے اس کے پھر شافعی ہونے پر زیادہ تعجب ہوا کیونکہ امام شافعی نے وہی کہا ہے جو ہم نے لکھا اور انھوں نے کعب بن اشرف کے واقعہ سے ہی استدلال کیا ہے، اس طرح دیگر اکابرین شوافع کا عمل ہے، کسی نے بھی اس کے مخالف تصریح نہیں کی، شیخ غزالی کہتے ہیں
ان المذهب انه لا تقبل توبته شوافع کا مذہب یہی ہے کہ گستاخ کی (خلاصۃ المختصر، ۱۰۱) توبہ قبول نہیں
اس کا انکار، باطل مجادلہ کرنے والا ہی کرسکتا ہے لہٰذا مجھ پر اور دیگر اہل علم پر لازم ہوگیا کہ حق کو اشکار کیا جائے کیونکہ اس میں نصرت و خدمت نبوی ﷺ ہے اور اللہ تعالیٰ کا ارشاد مبارک ہے
اسلام اور احترام نبوت ﷺ
وليعلم الله من ينصره ورسله بالغيب ان الله قوى عزيز (الحدید، ۲۵)
مجھ میں اتنی قوت نہیں کہ میں اس لعنتی اس پر نہایت ہی پریشان اور مضطرب میں جتنی قوت ہے اس کے مطابق ضر جو کوتاہی ہوئی ہے اس پر میں اللہ تعالیٰ طرح نجات عطا فرمادے جیسے اس جنھوں نے لوگوں کو برائی سے منع کیا
نوٹ ۔ مصنف کی غیرت ملاحظہ کیجیے حملے ہورہے ہیں مگر ہمیں اس کا اح استطاعت جدوجہد کرنے تو ممکن ۔
کتاب کی ترتیب
ہم نے اس کتاب کے چار ابواب
- ۱۔ مسلمان گستاخ کا حکم
- ۲۔ ذمی اور دیگر کفار گستاخوں کا حکم
- ۳۔ سب و شتم سے مراد کیا ہے؟
- ۴۔ کچھ مقام مصطفیٰ ﷺ کا تذکر
نَ يُصْبِحُ عَشْرًا، وَ حِيْنَ يُمْسِي عَشْرًا، الْقِيَامَةِ )
ند [484]
لحديث 6233]
نا کہ پڑھیں تو یہ فوائد وثمرات ملیں گے نہ پڑھیں تو ہماری مرضی بلکہ یہ معاملہ کی ضمیر ہے۔ یہ صرف حب مصطفیٰ ﷺ کا تقاضا ہی نہیں بلکہ نبی اکرم ﷺ کا حق بھی ہے اور یہ حق ادا نہ کرنے والوں کو سخت وعید بھی سنائی گئی ہے، جیسا کہ درجہ ذیل احادیث میں مروی ہے۔
فضل الصلوٰۃ علی النبی ﷺ [حدیث: 11]
مشكاة مع تحقيق الألباني، رقم الحديث (925)
تک دشمنوں کو قتل نہ کر دیا جائے) کی لیکن کچھ لوگوں نے امام رافعی اور ہماری مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اس گویا ان کے نزدیک عہد قائم رہنے کی کعب بن اشرف کی بات کی تھی اس پر استدلال نہیں کیا جاسکتا، ممکن ہے اسے
ہے ہمیں اس مجادل پر تعجب ہے جسے ہے اس کے پھر شافعی ہونے پر زیادہ ہم نے لکھا اور انھوں نے کعب بن طرح دیگر اکابرین شوافع کا عمل ہے، غزالی کہتے ہیں کا مذہب یہی ہے کہ گستاخ کی ت نہیں۔ لہٰذا مجھ پر اور دیگر اہل علم پر لازم سنت و خدمت نبوی ﷺ ہے اور اللہ
اسلام اور احترام نبوت ﷺ
بالغیب ان الله قوی عزیز اس کی اور اس کے رسولوں کی مدد کرتا ہے
(الحدید،۲۵) بے شک اللہ قوت والا غالب ہے
مجھ میں اتنی قوت نہیں کہ میں اس لعنتی سے ہاتھ سے انتقام لوں لیکن اللہ جانتا ہے میرا دل اس پر نہایت ہی پریشان اور مضطرب ہے البتہ یہاں محض دل سے نفرت کافی نہیں مجھ میں جتنی قوت ہے اس کے مطابق ضرور زبان وقلم سے جہاد کروں گا میرے ہاتھوں سے جو کوتاہی ہوئی ہے اس پر میں اللہ تعالیٰ سے عدم مواخذہ کی التجا کرتا ہوں تا کہ وہ مجھے اس طرح نجات عطا فرما دے جیسے اس نے بنی اسرائیل کے ان لوگوں کو معاف کر دیا جنھوں نے لوگوں کو برائی سے منع کیا تھا بلاشبہ وہ معافی دینے والا اور غفور ہے
نوٹ ۔ مصنف کی غیرت ملاحظہ کیجیے آج اسلام، حضور ﷺ اور شعائر اسلامی پر کسقدر حملے ہو رہے ہیں مگر ہمیں اس کا احساس تک نہیں، کاش ہم میں سے ہر کوئی حسب استطاعت جد و جہد کرے تو ممکن ہے ان کا ازالہ ہو سکے (مترجم قادری غفرلہ)
کتاب کی ترتیب
ہم نے اس کتاب کے چار ابواب بنائے ہیں
- ۱۔ مسلمان گستاخ کا حکم
- ۲۔ ذمی اور دیگر کفار گستاخوں کا حکم
- ۳۔ سب وشتم سے مراد کیا ہے؟
- ۴۔ کچھ مقام مصطفی ﷺ کا تذکرہ
نْ يُصْبِحُ عَشْرًا، وَ حِيْنَ يُمْسِي عَشْرًا، الْقِيَامَةِ ) يث [484] الحديث 6233]
کہ پڑھیں تو یہ فوائد و ثمرات ملیں گے نہ پڑھیں تو ہماری مرضی بلکہ یہ معاملہ کی تعبیر ہے۔ یہ صرف حب مصطفیٰ ﷺ کا تقاضا ہی نہیں بلکہ نبی اکرم ﷺ حق بھی ہے اور یہ حق ادا نہ کرنے والوں کو سخت وعید بھی سنائی گئی ہے، جیسا کہ کچھ ذیل احادیث میں مروی ہے۔ فضل الصلوۃ علی النبی ﷺ [حدیث: 11]
مشکاۃ مع تحقیق الألباني، رقم الحدیث (925)
اسلام اور احترام نبوت ﷺ
اسی پر کتاب کا اختتام کر دیں گے تا کہ ختامہ مسک قرار پائے۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے وہ اسے نافع اور اسے خالصاً اپنی رضا کے لئے بنادے، ہمارے اقوال، افعال اور نیات کو درست کر دے ہمارے لئے ، ہمارے اباء ، امہات ، اولاد اور اہل کے لئے دنیا وآخرت کی بھلائی جمع کر دے ہم سے دنیا اور آخرت کا شر دور فرما دے ، اپنے خصوصی فضل و احسان کے صدقہ میں ہمارا حشر حضور نبی کریم ﷺ کی امت میں فرمائے ، بلاشبہ وہ غفور رحیم ہے
اسلام اور احترام نبوت ﷺ
باب اول
گستاخی کرنے والے
اس میں دو فصلیں
- ۱۔ اگر توبہ نہ کرے
- ۲۔ اس کی توبہ اور اس
اسلام اور احترام نبوت ﷺ
باب اول
گستاخی کرنے والے مسلمان کا حکم
اس میں دو فصلیں ہیں
- ۱۔ اگر توبہ نہ کرے تو قتل لازم
- ۲۔ اس کی توبہ اور اس سے تقاضا توبہ کا حکم
مَنْ يُصْبِحُ عَشْرًا، وَ حِيْنَ يُمْسِي عَشْرًا، الْقِيَامَةِ ) ند [484] لحديث [6233]
نا کہ پڑھیں تو یہ فوائد وثمرات ملیں گے نہ پڑھیں تو ہماری مرضی بلکہ یہ معاملہ کی ضمیر ہے۔ یہ صرف حب مصطفیٰ ﷺ کا تقاضا ہی نہیں بلکہ نبی اکرم ﷺ ق بھی ہے اور یہ حق ادا نہ کرنے والوں کو سخت وعید بھی سنائی گئی ہے، جیسا کہ نچہ ذیل احادیث میں مروی ہے۔
فضل الصلوٰة علی النبی ﷺ [حدیث: 11] مشكاة مع تحقيق الألباني، رقم الحديث (925)
اسلام اور احترام نبوت ﷺ
فصل اول
گستاخ کا
یہاں دوم
- ۱۔ اس پر
- ۲۔ کیا اس
اسلام اور احترام نبوت ﷺ
فصل اول
گستاخ کا قتل لازم اور اس پر امت کا اتفاق ہے
یہاں دو مسائل پر کلام کی ضرورت ہے
- ۱۔ اس پر علماء کی تصریحات اور دلائل
- ۲۔ کیا اسے بطور کافر یا بطور حد قتل کیا جائے گا؟
مَنْ يُصْبِحُ عَشْرًا، وَ حِيْنَ يُمْسِي عَشْرًا، الْقِيَامَةِ ) ث [484] لحديث [6233]
نا کہ پڑھیں تو یہ فوائد و ثمرات ملیں گے نہ پڑھیں تو ہماری مرضی بلکہ یہ معاملہ کی ضمیر ہے۔ یہ صرف حب مصطفیٰ ﷺ کا تقاضا ہی نہیں بلکہ نبی اکرم ﷺ نا بھی ہے اور یہ حق ادا نہ کرنے والوں کو سخت وعید بھی سنائی گئی ہے، جیسا کہ رجہ ذیل احادیث میں مروی ہے۔ فضل الصلوة على النبي ﷺ [حديث: 11] مشكاة مع تحقيق الألباني، رقم الحديث (925)
اسلام اور احترام نبوت ﷺ
مسئلہ اولیٰ ، علماء کی تصریحا
درج ذیل علماء کے فتاویٰ جات ملا
- ۱۔ قاضی عیاض مالکی (م ۵۴۴) ل
اجمعت الامة على قتـ منتقصه من المسلمين وسـ
(الشفا بتعریف حقوق المصطفیٰ ب
- ۲۔ امام ابو بکر بن منذر (م ۳۱۹
حضور ﷺ کی گستاخی کرنے و لیث ، امام احمد اور امام اسحاق بھی
- ۳۔ قاضی عیاض لکھتے ہیں مسلـ
ابو حنیفہ، ان کے شاگردوں، امام
- ۴۔ امام محمد بن سحنون مالکی (
رسول ﷺ کافر ہے اس پـ وحكمه عند الامة القتـ اس کے کفر و عذاب میں شک کر
اسلام اور احترام نبوت ﷺ
مسئلہ اولیٰ ، علماء کی تصریحات اور دلائل
درج ذیل علماء کے فتاویٰ جات ملاحظہ کیجیے
- ۱۔ قاضی عیاض مالکی (م ۵۴۴) لکھتے ہیں
اجمعت الامة على قتل آپ ﷺ میں نقص اور آپ کو سب منتقصه من المسلمين وسابه وشتم کرنے والے مسلمان کے قتل پر امت (الشفا بتعریف حقوق المصطفٰی، ص ۲۱) کا اتفاق ہے
- ۲۔ امام ابو بکر بن منذر (م، ۳۱۹) فرماتے ہیں تمام اہل علم کا اس پر اتفاق ہے
حضور ﷺ کی گستاخی کرنے والے کو قتل کرنا لازم ہے ان میں امام مالک، امام لیث، امام احمد اور امام اسحاق بھی شامل ہے، امام شافعی کا مذہب بھی یہی ہے
(الاشراف علیٰ مذاہب اہل العلم ، ۳، ۱۶)
- ۳۔ قاضی عیاض لکھتے ہیں مسلمان گستاخی کرنے والے کے بارے میں امام
ابو حنیفہ، ان کے شاگردوں، امام ثوری، اہل کوفہ اور امام اوزاعی کی بھی یہی رائے ہے
(الشفا، ۲، ۲۶۵)
- ۴۔ امام محمد بن سحنون مالکی (م، ۲۶۵) لکھتے ہیں تمام علماء کا اتفاق ہے کہ شاتم
رسول ﷺ کافر ہے اس پر اللہ کے عذاب کی وعید ہے
وحكمه عند الامة القتل امت کے ہاں اس کا حکم قتل ہے اس کے کفر وعذاب میں شک کرنے والا بھی کافر ہے
(نهايۃ السؤل فی خصائص الرسول، ۲۶۱)
اسلام اور احترام نبوت ﷺ
- ۵۔ امام ابوسلیمان خطابی (م، ۳۸۸) فرماتے ہیں میں کسی ایسے مسلمان کو نہیں جانتا
اختلف فی وجوب قتله جو گستاخ مسلمان کے لزوم قتل میں اذا كان مسلماً اختلاف کرتا ہو
(معالم السنن، ۳۵۵:۳)
- ۶۔ امام اسحاق بن راہویہ (م، ۲۳۸) فرماتے ہیں تمام مسلمانوں کا اتفاق ہے جس
نے اللہ تعالیٰ یا اس کے رسول ﷺ کی گستاخی کی یا اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ تعلیمات میں سے کسی کا انکار کیا یا کسی نبی کو شہید کیا تو وہ کافر ہو جائے گا وان كان مقراً بكل ما انزل اگر چہ وہ اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ تمام الله چیزوں کا اقرار کرتا ہے
(التمہید لابن عبدالبر، ۴ : ۲۲۶)
یہ تمام اقوال جس دلیل سے مؤید ہیں وہ اجماع امت ہے
لہٰذا ابن حزم کا کہنا کہ گستاخ کی تکفیر میں اختلاف ہے (المحلی، ۱۱: ۴۰۸) کوئی وزن نہیں رکھتا
کیونکہ اہل علم میں سے کسی نے بھی ایسی بات نہیں کہی، سیرت صحابہ کا مطالعہ رکھنے والا جانتا ہے کہ ان کا اس پر اتفاق ہے ان سے ایسے متعدد فیصلے منقول ہیں جو نہایت مشہور و معروف ہیں اور کسی نے بھی ان سے انکار نہیں کیا۔ مثلاً
- ۱۔ امام ابو داؤد اور امام نسائی نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے نقل کیا میں حضرت ابو
بکر رضی اللہ عنہ کے پاس تھا ایک شخص پر وہ سخت غضبناک ہوئے اور مجھ پر بھی گراں گزرا میں نے عرض کیا خلیفۃ الرسول مجھے اس کی گردن اڑانے کی اجازت ہے؟ میرے ان کلمات نے ان کا غصہ ٹھنڈا کر دیا اور آپ وہاں سے تشریف لے گئے پھر
مَنْ يُصْبِحُ عَشْرًا، وَ حِيْنَ يُمْسِي عَشْرًا، الْقِيَامَةِ ) ث [484] الحديث [6233]
٦٦ میں کسی ایسے مسلمان کو نہیں جانتا گستاخ مسلمان کے لزوم قتل میں توقف کرتا ہو
تمام مسلمانوں کا اتفاق ہے جس اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ تعلیمات جائے گا واللہ تعالیٰ کی نازل کردہ تمام اقرار کرتا ہے ہے
(المحلی، ۱۱: ۴۰۸)
میں کہی، سیرت صحابہ کا مطالعہ ایسے متعدد فیصلے منقول ہیں جو نہیں کیا۔ مثلاً عنہ سے نقل کیا میں حضرت ابو ت ہوئے اور مجھ پر بھی گراں ی اڑانے کی اجازت ہے؟ ہاں سے تشریف لے گئے پھر
تا کہ پڑھیں تو یہ فوائد و ثمرات ملیں گے نہ پڑھیں تو ہماری مرضی بلکہ یہ معاملہ کی تکفیر ہے۔ یہ صرف حب مصطفیٰ ﷺ کا تقاضا ہی نہیں بلکہ نبی اکرم ﷺ کا حق بھی ہے اور یہ حق ادا نہ کرنے والوں کو سخت وعید بھی سنائی گئی ہے، جیسا کہ مندرجہ ذیل احادیث میں مروی ہے۔ فضل الصلوة على النبى ﷺ [حديث: 11] مشكاة مع تحقيق الألباني، رقم الحديث (925)
٦٧ اسلام اور احترام نبوت ﷺ
مجھے بلا کر پوچھا تم نے ابھی کیا کہا تھا؟ عرض کیا میں نے اس کی گردن اڑانے کی اجازت چاہی تھی؟ فرمایا اگر اجازت دیتا کیا تم ایسا کر دیتے؟ عرض کیا ضرور فرمایا
لا والله ما كانت لبشر بعد اللہ کی قسم حضور ﷺ کے بعد یہ کسی محمد ﷺ انسان کا مقام نہیں
(سنن ابی داود ۔ ۴۳۶۳)
یہ حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کا ارشاد گرامی واضح کر رہا ہے کہ آپ ﷺ کو غضبناک کرنے والے کو قتل کیا جا سکتا ہے البتہ اس کے علاوہ کسی انسان کا یہ شان نہیں، بلاشبہ گستاخی آپ کو اذیت دیتی ہے
- ۲۔ امام سیف بن عمر (م ۱۹۰) اور دیگر نے حضرت مہاجر بن ابی امیہ ( جو یمامہ کے
علاقوں پر امیر تھے ) کے بارے میں نقل کیا ان کی عدالت میں دو عورتوں کا مقدمہ آیا ایک نے حضور ﷺ کے اسم گرامی کو غلط انداز سے گایا تھا
تو انہوں نے اس کے ہاتھ کاٹ دیئے اور سامنے کے دانت نکلوا دیئے جبکہ دوسری نے مسلمانوں کی ہجو میں گایا تھا اسے بھی یہی سزا دی، سیدنا ابوبکر نے اطلاع ملنے پر انہیں لکھا، اسم نبی کی گستاخی کرنے والی خاتون کے بارے میں تمہارے فیصلے کی رپورٹ ملی ہے کاش مجھے پہلے اطلاع ہوتی
لا مر تک بقتلها لان حد تو میں تمہیں اس کے قتل کا حکم دیتا کیونکہ حضرات الانبياء ليس يشبه انبیاء علیہم السلام کی بے ادبی پر حدود دوسری الحدود حدود کی طرح نہیں ہے
اگر کوئی مسلمان ایسا کرے تو وہ مرتد یا ذمی کرے تو وہ حربی اور معاہدہ توڑنے والا ہے
(تاریخ طبری، ۳: ۳۴۱)
مَنْ يُصْبِحُ عَشْرًا، وَ حِيْنَ يُمْسِيْ عَشْرًا، الْقِيَامَةِ) دث [484] حدیث [6233]
نا کہ پڑھیں تو یہ فوائد و ثمرات ملیں گے نہ پڑھیں تو ہماری مرضی بلکہ یہ معاملہ ی ضمیر ہے۔ یہ صرف حب مصطفی ﷺ کا تقاضا ہی نہیں بلکہ نبی اکرم ﷺ حق بھی ہے اور یہ حق ادا نہ کرنے والوں کو سخت وعید بھی سنائی گئی ہے، جیسا کہ جہ ذیل احادیث میں مروی ہے۔ فضل الصلوٰۃ علی النبی ﷺ [حدیث: 11] مشکاۃ مع تحقیق الألبانی، رقم الحدیث (925)
اسلام اور احترام نبوت ﷺ
سوال۔ اب اسے قتل کا حکم کیوں جاری نہ کیا؟
جواب۔ ممکن ہے وہ مسلمان ہو گئی ہو یا چونکہ حضرت مہاجر نے اجتہاد کی بنا پر اسے جو سزا دی تھی اب حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے دو حدوں کو جمع کرنا مناسب محسوس نہ کیا ہو
۳۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس گستاخ لایا گیا آپ نے قتل کا حکم جاری کیا اور فرمایا
من سب الله او سب احداً من جس نے اللہ تعالیٰ یا کسی نبی کی گستاخی الانبياء فاقتلوه کی اسے قتل کر دیا جائے
(مسائل لحرب بن اسماعیل)
۴۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنھما سے ہے جو مسلمان اللہ یا کسی نبی کی گستاخی کرتا ہے اس نے رسول اللہ ﷺ کی تکذیب کی اور یہ ارتداد ہے اس سے
يستتاب فان رجع والا قتل توبہ کا مطالبہ کیا جائے اگر رجوع کر لے فبہا ورنہ قتل
اگر کوئی معاہد اللہ تعالیٰ یا کسی نبی کی مخفی یا اعلانیہ گستاخی کرتا ہے
فقد نقض العهد فاقتلوه اس نے عہد توڑ ڈالا لہٰذا اسے قتل کیا
(ایضاً) جائے
۵۔ حضرت خلید سے ہے ایک آدمی نے حضرت عمر بن عبدالعزیز رضی اللہ عنہ کو گالی دی تو انھوں نے لکھا
انه لايقتل الا من سب رسول حضور ﷺ کے گستاخ کے علاوہ کسی الله ﷺ کو قتل نہ کیا جائے گا
(الطبقات لابن سعد: ۳۶۹،۵)
ایسے واقعات کثیر ہیں تمام کے بیان کی حاجت نہیں کیونکہ اس مسئلہ پر امت کا اجماع
اسلام اور احترام نبوت ﷺ ہمارے علم میں ہے ۶۔ حضرت امام شافعی رضی اللہ بارے میں پوچھا گیا تو فرمایا قل أبالله واياته ورسو تستهزؤن لا تعتذروا ق بعد ايمانكم
(التوبہ، ۶۵)
۷۔ قاضی عیاض نے امام انھوں نے حضرت خالد بن آپ نے مالک بن نویرہ ہوئے کہا تھا وہ تمہارے پھر لکھا، امام ابن القاسم (م میں اور امام مطرف (م: ۵ من سب النبي ﷺ يستتاب امام ابن القاسم نے العتبیہ او شتمه او عابه او يقتل وحكمه عند كالزنديق
مَنْ يُصْبِحُ عَشْرًا، وَ حِيْنَ يُمْسِيُ عَشْرًا، يَوْمَ الْقِيَامَةِ )
ث [484]
الحديث [6233]
٦٨ ؟ ے حضرت مہاجر نے اجتہاد کی بنا پر اسے جو وہ حدود کو جمع کرنا مناسب محسوس نہ کیا ہو یا گیا آپ نے قتل کا حکم جاری کیا اور فرمایا جس نے اللہ تعالیٰ یا کسی نبی کی گستاخی گی اسے قتل کر دیا جائے
ے ہے جو مسلمان اللہ یا کسی نبی کی گستاخی ف کی اور یہ ارتداد ہے اس سے یہ کا مطالبہ کیا جائے اگر رجوع کر فبہا ورنہ قتل گستاخی کرتا ہے نے عہد توڑا لہٰذا اسے قتل کیا
عمر بن عبد العزیز رضی اللہ عنہ کو گالی دی
ور ﷺ کے گستاخ کے علاوہ کسی ق نہ کیا جائے گا
کیونکہ اس مسئلہ پر امت کا اجماع
ما کہ پڑھیں تو یہ فوائد و ثمرات ملیں گے نہ پڑھیں تو ہماری مرضی بلکہ یہ معاملہ ی گھمبیر ہے۔ یہ صرف حب مصطفیٰ ﷺ کا تقاضا ہی نہیں بلکہ نبی اکرم ﷺ ق بھی ہے اور یہ حق ادا نہ کرنے والوں کو سخت وعید بھی سنائی گئی ہے، جیسا کہ چہ ذیل احادیث میں مروی ہے۔
[فضل الصلوة على النبي ﷺ [حدیث: 11]
مشكاة مع تحقيق الألباني، رقم الحديث (925)
اسلام اور احترام نبوت ﷺ ٦٩
ہمارے علم میں ہے
- ۶۔ حضرت امام شافعی رضی اللہ عنہ سے اللہ تعالیٰ کی آیات کا مذاق اڑانے والے کے
بارے میں پوچھا گیا تو فرمایا کافر ہے اور یہ آیت بطور دلیل ذکر کی قل أبالله واياته ورسوله كنتم تم فرماؤ کیا اللہ اور اس کی آیتوں اور تستهزؤن لا تعتذروا قد كفرتم اس کے رسول سے ہنستے ہو بہانے نہ بعد ايمانكم بناؤ تم کافر ہو چکے مسلمان ہو کر
(التوبہ، ۶۵، ۶۶)
- ۷۔ قاضی عیاض نے امام مجتہد ابراہیم بن حسین بن خالد (م، ۲۴۹) سے نقل کیا
انھوں نے حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کے اس عمل سے استدلال کیا کہ آپ نے مالک بن نویرہ کو قتل کا حکم دیا کیونکہ اس نے آپ ﷺ کو حقیر جانتے ہوئے کہا تھا وہ تمہارے صاحب ہیں
(الشفاء، ۲: ۲۱۶)
پھر لکھا، امام ابن القاسم (م، ۱۹۱) نے امام مالک سے کتاب ابن سحنون ، مبسوط ، عتبیہ میں اور امام مطرف (م ، ۲۵۵) نے امام مالک سے کتاب ابن حبیب میں نقل کیا من سب النبي ﷺ قتل ولم جس نے کسی نبی کی گستاخی کی اسے قتل کیا يستتب جائے اور اس سے توبہ کا مطالبہ نہیں کیا جائے گا امام ابن القاسم نے العتبیہ میں لکھا او شتمه او عابه او انتقصه فانه یا اس نے کسی نبی کو برا کہا عیب یا نقص يقتل وحكمه عند الامة القتل بیان کیا تو اسے قتل کیا جائے گا اور امت كالزنديق کے ہاں حکم قتل ہی ہے جیسے زندیق
نْ يُصْبِحُ عَشْرًا، وَ حِيْنَ يُمْسِيْ عَشْرًا، ا کہ پڑھیں تو یہ فوائد وثمرات ملیں گے نہ پڑھیں تو ہماری مرضی بلکہ یہ معاملہ الْقِيَامَةِ ) ی ضمیر ہے۔ یہ صرف حب مصطفی ﷺ کا تقاضا ہی نہیں بلکہ نبی اکرم ﷺ ق بھی ہے اور یہ حق ادا نہ کرنے والوں کو سخت وعید بھی سنائی گئی ہے، جیسا کہ جہ ذیل احادیث میں مروی ہے۔ فضل الصلوۃ علی النبی ﷺ [حدیث: 11] ند [484] مشكاة مع تحقيق الألباني، رقم الحدیث (925) حدیث [6233]
اسلام اور احترام نبوت ﷺ
المبسوط میں امام عثمان بن کنانہ (م،۱۸۶) سے ہے۔ جس مسلمان نے کسی نبی کی گستاخی کی اسے قتل کر دیا جائے یا اسے زندہ پھانسی پر لٹکا دیا جائے اور اس سے توبہ کا مطالبہ نہ کیا جائے، عدالت کو اختیار ہے وہ اسے زندہ لٹکا دے یا اسے قتل کردے
قاضی ابو مصعب (م،۲۳۲) اور شیخ ابن ابی اویس (م،۲۲۶) سے مروی ہے ہم نے امام مالک کو فرماتے سنا جس نے اللہ کے کسی نبی کو سب وشتم کیا یا کسی عیب یا نقص کی نسبت کی اسے قتل کر دیا جائے
مسلماً او كافراً ولا يستتاب خواہ وہ مسلمان ہو یا کافر اس سے توبہ کا تقاضا نہ کیا جائے
امام محمد بن سحنون کی کتاب میں ہے ہمیں تلامذہ مالک نے ان سے بیان کیا جس نے حضور ﷺ یا کسی بھی نبی کی گستاخی کی خواہ وہ مسلمان ہو یا کافر اسے قتل کر دیا جائے اور اس سے توبہ کا مطالبہ نہ کیا جائے
امام اصبغ بن الفرج (م،۲۲۵) فرماتے ہیں اس کو ہر حال میں قتل کیا جائے گا خواہ اس نے یہ مخفی کیا یا اعلانیہ
ولا يستتاب لان توبته لا تعرف اس سے توبہ کا مطالبہ نہ کیا جائے کیونکہ اس کی توبہ معروف نہیں
امام عبداللہ بن الحکم سے ہے من سب النبی ﷺ من مسلم جس نے کسی نبی کو برا کہا خواہ وہ مسلمان او کافر قتل ولم يستتب ہو یا کافر اسے قتل کیا جائے اور اس سے توبہ کا تقاضا نہیں کیا جائے گا
اسلام اور احترام نبوت ﷺ
امام ابن جریر طبری (م،۳۱۰) مالک سے اس طرح نقل کيا روایت کیا جس نے کہا ان رداء النبی ﷺ زر النبی ﷺ وسخ او قتل (الشفاء،۲:۲ قاضی عیاض لکھتے ہیں بعض کسی نبی کے خلاف بری با انه يقتل بلا استتابة
امام ابوالحسن قابسی (م،۴۰۳) آپ ﷺ کو یتیم ابوطالب فقہاء اندلس نے دوران مناظرہ یتیم کہہ کر آپ ان زهده لم يكن ولو قدر على الـ اكملها (المعيار المعرب
امام حبیب بن ربیع قروی مذہب یہ ہے
اسلام اور احترام نبوت ﷺ
امام ابن جریر طبری (م، ۳۱۰) نے امام اشھب (م، ۲۰۴) سے اور انھوں نے امام مالک سے اس طرح نقل کیا ہے، امام ابن وھب (م، ۱۹۷) نے امام مالک سے روایت کیا جس نے کہا
ان رداء النبی ﷺ ويروی نبی کی چادر یا نبی کا بٹن میلا ہے اور اس زر النبی ﷺ وسخ اراد به عيبه سے مقصد نقص تھا تو اسے قتل کیا جائے قتل
(الشفاء، ۲ : ۲۱۷)
قاضی عیاض لکھتے ہیں بعض اہل علم نے فرمایا، علماء کا اس پر اتفاق ہے جس نے کسی نبی کے خلاف بری دعا کی
انه يقتل بلا استتابة اسے قتل کیا جائے گا اور اس سے توبہ کا مطالبہ نہیں کیا جائے گا
امام ابوالحسن قابسی (م، ۴۰۳) نے اس شخص کے بارے قتل کا فتویٰ جاری کیا جس نے آپ ﷺ کو یتیم ابو طالب کہا۔
فقہاء اندلس نے ابن حاتم طلیطلی کے قتل اور پھانسی کا فتویٰ دیا کیونکہ اس نے دوران مناظرہ یتیم کہہ کر آپ ﷺ کی بے ادبی کی اور اس کا قول تھا
ان زهده لم يكن قصدا آپ کا فقر اختیاری نہ تھا اگر آپ ولو قدر على الطيبات پاکیزہ اشیاء پر مختار ہوتے تو اكلها انہیں تناول کرتے
(المعیار المعرب، ۲ : ۳۲۶)
امام حبیب بن ربیع قروی (م، ۳۲۵) فرماتے ہیں امام مالک اور ان کے تلامذہ کا مذہب یہ ہے
ن يُصْبِحُ عَشْرًا، وَ حِينَ يُمْسِي عَشْرًا، الْقِيَامَةِ ) ث [484] الحديث [6233]
سنا کہ پڑھیں تو یہ فوائد وثمرات ملیں گے نہ پڑھیں تو ہماری مرضی بلکہ یہ معاملہ کی تعمیل ہے۔ یہ صرف حب مصطفی ﷺ کا تقاضا ہی نہیں بلکہ نبی اکرم ﷺ ق بھی ہے اور یہ حق ادا نہ کرنے والوں کو سخت وعید بھی سنائی گئی ہے، جیسا کہ کچھ ذیل احادیث میں مروی ہے۔ فضل الصلوة على النبي ﷺ [حديث: 11] مشكاة مع تحقيق الألباني، رقم الحديث (925)
اسلام اور احترام نبوت ﷺ ۷۲ من قال فيه عليه السلام مافيه جس نے نبی علیہ السلام کے بارے میں نقص قتل دون استتابة عیب کی بات کی اسے قتل کیا جائے گا اور اس سے توبہ کا مطالبہ نہیں کیا جائے گا
امام ابن عتاب (م، ۲۴۶) نے فرمایا الكتاب والسنة موجبان ان قرآن وسنت کا حکم ہے جس نے نبی علیہ من قصد النبى ﷺ باذى او السلام کو اذیت پہنچائی ، ان کا نقص بیان نقص معرضاً او مصرحاً وان کیا خواہ بطور اشارہ یا واضح طور پر اگرچہ قل فقتله واجب وہ کم ہو ایسے شخص کا قتل لازم ہے
(الشفاء، ۲ : ۲۱۹)
قاضی عیاض لکھتے ہیں ہمارے نزدیک یہی حکم ایسے شخص کا ہے جس نے کسی نبی کو حقیر جانا، یا بکریاں چرانے، یا سہو، یا نسیان یا جادو، یا زخم یا بعض غزوات میں بظاہر شکست یا حالات یا دشمن کی شدت یا عورتوں کی طرف میلان کا عیب لگایا تو اسے قتل کیا جائے گا
(الشفاء، ۲، ۲۱۹)
امام احمد بن حنبل (م ۲۴۱) سے ہے جس نے بھی کسی نبی کو برا کہا یا نقص بیان کیا مسلمان ہو یا کافر اس کا قتل لازم ہے وارى ان يقتل ولا يستتاب اور میرے نزدیک اسے قتل ہی کیا جائے (احکام اہل الملل للخلال، ۲۵۵) اور اس سے توبہ کا مطالبہ نہ کیا جائے
امام عبد اللہ بن احمد کہتے ہیں میں نے والد گرامی سے پوچھا کیا گستاخ نبی سے
اسلام اور احترام نبوت ﷺ توبہ کا مطالبہ کیا جائے گا ؟ فرمایا قد وجب عليه القتل ولايستتا پھر بطور دلیل فرمایا حضرت خالد بن ولید ر بات نہیں کی ، اصحاب احمد کا بھی یہ خواہ اس نے مذاق کیا یا عمداً کہا امام شافعی نے پیش کیا یعنی سورۂ تو امام ابو یعلیٰ حنبلی (م کے رسول کی گستاخی کی تو وہ کا کہتا ہے میں اسے جائز نہیں سمجھ یہ مرتد ہے اور وہ قاتل ، شرابی او ہے میں اسے حلال نہیں جانتا تو حرمت ہے مگر فعل میں لذت ہے میں سچا ہے تو وہ مسلمان ہوگا جیسا انہوں نے ہی بعض م کافر ورنہ فاسق ، کافر نہیں ہوگا رشید کو بعض فقہاء عراق نے گ نے ان کا فتویٰ رد کر دیا یہی نقل ابن حزم کی نظیر ہے،
يُصْبِحُ عَشْرًا، وَ حِيْنَ يُمْسِي عَشْرًا، الْقِيَامَةِ ) يث [484] حديث [6233]
کہا کہ پڑھیں تو یہ فوائد و ثمرات ملیں گے نہ پڑھیں تو ہماری مرضی بلکہ یہ معاملہ کی تعمیل ہے۔ یہ صرف حب مصطفیٰ ﷺ کا تقاضا ہی نہیں بلکہ نبی اکرم ﷺ کا حق بھی ہے اور یہ حق ادا نہ کرنے والوں کو سخت وعید بھی سنائی گئی ہے، جیسا کہ چند ذیل احادیث میں مروی ہے۔
فضل الصلوة على النبي ﷺ [حدیث: 11] مشكاة مع تحقيق الألباني، رقم الحديث (925)
۷۲
نے نبی علیہ السلام کے بارے میں کی بات کی اسے قتل کیا جائے گا اور سے توبہ کا مطالبہ نہیں کیا جائے گا
ین وسنت کا حکم ہے، جس نے نبی علیہ کو اذیت پہنچائی، ان کا نقص بیان اہ بطور اشارہ یا واضح طور پر اگرچہ ایسے شخص کا قتل لازم ہے
ے شخص کا ہے جس نے کسی نبی کو حقیر ہم یا بعض غزوات میں بظاہر شکست یا کا عیب لگایا تو اسے قتل کیا جائے گا
(الشفاء ۲، ۲۱۹)
نبی کو برا کہا یا نقص بیان کیا مسلمان ہو یا
کے نزدیک اسے قتل ہی کیا جائے سے توبہ کا مطالبہ نہ کیا جائے س سے پوچھا گیا گستاخ نبی سے
اسلام اور احترام نبوت ﷺ ۷۳
توبہ کا مطالبہ کیا جائے گا ؟ فرمایا
قد وجب عليه القتل ولايستتاب قتل ہی لازم ہے توبہ کا مطالبہ ہی نہ کیا جائے
پھر بطور دلیل فرمایا
حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے ایسے گستاخ کو قتل کیا اور توبہ کی بات نہیں کی، اصحاب احمد کا بھی یہ ہی موقف ہے جس نے اللہ کو برا کہا، وہ کافر ہے خواہ اس نے مذاق کیا یا عمداً کہا اور ان کا استدلال اسی آیت کریمہ سے ہے جسے امام شافعی نے پیش کیا یعنی سورۃ توبہ کی آیت ۶۵ )
امام ابو یعلیٰ حنبلی (م ، ۴۵۸) لکھتے ہیں جس نے اللہ تعالیٰ کی یا اس کے رسول کی گستاخی کی تو وہ کافر ہے خواہ اسے جائز مان کر کہا یا ناجائز، اگر کہتا ہے میں اسے جائز نہیں سمجھا تو ظاہراً پھر بھی اس کی نہیں سنی جائے گی اور یہ مرتد ہے اور وہ قاتل ، شرابی اور چور کی طرح نہیں کیونکہ اگر ان میں سے کوئی کہتا ہے میں اسے حلال نہیں جانتا تو ان کی بات مان لی جائے گی کیونکہ ان اشیاء کی حرمت ہے مگر فعل میں لذت ہے ہم نے اس پر کفر بطور ظاہر جاری کیا ہے اگر وہ باطن میں سچا ہے تو وہ مسلمان ہو گا جیسا کہ زندیق
انہوں نے ہی بعض فقہاء سے ذکر کیا اگر اس گستاخی کو جائز سمجھتا ہے تو کافر ورنہ فاسق ، کافر نہیں ہو گا جیسا کہ گستاخ صحابہ، اس کی نظیر یہ ہے کہ ہارون رشید کو بعض فقہاء عراق نے گستاخ نبی کو کوڑے مارنے کا فتویٰ دیا اور امام مالک نے ان کا فتویٰ رد کر دیا
( الشفاء۲: ۲۲۳)
یہی نقل ابن حزم کی نظیر ہے،
من یصبح عشراً، و حین یمسی عشراً، القيامة)
یث [484]
الحدیث [6233]
یا کہ پڑھیں تو یہ فوائد وثمرات ملیں گے نہ پڑھیں تو ہماری مرضی بلکہ یہ معاملہ کی ضمیر ہے۔ یہ صرف حب مصطفیٰ ﷺ کا تقاضا ہی نہیں بلکہ نبی اکرم ﷺ حق بھی ہے اور یہ حق ادا نہ کرنے والوں کو سخت وعید بھی سنائی گئی ہے، جیسا کہ مندرجہ ذیل احادیث میں مروی ہے۔
فضل الصلوٰة على النبي ﷺ [حدیث: 11] مشكاة مع تحقيق الألباني، رقم الحديث (925)
اسلام اور احترام نبوت ﷺ
قاضی عیاض نے اس کا رد کرتے ہوئے فرمایا اس کے خلاف پر اجماع ہے کوئی اختلاف نہیں باقی جنھوں نے یہ بات کی تھی وہ مسلم علماء نہ تھے اور نہ ہی ان کے فتویٰ پر اعتماد کیا جاسکتا ہے اور اس کی بنیاد خواہش نفس پر تھی یا ان کلمات کے گستاخی ہونے یا قبولیت توبہ میں اختلاف تھا
لہذا بعض سے جو منقول ہے کہ گستاخی کو حلال نہیں جانتا تو وہ کافر نہ ہوگا یہ نہایت قابل مذمت اور خطا صریح ہے کسی معتبر عالم سے یہ بات ثابت نہیں اور نہ ہی اس پر کوئی صحیح دلیل ہے
اسلام اور احترام نبوت ﷺ کتاب وسنت
اسلام اور احترام نبوت ﷺ
کتاب وسنت کے دلائل
مَنْ يُصْبِحُ عَشْرًا، وَ حِيْنَ يُمْسِي عَشْرًا، الْقِيَامَةِ ) ث [484] الحديث [6233]
ا کہ پڑھیں تو یہ فوائد و ثمرات ملیں گے نہ پڑھیں تو ہماری مرضی بلکہ یہ معاملہ ی ضمیر ہے۔ یہ صرف حب مصطفیٰ ﷺ کا تقاضا ہی نہیں بلکہ نبی اکرم ﷺ ق بھی ہے اور یہ حق ادا نہ کرنے والوں کو سخت وعید بھی سنائی گئی ہے، جیسا کہ چند ذیل احادیث میں مروی ہے۔
فضل الصلوٰة على النبي ﷺ [حدیث: 11]
مشكاة مع تحقيق الألباني، رقم الحديث (925)
اسلام اور احترام نبوت ﷺ -
اب کتاب وسنت کے دلائل مل
- ا۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد گرامی ہے
ان الذين يؤذون ا رسوله لعنهم الله في ا الاخرة واعد لهم عذا
(الاحزاب
دوسرا فرمان مبارک ہے
والذين يؤذون رسول لهم عذاب اليم
(التو
تیسری جگہ فرمایا
ملعونين اينما ثقفوا وقتلوا (الاحزاب
یہ تمام آیات گستاخ کے کفر
امام خطابی وغیر جائے تو ضرر کہلاتا ہے، حد
يا عبادي انكم لن تب فتضروني (مسلم
ن يصبح عشراً، و حين يمسي عشراً، القيامة ) ث [484] لحديث [6233]
ا کہ پڑھیں تو یہ فوائد و ثمرات ملیں گے نہ پڑھیں تو ہماری مرضی بلکہ یہ معاملہ ی ضمیر ہے۔ یہ صرف حب مصطفیٰ ﷺ کا تقاضا ہی نہیں بلکہ نبی اکرم ﷺ ق بھی ہے اور یہ حق ادا نہ کرنے والوں کو سخت وعید بھی سنائی گئی ہے، جیسا کہ ند ذیل احادیث میں مروی ہے۔ فضل الصلوٰة على النبي ﷺ [حديث: 11] مشكاة مع تحقيق الألباني، رقم الحديث (925)
اسلام اور احترام نبوت ﷺ
اب کتاب وسنت کے دلائل ملاحظہ کیجیے
- ۱۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد گرامی ہے
ان الذين يؤذون الله و بے شک جو ایذا دیتے ہیں اللہ اور اس رسوله لعنهم الله فى الدنيا و کے رسول کو ان پر اللہ کی لعنت ہے دنیا اور الآخرة واعد لهم عذاباً مهيناً آخرت میں اور اللہ نے ان کے لئے (الاحزاب ، ۵۷) ذلت کا عذاب تیار کر رکھا ہے
دوسرا فرمان مبارک ہے
والذين يؤذون رسول الله جو رسول اللہ کو ایذا دیتے ہیں ان کے لهم عذاب اليم لئے درد ناک عذاب ہے (التوبہ، ۶۱)
تیسری جگہ فرمایا
ملعونين اينما ثقفوا اخذوا پھٹکارے ہوئے جہاں کہیں ملیں پکڑے وقتلوا (الاحزاب، ۶۱) جائیں اور گن گن کر قتل کیے جائیں
یہ تمام آیات گستاخ کے کفر وقتل پر شاہد ہیں
امام خطابی وغیرہ کہتے ہیں اذٰی ، خفیف شر کا نام ہے اگر اس میں اضافہ ہو جائے تو ضرر کہلاتا ہے ، حدیث قدسی میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے
يا عبادى انكم لن تبلغوا ضری اے میرے بندوں تم مجھے ضرر دینے تک فتضرونى (مسلم ، ۲۵۷۷) پہنچ ہی نہیں سکتے کہ تم مجھے ضرر دے سکو
اسلام اور احترام نبوت ﷺ
آیات مبارکہ میں ، اذی ،، کا ذکر ہے جس سے نبی علیہ السلام کی قدرومنزلت کی عظمت سامنے آتی ہے کہ آپ کی کم سے کم اذیت بھی کفر ہے، اللہ تعالیٰ کے حق میں ضرر محال ہے البتہ اس کے حق اور اس کے رسول کے حق میں اذیت کفر ہے کیونکہ عذاب مھین اس طرح دنیا وآخرت میں یقینی عذاب اور عذاب الیم کفار کے ساتھ ہی مخصوص ہے اس طرح ارشاد گرامی ہے
الم یعلموا انه من یحادد الله کیا انھیں خبر نہیں کہ جو خلاف کرے ورسوله (التوبہ ۶۳) اللہ اور اس کے رسول کا
یہ آیات سابقہ آیات سے مل کر بتا رہی ہے اذیت ، محادت ومخالفت ہے ارشاد باری تعالیٰ ہے
ان الذین یحادون اللہ ورسوله بے شک وہ جو مخالفت کرتے ہیں اللہ کبتوا (المجادلۃ ، ۵) اور اس کے رسول کی ذلیل کیے گئے
پھر فرمایا
ان الذین یحادون اللہ ورسوله بے شک وہ جو اللہ اور اس کے رسول کی اولئک فی الاذلین کتب اللہ مخالفت کرتے ہیں وہ سب سے زیادہ لا غلبن انا ورسلی ذلیلوں میں سے ہیں اللہ لکھ چکا کہ میں (المجادلۃ ، ۲۰، ۲۱) ضرور غالب آؤں گا اور میرے رسول
ایک اور مقام پر فرمایا
ومن یلعن اللہ فلن تجد له اور جسے خدا لعنت کرے تو ہرگز اس کا نصیرا (النساء ، ۵۲) کوئی یار نہ پائے گا
يُصْبِحُ عَشْرًا، وَ حِيْنَ يُمْسِي عَشْرًا، (الْقِيَامَةِ) [484] [6233]
کہ پڑھیں تو یہ فوائد و ثمرات ملیں گے نہ پڑھیں تو ہماری مرضی بلکہ یہ معاملہ کی ضمیر ہے۔ یہ صرف حب مصطفیٰ ﷺ کا تقاضا ہی نہیں بلکہ نبی اکرم ﷺ کا حق بھی ہے اور یہ حق ادا نہ کرنے والوں کو سخت وعید بھی سنائی گئی ہے، جیسا کہ چند ذیل احادیث میں مروی ہے۔ فضل الصلوة على النبي ﷺ [حديث: 11] مشكاة مع تحقيق الألباني، رقم الحديث (925)
۷۸ سے نبی علیہ السلام کی قدر و منزلت کی عظمت بھی کفر ہے، اللہ تعالیٰ کے حق میں ضرر محال کے حق میں اذیت کفر ہے کیونکہ عذاب مهین عذاب الیم کفار کے ساتھ ہی مخصوص ہے
کیا انھیں خبر نہیں کہ جو خلاف کرے اللہ اور اس کے رسول کا نیت ، محادت و مخالفت ہے
بے شک وہ جو مخالفت کرتے ہیں اللہ اور اس کے رسول کی ذلیل کیے گئے
بے شک وہ جو اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت کرتے ہیں وہ سب سے زیادہ ذلیلوں میں سے ہیں اللہ لکھ چکا کہ میں ضرور غالب آؤں گا اور میرے رسول
اور جسے خدا لعنت کرے تو ہرگز اس کا کوئی یار نہ پائے گا
۷۹ اسلام اور احترام نبوت ﷺ
یہ تمام سامنے رکھیے تو اب دلیل یوں بنی گستاخ ایذا دینے والا اور موذی و محاد ہے اور محاد، ذلیل و مغلوب ہے جس کا حال یہ ہو وہ منصور نہیں ہو سکتا تو اگر اس کا قتل لازم نہ ہوتا یہ مسلمانوں پر اس کی نصرت لازم ہوتی حالانکہ اس کا بطلان واضح ہو چکا یوں بھی دلیل بیان کی جاسکتی ہے سابّ، موذی ہے اور موذی ان آیات کی وجہ سے کافر ہے جو متعدد وجوہ سے اس پر دال ہیں
سنت سے دلائل
- ا۔ بخاری اور مسلم میں ہے رسول اللہ ﷺ نے واقعہ افک کے بارے میں خطبہ
دیا اور تہمت لگانے والے عبداللہ بن ابی بن سلول کے بارے میں فرمایا من يعذرني من رجل بلغنى کون میری جان چھڑائے اس آدمی سے جس اذاه في اهلی نے میری اہلیہ کے بارے میں مجھے ایذا دی ہے تو قبیلہ اوس کے سردار حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا یا رسول اللہ بندہ حاضر ہے اگر وہ اوس میں سے ہوا تو اس کی گردن اڑا دوں گا اور اگر وہ ہمارے خزرجی بھائیوں سے ہے تو ہم ان سے اس پر عمل کا کہیں گے
(البخاری، ۴۱۴۱)
تو حضرت سعد رضی اللہ عنہ کا قول واضح طور پر دلیل ہے کہ موذی کا قتل مسلّم تھا اور پھر حضور ﷺ نے بھی ان کی بات کو ثابت رکھا یہ نہیں فرمایا کہ اس کا قتل ناجائز ہے یہ ابن ابی بظاہر مسلمان تھا، حضرت سعد رضی اللہ عنہ نے اس کے نفاق کی وجہ سے نہیں بلکہ اذیت رسول ﷺ کی وجہ سے قتل کا اعلان کیا سوال۔ حضرت مسطح اور دیگر مسلمان بھی متاثر ہو کر تہمت میں شامل تھے تو نہ ان پر کفر
مِنْ يُصْبِحُ عَشْرًا، وَ حِيْنَ يُمْسِي عَشْرًا، الْقِيَامَةِ ) ث [484] الحديث [6233]
پڑھیں تو یہ فوائد و ثمرات ملیں گے کہ نہ پڑھیں تو ہماری مرضی بلکہ یہ معاملہ ی گھمبیر ہے۔ یہ صرف حب مصطفیٰ ﷺ کا تقاضا ہی نہیں بلکہ نبی اکرم ﷺ سے بھی ہے اور یہ حق ادا نہ کرنے والوں کو سخت وعید بھی سنائی گئی ہے، جیسا کہ چہ ذیل احادیث میں مروی ہے۔
فضل الصلوٰة على النبي ﷺ [حدیث: 11]
مشكاة مع تحقيق الألباني، رقم الحديث (925)
اسلام اور احترام نبوت ﷺ
کا حکم جاری ہوا اور نہ قتل کا، اگر تمہارا استدلال ظاہری مان لیا جائے تو وہ سزا ان پر بھی نافذ ہونی چاہیے اور ازواج مطہرات کی گستاخی بھی سبب کفر یا قتل بن جائے گی
جواب ، اذیت دو طرح کی ہے
۱۔ ایذا مقصود ۲۔ ایذا غیر مقصود
حضرت مسطح ، حضرت حمنہ اور حضرت حسان رضی اللہ عنہم کا مقصد اذیت نبوی نہ تھا لہذا ان پر کفر و قتل کا حکم نہ ہوگا البتہ ہوگا ابن ابی کا مقصد اذیت تھا اس لئے وہ مستحق قتل تھا چونکہ یہ آپ ﷺ کا حق تھا آپ اسے چھوڑ بھی سکتے تھے
ضابطہء اذیت
یہاں اذیت کے حوالہ سے اس ضابطہ وقاعدہ کا سامنے لانا بہت ضروری ہے ۔ بعض اوقات ایک آدمی فعل یا قول کرتا ہے اور اس سے دوسرے کو اذیت پہنچتی ہے حالانکہ اس فاعل یا قائل کا مقصود اذیت نہ تھی بلکہ اس کا مقصد اور تھا اور اس کے ذہن میں اسکا استلزام بھی نہ تھا اور لزوم بھی واضح نہ ہو تو اس پر اذیت کا حکم جاری نہ ہوگا اس طرح کی متعدد باتیں بدوی جہال سے سرزد ہوتیں چونکہ وہ آداب گفتگو سے بھی آگاہ نہ تھے تو حضور ﷺ نے ان پر گرفت نہ فرمائی
حضرت مسطح اور ان کے ساتھیوں کے معاملہ میں مذکور احتمال بھی ممکن ہے ، یہ بھی احتمال ہے کہ انہیں ابھی علم نہ تھا کہ یہ آپ ﷺ کی دنیا و آخرت میں اہلیہ ہیں اور حضرات انبیاء علیہم السلام کی ازواج ایسی چیزوں سے بری ہوتی ہے اور وہ یہ سمجھتے ہو ان سے جدائی جائز و ممکن ہے حضرت زینب رضی اللہ عنھا کے ولیمہ میں بیٹھنے والے صحابہ کے بارے میں نازل ہونے والا حکم اسی کی تائید کر رہا ہے، ارشاد مبارک ہے
يا يها الذين امنوا لا تدخلوا اے ایمان والوں نبی کے گھر میں حاضر
اسلام اور احترام نبوت ﷺ
بيوت النبي الا ان يؤذن الى طعام غير نظر ولكن اذا دعيتم فادخلوا فاذا طعمتم فانت ولا مستأ نسين لحديث ذلكم كان يؤذى النبي
(الاحزاب
یہ کبار صحابہ تھے اور ان کا مقصد ا رہا معاملہ عبداللہ بن ا کا ہی قصد و ارادہ کیا ، اسی وجہ س کام کیا یہی وجہ ہے کہ جماعت ص
ارشاد باری تعالیٰ
ان الذين يرمون المح الغفلت المؤمنات لع الدنيا والاخرة
(النور
حضور ﷺ کی ازواج مطہر پر طعن بنتا ہے لہذا ایسے آدم موجود ہے اگر چہ مختار دوسرا قو میں اخروی کا بیان ہے اور دون
اسلام اور احترام نبوت ﷺ
بیوت النبی الا ان یؤذن لکم نہ ہو جب تک اذن نہ پاؤ مثلاً کھانے الی طعام غیر نظرین انہ کے لئے بلائے جاؤ نہ یوں کہ خود اس ولـــکـــن اذا دعيتــــم کے پکنے کی تکو ہاں جب بلائے جاؤ تو فادخلوا فاذا طعمتم فانتشروا حاضر ہو جاؤ اور جب کھا چکو تو متفرق ولا مستأنسين لحديث ان ہو جاؤ نہ یہ کہ بیٹھے باتوں میں دل ذلكم كان يؤذى النبى بہلاؤ بے شک اس میں نبی کو ایذا (الاحزاب:۵۳) ہوتی ہے
یہ کبار صحابہ تھے اور ان کا مقصد اذیت نہ تھا اسی لئے یہ حکم ان پر لاگو نہیں ہو سکتا
رہا معاملہ عبداللہ بن ابی کا اس نے فقط نفاق اور بغض نبوی کی وجہ سے اذیت کا ہی قصد وارادہ کیا، اسی وجہ سے مستحق قتل قرار پایا البتہ آپ ﷺ نے بردباری سے کام لیا یہی وجہ ہے کہ جماعت مفسرین نے کہا،
ارشاد باری تعالیٰ
ان الذين يرمون المحصنت بے شک جو عیب لگاتے ہیں انجان الغفلت المؤمنات لعنوا فى پارسا ایمان والیوں کو ان پر لعنت الدنيا والاخرة ہے دنیا اور آخرت میں
(النور:۲۳)
حضور ﷺ کی ازواج مطہرات کے ساتھ خاص ہے چونکہ ان پر تہمت، حضور ﷺ پر طعن بنتا ہے لہذا ایسے آدمی کی توبہ قبول نہیں بخلاف غیر پر تہمت کے ان کا استثناء موجود ہے اگرچہ مختار دوسرا قول ہے اول سورت والی آیت میں احکام دینوی اور اس میں اخروی کا بیان ہے اور دونوں توبہ سے ساقط ہو جائیں گے
اسلام اور احترام نبوت ﷺ
۲۔ عبداللہ بن سعد ابی سرح کا واقعہ
سنن ابی داود میں اسباط بن نصر نے امام سدی سے انھوں نے مصعب بن سعد سے انھوں نے حضرت سعد رضی اللہ عنہ سے بیان کیا فتح مکہ کے دن آپ ﷺ نے تمام لوگوں کو پناہ دی مگر چار مرد اور دو عورتیں، ان میں ابن ابی سرح بھی تھا، یہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے ہاں چھپ گیا، لوگوں کو بیعت کے لئے جب رسول اللہ ﷺ نے بلایا تو حضرت عثمان ان کو لے کر حاضر ہوئے اور عرض کیا اسے بیعت فرمالیں آپ نے سر اقدس اٹھا کر تین دفعہ اس کی طرف دیکھا اور انکار فرمایا لیکن چوتھی دفعہ بیعت کی اجازت ہوئی پھر صحابہ سے متوجہ ہو کر فرمایا کیا تم میں کوئی عقل مند نہ تھا جب میں بیعت نہیں کر رہا تھا تو وہ اسے قتل کر دیتا؟ عرض کیا ہم آپ کے ارادہ سے آگاہ نہ ہوئے کاش آپ آنکھ سے اشارہ فرما دیتے فرمایا نبی کے مناسب نہیں کہ اس کی آنکھ خیانت کرے
(سنن ابی داود، ۲۶۸۳)
امام نسائی نے بھی اسے نقل کیا،
امام اسماعیل سدی اور اسباط بن نصر دونوں سے امام مسلم نے روایت لی ہے ہاں ان میں کلام ہے لیکن یہ روایت تمام اہل سیر کے ہاں معروف ہیں
یہ ابن ابی سرح کاتب وحی تھا پھر مرتد ہو کر قریش مکہ سے جا ملا اور کہا میں محمد کے ساتھ جو چاہتا کر دیا کرتا وہ مجھے عزیز حکیم لکھواتے میں کہتا علیم حکیم ہے کہتے سب ٹھیک ہے، فتح مکہ کے دن آپ ﷺ نے اس کے قتل اور عبداللہ بن ہلال بن خطل اور مقیس بن صبابہ کے قتل کا حکم دیا اور فرمایا اگر چہ انھوں نے غلاف کعبہ کے نیچے پناہ لی ہو، اس طرح حویرث بن نقیذ، ہبار بن اسود، ابن زبعری، عکرمہ بن ابی جہل، وحشی، ابن
اسلام اور احترام نبوت ﷺ
خطل کی دو لونڈیاں فرتنیٰ اور ارنب ، ان سے ایسے اشعار پڑھاتا جس میں رسول اللہ ﷺ کی ہجو و گستاخی ہوتی ،عمرو بن ہاشم کی لونڈی سارہ بھی مکہ میں نوحہ اور گانے والی تھی اس سے بھی حضور ﷺ کی ہجو پر مشتمل اشعار پڑھائے جاتے یہ تمام قتل ہوئے البتہ ابن ابی سرح ، ہبار بن اسود ، ابن زبعری ، عکرمہ ، وحشی و فرتنا اسلام لے آئے ، ابن خطل کے بارے میں ہے کہ اس نے اپنے انصاری ساتھی کو قتل کیا تھا
واقدی کہتے ہیں ابن ابی سرح جب حضرت عثمان کے ساتھ آیا تو تائب ہو چکا تھا اور حال ظاہری بھی اس کا مقتضی ہے
(المغازی، ۲: ۸۵۵)
ان تمام کو حضور ﷺ نے مباح الدم قرار دیا تھا ان میں سے ابن ابی سرح مسلمان تھا پھر مرتد ہو گیا اسی لئے اسے بھی مباح الدم قرار دیا تھا حتی کہ وہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے ساتھ آیا تو آپ ﷺ نے معاف فرماتے ہوئے اسے بیعت کر لیا
وہو بلا شک دلیل علی قتل الساب قبل التوبۃ
یہ یقیناً اس پر دال ہے کہ گستاخ قبل از توبہ قتل کر دیا جائے گا
بعد از توبہ کے معاملہ پر ہم عنقریب گفتگو کریں گے ، ان شاء اللہ تعالیٰ ان میں مقیس بن صبابہ بھی مرتد تھا اور اس نے ایک آدمی کو قتل بھی کیا اسی طرح ابن خطل کا بھی معاملہ ہے یہ دونوں بھی قتل ہوئے ان میں عکرمہ بن ابی جہل بھی ہے اس میں کفر اصلی کے ساتھ حضور ﷺ کے ساتھ شدید عداوت بھی تھی علم نہیں اس سے کوئی گستاخی صادر ہوئی یا نہیں لیکن بعد میں بڑے مسلمانوں میں شامل ہوئے ، کچھ ان میں اصلی کافر تھے مگر ان کو مباح الدم ان کے کفر اور شدید عداوت کی وجہ سے قرار نہیں دیا بلکہ گستاخی کی وجہ سے تھا
کیا ہمیں علم نہیں خواتین کو کفر کی وجہ سے قتل کا حکم نہیں دیا اور نہ ہی مخصوص
اسلام اور احترام نبوت ﷺ
موقعہ کے علاوہ قتل کا حکم تھا فتح کے دن کسی کو محض کفر کی وجہ سے آپ ﷺ نے قتل نہیں کیا البتہ یہ منقول ہے کہ آپ ﷺ نے خزاعہ کو اجازت دی تا کہ وہ ان پر حملہ کرنے والے بنوبکر سے بدلہ لیں، اس کے بعد آپ ﷺ نے تمام کو پناہ دی بعض نے کہا انصار نے قتال کیا لیکن یہ تفصیل کا محل نہیں ، خزاعہ کو اجازت کا تذکرہ امام ابو عبید نے کتاب الاموال میں یوں کیا ہے
کہ ہمیں عبد الوہاب بن عطا نے حسین معلم سے ان سے عمرو بن شعیب نے اپنے دادا سے بیان کیا کہ جب مکہ فتح ہوا آپ ﷺ نے فرمایا تمام قتال ختم کر دیں البتہ خزاعہ کو بنوبکر پر حق ہے جب نماز عصر کا وقت آیا فرمایا قتال ختم کر دو بنو بکر کا ایک آدمی خزاعی کو مزدلفہ ملا جسے اس نے قتل کر دیا جب خبر رسول اللہ ﷺ کو پہنچی تو دوسرے دن بیت اللہ کے پاس کھڑے ہو کر خطبہ دیا اور فرمایا اللہ تعالیٰ کے ہاں وہ زیادتی کرنے والا ہے جس نے حرم میں عداوت کی جس نے غیر قاتل کو قتل کیا اور جس نے جاہلیت کی عداوت کی وجہ سے قتل کیا
(کتاب الاموال، ۱۳۵)
شیخ ابو عبید (م-۲۲۴) کے نزدیک مکہ تلوار سے فتح ہوا امام شافعی کے ہاں باوجودیکہ یہ صلح سے فتح ہوا فرماتے ہیں جن کے ساتھ بنو نفاث نے قتال کیا انھیں ان کے قتل کی اجازت ملی تھی ، نہ ان کے لئے مال تھا اور نہ ہی غلام وہ غیر مکی لوگ تھے جو وہاں پناہ لئے تھے یہ گفتگو امام نے الام میں؛ ابو یوسف کے اس قول کے جواب میں کی کہ اہل مکہ میں غلامی جاری نہیں ہو سکتی
(الام : ۷، ۳۸۹)
مرتد پر توبہ
جو مرتد پر توبہ پیش کرنے کو لازم مانتے ہیں ان کی قوی دلیل ابن ابی سرح کا
ن يصبح عشراً، وحين يمسي عشراً، القيامة ) يث [484] حديث [6233]
کہ پڑھیں تو یہ فوائد وثمرات ملیں گے نہ پڑھیں تو ہماری مرضی بلکہ یہ معاملہ کا نہیں ہے۔ یہ صرف حب مصطفیٰ ﷺ کا تقاضا ہی نہیں بلکہ نبی اکرم ﷺ کا حق بھی ہے اور یہ حق ادا نہ کرنے والوں کو سخت وعید بھی سنائی گئی ہے، جیسا کہ درجہ ذیل احادیث میں مروی ہے۔ فضل الصلوٰة على النبي ﷺ [حديث: 11] مشكاة مع تحقيق الألباني، رقم الحديث (925)
۸۴ کفر کی وجہ سے آپ ﷺ نے قتل نہیں کو اجازت دی تا کہ وہ ان پر حملہ کرنے ﷺ نے تمام کو پناہ دی یہ تفصیل کا محل نہیں، خزاعہ کو اجازت کا کیا ہے میں معلم سے ان سے عمرو بن شعیب آپ ﷺ نے فرمایا تمام قتال ختم کر کا وقت آیا فرمایا قتال ختم کر دو بنو بکر کا دیا جب خبر رسول اللہ ﷺ کو پہنچی تو خطبہ دیا اور فرمایا اللہ تعالیٰ کے ہاں وہ مت کی جس نے غیر قاتل کو قتل کیا اور
(کتاب الاموال، ۱۴۵)
تلوار سے فتح ہوا امام شافعی کے ہاں ساتھ بنونفاث نے قتال کیا انھیں ان اور نہ ہی غلام وہ غیر مکی لوگ تھے جو یوسف کے اس قول کے جواب میں کی
(الام : ۳۸۹،۷)
نہیں ان کی قوی دلیل ابن ابی سرح کا
اسلام اور احترام نبوت ﷺ یہی واقعہ ہے کیونکہ اگر قتل ارتداد کی وجہ سے ہوتا تو اس پر توبہ پیش کی جاتی حالانکہ ایسا نہیں ہوا اور نہ ہی وہ کافر اصلی تھا کہ امام کو قبل از اسلام اس کے بارے میں اختیار تھا تو اب اس کے قتل کی وجہ گستاخی ہی تھا اور گستاخ کو توبہ کی بات کے بغیر ہی قتل کیا جاتا ہے یعنی اس پر توبہ پیش ہی نہیں کی جاتی اگر ڈر جانے کی وجہ سے اسلام لے آیا تو اس کا حکم آ رہا ہے جو توبہ پیش کرنا لازم نہیں مانتے ان کے ہاں یہ فقط سنت ہے تو حضور ﷺ کا اسے ترک فرمانا واضح کر رہا ہے کہ یہ قتل گستاخی کی وجہ سے تھا اور یہ ارتداد سے کہیں آگے ہے ارتداد میں توبہ لازماً یا استحباباً پیش کرنا ضروری ہے لیکن گستاخی میں یہ ہے ہی نہیں
گستاخی کا جرم، ارتداد سے بڑھ کر
گستاخی کا جرم، ارتداد کے جرم سے بڑھ کر ہے اس پر دلیل بخاری کی روایت ہے جو حضرت انس رضی اللہ عنہ سے ہے، ایک نصرانی اسلام لایا اور وہ حضور ﷺ کا کاتب مقرر ہوا پھر وہ نصرانی ہو گیا اور وہ کہتا محمد اتنا ہی جانتا ہے جتنا میں لکھ دیتا وہ مر گیا لوگوں نے دفن کیا تو زمین نے اسے باہر پھینک دیا، کہنے لگے یہ حضور ﷺ کے صحابہ کا عمل ہے جنھوں نے اسے قبر سے نکال کر پھینک دیا انھوں نے اس کے لئے خوب گہری قبر کھودی اور دبا دیا مگر جب صبح ہوئی دیکھا تو اس نے اسے باہر پھینک دیا تو سمجھ گئے یہ کسی کا عمل نہیں
(البخاری، ۳۶۱۷)
غور کرو اللہ تعالیٰ کی اپنے نبی ﷺ پر کس قدر عنایت ہے جو آپ پر افتراء کرے اس
ن يُصْبِحَ عَشْرًا، وَ حِيْنَ يُمْسِي عَشْرًا، الْقِيَامَةِ ) حدیث [484] الحدیث [6233]
کہ پڑھیں تو یہ فوائد وثمرات ملیں گے نہ پڑھیں تو ہماری مرضی بلکہ یہ معاملہ کا حصہ ہے۔ یہ صرف حب مصطفیٰ ﷺ کا تقاضا ہی نہیں بلکہ نبی اکرم ﷺ کا حق بھی ہے اور یہ حق ادا نہ کرنے والوں کو سخت وعید بھی سنائی گئی ہے، جیسا کہ مندرجہ ذیل احادیث میں مروی ہے۔ فضل الصلوٰۃ علی النبی ﷺ [حدیث: 11] مشكاة مع تحقيق الألباني، رقم الحديث (925)
اسلام اور احترام نبوت ﷺ
کے کذب کا اظہار فرما دیتا ہے زمین اسے قبول نہیں کرتی حتی کے لوگوں پر اس کا کذب آشکار ہو گیا ورنہ بہت سے مرتد مرے مگر ان میں سے کسی کو بھی زمین نے باہر نہیں پھینکا لیکن اللہ تعالیٰ نے اس ملعون کو رسوا اور اس کے جھوٹ کو لوگوں پر آشکار فرما دیا اگر ابن ابی سرح اسلام نہ لاتا تو اس کا حال بھی یہی ہوتا
اہل علم کا اختلاف
ابن ابی سرح اور نصرانی کا قول (ہم جو لکھ دیتے) پیچھے گزرا، اس میں اہل علم کا اختلاف ہے بعض نے کہا یہ سراسر جھوٹ ہے ایسی کوئی بات نہیں کیونکہ کافر مرتد کی بات کا کیا اعتبار؟
(نهاية السئول، ۱۱۱)
بعض نے کہا چونکہ قرآن سات لغتوں میں نازل ہوا تھا پھر چھ منسوخ اور ساتویں باقی رہی جس کا دور حضرت جبریل علیہ السلام نے حضور ﷺ کے ساتھ آخر میں کیا تھا ابتداً سمیع علیم کی جگہ مثلاً علیم حکیم کی اجازت تھی بشرطیکہ آیت رحمت کو عذاب اور آیت عذاب کو رحمت پر ختم نہ کیا جائے اسی طرح دیگر تاویلات صحیحہ تھی جنھیں ابن ابی سرح اور نصرانی نہ سمجھ پائے اور دونوں گمراہ ہو گئے اور بہت قبیح جرم کیا کیونکہ لوگوں کے دلوں میں تشکیک کا سبب بنا لہذا اس کی سزا بھی زیادہ شدید ہے
ابن خطل بھی مسلمان تھا حضور ﷺ نے اسے صدقہ پر عامل مقرر کیا ایک انصاری مسلمان اس کے ساتھ رہتا اس کے کھانا نہ بنانے پر ناراض ہوا اور اسے قتل کر دیا پھر قصاص کے خوف سے بھاگا اور مرتد ہو گیا اشعار میں حضور ﷺ کی ہجو کرتا اور اپنی لونڈیوں سے وہ اشعار پڑھاتا ، اگر اس کا قتل قصاصاً ہوتا تو اسے مقتول کے ورثا کے حوالے کیا جاتا اگر ارتداد کی وجہ سے ہوتا تو توبہ اس پر پیش کی جاتی تو اب اس کا قتل
اسلام اور احترام نبوت ﷺ
فقط گستاخی کی وجہ سے ہی تھا سوال ، اشعار میں ہجو، سبّ و شت قرار دیا جائے؟ جواب ، آگے آ رہا ہے جس میں تقاضا کرتا ہے اور یہ بھی آ رہ
- ۳۔ مشہور ہے حضرت بجیر بن زہ
تھا رسول اللہ ﷺ نے مکہ میں
- ۴۔ حدیث اعرابی میں ہے حضو
نہیں کیا تو مسلمانوں نے اس م تو وہ دوزخ میں چلا جاتا
- ۵۔ آپ ﷺ نے جب حنین
اللہ تعالیٰ راضی نہیں ہوگا حض اجازت ہو تو میں اس منافق ک معاذ الله ان يتحدث ا انی اقتل اصحابی )
- ۶۔ جب ابن ابی نے کہا کہ ہم
عمر نے اس کے قتل کی اجازت م
اسلام اور احترام نبوت ﷺ
فقط گستاخی کی وجہ سے ہی تھا
سوال، اشعار میں ہجو، سبّ وشتم کی بدترین صورت ہے تو کیوں نہ کلمہ واحد کو سبّ قرار دیا جائے؟
جواب، آگے آ رہا ہے جس میں بغیر شعر سبّ اور اذیت کا عمومی حکم ہے اور وہ عموم کا تقاضا کرتا ہے اور یہ بھی آ رہا ہے کہ مباح الدم کے لئے قلیل وکثیر کا فرق نہیں
- ۳۔ مشہور ہے حضرت بجیر بن زہیر بن ابی سلمیٰ نے اپنے بھائی کعب بن زہیر کو لکھا
تھا رسول اللہ ﷺ نے مکہ میں ہجو اور اذیت دینے والوں کو قتل کروا دیا ہے
(المستدرک للحاکم، ۳، ۴۷۵)
- ۴۔ حدیث اعرابی میں ہے حضور ﷺ نے جب اسے مال دیا تو کہنے لگا تم نے اچھا
نہیں کیا تو مسلمانوں نے اس کے قتل کا ارادہ کیا فرمایا اس نے جو کہا تھا اگر قتل کر دیتے تو وہ دوزخ میں چلا جاتا
(مسند بزار ، ۲۱۰۴)
- ۵۔ آپ ﷺ نے جب حنین کے غنائم تقسیم فرمائے تو ایک آدمی نے کہا اس تقسیم سے
اللہ تعالیٰ راضی نہیں ہوگا حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ اجازت ہو تو میں اس منافق کو قتل کر دوں فرمایا، نہ معاذالله ان يتحدث الناس اللہ کی پناہ لوگ افواہیں پھیلائیں گے کہ انی اقتل اصحابی یہ شخص اپنے ساتھیوں کو قتل کروا دیتا (مسلم ۱۰۶۲) ہے
- ۶۔ جب ابن ابی نے کہا کہ ہم مدینہ واپسی پر وہاں سے ذلیلوں کو نکال دیں گے تو حضرت
عمر نے اس کے قتل کی اجازت مانگی، فرمایا اس پر مدینہ میں کئی آوازیں اٹھیں گی اور فرمایا
اسلام اور احترام نبوت ﷺ
لا يتحدث الناس ان محمداً تاکہ لوگ باتیں نہ کریں کہ محمد ﷺ يقتل اصحابه (بخاری:۳۶۰۵) اپنے ساتھیوں کو قتل کروا دیتا ہے
- ۷۔ مغازی سعید بن یحیی بن سعید میں ابو المجالد، امام شعبی سے بیان کرتے ہیں کہ
جب فتح مکہ ہوا تو عُزمی کا مال آپ کے سامنے لا کر رکھ دیا گیا پھر ایک آدمی کا نام لے کر بلایا اور اسے عطا کیا پھر قریش سے کچھ لوگوں کو بلا کر عطا کیا ایک آدمی نے کھڑے ہو کر کہا آپ جانتے ہیں سونا کیسے دینا ہے پھر دوسرے نے یہی کہا تو آپ نے اعراض کیا تیسرا آدمی اٹھا اور کہا آپ تقسیم کر رہے ہیں مگر عدل نہیں کر رہے فرمایا تجھ پر افسوس اذا لا يعدل احد بعدی میرے بعد کون عدل کر سکتا ہے؟ پھر آپ ﷺ نے حضرت ابو بکر کو طلب کیا اور فرمایا اسے قتل کر دو وہ گئے تو وہاں اسے نہ پایا تو فرمایا لو قتلتہ لرجوت ان یکون اگر تم اسے اڑا دیتے تو امید تھی اول و آخر اولھم و اخرھم یہی تھا
- ۸۔ قاضی عیاض نے سند کے ساتھ حضرت علی رضی اللہ عنہ سے نقل کیا
من سب نبیاً فاقتلوہ و من سب اگر کوئی نبی کی گستاخی کرے تو اسے قتل اصحابی فاضربوہ کر دو اور اگر صحابی کی گستاخی کرے تو (الشفاء:۲۲۱،۲) اسے کوڑے مارو
سند پر گفتگو
اس روایت کی سند میں اہل بیت سے روایت کرنے والے راوی عبد الرحمن بن محمد
اسلام اور احترام نبوت ﷺ
بن حسن بن زبالہ پر شیخ ابن حبان وغیرہ نے جرح کی ہے، اسے امام حسن خلال (م، ۴۳۹) اور شیخ ازجی (م، ۴۴۴) نے بھی حضرت علی رضی اللہ سے روایت کیا ہے،
امام ابن صلاح (م، ۶۴۳) نے حاشیہ الوسیط میں کلام کرتے ہوئے کہا یہ حدیث معروف نہیں
(مشکل الوسیط، ۷، ۸۷)
کلام ابن صلاح کی وجہ سند سے عدم آگاہی ہے لہٰذا اس میں تدبر کر لیا جائے اگر یہ روایت محفوظ ہے تو یہ مسلم و کافر دونوں میں بڑی عمدہ دلیل ہے ہم نے سنت سے استدلال میں طویل گفتگو کر دی حالانکہ اجماع کی وجہ سے اسقدر ضرورت نہ تھی اور اجماع پر تفصیل پیچھے گزر چکی ہے
قیاسی دلیل
مرتد کا قتل اجماع اور نصوص واضحہ سے ثابت ہے حضور ﷺ کا ارشاد گرامی ہے من بدل دینہ فاقتلوہ جس نے دین بدلا اسے قتل کر دو
(البخاری، ۳۰۱۷)
گستاخ ، مرتد اور دین بدلنے والا ہی ہوتا ہے لہٰذا اس مذکورہ نص کے تحت بھی شامل رکھا جائے تو ثابت بالنص ہو جائے گا اور اگر تم گستاخی کو ارتداد پر قیاس کرلو تو پھر یہ حکم بطریق اولیٰ ثابت ہو جائے گا کیونکہ یہ ارتداد سے زیادہ بے حیائی اور فحش ہے
مَنْ يُصْبِحُ عَشْرًا، وَ حِيْنَ يُمْسِي عَشْرًا، الْقِيَامَةِ ) ديث [484] حديث [6233]
ا کہ پڑھیں تو یہ فوائد وثمرات ملیں گے نہ پڑھیں تو ہماری مرضی بلکہ یہ معاملہ کا ٹھیکیدار ہے۔ یہ صرف حب مصطفی ﷺ کا تقاضا ہی نہیں بلکہ نبی اکرم ﷺ حق بھی ہے اور یہ حق ادا نہ کرنے والوں کو سخت وعید بھی سنائی گئی ہے، جیسا کہ رجہ ذیل احادیث میں مروی ہے۔ فضل الصلوٰۃ علی النبی ﷺ [حدیث: 11] مشكاة مع تحقيق الألباني، رقم الحديث (925)
اسلام اور احترام نبوت ﷺ
مسئلہ غام
اسلام اور احترام نبوت ﷺ
مسئلہ ثانیہ
قتل گستاخ کا سبب کفر یا حد ؟
من يصبح عشرا، و حين يمسي عشرا، القيامة )
یث: 484]
لحدیث 6233]
طالبہ پڑھیں تو یہ فوائد و ثمرات ملیں گے نہ پڑھیں تو ہماری مرضی بلکہ یہ معاملہ کی تعبیر ہے۔ یہ صرف حب مصطفیٰ ﷺ کا تقاضا ہی نہیں بلکہ نبی اکرم ﷺ کا حق بھی ہے اور یہ حق ادا نہ کرنے والوں کو سخت وعید بھی سنائی گئی ہے، جیسا کہ نیچے ذیل احادیث میں مروی ہے۔ فضل الصلاة على النبي ﷺ [حدیث: 11]
(مشكاة مع تحقيق الألباني، رقم الحديث 925)
اسلام اور احترام نبوت ﷺ پہلے ایک مقدمہ سنیے کہ مرتد کا قتل نص توبہ کی قبولیت پر اکثر علماء کا اجماع
- ا۔ امام حسن بصری سے روایت ہے
مسلمان ہو جائے جیسا کہ زانی
- ۲۔ امام احمد فرماتے ہیں اگر وہ مسلما
- ۳۔ صحابہ اور تابعین کا مشہور مذہب ہ
قول ثابت نہ ہو یا کسی خاص واقعہ میں اگر مرتد توبہ نہیں کرتا تو ا اصلی حربی جب گرفتار ہو تو سربراہ کو ہے تو اس پر جزیہ لازم کر کے امن د جائے گا بشرطیکہ وہ قتال نہ کرے مرتد ان تمام احکام میں کاف کیا جائے گا خواہ مرد ہو یا خاتون اس ک ہم نے اس گفتگو سے سمجھ ہے یہی وجہ ہے امام غزالی نے اس سات ہیں، بغاوت، ارتداد، زنا، تہ عبارة عن قطع الاسلام من مكلف
من يصبح عشرا، و حين يمسي عشرا، القيامة )
یث [484]
حديث [6233]
الہ پڑیں تو یہ فوائد و ثمرات ملیں گے نہ پڑھیں تو ہماری مرضی بلکہ یہ معاملہ ما تخییر ہے۔ یہ صرف حب مصطفی ﷺ کا تقاضا ہی نہیں بلکہ نبی اکرم ﷺ اضا بھی ہے اور یہ حق ادا نہ کرنے والوں کو سخت وعید بھی سنائی گئی ہے، جیسا کہ جہ ذیل احادیث میں مروی ہے۔
فضل الصلوۃ علی النبی ﷺ [حدیث: 11]
مشكاة مع تحقيق الألباني، رقم الحديث (925)
اسلام اور احترام نبوت ﷺ
پہلے ایک مقدمہ سنیے کہ مرتد کا قتل نص اور اجماع سے ثابت ہے جیسا کہ گزرا، اس کی توبہ کی قبولیت پر اکثر علماء کا اجماع ہے بشرطیکہ زندیق نہ ہو
- ۱۔ امام حسن بصری سے روایت ہے مرتد کی توبہ قبول نہیں اسے قتل کیا جائے اگرچہ وہ
مسلمان ہو جائے جیسا کہ زانی
(الحاوی: ۱۳، ۱۵۸)
- ۲۔ امام احمد فرماتے ہیں اگر وہ مسلمان پیدا ہوا تھا تو اس کا حکم یہی ہے
(رحمة الامة للعثمانی، ۴۹۱)
- ۳۔ صحابہ اور تابعین کا مشہور مذہب یہ ہے کہ مرتد کی توبہ مقبول ہے شاید امام حسن کا
قول ثابت نہ ہو یا کسی خاص واقعہ میں ان کی رائے مخالف ہو
اگر مرتد توبہ نہیں کرتا تو بلاشبہ اس کا قتل کافر اصلی کی طرح نہیں کیونکہ کافر اصلی حربی جب گرفتار ہو تو سر براہ کو قتل، غلام، احسان یا فدیہ کا اختیار ہے اگر وہ کتابی ہے تو اس پر جزیہ لازم کر کے امن دیدیا جائے گا اگر وہ عورت ہے تو اسے قتل نہیں کیا جائے گا بشرطیکہ وہ قتال نہ کرے
مرتد ان تمام احکام میں کافر اصلی کے مخالف ہے اسے اسلام میں واپسی پر مجبور کیا جائے گا خواہ مرد ہو یا خاتون اس کے علاوہ کوئی چارہ نہیں اور اگر وہ اسلام نہیں لاتا تو قتل، ہم نے اس گفتگو سے سمجھ لیا حکم قتل میں علت، مطلق کفر نہیں بلکہ کفر ارتداد ہے یہی وجہ ہے امام غزالی نے اسے عقوبت لازم کرنے والی جنایات میں شمار کیا وہ سات ہیں، بغاوت، ارتداد، زنا، تہمت، سرقہ، ڈاکہ، شراب، پھر ارتداد کی تفسیر یوں کی
عبارة عن قطع الاسلام من کسی مکلف کا اسلام کو ترک کر دینا مکلف
ن يصبح عشرا، و حين يمسي عشرا، القيامة ) يث [484] الحديث [6233]
کہ پڑھیں تو یہ فوائد و ثمرات ملیں گے نہ پڑھیں تو ہماری مرضی بلکہ یہ معاملہ کی تحقیر ہے۔ یہ صرف حب مصطفیٰ ﷺ کا تقاضا ہی نہیں بلکہ نبی اکرم ﷺ کا حق بھی ہے اور یہ حق ادا نہ کرنے والوں کو سخت وعید بھی سنائی گئی ہے، جیسا کہ مندرجہ ذیل احادیث میں مروی ہے۔ فضل الصلوۃ علی النبی ﷺ [حدیث: 11] مشكاة مع تحقيق الألباني، رقم الحديث (925)
اسلام اور احترام نبوت ﷺ پھر کہا، لفظ قطع سے ہم نے کفر اصلی کو خارج کیا
(الوسيط ، ۴۲۵:۲)
قاضی حسین کی تعلیق اور رویانی (م:۵۰۲) کی البحر میں بھی اسی طرح ہے انھوں نے وہاں امام ابوبکر فارسی سے نقل کیا قتل مرتد کی حد، اس کے اسلام کی وجہ سے ساقط ہو جاتی ہے ان کے علاوہ کے کلام میں بھی اسی طرح ہے اور یہی تحقیقی بات ہے کہ قتل ، خاص سزا ہے شریعت نے اسے کفر ارتداد کے لئے خاص کیا جیسا کہ زانی محصن کے لئے رجم مقرر ہے اس سے آشکار ہو چکا کہ قتل مرتد، حد ہے اور ارتداد کفر خاص ہے جس کی سزا قتل اور اس میں اسلام کے علاوہ چارہ نہیں اور دیگر کفر کا یہ حکم نہیں، قتل مرتد کے حد ہونے سے یہ لازم نہیں آتا کہ وہ اسلام کی وجہ سے ساقط نہ ہو، کیا ہمارا اس میں اختلاف نہیں کہ حد زنا توبہ سے ساقط ہوتی ہے یا نہیں؟ حالانکہ اس کے حد ہونے پر اجماع ہے لہذا اس میں کیا رکاوٹ ہے کہ قتل مرتد حد ہو اور اسلام لانے پر ساقط بھی ہو جائے
حد کی تعریف
لہذا جو آدمی یہ کہتا ہے کہ جب اس کا نام ہم نے حد رکھ دیا تو پھر شریعت کی طرف سے یہ اسلام لانے سے ساقط نہ ہوگی وہ غلط کہتا ہے مقرر سزا حد کہلاتی ہے اب تمہیں اجازت ہے کہ بصورت ارتداد، تم اسلام کے بعد اس خاص کفر کو سبب بنالو یا کفر کے ساتھ قطع اسلام کو بنا لو جیسے غزالی نے کہا، یہ اول معنی سے اعم اور احسن ہے تو شارع نے قطع اسلام پر حکم قتل جاری کیا اور پھر اسلام کی وجہ سے ہی ساقط کر دیا۔ ارشاد فرمایا قل للذین کفروا ان ینتھوا تم کافروں سے فرماؤ اگر وہ باز رہے تو جو
اسلام اور احترام نبوت ﷺ يغفر لهم ما قد سلف
(الانفال
حضور ﷺ کا فرمان ہے الاسلام يجب ما قبله
(مسند احمد
توبہ سے سقوط حد میں شک و ترد
اہم فائدہ
جب یہ تمام گفتگو سا مسلمان ، گستاخ مرتد ہے اس اگرچہ وہ مرتد کی طرح کافر ہے گستاخی کی وجہ یا دونوں کی وجہ عمومی کفر کی وجہ سے نہیں ہو سک جاسکتا ہے نہ فدیہ، اور نہ ہی جزیہ پر غور ضروری ہے بلاشبہ ارتداد حدیث کی بنا پر سبب قتل ہے من سب نبيا فاقتلوه تو حکم کا ، اذیت اور گستاخی پر تو مسلمان گستاخ میں دو چیزیں لہذا اس کے قتل کا سبب دو علتیں ہے تو یہاں حکم (معلول ) واق
اسلام اور احترام نبوت ﷺ
يغفر لهم ما قد سلف ہوگزرا وہ انھیں معاف فرمادیا جائے گا
(الانفال، ۳۸)
حضور ﷺ کا فرمان ہے
الاسلام يجب ما قبله اسلام سابقہ تمام گناہ مٹا دیتا ہے
(مسند احمد ۴۹۹/۴)
توبہ سے سقوط حد میں شک وتردد سے اسلام سے حد ساقط ہونے میں تردد لازم نہیں آتا
اہم فائدہ
جب یہ تمام گفتگو سامنے آگئی تو سنیے مسلمان، گستاخ مرتد ہے اس میں کلام، مرتد والی ہی ہوگی لہذا سزا بھی حد ہی ہوگی اگر چہ وہ مرتد کی طرح کافر ہے البتہ ایک اور بحث ہے اس کا قتل عمومی ردت یا خاص گستاخی کی وجہ یا دونوں کی وجہ ہیں؟ مجتہد کے لئے یہ محل فکر وغور ہے عمومی کفر کی وجہ سے نہیں ہوسکتا کیونکہ پیچھے متعدد آثار کا ذکر آیا کہ اسے نہ تو غلام بنایا جاسکتا ہے نہ فدیہ، اور نہ ہی جزیہ، پھر مرد وعورت کا بھی فرق نہیں تو اب اس کی وجہ قتل پرغور ضروری ہے بلاشبہ ارتداد، اجماع اور نصوص کی بنا پر سبب قتل ہے اور گستاخی اس حدیث کی بنا پر سبب قتل ہے
من سب نبيا فاقتلوه جس نے کسی نبی کی گستاخی کی اسے قتل کریں
تو حکم کا ، اذیت اور گستاخی پر مترتب ہونا اس کے علت ہونے کی نشاندہی کر رہا ہے
تو مسلمان گستاخ میں دو چیزیں ہوئیں ا۔ ارتداد ۲۔ گستاخی
لہذا اس کے قتل کا سبب دو علتیں بنیں اور ہر ایک سبب قتل ہے پھر دونوں میں ہی حد قتل ہے تو یہاں حکم (معلول) واحد کے لئے دو شرعی علتیں جمع ہیں، اسی وجہ سے جب کافر
اسلام اور احترام نبوت ﷺ
گستاخی کرے گا تو فرق ہوگا کیونکہ یہاں صرف گستاخی ہے تکرار ارتداد نہیں اسی طرح فرق ہوگا جب گستاخ توبہ کر لے اور مسلمان ہو جائے جس پر انشاء اللہ تعالیٰ گفتگو آرہی ہے گستاخ اور مرتد کے حوالے سے یہ گفتگو نہایت اہم ہے قاضی عیاض رحمہ اللہ تعالیٰ ایک جماعت سے حکم قتل نقل کرنے کے بعد لکھتے ہیں ان کے ہاں ان کی توبہ قبول نہیں اس کی مثل امام ابوحنیفہ، ان کے اصحاب، امام ثوری ، اہل کوفہ اور اوزاعی نے مسلمان گستاخ کے بارے میں کہا اور تمام نے فرمایا یہ ارتداد ہے اسی طرح کی بات ولید بن مسلم (م، ۱۹۵) نے امام مالک سے بھی نقل کی ہے اس کے بعد لکھا ہم نے اس کے قتل پر اجماع نقل کیا۔ امام مالک اور ان کے اصحاب کا مشہور مذہب، قول سلف اور جمہور علماء کہتے ہیں یہ قتل بطور حد ہے نہ کہ بطور کفر، اگر وہ توبہ کا اظہار کرے اور اسی لئے ان کے ہاں توبہ قبول نہیں
(الشفاء:۲۵۳:۲)
اس گفتگو میں قاضی نے اس طرف اشارہ کیا ہے کہ قبول توبہ کا ماخذ و بنیاد اس کا بسبب کفر، قتل ہے اور عدم قبول توبہ کا ماخذ بطور حد، قتل ہے حالانکہ ہم پیچھے بیان کر چکے کہ یہ لازم نہیں، قاضی کے کلام کو اس صورت پر محمول کرنا چاہیے جب وہ اسلام لے آئے تو اس میں اختلاف ہے نہ کہ قبل از اسلام
قاضی حسین شافعی نے امام ابوبکر فارسی سے نقل کیا اجمعت الامة على ان من امت کا اجماع ہے جس نے نبی کی سب النبی يقتل حداً گستاخی کی اسے قتل کیا جائے
( فتح الباری ۲۸۱ ،۱۲)
اور یہ اس لئے ہے کہ گستاخ نبی ایمان سے خارج ہو گیا اور مرتد کو بطور حد قتل کیا جاتا
ن يصبح عشراً، و حین یمسی عشراً، الْقِيَامَةِ ) ثث [484] الحديث [6233]
سالہ پڑھیں تو یہ فوائد و ثمرات ملیں گے نہ پڑھیں تو ہماری مرضی بلکہ یہ معاملہ ا ضمیر ہے۔ یہ صرف حب مصطفیٰ ﷺ کا تقاضا ہی نہیں بلکہ نبی اکرم ﷺ ق بھی ہے اور یہ حق ادا نہ کرنے والوں کو سخت وعید بھی سنائی گئی ہے، جیسا کہ جہ ذیل احادیث میں مروی ہے۔
فضل الصلوۃ علی النبی ﷺ [حدیث: 11] مشكاة مع تحقيق الألباني، رقم الحديث (925)
صرف گستاخی ہے مگر ارتداد نہیں
سخ توبہ کر لے اور مسلمان ہو جائے جس پر رتد کے حوالے سے یہ گفتگو نہایت اہم ہے جماعت سے حکم قتل نقل کرنے کے بعد لکھتے مثل امام ابو حنیفہ، ان کے اصحاب، امام ثوری بارے میں کہا اور تمام نے فرمایا یہ ارتداد ہے اتے امام مالک سے بھی نقل کی ہے ں پر اجماع نقل کیا۔ امام مالک اور ان کے اء کہتے ہیں یہ قتل بطور حد ہے نہ کہ بطور کفر، کی توبہ قبول نہیں
(الشفاء، ۲: ۲۵۴)
ہے کہ قبول توبہ کا ماخذ و بنیاد اس کا بسبب تل ہے حالانکہ ہم پیچھے بیان کر چکے کہ یہ ع کرنا چاہیے جب وہ اسلام لے آئے تو
ضی سے نقل کیا مت کا اجماع ہے جس نے نبی کی گستاخی کی اسے قتل کیا جائے
سخ ہو گیا اور مرتد کو بطور حد قتل کیا جاتا
۹۷
اسلام اور احترام نبوت ﷺ
ہے اگر وہ توبہ کر لے تو توبہ قبول ہوگی
امام رویانی لکھتے ہیں امام ابو بکر فارسی نے فرمایا امت کا اس پر اجماع ہے کہ جس نے رسول اللہ کی ﷺ کی گستاخی کی اس کی حد قتل ہے بخلاف دوسرے پر تہمت کے اسپر اسی کوڑے ہیں
شیخ رویانی مزید لکھتے ہیں کہ ہمارے اصحاب نے کہا اس کا معنی یہ ہے قذف (نبی پر) اسے کافر کر دے گا اور اسے ارتداد کی وجہ سے قتل کیا جائے گا اور مرتد کا قتل حد ہے جو اسلام کی وجہ سے ساقط ہو جاتا ہے اگر وہ اس صورت میں مسلمان ہو جائے تو اسی کوڑوں کی سزا نافذ ہوگی کیونکہ دوسرے پر تہمت لگائے پھر مرتد ہو جائے پھر اسلام لے آئے تو حد قذف اس پر باقی رہے گی
بعض کے نزدیک ان کی مراد اسے بطور حد قتل ہے کیونکہ آپ ﷺ نے ابن خطل کے قتل کا حکم دیا
لیکن یہ استدلال درست نہیں کیونکہ وہ مشرک تھا اور اس کے لئے امان نہ تھی لہذا اسے قتل کیا گیا مذکورہ صورت اس کے مخالف ہے (یہ رویانی کی گفتگو تھی)
پھر ہم کلام فارسی کی طرف لوٹتے ہیں ان کی عبارت سے ہمارا مقصود یہ ہے کہ انہوں نے کہا اسے بطور حد قتل کیا جائے گا اور اس پر اجماع ہے قاضی حسین، شیخ رویانی اور دیگر اصحاب نے بھی لفظ حد پر ان سے موافقت کی اگر چہ دوسرے معاملہ میں اختلاف کیا جس کا ذکر گستاخی کافر میں انشاء اللہ تعالیٰ آ رہا ہے اس تحریر سے واضح ہو رہا ہے اگر گستاخ توبہ نہیں کرتا تو اسے بطور حد اور کفر قتل کیا جائے گا یہاں اس کے حد یا کفر میں اختلاف لفظی ہے اس کا فائدہ یہاں ظاہر نہیں ہوتا بلکہ کبھی قتل بطور حد ہو گا اور
...من يصبح عشراً، و حين يمسي عشراً، م القيامة ) ...ث [484] ...حديث [6233]
...کہ ہم یہ پڑھیں تو یہ فوائد وثمرات ملیں گے نہ پڑھیں تو ہماری مرضی بلکہ یہ معاملہ اس سے کہیں ضخیم تر ہے۔ یہ صرف حب مصطفیٰ ﷺ کا تقاضا ہی نہیں بلکہ نبی اکرم ﷺ کا حق بھی ہے اور یہ حق ادا نہ کرنے والوں کو سخت وعید بھی سنائی گئی ہے، جیسا کہ درج ذیل احادیث میں مروی ہے۔ فضل الصلوٰۃ علی النبی ﷺ [حدیث: 11] مشکاۃ مع تحقیق الالبانی، رقم الحدیث (925)
اسلام اور احترام نبوت ﷺ وہاں اسلام مقبول ہوتا ہے ہاں اگر وہ قول لیا جائے جو لوگوں کے کلام سے سمجھ آتا ہے اور بعض نے اس کی طرف اشارہ بھی کیا کہ اس کا قتل بطور حد ہونا مستلزم ہے اس بات کو کہ وہ اسلام کی وجہ سے ساقط نہ ہو تو اب اثر ظاہر ہوگا لیکن اس پر گفتگو کا مقام قبول توبہ ہے یہاں کسی دوسرے مسئلہ پر گفتگو ہے کہ ہم کسی ایک کو بھی نہیں جانتے جس نے گستاخی بطور تہمت پر کہا ہو کہ یہاں کوڑے اور قتل دونوں جمع ہونگے یہاں یہ سوال اٹھایا جاتا ہے کہ ان دونوں کو جمع کیوں نہ کیا جاتا جیسے کہ ایک شخص پر قصاص اور حد قذف دونوں جمع ہوتے ہیں اس کا تحقیقی جواب ہماری مذکورہ گفتگو میں کچھ یوں ہے اگر ہم کہیں کہ یہاں قتل خصوصاً گستاخی کی وجہ سے ہے اور پھر گستاخی ہی ثابت ہونے کی وجہ سے موجب قتل ہے تو حد قذف کا وجوب اس قاعدے کی وجہ سے ختم ہو جائے گا جو چیز خصوصاً اعظم اثرین لازم کر رہی ہو تو کیا ان میں سے عموماً کمتر کو سبب بنایا جاسکتا ہے دوسرا قاعدہ یہ ہے کہ جب ایک جنس کے دو امور جمع ہوجائیں تو ایک دوسرے میں داخل ہوگا ان دو قواعد پر درج ذیل مسائل سامنے آتے ہیں
- ا۔ خروج منی، غسل لازم کر دیتی ہے تو کیا یہ ساتھ وضو بھی لازم کرے گی؟ اس
میں اختلاف ہے مذہب مشہور یہی ہے کہ قاعدہ اولیٰ کی وجہ سے یہ لازم نہیں کرتی
(الروضہ،۲۷۱)
- ۲۔ زنا محصن، رجم کو لازم کرتا ہے اور ہمارا اتفاق ہے کہ اس پر کوڑے مارنا لازم نہیں
کرتا قاعدہ اولیٰ کی وجہ سے بعض علماء نے جمع کی بات بھی کی ہے یوں کہنا ممکن ہے
اسلام اور احترام نبوت ﷺ کوڑوں کا سبب کنوارے کا زنا ہے فقط
- ۳۔ خروج حیض، غسل وضو دونوں کو
واجب کرتا ہے
- ۴۔ جب وضو اور غسل لازم ہوتے تو
غسل کافی ہو جائے گا
- ۵۔ جب قارن نے حج وعمرہ کا احرام
ہمارے اور جمہور کے ہاں عمرہ کے افعال مذکورہ مسئلہ کا استنباط بھی اس قاعدہ اولیٰ کی بنا پر کیونکہ قذف خاص خصوصاً اس کا محل خاص ہے لہذا یہ قذف پر لازم ہوتی ہے یا یوں کہا جائے گا دونوں غسل میں اور عمرہ، حج میں داخل ہو گیا یا یوں کہتے ہیں اس محل پر قواعد سے استدلال کی حاجت نہیں کوئی دلیل نہیں یہ تمام اس وقت ہے جب ہے اگر ہم کہیں کہ قتل کا سبب ارتداد
اسلام اور احترام نبوت ﷺ
کوڑوں کا سبب کنوارے کا زنا ہے نہ کہ عام زنا
(اقناع،۱: ۳۳۵)
- ۳۔ خروج حیض ، غسل وضو دونوں کو لازم کرتا ہے اور اس سے قاعدہ اولی پر اعتراض
وارد ہوتا ہے
- ۴۔ جب وضو اور غسل لازم ہوتے تو دوسرے قاعدہ پر ظاہر مذہب کے مطابق غسل
کافی ہو جائے گا
- ۵۔ جب قارن نے حج وعمرہ کا احرام باندھ لیا تو اس نے قاعدہ ثانیہ کے مطابق
ہمارے اور جمہور کے ہاں عمرہ کے اعمال کو حج کے اعمال میں داخل کر دیا
مذکورہ مسئلہ کا استنباط بھی انہی دو قواعد پر ہے تہا قتل لازم ہوگا اور حد ساقط یا قاعدہ اولی کی بنا پر کیونکہ قذف خاص سے قتل لازم آتا ہے اور یہی اعظم اثرین ہے خصوصاً اس کا محل خاص ہے لہذا یہاں کم تر لازم نہ ہوگا اور وہ کوڑوں کی سزا ہے جو عام قذف پر لازم ہوتی ہے
یا یوں کہا جائے گا دونوں لازم ہیں لیکن اصغر، اکبر میں داخل ہے جیسا کہ وضو غسل میں اور عمرہ، حج میں داخل ہو گیا
یا یوں کہتے ہیں اس محل خاص میں حد قذف قتل ہے تو اسقاط جلد میں دونوں قواعد سے استدلال کی حاجت نہیں لیکن یہ قذف کی تخصیص کا سبب بنے گا اور اس پر کوئی دلیل نہیں
یہ تمام اس وقت ہے جب ہم یہ کہیں کہ قتل کا سبب صرف ذاتی طور پر گستاخی ہے اگر ہم کہیں کہ قتل کا سبب ارتداد ہے تو مباحث مذکورہ یہاں جاری ہوسکتیں ہیں
ن یصبح عشراً، و حین یمسي عشراً، القیامۃ ) ث [484] لث [6233]
الہ پڑھیں تو یہ فوائد و ثمرات ملیں گے نہ پڑھیں تو ہماری مرضی بلکہ یہ معاملہ ا ضمیر ہے۔ یہ صرف حب مصطفی ﷺ کا تقاضا ہی نہیں بلکہ نبی اکرم ﷺ ن بھی ہے اور یہ حق ادا نہ کرنے والوں کو سخت وعید بھی سنائی گئی ہے، جیسا کہ چہ ذیل احادیث میں مروی ہے۔ فضل الصلوٰۃ علی النبی ﷺ [حدیث: 11] مشکاۃ مع تحقیق الألبانی، رقم الحدیث (925)
۱۰۰ اسلام اور احترام نبوت ﷺ
یوں بھی کہا جاسکتا ہے کہ اس وقت سقوط جلد کی ضرورت نہیں کیونکہ قاعدہ اولی کی بنا پر لازم آتا ہے کہ شئی واحد دو کی موجب ہو اور یہاں یہ مفقود ہے موجب جلد، قذف اور موجب قتل، کفر کا مجموعہ
ان تمام کے باوجود ہمارے علم میں کوئی ایک بھی نہیں جو ہمارے مسئلہ میں قتل اور جلد کو جمع کا کہتا ہو، قبل از توبہ صرف قتل لازم ہے اور بعد از توبہ بعض ہمارے اصحاب کہتے ہیں قتل ساقط ، حد قذف باقی گویا انھوں نے پہلے ضابطہ سے اعراض اور دوسرے کو اپنایا تو دونوں کا موجب ، قذف کو ٹھہرایا، اگر بڑے پر عمل ہو گیا تو چھوٹا اس میں داخل ورنہ چھوٹے پر عمل ہوگا اور مذہب یہ ہے کہ حد ساقط ہو جائے گی گویا یہ پہلے قاعدے کے مطابق ہے اور اصلاً تو قتل ہی لازم تھا تو دونوں اقوال کا استنباط انہی دو قواعد پر ہے
تیسری صورت یہ ہے کہ اسلام کے بعد بھی قتل کیا جائے گا اس کا تذکرہ آرہا ہے لیکن اب بھی کوڑے اس کے ساتھ نہیں ہونگے جیسا کہ قبل از توبہ نہ تھے تو کسی نے بھی اس مقام پر ان دو قواعد کو لغو نہیں جانا کیونکہ اس سے قبل از توبہ قتل و جلد دونوں کا اجتماع ہو جاتا اور اسی طرح بعد از توبہ کسی ایک صورت میں
اسلام اور احترام نبوت ﷺ فصل ثانی توبہ کر یہاں ا ۲
اسلام اور احترام نبوت ﷺ
فصل ثانی
توبہ گستاخ اور مطالبہ توبہ
یہاں دو مسائل ہیں
- ۱۔ گستاخ کی توبہ
- ۲۔ اس سے مطالبہ توبہ
ن يصبح عشراً، و حين يمسي عشراً، القيامة ) ث [484] حديث [6233]
کہ پڑھیں تو یہ فوائد و ثمرات ملیں گے نہ پڑھیں تو ہماری مرضی بلکہ یہ معاملہ ا ضمیر ہے۔ یہ صرف حب مصطفیٰ ﷺ کا تقاضا ہی نہیں بلکہ نبی اکرم ﷺ حق بھی ہے اور یہ حق ادا نہ کرنے والوں کو سخت وعید بھی سنائی گئی ہے، جیسا کہ رجہ ذیل احادیث میں مروی ہے۔ فضل الصلوٰة على النبي ﷺ [حدیث: 11] مشكاة مع تحقيق الألباني، رقم الحديث (925)
اسلام اور احترام نبوت ﷺ
مسئلہ اولیٰ: گستاخ کی تو
اس پر اتفاق ہے کہ گستاخ کی بات کریں گے مر گستاخ کی قبول زندیق کی توبہ پر متفق ہیں مذہب امام مالک اور ان کے قبول نہیں اور اسے بطور حد قتل اور کفر خفی رکھنے والے کا ہے نے از خود توبہ کر لی کیونکہ یہ حد امام قابسی فرماتے ہی کیا جائے گا کیونکہ یہ حد ہے ا تعالیٰ نے درمیان، تو اس کی تو من شتم النبي عليه الس الموحدين ثم تاب توبته عنه القتل اسی طرح اگر زندیق توبہ کرلے دو اقوال نقل کیے ہیں
- ا۔ ہمارے اساتذہ میں سے
نے کہا کہ میں اس کی توبہ قبو قاضی عیاض لکھتے ہیں شیخ ابو
ن يصبح عشراً، و حين يمسي عشراً، القيامة ) حديث [484] حديث [6233]
تاکہ پڑھیں تو یہ فوائد وثمرات ملیں گے نہ پڑھیں تو ہماری مرضی بلکہ یہ معاملہ خاصا گھمبیر ہے۔ یہ صرف حب مصطفیٰ ﷺ کا تقاضا ہی نہیں بلکہ نبی اکرم ﷺ کا حق بھی ہے اور یہ حق ادا نہ کرنے والوں کو سخت وعید بھی سنائی گئی ہے، جیسا کہ کچھ ذیل احادیث میں مروی ہے۔ فضل الصلوة على النبي ﷺ [حدیث: 11] مشكاة مع تحقيق الألباني، رقم الحديث (925)
اسلام اور احترام نبوت ﷺ ۱۰۳
مسئلہ اولی، گستاخ کی قبول توبہ
اس پر اتفاق ہے کہ اسلام کے بغیر توبہ کا اعتبار نہیں، جس جگہ بھی ہم توبہ گستاخ کی بات کریں گے مراد یہ ہوگا کہ اس نے اسلام لانے کے بعد توبہ کی ہے
گستاخ کی قبول توبہ میں علماء کا اختلاف ہے باوجود کہ وہ تمام یا اکثر مرتد یا زندیق کی توبہ پر متفق ہیں پیچھے ہم نے قاضی عیاض کے حوالہ سے نقل کیا کہ مشہور مذہب امام مالک اور ان کے اصحاب قول سلف اور جمہور علماء کا یہی ہے گستاخ کی توبہ قبول نہیں اور اسے بطور حد قتل کیا جائے گا اور لکھا اس قول کے مطابق اس کا حکم زندیق اور کفر مخفی رکھنے والے کا ہے اب خواہ اس کی توبہ، گستاخی پر شہادت کے بعد ہو یا اس نے از خود توبہ کر لی کیونکہ یہ حد لازم ہے اور دیگر حدود کی طرح توبہ سے ساقط نہیں ہوگی
امام قابسی فرماتے ہیں جب گستاخی کا اقرار کیا اور اعلانیہ توبہ کر لی تو اسے قتل کیا جائے گا کیونکہ یہ حد ہے ابن ابی زید نے بھی یہی کہا ہے، رہا معاملہ اس کے اور اللہ تعالیٰ کے درمیان، تو اس کی توبہ نافع ہوگی، امام ابن سحنون کہتے ہیں
من شتم النبی علیہ السلام من جس مسلمان نے حضور ﷺ کو برا کہا الموحدین ثم تاب لم تزل پھر توبہ کر لی تو اس کی توبہ اس سے قتل کو توبتہ عنہ القتل زائل نہیں کرے گی
اسی طرح اگر زندیق توبہ کرے تو اس میں بھی اختلاف ہے امام ابن القصار (م۔۳۹۸) نے دو اقوال نقل کیے ہیں
- ۱۔ ہمارے اساتذہ میں سے کچھ نے فرمایا گستاخ کے اقرار پر اسے قتل کر دیا جائے بعض
نے کہا کہ میں اس کی توبہ قبول کرلوں گا بخلاف اس گستاخ کے جسے شاہد پکڑ لائیں قاضی عیاض لکھتے ہیں شیخ اصبغ کا یہی قول ہے
اسلام اور احترام نبوت ﷺ
مسئلہ گستاخی نبی اس قدر اقویٰ ہے کہ اس میں دلائل مقدم کی بنا پر اختلاف متصور بھی نہیں ہو سکتا کیونکہ نبی کا حق اور آپ کے سبب یہ امت کا حق ہے دیگر انسانوں کے حقوق کی طرح توبہ اسے بھی ساقط نہیں کر سکتی
پکڑے جانے کے بعد زندیق توبہ کرے تو امام مالک ، امام لیث ، امام اسحاق ، امام احمد کے نزدیک اس کی توبہ قبول نہیں کی جائے گی امام شافعی کے ہاں قبول ہے امام ابو حنیفہ اور امام ابو یوسف سے مختلف قول مروی ہیں ، امام ابن منذر نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے نقل کیا اس سے توبہ کا مطالبہ کیا جائے گا، امام ابن سحنون نے کہا
کسی نبی علیہ السلام کی گستاخی سے مسلمان لم يزل القتل من المسلم کا قتل توبہ سے زائل نہیں ہوتا کیونکہ وہ بالتوبة عن سبه عليه ایک دین سے دوسرے دین کی طرف نہیں السلام لانه لم ينتقل عن منتقل ہوا جبکہ اس نے ایک عمل کیا ہمارے دين الى دين وانما فعل نزدیک جس پر قتل بطور حد ہے اور اسے شيأ حده عندنا القتل کوئی معاف نہیں کر سکتا جیسے زندیق لا عفو فيه لاحد كالزنديق کیونکہ یہ بھی ظاہر سے ظاہر کی طرف منتقل لانه لم ينتقل من ظاهر نہیں ہوا الى ظاهر
قاضی ابو محمد بن نصر (م ۳۲۲) اعتبار توبہ نہ کرنے پر یوں دلیل دیتے ہیں کہ گستاخِ نبی اور گستاخ الٰہی میں فرق ہے، مشہور قول کے مطابق گستاخ الٰہی سے توبہ کا مطالبہ کیا جائے گا
اسلام اور احترام نبوت ﷺ
کیونکہ نبی انسان ہوتا ہے اور جس بشر کو عیب لاحق ہو سکتا ہے مگر جسے اللہ تعالیٰ نبوت کا تاج پہنا دے لیکن اللہ تعالیٰ کی ذات قطعاً تمام عیوب سے منزہ ہے وہ ایسی جنس سے نہیں جسے عیب ہو سکتا ہو
گستاخ نبی مرتد کی طرح نہیں جس کی توبہ قبول ہے کیونکہ ارتداد اس کا ذاتی معاملہ ہے اس سے کسی کا حق متعلق نہیں ہوتا لہٰذا اس کی توبہ سنی جائے گی رہا گستاخ نبی تو اس کے ساتھ حق آدمی متعلق ہے تو یہ اس مرتد کی طرح ہوگا جس نے ارتداد کے ساتھ ساتھ قتل یا قذف کا فعل کیا تو اب اس کی توبہ سے حد قتل وقذف ساقط نہ ہوگی
پھر یہ بھی ہے کہ اگر مرتد کی توبہ قبول ہے تو اس سے اس کے زنا وسرقہ وغیرہ کا گناہ ساقط نہیں ہوتا ، گستاخ کو کفر کی وجہ سے نہیں قتل کیا جاتا البتہ اس کے ایسے عمل کی وجہ سے ہے جس کا تعلق تعظیم حرمت نبی اور ان سے زوال عیب سے ہے اور اسے توبہ ساقط نہیں کر سکتی قاضی ابوالفضل کہتے ہیں
ان کا مقصود (واللہ اعلم) یہ محسوس ہوتا ہے کہ اس کی گستاخی کلمہ کفر نہ تھی لیکن اس میں عیب جوئی اور حقارت تھی یا توبہ و معافی سے ظاہرًا اس سے کفر کا اطلاق ختم ہو گیا اور اس کے باطن کو اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے مگر گستاخی کا حکم باقی رہا
امام ابو عمران فاسی (م، ۴۳۰) فرماتے ہیں جس نے کسی نبی کی گستاخی کی پھر مرتد ہو گیا تو اس کی توبہ سنے بغیر قتل کیا جائے
لان السب من حقوق الادمیین گستاخی آدمی کے ان حقوق میں سے التي لا تسقط عن المرتد ہے جو مرتد سے ساقط نہیں ہو سکتی
ن یصبح عشراً، و حین یمسی عشراً، [ القيامة ] ث [484] لحدیث [6233]
لئے پڑھیں تو یہ فوائد وثمرات ملیں گے نہ پڑھیں تو ہماری مرضی بلکہ یہ معاملہ کا ضمیر ہے۔ یہ صرف حب مصطفیٰ ﷺ کا تقاضا ہی نہیں بلکہ نبی اکرم ﷺ کا حق بھی ہے اور یہ حق ادا نہ کرنے والوں کو سخت وعید بھی سنائی گئی ہے، جیسا کہ مندرجہ ذیل احادیث میں مروی ہے۔
فضل الصلوٰۃ علیٰ النبی ﷺ [حدیث: 11] مشکاۃ مع تحقیق الألباني، رقم الحدیث (925)
اسلام اور احترام نبوت ﷺ ۱۰۶ ہمارے ان تمام مشائخ کے اقوال اس پر مبنی ہیں کہ گستاخ کا قتل بطور حد ہے نہ کہ بطور کفر ان کی تفصیل کی ضرورت ہے مثلاً امام ولید بن مسلم نے امام مالک اور ان کے موافقین سے نقل کیا (جیسا کہ پہلے گزرا) اور اہل علم نے اسے قبول کیا انھوں نے تصریح کی ہے ہر گستاخی ارتداد ہے اور انھوں نے یہ بھی کہا اس سے توبہ کا مطالبہ کیا جائے گا اگر توبہ کرلے تو تعزیر سے اس کی اصلاح کردی جائے اگر انکار کرے تو قتل تو اس صورت میں اس کا حکم ہر لحاظ سے مرتد والا ہوا لیکن وجہ اول مشہور اور اظہر ہے ہم اس پر تفصیلاً کہنا چاہتے ہیں جو لوگ اسے ارتداد نہیں مانتے وہ بطور حد قتل کا کہتے ہیں اور ہم دونوں صورتوں میں قتل ہی مانتے ہیں کیونکہ اب شہادت کے بعد وہ اپنے جرم سے انکار کر رہا ہے یا وہ توبہ اور اس سے برأت کا اظہار کرتا ہے تو ہم شرعی حد کے طور پر اس کے قتل کا کہیں گے کیونکہ اس سے حکم کفر ثابت ہو چکا ہے جو حق نبوی میں تحقیر ہے جسے اللہ تعالیٰ نے اعظم قرار دے رکھا ہے ، ہم اس کی میراث وغیرہ میں حکم زندیق جاری کریں گے جب وہ پکڑا گیا اور اس نے انکار کیا یا توبہ کی
سوال۔ تم اس کا کفر ثابت کرتے ہوئے کلمہ کفر کو گواہ بنا رہے ہو اور اس سے توبہ اور اس کے لوازمات کا تقاضا سے خاموشی کیوں اختیار کرتے ہو؟
جواب۔ اگرچہ ہم اس پر کفر کی وجہ سے حکم قتل جاری کرتے ہیں مگر ہم اسے کافر قرار نہیں دیتے کیونکہ وہ توحید ونبوت کا اقرار کرتے ہوئے اپنے اوپر ثابت کا انکار کرتا ہے یا کہتا ہے کہ یہ مجھ سے یہ گناہ ہو گیا اور اس پر نادم اور شرمندہ ہے تو بعض احکام کفر کا بعض اقرار پر اثبات ممنوع نہیں ہوتا اگرچہ اس کے خصائص کا ثبوت نہ ہو مثلاً قتل تارک نماز اور اگر کسی نے نبی ﷺ کو حلال جانتے ہوئے سب کیا تو اس کے کفر میں کوئی شک نہیں، گالی کی طرح آپ ﷺ کو جھوٹا قرار دینا یا آپ کی تکفیر کرنا اور اس
اسلام اور احترام نبوت ﷺ میں شبہ ہی نہیں، اسے قتل کیا جائے گا اگر کریں گے اور اس کے کلمہ کفر کی وجہ سے بعد کا معاملہ اللہ تعالیٰ کے سپرد جو دلوں سے
اسی طرح اس کا معاملہ ہے جو شدہ امر کا اعتراف کرتے ہوئے اس پر ﷺ کی حرمت کی ھتک کی وجہ سے کا تفصیلات پر علماء کے کلام کو محمول کیا جائے
قاضی عیاض کی گفتگو میں واض قبول نہیں اور اگر اسے ارتداد کہا جائے تو اس بنا کی ضرورت ہی نہیں صواب یہی اختلاف بیان کردیں
قاضی عیاض نے ابتدائیہ گفتگ منقصت کا پہلو نکلتا ہو، مثلاً کوئی شخص حض جو عیب جوئی کے لئے استعمال ہوتے ، مبارک دین، اسوہ یا خصائل میں سے قسم کی تعریض کرے یا اسی قسم کے اور و شان ہو یا اس میں کمی وعیب ہو تو ایسے کہنے والے کا وہی حکم ہے جو اہانت نبی کا
یہاں یہ امر قابل لحاظ و تو نہیں لہذا ایسے کلمات کہنے والوں میں
ن يصبح عشراً، و حين يمسي عشراً، القيامة ) [حدیث: 484] لحديث [6233]
کہ پڑھیں تو یہ فوائد وثمرات ملیں گے نہ پڑھیں تو ہماری مرضی بلکہ یہ معاملہ ی پیغمبر ہے۔ یہ صرف حب مصطفیٰ ﷺ کا تقاضا ہی نہیں بلکہ نبی اکرم ﷺ کا حق بھی ہے اور یہ حق ادا نہ کرنے والوں کو سخت وعید بھی سنائی گئی ہے، جیسا کہ رجہ ذیل احادیث میں مروی ہے۔ فضل الصلوٰۃ علی النبی ﷺ [حدیث: 11] مشكاة مع تحقيق الألباني، رقم الحديث (925)
۱۰۶
ہیں کہ گستاخ کا قتل بطور حد ہے نہ کہ بطور کفر مثلاً امام ولید بن مسلم نے امام مالک اور ان خدا) اور اہل علم نے اسے قبول کیا انھوں نے ھوں نے یہ بھی کہا اس سے توبہ کا مطالبہ کیا اصلاح کر دی جائے اگر انکار کرے تو قتل تو والا ہوا لیکن وجہ اول مشہور اور اظہر ہے ہم مرتد نہیں مانتے وہ بطور حد قتل کا کہتے ہیں کیونکہ اب شہادت کے بعد وہ اپنے جرم ت کا اظہار کرتا ہے تو ہم شرعی حد کے طور پر ثابت ہو چکا ہے جو حق نبوی میں تحقیر ہے ہم اس کی میراث وغیرہ میں حکم زندیق انکار کیا یا توبہ کی لمہ کفر کو گواہ بنا رہے ہو اور اس سے توبہ ں اختیار کرتے ہو؟ د جاری کرتے ہیں مگر ہم اس کو قرار نہیں ئے اپنے اوپر ثابت کا انکار کرتا پایا کہتا دم اور شرمندہ ہے تو بعض احکام کفر کا ن کے خصائص کا ثبوت نہ ہو مثلاً قتل ھتے ہوئے سب کیا تو اس کے کفر میں نا قرار دینا یا آپ کی تکفیر کرنا اور اس
اسلام اور احترام نبوت ﷺ
میں شبہ ہی نہیں، اسے قتل کیا جائے گا اگر چہ وہ توبہ کر لے کیونکہ ہم اس کی توبہ قبول نہیں کریں گے اور اس کے کلمہ کفر کی وجہ سے بعد از توبہ بطور حد قتل جاری کریں گے، اس کے بعد کا معاملہ اللہ تعالیٰ کے سپرد جو دلوں سے آگاہ ہے کہ اس نے خالصاً توبہ کر لی ہے
اسی طرح اس کا معاملہ ہے جس نے توبہ کا اظہار نہیں کیا اور اپنے اوپر ثابت شدہ امر کا اعتراف کرتے ہوئے اس پر ڈٹا تو یہ اپنے قول اور اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کی حرمت کی ھتک کی وجہ سے کافر ہے تو اسے بالاتفاق قتل کیا جائے گا تو ان تفصیلات پر علماء کے کلام کو محمول کیا جائے گا
(الشفاء، ۲: ۲۵۸)
قاضی عیاض کی گفتگو میں واضح اشارہ ہے اگر اسے حد مانا جائے تو پھر توبہ قبول نہیں اور اگر اسے ارتداد کہا جائے تو پھر قبول ہے مگر ہم نے پیچھے بیان کیا ہے کہ اس بنا کی ضرورت ہی نہیں صواب یہی ہے کہ ہم نے بنا کا ذکر کیے بغیر حکم اور علماء کا اختلاف بیان کر دیں
قاضی عیاض نے ابتدا یہ گفتگو کی ہے، وہ کلمات جن سے حضور ﷺ کی منقصت کا پہلو نکلتا ہو، مثلاً کوئی شخص حضور ﷺ کو برملا گالی دے یا ایسے کلمات کہے جو عیب جوئی کے لئے استعمال ہوتے ہوں یا ان الفاظ سے آپ کی ذات اقدس ، مبارک دین، اسوہ یا خصائل میں سے کسی خصلت کو زک پہنچتی ہو، یا ذات نبوی پر کسی قسم کی تعریض کرے یا اسی قسم کے اور دوسرے الفاظ استعمال کرے جن میں تحقیر و تصغیر شان ہو یا اس میں کمی وعیب ہو تو ایسے تمام الفاظ سب وشتم شمار ہونگے اور ایسے الفاظ کہنے والے کا وہی حکم ہے جو اہانت نبی کرنے والے کا ہے یعنی واجب القتل ہے
یہاں یہ امر قابل لحاظ وتوجہ ہے کہ ایسا کوئی شخص کسی رعایت کا مستحق نہیں لہذا ایسے کلمات کہنے والوں میں سے نہ تو کوئی استثناء گوارا کیا جائے گا اور نہ کسی
اسلام اور احترام نبوت ﷺ
قسم کا شک و شبہ روا رکھا جائے گا خواہ وہ الفاظ صراحۃً ہو یا اشارۃً ایسا ہی طرز عمل اس شخص کے ساتھ روا رکھا جائے گا جو حضور علیہ السلام کی ذات اقدس پر لعنت کے الفاظ استعمال کرے یا حضور کے خلاف بدعا کرے یا ایسے کلمات آپ سے منسوب کرے جو آپ کے شایان شان نہیں یا آپ کے نقصان کا خواہاں ہو یا آپ کی طرف جھوٹ، ہذیان اور غلط قول کی نسبت کرے یا ذات اقدس پر گزرنے والے مصائب کا تذکرہ کر کے شرم دلانے کی کوشش کرے یا وہ عوارض بشری جن کا صدور ذات نبوی کے لئے جائز و معہود ہو ان کی وجہ سے حضور علیہ السلام کی ذات کو حقیر جانے، یہ امور اہانت و منقصت کے قبیل سے شمار کئے جائیں گے اس پر دور صحابہ سے لیکر آج تک تمام علماء اور آئمہ فتویٰ کا اجماع ہے
امام ابو بکر منذر فرماتے ہیں کہ تمام اہل علم مثلاً امام مالک، امام احمد، لیث اور اسحاق کا اس بات پر اجماع ہے کہ جو شخص نبی کریم ﷺ کو گالی دے وہ واجب القتل ہے، امام شافعی کا یہی مذہب ہے
قاضی عیاض کہتے ہیں حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے قول کا مقتضی بھی یہی ہے ان علماء کے نزدیک ایسے شخص کی توبہ بھی قبول نہ کی جائے گی یہی مسلک امام اعظم اور ان کے رفقاء، امام ثوری، اہل کوفہ اور اوزاعی کا بھی مسلم ان میں ہے البتہ وہ اسے ارتداد مانتے ہیں
ولید بن مسلم نے اسی کی مثل امام مالک کا قول بھی نقل کیا ہے
ہم نے قاضی کی تمام عبارت یہ دکھانے کے لئے نقل کی ہے کہ انھوں نے فتویٰ قتل میں امام شافعی کو امام مالک کے موافق قرار دیتے ہوئے کہا ان کے ہاں توبہ قبول نہیں تو گویا مطلب یہ ٹھرا کہ امام شافعی توبہ مقبول نہیں مانتے حالانکہ اصحاب
اسلام اور احترام نبوت ﷺ
شوافع میں سے امام شافعی سے نقل کرنے والوں نے کہیں بھی علی الاطلاق یہ تصریح نہیں کی سوائے اس کے جو ابھی ہم ذکر کر رہے ہیں وہ یہ ہے کہ امام الحرمین نے امام ابو بکر فارسی سے نقل کیا انھوں نے کتاب الجزیہ میں احکام ذمی بیان کرنے کے بعد کہا ہم کتاب ایک فصل پر ختم کر رہے ہیں جس کا تعلق مسلمانوں سے ہے آئمہ نے فرمایا جس نے اللہ تعالیٰ کا ذکر بطریق بد کیا وہ بالاجماع کافر اور اس کا یہ عمل ارتداد ہوگا اگر توبہ کر لے تو اس کی توبہ مقبول ہوگی اگر اس نے نبی کی گستاخی کی جو سراسر واضح تہمت تھی تو وہ بھی بالاتفاق کافر ہوگا
شیخ ابو بکر فارسی نے کتاب الاجماع میں لکھا کہ اگر وہ توبہ کرے تو اس سے قتل ساقط نہ ہوگا کیونکہ ایسے گستاخ کی سزا بطور حد قتل ہے تو جیسے توبہ سے حد قذف ساقط نہیں ہوتی اسی طرح توبہ سے گستاخ کا لازمی قتل بھی ساقط نہیں ہوگا اور اس پر انھوں نے اجماع کا دعویٰ کیا ہے اور شیخ ابو بکر قفال (م، ۴۶۵) نے ان سے موافقت کی ،
استاذ ابو اسحاق (م، ۴۱۸) نے فرمایا گستاخی سے وہ کافر ہو گیا اور مرتد کی طرح اس کا کام تلوار کرے گی اگر وہ توبہ کرلے تو قتل ساقط ہو جائے گا
شیخ ابو بکر صیدلانی نے لکھا جب کسی نے نبی کی گستاخی کی تو اب ارتداد کی وجہ سے قتل لازم ہوگا نہ کہ گستاخی کی وجہ سے، اگر وہ توبہ کرلیتا ہے تو ارتداد کی وجہ سے لازم ہونے والا قتل ساقط ہاں اسے اسی کوڑے لگائیں گے
دو مسلک
اس کے بعد امام الحرمین کہتے ہیں ہمارے سامنے دو مسلک آئے ہیں
- ا۔ امام فارسی کا قول جو نہایت خوبصورت ہے مگر اس میں ابہام ہے کیونکہ انھوں نے
اسلام اور احترام نبوت ﷺ
مطلقاً کہہ دیا ہے کہ گستاخ کی حد قتل ہے اور یہ محل نظر ہے کیونکہ حدود کا تعین رائے سے نہیں ہوا کرتا اور احادیث میں ہے جس نے نبی کی گستاخی کی اسے قتل کیا جائے لیکن باوجود اس کے اسے حد قذف نہیں کہا جاسکتا ہاں یہ قتل گستاخی پر ہے جو ارتداد کہلاتی ہے اور اس کا تعلق تعظیم رسول اللہ ﷺ سے ہے اور آدمی سے متعلق حق میں توبہ درست نہیں، امام فارسی کی بھی یہی مراد ہے
- ۲۔ گستاخی، ردت ہے اور اس کی توبہ، ردت پر توبہ کی طرح ہے شیخ صیدلانی نے
جو اسی کوڑے کی بقا کی بات کی ہے وہ فقہی جزئی کی وجہ سے ہے اور اس پر دلیل یہ ہے اگر توبہ نہ کرے تو کوڑے اور قتل دونوں لازم ہونگے اب اگر کوئی رسول اللہ ﷺ پر تعریض کرتا ہے اور قذف صریح نہ ہو لیکن ایسی تعریض ہو کہ جس پر تعزیر ہو ہماری رائے میں وہ صریح گستاخی ہے کیونکہ کسی رسول کو حقیر جاننا کفر ہے یہ امام کی گفتگو تھی
انھوں نے یہ گفتگو بھی کی کہ اگر نبی کے چچا زاد معاف کر دیں تو کیا سزا ساقط ہو جائے گی؟ فرمایا اس کی کوئی حیثیت نہیں کیونکہ انبیاء کی وراثت علم ہے، اس طرح یہ سزا بعض کے مطالبہ پر بھی موقوف ہے یہ کلام فارسی نے کیا اور امام نے اسے احسن کہا کہ توبہ سے سزا ساقط نہیں ہوتی اور اس پر اجماع منقول ہے اس پر شہادت قاضی عیاض کے کلام سے بھی ہے کیونکہ انھوں نے بھی امام شافعی کو توبہ قبول نہ کرنے والوں میں شامل کیا ہے
امام غزالی کا ’الخلاصہ میں‘ قول کا خلاصہ بھی اسی کے قریب ہے کہ اہل ذمہ سے جب ایسی چیز صادر ہو تو توبہ قبول نہ کرنا ہی مذہب ہے، یہ اس وقت ہے جب اسے علی الاطلاق لیا جائے لیکن اقرب یہی ہے کہ
اسلام اور احترام نبوت ﷺ
یہاں توبہ سے ان کی مراد اسلام کے علاوہ ہے
امام شافعی کا مشہور مذہب
لیکن لوگوں اور حکام ( جس پر فیصلہ کرتے آرہے ہیں ) کے ہاں امام شافعی کا مذہب قبول توبہ ہے
امام رافعی (م۶۲۳) فرماتے ہیں اگر کسی آدمی نے اللہ تعالیٰ کی گستاخی کی تو وہ مرتد ہوگا اور اسے اسلام کی دعوت دی جائے گی ، اسی طرح کسی نے رسول اللہ کی تکذیب کی تو اس کا بھی یہی حکم ہے اگر رجوع کر کے توبہ کر لیتا ہے تو اس کی توبہ قبول ہے جس نے کسی نبی پر تہمت باندھی اور واضح طور پر ان کی طرف زنا کی نسبت کی تو وہ بالاتفاق کافر ہے اب اگر اسلام کی طرف آتا ہے تو اس میں تین وجوہ ہیں
- ۱۔ اس پر کچھ لازم نہیں کیونکہ وہ گستاخی کی وجہ سے مرتد ہوا تھا لیکن وہ اسلام کی طرف
لوٹ آیا ہے نظم الوجیز میں اسی کی ترجیح ہے اور استاذ ابو اسحاق نے اسی موقف کو اپنایا ہے
- ۲۔ اسے بطور حد قتل کیا جائے گا کیونکہ ہر نبی پر تہمت کی حد قتل ہے اور حد قذف توبہ سے
ساقط نہیں ہوتی
- ۳۔ شیخ صیدلانی کہتے ہیں اسے اسی کوڑے مارے جائیں کیونکہ نبی کی گستاخی کفر ہے
جو موجب قتل ہے اگر وہ اسلام کی طرف آ جاتا ہے تو ارتداد کی وجہ سے لازم قتل ساقط مگر حد قذف باقی رہے گی جس طرح کوئی آدمی کسی انسان پر تہمت بھی لگائے اور مرتد ہو جائے اور پھر مسلمان ہو جائے تو اس کی یہی صورت ہے
( فتح القدیر شرح الوجیز ، ۱۱، ۵۵۰)
امام رافعی کا ابتدائی کلام ، تکذیب کرنے والے کی قبولیت توبہ پر جازم ہے مگر اس کا آخر توبہ قذف میں شدید متردد ہے کیونکہ انھوں نے ترجیح قبولیت توبہ کو نظم وجیز کا تقاضا
۱۱۲ اسلام اور احترام نبوت ﷺ
قرار دیا ہے لیکن احتمال ہے یہ تردد قذف کے ساتھ خاص ہو کیونکہ غیر نبی میں حد قذف تو بہ سے ساقط نہیں ہوتی اور اس میں حاکم کو اختیار نہیں بلکہ وہ طلب مقذوف کی طرف محتاج ہوتا ہے اور اسے اس کے ورثا کی طرف منتقل کر دے ان تمام میں کوئی اختلاف نہیں سوائے قذف کے، غیر نبی کو سب وشتم موجب تعزیر ہوتا ہے اختلاف ہے کہ اس میں امام کو اختیار ہے یا نہ،
ہمارے علم میں حد، تعزیر سے اقویٰ ہے اور موجب حد موجب تعزیر سے اقویٰ ہوتا ہے اور یہ دونوں حقِ نبی میں موجب تکفیر ہیں تو بہ اور اسلام سے پہلے دونوں مساوی ہیں لیکن ان دونوں کے اختلاف کا اثر ظاہر ہو سکتا ہے، اول کا حکم یہ ہے کہ وہ بقیہ حدود کی طرح ساقط نہ ہوگی ہماری مراد حد قذف ہے جو غیر نبی میں مقذوف یا اس کے وارث کی معافی کے بغیر ساقط نہیں ہوتی اور یہاں وہ صورت (عفو ) متعذر ہے اور حد یہاں قتل ہے اس لئے کہ ایک وجہ سے توبہ مقبول نہیں اور ایک وجہ پر قتل کی نسبت مقبول ہے
لیکن حد قذف رہے گی اور دوسرے کا حکم سقوط ہے یہ کہنا بھی ممکن ہے کہ دونوں اسلام سے ساقط ہو جائیں گے کیونکہ ہم امت پر آپ ﷺ کی شفقت ،، رحمت رأفت اور لوگوں کی ہدایت کی طرف رغبت کو بلا شبہ جانتے ہیں اگر آپ ﷺ اس دنیا میں تشریف فرما ہوتے تو ان کے اسلام قبول کر کے انھیں معاف فرما دیتے اور یہ آپ کو راضی کر لیتے آپ ﷺ سے یہ کہیں ثابت نہیں کہ شہادت توحید و رسالت کے بعد زنا اور قصاص کے علاوہ کسی کے قتل کا حکم دیا ہو تو اب یہاں دو مسائل ہیں
- ا۔ گستاخی بغیر قذف ، اسلام لانے سے اس کے سقوط پر شوافع کا کوئی اختلاف نہیں
- ۲۔ گستاخی مع قذف، یہ محل اختلاف ہے اس میں بھی سقوط راجح ہے کلام رافعی کا تقاضا
یہی تھا یوں بھی کہا جا سکتا ہے کہ تیسری صورت (اسی کوڑے مارے جائے ) بلا اشکال
اسلام اور احترام نبوت ﷺ ۱۱۳
غیر قذف میں جاری نہیں ہو سکتی لیکن اس کا بدل تعزیر ہو سکتی ہے کیونکہ قتل، حق رسالت ہے جس کا تعلق ربوبیت سے ہے اور یہ اسلام لانے سے ساقط ہو جاتا ہے حد اور تعزیر دونوں حق بشریت ہیں لیکن اس کا رد یوں کیا جا سکتا ہے کہ یہاں بشر خاص ہے جس کی خاطر حد اور تعزیر قتل ہے آخری دونوں صورتیں مسترد ہیں خواہ گستاخی قذف ہے یا غیر قذف سقوط کی دلیل ردت اور عدم سقوط کی دلیل حق آدمی ہے کیا تم نے کلام امام پر توجہ نہیں کی انھوں نے ایک جگہ گستاخی اور دوسری جگہ قذف کا لفظ اختیار کیا لیکن حکم واحد رکھا۔ حضور ﷺ کی قدر و منزلت کی وجہ سے حکم و علت میں فرق نہیں کیا، اور آدمی کا حق توبہ سے ساقط نہیں ہوتا
اسی وجہ سے کلام فارسی کے ناقلین کی عبارات مختلف ہیں تو امام نے لفظ قذف ذکر کیا اور عدم قبولیت کی تصریح کی، قاضی حسین نے لفظ سبّ ذکر کیا ان کے کلام کا تقاضا قبول توبہ ہے تو ناقلین عبارات فارسی میں اختلاف ہے ذمی پر کلام میں ہم انھیں جمع کر دیں گے اس علت سے متعلقہ حصہ یہاں ذکر کر دیا ہے
خلاصہ یہ ہوا کہ قاذف کی توبہ کی قبولیت میں قوی اختلاف ہے اور قتل پر نقلی قوی دلیل نہیں البتہ دلیل کا تقاضا وہی ہے جس کا ذکر ہوا اور انشاء اللہ ذکر بھی کریں گے اور گستاخ غیر قاذف کی قبولیت توبہ قاذف سے بطریق اولیٰ قبول ہوگی
شوافع سے منقول عبارات کا خلاصہ یہ ہے کہ اگر وہ اسلام نہیں لاتا تو یقیناً قتل کیا جائے گا اگر اسلام لے آئے تو اگر گستاخی قذف ہے تو تین صورتیں ہیں یا قتل کیا جائے یا کوڑے یا کوئی شے نہیں، اگر گستاخی غیر قذف ہے تو ہمارے مطالعہ میں شوافع سے قبول توبہ کے علاوہ کوئی تصریح نہیں تو یہاں دو وجوہ سامنے آئیں قتل ۲۔ تعزیر، لیکن
ن یصبح عشراً، و حین یمسی عشراً، القیامۃ ) ث [484] حدیث [6233]
کہ پڑھیں تو یہ فوائد و ثمرات ملیں گے نہ پڑھیں تو ہماری مرضی بلکہ یہ معاملہ ی ضمیر پر ہے۔ یہ صرف حب مصطفیٰ ﷺ کا تقاضا ہی نہیں بلکہ نبی اکرم ﷺ ق بھی ہے اور یہ حق ادا نہ کرنے والوں کو سخت وعید بھی سنائی گئی ہے، جیسا کہ جہ ذیل احادیث میں مروی ہے۔ فضل الصلوٰۃ علی النبی ﷺ [حدیث: 11] مشکاۃ مع تحقیق الألبانی، رقم الحدیث (925)
اسلام اور احترام نبوت ﷺ
شوافع میں سے کسی نے ان دونوں کی تصریح نہیں کی اور کبھی ان میں یوں تفریق کی جاتی ہے تعزیر حد میں داخل ہے جیسے مقدمات زنا، زنا میں، ایک حد دوسری حد میں داخل نہیں ہوتی اس لئے حد قذف، قتل میں داخل نہیں ہمارے مطالعہ میں نقل و بحث کے اعتبار سے یہی کچھ آیا ہے
مذہب شافعی میں اس قول خطابی کے علاوہ ہم نے کچھ نہیں پایا، وہ معالم السنن میں لکھتے ہیں اگر گستاخ ذمی ہو تو امام مالک فرماتے ہیں یہود و نصاریٰ سے گستاخ کو قتل کیا جائے گا ماسوائے اس کے کہ وہ اسلام لے آئے، امام احمد کا قول بھی یہی ہے امام شافعی فرماتے ہیں گستاخ ذمی کو قتل کیا جائے اور اس سے ذمہ ختم اور اس پر انھوں نے کعب بن اشرف والے واقعہ سے استدلال کیا ہے
امام ابو حنیفہ سے منقول ہے کہ ذمی گستاخ کو قتل نہ کیا جائے، امام خطابی کی گفتگو بتا رہی ہے امام شافعی کہتے ہیں گستاخ کو قتل کیا جائے اگرچہ وہ اسلام لے آئے جب ذمی میں یہ صورت حال ہے تو مرتد میں بطریق اولیٰ ہوگی البتہ کلام خطابی کو اس پر محمول کیا جائے انھوں نے الفاظ شافعی کے نقل کا ارادہ کیا اور وہ بعد از اسلام کے حکم سے ساکت و خاموش ہیں شوافع سے تو ہمیں یہی ملا ہے
احناف قبول توبہ میں ان کے قریب ہیں قبول توبہ کے علاوہ احناف سے کچھ منقول نہیں، ان دونوں سے مستقلاً مسئلہ سب پر نہیں البتہ نقض عہد ذمی کے ضمن میں لکھا ہے شاید وجہ یہ ہو کہ مسلمان گستاخی کر ہی نہیں سکتا ہم نے کسی شافعی کی تصریح نہیں دیکھی کہ گستاخ کی ہر حال میں توبہ مقبول نہیں کیونکہ امام الحرمین نے امام فارسی سے جو تصریح نقل کی تھی کہ توبہ مقبول نہیں وہ قذف کے بارے میں ہے اگرچہ کلام میں عموم
اسلام اور احترام نبوت ﷺ کا پہلو سمجھ آتا ہے اور امام کے علاوہ اکتفا کیا اور پیچھے آ چکا ہے کہ بطور حد قتل حنابلہ، مالکیہ کے قریب ہیں امام احمد پر بھی ان سے روایت ہے تو اب ان کا تفصیل یہی ہے
يُصْبِحُ عَشْرًا، وَ حِيْنَ يُمْسِي عَشْرًا، الْقِيَامَةِ )
ديث: 484]
ديث 6233]
نہ پڑھیں تو ہماری مرضی بلکہ یہ معاملہ کی تحقیر ہے۔ یہ صرف حب مصطفی ﷺ کا تقاضا ہی نہیں بلکہ نبی اکرم ﷺ بھی ہے اور یہ حق ادا نہ کرنے والوں کو سخت وعید بھی سنائی گئی ہے، جیسا کہ درج ذیل احادیث میں مروی ہے۔
فضل الصلوۃ علی النبی ﷺ [حدیث: 11]
مشکاۃ مع تحقیق الألبانی، رقم الحدیث (925)
۱۱۴ کی اور کبھی ان میں یوں تفریق کی حد زنا میں، ایک حد دوسری حد میں نہیں ہمارے مطالعہ میں نقل وبحث
علاوہ ہم نے کچھ نہیں پایا، وہ معالم تک فرماتے ہیں یہود ونصاریٰ سے اسلام لے آئے، فرماتے ہیں گستاخ ذمی کو قتل کیا کعب بن اشرف والے واقعہ سے
گستاخ کو قتل نہ کیا جائے، امام خطابی کی کیا جائے اگرچہ وہ اسلام لے آئے کی اولیٰ ہوگی البتہ کلام خطابی کو اس ارادہ کیا اور وہ بعد از اسلام کے حکم ہے
قبول توبہ کے علاوہ احناف سے کچھ البتہ نقض عہد ذمی کے ضمن میں تاہم نے کسی شافعی کی تصریح نہیں کہ امام الحرمین نے امام فارسی سے اس بارے میں ہے اگرچہ کلام میں عموم
اسلام اور احترام نبوت ﷺ ۱۱۵ کا پہلو سمجھ آتا ہے اور امام سبکیؒ کے علاوہ نے اسے گستاخی میں نقل کیا اور اسے بطور حد قتل پر اکتفا کیا اور پیچھے آچکا ہے کہ بطور حد قتل، قبول توبہ کے منافی نہیں، حنابلہ، مالکیہ کے قریب ہیں امام احمد سے مشہور یہی ہے کہ توبہ مقبول نہیں، قبولیت توبہ پر بھی ان سے روایت ہے تو اب ان کا مذہب مالکیہ والا ہے اس بارے میں مذاہب کی تفصیل یہی ہے
ن يصبح عشراً، و حين يمسي عشراً، القيامة ) حديث [484] الحديث [6233]
کہ پڑھیں تو یہ فوائد و ثمرات ملیں گے نہ پڑھیں تو ہماری مرضی بلکہ یہ معاملہ بڑی گھمبیر ہے۔ یہ صرف حب مصطفیٰ ﷺ کا تقاضا ہی نہیں بلکہ نبی اکرم ﷺ حق بھی ہے اور یہ حق ادا نہ کرنے والوں کو سخت وعید بھی سنائی گئی ہے، جیسا کہ مندرجه ذیل احادیث میں مروی ہے۔
فضل الصلوٰة على النبي ﷺ [حدیث: 11] مشكاة مع تحقيق الألبانى، رقم الحديث (925)
اسلام اور احترام نبوت ﷺ
قبول توبہ پر دلائل
ہمارے قبول توبہ پر اہم دلائل یہ ہیں اللہ تعالیٰ کا ارشاد گرامی ہے
- ا- قل للذين كفروا ان ينتهوا يغفر تم کافروں سے فرماؤ اگر وہ باز رہے تو
لهم ماقد سلف (الانفال،۳۸) جو ہو گزرا وہ انھیں معاف کر دیا جائے گا
- ۲- ياعبادى الذين اسرفوا على تم فرماؤ اے میرے وہ بندوں جنھوں
انفسهم لاتقنطوا من رحمة الله نے اپنی جانوں پر زیادتی کی اللہ کی ان الله يغفر الذنوب جميعاً انه رحمت سے ناامید نہ ہوں بے شک اللہ هو الغفور الرحيم سب گناہ بخش دیتا ہے اور بے شک (الزمر،۵۳) وہی بخشنے والا مہربان ہے
- ۳- كيف يهدى الله قوماً کیوں کر اللہ ایسی قوم کی ہدایت
كفروا بعد ايمانهم وشهدوا کرے جو ایمان لا کر کافر ہوگئے اور ان الرسول حق وجاء هم گواہی دے چکے تھے کہ رسول سچا ہے البينت والله لايهدى القوم اور انھیں کھلی نشانیاں آ چکی تھیں اور اللہ الظلمين الا الذين تابوا من ظالموں کو ہدایت نہیں کرتا مگر بعد ذلک واصلحوا فان جنھوں نے اس کے بعد توبہ کی اور الله غفور رحيم اصلاح کر لی تو ضرور اللہ بخشنے والا (آل عمران،۸۹،۸۶) مہربان ہے
یہ تمام آیات قبول توبہ مرتد میں نص ہیں اور ان کے عموم میں گستاخ بھی داخل ہے
اسلام اور احترام نبوت ﷺ
احادیث مبارکہ
آپ ﷺ کا ارشاد گرامی ہے الاسلام یجب ماقبله تجب ماقبلها ہمارے علم میں یہ نہیں کہ آپ ﷺ کی اتباع ہم پر آپ ﷺ کا ارشاد حرام ہے شادی شدہ زانی و یہ حدیث منع قتل میں نہایت جائے گا، بعد از اسلام ان پر اس طرح گستاخ اجماع قتل اور اگر توبہ کرلے کا سقوط ہوجائے گا سوال، پیچھے ان دونوں توبہ سے ساقط نہیں ہوتا جواب، بالکل درست آپ ﷺ نے کبھی بھی کو پھلانگتا تو آپ ﷺ سے حرمات الہیہ کو توڑا تو اگر اسلام لے آیا اور توبہ
ن يصبح عشرا، و حين يمسي عشرا، القيامة )
یث [484]
حديث [6233]
کہ پڑھیں تو یہ فوائد و ثمرات ملیں گے نہ پڑھیں تو ہماری مرضی بلکہ یہ معاملہ ہی گھمبیر ہے۔ یہ صرف حب مصطفیٰ ﷺ کا تقاضا ہی نہیں بلکہ نبی اکرم ﷺ کا حق بھی ہے اور یہ حق ادا نہ کرنے والوں کو سخت وعید بھی سنائی گئی ہے، جیسا کہ درجہ ذیل احادیث میں مروی ہے۔
[فضل الصلوٰة علی النبی ﷺ حدیث: 11]
[مشكاة مع تحقيق الألباني، رقم الحديث (925)]
۱۱۶
کافروں سے فرماؤ اگر وہ باز رہے تو و گزرا وہ انھیں معاف کر دیا جائے گا
فرما دے میرے وہ بندوں جنھوں اپنی جانوں پر زیادتی کی اللہ کی ت سے نا امید نہ ہوں بے شک اللہ ے گناہ بخش دیتا ہے اور بے شک بخشنے والا مہربان ہے
ی کر اللہ ایسی قوم کی ہدایت ے جو ایمان لا کر کافر ہو گئے اور اہی دے چکے تھے کہ رسول سچا ہے میں کھلی نشانیاں آ چکی تھی اور اللہ لوگوں کو ہدایت نہیں کرتا مگر
ں نے اس کے بعد توبہ کی اور لح کر لی تو ضرور اللہ بخشنے والا ان ہے
اور ان کے عموم میں گستاخ
اسلام اور احترام نبوت ﷺ
احادیث مبارکہ
آپ ﷺ کا ارشاد گرامی ہے
تجب ماقبلها
اسلام پہلے گناہ مٹا دیتا ہے اسی طرح
توبہ بھی سابقہ گناہ مٹا دیتی ہے
ہمارے علم میں یہ نہیں کہ آپ ﷺ نے اسلام کے بعد کسی کو قتل کا حکم دیا ہو اور آپ ﷺ کی اتباع ہم پر لازم ہے
آپ ﷺ کا ارشاد گرامی ہے کسی مسلمان کا خون تین صورتوں کے علاوہ حرام ہے شادی شدہ زانی، قصاص اور دین کو ترک کر کے جماعت سے الگ ہونا، یہ حدیث منع قتل میں نہایت ہی اہم ہے اور لہٰذا اسلام لے آنے والے کو قتل نہیں کیا جائے گا، بعد از اسلام ان تینوں میں سے کوئی ایک بھی نہیں
اس طرح گستاخِ الٰہی پر قیاس کا تقاضا یہی ہے اگر وہ توبہ نہ کرے تو بالا جماع قتل اور اگر توبہ کرے تو مذہب امام مالک مشہور یہی ہے کہ اس کی توبہ مقبول اور قتل کا سقوط ہو جائے گا
(الذخیرہ ۱۹،۱۲)
سوال، پیچھے ان دونوں میں فرق گزرا تھا کہ گستاخ نبی حق آدمی ہے اور یہ توبہ سے ساقط نہیں ہوتا ؟
جواب، بالکل درست لیکن ہم نبی ﷺ کی شفقت رأفت و رحمت سے آگاہ ہیں آپ ﷺ نے کبھی بھی ذاتی معاملہ میں کسی سے انتقام نہیں لیا البتہ اگر کوئی حدود الٰہیہ کو پھلانگتا تو آپ ﷺ اللہ کی خاطر اسے سزا دیتے اس گستاخ نے انبیاء کی گستاخی سے حرمات الٰہیہ کو توڑا تو اس کا قتل ضروری ہے جب تک یہ گستاخی کے کفر پر قائم رہے ، اگر اسلام لے آیا اور توبہ کر لی تو حق الٰہی ساقط ہو جائے گا
مَنْ يُصْبِحُ عَشْرًا، وَ حِيْنَ يُمْسِي عَشْرًا، الْقِيَامَةِ ) یث [484] حدیث [6233]
کہ پڑھیں تو یہ فوائد و ثمرات ملیں گے نہ پڑھیں تو ہماری مرضی بلکہ یہ معاملہ ی محبت ہے۔ یہ صرف حب مصطفیٰ ﷺ کا تقاضا ہی نہیں بلکہ نبی اکرم ﷺ ق بھی ہے اور یہ حق ادا نہ کرنے والوں کو سخت وعید بھی سنائی گئی ہے، جیسا کہ رجہ ذیل احادیث میں مروی ہے۔ فضل الصلوٰة علی النبی ﷺ [حدیث: 11] مشکاة مع تحقیق الألبانی، رقم الحدیث (925)
اسلام اور احترام نبوت ﷺ ۱۱۸
جب ہم جانتے ہیں کہ آپ ﷺ امت پر اپنی رحمت و شفقت کی بنا پر کسی سے ذاتی سطح پر انتقام نہیں لیا تو آپ ﷺ کے وصال کے بعد آپ کے لئے انتقام کیسے لیا جاسکتا ہے؟ گویا حضور ﷺ نے اپنا حق، اللہ تعالیٰ کے حق کے تابع کر دیا جب متبوع ساقط ہے تو تابع از خود ساقط ہو جائے گا بلاشبہ رسول اللہ ﷺ کا مقصد کائنات کی ہدایت اور اللہ تعالیٰ کی حرمات کی تعظیم ہے
گستاخ کا قتل، بالا تفاق اللہ تعالیٰ کا یقینی وحتمی حکم نہیں بلکہ حضور ﷺ اسے معاف کر سکتے ہیں کیا تم نہیں جانتے آپ ﷺ نے سفیان بن حارث کو معاف کر دیا اور وہ بعد میں بڑے مسلمانوں میں سے ہیں، اور اسی طرح ابن ابی سرح اور ایک جماعت کو معاف کر دیا، کسی کو بعد از اسلام قتل نہیں کیا قتل گستاخ اگر حق الہی ہوتا تو اسے چھوڑا نہ جاتا
تو اس سے معلوم ہوا کفر پر باقی رہتے ہوئے اس کا قتل اللہ تعالیٰ کا حق ہے کیونکہ اس حال میں اس سے یہ ذاتی انتقام نہیں لیکن بعد از اسلام صورت حال بدل گئی اگر بعد از اسلام گستاخ کا قتل حق الہی ہی تھا تو حضور ﷺ نے ایسے لوگوں کو کیوں چھوڑ دیا؟
سوال۔ قبل از اسلام قتل گستاخ، اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کا حق ہے تو اسے چھوڑا نہیں جاسکتا بعد از اسلام حق اللہ تعالیٰ ساقط مگر حق نبی باقی ہے لہذا وہ قتل بھی کر سکتے ہیں اور معاف بھی، اس لئے ابن عم ابوسفیان اور ایک جماعت (جس میں ابن ابی سرح بھی ہے) کو معاف کر دیا حالانکہ آپ قتل بھی کروا سکتے تھے کیا آپ ﷺ کا اس موقعہ پر یہ جملہ موجود نہیں؟
اما کان فیکم رجل رشید کیا تم میں کوئی عقلمند آدمی نہ
اسلام اور احترام نبوت ﷺ
یقوم الیہ فیقتلہ؟
اور یہ بھی منقول ہے کہ ابن ابی مسلمان اور اپنے ارتداد سے رجو
جواب، اس سے پہلے اس کا نہیں اگرچہ بعض اہل سیر نے یہ یہی ہے کہ ایسا نہ تھا،
واقدی کے قول
انہ جاء تائباً
کا معنی یہ ہے کہ اس نے اپنے گنا نہیں بلکہ توحید و رسالت کا اقرا خون نبی ﷺ نے مباح قرار اور نہ ہی یہ منقول ہے کہ ان میں
سوال، کیا حضرت عثمان رضی کہہ دیتے تاکہ وہ محفوظ ہو جا
جواب، دو امور کی وجہ سے ای
- ا۔ بلاشبہ حضرت عثمان رضی ال
خوب جاننے والے تھے لیکن نہیں کرنا چاہتے تھے چونکہ اسے دفاعِ قتل کی تعلیم دینا بھی
- ۲۔ اس وقت اسلام لانا بظا
اسلام اور احترام نبوت ﷺ ۱۱۹
يقوم اليه فيقتله؟ تھا جو اسے قتل کر دیتا؟
اور یہ بھی منقول ہے کہ ابن ابی سرح حضور ﷺ کی مکہ تشریف آوری سے پہلے ہی مسلمان اور اپنے ارتداد سے رجوع کر چکا تھا؟
جواب، اس سے پہلے اس کا ارتداد سے رجوع کر کے مسلمان ہو جانا ثابت نہیں اگرچہ بعض اہل سیر نے یہ نقل بھی کیا ہے مگر اکثریت نے اسے ذکر نہیں کیا اقرب یہی ہے کہ ایسا نہ تھا،
واقدی کے قول
انه جاء تائباً وہ توبہ کر کے آیا
کا معنی یہ ہے کہ اس نے اپنے گناہ سے رجوع کر لیا لیکن اسلام لانے کے لئے یہ کافی نہیں بلکہ توحید و رسالت کا اقرار ضروری ہے اور بطریق صحیح کہیں یہ منقول نہیں کہ جن کا خون نبی ﷺ نے مباح قرار دیا تھا ان میں سے کوئی اس سے پہلے اسلام لے آیا ہو اور نہ ہی یہ منقول ہے کہ ان میں سے کسی اسلام لانے والے کو قتل کیا گیا ہو
سوال، کیا حضرت عثمان رضی اللہ عنہ یہ نہ جانتے تھے کہ وہ ابن ابی سرح کو کلمہ پڑھنے کا کہہ دیتے تاکہ وہ محفوظ ہو جائے اور حضور ﷺ کی طرف رجوع کی ضرورت نہ رہتی؟
جواب، دو امور کی وجہ سے ایسا ہوا
- ا۔ بلاشبہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ، اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کی طرف سے
خوب جاننے والے تھے لیکن وہ آپ ﷺ کے سے تقدم اور آپ کے بغیر کوئی فیصلہ نہیں کرنا چاہتے تھے چونکہ حضور ﷺ نے ابن ابی سرح کے قتل کا ارادہ کیا تھا تو انکا اسے دفاع قتل کی تعلیم دینا نبی ﷺ سے دھوکہ قرار پاتا
- ۲۔ اس وقت اسلام لانا بطریق بیعت جاری تھا ممکن ہے یہ ابتدا اسلام میں، اسلام
اسلام اور احترام نبوت ﷺ
لانے کے لئے شرط ہو اسی لئے وہ اسے بیعت کے لئے لائے یہی وجہ ہے ابوسفیان بن حارث اور دیگر گستاخی کرنے والے مسلمان ہو کر آئے تو وہ خائف رہے یہاں تک کہ آپ ﷺ نے ان کے اسلام کو قبول کیا
یا تو یہ اس لئے تھا کہ اس وقت اسلام کے لئے بیعت شرط تھی یا لان بها يعلم ان النبی ﷺ بیعت کے ذریعے معلوم ہو جاتا کیونکہ علم صحة الاسلام وليس حضور ﷺ جان لیا کرتے کہ اس کا اسلام بنفاق درست ہے اور اس کے دل میں نفاق نہیں یا مقصد یہ تھا کہ اللہ تعالیٰ کے ہاں قبول ہو جائے جیسا کہ حضرت کعب اور ان کے ساتھیوں کا معاملہ ہے وہ نادم اور تائب تھے اس کے باوجود انکی قبولیت پچاس دنوں کے بعد نازل ہوئی
یہ بات ہم نے ابوسفیان بن حارث جیسے لوگوں کے حوالہ سے لکھی ہے رہا ابن ابی سرح تو اس کا معاملہ یہ نہیں بلکہ اس کا اسلام ظاہر و باطن میں درست نہ تھا حتی کے حضور ﷺ نے اسے بیعت کر لیا اور نہ ہی اس سے پہلے اس نے اقرار توحید ورسالت کیا ، البتہ بعض لوگوں نے نقل کیا ہے مگر ثابت نہیں
سوال ۔ اگر حکم یہی ہے کہ اسلام لانے سے قتل ساقط اور توبہ درست تو ابن ابی سرح اسی مقصد کے لئے آیا تھا حضور ﷺ نے اس سے اعراض کیوں فرمایا اور کیوں چاہا کہ بعض صحابہ محسوس کر کے اسے قتل کر دیں حالانکہ آپ ﷺ تمام مخلوق میں سب سے زیادہ شفیق ، اپنی ذات کے لئے انتقام نہ لینے والے فقط اللہ تعالیٰ کے لئے سزا دیتے ہیں؟
جواب ۔ ہاں بلا شبہ آپ ﷺ تمام مخلوق سے زیادہ شفیق ہیں ، صاحب رأفت ، نرم خو محبت والے ہیں ، آپ نے کبھی بھی ذاتی انتقام نہیں لیا فقط اللہ تعالیٰ کی
اسلام اور احترام نبوت ﷺ خاطر ایسا کرتے ، ابن ابی سرح سے اعراض بھی اللہ تعالیٰ کے حق کی خاطر ہی تھا کیونکہ اس نے اللہ تعالیٰ کے انبیاء ورسل کے حوالہ سے نہایت ہی بدتر کفر بکا تھا
مراتب کفر تین ہیں
کیونکہ مراتب کفر تین ہیں
- ۱۔ کفر اصلی ۔ اس پر آدمی پیدا ہوا اور اسی کو اپنا دین سمجھا۔
- ۲۔ اسلام لانے کے بعد کفر اختیار کرنا سب سے بدتر ہے اس لئے ایسے اسلام کے
علاوہ کچھ قبول نہیں ہوتا بخلاف اول کے وہاں جزیہ، غلام، احسان اور فدیہ ہوسکتا ہے
- ۳۔ گستاخی۔ تینوں میں یہ بدتر صورت کفر ہے کیونکہ اسے دین نہیں بنایا جاسکتا یہ اللہ
تعالیٰ کے انبیاء ورسل کی نہایت ہی تحقیر اور کمزور ایمان لوگوں کو شبہ میں ڈالنا ہے اسی لئے یہ جرائم میں بدتر جرم ہے اس پر توبہ پیش نہیں کی جاتی بخلاف دوسری قسم کے کیونکہ اس میں بعض اوقات شبہات بھی ہو سکتے ہیں تو انھیں دور کیا جائے گا لیکن گستاخی میں شبہ ہرگز نہیں ہو سکتا تو جب اس پر توبہ پیش کرنا نہ لازم اور نہ مستحب
لہذا اس سے اعراض منع نہیں تا کہ اسے قتل کر کے زمین پاک کر دی جائے اگر وہ اسلام لے آتا ہے تو اس نے اپنے آپ کو محفوظ کر لیا ، اعراض اور قبولیت توبہ کا سبب ہمیں یہی سمجھ آ رہا ہے اصلی کفار ان کے قریب ہیں موثر دعوت سے پہلے ان سے قتال نہیں کیا جا سکتا جب ان تک موثر دعوت وانذار پہنچ جائے تو پھر ان پر رات کو بھی اچانک حملہ کیا جا سکتا ہے کیونکہ ہر دفعہ دعوت اسلام ضروری نہیں کیونکہ وہ فریضہ ادا اور ان کا عذر زائل ہو گیا اب اگر وہ اسلام لے آتے تو وہ محفوظ ہو جاتے
ہم نے کہا مرتد ہو کر گستاخ نہ ہو وجہ یہ ہے غالباً ارتداد کسی شبہ کی بنا پر ہو سکتا ہے اور وہ توبہ سے زائل کیا جا سکتا ہے اسی لئے علماء کہ توبہ زندیق اور اسلام پر پیدا
ن یصبح عشراً، و حین یمسی عشراً، القيامة ) ث [484] لحديث [6233]
کہ پڑھیں تو یہ فوائد و ثمرات ملیں گے نہ پڑھیں تو ہماری مرضی بلکہ یہ معاملہ نی ضمیر ہے۔ یہ صرف حب مصطفی ﷺ کا تقاضا ہی نہیں بلکہ نبی اکرم ﷺ حق بھی ہے اور یہ حق ادا نہ کرنے والوں کو سخت وعید بھی سنائی گئی ہے، جیسا کہ جہ ذیل احادیث میں مروی ہے۔ فضل الصلوٰة علیٰ النبی ﷺ [حدیث: 11] مشكاة مع تحقيق الألباني، رقم الحديث (925)
اسلام اور احترام نبوت ﷺ ۱۲۲
ہونے والے کی توبہ میں تردد ہے کیا انھیں قتل کیا جائے یا نہ؟ کیونکہ ان دونوں کے لئے شبہ نہیں
(حاشیۃ نہایۃ المحتاج للرملی : ۴۳۴:۲)
سوال۔ حقوق آدمی، توبہ سے نہیں بلکہ صاحب حق کی معافی سے ساقط ہوتے ہیں؟
جواب۔ معاملہ یہی ہے لیکن جیسے سقوط کے لئے لفظ عفو کی رضا پر دلالت ہے اسی طرح جب ہم پر واضح ہے کہ کرم نبی ﷺ یہی ہے کہ وہ اپنے لئے کسی سے انتقام نہیں لیتے بلکہ وہ تو ہر آدمی کے لئے اپنے آپ سے بھی بڑھ کر رحم کرنے والے ہیں تو یہ آپ کی رضا پر دلیل ہے جو لفظ عفو کے قائم مقام ہے اور اسلام لے آنے سے رضا کا تحقق ہو گیا اب دونوں کا حق (قتل) ساقط ہو گیا، رہا قتل سے کم سزا کا باقی رہنا تو اس پر ہم انشاء اللہ تعالیٰ گفتگو کریں گے
سوال۔ منقول ہے کہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے حضور ﷺ سے عرض کیا تھا جیسے ہی آپ سے ملاقات ہوتی ہے یہ بھاگتا ہے فرمایا کیا میں نے بیعت اور امان نہیں دی ہے؟ عرض کیا ضرور لیکن اسے اپنا جرم عظیم یاد آتا ہے فرمایا اسلام پہلے تمام گناہ مٹا دیتا ہے
(المغازی: ۸۵۶:۲)
یہ واقعہ واضح بتا رہا ہے بیعت اور امان سے خوفِ قتل ختم اور اسلام سے گناہ زائل ہوتا ہے
جواب۔ بلکہ یہ تو واضح کر رہا ہے کہ گناہ اسلام سے زائل ہوا اور اس میں ابن ابی سرح کے وہم کا ازالہ تھا کہ اب بھی گناہ باقی ہے
سوال۔ اگر یہ صحیح ہو کہ ابن ابی سرح اس وقت سے پہلے مسلمان ہو گیا تھا تو کیا یہ عدم قبول توبہ اور قتل کے حتمی ہونے پر دلیل بنے گا؟
جواب۔ ان دو امور کی وجہ سے نہیں بنے گا
اسلام اور احترام نبوت ﷺ
- ا۔ پہلے ہم نے عرض کیا تھا ممکن ہے اس
قبول کرنا اور بیعت لینا شرط ہو اور بعد وقت وحی کا نزول ہو رہا ہے اور اللہ تعالیٰ آپ پر دوسرے آگاہ نہیں ہو سکتے
- ۲۔ پیچھے حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ سے رو
آپ کا اسے قتل کرنا جائز ہے اور یہ حکم اسی و مگر جب آپ ﷺ راضی ہو گئے تو غض لفظ سب پر موقوف ہے بلکہ وجود و عدم میں سرح جب آیا اس وقت آپ ﷺ کی نارا عنہ کی وجہ سے ناراضگی ختم ہوئی اسی طرح مباح قرار نہیں دیا تھا) اسلام لا کر حاضر سے راضی ہوئے
اور اس سے کوئی مانع نہیں کہ آپ سزا مرتب کردے، غضب و رضا دونوں ہیں اور حضور ﷺ کی سیرت مبارکہ اور ا راضی کرنے کی کوشش کی آپ راضی ہو گئے
آپ کے وصال کے بعد چند نبوی متحقق نہیں ہوتا لہذا اسے قتل کیسے
سوال، حدیث ہے من سب نبياً فاقتلوہ
ن يصبح عشراً، و حين يمسي عشراً، الْقِيَامَةِ ) ث [484] دیث [6233]
کہ پڑھیں تو یہ فوائد و ثمرات ملیں گے نہ پڑھیں تو ہماری مرضی بلکہ یہ معاملہ ی ضمیر پر ہے۔ یہ صرف حب مصطفیٰ ﷺ کا تقاضا ہی نہیں بلکہ نبی اکرم ﷺ ق بھی ہے اور یہ حق ادا نہ کرنے والوں کو سخت وعید بھی سنائی گئی ہے، جیسا کہ جہ ذیل احادیث میں مروی ہے۔ فضل الصلوة على النبي ﷺ [حدیث: 11] مشكاة مع تحقيق الألباني، رقم الحديث (925)
۱۲۲ لئے یا نہ؟ کیونکہ ان دونوں کے لئے
نهاية المحتاج للرملي، ۴۳۲:۲)
ں کے معافی سے ساقط ہوتے ہیں؟ تے لفظ عفو کی رضا پر دلالت ہے اسی ہے کہ وہ اپنے لئے کسی سے انتقام بھی بڑھ کر رحم کرنے والے ہیں تو ہے اور اسلام لے آنے سے رضا کا قاتل سے کم سزا کا باقی رہنا تو اس
اللہ عنہ نے حضور ﷺ سے عرض نے فرمایا کیا میں نے بیعت اور عظیم یاد آتا ہے فرمایا اسلام پہلے
(المغازی، ۸۵۶:۲)
ف قتل شتم اور اسلام سے گناہ
زائل ہوا اور اس میں ابن ابی سرح
پہلے مسلمان ہو گیا تھا تو کیا یہ عدم
اسلام اور احترام نبوت ﷺ
- ا۔ پہلے ہم نے عرض کیا تھا ممکن ہے اس وقت اسلام لانے کے لئے حضور ﷺ کا
قبول کرنا اور بیعت لینا شرط ہو اور بعد از نبی ﷺ ایسا نہ ہو اور فرق واضح ہے اس وقت وحی کا نزول ہو رہا ہے اور اللہ تعالیٰ آپ ﷺ کو ان باتوں سے آگاہ فرماتا جس پر دوسرے آگاہ نہیں ہو سکتے
- ۲۔ پیچھے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ سے روایت گزری جو حضور ﷺ کو پریشان کرے
آپ کا اسے قتل کرنا جائز ہے اور یہ حکم اسی وقت تک رہے گا جب تک ناراضگی موجود ہو مگر جب آپ ﷺ راضی ہو گئے تو غضب زائل ہو گیا اور رضا لفظ عفو پر اور نہ ہی قتل لفظ سب پر موقوف ہے بلکہ وجود و عدم میں یہ غضب و ناراضگی پر موقوف ہے، ابن ابی سرح جب آیا اس وقت آپ ﷺ کی ناراضگی زائل نہیں ہوئی تھی، حتیٰ عثمان رضی اللہ عنہ کی وجہ سے ناراضگی ختم ہوئی اسی طرح ابوسفیان بن حارث (اگرچہ ان کا خون مباح قرار نہیں دیا تھا) اسلام لا کر حاضر ہوئے ایک مدت کے بعد آپ ﷺ ان سے راضی ہوئے
اور اس سے کوئی مانع نہیں کہ اپنے رسول کی ناراضگی پر اللہ تعالیٰ قتل وغیرہ کی سزا مرتب کر دے، غضب و رضا دونوں باطنی امور ہیں ان سے خود ہی آگاہ ہو سکتے ہیں اور حضور ﷺ کی سیرت مبارکہ اور اخلاق کریمہ سے یہی آشکار ہے جب بھی کسی نے راضی کرنے کی کوشش کی آپ راضی ہو گئے
آپ کے وصال کے بعد جب گستاخ نے اسلام قبول کر لیا تو اس پر غضب نبوی متحقق نہیں ہوتا لہذا اسے قتل کیسے کیا جائے گا؟
سوال، حدیث ہے
جس نے کسی نبی کی گستاخی کی اسے قتل کرو
ن یصبح عشراً، و حین یمسی عشراً، القیامۃ ) یث [484] حدیث [6233]
کہ پڑھیں تو یہ فوائد و ثمرات ملیں گے نہ پڑھیں تو ہماری مرضی بلکہ یہ معاملہ کی تحقیر ہے۔ یہ صرف حب مصطفیٰ ﷺ کا تقاضا ہی نہیں بلکہ نبی اکرم ﷺ کا حق بھی ہے اور یہ حق ادا نہ کرنے والوں کو سخت وعید بھی سنائی گئی ہے، جیسا کہ درج ذیل احادیث میں مروی ہے۔ فضل الصلوۃ علی النبی ﷺ [حدیث: 11] مشکاۃ مع تحقیق الألبانی، رقم الحدیث (925)
اسلام اور احترام نبوت ﷺ ۱۲۴ اور یہ اس مسئلہ میں کافی ہے جواب۔ اگر یہ روایت صحیح ہے تو یہ اس روایت کی مثل ہے من بدل دینہ فاقتلوہ جس نے اپنا دین بدلہ اسے قتل کر دو اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ مرتد کی توبہ قبول نہ کی جائے تو اسی طرح معاملہ زیر بحث مسئلہ کا ہے، حارث بن سوید مرتد ہوا پھر اس نے توبہ کر لی آپ ﷺ نے اس کی توبہ قبول فرمالی اور اسی کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی کیف یھدی اللّٰہ قوماً کفروا کیوں کر اللہ ایسی قوم کی ہدایت بعد ایمانھم وشھدوا ان چاہے جو ایمان لا کر کافر ہو گئے اور الرسول حق وجاء ھم البینت گواہی دے چکے تھے کہ رسول سچا واللّٰہ لایھدی القوم الظلمین ہے اور انھیں کھلی نشانیاں آچکی تھی (ال عمران، ۸۶) اور اللہ ظالموں کو ہدایت نہیں کرتا سوال۔ اس کے علاوہ بھی کوئی دلیل ہے؟ جواب۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے یحلفون باللّٰہ ما قالوا ولقد قالوا اللہ کی قسم کھاتے ہیں کہ انھوں نے نہ کہا اور کلمۃ الکفر و کفروا بعد بے شک ضرور انھوں نے کفر کی بات کہی اسلامھم وھموا بمالم ینالوا اور اسلام میں آکر کافر ہو گئے اور جو چاہا ومانقموا الا ان اغنھم اللّٰہ تھا انھیں نہ ملا اور انھیں کیا برا لگا یہی نہ کہ اللہ ورسولہ من فضلہ فان اور رسول نے انھیں اپنے فضل سے غنی کر دیا یتوبوا یک خیرالھم (التوبۃ ۷۴) تو اگر وہ توبہ کرتے تو ان کا بھلا ہے
اسلام اور احترام نبوت ﷺ یہ آیت مبارکہ منافق عبداللہ بن ابی بن کہا ہماری اور محمد ﷺ کی مثال اس کھائے اگر ہم مدینہ واپس لوٹے تو عز تبوک کا موقعہ تھا وہاں منافقین نے آ گستاخی کی، دین پر طعن کیا، اس کی تما درج ذیل آیت مبارکہ بتا رہی ہے کہ منا وان یتوبوا یک خیرالھم ان یتولوا یعذبھم اللّٰہ عذاباً الیماً فی الدنیا والاخرۃ (التوبۃ ۷۴) یہ اس پر دلیل ہے کہ ان کی توبہ مقبول گیا سوال۔ کیا گستاخ کی توبہ کا حکم، توبہ جواب۔ قاضی عیاض رحمہ اللہ تعالیٰ ان کا ماخذ مختلف ہے کیونکہ قتل گستا معاف کر دیا تو ساقط ہو جائے گا اور لیکن ہم ان دونوں احکام کا قرب سوال۔ کیا امام اور شیخ غزالی کے معاف کر سکتے ہیں جواب، حضرات انبیاء علیہم السلا
اسلام اور احترام نبوت ﷺ
یہ آیت مبارکہ منافق عبداللہ بن ابی بن سلول کے بارے میں نازل ہوئی تھی اس نے کہا ہماری اور محمد ﷺ کی مثال اس کہاوت کی طرح ہے اپنا کتا پالو وہ تمہیں ہی کھائے اگر ہم مدینہ واپس لوٹے تو عزت والے ذلیل کو وہاں سے نکال دیں گے یہ تبوک کا موقعہ تھا وہاں منافقین نے آپس میں رسول اللہ ﷺ اور آپ کے صحابہ کی گستاخی کی، دین پر طعن کیا، اس کی تمام رپورٹ رسول اللہ ﷺ کو پہنچی درج ذیل آیت مبارکہ بتا رہی ہے کہ منافقین نے گستاخی کی تھی تو ان کے بارے میں حکم ہوا
وان يتوبوا يك خيراً لهم ان اگر توبہ کر لیں تو ان کا بھلا اور يتولوا يعذبهم الله عذاباً اليماً اعراض کریں تو ان کے لئے دنیا في الدنيا والآخرة وآخرت میں عذاب الیم ہے
(التوبہ، ۷۴)
یہ اس پر دلیل ہے کہ ان کی توبہ مقبول ہے اور ان سے دنیا اور آخرت میں عذاب اٹھا لیا گیا
سوال۔ کیا گستاخ کی توبہ کا حکم، توبہ زندیق کی طرح ہے؟ جواب۔ قاضی عیاض رحمہ اللہ تعالیٰ کے الفاظ بتاتے ہیں کہ ان کا حکم برابر ہے البتہ ان کا ماخذ مختلف ہے کیونکہ قتل گستاخ کا ماخذ حق آدمی ہے حتیٰ کہ اگر بالفرض اس نے معاف کر دیا تو ساقط ہو جائے گا اور قتل زندیق کا ماخذ اس کا اسلام پر عدم وثوق ہے لیکن ہم ان دونوں احکام کا قرب بیان کریں گے
سوال۔ کیا امام اور شیخ غزالی کے اس قول میں وزن ہے کہ نبی کے بعض اقارب معاف کر سکتے ہیں جواب۔ حضرات انبیاء علیہم السلام درہم و دینار کے وارث نہیں بلکہ وہ علم کے وارث
ن يصبح عشرًا، وحين يمسي عشرًا، القيامة ) يث [484] لحديث [6233]
تاکہ پڑھیں تو یہ فوائد و ثمرات ملیں گے نہ پڑھیں تو ہماری مرضی بلکہ یہ معاملہ نبی ﷺ ہے۔ یہ صرف حب مصطفیٰ ﷺ کا تقاضا ہی نہیں بلکہ نبی اکرم ﷺ کا حق بھی ہے اور یہ حق ادا نہ کرنے والوں کو سخت وعید بھی سنائی گئی ہے، جیسا کہ مندرجہ ذیل احادیث میں مروی ہے۔ فضل الصلوۃ علی النبی ﷺ [حدیث: 11] مشکاة مع تحقیق الألباني، رقم الحدیث (925)
اسلام اور احترام نبوت ﷺ
بناتے ہیں تو واضح ہو گیا ان کی وراثت مال نہیں علم ہے ان کے علاوہ حقوق کے بارے میں ابتدا حدیث خاموش ہے اور آخر حدیث ان حقوق کی وراثت سے مانع ہے، عموماً حصر سے بھی یہی ظاہر ہے، جو امام نے کہا ان کے پیش نظر صدر حدیث ہے جب ہم نے یہ قول کیا تو نظر اقرب (رشتہ دار) کی طرف لازم ہے نہ کہ جمیع کی طرف اور اس کا مطالبہ حق پر موقوف ہونا لازم ہونا چاہیے ہم اس قول کا کسی سے گمان بھی نہیں کر سکتے صواب یہی ہے کہ ان میں وراثت نہیں اور اس حق مطالبہ میں تمام مسلمان آپ کے نائب ہیں رہا عفو تو ہم نے واضح کر دیا تھا کہ قتل اسلام سے ساقط ہو جائے گا اور اس سے پہلے کوئی اسے معاف کر ہی نہیں سکتا
سوال۔ جب گستاخی قذف ہو؟ جواب، مختار یہی ہے کہ اس کا حکم بھی غیر قذف والا ہی ہے اور دونوں کا تقاضا قتل ہے اس کے ساتھ ساتھ کوڑے نہیں جیسا کہ پیچھے دو قواعد آئے تھے اور ان میں مختار دوسرا ہے (اور وہ اصغر کا اکبر کے تحت آنا ہے) کیونکہ ہمارے نزدیک ایسے اندارج پر دلیل ہے اور اس پر دلیل قائم نہیں جو دو خصوصی اثرات میں سے اعظم کو لازم کرے وہ عمومی کم درجہ کو لازم نہیں کر سکتا
سوال۔ ان میں اقویٰ کون ہے جب توبہ کر لیں تو قتل زندیق یا قتل گستاخ کا قول؟ جواب۔ قاتل زندیق کا کہنا ہے کہ یہ کافر ہے اور اسلام متہم ہے لہذا یہ حضور ﷺ کے اس فرمان کے مخالف نہیں لا یحل دم امرئ مسلم الا تین میں سے ایک کے علاوہ کسی مسلمان باحدی ثلاث کا خون حلال نہیں لیکن صحت اسلام کے ساتھ توبہ کرنے والے گستاخ کا قتل اس حدیث کے مخالف ہے
اسلام اور احترام نبوت ﷺ
حاصل یہ ہے کہ گستاخی سے پہلے بلا تفاق محفوظ الدم۔ بعد از توبہ میں اختلاف ہے حالانکہ یہ غ کی بنا پر اسے قتل نہیں کیا جائے گا جب تک کسی سوال۔ قبل از توبہ قتل پر اتفاق ہے جو توبہ جواب۔ ہم نے حدیث مذکور پیش کر دی ہے مسلمان ہے نہ زانی اور نہ قاتل
سوال۔ یہ حدیث بتا رہی ہے کہ ان تین ز تو یہ قتل گستاخ بطور حد ہے تو تم نے خود اس سے ہے تو تم نے خود پہلے اس کی مخالفت کی
جواب۔ گستاخ ایمان لانے کے بعد کافر ایک کے سوا کسی مسلمان کا خون مباح نہیں
کفر بعد ایمان وزنا بعد حصان وقتل نفس بغیر نفس
حدیث میں مسلمان، سے پہلے ہی اسلام کا استثناء درست ہوگا اور بعد از ایمان گس داخل ہے
سوال۔ گستاخی کی دو جہات ہے ا۔ تنقیص بتاتی ہے کہ قتل کی علت ایمان کے بعد بیان ہوا علت قتل ، گستاخی ہی ہے؟ جواب۔ اللہ تعالیٰ کی توفیق سے ہم عر
ن يصبح عشراً، و حين يمسي عشراً، القيامة ) ث [484] ديث [6233]
کہ پڑھیں تو یہ فوائد و ثمرات ملیں گے نہ پڑھیں تو ہماری مرضی بلکہ یہ معاملہ کی تعمیل ہے۔ یہ صرف حب مصطفیٰ ﷺ کا تقاضا ہی نہیں بلکہ نبی اکرم ﷺ حق بھی ہے اور یہ حق ادا نہ کرنے والوں کو سخت وعید بھی سنائی گئی ہے، جیسا کہ چہ ذیل احادیث میں مروی ہے۔ فضل الصلوۃ علیٰ النبی ﷺ [حدیث: 11] مشکاۃ مع تحقیق الألبانی، رقم الحدیث (925)
ہے ان کے علاوہ حقوق کے بارے حق کی وراثت سے مانع ہے، عموم محل نظر حدیث ہے جب ہم م ہے نہ کہ جمع کی طرف اور اس کا کا کسی سے گمان بھی نہیں کر سکتے مطالبہ میں تمام مسلمان آپ کے ام سے ساقط ہو جائے گا اور اس
ہی ہے اور دونوں کا تقاضا قتل ہے آئے تھے اور ان میں مختار دوسرا ے نزدیک ایسے اندراج پر دلیل اسے اعظم کو لازم کرے وہ عمومی
زندیق یا قتل گستاخ کا قول؟ سلام متہم ہے لہٰذا یہ حضور ﷺ
سے ایک کے علاوہ کسی مسلمان ال نہیں لی اس حدیث کے مخالف ہے
اسلام اور احترام نبوت ﷺ
حاصل یہ ہے کہ گستاخی سے پہلے بالاتفاق محفوظ الدم تھا اور بعد از گستاخی بالاتفاق مباح الدم۔ بعد از توبہ میں اختلاف ہے حالانکہ یہ نہ زانی ہے نہ قاتل اور کافر حدیث مذکورہ کی بنا پر اسے قتل نہیں کیا جائے گا جب تک کسی صحیح نص سے اس پر تخصیص نہ ہو
سوال۔ قبل از توبہ قتل پر اتفاق ہے جو توبہ سے سقوط قتل کہتا ہے وہ دلیل لائے؟
جواب۔ ہم نے حدیث مذکور پیش کر دی ہے کہ ان تینوں میں سے ایک ہو الخ اور یہ مسلمان ہے اور نہ زانی اور نہ قاتل
سوال۔ یہ حدیث بتا رہی ہے کہ ان تین زنا، قتل، کفر کے علاوہ قتل نہیں اب اگر قبل از توبہ قتل گستاخ بطور حد ہے تو تم نے خود اس حدیث کی مخالفت کر دی اور اگر کفر کی وجہ سے ہے تو تم نے خود پہلے اس کی مخالفت کی ہے
جواب۔ گستاخ ایمان لانے کے بعد کافر ہوا اور الفاظ حدیث ہیں ان تین میں سے ایک کے سوا کسی مسلمان کا خون مباح نہیں ہوتا
کفر بعد ایمان وزنا بعد حصان ایمان کے بعد کفر، شادی کے بعد زنا اور وقتل نفس بغیر نفس بغیر قصاص کسی کا قتل
حدیث میں مسلمان، سے پہلے ہی اسلام لانے والا مراد ہے تب ہی بعد از ایمان کفر کا استثناء درست ہوگا اور بعد از ایمان گستاخی کفر ہے لہٰذا گستاخ اس حدیث کے تحت داخل ہے
سوال۔ گستاخی کی دو جہات ہیں۔ ۱۔ نفس گستاخی ۲۔ ایمان کے بعد کفر، مذکورہ حدیث بتاتی ہے کہ قتل کی علت ایمان کے بعد کفر ہے لہٰذا گستاخی علت نہ بنی حالانکہ پہلے بیان ہوا علت قتل، گستاخی ہی ہے؟
جواب۔ اللہ تعالیٰ کی توفیق سے ہم عرض کرتے ہیں کہ گستاخی اور کفر کے درمیان عموم
ن يصبح عشراً، و حين يمسي عشراً، القيامة ) ث [484] لحديث [6233]
تاکہ پڑھیں تو یہ فوائد وثمرات ملیں گے نہ پڑھیں تو ہماری مرضی بلکہ یہ معاملہ انی ضمیر ہے۔ یہ صرف حب مصطفیٰ ﷺ کا تقاضا ہی نہیں بلکہ نبی اکرم ﷺ ن بھی ہے اور یہ حق ادا نہ کرنے والوں کو سخت وعید بھی سنائی گئی ہے، جیسا کہ جہ ذیل احادیث میں مروی ہے۔ فضل الصلوة على النبي ﷺ [حدیث: 11] مشكاة مع تحقيق الألباني، رقم الحديث (925)
اسلام اور احترام نبوت ﷺ خصوص من وجہ کی نسبت ہے کیونکہ گستاخی کافر اصلی سے بھی ہو سکتی ہے اور یہ کفر میں اضافہ ہوگا نہ کہ نیا کفر اور کہیں یہ مسلمان سے سرزد ہوتی ہے اور یہ نیا کفر ہوگا گستاخی اور کفر، بعد از ایمان میں عموم خصوص مطلق ہے تو بعد از ایمان ہر گستاخی کفر ہے لیکن بعد از ایمان ہر کفر گستاخی نہیں، اس ذات اقدس (جسے جوامع کلم کا عطیہ دیا گیا) کی حدیث میں لفظ مسلم لایا گیا ہے تاکہ یہ گستاخی اور بعد از ایمان کفر دونوں کو شامل ہو جائے اور علت میں معنی اعم پر اکتفا کیا جس میں لطیف حکمت اور اہم فائدہ ہے
لطیف حکمت
جانب ربوبیت کا ادب اور اپنے حق سے اعراض ، یہ وہی حقیقت ہے کہ آپ ﷺ نے کبھی بھی ذاتی انتقام نہیں لیا صرف اللہ تعالیٰ کی خاطر سزا دیا کرتے تھے
اہم فائدہ
اسلام کے ساتھ سقوط، اس کے منافی نہیں کہ اس سے پہلے قتل، حد تھی جیسا کہ مرتد کے قتل کا نام بھی حد ہے تو نزاع لفظی تھا اور پہلے گفتگو آچکی ہے ہم نے جو کہا علت خاص طور پر گستاخی ہے اس سے ہماری مراد ہر گستاخی ہے خواہ بعد از ایمان ہو یا قبل از ایمان، اسی سے ہم ذمی و معاہد کی گستاخی پر استدلال کا فائدہ اٹھاتے ہیں جیسا کہ عنقریب آرہا ہے مذکورہ حدیث میں قتل مسلم کے ثبوت کا تین میں انحصار ہے تو یہ غیر مسلم کے حکم سے خاموش ہے لہذا ہماری مذکورہ بات حدیث کے مخالف نہیں
سوال۔ مذکورہ حدیث میں اسلام سے سقوط قتل پر کوئی دلیل نہیں نہ گستاخ سے اور نہ ہی مرتد غیر گستاخ سے بلکہ اس میں قتل پر دلیل ہے اگر چہ وہ اسلام لے آئے امام حسن بصری اور ظاہریہ کا مرتد میں یہی مذہب ہے ان کے علاوہ ایک
اسلام اور احترام نبوت ﷺ جماعت کا موقف گستاخ میں یہی ہے بعد کفر صادر ہوا خواہ اب اس سے ا میں ہر گز نہیں کہ قتل کے وقت کفر موجو یہ اسلام سے ساقط نہ ہوگا ہاں کفر اصلی
جواب۔ یہ امور ہمارے لئے اس ارتداد سے توبہ کر لینا اور حضور ﷺ نازل ہونا ہے اور اس کے بعد حضور ﷺ نے انھیں قتل نہ کروایا تو اس سے وا وسنت صحیحہ کی موجودگی میں کسی اور ا جب معنی بھی اس کی رہنمائی کر رہا قواعد اصولیہ کا بھی یہی تقاضا ہے کہ ہوتا ہے اور مناسب معنی بھی یہی مخالفت کرنا ہے یہ گفتگو مرتد میں
سوال۔ یہ حدیث عام تھی مگر حد آنے سے پہلے اسلام لایا تھا یا ن سے سقوط کے قائل ہیں دونوں ص حالانکہ آپ ﷺ کا مبارک فرما
ما كان فيكم رجل رشيد اليه فيقتله؟
واضح کر رہا ہے کہ اس کا قتل
اسلام اور احترام نبوت ﷺ
جماعت کا موقف گستاخ میں یہی ہے کیونکہ ان پر صادق ہے کہ ان سے ایمان کے بعد کفر صادر ہوا خواہ اب اس سے انھوں نے رجوع کرلیا ہے یا نہ کیا؟ اور حدیث میں ہرگز نہیں کہ قتل کے وقت کفر موجود ہو تو ایمان کے بعد کفر یہ حتمی قتل کا موجب ٹھہرا تو یہ اسلام سے ساقط نہ ہوگا ہاں کفر اصلی اس کے خلاف ہے
جواب۔ یہ امور ہمارے لئے اس سے مانع ہیں ان میں قوی تر، حارث بن سوید کا ارتداد سے توبہ کرلینا اور حضور ﷺ کا توبہ قبول کر لینا پھر قرآن کا اس کے حق میں نازل ہونا ہے اور اس کے بعد حضور ﷺ کے بڑے غلاموں میں شامل رہے اور آپ نے انھیں قتل نہ کروایا تو اس سے واضح ہو گیا بوقت قتل، کفر کی موجودگی لازم ہے، قرآن وسنت صحیحہ کی موجودگی میں کسی اور اختلاف کی طرف توجہ بھی نہیں کی جاسکتی چہ جائیکہ جب معنی بھی اس کی رہنمائی کر رہا ہے، اور ہر صحیح الطبع عربی بھی یہی مراد لے رہا ہے قواعد اصولیہ کا بھی یہی تقاضا ہے کہ علت پر حکم اور اس کا وجود و عدم، علت پر موقوف ہوتا ہے اور مناسب معنی بھی یہی ہے اور وہ اس کا کفر میں ملوث اور اللہ تعالیٰ کے حکم کی مخالفت کرنا ہے یہ گفتگو مرتد میں ہے اور گستاخ میں اس کی مثل کلام ہے
سوال۔ یہ حدیث عام تھی مگر حدیث ابن ابی سرح کی بنا پر یہ خاص ہو گئی ہے کیونکہ وہ آنے سے پہلے اسلام لایا تھا یا نہیں لیکن اسلام کے ارادہ سے وہ آیا تھا اور جو اسلام سے سقوط کے قائل ہیں دونوں صورتوں میں وہ ایسے آدمی کا قتل جائز نہیں سمجھیں گے حالانکہ آپ ﷺ کا مبارک فرمان
ما كان فيكم رجل رشيد يقوم تم میں کوئی عقل مند نہ تھا جو اٹھ کر اسے اليه فيقتله؟ قتل کر دیتا ؟
واضح کر رہا ہے کہ اس کا قتل جائز تھا خواہ اسلام لے آیا تھا یا لانے والا تھا ہاں سقوط
اسلام اور احترام نبوت ﷺ
آپ ﷺ کی معافی کی بنا پر ہوا۔
جواب۔ اس مقام کو خوب اچھی طرح سمجھنے کی ضرورت ہے ہم نے کافی مدت سے اس واقعہ پر دال روایات کا مطالعہ کیا اور خوب تدبر سے کام لیا تو انھیں اس پر متفق پایا کہ یہ شخص مرتد تھا اور اس نے جو بکنا تھا بکا ، فتح مکہ کے دن یہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے ساتھ حضور ﷺ کی خدمت میں آیا اس بات میں کوئی شک نہیں اسی طرح تمام روایات میں حضور ﷺ کا فرمان مقدس موجود ہے کیا تم میں ایسا کوئی نہ تھا جو اسے قتل کر دیتا؟
رہا اس کا اسلام لانا وہ آنے سے پہلے مسلمان ہو چکا تھا یا اس وقت آپ ﷺ کی بارگاہ اقدس میں ہوا یا بعد میں، اس میں اختلاف ہے
حضرت عکرمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے وہ اس سے پہلے مسلمان ہو گیا تھا لیکن یہ بات ثابت نہیں جیسا کہ پیچھے اس پر تنبیہ کر دی ہے
واقدی کہتے ہیں یہ تائب ہو کر آیا لیکن اس میں اسلام لانے کی تصریح نہیں اور نہ واقدی سے احادیث میں احتجاج کیا جاتا ہے اگرچہ یہ سیر میں امام ہے
سنن ابی داود کی روایت کا تقاضا یہ ہے کہ حضور ﷺ کا ارشاد گرامی بیعت لینے کے بعد کا ہے لیکن اس کی سند میں اسباط بن نصر اور اسماعیل سدی ہیں، سدی میں کثیر کلام ہے اگرچہ امام مسلم نے ان سے روایت لی ہے اور یہی معاملہ اسباط کا ہے اس وجہ سے یہ روایت شرائط صحیح پر نہیں اترتی
ممکن ہے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ اسے امان دلانے لائے ہوں اور حضور ﷺ نے اسے امان دیدی جب حالت کفر میں واپس لوٹا تو آپ ﷺ نے یہ جملہ فرمایا ہو اس کے بعد وہ اسلام لے آیا ہو
من يصبح عشراً، و حين يمسي عشراً، القيامة )
[حدیث: 484]
[الحديث: 6233]
نا کہ پڑھیں تو یہ فوائد و ثمرات ملیں گے نہ پڑھیں تو ہماری مرضی بلکہ یہ معاملہ حق پیغمبر ہے۔ یہ صرف حب مصطفیٰ ﷺ کا تقاضا ہی نہیں بلکہ نبی اکرم ﷺ حق بھی ہے اور یہ حق ادا نہ کرنے والوں کو سخت وعید بھی سنائی گئی ہے، جیسا کہ مندرجہ ذیل احادیث میں مروی ہے۔ فضل الصلوۃ علی النبی ﷺ [حدیث: 11] مشكاة مع تحقيق الألباني، رقم الحديث (925)
ورت ہے ہم نے کافی مدت سے ہرے کام لیا تو انھیں اس پر مشفق مکہ کے دن یہ حضرت عثمان رضی اس بات میں کوئی شک نہیں اسی س موجود ہے کیا تم میں ایسا کوئی
مسلمان ہو چکا تھا یا اس وقت میں اختلاف ہے ہے وہ اس سے پہلے مسلمان ہو گیا ردی ہے اس میں اسلام لانے کی تصریح نہیں اگرچہ یہ سیر میں امام ہے حضور ﷺ کا ارشاد گرامی بیعت ر اور اسماعیل سدی ہیں، سدی میں ملی ہے اور یہی معاملہ اسباط کا ہے
امان دلانے لائے ہوں اور حضور پس لوٹا تو آپ ﷺ نے یہ جملہ
۱۴۶ اسلام اور احترام نبوت ﷺ
امام ابو عمرو بن عبدالبر نے استیعاب میں اس طرح واقعہ نقل کیا ہے وہ اسی کا مقتضی یا متحمل ہے ان کے الفاظ ہیں، حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے اسے چھپا لیا جب اہل مکہ میں اطمینان ہو گیا تو امان کے لئے اسے لائے حضور ﷺ نے طویل خاموشی اختیار فرمائی اس کے بعد فرمایا ہاں جب حضرت عثمان رضی اللہ عنہ لوٹے تو رسول اللہ ﷺ نے اردگرد حاضرین سے فرمایا میں اس لئے خاموش تھا کہ تم میں سے کوئی اسے ٹھکانے لگا دیتا، ایک انصاری نے عرض کیا یا رسول اللہ آپ نے اشارہ کیوں نہ کیا ؟ فرمایا آنکھ سے خیانت کرنا نبی کے شایان شان نہیں، ابن ابی سرح فتح کے دنوں میں ظاہر و باطن سے اسلام لے آیا
(استیعاب: ۳: ۹۱۸)
تو اس عبارت میں بھی ہماری بات والا احتمال موجود ہے شیخ واقدی کے مغازی میں الفاظ یہ ہیں ابن ابی سرح حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور یہ ان کا رضاعی بھائی تھا کہنے لگا میرے بھائی میں نے تیرا انتخاب کیا ہے مجھے یہاں جو سزا دینا چاہو دے لو اور مجھے محمد ﷺ کے پاس لے چلو اور میرے بارے میں بات کرو اگر انھوں نے مجھے دیکھ لیا تو میرا سر اڑا دیں گے کیونکہ میرا جرم سب سے بڑا جرم ہے میں تائب ہو کر آیا ہوں، حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا چلو میرے ساتھ تو کہنے لگا اللہ کی قسم مجھے ساتھ نہ لے جاؤ وہ اڑا دے گے انھوں نے مجھے مباح الدم قرار دیا ہوا ہے ان کے صحابہ میری تلاش میں ہیں حضرت عثمان نے فرمایا میرے ساتھ آو انشاء اللہ تعالیٰ تجھے قتل کا حکم نہیں دیں گے تو اچانک حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کا ہاتھ پکڑ کے آپ ﷺ کے سامنے آ کھڑے ہو ۔ حضرت عثمان نے عرض کیا یا رسول اللہ ، اس کی ماں نے مجھے اٹھایا ، کھلایا ، دودھ پلایا اور مجھ پر شفقت کی اس لئے اسے مجھے ھبہ کر دیں،
اسلام اور احترام نبوت ﷺ
آپ ﷺ نے ان سے اعراض کیا آپ ﷺ اعراض کرتے ہوئے چہرہ پھیرتے حضرت عثمان اس طرف ہو کر عرض کرتے آپ نے اعراض اس لئے کیا تا کہ کوئی آدمی اس کی گردن اڑا دے کیونکہ آپ ﷺ نے امن نہیں دیا تھا جب دیکھا کوئی نہیں اٹھا اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے جھک کر رسول اللہ کے سر اقدس کو چوما اور عرض کیا یا رسول اللہ میرے والدین آپ پر فدا ہوں اس سے بیعت لے لیجیے، آپ ﷺ نے فرمایا ہاں پھر صحابہ کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا تم میں سے کیوں نہ کسی نے اس کتے کو قتل کر دیا، دوسری روایت میں فاسق کا لفظ ہے حضرت عباد بن بشر نے عرض کیا یا رسول اللہ کاش آپ آنکھ سے اشارہ فرما دیتے ، اللہ کی قسم میں آپ کے ابرو کے اشارہ پر اسے ختم کر دیتا بعض نے کہا کہنے والے حضرت ابوالیسر یا حضرت عمر رضی اللہ عنھما تھے فرمایا میں اشارہ سے قتل نہیں کرواتا ایک روایت میں ہے آپ نے فرمایا نبی کے لئے مناسب نہیں کہ اس کی آنکھ خیانت کرے رسول اللہ ﷺ نے اسے بیعت کر لیا
(المغازی:۸۵۵،۲)
یہ عبارت بتا رہی ہے کہ بیعت اس جملے کے بعد لی تھی ، حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے اولاً کہا اسے مجھے ہبہ فرمادیں بیعت کے لئے نہیں کہا حضور ﷺ نے اعراض فرمایا آخری دفعہ عرض کیا اسے بیعت فرمالیں فرمایا ہاں کیونکہ انھوں نے اسلام کا مطالبہ کیا اس پر شاہد آپ کا یہ مقدس جملہ ہے اس کتے یا فاسق کو قتل کیوں نہ کر دیا ؟ اگر وہ پہلے اسلام لایا ہوتا تو آپ یہ الفاظ استعمال نہ فرماتے کیونکہ جب کوئی آدمی مسلمان ہوتا ہے اور ابھی اس نے گناہ نہیں کیا تو وہ بالاتفاق فاسق نہیں ہوتا ، ظاہر یہی ہے کہ یہ جملہ اسلام لانے سے پہلے اور امان دینے کے بعد ہے
اسلام اور احترام نبوت ﷺ
اگر ثابت ہو جائے
اگر ثابت ہو جائے کہ وہ اس جملہ سے پہلے اسلام لایا اور آپ نے بیعت لی تو ہم یوں کہیں گے
ان الله تعالیٰ اطلع نبيه ﷺ الله تعالیٰ نے اپنے نبی ﷺ کو مطلع على ان باطنه خلاف ظاهره کر دیا کہ اس کا باطن، ظاہر کے مخالف وانه اسلم نفاقاً ثم حسن اسلامه ہے اور یہ بطور نفاق مسلمان ہوا ہے بعد ذلك حتى يصح اطلاق پھر بعد میں وہ کامل مسلمان ہوا حتی کہ الكلب والفاسق عليه ويتمنى پہلے اس پر کتے اور فاسق کا اطلاق درست النبي ﷺ قتله اور نبی ﷺ اسے قتل کا ارادہ رکھتے
کیونکہ صحیح مسلمان پر اس کا اطلاق نہیں ہوتا
امام ابو داود نے بھی سنن میں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے نقل کیا ہے عبد اللہ بن سعد بن ابی سرح کاتب رسول تھا شیطان نے گمراہ کر دیا تو وہ کفار میں چلا گیا آپ ﷺ نے فتح مکہ کے دن اسے قتل کا حکم جاری فرمایا تو حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے اس کے لئے امان مانگی تو آپ ﷺ نے امان عطا فرمادی
(سنن ابو داود ، ۴۳۵۸)
اس حدیث میں یہ کہیں نہیں کہ وہ اسلام لے آیا تھا اس نے صرف پناہ مانگی جو دیدی گئی تو یہ ہماری تائید ہے
الغرض ہماری دلیل ایسی حدیث ہے (جس کی صحت پر امت کا اجماع ہے) اس کا تقاضا یہ ہے کہ ان تین کے علاوہ کسی مسلمان کا خون حلال نہیں، شادی کے بعد زنا، ناحق قتل، بعد از ایمان کفر، ہم اس حدیث سے نہ تو گستاخ کو خارج
ن يُصْبِحَ عَشْراً، وَ حِيْنَ يُمْسِي عَشْراً، الْقِيَامَةِ ) ث [484] ديث [6233]
رسالہ پڑھیں تو یہ فوائد و ثمرات ملیں گے نہ پڑھیں تو ہماری مرضی بلکہ یہ معاملہ بھی گھمبیر ہے۔ یہ صرف حب مصطفی ﷺ کا تقاضا ہی نہیں بلکہ نبی اکرم ﷺ کی بھی ہے اور یہ حق ادا نہ کرنے والوں کو سخت وعید بھی سنائی گئی ہے، جیسا کہ درجہ ذیل احادیث میں مروی ہے۔ فضل الصلوة على النبى ﷺ [حدیث: 11] مشكاة مع تحقيق الألباني، رقم الحديث (925)
اسلام اور احترام نبوت ﷺ ۱۳۴
کر رہے ہیں اور نہ ہی روایت امام سدی سے اسے خاص کر رہے ہیں اور پھر اس میں ضعف بھی ہے
سوال ۔ تم نے اسی حدیث سے قبل از توبہ قتل پر استدلال کیا ہے؟
جواب ۔ اس میں کسی کو اختلاف نہیں تمام طرق والفاظ حدیث واضح کر رہے ہیں ابن ابی سرح مرتد ہو گیا اور غلط باتیں کہیں اسی وجہ سے ہم نے اس متفقہ روایت سے استدلال کیا نہ کہ صرف واحد (سدی والے) طریق سے، ہم چونکہ بعد از توبہ جواز قتل پر گفتگو کر رہے ہیں اور اس پر طرق متفق نہیں اور نہ ہی اس قدر صحیح ہے کہ اسے صحت حدیث تحریم (لا یحل دم مسلم الخ ) کے مقابل لایا جاسکے
آیت محاربہ اور گستاخ
سوال۔ اس حدیث کو اس آیت سے مخصوص کیا جا سکتا ہے ارشاد باری تعالیٰ ہے
انما جزاء الذين يحاربون الله جو لوگ اللہ اور اس کے رسول سے ورسوله ويسعون فی الارض لڑتے ہیں اور زمین میں فساد کرتے فساداً (المائدہ،۳۳) پھرتے ہیں
اللہ و رسول کا گستاخ محارب، دشمن، مقابل اور زمین میں فساد پھیلانے والا ہے منافقین کے بارے میں فرمایا
الا هم هم المفسدون آگاہ ہو جاؤ وہی فسادی ہیں (البقرہ،۱۲)
بلکہ گستاخی ہر فساد کی اصل ہے کیونکہ اس سے نبوت پر حرف آتا ہے جو دین ودنیا کی اصلاح کی بنیاد ہے جب گستاخ محارب اور فساد پھیلانے والا ہے تو آیت میں مذکور
اسلام اور احترام نبوت ﷺ
سزاؤں میں سے کوئی ایک تو اس پر لا کر لے اور دلائل سے ثابت ہے کہ ا ہے جو کفر محض سے بدتر اور جنس محاربہ سے ہوتی ہے اگر آدمی بطور محارب مرتد تو یہ انہیں محفوظ نہیں کر سکتی
گستاخی کو محاربہ کی طرح ق جنایت کی صورت میں موجود رہتا ہے ہی ہے زنا اور قتل، ذنوب ماضی وہ کفر مقبول اور ان کا اثر بھی ساقط ہو جاتا ہ
جواب ۔ اکثر اہل علم کے نزدیک مر خواہ مسلمان ہوں یا کافر، مسلمانوں ب
فان لم تفعلوا فاذنوا بحرب الله ورسوله (البقره، ۲۷
جنھوں نے اسے کفار کے بارے م کیا ہے مثلاً اہل عرینہ جن کے با رہزن بھی تھے، رہے وہ کفار جو ز محارب، حربی کے علاوہ مخصوص
امام ابن تیمیہ (م ۷
رسول کے محارب سے مراد، وقتاً رہزنی اور زمین میں فساد کرنے
اسلام اور احترام نبوت ﷺ
سزاؤں میں سے کوئی ایک تو اس پر لاگو ضرور ہو گی بشرطیکہ گرفتاری سے پہلے توبہ نہ کر لے اور دلائل سے ثابت ہے کہ اس کی سزا قتل ہی متعین ہے اور گستاخی ایسا گناہ ہے جو کفر محض سے بدتر اور جنس محاربہ سے ہے، خون مرتد کو محفوظ کرنے والی توبہ کفر محض سے ہوتی ہے اگر آدمی بطور محارب مرتد ہو جیسا کہ مقیس بن صبابہ اور اہل عرینہ تو اب توبہ انہیں محفوظ نہیں کر سکتی
گستاخی کو محاربہ کی طرح قرار دینے والی چیز یہ ہے کہ اس کا فساد سراسر جنایت کی صورت میں موجود رہتا ہے اور اس کا اثر مرتفع نہیں ہوتا لہذا یہ محاربہ کی طرح ہی ہے زنا اور قتل ، ذنوب ماضی وہ کفر موجود کی طرح نہیں ہوتے حتی کہ ان پر توبہ بھی مقبول اور ان کا اثر بھی ساقط ہو جاتا ہے
جواب۔ اکثر اہل علم کے نزدیک مذکور آیت مبارکہ راہزنوں کے بارے میں نازل ہے خواہ مسلمان ہوں یا کافر، مسلمانوں کے ساتھ حرب و جنگ پر دلیل یہ آیت مبارکہ ہے فان لم تفعلوا فاذنوا بحرب من پھر اگر ایسا نہ کرو تو یقین کر لو اللہ اور الله ورسوله (البقرہ، ۲۷۹) اس کے رسول سے لڑائی کا
جنھوں نے اسے کفار کے بارے میں مانا انھوں نے کفر کے ساتھ رہزنی کو بھی شامل کیا ہے مثلاً اہل عرینہ جن کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی وہ ارتداد کے ساتھ رہزن بھی تھے، رہے وہ کفار جو رہزن نہیں وہ یہاں مراد نہیں اگرچہ حربی ہوں کیونکہ محارب ، حربی کے علاوہ مخصوص اصطلاح ہے
امام ابن قتیبہ (م، ۲۷۶) نے فرمایا اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کے محارب سے مراد، وقت کے سربراہ اور مسلمانوں سے بغاوت کرتے ہوئے رہزنی اور زمین میں فساد کرنے والے ہیں
ن يصبح عشراً، و حين يمسي عشراً، القيامة ) ث [484] حديث [6233]
کہ نہ پڑھیں تو یہ فوائد و ثمرات ملیں گے نہ پڑھیں تو ہماری مرضی بلکہ یہ معاملہ ی ضمیر پر ہے۔ یہ صرف حب مصطفیٰ ﷺ کا تقاضا ہی نہیں بلکہ نبی اکرم ﷺ حق بھی ہے اور یہ حق ادا نہ کرنے والوں کو سخت وعید بھی سنائی گئی ہے، جیسا کہ مندرجہ ذیل احادیث میں مروی ہے۔ فضل الصلوة على النبي ﷺ [حدیث: 11] مشكاة مع تحقيق الألباني، رقم الحديث (925)
اسلام اور احترام نبوت ﷺ
(تاویل مشکل القرآن، ۳۹۹)
شیخ ابو حامد اسفرائنی (م، ۴۰۶) فرماتے ہیں بعض اسلاف نے کہا یہ آیت عہد توڑ کر دارالحرب سے لاحق ہونے والے ذمیوں کے بارے میں ہے وقت کا سربراہ اور مسلمان انھیں یہ سزا دے سکتے ہیں حضرت ابن عمر رضی اللہ عنھما سے ہے یہ مرتدین کے بارے میں آئی ہے اور ساتھ اہل عرینہ کا بھی ذکر کیا
(سنن ابوداود، ۴۳۶۹)
تمام فقہاء کا اتفاق ہے کہ یہاں وہ ڈاکو مراد ہیں جو رہزن، مسلح اور قافلوں کو قتل و لوٹنے والے ہوں
(الحاوی للماوردی، ۳۵۲:۱۳)
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنھما کا بھی یہی قول ہے
(جامع البیان للطبری، ۲۱۴:۶)
اس پر دلیل یہ ارشاد مقدس ہے الا الذين تابوا من قبل ان مگر جنھوں نے توبہ کر لی اس سے پہلے کہ تم تقدروا عليهم ان پر قابو پاؤ
(المائده، ۳۴)
قبل از قدرت اور بعد از قدرت توبہ پر حکم میں اختلاف صرف رہزن و باغی میں ہے حربی کی دونوں صورتوں میں توبہ کا حکم ایک ہی ہے جیسے کہ مرتد کا حکم ہے دیگر اہل علم کہتے ہیں، یحاربون اللہ ورسولہ سے مراد اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کے منکر ہیں اور وہ اہل ایمان نہیں
(احکام القرآن لابن العربی، ۹۱:۲)
امام بخاری کے نزدیک اللہ تعالیٰ سے محاربت، اس کے ساتھ کفر ہے
اسلام اور احترام نبوت ﷺ
امام واحدی (م، ۴۶۸) کہتے ہیں صحیح رسول کا محارب ہے اس آیت میں یہی تمام اقوال ہیں اگر ہم تسلیم کر لیں محارب کا ا ساتھ فساد فی الارض کی شرط یہاں خاص فساد مراد ہوگا اور وہ ہے رہ طرف رہنمائی کر رہی ہے اگر فقط عموم قرائن کو ترک کر دیا جائے تو ہر مرتد ، ذ جیسا کہ سوال میں ہے حالانکہ بالاتفاق اس طرح اس کا حکم گستاخ کے لئے داخل کریں یا داخل نہ کریں لیکن ہم آیت کا حکم اس کے لئے ثابت ہو گا بقول دیگر تقسیم (عمل کے مطابق) بجائے ہاتھ اور پاؤں کاٹ دے یا قتل نہیں کیا تو اسے قتل نہیں کیا جا دونوں احکام کا قول نہیں کیا
سائل کی دلیل
سائل کا کہنا، گستاخ کی کیونکہ اگر ہم گستاخ کو آیت کے
اسلام اور احترام نبوت ﷺ
(البخاری، تفسیر سورۃ المائدہ)
امام واحدی (م، ۴۶۸) کہتے ہیں مسلمانوں کے خلاف مسلح ہو وہ اللہ اور اس کے رسول کا محارب ہے
(الوسیط، ۲: ۱۸۱)
اس آیت میں یہی تمام اقوال ہیں
اگر ہم تسلیم کرلیں محارب کا اطلاق کافر پر ہے تو آیت مبارکہ نے اس کے ساتھ فساد فی الارض کی شرط بھی عائد کی ہے تو بلاشبہ ہر عاصی، مفسد ہے لہٰذا یہاں خاص فساد مراد ہوگا اور وہ ہے رہزنی، آیت کا شان نزول اور مفسرین کی تفسیر اسی طرف رہنمائی کر رہی ہے اگر فقط عموم الفاظ کو دیکھا جائے، شان نزول، تفسیر اور دیگر قرائن کو ترک کر دیا جائے تو ہر مرتد، زمین میں فسادی ہے اسی طرح ہر منافق مفسد ہے جیسا کہ سوال میں ہے حالانکہ بالاتفاق مرتد اور منافق، حکم آیت کے تحت داخل نہیں تو اس طرح اس کا حکم گستاخ کے لئے بھی ثابت نہ ہوگا خواہ ہم اسے محارب کے تحت داخل کریں یا داخل نہ کریں لیکن ہم اس پر قیاس کریں گے کیونکہ دونوں صورتوں میں آیت کا حکم اس کے لئے ثابت ہوگا یا تو بقول بعض لوگوں کے حاکم کو اختیار ہے اور بقول دیگر تقسیم (عمل کے مطابق) ہے اگر تخییر لی جائے تو ممکن ہے حاکم قتل کے بجائے ہاتھ اور پاؤں کاٹ دے یا ملک بدر کر دے اور اگر تقسیم لی جائے تو جس نے قتل نہیں کیا تو اسے قتل نہیں کیا جائے گا اور گستاخ کے بارے میں کسی ایک نے بھی ان دونوں احکام کا قول نہیں کیا
سائل کی دلیل
سائل کا کہنا، گستاخ کی سزا بدلائل ثابتہ قتل ہی متعین ہے یہاں مفید نہیں کیونکہ اگر ہم گستاخ کو آیت کے تحت بطور نص یا حکم داخل کریں تو پھر اس کے لئے
من يصبح عشراً، و حين يمسي عشراً، القيامة ) ...ت [484] حدیث [6233]
کہ پڑھیں تو یہ فوائد وثمرات ملیں گے نہ پڑھیں تو ہماری مرضی بلکہ یہ معاملہ کی تکفیر ہے۔ یہ صرف حب مصطفی ﷺ کا تقاضا ہی نہیں بلکہ نبی اکرم ﷺ حق بھی ہے اور یہ حق ادا نہ کرنے والوں کو سخت وعید بھی سنائی گئی ہے، جیسا کہ مندرجہ ذیل احادیث میں مروی ہے۔
[فضل الصلوة على النبي ﷺ حدیث: 11]
(مشكاة مع تحقيق الألباني، رقم الحدیث 925)
اسلام اور احترام نبوت ﷺ ۱۳۸
آیت میں مذکورہ حکم کا اثبات ہی لازم ہو جائے گا پھر یہ نہیں ہو سکتا کہ ہم شامل تو اسے آیت یا اس کے حکم میں کریں مگر اس کے لئے آیت سے ثابت شدہ حکم کے مخالف حکم ثابت کر دیں یہ ایسی بات ہے جسے کوئی بھی صاحب شعور نہیں کر سکتا اور نہ یہ علمی بات ہے (مذکورہ سزاؤں میں سے قتل کے علاوہ) حضور ﷺ نے کسی کافر، مرتد گستاخ اور غیر گستاخ مرتد و کافر کو کوئی سزا نہیں دی
پھر اگر اس کی سزا حد محارب کی طرح ہوتی تو گرفتاری اور قدرت کے بعد اس پر معافی جائز نہ ہوتی حالانکہ آپ ﷺ نے خود ابن ابی سرح اور دیگر لوگوں کو معاف فرمایا ہے حد محارب میں یہ بھی مسلم ہے کہ وہ صاحب دم کی معافی سے ساقط نہیں ہوتی کیونکہ اس میں اللہ تعالیٰ کا حق بھی ہے تو یہاں بطریق اولیٰ معافی نہیں ہونی چاہیے کیونکہ پیچھے آچکا آپ ﷺ نے کبھی بھی کسی سے ذاتی انتقام نہیں لیا ہاں البتہ اللہ تعالیٰ کی خاطر ضرور سزا دیتے تو اگر گستاخی محاربہ کی طرح ہی ہے تو اس پر قبل از اسلام اور بعد از اسلام سزا ضروری ہوتی اور معافی ناجائز،
تو پھر حضور ﷺ نے ابن ابی سرح کو معاف کیوں کر دیا حالانکہ وہ گرفت میں تھا وہ اسلام لایا آپ نے اس سے اسلام قبول کر لیا، صحابہ میں شامل ہو گئے اور آخری وقت تک آپ ﷺ کے ساتھ رہے
آپ ﷺ نے ذوالخویصرہ سے درگذر فرمائی جب اس نے کہا اس تقسیم سے رضا الہی مقصود نہیں حالانکہ اس سے انتقام پر قدرت تھی اور یہ واقعہ فتح مکہ کے بعد غزوہ حنین میں ہوا اور اس وقت اللہ تعالیٰ نے اسلام کو غالب اور قوت عطا فرمادی تھی اس کے قتل سے کسی فتنہ کا ڈر نہ تھا آپ ﷺ نے بطور مصلحت اسے چھوڑ دیا
اسلام اور احترام نبوت ﷺ
ہم یہاں یہ نہیں کہہ سکتے کہ آ... ہوں کہ آپ کو حق حاصل تھا معاف فر... جانتے ہیں مگر ہم علم رکھتے ہیں کہ سرور... یہاں دونوں حالتوں میں آپ نے ا... انتقام لیا اللہ تعالیٰ کی خاطر، ابن خطل ب... اور یہاں معاف فرمایا وہ بھی اللہ تعالیٰ ک... کثیر جماعت کا معاملہ تمہارے سامنے ہ...
بعد کے حکمرانوں کا عمل
آپ ﷺ کے بعد حکمرانوں... تعالیٰ کی خاطر سزا قتل لازم کی اور وہ اسے... والنبي ﷺ كان يطلع عليها ... ويخصه الله بما شاء من علمه وحكمه فيها اسی لئے آپ ﷺ نے ذوالخویصرہ ... ولو صدر من احد اليوم... ما صدر من ذى الخويصرة و ... لا وجبنا استتابته
آپ کے ترک کی حکمت
ممکن ہے آپ ﷺ نے ان دو امور کی ...
اسلام اور احترام نبوت ﷺ
ہم یہاں یہ نہیں کہہ سکتے کہ آپ ﷺ کا انتقام اور ترک دونوں جائز ہوں کہ آپ کو حق حاصل تھا معاف فرما دیں اور ترک کر دیں کیونکہ ہم اسے صحیح جانتے ہیں مگر ہم علم رکھتے ہیں کہ سرور عالم ﷺ نے کبھی ذاتی انتقام نہیں لیا تو یہاں دونوں حالتوں میں آپ نے اللہ تعالیٰ کے حق کو پیش نظر رکھا جہاں بھی انتقام لیا اللہ تعالیٰ کی خاطر، ابن خطل، دونوں لونڈیاں، مقیس بن صبابہ کو سزا دی اور یہاں معاف فرمایا وہ بھی اللہ تعالیٰ کی خاطر مثلاً ابن ابی سرح، ذوالخویصرہ اور کثیر جماعت کا معاملہ تمہارے سامنے ہے
بعد کے حکمرانوں کا عمل
آپ ﷺ کے بعد حکمرانوں کا عمل بھی یوں رہا جو اسلام نہ لایا اس پر اللہ تعالیٰ کی خاطر سزائے قتل لازم کی اور وہ اسے ترک نہیں کر سکتے کیونکہ وہ مصالح پر مطلع نہیں
والنبي ﷺ كان يطلع عليها نبی ﷺ ان پر مطلع تھے اور اللہ تعالیٰ ويخصه الله بما شاء من علمه نے آپ ﷺ کو اختیار دیا ہے کہ وہ وحكمه فيها جو چاہیں فیصلہ و حکم فرما دیں
اسی لئے آپ ﷺ نے ذوالخویصرہ وغیرہ سے توبہ کا تقاضا بھی نہیں فرمایا
ولو صدر من احد اليوم اگر خویصرہ والی بات آج کسی سے سرزد ما صدر من ذی الخویصرۃ ہو تو ہم لازماً اس سے توبہ کا تقاضا کریں لا وجبنا استتابته گے
آپ کے ترک کی حکمت
ممکن ہے آپ ﷺ نے ان دو امور کی وجہ سے تقاضا توبہ ترک فرمایا ہو
ن يصبح عشراً، و حين يمسي عشراً، القيامة ) ث [484] لحديث [6233]
طرح پڑھیں تو یہ فوائد و ثمرات ملیں گے نہ پڑھیں تو ہماری مرضی بلکہ یہ معاملہ س پیغمبر ہے۔ یہ صرف حب مصطفیٰ ﷺ کا تقاضا ہی نہیں بلکہ نبی اکرم ﷺ ش بھی ہے اور یہ حق ادا نہ کرنے والوں کو سخت وعید بھی سنائی گئی ہے، جیسا کہ وجہ ذیل احادیث میں مروی ہے۔
فضل الصلوٰۃ علی النبی ﷺ [حدیث: 11] مشكاة مع تحقيق الألباني، رقم الحديث (925)
اسلام اور احترام نبوت ﷺ
- ا۔ ان النبی ﷺ اطلع علی نبی اکرم ﷺ ان کے باطن سے آگاہ
بواطن اولئک القوم وانهم تھے کہ یہ توبہ نہیں کریں گے ان کا معاملہ لایتوبون کالمنافقین الذین منافقین کی طرح کا ہے جن کے نفاق کا علم نفاقهم آپ ﷺ علم رکھتے تھے
لہذا تقاضا توبہ میں کوئی فائدہ ہی نہ تھا
- ۲۔ یہ لوگ جہال اور نئے مسلمان ہوئے تھے ابھی یہ احکام شریعت سے ، دلائل عصمت
، تعظیم انبیاء کے لزوم اور ان کے بلند عالی منصب سے کماحقہ آگاہ نہ تھے لہذا آپ ﷺ نے مواخذہ نہ فرمایا جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے:
و اعرض عن الجاهلين اور جاہلوں سے منہ پھیرلو (الاعراف، ۱۹۹)
تو ان کے حق میں ارتداد نہ تھا لیکن اللہ تعالیٰ ہی اپنے حبیب ﷺ کی مراد سے زیادہ آگاہ ہے
سوال۔ بلاشبہ آپ ﷺ نے ذاتی انتقام کبھی نہیں لیا لیکن آپ کے لئے لینا جائز تو تھا اگرچہ ترک کرنا عفو اور عظمت کی دلیل ہے، وصال کے بعد یہ حق آپ کے لئے ثابت ہے اور دوسرا کوئی اسے ترک نہیں کر سکتا تو حق اب کیسے ساقط ہوگا؟
سقوط پر دلائل
جواب۔ قبل از اسلام و توبہ حق ساقط نہیں ہوگا اور قتل ہی لازم ہو گا لیکن بعد از اسلام ان دلائل کی بنا پر سقوط ہوگا
- ا۔ آپ ﷺ کا فرمان ہے
الاسلام یجب ماقبلہ اسلام سابقہ گناہ مٹا دیتا ہے
اسلام اور احترام نبوت ﷺ
یہ حکم شرعی کی خبر ہے تو اسے عموم کے جا سکتا ہے کیونکہ یہ آپ ﷺ کا کو معاف کرنا ہی ہے اگر عبارت بھی درست تھا اسی طرح مذکورہ عیا
سوال۔ یہ ثبوت حق سے پہلے برء
جواب۔ یہ حکم شرعی ہے اور اس کی پر ہماری تائید ہبار بن اسود بن ع نے اس کے قتل کا حکم جاری فرما آپ کی گستاخی کر کے آپ سے ن حضرت زبیر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں نے اس کی معافی پر سراقہ س پیچھ قد عفوت عنك والا يجب ماکان قبله (البخاري، اس موقعہ پر آپ ﷺ کا فرمانا وہ گستاخی ہو یا غیر گستاخی کیونکہ اگرچہ گستاخی کے وقت مسلمان ن ہو جائے وہ اس کے عموم میں داخل آپ ﷺ نے تمام کی کسی آدمی نے صحابی رسول ﷺ تمہارے لئے رسول اللہ نے معاف
اسلام اور احترام نبوت ﷺ
یہ حکم شرعی کی خبر ہے تو اسے عموم کے اعتبار سے آپ ﷺ کے حق میں بھی دلیل بنایا جاسکتا ہے کیونکہ یہ آپ ﷺ کا ارشاد گرامی ہی ہے لہذا اسلام لانا آپ کا اپنے حق کو معاف کرنا ہی ہے اگر عبارت یہ ہوتی جو اسلام لایا میں نے اسے معاف کر دیا، تو بھی درست تھا اسی طرح مذکورہ عبارت کا معاملہ ہے
سوال۔ یہ ثبوت حق سے پہلے بری کرنا ہے؟
جواب۔ یہ حکم شرعی ہے اور اس کا معلق کرنا درست ہے اس ارشاد نبوی سے استدلال پر ہماری تائید ہبار بن اسود بن عبد المطلب کے واقعہ سے بھی ہوتی ہے حضور ﷺ نے اس کے قتل کا حکم جاری فرمایا ، اس نے آگاہی کے بعد کلمہ پڑھا اور کہا میں نے آپ کی گستاخی کر کے آپ سے زیادتی کی اب میں شرمندہ ہوں مجھ سے درگزر کریں حضرت زبیر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں میں رسول اللہ ﷺ کو اس وقت دیکھ رہا تھا ، آپ نے اس کی معافی پر سر اقدس نیچے کر لیا اور فرمایا
قد عفوت عنك والاسلام میں نے تجھے معاف کر دیا اور اسلام سابقہ يجب ما كان قبله (المغازی:۸۵۸:۲) گناہ مٹا دیتا ہے
اس موقعہ پر آپ ﷺ کا فرمان بتا رہا ہے کہ اسلام پہلے کے تمام گناہ مٹا دیتا ہے خواہ وہ گستاخی ہو یا غیر گستاخی کیونکہ خصوصی سبب کو عموم سے خارج نہیں کیا جاسکتا ہبار اگر چہ گستاخی کے وقت مسلمان نہ تھا لیکن ہم نے اس کا تمام واقعہ نقل کر دیا تا کہ واضح ہو جائے وہ اس کے عموم میں داخل ہے
آپ ﷺ نے تمام اہل ایمان مرد اور خواتین کے لئے مغفرت کی دعا کی کسی آدمی نے صحابی رسول حضرت عبد اللہ بن سرجس رضی اللہ عنہ سے پوچھا کیا تمہارے لئے رسول اللہ نے مغفرت کی دعا کی ہے فرمایا ہاں میرے بلکہ تمہارے لئے
سالہ پڑھیں تو یہ فوائد و ثمرات ملیں گے نہ پڑھیں تو ہماری مرضی بلکہ یہ معاملہ ی ضمیر ہے۔ یہ صرف حب مصطفیٰ ﷺ کا تقاضا ہی نہیں بلکہ نبی اکرم ﷺ ق بھی ہے اور یہ حق ادا نہ کرنے والوں کو سخت وعید بھی سنائی گئی ہے، جیسا کہ بجہ ذیل احادیث میں مروی ہے۔ فضل الصلاة علی النبی ﷺ [حدیث: 11] مشكاة مع تحقيق الألباني، رقم الحديث (925)
ن یصبح عشراً، و حين يمسي عشراً، القيامة ) ٹ [484] الحديث [6233]
اسلام اور احترام نبوت ﷺ
بھی کی ہے پھر یہ آیت تلاوت کی واستغفر لذنبك وللمؤمنين اور اے محبوب اپنے خاصوں اور عام والمؤمنات مسلمان مردوں اور عورتوں کے گناہوں (محمد، ۱۹) کی معافی مانگو (مسلم، ۲۳۳۶)
تو جس نے رجوع کر کے اسلام قبول کر لیا اور اس کے لئے حضور ﷺ نے دعا مغفرت فرمادی تو آپ ﷺ کی دعا سے گناہ معاف ہو گئے جو اس کے اور اللہ تعالیٰ کے درمیان تھے حالانکہ یہ حضور ﷺ کے ساتھ مخصوص نہیں تھے تخصیص کی صورت میں بطریق اولیٰ معاف ہو جائیں گے کیونکہ جو شخص شفاعت کرتا ہے پہلے وہ خود راضی ہوتا ہے
- ۳۔ اس کا حضور ﷺ کا امتی ہونا ثابت ہو جائے گا اور آپ ﷺ نے شفاعت
امت کے لئے روز قیامت دعا محفوظ رکھی ہوئی ہے تو روز قیامت آپ ﷺ کا ارادہ شفاعت ہی ہے اگر کسی مسلمان پر آپ ﷺ کا حق یوں باقی ہے کہ روز قیامت اس سے مطالبہ ہوگا جس کے سبب وہ جنت میں نہیں جائے گا کیونکہ دنیا میں اس پر گرفت نہیں ہوئی لہذا وہاں معافی نہیں ہوگی لیکن ہم تو یہ عقیدہ رکھتے ہیں حضور ﷺ تو کسی دوسرے کے حق کی وجہ سے امتی کو جنت سے محروم رہنے سے خوش نہیں چہ جائیکہ اپنے حق کی وجہ سے اس محرومی پر خوش ہوں لہذا وہاں آپ کوئی مطالبہ نہیں فرمائیں گے بلکہ اس کی بخشش کے لئے کوشاں ہونگے
- ۴۔ آپ ﷺ کا حکم ہے، میری سنت وطریقہ کو اپناؤ۔ اور آپ ﷺ کا مسلم
طریقہ یہی ہے کہ مسلمانوں کو قتل نہ کیا جائے اگر یہ جائز ہوتا تو آپ ﷺ اسے ضرور بیان فرما دیتے
اسلام اور احترام نبوت ﷺ
- ۵۔ آپ ﷺ کے بارے میں ہم
امت سے اس کے علاوہ اور آپ کا تع
- ۶۔ امت پر آپ ﷺ کی کمال شفقت
- ۷۔ بعد کے حکمران ، خلق سے متعلق
(گستاخی) کا استیفاء اگر اس لئے ہ میں حکمران کے آپ کے قائم مقام ہو اگر بطور مصلحت خلق ہے تو ضروری نہ نہ ہوتا حالانکہ آپ ﷺ نے ابن ابی اس نے انبیاء، رسل اور وحی کے امین تو پھر اسلام لانے سے یہ ساقط ہو جا فرمان ہے اسلام سابقہ گناہ مٹا دیتا
يغفر لهم ماقد سلف
(الانفال۔ ۳۸)
سوال۔ گستاخی ، زنا اور قتل کی طر محض ارتداد وہ اعتقاد ہے جو اسلام
جواب ۔ گستاخی پر قتل بھی اسی و ہے اور وہ اسلام لانے سے زائل
سوال۔ آپ نے فصل اول کے ب قتل ہے اور اسے عمومی کفر کا سبب ن
اسلام اور احترام نبوت ﷺ
- ۵۔ آپ ﷺ کے بارے میں ہم علم رکھتے ہیں کہ اسلام لانے پر خوش ہو جاتے اور
امت سے اس کے علاوہ اور آپ کا تقاضا ہی نہ تھا
- ۶۔ امت پر آپ ﷺ کی کمال شفقت بھی اس کا درس دیتی ہے
- ۷۔ بعد کے حکمران، خلق سے متعلق امور میں آپ ﷺ کے نائب ہیں اس حق
(گستاخی) کا استیفاء اگر اس لئے ہے کہ یہ خاص حضور ﷺ کا ہی حق ہے تو اس میں حکمران کے آپ کے قائم مقام ہونے پر دلیل کی ضرورت ہے اور وہ موجود نہیں اور اگر بطور مصلحت خلق ہے تو ضروری تھا آپ ﷺ کی ظاہری حیات میں اس کا اسقاط نہ ہوتا حالانکہ آپ ﷺ نے ابن ابی سرح کو معاف کیا ہے اگر یہ اللہ تعالیٰ کا حق ہے کہ اس نے انبیاء، رسل اور وحی کے امین لوگوں پر اور دین پر طعن کیا جو خالص اللہ کا حق ہے تو پھر اسلام لانے سے یہ ساقط ہو جائے گا کیونکہ اس کے کامل نمائندہ نبی ﷺ کا فرمان ہے اسلام سابقہ گناہ مٹا دیتا ہے، خود باری تعالیٰ کا فرمان ہے
قل للذین کفروا ان ینتھوا تم کافروں سے فرماؤ اگر وہ باز رہے جو ہو یغفر لھم ماقد سلف گزرا وہ انھیں معاف فرما دیا جائے گا (الانفال۔ ۳۸)
سوال۔ گستاخی، زنا اور قتل کی طرح جرم ہے اس کا اثر اسلام لانے سے ختم نہیں ہوتا بخلاف محض ارتداد کہ وہ اعتقاد ہے جو اسلام لانے سے زائل ہو جاتا ہے؟
جواب۔ گستاخی پر قتل بھی اسی وجہ سے ہے کیونکہ یہ خبث باطن اور بدعقیدگی پر دال ہے اور نہ وہ اسلام لانے سے زائل ہو جاتی ہے
سوال۔ آپ نے فصل اول کے مسئلہ ثانیہ میں لکھا گستاخی (ایسا کفر ہے جو) تنہا موجب قتل ہے اور اسے عمومی کفر کی طرح نہ سمجھا جائے یعنی اس سے خاص کفر لاحق ہو جاتا ہے
اسلام اور احترام نبوت ﷺ
جواب۔ ہاں اس میں کچھ تفصیل ہے گستاخی خاص کفر ہے لیکن اس میں دو اعتبار ہیں ۱۔ اس کا کفر ہونا، یہ اسلام سے زائل ہو جائے گا جیسے ردت قطع اسلام ہے اور وہ معرض وجود میں آتی اور اس کا زوال ممکن نہ تھا اس کے باوجود اس کا اثر اسلام سے زائل ہو جاتا ہے اور وہ دائمی کفر تھا ۲۔ کفر سے قطع نظر اس کا فقط گستاخی ہونا، یہ چیز بلاشبہ اسلام سے ساقط نہیں ہوتی لیکن فقط اس اعتبار سے قتل کا حکم محتاج دلیل ہے پیچھے ہم نے جو دلائل ذکر کیے مثلاً من سب نبياً فاقتلوہ جو کسی نبی کی گستاخی کرے اسے قتل کرو اور دیگر دلائل کا بھی تقاضا ہے کہ تنہا گستاخی پر حکم مرتب ہو لیکن گستاخی کے دو پہلو ہیں ۱۔ اس گستاخی کا کفر ہونا جو اسلام سے زائل ہو جاتا ہے ۲۔ مطلقاً گستاخی، ضابطہ یہ ہے کہ جب محل نص میں کوئی معتبر معنی (علت) ہو تو اسے بالکل لغو قرار دینا جائز نہیں ہوتا یہاں جہت کفر نہایت ہی معتبر اور علت یا جز علت بننے کی صلاحیت رکھتی ہے تو اس سے بالکل اعراض کر کے مطلق گستاخی کو ہی علت بنانا دلیل پر موقوف ہے
قتل کی دو علتیں
اور یہ بات ہماری سابقہ گفتگو کے منافی نہیں ہوگی کہ قتل کی دو علتیں ہیں ۱۔ عمومی ردت ۲۔ گستاخی خاص، اس لئے کہ ہماری مراد خاص گستاخی ہے جو سراسر کفر ہے اور وہ ان دونوں مذکورہ معانی پر مشتمل ہے ۱۔ خبث کفر بحیثیت کفر ۲۔ خبث گستاخی بحیثیت گستاخی ، کہ اگر فرض کریں کہ کفر نہیں تو پھر بھی قتل کی مقتضی ہو، یہی وہ چیز ہے جس کا اثر بعد از اسلام باقی ہوتا ہے، بعد از اسلام مدعی قتل کے لئے اس کا اثبات ضروری ہے حالانکہ اس کا اثبات پریشان کن اور رونے کا مقام ہے (کیونکہ خون مسلم کا معاملہ ہے) یا اس میں متعدد احتمالات ہیں بعد
اسلام اور احترام نبوت ﷺ
از اسلام قتل سے رک جانا ہی اولی ہے، عصمت خون کا خیال کیا جائے اور حساب مجرم اللہ کے سپرد کر دیا جائے
ہمارا قول، اگر ہم فرض کر لیں کہ گستاخی کفر نہیں، یہ بطور فرض ہے جیسا کہ محال اشیاء میں بھی ایسا کیا جا سکتا ہے ورنہ گستاخی کے کفر ہونے میں ہرگز شک نہیں ہاں دو جہتیں ہیں اور عقل دونوں میں امتیاز کر سکتی ہے ہمارا مقصد ایک فرضی جہت کو آشکار کرنا تھا
سوال۔ محض گستاخی میں قطع نظر کہ وہ سبب کفر ہے، کیا ثبوت قتل ہے یا نہیں؟
جواب۔ ہاں احتمال ہے لیکن اثبات قتل کے لئے واضح طور پر شرعی دلیل ضروری ہے تو جب ہم ایسی دلیل نہیں پاتے بلکہ ہر مسلمان کی عصمت و حرمت پر قوی دلائل پاتے ہیں تو اولی یہی ہے کہ ان سے استدلال کرتے ہوئے قتل سے رکنا لازم قرار دیا جائے
سوال۔ کیا یہ قول ہر کلمہ پڑھنے والے کے لئے ہے یا اس کے بارے میں ہے جس کے حسن و صحت اسلام پر دیگر قرائن بھی ہوں؟
جواب۔ یہی وہ چیز ہے جس پر ہم نے گفتگو کا وعدہ کیا تھا کہ گستاخ اور زندیق کے حکم میں قربت بیان کریں گے کیونکہ گستاخ میں دو ماخذ ہیں ۱۔ حق آدمی ۲۔ زندیق ہونا
مصنف کی دعا
آگے بڑھنے سے پہلے بندہ اپنے رب کے حضور مدد کی التجا کرتا ہے، اے آسمانوں اور زمین کے پیدا فرمانے والے، غیب و حاضر کا علم رکھنے والے، اختلاف کے وقت اپنے بندوں میں فیصلہ فرمانے والے اس اختلافی مسئلہ پر حق کا اذن عطا فرما کیونکہ تو ہی صراط مستقیم کی طرف رہنمائی فرماتا ہے میں تجھ سے ہر ٹیڑھ پن اور خواہش
ین یصبح عشرا، و حین یمسي عشرا، یوم القیامة ) یث [484] الحدیث 6233]
کہ پڑھیں تو یہ فوائد و ثمرات ملیں گے نہ پڑھیں تو ہماری مرضی بلکہ یہ معاملہ بھی گنبھیر ہے۔ یہ صرف حب مصطفیٰ ﷺ کا تقاضا ہی نہیں بلکہ نبی اکرم ﷺ کا حق بھی ہے اور یہ حق ادا نہ کرنے والوں کو سخت وعید بھی سنائی گئی ہے، جیسا کہ مندرجہ ذیل احادیث میں مروی ہے۔
فضل الصلوٰۃ علی النبی ﷺ [حدیث: 11] مشکاۃ مع تحقیق الألباني، رقم الحدیث (925)
۱۴۶ اسلام اور احترام نبوت ﷺ
نفس سے محفوظ رہنا مانگتا ہوں، اس مقام عظیم پر میرے دل زبان اور قلم کو خطأ حکم سے محفوظ فرما، تو ہر شئ پر قادر ہے تیرے سوا کوئی محفوظ رکھنے والا نہیں، اب میں اللہ تعالیٰ کی توفیق سے گفتگو کرتا ہوں جس آدمی کے حسن وصحت صفا باطن وظاہر، اللہ تعالیٰ کے ساتھ اخلاص، اپنی غلطی پر ندامت اور شرمندہ ہونے کا عہد جیسے قرائن ہوں اس سے سابقہ دلائل کی بنا پر سقوط قتل میں مجھے کوئی شک نہیں
خاص و الگ مقام
اس مقام پر جس ذات کا یہ حق ہے وہ تمام انسانوں بلکہ تمام مخلوق سے اللہ تعالیٰ کے ہاں اشرف واکرم ہے ان پر جنایت باعتبار نبوت ورسالت اللہ تعالیٰ پر جنایت ہے اور یہ بشریت سے خاص الگ مقام ہے اس وجہ سے اس کی سزا قتل ہے ورنہ کسی اور بشر میں ایسی سزا نہیں تو اس خاص بشر نے جو سید اولاد آدم ہیں کبھی کسی سے ذاتی انتقام نہیں لیا، صرف اور صرف آپ کی کوشش اللہ تعالیٰ کے حق کی خاطر تھی تو قتل میں آپ ﷺ کا حق، ثبوت وسقوط میں اللہ تعالیٰ کے حق کے تابع ہوگیا، جب اسلام لانے سے اللہ تعالیٰ کا حق ساقط ہوگیا تو تبعاً ثابت ہونے والا حق بھی ساقط ہو جائے گا
اسی طرح معاملہ ہے جب وہاں قرائن قاضی کی رہنمائی نہ کر رہے ہوں لیکن اللہ تعالیٰ تو اس کے حال سے آگاہ ہے تو یہ اللہ تعالیٰ کے ہاں اس کا حکم ہوگا اگرچہ ہم اس پر مطلع نہیں بلکہ وہ اپنا حال خود بھی جانتا ہے اور ہم جانتے ہیں کہ یہ اس کی طرح نہیں جو جانتا ہے اس نے شادی کے بعد زنا یا اس نے قتل کیا مگر قاضی اور مقتول کے ورثا اس سے آگاہ نہیں کیونکہ ایسی صورت میں اسلام کے باوجود قصاص لازم ہے
اسلام اور احترام نبوت ﷺ
رہا زیر بحث مسئلہ تو اس بخلاف زانی اور قاتل اس طرح قت اور اگر صدق پر قرائن ق کے باطن ودل کی کیفیت کو نہیں ج کیونکہ اس کی گستاخی اس کے کفر جس کے بارے میں علم ہو کہ یہ کفر جاتا ہے
اختلاف کی بنیاد
اسی شبہ کی بنا پر مالکی اور ح ہوئے اس کے قتل کا حکم دیا
شوافع اور احناف کا موقف
شوافع اور احناف کے ن گستاخ تو گستاخی اور اپنے دل کی اس شخص کی طرح نہیں ہوگا جس پر کو چھپا رہا ہے اگر یہ فرق درست اگر یہاں شبہ کا خیال کیا جائے تو اختلاف ہے اور صحیح یہی ہے تو بہ ک هلا شققت عن قلبه (مسلم دوسرا فرمان مبارک ہے
اسلام اور احترام نبوت ﷺ
رہا زیر بحث مسئلہ تو اس کے اور اللہ تعالیٰ کے درمیان قتل ساقط ہو جاتا ہے بخلاف زانی اور قاتل اس طرح قاضی کے ہاں اگر صدق پر قرائن موجود ہوں اور اگر صدق پر قرائن نہیں اور اسے قاضی کے پاس لایا گیا اور یہ تو اس کے باطن ودل کی کیفیت کو نہیں جان سکتا اس اعتبار سے مسئلہ زندیق کے مشابہ ہے کیونکہ اس کی گستاخی اس کے خبث باطن پر شاہد ہے تو یہ اس شخص کی طرح ہوگا جس کے بارے میں علم ہو کہ یہ کفر چھپا اور ایمان ظاہر کر رہا ہے اور اسے زندیق کہا جاتا ہے
اختلاف کی بنیاد
اسی شبہ کی بنا پر مالکی اور حنابلہ نے گستاخ کو زندیق کے ساتھ لاحق کرتے ہوئے اس کے قتل کا حکم دیا
شوافع اور احناف کا موقف
شوافع اور احناف کے کلام کا تقاضا یہ ہے کہ وہ اس شبہ کو نہیں مانتے کیونکہ گستاخ تو گستاخی اور اپنے دل کی بات کا اظہار کر رہا ہے لہٰذا یہ مرتد کی طرح ہوگا اور اس شخص کی طرح نہیں ہوگا جس پر گواہ ہیں کہ یہ ظاہر کچھ کر رہا ہے اور اپنے باطن مخالف کو چھپا رہا ہے اگر یہ فرق درست ہے (اور ظاہر بھی) تو اس کی توبہ بالیقین مقبول ہوگی اگر یہاں شبہ کا خیال کیا جائے تو مسئلہ زندیق قرار پائے گا اس کی قبولیت توبہ میں مشہور اختلاف ہے اور صحیح یہی ہے توبہ مقبول ہے کیونکہ آپ ﷺ کا فرمان ہے
(مسلم، ۹۶)
دوسرا فرمان مبارک ہے
ن يُصْبِحَ عَشْرًا، وَ حِيْنَ يُمْسِي عَشْرًا، الْقِيَامَةِ ) ث [484] دیث [6233]
ہاتھ پر ہیں تو یہ فوائد و ثمرات ملیں گے نہ پڑھیں تو ہماری مرضی بلکہ یہ معاملہ ی ضمیر ہے۔ یہ صرف حب مصطفیٰ ﷺ کا تقاضا ہی نہیں بلکہ نبی اکرم ﷺ ق بھی ہے اور یہ حق ادا نہ کرنے والوں کو سخت وعید بھی سنائی گئی ہے، جیسا کہ رج ذیل احادیث میں مروی ہے۔ فضل الصلوٰة على النبي ﷺ [حدیث: 11] مشكاة مع تحقيق الألباني، رقم الحديث (925)
اسلام اور احترام نبوت ﷺ ۱۴۸
امرت ان اقاتل حتى يقولوا مجھے لوگوں کے خلاف جہاد کا حکم دیا گیا ہے لا اله الا الله یہاں تک کہ وہ کلمہ طیبہ لا الہ الا اللہ محمد (بخاری و مسلم) رسول اللہ پڑھ لیں
اور زندیق سے ایمان ممکن ہے جب اس نے ایمان کا دعویٰ کیا اور اس کا علم فقط اسی کی طرف سے ہے تو اس کا قول مقبول ہوگا، مشہور اور مختصر میں منصوص مذہب امام شافعی یہی ہے
(مختصر المزنی، ۳۶۸/۸)
اہل عراق کا یہی مسلک ہے
(الوسيط، ۴۲۸/۶)
امام ابو حنیفہ سے بھی ایک یہی روایت ہے
(بدائع الصنائع، ۱۴۵/۷)
ہمارے نزدیک دوسرا قول ہے اس کی توبہ مقبول نہیں، امام مالک اور امام احمد کا یہی قول ہے اور اس پر استدلال یوں ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے متعدد بار منافقین کی گردن مارنے کی اجازت چاہی تو آپ نے ان کی علت کو مسترد نہیں فرمایا بلکہ ان کے قتل کا ترک دوسری علت کی بنا پر کیا
استدلال کا جواب: اس استدلال کا جواب یوں ہے حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اجازت ان میں چاہی تھی جن سے منافقانہ قول یا فعل صادر ہوا حالانکہ ہماری گفتگو اس سے رجوع کرنے والے میں ہے اور اس میں صدق کا احتمال بھی ہے، تو اسے ہم احتمال اسلام کے ہوتے قتل کیسے کریں گے؟ جب معاملہ ترک مع احتمال کفر اور قتل مع احتمال اسلام کے درمیان ہے تو اب ترک ہی لازم کیونکہ خون کی حرمت کا خیال ہونا چاہیے اور ہم نے دیکھا خود شارع علیہ السلام نے بہت سے کفار کو چھوڑ دیا اور قتل نہ کیا اور کسی بھی مسلمان کو آپ ﷺ نے کبھی قتل نہیں کروایا، فقط یہی چیز تنہا، قتل زندیق کے ترک پر کافی دلیل بشرطیکہ وہ مسلمان ہو جائے
اسلام اور احترام نبوت ﷺ
سوال:۔ وہ تو بچنے کا ذریعہ اختیار کر ہی خوف ختم ہوگا دوبارہ کفر کرلے گا
جواب:۔ ہم اس پر موثر تعزیر نافذ سے دوبارہ ایسا نہیں کرے گا اور شریعت نے اجازت نہ دی ہو دو) ہم قتل کریں جب ایسی نص فق سے اصلاح کی خاطر کوئی سزا مقرر
وجہ ثالث
ہمارے ہاں تیسرا قول کیا ہے اگر اسے قتل کے لئے پکڑ تائب ہو کر آگیا اور صدق پر قر میں گزری کہ قدرت سے پہلے تو البتہ یہ ہر لحاظ سے ا رہے کہ محاربہ، زنا کی طرح کا جائے گا اور یہاں کفر کی وجہ سے جاسکتا خصوصاً خون کی عصمت ضعیف قیاس کی وجہ سے خون معاملہ الگ ہے
صحیح ماخذ
جب یہ معلوم ہوگیا
ن يصبح عشراً، و حين يمسي عشراً، الْقِيَامَةِ ) ث [484] حديث: 6233]
وں کے خلاف جہاد کا حکم دیا گیا ہے تک کہ وہ کلمہ طیبہ لا الہ الا اللہ محمد پڑھ لیں ایمان کا دعویٰ کیا اور اس کا علم فقط مشہور اور مختصر میں منصوص مذہب
(المغنی، ۸/ ۴۶۸)
(الوسيط، ۶: ۴۲۸)
بدائع الصنائع، ۷: ۱۳۵)
مام مالک اور امام احمد کا یہی قول ہے عمر رضی اللہ عنہ نے متعدد بار منافقین نفاق کی علت کو مستر د نہیں فرمایا بلکہ ان
تیوں پر ہے حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فعل صادر ہوا حالانکہ ہماری گفتگو اس فاق کا احتمال بھی ہے، تو اسے ہم احتمال کہ ترک مع احتمال کفر اور قتل مع احتمال اکہ خون کی حرمت کا خیال ہونا چاہیے د سے کفار کو چھوڑ دیا اور قتل نہ کیا اور کسی ہا، فقط یہی چیز تھا، قتل زندیق کے
ھانے پر ہیں تو یہ فوائد و ثمرات ملیں گے نہ پڑھیں تو ہماری مرضی بلکہ یہ معاملہ ی ضمیر ہے۔ یہ صرف حب مصطفیٰ ﷺ کا تقاضا ہی نہیں بلکہ نبی اکرم ﷺ ق بھی ہے اور یہ حق ادا نہ کرنے والوں کو سخت وعید بھی سنائی گئی ہے، جیسا کہ رجہ ذیل احادیث میں مروی ہے۔ فضل الصلاة على النبي ﷺ [حديث: 11] مشكاة مع تحقيق الألباني، رقم الحديث (925)
اسلام اور احترام نبوت ﷺ سوال۔ وہ تو بچنے کا ذریعہ اختیار کر رہا ہے خوف قتل سے اسلام کا اظہار کر دے گا جیسے ہی خوف ختم ہوگا دوبارہ کفر کر لے گا؟ جواب۔ ہم اس پر موثر تعزیر نافذ کر سکتے ہیں اس تعزیری سزا اور تلوار کے خوف سے دوبارہ ایسا نہیں کرے گا اور پھر ہم ایسی سزا از خود نافذ بھی نہیں کر سکتے جس کی شریعت نے اجازت نہ دی ہو ، ہم تو شرع کے تابع ہیں وہ حکم دے (قتل کر دو) ہم قتل کریں جب ایسی نص نہ ہو تو ہم خاموشی اختیار کریں گے ہم اپنے طرف سے اصلاح کی خاطر کوئی سزا مقرر نہیں کر سکتے
وجہ ثالث
ہمارے ہاں تیسرا قول یہ ہے جسے استاذ ابو اسحاق اسفرائنی نے اختیار کیا ہے اگر اسے قتل کے لئے پکڑا اور اس نے توبہ کر لی تو توبہ مقبول نہیں، اگر وہ تائب ہو کر آگیا اور صدق پر قرائن بھی ہیں تو توبہ قبول، ان کی دلیل پیچھے محاربہ میں گزری کہ قدرت سے پہلے توبہ اور بعد میں توبہ میں فرق ہے
البتہ یہ ہر لحاظ سے اسے محاربہ میں شامل نہیں کرتے ، یہ بھی سامنے رہے کہ محاربہ، زنا کی طرح کا جرم ہے، اسلام کے باوجود ایسے آدمی کو قتل کیا جائے گا اور یہاں کفر کی وجہ سے قتل ہے لہذا اس کا الحاق حرابہ کے ساتھ نہیں کیا جاسکتا خصوصاً خون کی عصمت کے پیش نظر، تو لہذا ترک قتل کا قول ہی ہونا چاہیے ضعیف قیاس کی وجہ سے خون نہیں بہانے چاہیے ہاں کوئی نص یا دلیل قوی ہو تو معاملہ الگ ہے
صحیح ماخذ
جب یہ معلوم ہو گیا تو قاتلین قتل گستاخ کی صحیح دلیل اس کا زندیق کے
اسلام اور احترام نبوت ﷺ
ساتھ الحاق ہے کیونکہ گستاخی اس کے خبث باطن پر دال ہے جیسا کہ گواہی سے ثابت ہو جائے یہ چھپ کر کفر کرتا ہے تو اس سے وہ زندیق ثابت ہوجاتا ہے اس سے واضح ہو گیا قتل گستاخ اور زندیق کا ماخذ ایک ہے ہم نے پہلے تفصیل سے ذکر کیا اگر گستاخ کے صدق پر قرائن ہو تو توبہ مقبول ہوگی ورنہ اس میں تردد ہے، اصح یہی ہے توبہ مقبول، اسی طرح زندیق کا حکم ہے اگر ہم اس میں تشکیک کا شکار ہوں تو اختلاف ہوگا اگرچہ اصح قبول توبہ ہے اگر ہم نے کافی مدت اسے چیک کیا اور اس کے حسن اسلام پر قرائن ثابت ہو گئے تو بالیقین قتل کا اس سے ارتفاع ہو جائے گا جیسا کہ تالیف قلب والی جماعت نے اسلام کو کامل طور پر اپنا لیا اور خیار مسلمین میں شامل ہو گئے مثلاً حضرت حکیم بن حزام ، سہیل بن عمرو اور ، مالک بن عوف رضی اللہ عنہم حاصل یہ کہ گستاخ و زندیق پر اگر تشکیک کے قرائن یا اس کے خبث باطن کی تہمت ہو تو پھر حکم میں اختلاف ہے ہاں اقویٰ یہ ہے کہ ان کے اسلام کو قبول کر کے قتل کو ختم کر دیا جائے اور جب قرائن ان کے حسن اسلام پر شاہد ہوں تو پھر بالیقین اسلام مقبول اور قتل کا ارتفاع ہو جائے گا ایسے لوگوں کے قتل کا ہی حکم دیے رکھنا یہ ایسا جمود (غلط روش) ہے جس پر کوئی نص، ظاہر اور دلیل قوی نہیں
اخشى ان النبى ﷺ يكون محذور ہے کہ وہ قیامت ایسے قتل کے بدلے میں کہیں اول سائل عن دمه يوم القيامة سب سے پہلے رسول اللہ ﷺ ہی نہ پوچھ لیں
اور ہمیں یہ بھی یقین ہے کہ امام مالک اور ان کے ساتھ شامل دیگر ائمہ مسلمین محل تہمت کے علاوہ قتل کا فتویٰ نہیں دیتے ، امام مالک اور ان کے موافقین کے فتویٰ کا محل بھی یہی ہے
اسلام اور احترام نبوت ﷺ
ہم کافی عرصہ قبول توبہ گستاخ میں متوقف رہے اور ذہن عدم توبہ کی طرف مائل رہا اس کی بنیاد جیسے پیچھے گزرا امام فارسی نے اس پر اجماع کیا ہے اور پھر اس پر جو علت بیان کی گئی تھی وہ حق آدمی تھا حتی کہ اس موقعہ پر ہم نے خوب دقت نظر و فکر سے کام لیا تو اب یہی سامنے آیا کہ توبہ مقبول ہے اگر یہ درست ہے تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے اور اگر غلطی ہے تو ہماری ہے تو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ اس سے بری ہیں لیکن ہمارے علم و فہم میں جو کچھ آیا ہم اس کے مطابق شریعت کے پابند ہیں
مصنف کی دعا
اے اللہ تجھے علم ہے یہ وہ موقف ہے جس تک ہمارے علم و فہم کی رسائی ہوئی اس میں ہم نے کسی قسم کا خوف سامنے نہیں رکھا اور نہ ہی کسی کی تقلید کی ہے فقط تیری شریعت اور تیرے نبی ﷺ کی سنت، اخلاق، مکارم، رحمت، شفقت، اور رأفت، کو سامنے رکھتے ہوئے یہ نقطہ نظر اختیار کیا ہے اور آپ ﷺ کی ذات اقدس سے ہی ہمیں دنیا و آخرت کی خیر نصیب ہوتی ہے، اللہ تعالیٰ اپنے فضل و کرم سے ہمارا خاتمہ بلا تکلیف خیر و عافیت سے فرمائے اسی طرح ہمارے آباء امھات، اولاد اور اہل کا بھی ، وہی قریب اور سننے والا ہے
سوال۔ پیچھے تم نے حدیث ابوبکر کے تحت بیان کیا ہے حضور ﷺ کو اجازت ہے کہ وہ اذیت دینے والوں کو قتل کروا دیں بلکہ امام ابو داود نے امام احمد سے اس حدیث کے بارے میں پوچھا تو فرمایا سیدنا ابوبکر، رسول ﷺ کے حکم کے مطابق صرف ان تین کو قتل کروا سکتے تھے کفر بعد از ایمان، زنا بعد از احصان قتل نفس، بغیر نفس لیکن
ن يصبح عشرا، و حين يمسي عشرا، م الْقِيَامَةِ ) يث [484] ] لحديث [6233]
نہ پڑھیں تو یہ فوائد وثمرات ملیں گے نہ پڑھیں تو ہماری مرضی بلکہ یہ معاملہ ی مخیر ہے۔ یہ صرف حب مصطفی ﷺ کا تقاضا ہی نہیں بلکہ نبی اکرم ﷺ ق بھی ہے اور یہ حق ادا نہ کرنے والوں کو سخت وعید بھی سنائی گئی ہے، جیسا کہ کچھ ذیل احادیث میں مروی ہے۔ فضل الصلوۃ علی النبی ﷺ [حدیث: 11] مشکاۃ مع تحقيق الألباني، رقم الحدیث (925)
اسلام اور احترام نبوت ﷺ ۱۵۲
النبی ﷺ كان له ان يقتل حضور ﷺ کو قتل کی اجازت ہے
(مسائل امام احمد، ۲۲۶) اگر تو امام احمد کی مراد اذیت پہنچانے والے کا قتل ہے تو یہی ہم کہہ رہے ہیں اور اگر ان تین کے علاوہ اجازت ہے تو یہ آپ ﷺ کا خاصہ ہے کہ آپ ﷺ کسی بھی شخص کے قتل کا حکم دے سکتے ہیں اگر لوگ بظاہر نہ جانتے ہوں کہ فلاں شئ کی وجہ سے اس کا خون حلال ہوا ہے اور لوگوں پر آپ ﷺ کے حکم کی اطاعت لازم ہے کیونکہ آپ ﷺ اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق ہی حکم دیتے ہیں اور دونوں خصوصیات آپ ﷺ کے سوا کسی کو حاصل نہیں آپ ﷺ کے وصال کے بعد دوسری صورت کا در بند ہو گیا رہی اولین صورت جو آپ ﷺ کو اذیت پہنچائے اسے قتل کیا جائے اس کا در کھلا ہے آپ ﷺ کے حق کے حصول کے لئے حکمران آپ ﷺ کے قائم مقام ہیں
جواب ۔ جس نے آپ ﷺ کو گستاخی کے ذریعے تکلیف پہنچائی جسے ہم کفر قرار دیتے ہیں بلاشبہ جب تک وہ اسلام نہ لائے اسے قتل کیا جائے گا لیکن اگر کسی جاہل اور بدوی نے پریشان کیا اور اس سے مقصود تنقیص نہ تھی اور اسے کفر ہی قرار نہ دیا گیا ہو اگر مسلمان ہونے کے باوجود اس کا جواز قتل ثابت ہو تو یہ آپ کے خصائص سے ہوگا تو اور یہ ممکن ہے لیکن ہم بالیقین جانتے ہیں کہ آپ ﷺ نے ایسی حرکت پر ہرگز کسی مسلمان کو قتل نہیں کروایا، تو حدیث ابو بکر کو اذیت پہنچانے والے کلمات کفر پر محمول کیا جائے اور اکثر ایسے ہی تھے یا مفہوم یہ ہو کہ آپ ﷺ کو یہ حق حاصل تھا مگر آپ ﷺ نے اپنی شفقت اور چشم پوشی کی وجہ سے اسے اختیار نہ فرمایا لیکن آپ ﷺ کے بعد اس پر دو امور کی وجہ سے عمل نہیں کیا جا سکتا
اسلام اور احترام نبوت ﷺ
- ۱۔ آپ ﷺ کے طریقہ پر عمل کی
جائے
- ۲۔ یہ جواز کی صورت تھی نہ کہ لزوم
اور خصوصیات جو اللہ تعالیٰ نے فرمائے بعد کے حکمران ان میں
خاتمہ
اس مسئلہ پر اختتامی راہ اختیار کی ہے اگر گستاخ اسل مقبول اور قتل ساقط ہے لیکن یہ یہ راہ اختیار کر لی اور ظاہر و باطن نجات پائے گا لیکن ہمیں ایسی ( اللہ تعالی ہر مسلمان کا خاتمہ اچھ یہ اس میں بے ادبی ہے اور آس آپ ﷺ کی حمایت و حفاظ کرے، عیب، نقص یا کوئی ایسی ہدایت کی توفیق نہیں دیتا اسی وجہ کے محل ) صرف اسی بے ادبی ہم نے سنا اور دیکھا (اگر چہ وہ اپنے نبی کے حوالے سے غیر
اسلام اور احترام نبوت ﷺ
- ۱۔ آپ ﷺ کے طریقہ پر عمل کیا جانا چاہیے اس کی اقتدا کا تقاضا یہی ہے کہ قتل نہ کیا
جائے
- ۲۔ یہ جواز کی صورت تھی نہ کہ لزوم کی (ورنہ آپ ﷺ ترک نہ فرماتے) وہ جوازات
اور خصوصیات جو اللہ تعالیٰ نے اپنے حبیب ﷺ کی قدر و منزلت کی خاطر عطا فرمائے بعد کے حکمران ان میں آپ ﷺ کے نائب نہیں
خاتمہ
اس مسئلہ پر اختتامی گفتگو میں ہم یہ ضرور کہنا چاہتے ہیں کہ اگرچہ ہم نے یہی راہ اختیار کی ہے اگر گستاخ اسلام لے آیا اور اس کی صحت اسلام ثابت ہوگی تو توبہ مقبول اور قتل ساقط ہے لیکن یہ بالفرض، کہ اگر یہ صورت ہو اور یہ امر ممکن ہے جس نے یہ راہ اختیار کر لی اور ظاہر و باطن کو عند اللہ صاف کر لیا یہ اس کا حکم ہے اور وہ آخرت میں نجات پائے گا لیکن ہمیں ایسی بے ادبی کرنے والے کے سوء خاتمہ کا خوف ضرور ہے (اللہ تعالیٰ ہر مسلمان کا خاتمہ اچھا کرے) کیونکہ بارگاہ نبوی ﷺ جو عظیم بارگاہ ہے یہ اس میں بے ادبی ہے اور آپ ﷺ کے بارے میں اللہ تعالیٰ کی غیرت شدید اور آپ ﷺ کی حمایت و حفاظت کا ذمہ حاصل ہے تو جو آپ ﷺ کی گستاخی کرے، عیب، نقص یا کوئی ایسی چیز کرے اللہ تعالیٰ اسے ذلیل کر دیتا ہے اسے ایمان و ہدایت کی توفیق نہیں دیتا اسی وجہ سے بہت سے قلعے اور حفاظت گاہیں (یعنی بادشاہوں کے محل) صرف اسی بے ادبی سے برباد ہوگئے، ایسے بہت سے لوگوں کے بارے میں ہم نے سنا اور دیکھا (اگرچہ وہ دنیاوی قتل سے بچ گئے) لیکن ان کا خاتمہ بد ہوا اور یہ اپنے نبی کے حوالے سے غیرت الہی ہے کوئی نئی بات نہیں، جس نے بھی ایسا کیا ہم
ن يصبح عشرا، و حين يمسي عشرا، م الْقِيَامَةِ ) ث [484] ديث [6233]
کہ یہ پڑھیں تو یہ فوائد وثمرات ملیں گے نہ پڑھیں تو ہماری مرضی بلکہ یہ معاملہ ہی ٹھہرا ہے۔ یہ صرف حب مصطفیٰ ﷺ کا تقاضا ہی نہیں بلکہ نبی اکرم ﷺ کا حق بھی ہے اور یہ حق ادا نہ کرنے والوں کو سخت وعید بھی سنائی گئی ہے، جیسا کہ کچھ ذیل احادیث میں مروی ہے۔
[فضل الصلاة على النبي ﷺ [حديث: 11]
مشكاة مع تحقيق الألباني، رقم الحديث (925)
اسلام اور احترام نبوت ﷺ ۱۵۴ اسلام اور احترام نبوت ﷺ
مسئلہ ثانیہ
نے دیکھا وہ زندگی اور موت کے تمام امور میں ذلیل ہوا، لہذا بچو خوب بچو، تمام احتیاطی کوششوں کو بروئے کار لاؤ اور اپنی زبان کو حضرات انبیاء علیہم السلام کے بارے میں محفوظ کرو، ان کا ذکر تعظیم، اجلال، توقیر، اور صلاۃ وسلام کے ساتھ ہی کرو یہ ان کی تعظیم کا ایک ادنیٰ ذریعہ ہے، ہم نے جو اسلام کی وجہ سے حفاظت مسلمان کی بات کی ہے وہ بھی ان کے حکم حلال وحرام کی اتباع میں ہی کی ہے یہ بات دوسری کے منافی نہیں ہے
واللہ اعلم
ن يصبح عشراً، و حين يمسي عشراً، م القيامة )
ديث [484]
الحديث [6233]
خاتمہ پر پڑھیں تو یہ فوائد و ثمرات ملیں گے نہ پڑھیں تو ہماری مرضی بلکہ یہ معاملہ ی ضمیر ہے۔ یہ صرف حب مصطفیٰ ﷺ کا تقاضا ہی نہیں بلکہ نبی اکرم ﷺ حق بھی ہے اور یہ حق ادا نہ کرنے والوں کو سخت وعید بھی سنائی گئی ہے، جیسا کہ مندرجہ ذیل احادیث میں مروی ہے۔
فضل الصلاة على النبي ﷺ [حدیث: 11]
مشكاة مع تحقيق الألباني، رقم الحدیث (925)
۱۵۴ میں ذلیل ہوا، لہذا بچو خوب بچو، تمام ں کو حضرات انبیاء علیہم السلام کے بارے در صلاۃ و سلام کے ساتھ ہی کرو یہ ان کی تم کی وجہ سے حفاظت مسلمان کی بات کی ں ہی کی ہے یہ بات دوسری کے منافی واللہ اعلم
اسلام اور احترام نبوت ﷺ
مسئلہ ثانیہ
گستاخ سے توبہ کا مطالبہ
ن يُصْبِحَ عشرا، و حِينَ يمسِي عشرا، م الْقِيَامَةِ )
یث [484]
حديث [6233]
کہ نہ پڑھیں تو یہ فوائد و ثمرات ملیں گے نہ پڑھیں تو ہماری مرضی بلکہ یہ معاملہ ہی گھمبیر ہے۔ یہ صرف حب مصطفی ﷺ کا تقاضا ہی نہیں بلکہ نبی اکرم ﷺ کا حق بھی ہے اور یہ حق ادا نہ کرنے والوں کو سخت وعید بھی سنائی گئی ہے، جیسا کہ مندرجہ ذیل احادیث میں مروی ہے۔
فضل الصلوٰة على النبي ﷺ [حديث: 11]
مشكاة مع تحقيق الألباني، رقم الحديث (925)
اسلام اور احترام نبوت ﷺ
جو لوگ کہتے ہیں توبہ قبول نہیں مانتے ہیں ان سے ظاہر ہے کہ مرتدین کا فرد ہے، قاضی عیاض جب ہم کہتے ہیں کی طرح یہاں بھی اختلاف میں توبہ کے لزوم ، کیفیت ، اور مرتد سے توبہ کا تقاضا کیا جائے شیخ ابن القصار نے اجماع صحابہ نقل کیا ہے اور اس اور حضرت ابن مسعود رضی اللہ ، امام نخعی ، ثوری ، مالک اور ال رائے کا بھی یہی قول ہے، حض کے مطابق امام حسن فرماتے ہیں العزیز بن ابی مسلم (۱۶۴) سحنون نے معاذ سے انکار کیا ظاہر کا بھی یہی قول ہے اور ارتفاع نہیں ہو سکتا کیونکہ آپ من بدل دينه فاقتلوه حضرت عطاء سے منقول ہے
ن يصبح عشرا، و حين يمسي عشرا، م القيامة ) ث [484] حديث [6233]
نا کہ پڑھیں تو یہ فوائد و ثمرات ملیں گے نہ پڑھیں تو ہماری مرضی بلکہ یہ معاملہ ہی گنبھیر ہے۔ یہ صرف حب مصطفی ﷺ کا تقاضا ہی نہیں بلکہ نبی اکرم ﷺ کا حق بھی ہے اور یہ حق ادا نہ کرنے والوں کو سخت وعید بھی سنائی گئی ہے، جیسا کہ مندرجہ ذیل احادیث میں مروی ہے۔ فضل الصلوۃ علی النبی ﷺ [حدیث: 11] مشکاۃ مع تحقیق الألبانی، رقم الحدیث (925)
اسلام اور احترام نبوت ﷺ
جو لوگ کہتے ہیں توبہ قبول نہیں بلاشبہ ان کا قول، توبہ کا مطالبہ نہیں ہو سکتا لیکن جو توبہ مانتے ہیں ان سے ظاہر ہے کہ اس سے توبہ کا تقاضہ مانتے ہیں جیسے مرتد سے بلکہ یہ مرتدین کا فرد ہے، قاضی عیاضؒ لکھتے ہیں
جب ہم کہتے ہیں کہ گستاخ سے توبہ کا تقاضہ درست ہے تو مرتد کی توبہ کی طرح یہاں بھی اختلاف ہے کیونکہ ان کے درمیان کوئی فرق نہیں، اسلاف میں توبہ کے لزوم، کیفیت ، اور مدت میں اختلاف ہے، جمہور کی رائے یہ ہے کہ مرتد سے توبہ کا تقاضا کیا جائے
شیخ ابن القصار نے تقاضا توبہ میں قول حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی تصویب پر اجماع صحابہ نقل کیا ہے اور اس کا کسی نے بھی انکار نہیں کیا، حضرت عثمان، حضرت علی اور حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہم کی بھی یہی رائے ہے، حضرت عطا، ابن ابی رباح ، امام نخعی، ثوری، مالک اور ان کے تلامذہ ، اوزاعی، شافعی، احمد، اسحاق اور اصحاب رائے کا بھی یہی قول ہے، حضرت طاؤس، عبید ابن عمیر (م ۷۴ھ ) اور ایک روایت کے مطابق امام حسن فرماتے ہیں کہ اس سے توبہ کا تقاضہ نہیں کیا جائے گا، حضرت عبد العزیز بن ابی مسلم (۱۶۴) کا یہی قول ہے اور اسے امام معاذ نے نقل کیا ہے، امام سحنون نے معاذ سے انکار کیا ہے، طحاوی نے امام ابو یوسف سے بھی ذکر کیا ہے، اہل ظاہر کا بھی یہی قول ہے اور کہتے ہیں اس کی توبہ عند اللہ نافع ہے مگر اس سے قتل کا ارتفاع نہیں ہو سکتا کیونکہ آپ ﷺ کا فرمان ہے
من بدل دینه فاقتلوه جس نے اپنا دین بدلا اسے قتل کیا جائے گا
حضرت عطاء سے منقول ہے جو اسلام پر پیدا ہوا (اور پھر گستاخی کی ) اس سے توبہ کا
اسلام اور احترام نبوت ﷺ
تقاضا نہیں کیا جائے گا
مدت توبہ:
مذہب جمہور اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے مدت توبہ تین دن ہے ، امام شافعی کا ایک قول یہی ہے، امام مالک نے بھی اسے مستحسن قرار دیا اور فرمایا اسے موخر کرنے میں خیر ہی ہے، یہی امام احمد اور اسحاق کا قول ہے، امام مالک نے بھی فرمایا مرتد کے بارے میں میرا عمل حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے قول پر ہے اسے تین دن گرفتار کر کے ہر روز اسے توبہ کا کہا جائے اگر وہ توبہ کر لے تو فبہا ورنہ قتل کیا جائے ، ابن القصار کہتے ہیں تین دن موخر کرنے میں امام مالک سے دو روایات ہیں کہ یہ واجب ہے یا مستحب ، اصحاب رائے نے تین دن کو مستحسن کہا ہے
(فتح القدیر، ۳۰۸،۵)
حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے انھوں نے ایک عورت سے توبہ کا مطالبہ کیا اس کے انکار پر قتل کا حکم دیا، امام شافعی نے یہی کہا کہ ایک دفعہ ہی کافی ہے، مزنی نے اسے مستحسن کہا، امام زہری کہتے ہیں اسے تین دفعہ اسلام کا کہا جائے پھر انکار کرے تو قتل ، حضرت علی رضی اللہ عنہ سے ہے دو ماہ دیئے جائیں، امام نخعی کا کہنا ہے توبہ کا مطالبہ جاری رکھا جائے ، امام نووی نے اسی قول کو لیا جب تک امید ہے توبہ کی دعوت دی جائے
(المصنف، عبدالرزاق، ۶۶،۱۰)
شیخ ابن قصار نے امام ابو حنیفہ سے نقل کیا تین دنوں میں تین دفعہ یا تین اجتماعات میں ہر روز یا جمعہ کے روز ایک دفعہ توبہ کا مطالبہ کیا جائے ، کتاب محمد میں ابن القاسم سے ہے مرتد کو اسلام کی دعوت دی جائے انکار کی صورت میں قتل،
اسلام اور احترام نبوت ﷺ
دوران مدت اس کے ساتھ طرز عمل
دوران مدت اس کے ساتھ سلوک میں اختلاف ہے، کیا گرفتاری کے دنوں میں اس پر سختی یا تہدید کی جائے گی یا نہیں؟
امام مالک فرماتے ہیں اسے خوف یا بھوکا پیاسا نہیں رکھا جا سکتا اور ایسا کھانا دیا جائے جو نقصان دہ نہ ہو
شیخ اصبغ کہتے ہیں اس پر اسلام پیش کرتے ہوئے قتل سے ڈرایا جائے کتاب ابوالحسن قابسی میں ہے ان دنوں وعظ کرتے ہوئے اسے جنت و دوزخ کا بتایا جائے اور جب تک رجوع نہ کرے اس سے توبہ کا تقاضا کیا جائے حضور ﷺ نے نبھان سے توبہ کا تقاضا کیا حالانکہ وہ چار یا پانچ مرتبہ مرتد ہوا
ابن وہب نے امام مالک سے نقل کیا اس سے دائماً توبہ کا تقاضا کیا جائے اور یہی قول امام شافعی اور احمد کا ہے، ابن قاسم نے بھی اسے اختیار کیا
امام اسحاق فرماتے ہیں اسے چوتھی دفعہ ارتداد میں قتل کر دیا جائے، اصحاب رائے کہتے ہیں اگر چوتھی دفعہ ارتداد کرے تو بغیر تقاضا توبہ قتل کر دیا جائے گا اگر توبہ کر لے تو سخت سزا دی جائے اور جیل سے خالص توبہ تک نہ نکالا جائے
امام ابن منذر کہتے ہیں اگر پہلی دفعہ مرتد توبہ کر لے تو کسی نے بھی تعزیری سزا کا نہیں کہا امام مالک، شافعی اور امام کوفی کا یہی مذہب ہے (الشفاء ۲۵۸،۲ تا ۲۶۱ باختصار)
انھوں نے حضرت عطاء سے جو نقل کیا کہ جو اسلام پر پیدا ہوا اس سے توبہ کا مطالبہ نہیں کیا جائے گا امام احمد سے یہی مروی ہے لیکن ان دونوں سے مشہور اس کے خلاف ہے اور دونوں اس پر متفق ہیں کہ وہ مشرک اور نو مسلم تھا تو پھر توبہ کا مطالبہ کیا جائے گا
ن يصبح عشرا، و حين يمسي عشرا، م القيامة ) ث [484] حديث [6233]
طہ پر پڑھیں تو یہ فوائد و ثمرات ملیں گے نہ پڑھیں تو ہماری مرضی بلکہ یہ معاملہ ی ضمیر ہے۔ یہ صرف حب مصطفیٰ ﷺ کا تقاضا ہی نہیں بلکہ نبی اکرم ﷺ حق بھی ہے اور یہ حق ادا نہ کرنے والوں کو سخت وعید بھی سنائی گئی ہے، جیسا کہ درجہ ذیل احادیث میں مروی ہے۔ فضل الصلوة على النبي ﷺ [حديث: 11] مشكاة مع تحقيق الألباني، رقم الحديث (925)
اسلام اور احترام نبوت ﷺ
پھر قاضی نے جن سے عدم طلب توبہ کا قول نقل کیا ہے وہ کہتے ہیں اگر اس نے توبہ کر لی تو مقبول نہ ہوگی اور ہم نے بھی پہلے کہہ دیا تھا کہ بلا شبہ جو قبول توبہ کا انکار کرتے ہیں وہ توبہ کا تقاضا ہی نہیں کرتے گفتگو تو ان کے ہاں ہوگی جو توبہ مقبول مانتے ہیں تو یہ مرتد کا مقبول نہ ماننا بعید ہے امام حسن وغیرہ سے جو منقول ہے شاید وہ زندیق کے بارے میں ہو کیونکہ حضور ﷺ کی سیرت اور حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے فیصلوں سے معلوم ہے کہ مرتدین کی توبہ مقبول ہے، مسند احمد میں ہے
لا يقبل الله توبة عبد کفر بعد اللہ تعالیٰ اس کی توبہ قبول نہیں فرماتا جس اسلامه (مسند احمد: ۵۰۵) نے اسلام کے بعد کفر کیا
سنن ابن ماجہ میں ہے اللہ تعالیٰ اس مشرک کی توبہ قبول نہیں فرماتا جس نے اسلام کے بعد عملاً شرک کیا
حتى يفارق المشركين الى حتیٰ کہ وہ مشرکین سے جدا ہو کر المسلمين مسلمانوں میں آجائے
(سنن ابن ماجہ: ۲۵۳۶)
دونوں احادیث کا مفہوم یہ ہے کہ جب تک وہ مشرکین میں ہے حالانکہ وہاں سے نکل کر مسلمانوں کے پاس آنے پر وہ قادر تھا تو اس کا اسلام مقبول نہیں البتہ اس کے بعد مقبول ہوگا
قاضی عیاض کے کلام سے ہمارا مقصد یہ آشکار کرنا تھا کہ انھوں نے تصریح کی ہے کہ مرتد اور گستاخ برابر ہیں، ہمارے اصحاب کا اطلاق بھی اسی کا مقتضیٰ ہے کیونکہ انھوں نے گستاخی کو الفاظ ارتداد میں شمار کیا ہے اس کے بعد مرتد سے توبہ کے مطالبے پر جزم کیا اور اختلاف کیا کہ یہ مطالبہ لازم ہے یا مستحب؟ دو اقوال ہیں
اسلام اور احترام نبوت ﷺ
قول اول، توبہ کا مطا
یہی اصح ہے کہ مطا مطالبہ لازم ہے کیونکہ وہ اس اس کا ازالہ کر کے اسلام کی طر عبارت بھی اسی طرح ہے شیخ ابو اسحاق کی المہذب میں لا نه لا يرتد الا لشبه له فوجبت استتاب شبهة ( النكت للشيرازي
اس قول کے دلائل
- ا۔ اس قول کی دلیل بلکہ اس
حضرت ابو موسیٰ کی طرف پوچھا اور اس نے بتایا پھر یہ اسلام کے بعد اللہ تعالیٰ سے بلا کر اس کی گردن اڑادی فہ اس سے توبہ کا تقاضا کیا شا اللهم انى لم احضر ارض اذا بلغنى (
( كتاب الخراج لابی
اور پہلے تم پڑھ چکے ہو، شیخ
اسلام اور احترام نبوت ﷺ
قول اول، توبہ کا مطالبہ لازم
یہی اصح ہے کہ مطالبہ لازم ہے قاضی طبری اور قاضی رویانی وغیرہ نے کہا مطالبہ لازم ہے کیونکہ وہ اسلام کی وجہ سے ہی محترم تھا، بعض اوقات شبہ ہو سکتا ہے تو اس کا ازالہ کر کے اسلام کی طرف لوٹانا لازم ہے امام رافعی کی علت بیان کرنے والی عبارت بھی اسی طرح ہے
(فتح القدیر، ۱۱۶:۱۱)
شیخ ابو اسحاق کی المہذب میں یہ عبارت ہے لا نه لا يرتد الا لشبهة عرضت شبہ کی وجہ سے مرتد ہوا تو اب ازالہ شبہ له فوجبت استتابته لا زالة کے بعد مطالبہ توبہ لازم ہوگا شبهة
(النكت للشیرازی، ۳۰۹)
اس قول کے دلائل
- ا۔ اس قول کی دلیل بلکہ اس کی اقویٰ حجت یہ ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس
حضرت ابو موسیٰ کی طرف سے آدمی آیا ، اس سے آپ نے لوگوں کے بارے میں پوچھا اور اس نے بتایا پھر پوچھا تمہارے پاس کوئی نئی خبر ہے؟ کہنے لگا ایک آدمی نے اسلام کے بعد اللہ تعالیٰ سے کفر کیا، فرمایا تم نے اس کے ساتھ کیا کیا؟ عرض کیا، اسے بلا کر اس کی گردن اڑا دی فرمایا تم نے کیوں نہ اسے تین دن گرفتار کر کے کھانا کھلایا اور اس سے توبہ کا تقاضا کیا شاید وہ اللہ کے حکم کی طرف لوٹ آتا اللهم اني لم احضر ولم امر و لم اے اللہ تو گواہ ہو جا میں نہ وہاں موجود ارض اذا بلغنی (المؤطا، ۱۶) تھا نہ میں نے حکم دیا اور نہ ہی میں اس (كتاب الخراج لابي يوسف ، ۱۸) اطلاع پر راضی ہوا اور پہلے تم پڑھ چکے ہو، شیخ ابن القصار مالکی نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے اس قول کی
ن يصبح عشرا، و حين يمسي عشرا، م القيامة ) يث [484] حديث [6233]
کہ نہ پڑھیں تو یہ فوائد و ثمرات ملیں گے نہ پڑھیں تو ہماری مرضی بلکہ یہ معاملہ ہی گھمبیر ہے۔ یہ صرف حب مصطفی ﷺ کا تقاضا ہی نہیں بلکہ نبی اکرم ﷺ کا حق بھی ہے اور یہ حق ادا نہ کرنے والوں کو سخت وعید بھی سنائی گئی ہے، جیسا کہ درجہ ذیل احادیث میں مروی ہے۔ فضل الصلوة على النبی ﷺ [حدیث: 11] مشكاة مع تحقيق الألباني، رقم الحديث (925)
اسلام اور احترام نبوت ﷺ تصویب پر اجماع صحابہ نقل کر کے کہا اس کا کسی نے بھی انکار نہیں کیا
- ۲۔ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنھما سے ہے
یستتاب المرتد ثلاثاً مرتد سے تین دفعہ توبہ کا مطالبہ کیا (المصنف لابن ابی شیبه، ۵۸۲:۶) جائے
- ۳۔ امام دارقطنی نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنھا سے نقل کیا احد کے دن ایک عورت مرتد ہوئی
فامر النبی ﷺ ان تستتاب تو آپ ﷺ نے اس سے توبہ کے تقاضا فان تابت والا قتلت کا حکم دیا اگر توبہ کرے تو ٹھیک ورنہ قتل کر (سنن دارقطنی، ۱۱۸:۳) دیا جائے اس کے سند میں محمد بن عبدالملک انصاری ہے، امام احمد نے اس کے بارے میں فرمایا یہ جھوٹا اور احادیث گھڑنے والا ہے
(المیزان، ۶۳۱:۳)
- ۴۔ حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے ہے، ام مروان نامی عورت مرتد ہوئی آپ ﷺ نے
اس پر اسلام پیش کرنے کا حکم دیا فان رجعت والا قتلت اگر واپس آجائے تو ٹھیک ورنہ قتل کر دی (ایضاً) جائے اس کی سند میں معمر بن بکار ہے بقول امام عقیلی اس کی حدیث میں وہم ہوتا ہے
(الضعفاء۴، ۲۰۷)
- ۵۔ اسی صحابی سے اسی طرح کا واقعہ ایک اور عورت کا بھی منقول ہے (ایضاً)
لیکن اس کی سند میں عبداللہ بن اذینہ ہے جس پر ابن حبان نے جرح کی ہے
(المجروحین، ۱۸:۲)
اسلام اور احترام نبوت ﷺ
- ۶۔ قول ثانی۔ توبہ کا مطالبہ
امام ابو حنیفہ کا یہی قول اختیار کیا کیونکہ آپ ﷺ کا فرمان من بدل دینه فاقتلوه اور یہاں کافر اصلی سے عناد کا ظہور جواب۔ حدیث کے حوالہ سے صحابہ اس پر شاہد ہیں اور دوسری دلیل کے کفر، شبہ کی وجہ سے نہیں ہوتا بلکہ دی جائے اور اگر حربی مانگے تو دی
- ۱۔ امام ابو حنیفہ کا یہی قول ہے اگر
ہے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا ارشاد
- ۲۔ نہیں دی جائے گی، مختار یہی ہے
یہاں تاجیل سے مراد تین دن کا خواہ لازم مانیں یا مستحب، مصنف
- ۱۔ ارشاد حضرت عمر رضی اللہ عنہ
کو اختیار کیا
- ۲۔ اس وقت توبہ کا تقاضا کیا جائے
مہلت نہ دی جائے امام مالک نے
اسلام اور احترام نبوت ﷺ
۶۔ قول ثانی ۔ توبہ کا مطالبہ مستحب
امام ابو حنیفہ کا یہی قول ہے اور امام ابن ابی ہریرہ (م:۳۴۵) نے بھی اسی کو اختیار کیا کیونکہ آپ ﷺ کا فرمان ہے
من بدل دینہ فاقتلوہ جس نے دین بدل لیا اسے قتل کر دیا جائے
اور یہاں کافر اصلی سے عناد کا ظہور ہوا ہے لہٰذا طلب توبہ لازم نہیں بلکہ مستحب ہے
جواب۔ حدیث کے حوالہ سے عرض یہ ہے کہ یہ طلب توبہ سے مانع نہیں کیونکہ اقوال صحابہ اس پر شاہد ہیں
اور دوسری دلیل کے جواب میں شیخ ابو اسحاق وغیرہ نے کہا کافر اصلی حربی کا کفر، شبہ کی وجہ سے نہیں ہوتا بخلاف مرتد کے، یہی وجہ ہے کہ اگر مرتد مہلت مانگے تو دی جائے اور اگر حربی مانگے تو نہ دی جائے مسئلہ مہلت میں دو اقوال ہیں
- ا۔ امام ابو حنیفہ کا یہی قول ہے اگر وہ مطالبہ کرلے تو اسے تین دن تک مہلت دینا لازم
ہے حضرت عمر ؓ کا ارشاد اس پر شاہد ہے
- ۲۔ نہیں دی جائے گی مختار یہی ہے جیسا کہ تین کے بعد مہلت مانگے
(الروضہ، ۱: ۷۲)
یہاں تاجیل سے مراد تین دن کی مدت ہے رہا اول اختلاف تو وہ اصل توبہ میں ہے تو خواہ لازم مانیں یا مستحب، مدت مہلت میں دو اقوال ہونگے
- ا۔ ارشاد حضرت عمر ؓ کی بنا پر تین دن ہے اور یہی اصح ہے، امام مزنی نے اسی
کو اختیار کیا
- ۲۔ اس وقت توبہ کا تقاضا کیا جائے اگر توبہ کرے تو ٹھیک ہے ورنہ قتل کر دیا جائے اور
مہلت نہ دی جائے امام مالک اور امام احمد کا قول، قول اول ہے، امام ابو حنیفہ بھی یہی
اسلام اور احترام نبوت ﷺ
کہتے ہیں جس پر کلام قاضی عیاض میں تصریح آچکی ہے
دوران مہلت گرفتاری
بالاتفاق دوران مہلت اسے گرفتار ہی رکھا جائے گا اور اگر اسے توبہ سے یا وقت مہلت گزرنے سے پہلے قتل کر دیا گیا تو کوئی شئی لازم نہ ہوگی نہ قصاص، نہ دیت اور نہ کفارہ
ہاں وجوب طلب توبہ کے قائلین کے ہاں قاتل گناہ گار ہوگا اگر طلب توبہ سے پہلے کسی اجنبی نے اسے زخمی کر دیا پھر اسلام لا کر فوت ہو گیا تو کوئی ضمان نہ ہوگی کیونکہ قطع مباح پر ضمانت نہیں ہوتی جیسے کہ قطع سارق، امام شافعی اور ان کے اصحاب کا یہی قول ہے اگر وہ کہے میرے شبہات کے لئے مناظرہ کرو؟ غزالی کے نزدیک نہ کرنا اصح ہے
(الوسیط ۲: ۴۶۹)
لیکن ہمارے نزدیک مختار اس سے مناظرہ کرنا ہے بشرطیکہ اس کا مقصد طوالت و جھگڑا نہ ہو اگرچہ ہمارے اصحاب نے ایک صورت میں مناظرہ کی تصریح کی ہے
عدم طلب توبہ پر دلیل
کچھ نے کہا عدم طلب توبہ اس دلیل پر لازم نہیں کہ صحت کے ساتھ ثابت ہے حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ، حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ کے ہاں تشریف لائے وہاں بندھا ہوا آدمی دیکھا تو پوچھا یہ کون ہے بتایا یہ یہودی تھا مسلمان ہو گیا پھر اپنے دین بد کی طرف لوٹ کر یہودی ہو گیا، فرمایا میں تو اسے قتل کیے بغیر نہیں بیٹھوں گا کیونکہ یہی اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کا فیصلہ ہے، یہ بات انھوں نے تین دفعہ کہی تو قتل کا حکم دیا گیا
(البخاری: ۴۳۵۳)
اسلام اور احترام نبوت ﷺ
لیکن سنن ابودود میں بعض اسناد سے ہے کہ اس سے پہلے اس سے توبہ کا مطالبہ کیا گیا تھا
(سنن ابودود ، ۴۳۵۵)
بعض میں ہے اس کی گردن اڑانے تک سواری سے نہ اترے اور انھوں نے توبہ کا تقاضا نہ کیا
(ایضاً ، ۴۳۵۷)
ایک اور روایت میں ہے امام ابودود کہتے ہیں طلب توبہ کا ذکر ہی نہیں ہوا
(ایضاً ۴۳۵۶)
امام بیہقی نے تین دن تک طلب توبہ کے بارے میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا قول نقل کیا اور لکھا ، امام شافعی کا قول قدیم یہی ہے پھر دوسرے قول میں کہا ،حضور ﷺ سے ثابت ہے خون تین سے حلال ہو جاتا ہے کفر بعد از ایمان الخ اور آپ نے تاخیر کا وقت معین نہیں فرمایا اور حضرت عمر والی روایت منقطع ہونے کی وجہ سے ثابت نہیں پھر اسے استحباب پر محمول کیا کیونکہ تین دن سے پہلے قتل کرنے والے پر وہ بھی کوئی شئی لازم نہیں کرتے
امام بیہقی کا یہ کلام بتا رہا ہے تین دن تک طلب توبہ کا لزوم امام کا قدیم قول ہے اور جدید مستحب کا ہے اور اسی وقت مطالبہ توبہ جسے (رافعی نے اصح کہا) سے خاموش ہے، یہ کلام بتا رہا ہے کہ تین دن تک جواز تاخیر قطعی ہے لیکن رافعی کی عبارت اس سے خاموش بلکہ وہ تو بتا رہی ہے کہ اصح یہ ہے کہ تاخیر جائز ہی نہیں کیونکہ انھوں نے کہا فی الفور توبہ طلب کی جائے اگر کر لے تو ٹھیک ورنہ مہلت دیئے بغیر اسے قتل کر دیا جائے
امام منذر فرماتے ہیں اس مسئلہ میں امام شافعی کے اقوال مختلف ہے، کتاب
اسلام اور احترام نبوت ﷺ
المرتد میں کہا، اسے وہیں ہی قتل کر دو، دوسری جگہ فرمایا، اسے تین دن تک گرفتار کر لو، شیخ مزنی نے قول اوّل کو پسند کیا ، امام منذر ہی نے فرمایا اس معاملہ میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے بھی مختلف اقوال مروی ہیں حضور ﷺ کے فرمان ’من بدل دینہ فاقتلوہ‘ یہ عمل لازم ہے ہاں مطالبہ توبہ بہتر ہے ہاں اگر وہاں توبہ کر لے تو ٹھیک ورنہ قتل کر دیا جائے گا
(الاشراف ،۳: ۱۵۶)
امام بیہقی نے حضرت ابوبکر، حضرت عثمان، اور حضرت علی رضی اللہ عنہم سے وقت معین کے بغیر طلب توبہ نقل کیا ہے
(السنن الکبریٰ، ۸: ۲۰۶)
شیخ ابن الصباغ (م،۴۷۷) نے لکھا امام شافعی نے فی الحال توبہ والے قول کی تائید کی ہے اور کہا اگر توبہ کر لے تو فبہا ورنہ اسے قتل کر دیا جائے ، اس مسئلہ میں مذہب شافعی کا خلاصہ یہی ہے کہ تین دن تک طلب توبہ قطعاً جائز ہے کلام بیہقی سے یہی ثابت ہو رہا ہے، کیا یہ لازم ہے یا مستحب ، دو اقوال ہیں جدید صحیح دوسرا قول ہے جواز کی سند وجوباً یا استحباباً، صحابہ کے فیصلے ہیں لہٰذا جواز، قطعی ہے بخلاف تین کے بعد شاذ قول کے علاوہ کچھ وارد نہیں، باقی اس قول میں ایسی مدت تک تاخیر واجب ہو گی جس کی انتہا نہیں
طلب توبہ کے بغیر
کیا بالکل طلب توبہ کے بغیر اس کا قتل جائز یا فی الفور طلب توبہ ضروری ہے؟ اس میں دو اقوال ہیں
- ۱۔ ایک جماعت کے ہاں اصح دوسرا ہے یعنی فی الحال طلب لازمی ہے
- ۲۔ ہمارے نزدیک اوّل مختار ہے کہ جائز ہے کیونکہ مذکورہ احادیث کی لزوم پر دلالت
اسلام اور احترام نبوت ﷺ
کمزور ہے اور اثر حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے ثبوت میں اختلاف ہے اور بقیہ صحابہ کے فیصلے جواز پر دال ہیں نہ کہ لزوم پر، ہاں اس کے استحباب میں کوئی شبہ نہیں
جب ہم کافر اصلی جسے دعوت اسلام پہنچی اور وہ قتال کے بارے میں جانتا ہے کے بارے میں کہتے ہیں جائز ہے تو یہ بطریق اولیٰ اس کا مستحق ہے کیونکہ اس کا شبہ نہایت ہی ضعیف، وجوب قتل کا علم کامل اور اس کا کفر سخت ہے یہی وجہ ہے کہ اگر مرتدین اور اصلی کفار کے درمیان تعارض آجائے تو ہم پہلے قتال مرتدین سے کریں گے اس پر امام شافعی اور ان کے تلامذہ کی تصریح ہے
(المہذب للبغوی، ۷: ۲۹۵)
شیخ ابو حامد نے اس پر اجماع نقل کیا
حکم گستاخ مرتد
یہ تمام مرتد غیر گستاخ سے طلب توبہ کا حکم تھا، رہا مرتد گستاخ تو پیچھے آپ نے پڑھا قاضی عیاض نے لکھا، گستاخ مرتد کا حکم بھی اسی مرتد کی طرح ہے، ہمارے اصحاب وغیرہ کی رائے بھی یہی ہے، یہ کہنا بھی ممکن ہے کہ اس سے بطریق اولیٰ طلب توبہ نہ کی جائے کیونکہ اس کا کفر اس سے سخت اور فحش ہے اور اس بات میں کسی کو شبہ نہیں ،اس کی تائید اس سے بھی ہوتی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ابن خطل ،مقیس بن صبابہ، ابن ابی سرح اور دیگر مباح الدم ہونے والوں سے اس دن توبہ کا تقاضا نہیں فرمایا
سوال ،طلب توبہ تو گرفتار سے کیا جائے گا اور یہ لوگ تو دارالحرب میں بھاگ چکے تھے؟
جواب ،ہمارے اصحاب نے تصریح کی ہے اگر مرتدین جمع ہوں تو ان کے خلاف جہاد کیا جائے اور قدرت کے بعد توبہ کا تقاضا کیا جائے ،ان پر فتح مکہ کے موقعہ پر قدرت حاصل ہو گئی تھی، ابن ابی سرح کو باقاعدہ پیش کیا گیا تھا
حين يصبح عشرا، و حين يمسي عشرا، يَوْمَ الْقِيَامَةِ )
حديث [484] ] الحديث [6233]
کہ پڑھیں تو یہ فوائد و ثمرات ملیں گے نہ پڑھیں تو ہماری مرضی بلکہ یہ معاملہ کی ضمیر ہے۔ یہ صرف حب مصطفی ﷺ کا تقاضا ہی نہیں بلکہ نبی اکرم ﷺ حق بھی ہے اور یہ حق ادا نہ کرنے والوں کو سخت وعید بھی سنائی گئی ہے، جیسا کہ مندرجہ ذیل احادیث میں مروی ہے۔
فضل الصلاة على النبي ﷺ [حديث: 11] مشكاة مع تحقيق الألباني، رقم الحديث (925)
اسلام اور احترام نبوت ﷺ
لیکن صحیح جواب
لیکن صحیح جواب ان تین میں سے ایک ہے
- ۱، طلب توبہ مستحب ہے نہ کہ واجب ، ان پر طویل مدت ہو گئی تھی اور ان کے رجوع کو
بعید محسوس کیا جاتا تھا اور ترک مستحب کے لئے اسقدر ہی کافی ہے
- ۲، یہ محارب تھے جیسا کہ مقیس بن صبابہ قتل اور مال چوری کر کے دارالحرب بھاگ گیا
تھا اسی طرح کا معاملہ ابن خطل کا ہے ہاں تمام کا معاملہ اس طرح کا نہیں ہے
- ۳، گستاخ سے اس کے فحش کفر کی وجہ سے طلب توبہ کی ہی نہیں جائے گی برابر
ہے ہم یہ کہیں کہ اس نے جلدی توبہ کر لی تو اس کی توبہ درست یہ بات نہ کہیں کیونکہ یہ محل احتمال ہے .
ہماری رائے یہ ہے کہ یہاں توبہ مقبول ہے وہاں طلب توبہ مستحب ہوگی تاکہ معاملہ واضح ہو جائے اور ہم کسی دھوکہ میں نہ رہیں کیونکہ ہو سکتا ہے اس نے اللہ تعالیٰ سے توبہ کر لی ہو اور ہم مسلمان کا قتل کر دیں، ہاں اسے قتل کا معلوم ہوا اور پھر اسلام کا اظہار نہ کرے تو معلوم ہو جائے گا یہ کفر پر ہی مصر ہے
بعض تابعین کی رائے
پہلے بعض تابعین سے آیا تھا کہ مرتد سے طلب توبہ نہیں اور نہ ہی اس کی توبہ مقبول ، ہمیں ڈر لگتا ہے کہیں قبول توبہ سے منع کی روایت غلط ہی نہ ہو، ممکن ہے الفاظ یہ ہوں لا يستتاب (توبہ طلب نہیں کی جائے گی) اور راوی نے گمان کر لیا ہو کہ اس سے لازم آتا ہے کہ توبہ مقبول نہیں حالانکہ پیچھے تفصیل سے گزرا یہ بات لازم نہیں آتی ، صواب و یقینی بات مرتد کے بارے میں یہی ہے کہ اس کی توبہ مقبول ہے
اسلام اور احترام نبوت ﷺ
بشرطیکہ وہ گستاخ اور زندیق نہ ہو، اس کے ایک روایت امام احمد سے ہے کہ اسلام پر پیدا ہونے والے کرنے والے اصحاب ان کے مذہب کو خوب
ين يصبح عشرا، و حين يمسي عشرا، م الْقِيَامَةِ )
حديث [484]
حديث [6233]
کہ پڑھیں تو یہ فوائد و ثمرات ہیں کہ نہ پڑھیں تو ہماری مرضی بلکہ یہ معاملہ کی تحقیر ہے۔ یہ صرف حب مصطفیٰ ﷺ کا تقاضا ہی نہیں بلکہ نبی اکرم ﷺ کا حق بھی ہے اور یہ حق ادا نہ کرنے والوں کو سخت وعید بھی سنائی گئی ہے، جیسا کہ مندرجہ ذیل احادیث میں مروی ہے۔
فضل الصلوٰة على النبي ﷺ [حديث: 11]
مشكاة مع تحقيق الألباني، رقم الحديث (925)
١٦٨ ہے ندامت ہو گئی تھی اور ان کے رجوع کو القدر ہی کافی ہے خا چوری کر کے دار الحرب بھاگ گیا معاملہ اس طرح کا نہیں ہے ب توبہ کی ہی نہیں جائے گی برابر اس کی توبہ درست یہ بات نہ کہیں
ہے وہاں طلب توبہ مستحب ہوگی ہیں کیونکہ ہو سکتا ہے اس نے اللہ وہاں اسے قتل کا معلوم ہوا اور پھر صبر ہے
طلب توبہ نہیں اور نہ ہی اس کی روایت غلط ہی نہ ہو، ممکن ہے گی) اور راوی نے گمان کر لیا ہو تفصیل سے گزرا یہ بات لازم ہے کہ اس کی توبہ مقبول ہے
اسلام اور احترام نبوت ﷺ بشرطیکہ وہ گستاخ اور زندیق نہ ہو، اس کے مخالف کسی سے یقینی بات ثابت نہیں البتہ ایک روایت امام احمد سے ہے کہ اسلام پر پیدا ہونے والے اور دوسرے میں فرق ہے اور ان سے نقل کرنے والے اصحاب ان کے مذہب کو خوب جانتے ہیں
ن يصبح عشرا، و حين يمسي عشرا، م القيامة )
ث [484]
ديث [6233]
نہ پڑھیں تو یہ فوائد وثمرات ملیں گے نہ پڑھیں تو ہماری مرضی بلکہ یہ معاملہ بڑا گمبھیر ہے۔ یہ صرف حب مصطفیٰ ﷺ کا تقاضا ہی نہیں بلکہ نبی اکرم ﷺ کا حق بھی ہے اور یہ حق ادا نہ کرنے والوں کو سخت وعید بھی سنائی گئی ہے، جیسا کہ مندرجہ ذیل احادیث میں مروی ہے۔
فضل الصلاة على النبي ﷺ [حديث: 11]
مشكاة مع تحقيق الألباني، رقم الحديث (925)
اسلام اور احترام نبوت ﷺ
باب ثانی
ذمی گستاخ کا حکم
اس میں آٹھ فصـ
- ۱۔ قتل کے بارے
- ۲۔ نقض عہد عما
- ۳۔ نقض وعدہ
- ۴۔ حکم قتل پر و
- ۵۔ کفر پر ر
- ۶۔ صحیح اور سا
- ۷۔ اسے اسـ
- ۸۔ کیا حاکم کـ
ن يصبح عشرا، و حين يمسي عشرا، م القيامة ) حديث [484] الحديث [6233]
گا کہ پڑھیں تو یہ فوائد و ثمرات ملیں گے نہ پڑھیں تو ہماری مرضی بلکہ یہ معاملہ بھی گھمبیر ہے۔ یہ صرف حب مصطفی ﷺ کا تقاضا ہی نہیں بلکہ نبی اکرم ﷺ کا حق بھی ہے اور یہ حق ادا نہ کرنے والوں کو سخت وعید بھی سنائی گئی ہے، جیسا کہ درجہ ذیل احادیث میں مروی ہے۔ فضل الصلاة على النبي ﷺ [حديث: 11] مشكاة مع تحقيق الألباني، رقم الحديث (925)
اسلام اور احترام نبوت ﷺ
باب ثانی
ذمی گستاخ کا حکم
اس میں آٹھ فصول ہے
- ۱۔ قتل کے بارے میں علماء کی تصریحات
- ۲۔ نقض عہد عبارات علماء میں
- ۳۔ نقض و عدم نقض سے عدم قتل لازم نہیں
- ۴۔ حکم قتل پر دلائل
- ۵۔ کفر پر رہتے ہوئے توبہ صحیح نہیں
- ۶۔ صحیح اور مسقط قتل، توبہ مع اسلام ہی ہے
- ۷۔ اسے اسلام کی دعوت دی جائے گی یا نہیں؟
- ۸۔ کیا حاکم قتل ساقط کر سکتا ہے؟
ن يصبح عشرا، و حين يمسي عشرا، م القيامة )
يث [484]
يث [6233]
نا نہ پڑھیں تو یہ فوائد وثمرات ملیں گے نہ پڑھیں تو ہماری مرضی بلکہ یہ معاملہ ی تعمیل ہے۔ یہ صرف حب مصطفیٰ ﷺ کا تقاضا ہی نہیں بلکہ نبی اکرم ﷺ حق بھی ہے اور یہ حق ادا نہ کرنے والوں کو سخت وعید بھی سنائی گئی ہے، جیسا کہ بلکہ ذیل احادیث میں مروی ہے۔
فضل الصلاة على النبي ﷺ [حديث: 11]
مشكاة مع تحقيق الألباني، رقم الحديث (925)
اسلام اور احترام نبوت ﷺ
فصل اوّل
حکم قتل اور ائمہ
- ١۔ امام ابوسلیمان رحمہ اللہ فرماتے
و نصاریٰ میں سے اگر کوئی نبی اک ، امام احمد نے بھی یہی فرمایا ہے اس کا ذمہ ختم، اور انھوں نے کف نے کہا، گستاخ ذمی کو قتل نہ کیا جا
- ٢۔ امام ابن منذر کہتے ہیں تما
مالک، لیث، احمد، اسحاق ان سب سے منقول ہے کہ ذمی گستاخ کو
انہوں نے ہی لکھا ان کے دلائ اللہ اور اس کے رسول کو اذیت نے اسے قتل کیا
- ٣۔ امام اسحاق بن راھویہ فرما
ثابت ہو جائے تو انھیں قتل کر ﷺ کی گستاخی سے بڑھ کر کیونکہ اس سے عہد ختم ہو جاتا ہ
- ۴۔ حضرت عمر بن عبدالعزیز نے
ن يصبح عشراً، و حين يمسي عشراً، م القيامة )
ث [484] الحديث [6233]
کہ پڑھیں تو یہ فوائد وثمرات ملیں گے نہ پڑھیں تو ہماری مرضی بلکہ یہ معاملہ سی ضمیر ہے۔ یہ صرف حب مصطفی ﷺ کا تقاضا ہی نہیں بلکہ نبی اکرم ﷺ حق بھی ہے اور یہ حق ادا نہ کرنے والوں کو سخت وعید بھی سنائی گئی ہے، جیسا کہ رجہ ذیل احادیث میں مروی ہے۔
فضل الصلوٰة على النبی ﷺ [حدیث: 11] مشكاة مع تحقيق الألباني، رقم الحديث (925)
اسلام اور احترام نبوت ﷺ
فصل اوّل
حکم قتل اور اہل علم کی تصریحات
- ۱۔ امام ابوسلیمان رحمہ اللہ فرماتے ہیں جب گستاخ ذمی ہو تو امام مالک نے فرمایا یہود
ونصاریٰ میں سے اگر کوئی نبی کی گستاخی کرے اور اسلام نہ لائے تو اسے قتل کیا جائے گا ، امام احمد نے بھی یہی فرمایا ہے، امام شافعی کہتے ہیں گستاخ ذمی کو قتل کیا جائے گا اور اس کا ذمہ ختم، اور انھوں نے کعب بن اشرف کے واقعہ سے استدلال کیا، امام ابو حنیفہ نے کہا، گستاخ ذمی کو قتل نہ کیا جائے کیونکہ وہ پہلے ہی شرک اعظم پر ہے
(معالم السنن)
- ۲۔ امام ابن منذر کہتے ہیں تمام اہل علم کا اتفاق ہے کہ گستاخ نبی کی سزا قتل ہے، امام
مالک، لیث، احمد، اسحاق ان میں شامل ہیں، امام شافعی کا مذہب یہی ہے، امام نعمان سے منقول ہے کہ ذمی گستاخ کو قتل نہ کیا جائے کیونکہ وہ شرک اعظم پر ہے
(الاشراف علی مذاہب اہل العلم:۴: ۱۴۰)
انھوں نے ہی لکھا ان کے دلائل میں واقعہ کعب بن اشرف بھی ہے کیونکہ اس نے اللہ اور اس کے رسول کو اذیت دی، حضور ﷺ کی اجازت سے ایک جماعت نے اسے قتل کیا
(ایضاً)
- ۳۔ امام اسحاق بن راھویہ فرماتے ہیں اگر گستاخی کریں اور ان سے سن لی جائے یا
ثابت ہو جائے تو انھیں قتل کر دیا جائے کچھ لوگوں نے خطا کی اور کہا کہ وہ رسول اللہ ﷺ کی گستاخی سے بڑھ کر شرک پر ہیں، شیخ اسحاق نے کہا انھیں قتل کیا جائے گا کیونکہ اس سے عہد ختم ہو جاتا ہے
- ۴۔ حضرت عمر بن عبد العزیز نے اسی طرح فیصلہ کیا
ين يصبح عشراً، وحين يمسي عشراً، وم الْقِيَامَةِ ) دیث [484] [ لحديث [6233]
کہ پڑھیں تو یہ فوائد وثمرات ملیں گے نہ پڑھیں تو ہماری مرضی بلکہ یہ معاملہ ہی گھمبیر ہے۔ یہ صرف حب مصطفیٰ ﷺ کا تقاضا ہی نہیں بلکہ نبی اکرم ﷺ کا حق بھی ہے اور یہ حق ادا نہ کرنے والوں کو سخت وعید بھی سنائی گئی ہے، جیسا کہ مندرجہ ذیل احادیث میں مروی ہے: فضل الصلوة على النبی ﷺ [حدیث: 11] مشكاة مع تحقيق الألبانى، رقم الحديث (925)
اسلام اور احترام نبوت ﷺ
- ۵۔ امام احمد نے بھی لزوم قتل اور نقض عہد کی تصریح کی ہے
- ۶۔ شیخ زمخشری (جو کہ حنفی ہیں) نے سورہ برأۃ کی تفسیر میں کہا، علماء کہتے ہیں ذمی دین
اسلام پر اعلانیہ طعن کرے تو اس کا قتل جائز ہے کیونکہ عہد اس پر تھا کہ وہ طعن نہیں کرے گا جب اس نے طعن کر دیا تو عہد ٹوٹ گیا اور ذمہ ختم ہو گیا
(الکشاف ۲: ۱۷۷)
- ۷۔ قاضی عیاض مالکی کہتے ہیں جب ذمی نے صراحۃً گستاخی یا طعن یا قدرومنزلت میں
تحقیر یا غلط طریقہ سے گفتگو کی تو کافر ہو جائے گا اگر اسلام نہ لائے تو ہمارے نزدیک اس کے قتل میں کوئی اختلاف نہیں کیونکہ ہم نے اسے اس پر ذمہ اور عہد نہیں دے رکھا اکثر علماء کا یہی قول ہے البتہ امام ابوحنیفہ، ثوری اور ان کے اہل کوفہ موافقین کہتے ہیں اسے قتل نہ کیا جائے وہ پہلے ہی اس سے بڑھ کر شرک میں مبتلا ہے ہاں تعزیری سزا نافذ کی جائے
- ۸۔ امام مالک نے کتاب ابن حبیب، مبسوط میں، ابن قاسم، ماجشون، ابن عبدالحکم اور
اصبغ نے کہا اہل ذمہ میں سے کسی نے ہمارے نبی یا کسی نبی علیہ السلام کی گستاخی کی اگر وہ اسلام نہیں لاتا تو اسے قتل کیا جائے گا، ابن القاسم نے العتبیہ میں لکھا محمد اور ابن سحنون کے ہاں بھی یہی ہے
- ۹۔ کتاب محمد میں ہے ہمیں اصحاب مالک نے خبر دی ہے کہ جس نے رسول اللہ ﷺ یا
کسی دوسرے نبی کی گستاخی کی خواہ وہ مسلمان ہو یا کافر اس کو قتل کیا جائے گا اور توبہ کا تقاضا بھی نہیں کیا جائے گا
- ۱۰۔ امام ابن وهب نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنھما سے نقل کیا ایک راہب نے رسول
اللہ ﷺ کی گستاخی کی انھوں نے فرمایا تم اسے اڑا کیوں نہیں دیتے؟
(الشفاء۲: ۲۶۲ تا ۲۶۴)
اسلام اور احترام نبوت ﷺ
- ۱۱۔ قاضی عیاض کہتے ہیں ہمارے
ایسا کفر صادر ہو تو پھر اختلاف ہے
شیخ عیسیٰ (م۲۱۲)
جس نے کہا محمد ہماری طرف نہیں نبی تو موسیٰ اور عیسیٰ تھے یا اس طر نے انھیں اسی عقیدہ پر قائم رہن کرتے ہوئے کہا یہ نبی نہیں یا انھوں نے اپنی طرف سے گھڑ لی
- ۱۲۔ شیخ ابن القاسم نے کہا، کسی
تمہارا دین تو گدھوں والا ہے تو محمد رسول اللہ ﷺ کا پاک میں سخت تعزیر اور طویل مدت جائے بشرطیکہ وہ اسلام نہ لائے بات نہ کی، ابن القاسم کہتے ہیں اسلام لائے
- ۱۳۔ شیخ ابن سحنون نے سوال
جس نے مؤذن سے کہا جنی ساتھ سخت سزا دی جائے
- ۱۴۔ النوادر میں امام سحنون
اسلام اور احترام نبوت ﷺ
- ۱۱۔ قاضی عیاض کہتے ہیں ہمارے اصحاب کی عبارت کا ظاہر بتاتا ہے کہ ذمی سے جب
ایسا کفر صادر ہو تو پھر اختلاف ہے
شیخ عیسیٰ (م ۲۱۲) نے ابن القاسم سے اس ذمی کے بارے میں نقل کیا جس نے کہا محمد ہماری طرف نہیں صرف تمہاری طرف مبعوث کیے گئے ہیں، ہمارے نبی تو موسیٰ اور عیسیٰ تھے یا اس طرح کی گفتگو کرے تو اس پر کوئی شئی نہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ نے انھیں اسی عقیدہ پر قائم رہنے دینے کی اجازت دی ہے اگر انھوں نے گستاخی کرتے ہوئے کہا یہ نبی نہیں یا انھیں رسول نہیں بنایا گیا یا ان پر قرآن نازل نہیں ہوا انھوں نے اپنی طرف سے گھڑ لیا ہے یا ایسی بات کی تو قتل کیے جائیں گے
- ۱۲۔ شیخ ابن القاسم نے کہا، کسی نصرانی نے کہا ہمارا دین تمہارے دین سے افضل ہے
تمہارا دین تو گدھوں والا ہے یا اس طرح کا جملہ بد کہا یا اذان کے کلمات، اشھد ان محمد رسول اللہ سن کر بکا، اس طرح کا تمہیں اللہ تعالیٰ نے عطا کیا تو ایسی صورت میں سخت تعزیر اور طویل مدت قید کی سزا دی جائے لیکن جس نے گالی دی اسے قتل کیا جائے بشرطیکہ وہ اسلام نہ لائے ، امام مالک نے متعدد دفعہ ایسا فرمایا اور طلب توبہ کی بات نہ کی، ابن القاسم کہتے ہیں میرے نزدیک اس کا معنیٰ یہ ہے کہ جب وہ خوشی سے اسلام لائے
- ۱۳۔ شیخ ابن سحنون نے سوالات سلیمان بن سالم میں اس یہودی کے بارے میں کہا
جس نے موذن سے کہا جب تو شہادت کہہ رہا تھا تو تو نے جھوٹ کہا اسے قید طویل کے ساتھ سخت سزا دی جائے
- ۱۴۔ النوادر میں امام سحنون سے ہے جس یہودی ونصرانی نے کسی نبی کو کفر کے علاوہ گالی
اسلام اور احترام نبوت ﷺ
دی اگر اسلام نہ لائے تو قتل کر دیا جائے
- ۱۵۔ قاضی عیاض فرماتے ہیں شیخ ابن سحنون نے خود اور اپنے والد سے جو کچھ نقل کیا ہے
قول ابن القاسم کے مخالف ہے کیونکہ انھوں نے کفر کی وجہ سے ان کی سزا میں تخفیف کی بات کی ہے لہذا اس میں تامل سے کام لیا جائے اور مدنی لوگوں سے جو کچھ مروی ہے یہ اس کے مخالف ہے
شیخ ابو مصعب زہری سے ہے میرے پاس نصرانی لایا گیا جس نے عیسیٰ کو محمد پر فضیلت دی اس کے بارے میں آرا مختلف تھی میں نے اسے شدید مارا کہ قتل کے قریب ہو گیا صرف ایک رات زندہ رہا، میں نے کہا اسے پاؤں سے گھسیٹ کر گندگی کے ڈھیر پر ڈال دو تو اسے کتوں نے نوچ کھایا
- ۱۶۔ نصرانی کے بارے میں سوال ہوا جس نے کہا تھا عیسیٰ نے محمد کو پیدا کیا فرمایا اسے
قتل کیا جائے
- ۱۷۔ شیخ ابن القاسم کہتے ہیں ہم نے امام مالک سے پوچھا، مصر میں نصرانی نے کہا ہے
محمد مسکین جنہیں جنت کی خبر دیتا ہے اور کہتا ہے کہ یہ اس وقت جنت میں ہے وہ تو اپنے آپ کا نفع نہیں کر سکتا جبکہ کتے اس کی ٹانگیں کاٹ دیں اگر وہ اسے قتل کر دیں تو لوگوں کو آرام آجائے امام مالک نے فرمایا اس کی گردن اڑا دی جائے پھر فرمایا میں ایسے بدبخت کا تذکرہ نہیں کرنا چاہتا تھا مگر اس وقت خاموشی جائز نہیں
- ۱۸۔ شیخ ابن کنانہ نے المبسوط میں لکھا جس یہودی و نصرانی نے آپ ﷺ کی گستاخی
کی بادشاہ اسے آگ میں جلا دے اگر چاہے تو پہلے قتل کرے پھر آگ میں پھینک دے یا اس کے برعکس بھی کرلے،
اسلام اور احترام نبوت ﷺ
امام مالک کی خدمت میں مصر سے اسی بارے میں فتویٰ پوچھا گیا اور آپ نے قتل کا حکم دیا، ابن کنانہ کہتے ہیں مجھے آپ نے فرمایا جوابا لکھوا ایسے شخص کی گردن اڑا دی جائے، میں نے کہا اے ابو عبد اللہ ساتھ لکھ دوں اسے آگ میں جلایا جائے ، فرمایا بالکل درست، یہ بد بخت اسی کے لائق ہے تو میں نے آپ کے سامنے ہی لکھا نہ آپ نے انکار فرمایا اور نہ مخالفت ، جواب چلا گیا اسی کے مطابق اسے قتل کر کے جلا دیا گیا
- ۱۹۔ شیخ عبید اللہ بن تیمی اور ابن لبابہ نے ہمارے اندلس کے علماء کے ساتھ اس نصرانی
کے قتل کا فتوی دیا جس نے ربوبیت الہی و نبوت عیسیٰ کی نفی اور حضور کی تکذیب کی تھی
(الشفاء، ۲۶۲:۲۶۴)
یہاں تک قاضی عیاض نے مالکیوں رحمھم اللہ تعالیٰ کے فتاویٰ نقل کیے ہیں اور یہ قارئین کے لئے کافی ہے
حنابلہ کے فتاویٰ
- ۱۔ امام احمد بن حنبل کہتے ہیں میں نے امام ابو عبد اللہ کو فرماتے سنا جس نے نبی کی
گستاخی یا تنقیص کی مسلمان تھا یا کافر اس کی سزا قتل ہے اور میرے نزدیک اسے قتل کیا جائے اور توبہ کا مطالبہ نہ کیا جائے میں نے ان سے یہ بھی سنا جس نے عہد توڑا اور اسلام میں ایسا کام کیا اس کی سزا قتل ہے اور ایسے لوگوں کو عہد اور ذمہ حاصل نہیں رہے گا
- ۲۔ شیخ ابو الصقر کہتے ہیں میں نے امام ابو عبد اللہ سے ذمی گستاخ کی سزا پوچھی تو فرمایا
اگر گواہی سے ثابت ہو جائے تو گستاخ کو قتل کیا جائے مسلمان ہو یا کافر ان دونوں کو شیخ خلال نے نقل کیا
اسلام اور احترام نبوت ﷺ
(احکام اہل الملل ۲۷۲ تا ۲۹۶)
- ۳۔ شیخ ابو طالب (م۴۴۲) کہتے ہیں امام احمد سے گستاخ کے بارے میں سوال ہوا
فرمایا اسے قتل کیا جائے اور اس کا عہد ختم
- ۴۔ شیخ حرب نے امام احمد سے یہی سوال و جواب نقل کیا ہے (ایضاً)
- ۵۔ شیخ حلوانی حنبلی (م۵۳۲) کہتے ہیں اللہ و رسول کا گستاخ اگر ذمی ہے تو اسے قتل
نہ کرنے کا احتمال ہے
لیکن ان کا یہ احتمال غلط ہے یہ نقض عہد کی وجہ سے انھیں عارض ہوا ہے ہم عنقریب بیان کریں گے کہ قتل لازم ہے خواہ ہم نقض عہد کا قول کریں یا نہ کریں لہٰذا حلوانی کا قول بلاشبہ غلط ہے، امام احمد اور ان کے اوّل تا آخر تمام اصحاب کی تصریحات اس کے مخالف ہیں، حلوانی کے علاوہ کسی نے اس احتمال کا ذکر نہیں کیا، ہم نے تین مذاہب شوافع ، مالکیہ اور حنابلہ میں سے کسی کا بھی اس کے خلاف قول نہیں دیکھا اور یہ خود بھی یہ قول نہیں کرتے محض انھیں احتمال نظر آیا، اگر وہ اس پر یقین کا اظہار کرتے تب بھی یہ قابل توجہ نہ تھا تو احتمال کی کیا حیثیت؟ ایسی چیز کو اختلافات میں ذکر کرنا ہی جائز نہیں نہ اقوال میں اور نہ ضعیف وجہ شاذ میں چہ جائیکہ اسے معتبر قرار دیا جائے
شوافع کے فتاویٰ
- ۱۔ ہمارے اصحاب شوافع رحمہم اللہ تعالیٰ سے پہلے امام شافعی، ابن منذر اور خطابی کی قتل
کے بارے میں تصریح آئی ہے
- ۲۔ ہمارے اصحاب عراق کے شیخ امام ابو حامد اسفرائنی نے اسباب نقض و عدم نقض پر
گفتگو کرنے کے بعد لکھا
جب اس نے ایسے فعل کا ارتکاب کیا جس سے ذمہ ختم نہیں ہوتا تو اس پر اس
اسلام اور احترام نبوت ﷺ
فعل کے مطابق سزا نافذ کریں گے اگر فعل، سبب قتل ہے مثلاً قتل، زنا، اور شادی شدہ تو قتل کریں گے اور اگر جلد کا موجب تھا مثلاً کنوارے کا زنا یا قذف تو کوڑے ہونگے اگر سبب تعزیر ہے مثلاً مسلمان کو دین سے ورغلاتا ہے تو تعزیر نافذ کریں گے کیونکہ اس نے احکام مسلمین کا التزام کر رکھا ہے ہاں ہم شراب پینے پر حد نہیں لگائیں گے کیونکہ ان کے ہاں مباح ہے اور شراب کو مباح سمجھ کر پیے اس پر حد نافذ نہیں ہوسکتی اگر اس نے اللہ تعالیٰ یا اس کی کتاب، دین یا حضور ﷺ کا ذکر غیر مناسب طریقہ وانداز میں کیا تو اب ذمہ ختم نہیں ہوگا البتہ ہم اس پر حد نافذ کریں گے جو قتل ہے کیونکہ جس نے اللہ تعالیٰ یا اس کے نبی کی گستاخی کی وہ قتل کا ہی مستحق ہے اگر اس نے ایسا فعل کیا جو نقض عہد کا سبب تھا تو نقض عہد کا حکم جاری کرتے ہوئے حد واجب نافذ کی جائے گی جیسا کہ پیچھے آیا اس لئے کہ اس نے احکام اسلام کا التزام کر رکھا تھا یہ تو حکم اسلام ہے پھر اگر نافذ حد قتل تھی تو پھر حد میں کلام نہیں اور اگر کوڑے یا تعزیر تھی تو امام شافعی فرماتے ہیں اسے اقرب دار الحرب میں بھیج دیا جائے
(الام ،۴: ۱۹۸)
دوسرے مقام پر فرمایا حاکم چاہے تو اسے قتل کر دے یا اسے غلام بنالے تو اس مسئلہ میں دو اقوال ہیں
- ۱۔ اس کے وطن بھجوا دیا جائے کیونکہ دارالاسلام میں امان کے تحت آیا تھا اب اگرچہ
عہد ختم ہو گیا اور ہمارے قبضہ میں ہے مگر ہم دھوکہ و غدر نہیں کریں گے بچے یا ذمی وغیرہ کی امان سے آئے تو امان اگرچہ درست نہیں مگر ہم دھوکہ نہیں کریں گے کیونکہ یہ امان کے بعد خیانت کی طرح ہے
- ۲۔ قتل وغلام کا اختیار ہے کیونکہ امان عقد ذمہ کی وجہ سے تھی ، جب عقد ختم تو امان ختم تو
ن يصبح عشراً، و حین یمسي عشراً، يوم القيامة )
[حدیث 484]
[الحديث 6233]
ہم پڑھیں تو یہ فوائد وثمرات ملیں گے نہ پڑھیں تو ہماری مرضی بلکہ یہ معاملہ ہی گھمبیر ہے۔ یہ صرف حب مصطفیٰ ﷺ کا تقاضا ہی نہیں بلکہ نبی اکرم ﷺ کا حق بھی ہے اور یہ حق ادا نہ کرنے والوں کو سخت وعید بھی سنائی گئی ہے، جیسا کہ مندرجہ ذیل احادیث میں مروی ہے۔ فضل الصلوة على النبي ﷺ [حدیث: 11] مشكاة مع تحقيق الألباني، رقم الحديث (925)
۱۸۰ اسلام اور احترام نبوت ﷺ وہ اب اس حربی کی طرح ہے جو چوری دارالاسلام میں آئے ، بچے اور مجنون وغیرہ کی امان سے آنے والے کا حکم یہ نہیں کیونکہ اس نے زیادتی کوئی نہیں کی ، جب ہم قتل وغلامی میں اختیار کی بات کرتے ہیں اگر وہ ان سے پہلے اسلام قبول کرلے تو اس کا خون محفوظ ہو جائے گا اور اب اسے غلام بھی نہیں بنایا جا سکتا اسیر کے مخالف ہے کیونکہ گرفتاری غلامی کا سبب بنا اگر غلام بن گیا اور بعد میں اسلام لایا تو اب وہ سابقہ غلامی میں وہ موثر نہیں ہو سکتا یہ کلام شیخ ابو حامد واضح رہا ہے کہ گستاخ کی حد قتل ہے اور وہ نافذ ہوگی خواہ نقض عہد مانیں یا نہ مانیں
- ۳۔ امام محاملی (م، ۴۱۵) التجرید میں کہتے ہیں امام شافعی نے فرمایا ، اہل ذمہ کے لئے
شرط رکھو کہ وہ اللہ تعالیٰ اس کی کتاب، رسول اور دین کے بارے میں طعن نہیں کرے گے تو یہ جزیہ اور اجزاء احکام کی طرح عقد کے لئے ضروری ہے اگر اس شرط کا ذکر نہ کیا جاتا تو عہد درست ہی نہ ہوگا ، ہمارے بعض اصحاب نے کہا ہر چیز (عدم شرط) مسلمانوں کو نقصان پہچانے کے مترادف ہے تو اگر ان میں سے کسی نے اللہ عزوجل یا نبی علیہ السلام کی گستاخی کی تو قتل کی سزا دی جائے گی اس لئے نہیں کہ عہد ٹوٹ گیا بلکہ اس کی حد ہی قتل ہے آگے لکھتے ہیں جہاں ہم نے کہا ان کا عہد ختم نہیں ہوا وہاں لزوم حد کی صورت حدود کا نفاذ ہوگا اگر حد نہیں تو تعزیر تو جہاں عہد ختم ہوگا ، وہاں امام شافعی نے فرمایا ہم انھیں ان کے وطن واپس کردے گے، کتاب النکاح میں فرمایا انھیں غلام اور قتل بھی کیا جاسکتا ہے اگر واپس بھیجیں تو حدود کے قیام کے بعد بھیجیں گے اور اگر قتل قتل وغلام کا اختیار لیں قتل میں حدود کا قیام کر کے قتل کریں گے اگر غلام بنائیں تو پہلے حدود کا قیام کریں گے اگر وہ غلامی سے اسلام لے آئے ہیں تو انھوں نے اپنا مال اور
اسلام اور احترام نبوت ﷺ جان محفوظ کرلیے ، اب قتل کے اسلام لے آئے تو وہ کافی اضافہ ہے اس لئے کہ نقل کیا ہے اور میرے پا التعلیقۃ الکبری سے نقل کی محلی کا خلاصہ یہ ہے جب حد کی وجہ سے ہوگا اور اس کہ ان صورتوں میں فرق یہ تصریح کردی ہے جب ہوگا، اور حدود میں بے
- ۴۔ شیخ سلیم رازی نے
کتاب، دین اور اس کے اعلانیہ اس کا ذکر کرنا لا میں ضرر کے قائم مقام کسی شئی کا ارتکاب کیا دو صورتیں ہیں
- ۱۔ ہر وہ کام جس میں
نے اللہ تعالیٰ، رسول قتل کر دیا یا شادی ش
ن یصبح عشرا، و حین یمسی عشرا، م القیامۃ ) یث [484] لحدیث [6233]
لئے بچے اور مجنون وغیرہ کی کوئی نہیں کی ، جب ہم قتل اسلام قبول کر لے تو اس کا تاخیر کے مخالف ہے کیونکہ م لایا تو اب وہ سابقہ غلامی سخ کی حد قتل ہے اور وہ نافذ
نے فرمایا، اہل ذمہ کے لئے مارنے میں طعن نہیں کرے ہے اگر اس شرط کا ذکر نہ کیا نے کہا ہر چیز (عدم شرط) اسے کسی نے اللہ عزوجل یا کے نہیں کہ عہد ٹوٹ گیا بلکہ عہد ختم نہیں ہوا وہاں لزوم ختم ہوگا، وہاں امام شافعی نکاح میں فرمایا انھیں غلام کے بعد بھیجیں گے اور اگر قتل گے اگر غلام بنائیں تو پہلے تو انھوں نے اپنا مال اور
کہ نہ پڑھیں تو یہ فوائد و ثمرات میں سے نہ پڑھیں تو ہماری مرضی بلکہ یہ معاملہ ی ضمیر ہے۔ یہ صرف حب مصطفیٰ ﷺ کا تقاضا ہی نہیں بلکہ نبی اکرم ﷺ حق بھی ہے اور یہ حق ادا نہ کرنے والوں کو سخت وعید بھی سنائی گئی ہے، جیسا کہ مندرجہ ذیل احادیث میں مروی ہے۔
فضل الصلوۃ علی النبی ﷺ [حدیث: 11] مشکاۃ مع تحقیق الألبانی، رقم الحدیث (925)
اسلام اور احترام نبوت ﷺ
جان محفوظ کر لیے، اب قتل و غلامی ناجائز اور ان کا مال نہیں لیا جائے گا اور اگر وہ غلامی کے اسلام لے آئے تو وہ (عدم غلامی میں ) موثر نہ ہوگا اس گفتگو میں شیخ ابو حامد سے کافی اضافہ ہے اس لئے کہ ہم شیخ ابو حامد کی گفتگو ان کی تعلیق سے لی ہے جسے ان سے نقل کیا ہے اور میرے ہاں شیخ سلیم کے ہاتھ کی تحریر ہے اور تجرید محلی کی گفتگو ہم نے التعلیقۃ الکبریٰ سے نقل کی ہے اسی وجہ سے میں وہ اضافہ ہے جو ساتھ تحریر میں نہیں شیخ محلی کا خلاصہ یہ ہے جب ذمی گستاخی کرے تو اسے بلا شبہ قتل کیا جائے گا کیا یہ قتل فقط حد کی وجہ سے ہوگا اور اس میں نقض عہد اور عدم نقض کا اعتبار نہ ہوگا ان کا کلام بتا رہا ہے کہ ان صورتوں میں فرق ہوگا اور یہی صحیح ہے جیسا کہ انشاء اللہ آ رہا ہے پھر انھوں نے یہ تصریح کر دی ہے جب ان کی واپسی کی بات کرتے ہیں تو حدود کے قیام کے بعد ایسا ہوگا، اور حدود میں سے حد گستاخی بھی ہے اور وہ قتل ہے لہذا گستاخ قتل ہی ہونگے
- ۴۔ شیخ سلیم رازی نے المجرد میں لکھا اگر ان میں سے کسی ایک نے اللہ تعالیٰ، اس کی
کتاب، دین اور اس کے رسول محمد ﷺ کا تذکرہ نامناسب طریقہ سے کیا عقد میں اعلانیہ اس کا ذکر کرنا لازم قرار دیا جائے بعض کہتے ہیں یہ مسلمان کے اپنے مال ونفس میں ضرر کے قائم مقام ہے لہذا اس کا شرط ہونا عقد میں ضروری نہیں، اگر انھوں نے کسی شئی کا ارتکاب کیا اور اگر عہد میں شرط نہیں تھی تو کہا عہد ختم ہو جائے گا؟ اس میں دو صورتیں ہیں
- ۱۔ ہر وہ کام جس میں فعل کے ساتھ ذمہ ختم نہ ہوگا اگر وہ فعل قتل کا موجب ہے مثلاً اس
نے اللہ تعالیٰ، رسول، قرآن اور دین کا غیر مناسب طریقہ سے ذکر کیا یا اس نے کسی کو قتل کر دیا یا شادی شدہ تھا زنا کیا تو اسے قتل کیا جائے گا
حين يصبح عشرا، وحين يمسي عشرا، ام القيامة ) ديث [484] لحديث [6233]
نہ پڑھیں تو یہ کوئی ادعیہ وماثورات نہیں کہ پڑھیں تو ہماری مرضی بلکہ یہ معاملہ ہی گھمبیر ہے۔ یہ صرف حب مصطفیٰ ﷺ کا تقاضا ہی نہیں بلکہ نبی اکرم ﷺ کا حق بھی ہے اور یہ حق ادا نہ کرنے والوں کو سخت وعید بھی سنائی گئی ہے، جیسا کہ مندرجہ ذیل احادیث میں مروی ہے۔ فضل الصلوٰة علی النبی ﷺ [حدیث: 11]
مشکاة مع تحقیق الألباني، رقم الحدیث (925)
اسلام اور احترام نبوت ﷺ
- ۲۔ ہر وہ محل جہاں فعل سے عہد ختم ہو جائے گا وہاں اس پر واجب حد قائم کی جائے گی
- ۵۔ شیخ نصر بن ابراہیم بن نصر مقدسی (م، ۴۹۰) نے کتاب المقصود میں فرمایا اگر ان
میں سے کسی نے اللہ تعالیٰ ، اس کی کتاب، دین اور رسول اللہ ﷺ کا ذکر غیر مناسب طریقہ سے کیا تو جن ہمارے بعض اصحاب نے کہا کہ عہد میں شرط اعلانیہ آنی چاہیے ان کے ہاں مخالفت سے عہد ختم ہو جائے گا کیونکہ یہ بعض مسلمانوں کو ضرر دینے سے زیادہ نقصان دہ ہے لہٰذا ہمیں اس میں شدت اختیار کرنی چاہیے، بعض نے کہا عہد ختم نہ ہوگا، ہر وہ جگہ جہاں ان کے فعل سے ذمہ ختم نہیں ہوتا اگر اس کا فعل قتل کا موجب ہے مثلاً اللہ تعالیٰ، اس کی کتاب، دین، رسول کا نامناسب تذکرہ، یا شادی شدہ نے زنا کیا تو اسے قتل کیا جائے گا کیونکہ اگر کوئی مسلمان ایسا کرے تو اس کی سزا قتل ہے تو ذمی کو یہ سزا بطریق اولیٰ ہوگی پھر لکھا ہر وہ مقام جہاں اس کے فعل سے عہد ٹوٹ جائے گا تو اس پر سابقہ کے مطابق حد کا قیام ہوگا، اگر واجب غیر قتل تھا تو اس میں دو اقوال ہے
- ا۔ اسے دارالحرب بھیج دیا جائے اور وہ ہمارے مقابل ہوگا
- ۲۔ عدالت اس کے قتل یا غلام میں اختیار رکھتی ہے
المقصود میں یہ ہے اور الکافی میں اس پر جزم ہے کہ عقد میں اس کا ذکر شرط ہے اور اس کی مخالفت سے عہد ختم
- ۶۔ شیخ ابن رفعہ کے مطابق امام البغد انجی نے فرمایا جب ہم کہتے ہیں کہ اس سے عہد
ختم نہیں ہوا تو اللہ تعالیٰ، اس کے رسول کتاب اورت دین کا نامناسب طریقہ سے ذکر پر ہم قتل کی سزا دیں گے کیونکہ یہ تمام موجب قتل ہیں
- ۷۔ قاضی ابوالطیب (م، ۴۵۰) نے تعلیقہ میں کہا، اہل کتاب کے ذمہ میں شرائط کی یہ
اسلام اور احترام نبوت ﷺ
اقسام ہیں
- ا۔ ایسی قسم جس کا ترک
دونوں کا تذکرہ عقد جزیہ
- ۲۔ ایسی قسم شرط کا ترک
کے ساتھ یا تنہا مسلمانو عہدتر قبال شرط تھا یا نہیں
- ۳۔ ایسی قسم میں جس میں
- ا۔ مسلمان عورت کے سا
- ۲۔ اس کے ساتھ نکاح
- ۳۔ کسی مسلمان مرد وعو
- ۴۔ کسی مسلمان عورت
- ۵۔ کسی مشرک کو پناہ نہ د
- ۶۔ کسی مسلمان کے خلا
ہمارے اصحاب کے
- ۷۔ کسی مسلمان مرد و
اگر یہ عقد میں شرط
دو صورتیں ہیں
- ا۔ یہ ناقض نہیں ۲۔
کوزنا پر مجبور کیا، عقد
ن یصبح عشرا، و حین یمسی عشرا، م الْقِيَامَةِ ) ث [484] حدیث [6233]
نہ پڑھیں تو یہ فوائد و ثمرات ملیں گے نہ پڑھیں تو ہماری مرضی بلکہ یہ معاملہ ی ضمیر پر ہے۔ یہ صرف حب مصطفیٰ ﷺ کا تقاضا ہی نہیں بلکہ نبی اکرم ﷺ ق بھی ہے اور یہ حق ادا نہ کرنے والوں کو سخت وعید بھی سنائی گئی ہے، جیسا کہ جہ ذیل احادیث میں مروی ہے۔
[فضل الصلوۃ علی النبی ﷺ :حدیث: 11]
مشکاۃ مع تحقیق الألبانی، رقم الحدیث (925)
۱۸۲ ں اس پر واجب حد قائم کی جائے گی نے کتاب المقصود میں فرمایا اگر ان اور رسول اللہ ﷺ کا ذکر غیر مناسب ا کہا کہ عہد میں شرط اعلانیہ آنی چاہیے کہ یہ بعض مسلمانوں کو ضرر دینے سے تیار کرنی چاہیے، بعض نے کہا عہد ختم نہیں ہوتا اگر اس کا فعل قتل کا موجب ا مناسب تذکرہ، یا شادی شدہ نے زنا ایسا کرے تو اس کی سزا قتل ہے تو ذمی ں اس کے فعل سے عہد ٹوٹ جائے گا ب غیر قتل تھا تو اس میں دو اقوال ہے قاتل ہوگا
عقد میں اس کا ذکر شرط ہے اور اس کی
واجب ہم کہتے ہیں کہ اس سے عہد ت دین کا نامناسب طریقہ سے ذکر
اہل کتاب کے ذمہ میں شرائط کی یہ
اسلام اور احترام نبوت ﷺ
اقسام ہیں
- ۱۔ ایسی قسم جس کا ترک جائز نہیں، ضمان ادا جزیہ، احکام اسلامی کے اجرا کا التزام، ان
دونوں کا تذکرہ عقد جزیہ میں لازم ہے اگر ان کا ذکر نہیں ہوتا تو عقد صحیح نہیں
- ۲۔ ایسی قسم شرط کا ترک جائز ہے البتہ اس کا فک نقض عہد ہوگا وہ ہے ان کا اہل حرب
کے ساتھ یا تنہا مسلمانوں کے ساتھ قتال کرنا اگر وہ ایسا کریں تو عہد ٹوٹ جائے گا خواہ عہد تر قتال شرط تھا یا نہیں؟
- ۳۔ ایسی قسم جس میں مسلمانوں کا ضرر ہو اور وہ چھ اشیاء ہیں
- ۱۔ مسلمان عورت کے ساتھ زنا کرنا
- ۲۔ اس کے ساتھ نکاح نہ کرنا
- ۳۔ کسی مسلمان مرد وعورت کو دین سے نہ پھسلانا
- ۴۔ کسی مسلمان عورت ومرد کی رہزنی نہ کرنا
- ۵۔ کسی مشرک کو پناہ نہ دینا
- ٦۔ کسی مسلمان کے خلاف اشارۃً تعاون بھی نہ کرنا،
ہمارے اصحاب کے ہاں ایک اور ہے
- ۷۔ کسی مسلمان مرد وعورت کو قتل نہ کرنا
اگر یہ عقد میں شرط نہ تھیں اور ان کا ارتکاب کیا تو عہد میں نقض نہ ہوگا اور اگر شرط تھیں تو دو صورتیں ہیں
- ۱۔ یہ ناقض نہیں ۲۔ نقض ہو جائے گا کیونکہ منقول ہے ایک نصرانی نے مسلمان خاتون
کو زنا پر مجبور کیا، مقدمہ حضرت ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ کی عدالت میں گیا فرمایا اس نے
اسلام اور احترام نبوت ﷺ
ہم سے اس پر صلح نہیں کی تھی اور اس کی گردن اڑا دی
(کتاب الخراج لابی یوسف، ۱۷۸)
اس سے معلوم ہو رہا ہے ایسا فعل ناقض ہے اور یہ ایسی بات بھی ہے جس میں مسلمانوں کا ضرر ہے، ان کے لئے اس کا ترک، عقد میں شرط ہے تو اس فعل سے عہد کا نقض ہوگا ، اور قتال تو ضرر کی اصل ہے اور پھر ایسے جرم کی سزا انھیں دی جائے گی اگر عہد میں شرط نہیں تھی تو اس فعل کی تاثیر ہے اور تاثیر نقض عہد ہی ہے
- ۴۔ ایسی قسم جس میں دین پر طعن ہو، مثلاً اللہ تعالیٰ، اس کے رسول، کتاب اور دین کا
غیر مناسب انداز میں تذکرہ، یہ چار اشیاء ہیں ہمارے اصحاب کا ان میں اختلاف ہے اکثریت کی رائے میں یہ بمنزلہ سبّ ہیں اور اگر یہ شرط نہ تھیں تو عہد کا نقض نہ ہوگا اور اگر شرط تھیں تو دو صورتیں ہیں، ہمارے اصحاب میں جنھوں (شیخ ابو اسحاق) نے کہا عقد میں ان کا ذکر شرط ہے، لہذا ترک شرط سے عقد فاسد ہو جائے گا،
امام ابوبکر فارسی نے فرمایا جس نے حضور ﷺ کی گستاخی کی، اسے بطور حد قتل کیا جائے گا کہ رسول اللہ ﷺ نے ابن خطل اور دونوں لونڈیوں کے قتل کا حکم دیا اور انھیں امان نہ دی اور انھوں نے اس پر اجماع کا دعویٰ کیا ہے لیکن یہ صحیح نہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے
حتى يعطوا الجزية عن يد وهم یہاں تک کہ وہ جزیہ دیں مغلوب ہو کر صاغرون (التوبہ، ۲۹)
- ۵۔ ایسی قسم جس سے دار الاسلام میں برائی کا غلبہ ہو، یہ چھ اشیاء ہیں
من يصبح عشرا، و حين يمسي عشرا، م القيامة ) ديث [484] الحديث [6233]
نہ پڑھیں تو یہ فوائد وثمرات ملیں گے نہ پڑھیں تو ہماری مرضی بلکہ یہ معاملہ ہی گھمبیر ہے۔ یہ صرف حب مصطفیٰ ﷺ کا تقاضا ہی نہیں بلکہ نبی اکرم ﷺ کا حق بھی ہے اور یہ حق ادا نہ کرنے والوں کو سخت وعید بھی سنائی گئی ہے، جیسا کہ مندرجہ ذیل احادیث میں مروی ہے۔ فضل الصلوٰۃ علی النبی ﷺ [حدیث: 11] مشكاة مع تحقيق الألباني، رقم الحديث (925)
۱۸۴
(کتاب الخراج لابی یوسف، ۱۷۸)
بات بھی ہے جس میں مسلمانوں ہے تو اس فعل سے عہد کا نقض ہوگا نہیں دی جائے گی اگر عہد میں شرط ہے ان کے رسول، کتاب اور دین کا اور صحابہ کا ان میں اختلاف ہے یہ شرط نہ تھیں تو عہد کا نقض نہ ہوگا ان جنھوں (شیخ ابواسحاق) نے کہا فاسد ہوجائے گا، ﷺ کی گستاخی کی، اسے بطور حد اور دونوں لونڈیوں کے قتل کا حکم دیا دعویٰ کیا ہے لیکن یہ صحیح نہیں کیونکہ
لا کہ وہ جزیہ دیں مغلوب ہوکر
چھ اشیاء ہیں
اسلام اور احترام نبوت ﷺ
- ۱۔ دارالاسلام میں نیا معبد اور گرجا کی تعمیر
- ۲۔ اپنی کتب کی بلند آواز سے تلاوت
- ۳۔ گھنٹیاں بجانا
- ۴۔ مسلمانوں سے بلند یا برابر مکان بنانا
- ۵۔ لباس میں مساوات
- ۶۔ شراب وخنزیر کا اعلانیہ استعمال
ان پر ان تمام سے بچنا لازم ہے خواہ عقد میں شرط لگائی گئی تھی یا نہیں، جس نے مخالفت کرتے ہوئے کوئی فعل کیا اس کا عہد ختم نہ ہوگا ،اس کی علت میں اختلاف ہے بعض کے نزدیک اس میں مسلمانوں کو ضرر نہیں، بعض نے کہا یہ ان کے دین کا اظہار ہے ، جس جگہ عہد نہیں ٹوٹے گا ذمہ قائم رہے گا
لیکن ان سے ارتکاب جرم پر حقوق کا حصول لازم ہوگا مثلاً موجب قتل کام کیا تو قتل ، اگر موجب قطع کیا تو قطع اگر موجب جلد یا تعزیر کیا تو اس کے مطابق سزا دی جائے گی
اور جس جگہ عہد ٹوٹ گیا وہاں بھی حقوق کا حصول ہوگا کیونکہ انھوں نے التزام کر رکھا ہے ، جب ان سے حقوق کا حصول کر لیا گیا تو اس کے بعد امام شافعی کے اقوال مختلف ہیں ،
جزیہ میں فرمایا اسے دارالحرب بھیج دیا جائے ، نکاح میں فرمایا سر براہ کو اختیار ہے چاہے غلام بنائے یا قتل کیونکہ حربی ہے اس کے لئے امان نہیں
اوّل قول لینے والوں نے کہا اسے دارالاسلام میں امان حاصل تھی لہذا جب
يصبح عشرا، و حین یمسی عشرا، م الْقِيَامَةِ) ث [484] الحديث [6233]
کہ نہ پڑھیں تو یہ فوائد و ثمرات ملیں گے نہ پڑھیں تو ہماری مرضی بلکہ یہ معاملہ ہی گھمبیر ہے۔ یہ صرف حب مصطفیٰ ﷺ کا تقاضا ہی نہیں بلکہ نبی اکرم ﷺ کا حق بھی ہے اور یہ حق ادا نہ کرنے والوں کو سخت وعید بھی سنائی گئی ہے، جیسا کہ کچھ ذیل احادیث میں مروی ہے۔
فضل الصلوة على النبى ﷺ [حديث: 11]
مشكاة مع تحقيق الألباني، رقم الحديث (925)
اسلام اور احترام نبوت ﷺ تک واپس نہیں جاتا اس کا قتل یا غلامی جائز نہیں جیسے کہ وہ کسی بچے کی امان سے آیا ہو
اگر ہم کہیں اس کا واپس کرنا لازم نہیں تو اس کی دلیل حضرت ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ کا واقعہ ہے کہ انھوں نے نصرانی کی گردن اڑا دی اور پھر اس نے اپنے عمل سے نقض عہد کر دیا،
یہ تمام گفتگو اہل ذمہ میں ہے، ہم نے قاضی ابوطیب کی تفصیلی گفتگو نقل کی ہے کیونکہ ہم اس پر کچھ کہنا چاہتے ہیں
عبارت میں مقصودی مقام
اس عبارت میں مقصودی مقام، ان کا امام ابوبکر فارسی کا رد ہے یہ ان کا رد، دعویٰ قتل پر ہے یا قتل کی حد یا دعویٰ اجماع یا ان میں سے کسی کا رد نہیں بلکہ نقض عہد کا رد ہے
ممکن ہے لفظ ’یقتل‘ سے قاضی نے سمجھا ہو کہ ان کی اس سے مراد نقض عہد ہے اگر مراد نقض عہد ہے تو اس کا تعلق ہمارے زیر بحث مسئلہ کے ساتھ نہیں اور نقض عہد میں اختلاف موجود ہے اور اس میں ترجیح پر گفتگو آ رہی ہے ، ابن خطل اور دو لونڈیوں کا واقعہ اس پر دال ہے یا نہیں، ہمیں نقصان دہ نہیں، قاضی ابوطیب کی مراد کی طرف اس سے رہنمائی ملتی ہے کہ انھوں نے اسے نقض عہد میں ذکر کیا ہے
سوال۔ یہاں یہ سوال وارد ہوگا کہ یہ اور قول ابو اسحاق ایک ہی ہے؟
جواب۔ شیخ ابو اسحاق کے قول کا تعلق ، اللہ تعالیٰ ، کتاب ، دین اور اس کے رسول کے تذکرہ سے ہے اور اس کا فقط رسول سے ہے اور دعویٰ اجماع میں یہ الگ ہے تو دونوں کے درمیان فرق ہے اگر یہ مراد لینا درست ہے تو پھر قتل کے بارے میں
اسلام اور احترام نبوت ﷺ اختلاف باقی نہیں رہے گا
اگر چوتھی صورت مراد نہیں
اگر چوتھی صورت مراد نہیں اختلاف مذہب لازم نہیں آتا کیو بطور حد قتل کیا جائے گا لیکن اس م موجود ہے
اگر مراد پہلی صورت ہے ت سے مقصود حاصل نہیں ہوتا کیونک نے عطاء جزیہ میں صغارت رکھی ہ ، ان پر احکام اسلام کا اجرا اور ا یا اس کا معنی ذلت ہے حالانک
باقی رد کا معاملہ ہے جب دلیل ک نہیں کی کہ اسے قتل نہ کیا جا
پھر شیخ ابو بکر فارسی ن ہوتی ہے نہ کہ ایسی دلیل سے ج اور احاد کے ذریعے منقول اجما نے یہ عذر پیش کیے ہیں
- ۱۔ مراد اجماع صحابہ اور تابعی
- ۲۔ مراد یہ ہے کہ گستاخ مسلما
لیکن اس صورت میں ہمارے مسل
اسلام اور احترام نبوت ﷺ
اختلاف باقی نہیں رہے گا
اگر چوتھی صورت مراد نہیں
اگر چوتھی صورت مراد نہیں، اب اگر دوسری یا تیسری ہے تو اس سے قتل میں اختلاف مذہب لازم نہیں آتا کیونکہ یہ کہنا جائز ہے کہ اسے نقض عہد پر کافر ہونے یا بطور حد قتل کیا جائے گا لیکن اس میں اجماع نہیں ، امام ابو حنیفہ کا اس میں اختلاف موجود ہے
اگر مراد پہلی صورت ہے تو پھر قاضی کے ساتھ کلام رد اور دلیل پر ہے کہ دلیل سے مقصود حاصل نہیں ہوتا کیونکہ ہم قول بالموجب کرتے ہوئے کہتے ہیں اللہ تعالیٰ نے عطاء جزیہ میں صغارت رکھی ہے اور گستاخی رسول میں صغارت کہاں؟ صغار کا معنی ، ان پر احکام اسلام کا اجرا اور ان کا انھیں ماننا ہے اور بلاشبہ گستاخ کا حال یہ نہیں یا اس کا معنی ذلت ہے حالانکہ گستاخ اپنے آپ کو اعلی سمجھتا ہے نہ کہ ذلیل باقی رد کا معاملہ ہے جب دلیل کا نتیجہ نہیں تو اس کا اعتبار ہی نہیں اور قاضی نے یہ تصریح نہیں کی کہ اسے قتل نہ کیا جائے یہاں تک کہ اس کے لئے مذہب میں وجہ ثابت ہو
پھر شیخ ابو بکر فارسی نے اجماع نقل کیا، نقل اجماع کی تردید نقل خلاف سے ہوتی ہے نہ کہ ایسی دلیل سے جس کی صحت میں تنازعہ ہو اور اجماع خود کافی دلیل ہے اور احاد کے ذریعے منقول اجماع حجت ہوتا ہے ، رہا امام ابو حنیفہ کا اختلاف تو شیخ فارسی نے یہ عذر پیش کیے ہیں
- ۱۔ مراد اجماع صحابہ اور تابعین ہے
- ۲۔ مراد یہ ہے کہ گستاخ مسلمان ہو
لیکن اس صورت میں ہمارے مسئلہ سے خارج ہوگا
المسيح عشرا، و حين يمسي عشرا، يوم القيامة ) یث [484] الحدیث [6233]
کہ پڑھیں تو یہ فوائد و ثمرات ملیں گے نہ پڑھیں تو ہماری مرضی بلکہ یہ معاملہ ی ضمیر ہے۔ یہ صرف حب مصطفی ﷺ کا تقاضا ہی نہیں بلکہ نبی اکرم ﷺ ق بھی ہے اور یہ حق ادا نہ کرنے والوں کو سخت وعید بھی سنائی گئی ہے، جیسا کہ مجہ ذیل احادیث میں مروی ہے۔
فضل الصلوٰۃ علی النبی ﷺ [حدیث: 11] مشکاۃ مع تحقیق الألبانی، رقم الحدیث (925)
۱۸۸ اسلام اور احترام نبوت ﷺ
- ۳۔ وہ فی الجملہ قتل کا جواز مانتے ہیں، امام ابوحنیفہ اگرچہ کہتے ہیں کہ اس
سے عہد ذمہ نہ ختم ہوگا اور نہ اسے قتل کیا جائے گا ہاں ان کا مذہب یہ منقول ہے کہ فحشی جرم پر تعزیراً اسے قتل کیا جائے اگر ہم تسلیم کر لیں کہ امام ابوحنیفہ ان کے دعویٰ سے خارج ہیں تو کم از کم ان کے کلام سے شوافع کا اجماع ثابت ہے اور یہ مذہب شافعی سے خوب آگاہ ہیں تو اب نقض اور تنازع سے سالم دلیل کے بغیر اس کی مخالفت کیسے درست ہوگی؟ اور انھوں نے بقول جماعت قاضی ابو طیب کی اتباع کی ہے، اس جماعت میں ان کے شاگرد ابن الصباغ بھی ہیں انھوں نے یہی قول کرتے ہوئے کہا ہمارے اکثر اصحاب کی رائے میں سات چیزیں ہیں،
شیخ ابو اسحاق نے انھیں شرط قرار دیتے ہوئے کہا اگر انھیں عقد میں ترک ہی کر دیا تو عقد نافذ ہوگا
شیخ ابوبکر فارسی سے منقول ہے جس نے رسول اللہ ﷺ کی گستاخی کی وہ بطور حد قتل ہوگا کیونکہ آپ ﷺ نے ابن خطل اور دو لونڈیوں کو امان نہیں دی
لیکن یہ صحیح نہیں کیونکہ وہ مشرک تھے لہٰذا ان کے لئے امان نہ تھی
تین وجوہ سے درست نہیں
مگر ابن الصباغ کا یہ قول تین وجوہ سے درست نہیں
- ا۔ حضور ﷺ نے اس دن ان تمام لوگوں کو امان دی جیسا کہ امام دارقطنی نے نقل کیا
(سنن دارقطنی، ۵۹:۳)
ماسوائے ان لوگوں کے جن کا خون مباح قرار دیا تھا تو یہ کہنا کہ مشرکین کے لئے
اسلام اور احترام نبوت ﷺ
امان نہیں، درست نہیں
- ۲۔ ابن خطل مسلمان تھا پھر مرتد ہوا، دونوں
گئیں کیونکہ اگر عورتیں جنگ نہ کریں تو بالاتفاق م تو اب دونوں کا قتل فقط گستاخی کی و کے اتصال سے اور ابن خطل کا قتل گستاخی اور ا اس جماعت میں شیخ ابو اسحاق ہیں اور ا شخص کی طرح ہے جو جزیہ، احکام اسلام اور ا کرے ہمارے اصحاب کہتے ہیں اس کا حکم ظاہ ہے اور وہ سات اشیاء ہیں، ہمارے اصحاب ک ﷺ کی گستاخی کی اس کا قتل لازم ہے کیونک اللہ بن عمر رضی اللہ عنھما سے کہا میں نے راہب ک سنا ہے فرمایا اگر میں سن لیتا تو اسے قتل کر دیتا ام
امام بغوی نے التہذیب میں المہذب کی تعلی اضافہ بھی ہے اسے بطور حد قتل کیا جائے گا ج حضرت ابن عمر رضی اللہ عنھما کے قول سے اس پ فرماتے کہ اسے نقض عہد کے کفر کی بنا پر قتل کیا ج نے اسے اس پر امان نہیں دے رکھی حالانکہ اس حد قتل کیا جائے گا۔ المہذب اور التہذیب میں ی ابو بکر فارسی ہیں جیسا کہ تعلیقہ قاضی ابو طیب اور
اسلام اور احترام نبوت ﷺ
امان نہیں، درست نہیں
- ۲۔۳۔ ابن خطل مسلمان تھا پھر مرتد ہوا، دونوں لونڈیاں کفر اصلی کی وجہ سے قتل نہیں کی
گئیں کیونکہ اگر عورتیں جنگ نہ کریں تو بالاتفاق ان کا قتل درست نہیں
تو اب دونوں کا قتل فقط گستاخی کی وجہ سے ہوا یا کفر اصلی کے ساتھ گستاخی کے اتصال سے اور ابن خطل کا قتل گستاخی اور ارتداد کی وجہ سے ہوا
اس جماعت میں شیخ ابو اسحاق ہیں انھوں نے مہذب میں کہا، اس کا حکم اس شخص کی طرح ہے جو جزیہ، احکام اسلام اور مسلمانوں کے خلاف جنگ کا التزام نہ کرے ہمارے اصحاب کہتے ہیں اس کا حکم مسلمانوں کو ضرر دینے والوں کی طرح کا ہے اور وہ سات اشیاء ہیں، ہمارے اصحاب میں بعض کہتے ہیں جس نے رسول اللہ ﷺ کی گستاخی کی اس کا قتل لازم ہے کیونکہ منقول ہے ایک آدمی نے حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنھما سے کہا میں نے راہب کو رسول اللہ ﷺ کی گستاخی کرتے سنا ہے فرمایا اگر میں سن لیتا تو اسے قتل کر دیتا ہم نے کسی کو اس پر امان نہیں دی ہوتی
(المھذب للشیرازی، ۵: ۳۲۸)
امام بغوی نے التھذیب میں المھذب کی طرح کی عبارت لکھی ہے اور اس میں یہ اضافہ بھی ہے اسے بطور حد قتل کیا جائے گا
(المھذب، ۷: ۵۰۶)
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنھما کے قول سے ان کے استدلال کا تقاضا یہ بنتا ہے کہ وہ یہ فرماتے کہ اسے نقض عہد کے کفر کی بنا پر قتل کیا جائے کیونکہ حضرت ابن عمر نے فرمایا ہم نے اسے اس پر امان نہیں دے رکھی حالانکہ صاحب مذکور سے نقل یہ ہے کہ اسے بطور حد قتل کیا جائے گا۔ المہذب اور التہذیب میں، ہمارے بعض اصحاب ، سے مراد امام. ابو بکر فارسی ہیں جیسا کہ تعلیقہ قاضی ابو طیب اور الشامل کی عبارت نشاندہی کر رہی ہے
اسلام اور احترام نبوت ﷺ
سابقہ گفتگو اس پر تنبیہ ہے کہ اس کے خلاف ثبوت میں توقف بلکہ جزم ہے قتل پر ڈٹنے والوں کے کلام میں کوئی تعارض نہیں
صاحب البیان امام یحییٰ یمانی (م، ۵۵۸) لکھتے ہیں شیخ ابوبکر فارسی نے فرمایا، ہمارے اصحاب میں سے کچھ نے کہا، جس نے کسی رسول کی گستاخی کی اس کا قتل بطور حد لازم ہے کیونکہ اس کا معاہدہ ختم،
شیخ ابو حامد نے التعلیق میں اس کے علاوہ کا تذکرہ نہیں کیا اس لئے کہ حضور ﷺ نے ابن خطل اور مقیس کو امان نہیں دی کیونکہ ان دونوں نے گستاخی کی تھی پھر اثر حضرت عمر کو نقل کر کے کہا اول اصح ہے اس لئے کہ یہ دونوں مشرک تھے اور ان کے لئے پہلے ہی امان نہ تھی
یہ دونوں پہلے مسلمان تھے
ہم کہتے ہیں ابن خطل اور مقیس پہلے مسلمان تھے پھر مرتد ہوئے ، مباح الدم کے علاوہ تمام مشرکوں کو اس وقت امان ملی ، اگر قتل فقط شرک کی وجہ سے تھا پھر تو دوسرے مشرکین کیوں قتل نہ کیے گئے اور اگر گستاخی مع شرک کی وجہ سے ہے جس پر پہلے امان نہ تھی تو یہ تقاضا کرے گا حربی گستاخ کو قتل کیا جائے تو ذمی بطریق اولیٰ قتل ہو گا کیونکہ اس نے احکام اسلام کا التزام کر رکھا ہے
صاحب البیان کا قول بتا رہا ہے کہ شیخ فارسی ناقل ہیں نہ کہ قائل اور یہ مشہور کے مخالف ہے ، ان کی علت کہ اس سے عہد ٹوٹ گیا لفظ حد کے کچھ مخالف ہے
ان کا کہنا شیخ ابو حامد نے التعلیق میں اس کا غیر ذکر نہیں کیا درست نہیں کیونکہ پہلے آیا انھوں نے کہا اسے قتل کیا جائے خواہ ہم نقض عہد کا قول کریں یا نہ کریں
تو صاحب البیان کی مراد لزوم قتل ہے اور یہی صحیح ہے، صاحب البیان نے
يصبح عشرا، و حين يمسي عشرا، القيامة )
[حديث 484]
[حديث 6233]
تہ نہ پڑھیں تو یہ فوائد و ثمرات ملیں گے نہ پڑھیں تو ہماری مرضی بلکہ یہ معاملہ ی ضمیر ہے۔ یہ صرف حب مصطفیٰ ﷺ کا تقاضا ہی نہیں بلکہ نبی اکرم ﷺ کا حق بھی ہے اور یہ حق ادا نہ کرنے والوں کو سخت وعید بھی سنائی گئی ہے، جیسا کہ مندرجہ ذیل احادیث میں مروی ہے۔
[فضل الصلوة على النبي ﷺ [حديث: 11]
[مشكاة مع تحقيق الألباني، رقم الحديث (925)]
۱۹۰
میں توقف بلکہ جزم ہے قتل پر ڈٹنے
۵۵) لکھتے ہیں شیخ ابو بکر فارسی نے نے کسی رسول کی گستاخی کی اس کا قتل
وہ کا تذکرہ نہیں کیا اس لئے کہ حضور مگر ان دونوں نے گستاخی کی تھی پھر تھے کہ یہ دونوں مشرک تھے اور ان کے
مسلمان تھے پھر مرتد ہوئے ،مباح ، اگر قتل فقط شرک کی وجہ سے تھا پھر تو منافی مع شرک کی وجہ سے ہے جس پر کو قتل کیا جائے تو ذمی بطریق اولیٰ قتل ہے
نقاری ناقل ہیں نہ کہ قائل اور یہ مشہور کہا گیا لفظ حد کے کچھ مخالف ہے کی اس کا غیر ذکر نہیں کیا درست نہیں اگر ہم نقض عہد کا قول کریں یا نہ کریں مذکور یہی صحیح ہے، صاحب البیان نے
اسلام اور احترام نبوت ﷺ ۱۹۱
لکھا کہ اول قول پر قتل نہیں کیا جائے گا اور یہی اصح ہے ،اس فہم میں وہ معذور ہیں کیونکہ کلام المہذب سے انھیں یہ وہم ہوا حالانکہ کسی سے بھی کوئی نقل ذکر کرنا ممکن نہیں اور نہ ہی ان کے پاس اس پر صحیح دلیل ہے اس سے بھی فحش اور بدتر یعقوب بن عبد الرحمٰن بن عبداللہ بن ابی عصرون (م،۶۶۵) کی اسی فہم کی بنا پر مسائل علی المہذب، میں تصریح ہے اگر کسی نے اللہ تعالیٰ، قرآن مجید، رسول اور دین کا تذکرہ غیر مناسب کیا اور عقد میں اس سے اجتناب شرط نہ تھا تو عہد نہیں ٹوٹے گا اور اسے تعزیری سزا دی جائے گی اور حضرت ابن عمر کے قول کا محل یہی صورت ہے جس میں یہ شرط تھا
یہ مصنفین کی بدترین تصریحات میں سے ہے، ہر صاحب تصنیف پر لازم ہے کہ وہ لفظ محتمل کے تقاضا و معنی کی اس وقت تک تصریح نہ کرے جب تک اس کی اصل اور صحت کا یقین نہ ہو جائے اگر وہ ایسا نہیں کرتا تو وہ امانت کی ادائیگی کرنے والا نہیں اور نہ ہی وہ مخلوق کی رہنمائی کے قابل ہوگا
تو ان فہوم کی اصل قاضی ابو طیب کی فارسی کے ساتھ بحث ہے اور ہم نے بیان کر دیا اس پر نہ نقل تصریح ہے اور نہ دلیل صحیح ،
شیخ یعقوب بن ابی عصرون تو اس مقام کے نہیں اگر یہ بات ان کے بڑے پر مخفی ہے تو ان پر بطریق اولیٰ ہو سکتی ہے
امام رافعی کی گفتگو
امام رافعی رحمہ اللہ تعالیٰ نے نقض عہد میں نقل اختلاف، کے بعد لکھا ، الشامل وغیرہ میں ہے، شیخ ابو بکر فارسی نے فرمایا جس ذمی نے حضور ﷺ کی گستاخی کی اسے حداً قتل کیا جائیگا کیونکہ آپ ﷺ نے ابن خطل اور دو لونڈیوں کو
ین يصبح عشراً، و حين يمسي عشراً، يَوْمَ الْقِيَامَةِ )
يث [484]
الحديث [6233]
کہ پڑھیں تو یہ فوائد و ثمرات ملیں گے نہ پڑھیں تو ہماری مرضی بلکہ یہ معاملہ ہی گھمبیر ہے۔ یہ صرف حب مصطفی ﷺ کا تقاضا ہی نہیں بلکہ نبی اکرم ﷺ حق بھی ہے اور یہ حق ادا نہ کرنے والوں کو سخت وعید بھی سنائی گئی ہے، جیسا کہ مندرجہ ذیل احادیث میں مروی ہے۔
فضل الصلاة على النبي ﷺ [حدیث: 11]
مشكاة مع تحقيق الألباني، رقم الحديث (925)
اسلام اور احترام نبوت ﷺ
قتل کروایا اور انھیں امان نہ دی۔ اس قول کو اہل علم نے کمزور قرار دیتے ہوئے کہا یہ تو مشرک تھے اس لئے ان کے لئے امان نہیں
(فتح العزیز، ۱۱، ۵۴۹)
ہم نے پہلے اس کمزوری کو کمزور ثابت کیا تھا کہ امام رافعی نے ادائیگی نقل میں امانت سے کام لیا ہے انھوں نے اور دیگر لوگوں نے اسے نقض عہد کے تحت ذکر کیا ہے گویا بتانا چاہتے ہیں کہ یہ مشرک تھے اور ان کا کوئی عہد نہ تھا ان میں سے کچھ کے حق میں یہ صحیح ہے مثلاً دونوں لونڈیوں اور حویرث بن نقید لیکن ہم واضح کر دیں اگر حربی اور عورت جن کے لئے امان نہیں گستاخی کی وجہ سے ان کا قتل جائز ہے تو ذمی کا بطریق اولیٰ جائز ہوگا
شیخ رویانی کی گفتگو
شیخ رویانی نے بحر المذھب میں لکھا، شیخ ابو بکر فارسی کہتے ہیں امت کا اتفاق ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے گستاخ کی حد قتل ہے بخلاف دوسروں کے وہاں قذف پر اسی کوڑے ہیں
ہمارے اصحاب نے اس کا معنی یہ کیا کہ رسول پر قذف سے کافر ہو جائے گا اور اسے ارتداد کی وجہ سے قتل کیا جائے گا قتل مرتد حد ہے جو اسلام سے ساقط ہو جاتی ہے ہاں اگر وہ اسلام لے آیا تو حد قذف اسی کوڑے باقی رہے گی،
اور بعض نے کہا ان کی مراد بطور حد قتل ہے کیونکہ حضور ﷺ نے ابن خطل کے قتل کا حکم فرمایا لیکن یہ استدلال درست نہیں اس لئے کہ وہ مشرک تھا جس کے لئے امان ہی نہیں اس لئے اسے قتل کروادیا گیا بخلاف زیر بحث مسئلہ میں یہاں امان ہے
ہم کہتے ہیں امام فارسی کی مراد یہ ہے کہ آپ ﷺ نے دیگر مشرکین کو امان دی اور اسے قتل کروادیا تو اس مقام پر شرک کا کوئی اثر نہیں اور امان نہ دینے کی علت گستاخی تھی
اسلام اور احترام نبوت ﷺ
اور وہ ذمی میں موجود ہے جب ان کا میں علت ہے جس کے لئے امان نہیں وہاں یہ بطریق اولیٰ علت بنے گی علت
ہم نے اہل عراق کا کلام ان کا طریق اپنایا، ساتھ ان کا ذکر معاملہ میں قاضی ابوطیب کی اتباع کی رہی مشاورت تو قاضی حس بعد ذکر کیا مثلاً یہ اللہ کی طرف سے نہیں نہ ہوگا اور اگر شرط تھا تو ناقض ہوگا اعتقاد نہ رکھتا ہو مثلاً زنا کی طرف شرط تھا یا نہیں اور اگر اعتقاد رکھتا ہے تو قسم ثانی کا حکم ہے، پھر لکھا
جب ہم ان مقامات ارتکاب کیا تو اس پر ہم حد نافذ واپس کر دیں اور جب ہم نقض کا
ان کے شاگرد بغوی دونوں اقوال پر سزا نافذ ہوگی ک ہے تو نفاذ تعزیر ہوگی کیونکہ اس ہیں
المسیح عشرا، و حین یمسی عشرا، یوم القیامۃ )
[حدیث 484]
[حدیث 6233]
کہ نہ پڑھیں تو یہ فوائد وثمرات ملیں گے نہ پڑھیں تو ہماری مرضی بلکہ یہ معاملہ ہی گھمبیر ہے۔ یہ صرف حب مصطفیٰ ﷺ کا تقاضا ہی نہیں بلکہ نبی اکرم ﷺ کا حق بھی ہے اور یہ حق ادا نہ کرنے والوں کو سخت وعید بھی سنائی گئی ہے، جیسا کہ مندرجہ ذیل احادیث میں مروی ہے۔
[فضل الصلوۃ علی النبی ﷺ حدیث: 11]
[مشکاۃ مع تحقیق الألبانی، رقم الحدیث (925)]
۱۹۲ کہ اہل علم نے کمزور قرار دیتے ہوئے کہا
(فتح العزیز، ۱۱: ۵۴۹)
ثابت کیا تھا کہ امام رافعی نے ادائیگی اور دیگر لوگوں نے اسے نقض عہد کے مشرک تھے اور ان کا کوئی عہد نہ تھا ان مغنی لونڈیوں اور حویرث بن نقید لیکن ہم لئے امان نہیں گستاخی کی وجہ سے ان کا
قاضی ابو بکر فارسی کہتے ہیں امت کا حد قتل ہے بخلاف دوسروں کے وہاں
کہ رسول پر قذف سے کافر ہو جائے گا صرف حد ہے جو اسلام سے ساقط ہو جاتی سزا باقی رہے گی، ہے کیونکہ حضور ﷺ نے ابن خطل اس لئے کہ وہ مشرک تھا جس کے لئے بخلاف ذمی بحث مسئلہ میں یہاں امان ہے ﷺ نے دیگر مشرکین کو امان دی اور اور امان نہ دینے کی علت گستاخی تھی
اسلام اور احترام نبوت ﷺ ۱۹۳ اور وہ ذمی میں موجود ہے جب ان کا مقتضی کلام یہ مان لیا گیا کہ گستاخی ایسے مشرک میں علت ہے جس کے لئے امان نہیں تو جس نے احکام اسلام کا التزام کر رکھا ہے وہاں یہ بطریق اولیٰ علت بنے گی،
ہم نے اہل عراق کا کلام خوب تفصیل سے نقل کر دیا اسی طرح رویانی نے ان کا طریق اپنایا ، ساتھ ان کا ذکر کر دیا اسی طرح امام بغوی کیونکہ انھوں نے اس معاملہ میں قاضی ابو طیب کی اتباع کی تھی
رہی یہ صورت تو قاضی حسین لکھتے ہیں اگر اس نے کتاب اللہ تعالیٰ کا بطریق بد ذکر کیا مثلاً یہ اللہ کی طرف سے نہیں یا یہ معجزہ نہیں اگر عقد میں شرط نہیں تھی تو یہ ناقض نہ ہوگا اور اگر شرط تھا تو ناقض ہوگا اگر حضور ﷺ کا ذکر اسی طریقہ سے کیا بشرطیکہ وہ اعتقاد نہ رکھتا ہو مثلاً زنا کی طرف نسبت یا نسب پر طعن کیا تو ناقض ہوگا خواہ عقد میں شرط تھا یا نہیں اور اگر اعتقاد رکھتا ہے مثلاً کذب کی نسبت کی یا ناحق قتل یہود کی نسبت کی تو قسم ثانی کا حکم ہے، پھر لکھا
جب ہم ان مقامات پر نقض عہد کہتے ہیں تو اگر اس نے موجب حد عمل کا ارتکاب کیا تو اس پر ہم حد نافذ کریں گے اس کے بعد اسے قتل یا غلام یا دارالحرب واپس کر دیں اور جب ہم نقض کہتے ہیں تو حد قائم کرتے ہیں
ان کے شاگرد بغوی نے التھذیب میں نقض میں ذکر اختلاف کے بعد کہا دونوں اقوال پر سزا نافذ ہوگی اگر فعل موجب حد ہے تو حد کا قیام اور اگر موجب تعزیر ہے تو نفاذ تعزیر ہوگی کیونکہ اس نے وہاں ارتکاب کیا یہاں اس پر احکام اسلامی جاری ہیں
(التھذیب، ۷: ۵۰۶)
ن بسبع عشرة، و حين يمسي عشرا، يوم القيامة ) ديث 484] الحديث 6233]
مہ پر ہیں تو یہ فوائد و ثمرات ملیں گے نہ پڑھیں تو ہماری مرضی بلکہ یہ معاملہ ی ضمیر ہے۔ یہ صرف حب مصطفیٰ ﷺ کا تقاضا ہی نہیں بلکہ نبی اکرم ﷺ ق بھی ہے اور یہ حق ادا نہ کرنے والوں کو سخت وعید بھی سنائی گئی ہے، جیسا کہ نچہ ذیل احادیث میں مروی ہے۔ فضل الصلوة على النبي ﷺ [حديث: 11] مشكاة مع تحقيق الألباني، رقم الحديث (925)
اسلام اور احترام نبوت ﷺ ۱۹۴
امام فورانی کا کلام
امام فورانی (م، ۴۶۱) نے العمد میں کہا، جس کی مخالفت نقض ہے خواہ وہ عہد میں شرط تھی یا نہ وہ احکام اسلام کا اجرا، مسلمانوں کے خلاف لڑائی سے اجتناب ، ادائیگی جزیہ، ہمارے نبی ﷺ کی طرف ایسی برائی کی نسبت جن کا وہ اعتقاد نہیں رکھتے مثلاً نسبت زنا یا نسب پر طعن، شیخ فارسی نے کہا جس نے ہمارے نبی کی گستاخی کی ہم اسے بطور حد قتل کریں گے یعنی ہم اسے ارتداد کی وجہ سے قتل کریں گے نہ یہ کہ اس کی توبہ مقبول نہیں جیسا کہ اس نے اللہ تعالیٰ کی گستاخی کی تھی (توبہ مقبول ہے)
امام غزالی کا کلام
امام غزالی نے اکثر کتب میں اس سے نقض عہد میں اختلاف ذکر کیا اور خلاصہ میں یہ اضافہ کیا ہے، شرط یہ ہے کہ وہ مغلوب بن کر رہیں ہمارے دین، نبی اور کتاب پر طعن نہ کریں، مشرکین کے جاسوس نہ بنیں، نہ ہی ان کے جاسوس کو پناہ دیں وغیرہ اس میں کسی کا اختلاف نہیں اگر وہ جزیہ ادا نہ کریں تو عہد ختم ، اسی طرح اگر انھوں نے رسول اللہ ﷺ اور کتاب اللہ عزوجل کا تذکرہ غلط انداز میں کیا تو مذہب یہی ہے کہ ان کی توبہ مقبول نہیں اور انھیں وہی قتل کر دیا جائے گا اگر جزیہ ادا نہ کیا تو توبہ مقبول ہوگی ، اجراء احکام کی مخالفت بھی مخالفت جزیہ کی طرح ہے، اللہ تعالیٰ، اس کے رسول اور کتاب کی گستاخی پر (صحیح قول پر) جلد ہی قتل کی جائے اور یہ گفتگو بطور تصریح وتفصیل اس معاملہ میں کافی ہے کہ مذہب یہی ہے کہ ان کی توبہ مقبول نہیں اور اسی جگہ قتل کر دیا جائے، ظاہر یہی ہے کہ عدم قبولیت توبہ سے مراد یہ ہے کہ جب تک وہ کفر پر رہیں اس سے انھوں نے مراد اسلام نہیں لیا کیونکہ وہ تو ان سے مقبول ہے جیسا کہ ہم ذکر کریں گے
اسلام اور احترام نبوت ﷺ لفظ مذہب بتا رہا ہے کہ قطع علاوہ کسی سے تصریح نہیں یہ ہے کہ نقض عہد میں قول پر جزیہ برقرار، قتل نہیں کریں کرتے رہنے میں ہے لیکن نقض ذمہ اور قتل فی الجملہ قاضی ابوطیب کے کلام میں ہے ممکن ہے غزالی کی مراد واضح رہے جن وجوہ کی طرف کے ثبوت میں توقف مناسب کے خلاف استحضار نہیں، نقل پہلے قتل کرنا مذہب ہے اور المعروف بالکیا، شفاء العلیل وان نكثوا ايمانهم عهدهم وطعنوا في د (۱ کی تفسیر میں لکھتے ہیں مذہب شافعی اللہ ﷺ کی گستاخی کا
اسلام اور احترام نبوت ﷺ
لفظ مذہب بتا رہا ہے کہ قبول توبہ میں اختلاف ہے ہم نے اس پر قاضی ابوطیب کے علاوہ کسی سے تصریح نہیں دیکھی باوجودیکہ ظاہرا قاضی کا کلام غیر ہے کیونکہ اس کا تقاضا یہ ہے کہ نقض عہد میں قول واحد ہی ہو اگر انھوں نے توبہ کر لی لیکن کفر پر قائم رہے تو ان پر جزیہ برقرار، قتل نہیں کریں گے اور نہ ہی دارالحرب بھیجیں گے جیسا کہ جزیہ کی ادائیگی کرتے رہنے میں ہے لیکن مذہب اس کے خلاف ہے کہ انھیں قتل کیا جائے گا، گستاخی نقض ذمہ اور قتل فی الجملہ کا سبب ہے؟ اس میں غزالی نے اختلاف نقل نہیں کیا لیکن قاضی ابوطیب کے کلام میں اختلاف کی طرف اشارہ کیا ہے لہذا وہ بلاشبہ اس کا غیر ہے ممکن ہے غزالی کی مراد یہ ہو کہ اسے بطور حد قتل کرنا مذہب ہے جیسا کہ قاضی نے کہا واضح رہے جن وجوہ کی طرف اصحاب نے مذہب وغیرہ کے الفاظ سے اشارہ کیا ہے ان کے ثبوت میں توقف مناسب ہے کیونکہ احتمال ہے ان کی مراد مذہب شافعی ہو اور اس کے خلاف استحضار نہیں، نقل غزالی سے متحقق یہ ہے کہ گستاخ ذمی کو اسلام لانے سے پہلے پہلے قتل کرنا مذہب ہے اور اس کے خلاف کا اثبات متحقق نہیں شیخ ابوالحسن علی بن محمد طبری المعروف بالكيا شفاء العليل فی احکام التنزیل، میں ارشاد باری تعالیٰ
وان نكثوا ايمانهم من بعد اور اگر عہد کر کے اپنی قسمیں توڑیں اور عهدهم وطعنوا في دينكم تمہارے دین میں طعن کریں (التوبہ، ۱۲)
کی تفسیر میں لکھتے ہیں
مذہب شافعی یہ ہے کہ جب معاہد، دین پر طعن کرے اور اعلانیہ رسول الله ﷺ کی گستاخی کا مرتکب ہو تو اس سے قتال و قتل حلال ہو جاتا ہے، امام ابو
حين يصبح عشراً، و حين يمسي عشراً، يَوْمَ الْقِيَامَةِ ) [الحديث 484] [الحديث 6233]
کہ نہ پڑھیں تو یہ نوافل و مستحبات ہیں کہ نہ پڑھیں تو ہماری مرضی بلکہ یہ معاملہ ہی گھمبیر ہے۔ یہ صرف حب مصطفیٰ ﷺ کا تقاضا ہی نہیں بلکہ نبی اکرم ﷺ کا حق بھی ہے اور یہ حق ادا نہ کرنے والوں کو سخت وعید بھی سنائی گئی ہے، جیسا کہ درجہ ذیل احادیث میں مروی ہے۔ فضل الصلوٰۃ علی النبی ﷺ [حدیث: 11] مشكاة مع تحقيق الألباني، رقم الحديث (925)
اسلام اور احترام نبوت ﷺ ۱۹۶ اسلام اور احترام نبوت ﷺ
فصل ثانی
نقض عہد
حذیفہ نے فرمایا محض دین پر طعن ناقض عہد نہیں اور لکھا آیت مبارکہ کی دلالت امام شافعی کے قول کو قوی کر رہی ہے (شفاء العلیل: ۱۸۲:۳)
ذمی گستاخ کے قتل پر ان بزرگوں کی تصریحات آئی ہیں، امام شافعی، امام ابن منذر، امام خطابی، شیخ ابو حامد، شیخ محاملی ، شیخ سلیم رازی ، شیخ نصر مقدسی ، شیخ الکیا، امام غزالی انھوں نے اسے مذہب قرار دیا، امام ابو بکر فارسی ، انھوں نے اس پر اجماع نقل کیا، امام ابو بکر قفال جیسا کہ امام نے ان کی موافقت نقل کی ہے اگر چہ امام نے اس کا تذکرہ املاء میں کیا ہے اور غزالی نے نقل میں امام کی مخالفت کی ہے تو انھوں نے قفال سے صیدلانی کی موافقت اور قاضی حسین کی فارسی کے ساتھ موافقت نقل کی ہے اور امام کی نقل پر اعتماد اولیٰ ہے، ہم نے اصحاب شافعی سے تحقیق کے ساتھ یہ قول نہیں پایا کہ اس پر قتل لازم نہیں البتہ کچھ الفاظ کا ذکر آچکا ہے جو نہ ظاہر ہیں اور نہ صریح پھر اگر کسی سے ثابت بھی ہے تو امام کی سابقہ تصریح اس پر رد ہے اور وہ دلائل بھی جن کا ذکر آ رہا ہے، جس نے بھی اس مسئلہ میں اس کے خلاف وہم کیا اسے کلام رافعی نے سہارا دیا اور رافعی قاضی ابو طیب کے متبعین کے تابع ہو گئے ہم نے پہلے ان کے کلام پر گفتگو کرتے ہوئے متعدد احتمالات کا تذکرہ کیا پھر اگر قاضی ابو طیب نے تصریح کر دی تو کیا ان کی اتباع کی جائے گی یا امام شافعی اور دلیل کی؟ خلاصہ کے حوالہ سے جس اشارہ کا ذکر آیا ہم نے بحمد اللہ تعالیٰ اس کا جواب عرض کر دیا ہے
ن يصبح عشرًا، وحين يمسي عشرًا، ام القيامة ) یث 484] لحدیث 6233]
۱۹۶ دی گزری ہے
(شفاء العلیل ،۳: ۱۸۲)
ہیں، امام شافعی، امام ابن ، شیخ نصر مقدسی، شیخ الکیا، امام انھوں نے اس پر اجماع نقل کی ہے اگرچہ امام نے اس کا حت کی ہے تو انھوں نے فقال ساتھ موافقت نقل کی ہے اور تحقاق کے ساتھ یہ قول نہیں پایا ظاہر ہیں اور نہ صریح پھر اگر ہے اور وہ دلائل بھی جن کا ذکر ہم کیا اسے کلام رافعی نے سہارا ہم نے پہلے ان کے کلام پر گفتگو خطیب نے تصریح کر دی تو کیا مہ کے حوالہ سے جس اشارہ کا
ت نہ پڑھیں تو یہ فوائد و ثمرات ملیں گے نہ پڑھیں تو ہماری مرضی بلکہ یہ معاملہ ی گھمبیر ہے۔ یہ صرف حب مصطفیٰ ﷺ کا تقاضا ہی نہیں بلکہ نبی اکرم ﷺ ق بھی ہے اور یہ حق ادا نہ کرنے والوں کو سخت وعید بھی سنائی گئی ہے، جیسا کہ مجہ ذیل احادیث میں مروی ہے۔ فضل الصلوة على النبي ﷺ [حدیث: 11] مشكاة مع تحقيق الألباني، رقم الحديث (925)
اسلام اور احترام نبوت ﷺ
فصل ثانی
نقض عہد پر اہل علم کی گفتگو
ن يصبح عشرا، و حين يمسي عشرا، مُ الْقِيَامَةِ ) ث [484] ] لحديث [6233]
ضا نہ پڑیں تو یہ فوائد و ثمرات ملیں گے نہ پڑھیں تو ہماری مرضی بلکہ یہ معاملہ ی بھی ہے اور یہ حق ادا نہ کرنے والوں کو سخت وعید بھی سنائی گئی ہے، جیسا کہ نچہ ذیل احادیث میں مروی ہے۔ فضل الصلوة على النبي ﷺ [حدیث: 11] مشكاة مع تحقيق الألباني، رقم الحديث (925)
اسلام اور احترام نبوت ﷺ
پہلے کچھ خاصہ حصہ فصل ا
- ا۔ امام خطابی نے امام شا
- ۲۔ امام ماوردی نے کہا
جاتا ہے ، امام ابو حنیفہ کا سے نقل کیا
- ۳۔ شیخ رویانی نے البحر کے
- ا۔ ظاہراً مسلمانوں سے قتل
- ۲۔ باطناً خیانت نہ کرنا
- ۳۔ اقوال وافعال میں ان
اگر مسلمانوں ک ضرورت نہ ہوگی ، اگر انھو جائے تو معاہدہ ٹوٹ جائے محض خیانت سے عقد ختم نہ سے حملہ نہ کیا جائے البتہ اس تو اب یہ ماقبل ب مسلمانوں کے حقوق ، ان کریں تو سر براہ ان سے معاہدہ قائم رہے گا ورنہ ا کی اطلاع کر کے عہد ختم معاملہ گستاخی رسول کا تو اس
يُصْبِحُ عَشْرًا، وَ حِيْنَ يُمْسِي عَشْرًا، يَوْمَ الْقِيَامَةِ ) [حديث: 484] ] [الحديث 6233]
نہ پڑھیں تو یہ فوائد و ثمرات ملیں گے نہ پڑھیں تو ہماری مرضی بلکہ یہ معاملہ ہی گمبھیر ہے۔ یہ صرف حب مصطفیٰ ﷺ کا تقاضا ہی نہیں بلکہ نبی اکرم ﷺ کا حق بھی ہے اور یہ حق ادا نہ کرنے والوں کو سخت وعید بھی سنائی گئی ہے، جیسا کہ مندرجہ ذیل احادیث میں مروی ہے:۔ فضل الصلوة على النبي ﷺ [حديث: 11] مشكاة مع تحقيق الألباني، رقم الحديث (925)
اسلام اور احترام نبوت ﷺ
پہلے کچھ خاصہ حصہ فصل اول میں گزرا کیونکہ اس کا قتل کے ساتھ اتصال ہے
- ۱۔ امام خطابی نے امام شافعی سے نقل کیا اس سے ذمہ ختم ہو جاتا ہے
- ۲۔ امام ماوردی نے کہا رسول اللہ ﷺ کی گستاخی سے ذمہ کی طرح صلح نامہ ہو
جاتا ہے، امام ابو حنیفہ کا ان دونوں میں اختلاف ہے، یہ امام رافعی نے ماوردی سے نقل کیا
- ۳۔ شیخ رویانی نے البحر کے باب نقض العہد میں لکھا عقد صلح ان تین امور کا موجب ہے
- ۱۔ ظاہراً مسلمانوں سے قتل وقتال سے اجتناب
- ۲۔ باطناً خیانت نہ کرنا
- ۳۔ اقوال وافعال میں ان پر حملہ آور نہ ہوں
اگر مسلمانوں کے خلاف قتال کیا تو عہد ختم اور نقض کے لئے حکم حاکم کی بھی ضرورت نہ ہوگی، اگر انھوں نے خیانت کی مثلاً مخفی طور پر ایسا فعل کیا اگر وہ ظاہر ہو جائے تو معاہدہ ٹوٹ جائے گا، اگر وہ ظاہر ہو گیا تو امام نقض عہد کا حکم جاری کر دے تو محض خیانت سے عقد ختم نہ ہوگا، ان کے ساتھ ابتداً اعلانیہ قتال جائز ہاں ان پر دھوکہ سے حملہ نہ کیا جائے البتہ امہلاً ایسا ہو سکتا ہے تو اب یہ ماقبل کے مخالف ہو جائے گا، اقوال وافعال سے حملہ، تو اس میں مسلمانوں کے حقوق، ان کے حقوق کے مقابلہ میں بڑے ہیں اگر وہ اس سے اعراض کریں تو سربراہ ان سے پوچھیں اگر جواب میں عذر پیش کریں تو قبول کیا جائے اور معاہدہ قائم رہے گا ورنہ انھیں رجوع کا کہے، اگر وہ رجوع بھی نہ کریں تو انھیں نقض عہد کی اطلاع کر کے عہد ختم کر دیا جائے تو یہ صورت دونوں اقسام کے مخالف ہے، رہا معاملہ گستاخی رسول کا تو اس سے عقد ذمہ ختم ہو جاتا ہے، اس طرح گستاخی قرآن کا
اسلام اور احترام نبوت ﷺ
مسئلہ ہے، اب اگر گستاخی اعلانیہ ہو تو یہ قسم اول کے تحت داخل اور اگر مخفی تھی تو قسم ثانی میں، شیخ ماوردی نے بھی یوں ہی بیان کیا
(الحاوی الکبیر، ۱۴: ۳۸۲)
اسی طرح انھوں نے باب نقض العہد میں لکھا، گستاخی رسول عہد توڑ چیزوں میں شامل ہے اسی طرح گستاخی قرآن بھی اگر جہراً ہو تو قسم اول اور سراً ہو تو قسم ثانی کے تحت آئے گی،
امام ابو حنیفہ نے فرمایا اس سے نہ عقد عہد ختم ہو گا اور نہ عقد ذمہ کیونکہ یہود نے آپ ﷺ سے کہا تھا السام علیک (تم پر موت ہو) تو اسے نقض عہد قرار نہیں دیا گیا پھر ان کا قول ثالث ثلاثة (تین خداؤں میں سے یہ تیسرے ہیں) اس سے کہیں بڑھ کر ہے، ہماری دلیل سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کا قول ہے جب انھوں نے گستاخ راہب کے بارے میں سنا تو فرمایا میں سنتا تو قتل کر دیتا ہم نے اس پر امان نہیں دی ہے اور صحابہ کا اس سے اختلاف معلوم نہیں تو اجماع ہو گیا
حدیث کی توجیہ
جو حدیث لائی گئی (تم پر موت ہو) اس کے دو جوابات ہیں
- ۱۔ انھوں نے بطور مذمت کہا نہ کہ بطور گالی و شتم
- ۲۔ یہ غلبہ اسلام سے پہلے کی بات ہے
ثالث ثلاثة کے جواب بھی دو ہیں
- ۱۔ انھوں نے بطور تعظیم کہا اور گستاخی کے لئے تحقیر ضروری ہے
- ۲۔ ہم انھیں اس عقیدہ پر قائم رہنے کی اجازت دے سکتے ہیں مگر گستاخی رسول کی
اجازت نہیں دی جاسکتی
(الحاوی الکبیر، ۱۴: ۳۸۳)
اسلام اور احترام نبوت ﷺ
شیخ ابو حامد ، قاضی ابو طیب اور بعد کے لوگوں نے اس کے ساتھ نقض عہد میں اختلاف ذکر کیا ہے
ضروری تمہیدی مقدمہ
آگے بڑھنے سے پہلے ایک مقدمہ کا ذکر ضروری ہے، عقد ذمہ میں مشروط اشیاء کی چند اقسام ہیں
ا۔ عقد نہیں ٹوٹتا
جن کی مخالفت پر قطعاً عقد نہیں ٹوٹتا جبکہ ان پر تعزیر نافذ کر کے انھیں عدم مخالفت کا پابند بنایا جائے گا مثلاً اظہار خمر و خنزیر، مسلمانوں کو اپنا شرک، اعتقاد، ناقوس، اعیاد، تورات وانجیل کا سنانا، ہمارے شہروں میں نئے گرجے، بلند مکانات بنانا اور لباس میں مخالفت ترک کرنا، ان سے عہد نہیں ٹوٹتا خواہ عقد کے وقت یہ شرط تھا یا نہیں
یہاں ذہن میں ایک سوال اٹھتا ہے کہ تمام عقود میں شرط کا تقاضا اختیار مخالفت ہوتا ہے مثلاً بیع وغیرہ میں رھن کی شرط ( تو یہاں ٹوٹنا چاہیے کیونکہ ہمیں عہد توڑنے کا اختیار ہے )
ممکن ہے یہاں اس کا ازالہ قبول جزیہ کا لزوم ہے اگر وہ جزیہ ادا کر کے ان امور کا ارتکاب کرتے ہیں اگر چہ وہ ممنوع اور ان پر تعزیر ہے اگر ہم نقض عہد مان لیں تو لازم آئے گا ، ہم جزیہ قبول نہ کریں اور یہ اس ارشاد باری تعالیٰ کے مخالف ہے
حتی یعطوا الجزیة عن ید وهم جب تک اپنے ہاتھ سے جزیہ نہ دیں صاغرون (التوبہ، ۲۹) کمزور ہوکر
ن يصبح عشرا، و حين يمسي عشرا، م الْقِيَامَةِ ) يث [484] ] لحديث [6233]
ے نہ پڑھیں تو یہ فوائد وثمرات ملیں گے نہ پڑھیں تو ہماری مرضی بلکہ یہ معاملہ ی ضمیر ہے۔ یہ صرف حب مصطفی ﷺ کا تقاضا ہی نہیں بلکہ نبی اکرم ﷺ ق بھی ہے اور یہ حق ادا نہ کرنے والوں کو سخت وعید بھی سنائی گئی ہے، جیسا کہ جہ ذیل احادیث میں مروی ہے۔ فضل الصلوة على النبي ﷺ [حديث: 11] مشكاة مع تحقيق الألباني، رقم الحديث (925)
اسلام اور احترام نبوت ﷺ ۲۰۲
اور ان امور پر چھوٹ، ذلت وصغار کے منافی نہیں، رہا منع اور تعزیر تو یہ ان کی اہانت وذلت میں اضافہ کے لئے ہے
۲۔ عقد قطعاً ٹوٹ جاتا ہے
کچھ ایسی چیزیں ہیں جن سے قطعاً عہد ٹوٹ جاتا ہے اور وہ التزام جزیہ، اجراء احکام اور قتال کا انکار ہے
۳۔ بعض میں اختلاف ہے اور ان کی دو اقسام ہیں
- ا۔ مسلمان خاتون سے زنا یا بنام نکاح اسے بسا لیا یا مسلمان کا راز دارالحرب میں بھیجا یا
کسی مسلمان مرد یا عورت کو دین سے پھسلایا یا ان میں سے کسی کی رہزنی کی یا کسی مشرک کو پناہ دی یا مسلمانوں کے خلاف مشرکین کے ساتھ تعاون کیا یا کسی مسلمان مرد یا خاتون کو قتل کیا، ان تمام اعمال میں متعدد طرق ہیں
طریق اول
سب سے اصح وہی ہے جسے شیخ ابو حامد، قاضی ابو طیب اور اکثر نے نقل کیا کہ اگر بوقت عقد ان کا ذکر نہیں ہوا تھا تو عہد نہیں ٹوٹے گا اور اگر ذکر ہوا تھا تو پھر دو اقوال ہیں
قول اول
مشروط کی مخالفت کی وجہ سے عقد ٹوٹ جاتا ہے پھر ان میں مسلمانوں کو واضح طور پر ضرر ہوتا ہے سیدنا ابو عبیدہ بن الجراح کا سابقہ واقعہ بھی اسی پر شاہد ہے اور اس کے ساتھ کسی نے اختلاف بھی نہیں کیا، منع جزیہ پر قیاس بھی کیا جاسکتا ہے شیخ ابن الصباغ کے بقول اس کی تصریح ہے ، قاضی حسین کے مطابق
اسلام اور احترام نبوت ﷺ
مذہب یہی ہے اسی کو ترجیح دی عصرون ہیں، شیخ رافعی نے المـ (۲۵۸:۴) اور بحر المحیط (۱۷:۲)
قول ثانی
اس سے عقد نہیں ٹوٹتا مشروط نہ ہوں تو پھر شرط کے ساتھ ذمہ کے اعتبار سے وہی ہیں جو اس طیب کا مختار کہا گیا ہے، صاحب ا کو الروضہ میں مغالطہ ہوا تو اسے ان
طریق ثانی
شیخ ابو حامد سے منقول ہـ ورنہ دو اقوال ہیں
طریق ثالث
قاضی ابن کج (م، ۴۰۵ نہیں ٹوٹتا ان طرق سے تین الافصاح ، صاحب التقریب اور خر ہے ابتداء میں شرط عائد کرنے ۔ عائد نہ کرنے کے درمیان، اس صو
اسلام اور احترام نبوت ﷺ
مذہب یہی ہے اسی کو ترجیح دینے والوں میں شیخ فورانی ، صاحب الکافی اور ابن ابی عصرون ہیں، شیخ رافعی نے المحرر میں اسے اقرب ، امام نووی نے اسے المنہاج (۲۵۸:۴) اور تصحیح التنبیہ (۲۱۷:۲) میں اس کو صحیح قرار دیا، شیخ قفال کا مختار بھی یہی ہے
قول ثانی
اس سے عقد نہیں ٹوٹتا کیونکہ جب وہ چیزیں عقد ختم نہیں کر پاتیں اگر وہ مشروط نہ ہوں تو پھر شرط کے ساتھ ناقض ہو جائیں گے مثلاً اظہار خمر ، یہ تمام امور عقد ذمہ کے اعتبار سے وہی ہیں جو اسلام میں کیا کرتا ہے بقول شیخ رافعی کے اسے قاضی ابو طیب کا مختار کہا گیا ہے، صاحب التہذیب اور ایک جماعت نے اسی کو راجح ، امام نووی کو الروضہ میں مغالطہ ہوا تو اسے اصح کہہ دیا حالانکہ ایسی بات نہیں
طریق ثانی
شیخ ابو حامد سے منقول ہے اگر عقد کے وقت یہ شرط تھی تو مخالفت سے عقد ختم ورنہ دو اقوال ہیں
طریق ثالث
قاضی ابن کج (م، ۴۰۵) نے بعض سے نقل کیا ان اسباب سے قطعاً عہد نہیں ٹوٹتا ان طرق سے تین وجوہ کی تخریج کی گئی ہے جنھیں صاحب الافصاح ، صاحب التقریب اور غزالی نے ذکر کیا ان میں سے تیسری یہ ہے کہ فرق ہے ابتداء میں شرط عائد کرنے کے درمیان کہ اس کی مخالفت سے عہد ختم اور ابتداً عائد نہ کرنے کے درمیان، اس صورت میں نقض نہیں ہوگا اور یہی اصح ہے ہر حال میں
اسلام اور احترام نبوت ﷺ
عدم نقض کا قول، الروضہ کی گفتگو کے مطابق صحیح ہے حالانکہ یہ درست نہیں قاضی ابو طیب نے کفار کو پناہ دینا ان اعمال میں شامل کیا ہے، شیخ رافعی کہتے ہیں یہ خصال ثلاثہ کے ساتھ ملحق ہے، رہزنی کے بارے میں دو طریق بیان کیے لیکن اظہر یہ ہے کہ وہ زنا کی طرح ہے
قسم ثانی
اللہ تعالیٰ، اس کی کتاب، دین اور اس کے رسول کی بے ادبی کرنا اس میں دو طرق ہیں
- ۱۔ اس سے بالاتفاق عہد ختم ہو جائے گا جیسے قتال، شیخ رافعی کے نزدیک اظہر یہی ہے کہ
یہ مسلمان عورت کے زنا وغیرہ کی طرح ہے اور اس میں اختلاف آ رہا ہے انھوں نے اسی طرح ذکر کیا ہے
(فتح العزیز: ۱۱: ۵۴۸)
شیخ ابو اسحاق نے النکت میں لکھا جب ذمی نے کتاب اللہ کا تذکرہ نا مناسب طریقہ سے کیا یا اللہ کے رسول ﷺ کی گستاخی کی تو اس کا ذمہ ختم، ہمارے اصحاب میں کچھ نے کہا اگر معاہدہ مشروط تھا کہ نہ وہ گستاخی کرے گا اور نہ اس انداز میں کتاب اللہ کا تذکرہ کرے گا تو عہد ٹوٹے گا ورنہ نہیں، امام ابو حنیفہ کا قول ہے کہ عہد نہیں ٹوٹے گا اس سے معلوم ہو رہا ہے کہ گستاخی میں بھی تین وجوہ ہیں
- ۱۔ ہر حال میں عہد ٹوٹ جائے گا، یہ شیخ ابو اسحاق مروزی اور شیخ ابو اسحاق شیرازی کا
النکت میں قول ہے
- ۲۔ ہر حال میں نہیں ٹوٹے گا اور یہ دونوں شیخ ابو حامد، قاضی ابو طیب اور شیخ رافعی و غیرہم
کے کلام میں موجود ہے
- ۳۔ اگر معاہدہ مشروط تھا تو عہد ٹوٹے گا ورنہ نہیں
اسلام اور احترام نبوت ﷺ
ہم نے امام شافعی رحمہ اللہ تعالیٰ کی کتاب الام میں گفتگو دیکھی تو اس میں اسی طرح پایا باب تحديد الامام ما يا خذ من اهل الذمة في الاحصار، میں لکھتے ہیں
سربراہ کے لئے ضروری ہے اپنے اور اہل ذمہ کے درمیان دینے اور لینے کے بارے میں حدود متعین کردے اور یہ اس حکمران اور لوگوں کی طرف سے ان کا دفاع ہوگا، اس کا نام جزیہ ہے اسے وہ بیان کردہ طریقہ کیمطابق ادا کریں ، ان سے لیا جانے والا ماہانہ ہو سکتا ہے یہ بھی معاہدہ کریں کسی کے مطالبہ پر یا انھوں نے ظلم کیا تو احکام اسلام ان پر جاری ہونگے اور یہ معاہدہ بھی ہو رسول ﷺ کا ذکر نہایت ہی آپ کے شایان شان ہو، دین اسلام پر طعن نہیں کریں گے اس کے کسی حکم کو عیب نہیں لگائیں گے اگر انھوں نے ایسا کیا تو ذمہ ختم، ان سے یہ عہد بھی لیا جائے کہ وہ مسلمان کو اپنے شرک اور حضرت عزیر وعیسیٰ علیہما السلام کے بارے اپنے عقیدہ کی تبلیغ نہیں کریں گے، اس کے بعد ان سے ایسا عمل ہوا تو ایسی سخت سزا دی جائے جو حد تک نہ پہنچے
(کتاب الام ، ۴: ۲۱۸)
اس کے بعد امام شافعی نے تمام شروط کا ذکر کیا، ان میں سے کسی میں یہ ذکر نہیں کیا کہ انھوں نے کیا تو عہد ختم، انھوں نے رہزنی وغیرہ کا ذکر کیا مگر اس باب میں مسلمان خاتون کے ساتھ زنا کا ذکر نہیں کیا
غور کیجیے انھوں نے ذکر رسول اور دین پر طعن کے علاوہ کسی میں نقض عہد پر تصریح نہیں کی، شیخ ابو اسحاق کی یہی دلیل ہے کہ اس کا شرط ہونا ضروری اور اس کی مخالفت سے عہد ٹوٹ جائے گا
باب ما احدث اهل الذمة الموادعون ممالا يكون نقضا ، کے
يُسَبِّحُ عَشْرًا، وَ حِيْنَ يُمْسِي عَشْرًا، مَ الْقِيَامَةِ ) حدیث 484] حدیث 6233]
نے پر پڑھیں تو یہ فوائد و ثمرات ملیں گے کہ نہ پڑھیں تو ہماری مرضی بلکہ یہ معاملہ بھی گمبھیر ہے۔ یہ صرف حب مصطفیٰ ﷺ کا تقاضا ہی نہیں بلکہ نبی اکرم ﷺ کا حق بھی ہے اور یہ حق ادا نہ کرنے والوں کو سخت وعید بھی سنائی گئی ہے ، جیسا کہ کچھ ذیل احادیث میں مروی ہے۔
فضل الصلوة على النبي ﷺ [حدیث: 11] مشكاة مع تحقيق الألباني، رقم الحديث (925)
اسلام اور احترام نبوت ﷺ
تحت لکھتے ہیں
جب کسی قوم سے جزیہ لیا گیا اور انھوں نے رہزنی کی یا کسی مسلمان کو قتال سے مارا یا معاہد پر ظلم کیا یا ان میں سے کسی نے زنا کیا یا مسلم یا معاہد پر فساد برپا کیا تو اس میں حد جاری کی جائے اور سخت عبرتناک سزا دی جائے گی لیکن قتل نہیں کیا جائے گا البتہ جس صورت میں قتل لازم ہو گا وہاں سزا قتل ہو گی اور یہ نقض عہد کا ایسا سبب نہیں کہ اس کا خون حلال ہو جائے، نقض عہد فقط جزیہ نہ دینے اور
(الام: ۱۹۸،۴)
احتمال ہے امام شافعی کی اس گفتگو کا محل وہ ہوگا جہاں یہ مشروط نہ ہو دلیل ہے کہ انھوں نے اس باب میں شرط ذکر نہیں کی انھوں نے فقط ترک قتال اور ادائیگی جزیہ کا تذکرہ کیا ہے تو اب کلام صحیح ہے
لیکن اس میں اس چیز کا حکم کہیں مذکور نہیں ، جب انھوں اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی گستاخی کی تو یہ کہاں سے اخذ کر لیا گیا کہ اس سے عہد نہیں ٹوٹے گا خواہ شرط تھا یا نہیں تھا ؟
پھر باب اذا اراد الامام ان يكتب كتاب صلح علی الجزیہ کتب ، میں امام شافعی نے شروط ذکر کیں اور کہا معاہدہ میں یہ شرط ہو کہ اگر تم نے حضور ﷺ یا کتاب اللہ عزوجل یا اس کے دین کی توہین کی تو اللہ تعالیٰ کا ذمہ ، امیر المومنین اور تمام مسلمانوں کا ذمہ ختم اور اس سے عطا کردہ امان بھی ختم ، امیر المومنین کے لئے ان کا مال اور خون حلال جیسا کہ اہل حرب کے اموال و خون اس کے لئے حلال ہوتے ہیں اور معاہدہ میں یہ شرط بھی ہو کہ تم میں سے کسی مرد نے اگر کسی
اسلام اور احترام نبوت ﷺ
مسلمان عورت سے زنا یا نکاح یا رہزنی مسلمانوں کے خلاف مدد کی خواہ بذریعہ اور ان لوگوں کا مال اور خون حلال
اس کے بعد باقی شروط کا ذک دیا ماسوائے سابقہ چیزوں کے پھر اس
ان میں سے جس نے مذکو پھر اسلام لے آیا اگر وہ قول تھا تو قتل نے مسلمانوں کے دین پر طعن کیا تو حد یا قصاص ہو گا نہ کہ نقض عہد کی بن سے معاہدہ ٹوٹ جائے گا اور اسلام دوں گا یا نئی صلح و معاہدہ کرتا ہوں سوائے اس کے کہ وہ فعل قصاص ایک پر سزا ہوگی نہ کہ قتل امام شافعی فرماتے ہیں اگر کسی نے خون حلال ہو جائے گا ہم نے ایس جزیہ ادا کروں گا تو اسے قتل کیا جائے
اس کلام میں صراحت ہے کہ اگر
اسی طرح اگر کسی مسلم
اسلام اور احترام نبوت ﷺ
مسلمان عورت سے زنا یا نکاح یا رہزنی یا کسی مسلمان کو دین سے پھسلایا یا حربی کفار کی مسلمانوں کے خلاف مدد کی خواہ بذریعہ قتال یا بذریعہ اطلاع یا انھیں پناہ دی تو عہد ختم اور ان لوگوں کا مال اور خون حلال
(الام ۴: ۲۰۹)
اس کے بعد باقی شروط کا ذکر کرتے ہوئے کسی کو نقض عہد کا سبب قرار نہیں دیا ماسوائے سابقہ چیزوں کے پھر اس کتاب کے آخر میں فرمایا
ان میں سے جس نے مذکورہ قول یا عمل کیا جس سے عہد ٹوٹ جاتا ہے اور پھر اسلام لے آیا اگر وہ قول تھا تو قتل نہیں ، اس طرح اگر فعل تھا تو قتل نہیں لیکن اگر اس نے مسلمانوں کے دین پر طعن کیا تو اسے حداً یا قصاصاً قتل کیا جائے گا تو ان کا قتل بطور حد یا قصاص ہوگا نہ کہ نقض عہد کی بنا پر، اگر کسی نے فعل کیا اور وہ معاہدہ میں شرط تھا اس سے معاہدہ ٹوٹ جائے گا اور اسلام نہ لایا لیکن کہتا ہے میں توبہ کرتا ہوں اور جزیہ دوں گا یا نئی صلح و معاہدہ کرتا ہوں اسے سزا دی جائے گی لیکن قتل نہیں کیا جائے گا ما سوائے اس کے کہ وہ فعل قصاص و حد کا موجب ہو اگر اس سے کم فعل یا قول ہوا تو ہر ایک پر سزا ہوگی نہ کہ قتل
(الام ۴: ۲۱۰)
امام شافعی فرماتے ہیں اگر کسی نے مذکور فعل یا قول کیا اور شرط تھی کہ ایسا کرنے سے خون حلال ہو جائے گا ہم نے ایسا کرتے ہوئے پکڑ لیا اور وہ کہتا ہے میں اسلام لایا یا جزیہ ادا کروں گا تو اسے قتل کیا جائے گا اور اس کا مال غنیمت ہوگا
(الام ۴: ۲۱۱)
اس کلام میں صراحت ہے کہ اگر یہ شرط تھا تو عہد ختم ہو جائے گا اسی طرح اگر کسی مسلمان عورت سے زنا وغیرہ کیا، نقض عہد کے بعد اگر
ين يصبح عشراً، و حين يمسي عشراً، وم القيامة ) حديث [484] الحديث [6233]
کہ نہ پڑھیں تو یہ والد ومحرمات میں سے نہ پڑھیں تو ہماری مرضی بلکہ یہ معاملہ حق پیغمبر ہے۔ یہ صرف حب مصطفیٰ ﷺ کا تقاضا ہی نہیں بلکہ نبی اکرم ﷺ کا حق بھی ہے اور یہ حق ادا نہ کرنے والوں کو سخت وعید بھی سنائی گئی ہے، جیسا کہ مندرجہ ذیل احادیث میں مروی ہے۔
فضل الصلوٰة علی النبی ﷺ [حدیث: 11]
مشكاة مع تحقيق الألباني، رقم الحديث (925)
اسلام اور احترام نبوت ﷺ ۲۰۸
اسلام لے آیا تو قصاص کے علاوہ ہر شئی ساقط ہو جائے گی دیگر ان پر سزا ہوگی بشرطیکہ جزیہ دینے کا یقین ہو ورنہ قتل اور اس کا مال غنیمت ہوگا ، ان کا مطلقاً کہنا اس پر سزا دی جائے گی اور قتل نہیں کیا جائے گا یہ عام اور قابل تخصیص ہے لہذا اس سے گستاخ نبی کو مخصوص کیا جائے گا اس کے قتل پر ان سے نقل صریح موجود ہے
امام غزالی نے خلاصہ میں جو اشارہ کیا ممکن ہے اس سے یہی مراد ہو ضعیف قول ہے کہ قبل از اسلام ان کی توبہ مقبول ہے اور ان پر تعزیر نافذ ہوگی لیکن مجھے اس پر اعتماد نہیں ،
امام خطابی اور ابن منذر نے جو صریح نقل ذکر کی ہے اس کے ساتھ تمسک اس اطلاق کے ساتھ تعلق سے اولیٰ ہے اور اس بات کی تصریح کہ گستاخ کی حد قتل ہے اس پر فیصلہ کن شاہد ہے اور اس کا تقاضا ہے کہ اسے قصاص کے ساتھ رکھا جائے جس پر امام شافعی نے نص فرمائی ہے لیکن اس سے بعد از اسلام کا مسئلہ خارج ہے جیسا کہ آ رہا ہے لہٰذا گستاخ کا قتل تقاضا کے مطابق باقی رہا یہ گفتگو قتل کی نسبت تھی رہا اس سے عقد کا ٹوٹنا تو تمام نصوص شافعی اس پر متفق ہیں بشرطیکہ مشروط ہو جیسا کہ ہم باب تحديد الامام ما يأخذ من اهل الذمة اور باب اذا اراد ان يكتب کتاب صلح سے پہلے نقل کر دیا اور جب مشروط نہیں تو نصوص خاموش ہیں جیسے باب ما احدث اهل الذمه الموادعون ، کی عبارت کا تقاضا ہے اسی طرح المختصر میں امام مزنی نے لکھا
ان پر شرط عائد کی جائے گی وہ کتاب اللہ ، رسول اللہ ﷺ اور دین اللہ کا غلط انداز میں تذکرہ نہیں کریں گے اور نہ کسی مسلمان عورت سے زنا و نکاح کریں گے
اسلام اور احترام نبوت ﷺ
نہ دین سے کسی کو ورغلائیں گے لیں گے اور نہ ان کو پناہ دیں گے حلال اور ان سے اللہ تعالیٰ اور حضور اس کے بعد شروط کا ذکر واضح ہے کیونکہ یہ اس صورت میں ہے اور قول قاضی حسین کہ مسلمان قول بغوی اصح یہ ہے کہ نقض عہد
امام بغوی کا اللہ تعالیٰ عورت کے ساتھ زنا کی طرح قرار نہ تھا نہایت ہی بعید ہے ان کے ان کے استاذ قاضی حسین کا پہلے کیونکہ عظیم آدمی ہیں اور ان کی مق
ان کی طرف سے جواب
پھر ہم پر ان کی طرف اور بلا اختلاف حق وہی ہے جو نشاندہی شیخ رافعی نے کی ہے کہ ارتکاب سے عہد ٹوٹ جائے ہے اسی کو غزالی نے لیا لیکن کثیر اصحاب نے اول کو لی
شیخ رافعی نے مسلما
اسلام اور احترام نبوت ﷺ
نہ دین سے کسی کو ورغلائیں گے نہ رہزنی ، نہ اہل حرب کی مسلمانوں کے خلاف مدد کر یں گے اور نہ ان کو پناہ دیں گے اور اگر انھوں نے ایسا کیا تو معاہدہ ختم اور ان کا خون حلال اور ان سے اللہ تعالیٰ اور حضور ﷺ کا ذمہ ختم
(المختصر ، ۷ : ۳۸۵)
اس کے بعد شروط کا ذکر کیا مگر نقض عہد کا نام تک نہ لیا لیکن کلام امام بہت ہی واضح ہے کیونکہ یہ اس صورت میں نقض عہد میں واضح ہے یہ ابن الصباغ سے منصوص ہے اور قول قاضی حسین کہ مسلمان عورت سے زنا وغیرہ یہ مذہب ہے کی تائید ہے اور قول بغوی اصح یہ ہے کہ نقض عہد نہ ہوگا خواہ شرط تھی یا نہ تھی، کو باطل قرار دے رہا ہے
۔ امام بغوی کا اللہ تعالیٰ یا اس کی کتاب یا رسول یا دین کی توہین کو مسلمان عورت کے ساتھ زنا کی طرح قرار دینا اور کہنا ہے کہ اصح عدم نقض ہے خواہ مشروط تھا یا نہ تھا نہایت ہی بعید ہے ان کے علاوہ کسی سے ہم نے اس پر تصریح نہیں دیکھی حتیٰ کے ان کے استاذ قاضی حسین کا پہلے ان سے اختلاف بھی گزرا ہے ہمیں بغوی پر تعجب ہے کیونکہ عظیم آدمی ہیں اور ان کی عادت اسقدر گراوٹ کی نہیں
ان کی طرف سے جواب
پھر ہم پر ان کی طرف سے جواب ظاہر ہوا اور یہ امام شافعی کے مخالف نہیں اور بلا اختلاف حق وہی ہے جو امام شافعی نے فرمایا لیکن پہلے ایک مقدمہ ہے جس کی نشاندہی شیخ رافعی نے کی ہے کہ معتبر کون ہے؟ ان افعال سے رکنے کی شرط یا یہ شرط کہ ارتکاب سے عہد ٹوٹ جائے گا؟ (امام الحرمین ) نے تصریح کی ہے کہ دوسری معتبر ہے اسی کو غزالی نے لیا
(الوسیط ، ۷ : ۸۴)
لیکن کثیر اصحاب نے اول کو لیا ہے
شیخ رافعی نے مسلمان عورت کے ساتھ زنا وغیرہ میں لکھا درمیانی راہ اختیار
اسلام اور احترام نبوت ﷺ
کرتے ہوئے یہ کہنا پسند نہیں کہ اگر نقض شرط تھا تو ظاہر نقض ہے جیسے کہ شیخ قفال سے مختار منقول ہے ورنہ ظاہر عدم نقض ہے جیسا کہ قاضی ابو طیب کی طرف مختار منسوب ہے
(فتح العزیز ، ۵۴۸:۱۱)
شیخ ابن رفعہ کا قول
شیخ ابن رفعہ نے لکھا، غیر امام کا کلام واضح کر رہا ہے کہ یہاں شرط سے مراد رک جانا ہے نہ کہ شرط نقض اور یہ کلام ماوردی سے آشکار ہے اور اس پر صاحب المرشد، شیخ بند نجی اور ابن داود و غیرھم نے تصریح کی ہے حتی کہ صاحب ابانہ نے یہاں تین وجوہ نقل کی ہیں وہاں تیسری وجہ میں کہا ، اگر ہم ان پر یہ شرط عائد کریں کہ تم نے یہ نہیں کرنا تو پھر نقض ہو گا ورنہ نہیں
اب سنیے
جب تم نے مقدمہ پڑھ لیا تو اب سنیے بغوی نے عدم نقض کو صحیح کہا خواہ شرط تھی، یا نہ، اس لئے کہ انھوں نے شرط امتناع واجتناب کی تصریح کی تھی، ان کی عبارت ہے
اگر امام نے عقد کرتے وقت ان چیزوں سے روکنے کی شرط نہیں لگائی تھی تو نقض عہد نہ ہو گا اور اگر شرط لگائی تھی تو دو اقوال ہیں اصح یہ ہے کہ نقض نہ ہو گا
(التهذیب، ۵۰۶:۷)
اور جس نقض پر امام شافعی کی تصریحات شاہد ہے وہ اس وقت ہے جب عہد میں ان کی مخالفت کو بطور نقض شرط کیا ہو لہذا یہ دو الگ الگ مسائل ٹھہرے اور شیخ رافعی کی درمیانی راہ پر بھی شاہد ہے
لیکن ہم کہتے ہیں
لیکن ہماری رائے یہ ہے کہ معاہدہ میں اگر شرط تھی کہ اللہ تعالیٰ ، اس کے
اسلام اور احترام نبوت ﷺ
رسول، کتاب اور دین کی اگر توہین کی تو معاہدہ ٹوٹ جائے گا تو پھر اگر کسی نے ارتکاب کیا تو قول واحد ہی ہے معاہدہ ٹوٹ جائے گا کیونکہ امام شافعی کی تمام تصریحات اس پر شاہد ہیں، کلام اصحاب میں اس کی مخالفت موجود نہیں اور دلائل کا بھی یہی تقاضا ہے جب ان اشیاء سے رکنا شرط کیا تھا لیکن نقض مشروط نہ تھا تو اختلاف اور اصحاب کے مراتب ثلاثہ کا محل یہی ہے یہی وجہ ہے اکثر اصحاب نے شرط امتناع ذکر کی ہے شاید امام نے مختصر کی عبارت سے شرط انتقاض لی ہو لیکن امام شافعی نے اسے محل خلاف نہیں بنایا اس طریقہ سے امام بغوی سے ملامت زائل ہو جاتی ہے اگرچہ ان کے مخالف قول اصح ہے ہاں فی الجملہ محل اختلاف ہے
جب شرط نقض ہو تو اس میں صراحۃً مخالفت نامعلوم ہے ، ہم نے کلام شافعی میں فقط شرط امتناع بغیر نقض دیکھا ہے کہ اس کی وجہ سے نقض کا حکم نہیں مثلاً امتیازی لباس نہ پہننا، بعید نہیں کہ اختلاف مسلمان عورت کے ساتھ زنا وغیرہ میں بھی ہو جب کہ شرط امتناع تھی اگر چہ زیادہ ضرر کی وجہ سے فرق ممکن ہے یہ تو زنا وغیرہ میں ہے، رہا اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ، دین اور کتاب کا معاملہ تو اس میں اضافہ اور ہے وہ یہ کہ اصحاب کا اختلاف ہے کہ اس کا عقد میں شرط کرنا ضروری تھا یا نہ؟ لیکن زنا وغیرہ سے رکنے کا ذکر بلا اختلاف شروط نہیں تو اللہ تعالیٰ اور رسول کا معاملہ اقویٰ ہے مسلمان عورت کے ساتھ زنا سے امتناع شرط کی صورت میں جاری ہونے والا اختلاف گستاخی مشروط میں جاری ہونا لازم نہیں البتہ جب شرط نہ تھی تو زنا وغیرہ میں اختلاف ہو سکتا ہے رہی گستاخی اگر ہم کہیں اس سے رکنا شرط لازم ہے تو جب شرط نہ ہو اصحاب میں اختلاف ہے کہ عقد نافذ ہو گا یا قائم رہے گا اور مشروط کی طرح ہو کیونکہ یہ شرعاً از خود مشروط ہے
اسلام اور احترام نبوت ﷺ
اگر عقد میں اس سے رکنے کی شرط لازم نہیں تو اس کے زنا سے اعظم ہونے میں شبہ تک نہیں لہذا زنا میں اختلاف سے سب میں اختلاف لازم نہیں آتا مگر اصحاب نے اسے ذکر کیا اور اس تقدیر پر احتمال تھا لیکن اسے صحیح قرار دینا بعید ہے اور یہ اس وقت ہے جب عدم شرط کا یقین ہو
لیکن ہمارا جس مسئلہ میں کلام ہے اس میں شرط یا عدم شرط کا ہمیں علم نہیں
شیخ ابن ابی عصرون نے الانتصار میں زنا وغیرہ اور جب عقد میں اس کا ترک شرط تھا یا نہ پر دوران گفتگو ایک عظیم فائدہ ذکر کیا کہ جب عقد میں شرط کے بارے میں علم نہ ہو تو اسے مشروط ہی سمجھا جائے گا کیونکہ مطلق عقد کو متعارف پر ہی محمول کیا جاتا ہے اور یہ عقد شرع میں ان شرائط پر مشتمل ہوتا ہے تو یہی وجہ ہے جب ان سے مسلمان عورت سے زنا اور گستاخی کا ارتکاب ہوا تو حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے فرمایا
ما على هذا اعطيناكم الامان ہم نے اس پر تمہیں امان نہیں دی
حضرت ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا
ما على هذا صالحناكم ہم نے اس پر تم سے صلح نہیں کی
تو جب زنا میں ان کا قول یہ ہے
فما ظنک بالسب؟ تو پھر گستاخی کے بارے میں کیا خیال ہے؟
دو طریقے
اصحاب نے اللہ تعالیٰ کی اور اس کے رسول کی توہین سے نقض عہد میں اختلاف ذکر کیا تو محل خلاف میں دو طریقوں پر اختلاف کیا
- ۱۔ اختلاف اس صورت میں ہے جب حضور ﷺ کا ذکر اپنے عقیدہ بد اور دین کی بنا
پر کیا لیکن اگر ایسی بات ان کا عقیدہ و دین نہ تھا مثلاً زنا یا نسب میں طعن کیا تو اسے قتال
اسلام اور احترام نبوت ﷺ
کے ساتھ لاحق اور عہد ختم خواہ اس سے اجتناب عہد میں شرط تھا یا نہیں،
شیخ رافعی لکھتے ہیں، یہی بات شیخ ابراہیم مروزی (م، ۵۳۶) کے تعلیقہ میں ہے اور اسے قاضی رویانی نے بعض ائمہ خراسان سے نقل کیا
ہم کہتے ہیں اس پر یہ شہادت بھی ہے کہ امام شافعی نے نبی، دین اور کتاب کا ذکر کیا مگر اللہ تعالیٰ کے بارے میں ذکر نہیں کیا کیونکہ کوئی بھی اللہ تعالیٰ کے بارے میں توہین کے ارتکاب کا عقیدہ نہیں رکھتا
- ۲۔ شیخ رافعی نے لکھا یہ صیدلانی وغیرہ کے ہاں مختار ہے کہ اختلاف اسی صورت میں
ہے جب طعن ایسی چیز پر ہو جو ان کا دین نہ ہو، اگر وہ ان کا دین ہے تو پھر بالاتفاق عہد ختم نہ ہوگا مثلاً قرآن مجید کے بارے میں ان کا کہنا یہ اللہ کی طرف سے نہیں اسی کو غزالی نے نقل کیا
(فتح العزیز، ۱۱: ۵۴۹)
ہم کہتے ہیں اسے اگرچہ صیدلانی وغیرہ نے ترجیح دی مگر ضعیف ہے امام شافعی کا سابقہ کلام اس کے مخالف ہے پھر کون سی ضرورت ہے کہ ہم ان کی شوکت کی بات کریں حالانکہ ان کی ذلت کا حکم ہے اور اس اظہار میں تو ان کی غیرت اور مسلمانوں کی ذلت ہے، تو خلاصہ یہ ہے کہ جس نے صریح لعنت سے گستاخی کی اس کا عہد ختم اور وہ حلال الدم ہو جائے گا اس کے نقض عہد میں اختلاف کرنا بعید ہے، رہا خون کا حلال ہونا خواہ اس کا عہد ٹوٹا یا نہیں تو اس کے بارے میں امام شافعی اور امام احمد اور امام مالک سے کوئی مذہب محقق ثابت نہیں،
یہاں ہم اس کا تذکرہ ضروری سمجھتے ہیں کہ اگر اس سے امتناع کی شرط عقد میں لگانے سے قطعاً درست ہوگا اور کلام شافعی کا تقاضا یہ ہے کہ نقض کی شرط سے بھی عقد درست ہے اور صواب یہی ہے امام شافعی نے، اذا شرط عليهم في اظهار
اسلام اور احترام نبوت ﷺ
الخمر ونحوہ، کے تحت لکھا یہ بات اس پر مبنی ہے کہ کیا عقد ذمہ مدت مقرر کے لئے جائز ہے؟ اگر ہم اسے صحیح قرار دیں تو عقد درست لیکن اگر وہ اظہار خمر وغیرہ کریں تو عقد ختم اور اگر ہم اسے صحیح قرار نہ دیں تو عقد اصلاً ہی نہ ہوگا اور اصحاب سے منقول یہ ہے کہ عقد ختم نہ ہوگا بلکہ شرط فاسد اور عقد قائم ہوگا اور اس کا فائدہ ان کی تخویف واذلال ہے اور اس کی توجیہ یوں ہے کے وقت معین کے ساتھ تعلق، دائمی کے منافی ہے اور بعض اوقات فعل نہیں ہو گا لیکن عقد کامل ہوتا ہے تو جب وقت کا تعین، دوام کے منافی نہیں تو یہ لغو اور عقد دائمی ہوگا
ہم اس صورت کی طرف آتے ہیں کہ گستاخی سے عقد نقض مشروط تھا تو بقول امام اگر انھوں نے گستاخی کی تو ذمہ ختم اس لئے اگر ہم اسے وقت مقرر تک صحیح مانیں تو وہ گزر گیا اور نہ نافذ ہوگا، اصحاب نے کہا کہ شرط فاسد اور عقد قائم یہاں وہ جاری نہیں ہو سکتا کیونکہ اظہار خمر وغیرہ کی صورتیں عقد میں نقض کے لئے مشروط کرنا مشروع نہیں اس لئے یہ شرط لغو، عقد قائم و دائم ، رہی گستاخی تو اس کا نقض کے لئے شرط ہونا مشروع ہے لہٰذا اسے لغو کرنا جائز نہیں، اولیٰ یہی ہے موقت عقد کو صحیح کہا جائے اگرچہ وقت مجہول ہو جیسا کہ کلام شافعی کا تقاضا ہے، ممکن ہے اس میں اختلاف بعید ہو کہ یہ فاسد ہے رہا گستاخی کی صورت میں کہنا کہ عقد قائم تو یہ کوئی فقیہ نہیں کہہ سکتا
حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے شرائط
یہاں ہم حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے شرائط ذکر کیے دیتے ہیں کیونکہ اس مسئلہ میں یہ نہایت ہی معتمد ہے، انھوں نے یہود کو شام کی طرف نکالا تو ان سے اور نصاریٰ سے صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین (جو اس امت کے اسلاف اور صدر ہیں) کے سامنے معاہدہ کیا ان کے بعد کسی سربراہ کے لئے یہ جائز نہیں کہ حضرت عمر
اسلام اور احترام نبوت ﷺ
رضی اللہ عنہ کے شرائط کے بغیر صلح کرلے ، تمام اہل ذمہ کو حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی مقرر مذکورہ شرائط کے تحت ہی پناہ دی جائے کیونکہ بعد میں کسی سربراہ نے ان کے خلاف عقد نہیں کیا بلکہ تمام نے ان شرائط پر اعتماد کرتے ہوئے انھیں امان دی ، اسی لئے ہم کہتے ہیں جب ہم آگاہ نہیں کہ وقت معاہدہ شروط طے ہوئیں یا نہیں تو ہم مشروط ہی مانیں گے کیونکہ عرف شرعی سے وہ شروط از خود ثابت ہیں، آج تمام اہل ذمہ کے بارے میں معلوم نہیں کہ سربراہ نے ان سے کیا معاہدہ کیا یا اپنے اباء کے عہد پر ہونگے جو حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے منقول ہے یا ہم کہیں گے کہ ان کا ذمہ ہی نہیں کیونکہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے علاوہ کسی سربراہ سے نہ شرائط معلوم اور نہ عقد ، ان کی شرائط متصل اور صحیح سند کے ساتھ منقول ہیں ، اہل علم نے اپنی کتب میں صحابی رسول حضرت عبدالرحمن بن غنم رضی اللہ عنہ سے صحیح اسانید کے ساتھ یوں نقل کیا
حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی تحریر
فرماتے ہیں جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے نصاریٰ شام سے صلح کی تو ہمارے لئے یہ لکھا
بسم اللہ الرحمن الرحیم
یہ اللہ کے بندے امیر المؤمنین عمر کا نصاریٰ کے ساتھ معاہدہ ہے تم نے اپنے نفوس ، اولاد اور اموال اور اہل ملت کے لئے امان مانگی، تم نے ہمارے لئے اپنے اوپر شرائط عائد کیں ہیں کہ ہم اپنے شہروں اور ان کی اطراف میں تمہیں (دیر) کنیسہ عبادت گاہ ، راہب کا صومعہ بنا دیں گے ، گرے ہوئے کو نیا نہیں بنا کر دیں گے اور ہم نہ شرک اعلانیہ نہ کریں گے اور نہ ہی اس کی دعوت دیں گے ، اگر ان میں سے کسی کی مخالفت کریں جو ہم نے شرائط مانیں ہیں تو پھر ہمارا ذمہ ختم اور تم اہل قتال کی طرح ہمارے
ہی تقصیر ہے۔ یہ صرف حب مصطفیٰ ﷺ کا تقاضا ہی نہیں بلکہ نبی اکرم ﷺ کا حق بھی ہے اور یہ حق ادا نہ کرنے والوں کو سخت وعید بھی سنائی گئی ہے، جیسا کہ مندرجہ ذیل احادیث میں مروی ہے۔ فضل الصلوۃ علیٰ النبی ﷺ [حدیث: 11] مشکاۃ مع تحقیق الألبانی، رقم الحدیث (925)
م الْقِيَامَةِ ) ديث [484] [ حدیث [6233]
اسلام اور احترام نبوت ﷺ ۲۱۶ ساتھ کر سکتے ہو، یہ تمام شرائط حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے حکم پر تحریر ہوئیں، اس میں واضح طور پر موجود ہے کہ شرائط عائد کرنا درست ہیں اور یہ کہنا کہ عقد موقت درست نہیں ضعیف ہے اور اس معاہدہ میں اس پر واضح دلیل ہے کہ اظہار شرک سے معاہدہ ختم ولا شک ان السب اقبح بلاشبہ گستاخی کا ارتکاب اس سے کہیں بدتر ہے شیخ ابو مشجعہ بن ربعی کہتے ہیں حضرت عمر رضی اللہ عنہ شام تشریف لے گئے تو شام کا سر براہ قسطنطین آیا اور اس نے معاہدہ اور شرائط طے کی اور کہا انھیں لکھ دو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا ہاں، ابھی تحریر لکھی جارہی تھی تو حضرت عمر کو یاد آ گیا تو فرمایا میں معرۃ الجیش کو مستثنیٰ کرنا چاہتا ہوں، اس نے کہا ٹھیک ہے، تحریر لکھی گئی تو اس نے کہا امیر المومنین لوگوں کو کھڑے ہو کر بتا دیجیے جو آپ نے میرے لئے حقوق و فرائض طے کیے ہیں تاکہ یہ مجھ پر ظلم سے محفوظ ہو جائیں، حضرت عمر نے فرمایا ہاں پھر خطاب میں اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا کرتے ہوئے یہ الفاظ پڑھے، الحمد للہ احمدہ و استعینہ ومن یہدہ اللہ فلامضل لہ ومن یضلل اللہ فلا ہادی لہ، اس پر ایک نبطی نے کہا، اللہ تعالیٰ کسی کو گمراہ نہیں کرتا آپ نے پوچھا، کیا کہا لوگوں نے کہا کچھ نہیں نبطی نے دوبارہ کہا لوگوں نے بتایا تو فرمایا ہم نے تجھے دین میں مداخلت کا حق نہیں دے رکھا، قسم اللہ تعالیٰ کی اگر تو نے دوبارہ ایسی بات کی تو اڑا دوں گا
(کتاب الاموال،۱۹۹)
آپ نے یہ بات انصار اور مہاجرین کے سامنے کہی اور ان میں سے کسی نے اس سے اختلاف نہیں کیا تو اس سے واضح ہورہا ہے دین پر طعن موجب قتل و نقض عہد ہے فالسب اولیٰ بذلک گستاخی میں یہ حکم بطریق اولیٰ ہوگا
اسلام اور احترام نبوت ﷺ شیخ حرب نے المسائل میں امام احمد سے نقل کیا حضرت عمر رضی اللہ عنہ من سب الله او سب من الانبياء فاقتلوہ
امام لیث سے ہے حضرت ابن تعالیٰ یا کسی نبی کی گستاخی کی اس اگر رجوع کرلے تو ٹھیک ورنہ قتل نے
فقد نقض العهد فاقتلوہ
سوال ۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ جواب ۔ اس نے گفتگو بطور سے ایسی بات ہو جاتی ہے حضر وہ ایسا کرتا تو اسے طعن سمجھا جاتا حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما اسے قتل کر دیتا
انا لم نعطهم الذمۃ بسبوا نبینا
یہ اور دیگر صحابہ کے اقوال بتا رہ
اسلام اور احترام نبوت ﷺ
شیخ حرب نے المسائل میں امام لیث بن ابی سلیم (م، ۱۳۸) کے حوالہ سے حضرت مجاہد سے نقل کیا حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس گستاخ نبی کو لایا گیا تو قتل کا حکم دیا اور فرمایا من سب الله او سب احدا جس نے اللہ تعالیٰ کی گستاخی کی یا انبیاء من الانبياء فاقتلوه علیھم السلام میں سے کسی ایک کی گستاخی کی پس اسے قتل کرو
امام لیث سے ہے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا جس مسلمان نے اللہ تعالیٰ یا کسی نبی کی گستاخی کی اس نے رسول اللہ ﷺ کی تکذیب کی اور یہ ارتداد ہے اگر رجوع کرلے تو ٹھیک ورنہ قتل پھر جو معاہد معاند ایسا کرے یا اعلانیہ ایسی بات کر ے فقد نقض العهد فاقتلوه تو اس کا عہد ٹوٹ گیا اور اسے قتل کیا جائے گا
سوال ۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے نبطی کو قتل کیوں نہ کیا؟
جواب ۔ اس نے گفتگو بطور جہالت کی تھی نہ کہ بطور دین پر طعن ، بہت سے جہال سے ایسی بات ہو جاتی ہے حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اسے سمجھا دیا حتی کہ اس کے بعد وہ ایسا کرتا تو اسے طعن سمجھا جاتا اور اس سے عہد ختم ہو جاتا
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کا گستاخ راہب کے بارے میں کہنا اگر میں سن لیتا تو اسے قتل کر دیتا انا لم نعطهم الذمة على ان ہم نے انھیں اس پر ذمہ نہیں دیا کہ وہ يسبوا نبينا ہمارے نبی کو برا کہیں یہ اور دیگر صحابہ کے اقوال بتا رہے ہیں کہ شروط میں سے ہے کہ وہ ہمارے نبی ﷺ
م القيامة ) ديث [484] الحديث [6233]
ہی گھمبیر ہے۔ یہ صرف حب مصطفی ﷺ کا تقاضا ہی نہیں بلکہ نبی اکرم ﷺ حق بھی ہے اور یہ حق ادا نہ کرنے والوں کو سخت وعید بھی سنائی گئی ہے، جیسا کہ درجہ ذیل احادیث میں مروی ہے۔ فضل الصلوۃ علی النبی ﷺ [حدیث: 11] مشكاة مع تحقيق الألباني، رقم الحديث (925)
اسلام اور احترام نبوت ﷺ
کی گستاخی نہیں کریں گے جس نے اس شرط کی مخالفت کی اس نے عہد کی مخالفت کی لہذا اس کا ذمہ ختم
نقض عہد پر دلیل
- ۱۔ نقض عہد پر دلائل میں ایک اہم دلیل یہ ارشاد باری تعالیٰ ہے
وان نكثوا ايمانهم من بعد عهد اگر وہ عہد کے بعد حلف توڑ دیں اور هم وطعنوا في دينكم فقاتلوا تمہارے دین پر طعن کریں تو کفر کے ائمة الكفر (التوبہ:۱۲) سربراہوں کے خلاف جنگ کرو اور اس میں کوئی شک نہیں ان الساب ناكث لايمانه گستاخ عہد توڑنے اور دین پر طعن طاعن فی الدین کرنے والا ہوتا ہے
- ۲۔ دوسرے مقام پر
الا تقاتلون قوماً نكثوا کیا اس قوم سے نہ لڑو گے جنھوں نے ايمانهم وهموا باخراج اپنی قسمیں توڑیں اور رسول کے نکالنے کا الرسول (التوبہ:۱۳) ارادہ کیا
اخراج رسول کے ارادہ پر قتال کا حکم نقض عہد کا تقاضا کر رہا ہے فالسب بطريق الاولى تو گستاخی بطریق اولیٰ اس کا تقاضا کرے گی اور انھیں کفر کا امام قرار دیا کیونکہ اس میں ان کی اقتداء کی جاتی تھی تو گستاخ طعن کرنے والا بھی اس میں شامل ہوگا
- ۳۔ آگے ارشاد باری تعالیٰ ہے
اسلام اور احترام نبوت ﷺ
قاتلوهم يعذبهم الله بايديكم ويخزهم وينصركم عليهم ويشف صدور قوم مؤمنين ويذهب غيظ قلوبهم
(التوبہ:۱۴، ۱۵)
یہ چیزیں بتا رہی ہیں کہ ان سے کفر ہے اور اس لئے ان کے خلاف غصہ درمیان جنگ میں دونوں پہلو ہوتے
- ۴۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے
قاتلوا الذين لا يؤمنون بالله و لا باليوم الاخر اور آخر میں فرمایا حتى يعطوا الجزية عن يد وهم صاغرون
(التوبہ: ۲۹)
صغار کا معنی ذلت و کمزوری ہے، و حال الساب ليس كذلك
اسلام اور احترام نبوت ﷺ
قاتلوهم یعذبهم الله بایدکم تو ان سے لڑو اللہ انھیں عذاب دے گا ویخزهم وینصرکم علیهم تمہارے ہاتھوں انھیں رسوا کرے گا ویشف صدور قوم مؤمنین اور تمہیں ان پر مدد دے گا اور ایمان ویذهب غیظ قلوبهم والوں کا جی ٹھنڈا کرے گا اور ان کے (التوبہ، ۱۴، ۱۵) دلوں کی گھٹن دور فرمائے گا
یہ چیزیں بتا رہی ہیں کہ ان سے کفر سے بڑھ کر اشیاء سرزد ہوئیں اور وہ طعن و گستاخی ہے اور اس لئے ان کے خلاف نصرت کا وعدہ ہے حالانکہ دیگر کفار اور مسلمانوں کے درمیان جنگ میں دونوں پہلو ہو سکتے ہیں کبھی وہ غالب اور کبھی مسلمان غالب۔
- ۴۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے
قاتلوا الذین لا یؤمنون بالله جنگ کرو ان سے جو ایمان نہیں لاتے اللہ و لا بالیوم الاخر پر اور آخرت پر
اور آخر میں فرمایا
حتیٰ یعطوا الجزیة عن یہاں تک کہ وہ جزیہ دیں اپنے ہاتھ ید وهم صاغرون چھوٹے بن کر (التوبہ، ۲۹)
صغار کا معنی ذلت و کمزوری ہے
وحال الساب لیس کذلک حالانکہ گستاخ کا حال اس طرح نہیں ہوتا
اسلام اور احترام نبوت ﷺ
کی تکمیل ہے۔ یہ صرف حب مصطفیٰ ﷺ کا تقاضا ہی نہیں بلکہ نبی اکرم ﷺ حق بھی ہے اور یہ حق ادا نہ کرنے والوں کو سخت وعید بھی سنائی گئی ہے، جیسا کہ مندرجہ ذیل احادیث میں مروی ہے۔
فضل الصلوة على النبي ﷺ [حديث: 11]
مشكاة مع تحقيق الألباني، رقم الحديث (925)
فصل ثالث
خاتم نبوت
اسلام اور احترام نبوت ﷺ
فصل ثالث
خواہ نقض عہد ہو یا عدم نقض اس سے عدم قتل لازم نہیں
يَوْمَ الْقِيَامَةِ )
الحديث [484]
الحديث [6233]
ہی گھمبیر ہے۔ یہ صرف حب مصطفیٰ ﷺ کا تقاضا ہی نہیں بلکہ نبی اکرم ﷺ کا حق بھی ہے اور یہ حق ادا نہ کرنے والوں کو سخت وعید بھی سنائی گئی ہے، جیسا کہ درج ذیل احادیث میں مروی ہے۔ فضل الصلوة على النبي ﷺ [حديث: 11] مشكاة مع تحقيق الألباني، رقم الحديث (925)
اسلام اور احترام نبوت ﷺ
پیچھے شیخ ابو حامد کے حوالہ سے گزرا ہے کے کلام میں ہے اور یہی صحیح ہے کیونکہ قذف اور قصاص تو جب اس کا عقد ٹھہرا ہے اور جب ٹوٹ گیا تو پھر بھی یہ حد سوال، مسلمان پر جب سزا قائم ہوگی کافر ہے اس نے کفر پر اضافہ نہیں کیا ہوتا ہے، اس طرح نقض کی صورت میں تو اس میں اختلاف ہے، کیا اسے واپس حاصل ہے؟ تو قتل کو ہی متعین قرار دینا جواب ، ہم نے پیچھے واضح کر دیا ہے لازم نہیں آتا کہ اسلام سے یہ ساقط ہوا
- ۱۔ عمومی ارتداد ۲۔ خاص گستاخی
دوسری علت یہاں موجود ہے کافر اصلی جس میں فقط کفر تھا اسے وقت بھی اسے باقی رکھا جائے سائل کا یہ کہنا ، کہ کافر کے کفر میں اضافہ ثم كفروا ثم ازدادوا كفرا
(النساء، ۱۳۷)
گستاخی نیا کفر ہے اس سے پہلے کفر رہنے دیا جائے تو اس پر حد کا اجرا ہو
مِ الْقِيَامَةِ ) ديث [484] الحديث [6233]
کی تعبیر ہے۔ یہ صرف حب مصطفی ﷺ کا تقاضا ہی نہیں بلکہ نبی اکرم ﷺ کا حق بھی ہے اور یہ حق ادا نہ کرنے والوں کو سخت وعید بھی سنائی گئی ہے، جیسا کہ درجہ ذیل احادیث میں مروی ہے۔ فضل الصلوة على النبي ﷺ [حديث: 11] مشكاة مع تحقيق الألباني، رقم الحديث (925)
اسلام اور احترام نبوت ﷺ ۲۲۳
پیچھے شیخ ابو حامد کے حوالہ سے گزرا اسے دونوں صورتوں میں قتل کیا جائے گا اسی طرح دیگر کے کلام میں ہے اور یہی صحیح ہے کیونکہ یہ قتل خاص طور پر گستاخی کی حد ہے جیسے حد زنا، حد قذف اور قصاص تو جب اس کا عقد نہیں ٹوٹا تو اس پر حدود کا قیام ہو گا جیسے مسلمان پر ہوتا ہے اور جب ٹوٹ گیا تو پھر بھی حدود قائم ہونگے کیونکہ اس نے التزام کر رکھا ہے
سوال، مسلمان پر جب سزا قائم ہوگی تو اس کے کفر کی وجہ سے ہوگی اور (ذمی) تو پہلے کافر ہے اس نے کفر پر اضافہ نہیں کیا تو عدم نقض کی صورت میں اس کا قتل بعید محسوس ہوتا ہے، اس طرح نقض کی صورت میں بھی بعید ہے کیونکہ جب ذمی کا عہد ختم ہو جائے تو اس میں اختلاف ہے، کیا اسے دارالحرب واپس بھیجا جائے یا امام کو اس میں اختیار حاصل ہے؟ تو قتل کو ہی متعین قرار دینا اس کے مخالف ہے
جواب، ہم نے پیچھے واضح کر دیا ہے کہ یہ مسلمان کے حق میں حد ہے اور اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ اسلام سے یہ ساقط نہیں ہوگی کیونکہ اس میں دو علتیں جمع ہیں ۱۔ عمومی ارتداد ۲۔ خاص گستاخی
دوسری علت یہاں موجود ہے
کافر اصلی جس میں فقط کفر تھا اسے باقی رکھنے سے یہ لازم نہیں کہ اضافہ گستاخی کے وقت بھی اسے باقی رکھا جائے
سائل کا یہ کہنا، کہ کافر کے کفر میں اضافہ نہیں ہوا ہم نہیں مانتے کیونکہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے
ثم كفروا ثم ازدادوا كفرا پھر انھوں نے کفر کیا پھر کفر میں اضافہ کیا (النساء، ۱۳۷)
گستاخی نیا کفر ہے اس سے پہلے کافر کا اس پر اقرار نہ تھا اور نہ ہی اب اسے اس پر قائم رہنے دیا جائے تو اس پر حد کا اجرا ضروری ہے جو کہ قتل ہے
اسلام اور احترام نبوت ﷺ
- ا۔ اس اجماع کی بنا پر جسے امام فارسی نے نقل کیا
- ۲۔ نبی ﷺ کی ذات اقدس تمام مخلوق میں بلند شان رکھتی ہے
فلا يليق ان يكون سبه تو نبی علیہ السلام کی گستاخی کو دوسروں کی كسب غيره گستاخی کی طرح نہیں سمجھا جائے گا
کیا تمہیں علم نہیں ام المومنین پر تہمت لگانے والوں پر دو حدیں جاری ہوئیں اور یہ ازواج مطہرات کا خاصہ ہے جو دیگر اہل ایمان کو حاصل نہیں اگر چہ اس روایت کے ثبوت میں اختلاف ہے جب ان کی عظمت کی بنا پر حد بڑھ جاتی ہے
فمما ظنک به؟ تو آپ ﷺ کی شان کے حوالہ سے تمہارا کیا خیال ہے؟
عنقریب ہم قتل کے دلائل کی فصل میں معتمد دلائل کا تذکرہ لا رہے ہیں
سائل کا قول، ذمی کا جب عہد ختم ہو گیا تو وہاں اختلاف ہے کیا اسے دارالحرب واپس بھیجا جائے یا امام کو اختیار ہے؟ یہ اس وقت ہے جب اس سے صرف ایسا کفر صادر ہو جس پر اسے قرار دیا گیا تھا
اما اذا صدر منه ما يوجب اگر ایسی چیز صادر ہو جو موجب قتل ہے تو القتل فانه يستوفى حداً پھر کامل حد کا نفاذ ہوگا
اور دوسری بات یہ ہے کہ یہ گستاخی اس کفر کے مخالف ہے جس پر ہم نے اسے ثابت رکھا اور امان دی لہذا اس کفر پر ہمیں اسے امان دینا لازم نہیں جس پر اسے نہ ثابت رکھ سکتے ہیں اور نہ واپس کر سکتے ہیں اور نہ قتل کے علاوہ کوئی سزا دے سکتے ہیں (بشرطیکہ وہ
اسلام اور احترام نبوت ﷺ
اسلام نہ لائے) کیونکہ اس کا کفر نہایت غلیظ و شدید ہے خلاصہ یہ ہے کہ اس کے قتل پر دلائل بتا رہے ہیں کہ اس کا قتل بطور حد ہے یا شدت کفر کی وجہ سے کیونکہ ایسی صورت میں نہ تو غلام بنایا جاسکتا ہے اور نہ احساناً چھوڑا جاسکتا ہے اور نہ فدیہ لیا جاسکتا ہے اور ایسے شخص کو واپس بھی نہیں کیا جاسکتا اور نہ ہی امام کو اس میں اختیار ہے اسی وجہ سے واپسی اور اختیار کا قول کرنے والے اہل علم نے فرمایا ہے کہ گستاخی کی صورت میں قتل کے علاوہ کوئی قول نہیں، یہ اہل مذاہب ثلاثہ کی گفتگو ہے ،اس مسئلہ خاص میں ان کا کلام دیگر مقامات کے اطلاق پر بھی فیصل اور ماخذ پر متوجہ کرنے والا ہے وہ یا بہت زیادہ شدت کفر ہے کہ اس کی سزا قتل کے علاوہ نہیں یا خاص گستاخی کا خیال ہے
دونوں ماخذ میں فرق یہ ہے کہ ماخذ اول کی صورت میں گستاخی علت کی جز اور دوسرا جز کفر ہے اور مسلمان میں ارتداد مع گستاخی، ذمی میں کفر اصلی مع گستاخی ماخذ ثانی میں دونوں مقامات پر تنہا گستاخی ہی علت ہے حتی کہ اگر اسے کفر سے جدا بھی مان لیا جائے تو سزا قتل ہی ہے اس کے بارے میں باب اول کے آخر میں فصل ثانی کے مسئلہ اولیٰ میں گفتگو کی تھی
تو دونوں ماخذوں میں اسلام لانے سے پہلے لزوم قتل کا قول درست ہے خواہ نقض عہد مانیں یا نہ مانیں اور یہ اس ارشاد نبوی کے تحت نہیں آئے گا
من قتل معاهدًا لم يرح رائحة جس نے کسی معاہد کو قتل کیا وہ جنت کی الجنة (البخاری، ۳۱۶۶) خوشبو نہیں پائے گا
مِ الْقِيَامَةِ )
یث [484]
حدیث [6233]
ق ضمیر ہے۔ یہ صرف حب مصطفیٰ ﷺ کا تقاضا ہی نہیں بلکہ نبی اکرم ﷺ حق بھی ہے اور یہ حق ادا نہ کرنے والوں کو سخت وعید بھی سنائی گئی ہے، جیسا کہ درجہ ذیل احادیث میں مروی ہے۔
فضل الصلوۃ علی النبی ﷺ [حدیث: 11]
مشكاة مع تحقيق الألباني، رقم الحديث (925)
اسلام اور احترام نبوت ﷺ
اور نہ ہی اس ارشاد گرامی کے تحت آئے گا ولا ذو عهد بعهده کسی معاہدہ کر لینے والے کو قتل نہ کیا جائے
(سنن ابوداؤد، ۲۵۳۰)
یہ اس وقت ہو گا جب اسے ناحق قتل کیا جائے گا پھر یہ اسی وقت ہے جب ہم کہیں کہ عقد نہیں ٹوٹتا جیسے زنا و قصاص پر قتل ، اور اگر ہم مان لیں کہ عقد ٹوٹ گیا تو وہ معاہد رہا ہی نہیں ، الغرض ہم نے عراقی اور خراسانی کے کلام سے واضح کر دیا تا کہ عارض ہونے والے اشکالات کا ازالہ اور وہم کرنے والوں کا وہم دور ہو جائے
اسلام اور احترام نبوت ﷺ
فصل رابع
گستاخ
م القيامة ) يث [484] حديث [6233]
اق ضمیر ہے۔ یہ صرف حب مصطفیٰ ﷺ کا تقاضا ہی نہیں بلکہ نبی اکرم ﷺ حق بھی ہے اور یہ حق ادا نہ کرنے والوں کو سخت وعید بھی سنائی گئی ہے، جیسا کہ رجہ ذیل احادیث میں مروی ہے۔
فضل الصلوة على النبي ﷺ [حديث: 11]
مشكاة مع تحقيق الألباني، رقم الحديث (925)
۲۲۶
کسی معاہدہ کر لینے والے کو قتل نہ کیا جائے
ئے گا پھر یہ اسی وقت ہے جب ہم کہیں کہ ر ہم مان لیں کہ عقد ٹوٹ گیا تو وہ معاہد رہا نکہ کلام سے واضح کر دیا تا کہ عارض ہونے کا وہم دور ہو جائے
اسلام اور احترام نبوت ﷺ ۲۲۷
فصل رابع
گستاخ ذمی کی سزا قتل پر دلائل
مِ الْقِيَامَةِ )
یث [484] [ حدیث 6233]
اقی ضمیر ہے۔ یہ صرف حب مصطفیٰ ﷺ کا تقاضا ہی نہیں بلکہ نبی اکرم ﷺ حق بھی ہے اور یہ حق ادا نہ کرنے والوں کو سخت وعید بھی سنائی گئی ہے، جیسا کہ درجہ ذیل احادیث میں مروی ہے۔
فضل الصلوة على النبي ﷺ [حدیث: 11]
مشكاة مع تحقيق الألباني، رقم الحديث (925)
- اسلام اور احترام نبوت ﷺ
اس پر چودہ دلائل ہیں
- ۱، واقعہ کعب بن اشرف
امام شافعی رضی ا کیا، اسے امام بخاری و م کیا رسول اللہ ﷺ نے فر تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ عنہ کھڑے ہوئے اور عرض فرمایا ہاں، عرض کیا ’ کیا کو رسول اللہ ﷺ ) ہم سے رکھا ہے، سن کر کہنے لگا ابھی انھیں چھوڑ نہیں سکتے حتی کہ نے کہا اس کے عوض میر تو عرب کا حسین ترین جوا ہو جائیں گی، کہنے لگا اپ لوگ انہیں طعنہ دیں گے کچھ اسلحہ رہن رکھوا دیت عبس اور عباد بن بشر کو س آواز دی تو وہ ان کے پا سے خون ٹپک رہا ہے محم جب کسی کریم کو رات ب
م الْقِيَامَةِ ) ہی گھمبیر ہے۔ یہ صرف حب مصطفیٰ ﷺ کا تقاضا ہی نہیں بلکہ نبی اکرم ﷺ الحديث [484] کا حق بھی ہے اور یہ حق ادا نہ کرنے والوں کو سخت وعید بھی سنائی گئی ہے، جیسا کہ [ درجہ ذیل احادیث میں مروی ہے۔
الحديث [6233] فضل الصلوة على النبي ﷺ [حديث: 11]
مشكاة مع تحقيق الألباني، رقم الحديث (925)
اسلام اور احترام نبوت ﷺ
اس پر چودہ دلائل ہیں
۱، واقعہ کعب بن اشرف
امام شافعی رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور ان کے بعد اہل علم نے اس سے استدلال کیا، اسے امام بخاری ومسلم نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے نقل کیا رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کعب بن اشرف سے کون نمٹے گا؟ کیونکہ اس نے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کو اذیت پہنچائی ہے حضرت محمد بن مسلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کھڑے ہوئے اور عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ بندہ حاضر ہے کیا میں اسے اڑا دوں؟ فرمایا ہاں عرض کیا، کیا کوئی حیلہ کر سکتا ہوں فرمایا: ہاں وہاں پہنچے اور کہا یہ شخص (جناب رسول اللہ ﷺ) ہم سے صدقات طلب کرتا رہتا ہے اور اس نے ہمیں بہت تنگ کر رکھا ہے، سن کر کہنے لگا ابھی تم اور تنگ ہو جاؤ گے، محمد بن سلمہ نے کہا ابھی فی الحال ہم انھیں چھوڑ نہیں سکتے حتی کہ اس کا انجام دیکھ لیں، میں تجھ سے کچھ غلہ چاہتا ہوں، کعب نے کہا اس کے عوض میرے پاس کیا رہن رکھو، گے؟ تم اپنی عورتیں بطور رہن دو، فرمایا تو عرب کا حسین ترین جوان ہے اگر ہم اپنی عورتیں تیرے پاس رہن رکھیں تو تیری ہی ہو جائیں گی، کہنے لگا اپنے بیٹے رہن رکھو فرمایا یہ بھی درست نہیں، کل یہ جوان ہونگے تو لوگ انہیں طعنہ دے گے کہ تم کھجور کے دو وسق کے عوض رہن رکھوائے گئے تھے البتہ ہم کچھ اسلحہ رہن رکھوا دیتے ہیں، کہنے لگا، ٹھیک، اس کے ساتھ وعدہ کیا کہ وہ حارث، ابو عبس اور عباد بن بشر کو ساتھ لے کر آئیں گے تو وہ رات کو اس کے ہاں پہنچے اور اسے آواز دی تو وہ ان کے پاس آگیا اس کی بیوی نے اس سے کہا اس بلانے والے کی آواز سے خون ٹپک رہا ہے مگر کعب نہ رکا اور کہنے لگا یہ محمد بن مسلمہ اور میرا رضیع ابو نائلہ ہے، جب کسی کریم کو رات کے وقت دعوت دی جاتی ہے تو وہ قبول کرتا ہے، حضرت محمد بن
اسلام اور احترام نبوت ﷺ
مسلمہ نے فرمایا میں نے ساتھیوں سے کہا میں اس کا سر دبوچ لوں گا پھر تم نے کام کر دینا ہے جب وہ آیا تو اس نے منہ ڈھانپا ہوا تھا، تمام نے اسے کہا، تو نے اعلیٰ خوشبو لگا رکھی ہے، کہنے لگا ہاں، میرے پاس ایسی عورت ہے جو سب سے زیادہ خوشبو لگانے والی ہے حضرت محمد بن مسلمہ نے کہا، کیا میں تیرا سر سونگھ سکتا ہوں اس نے کہا سونگھ سکتے ہو، انھوں نے اس کا سر سونگھا پھر کہا کیا میں دوبارہ ایسا کر سکتا ہوں، اس طرح میں نے اسے قابو کر لیا اور ساتھیوں سے کہا اپنا کام کرو تو ایسے اسے ٹھکانے لگا دیا یہ واقعہ تمام اہل سیر نے نقل کیا اور لکھا ہے کعب بن اشرف شاعر تھا اس نے حضور ﷺ اور آپ کے صحابہ کو کفار قریش کے کہنے پر اشعار میں ہجو کر کے اذیت دی اور یہ حضور ﷺ کے ساتھ صلح کرنے والوں میں سے تھا، تمام اہل سیر کا اس میں اختلاف نہیں کہ یہ صلح کرنے والوں میں سے تھا جن لوگوں نے اس کے حربی ہونے کا دعویٰ کیا انہیں علم نہیں کہ یہ اہل سیر کے ہاں متفقہ مسئلہ ہے ہاں بعض نے کہا ہے کہ اس کا عہد ختم عنقریب اس کا ذکر آ رہا ہے، ابھی ہماری گفتگو اس کے صلح کرنے والوں میں سے ہونا ہے کیونکہ یہ یہود مدینہ عربی بنو طی سے اور اس کی ماں بنو نضیر سے ہیں اس لیے اسے ان میں شمار کیا جاتا ہے
- ا۔ اہل سیر کا اتفاق ہے کہ یہود مدینہ اہل صلح میں سے ہیں نقل کرنے والوں میں امام
شافعی بھی ہیں کتاب الام کے باب المھادنہ میں لکھتے ہیں رسول اللہ ﷺ جب مدینہ تشریف لائے تو یہود سے بغیر جزیہ صلح فرمائی انہوں نے ہی الام کے باب الحکم بین اهل الذمہ ، کے تحت لکھا اہل سیر میں سے کسی کی اس میں مخالفت نہیں جانتا کہ رسول اللہ ﷺ جب مدینہ تشریف
اسلام اور احترام نبوت ﷺ
لائے تو تمام یہود سے بغیر جزیہ صلح فرمائی اور اللہ تعالیٰ کا ارشاد گرامی
فاحكم بينهم او اعرض عنهم ان کے درمیان فیصلہ کرو یا ان سے (المائدہ: ۴۲) اعراض کرو
ان یہود کے حق میں نازل ہوا جن سے بغیر جزیہ صلح کی تھی اور انہوں نے اجراء احکام کا اقرار نہ کیا تھا
(کتاب الام: ۴:۲۲۲)
- ۱۔ شیخ واقدی نے امام ابن کعب قرظی سے لکھا جب حضور ﷺ مدینہ تشریف لائے
اور تمام یہود سے صلح کی تو ایک معاہدہ تحریر کیا گیا رسول اللہ ﷺ نے ہر قوم کو ان کے حلفاء کے ساتھ لاحق فرما دیا ان کے لیے امان اور کچھ شروط طے ہوئیں مثلاً وہ ایک دوسرے پر قتال مسلط نہیں کریں گے جب آپ ﷺ نے اصحاب بدر کو مال غنیمت دیا اور مدینہ تشریف لائے تو یہود نے معاہدہ کی خلاف ورزی کرتے ہوئے بغاوت کر دی
(المغازی: ۱:۱۷۶)
امام واقدی نے اس کو غزوہ بنو قینقاع کا سبب قرار دیا ہے اور یہ کعب بن اشرف کے قتل سے پہلے کا واقعہ ہے
ان کے علاوہ نے قتل کو پہلے قرار دیا ہے تو کعب بن اشرف اہل صلح میں سے تھا اور اہل صلح ذمی نہیں ہوتا
فاذا قتل الموادع بالسب فلان جب گستاخ صلح والا قتل کیا جاسکتا ہے تو يقتل الذمى اولى ذمی گستاخ کو بطریق اولیٰ قتل کیا جائے گا
اس لیے کہ ذمی نے احکام اسلام کے اجراء کا اقرار کر رکھا ہوتا ہے بخلاف اہل صلح جیسا کہ امام شافعی نے ذکر کیا کہ اہل صلح میں اختیار ہے بخلاف ذمی یہ تفصیل کامل ہے
م الْقِيَامَةِ ) حدیث [484] حديث [6233]
ہی گمبھیر ہے۔ یہ صرف حب مصطفیٰ ﷺ کا تقاضا ہی نہیں بلکہ نبی اکرم ﷺ کا حق بھی ہے اور یہ حق ادا نہ کرنے والوں کو سخت وعید بھی سنائی گئی ہے، جیسا کہ درجہ ذیل احادیث میں مروی ہے۔
فضل الصلوة علی النبی ﷺ [حدیث: 11] مشكاة مع تحقيق الألباني، رقم الحديث (925)
اسلام اور احترام نبوت ﷺ
مقصود صرف اتنا ہے کہ ابن اشرف حربی نہ تھا
اہل سیر لکھتے ہیں، یوم بدر میں جب اللہ تعالیٰ نے حضور ﷺ اور مسلمانوں کی مدد کی تو کعب بن اشرف جل اٹھا مکہ گیا اور مقتولین بدر کا مرثیہ کہا اور مشرکین کو آپ ﷺ کے خلاف جنگ کے لیے بھڑکایا‘ اس نے جاہلیت کو دین اسلام پر فضیلت دی اس کے بارے میں اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد مبارک نازل ہوا
ويقولون للذين كفروا اهؤلاء وہ لوگ جو ہدایت یافتہ سیدھے راستے کی اهدی من الذين امنوا سبيلا طرف کے خلاف کافروں سے باتیں اولئک الذين لعنهم الله ومن کرتے ہیں انہی لوگوں پر اللہ تعالیٰ نے يلعن الله فلن تجدلہ نصیرا لعنت فرمائی ہے پس جس پر اللہ لعنت (النساء، ۵۱، ۵۲) کرے اس کا کوئی مددگار نہیں ہے
اس لیے اسے ذلیل و رسوا کر کے قتل کر دیا گیا اس نے حضور ﷺ کے ساتھ عداوت و ہجو کا اعلان کیا اور مدینہ آیا تو آپ نے یہ دُعا کی اے اللہ! ابن اشرف سے جس طرح تو چاہتا ہے میری طرف سے کفایت فرما‘ تو حضرت محمد بن مسلمہ اور ان کے دیگر ساتھیوں نے یہ کام عبادت سمجھ کر کیا
خصوصی معاہدہ
پھر حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ابن اشرف سے خصوصی معاہدہ کے بارے میں روایت کی کہ اس سے رسول اللہ ﷺ نے یہ معاہدہ لیا کہ وہ آپ کے خلاف مدد اور نہ ہی قتال کرے گا تو وہ مکہ چلا گیا پھر اعلانیہ عداوت کرتے ہوئے مدینہ آیا اولاً اس نے معاہدہ کی خلاف ورزی کی اور کہا
اسلام اور احترام نبوت ﷺ
اور دیگر اشعار میں اس
نوٹ: جزع کا معنی قطع ہے کر کے مکہ ٹھہرے
کعب بن اشرف کا قتل ہجر
بعض مفسرین کی را
بعض نے کہا اللہ تعالیٰ کا ارش ولتسمعن من الذين ا من قبلكم ومن الذين ا كثيرا (ال عمران: ۱۸۶) کعب بن اشرف کے بار وان تصبروا
پہلے کا حکم ہے
جب مکہ گیا اور اس نے ہج یہ بھی مروی ہے کون ٹکرے گا؟ اس نے خلاف لڑائی کے لیے جمع خبث باطن پر آیا ہے اور ا
جب رات کو کعب بن اش
اسلام اور احترام نبوت ﷺ
اور دیگر اشعار میں اس نے ہجو لکھی تو پھر رسول اللہ ﷺ نے اس کے قتل کو ہی بہتر جانا
(معالم السنن: ۸۳۴)
نوٹ: خزع کا معنی قطع ہے، خزاعہ کی وجہ تسمیہ یہی ہے کہ وہ اپنے ساتھیوں سے انقطاع کر کے مکہ ٹھہرے
کعب بن اشرف کا قتل ہجرت کے پچیسویں ماہ کے آخر میں چودہ ربیع الاول کو ہوا
بعض مفسرین کی رائے
بعض نے کہا اللہ تعالیٰ کا ارشاد گرامی ولتسمعن من الذين اوتوا الكتاب اور بے شک ضرور تم اگلے کتاب من قبلكم ومن الذين اشركوا اذى والوں اور مشرکوں سے بہت کچھ برا كثيرا (ال عمران: ۱۸۶) سنو گے کعب بن اشرف کے بارے میں نازل ہوا اور ارشاد مبارک وان تصبروا وتتقوا اگر تم صبر اور تقویٰ اختیار کرو پہلے کا حکم ہے
جب مکہ گیا اور اس نے ہجو و اذیت میں حد کر دی تو قتل کا حکم دیا گیا یہ بھی مروی ہے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا من لی بابن اشرف کون نپٹے گا؟ اس نے ہماری عداوت و ہجو اعلانیہ کی ہے اس نے قریش کو ہمارے خلاف لڑائی کے لیے جمع کیا ہے اور اللہ تعالیٰ نے ہمیں اس پر مطلع فرمایا ہے پھر یہ اسی خبث باطن پر اڑا ہے اور انتظار کر رہا ہے کہ قریش آکر ہم سے لڑیں
(دلائل النبوۃ للبیہقی: ۱۹۱/۳)
جب رات کو کعب بن اشرف کو قتل کر کے صحابہ نے مقام بقیع پر نعرہ تکبیر بلند کیا تو رسول
مُ الْقِيَامَةِ ) يث [484] [ لحديث [6233]
ای گھمبیر ہے۔ یہ صرف حب مصطفیٰ ﷺ کا تقاضا ہی نہیں بلکہ نبی اکرم ﷺ کا حق بھی ہے اور یہ حق ادا نہ کرنے والوں کو سخت وعید بھی سنائی گئی ہے، جیسا کہ درجہ ذیل احادیث میں مروی ہے۔
فضل الصلوة على النبي ﷺ [حديث: 11] مشكاة مع تحقيق الألباني، رقم الحديث (925)
اسلام اور احترام نبوت ﷺ
اللہ ﷺ نماز ادا فرما رہے تھے آپ نے سنا تو محسوس فرمایا صحابہ نے اسے ٹھکانے لگا دیا ہے اللہ تعالیٰ کی بڑائی بیان کی تو جب صحابہ آپ ﷺ کی خدمت میں پہنچے تو فرمایا تمہیں کامیابی مبارک ہو عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ! آپ کو بھی مبارک ہو اس کا سر آپ کے سامنے ڈال دیا آپ نے اس پر اللہ تعالیٰ کی حمد کی، جب صبح ہوئی تو فرمایا ان یہودیوں میں سے جس پر کامیابی ہو قتل کر دو یہود ڈر گئے نہ تو وہ باہر آئے اور نہ بولے انہیں خوف تھا کہ کہیں کعب بن اشرف والا معاملہ ہمارے ساتھ نہ ہو جائے
(الطبقات لابن سعد : ۲۴:۲)
جب آپ ﷺ نے فرمایا تو حضرت محیصہ بن مسعود نے ابن سنینہ (یہودی تاجر) کو قتل کر دیا تو ان کے بھائی حویصہ (جو ابھی مسلمان نہ ہوئے) نے کہا اللہ کے دشمن کو تو نے قتل کر دیا حالانکہ تیرے بطن میں اس کے مال کی چربی ہے اس کے جواب میں حضرت محیصہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا، اللہ کی قسم! اس کے لیے قتل کا حکم تھا
حتی لو امرنی بقتلک ضربت اگر مجھے تیرے قتل کا حکم ہوتا تو میں تیری عنقک گردن اڑا دیتا
حویصہ نے حیران ہو کر کہا اچھا دین، تجھ پر اس قدر غالب آچکا ہے تو اس دن یہ بھی ایمان لے آئے
امام واقدی کہتے ہیں ابن اشرف شاعر تھا اس نے حضور ﷺ اور صحابہ کی ہجو و تعریض کی، مشرکین اور اہل مدینہ کے یہودی رسول اللہ ﷺ اور آپ کے صحابہ کو سخت اذیت پہنچاتے، اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی علیہ السلام اور مسلمانوں کو اس پر صبر کا حکم دیا تھا جب ابن اشرف اذیت پہنچانے سے باز نہ رہا پھر واقعہ کے آخر میں لکھا
اسلام اور احترام نبوت ﷺ
اور مشرکین ڈر گئے اور رات ہمارے ساتھی جو ہمارے سر بغیر جرم و قصور دھوکہ سے قتل کر دی طرح دیگر لوگ رہ رہے ہیں تو ا پہنچائی اور اشعار میں ہجو و مذمت کی ولم يفعل هذا احد منك الا كان السيف آپ نے اس پر انہیں معاہدہ کی پیش معاہدہ تحریر ہوا، ابن اشرف کے قتل آپ ﷺ کا فرمان 'انه لو قر ک ارشاد باری تعالیٰ الم تر الى الذين اوتوا نصيباً من الكتب (النساء: ۵۰) کی تفسیر میں حضرت قتادہ سے مرو میں نازل ہوئی، حضرت عکرمہ کی بھ
یہ دونوں مکہ گئے اور کفار کو انگیختہ کی نے جب عہد توڑا اور حضور ﷺ لشکر جمع کیا اسے شکست ہوئی تو و قتل ہوا
اسلام اور احترام نبوت ﷺ
اور مشرکین ڈر گئے اور صبح کے وقت آپ ﷺ کے پاس آئے اور کہا پچھلی رات ہمارے ساتھی جو ہمارے سرداروں میں سے تھا کہ پاس کچھ لوگ آئے اور اسے بغیر جرم وقصور دھوکہ سے قتل کر دیا رسول ﷺ نے فرمایا اگر وہ اسی طرح رہتا جس طرح دیگر لوگ رہ رہے ہیں تو اس سے دھوکہ نہ ہوتا لیکن اس نے تو ہمیں تکلیف پہنچائی اور اشعار میں ہجو و مذمت کی
ومن يفعل هذا احد منكم تم میں جس نے بھی یہ کہا اس کا علاج تلوار الا كان السيف ہے
آپ نے اس پر انہیں معاہدہ کی پیش کش کی لہذا دار رملہ بنت حارث میں کھجور کے نیچے معاہدہ تحریر ہوا ابن اشرف کے قتل کے بعد یہود کو خوف اور ڈر لاحق ہوا (المغازی: ۱۹۴:۱)
آپ ﷺ کا فرمان انه لو قر كما قر غیرہ، حیی بن اخطب کی طرف اشارہ تھا
ارشاد باری تعالیٰ
الم ترالی الذین اوتوا نصیباً کیا تم نے وہ نہ دیکھے جنہیں کتاب کا من الکتب (النساء: ۵۱) ایک حصہ ملا
کی تفسیر میں حضرت قتادہ سے ہے کہ یہ آیت ابن اشرف اور حیی بن اخطب کے بارے میں نازل ہوئی، حضرت عکرمہ کی بھی یہی رائے ہے
(تفسیر طبری : ۱۴۴:۴)
یہ دونوں مکہ گئے اور کفار کو انگیختہ کیا، کعب کو قتل کر دیا گیا لیکن حیی قتل نہ ہوا حتی کہ بنو نضیر نے جب عہد توڑا اور حضور ﷺ نے انھیں نکال دیا تو یہ خیبر چلا گیا اس نے وہاں لشکر جمع کیا اسے شکست ہوئی تو وہ بنو قریظہ کے ساتھ قلعہ بند ہوا وہاں ان کے ساتھ ہی قتل ہوا
اسلام اور احترام نبوت ﷺ
امام واقدی نے واقعہ ابن اشرف میں لکھا، جب بدر سے فتح کی خبر آئی تو اس نے قوم سے کہا تم پر افسوس آج، تمہارے لیے زمین کا پیٹ اس پر رہنے سے بہتر ہے تمام سردار قتل وگرفتار ہوگئے اب کیا رہ گیا ہے؟ کہنے لگے جب تک زندہ ہیں ان سے عداوت رکھیں گے
ان کا یہ قول بتا رہا ہے کہ ابن اشرف کے ساتھ ساتھ ان دوسروں نے بھی نقض عہد کیا، اسی لیے آپ ﷺ نے فرمایا
من ظفرتم به من رجال يهود تم میں جو کسی یہودی پر غالب ہو اسے اڑا فاقتلوه دے
ہم نے متفرق اور متعدد اہل علم سے واقعہ کعب بن اشرف اختصاراً نقل کر دیا ہے
یہ بھی منقول ہے کہ جب مشرکین نے ابن اشرف سے پوچھا تو کہنے لگا تمہارا دین بہتر اور قدیم ہے اور دین محمد نیا ہے اور وہ آپ ﷺ سے کیے گئے عہد سے یہ کہتے ہوئے الگ ہوگیا میں ان کے خلاف مددگار نہیں بنوں گا اگر یہ بات درست ہے تو اس سے استدلال بہتر ہے اور اگر درست نہیں تو دوسروں سے استدلال صحیح ہوگا
امام بیہقی نے دلائل النبوۃ میں حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے نقل کیا جب آپ ﷺ کو اللہ تعالیٰ نے غلبہ عطا فرمایا تو کعب بن اشرف معاہدہ ختم کر کے مکہ چلا گیا اور کہا میں نہ تو ان کے خلاف مدد کروں گا اور نہ قتال
(۱۹۴،۳)
اسی میں ہے حضرت محمد بن مسلمہ اور ان کے ساتھی کعب بن اشرف کے ہاں عوالی میں اس کے ڈیرے پر رات کو پہنچے
(۱۹۷،۳)
بعض نے کہا یہود سے جو صلح اور معاہدہ ہوا وہ بدر سے پہلے آمد مدینہ کے
اسلام اور احترام نبوت ﷺ
وقت ہوا تھا یہی وہ ہے جس کی طرف امام شافعی نے اشارہ فرمایا
(الام ۲۲۲:۴)
اور وہ معاہدہ جس کا ذکر امام واقدی نے کیا وہ دوسرا ہوگا جو قتل ابن اشرف سے پہلے دوبارہ ہوا
مدینہ اور اس کے نواح میں صلح کرنے والے یہود تین گروہ تھے
- ۱۔ بنو نضیر
- ۲۔ بنو قریظہ
- ۳۔ بنو قینقاع
بعض فقہا کا مغالطہ
قتل ابن اشرف کے بارے میں بعض فقہاء کو مغالطہ ہوا ہے، امام واقدی نے ابراہیم بن جعفر انہوں نے اپنے والد سے نقل کیا، مروان بن حکم گورنر مدینہ نے ابن یامین نضیری سے پوچھا ابن اشرف کا قتل کیسے ہوا؟ ابن یامین نے کہا دھوکہ سے ہوا وہاں حضرت محمد بن مسلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ جو اس وقت نہایت بوڑھے تھے انہوں نے کہا اے مروان! کیا رسول اللہ ﷺ کی طرف سے دھوکہ دیا جاسکتا ہے؟ اللہ کی قسم ! ہم نے اسے رسول اللہ ﷺ کے حکم سے قتل کیا اللہ کی قسم ! مجھے اور تجھے مسجد کے علاوہ کوئی پناہ نہیں دے گا اے ابن یامین میں قسم اٹھاتا ہوں جب میں نے تجھ پر قدرت پائی تو تجھے قتل کردوں گا اس کے بعد ابن یامین، بنو قریظہ میں جانے سے پہلے معلوم کرتا کہ وہاں حضرت محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ تو نہیں اگر وہ اپنی زمین کاشت کرنے گئے ہوتے تو آتا اور جلدی اپنا کام کر کے واپس لوٹ جاتا
ایک دن محمد بن مسلمہ جنازہ میں شریک تھے اور ابن یامین کو بقیع میں پایا تو
يَوْمَ الْقِيَامَةِ ) [484] حدیث [6233]
ی گھمبیر ہے۔ یہ صرف حب مصطفیٰ ﷺ کا تقاضا ہی نہیں بلکہ نبی اکرم ﷺ کا ق بھی ہے اور یہ حق ادا نہ کرنے والوں کو سخت وعید بھی سنائی گئی ہے، جیسا کہ رجہ ذیل احادیث میں مروی ہے۔ فضل الصلوة على النبي ﷺ [حديث: 11] مشكاة مع تحقيق الألباني، رقم الحديث (925)
اسلام اور احترام نبوت ﷺ خاتون میت کی چار پائی سے شاخیں اٹھا کر اس پر ٹوٹ پڑے لوگوں نے عرض کیا یہ آپ ہم پر چھوڑ دیں ہم کافی ہیں وہ اسے مارنے لگے یہاں تک کہ ایک ایک شاخ ٹوٹ گئی اس کا سر اور چہرہ پر ضربیں لگائیں کوئی جگہ باقی نہ رہی جب چھوڑا تو اس میں سکت نہ تھی فرمایا اللہ کی قسم! اگر میرے ہاتھ میں تلوار ہوتی تو تجھے قتل کر دیتا
(المغازی: ۱۹۲،۱)
واقدی کے علاوہ محققین نے لکھا یہ واقعہ حضرت معاویہ کے پاس ہوا تھا حضرت ابن مسلمہ نے کہا اے معاویہ کیا رسول اللہ کی طرف دھوکہ کی نسبت کی جاسکتی ہے تو پھر تو نے تردید کیوں نہ کی؟ اللہ کی قسم! مجھے اور تجھے کوئی کبھی پناہ نہیں دیگا ولا يخلولى دم هذا الا قتلته مجھے جب موقعہ ملا میں اسے قتل کر دوں گا
(معالم السنن: ۸۲،۳)
یہ بے وقوف ابن یامین یا تو یہودی ہے یا منافق ہے اور اسلام کا اظہار کرتا ہے کیونکہ مروان کے دور میں مدینہ میں کوئی یہودی نہ تھا شاید مروان یا معاویہ (اگر واقعہ ثابت ہو ) اس لیے قتل سے خاموش رہے کہ انہوں نے دھوکہ کی نسبت بن مسلمہ کی طرف سمجھی اگر انہیں حضور ﷺ کی نسبت کا یقین ہو جاتا تو وہ کبھی قتل پر خاموش نہ رہتے اس لیے کہ کفار اور مسلمان اس پر متفق ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے کبھی دھوکہ نہیں دیا کیا ابوسفیان اور ہرقل کے درمیان ہونے والی گفتگو ہمارے سامنے نہیں ہے؟ تو جس نے بھی حضور ﷺ کی طرف دھوکہ کی نسبت کی اسے قتل کیا جائے گا خواہ وہ مسلمان ہو یا کافر، امام خطابی نے ابن یامین کا واقعہ حضرت معاویہ کے حوالہ سے بیان کر کے
اسلام اور احترام نبوت ﷺ لکھا، اللہ تعالیٰ ابن یامین پر لعنت اشرف نے رسول اللہ ﷺ کو کہ میں آپ کے خلاف تعاون عہد کیا تو دھوکہ، نقض عہد مع کفر دیگر لوگوں نے کہا جو کہیں بھی امان دینے کا ذکر نہیں کے لیے کوئی امان نہیں والنبي ﷺ انما قتله يو فصار قتله اصلافي هذا
یہ کہنا غلط ہے
یہ کہنا غلط ہے کہ کعب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے سامنے اسے شیخ زکی الدین عبد العظیم امام خطابی نے لکھا کہ ان پر رات اور صبح کے حضور ﷺ کی شان میں گسـ باقی کسی مسلمان پر اچانک حما لا یفتک مومن
(سنن ابی داؤد،
اسلام اور احترام نبوت ﷺ
لکھا، اللہ تعالیٰ، ابن یامین پر لعنت کرے اور اس کی یہ بات نہایت بدتر ہے، کعب بن اشرف نے رسول اللہ ﷺ کی ہجو اور آپ پر طعن کیا حالانکہ اس نے معاہدہ کر رکھا تھا کہ میں آپ کے خلاف تعاون نہیں کروں گا پھر مکہ چلا گیا تو کفر کے ساتھ اس نے نقض عہد کیا تو دھوکہ، نقض عہد مع کفر کی وجہ سے قتل کا مستحق ٹھہرا۔
دیگر لوگوں نے کہا حضرت محمد بن مسلمہ نے کعب بن اشرف کے بارے میں کہیں بھی امان دینے کا ذکر نہیں کیا اور جس نے اللہ اور رسول ﷺ کو اذیت دی اس کے لیے کوئی امان نہیں
والنبی ﷺ انما قتله بوحی نبی ﷺ نے اسے حکم ربانی پر قتل کیا فصار قتله اصلاً فى هذا الباب اور آپ کا یہ فیصلہ اس مسئلہ میں اصل قرار پایا
یہ کہنا غلط ہے
یہ کہنا غلط ہے کہ کعب کو دھوکا سے قتل کیا گیا، کسی آدمی نے یہ بات حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے سامنے کی تو انہوں نے اسے قتل کروا دیا
اسے شیخ زکی الدین عبدالعظیم منذری رحمہ اللہ نے حواشی السنن میں ذکر کیا ہے
امام خطابی نے لکھا اس طرح کا عمل غیر معاہد کافر کے ساتھ جائز ہے جیسا کہ ان پر رات اور صبح کے وقت اور غفلت کے اوقات میں حملہ جائز ہے کعب نے حضور ﷺ کی شان میں گستاخی کا ارتکاب کیا۔ لہٰذا وہ کفر کی وجہ سے قتل کا مستحق تھا باقی کسی مسلمان پر اچانک حملہ حرام ہے آپ ﷺ نے فرمایا
لا يفتك مومن مومن کسی دوسرے پر اچانک حملہ آور نہیں ہوتا
(سنن ابی داؤد، ٢٧٦٩)
مَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ) حديث [484] [ ] حديث [6233]
اہی تقصیر ہے۔ یہ صرف حب مصطفی ﷺ کا تقاضا ہی نہیں بلکہ نبی اکرم ﷺ حق بھی ہے اور یہ حق ادا نہ کرنے والوں کو سخت وعید بھی سنائی گئی ہے، جیسا کہ درجہ ذیل احادیث میں مروی ہے۔ فضل الصلوة على النبى ﷺ [حديث: 11] مشكاة مع تحقيق الألباني، رقم الحديث (925)
۲۴۰ اسلام اور احترام نبوت ﷺ
تو جس کے لیے امان ہوگی اس پر اس طرح حملہ منع ہے اور کعب نے امان سے بغاوت اور نقض عہد کر لیا تھا
امام بیہقی نے دلائل النبوۃ میں ابن یامین کا کلام نقل کر کے کہا ہم نے پیچھے جس طرح کعب بن اشرف کا دھوکہ، فراڈ، نقض عہد اور رسول اللہ ﷺ اور مسلمانوں کی ہجو ان کے ساتھ عداوت اور طعن بیان کیا ہے اس سے واضح ہوجاتا ہے کہ یہ گفتگو نہایت غلط اور بدتر ہے کعب بن اشرف قتل کا مستحق تھا کیونکہ اس نے کفر کے ساتھ ساتھ دھوکہ اور نقض عہد کر لیا تھا۔ یہ تمام ابن اشرف کا واقعہ اور اس کے متعلقات ہیں
(۱۹۳:۳)
وجوہ استدلال
اس واقعہ سے متعدد وجوہ سے استدلال کیا جا سکتا ہے۔
- ۱۔ بخاری و مسلم میں آپ ﷺ کا یہ فرمان ہے کہ کعب بن اشرف کو کون سنبھالے
گا کیونکہ اس نے اللہ اور اس کے رسول کو اذیت دی ہے؟ یہاں علت اذیت ہے اور جو بھی اذیت دے اور سامنے آجائے تو اسے قتل کیا جائے گا اور اذیت کے کفر سے خاص ہونے میں کوئی شبہ نہیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے ومنهم الذين يؤذون النبی کچھ نے ان میں سے نبی کو اذیت دی
(التوبہ : ۶۱)
حدیثی علت کا تقاضا یہ ہے کہ نبی علیہ السلام کو اذیت دینے والا قتل کیا جائے گا
- ۲۔ جب واضح ہو گیا کعب کو اذیت دینے کی وجہ سے قتل کیا گیا یہی حال رکھنے والے
دیگر کفار کا حکم بھی یہی ہوگا کیونکہ واحد پر بھی حکم جماعت کا ہی ہوتا ہے
اسلام اور احترام نبوت ﷺ
دونوں میں فرق
اس وجہ اور سابقہ میں یہ ف دینے والے کا ہے خواہ مسلمان ہے مستفاد ہے اور وہ قتل کعب ہے دوسر قتل کیا گیا لہٰذا جس کافر کا یہ حال یہ مسلمانوں کی طرف حکم لانے پر صلح والے کافر کا یہ حکم ہے جس نے
- ۳۔ جب صلح والا کافر اذیت نبی کی
ہوگا کیونکہ ذمی نے احکام اسلامی لیے پیچھے امام شافعی کی گفتگو میں ذمہ میں حکم لازم ہے اور آیت کا ہے جبکہ معاہدین اور صلح والوں میں مشترک ہے کہ بخاری و مسلم ذکر ہے دوسری کے ساتھ کعب بن جو اس حال پر ہو اس کے لیے سے ثابت ہوگا اور مسلمان کے
- ۴۔ یہ بخاری و مسلم پر کچھ اضا
اس نے دھوکہ دیا، مشرکین کی مقتولین کا مرثیہ کہا، مسلمان نہیں ٹوٹا؟ اگر نہیں ٹوٹا تو ا
اسلام اور احترام نبوت ﷺ
دونوں میں فرق
اس وجہ اور سابقہ میں یہ فرق ہے کہ پہلے کا تقاضا یہ ہے کہ یہ حکم نبی کو اذیت دینے والے کا ہے خواہ مسلمان ہے یا کافر اور یہ نص سے علت کی بنا پر قیاس کے طور پر مستفاد ہے اور وہ قتل کعب ہے دوسری کا تقاضا یہ ہے کہ کعب کو اذیت دینے کی وجہ سے قتل کیا گیا لہٰذا جس کافر کا یہ حال ہوگا اس کے واحد کا حکم جماعت کا ہی ہوا کرتا ہے تو یہ مسلمانوں کی طرف حکم لانے پر خاموشی ہے بخلاف وجہ اول کے جو بول رہی ہے ہر صلح والے کافر کا یہ حکم ہے جس نے نبی علیہ السلام کو اذیت دی۔
- ۳۔ جب صلح والا کافر اذیت نبی کی وجہ سے قتل کیا جائے تو کافر ذمی کا قتل بطریق اولیٰ
ہوگا کیونکہ ذمی نے احکام اسلامی کا التزام کر رکھا ہوتا ہے جبکہ صلح کا معاملہ ایسا نہیں اسی لیے پیچھے امام شافعی کی گفتگو میں اشارہ تھا کہ صلح والوں میں حکم کا اختیار ہے لیکن اہل ذمہ میں حکم لازم ہے اور آیت کا محل یہی ہے اور یہی صحیح ہے یعنی اہل ذمہ پر حکم لازم ہے جبکہ معاہدین اور صلح والوں کے لیے واجب نہیں، یہ وجہ پہلی دونوں کے ساتھ اس میں مشترک ہے کہ بخاری و مسلم میں اسی پر اکتفاء ہے اور حدیث میں علت اذیت کا ذکر ہے دوسری کے ساتھ کعب بن اشرف کے حال میں خاص طور پر اور صلح والوں میں جو اس حال پر ہو اس کے لیے بالاجماع حکم ثابت ہوگا ذمی کے حکم بطریق اولیٰ اس سے ثابت ہوگا اور مسلمان کے حکم پر خاموش ہے جیسے دوسری وجہ خاموش تھی
- ۴۔ یہ بخاری و مسلم پر کچھ اضافہ اور کعب بن اشرف کا تفصیلی حال جو بتاتا ہے کہ
اس نے دھوکہ دیا، مشرکین کو مسلمانوں کے خلاف جنگ کے لیے ابھارا، ان کے مقتولین کا مرثیہ کہا، مسلمان خواتین پر اتہام بازی کی، اب اس کا عہد ٹوٹ گیا یا نہیں ٹوٹا؟ اگر نہیں ٹوٹا تو اس کا قتل حکم اسلامی کی وجہ سے بطور حد ہوگا کیونکہ
يَوْمَ الْقِيَامَةِ )
[حدیث : 484]
]
حدیث [6233]
اسلام اور احترام نبوت ﷺ ۲۴۲ معاہدین میں اختیار ہے اور اگر عہد ٹوٹ گیا یہی درست ہے جیسا کہ اس پر محدثین، اہل سیر اور امام شافعی نے تصریح کی ہے کلام فقہا بھی اس پر دال ہے اگر یہ ذمی نہیں ہاں اہل صلح میں سے تھا اور فقہاء نے اگرچہ عقد ذمی کے نقض میں اختلاف کیا لیکن عقد معاہد کے نقض میں ان کا اختلاف نہیں کیونکہ صلح ، معاہدہ سے اضعف ہے بلکہ بلا اختلاف عہد کا نقض ہو جائے گا اور کعب بن اشرف کا یہی حال تھا لہٰذا اس کے نقض عہد میں اختلاف ہی نہیں اسی لیے اسے قتل کیا گیا تو واضح ہوا کہ دونوں صورتوں میں اس کے قتل پر کوئی اشکال نہیں البتہ دوسری صورت صواب ہے اور یہی امام شافعی سے منقول ہے
بعض کی رائے
بعض نے گستاخی کے سبب اس کے قتل سے استدلال کرتے ہوئے کہا کہ کعب بن اشرف کے ساتھ جو حضرت محمد بن مسلمہ اور ان کے ساتھیوں نے کیا یہ شبہ امان کے قریب ہے اور اگر اس کا قتل بطور گستاخی نہ ہو تو ان کا یہ عمل جائز نہ ہوتا لیکن یہ قول درست نہیں کیونکہ یہ نہ امان ہے اور نہ شبہ امان ، اس لیے کہ اس واقعہ میں کوئی اس پر دلالت نہیں ہے، ابن اشرف نے خود عہد توڑا اور حربی بن گیا اور حربی کو حکمت سے قتل کے لیے قابو کرنا جائز ہے یہ کوئی امان دینا نہیں تھا ہاں لازم قتل کا حصول ضرور تھا
صلح کا نقض
ہم نے کہا، صلح کا عہد گستاخی سے بلا اختلاف ٹوٹ جاتا ہے اور یہ ذمہ کا درجہ نہیں رکھتا امام الحرمین نے اسی طرف اشارہ کیا، ہمارے مذہب میں اس بارے میں کوئی اختلاف نہیں ہم نے ماوردی سے نقل کیا کہ امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ تعالیٰ نے اس میں بھی اختلاف کیا ہے لیکن یہ نہایت ہی بعید ہے کیونکہ قریش کا حضور ﷺ سے صلح
ہی گھمبیر ہے۔ یہ صرف حب مصطفیٰ ﷺ کا تقاضا ہی نہیں بلکہ نبی اکرم ﷺ کا حق بھی ہے اور یہ حق ادا نہ کرنے والوں کو سخت وعید بھی سنائی گئی ہے، جیسا کہ مندرجہ ذیل احادیث میں مروی ہے۔ فضل الصلوة على النبي ﷺ [حدیث: 11] مشكاة مع تحقيق الألباني، رقم الحديث (925)
اسلام اور احترام نبوت ﷺ نامہ اس لئے ٹوٹ گیا تھا کہ قریش نے خزاعہ پر اچانک حملہ کر دیا تھا اور اس مسلمان کو قتل کرنے کی طرح ہے اور وقتل المسلم دون سب الرسول ﷺ اس وجہ سے ذمہ میں اختلاف اقویٰ ختم نہ ہوئی البتہ امام کو اختیار ہوتا ہ دیدے یا اس طرح کرے کہ انہیں آگاہ ہے وہ اسے بعید محسوس کرے
کعب بن اشرف سے متعلق
ابھارنا اور مسلمان خواتین پر اتہام و قائل ہے کہ گستاخی سے ذمہ ختم نہیں ہو گا شیخ ابو اسحاق نے النکت میں فرما اس لیے کہ اس سے خون کافر محقو ٹوٹ جائے گا اگر امام ابو حنیفہ نقض دال ہے (کیونکہ بحث ان کے حو اس لیے گستاخی سے وہ ختم ہوگی وجہ سے ختم ہوئی اور اگر وہ کہیں کہ امان بھی اس یہی مذہب کہتے ہوئے سنا) تو
اسلام اور احترام نبوت ﷺ
نامہ اس لئے ٹوٹ گیا تھا کہ قریش کے حلیف بنو بکر نے حضور علیہ السلام کے حلیف بنو خزاعہ پر اچانک حملہ کر دیا تھا اور اس کے گستاخی سے کم ہونے پر کوئی شبہ نہیں کیونکہ یہ مسلمان کو قتل کرنے کی طرح ہے اور یہ مسلمانوں کے خلاف جنگ کی طرح نہیں اور وقتل المسلم دون سبّ مسلمان کے قتل کا درجہ گستاخی رسول سے الرسول ﷺ کم ہے اس وجہ سے ذمہ میں اختلاف اقویٰ ہے، احناف کہتے ہیں کہ صلح قریش اس عمل سے ختم نہ ہوئی البتہ امام کو اختیار ہوتا ہے جب چاہے صلح ختم کر دے اور ان کو اطلاع دے دے یا اس طرح کرے کہ انہیں اس کا علم ہو جائے جو آدمی فتح مکہ کے واقعہ سے آگاہ ہے وہ اسے بعید محسوس کرے گا
کعب بن اشرف سے جو بصورت مرثیہ کفار مسلمانوں کے خلاف کفار کا ابھارنا اور مسلمان خواتین پر اتہام بازی کے افعال ہوئے یہ تمام گستاخی سے کم نہیں اور جو قائل ہے کہ گستاخی سے ذمہ ختم نہیں ہوتا اس کے نزدیک ان افعال سے بھی عہد ختم نہ ہوگا شیخ ابو اسحاق نے النکت میں ذمہ کو امان پر قیاس کر کے لکھا
اس لیے کہ اس سے خون کافر محفوظ ہو جاتا ہے تو یہ گستاخی رسول سے امان کی طرح ٹوٹ جائے گا اگر امام ابو حنیفہ نقض امان میں ان سے موافق ہیں جیسا کہ قیاس اسی پر دال ہے (کیونکہ بحث ان کے ساتھ ہے) شاید وہ کہیں کعب کے لئے امان تھی نہ کہ صلح اس لیے گستاخی سے وہ ختم ہوگی اور شاید صلح قریش کے بارے میں کہیں کہ وہ قتال کی وجہ سے ختم ہوئی
اور اگر وہ کہیں کہ امان بھی اس سے نہیں ٹوٹتی (جیسا کہ میں نے بعض احناف کو اپنا یہی مذہب کہتے ہوئے سنا) تو قتل کعب کے ساتھ ان پر اشکال وارد ہوگا، ہاں وہ یہ
يَوْمَ الْقِيَامَةِ ) [حديث: 484] ] حديث [6233]
ایسی گمبھیر ہے۔ یہ صرف حب مصطفیٰ ﷺ کا تقاضا ہی نہیں بلکہ نبی اکرم ﷺ کا حق بھی ہے اور یہ حق ادا نہ کرنے والوں کو سخت وعید بھی سنائی گئی ہے، جیسا کہ مدرجہ ذیل احادیث میں مروی ہے۔
فضل الصلوة على النبي ﷺ [حديث: 11] مشكاة مع تحقيق الألباني، رقم الحديث (925)
اسلام اور احترام نبوت ﷺ
کہہ سکتے ہیں کہ اس کے لیے امان نہیں تھی اور وہ محارب تھا اور موادعت متارکہ ہے اس سے امان لازم نہیں ہوتی لیکن اہل سیر اور کلام شافعی سے اس کے خلاف ثابت ہے کعب کی صلح تھی اور اس کا عہد ختم ہو گیا اگر کوئی کہے اس کا عہد ختم نہیں ہوا لیکن اسے بطور حد قتل کیا گیا اور کعب کا معاملہ بھی یہی ہے تو اشکال سے محفوظ ہو جائے گا لیکن لوگوں نے کہا کعب کا عہد ختم ہو گیا تھا یہ کہنا کہ اس کا عہد نہیں ٹوٹا اور نہ ہی قتل کیا جائے یہ حدیث کے مخالف ہے
سوال ۔ کعب کا قتل کفر کی وجہ سے تھا اور جس کافر کو دعوت اسلام پہنچ چکی اس پر اچانک حملہ آور ہونا جائز ہے کعب معاہد نہیں محارب تھا اس لیے اس سے دیگر کفار کی طرح قتل کیا گیا زیادہ سے زیادہ یہ تھا کہ اس نے اذیت میں مبالغہ کیا اس لیے اس کے قتل میں اختیار تھا تا کہ اس کے شر سے محفوظ رہا جاسکے جیسا کہ سربراہ کو بعض قیدیوں کے قتل کا اختیار ہوتا ہے
جواب ۔ اس کا محارب قرار دینا محدثین اور اہل سیر کی اس نقل کے خلاف ہے کہ وہ معاہد تھا اور اس سے صادر ہونے والے افعال سے اس کا عہد ختم ہوا اس سے ان کا رد بھی ہو جاتا ہے جو کہتے ہیں کہ صلح گستاخی سے ختم نہیں ہوتی اور اس کا محض کفر کی وجہ سے قتل ہونا یہ بھی بلاشبہ درست نہیں کیونکہ جن کفار میں اس والی بات نہ تھی انہیں اس طرح قتل نہیں کیا گیا
ایک معاملہ
ایک معاملہ باقی ہے کہ کعب سے یہ چند امور صادر ہوئے اس کا حضور ﷺ پر کفار کو قتال پر ابھارنا، اس سے شر عظیم کے حصول کی توقع، مسلمان خواتین کے خلاف بکواس اور مشرک مقتولین کا مرثیہ اگر یہ چیزیں کسی اسیر سے صادر ہوتیں تو اس کے قتل
اسلام اور احترام نبوت ﷺ
مصلحت کی وجہ سے لازم ہو اس کے شر میں اضافہ ہے کا اس سے بھی زیادہ نقصان دہ مصلحت کی بنا پر قتل ہی کیا جا وجہ کا بھی احتمال ہے اور خصی نقض عہد کا بھی احتمال ہے۔
تین احتمالات
تو قتل کعب میں
- ا۔ عہد نہ ٹوٹا اور قتل کا سبب
- ۲۔ عہد بھی ٹوٹ گیا اور
مستحق تھا جیسا کہ نقض اگر وہ ذمی ہوتا
- ۳۔ نقض عہد ہو گیا اور
کعب میں ان تین ا اور دیگر محدثین واہل جنہوں کر دیا ورنہ حضور کیا ممکن ہے اس ہونے میں شک نـ اس قول کی وجہ ؟
اسلام اور احترام نبوت ﷺ
مصلحت کی وجہ سے لازم ہوتا کیونکہ اسے غلام بنانا مفید نہیں، اس پر احسان فدیہ لینا اس کے شر میں اضافہ ہے پھر اس کے افعال جانتے ہوئے اسے دار الحرب واپس کرنا اس سے بھی زیادہ نقصان دہ ہے تو سوائے قتل کے کوئی صورت نہیں جیسا کہ اسیر کو متعین مصلحت کی بنا پر قتل ہی کیا جائے گا اور یہاں قتل کفر کی وجہ سے ہو گا قتل کعب میں اس وجہ کا بھی احتمال ہے اور خصوصاً گستاخی کا بھی احتمال ہے اگر سبب گستاخی ہو تو اس میں نقض عہد کا بھی احتمال ہے اور عدم نقض کا بھی
تین احتمالات
تو قتل کعب میں یہ تین احتمالات ہیں ہاں اس کا خون قطعی طور پر حلال تھا
- ١۔ عہد نہ ٹوٹا اور قتل کا سبب گستاخی تھا
- ۲۔ عہد بھی ٹوٹ گیا اور گستاخی کے سبب قتل ہوا کیونکہ یہ سابقہ گستاخی کی وجہ سے قتل کا
مستحق تھا جیسا کہ نقض سے پہلے زنا سابقہ کی بنا پر اسے رجم کیا جانا ہے یہی حال ہوتا اگر وہ ذمی ہوتا
- ۳۔ نقض عہد ہو گیا اور کفر کے سبب قتل کیا جیسا کہ پیچھے تفصیل آچکی ہے
کعب میں ان تین احتمالات کے علاوہ کوئی احتمال نہیں تو اول احتمال امام شافعی، خطابی اور دیگر محدثین واہل سیر کے مخالف ہے ہاں احتمال ہے کہ کوئی قول کرے جنہوں نے تصریح کی کہ کعب کا عہد ختم ہو گیا انہوں نے اپنے استنباط کو تحریر کر دیا ورنہ حضور ﷺ نے اس پر نہ تصریح فرمائی اور اس کے نہ ہی نقض عہد پر اشارہ کیا، ممکن ہے اس کا قتل گستاخی کی وجہ سے ہو لیکن عہد باقی رہا ہو لیکن اس کے محتمل ہونے میں شک نہیں لیکن ان اشیاء کے صدور کو لزوم نقض عہد پر دلیل بنانا بعید ہے، اس قول کی وجہ بھی کوئی نہیں کہ کعب کا عہد نہیں ٹوٹا، اب احتمال ثانی و ثالث میں تردد
ومَ الْقِيَامَةِ ) الحديث 484] الحديث 6233]
اسلام اور احترام نبوت ﷺ رہ جاتا ہے اور وہ دونوں متقارب ہیں لیکن دوسرے کو تیسرے پر ترجیح ہے اور اس پر دلیل بخاری و مسلم کی ثابت روایت میں علت ہے اور وہ اذیت ہے اور اہل سیر سے بھی اس کی تائید ملتی ہے
علاوہ ازیں امام شافعی کا کہنا اس کا عہد ختم اور قتل کیا جائے یہ ثانی اور ثالث دونوں میں مشترک ہے ہاں ان میں فرق ہے کہ احتمال ثانی میں قتل بطور ایک حد لازم ہوگا اور سربراہ کو کوئی اختیار نہیں ہوگا البتہ حضور ﷺ کو اختیار تھا کیونکہ یہ آپ کا حق ہے اس وقت قتل کعب اور دیگر کا ترک اسی پر محمول ہے تیسرے احتمال کی صورت میں یہ کہنا ممکن ہے کہ سربراہ کو اختیار ہے جیسا کہ نقض عہد والے میں اسے اختیار ہوتا ہے اگر مصلحت قتل میں ہو تو قتل اور اگر بعد توبہ اور تعزیر باقی رکھنے میں مصلحت ہو تو اسے اختیار کر لیا جائے اور یہ کہنا بھی ممکن ہے سربراہ کو اس میں اختیار نہیں کیونکہ اسے وہاں اختیار ہوتا ہے جہاں کفر کے ساتھ دوسری چیز نہ ہو یہاں تو گستاخی بھی ہے اور وہ کفر در کفر ہے جس پر اسے چھوڑا نہیں جاسکتا لہٰذا قتل ہی ہے ہاں اگر مسلمان ہو جائے تو پھر قتل نہیں
اس پر دلیل
اس پر دلیل یہ ہے کہ حضور ﷺ نے کعب بن اشرف کے قتل کا حکم دیا جیسا کہ حدیث میں واضح موجود ہے اور امر لزوم و وجوب کے لیے ہے اور اس کے مثل دوسرے لوگوں کا حکم بھی یہی ہوگا
سوال۔ اس کے قتل کا حکم اسی حکم قتل کی طرح ہے جو قیدیوں میں سے کسی کے لیے اختیار کیا جائے
جواب۔ قیدیوں کے بارے میں ثابت ہے کہ ان میں سے بعض پر احسان کیا جاسکتا
ائی گمبھیر ہے۔ یہ صرف حب مصطفیٰ ﷺ کا تقاضا ہی نہیں بلکہ نبی اکرم ﷺ حق بھی ہے اور یہ حق ادا نہ کرنے والوں کو سخت وعید بھی سنائی گئی ہے، جیسا کہ درجہ ذیل احادیث میں مروی ہے۔ فضل الصلوۃ علی النبی ﷺ [حدیث: 11] مشکاۃ مع تحقیق الالبانی، رقم الحدیث (925)
اسلام اور احترام نبوت ﷺ ہے لیکن ایسے لوگوں کے لیے ہرگز تابعد لہٰذا قتل ہی لازم ہے اور ان میں حضو ﷺ کا فرمان ہے تم پر میرا طریقہ اور الغرض قتل کعب میں دو معانی ہیں
- ا۔ کفر کی وجہ سے اس کے قتل کا اختیار
اختیار ہوتا ہے
- ۲۔ اس کا قتل اذیت کی وجہ سے تھا اس
اقویٰ اور ارجح ہے واللہ اعلم اسی لیے
ایک اہم نکتہ
پہلے ذکر آیا کہ آپ ﷺ فانه قد اذى الله ورسوله یہاں علت اذیت بیان ہوئی لیکن تھی جس کی وجہ سے آپ ﷺ ہاں اس میں اختلاف ہے کہ کس موجود نہیں اس کا یہ جواب کہ باب قیاس باطل ہو جائے گا حا یا اس میں اشارہ ہو یا اس پر علت بنایا نہ کہ قتل واجب کے
يَوْمَ الْقِيَامَةِ ) الحديث [484] [5 حديث [6233]
ای گھمبیر ہے۔ یہ صرف حب مصطفیٰ ﷺ کا تقاضا ہی نہیں بلکہ نبی اکرم ﷺ حق بھی ہے اور یہ حق ادا نہ کرنے والوں کو سخت وعید بھی سنائی گئی ہے، جیسا کہ درجہ ذیل احادیث میں مروی ہے۔ فضل الصلوٰۃ علیٰ النبی ﷺ [حدیث: 11] مشکاۃ مع تحقیق الألباني، رقم الحدیث (925)
۲۴۶ ن دوسرے کو تیسرے پر ترجیح ہے اور اس پر لت ہے اور وہ اذیت ہے اور اہل سیر سے
س کا عہد ختم اور قتل کیا جائے یہ ثانی اور فرق ہے کہ احتمال ثانی میں قتل بطور ایک گا البتہ حضور ﷺ کو اختیار تھا کیونکہ یہ ترک اس پر محمول ہے تیسرے احتمال کی ا رہے جیسا کہ نقض عہد والے میں اسے اور اگر بعد توبہ اور تعزیر باقی رکھنے میں نا بھی ممکن ہے سر براہ کو اس میں اختیار کفر کے ساتھ دوسری چیز نہ ہو یہاں تو اسے چھوڑا نہیں جاسکتا لہٰذا قتل ہی ہے
کعب بن اشرف کے قتل کا حکم دیا جیسا جوب کے لیے ہے اور اس کے مثل
جو قیدیوں میں سے کسی کے لیے
ان میں سے بعض پر احسان کیا جاسکتا
اسلام اور احترام نبوت ﷺ ہے لیکن ایسے لوگوں کے لیے ہرگز ثابت نہیں کہ ان پر کفر کے باوجود احسان کیا جائے لہٰذا قتل ہی لازم ہے اور ان میں حضور ﷺ کا طریقہ و معمول یہی ہے اور آپ ﷺ کا فرمان ہے تم پر میرا طریقہ اور میرے بعد خلفاء راشدین کا طریقہ لازم ہے
الغرض قتل کعب میں دو معانی ہیں
- ا۔ کفر کی وجہ سے اس کے قتل کا اختیار تھا جیسا کہ سر براہ کو قیدیوں میں سے کسی کے قتل کا
اختیار ہوتا ہے
- ۲۔ اس کا قتل اذیت کی وجہ سے تھا اس کی تائید حدیث سے ہورہی ہے اور یہ دونوں میں
اقویٰ اور ارجح ہے واللہ اعلم اسی لیے امام شافعی نے اس پر اعتماد کیا
ایک اہم نکتہ
پہلے ذکر آیا کہ آپ ﷺ نے اس بارے میں فرمایا
فانہ قد اذی اللہ ورسولہ اس نے اللہ اور اس کے رسول ﷺ کو اذیت دی
یہاں علت اذیت بیان ہوئی لیکن یہ قتل کعب کی علت ہے لیکن یہ اس کی اذیت خاص تھی جس کی وجہ سے آپ ﷺ نے اسے قتل کا حکم دیا اور اس میں کسی کا اختلاف نہیں ہاں اس میں اختلاف ہے کہ مسمیٰ ایذا موجب قتل ہے؟ اور تعلیل میں اس کا تقاضا موجود نہیں
اس کا یہ جواب کہ یہاں خاص اذیت کا اعتبار ہے، اگر ہم اس کو مانیں تو باب قیاس باطل ہو جائے گا حالانکہ ہم علل مانتے ہیں خواہ شارع کی تصریح میں معین ہو یا اس میں اشارہ ہو یا اس پر حکم کا مدار ہو، ممکن ہے حضور ﷺ کا قتل جائز کے لیے علت بنایا نہ کہ قتل واجب کے لیے، اس کا جواب پہلے گزرا جب معلوم ہے کہ آپ
يَوْمِ الْقِيَامَةِ ) ديث [484] ] حديث [6233]
ہی تقصیر ہے۔ یہ صرف حب مصطفی ﷺ کا تقاضا ہی نہیں بلکہ نبی اکرم ﷺ کا حق بھی ہے اور یہ حق ادا نہ کرنے والوں کو سخت وعید بھی سنائی گئی ہے، جیسا کہ مندرجہ ذیل احادیث میں مروی ہے۔ [فضل الصلوة على النبي ﷺ [حديث: 11] مشكاة مع تحقيق الألباني، رقم الحديث (925)]
اسلام اور احترام نبوت ﷺ ۲۴۸
ﷺ نے اس وجہ سے قتل کروایا اور اذیت سبب قتل ہے تو اس صورت میں سقوط قتل اور کسی اور عمل میں اختیار پر دلیل نہیں ہے
بلکہ ہم کہتے ہیں کہ کافر حربی جس کے لیے بالکل عہد نہیں ہوتا اگر گستاخی کرے اور سربراہ کے قبضہ میں آجائے تو وہاں اختیار نہیں بلکہ قتل ہی لازم ہے ہاں اگر مسلمان ہو گیا تو پھر قتل ساقط جیسے کہ پہلے بیان ہو چکا ہے کیا تم نہیں جانتے بدر کے دن آپ ﷺ نے شاعر ابوعزہ پر احسان کیا وہ مکہ چلا گیا اور وہاں غلط باتیں کی دوبارہ آکر اس نے احسان مانگا تو آپ نے نہ کیا، فرمایا تو کہتا پھرتا ہے میں نے محمد کو مسخر کر لیا ہے اب تو بمکہ باتیں نہیں کرسکے گا پھر فرمایا لا يلدغ المؤمن من حجر مرتين مومن ایک سوراخ سے دوبارہ نہیں ڈسا (المغازی، ۱۱:۱) جاتا اور اس کے قتل کا حکم جاری فرمایا
تو یہ (واللہ اعلم) اختیار محض کفر میں ہوتا ہے جس کے ساتھ کوئی اور شئی نہ ہو تو اس کا تقاضا ہوتا کہ قیدیوں میں قتل ہی ہو البتہ اگر وہ اسلام لے آئیں اگرچہ اس سے کچھ کے علاوہ پر قتل ہمارے مطالعہ میں نہیں
ابوالعباس بن تیمیہ حنبلی نے اس کا ذکر کیا اور لکھا متقدمین اور متاخرین کی بعض جماعتوں (ان کے حامی) نے کہا یہ گستاخی وغیرہ ناقض عہد ہیں اور اس میں قتل ہی ہے جیسا کہ اس پر کلام امام احمد دال ہے ان میں سے کچھ نے کہا سر براہ کو ذمی ناقضین عہد کے بارے میں اختیار ہوتا ہے جیسا کہ اسے قیدیوں کے بارے میں ہے قتل غلام احسان اور فدیہ، اور گستاخ کو انہوں نے ناقضین میں شامل کیا تو گستاخ اس کلام کے عموم و اطلاق کے تحت داخل ہو گا اور یہ کہنا لازم ہو گا کہ اس میں دیگر کی
اسلام اور احترام نبوت ﷺ طرح سربراہ کو اختیار ہے لیکن کلام نقل کر کے کہا التخيير في غير ساب الـ ﷺ اما سابه فانه يتعيـ وان كان غيره كالاسيـ تو اس صورت میں یا تو قتل کے مطلقاً تخییر کی بات کر کے کہا گئـ نے گستاخ کے مستثنیٰ ہونے پر تصـ
ابن تیمیہ کا رد
مگر جواب یہ ہے کہ کی طرح مخالفت کی نسبت یقیـ دلیل قائم ہو تو پھر اس کی اتباع ا ابن تیمیہ نے لکھا ہـ قطعاً قتل کیا جائے ہاں اس کے ناقضین عہد کی طرح ہی ہے ،الـ
- ا۔ اضعف یہ کہ اسے دارالحرب
قیدی کے حکم میں ہو گا سر براہ و جو بہتر سمجھے اس پر عمل پیرا ہو
اسلام اور احترام نبوت ﷺ
طرح سربراہ کو اختیار ہے لیکن ان کے آئمہ محققین مثلاً ابویعلی نے اپنی کتب میں یہ کلام نقل کر کے کہا
التخيير في غير ساب الرسول اختیار حاکم ، گستاخ رسول ﷺ کے ﷺ اما سابه فانه يتعين قتله علاوہ میں ہے گستاخ میں متعین قتل وان كان غيره كالاسير اگر چہ اس کے علاوہ کا حکم قیدی والا ہے
تو اس صورت میں یا تو قتل کے بارے میں اختلاف منقول ہی نہیں کیونکہ انہوں نے مطلقاً تخییر کی بات کر کے کہا گستاخ کے لیے قتل ہی ہے، اس مسلک کے سربراہ لوگوں نے گستاخ کے مستثنیٰ ہونے پر تصریح کی یا ضعیف وجہ منقول ہے
(الصارم المسلول: ۴۶۹:۴)
ابن تیمیہ کا رد
مگر جواب یہ ہے کہ اختلاف منقول ہی نہیں کیونکہ مطلقاً قول کرنے والوں کی طرح مخالفت کی نسبت یقین کے بغیر نہیں کی جاسکتی اور جب اطلاق کی تقیید پر دلیل قائم ہو تو پھر اس کی اتباع اور اسی پر اکتفا لازم ہو جاتا ہے
ابن تیمیہ نے لکھا اصحاب شافعی کا بھی اختلاف ہے بعض نے کہا گستاخ قطعاً قتل کیا جائے ہاں اس کے علاوہ میں اختلاف ہے، بعض نے کہا گستاخ دوسرے ناقضین عہد کی طرح ہی ہے، ان کے دو اقوال ہیں
- ا۔ اضعف یہ کہ اسے دارالحرب بھیج دیا جائے لیکن صحیح یہ ہے کہ اس کا قتل جائز ہے اور یہ
قیدی کے حکم میں ہوگا سر براہ وقت قتل، غلام، احسان یا فدیہ میں سے امت کے مفاد میں جو بہتر سمجھے اس پر عمل پیرا ہو
(الصارم: ۴۶۹:۴)
اہی تکبیر ہے۔ یہ صرف حب مصطفیٰ ﷺ کا تقاضا ہی نہیں بلکہ نبی اکرم ﷺ حق بھی ہے اور یہ حق ادا نہ کرنے والوں کو سخت وعید بھی سنائی گئی ہے، جیسا کہ مُندرجہ ذیل احادیث میں مروی ہے۔ فضل الصلوة على النبي ﷺ [حدیث: 11] مشكاة مع تحقيق الألباني، رقم الحديث (925)
يَوْمَ الْقِيَامَةِ ) حدیث [484] ] حدیث [6233]
اسلام اور احترام نبوت ﷺ
ابن تیمیہ کا تصرف
ہم نے کلام شوافع میں ایسی تصریح نہیں دیکھی، ابن تیمیہ نے ان کے مقتضائے کلام سے اخذ کیا ہے جیسا کہ انہوں نے اصحاب شوافع کے کلام میں تصرف کیا ہے، صواب یہی ہے کہ گستاخ کی سزا میں اختلاف نہیں اگرچہ مطلقاً قول کرنے والوں کے ہاں گستاخ اور دیگر ناقضین عہد میں برابری ہے اور ہم اس کلام کو لیں گے جس میں گستاخ کے قتل کا حکم ہے
پھر یہ تمام گفتگو ذمی اور معاہد ناقض میں ہے، رہا حربی جس کے لیے کوئی عہد نہیں اور اسے گستاخی کے بعد گرفتار کیا گیا یا قید میں اس نے گستاخی کی یہی وہ ہے جس کے بارے میں ہم نے کہا کہ اسے قتل ہی کیا جائے گا اور ہم نے اسے منقول نہیں پایا اسی طرح گستاخ حربی کو امان دینا جائز نہیں اگر کسی نے امان دی تو وہ درست نہ ہوگی اسی سے اس کا جواب بھی آجاتا ہے جس (ابن تیمیہ) نے کہا حضرت ابن مسلمہ اور ان کے ساتھیوں کے افعال سے شبہ امان پیدا ہوتا ہے اگر ہم اسے امان تسلیم بھی کرلیں تو باطل ہوگی جو مانع از قتل نہیں
آپ ﷺ کا فرمان مبارک اذا امنک الرجل علی دمہ فلا تقتلہ اور اس کے علاوہ احادیث مبارکہ کا محل ایسے افراد ہونگے جو حد یا قصاص کی بنا پر مستحق قتل نہ ہوں، گستاخ کا قتل بطور حد ہے اس سے عموم علت کو حفاظت حاصل ہوگی اور اذیت استحقاق قتل کا موجب ٹھہری خواہ وہ کسی مسلمان سے ہو یا ذمی سے یا معاہد سے ہو یا مستامن سے یا حربی سے جبکہ وہ گرفتار ہو اور اسلام نہ لائے، بعض فقہاء کے اس کلام سے دھوکہ نہ ہو کہ حربی سے احکام متعلق نہیں ہوتے ان کی مراد یہ ہے کہ جب وہ مسلمان ہو جائے تو قتل ساقط ہو جائے گا
اسلام اور احترام نبوت ﷺ
سوال۔ ہمارے اصحاب کے نزدی سرقہ و محاربہ میں دو اقوال ہیں اصح اور یہ حق آدمی ہے تو اب قتل گستاخ محاربہ والا حکم اور اگر اللہ تعالیٰ کا حق
جواب ۔ سرقہ میں قطع ، محاربہ اور ق اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول اور قرآن (جو فروع شرعیہ ہیں) اگر حدود کا دین پر طعن پر بھی حدود کا نفاذ نہ ہو
وان نكثوا ايمانهم من عهدهم وطعنوا فى دي فقاتلوا ائمة الكفر
(التوبہ:۱۲)
تو جس طرح دین پر طعن پر خاموش بلاشبہ گستاخی قتل کی موجب ہے خوا اس میں دین پر طعن اور تمام مسل حضرات انبیاء علیہم السلام کے نقص زنا، سرقہ اور محاربہ کی طرح نہیں بلکہ یہ تو اس کفر کی طرح نہیں جس وعزت پر حملہ ہے اور نہ ہی ضعیف جب ثابت ہو گیا کہ
اسلام اور احترام نبوت ﷺ
سوال۔ ہمارے اصحاب کے نزدیک اہل صلح پر حد زنا و شراب جاری نہیں ہوتی حد سرقہ و محاربہ میں دو اقوال ہیں اصح عدم وجوب ہے جب محاربہ میں یہ صورت حال ہے اور یہ حق آدمی ہے تو اب قتل گستاخ کی بات کیسے ہوگی اس لیے کہ اگر حق آدمی ہے تو محاربہ والا حکم اور اگر اللہ تعالیٰ کا حق ہے تو حد زنا کی طرح معاملہ ہوگا ؟
جواب۔ سرقہ میں قطع ، محاربہ اور زنا میں حدود کا نفاذ اور یہ امور فرعیہ ہیں، رہا معاملہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول اور قرآن تو ان پر طعن ، دین پر طعن ہے ان حقوق اللہ میں (جو فروع شرعیہ ہیں) اگر حدود کا نفاذ نہیں ہوتا تو اس سے یہ کب لازم آتا ہے اصل دین پر طعن پر بھی حدود کا نفاذ نہ ہو، اللہ رب العزت کا فرمان ہے
وان نكثوا ايمانهم من بعد اگر انھوں نے حلف کے بعد عہد شکنی کی عهدهم وطعنوا فى دينكم اور تمہارے دین پر طعن کیا تو کفر کے فقاتلوا ائمة الكفر سرداروں سے قتال کرو
(التوبہ: ۱۲)
تو جس طرح دین پر طعن پر خاموشی و صبر نہیں اس طرح گستاخ پر خاموشی جائز نہیں تو بلاشبہ گستاخی قتل کی موجب ہے خواہ یہ معاہد سے ہو یا مستامن سے یا کسی اور سے کیونکہ اس میں دین پر طعن اور تمام مسلمانوں کے لیے ضرر اور مسلمانوں کو غصہ دلانا ہے، حضرات انبیاء علیہم السلام کے نقص بیان کرنا ، اہل فتنہ و گمراہی کو خوش کرنا ہے اس کا درجہ زنا، سرقہ اور محاربہ کی طرح نہیں ، یہ تو ایسے امور ہیں جن کا تعلق کسی ایک فرد سے ہے بلکہ یہ تو اس کفر کی طرح نہیں جس کا اسے نقصان ہو اور نہ یہ انبیاء علیہم السلام کی عصمت وعزت پر حملہ ہے اور نہ ہی ضعیف ایمان والوں کو شک میں مبتلا کرنا ہے؟ جب ثابت ہو گیا کہ گستاخی استحقاق قتل کی موجب ہے خواہ وہ معاہد ہے یا
يَوْمَ الْقِيَامَةِ ) مبحث [484] حديث [6233]
ا ہی گھمبیر ہے۔ یہ صرف حب مصطفی ﷺ کا تقاضا ہی نہیں بلکہ نبی اکرم ﷺ حق بھی ہے اور یہ حق ادا نہ کرنے والوں کو سخت وعید بھی سنائی گئی ہے، جیسا کہ مندرجہ ذیل احادیث میں مروی ہے۔
فضل الصلوٰۃ علی النبی ﷺ [حدیث: 11]
مشکاۃ مع تحقیق الألبانی، رقم الحدیث (925)
اسلام اور احترام نبوت ﷺ
حربی تو ذمی کے لیے یہ حکم بطریق اولی ثابت کیونکہ اس نے اجراء احکام اسلام کا التزام کر رکھا ہے اس سے امام شافعی کا واقعہ کعب بن اشرف سے استدلال آشکار ہو گیا اگر چہ وہ ذمی نہ تھا اور نہ ہی اس کا ذمہ تھا کیونکہ مدینہ اور اس کے نواح کے یہود پر جزیہ نہیں تھا فقہاء کرام جزیہ والے پر بھی عقد ذمہ کا اطلاق کرتے ہیں تو یہود مدینہ بقول ان کے اہل صلح ہوں گے نہ کہ اہل ذمہ
حد بندی محل نظر ہے
علاوہ ازیں ہمارے نزدیک ذمی کے لیے یہ حد بندی (ادا جزیہ) میں اعتراض ہے کیونکہ جزیہ کا حکم سورۃ برأت میں آیا جو نازل ہونے والی آخری سورت ہے بلکہ علماء نے تصریح کی آیت جزیہ غزوہ تبوک کے موقع پر نازل ہوئی اور یہ نو ہجری اور آخری غزوہ ہے تو تمام یہود اس سے پہلے بغیر جزیہ تھے لیکن ان کے بعض احکام مثلاً مسلمانوں کو اذیت نہیں دیں گے کے التزام میں کوئی شبہ نہیں
ذمہ کا معنی
ذمہ کا معنی ہی التزام ہے جب انہوں نے اجراء حکام مان لیے اور ہم نے ان کے دفاع کی ذمہ داری لے لی تو ذمہ کا انعقاد ہو گیا اگرچہ جزیہ نہ تھا جو کہ اس وقت مشروع نہ تھا، فقہاء کے کلام کو نزول حکم کے بعد پر محمول کر لیا جائے گا یعنی اس کے بعد جزیہ کے بغیر ذمہ کا انعقاد نہ ہو گا جب تم یہ جان چکے تو یہود مدینہ بغیر جزیہ ذمی تھے اب واقعہ کعب بن اشرف اس کے ذمی ہونے اور نقض عہد پر تصریح ہے اور پھر امام شافعی سے ہم نے نقل کیا اس سے یہود مدینہ کا اہل صلح ہونا ثابت ہوتا ہے نہ کہ اہل ذمہ ہونا پھر کعب بن اشرف کا گھر عوالی مدینہ میں تھا جیسا کہ پہلے آیا اور عوالی، مدینہ سے خارج و تابع ہے ظاہر یہی ہے کہ وہاں کے یہود بھی یہود مدینہ کے حکم میں ہی ہوں گے
اسلام اور احترام نبوت ﷺ
ہمارے اصحاب نے کہا اہل ص میں ہیں تو ان پر اچانک حملہ جا تو پھر اچانک حملہ درست نہیں أ کر دیا جائے ، امام رافعی نے طرح نقل کیا ذمی جب نقض کا مرتکب ہو تو دو اقو
- ا۔ اسے دارالحرب واپس کر دیا جائیگا
- ۲۔ اصح یہی ہے جیسا کہ العہد
چاہے قتل، غلام، احسان یا فدیہ نے نقض عہد کیا مکہ دارالحرب میں لہذا کوئی بھی یہ نہیں کہہ سکتا کہ اس دارالحرب جانے سے پہلے ہیں ہمارے ہاں آئے لہذا اس پر ب کیونکہ یہ عوالی میں تھا اور وہ حکم مد وہ دارالحرب سے واپس آیا تو نا اس کے قتل میں ہرگز کوئی اشتباہ نہی اگر ہم تسلیم کر لیں ، اب قتل پھر بھی جائز تھا جیسا کہ دھو کردہ علت اذیت بتا رہی ہے کہ یہ دلیل بن گئی کہ اگر یہ حربی سے
يَوْمَ الْقِيَامَةِ ) ديث [484] حديث [6233]
ہی ضمیر ہے۔ یہ صرف حب مصطفیٰ ﷺ کا تقاضا ہی نہیں بلکہ نبی اکرم ﷺ کا حق بھی ہے اور یہ حق ادا نہ کرنے والوں کو سخت وعید بھی سنائی گئی ہے، جیسا کہ درجہ ذیل احادیث میں مروی ہے۔ فضل الصلوة على النبي ﷺ [حدیث: 11] مشكاة مع تحقيق الألباني، رقم الحديث (925)
۲۵۲ کیونکہ اس نے اجراء احکام اسلام کا ب بن اشرف سے استدلال آشکار ہو گیا مدینہ اور اس کے نواح کے یہود پر جزیہ کا اطلاق کرتے ہیں تو یہود مدینہ بقول
کے لیے یہ حد بندی (ادا جزیہ) میں آیا جو نازل ہونے والی آخری سورت ک کے موقع پر نازل ہوئی اور یہ نو ہجری غیر جزیہ تھے لیکن ان کے بعض احکام مثلاً میں کوئی شبہ نہیں
نہوں نے اجراء حکام مان لیے اور ہم نے نعقاد ہو گیا اگرچہ جزیہ نہ تھا جو کہ اس وقت عہد پر محمول کر لیا جائے گا یعنی اس کے بعد ن چکے تو یہود مدینہ بغیر جزیہ ذمی تھے اب نقض عہد پر تصریح ہے اور پھر امام شافعی صلح ہونا ثابت ہوتا ہے نہ کہ اہل ذمہ ہونا جیسا کہ پہلے آیا اور عوالی ، مدینہ سے خارج یہود مدینہ کے حکم میں ہی ہوں گے
اسلام اور احترام نبوت ﷺ
ہمارے اصحاب نے کہا اہل صلح جب صلح توڑ دیں گے اگر وہ اپنے شہر و علاقہ میں ہیں تو ان پر اچانک حملہ جائز ہے اور اگر وہ امان یا صلح سے ہمارے ہاں ہیں تو پھر اچانک حملہ درست نہیں، اگرچہ عہد ختم ہو گیا ہاں انھیں دارالحرب میں واپس کر دیا جائے ، امام رافعی نے دونوں قاضی ابن کج اور رویانی وغیرہ سے اسی طرح نقل کیا
(فتح العزیز:۹۵۴۹)
ذمی جب نقض کا مرتکب ہو تو دو اقوال ہیں
- ۱۔ اسے دارالحرب واپس کر دیا جائے
- ۲۔ اصح یہی ہے جیسا کہ المہذب وغیرہ میں ہے کہ ایسا نہیں بلکہ امام کو اختیار ہے
چاہے قتل، غلام، احسان یا فدیہ لے، کعب بن اشرف میں ان میں سے کچھ بھی نہیں اس نے نقض عہد کیا مکہ دارالحرب میں چلا گیا اور واپس عوالی بغیر امان آیا لہٰذا کوئی بھی یہ نہیں کہہ سکتا کہ اس کا حکم ان منافقین اہل ذمہ کا ہے جو ہمارے قبضہ میں دارالحرب جانے سے پہلے ہیں نہ یہ کہ اس کا حکم ان اہل عہد کا ہے جو امان سے ہمارے ہاں آئے لہٰذا اس پر رات کو اچانک حملہ کرنا جائز اور یہ واحد قول ہی ہوگا کیونکہ یہ عوالی میں تھا اور وہ حکم مدینہ میں نہیں یا حکم مدینہ میں ہے ( صحیح یہی ہے ) لیکن وہ دارالحرب سے واپس آیا تو ناقض عہد تھا اور پھر اس نے امان بھی حاصل نہ کی لہٰذا اس کے قتل میں ہرگز کوئی اشتباہ نہیں
اگر ہم تسلیم کر لیں ، ابن اشرف صرف حربی تھا نہ عہد تھا اور نہ امان تو اس کا قتل پھر بھی جائز تھا جیسا کہ دعوت کے بعد دیگر کفار کا قتل جائز ہے ، حدیث میں بیان کردہ علت اذیت بتا رہی ہے کہ قتل محض کفر کی وجہ سے نہیں بلکہ اس وجہ سے ہوا تو اب یہ دلیل بن گئی کہ اگر یہ حربی سے بھی سرزد ہو تو وہ قتل کا مستحق ٹھہرے گا یہ اس لئے کہہ
وْمِ الْقِيَامَةِ ) تاہی گھمبیر ہے۔ یہ صرف حب مصطفیٰ ﷺ کا تقاضا ہی نہیں بلکہ نبی اکرم ﷺ [484]ديث حق بھی ہے اور یہ حق ادا نہ کرنے والوں کو سخت وعید بھی سنائی گئی ہے، جیسا کہ [6233]حديث مندرجہ ذیل احادیث میں مروی ہے۔ فضل الصلوة على النبي ﷺ [حديث: 11] مشكاة مع تحقيق الألباني، رقم الحديث (925)
۲۵۴ اسلام اور احترام نبوت ﷺ رہا ہوں کہ کعب اور دیگر یہود مدینہ کے بارے میں ثابت، امر اہل صلح ہونا ہے اور یہ امام شافعی کا قول ہے اور اس کا معنی بتا رہا ہے اس سے عقد امان لازم نہیں آتا البتہ وہ احکام محاربہ پر ہونگے ہاں ان پر حملہ نہیں ہوگا اور یہ ہمارے اس مقصود کے خلاف نہیں کہ شارع نے اذیت پر قتل کو مرتب کیا بلکہ یہ چیز تو ہمارے مقصود کی تائید کر رہی ہے پہلے ہم نے رویانی اور ماوردی سے نقل کیا کہ معاہد سے رسول کی گستاخی ہوئی یا قرآن کی اگر اعلانیہ ہو تو اسی وقت صلح ختم اور حاکم کے اعلان پر موقوف نہیں اور اگر خفیہ تھی تو یہ خیانت کی طرح ہے لہذا امام کو اختیار ہے کہ نقض عہد کر سکتا ہے، کعب بن اشرف کی گستاخی تو اعلانیہ تھی اس لئے وہ ناقض عہد ٹھرا اور اس پر اچانک حملہ کرنا جائز تھا
سوال۔ سابقہ روایات کا تقاضا یہ تھا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی علیہ السلام کو کعب ابن اشرف کے حالات سے آگاہ کیا ممکن ہے اللہ تعالیٰ نے اس کے دل پر مطلع کیا تو آپ نے قتل کا حکم دیا اور یہ چیز اس کے علاوہ میں نہیں
جواب۔ ہم ظاہری اسباب پر احکام کے پابند ہیں، حضور ﷺ نے امور باطنی پر احکام کی بنیاد نہیں رکھی اگرچہ آپ ﷺ کو اس بارے میں وحی حاصل تھی بلکہ ظاہری اسباب کو شریعت میں معتبر رکھا، کیا تمہیں علم نہیں اللہ تعالیٰ کے بتانے سے منافقین کے احوال سے باخبر ہونے کے باوجود آپ نے انھیں قتل کا حکم نہیں دیا کیونکہ گواہ موجود نہیں یا اقرار نہیں جو بطور حجت شرعی ہیں اس کے علاوہ بھی ترک قتل کی علت بیان ہوئی مثلاً فرمایا
لا يتحدث الناس ان محمدًا لوگ یہ باتیں نہ کریں کہ محمد ﷺ اپنے يقتل اصحابه ساتھیوں کو مروا دیتا ہے
ہماری گفتگو سے معلوم ہو گیا واقعہ ابن اشرف سے استدلال اس کے معاہد ہونے پر
اسلام اور احترام نبوت ﷺ موقوف نہیں بلکہ خواہ وہ حربی ہو یا نہ ہو مذکورہ علت بھی ساتھ رکھی جائے گی پیچھے گزرا کہ منقول ہے حضور ﷺ م پہلے صلح نامہ تیار کروایا پھر اس کے قتل ک نقض عہد کیا اور وہ لیڈر تھا اور بڑے بشرطیکہ وہ اس کے اتباع سے نہ نکل ج تھا جیسے کہ پہلے روایات اور ان کا قول تھا، ان دونوں صورتوں حیصہ بن سنیہ صورتوں سے بلکہ تیسری صورت سے اس سے بھی یہ نقض ٹھرا اور آپ ﷺ من وجد تموه من رجال يهود فاقتلوه یہ بھی ان کے نقض عہد پر دلیل ہے ہ
- ۲۔ دلیل ثانی، یہودی ابور
امام ابن اسحاق کہتے ہیں مالک رضی اللہ عنہ سے بیان کیا اللہ میں سے ایک یہ تھی کہ انصار کے د لئے ایک دوسرے سے سبقت کی کی مثل سرانجام دینے کی کوشش می نے بھی ایک آدمی کا تذکرہ کیا جو ح
اسلام اور احترام نبوت ﷺ
موقوف نہیں بلکہ خواہ وہ حربی ہو یا نہ ہو اس سے استدلال صحیح ہے اور اس حدیث میں مذکورہ علت بھی ساتھ رکھی جائے گی
پیچھے گزرا کہ منقول ہے حضور ﷺ نے آمد مدینہ کے وقت ابن اشرف کے قتل سے پہلے صلح نامہ تیار کروایا پھر اس کے قتل کے بعد دوبارہ تحریر کروایا کیونکہ ابن اشرف نے نقض عہد کیا اور وہ لیڈر تھا اور بڑے کا نقض اپنے متبعین کے حوالہ سے بھی ہوتا ہے بشرطیکہ وہ اس کے اتباع سے نہ نکل چکے ہوں یا اس لئے کہ انھوں نے بھی نقض عہد کیا تھا جیسے کہ پہلے روایات اور ان کا قول گزرا ان کے ہاں سوائے عداوت نبی کے کچھ نہ تھا، ان دونوں صورتوں محیصہ بن سنیہ کا قتل بھی مستنبط ہے کیونکہ اس کا نقض مذکورہ دو صورتوں سے بلکہ تیسری صورت سے بھی ہے کیونکہ قتل ابن اشرف پر اس کا معاون بنا تو اس سے بھی یہ نقض ٹھہرا اور آپ ﷺ نے فرمایا
من وجد تموه من رجال یہود میں سے جس کو پاؤ اسے قتل کر دو یہود فاقتلوه
یہ بھی ان کے نقض عہد پر دلیل ہے
۲۔ دلیل ثانی، یہودی ابو رافع بن ابی الحقیق کا قتل
امام ابن اسحاق کہتے ہیں ہمیں امام زہری نے حضرت عبداللہ بن کعب بن مالک رضی اللہ عنہ سے بیان کیا اللہ تعالیٰ اپنے رسول ﷺ پر جو کرم نوازی کی ہے ان میں سے ایک یہ تھی کہ انصار کے دونوں خاندان اوس اور خزرج آپ کی خدمت کے لئے ایک دوسرے سے سبقت کی کوشش کرتے، جب ایک کوئی کام کرتا تو دوسرا بھی اس کی مثل سرانجام دینے کی کوشش میں رہتا، جب اوس نے ابن اشرف کو قتل کیا تو خزرج نے بھی ایک آدمی کا تذکرہ کیا جو رسول اللہ ﷺ کی عداوت میں اس کی مثل تھا اور وہ
اسلام اور احترام نبوت ﷺ
خیبر میں ابن ابی الحقیق تھا انھوں نے اس کے قتل کی آپ ﷺ سے اجازت چاہی تو آپ ﷺ نے اجازت دے دی
اس کے قتل کا واقعہ بخاری میں معروف ہے ہم نے ابن اسحاق کے حوالے سے نقل کیا کیونکہ اس میں ہے کہ ابو رافع ، ابن اشرف کی ہی طرح تھا ابن اسحاق کے علاوہ نے لکھا کہ حجاز میں ہی قلعہ کے اندر رہتا تھا
(البخاری، ۴۰۳۹)
اگر تو یہ ابن اشرف کی طرح اہل صلح سے تھا تو استدلال بھی اس کی مثل ہوگا ورنہ علت اذیت کی بنا پر سزا دے دی گئی
۳۔ دلیل ثالث ، یہودی ابوعفک کا قتل
یہ واقعہ اہل سیر نے نقل کیا ہے اگرچہ تنہا اس سے استدلال درست نہیں ہاں اسے واقعہ کعب ابن اشرف کی تائید بنایا جاسکتا ہے، شیخ واقدی نے اپنی سند سے نقل کیا بنو عمرو بن عوف میں ایک بوڑھا تھا جسے ابو عفک کہا جاتا ، جب آپ ﷺ مدینہ طیبہ میں تشریف لائے تو اس کی عمر ایک سو بیس سال تھی اور اسلام نہ لایا اور حضور ﷺ کی دشمنی پر لوگوں کو ابھارتا جب آپ بدر سے فتح ونصرت الٰہی پا کر پلٹے تو اس نے حسد و بغاوت کی اور یہ اشعار کہے
أحکم عقولاً و آتی الی منیب سراعاً اذا ما دعا
فسلبهم أمرهم راکب حراماً حلالاً لشتی معا
فلو کان بالملک صدقتم وبالنصر تابعتم تبعا
حضرت سالم بن عمیر ( جو بنو نجار سے اور غزوہ تبوک میں عدم شرکت پر رونے والے
اسلام اور احترام نبوت ﷺ
تھے) انھوں نے قسم اٹھائی اسے میں قتل کروں گا، یا خود یہیں رہوں گا وہ انتظار میں رہے حتی کہ ایک رات روشن آئی گرمی کے موسم میں ابو عفک بنو عمرو کے میدان میں سویا تھا، حضرت سالم رضی اللہ عنہ نے اس کے سینے پر تلوار ماری جو بستر تک چلی گئی اللہ کا دشمن چیخا لوگ اکٹھے ہو گئے قبر کھودی اور دفن کر دیا اور کہا اگر ہم قاتل جانتے تو اسے قتل کر دیتے ، یہ قتل ہجرت کے سولہ ماہ بدر کے بعد اور کعب بن اشرف کے قتل کے کچھ دنوں بعد ہوا جن لوگوں نے اس کے یہودی ہونے کی تصریح کی ہے ان میں ابن سعد بھی ہیں
(الطبقات ۲۸:۲)
اور پیچھے گزرا تمام یہود مدینہ اہل صلح تھے یہ اس پر دلیل ہے کہ جب یہودی اہل صلح گستاخی کرے تو اچانک ٹھکانے لگایا جاسکتا ہے اور اس عبادت کی نذر مانی جاسکتی ہے اور یہ صحابہ کے ہاں معروف عمل تھا
۴۔ دلیل رابع ، واقعہ انس بن زنیم دیلی
اہل سیر نے لکھا، انس بن زنیم دیلی ( جو قریش کے ساتھ آپ ﷺ سے صلح میں شریک تھا) نے رسول اللہ ﷺ کی ہجو کی ، قبیلہ خزاعہ کے نوجوان نے سنی تو اس نے حملہ کر کے زخمی کر دیا ، اب دونوں قبیلوں کے درمیان لڑائی بھڑک اٹھی ، خزاعہ کے لوگوں نے آپ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر مدد کی درخواست کی اور یہ قصیدہ پڑھا جس کا پہلا شعر یہ ہے
قصیدہ سے فارغ ہو کر عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ بن زنیم دیلی نے آپ کی ہجو کی ہے تو آپ ﷺ نے اس کا خون مباح فرما دیا، جب انس ابن زنیم کو اطلاع پہنچی تو
وم القيامة ) لحديث [484] [ الحديث [6233]
اہی گمبھیر ہے۔ یہ صرف حب مصطفی ﷺ کا تقاضا ہی نہیں بلکہ نبی اکرم ﷺ کا حق بھی ہے اور یہ حق ادا نہ کرنے والوں کو سخت وعید بھی سنائی گئی ہے، جیسا کہ مندرجہ ذیل احادیث میں مروی ہے۔
فضل الصلوة على النبی ﷺ [حدیث: 11]
مشكاة مع تحقيق الألباني، رقم الحديث (925)
اسلام اور احترام نبوت ﷺ آپ ﷺ سے معافی مانگنے کے لئے اس نے قصیدہ لکھا اس کا اول شعر یہ ہے
جس کے یہ اشعار بھی ہیں
تعلّم رسول الله أنك قادر على كل سكن من تہام ومنجد
تعلّم رسول الله أنك مدرکی وأن وعيداً منك كالأخذ باليد
ونبئى رسول الله أنى هجوته فلا رفعت سوطی الیّ اذاً یدی
سوى أننى قد قلت يا ويح فتية اصيبوا بنحس يوم طلق وأسعد
فانى لا عرضاً خرقت ولا دماً ہرقت ففكر عالم الحق واقصد
وتعلم أن الركب ركب عويمر هم الكاذبون المخلفو كل موعد
نوفل بن معاویہ دیلی کے ذریعے یہ قصیدہ آپ ﷺ کے پاس آیا اور اس نے کہا یارسول اللہ ﷺ! آپ تو تمام سے بڑھ کر معاف فرمانے والے ہیں، ہم میں کوئی بھی آپ کو اذیت دینے کی سوچ بھی نہیں سکتا، ہم جاہلیت میں تھے ہم نہیں جانتے تھے کیا عقائد واعمال ہونے چاہیں اور کیا نہیں حتیٰ کہ اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کے واسطے سے ہمیں ہدایت دی اور ہمیں ہلاکتوں سے نجات عطا فرمائی، ان لوگوں نے آپ کے ہاں کذب بیانی سے کام لیا ہے فرمایا ان آنے والوں کو چھوڑ دو فرمایا ہم نے تہامہ میں خزاعہ سے بڑھ کر کوئی قریبی رشتہ دار یا بعید اچھا نہیں پایا اس پر نوفل خاموش ہوگیا اس کے بعد رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جاؤ میں نے اسے معاف کر دیا، نوفل نے کہا حضور آپ پر میرے والدین فدا ہوں
(المغازی، ۲:۷۸۹)
اگر یہ واقعہ (صحیح ہے) تو یہ سب سے قوی دلیل ہے بلکہ اس میں اس پر دلیل ہے کہ قتل
اسلام اور احترام نبوت ﷺ فقط اسلام سے ساقط نہیں ہو کے اسلام پر شاہد ہے اور بوقت عہد کر کے پھر اسلام لایا تھا تو سے اعظم ہوتی ہے، ناقض عہ لانے کے باوجود محفوظ نہیں ہو کسی آدمی کا خون مباح قرار دے دی اور معین شخص کو مباح مانگ لی با وجودیکہ ان کا عہد شہر میں برائی کی اجازت نہیں اولیٰ ہوگا، یہ واقعہ بلاشبہ معاف لیکن جب وہ ام اس واقعہ میں سوال معافی مالک رضی اللہ عنہ کی قبول تو ندامت وصداقت کے بچو تاکہ اللہ تعالیٰ کی رضا اور خ قبول توبہ فرمانا مقصود تھا اور معاف نہیں کیا تو اسلام ہوئی یا محض اعراض فرمایا سے راضی نہ ہوں بخلاف قتال وغیرہ کیونکہ محض اس
اسلام اور احترام نبوت ﷺ
فقط اسلام سے ساقط نہیں ہوتا بلکہ معافی ضروری ہے کیونکہ ظاہراً قصیدہ انس ابن زنیم کے اسلام پر شاہد ہے اور بوقت ہجو صلح والوں میں سے تھا ، سفارش کرنے والا نوفل نقض عہد کر کے پھر اسلام لایا تھا تو اب وہ شفیع بنا ، جس سے معلوم ہو رہا ہے گستاخی نقض عہد سے اعظم ہوتی ہے ، ناقض ، اسلام لے آئے تو وہ محفوظ ہو جاتا ہے لیکن گستاخ اسلام لانے کے باوجود محفوظ نہیں ہوتا اس لئے آپ ﷺ نے خزاعہ پر حملہ آور قبیلہ ابوبکر کے کسی آدمی کا خون مباح قرار نہیں دیا، ہاں خزاعہ کو ان کے خلاف جنگ کی اجازت دے دی اور معین شخص کو مباح الدم قرار دیا یہاں تک کہ وہ اسلام لے آئے اور معافی مانگ لی باوجودیکہ ان کا عہد ، ترک جنگ اور صلح تھا نہ کہ عقد ذمہ وجزیہ ، اہل صلح کو اپنے شہر میں برائی کی اجازت نہیں تو جب اس معاملہ میں اس پر مواخذہ ہے تو ذمی پر بطریق اولیٰ ہوگا ، یہ واقعہ بلاشبہ معاہد ، گستاخ کے قتل پر شاہد ودلیل ہے
لیکن جب وہ اسلام لے آئے تو ہم اس سے سقوط قتل کو مختار سمجھتے ہیں ، اور اس واقعہ میں سوال معافی کو قبول توبہ پر محمول کرتے ہیں جیسا کہ حضرت کعب بن مالک رضی اللہ عنہ کی قبول توبہ کا معاملہ ہے جب وہ تبوک میں پیچھے رہے تھے تو باوجود ندامت و صداقت کے پچاس دنوں تک ان کا معاملہ موخر رہا جیسا کہ تفصیل گزری ہے تاکہ اللہ تعالیٰ کی رضا اور قبول توبہ متحقق ہو جائے ، اس طرح یہاں بھی حضور ﷺ کا قبول توبہ فرمانا مقصود تھا اور یہی یہاں مقصود ہے، اس پر کوئی تصریح نہیں کہ اگر آپ نے معاف نہیں کیا تو اسلام کے بعد بھی قتل کر دیا ، بلکہ ممکن ہے اسے قتل کے علاوہ کوئی سزا ہوئی یا محض اعراض فرمالینا ہی سزا ہے اور وہ مومن کیسے خوش ہو سکتا ہے جب حضور اس سے راضی نہ ہوں بخلاف کافر حربی اور اس کے علاوہ کے ساتھ عہد توڑنے والا مثلاً قتال وغیرہ کیونکہ محض اسلام کی وجہ سے اس کے درپے نہ ہوا جائے
اسلام اور احترام نبوت ﷺ
کیونکہ اس کا دین کفر اور محاربہ تھا اور وہ اسلام کے ساتھ زائل ہو گیا لیکن گستاخ کا گناہ کفر سے کہیں زائد ہے
۵۔ دلیل خامس
ایک جماعت علماء نے (جس میں امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ تعالیٰ بھی ہیں ) اس سے بھی استدلال کیا ہے کہ امام ابو داود نے سنن کے باب، الحکم فمن سب النبی ﷺ میں امام شعبی سے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے ایک یہودی عورت کے حوالہ سے نقل کیا، اس نے حضور ﷺ کی گستاخی کی، ایک آدمی نے اس کا گلا دبایا حتی کہ وہ مرگئی
فابطل رسول اللہ ﷺ دمها تو رسول اللہ ﷺ نے اس کا خون باطل (سنن ابی داود، ۴۳۶۲) قرار دے دیا
امام احمد نے اسے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے یوں نقل کیا، ایک نابینا مسلمان تھا جو یہودی عورت کی پناہ میں تھا، وہ اسے کھلاتی اور اس سے حسن سلوک کرتی لیکن وہ رسول اللہ ﷺ کو برا کہتی اور اذیت دیتی، ایک رات مسلمان نے اس کا گلا دبا دیا اور وہ مر گئی صبح رسول اللہ ﷺ سے ذکر ہوا تو لوگوں پر گراں گزرا، اس نابینا نے پوری بات بیان کی تو آپ ﷺ نے اس کا خون باطل قرار دیا
(احکام اہل الملل، ۴۰۷)
سماع شعبی از سیدنا علی رضی اللہ عنہ
اس کی سند کی صحت واتصال میں شبہ نہیں البتہ امام شعبی کا حضرت علی رضی اللہ عنہ سے سماع کا معاملہ اختلافی ہے اس میں شبہ نہیں انھوں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ اور کثیر صحابہ رضی اللہ عنہم کا دور پایا کیونکہ ان کی ولادت بقول شیخ ابن حجویہ (۲۲۸) خلافت فاروقی کے چھٹے سال ہے تو حضرت علی رضی اللہ عنہ کے
مِ الْقِیَامَةِ ) دیث [484] ] الحدیث 6233]
ہی گمبھیر ہے۔ یہ صرف حب مصطفیٰ ﷺ کا تقاضا ہی نہیں بلکہ نبی اکرم ﷺ کا حق بھی ہے اور یہ حق ادا نہ کرنے والوں کو سخت وعید بھی سنائی گئی ہے، جیسا کہ درجہ ذیل احادیث میں مروی ہے۔
فضل الصلوٰۃ علی النبی ﷺ [حدیث: 11]
مشکاۃ مع تحقیق الألباني، رقم الحدیث (925)
اتھ زائل ہو گیا لیکن گستاخ کا گناہ
د بن حنبل رحمہ اللہ تعالیٰ بھی ہیں کے باب، الحكم فمن ی اللہ عنہ سے ایک یہودی عورت گئی ؛ ایک آدمی نے اس کا گلا دبایا
ﷺ نے اس کا خون باطل فرمایا تل کیا، ایک نابینا مسلمان تھا جو حسن سلوک کرتی لیکن وہ رسول نا نے اس کا گلا دبا دیا اور وہ مر گزرا، اس نابینا نے پوری بات
(احکام اہل الملل ، ۷۳۰)
کے امام شعبی کا حضرت علی رضی کہ انھوں نے حضرت علی رضی تنا کی ولادت بقول شیخ ابن حضرت علی رضی اللہ عنہ کے
اسلام اور احترام نبوت ﷺ
وصال کے وقت ان کی عمر بیس سال تھی ، امام شعبی کی وفات کے بارے میں اکثر اقوال اسی پر دال ہیں کیونکہ ان کا وصال ایک سو دو میں بیاسی سال کی عمر میں ہوا، اس میں دیگر اقوال بھی ہیں، ایک یہ ہے کہ ان کا وصال ایک سو چھ یا سات میں ہوا اور ان کی عمر ستر سال تھی ، اس صورت میں انھوں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کے دور کے دس سال پائے لیکن مشہور اول قول ہے
ہر قول پر ان کا حضرت علی رضی اللہ عنہ کو پانا متحقق ہے اور امکان سماع بھی ہے کیونکہ یہ کوفی ہیں اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ کوفہ میں ہی تھے تو ان سے، ملاقات وسماع میں کوئی بات مانع نہیں اور ان کا حضرت علی کرم اللہ وجہہ سے روایت کرنا مشہور بھی ہے ان میں شراحہ ہمدانیہ کی رجم والی روایت بھی شامل ہیں، بعض محدثین نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے ان کے سماع کی تصریح کی ہے اگر یہ ثابت ہو تو صراحت ہے ورنہ محدثین کے ہاں ملاقات اور امکان پر اکتفا اور اسے سماع پر محمول کرنا مشہور ہے تو اب مذکورہ روایت صحیح ٹھہرتی ہے اگر یہ مرسل ہو تو مراسیل شعبی ، اصح مراسیل کا درجہ رکھتی ہے
(معرفۃ الثقات للعجلی : ۱۲۴)
اور اس کی تائید سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ کی حدیث کر رہی ہے جن کا ذکر دلیل سادس میں آ رہا ہے تو یہ واقعہ ایک ہی ہے جیسا کہ امام احمد کی روایت بتا رہی ہے یا دونوں کا معنی ایک ہے اور اگر وہ موید نہ بنے تو اکثر اہل علم اس کے قائل ہیں اور صحابہ سے اس کی موافقت ثابت ہے
ان تینوں امور (صحت مرسل شعبی ، اہل علم کا قول اور صحابہ کی موافقت) میں سے ہر ایک مرسل کی تائید کر رہا ہے لہذا یہ بلا اختلاف حجت ہوگی کیونکہ امام شافعی اور ان کے موافقین اس تائید کی وجہ سے قبول کریں گے اور ان کے علاوہ اہل علم ، مرسل کو
قَوْمِ الْقِيَامَةِ ) ...يث [484] ... حديث [6233]
ابی عمیر ہے۔ یہ صرف حب مصطفیٰ ﷺ کا تقاضا ہی نہیں بلکہ نبی اکرم ﷺ کا حق بھی ہے اور یہ حق ادا نہ کرنے والوں کو سخت وعید بھی سنائی گئی ہے، جیسا کہ مندرجہ ذیل احادیث میں مروی ہے۔ [فضل الصلوة على النبي ﷺ [حديث: 11] مشكاة مع تحقيق الألباني، رقم الحديث (925)
اسلام اور احترام نبوت ﷺ
ہر حال میں مقبول مانتے ہیں خواہ تائید ہو یا نہ ہو تو تائید کے ساتھ مقبولیت پر اہل علم کا اتفاق ہے اور یہ حدیث سب سے قوی دلیل ہے احناف پر اس کا جواب مشکل ہے کیونکہ عورت کو بالاتفاق کفر اصلی کی وجہ سے اور احناف کے ہاں ارتداد کی وجہ سے قتل نہیں کیا جاسکتا علاوہ ازیں یہ عورت مرتد نہ تھی بلکہ یہودیہ تھی، ان کے ہاں اس کا قتل موجب قصاص ہے خواہ مسلمان قتل کرے یا غیر مسلم ، تو رسول اللہ ﷺ کا اس کے خون کو باطل و رائیگاں قرار دینا سب سے بڑی دلیل ہے کہ
پھر راوی نے ابطال کو 'فا' کے ساتھ ذکر کیا جو بتا رہا ہے کہ گستاخی ، ابطال دم کی علت ہے پھر حضور ﷺ کا ذکر شتم کے بعد ابطال فرمانا بھی دلیل ہے کہ شتم علت ہے اور یہ دونوں امور دلیل علت ہیں جیسا کہ اصول فقہ میں مسلم ہے اور یہ مخالف کے اس قول کو باطل قرار دے رہی ہے کہ عورت حربی تھی کیونکہ یہ علت ابطال ہے نہ کہ شتم ، اس قول کا فساد یوں بھی ہے کہ خون کا رائیگاں قرار دینا اس وقت ہوتا ہے جب سبب ضمان پایا جاتا ہو یہی وجہ ہے کہ آپ ﷺ نے بعض غزوات میں قتل شدہ عورت دیکھ کر قتلِ خواتین اور بچوں سے منع کر دیا، یہ نہیں کہا ان کا خون رائیگاں قرار دے دیا کیونکہ وہ سبب ضمان نہیں بخلاف اس عورت کے کیونکہ وہ اہل عہد میں سے ہے اور عہد خون کے ضمان کا سبب بنتا ہے بشرطیکہ گستاخی نبی نہ ہو
فساد پر دوسری دلیل
اس کا فساد یوں بھی ہے کہ یہ یہود مدینہ میں سے تھی، پیچھے آچکا کہ یہ تمام اہل صلح میں سے تھے، امام شافعی اور واقدی کا قول ہے کہ ان کے لئے حضور ﷺ نے
اسلام اور احترام نبوت ﷺ
عہد نامہ لکھا تھا، ابن اسحاق نے مہاجرین و انصار کے درمیان ... انہیں اپنے دین و اموال پر قائ... ساتھ محفوظ تھا، حضرت عمر رضی ا...
عمال کے نام خط
یہ معاہدہ ہے حضور ﷺ کا ا... کے ساتھی مجاہدین کے درمی... دوسرے کی دیت جاری ہوگی... پناہ دے سکتا ہے ان میں سے ... وہ محارب رہیں گے، یہود بن... دین اور مسلمانوں کے لئے... نے اپنے آپ اور گھر والوں... جشم کے لئے یہود بنو عوف... ثعلبہ وجفنہ ، بنو شطیبہ کے ... طرح ہے اسی طرح بطانہ ... وہ ضرر رساں اور گناہ گار... کا خوف ہوا تو اسے اللہ تعا... کے موالی اور ان کے نفوس... اشیاء بھی ہیں
اسلام اور احترام نبوت ﷺ
عہد نامہ لکھا تھا، ابن اسحاق نے بھی یہی لکھا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے مدینہ آتے ہی مہاجرین وانصار کے درمیان عہد نامہ تیار کیا اور اس میں یہود کے ساتھ صلح بھی تھی انھیں اپنے دین واموال پر قائم رہنے کا عہد تھا اور وہ آل عمر کے پاس کتاب صدقہ کے ساتھ محفوظ تھا، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اپنے عمال کو یہ خط لکھا
عمال کے نام خط
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
یہ معاہدہ ہے حضور ﷺ کا قریش اور یثرب کے مسلمانوں اور ان کے تابع اور ان کے ساتھی مجاہدین کے درمیان کہ وہ امت واحدہ ہیں اور ان کے درمیان ایک دوسرے کی دیت جاری ہوگی، اسی میں ہے کہ اللہ کا ذمہ ایک ہے، ان کا ادنیٰ بھی کسی کو پناہ دے سکتا ہے اس میں ہے کہ یہود اہل ایمان کے ساتھ خرچ کریں گے جب تک وہ محارب رہیں گے، یہود بنو عوف کے لئے اہل ایمان کا ذمہ ہے، ان کے لئے ان کا دین اور مسلمانوں کے لئے اپنا دین، مال اور نفوس ہیں مگر جو ظلم و زیادتی کرے تو اس نے اپنے آپ اور گھر والوں کو ہلاکت میں ڈالا، یہود بنو نجار، بنو حارث، بنو ساعدہ، بنو جشم کے لئے یہود بنو عوف کی طرح ہے، اور اسی طرح یہود، اوس کے لئے، یہود بنو ثعلبہ وجفنہ، بنو شطیبہ کے لئے بھی بنو عوف کی طرح ہے، موالی ثعلبہ، ان کے نفوس کی طرح ہے اسی طرح بطانہ ان کے نفوس کی طرح اور پڑوسی، نفس کی طرح ہوگا، بشرطیکہ وہ ضرر رساں اور گناہ گار نہ ہو اس معاہدہ والوں کے درمیان اگر کوئی بات یا جھگڑا و فساد کا خوف ہوا تو اسے اللہ تعالیٰ اور حضور ﷺ کی طرف لوٹایا جائے گا، یہود اوس، ان کے موالی اور ان کے نفوس سے اسی معاہدہ کے مطابق حسن سلوک ہو گا اور اس میں دیگر اشیاء بھی ہیں
(کتاب الاموال لابی عبید : ۲۶۰)
َوْمَ الْقِيَامَةِ )
حدیث [484]
[
حدیث [6233]
ایسی گھمبیر ہے۔ یہ صرف حب مصطفیٰ ﷺ کا تقاضا ہی نہیں بلکہ نبی اکرم ﷺ کا حق بھی ہے اور یہ حق ادا نہ کرنے والوں کو سخت وعید بھی سنائی گئی ہے، جیسا کہ درجہ ذیل احادیث میں مروی ہے۔
فضل الصلوة على النبي ﷺ [حدیث: 11] مشكاة مع تحقيق الألباني، رقم الحديث (925)
اسلام اور احترام نبوت ﷺ ۲۶۴
امام ابو عبید نے کتاب الاموال میں لکھا ، یہ حضور ﷺ کی مدینہ تشریف آوری کے وقت معاہدہ طے پایا تھا ، یہود اہل ایمان کے ساتھ محاربہ میں خرچ کریں گے، کی تفسیر کرتے ہوئے امام موصوف نے لکھا، یہ نفقہ جنگ کے ساتھ خاص تھا ، دشمن کے ساتھ ان کی معاونت لازمی تھی ، اسی شرط نفقہ کی بنا پر یہود کو مال غنیمت میں حصہ دیا جاتا اگر نفقہ شرط نہ ہوتا تو مال سے انھیں حصہ نہ دیا جاتا
(الاموال ، ۲۶۶)
اسی کتاب میں ہے یہود بنو عوف اہل ایمان کا گروہ ہیں اس کا مطلب اہل ایمان کے ساتھ ان کے دشمنوں پر تعاون ونصرت ہے اسی مشروط نفقہ کی صورت میں ہے
(ایضاً)
صحیح مسلم میں حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے ہے رسول اللہ ﷺ نے ہر بطن (قبیلہ) پر دیت لازم کر دی جو مسلمانوں کی اتباع کرے گا اس کی مدد کی جائے گی کا مفہوم فقط صلح و ترک جنگ ہے تو مدینہ میں کوئی یہود ایسے نہ تھے جن کے ساتھ حلف و معاہدہ نہ ہو یا وہ اوس کے ساتھی یا بنو خزرج کے ساتھ ، بنو قینقاع جو مجاورین مدینہ تھے یہ عبداللہ بن سلام کے ساتھ اور بنو عوف بن خزرج کے حلیف تھے
تو مدینہ طیبہ اور اس کے ارد گرد تین قسم کے یہود تھے بنو قینقاع ، بنو نضیر ، بنو قریظہ، پہلے دونوں خزرج کے حلیف جبکہ قریظہ اوس کے حلیف تھے ، سب سے پہلے بنو قینقاع نے عہد توڑا اور انھوں نے بدر واحد کے درمیانی عرصہ میں محاربہ کیا اور یہ شہر مدینہ کے پاس تھے ، نضیر اور قریظہ ، مدینہ سے باہر رہتے تھے واضح ہے مذکورہ عورت بنو قینقاع میں سے تھی کیونکہ ظاہر یہی ہے کہ مدینہ میں تھی خواہ انہی میں سے تھی یا نہیں اور یہ صلح والوں میں شامل تھی اور اس کے لئے دیگر یہود کی طرح عہد تھا یا اس کی
اسلام اور احترام نبوت ﷺ
مثل
فاذا كان سبها يقتضـ القتل فالذمية التي تلغـ احكام الاسلام اولیٰ
او مثلها
قبل از گستاخی اس کے محفوظ ہونے اس کے بارے میں خوب پوچھا اگر سوال۔ گستاخ کا قتل اگر چہ لازم جائز ہے ؟ اسی طرح مرتد کا معاملہ اس پر ناراض ہوتے کیونکہ یہ طریقہ معلوم ہوا یہ قتل کسی اور وجہ سے تھا جواب۔ اس قتل کا سبب گستاخی نے پہلے بیان کر دیا کہ عورت کو کفـ سبب ٹھہری، رہا معاملہ کہ کوئی اجازت نے ناراضگی کا اظہار نہیں فرمایا تو استحقاق قتل کا وہم پیدا نہ ہو جائے دوسرا جواب ۔ وہاں اجازت ہو اور مذکورہ واقعہ میں ایسی صورت تیسرا جواب ۔ جب کسی کافر صراحۃً ضروری نہیں، کیا یہ حقیقت نہیں
مِّ الْقِيَامَةِ ) حدیث [484] حدیث [6233]
انتہائی گمبھیر ہے۔ یہ صرف حب مصطفیٰ ﷺ کا تقاضا ہی نہیں بلکہ نبی اکرم ﷺ کا حق بھی ہے اور یہ حق ادا نہ کرنے والوں کو سخت وعید بھی سنائی گئی ہے، جیسا کہ درجہ ذیل احادیث میں مروی ہے۔ فضل الصلوٰة علیٰ النبی ﷺ [حدیث: 11] مشكاة مع تحقيق الألباني، رقم الحديث (925)
۲۶۴ یہ حضور ﷺ کی مدینہ تشریف داخل ایمان کے ساتھ محاربہ میں موقوف نے لکھا، یہ نفقہ جنگ کے ساتھ تھی ، اسی شرط نفقہ کی بنا پر یہود کو مال سے انھیں حصہ نہ دیا جاتا
(الاموال، ۲۶۶)
گروہ ہیں اس کا مطلب اہل ایمان کے مشروط نفقہ کی صورت میں ہے
(ایضاً)
رسول اللہ ﷺ نے ہر بطن (قبیلہ) پر ان کی مدد کی جائے گی کا ، مفہوم فقط صلح تھے جن کے ساتھ حلف و معاہدہ نہ ہو یا کا جو مجاورین مدینہ تھے یہ عبداللہ بن تھے قسم کے یہود تھے بنو قینقاع ، بنو فریقے اوس کے حلیف تھے ، سب سے لڑکے درمیانی عرصہ میں محاربہ کیا اور سے باہر رہتے تھے واضح ہے مذکورہ کہ مدینہ میں تھی خواہ انہی میں سے تھی کئے دیگر یہود کی طرح عہد تھا یا اس کی
اسلام اور احترام نبوت ﷺ مثل فاذا كان سبها يقتضى جب ایسی عورت کی گستاخی کا تقاضا قتل القتل فالذمية التى تلتزم ہے تو ذمی عورت جس نے احکام اسلام احكام الاسلام اولى کا التزام کر رکھا ہے بطریق اولیٰ قتل کیا او مثلها جائے گی
قبل از گستاخی اس کے محفوظ ہونے پر یہ دلیل بھی ہے کہ حضور ﷺ نے لوگوں سے اس کے بارے میں خوب پوچھا اگر وہ محفوظ نہ ہوتی تو آپ ایسا نہ کرتے
سوال۔ گستاخ کا قتل اگر چہ لازم ہے مگر بغیر اجازت حاکم ایسا کرنا کسی کے لئے کہاں جائز ہے؟ اسی طرح مرتد کا معاملہ ہے اگر گستاخی کی وجہ سے یہ قتل تھا تو حضور ﷺ اس پر ناراض ہوتے کیونکہ یہ طریقہ کار غلط تھا جب آپ ﷺ نے ناراضگی نہیں کی تو معلوم ہوا یہ قتل کسی اور وجہ سے تھا
جواب۔ اس قتل کا سبب گستاخی ہی تھا اس کے علاوہ کوئی اور امکان نہیں جیسا کہ ہم نے پہلے بیان کر دیا کہ عورت کو کفر اصلی کی وجہ سے قتل نہیں کیا گیا تو اب گستاخی ہی سبب ٹھہری، رہا معاملہ کہ کوئی اجازت حکومت کے بغیر ایسا نہیں کر سکتا اور حضور ﷺ نے ناراضگی کا اظہار نہیں فرمایا تو ممکن ہے ترک ناراضگی کا سبب خوف ہو کہ کہیں عدم استحقاقِ قتل کا وہم پیدا نہ ہو جائے اور سر براہ کو ایسے موقعہ پر ترک انکار کا حق ہوتا ہے
دوسرا جواب ۔ وہاں اجازت نہیں جہاں خوف فتنہ ہو عدالت کی طرف رجوع ممکن ہو اور مذکورہ واقعہ میں ایسی صورت نہ تھی
تیسرا جواب ۔ جب کسی کافر سے گستاخی جیسا بدتر عمل سرزد ہو تو وہاں اجازت سر براہ ضروری نہیں، کیا یہ حقیقت نہیں کہ کفار کے خلاف جنگ بے اجازت سر براہ جائز
يَوْمَ الْقِيَامَةِ ) حديث [484] [5 : حديث 6233]
اہی گھمبیر ہے۔ یہ صرف حب مصطفیٰ ﷺ کا تقاضا ہی نہیں بلکہ نبی اکرم ﷺ حق بھی ہے اور یہ حق ادا نہ کرنے والوں کو سخت وعید بھی سنائی گئی ہے، جیسا کہ مدرجہ ذیل احادیث میں مروی ہے۔ فضل الصلوة على النبي ﷺ [حديث: 11] مشكاة مع تحقيق الألباني، رقم الحديث (925)
اسلام اور احترام نبوت ﷺ ۲۶۶ ہے، یہ گستاخ عورت، جنگ کرنے والے کافر کی طرح تھی چوتھا جواب:۔ یہ واقعہ ام ولد لونڈی کا ہے اور مالک اپنے غلام پر حد جاری کر سکتا ہے جیسا کہ اہل علم کا قول ہے، الغرض اس کا خون رائیگاں و مباح تھا خواہ اسے سر براہ اڑائے یا کوئی اور، اس میں کلام نہیں سوال۔ یہ ایسی عورت کا قتل بغیر عہد ہوا ہے اور کافرہ عورت کا خون رائیگاں ہی جائے گا؟ جواب ۔ عدم انکار میں اشکال باقی ہے البتہ ابطال خون پر متعدد وجوہ سے حدیث دال ہے کہ قتل گستاخی کی وجہ سے تھا نہ کہ کسی اور وجہ سے حالانکہ بوجہ کفر بعض غزوات میں خواتین کے قتل پر آپ ﷺ ناراض ہوئے اور یہاں ایسا نہیں ہوا، پتہ چلا دونوں واقعات میں بڑا فرق ہے
۶۔ دلیل سادس
امام ابو داود نے ، باب الحكم فيمن سب النبي ﷺ ، میں پہلی روایت یہ ذکر کی ہے، حضرت عکرمہ نے ابن عباس رضی اللہ عنھما سے نقل کیا، ایک نابینا آدمی کی ام ولد (لونڈی ) سرور عالم ﷺ کی گستاخی کیا کرتی اس کے منع کے باوجود وہ باز نہ آئی، اس نے اسے خوب ڈانٹا مگر وہ کہاں سمجھنے والی تھی، ایک رات جیسے ہی اس نے گستاخی شروع کی تو آدمی نے اس کے پیٹ پر سوا رکھ کر دبایا اور اسے قتل کر دیا اس کا بچہ قدموں میں گرا اور وہی خون میں لت پت ہو گئی، صبح حضور ﷺ کی خدمت میں کیس آیا آپ ﷺ نے لوگوں کو جمع کیا اور فرمایا میں اسے اللہ کی قسم یاد دلاتا ہوں بتائے جس نے یہ عمل کیا، نابینا صحابی کھڑے ہوئے ، حالت اضطراب میں لوگوں کو پھلانگتے آپ ﷺ کے سامنے حاضر ہوگئے، عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ میں اس کا مالک ہوں یہ آپ کے بارے میں بکواس و گستاخی کیا کرتی ، میں نے روکا ، منع کیا مگر یہ
اسلام اور احترام نبوت ﷺ باز نہ آئی ، اس سے میرے دو موتیوں ( رات اس نے جب گستاخی کا سلسلہ شرو حتی کہ ختم ہوگئی ، آپ ﷺ نے فرمایا :
اسے امام نسائی نے بھی روایت کیا اور اس سے استدلال اور اسے روح عن
(سنن ابو داود، ۴۳۶۱) (سنن نـ
امام خطابی کی گفتگو سے محسوس ہوتا ہے لہذا یہ واقعہ حضرت علی رضی اللہ عنہ بعید ہے ، ظاہر یہی ہے کہ یہ ایک غـ لونڈی ہو کیونکہ کافرہ کتابیہ لونڈی ہـ بیوی ہو لونڈی اور بیوی ، عہد میں طـ گزرا کہ تمام یہود مدینہ اہل صلح تھے ہوا جیسا کہ گزرا خواہ واقعات دو ہو سوال ۔ممکن ہے اس کا قتل بوجہ گستاـ اب قتل اور ترک قتل دونوں کا اختیار تھـ جواب ۔ اگر عورت قتال کرے تو انـ یہاں نہیں خصوصاً جبکہ وہ لونڈی ہے غلامی موجود اور من وفدیہ دونوں اسـ یہی مقصود ہے خواہ یہ بقاء عہد کے ساـ
اسلام اور احترام نبوت ﷺ
باز نہ آئی ،اس سے میرے دو موتیوں کی طرح بیٹے ہیں اور یہ میری رفیقہ تھی گذشتہ رات اس نے جب گستاخی کا سلسلہ شروع کیا تو سوا لے کر اس کے پیٹ میں گھونپ دیا حتی کہ ختم ہوگئی ، آپ ﷺ نے فرمایا
گواہ ہو جاؤ اس کا خون ضائع ہے
اسے امام نسائی نے بھی روایت کیا اور اس کی سند شرط صحیح پر جید ہے، امام احمد نے بھی اس سے استدلال اور اسے روح عن عثمان الشحام کی سند سے نقل کیا
(سنن ابوداود، ۴۳۶۱) (سنن نسائی، ۱۰۷۷) (احکام اہل الملل ، ۲۴۸)
امام خطابی کی گفتگو سے محسوس ہوتا ہے کہ انھوں نے اس عورت کو مسلمان قرار دیا لہذا یہ واقعہ حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی واقعہ کے علاوہ ٹھہرے گا لیکن یہ بات بعید ہے، ظاہر یہی ہے کہ یہ ایک ہی واقعہ ہے اور یہ عورت یہودیہ تھی ممکن ہے لونڈی ہو کیونکہ کافرہ کتابیہ لونڈی سے ملک یمین کی بنا پر وطی جائز ہے ممکن ہے بیوی ہو لونڈی اور بیوی ،عہد میں مالک اور خاوند کے تابع ہوتی ہے پہلے یہ بھی گزرا کہ تمام یہود مدینہ اہل صلح تھے تو اس عورت کا قتل فقط گستاخی کی وجہ سے ہی ہوا جیسا کہ گزرا خواہ واقعات دو ہو یا ایک
سوال ۔ ممکن ہے اس کا قتل بوجہ گستاخی نقض عہد پر ہو تو یہ جنگ والوں کی طرح ہو گی تو اب قتل اور ترک قتل دونوں کا اختیار تھا ؟
جواب ۔ اگر عورت قتال کرے تو اسے دفاع کے لئے قتل کیا جاسکتا ہے رہا اختیار تو وہ یہاں نہیں خصوصاً جبکہ وہ لونڈی ہے (جیسا کہ الفاظ حدیث سے واضح ہے ) کیونکہ غلامی موجود اور من وفدیہ دونوں اس سے افضل لہذا قتل ہی متعین ، جب قتل ہی ہے تو یہی مقصود ہے خواہ یہ بقاء عہد کے ساتھ حد زنا کی طرح حد ہے یا نقض عہد کی وجہ ہے اور
يَوْمَ الْقِيَامَةِ ) حدیث [484] حدیث [6233]
ہی گمبھیر ہے۔ یہ صرف حب مصطفی ﷺ کا تقاضا ہی نہیں بلکہ نبی اکرم ﷺ حق بھی ہے اور یہ حق ادا نہ کرنے والوں کو سخت وعید بھی سنائی گئی ہے، جیسا کہ درجہ ذیل احادیث میں مروی ہے۔ فضل الصلوٰۃ علی النبی ﷺ [حدیث: 11] مشکاۃ مع تحقیق الألبانی، رقم الحدیث (925)
اسلام اور احترام نبوت ﷺ
دوسرا یہ کہ اگر یہاں اختیار ہے تو سر براہ کے لئے نہ کہ رعایا کے لئے
لفظ مغول کی تحقیق
اس کی میم کے نیچے زیر اور غین ساکن ہے، امام خطابی کہتے ہیں یہ مِشمل کی طرح کا آلہ ہے جس کی دھار خوب باریک اور تیز ہوتی ہے
(معالم السنن، ۶:۱۹۹)
دیگر کا کہنا ہے یہ آلہ چھوٹی تلوار کی مانند ہوتا ہے جو کپڑوں میں چھپائی جا سکے، بعض کے نزدیک یہ ایسا ڈنڈا ہوتا ہے جس کے درمیان تیز تلوار باندھی ہوتی ہے تاکہ لوگوں کو قتل کیا جاسکے، بعض کے ہاں تیز دھار لوہا مراد ہے مغول اگر عین کے ساتھ ہو تو پھر اس کا معنی وہ بڑا ہتھوڑا ہوتا ہے جس سے پتھر توڑے جاتے ہیں
(لسان العرب، ۱۱:۴۷۸، مغول)
خواہ یہ واقعات دو ہو یا ایک، یہودی عورت کا ہو یا مسلمان کا، بہر صورت استدلال درست ہے ہم نے تمام یہاں جمع کر دیا کیونکہ ان میں سے کسی کے پہلے مسلمان ہونے پر دلیل موجود نہیں
۷۔ دلیل سابع، عصماء بنت مروان یہودیہ کا واقعہ
یہ سابقہ دونوں سے الگ واقعہ ہے، حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے ہے ایک خطمی عورت نے آپ ﷺ کی ہجو کی تو فرمایا کون ہے جو اسے سنبھالے؟ اسی کی قوم سے ایک آدمی نے عرض کیا، یا رسول اللہ میں حاضر ہوں، اس نے جا کر اسے ٹھکانے لگا دیا حضور ﷺ کو اطلاع دی گئی تو فرمایا
لا ينتطح فيها عنزان اس میں کسی کو اختلاف اور نزاع نہیں
(الکامل لابن عدی، ۲:۱۴۵)
امام واقدی نے غزوہ بدر کے آخر میں اشعار نقل کرتے ہوئے لکھا مجھے عبداللہ بن
اسلام اور احترام نبوت ﷺ
حارث نے اپنے والد سے بیان کیا، عصم بن زید حصن خطمی کی بیوی تھی یہ رسول اللہ ﷺ کی مخالفت پر ابھارنے کے لئے عمیر کو اس بارے میں خبر ہوئی تو رسول اللہ ﷺ بدر سے باخیریت مدینہ گا، حضور ﷺ جیسے ہی واپس آئے حضر گے وہاں اس کے ارد گرد بچے سوئے ہوے پیچھے کیا اور تلوار مار کر اس کے دو ٹکڑے کر جیسے ہی آپ ﷺ نے سلام پھیرا، حضر اقتلت بنت مروان؟ عرض کیا، میرے والدین آپ پر فدا، می پوچھے ایسا کر دیا ہے عرض کیا یا رسول اللہ لا ينتطح فيها عنزان یہ کلمات ہم نے پہلی دفعہ رسول اللہ ﷺ طرف متوجہ ہو کر فرمایا اذا احببتم ان تنظروا الى رجل نصر الله ورسوله بالغيب فانظروا الى عمير بن عدى حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ بولے، ب اطاعت کا فریضہ نبھایا، فرمایا
اسلام اور احترام نبوت ﷺ
حارث نے اپنے والد سے بیان کیا، عصماء بنت مروان (بنو امیہ بن زید سے تھی ) یزید بن زید حصن خطمی کی بیوی تھی یہ رسول اللہ ﷺ کو اذیت دیتی، اسلام پر طعن اور حضور ﷺ کی مخالفت پر ابھارنے کے لئے شعر کہتی ، حضرت عمیر بن عدی بن خرشہ بن امیہ خطمی کو اس بارے میں خبر ہوئی تو انھوں نے یہ نذر مانی اے اللہ جب رسول اللہ ﷺ بدر سے باخیریت مدینہ آجائیں گے تو میں اسے ضرور ٹھکانے لگاؤں گا، حضور ﷺ جیسے ہی واپس آئے حضرت عمیر بن عدی رات کو اس کے ہاں داخل ہو گئے وہاں اس کے ارد گرد بچے سوئے ہوئے تھے ایک بچہ دودھ پی رہا تھا اسے ہاتھ سے پیچھے کیا اور تلوار مار کر اس کے دو ٹکڑے کر دیے، نماز صبح حضور ﷺ کے ساتھ ادا کی جیسے ہی آپ ﷺ نے سلام پھیرا، حضرت عمیر کو بلا کر فرمایا اقتلت بنت مروان؟ بنت مروان کو تم نے ٹھکانے لگایا ہے؟ عرض کیا، میرے والدین آپ پر فدا، میں نے کیا ہے، ساتھ ڈرے کہ میں نے بغیر پوچھے ایسا کر دیا ہے عرض کیا یا رسول اللہ مجھ پر کچھ لازم تو نہیں؟ فرمایا لا ينتطح فيها عنزان اس میں تو دوسری کوئی رائے ہی نہیں یہ کلمات ہم نے پہلی دفعہ رسول اللہ ﷺ ہی سے سنے حضور ﷺ نے اپنے صحابہ کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا اذا احببتم ان تنظروا الى رجل اگر تم ایسا شخص دیکھنا چاہو جس نے نصر الله ورسوله بالغیب غائبانہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ فانظروا الى عمیر بن عدی کی خدمت کی تو عمیر بن عدی کو دیکھو حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ بولے، اس نابینا کو دیکھو جس نے رات کو اللہ تعالیٰ کی اطاعت کا فریضہ نبھایا، فرمایا
يَوْمُ الْقِيَامَةِ ) [حديث 484] اہی گھمبیر ہے۔ یہ صرف حب مصطفیٰ ﷺ کا تقاضا ہی نہیں بلکہ نبی اکرم ﷺ [5 حق بھی ہے اور یہ حق ادا نہ کرنے والوں کو سخت وعید بھی سنائی گئی ہے، جیسا کہ [حديث 6233] مندرجہ ذیل احادیث میں مروی ہے۔ فضل الصلوة على النبي ﷺ [حديث: 11] مشكاة مع تحقيق الألباني، رقم الحديث (925)
اسلام اور احترام نبوت ﷺ ۲۷۰
جب حضرت عمیر رضی اللہ عنہ واپس گھر پہنچے تو وہاں لوگ اسے دفن کر رہے تھے دیکھ کر ان کی طرف آئے اور پوچھا اسے تو نے قتل کیا ہے فرمایا ، ہاں تم میرے ساتھ جو کرنا چاہتے ہو کرو
با جمعكم ماقالت لضربتكم ہے اگر تم تمام وہ کہو جو اس نے کہا تو میں
بسيفى هذا حتى اموت او اس تلوار سے تمام کو اڑا دوں گا حتی کے
اقتلكم میں مر جاؤں یا تمہیں قتل کردوں
اس واقعہ کے بعد خطمی علاقہ میں اسلام کا غلبہ ہو گیا حالانکہ کچھ لوگ پہلے اپنی قوم سے اسلام مخفی رکھ رہے تھے، حضرت حسان رضی اللہ عنہ نے اپنے اشعار میں حضرت عمیر بن عدی رضی اللہ عنہ کی خوب مدح کی ہے
(دیوان حسان، ۴۴۹)
یہ واقعہ پچیس رمضان بدر سے واپسی پر پیش ہوا
امام ابن عبدالبر نے استیعاب میں نقل کیا، حضرت عمیر خطمی قاری قرآن انصار کے بنو خطمہ سے تھے ان کے بارے میں زید بن اسحاق نے لکھا، یہ نابینا تھے ان کی بہن نے رسول اللہ ﷺ کی گستاخی کی تو انھوں نے اسے قتل کر دیا تو اس پر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ کی اس پر پھٹکار ہو
پھر لکھا حضرت عمیر بن عدی خطمی ، بنو خطمہ کے امام قاری اور نابینا تھے ان کے بیٹے عدی نے روایت کیا، اگر یہ وہی ہے جن سے زید بن اسحاق نے روایت کی تو یہ وہی ہونگے جنھوں نے گستاخی رسول اللہ ﷺ کی وجہ سے اپنی بہن کو ٹھکانے لگا دیا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ کی رحمت سے وہ عورت دور ہوگئی
(الاستیعاب: ۴۹۱:۲)
اسلام اور احترام نبوت ﷺ
امام ابن سعد نے یہ واقعہ واقدی سے ہمارے استاذ شیخ ابو محمد و سے ذکر کیا اور ان کا نسب یوں بیان خطمہ ( ان کا عبداللہ نام تھا انھوں نے پڑ گیا ) جشم بن مالک بن اوس،
پھر شیخ لکھتے ہیں
ابن قداح (ت ، ۲۲۰) ن یزید سے ہے جو اور بنوامیہ بن زید س اس کا نام کلفاء بنت اوفی ہے اور بنوخ
حضرت عمیر رضی اللہ عنہ سکے لیکن قدیم الاسلام ، صحیح نیت و عزت کی خاطر قربان ہونے وال
دیکھا یہ نابینا تھے آپ ﷺ نے ف اندرونی حصہ دھویا اسی وجہ سے ان خزیمہ بن ثابت رضی اللہ عنہ دونوں صحابہ سے فرمایا کرتے
خطمة
یہ واقعہ ان کے علاوہ نے بھی لکھا تہ نبی کی وجہ سے قتل کیا گیا تھا، اس ل
م الْقِيَامَةِ ) دیث [484] حدیث [6233]
ای گھمبیر ہے۔ یہ صرف حب مصطفی ﷺ کا تقاضا ہی نہیں بلکہ نبی اکرم ﷺ حق بھی ہے اور یہ حق ادا نہ کرنے والوں کو سخت وعید بھی سنائی گئی ہے، جیسا کہ مندرجہ ذیل احادیث میں مروی ہے۔ فضل الصلوة على النبي ﷺ [حديث : 11] مشكاة مع تحقيق الألباني، رقم الحديث (925)
۲۷۰
نابینا نہ کہو یہ تو بینا ہے پہنچے تو وہاں لوگ اسے دفن کر رہے تھے دیکھ کر نے قتل کیا ہے فرمایا، ہاں تم میرے ساتھ جو کرنا
اللہ کی قسم ، جس کے قبضہ میں میری جان ہے اگر تم تمام وہ کہو جو اس نے کہا تو میں اس تلوار سے تمام کو اڑا دوں گا حتی کے میں مرجاؤں یا تمہیں قتل کردوں کا غلبہ ہو گیا حالانکہ کچھ لوگ پہلے اپنی قوم سے رضی اللہ عنہ نے اپنے اشعار میں حضرت عمیر
(دیوان حسان، ۴۴۹)
سے ہوا ہے میں نقل کیا، حضرت عمیر خطمی قاری قرآن نے میں زید بن اسحاق نے لکھا، یہ نابینا تھے ان کی تو انھوں نے اسے قتل کر دیا تو اس پر رسول
کہ کے امام قاری اور نابینا تھے ان کے بیٹے اسے زید بن اسحاق نے روایت کی تو یہ وہی ﷺ کی وجہ سے اپنی بہن کو ٹھکانے لگا دیا تو ت سے وہ عورت دور ہوگئی (الاستیعاب، ۴۹۱:۲)
اسلام اور احترام نبوت ﷺ
امام ابن سعد نے یہ واقعہ واقدی سے اختصاراً ذکر کیا ہے
(الطبقات، ۲: ۲۷)
ہمارے استاذ شیخ ابو محمد دمیاطی (ت، ۷۰۵ء) نے ابن سعد سے قبائل اوس سے ذکر کیا اور ان کا نسب یوں بیان کیا ، عمیر بن عدی بن خَرَشہ بن امیہ بن عامر بن خطمہ (ان کا عبد اللہ نام تھا انھوں نے کسی کے ناک پر ضرب لگائی جس کی بنا پر خطمہ نام پڑ گیا ) جشم بن مالک بن اوس،
پھر شیخ لکھتے ہیں
ابن قداح (ت، ۲۲۰) کہتے ہیں عصماء بنت مروان بن عبید بن عمرو، یہ بنو یزید سے ہے جو اور بنو امیہ بن زید کے حلیف تھے یہ یزید بن زید بن حصن کی ماں ہے اس کا نام کلفاء بنت اوفی ہے اور بنو خطمہ کے قبیلہ قیس سے ہے لیکن یہ باطل ہے،
حضرت عمیر رضی اللہ عنہ نابینا ہونے کی وجہ سے بدر اور خندق میں حاضر نہ ہو سکے لیکن قدیم الاسلام ، صحیح نیت رکھنے والے اور اللہ تعالیٰ اور رسول اللہ ﷺ کی عزت کی خاطر قربان ہونے والے تھے، حضور ﷺ نے انھیں وضو کرتے ہوئے دیکھا یہ نابینا تھے آپ ﷺ نے فرمایا قدم کا اندرونی حصہ، انھوں نے سنا نہیں مگر اندرونی حصہ دھویا اسی وجہ سے ان کا نام بینا رکھا گیا، حضرت عمیر بن عدی اور حضرت خزیمہ بن ثابت رضی اللہ عنہ دونوں نے بنو خطمہ کے بت توڑ ڈالے تھے، حضور ﷺ صحابہ سے فرمایا کرتے
خطمة ہیں
یہ واقعہ ان کے علاوہ اوروں نے بھی لکھا ہے، اس سے یہ ثابت ہو گیا کہ ان عورتوں کو گستاخی ء نبی کی وجہ سے قتل کیا گیا تھا، اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ گستاخی پر خاموشی جائز نہیں خواہ
اہی گھمبیر ہے۔ یہ صرف حب مصطفیٰ ﷺ کا تقاضا ہی نہیں بلکہ نبی اکرم ﷺ کا حق بھی ہے اور یہ حق ادا نہ کرنے والوں کو سخت وعید بھی سنائی گئی ہے، جیسا کہ درجہ ذیل احادیث میں مروی ہے۔ فضل الصلوٰۃ علی النبی ﷺ [حدیث: 11] مشکاۃ مع تحقیق الالبانی، رقم الحدیث (925)
يَوْمُ الْقِيَامَةِ ) بحث [484] حدیث [6233]
اسلام اور احترام نبوت ﷺ گستاخ، معاہد حربی ہو یا ذمی اور یہ کفر محض کی طرح نہیں کیونکہ محض کفر پر بعض اوقات ترک قتل جائز ہوتا ہے بلکہ ہجرت سے پہلے یہ ترک لازم تھا حتیٰ کہ آیت سیف وقاتلوا المشرکین کافۃ تمام مشرکین سے قتال کرو (التوبۃ: ۳) نے اسے منسوخ قرار دیا تو اب قتل لازم کر دیا یا پہلے جائز اور پھر لازم کر دیا اور متعدد سابقہ انبیاء علیہم السلام کے دور میں جہاد کا حکم ہی نہ تھا لیکن گستاخی پر کسی دور میں بھی خاموشی جائز نہیں رہی چہ جائیکہ اس پر خاموشی لازم ہو ایسا کرنا ظلم عظیم ہے تو یہ قول کہ ذمی کو قتل نہیں کرنا چاہیے نہایت ہی غلط اور شریعت وسیرت نبوی اور عمل صحابہ سے کوسوں دور ہے
سوال۔ یہ واقعات اہل سیر مثلاً واقدی وغیرہ نے نقل کیے تو ان سے احتجاج کہاں درست ہے اور اس پر کوئی حدیث صحیح وارد نہیں؟
جواب۔ یہاں ہمارا مقصود دلائل کی تائید ہے ورنہ ہم احادیث صحیحہ نقل کر آئے ہیں ہاں ان امور سے تائید حاصل ہوتی ہے بلکہ بعض اوقات اہل سیر ، ان سے استفادہ کیا جائے گا اگرچہ ان میں کثیر کلام ہے، بعض اوقات یہ کثیر اسانید اور روایات کو جمع و اختصار کی وجہ سے مختصر الفاظ میں بیان کر دیتے ہیں جس کی وجہ سے ان پر اعتراضات ہوتے ہیں مگر ان کے علمی مقام میں کسی کو اختلاف نہیں جب انھوں نے یہ واقعہ تفصیل سے ذکر کیا اور اس کی دوسروں نے بھی تائید کی، تو یہ قوی ہو گیا اور صورت حال خوب آشکار ہو گئی اور
اسلام اور احترام نبوت ﷺ احادیث ضعیفہ جب جمع ہو جا لیتی ہیں تو پھر کیا حال ہو گا اہل سیر بھی متفق ہوں؟
۸۔ دلیل ثامن
ابن خطل کی لونڈیوں اور ابن کے دن آپ ﷺ نے مکہ اول میں عبد اللہ بن ابی سرح گستاخی اور توہین نبی کی وجہ مکہ سے پہلے کئی سال سے جائے خصوصاً جبکہ یہ دونوں جاسکتا تو ان لونڈیوں کا خون دیا تو اگر وہ عہد قریش کی وجہ قتل کیا جائے گا تو ذمی کو بطریق تھیں تو پھر ان کا قتل بطریق کیا جاسکتا ہے تو معاہد اور ذمی اسلامی کا التزام کیا ہوتا ہے اسے حضور ﷺ نے صدقہ کر مکہ چلا گیا اور آپ ﷺ ارتداد، قتل، گستاخی بعض (ابن تیمیہ
اسلام اور احترام نبوت ﷺ
احادیث ضعیفہ جب جمع ہو جائیں تو وہ مرتبہ احتجاج کے قریب یا اس کا مقام پا لیتی ہیں تو پھر کیا حال ہو گا جب حدیث صحیح ہو؟ اور پھر کیا مقام ہو گا جب تمام اہل سیر بھی متفق ہوں؟
۸۔ دلیل ثامن
ابن خطل کی لونڈیوں اور ان کی مثل دیگر لوگوں کے واقعات جن کا خون فتح مکہ کے دن آپ ﷺ نے مباح قرار دیا حالانکہ وہ پہلے مسلمان نہ تھے ہم نے باب اول میں عبد اللہ بن ابی سرح اور ابن خطل کے ذکر میں کہا تھا کہ لونڈیوں کا قتل گستاخی اور توہین نبی کی وجہ سے تھا ورنہ عورت کا قتل جائز نہیں آپ ﷺ نے فتح مکہ سے پہلے کئی سال سے یہ حکم جاری فرمایا تھا کہ عورتوں اور بچوں کو قتل نہ کیا جائے خصوصاً جبکہ یہ دونوں لونڈیاں ہیں اور غلاموں کو کفر کی وجہ سے قتل نہیں کیا جاسکتا تو ان لونڈیوں کا خون کفر کی وجہ سے نہیں بلکہ گستاخی کے سبب رائیگاں قرار دیا تو اگر وہ عہد قریش کی وجہ سے معاہدات تھیں تو یہ واقعہ دال ہے کہ گستاخ معاہد کو قتل کیا جائے گا تو ذمی کو بطریق اولیٰ قتل کرنا لازم ہو گا اور اگر معاہدہ میں شامل نہ تھیں تو پھر ان کا قتل بطریق اولیٰ ہو گا کیونکہ جب غیر معاہد کو گستاخی کی وجہ سے قتل کیا جا سکتا ہے تو معاہد اور ذمی کو بطریق اولیٰ قتل کیا جائے گا کیونکہ اس نے احکام اسلامی کا التزام کیا ہوتا ہے، ابن خطل کے بارے میں باب اول میں آچکا ہے اسے حضور ﷺ نے صدقات پر عامل بنایا اس نے اپنے ساتھی کو قتل کر دیا مرتد ہو کر مکہ چلا گیا اور آپ ﷺ کی گستاخی کرنے لگا تو اس کے تین جرائم تھے، ارتداد، قتل، گستاخی
بعض (ابن تیمیہ حنبلی، الصارم:۲۶۶:۲) نے کہا اگر اس کا قتل ارتداد کی وجہ
اسلام اور احترام نبوت ﷺ
سے ہوتا تو اس سے توبہ کا تقاضا پہلے کیا جاتا، اگر قتل کی وجہ سے ہوتا تو اسے ورثاء مقتول کے سپرد کیا جاتا (مگر ان میں سے کچھ بھی نہیں) تو اس کا قتل فقط گستاخی کی وجہ سے ہوا
۹۔ دلیل تاسع
حضور ﷺ نے فتح مکہ کے دن اکثر کفار کو امان دیدی مگر ابن زبعری وغیرہ ہجو کرنے والوں کے خون کو مباح قرار دیا، ابن زبعری ( نجران بھاگا ہوا تھا ) پھر اس نے آ کر اسلام قبول کیا، ابن زبعری اور دیگر کفار میں سوائے شعر و ہجو کیا فرق تھا جب حربی میں حال یہ تھا تو ذمی میں یہ بطریق اولی ہوگا ، ابوسفیان بن حارث بن عبد المطلب سے بھی ایسا ہوا مگر وہ اسلام لے آیا اور حضور ﷺ نے اسے معاف فرما دیا
منقول ہے جب نضر بن حارث نے محسوس کیا حضور ﷺ میرے قتل کا حکم دینے والے ہیں تو حضرت مصعب بن عمیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ملا اور کہا اپنے سربراہ سے کہو مجھے اپنا صحابی بنالے ورنہ وہ مجھے قتل کروا دیں گے، حضرت مصعب نے فرمایا تو نے کتاب اللہ کے بارے میں یہ بکا ہے اور حضور ﷺ کے بارے میں بھی
(المغازی، ۱۰۶:۱)
جب عقبہ بن ابی معیط کے قتل کا حکم ہوا تو کہنے لگا مجھے کیوں قتل کیا جائے گا؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ، اللہ اور اس کے رسول سے عداوت و دشمنی کی وجہ سے ، کہنے لگا یا محمد تمہارا کرم و احسان معروف ہے مجھے اپنی قوم کا فرد بنا لو ، اس بچی کا کون ہے؟ فرمایا آگ، عاصم آگے بڑھو ، اس کی گردن اڑا دو، انھوں نے حکم کے مطابق کیا ، فرمایا تو بدتر شخص تھا، اللہ کی قسم ، میں کسی اللہ ، اس کی کتاب اور اس کے رسول کے منکر کو نہیں جانتا جو تیری طرح نبی کو ایذا دینے والا ہو ، حمد اللہ تعالیٰ کی جس نے تجھے ختم کروا دیا اور میری آنکھوں کو ٹھنڈا کیا
(المغازی، ۱۱۴:۱)
يَوْمَ الْقِيَامَةِ ) الحدیث 484] [5 حدیث 6233]
اہی گمبھیر ہے۔ یہ صرف حب مصطفیٰ ﷺ کا تقاضا ہی نہیں بلکہ نبی اکرم ﷺ حق بھی ہے اور یہ حق ادا نہ کرنے والوں کو سخت وعید بھی سنائی گئی ہے، جیسا کہ مدرجہ ذیل احادیث میں مروی ہے۔ فضل الصلوٰة على النبي ﷺ [حدیث: 11] مشكاة مع تحقيق الألباني، رقم الحدیث (925)
۲۷۴ وجہ سے ہوتا تو اسے ورثاء مقتول کا قتل فقط گستاخی کی وجہ سے ہوا
کماں دیدی مگر ابن زبعریٰ وغیرہ ی (جو ان بھاگا ہوا تھا) پھر اس سوائے شعر و ہجو کیا فرق تھا جب ابوسفیان بن حارث بن عبد ﷺ نے اسے معاف فرما دیا کی حضور ﷺ میرے قتل کا حکم عنہ سے ملا اور کہا اپنے سر براہ ۔ حضرت مصعب نے فرمایا تو بارے میں بھی
(المغازی، ۱۰۶:۱)
ں قتل کیا جائے گا؟ رسول اللہ دشمنی کی وجہ سے، کہنے لگا یا محمد لو، اس بچی کا کون ہے؟ فرمایا نے حکم کے مطابق کیا، فرمایا تو اور اس کے رسول کے منکر کو نہیں طی کی جس نے تجھے ختم کروا دیا
(المغازی، ۱: ۱۱۳)
اسلام اور احترام نبوت ﷺ تو ان دو (عقبہ ونضر ) کے علاوہ یعنی بدر سے لوٹنے کے بعد کسی قیدی کا قتل نہیں کروایا ان کا مخصوص قتل دلیل ہے کہ حربی گستاخ نبی گرفتار ہو کر آئے تو اس پر احسان نہیں بلکہ اسے قتل کیا جائے گا بشرطیکہ وہ اسلام نہ لائے (یعنی اگر اسلام لے آیا تو معافی ) کچھ چیزیں باب اول میں گزر چکی ہیں
۱۰۔ دلیل عاشر
سعید بن یحییٰ بن سعید الاموی نے مغازی میں نقل کیا، حضرت عبداللہ بن عباس نے فرمایا، ایک مشرک نے رسول اللہ ﷺ کی گستاخی کی آپ ﷺ نے فرمایا اس میرے دشمن سے کون نمٹے گا؟ حضرت زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ نے عرض کیا بندہ حاضر ہے فرمایا اس کا سامان تمہارے لئے ہوگا اور یہ خیبر کا واقعہ ہے
(مصنف عبدالرزاق، ۵: ۲۳۷)
منقول ہے ایک آدمی نے رسول اللہ ﷺ کو گالی دی فرمایا، اسے کون ٹھکانے لگائے گا، حضرت خالد نے عرض کیا بندہ تو انھوں نے اسے قتل کر دیا
(ایضاً، ۵: ۳۰۷)
یہ دونوں احادیث بتا رہی ہیں کہ گستاخی موجب قتل ہے اس پر عداوت کا اطلاق ہوتا ہے اور عداوت سبب قتل ہے
۱۱۔ دلیل حادی عشر، صحابہ کا عمل
صحابہ جیسے ہی گستاخی سنتے تو گستاخ کو ٹھکانے لگا دیتے اگر چہ وہ قریبی ہوتا اور آپ ﷺ اسے ثابت رکھتے اور ناراضگی نہ فرماتے بلکہ خوش ہوتے اور فرماتے ایسا کرنے والا اللہ اور اس کے رسول کا مددگار ہے، کچھ واقعات پیچھے گزر چکے ہیں ابو اسحاق فزاری نے سفیان ثوری سے انھوں نے اسماعیل بن سمیع سے
اسلام اور احترام نبوت ﷺ
انھوں نے حضرت مالک بن عمیر رضی اللہ عنہ سے بیان کیا ایک آدمی رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں آیا اور عرض کیا، میں نے اپنے والد کو مشرک پایا اور اس سے آپ ﷺ کے بارے میں گستاخی دیکھی جسے برداشت نہیں کر سکا لہذا میں نے نیزہ مار کر قتل کر دیا آپ ﷺ پر گراں نہ گزرا،
انھوں نے ہی اوزاعی سے اور انھوں نے حضرت حسان بن عطیہ رضی اللہ عنہ نقل کیا رسول اللہ ﷺ نے لشکر روانہ کیا جس میں حضرت عبداللہ بن رواحہ اور حضرت جابر رضی اللہ عنہما بھی تھے جب انھوں نے مشرکین کے خلاف صفیں بنائیں تو ایک آدمی آیا اور اس نے رسول اللہ ﷺ کی گستاخی کی، ایک مسلمان سامنے آیا اور اس نے کہا میں فلاں بن فلاں ہوں اور میری والدہ فلاں ہے
فسبنی وسب امی وكف عن مجھے گالی دے لے اور میری والدہ کو مگر رسول الله ﷺ رسول اللہ ﷺ سے ایسا نہ کر
لیکن وہ باز نہ آیا، صحابی نے اسے دو بار یہی بات کہی مگر باز نہ آیا جب اس نے تیسری دفعہ گستاخی کی، فرمایا اگر تو اب باز نہ آیا تو میری تلوار تیرا فیصلہ کر دے گی وہ پھر گستاخی کر کے بھاگا، مسلمان نے پیچھا کیا حتی کہ مشرکین کی صف توڑ کر اسے زخمی کیا اور مشرکین نے جمع ہو کر صحابی کو شہید کر دیا، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا
أعجبتم من رجل نصر الله کیا تم اس آدمی پر متعجب نہیں جس ورسوله نے اللہ ورسول کی مدد کی ہے؟
مذکورہ آدمی کے زخم درست ہو گئے، تو وہ اسلام لے آیا اور اس کا نام رحیل پڑ گیا
یہ بھی منقول ہے جو جنات حضور ﷺ پر ایمان لائے انھوں نے بھی گستاخی کرنے والے کافر جنات کے قتل کا ارادہ کیا اور انھیں ہجرت اور اذن قتال
اسلام اور احترام نبوت ﷺ
سے پہلے قتل کیا
سعید بن یحییٰ اموی نے مغازی میں لکھا، مجھے محمد بن سعید یعنی چچا نے بتایا حضرت محمد بن منکدر نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے بیان کیا جبل ابوقیس پر ایک جن نے آواز دی
حين تغضى لمن يعيب عليها دين آبائها الحماة الكرام
یہ اشعار اہل مکہ کے ہاں مشہور و معروف ہوگئے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا یہ شیطان ہے جو لوگوں کو بتوں کے بارے میں تلقین کر رہا ہے اس کا نام مسعر ہے اور اللہ تعالیٰ اسے رسوا فرمادے گا تین دنوں کے بعد پہاڑ سے آواز آئی
قنعته سيفاً حساماً مبترا بشتمه نبياً المطهرا
آپ ﷺ نے فرمایا یہ جن ہے جس کا نام سمج ہے یہ مجھ پر ایمان لایا اور میں نے اس کا نام عبداللہ رکھا ہے، اور اس نے بتایا میں تین دن سے اس کی تلاش میں تھا حضرت علی نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ اللہ تعالیٰ اسے جزائے خیر عطا فرمائے
(اخبار مکہ،۲۳۰/۷)
تو حضور ﷺ کے متعدد اوامر ، سنن اور سیرت قتل پر شاہد ہیں اس طرح سنت الٰہی بھی ہے کہ گستاخ کو ہلاک کر دیا جائے اور اس میں تاخیر نہ کی جائے ، اس طرح تمام ممالک میں معروف تھا اگر کسی نے گستاخی کی تو اسے فی الفور گرفتار کیا جائے حتیٰ کہ مسلمانوں میں معروف ہے کہ اگر کفار ایسا کریں تو ان کو اس پر سزا دینا اللہ تعالیٰ کا قرب اور اس کا مددگار بننا ہے
اسلام اور احترام نبوت ﷺ
۱۲۔ دلیل ثانی عشر
باب اول کے تمام عمومی دلائل مثلاً جس نے نبی کی گستاخی کی اسے قتل کر دو، اس طرح دیگر آیات واحادیث جو ہر حال میں اذیت دینے والے کے قتل پر دال ہیں اور ان میں مسلمان اور کافر میں کوئی فرق نہیں رکھا گیا
۱۳۔ دلیل ثالث عشر
ذمی کے بارے میں دلائل ہیں کہ جو مسلمان کے حقوق وفرائض ہیں وہی ذمی کے ہیں اگر کوئی مخصوص حکم ہے تو الگ بات ہے ورنہ عموم کا تقاضا یہی ہے اگر ہم کہیں کہ عہد نہیں ٹوٹتا تو قتل پھر بھی لازم جیسا کہ مسلمان پر لازم، اور اگر نقض عہد کا قول کریں تو حالت التزام میں قتل کا مستحق ہوگا تو نقض کی وجہ سے قتل ختم نہ ہوگا جیسے کہ دیگر حدود ختم نہیں ہوتی اور مختار نقض عہد ہی ہے جیسا کہ گزرا اور اسے استحقاق کی بنا پر قتل کیا جائے گا
۱۴۔ دلیل رابع عشر
تمام اہل علم کا اجماع ہے کہ گستاخی موجب سزا ہے، جمہور کے نزدیک وہ سزا قتل اور احناف کے ہاں تعزیر ہے، یہ بات کوئی بھی نہیں کہہ سکتا کہ اسے جائز قرار دیا جائے اور خاموشی اختیار کی جائے اور یہ معاملہ ضروریات دین میں سے ہے، احناف کی اس دلیل پر بھی طعن ہے کہ شرک اس سے کہیں بدتر ہے کیونکہ اگر ان کی بات تسلیم کر لی جائے تو پھر گستاخی پر ہمیں ان کا تعرض نہیں کرنا چاہیے جیسا کہ ہم مشرک پر نہیں کرتے بشرطیکہ وہ جزیہ ادا کریں
ان کے قول کا فساد اس سے بھی آشکار ہوتا ہے کہ شرک قبیح ہے کیونکہ اس میں اللہ تعالیٰ کے بارے میں جہالت ہے، گستاخی بھی کفر قبیح ہے کیونکہ اللہ اور اس
اسلام اور احترام نبوت ﷺ
کے رسل پر افتراء اور طعن ہوتا ہے اور یہ جہل سے زائد ہے لہذا یہ زیادہ قبیح ہوگا اس لئے اسے برداشت نہیں کیا جاسکتا بخلاف محض شرک کے، جب گستاخی کا محض شرک سے اقبح ہونا ثابت ہوگیا تو یہ یقیناً موجب قتل ہوگا
یہ کفر کے ساتھ ساتھ اہل کمال کی توہین بھی ہے اگر ہم فقط تعزیر ہی نافذ کریں تو یہ دوسروں کی بے ادبی کے برابر ہو جائے گا اور یہ بداہتہ باطل ہے لہٰذا گستاخی موجب قتل ہی ہے
ایسی گمبھیر ہے۔ یہ صرف حب مصطفیٰ ﷺ کا تقاضا ہی نہیں بلکہ نبی اکرم ﷺ کا حق بھی ہے اور یہ حق ادا نہ کرنے والوں کو سخت وعید بھی سنائی گئی ہے، جیسا کہ مندرجہ ذیل احادیث میں مروی ہے۔
فضل الصلوة على النبي ﷺ [حديث: 11] مشكاة مع تحقيق الألباني، رقم الحديث (925)
يَوْمَ الْقِيَامَةِ ) حديث [484] ] حديث [6233]
بھی گنہگار ہے۔ یہ صرف حب مصطفیٰ ﷺ کا تقاضا ہی نہیں بلکہ نبی اکرم ﷺ کا حق بھی ہے اور یہ حق ادا نہ کرنے والوں کو سخت وعید بھی سنائی گئی ہے، جیسا کہ مندرجہ ذیل احادیث میں مروی ہے۔ فضل الصلوة على النبي ﷺ [حديث: 11] مشكاة مع تحقيق الألباني، رقم الحديث (925)
اسلام اور احترام نبوت ﷺ
چند اعتراضات
اسلام اور احترام نبوت ﷺ
چند اعتراضات کی حقیقت
يَوْمَ الْقِيَامَةِ ) ديث [484] ] حديث [6233]
اہی گمبھیر ہے۔ یہ صرف حب مصطفیٰ ﷺ کا تقاضا ہی نہیں بلکہ نبی اکرم ﷺ حق بھی ہے اور یہ حق ادا نہ کرنے والوں کو سخت وعید بھی سنائی گئی ہے، جیسا کہ درجہ ذیل احادیث میں مروی ہے۔
فضل الصلوة على النبي ﷺ [حديث: 11]
مشكاة مع تحقيق الألباني، رقم الحديث (925)
اسلام اور احترام نبوت ﷺ
اعتراض اول ، اللہ تعالیٰ کا ارشاد گرامی ولتسمعن من الذين أوتوا الكتـ من قبلكم ومن الذين اشركو اذى كثيرا وان تصبروا وتتقـ فان ذلك من عزم الامور
(ال عمران، ١٨٦)
یہاں تو صبر کا حکم ہے
جواب ۔ اگر ہم تسلیم کر لیں یہ اہل آیات سیف کی وجہ سے منسوخ ہے ہے، بدر سے پہلے حضور ﷺ کا اسلام کو غلبہ ملا تو پھر گستاخی اور اذیت نے معاف فرما دیا یہاں تک کہ تبوک کے بعد تو کسی منافق میں کسی
اعتراض ثانی، یہود نے حضور حکم نہ ہوا؟
جواب۔
- ا۔ یہ حالت، ضعف اسلام کے دور
- ۲۔ انھوں نے مخفی انداز میں ایسا
طرح ہو گیا، حضور ﷺ اس پر عائشہ رضی اللہ عنہا نے اسے سمجھ لیا
م القيامة ) [484] حديث [6233]
بھی گہنگار ہے۔ یہ صرف حب مصطفیٰ ﷺ کا تقاضا ہی نہیں بلکہ نبی اکرم ﷺ کا حق بھی ہے اور یہ حق ادا نہ کرنے والوں کو سخت وعید بھی سنائی گئی ہے، جیسا کہ مندرجه ذیل احادیث میں مروی ہے۔ فضل الصلوة على النبی ﷺ [حدیث: 11] مشكاة مع تحقيق الألباني، رقم الحديث (925)
اسلام اور احترام نبوت ﷺ ۲۸۳
اعتراض اول، اللہ تعالیٰ کا ارشاد گرامی ہے
ولتسمعن من الذين اوتوا الكتاب اور ضرور تم اگلے کتاب والوں من قبلكم ومن الذين اشركوا اور مشرکوں سے بہت کچھ برا سنو اذى كثيرا وان تصبروا وتتقوا گے اور اگر تم صبر کرو اور بچتے رہو فان ذلك من عزم الامور تو بڑی ہمت کا کام ہے
(ال عمران، ۱۸۲)
یہاں تو صبر کا حکم ہے
جواب۔ اگر ہم تسلیم کر لیں یہ اہل ذمہ کے بارے میں ہے اور صبر منافی قتل ہے تو یہ آیات سیف کی وجہ سے منسوخ ہے، احادیث میں آیا ہے کہ یہ بدر سے پہلے کا معاملہ ہے، بدر سے پہلے حضور ﷺ کا طریقہ تمام کفار کے ساتھ درگزر کا تھا بدر کے بعد اسلام کو غلبہ ملا تو پھر گستاخی اور اذیت دینے والے کو نہیں چھوڑا، ہاں بعض اوقات آپ نے معاف فرما دیا یہاں تک کہ سورہ برات نازل ہوگئی مکہ فتح ہوا اور دین مکمل ہو گیا تبوک کے بعد تو کسی منافق میں کسی کا نام بگاڑنے تک کی جرأت نہ رہی
اعتراض ثانی، یہود نے حضور ﷺ سے کہا السام علیک ( تم پر موت ہو ) لیکن قتل کا حکم نہ ہوا؟
جواب۔
- ۱۔ یہ حالت، ضعف اسلام کے دور کی بات ہے اور فتنہ انتقام کا بھی خوف تھا
۲۔ انھوں نے مخفی انداز میں ایسا کہا تھا تو یہ منافقین سے صادر ہونے والی اشیاء کی طرح ہو گیا، حضور ﷺ اس پر مطلع تھے نہ کہ صحابہ تو اس کا تقاضا قتل نہیں اگرچہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے اسے سمجھ لیا تھا مگر صحابہ سمجھ نہ پائے اس لئے گواہی ضروری تھی
يَوْمُ الْقِيَامَةِ ) حدیث [484] [5 حدیث [6233]
اہی گھمبیر ہے۔ یہ صرف حب مصطفیٰ ﷺ کا تقاضا ہی نہیں بلکہ نبی اکرم ﷺ حق بھی ہے اور یہ حق ادا نہ کرنے والوں کو سخت وعید بھی سنائی گئی ہے، جیسا کہ مندرجہ ذیل احادیث میں مروی ہے۔
فضل الصلوة على النبي ﷺ [حديث: 11]
مشكاة مع تحقيق الألباني، رقم الحديث (925)
اسلام اور احترام نبوت ﷺ
- ۳۔ حضور ﷺ کا حق ہے آپ معاف فرما کر اپنا حق چھوڑ سکتے ہیں
اعتراض ثالث ۔ یوم حنین وغیرہ میں بدوی لوگوں سے جو کچھ صادر ہوا وہ گستاخی تھا اور اس وقت اسلام کا غلبہ بھی تھا جب وہاں مسلمان کو قتل نہیں کیا گیا تو ذمی کو بطریق اولٰی چھوڑ دینا چاہیے؟
جواب ۔ کافر کو لیجیے ، چونکہ یہ حضور ﷺ کا حق ہے آپ معاف کر دیں اور اسے موخر کر سکتے ہیں، رہا معاملہ مسلمان کا تو وہ ان کی جہالت تھی جیسا کہ باب اول میں تفصیل گزری جیسا کہ آپ نے ثابت شدہ منافقین کو معاف کر دیا
اعتراض رابع ۔ اہل ذمہ سے ہم نے ان کے دین پر قائم رہنے کا عہد لیا ، ان کے دین میں حضور ﷺ کی گستاخی جائز ہے
جواب ۔ ان کے دین میں تو مسلمانوں کا قتل جائز لیکن اگر وہ ایسا کریں تو یقیناً عہد ختم لہذا یہ دعویٰ کہ ہم نے ہر حال میں انھیں ان کے دین پر رہنے کی اجازت دی ، درست نہیں اس لئے کہ ان کے دین میں مساجد گرانا ، قرآن جلانا، علماء وصالحین کا قتل اور مسلمانوں کا قتل جائز ، دین اسلام پر طعن اور محاربہ تک ان کے ہاں جائز ، اور بالاتفاق ان میں سے کسی ایک شے پر سمجھوتہ اور معاہدہ درست نہیں ہے ، ان کے دین میں ہے ان پر جزیہ لازم نہ کیا جائے اور نہ باقی اشیاء جو ہم ان پر لازم کرتے ہیں ، ہاں ہم انھیں ان کے اعتقادیات پر قائم رہنے کی اجازت دیتے ہیں
ہم ان کے مخفی معاملات میں دراندازی نہیں کریں گے اور نہ ہی ان کے ظاہر میں جو مسلمان کو نقصان دہ یا ان کی شرائط منافی نہ ہو کیونکہ مخفی گناہ فقط گنہ گار کو ہی نقصان دیتا ہے جبکہ اعلانیہ پورے معاشرے کو برباد کرتا ہے ، باقی یہ دعویٰ کہ ان کے دین میں مطلقاً حضور ﷺ کی گستاخی جائز ہے درست نہیں ،
اسلام اور احترام نبوت ﷺ
یہ قبل از عہد کا معاملہ ہے بعد از عہد انھیں اذیت دینا جائز مگر بعد از عہد مانی جاتی ہے ، اگر یہ مان لیا جائے کہ ا کی وفا لازم ہے تو پھر ان کے ساتھ عقد
ہم نے اس سے یہ عہد کیا ہو رک جائیں گے اور وہ کوئی ایسی بات اذیت ہو وہ اپنے دین کو مخفی رکھیں جو ا معاہدہ کر لیتے ہیں تو ان کے لئے عہد م ایک کے ہاں حرام ہے
اگر وہ اعلانیہ گستاخی کا ارت کیونکہ انھوں نے عہد کی خلاف ورزی جس پر کوئی مسلمان مطلع نہ ہوا اور نہ کس عہد ختم نہ ہوگا بلکہ جب سربراہ کو اطلا خیانت کا مسئلہ ہے کما تقدم عن رو اس سے یہ بھی آشکار ہو گی اعتقاد رکھتا ہو یا نہ رکھتا ہو اور صحیح مذہب
البتہ بعض ہمارے اصحاب تثلیث کے اظہار کا ہے جب تک ا شرائط بھی اسی کے اظہار کو حرام قرار ہاں اہل علم کا اختلاف اس میں ضرور
اسلام اور احترام نبوت ﷺ
یہ قبل از عہد کا معاملہ ہے بعد از عہد ایسی بات نہیں جیسا کہ ہمارے دین میں قبل از عہد انھیں اذیت دینا جائز مگر بعد از عہد ممنوع کیونکہ عہد کی پاسداری تمام ملتوں میں لازم مانی جاتی ہے، اگر یہ مان لیا جائے کہ ان کے دین میں وفا عہد لازم نہیں اور نہ ہی شرائط کی وفا لازم ہے تو پھر ان کے ساتھ عقد صلح جائز ہی نہ ہو کیونکہ پھر ان پر اعتماد ہی نہ ہوگا
ہم نے اس سے یہ عہد کیا ہوتا ہے ہماری زبانیں اور ہاتھ ان کی اذیت سے رک جائیں گے اور وہ کوئی ایسی بات ظاہر نہ کریں جس سے اللہ اور اس کے رسول کو اذیت ہو وہ اپنے دین کو مخفی رکھیں جو اللہ اور رسول کے حکم میں باطل ہے اگر وہ ان پر معاہدہ کر لیتے ہیں تو ان کے لئے عہد کی مخالفت حرام ہوگی کیونکہ دھوکہ اور خیانت ہر ایک کے ہاں حرام ہے
اگر وہ اعلانیہ گستاخی کا ارتکاب کریں گے تو ہم ان کی گرفت کریں گے کیونکہ انھوں نے عہد کی خلاف ورزی کی ہے، اگر بالفرض انھوں نے خفیہ گستاخی کی جس پر کوئی مسلمان مطلع نہ ہوا اور نہ کرنے والا اس کا اقرار کرتا ہے تو اس سے اس کا عہد ختم نہ ہوگا بلکہ جب سربراہ کو اطلاع ہو جائے تو وہ عہد ختم کر سکتا ہے جیسا کہ مخفی خیانت کا مسئلہ ہے کما تقدم عن رویانی
اس سے یہ بھی آشکار ہو گیا کہ گستاخی میں کوئی فرق نہیں خواہ کافر اس کا اعتقاد رکھتا ہو یا نہ رکھتا ہو اور صحیح مذہب یہی ہے
البتہ بعض ہمارے اصحاب کو اس میں اختلاف ہے، اس طرح معاملہ کلمہ تثلیث کے اظہار کا ہے جب تک اسے مخفی رکھیں ہم تعرض نہیں کریں گے، عہد اور شرائط بھی اسی کے اظہار کو حرام قرار دیتے ہیں تو اس کا اظہار بھی نقض عہد ہوگا ہاں اہل علم کا اختلاف اس میں ضرور ہے جو اسے نقض عہد قرار نہیں دیتے وہ اس کے
يَوْمَ الْقِيَامَةِ ) الحديث [484] حديث [6233]
اہی گمبھیر ہے۔ یہ صرف حب مصطفیٰ ﷺ کا تقاضا ہی نہیں بلکہ نبی اکرم ﷺ کا حق بھی ہے اور یہ حق ادا نہ کرنے والوں کو سخت وعید بھی سنائی گئی ہے، جیسا کہ درجہ ذیل احادیث میں مروی ہے۔
[فضل الصلوٰة على النبي ﷺ [حديث: 11]
مشكاة مع تحقيق الألبانی، رقم الحديث (925)]
اسلام اور احترام نبوت ﷺ ۲۸۶
اور گستاخی کے درمیان فرق کرتے ہیں گستاخ نے عہد توڑ دیا بخلاف تثلیث کا اعتقاد ، یہ ان کا دین ہے اگرچہ حق یہی ہے کہ یہ ( تثلیث کا عقیدہ ) بھی گستاخی ہی ہے
بخاری میں اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے ابن آدم نے میری تکذیب کی حالانکہ یہ اس کے لئے جائز نہیں تھا ، اور اس نے مجھے گالی دی حالانکہ یہ اس کے لئے جائز نہ تھا میری تکذیب ، اس کا یہ قول ہے کہ میں اسے دوبارہ نہیں لوٹا سکتا جیسا کہ میں نے اسے ابتداً پیدا کیا حالانکہ کیا اولاً تخلیق مجھ پر دوبارہ پیدا کرنے سے زیادہ آسان نہیں ، اس کا مجھے گالی دینا اس کا یہ قول ہے کہ اللہ کی اولاد ہے حالانکہ میں احد، غیر محتاج ، نہ میری اولاد نہ میں کسی کی اولاد اور نہ ہی میرے ہم پلہ کوئی ہو سکتا ہے
(بخاری ، ۴۹۷۴)
لیکن اُس گستاخی اور اوپر والی گستاخی میں کچھ فرق کیا جاتا ہے جیسا کہ اوپر آچکا پھر گستاخ ، دین پر طعن کرتا ہے اور اس کا نقصان معاشرہ کو ہوتا ہے لہذا یہ محاربہ ہو جائے گا اور اعتقاد تثلیث وغیرہ کا ضرر اس سے کم ہے
اللہ تعالیٰ کی گستاخی اور رسول اللہ ﷺ کی گستاخی میں فرق کرنے والے کہتے ہیں ، اللہ تعالیٰ کی گستاخی کے لئے کسی عقل مند کی طبیعت قائل نہیں ہوتی جبکہ گستاخی رسول پر طبع کافر قائل ہو جاتی ہے لہذا اس پر سزا کا مرتب ہونا مناسب ہے
علاوہ ازیں فرق قبول توبہ میں ہے، رہا اس پر لزوم قتل تو اس میں اللہ اور رسول کی گستاخی میں کوئی فرق نہیں ، دونوں ہی موجب قتل ہیں
قول خصم ۔ کہ ان کا شرک اس سے کہیں قبیح ہے، اگر ہم تسلیم کر لیں تو اس سے لازم آئے گا کہ آخرت میں اس پر سزا سب سے بڑی ہو، رہا معاملہ دنیا کا تو ہم جانتے ہیں کہ کفار کو شرک پر رہنے کی اجازت تو دی جاتی ہے مگر زنا کی نہیں اگرچہ شرک اس
اسلام اور احترام نبوت ﷺ
سے کہیں بدتر ہے،
باقی یہ تمام اعتراضات صر میں ذکر کر آئے ہیں اور تمام قیاسات نص
دو تنبیہات
- ا۔ مقصود قتل ذمی ہے جب وہ گستاخی کر
والا ، امن پانے والا اور حربی تمام اس میں
- ۲۔ ہمارا یہود ونصاریٰ کے ساتھ کوئی مع
ایک قول کے مطابق ان کا جزیہ اور عقد ضرورت نہیں،
امام ابو حامد اسفرائنی رحمہ اللہ اس کا رد کیا گیا کسی دور میں کسی سربراہ
اگر اس کا قول صحیح بھی تسلیم کر بلکہ یہ ان کے حکم میں ہونگے جو دار الا
گستاخ کا حکم قتل ہے جیسا کہ ثابت ہو
فائدہ ۔ ابن حزم نے المحلی میں کہا یہود الہ الا اللہ یا محمد رسول اللہ تو وہ مسلمان قر اللہ محمد رسول اللہ پڑھا تو وہ مسلمان نہ اسلام لے آیا یا میں اسلام کے علاوہ ہر اس پر انھوں نے جو احادیث ذکر کیں رضی اللہ عنہ کا بیان ہے میں رسول اللہ
يَوْمَ الْقِيَامَةِ ) الحديث [484] حديث [6233]
اہی گمبھیر ہے۔ یہ صرف حب مصطفی ﷺ کا تقاضا ہی نہیں بلکہ نبی اکرم ﷺ کا حق بھی ہے اور یہ حق ادا نہ کرنے والوں کو سخت وعید بھی سنائی گئی ہے، جیسا کہ مندرجہ ذیل احادیث میں مروی ہے۔ فضل الصلوٰة على النبي ﷺ [حديث: 11] مشكاة مع تحقيق الألباني، رقم الحديث (925)
نے عہد توڑ دیا بخلاف تثلیث کا اعتقاد ث کا عقیدہ) بھی گستاخی ہی ہے ن آدم نے میری تکذیب کی حالانکہ یہ ی دی حالانکہ یہ اس کے لئے جائز نہ تھا بارہ نہیں لوٹا سکتا جیسا کہ میں نے اسے بارہ پیدا کرنے سے زیادہ آسان نہیں کی اولاد ہے حالانکہ میں احد، غیر محتاج ے ہم پلہ کوئی ہو سکتا ہے
(البخاری، ۴۹۷۴)
ے فرق کیا جاتا ہے جیسا کہ اوپر آچکا مان معاشرہ کو ہوتا ہے لہذا یہ محاربہ ہو ہے
قسیم کی گستاخی میں فرق کرنے والے س مند کی طبیعت قائل نہیں ہوتی جبکہ س پر سزا کا مرتب ہونا مناسب ہے ا اس پر لزوم قتل تو اس میں اللہ اور رسول قتل ہیں
ے، اگر ہم تسلیم کر لیں تو اس سے لازم وی ہو، رہا معاملہ دنیا کا تو ہم جانتے تی ہے مگر زنا کی نہیں اگرچہ شرک اس
اسلام اور احترام نبوت ﷺ
سے کہیں بدتر ہے،
باقی یہ تمام اعتراضات صریح سنت کے مخالف ہیں جنہیں ہم قتل گستاخ میں ذکر کر آئے ہیں اور تمام قیاسات نص کے مقابل باطل ہوتے ہیں
دو تنبیہات
- ١۔ مقصود قتل ذمی ہے جب وہ گستاخی کرے البتہ یہ بھی آشکار ہو گیا کہ ذمی ، صلح کرنے
والا ، امن پانے والا اور حربی تمام اس میں یکساں ہیں
- ٢۔ ہمارا یہود و نصاری کے ساتھ کوئی معاہدہ نہیں جیسا کہ واقع ہے تو امام شافعی کے
ایک قول کے مطابق ان کا جزیہ اور عقد ان کے والد کے مطابق ہی ہو گا لہذا عہد کی ضرورت نہیں،
امام ابو حامد اسفرائنی رحمہ اللہ تعالیٰ نے کہا اس سے نیا عہد لیا جائے گا لیکن اس کا رد کیا گیا کہ کسی دور میں کسی سربراہ نے ایسا نہیں کیا
اگر اس کا قول صحیح بھی تسلیم کر لیا جائے پھر ان کے ساتھ دھوکہ جائز نہیں بلکہ یہ ان کے حکم میں ہونگے جو دارالاسلام میں امان پا کر آئے، بہر صورت ان میں گستاخ کا حکم قتل ہے جیسا کہ ثابت ہو چکا۔ واللہ اعلم
فائدہ ۔ ابن حزم نے المحلیٰ میں کہا یہود و نصاریٰ اور مجوس کے علاوہ کسی کافر نے کہا لا الہ الا اللہ یا محمد رسول اللہ تو وہ مسلمان قرار پائے گا لیکن اگر ان میں سے کسی نے لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ پڑھا تو وہ مسلمان نہ ہو گا جب تک وہ یہ نہ کہے میں مسلمان ہوں، میں اسلام لے آیا یا میں اسلام کے علاوہ ہر دین سے برأت کرتا ہوں
(المحلیٰ، ۳۱۲:۷)
اس پر انھوں نے جو احادیث ذکر کیں ان میں سے ایک مسلم کی ہے کہ حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ کا بیان ہے میں رسول اللہ ﷺ کے پاس کھڑا تھا ایک یہودی عالم آیا اور
وْمِ الْقِيَامَةِ ) دیث [484] حدیث [6233]
اہی گھمبیر ہے۔ یہ صرف حب مصطفیٰ ﷺ کا تقاضا ہی نہیں بلکہ نبی اکرم ﷺ حق بھی ہے اور یہ حق ادا نہ کرنے والوں کو سخت وعید بھی سنائی گئی ہے، جیسا کہ مندرجہ ذیل احادیث میں مروی ہے۔ فضل الصلوٰۃ علی النبی ﷺ [حدیث: 11] مشكاة مع تحقيق الألباني، رقم الحدیث (925)
اسلام اور احترام نبوت ﷺ
اس نے کہا، السام علیک یا محمد (اے محمد تو مرجائے) میں نے اسے خوب دھکا دیا قریب تھا کہ وہ گر جاتا کہنے لگا تو نے دھکا کیوں دیا؟ میں نے کہا تو یا رسول اللہ نہیں کہہ سکتا؟ یہودی کہنے لگا ہم انھیں اسی نام سے بلاتے ہیں جو ان کے گھر والوں نے رکھا ہے تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا میرا نام گھر والوں نے محمد ہی رکھا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ آخر حدیث میں ہے یہودی بولا ، آپ نے سچ کہا اور آپ نبی ہیں اس کے بعد چلا گیا
(مسلم، ۳۱۵)
جب یہودی نے، رسول اللہ نہیں کہا تو حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ نے یہودی کو ضرب لگائی اور حضور ﷺ اس پر انھیں ناراض نہ ہوئے لہذا ان کا عمل حق ولازم تھا ورنہ آپ ﷺ ضرور منع فرماتے ، اس یہودی نے کہا آپ نبی ہیں مگر آپ ﷺ نے اسے اس کے ترک دین پر دلیل نہیں بنایا
(المحلی، ۷: ۳۱۷)
بخاری میں حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے ہے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا مجھے لوگوں سے قتال کا حکم دیا گیا ہے الی آخر الحدیث، ابن حزم نے لکھا یہ تمام ، امام شافعی اور شیخ داود کا مذہب ہے، پھر لکھا کسی یہودی، نصرانی اور مجوسی سے اس وقت تک جزیہ قبول نہ کیا جائے جب تک وہ اقرار نہ کرے کہ محمد مسلمانوں کے رسول ہیں اور وہ ہمارے دین اسلام پر طعن نہیں کریں گے جیسا کہ حدیث ثوبان میں ہے یہی المستخرجہ میں امام مالک کا قول ہے جس نے اہل ذمہ میں سے کہا محمد تمہارے رسول ہیں نہ کہ ہمارے تو اس پر کوئی سزا نہیں اگر کہتا ہے وہ نبی ہی نہیں تو اسے قتل کیا جائے گا
(المحلی، ۷: ۳۱۸)
ابن حزم نے حضور ﷺ کے حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ سے ناراض نہ ہونے سے جو استدلال کیا وہ حق و سچ ہے جب لفظ محمد کہنے میں یہ معاملہ ہے تو گستاخی کے بارے
اسلام اور احترام نبوت ﷺ میں تمہارا کیا خیال ہے؟ ہماری طرف مبعوث ہیں ہے اسی طرح غیر عیسوی نہیں مانا جائے گا
يَوْمَ الْقِيَامَةِ ) [..... 484] [.....] [..... حديث 6233]
اتنی گھمبیر ہے۔ یہ صرف حب مصطفیٰ ﷺ کا تقاضا ہی نہیں بلکہ نبی اکرم ﷺ کا حق بھی ہے اور یہ حق ادا نہ کرنے والوں کو سخت وعید بھی سنائی گئی ہے، جیسا کہ درجہ ذیل احادیث میں مروی ہے۔
[فضل الصلوٰة على النبي ﷺ [حديث: 11]
(مشكاة مع تحقيق الألباني، رقم الحديث 925)
محمد (اے محمد تو مر جائے) میں نے اسے خوب تو نے دھکا کیوں دیا؟ میں نے کہا تو یا رسول اللہ اسی نام سے بلاتے ہیں جو ان کے گھر والوں نے فرمایا میرا نام گھر والوں نے محمد ہی رکھا یہودی بولا ، آپ نے سچ کہا اور آپ نبی ہیں
(مسلم، ۳۱۵)
حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ نے یہودی کو ضرب نہ ہوئے لہٰذا ان کا عمل حق ولازم تھا ورنہ آپ کہا آپ نبی ہیں مگر آپ ﷺ نے اسے اس
(المحلی، ۷: ۳۱۷)
سے ہے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا مجھے لوگوں ، ابن حزم نے لکھا یہ تمام ، امام شافعی اور شیخ نصرانی اور مجوسی سے اس وقت تک جزیہ قبول نہ کہ محمد مسلمانوں کے رسول ہیں اور وہ ہمارے حدیث ثوبان میں ہے یہی المستخرجہ میں امام سے کہا محمد تمہارے رسول ہیں نہ کہ ہمارے تو تو اسے قتل کیا جائے گا
(المحلی، ۷: ۳۱۸)
رضی اللہ عنہ سے ناراض نہ ہونے سے جو کہ جس میں یہ معاملہ ہے تو گستاخی کے بارے
اسلام اور احترام نبوت ﷺ میں تمہارا کیا خیال ہے؟ انھوں نے یہ جو کہا کہ کتابی جب تک اقرار نہ کرے کہ حضور ہماری طرف مبعوث ہیں اس سے جزیہ قبول نہیں کیا جائے گا یہ نہایت ہی عجیب بات ہے اسی طرح غیر عیسوی کے بارے میں کہنا کہ وہ کلمہ طیبہ پڑھے پھر بھی اسے مسلمان نہیں مانا جائے گا
ی يَوْمَ الْقِيَامَةِ )
م الحديث [484]
ث: 5]
ضور، حديث [6233]
ی تکمیل ہے۔ یہ صرف حب مصطفیٰ ﷺ کا تقاضا ہی نہیں بلکہ نبی اکرم ﷺ حق بھی ہے اور یہ حق ادا نہ کرنے والوں کو سخت وعید بھی سنائی گئی ہے، جیسا کہ مندرجہ ذیل احادیث میں مروی ہے۔
- ❶ فضل الصلوٰۃ علیٰ النبی ﷺ [حدیث: 11]
- ❷ مشکاۃ مع تحقیق الألبانی، رقم الحدیث (925)
اسلام اور احترام نبوت ﷺ
پانچویں فصل
کفر پر ر
اسلام اور احترام نبوت ﷺ
پانچویں فصل
کفر پر رہتے ہوئے ذمی کی توبہ صحیح نہیں
يَوْمَ الْقِيَامَةِ ) حديث [484] [5 حديث [6233]
ہی گھمبیر ہے۔ یہ صرف حب مصطفیٰ ﷺ کا تقاضا ہی نہیں بلکہ نبی اکرم ﷺ حق بھی ہے اور یہ حق ادا نہ کرنے والوں کو سخت وعید بھی سنائی گئی ہے، جیسا کہ رجہ ذیل احادیث میں مروی ہے۔ فضل الصلوة على النبي ﷺ [حديث : 11] مشكاة مع تحقيق الألباني، رقم الحديث (925)
اسلام اور احترام نبوت ﷺ اگر ذمی کفر پر رہتے ہوئے تو مالکی ، شوافع اور حنابلہ میں ا میں اس کے خلاف ہے لیکن قول ہے، اسی طرح امام احم لیکن مشہور جو قطعی مذہب ہ سوال۔ اگر جزیہ نہ دے ک کفر ہو اس کا جزیہ قبول کرلی جواب۔ یہاں فرق ہے کا فساد کم ہے مگر گستاخی کا زائل نہیں ہوتا جبکہ وہ حال طعن اور اسے کھلونا بنانے طعن کا بہانا ملے گا لہذا قبول سوال۔ اللہ تعالیٰ کا ارشا حتى يعطوا الجزية ع (التو جب ذمی نے جزیہ دے جواب۔ جزیہ تو مقاتلہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد مبارک قاتلوا الذين لا يؤم
م القيامة ) حديث [484] [ الحديث [6233]
ہی گنھگار ہے۔ یہ صرف حب مصطفی ﷺ کا تقاضا ہی نہیں بلکہ نبی اکرم ﷺ کا حق بھی ہے اور یہ حق ادا نہ کرنے والوں کو سخت وعید بھی سنائی گئی ہے، جیسا کہ کچھ ذیل احادیث میں مروی ہے۔ فضل الصلوة على النبي ﷺ [حديث: 11] مشكاة مع تحقيق الألباني، رقم الحديث (925)
اسلام اور احترام نبوت ﷺ
اگر ذمی کفر پر رہتے ہوئے توبہ کرے تو یہ درست نہیں ، اس بارے میں تینوں مذاہب مالکی، شوافع اور حنابلہ میں اس کے قتل کے بارے میں کوئی اختلاف نہیں البتہ خلاصہ میں اس کے خلاف ہے لیکن وہ ثابت و محقق نہیں اگر ثابت ہو تو زیادہ سے زیادہ ضعیف قول ہے، اسی طرح امام احمد کا ایک غیر محقق قول ملتا ہے لیکن مشہور جو قطعی مذہب ہے وہ یہی ہے کہ ذمی کی حالت کفر میں توبہ مفید نہیں
سوال ۔ اگر جزیہ نہ دے کر عہد توڑ ڈالے پھر ادا کرنا شروع کر دے اگر چہ حالت کفر ہو اس کا جزیہ قبول کر لیا جاتا ہے؟
جواب ۔ یہاں فرق ہے جزیہ کی ادائیگی سے عدم ادائیگی کا ازالہ ہو جاتا ہے لہذا اس کا فساد کم ہے مگر گستاخی کا فتنہ و فساد، یہ کہنے سے کہ میں اس سے رجوع کر لیتا ہوں زائل نہیں ہوتا جبکہ وہ حالت کفر میں ہو، ورنہ یہ طریقہ ہر کافر ،مسلمانوں کے دین پر طعن اور اسے کھلونا بنانے کے لئے اختیار کر لے گا اور اس سے دوسرے کفار کو اسلام پر طعن کا بہانہ ملے گا لہذا تلوار ہی انھیں اس سے روک سکتی ہے
سوال۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد گرامی ہے
حتی یعطوا الجزیة یہاں تک کہ وہ جزیہ دیں (التوبہ، ۲۹)
جب ذمی نے جزیہ دے دیا تو بات ختم
جواب ۔ جزیہ تو مقاتلہ نہ کرنے کی وجہ سے ہے اللہ تعالیٰ کا ارشاد مبارک ہے
قاتلوا الذين لا يؤمنون بالله قتال کرو ان سے جو اللہ پر ایمان نہیں (التوبہ، ۲۹) لاتے
يَوْمِ الْقِيَامَةِ ) [484] [6233]
ہی گھمبیر ہے۔ یہ صرف حب مصطفیٰ ﷺ کا تقاضا ہی نہیں بلکہ نبی اکرم ﷺ کا حق بھی ہے اور یہ حق ادا نہ کرنے والوں کو سخت وعید بھی سنائی گئی ہے، جیسا کہ کچھ ذیل احادیث میں مروی ہے۔
فضل الصلوة على النبي ﷺ [حدیث: 11] مشكاة مع تحقيق الألباني، رقم الحديث (925)
اسلام اور احترام نبوت ﷺ ۲۹۴
لیکن اسے غایت قتل قرار نہیں دیا گیا بلکہ ارشاد ہے اقتلوا المشركين حيث وجد اہل شرک کو قتل کرو جہاں تم انھیں پاؤ تموهم (التوبہ، ۵) اور اسے کسی خاص شرک کے ساتھ مقید نہیں کیا، اگر ہم اسے مقید بھی مان لیں لیکن اگر ان سے جرائم کا صدور ہو مثلاً زنا، قتل اور محاربہ تو وہ جزیہ سے ساقط نہیں ہوتے، گستاخی بھی ان کے حکم میں ہے جیسا کہ گزر چکا ہے اور اس پر بطور زجر سزا ضروری ہے اور وہ قتل کے علاوہ کوئی مناسب نہیں
سوال ۔ کیا یہ نقض عہد کے قول پر ہے یا ہر حال میں؟
جواب ۔ ہر حال میں، اگر ہم نقض عہد نہ مانیں تو یہ حد ہے اور حد، توبہ سے ساقط نہیں ہوتی، جن فقہاء کے ہاں توبہ سے اس کا سقوط ہوتا ہے وہ حق مسلم میں ہے کیونکہ اس کی توبہ صحیح ہے لیکن کافر کے حق میں سقوط نہیں
یہ بھی سامنے رہے کہ گستاخی پر توبہ بغیر اسلام کے ہو ہی نہیں سکتی کیونکہ ان میں تضاد ہے اور اگر ہم نقض عہد کا قول کریں اور متحقق بھی یہی ہے تو اسے جرم سابق کی بنا پر قتل کیا جائے گا جیسا کہ زنا سابق جرم یا قیدی کو کسی مصلحت کی بنا پر قتل کیا جاتا ہے اور دونوں صورتوں میں کفر کی وجہ سے توبہ مفید نہ ہوگی
سوال۔ اسے دار الحرب میں کیوں نہ بھیج دیا جائے؟
جواب ۔ معاذ اللہ، دار الحرب بھیجنا (اگرچہ یہ فقہا کا ضعیف قول ہے ) اس وقت ہوتا ہے جب نقض عہد ایسی شئی سے ہو جو مسلمانوں کو اسقدر نقصان دہ نہ ہو کہ اس کی وجہ سے اس کا قتل لازم ہو کیونکہ اس وقت وہ دیگر حربی کفار کی طرح ہوگا جس کا نقصان اس کی اپنی ذات تک ہی محدود ہوگا اور کفر کے علاوہ اس کا کوئی اور جرم نہ ہو اور کفر اصلی
اسلام اور احترام نبوت ﷺ
قتل کا موجب نہیں البتہ اس کا مصلحت لازم کرتا ہے اگر نقض مسلمان خاتون سے زنا وغیرہ ملحدین کو تقویت اور کمزور دلوں کا سزاؤں میں ہے تاکہ اس کا نقص تو سزا قتل ہی ہوگی خواہ اپنے گھر اس کا قتل لازم ہو چکا ہے اور اس ہمیں نہیں ہاں اس کی شوکت کو ہے تو پھر چھوڑنا نہیں چاہیے یا ؟ حضور ﷺ کی سیرت مقدسہ کیا جن کا نقصان زیادہ تھا خواہ قتل ، ہاں آپ ﷺ نے ان سزا بروز قیامت دوزخ ہے، گناہوں پر سزا دی جاتی ہے جن ہے اور کفر کی سزا کو دار آخرت کی سوال ۔ ہمارے اصحاب شوا جب وہ عہد توڑ دے اور آپ و جواب ۔ درست ہے لیکن صا زیادہ سے زیادہ یہی ہے کہ اسے نقض عہد کے بارے میں فقہاء
يَوْمَ الْقِيَامَةِ ) دیث [484] [ الحدیث [6233]
ی تعبیر ہے۔ یہ صرف حب مصطفیٰ ﷺ کا تقاضا ہی نہیں بلکہ نبی اکرم ﷺ ق بھی ہے اور یہ حق ادا نہ کرنے والوں کو سخت وعید بھی سنائی گئی ہے، جیسا کہ جہ ذیل احادیث میں مروی ہے۔ فضل الصلوة علی النبی ﷺ [حدیث: 11] مشکاۃ مع تحقیق الالبانی، رقم الحدیث (925)
۲۹۴ رکو قتل کرو جہاں تم انھیں پاؤ
ر ہم اسے مقید بھی مان لیں لیکن اگر جزیہ سے ساقط نہیں ہوتے ، گستاخی س پر بطور زجر سزا ضروری ہے اور وہ
حد ہے اور حد، توبہ سے ساقط نہیں وہ حق مسلم میں ہے کیونکہ اس کی
ام کے ہو ہی نہیں سکتی کیونکہ ان ھی یہی ہے تو اسے جرم سابق کی مصلحت کی بنا پر قتل کیا جاتا ہے
عیف قول ہے ) اس وقت ہوتا نقصان دہ نہ ہو کہ اس کی وجہ طرح ہو گا جس کا نقصان اس کوئی اور جرم نہ ہو اور کفر اصلی
اسلام اور احترام نبوت ﷺ
قتل کا موجب نہیں البتہ اس کا مجوز ہوتا ہے اور یہ مقاتلہ، دخول اسلام کے لئے بطور مصلحت لازم کہتا ہے اگر نقض عہد ایسی شئی سے ہو جسکا نقصان زیادہ ہو مثلاً گستاخی یا مسلمان خاتون سے زنا وغیرہ جس سے اہل ایمان کے سینوں میں تکلیف ، شقاء اور ملحدین کو تقویت اور کمزور دلوں کو اشتباہ لاحق ہو تو ایسی صورت میں بطور حد قتل ، مشروعہ سزاؤں میں ہے تا کہ اس کا نقصان مزید آگے نہ بڑھے اور کوئی دوسرا بھی ایسا نہ کرے تو سزا قتل ہی ہوگی خواہ اپنے گھر ہو یا وہاں نہ ہو اسے واپس نہیں کیا جا سکتا ہے حالانکہ ہم پر اس کا قتل لازم ہو چکا ہے اور اس کا حال محاربہ سے جدا ہے کیونکہ اس محارب کا ضرر ہمیں نہیں ہاں اس کی شوکت کو روکنا ضروری ہے جب ہمارے ہاں اس کا ضرر حاصل ہے تو پھر چھوڑنا نہیں چاہیے یہ کتا تو ہمارے قبضہ میں ہے اور نقصان دے رہا ہے ؟ حضور ﷺ کی سیرت مقدسہ بھی شاہد ہے آپ ﷺ نے ایسے کفار کو معاف نہیں کیا جن کا نقصان زیادہ تھا خواہ گستاخ تھے یا نہ مثلاً نضر بن حارث اور ابو عزہ وغیرہ کا قتل ، ہاں آپ ﷺ نے ان پر احسان فرمایا جن کا گناہ اس کفر کے علاوہ نہ تھا جس کی سزا بروز قیامت دوزخ ہے، دنیا میں گناہوں پر سزا نہیں دی جاتی یہاں تو ایسے گناہوں پر سزا دی جاتی ہے جن کے مفاسد عام اور کثیر ہوں یا بطور مصلحت ایسا ہوتا ہے اور کفر کی سزا کو دار آخرت کی طرف موخر کر دیا جاتا ہے
سوال ۔ ہمارے اصحاب شوافع نے تو مطلقاً ذمی کے دارالحرب واپسی کی بات کی جب وہ عہد توڑ دے اور آپ والی قید نہیں لگاتے؟
جواب۔ درست ہے لیکن صاحب فہم ضرور مقید کرے گا کیونکہ اس پر دلیل قائم ہے زیادہ سے زیادہ یہی ہے کہ اسے واپس کرنا قول ضعیف ہے اور صحیح اس کے مخالف ہے نقض عہد کے بارے میں فقہاء کے دو طرح کے اقوال ہیں
يَوْمَ الْقِيَامَةِ
حدیث [484]
حدیث [6233]
ہی گمبھیر ہے۔ یہ صرف حب مصطفیٰ ﷺ کا تقاضا ہی نہیں بلکہ نبی اکرم ﷺ حق بھی ہے اور یہ حق ادا نہ کرنے والوں کو سخت وعید بھی سنائی گئی ہے، جیسا کہ مندرجہ ذیل احادیث میں مروی ہے۔ فضل الصلوٰۃ علیٰ النبی ﷺ [حدیث: 11] مشكاة مع تحقيق الألباني، رقم الحدیث (925)
اسلام اور احترام نبوت ﷺ ۲۹۶
- ۱۔ وہ سربراہ کے کنٹرول میں ہو، نہ لڑے اور نہ اس کی قوت ہو ایسے ذمی کا عہد امام ابو
حنیفہ کے ہاں نہیں ٹوٹتا، لیکن مذاہب ثلاثہ میں اس کا عہد ختم جبکہ سابقہ نقض والا کام کرے، پھر ہمارے اصحاب نے سوال اٹھایا کہ ایسے شخص کو دار الحرب واپس کر دیا جائے تو اس میں دو اقوال ہیں
- ۱۔ کیونکہ وہ دارالاسلام میں امان کی وجہ سے آیا ہے لہذا اسے دارالحرب واپس کیا جائے
گا جیسے بچہ امان لے کر داخل ہو
- ۲۔ اصح یہی ہے کہ اسے واپس نہیں کیا جائے گا بلکہ ایسے آدمی میں سربراہ کو اختیار ہے
قتل کرے، غلام بنائے یا احسان، فدیہ جیسے کہ حربی قیدی، امام احمد کا مشہور یہی قول ہے اور دوسری روایت میں اسے قتل ہی کیا جائے
اور ان کا استدلال یہ ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے مسلمان خاتون کے ساتھ زنا کرنے والے یہودی کو پھانسی لگایا،
امام احمد سے سوال ہوا کیا تم پھانسی کے ساتھ قتل لازم سمجھتے ہو؟ فرمایا اگر آدمی حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی بات پر عمل کرے، گویا انھوں نے اسے عیب ناک نہ جانا
شیخ مہنا بن یحییٰ کہتے ہیں
میں نے امام احمد سے پوچھا جو یہودی یا نصرانی کسی مسلمان عورت سے زنا کرے؟ فرمایا اسے قتل کیا جائے ، میں نے دوبارہ پوچھا فرمایا قتل ، میں نے کہا لوگ کچھ اور کہتے ہیں فرمایا کیا کہتے ہیں؟ عرض کی وہ تو حد کہتے ہیں، فرمایا نہیں قتل، میں نے پوچھا کوئی دلیل، فرمایا ہاں حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے قتل کا حکم دیا
(احکام اہل الملل ۲۳۷)
اسلام اور احترام نبوت ﷺ
لیکن ان سے مشہور یہی ہے کہ حکومت کی دارالحرب واپس کرنے کا قو
- ۱۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد مبارک ہے
فاقتلوا المشركين حيث وجد تموهم (التوبہ: ۵)
یہ حربی اور غیر حربی دونوں کو شامل ہے
- ۲۔ دوسرے مقام پر فرمایا
وان نكثوا ايمانهم (التوبہ: ۱۲)
اور دیگر آیات کا بھی یہی تقاضا ہے
- ۳۔ حضور ﷺ نے کعب بن اشرف
من وجدتموه من رجال يهود فاقتلوه
- ۴۔ بنو نضیر کو آپ ﷺ نے علاقہ بدر
جاسکتے ہیں حالانکہ دارالحرب واپس حاصل ہو
- ۵۔ حضرت عمر، حضرت ابوعبیدہ، حضر
نے اس نصرانی کو قتل کیا جس نے مسل پھانسی لٹکایا اور اسے انھوں نے دارالح نہ اٹھایا
- ۶۔ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنھم نے ای
يَوْمَ الْقِيَامَةِ ﴾ [حدیث: 484] [5 [حدیث: 6233]
اہی گھمبیر ہے۔ یہ صرف حب مصطفیٰ ﷺ کا تقاضا ہی نہیں بلکہ نبی اکرم ﷺ کا حق بھی ہے اور یہ حق ادا نہ کرنے والوں کو سخت وعید بھی سنائی گئی ہے، جیسا کہ درجہ ذیل احادیث میں مروی ہے۔ فضل الصلوٰۃ علیٰ النبی ﷺ [حدیث: 11] مشکاۃ مع تحقیق الألباني، رقم الحدیث (925)
۲۹۶ کی قوت ہو ایسے ذمی کا عہد امام ابو کا عہد ختم جبکہ سابقہ نقض والا کام ایسے شخص کو دارالحرب واپس کر دیا
ہا اسے دارالحرب واپس کیا جائے
ایسے آدمی میں سربراہ کو اختیار ہے قیدی، امام احمد کا مشہور یہی قول
اللہ تعالیٰ عنہ نے مسلمان خاتون
ساتھ قتل لازم سمجھتے ہو؟ فرمایا اگر ہا انھوں نے اسے عیب ناک نہ
کوئی کسی مسلمان عورت سے زنا معا فرمایا قتل، میں نے کہا لوگ ہم کہتے ہیں، فرمایا نہیں قتل، میں نے قتل کا حکم دیا
(احکام اہل الملل ۲۴۷)
اسلام اور احترام نبوت ﷺ ۲۹۷
لیکن ان سے مشہور یہی ہے کہ حکومت کو اختیار دیا جائے
دارالحرب واپس کرنے کا قول ضعیف ہے
- ۱۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد مبارک ہے
فاقتلوا المشركين حيث وجد اہل شرک کو قتل کرو جہاں انھیں پاؤ تموهم (التوبہ ۵) یہ حربی اور غیر حربی دونوں کو شامل ہے
- ۲۔ دوسرے مقام پر فرمایا
وان نكثوا ايمانهم (التوبہ ۱۲) اور اگر وہ اپنے عہد توڑ دیں اور دیگر آیات کا بھی یہی تقاضا ہے
- ۳۔ حضور ﷺ نے کعب بن اشرف کے قتل کے دن فرمایا
من وجدتموه من رجال يهود یہود کے مردوں میں سے جسے پاؤ اسے فاقتلوه قتل کر دو
- ۴۔ بنو نضیر کو آپ ﷺ نے علاقہ بدر کیا بشرطیکہ وہ اسلحہ کے علاوہ اونٹ پر سامان لے
جاسکتے ہیں حالانکہ دارالحرب واپس کرنا یہ کہ اسے اپنی جان مال اور اہل کا تحفظ حاصل ہو
- ۵۔ حضرت عمر ، حضرت ابو عبیدہ ، حضرت معاذ اور حضرت عوف بن مالک رضی اللہ عنہم
نے اس نصرانی کو قتل کیا جس نے مسلمان عورت کے ساتھ برائی کا ارادہ کیا اور اسے پھانسی لٹکایا اور اسے انھوں نے دارالحرب واپس نہیں کیا اور اس پر کسی نے بھی اعتراض نہ اٹھایا
- ۶۔ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنھم نے راہب کے بارے میں فرمایا
يَوْمَ الْقِيَامَةِ ) ...یث [484] [ ...حدیث [6233]
...ی گھمبیر ہے۔ یہ صرف حب مصطفیٰ ﷺ کا تقاضا ہی نہیں بلکہ نبی اکرم ﷺ ...ق بھی ہے اور یہ حق ادا نہ کرنے والوں کو سخت وعید بھی سنائی گئی ہے، جیسا کہ ...جہ ذیل احادیث میں مروی ہے۔
فضل الصلوٰة علی النبی ﷺ [حدیث: 11]
مشکاة مع تحقیق الألبانی، رقم الحدیث (925)
اسلام اور احترام نبوت ﷺ ۲۹۸
لو سمعته لقتلته ۔ اگر میں نے اس سے سنا ہوتا تو اسے قتل کر دیتا
- ۷۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی شرائط بتاتے ہیں کہ اگر وہ نقض عہد کریں تو ان کا خون
حلال ہو جاتا ہے
- ۸۔ حضرت ابوبکر، حضرت ابن عباس اور حضرت خالد رضی اللہ تعالیٰ عنہم نے نقض عہد
کرنے والوں کو قتل کا حکم دیا اور انھیں دارالحرب واپس نہیں بھجوایا
دوسری قسم : ناقض عہد قتال پر تیار ہو جائیں، ہمارے اصحاب کہتے ہیں کہ ایسی صورت میں ان سے دفاع اور انھیں ختم کرنے کی سعی ضروری ہے (الروضة،۱۰: ۴۳۱)
اس عبارت سے یہ وہم ہوتا ہے کہ دارالاسلام میں ان سے دفاع کیا جائے حتی کہ اگر وہ گرفتار ہو جائیں تو قتل نہ کیا جائیں بلکہ ایک قول کے مطابق انھیں دارالحرب واپس کیا جائے لیکن یہ حضور ﷺ کے بنو قریظہ میں عمل کے مخالف ہے کیونکہ انھیں آپ ﷺ نے گرفتاری کے بعد قتل کا حکم دیا تو یہ یا انھیں دارالحرب بھجوانے کے قول کے ضعف پر شاہد ہے اور یا یہ قول اس قسم میں جاری ہی نہیں ہو سکتا کیونکہ اب وہ حربی ہے خواہ دارالاسلام میں ہو یا دارالحرب چلے جائیں، اب اگر گرفتار ہوتے ہیں تو سربراہ کو ان میں اختیار ہو گا جیسا کہ دیگر قیدیوں میں قتل، احسان، فدیہ اور غلامی کا اختیار ہے، یہ جمہور علماء کا موقف ہے اگر وہ جزیہ دیں تو قبول کیا جائے اور انھیں ذمی قرار دیا جائے کیونکہ صحابہ نے اہل شام کے اہل کتاب سے نقض عہد کے بعد دوسری تیسری دفعہ عقد ذمہ کیا لیکن کیا اصح یہ ہے اس صورت میں ابتدا کی طرح عقد لازم ہوگا یا لازم نہیں جائز ہوگا کیونکہ ان کا دھوکہ اور غدر سامنے آچکا ہے لیکن یہ محل نظر ہے،
دوسری صورت پر یہ دلیل دی جاتی ہے کہ حضور ﷺ نے بنو نضیر کو علاقہ بدر اور بنو
اسلام اور احترام نبوت ﷺ
قریظہ کو قتل کا حکم دیا اور ان سے ج... اس کا جواب یہ ہے انہو... لازم نہ تھا مالکیوں کے ہاں مشہور یہ... گرفتار ہوا تو اسے غلام بنایا جائے ا... امام احمد سے روایت ہ... نہ بنایا جائے ، اس روایت کے مطا... بات بعید ہے کیونکہ حضور ﷺ... دینے کی دعوت نہیں دی، ظاہر یہی... لیتے لہٰذا یہ آپ ﷺ کا عمل پاک... نقض عہد کرنے والو... آپ ﷺ نے زبیر بن باطا قر... قیس بن شماس کی پناہ میں دیا کی... عہد کرنے والے قیدیوں میں م... وہاں سے نکالنا لازم تھا ، سے... ورنہ ہمارے مقصد سے یہ خارج... مقصود یہ تھا کہ جب تک یہ کافر ہے... لاگو رہے گا اور اس پر احسان جائز نہیں... اگر آپ ﷺ ایسا کرتے تو آپ ... حق معاف نہیں کر سکتے اور اس میں ح... ہاں اس کے خلاف نہایت ہی ضعیف...
اسلام اور احترام نبوت ﷺ
قریظہ کا قتل کا حکم دیا اور ان سے جزیہ قبول نہیں کیا اس کا جواب یہ ہے انھوں نے جزیہ دیا ہی نہیں اور ہمیں اس طرف متوجہ کرنا لازم نہ تھا مالکیوں کے ہاں مشہور یہی ہے نقض عہد کرنے والا اگر دار الحرب چلا گیا اور پھر گرفتار ہوا تو اسے غلام بنایا جائے اس سے عقد ذمہ نہ لیا جائے (یعنی سر براہ کو اختیار ہے)
امام احمد سے روایت ہے کہ ایسے شخص کو جزیہ کی طرف بلایا جائے لیکن غلام نہ بنایا جائے ، اس روایت کے مطابق ایسے لوگوں کو ذمہ کی طرف لانا لازم ہوگا لیکن یہ بات بعید ہے کیونکہ حضور ﷺ نے بنو قریظہ اور خیبر کے قیدیوں کو قتل کا حکم دیا اور جزیہ دینے کی دعوت نہیں دی، ظاہر یہی ہے کہ آپ ﷺ انھیں جزیہ کا فرماتے تو وہ قبول کر لیتے لہذا یہ آپ ﷺ کا عمل پاک اختیار سر براہ پر ہی دال ہے
نقض عہد کرنے والوں کے ساتھ جواز احسان پر یہ بھی دلیل ہے کہ آپ ﷺ نے زبیر بن باطا قرظی کو اس کے مال واہل سمیت حضرت ثابت بن قیس بن شماس کی پناہ میں دیا کہ وہ حجاز میں ٹھہر سکتا ہے حالانکہ یہ بنو قریظہ کے نقض عہد کرنے والوں قیدیوں میں سے تھا اور یہ ان کی حجاز میں ٹھہرنے کی حرمت اور وہاں سے نکالنا لازم تھا ، سے پہلے کا ہے نقض کی وجہ سے ہم نے یہ بیان کر دیا ورنہ ہمارے مقصد سے یہ خارج ہے
مقصود یہ تھا کہ جب تک یہ کافر ہے اس کی توبہ مقبول نہ ہوگی ، گستاخی کی وجہ سے حکم قتل اس پر لاگو رہے گا اور اس پر احسان جائز نہیں کیونکہ آپ ﷺ نے کسی ایسے قیدی پر احسان نہیں فرمایا اگر آپ ﷺ ایسا کرتے تو آپ ﷺ کا حق تھا، جب تک وہ کفر پر رہے ہم آپ ﷺ کا حق معاف نہیں کر سکتے اور اس میں مزید گفتگو کی ضرورت نہیں کیونکہ ایسا قول کوئی بھی نہیں کرتا ہاں اس کے خلاف نہایت ہی ضعیف قول ہے نہ تو اسے اختیار کیا جا سکتا ہے نہ ہی یہ معتمد ہے
يَوْمَ الْقِيَامَةِ ) حديث [484] [ الحديث [6233]
اق سمجھیے۔ یہ صرف حب مصطفیٰ ﷺ کا تقاضا ہی نہیں بلکہ نبی اکرم ﷺ ق بھی ہے اور یہ حق ادا نہ کرنے والوں کو سخت وعید بھی سنائی گئی ہے، جیسا کہ درجہ ذیل احادیث میں مروی ہے۔ فضل الصلوٰة على النبي ﷺ [حديث: 11] مشكاة مع تحقيق الألباني، رقم الحديث (925)
اسلام اور احترام نبوت ﷺ
چھٹی
اسلام اور احترام نبوت ﷺ
چھٹی فصل
اگر ذمی اسلام قبول کر لے
اسلام اور احترام نبوت ﷺ تین مذاہب میں اختلاف ہے کے بعد سقوطِ قتل پر مشہور دور و کہ گستاخی کے بعد اگر وہ بھی ا
گستاخ رسولؐ کے بارے میں
- ا۔ ہر حال میں قتل
- ۲۔ ہر حال میں سقوطِ قتل
- ۳۔ ذمی کی اسلام کے ساتھ ا
آئے، ان کے ہاں مشہور ہر
شوافع کا مشہور یہی ہے کہ تصریحات ذکر کی ہیں، مالکیہ اور حنابلہ کی سے سقوطِ قتل، اس گستاخ م سبب پیچھے بیان ہوا کہ قتل م
- ا۔ زندیق ہونا
- ۲۔ گستاخی کا حق آدمی ہونا
اول وہاں صحیح ہے جو کفر مخفی بخلاف کافر کیونکہ اس کا ک طعن ہی باقی رہ جاتا ہے
یا قائم ہے، جس کی بدولت نبیؐ تکلف ہے۔
تی علامت کے طور پر بیان کیا گیا تور ہے۔ چنانچہ سیرت نبویؐ کا مل سیرت اور کردار کی طہارت اور کے اولین دور ہی میں یہ خط و خال موم مقاصد میں کامیاب ہوسکیں پاسبان خود اللہ رب العالمین ہے و جاں نثاریں تھیں قدیم جنگجوؤں تھے جس کا سامنا ان کے آبا و اجداد امیدی کی خاطر مسلمان عالم یہ تھے جس اور ہر سطح اور زاویے سے تھے منسلک ہوں۔
وہ اپنی اجتماعی و انفرادی زندگی میں لام کو کفر و اسلام کی آویزش اور کفار ت پر کی سیرت و تعلیمات کو اجاگر کیا دہشت گردی کی نسبت کر سکتا ہے؟! حق ہیں جنھوں نے ایک دینی و ملی کیا، عالم کفر کی سازشوں سے پردہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دفاع و تحفظ کی خاطر اپنی نسخہ فاضل مکتبہ غنچۂ ذوق
اسلام اور احترام نبوت ﷺ
تین مذاہب میں اختلاف ہے مالکیوں کا قول، امام مالک سے کافر کے اسلام لانے کے بعد سقوط قتل پر مشہور دو روایتیں ہیں اگر چہ وہ مسلمان کے بارے میں بھی کہتے ہیں کہ گستاخی کے بعد اگر وہ بھی اسلام لے آئے پھر بھی قتل ساقط نہ ہوگا
(الدسوقی علی الشرح الکبیر، ۴: ۴۱۰)
گستاخ رسول کے بارے میں حنابلہ سے تین روایات ہیں
- ۱- ہر حال میں قتل
- ۲- ہر حال میں سقوط قتل
- ۳- ذمی کی اسلام کے ساتھ توبہ مقبول مگر گستاخ کی توبہ غیر مقبول اگر چہ وہ اسلام لے
آئے، ان کے ہاں مشہور ہر حال میں توبہ کا مقبول نہ ہونا ہے
(معونة اولی النہی، ۸: ۵۵۸)
شوافع کا مشہور یہی ہے کہ ہر حال میں توبہ مقبول ہے جیسا کہ پیچھے ہم نے کچھ تصریحات ذکر کی ہیں،
مالکیہ اور حنابلہ کی گفتگو سے واضح ہوتا ہے اگر ذمی اسلام قبول کر لے تو اس سے سقوط قتل، اس گستاخ مسلمان سے اولیٰ ہے جو دوبارہ اسلام قبول کرے اور اس کا سبب پیچھے بیان ہوا کہ قتل مسلم کے دو ماخذ ہیں
- ۱- زندیق ہونا
- ۲- گستاخی کا حق آدمی ہونا
اول وہاں صحیح ہے جو کفر خفی اور اسلام ظاہر کرے اور مسلمان سے گستاخی اسی پر شاہد ہے بخلاف کافر کیونکہ اس کا ظاہر تو پہلے بھی یہی ہے اور اب صرف حق آدمیت اور دین پر طعن ہی باقی رہ جاتا ہے، اس لئے اسلام قبول کرنے کی وجہ سے کافر سے سقوط، کے
اسلام اور احترام نبوت ﷺ مسلمان سے سقوط کے اکثر قائل ہیں بعض اوقات اس کا عکس ہے کہ مسلمان سے گستاخی بطور غلطی اور سبقت لسانی کی وجہ سے ہو سکتی ہے بخلاف کافر اس کا ظاہر بتا رہا ہوتا ہے کہ اس کی گستاخی قصداً و اعتقاداً ہے لیکن فقہاء امت دونوں جگہ الفاظ کو دیکھتے ہیں، اللہ کی قسم اگر دونوں مقامات پر قرائن سے آشکار ہو جائے (خواہ مسلمان ہو یا کافر) اس نے شیطان کے دھوکہ و وسوسہ سے ایسی بات کہہ دی اور سبقت لسانی ہو گئی تو اسلام قبول کر لینے سے دونوں مقامات پر سقوط ہو گا خصوصاً جبکہ قرائن صحت اسلام پر شاہد ہوں کہ یہاں تقیہ مقصود نہ تھا
اور اگر قرائن دال ہوں کہ یہ ارادۃً ، قصداً اور بددیانتی اور عداوت کی وجہ سے گستاخی ہوئی ہے تو پھر اسلام کی وجہ سے بھی عدم قبول توبہ قوی ہے اور اسے قتل ہی کیا جائے گا خصوصاً جب اس پر قرائن ہو کہ اس نے تلوار سے بچنے کی خاطر بطور تقیہ اسلام کا لبادہ اوڑھ رکھا تھا لیکن ہم اس کے قتل کا حکم نہیں دے سکتے
- اولاً۔ کیونکہ امام شافعی سے مشہور اس کے مخالف ہے
- ثانیاً۔ ہم پیچھے توبہ مسلم میں بیان کر آئے ہیں جو وہاں سقوط قتل پر دال یا توقف پر
دال ہے وہ یہاں بھی دال ہے ہم نے مسئلہ اولیٰ کی فصل اول میں خوب تفصیل بیان کر دی ہے
اہم نوٹ
یہاں جس پر توجہ دلانا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے گستاخ سے اسلام کی وجہ سے سقوط قتل میں اختلاف میں دونوں ماخذ کی طرف التفات کی جائے اگر ہم علت
اسلام اور احترام نبوت ﷺ
زندیق ہونے کو قرار دیں تو سقوط نہ ہوگا اور اگر حق آدمیت کو علت بنائیں تو سقوط ہو جائے گا
چند اہم امور
حضور ﷺ کے حق میں علت پر چند امور ہیں
- ۱۔ گستاخی کی دلالت کہ گستاخ زندیق ہے
- ۲۔ دین پر طعن ہوگا
- ۳۔ یہ آدمی کا حق ہے
- ۴۔ کفار کی طبع اس پر مائل ہوتی ہے لہذا اس کی سزا ہونی چاہیے اور وہ قتل ہے مثلاً زنا تو
یہ اسلام کی وجہ سے ساقط نہ ہوگا
پہلی چیز مسلمان کے ساتھ مخصوص ہے، چوتھی حق نبی کے اعتبار سے، کافر کے ساتھ مختص ہے نہ کہ حق الہی کے اعتبار سے، دوسری دونوں میں دونوں مقامات پر موجود ہے تیسری دونوں میں حق نبی میں موجود مگر حق الہی میں نہیں
جب یہ تمام سمجھ آگیا تو یہ اختلاف، اللہ تعالیٰ کی گستاخی میں بھی جاری ہوگا جب وہ اسلام لے آئے، جس نے علت دین پر طعن کہی وہ سقوط قتل نہیں مانے گا، جس نے علت، حق آدمیت مانا وہ سقوط کا قول کرے گا، جس نے زندیق ہونا علت مانا وہ کافر میں سقوط مانے گا نہ کہ مسلمان میں، جس نے علت یہ مانی کہ طبع کافر گستاخی نبی پر تیار ہوتی ہے وہ سقوط کا قول کرے گا کیونکہ اللہ تعالیٰ کی گستاخی پر کوئی طبع تیار نہیں ہوتی
یہ تمام اس کے ہاں ہے جو اسلام کے بعد بھی قتل جائز رکھتے ہیں
مگر ہم حدیث میں مذکور تین اشیاء کے علاوہ قتل مسلم کی جرات و جسارت نہیں کر سکتے، ہم تو خاموشی اختیار کریں گے یہاں تک کہ وہ اللہ تعالیٰ کے ہاں چلا
اسلام اور احترام نبوت ﷺ
جائے اور وہ اپنی مشیت کے مطابق اس کا فیصلہ فرمائے یہ تمام اس میں ہے جس کا حال اچھا ہو اور قرائن اس کے صدق دل پر دال ہوں اور صادر ہونے والی چیز سبقت لسانی ہو اور اگر قرائن اس کے خلاف بدعقیدگی اور کلمہ شہادت سے بچنے پر دال ہوں تو پھر میں انشاء اللہ اس کے بارے میں کچھ نہیں کہتا اور خاموشی اختیار کروں گا، اگر کسی حاکم نے کسی کی تقلید کی تو اس کا حساب یا اجر ہوگا، میں سلامتی کی دعا ہی کر سکتا ہوں، میں اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں کسی مسلمان کا خون اور نہ ہی اللہ ورسول کے حق کو ساقط کر کے حاضر ہونا چاہتا ہوں مگر یہ کہ مجھ پر آشکار ہو جائے اور قتل یا عدم قتل کا یقین ہو جائے، میں ہر وقت اضافہ علم کا طلب گار ہوں اس تصنیف سے میرا مقصد اس کا قتل ہے بشرطیکہ وہ اسلام نہ لائے خواہ وہ کافر ہو یا مسلمان، اور اس قول کا بطلان بھی مقصود ہے اگر وہ کافر رہے تو پھر بھی اسے باقی رکھا جائے
اہم فائدہ
اس کی طرف بھی متوجہ کرنا ضروری ہے گستاخی پر قتل (اگر چہ ہم اسے اللہ تعالیٰ کی حد قرار دیتے ہیں) اسلام کے ساتھ سقوط پر وہی احکام جاری ہوں جو حد زنا پر جاری ہوتے ہیں
امام شافعی کے بارے میں منقول ہے جب آپ عراق میں تھے تو فرمایا ذمی جب زنا کرے پھر اسلام لے آئے تو اس سے حد کا سقوط ہو جائے گا، امام ابوثور نے فرمایا حد ساقط نہ ہوگی
اگر ذمی گستاخ اسلام لے آئے تو سقوط قتل میں بھی یہ اختلاف ہونا چاہیے اگر چہ ہم اسے حد الہی کہتے ہیں اگر ہم اسے حق آدمی قرار دیں تو قتل اظہر ہے اگر قتل کافر قرار دیں تو اسلام کی وجہ سے سقوط ظاہر ہے
اسلام اور احترام نبوت ﷺ
ابن تیمیہ کا تذکرہ
بندہ نے ابوالعباس احمد بن عبدالحلیم بن عبدالسلام بن تیمیہ کی کتاب ’الصارم المسلول علی شاتم الرسول‘ دیکھی ہے اس میں انھوں نے ستائیس وجوہ ایسے آدمی کے قتل پر بیان کی ہیں، بہت طویل اور مفید گفتگو ہے اس میں انھوں نے استدلال ، آثار اور دلائل تحقیق واستنباط سے خوب کام لیا ہے اور یہ ایک ضخیم جلد میں ہے
لیکن مجھے اسلام لانے کے بعد اس کے قتل پر موصوف کے ساتھ موافقت میں شرح صدر نہیں ہوا لیکن یہ بات اجتہادی ہے اگر کسی عالم کو شرح صدر ہو گیا ہے تو کوئی حرج نہیں کیونکہ اجتہاد و تقلید کا معاملہ انشراح صدر پر ہی قائم ہے
شیخ ابن دقیق العید (۶۲۵ : ۷۰۲) کا فتویٰ
مجھے شیخ ابوالفتح محمد بن علی بن وہب قشیری المعروف ابن دقیق العید کا فتویٰ بہت ہی پسند آیا ، ان سے تقلید مذاہب کے حوالہ سے سوال ہوا کہ یہ جائز ہے اور اس کا ضابطہ کیا ہے؟ فرمایا ، بطور ضابطہ دو چیزیں ہیں
- ۱۔ وہ تقلید حدیث صحیح کے خلاف نہ ہو
- ۲۔ آدمی کو شرح صدر ہو اور امام کو دین میں متساہل نہ سمجھتا ہو، یہ بات میں نے حضور
ﷺ کے اس ارشاد گرامی سے لی ہے
الاثم ما حاک فی نفسک گناہ یہ ہے کہ تیرے دل میں کھٹکا پیدا ہو
(مسلم، ۲۵۵۳)
اگر مسئلہ میں نص نہ ہو اور آدمی کو شرح صدر ہو جائے تو پھر تقلید جائز ہے ورنہ نہیں واللہ اعلم
قولہ ۔ مسئلہ میں نص نہ ہونے سے مراد ہے کہ یا اس کی مثل ہو، اس کی تفصیل کچھ یوں
اسلام اور احترام نبوت ﷺ
ہوگی یعنی مسئلہ میں ایسی کوئی چیز نہ ہو جس سے قضا قاضی بدل جائے مثلاً نص یا اجماع یا قیاس جلی ، اس پر امام ابو محمد بن عبدالسلام (ت،۶۶۰) نے یوں تصریح کی ہے کہ جو قضا قاضی کو بدل دے اس میں تقلید جائز نہیں ، اس طرح اس کے غیر کا حکم ہے کیونکہ جب ہم فیصلہ کے بعد اسے بدل سکتے ہیں تو قبل از فیصلہ بطریق اولیٰ ہوگا اور انشراح صدر ضروری ہے تا کہ اس کا اعتقاد بن جائے پھر وہ اس پر عمل پیرا ہو گا لیکن جس کسی نے عمل کیا اور وہ جانتا ہے کہ اس میں علماء کا اختلاف ہے اور اس کے جواز کا معتقد نہیں نہ اجتہاداً اور نہ تقلیداً بلکہ محض اتنا جانتا ہے کہ بعض اسے حرام اور بعض نے اسے حلال قرار دیا ہے تو وہ میرے نزدیک گنہ گار ہوگا کیونکہ اس نے حکم الہی میں شک کے باوجود اقدام کیا اگر چہ امام غزالی اور دیگر لوگوں کی گفتگو کا تقاضا عدم گناہ ہے اور وہ صاحب اختیار کی طرح ہو جاتا ہے لیکن یہ صورت اختیار اس وقت ہوتی ہے جب باب ترجیح بند ہو جائے نہ اجتہاد ہو اور نہ تقلید تو پھر بعض نے اختیار کا قول کیا لیکن اس سے پہلے اختیار نہیں اس کے لئے سوال ممکن ہے تا کہ واضح پہلو سامنے آئے اگر سوال کیا اور واضح سامنے آگیا لیکن فی نفسہ وہ ترجیح نہ دے سکا، میرا مقصود پہلے یہی ہے اور ابن دقیق العید کے کلام سے سامنے آتا ہے تو قابل توجہ یہی ہے کہ جب تک اپنے ہاں ترجیح اور شرح صدر نہ ہو تو اس حدیث کی بنا پر اقدام نہیں کرنا چاہیے الاثم ما حاک فی نفسک گناہ یہ ہے کہ تیرے دل میں کھٹکا پیدا ہو
اسلام اور احترام نبوت ﷺ
ضمیمہ متصل
شوال سن ۷۵۱ ھ ہجری میں نصرانی کا واقعہ ہوا جس نے بڑی ذلیل تہمت کا ارتکاب کیا مسلمانوں اور اس کے درمیان کی رکاوٹ کی وجہ سے وہ قتل نہ ہوا، تیرہ سال بعد پھر اس نے بکواس کی، گرفتار ہوا تو اس نے کلمہ شہادت پڑھ لیا مگر مجھے اس کے خون کے محفوظ رہنے پر شرح صدر نہ ہوا اور میں نے اس کا قتل ہی بہتر جانا کیونکہ ایسے واقعہ کا میں گمان بھی نہیں کر سکتا تھا
بلاشبہ سب وشتم وقذف کے مختلف درجات ہیں اسی طرح صادر کرنے والے کے بھی مثلاً سہواً ہو گیا یا نسیان ،اکثر محفوظ رہنے والے سے جلدی میں غلطی، خبث باطن سے عمداً، جرات اور خالص مذمت اور قصد اذیت میں تفاوت ہے
یہ بھی ضروری نہیں کہ جب اہل علم میں ادنیٰ یا اوسط درجات میں اختلاف ہو تو اعلیٰ درجہ میں بھی اختلاف ہو،
جب ایسی بدتہمت ایسے شخص سے سرزد ہو جس کی جرات و استہزا معروف ہو تو پھر قبول توبہ اور سقوط سزا کا قول بعید ہوتا ہے خصوصاً حد قذف تو اسقاط سے ساقط ہوتی ہے، ایسی حد کون ساقط کر سکتا ہے جو ان الفاظ میں ہو جسے نہ کوئی مسلمان سن سکتا ہے اور نہ حکایت کر سکتا ہے لہذا ایسی صورت میں تو قتل ہی حد ہے نہ کہ اس کو کوڑے،
لہذا اس صورت میں ہم اسی راہ کو اختیار کر رہے ہیں جس پر امام فارسی نے اجماع نقل کیا، شیخ قفال نے ان کی موافقت کی اور امام الحرمین نے اسے احسن جانا اور ہمارے لئے تو حضور ﷺ کے حوالہ سے غیرت اور آپ ﷺ کے منصب عالی کی حفاظت ہی کافی ہے
اسلام اور احترام نبوت ﷺ
اگر چہ اللہ تعالیٰ کا کرم اور رسول اللہ ﷺ کی رحمت ورافت اس کتے کے قبول اسلام کا مقتضی ہے وہ اسے آخرت میں نفع دے گا، ہم تو عظمت شان کے پیش نظر اسے ختم کرنا چاہتے ہیں تاکہ کسی کو ایسی بات کھٹک بھی نہ سکے، ہمارے نزدیک اس کا قتل ہی اللہ ورسول کے قرب کا ذریعہ ہے اور ہم جاہل اور حاسد کے اعتراض سے خوف رکھتے ہیں جو کہے گا امام شافعی کا مشہور قول اس کے خلاف ہے
استاذ ابو اسحاق نے سقوط نقل وغیرہ کا قول کیا ہے، صیدلانی نے سقوط نقل کر کے اسی کوڑوں کی بات کی ہے، ہم ان کو جانتے ہیں مگر کہتے ہیں استاذ اور صیدلانی اس اجماع سے آگاہ نہیں جسے فارسی نے نقل کیا خصوصاً امام فارسی متقدم ہیں ان کی وفات (۳۰۵) ہے جبکہ استاذ کی وفات (۴۱۸) ہے، صیدلانی استاذ یا معاصر کے بعد کے ہیں
تو امام فارسی نے اجماع کا قول سو سال سے زیادہ پہلے نقل کیا ہے لہذا اس سے اختلاف نہیں مانا جائے گا حتی کہ پہلے کا اختلاف سامنے آئے اگر بالفرض اجماع نہیں اور محل اجتہاد ہے تو اس کا تقاضا بھی قتل ہی ہے کیونکہ حد قذف، اسلام اور توبہ سے ساقط نہیں ہوتی ہاں مالک یا وارث بری کر سکتا ہے لیکن یہاں تو مالک کا بری کرنا متعذر ہے، اے مسلمانوں ہم اگرچہ علماء کے مقام پر ہیں مگر اپنے نبی کا حق ساقط نہیں کر سکتے اور یہاں وراثت متعذر ہے کیونکہ انبیاء علم کے وارث بناتے ہیں اگر ہم اس حق میں وراثت مان بھی لیں تو آپ کا خاندان محدود نہیں بلکہ تمام کائنات میں پھیلا ہوا ہے اور ان میں سے اقرب معلوم نہیں جو بری کر سکے، یہاں حد قذف قتل ہی ہے اور اس پر دلیل اجماع ہے کہ یہ قبل از اسلام لازم ہے اور یہ سرور عالم ﷺ کی اعلیٰ قدرومنزلت کی وجہ سے ہے تاکہ دوسروں پر جرأت کی طرح آپ پر نہ ہو اس واقعہ خاص میں بندہ کی یہی رائے ہے اور میں اسے ہر صورت میں جاری نہیں کرتا جیسا کہ
اسلام اور احترام نبوت ﷺ
پہلے آچکا کہ درجات گستاخی میں تفاوت ہے فصل مقدم میں اس کی تفصیل آچکی کہ میں وہاں اعتماد نہیں رکھتا لیکن یہاں اعتماد و شرح صدر ہے اور یہی اولی ہے اور نوع واحد میں افراد کے احکام ، مراتب کی وجہ سے مختلف ہو سکتے ہیں جب شارع کی طرف سے افراد کے لئے برابر حکم نہ ہو تو مجتہد ماہر، اجتہاد کے ذریعے ہر کو اس کا حق دے گا
اس معاملہ میں کئی دفعہ غور ہوا کہ جب کسی مسئلہ میں دو اقوال ہیں اور ایک مشہور و رائج ہو تو کیا غیر مجتہد حاکم اس کے مخالف فیصلہ کر سکتا ہے؟ یا مجتہد حاکم کسی بہتر مصلحت کی خاطر اس کے خلاف کر سکتا ہے اگرچہ اس کے ہاں ترجیح پر دلیل نہ ہو،
اول صورت میرے نزدیک جائز نہیں جبکہ دوسری صورت میں توقف کرتا ہوں ، منقول ہے شیخ ابن عبدالرحمن بن قاسم نے غیر لازم میں حنث کیا تو ان کے والد نے کفارہ قسم کا فتوی دیا اور فرمایا میں نے امام لیث کے قول پر فتوی دیا ہے اگر تم نے دوبارہ کیا تو امام مالک کے قول پر فتوی دوں گا، میرے نزدیک اس میں توقف ہے اور یہ فتوی میں حکم قاضی سے زیادہ آسان ہے
ہر حال میں یہ ہمارے زیر بحث مسئلہ کی طرح نہیں ہے کیونکہ امر واحد میں مختلف فیصلوں کا تصور نہیں ہو سکتا ہاں کسی ایک واقعہ میں کسی مصلحت پر اعتماد کیا جا سکتا ہے حالانکہ شرع نے حکم برابر رکھا ہو، رہا ہمارا زیر بحث مسئلہ تو یہاں میں حکم برابر نہیں مانتا ممکن ہے ہر ایک سے حکم خاص ہو بعض میں قتل قوی بعض میں غیر قوی، بعض میں اختلاف کا احتمال اور بعض میں احتمال نہیں
رہا عدم قتل کا مذہب شافعی میں مشہور ہونا یہ متأخرین کے ہاں معروف ہے مگر ہم نے کلام شافعی میں تصریح نہیں دیکھی، ان سے ذمی گستاخ کے قتل پر مطلق نص ہے لیکن اگر وہ اسلام لے آئے تو حکم واضح نہیں بخلاف امام مالک اور امام احمد دونوں کہتے
اسلام اور احترام نبوت ﷺ
ہیں اگر وہ اسلام لے آیا تو قتل نہیں، لیکن میں نے جو کچھ مسلمان کے بارے میں کہا وہ پیچھے گزر گیا اور میں قاضی وقت کے لئے کسی بھی صورت حال میں اجتہاد کا قائل ہوں، اس وقت میری یہی رائے ہے اگرچہ سابقہ فصل میں بیان کردہ رائے کے مخالف ہے لیکن حاکم کو اللہ تعالیٰ کا تقویٰ خوب پیش نظر رکھنا چاہیے کہیں خواہش یا حظ نفس کا دخل نہ ہو لہٰذا وہ دو چیزوں سے خوب احتراز کرے
- ١۔ اس خصوصی واقعہ میں حکم شرعی کی تحقیق اور صحیح منزل کی تلاش
- ٢۔ اپنے نفس، خواہشات و جذبات پر خوب کنٹرول بلکہ محض اور محض اپنے رب کی رضا
سامنے ہو (اللہ تعالیٰ سے حفاظت و توفیق کی دعا ہے)
جب میں نے اس واقعہ میں یہ دیکھا تو میں نے جاہل اور حاسد کے ڈر کی وجہ سے اپنے اور اللہ کے درمیان معاملہ حنبلی عالم (شیخ جمال الدین ابوالمحاسن یوسف بن محمد مرداوی) کے سپرد کر دیا اور وہ لوگوں کے ہاں مستقل و مسلم تھے ، انہوں نے اس کے قتل کا حکم دیا، اسے مالکی عالم نے نافذ کیا پھر حنفی عالم نے مالکی کا حکم نافذ کیا پھر میں نے حنفی کی طرح نفاذ کیا اور مذکورہ شخص پانچ شوال بروز پیر ۷۵۱ھ کو قتل کر دیا گیا
سوال ہوا
مجھ سے کسی نے سوال کیا ان میں سے اعظم کون یہ یا اللہ کے ساتھ شرک؟
جواب، میں نے کہا اللہ کے ساتھ شرک بڑا ہے لیکن مشرک، شرک کو اپنا دین اور اعتقاد مانتا ہے، اور گستاخی میں، اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ پر حملہ اور جسارت ہے جس میں ایسی اذیت ہے جو شرک میں نہیں، اس وجہ سے اسلام شرک کو مٹا دیتا ہے مگر گستاخی کو نہیں مٹاتا
اسلام اور احترام نبوت ﷺ
خاتمہ
جب ہم اس شخص کے قتل کے لئے گئے اور لوگوں کا اجتماع اور ماحول دیکھا تو مجھے یہ خوف لاحق ہوا کہیں یہ اس شخص کے اسلام سے مرتد ہونے کا سبب نہ بن جائے ، اس سے میرے دل میں احساس پیدا ہوا اور کچھ دنوں کے بعد میری یہ پختہ رائے بن گئی میں کسی حال میں بھی مسلمان کا خون بہا کر بارگاہ الہی میں نہیں جاؤں گا، جو بھی اسلام لے آئے گا اس کا خون محفوظ ، اس کے ظاہر کو قبول کر لیا جائے اور اس کے باطن کو اللہ تعالیٰ کے سپرد کر دیا جائے گا
اس پر دلیل
کیونکہ ذات نبوی ﷺ اہل ایمان پر کمال مہربان ورحیم ہیں جب کسی کا ایمان ثابت ہے تو اب اگر اس سے ایسا عمل ہو جائے جو نہیں ہونا چاہیے تھا تو اس پر نص قطعی ہے نبی اکرم ﷺ نہایت ہی مہربان ہیں، آپ ﷺ کی شفقت ورحمت سے یہ بھی ہے کہ ہم اسے ایمان پر باقی رکھیں اور اسے فتنہ میں ڈالنے کے درپے نہ ہو، بلاشبہ یہ اور اس کے ہم مثل افراد نو مسلم ، جب اسلام صحیح لاچکے اور ایسے معاملہ میں گر گے اور اس سے نجات نہ ہو تو بعض اوقات، العیاذ باللہ، ان کے دل میں دین اسلام یا اہل اسلام کے خلاف بغض پیدا ہو جاتا ہے جس کی وجہ سے وہ کافر ہو جائے گا پھر یہ بھی ذہن میں ہے اللہ تعالیٰ کے ہاں ہمارے ذریعے کسی ایک کا ہدایت پا جانا، ہمارے لئے ہر قیمتی متاع سے بہتر ہے اور ہم حضور ﷺ کے حوالے سے یقین رکھتے ہیں کہ آپ تمام مخلوق کی ہدایت کا شوق رکھتے ہیں آپ نے کبھی بھی زیادتی کا بدلہ زیادتی سے نہیں لیا بلکہ ہمیشہ معافی اور درگزر سے کام لیتے
ہمارا یہ کہنا درست نہیں کہ اس کا اسلام ہی صحیح نہیں ، اگر وہ صحیح ہوتا تو پھر اسے
اسلام اور احترام نبوت ﷺ
شفقت ورحمت میں شامل کرنا لازم تھا اگر چہ عدم صحت اسلام کا احتمال تھا، جب معاملہ ہماری شفقت سے ہدایت پانے اور ہمارے قتل سے کفر کی طرف جانے کے درمیان ہے تو کونسی صورت بہتر ہے؟ ہدایت کے بہتر ہونے میں کوئی شبہ ہی نہیں اس لئے تعلیمات شریعت کی وجہ سے میری پختہ رائے یہی بنی کہ اسے قتل نہ کیا جائے
سوال، کسی نے مجھے کہا یہ شہید ہو جائے گا؟
جواب، میں نے کہا اگر اس کے دل کو طمانیت سے توثیق ہو جائے تو یہ عمدہ بات ہے لیکن اس پر کون صبر کرے گا؟ اور کون ہے جسے شیطان ورغلا اور متزلزل کر کے کفر کی طرف سے نہیں لے جائے گا؟ اتنا طاقتور کون ہے؟ تو مخلوق الٰہی پر شفقت اور ان پر رحمت و رأفت اسے ایمان پر باقی اور ہدایت کی طرف متوجہ اور عدم قتل کا تقاضا ہی کرتی ہے، یہ تحریر میں نے ۲۹ شوال ۷۵۱ ہجری کو لکھی ہے
اسلام اور احترام نبوت ﷺ
ساتویں فصل
کیا اس سے اسلام لا کر توبہ کرنے کی دعوت دی جائے گی یا اسے ابتداً ہی قتل کر دیا جائے گا اگر ہم کہیں کہ اسلام لانے سے قتل ساقط نہیں ہوگا تو پھر اس سے توبہ کا تقاضا نہیں کیا جائے گا اور اگر ہم سقوط قتل مانیں تو پھر بھی بعض اہل علم کہتے ہیں اس سے توبہ کا تقاضا نہیں کیا جائے گا اور یہ حربی قیدی کی طرح ہے اسے تقاضا توبہ سے پہلے قتل کر دیا جائے اگر اسلام لے آتا ہے تو قتل ساقط، یہ صورت امام احمد کے مذہب پر ہے کہ اسلام سے سقوط ہو جاتا ہے اور یہ امام مالک کے مذہب کے بھی قریب ہے
رہے ہمارے اصحاب تو ان کی اس پر کوئی تصریح نہیں، پیچھے ان سے مسلمان کے بارے میں گزر چکا کہ اس سے توبہ کا تقاضا کیا جائے گا اور ہم نے اس کی تحقیق بیان کی لیکن یہاں ترک تقاضا قوی تر ہے کیونکہ مسلمان کا ظاہر بتا رہا ہے کہ ایسا اقدام کسی شبہ یا زلت کی وجہ سے کرے گا لیکن کافر اس کے مخالف ہے تو یہاں قطعی بات یہی ہے کہ تقاضا توبہ لازم نہیں البتہ مستحب کا قول بعید نہیں
اسلام اور احترام نبوت ﷺ
آٹھویں فصل
سوال، کیا کفر پر رہتے ہوئے حاکم کا سقوط قتل کرنا درست ہوگا؟ جواب، اگر حاکم شافعی یا مالکی یا حنبلی ہے تو اس کا حکم درست نہیں کیونکہ یہ اس کے مذہب کے خلاف ہے، اس دور میں تمام حکام مقلد ہیں اور سلطان انھیں، مذاہب معروفہ پر ہی متعین کرتا ہے تو گویا لسان حال سے سلطان، شافعی عالم سے کہہ رہا ہے میں نے تمہیں مذہب شافعی کے مطابق فیصلہ کی اجازت دی ہے، مالکی کے لئے کہا تم نے مذہب مالکی اور حنفی کو حکم ہے تم نے امام ابو حنیفہ اور حنبلی، امام احمد کے مطابق فیصلہ کرنے کا مجاز ہے کسی کے لئے اپنے مذہب سے تجاوز جائز نہیں ہوگا
بالفرض اگر ان میں سے کسی مسئلہ پر دلیل کی بنا پر اپنے مذہب کے مخالف ظاہر ہوا یا دوسرے امام کی تقلید میں ایسا ہوا تو وہ اپنے اعتقاد کے مطابق فیصلہ نہیں دے سکتا نہ بطور اجتہاد اور نہ بطور تقلید، اس لئے کہ اسے ایسی اجازت ہی نہیں اب وہ اپنے مذہب کے مطابق بھی فیصلہ نہیں دے سکتا کیونکہ اس کے اعتقاد میں معاملہ ایسے نہیں اگرچہ اس کی اجازت تھی اب طریقہ یہ ہے کہ وہ سلطان کی طرف رجوع کرے گا تا کہ وہ اسے اپنی رائے کے مطابق فیصلہ کی اجازت دے
اس میں بھی اختلاف ہے کہ شافعی غیر شافعی، کو مقرر کر سکتا ہے، اس دور میں سلطان کے تقرر کے لئے ان مذاہب کی قید ضروری ہے ہاں اگر سلطان کسی مجتہد فاضل کو مقرر کر دے اور یہ بات اس کے علم میں ہو تو پھر اپنے اجتہاد کے مطابق فیصلہ کر سکے گا اس کے علاوہ کسی کو مذہب سے خارج ہونے کی اجازت نہیں، اگر وہ مقلد ہے جیسا کہ موجودہ قاضی ہیں تو اب وہ اس مشہور مذہب سے نکل نہیں سکتا جس پر فتویٰ ہو اگر وہ مذہب میں مجتہد ہے تو اس کے لئے مخالفت جائز ہے جب کہ مذہب شافعی
اسلام اور احترام نبوت ﷺ
میں دوسری رائے رکھتا ہو اور قواعد شافعی اس کی ترجیح پر شاہد ہوں تو اب وہ حق اور دلیل کا قاصد ہے نہ کہ تابع خواہش، تو یہ مذہب شافعی سے خارج نہ ہوگا
اور اس کے ہاں صاحب منصب اور دیگر لوگ، سلطان اور رعایا برابر ہوں کیونکہ اللہ تعالیٰ کا حکم تمام میں ایک ہی ہے تو احناف کے علاوہ موجودہ دور میں جو حاکم اس کا کفر باقی رکھے گا اس کا فیصلہ غلط و باطل اور اس کے مخالف حکم جاری کیا جائے گا اب اگر اقدام حاکم جہالت کی وجہ سے، اسے امام کا مذہب جانا تو اب واضح ہونے پر اللہ تعالیٰ سے اس کوتاہی پر معافی مانگے کہ اس نے اپنے سے زیادہ مذہب سے واقف سے پوچھا کیوں نہیں اور وہ بطور حاکم باقی رہے گا، اگر اپنے امام کے مذہب کے علم باوجود اس کا اقدام مخالف تھا اور اس نے امام ابو حنیفہ کی تقلید کر لی یہ اعتبار کرتے ہوئے کہ ان کا مذہب قوی ہے تو اس پر واضح کر دیا جائے گا کہ وہ اپنے امام کے خلاف فیصلہ نہیں کر سکتا اگرچہ اس کا اپنا اعتقاد ہو تو اللہ تعالیٰ سے معافی مانگے ہاں ولایت باقی رہے گی
اور اگر اس کا اقدام مذہب امام یا مشہور کی مخالف کے علم کے باوجود کیا اور اس کا محرک کسی صاحب منصب کی حمایت یا کوئی دنیاوی لالچ تھا تو اس نے اللہ تعالیٰ، اس کے رسول ﷺ اور اہل ایمان کے ساتھ خیانت کی تو اب وہ تمام مناصب دینیہ قضا وغیرہ سے معزول اور فاسق قرار پائے گا، اب اس کی ولایت و حکومت جائز نہ ہوگی حتی کہ اللہ تعالیٰ سے توبہ کر کے اپنی اصلاح کرلے
اگر محرک اس حقِ عظیم میں غفلت و سستی ہو تو اس کے دین کے حوالہ سے خوف ہے لیکن ہم کسی مسلمان کے بارے میں ایسا گمان نہیں کر سکتے
اگر سقوطِ قتل کا فیصلہ حاکم حنفی نے کیا اور اس نے امام ابو حنیفہ کے مقلد ہونے کی حیثیت
اسلام اور احترام نبوت ﷺ
سے کیا تو اس کے مخالف فیصلہ کیا جاسکتا ہے کیونکہ اس کے لزوم قتل پر نہایت ہی واضح دلائل ہیں تو اس صورت میں قضاء قاضی کے خلاف کیا جاسکتا ہے
البتہ توقف بھی کیا جاسکتا ہے کیونکہ اس مسئلہ میں وارد حدیث (من سب نبياً فاقتلوہ) اتنی قوی نہیں اور نہ ہی اجماع ہے،
یہاں محل غور و فکر یہ ہے کہ کیا مذکورہ دلائل کا مجموعہ اور اہل سیر و قیاس کا استقرا حدیث صریح صحیح کے قائم مقام ہوسکتا ہے؟ کیا قیاس جلی ہے یا نہیں؟ میرے نزدیک یہ اقرب ہے
جب معاملہ یہی ہے تو نقض فیصلہ ناجائز ہوگا کیونکہ جواز نقض ہمارے ہاں واضح نہیں بلکہ یہ محل اجتہاد ہے، جب قاضی فیصلہ کرتا ہے تو وہ حکم مختلف فیہ کی طرح ہے اس کے خلاف نہ کیا جائے
یہ تمام حکم حنفی میں ہے البتہ شافعی، مالکی اور حنبلی کے نقض حکم کے بارے میں کوئی شبہ ہی نہیں
اسلام اور احترام نبوت ﷺ
باب ثالث
مسلمانوں اور کفار کے الفاظ سبّ کا بیان
اس میں دو فصول ہیں
فصل اول، مسلمانوں سے سبّ
فصل ثانی، کفار سے سبّ
پر قائم ہے، جس کی بدولت نبی یقین ہے۔
کی علامت کے طور پر بیان کیا گیا نور ہے۔ چنانچہ سیرت نبوی کا کے اولین دور ہی میں طعنہ و عدوان مذموم مقاصد میں کامیاب ہو سکیں پاسبان خود اللہ رب العالمین ہے جاسکیں، انھیں قدم بھٹکنے نہ دیں سے جس کا سامنا ان کے آبا و اجداد ابدی کی خاطر مسلمان عالم پر یہ تھا جس اور ہر سطح اور زاویے سے سے منسلک ہوں۔
وہ اپنی اجتماعی و انفرادی زندگی میں لام کو کفر و اسلام کی آویزش اور کفار ت پر مبنی سیرت و تعلیمات کو اجاگر کیا شت گردی کی نسبت کر سکتا ہے؟! کی کیا، عالم کفر کی سازشوں سے پردہ ﷺ کے دفاع و تحفظ کی خاطر اپنی محفوظ، فاضل مدینہ یونیورسٹی
اسلام اور احترام نبوت ﷺ
فصل اول: مسلمانوں ک
تمام امت کا اج قتال کفر ہے خواہ ایسا کر اختلاف نہیں ، اس پر اجما قتل میں اجماع نقل کر کرنے پر نقل اجماع میں ا
الفاظ تنقیص
قاضی عیاض مالکی کہتے ہیں ک وہ کلمات جن س حضور ﷺ کو بر ملا گا ہوتے ہوں یا ان الفاظ س میں سے کسی خصلت کو زک کے اور دوسرے الفاظ م و عیب ہو ایسے تمام الفا ہے جو اہانت نبی کر
یہاں یہ امر ق لہذا ایسے کلمات کہنے وا و کنایہ کے الفاظ میں کس اشارۃ ، ایما یا طرز عمل س اقدس پر لعنت کے الفا
اسلام اور احترام نبوت ﷺ
فصل اول، مسلمانوں کے حوالہ سے
تمام امت کا اتفاق ہے کہ حضور ﷺ یا کسی نبی کی تحقیر یا ان کا قتل یا قتال کفر ہے خواہ ایسا کرنے والا اسے حلال جانے یا حرام، اس میں اہل علم کا کوئی اختلاف نہیں، اس پر اجماع نقل اور تفصیل سے بیان کرنے والے ان گنت ہیں قتل میں اجماع نقل کرنے والوں میں امام اسحاق بن راہویہ بھی ہیں اور تحقیر وغیرہ کرنے پر نقل اجماع میں امام الحرمین اور دیگر اہل علم بھی ہیں
الفاظ تنقیص
قاضی عیاض مالکی کہتے ہیں
وہ کلمات جن سے حضور ﷺ کی منقصت کا پہلو نکلتا ہو، مثلاً کوئی شخص حضور ﷺ کو برملا گالی دے یا ایسے کلمات کہے جو عیب جوئی کے لئے استعمال ہوتے ہوں یا ان الفاظ سے آپ کی ذات اقدس، مبارک دین، نسب یا خصائل میں سے کسی خصلت کو زک پہنچتی ہو، یا ذات نبوی پر کسی قسم کی تعریض کرے یا اسی قسم کے اور دوسرے الفاظ استعمال کرے جن میں تحقیر وتصغیر شان ہو یا اس میں کمی وعیب ہو ایسے تمام الفاظ سب وشتم شمار ہونگے اور ایسے الفاظ کہنے والے کا وہی حکم ہے جو اہانت نبی کرنے والے کا ہے یعنی واجب القتل ہے
یہاں یہ امر قابل لحاظ وتوجہ ہے کہ ایسا کوئی شخص کسی رعایت کا مستحق نہیں لہذا ایسے کلمات کہنے والوں میں سے نہ تو کوئی استثناء گوارا کیا جائے گا اور نہ صراحت و کنایہ کے الفاظ میں کسی قسم کا شک وشبہ روا رکھا جائے گا خواہ وہ الفاظ صراحۃً ہوں یا اشارۃً، ایسا ہی طرز عمل اس شخص کے ساتھ روا رکھا جائے گا جو حضور علیہ السلام کی ذات اقدس پر لعنت کے الفاظ استعمال کرے یا حضور کے خلاف بددعا کرے یا ایسے کلمات
اسلام اور احترام نبوت ﷺ
آپ سے منسوب کرے جو آپ کے شایان شایان نہیں یا آپ کے نقصان کا خواہاں ہو یا آپ کی طرف جھوٹ، ہذیان اور غلط قول کی نسبت کرے یا ذات اقدس پر گزرنے والے مصائب کا تذکرہ کر کے شرم دلانے کی کوشش کرے یا وہ عوارض بشری جن کا صدور ذات نبوی کے لئے جائز و معہود ہو ان کی وجہ سے حضور علیہ السلام کی ذات کو حقیر جانے، یہ تمام امور اہانت و منقصت کے قبیل سے شمار کئے جائیں گے اس پر دورِ صحابہ سے لیکر آج تک تمام علماء اور آئمہ فتویٰ کا اجماع ہے
حضور علیہ السلام کی کسی چیز کی اہانت کا حکم
امام ابن وہب نے امام مالک کا یہ قول نقل کیا ہے کہ کوئی شخص اگر حضور ﷺ کی چادر مبارک یا آپ کے بٹن کو بطور عیب میلا کہے تو قتل کر دیا جائے
قاضی عیاض فرماتے ہیں کہ ہمارے علماء کا اس مسلک پر اجماع ہے کہ جس شخص نے انبیاء علیہم السلام کے لئے بددعا کی یا کوئی اہانت آمیز کلمہ زبان سے نکالا اس کو بغیر مطالبہ توبہ قتل کر دیا جائے
امام ابوالحسن قابسی نے ایک شخص کے بارے میں جس نے حضور علیہ السلام کو بوجھ اٹھانے والا اور ابوطالب کا یتیم کہا تھا قتل کرنے کا فتویٰ دیا تھا
برے الفاظ سے تشبیہ دینے والے کی سزا
امام ابو محمد بن ابی زید نے اس مجلس کے بارے میں جہاں حضور علیہ السلام کی صفات کا تذکرہ ہوا اور وہاں ایک بدشکل اور بد نما داڑھی والا گزرے اور اس مجلس کے حاضرین میں سے کوئی شخص یہ کہے اگر حضور علیہ السلام کی صفت جاننا چاہتے ہو تو دیکھو حضور علیہ السلام ( خاکم بدہن ) اس بدصورت و ہیئت کی طرح تھے ، امام ابو محمد نے فرمایا اس گستاخ کی توبہ قبول نہ کی جائے گی کیونکہ اس نے حضور علیہ السلام کی ذات کے
اسلام اور احترام نبوت ﷺ
بارے میں جھوٹ بکا ہے اس پر اللہ کی لعنت ہو ایسی بات کسی راسخ العقیدہ مسلمان کی زبان سے نہیں نکل سکتی
امام سحنون کے تلمیذ احمد بن ابی سلیمان نے فرمایا ہے جو شخص یہ کہے کہ حضور علیہ السلام کالے تھے قتل کر دیا جائے، انھوں نے ایسے شخص کے متعلق فرمایا کہ کسی شخص سے کہا گیا کہ نہیں اور حق رسول ﷺ کی قسم، یہ سن کر اس شخص نے کہہ دیا کہ اللہ رسول اللہ کے ساتھ ایسا کرے اور کوئی بدتمیزی کی بات کہہ دی اور جب اس کو اس گستاخی کی طرف توجہ دلائی گئی تو اس نے بہت زیادہ سخت بدتمیزی کی بات کہی اور مزید بکواس کی کہ میری تو رسول اللہ سے مراد بچھو تھی ایسا سوال پوچھنے والے سے امام بن ابی سلیمان نے فرمایا تم اس کے خلاف گواہ بن جاؤ اور میں بھی اس کے قتل میں شریک ہوں
اس جملہ سے ابن ابی سلیمان کا مفہوم تھا کہ اگر دریافت کنندہ اس گستاخ کو قتل کر دے تو اس کے قتل کے ثواب میں میرا بھی حصہ ہے
صریح الفاظ میں تاویل کی اجازت نہیں
صریح الفاظ میں تاویل کی گنجائش نہیں لہذا ایسے شخص کو کیفر کردار کو پہنچانا ضروری ہے کیونکہ ان الفاظ سے حضور علیہ السلام کی تحقیر و توہین ہوتی ہے اور مذکورہ بالا شخص (احکام قرآنی کے خلاف) حضور علیہ السلام کی تعظیم و توقیر نہیں کرتا لہذا اس کا خون بہانا لازم ہے
شاتم اور گستاخ بارگاہ رسالت کے قتل کی وجہ بیان کرتے ہوئے شیخ حبیب بن الربیع فرماتے ہیں لہذا ایسے شخص کا خون مباح ہی نہیں بلکہ اس کا خون بہانا واجب ہے
اسلام اور احترام نبوت ﷺ
اپنے بچاؤ کے لئے حضور پر طعن کی سزا
شیخ عبداللہ بن عتاب نے ایسے عشر لینے والے کے متعلق کفر کا فتویٰ دیا ہے جو عشر کی وصولی کے لئے گیا جب لوگوں نے اس پر جرح کی تو اس نے کہہ دیا کہ عشر مجھے دیدو اگر شکایت کرنی ہے تو حضور علیہ السلام سے جا کر کرو اور اگر میں نے مانگا ہے یا جہالت کی تو یہ رسول ﷺ سے بھی سرزد ہوا کہ آپ نے بھی عشر مانگا
فقہائے اندلس اور ابن طلیطلی
فقہاء اندلس نے ابن حاتم طلیطلی کے قتل کا فتویٰ دیا کیونکہ اس نے دوران مناظرہ حضور ﷺ کو یتیم وختن حیدر کہہ دیا اور کہا ان کا زہد اختیاری نہ تھا اگر وہ پاکیزہ اشیاء پر قادر ہوتے تو تناول کرتے
ابراہیم فزاری ماہر علوم اور اپنے دور کا مشہور شاعر تھا وہ قاضی ابوالعباس بن طالب کی علمی مجلس میں شریک ہوا کرتا تھا جب اس کے متعلق معلوم ہوا کہ وہ بارگاہ خداوندی انبیاء علیہم السلام اور خاتم النبیین ﷺ کی بارگاہ میں گستاخیاں کرتا ہے اور استخفاف اور استہزا کے کلمات استعمال کرتا ہے تو قاضی ابو عمرو وغیرہ فقہا نے اس کو عدالت میں طلب کیا اور اس کی گستاخیوں کے ثابت ہونے کے بعد اس کے قتل اور سولی کا حکم دیا چنانچہ پہلے اس کے پیٹ میں چھری ماری گئی
قاضی ابو عبداللہ بن مرابط نے فرمایا کہ کوئی شخص اگر یہ کہے کہ نبی علیہ السلام کو شکست ہوئی تو اس سے توبہ کرائی جائے اور اگر وہ شخص توبہ نہ کرے تو اس کو قتل کر دیا جائے کیونکہ اس نے حضور کی توہین کی ہے
شیخ حبیب بن ربیع القروی نے کہا کہ امام مالک اور ان کے رفقاء علمی کا مسلک یہ ہے کہ جو شخص حضور علیہ السلام کے بارے میں ایسی بات کہے جس میں
اسلام اور احترام نبوت ﷺ
اہانت کا پہلو نکلتا ہو ایسے شخص کو بلا طلب توبہ قتل کر دیا جائے
اہانت نبی اور حکم کتاب وسنت
شیخ ابن عتاب نے فرمایا کہ کتاب وسنت سے یہ بات ثابت ہو چکی ہے کہ ایسے شخص کو قتل کرنا واجب ہے جو حضور علیہ السلام کو اذیت دے یا حضور علیہ السلام کی شان میں گستاخی کرے یا آپ کی شان کو گھٹانے کی کوشش کرے خواہ اس کا یہ فعل تعریضاً ہو یا تصریحاً، خواہ اس کی یاوہ گوئی کسقدر کم ہو
لہٰذا ان باتوں کو جنھیں علماء نے گالی وتوہین آمیز قرار دیا ہے ان کے کہنے والے یا ان میں سے ایک کے بھی کہنے والے کا قتل واجب ہے اور اس مسئلہ میں متقدمین ومتاخرین سب یک رائے ہیں اگر چہ اس کے حکم قتل میں اختلاف ہے جیسا کہ ہم نے اس جانب اشارہ بھی کیا اور آئندہ صفحات پر بھی اس موضوع پر تبصرہ کریں گے
میرے نزدیک اس کا بھی وہی حکم ہے جو شخص سرور کائنات ﷺ کی ذات اقدس پر تحقیر آمیز انداز میں بکریاں چرانے والا ، بھولنے والا اور اس کی مثل الفاظ کہے یا جادو کے اثرات سے متاثر ہونے یا کسی اور تکلیف کی وجہ سے جو زخم لگے لشکر کے ہزیمت اٹھانے یا دشمن کی ایذا رسانیوں کی وجہ سے جو اذیت آپ کو اٹھانی پڑی اس سے عار دلائے یا الزام تراشی کرے کہ آپ کا میلان (اپنی) عورتوں کی جانب زیادہ تھا ان تمام صورتوں میں اس قسم کی خرافات بکنے والے کو قتل کر دیا جائے بشرطیکہ یہ الفاظ تنقیص کے طور پر کہے ہوں
یہ قاضی رحمہ اللہ تعالیٰ کی گفتگو تھی ، کچھ حصہ پہلے بھی گزرا مگر ہم نے یہاں تمام کو جمع کر دیا کیونکہ یہی اس کا مقام تھا، شوافع ، احناف، اور حنابلہ تمام کی اس پر متفقہ تصریحات ہیں کہ یہ عمل، سب وارتداد اور موجب قتل ہے اگر چہ قبول
اسلام اور احترام نبوت
توبہ میں اختلاف ہے
سوال ۔ جب یہ عمل بدعقیدہ شخص سے ہو تو پھر کوئی اشکال نہیں لیکن جب کسی اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی تصدیق کرنے والے سے ہو تو پھر اسے کفر قرار دینا کیسے درست ہوگا ؟ خصوصاً ان کے نزدیک جو فقط تصدیق یا معرفت کو ایمان قرار دیتے ہیں حالانکہ کفر ، انکار یا جہالت ( مشہور یہی ہے ) کا نام ہے
البتہ ان لوگوں کے ہاں اس کو کفر قرار دینا درست ہو گا جو اعمال کو ایمان کا جز قرار دیتے ہیں تو اعمال کے زوال سے ایمان کا زوال ہو جائے گا
جواب ۔ امام الحرمین نے الشامل ، میں یہ سوال خوارج سے یوں نقل کیا
خوارج کی طرف سے شور برپا کیا جاتا ہے کہ بقول تمہارے ایمان تصدیق ہے تو لازم آئے گا اسے کامل ایمان والا جانیں جس نے کسی نبی کو قتل کیا یا تحقیر کی یا بت کے سامنے سجدہ کیا کیونکہ یہ تمام اعمال معرفت و عقیدہ کے منافی نہیں ، جبکہ ہمارا سب کا اتفاق ہے جس سے ایسے افعال صادر ہوں وہ کافر ہے تو یہ اس پر دلیل ہے کہ ایمان تصدیق قلبی کا نام نہیں
امام الحرمین کا جواب
پھر امام نے اس کا جواب دیتے ہوئے لکھا
عقلی طور پر ایسے فواحش کا معرفت کے ساتھ جمع ہونے کا ہم انکار نہیں کرتے جیسا کہ تم نے کہا کیونکہ افعال جوارح عقیدہ قلبی کے منافی نہیں ہو سکتے لیکن مسلمانوں کا اس پر اجماع ہے جس سے ایسا فعل صادر ہوا وہ کافر ہو گا تو اس اجماع سے ہم نے جان لیا کہ اللہ تعالیٰ ایسے افعال کا صدور اسی شخص کے حق میں کرے گا جس سے پہلے اس کی معرفت قلبی چھین لے گا
اسلام اور احترام نبوت ﷺ
اس پر دلیل یہ ہے کہ جس نے معصیت کا ارتکاب کیا خوارج اس پر لفظ عارف کا اطلاق مانتے ہیں اور اس کا انکار نہیں کرتے اگرچہ اسے مومن کا نام نہیں دیتے تو جس نے کسی نبی کو قتل کیا یا ان کی تحقیر کی تو امت کا اجماع ہے کہ ایسے شخص کو عارف باللہ نہیں مانا جائے گا، اور یہ اس اجماع کی طرح ہے کہ جس نے حضرت محمد ﷺ کی نبوت کا انکار کیا اسے عارف باللہ نہیں مانا جائے گا اور اس کی وجہ معرفت باللہ اور جہالت نبوت میں تضاد نہیں لیکن اللہ تعالیٰ ان لوگوں کی معرفت چھین لیتا ہے جو نبوت انبیاء کا انکار کرتے ہوئے ان پر ایمان نہ لائیں
شیخ (حسین بن محمد بن عبداللہ) النجار (ت، ۲۲۰) کہتے ہیں، ایمان، معرفت قلبی، اقرار باللسان، لزوم ارکان اور اللہ تعالیٰ کے لئے خضوع اور ترک تکبر کا نام ہے اور لکھا، ابلیس ملعون، تکبر کی وجہ سے کافر ہوا ورنہ وہ معرفت قلبی کے ساتھ اقرار باللسان بھی رکھتا تھا
امام ابوالحسن اشعری (ت، ۳۲۴) اور ان کے اکثر اصحاب کا مذہب یہ ہے کہ ایمان تصدیق کا ہی نام ہے البتہ معنی تصدیق میں اختلاف ہے کہ یہ معرفت ہی ہے یا علی التحقیق قول نفس ہے جس کا تقاضا معرفت ہے، قاضی ابن الباقلانی کا مختار یہی ہے
اسلاف کا مذہب یہ ہے کہ ایمان، معرفت قلبی، اقرار باللسان اور عمل بالارکان کا نام ہے اور اس میں اضافہ و کمی ہوسکتی ہے، نفی اعمال سے اس کی نفی نہیں ہوتی، اس بارے میں اسلاف کا مذہب ہی حق ہے تفصیل کی جگہ یہ نہیں
امام الحرمین نے سوال کے جواب میں جو کہا پہلے نفی معرفت کا فیصلہ ہوتا ہے، اس میں توقف ہے کیونکہ جب ہم حساً معرفت فرض کر رہے ہیں تو اس کی نفی سے مراد شرعاً نفی ہے تو اب ایمان کے شرعی معنی کی طرف
اسلام اور احترام نبوت ﷺ
لوٹ آئے جس کی تفصیل کی محتاجی ہے
حاصل یہ ہوا کہ تصدیق کے ساتھ ایک اور امر کا متصل ہونا ضروری ہے جس کا دل میں حلول اور وہ اس کا عمل ہو اور وہ رسول اللہ ﷺ کی تعظیم ، اجلال، توقیر ومحبت، اوامر و نواہی کی قبولیت پر اطمینان اور اس کے لئے یہی فرما برداری ہے تو جو اس سے تکبر کرے گا یا تحقیر و ذلت کا مرتکب ہوگا وہ اس کے متضاد ہوگا تو ضد اثر تصدیق کی موجودگی میں تصدیق کی نفی ہو جائے گی اگر چہ تصدیق صورۃً موجود ہے جب تصدیق پر اس کا اثر مرتب نہیں ہورہا اور اس کا معارض تصدیق کی وجہ سے موجود ہے تو عمل کالعدم ہوگی
کفر کی دو اقسام
تو کفر دو طرح کا ہے
- ۱۔ جہالت وانکار کی وجہ سے کفر
- ۲۔ معرفت وتصدیق کے ساتھ کفر اور ان دونوں کا معارض ومتضاد کا وجود مثلاً یہود
وابلیس کا کفر، جب ہم نے ان سے یہ معرفت وتصدیق کی نفی مانی تو واضح ہوگیا کہ مراد یہی معرفت ہے جو معتبر ہے
کفر گستاخ جو اپنے کو تصدیق کنندہ گردانتا ہے وہ بھی اسی قبیل سے ہے تو اس کے کفر میں کوئی شبہ نہیں خواہ اسے حلال جانے یا نہ جانے، جاہل ہو یا عالم، جس فقیہ نے حلال نہ جانے کی صورت میں اس کی تکفیر میں توقف کیا اس پر ماخذ تکفیر مخفی رہا اور یہ تحقیر نبی اس توقیر کے منافی ہے جو شرط ایمان ہے
حضرت فاروق اعظم کا عمل
اسی وجہ سے حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے اس کی گردن اڑا دی
اسلام اور احترام نبوت ﷺ
جس نے حضور ﷺ کا فیصلہ نہ مانا، باقی یہ کہنے والے، یہ تمہارا پھوپھی زادہ تھا اس لئے تم نے اس کے حق میں فیصلہ کیا، اور اس طرح دیگر اعراب کو سرور عالم ﷺ نے قتل نہ کروایا، اس کی حکمتیں پیچھے گزر چکی کہ ان کا ترک قتل، منافقین کے ترک قتل کی طرح تھا
منقول ہے کہ ایسا کہنے والا بدری تھا، اگر صحیح ہے تو اس کا معنی یہ ہوگا کہ یہ اس کے بعد بدری بنا اور یہ واقعہ بدر سے پہلے کا ہے کیونکہ بدر میں حاضر ہونے والا مغفور ہے لیکن ایسا کفر معاف نہیں البتہ مغفرت کا معنی اگر یہ کیا جائے کہ اس کا خاتمہ اسلام پر ہوگا تو پھر اس کی بخشش ہے
الفاظ سب
جو الفاظ سب کفر ہیں ان میں سے کچھ سب، پر علماء نے قبول توبہ میں اختلاف کیا ہے، ان میں کچھ محض ارتداد ہیں اور سب نہیں، ان پر توبہ مقبول بشرطیکہ کفر چھپانے والا زندیق نہ ہو، اس کی توبہ میں بھی اختلاف ہے، سب ہے یا نہیں اس کا مدار عرف پر ہی ہے، سابقہ کلام علماء سے اس کے مشابہ پر استدلال کیا جاسکتا ہے
فرع، آپ کی والدہ اور سب
جس آدمی نے نبی ﷺ کی والدہ پر تہمت لگائی وہ گستاخ ہے کیونکہ اس نے آپ ﷺ کے نسب پر طعن کیا، حنابلہ نے اس پر تصریح اور اتفاق کیا ہے، دیگر نے بھی ان کی مخالفت نہیں کی، اگر کسی نے قذف کے علاوہ سب و شتم کیا تو اس کے بارے میں بعض حنابلہ نے مطلقاً کہا جس نے نبی کی والدہ کو سب و شتم کیا اسے قتل کر دیا جائے گا خواہ وہ مسلمان ہے یا کافر
(المغنی، ۱۰: ۲۳۰)
اسلام اور احترام نبوت ﷺ
ابن تیمیہ نے لکھا یہاں حنابلہ کی سب سے مراد قذف ہی ہے جیسا کہ جمہور کی تصریح ہے کیونکہ قذف
(الصارم المسلول، )
ہی سب نبی ہے
فرع، سیدہ عائشہ اور سب
امام مالک رضی اللہ عنہ نے فرمایا جس نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا پر سب کیا ،اسے قتل کیا جائے گا، وجہ پوچھی گئی تو فرمایا جس نے انھیں ایسا کہا اس نے قرآن کی مخالفت کی، امام ابن شعبان نے انہی سے یہ دلیل نقل کی کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد مقدس ہے
يعظكم الله ان تعودوا لمثله اللہ تعالیٰ تمہیں نصیحت فرماتا ہے کہ اب ابداً ان کنتم مومنین کبھی ایسا نہ کہنا اگر ایمان رکھتے ہوں (النور، ۱۷)
تو جس نے اس کا اعادہ کیا وہ کافر ہوگا
امام ابو الحسن الصقلی نے امام ابو بکر ابن الطیب باقلانی (ت،۴۰۳) سے نقل کیا ، جب مشرکین نے اللہ تعالیٰ کی طرف غلط اشیاء کی نسبت کی تو اس نے اپنی ذات کی تسبیح فرمائی مثلاً
وقالوا اتخذ الله ولدا سبحنہ اور بولے خدا نے اپنے لئے اولاد رکھی (البقرہ،۱۱۶) پاکیزگی ہے اُسے
جب منافقین نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے بارے میں غلط بات کی تو فرمایا
ولولا اذ سمعتموه قلتم اور کیوں نہ ہوا جب تم نے سنا تھا کیا ہوتا ما يكون لنا ان نتكلم بھذا کہ ہمیں نہیں پہنچتا کہ ایسی بات کہیں الٰہی سبحانک (النور،۱۶) پاکیزگی ہے تجھے
اسلام اور احترام نبوت ﷺ
تو سیدہ کی برائی سے طہارت کا بیان اپنی ذات اقدس کی تسبیح سے کیا، اس سے امام مالک کے قول کی تائید ہو جاتی ہے
اس کا مفہوم یہ ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے سیدہ کے سبّ کو عظیم قرار دیتے ہوئے ان کے سبّ کو اپنے نبی کا سبّ قرار دیا اور نبی کے سبّ واذیت کو اپنی ذات کا سبّ واذیت قرار دیا تو اللہ تعالیٰ کو اذیت دینے والے کا حکم قتل لہٰذا نبی کو اذیت دینے والے کی سزا بھی قتل ہے
(الشفاء ۲: ۳۰۹)
اسے حنابلہ میں سے امام ابو یعلی نے نقل کیا، ابن تیمیہ نے لکھا اس پر متعدد اہل علم نے اجماع نقل کیا ہے
(الصارم المسلول)
فرع ، دیگر ازواج مطہرات اور سبّ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے علاوہ دیگر ازواج مطہرات کو سبّ کرنے والے کے بارے میں قاضی عیاض مالکی نے دو اقوال نقل کیے ہیں
قول اول، اسے قتل کیا جائے گا کیونکہ بیوی کے سبّ کے ذریعے نبی ﷺ کو سبّ کیا ہے
قول ثانی، ان کا حکم دیگر صحابہ کی طرح ہے اس سے حد قذف وافتراء جاری کی جائے گی اور لکھا میرا مختار قول اول ہے
(الشفاء، ۲: ۳۱۱)
بعض نے کہا یہی بات حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے منقول ہے کیونکہ اس صورت میں نبی اکرم ﷺ پر یہ نقص وعار ہے
شیخ ابو بکر بن زیاد نیشاپوری (ت، ۳۲۴) نے لکھا
میں نے شیخ قاسم بن محمد (ت،۲۷۶) سے شیخ اسماعیل بن اسحاق (ت، ۲۸۲) کے حوالے سے سنا ، مامون الرشید کے پاس شہر رقہ میں دو آدمیوں
اسلام اور احترام نبوت ﷺ
کو لایا گیا ایک نے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنھا جبکہ دوسرے نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنھا کو برا کہا تھا انھوں نے سیدہ فاطمہ سلام اللہ علیہا کے گستاخ کو قتل اور سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالی عنھا کے گستاخ کو چھوڑ دیا ، شیخ اسماعیل نے فرمایا ان دونوں کا حکم قتل ہی تھا کیونکہ جس نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنھا کو گالی دی اس نے قرآن کی مخالفت کی
(شرح اعتقاد اہل السنۃ ۹۳۳۹۲)
اہل بیت اور دیگر اہل فقہ و علم کا طریقہ بھی یہی ہے
امام ابو السائب (ت، ۲۷۰) نے لکھا
میں طبرستان کے مبلغ امام حسن بن زید کے پاس تھا ، وہ صوف پہنتے ، نیکی کا حکم دیتے اور برائی سے روکتے ، ہر سال بیس ہزار دینار بغداد مدینۃ السلام میں اولاد صحابہ پر خرچ کرتے ، ان کی مجلس میں کسی نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنھا کے بارے میں نہایت ہی بد اور فحش بات کی تو فرمایا نوجوانوں اس کی گردن اڑا دو، علوی لوگوں نے کہا کہ یہ آدمی ہمارے محبین میں سے ہے فرمایا معاذ اللہ ، اس نے رسول اللہ ﷺ پر طعن کیا ، ارشاد الہی ہے
الخبیثت للخبیثین والخبیثون گندیاں گندوں کے لئے اور گندے للخبیثت والطیبت للطیبین گندیوں کے لئے اور ستھریاں والطیبون للطیبت اولئک ستھروں کے لئے اور ستھرے ستھریوں کے مبرؤن مما یقولون لئے وہ پاک ہیں ان باتوں سے جو یہ (النور، ۲۶) کہہ رہے ہیں
اگر سیدہ عائشہ رضی اللہ عنھا خبیثہ ہیں تو نبی ﷺ (نعوذ باللہ ) خبیث قرار پائیں گے لہذا یہ کافر ہے اس کی گردن اڑا دو تو انھوں نے میری موجودگی میں اسے قتل کر دیا
اسلام اور احترام نبوت ﷺ
اسے شیخ اللالکائی نے نقل کیا
(شرح اصول اعتقاد اہل سنہ، ۲۴۰:۲)
امام حسن بن زید کے بھائی امام محمد بن زید رضی اللہ عنہم سے ہے کہ ان کی خدمت میں عراقی آدمی نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنھا کا غلط انداز میں تذکرہ کیا، تو ایک بھاری ڈنڈا لیکر اس کے سر پر مارا اور اسے قتل کر دیا
(ایضاً، ۲۴۰:۲)
فرع، دیگر صحابہ کی گستاخی
اگر کسی نے دیگر صحابہ میں سے کسی کی گستاخی کی تو ایسے کو کوڑے مارے جائیں گے اس پر اہل علم کا اتفاق ہے، امام احمد فرماتے ہیں میں قتل کا نہیں کہتا مگر عبرتناک سزا کا قائل ہوں، اصحاب شافعی میں ان روافض کی تکفیر میں اختلاف ہے جو حضرت ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنھما کو سب وشتم کریں
امام ابو مصعب نے امام مالک سے نقل کیا
جس نے اہل بیت نبی ﷺ کی طرف منسوب کو سب وشتم کیا اسے اعلانیہ سخت سزا دی جائے اور طویل مدت قید میں ڈالا جائے حتی کہ وہ توبہ کر لے کیونکہ یہ رسول اللہ ﷺ کے حق کو حقیر جاننا ہے
امام ابو المطرف الشعبی فقیہ مالقہ نے اس آدمی کے بارے میں فتویٰ دیا جس نے عورت کے رات کو حلف اٹھانے کے بارے میں کہا، اگر یہ ابوبکر صدیق کی بیٹی ہوتی تو یہ دن کو ہی حلف اٹھاتی، ایک جعلی فقیہ نے اس کی تصویب کر دی ، شیخ ابو المطرف نے فرمایا، اس نے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی بیٹی کا ذکر اچھے مقام پر نہیں کیا لہذا اسے سزا دیتے ہوئے طویل عرصہ قید میں ڈال دو، جس نے اس کی تصویب کی ہے اسے فقیہ کے بجائے فاسق کہو، لہذا اس پر جرح ہوئی اور اس
اسلام اور احترام نبوت ﷺ
کا فتویٰ قبول نہیں کیا اور نہ اس کی شہادت، یہ تصویب اس کے لئے جرح بن گئی اور لوگوں نے اللہ تعالیٰ کی خاطر اس سے بائیکاٹ کیا
(الشفا ۲: ۲۱۱)
کسی سلطان کے لئے اسے معاف کرنا جائز نہیں جو کسی صحابی کی گستاخی کرے بلکہ اسے سزا دے اور اس سے توبہ کا تقاضا کرے، اگر توبہ کر لے تو قبول اور اگر توبہ نہ کرے تو پھر سزا دے اور قید میں ڈالے حتی کہ مرجائے یا رجوع کرلے حضرت عمر بن عبدالعزیز رضی اللہ عنہ کے پاس حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو گالی دینے والا لایا گیا پوچھا، ایسا تو نے کیوں کیا؟ کہنے لگا میں ان سے بغض رکھتا ہوں فرمایا، اگر تو کسی کو ناپسند کرتا ہے تو اسے گالی دے گا؟ اسے تیس کوڑوں کی سزا دی، اسی طرح حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کا گالی دینے والے کو کوڑے لگوائے
(شرح اصول اعتقاد، ۲۳۸۳)
امام ابن منذر نے فرمایا لا اعلم احدا يوجب القتل میں کسی کو نہیں جانتا جو حضور ﷺ کے عن سب من بعد النبى ﷺ بعد کسی کو گالی دینے والے کو قتل کا حکم (الاشراف ۱۶۱:۳) دے
امام ابن منذر کا کلام اپنے اطلاق کی وجہ سے سیدہ عائشہ اور دیگر کو شامل ہے اس میں خوب غور کیا جائے اگر دونوں کلام (قتل اور عدم قتل) صحیح ہیں تو جواب یہ ہوگا اول وجہ حضور ﷺ کی وجہ سے ہی ہے
امام ابو یعلیٰ حنبلی لکھتے ہیں، صحابہ کو گالی دینے والوں کے بارے فقہاء کا قول یہ ہے اگر حلال جانے تو وہ کافر ہے، اگر حلال نہیں جانتا تو فاسق ہے کافر نہیں
اسلام اور احترام نبوت ﷺ
اور لکھا
اہل کوفہ اور دیگر اہل علم سے ایک گروہ نے صحابہ کو گالی دینے والوں کے قتل اور روافض کو کافر ہی قرار دیا
(الصارم المسلول)
امام محمد بن یوسف فریابی (ت،۲۱۲) سے حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو گالی دینے والے کے بارے میں سوال ہوا، فرمایا کافر ہے، پوچھا اس کا جنازہ پڑھا جائے گا؟ فرمایا نہیں
(کتاب السنہ للخلال، ۷۹۴)
جو روافض کی تکفیر کرتے ہیں ان میں امام احمد بن یونس (ت،۲۲۷) امام ابو بکر ہانی اثرم (ت،۲۷۳) بھی ہیں، دونوں نے فرمایا ان کا ذبیحہ نہ کھایا جائے یہ مرتد ہوتے ہیں
(شرح اصول اعتقاد، ۲۸۱۷)
اسی طرح امام کوفہ عبداللہ بن ادریس (ت،۱۹۲) نے فرمایا رافضی کے لئے شفعہ کا حق نہیں ہوتا کیونکہ شفعہ مسلمان کا حق ہے
امام احمد سے روایت ابو طالب میں ہے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو گالی دینا زندقہ ہے
(کتاب السنہ للخلال، ۴۸۱)
جو تکفیر نہیں کرتے ان کا اس پر اتفاق ہے کہ صحابہ پر تبرا کرنے والا فاسق ہے، حضرت امام مالک رضی اللہ عنہ کے کمالات علمی اور محاسن میں سے ہے کہ انھوں نے اس ارشاد الٰہی سے یہ مسئلہ استنباط کیا کہ روافض کا فئ میں حق نہیں
والذین جاؤا من بعدہم یقولون اور وہ لوگ جو ان کے بعد آئے عرض کرتے ربنا اغفر لنا ولاخواننا الذین ہیں ہمارے رب ہمیں بخش دے اور
اسلام اور احترام نبوت ﷺ
سبقونا بالايمان ولا تجعل فی ہمارے بھائیوں کو جو ہم سے پہلے ایمان قلوبنا غلا للذين امنوا ربنا لائے اور ہمارے دل میں ایمان والوں کی انک رؤف رحیم طرف سے کینہ نہ رکھے اے ہمارے رب بے (الحشر:۱۰) شک تو ہی نہایت مہربان رحم والا ہے
جو حضرت ابوبکر صدیق اور حضرت عمر فاروق اعظم رضی اللہ عنہما کو برا کہنے والے کا قتل لازم مانتے ہیں
ان میں صحابی رسول حضرت عبدالرحمٰن بن ابزی رضی اللہ عنہ بھی ہیں
(شرح اصول اعتقاد، ۲۳۷۸) (کتاب السنۃ للخلال، ۲۵۵)
زبان کاٹ دوں
مروی ہے ، حضرت عبید اللہ بن عمر اور حضرت مقداد رضی اللہ عنہم کے درمیان جھگڑا ہو گیا ، حضرت عبید اللہ نے حضرت مقداد رضی اللہ عنہ کو سب وشتم کیا ، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے جلاد لانے کا حکم دیا اور فرمایا میں اس کی زبان کاٹ دوں گا تاکہ اس کے بعد کوئی شخص صحابہ رسول کے بارے میں ایسی جرأت نہ کرے
(شرح اعتقاد اہل السنۃ، ۲۳۷۶)
تو آپ نے سفارش اور حضرت مقداد رضی اللہ عنہ کے معاف کرنے کی وجہ سے چھوڑ دیا
لیکن جو حضرت علی رضی اللہ عنہ کو خدا وغیرہ کا درجہ دے اس کے کفر میں کوئی شک نہیں
فرع ، حضور کی طرف جھوٹ منسوب کرنا
جس نے حضور ﷺ کے حوالے سے جھوٹ بولا ، اس کے کفر ، لزوم قتل وتوبہ میں اختلاف ہے لیکن یہ مقام تفصیل نہیں
اسلام اور احترام نبوت ﷺ
فصل ثانی، کفار کا سب
ہر کفر سب نہیں، اسی وجہ سے اگر ذمی سے الفاظ کفر صادر ہوں مگر وہ سب نہ ہوں تو اس کا عہد ختم نہیں ہوگا اور نہ ہی لزوم قتل کیونکہ ہم نے انھیں اس پر قائم رہنے کا اقرار کر رکھا ہے ہاں اگر سب ہو تو اس کا عہد ختم اور قتل لازم اس لئے کہ ہم نے اس کی اجازت انھیں نہیں دی پیچھے تفصیل سے یہ فرق مسلمان میں بھی گزر چکا ہے کہ اول صورت میں قبول توبہ ہے جبکہ دوسری صورت قبول توبہ میں اختلاف ہے
باب ثانی کی فصل ثانی میں ہمارے اصحاب کا اس بارے میں اختلاف آچکا ہے، کیا جب وہ اسے عقیدہ و دین مانے، اس میں اور دوسری صورت میں کوئی فرق ہے ؟ ہمارا مختار یہی تھا کہ کوئی فرق نہیں اگر چہ شیخ صیدلانی اور دیگر نے فرق کو ترجیح دی ہے ہر حال میں بلاشبہ شتم، وسب امر موجب قتل ہے خواہ اس میں تکرار ہو یا نہ ہو اعلانیہ لوگوں کے سامنے ہو یا مخفی خلوت میں ہو جبکہ اس پر دو گواہ ہوں یا اقرار ہو کیونکہ دو گواہوں کے سامنے اقرار اور اس کا تلفظ بھی اظہار ہی کی صورت ہے
ہاں اگر یہ صورت ہو کہ کافر نے گھر میں یہ سمجھ کر گستاخی کی کہ کوئی نہیں سن رہا مگر پڑوسی مسلمانوں نے یا کسی کان لگانے والے نے سن لی اور گواہی دی تو کلام حنابلہ میں اس طرف اشارہ ہے کہ اس کا مؤاخذہ نہ کیا جائے دیگر آئمہ کے کلام میں نہیں ملا شاید ان کا اطلاق اسی پر محمول ہو
حنابلہ (قاضی ابو یعلی اور امام ابن عقیل) کہتے ہیں
جو شئی ایمان کو باطل کر دیتی ہے اگر اسے کوئی اعلانیہ کرے تو اس سے امان باطل ہو جائے گا کیونکہ اسلام کا درجہ عقد ذمہ سے بڑا پختہ ہے جب کلام، اسلام کی حفاظت دم ختم کرے تو اس سے حفاظت ذمہ بطریق اولی ختم ہو جائے گا البتہ ان کے
اسلام اور احترام نبوت ﷺ
درمیان ایک اور وجہ سے فرق ہے کیونکہ جب مسلمان رسول کو سب کرے گا تو یہ رسول اللہ ﷺ کے بارے میں اس کا سوء اعتقاد ہے لہٰذا یہ کافر ہوگا اور ذمی کا اعتقاد ہمیں معلوم ہے اور اسی کے اعتقاد پر اسے قرار دیا گیا ہاں یہ عہد ہے کہ وہ مخفی رکھے نہ کہ اعلانیہ تو اظہار وخفا میں تفاوت واضح ہو گیا،
امام ابن عقیل فرماتے ہیں جیسے مسلمان سے عہد ہے کہ ایسا اعتقاد نہ رکھے ایسے ہی ذمی سے اعلانیہ نہ کرنے کا عہد ہے تو ذمی کا اظہار مسلمان کے خفا کی طرح ہے ،ذمی کا خفا اسلام کے لئے ضرر نہیں اور نہ ہی اس کی ہتک البتہ اعلانیہ میں اسلام کا ضرر اور بے عزتی ہے اسی لئے مسلمان کے باطنی جرائم کی تلاش نہیں کرتے ہاں اگر اعلانیہ کرے تو پھر اس پر حدود الٰہی کا اجرا کریں گے
قاضی ابو یعلیٰ اور امام ابن عقیل نے یہ قیاس ہر اس کلام میں جاری کیا جس سے ایمان ختم ہو جائے مثلاً نصاریٰ کا قول ، اللہ ، ان تین میں سے تیسرا ہے وغیرہ تو ذمی نے اگر اعلانیہ شرک کا اعلان کیا تو عہد ختم جیسا کہ ہمارے نبی ﷺ کے بارے میں اپنے عقیدہ کا اعلان کرے تو اس کا عہد ختم
(الصارم المسلول)
امام احمد سے اس یہودی کے بارے میں سوال ہوا جو مؤذن کے پاس سے گزرا جو اذان دے رہا تھا تو اس نے کہا تو جھوٹ کہہ رہا ہے فرمایا اسے قتل کیا جائے گا کیونکہ اس نے گالی دی ہے
(احکام اہل الملل ،۲۲۳)
جمہور مالکیوں کا یہی قول ہے ہر گستاخی پر قتل کیا جائے گا خواہ وہ اسے حلال جانتا ہو یا نہ جانتا ہو شیخ ابو مصعب نے نصرانی کے بارے میں کہا جس نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو حضور ﷺ پر فضیلت دی اس کے بارے میں (زہری نے) مجھ سے اختلاف کیا لیکن میں تو اسے ایسی ضرب لگاؤں گا جو اسے قتل کر دے یا فقط
اسلام اور احترام نبوت ﷺ
ایک دن و رات زندہ رہے اور میں حکم دوں گا اسے پاؤں سے گھسیٹ کر کوڑے کی جگہ پھینک دو تا کہ اسے کتے کھائیں
انہی نے اس نصرانی کے بارے میں قتل کا فتویٰ دیا جس نے کہا حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے محمد ﷺ کو پیدا کیا
اندلس کے اسلاف نے نصرانی عورت کے بارے میں قتل کا فتویٰ دیا جس نے ذات رب کا انکار کرتے ہوئے اعلانیہ کہا عیسیٰ علیہ السلام، اللہ کے بیٹے ہیں
(الشفاء:۲۶۶)
شیخ ابن قاسم نے فرمایا جس نے یوں گستاخی کی یہ نبی نہیں یا انھیں رسول نہیں بنایا گیا یا ان پر قرآن نازل نہیں کیا گیا جب کہ یہ گھڑا گیا ہے وغیرہ تو اسے قتل کیا جائے گا اگر کہا محمد تمہاری طرف رسول ہیں نہ کہ ہماری طرف، ہمارے نبی موسیٰ یا عیسیٰ ہیں وغیرہ تو اب کوئی سزا نہیں کیونکہ ہم نے انھیں اس پر پناہ دے رکھی ہے
انھوں نے فرمایا اگر نصرانی نے کہا ہمارا دین، تمہارے دین سے بہتر ہے تمہارا دین تو گدھوں کا ہے، اس کی مثل کوئی قبیح کلمہ کہا یا مؤذن کو یہ کہتے ہوئے سنا اشھد ان محمداً رسول اللہ تو کہا اسی طرح کا اللہ تمہیں بھی عطا کرے تو اس پر تعزیری سزا اور طویل قید کی سزا ہوگی ، یہی قول امام محمد بن سحنون کا ہے جو انھوں نے اپنے والد گرامی سے نقل کیا
ان کا ایک قول اور بھی ہے، جب کافر نے گستاخی کفریہ کلمات سے کی تو پھر قتل نہ کیا جائے گا ، امام سحنون نے امام ابن القاسم سے نقل کیا جس یہودی اور نصرانی نے انبیاء کی کفر کے علاوہ سے گستاخی کی اس کی گردن ماری جائے گی اگر وہ مسلمان نہ ہو
(الشفاء:۲۶۵)
اسلام اور احترام نبوت ﷺ
یہ مذاہب ثلاثہ کی تصریحات اور ان میں اختلاف ہے، کیا ان کے دین واعتقاد اور اس کے غیر میں فرق ہوگا یا نہیں، صحیح مختار یہی ہے کہ کوئی فرق نہیں اور یہ جمہور علماء کا موقف ہے کیونکہ اکثریت جنھوں نے حضور ﷺ کی گستاخی کی وہ اسے اپنا اعتقاد ہی تصور کرتے تھے مثلاً ساحر، کاہن وغیرہ ان میں سے کسی کے بارے میں یہ منقول نہیں کہ اس نے حضور ﷺ کے نسب پر طعن کیا اور نہ کسی فحش و عیب کی آپ کی طرف نسبت کی اور نہ ہی ان میں سے کوئی اعتقاد رکھتا تھا جنھوں نے گستاخی کی اور ان کے خون کو مباح قرار دیا ، ان کا نقض قسم اول سے ہی تھا اور اس لئے بھی تہمت وغیرہ کے ساتھ گستاخی، قتل لازم کرتی ہے کیونکہ یہ نبوت پر طعن کا وسیلہ ہے جب وسیلہ، نقض عہد لازم کرتا ہے تو مقصود سے بطریق اولی نقض ہوگا اگر ان کے اعتقاد کی وجہ سے انھیں قتل نہ کیا جائے تو پھر گستاخی پر قتل کا امکان ہی ختم ہوجائے گا کیونکہ ہر گستاخی میں کہہ سکتے ہیں یہ ہمارا اعتقاد ہے
اعتقاد اور غیر کا فرق
اعتقاد اور غیر اعتقاد میں فرق اہل الرائے کے مطابق جاری ہوگا کہ عہد کسی گستاخی سے نہیں ٹوٹتا لیکن اولیٰ میں ہے کہ جمہور کی موافقت کرتے ہوئے ان دونوں کو برابر سمجھا جائے بشرطیکہ وہ گستاخی بنے اور اس کا مدار عرف پر ہے کیونکہ جس کا شرع اور لغت میں تعین نہ ہو وہاں عرف وعادت کی طرف رجوع لازم ہے جسے اہل عرف گستاخی قرار دیں گے ہم بھی اسے ہی کہیں گے ورنہ نہیں
جزئیات کا تذکرہ
یہاں کچھ جزئیات کا تذکرہ ضروری ہے تا کہ فقیہ ان پر اعتماد کرتے ہوئے ان سے قاعدہ کلیہ اخذ کر کے حکم جاری کر سکے گستاخی پر گفتگو یا بطور حکایت
اسلام اور احترام نبوت ﷺ
اسے زبان پر لانا اور اس کا دل میں تصور کرنا نہایت ہی شدید و پریشان کن معاملہ ہے لیکن بیان احکام کی وجہ سے مجبوری ہے پھر ہم اس کا خاص محل نہیں بلکہ تعین مسبوب کے بغیر مطلق کلام کریں تا کہ فقیہ فائدہ اٹھا سکے
گستاخی کی اقسام
گستاخی دو قسم پر ہے دعا اور خبر، پہلی قسم بددعا مثلاً لعنت، ذلت، قباحت ، عدم رحمت رضوان، جڑ کٹ جائے، ذکر بلند نہ ہو وغیرہ کی دعا کرنا یہ تمام گستاخی کے کلمات ہیں خواہ مسلمان سے صادر ہوں یا کافر سے، یہ فرق بھی نہیں کہ مسلمان نے مخفی کہا اور اس پر گواہ تھے یا اعلانیہ کیا جب کافر آپ ﷺ کے بارے میں اعلانیہ دعا اور مخفی طور پر بددعا کرے مثلاً السام علیکم (تم پر موت ہو) بطور سلام کہے تو علماء کا اختلاف ہے، بعض نے کہا یہ گستاخی ہے لہذا قتل کیا جائے گا، حضور ﷺ نے یہودی کو اگر ایسی صورت میں معاف فرمایا تو یہ کمزوری اسلام کا وقت تھا یا آپ نے اسے معاف کر دیا، بعض نے کہا یہ گستاخی نہیں جس سے عہد ختم ہو جائے کیونکہ یہ اعلانیہ نہ تھی البتہ بعض سامعین (سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا) نے اسے محسوس کر لیا تھا
دوسری قسم، خبر، مثلاً برا نام رکھنا، نقص و استہزاء کے ساتھ خبر دینا، لکنت کا عیب لگانا، عذاب گناہ کے وقوع کی بات کرنا، بطور طعن آپ کی تکذیب کرنا، جادوگر، دھوکہ دینے والا، حیلہ ساز کہنا جو لایا ہے باطل اور جھوٹ ہے اگر شعر میں کہے تو زیادہ قبیح ہوگا کیونکہ شعر یاد ہو جاتا ہے پڑھا جاتا ہے اور دلوں میں مؤثر ہوتا ہے اور اگر ترنم کے ساتھ لوگوں کے اندر پڑھا جائے تو اس کا معاملہ بہت ہی پریشان کن ہوتا ہے
اسلام اور احترام نبوت ﷺ
البتہ اگر بغیر طعن اپنے عقیدہ کے بارے میں اطلاع دے مثلاً میں ان کا متبع نہیں ہوں یا میں ان کی تصدیق کرنے والا نہیں یا میں ان سے محبت نہیں رکھتا یا میں ان کے دین کو پسند نہیں کرتا وغیرہ تو عقیدہ کا بیان ہے اور اس میں طعن نہیں کیونکہ عدم تصدیق و محبت بعض اوقات جہالت ، عناد اور حسد کی وجہ سے ہوتی ہے جب کسی نے کہا وہ رسول و نبی نہیں اور نہ ہی ان پر کوئی شئی نازل کی گئی ہے تو یہ ایسی تکذیب ہے جس کے ضمن میں آپ ﷺ کو جھوٹا کہنا ہے کیونکہ وہ ہمارے واسطہ سے جانتے ہیں کہ آپ نے رسول اللہ ہونے کا اعلان فرمایا
اہل علم کا اس میں اختلاف ہے اسے انھوں نے کفر و عذاب کے لائق نہیں کہا کیونکہ یہ صریح گستاخی نہیں ہے جبکہ مذکورہ جملہ بالواسطہ گستاخی ہے
فرع
کافر نے اگر اللہ تعالیٰ کی گستاخی کی اور پھر مسلمان ہو گیا تو اسلام درست اور قتل ساقط لیکن اگر اس نے حضور ﷺ کی گستاخی کی اور اسلام لے آیا تو اس میں اختلاف ہے کیونکہ یہ حق آدمی ہے، اگر مسلمان نے اللہ تعالیٰ کی گستاخی کی اسلام لے آیا تو امام مالک اور دیگر لوگوں کے ہاں اس کے قبول توبہ اور سقوط قتل میں اختلاف ہے کیونکہ اس کا مسلمان ہونے کے باوجود گستاخی کرنا زندیق ہونے پر دال ہے
فرع
باقی انبیاء علیہم السلام اور ملائکہ کی گستاخی بالاتفاق حضور ﷺ کی گستاخی کی طرح ہے
گستاخ کی وراثت
گستاخ قتل کر دیا جائے یا گستاخی کے بعد طبعی موت مر جائے تو اس کی
اسلام اور احترام نبوت ﷺ
وراثت کا حکم کیا ہے؟ مسلمان اگر اس حال میں مرے یا اسے اس حال میں قتل کر دیا جائے تو اس کا حکم باقی مرتدین والا ہے، اگر اس نے توبہ کر لی اور اسلام کی طرف لوٹ آیا جو اس کی توبہ مقبول مانتے ان کے ہاں اس کا مسلمانوں والا حکم ہوگا اور جو توبہ مقبول نہیں مانتے اور کہتے ہیں بطور حد اس کا قتل ہے ان کے ہاں اس کی وراثت دیگر مسلمانوں کی طرح ورثاء میں تقسیم ہوگی جیسے کہ زانی شادی شدہ کا حکم ہے
میراث زندیق
امام مالکؒ سے میراث زندیق میں اختلاف ہے کیا وہ ورثاء کے لئے یا جماعت مسلمین کے لئے ہے جب توبہ سے انکار کرے یا توبہ کر لے کیونکہ اس کی میراث خون کے تابع ہے، کافر گستاخ قتل ہوا، امام ابن قاسم کہتے ہیں اس کی وراثت مسلمانوں کے لئے ہے لیکن بطور میراث نہیں کیونکہ دو ملتوں کے درمیان وراثت نہیں ہاں نقض عہد کی وجہ سے یہ مال فئ ہے۔
اسی طرح قاضی عیاضؒ نے نقل کیا اور یہی امام شافعیؒ کے قول کہ اس کے عہد کے ختم کا تقاضا ہے پہلے ہم نے بیان کیا کہ ممکن ہے اس کا قتل بطور حد اور عہد باقی ہو تو اسکی میراث کافر ورثاء کے لئے ہوگی لیکن قول امام شافعیؒ اور دلیل کا تقاضا اول یہی ہے، اس کی امام ابن قاسمؒ نے تصریح کی ہے لہذا یہی اصح ہے
پا پر قائم ہے، جس کی بدولت نبی بے نقاب ہے۔ کی علامت کے طور پر بیان کیا گیا نور ہے۔ چنانچہ سیرت نبویؐ کا مل سیرت اور کردار کی طہارت اور کے اولین دور کی سعی جدوجہد اور موم مقاصد میں کامیاب ہوسکیں پاسبان خود اللہ رب العالمین ہے وا جسارتیں تھیں قدم بقدّم جھیلنے پڑے پھر جس کا سامنا ان کے آبا و اجداد ابدی کی خاطر مسلمان عالم پر یہ نیا میں اور ہر سطح اور زاویے سے سے منسلک ہوں۔ وہ اپنی اجتماعی وانفرادی زندگی میں لام کو کفر و اسلام کی آویزش اور کفار ت پر مبنی سیرت و تعلیمات کو اجاگر کیا ہشت گردی کی نسبت کر سکتا ہے؟! یقت میں۔ عالم کفر کی سازشوں سے پردہ کیا، عالم کفر کی سازشوں سے پردہ ﷺ کے دفاع و تحفظ کی خاطر اپنی منجانب: مکتبہ قادریہ رضویہ
اسلام اور احترام نبوت ﷺ
باب رابع
مقام مصطفی ﷺ
اس کی چار اقسام
- ا۔ اللہ تعالیٰ کے ہاں
- ۲۔ حضور ﷺ تک
- ۳۔ احادیث مبار
آپ کے ہاتھوں
اسلام اور احترام نبوت ﷺ
باب رابع
مقام مصطفیٰ ﷺ اور آپ کے ہم پر لازم حقوق
اس کی چار اقسام ہیں
- ۱۔ اللہ تعالیٰ کے ہاں حضور ﷺ کی عظمت اور قرآن میں آپ ﷺ کی تعریف
- ۲۔ حضور ﷺ تمام محاسن اور کمالات کے جامع ہیں
- ۳۔ احادیث مبارکہ اور آثار صحابہؓ میں آپ کی تعظیم و ثناء
- ۴۔ آپ کے ہاتھوں آیات و معجزات کا ظہور
کا پیغام ہے، جس کی بدولت ہی مکلف ہے۔ کی علامت کے طور پر بیان کیا گیا نور ہے۔ چنانچہ سیرتِ نبویؐ کا اہلِ سیرت اور کردار کی طہارت اور کے اولین دور ہی میں حقد و عدوان مذموم مقاصد میں کامیاب ہو سکیں پاسبان خود اللہ رب العالمین ہے واپس جائیں انھیں قدم بقدم ہزیمت ہے جس کا سامنا ان کے آبا و اجداد ابدی کی خاطر مسلمانانِ عالم پر یہ دفاع میں اور ہر سطح اور زاویے سے سے منسلک ہوں۔ وہ اپنی اجتماعی و انفرادی زندگی میں لازم کہ کفر و اسلام کی آویزش اور کفار رسالت پہ کیسی جرأت و شقاوت کا اظہار کیا گیا محبت کرنے کا دعویٰ کیسے کر سکتا ہے؟ کیا، عالم کفر کی سازشوں سے پردہ مستحق ہیں جنھوں نے ایک دینی و ملّی صلی اللہ علیہ وسلم کے دفاع و تحفظ کی خاطر اپنی فاضل مدینہ یونیورسٹی
اسلام اور اختتام نبوت
فصل اوّل ۔ قرآ
- ۱۔ اللہ تعالیٰ کا فرما
لـقـد جـاء کـ انفسکم عزيـ حریص عليـ رؤف الرحیم
- ۲۔ ارشادِ باری تعالیٰ
كمـا ارسلنـا منكم يتلوا ويزكيكم ويعـ والحكمة ويـ تكونوا تعلمون
- ۳۔ اللہ تعالیٰ کا مقد
لقد من الله على فيهم رسولا من ا ايتـه ويزكيهـم والحكمة وان ضلال مبین (آل
اسلام اور عقیدۂ ختم نبوت ﷺ
فصل اوّل ۔ قرآن اور اللہ تعالیٰ کا آپ کی عظمت و ثنا کا بیان
- ۱۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے
لقد جاء کم رسول من بے شک تمہارے پاس تشریف لائے تم انفسکم عزیز علیہ ما عنتم میں سے وہ رسول جن پر تمہارا مشقت میں حریص علیکم بالمؤمنین پڑنا گراں ہے تمہاری بھلائی کے نہایت رؤف الرحیم چاہنے والے مسلمانوں پر کمال مہربان
(التوبہ، ۱۲۸)
- ۲۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے
کما ارسلنا فیکم رسولا جیسا ہم نے تم میں بھیجا ایک رسول تم میں منکم یتلوا علیکم آیتنا سے کہ تم پر ہماری آیتیں تلاوت فرماتا ہے ویزکیکم ویعلمکم الکتاب اور تمہیں پاک کرتا ہے اور کتاب اور پختہ علم والحکمة ویعلمکم ما لم سکھاتا ہے اور تمہیں وہ تعلیم فرماتا ہے جس تکونوا تعلمون کا تمہیں علم نہ تھا
(البقرہ، ۱۵۱)
- ۳۔ اللہ تعالیٰ کا مقدّس فرمان ہے
لقد من اللہ علی المؤمنین اذ بعث بے شک اللہ کا بڑا احسان ہوا مسلمانوں پر کہ فیھم رسولا من انفسھم یتلوا علیھم ان میں انہیں میں سے ایک رسول بھیجا جو ان آیتہ ویزکیھم ویعلمھم الکتاب پر اس کی آیتیں پڑھتا ہے اور انہیں پاک کرتا والحکمة وان کانوا من قبل لفی ہے اور انہیں کتاب و حکمت سکھاتا ہے اور وہ ضلال مبین (آل عمران، ۱۶۴) ضرور اس سے پہلے کھلی گمراہی میں تھے
اسلام اور احترام نبوت ﷺ
- ۴۔ وما ارسلناک الا رحمۃ اور ہم نے تمہیں نہ بھیجا مگر رحمت
للعالمین (الانبیاء، ۱۰۷) سارے جہانوں کے لئے
- ۵۔ انا ارسلناک شاھدا اے غیب کی خبریں بتانے والے (نبی) بے
ومبشرا ونذیرا و داعیاً الی اللہ شک ہم نے تمہیں بھیجا شاہد اور خوشخبری دیتا باذنہ وسراجا منیرا اور ڈر سناتا اور اللہ کی طرف اس کے حکم سے (الاحزاب، ۴۵، ۴۶) بلاتا اور چمکا دینے والا آفتاب
- ۶۔ الم نشرح لک صدرک کیا ہم نے تیرا سینہ کشادہ نہ کیا اور تم پر
ووضعنا عنک وزرک الذی سے تمہارا وہ بوجھ اتار لیا جس نے تمہاری انقض ظھرک ورفعنالک پیٹھ توڑ دی تھی اور ہم نے تمہارے لئے ذکرک تمہارا ذکر بلند کر دیا (الانشراح، ۱، ۴)
حضرت قتادہ سے ہے اللہ تعالیٰ نے آپ کا ذکر دنیا و آخرت میں یوں بلند کیا کہ ہر خطبہ دینے والا، تشہد پڑھنے والا نماز میں پڑھے گا اشھد ان لا الہ الااللہ و اشھدان محمدا رسول اللہ (جامع البیان ، ۳: ۲۳۵)
- ۷۔ اللہ تعالیٰ کا مقدس فرمان ہے
واطیعوا اللہ والرسول (آل عمران، ۱۳۲) اللہ اور رسول کے فرمانبردار رہو
- ۸۔ امنوا باللہ ورسولہ (النساء، ۱۳۶)
اللہ اور اللہ کے رسول پر ایمان رکھو
تو یہاں اللہ تعالیٰ نے آپ کی اطاعت و ایمان کو اپنی طاعت میں واو عطف کے ساتھ
اسلام اور احترام نبوت ﷺ
ملا رکھا ہے اور یہ بات کسی دوسرے کے حق میں ہرگز جائز نہیں
(الشفاء، ۱: ۲۰)
- ۹۔ ان الله وملئكته يصلون بے شک اللہ اور اس کے فرشتے درود
على النبى يا يها الذين امنوا بھیجتے ہیں اس غیب بتانے والے صلوا عليه وسلموا تسليما (نبی) پر اے ایمان والوں ان پر درود (الاحزاب، ۵۶) اور سلام بھیجو
- ۱۰۔ من يطع الرسول فقد اطاع جس نے رسول کا حکم مانا اس نے اللہ کا
الله ومن تولى فما ارسلنک حکم مانا اور جس نے منہ پھیرا تو ہم نے عليهم حفيظا تمہیں ان کے بچانے کو نہ بھیجا (النساء، ۸۰)
- ۱۱۔ قل ان كنتم تحبون الله اے محبوب تم فرما دو کہ لوگو اگر تم اللہ کو
فاتبعونى يحببكم الله دوست رکھتے ہو میرے فرمانبردار ہو جاؤ ويغفر لكم ذنوبكم والله غفور اللہ تمہیں دوست رکھے گا اور تمہارے رحيم (آل عمران، ۳۱) گناہ بخش دے گا
- ۱۲۔ قل اطيعوا الله والرسول تم فرما دو کہ حکم مانو اللہ اور رسول کا
فان تولوا فان الله لا يحب پھر اگر وہ منہ پھیریں تو اللہ کو خوش الكفرين (آل عمران، ۳۲) نہیں آتے کافر
اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں کسی ایک جگہ بھی آپ ﷺ کا نام لے کر مخاطب نہیں کیا بلکہ فرمایا، یا ایھا النبی ، یا ایھا الرسول حالانکہ دیگر کا نام لیا، یا آدم ، یا نوح ، یا موسیٰ ، یا عیسیٰ
اسلام اور احترام نبوت ﷺ
- ۱۳۔ الذین یتبعون الرسول وہ جو غلامی کریں گے اس رسول بے
النبی الامی الذی یجدونه پڑھے غیب کی خبریں دینے والے کی جسے مکتوباً عندهم فی التوراة لکھا ہوا پائیں گے اپنے پاس تورات اور والانجیل یأمرهم انجیل میں وہ انہیں بھلائی کا حکم دے بالمعروف وینههم وعن گا اور برائی سے منع فرمائے گا اور ستھری المنکر ویحل لهم الطیبت چیزیں ان کے لئے حلال فرمائے گا اور ویحرم علیهم الخبائث گندی چیزیں ان کے لئے حرام فرمائے ویضع عنهم اصرهم والا گا اور ان پر سے وہ بوجھ اور گلے کے غلال التی کانت علیهم پھندے جو ان پر تھے اتارے گا تو وہ جو فالذین امنوا به وعزروه اس پر ایمان لائیں اور اس کی تعظیم کریں ونصروه واتبعوا النور الذی اور مدد دیں اور ان پر نازل فرمودہ نور کی انزل معہ (الاعراف، ۱۵۷) اتباع کریں
- ۱۴۔ وکذلک جعلنکم امة یوں ہی بات ہے کہ ہم نے تمہیں کیا
وسطاً لتکونوا شهداء علی سب امتوں میں افضل کہ تم لوگوں پر الناس و یکون الرسول گواہ ہو اور یہ رسول تمہارے نگہبان علیکم شهیدا (البقرة، ۱۴۳) و گواہ
فکیف اذا جئنا من کل تو کیسی ہوگی جب ہم ہر امت سے امة بشهید و جئنا بک ایک گواہ لائیں اور اے محبوب تمہیں علی هؤلاء شہیدا ان سب پر گواہ اور نگہبان بنا کر (النساء، ۴۱) لائیں
اسلام اور احترام نبوت ﷺ
- ۱۶۔ وبشر الذین امنوا ان
لهم قدم صدق عند ربهم
(یونس، ۲)
حضرت قتادہ، حسن اور زید بن اسلم جو شفاعت کریں گے
- ۱۷۔ اللہ تعالیٰ کا مقدس فرمان ہے
لعمرک انهم لفی سکرتهم یعمهون
(الحجر، ۷۲)
اہل تفسیر کا اتفاق ہے اللہ تعالیٰ نے امام ابوالجوزا تابعی (ت، ۸۳) ما اقسم الله بحیاة احد غیر محمد ﷺ لانه اکرم البریة عنده
(جامع البیان، ۱۴، ۳۸)
حضرت کعب رضی اللہ عنہ نے وزمین کو پیدا کرنے سے دو ہزار امام نقاش کہتے ہیں کسی نبی کی رسالت کی قسم نہیں کھائی
اعلام اور احترام نبوت ﷺ
- ١٦۔ وبشر الذین امنوا ان اور ایمان والوں کو خوشخبری دو کہ ان
لهم قدم صدق عند ربهم کے لئے ان کے رب کے پاس سچ کا (یونس ، ۲) مقام ہے حضرت قتادہ ، حسن اور زید بن اسلم کہتے ہیں قدم صدق سے حضور ﷺ مراد ہیں جو شفاعت کریں گے
(جامع البیان ، ۱۱ : ۸۲)
- ١٧۔ اللہ تعالیٰ کا مقدس فرمان ہے
لعمرک انھم لفی اے محبوب تمہاری جان کی قسم بے شک سکرتھم یعمھون وہ اپنے نشہ میں بھٹک رہے ہیں (الحجر ، ۷۲) اہل تفسیر کا اتفاق ہے اللہ تعالیٰ نے حضور ﷺ کی تمام عمر کی قسم اٹھائی ہے ، امام ابو الجوزا تابعی (ت، ۸۳) فرماتے ہیں ما اقسم اللہ بحیاۃ احد اللہ تعالیٰ نے کسی کی زندگی کی قسم نہیں غیر محمد ﷺ لانہ اٹھائی سوائے حضور ﷺ کے کیونکہ اس اکرم البریۃ عندہ کے ہاں آپ ﷺ تمام سے معزز ہیں
(جامع البیان ، ۱۴ : ۴۴۱)
حضرت کعب رضی اللہ عنہ نے فرمایا یٰسین قسم ہے ، اللہ تعالیٰ نے یہ قسم آسمان و زمین کو پیدا کرنے سے دو ہزار سال پہلے اٹھائی ، امام نقاش کہتے ہیں حضور ﷺ کے علاوہ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں کسی نبی کی رسالت کی قسم نہیں کھائی بعض نے یٰسین کا معنی یا سید (اے سردار )
اسلام اور احترام نبوت ﷺ
کیا ہے، اس میں بھی کسقدر عظمت و تعظیم ہے
حضور ﷺ کا فرمان ہے
انا سيد ولد آدم میں اولاد آدم کا سردار ہوں
(القرطبی، ۵:۱۵)
- ۱۸۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے
لا اقسم بهذا البلد وانت حل مجھے اس شہر کی قسم کہ اے محبوب تم بهذا البلد اس شہر میں تشریف فرما ہو
(البلد ۲،۱)
- ۱۹۔ والضحیٰ والیل اذا سجی چاشت کی قسم اور رات کی، جب
وہ پردہ ڈالے
(الضحیٰ، ۲،۱)
پوری سورت پڑھو اور اس میں آپ ﷺ کی قدر منزلت کسقدر واضح و آشکار ہے
- ۲۰۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد مبارک ہے
والنجم اذا ھوٰی اس پیارے چمکتے تارے محمد کی قسم
(النجم، ۱)
امام جعفر بن محمد صادق رضی اللہ عنہما کہتے ہیں نجم سے حضور ﷺ کی ذات اقدس مراد ہے
(القرطبی، ۱۷، ۸۳)
سورۂ مبارکہ اول تا آخر کسقدر آپ ﷺ کی عظمت و شان پر مشتمل ہے اور جن چیزوں کا آپ ﷺ کو مشاہدہ ہوا وہ کسی نبی کو نہیں ہوا، عجائب ملکوت میں آپ
اسلام اور احترام نبوت ﷺ
کے مشاہدہ کو الفاظ میں لایا ہی نہیں جا سکتا ، آپ کا تمام ملائکہ اور باقی مخلوق سے آگے بڑھ جانا اور دیگر خصائص کا اس میں تذکرہ ہے
۲۱۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان مقدس ہے
ن والقلم ومایسطرون قلم اور ان کے لکھے کی قسم (القلم ، ۱)
اس سورت کا مطالعہ کریں اس میں اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی ﷺ کی کتنی شاندار تعریف ، آپ کے اخلاق کریمہ اور عظمت و شان کو آشکار فرمایا ہے
۲۲۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے
انا فتحنا لک فتحاً مبیناً بیشک ہم نے تمہارے لئے روشن فتح (الفتح ، ۱) فرمادی
یہ سورت پھر اس سے متصل اگلی سورۃ الحجرات کا ہر دانا مطالعہ کرے تو اسے نبی کریم ﷺ کی شانیں ہی شانیں ملے گی، اور اگر ان کی تفصیل لکھی جائے تو کئی جلدیں ان کا احاطہ نہ کر سکیں پھر آپ ﷺ کے ادب و احترام و توقیر و جلال کا بھی کس قدر حکم ہے
۲۳۔ اللہ تعالیٰ کا مقدس فرمان ہے
طہ ما انزلنا علیک القرآن اے محبوب ہم نے تم پر قرآن اس لئے لتشقی (طہ ، ۱ ، ۲) نہ اتارا کہ تم مشقت میں پڑو
ان الفاظ میں جو شفقت واکرام ہے وہ نہایت ہی آشکار ہے اسی طرح ان ارشادات عالیہ میں ہے
۲۴۔ باخع نفسک علی تو کہیں تم اپنی جان پر کھیل جاؤ گے انکے
اسلام اور احترام نبوت ﷺ
آثارهم ان لم يؤمنوا بهذا پیچھے غم (کیوجہ) سے اگر وہ اس بات الحديث اسفا پر ایمان نہ لائیں (الكهف ، ۶)
- ۲۵۔ لعلک باخع نفسک کہیں تم اپنی جان پر کھیل نہ جاؤ گے
الا يكونوا مؤمنين اس غم میں کہ وہ ایمان نہیں لائے (الشعراء ، ۳)
- ۲۶۔ ولقد نعلم انک یضیق اور بے شک ہمیں معلوم ہے کہ ان کی
صدرک بما یقولون باتوں سے تم دل تنگ ہوتے ہو (الحجر ، ۹۷)
- ۲۷۔ فانهم لا يكذبونک تو وہ تمہیں نہیں جھٹلاتے بلکہ ظالم اللہ
ولكن الظلمين بایت اللہ کی آیتوں سے انکار کرتے ہیں يجحدون (الانعام ، ۳۳)
یعنی تم ان کے نزدیک جھوٹے نہیں ہو کیونکہ وہ تمہارے صدق وامانت سے آگاہ ہیں ہاں اللہ تعالیٰ کی آیات کے انکار نے انہیں آپ کی تکذیب پر ابھارا ہے
- ۲۸۔ ارشاد مبارک ہے
ولقد استهزئ برسل من اور ضرور اے محبوب تم سے پہلے قبلک فحاق بالذین سخروا رسولوں کے ساتھ بھی ٹھٹھا کیا گیا تو منهم ما کانوا به یستهزئون وہ جو ان سے ہنستے تھے انکی ہنسی انہیں (الانعام ، ۱۰) لے بیٹھی
امام ابو محمد مکی (۳۵۵ : ۴۳۷) لکھتے ہیں ، اللہ تعالیٰ نے آپ کو تسلی اور اطمینان
اسلام اور احترام نبوت صلی اللہ علیہ وسلم
دلاتے ہوئے آگاہ کیا جو آپ کے مقابل آئے گا اس کے ساتھ سابقہ مجرموں کی اسی طرح ہی ہوگا اور قرآن اس چیز سے خوب مالا مال ہے
- ۲۹۔ پھر ارشاد فرمایا
واذ اخذ الله میثاق النبین اور یاد کرو جب اللہ نے پیغمبروں سے ان لما اتیتکم من کتب کا عہد لیا جو میں تم کو کتاب اور حکمت وحکمة ثم جاء کم رسول دوں پھر تمہارے پاس وہ رسول تشریف مصدق لما معکم لتؤمنن به لائے کہ تمہاری کتابوں کی تصدیق ولتنصرنه قال أأقررتم فرمائے تو تم ضرور ضرور اس پر ایمان لانا واخذتم علی ذالکم اور ضرور ضرور اس کی مدد کرنا فرمایا کیا تم اصری قالوا اقررنا قال نے اقرار کیا اور اس پر میرا بھاری ذمہ لیا فاشهدوا وانا معکم من سب نے عرض کیا ہم نے اقرار کیا اور الشهدین فرمایا ایک دوسرے کے گواہ ہو جاؤ اور (آل عمران ، ۸۱) میں بھی تمہارے ساتھ گواہوں میں ہوں
امام ابوالحسن قابسی لکھتے ہیں ، اللہ تعالیٰ نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو ایسے فضل سے مخصوص کیا جو کسی دوسرے کو حاصل نہیں اور اس کا ذکر اس آیت مبارکہ میں ہے
(الشفاء: ۲۴۴:۱)
مفسرین فرماتے ہیں، اللہ تعالیٰ نے ہر نبی سے وحی کے ذریعے عہد لیا جب اس کی بعثت ہوگی اور وہ حضور کا اور آپ کی بعثت کا تذکرہ کرے گا اور یہ بھی عہد لیا کہ اگر وہ ان کے دور میں آجائیں تو ان پر ایمان لائیں گے، اپنی اپنی قوم کو بتائیں اور ان پر ایمان کا اور اپنے بعد آنے والوں کو بتانے کا عہد لیا
(القرطبی، ۴: ۱۲۵)
اسلام اور احترام نبوت ﷺ
(رازی، ۱۲۴:۸)
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے ہے سیدنا آدم علیہ السلام سے لیکر ہر نبی سے حضور ﷺ کے بارے میں عہد لیا گیا
لئن بعث وهو حی لیؤمنن بہ اگر آپ ﷺ ان کی زندگی میں آجائیں ولينصرنہ ویاخذ العہد تو وہ ان پر ایمان لائیں اور ان کی مدد بذلک علی قومہ کریں اور وہ اپنی قوم سے یہی عہد لیں
امام سدی اور قتادہ سے بھی یہ منقول ہے
(جامع البیان، ۳۳۲:۳)
۳۰۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے
واذ اخذنا من النبیین میثاقھم اور محبوب یاد کرو جب ہم نے نبیوں سے ومنک ومن نوح عہد لیا اور تم سے اور نوح سے
(الاحزاب، ۷)
۳۱۔ ایک مقام پر فرمایا
انا اوحینا الیک کما اوحینا الی بے شک اے محبوب ہم نے تمہاری طرف نوح والنبین من بعدہ و اوحینا الی وحی بھیجی جیسے وحی نوح اور اس کے بعد کے ابراھیم و اسمعیل و اسحق پیغمبروں کو بھیجی اور ہم نے ابراہیم اور ویعقوب والاسباط وعیسیٰ اسمعیل اور اسحٰق اور انکے بیٹوں اور عیسیٰ اور وایوب ویونس وھرون وسلیمن ایوب اور یونس اور ہارون اور سلیمن کو وحی واتینا داؤد زبورا (النساء، ۱۶۳) کی اور ہم نے داود کو زبور عطا فرمائی
حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے ہے، عرض کیا، یا رسول اللہ، آپ پر میرے والدین فدا
اسلام اور احترام نبوت ﷺ
یوں اللہ تعالیٰ کے ہاں تمہاری کسقدر فضیلت ہے تمہیں آخر میں مبعوث فرمایا مگر ذکر آپ کا سب سے پہلے کیا، اس کے ہاں آپ کی عظمت کا یہ عالم ہے کہ اہل نار آپ کی طاعت چاہیں گے حالانکہ عذاب بھگت رہے ہونگے ، وہ کہیں گے یلیتنا اطعنا الله واطعنا الرسولا کہتے ہونگے ہائے کسی طرح ہم نے اللہ کا (الاحزاب، ۶۶) حکم مانا ہوتا اور رسول کا حکم مانا ہوتا
امام کلبی (ت، ۱۴۶) نے ارشاد باری تعالیٰ وان من شيعته لابراهيم اور بے شک اسی گروہ سے ابراہیم تھے (الصافات، ۸۳) کے تحت کہا ہے ، ضمیر حضور ﷺ کی طرف لوٹ رہی ہے
(الشفاء، ۴۲:۱)
- ۳۲۔ اللہ تعالیٰ کا مبارک فرمان ہے
وما كان الله ليعذبهم اور اس کا کام نہیں کہ انھیں عذاب کرے وانت فيهم جب تک اے محبوب تم ان میں تشریف (الانفال، ۳۳) فرما ہو
حضور ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے میری امت کے لئے دو اماں نازل کیں فاذا مضيت تركت فيكم جب میں چلا جاؤں گا تو تم میں استغفار الاستغفار چھوڑ جاؤں گا (سنن ترمذی، ۳۰۸۲)
بعض نے کہا جب تک حضور ﷺ کی ظاہری حیات تھی آپ امان اعظم ہیں اور جب تک آپ کی سنت و طریقہ باقی ہے آپ باقی ہیں جب آپ کا طریقہ معدوم ہو جائے گا
اسلام اور احترام نبوت ﷺ
تو پھر بلا و فتن کا انتظار کرو
(الشفاء، ۱: ۲۷)
- ۳۳۔ اللہ تعالیٰ کا مقدس فرمان ہے
سبحان الذی اسریٰ بعبدہ لیلا من المسجد الحرام الی المسجد الاقصا الذی برکنا حولہ لنریہ من ایتنا انہ ھو السمیع البصیر (الاسراء،۱)
پاکیزگی ہے اسے جو اپنے بندے کو راتوں رات لے گیا مسجد حرام سے مسجد اقصیٰ تک جس کے گردا گرد ہم نے برکت رکھی کہ ہم اسے اپنی عظیم نشانیاں دکھائیں بے شک وہ سنتا دیکھتا ہے
یہ واقعہ جن عجائبات پر مشتمل ہے وہ کسقدر عظیم ہیں
- ۳۴۔ یہ بھی فرمان الٰہی ہے
واللہ یعصمک من الناس
اور اللہ لوگوں سے تمہاری نگہبانی کرے گا
(المائدہ، ۶۷)
- ۳۵۔ الا تنصروہ فقد نصرہ اللہ
(التوبہ، ۴۰)
اگر تم محبوب کی مدد نہ کرو تو بے شک اللہ نے ان کی مدد فرمائی
- ۳۶۔ فانزل اللہ سکینتہ علیہ
(التوبہ، ۴۰)
تو اللہ تعالیٰ نے ان پر اپنا سکینہ (اطمینان) اتارا
- ۳۷۔ انا اعطینک الکوثر فصل
لربک وانحر ان شانئک ھو الابتر (الکوثر، ۱: ۳)
اے محبوب بے شک ہم نے تمہیں بے شمار خوبیاں عطا فرمائیں تو تم اپنے رب کے لئے نماز پڑھو اور قربانی کرو بے شک جو تمہارا دشمن ہے وہ ہر خیر سے محروم ہے
اسلام اور احترام نبوت ﷺ
- ۳۸۔ ولقد اتینک سبعا من اور بے شک ہم نے تم کو سات آیتیں
المثانی والقرآن العظیم دیں جو دہرائی جاتی ہیں اور عظمت والا (الحجر، ۸۷) قرآن (عطا فرمایا)
- ۳۹۔ النبی اولیٰ بالمومنین من یہ نبی مسلمانوں کا انکی جانوں سے زیادہ
انفسہم مالک ہے (الاحزاب، ۶)
- ۴۰۔ عفا اللہ عنک لم اذنت اللہ تمہیں معاف کرے تم نے انہیں
لہم کیوں اذن دے دیا (التوبہ ۴۳)
اس آیت مبارکہ میں جو تلطف و عظمت ہے وہ اہل بصیرت پر ظاہر ہے، آپ ﷺ کو دو میں سے ایک کا اختیار تھا آپ نے اذن کو اختیار فرمایا، آیت کریمہ نے واضح کیا اگر تم انھیں اجازت نہ دیتے تو ان کا حال و نفاق ظاہر ہو جاتا آیت کا شروع عفو سے کیا تاکہ آپ ﷺ کے قلب انور پر بوجھ نہ ہو دیکھو اس میں کسقدر تلطف و ادب ہے قرآن میں اس قدر کثیر آیات ہیں ان کا احاطہ نہیں ہو سکتا جن میں صراحتاً اور اشارۃً آپ ﷺ کی رفعت اور شان کا بیان ہے پاک ہے وہ ذات اقدس جس نے آپ ﷺ کو باقی تمام مخلوق پر شرف و عزت و عظمت عطا فرمائی
وصلی اللہ علی ھذا النبی الکریم وحشرنا فی زمرتہ ومن تحب بمنہ وکرمہ
نوٹ۔ اس موضوع پر عظیم محدث شیخ عبد اللہ غماری (ت، ۱۴۱۳) نے اہم
اسلام اور احترام نبوت ﷺ
کتاب ’دلالة القرآن المبين علی ان النبی افضل العالمین‘ لکھی ہے جس کا ترجمہ علامہ محمد اکرم اللہ زاہد استاد جامعہ اسلامیہ لاہور نے کیا ہے اس کا مطالعہ نہایت ضروری ہے
اسلام اور احترام نبوت ﷺ
فصل ثانی
آپ ﷺ خَلق وخُلق میں تمام محاسن کے جامع ہیں
پر قائم ہے، جس کی بدولت ہی تک ہے۔ کی علامت کے طور پر بیان کیا گیا نور ہے۔ چنانچہ سیرت نبوی کا کے اولین دور ہی میں طعنہ و عدوان مذموم مقاصد میں کامیاب ہوسکیں پاسبان خود اللہ رب العالمین ہے سازشیں تھیں قدم بقدم ہتھکنڈوں جس کا سامنا ان کے آبا و اجداد ابدی کی خاطر مسلمانان عالم پر یہ تھا جس میں ہر سطح اور زاویے سے سے منسلک ہوں۔ وہ اپنی اجتماعی وانفرادی زندگی میں نظم کفر و اسلام کی آویزش اور کفار ت پر مبنی سیرت و تعلیمات کو اجاگر کیا تخرب کاری کی نسبت کر سکتا ہے؟! کیا، عالم کفر کی سازشوں سے پردہ ﷺ کے دفاع و تحفظ کی خاطر اپنی سعود، فاضل مدینہ یونیورسٹی
اسلام اور احترام نبوت ﷺ
اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کو جسے وہ فخر و فضیلت سمجھ صورت، ونور عقل، و حركات، شرف نسب، احوال ،ص عالیہ، آداب شرعیہ، مروت، خاموشی، شمار صفات کاملہ بن جاتا ہے اور اوں فكيف بمن ل درجات الکمال پھر کچھ ایسے فضائل مثلاً فضیلہ ، وحی، شفاعت ، مقا طرف رسول، انبیاء سرداری، صاحب لوائ و طاعت ، امامت ، بدار قبول کرنا، اتمام نعمت و مدد، نزول سکینہ و تائید امت، اللہ کی طرف و
اسلام اور احترام نبوت ﷺ
اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کو صورۃً ومعناً سب سے کامل بنایا ہے مخلوق میں ایسا کمال جسے وہ فخر وفضیلت سمجھے ان تمام کو آپ نے جمع کر لیا خواہ وہ کمال خلقت ،جمال صورت ،ونور عقل، صحت فہم، فصاحتِ زبان، قوت دل وحواس واعضا ،اعتدال حرکات، شرف نسب، عزت قوم، مقدس ضمیر
احوال بدن، مثلاً غذا، نیند، لباس ،نکاح، رہائش، مال ومرتبہ میں ،اخلاق عالیہ، آداب شرعیہ، دین، علم، حلم صبر، شکر، عدل، زہد، تواضع، عفو، عفت، جود، شجاعت، حیا مروت، خاموشی، وعدہ نبھانا ،وفاء، صدق، رحمت، حسن ادب ومعاشرت وغیرہ ایسی بے شمار صفات کاملہ اگر ان میں سے کوئی ایک کسی بھی میں پائی جائے تو وہ اپنے دور میں مثال بن جاتا ہے اور ادوار گزرنے کے باوجود اس کی تعظیم کی جاتی ہے
فكيف بمن فيه على اقصى اس ہستی کا کیا مقام ہوگا جو اپنے اندر درجات الكمال ان تمام کو انتہائی کامل درجہ پر رکھتی ہے
پھر کچھ ایسے فضائل وخصائص بھی ہیں جو کسی اور بشر میں ممکن ہی نہیں مثلاً فضیلت نبوت ورسالت، حبیب وخلیل، مصطفیٰ، اسراء، دیدار، قرب، دنو ،وحی، شفاعت ،مقام وسیلہ وفضیلت، بلند درجہ، مقام محمود، براق، معراج، تمام کی طرف رسول، انبیاء کی امامت، تمام انبیاء اور انکی امتوں پر گواہ، تمام اولاد آدم کی سرداری، صاحب لواء حمد وسیادت، نذیر ہونا، صاحب عرش کے ہاں خصوصی مقام وطاعت، امامت، ہدایت، رحمۃ للعالمین، رضا وسوال پر عطا ہونا، کوثر، آپ کی دعا کا قبول کرنا، اتمام نعمت، تمام زندگی کی عصمت، شرح صدر، وضع وزر، رفعت ذکر، غلبہ ومدد، نزول سکینہ وتائید ملائکہ، عطا کتاب وحکمت وسبع مثانی اور قرآن عظیم، تزکیہ امت، اللہ کی طرف دعوت، اللہ تعالیٰ اور ملائکہ کا درود، لوگوں کے درمیان اللہ کی
اسلام اور احترام نبوت ﷺ
رہنمائی سے فیصلہ کرنا، ان سے ہر قسم کا بوجھ وسختی ختم کرنا، آپ کے نام ورسالت کی قسم ، دعا کو قبول کرنا، جمادات اور لوگوں کا کلام کرنا ،مردوں کا زندہ ہونا ،درختوں وغیرہ کا آپ کی آواز پر لبیک کہنا ،انگلیوں سے چشموں کا جاری ہونا، کم چیز کا کثیر ہونا ،چاند کا ٹکڑے ہو جانا، سورج کا پلٹ آنا، اشیاء کی ماہیت کا بدل جانا رعب اور غیوب پر مطلع ہونا ،بادل کا سایہ کرنا ،کنکریزوں کا تسبیح پڑھنا، کوڑھوں کا صحت مند ہونا ،لوگوں سے حفاظت ،آگے کی طرح پیچھے دیکھنا، دل کا نہ سونا ،امت کے لئے غنائم کا حلال ہونا، تمام زمین کا سجدہ گاہ اور پاک ہونا، اور دیگر اوصاف کاملہ جن کا احاطہ سوائے اللہ تعالیٰ کے کوئی نہیں کر سکتا جس نے یہ عطا کیے اور ان سے آپ کو فضیلت بخشی اور اس کے سوا کوئی معبود نہیں، اس کے ساتھ آخرت میں آپ کے لئے جو منازل ،کرامت، درجات قدس، مراتب سعادت ،حسنیٰ، دیدار ہے جن سے عقول واقف نہیں ہوسکتی اور وہم و خیال بھی وہاں حیران ہے
یہ اجمال ہے اس کی تفصیل وشرح سیر وشمائل ،اور دلائل النبوۃ میں موجود ہیں مثلاً قاضی عیاض (اللہ تعالیٰ ان کی کاوش پر ان کو جزا دے ) وغیرہ کی الشفاء کا مطالعہ کیا جائے ،ہاں کچھ تفصیل بھی کیے دیتے ہیں
آپ کا سراپا اقدس
آپ ﷺ کا مقدس رنگ نہایت ہی خوشنما اور سفیدی اور سرخی کا حسین امتزاج تھا ،آپ کا سر اقدس وقار وموزونیت کا آئینہ دار، روشن چہرہ، کنڈوالی زلفیں، اگر کنگھی فرماتے تو وہ کھل جاتے ورنہ اکٹھے ہوتے ،بال مبارک کان کی لو تک ،کشادہ پیشانی ،ابرو مبارک کمان کی طرح خمیدہ ،لمبے اور متصل نہ تھے ان کے درمیان رگ تھی جو جلال کے وقت ابھر آتی ،
اسلام اور احترام نبوت ﷺ
حضرت ام معبد رضی اللہ عنہ کہتی ہے ابرو متصل تھے، ممکن ہے تھوڑے متصل ہوں ، آنکھیں خوب سیاہ اور فراخ تھی ، آنکھوں کے سفید حصہ میں سرخ ڈورے، پلکیں خوبصورت اور لمبے رخسار نرم، چہرہ گولائی کی طرف مائل، بڑے وقار والے ، چہرہ اقدس چودویں کے چاند کی طرح چمکتا، جسم فربہ نہ تھا اور ٹھوڑی چھوٹی نہ تھی، رنگت میں سب سے خوبصورت، چہرہ اقدس شمس و قمر بلکہ ان دونوں سے بڑھ کر خوبصورت گویا سورج چہرہ پر تیر رہا ہے، گھنی داڑھی جو سینے پر کو بھرے ، مقدس کان تام وکامل، دہن مبارک فراخ، بینی مبارک لمبی اور نرم ، اس پر ہر وقت نور کی برسات رہتی ،غور سے دیکھنے والے کو نور کی وجہ سے بینی بلند دکھائی دیتی (حالانکہ واقع میں ایسا نہ تھا )سامنے کے مبارک دانتوں میں مناسب کشادگی اور چمکدار تھے، چہرہ اقدس پر پسینہ موتیوں کی طرح دکھائی دیتا، گردن مبارک ایسی کہ مورتی کی گردن تراشی گئی ہے، چاند کی طرح سفید ، سینہ اقدس کے نیچے سے لیکر ناف تک باریک بالوں کی خوبصورت لکیر تھی جیسے خوبصورت باریک ٹہنی ہو، اس کے علاوہ بطن اور سینہ اقدس پر بال نہ تھے ، سینہ اقدس کشادہ تھا بطن اور اور سینہ اقدس برابر تھے، مبارک کاندھے بڑے اور ان میں بعد تھا ، کلائیاں عظیم اور ، کشادہ، بازو پر گوشت ، کلائیاں اور کاندھوں پر بال ، کلائیاں لمبی، ہتھیلیاں کشادہ ، کلائیاں اور پنڈلیاں کشادہ، ہتھیلیاں اور قدموں کے تلوے پر گوشت ، مبارک انگلیاں خوبصورت ، ہڈیاں بھاری، ، چمکدار اور روشن جسم، معتدل اور چاق و چوبند جسم ، بغلیں سفید ، انگلیاں بھری ہوئی ، جوڑ جلیل، تلوے معتدل ، نرم پاؤں، پانی فی الفور گزر جاتا، جب چلتے تو مضبوط قدم رکھتے ، بعض نے کہا تلوے خالی نہ تھے اس کا معنیٰ یہ ہے کہ زیادہ خالی نہ تھے بلکہ معتدل تھے ، جھک کر چلتے ، درمیانی چال چلتے ، تیز چلتے گویا اوپر سے نیچے آ رہے ہیں ، توجہ کے وقت کامل طور پر متوجہ
اسلام اور احترام نبوت ﷺ
ہوتے ، آنکھیں جھکی ہوتیں ، آسمان کی نسبت زمین کی طرف نظر زیادہ رہتی ، صرف ملاحظہ کرنے کے لئے نگاہ مقدس اٹھاتے ، نہ اتنے طویل اور نہ پست ، جب کسی طویل آدمی کے ساتھ چلتے تو اس سے لمبے دکھائی دیتے ، حسن و جمال غالب ، چہرہ اقدس روشن ، خلقت خوبصورت بطن بڑا نہیں تھا کہ عیب ہو ، سر اقدس چھوٹا نہ تھا ، صاحب حسن و جمال ، آواز میں نرمی ، بال مبارک نہایت ہی سیاہ ، خاموشی کے وقت باوقار ، گفتگو کے وقت سب پر غالب اور رونق دو بالا ہو جاتی ، تمام لوگوں سے جمیل ، دور سے دیکھنے والے کو مرعوب اور قریب سے دیکھنے والے مست و بے خود بنا دیتے ، شیریں گفتگو ، انتہائی واضح نہ ضرورت سے زائد اور نہ کم ، گفتگو گویا موتیوں کا ہار جو نیچے ڈھلک رہا ہے قد انور معتدل ، کوئی آنکھ دیکھنے والا ٹھرتی نہ تھی ، دو خوبصورت ٹہنیوں کی طرح دیکھنے میں ان دونوں سے تروتازہ اور وقار میں خوبصورت دکھائی دیتے آپ کے صحابہ خوب احترام کرتے ، آپ کی گفتگو کو خوب توجہ سے سنتے ، اگر آپ کوئی حکم دیتے تو اسے بجالانے میں جلدی کرتے ، صحابہ خوب خدمت بجالاتے اور خوب ادب کے ساتھ حاضری دیتے ، نہ تیوری چڑھاتے اور نہ بگڑتے ، صحابہ کو آگے چلنے کا حکم دیتے ، ملاقات پر سلام دینے میں پہل کرتے ، فکر و غم میں ( باطناً ) ڈوبے رہتے ، دائم الفکر ، دین کے لئے جد و جہد کی وجہ سے آرام تک نہ کرتے بغیر ضرورت گفتگو نہ فرماتے ، سکوت طویل فرماتے ، کھل کر گفتگو کا آغاز واختتام فرماتے ، جامع کلمات سے کلام فرماتے ، طبعاً سخت طبیعت نہ تھے نہ کسی کو حقیر جانتے ، ہنسنا آپ کا فقط تبسم ہوتا ، دونوں کاندھوں کے درمیان مہر نبوت تھی آپ آخری نبی ہیں ، تمام لوگوں سے سخی ، تمام سے جرأت مند ، تمام سے سچے ، تمام سے بڑھ کر وعدہ نبھانے والے ، طبیعت نرم ، سب سے اعلیٰ انداز میں برتاؤ کرنے والے ، جو اچانک دیکھتا مرعوب ہو جاتا اور میل جول
اسلام اور احترام نبوت ﷺ
رکھتا قربان ہو جاتا، فحش کلام نہ کرتے اور نہ تکلف فرماتے ، نہ بازاروں میں آواز دیتے ،نعمت کی قدر کرتے اگرچہ کم ہو، کسی شئی کی مذمت نہ کرتے ،کھانے کی مذمت نہ کرتے اور نہ زیادہ مدح اگر بھوک ہوتی تناول فرما لیتے ورنہ چھوڑ دیتے، دنیا اور اس کی چیزیں آپ کو پریشان نہ کر سکتیں
جب اشارہ فرماتے تو پوری ہتھیلی سے فرماتے ،تعجب کے وقت اسے الٹ دیتے، گفتگو جدا جدا الفاظ میں کرتے دائیں ہتھیلی کو بائیں انگوٹھے کے باطن پر مارتے ،ناراضگی کے وقت چہرہ پھیر لیتے ، بوقت خوشی آنکھیں جھکا لیتے تبسم کے وقت مبارک دانت بارش کے اولوں کی طرح دکھائی دیتے
وقت کی تقسیم
جب گھر میں تشریف لاتے تو وقت کو تین حصوں میں تقسیم فرماتے ایک حصہ، اللہ تعالیٰ ، دوسرا اہل اور تیسرا اپنے لئے ، پھر اپنے لئے وقت میں سے کچھ خاص لوگوں کو دیتے جو آپ کی تعلیمات عوام تک پہنچاتے ،لوگوں سے کوئی شئی ذخیرہ نہ کرتے ، اہل فضل کو ترجیح دیتے اور اسے دین میں فضیلت کے مطابق تقسیم فرماتے ،بعض کی ایک، بعض کی دو اور بعض کی زیادہ حاجات ہوتیں انھیں پورا کرنے میں مشغول رہتے اور جو ان کے لئے زیادہ بہتر ہوتا ان امور کی طرف متوجہ کرتے ، جو ان کے لئے ضروری تھا اس پر مطلع فرماتے اور فرماتے شاہد ، غائب کو پہنچائے ، جو مجھ تک اپنی حاجت نہیں پہنچا سکتا تم اس کی حاجت پہنچاؤ ، جس نے بادشاہ تک ایسے بندے کی حاجت پہنچائی
ثبت الله قدميه يوم القيامة روز قیامت، اللہ اسے ثابت قدمی عطا فرمائے گا آپ کے ہاں ایسی ہی اہم باتوں کا تذکرہ کیا جاتا ،اس کے علاوہ کسی کی قبول نہ
اسلام اور احترام نبوت ﷺ
فرماتے ، لوگ آپ سے دین ودنیا کا نفع پانے کے لئے اکٹھے ہوتے اور پا کر جدا ہوتے ، پھر لوگوں کی اس پر رہنمائی کرتے ، لوگوں کے لئے آپ کی زبانِ مقدس سے مفید باتیں صادر ہوتیں ان میں محبت پیدا فرماتے نہ کہ نفرت وتفریق، ہر قوم کے سربراہ و والی کا احترام کرتے اگر کوئی صحابی نہ آتے تو وجہ پوچھتے ، لوگوں سے عوام کے بارے میں سوال کرتے ، اچھائی کی تعریف اور اسے غالب و طاقتور بنانے کی کوشش کرتے جبکہ برائی کی مذمت اور اسے کمزور و مٹانے کی جدوجہد کرتے ، بغیر اختلاف راہ اعتدال اختیار کرتے ، غفلت نہ کرتے کہیں لوگ غافل نہ ہو جائیں ہر حال میں چوکنا رہتے ، حق میں کوتاہی نہ کرتے اور نہ ہی اس کی اجازت دیتے ، صاحب عقل واختیار آپ سے ملاقات کرتے ، ان میں آپ کے ہاں وہ افضل ہوتا جو بھلائی اور خیر خواہی میں آگے ہوتا ان میں سے قدرومنزلت میں بڑا وہ ہوتا جو لوگوں کی غمخواری اور بوجھ بانٹنے میں زیادہ حصہ لیتا، آپ کا بیٹھنا واٹھنا ذکر الٰہی پر ہوتا بیٹھنے کے لئے جگہ کا تعین نہ کرتے بلکہ ایسا کرنے سے منع فرماتے ، جب کسی مجلس میں تشریف لے جاتے تو جہاں جگہ ملتی بیٹھ جاتے اور اس کی تعلیم دیتے ، ہر جلیس کو اس کے حصہ کے مطابق دیتے کوئی ساتھی یہ محسوس نہ کرتا کہ فلاں کو آپ کے ہاں مجھ سے زیادہ مقام حاصل ہے جو آپ کو کسی بھی ضرورت میں ملا اس کی بات خوب سنتے
اگر کسی نے سوال کیا تو اسے حاجت کے مطابق دیا یا آسان و احسن قول سے جواب دیا، آپ کا جود وخلق لوگوں میں معروف تھا گویا آپ ان کے لئے بمنزل والد کے ہو گئے اور وہ تمام کے تمام حق میں آپ کے ہاں برابر تھے، آپ کی مجلس حلم ، حیا، صبر ، اور امانت کی مجلس ہوتی ، اس میں آواز بلند نہ ہوتی ، اس میں کسی کی پگڑی نہیں اچھالی جاتی اور وہاں کوئی بیہودہ بات نہیں کی جاتی ، ایک دوسرے کو یکساں
اسلام اور احترامِ نبوت ﷺ
سمجھتے، ہاں تقویٰ فضیلت کا مدار تھا، متواضع تھے، بڑوں کی عزت کرتے اور چھوٹوں پر شفقت، صاحبِ حاجت کے لئے سراپا ایثار ہو جاتے اور مسافر کی خدمت کرتے آپ ﷺ کے چہرہ اقدس پر ہمیشہ خوشی کے آثار رہتے ، اعلیٰ خلق اور نرم خو تھے، سخت طبیعت اور اونچا بولنے والے نہ تھے، نہ فحش گو تھے ، نہ عیب لگاتے اور نہ مدح میں مبالغہ فرماتے، تین چیزیں آپ کی ذات سے متروک تھیں، جدال، اکثار، بے مقصد بات، تین چیزیں لوگوں کے حوالے سے متروک تھیں نہ کسی کی مذمت کرتے اور نہ طعن کرتے، نہ کسی کی پردہ دری کرتے ، ثواب کی امید کے بغیر کلام نہ فرماتے
اہل مجلس کا ادب
جب آپ ﷺ گفتگو فرماتے تو تمام اہل مجلس سر جھکائے ہوتے ، گویا ان کے سروں پر پرندے ہیں، جب خاموش ہوتے تو وہ بولتے ، آپ کے ہاں کسی بات میں جھگڑتے نہ تھے، اگر کوئی بولتا تو دوسرے فارغ ہونے تک خاموش رہتے، آپ ﷺ ترتیب وار ان کی گفتگو سنتے ، ان کی گفتگو آپ کے ہاں سب کی ایک جیسی ہوتی اور اگر اہل مجلس کسی بات پر ہنستے تو آپ ﷺ بھی مسکراتے ، اگر وہ تعجب کرتے تو آپ بھی تعجب فرماتے ، اگر کوئی اجنبی سوال و گفتگو میں سختی و زیادتی کرتا تو صبر و حوصلہ سے کام لیتے، حتیٰ کہ آپ کے صحابہ کسی اجنبی سائل کا انتظار کرتے تاکہ وہ آپ سے پوچھے اور ہم بھی استفادہ کریں ، آپ فرماتے
اذا رأيتم طالب حاجة يطلبها جب کسی کو طلب حاجت کرتے دیکھو تو اس کی فارفدوه مدد کرو
اپنی ثنا اسی سے سنتے جو حد سے متجاوز نہ ہوتا، کسی کی گفتگو کو نہ کاٹتے
اسلام اور احترام نبوت ﷺ
آپ کا سکوت مبارک
آپ ﷺ کا سکوت چار چیزوں پر مشتمل ہوتا ،حلم ، احتیاط، تدبر، تفکر ۔ لوگوں کے درمیان عدل میں ،تفکر فانی وباقی ،صبر میں حلم اس قدر تھا کہ کوئی شئی ناراض نہ کرتی ،اور نہ پریشان، احتیاطاً چار چیزوں میں اعلیٰ چیز اختیار کرتے تا کہ اقتداء کی جائے ،بدی کو ترک فرماتے تا کہ اس سے روکا جائے ،ایسی رائے بناتے جس میں امت کی بھلائی ہو اور ایسی چیزوں میں جدوجہد فرماتے تا کہ امت کی دنیا و آخرت بہتر ہو جائے محض کسی کی شکایت سے گرفت نہ فرماتے اور نہ ہی اس کی تصدیق فرماتے ،مجلس میں سب سے زیادہ وقار والے، اکثر آپ کا بیٹھنا گھٹنوں پر کپڑا ڈال کر ہوتا ،اس طرح چوکڑی مار کر اور دوزانوں ہو کر بھی بیٹھتے ،بغیر ضرورت بات نہ کرتے ،بد کلام والے سے اعراض کر لیتے ،آپ کی گفتگو میں ٹھراؤ تھا آپ کی نعت کہنے والا کہے گا
لم ار قبله ولا بعده مثله ﷺ میں نے آپ ﷺ کی مثل نہ پہلے دیکھا اور نہ بعد میں
آپ ﷺ کے سراپا اقدس میں متعدد احادیث وارد ہیں مگر ہم یہاں ان تمام کا ذکر نہیں کر رہے
حکماء کا اتفاق
تمام حکماء اس پر متفق ہیں جو صفات آپ ﷺ کی خلقت کے حوالے سے منقول و موجود ہیں ان تمام کا تقاضا یہ ہے کہ آپ ﷺ مزاج میں سب سے معتدل اور اعتدال میں سب سے کامل ہوں، حضرت وہب بن منبہ فرماتے ہیں میں نے اکثر کتب میں پڑھا
ان النبی ﷺ ارجح الناس نبی ﷺ سب سے زیادہ عقلمند اور
اسلام اور احترام نبوت ﷺ
عقلاً و افضلهم راياً
صاحبِ دانش، رائے کے لحاظ سے سب سے افضل واعلیٰ ہیں
دوسری روایت کے الفاظ ہیں میں نے تمام کتب میں یہ لکھا ہوا پایا
ان الله تعالى لم يعط جميع الناس من بدء الدنيا الى انقضائها من العقل فى جنب عقله الا كحبة رمل من بين رمال الدنيا
(الشفاء، ۱: ۶۷)
اللہ تعالیٰ نے ابتدا خلق سے لیکر انتہا تک لوگوں کو جو عقل دی ،وہ حضور ﷺ کی عقل کے سامنے اس طرح ہے جیسے دنیا کی تمام ریتوں کے سامنے ایک ذرہ ریت ہو
یہ خلاصہ ہم نے ذکر کیا جس سے آپ ﷺ کے صورۃً ومعناً کمال خلقت پر استدلال ہے اور آپ کی بشریت دیگر بشروں سے اعلیٰ پھر اس میں اللہ تعالیٰ نے خصائص نبوت ورسالت، معارف ربانیہ اور انوار الہیہ بھی عطا فرمائے ہیں
قوت حواس
مثلاً قوت حواس کے اعتبار سے آپ ﷺ کا یہ خاصہ ہے
انه يرى فى الثريا احد عشر نجماً
(الشفاء، ۱: ۶۸)
آپ نے ثریا میں گیارہ ستاروں کا مشاہدہ کیا
ختنہ شدہ پیدا ہونا
آپ ﷺ کے مختون پیدا ہونے کے بارے میں اختلاف ہے بعض نے انکار کیا اور بعض نے کہا آپ ﷺ ختنہ شدہ اور ناف بریدہ پیدا ہوئے
(ابن سعد، ۱: ۱۰۳)
اسلام اور احترام نبوت ﷺ
جسم نبوی کی خوشبو
آپ ﷺ کا جسم اقدس خوشبودار تھا آپ ﷺ کا پسینہ کستوری سے زیادہ مہک والا تھا جس بچے کے سر پر آپ ﷺ دست شفقت رکھتے
فيعرف من بين الصبيان وہ بچوں کے درمیان اس خوشبو کی وجہ بريحها سے پہچانا جاتا
(مسلم، ۲۳۲۹)
اس راہ سے گزرے ہیں وہ
جس راستے پر آپ ﷺ کا گزر ہوتا وہ مہک اٹھتا وہ خصوصی خوشبو بتاتی کہ آپ ﷺ ادھر تشریف لے گئے ہیں
(مسند دارمی، ۲۲)
جب آپ ﷺ رفع حاجت کے لئے کسی جگہ تشریف فرما ہوتے تو زمین پھٹ جاتی اور آپ ﷺ کا بول براز نگل جاتی اور وہاں سے خوب مہک آتی
(الشفاء، ۱: ۲۳۰)
یہ بات ہمارے امام ابو جعفر ترمذی (ت، ۲۹۵) کے قول کی تائید کر رہی ہے کہ آپ ﷺ کے تمام فضلات پاک تھے کیونکہ حدیث مرفوع ہے
ان الارض تبلع ما يخرج من زمین انبیاء علیہم السلام سے خارج الانبياء فلا يرى منه شئی ہونے والی شئی کو نگل جاتی ہے اور کوئی شئی دکھائی نہیں دیتی
(المواہب، ۲: ۳۱۴)
مجھے تو امام ابو جعفر ترمذی کا قول طہارت ہی پسند ہے اگرچہ ہمارے دیگر اصحاب اس کے مخالف ہیں کیونکہ بول پینے والی حدیث صحیح ہے، امام دار قطنی نے فرمایا شیخین پر اس کا اخراج لازم تھا، آپ ﷺ نے منہ دھونے کا حکم بھی نہیں دیا جو واضح طور پر
اسلام اور احترام نبوت ﷺ
طہارت پر شاہد ہے
دل کا بیدار رہنا
آپ ﷺ کی مقدس آنکھیں سوتی مگر دل بیدار رہتا
(البخاری، ۳۵۶۹)
گہری نیند سے بھی آپ ﷺ کا وضو نہ ٹوٹتا
(البخاری، ۱۳۸)
یہی شان دیگر انبیاء علیہم السلام کی ہے
(البخاری، ۳۵۷۰)
یہ بھی منقول ہے
انه كان يرى فى الظلمة كما آپ ﷺ تاریکی میں اسی طرح يرى فى الضوء دیکھتے جیسے روشنی میں
(دلائل للبیہقی، ۶/۷۴)
فصاحت لسانی
فصاحت لسانی، تاثیر قول، صحت معانی، قلت تکلف، میں آخری درجہ کمال پر تھے عمدہ حکمتیں آپ کا خاصہ تھیں، تمام عرب زبانوں کے ماہر اور ہر قوم کو اس کی زبان سے مخاطب ہوتے ، صحابہ نے عرض کیا، یا رسول اللہ ہم نے آپ سے بڑھ کر کوئی فصیح نہیں دیکھا فرمایا کیوں نہ ہو میری زبان میں قرآن نازل کیا گیا
(شعب الایمان، ۱/۱۴۳)
ایک روایت میں ہے میں قریشی ہوں اور بنو سعد میں تربیت پائی ہے
(المعجم الکبیر، ۵۴۳۷)
اسی وجہ آپ ﷺ میں قوت اور آپ خالص زباں سے آگاہ تھے دیہات میں رضاعت کے فوائد و حکمتوں میں سے ایک فائدہ یہ ہے کہ بچہ خوب طاقتور اور قوی ہو جاتا ہے حضور ﷺ کو چالیس مردوں کی طاقت ملی تھی
اسلام اور احترام نبوت - مواعظ
(فتح الباری، ۱: ۴۷۸)
آپ ﷺ نے ایک ہی دفعہ رکانہ پہلوان کو تین دفعہ پچھاڑا حالانکہ وہ تمام لوگوں سے طاقتور تھا اسی قوت کی بنا پر ایک ہی رات میں تمام ازواج کے ہاں تشریف لے جاتے ، وصال کے وقت آپ کی نو بیویاں تھیں
(ابوداؤد، ۲۰۷۸)
کثرت ازواج میں متعدد حکمتیں اور فوائد ہیں ان میں سے چند یہ ہیں
- ا۔ آپ ﷺ بشریت کے تمام تقاضوں میں کامل تھے جیسا کہ خصائص رسالت میں
بھی کامل
- ۲۔ آپ ﷺ کا اپنے رب اور ملکوت اعلیٰ کے ساتھ شدید تعلق واتصال تھا اور
اس میں ہر وقت ارتقا و اضافہ ہوتا حالانکہ بشر کے ساتھ مخاطبت کا تقاضا مناسبت کی وجہ سے ان کی طرف التفات ہے اور خواتین کے ساتھ معاشرت اسی کی طرف جاذب ہوتی ہے
- ۳۔ آپ ﷺ ظاہر وباطن میں، جلوت وخلوت میں کامل ہیں، مرد اوقات جلوت
ظاہری حالات نقل کر سکتے ہیں کثرت ازواج اس لئے تھی تاکہ اوقات خلوت باطنہ کے احوال وکمالات نقل کر سکیں اور ان سے امت کو احکام حاصل ہوں
- ۴۔ کسی خاتون کا والد یا بھائی قتل ہو چکے تھے جس کی وجہ سے عداوت تھی طبائع بشری
عورت کا اپنے اہل کے ساتھ میلان اور خاوند کے احوال پر اطلاع ضروری ہے حتی کہ حضرت ام حبیبہ رضی اللہ عنہا نے حضور ﷺ کا بستر لپیٹ دیا تھا تاکہ ان کا کافر باپ اس پر نہ بیٹھے
(ابن سعد، ۸: ۹۹)
یہ چیز ایسے کمال عظیم پر شاہد ہے جس کا اندازہ ہی دشوار ہے پاک ہے وہ ہستی جس نے
اسلام اور احترام نبوت ﷺ
حضور ﷺ کے ظاہر و باطن کو اسقدر کامل بنایا
فضیلت نسب مبارک
اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کو جو خصائص عطا فرمائے ان میں فضیلت نسب بھی ہے سیدنا آدم علیہ السلام سے لیکر حضرت عبداللہ اور آپ کی والدہ تک جس بطن میں آپ تشریف فرما ہوئے وہ نکاح اسلام کی طرح صحیح نکاح تھا وہاں نہ زنا اور نہ جاہلیت کا نکاح ہوا بلکہ آپ مقدس پشتوں سے ارحام طاہرہ کی طرف منتقل ہوتے رہے
(الخصائص الکبریٰ، ۱: ۳۹)
اور آپ تمام مخلوق میں اشرف ہیں کیونکہ آپ بنو ہاشم میں منتخب بنو ہاشم، قریش میں اعلیٰ، قریش، کنانہ سے اعلیٰ، کنانہ تمام عرب سے افضل اور عرب تمام اولاد آدم میں افضل ہیں، تمام انبیاء علیہم السلام اپنے انساب وصفات میں کامل ہیں اور اللہ تعالیٰ ہر قوم سے اعلیٰ آدمی کو نبی بناتا ہے
زہد و عبادت
آپ ﷺ کا زہد وعبادت میں محنت، اللہ تعالیٰ کی خشیت ، اس پر توکل، صبر، رضا، اور مخلوق پر شفقت اور دیگر صفات قلبیہ میں سے صرف کچھ کے علاوہ لوگ آگاہ نہیں ہو سکتے آپ کے حسن شمائل،عمدہ سیرت، پر حکمت گفتگو، آپ کا تمام کتب منزلہ تورات وانجیل کا علم رکھنا، تمام حکماء کی حکمتوں، سابقہ تمام قوموں کی تاریخ سے آگاہی، ضرب الامثال اور سیاسیات انام، شرائع کا اجراء، اعلیٰ ادب اور خصائل حمیدہ کی بنیاد ڈالنا، فنون علوم جنھوں نے آپ کے کلام سے فیض پایا، آپ کے
اسلام اور احترام نبوت ﷺ
اشارات کو بطور حجت ماننا، مثلاً طب، حساب، وراثت اور نسب وغیرہ سے دیوان اور کتب کے صفحات مالا مال ہیں اقلام اور سیاہیاں ختم ہو گئیں لیکن لوگ ان کے دسویں حصہ کو بھی نہ پہنچ پائے، یہ فضائل اتنے کثیر ہیں کہ تمام لکھنے والوں نے اس سمندر سے چلو بھی حاصل نہیں کیا با وجود اس کے کہ آپ ﷺ نے اعلان نبوت سے پہلے نہ کسی کتاب کا مطالعہ کیا اور نہ ہی کسی عالم کی صحبت میں بیٹھے بلکہ آپ نبی امی ہیں، ان میں سے کسی کی بھی معرفت نہ رکھتے تھے حتیٰ کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن کے ذریعے شرح صدر عطا فرمایا، آپ پر وحی و نبوت اور دلائل قطعیہ نازل ہوئی یہ ایسا سمندر ہے جس کا کنارہ نہیں ہم نے اختصاراً کچھ کا تذکرہ کر دیا ہے
اسلام اور احترام نبوت ﷺ
فصل ثالث
احادیث مبارکہ اور تعظیم و ثناء الہی، آپ کے ہاتھوں پر
معجزات غالبہ کا ظہور
پا قائم ہے، جس کی بدولت ہی یہ طبقہ ہے۔ کی علامت کے طور پر بیان کیا گیا نور ہے۔ چنانچہ سیرت نبویؐ کا لی سیرت اور کردار کی طہارت اور کے اولین دَور ہی میں حقد و عدوان مذموم مقاصد میں کامیاب ہو سکیں پاسبان خود اللہ رب العالمین ہے
وا حسرتیں، بس اٹھیں قدم، جھٹک دو دل ہے جس کا سارا تانا بانا باطل و عناد
ابدی کی خاطر مسلمان عالم پر یہ تھا جس میں اور ہر سطح اور زاویے سے سے منسلک ہوں۔
وہ اپنی اجتماعی وانفرادی زندگی میں لام کو کفر و اسلام کی آویزش اور کفار ت پر مبنی سیرت وتعلیمات کو اجاگر کیا ہٹ دھرمی کی نسبت کر سکتا ہے؟!
تھک ہیں۔ جنھوں نے ایک دینی وملّی کیا، عالم کفر کی سازشوں سے پردہ مصطفیٰ ﷺ کے دفاع و تحفظ کی خاطر اپنی
مدظلہ فاضل مدینہ یونیورسٹی
اسلام اور احترام نبوت ﷺ
- ا۔ امام حاکم نے مستدرک
نے عرض کیا، یا اللہ فرمادے، اللہ تعالیٰ نے انھیں پیدا نہیں کیا؟ عرض اپنی روح میرے اندر تھا لا الہ الا اللہ محمد کے ساتھ متصل کیا ہے، جو کہا یہ واقعہ مجھے سب سے جب تم نے ان کے وسیلہ ولو لا محمد ما خ امام حاکم لکھتے ہیں، یہ ح میں نے عبدالرحمن بن زی
- ۲۔ امام حاکم نے ہی م
السلام پر وحی کی اے عیس پر ایمان لائے لو لا محمد ما خل لا محمد ما والنار ولقد خلق الماء فاضطر
اسلام اور احترام نبوت ﷺ
۱۔ امام حاکم نے مستدرک، امام بیہقی نے دلائل النبوہ میں نقل کیا سیدنا آدم علیہ السلام نے عرض کیا، یا اللہ میں حضور ﷺ کے وسیلہ سے عرض کرتا ہوں مجھے معاف فرمادے، اللہ تعالیٰ نے فرمایا آدم تم نے محمد (ﷺ) کو کیسے پہچانا حالانکہ میں نے انھیں پیدا نہیں کیا؟ عرض کی یا رب جب تو نے مجھے اپنے دست اقدس سے پیدا فرما کر اپنی روح میرے اندر پھونکی ، میں نے سر اٹھا کر دیکھا تو عرش کے چاروں پایوں پر لکھا تھا لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ ، میں نے جان لیا جس کا نام تو نے اپنے نام کے ساتھ متصل کیا ہے یہ سب سے زیادہ محبوب ہیں ، اللہ تعالیٰ نے فرمایا ، آدم تو نے سچ کہا یہ واقعتاً مجھے سب سے زیادہ محبوب ہیں جب تم نے ان کے وسیلہ سے دعا کی تو میں نے تجھے معاف کر دیا
امام حاکم لکھتے ہیں ، یہ حدیث صحیح الاسناد ہے اور اس کتاب میں یہ پہلی روایت ہے جو میں نے عبدالرحمٰن بن زید بن اسلم سے نقل کی ہے
(المستدرک،۲: ۶۱۵)
۲۔ امام حاکم نے ہی حضرت ابن عباس سے نقل کیا اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر وحی کی اے عیسیٰ محمد پر ایمان لاؤ اور اسے حکم دو جو تمہارا امتی انھیں پائے وہ ان پر ایمان لائے
لا محمد ما خلقت الجنة اگر محمد ﷺ نہ ہوتے تو میں جنت و دوزخ
والنار ولقد خلقت العرش على پیدا نہ کرتا میں نے عرش کو پانی پر پیدا کیا تو وہ
الماء فاضطرب فكتب مضطرب ہوا
اسلام اور احترام نبوت ﷺ
علیہ لا الہ الا اللہ محمد رسول تو اس پر لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ فسکن اللہ لکھا تو وہ ساکن ہوگیا پھر لکھتے ہیں، یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن بخاری اور مسلم نے اسے تخریج نہیں کیا
(المستدرک، ۲:۶۱۵)
حضور ﷺ کے اسم گرامی کی فضیلت پر لا تعداد احادیث و آثار ہیں (نوٹ) امام حافظ حسین بن بکیر بغدادی (ت ، ۳۸۸) نے اس پر جزء (مستقل مقالہ) لکھا ہے جس کا ترجمہ فقیر نے کیا ہے
(قادری)
- ۳۔ امام ترمذی نے مناقب میں حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کیا
حضور ﷺ سے پوچھا گیا متی وجبت لک النبوة؟ آپ کب نبی بنائے گئے؟ فرمایا وآدم بین الروح والجسد ابھی آدم روح اور جسم کے درمیان تھے اور لکھتے ہیں یہ روایت حسن غریب ہے
(سنن ترمذی، ۳۶۰۹)
- ۴۔ آپ ﷺ نے فرمایا
انا اکرم ولد آدم علی ربی میں اپنے رب کے ہاں اولاد آدم میں ولا فخر (سنن ترمذی، ۳۶۱۰) معزز ہوں لیکن فخر نہیں
- ۵۔ یہ بھی فرمایا
انا اکرم الاولین والاخرین ولا میں اولین و آخرین میں سب سے فخر (مسند دارمی ، ۴۷) زیادہ معزز ہوں
اسلام اور احترام نبوت ﷺ
ایک اور جگہ فرمایا
انا سید ولد آدم یوم القيامة ولا میں روز قیامت اولاد آدم کا سردار ہونگا فخر (مسلم، ۲۶۷۸) مگر فخر نہیں
- ۷۔ آپ ﷺ نے فرمایا جبریل آئے اور کہا میں تمام زمین مشرق و مغرب گیا ہوں
فلم ار افضل من محمد ﷺ ولم ار لیکن میں نے محمد ﷺ سے افضل بنی اب افضل من بنی ھاشم نہیں دیکھا اور نہ بنو ہاشم سے بڑھ کر (فضائل الصحابہ لاحمد ، ۶۲۸۲) کوئی افضل خاندان پایا
- ۸۔ شب معراج حضور علیہ السلام کی خدمت اقدس میں جب براق لایا گیا تو وہ ذرا بدکا
جبریل امین نے اسے فرمایا تو حضور علیہ السلام کی خدمت میں ایسا کیوں کر رہا ہے ما رکبک احد اکرم علی الله تجھ پر ان سے بڑھ کر معزز سوار نہیں ہوا منه فارفض عرقاً تو وہ پسینہ سے شرابور ہو گیا
(سنن ترمذی، ۳۱۳۱)
- ۹۔ آپ ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے مجھے فرمایا ، اے محمد مانگو ، عرض کیا میرے رب
میں کیا مانگوں تو نے اتخذت ابرهیم خلیلا و کلمت حضرت ابراہیم کو خلیل ، موسیٰ کو کلیم اور موسی تکلیماً واصطفیت نوحاً حضرت نوح کو ایسا ملک دیا جو ان کے اعطیت ملکا لاحد من بعدہ بعد کسی کے لئے مناسب نہیں تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا اعطیتک خیراً من ذلک میں نے تمہیں ان سے بہتر دیا ہے اعطیتک الکوثر وجعلت میں نے آپ کو کوثر دیا ، تمہارا نام
اسلام اور احترام نبوت ﷺ
اسمک مع اسمی ینادی بہ فی اپنے نام کے ساتھ رکھا، آسمانوں جوف السماء وجعلت الارض میں اس سے پکارا جاتا ہے زمین کو طھوراً لک ولامتک وغفرت تمہارے اور تمہاری امت کے لئے لک ماتقدم من ذنبک وما پاک کر دیا، میں نے تمہیں اگلے اور تأخر فانت تمشی فی الناس پچھلے گناہوں پر مغفرت عطا کر دی مغفوراً لک ولم اصنع ذالک آپ زمین میں مغفور بن کر رہ رہے لاحد قبلک وجعلت قلوب ہیں اور یہ شان میں نے کسی کو نہیں امتک مصاحفھا وخبأت لک دی میں نے تمہارے لئے مقام شفاعتک لم اخبھا لنبی شفاعت رکھا جو کسی دوسرے نبی کو غیرک (دلائل البیہقی ۲: ۳۹۷) حاصل نہیں
- ١٠۔ ایک اور حدیث میں ہے، مجھے میرے رب نے یہ بشارت عطا فرمائی سب
سے پہلے جنت میں میری امت کے ستر ہزار آدمی داخل ہونگے ان میں سے ہر ایک کے ساتھ ستر ہزار ہونگے ، مجھے اس نے یہ عطا فرمایا کہ میری امت پر قحط نہیں ہوگا اور نہ ہی وہ مغلوب ہوگی ، مجھے نصرت وعزت عطا کی گئی ، مہینہ کی مسافت تک رعب ودبدبہ دیا ، میرے لئے اور میری امت کے لئے غنائم کو حلال فرما دیا اور کثیر ایسی اشیاء ہمارے لئے حلال کر دیں جو سابقہ امتوں پر حلال نہ تھی اور دین میں ہمارے لئے کوئی تنگی نہ رکھی
(مناہل الصفا، ۹۶)
- ١١۔ حضور ﷺ نے فرمایا ہر نبی کو اللہ تعالیٰ نے آیات عطا کیں اور لوگ ان پر ایمان
لائے مجھے اللہ تعالیٰ نے خصوصی وحی عطا کی
اپنے نام کے ساتھ رکھا، آسمانوں میں اس سے پکارا جاتا ہے زمین کو تمہارے اور تمہاری امت کے لئے پاک کر دیا، میں نے تمہیں اگلے اور پچھلے محالات پر عصمت عطا کر دی آپ زمین میں مغفور بن کر رہ رہے ہیں اور یہ شان میں نے کسی کو نہیں دی میں نے تمہارے لئے مقام شفاعت رکھا جو کسی دوسرے نبی کو حاصل نہیں
میرے رب نے یہ بشارت عطا فرمائی سب ستر ہزار آدمی داخل ہونگے ان میں سے ہر اس نے یہ عطا فرمایا کہ میری امت پر قحط نہیں نصرت و عزت عطا کی گئی ، مہینہ کی مسافت تک میری امت کے لئے غنائم کو حلال فرما دیا اور ایسی جو سابقہ امتوں پر حلال نہ تھی اور دین میں
(مناہل الصفا ، ۹۶)
علی نے آیات عطا کیں اور لوگ ان پر ایمان
اسلام اور احترام نبوت ﷺ
فارجوا ان اكون اكثرهم تابعاً امید ہے روز قیامت میری امت ان يوم القيامة (البخاری ،۷۲۷۴) تمام سے زیادہ ہوگی
مفہوم یہ ہے کہ میرا معجزہ (قرآن) تا قیامت باقی ہے جبکہ ان انبیاء علیہم السلام کے معجزات ختم تو تا قیامت لوگ اصلی قرآن سے براہ راست فیض پا سکتے ہیں نہ کہ بطور اطلاع وخبر
- ۱۲۔ آپ ﷺ کا فرمان ہے
انی عبد الله وخاتم النبين وان میں اللہ کا بندہ ہوں اور آخری نبی آدم لمنجدل في طينته ودعوة ہوں جبکہ آدم ابھی مٹی میں تیار ہو ابى ابراهيم وبشارة عيسى بن رہے تھے میں حضرت ابراہیم کی دعا مريم (مسند احمد، ۲۷۰۴) اور حضرت عیسیٰ کی بشارت ہوں
- ۱۳۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے ہے
ان الله فضل محمد ﷺ علی اللہ تعالیٰ نے حضرت محمد ﷺ کو اہل اهل السماء وعلى الانبياء صلوات سماء اور حضرات انبیاء علیہم السلام پر الله عليهم (مسند دارمی،۴۶) فضیلت عطا فرمائی ہے
- ۱۴۔ آپ ﷺ نے فرمایا میں اپنے والد گرامی حضرت ابراہیم علیہ السلام کی دعا
ہوں، یہ اشارہ اس طرف ہے ربنا وابعث فيهم رسولاً منهم اے ہمارے رب اور بھیج ان میں (البقرہ،۱۲۹) سے ایک رسول انہی میں سے میرے بارے میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے بشارت دی میری والدہ نے حمل کے وقت خواب دیکھا کہ ان کے جسم سے نور نکلا جس
اسلام اور احترام نبوت ﷺ
سے شام کے محلات روشن ہو گئے
مجھے بنو سعد میں دودھ پلایا گیا وہاں میں اپنے بھائی کے ساتھ تھا، دو آدمی سفید لباس میں آئے (ایک روایت میں تین کا ذکر ہے ) ان کے ہاتھوں میں سونے کا تھال جو برف سے مالا مال تھا انھوں نے میرا سینہ چاق کیا، میرا دل نکال کر اسے شق کیا اور اس سے گوشت کا سیاہ لوتھڑا نکالا اور پھینک دیا پھر میرے دل وبطن کو خوب دھویا
(سیرۃ النبویہ لابن ہشام، ۱: ۱۳۵)
ایک اور روایت میں ہے ایک نے دوسرے کو کوئی شئی دی جو مہر تھی جس کا نور دیکھنے والے کو حیران کر دیتا، اس سے میرے دل میں مہر لگائی جس سے وہ ایمان وحکمت سے معمور ہو گیا اور اسے اپنی جگہ پر رکھ دیا اور دوسرے نے اپنا ہاتھ میرے سینے پر پھیرا تو وہ سل گیا
- ۱۵۔ دوسری روایت میں ہے حضرت جبریل نے فرمایا یہ دل قوی ہے اس میں
عینان تبصران واذنان سمیعان دیکھنے والی دو آنکھیں اور سننے والے دو (مسند دارمی، ۵۳) کان ہیں پھر ایک نے کہا اسے دس امتیوں کے ساتھ وزن کرو تو وزن کرنے پر اسے راجح پایا پھر سو کے ساتھ وزن کیا پھر ہزار کے ساتھ پھر کہا اگر ساری امت کے ساتھ وزن کرو تو یہ بھاری ہوگا
(مسند دارمی، ۱۴)
- ۱۶۔ ایک روایت میں ہے پھر انھوں نے مجھے اپنے سینے سے لگایا اور میرا سر وماتھا چوما اور پھر
کہا یا حبیب آپ ڈریں مت، اگر تم جان لو جو تم پر خیر کا ارادہ ہے تو تمہاری آنکھیں ٹھنڈی ہو جائیں، اللہ تعالیٰ نے تمہیں خوب شرف عطا فرمایا ہے اللہ تعالیٰ اور اس کے ملائکہ تمہارے ساتھ ہیں جب وہ واپس لوٹے تو میں ان کا مشاہدہ کر رہا تھا
(تاریخ للطبری ، ۱۶۲:۲)
اسلام اور احترام نبوت ﷺ
میں (علی سبکی ) کہتا ہوں، ہر عاقل سوچے آپ کی تخلیق کسقدر اعلیٰ ہے پھر دل اقدس کی تطہیر پھر اس میں نورِ عظیم کا ودیعت کیا جانا ، پھر اس کا صفا، معارف واحوال کا کیا عالم ہوگا جب ہم میں سے کسی کے لئے (تکدر کے باوجود ) تھوڑی دیر کے لئے دل کا دروازہ کھلتا ہے تو وہ تمام کائنات کا مشاہدہ کرتا ہے
فکیف بهذا القلب النقی تو اس دل نقی اور نور سے مالا مال دل الممتلئ نوراً من غیر دنس اقدس کا عالم کیا ہوگا یہاں دنس و تکدر یعتریہ فی شئی من الاوقات؟ کا کسی وقت بھی گزر نہیں ہو سکتا
شق صدر کے بارے میں آرہا ہے کہ شب معراج بھی ہوا لیکن یہ راوی حدیث حضرت شریک کا اختلاط ہے ، ہاں شق صدر بچپن میں حضرت حلیمہ سعدیہ رضی اللہ عنہا کے ہاں ہوا
(نوٹ) ہم نے اپنی کتاب معراج حبیب خدا ﷺ میں واضح کیا کہ حضرت شریک کا اختلاط نہیں بلکہ دیگر راویوں سے بھی یہ ثابت ہے (قادری)
معجزہ معراج
اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کو معجزات عطا فرمائے ان میں اسراء بھی ہے قرآن مجید نے اسے بیان کیا، تمام مسلمانوں کا اس کی صحت و وقوع پر اتفاق ہے، سلف وخلف جمہور مسلمانوں کا اتفاق ہے کہ اسراء و معراج بیداری کے عالم میں روح اور جسم دونوں کے ساتھ ہوا، حضرت ابن عباس، حضرت جابر، حضرت انس، حضرت حذیفہ ، حضرت عمر، حضرت ابو ہریرہ، حضرت مالک بن صعصعہ، حضرت ابو حبہ انصاری ،حضرت ابن مسعود، ضحاک، سعید بن جبیر، قتادہ، ابن مسیب، ابن شہاب، ابن زید، حسن، ابراہیم، مسروق، مجاہد، عکرمہ، ابن جریج رضی اللہ عنہم کا یہی قول ہے اور
اسلام اور احترام نبوت ﷺ
یہی طبری ،ابن حنبل اور جماعت عظیم کا قول ہے اکثر فقہاء، محدثین، متکلمین اور مفسرین کا یہی موقف ہے
(الشفاء، ۱ : ۱۸۸)
حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ سے ہے کہ اسراء، روح اور خواب میں ہے اور انبیاء کے خواب برحق ہوتے ہیں، محمد بن اسحاق نے اسی طرف اشارہ کیا اور حسن سے بھی منقول ہے مگر مشہور اس کے مخالف ہے
تیسرا گروہ کہتا ہے بیت المقدس تک جسمانی ہے لیکن صحیح مشہور قول پہلا ہی ہے دوسرا قول یقیناً باطل ہے کیونکہ اگر معاملہ خواب کا ہوتا تو قریش کیوں انکار کرتے ،اگر حضرت معاویہ سے یہ صحت کے ساتھ ثابت ہو جائے تو پھر ان پر تعجب ہے، اسی طرح اس کا قول بھی باطل ہے کہ جسم سویا تھا مگر دل بیدار تھا کیونکہ آپ ﷺ نے انبیاء علیہ السلام کو جماعت کروائی یہ اور دیگر اعمال اسے باطل قرار دیتے ہیں اسراء اپنے اندر کئی انعامات رکھتا ہے اسراء ومعراج ایک رات ہوئے مکہ میں ہونے پر اتفاق ہے مگر تاریخ میں اختلاف ہے ہمارے استاد امام ابو محمد دمیاطی کا مختار نبوت سے ایک سال پہلے ہے اور ربیع الاول کا مہینہ تھا، تذکرہ حمدونیہ میں ہے کہ ماہ رجب تھا اسی طرح اہل مصر ستائیس رجب کی رات محفل کرتے ہیں لیکن یہ بدعت ہے جو کہ ان کی جہالت پر دال ہے
حدیث معراج
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے ہے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا، میرے پاس براق لایا گیا جس کا رنگ سفید، حمار سے بڑا اور خچر سے چھوٹا تھا، اس کا قدم حد نگاہ پر پڑتا، اس پر سوار ہو کر بیت المقدس پہنچا، میں نے اسے حلقہ کے ساتھ باندھا جس کے ساتھ انبیاء علیہم السلام باندھتے تھے میں نے مسجد میں داخل ہو کر دو رکعتیں ادا کیں پھر
اسلام اور احترام نبوت ﷺ
نکلا ، جبریل امین شراب اور دودھ کا برتن لائے میں نے دودھ کو منتخب کیا جبریل کہنے لگے آپ نے فطرت کو چنا ہے پھر مجھے آسمان دنیا کی طرف بلند کیا گیا، جبریل نے دستک دی سوال ہوا تم کون ہو؟ بتایا جبریل ، پوچھا تمہارے ساتھ کون ہیں؟ انھوں نے میرا نام لیا محمد ﷺ ، پوچھا کیا نھیں مبعوث کیا گیا ہے؟ کہا ہاں بلایا گیا ہے ہمارے لئے دروازہ کھول دیا گیا تو وہاں میری ملاقات حضرت آدم علیہ السلام سے ہوئی انھوں نے مجھے خوش آمدید کہا اور دعائیں دیں ، پھر مجھے دوسرے آسمان کی طرف لے جایا گیا جبریل نے دستک دی پوچھا کون؟ بتایا جبریل ، پوچھا تمہارے ساتھ کون ہیں بتایا محمد ﷺ ، پوچھا انھیں بلایا گیا ہے؟ بتایا ہاں ہمارے لئے دروازہ کھلا تو وہاں میری ملاقات حضرت عیسیٰ اور حضرت یحییٰ علیہم السلام سے ہوئی ، دونوں نے مرحبا کہا اور دعا دی، پھر مجھے تیسرے آسمان کی طرف لے جایا گیا۔ جبریل نے دستک دی سوال ہوا تم کون ہو؟ بتایا جبریل ، پوچھا تمہارے ساتھ کون ہیں؟ انھوں نے میرا نام لیا محمد ﷺ پوچھا کیا انھیں مبعوث کیا گیا ہے؟ کہا ہاں انھیں بلایا گیا ہے ، دروازہ کھولا تو وہاں حضرت یوسف علیہ السلام سے ہماری ملاقات ہوئی انھیں حسن کا ایک حصہ عطا کیا گیا ہے، انھوں نے مجھے خوش آمدید کہتے ہوئے دعا دی۔ پھر چوتھے آسمان کی طرف لے جایا گیا جبریل نے دستک دی سوال ہوا تم کون ہو؟ بتایا جبریل ، پوچھا تمہارے ساتھ کون ہے؟ انھوں نے کہا محمد ﷺ ، پوچھا کیا انھیں بلایا گیا ہے کہا ہاں بلایا گیا ہے ہمارے لئے دروازہ کھول دیا گیا تو وہاں حضرت ادریس علیہ السلام سے ملاقات ہوئی انھوں نے مرحبا کہا اور دعا دی، اللہ تعالیٰ کا ارشاد گرامی ہے ورفعناہ مکانا علیا (مریم، ۵۷) اور ہم نے اسے بلند جگہ کی طرف اٹھایا پھر میں پانچویں آسمان کی طرف بلند کیا گیا جبریل نے دستک دی ، سوال ہوا تم کون
اسلام اور احترام نبوت ﷺ
ہو؟ بتایا جبریل ، پوچھا تمہارے ساتھ کون ہے؟ انھوں نے کہا محمد ﷺ ، پوچھا کیا انھیں بلایا گیا ہے؟ کہا ہاں بلایا گیا ہے ہمارے لئے دروازہ کھول دیا گیا تو وہاں مجھے حضرت ہارون علیہ السلام ملے اور دعا دی ، پھر ہمیں چھٹے آسمان کی طرف لے جایا گیا ، جبریل نے دستک دی سوال ہوا تم کون ہو؟ بتایا جبریل ، پوچھا تمہارے ساتھ کون ہیں ؟ انھوں نے کہا محمد ﷺ پوچھا کیا انھیں مبعوث کیا گیا ہے؟ بتایا ہاں ، ہمارے لئے دروازہ کھلا تو وہاں حضرت موسیٰ علیہ السلام نے مجھے خوش آمدید کہا اور دعا دی ، پھر میں ساتویں آسمان کی طرف لے جایا گیا جبریل نے دستک دی سوال ہوا تم کون؟ بتایا جبریل ، پوچھا تمہارے ساتھ کون ہیں انھوں نے کہا محمد ﷺ ، پوچھا کیا انھیں بلایا گیا ہے؟ کہا ہاں انھیں بلایا گیا ہے ، ہمارے لئے دروازہ کھولا گیا تو وہاں میں نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو پایا جو بیت المعمور کے ساتھ تکیہ لگائے تشریف فرما تھے ، وہاں ہر روز ستر ہزار فرشتے داخل ہوتے ہیں اور وہ دوبارہ نہیں آتے پھر مجھے سدرۃ المنتہیٰ پر لے جایا گیا جس کے پتے ہاتھی کے کانوں اور پھل قلال کی طرح تھے جب اسے اللہ کے امر نے ڈھانپ لیا جیسے کہ ڈھانپنا تھا تو اس میں تبدیلی آئی اس کے حسن کو مخلوق بیان کرنے کی طاقت ہی نہیں رکھتی ، فرمایا پھر اس نے میری طرف وحی کی ، جو وحی کرنا تھی مجھ پر دن رات میں پچاس نمازیں فرض کیں ، میں واپس لوٹا ، حضرت موسیٰ علیہ السلام کے پاس پہنچا انھوں نے پوچھا رب تعالیٰ نے تمہاری امت پر کیا فرض فرمایا ہے ؟ میں نے بتایا پچاس نمازیں ، کہنے لگے واپس جا کر اپنے رب سے کمی کرواؤ تمہاری امت اس کی طاقت نہیں رکھتی ، مجھے بنی اسرائیل میں اس کا تجربہ ہو چکا ہے ، میں اپنے رب کی طرف لوٹا اور عرض کیا ، اے میرے پروردگار میری امت پر تخفیف فرما تو مجھ سے پانچ نمازیں کم کر دی گئیں۔ میں واپس حضرت موسیٰ علیہ السلام کے پاس آیا اور
اسلام اور احترام نبوت ﷺ
پانچ کی کمی سے آگاہ کیا کہنے لگے تمہاری امت میں اتنی طاقت نہیں واپس اپنے رب کے حضور جاؤ اور کمی کی درخواست کرو
وبین موسیٰ آتا جاتا رہا
حتی کہ فرمان الہی ہوا، یا محمد دن رات میں پانچ نمازیں فرض ہیں، ہر نماز کا ثواب دس کے برابر ہے تو یہ پچاس ہو جائیں گی، تو جس نے برائی کا ارادہ کیا لیکن نہ کی تو کوئی شئی نہ لکھی جائے گی، اگر کر لی تو ایک برائی لکھی جائے گی، میں نے واپس آ کر حضرت موسیٰ علیہ السلام کو اطلاع دی کہنے لگے پھر واپس جا کر اپنے رب سے کمی کرواؤ، میں نے کہا اتنی بار گیا ہوں اب مجھے جاتے حیا محسوس ہوتی ہے
(مسلم، کتاب الایمان)
یہ حدیث صحیح ہے اسے امام بخاری و مسلم نے نقل کیا
(البخاری، ۳۸۸، مسلم، ۱۶۲)
ایک روایت میں ہے حضرت آدم علیہ السلام اور ابراہیم علیہ السلام نے مرحبا کہتے ہوئے، ابن صالح نے کہا جبکہ دیگر نے اخ صالح کہا
(البخاری، ۳۴۹)
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے ہے
المستوى اسمع فيه صريف میں پہنچا وہاں میں نے اقلام کی
الاقلام آواز سنی
(مسلم، ۱۶۳)
اسلام اور احترام نبوت ﷺ
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے ہے میں نے خود کو انبیاء کی جماعت میں دیکھا، نماز کا وقت ہوا تو میں نے ان کی امامت کروائی مجھ سے کہا گیا یہ خازن دوزخ مالک ہے انھیں سلام کہو تو وہ میری طرف متوجہ ہوئے اور مجھے پہلے سلام کہا
(مسلم، ۱۷۶)
مالک نے جو ابتداً سلام کیا اس میں حکمت و اشارہ ہے کہ آپ اور آپ کی امت دوزخ کے عذاب سے سلامت رہے گی
معراج اور دیدار الٰہی
اس رات سر کی آنکھوں سے آپ ﷺ نے اللہ تعالیٰ کا دیدار کیا، اس میں اسلاف کا اختلاف ہے، حضرت ابن عباس اور جماعت صحابہ اور ان کے بعد امام ابو الحسن اشعری، امام احمد بن حنبل کی رائے یہی ہے کہ دیدار کیا، دیگر صحابہ حضرت ابن مسعود، حضرت ابو ہریرہ، حضرت ابو ذر اور امام حسن بصری سے بھی یہی مروی ہے
حضرت سعید بن جبیر کہتے ہیں میں توقف کرتا ہوں، امام احمد بن حنبل سے ایک روایت دل سے دیکھنے کی اور دنیا میں آنکھوں سے دیدار کے انکار کی بھی ہے توقف بھی کچھ لوگوں نے اختیار کیا، قاضی عیاض کہتے ہیں
حق جس میں شک نہیں، یہی ہے کہ باری تعالیٰ کی دنیا میں رؤیت عقلاً جائز ہے لیکن اس کا وقوع ایسا غیب ہے جسے اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے یا جسے وہ آگاہ فرمادے، ہمارے نبی کے بارے میں اس کا وجوب وثبوت اور یہ قول کہ آنکھوں سے دیدار کیا اس پر قاطع دلیل اور نص نہیں کیونکہ سہارا آیات سورۂ نجم ہیں اور ان کی تفسیر میں اختلاف منقول ہے اور احتمال دونوں کا ہے اور حضور ﷺ سے اس بارے میں متواتر اور قاطع کوئی دلیل منقول نہیں اگر کوئی نص حدیث اس بارے
اسلام اور احترام نبوت ﷺ
میں وارد ہوتی تو پھر اس پر اعتقاد لازم ہوتا
(الشفاء، ۱۹۸:۱)
ہم کہتے ہیں یہ شرط کہاں ہے کہ وہ دلیل قاطع یا متواتر ہو بلکہ اگر وہ حدیث ظاہراً صحیح ہے اگرچہ خبر واحد ہے تو اس پر اعتماد کر لیا جائے گا کیونکہ یہ ان اعتقادیات میں سے تو ہے نہیں کہ دلیل قطعی ضروری ہو پھر ہم اس کے مکلف نہیں کہ بطور یقین و ظن دونوں میں کسی سے ایک پر جزم اختیار کریں
اللہ تعالیٰ سے راز و نیاز
اللہ تعالیٰ کا ارشاد گرامی ہے
فاوحی الی عبدہ ما اوحی (النجم، ۱۰) پس وحی فرمائی اپنے بندے کو جو وحی فرمائی
قاضی عیاض لکھتے ہیں
اکثر مفسرین کی رائے ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جبریل کی طرف وحی کی اور انھوں نے حضور کی طرف البتہ شاذ ہی اس کے خلاف کسی نے کہا
امام جعفر صادق سے ہے کہ حضور ﷺ کی طرف اللہ تعالیٰ نے بلا واسطہ وحی فرمائی، اس کی مثل امام واسطی (ت، ۳۲۰) نے بات کی ہے، بعض متکلمین نے بھی اسراء کی رات حضور ﷺ نے اللہ تعالیٰ سے کلام کا شرف پایا، امام اشعری اور حضرت ابن مسعود اور حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے بھی منقول ہے، دیگر نے اس کا انکار کیا ہے
(الشفاء، ۲۰۲:۱)
ہم کہتے ہیں یہ انکار درست نہیں اور نہ ہی اس پر کوئی قوی دلیل ہے لہذا مختار یہی ہے
انہ کلمہ بلا واسطۃ کما حکی اللہ تعالیٰ نے حضور ﷺ سے بلا واسطہ کلام عن الاشعری وغیرہ فرمایا جیسا کہ امام اشعری وغیرہ سے منقول ہے
کیونکہ حضرت موسیٰ اور اللہ تعالیٰ کے درمیان جو بار بار مراجعت اور دیگر اشیاء معراج
اسلام اور احترام نبوت ﷺ
اس پر شاہد ہیں ہاں یہ پردہ کے پیچھے ہوئی اگر عدم دیدار کا قول ہو اور اگر قول دیدار کا ہو تو پھر دیدار کے علاوہ کسی وقت میں ہوئی جب اللہ تعالیٰ نے چاہا تا کہ اس آیت کے خلاف بات نہ رہے
وما كان لبشر ان يكلمه الله اور کسی آدمی کو نہیں پہنچتا کہ اللہ اس سے الا وحياً او من ورآء حجاب کلام فرمائے مگر وحی کے طور پر یا یوں کہ وہ او يرسل رسولاً فيوحى باذنه بشر پردہ کے پیچھے ہو یا کوئی فرشتہ بھیجے کہ ما يشاء انه على حكيم وہ اس کے حکم سے وحی کرے جو وہ چاہے (الشوریٰ، ۵۱) بے شک وہ بلندی و حکمت والا ہے
دنو اور تدلی سے انتہائی قرب، مقام لطف اور ایضاح معرفت مراد ہے ورنہ اللہ کے بارے میں حسّاً یہ محال ہے نوٹ، تفصیل کے لئے فقیر کی کتاب معراج حبیب خدا ﷺ کا مطالعہ کیجیے
(قادری غفرلہ)
روز قیامت مقام مصطفیٰ ﷺ
روز قیامت آپ ﷺ کی شان و عظمت پر یہ احادیث شاہد ہیں
- ١۔ آپ ﷺ نے فرمایا جب لوگ قبور سے اٹھیں گے تو میں سب سے پہلے اٹھوں گا،
وخطيبهم اذا اوفدوا جب لوگ وفد بن کر حاضر ہونگے تو میں ومبشرهم اذا ايسوا لواء ان کا نمائندہ ہونگا جب مایوس ہونگے تو الحمد بيدى وانا اكرم میں بشارت دونگا ، حمد کا جھنڈا میرے ولد آدم على ربى ولا فخر ہاتھ ہوگا اور میں اولاد آدم سے اپنے رب (سنن ترمذی ، ۳۶۱۰) کے ہاں سب سے معزز ہوں مگر فخر نہیں
اسلام اور احترام نبوت ﷺ
- ۲۔ دوسری روایت میں ہے
وقائدهم اذا وفدوا وخطيبهم وفد کے وقت میں ان کا قائد، خاموشی اذا انصتوا وشفيعهم اذا کے وقت ان کا خطیب، جب روک لئے حبسوا ومبشرهم اذا ايسنوا جائیں گے میں شفاعت کرنے والا ہوں لواء الكرم بيدى گا اور کرم کا جھنڈا میرے ہاتھوں ہوگا
(دلائل للبیہقی، ۵:۴۸)
- ۳۔ یہ بھی فرمایا
انا سيد ولد آدم يوم القيامة روز قیامت میں اولادِ آدم میں معزز ہونگا حمد وبيدى لواء الحمد ولا فخر کا جھنڈا میرے ہاتھ ہوگا مگر فخر نہیں فمن سواه الا تحت لوائى اس دن ہر نبی آدم اور ان کے علاوہ بھی تمام وانا اول من يحرك حلق میرے جھنڈے کے نیچے ہونگے میں الجنة فيفتح الله لى جنت کے دروازے پر سب سے پہلے دستک (سنن ترمذی، ۳۶۱۲) دوں گا تو اللہ تعالیٰ میرے لئے کھول دے گا
آپ ﷺ کی ذات اقدس دنیا و آخرت دونوں میں تمام کی سردار ہے، یوم القيامة کے الفاظ اس طرف اشارہ ہے کہ یہ امتیازی وصف اور یہ مقام عظیم و مقام محمود اس دن ظاہر ہو کے سامنے آئے گا کہ دوسرا کوئی شفاعت میں آپ ﷺ کی مثل نہ ہوگا، جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے
لمن الملك اليوم لله الواحد آج بادشاہی کس کی ہے؟ اللہ کی جو یکتا القهار (غافر، ۱۶) کنٹرول فرمانے والا ہے
حدیث شفاعت مشہور ہے اس لئے اس کا ذکر ضروری نہیں
اسلام اور احترام نبوت ﷺ
خوبصورت نکتہ
قاضی عیاض نے مسئلہ عصمت انبیاء میں بہت خوبصورت نکتہ لکھا کہ انبیاء کچھ اشیاء پر عذر کرتے ہوئے انھیں ذنوب شمار کریں گے اور ان میں سے ہر ایک کا محل و دفاع درست ہے اگر ان کے علاوہ کوئی شئی ہوتی تو وہ اس کا ذکر کرتے
ہم قاضی عیاض کے ساتھ ہیں کہ حضرات انبیاء علیہم السلام ہر قسم کے گناہ سے معصوم ہیں خواہ وہ کبائر ہیں یا صغائر دانستہ یا بھول کر
(الشفاء، ۱۰۹:۱)
حبیب و خلیل
اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کو خلت و محبت دونوں سے نواز رکھا ہے خلیل ہونے کے بارے میں آپ ﷺ کا فرمان ہے
(مسلم، ۲۲۸۳)
محبوب ہونے کے بارے میں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے
(سنن ترمذی، ۳۶۱۶)
مقام وسیلہ اور بلند درجہ
اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کو مقام وسیلہ اور درجہ رفیعہ سے بھی نواز رکھا ہے اور یہ جنت میں سب سے اونچا مقام ہے جو آپ ﷺ کے علاوہ کسی کو نصیب نہ ہوگا ، کوثر بھی ملی جو جنت کی نہر ہے اور وہ آپ ﷺ کی حوض کوثر سے جاری ہوگی
اسلام اور احترام نبوت ﷺ
فضیلت دینے سے ممانعت کیوں؟
قاضی عیاض لکھتے ہیں جب قرآن واحادیث صحیحہ اور اجماع امت سے واضح ہے کہ آپ ﷺ اکرم البشر اور افضل الانبیاء ہیں تو ان احادیث کا مفہوم کیا ہوگا جس میں فضیلت دینے سے منع کرتے ہوئے فرمایا کوئی آدمی یہ نہ کہے کہ میں یونس بن متیٰ سے افضل ہوں اسی طرح فرمایا انبیاء کے درمیان فضیلت نہ دو
اسی طرح فرمان ہے مجھے موسیٰ پر فضیلت مت دو، یہ بھی فرمایا جس نے کہا میں یونس سے بہتر ہوں اس نے جھوٹ بولا، جب آپ کو کسی نے کہا، اے مخلوق سے بہتر تو فرمایا، یہ مقام حضرت ابراہیم کا ہے
جواب۔ اہل علم نے ان ارشادات کے متعدد معانی بیان کیے ہیں
- ۱۔ یہ ممانعت اس وقت تھی جب آپ نہ جانتے تھے کہ میں اولاد آدم کا سردار ہوں، ہم
کہتے ہیں یہ ضعیف ہے کیونکہ روایت ممانعت حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے اور وہ آخری سالوں میں ایمان لانے والے ہیں اور اس وقت آپ ﷺ اپنی فضیلت کا علم رکھتے تھے خصوصاً حدیث معراج کا مطالعہ کریں متعدد چیزیں اس مسئلہ کو آشکار کر رہی ہیں
- ۲۔ یہ ارشادات بطور تواضع ہیں لیکن یہ جواب اعتراض سے محفوظ نہیں
- ۳۔ ایسی فضیلت سے منع کیا گیا ہے جس سے کسی دوسرے نبی کی تنقیص ہوتی ہو
- ۴۔ حق نبوت ورسالت میں فضیلت دینے سے منع کیا گیا ہے، کیونکہ اس میں انبیاء
برابر ہیں یہ ایسی شئی ہے جس میں فضیلت نہیں ہوسکتی، تفاضل بنیادی احوال، خواص، کمالات ، مراتب اور الطاف میں ہوسکتی ہے، نفس نبوت میں تفاضل نہیں ہوتا، تفاضل دیگر امور میں ہے یہی وجہ ہے ان میں اولوالعزم ہیں، بعض کے مقامات بلند، بعض کو بچپن میں
اسلام اور احترام نبوت ﷺ
حکم، بعض کے ساتھ بلاواسطہ کلام اور کسی کے بے حد درجات بلند ہیں
- ۵۔ حدیث میں انا سے قائل مراد ہے یعنی کوئی آدمی اگرچہ ذکاوت و فطانت اور
عبادت میں کسقدر آگے ہو وہ یہ نہ کہے میں حضرت یونس بن متی سے بہتر ہوں کہ ان کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے یہ فرمایا (یعنی قوم کو چھوڑ کر چلا جانا وغیرہ) کیونکہ ان کا درجہ افضل و اعلیٰ ہے اور ایسی اشیاء ان کے رتبہ میں ذرہ بھر فرق نہیں لاسکتیں اور نہ اس میں کمی آسکتی
(الشفاء، ۱: ۲۲۶)
ہمارا چھٹا جواب
ہم کہتے ہیں ’لاتفضلوا بین الانبیاء‘ کے بارے میں قاضی عیاض کی ہی گفتگو کے ضمن میں چھٹا جواب بھی موجود ہے جن کی تفصیل ہم کیے دیتے ہیں اگرچہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسل حقائق احوال سے آگاہ ہونے کی بنا پر ایک دوسرے کی فضیلت کا علم رکھتے ہیں مگر تم نہیں جانتے کیونکہ فضیلت دینا توقیفی معاملہ ہے، جس نے بلاعلم فضیلت دی اس نے کذب بیانی کی یا وہ پھسل گیا، تو ممانعت مخاطبین کے لئے بطور تادیب ہے کیونکہ وہ مراتب انبیاء سے اکثر جاہل ہوتے ہیں تو اس میں اہل علم یا کتاب وسنت کی روشنی میں فضیلت دینے والے شامل نہ ہونگے
(فتح الباری، ۶: ۴۴۲)
اسماء مبارکہ
آپ کے فضائل میں سے اسماء مبارکہ بھی ہیں، بخاری میں ہے آپ ﷺ نے فرمایا، میرے پانچ نام ہیں، اہل علم کہتے ہیں، کہ یہاں حصر نہیں بلکہ انہوں نے دیگر اسماء بھی ذکر کیے ہیں، انہیں اسماء پر شیخ ابو خطاب عمر بن حسن بن علی بن
اسلام اور احترام نبوت ﷺ
دحیہ (۶۳۳:۵۴۶) نے دو جلدوں میں کتاب لکھی ان میں سے کچھ یہ ہیں
محمد، احمد، الرسول، النبی، الامى، الاول، الاخر، الامین، الاتقى، اعلم بالله، امام النبین ،اکثر الانبیاء تابعاً (زیادہ امت والے) ارحم الناس (سب سے زیادہ رحم کرنے والے) ارجح الناس عقلاً (عقل میں سب سے زیادہ) الاخذ بالحجزات (کمر سے پکڑ کر دوزخ سے دور لے جانے والے) احسن الناس (سب سے خوبصورت) اجود الناس (سب سے سخی) اشجع الناس (سب سے بہادر) الابطحى (وادی مکہ کے رہنے والے) بينة من اللہ (اللہ کی دلیل) البشير، البرهان (آخری قطعی دلیل) بیان، باطن (اللہ تعالیٰ کی عطا سے باطنی امور سے آگاہ) بلیغ (اعلیٰ کلام کرنے والے) ابر قلیطیس (رومی زبان میں محمد) التقى (سب سے صاحب تقوی) التالی (تلاوت آیات کرنے والے ) التهامی (وادی تہامہ والے) ثانی اثنین (غار میں دوسرے) الحق المبین (واضح کرنے والے) الحاشر (قیامت میں تمام کو جمع کرنے والے) حامل لواء حمد ( لواء حمد کا جھنڈا اٹھانے والے) الحلیم (حوصلہ والے) ختم، حکیم (حکمت والے) حميد (حمد والے) حافظ (محافظ) حجة (دلیل) حریص (سب سے زیادہ پیار کرنے والا، حنیف (یکسو) حم عسق، حفیظ (حفاظت والے) حسیب (محاسب)، حامیا (حرم کے محافظ) حاتم (سب انبیاء میں خلق اور خلقت میں خوبصورت) حامد (اللہ کی حمد کرنے والے) خاتم النبین، الخاتم (صاحب مہر) الخبیر (اللہ کی خبر رکھنے والے) خلیل الله (اللہ کے خلیل) داعی اللہ (اللہ کی طرف بلانے والے) ذو الوسیلہ (مقام وسیلہ
اسلام اور احترام نبوت ﷺ والے) ذوالمعجزات (معجزات والے) الذکر (سراپا ذکر) رؤف (نہایت شفیق) رحیم، رحمۃ للعالمین(، رحمۃ مہداۃ (سراپا رحمت) راکب الجمل (عربی) الراضی (رضا والے) الرفیع الذکر (بلند ذکر والے) الزکی (پاکیزہ) زین من وافی القیامۃ (قیامت میں وفا کرنے والوں کے سرتاج) طہ (طہارت والے) اللسان (صاحب لسان) المکی، مرغمۃ (کفر مٹانے والے) المدنی، المقدس، المہمین (المحافظ) المشفع (مقبول شفاعت) المرتل (ترتیل سے قرآن پڑھنے والے) محمود (حمد کیے گئے) المسلم، المرسل، المنیر (روشن) المتوکل، المبشر، المزمل، المدثر، مشفع (سریانی میں بمعنی محمد) الماحی (کفر مٹانے والے) المقفی (آخری نبی) مقیم السنه (اعلیٰ طریقہ جاری کرنے والا) مطہر (پاک کرنے والا) المص، المسر، المنحمنا (انجیل نام) اطامون (محفوظ) المذکر (نصیحت کرنے والا ) المولیٰ (سربراہ) محلل (حلال کرنے والے) محرم (حرام کرنے والے) مؤتمن (امانت گاہ) ماجد (بزرگ) مؤمن (امن والے) معقب (آخر میں آنے والے) المنصف (انصاف والے) المکرم (عزت والے) المہدی (رہنما) المصطفٰی (منتخب) المطاع (مقتدا) منذر (انجام سے آگاہ کرنے والے ) المرفع الدرجات (بلند درجے والے) المعزز (سب سے عزت والے ) الموقر (سب سے توقیر والے) المبلغ (تبلیغ فرمانے والے) النذیر (ڈرانے والے) نعمۃ اللہ (اللہ کی نعمت) النور (سراپا نور) نبی الرحمۃ (رحمت والے نبی ) نبی الملحمۃ (جہاد والے نبی) النجم الثاقب (چمکدار ستارہ) البنی
اسلام اور احترام نبوت ﷺ
الصالح (صالح نبی) الصادق (سچ والے) المصدوق (جن کی تصدیق ہوئی ) الصفوح (درگزر کرنے والے) صاحب القضیب (تلوار والے) صاحب التاج (عمامہ والے) الکوثر (کوثر والے) صاحب الہراوۃ (صاحب عصا) الصاحب (دوست) صاحب منبر (منبر والے) صاحب الوسیلہ (مقام وسیلہ والے) صاحب قول لا الہ الا اللہ (لا الہ الا اللہ پڑھانے والے) الضحوک (تبسم فرمانے والے) عبد اللہ ، العاقب (آخر میں آنے والے) العظیم (عظمتوں والے) العفو (معاف فرمانے والے) العروۃ الوثقی (مضبوط رشتے والے) العفیف (عصمت والے) العدل (سراپا عدل) العربی ، العالم ، الغالب، الغنی، الغیث، (کرم کی بارش) الفارقلیط (حق وباطل میں فرق کرنے والے) الفجر (سراپا روشنی) الفاتح، الفرط (آگے جا کر امت کی انتظار اور انتظام فرمانے والے ) فضل اللہ ، قثم (جامع خیر) القتال (جہاد سے محبت کرنے والے) قدم صدق (سچی دلیل) قاسم (انعامات الٰہیہ تقسیم کرنے والے ) القرشی ، السراج (روشن چراغ) سیف اللہ المسلول (تلوار الٰہی ) الشاہد (گواہ) الشہید (روحانی طور پر حاضر و ناظر) الشفیع ، الشافع ، الشکور (شکریہ ادا کرنے والے) الہادی (رہنمائی کرنے والے) الواعظ (نصیحت کرنے والے) الولی ، (دوست و قریب) یسین (اے مخلوق کے سردار)
کنیت مبارکہ
آپ ﷺ کی مشہور کنیت ابوالقاسم، ابوالارامل (بے سہارا کے سہارا) بھی
اسلام اور احترام نبوت ﷺ
یہ منقول ہے، کہ آپ ﷺ کی کنیت ابوالقاسم کی وجہ یہ ہے
القیامۃ (الریاض الانیقہ، ۲۷۳) جنت آپ ﷺ تقسیم فرمائیں گے
سوال۔ ان میں اکثر صفات ہیں نہ کہ اسماء؟
جواب ۔ یہاں اسماء سے مراد دونوں ہیں ، اسماء حسنیٰ میں بھی یہی صورت ہے کہ وہ صفات پر بھی مشتمل ہیں
سوال ۔ ان میں سے بعض اسماء الہیہ ہیں؟
جواب ۔ جو اسماء خالق اور مخلوق کے درمیان مشترکہ ہیں وہاں صرف اشتراک لفظی ہی ہے ورنہ ان کے درمیان ہرگز کوئی قدر مشترک نہیں
لا تشبــــــہ الــــــذوات کے مشابہ نہیں اسی طرح اس کی صفات
کذلک صفاتہ کے بھی کوئی صفت مشابہ نہیں ہو سکتی
ہم نے اسماء کی تفصیل میں اختصار سے کام لیا ہے کیونکہ یہ آشکار و واضح ہیں
لفظ محمد و احمد ﷺ
واضح ہے کہ لفظ محمد ﷺ محمود ہونے اور صفات خیر ہونے پر مبالغہ ہے اور لفظ احمد ، اللہ تعالیٰ کی حمد میں مبالغہ کے لئے ہے کیونکہ آپ ﷺ سے بڑھ کر اللہ تعالیٰ کی کوئی حمد کرنے والا نہیں
معجزہ قرآن کریم
آپ ﷺ کے معجزات میں قرآن بھی ہے جو سب سے بڑا معجزہ ہے بلکہ یہ ستر ہزار معجزات پر مشتمل ہے کیونکہ آپ ﷺ نے اس کی ایک سورت کو بطور مقابلہ
اسلام اور احترام نبوت ﷺ
مثل لانے کے لئے پیش کیا اور سب سے چھوٹی سورۃ الکوثر ہے تو ہر آیت یا آیات معجزہ پائیں پھر اس میں حسن تالیف، اجتماع کلمات، وضاحت، وجوہ اعجاز و بلاغت ہے جو تمام فصحاء عرب سے بڑھ کر ہے، نظم عجیب کی صورت، اسلوب غریب میں عقول حیران، اذہان عاجز، اس کا غیبی اخبار پر مشتمل ہونا، سابقہ امتوں کی خبریں، شرائع قدیمہ کے بارے میں اطلاع، ایسے ایسے واقعات جن سے کوئی اہل کتاب ہی آگاہ ہو سکتا ہے جس نے مطالعہ میں عمر لگائی ہو لیکن آپ ﷺ نے انھیں تفصیل کے ساتھ انہی الفاظ میں بیان فرما دیا آیات کے عدد کثیر کے باوجود ان میں مذکور چار اقسام اعجاز موجود ہیں
قرآن کے اندر معجزات سے اللہ تعالیٰ ہی آگاہ ہے پھر ہر زمانہ میں موجود اسے ہر بعد میں آنے والا دیکھ اور سن سکتا ہے جیسا کہ پہلے لوگوں نے دیکھا اور سنا، اس کے عجائب ختم نہیں ہونگے، یہ کثرت تلاوت سے پرانا نہ ہوگا، یہ قطعی تواتر کے آخر درجہ پر ہے، ہر شہر میں شیوخ، بوڑھے نوجوان، اور بچے اسے نقل کرنے والے ہیں جن کی تعداد اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے، اس میں ایسی اشیاء ہیں کہ مخالفین کو ان کے مقابلہ کا چیلنج دیا گیا، اس کے سماع سے دلوں میں ہیبت، خوف اور خشیت پیدا ہوتی ہے، اس کا تلفظ آسان ہے، اس میں تبدیلی ناممکن، لوگ ان میں سے ایک ایک شئی کی تفصیل لکھیں تو کئی جلدیں تیار ہوجائیں
معجزہ شق القمر
آپ ﷺ کے معجزات میں سے شق القمر بھی ہے، اہل مکہ نے آپ ﷺ سے یہ مطالبہ کیا تو آپ نے انھیں دو ٹکڑے کر کے دکھایا ایک ٹکڑا پہاڑ کی ایک طرف اور دوسرا اس کے نیچے تھا اور جبل حرا ان کے درمیان تھا
اسلام اور احترام نبوت ﷺ
سورج کا پلٹنا
ایک معجزہ یہ ہے کہ آپ ﷺ گود علی رضی اللہ عنہ میں آرام فرما تھے سلسلہ وحی شروع ہو گیا حتی کہ سورج غروب ہو گیا پوچھا علی تم نے نماز عصر پڑھ لی ہے؟ عرض کیا نہیں آپ نے اللہ کی بارگاہ میں عرض کی
اللہم انہ کان فی طاعتک اے اللہ علی تیری طاعت اور تیرے وطاعة رسولک فاردد علیہ رسول کی غلامی میں تھے لہٰذا سورج کو الشمس واپس کر دے
حضرت اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا کا بیان ہے میں نے سورج غروب دیکھا پھر غروب کے بعد طلوع ہوا دیکھا، اس کی روشنی پہاڑوں اور زمین پر پھیلی ہوئی تھی اور یہ واقعہ خیبر کے مقام صہبا پر ہوا، اسے امام طحاوی نے (شرح مشکل الآثار ، ۹۲:۳) میں نقل کیا
قاضی عیاض فرماتے ہیں اس کے راوی ثقہ ہیں، امام احمد بن صالح مصری نے کہا ہر اہل علم کو حدیث اسماء (رد شمس) یاد کرنی چاہیے کیونکہ یہ علامات نبوت میں سے ہے، امام ابو الخطاب نے اسے موضوع کہا لیکن یہ حکم اس سند کا ہے فضیل بن مرزوق عن ابراہیم عن حسن عن فاطمہ بنت حسین عن اسماء تو ابراہیم بن الحسن کی بھول ہے اور فضیل بن مرزوق کا اختلاط بھی ہے
انگلیوں سے چشمے
ایک معجزہ مقدس انگلیوں سے چشمے بہنا بھی ہے اور یہ بلا شبہ صحیح احادیث سے ثابت ہے آپ ﷺ کی برکت سے قلیل چیز کثیر ہو جاتی اور اس پر متعدد واقعات شاہد ہیں مثلاً چشمہ تبوک ، حدیبیہ کا کنواں، وضو کے برتن میں ، عورت کے مشکیزے
اسلام اور احترام نبوت ﷺ
اور لوٹے میں، جب آپ زمین پر قدم مارتے پانی نکل آتا
(الطبقات، ۱۵۲:۱)
آپ ﷺ کی برکت سے خندق کے دن حضرت جابر رضی اللہ عنہ کے کھانے میں کثرت ہوگئی، چند قرص جو اور بکری کا گوشت ہزار آدمی نے کھایا، چند قرص جو جنھیں حضرت انس رضی اللہ عنہ نے اپنی بغل میں رکھا ستر یا اسی آدمیوں نے کھایا
حضرت ابو ایوب رضی اللہ عنہ نے حضور ﷺ اور حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے لئے کھانا تیار کیا جو ڈیڑھ صد آدمیوں نے کھایا
(دلائل للبیہقی، ۹۴:۲)
ایک گوشت کا پیالہ لایا گیا، صبح تا شام لوگ اس سے کھاتے رہے
(سنن ترمذی، ۳۶۲۵)
بقیہ زاد راہ میں دعا کی وجہ سے لشکر کا کھانا تیار ہوگیا
(مسلم، ۲۷)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اہل صفہ ستر کا ایک پیالہ دودھ پینا اور حضرت ام سلیم کے جو وغیرہ کے کثیر واقعات منقول ہیں
درختوں کا سلام
درختوں نے آپ ﷺ سے کلام کیا اور آپ کی نبوت کی گواہی دی، طلب فرمانے پر دوڑتے ہوئے حاضر ہو گئے، کھجور کا تنا فراق میں رویا، سنگریزوں نے ہتھیلی میں تسبیح کی، پتھروں نے سلام کہا اور کہا آپ اللہ کے رسول ہیں، حیوانات نے آپ سے گفتگو کی مثلاً گو، ہرن، بھیڑیا اور اونٹ وغیرہ شیر نے حضرت سفینہ رضی اللہ عنہ کی خدمت کرکے آپ کی غلامی کا مظاہرہ کیا
(المستدرک، ۶۱۹:۲)
اسلام اور احترام نبوت ﷺ
زہر آلود بکری کا زندہ ہو کر گفتگو کرنا، بعض نے کہا یہ گفتگو بغیر حیات کے تھی، متکلمین کے یہ دونوں اقوال ہیں کہ کیا وجود حروف وصوت کے لئے حیات شرط ہے یا نہیں
(الشفاء، ۱: ۳۱۸)
مریض اور بیمار آپ کی برکت سے شفا پاتے ، مثلاً حضرت قتادہ رضی اللہ عنہ کی آنکھ رخسار پر لٹکنے کے بعد واپس لوٹا دی اور وہ پہلے سے بھی زیادہ خوبصورت ہو گئی
(دلائل للبیہقی ، ۳: ۱۰۰)
جس نابینا نے آپ کا وسیلہ دیا اسے آنکھیں مل گئی
(سنن ترمذی، ۳۵۷۸)
جس کی آنکھ پر آپ نے لعاب دہن لگایا اس کی بینائی لوٹ آئی اور اسی سال کی عمر میں بھی سوئی میں دھاگہ ڈال لیتا
(مجمع الزوائد ، ۸: ۲۹۸)
حضرت کلثوم کے سینہ میں تیر لگا آپ ﷺ نے لعاب دہن لگایا تو وہ صحت مند ہو گئی
(الاستیعاب، ۴: ۱۲۲۰)
حضرت عبد اللہ بن انیس رضی اللہ عنہ کے زخم پر لعاب دہن لگایا تو اس میں پیپ پیدا نہ ہوئی
(مجمع الزوائد ، ۸: ۲۹۸)
خیبر کے دن حضرت علی رضی اللہ عنہ کے آنکھوں میں لعاب لگایا تو وہ صحت مند ہو گئیں
(البخاری، ۴۲۱۰)
اسی دن حضرت سلمہ رضی اللہ عنہ کی زخمی پنڈلی پر لعاب لگایا تو وہ درست ہو گئی اسی طرح کے کثیر واقعات ہیں
قبولیت دعا
آپ ﷺ کی دعا بارگاہ الہی میں مقبول تھی، جس کے لئے آپ دعا
اسلام اور احترام نبوت ﷺ
فرماتے اس کا اثر اس کی اولاد در اولاد تک جاتا، یہ بات نہایت ہی وسیع ہے آپ ﷺ چیزوں کی ماہیت بدل دیتے، جسے مس فرماتے یا پودا لگاتے یا سواری فرماتے اس کی برکت ہوتی، بکری کے خشک تھنوں میں دودھ اتر آتا جیسے کہ حضرت ام معبد کی بکری ،حضرت حلیمہ رضی اللہ عنہا کی بکریاں ،حضرت انس اور دیگر لوگوں کی بکریاں، غیوب پر مطلع ہونا بھی آپ کا معجزہ ہے اور یہ باب اتنا وسیع ہے کہ کئی جلدیں اس کے لئے درکار ہیں
اللہ تعالیٰ کی آپ کو لوگوں سے حفاظت حاصل تھی اور وہ ان کی اذیت میں کافی تھا، آپ کے معارف وعلوم ظاہرہ بھی معجزہ ہیں، ملائکہ اور جنات کی خبریں دینا، ملائکہ کے ساتھ مدد کا آنا اور جنات کی اطاعت بھی شامل ہے
راہبوں ،کاہنوں ،یہود علماء اور اہل کتاب کا آپ ﷺ کی نعت، اوصاف، اسم ،اور علامت کی خبریں دینا، مہر نبوت کا دونوں شانوں کے درمیان ہونا اور بادل کا سایہ کرنا، اسی طرح ولادت کے وقت بہت سی نشانیوں کا ظہور، مکہ میں جنات کا اطلاع دینا بھی ہے، آسمان کے ستاروں کے ذریعے حفاظت، شیاطین کی رسد گاہ کا توڑنا، اور ان کا وحی کا نہ سن پانا، بتوں سے بغض کرنا، امور جاہلیت سے پاک ہونا، اور دیگر خصائص اور وصال تک حفاظت بھی شامل ہے آپ ﷺ کے معجزات پر اہل علم نے مستقل کتب لکھیں مثلاً امام ابو نعیم، امام بیہقی، وغیرہ وہ احاطہ نہ کر پائے ہم نے صرف اشارہ کیا تا کہ اہل ایمان کی محبت و اعتقاد میں اضافہ ہو
اسلام اور احترام نبوت
یا قائم ہے، جس کی بدولت نبی یقین ہے۔
کی علامت کے طور پر بیان کیا گیا نور ہے۔ چنانچہ سیرت نبویؐ کا عملی سیرت اور کردار کی طہارت اور کے اولین دور ہی میں فتنہ و عدوان مذموم مقاصد میں کامیاب ہوسکیں پاسبان خود اللہ رب العالمین ہے سازشیں جنھیں قدم بقدم ذلیل و جس کا سامنا ان کٹر اعداء جہاد ابدی کی خاطر مسلمانان عالم پر یہ ظاہر میں اور ہر سطح اور زاویے سے سے منسلک ہوں۔
وہ اپنی اجتماعی وانفرادی زندگی میں لام کو کفر و اسلام کی آویزش اور کفار ت پر مبنی سیرت وتعلیمات کو اجاگر کیا دہشت گردی کی نسبت کر سکتا ہے؟! حق ہیں جنھوں نے ایک دینی وملّی کیا، عالم کفر کی سازشوں سے پردہ سے سرفراز فاضل مدینہ یونیورسٹی
اسلام اور احترام نبوت ﷺ
چوتھی فصل
مخلوق پر آپ کے لازم حقوق
پر قائم ہے، جس کی بدولت ہی ے تکلف ہے۔ ی علامت کے طور پر بیان کیا گیا انور ہے۔ چنانچہ سیرت نبویؐ کا ل سیرت اور کردار کی طہارت اور دے اور دین و دنیا میں مفاسد و عدوان مذموم مقاصد میں کامیاب ہوسکیں کے پاسبان خود اللہ رب العالمین ہے و اعصار میں انھیں قدم بقدم ہتھکنڈوں ے جس کا سامنا ان کے آباء و اجداد ابدی کی خاطر مسلمانان عالم پر یہ ھاتے ہیں اور ہر سطح اور زاویے سے ے منسلک ہوں۔ وہ اپنی اجتماعی و انفرادی زندگی میں لام کو کفر واسلام کی آویزش اور کفار ت پر مبنی سیرت و تعلیمات کو اجاگر کیا ہٹ دھرمی کی نسبت کر سکتا ہے؟! کیا، عالم کفر کی سازشوں سے پردہ سلیم کے دفاع و تحفظ کی خاطر اپنی حذیفہ، فاضل مدینہ یونیورسٹی
اسلام اور آخرت
آپ ﷺ نے اس کے باوجود تو جیسا کہ ہم
لے آیا اور شریعت نے کہا مکمل ہے
اختلاف نقل کیا ہے آیا کیونکہ وہ اس بات اعتراف نہ کیا تھا جس نے دل سے اقرار وجہ سے ترک تعلق آپ ﷺ کی سنن کی بجاآوری، مامورات سے تسلیم کرنا لازم ہے قول یا فعل کی مخالفت سے بدعت کی طرف لے ہو، آپ سے سچی عقیدت
اسلام اور احترام نبوت ﷺ
آپ ﷺ پر ایمان لانا اور آپ کی نبوت ورسالت کو دل و زبان سے ماننا فرض ہے اس کے بغیر اسلام وایمان درست ہی نہیں، اہل علم کا اجماع ہے کہ جس نے اللہ کی توحید کو مانا مگر رسولوں کا اعتراف نہ کیا وہ کافر ہے اور اسے اللہ تعالیٰ کی معرفت حاصل نہ ہوگی، حضور ﷺ جو کچھ لے کر آئے ہیں اس تمام کی دل سے تصدیق کرنا اور زبان سے اقرار لازم ہے
اہل علم کا اس بارے میں اختلاف ہے جو بولنے پر قادر نہیں، دل سے ایمان لے آیا اور شہادت زبان سے پہلے موت آگئی، بعض کے نزدیک ایمان مکمل نہیں، بعض نے کہا مکمل ہے اور وہ جنتی ہے اور یہی صحیح ہے
(الشفاء ۵:۲)
لیکن اگر کوئی بولنے پر قادر ہے تو پھر نطق لازمی ہے، قاضی عیاض نے عجیب اختلاف نقل کیا کہ وہ کافر ہے یا عاصی، یہ اس محل اجماع کے علاوہ میں ہے جس کا ذکر آیا کیونکہ وہ اس صورت میں ہے جب کسی نے توحید مان لی مگر رسل کا دل وزبان سے اعتراف نہ کیا حالانکہ دعوت پہنچی ہو تو یہ شخص بالاتفاق کافر ہوگا لیکن یہ صورت یہ ہے کہ جس نے دل سے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسل کا دل سے اعتراف کیا اور کسی شک یا عناد کی وجہ سے ترک تلفظ نہیں کر رہا لیکن اسے مکمل سمجھ کر رہا ہے تو صحیح یہی ہے کہ یہ کافر ہے
آپ ﷺ کی لائی ہوئی تمام تعلیمات کی طاعت ، آپ کی اتباع آپ کی سنن کی بجاوری، آپ کے راستے کی پیروی، آپ کے حکم کی تابعداری اور ظاہر وباطن سے تسلیم کرنا لازم ہے کہ دل میں آپ ﷺ کے فیصلہ کے خلاف تنگی نہ ہو، آپ کے قول یا فعل کی مخالفت کا ترک، آپ سے محبت، آپ کی سنت کا لزوم لازم ہے، سنت سے بدعت کی طرف تجاوز نہ ہو، آپ کی ذات ہمیں اپنی ذوات سے زیادہ محبوب ہو، آپ سے سچی محبت ہو کہ اس کا اظہار بطور علامات بھی ہو اور پہلی چیز آپ کی اقتدا
اسلام اور احترام نبوت ﷺ
، آپ کے طریقہ پر عمل، آپ کے اقوال وافعال کی اتباع، آپ کے اوامر کی بجا آوری ، آپ کے نواہی سے اجتناب، تنگی وخوشحالی میں آپ کا طریقہ اسی طرح خوشی و تکلیف میں، ھوائے نفس اور موافقت شہوات کے خلاف آپ کے معمول کو ترجیح ہو اللہ تعالیٰ کی رضا کے لئے خواہ بندوں کو ناراض کرنا پڑ جائے جو بندہ ان صفات سے متصف ہوگا وہ کامل المحبت ہوگا اور جو ان سے بعض کی مخالفت کرتا ہے وہ ناقص المحبت ہے البتہ اسم محبت سے خارج نہ ہوگا اس پر دلیل حضور ﷺ کا ارشاد گرامی شاہد ہے جو شراب پر حد لگنے والے آدمی کے بارے میں فرمایا
انه يحب الله ورسوله یہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول سے پیار (البخاری، ۲۷۸۰) کرتا ہے
آپ سے محبت کی علامات میں سے کثرت ذکر اور ملاقات و زیارت کا کثرت شوق بھی ہے، آپ کے ذکر کے وقت آپ کی تعظیم وتوقیر ہے، آپ کا اسم گرامی سن کر اظہار خشوع خضوع بھی ہے آپ کے محبوبوں سے محبت، آپ کی اہل بیت، صحابہ مہاجرین وانصار سے محبت ، آپ کے دشمنوں سے عداوت، آپ سے بغض رکھنے والوں سے بغض اور دشمنی بھی علامت ہے، کیونکہ جو کسی سے محبت کرتا ہے وہ اس کے محبوبوں سے بھی محبت کرتا ہے
(میرے حبیب کے محبوب بھی میرے محبوب ہیں)
قرآن سے محبت، سنت سے محبت، اور ان کی مقرر کردہ حدود کے اندر رہنا، دنیا سے زہد، فقر کو پسند کرنا بلکہ اسے اختیار کرنا بھی علامت ہے
محبت کی حقیقت
حقیقت یہ ہے کہ موافق کی طرف دل کا میلان ہو یا جمال صورت کی وجہ
اسلام اور احترام نبوت ﷺ
سے یا حسن سیرت کی بنا پر یا کسی احسان کی وجہ سے والنبی ﷺ جامع لذلك حضور ﷺ ان تمام اسبابِ محبت کو جامع كله ہیں
لیجیے جمال صورت وحسن سیرت پڑھ چکے ، مخلوق پر آپ ﷺ کے جو احسانات ہیں ان سے بڑھ کر کسی کا احسان نہیں آپ ﷺ کی خیر خواہی لازم ہے، دین سراپا خیر خواہی کا نام ہے
اللہ تعالیٰ کے لئے یوں کہ اس کے بارے میں اعتقاد درست، اس کی محبت وشوق، اس کی ناراضگی سے دوری ، اس کی عبادت میں اخلاص ہے
اس کی کتاب کے لئے خیر خواہی یوں ہے کہ اس پر ایمان اس کے احکام پر عمل ، اس کی تلاوت بوقتِ تلاوت ادب وتواضع، تعظیم ، اس کا فہم اور دوسروں کو سمجھانا ، غلو کرنے والوں کی تاویل اور منکرین کے طعن کا دفاع کرنا ہے
رسول اللہ ﷺ کے ساتھ خیر خواہی یوں ہوگی آپ کی نبوت کی تصدیق آپ کے اوامر ونواہی پر حتمی العقد و عمل ، آپ کی ظاہری حیات اور آپ کے مشن کی خدمت ، حمایت ، آپ کے طریقوں کو سیکھنا ، ان کا دفاع اور ان کا پھیلانا ، آپ کے اخلاق مبارکہ اور آداب جمیلہ سے مزین ہونا ،
اللہ تعالیٰ اس کی کتاب اور اس کے رسول کی طرف دوسروں کو دعوت دینا ، ان پر عمل کرنا ، آپ کے دفاع کی خاطر جان ومال قربان کرنا ، آپ کے طریقوں سے اعراض کرنے والوں سے دوری ان سے نفرت اور ان سے احتراز رکھنا ، آپ کی امت پر شفقت ، آپ کے اخلاق وسیرت اور آداب جاننے کے لئے مطالعہ اور ان پر استقامت کے ساتھ چلنا ہی آپ کی خیر خواہی ہے
اسلام اور احترام نبوت ﷺ
آپ ﷺ کے حقوق میں سے آپ کی توقیر و عزت بھی ہے آپ سے آگے نہ بڑھا جائے ، آپ کی آواز سے آواز بلند نہ کی جائے ، آپ کے پاس آواز پست رکھی جائے ، آپ کے بلانے اور دعا کو ایک دوسرے کی طرح نہ سمجھا جائے آپ ﷺ کی تعظیم ، نصرت واعانت میں خوب مبالغہ سے کام لیا جائے، صحابہ کا معمول اس میں مبالغہ ہی تھا، اگر ہم اس کا تذکرہ کریں تو بات طویل ہو جائے گی اگرچہ انھوں نے خوب مبالغہ کیا
فلم يبلغوا ما هو حقه ﷺ وما مگر وہ آپ ﷺ کا حق ادا نہ کر سکے اور احد من البشر يطيق القيام نہ ہی کوئی انسان آپ ﷺ کا حق ادا بحقه على التمام لكن کرنے پر قادر ہے البتہ حسب طاقت کیا بحسب طاقته جاسکتا ہے
ذکر کے آداب
آپ ﷺ کے وصال کے بعد بھی حرمت و توقیر اسی طرح لازم ہے جیسے ظاہری حیات میں تھی خواہ وہ آپ کے ذکر کا معاملہ ہو یا ذکر حدیث وسنت ہو ، خواہ آپ کے مبارک نام کا تذکرہ ہو یا سیرت کا یا معاملہ آل وعترت کا ہو ہر مومن پر لازم ہے کہ جب آپ ﷺ کا تذکرہ کرے یا اس کے پاس تذکرہ ہو تو وہ خوب خضوع وخشوع ، اور توقیر سے کام لے حتیٰ کہ حرکت ختم کردے اور سکون کے ساتھ رہے ، اسی طرح ذہن میں آپ ﷺ کی ہیبت وجلال کو لائے گویا وہ آپ ﷺ کے سامنے موجود ہے اور انہی آداب کو بجالائے جن کا ہمیں اللہ تعالیٰ نے حکم دے رکھا ہے
اسلاف کا طریقہ ادب
اس معاملہ میں اسلاف آئمہ وصالحین کا یہی معمول ملتا ہے
اسلام اور احترام نبوت ﷺ
- ا۔ امام صفوان بن سلیم مدنی (ت ۱۳۲ھ) کے پاس جب حضور ﷺ کا ذکر ہوتا تو
رو پڑتے فلا يزال يبكى حتى يقوم وہ اسقدر روتے کہ لوگ پاس سے اٹھ الناس عنه ويتركوه کر چلے جاتے
- ۲۔ حضرت امام مالک رضی اللہ عنہ کے بارے میں ہے جب رسول اللہ
ﷺ کی حدیث بیان کرتے تو تعظیم کی خاطر باوضو ہوتے ، یہ بھی منقول ہے كان يغتسل ويتطيب غسل کرتے ،خوشبو لگاتے ، اچھے ويلبس ثياباً جدداً وساجه کپڑے اور جبہ پہنتے ،عمامہ اور چادر ويتعمم ويضع على رأسه سر پر رکھتے پھر مسند بچھائی جاتی ردائه وتلقى تشریف لاتے اس طرح بیٹھتے کہ له منصة فيخرج فجلس خشوع طاری ہوتا، عليها وعليه الخشوع ولا يزال جب تک درس حدیث جاری رہتا يبخر بالعود حتى يفرغ من دھونی دکھائی جاتی حديث رسول الله ﷺ اور پھر مسند پر صرف حدیث بیان کرنے لئے بیٹھتے اس کے علاوہ نہ بیٹھتے
(الشفاء: ۴۲:۲)
آپ ﷺ کی توقیر میں سے ہے کہ آپ کے صحابہ کا احترام کیا جائے اور ان کے مشاجرات و اختلافات میں گفتگو سے رکا جائے ، آپ ﷺ کے آثار مثلاً شہر مکہ اور مدینہ کا احترام کیا جائے ، ہر اس چیز کا جسے آپ ﷺ نے مس فرمایا
اسلام اور احترام نبوت ﷺ
امام مالک نے فتویٰ جاری فرمایا جو مدینہ طیبہ کی مٹی کو ردی کہے اسے تیس درے لگائے جائیں اور اسے گرفتار کیا جائے اور فرمایا اس کا قتل کسقدر ضروری ہے جو اس کو غیر طیبہ کہے جس میں آپ ﷺ کی تدفین ہے
درود و سلام کا لزوم
آپ ﷺ کے حقوق لازمہ میں سے درود شریف بھی ہے قاضی عیاض مالکی نے اس کی فرضیت پر اجماع نقل کیا، اس میں اختلاف ہے کہ عمر میں ایک دفعہ ہی کافی ہے یا ہر ذکر کے وقت یا نماز میں؟ امام طبری کا موقف ہے ایک سے زائد دفعہ بالاتفاق مستحب ہے ہم نے درود شریف کے الفاظ اپنی کتاب، شفاء السقام فی زیارۃ خیر الانام میں جمع کر دیے ہیں
بارگاہ اقدس کی حاضری
آپ ﷺ کے حقوق میں سے روضہ اقدس کی حاضری بھی ہے ہم نے مذکورہ کتاب میں زیارت اور اس کے احکام و آداب کے ساتھ ساتھ حضور ﷺ کے خدمت میں سلام بھیجنا اور آپ ﷺ کے جواب دینے پر گفتگو کی ہے، واضح رہے آپ ﷺ کے حقوق کی حد نہیں، اس کی تفصیل کی یہاں گنجائش نہیں ہم نے چند ذکر کیے تاکہ اس کتاب کا خاتمہ ان پر ہو اور ہمارا خاتمہ خیر پر ہو لہذا ہم اسی پر اکتفا کر رہے ہیں اور اس کتاب کی یہ آخری گفتگو تھی
اور اللہ تعالیٰ سے دعا ہے وہ اپنے من و کرم سے لکھنے سننے اور پڑھنے والے کے لئے اسے نافع بنادے بندہ اس کی تصنیف سے قاہرہ میں اپنے گھر درب الطفل میں ۲۴ شعبان المعظم کو فارغ ہوا
اسلام اور احترام نبوت ﷺ
الحمد لله وحده وصلى الله على سيدنا محمد وآله وصحبه وسلم حسبنا الله ونعم الوكيل
اختتام ترجمہ بتوفیق اللہ تعالیٰ ۱۵، اگست ۲۰۰۳ء بروز جمعۃ المبارک بعد نماز عشاء ۱۴ جمادی الثانی ۱۴۲۴ھ بوقت ۱۰-۳۰ مرکزی دفتر کاروان اسلام شادمان لاہور
وَالَّذِينَ يُؤْذُونَ رَسُولَ اللَّهِ لَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ
اسلام اور احترام نبوت
امام تقی الدین علی السبکی
کی عَظِیْم كِتَاب
السيف المسلول على من سب الرسول
كا تَرْجمه
از
مفتی محمد خان قادری
کاروانِ اسلام پبلیکیشنز
جامعہ اسلامیہ لاہور ایچ بی ہاؤسنگ سوسائٹی (ٹھوکر نیاز بیگ) لاہور