تحفظ ناموس رسالت صلی اللہ علیہ وسلم
اور توہین رسالت صلی اللہ علیہ وسلم ایکٹ
ایک تنقیدی مطالعہ
(مقالہ برائے ایم فل اسلامیات)
مقالہ نگار محمد حامد رضا رول نمبر ۴۷۹۸۱۷۴ بی
نگران پروفیسر ڈاکٹر محمد اسحاق قریشی گورنمنٹ کالج فیصل آباد
ادارہ علوم اسلامیہ و عربی علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی اسلام آباد
مقالہ ھذا کی منظوری بذریعہ خط نمبر F.11-3/95-F.B/286 مورخہ 10-01-96 کو ہوئی
مقدمہ
اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ نَحْمَدُهُ وَنَسْتَعِيْنُهُ وَنَسْتَغْفِرُهُ وَنَعُوْذُ بِاللهِ مِنْ شُرُوْرِ أَنْفُسِنَا وَمِنْ سَيِّئَاتِ أَعْمَالِنَا مَنْ يَّهْدِهِ اللهُ فَلَا مُضِلَّ لَهُ وَمَنْ يُضْلِلْهُ فَلَا هَادِيَ لَهُ وَنَشْهَدُ اَنْ لَّا اِلٰهَ اِلَّا اللهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيْكَ لَهُ وَنَشْهَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُوْلُهُ ۔ اَمَّا بَعْدُ أَعُوْذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ ۔ إِنَّا أَرْسَلْنٰكَ شَاهِدًا وَّمُبَشِّرًا وَّنَذِيْرًا لِّتُؤْمِنُوْا بِاللهِ وَرَسُوْلِهِ وَتُعَزِّرُوْهُ وَتُوَقِّرُوْهُ ط وَتُسَبِّحُوْهُ بُكْرَةً وَّاَصِيْلًا ه اِنَّ الَّذِيْنَ يُؤْذُوْنَ اللهَ وَ رَسُوْلَهُ لَعَنَهُمُ اللهُ فِي الدُّنْيَا وَالْاٰخِرَةِ وَأَعَدَّ لَهُمْ عَذَابًا مُّهِيْنًا ه فَاضْرِبُوْا فَوْقَ الْاَعْنَاقِ وَاضْرِبُوْا مِنْهُمْ كُلَّ بَنَانٍ ه ذٰلِكَ بِأَنَّهُمْ شَاقُّوا اللهَ وَرَسُوْلَهُ ج وَمَنْ يُّشَاقِقِ اللهَ وَرَسُوْلَهُ فَاِنَّ اللهَ شَدِيْدُ الْعِقَابِ ه
اسلام کی اشاعت اور امت مسلمہ کی وحدت اور یکجہتی کی واحد بنیاد ذاتِ رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم سے مسلمانوں کا تعلق اور وابستگی ہے اگر یہ تعلق کمزور پڑ جائے ، تو اس کے منفی اثرات امت مسلمہ کی وحدت اور
یکجہتی کے ساتھ ساتھ مسلمانوں کے دین و ایمان پر پڑتے ہیں ، جس کلمے کی بنیاد پر انسان اسلام میں داخل ہوتا ہے ، اس کا اصل الاصول دو عقیدوں کا اعلان و اعتراف ہے ، یعنی ذات باری تعالیٰ کی توحید اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت کا غیر مشروط اقرار ـــــــــــــــــــــ ذات رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم سے اس وابستگی کو پختہ ، بامعنی اور دیرپا بنانے میں جو چیز سب زیادہ موثر ثابت ہوتی ہے ، وہ حب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دولت ہے ایک مسلمان دنیا کی ہر چیز کے بارے میں مصالحانہ رویہ اختیار کر سکتا ہے اور اپنے ہر مفاد اور وابستگی کو قربان کر سکتا ہے لیکن وہ سرکار دوعالم صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنی گہری اور انتہائی مضبوط عقیدت کے بارے میں کو مصالحت نہیں کر سکتا یہ وابستگی محض کسی جذباتی نوعیت کی نہیں ہے بلکہ اس کا مسلمانوں کے عقیدہ، ثقافت ، قانون اور تہذیب و تمدن سے بڑا گہرا تعلق ہے ۔ اسلام میں ہر چیز کا آخری اور حتمی حوالہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات گرامی ہے ۔ یہ بات قرآن پاک میں بھی واضح اور مبرہن انداز میں بار بار بیان ہوئی ہے ۔ احادیث میں بھی یہی بات ذہن نشین کرائی گئی ہے اور فقہاء کرام ، متکلمین مفسرین ، محدثین بلکہ عامۃ الناس کا بھی اس پر روز اول سے اتفاق رہا ہے کہ ہر ایسا قول یا فعل جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اس حیثیت کو مجروح یا متاثر کرنے کی کوشش کرے ، اسلام کے خلاف ایک بغاوت یعنی High Treason
کے مترادف ہے ، جس کی سزا موت ہے ۔ توھین رسالت صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ سزا کسی جذباتی بنیاد پر نہیں بلکہ اسلام کے عقیدہ ، قانون اور تہذیب و تمدن کا منطقی تقاضا ہے مسلمانوں کا اس امر پر ہمیشہ اتفاق رھا ہے کہ ایک اسلامی ریاست میں توھین رسالت کا ارتکاب ایک سنگین فوجداری جرم ہے ، جس کی سزا موت ہے پاکستان کی وفاقی شرعی عدالت ، قومی اسمبلی اور سینٹ سب نے متفقہ طور پر اس قانون کی بنیاد پر تعزیرات پاکستان میں دفعہ ۲۹۵-سی کا اضافہ کیا ہے ۔ مزید براں برصغیر کے مسلمان من حیث المجموع اس اصول کی بار بار اپنے اجتماعی عمل سے تائید کر چکے ہیں ۔ غازی علم الدین شہید ، غازی عبدالقیوم شہید اور اس پایہ کے دیگر حضرات کے کارناموں کے بارے میں برصغیر کی ملت اسلامیہ کا اجتماعی موقف اور ردعمل کسی سے ڈھکا چھپا نہیں ہے ۔ علامہ اقبال ، قائد اعظم اور تحریک پاکستان کے دیگر قائدین کے بیانات ریکارڈ - پر موجود ہیں ، جن میں انہوں نے ان شہداء کے کارناموں کو اسلامی شریعت کے لازمی تقاضے کے طور پر حق بجانب قرار دیا ہے ۔
بڑے دکھ اور افسوس کی بات ہے کہ آج بعض لوگ ناواقفیت ، اسلام دشمنی ، مغربیت سے مرعوبیت یا انسانی حقوق کے نام نہاد مغربی علمبرداروں کے پروپیگنڈے کی وجہ سے اسلام کے اس حکم کے بارے میں شبہات کا
اظہار کرنے لگے ہیں، اگر دشمنان اسلام کے پروپیگنڈا سے ڈر کر اسلام کے احکام کو بدلنے یا منسوخ کرنے کا یہ نامبارک سلسلہ ایک بار شروع ہو گیا تو پھر اس کی کوئی انتہاء نہ ہو گی ۔ قرآن پاک نے پہلے ہی خبردار کر دیا ہے کہ یہود و نصاریٰ مسلمانوں کی طرف سے کسی جزوی انحراف سے مطمئن نہیں ہوں گے بلکہ ان کی رضا جب ہی حاصل ہو سکتی ہے جب مسلمان اسلام سے ناطہ توڑ کر ان کی ثقافتی اقدار ، تہذیبی اصول اور ورثہ کو اپنا لیں ۔ ظاہر بات ہے کہ اسلامی عقائد واحکام جن تصورات پر قائم ہیں ، وہ دور جدید کے لادینی مغربی ، جمہوری تصورات سے بنیادی طور پر متعارض ہیں ۔ اس لیے یہ کوشش فضول ہے کہ اسلامی احکام کی وہ تعبیریں کی جائیں جن کو آج کا لادینی مغربیت زدہ طبقہ چاہتا ہے ۔
پچھلے چند سالوں سے توہین رسالت ایکٹ کے خلاف جو مہم چل رہی ہے اس کے پیش نظر اس قانون کی اہمیت اجاگر کرنے اور اس کے متعلق شکوک وشبہات اور مخالفانہ پروپیگنڈہ کا ازالہ کرنے کی غرض سے اس موضوع پر کتب اور بہت سارے مضامین شائع ہوئے لیکن یہ زیادہ تر شاتم کی سزاے موت کو ثابت کرنے تک محدود رہے ۔ ان میں اکثر وبیشتر کے دلائل اور حوالہ جات کے بنیادی مآخذ کی بجائے ثانوی مآخذ سے اخذ کئے گئے ہیں ۔ یہ سب کاوشیں اخلاص پر تو مبنی ہیں مگر ان میں قانون
توہین رسالت کے متعلق کچھ اہم پہلوؤں میں اسلامی ممالک میں توہین رسالت کی سزا کا نفاذ برصغیر میں اس ایکٹ کی اولین اور حالیہ صورت کی منظوری کا پس منظر، مذاہب عالم میں اس کا وجود ، مغربی ممالک میں طویل عرصہ تک اس قانون کے نفاذ کی مثالیں ، انسانی حقوق، آئین اور اقلیتوں کے حقوق کے حوالہ سے اس قانون پر لگائے اعتراضات کا جائزہ اور اس کے خاتمہ یا مجوزہ ترمیم کے نتائج وعواقب جیسے اہم پہلو مفقود یا تشنۂ تکمیل ہیں ۔
لہٰذا اس مقالہ کے ذریعے بنیادی مآخذ اور تازہ ترین صورت حال کی روشنی میں بالخصوص ان مذکورہ بالا پہلوؤں پر تحقیق و گفتگو کر کے اس موضوع کو مزید آگے بڑھانے کی کوشش کی گئی ہے ۔
اس مقالہ کے ابواب میں جو موضوعات زیر بحث ہیں ان کی تفصیل اس طرح ہے :
پہلا باب
اس باب میں ناموس رسالت ، عظمت و شان رسالت اور آداب رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق احکام الٰہی اور اس کے مطابق صحابۂ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین کے عمل کی وضاحت ہے ۔ اس کے بعد قرآن وحدیث کی موجودگی میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی توہین کرنے
والے کی سزا کے متعلق گفتگو کی گئی ہے ، جس کے لیے دور نبوی اور دور صحابہؓ سے مثالیں پیش کی گئی ہیں ۔
دوسرا باب
شاتمِ رسول کی سزا کے متعلق ائمہ فقہاء کے اقوال ، حد شرعی کے نفاذ کا مسئلہ اور شاتم کی توبہ کے متعلق تین موقف اور ان کے دلائل کا جائزہ پیش کیا گیا ہے ۔
تیسرا باب
اس باب میں تاریخ اسلامی کے نامور ادوار کے حوالے سے مسلم ممالک میں توہین رسالت کی سزا مسلم یا غیر مسلم شاتم پر حد نافذ ہونے اور تاریخِ یورپ و مذاہب عالم کی تعلیمات کی روشنی میں شعائرِ مذہب کی توہین کی سخت سزا اور اس پر متعدد بار عمل درآمد ہونے کے متعلق تفصیل گفتگو ہے ۔
چوتھا باب
برصغیر میں توہین رسالت ایکٹ کا تاریخی پس منظر واضح کرنے کے لیے قانون بابت توہین بانیان مذاہب میں اولین ترمیم ۱۹۲۷ء پاکستان میں موجودہ سزا کی منظوری کے لیے اسمبلی اور وفاقی شرعی عدالت میں مختلف کاوشوں کا
جائزہ پیش کیا گیا ہے ۔
پانچواں باب
انسانی حقوق کے مغربی تصور کی حقیقت ، مغربی ممالک میں انسانی حقوق اور بالخصوص اقلیتوں کی ابتر صورت حال پر نظر ڈالنے کے ساتھ ساتھ اس اہم اعتراض کا مفصل جائزہ لیا گیا ہے کہ توہین رسالت ایکٹ بنیادی انسانی حقوق اور آزادی رائے کے منافی ہے
چھٹا باب
توہین رسالت ایکٹ پر عام اور قانونی اعتراضات نیز اقلیتوں کی طرف سے ظاہر کردہ خدشات کا جائزہ لیا گیا ہے ۔
ساتواں باب
اس باب میں ناموس انبیاء کے متعلق جدید مغربی رجحانات اور ان کی وجوہات کی نشاندہی کی گئی ہے ۔ سابق حکومت نے مغربی ممالک کے دباؤ کے تحت اس قانون میں جو تبدیلیاں اور ترامیم تجویز کیں، ان کا قانونی اور اخلاقی پہلوؤں سے جائزہ لیا گیا ہے نیز اس مجوزہ ترمیم کے ممکنہ نتائج و عواقب
ط
بھی پیش کیئے گئے ہیں ۔
( رَبِّ اشْرَحْ لِيْ صَدْرِيْ وَيَسِّرْ لِيْ أَمْرِيْ وَاحْلُلْ عُقْدَةً مِّنْ لِّسَانِيْ يَفْقَهُوا قَوْلِيْ ه )
اس مقالہ کی تکمیل کی خاطر ہر حوالہ بنیادی مأخذ سے لینے کی ہر ممکن کوشش کی گئی ہے تحریک ناموس رسالت ۱۹۹۴ء ۔ ۱۹۹۵ء کے دوران رونما ہونے والے واقعات ، حکومتی بیانات اور ان پر ردعمل کے حوالہ کے لیے براہ راست رپورٹنگ کرنے والے قومی سطح کے بڑے اخبارات کو ہی استعمال میں لایا گیا ہے ۔
براہ راست طویل اقتباسات سے پرہیز کر کے زیادہ تر بالواسطہ اقتباس کا طریقہ اپنایا گیا ہے ، جہاں ضروری تھا وہیں مختصر اور اہم عبارت بطور اقتباس واوین میں نقل کی گئی ہے ۔ حوالہ جات کے اندراج کے لیئے ایم فل اسلامیات کے کورس : تحقیق نگاری (کوڈ ۶۴۱۷) کی ہدایات اور ڈاکٹر محمد طفیل ھاشمی صاحب کی کتب ” تدوین طبقات “ اور ” مسلمانوں کے سائنسی کارنامے اندلس میں “ کا اسلوب مدنظر رکھا گیا ہے البتہ قرآن مجید کے حوالہ جات کے لیے ان کے انداز سے ادب کے ساتھ اختلاف کیا گیا ہے اور القرآن ۲ : ۱۸۷ کی بجائے البقرہ ۲ : ۱۸۷ کا انداز اپنایا گیا ہے اس کا مقصد صرف یہ ہے کہ قرآن مجید کی سورتوں کے نمبروں کے ساتھ ساتھ ان کے
ی
اسماء سے بھی وابستگی و واقفیت ہو جائے۔ فہرست مراجع و مصادر کی تیاری کے لیے بھی مذکورہ مطالعاتی رہنما کتاب کی ہدایت کو ملحوظ رکھا گیا ہے۔ رموز واوقاف اور املا کے سلسلہ میں "کتاب الحوالہ ۔ معجم مصادر اسلامی" اور "اردو دائرہ معارف اسلامیہ" کے منصوبوں کے تعارفی کتابچوں (لاہور ، مغربی پاکستان اردو اکیڈمی ، ۱۹۷۷ء) میں بیان کردہ تفصیلات کی پیروی کی گئی ہے۔
اس مقالہ کی زبان اور اسلوب نگارش سلیس و سادہ رکھنے کی کوشش کی گئی ہے، البتہ کچھ جگہوں پر انداز بیاں قدرے جذباتی ہو گیا ہے، اس کی بنیادی وجہ یہی ہے کہ ہر مسلمان عزت و ناموس رسالت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے والہانہ اور جذباتی لگاؤ رکھتا ہے۔
آیاتِ قرآنیہ سے استفادہ کے لیے انجمن حمایت اسلام ، لاہور کے مصحف پر اعتماد کیا گیا ہے، جو کہ رسم عثمانی سے قریب تر اور غلطیوں سے مبرّا ہے۔ آیات کے ترجمہ کے لیئے "اردو دائرہ معارف اسلامیہ" کی پیروی میں مولانا فتح محمد صاحب جالندھریؒ کا ترجمہ استعمال کیا گیا ہے۔
مختصر یہ کہ طریقہ تحقیق کے ہر پہلو میں مطالعاتی رہنما کتب برائے ایم فل (اسلامیات) ، ورکشاپ میں دی جانے والی ہدایات اور ادارہ علومِ اسلامیہ وعربی، علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی، اسلام آباد کی روایات کی پیروی کی گئی ہے۔
مقالہ ھذا کی تکمیل کے دوران مطالعہ، تحقیق اور حوالہ جاتی کتب کی تلاش کے مرحلے میں جامعہ سلفیہ ، فیصل آباد ، ادارہ اشاعت العلوم ، کچہری بازار فیصل آباد ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن ، فیصل آباد ، ادارہ علوم اسلامیہ ، پنجاب یونیورسٹی لاہور اور پنجاب یونیورسٹی ، لاہور کے (مرکزی) کتب خانوں کے علاوہ ادارہ علوم اثریہ ، منٹگمری بازار فیصل آباد کے وقیع علمی ذخیرہ سے بارہا اور بھر پور استفادہ کیا گیا ۔
اس تحقیقی کام کو بہتر سے بہتر بنانے کی حتی المقدور کوشش کی گئی ہے مگر بتقاضاءِ بشریت اس میں بہت سی خامیاں اور کمزوریاں رہ گئی ہیں۔ (رَبَّنَا لَا تُؤَاخِذْنَآ اِنْ نَّسِيْنَآ اَوْ اَخْطَأْنَا) اگر کہیں کوئی خوبی ہے تو وہ صرف اسی رب العزت کی مہربانی سے ہے جو ہر کمزوری سے پاک ہے ۔
اس مقالہ کی تحریر کا مقصد کسی دنیوی منفعت کا حصول نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی رضا و خوشنودی حاصل کرنا اور اپنا نام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ان خدام کی فہرست میں ایک ادنیٰ ترین خادم کی حیثیت سے لکھوانا ہے، جنہوں نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت طیبہ اور آپکی عظمت و ناموس کے تحفظ کی خاطر کچھ کام کیا ہو (وَمَا تَوْفِيْقِيْ اِلَّا بِاللّٰهِ ط عَلَيْهِ تَوَكَّلْتُ وَاِلَيْهِ اُنِيْبُ ہ رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّآ اِنَّكَ اَنْتَ السَّمِيْعُ الْعَلِيْمُ ہ) اللہ تعالیٰ میری اس حقیر کاوش کو قبول فرماتے ہوئے اسے میرے اور میرے
ل
والدین (خصوصاً میری والدہ کے لیے جو کہ اس مقالہ کی تحریر و تدوین میں بہت دلچسپی رکھتی تھیں، مگر مقالہ کی تکمیل کے دوران ہی اچانک وفات پاگئیں اَللّٰهُمَّ اغْفِرْ لَهَا وَارْحَمْهَا ط إِنَّكَ أَنْتَ الْغَفُورُ الرَّحِيْم) کے لیے توشۂ آخرت اور صدقہ جاریہ بنائے ۔ (رَبَّنَا اغْفِرْ لِيْ وَلِوَالِدَيَّ وَلِلْمُؤْمِنِيْنَ يَوْمَ يَقُوْمُ الْحِسَابِ ۔ رَبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّيَانِيْ صَغِيْرًا)
آخر میں ان تمام احباب کا شکریہ ادا کرنا بھی بہت ضروری ہے، جنہوں نے کہ اس مقالہ کی تحریر و تدوین کے مختلف مراحل میں میری بھرپور مدد کی : مقالہ کی منظوری کے لیے ڈاکٹر محمد طفیل ھاشمی صاحب، خاکہ کی تیاری کے لیے ڈاکٹر ریاض مجید صاحب اور ڈاکٹر محمد اسحٰق قریشی صاحب (گورنمنٹ کالج فیصل آباد) اور ابتدائی راہنمائی کے لیے محمد اسلم رانا صاحب (ایڈیٹر: المذاہب، لاہور) کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔ ڈاکٹر محمود احمد غازی صاحب نے اپنا ایک مضمون ارسال کیا اور ڈاکٹر محمد اسحٰق قریشی صاحب (نگران مقالہ ھٰذا) نے انتہائی مصروفیت کے باوجود اس مقالہ پر اپنی بھرپور توجہ دی اور اس کو نہایت اچھے طریقے سے مرحلہ وار چیک کرکے اصلاح کرتے رہے۔
اس مقالہ کے قانونی پہلوؤں پر تحقیق کے لیے ڈاکٹر اصغر علی ایڈووکیٹ (گوجرہ)، چوہدری حسیب الرحمٰن ایڈووکیٹ (فیصل آباد)، میاں
خالد حبیب الٰہی ایڈووکیٹ (لاہور) اور بالخصوص فیصل آباد کے ابھرتے ہوئے نوجوان وکیل محمد آصف ملک نے میری بھرپور مدد کی ۔
مولانا ارشاد الحق اثری (ریسرچ سکالر و ممبر اسلامی نظریاتی کونسل) اپنی تحقیقی مصروفیت کے باوجود مسودے پر تنقیدی نگاہ ڈالنے کے ساتھ مفید مشورے بھی دیتے رہے ۔ مولانا عبد الحی انصاری (اسسٹنٹ ریسرچ سکالر : ادارۃ العلوم الاثریہ فیصل آباد) نے کتب کی تلاش میں معاونت کے علاوہ اس مقالہ کی کتابت بھی کی ۔
میں ان سب احباب کے بے لوث اور پرخلوص تعاون پر ان کا شکر گزار ہوں ۔ (جزاہم اللہ احسن الجزاء)
میں اپنی بات اس دعا کے ساتھ ختم کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ تمام انسانوں کے سینوں کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حقیقت و عظمت جاننے کے لیئے کھول دے اور ان کی اطاعت و محبت کی طرف مائل کر دے (تاکہ وہ آپ کی نافرمانی اور توہین نہ کریں) جس سے انہیں فلاح دارین نصیب ہو سکے ۔ (آمین)
وَاٰخِرُ دَعْوَانَا اَنِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَی النَّبِيِّ وَاٰلِہٖ وَاَصْحَابِہٖ اَجْمَعِيْنَ ۔
مُحَمَّد حامد رضا ۱۸۸/۳ ، ڈگلس پورہ ، فیصل آباد
فہرست
ت
پہلا باب : ناموس رسالت صلی اللہ علیہ وسلم اور قانون توہین رسالت صلی اللہ علیہ وسلم قرآن وسنت کی روشنی میں ۱-۷۶ پہلی فصل : تعظیم و ناموس رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم ۲ دوسری فصل: توہین رسالت کی سزا قرآن کی روشنی میں ۲۵ تیسری فصل: دور نبوت کے مختلف فیصلے ۳۷ چوتھی فصل: دور صحابہؓ و خلفاء راشدینؓ ۶۴
دوسرا باب : قانون توہین رسالت صلی اللہ علیہ وسلم ائمہ و فقہاء کی نظر میں ۱۱۶-۷۷ پہلی فصل : شاتم رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی سزا ائمہ و فقہاء کی نظر میں ۷۸ دوسری فصل : مسئلہ توبہ (تین موقف اور ان کی تفصیل) ۸۸ تیسری فصل : حد شرعی کے نفاذ کا مسئلہ ۱۰۹
تیسرا باب :
قانون توہین رسالت صلی اللہ علیہ وسلم کا عالمی و تاریخی پس منظر ۱۱۷-۱۶۰
پہلی فصل : اسلامی ممالک میں قانون توہین رسالت ۱۱۸
دوسری فصل : مذاہب عالم میں شعائر مذہب کی توہین کی ممانعت ۱۲۵
تیسری فصل : غیر سامی مذاہب میں شعائر مذہب کی توہین کی سزا ۱۴۶
چوتھی فصل : مغربی ممالک اور قانون توہین شعائر مذہب ۱۵۴
چوتھا باب :
برصغیر پاک و ہند میں توہین رسالت ایکٹ کا تاریخی پس منظر ۱۶۱-۲۰۳
پہلی فصل : تعزیرات ہند میں دفعہ ۲۹۵۔ A کا تاریخی پس منظر ۱۶۲
دوسری فصل : پاکستان میں قانون توہین رسالت کا پس منظر ۱۸۲
تیسری فصل : قانون توہین رسالت کی منظوری کے لئے عدالتی و پارلیمانی کاوشیں ۱۹۱
پانچواں باب
حقوق انسانی اور آزادی رائے کے حوالے سے توہین
رسالت صلی اللہ علیہ وسلم ایکٹ کا جائزہ ۲۰۴ــــ۲۴۳
۱ پہلی فصل : حقوق انسانی اور آزادی اظہار رائے کا موجودہ تصور ۲۰۵
دوسری فصل : مغربی ممالک میں انسانی حقوق کا ابتر منظر ۲۱۳
تیسری فصل : کیا توہین رسالت ایکٹ بنیادی انسانی حقوق و آزادی رائے کے منافی ہے؟ ۲۲۰
چوتھی فصل : انسانی حقوق اور آزادی اظہار رائے ــــــــــــــــــــ مسلمانوں کے لئے اہل مغرب کا دوھرا معیار ۲۳۸
چھٹا باب
قانون توہین رسالت صلی اللہ علیہ وسلم پر مسیحی اقلیت
کی طرف سے عائد کردہ اعتراضات کا جائزہ ۲۴۴ــــ۲۷۱
پہلی فصل : مسیحیوں کے قانون توہین رسالت پر اعتراضات کا جائزہ ۲۴۵
دوسری فصل : مسیحیوں کے پرتشدد رویہ کا جائزہ مسیحی تعلیمات کی روشنی میں ۲۶۴
ساتواں باب توہین رسالت ایکٹ میں مجوزہ ترمیم اور اس کے ممکنہ نتائج وعواقب کا جائزہ ۲۷۲—۳۱۵
پہلی فصل : ناموس انبیاء اور جدید مغربی رجحانات ۲۷۳
دوسری فصل : مجوزہ ترمیم کا جائزہ ۲۸۹
تیسری فصل : مجوزہ ترمیم کے ممکنہ نتائج وعواقب ۳۰۳
خلاصہ بحث ۳۰۶
فہرست مراجع ۳۲۲