رَدِّ قادیانیّت
رسائل
حضرت مولانا قاضی غلام جیلانی
حضرت مولانا قاضی زاہد الحسینی
مولانا مرتضیٰ احمد خان میکش درّانی
حضرت مولانا مفتی غلام مرتضیٰ میانی
احتِساب قادیانیت
جلد ٢٨
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوّۃ
حضوری باغ روڈ، ملتان۔ فون: 4514122
بسم الله الرحمن الرحیم!
نام کتاب : احتساب قادیانیت جلد اٹھائیس (٢٨) نام مصنفین : حضرت مولانا قاضی غلام گیلانیؒ حضرت مولانا قاضی زاہد الحسینیؒ مولانا مرتضی احمد خان میکشؒ درانی حضرت مولانا مفتی غلام مرتضیٰ میانیؒ
صفحات : ٦٨٤ قیمت : ٣٠٠ روپے مطبع : ناصر آرٹ پریس لاہور طبع اول : مئی ٢٠٠٩ء ناشر : عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت حضوری باغ روڈ ملتان Ph: 061-4514122
بسم الله الرحمن الرحيم!
احتساب قادیانیت جلد اٹھائیس (٢٨)
حضرت مولانا قاضی غلام گیلانیؒ حضرت مولانا قاضی زاہد الحسینیؒ مولانا مرتضیٰ احمد خان میکشؒ درانی حضرت مولانا مفتی غلام مرتضیٰ میانیؒ
٦٨٤
٣٠٠ روپے
ناشر: زین پریس لاہور
مئی ٢٠٠٩ء عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت حضوری باغ روڈ ملتان Ph: 061-4514122
بسم الله الرحمن الرحيم!
فہرست رسائل مشمولہ...... احتساب قادیانیت جلد ٢٨
عرض مرتب ٤
- ١...... تیغ غلام گیلانی بر گردن قادیانی حضرت مولانا قاضی غلام گیلانیؒ ٩
- ٢...... جواب حقانی در رد ہنگامہ قادیانی // // ١٤١
- ٣...... مسلمان قادیانیوں کو کیوں کافر سمجھتے ہیں؟ حضرت مولانا قاضی زاہد الحسینیؒ ٢٤٥
- ٤...... اہل وطن کے لئے دعوت غور و فکر // // ٢٧١
- ٥...... مرزا غلام احمد قادیانی کا قرآن عزیز میں ردو بدل کا نمونہ // // ٢٨٥
- ٦...... براۃ امام از افتراء پیغام // // ٢٩١
- ٧...... ایک خطرناک انقلاب // // ٢٩٧
- ٨...... محاسبہ یعنی عدالتی تحقیقات فسادات پنجاب (١٩٥٣ء) مولانا مرتضیٰ احمد خان میکشؒ درانی ٣٠٩
- ٩...... قادیانی سیاست // // ٣٤١
- ١٠...... پاکستان میں مرزائیت // // ٣٧٤
- ١١...... مرزائی نامہ // // ٣٧٩
- ١٢...... کیا پاکستان میں مرزائیوں کی حکومت قائم ہوگی؟ // // ٥١٥
- ١٣...... ہنظل الرحمانی، فی کشف القادیانی حضرت مولانا مفتی غلام مرتضیٰؒ ٥٢٣
بسم الله الرحمن الرحيم!
عرض مرتب
بسم الله الرحمن الرحيم ، نحمده ونصلى على رسوله خاتم النبيين ، اما بعد!
محترم قارئین! لیجئے احتساب قادیانیت کی اٹھائیسویں (٢٨) جلد پیش خدمت ہے۔
اس جلد میں مولانا غلام محی الدین المعروف قاضی غلام گیلانی کے دو رسائل، مولانا قاضی زاہد الحسینیؒ کے پانچ رسائل، مولانا مرتضیٰ احمد خان میکش درانی کے بھی پانچ رسائل، مولانا قاضی غلام مرتضیٰ میائی کی ایک کتاب، کل رسائل و کتب جو اس جلد میں شامل ہیں وہ تیرہ (١٣) ہیں۔ ان کی تفصیل یہ ہے۔
حضرت مولانا قاضی غلام محی الدین المعروف قاضی غلام گیلانی (م ١٩٣٠ء بمطابق ١٣٤٨ھ ) یہ چھچھ کے موضع شمس آباد ضلع اٹک کے رہنے والے تھے۔ عرصہ تک بنگال میں بھی رہے۔ اس دوران بنگال میں قادیانی فتنہ نے سر اٹھایا تو آپ کو اس فتنہ کا سر کچلنے کی اللہ رب العزت نے توفیق مرحمت فرمائی۔ آپ حضرت مولانا قاضی زاہد الحسینیؒ اٹک والوں کے والد گرامی، حضرت مولانا سراج الدینؒ موسیٰ زئی شریف والوں کے خلیفہ مجاز تھے۔ مولانا حسین علیؒ واں بھچراں والوں کے پیر بھائی تھے۔ مولانا حسین علیؒ جب چھچھ کے دورہ پر آتے تو شمس آباد میں قاضی غلام گیلانی کے ہاں قیام کرتے۔ یوں خانقاہ سراجیہ کندیاں شریف کے بانی حضرت مولانا ابو السعد احمد خانؒ (م ١٩٤١ء) کے آپ ہمعصر اور پیر بھائی بھی ہوئے۔ اس کتاب میں جگہ جگہ مولانا احمد رضا خان کا بہت احترام سے نام لکھتے ہیں۔ اس زمانہ میں دیو بندی، بریلوی تنازعہ نے موجودہ صورت اختیار نہ کی تھی۔ علمی اختلاف تھا اور بس! آپ کے رد قادیانیت پر رسائل کی تعداد مولانا زاہد الحسینیؒ نے تین لکھی ہے۔ ان میں سے ”قول
مقبول در رد قادیانی مجہول بطریق شامل اشاعت ہیں۔
- ١...... تیغ غلام گیلا
بریلی انڈیا سے شائع ہوا۔ بڑے س حضرت مولانا قاضی زاہد الحسینیؒ نے کا عرصہ بیت گیا۔ اب قریبا ایک سے سرفراز فرمایا۔ فلحمد للہ !
- ٢...... جواب عقائ
لطیف ہے۔ پہلے ایڈیشن کے ١١٨ ا حیات میں دفتر ملتان کی لائبریری توفیق ایزدی سے معرکہ سر کر لیا۔ فـ
اس جلد میں حضرت اگست ١٩٨٩ء ) کے پانچ رسائل دیوبند کے فاضل، مولانا سید محمد ا مدنیؒ کے شاگرد رشید تھے۔ بیسوی دور میں اکابر علماء کی آبرو کی چلتی جلد میں شائع کرنے کی سعادت ۔
- ١/٣...... ’’مسلمان
- ٢/٤...... ’’اہل وطـ
قادیانی کفر پر قرارداد پاس کی تو تب حضرت قاضی زاہد الحسینیؒ مرحـ
مقبول در رد قادیانی مجہول بطریق المنطق والمعقول‘‘ ہمیں دستیاب نہ ہوسکا۔ باقی دو رسائل شامل اشاعت ہیں۔
- ١...... تیغ غلام گیلانی بر گردن قادیانی : سب سے پہلا ایڈیشن مطبع اہل سنت
بریلی انڈیا سے شائع ہوا۔ بڑے سائز کے ایک سو بیالیس صفحات پر مشتمل تھی۔ اس کا ہمیں فوٹو حضرت مولانا قاضی زاہد الحسینیؒ نے ارسال فرمایا تھا۔ اندازہ ہے کہ اس کتاب کو چھپے سو سال کا عرصہ بیت گیا۔ اب قریباً ایک صدی بعد اسے دوبارہ شائع کرنے کی اللہ تعالیٰ نے توفیق سے سرفراز فرمایا۔ فالحمد للّٰہ !
- ٢...... جواب حقانی در رد بنگالی قادیانی : یہ بھی قاضی غلام گیلانیؒ کی تالیف
لطیف ہے۔ پہلے ایڈیشن کے ١١٨ صفحات تھے۔ اس کا فوٹو حضرت قاضی زاہد الحسینیؒ نے اپنی حیات میں دفتر ملتان کی لائبریری کے لئے ارسال فرمایا تھا۔ فوٹو سے فوٹو لے کر کام چلایا اور توفیق ایزدی سے معرکہ سر کرلیا۔ فالحمد للّٰہ تعالیٰ !
اس جلد میں حضرت مولانا قاضی زاہد الحسینیؒ اٹک (فروری ١٩١٣ء، م اگست ١٩٨٩ء) کے پانچ رسائل شامل اشاعت ہیں۔ مولانا قاضی زاہد الحسینیؒ دارالعلوم دیوبند کے فاضل، مولانا سید محمد انور شاہ کشمیریؒ اور شیخ الاسلام حضرت مولانا سید حسین احمد مدنیؒ کے شاگرد رشید تھے۔ بیسوں گرانقدر ضخیم کتابوں کے مصنف اور مفسر قرآن تھے۔ اپنے دور میں اکابر علماء کی آبرو کی چلتی پھرتی تصویر تھے۔ ان کے رد قادیانیت پر پانچ رسائل اس جلد میں شائع کرنے کی سعادت حاصل کر رہے ہیں۔
- ١/٣...... ’’مسلمان، قادیانی کو کیوں کافر سمجھتے ہیں‘‘
- ٢/٤...... ’’اہل وطن کے لئے دعوت غور و فکر‘‘ آزاد کشمیر اسمبلی نے ١٩٧٤ء
قادیانی کفر پر قرارداد پاس کی تو قادیانیت پنجے جھاڑ کر میدان میں مصروف پروپیگنڈا ہوگئی۔ تب حضرت قاضی زاہد الحسینیؒ مرحوم نے قادیانیت کو لگام دینے اور کھونٹا پر باندھنے کے لئے یہ
رسالہ ترتیب دیا۔ ٣٠؍جون ١٩٧٣ء کو شائع ہوا۔
٤/٥ ...... ”مرزا غلام احمد قادیانی کا قرآن عزیز میں ردو بدل کا نمونہ“ آزاد کشمیر اسمبلی نے قادیانی کفر پر قرارداد پاس کی۔ تو مولانا محمد شفیع جوش ممبر آزاد کشمیر کا ایک مضمون نوائے وقت ٢؍دسمبر ١٩٧٣ء میں شائع ہوا۔ حضرت قاضی صاحب نے اپنے مختصر مقدمہ کے ساتھ اسے شائع کر دیا۔
٤/٦ ...... ”براءۃ امام از افتراۓ پیغام“ مرزا قادیانی ملعون کی قبر کی سکھوں نے خوب تذلیل کی۔ اس کی خبر شائع ہوئی تو لاہوری پٹھے یا ...... کے پٹھے لاہوری مرزائیوں کے اخبار پیغام صلح نے جواب میں اپنی خفت مٹانے کے لئے کہا کہ حضرت امام ابو حنیفہؒ کی قبر کی بھی توہین ہوئی۔ لاہوری ...... کے پٹھوں جواب میں حضرت قاضیؒ نے یہ رسالہ تحریر فرمایا۔ اس کے علاوہ آپ کا ایک رسالہ ”درہ زاہدیہ“ بھی رد قادیانیت پر ہے۔ اسے ہم شامل نہیں کر رہے ۔ اس لئے کہ وہ فتاویٰ ختم نبوت ج ٢ ص ٤٢١ سے ٤٣٢ پر شائع ہو چکا ہے۔ فلحمد للّٰہ!
٤/٧ ...... ”ایک خطرناک انقلاب“ یہ رسالہ قیام پاکستان سے ایک سال قبل یعنی اگست ١٩٤٧ء میں تحریر فرمایا تھا۔ آپ کے صاحبزادہ حاجی محمد ابراہیم صاحب (حال امیر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت اٹک) نے اس کا فوٹو ارسال کیا۔ وہ بھی اس جلد میں شامل ہے۔
مولانا آقائے مرتضیٰ احمد خان میکشؔ درانی (وفات ......) لاہور کے باسی تھے۔ نامور قانون دان تھے۔ آپ کے رد قادیانیت پر پانچ رسائل ہمیں دستیاب ہوئے۔ جو اس جلد میں پیش کرنے کی سعادت حاصل کر رہے ہیں۔
١/٨ ...... ”محاسبہ یعنی عدالت تحقیقات فسادات پنجاب (١٩٥٣ء) کی رپورٹ پر جامع و بلیغ تبصرہ“ مشہور عالم ”تحریک ختم نبوت ١٩٥٣ء“ کے اسباب و علل اور
اس کی ذمہ داری کس پر ہے، پر عدالتی تحقیقات کے لئے مسٹر جسٹس منیر اور مسٹر جسٹس ایم۔ آر۔ کیانی پر مشتمل دورکنی عدالتی بینچ قائم کیا گیا۔ آل پارٹیز مجلس عمل تحفظ ختم نبوت کی وکالت جناب مولانا مرتضیٰ احمد خان میکشؔ درانی نے کی۔ عدالتی رپورٹ چھپ کر سامنے آئی تو وہ تضاد کا مجموعہ تھی۔ اس پر مختلف حضرات نے تبصرہ کیا۔ مولانا میکش نے بھی تبصرہ کیا جو روزنامہ نوائے پاکستان لاہور میں شائع ہوتا رہا۔ بعد میں کتابی شکل میں اسے شائع کیا گیا۔ یہ اوّلاً ١٩٥٤ء میں شائع ہوا۔ پچپن سال بعد ٢٠٠٩ء میں اس جلد میں اللہ تعالیٰ کی عنایت و توفیق سے شائع کر رہے ہیں۔
- ٢/٩ ...... ”قادیانی سیاست“ مکمل نام ہے۔ ”قادیانی سیاست، پاکستان سے
بیزاری بھارت سے وفاداری“ مولانا مرتضیٰ احمد خان میکشؔ درانی جو روزنامہ مغربی پاکستان کے ایڈیٹر بھی رہے۔ آپ نے ٥ / جنوری ١٩٥١ء کو ایک مقالہ لکھا جو پمفلٹ کی شکل میں علیحدہ بھی شائع کیا گیا۔ اس میں تقسیم کے وقت قادیان کو بھارت میں شامل کرنے پر قادیانیوں کی عیاری پر بلیغ تبصرہ کیا گیا۔
- ٣/١٠ ...... ”پاکستان میں مرزائیت“ روزنامہ مغربی پاکستان لاہور میں مسلسل
دس اقساط میں اس عنوان پر قلم اٹھایا۔ بعد میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے دوسرے امیر مرکزیہ خطیب پاکستان مولانا قاضی احسان احمدؒ کے پیش لفظ کے ساتھ اسے ١٩٥٠ء میں شائع کیا گیا۔
- ٤/١١ ...... ”مرزائی نامہ“ مکمل نام ہے۔ ”قادیانیت کے کاسئہ سر پر اسلام کا
البرز شکن گرز کی ضرب کاری“ یعنی ”مرزائی نامہ“ مولانا مرتضیٰ احمد خان میکشؔ درانی نے روزنامہ احسان لاہور میں اعلان کیا کہ قادیانی حضرات اگر کوئی سوال کرنا چاہیں تو ان کے جوابات کے لئے میں حاضر ہوں۔ قادیانیوں نے سوالات کرنے شروع کئے۔ آپ نے روزنامہ زمیندار لاہور اور روزنامہ احسان لاہور میں جواب کا سلسلہ شروع کیا۔ بعد میں
١٩٣٨ء میں کتابی شکل میں اسے تاج کمپنی نے شائع کیا۔ پھر ١٩٨٥ء میں اس کا عکس عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت نے شائع کیا۔ اب اسے تیسری بار اس جلد میں شائع کرنے کی سعادت حاصل کر رہے ہیں۔
- ٥/١٢......’’کیا پاکستان میں مرزائیوں کی حکومت قائم ہوگئی ہے‘‘١٩٥٢ء میں
مولانا نے اخبار سہ روزہ آزاد لاہور میں چند مقالے شائع کئے تو مجلس احرار اسلام لائل پور (فیصل آباد) نے چار صفحاتی دو ورقی پمفلٹ میں ان کو شائع کر دیا۔ یہ بھی اس جلد میں شامل کر دیا گیا ہے۔
- ١/١٣......’’الظفر الرحمانی فی کشف القادیانی‘‘ مولانا مفتی غلام مرتضیٰ میانویؒ ()
بہت بڑے عالم دین اور جامع معقول و منقول تھے۔ ١٨، ١٩؍اکتوبر ١٩٢٤ء آپ کا قادیانی شاطر جلال الدین شمس کے ساتھ ہریا ضلع گجرات میں حیات مسیح علیہ السلام پر مناظرہ ہوا۔ مولانا غلام محمد گھوٹویؒ شیخ الجامعہ العباسیہ بہاولپور، مولانا نجم الدینؒ پروفیسر اورینٹل کالج لاہور، مولانا محمد حسین گولڑویؒ، مولانا محمد کامل الدینؒ، ایسے کئی اکابر علماء کی موجودگی میں مفتی غلام مرتضیٰؒ نے قادیانیت کے خلاف بیچ میدان کے اسلام کا جھنڈا گاڑ دیا۔ قادیانیت کی جو ذلت آمیز شکست ہوئی وہ اس کتاب سے واضح ہے۔ پڑھئیے کہ پڑھنے کی چیز ہے۔ تقریباً نوے سال قبل شائع ہونے والی کتاب جس کے حصول کے لئے فقیر کو بھی در، در کی خاک چھاننی پڑی۔ اس کی دوبارہ اشاعت پر کتنی خوشی ہو رہی ہے۔ بس نہ پوچھئے دل کی کیفیت، کہ بلیوں اچھل رہا ہے۔ فالحمد للّٰہ تعالیٰ!
محتاج دعاء: فقیر اللہ وسایا ملتان ١٨؍ربیع الثانی ١٤٣٠ھ ١٥؍اپریل ٢٠٠٩ء
سیدنا آخری
تیغ غلا
بر گردن
(حضرت مولا
میں اسے تاج کمپنی نے شائع کیا۔ پھر ١٩٨٥ء میں اس کا عکس عالمی نے شائع کیا۔ اب اسے تیسری بار اس جلد میں شائع کرنے کی سعادت
”کیا پاکستان میں مرزائیوں کی حکومت قائم ہوگئی ہے“ ١٩٥٢ء میں زہ، آزاد لاہور میں چند مقالے شائع کئے تو مجلس احرار اسلام لائل پور صفحاتی دو ورقی پمفلٹ میں ان کو شائع کر دیا۔ یہ بھی اس جلد میں شامل
”الظفر الرحمانی فی کشف القادیانی“ مولانا مفتی غلام مرتضیٰ میانویؒ اور جامع معقول ومنقول تھے۔ ١٨، ١٩؍ اکتوبر ١٩٢٤ء آپ کا قادیانی کے ساتھ ہریا ضلع گجرات میں حیاتِ مسیح علیہ السلام پر مناظرہ ہوا۔ خ الجامع العباسیہ بہاولپور، مولانا نجم الدینؒ پروفیسر اورینٹل کالج لاہور، وی، مولانا محمد کامل الدینؒ، ایسے کئی اکابر علماء کی موجودگی میں مفتی غلام کے خلاف بیچ میدان کے اسلام کا جھنڈا گاڑ دیا۔ قادیانیت کی جو ذلت کتاب سے واضح ہے۔ پڑھیئے کہ پڑھنے کی چیز ہے۔ تقریباً نوے سال تاب جس کے حصول کے لئے فقیر کو بھی در، در کی خاک چھاننی پڑی۔ پر کتنی خوشی ہو رہی ہے۔ بس نہ پوچھئے دل کی کیفیت، کہ بلیوں اچھل رہا ہے!
محتاجِ دعاء: فقیر اللہ وسایا ملتان ١٨؍ ربیع الثانی ١٤٣٠ھ ١٥؍ اپریل ٢٠٠٩ء
انا خاتم النبیین لا نبی بعدی
میں آخری نبی ہوں میرے بعد کوئی نبی نہیں
تیغ غلام گیلانی
بر گردن قادیانی
(حضرت مولانا قاضی غلام گیلانیؒ)
بسم الله الرحمن الرحیم!
الحمدلله رب العالمين والعاقبة للمتقين والصلوة والسلام على رسوله محمد وآله واصحبه اجمعين ۔ اما بعد!
فقیر حقیر پروردگار عالم کی مغفرت کا امیدوار۔ بخشے پروردگار اس کو اور اس کے آبا واجداد ومشائخ وتلامذہ احباب وکل مؤمنین مومنات کو۔ قاضی غلام گیلانی حنفی المذہب نقشبندی المشرب پنجاب ضلع کامل پور (اٹک) علاقہ چھچھ موضع شمس آباد کا رہنے والا۔ بخدمت اہل اسلام گزارش رسان ہے کہ ملک پنجاب ضلع گورداسپور موضع قادیان میں مرزا غلام احمد قادیانی ایک شخص قوم کا مغل پیدا ہوا تھا۔ کچھ فارسی، اردو سیکھ کر دنیا کمانے کے شوق میں آ کر ابتدا میں بزرگ بنا، مداریوں اور جوگیوں کے شعبدے اور ہاتھ کی صفائیاں دکھا کر بعض بدنصیبوں کو کرامت کا دھوکا دے کر حرام کا روپیہ وصول کرنا شروع کیا۔ علمائے کرام وقتاً فوقتاً اس کی اصلاح فرماتے رہے۔ رفتہ رفتہ مرزا نے دعویٰ کیا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام فوت ہو گئے اور آسمان پر جانا انکا اور پھر زمین پر قریب قیامت کے آنا یہ کذب اور لغو ہے اور مہدی بھی اور کوئی نہیں میں ہی مہدی اور عیسیٰ علیہ السلام کے بدلے میں پیدا ہوا، اور ان دونوں کے اوصاف میرے اندر موجود ہیں۔ مجھ کو جو نہ مانے گا وہ گمراہ اور کافر ہے اور دجال کوئی خاص شخص نہیں اور نہ خر دجال کوئی خاص جانور ہے۔ بلکہ دجال سے مراد یہ پادری لوگ ہیں اور گدھا دجال کا یہ ریل ہے اور یہ جو لکھا ہوا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام دجال کو لد کے دروازے پر قتل کریں گے سو لد مخفف ہے۔ لدھیانہ کا میں نے پادری کو بحث میں لدھیانہ میں زیر کر دیا۔ یہی مراد قتل دجال سے ہے۔ غرضیکہ اس قسم کی بیہودہ بکواس بہت بکی۔ پھر عجب اس پر کہ دعویٰ تو یہ کہ مثیل عیسیٰ ہوں اور جس کی مثل بنا اسی کو فحش گالیاں، پروردگار پر بہتان، قرآن شریف پر اعتراض۔ باقی انبیاء کو بھی اشارے کنائے میں جو دل میں آیا بک دیا۔ امام حسنؓ اور امام حسینؓ اور صحابہ کرامؓ اور موجودہ زمانہ کے علمائے عظام کو سخت گالیاں بکیں جو اس کی پلید کتابوں میں سے قدرے مسلمانوں کو اس کا حال ظاہر کرنے کے لئے مع نشان صفحات کے بقید تحریر لاتا ہوں۔ ناظرین خود جان لیں گے کہ مرزا مسلمان تھا یا کون اور اس پر اعتقاد اور اس کی متابعت کرنے والا بھی مسلمان ہے یا تابع شیطان اور مغضوب رحمٰن ہیں۔ کتاب میں لفظ اقول کے بعد مقولہ اس فقیر کا ہوگا۔
مرزا کی طرف سے پیغمبری کا دعویٰ
- ١...... الہام: ”قل ان كنتم ت
تم لوگ اللہ تعالیٰ سے محبت کرتے ہو تو تم میری تابع اقول ! علم کی یہ لیاقت ہے کہ قرآن نازل ہوئی تھی اس کو اپنے اوپر جڑ کر الہام ظاہر ک آیت عربی کی بنالیتا۔
- ٢...... اس ا میں کوئی شک نہیں
محدث ہو کر آیا ہے اور محدث بھی ایک معنی سے ن ہونے کا ایک شرف رکھتا ہے اور امور غیبیہ اس پر ز طرح اس کی وحی کو بھی دخل شیطان سے منزہ کیا ج اور اس سے انکار کرنے والا مستوجب سزا ٹھہرتا ہے
- ٣...... مرسل یزدانی و مامور رح
ابتداء صفحہ ٹائٹل پیج اقول ! اگر کوئی کہے کہ میں پیغمبر ہوں
- ١ ”لا اله الا الله لقد كذب عد
کے لئے یہ حدیث آئی کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اناس محدثون فان يكن فى امتى منهم کچھ لوگ محدث ہوتے تھے۔ یعنی فراست صادقہ کوئی ہوگا تو وہ ضرور عمرؓ ہیں۔ رواہ احمد والبخاری المومنین الصدیقؓ و فاروق اعظم نے تو نبوت کے کو نبی لکان عمر بن الخطاب “ اگر میرے بع عن عقبہ بن عامر والطبرانی فی الکبیر عن عصمت محدث ہے نہ محدث۔ یہ ضرور ایک معنی پر نبی ہو گیا عنه ناقلا عن بعض تصنیفات عالم اه مولانا البریلوی الشیخ احمد رضا خان
مرزا کی طرف سے پیغمبری کا دعویٰ
- ١...... الہام ”قل ان كنتم تحبون الله فاتبعونى يحببكم الله“ اگر
تم لوگ اللہ تعالیٰ سے محبت کرتے ہو تو تم میری تابعداری کرو۔
(براہین احمدیہ ص ٢٣٩، خزائن ج ١ ص ٢٦٦)
اقول! علم کی یہ لیاقت ہے کہ قرآن شریف کی آیت جو رسول اللہﷺ کے حق میں نازل ہوئی تھی اس کو اپنے اوپر جڑ کر الہام ظاہر کر دیا۔ عربی بنالیتا، فکر میں نہ آیا ورنہ ضرور ایک آیت عربی کی بنالیتا۔
- ٢...... اس ١؎ میں کوئی شک نہیں کہ یہ عاجز خدا کی طرف سے اس امت کے لئے
محدث ہو کر آیا ہے اور محدث بھی ایک معنی سے نبی ہی ہوتا ہے۔ کیونکہ خدائے تعالیٰ سے ہم کلام ہونے کا ایک شرف رکھتا ہے اور امور غیبیہ اس پر ظاہر کئے جاتے ہیں اور رسول اور نبیوں کی وحی کی طرح اس کی وحی کو بھی دخل شیطان سے منزہ کیا جاتا ہے اور بعینہ انبیاء کی طرح مامور ہو کر آتا ہے اور اس سے انکار کرنے والا مستوجب سزا ٹھہرتا ہے۔
(توضیح المرام ص ١٨، خزائن ج ٣ ص ٦٠)
- ٣...... مرسل یزدانی و مامور رحمانی حضرت جناب مرزا غلام احمد قادیانی بلفظ
ابتداء صفحہ ٹائٹل پیج
(ازالۃ الاوہام، روحانی خزائن ج ٣ ص ١٠١)
اقول! اگر کوئی کہے کہ میں پیغمبر ہوں یا رسول اللہ ہوں اور ارادہ اس کا خدا کے رسول
١؎ ”لا اله الا الله لقد كذب عدو الله ايها المسلمون“ حضرت عمر فاروق اعظمؓ کے لئے یہ حدیث آئی کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: ”قد كان في ما مضى قبلكم من الامم اناس محدثون فان يكن فى امتى منهم احد فانه عمر بن الخطاب“ اگلی امتوں میں کچھ لوگ محدث ہوتے تھے۔ یعنی فراست صادقہ والہام حق والے اگر میری امت میں ان میں سے کوئی ہوگا تو وہ ضرور عمرؓ ہیں۔ رواہ احمد والبخاری عن ابی ہریرۃ واحمد ومسلم والترمذی والنسائی عن ام المؤمنین الصدیقۃؓ فاروق اعظم نے تو نبوت کے کوئی معنی نہ پائے صرف یہ ارشاد آیا: ”لو كان بعدی نبی لكان عمر بن الخطاب“ اگر میرے بعد کوئی نبی ہو سکتا تو عمر ہوتا۔ رواہ احمد والترمذی والحاکم عن عقبۃ بن عامر والطبرانی فی الکبیر عن عصمت بن مالکؓ۔ مگر پنجاب کا محدث حادث کہ حقیقتاً نہ محدث ہے نہ محدث۔ یہ ضرور ایک معنی پر نبی ہو گیا۔ ”الا لعنة الله على الكاذبين منه عفى عنه ناقلا عن بعض تصنيفات عالم اهل السنة والجماعة مجدد المائة الحاضرة مولانا البريلوى الشيخ احمد رضا خان رضى عنه الرب السبحان“
ہونے کا ہے تو کافر ہوگا۔ (عقائد عظیم ص ١٦٦) ناظرین با انصاف خود جان لیں کہ مرزا پیغمبری کا دعویٰ کرنے سے کون ہوا مسلمان ہوا یا کافر؟
- ٤...... ”مجھ کو قادیان والوں نے نہایت تنگ کیا ہے۔ جس سے کہ میں یہاں
سے ہجرت کروں گا۔ میرے روحانی بھائی مسیح (یعنی عیسیٰ) کا قول ہے کہ نبی بے عزت نہیں۔ مگر اپنے وطن میں“
(ضمیمہ تحفہ گولڑویہ ص ٩، خزائن ج ١٧ ص ٣٢٦)
فقیر حق کہتا ہے کہ ہجرت کے بارے میں پیش گوئی تو کر بیٹھے مگر کہیں کو ہجرت نصیب نہ ہوئی۔ بلکہ باوجود ہزارہا روپیہ کے حج کو بھی نہ گیا اور اتنا بڑا فرض ترک کر کے قبر میں جابسا۔ جس کی نسبت رب العزت نے فرمایا کہ اس گھر کا حج ہر استطاعت والے پر فرض ہے۔ ”ومن كفر فان الله غنى عن العالمين“ اور جو کفر کرے تو اللہ سارے جہان سے بے پرواہ ہے اور حدیث میں فرمایا جو باوصف استطاعت حج نہ کرے۔ ”فيمت ان شاء يهود ياوان شاء نصرانیا“ وہ چاہے یہودی ہو کر مرے چاہے نصرانی۔ معلوم نہیں کہ اس حدیث کے حکم سے مرزا یہودی ہو کر مرا یا نصرانی ہو کر۔ ظاہر حال ہے کہ مسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام کو گالیاں دینا یہود کا کام ہے۔ جب جھوٹے دعویٰ پیغمبری اور طرح طرح کے مکر فریب بیچارے نے کر کے پختہ دالان بنایا تھا تو خود تو ہجرت کر کے جانا درکنار تھا اگر کوئی باندھ کر نکالتا جب بھی نہ نکلتا۔ یہ بھی ایک مکر کی بات تھی کہ میں ہجرت کر کے چلا جاؤں گا۔
- ٥...... ”خدا تعالیٰ نے براہین احمدیہ میں اس عاجز کا نام امتی بھی رکھا اور نبی
بھی۔“
(ازالہ اوہام ص ٥٣٣، خزائن ج ٣ ص ٣٨٦)
اس سے معلوم ہوا کہ براہین احمدیہ جو مرزا کی تصنیف ہے وہ خدا کا کلام ہے۔ نعوذ باللہ!
اور یہ کہ مرزا نبی ہے۔ معاذ اللہ!
- ٦...... ”ہاں محدث جو مرسلین میں سے ہے امتی بھی ہوتا ہے اور ناقص طور پر نبی
بھی۔“
(ازالہ اوہام ص ٥٦٩، خزائن ج ٣ ص ٤٠٧)
اقول! پس مرزا نبی مرسل بنا مگر ناقص، نبی، دم کٹا، ابتر، انبیاء میں ناقص آج ہی سنا۔
طرفہ یہ کہ نبوت میں ناقص اور رسول پورا ہے۔ حالانکہ رسول نبی سے مساوی یا اعلیٰ ہے۔
- ٧...... ”خدا نے مجھے آدم صفی اللہ کہا اور مثیل نوح کہا، مثیل یوسف کہا، مثیل داؤد
کہا، پھر مثیل موسیٰ کہا، پھر مثیل ابراہیم کہا، پھر بار بار احمد کے خطاب سے مجھے پکارا۔“
(ازالہ اوہام ص ٢٥٣، خزائن ج ٣ ص ٢٢٧)
فقیر کہتا ہے کہ مشہور تو یہ کیا ہوا ہے کہ پیغمبروں کے مثیل بن گئے اور احمد بننے میں مثیل کی بھی
علی الکذبین“
- ٨...... ”پس واضح ہو کہ وہ مسیح موعود
ضروری طور پر قرار پا چکا تھا وہ تو اپنے وقت پر اپنے ہو گیا جو خدا تعالیٰ کی مقدس پیش گوئیوں میں پہلے سے
فقیر کہتا ہے کہ کیا نشانی پائی گئی خاک بھی الٹا اور طاعون اور روز بروز تباہی ہی ہوتی گئی۔ برعکس
- ٩...... ”چونکہ آدم اور مسیح میں مماثلت
رکھا اور مسیح بھی۔“
اقول! مسیح اور آدم علیہما السلام میں تو یہ مماثلت دونوں بن باپ کے پیدا ہوئے اور حضرت عیسیٰ بے باپ مماثلت ہے۔ جن جن کے مثیل بنے۔ ان کے ساتھ اور پھر حضرت آدم علیہ السلام اور حضرت عیسیٰ علیہ حضرات کے باپ نہ تھے اور مرزا کا باپ تھا۔ دعویٰ ہے؟ البتہ طلسمات کی کتابوں میں سے کوئی شعبدہ ایسی مماثلت سے۔
- ١٠...... ”ہمارا گروہ سعید ہے۔ جو
قبول کر لیا ہے۔ جو آسمان اور زمین کے خدا نے بھیجا
اقول! سبحان اللہ آپ کا گروہ سعید۔
اور چند جوگی جولاہے اور چند تیلی اور چند کاشتکار عجم ہندوستان پنجاب بنگالہ وغیرہ وغیرہ ملکوں کے اور شقی ہیں۔ نعوذ باللہ منہ!
- ١١...... ”میں تجھے زمین کے کناروں
محبت دلوں میں ڈال دوں گا۔“
فقیر کہتا ہے کہ مشہور تو یہ کیا ہوا ہے کہ میں مثیل عیسیٰ ہوں اور اب تو شوق میں سب پیغمبروں کے مثیل بن گئے اور احمد بننے میں مثیل کی بھی قید نہ رہی خود احمد ہو گئے۔ ’’الا لعنة الله علی الکاذبین‘‘
- ٨...... ’’پس واضح ہو کہ وہ مسیح موعود جس کا آنا انجیل اور احادیث صحیحہ کی رو سے
ضروری طور پر قرار پا چکا تھا وہ تو اپنے وقت پر اپنے نشانوں کے ساتھ آ گیا اور آج وہ وعدہ پورا ہو گیا جو خدا تعالیٰ کی مقدس پیش گوئیوں میں پہلے سے کیا گیا تھا۔‘‘
(ازالہ اوہام ص ٤١٤، خزائن ج ٣ ص ٣١٥)
فقیر کہتا ہے کہ کیا نشانی پائی گئی خاک بھی نہیں۔ بلکہ جب کہ دعویٰ پیغمبری کا شروع کیا الٹا ہیضہ اور طاعون اور روز بروز تباہی ہی ہوتی گئی۔ برعکس نہند نام زنگی کافور۔ پس مرزا کاذب ہے۔
- ٩...... ’’چونکہ آدم اور مسیح میں مماثلت ہے۔ اس لئے اس عاجز کا نام آدم بھی
رکھا اور مسیح بھی۔‘‘
(ازالہ اوہام ص ٢٥٦، خزائن ج ٣ ص ٢٣٣)
اقول! مسیح اور آدم علیہما السلام میں تو یہ مماثلت پائی گئی کہ آدم علیہ السلام بے ماں باپ دونوں کے پیدا ہوئے اور حضرت عیسیٰ بے باپ کے، اور باقی انبیاء علیہم السلام سے مرزا کو کیا مماثلت ہے۔ جن جن کے مثیل بنے۔ ان کے ساتھ مشابہت بجز قالب بشریت کے اور کیا رہ گئی اور پھر حضرت آدم علیہ السلام اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے مرزا کی مماثلت کیا ان دونوں حضرات کے باپ نہ تھے اور مرزا کا باپ تھا۔ دونوں کے معجزات بینات تھے۔ مرزا کا کیا معجزہ ہے؟ البتہ طلسمات کی کتابوں میں سے کوئی شعبدہ سیکھ کر گاؤں والوں کو فریب دے دینا۔ نعوذ باللہ ایسی مماثلت سے۔
- ١٠...... ’’ہمارا گروہ سعید ہے۔ جس نے اپنے وقت پر اس بندہ (مرزا) نامور کو
قبول کر لیا ہے۔ جو آسمان اور زمین کے خدا نے بھیجا ہے۔‘‘
(ازالہ اوہام ص ١٨٧، خزائن ج ٣ ص ١٩٠)
اقول! سبحان اللہ آپ کا گروہ سعید ہے۔ فقط جو دو چار اردو خواں اور چند سبزی فروش اور چند جوگی جولاہے اور چند تیلی اور چند کاشتکار ہیں اور باقی تمام روئے زمین کے مسلمان عرب عجم ہندوستان پنجاب بنگالہ وغیرہ وغیرہ ملکوں کے علماء، فضلاء بزرگان دین سب کے سب بدبخت اور شقی ہیں۔ نعوذ باللہ منہ!
- ١١...... ’’میں تجھے زمین کے کناروں تک عزت کے ساتھ شہرت دوں گا۔ تیری
محبت دلوں میں ڈال دوں گا۔‘‘
(ازالہ اوہام ص ٢٣٣، خزائن ج ٣ ص ٢٢٢)
فقیر کہتا ہے کہ یہ الہام تو مرزا کا برعکس ہوا۔ جا بجا لوگ برا ہی کہتے ہیں۔ جہاں تک کوئی نام مرزا کو سنتا ہے سوائے گالی اور برے ذکر کے۔ ذکر خیر کوئی مسلمان نہیں کرتا۔
- ١٢...... ”احمد اور عیسیٰ اپنے جمالی معنوں کے رو سے ایک ہی ہیں۔ اسی کی طرف
یہ اشارہ ہے۔ ومبشراً برسول یأتی من بعدی اسمه احمد“
(ازالۃ اوہام ص ٦٧٣ خزائن ج ٣ ص ٤٦٣)
فقیر کہتا ہے پروردگار نے ایسا اندھا کیا کہ جو آیت رسول اللہ ﷺ کے حق میں تھی مرزا نے اپنے اوپر لگادی اور اتنا خیال نہ کیا کہ میرا نام تو غلام احمد ہے احمد تو نہیں۔ آیت کریمہ کا مطلب یہ ہے کہ سیدنا مسیح ربانی حضرت عیسیٰ بن مریم علیہما الصلوٰۃ والسلام نے بنی اسرائیل سے فرمایا کہ مجھے اللہ عزوجل نے تمہارے طرف رسول بنا کر بھیجا ہے توریت کی تصدیق کرتا اور اس رسول کی خوشخبری سناتا جو میرے بعد تشریف لانے والے ہیں۔ جن کا نام پاک احمد ہے ﷺ۔ ازالہ کے قول ملعون میں صراحتاً ادعا ہوا کہ وہ رسول پاک جن کی خوشخبری دی گئی ہے وہ معاذ اللہ مرزا قادیانی ہے یہ صاف کفر ہے۔
- ١٣...... اور یہ آیت هو الذی ارسل رسوله بالھدی ودین الحق
لیظهره علی الدین کلّہ ”در حقیقت اسے مسیح بن مریم کے زمانہ سے تعلق ہے۔“
(ازالۃ اوہام ص ٦٧٤ خزائن ج ٣ ص ٤٦٤)
فقیر کہتا ہے کہ خیال کرو، اے مسلمانو کہ مرزا کذاب نے یہ آیت جو محمد ﷺ کی شان اور تعریف میں ہے اپنے حق میں بنالی۔ ایسی بناوٹ پر لعنت پڑے اور پڑ گئی۔
- ١٤...... ”وہ آدم اور ابن مریم یہی عاجز ہے۔ کیونکہ اوّل تو ایسا دعویٰ اس عاجز
سے پہلے کسی نے کبھی نہیں کیا اور اس عاجز کا یہ دعویٰ دس برس سے شائع ہو رہا ہے۔“
(ازالۃ اوہام ص ٦٩٥ خزائن ج ٣ ص ٤٧٥)
فقیر کہتا ہے اگر دعویٰ ہونا دلیل حقانیت ہو تو ابلیس سے پہلے انا خیر منہ کا دعویٰ کسی نے نہ کیا تھا اور اس کا یہ دعویٰ ہزاروں برس سے شائع ہو رہا ہے۔ رسول اللہ ﷺ کی نبوت میں شریک ہونے کا دعویٰ مسیلمہ ملعون سے پہلے کسی نے نہ کیا اور برسوں یہ دعویٰ شائع رہا۔
- ١٥...... ”ہر ایک شخص روشنی روحانی کا محتاج ہو رہا ہے۔ سو خدا تعالیٰ نے اس روشنی
کو دے کر ایک شخص دنیا میں بھیجا وہ کون ہے۔ یہی ہے جو بول رہا ہے۔“
(ازالۃ اوہام ص ٧٢٩، خزائن ج ٣ ص ٥١٥)
فقیر کہتا ہے کہ ہاں اسی کا نام روشنی ہے۔ جو سینکڑوں علمائے عرب و عجم کو کافر کہہ دیا اور بعض کو اپنا مرید بنا کر ان کو اسلام سے گمراہ کر کے ان کی نمازیں اور روزے سارے برباد کر دیئے۔ تف ایسی روشنی پر، ایسے کفر اور ظلمت کو روحانی روشنی کہنا اور اللہ تعالیٰ کی طرف نسبت کرنا کفر بر کفر ہے۔
- ١٦...... ”حضرت اقدس امامنا مہدی و مسیح موعود مرزا غلام احمد علیہ السلام۔“
(آریہ دھرم کا اخیر ٹائٹل ص ٩، خزائن ج ١٠ ص ٨٨)
اپنے منہ آپ ہی میاں مٹھو۔
اور پھر وہ بھی زبانی تیری
اب مرزا کے رسالہ ”انجام آتھم“ میں جو واہیات اور کفریات ہیں۔ ناظرین بانصاف ملاحظہ فرمائیں اپنے دل جاہل کی تراشیدہ باتوں کو پروردگار کے الہام کہتا ہے۔
- ١٧...... ”اے احمد تیرا نام پورا ہو جائے گا، قبل اس کے جو میرا نام پورا ہو۔“
(انجام آتھم ص ٥٢، خزائن ج ١١ ص ٥٢)
فقیر کہتا ہے کہ جو کہے کہ پروردگار کا نام پورا اور کامل نہیں ہوا کافر ہے اور اللہ کے نام کے پورا ہونے سے پہلے میرا نام پورا ہو گا یہ بھی کفر ہے۔ پروردگار منبع جمیع صفات کمال نہ رہا۔
- ١٨...... ”تیری شان عجیب ہے۔“
(انجام آتھم ص ٥٢، خزائن ج ١١ ص ٥٢)
فقیر کہتا ہے بیشک عجیب ہے جو روپیہ کمانے کے لئے دغا بازی اور کذب اور فریب بازی کو پیشہ بنائے۔ پھر ان ناپاکیوں پر نبی و رسول بنے۔
- ١٩...... ”میں نے تجھے اپنے لئے چن لیا۔“
(انجام آتھم ص ٥٢، خزائن ج ١١ ص ٥٢)
فقیر کہتا ہے کہ اللہ تعالیٰ ایسے شخص کو کیا چن لے گا۔ جس کی باتیں اللہ تعالیٰ کے خلاف ہوں اللہ کے رسولوں کو گالیاں دیتا ہو۔
- ٢٠...... ”پاک ہے وہ جس نے اپنے بندے کو رات میں سیر کرائی۔“
(انجام آتھم ص ٥٣، خزائن ج ١١ ص ٥٣)
فقیر کہتا ہے کہ مرزا کو معراج کا انکار تھا۔ مگر اب چونکہ ”سبحن الذی اسری بعبده لیلاً“ آخر تک یہ آیت دوبارہ مرزا کے حق میں نازل ہوئی ہے۔ لہٰذا معراج کا شوق ہوا۔ بیچارے کا حافظہ بڑا نکما ہے۔ آگے کی بات یاد نہیں رہتی کہ میں نے پہلے کیا کہا تھا اور اب کیا کہتا ہوں۔
- ٢١...... ”تجھے خوشخبری ہو۔ اے احمد تو میری مراد ہے اور میرے ساتھ ہے۔“
(انجام آتھم ص ٥٥، خزائن ج ١١ ص ٥٥)
فقیر کہتا کہ جھوٹا الہام ہے۔ اگر پروردگار کے ساتھ ہوتا تو اللہ تعالیٰ کے کلام پاک قرآن شریف پر اعتراض نہ کرتا۔ اللہ تعالیٰ کے مقدس انبیاء علیہم السلام کو برا نہ کہتا۔ شریعت نبوی پر ثابت قدم رہتا۔ ہاں بایں معنی مراد کہ اللہ عزوجل کے ارادے سے پیدا ہوا ابلیس بھی ہے اور مرزا بھی۔
- ٢٢...... ”میں تجھے لوگوں کا امام بناؤں گا۔“ (انجام آتھم ص ٥٥، خزائن ج ١١ ص ٥٥)
دوسرا بھائی ان سے بھی بڑھ کر بھنگیوں چوہڑوں کا امام اور پیغمبر بنا۔
- ٢٣...... ”تو میرے ساتھ ہے اور میں تیرے ساتھ ہوں۔ تیرا بھید میرا بھید ہے۔“
(انجام آتھم ص ٥٩، خزائن ج ١١ ص ٥٩)
اقول ’لعنة الله على الكاذبين‘
- ٢٤...... ”ابراہیم یعنی اس عاجز (مرزا) پر سلام۔“
(انجام آتھم ص ٦٠، خزائن ج ١١ ص ٦٠)
پھر ابراہیم علیہ السلام بن بیٹھا بننے کا شوق چرایا۔
- ٢٥...... ”اے نوح اپنی خواب کو پوشیدہ رکھ۔“ (انجام آتھم ص ٦١، خزائن ج ١١ ص ٦١)
اب نوح پیغمبر بنا۔
- ٢٦...... ”جس نے تیری بیعت کی اس کے ہاتھ پر خدا کا ہاتھ۔“
(انجام آتھم ص ٧٨، خزائن ج ١١ ص ٧٨)
اقول، خدا سے اگر مراد شیطان ہے جو مرزا کو وحی بھیجتا ہے تو ضرور سچ ہے۔ بیشک اس سے بیعت کرنے والے کے ہاتھ پر شیطان کا ہاتھ ہے۔
- ٢٧...... ”وما ارسلنك الا رحمة للعلمين“ تجھ کو تمام جہان کی رحمت کے
واسطے روانہ کیا۔“
(انجام آتھم ص ٧٨، خزائن ج ١١ ص ٧٨)
رسول اللہ ﷺ کے بارے میں جو آیت تھی اپنے اوپر جما لی۔ اللہ کی لعنت کہہ کر نہیں آتی۔ لطف یہ ہے کہ مرزا کو آیت کے اپنے اوپر انزال کا تو بہت شوق ہے اور بیچارے کو عربی کی لیاقت نہیں۔ لہذا قرآن شریف سے کوئی نہ کوئی آیت لے کر کہہ دیتا ہے کہ مجھ کو الہام ہوا ہے۔
- ......٢٨ ”انی مرسلك الی
طرف رسول بنا کر بھیجا۔“ سب روئے زمین کے لوگ مرزا تعوذ بالله من ذلك! القول كالبول۔
- ......٢٩ ”مجھ کو خدا نے قائم کیا
اس کا جواب قرآن مجید دے چکا۔ الله كذبا اوقال اوحی الی ولم یوح الله ولوترى اذ الظلمون فی غمرت انفسكم اليوم تجزون عذاب اله وكنتم عن آيته تستكبرون (انعام جھوٹ باندھا یا کہا۔ مجھے وحی ہوئی۔ حالانکہ ا ہوں۔ جیسا اللہ نے اتارا اور کہیں تم دیکھو جب ہاتھ پھیلائے ان سے کہہ رہے ہیں۔ نکالو ا عذاب، سزا اس کی کہ اللہ پر جھوٹ باندھتے اور اس آیہ کریمہ کا جملہ جملہ قادیانی پ نے مجھے اپنا نبی کیا اور میرا یہ نام رکھا اور میرے پر کچھ وحی نہ آئی اور اس نے اپنی کتاب براہین اتارنے کا مدعی ہوا اور اس نے اللہ کی نشانیوں کو عطاء فرمائیں تکبر کیا کہ میں ایسی باتوں کو مکر وہ کافر ہوا اور اس کے لئے ذلت کا عذاب ہے۔
- ......٣٠ ”خدا کا روح میرے
سبحان اللہ! کیا کہنا جب مسیح روح باتیں نہ کرے گا۔ یہ وہی کفر ہے۔
- ٢٨....... ”انی مرسلک الیٰ قوم المفسدین“ ”میں نے تجھ کو قوم مفسدین کی
طرف رسول بنا کر بھیجا۔“
(انجام آتھم ص ٧٩، خزائن ج ١١ ص ٧٩)
سب روئے زمین کے لوگ مرزا کے آنے سے پہلے مفسد اور فتنہ باز اور گمراہ تھے۔ نعوذ باللہ من ذلک! القول کالبول۔
- ٢٩....... ”مجھ کو خدا نے قائم کیا۔ مبعوث کیا اور خدا میرے ساتھ ہم کلام ہوا۔“
(انجام آتھم ص ١١٣، خزائن ج ١١ ص ١١٣)
اس کا جواب قرآن مجید دے چکا ہے کہ فرماتا ہے: ”و من اظلم ممن افتریٰ علی اللہ کذبا او قال اوحی الی ولم یوح الیہ شئی ومن قال سأنزل مثل ما انزل اللہ ولوتری اذ الظلمون فی غمرت الموت والملئکۃ باسطوا ایدیھم اخرجوا انفسکم الیوم تجزون عذاب الھون بما کنتم تقولون علی اللہ غیر الحق وکنتم عن ایتہ تستکبرون (انعام: ٩٣)“ ”اس سے بڑھ کر ظالم کون جس نے اللہ پر جھوٹ باندھا یا کہا۔ مجھے وحی ہوئی۔ حالانکہ اسے کچھ بھی وحی نہ ہوئی اور جس نے کہا اب میں اتارتا ہوں۔ جیسا اللہ نے اتارا اور کہیں تم دیکھو جب یہ ظالم موت کی بیہوشیوں میں ہوں اور فرشتے اپنے ہاتھ پھیلائے ان سے کہہ رہے ہیں۔ نکالو اپنی جانیں آج تمہیں بدلہ دیا جائے گا۔ ذلت کا عذاب ، سزا اس کی کہ اللہ پر جھوٹ باندھتے اور اس کی نشانیوں سے تکبر کرتے تھے۔“
اس آیہ کریمہ کا جملہ جملہ قادیانی پر صادق ہے۔ اس نے اللہ پر جھوٹ باندھا کہ اس نے مجھے اپنا نبی کیا اور میرا یہ نام رکھا اور میرے حق میں یہ کہا اور اس نے وحی کا ادّعا کیا۔ حالانکہ اس پر کچھ وحی نہ آئی اور اس نے اپنی کتاب براہین احمدیہ کو اللہ کا کلام بتایا تو اللہ کے اتارنے کے مثل اتارنے کا مدعی ہوا اور اس نے اللہ کی نشانیوں سے جو اس نے اپنے بندے اور سچے رسول عیسیٰ مسیح کو عطا فرمائیں تکبر کیا کہ میں ایسی باتوں کو مکروہ نہ جانتا۔ تو عیسیٰ سے کم نہ رہتا۔ تو بتصریح قرآن وہ کافر ہوا اور اس کے لئے ذلت کا عذاب ہے۔
- ٣٠....... ”خدا کا روح میرے میں باتیں کرتا ہے۔“
(انجام آتھم ص ٧٨، خزائن ج ١١ ص ٧٨)
سبحان اللہ ! کیا کہنا جب مسیح روح اللہ کے مثیل ہوئے تو خدا کا روح مرزا میں کیسے باتیں نہ کرے گا۔ یہ وہی کفر ہے۔
- ٣١...... ”جو شخص مجھے بے عزتی سے دیکھتا ہے وہ اس خدا کو بے عزتی سے دیکھتا
ہے جس نے مجھے مامور کیا اور جو مجھے قبول کرتا ہے وہ اس خدا کو قبول کرتا ہے۔ جس نے مجھے بھیجا ہے۔“
(ضمیمہ انجام آتھم ص ٣٨، خزائن ج ١١ ص ٣٢٠)
فقیر کہتا ہے کہ سوا مرزا کے مریدوں کے، جس قدر مسلمان روئے زمین کے ہیں۔ مرزا کو بے عزتی سے دیکھتے ہیں اور قبول نہیں کرتے تو مرزا اور اس کے مریدوں کے نزدیک معاذ اللہ انہوں نے خدائے تعالیٰ کو بے عزت کیا اور قبول نہ کیا اور یہ دونوں باتیں کفر ہیں۔ پس سارے مسلمان کافر ہوئے۔ معاذ اللہ ! اور یہ مسئلہ علم عقائد کا ہے کہ جو شخص ساری امت مرحومہ کو کافر جانے وہ خود کافر ہے تو مرزا اور اس کے مرید سب کافر ہوئے۔
- ٣٢...... ”خدا ان سب کے مقابل پر میری فتح کرے گا۔ کیونکہ میں خدا کی طرف
سے ہوں۔ پس ضرور ہے کہ بموجب آیۂ کریمہ ’کتب اللہ لا غلبن انا ورسلی‘ میری فتح ہو۔“
(ضمیمہ انجام آتھم ص ٥٨، خزائن ج ١١ ص ٣٤٢)
فقیر کہتا ہے کہ الحمد للہ بالکل برعکس ہوا۔ مرزا کو خود لاہور، لدھیانہ وغیرہ مباحث کی قرار داد جگہوں سے مشہور شکست ہوئی۔ اعتراضوں کے جوابات نہ دے سکے اور شرمندہ ہوئے۔ ہاں ایسی فتح مرزا کو ضرور ہوئی۔ جیسے مشہور ہے کہ ماہ رمضان میں ایک بار مرزا امرتسر کو گیا۔ وعظ کے وقت تمام ہندو مسلمان وغیرہ مذاہب کے لوگ جمع ہوئے۔ مرزا نے دن میں شربت کا گلاس پی لیا۔ لوگوں نے گالیاں دینا اور تالیاں بجانا اور کلوخ مارنا شروع کیا۔ مرزا بڑی دقت سے بگھی میں سوار ہو کر بھاگا۔ سواری کے جانور اور بگھی کو بھی نقصان پہنچا اور اس قدر جوتے برسے کہ بگھی کے اندر تمام جوتا ہی تھا۔ پس اب وہ مفرور لاہور ہو گیا۔ اگر اس کا رسول ہوتا تو بے شک غالب ہوتا اور فتح پاتا۔ مگر کذاب تھا لہٰذا مردود و مطرود ہی رہا۔
- ٣٣...... ”میرے پاس خدا کے نشان بارش کی طرح برس رہے ہیں۔“
(ضمیمہ انجام آتھم ص ٥٧، خزائن ج ١١ ص ٣٤١)
فقیر کہتا ہے کہ خدا کا نشان تو کوئی دیکھا نہ گیا۔ مگر البتہ شیطان کے نشان مرزا پر ہمیشہ جھڑتے رہے۔
- ٣٤...... ”انت منی بمنزلۃ اولادی انت منی وانا منك“ تو اے غلام
احمد میری اولاد کی جگہ ہے تو مجھ سے ہے اور میں تجھ سے ہوں۔“ (دافع البلاء ص ٦، خزائن ج ١٨ ص ٢٢٧)
اللہ تعالیٰ اپنے غضب سے بچا
ہم ابن اللہ شدست
خود او گمراہ شدست
کسی کو پیروش باش
- ٣٥...... ”تو ہمارے پانی میں
پانی اور آگ ہر چیز اللہ کی ہے۔ ی الماء کل شئ حی “ اس میں تو کوئی تعریف مثیل عیسیٰ بنا تو خدا کا بیٹا بھی بننا ضرور ہوا اور م ہے۔ اب یہ نصرانیت سے بھی لاکھوں درجے کہ خدا کے نطفہ سے بنا ہو۔
- ٣٦...... ”خدا عرش پر سے تیری
ہاں دیکھو نا، کیسی تعریف کی جس کی کے رسالہ دافع البلاء سے مسلمان لوگ ملاحظہ فر
- ٣٧...... ”چار سال ہوئے کہ
سخت طاعون آنے والی ہے اور میں نے اس ملا شہر اور گاؤں میں لگائے گئے ہیں اور وہ قادر خد سمجھو کہ قادیان اسی لئے محفوظ رکھی گئی کہ وہ خدا
فقیر کہتا ہے کہ اس وقت قادیان م دیا۔ دعویٰ کر بیٹھا کہ قادیان میں طاعون نہ آ کیا۔ قادیان میں طاعون آیا۔ اس وقت مرزا جارف نہ آئے گا جو کہ جس سے لوگ جابجا م قاعدہ تھا کہ غیب کی باتیں اور کفریات بکتا تھا۔ جھوٹی تاویل سے کام لیتا۔
”جو شخص مجھے بے عزتی سے دیکھتا ہے وہ اس خدا کو بے عزتی سے دیکھتا مامور کیا اور جو مجھے قبول کرتا ہے وہ اس خدا کو قبول کرتا ہے۔ جس نے مجھے بھیجا ہے۔“
(ضمیر انجام آتھم ص ٣٦، خزائن ج ١١ ص ٣٢٠)
ہے کہ سوامرزا کے مریدوں کے، جس قدر مسلمان روئے زمین کے ہیں۔ مرزا تے ہیں اور قبول نہیں کرتے تو مرزا اور اس کے مریدوں کے نزدیک معاذ اللہ عالی کو بے عزت کیا اور قبول نہ کیا اور یہ دونوں باتیں کفر ہیں۔ پس سارے ۔ معاذ اللہ ! اور یہ مسئلہ علم عقائد کا ہے کہ جو شخص ساری امت مرحومہ کو کافر تو مرزا اور اس کے مرید سب کافر ہوئے۔
”خدا ان سب کے مقابل پر میری فتح کرے گا۔ کیونکہ میں خدا کی طرف ہے کہ بموجب آیہ کریمہ کتب الله لا غلبن انا ورسلی ”میری فتح ہو گی۔“
(ضمیر انجام آتھم ص ٥٨، خزائن ج ١١ ص ٣٤٢)
ہے کہ الحمد للہ بالکل برعکس ہوا۔ مرزا کو خود لاہور، لدھیانہ وغیرہ مباحث کی شہور شکست ہوئی۔ اعتراضوں کے جوابات نہ دے سکے اور شرمندہ ہوئے۔ بور ہوئیں۔ جیسے مشہور ہے کہ ماہ رمضان میں ایک بار مرزا امرتسر کو گیا۔ وعظ سلمان وغیرہ مذاہب کے لوگ جمع ہوئے۔ مرزا نے دن میں شربت کا گلاس لیاں دینا اور تالیاں بجانا اور کلوخ مارنا شروع کیا۔ مرزا بڑی دقت سے بگھی سواری کے جانور اور بگھی کو بھی نقصان پہنچا اور اس قدر جوتے برسے کہ بگھی ر گئی۔ پس اب وہ ضرور بالضرور مغلوب ہوگا۔ اگر اس کا رسول ہوتا تو بے شک غالب آتا کیونکہ رسولوں پر اب تک غلبہ رہا ہے۔ لہٰذا مردود و مطرود ہی رہا۔
”میرے پاس خدا کے نشان بارش کی طرح برس رہے ہیں۔“
(ضمیر انجام آتھم ص ٥٧، خزائن ج ١١ ص ٣٤١)
ہے کہ خدا کا نشان تو کوئی دیکھا نہ گیا۔ مگر البتہ شیطان کے نشان مرزا پر ہمیشہ
”انت منی بمنزلة اولادی انت منی وانا منك “تو اے غلام ہے تو مجھ سے ہے اور میں تجھ سے ہوں۔“ ( دافع البلاء ص ٦، خزائن ج ١٨ ص ٢٢٧)
اللہ تعالیٰ اپنے غضب سے بچاوے، کیسا ملعون کلام ہے۔
ہم ابن اللہ شدست وہم رہ حق می نہد نامش
خود او گمراہ شدست وخلق را ہم میکند گمراہ
کسی کو پیروش باشد نہ بینم نیک انجامش
- ٣٥....... ”تو ہمارے پانی میں سے ہے۔“
(انجام آتھم ص ٥٥، خزائن ج ١١ ص ٥٥)
پانی اور آگ ہر چیز اللہ کی ہے۔ یوں تو تمام جاندار اللہ ہی کے پانی سے ہیں۔ ”مِنَ الماء كلّ شىٔ حىّ “ اس میں تو کوئی تعریف نہ تھی۔ ظاہراً مرزا نے پانی سے نطفہ مراد لیا۔ کیونکہ مثیل عیسیٰ بنا تو خدا کا بیٹا بھی بننا ضرور ہوا اور مرزا اپنا الہام بتا ہی چکا ہے کہ تو بمنزلہ میری اولاد کے ہے۔ اب یہ نصرانیت سے بھی لاکھوں درجے بدتر کفر ہے۔ نصرانی بھی خدا کا بیٹا یوں نہیں مانتے کہ خدا کے نطفہ سے بنا ہو۔
- ٣٦....... ”خدا عرش پر سے تیری تعریف کرتا ہے۔“
(انجام آتھم ص ٥٥، خزائن ج ١١ ص ٥٥)
ہاں دیکھونا، کیسی تعریف کی جس کا بیان ابھی نمبر ٢٩ میں گزرا۔ مرزا کے کفریات اس کے رسالہ دافع البلاء سے مسلمان لوگ ملاحظہ فرمائیں۔
- ٣٧....... ”چار سال ہوئے کہ میں نے ایک پیش گوئی شائع کی تھی کہ پنجاب میں
سخت طاعون آنے والی ہے اور میں نے اس ملک میں طاعون کے سیاہ درخت دیکھے ہیں جو ہر ایک شہر اور گاؤں میں لگائے گئے ہیں اور وہ قادر خدا قادیان کو طاعون کی تباہی سے محفوظ رکھے گا۔ تاہم سمجھو کہ قادیان اسی لئے محفوظ رکھی گئی کہ وہ خدا کا رسول اور فرستادہ قادیان میں تھا۔“
(دافع البلاء ص ٥، خزائن ج ١٨ ص ٢٢٥)
فقیر کہتا ہے کہ اس وقت قادیان میں طاعون نہ تھا۔ مرزا کو اس کے ابلیس نے دھوکہ دیا۔ دعویٰ کر بیٹھا کہ قادیان میں طاعون نہ آئے گا۔ اللہ واحد قہار نے مرزا کذاب کا کذب ظاہر کیا۔ قادیان میں طاعون آیا۔ اس وقت مرزا بات کو پھیر کر کہنے لگا کہ میری مراد یہ تھی کہ طاعون جارف نہ آئے گا جو کہ جس سے لوگ جابجا بھاگتے ہیں اور کتوں کی طرح مرتے ہیں۔ مرزا کا قاعدہ تھا کہ غیب کی باتیں اور کفریات بکتا تھا۔ اس کے خلاف ثابت ہونے پر لوگ گرفت کرتے تو جھوٹی تاویل سے کام لیتا۔
اعلان
مرزا کو نیچے حصے کے بدن میں بیماری ذیا بیطس یعنی پیشاب کے جاری ہونے کی اور اسہال کی بیماری تھی اور اوپر کے بدن میں دوران سر تھا۔ دعویٰ عیسویت کا اور خود مرضوں میں ایسا مبتلا رہ کر اسفل اور اعلیٰ کے ہزار ہا مکروہات کے ساتھ جس خاک سے نکلے تھے اسی میں جاملے۔ ع
٣٨...... ”اے عیسائی مشنریو! اب ربنا المسیح مت کہو اور دیکھو کہ آج تم میں ایک ہے جو اس مسیح سے بڑھ کر ہے۔“
(دافع البلاء ص ١٣، خزائن ج ١٨ ص ٢٣٣)
دیکھو مسلمانو! انصاف کرو کہ پروردگار کے اولو العزم پیغمبر سے اپنے آپ کو بڑھ کر کہتا ہے۔ جو ماؤف ہو کر پیغمبر سے بڑا ہونا چاہتا ہے۔ وہ کیسا مسلمان ہے۔ مانا ہوا مسئلہ ہے کہ کوئی ولی کسی پیغمبر کے درجے کو کبھی نہیں پہنچتا۔ یہ صاف کفر ہے۔ اسی مضمون پر بیسیوں علمائے عرب وعجم نے کفر کے فتویٰ مرزا پر دیئے ہیں۔
٣٩...... ”خدا نے اس امت میں سے مسیح موعود بھیجا جو اس پہلے مسیح سے اپنی تمام شان میں بہت بڑھ کر ہے اور اس نے اس دوسرے مسیح کا نام غلام احمد رکھا۔ تا یہ اشارہ ہو کہ عیسائیوں کا مسیح کیسا خدا ہے جو احمد کے ادنیٰ غلام سے بھی مقابلہ نہیں کر سکتا۔ یعنی وہ کیسا مسیح ہے جو اپنے قرب اور شفاعت کے مرتبہ میں احمد کے غلام سے بھی کمتر ہے۔ (دافع البلاء ص ١٣،١٤، خزائن ج ١٨ ص ٢٣٣) پیغمبر سے اپنے آپ کو اعلیٰ جاننا صاف کفر ہے۔“
٤٠...... نصاریٰ کو خطاب کر کے کہتا ہے۔ ”ایسا ہی آپ بھی اگر مسیح بن مریم کو در حقیقت سچا شفیع اور منجی قرار دیتے ہیں تو قادیان کے مقابل میں آپ بھی کسی اور شہر کا پنجاب کے شہروں میں سے نام لے دیں فلاں شہر ہمارے خداوند مسیح کی برکت اور شفاعت سے طاعون سے پاک رہے گا۔“
(دافع البلاء ص ١٤، خزائن ج ١٨ ص ٢٣٣)
اول تو اپنی نجاست گاہ کا مامون ہونا اس بناء پر کہا تھا کہ وہ رسول کی تخت گاہ ہے تو اس کے مقابل نصاریٰ سے پنجاب کے کسی شہر کی حفاظت چاہنا۔ کیسی بیہودہ و بے معنی بات ہے۔ مرزا کے گمان باطل میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام سچے شفیع نہ تھے۔ بلکہ جھوٹا سفارشی تھا۔ یہ پیغمبر کو عیب لگانا ہے اور اسی کو سب اور شتم کہتے ہیں جو باتفاق علماء کفر ہے اور پیغمبروں کو گالی دینے والے عیب لگانے والوں کی توبہ ہی قبول نہیں۔ نزدیک اکثر فقہاء کے اور مختار بزازیہ، بحر رائق وغیرہ۔
- ٤١....... ”اور اگر ایسا نہ کرسکیں تو پھر سوچ لیں کہ جس شخص کی اس دنیا میں شفاعت
ثابت نہیں وہ دوسرے جہاں میں کیونکر شفاعت کرے گا۔“
(دافع البلاء ص ١٤، خزائن ج ١٨ ص ٢٣٤)
عقل کا اندھا تھا۔ بھلا اگر نصاریٰ کی کوئی دعاء قبول نہ ہو تو اس سے یہ لازم آئے گا کہ عیسیٰ علیہ السلام بروز قیامت سفارش نہ کریں گے۔ دیکھو پیغمبر خدا کو کیسا نکما اور بیقدر جانتا ہے کہ بروز حشر صالح عالم بھی شفاعت کریں گے۔ مگر حضرت عیسیٰ علیہ السلام مولویوں سے بھی گزر گئے جو سفارش ہی نہ کرسکیں گے۔ نعوذ بالله من ذلک الکفر!
- ٤٢....... ”اس جگہ مولوی احمد حسن صاحب امروہی کو ہمارے مقابلے کے لئے
خوب موقع مل گیا ہے۔ ہم نے سنا ہے کہ وہ بھی دوسرے مولویوں کی طرح اپنے مشرکانہ عقیدہ کی حمایت میں ہے تاکہ کسی طرح حضرت مسیح بن مریم کو موت سے بچالیں اور دوبارہ اتار کر خاتم الانبیاء بنادیں۔“
(دافع البلاء ص ١٥، خزائن ج ١٨ ص ٢٣٥)
اس ملعون تحریر سے یہ ظاہر کیا کہ جن لوگوں کا یہ اعتقاد ہو کہ عیسیٰ علیہ السلام زندہ ہیں اور آسمان سے اتریں گے وہ مشرک اور کافر ہیں۔ یہ حکم سارے علمائے دین بلکہ تابعین بلکہ صحابہؓ بلکہ خود رسول کریم ﷺ پر بھی ہو گیا۔ کیونکہ اگر حدیث شریف میں نہ ہوتا اور صحابہؓ وغیرہ علمائے متقدمین روایت نہ کرتے تو ہم کیسے جانتے۔ اب خود جان لو گے کہ مرزا کون تھا اور خاتم الانبیاء بنانے کا بہتان علماء پر لگا دیا۔ اس کا کون قائل ہے۔ یہ محض افتراء اس مفتری کذاب کا ہے۔
- ٤٣....... ”بلکہ یہ مولوی صاحب اپنے دوسرے بھائیوں کی طرح یہی چاہتے ہیں
کہ وہی ابن مریم جس کو خدا بنا کر قریباً پچاس کروڑ انسان گمراہی کے دلدل میں ڈوبا ہوا ہے۔ دوبارہ فرشتوں کے کاندھوں پر ہاتھ رکھے ہوئے اترے اور ایک نیا نظارہ خدائی کا دکھلا کر پچاس کروڑ کے ساتھ پچاس کروڑ اور ملا دے۔ کیونکہ آسمان پر چڑھتے ہوئے تو کسی نے نہیں دیکھا تھا۔ وہی مقولہ تھا کہ پیران نمی پرند مریدان می پرانند۔ اس منحوس دن میں اسلام کا کیا حال ہوگا۔ کیا اسلام دنیا میں ہوگا۔ لعنۃ اللہ علی الکاذبین“
(دافع البلاء ص ١٥، خزائن ج ١٨ ص ٢٣٥)
یہ قول ملعون اس کا، صاف حدیث صحیح کے مخالف ہے۔ حضرت ﷺ کی شان میں عیب نکال کر عیسیٰ علیہ السلام کے تشریف لانے کے دن کو نحس دن کہنا اور پچاس کروڑ مسلمان کا اس دن مشرک ہونا اور اسلام کا اس دن تباہ ہونا حدیث شریف کی تکذیب ہے اور لعنۃ اللہ علی الکاذبین میں صحابہ کرامؓ اور عام مسلمان جو آج تک بلکہ اس روز تک نزول حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے قائل اور معتقد ہیں داخل ہو گئے۔ بلکہ لعنتی کو یہ لعنت خود ہمیشہ تک پڑی۔ ”الا لعنة الله علی
الظلمین“ اور ظاہر ہے کہ حدیث صحیح کی رو سے مسلمان سچے ہیں تو مرزا اور مرزائی کاذب ہوئے اور انہیں کے منہ سے، لعنت اللہ تعالیٰ کی انہیں پر آئی۔
٤٤...... ” جو شخص سری نگر محلہ خان یار میں مدفون ہے اس کو ناحق آسمان پر بٹھایا گیا۔ کس قدر ظلم ہے۔“
(دافع البلاء ص ١٥، خزائن ج ١٨ ص ٢٣٥)
اقول، یہ تیرے منہ کا ناحق اور ظلم تو جناب رسول اللہ ﷺ نے کیا ہے۔ واہ رے مرزا کا اسلام کہ رسول اللہ ﷺ کو ظالم اور ناحق کہنے والا کہہ دیا۔ اب تحقیق اس امر کی کہ کشمیر میں قبر کس شخص کی ہے اور مرزا نے بے ایمانی کر کے اس کو قبر عیسیٰ علیہ السلام کی بتایا۔ مصنف رسالہ کلمہ فضل رحمانی نے جمیع معتبروں کے خطوط ص ٤٤ میں جمع کئے ہیں۔ میں بعینہا وہی نقل کر دیتا ہوں۔ منہا
خط خواجہ سعید الدین ابن خواجہ ثناء اللہ مرحوم کشمیری ازینجا شروع می شود، السلام علیکم مکاتبہ مسرت طراز بخصوص دریافت کردن کیفیت اصلیت مقبرہ یوز آسف مطابق تواریخ کشمیر در کوچہ خان یار حسب تحریر مرزا قادیانی در زمان سعید رسید باعث خوش وقتی شد۔ آنکہ واضح شد اطلاع میکنم مقبرہ روضہ بل یعنی کوچہ خان یار بلاشک بوقت آمدن از راہ مسجد جامع بطرف چپ واقع است مگر آن مقبرہ بملاحظہ تاریخ کشمیر نسخہ اصل خواجہ اعظم صاحب دیدہ ام کہ ہم صاحب کشف و کرامات محقق بودند مقبرہ سید نصیر الدین قدس سرہ می باشد و بملاحظہ تاریخ کشمیر معلوم می شود کہ آن مقبرہ بمقبرہ یوز آسف مشہور ست چنانچہ مرزا قادیانی نوشتہ بل این قدر معلوم می شود کہ در مقبرہ حضرت سنگ قبری واقع ست آنرا قبر یوز آسف نوشته است بلکہ تحریر فرمودہ اند کہ در محلہ ”انزمرہ“ مقبرہ یوز آسف واقع ست ای بلفظ صاد نہ بسین، و این محلہ بوقت آمدن از راہ مسجد جامع طرف راست ست طرف چپ نیست در میان آنزمرہ و روضہ بل یعنی کوچہ خان یار مسافت واقع ست بلکہ نالہ مار ہم در میان حائل ست پس فرق بدو وجہ معلوم می شود ہم فرق لفظی کہ این نام بصادست و ہم فرق معنوی که یوز آسف کہ مرزا نوشته که در محلہ خان یار ست این در محلہ انزورہ است و تغایر مکان بر تغایر مکین دلالت میکند کہ یک شخص در دو جا مدفون بودن ممکن نیست و عبارت تاریخ خواجہ اعظم صاحب این ست۔
حضرت سید نصیر الدین خانیاری از سادات عالیشان ست در زمرہ مستوری بود بفقر مبی ظہور نمود مقبرہ میر قدس سرہ در محلہ خان یار مہبط فیوض وانوارست و در جوار ایشان سنگ قبری واقع شدہ در عوام مشہور ست که آنجا پیغمبری آسوده است که در زمان سابقہ در کشمیر مبعوث شدہ بود این مکان بمقام آن پیغمبر معروف ست در کتابی از تواریخ دیده ام که بعد قضیه دور و دراز حکایتی می نویسد کہ یکی از سلاطین زاده ہا براه زہد و تقویٰ آمدہ ریاضت و عبادت بسیار کرد و برسالت مردم کشمیر مبعوث شدہ در
کہ حدیث صحیح کی رو سے مسلمان سچے ہیں تو مرزا اور مرزائی کاذب ہوئے ت اللہ تعالیٰ کی انہیں پر آئی۔ جو شخص سری نگر محلہ خان یار میں مدفون ہے اس کو ناحق آسمان پر بٹھایا
(دافع البلاء ص ١٥، خزائن ج ١٨ ص ٢٣٥)
مینہ کا ناحق اور ظلم تو جناب رسول اللہ ﷺ نے کیا ہے۔ واہ رے مرزا کا ظالم اور ناحق کہنے والا کہہ دیا۔ اب تحقیق اس امر کی کہ کشمیر میں قبر کس بے ایمانی کر کے اس کو قبر عیسیٰ علیہ السلام کی بتایا۔ مصنف رسالہ کلمہ فضل کے خطوط ص ٤٤ میں جمع کئے ہیں۔ میں بعینہا وہی نقل کر دیتا ہوں۔ منہا بعد ثناء اللہ مرحوم کشمیری از ینجا شروع می شود، السلام علیکم مکاتبہ مسرت ت کیفیت اصلیت مقبرہ یوز آصف مطابق تواریخ کشمیر در کوچہ خان یار مان سعید رسید باعث خوش وقتی شد۔ آنکہ واضح شد اطلاع میکنم مقبرہ لانامہ بوقت آمدن از راه مسجد جامع بطرف چپ واقع است مگر آن ر اصل خواجہ عظیم صاحب دیده مرد کہ ہم صاحب کشف و کرامات محقق ں مرہ می باشد و بملا حظہ تاریخ کشمیر معلوم می شود کہ آن مقبرہ ، مقبرہ یوز اقادیانی نوشته بل این قدر معلوم می شود که در مقبرہ حضرت سنگ قبری نوشته است بلکہ تحریر فرموده اند که در محله ” انزه مرہ مقبرہ یوز آصف ن ، و این محله بوقت آمدن از راه مسجد جامع طرف راست ست طرف بروضہ بل یعنی کوچہ خان یار مسافت واقع است بلکہ نالہ مار ہم در میان علوم می شود هم فرق لفظی کہ این نام بصادست و هم فرق معنوی کہ یوز خان یارست این در محله انزوره است و تغایر مکان بر تغایر مکین دلالت ن بودن ممکن نیست و عبارت تاریخ خواجہ اعظم صاحب این ست۔ از سادات عالیشان ست در زمرہ مستوری بود بتقریبی ظہور نمود مقبره ہبط فیوض وانوارست و در جوار ایشان سنگ قبری واقع شدہ در عوام وده است کہ در زمان سابقہ در کشمیر مبعوث شده بود این مکان بمقام از تواریخ دیده ام که بعد قضیه دور و در از حکایتی می نویسد که یکی از آمده ریاضت و عبادت بسیار کرد در رسالت مردم کشمیر مبعوث شده در
کشمیر آمده بدعوت خلائق مشغول شده و بعد رحلت در محله انزه مرہ آسود دران کتاب نام آن پیغمبر یوز آصف نوشته ازین عبارت معلوم شد که یوز آصف در محله انزه مره مدفون ست نه در محله کوچه خان یار و این یوز آصف از سلاطین زاده ها بوده است و این عبارت مناقض تحریر مرزا قادیانی زیرا که یسوع خود را بکسی از سلاطین منسوب نکرده فقط والسلام ١٥ / ذیقعده ١٣١٤ھ ۔“
دوسرا خط سید حسن شاہ صاحب کشمیر کا قولہ: ”اطلاع باد چون ارقام کرده بودید که در شہر سری نگر در ضلع خانیار پیغمبری آسوده است معلوم سازند موجب آن خود بذات بابت تحقیق کردن آن در شہر رفتہ ہمیں تحقیق شده کہ پیشتر از دو صد سال شخصے معتبر و صاحب کشف بوده است نام آن خواجہ اعظم یک تاریخ از تصانیف خود نموده است که درین شہر در ینوقت بسیار معتبرست دران ہمیں عبارت تصنیف ساختہ است که در ضلع خان یار میگویند کہ پیغمبری آسوده است یوز آصف نام داشتہ و قبر دوم در انجاست از اولاد زین العابدین سید نصیر الدین خانیاری ست و قدم رسول در انجا هم موجودست اکنون در انجا بسیار مرجع اہل تشیع دارد بہر حال سوائے تاریخ خواجہ اعظم صاحب موصوف دیگر سندی صحیح ندارد واللہ اعلم انتہی کلام ٢٢ رذی الحجہ ١٣١٤ھ‘ اور غایۃ المقصود کا مصنف بعد تحقیق کے لکھتا ہے۔ ”فقیر حقیر ہم اکنون در ہیچ تاریخ ندیدہ کہ قبر حضرت عیسیٰ در کشمیر نوشته باشند و نه از کدام باشنده معتبر کشمیر این قول شنیده بلکه تمامی فضلاء و رؤسای معتبرین وعوام الناس ملک کشمیر حلفاً و قسماً میگویند که حاشا وکلا در کشمیر قبر حضرت عیسیٰ می باشد و علاوه ازین دو خط گذشته۔ بسیار دست خط و مواہیر بر نبودن قبر حضرت عیسیٰ علیہ السلام در کشمیر موجودند ۔ چنانچہ انجمن نصرۃ السنۃ امرتسر در رسالہ ”عقائد مرزا“ درج کردہ در اینجا بعینہا درج میکنم اصل شہادت این ست از باشندگان کشمیر شهر سری نگر کہ مرزا قادیانی در دعوای خود که قبر حضرت عیسیٰ علیہ السلام در کشمیر ست کاذب و مفتری ست۔ مفتی واعظ رسول، ونعمت اللہ ومحمد شاہ مفتی کوٹھی دار روضہ بل خانیار، ومفتی محمد دلاور شاہ سکنہ خانیار، ومفتی محمد شریف ایضاً ، و غلام محمد احمد قادری، غلام مصطفے خانیاری، وغلام یٰسین حسن قادری، ومیر یوسف قادری، و مفتی یوسف شاہ صاحب ، ومفتی جلال الدین صاحب ، ومفتی سعد الدین صاحب، مفتی سیف الدین صاحب، ومفتی و مولوی صدر الدین صاحب، ومفتی ضیاء الدین صاحب، واحمد شاہ صاحب ، ومحمد یوسف شاہ صاحب، وغلام محمد صاحب ، ومیر قمر الدین صاحب سجادہ نشین، وسید کبیر صاحب سجادہ نشین، واحسن صاحب بشانی، ومیر غلام مصطفیٰ صاحب تارہ بلی، وغلام محمد عاصم صاحب عالیکدلی، و پیر علی شاہ صاحب۔ مواہیر خادمان خانقاہ معلی محمد یوسف صاحب، وغلام رسول صاحب ہمدانی، وسید علی شاہ
صاحب ہمدانی ، خلیل بابا صاحب ، و بابا عبد الکبیر صاحب ہمدانی ، وسید احمد شاہ صاحب ہمدانی ، وسید محی الدین صاحب ، وعلی بابا صاحب مؤذن و جاروب کش ، وعبدالمجید صاحب ، واحمد صاحب فراش درگاہ ، ونور الدین نعمت خان صاحب ، ویوسف ہمدانی سجادہ نشین خانقاہ معلے ، ومولوی حسن صاحب تقی خانیاری ، وسید محی الدین صاحب قادری ، وغلام علی صاحب ہمدانی مواہیر خادمان مسجد جامع سری نگر کشمیر ، احمد بابا صاحب خادم مسجد جامع ، وعبداللہ بابا صاحب خادم ، وسید حسن صاحب خادم ، وعبدالصمد صاحب خادم ، وغلام رسول صاحب خادم ، وسید سکندر صاحب خادم ، ومولوی سلام الدین صاحب امام مسجد جامع مواہیر خادمان استان حضرت مخدوم صاحب شہر سری نگر ، وغلام الدین صاحب مخدومی ، ونورالدین صاحب مخدومی ، واحمد بابا صاحب مخدومی ، واسد اللہ صاحب مخدومی ، ونورالدین صاحب مخدومی ، واحسن اللہ صاحب مخدومی ، ومحمد شاہ صاحب مخدومی ، ومحمد بابا صاحب مخدومی ، وحفیظ اللہ صاحب مخدومی ، ومیرک شاہ صاحب مخدومی ، وصدیق اللہ صاحب مخدومی ۔ مواہیر حضرت خاندان رفیقیہ سہروردیہ نقشبندیہ سری نگر ۔ نظام الدین صاحب ، ومحمد بن محمود صاحب رفیقی ، وغلام حسین صاحب رفیقی ، وغلام حمزہ صاحب رفیقی ، وعبدالسلام صاحب رفیقی ، وسیف الدین صاحب رفیقی ، وعبداللہ صاحب رفیقی ، ونورالدین صاحب رفیقی ، وشریف الدین صاحب رفیقی ، وغلام نبی صاحب رفیقی ، ومحمد قاسم صاحب رفیقی ، وانور رفیقی ، وعبدالصمد صاحب رفیقی ، ومحمد مقبول بن نصیر الدین رفیقی ، ومحمد یوسف رفیقی اسلام آبادی ، وسعد الدین صاحب رفیقی ، ومحمد مقبول صاحب رفیقی ، وعبدالرحمن صاحب رفیقی ، ونورالدین محمد بن محی الدین صاحب رفیقی ، وصدرالدین صاحب رفیقی ، عبدالاحد صاحب رفیقی ، ومحمد یوسف صاحب رفیقی ۔
مواہیر خاندان قدیمی سری نگر ، علی شاہ صاحب قدیمی ، وغلام محمد صاحب قدیمی ، وامیر الدین صاحب قدیمی ، وغلام محی الدین صاحب قدیمی ، وغلام حسن صاحب قدیمی ، ومحمد شاہ صاحب قدیمی ، ومولوی نور الدین صاحب قدیمی ، وقمر الدین صاحب قدیمی ، وغلام الدین صاحب قدیمی ، وغلام حسین صاحب قدیمی ۔ مواہیر خاندان قرشی سری نگر ۔ محمد سعید الدین صاحب قرشی ، وبدرالدین صاحب قرشی ، ونظام الدین صاحب قرشی ، وسعدالدین صاحب قرشی محلہ خانیار ، وعبدالمجید صاحب قرشی ، وغلام حسن صاحب قرشی ۔ پس مرزا کا دعویٰ غلط اور باطل ہوا ۔ مرزا نے باری تعالیٰ کے قول ” وَاوَيْنٰهُمَا اِلٰى رَبْوَةٍ ذَاتِ قَرَارٍ وَّ مَعِيْنٍ “ کو کشمیر بنا کر عیسیٰ علیہ السلام کی موت کے لئے بہت کچھ ہاتھ پاؤں مارے ۔ مگر تحریف کی ، معنی اس کلام پاک کے یہ ہیں ۔ (اور ٹھکانا دیا ہم نے ان دونوں کو طرف ٹیلے صاحب آرام اور صاف چشمہ دار پانی والے
کے ) پس ابلیس نے مرزا کو سوجھائی کہ اسے دار ہیں اور آرام بھی ہے ۔ بوجہ معتدل ہو ہے کشمیر کی تعریف میں ؎
گر مرغ کباب
اگر مرزا انجیل متی باب دوم پڑ ”جب دیار مشرق سے مجوسی حضرت مسیح کی یہودیوں کا بادشاہ میرے ملک میں پیدا ہوا بچوں کا قتل عام کر ڈالا ۔ مگر بادشاہ کے منصو خواب میں اطلاع کر دی اور حکم دیا کہ اٹھ اس جب تک میں تجھے نہ کہوں وہیں رہنا ۔ کیو ڈھونڈھنے کو ہے ۔ پس وہ شخص حضرت عیسیٰ علی ہیرودیس کے مرنے تک وہیں رہا اور جب ہ علاقہ کو روانہ ہو گیا اور ایک شہر میں جس کا نام نا تھا یا خود ناصرت کو ربوہ کہا اور تفسیر کشاف میں دیکھو حسینی ، قصبہ ناصرت جس کو مسیح مریم نے ا تھا ۔ (لوقا ٢٩:٤) اس میں ایک چشمہ آج تک اور شاید ” قَدْ جَعَلَ رَبُّكِ تَحْتَكِ سَرِيًّا نیچے ایک چشمہ ) تفسیر خازن میں ابن عباسؓ ۔ نے کہا کہ بیت المقدس بہت قریب ہے ۔ س اور تفسیر کبیر ص ١٩٨ طبع مصر جز ٦ میں ہے ربوۃ کے حضرت قتادہؒ اور ابو العالیہؒ نے کہا کہ وہ ایلیا کہ وہ رملہ ہے ۔ کلبی اور ابن زید نے کہا کہ یہ ہے اور مقاتل اور ضحاک نے کہا کہ نبی غوطۂ دم بی مریم اپنے چچا کے بیٹے کے ساتھ جس کو یوس مقیم رہیں اور چرخہ کات کر اس کی مزدوری سے
ما بابا صاحب، و بابا عبدالکبیر صاحب ہمدانی، وسید احمد شاہ صاحب ہمدانی، ب، وعلی بابا صاحب مؤذن ویحییٰ، و عبدالمجید صاحب، واحمد الد ین نعمت خان صاحب، ویوسف ہمدانی سجادہ نشین خانقاہ معلی، ومولوی حسن وسید محی الدین صاحب قادری، وغلام علی صاحب ہمدانی مواہیر خادمان مسجد مہ بابا صاحب خادم مسجد جامع، و عبداللہ بابا صاحب خادم، وسید حسن صاحـ ب خادم، وغلام رسول صاحب خادم، وسید سکندر صاحب خادم، ومولوی سلام مسجد جامع مواہیر خادمان استان حضرت مخدوم صاحب سہروردی سری نگر، وغلام النبـ ی، ونورالدین صاحب مخدومی، واحمد بابا صاحب مخدومی، واسد اللہ صـ احب مخدومی، واحسن اللہ صاحب مخدومی، ومحمد شاہ صاحب مخدومی، ومحمد بابـ ا اللہ صاحب مخدومی، ومیرک شاہ صاحب مخدومی، وصدیق اللہ سادا ت خاندان رفیقیہ سہروردیہ نقشبندیہ سری نگر۔ نظام الدین صاحب، ومحمد بن غلام حسین صاحب رفیقی، وغلام حمزہ صاحب رفیقی، وعبدالسلام صاحب صاحب رفیقی، وعبداللہ صاحب رفیقی، ونورالدین صاحب رفیقی، وشریف وغلام نبی صاحب رفیقی، ومحمد قاسم صاحب رفیقی، وانور رفیقی، وعبدالصمد ل بن نصیر الدین رفیقی، ومحمد یوسف رفیقی اسلام آبادی، وسعد الدین ب صاحب رفیقی، وعبدالرحمن صاحب رفیقی، ونورالدین محمد بن محی الـ دین صاحب رفیقی، عبدالصمد صاحب رفیقی، ومحمد یوسف صاحب رفیقی۔
ن قدیمی سری نگر، علی شاہ صاحب قدیمی، وغلام محمد صاحب قدیمی، وامیر وغلام محی الدین صاحب قدیمی، وغلام حسن صاحب قدیمی، ومحمد شاہ نور الدین صاحب قدیمی، وقمر الدین صاحب قدیمی، وغلام الدیـ ن صاحب قدیمی۔ مواہیر خاندان قرشی سری نگر۔ محمد سعید الدین صاحـ ب قرشی، ونظام الدین صاحب قرشی، وسعدالدین صاحب قرشی محلہ قرشی، وغلام حسن صاحب قرشی۔‘‘ پس مرزا کا دعویٰ غلط اور باطل ہوا۔
آیت ”وَآوَیْنَاهُمَا اِلٰی رَبْوَۃٍ ذَاتِ قَرَارٍ وَّمَعِیْنٍ“ کو کشمیر بنا کر عیسیٰ کے لـ ئے بہت کچھ ہاتھ پاؤں مارے۔ مگر تحریف کی، معنی اس کلام پاک کے یـ ہ ان دونوں کو طرف ٹیلے صاحب آرام اور صاف چشمہ دار پانی والے
کے ) پس ابلیس نے مرزا کو سوجھائی کہ اسے کشمیر گھڑ دو کہ کشمیر میں پہاڑ بھی ہیں اور پانی بھی چشمہ دار ہیں اور آرام بھی ہے۔ بوجہ معتدل ہونے آب و ہوا اور میوہ جات کے، جیسا کہ عرفی نے کہا ہے کشمیر کی تعریف میں ؎
گر مرغ کباب ست کہ با بال و پر آید
اگر مرزا انجیل متی باب دوم پڑھ لیتا تو اس مغالطے میں نہ پڑتا۔ وہاں لکھا ہے کہ: ”جب دیار مشرق سے مجوسی حضرت مسیح کی زیارت کو آئے اور بادشاہ ہیرودیس کو خبر لگی کہ مسیح یہودیوں کا بادشاہ میرے ملک میں پیدا ہوا ہے تو اس نے آپ کے قتل کرنے کا منصوبہ باندھا اور بچوں کا قتل عام کر ڈالا۔ مگر بادشاہ کے منصوبہ پر خدا پاک کے فرشتے نے حضرت مسیح کے محافظ کو خواب میں اطلاع کر دی اور حکم دیا کہ اٹھ اس لڑکے کو اس کی ماں کے ساتھ لے کر مصر کو چلا جا اور جب تک میں تجھے نہ کہوں وہیں رہنا۔ کیونکہ ہیرودیس اس بچے کو ہلاک کرنے کے لئے ڈھونڈھنے کو ہے۔ پس وہ شخص حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور ان کی والدہ کو لے کر مصر کو روانہ ہو گیا اور ہیرودیس کے مرنے تک وہیں رہا اور جب ہیرودیس مر گیا تو پھر خواب میں ہدایت پا کر گلیل کے علاقہ کو روانہ ہو گیا اور ایک شہر میں جس کا نام ناصرت تھا جا بسا۔“ پس وہ ربوہ یا تو مصر میں کوئی مقام تھا یا خود ناصرت کو ربوہ کہا اور تفسیر کشاف میں ابو ہریرہؓ سے منقول ہے کہ یہ ربوہ رملہ فلسطین ہے۔ دیکھو حسینی: قصبہ ناصرت جس کو مسیح مریم نے اپنی جائے قرار بنا لیا تھا۔ دراصل ایک پہاڑی پر بسا تھا۔ (لوقا ٤: ٢٩) اس میں ایک چشمہ آج تک موجود ہے۔ جو چشمہ بتول کے نام سے مشہور ہے اور شاید ”قَدْ جَعَلَ رَبُّكِ تَحْتَكِ سَرِیًّا“ اسی طرف اشارہ ہو (بنا دیا تیرے رب نے تیرے نیچے ایک چشمہ ) تفسیر خازن میں ابن عباسؓ سے روایت ہے کہ وہ ربوہ بیت المقدس ہے اور کعبؓ نے کہا کہ بیت المقدس بہت قریب ہے۔ سب زمینوں سے بطرف آسمان کے بقدر ١٨ میل کے اور تفسیر کبیر ص ١٩٨ طبع مصر جز ٦ میں ہے ربوہ اور رباوہ را کی تین حرکات سے ہے۔ بمعنی بلند زمین کے حضرت قتادہؓ اور ابو العالیہؓ نے کہا کہ وہ ایلیاء ہے۔ بیت المقدس کی زمین۔ ابو ہریرہ نے کہا ہے کہ وہ رملہ ہے۔ کلبی اور ابن زید نے کہا کہ یہ رملہ مصر میں ہے اور اکثر علماء نے کہا کہ وہ ربوہ دمشق ہے اور مقاتل اور ضحاک نے کہا کہ یہ غوطہ دمشق یعنی دمشق کی فراز زمین، تفسیر حسینی میں ہے کہ بی بی مریم اپنے چچا کے بیٹے کے ساتھ جس کو یوسف نجار کہتے تھے ماتان کا بیٹا بارہ سال اس ربوہ میں مقیم رہیں اور چرخہ کات کر اس کی مزدوری سے عیسیٰ علیہ السلام کو کھلاتی تھیں۔
اب ایک اور حدیث سن لو اور گریبان میں سر ڈال لو۔ سب لوگ اس بات کے قائل تھے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے زمین پر انتقال فرمایا ہے اور زمین پر آپ کی قبر موجود ہے۔ اگرچہ صحیح پتہ معلوم نہیں اور تورات شریف کے آخر باب میں لکھا ہے کہ کسی بشر کو موسیٰ علیہ السلام کی قبر کا پتہ نہ لگا۔ باوجودیکہ اس قبر کا پتہ لگ جانا کوئی بہت بڑی ضروری بات نہ تھی۔ تو بھی آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ مجھ کو اس قبر کا پتہ ہے اور بتلا دیا کہ بیت المقدس سے ایک پتھر کی مار پر راہ کے کنارے سرخ ریتلی کے تلے ہے۔ صحیح مسلم میں فضائل موسیٰ میں (قبرہ الی جانب الطريق تحت الكثيب الاحمر) پھر کیوں حضرت مسیح کی قبر کا پتہ آنحضرت ﷺ نہ بتلا دیتے۔ جس کا صرف پتہ ہی لوگوں کو نہ معلوم تھا۔ بلکہ جس کے وجود کا لوگوں کو گمان بھی نہیں ہوا تھا اور جو بقول مرزا ایک ایسی اہم اور ضروری بات تھی۔ جس کے فاش ہو جانے سے دین عیسائی مٹ جاتا اور صدیوں کے عیسائی چند روز میں کل کے کل مسلمان ہو جاتے۔ شاید کہ مرزا کے معلومات جناب رسول اللہ ﷺ سے بھی بہت بڑے ہیں۔ جن کے غلام ہونے کا مرزا کو فخر حاصل ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے تو عیسیٰ علیہ السلام کی قبر کا پتہ نہ بتایا اور معاذ اللہ اتنی بڑی فروگذاشت کی۔ مگر مرزا نے تیرہ سو برس کی اتری ہوئی آیہ کریمہ ”الیوم اکملت لکم دینکم“ کی تکذیب کر کے اب دین کی تکمیل کی۔ ”ولا حول ولا قوۃ الا باللہ العلی العظیم“
- ٤٥....... ”خدا تو باوجود اپنے وعدوں کے ہر چیز پر قادر ہے۔ لیکن ایسے شخص کو کسی
طرح دوبارہ دنیا میں نہیں لا سکتا۔ جس کے پہلے فتنے نے ہی دنیا کو تباہ کر دیا ہے۔“
(دافع البلاء ص ١٥، خزائن ج ١٨ ص ٢٣٥)
اس میں دو صریح خبیث نجس کفر ہیں۔ ایک اللہ تعالیٰ کو عاجز بتانا کہ کسی طرح نہیں لا سکتا۔ دوسرے رسول اولوالعزم مرسل کو فتنہ گر اور تباہ کن کہنا۔ افسوس کہ اللہ تعالیٰ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو بوجہ اس کے فتنے کے نہیں لا سکتا۔ مگر مرزا کو دنیا میں لایا جو ایسا فتنہ باز کہ کسی نیک شخص کو حتیٰ کہ امام حسنؓ اور امام حسینؓ وغیرہ۔ اصحاب کو بلکہ حضور پر نور ﷺ کو بھی گالیوں سے خالی نہ چھوڑا۔ کسی کو مشرک کسی کو ملعون کسی کو کیا کسی کو کیا کہہ دیا۔
- ٤٦....... اب خدا کہتا ہے کہ دیکھو میں اس کا ثانی پیدا کروں گا جو اس سے بہتر ہے۔
جو غلام احمد ہے۔ یعنی احمد کا غلام ؎
اس سے بہتر غلام احمد ہے
(دافع البلاء ص ٢٠، خزائن ج ١٨ ص ٢٤٠)
سن لو اور گریبان میں منہ ڈال لو۔ سب لوگ اس بات کے قائل تھے کہ ن پر انتقال فرمایا ہے اور زمین پر آپ کی قبر موجود ہے۔ اگر چہ صحیح پتہ ے آخر باب میں لکھا ہے کہ کسی بشر کو موسیٰ علیہ السلام کی قبر کا پتہ نہ لگا۔ ئی بہت بڑی ضروری بات نہ تھی۔ تو بھی آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ لہ بیت المقدس سے ایک پتھر کی مار پر راہ کے کنارے سرخ ٹیلے کے ہوئی میں (قبرہ الی جانب الطريق تحت الكثيب الاحمر) پھر کیوں ﷺ نہ بتلا دیتے۔ جس کا صرف پتہ ہی لوگوں کو نہ معلوم تھا۔ بلکہ نہیں ہوا تھا اور جو بقول مرزا ایک ایسی اہم اور ضروری بات تھی۔ جس ائی مٹ جاتا اور صدیوں کے عیسائی چند روز میں کل کے کل مسلمان ات جناب رسول اللہ ﷺ سے بھی بہت بڑے ہیں۔ جن کے غلام سول اللہ ﷺ نے تو عیسیٰ علیہ السلام کی قبر کا پتہ نہ بتایا اور معاذ اللہ اتنی تیرہ سو برس کی اتری ہوئی آیہ کریمہ "اليوم اكملت لكم دينكم" ل کی۔ ”ولا حول ولا قوة الا بالله العلى العظيم“ پابندی اپنے وعدوں کے ہر چیز پر قادر ہے۔ لیکن ایسے شخص کو کسی جس کے پہلے فتنے نے ہی دنیا کو تباہ کر دیا ہے۔“
(دافع البلاء ص ١٥، خزائن ج ١٨ ص ٢٣٥)
ہمیشہ نجس کفر ہیں۔ ایک اللہ تعالیٰ کو عاجز بتانا کہ کسی طرح نہیں ہم رسل کو فتنہ گر اور تباہ کن کہنا۔ افسوس کہ اللہ تعالیٰ حضرت عیسیٰ علیہ نہ لاسکتا۔ مگر مرزا کو دنیا میں لایا جو ایسا فتنہ باز کہ کسی نیک شخص کو حتیٰ ا۔ اصحاب کو بلکہ حضور پرنور ﷺ کو بھی گالیوں سے خالی نہ چھوڑا۔ یا کسی کو کیا کہہ دیا۔ کہتا ہے کہ دیکھو میں اس کا ثانی پیدا کروں گا جو اس سے بہتر ہے۔
سے بہتر غلام احمد ہے
(دافع البلاء ص ٢٠، خزائن ج ١٨ ص ٢٤٠)
اقول، اس بیت خبیث کے سبب سے فاضل بریلوی مجدد مائتہ حاضرہ مولانا احمد رضا خان صاحب نے مرزا پر اپنی کتاب مستطاب حسام الحرمین میں حکم کفر و ارتداد فرمایا۔ جس کی حقیقت کی وجہ سے علمائے مکہ و مدینہ زاد ہما اللہ شرفاً و کرامتہ وغیرہ نامی نامی بزرگان دین نے اس مرزا کے کفر پر مہریں کر دیں۔ جن حضرات کی تعداد چالیس تک ہے۔
- ٣٧..... ”ہم مسیح کو بے شک ایک راست باز آدمی جانتے ہیں کہ اپنے زمانے کے
اکثر لوگوں سے البتہ اچھا تھا۔ واللہ اعلم ! مگر وہ حقیقی منجی نہ تھا۔“
(دافع البلاء ص ٤، ٣، خزائن ج ١٨ ص ٢٢٠، ٢١٩)
فقیر کہتا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام ایسے پیغمبروں میں سے تھے جو اولوالعزم ہیں۔ ان کی صرف اتنی قدر مرزا کے یہاں ہے کہ وہ ایک راست باز آدمی تھا۔ فقط ایک نیک قسم کا آدمی تھا۔ وہ بھی نہ ایسا کہ کسی دوسرے کو خلاصی ملنے کا سبب ہوسکے۔ ہاں حقیقی نجات دینے والا اب قادیانی ہے۔ جیسا کہ وہ خود کہتا ہے کہ: ”حقیقی منجی وہ ہے جو حجاز میں پیدا ہوا تھا اور اب بھی آیا۔ مگر بروز کی طور پر خاکسار غلام احمد۔“
(معیار ص ٢٥)
- ٣٨..... ”عیسیٰ کوئی کامل شریعت نہ لایا تھا۔“
(دافع البلاء ص ٤، خزائن ج ١٨ ص ٢٢٠)
اقول، اب تو پروردگار کی شریعت بھی ناتمام اور ناقص ہوگئی۔ اس سے خبیث تر اور کفر کیا ہے۔
- ٣٩..... ”مسیح کی راست بازی اپنے زمانے میں دوسرے راست بازوں سے
بڑھ کر ثابت نہیں ہوتی۔ بلکہ یحییٰ کو اس پر ایک فضیلت ہے۔ کیونکہ وہ (یعنی یحییٰ) شراب نہ پیتا تھا اور کبھی نہ سنا کہ کسی فاحشہ عورت نے اپنی کمائی کے مال سے اس کے سر پر عطر ملا تھا یا ہاتھوں اور اپنے سر کے بالوں سے اس کے بدن کو چھوا تھا یا کوئی بے تعلق جوان عورت اس کی خدمت کرتی تھی۔ اسی وجہ سے خدا نے قرآن میں یحییٰ کا نام حصور رکھا۔ مگر مسیح کا نہ رکھا۔ کیونکہ ایسے قصے اس نام کے رکھنے سے مانع تھے۔“
(دافع البلاء ص ٤، خزائن ج ١٨ ص ٢٢٠)
اسی ملعون قصے کو اپنے رسالہ میں اس طرح لکھا۔ ”آپ کا کنجریوں سے میلان اور صحبت بھی شاید اسی وجہ سے ہو کہ جدی مناسبت درمیان ہے۔ (یعنی عیسیٰ بھی ایسوں ہی کی اولاد تھے ) ورنہ کوئی پرہیز گار انسان ایک جوان کنجری کو یہ موقع نہیں دے سکتا کہ وہ اس کے سر پر اپنے ناپاک ہاتھ لگا دے اور زنا کاری کی کمائی کا پلید عطر اس کے سر پر ملے اور اپنے بالوں کو اس کے پیروں پر ملے۔ سمجھنے والے سمجھ لیں کہ ایسا انسان کس چلن کا آدمی ہوسکتا ہے۔“
(ضمیمہ انجام آتھم ص ٧، خزائن ج ١١ ص ٢٩١)
اس رسالہ میں تو ص ٤ سے ٨ تک مناظرہ کی آڑ لے کر خوب جلے دل کے پھپھولے پھوڑے ہیں۔ اللہ عزوجل کے سچے مسیح عیسیٰ بن مریم کو نادان اسرائیلی، شریر، مکار، بدعقل، زنانہ خیال والا، فحش گو، بدزبان، کٹیل، جھوٹا، چور، علمی عملی قوت میں بہت کچا، خلل دماغ والا، گندی گالیاں دینے والا، بدقسمت، نرا فریبی، پیرو شیطان، وغیرہ وغیرہ خطاب اس قادیانی دجال نے دیئے۔ اقول، اے مسلمانو! ذرا خیال کرو کہ یہ بکواس مرزا قادیانی کا کیسا برا ہے۔ معلوم ہوا کہ یہ شخص اللہ تعالیٰ اور رسول اللہ ﷺ اور جمیع مسلمانوں سے کچھ شرم و حیاء نہیں کرتا۔ بلکہ اس کو حیا بالکل نہیں ہے۔ اسی کتاب کفر نصاب کے ص٦ پر لکھا۔ ”حق بات یہ ہے کہ آپ سے کوئی معجزہ نہ ہوا۔“ ”اس میں لکھا ”اس زمانے میں ایک تالاب سے بڑے بڑے نشان ظاہر ہوتے تھے۔ آپ سے کوئی معجزہ ہوا بھی تو وہ آپ کا نہیں اس تالاب کا ہے۔ آپ کے ہاتھ میں سوائے مکر و فریب کے کچھ نہ تھا۔ آپ کا خاندان بھی نہایت پاک و مطہر ہے۔ تین دادیاں اور نانیاں آپ کی زنا کار اور کسبی عورتیں تھیں۔ جن کے خون سے آپ کا وجود ہوا۔ (ضمیمہ انجام آتھم ص٧، خزائن ج١١ص٢٩١)
”اناللہ وانا الیہ راجعون “ خدائے قہار کا کیسا حلم ہے کہ رسول اللہ کو با حیلہ اور بے حیلہ یہ ناپاک گالیاں دی جاتی ہیں اور آسمان نہیں پھٹتا۔ کیسا ظلم ہے۔ مسلمانو! کیا پروردگار ایسے ظالم کو اس کی جزا نہ دے گا۔ ”الا لعنۃ اللہ علی الظلمین“ وہ پاک کنواری مریم صدیقہ کا بیٹا کلمۃ اللہ جسے اللہ نے بے باپ پیدا کیا نشانی سارے جہان کے لئے، قادیانی شیطان نے اس کے لئے دادیاں بھی گزار دیں اور ایک جگہ اس کا دادا بھی لکھا ہے۔ اور اس کے حقیقی بھائی سگی بہنیں بھی لکھی ہیں۔ ظاہر ہے کہ دادا، دادی حقیقی بہنیں سگے بھائی اس کے ہو سکتے ہیں جس کے لئے باپ ہو۔ جس کے نطفے وہ بنا ہو۔ پھر بے باپ کے پیدا ہونا کہاں رہا۔ یہ قرآن عظیم کی تکذیب اور مریم طیبہ طاہرہ کو سخت گالی ہے۔ ”الا لعنۃ اللہ علی الکافرین“ وہ مرزا اپنی کتاب کشتی ساختہ بکتا ہے۔ ”مسیح تو مسیح ہیں، اس کے چاروں بھائیوں کی بھی عزت کرتا ہوں۔ مسیح کی دونوں ہمشیروں کو بھی مقدسہ سمجھتا ہوں اور خود ہی اسی کے نوٹ میں لکھا یسوع مسیح کے چار بھائی اور دو بہنیں تھیں۔ یہ سب یسوع کے حقیقی بھائی اور حقیقی بہنیں تھیں۔ یعنی یوسف اور مریم کی اولاد تھے۔“
(کشتی نوح ص١٦، خزائن ج١٩ص١٨)
دیکھو کیسے کھلے لفظوں میں ایک بڑھئی کو سیدنا عیسیٰ کلمتہ اللہ کا باپ بنا دیا اور اس صریح کفر میں صرف ایک پادری کے لکھے جانے پر اعتماد کیا۔ اللہ واحد قہار سے سخت لعنت پائے گا۔ وہ جو ایک پادری کی بے معنی دلیل سے قرآن کو رد کرتا ہے۔
- ٥٤...... اعجاز احمدی میں صاف بک دیا کہ : ”یہود عیسیٰ کے بارے میں قوی
اعتراض رکھتے ہیں کہ ہم بھی جواب میں حیران ہیں۔ بغیر اس کے کہ یہ کہہ دیں کہ ضرور عیسیٰ نبی ہے۔ کیونکہ قرآن نے اس کو نبی قرار دیا ہے اور کوئی دلیل ان کی نبوت پر قائم نہیں ہو سکتی ۔ بلکہ ابطال نبوت پر کئی دلائل قائم ہیں۔
(اعجاز احمدی ص ١٣، خزائن ج ١٩ ص ١٢١)
یہاں پر تو عیسیٰ علیہ السلام کے ساتھ قرآن شریف پر بھی اعتراض جڑ دیا کہ وہ قرآن ایسی بات بتا رہا ہے کہ جس کے ابطال پر متعدد دلائل قائم ہیں۔ آفریں بر دست و بر بازوئے تو (نزول المسیح ص ٢٥ ، خزائن ج ١٩ ص ١٣٥) پر لکھا ہے ۔ ”کبھی آپ کو شیطانی الہام بھی ہوتے تھے۔ ان کی اکثر پیشین گوئیاں غلطی سے پر ہیں ۔“ یہ بھی صراحتاً نبوت عیسیٰ علیہ السلام سے انکار ہے۔
کیونکہ قادیانی اپنی کتاب پر عتاب ساختہ (کشتی نوح ص ٥، خزائن ج ١٩ ص ٥) پر بکتا ہے ۔ ”ممکن نہیں کہ نبیوں کی پیش گوئیاں ٹل جائیں اور (دافع الوساوس ص ٣) پر بکتا ہے۔ کسی انسان کا اپنی پیشین گوئی میں جھوٹا نکلنا تمام رسوائیوں سے بڑھ کر رسوائی ہے ۔“
(ضمیمہ انجام آتھم ص ٢٧، خزائن ج ١١ ص ٣١٧)
پھر بکا ” کیا اس کے سوا کسی اور چیز کا نام ذلت ہے کہ جو کچھ اس نے کہا وہ پورا نہ ہوا ۔“ اپنی کتاب کشتی ساختہ میں بکتا ہے کہ: ” اگر کوئی تلاش کرتا کرتا مر بھی جائے تو ایسی پیش گوئی جو میرے منہ سے نکلی ہو اسے نہیں ملے گی جس کی نسبت وہ کہہ سکتا ہو کہ خالی گئی ۔“
(کشتی نوح ص ٦، خزائن ج ١٩ ص ٦)
فقیر کہتا ہے کہ مرزا نے اپنے لئے تو یہ عزت ثابت کر لی اور سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کے لئے سوائے رسوائی کے کوئی عزت نہیں جو جو پیش گوئیاں مرزا کی خلاف اور غیر صادقہ نکلیں اور مرزا ایمان رکھتا تو شرمندہ ہوتا۔ مگر بے ایمان کو شرم کہاں میں ہی دو چار سنائے دیتا ہوں۔
- ١...... عبداللہ آتھم کی نسبت موت کی پیش گوئی کر کے سخت جھوٹا ہوا۔
- ٢...... ثناء اللہ امرتسری کی نسبت اشتہار میں شائع کر دیا کہ اگر میں سچا ہوں تو
میرے سامنے ثناء اللہ مر جائے گا اور امید ہے کہ میرا پروردگار ایسا ہی کرے گا۔ پس ثناء اللہ تو زندہ رہا اور خود مر گیا۔ اس کے جھوٹے ہونے پر یہی اس کے دو فیصلے دعاء کے شاہد ہیں۔ مگر مرزائی اس کو خیال نہیں کرتے۔
- ٣...... مرزا نے ایک الہام اشتہار میں چھاپ دیا کہ مرزا احمد بیگ ہوشیار پوری
کی لڑکی محمدی کا نکاح میرے ساتھ ہوگا۔ لڑکی کے اولیاء کو نامنظور ہوا تو مرزا نے چند لطائف الحیل طمع وغیرہ پر ان کو راضی کرنا چاہا۔ وہ راضی نہ ہوئے بعد مرزا احمد بیگ کے رشتہ داروں کو خط لکھے کہ تم لوگ اس امر کی کوشش کرو۔ ورنہ میں سخت شرمندہ ہو جاؤں گا۔ جب ادھر سے بھی کام نہ چلا تو
مرزا کے چھوٹے بیٹے فضل احمد کے نکاح میں مرزا احمد بیگ ہوشیار پوری کی ہمشیرہ زادی مسماۃ عزت بی بی تھی۔ اس کو دھمکی دی کہ اگر تم اپنے ماموں مرزا احمد بیگ سے کہہ کر اس کی بیٹی محمدی کا نکاح میرے ساتھ نہیں کراؤ گی تو جس روز کہ محمدی کا نکاح کسی غیر سے ہو۔ اسی روز تم کو اپنے بیٹے فضل احمد سے طلاق دلوا دوں گا۔ بعدہ عزت بی بی نے اپنے والدین اور ماموں کو لکھا۔ مگر خدا کو تو اسے جھوٹا کرنا تھا۔ انہوں نے کذاب کی ایک نہ سنی اور بڑے زور و شور کے ساتھ اس لڑکی کا نکاح دوسرے شخص سے ہو گیا۔ اب اس نے اپنے بیٹے فضل احمد سے کہا کہ تم اپنی عورت عزت بی بی کو طلاق دے دو۔ اس نے انکار کیا اور مرزا نے اس کو عاق کر کے ورثہ سے محروم کر دیا۔ جس کا پورا قصہ دلچسپ کلمہ فضل رحمانی بجواب اوہام غلام قادیانی میں ہے۔ اس قصہ کے دیکھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ مرزا خوب جھوٹا اور نفسانی تھا اور کس قدر ذلت اس کو خلاف ثابت ہونے پر ہوئی۔
- ٤ ....... مرزا نے دعاء کی تھی اور الہام ہوا کہ میرے گھر میں لڑکا پیدا ہو گا۔ بجائے
اس کے لڑکی پیدا ہوئی۔
- ٥ ....... پھر الہام ہوا کہ اب کی بار ضرور لڑکا ہو گا کہ جس سے قومیں برکت
پائیں گی۔ زمین کے کناروں تک مشہور ہو گا تب لڑکا تو ہوا لیکن ١٦ ماہ کا ہو کر گمنام اور بے برکت مر گیا اور اپنے باپ ملہم کو کاذب بنا کر الٹا داغ جگر پر دھر گیا۔
- ٦ ....... مرزا کا الہام کہ میں تجھے زمین کے کناروں تک عزت کے ساتھ شہرت
دوں گا۔ تیری محبت دلوں میں ڈال دوں گا۔ اس کے برعکس ہوا۔ سخت بے عزتی اور نفرت کے ساتھ دور تک شہرت ہوئی۔ لوگوں کے دلوں میں غایت شدت کی دشمنی پڑ گئی۔ اگر اسی کا نام عزت و محبت ہے تو یہ مرتبہ مرزا سے بدرجہا بڑھ کر ابلیس کو حاصل ہے۔ یہ پیش گوئیاں اس کی مشتی نمونہ خرواری کا مضمون ہے۔ اگر پوری پیش گوئیاں جو غلط نکلی ہیں بیان ہوں تو دفتر بن جائے۔
- ٥٩ ....... ”کامل مہدی نہ موسیٰ تھا نہ عیسیٰ۔“
(اربعین نمبر ٤ ص ١٣، خزائن ج ١٧ ص ٤٢٠)
فقیر کہتا ہے کہ جو اولوالعزم مرسلین سے تھے وہ تو کامل مہدی نہ ہوئے اور ایک مکار غدار بے شرع تارک الصلوٰۃ تارک الصوم تارک الحج شہوانی نفسانی شیطان خیالات والا کامل مہدی ہوا۔ عیسیٰ علیہ السلام جب کہ اس کمبخت کے نزدیک مسلمان ہی نہیں تھا تو مہدی کیسے ہوتا۔ جیسا کہ اسے مرزا نے اپنی کتاب پر صاف طور پر لکھ دیا کہ عیسیٰ یہودی تھا۔
- ٦٠ ....... ”لوقدر الله رجوع عيسى الذي هو من اليهود لرجع
العزة الى تلك القوم“
(مواہب الرحمٰن ص ١٢، ١٣)
اقول، یہ تو ظاہر بات ہے کہ جو پارسیوں کی اولاد ہے مجوسی ہے۔ ا عدو الرسول نے صاف کافر کہہ دیا۔ اب لکھ دے کہ عیسیٰ کافر تھا۔ بلکہ اس معظم کتاب پر عذاب کشتی ساختہ کے پر بکتا۔
- ٦١ ....... ”جو اپنے دلوں
خدا پر ایمان لایا صرف وہی جو ایسے ہیں. دیکھو کیسا صاف بک دیا کہ لیکن عیسیٰ کو رسوا کیا تو ضرور اس کو خدا پر ”الا لعنة الله على الظلمين“ کہ مرزا ہی ہمیشہ رسوا ہوا۔ کیا اور کیوں لعنة الله على الكافرين“
- ٦٢ ....... ”احیائے جسما
ہے۔“ دیکھو وہ ظاہر باہر معجزہ جس کو قادیانی کیسے کھلے لفظوں میں اس کی تح ”ماسوائے اس کے اگر مسیح کے اصلی کامو غلط فہمی سے گڑھے ہیں تو کوئی اعجوبہ نظر نہ نہیں سمجھ سکتا کہ کسی اور نبی کے خوارق پرا دور نہیں کرتا۔“
فقیر کہتا ہے کہ یہ کہہ کر (کہ کر دیا۔ پھر ص ٨ میں بک دیا زیادہ تر تجھ کہتے ہیں کہ: ”میں ہرگز کوئی معجزہ دکھا نہ طرف منسوب کر رہے ہیں۔“
اقول، یہ کہنا کہ مسیح علیہ السلا اور قرآن عظیم کی صاف تکذیب ہے۔ قر
اقول، یہ تو ظاہر بات ہے کہ یہودی مذہب کا نام ہے۔ نسب کا نام نہیں ہے۔ کیا مرزا جو پارسیوں کی اولاد ہے مجوسی ہے۔ اے مسلمانو! اب تو حضرت عیسٰی علیہ السلام کو اس عدو اللہ اور عدو الرسول نے صاف کافر کہہ دیا۔ اب تو کچھ باقی نہ چھوڑا۔ وہ اتنا احمق نہیں کہ صاف حرفوں میں لکھ دے کہ عیسٰی کافر تھا۔ بلکہ اس معظم نبی کے کفر کے مقدمات متفرق کر کے لکھے۔ دیکھو اپنی کتاب پر عذاب کشتی ساختہ کے پر بکتا ہے۔
- ٦١...... ”جو اپنے دلوں کو صاف کرتے ہیں ممکن نہیں کہ خدا ان کو رسوا کرے۔ کون
خدا پر ایمان لایا صرف وہی جو ایسے ہیں۔“
(کشتی نوح ص ١٨، خزائن ج ١٩ ص ٢٠)
دیکھو کیسا صاف بک دیا کہ جس کو خدا پر ایمان ہے ممکن نہیں کہ اسے خدا رسوا کرے۔ لیکن عیسٰی کو رسوا کیا تو ضرور اس کو خدا پر ایمان نہ تھا اور کیا کافر کہنے کے سر پر سینگ ہوتے ہیں۔ ”الا لعنة اللہ علی الظلمین“ مگر الحمدللہ! خدا نے آفتاب کی طرح سارے زمانہ کو دکھا دیا کہ مرزا ہی ہمیشہ رسوا ہوا۔ کیا اور کیوں نہ ہوتا کہ وہ خدا سے کافر تھا۔ رسولوں سے کافر تھا۔ ”الا لعنة اللہ علی الکافرین“
- ٦٢...... ”احیائے جسمانی کچھ چیز نہیں۔ احیائے روحانی کے لئے یہ عاجز آیا
ہے۔“
(ازالۃ ص ٤٧٦، خزائن ج ٣ ص ١٠٦)
دیکھو وہ ظاہر باہر معجزہ جس کو قرآن عظیم نے تعظیم کے ساتھ بیان کیا اور آیۃ اللہ ٹھہرایا۔ قادیانی کیسے کھلے لفظوں میں اس کی تحقیر کرتا ہے کہ وہ کچھ چیز نہیں۔ پھر آگے بکتا ہے۔ ”ماسوائے اس کے اگر مسیح کے اصلی کاموں کو ان حواشی سے الگ کر کے دیکھا جائے جو محض افتراء یا غلط فہمی سے گڑھے ہیں تو کوئی اعجوبہ نظر نہیں آتا۔ بلکہ مسیح کے معجزات پر جس قدر اعتراض ہیں میں نہیں سمجھ سکتا کہ کسی اور نبی کے خوارق پر ایسے شبہات ہوں۔ کیا تالاب کا قصہ مسیحی معجزات کی رونق دور نہیں کرتا۔“
فقیر کہتا ہے کہ یہ کہہ کر (کہ کوئی اعجوبہ نظر نہیں آتا) تمام معجزات سے کیسا صاف انکار کر دیا۔ پھر ص ٤٧٨ میں بک دیا زیادہ تر تعجب یہ ہے کہ حضرت مسیح معجزہ نمائی سے صاف انکار کر کے کہتے ہیں کہ: ”میں ہرگز کوئی معجزہ دکھا نہیں سکتا۔ مگر پھر بھی عوام الناس ایک انبار معجزات کا ان کی طرف منسوب کر رہے ہیں۔“
(ازالۃ الاوہام ص ٤٧٨، خزائن ج ٣ ص ١٠٦)
اقول، یہ کہنا کہ مسیح علیہ السلام خود اپنے معجزے سے منکر تھے۔ رسول اللہ پر محض افتراء اور قرآن عظیم کی صاف تکذیب ہے۔ قرآن پاک تو مسیح صادق سے یہ نقل فرماتا ہے کہ: ”انی
قد جئتكم باية من ربكم انى اخلق من الطين كهيئة الطير فانفخ فيه فيكون طيراً باذن الله وابرئ الاكمه ١؎ والابرص واحى ٢؎ الموتى باذن الله وانبئكم بما تأكلون وما تدخرون فى بيوتكم ان فى ذلك لاية لكم ان كنتم مؤمنين “
بے شک میں تمہارے پاس تمہارے رب سے یہ معجزہ لے کر آیا ہوں کہ میں مٹی سے پرند کی صورت بنا کر اس میں پھونک مارتا ہوں۔ وہ بحکم خدا پرند ہو جاتے ہیں اور میں بحکم خدا مادر زاد اندھے اور کوڑھی کو اچھا کرتا اور مردے زندہ کرتا ہوں اور تمہیں خبر دیتا ہوں
١؎ تفسیر کبیر میں ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام کے پاس بار ہا پچاس ہزار بیمار جمع ہوتے تھے جو آنے کی طاقت رکھتا خود آتا اور جو نہ آسکتا تو عیسیٰ علیہ السلام خود اس کے پاس چلے جاتے تھے اور فقط دعاء ہی کیا کرتے تھے۔ امام کلبیؒ نے کہا کہ ”یا حی یا قیوم“ کے لفظ سے مردہ کو زندہ کرتے تھے۔ مگر یہ شرط لیا کرتے تھے کہ بعد اچھا ہونے کے میرے رسول ہونے پر ایمان لانا ہوگا۔
٢؎ جو جو لوگ زندہ ہوئے ہیں ان میں سے ابن عباسؓ نے چار شخص ذکر کئے ہیں عازر، پیر زن کا بیٹا اور عاشر کی بیٹی اور نوح علیہ السلام کے بیٹے سام۔ سوائے سام بن نوح کے سب کے سب دنیا میں زندہ رہے اور ان کی اولاد ہوئی۔ بعد مر جانے عازر کے اس کی ہمشیرہ نے عیسیٰ علیہ السلام سے آ کر کہا کہ تمہارا دوست عازر فوت ہونے والا ہے۔ پس تین دن کا راستہ طے کر کے گئے۔ دیکھا تو وہ مر گیا تھا۔ اس کی قبر پر جا کر دعاء کی عازر زندہ ہوا اور اس کی اولاد بھی ہوئی اور ابن العجوز یعنی بوڑھیا کا بیٹا کہ وہ مرا ہوا تھا اور عیسیٰ علیہ السلام اس کے پاس گئے اور دعاء کی۔ پس وہ اپنی چارپائی پر اٹھ بیٹھا اور لوگوں نے اس کو اپنے کاندھوں سے اتارا اور اس نے کفن اتار کر اپنے کپڑے پہن لئے اور مکان میں آیا اور زندہ رہا۔ یہاں تک کہ اس کی اولاد بھی ہوئی اور عاشر کی بیٹی یعنی ایک شخص لوگوں سے عشر لیا کرتا تھا۔ اس کی بیٹی مرگئی اور عیسیٰ علیہ السلام نے دعاء کی پس وہ زندہ ہو گئے اور اس کی اولاد بھی ہوگئی اور نوح علیہ السلام کے بیٹے سام کی قبر پر عیسیٰ علیہ السلام آئے اور دعاء کی پس وہ قبر سے نکلے اور آدھا سر ان کا سفید تھا بوجہ خوف قیامت کے اور حالانکہ اس زمانے میں لوگ بوڑھے نہیں ہوا کرتے تھے۔ پس انہوں نے پوچھا کیا قیامت ہوگئی ہے۔ عیسیٰ علیہ السلام نے فرمایا کہ نہیں بلکہ میں نے اسم اعظم کے ساتھ تمہارے لئے دعاء کی ہے۔ پھر ان سے مر جانے کو کہا۔ انہوں نے کہا کہ مروں مگر شرط یہ ہے کہ موت کی سختی میرے اوپر دوسری بار نہ ہو۔ پس عیسیٰ علیہ السلام نے دعاء کی اور ان پر موت کی سختی نہ ہوئی۔
(تفسیر لباب التاویل ج١ ص ٢٤٨)
انی اخلق من الطین کھیئۃ الطیر فانفخ فیہ فیکون الاکمہ والابرص واحی ٢ الموتی باذن الله ما تدخرون فی بیوتكم ان فی ذلک لایۃ لكم ان كنتم
ے پاس تمہارے رب سے یہ معجزے لے کر آیا ہوں کہ میں مٹی پھونک مارتا ہوں۔ وہ خدائے علیم سے پرند ہو جاتے ہیں اور میں بگڑے کو اچھا کرتا اور مردے زندہ کرتا ہوں اور تمہیں خبر دیتا ہوں کہ عیسیٰ علیہ السلام کے پاس بارہا پچاس ہزار بیمار جمع ہوتے تھے جو جو نہ آسکتا تو عیسیٰ علیہ السلام خود اس کے پاس چلے جاتے تھے اور نبی نے کہا کہ ”یا حی یا قیوم“ کے لفظ سے مردہ کو زندہ کرتے خدا اچھا ہونے کے میرے رسول ہونے پر ایمان لاتا ہوگا۔ ئے ہیں ان میں سے ابن عباسؓ نے چار شخص ذکر کئے ہیں عازر، ح علیہ السلام کے بیٹے سام۔ سوائے سام بن نوح کے سب کے ن اولاد ہوئی۔ بعد مر جانے عازر کے اس کی ہمشیرہ نے عیسیٰ علیہ ت عازر فوت ہونے والا ہے۔ پس تین دن کا راستہ طے کر کے قبر پر جا کر دعاء کی عازر زندہ ہوا اور اس کی اولاد بھی ہوئی اور ابن تھا اور عیسیٰ علیہ السلام اس کے پاس گئے اور دعاء کی۔ پس وہ اپنی نے اس کو اپنے کاندھوں سے اتارا اور اس نے کفن اتار کر اپنے یا اور زندہ رہا۔ یہاں تک کہ اس کی اولاد بھی ہوئی اور عاشر کی بیٹی رتا تھا۔ اس کی بیٹی مرگئی اور عیسیٰ علیہ السلام نے دعاء کی پس وہ نبی اور نوح علیہ السلام کے بیٹے سام کی قبر پر عیسیٰ علیہ السلام آئے ر آدھا سر ان کا سفید تھا بوجہ خوف قیامت کے اور حالانکہ اس کرتے تھے۔ پس انہوں نے پوچھا کیا قیامت ہو گئی ہے۔ عیسیٰ میں نے اسم اعظم کے ساتھ تمہارے لئے دعاء کی ہے۔ پھر ان کہ مروں مگر شرط یہ ہے کہ موت کی سختی میرے اوپر دوسری بار نہ نا اور ان پر موت کی سختی نہ ہوئی۔ (تفسیر لباب التاویل ج١ ص٢٣٨)
جو تم کھاتے ہو اور جو گھروں میں اٹھا رکھتے ہو بیشک اس میں تمہارے لئے بڑا معجزہ ہے۔ اگر تم ایمان رکھتے ہو۔ ”وجئتكم بآیۃ من ربكم فاتقوا الله واطیعون“ میں تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے بڑے معجزات لے کر آیا ہوں تو اللہ سے ڈرو اور میرا حکم مانو اور مرزا قرآن کا جھٹلانے والا کہتا ہے کہ ان کو اپنے معجزات سے انکار ہے۔ کیوں مسلمانو! قرآن سچا یا قادیانی، ضرور قرآن سچا ہے اور قادیانی کذاب جھوٹا، کیوں مسلمانو! جو قرآن پاک کی تکذیب کرے وہ مسلمان ہے یا کافر ضرور کافر ہے۔ بخدا ضرور کافر ہے۔
٦٥ ...... اسی قادیانی نے ازالہ شیطانی میں آخر ص ١٥١ سے آخر ص ١٦٢ تک تو پیٹ بھر کر رسول اللہ وکلمۃ اللہ کو وہ گالیاں دیں اور آیات اللہ و کلام اللہ سے وہ مسخریاں کیں۔ جن کی حد و نہایت نہیں۔ صاف بک دیا کہ (ازالہ اوہام ص ٣٠٢، خزائن ج ٣ ص ٢٥٤) ”جیسے عجائب انہوں نے دکھائے عام لوگ بھی کر لیتے تھے۔ اب بھی لوگ ویسی باتیں کر دکھاتے ہیں۔ بلکہ آج کل کے کرشمے ان سے زیادہ عمدہ ہیں۔ وہ معجزے نہ تھے کل کا زور تھا۔ عیسیٰ نے اپنے باپ بڑھئی یعنی مستری کے ساتھ لکڑی لوہے کا کام کیا تھا۔ اس سے یہ کلیں بنانا آگئیں تھیں، عیسیٰ کی سب چالا کی مسمریزم سے تھی۔ وہ جھوٹی رونق تھی سب کھیل تھا۔ لہو ولعب تھا۔ سامری جادوگر کے گوسالے کی مانند تھا۔ بہت مکروہ اور قابل نفرت کام تھے۔ اہل کمال کو ایسی باتوں سے پرہیز رہا ہے۔ عیسیٰ ہدایت کرنے میں بہت ضعیف اور نکما تھا۔“ وہ ناپاک عبارات مزخرفات یہ ہیں۔ انبیاء کے معجزات دو قسم ہیں۔ ایک محض سماوی جس میں انسان کی تدبیر وعقل کو کچھ دخل نہیں۔ جیسے شق القمر دوسرے عقلی جو خارقِ عادت عقل کے ذریعہ سے ہوتے ہیں جو الہام سے ملتی ہے۔ جیسے سلیمان کا معجزہ صرح ممرّد من قواریر بظاہر مسیح کا معجزہ سلیمان کی طرح عقلی تھا۔ تاریخ سے ثابت ہے کہ ان دنوں میں ایسے امور کی طرف لوگوں کے خیالات جھکے ہوئے تھے جو شعبدہ بازی اور دراصل بے سود اور عوام کو فریفتہ کرنے والے تھے۔ وہ لوگ جو سانپ بنا کر دکھلاتے اور کئی قسم کے جانور تیار کر کے زندہ جانوروں کی طرح چلا دیتے مسیح کے وقت میں عام طور پر ملکوں میں تھے۔ سو کچھ تعجب نہیں کہ خدا تعالیٰ نے مسیح کو عقلی طور سے ایسے طریق پر اطلاع دے دی ہو جو ایک مٹی کا کھلونا کسی کل کے دبانے یا پھونک مارنے پر ایسا پرواز کرتا ہو۔ جیسے پرندہ یا پیروں سے چلتا ہوں۔ کیونکہ مسیح اپنے باپ یوسف کے ساتھ بائیس برس تک نجاری کرتے رہے ہیں اور ظاہر ہے کہ بڑھئی کا کام درحقیقت ایسا ہے جس میں کلوں کی ایجاد میں عقل تیز ہو جاتی ہے۔ پس کچھ تعجب نہیں کہ مسیح نے اپنے دادا سلیمان کی طرح یہ عقلی معجزہ دکھلایا ہو۔ ایسا معجزہ عقل سے بعید بھی نہیں۔ حال کے زمانے میں بھی اکثر صناع ایسی ایسی ع بھی میں اکثر صناع ایسی ایسی
چڑیاں بنا لیتے ہیں کہ بولتی بھی ہیں، ہلتی بھی ہیں۔ دم بھی ہلاتی ہیں اور میں نے سنا ہے کہ بعض چڑیاں کل کے ذریعہ سے پرواز بھی کرتی ہیں۔ بمبئی اور کلکتہ میں ایسے کھلونے بہت بنتے ہیں اور ہر سال نئے نئے نکلتے آتے ہیں۔ ماسوا اس کے یہ بھی قرین قیاس ہے کہ ایسے ایسے اعجاز عمل الترب یعنی مسمریزم کے طریق سے بطریق لہو ولعب نہ بطور حقیقت ظہور میں آسکیں۔ کیونکہ مسمریزم میں ایسے ایسے عجائبات ہیں سو یقینی طور پر خیال کیا جاتا ہے کہ اس فن میں مشق والا مٹی کا پرندہ بنا کر پرواز کرتا دکھائے تو کچھ بعید نہیں۔ کیونکہ کچھ اندازہ نہ کیا گیا کہ اس فن کی کہاں تک انتہاء ہے۔ سلب امراض عمل الترب (مسمریزم) کی شاخ ہے۔ ہر زمانے میں ایسے لوگ ہوتے رہے ہیں اور اب بھی ہیں جو اس عمل سے سلب امراض کرتے ہیں اور مفلوج مبروص ان کی توجہ سے اچھے ہوتے ہیں۔ نقشبندی وغیرہ نے بھی ان کی طرف بہت توجہ کی تھی۔ محی الدین ابن عربی کو بھی اس میں خاص مشق تھی۔ کاملین ایسے عملوں سے پرہیز کرتے رہے ہیں اور یقینی طور پر ثابت ہے کہ بحکم الہی اس عمل مسمریزم میں کمال رکھتے تھے۔ مگر یاد رکھنا چاہئے کہ یہ عمل ایسا قدر کے لائق نہیں جیسا کہ عوام الناس اس کو خیال کرتے ہیں۔ اگر یہ عاجز اس عمل کو مکروہ اور قابل نفرت نہ سمجھتا تو ان اعجوبہ نمائیوں میں ابن مریم سے کم نہ رہتا۔ اس عمل کا ایک نہایت برا خاصہ یہ ہے کہ جو اپنے تئیں اس مشغولی میں ڈالے وہ روحانی تاثیروں میں جو روحانی بیماریوں کو دور کرتی ہیں بہت ضعیف اور نکما ہو جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مسیح جسمانی بیماریوں کو اس عمل مسمریزم کے ذریعہ سے اچھا کرتے رہے مگر ہدایت و توحید اور دینی استقامتوں کو دلوں میں قائم کرنے میں ان کا نمبر ایسا کم رہا کہ قریب قریب ناکام رہے۔ جب یہ اعتقاد رکھا جائے کہ ان پرندوں میں صرف جھوٹی حیات جھوٹی جھلک نمودار ہو جاتی تھی تو ہم اس کو تسلیم کر چکے ہیں۔ ممکن ہے کہ عمل الترب (مسمریزم) کے ذریعہ سے پھونک میں وہی قوت ہو جائے جو اس دخان میں ہوتی ہے جس سے غبارہ اوپر کو چڑھتا ہے۔ مسیح جو جو کام اپنی قوم کو دکھلاتا تھا وہ دعا کے ذریعہ سے ہرگز نہ تھے۔ بلکہ وہ ایسے کام اقتداری طور پر دکھاتا تھا۔ خدا تعالی نے صاف فرما دیا ہے کہ وہ ایک فطری طاقت تھی جو ہر فرد بشر میں ہے مسیح کی کچھ خصوصیت نہیں۔ چنانچہ اس کا تجربہ اسی زمانے میں ہو رہا ہے مسیح کے معجزات تو اس تالاب کی وجہ سے بے رونق و بے قدر تھے جو مسیح کی ولادت سے پہلے مظہر عجائبات تھا جس میں ہر قسم کے بیمار اور تمام مجذوم و مفلوج مبروص ایک ہی غوطہ مار کر اچھے ہو جاتے تھے۔ لیکن بعض بعد کے زمانے میں جو لوگوں نے اس قسم کے خوارق دکھلائے اس وقت تو کوئی تالاب بھی نہ تھا۔ یہ بھی ممکن ہے کہ مسیح ایسے کام کے لئے اس تالاب کی مٹی لاتا تھا۔ جس میں روح القدس کی تاثیر تھی۔ بہر حال یہ معجزہ صرف ایک کھیل تھا جیسے سامری کا
بھی ہیں، ہلتی بھی ہیں۔ دم بھی ہلاتی ہیں اور میں نے سنا ہے کہ بعض چڑیاں بھی کرتی ہیں۔ بمبئی اور کلکتہ میں ایسے کھلونے بہت بنتے ہیں اور ہر سال ۔ ماسوا اس کے یہ بھی قرین قیاس ہے کہ ایسے ایسے اعجاز عمل الترب یعنی طریق لہو ولعب نہ بطور حقیقت ظہور میں آسکیں ۔ کیونکہ مسمریزم میں ایسے طور پر خیال کیا جاتا ہے کہ اس فن میں مشق والا مٹی کا پرندہ بنا کر پرواز کرتا کیونکہ کچھ اندازہ نہ کیا گیا کہ اس فن کی کہاں تک انتہاء ہے۔ سلب امراض کی شاخ ہے۔ ہر زمانے میں ایسے لوگ ہوتے رہے ہیں اور اب بھی ہیں کرتے ہیں اور مفلوج مبروص ان کی توجہ سے اچھے ہوتے ہیں۔ نقشبندی بہت توجہ کی تھی۔ محی الدین ابن عربی کو بھی اس میں خاص مشق تھی۔ کاملین تے رہے ہیں اور یقینی طور پر ثابت ہے کہ بحکم الٰہی اس عمل مسمریزم میں کمال ہے کہ یہ عمل ایسا قدر کے لائق نہیں جیسا کہ عوام الناس اس کو خیال کرتے مکروہ اور قابل نفرت نہ سمجھتا تو ان اعجوبہ نمائیوں میں ابن مریم سے کم نہ بہت برا خاصہ یہ ہے کہ جو اپنے تئیں اس مشغولی میں ڈالے وہ روحانی ریوں کو دور کرتی ہیں بہت ضعیف اور نکما ہو جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مسیح مسمریزم کے ذریعہ سے اچھا کرتے رہے مگر ہدایت وتوحید اور دینی قائم کرنے میں ان کا نمبر ایسا کم رہا کہ قریب قریب ناکام رہے۔ جب یہ ندوں میں صرف جھوٹی حیات جھوٹی جھلک نمودار ہو جاتی تھی تو ہم اس کو ہے کہ عمل الترب (مسمریزم) کے ذریعہ سے پھونک میں وہی قوت ہوتی ہے جس سے غبارہ اوپر کو چڑھتا ہے۔ مسیح جو جو کام اپنی قوم کو دکھلاتا بز نہ تھے۔ بلکہ وہ ایسے کام اقتداری طور پر دکھاتا تھا۔ خدا تعالیٰ نے صاف ا طاقت بھی جو ہر فرد بشر میں ہے مسیح کی کچھ خصوصیت نہیں۔ چنانچہ اس کا ہے مسیح کے معجزات تو اس تالاب کی وجہ سے بے رونق و بے قدر تھے جو مسیح عجائبات تھا جس میں ہر قسم کے بیمار اور تمام مجذوم و مفلوج مبروص ایک ہی تھے۔ لیکن بعض بعد کے زمانے میں جو لوگوں نے اس قسم کے خوارق لاب بھی نہ تھا۔ یہ بھی ممکن ہے کہ مسیح ایسے کام کے لئے اس تالاب کی مٹی قدس کی تاثیر تھی۔ بہر حال یہ معجزہ صرف ایک کھیل تھا جیسے سامری کا
گوسالہ۔ انتہی بلفظ الخبیث الخبث اللعین الملعون ۔
(ازالہ اوہام ص ٣٠٢ تا ٣٢٢، خزائن ج ٣
ص ٢٥٢ ت ٢٦٣ ملخص) فقیر کہتا ہے کہ اے مسلمانو دیکھو کہ اس دشمن اسلام نے اللہ تعالیٰ کے سچے رسول کو کیسی سخت گالیاں دی ہیں۔ ان کے معجزے کو صاف کھیل بتا دیا اور کہا کہ لہو ولعب و شعبدہ وسحر تھا۔ برص والے اور کوڑھی کو اچھا کرنا عمل مسمریزم کا تھا اور معجزہ پرندہ میں تین احتمال پیدا کئے۔ بڑھی یعنی نجار کی کل یا مسمریزم یا کراماتی تالاب کا اثر اور اس کو صاف سامری کا بچھڑا بتا دیا۔ بلکہ اس سے بھی بدتر کہ سامری نے جو اسپ جبریل کی خاک سم اٹھائی وہ اسی کو نظر آئی۔ دوسرے نے اس پر اطلاع نہ پائی مگر مسیح کا کام ایک ایسا دست نال اور مشہور تھا جس سے دنیا جہان کو خبر تھی۔ مسیح پیدا بھی نہ ہوئے تھے جب سے تالاب کی کرامات شہرۂ آفاق تھی تو اللہ کا رسول یقیناً اس کافر جادوگر سامری سے بہت کم رہا اور جب کہ مسیح کے وقت میں ایسے شعبدے تماشے بہت ہوتے تھے۔ پھر معجزہ کدھر سے ہوا۔ اللہ اللہ رسولوں کو گالیاں پھر اسلام باقی ہے۔ مرزا قادیانی تو یقیناً قطعاً کافر مرتد اور انشاء اللہ القہار مخلد فی النار حریق النیران ہوا ہی ہے مگر اندھے وہ لوگ ہیں جو قدرے اردو فارسی عربی پڑھ کر زعمتی مولوی ہو کر مرزا قادیانی کے ان صریح کفریات کو دیکھ کر کہتے ہیں کہ میں مرزا قادیانی کو کافر نہیں کہتا خطا پر جانتا ہوں۔ ہاں شاید ایسے شخص نالائق کے نزدیک کافر وہ ہوگا جو انبیاء اللہ کی تعظیم کرے۔ کلام اللہ کی تصدیق و تکریم کرے۔ کیا ایسے نالائق مولویوں کو یہ خبر نہیں کہ جو شخص مخالف ضروریات دین کو کافر نہ جانے وہ خود کافر ہے۔ من شک فی کفرہ وعذابہ فقد کفر جب تکذیب قرآن پاک وسب وشتم انبیاء کرام بھی کفر نہ ٹھہرا تو خدا جانے فرقہ آریہ و ہندو نصاریٰ و یہود نے اس سے بڑھ کر کیا جرم کیا ہے کہ وہ کفار ٹھہرائے جائیں۔ شاید ایسوں کے دھرم میں تمام دنیا مسلمان ہے۔ نہ کوئی کافر تھا اور نہ اب ہے اور نہ آئندہ کو ہوگا۔
- ٧٩........ ”سیر معراج حضرت ﷺ کو اس جسم کثیف کے ساتھ نہیں بلکہ وہ اعلیٰ درجہ
کا کشف تھا۔“
(ازالہ اوہام ص ٤٧، خزائن ج ٣ ص ١٦٦)
اقول : اب تو حضرت ﷺ کی صاف صاف اہانت کر دی جو کفر ہے۔ کیونکہ جو کوئی پیغمبر خدا کی اہانت کرے وہ کافر ہے۔
(عقائد عظیم ص ١٦٦، ١٧٠)
مسئلہ: ہر پیغمبر کی جناب میں بے ادبی کرنا کفر ہے۔ بلفظہ بستان الفردوس ص ٣٢ سطر ١ و دیگر کتب عقائد و مالا بدمنہ
(ص ١٥٨)
مسئلہ: جو کوئی پیغمبر ﷺ کے بال مبارک کو بالڑا یا بالٹا کہے وہ کافر ہے۔
(عقائد عظیم ص ١٧١)
مسئلہ: جس کلمے میں کسی طرح کی بے ادبی یا اہانت جناب رسول ﷺ کی پائی جائے وہ یقیناً کفر ہے۔ بلکہ ایسا شخص واجب القتل ہے۔
(عثمان الفردوس ص ١٣١)
معلوم ہوا کہ مرزا قادیانی کا ایمان فلسفیوں کی فضلہ خواری۔
- ٨٠...... ”حضرت رسول خدا ﷺ کے الہام و وحی غلط نکلی تھیں۔“
(ازالہ اوہام ص ٦٨٨، خزائن ج ٣ ص ٤٧١)
- ٨١...... ”اسی بنا پر ہم کہہ سکتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ پر ابن مریم اور دجال کی
حقیقت کاملہ بوجہ نہ موجود ہونے کسی نمونہ کے موبمو منکشف نہ ہوئی ہو اور نہ دجال کے گدھے کی اصل کیفیت کھلی ہو اور نہ یاجوج ماجوج کی اصلیت تک وحی الٰہی نے خبر دی ہو اور نہ دابۃ الارض کی ماہیت کما ہی ہی ظاہر فرمائی گئی ہو۔“
(ازالہ اوہام ص ٦٩١، خزائن ج ٣ ص ٤٧٣)
فقیر عرض کرتا ہے کہ آگے چل کر جواب اس کا دندان شکن قادیانی شکن دیا جائے گا۔ یہاں اتنا سمجھ لینا چاہئے کہ معاذ اللہ ، محمد ﷺ سے علم مرزا قادیانی کا زیادہ ہے جو چیز احکام دین میں سے حضرت ﷺ نہیں جانتے تھے وہ مرزا جانتا تھا۔ (معاذ اللہ)
- ٨٢...... ”نیا اور پرانا فلسفہ بالاتفاق اس بات کو ثابت کر رہا ہے کہ کوئی انسان اپنے
اس خاکی جسم کے ساتھ کرہ زہریر تک بھی نہیں پہنچ سکتا۔ پس اس جسم کا کرۂ آفتاب و ماہتاب تک پہنچنا کس قدر لغو خیال ہے۔“
(ازالہ اوہام ص ٤٧، خزائن ج ٣ ص ١٢٦)
جس کا نام مشہور ازالہ اوہام ہے مگر اس پر ازادۂ اوہام ہی صادق ہے۔ بلکہ حقیقتاً زادۂ اوہام ہے۔ مطلب یہ کہ نہ عیسیٰ علیہ السلام آسمان پر گئے اور نہ رسول اللہ ﷺ کو شب معراج میں آسمان پر جانا ہوا۔ خدا پناہ دے ایسے عقیدے سے : ای روشنی طبع تو برمن بلا شدی! حیف! صد حیف بلکہ نبوت کا جبہ اور دستار مرزا قادیانی نے اتار کر پھینک دیا اور فلسفے کے ڈر کے مارے سرسید احمد کی آرام کرسی کے تلے جا چھپا۔ افسوس کہ مرزا یہ تو مان رہا ہے کہ حضرت یونس علیہ السلام تین رات دن مچھلی کے پیٹ میں تسبیح و تہلیل کرتے زندہ رہے اور پھر صحیح و سلامت اس کے پیٹ سے منہ کی راہ سے نکل کر قوم سے جاملے۔ پھر نئے اور پرانے فلسفے نے مرزا قادیانی کے وہم کا ازالہ نہ کیا اور آج تک نہ ڈانٹا کہ اے احمق تو نے کیسے مان لیا کہ ایک خاکی انسان گوشت کا ٹکڑا نہنگ دریا کا طعمہ ہو جائے اور اس کے معدہ کے کرۂ نار میں جو کہ استخوان کو راکھ کر ڈالتا ہے تین دن رہا اور گل سڑ کر کیلوس اور کیموس اور مچھلی کا گوشت و خون کیوں نہ بن گیا۔ تو نے کیسے مان لیا کہ وہ پھر دوبارہ منہ
کے رستے سے صحیح سلامت برآمد ہوا۔ مگر مسیح نـ سدراہ سمجھ لیا۔
- ٨٣...... قولہ الف: ”اگر عذر؟
ہوئی اس پر مہر لگ چکی ہے تو میں کہتا ہوں کہ بـ طور سے وحی پر مہر لگائی گئی ہے۔ بلکہ جزئی طور دروازہ کھلا ہے۔“
- ٨٤...... ب: ”وحی الٰہی پر صرف
غافلو اس امت مرحومہ میں وحی کی تالیاں قیامـ
اقول: تو حضرت محمد ﷺ خاتم النبیـ
- ٨٥...... ”حضرت موسیٰ کی پـ
صورت پر حضرت موسیٰ نے اپنے دل میں امـ کی پیشگوئیاں زیادہ غلط نکلیں۔“
اقول: اس سے یہ نکلا کہ موسیٰ علیہ کی غلطی سے کم سہی۔
- ٨٦...... ”سورۂ بقرہ میں جو
سے وہ مقتول زندہ ہو گیا تھا اور اپنے قاتل کا مسمریزم تھا۔“
نعوذباللہ من ذالك الكفر ہی اڑا دیا کہ اللہ عزوجل نے اس کے بیان کـ الله الموتیٰ ہم نے حکم دیا کہ اس میت پر گا دیکھو یہ فعل و قول موسیٰ کا نہ تھا۔ بلکہ خود اللہ و اسی طرح اللہ تعالیٰ حشر کے جلانے کو بھی بتاتـ مرزا اپنے آپ کو قبر سے اٹھتا دیکھ لے تو و مسمریزم کے زور سے ایسا کر دکھایا۔ کیونـ مسمریزم دکھا کر دھمکی دے رہا ہے۔
کے رستے سے صحیح سلامت برآمد ہوا۔ مگر مسیح مصطفیٰ ﷺ کے رفع جسمانی کے لئے کرۂ زہریر کو سد راہ سمجھ لیا۔
- ٨٣...... قولہ الف: ”اگر عذر ہو کہ باب نبوت مسدود ہے اور وحی جو انبیاء پر نازل
ہوئی اس پر مہر لگ چکی ہے تو میں کہتا ہوں کہ نہ من کل الوجوہ باب نبوت مسدود ہے اور نہ ہر ایک طور سے وحی پر مہر لگائی گئی ہے۔ بلکہ جزئی طور پر وحی اور نبوت کا اس امت مرحومہ کے لئے ہمیشہ دروازہ کھلا ہے۔“
(توضیح مرام ص ٢٠، ١٩، خزائن ج ٣ ص ٦٠)
- ٨٤...... ب: ”وحی الٰہی پر صرف نبوت کاملہ کی حد تک کہاں مہر لگ گئی ہے۔ اے
غافلو اس امت مرحومہ میں وحی کی نالیاں قیامت تک جاری ہیں۔“
(ازالہ اوہام ص ٤٢٢، خزائن ج ٣ ص ٣٢١)
اقول، تو حضرت محمد ﷺ خاتم النبیین والمرسلین نہ ہوئے۔
- ٨٥...... ”حضرت موسیٰ کی پیشگوئیاں بھی اس صورت پر ظہور پذیر نہیں ہوئیں جس
صورت پر حضرت موسیٰ نے اپنے دل میں امید باندھی تھی۔ غایت ما فی الباب یہ ہے کہ حضرت مسیح کی پیشگوئیاں زیادہ غلط نکلیں۔“
(ازالہ اوہام ص ٨، خزائن ج ٣ ص ١٠٦)
اقول، اس سے یہ نکلا کہ موسیٰ علیہ السلام کی باتیں بھی غلط ہوتی تھیں۔ گو عیسیٰ علیہ السلام کی غلطی سے کم سہی۔
- ٨٦...... ”سورۂ بقرہ میں جو ایک قتل کا ذکر ہے کہ گائے کی بوٹیاں نعش پر مارنے
سے وہ مقتول زندہ ہو گیا تھا اور اپنے قاتل کا پتا دے دیا تھا یہ محض موسیٰ علیہ السلام کی دھمکی تھی اور علم مسمریزم تھا۔“
(ازالہ اوہام ص ٧٥٠، خزائن ج ٣ ص ٥٠٤)
نعوذ باللہ من ذالك الكفر ! یہ معجزہ کو مسمریزم کہہ دیا نرا معجزہ کیسا۔ دجال نے حشر ہی اڑا دیا کہ اللہ عزوجل نے اس کے بیان میں فرمایا فقلنا اضربوه ببعضها كذالك يحي الله الموتى ہم نے حکم دیا کہ اس میت پر گائے کا ایک حصہ مارو اللہ اسی طرح مردوں کو جلائے گا۔ دیکھو یہ فعل و قول موسیٰ کا نہ تھا۔ بلکہ خود اللہ عزوجل کا۔ جب اس دجال کے نزدیک یہ دھمکی تھی اور اسی طرح اللہ تعالیٰ حشر کے جلانے کو بھی بتاتا ہے تو وہ بھی دھمکی ہوا اور اگر کچھ حقیقت بھی رکھے اور مرزا اپنے آپ کو قبر سے اٹھتا دیکھ لے تو صاف کہہ دے گا کہ یہ کچھ خدا کی قوت نہیں۔ خدا نے مسمریزم کے زور سے ایسا کر دکھایا۔ کیونکہ اس دن بھی یہی خدا ہوگا جو آج اس کے نزدیک مسمریزم دکھا کر دھمکی دے رہا ہے۔
- ٨٧...... ”حضرت ابراہیم علیہ السلام کا چار پرندوں کے معجزے کا ذکر جو قرآن شریف میں ہے وہ بھی ان کا مسمریزم کا عمل تھا۔“
(ازالہ اوہام ص٥٢، خزائن ج٣ ص٥٠٦)
ذکر جمیع انبیاء علیہم السلام کی اہانت کا
- ٨٨...... ”بلکہ اکثر پیشگوئیوں میں ایسے اسرار پوشیدہ ہوتے ہیں کہ خود انبیاء کو ہی جن پر وہ وحی نازل ہو سمجھ میں نہیں آسکتے۔“
(ازالہ اوہام ص ١٤٠، خزائن ج٣ ص ١٧٠)
اقول، تو محمد ﷺ و دیگر پیغمبروں کی وحی اور الہام کا کیا اعتبار ہے۔ جبکہ وحی ان کی سمجھ میں ہی نہیں آسکتی تھی۔
- ٨٩...... ”ایک بادشاہ کے وقت میں چار سو نبی نے اس کے فتح کے بارہ میں پیش گوئی کی اور وہ جھوٹے نکلے اور بادشاہ کو شکست ہوئی۔ بلکہ وہ اسی میدان میں مر گیا۔“
(ازالہ اوہام ص ٦٢٩، خزائن ج ٣ ص٤٣٩)
یہ اس دجال کا کذب ہے پیغمبروں کو جھوٹا کہنا کفر ہے۔
- ٩٠...... ”جو پہلے اماموں کو معلوم نہیں ہوا تھا وہ ہم نے معلوم کر لیا۔“
(ازالہ اوہام ص ٦٨٣، خزائن ج ٣ ص ٤٦٨)
”الا لعنة الله على الكاذبين“ تم کو تو خاک بھی معلوم نہیں ہوا۔ جب کہ تیرا خدا عاجی مورت کا یا ہاتھی دانت کا خدا مجھ عیسیٰ نوباوہ شراب انگوری یا عیسیٰ دہقان پر انگریزی عبرانی زبان میں الہام نازل کرتا ہے۔ مرزا براہین احمدیہ کے انگریزی عربی عبرانی زبانوں کے الہام درج کر کے لکھتا ہے کہ: ”ان کے معنی مجھے معلوم نہیں ہوئے۔ کوئی انگریزی خوان اس وقت موجود نہیں۔ اس الہام کا مطلب میری سمجھ میں نہیں آیا۔“ وغیرہ وغیرہ! (براہین احمدیہ ص٥٥٦، خزائن ج ١ ص ٦٦٤)
پس اس سے ثابت ہوا کہ مرزا کا خدائے ملہم ایسا ہے کہ اپنے ملہم کو محض فضول بے سود الہام کرتا ہے جس کا مطلب دونوں کی سمجھ میں نہیں آتا۔ خوب وحی جو الہام ہوتا ہے وہ مرزا کی سمجھ ہی میں نہیں آتا اور نہ کوئی انگریزی دان ہوتا ہے جو ترجمہ کر کے مرزا کو سنائے تا کہ مرزا تعمیل احکام کریں۔ عجیب الہام ہیں کہ مرزا جن زبانوں سے کورا اور نابلد ہے اس کا خدا اس زبان میں الہام اتارتا ہے۔ اس سے مرزا کے خدا کی جہالت اور بے علمی ثابت ہوئی۔ کیونکہ اگر مرزا کا خدا جانتا تو اس کو انگریزی عبرانی یا بعض عربی الفاظ میں جن کو مرزا نہیں جانتا الہام نہ کرتا۔ کیا یہی الہام قطعی ہیں۔ جن کو نہ مرزا سمجھتا ہے اور نہ غیر کو سمجھا سکتا ہے۔ انہیں الہامات پر واہیات بک کر مسیح موعود بننا چاہتا ہے اور ایسے ہی الہاموں کی تلقین کر کے دن رات دین کو جاری کر رہا ہے۔
کار طفلاں
بقیہ توہینات حضرت عیسیٰ علیہ السلام
- ٩١...... ”یسوع (یعنی عیسیٰ،
بلوایا۔“
- ٩٢...... ”مسیح کا بے باپ
آدم علیہ السلام ماں اور باپ دونوں نہیں رکھ کہ کتنے کیڑے مکوڑے بغیر ماں باپ کے پی
مرزا کی کتاب، حضرت عیسیٰ علیہ اور رحمت اور مرزا کی نظر میں قرآن کریم بھ فرمایا: ”ولنجعله أية للناس ورحمة م
- ٩٣...... ”مریم کا بیٹا کشلیا
فقیر کہتا ہے کہ کشلیا راجہ رامچن (خدا) کہتے ہیں۔ آریہ لوگ صرف راجہ لک ہوئی۔ پس مرزا صورت انسان سیرت شیط علیہ السلام نزدیک اللہ اور رسول کے، ایک عقائد پر مکائد سے مسلمانوں کو پناہ دے۔
مرزا قادیانی کے عقائد سب اہل
مرزا کے خدا کا پتہ نہیں چلتا کہ ہے کہ: ”ہمارا خدا عاجی ہے۔ اس کے معنی
اقول، اصل الہام زبان عربی ربنا عاج“ ثم اقول، معنی اس عربی کے،
کار طفلاں تمام خواہد شد
بقیہ توہینات حضرت عیسیٰ علیہ السلام
- ٩١...... ”یسوع (یعنی عیسیٰ علیہ السلام) نے ایک کنجری کو اپنی بغل میں لیا اور عطر
ملوایا۔“
(نورالقرآن نمبر ٢ ص ٧٤، خزائن ج ٩ ص ٤٤٩)
- ٩٢...... ”مسیح کا بے باپ پیدا ہونا میری نگاہ میں کچھ عجوبہ بات نہیں۔ حضرت
آدم علیہ السلام ماں اور باپ دونوں نہیں رکھتے تھے۔ اب قریب برسات آئی ہے باہر جاکر دیکھئے کہ کتنے کیڑے مکوڑے بغیر ماں باپ کے پیدا ہو جاتے ہیں۔“
(جنگ مقدس ص ١٩٨، خزائن ج ٦ ص ٢٨١)
مرزا کذاب، حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا بن باپ پیدا ہونا لوگوں کے واسطے نشان ہے اور رحمت اور مرزا کی نظر میں قرآن کریم بھی کوئی چیز نہیں ہے۔ پروردگار نے قرآن پاک میں فرمایا: ”ولنجعلہ آیۃ للناس ورحمۃ منا (مریم)“
- ٩٣...... ”مریم کا بیٹا کشلیا کے بیٹے سے کچھ زیادت نہیں رکھتا۔“
(انجام آتھم ص ٤١، خزائن ج ١١ ص ٤٠)
فقیر کہتا ہے کہ کشلیا راجہ رامچندر کی والدہ کا نام ہے۔ جس کو ہندو لوگ اوتار پرمیشر (خدا) کہتے ہیں۔ آریہ لوگ صرف راجہ لکھتے ہیں اور پیدائش اس کی ہندوستان مقام اجودھیا میں ہوئی۔ پس مرزا صورت انسان سیرت شیطان کے اس قول کا ابول کا مطلب یہ ہوا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نزدیک اللہ اور رسول کے، ایک ہندو راجہ سے وقعت اور عزت میں کم تھا۔ پروردگار ایسے عقائد پر مکائد سے مسلمانوں کو پناہ دے۔
مرزا قادیانی کے عقائد سب اہل اسلام کے مخالف ہیں
مرزا کے خدا کا پتہ نہیں چلتا کہ کون ہے۔ کیونکہ وہ خود اپنی کتاب براہین احمدیہ میں بکتا ہے کہ: ”ہمارا خدا عاجی ہے۔ اس کے معنی ابھی تک معلوم نہیں ہوئے۔“
(براہین احمدیہ ص ٥٥٦، خزائن ج ١ ص ٦٦٣)
اقول، اصل الہام زبان عربی میں مرزا کا یہ ہے: ”رب اغفر وارحم من السماء ربنا عاج“
(براہین احمدیہ ص ٥٥٥، خزائن ج ١ ص ٦٦٣)
ثم اقول، معنی اس عربی کے یہ ہیں کہ اے میرے رب میرے گناہ بخش اور آسمان سے
رحم کر۔ رب ہمارا عاج ہے۔ مرزا نے ترجمہ میں عاج کی جگہ عاجی لکھا ہے۔ اب یا تو اس نے اسے ناقص ٹھہرایا ہے یا یائے نسبت ہے۔ مرزا اگرچہ اپنی جہالت کا اقرار کرتا ہے، مگر لفظ کے معنی واضح ہیں۔ پہلی تقدیر پر یہ معنی ہوں گے کہ مرزا کا معبود جو اسے وحی بھیجا کرتا ہے اونٹ ہے۔ گلے سے آواز نکالتا ہوا یا منہ کھولے ہوئے یا چہرہ سکوڑے ہوئے یا بدخو اونٹ اور دوسری تقدیر پر معنی یہ ہوں گے کہ وہ مرزا کا معبود ہاتھی کی ہڈی کا ہے۔ جو امام محمد و امام شافعی کے نزدیک سؤر کی ہڈی کی طرح نجس ناپاک ہے، یا گوبر کا ہے۔ مرزائیوں کو مبارک ہو کہ ان کے پیغمبر کا خدا کیا معقول ہے معلوم ہوتا ہے کہ مرزا کسی چھوٹی موٹی لغت کی کتاب کے دیکھنے پر قادر نہیں ہے کہ عاجی کے معنی جان لیتا۔ اگر مرزائی کہیں کہ الہامی الفاظ کے معنی وہی ہو سکتے ہیں جو خدائے ملہم بتائے کتاب لغت پر اعتبار نہیں ہو سکتا اور نہ ایسے لفظوں کے واسطے لغت کے دیکھنے کا حکم ہے تو اس کا جواب ان کو مرزا ہی کی کتاب سے دیا جاتا ہے۔
(براہین احمدیہ ص ٣٣٨، خزائن ج ١ ص ٣٣٨) پر لکھا ہے: ”اور یہ الہام اکثر معظمات امور میں ہوتا ہے۔ کبھی اس میں ایسے الفاظ بھی ہوتے ہیں جن کے معنی لغت کی کتاب دیکھ کر کرنے پڑتے ہیں ۔“ اقول، مرزا ہی اس کا جواب دیں گے کہ انہوں نے کیوں عاجی اپنے خدا کے معنی لغت سے نکال کر نہ کئے اور کیوں کہہ دیا کہ (اس کے معنی اب تک معلوم نہیں ہوئے) ایسا معلوم ہوتا ہے کہ بحکم الکذوب قد یصدق مرزا کے ملہم ابلیس نے یہ سچ لفظ ان پر القا کیا اور بے معنی سمجھے آپ کے قلم سے نکل گیا۔ جب بعد میں اس کے معنوں پر علم ہوا اور مخالف معلوم ہوئے تو لکھ دیا کہ اس کے معنی معلوم نہیں ہوئے۔ مگر خداوند کی حکمت ہے کہ مرزا ہی کے قلم سے اس کے معنی سچے نکل گئے۔ میں اب معتبر کتابوں سے (عاجی) مرزا کے خدا کے معنی بیان کئے دیتا ہوں۔ قاموس میں ہے: ”العجوة ان توخر الام رضاع الولد عن مواقيته وقد عجته وعجا البعير رغا وفاه فتحه وجهه زواه واماله والبعير شرس خلقه“ اسی میں ہے ”العاج الزبل والناقة اللينة الاعطاف وعظم الفيل“ منتخب میں ہے:
- ١...... استخوان فیل۔
- ٢...... ناقہ کہ جائے خواب او نرم باشد۔
- ٣...... سرگین۔
- ٤...... کلمہ کہ بدان شتر رانند۔
- ٥...... راہزن۔
٢...... ممتلی ۔
(منتخب اللغات ص ٣٠٢)
مجمع البحار میں ہے۔ ”واما العاج الذي هو عظم الفيل فنجس عند الشافعي“ پس لفظ عاجی کے معنی وہ معانی ثابت ہو گئے جن کو ہم نے بیان کیا اور جتنی کارروائی مرزا کی اب تک ہوئی سب خاک میں مل گئی اور برباد ہوئی۔ میرے خیال ناقص میں ہے کہ شاید (براہین احمدیہ ص ٥٥٦) کا کسی صاحب علم کے زیر نظر نہیں آیا۔ ورنہ پہلے ہی سے سب جھگڑے بکھیڑے طے ہوجاتے۔ جب مرزا کا خدا (عاجی) بدخو اونٹ یا ہاتھی کی ہڈی کا یا گوبر کا ہے تو اس کے الہامات مندرجہ بالا کے کیا معنی ہوئے اور کیا سمجھے جائیں گے۔ ہے یہ کہ مرزا یا تو بے عقل ہے کہ : ”لایدری ما يخرج من راسه يا بحكم الكذوب قد يصدق “ کبھی کبھی سچ حال بتا دینے کی بھی اٹک اس کو آ جاتی ہے۔ یا اس کا ملہم معلم الملکوت ہے۔ اس سے چھیلیاں کھیلا اور اسے مسخرہ بناتا ہے۔ یہاں تو مرزا نے اپنے معبود کی حقیقت بتانے کو لفظ بتایا اور معنی سے انکار کیا۔
اپنے عیسیٰ بننے کی حقیقت کھولنے کو لفظ عیسیٰ کے اور اطلاقات کی توجہ دلائی ہے۔ لکھتا ہے کہ : ” مجھے سخت تعجب ہے کہ ہمارے علماء عیسیٰ کے لفظ پر کیوں چڑتے ہیں۔ اسلام کی کتابوں میں تو ایسی چیزوں کا بھی عیسیٰ نام ہے۔ جو سخت مکروہ ہیں۔ چنانچہ برہان قاطع میں حرف عین میں ہے کہ عیسیٰ دہقان، کنایہ، شراب انگوری سے ہے۔ عیسیٰ نو ما بہ اس خوشہ انگور کا نام ہے جس سے شراب بنایا جاتا ہے اور شراب انگوری کو بھی عیسیٰ نو مابہ کہتے ہیں۔ اب غضب کی بات ہے کہ مولوی لوگ شراب کا نام تو عیسیٰ رکھیں اور تالیفات میں بے محابہ اس کا ذکر کریں اور ایک پلید چیز کی ایک ناپاک کے ساتھ مشارکت کریں اور جس شخص کو اللہ تعالیٰ عیسیٰ کے نام سے موسوم کرے وہ ان کی نظر میں کافر ہو۔“
(نشان آسمانی ص ٢٠، خزائن ج ٤ ص ٣٨٠)
یعنی میں نے اگر اپنے آپ کو عیسیٰ کہا کیا اچنبھا ہوا۔ عیسیٰ تو شراب کو کہا گیا ہے جو مثیل پیشاب کے نجس العین ہے۔ ایسے ہی ایک دوسرے نجس کو بھی عیسیٰ کہا تو کیا گناہ ہوا۔ واقعی بدخو اونٹ یا ہاتھی کی ہڈی یا گوبر کی ساخت کا معبود اگر وحی بھیجے، اپنا نبی بنائے تو ضرور ایسے ہی کو جس پر اطلاق عیسیٰ کی سند میں پیشاب کی طرح ایک نجس العین چیز پیش کی جائے پس میری طرف سے علماء کی خدمت میں گزارش ہے کہ خدا کے خدا عاجی اور شراب کی طرح اس کے نام عیسیٰ پر ہر گز غصہ نہ کریں ۔ بلکہ یوں کہیں کہ مرزا کا خدا عاجی اور مرزا کا نام عیسیٰ شراب انگوری اس کی رہائش قادیان (جیفہ ۔ الخ) اور اس کی الہامی کتاب انجیل انجام آتھم مع ضمیمہ مرزا اور مرزائیوں کو مبارک ہو۔
اعتقاد: رسول اکرمﷺ کے معراج جسمانی سے انکار ہے اور حضرت کے جسم اطہر نور الانوار کو کثیف کہہ دیا جو ضد ہے لطیف کی، حالانکہ اپنی الہامی کتاب براہین احمدیہ میں لکھا کہ: ”وجود مبارک حضرت خاتم الانبیاءﷺ میں کئی نور جمع تھے سو ان نوروں پر ایک اور نور آسمانی جو وحی الٰہی سے وارد ہو گیا اور اس نور کے وارد ہونے سے وجود باجود خاتم الانبیاء کا مجمع الانوار بن گیا۔“
(براہین احمدیہ ص ١٨٠ خزائن ج ١ص ١٩٥)
دیکھو یہ شخص دعویٰ کرتا تھا کہ حضور کا جسم کثیف تھا اور یہی بکتا رہا اپنی متعدد تصانیف میں، مگر حضور پر نور حیات النبی ہیں اور یہ بھی ایک معجزہ ہے کہ جو دشمن حضور کی بدگوئی کرتا ہے یکا یک کبھی اس کے منہ سے حق بات یعنی حضور کی صفت صادقہ نکل ہی جاتی ہے۔ اہل سنت و جماعت کے عقائد کا مسئلہ ہے کہ اگر کوئی توہیناً کسی نبی علیہ السلام کے میلے کپڑوں کو میلا کہے تو کافر ہو جائے گا۔ چہ جائیکہ حضرت کے جسم نور الانوار کو جو یری من خلفہ کما یری من قبلہ جو سامنے اور پس پشت سے برابر دیکھتے تھے اور مگس تک جسم مبارک پر نہیں بیٹھتی تھی اور اسی لئے سایہ بھی جسم اطہر کا نہ تھا۔ کثیف کہہ دے اب میں بحمدہ تعالیٰ مرزا پر اسی کی کتاب سے حکم کرتا ہوں کہ وہ فاجر ہے۔ مرزا نے دیباچہ براہین احمدیہ میں لکھا ہے۔ حضرتﷺ کی مدح میں ؎
تو ہنوز ای کور در شورو شرے
لعل تاباں را اگر گوئی کثیف
زین چہ کاہد قدر روشن جوہرے
طعنہ بر پاکان نہ بر پاکان بود
خود کنی ثابت کہ ہستی فاجرے
(براہین احمدیہ ص ١٥ خزائن ج ١ص)
لیجئے ! یہاں اپنی ہی مسلمہ ثابتہ دلیل سے مرزا جو پیغمبری کا دعویٰ کرتا تھا حضرتﷺ کے جسم مبارک مجمع الانوار کو کثیف کہنے کے سبب سے خود ہی فاجر ہو گیا۔
میلش اندر طعنۂ پاکان برد
ضمناً اتنا بھی یاد رہے کہ مرزا کی گمراہی دھوکہ نہ کھائے۔ اہل سنت والجماعت کے نزدیک حضرتﷺ کو کئی بار معراج ہوا۔ ایک بار جسم مبارک کے ساتھ اور باقی روح مبارک کے
رسول اکرم ﷺ کے معراج جسمانی سے انکار ہے اور حضرت کے جسم اطہر نور یا جو جسد ہے لطیف کی ، حالانکہ اپنی الہامی کتاب براہین احمدیہ میں لکھا کہ : ت خاتم الانبیاء ﷺ میں کئی نور جمع تھے سوان نوروں پر ایک اور نور آسمانی جو وحی بر اس نور کے وارد ہونے سے وجود باجود خاتم الانبیاء کا مجمع الانوار بن گیا۔‘‘
(براہین احمدیہ ص ١٨٠ ، خزائن ج ١ص ١٩٥)
نفس دعویٰ کرتا تھا کہ حضور کا جسم کثیف تھا اور یہی بکتا رہا اپنی متعدد تصانیف بات النبی ہیں اور یہ بھی ایک معجزہ ہے کہ جو دشمن حضور کا بدگوئی کرتا ہے یکا یک سے حق بات یعنی حضور کی صفت صادقہ نکل ہی جاتی ہے۔ اہل سنت و جماعت کہ اگر کوئی توہیناً کسی نبی علیہ السلام کے میلے کپڑوں کو میلا کہے تو کافر ہو جائے ۔ کے جسم نور الانوار کو جو یری من خلفا کما یری من قبلہ جو سامنے اور پس پشت ور مگس تک جسم مبارک پر نہیں بیٹھتی تھی اور اسی لئے سایہ بھی جسم اطہر کا نہ تھا۔ میں بحمدہ تعالیٰ مرزا پر اسی کی کتاب سے حکم کرتا ہوں کہ وہ فاجر ہے۔ مرزا نے میں لکھا ہے۔ حضرت ﷺ کی مدح میں ۔
تو ہنوز ای کور در شور و شرے
لعل تاباں را اگر کوئی کثیف
زین چہ کاہد قدر روشن جو ہرے
طعنہ بر پاکان نہ برپا کان بود
خود کئی ثابت کہ ہستی فاجرے
(براہین احمدیہ ص ١٥، خزائن ج ١ص)
اپنی ہی مسلمہ مثبتہ دلیل سے مرزا جو پیغمبری کا دعویٰ کرتا تھا حضرت ﷺ ار کو کثیف کہنے کے سبب سے خود ہی فاجر ہو گیا۔
میلش اندر طعنۂ پاکان برد
یادرہے کہ مرزا کی گمراہی دھوکہ نہ کھائے۔ اہل سنت والجماعت کے یا بار معراج ہوا۔ ایک بار جسم مبارک کے ساتھ اور باقی روح مبارک کے
ساتھ ۔ (تفسیر السراج المنیر جلد دوم طبع مصر ص ٢٢٥) میں ہے۔ ”والاکثرون علی انه اسری بجسده فی الیقظة وتواترت الاخبار الصحيحة على ذلك “تفسیر (روح البیان جلد ثانی ص ٣٩٠) میں ہے ۔” وعروجه بجسده الى الملاء الا علی “ حضرت ﷺ کا آسمانوں پر تشریف لے جانا جسم مبارک ہی کے ساتھ ہوا ہے۔ (روضۃ الاحباب ص ١٧١) میں ہے : ”آنچہ معظم سلف وخلف برانند آنست کہ معراج آنحضرت در بیداری بودہ بروح وجسد“ اس کتاب میں دلائل بھی مذکور ہیں ۔ (مظاہر حق جلد چہارم ص ٥٥٣) میں ہے : ”اور تحقیق یہ ہے کہ معراج آنحضرت ﷺ کو ایک بار جاگتے میں۔ ہوا ہے ساتھ بدن شریف کے اور یہی ہے مذہب جمہور فقہاء اور متکلمین اور صوفیہ کا ”تفسیر (روحی جلد اوّل ص ١٢١) میں ہے، لیکن صحیح یہ ہے کہ روح اور جسد سے ہوا ہے ۔“ (زاد المعاد ج ١ص ٣٠٠) میں ہے۔ ”ثم اسری برسول الله ﷺ بجسده على الصحيح“ طریقہ محمدیہ ص ٢٣١ مطبوعہ مصر میں ہے۔ ”والمعراج لرسول الله ﷺ فی الیقظة بشخصه حق وفى شرحه ص ٢٣١ اى بصورته الجسمانية لا بالروح فقط كما زعم “ اور اس شرح کے اسی صفحہ میں ہے۔ ” والحق اسراء واحد بمجموع روحه وجسده يقظة وهو مذهب الجمهور من المحدثين والفقهاء والمتكلمين“
(تفسیر روح البیان ج ٣ ص ٣٩٠) میں ہے۔ ” قال الكاشفى انا نكه درين قصه ثقل جسد مانع دانند از صعود ارباب بدعت اند و منکر قدرت“ اسی صفحہ میں ہے۔ ”قال الشيخ الاكبر قدس سره ان معراجه عليه السلام اربع وثلاثون مرة واحدة بجسده والباقی بروحه“ جس شخص کا ان معتبر تفاسیر پر ایمان ہوا ہے وہ تو ہر گز ہرگز شک نہ کرے گا۔ حضرت ﷺ کی معراج جسمی میں صاف فرما رہے ہیں کہ اسی جسم مبارک کے ساتھ بیداری میں ایک بار آسمان پر تشریف لے جانا حق ہے۔ پس حق کے مقابل باطل ہی ہے جو لوگ کہ بوجہ کثافت جسم معراج جسمی کے قائل نہیں ہیں۔ جیسے مرزائی وہ گمراہ اور پروردگار کی قدرت کے منکر ہیں ۔ پروردگار ہدایت کرے کہ صحیح حدیثیں صحاح ستہ میں بھی نہیں دیکھتے۔ انبیاء علیہم السلام کی اہانت کے سبب سے ایسے اندھے ہوگئے ہیں کہ روز روشن ان کے آگے شب دیجور کی طرح سیاہ ہو رہا ہے۔
سوال، حضرت عائشہؓ خود اس کی قائل نہیں ہیں کہ اس جسم مبارک سے معراج ہوئی۔ بلکہ وہ کہتے ہیں کہ وقت معراج کے نبی ﷺ کا جسم مبارک نہیں غائب ہوا تھا۔ صحیح بخاری میں ہے۔ ”عن عائشة ما فقد جسد رسول الله ﷺ “ پس اس سے اور دوسری دلیل جسم مبارک
کے نہ جانے کی کون ہوگی۔ جواب، اس امر کی تحقیق یہی ہے جو مذکور ہوئی اور حضرت عائشہؓ اپنے مشاہدے کی خبر نہیں دیتی ہیں کہ رسول اللہ کا جسم گم نہیں ہوا تھا۔ بلکہ سنی سنائی کہہ رہی ہیں۔ کیونکہ وقت معراج کے بی بی عائشہ رسول اللہ کی زوجہ نہیں تھیں اور نہ کسی بات اور قصہ کے ضبط کرنے کی عمر رکھتی تھیں اور شاید کہ اس وقت تو حضرت عائشہ پیدا بھی نہیں ہوئی تھیں۔ (عینی بخاری ج ٧ ص ٢٢٩) میں ہے۔ ”وذهبت طائفة الى ان الاسراء بالجسد يقظة الى بيت المقدس والى السماء بالروح والصحيح انه اسرى بالجسد والروح فى القصة كلها وعليه يدل قوله تعالى سبحن الذى اسرى بعبده اذلوكان مناما لقال بروح عبده ولم يقل بعبده ولا يعدل عن الظاهر والحقيقة الى التاويل الا عند الا ستحالة وليس فى الاسراء بجسده وحال يقظته استحالة وقال ابن عباس هى رويا عين رآها لا رويا منام واما قول عائشة ما فقد جسده فلم تحدث عن مشاهدة لا نهالم تكن حينئذ زوجة ولا فى سن من يضبط ولعلهالم تكن ولدت فاذاكان كذلك تكون قد حدثت بذلك عن غيرها فلا يرجع خبرها على خبر غيرها وقال الحافظ عبدالحق فى الجمع بين الصحيحين وماروى شريك عن انس انه كان نائما فهوزيادة مجهولة وقدروى الحفاظ المتقنون والائمة المشهورون كابن شهاب وثابت البنانى وقتادة عن انس ولم يات احد منهم بها وشريك ليس بالحافظ عند اهل الحديث“ اور اس سے پیشتر بھی بعض لوگوں کو یہ شبہ ہوا ہے کہ ثقل بدن مانع ہے۔ عروج سے، مگر اس کا جواب عینی بخاری نے اس طور سے دیا ہے کہ ارواح چار قسم پر ہیں۔ اوّل قسم ارواح کی وہ ہے جو کہ مکدر ہیں صفات بشریہ کے ساتھ اور ان پر حیوانی قوتیں غالب ہیں وہ ارواح عوام کی ہیں جو بالکل عروج اور ترقی کو قبول نہیں کرتے۔ دوسری قسم ارواح کی وہ ہے کہ جو قوت علمیہ اور عملیہ کے ساتھ کامل ہوں وہ ارواح علماء کی ہیں۔ تیسری قسم وہ ہے جو کہ اخلاق حمیدہ سے کامل ہوئی اور ان کے ابدان اور اجساد صفائی اور طہارت سے تربیت اور پرورش پا چکے اور نفسانی قوتوں کو عبادت کی تکالیف اور محنتوں سے توڑا، یہ ارواح ریاضت اور مجاہدہ کرنے والوں عابدوں اور زاہدوں کی ہیں۔ چہارم وہ قسم ہے ارواح کی جن کو دونوں قوتوں کا کمال حاصل ہے۔ قوت مدبرۃ للبدن اور قوت علمیہ یہ ارواح انبیاء علیہم السلام اور صدیقین کی ہیں۔ پس جیسے کہ ان حضرات کی ارواح کو کمال قوت حاصل ہے۔ ایسا ہی ان حضرات کے ابدان کو قوت ارتفاع اور ترقی اور بلندی بھی حاصل ہے۔ اسی واسطے انبیاء علیہم
السلام کا عروج ہوا، آسمان پر، اور سـ لہذا اس قدر عروج ہوا کہ قاب قو ص ٢١٠ کی یہ ہے۔ ”ومنها (ای قيل كيف تصور الصعود قبل هذا اجيب بان الارواح البشرية وهى ارواح العوا اصلا (والثانى) الارواح العلوم وهذه ارواح العلما للبدن باكتساب الاخلاق ابدانهم بالارياض والمـ القوتين فهذه غاية الارو ازداد قوة ارواحهم ازداد صلوات الله عليهم قويت تـ نبينا ﷺ فعروجه الى قاب قـ (ازالہ اوہام ص ١٤٧، خزا بلندی پر ایسی ہوا ہے کہ اس میں ا اتارے جائیں گے۔“ یہی دلیل م اس سے اس کی کتابوں سے نقل کیـ قادر قوی جس نے نصوص میں اپنی وقوع جن تک ہماری عقل ناقص ایذائے ہوا پر قادر نہیں جانتا۔ اصحـ طرح رہیں گے۔ حضرت نوح علیـ تھی جس میں انواع حیوانات موجـ باری تعالیٰ نے فرمایا: ”واذکر فـ مكانا عليا“ یاد کرو (اے محمـ نے اس کو مکان عالی پر۔ تمام کتب
السلام کا عروج ہوا، آسمان پر، اور سب انبیاء علیہم السلام سے قوت میں زیادہ ہمارے محمدﷺ تھے۔ لہذا اس قدر عروج ہوا کہ قاب قوسین او ادنیٰ تک تشریف لے گئے اور عبارت عینی جلد ثانی ص٢١٠ کی یہ ہے۔ ”ومنها (ای من السوالات فی هذا المقام ای مقام المعراج) ما قیل کیف تصور الصعود الی السموت وما فوقها والجسم الانسانی کثیف قبل هذا اجیب بان الارواح اربعة اقسام (الاول) الارواح الكدرة بالصفات البشرية وهى ارواح العوام غلبت عليها القوى الحيوانية فلا تقبل العروج اصلا (والثانى) الارواح التى لها كمال القوة النظرية للبدن باكتساب العلوم وهذه ارواح العلماء (والثالث) الارواح التى لها كمال القوة المدبرة للبدن باكتساب الاخلاق الحميدة وهذه ارواح المرتاضين اذ كسروا قوى أبدانهم بالارياض والمجاهدة (والرابع) الارواح التى حصل لها كمال القوتين فهذه غاية الارواح البشرية وهى ارواح الانبياء والصديقين فكما ازداد قوة ارواحهم ازداد ارتفاع أبدانهم عن الارض ولهذا لما كان الانبياء صلوات الله عليهم قويت فيهم هذا الارواح عرج بهم الى السماء واكملهم قوة نبيناﷺ فعرجه الى قاب قوسين أو أدنى“
(ازالۃ الاوہام ص١٤٧، خزائن ج٣ ص١٧٣) میں بکتا ہے کہ: ”جب چالیس ہزار فٹ کی بلندی پر ایسی ہوا ہے کہ اس میں انسان زندہ نہیں رہ سکتا تو حضرت عیسیٰ کیونکہ اٹھائے گئے اور اتارے جائیں گے۔“ یہی دلیل حضرتﷺ کی معراج سے منکر ہونے کی بھی ہے۔ جیسے کہ قبل اس سے اس کی کتابوں سے نقل کیا گیا ہے۔ اقول، میں سخت متعجب ہوں اس مرزا کی عقل پر کہ وہ قادر قوی جس نے نصوص میں اپنی قدرت کاملہ اور طاقت شاملہ سے خبر دی ہے اور کتنے ہی امور کا وقوع جن تک ہماری عقل ناقص کی رسائی ناممکن ہے بیان فرمایا۔ یہ مرزا اس پروردگار کو دفع ایذائے ہوا پر قادر نہیں جانتا۔ اصحاب کہف کو کس طرح تین سو نو سال تک سلایا اور قیامت تک اسی طرح رہیں گے۔ حضرت نوح علیہ السلام کی کشتی تو ستر ہزار فٹ کی بلندی سے بھی زیادہ اونچائی پر تھی جس میں انواع حیوانات موجود تھے۔ وہ سب کے سب کس طرح زندہ رہے۔ سورۂ مریم میں باری تعالیٰ نے فرمایا: ”واذكر فی الكتب ادريس انه كان صديقاً نبياً ورفعناه مكاناً علياً“ ”یاد کرو (اے محمد) حضرت ادریس علیہ السلام کا حال تحقیق تھا وہ سچا نبی، اٹھالیا ہم نے اس کو مکان عالی پر۔ تمام کتب تفاسیر اور اہل اسلام میں یہی معنی اور یہی اعتقاد ہے کہ حضرت
ادریس علیہ السلام آسمان پر زندہ اٹھائے گئے۔ اسی جسم عصری کے ساتھ اور اسی طرح حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی نسبت اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ ”وما قتلوه يقيناً بل رفعه الله إليه“ وہی لفظ رفع کا یہاں بھی ہے۔ یہاں صرف حضرت شیخ اکبر محی الدین بن عربیؒ کا ایک مسئلہ فصوص الحکم سے نقل کرتا ہوں۔ جن کی سندیں مرزا بھی اپنی ازالہ اوہام میں لکھتا ہے: ”فرماتے ہیں کہ حضرت الیاس حضرت ادریس علیہ السلام ہی ہیں جو حضرت نوح علیہ السلام سے پیشتر نبی تھے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے ان کو مکان عالی پر اٹھا لیا۔ پس وہ قلب الافلاک یعنی فلک الشمس میں رہتے تھے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے دوبارہ شہر بعلبک کی طرف مبعوث فرمایا۔“ کیا اب بھی حضرت رسول اللہ ﷺ کا جسمی معراج اور صعود عیسیٰ علیہ السلام کا بجسدہ العنصری محالات سے معلوم ہوگا۔ کیا خداوند کریم مرزا کا فلسفہ توڑنے کی قدرت نہیں رکھتا۔ اسی فلسفے نے مرزا کو بیوقوف اور سفیہ بنایا جو عیسیٰ علیہ السلام کے حق میں بکتا ہے کہ آسمان پھاڑ کر مسیح کا آنا اور حضرت محمد ﷺ کی شان میں بکتا ہے کہ: ”وہ آسمان پھاڑ کر تشریف لے گئے اور واپس تشریف لائے۔ مگر وجہ یہ ہے کہ مرزا میں اس کے خدا عاجی کی روح باتیں کرتی ہے۔ جیسے کہ اس کا الہام ہے اور اس کے مریدوں میں کسی معلم الملکوت کی روح باتیں کرتی ہے۔
ہم سفہ باشد کہ حکم الکل حکم الاکثرست
اعتقاد فرشتے کوئی نہیں جو کچھ عالم میں ہو رہا ہے۔ وہ سیارات کی تاثیرات سے ہو رہا ہے۔ مرزا نے توضیح المرام صفحات ٣٣، ٣٧، ٣٨، ٣٩، ٤٠، ٦٧ میں بکا ہے۔ ”ملائکہ وہ روحانیات ہیں کہ ان کو یونانیوں کے خیال کے موافق نفوس فلکیہ یا دساتیر اور وید کے موافق ارواح کواکب ان کو نامزد کریں۔ درحقیقت یہ ملائکہ ارواح کواکب اور سیارات کے لئے جان کا حکم رکھتے ہیں اور عالم میں جو کچھ ہو رہا ہے انہیں سیاروں کے قوالب اور ارواح کی تاثیرات سے ہو رہا ہے۔“
(توضیح المرام ص ٧٤، ٧٥، خزائن ج ٣ ص ٦٧، ٦٨)
اقول، مرزا جب کہ فرشتوں کا منکر ہوا تو قرآن وحدیث کا منکر ہوا۔ ایمان تفصیلی میں فرشتوں پر ایمان لانا فرض ہے اور منکر اس کا کافر ہے۔ یہ خود قرآن شریف ہی کی آیت سے ثابت ہے۔ جبرائیل علیہ السلام انبیاء علیہم السلام کے پاس زمین پر کبھی نہیں آئے اور نہ آتے ہیں۔
(توضیح المرام ص ٦٨، ٧٠، ٧٥، خزائن ج ٣ ص ٧٦، ٧٧)
حضرت ﷺ نے صد ہا حدیثوں میں فرمایا ہے کہ جبرائیل علیہ السلام میرے پاس آتا
زندہ اٹھائے گئے۔ اسی جسم عنصری کے ساتھ اور اسی طرح حضرت عیسیٰ فرماتا ہے۔ "وما قتلوه يقيناً بل رفعه الله اليه" وہی لفظ صرف حضرت شیخ اکبر محی الدین بن عربی کا ایک مسئلہ فصوص الحکم سے میں مرزا بھی اپنی ازالہ اوہام میں لکھتا ہے: "فرماتے ہیں کہ حضرت السلام ہی ہیں جو حضرت نوح علیہ السلام سے پیشتر نبی تھے۔ پھر مانی پر اٹھا لیا۔ پس وہ قلب الافلاک یعنی فلک الشمس میں رہتے تھے۔ بعلبک کی طرف مبعوث فرمایا۔" کیا اب بھی حضرت رسول اللہ ﷺ کا علیہ السلام کا بجسدہ العنصری محالات سے معلوم ہوگا۔ کیا خداوند کریم رت نہیں رکھتا۔ اسی فلسفے نے مرزا کو بیوقوف اور سفیہ بنایا جو عیسیٰ علیہ کہ آسمان پھاڑ کر مسیح کا آنا اور حضرت محمد ﷺ کی شان میں بکتا ہے کہ: لے گئے اور واپس تشریف لائے۔ مگر وجہ یہ ہے کہ مرزا میں اس کے خدا ہے۔ جیسے کہ اس کا الہام ہے اور اس کے مریدوں میں کسی معلم الملکوت
سفہ باشد کہ حکم الکل حکم الاکثرست
ئی نہیں جو کچھ عالم میں ہو رہا ہے۔ وہ سیارات کی تاثیرات سے ہو رہا نفحات ٣٣، ٣٧، ٣٨، ٣٩، ٤٠، ٦٧ میں بکا ہے۔ ”ملائکہ وہ روحانیات ل کے موافق نفوس فلکیہ یا دساتیر اور وید کے موافق ارواح کواکب ان یہ ملائکہ ارواح کواکب اور سیارات کے لئے جان کا حکم رکھتے ہیں اور سیاروں کے قوالب اور ارواح کی تاثیرات سے ہو رہا ہے۔“
(توضیح المرام ص ٧٤، ٧٥، خزائن ج ٣ ص ٦٧، ٦٨)
کہ فرشتوں کا منکر ہوا تو قرآن وحدیث کا منکر ہوا۔ ایمان تفصیلی میں ہے اور منکر اس کا کافر ہے۔ یہ خود قرآن شریف ہی کی آیت سے ثابت باء علیہم السلام کے پاس زمین پر کبھی نہیں آئے اور نہ آتے ہیں۔
(توضیح المرام ص ٦٨، ٧٠، ٧٥، خزائن ج ٣ ص ٧٦، ٧٧)
نے صدہا حدیثوں میں فرمایا ہے کہ جبرائیل علیہ السلام میرے پاس آتا
ہے اور یہ ایسا مشہور ہے کہ ادنیٰ درجہ کا طالب العلم بھی جانتا ہے۔ پس مرزا نے رسول اللہ ﷺ کو جھوٹا جانا۔ نعوذ باللہ!
اعتقاد: ”قرآن شریف میں گندی گالیاں بھری ہیں اور قرآن شریف سخت زبانی کے طریق کو استعمال کر رہا ہے۔“
(ازالۃ اوہام ص ٢٥، ٢٦، خزائن ج ٣ ص ١١٥)
یہ قرآن شریف کی عیب گوئی وعیب جوئی ہے اور یہ کفر ہے۔ واہ رے مرزا کا ایمان قرآن پر۔
اعتقاد: ”براہین احمدیہ (مؤلفہ مرزا) خدا کے حکم سے لکھی ہے۔“
(ازالۃ اوہام ص ٥٣٣، مجموعہ اشتہارات ج ١ ص ٢٤)
مرزا نے لکھا ہے کہ ”خدا تعالیٰ نے براہین احمدیہ میں بھی اس عاجز کا نام امتی بھی رکھا اور نبی بھی۔“
(ازالۃ اوہام ص ٥٣٣، خزائن ج ٣ ص ٣٨٦)
اعتقاد! ”قرآن شریف کے معجزات مسمریزم اور شعبدے ہیں۔“
(ازالۃ اوہام ص ٣٨٧ تا ٥٧٠، خزائن ج ٣ ص ٥٠٤)
اعتقاد! قرآن شریف میں یہ عبارت ”انا انزلناه قريباً من القاديان“ موجود ہے۔ دیکھو مرزا کیا بکتا ہے۔ ”جس روز الہام مذکور بالا جس میں قادیان میں نازل ہونے کا ذکر ہے ہوا تھا اس روز کشفی طور پر میں نے دیکھا کہ میرے بھائی مرحوم مرزا غلام قادر میرے قریب بیٹھ کر بآواز بلند قرآن شریف پڑھ رہے ہیں اور پڑھتے پڑھتے انہوں نے ان فقرات کو پڑھا۔ ”انا انزلناه قريباً من القاديان “ تو میں نے سن کر بہت تعجب کیا کہ قادیان کا نام قرآن شریف میں لکھا ہوا ہے۔ تب انہوں نے کہا کہ یہ دیکھو لکھا ہوا ہے۔ تب میں نے نظر ڈال کر جو دیکھا تو معلوم ہوا کہ فی الحقیقت قرآن شریف کے دائیں صفحہ میں شاید قریب نصف کے موقع پر یہی الہامی عبارت لکھی ہوئی موجود ہے۔ تب میں نے دل میں کہا کہ ہاں واقعی طور پر قادیان کا نام قرآن شریف میں درج ہے اور تین شہروں کا نام قرآن شریف میں اعزاز کے ساتھ لکھا ہوا ہے۔ مکہ، مدینہ، قادیان۔“
(ازالۃ اوہام ص ٧٦، ٧٧، خزائن ج ٣ ص ١٤٠)
اقول، لیجئے یہ خاص آیت قرآن شریف میں درج ہے اور اعزاز کے ساتھ بمثل مکہ معظمہ اور مدینہ منورہ کے قادیان کا نام بھی قرآن شریف میں ثبت ہے۔ پھر کہئے قادیان کے معرب کلمہ بنانے کی کیا ضرورت ہے اور کیونکر۔ مگر افسوس مرزا کے حافظہ پر پہلے تو قادیان کی نسبت اس طور پر بک چکا ہے۔ ”قادیان کا نام پہلے نوشتوں میں استعارہ کے طور پر دمشق رکھ کر
پیش گوئی بیان کی گئی ہوگی۔ کیونکہ کسی کتاب حدیث یا قرآن شریف میں قادیان کا نام لکھا ہوا پایا نہیں جاتا۔“
(ازالہ اوہام ص ٧٤، خزائن ج ٣ ص ١٣٩)
اور اب کہتا ہے کہ قادیان کا نام قرآن شریف میں موجود ہے۔ مرزا نے یہ عیاری کی کہ امام مہدی تو کدعہ سے نکلے گا اور میرے گاؤں کا نام قادیان ہے۔ کس طور پر مناسبت پیدا کی جائے۔ پس کہہ دیا کہ قادیان کی عربی کدعہ بنائی گئی۔ حالانکہ قادیان تو خود عربی ہے۔ پس مرزا کی کس بات یا الہام پر اعتبار کیا جائے۔ قادی بمعنی جلدی کنندہ یا جنگل سے آنے والا۔ قاموس میں ہے۔ ”قدت قادیة جاء قوم قد اقحموا من البادیة والفرس قديانا اسرع “ اس کی جمع ہے اور قادیانی اسی کی طرف منسوب ہے۔ یعنی جلدی کرنے والوں یا جنگل سے آنے والوں کا ایک۔ اس مناسب سے میری تفصیل میں ہر بھگوڑے جنگلی کا نام قادیانی ہوا۔ اچھا خیر اصل مطلب پر آتا ہوں۔ مرزا اپنے اعتقاد بے بنیاد کے موافق ٹھیک ٹھیک بتا دیوے کہ یہ آیت ”انا انزلناہ قریباً من القادیان“ کس پارہ کس سورہ کس رکوع میں ہے۔ مرزا اور تین سو تیرہ مرزائی قرآن شریف سے نکال کر دکھلائیں۔ لیکن ہرگز نہ دکھلا سکیں گے۔ اس سے نعوذ باللہ قرآن شریف کا تنسیخ اور کم و بیش ہونا ثابت ہوتا ہے اور حالانکہ تمام اہل اسلام کا اتفاق ہے کہ قرآن شریف کا ایک شوشہ بھی کم و بیش نہیں ہو سکتا۔ میں مرزا ہی کا الہام اس امر میں تحریر کر دوں وہ خود (ازالہ اوہام ص ١٣٨، خزائن ج ٣ ص ١٧٠) میں لکھتا ہے کہ ”ہم پختہ یقین کے ساتھ اس بات پر ایمان رکھتے ہیں کہ قرآن شریف خاتم کتب سماوی ہے۔ ایک شوشہ یا نقطہ اس کے شرائع اور حدود اور احکام اور اوامر سے زیادہ نہیں ہو سکتا اور نہ کم ہو سکتا ہے اور اب ایسی وحی یا ایسا الہام من جانب اللہ نہیں ہو سکتی جو احکام قرآنی کی ترمیم یا تنسیخ یا کسی ایک حکم کی تبدیل یا تغیر کر سکتا ہو۔ اگر کوئی ایسا خیال کرے تو وہ ہمارے نزدیک جماعت مومنین سے خارج اور ملحد اور کافر ہے۔“
اقول، مرزا اپنے ہی اعتقاد اور تحریر الہامی سے جماعت مؤمنین سے خارج اور ملحد اور کافر ہو گیا۔ کسی مولوی صاحب کے فتوے کی بھی ضرورت نہ رہی۔ مرزا کی ہر کتاب میں ایسے تعارض اور تناقض موجود ہیں۔ اس کا رد خود اس کی کتابوں میں موجود ہے۔ نعوذ باللہ من الحور بعد الکور !
اب میں اسی لفظ کدعہ کی طرف رجوع کرتا ہوں۔ مرزا جو جا بجا اپنی کتابوں میں لکھتا ہے کہ قادیان کی عربی کدعہ ہے اور کدعہ سے مراد قادیان ہے۔ پس میں مہدی ہوں جو کدعہ یعنی قادیان سے پیدا ہوا ہوں۔ سو اس میں میرا یہ دعویٰ ہے کہ وہ لفظ کدعہ کا ک، د، ع، ہ سے اصل
حدیث میں ہرگز ثابت نہیں۔ یہ مرزا کا محض دھوکا ہے اور اگر بفرض محال کہیں پایا بھی جائے تو کاتب کی غلطی ہے۔ البتہ صحیح لفظ حدیث کا کرعہ ہے۔ ک، ر، ع، ہ سے بجائے دال مہملہ کے راء مہملہ ہے۔ حافظ محمد لکھویؒ اپنی کتاب احوال الآخرۃ میں فرماتے ہیں۔ جس کا اردو زبان میں مطلب یہ ہے کہ ”حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے ایک دن امام حسنؓ کو دیکھ کر فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ یہ بیٹا میرا سید ہے۔ اس کی پشت سے ایک مرد ہوگا۔ اس کا نام محمد ہوگا۔ خصلت اس کی رسول اللہ ﷺ سے مشابہ ہوگی۔ زمین کو عدل سے پر کر دے گا۔ اس کی والدہ کا نام آمنہ باپ کا نام عبداللہ ہوگا۔ ملک یمن میں ایک بستی ہے۔ کرعہ اس کا نام ہے۔ وہاں سے ہوگا۔ وقت بات کرنے کے صاف نہ بولے گا۔ بوجہ لکنت کے زبان میں پس اپنے رانوں پر ہاتھ مارے گا“ اکثر ہوتا ہے کہ جس شخص کی زبان میں لکنت ہوتی ہے وقت بات کرنے کے اڑ کر بولتا ہے اور ران پر ہاتھ مارتا ہے۔ پس اس سے ثابت ہوا کہ یمن میں ایک قریہ ہے جس کا نام کرعہ ہے جو حضرت ﷺ کے وقت میں موجود اور آباد تھا اور اب بھی موجود ہے۔
موضع قادیان کی تحقیق
دراصل نام اس کا قادیان نہ تھا۔ بلکہ مرزا کے مورث اعلیٰ مسمی قاضی ماجھی نے اس کو آباد کیا۔ بابر بادشاہ کے زمانہ میں اس کا نام اسلام پور قاضی ماجھی رکھا۔ جب اس موضع کے باشندے یزیدی اور شریر ہو گئے تو اسلام پور جاتا رہا۔ محض قاضیان رہ گیا۔ تلفظ عوام میں ضاد کو دال سے مناسبت صوتی ہے۔ قاضیان کا قادیان ہو گیا اور بابر بادشاہ نے ١٥٢٦ء سے لے کر ١٥٣٠ء تک ہندوستان وغیرہ میں بادشاہی کی ہے۔ ملا ماجھی صاحب مورث اعلیٰ مرزا کا سلطان سکندر بادشاہ پسر بہلول شاہ لودھی کے وقت میں تھا اور بابر بادشاہ نے کابل سے آکر ابراہیم بادشاہ کو شکست دے کر اس کا تخت لے لیا۔ یہ واقعہ ١٥٢٦ء کا ہے۔ خیر تاریخی امور کو ترک کر کے ثابت ہوتا ہے کہ قصبہ قادیان مدت چار سو سال سے آباد ہے۔ قبل اس کے آباد نہ تھا۔ یہ تحقیق مرزا کی کتاب (ازالہ اوہام ص ١٢٢، ١٢٣، خزائن ج ٣ ص ١٦٠) میں درج ہے۔ پس ظاہر ہو گیا کہ ظہور وتولد امام مہدی صاحب کی حدیث کو موضع قادیان سے کوئی لگاؤ نہیں ہے۔ حدیث کو ١٣٢٢ برس ہوا اور قادیان اس وقت معدوم تھا۔ اب چار سو سال سے آباد ہوا۔ اگر مرزا اور مرزائی تین سو تیرہ مع مردوں کے بھی شامل ہو جائیں اور قیامت تک تلاش کریں۔ تب بھی ہرگز ثابت نہ کر سکیں گے کہ امام مہدی صاحب کدعہ معرب قادیان سے پیدا ہوں گے۔ خواہ اپنے عاجی خدا سے گریہ الحاح بھی کرلیں۔ بلکہ معاملہ ہی برعکس ہے۔ کیونکہ اکثر احادیث صحیحہ میں ہے کہ دجال مشرق سے نکلے گا۔ خود مرزا
اس بات کو مانتے ہیں۔ لکھتا ہے:
- ١...... ”دجال مشرق کی طرف سے خروج کرے گا۔ یعنی ملک ہند سے کیونکہ یہ
ملک ہند میں حجاز سے مشرق کی طرف ہے۔ متفق علیہ“ (ازالہ اوہام ص ٢٧٩، خزائن ج ٣ ص ٤٩٢)
- ٢...... ”حدیث سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ دجال ہندوستان سے نکلے گا۔“
(ازالہ اوہام ص ١٨٥، خزائن ج ٣ ص ١٨٩)
فقیر کہتا ہے کہ یہ بات بھی ظاہر ہے کہ مرزا کا قادیان ملک ہند میں حجاز سے پورب کو ہے اور کسی حدیث میں یہ بات نہیں کہ امام مہدی صاحب ملک مشرق یا ہندوستان سے ہوں گے۔ بلکہ دجال ہی کے بارہ میں وارد ہے کہ ملک عرب سے پورب کے ملک سے دجال ہوگا۔ جس کو مرزا خود بھی مانتا ہے تو اب ثابت ہو گیا کہ مرزا خود ہی دجال ہے۔ اگر چہ بڑا دجال نہ ہو۔ مگر خلیفۂ دجال تو ہے۔ جب مرزا نے رسالہ انجام آتھم لکھا تو اس وقت ١٨٩٦ء تھے اور ”ھذا خلیفة الدجال“ کے اعداد ابجدی سے بھی ١٨٩٦ء پورے نکلتے ہیں۔ پس انجام آتھم کے لکھنے کے وقت ہی سے خلیفہ دجال ہوا۔ کیونکہ رسالہ انجام آتھم اسی سنہ میں لکھا گیا۔
در جبین جابجا سپر انداختہ
خیال کرنا چاہئے کہ مرزا جو (ضمیمہ انجام آتھم ص ٤١، خزائن ج ١١ ص ٣٢٥) میں بکتا ہے۔
”خدا اس مہدی کی تصدیق کرے گا۔“ اقول، کیا مرزا کے ہاتھ پر مکہ معظمہ کے لوگوں نے رکن یمانی پر بیعت کر لی ہے۔ جیسا کہ امام مہدی صاحب کے ہاتھ پر بیعت کرنے کا آ چکا ہے۔ بلکہ مکہ معظمہ تو خواب یا الہام میں بھی دیکھنا نصیب نہ ہوا۔ کیا ابدال شامی مرزا کے پاس حاضر ہوگئے ہیں۔ جیسے کہ امام مہدی صاحب کی خدمت میں حاضر ہوں گے۔ بلکہ ابدال سے مرزا ہزاروں کوس بھاگتا تھا۔ کیا غیب سے آواز آئی ہے کہ: ”ھذا خليفة الله المهدي فاسمعوا له واطيعوا“ یہ خلیفہ اللہ تعالیٰ کا مہدی ہے۔ اس کی بات سنو اور تابعداری کرو۔ بلکہ غیب سے تو یہی ارشاد ہورہا ہے کہ: ”ھذا خليفة الشيطان فلا تسمعوا له ولا تطيعوا“ یہ خلیفہ ہے شیطان کا، نہ اس کی بات سنو اور نہ اس کی تابعداری کرو۔ یہی آواز ہر طرف سے آ رہی ہے۔ ہر طرف سے مرزا کی تکذیب اور تکفیر کے فتاوے اور رسالے آ رہے ہیں۔ جب کہ مکہ معظمہ اور مدینہ منورہ ہی کے لوگوں نے صاف حکم کفر کا مرزا پر کر دیا تو اب اور کس جگہ کا اعتبار ہوگا۔ دیکھو مرزا خود لکھتا ہے ”مکہ اسلام کا مرکز ہے اور لاکھوں صلحا اور علماء اور اولیاء اس میں جمع ہوتے ہیں اور ایک
ادنیٰ امر بھی جو مکہ میں واقع ہو فی الفور اسلامی دنیا میں مشہور ہو جاتا ہے۔“
(ست بچن ص ٢٣، خزائن ج ١٠ ص ١٣٥)
جب مرزا بڑے گھر سے نکالے جا چکے اور مکے سے دھکے لگے تو اب دنیا بھر میں کیوں نہ مشہور ہو کہ مرزا غلام احمد قادیانی کذاب اور دجال ہے۔ افسوس مہدی بننا چاہتا ہے اور ایک بات بھی مہدی کی اس میں نہیں پائی جاتی۔ از کتاب کلمہ فضل رحمانی!
مرزا کا الہام دروغ ہوا
(ضمیمہ انجام آتھم ص ٤١، خزائن ج ١١ ص ٣٢٥) میں لکھا ہے۔ ” دور دور سے اس کے دوست جمع کرے گا۔ جن کا شمار اہل بدر کے شمار کے برابر ہوگا۔ یعنی ٣١٣ تین سو تیرہ ہوں گے اور ان کے نام بقید مسکن وخصلت چھپی ہوئی کتاب میں درج ہوں گے۔ یہ پیش گوئی میرے حق میں پوری ہوئی۔“
اقول، مرزا کے وہی تین سو تیرہ دوست ہیں جن میں انہوں نے سترہ آدمی مدتوں سے فوت شدہ کو لکھ کر تعداد پوری کی ہے۔ کیا عمدہ فخر کی بات ہے کہ چورانوے کروڑ مسلمانوں مقررہ سے مرزا کے صرف تین سو تیرہ ہی دوست ہیں۔ وہ بھی بعض تنخواہ لینے والے، آپ صاحبوں کو معلوم ہوگا کہ مسیلمہ کذاب جس نے حضرت ﷺ کے زمانے میں پیغمبری کا کاذب دعویٰ کیا تھا۔ اس کے ساتھ لاکھ آدمی سے زیادہ معتقد تھے اور مہدی سوڈانی کے پاس بھی جو مرزا کے یوم ولادت میں برابر تھا تین لاکھ فوج جاں نثار محض مفت سر دینے والی موجود تھی۔ ابھی تھوڑا عرصہ ہوا کہ ملک ایران میں ایک شخص جس کا نام باب تھا۔ بیشمار معتقد اس کے پاس موجود تھے۔ پھر ذرا رام سنگھ کو دیکھو کہ ایک لاکھ تو اس کے ساتھ بھی مفت بلا تنخواہ جمع ہو گیا تھا۔ اب بھی ہزاروں اس کی عدم موجودگی میں موجود ہیں۔ پھر مرزا کو تین سو تیرہ معتقد پر کیا فخر ہونا چاہئے۔
مرزا غلام احمد قادیانی کی محمد احمد سوڈانی سے مطابقت
چونکہ مہدی سوڈانی محمد احمد نامی کا تذکرہ درمیان میں آچکا ہے۔ جس کی مطابقت مرزا کی تاریخ پیدائش وظہور و دعویٰ وغیرہ امورات میں ٹھیک ٹھیک ہوتی ہے۔ اس لئے جناب مولوی محمد فضل الدین صاحب مالک مطبع اخبار وفادار کی مرتبہ کتاب سے ہدیہ ناظرین کرتا ہوں۔ ”وہو هٰذا“ ان کے یعنی مہدی سوڈانی کے عالم وجود میں آنے کا زمانہ سن ہجری ١٢٥٩ اور سن عیسوی ١٨٤٢ اور ان کے ظہور مہدویت کی تاریخ اگست مطابق رمضان ١٨٨١ء سے محسوب ہوتی ہے اور ان کے اعلان مہدویت کا خلاصہ یہ تھا کہ میں ہی وہ مہدی موعود ہوں جس کا تمہیں دس گذشتہ
صدیوں سے انتظار تھا اور میں ہی وہ آخر الزمان ہوں جو اس مشکل مسئلہ کو حل کروں گا کہ مسلمانوں کے پولیٹکل نفاق کو دور کروں اور ان کو ایک ہی سچی راہ شریعت پر چلاؤں اور حشر و نشر کی سہولتوں کے لئے تیار کروں اور مخالفان اسلام کا دشمن اور محبان اسلام کا دوست اور حامی بنا رہوں“ اور اس نے اپنا نام محمد احمد لکھا جو غالباً زیادہ اعتبار کے لائق ہے۔ بہرحال وہ بھی تمام قرائن کی رو سے کاذب تھا۔ مگر پھر بھی ایک نہایت درجہ کا محتاط، پرہیزگار، عالم فاضل اسلام پرست تھا۔ جس کی علمی اور تمدنی لیاقتوں کا اس سے زیادہ کیا ثبوت ہو سکتا ہے کہ آج ان کے پاس کم و بیش ٣ لاکھ جاں نثار خدا واسطے لڑنے کو موجود ہیں۔ ان کے تین ہمعصر اور بھی مہدی کہلاتے ہیں۔
کتاب کلمہ فضل رحمانی میں ہے کہ ”راقم آتھم کے دل میں پروردگار نے فتنہ پیدائش قادیانی کا یوں القا کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ تبارک اسمہ پارہ ١١ رکوع ٥ میں فرماتا ہے کہ: ”الا فی الفتنة سقطوا “ یعنی آگاہ ہو جاؤ وہ فتنے میں گرے۔ گویا عوام کو ان کے فتنہ سے آگاہی دی گئی ہے۔ اس آیت شریفہ سے بحساب ابجد ١٢٥٩ سن پیدائش مرزا کا نکلا اور یہی ١٢٥٩ مہدی سوڈانی کی پیدائش کا سن بھی ہے۔ مرزا خود اپنی کتاب آئینہ کمالات اسلام میں لکھتا ہے کہ سو یہی سن ١٢٧٥ھ جو آیت ”واخرین منهم لما لم یلحقوا بهم “ کے حروف کے اعداد سے ظاہر ہوتا ہے۔ اس عاجز کے بلوغ اور پیدائش ثانی اور تولد روحانی کی تاریخ ہے۔ یعنی ١٢٧٥ھ کو مرزا جوان اور بالغ ہوا اور یہی ”شباب ظلم“ کا بھی ہے۔ اس کے اعداد بھی ١٢٧٥ ہیں۔ جب پندرہ سال بلوغت کے اس سے نکال دیئے جائیں تو ١٢٥٩ بارہ سو انسٹھ پیدائشی سال مرزا کا رہتا ہے۔ جس کی خبر باری تعالیٰ ”الا فی الفتنة سقطوا “ میں دی ہے اور یہی تاریخ مہدی کاذب سوڈانی کی بھی ہے۔ مہدی سوڈانی کی تاریخ ظہور ١٨٨٢ ہے۔ وہی تاریخ مرزا کی مجددیت اور مثیل مسیح وغیرہ کی ہے۔ جیسا اس نے خود (براہین احمدیہ حصہ سوئم ص ١) پر لکھا ہے۔ مرزا کہتا ہے کہ ”میں تیرہویں صدی پر ہوا۔ میرے نام کے اعداد بھی پورے تیرہ سو ہیں ۔“ غلام احمد قادیانی ”اسی واسطے میں مجدد اور مسیح موعود ہوں۔“ مرزا اس کو اپنے دعویٰ پر بڑی قوی دلیل جانتا ہے۔
(براہین احمدیہ ص ١٩٠، خزائن ج ٣ ص )
حضرات! ذرا خیال کرنا چاہئے۔ کیا اگر اور کسی کے نام کے بھی اعداد پورے تیرہ سو نکل آئیں تو کیا وہ بھی تیرہویں صدی کا مجدد ہوگا۔ ہم نہ مانیں گے۔ مگر مرزا اور مرزائیوں کو ضرور ماننا چاہئے۔ لیجئے سنئے۔ چند آدمیوں کے پورے ١٣٠٠ اعداد میں نکال دیتا ہوں۔ ان کو بھی مجدد کہنا ہوگا۔ حالانکہ مرزا ان میں سے بعض کو سخت گالیاں دے چکا ہے۔
- ١....... مہدی کاذب محمد احمد برم (عاجز ) سوڈانی۔ ١٣٠٠
مرزا کا بھائی جو خاکروبوں کا فا
- ٢....... مرزا امام الدین
تقریباً تیرہ سو ہیں۔ مرزا کا فاضل حواری نور الدین
- ٣...... مولوی حکیم نورالـ
مرزا کے ایک دوست بھی آمـ
- ٤...... مولوی کامل سید
علی ہذا القیاس اور جس قد جاؤں۔ لیکن کیا اس سے یہ ثابت ہوجا ہرگز نہیں۔ مرزا کا اپنے نام کے اعداد طفلان ہے۔ (کلمہ فضل رحمانی) اقول فرماتا ہے۔ "تنزل علیٰ کل افاك یہ پوری آیت کریمہ ہے اور اس کے مـ انہیں کے وسوسوں کو مرزا وحی جانتا تھا۔
مرزا کی نحوست کا بیان
جب سے مرزا پیدا ہوا اـ ہے۔ کیا مہدی موعود ایسا ہی ہوگا۔ جـ بلوغ ١٢٧٣ مطابق ١٨٥٧ء زمانہ ہوتیں۔ جو ناگفتہ بہ ہیں۔ حتیٰ کہ سلا کو جلاوطن کر کے دہلی سے رنگون میـ گولی سے مار ڈالے گئے۔ دیکھو وا مہدی مسعود ہونے کا کیا تو تمام جـ برباد کردیا۔ یہ اثر مرزا کی نحوست کـ اپنے اعتقاد میں جو جو غلط اور جھوٹـ
- الف ...... "سنت بـ
میں انہیں کے نام پر ایک اور امام
مرزا کا بھائی جو خاکروبوں کا پیغمبر موجود ہے۔ یعنی
- ٢...... مرزا امام الدین ابوالا تار لال بیگیان قادیانی۔ اس کے نام کے اعداد بھی
تقریباً تیرہ سو ہیں۔
مرزا کا فاضل حواری نورالدین موجود ہے۔ یعنی
- ٣...... مولوی حکیم نورالدین مستہام (حیران) بھیروی۔ ١٣٠٠
مرزا کے ایک دوست بھی آپ کے ساتھ ہیں۔ یعنی
- ٤...... مولوی کامل سید نذیر حسین دہلوی۔ ١٣٠٠
علیٰ ہذا القیاس اور جس قدر نام چاہوں نکالوں۔ ان کے عدد تیرہ سو پورے کرتا چلا جاؤں۔ لیکن کیا اس سے یہ ثابت ہو جائے گا کہ فلاں شخص مجدد یا مسیح موعود اور مہدی مسعود ہے۔ ہرگز نہیں۔ مرزا کا اپنے نام کے اعداد نکال کر دعویٰ پیغمبری کرنا محض بیہودہ اور ہیچ و پوچ بازیچہ طفلان ہے۔ ” (کلمہ فضل رحمانی) اقول، سب سے لطیف تر بلکہ قرآنی معجزہ یہ ہے کہ اللہ عزوجل فرماتا ہے۔ ”تنزل على كل افاك اثيم“ شیطان اترتے ہیں۔ ہر بڑے بہتان تراش گنہگار پر یہ پوری آیت کریمہ ہے اور اس کے عدد پورے تیرہ سو، بلاشبہ مرزا پر شیطان اترا کرتے تھے اور انہیں کے وسوسوں کو مرزا وحی جانتا تھا۔
مرزا کی نحوست کا بیان
جب سے مرزا پیدا ہوا اس کی موت تک ملک پر تنگی اور قحط اور بلایا اور فتن ہی جوش زن ہے۔ کیا مہدی موعود ایسا ہی ہوگا۔ جو تمام عالم کے لئے زحمت اور محنت ہوگا۔ سنئے! مرزا کی تاریخ بلوغ ١٢٧٣ مطابق ١٨٥٧ء زمانہ غدر گزرا ہے اور لوگوں کو یاد ہے کہ کیا کیا حالتیں مخلوقات کی ہوئیں۔ جو ناگفتہ بہ ہیں۔ حتیٰ کہ سلطنت اسلامی کی رہی سہی رونق کا بھی ستیا ناس ہو گیا۔ بہادر شاہ کو جلا وطن کر کے دہلی سے رنگون میں پہنچایا اور ان کے دو بیٹے اور ایک پوتا دہلی کے فتح ہوتے ہی گولی سے مار ڈالے گئے۔ دیکھو واقعات ہند کا ص ٢٣١۔ پھر جب ١٨٩٦ء و ١٨٩٧ء میں دعویٰ مہدی مسعود ہونے کا کیا تو تمام جہان کو قحط سخت وامساک باران و وبائے طاعون اور زلزلوں نے برباد کر دیا۔ یہ اثر مرزا کی نحوست کا اب تک باقی ہے۔ نعوذ باللہ ایسے مہدی مردود سے۔ مرزا نے اپنے اعتقاد میں جو جو غلط اور جھوٹ بکا ہے وہ تحریر کرتا ہوں۔
- الف...... ”سنت جماعت کا مذہب ہے کہ امام مہدی فوت ہو گئے۔ آخری زمانے
میں انہیں کے نام پر ایک اور امام پیدا ہوگا۔ لیکن محققین کے نزدیک مہدی کا آنا کوئی امر یقینی نہیں
ہے ۔“
(ازالہ اوہام ص ٤٧٥، خزائن ج ٣ ص ٣٤٤)
ب ....... ”امام مہدی کا آنا بالکل صحیح نہیں ہے۔ جب مسیح بن مریم آوے گا تو امام مہدی کی کیا ضرورت ہے ۔“
(ازالہ اوہام ص ٥١٨، خزائن ج ٣ ص ٣٧٨)
انجام آتھم میں تو عیسیٰ علیہ السلام کے آنے سے بھی منکر ہو گیا تھا۔
(انجام آتھم ص ٦٨، خزائن ج ١١ ص ٦٨) مرزا کی تصنیف میں بکتا ہے کہ ”من بآمدن ہیچ مسیح خونی و مہدی خونی قائل نمی باشم ۔“
فقیر کہتا ہے کہ مرزا قادیانی کا دعویٰ کہ میں مہدی موعود ہوں۔ علاوہ اس بحث اور دلائل کے جو پیچھے گزر چکے ہیں۔ ان کی اپنی ہی تحریرات الہامی سے باطل ہو گیا اور باطل بھی ایسا کہ تاویل کی گنجائش نہیں رکھتی۔ مرزائیوں کے لئے شرم کرنے اور ڈوب مرنے کا مقام ہے کہ مرزا خود ہی لکھتا ہے کہ مہدی کا آنا بالکل صحیح نہیں ہے۔ ابن مریم کے آنے سے مہدی کی کوئی ضرورت نہیں۔ پھر اسی مہدی کا مدعی بنتا ہے کہ حدیث کے مطابق میں ہی مہدی ہوں اور کیسی جمہور کی مخالفت کر کے سیدھے مسلمانوں کو دھوکا دیا کہ اہل سنت وجماعت مذہب نہیں۔ مگر سچ ہے کہ جب کسی کے دماغ میں فتور آ جاتا ہے تو اس کو اگلی پچھلی باتیں یاد نہیں رہا کرتیں۔ اشرف الانبیاء اور دو جہاں کے سردار رسول اللہ ﷺ کی باتوں میں چون و چرا کرنا سخت گستاخی اور بے ادبی ہے۔ جس کا نتیجہ خراب ہے۔ آنحضرت ﷺ، حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور امام مہدی علیہما السلام دونوں کا آنا قیامت کی علامات سے بیان فرماتے ہیں اور صدہا احادیث میں مذکور ہوا اور مرزا کہتا ہے کہ کیا ضرورت ہے۔ مسلمانوں کی خدمت میں عرض ہے کہ اللہ عزوجل کے کاموں کے لئے ضرورت وعلت تلاش کرنی عجب گمراہی ہے۔ جب کہ رسول کریم ﷺ کا فرمان مبارک ہے کہ امام مہدی آئیں گے تو اب مسلمان کو ضرورت اور علت تلاش کرنے کی کیا حاجت ہے۔ دل اور جان سے ماننا چاہئے۔ بمقابلہ روشن نص جلی وافی کافی کے اپنے قیاس اور عقل کو دخل دینا شیطانی کام ہے۔
(عینی ج ٤ ص ٦٠٨) میں ہے۔ ”وفيه قول عمر التسليم للشارع في امور الدين وحسن الاتباع فيمالم يكشف من معانيها وقال الخطابي فيه تسليم الحكمة وترك طلب العلل وحسن الاتباع فيمالم يكشف لنا عنه من المعنى وامور الشريعة على ضربين ماكشف عن علته ومالم يكشف وهذا ليس فيه الا تسليم . انتهى“
”قولہ“ میں ایک مسلمان ہوں۔ ”آمنت بالله وملئكته وكتبه ورسله
(ازالہ اوہام ص ٤٧٥، خزائن ج ٣ ص ٣٤٤)
”امام مہدی کا آنا بالکل صحیح نہیں ہے۔ جب مسیح بن مریم آوے گا تو امام ہے“۔ (ازالہ اوہام ص ٥١٨، خزائن ج ٣ ص ٣٧٨) تم میں تو عیسیٰ علیہ السلام کے آنے سے بھی منکر ہو گیا تھا۔ تم ص ٦٨، خزائن ج ١١ ص ٦٨) مرزا کی تصنیف میں بکتا ہے کہ ”من بآمدن ہیچ قائل نمی باشم۔“ ہے کہ مرزا قادیانی کا دعویٰ کہ میں مہدی موعود ہوں۔ علاوہ اس بحث اور دلائل ہیں۔ ان کی اپنی ہی تحریرات الہامی سے باطل ہو گیا اور باطل بھی ایسا کہ رکھتی۔ مرزائیوں کے لئے شرم کرنے اور ڈوب مرنے کا مقام ہے کہ مرزا کا آنا بالکل صحیح نہیں ہے۔ ابن مریم کے آنے سے مہدی کی کوئی ضرورت ادعائی بنتا ہے کہ حدیث کے مطابق میں ہی مہدی ہوں اور کیسی جمہور کی مسلمانوں کو دھوکا دیا کہ اہل سنت و جماعت مذہب نہیں۔ مگر سچ ہے کہ جب آ جاتا ہے تو اس کو اگلی پچھلی باتیں یاد نہیں رہا کرتیں۔ اشرف الانبیاء اور الصلوۃ والسلام کی باتوں میں چون و چرا کرنا سخت گستاخی اور بے ادبی ہے۔ حضرت صلعم ، حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور امام مہدی علیہما السلام دونوں کا آنا بیان فرماتے ہیں اور صدہا احادیث میں مذکور ہوا اور مرزا کہتا ہے کہ کیا کی خدمت میں عرض ہے کہ اللہ عزوجل کے کاموں کے لئے ضرورت مراہی ہے۔ جب کہ رسول کریمﷺ کا فرمان مبارک ہے کہ امام مہدی کو ضرورت اور علت تلاش کرنے کی کیا حاجت ہے۔ دل اور جان سے نقل جلی و وحی کافی کے اپنے قیاس اور عقل کو دخل دینا شیطانی کام ہے۔ ٤٠) میں ہے۔ ”وفيه قول عمر التسليم للشارع في امور ساع فيمالم يكشف من معانيها وقال الخطابي فيه تسليم ، العلل وحسن الاتباع فيمالم يكشف لنا عنه من المعنى ضربین ماكشف عن علته ومالم يكشف وهذا ليس فيه
ایک مسلمان ہوں۔ ”آمنت بالله وملئكته وكتبه ورسله
والبعث بعد الموت“ (ازالہ اوہام ص ٢ ٹائٹل، خزائن ج ٣ ص ١٠٣)
اعتقاد: قبل اس سے توضیح المرام کی عبارت میں مرزا نے بکا تھا کہ فرشتے کوئی چیز نہیں۔ ارواح کواکب اور تاثیرات کواکب سے عبارت ہے اور اب ملائکہ پر ایمان لایا۔ اس کا باعث بھی وہی حافظہ کا فتور ہے۔ ورنہ اگر یاد ہوتا کہ میں پہلے فرشتوں کا انکار کر چکا ہوں تو اب کبھی اقرار نہ کرتا۔ مگر اس میں دو باتیں اور مرزا کی قباحت اعتقاد پر پائی گئیں کہ وہ قیامت اور قدر پر ایمان نہیں رکھتا۔ ”والـيـوم الآخر والقدر خيره وشره من الله تعالیٰ“ پر ایمان ضروری ہے۔ اس کا منکر کافر ہے اور اس کا منکر گمراہ بددین فاجر۔
اعتقاد: ”پایہ ثبوت کو پہنچ گیا ہے کہ مسیح دجال جس کے آنے کی انتظاری تھی۔ یہی پادریوں کا گروہ جو ٹڈی کی طرح دنیا میں پھیل گیا ہے۔“
(ازالہ اوہام ص ٤٩٥، ٤٩٦، خزائن ج ٣ ص ٣٦٦)
اقول، مرزا کے اعتقاد میں دجال پادری ہیں اور کوئی دجال نہیں آئے گا اور اہل اسلام کا عقیدہ یہ ہے کہ نکلنا دجال اور یاجوج ماجوج کا اور نکلنا سورج کا مغرب سے اور اترنا حضرت عیسیٰ کا آسمان سے اور باقی تمام نشانیوں قیامت کا حق ہے۔ فقہ اکبر!
اعتقاد: ”وہ گدھا دجال کا اپنا ہی بنایا ہوا ہوگا۔ پھر اگر وہ ریل نہیں ہے تو اور کیا ہے۔“
(ازالہ اوہام ص ٢٨٥، خزائن ج ٣ ص ٢٤٠)
مرزا مہدی ہو کر دجال کے گدھے پر سوار ہوتا ہے۔ کیا یہ بھی اس کو الہام ہوا ہوگا کہ مہدی دجال کے گدھے پر سوار ہوگا۔
اعتقاد: ”یاجوج ماجوج سے دو قومیں انگریز اور روس مراد ہیں اور کچھ نہیں۔“
(ازالہ اوہام ص ٥٠٢، ٥٠٨، خزائن ج ٣ ص ٣٦٩، ٣٧٤)
اقول، مطلب یہ ہوا کہ یاجوج ماجوج کوئی نہیں ہوں گے۔ اس اعتقاد کے سبب سے آیت اور حدیث صحیح پر اعتقاد نہ رہا اور انکار پایا گیا جو کفر ہے۔ معلوم نہیں کہ اور قوموں کو کیوں ترک کیا جو فقط دو ہی قوم کفار انگریز اور روس کو یاجوج ماجوج بنایا۔
اعتقاد: ”دابۃ الارض وہ علماء اور واعظین ہیں جو آسمانی قوت اپنے میں نہیں رکھتے۔ آخری زمانہ میں ان کی کثرت ہوگی۔“ (ازالہ اوہام ص ٥١٠، خزائن ج ٣ ص ٥٧٣)
اقول، مطلب یہ ہوا کہ دابۃ الارض علماء ہیں اور کچھ نہیں ہے۔ پس دابۃ الارض سے بھی
انکار ہوا۔
اعتقاد: ”دخان سے مراد قحط عظیم و شدید ہے۔“
(ازالہ اوہام ص ٥١٣، خزائن ج ٣ ص ٣٧٥)
اقول، مطلب مرزا کا یہ ہے کہ دخان جو صحیح حدیث میں وارد ہے۔ وہ کچھ نہ ہوگا۔ یہ صحیح حدیث سے انکار ہوا۔
اعتقاد: ”مغرب کی طرف سے آفتاب کا چڑھنا یہ معنی رکھتا ہے کہ ممالک مغربی آفتاب سے منور کئے جائیں گے اور ان کو اسلام سے حصہ ملے گا۔“
(ازالہ اوہام ص ٥١٥، خزائن ج ٣ ص ٣٧٦)
اقول، یہ بھی صحیح حدیثوں سے انکار ہے اور جب آفتاب مغرب سے طلوع کرے گا۔ توبہ کا دروازہ بند ہوگا۔ کافر اسلام لائے تو قبول نہیں۔ فاسق توبہ کرے تو قبول نہیں۔ ”قال الله تعالى يوم يأتى بعض ايت ربك لا ينفع نفسا ايمانها لم تكن أمنت من قبل“ اسلام پھیلنے کی اچھی برکت ہوئی کہ اسلام ہی قبول نہیں۔ پھر مرزا ہدایت عبث کرتا اور اپنی دعوت میں قرآن عظیم کا مخالف تھا۔ جب ایمان قبول ہی نہیں تو دعوت کس لئے۔ مرزا کا نبی بنانے والا بھی عجب احمق تھا کہ مردود چیز مانگنے کے لئے مرزا کو مقرر کیا۔
اعتقاد: ”کسی قبر میں سانپ اور بچھو دکھاؤ۔“
(ازالہ اوہام ص ٤١٥، خزائن ج ٣ ص ٣١٦)
اقول، اب عذاب قبر سے بھی انکار کر دیا۔ جب نہ دیکھے تھے اب تو ہر وقت انہیں سے پالا پڑتا ہوگا۔ جو چیز نظر نہ آئے اس پر ایمان نہ لانا ہی ملحد دہریہ کا شبہ ہے کہ خدا ہے تو دکھاؤ۔
اعتقاد:
بارہا چون سبزہ باروئیدہ ام
(ست بچن ص ٨٤، خزائن ج ١٠ ص ٢٠٨)
اب تناسخ کا بھی اعتقاد کر لیا جو ہنود اور کفار کا اعتقاد ہے اور کیوں نہ ہو کہ مرزا جی مہاراج کرشن اوتار بھی تو ہیں۔
اعتقاد: (الہام) ”ہم نے تم کو بخش چھوڑا ہے جو جی چاہے سو کر ۔“
(براہین احمدیہ ص ٥٦٠، خزائن ج ١ ص ٦٦٨)
اصل عبارت عربی یہ ہے۔ ”ما شئت فاني قد غفرت لك“
اعتقاد: ”(الہام) ہم نے تجھے کھلی کھلی فتح دی ہے۔ یعنی کھلی کھلی فتح دیں گے تا کہ تیرا خدا (حامی) تیرے اگلے پچھلے گناہ بخش دے۔“
(انجام آتھم ص ٥٧، خزائن ج ١١ ص ٣٣١)
خان سے مراد قحط عظیم و شدید ہے۔“ (ازالہ اوہام ص ٥١٣، خزائن ج ٣ ص ٣٧٥) سب مرزا کا یہ ہے کہ دخان جو صحیح حدیث میں وارد ہے۔ وہ کچھ نہ ہوگا۔ یہ صحیح
مغرب کی طرف سے آفتاب کا چڑھنا یہ معنی رکھتا ہے کہ ممالک مغربی پائیں گے اور ان کو اسلام سے حصہ ملے گا۔“
(ازالہ اوہام ص ٥١٥، خزائن ج ٣ ص ٣٧٦)
کی صحیح حدیثوں سے انکار ہے اور جب آفتاب مغرب سے طلوع کرے گا۔ کافر اسلام لائے تو قبول نہیں۔ فاسق توبہ کرے تو قبول نہیں۔ ”قال الله بعض ایت ربک لا ینفع نفسا ايمانها لم تكن أمنت من قبل“ رکت ہوئی کہ اسلام ہی قبول نہیں۔ پھر مرزا ہدایت عبث کرتا اور اپنی دعوت تھا۔ جب ایمان قبول ہی نہیں تو دعوت کس لئے۔ مرزا کا نبی بنانے والا بھی چیز مانگنے کے لئے مرزا کو مقرر کیا۔ کسی قبر میں سانپ اور بچھو دکھاؤ۔“ (ازالہ اوہام ص ٤١٥، خزائن ج ٣ ص ٣١٦) یہ عذاب قبر سے بھی انکار کر دیا۔ جب نہ دیکھے تھے اب تو ہر وقت انہیں سے ر نہ آئے اس پر ایمان نہ لانا ہی ملحد دہریہ کا شبہ ہے کہ خدا ہے تو دکھاؤ۔
بارہا چون سبزہ ہا روئیدہ ام
(ست بچن ص ٨٤، خزائن ج ١٠ ص ٢٠٨)
کا بھی اعتقاد کر لیا جو ہنود اور کفار کا اعتقاد ہے اور کیوں نہ ہو کہ مرزا جی تو ہیں۔ الہام) ”ہم نے تم کو بخش چھوڑا ہے جو جی چاہے سو کر۔“
(براہین احمدیہ ص ٥٦٠، خزائن ج ١ ص ٦٦٨)
ت عربی یہ ہے۔ ”ما شئت فانی قد غفرت لك“ (الہام) ہم نے تجھے کھلی کھلی فتح دی ہے۔ یعنی کھلم کھلی فتح دیں گے تاکہ تیرا گلے پچھلے گناہ بخش دے۔“ (انجام آتھم ص ٥٧، خزائن ج ١١ ص ٣٤١)
فقیر کہتا ہے کہ چونکہ مرزا کو حسب دلخواہ عمل کرنے کا حکم خدا سے ہو چکا ہے۔ اسی واسطے پیغمبروں کو گالیاں دیتا ہے اور آیات اور احادیث اور ضروریات دین سے انکار کرتا ہے۔ جب کہ پہلے ہی سے معافی کی دستاویز مل چکی ہے تو اب کس بات کا خوف رہا۔ البتہ یہ دستاویز دینے والا عاجی خدا ہوگا۔ ہاتھی دانت کا یا گوبر کا۔
اعتقاد: ”قوله ومن دخله كان آمنا“ ہم نے تیرے سینہ نہیں کھولا۔ ہم نے ہر ایک بات میں تیرے لئے آسانی نہیں کی کہ تجھ کو بیت الفکر اور بیت الذکر عطا کیا۔ بیت الفکر سے اس جگہ وہ چوبارہ مراد ہے جس میں یہ عاجز کتاب کی تالیف کے لئے مشغول رہا ہے اور رہتا ہے اور بیت الذکر سے مراد وہ مسجد ہے جو اس چوبارہ کے پہلو میں بنائی گئی ہے اور ”و من دخله كان آمنا“ اس مسجد کی صفت میں بیان فرمایا ہے۔“ (براہین احمدیہ ص ٥٥٩، خزائن ج ١ ص ٦٦٦)
اقول ”وعلی اعتقاد ذلك المهدى الضال المضل ابول“ یہ آیت شریفہ مسجد حرام بیت اللہ شریف کے حق میں وارد ہوئی ہے۔ یہاں تک کہ مسجد نبوی ﷺ اور مسجد بیت المقدس کے بارہ میں ایسا فرمان نہ آیا۔ مگر مرزا کی مسجد قادیان میں اس کے حق میں یہ فرمان وارد ہوا۔ مرزا کے خدا عاجی نے اس کے سارے گناہ بھی بخش دیئے جو اس کا جی چاہے وہی کرے اور پھر اس کی مسجد میں جو کوئی داخل ہوا وہ پروردگار کے عذاب سے امن میں ہوا۔ قادیان کو مکہ بنایا اور اپنی مسجد کو مسجد حرام اور بیت اللہ بنایا۔ پس اسی واسطے حج کو نہیں گیا۔ اب عرب کے ملک کو مشقت کر کے حج کی کیا ضرورت رہی۔ مرزا کے بھائی مرزا امام الدین اور لال بیگیان نے بھی قادیان میں چوہڑوں کا حج مقرر کیا تھا۔ دیکھو کتاب وید حق مؤلفہ مرزا امام الدین۔
اعتقاد: مرزا مسلمانوں کے دشمن جانی ہیں۔ قولہ ”جو شریر بد باطن نالائق نام کے مسلمان جمعہ کی نماز نہ پڑھیں گے وہ گورنمنٹ برٹش انڈیا کے باغی ہیں۔ ان کو سزا ملنی چاہئے۔“ دیکھو اشتہار جمعہ کی تعطیل کا مورخہ یکم جنوری ١٨٩٦ء، مجموعہ اشتہارات ج ٢ ص ٢٢٣، پس دیہاتی مسلمان جہاں نماز جمعہ نہیں پڑھی جاتی سب باغی ہوئے۔ نعوذ باللہ!
اعتقاد: مرزا اپنی کتابوں میں تصویریں بھی بناتا تھا۔ ”تصویر یسوع کی شکل پر مجسم بیٹا۔ تصویر کبوتر کی شکل پر مجسم روح القدس، تصویر آدم کی شکل پر مجسم باپ۔“
(انجام آتھم ص ٣٥، خزائن ج ١١ ص ٣٥)
(تین تصویریں کبوتر ، آدم ، یسوع کی بنائی ہیں) پس مرزا کا عمل احادیث صحیحہ کے
خلاف پر پایا گیا۔ کیا یہی مہدی ہے۔ نہیں، نہیں بلکہ صاف ضال مضل کاذب ہے اور یہ تین لئے تو نصاریٰ کے، باپ کیوں بدل لیا وہی اپنے گوبر والے کی تصویر دی ہوتی۔
اعتقاد: مرزا کا کوئی پیر و مرشد نہیں ہے۔ قولہ ”میرا کوئی والد روحانی نہیں ہے۔ کیا تم ثبوت دے سکتے ہو کہ تمہارے سلاسل اربعہ نقشبندی، قادری، چشتی، سہروردی میں سے کسی سلسلہ میں داخل ہے؟۔“
(ازالۃ اوہام ص ٦٥٨ تا ٦٦٠، خزائن ج ٣ ص ٤٥٦)
سچ ہے۔ ”من لم یکن له شیخ فشیخه الشیطان“ بے پیرے کا پیر شیطان۔
مرزا اپنے مریدوں سے چندہ یک مشت اور ماہوار وصول کر کے اپنے آرام کا مکان اور سامان تیار کرتا ہے۔ قولہ ”ہم کو مکان فراخ کرنے کا دوبارہ الہام ہوا ہے۔ جماعت مخلصین دو ہزار روپیہ جلد بہم پہنچائیں اور پہلے سے ثابت قدم ہو جائیں۔“ (دیکھو اشتہار مورخہ ١٧؍فروری ١٨٩٧ء، مجموعہ اشتہارات ج ٢ ص ٣٢٧) اللہ کے سچے رسولوں کو تو ہمیشہ یہ الہام ہوا کہ: ”ما اسئلکم علیه من اجر“ مگر شیطانی رسول کا یہی الہام چاہئے کہ لاتے جاؤ دھرتے جاؤ۔
مرزا پکا طالب دنیا اور عبدالدینار والدرہم تھا
قولہ ”مالی فتوحات آج تک پندرہ ہزار کے قریب فتوح غیب کا روپیہ آیا۔ جس کو شک ہو۔ ڈاک خانہ کی کتابیں دیکھ لے۔“
(ضمیمہ انجام آتھم ص ٢٨، خزائن ج ١١ ص ٣١٦)
”حاجی سیٹھ عبدالرحمٰن اللہ رکھا تاجر مدراس نے کئی ہزار روپیہ دیا۔“
(ضمیمہ انجام آتھم ص ٢٨، خزائن ج ١١ ص ٣١٨)
”شیخ رحمت اللہ صاحب دو ہزار سے زیادہ دے چکے ہیں۔ منشی رستم علی کوٹ انسپکٹر گورداس پور تیس روپیہ ماہوار دیتے ہیں۔ حیدرآباد کا مولوی سید مردان علی، مولوی سید ظہور علی، مولوی عبدالمجید دس دس روپیہ اپنی تنخواہ سے دیتا ہے۔ خلیفہ نورالدین صاحب چار ہزار روپیہ دے چکے ہیں۔“
(ضمیمہ انجام آتھم ص ٢٨، ٢٩، خزائن ج ١١ ص ٣١٢)
مرزا نے برائی اور حرام کی کمائی کے مال کے لئے درخواست کی تھی
مرزا کو معلوم ہوا کہ ”اللہ دتا نام ایک نقارچی گانے بجانے والا برے کاموں اور ناجائز پیشے سے تائب ہو کر موحد مسلمان ہو گیا اور اس کے پاس چند ہزار روپیہ حرام کی کمائی کا موجود تھا۔ جس کو وہ بوجہ پرہیزگاری کے صرف نہ کرتا تھا۔ مرزا نے یہ خبر فرحت اثر سن کر فوراً کہلا بھیجا کہ وہ روپیہ میرے پاس بھیج دو۔ ہم اشتہارات وغیرہ میں صرف کر دیں گے۔ جب اس نے علماء سے
فتویٰ پوچھا تو علماء نے منع کر دیا۔ اس (رسالہ تائید آسمانی تصنیف حضرت عیسیٰ علیہ السلام قبل روز قیامت کے تفسیر ابن کثیر ک نے فرمایا ہے کہ جب خداوند تعالیٰ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے مکان سر مبارک سے پانی کے قطرے ٹپک ہوئے اور فرمایا کہ بے شک تم میں بعد ازاں فرمایا کہ کون شخص ہے تم میں ہو اور میرے درجے میں میرے سا ہوں۔ یا رسول اللہ تو حضرت عیسیٰ عل لفظ کا اعادہ فرمایا۔ پھر وہی شخص کھڑا ہے۔ پھر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی کے ہر ایک چیز میں ہو گیا۔ باذن پر طرف اٹھائے گئے۔
بعد ازاں یہود کے جا مقتول اور مصلوب کیا۔ پھر بعض لو کے اور اس کے بعد تین فرقے ہو ایک فرقہ اس امر کا قائل تک اس نے چاہا پھر آسمان کی طر دوسرے فرقے نے ک کریم نے اپنی طرف اس کو اٹھا لیا
١؎ حواریوں میں اختل تھے۔ بعض نے کہا رنگ ساز، بعض ہو گئے۔ بعض نے کہا بادشاہ تھے والے، بعض ماہی گیر، بعض بادشاہ
فتویٰ پوچھا تو علماء نے منع کر دیا۔ اس سبب سے مرزا کا یہ شکار بھی خالی گیا۔“
(رسالہ تائید آسمانی تصنیف منشی محمد جعفر تھانیسری مطبوعہ اختر ہند پریس امرتسر ٢٣؍جولائی ١٨٩٢ء)
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا زندہ آسمان پر تشریف لے جانا اور اس کا ثبوت اور پھر اترنا قبل روز قیامت کے تفسیر ابن کثیر کی عبارت عربی کا مطلب بیان کرتا ہوں۔ حضرت ابن عباسؓ نے فرمایا ہے کہ جب خداوند تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے آسمان پر اٹھانے کا ارادہ کیا تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے مکان میں جو چشمہ تھا اس سے باہر نکل کر اس حال میں کہ آپ کے سر مبارک سے پانی کے قطرے ٹپک رہے تھے۔ اپنے بارہ (١٢) حواریوں ١؎ کے پاس تشریف فرما ہوئے اور فرمایا کہ بے شک تم میں سے ایک شخص مجھ پر ایمان لانے کے بعد بارہ مرتبہ کافر ہوگا۔ بعد ازاں فرمایا کہ کون شخص ہے تم میں سے جس پر میری شباہت ڈالی جائے اور وہ میری جگہ مقتول ہو اور میرے درجے میں میرے ساتھ رہے۔ پس ایک جوان شخص نے کھڑے ہو کر عرض کی کہ میں ہوں۔ یا رسول اللہ تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے اس کو فرمایا کہ تو بیٹھ جا اور آپ نے دوبارہ پھر اسی لفظ کا اعادہ فرمایا۔ پھر وہی شخص کھڑا ہوا۔ غرض چوتھی مرتبہ عیسیٰ علیہ السلام نے فرمایا کہ تو ہی وہ شخص ہے۔ پھر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی شباہت اس پر ڈالی گئی۔ یعنی بعینہ مثل حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے ہر ایک چیز میں ہو گیا۔ باذن پروردگار! اور عیسیٰ علیہ السلام مکان کے روشندان سے آسمان کی طرف اٹھائے گئے۔
بعد ازاں یہود کے جاسوس آئے اور اس شبیہ کو پکڑا اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام سمجھ کر مقتول اور مصلوب کیا۔ پھر بعض لوگ بارہ مرتبہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے پھر گئے۔ بعد ایمان کے اور اس کے بعد تین فرقے ہو گئے۔
ایک فرقہ اس امر کا قائل ہوا کہ عیسیٰ علیہ السلام ہمارے درمیان میں خدا ہو کر رہا۔ جب تک اس نے چاہا پھر آسمان کی طرف چڑھ گیا۔ اس فرقے کو یعقوبیہ کہتے ہیں۔
دوسرے فرقے نے کہا کہ خدا کا بیٹا تھا۔ جب تک اس نے چاہا ہم میں رہا۔ خداوند کریم نے اپنی طرف اس کو اٹھا لیا۔ اس گروہ کا نام نسطوریہ ہے۔
١؎ حواریوں میں اختلاف ہے کہ یہ کون لوگ تھے۔ بعض نے کہا مچھلی پکڑنے والے تھے۔ بعض نے کہا رنگ ساز ، بعض نے کہا اوّل میں اور قوم تھی بعد کو وہ لوگ کپڑے دھونے والے ہو گئے۔ بعض نے کہا بادشاہ تھے اور یہ بھی جائز ہے کہ بعض رنگریز ہوں۔ بعض کپڑے دھونے والے، بعض ماہی گیر، بعض بادشاہ۔ سب بارہ تھے یا تیرہ یا زائد۔
تیسرے ١؎ فرقے کا یہ مذہب تھا کہ خدا کا بندہ اور اس کا رسول ہمارے گروہ میں رہا۔ جب تک خداوند کریم نے چاہا پھر اللہ تعالیٰ نے اپنی طرف اٹھا لیا۔ اس گروہ کو مسلمان کہتے ہیں۔
پھر دونوں فرقے کافروں کے مسلمانوں کے فرقے پر غالب آئے اور قتل کر ڈالا۔ پھر اسلام معدوم رہا۔ یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت محمد مصطفےٰ ﷺ کو مبعوث فرمایا اور یہ اسناد صحیح ہے ابن عباسؓ کی طرف اور روایت کیا اس اثر کو نسائی نے ابی کریب سے انہوں نے ابی معاویہ سے مثل طریق مذکور کے اور اسی طرح ذکر کیا بہت علما سے متقدمین نے ، اور روایت کیا عبد بن حمید اور ابن مردویہ اور ابن جریر اور ابن المنذر نے حضرت مجاہد سے کہ یہود نے دار پر چڑھایا عیسیٰ علیہ السلام کی شبیہ کو ، اس حال میں کہ گمان کرتے تھے اس شبیہ کو حضرت عیسیٰ علیہ السلام، اور حالانکہ مسیح علیہ السلام کو پروردگار نے زندہ آسمان پر اٹھا لیا اور قتادہ تابعی شاگرد انسؓ سے بھی ایسا ہی روایت ہے کہ اللہ تعالیٰ کے دشمن یہود حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے قتل کرنے پر فخر کرتے تھے ۔ مگر ان کا گمان غلط ہے۔ کیونکہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام زندہ آسمان پر اٹھائے گئے اور ان کی شبیہ ایک شخص پر ڈالی گئی اور وہی قتل کیا گیا، اور روایت کیا ابن جریر نے سدی تابعی شاگرد ابن عباسؓ سے کہ فرمایا سدی نے کہ محاصرہ کیا یہود نے عیسیٰ علیہ السلام کا مع ان کے مددگاروں کے ایک مکان میں ۔ پس فرمایا عیسیٰ علیہ السلام نے اپنے اصحاب کو کہ تم میں سے کون قبول کرتا ہے صورت میری تاکہ قتل کیا جائے اور واسطے اس کے جنت ہو پس قبول کیا ایک نے ان میں سے اور اٹھائے گئے عیسیٰ علیہ السلام طرف آسمان کے، یہی ہے مضمون پروردگار کے قول کا ”ومکروا ومکر اللہ واللہ خیر الماکرین . واخرج ابن جریر عن ابی مالک ان من اهل الكتاب الا ليؤمنن به قبل موته . قال ذالك عند نزول عيسیٰ ابن مريم لا يبقى احد من اهل الكتاب الا آمن به“ اور اخراج کیا ابن جریر نے ابی مالک سے بیچ تفسیر قول باری تعالیٰ ”وان من اهل الكتاب“ کے فرمایا انہوں نے یہ بات نزدیک نزول عیسیٰ ابن مریم کے ہو گی۔ یعنی اس زمانے میں جو اہل کتاب ہو گا۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر ایمان لائے گا۔ قبل موت حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے، اور اخراج کیا عبد بن حمید اور ابن المنذر نے شہر بن حوشب سے کہ روایت ہے محمدؓ بن علیؓ بن ابی طالب سے آیت مذکورہ کی تفسیر میں کہ ہر ایک اہل کتاب کو ملائکہ منہ اور چوتڑ پر ماریں
١؎ بلکہ چار فرقے ہوئے تھے۔ یعقوبیہ نسطوریہ، ملکانیہ، الخ، ملکانیہ کا یہ مذہب تھا کہ خدا تین ہیں۔ اللہ تعالیٰ اور بی بی مریم اور عیسیٰ۔
(السبعیات الامام ابی نصر محمد بن عبدالرحمٰن الہمدانی ص ٣٩)
گے اور کہیں گے کہ تم جھوٹ بولے تھے کہ مسیح خدا ہے۔ بلکہ عیسیٰ علیہ السلام تو روح اللہ اور کلمتہ اللہ ہے۔ وہ فوت نہیں ہوئے اور اٹھائے گئے ہیں۔ آسمانوں پر پھر نازل ہوں گے۔ قیامت سے آگے پس کل اہل کتاب ایمان لائیں گے۔ ساتھ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے قبل موت عیسیٰ علیہ السلام کے، اور ابن جریر نے محمد بن حنفیہ یعنی محمد بن علی بن ابی طالب سے روایت کی ہے کہ قوم یہود ملعون باوجودیکہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے بڑے بڑے معجزے دیکھ چکے تھے اور پھر ان کی تکذیب اور مخالفت اور ایذا رسانی میں اس قدر کوشش کرتے تھے کہ عیسیٰ علیہ السلام کسی بستی میں یہود کے ہمراہ رہ نہیں سکتے تھے اور اپنی والدہ ماجدہ کو ہمراہ لے کر سیر کیا کرتے تھے۔ یہاں تک کہ بیت المقدس میں تشریف لے گئے۔ پس یہود ملعون نے وہاں کے کافر ستارہ پرست بادشاہ سے جا کر کہا کہ بیت المقدس میں ایک شخص فتنہ گر لوگوں کو گمراہ کرتا ہے۔ پس بادشاہ نے غصہ ہو کر اپنے نائب کو قدس میں لکھا کہ کوشش کر کے اس شخص کو پکڑ کر دار پر چڑھا دے اور اس کے سر پر کانٹا رکھ دے اور لوگوں کو اس کے ضرر سے بچالے۔ پس والی بیت المقدس یہود کی جماعت ہمراہ لے کر حضرت عیسیٰ علیہ السلام جس مکان میں تھے گیا اور عیسیٰ علیہ السلام کو مع ان کے اصحاب کے جو تعداد میں بارہ تھے یا تیرہ یا سترہ بند کر دیا۔ بعد عصر کے جمعہ کے روز سنیچر کی رات میں۔ پس عیسیٰ علیہ السلام جان چکے کہ یہود آ کر مجھ کو پکڑیں گے اور باہر نکالیں گے۔ پس اپنے حواریوں سے فرمایا کہ کون شخص تم میں سے قبول کرتا ہے کہ وہ میری صورت بن جائے اور میرے شبہے میں قتل کیا جائے اور جنت میں میرا رفیق ہو۔ پس قبول کیا اس بات کو ایک جوان نے مگر عیسیٰ علیہ السلام نے اس پر اعتبار نہ کیا۔ یہاں تک کہ تین بار عیسیٰ علیہ السلام نے وہی بات لوٹائی۔ پس وہی جوان قبول کرتا گیا۔ پس عیسیٰ علیہ السلام نے فرمایا کہ بے شک تم ہی ہو۔ پس پروردگار نے عیسیٰ علیہ السلام کی شباہت اس پر ڈال دی۔ جیسا کہ بعینہ عیسیٰ علیہ السلام ہی ہو گیا اور ایک روشندان چھت سے کھل گیا اور عیسیٰ علیہ السلام کو اونگھ آئی۔ یعنی مقدمہ نوم جو پوری نیند آنے سے پہلے آنکھیں نیم بند سی ہو کر بدن میں سستی آجایا کرتی ہے۔ پس اٹھائے گئے طرف آسمان کی اور یہی معنے ہیں باری تعالیٰ کے قول کے۔ ”یٰعیسیٰ انی متوفیک ورافعک الی“ ”اے عیسیٰ میں تجھ کو نیند لا کر اپنی طرف اٹھانے والا ہوں۔ پھر بعد کو وہ بند شدہ اصحاب عیسیٰ علیہ السلام کے نکلے۔ پس جب کہ یہود نے اس جوان کو دیکھا۔ عیسیٰ گمان کر کے پکڑ کر رات کو سولی دے دی۔ یعنی دار پر چڑھا دیا اور یہود نے مشہور کر دیا کہ ہم نے عیسیٰ علیہ السلام کو کوشش کر کے قتل کرا دیا اور نصاریٰ کے چند گروہ نے بسبب بے وقوفی
اور کم عقلی کے اس کو سند پکڑ لیا۔ سو ان چند آدمیوں کے جو مکان میں بند تھے اور انہوں نے عیسیٰ علیہ السلام کا چڑھ جانا مشاہدہ کیا تھا۔ لیکن باقی کے لوگ سب یہود کی طرف ظن اور گمان میں رہے کہ ہم نے عیسیٰ علیہ السلام کو قتل کر دیا۔ یہاں تک مشہور کر دیا کہ اس وقت عیسیٰ علیہ السلام کی والدہ بی بی مریم صاحبہ دار کے نیچے بیٹھی رو رہی تھیں اور مصلوب نے بی بی مریم صاحبہ کو پکارا بھی تھا اور یہ کل باری تعالیٰ کا امتحان تھا۔ ”وما قتلوہ وما صلبوہ ولکن شبہ لھم ای رأؤ شبھہ فظنو انه ایاہ ولھذا قال وان الذین ادعوا قتله من الیهود ومن سلمه الیهم من جھال النصارىٰ کلھم فى شک من ذلک وحیرة وضلال وسعر ولھذا قال وما قتلوہ یقینا اى وما قتلوہ متیقنین انه ھو بل شاکین متوھمین بل رفعہ اللہ الیه وکان اللہ عزیزا ای منیع الجناب لا یرام جنابہ ولا یضام من لاذ ببابه حکیما ای فى جمیع ما یقدرہ ویقضیہ“ ابن جریر نے کہا کہ حدیث پہنچی مجھ کو ابن بشار سے وہ لیتے ہیں عبدالرحمٰن سے وہ سفیان سے وہ ابی حصین سے وہ سعید بن جبیر سے وہ ابن عباس سے۔ اس بات کی کہ کوئی اہل کتاب باقی نہ رہے گا۔ مگر عیسیٰ علیہ السلام پر ایمان لائے گا۔ قبل موت عیسیٰ علیہ السلام کے، اور عوفی نے بھی ایسا ہی ابن عباس سے بیان کیا اور ایسا ہی بیان کیا ابو مالک نے۔ ابن جریر نے جو حدیث حسن سے روایت کی بواسطہ ابو رجاء اور ابن علیہ اور یعقوب کے اس میں اتنا زیادہ ہے۔ ”واللہ انہ لحی الان عنداللہ ولکن اذا نزل أمنوا بہ اجمعون“ یعنی قسم ہے پروردگار کی کہ وہ عیسیٰ علیہ السلام اب اس وقت زندہ ہیں۔ باری تعالیٰ کے پاس اور جب اتریں گے ان پر سب لوگ ایمان لائیں گے بدکار اور نیک، اور ایسا ہی ابن ابی حاتم نے اپنے باپ سے وہ علی بن عثمان لاحقی سے وہ جویریہ بن بشیر سے روایت کرتے ہیں۔ یہ جملہ حضرات اور سوا ان کے جس قدر ثقات مفسرین اور محققین ہیں۔ سب کے سب متفق ہیں کہ مرجع ضمیر مضاف الیہ کا جو قبل موتہ میں ہے۔ عیسیٰ علیہ السلام ہیں۔ الامن شذہ۔ (شمس الہدایہ) متواتر احادیث سے ثابت ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام آسمان سے زمین پر نزول فرمائیں گے۔ آخر زمانے میں قیامت سے آگے اور لوگوں کو پروردگار وحدہ لا شریک لہ کی عبادت کی طرف بلائیں گے۔ امام بخاری نے کتاب ذکر الانبیاء میں اپنی صحیح میں حضرت ابی ہریرہؓ سے روایت کی کہ فرمایا رسول اللہ ﷺ نے قسم ہے اس پروردگار کی مجھ کو جس کے ہاتھ میں میری جان ہے۔ البتہ قریب ہے کہ نازل ہوگا تمہارے اندر عیسیٰ ابن مریم حاکم اور عادل یکسر الصلیب (صلیب کو توڑے گا)
سوا ان چند آدمیوں کے جو مکان میں بند تھے اور انہوں نے عیسیٰ علیہ تھا۔ لیکن باقی کے لوگ سب یہود کی طرف ظن اور گمان میں رہے کہ ہم دیا۔ یہاں تک مشہور کر دیا کہ اس وقت عیسیٰ علیہ السلام کی والدہ بی بی رو رہی تھیں اور مصلوب نے بی بی مریم صاحبہ کو پکارا بھی تھا اور یہ کل ما قتلوه وما صلبوه ولكن شبه لهم اى راؤ شبيهه فظنو ا ان الذين ادعوا قتله من اليهود ومن سلمه اليهم من جهال ت من ذلك وحيرة وضلال وسعر ولهذا قال وما قتلوه متيقنين انه هو بل شاكين متوهمين بل رفعه الله اليه منبع الجناب لا يلام جنابه ولا يضام من لا ذببابه یقدرہ ويقضیہ“ ابن جریر نے کہا کہ حدیث پہنچی مجھ کو ابن بشار سے وہ سفیان سے وہ ابی حصین سے وہ سعید بن جبیر سے وہ ابن عباس کتاب باقی نہ رہے گا۔ مگر عیسیٰ علیہ السلام پر ایمان لائے گا، قبل موت نے بھی ایسا ہی ابن عباس سے بیان کیا اور ایسا ہی بیان کیا ابو مالک حسن سے روایت کی بواسطہ ابورجاء اور ابن علیہ اور یعقوب کے اس کہ لحى الان عند الله ولكن اذا نزل أمنوا به اجمعون“ عیسیٰ علیہ السلام اب اس وقت زندہ ہیں۔ باری تعالیٰ کے پاس اور سب ایمان لائیں گے بدکار اور نیک، اور ایسا ہی ابن ابی حاتم نے اپنے سے وہ جویریہ بن بشیر سے روایت کرتے ہیں۔ یہ جملہ حضرات اور مفسرین اور محققین ہیں۔ سب کے سب متفق ہیں کہ مرجع ضمیر مضاف علیہ السلام ہیں۔ الامن شذہ ۔ (شمس الہدایہ) متواتر احادیث سے علیہ السلام آسمان سے زمین پر نزول فرمائیں گے۔ آخر زمانے میں پروردگار وحدہ لاشریک لہ کی عبادت کی طرف بلائیں گے۔ امام مسلم نے اپنی صحیح میں حضرت ابی ہریرہؓ سے روایت کی کہ فرمایا رسول قسم ہے اس کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے۔ البتہ قریب ہے کہ ابن مریم حاکم اور عادل يكسر الصليب (صلیب کو توڑے گا)
”ويقتل الخنزير“ (خنزیر کو قتل کرے گا) ”ويضع الجزية“ (جزیہ موقوف کر دے گا۔ کسی سے سوائے اسلام کے جزیہ وغیرہ کچھ قبول نہ کرے گا) ”ويفيض المال حتى لا يقبله احد“ (اتنا مال لوگوں کو دیں گے یعنی ان کے زمانے میں اس قدر ترقی برکت اور دولت کی ہوگی کہ بہ سبب استغناء کے کوئی قبول نہ کرے گا۔ یہاں تک عبادت کا شوق ہوگا کہ ایک سجدہ کرنا اس وقت دنیا اور دنیا کے اسباب سے بہتر جانیں گے اور ہر ایک اہل کتاب عیسیٰ علیہ السلام پر قبل ان کی موت کے ان پر ایمان لائے گا اور عیسیٰ علیہ السلام ان پر روز قیامت گواہی دیں گے، اور ایسا ہی روایت کیا ہے۔ امام مسلم نے بھی اور امام احمدؒ نے بھی۔ ابی ہریرہؓ سے روایت کیا کہ فرمایا رسول اللہ ﷺ نے البتہ عیسیٰ ابن مریم علیہما السلام حج اور عمرہ کا احرام باندھیں گے۔ روحا کے وادی میں، وکذا رواہ مسلم اور امام احمد نے چند طریقوں سے بھی اس حدیث کو بیان کیا اور ایسا ہی امام مسلم اور ابوداؤد وغیرہ نے متعدد طریق سے اخراج کیا ہے اور امام مسلم نے ایک اور طریق سے ابی ہریرہؓ سے روایت کی حدیث لمبی ہے۔ اس کے آخر میں یہ ہے کہ لوگ نماز کی تیاری کرتے ہوں گے کہ عیسیٰ علیہ السلام نازل ہوں گے اور ان کو امام کریں گے۔ جب ان کو اللہ تعالیٰ کا دشمن دیکھے گا، نمک کی طرح پگھل جائے گا۔ یعنی اگر اس کو چھوڑیں گے تو نمک کی طرح پگھل جائے گا۔ مگر اس کو اپنے ہاتھ سے قتل کر کے اپنے نیزہ میں اس کا خون لوگوں کو دکھائیں گے۔ تفسیر کبیر میں ہے ۔ ”ويكلم الناس في المهد وكهلا ومن الصالحين“ کے متعلق امام حسین بن فضل بجلی نے کہا کہ کہل ہوگا بعد اترنے کے آسمان سے اور اس وقت لوگوں سے کلام کرے گا اور دجال کو مارے گا اور اس آیت میں نص ہے۔ اس بات پر کہ عیسیٰ علیہ السلام قریب ہے کہ نازل ہوں گے۔ طرف زمین کی۔
اب صرف دو تین حدیثیں عربی زبان میں بھی واسطے تسکین ناظرین کے نقل کئے دیتا ہوں۔ ”قال الامام احمد اخبرنا عبدالرزاق اخبرنا معمر عن الزهری عن عبدالله بن ثعلبة الانصاري عن عبدالله بن زيد الانصارى عن مجمع بن
١؎ ”فان قلت وضع الجزية مشروع في هذا الامة فلم لا يكون المعنى تقرر الجزية على الكفار من غير محاباة فلذلك يكثر المال قلنا مشروعية الجزية مقيدة بنزول عيسىٰ وقد قلنا ان عيسىٰ لا يقبل الا الاسلام وقال ابن بطال وانما قبلناها قبل نزول عيسىٰ للحاجة الى المال وفي زمانه يكثر المال حتى لا يقبله احد (عینی بخاری ج ٧ ص ٤٥٢)“
جارية قال سمعت رسول الله ﷺ يقول يقتل ابن مريم المسيح الدجال بباب لد اوالى جانب لد“
اور ابو ہریرہؓ کی حدیث میں ہے کہ جب دجال احد پہاڑ کے پیچھے آئے گا تو فرشتے اس کا منہ ملک شام کی طرف لوٹا دیں گے اور وہاں جا کر ہلاک ہوگا۔ چونکہ باب لد بھی ملک شام ہی میں ہے۔ لہٰذا دونوں روایتوں میں مطابقت ہو گئی۔ ” ورواہ احمد ایضا عن سفیان بن عيينة من حديث الليث والاوزاعى ثلاثتهم عن الزهرى عن عبدالله بن عبيد الله بن ثعلبة عن عبدالرحمن بن يزيد عن عمه مجمع بن جارية عن رسول الله ﷺ قال يقتل ابن مريم الدجال بباب لد. وكذا رواه الترمذي عن قتيبة عن ليث به وقال هذا حديث صحيح قال وفى الباب عن عمران بن حصين ونافع بن عتبة وابى برزة وحذيفة بن اسيد وابى هريرة وكيسان وعثمان بن ابى العاص وجابر وابى امامة وابن مسعود وعبدالله ابن عمر وسمرة ابن جندب والنواس بن سمعان وعمرو بن عوف وحذيفة بن اليمان ومراده برواية هولاء ما فيه ذكر الدجال وقتل عيسى بن مريم عليه السلام له ٠ فاما احاديث ذكر الدجال فقط فكثيرة وهى اكثر من ان تحصى لا نتشارها وكثرة روايتها فى الصحاح والحسان والمسانيد وغير ذلك حديث اخر قال الامام احمد حدثنا سفيان عن فرات عن ابى الطفيل عن حذيفة بن اسيد الغفارى قال اشرف علينا رسول الله ﷺ من غرفة ونحن نتذاكر الساعة فقال لا تقوم الساعة حتى تروا عشر ايات طلوع الشمس من مغربها والدخان والدابة وخروج ياجوج وماجوج ونزول عيسى بن مريم والدجال وثلثة خسوف خسف بالمشرق وخسف بالمغرب وخسف بجزيرة العرب ونار تخرج من قعر عدن تسوق او تحشر الناس تبيت معهم حيث باتوا وتقبل معهم حيث قالوا ٠ وهكذا رواه مسلم واهل السنن من حديث الفزارى به ورواه مسلم ايضا من رواية عبدالعزيز بن رفيع عن ابى الطفيل عن ابي شريحة عن حذيفة بن اسيد الغفارى موقوفا والله اعلم“
” فهذه احاديث متواتره عن رسول الله ﷺ من رواية ابى هريرة وابن مسعود عثمان بن ابى العاص وابى امامة والنواس بن سمعان
وعبدالله بن عمرو بن العاص ومجمع بن جارية وابي شريحة وحذيفة بن اسيد وفيها بيان صفة نزوله ومكانه انه بالشام بل بدمشق عند المنارة الشرقية وان ذلك يكون عند اقامة صلاة الصبح وقد بنيت فى هذه الاعصار فى سنة احدى واربعين وسبعمائة منارة للجامع الاموى بيضاء من حجارة منحوتة عوضا عن المنارة التى هدمت بسبب الحريق المنسوب الى صنيع النصارى وكان اكثر عماراتها من اموالهم وقويت الظنون انها هى التى ينزل عليها المسيح ابن مريم عليهما السلام فيقتل الخنزير ويكسر الصليب ويضع الجزية فلا يقبل الا الاسلام كما تقدم فى الصحيحين وغيرهما وهذا من اخبار النبى ﷺ بذلك وتشريع وتسويغ له على ذلك فى هذا الزمان حيث تنزاح عللهم وترتفع شبهتهم من انفسهم ولهذا كلهم يدخلون فى دين الاسلام متابعين بعيسى عليه السلام وعلى يديه ولهذا قال تعالى وان من اهل الكتاب الا ليؤمنن به قبل موته وهذه الاية كقوله تعالى وانه لعلم للساعة وقرئ لعلم بالتحريك اى امارة ودليل على اقتراب الساعة وذلك لانه ينزل بعد خروج المسيح الدجال فيقتله الله على يديه كما ثبت فى الصحيح ان الله لم يخلق داء الا انزل له شفاء ويبعث الله فى ايامه ياجوج وماجوج فيهلكهم الله تعالى ببركة دعائه وقد قال تعالى حتى اذا فتحت ياجوج وماجوج وهم من كل حدب ينسلون واقترب الوعد الحق الاية“ یہ احادیث متواترہ ہیں۔ رسول اللہ ﷺ سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نازل ہونے کی تعریف اور صفت میں اور اس بات پر کہ عیسیٰ علیہ السلام کے اترنے کی جگہ ملک شام ہے۔ بلکہ دمشق شہر میں مشرقی منارہ سے بوقت قائم ہونے نماز صبح کے، اور اب جو منارہ ہے یہ اس وقت کا نہیں ہے۔ بلکہ اس وقت کے موجودہ منارہ کو نصاریٰ نے جلا دیا تھا۔ بسبب آگ لگا دینے کے کہ اس منارہ سے عیسیٰ علیہ السلام نازل ہو کر خنزیر کو قتل کریں گے اور صلیب کو توڑیں گے اور کفار نصاریٰ اور یہود وغیرہم سے جزیہ نہ قبول کریں گے۔ سوائے اسلام کے پس اس منارہ کے عوض میں جامع اموی میں ٧٤١ھ میں سفید پتھر چھیل کر ایک اور منارہ قائم کیا گیا۔
حاصل اس عبارت عربی کا بطریق اختصار اور نیز پہلے مضمون احادیث کا جو اردو میں بیان ہوا یہ ہے کہ قتل کرنا اور سولی دینا عیسیٰ علیہ السلام کا ہرگز نہیں ہوا۔ جیسا کہ زعم یہود اور اکثر
نصاریٰ کا تھا۔ بلکہ اس حواری نوجوان کا جس پر شباہت مسیح علیہ السلام کی ڈالی گئی تھی اور عیسیٰ علیہ السلام زندہ آسمان پر اٹھائے گئے اور دونوں ضمیریں بہ اور موتہ کی عیسیٰ علیہ السلام کی طرف ہیں۔
”وان من اهل الكتاب“ میں کیونکہ ماقبل میں ذکر عیسیٰ علیہ السلام ہی کا ہے اور آثار صحابہ و تابعین مثل ابن عباس و ابی ہریرہ و عبداللہ بن مسعود و مجاہد و قتادہ و غیرہم کے اسی پر دال بالکمال ہیں اور ضمیر بہ کی محمدﷺ یا عیسیٰ علیہ السلام کی طرف پھیرنی اور موتہ کی اہل کتاب کی طرف اگرچہ یہ احتمال واقع میں درست ہے۔ کیونکہ اس وقت یعنی نزول عیسیٰ علیہ السلام کے وقت جو کافر موجود ہوگا۔ اہل کتاب وغیرہ قبل اپنی موت کے حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر ایمان لائے گا اور ان پر ایمان لانا بعینہ ایمان لانا ہے محمدﷺ پر، لیکن آیت مذکورہ سے اس مقام میں یہ مراد نہیں اور عیسیٰ علیہ السلام اتریں گے آسمان سے قبل قیامت کے، حاکم عادل توڑیں گے صلیب کو یعنی دین اسلام کے سوا اور دینوں کو باطل کریں گے۔ قتل کریں گے خنزیر کو یعنی حکم قتل کا دیں گے تا کہ کوئی اہل کتاب بعد ایمان کے بوجہ میلان اور عادت قدیمہ کے ان خنازیر کی طرف دل میں رغبت تک بھی نہ کر سکے لقمع مادة الخنزیر ، صبح کی نماز کی اقامت ہوتی ہوگی کہ دمشق کے منارہ شرقی سے اتریں گے اور نصاریٰ نے اس منارہ کو گرا دیا تھا۔ پھر ٧٤١ھ میں دوسرا سفید منارہ اس جگہ بنایا گیا ہے۔ اہل کتاب سے سوائے دین اسلام کے اور کچھ قبول نہ کریں گے۔ مال اس قدر ہوگا کہ کوئی قبول نہ کرے گا۔ لذت عبادت کی ایسی ہوگی کہ ایک سجدہ کل دنیا سے زیادہ لذیذ ہوگا۔ حسد، بغض، عداوت، دیگر صفات ذمیمہ نہ رہیں گے۔ شیر، اونٹ، چیتا، گائے، بھیڑیا، بکری، سانپ، لڑکے ایک دوسرے کے ساتھ چریں گے اور کھیلیں گے اور ایک دوسرے کو ضرر نہ دیں گے۔ عیسیٰ علیہ السلام حج وعمرہ ادا کریں گے۔ حضرت مسیح سے قبل دجال کے زمانے میں سخت قحط سالی ہوگی۔ اس زمانے میں طعام کی جگہ تہلیل، تکبیر، تسبیح سے حیات بسر کریں گے۔ جب آسمان سے نازل ہوں گے قتل کریں گے دجال کو جو ایک شخص معین ہے اور ہلاک ہوگی قوم یاجوج ماجوج ان کی برکت سے۔ حیوۃ الحیوان میں بھی ابوداؤد سے اس مضمون کی حدیث کو نقل کیا ہے اور اس میں تصریح ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام بطرف زمین کے نازل ہوں گے۔ پس اس سے لزوماً معلوم ہو گیا کہ آسمان سے بطرف زمین کے نازل ہوں گے۔ ورنہ الیٰ الارض کا لفظ بے معنی ہو جاتا ہے۔
”ونصه هذا وفي سنن ابی داؤد من حديث عبدالرحمن بن آدم وليس له عنده سواه عن ابى هريرة ان النبىﷺ قال ينزل عيسى بن مريم عليه الصلاة والسلام الى الارض وكأن رأسه يقطر ولم يصبه بلل (الى ان
) ثم يبقى في الارض ار طفونه، ج ١ ص ٢“
” واخرج البخاري ف ، يدفن عيسى بن مريم عليه ذه رابعا “ اخراج کیا امام بخاری داللہ بن سلام نے ، دفن کئے جائیں۔ بھی ہوگی قبر ان کی چوتھی اور ایسا ہی روای
” عن عائشة قالت ستاذن لى ان ادفن الى جنبك قبرى وقبر ابى بكر وعمر و آنحضرتﷺ کی خدمت مبارک میں ہوں گی۔ اگر اجازت ہو تو میں آپ دے سکتا ہوں میں، یہ جگہ میرے پاس
اور روایت کیا ابن جوزی نے اپنی کتا رسول کریمﷺ نے اتریں گے عیسیٰ بـ ہوں گے جب فوت ہوں گے مدفون ایک قبر سے (یعنی ایک مقبرے سے) کے اترنے میں زمین پر۔
جواب:
- .......١ یہود کا رد کرنا
قتل کیا اور سولی دیا ہے۔ پس جب خود
- .......٢ ان کی موت
ہوں گے۔ کیونکہ مٹی کی پیدائش کو مٹی م
- .......٣ جب رسول ا
پروردگار ان کو حضرتﷺ کی امت باقی رکھا۔ یہاں تک کہ آخر زمانے
قال) ثم يبقى فى الارض اربعين سنة ثم يموت ويصلى عليه المسلمون ويدفنونه، ج ١ ص ٢‘‘
”واخرج البخاری فی تاريخه والطبراني عن عبدالله بن سلام قال يدفن عيسى بن مريم عليه السلام مع رسول الله ﷺ وصاحبيه فيكون قبره رابعا‘‘ اخراج کیا امام بخاری نے اپنی تاریخ میں اور طبرانی نے عبداللہ بن سلام سے فرمایا عبداللہ بن سلام نے ، دفن کئے جائیں گے عیسیٰ بن مریم علیہا السلام ساتھ محمد ﷺ اور صاحبین کے۔ پس ہوگی قبر ان کی چوتھی اور ایسا ہی روایت کیا ہے ترمذی نے بھی۔
”عن عائشة قالت قلت يا رسول الله انى ارى انى اعيش بعدك فتاذن لى ان ادفن الى جنبك قال وانى لى بذلك الموضع ما فيه الا موضع قبری وقبر ابی بكر وعمر وعيسى بن مريم“ فرمایا حضرت عائشہؓ نے کہ میں نے آنحضرت ﷺ کی خدمت مبارک میں عرض کی کہ مجھے معلوم ہوتا ہے کہ میں آپ کے بعد زندہ رہوں گی۔ اگر اجازت ہو تو میں آپ کے پاس مدفون ہوں۔ فرمایا آنحضرت ﷺ نے کہ کیسے دے سکتا ہوں میں، یہ جگہ میرے پاس تو ابوبکر اور عمر اور عیسیٰ علیہ السلام کی قبر کے سوا اور جگہ نہیں ہے اور روایت کیا ابن جوزی نے اپنی کتاب وفاء کے اندر عبداللہ بن عمرؓ سے کہا انہوں نے کہ فرمایا رسول کریم ﷺ نے اتریں گے عیسیٰ بن مریم آسمان سے۔ پس نکاح کریں گے اور صاحب ولد ہوں گے جب فوت ہوں گے مدفون ہوں گے۔ ساتھ میرے پس کھڑے ہوں گے ہم دونوں ایک قبر سے (یعنی ایک مقبرے سے) درمیان ابوبکر اور عمر کے، سوال کیا حکمت ہے عیسیٰ علیہ السلام کے اترنے میں زمین پر۔
جواب:
- ١....... یہود کا رد کرنا منظور ہے کہ وہ یہ گمان کرتے ہیں کہ ہم نے عیسیٰ علیہ السلام کو
قتل کیا اور سولی دیا ہے۔ پس جب خود آ کر یہود کو قتل کریں گے تو ان کی تکذیب ہوگی۔
- ٢....... ان کی موت کا زمانہ قریب ہوگا تا کہ زمین پر فوت ہو کر زمین میں دفن
ہوں گے۔ کیونکہ مٹی کی پیدائش کو مٹی میں دفن ہونا چاہئے۔
- ٣....... جب رسول اللہ ﷺ کی صفت عیسیٰ علیہ السلام نے دیکھی تو دعاء کی تھی کہ
پروردگار ان کو حضرت ﷺ کی امت سے کرے۔ پس دعاء ان کی اللہ تعالیٰ نے قبول کی اور ان کو باقی رکھا۔ یہاں تک کہ آخر زمانے میں نازل ہوں گے اور اسلام کو تازہ کریں گے۔ جو کہ سست
ہو چکا ہوگا اور وہ وقت خروج دجال کا بھی ہوگا۔ پس اس کو قتل کریں گے۔
- ٤....... عیسیٰ علیہ السلام کی خصوصیت ہے ان چند باتوں سے۔ کیونکہ حضرتﷺ
نے فرمایا ہے کہ: ”انا اولی الناس بابن مریم لیس بینی وبینہ نبی وھو اقرب الیہ من غیرہ (عینی بخاری ج٧)“ اور روایت کیا امام ترمذی نے بعض اس حدیث کا ”وقد بقی فی البیت موضع قبر“ یعنی قبر مبارک کے پاس جگہ خالی ہے۔ واسطے عیسیٰ علیہ السلام کے، محقق ابن جزری فرماتے ہیں کہ پاس عمر کے دفن ہوں گے۔ کیونکہ خبر دی ہم کو بہتیروں نے حجرہ شریف کے اندر جانے والوں میں سے کہ خالی جگہ عمرؓ کے جنب (پہلو) میں ہے۔ روایات دربارۂ مرفوع ہونے جسم مع کے اور احادیث نزول عیسیٰ علیہ السلام سوا ان کے جو بیان کر چکا ہوں اور بھی بکثرت موجود ہیں۔ جس کا جی چاہے تفسیر ابن کثیر اور تفسیر درمنثور اور تفسیر ابن جریر کو ملاحظہ فرمائے۔ اگر ان سے بھی اطمینان نہ ہو تو کنز العمال و مسند امام احمد وغیرہ کتب احادیث کو مطالعہ کرے۔ مگر مؤمن منصف کے لئے تو اس قدر بس ہیں۔ ان روایات متکاثرہ اور احادیث متواترہ سے نزول مسیح کا جو مستلزم ہے رفع کو سب میں اتفاقی ہے۔ زیادہ بیان ہونا افعال اور صفات کا بعض حدیثوں میں زیادہ اور بعضوں میں کم وجہ اس کی یہ ہے کہ جس قدر اوصاف بذریعہ وحی نبیﷺ کو معلوم ہوئے۔ ان کو بیان فرمایا سامع نے ان کو یاد رکھا پھر جب اور معلوم ہوئے ان کو پھر بیان فرمایا: ”علی ھٰذا القیاس وما ینطق عن الھویٰ ان ھو الا وحی یوحٰی“ یہی وجہ ہے کہ بعض روایات بعض سے صفات اور افعال کے بیان میں کم وبیش ہوا کرتی ہیں۔ اب میں ایک حدیث شیخ اکبر کی بیان کرتا ہوں۔ جن کی جلالت شان اور تبحر فی الکشف اور غوثیت اور صدق کو خود مرزا بھی مانتا ہے اور ان سے بعض مواضع میں نقل بھی کیا ہے۔ مرزا انہیں کی عبارت پر ایمان لائے۔ اس حدیث میں بھی تاویل بہ مثیل عیسیٰ ممکن نہیں۔ جیسا کہ گذشتہ احادیث و روایات میں خود حضرت عیسیٰ علیہ السلام ہی مراد تھے۔ نہ مثیل ان کا ”قال الشیخ الاکبر قدس سرہ الاطھر فی الباب السادس والثلثین من الفتوحات بعد سوق الاسناد مرفوعا عن ابن عمر قال کتب عمر بن الخطاب الیٰ سعد بن ابی وقاص وھو بالقادسیۃ ان وجہ نضلۃ بن معاویۃ الانصاری الیٰ حلوان العراق فلیغر علی نواجھا فوجہ مع جماعۃ فاصابوا غنیمۃ وسبیا وانقلبوا یسوقون الغنیمۃ والسبی حتٰی زھقت بھم العصر وقادت الشمس تغرب فالجاء نضلۃ السبی والغنیمۃ الیٰ سفح الجبل ثم قال فاذن فقال ال کبرت کبیرا یا نضلۃ ثم قال اشھد ا یا نضلۃ ثم قال اشھد ان محمد عیسی بن مریم وانہ علیٰ رأس ام فقال طوبی لمن مشی الیھا وواف افلح من اجاب محمدﷺ وھو ا کبرت کبیرا ثم قال لا الہ الا اللہ قال جسدک علیٰ النار قال فلما فرغ من ا انت ام ساکن من الجن ام من عبا وفد اللہ ووفد رسول اللہﷺ ووف شخص ھامتہ کالرحی ابیض الر السلام علیکم رحمۃ اللہ وبرکاتہ من انت یرحمک اللہ فقال انا زریب مریم اسکننی بھٰذا الجبل ودعالی الخنزیر ویکسر الصلیب ویتبر اللہﷺ قلنا قبض فبکی بکاء ش فمن قام فیکم بعدہ قلنا ابوبکر بعدہ قلنا عمر قال اذن فاتنی لقا الہ یا عمر سددو قارب فقد دنا الام وقولوا لابا عمر ....... ھذہ الخصال الرجال بالرجال والنساء بالنس غیر موالیھم ولم یرحم کبیرھم الامر بالمعروف فلم یؤمر بہ وترک العلم لیجلب بہ الدنانیر و نقضوا المصاحف وزخرف واتبعوا الھوی وباعوا الدین با
وقت خروج دجال کا بھی ہوگا۔ پس اس کو قتل کریں گے۔ عیسیٰ علیہ السلام کی خصوصیت ہے ان چند باتوں سے۔ کیونکہ حضرت ﷺ 'انا اولى الناس بابن مريم ليس بينى وبينه نبى وهو اقرب
(عینی بخاری ج٧) "
امیت کیا امام ترمذی نے بعض اس حدیث کا ”وقد بقى فى البيت موضع رک کے پاس جگہ خالی ہے۔ واسطے عیسیٰ علیہ السلام کے، محقق ابن جزری فرماتے کے دفن ہوں گے۔ کیونکہ خبر دی ہم کو بہتیروں نے حجرہ شریف کے اندر جانے خالی جگہ عمرؓ کے جب ( پہلو ) میں ہے۔ روایات دربارۂ مرفوع ہونے جسم مسیح ول عیسیٰ علیہ السلام سوا ان کے جو بیان کر چکا ہوں اور بھی بکثرت موجود ہیں۔ سیر ابن کثیر اور تفسیر درمنثور اور تفسیر ابن جریر کو ملاحظہ فرمائے۔ اگر ان سے بھی العمال و مسند امام احمد وغیرہ کتب احادیث کو مطالعہ کرے۔ مگر مومن منصف بس ہیں۔ ان روایات متکاثرہ اور احادیث متواترہ سے نزول مسیح کا جو مستلزم اتفاقی ہے۔ زیادہ بیان ہونا افعال اور صفات کا بعض حدیثوں میں زیادہ اور س کی یہ ہے کہ جس قدر اوصاف بذریعہ وحی نبی ﷺ کو معلوم ہوئے۔ ان کو ان کو یاد رکھا پھر جب اور معلوم ہوئے ان کو پھر بیان فرمایا: ”على هذا نطق عن الهوى ان هو الا وحى يوحى “ یہی وجہ ہے کہ بعض روایات افعال کے بیان میں کم و بیش ہوا کرتی ہیں۔ اب میں ایک حدیث شیخ اکبر کی لی جلالت شان اور تبحر فی الکشف اور غوثیت اور صدق کو خود مرزا بھی مانتا ہے مع میں نقل بھی کیا ہے۔ مرزا انہیں کی عبارت پر ایمان لائے۔ اس حدیث عیسیٰ ممکن نہیں۔ جیسا کہ گذشتہ احادیث و روایات میں خود حضرت عیسیٰ علیہ مثل ان کا ”قال الشيخ الاكبر قدس سره الاطهر فى الباب ن من الفتوحات بعد سوق الاسناد مرفوعا عن ابن عمر الخطاب الى سعد بن ابى وقاص وهو بالقادسية ان وجه ة الانصارى الى حلوان العراق فليغر على نواحها فوجه مع وا غنيمة وسبيا وانقلبوا يسوقون الغنيمة والسبى حتى سر وقادت الشمس تغرب فالجاء نضلة السبى والغنيمة الى
سفح الجبل ثم قال فاذن فقال الله اكبر الله اكبر فقال مجيب من الجبل كبرت كبيرا يا نضلة ثم قال اشهد ان لا اله الا الله فقال هى كلمة الاخلاص يا نضلة ثم قال اشهد ان محمد رسول الله فقال هذا هو الذى بشر نابه عيسى بن مريم وانه على رأس امته تقوم الساعة ثم قال حى على الصلاة فقال طوبى لمن مشى اليها وواظب عليها ثم قال حى على الفلاح قال قد افلح من اجاب محمد ﷺ وهو البقاء لامته ثم قال الله اكبر الله اكبر قال كبرت كبير اثم قال لا اله الا الله قال لله اخلصت الاخلاص يا نضلة حرم الله جسدك على النار قال فلما فرغ من اذا نه قمنا فقلنا من انت يرحمك الله ملك انت ام ساكن من الجن ام من عباد الله اسمعتنا صوتك فارنا شخصك فانا وفد الله ووفد رسول الله ﷺ ووفد عمر بن الخطاب قال فانفلق الجبل عن شخص هامته كالرحى ابيض الراس واللحية عليه طمران من صوف فقال السلام عليكم ورحمة الله وبركاته فقلنا وعليك السلام ورحمة الله وبركاته من انت يرحمك الله فقال انازريب بن برتملا وصى العبد الصالح عيسى بن مريم اسكننى بهذا الجبل ودعالى بطول البقاء الى نزوله من السماء فيقتل الخنزير ويكسر الصليب ويتبرأ مما تحلته النصارى ثم قال ما فعل نبى الله ﷺ قلنا قبض فبكى بكاءً طويلا حتى خضبت لحية بالدموع ثم قال فمن قام فيكم بعده قلنا ابوبكر قال مافعل به قلنا قبض قال فمن قام فيكم بعده قلنا عمر قال اذن فاتنى لقاء محمد ﷺ فاقرء واعمر منى السلام وقولو اله يا عمر سددوقارب فقد نا الامر واخبروه بهذه الخصال التى اخبركم بها وقولوايا عمر ...... هذه الخصال فى امة محمد ﷺ فالهرب الهرب اذا اسمنى الرجال بالرجال والنساء بالنساء وانتسبوا فى غيرمناسبهم وانتهوا انى غير مواليهم ولم يرحم كبيرهم صغيرهم ولم يؤقرصغيرهم كبيرهم وترك الامر بالمعروف فلم يؤمر به وترك النهى عن المنكر فلم ينه عنه وتعلم عالمهم العلم لينجلب به الدنانير والدراهم وكان المطرقيظا وطولوا المنابرو فضضوا المصاحف وزخرفوا المساجد واظهر والرشـى وشيد والبناء واتبعوا الهوى وباعواالدين بالدنيا واستسقحوا الدماء وانقطعت الارحام
وبيع الحكم واكل الربا وصار التسلط فخرا والغنى غرا وخرج الرجل من بيته وقام اليه من هو خير منه وركبت النساء السروج قال ثم غاب عنا فكتب بذلك نضلة الى سعد وكتب سعد الى عمر فكتب عمر اليه اذهب انت ومن معك من المهاجرين والانصار حتى تنزل بهذا الجبل فاذا لقيته فاقرأه منى السلام فان رسول الله ﷺ قال ان بعض اوصياء عيسى بن مريم نزل بهذا الجبل بناحية العراق فنزل سعد فى اربعة آلاف من المهاجرين والانصار حتى نزل بالجبل وبقى اربعين يوما ينادى بالاذان فى وقت كل صلاة فلم يجده“
فرمایا ابن عمرؓ نے کہ میرے والد عمر بن الخطابؓ نے سعد بن ابی وقاصؓ کو لکھا کہ نضلہ انصاری کو حلوان عراق کی جانب روانہ کرو تاکہ اس کے گرد و نواح میں۔ پس روانہ کیا سعد نے نضلہ انصاری کو جماعت مجاہدین کے ساتھ۔ پس ان لوگوں نے وہاں پہنچ کر بہت سا مال غنیمت کا حاصل کیا اور آدمیوں کو قید کیا اور ان سب کو لے کر واپس ہوئے تو آفتاب غروب ہونے کے قریب تھا۔ پس نضلہ انصاری نے گھبرا کر ان سب کو پہاڑ کے کنارے ٹھہرایا اور خود کھڑے ہو کر اذان دینی شروع کی جب اللہ اکبر اللہ اکبر کہا تو پہاڑ کے اندر سے ایک مجیب نے جواب دیا کہ اے نضلہ تو نے عظمت والے کی بڑائی کی پھر نضلہ نے ”اشهد ان لا اله الا الله“ کہا تو اسی مجیب نے جواب میں کہا کہ اے نضلہ یہ اخلاص کا کلمہ ہے اور جس وقت نضلہ نے ”اشهد ان محمد رسول الله“ کہا تو اسی شخص نے جواب دیا کہ یہ نام پاک اس ذات کا ہے جس کی بشارت عیسیٰ بن مریم نے ہم کو دی تھی اور یہ بھی فرمایا تھا کہ اس نبی کی امت کے اخیر میں قیامت قائم ہو گی۔ پھر نضلہ نے ”حی علیٰ الصلاة“ کہا تو اس نے جواب دیا کہ خوشخبری ہے اس شخص کے لئے جس نے ہمیشہ نماز ادا کی۔ پھر جس وقت نضلہ نے ”حی علیٰ الفلاح“ کہا تو مجیب نے جواب دیا کہ جس شخص نے محمد ﷺ کی اطاعت کی اس شخص نے نجات پائی۔ پھر جب نضلہ نے ”الله اكبر الله اكبر“ کہا تو وہی پہلا جواب مجیب نے دیا جب نضلہ نے ”لا اله الا الله“ پر اذان ختم کی تو مجیب نے فرمایا تم نے اخلاص کو پورا کیا۔ تمہارے بدن کو خداوند کریم نے آگ پر حرام کیا۔ جب اذان سے نضلہ فارغ ہوئے تو صحابہ کرامؓ نے کھڑے ہو کر دریافت کرنا شروع کیا کہ اے صاحب آپ کون ہیں۔ فرشتہ یا جن یا انسان۔ جیسے آواز اپنی ہم کو آپ نے سنائی ہے اسی طرح اپنے آپ کو دکھائے۔ اس واسطے کہ ہم خدا پاک اور رسول اللہ اور عمر بن الخطاب کی جماعت ہیں۔ پس پہاڑ
پھٹا اور ایک شخص باہر نکلا۔ جس کا سر مبارک بہت بڑا چکی کے برابر تھا اور سر اور داڑھی کے بال سفید تھے اور ان پر دو پرانے کپڑے صوف کے تھے اور السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ کہا۔ صحابہ نے وعلیک السلام ورحمۃ اللہ کہہ کر دریافت کیا کہ آپ کون ہیں۔ فرمایا کہ میں زریب بن برتملا وصی عیسیٰ بن مریم ہوں۔ مجھ کو عیسیٰ علیہ السلام نے اس پہاڑ میں ٹھہرایا ہے اور اپنے نزول من السماء تک میری درازی عمر کے لئے دعا فرمائی۔ جب وہ اتریں گے تو خنزیر کو قتل کریں گے اور صلیب کو توڑیں گے اور بیزار ہوں گے نصاریٰ کے اختراع سے، پھر دریافت کیا کہ وہ نبی صادق ﷺ بالفعل کس حال میں ہیں۔ ہم نے عرض کی کہ آپ کا وصال ہو گیا۔ اس وقت بہت روئے۔ یہاں تک کہ آنسوؤں سے تمام داڑھی بھیگ گئی۔ پھر پوچھا کہ ان کے بعد تم میں کون خلیفہ ہوا۔ ہم نے جواب دیا کہ ابو بکر صدیقؓ۔ پھر فرمایا کہ وہ کیا کرتے ہیں اور کس حال میں ہیں۔ ہم نے کہا کہ ان کا انتقال ہو گیا۔ فرمایا کہ ان کے بعد تم میں کون خلیفہ ہے۔ ہم نے عرض کیا کہ عمرؓ۔ پھر فرمایا کہ محمد ﷺ کی زیارت تو مجھے نصیب نہ ہوئی۔ پس تم لوگ میرا سلام عمرؓ کو پہنچائیو اور کہو کہ اے عمر انصاف کیجئے اور عدل کیجئے کہ قیامت قریب آگئی ہے اور یہ واقعات جو میں تم سے بیان کروں گا ان سے عمرؓ کو خبر دار کرنا اور کہنا کہ اے عمر جس وقت یہ خصلتیں محمد ﷺ کی امت میں ظاہر ہو جائیں تو کنارہ کشی کے سوا مفر نہیں۔ جس وقت مرد شہوت رانی میں مردوں پر قانع ہوں اور عورتیں عورتوں پر اور لوگ اپنا نسب بدل کر اور نسب بنائیں۔ مثلاً کوئی سید بن جائے اور سید نہ ہو قریشی بن جائے اور قریشی نہ ہو اور آزاد شدہ غلام اپنے آزاد کنندہ کے سوا اور قوم کی طرف اپنے آپ کو منسوب کرے اور بڑے چھوٹوں پر رحم نہ کریں اور چھوٹے بڑوں کی توقیر وعزت نہ کریں اور امر بالمعروف متروک ہو جائے کہ کوئی بھلائی کا حکم نہ کرے اور نہی عن المنکر چھوڑ دیں کہ کوئی برائی سے نہ روکے اور عالم بغرض حصول دنیا کے علم سیکھے اور مہینہ کا موسم گرم و خشک ہو۔ یعنی بارش کا قحط ہو اور بڑے بڑے منبر بنائیں اور قرآن مجید کو نقرئی و طلائی کریں اور مسجدوں کی از حد زینت کریں۔ یعنی قرآن عظیم ومساجد کی عظمت دلوں سے گھٹ جائے۔ یہاں تک کہ ظاہری زینت سے ان کی نگاہوں میں وقعت پیدا کرنے کی حاجت ہو اور رشوت علانیہ لیں اور پختہ پختہ مکانات بنائیں اور خواہشات کا اتباع کریں اور دین کو دنیا کے بدلے بیچیں اور خونریزیاں کریں اور صلہ رحم منقطع ہو جائے اور حکم دام لے کر ہو اور بیاج کھایا جائے اور حکومت فخر ہو جائے اور مالداری عزت بن جائے اور ادنیٰ شخص کی تعظیم اعلیٰ کرے اور عورتیں گھوڑوں پر سوار ہوں۔ پھر ہم سے غائب ہو گئے۔ پس اس قصہ کو نضلہ نے سعد کی طرف لکھا اور سعد نے حضرت عمرؓ کی طرف پھر حضرت عمرؓ نے سعد کو لکھا کہ تم
اپنے ہمراہیوں کو ساتھ لے کر اس پہاڑ کے پاس اترو۔ جس وقت ان سے ملو تو میرا سلام ان کو پہنچاؤ۔ اس واسطے کہ رسول خدا ﷺ نے فرمایا کہ عیسیٰ علیہ السلام کے بعض وصی عراق کی طرف کے قریب اس پہاڑ میں جاترے ہوئے ہیں۔ پس چار ہزار مہاجرین اور انصار کے ہمراہ اس پہاڑ کے قریب جاترے اور چالیس روز تک ہر نماز کے وقت اذان کہتے رہے۔ مگر ملاقات نہ ہوئی۔ اس کے بعد حضرت شیخ قدس سرہ نے فرمایا کہ اگر چہ ابن ازہر کی وجہ سے اسناد حدیث میں محدثین کے نزدیک کچھ کلام ہو۔ مگر ہم اصحاب کشف کے نزدیک یہ حدیث صحیح ہے۔ پھر شیخ نے ٣٦٠ باب میں حدیث نواس بن سمعان کی ذکر فرمائی ہے۔ جس میں ”ينزل عيسى بن مريم بالمنارة البيضاء شرقی دمشق “ ہے اور جابجا شیخ قدس سرہ فتوحات مکیہ میں نزول عیسیٰ بن مریم کا ذکر فرماتے ہیں اور پھر اسی فتوحات میں فرماتے ہیں کہ میں ان مضامین کی تحریر میں بالکل خالی اور معرا ہوں۔ پروردگار عالم ان مضامین کا عطا فرمانے والا ہے اور نیز فرمایا کہ: ”هذا ما حدثنی رسول الله ﷺ‘‘ یعنی یہ وہ بات ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھ کو عطا فرمائی۔
سوال مرزا
افقہ الناس ابن عباسؓ نے متوفیک کے معنی ممیتک کے لئے ہیں۔ ”بناء عليه يعيسى انى متوفيك“ کے معنی یہ ہوئے کہ اے عیسیٰ میں تجھے مارنے والا ہوں۔ اسی طرح ”فلما توفيتني كنت انت الرقيب عليهم“ میں بھی۔ اس سے جب وفات مسیح بن مریم ثابت ہو چکی تو بالضرور ”بل رفعه الله اليه“ میں رفع سے رفع روحانی مراد لینا پڑے گا اور احادیث نزول مسیح واجب التاویل ہوں گی۔ کیونکہ مرنے کے بعد ارواح مقربین بشہادت ”قيل ادخل الجنة “ اور ”فادخلي في عبادى وادخلي جنتي“ اور بشہادت احادیث صحیحہ کے جنت میں داخل ہوتی ہیں۔ بعد ازاں بموجب آیت ”وماهم منها بخارجين“ جنت سے نکالی نہیں جاتی۔ بناء علیہ مسیح ابن مریم بعد مرجانے کے دوبارہ دنیا میں ہرگز نہیں آسکتے۔
جواب ...... افقہ الناس ابن عباس کا فیصلہ ہم کو بسر وچشم منظور ہے۔ مگر پہلے مرزا اور مرزائی علیٰ رؤس الاشہاد اقرار کر لیں کہ ہم بھی افقہ الناس کے قول سے منحرف نہ ہوں گے۔ انسان معاملہ سے پہچانا جاتا ہے۔ ناظرین با انصاف مرزا کی کتاب ازالۃ اوہام اور ایام الصلح سے معلوم کر سکتے ہیں۔ کیا مرزا نے عود ایلیا سے جو کتاب سلاطین میں مذکور ہے اپنے دعویٰ پر تمسک نہیں پکڑا
١؎ ابن عباس کو افقہ الناس کہنا مرزا کا اختراع ہے۔ افقہ الناس خلفائے اربعہ ہیں پھر عبداللہ بن مسعودؓ۔ كما فى مرقاة على القارى!
تھے لے کر اس پہاڑ کے پاس اترو۔ جس وقت ان سے ملو تو میرا سلام ان کو رسول خدا ﷺ نے فرمایا کہ عیسیٰ علیہ السلام کے بعض وصی عراق کی طرف گئے ہوئے ہیں۔ پس چار ہزار مہاجرین اور انصار کے ہمراہ اس پہاڑ پر چالیس روز تک ہر نماز کے وقت اذان کہتے رہے۔ مگر ملاقات نہ ہوئی۔ شیخ قدس سرہ نے فرمایا کہ اگرچہ ابن ازہر کی وجہ سے اسناد حدیث میں محدثین مگر ہم اصحاب کشف کے نزدیک یہ حدیث صحیح ہے۔ پھر شیخ نے ٣٦٠ باب میں اس کی ذکر فرمائی ہے۔ جس میں ”ينزل عيسى بن مريم بالمنارة دمشق “ ہے اور جابجا شیخ قدس سرہ فتوحات مکیہ میں نزول عیسیٰ بن مریم کا اسی فتوحات میں فرماتے ہیں کہ میں ان مضامین کی تحریر میں بالکل خالی اور خدا ان مضامین کا عطاء فرمانے والا ہے اور نیز فرمایا کہ: ”هذا ما حدثني یعنی یہ وہ بات ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھ کو عطاء فرمائی۔
ا ابن عباسؓ نے متوفیک کے معنی ممیتک کے لئے ہیں۔ ”بناء عليه یک “ کے معنی یہ ہوئے کہ اے عیسیٰ میں تجھے مارنے والا ہوں۔ اسی طرح ت انت الرقيب عليهم “ میں بھی۔ اس سے جب وفات مسیح بن مریم ل رفعه الله اليه “ میں رفع سے رفع روحانی مراد لینا پڑے گا اور تاویل ہوں گی۔ کیونکہ مرنے کے بعد ارواح مقربین بشہادت ”قیل خلى فى عبادي وادخلى جنتي “ اور بشہادت احادیث صحیحہ ۔ بعد ازاں بموجب آیت ”وماهم منها بخارجين “ جنت سے بن مریم بعد مر جانے کے دوبارہ دنیا میں ہرگز نہیں آسکتے۔ الناس ابن عباسؓ کا فیصلہ ہم کو بسر وچشم منظور ہے۔ مگر پہلے مرزا اور کرلیں کہ ہم بھی افقہ الناس کے قول سے منحرف نہ ہوں گے۔ انسان ظرین باانصاف مرزا کی کتاب ازالۃ اوہام اور ایام الصلح سے معلوم علیم سے جو کتاب سلاطین میں مذکور ہے اپنے دعویٰ پر تمسک نہیں پکڑا الناس کہنا مرزا کا اختراع ہے۔ افقہ الناس خلفائے اربعہ ہیں پھر قاة على القاری!
اور اسی کتاب میں صعود ایلیا جسدہ العنصری جو مذکور ہے۔ پھر اس سے منحرف نہیں ہوا۔ یا مسیح کے مصلوب ہونے میں پہلے اناجیل اربعہ سے کام لے کر بعد ازاں رفع جسمانی سے جو کتاب اعمال میں صراحتہً مذکور ہے۔ منحرف نہیں ہوا۔ یا توفی کے معنی موت لینے میں ابن عباس کو اعلم بالقرآن سمجھ کر مقتداء بنا کر اور ان کے اتباع کا دم بھر کر بعد ازاں آیت ”بل رفعه الله اليه “ اور ایسا ہی ”ولکن شبه لھم “ اور ایسا ہی ”فلما توفيتني “ اور ایسا ہی ”قبل موته “ کے معنی میں جو ”وان من اهل الكتاب “ میں مذکور ہے اور ایسا ہی ”وانه لعلم للساعة “ ان سب میں قول افقہ الناس ابن عباس کو سلام نہیں کیا اور احادیث نزول اور ظہور دجال کو پہلے بعض کو ضعیف اور بعض کو مضطرب اور بعض کو مخالف توحید ٹھہرا کر بعد ازاں کیا۔ انہیں کا مصداق خود ہی نہیں بن گیا۔ بعد اس کے مرزا کو اگر عقل سے مس ہوتا۔ کوچہ علم کی کبھی ہوا لگی ہوتی تو کبھی ایسے پادر ہوا استدلال نہ لاتا۔ تمام علماء واہل زبان کا اتفاق ہے کہ واؤ عاطفہ مقتضی ترتیب نہیں۔ ”جاء ني زيد و عمرو “ صرف اتنا مفہوم ہوگا کہ آنا زید و عمرو دونوں کے لئے ثابت ہے۔ خود اس پر ہرگز دلالت نہ ہوگی کہ دونوں ایک ساتھ نہ آئے۔ آگے پیچھے آئے ان میں ایک کا بالتعین آگے آنا تو دوسری بات ہے اور آیت ”فلما توفيتني “ تو روز قیامت کا بیان ہے۔ اس سے پہلے تو موت واقع ہونا ضرور ہے۔ اس کا کسے انکار ہے۔ کلام تو اس میں ہے کہ رفع سے پہلے موت واقع ہوئی۔ آیت میں اس کا کیا ذکر ہے تو مرزائی استناد نرے جنون و خبط العناد پھر بھی زیادت اعلام کے لئے معروض اولا ابن عباسؓ سے خود مروی کہ عیسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام قریب قیامت نزول فرمائیں گے۔ قوم شعیب علیہ الصلوٰۃ والسلام بنی جذام میں نکاح کریں گے۔ ان کے اولاد ہوگی۔ ”روی ابونعيم في كتاب الفتن من حديث ابن عباس ان اذ ذاك يتزوج في الارض فيقيم بها تسع عشرة ....... الى ان قال وعن ابن عباس يتزوج الى قوم شعيب وختن موسى عليه السلام وهم جذام فيولد له فيهم ويقيم تسع عشرة سنة لا يكون امير ا ولا شرطيا ولا ملكا وعن يزيد بن ابی حبیب يتزوج امرأة من الازد ليعلم الناس انه ليس باله وقيل يتزوج ويولد له ويمكث خمسا واربعين سنة ويد فن مع النبى ﷺ فى قبره وليس في ايامه امام ولا قاض ولا مفت وقد قبض الله العلم وخلا الناس عنه فينزل وقد علم بامر الله في السماء ما يحتاج اليه من علم هذه الشريعة للحكم بين الناس والعمل فيه في نفسه فيجتمع المؤمنون ويحكمونه على انفسهم اذ لا يصلح لذلك غيره (عينى بخارى ج٧) “
اب یا تو اماتت بمعنی انامت لیں یا تسلیم کریں کہ بعد موت نزول وتزوج وولادت سب کچھ ہوگا۔ یہ مرزا کی ساری عمارت ڈھا دے گا۔ بالجملہ تمام احادیث نزول مرویہ ابن عباس اور ان کے آثار صحیحہ ومعتبرہ متعلق آیت کریمہ بل رفعہ اللہ الیہ وآیت کریمہ وان من اہل الکتب وآیت کریمہ وانہ لعلم للساعۃ ضلالات مرزا کے مبطل ہیں۔ ان سے آنکھ بند کر کے ایک محتمل لفظ پر سر منڈانا کیا ایمانداری ہے۔ ثانیاً اگر ابن عباس کا مذہب بھی مانا جاوے تاہم عقیدۂ اجماعیہ اسلامیہ کو مضر نہیں۔ کیونکہ ابن عباس بلحاظ نص بل رفعہ اللہ الیہ جس میں موت طبعی کے معنی لینا ممکن نہیں۔ جیسا کہ آتا ہے۔ ”یعیسی انی متوفیک ورافعک الی“ میں بعد ارادۂ معنی ممیتک کے قائل بہ تقدیم وتاخیر ہیں۔ ”اخرج اسحق بن بشر وابن عساکر من طریق جویبر عن الضحاک عن ابن عباس في قولہ انی متوفیک ورافعک“ یعنی ”رافعک ثم متوفیک فی أخر الزمان (درمنثور)“ اور ایسا ہی تفسیر عباسی میں بھی ہے۔ اور ظاہر ہے کہ کوئی باعث قول تقدیم وتاخیر کا آیت مذکورہ میں سوائے تطبیق کے مابین نصوص کے نہیں۔ شواہد تقدیم وتاخیر کے آیات قرآنیہ میں یہ ہیں۔ قول باری تعالیٰ ”فقالوا ارنا اللہ جہرۃ“ میں بھی ابن عباس سے تقدیم وتاخیر مروی ہے۔ یعنی انہوں نے یوں تفسیر کی ”فقالوا جہرۃ ارنا اللہ“ اور حضرت مجاہد سے مروی ہے۔ بیچ قول باری تعالیٰ کے ”انزل علی عبدہ الکتب ولم یجعل لہ عوجاً قیما“ یعنی ”انزل علی عبدہ الکتاب قیما ولم یجعل لہ عوجاً“ اور ابن ابی حاتم نے قتادہ سے روایت کی ہے۔ بیچ قول باری تعالیٰ کے ”فلا تعجبک اموالہم ولا اولادہم انما یرید اللہ لیعذبہم فی الحیوۃ الدنیا انما یرید اللہ لیعذبہم بہا فی الآخرۃ“ اور قتادہ سے روایت ہے۔ بیچ قول باری تعالیٰ کے ”یعیسی انی متوفیک ورافعک الی“ اس طور پر ”انی رافعک الی ومتوفیک“ اور عکرمہ سے باری تعالیٰ کے قول ”لہم عذاب شدید بما نسوا یوم الحساب“ میں ”لہم عذاب یوم الحساب بما نسوا“ مروی ہے اور اگر اس سے زیادہ روایات صحابہ کرامؓ وتابعین عظام کی دربارۂ تقدیم وتاخیر دیکھنا منظور ہو تو بالتفصیل تفسیر اتقان سے ملاحظہ فرمائیں۔ اور جیسے کہ قول باری تعالیٰ ”فکان قاب قوسین او ادنی“ کا مقصود یہ ہے۔ ”فکان کقابی قوس او ادنی“ تفسیر سیوطی اور قول باری تعالیٰ کا ”فاطر السموات والارض بدیع السموت والارض خلقکم والذین من قبلکم ، کذلک یوحی الیک والی الذین من قبلک“ میں معطوف باعتبار تحقق خارجی کے معطوف علیہ سے مقدم
ہے۔ یونہی ہزاروں مثالیں موجود ہیں۔ جن میں معطوف معطوف علیہ سے تحقق میں مقدم ہے۔ الغرض مرزا کو قول ابن عباس کا متوفیک کے معنی میں متمسک ہرگز مفید نہیں۔ اب ہم قول ابن عباس کا متعلق ”فلما توفيتني “ کے جو دال ہو ارادۂ معنی غیر موت پر بیان کرتے ہیں۔ ”اخرج ابو الشيخ عن ابن عباس ان تعذبهم فانهم عبادك يقول عبيدك قد استوجبوا العذاب بمقالتهم وان تغفر لهم اى من تركت منهم ومد في عمره (يعني عيسى عليه السلام ) حتى اهبط من السماء الى الارض يقتل الدجال فنزلوا عن مقالتهم ووحدوك واقروا انا عبيد وان تغفر لهم حيث رجعوا عن مقالتهم فانك انت العزيز الحكيم “
(جلال الدین سیوطی، در منثور)
اور ایسا ہی تفسیر عباسی میں ”فلما توفیتنی “ کے معنی ”رفعتنی “مذکور ہے۔ اگر آپ کو ابن عباس کا مسلک اور طریقہ لینا ضروری ہے تو قبول کریں۔ یہ نہ ہو کہ جیسا کسی تارک الصلوٰۃ نے آیہ ”ولا تقربوا الصلوة “ سے سند پکڑی۔ دوسرے نے کہا میاں ابھی مضمون پورا نہیں ہوا۔ ”وانتم سکاری “ کو بھی ساتھ ملاحظہ کرو۔ جس کا مضمون یہ ٹھہرا کہ حالت نشہ میں نماز مت پڑھو تو تارک الصلوٰۃ نے کہا کہ سارے قرآن شریف پر تمہارا باپ عمل کرتا ہوگا۔ ہم سے اگر ایک آیت پر بھی عمل ہو سکے تو بڑی بات ہے۔
قول ابن عباس اگر قابل احتجاج ہے تو اس کو اول سے آخر تک ملاحظہ کرو۔ پھر دیکھو کہ رفع جسمانی کس طرح بشہادت تفسیر ابن عباس کھلے کھلے طور پر ثابت ہوتا ہے۔ اب ناظرین با انصاف سمجھ چکے ہوں گے کہ تفسیر ابن عباس کا متبع کون ہے۔ ہم لوگ یا مرزا اور اس کے اذناب، ابن عباس کا اتباع تو بجائے خود چھوڑا۔ بلکہ ان پر الٹا بہتان باندھا۔ جیسا کہ امام بخاری کے اوپر کہ وہ بھی حدیث نزول ابن مریم میں مثیل ابن مریم مراد لیتے ہیں۔ بلکہ کہا کہ سب ائمہ سلف کا یہی اعتقاد تھا۔
سوال ...... مرزا نے ازالۃ اوہام میں علمائے اہل سنت و جماعت پر بڑے زور وشور سے اعتراض کیا ہے کہ بخاری کی حدیث ”والذي نفسي بيده “ میں مولوی صاحبان فقرۂ ”یکسر الصلیب “ اور ”یقتل الخنزير “ میں تو تاویل کرتے ہیں اور اصلی معنی مراد نہیں لیتے۔ یعنی قتل کرے گا۔ نصاریٰ کو جو اسلام قبول نہ کریں گے اور خنزیر کی حرمت کا حکم دیں گے اور خنزیروں کو بھی مار ڈالیں گے۔ تاکہ بوجہ پہلے محبت اور رغبت کے ان کی طرف میلان پیدا نہ ہو۔ لقمع مادۃ الفساد، اور ابن مریم میں مثیل ان کا مراد نہیں لیتے اور تاویل کرنے والے کو کافر اور ملحد قرار دیتے ہیں۔
جواب ...... جب کہ علماء نصوص قرآنیہ اور تفسیر ابن عباس وغیرہ احادیث و آثار کے قضاء کے بموجب رفع جسمی اور نزول مسیح صاحب انجیل پر ایمان لا چکے ہیں اور پیشین گوئیاں قطعی اور تاکیدی طور پر اسی مسیح کے بارہ میں آنحضرت ﷺ سے بطریق تواتر معنوی سن چکے۔ جس میں امکان تاویل بہ مثیل گنجائش نہیں رکھتا تو اب مرزا کے خانہ زاد اصولوں پر کیسے ایمان لاویں۔ تفسیر خازن اور درمنثور اور ابن کثیر اور مسند امام احمد میں ہے کہ شب معراج میں جب کہ حضرت ﷺ کی ملاقات ہوئی۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے تو قیامت کے قائم ہونے کے بارہ میں کہا کہ مقرر وقت تو میں کہہ نہیں سکتا۔ مگر میرے ساتھ میرے رب نے عہد کیا ہے کہ قیامت قائم نہ ہوگی۔ جب تک تو زمین پر اتر کر قوم یاجوج ماجوج اور دجال کو ہلاک نہ کرے گا اور اس حدیث کو ابن ماجہ نے بھی ذکر کیا ہے۔ دوسری اسناد سے یہ وعدہ کا بیان اور حضرت ﷺ سے بات چیت شب معراج میں شاید کہ مرزا ہی نے کیا ہوگا۔ پس مولوی صاحبوں کو کیا غرض ہے کہ ابن مریم مثیل اس کا مراد لے کر اپنا دین برباد کریں اور مرزا کا اتنا تو فائدہ ہوا کہ دنیا میں چند سادہ لوحوں کے آگے شان عیسویت اور مہدویت تو دکھائی۔ گو ایمان گیا تو گیا۔
فقرہ ”یکسر الصلیب“ اور ”یقتل الخنزیر“ میں اس واسطے تاویل کی گئی کہ معنی حقیقی متعذر ہے اور تعذر حقیقت دلیل ہے ارادہ مجاز کی شاید کہ مرزا کے نزدیک کلام کے ایک فقرہ میں مجاز کا واقع ہونا دلیل ہے کلام کے سب فقرات مجاز لینے کی۔ واہ واہ! ایسے خانہ زاد اصولوں کے ایسے ہی نتائج ہوا کرتے ہیں۔
سوال ...... آیت ”یعیسیٰ انی متوفیک ورافعک الی“ میں تقدیم تاخیر کہنا اور ترتیب قرآنی کا بگاڑنا اور ایسا ہی ”فلما توفیتنی“ سے معنی رفع کے مراد لینا یہ الحاد اور تحریف ہے۔ قرآن شریف میں اوّل سے آخر تک بلکہ صحاح ستہ میں بھی انہیں معنی موت کا التزام ہے۔ (ازالہ اوہام ص ٦٠١، ٦٠٢، خزائن ج ٣ ص ٤٢٤، ٤٢٥) کا خلاصہ یہ ہے اور (ازالہ اوہام ص ٣٠٣، خزائن ج ٣ ص ٢٥٤، ٢٥٥) میں کہتا ہے کہ غرض یہ بات کہ مسیح جسم خاکی کے ساتھ آسمان پر چڑھ گیا اور اسی جسم کے ساتھ اترے گا۔ نہایت لغو اور بے اصل بات ہے۔ صحابہ کا ہرگز اس پر اجماع نہیں۔ بھلا اگر ہے تو کم از کم تین سو یا چار سو صحابہ کا نام لیجئے جو اس بارہ میں اپنی شہادت ادا کر گئے ہوں۔ ورنہ ایک یا دو آدمی کے بیان کا نام اجماع رکھنا سخت بددیانتی ہے۔“
جواب ...... جس ابن عباسؓ کو افقہ الناس جانا تھا۔ اس کو اب مع دیگر مفسرین اہل
اسلام کے محرف اور ملحد کہہ دیا۔ یہ مرزا کا ایمان اور یہ وعدہ اور اسلام ہے۔ آیات قرآنیہ میں جس جس جگہ میں تقدیم و تاخیر مذکور ہے۔ وہ سب واجب التسلیم ہے۔ بوجہ سیاق معنی کے اور لفظ توفی سے معنی رفع اور قبض کا لینا بشہادت قرآن کریم جب ثابت ہے تو پھر بے اصل اور لغویات کس طرح ہوئی۔ قرآن پاک اور احادیث صحیحہ متواترہ اور اجماع امت تو خبر دے رہے ہیں۔ مگر جس کے نصیب میں ازلی ہدایت نہ ہو۔ ان کو وعظ اور ہدایت کچھ کارگر نہیں ہوتی۔ مرزا اور مرزائی پہلے کسی مسئلہ اجماعیہ میں روایات صحابہ باسانید و قید اسامی تین چار سو تک بیان کریں۔ بعد ازاں ہم تین چار ہزار تک بیان کر دیں گے۔ ارے مکار غدار تم نے ایسے مغالطے اور دھوکے دینے سے اردو خوانوں کو اور عوام کو گمراہ کرنا سمجھا ہے۔ صحابہ کرام کے نام فارسی رسالہ ’’ھدیۃ الرسول‘‘ میں تم خود دل بھر کے دیکھ چکے ہو اور اس میں بھی دیکھ لوگے۔ پھر جب تک تم آٹھ دس کا انکار ثابت نہ کرو گے تو اجماع منقوض نہ ہوگا اور بہت صحابہ کرامؓ سے جو رفع جسمی کی تصریح نہ ہوئی۔ اس کی وجہ بہت ظاہر اور باہر ہے۔ وہ یہ کہ صحابہ کرام کو قرآن کریم کے واقعات منصوصہ پر ایمان تھا۔ پختہ طریق پر اور وہ حضرات اہل لسان تھے۔ اس مضمون کو آیت مذکورہ سے بلا تکلف اور بلا احتمال غیر رفع جسمی کے سمجھ چکے تھے تو پھر کیا ضرورت تھی جو اختلافیات کی طرح ذکر رفع جسمی کا مابین صحابہ کے ہوتا۔ بلکہ ذکر نہ کرنا یہی بڑی دلیل ہے۔ اس کے مجمع علیہ ہونے پر مرزا اور مرزائی ہی کسی قصہ میں جو قصص قرآنیہ سے صریح طور پر سمجھا گیا ہو۔ مثلاً قصہ اصحاب کہف میں اقوال صحابہ کے دس تک بھی ذکر کریں۔ پانچ سو کی بات تو بڑی ہے۔ اسی لئے آج تک ذکر نزول مسیح نص محکم قرآنی سے علمائے کرام تلاش کرتے آئے۔ بخلاف صعود جسمی کے کہ وہ تو صراحۃً مذکور تھا اور یہ امر بہت ظاہر ہے۔ جس کسی کو ادنیٰ مہارت علمیہ ہو وہ بھی واقف ہو سکتا ہے۔ مگر ہدایت باری تعالیٰ کے قبضہ قدرت میں ہے۔
سوال ...... ہم نے مانا کہ ابن عباسؓ آیہ ’’یعیسی انی متوفیک ورافعک الی‘‘ میں تقدیم اور تاخیر کے قائل ہیں۔ مگر وجہ تقدیم ما حقہ التاخیر کی کیا ہے۔ یعنی مقدم ذکر کرنا متوفی کا جن کا وقوع بعد نزول کے اور نزول بعد ہے۔ رفع کے پس متوفی فی الواقع رفع اور نزول دونوں کے بعد ہے۔
جواب ...... وجہ اس کی یہ ہے کہ یہود مردود نے جب کہ باہم مشورت کی کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو قتل کر دیں اور قتل کے سامان مہیا کئے اور دن رات اسی کی فکر میں رہتے تھے۔ یہاں
تک کہ عیسیٰ علیہ السلام کو مع چند مسلمانوں کے ایک مکان میں بند کر دیا تو عیسیٰ علیہ السلام کو معلوم ہوا کہ میری موت یہودیوں ہی کے ہاتھ سے ہوگی اور میری رسوائی اور ذلت یہودی ہی کریں گے تو اللہ تعالیٰ نے اس وہم عیسیٰ علیہ السلام کو دور کرنے کے لئے ان سے محقق کر کے ضمیر متکلم کو مسند الیہ اور لفظ متوفی کو مسند بنا کر فرمایا: ”یٰعیسٰی انی متوفیک “ اے عیسیٰ میں ہی تجھ کو وفات دینے والا ہوں۔ نہ کوئی غیر اور پھر ”رافعك “ سے تسلی بخشی۔ بلاغت کا یہی مقتضی ہے کہ موافق حال مخاطب کے کلام چلایا جائے اور اگر ”ســـاتـوفـك “ فرماتے تو مطابق حال مخاطب کے نہ ہوتا۔ کیونکہ فعل مضارع فقط حدوث فعل توفی سے خبر دیتا ہے۔ بخلاف صیغہ اسم فاعل متوفی کے کہ مزید براں صفت مخصصہ پر حسب محاورہ دلالت کرتا ہے۔ یعنی تمہارا وفات دینا میرا ہی کام اور صفت ہے۔ مثلاً یہ قول کہ میں ہی تجھ کو دوں گا اور یہ قول کہ میں ہی تیرا دینے والا ہوں۔ دونوں میں فرق ہے۔ کیونکہ قول اوّل فقط وعدہ دینے پر مشتمل ہے اور دوسرا مزید براں افادہ اس مضمون پر مشتمل ہے کہ دینا تمہارا میرا ہی کام ہے۔
الغرض ”انی متوفیک “ سے جو اطمینان اور تسلی مستفاد ہوتی ہے۔ وہ اور صیغوں سے نہیں ہوتی اور ایسا ہی یہود کا کہنا ”انا قتلنا المسیح عیسٰی بن مریم رسول الله “ یعنی تحقیق ہم نے ہی قتل کیا ہے۔ مسیح کو جو کہ عیسیٰ ہے بیٹا مریم کا اور وہ جو رسول ہے اللہ تعالیٰ کا سمجھو کہ ”انا قتلنا “ مفید حصر ہے جو ان کے زعم کے مطابق ان کے فخر اور تکبر کا باعث ہے۔ یعنی اتنا بڑا کام کہ قتل ہے۔ یہ ہم ہی سے ہوا ہے نہ کسی دوسرے سے۔ ولہٰذا خالی فعل ”قتلنا “ پر بس نہ کی اور پھر ”قتلنا “ کے مفعول کو معرّیٰ سادہ ذکر نہ کیا۔ بلکہ موصوف کر کے اور انا قتلنا الخ پر اکتفاء کیا۔ یہ دلیل ہے۔ اس بات پر کہ مناط افتراء اور موجب خوشی ان کو فقط صدور فعل یعنی قتل ہی نہیں بلکہ قتل شخص خاص کا جو موصوف بر رسالت خداوندی ہے۔ پس باری تعالیٰ نے اس کی تردید اور تکذیب کے لئے فرمادیا۔ ”وما قتلوه وما صلبوه ولكن شبه لهم “ ماہر ذہین پر پوشیدہ نہ رہے گا کہ اس آیت نفی کی مناط بھی اسی نسبت وقوع پر ہے۔ یعنی مسیح کو انہوں نے قتل نہیں کیا نہ نسبت صدوری پر یعنی صدور نفس قتل پر۔ پس دفع ہو گیا مرزا کا کہنا ازالہ اوہام میں وما قتلوہ و ما صلبوہ کے متعلق جو بیان لکھا ہے۔ کیونکہ اس نے مناط تردید کا نسبت صدوری کو سمجھا ہے اور نیز آیات مذکورہ کی تفسیر میں روایات ان لوگوں سے لے لی ہیں۔ جن کی تکذیب اور تضلیل قرآن شریف انہیں آیات سے فرما رہا ہے۔
سوال ...... بیضاوی، تفسیر کبیر، تفسیر ابن کثیر، معالم التنزیل، کشاف وغیرہ نے توفی سے معنی موت کے لئے ہیں۔ جیسا کہ مرزا نے (ازالہ اوہام ص ٣٤١) میں استشہاداً ذکر کیا ہے۔
جواب ...... مشتے نمونہ خروارے یہ استشہاد مرزا کا ویسا ہی ہے۔ جیسا کہ حضرت ابن عباسؓ کی تفسیر سے کیا تھا اور آخر کار اس سے فرار در فرار کیا۔ اس دھوکے کا بیان بھی عرض کیا جاتا ہے کہ ان سب تفاسیر کے ملاحظہ کرنے سے یہ چالا کی مرزا کی بھی معلوم ہو جائے گی۔
ان سب کا خلاصہ یہ ہے کہ یہ سب صاحب مفسرین آیت ”بل رفعه الله اليه “ کے حکم کو زیر نظر رکھ کر ”انی متوفیک ورافعك الی“ کے معنی میں دو مسلک اختیار کرتے ہیں۔ ایک تو ابن عباسؓ کا یعنی تقدیم تاخیر بر تقدیر ثبوت ارادہ معنی مہلک کے لفظ متوفیک سے۔
مطلب یہ ہوا اس مسلک پر اے عیسیٰ میں تجھے بالفعل اٹھانے والا ہوں اور بعد نزول تجھے مارنے والا ہوں۔
دوسرا لفظ متوفیک سے معنی قبض اور رفع کے لینا اور اس بناء پر یہ مطلب ہوا کہ اے عیسیٰ میں تجھے پکڑنے والا ہوں اور اٹھانے والا ہوں اور بعض مثل صاحب کشاف کے متوفیک کو کنایہ ٹھہراتے ہیں۔ عصمت اور بچا لینے سے اور اس بناء پر یہ مطلب ہوا کہ اے عیسیٰ میں تجھے یہودی ایذا سے بچانے والا ہوں۔ پس مرزا نے قول باری تعالیٰ مہلک کو جو تفسیر معنی کنائی کے ضمن میں صاحب کشاف کے قول میں واقع ہے۔ معنی متوفیک کا سمجھ لیا ہے اور یہ خیال نہ کیا کہ اس احتمال کو یعنی متوفیک سے معنی مہلک لینے کو تو خود صاحب کشاف بعد اس کے تضعیف کر رہا ہے اور عبارت کشاف کی یہ ہے۔ ”متوفيك ای مستوفی اجلك ومعناه انی عاصمك من ان يقتلك الكفار ومؤخرك الى اجل كتبته لك ومميتك حتف انفك لا قتلا بايديهم ورافعك الى الى سمائى ومقر ملائكتي ومطهرك من الذين كفروا من سوء جوارهم وخبث صحبتهم وقيل متوفيك قابضك من الارض من توفيت مالی على فلان اذا استوفيته وقيل مميتك في وقتك بعد النزول من السماء ورافعك الآن وقيل متوفيك نفسك بالنوم من قوله والتى لم تمت في منامها ورافعك وانت نائم حتى لا يلحقك خوف تستيقظ وانت في السماء“
اب عرض ہے کہ رفع جسمی کا چونکہ قولہ تعالیٰ بل رفعہ اللہ الیہ علیہ سے صراحۃً اور ”وان من اهل الكتاب“ اور ”وانه لعلم للساعة“ اور احادیث صحیحہ متواترہ سے استلزاماً ثابت اور
مؤمن بہ اہل اسلام کا سلف سے خلف تک ہو چکا اور بظاہر آیت ”يٰعيسى انى متوفيك ورافعك الى“ منافی اس کے معلوم ہوتی تھی۔ کیونکہ مفاد اس آیت کا یہ نکلتا ہے کہ اے عیسیٰ میں تجھ کو مار کر بعد ازاں اٹھانے والا ہوں۔ لہٰذا ابن عباسؓ نے رفع منافات یوں فرمائی کہ آیت میں تقدیم و تاخیر کا قول کیا یعنی اے عیسیٰ میں تجھ کو اوّل اٹھانے والا ہوں آسمان کی طرف اور بعد ازاں نازل کر کے زمین پر تجھ کو مارنے والا ہوں۔ اور باقی مفسرین کسی نے تو توفی سے معنی قبض کے لئے اور کسی نے نیند کے، سب کا مقصود یہی تھا کہ یہ آیت مخالف نہ ہو اس نص ”بل رفعه الله اليه“ کے جس کا مدلول آنحضرت ﷺ سے بوضاحت تامہ متواتراً نمایاں ہو چکا ہے۔
صاحب کشاف نے ان سب مسالک کو ضعیف سمجھ کر حتیٰ کہ ”مميتك “ کو بھی جیسا کہ ”قیل مميتك فى وقتك “ سے تمریض اور تضعیف اس کی ظاہر ہے ایک اور راستہ لیا اور لکھا ”انى متوفيك “ کنایہ ہے۔ عاصمك سے یعنی میں تمہارا بچانے والا ہوں شر یہود سے۔ کیونکہ استیفاء اجل اور عصمت لازم ہیں۔ توفی کو بعد ملاحظہ حصر کے جو مستفاد ہے۔ ضمیر متکلم کی مسند الیہ اور مشتق کے مسند بنانے سے یعنی جب اللہ ہی ان کا مارنے والا ہے۔ بغیر مداخلت یہود اور ان کی ایذا کے تو ضرور معنی استیفا اجل اور عصمت کے متحقق ہوں گے۔ اس معنی کنائی کی تفریع میں صاحب کشاف نے ”ومعناه اني عاصمك “ ذکر کیا۔ اب قول اس کا ”ومميتك حتف انفك “ یہ معنی کنائی کے ضمن میں داخل ہوا نہ یہ کہ مراد متوفیک سے ممیتک ہے۔ اس کی تو خود صاحب کشاف ”وقيل مميتك فی وقتك “ سے تضعیف کر رہا ہے اور وجہ تضعیف کی یہ ہے کہ استیفاء اجل بسبب مشتمل ہونے۔ اس کے تاخیر اجل پر منافی حیات اور مسیح کے آسمان پر زندگی کرنے کا نہیں ہے۔ بخلاف ممیتک کے، کہ بغیر انضمام قیود خارجہ عن المدلول کے یعنی الآن اور بعد النزول دفع منافاۃ میں مفید نہ ہوگا۔ پس معنی اس بناء پر بھی یہ ہوئے کہ اے عیسیٰ میں ہی تجھ کو بچانے والا ہوں۔ کفار کے ہاتھ سے تا تمام ہونے تیری عمر کے اور بعد ازاں میں تجھ کو تیری طبعی موت سے مارنے والا ہوں۔ بعد نزول کے آسمان سے اور بعد قتل کرنے دجال کے متوفیک کا لفظ کچھ اسی بات کی خواہش نہیں کرتا کہ جس وقت متوفیک فرمایا گیا اسی وقت میں عیسیٰ علیہ السلام کو وفات دے دیتا۔ بلکہ اگر بعد دو ہزار چار ہزار دس ہزار لاکھ برس کے ہو تو بھی متوفیک کے معنی صادق آتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے یہ تو نہیں فرمایا کہ : ”يٰعيسى اني متوفيك الآن او بعد
سنة وغير ذلك“ اللہ تعالیٰ نے یہ تو نہیں فرمایا کہ عیسیٰ میں تجھ کو مارنے والا اب یا دس دن یا برس سو برس کے بعد بلکہ مطلق فرمایا۔ پس جب اللہ تعالیٰ ان کو مارے گا۔ ”انی متوفیک“ صادق ہو جائے گا اور یہ بات تو خوب ظاہر ہے۔ ہر شخص جان سکتا ہے۔ اگر چہ منصف کو اس تقریر سے کفایت ہے۔ مگر تائید اور تاکید اور تجدید فوائد کے لئے ایک اور تفسیر سے بھی بیان کیا جاتا ہے۔ ”والله يهدى من يشاء الى صراط مستقيم . نقل از تفسير كبير الامام الرازیؒ قال الله تعالى يا عيسى انى متوفيك ورافعك الى ومطهرك من الذين كفروا“
”المسئلة الاولى اعترافوا بان الله تعالى شرف عيسىٰ فى هذه الآية بصفات (الصفة الاولى) انى متوفيك ونظيره قوله تعالى حكاية عنه فلما توفيتنى كنت انت الرقيب عليهم واختلف اهل التاويل فى هاتين الآيتين على طريقين (احدهما) اجراء الآية على ظاهره من غير تقديم ولا تاخير فيها (والثانى) فرض التقديم والتاخير فيها اما الطريق الاول فبيانه من وجوه الاوّل معنى قوله تعالى انى متوفيك اى انى متم عمرك فحنيئذا تو فاك فلا اتركهم حتى يقتلوك بل انا رافعك الىّ سمائ ومقربك بملائكتى واهونك عن ان يتمكنوا من قتلك وهذا تاويل حسن اقول لا نه ليس فيه دلالة على الوفاة بمعنى الموت واتمام العمر وقت الرفع بل فيه اظهاران الرفع قبل اتمام العمر وهذا لا يخفى على اولى النهى الوجه الثانى متوفيك اى مميتك وهو مروى عن ابن عباسؒ ومحمد بن اسحاق قالوا والمقصود ان لا يصل عدواً من اليهود الى قتله ثم انه بعد ذلك اكرمه بان رفعه الى السماء ثم اختلفوا فى هذا الوجه على وجهين احدهما قال وهب توفى ثلاث ساعات من النهار ثم رفع اى بعد احيائه وثاينها قال محمد بن اسحق توفى سبع ساعات من النهار ثم احياه الله تعالى ورفعه اليه ومن الوجوه فى تاويل الآية ان الواو فى قوله متوفيك ورافعك الىّ لاتفيد الترتيب فالآية تدل على انه تعالى يفعل به هذه الافعال فاما كيف يفعل ومتى يفعل فالا مرفيه موقوف على الدليل وقد ثبت بالدليل انه حى
وورد الخبر عن النبی ﷺ انه سينزل ويقتل الدجال ثم انه تعالى يتوفاه بعد ذلك“ غرضیکہ نفس واقعہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا سچا ہے کہ ایسا ہوگا۔ باقی یہ کہ کیسا ہوگا اور کب، یہ بطرف پروردگار کے اس روایت کے بموجب سپرد کیا جائے اور اس کی تفصیل سے بحث نہ کی جائے۔ بہت ایسی باتیں ہیں کہ ان کا ہونا حق ہوتا ہے اور وجوہ کیفیت اور تعیین زمان و مکان واسم میں احتمال اور اختلاف ہو جایا کرتا ہے۔ جیسے کہ عینی جلد ساتویں ص ٣١٧ میں ہے کہ ہابیل کا قاتل آدم علیہ السلام کا بیٹا تو ہے۔ مگر اس کے نام میں اختلاف ہے کہ قابیل ہے یا کہ قین بن آدم علیہ السلام یا کہ قائن بن آدم اور ایسا ہی قتل کرنے کے سبب میں بھی اختلاف ہے۔ بعض نے کہا کہ قابیل کے ساتھ کے بطن کی ہمشیرہ جس کا نام اقلیمیا یا اقلیما تھا وہ ہابیل کو شادی ہو گئی اور ہابیل کے ساتھ کے بطن والی ہمشیرہ اس کی جس کا نام لیوا یا دمیا یا لبودا تھا۔ وہ قابیل کو شادی ہو گئی اور اس وقت اس قدر جائز تھا۔ بسبب ضرورت کے ایک بطن کی لڑکی دوسرے بطن کے لڑکے کو شادی ہو جاتی تھی۔ کیونکہ دنیا میں اور کوئی عورت اور مرد نہ تھا اور بعض نے کہا کہ یہ بہن اور بھائی کا نکاح ہونا آدم علیہ السلام کی اولاد میں غلط بات ہے۔ بلکہ اصل یہ ہے کہ جیسا کہ حکایت کیا ثعلبی نے معاویہ بن عمار سے کہ میں نے سوال کیا۔ صادقؓ سے اس بات کا کہ کیا حضرت آدم علیہ السلام اپنی بیٹی کا نکاح اپنے بیٹے سے کیا کرتے تھے۔ اس نے کہا کہ پناہ ہے۔ اللہ تعالیٰ کی اس بات سے وہ بلکہ ایسا ہوا کہ جب آدم علیہ السلام اترے طرف زمین کی تو اماں حوا کے ایک بیٹی پیدا ہوئی۔ اس کا نام رکھا عناق اور اسی نے سب سے اوّل زمین پر بغاوت اور بدکاری اور گناہ شروع کیا۔ پس اللہ تعالیٰ نے اس پر ایسا کوئی مقرر کر دیا۔ جس نے اس کو قتل کر ڈالا۔ پھر اس کے بعد قابیل پیدا ہوا۔ جب وہ جوان ہوا تو اس کے لئے اللہ تعالیٰ نے ظاہر کر دی۔ ایک عورت جنّیہ قوم جن میں سے اس کا نام حمامہ تھا۔ پس آدم علیہ السلام نے بحکم پروردگار قابیل سے اس کا نکاح کر دیا اور جب ہابیل جوان ہوا تو اس کے لئے جنت سے حور آئی۔ نام اس کا بدلہ تھا۔ پس بحکم پروردگار اس کا نکاح ہابیل سے کر دیا۔ پس قابیل خفا ہوا۔ آدم علیہ السلام پر اور کہا کہ میں ہابیل سے عمر میں بڑا ہوں اور میں اس سے بہتر ہوں۔ پس میرا نکاح بدلہ کے ساتھ کیوں نہ کیا جو کہ جنت کی حور ہے۔ کہا آدم علیہ السلام نے کہ اللہ تعالیٰ کا حکم ایسا ہی تھا۔ پس تم دونوں قربانی کرو کہ کس کی قربانی اللہ تعالیٰ قبول کرتا ہے۔ دیکھنا چاہئے۔ پس بعض نے کہا کہ قابیل کے قتل کرنے کا سبب ہابیل کو یہ تھا کہ اس کی ہمشیرہ اقلیما
سے خوبصورت تھی ہابیل کا نکاح ہو گیا تھا۔ پس آسمان سے سفید آگ نے آ کر ہابیل کی قربانی کو جلا دیا اور کھا لیا اور یہ قبول ہونے قربانی کی نشانی تھی اور قابیل کی قربانی کو نہ جلایا اور نہ کھایا۔ پس قابیل نے ہابیل کو قتل کر دیا اور بعض نے کہا کہ وہ حسد کی دوسری بات ہے۔ یعنی ہابیل کو جنت کی حور مل گئی تھی اور اس کو جنیہ عورت ملی تھی اور ایسا ہی اختلاف ہے۔ اس میں کہ وہ قربانی ان دونوں کی کس جگہ میں ہوئی تھی۔ اکثر علماء کہتے ہیں کہ ہندوستان میں ہوئی۔ بعض کہتے ہیں کہ منی کے پہاڑ میں ہوئی تھی اور بعض اور جگہ بتاتے ہیں اور ایسا ہی اختلاف ہے۔ اس میں کہ کس طریقہ سے ہابیل کو مارا۔ ابن جریج نے کہا کہ قابیل اسی فکر میں تھا کہ سو گیا اور شیطان ایک صورت بن کر آیا اور اس نے ایک پرندہ پکڑ کر ایک پتھر پر اس کا سر رکھا اور دوسرے پتھر سے اس کو ریزہ ریزہ کر ڈالا۔ پس قابیل نے ہابیل کے ساتھ ایسا ہی کیا اور ابن عباسؓ سے روایت ہے کہ پتھر مار کر مار ڈالا اور مجاہد سے روایت ہے کہ سخت ڈھیلوں سے یعنی مٹی کے کلوخ سے سر اس کا کچل ڈالا اور ربیع سے روایت ہے کہ دھوکا دے کر اس کو قتل کر دیا اور بعض نے کہا کہ اس کا گلا گھونٹ ڈالا اور بعض نے کہا کہ اس کو لوہے کے ساتھ قتل کر ڈالا اور اس میں بھی اختلاف ہے کہ کس جگہ پر اس کو قتل کیا۔
پس ابن عباسؓ سے روایت ہے کہ جبل ثور پر قتل کیا اور جعفر صادق سے روایت ہے کہ بصرہ کی جامع مسجد میں اور امام طبری سے روایت ہے کہ حراء کے وادی میں اور مسعودی سے روایت ہے کہ دمشق میں اور ایسا ہی کہا ہے ابن عساکر نے اپنی تاریخ میں جس میں دمشق کا بیان ہے۔ پس کہا کہ قابیل باہر رہا کرتا تھا۔ باب جابیہ سے اور اس نے قتل کیا اپنے برادر کو جبل قاسیون پر نزدیک مغارۃ الدم کے اور کہا حضرت کعب نے کہ جو خون کہ قاسیون کے پہاڑ پر ہے وہ خون آدم علیہ السلام کے بیٹے ہابیل کا ہے اور کہا ابن جوزی کے پوتے نے کہ عجب ہے ان اقوال سے اور حالانکہ متفق ہیں تواریخ اور صحابہ اور انبیاء علیہم السلام کے حالات بیان کرنے والے لوگ اس بات پر کہ یہ قتل کا واقعہ ہندوستان میں ہوا ہے اور قابیل نے غنیمت جانا کہ میرا باپ مکہ میں ہے۔ پس ہند میں اس کو قتل کر ڈالا اور جبل ثور اور حراء پر اس کو کون لایا۔ وہ دونوں پہاڑ تو مکہ میں ہیں اور بصرہ شہر کی تو خود اس وقت بنیاد تک بھی نہ تھی اور کہاں ہند اور دمشق اور باب جابیہ اے میرے پروردگار میں ایسی باتوں سے پناہ مانگتا ہوں اور میں کہتا ہوں کہ روایت ہے ابن عباسؓ سے کہ قتل کیا ہے اس نے ہابیل کو جبل نوذ پر ہند میں اور یہی قول صحیح ہے۔
(انتہیٰ ما فی العینی للامام بدر الدین علی البخاری ج ٧)
خیال کرو کہ واقعہ سچا مگر اس کے اسباب و وجوہ میں کس قدر خلاف ہے۔ پس ایسا ہی عیسیٰ علیہ السلام کا واقعہ کہ ضرور نازل ہوں گے زمین پر اور مریں گے مگر کس طور پر اور کب اس کی بحث ضروری نہیں ہے۔ یہ بیان اس وجہ تاویل میں تھا کہ آیت کریمہ میں ترتیب مفید نہ مانی جاوے۔
”ومنها فى التاويل ماقاله ابوبكر الواسطى وهو ان المراد انى متوفيك عن شهواتك وحظوظ نفسك ثم قال ورافعك الىّ وذلك لان من لم يصير فانيا عما سوى الله لا يكون له وصول الى مقام معرفة الله تعالى وايضاً فعيسى لما رفع الى السماء صار حاله كحال الملئكة فى زوال الشهوة والغضب والاخلاق الذميمة ومنها ان التوفى اخذ الشئى وافيا ولما علم الله ان من الناس من يخطر بباله ان الذى رفعه الله هو روحه لا جسده كما زعمت النصارى ان المسيح رفع لاهوته يعنى روحه وبقى فى الارض ناسوته يعنى جسده فرد الله عليهم بقوله انى متوفيك ورافعك الىّ“
جیسا کہ (تفسیر کبیر ج ٣ ص ٤٧٣ طبع مصر) میں ہے۔ ”فلما توفيتنى كنت انت الرقيب عليهم والمراد منه وفاة الرفع الى السماء من قوله انى متوفيك ورافعك الیّ“ اور جیسا کہ (تفسیر خازن جزء ١ ص٥٠٩) میں ہے۔ ”فلما توفيتنى يعنى فلما رفعتنى الى السماء فالمراد به وفاة الرفع لا الموت فذكر هذا الكلام ليدل على انه عليه الصلوٰة والسلام رفع بتمامه الى السماء بروحه وجسده ويدل على صحة هذا التاويل وما يضرونك من شئ ومنها انى متوفيك اى اجعلك كالمتوفى لانه اذا رفع الى السماء وانقطع خبره واثره عن الارض كان كالمتوفى واطلاق اسم الشئ على ما يشابهه فى اكثر خواصه وصفاته جائز حسن ومنها ان التوفى هو القبض يقال وفانى فلان دراهمى واوفانى وتوفيتها منه كما يقال سلم فلان دراهمى الىّ وتسلمتها منه وقد يكون ايضا توفى بمعنى استوفى وعلى كلالا حتمالين كان اخراجه من الارض واصعاده الى السماء توفيا له . فان قيل فعلى هذا الوجه كان التوفى عين الرفع اليه فيصير قوله ورافعك الىّ تكرار قلنا انى متوفيك يدل على حصول التوفى وهو جنس تحته انواع بعضها بالموت وبعضها بالاصعاد الى السماء
واقعہ سچا مگر اس کے اسباب ووجوہ میں کس قدر خلاف ہے۔ پس ایسا ہی یہ ضرور نازل ہوں گے زمین پر اور مریں گے مگر کس طور پر اور کب اس کی یہ بیان اس وجہ تاویل میں تھا کہ آیت کریمہ میں ترتیب مفید نہ مانی
فى التاويل ماقاله ابوبكر الواسطى وهو ان المراد انى تك وحظوظ نفسك ثم قال ورافعك الى وذلك لان من لم الله لا يكون له وصول الى مقام معرفة الله تعالى وايضاً سماء صار حاله كحال الملئكة فى زوال الشهوة والغضب ومنها ان التوفى اخذ الشئ وافيا ولما علم الله ان من بباله ان الذى رفعه الله هو روحه لا جسده كما زعمت ح رفع لاهو ته يعنى روحه وبقى فى الارض ناسوته عليهم بقوله انى متوفيك ورافعك الى“ (بير ج ٣ ص ٢٧٤ طبع مصر) میں ہے۔ ”فلما توفيتنى كنت انت راد منه وفاة الرفع الى السماء من قوله انى متوفيك (تفسیر خازن جزء اول ص ٥٠٩) میں ہے۔ ”فلما توفيتنى يعنى ء فالمراد به وفاة الرفع لاالموت فذكر هذا الكلام ليدل والسلام رفع بتمامه الى السماء بروحه وجسده ويدل ه وما يضرونك من شئ ومنها انى متوفيك اى اجعلك فع الى السماء وانقطع خبره واثره عن الارض كان الشئ على ما يشابهه فى اكثر خواصه وصفاته جائز ى هوالقبض يقال وفانى فلان دراهمى واوفانى لم فلان دراهمى الى وتسليمتها منه وقد يكون ايضا نى وعلى كلاالا حتمالين كان اخراجه من الارض توفياله ، فان قيل فعلى هذا الوجه كان التوفى عين رافعك الى تكرار قلنا انى متوفيك يدل على حصول انواع بعضها بالموت وبعضها بالاصعاد الى السماء
فلما قال بعد ورافعك الى كان هذا تعيينا للنوع ولم يكن تكرارا ، ومنها ان يقد رفيها حذف المضاف والتقدير متوفى عملك بمعنى مستوفى عملك ورافعك الى اى ورافع عملك الى وهو كقوله تعالى اليه يصعد الكلم الطيب والمراد من هذه الآية انه تعالى بشره بقبول طاعته واعماله وعرفه ان ما يصل اليه من المتاعب والمشاق فيه تمشية دينه واظهار شريعته من الاعداء فهو لا يضيع اجره ولا يهدم ثوابه“
”ومنها المراد من التوفى النوم ومنه قوله عزوجل الله يتوفى الانفس حين موتها والتى لم تمت فى منامها فجعل النوم وفاة وكان عيسى عليه السلام قد نام فرفعه الله وهو نائم لئلا يلحقه خوف فمعنى الآية انى منيمك ورافعك الى فهذه الوجوه المذكورة على قول من يجرى الآية على ظاهرها الطريق الثانى وهو قول من قال لا بدفى الآية من تقديم وتاخير تقديره انى رافعك الى ومطهرك من الذين كفروا ومتوفيك بعد انزالك الى الارض وقيل لبعضهم هل تجد نزول عيسى الى الارض فى القرآن قال نعم قوله تعالى وكهلا وذلك لا نه لم يكتهل فى الدنيا وانما معناه وكهلا بعد نزوله من السماء ومثله من التقديم والتاخير كثير فى القرآن ، واعلم ان الوجوه الكثيرة التى قدمناها تغنى عن التزم مخالفة الظاهر والله اعلم اصفة الثانية من الصفات التى ذكرها الله تعالى بعيسى عليه السلام قوله ورافعك الى والمشبهة يتمسكون بهذه الآية فى اثبات المكان لله تعالى وانه تعالى فى السماء وقد دلنا فى المواضع الكثيرة من هذا الكتاب بالدلائل القاطعة على انه يمتنع كونه تعالى فى المكان فوجب حمل اللفظ على التاويل وهو من وجوه“
الاوّل ...... ”ان المراد الى محل كرامتى وجعل ذلك رفعا اليه للتفخيم والتعظيم ومثله قوله انى ذاهب الى ربى وانما ذهب ابراهيم عليه السلام من العراق الى الشام وقد يقول السلطان ارفعوا هذا الامر الى القاضى وقديسمى الحاج زوار الله تعالى ويسمى المجاورون جيران الله والمراد من كل ذلك التفخيم والتعظيم فكذالههنا“
الوجه الثانى ....... ”فى التاويل ان يكون قوله ورافعك الى معناه انه يرفع الى مكان لا يملك الحكم عليه فيه غير الله لان فى الارض قد يتولى الخلق انواع الاحكام فاما السموات فلا حاكم هناك فى الحقيقة وفى الظاهر الا الله تعالى“
الوجه الثالث....... ”ان بتقدير القول بان الله فى مكان لم يكن ارتفاع عيسى الى ذلك سببا له لانتفاعه وفرحه بل انما ينتفع بذلك لو وجد هناك مطلوبه من الثواب والروح والراحة والريحان فعلى كلا القولين لا بد من حمل اللفظ على ان المراد ورافعك الى محل ثوابك ومجازاتك واذا كان لا بد من اضمار ما ذكرناه لم يبق فى الآية دلالة على اثبات المكان لله تعالى وبقى من مباحث هذه الآية موضع مشكل وهو ان نص القرآن دل على انه تعالى حين رفعه القى شبهه على غيره على ما قال (وما قتلوه وما صلبوه ولكن شبه لهم) والاخبار ايضاً واردة بذلك الا ان الروايات اختلفت فتارة يروى ان الله تعالى القى شبه على بعض الاعداء الذين دلوا اليهود على مكانه حتى قتلوه وصلبوه وتارة يروى انه عليه الصلوة والسلام رغب بعض خواص اصحابه فى ان يلقى شبه عليه حتى يقتل مكانه وبالجملة فكيفما كان ففى القاء شبهه على الغير اشكالات الاشكال الاول انا لو جوزنا القاء شبه انسان على انسان آخر لزم السفسطة فانى اذا رأيت ولدى ثم رأيته ثانيا حينئذ لجوز ان يكون هذا الذى رأيته ثانيا ليس بولدى بل هو انسان القى شبهه عليه وحينئذ يرتفع الامان عن المحسوسات وايضا فالصحابة الذى رأوا محمد ﷺ يامرهم وينهاهم وجب ان لا يعرفوا انه محمد لاحتمال انه القى شبهه على غيره ذلك يفضى الى سقوط الشرائع وايضاً فمدار الامر فى الاخبار المتواترة على ان يكون المخبر الاول انما اخبر عن المحسوس فاذا جاز وقوع الغلط فى المبصرات كان سقوط خبر المتواترة اولى وبالجملة ففتح هذا الباب اوله سفسطة وآخره ابطال النبوات بالكلية والاشكال الثانى وهو ان الله تعالى كان قد امر جبرائيل عليه السلام بان يكون معه فى اكثر الاحوال هكذا قاله المفسرون فى تفسير
الثانى ....... "فى التاويل أن يكون قوله ورافعك الى معناه لا يملك الحكم عليه فيه غير الله لان فى الارض قد يتولى حكام فاما السموات فلا حاكم هناك فى الحقيقة وفى الظاهر
الثالث ...... " ان بتقدير القول بان الله فى مكان لم يكن ذلك سببا له لانتفاعه وفرحه بل انما ينتفع بذلك لووجد الثواب والروح والراحة والريحان فعلى كلا القولين لا بد من أن المراد ورافعك الى محل ثوابك ومجازاتك واذا كان ماذكرناه لم يبق فى الآية دلالة على اثبات المكان لله تعالى هذه الآية موضع مشكل وهو ان نص القرآن دل على انه القى شبهه على غيره على ماقال (وما قتلوه وما صلبوه الاخبار ايضاً واردة بذلك الا ان الروايات اختلف فتارة أن القى شبه على بعض الاعداء الذين دلوا اليهود على قتلوه وصلبوه وتارة يروى انه عليه الصلوة والسلام رغب اصحابه فى أن يلقى شبه عليه حتى يقتل مكانه وباالجملة شبهه على الغيرا شكالات الاشكال الاول انا لوجوزنا على انسان آخر لزم السفسطة فانى اذا رأيت ولدى ثم اذا جوزان يكون هذا الذى رأيته ثانيا ليس بولدى بل شبهه عليه وحينئذ يرتفع الامان عن المحسوسات وايضا وأن محمداًﷺ يا مرهم وينهاهم وجب ان لا يعرفوا انه القى شبهه على غيره ذلك يفضى الى سقوط الشرائع فى الاخبار المتواترة على ان يكون المخبر الاول انما فاذا جاز وقوع الغلط فى المبصرات كان سقوط خبر جملة ففتح هذا الباب اوله سفسطة وآخره ابطال الاشكال الثانى وهوان الله تعالى كان قد امر جبرائيل معه فى اكثر الاحوال هكذا قاله المفسرون فى تفسير
قوله تعالى (اذا يدتك بروح القدس) ثم ان طرف جناح واحد من اجنحته جبريل عليه السلام كان يكفى العالم من البشر كيف لم يكف فى منع اولئك اليهود عنه وايضاً انه عليه السلام لما كان قادراً على احياء الموتى وابرا الاكمه والابرص فكيف لم يقدر على اماتة اولئك اليهود الذين قصدوه بالسوء وعلى اسقامهم والقاء الزمانة والفلج عليهم حتى يصير واعاجزين عن التعرض له والاشكال الثالث انه تعالى كان قادرا على تخليصه من اولئك الاعداء بان يرفعه الى السماء فما الفائدة فى القاء شبهه على غيره وهل فيه الاالقاء مسكين فى القتل من غير فائدة اليه والاشكال الرابع انه اذا القى شبهه على غيره ثم انه رفع بعد ذلك الى السماء فالقوم اعتقدوافيه انه هو عيسى مع انه ماكان عيسى هذا كان القاء لهم فى الجهل والتلبيس وهذا لايليق بحكمة الله تعالى والاشكال الخامس أن النصارى على كثرتهم فى مشارق الارض ومغاربها وشدة محبتهم المسيح عليه السلام وغلوهم فى امره اخبروا انهم شاهد وه مقتولا مصلوبا فلوا نكرنا ذلك كان طعنا فيما ثبت بالتواتر والطعن فى التواتر يوجب الطعن فى نبوة محمدﷺ ونبوة عيسى عليه السلام، بل فى وجودهما ووجود سائرالانبياء عليهم الصلوة والسلام وكل ذلك باطل والاشكال السادس ثبت بالتواتر ان المصلوب بقى حياز مانا طويلا فلولم يكن ذلك عيسى بل كان غيره لا ظهر الخبر ولقال انى لست بعيسى بل انما انا غيره ولبالغ فى تعريف هذا المعنى ولو ذكر ذلك لا شتهر عن الخلق هذا المعنى فلما لم يوجد شئ من هذا علمنا ان ليس الامر على ماذكرتم فهذا جملة ما فى الموضع من السوالات والجواب عن الاول ان كل من اثبت القادر المختار سلم انه تعالى قادر على ان يخلق انساناً آخر على صورة زيد مثلا ثم ان هذا التصوير لا يوجب الشك المذكور فكذا القول فيماذكرتم والجواب عن الثانى ان جبريل عليه السلام لودفع الاعداء عنه اواقدر الله تعالى عيسى عليه السلام على دفع الاعداء عن نفسه لبلغت معجزته الى حد الالجاء وذلك غير جائز وهذا هو الجواب عن الاشكال الثالث فانه تعالى لورفعه الى السماء وما القى شبهه على الغير لبلغت تلك
المعجزة الى حد الالجاء والجواب عن الرابع ان تلامذة عيسى كانوا حاضرين وكانوا عالمين بكيفية الواقعة وهم كانوا يزيلون ذلك التلبيس والجواب عن الخامس ان الحاضرين في ذلك الوقت كانوا قليلين ودخول الشبهة على الجمع القليل جائز والتواتر اذا انتهى في آخر الامر الى الجمع القليل لم يكن مفيدا للعلم والجواب عن السادس ان بتقدير ان يكون الذى القى شبه عيسى عليه السلام كان مسلما وقبل ذلك عن عيسى عليه السلام جائز ان يسكت عن تعريف حقيقت الحال في تلك الواقعة (بثبت العزم والصبر على البلاء وكذلك العزم على الصبر والكف عن اظهار المحن من طريقة الكبراء من محبى الله تعالى وبعيد بل ابعد عن شكاية الله لدى العباد وليس فيه نفع للشاكى) وبالجملة فالاسئلة التي ذكروها امور تتطرق الاحتمالات اليها من بعض الوجوه ولما ثبت بالمعجز القاطع صدق محمد ﷺ فى كل ما اخبر عنه امتنع ضرورة هذه الاسئلة المتحملة معارضته للنص القاطع والله ولى الهداية انتهى مافى التفسير مفاتيح الغيب للامام الرازي مخلوطا معانى بعض المواضع وانا الحقير اقول فى تتمة الجواب عن الاشكال الخامس ان ادعاء هم قتل عيسى عليه السلام وصلبهم اياه واثباته بالتواتر وانتهاء التواتر الى امر محسوس وهو القتل والصلب فى حق عيسى عليه السلام ادعاء مجرد اشتباه وهمى ناش من الاجتماع على حمية قومية ونصرة دينية وتحفظ مسلكى كما ادعى الشيعة تواتر نص جلى من حضرة الرسالة على خلافة امير المؤمنين سيدنا على ابن ابى طالب يوم غدير خم مع انه لم يثبت باخبار الآحاد ايضاً فضلاً عن المشاهير فضلا عن المتواتر على ان التجربة والتواتر من قوم لا يكون حجة ملزمة على قوم آخر ما لم يصل اليهم على ذلك النمط كما تقرر في موضعه ولمنع هذا التواتر وجوه الاول ان من شرائط التواتر وجود هذا المبلغ المحيل لكذب في كل طبقة ولذا قالوا انه اوله كاخره واوسطه كطرفيه ووقت حدوث تلك الواقعة لم يتجاوز عدد المخبرين سبعة انفار الذين دخلوا عليه وزعموا انهم صلبوه كانوا ستة او سبعة والغالب في هذا العدد عدم
بلوغهم حد العلم والقطع نفى مطلق المصلوبية والمقـ صورة عيسى عليه السلام بل رفعه الله اليه وأثابه وهوكل يصدق عليه و دعواهم فلايتم التقريـ او على عجزه وكلاله عـ المتشابهات كما يورده (والثالث) انه قد انقطع عـ عن الارض بذرهم وكسـ حد التواتر وكان ملكا قبل الطبقة الوسطى فلا يـ (والرابع ) ان من شرائط الله تبارك وتعالى وما قتـ فيه لفى شك منه ما لهـ الفاضل محمد الحسن السـ مزيد امنا بمواضع لايضا تفسیر خازن میں سورۂ اصحب القرية اذ جاءها المـ کے متعلق ذکر کیا اور آخر میں کہا کہ خوبصورت ان تینوں شخصوں اور د اس جواب سے مراد عیسیٰ علیہ السلا قصد دیکھنے سے اشتباہ نہیں رہتا۔ دلیل جانے حضرت عـ عبدالرحمٰن ہمدانی نے اپنی کتاب سات شخصوں نے سات شخصوں
د الالتجاء والجواب عن الرابع ان تلامذة عيسى كانوا وا عالمين بكيفية الواقعة وهم كانوا يزيلون ذلك التلبيس خامس ان الحاضرين فى ذلك الوقت كانوا قليلين ودخول مع القليل جائز والتواتر اذا انتهى فى آخر الامر الى الجمع فيد العلم والجواب عن السادس ان بتقدير ان يكون الذى عليه السلام كان مسلما وقبل ذلك عن عيسى عليه السلام عن تعريف حقيقت الحال فى تلك الواقعة (يثبت العزم لاء وكذلك العزم على الصبر والكف عن اظهار المحن من محبى الله تعالى وبعيد بل ابعد عن شكاية الله لدى العباد لشاكى) وبالجملة فالاسئلة التى ذكروها امور تتطرق من بعض الوجوه ولما ثبت بالمعجز القاطع صدق ل ما اخبر عنه امتنع ضرورة هذه الاسئلة المتحملة قاطع والله ولى الهداية انتهى مافى التفسير مفاتيح الغيب خلوطا معانى بعض المواضع وانا الحقير اقول فى الاشكال الخامس ان ادعاء هم قتل عيسى عليه السلام اته بالتواتر وانتهاء التواتر الى امر محسوس وهو القتل عيسى عليه السلام ادعاء مجرد اشتباه وهمى ناش من ة قومية ونصرة دينية وتحفظ مسلكى كما ادعى الشيعية ن حضرة الرسالة على خلافة امير المؤمنين سيدنا على غدير خم مع انه لم يثبت باخبار الآحاد ايضاً فضلاً عن المتواتر على ان التجربة والتواتر من قوم لا يكون حجة خر ما لم يصل اليهم على ذلك النمط كما تقرر فى موضعه ر وجوه الادلة ان من شرائط التواتر وجود هذا المبلغ ل طبقة ولذا قالوا له اوله كاخره وأوسط كطرفيه ووقت ة لم يتجاوز عدد المخبرين سبعة انفار الذين دخلوا م صلبوه كانوا ستة او سبعة والغالب فى هذا العدد عدم
بلوغهم حد العلم والقطع بخبرهم (والثاني) ان دعوى اهل الاسلام ليس نفى مطلق المصلوبية والمقتولية بل مدعاهم ان المصلوب هو من صور على صورة عيسى عليه السلام فى اللون والشكل والوجه لا نفس جثته المقدسة بل رفعه الله اليه والثابت بالتواتر لو سلم مصلوبية من هو على صورة وهو كلى يصدق عليه وعلى غيره فهو غير مضر لنا، لان الدليل اعم من دعواهم فلايتم التقريب فمبنى الامر على غلط الحس او على عدم تميزه او على عجزه وكلاله عن ادراك التشخص الواقعى وهذا واقع كثيرا فى المتشابهات كما يورده اهل المعقول فى نقض الكلية ببدلية البيضات (والثالث) انه قد انقطع عرق اليهود فى عهد بخت نصر فانه قتلهم واعدم عن الارض بذرهم وكسر اضامهم فلم يبق الا واحد بعد واحد غير بالغ حد التواتر وكان ملكا قبل البعثة قابضا المشارق الارض ومغاربها فانقطعت الطبقة الوسطى فلا يصدق حد التواتر على قولهم انا قتلنا المسيح (والرابع) ان من شرائط التواتر ان لا يكون معارضا لامر قطعى وهو قول الله تبارك وتعالى وما قتلوه وما صلبوه ولكن شبه لهم وان الذين اختلفوا فيه لفي شك منه ما لهم بذلك من علم الا اتباع الظن انتخبت هذا من كلام الفاضل محمد الحسن السنبهلى من تعليقاته على العقائد للسعد التفتازانى مزيدا منا بمواضع للايضاح “
تفسير خازن میں سورۂ یٰسین شریف کے اس قول پاک پر ہے۔ ”واضرب لهم مثلاً اصحب القرية اذ جاءها المرسلون“ آخر آیت تک ایک قصہ طول طویل اس آیت کریمہ کے متعلق ذکر کیا اور آخر میں کہا کہ کھل گئے دروازے آسمانوں کے اور دیکھا میں نے ایک جوان خوبصورت ان تینوں شخصوں اور دو قاصدوں کے لئے ۔ اللہ تعالیٰ کی جناب میں دعاء کر رہا ہے۔ اس جوان سے مراد عیسیٰ علیہ السلام ہیں۔ کیونکہ اوّل قصہ میں عیسیٰ علیہ السلام ہی کا ذکر ہے۔ پورا قصہ دیکھنے سے اشتباہ نہیں رہتا۔
دلیل حیات حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی آسمان پر حضرت شیخ امام اجل ابونصر محمد بن عبدالرحمن ہمدانی نے اپنی کتاب مستطاب سبعیات میں فرمایا ہے کہ یوم السبت یعنی سنیچر کے روز سات شخصوں نے سات شخصوں کے ساتھ مکر کیا ہے۔ نوح علیہ السلام سے ان کی قوم کا مکر ، صالح
علیہ السلام سے ان کی قوم کا مکر، یوسف علیہ السلام سے ان کے بھائیوں کا مکر، موسیٰ علیہ السلام سے ان کی قوم کا مکر، عیسیٰ علیہ السلام کی قوم کا مکر ان سے، قریش کے سرداروں کا مکر رسول اللہ ﷺ سے، بنی اسرائیل کا مکر، پروردگار کے منع کرنے کے ساتھ شکار کرنے سے بروز سنیچر کے یعنی شنبہ کے روز اور بیان کیا کہ عیسیٰ علیہ السلام کو ان کی قوم کے مکر کے سبب سے پروردگار نے بواسطہ حضرت جبرائیل علیہ السلام کے آسمان پر بلا لیا اور عبارت اس امام اجل کی یہ ہے۔ ”اعلم ان صاحب البراق وسيد يوم الميثاق ورسول الملك الخلاق لم يسم يوم السبت يوم مكر وخديعة وانما سماه يوم المكر والخديعة لان سبعة نفر مكروا فى هذا اليوم بسبعة نفر الاول قوم نوح عليه السلام مكرا بنوح عليه السلام قوله تعالى ومكروا مكرا كبار الآية فاستحقوا الطوفان والمحنة قوله تعالى ففتحنا ابواب السماء بماء منهمر الآية الثانى قوم صالح عليه السلام مكروا بصالح عليه السلام قوله تعالى ومكروا مكرا ومكرنا مكرا وهم لا يشعرون ، الثالث اخوة يوسف عليه السلام مكروا بيوسف عليه السلام قوله تعالى فيكيدوا لك كيدا ، الرابع قوم موسى عليه السلام مكروا بموسى عليه السلام قوله تعالى فاجمعوا كيدكم ثم ائتوا صفا ، الخامس قوم عيسى عليه السلام مكروا بعيسى ومكروا ومكر الله ، والله خير الماكرين ، السادس صناديد قريش مكروا برسول الله ﷺ قوله تعالى واذ يمكر بك الذين كفروا الآية السابع بنو اسرائيل مكروا بنهى الله تعالى قوله تعالى واسألهم عن القرية ، وهى ايلة التى كانت حاضرة اى مجاورة البحر بحرالقلزم (اذيعدون) اى يعتدون فى السبت فاستحقوا المسخ واللعنة“ پھر ہر ایک قوم کے مکر کو جو تفصیلاً بیان کرنا شروع کیا تو قوم یہود کا جو مکر عیسیٰ علیہ السلام سے ہوا اس کا قصہ بیان فرمایا: ” (وقصت) ان اليهود قالوا عيسى ساحر واحياء الموتى وغير ذلك كله من السحر فسمع عيسى عليه السلام ذلك فاغتم وقال الهى انك اعلم بافترائهم فآتهم المسخ فجعلهم الله القردة والخنازير فبلغ الخبر ملك اليهود فخاف ان يدعو عليه ايضاً فامر بقتل عيسى عليه السلام فاجتمع اليهود وجاؤا الى عيسى وكان فى البيت فادخلوا عليه واحدا منهم ليقتله فنزل جبرئيل عليه السلام فصعد بعيسى
ن السماء من سقف البيـ ورة عيسى عليه السلام سى عليه السلام وملـ ه اليه ، الآية ويقال شبوع “ مطلب یہ ہے کہ یہـ کی وجہ یہ تھی کہ جب کہ عیسیٰ علیـ کے بڑے معجزے دیکھے تو یہو کی بددعا سے وہ یہودی خنزیر اور کمرے اوپر بھی عیسیٰ علیہ السلام مکان میں ان کو بند کیا۔ پس جـ داخل کیا جس کا نام اشبوع تھا جان کر قتل کر دیا اور عیسیٰ علیہ السلـ کے آسمانوں پر یعنی شرح بخاری جلد ا السماء فيحكم بشريعـ حضرت عیسیٰ علیہ السلام قتل کریـ شریعت محمدی ﷺ کے۔
(عینی شرح بخاری جـ
يخرب الكعبه ذوالسو کے ذکر میں جو جو احادیث و ساتھ فرمایا کہ حبشی لوگ آکر تعمیر نہ ہوگی اور وہی لوگ نکالیـ زمانہ میں ہوگی اور ایک حبشی آنے کے بعد آٹھویں برس ایک جماعت کو ذوالسویقتین پنڈلیوں کے ہے۔ کیونکہ قو
وم کا مکر، یوسف علیہ السلام سے ان کے بھائیوں کا مکر، موسیٰ علیہ السلام سے یہ السلام کی قوم کا مکر ان سے، قریش کے سرداروں کا مکر رسول اللہ ﷺ سے، شکار کے منع کرنے کے ساتھ شکار کرنے سے بروز سنیچر کے یعنی شنبہ کے روز یہ السلام کو ان کی قوم کے مکر کے سبب سے پروردگار نے بواسطہ حضرت سمان پر بلا لیا اور عبارت اس امام اجل کی یہ ہے۔
صاحب البراق وسيد يوم الميثاق ورسول الملك الخلاق ات يوم مكرو خديعة وانما سماه يوم المكر والخديعة لان ى هذا اليوم بسبعة نفر الاول قوم نوح عليه السلام مكرا م قوله تعالى ومكروا مكرا كبار الآية فاستحقوا الطوفان ففتحنا ابواب السماء بماء منهمر الآية الثانى قوم صالح روا بصالح عليه السلام قوله تعالى ومكروا مكرا ومكرنا رون . الثالث اخوة يوسف عليه السلام مكروا بيوسف عالى فيكيدوا لك كيدا . الرابع قوم موسى عليه السلام یہ السلام قوله تعالى فاجمعوا كيدكم ثم ائتوا صفا . لیہ السلام مكروا بعيسى ومكروا ومكر الله ، والله خير صناديد قريش مكروا برسول الله ﷺ قوله تعالى واذ الآية السابع بنو اسرائيل مكروا بنهى الله تعالى قوله قرية ، وهى ايلة التى كانت حاضرة اى مجاورة البحر اى يعتدون فى السبت فاستحقوا المسخ واللعنة “
عد ہر ایک قوم کے مکر کو جو تفصیلا بیان کرنا شروع کیا تو قوم یہود کا جو مکر ا قصہ بیان فرمایا : (وقصته ) ان اليهود قالوا عيسى تى وغير ذلك كله من السحر فسمع عيسى عليه السلام قال انك اعلم بافترائهم فأتاهم المسخ فجعلهم الله القردة خبر ملك اليهود فخاف ان يدعو عليه ايضاً فامر بقتل فاجتمع اليهود وجاؤا الى عيسى وكان فى البيت لیہم ليقتله فنزل جبرئيل عليه السلام فصعد بعيسى
الى السماء من سقف البيت وحول الله صورة الرجل الذى دخل عليه على صورة عيسى عليه السلام فاخذ اليهود ذلك الرجل وقتلوه فظنوا انهم قتلوا عيسى عليه السلام وما قتلوه كما قال الله تعالى وما قتلوه يقينا بل رفعه الله اليه ، الآية ويـقـال ان اسم الرجل الذى شبه بعيسى عليه السلام اشبوع “
مطلب یہ ہے کہ یہود کی قوم نے جو کہ عیسیٰ علیہ السلام کو قتل کرنے کا ارادہ کیا تھا تو اس کی وجہ یہ تھی کہ جب کہ عیسیٰ علیہ السلام کا مردوں کو زندہ کرنا اور سخت بیماروں کو شفاء دینا وغیرہ۔ بڑے بڑے معجزے دیکھے تو یہودیوں نے کہا کہ عیسیٰ علیہ السلام جادو گر ہے۔ پس عیسیٰ علیہ السلام کی بددعا سے وہ یہودی خنزیر اور بندر بن گئے۔ جب یہ خبر ان کے بادشاہ کو پہنچی تو وہ ڈرا کہ شاید میرے اوپر بھی عیسیٰ علیہ السلام بددعا کریں گے۔ پس اس نے قتل کا حکم دیا اور قتل کے واسطے ایک مکان میں ان کو بند کیا۔ پس جب ایک شخص کو واسطے قتل کرنے عیسیٰ علیہ السلام کے مکان کے اندر داخل کیا جس کا نام اشبوع تھا۔ اس پر عیسیٰ علیہ السلام کی صورت ڈالی گئی اور یہود نے اس کو عیسیٰ جان کر قتل کر دیا اور عیسیٰ علیہ السلام کو پروردگار نے آسمان پر طلب کر لیا۔ دلیل (ہونے عیسیٰ علیہ السلام کے آسمانوں پر عینی شرح بخاری جلد ١ ص ٣٧١) میں ہے۔ ”وان عيسى يقتله بعد ان ينزل من السماء فيحكم بشريعة المحمدية“ یعنی دجال کی باتوں سے ایک یہ بات ہے کہ اس کو حضرت عیسیٰ علیہ السلام قتل کریں گے۔ آسمان سے نازل ہونے کے بعد پس حکم کریں گے ساتھ شریعت محمدی ﷺ کے۔
(عینی شرح بخاری ج ٣ ص ٥٩٨) میں حضرت ابو ہریرہؓ کی حدیث ”ان النبي ﷺ قال يـخـرب الكعبه ذو السويقتين من الحبشة “ کے متعلق فرمایا کہ کعبہ کے خراب ہونے کے ذکر میں جو جو احادیث وارد ہیں ان میں سے ایک یہ ہے کہ ابو داؤد طیالسی نے صحیح سند کے ساتھ فرمایا کہ حبشی لوگ آ کر خانہ کعبہ کو ایسا خراب کریں گے کہ بعد اس کے پھر اس مکان متبرک کی تعمیر نہ ہوگی اور وہی لوگ نکالیں گے خزانہ اس کا اور ذکر کیا عینی نے کہ یہ بات عیسیٰ علیہ السلام کے زمانہ میں ہوگی اور ایک حبشی ذوالسویقتین آئے گا اور بیت اللہ شریف کو گرائے گا۔ پس اس کے آنے کے بعد آٹھویں برس سے نویں برس کے درمیان میں عیسیٰ علیہ السلام بھیجے گا اس کی طرف ایک جماعت کو ذوالسویقتین کے معنی صاحب دو چھوٹی پنڈلیوں کا یہ اشارہ بطرف باریک ہونے پنڈلیوں کے ہے۔ کیونکہ قوم حبش کی پنڈلیاں باریک ہوتی ہیں۔ مطلب یہ ہوا کہ خانہ کعبہ کو خراب
کرے گا۔ ایسا ایک شخص جو کہ قوم حبشہ کی ضعیف ہے اور وہ عبارت عربی یہ ہے عینی کی” ومنهاما رواه ابوداؤد الطيالسى بسند صحيح فى يبايع لرجل بين الركن والمقام واوّل من يستحل هذا البيت اهليه فاذا استحلوه فلا تسئال عن هلكة العرب ثم نجيئى الحبشة فيخربونه خرابا لا يعمر بعده وهم الذين يستخرجون كنزه وذكر الحليمى ان ذلك في زمن عيسى عليه السلام وان الصريح ياتيه بان ذا السويقتين قد سار الى البيت يهدمه فيبعث اليه عيسى عليه السلام طائفة بين الثمان الى التسع“ اور اسی عینی کے دوسرے صفحہ میں ہے کہ امام غزالی سے مذکور ہے کہ ہر روز مغرب کے وقت طواف کرتا ہے۔ ایک شخص ابدال میں سے خانہ کعبہ کا اور ہر صبح کو طواف کرتا ہے۔ اس کا ایک شخص اوتاد سے جب یہ بات تمام ہو جائے گی تو یہ سبب ہوگا۔ خانہ کعبہ کے اٹھ جانے کا زمین سے پس ایک روز ایک ایسا ہوگا کہ جب صبح کو لوگ اٹھیں گے تو خانہ کعبہ کا کوئی نام ونشان اس جگہ باقی نہ ہوگا اور یہ امر اس کے غائب ہوجانے کا اس وقت ہوگا کہ پہلے سے سات برس تک کوئی شخص حج اس کا نہ کرے گا۔ پھر قرآن شریف اٹھ جائے گا۔ اپنی تختیوں سے (یعنی لوگوں کو اس کے لکھنے اور خریدنے کا شوق نہ رہے گا) پھر قرآن شریف دلوں سے اٹھ جائے گا۔ (یعنی نہ کوئی عمل کرے گا اور نہ کوئی پڑھے گا) پھر لوگ متوجہ ہو جائیں گے بطرف شعر اشعار اور غزل خوانی اور مرثیہ خوانہ اور گانے بجانے اور جاہلیت کے قصوں کے۔ پھر نکلے گا دجال اور نازل ہوں گے عیسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام اور امام قرطبیؒ نے فرمایا کہ اٹھ جانا قرآن شریف کا سینوں سے اول ہوگا اور خراب ہونا خانہ کعبہ کا بعد اس کے ہوگا اور یہ بعد موت حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے ہوگا اور یہی بات صحیح ہے۔ پس یعنی غرضیکہ عیسیٰ علیہ السلام کا آنا اس وقت ضرور ہے۔ خراب ہونا خانہ کعبہ کا بعد ہو رفع قرآن شریف کے یا قبل ہو اور پہلی روایتوں میں مطلق جمع مراد ہے۔ سوائے ترتیب مذکور کے یعنی یہ سارے امور ہوں گے۔ قطع نظر تقدیم و تاخیر مذکور فی العبارۃ سے پس ان روایات میں تطبیق بھی ہوگئی اور بالطبع گانے بجانے کی برائی اور اس کا موجب اثم ہونا بھی پایا گیا۔
(عینی شرح بخاری ج ثانی ص ٢١٠) میں ہے کہ جب جبرائیل علیہ السلام جنت سے رسول اللہ ﷺ کے واسطے براق لائے اور حضرت ﷺ براق پر سوار ہونے لگے تو گھوڑے نے تیزی کی پس جبرائیل علیہ السلام نے گھوڑے سے کہا کہ کیا تو محمد ﷺ ہی سے شوخی کرتا ہے۔ یہ تخصیص ہی کے کلمہ کے ساتھ اس واسطے کہا کہ پہلے انبیاء علیہم السلام بھی اس براق پر سوار ہو چکے ہیں۔ حضرت قتادہؓ
نے فرمایا کہ وجہ یہ تھی کہ پہلے انبیاء علیہم السلام سے لے کر رسول اللہ ﷺ تک زمانہ بہت گزر چکا تھا۔ اس پر کسی نے سواری نہ کی تھی اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے لے کر رسول اللہ ﷺ تک تو خود زمانہ دراز تھا۔ پس اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ رسول کریم ﷺ سے پہلے عیسیٰ علیہ السلام نے بھی اس گھوڑے پر مثل انبیائے سابقین کے سواری کی تھی۔ مگر رسول اللہ ﷺ تک زمانہ چونکہ بہت گزر چکا تھا۔ لہٰذا وہ گھوڑا موافق دنیا کے گھوڑوں کے ذرا تیزی کرتا تھا۔ جیسے کہ دنیا کے گھوڑے اگر زمانہ دراز تک ان پر سواری نہ کی جائے تو ذرا تیزی دکھاتے ہیں اور سوار کے آگے سوار ہونے کے وقت اچھلتے کودتے ہیں۔ وھذا ظاھر جدا!
(عینی شرح بخاری جلد دوم ص ٢٠٧) میں ہے۔ بطور سوال و جواب کے، سوال یہ ہے کہ کیا وجہ ہے کہ رسول کریم ﷺ نے فقط پانچ انبیاء آدم، ادریس، ابراہیم، موسیٰ، عیسیٰ علیہم السلام یا آٹھ انبیاء یعنی اور یحییٰ، یوسف، ہارون علیہ السلام ہی کا نام لیا کہ ان سے میری ملاقات ہوئی اور حالانکہ بقیہ انبیاء علیہم السلام سے بھی ملاقات ہوئی تھی۔ شب معراج میں پس جواب میں سب کے نام لینے اور خاص کرنے کے وجوہ بیان کئے کہ ان حضرات کو نبی کریم ﷺ سے مناسبت زیادہ تھی بہ نسبت دیگر انبیاء علیہم السلام کے اور حضرت ادریس علیہ السلام کے بیان میں فرمایا کہ ادریس علیہ السلام آسمان چہارم پر اٹھائے گئے۔ جب کہ ان کی عمر ٣٦٥ برس کی تھی اور عیسیٰ علیہ السلام جب کہ ارادہ کیا ان کے قتل کا یہود نے پس پروردگار نے ان کو اپنی طرف اٹھا لیا۔ ایسا ہی نبی ﷺ کو جب کہ یہود نے بکری میں زہر ملا کر قتل کرنے کا ارادہ کیا تو پروردگار نے حضرت کو نجات دے دی۔ اسی عینی کے اسی جلد اسی صفحہ میں ہے۔ سوال انبیاء علیہم السلام کی جائے قرار زمین میں ہے۔ پس کس طور پر رسول اللہ ﷺ نے ان کو آسمان میں دیکھا۔ کسی نے جواب اس کا اس طرح دیا ہے کہ ان انبیاء کی ارواح کو پروردگار نے جسم کی شکل پر متشکل کیا تھا۔ ذکره ابن عقیل وکذا ذکره ابن التین اور ابن التین نے کہا ہے کہ ارواح بدن کی طرف بروز قیامت لوٹیں گی۔ مگر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کہ وہ زندہ ہیں اور نہیں مرے اور وہ حضرت نازل ہوں گے بطرف زمین کے۔ چونکہ ابن التین کے کلام سے فقط عیسیٰ علیہ السلام ہی کی حقیقی حیات معلوم ہوتی تھی اور باقی انبیاء علیہم السلام کی حیات اس طور پر کہ ان کی ارواح طیبہ متشکل بشکل اجسام ہوگئی تھی اور ان کی اصلی حقیقی حیات اور جسم دنیوی اس روز ہوگا کہ جب بروز قیامت ان میں روح ڈالی جائے گی۔ پس علامہ عینی نے رد کر دیا کہ سارے انبیاء کو رسول اللہ ﷺ نے حقیقتاً دیکھا ہے۔ چنانچہ موسیٰ علیہ السلام کے پاس تشریف لے گئے اور موسیٰ علیہ السلام اپنی قبر میں نماز پڑھ رہے تھے اور دیکھا ان کو ششم آسمان
میں ۔ غرضیکہ مثل دیگر اہل اسلام کے ابن التین بھی اس کا قائل ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام فوت ہی نہیں ہوئے ۔ بلکہ زندہ تشریف لے گئے ہیں۔
قادیانی دجال اور بطال نے جس جلیل الشان پیغمبر اور اللہ تعالیٰ کے برگزیدہ نبی کلمتہ اللہ حضرت عیسیٰ روح اللہ کو گالیاں دی ہیں اور طرح طرح کے عیب اور طعن ان پر اور ان کی والدہ ماجدہ عابدہ متقیہ بی بی مریم علیہا السلام پر لگائے ہیں میں تھوڑا قدر ان کے اوصاف حمیدہ سے ہدیہ اہل اسلام کرتا ہوں تا کہ جان لیں کہ قادیانی مسلمان تھا یا کیا؟ اور ان اوصاف کے ذکر کو اپنی نیک بختی کا ذریعہ شمار کرتا ہوں۔ پس بعد حمد رب العالمین اور صلوٰۃ سید المرسلین کے عرض کرتا ہوں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی والدہ حضرت مریم صاحبہ حضرت سلیمان پیغمبر علیہ السلام کی لڑکیوں کی اولاد میں سے ہے۔ درمیان حضرت سلیمان علیہ السلام اور بی بی مریم صاحبہ کی ٢٤ پشتیں ہیں۔ بی بی مریم کے باپ کا نام عمران بن ماثان اور بعض نے کہا ابن اشیم ہے۔ سلیمان بن داؤد علیہ السلام کی اولاد سے ہے اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کے باپ کا نام بھی عمران ہے۔ مگر وہ بن قاہت بن لاوی بن یعقوب علیہ
(خازن ص ٢٢٩)
السلام ہے اور ہر دو عمران کے درمیان مدت ایک ہزار آٹھ سو برس کی تھی۔
حدیث شریف میں ہے کہ بی بی مریم جب پیدا ہوئی تو ان کی والدہ حنہ نے مسجد بیت المقدس کی خدمت کے لئے مسجد میں ان کو دے دیا اور ایک ساعت بھی اپنی والدہ نے ان کو خوراک نہیں دی۔ بلکہ مسجد کے چوبارہ میں جنت سے بے موسم میوہ ان کے پاس آیا کرتا تھا اور اکثر علماء نے کہا ہے کہ حضرت زکریا علیہ السلام ان کی پرورش کا انتظام کیا کرتے تھے۔ خوردسالی میں بی بی مریم صاحبہ نے پروردگار سے سوال کیا ایسے گوشت کھلانے کا جس میں خون نہ ہو۔ پس اللہ تعالیٰ نے ان کو طعام کھلایا۔ ٹڈی، ملخ، بی بی مریم کی صفات میں سے یہ بھی ہے کہ ان کو پروردگار نے اپنی عبادت کے لئے خاص کر لیا۔ دن رات بیت المقدس میں مسجد کی خدمت کرتی تھیں اور روبرو اس کو فرشتوں نے کلام سنایا۔ یہ بات اور کسی عورت کو نہیں حاصل ہوئی اور باوجود کہ مردوں سے بیت المقدس میں اختلاط نہ تھا۔ مگر باجماعت نماز ہر وقت ادا کرتی تھیں۔ یہ بات بھی کسی دوسری عورت کو نہیں ہاتھ آئی اور جماعت کی نماز کو ان کو امر تھا۔ اس آیت کریمہ کے ساتھ ”واسجدی وارکعی مع الراکعین“ جب یہ کلمات فرشتوں سے بی بی مریم نے سنے روبرو ہو کر تو کھڑی ہوئیں۔ نماز میں یہاں تک کہ ورم کر گئے۔ قدم ان کے اور خون اور پیپ ان سے جاری ہو گیا اور بی بی مریم ہر روز اتنی بڑھا کرتی تھیں۔ جس قدر کہ برس روز میں اور لڑکے بڑھتے ہیں اور جب کہ حضرت زکریا علیہ السلام نے بے موسم میوہ مریم کے پاس دیکھ کر کہا کہ اے مریم
کہاں سے یہ میوہ آتا ہے تو اس وقت بی بی مریم تو صغیرہ تھیں۔ مہد میں کہا ”ھو من عند اللہ“ یہ میوہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے۔ پس مریم صاحبہ نے بھی عیسیٰ علیہ السلام کی طرح مہد میں بحالت طفلی کلام کیا اور اس وقت قابل بات کے نہ تھیں اور بے خاوند کے ان کو پروردگار نے بیٹا دیا اور کسی عورت کو یہ بات حاصل نہیں ہوئی۔
(تفسیر خازن ج ٤)
عرائس میں ذکر کیا ہے کہ بی بی مریم صاحبہ اور ایک شخص یوسف نام تھا اور مریم کا چچازاد بھائی تھا۔ دونوں مسجد میں جو کہ جبل صہیون کے پاس تھی۔ نوبت بہ نوبت پانی ڈالا کرتے تھے اور یہ یوسف مریم کا چچازاد بھائی ہے۔ بعد ضعیف ہو جانے زکریا پیغمبر کے مریم اسی کی پرورش میں رہی۔ بوجہ قحط سالی کے کوئی شخص بنی اسرائیل سے مریم کو نہیں لیتا تھا اور قرعہ ڈالا تو یوسف کا قرعہ نکلا۔ پس مریم کی دعاء سے اس کو رزق کافی ملتا گیا۔ خازن ایک روز بی بی مریم صاحب نے پانی نکالنے کے لئے اپنا کرتا اتار کر رکھا اور آئے جبرائیل علیہ السلام آدمی کی صورت بن کر۔ پس اس کرتے کے گریبان میں وہ مٹی پھونک دی جو کہ آدم علیہ السلام کے قالب سے بچی تھی۔ پس جب بی بی صاحب نے بعد پانی لانے کے وہ کرتا گلے میں پہنا تو اس مٹی کے لگنے کے سبب سے پیٹ میں بچہ پلنے لگا۔ کیونکہ اسی وقت میں حمل قرار پا گیا تھا۔ پس درد زہ یعنی پیدائش اولاد کا درد جب شروع ہوا تو گئیں جامع مسجد میں اپنی ہمشیرہ کے پاس اور برا جانا اس بات کو اس یوسف نجار نے اور کہا کہ اے مریم کیا کھیتی بغیر بیج کے ہوتی ہے۔ فرمایا بی بی صاحبہ نے کہ ہاں ہوتی ہے۔ جس دن اللہ تعالیٰ نے کھیتی کو پیدا کیا تھا تو بغیر بیج کے پیدا کیا تھا اور ان کی ہمشیرہ زوجہ تھی حضرت زکریا علیہ السلام کی اور وہ بھی اس وقت حاملہ تھی۔ ساتھ حضرت یحییٰ علیہ السلام کے جن کو یوحنا بھی کہتے ہیں۔ اس نے کہا کہ اے مریم میرے پیٹ میں جو ہے تیرے پیٹ والے کو سجدہ کرتا ہے۔ مجھے ایسا معلوم ہوتا ہے۔ ابن عباس نے کہا ہے کہ بی بی صاحبہ کو حمل اور وضع عیسیٰ علیہ السلام کا ایک ہی ساعت میں ہوا تھا۔ مگر تفسیر کبیر میں ابن عباس کا قول ٩ ماہ کا ذکر کیا گیا ہے اور ایک ساعت کا بھی ذکر کیا ہے۔ دوسرا قول عیسیٰ علیہ السلام کے حمل میں ٨ ماہ ہے۔ تیسرا قول عطا اور ابوالعالیہ اور ضحاک کا ٧ ماہ کا ہے۔ چہارم ٦ ماہ کا پانچواں قول تین ساعتوں کا ہے۔ ایک ساعت میں حمل ہوا اور دوسری ساعت میں صورت بنی اور تیسری ساعت میں پیدا ہوئے۔
(تفسیر کبیر ج ٥ ص ٥٣٢)
عیسیٰ علیہ السلام پیدا ہوئے ہیں بعد زوال کے ایسا کہا ہے علامہ نیشاپوری نے اور بی بی صاحبہ حیض و نفاس سے پاک رہیں۔ کما فی الکبیر لفخر الرازی وغیرہ اور بی بی مریم کے ساتھ فرشتوں نے روبرو ہو کر باتیں کی ہیں۔ یہ بزرگی کسی دوسری عورت کو نہیں دی گئی اور پروردگار نے بی بی کو
برگزیدہ کیا اپنے زمانہ کی ساری عورتوں پر کہ عیسیٰ علیہ السلام ان کو عنایت کیا بغیر باپ کے حدیث شریف میں ہے کہ چار عورتیں بڑے مرتبہ والی ہیں۔ مریم اور فرعون کافر کی عورت آسیہ جو موسیٰ علیہ السلام پر ایمان لائی تھی اور حضرت ﷺ کی بی بی خدیجۃ الکبریٰ اور حضرت فاطمہؓ۔
فرمایا امام رازی نے کہ قرآن شریف کی آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ بی بی مریم صاحبہ سب عورتوں سے افضل ہیں۔ امام برماوی نے صحیح بخاری کی شرح میں لکھا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے حمل کے وقت بی بی مریم کی عمر تیرہ برس کی تھی اور عیسیٰ علیہ السلام کے آسمان پر چلے جانے کے بعد ٣٦ سال تک زندہ رہیں اور اپنی موت کے وقت عمر بی بی صاحبہ کی ایک سو بارہ برس کی تھی۔ مگر یہ روایت تفصیل چاہتی ہے۔ حضرت یحییٰ علیہ السلام کی ماں کا نام الیشاء اور خالہ کا نام حنہ بنت فاقوذا ہے اور بی بی مریم روزہ کی حالت میں سجدہ میں گری پڑی تھیں کہ انتقال ہوا۔ بعد کو عیسیٰ علیہ السلام نے خواب میں والدہ کو دیکھا کہ جنت دارالسلام میں اکرام اور عزت کے تخت پر بیٹھی ہوئی ہے۔ پس کہا کہ اے میرے بیٹے جنت میں آ کر پروردگار کے انعام کی شراب پر میں نے افطار کیا ہے اور عیسیٰ علیہ السلام اپنے والدہ کی ناف مبارک سے پیدا ہوئے ہیں اور تفسیر حسینی میں ہے کہ بعد تولد کے ملائکہ نے ان کو غسل دے کر بہشت کے ریشم میں لپیٹ کر بی بی مریم کے کنار میں رکھ دیا۔ ہر مولود کو اس کی پسلی میں شیطان دو انگلیوں سے دبا کر درد دیتا ہے اور جب عیسیٰ علیہ السلام کو درد پہنچانے لگا تو وہ انگلیوں سے دبانا اُس کا حجاب میں پایا گیا۔
امام علائی نے اپنی تفسیر میں کہا ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام تولد ہوئے۔ بیت لحم میں اور بعض نے فرمایا کہ پیدا ہوئے۔ ناصرہ میں جو قریہ ہے صہیون کے قریوں میں سے اور چونکہ حضرت زکریا علیہ السلام بی بی مریم کے پاس آیا جایا کرتے تھے۔ لہٰذا قوم یہود نے ان کو زنا کی تہمت دی اور کہا کہ یہ لڑکا تمہارا ہے اور یہود نے زکریا علیہ السلام کو جب پکڑنا چاہا تو زکریا علیہ السلام بھاگ کر ایک درخت کی طرف دوڑے اور وہ درخت پھٹ گیا اور زکریا علیہ السلام اس کے اندر گھس گئے۔ پس شیطان نے قوم یہود کو بتایا کہ وہ درخت میں ہے۔ پس یہود مردود نے آرا رکھ کر چیرنا شروع کیا۔ اس درخت کو یہاں تک کہ زکریا علیہ السلام کے جسم تک چیرتے چیرتے جا پہنچے تو وحی کی اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف کہ اگر آپ نے آہ کی تو پیغمبروں کے دفتر سے نام آپ کا مٹا دوں گا۔ کیوں تم نے ہم سے پناہ نہ چاہی اور درخت کی طرف دوڑے۔ پس یہود نے زکریا علیہ السلام کے دو ٹکڑے کر کے چیر ڈالا۔ جیسا کہ حضرت شعیب علیہ السلام کے ساتھ کیا تھا۔ بعد اس کے پروردگار کے حکم سے ملائکہ نے ان کو غسل اور کفن کر کے مقام تابلوس میں دفن کر دیا۔
امام قرطبیؒ نے اپنی تفسیر میں لکھا ہے کہ بعد پیدا ہونے عیسیٰ علیہ السلام کے یہود نے جب کہ بی بی مریم کو آخر طعن و تشنیع کرنا شروع کیا تو بی بی صاحبہ نے کہا کہ اسی لڑکے سے سارا حال دریافت کرو۔ کفار نے کہا کیا ہم اس سے دریافت کریں جو کہ مہد میں بچہ پڑا ہوا ہے۔ پس حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے دودھ پینا ترک کر کے بائیں کروٹ پر تکیہ کر کے ان کی طرف ہو کر اپنے دہنے ہاتھ کی انگلی سے اشارہ کیا اور کہا کہ میں اللہ تعالیٰ کا بندہ ہوں۔ پس پہلا کلام ان کا یہ ہے کہ میں اللہ کا بندہ ہوں۔ اللہ تعالیٰ نے مجھ کو کتاب دی ہے انجیل اور مجھ کو نبی کیا ہے۔ یعنی روز ازل میں مجھ کو نبی کر دیا ہے اور بعض نے فرمایا کہ عیسیٰ علیہ السلام کو لڑکپن ہی میں اسی ساعت میں کتاب پڑھائی گئی اور نبوت دی گئی۔ تفسیر حسینی میں ثعلبی سے منقول ہے کہ والدہ کے شکم میں اللہ تعالیٰ نے عیسیٰ علیہ السلام کو انجیل کی تعلیم دے دی اور نیز فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے مجھ کو نماز اور زکوٰۃ کا حکم دیا ہے۔ جب کہ مکلف لائق نماز اور زکوٰۃ کے ہو جاؤں اور اتنے کلام کے بعد پھر اور کوئی کلام نہیں کیا۔ جب تک کہ اتنی عمر کو پہنچے ہیں کہ لڑکے جتنی عمر میں باتیں کرنا شروع کرتے ہیں۔ ابوالسعود فی قولہ تعالیٰ انی عبداللہ وغیرہ خازن اور اس کو ابن عباسؓ سے روایت کیا ہے اور اسی خازن میں اس کے متصل یہ بھی ہے کہ کہا مریم صاحبہ نے کہ جب میں اور عیسیٰ تنہا ہوتے تو مجھ سے باتیں وہ کرتے اور میں ان سے کرتی تھی اور جب کسی اور سے میں مشغول ہوتی تو اس وقت عیسیٰ علیہ السلام تسبیح کرتے تھے اور جب کہ نو ماہ کے ہوئے تو بی بی صاحبہ نے ان کو مکتب میں داخل کیا واسطے تعلیم کے (فائدہ) مہد میں سات لڑکوں نے باتیں کی ہیں۔ عیسیٰ اور یوسف علیہم السلام کا شاہد جو لڑکا تھا اور وہ لڑکا جس نے اپنی والدہ بیٹی فرعون سے کہا تھا کہ آگ پر صبر کر جب کہ فرعون نے اس کو ڈالنا چاہا اور اصحاب اخدود کے قصہ میں ایک لڑکا اور یحییٰ علیہ السلام اور ایک عورت نے ایک چرواہے سے زنا کیا تھا اور کہا کہ یہ لڑکا جریج کا ہے اور وہ عابد تھا۔ مگر والدہ اپنی کو نماز پڑھتے جواب نہیں دیا تھا۔ اس واسطے ماں کی بددعا سے تہمت زنا کی اس پر لگائی گئی تھی۔ اس لڑکے نے کہا میں چرواہے کا بیٹا ہوں۔ جریج کا نہیں ہوں اور ساتواں وہ کہ بنی اسرائیل کی عورت لڑکے کو دودھ دے رہی تھی اور ایک سوار گزرا، عورت نے کہا یا اللہ میرے لڑکے کو ایسا کر دے۔ لڑکے نے منہ سے پستان نکال کر کہا کہ یا اللہ مجھ کو ایسا نہ کر پھر ایک باندی کنیز گزری۔ عورت نے کہا یا اللہ میرا لڑکا اس کی مثل نہ کر لڑکے نے کہا یا اللہ مجھ کو اس کی مثل کر۔ پس ماں نے سبب دریافت کیا تو کہا کہ وہ سوار ظالم تھا اور اس کنیز کو چوری اور زنا کی تہمت دیتے ہیں۔ حالانکہ یہ اس سے پاک ہے۔
(عینی بخاری ج٧ ص ٤٤٢، مصری)
امام زمخشری نے کہا کہ عیسیٰ علیہ السلام سب لڑکوں سے زیادہ دانا اور عاقل تھے۔ معلم نے کہا کہ اے عیسیٰ علیہ السلام کہو بسم اللہ تو عیسیٰ علیہ السلام نے کہا بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ معلم نے کہا کہ کہو ابجد عیسیٰ علیہ السلام نے کہا کہ اس کے معنی جانتے ہو۔ معلم نے کہا کہ نہیں جانتا ہوں۔ تو فرمایا عیسیٰ علیہ السلام نے کہ الف سے مراد اللہ ہے۔ ب سے مراد بہجت اللہ کی ج سے مراد جلالت اور بزرگی اللہ کی د سے مراد دین اللہ کا ہوز ہا سے مراد ہاویہ جہنم، واؤ سے مراد ویل اور افسوس اہل دوزخ کا، ز سے مراد زفیر اور آواز جہنم کی، حطی حطت الخطایا عن المستغفرین دور کئے گئے۔ گناہ توبہ کرنے والوں سے (کلمن) کلام اللہ کی قدیم غیر مخلوق ہے۔ (سعفص) صاع بدل صاع کا یعنی زیادہ سود ہے۔ (قرشت) ای تحشر ہم جمیعا اٹھائے گا اے پروردگار تو سب لوگوں کو پس معلم نے کہا کہ اے بی بی صاحبہ اپنے لڑکے کو لے جا اس کو استاد معلم کی ضرورت نہیں۔
حدیث شریف میں ہے کہ جب بی بی صاحبہ نے عیسیٰ علیہ السلام کو معلم کے پاس روانہ کیا تو معلم نے کہا کہ کہو بسم اللہ کہا عیسیٰ علیہ السلام نے کیا معنی ہیں۔ بسم اللہ کے معلم نے کہا کہ میں نہیں جانتا کہا عیسیٰ علیہ السلام نے ”الباء بھاء اللہ والسین سناء اللہ والمیم ملک اللہ“
حکایت حضرت عیسیٰ علیہ السلام چھوٹی عمر میں اپنی والدہ کے ساتھ ایک شہر کے پاس پہنچے۔ وہاں کے لوگ بادشاہ کے دروازہ پر جمع تھے۔ انہوں نے سبب پوچھا کسی نے کہا کہ بادشاہ کی عورت پر لڑکا پیدا ہونے کی سختی ہے۔ اپنے بتوں سے یہ لوگ آسانی کے لئے سوال کر رہے ہیں۔ عیسیٰ علیہ السلام نے کہا کہ اگر میں اس عورت کے پیٹ پر ہاتھ رکھوں تو لڑکا جلدی نکلے گا۔ پس لوگ بادشاہ کے پاس ان کو لے گئے۔ بادشاہ سے عیسیٰ علیہ السلام نے فرمایا کہ اگر میں خبر دوں کہ عورت کے پیٹ میں کیا ہے تو تو ایمان لائے گا۔ اس نے کہا کہ ہاں فرمایا عیسیٰ علیہ السلام نے کہ اس کے شکم میں لڑکا ہے۔ جس کے رخسار پر سیاہ داغ ہے اور اس کی پشت پر سفید نشان ہے۔ پھر فرمایا کہ اے لڑکے میں تم کو پروردگار کی قسم دیتا ہوں کہ جلدی نکل آ۔ پس پیدا ہوا لڑکا اور ویسا ہی تھا۔ جیسا کہ بتایا تھا عیسیٰ علیہ السلام نے پس بادشاہ نے ایمان لانا چاہا۔ مگر اس کی قوم نے اس کو منع کر دیا اور کہا کہ مریم جادوگر عورت ہے۔ اس کو بیت المقدس سے لوگوں نے نکال دیا ہے۔ یعنی اس کے بیٹے کو خبر دینا تاثیر ہے جادو کی حضرت وہب نے فرمایا کہ عیسیٰ علیہ السلام کا اوّل معجزہ یہ ہے کہ مصر میں ایک شخص مالدار مسکینوں سے محبت کرتا تھا اور غریب لوگ اس کے پاس آیا کرتے تھے۔ پس اس کا مال چوری ہو گیا اور اس نے مسکینوں کو ملامت کیا۔ عیسیٰ علیہ السلام نے اپنی والدہ
سے کہا کہ اس کو کہو کہ سارے مسکین تو عیسیٰ علیہ السلام نے ایک شخص ب بٹھا دیا اور اندھے سے کہا کہ اس کو ا نے کہا کہ گزشتہ رات میں اس پر ک کیسے اٹھا کر اپنے ہمراہ کر کے چور اس صاحب خانہ نے لڑکے کی خوش غمناک تھا۔ پس عیسیٰ علیہ السلام اس سے پر ہو جاتا اور اس وقت عیسیٰ علـ پاک میں ”وایدناہ بروح القد السلام کے۔ تفسیر حسینی و تفسیر مظہری جبرائیل علیہ السلام ہر وقت قرین ا جبرائیل عیسیٰ علیہ السلام سے ایک آسمان کو گئے۔
حکایت حضرت عیسیٰ با رستہ میں ایک وادی میں قریب بیـ اللہ کا ہوں اور اللہ تعالیٰ کی کنیز اور نے کہا کہ نہیں بلکہ تو ساری زمین ہے اور کوڑھی اور اندھے مادر زاد لئے سب فخر اور شان اور بڑائی۔ اچھا کرتا ہوں۔ میرا کوئی اختیار میں شیطانوں کو تیرے آگے سجـ زمین کو خدا ہو جائے گا۔ پس عیسـ بات کو رد کر دیا۔ بعد ازاں حضر فرشتے آئے۔ عیسیٰ علیہ السلام پھونک مار کر ایسا مشرق کی طرف بعد ازاں اسرافیل علیہ السلام۔
نے کہا کہ عیسیٰ علیہ السلام سب لڑکوں سے زیادہ دانا اور عاقل تھے۔ معلم السلام کہو بسم اللہ تو عیسیٰ علیہ السلام نے کہا بسم اللہ الرحمٰن الرحیم ۔ معلم نے السلام نے کہا کہ اس کے معنی جانتے ہو۔ معلم نے کہا کہ نہیں جانتا ہوں ۔ تو نہ کہ الف سے مراد اللہ ہے ۔ ب سے مراد بہجت اللہ کی ج سے مراد جلالت مراد دین اللہ کا ہو ز ہا سے مراد ہاویہ جہنم ، واؤ سے مراد ویل اور افسوس اہل ر اور آواز جہنم کی ، حطی حطت خطایا عن المستغفرین دور کئے گئے۔ گناہ تو یہ ن ) کلام اللہ کی قدیم غیر مخلوق ہے ۔ (سعفص ) صاع بدلہ صاع کا یعنی ت ) ای تحشر ہم جمیعا اٹھائے گا اسے پروردگار تو سب لوگوں کو پس معلم نے پنے لڑکے کو لے جا اس کو استاد معلم کی ضرورت نہیں ۔ میں ہے کہ جب بی بی صاحبہ نے عیسیٰ علیہ السلام کو معلم کے پاس کہ کہو بسم اللہ کہا عیسیٰ علیہ السلام نے کیا معنی ہیں ۔ بسم اللہ کے معلم نے عیسیٰ علیہ السلام نے ” الباء بهاء الله والسين سناء الله
عیسیٰ علیہ السلام چھوٹی عمر میں اپنی والدہ کے ساتھ ایک شہر کے پاس ہ کے دروازہ پر جمع تھے۔ انہوں نے سبب پوچھا کسی نے کہا کہ بادشاہ کی تی ہے۔ اپنے بتوں سے یہ لوگ آسانی کے لئے سوال کر رہے ہیں ۔ اگر میں اس عورت کے پیٹ پر ہاتھ رکھوں تو لڑکا جلدی نکلے گا۔ پس لے گئے۔ بادشاہ سے عیسیٰ علیہ السلام نے فرمایا کہ اگر میں خبر دوں کہ تو تو ایمان لائے گا ۔ اس نے کہا کہ ہاں فرمایا عیسیٰ علیہ السلام نے کہ ں کے رخسار پر سیاہ داغ ہے اور اس کی پشت پر سفید نشان ہے۔ پھر پروردگار کی قسم دیتا ہوں کہ جلدی نکل آ ۔ پس پیدا ہوا لڑکا اور ویسا ہی السلام نے پس بادشاہ نے ایمان لانا چاہا ۔ مگر اس کی قوم نے اس کو منع رت ہے۔ اس کو بیت المقدس سے لوگوں نے نکال دیا ہے ۔ یعنی اس جادو کی حضرت وہب نے فرمایا کہ عیسیٰ علیہ السلام کا اوّل معجزہ یہ ہے مسکینوں سے محبت کرتا تھا اور غریب لوگ اس کے پاس آیا کرتے یا اور اس نے مسکینوں کو ملامت کیا ۔ عیسیٰ علیہ السلام نے ، اپنی والدہ
سے کہا کہ اس کو کہو کہ سارے مسکین کو جمع کرے اپنے مکان میں ۔ پس جب اس نے سب کو جمع کیا تو عیسیٰ علیہ السلام نے ایک شخص بے دست و پا یعنی لنڈولے لولے شل کو ایک مرد اندھے کی گردن پر بٹھا دیا اور اندھے سے کہا کہ اس کو اٹھا۔ اس نے کہا کہ میں ضعیف کمزور ہوں ۔ پس عیسیٰ علیہ السلام نے کہا کہ گزشتہ رات میں اس پر کیسے قوی ہو گیا تھا ۔ یعنی اے اندھے اس شل کو رات کے وقت کیسے اٹھا کر اپنے ہمراہ کر کے چوری کر لی اور حالانکہ ان دونوں نے مل کر چوری کی تھی ۔ بعد ازاں اس صاحب خانہ نے لڑکے کی خوشی اور شادی شروع کی۔ مگر پینے کی کوئی چیز نہ تھی ۔ اس وجہ سے وہ غمناک تھا۔ پس عیسیٰ علیہ السلام اس کے مکان میں جا کر جس برتن پر ہاتھ لگاتے وہی برتن شربت سے پر ہو جاتا اور اس وقت عیسیٰ علیہ السلام کی عمر بارہ برس کی تھی ۔ باری تعالیٰ نے فرمایا قرآن پاک میں "وأيدناه بروح القدس “ اور ہم نے عیسیٰ علیہ السلام کو مضبوط کیا ساتھ جبرائیل علیہ السلام کے۔ تفسیر حسینی و تفسیر مظہری و تفسیر عزیزی ومعالم ، ابن کثیر نے لکھا ہے کہ روح القدس یعنی جبرائیل علیہ السلام ہر وقت قرین اور رفیق عیسیٰ علیہ السلام کے ہوتے تھے۔ فتح البیان میں ہے کہ جبرائیل عیسیٰ علیہ السلام سے ایک دم بھی جدا نہیں ہوتے تھے۔ یہاں تک کہ ان کے ساتھ ہی آسمان کو گئے۔
حکایت حضرت کلاباذی نے ذکر کیا کہ ایک بار عیسیٰ علیہ السلام کے سامنے شیطان آیا ۔ رستہ میں ایک وادی میں قریب بیت المقدس کے پس ابلیس نے کہا کہ کون ہے تو فرمایا کہ میں بندہ اللہ کا ہوں اور اللہ تعالیٰ کی کنیز اور اس کے بندی کا بیٹا ہوں ۔ یعنی بی بی مریم کا فرزند ہوں۔ شیطان نے کہا کہ نہیں بلکہ تو ساری زمین کا خدا ہے۔ کیونکہ تو مردوں کو زندہ کرتا ہے اور مریضوں کو اچھا کرتا ہے اور کوڑھی اور اندھے مادر زاد کو اچھا کرتا ہے۔ عیسیٰ علیہ السلام نے کہا کہ اللہ تعالیٰ جل جلالہ کے لئے سب فخر اور شان اور بڑائی ہے جس نے مجھ کو پیدا کیا ۔ میں اس کے اذن اور حکم سے بیماروں کو اچھا کرتا ہوں ۔ میرا کوئی اختیار نہیں وہ اگر چاہے تو مجھ کو مریض کر دے ۔ شیطان نے کہا کہ صبر کر میں شیطانوں کو تیرے آگے سجدہ کرواتا ہوں ۔ پس بنی آدم بھی دیکھ کر تم کو سجدہ کریں گے اور تو زمین کو خدا ہو جائے گا ۔ پس عیسیٰ علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ کی صفت کرنا شروع کر دی اور شیطان کی بات کو رد کر دیا ۔ بعد ازاں حضرت جبرائیل علیہ السلام اور میکائیل اور اسرافیل علیہما السلام تینوں فرشتے آئے۔ عیسیٰ علیہ السلام کی مدد کرنے کے لئے۔ پس میکائیل علیہ السلام نے شیطان کو پھونک مار کر ایسا مشرق کی طرف اڑایا کہ سورج سے جالگا اور اس کی گرمی اور تابش سے جل گیا ۔ بعد ازاں اسرافیل علیہ السلام نے شیطان کو مغرب کی طرف پھونک مار کر ایسا اڑایا کہ جس چشمہ
میں سورج جا گرتا ہے وہاں جا پڑا جب نکلتا تھا جبرائیل علیہ السلام اس کو پھر اس میں دھکیل دیتے تھے۔ اس طور پر سات روز اس میں رہا۔ پس بعد اس کے عیسیٰ علیہ السلام سے بہت خوف کرتا تھا۔
حکایت لڑکپن کی عمر میں عیسیٰ علیہ السلام لڑکوں کو خبر دیا کرتے تھے کہ ان کے ماں باپ نے ان کے لئے کیا کیا رکھا ہے۔ پس لڑکے آ کر مکان میں وہ چیزیں طلب کیا کرتے تھے۔ ماں باپ دریافت کرتے تھے کہ تم سے کس نے یہ کہا ہے تو وہ کہتے کہ عیسیٰ علیہ السلام نے۔ پس لوگوں نے اپنے لڑکوں کو عیسیٰ علیہ السلام سے الگ کر کے ایک مکان کشادہ میں کر دیا تا کہ انکی ملاقات لڑکوں سے نہ ہوا کرے اور لڑکے ان سے حال اپنے گھر کی چیزوں کا سن کر ماں باپ کو تنگ نہ کیا کریں۔ پس عیسیٰ علیہ السلام نے ان سے کہا کہ تم لوگوں کے لڑکے کیا اس مکان میں ہیں۔ ان لوگوں نے عذر کیا اور کہا کہ اس میں تو بندر اور سُور ہیں اور کچھ نہیں تو فرمایا عیسیٰ علیہ السلام نے کہ ایسے ہی ہوں گے۔ پس جب لوگوں نے دروازہ کھولا تو بیشک بندر اور سُور ہی تھے۔ کبیر وابوالسعود وخازن نے کہا کہ ایسی خبریں دینا عیسیٰ علیہ السلام کا اس سبب سے تھا کہ پروردگار نے ان کو اپنا برگزیدہ نبی کر کے بعض امور کا علم غیب عطاء فرما دیا تھا۔ جیسا کہ انبیاء علیہم السلام واولیاء اللہ کو ساتھ بتائے پروردگار کے ہوا کرتا ہے۔ کما صرح بہ غیر واحد نہ اس سبب سے کہ جیسا کہ بعض نصاریٰ کا اعتقاد ہے کہ وہ اقنوم تھا۔ اقنوم ثلثہ سے (بحوالہ بخاری جلد اول ص ٦٥) میں ہے۔ ”والنصاریٰ لا یقولون فی عیسیٰ انه نبی یأتیہ جبرائیل علیہ السلام وانما یقولون ان اقنوما من الاقانیم الثلثۃ اللاهوتیۃ حل بناسوت المسیح علی اختلاف بینہم فی ذلک الحلول وہو اقنوم الکلمۃ والکلمۃ عندہم عبارۃ عن العلم فلذلک کان المسیح فی زعمہم یعلم الغیب ویخبر بما فی الغد فی زعمہم الکاذب آه لفظ زعم کاذب“ کا تعلق اعتقاد عدم اتیان جبرئیل اور حلول اقنوم سے ہے۔ نہ اخبار بالغیب سے۔ فانہ صحیح!
امام رازی نے سورۂ آل عمران میں کہا کہ سب سے اوّل عیسیٰ علیہ السلام پر ایمان لائے حضرت یحییٰ علیہ السلام، اور وہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے چھ ماہ بڑے تھے۔
عیسیٰ علیہ السلام کے مسیح نام ہونے کی وجہ اوّل تو یہ کہ جب پیدا ہوئے تھے تو بدن پر ان کے تیل ملا ہوا تھا روغن مبارک سے، جس تیل کے ساتھ انبیاء لوگ ملے جاتے تھے خاص، اور یہ تیل علامت ہوگا اس بات کی کہ ملائکہ جان لیں کہ جو تیل ملا ہوا پیدا ہوتا ہے وہ نبی ہوتا ہے۔ پس مسیح بمعنی ممسوح ہوا۔ فعیل بمعنی مفعول، تفسیر کبیر، دوم یتیموں کے سر پر ہاتھ پھیرا کرتے تھے اور یا یہ کہ
وقت پیدا ہونے کے جبرائیل علیہ السلام نے اپنے پروں سے ان کو ملا تھا شیطان سے بچنے کے لئے، اور یا یہ کہ زمین کی سیاحی کیا کرتے تھے اور مقیم نہ ہوتے تھے اور فقیر کو بعض دوسری کتابوں میں یاد ہے کہ بیماروں پر تندرستی کے لئے ہاتھ پھیرنا بھی ایک وجہ ہے۔
تفسیر کبیر رازی میں ہے کہ لفظ مسیح اسم مشتق ہے یا موضوع ۔ پس اس میں دو قول ہیں۔ ابوعبیدہ اور لیث نے کہا کہ اصل اس کا مشیحا ہے۔ عبرانی زبان میں اور عرب والوں نے مسیح بنا لیا اور عیسیٰ کا اصل یشوع ہے۔ جیسا کہ موسیٰ کا اصل موشی اور میشا ہے۔ عبرانی میں فعلی ھذا القول لا یکون له اشتقاق اور دوسرا قول اشتقاق کا ہے۔ پانچ وجوہ تو یہ جو گذرے ہیں۔ (٦) یہ کہ: ”انه مسیح من الاوزار والآثام “ یعنی گناہوں سے پاک تھا۔ (٧) یہ کہ بوجہ ننگے پاؤں چلنے کے ان کے قدم ملے گئے تھے۔ چہارم معنی پر میم زائد ہے سبّاح بمعنی سیاح ہے۔ ”وعلیٰ ھذا المعنی یجوز ان یقال لعیسیٰ مسّیح بالتشدید علی المبالغة کما یقال للرجل فسّیق وشرّیب “ اور دوسرے معنی پر مسیح بمعنی ماسح ہے۔ فعیل بمعنی فاعل ہے۔ جیسے رحیم بمعنی راحم، تفسیر کبیر، اور اللہ تعالیٰ نے ان کو وجیہ فرمایا ہے۔ جیسا کہ سورۂ احزاب میں موسیٰ علیہ السلام کو وجیہہ فرمایا اور وجیہہ کے معنی صاحب جاہ کے اور دجال کو بھی مسیح کہتے ہیں۔ مگر اس معنی سے کہ وہ ممسوح العین ہے۔ یعنی ایک آنکھ اس کی بیٹھی ہوئی ہے یا یہ کہ اس کی ناک نہیں ہے۔ پس وہ امسح الوجہ والانف ہے اور سوائے اس کے ہزاروں معجزات ان کے کتابوں میں مذکور ہیں اور پھر اس سے بڑھ کر کیا فخر ہو گا کہ جن کے بارہ میں رسول اکرم ﷺ فرماتے ہیں۔ کیسے ہلاک ہوگی وہ امت کہ جس کے اوّل میں میں ہوں اور آخر میں مسیح ہوں گے۔ قوت القلوب لابی طالب المکی اور امام یافعی کے روض الریاحین میں ہے۔ کس طرح خوف کروں میں اس امت پر کہ اوّل اس کے میں ہوں اور آخر اس کے عیسیٰ علیہ السلام ہوں گے۔ ”هٰذا الکل من الکتاب المستطاب نزهة المجالس ومنتخب النفائس للشیخ عبدالرحمن الصفوری“ خوشخبری امت محمدی ﷺ کو کہ دونوں جلیل الشان پیغمبروں کے درمیان میں ہے اور دونوں کو برحق نبی مانتی ہے۔ سبحان اللہ باوجود اتنے بڑے مرتبہ کے پھر بھی محمد ﷺ کے تابعی اور پیرو ہی ہوں گے۔ وصلی الله علیه وعلى سائر النبيين وآلهم واصحابهم اجمعين!
علامات امام مہدیؒ سب مسلمانوں کو واضح ہو کر کاذب مکار مہدی بہت گزر چکے ہیں۔ ابن ماجہ کے حاشیہ میں لکھا ہے کہ ٨٢ یا ٨٣ شخصوں نے مہدی ہونے کا دعویٰ کیا اور بعض بعض کو لوگوں نے خوب مانا اور لاکھوں خلقت تابع ہو گئی۔ مگر آخر امر میں پردہ کھل گیا اور جب کہ سچا مہدی
آئے گا تو روز بروز اسلام کا چرچا اور کفر کی تباہی ہوتی جائے گی۔ جمیع روئے زمین کی بادشاہی کرے گا اور ہر کس و ناکس اس سے خبردار ہوگا۔ نہ ایسا کہ قادیانی غلام احمد مرزا چند روز کے بعد قبر میں چپ چاپ جا گھسا اور کوئی کام مہدی کا نہ کیا۔
پس فقیر کتب اسلام سے ان کے اوصاف اور علامات ذکر کرتا ہے۔ امام مہدی صاحب خوبصورت، جوان، عمدہ بال والا، بال ان کے لٹکتے ہوں گے دونوں شانوں پر، قد ان کا میانہ ہوگا، ناک ان کی دراز اور بلند، کشادہ پیشانی، دہنے رخسار پر سیاہ خال ہوگا۔ ابوسعید خدریؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ مہدی کی پیشانی فراخ اور بینی بلند اور دراز ہوگی۔ پر کردے گا زمین کو عدل اور انصاف سے جیسا قبل اس سے ظلم کے ساتھ پر ہوگی۔ (ترمذی)
حضرت ابو عبداللہ نے روایت کیا ہے۔ اپنی کتاب میں علیؓ سے مرفوع کر کے کہ اگر زمانہ کا ایک روز باقی رہے گا جب بھی امام مہدی میرے اہل بیت سے آئے گا اور زمین کو عدل سے ایسا پر کرے گا جیسا کہ ظلم سے ہوگئی تھی۔ (ابوداؤد) سات برس تک بادشاہی کرے گا اور (نظم الفرائد بر شرح عقائد ص ٢٥٤) میں ہے کہ بیس برس تک بادشاہی کرے گا۔
ابونعیم نے روایت کی کہ فرمایا رسول اللہ ﷺ نے کہ جس وقت تم دیکھو کہ ملک خراسان سے کالے جھنڈے اور نشان ظاہر ہوئے ہیں تو تم آؤ ان پاس اگرچہ گھٹنوں کے زور پر، کیونکہ وہ نشان اللہ تعالیٰ کے خلیفہ امام مہدی کے ہوں گے۔ حضرت حذیفہؓ سے دیلمی نے روایت کی ہے کہ فرمایا رسول اللہ ﷺ نے کہ امام مہدی میرے قبیلہ سے فاطمہ کی اولاد سے ہوگا۔ حضرت عبداللہ بن عمر سے روایت ہے کہ امام مہدی جس قریہ سے ظاہر ہوں گے اس کا نام کریمہ ہے۔ رواہ ابونعیم اور امام مہدیؑ اس وقت موجود نہیں ہیں۔ بلکہ اسی زمانہ میں پیدا ہوں گے۔ شیعہ لوگ کہتے ہیں کہ امام مہدی وہ ابوالقاسم محمد حجۃ بن حسن عسکری ہے۔ ٢٥٥ھ میں پیدا ہوئے ہیں۔ سرمن رائی میں اور ان کے باپ کے دوسرا سوا ان کے بیٹا نہیں تھا۔ جب ان کا باپ فوت ہوا تو عمر امام مہدی کی پانچ برس کی تھی۔ اس کو اللہ تعالیٰ نے حکومت دی ہے۔ جیسے کہ حضرت یحییٰ اور عیسیٰ علیہما السلام کو اور وہ مدینہ میں دشمنوں کے خوف کے سبب سے پوشیدہ ہوگیا ہے۔ اس فرقہ شیعہ کا یہ اعتقاد ہے کہ شریعت کے نطقاء سات ہیں۔ جو کہ ناطق بالشریعۃ ہیں۔ آدم، نوح، ابراہیم، موسیٰ، عیسیٰ، محمد، محمد مہدی علیہم السلام اور ہر دو نطقاء کے درمیان میں سات امام ہوتے ہیں جو کہ شریعت کی ہر زمانہ میں تتمیم کرتے ہیں اور اس اعتقاد والے فرقے کو اسماعیلیہ اور سبعیہ اور قرامطہ کہتے ہیں۔ اھ شرح المواقف ص ٧٥٤ اور غیوبت دو قسم ہے۔ ایک صغریٰ، دوسری کبریٰ، مگر یہ صاف غلط ہے۔ کیونکہ
علامہ سبکی نے جمہور شیعہ سے نقل کیا ہے کہ وہ اس بات کے قائل ہیں کہ حسن عسکری کا کوئی ولد نہیں رہا۔ فقط تعصب کر کے اس کی اولاد ثابت کر رہے ہیں۔ حاصل یہ کہ شیعہ لوگوں کے بیس قول ہیں۔ اس میں کہ بعد حسن عسکری کے کس کا انتظار ہے اور کون کون امام ہے اور شیعہ غیر امامیہ اس بات کے قائل ہیں کہ جس کو امام حجت کے لقب سے مشہور کیا ہوا ہے۔ وہ مہدی نہیں سوائے مہدی کے کوئی اور ہے اور ہم اہل سنت والجماعت سے شیعہ لوگوں کا چند باتوں میں اختلاف ہے۔ اوّل یہ ہے کہ ہمارے نزدیک امام مہدی امام حسن کی اولاد سے ہیں اور امام حسن عسکری کی اولاد سے کہنا بڑی واہیہ روایت ہے۔ دوسرا یہ کہ وہ ابھی تک پیدا نہیں ہوا۔ تیسرا یہ کہ امام عسکری کے اولاد ہی نہ تھی۔ کیونکہ ان کے بھائی جعفر نے ان کے ترکہ سے میراث لی ہے۔ ”واما نفس وجود الامام المهدى الخليفة الحق فمتفق عليه تواترت به الاخبار اخرجها احمد والخمسة والحاكم ونصير بن حماد وابونعيم والرؤيانى والطبرانى وابن حبان وغيرهم عن جماعة من الصحابة بطرق كثيرة امام طبرانی اور رؤیانی وغیر ہما نے کہا کہ فرمایا رسول اللہ ﷺ نے کہ مہدی میری اولاد سے ہوگا۔ اس کا منہ روشن ہوگا۔ مثل ستارہ روشن کے رنگ اس کا عربی ہوگا اور بدن اس کا اسرائیلی ہوگا۔ اس کی بادشاہی اور خلافت پر زمین اور آسمان اور ہوا کی چیزیں راضی ہوں گی اور ابن عساکر نے علیؓ سے روایت کیا ہے کہ جب مقیم ہوگا لوگوں میں وہ شخص جس کا لقب قائم ہے۔ (مہدی) آل محمد ﷺ سے تو اللہ تعالیٰ مشرق اور مغرب کے لوگ سارے جمع کر دے گا۔ رفقاء ہوں گے اہل کوفہ سے اور ابدال لوگ اہل شام سے۔ ”قال الطبرانى مرفوعا قالوا لفاطمة نبينا خير الانبياء وهو ابوك وشهيدنا خير الشهداء وهو عم ابيك حمزة ومنا من له جناحان يطير بهما فى الجنة حيث شاء وهو ابن عم ابيك جعفر ومنا سبطا هذه الامة الحسن والحسين وهما ابناك ومنا المهدى وفيه اخبار كثيرة متواترة المعنى واما كونه من العباسيين او خبر لا مهدى الا عيسى بن مريم فضعيف لا يسمع، نظم الفرائد“
بعض لوگ بے علم کہتے ہیں کہ امام مہدی کوئی نہیں بلکہ عیسیٰ ہی ہوں گے۔ حدیث میں ہے لا مہدی الا عیسیٰ۔ مگر اس کا جواب چند وجہ سے ہے۔ اوّل تو یہ کہ یہ حدیث ضعیف اور مضطرب ہے۔ دوسرا یہ کہ محتمل التاویل ہے۔ بلکہ بعد صحت اخبار مہدی کے یقیناً ماوّل ہے۔ کیونکہ امام مہدی اور عیسیٰ علیہما السلام کے اوصاف میں تغائر ظاہر ہے تو معنی حقیقی اس کا متعذر ہے۔ یعنی نفی
وجود امام مہدی کی اور وقت تعذر معنی حقیقی کسی لفظ کے معنی مجازی لئے جاتے ہیں۔ پس یہاں مجاز متعین ہوا اور وہ معنی ماوّل ہیں۔ پس بعض تاویل کرنے والوں نے مہدی کو معنی منسوب الی المہد پر محمول کیا ہے اور یہ حصر بہ نسبت انبیاء علیہم السلام کے ہے اور ابن جری کی حدیث سے، اب یہ معنی مخدوش نہ ہوں گے اور بعض علماء نے مہدی سے مہدی لغوی مراد لیا ہے۔ چونکہ مطلق مہدی کا ذکر ہے۔ لہٰذا اس سے فرد کامل مراد ہوگا۔ ”لان المطلق اذا اطلق یراد بہ الفرد الکامل“ اور مہدی ہونے میں فرد کامل نبی اور پیغمبر ہی ہوتا ہے۔ لہٰذا معنی یہ ہوئے نبیﷺ فرماتے ہیں کہ میرے بعد پورا اور کامل مہدی اور ہدایت یافتہ نہ ہوگا۔ مگر حضرت عیسیٰ علیہ السلام ہوں گے۔ توضیح اس کی یہ ہے کہ حضرتﷺ نے فرمایا لا نبی بعدی۔ اس عموم سے متوہم ہوتا تھا کہ حضرتﷺ کے بعد کوئی نبی نہ آئے گا تو مراد یہ ہے کہ اب جدید نبوت کسی کو نہ دی جائے گی۔ نہ مستقلہ نہ تابعہ۔ ہاں انبیائے سابقین میں سے ایک نبی ہماری شریعت کا تابع ہو کر آئے گا۔ وہ عیسیٰ علیہ السلام ہیں۔ آیۂ کریمہ یا احادیث متواترہ یا اجماع امت یا مسئلہ ضروریہ دینیہ کہ حضور اقدسﷺ ختم نبوت ان چاروں وجوہ سے آفتاب کی طرح بلکہ اس سے ہزار ہا درجہ زائد واضح و روشن ہے۔ اس سے اسی قدر ثابت ہے کہ اب کسی کو نبوت عطاء کئے جانے کا دروازہ بند فرما دیا گیا۔ اصلاً مطلقاً ہرگز اب کوئی نیا نبی نہیں ہو سکتا۔ اگرچہ وہ کیسا ہی تابع و غیر مستقل ٹھہرایا جائے۔ ہم پوچھتے ہیں۔ وہ نبی کہ شریعت جدید نہ رکھتا ہو۔ شرائع میں دوسرے نبی کا تابع ہو۔ جیسے حضرات حاملان تورات تھے۔ علیہم الصلوٰۃ والسلام وہ نبی ہیں یا نہیں۔ اگر نبی نہیں تو ہمارا مطلب حاصل کہ اب کوئی نبی نہیں ہو سکتا۔ نہ تابع نہ مستقل اور اب اسے نبی کہنا غیر نبی کو نبی کہنا اور اللہ عزوجل پر افترا ہوگا اور اگر نبی ہے تو قرآن مجید نے جملہ نبیین کا ہی خاتم فرمایا ہے۔ استقلال کی قید نہ قرآن میں ہے نہ حدیث میں، نہ اجماع میں، نہ ضروریات دین میں۔ تو جدید نبی تابع کا آنا ان سب کے خلاف ہوا۔ ہاں کسی سابق کا تشریف لانا وہ ختم نبوت کے منافی نہیں ہو سکتا کہ اس کو نبوت پہلے مل چکی نہ کہ جدید اور فتاوے کاملہ میں لکھا ہے اگرچہ حضرتﷺ کی امت میں سے ہوں گے۔ مگر درجہ ان کا اوّل سے زیادہ ہوگا۔ بوجہ زندہ کرنے کے دین محمدیﷺ کو کہ اس وقت دین میں بہت کمزوری اور ضعف ہوگا اور یا تو آسمان سے احکام شریعت کے سیکھ آئے گا۔ یا یہاں آکر قرآن شریف اور حدیث کو معائنہ کرے گا اور پوری مراد شریعت پر واقف ہو جائے گا اور حجابات علمیہ دور ہو جائیں گے اور یا اپنے اجتہاد سے حکم کرے گا یا بواسطہ وحی کے جو جو نبیﷺ کی شریعت سے جانتے ہیں اس پر حکم کریں گے اور یا رسول اللہﷺ سے علم شریعت کا حاصل کریں گے اور یہ جو بعض
بوقت تعذر معنی حقیقی کسی لفظ کے معنی مجازی لئے جاتے ہیں۔ پس یہاں مجاز مأول ہیں۔ پس بعض تاویل کرنے والوں نے مہدی کو معنی منسوب الی المہد بہ نسبت انبیاء علیہم السلام کے ہے اور ابن جری کی حدیث سے، اب یہ معنی بعض علماء نے مہدی سے مہدی لغوی مراد لیا ہے۔ چونکہ مطلق مہدی کا ذکر کامل مراد ہوگا۔ ”لان المطلق اذا اطلق یراد بہ الفرد الکامل“ اور کامل نبی اور پیغمبر ہی ہوتا ہے۔ لہٰذا معنی یہ ہوئے نبی ﷺ فرماتے ہیں کہ ل مہدی اور ہدایت یافتہ نہ ہوگا، مگر حضرت عیسیٰ علیہ السلام ہوں گے۔ توضیح ﷺ نے فرمایا لا نبی بعدی۔ اس عموم سے متوہم ہوتا تھا کہ حضرت ﷺ کے مراد یہ ہے کہ اب جدید نبوت کسی کو نہ دی جائے گی۔ نہ مستقلہ نہ تابعہ۔ ہاں سے ایک نبی ہماری شریعت کا تابع ہو کر آئے گا۔ وہ عیسیٰ علیہ السلام ہیں۔ تواتر و یا اجماع امت یا مسئلہ ضروریہ دینیہ کہ حضور اقدس ﷺ ختم نبوت ان سب کی طرح بلکہ اس سے ہزارہا درجہ زائد واضح و روشن ہے۔ اس سے اسی نبی کو نبوت عطاء کئے جانے کا دروازہ بند فرما دیا گیا۔ اصلاً مطلقاً ہرگز اب کوئی چہ وہ کیسا ہی تابع و غیر مستقل ٹھہرایا جائے۔ ہم پوچھتے ہیں۔ وہ نبی کہ شرائع میں دوسرے نبی کا تابع ہو۔ جیسے حضرات حاملان تورات تھے۔ نبی ہیں یا نہیں۔ اگر نبی نہیں تو ہمارا مطلب حاصل کہ اب کوئی نبی نہیں اور اب اسے نبی کہنا غیر نبی کو نبی کہنا اور اللہ عزوجل پر افترا ہوگا اور اگر نبی متبعین کا ہی خاتم فرمایا ہے۔ استقلال کی قید نہ قرآن میں ہے نہ حدیث وریات دین میں۔ تو جدید نبی تابع کا آنا ان سب کے خلاف ہوا۔ ہاں وہ ختم نبوت کے منافی نہیں ہو سکتا کہ اس کو نبوت پہلے مل چکی نہ کہ جدید ہے اگر چہ حضرت ﷺ کی امت میں سے ہوں گے۔ مگر درجہ ان کا اوّل کرنے کے دین محمدی ﷺ کو کہ اس وقت دین میں بہت کمزوری اور ت سے احکام شریعت کے سیکھ آئے گا۔ یا یہاں آ کر قرآن شریف اور اور پوری مراد شریعت پر واقف ہو جائے گا اور حجابات علمیہ دور ہو دسے حکم کرے گا یا بواسطہ وحی کے جو جو نبی ﷺ کی شریعت سے جانتے ر یا رسول اللہ ﷺ سے علم شریعت کا حاصل کریں گے اور یہ جو بعض
جاہلوں نے مشہور کیا ہے غلط ہے کہ حکم کریں گے۔ امام اعظمؒ کے مذہب پر اور خواجہ خضر نے امامؒ سے علم سیکھا ہے۔ بارہ برس میں اور ان سے امام ابو القاسم قشیری نے سارے علوم تین برس میں جان کر بہت سی کتابیں تصنیف کر کے صندوق میں رکھ کر اپنے کسی مرید سے دریائے جیحون میں ڈلوادی ہیں۔ تا کہ عیسیٰ علیہ السلام جب آسمان سے نازل ہوں گے تو ان کتابوں کو نکال کر ان کے مسائل پر عمل کریں گے۔ پس یہ کلام بالکل باطل ہے اور بے اصل ہے۔ اس کا نقل کرنا بھی درست نہیں۔ سوائے رد کرنے کے اوّل تو اس میں علامہ قہستانی صاحب جامع الرموز نے سخت غلطی کی اور بعد کے لوگ اس کی متابعت کرتے گئے۔ یہ کوئی ماننے کی بات ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام نبی ہو کر مجتہد غیر نبی کی تقلید کریں گے اور خواجہ خضر علیہ السلام جن کا مرتبہ امام اعظمؒ سے چند مرتبہ زیادہ ہے۔ یقیناً اور وہ استاد موسیٰ علیہ السلام کے ہیں۔ انہوں نے کیسے بارہ برس امامؒ سے پڑھا اور پھر اسی علم کو خواجہ خضر علیہ السلام سے امام ابو القاسم نے تین برس میں حاصل کر لیا۔ پس شاگرد استاد سے زیادہ ذہین ہے اور اس بناء پر تو عیسیٰ علیہ السلام امامؒ کے شاگرد کے شاگرد کے شاگرد ہوئے۔ بہت لوگوں نے اس بات کو سخت رد کیا ہے۔ فتاوے کاملیہ میں ہے۔ ”عن السيد عيسى عليه السلام ابن مريم اذا نزل آخر الزمان هل يكون كو احد من هذه الامة واذا قلتم انه يكون كو احد من هذه الامة هل يتنزل عن مرتبة الرسالة الجواب مافی حواشی شیخ مقدیش على وسطی الشيخ السنوسى وهذا نصه قوله كو أحد من امته يعنى يكون كو احد منهم فى الشئ على شريعة ﷺ واما نزوله عن مرتبة الرسالة فلا بل يزيده الله تعالى رفع درجات وعلو مقامات حيث احيى الله تعالىٰ به هذا الدين وكاد يضمحل لما يقع فى هذا الدين من محى آثار الحق وتفاقم المحن وزلازل الضلال فيكون عيسى عليه السلام حاكما بنصوص الكتاب والسنة ويكشف الله له الغطاء عن المراد من احكام كتاب الله وسنة رسول الله ﷺ وبهذا تعلم بطلان ماتقوله بعض الجهلة من الاحناف المتأخرين من ان عيسى عليه السلام اذا نزل يحكم بمذهب الامام الاعظم ابي حنيفةؒ وقد رد ذلك القول محققوا المتاخرين من الحنفية كالسيد احمد الطحطاوى والسيد محمد امين فى حواشيها على الدر المختار وشنعوا على القائل بذلك اقول قال الشامي على قول الدر المختار فى مدح
زمنه الى هذه الايام الى أن يحكم بمذهبه عيسى عليه السلام) تبع فيه القهستانى ، لكن لادليل فى ذلك على ان نبى الله عيسىٰ على نبينا وعليه الصلوٰة والسلام يحكم بمذهب ابى حنيفة وان كان العلماء موجودين فى زمنه فلا بدله من دليل ولهذا قال الحافظ السيوطى فى رسالته سماها الاعلام ماحاصله ان مايقال انه يحكم بمذهب من المذاهب الاربعة باطل لا اصل له وكيف يظن بنبى انه يقلد مجتهدا مع ان المجتهد من آحاد هذه الامة لا يجوزله التقليد وانما يحكم بالاجتهاد اوبما كان يعلمه قبل من شريعتنا بالوحى اوبما تسلمه منها وهو فى السماء او انه ينظر فى القرآن فيفهم منه كما كان يفهم نبينا عليه الصلوٰة والسلام واقتصر السبكى على الاخير وذكر ملاّ على القارى ان الحافظ ابن حجر العسقلانى سئل هل ينزل عيسىٰ عليه السلام حافظا للقرآن والسنة اويتلقاهما عن علماء ذلك الزمان فاجاب لم ينقل فى ذلك شئ صريح والذى يليق بمقامه عليه السلام انه يتلقى ذلك عن رسول الله ﷺ فيحكم فى امته كما تلقاه منه لا نه فى الحقيقة خليفة عنه ما يقال ان الامام المهدى يقلد ابا حنيفة رده ملاّ على القارى فى رسالة المشرب الوردى فى مذهب المهدى وقرر فيها انه مجتهد مطلق ورد فيها ماوضعه بعض الكذابين من قصة طويلة حاصلها ان الخضر عليه السلام تعلم من ابى حنيفة الاحكام الشريعة ثم علمها للامام ابى القاسم القشيرى وان القشيرى صنف فيها كتبا وضعها فى صندوق وامر بعض مريديه بالقائه فى جيحون وان عيسىٰ عليه السلام بعد نزوله يخرجه من جيحون ويحكم بما فيه وهذا كلام باطل لا اصل له ولا يجوز حكاية الا لرده كما اوضحه الطحطاوى واطال فى رده وابطاله فراجعه (شامى جلد اوّل) “
چونکہ مستقل نبی میں ہادی ہونے کی شان غالب ہے اور تابع نبی میں مہدی ہونے کی شان غالب ہے۔ حتی کہ اس کا ہادی ہونا خود ناشی ہوگا۔ مہدی ہونے کی شان سے، اسی واسطے بعنوان مہدی تعبیر فرمایا۔ پس معنیٰ یہ ہوئے کہ میرے بعد میرے تابع ہوکر حضرت عیسیٰ علیہ السلام تشریف لائیں گے۔ تیسرے تاویل اس حدیث کی یہ ہے کہ ایسی ترکیب دوچیزوں کے کمال اتحاد پر مشعر ہوتی ہے۔ گویا معنیٰ یہ ہوئے کہ مہدی اور عیسیٰ علیہ السلام ایک ہیں۔ پس مہدی موضوع اور
عیسیٰ علیہ السلام محول ٹھہرا اور موضو، اعتبار مجاز کے مثلاً دوچیزوں کا زمانہ دوسری چیز کا واقع ہونا سمجھا جاتا ہو جاتا ہے۔ اس کے نظائر کتب عربیہ میں موجود ہیں جو ابوداؤد وغیرہ میں الله ﷺ عمران بيت المـقـ وخروج الملحمة فتح قسطـ بيده على فخذالذي حدثه انك قاعد يعنى معاذ بن جـبـ غور کرو کہ اس حدیث للموضوع اس معنیٰ سے ہے۔ فتح الـ ان كل واحد من هذه الا مانحن فيه کا مطلب یہ ہے کہ علیہ السلام تشریف لے آئیں ۔ جمہور کے نہایت اشد اور انکار انـ اعتبار کے نہیں ہوتا۔ چنانچہ ابتـ معتبرین فقہا ومحدثین ومفسرین ا الخدری وثوبان وام سلمہ وام حبیـ وحاکم وابویعلی الموصلی وطبرانی ۔
سوال صحیح مسلم اور صحیحین میں موجب ضعف ہے
جواب...... بخاری اوّل تو یہ کہ ہم نہیں مانتے کہ ہے۔ اگرچہ مبہم طور پر ” فينـ مبہم کو جب کہ مفسر پر محمول کیا رہیں۔ دوسری وجہ یہ کہ کسی امـ
عیسیٰ علیہ السلام محمول ٹھہرا اور موضوع ومحمول میں اتحاد کا حکم کبھی باعتبار حقیقت کے ہوتا ہے اور کبھی باعتبار مجاز کے مثلاً دو چیزوں کا زمانہ آپس میں بہت متقارب ہو اور ایک چیز کے واقع ہونے سے دوسری چیز کا واقع ہونا سمجھا جاتا ہو تو اس لحاظ سے ان دونوں کو موضوع ومحمول بنا کر حکم اتحاد کا کیا جاتا ہے۔ اس کے نظائر کتب عربیہ میں بکثرت موجود ہیں اور خود حضرت معاذ بن جبلؓ کی حدیث میں موجود ہیں جو ابوداؤد وغیرہ میں وارد ہے۔ ”عن معاذ بن جبل قال قال رسول الله ﷺ عمران بيت المقدس خراب يثرب وخراب يثرب خروج الملحمة وخروج الملحمة فتح قسطنطنیه وفتح قسطنطنية خروج الدجال ثم ضرب بيده على فخذ الذى حدثه او منكبه ثم قال ان هذا الحق كما انك ههنا اوكما انك قاعد يعنى معاذ بن جبل“
غور کرو کہ اس حدیث میں اسی صورت کے چار قضایا ایسے ہیں کہ جن میں ثبوت المحمول للموضوع اس معنی سے ہے۔ فتح الودود حاشیہ ابوداؤد میں ہے۔ اس حدیث کے متعلق ”والمعنى ان كل واحد من هذه الامور امارة لوقوع ما بعده وان وقع هناك مهلة “ پس ما نحن فیہ کا مطلب یہ ہے کہ امام مہدی کے آتے ہوئے تھوڑا زمانہ گزرے گا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام تشریف لے آئیں گے۔ ایضاح امام مہدیؑ کے ظہور کی خبر پر اجماع جمہور اور خلاف جمہور کے نہایت شاذ اور نادر اور اقل ہیں اور یہ ظاہر کہ غیر جمہور کا قول بمقابلہ جمہور کے قابلِ اعتبار کے نہیں ہوتا۔ چنانچہ ابتداء سے لے کر آج تک برابر بڑے بڑے علمائے مستندین وائمہ معتبرین فقہا ومحدثین ومفسرین اسی پر متحد ہیں اور کسی نے مخالفت نہ کی۔ ابوہریرہؓ وانس وابوسعید الخدری وثوبان وام سلمہ وام حبیبہ وابن عباس وابن مسعود وابن عمرو حضرت طلحہ امام بزار وابن ماجہ وحاکم وابویعلی الموصلی وطبرانی نے بطرق مختلفہ نقل کیا۔
سوال صحیح مسلم اور صحیح بخاری میں امام مہدی کے ظہور کی حدیث نہیں۔ پس یہ نہ ہونا صحیحین میں موجب ضعف ہے اور قادح اجماع ہے۔
جواب....... بخاری اور مسلم میں مذکور نہ ہونا اس خبر کا اجماع کو مضر نہیں ہے۔ دو وجہ سے اول تو یہ کہ ہم نہیں مانتے کہ بخاری اور مسلم دونوں میں یہ خبر مذکور نہیں بلکہ مسلم میں یہ خبر موجود ہے۔ اگرچہ مبہم طور پر ”فينزل عيسى بن مريم فيقول اميرهم تعال صل لنا“ مگر مبہم کو جب کہ مفسر پر محمول کیا جاتا ہے تو وہ اس کا عین ہوجاتا ہے۔ پس صحیحین خبر مہدی سے خالی نہ رہیں۔ دوسری وجہ یہ کہ کسی امر کے اجماع کے لئے ہر ایک کا قول جدا جدا نقل ہونا شرط نہیں۔ بلکہ
کسی قول کا مشہور ہو جانا اور اس میں کسی کا انکار منقول نہ ہونا اس کے مجمع علیہ کے لئے کافی ہے۔ جیسا کہ محدثین اور اصولیین نے اس پر تصریح کر دی ہے۔ پس جب تک کہ امام مسلم اور امام بخاری سے اس خبر مہدی کا انکار نقل نہ ہوا جماع میں کوئی خرابی نہیں آتی۔ علاوہ یہ کہ یہ خبر امام بخاری اور امام مسلم سے پیشتر متقدمین میں مشہور بلکہ اشہر تھی اور کسی نے اس کا انکار نہ کیا۔ پس اجماع منعقد ہو گیا اور یہ مسئلہ کتب فقہ شامی، بحر حموی وعلم اصول میں مبرہن ہے کہ خلاف متأخر رافع اجماع متقدم کا نہیں ہوتا۔
ایضاً اگر چہ اہل اصول علم حدیث نے حدیث متواتر کے متعین ہونے میں کلام کیا ہے بعض نے تین حدیثیں صرف اتنی لاکھوں احادیث سے معین کیں اور بعض علماء نے چار وعلیٰ ہذا مگر کتب احادیث کو پورے طور پر معاینہ کیا جائے اور بتامل تلاش کیا جائے اور احادیث کے طرق اور اسانید مختلفہ متعددہ کو دیکھا جائے تو بہت احادیث ایسی نظر آئیں گی جو متواتر ہوں گی۔ کما حقق بہ المحققون وصرحوا بہ۔ پس اگر اسی خبر مہدی علیہ السلام کو دیکھا جائے کہ اس کی طرق مختلفہ اور اسانید متکثرہ اور رواۃ متوفرہ ہیں تو بیشک متواتر کی مصداق ہے اور کسی حدیث کے متواتر ہونے میں یہ بھی شرط نہیں کہ سارے راوی اس کے عادل ہی ہوں۔ کما ہو مسلم عند القوم پس اگر چہ بعض راویوں کی وجہ سے بعض طریقوں میں ضعف معلوم ہوتا ہے۔ مگر یہ ضعف اختلافی ہے اور محدثین نے تصریح کر دی ہے کہ اتفاقی ضعف بھی کثرت طرق سے منجبر ہو جاتا ہے۔ پس ضعف مختلف فیہ کا انجبار بطریق اولیٰ ہوگا۔ بالخصوص ایسی کثرت کہ حد تواتر تک ہو۔
سوال....... امام مہدی کی خبر میں جو راوی ہیں۔ ان میں سے بعض راویوں کو بعض نقاد حدیث نے ضعیف و مجروح کہا ہے۔
جواب....... اگر چہ بعض علماء سے ان کی تضعیف نقل ہے۔ مگر دوسرے ائمہ نے ان کی توثیق بھی کر دی۔ پس یہ جرح ضعیف مختلف فیہ ہوئی اور حالانکہ متواتر میں رواۃ کا ثقہ وعادل ہونا بھی شرط نہیں۔ اگر چہ یہ جرح قوی ہو۔ پس جس جگہ میں کہ جرح قوی بھی مضر نہ ہو۔ وہاں پر جرح ضعیف مختلف فیہ کیا ضرر دے گی۔
سوال....... کیوں ضرر نہ دے گی حالانکہ جرح مقدم ہے۔ تعدیل پر، پس مؤثقین کی توثیق اور تعدیل کا کوئی اعتبار نہ رہا۔
جواب....... جرح کا مقدم ہونا تعدیل پر یہ قاعدہ خود ظنی ہے۔ دوسرا یہ کہ اس میں کلام طویل ہے۔ تیسرا یہ کہ مسلمان میں اصل عدالت ہے اور یقینی امر ہے اور جب کہ اختلاف ہو کسی
شخص میں کہ عادل ہے یا غیر عادل، تو بقاعدہ الیقین لا یزول بالشک تعدیل کو مقدم کرنا مسوغ ہے۔ دوسرا جواب یہ کہ خبر مہدی میں جو کہ بعض راویوں پر جرح کی گئی ہے وہ جرح مضر نہیں۔ کیونکہ اس جرح کا انجبار ہو چکا ہے تواتر اور اجماع سے۔
سوال...... امام مہدی کی ایک حدیث میں ایک راوی سلیمان بن عبید بھی ہے اور اس سے صحاح ستہ میں کسی نے روایت نہیں کی۔
جواب...... یہ استخراج نہ کرنا علت قادحہ نہیں ہے۔ کیونکہ کسی راوی کے مجروح ہونے کی علت کسی نے آج تک یہ نہیں بیان کی کہ اس کی حدیث فلاں محدث نے نہیں لی۔ بلکہ سلیمان بن عبید ثقہ ہے۔ اس کو ذکر کیا ہے ابن حبان نے ثقات میں، اور کہیں مذکور نہیں کہ اس میں کسی ثقہ نے کلام کیا ہو۔
سوال...... بعض اخبار مہدی میں عمار ذہبی ہے اور اس میں تشیع کا شبہ ہے۔
جواب...... یہ امام مسلم کا راوی ہے اور یہ بات مسلم ہے کہ امام مسلم کی روایات صحیح ہیں اور امام مسلم اعلیٰ درجہ کے منقد ہیں۔ علم حدیث کے مجروح لوگوں سے روایت نہیں کرتے۔ پس جب کہ امام مسلم نے عمار ذہبی سے روایت کی تو معلوم ہوا کہ وہ اس کی جرح کو صحت حدیث کا قادح نہیں سمجھے تھے۔ ایسے لوگ جب کسی سے حدیث نقل کرتے ہیں تو اس کے صدق اور حفظ پر پورا اطمینان کر کے نقل کرتے ہیں اور بڑا مدار اس باب میں صدق اور حفظ ہی پر ہے۔ پس عمار ذہبی کے سبب سے صحت حدیث میں کوئی قدح نہ ہوا۔ بشر بن مروان نے فقط تشیع کا قول اس میں کیا ہے۔ ورنہ احمد اور ابن معین اور ابو حاتم اور نسائی نے اس کو ثقہ کہا ہے اور امام حبان نے اس کو ثقات میں ذکر کیا ہے۔ مطین نے کہا ہے کہ ١٣٣ میں فوت ہوا ہے۔ یہ عمار بن معاویہ ذہبی ہے اور اس کو ابن ابی معاویہ اور ابن صالح بھی کہتے ہیں اور اس سے بڑے بڑے زبردست فاضلوں نے روایت کیا ہے۔
(تہذیب التہذیب ص ٣٠٦)
سوال...... امام مہدی کے بارے میں امام طبرانی نے حدیث نقل کی اور آخر اس کے کہا ہے ”رواه جماعة عن ابی الصدیق ولم يدخل احد منهم بينه وبين ابی سعيد احد الا ابا الواصل فانه رواه عن الحسن بن يزيد عن ابی سعید“ اور ابن خلدون مؤرخ نے اپنے مقدمہ میں امام ذہبی ناقد حدیث سے نقل کیا ہے کہ حسن بن یزید مجہول ہے۔ پس اس سبب سے اس حدیث میں ضعف ہوا۔
جواب...... یہ جرح مبہم ہے اور جرح مبہم پر تعدیل مقدم ہے اور وہ محدثین جنہوں نے اس جرح
کے متصل ہے۔ خود مؤرخ مذکور کے کلام میں مذکور ہے۔ ”لکن ذکره ابن حبان فی الثقات“ جیسے کہ حضرت امام اعظمؒ نے حدیث تمر بالرطب میں فرمایا تھا کہ زید بن عیاش مجہول ہے تو تمام محدثین اور نقاد حدیث نے جواب میں کہا کہ : ”زید بن عياش كذا وكذا فان لم يعرفه ابو حنيفة فقد عرفه غيره“ اور ابوالواصل سے اگرچہ صحاح ستہ میں روایت نہ ہوتا اسی مقدمہ میں مذکور ہے۔ مگر اس کا جواب یہ ہے کہ اوّل تو یہ وجہ جرح نہیں ہو سکتا۔ دوسرا یہ کہ وہ ثقات میں سے ہے۔ جیسے کہ خود مؤرخ نے کہا ہے۔ ”وذکره ابن حبان فی الثقات فی الطبقة الثانية“
ثم اقول ...... بڑے بڑے محققین علماء اور مدققین فضلا نے ثابت کیا ہے کہ کوئی شخص مجتہد اگر کسی حدیث سے استدلال کرے تو یہ اس حدیث کی صحت کا حکم ہے۔ ”کما قال الشامی في غير موضع“ اور اگر مجتہد کسی بات کا امر کرے یا نفس اخبار کسی شے سے دے تو وہ بھی مانی جاتی ہے۔ چہ جائیکہ حدیث سے سند پکڑنا۔ وجہ یہ ہے کہ مجتہد کا امر اور اخبار شارع کے امر اور اخبار سے ناشئ ہوتا ہے۔ (شامی ج١ ص ٢٧٦ فصل فی حجر الامام) میں ہے۔ ”ولا يخفى ان امر المجتهد ناش عن امر الشارع فكذا اخباره الى آخره“ اور آخر زمانہ میں اگر کسی وجہ سے اس حدیث میں ضعف لاحق ہو گیا ہو تو وہ ضعف استدلال متقدم کو مضر نہیں ہے۔ پس جب کہ متقدمین نے ان رواۃ مجروحین سے اس حدیث کو نقل کیا اور اس کے مضمون کے کہ امام مہدی کا آنا فلاں فلاں صفت کے ساتھ ہے۔ تو انہوں نے حدیث الباب کی صحت کا حکم کر دیا اور یہ ضعف سند میں بعد اس کے عارض ہوا اور یہ ضعف احتجاج متقدم کو مضر نہیں ہو سکتا۔ اب علمائے متأخرین کے لئے اس حدیث کا قابل استدلال ہونا وہ اس طور پر ہے کہ متقدمین کا اس حدیث کو بناء بر قاعدہ صحیح کہہ دینا اور اس تصحیح کی ان کی طرف نسبت متواتر ہونا مثل تعلیقات امام بخاری کے حجت ہو گیا کہ بخاری بعض احادیث کو بلا سند ذکر کرتے ہیں۔ مگر بوجہ اس کے کہ انہوں نے التزام صحت کا کر لیا ہے۔ لہٰذا لوگ ان کی سند نہیں ڈھونڈتے اور بخاری کی اس تصحیح ضمنی پر اکتفاء کرتے ہیں۔ فكذا فيما نحن فيه!
دوسرا یہ کہ متأخرین کو متقدمین کی اتباع ضروری و واجب ہے۔ کیونکہ ہر دورہ والوں پر اپنے ماقبل کا اتباع ضروری ہے۔ ابلاغ احکام و تفصیل اجمال میں اور ہر دورہ کے علماء کے کلام میں جو جو اجمال ہوگا۔ ان کے بعد والے اس اجمال کی تفصیل اور اس مبہم کی تفسیر کر دیں گے۔ پس لوگوں کو ان کی تفصیل اور تفسیر پر عمل کرنا ہوگا۔ جیسا کہ اس مطلب کو کتاب انوار ساطعہ میں معتبر
کتابوں کے حوالے دے کر واضح طور پر مع عبارات کے لکھا ہے اور حضرت علیؓ سے روایت ہے کہ میں نے عرض کی یا رسول اللہﷺ امام مہدی ہم اہل بیت سے ہوں گے یا غیر کسی سے فرمایا حضرتﷺ نے کہ ہم سے ہوں گے اور اللہ تعالیٰ ان کے ساتھ اس دین کو ختم کر دے گا۔ رواہ الطبرانی، ورواہ ابونعیم فی الحلیہ فتاویٰ حدیثیہ میں ہے کہ مہدیؓ جب ظاہر ہوں گے ان کے سر پر دستار ہوگی اور ان کے ساتھ منادی ہوگا اور یہ آواز دے گا کہ یہ مہدی ہیں۔ اللہ تعالیٰ کے خلیفہ ہیں۔ ان کی تابعداری کرو اور یہ منادی فرشتہ ہوگا۔ خطیب وابونعیم اور طبرانی نے روایت کیا کہ حضرتﷺ نے حضرت علیؓ کا ہاتھ پکڑ کر فرمایا کہ اس کی پشت سے ایسا جوان پیدا ہوگا جو زمین کو عدل اور انصاف سے پر کر دے گا۔ پس جب تم اس کو دیکھو تابعداری کرو اور تحقیق یہ کہ وہ مشرق سے آئے گا اور یہی مہدی ہوگا۔ رواہ الطبرانی اور فرمایا رسول اللہﷺ نے کہ جس وقت تم دیکھو کہ سیاہ نشان خراسان کے ملک سے ظاہر ہوئے ہیں تو تم بھی ان لوگوں میں آملو اگرچہ تم کو برف پر چلنا پڑے ہاتھ اور شکم سے۔ کیونکہ ان نشانوں میں اللہ تعالیٰ کا خلیفہ مہدی ہوگا۔ روایت کیا ہے اس کو ابونعیم اور حاکم اور امام احمد اور نعیم بن حماد نے اور جب امام مہدی کی شہرت ہوگی اس وقت سفیانی کافر بہت لشکر جمع کر کے ان کے مقابلہ کے لئے لائے گا اور لشکر اس کا خشک زمین میں دھنس جائے گا اور یہ خوشخبری امام صاحب کو پہنچے گی۔ ماہ شعبان کے نصف میں سورج سیاہ ہو جائے گا اور آخر مہینہ میں چاند سیاہ ہو جائے گا۔ برخلاف اپنی عادت کے اور حالانکہ نجومیوں کا حساب یہ ہے کہ چاند سیاہ نہیں ہوتا۔ مگر تیرہویں یا چودھویں یا پندرھویں میں وقت تقابل نیرین کے ہیئت مخصوصہ پر اور سورج سیاہ نہیں ہوتا۔ مگر مہینہ کی ٢٧ یا ٢٨ یا ٢٩ تاریخ میں۔ یمانی کا خروج اور مغربی کا ظہور مصر میں۔ مشرق سے ایسا ستارہ نکلے گا جس کی روشنی چاند کی طرح ہوگی اور دوہرا ہو جائے گا۔ ایسے کہ دونوں طرفین اس کی قریب ملنے کی ہو جائیں گی۔ آسمان میں سرخی ظاہر ہو کر دیر تک رہے گی۔ آسمان کے اطراف میں اور پورب سے ایک آگ ظاہر ہوگی۔ لمبی اور باقی رہے گی۔ درمیان زمین اور آسمان کے تین روز یا سات روز تک عرب کے لوگ خروج کریں گے۔ عجم کی بادشاہی سے اور مالک ہو جائیں گے۔ عرب کے لوگ ان شہروں کے قتل کرتا اہل مصر کا اپنے امیر کو۔ قیس اور عرب کے نشان چلیں گے۔ بطرف مصر کے اور ساٹھ کذاب نکلیں گے۔ جو پیغمبری کا دعویٰ کریں گے اور ذریج کی موت، ملک شام کے دیہات میں سے قریۃ جابیہ کا خشک زمین میں غرق ہو جانا۔ روایت کیا ابونصر نے ابو عبداللہ سے کہ خروج ہوگا۔ امام مہدی طاق برسوں پر۔ مثلاً پہلا، تیسرا، پانچواں، ساتواں، نواں، شاید کہ صدی کے طاق برس مراد ہیں اور رمضان کی تیئیسویں رات
میں ندا کرے گا۔ ساتھ اسم قائم کے اور محرم کی دسویں تاریخ عاشورا کے روز مکہ شریف میں خانہ کعبہ میں درمیان رکن اور مقام ابراہیم کے کھڑا ہوگا اور ندا کرے گا۔ ایک شخص کہ اس کے ہاتھ پر بیعت کرو۔ اس وقت زمین کی رگیں کھینچی جائیں گی اور زمین تنگ ہو کر لپٹ جائے گی۔ پس ہر ملک سے مددگار مسلمان آ کر اقرار کریں گے اور ان کے ہاتھ پر بیعت کریں گے اور مکہ سے کوفہ تک آئیں اور وہاں سے لشکر کو تقسیم کر کے ملکوں کی طرف روانہ کر دے گا اور کوفہ کی مسجدوں کو کشادہ کرے گا اور دور کرے گا ہر گناہ کو اور بدعت کو اور قائم کرے گا سنت کو اور فتح کرے گا قسطنطنیہ کو اور چین اور پہاڑوں کو اور دیلم کو اور نیز اسی ابونصر نے ابو عبداللہ سے روایت کیا کہ مہدی قیام کرے گا۔ سات برس اور جب خارج ہوگا۔ اس وقت خانہ کعبہ کے ساتھ تکیہ لگا کر بیٹھے گا اور جمع ہوں گے اس وقت ان کے پاس تین سو تیرہ آدمی۔ ان کے تابع اور اوّل کلام ان کا یہ آیت ہوگی ۔ ”بقیۃ اللہ خیر لکم ان کنتم مؤمنین “ یعنی میں خلیفہ پروردگار اور حجت اس کی ہوں اور بہتر ہوں تمہارے لئے اگر تم لوگ ایماندار ہو۔ اور جو کوئی امام مہدی کو سلام دے گا تو اس طور پر کہے گا ”السلام علیکم بقیۃ اللہ فی الارض“ جب کہ دس ہزار مسلمان جمع ہوں گے۔ اس وقت کوئی یہودی اور نصرانی سوائے ایمان کے باقی نہ رہے گا اور اس کو سچا جانے گا۔ انتہی!
العرائس الواضحہ۔ فرمایا رسول اللہ ﷺ نے کہ زوراء میں ایک واقعہ ہوگا لوگوں نے عرض کی کہ یا رسول اللہ ﷺ زوراء کیا ہے۔ فرمایا کہ پورب کے ملک میں دریاؤں کے درمیان میں ایک شہر ہے کہ اس میں بڑے شریر اور سرکش لوگ میری امت کے ہوں گے۔ ان کو اللہ تعالیٰ چار بلا میں مبتلا کرے گا۔ تلوار میں اور خسف غرق ہو جانا زمین میں اور پتھر پڑنا اور ان پر اور صورت ان کی بدل جانا۔ فرمایا رسول اللہ ﷺ نے کہ جس وقت خارج ہوں گے سودان اور تلاش کریں گے۔ عرب کو اور وہ ظاہر ہوں گے۔ پس ناگاہ ایک بادشاہ ظاہر ہوگا تین سو ساٹھ سواروں میں اور دمشق کو آئے گا۔ پس قبل گزرنے ایک ماہ کے قبیلہ بنی کلب کے تیس ہزار آدمی ان کے تابع ہو جائیں گے اور بعد اس کے روانہ کریں گے لشکر کو طرف عراق کے اور قتل کریں گے زوراء میں ایک لاکھ آدمی کو اور ان کو خارج کردیں گے اور کوفہ کے قیدی لوگ ان کے ہاتھ سے نجات پائیں گے، اور خارج ہوگا ایک اور بادشاہ سفیانی لشکر لے کر بسوئے مدینہ منورہ کے۔ پس غرق کر دے گا زمین میں ان کو اللہ تعالیٰ فقط دو آدمی غرق ہونے سے باقی رہیں گے۔ جو کہ سفیانی کو ایک ان میں سے جاکر اس بات کی خبر دے گا اور دوسرا امام مہدی کو، اور قریش کے لوگ بھاگ کر قسطنطنیہ کو چلے جائیں گے اور سفیانی روم کے سردار کو لکھے گا کہ یہ لوگ میری طرف روانہ کر دے یہ لوگ
دروازہ دمشق پر ہوں گے کہا حضرت حذیفہؓ نے کہ اس وقت آسمان سے آواز آئے گی کہ اے لوگو! ظالموں اور منافقوں کا ظلم تم سے اللہ تعالیٰ نے دور کر دیا ہے اور تمہارا مددگار ایسے شخص کو کیا ہے کہ اس وقت امت محمدی میں سے بہتر ہے۔ جاؤ مکہ میں اور اس سے مل جاؤ کہ وہ مہدی ہے اور نام اس کا احمد بن عبداللہ ہے۔ حذیفہ نے کہا کہ عمران بیٹا حصین کا کھڑا ہو کر کہنے لگا کہ ہم کسی طور پر اس کو شناخت کریں گے۔ فرمایا رسول اللہ ﷺ نے کہ وہ ایک مرد ہے میری اولاد میں سے بنی اسرائیل کے لوگوں سے مشابہ ہے۔ اس پر دو چادریں صوف کی ہوں گی۔ منہ اس کا ستارہ کی طرح چمکتا ہوگا۔ اس کے منہ پر دائیں رخسار پر کالا تل ہوگا اور اس کی چالیس برس کی عمر ہوگی۔ شام کے ملک سے ابدال اور مصر سے نجباء وغیرہ اس قسم کی بزرگی اور غوثیت کے مرتبے والے لوگ اور مشرق وغیرہ ملکوں سے لوگ اس کے پاس آ کر بیعت کریں گے۔ مکہ شریف میں درمیان رکن اور مقام ابراہیم علیہ السلام کے بعدہ شام کی طرف جائے گا اور حضرت خواجہ خضر علیہ السلام ان کے لشکر کے سپہ سالار ہوں گے اور میکائیل علیہ السلام اس لشکر کے ساقی ہوں گے۔ پس خوش ہوں گے اس سے اہل آسمان و زمین اور پرندے اور جنگلی وحشی جانور اور دریا میں مچھلیاں اور ان کی حکومت میں پانی بہت ہوگا اور زمین سے خزانے خارج کرے گا بعدہ ملک شام میں جا کر سفیان کافر کو ذبح کرے گا۔ اس درخت کے نیچے جس کی شاخیں بحیرہ طبریہ کی طرف کو ہیں اور قتل کرے گا قبیلہ کلب کو اور روایت کیا ابو نعیم نے کہ فرمایا نبی ﷺ نے کہ جب عیسیٰ علیہ السلام نازل ہوں گے تو امام مہدیؒ لوگوں کے سردار کہیں گے کہ آیئے اور امامت کیجئے تو عیسیٰ علیہ السلام کہیں گے کہ خبردار ہو جاؤ کہ تم ہی آپس میں ایک دوسرے کے سردار ہو۔ اس امت کی کرامت کے سبب سے۔ یعنی تمہارے اوپر دوسرا آدمی سرداری اور پیشوائی نہیں کر سکتا۔ ابو عمرو الدارانی نے رسول اللہ ﷺ سے روایت کی ہے کہ میری امت سے ایک قوم حق پر اس قدر لڑتی رہے گی کہ عیسیٰ علیہ السلام اتریں گے وقت طلوع فجر کے (ایک روایت میں عصر کا وقت مذکور ہے۔ جیسا کہ عنقریب بیان ہوگا اور یہی قوی ہے) بیت المقدس میں امام مہدیؒ کے پاس۔ پس اس سے کہا جائے گا کہ اے نبی اللہ کے آگے ہو کر نماز پڑھائیے۔ پس فرمائیں گے کہ اس امت کے بعض لوگ امیر ہیں بعض کے اوپر۔
اور امام نماز کی جگہ سیدھے پیچھے کو بغیر منہ پھیرے رجعت قہقری کریں گے۔ مگر عیسیٰ علیہ السلام فرمائیں گے امام مہدی کے کاندھوں پر ہاتھ رکھ کر کہ آپ ہی نماز پڑھائیے۔ آپ کے لئے اقامت کہی گئی ہے۔ پس امام نماز پڑھائیں گے اور بعض روایت میں ہے کہ اس وقت کی نماز عیسیٰ علیہ السلام ان کے اذن سے پڑھائیں گے اور پھر امام مہدی امامت کیا کریں گے اور عیسیٰ
علیہ السلام حضرت ﷺ کی امت میں ہونے کا فخر کریں گے۔ ایسا کتب سیر و حدیث میں ہے اور بعض کتابوں میں ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام پچاس وقت کی نماز پڑھا کریں گے۔ مگر اصح یہی ہے کہ پانچ وقت نماز پڑھیں گے اور شریعت محمدیہ کی تابعداری کریں گے۔ کیونکہ ان کی اپنی شریعت منسوخ ہو گئی ہے۔ شرح عقائد میں ہے۔ ”لکنه يتابع محمدﷺ لان شريعته قد نسخت فلا يكون اليه وحى ونصب الاحكام بل يكون خليفة رسول الله ﷺ ثم الاصح انه يصلى بالناس ويؤمهم ويقتدى به المهدى لا نه افضل فامامته اولیٰ“ میں کہتا ہوں کہ بے شک عیسیٰ علیہ السلام کی طرف کسی حکم جدید خارج از شریعت مصطفویہ کی وحی نہ ہوگی اور مستقل طور پر بطریقہ نبوت جدیدہ کوئی حکم نہ دیں گے۔ مگر عیسیٰ علیہ السلام کی امامت کرنا بوجہ ان کے افضل ہونے کے یہ قول ضعیف ہے۔ کیونکہ یہ قیاس ہے اور نص کے ہوتے ہوئے قیاس بیکار ہے۔ ”كما قاله صاحب نظم الفرائد قوله ثم الاصح . هذا تصحيح من طريق القياس لكنه يترك اذا لاح الاثر فالاحاديث كلها على خلافه منها حديث ابي سعيد رفعه منا الذى يصلى عيسى بن مريم خلفه اخرجه نعيم في سنده ومنها حديث جابر رفعه مطولا في آخره فينزل عيسى بن مريم فيقول اميرهم صل لنا فيقول لا ان بعضكم على بعض امير اخرجه ابونعيم ومنها حديثه مختصرا كيف انتم اذا نزل عيسى ابن مريم وامامكم منكم اخرجه احمد ومسلم وابن جریر وابن حبان ومنها حديث ابي امامة الباهلي مطولا مرفوعا فى آخره امامهم المهدى رجل صالح اخرجه ابن ماجة والرويانى وابن خزيمة وابوعوانة والحاكم فى صحاحهم وابونعيم في الحلية ومنها حديث حذيفة مرفوعا ومنها حديث جابر مرفوعا اخرجه ابوعمر الداني فى سننه ومنها اثر عبدالله بن عمر ومنها اثر ابن سيرين اخرجه ابن ابی شيبة في مصنفه وفي كلها تصريح بامامة المهدي في الصلوة وانكار عيسى بن مريم ومنها اثر كعب مطولا وفيه فتقام الصلوة فيرجع امام المسلمين المهدى فيقول لعيسى تقدم لك اقيمت الصلوة فيصلى بهم تلك الصلوة ثم يكون عيسى اماما بعده وبهذا وفق على القارى بين قول الشارح والاثار وفيه اولا انه لا يعارض المرفوعات وليس هذا باثر صحابى ايضاً وثانيا ان المقتضى للتقدمة ثمة اخبار صحيحة الاسانيد وثالثا ان كعبا
مشهور بالاخذ عن الاسرائيليات فلا تقوم به حجة كاملة ورابعا ان ضمير بعده في قوله اما بعده يرجع الى المهدى اى بعد موته لا الى الصلوة ويؤيده تعليلات المسيح بقوله لك اقيمت وبعضكم على بعض امير وخامسا انه لو مسلم فالكلام فى الصلوة عند نزوله لا فيما بعده انتهى بتغير يسير “
ایک روایت میں آیا ہے کہ امام مہدیؑ کی ایک علامت یہ ہے کہ منیٰ بازار کے حاجی لوگ سخت لوٹے جائیں گے اور قتال و جنگ آپس میں زور سے ہوگا اور اس قدر خون جاری ہوگا کہ جمرات پر پڑے گا۔ پس امام مہدیؑ کو لوگ خلیفۂ وقت اور بادشاہ بنائیں گے۔ درمیان رکن اور مقام ابراہیم کے اور وہ انکار کریں گے۔ یہاں تک کہ ایک منادی غیب سے ندا کرے گا کہ یہ اللہ کا خلیفہ مہدی ہے۔ اس کی اتباع کرو۔ اس وقت آپ بیعت لیں گے اور ابو امامہؓ نے روایت کی ہے کہ نبی کریمﷺ نے ایک روز خطبہ پڑھ کر ذکر دجال کا کیا اور فرمایا کہ مدینہ سے شر اور پلیدی اس طور پر نکالی جائے گی جیسے کہ لوہار کی بھٹی میں لوہے کا میل دور کیا جاتا ہے اور اس روز کو روز خلاص کہا جائے گا۔ ام شریکؓ نے کہا یا رسول اللہﷺ اس روز عرب لوگ کہاں ہوں گے۔ فرمایا کہ وہ تھوڑے ہوں گے اور اکثر بیت المقدس میں جا رہیں گے اور ان کا امام اور بادشاہ ایک مرد صالح ہوگا۔ جو مہدی ہے۔ اھ مختصراً ابن جوزی نے کہا کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ سارے روئے زمین کے بادشاہ چار شخص ہوئے ہیں۔ دو مؤمن اور دو کافر پس مؤمن سکندر ذوالقرنین اور حضرت سلیمان علیہما السلام اور کافر نمرود اور بخت نصر اور قریب ہے کہ مالک ہوگا ساری زمین کا پانچواں میری اولاد سے۔ یعنی امام مہدی۔
ترمذی اور ابوداؤد نے رسول اللہﷺ سے روایت کی کہ فرمایا نبیﷺ نے دنیا ختم نہ ہوگی۔ جب تک کہ مالک نہ ہو عرب کا ایک مرد میرے اہل بیت سے اس کا نام میرا نام ہوگا اور اس کے باپ کا میرے باپ کا نام ہوگا۔ زمین کو عدل سے پر کر دے گا۔ جیسے کہ ظلم سے پر تھی قبل اس کے جب مہدیؑ کا ظہور ہوگا تو اس پر ایک شخص اپنا لشکر جنگ کے لئے روانہ کرے گا اور اس شخص کے ماموں نانا قبیلہ بنی کلب سے ہوں گے اور امام مہدیؑ بھی اس پر لشکر روانہ کریں گے۔ پس مہدیؑ اس پر غالب ہوں گے اور مہدیؑ رسول اللہﷺ کی سنت پر عمل کریں گے اور ان کے وقت میں اسلام غلبہ پائے گا اور جب وفات پائیں گے تو مسلمان ان پر نماز جنازہ پڑھیں گے اور دفن کریں گے اور مہدیؑ بیشمار مال دونوں ہاتھ سے تقسیم کریں گے اور ان کے زمانہ میں مال بہت ہوگا۔ سب لوگ دولت مند ہوں گے۔ مالدار زکوٰۃ کا مال دے گا اور فقیر قبول کرنے والا نہ ملے گا۔
صحیح مسلم و بخاری وغیرہ اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی علامات رسالہ میں جابجا ذکر ہو چکے ہیں اور یہاں پر چنداں بیان کی ضرورت نہیں کہ ان کا آنا موقوف ہے۔ بعد آنے امام مہدی کے۔
مؤلف رسالہ کی طرف سے آخری عرض مسلمانوں کی خدمت میں یہ ہے کہ امام مہدیؑ کا زمانہ خروج بیشک قریب ہے۔ مگر یہ بات کہ مرزا غلام احمد قادیانی یا اور کوئی آج کل کے موجودہ لوگوں سے امام مہدی ہونے کا دعویٰ کرے یا کوئی شخص امام مہدی ہو چکا ہے۔ یہ سب غلط اور خبط ہے اور یہ اعتقاد خلاف شرع ہے۔ صاحب مجمع بحار الانوار فرماتے ہیں کہ بڑے بیوقوف اور نادان اور نقصان کار ہیں وہ لوگ جو کہ اپنے دین اسلام کو مزاح سمجھتے ہیں اور بے علموں کو پیشوا بناتے ہیں اور جب کوئی مسافر غریب الوطن مثلاً دعویٰ کرتا ہے کہ میں امام مہدی ہوں تو اس کو بلا تامل تسلیم کر لیتے ہیں اور امام مہدیؑ کے اوصاف اور خواص اور علامات اس میں نہیں ہوا کرتے۔ بلکہ بعض ایسے بے دین ہوتے ہیں کہ اس کو رسول اللہ ﷺ پر افضل جانتے ہیں اور اس کے ساتھ والوں کے ایک کا نام ابو بکر صدیقؓ اور حضرت عمرؓ و حضرت عثمانؓ اور حضرت علیؓ اور بعض کو مہاجرین اور بعض کو انصار اور عائشہؓ فاطمہؓ رکھتے ہیں اور بعض بے وقوفوں نے ملک سندھ کے ایک شخص کاذب غدار کو عیسیٰ مقرر کر لیا۔ پس اس فقیر کی کوشش سے بعض جلاوطن کئے گئے اور بعض قتل کئے گئے اور بعضوں نے اس اعتقاد بد سے توبہ کر لی اور عبارت مجمع بحار الانوار کی یہ ہے۔
"ومنه مهدي اخر الزمان المهدي الذى فى زمن عيسى عليه السلام ويصلى معه ويقتلان الدجال ويفتح القسطنطنيه ويملك العرب والعجم ويملاء الارض عدلا وقسطا ويولد بالمدينة ويكون بيعته بين الركن والمقام كرها عليه ويقاتل السفياني ويلجاء اليه ملوك الهند مغلغلين الى غير ذلك وما اقل حياء واسخف عقلا واجهل دينا وديانة قوما اتخذوا دينهم لهوا ولعبا كلعب الصبيان بالتخذف والحصا فيجعل بعضها امير او بعضها سلطانا ومنها فيلا وافراسا و جنود فهكذا هؤلا المجانين جعلوا واحدا من غرباء المسافرين مهديا بدعواه الكاذبة بلا سند وشبه جاهلا متجهلا بلا خفاء لم يشم نفحة من علوم الدين والحقيقة فضلا من فنون الادب يفسرلهم معانى الكلام الربانى ويتبواء به مقاعد فى النار و يسفهم بالاحتجاج بايات المثانى بحسب مايأ ولها لهم فيما شرع لهم عن عقائد ظهرت فسادها عند الصبيان واذا اقيم الحجج النبوية الدالة على شروط
مهدوى يقول هى غير صحيـ حيح وما يخالفه فغير صـ يصدقنى بالمهد وية فهو مؤمـ نبوة سيد الانبياء ﷺ وينسبه معجزية وغير ذلك من خرافاتهـ وبعضهم المهاجرين والانصار جعلوا شخصا من السند عيسـ ومدوا كثيرة وقتلوا فى ذلك من الم يردها فاجلى اكثرها وقـ يسعى هذا المذنب الحقير وا فالحمدلله الذى بنعمة تتم ا
(ص ١٨٠) “
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے آسـ ”قوله تعالى وما قتلو الموصوف على الصفة “ کے اعراض کے لئے ہوتا ہے۔ اگر بعد امر اور معطوف علیہ کو کالمسکوت عنہ کر دے رکھے گا اور سند اس حکم کی مابعد کے لئے ”لم اكن فى مربع مابعد بل کے جملہ ہو تو ابطال جملہ اولیٰ عباد مكرمون يا انتقال من غـ بل تؤثرون الحيوة الدنيا “ عطف کے لئے ہوتا ہے۔ بنا بر تحقیق جس سورت میں کہ بعد اس کے مفرد مشترک ٹھہرا عطف اور ابتداء میں اور کے۔ فقط بودے لوگ سرسری جو اتیـ
المهدوى يقول هى غير صحيح ويعلل بان كل حديث يوافق اوصافه فهو صحيح وما يخالفه فغير صحيح ويقول ان مفتاح الايمان بيدى فكل من يصدقنى بالمهدوية فهو مؤمن ومن ينكرها فهو كافر ويفضل ولايته علىٰ نبوة سيد الانبياء ﷺ وينسبه الى اللّٰه عزوجل ويستحل قتل العلماء واخذ الجزية وغير ذلك من خرافاتهم ويسمون واحد ابابكر الصديق وأخر بآخر وبعضهم المهاجرين والانصار وعائشة وفاطمة وغير ذلك وبعض اغبيائهم جعلوا شخصاً من السند عيسىٰ فهل هذا الا لعب الشيطان وكانوا علىٰ ذلك مدةً كثيرةً وقتلوا فى ذلك من العلماء عديدةً الىٰ ان سلط اللّٰه عليهم جنوداً لم يردها فاجلى اكثرها وقتل كثيراً وتوب أخرين توبةً وغيروا لعل ذلك بسعى هذا المذنب الحقير واستجابةً لدعوة الفقير واللّٰه الموفق بكل خير فالحمدللّٰه الذى بنعمتہ تتم الصالحات ، انتهى (تکملہ مجمع بحارالانوار ص١٨٠)“
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے آسمان پر جانے کے ادّلہ
”قوله تعالیٰ وما قتلوه يقيناً بل رفعه اللّٰه اليه منجملہ اقسام قصر الموصوف على الصفة“ کے ایک قسم ہے۔ یعنی قصر قلب ، کلمہ بل کا مفرد میں اضراب یعنی اعراض کے لئے ہوتا ہے۔ اگر بعد امر یا اثبات کے واقع ہو تو اثبات حکم کا مابعد کے لئے کرے گا اور معطوف علیہ کو کالمسکوت عنہ کر دے گا اور بعد نفی یا نہی کے حکم اوّل یعنی منفی یا منہی کو بحال خود رکھے گا اور ضداً اس حکم کو مابعد کے لئے ثابت کرے گا۔ قام زید بل عمرو۔ لم یقم بکر بل خالد ”لم اكن فى مربع بل بها لا تضرب زيداً بل عمروا“ اور صورت میں ما بعد بل کے جملہ ہو تو ابطال جملۂ اولیٰ اور اثبات جملہ ثانیہ کے لئے ہوگا۔ ”قوله تعالىٰ بل عباد مکرمون یا انتقال من غرض الیٰ غرض آخر“ پر دال ہوگا۔ ”قوله تعالیٰ بل تؤثرون الحيوة الدنيا“ نیز یہ بھی معلوم ہو کہ بل دونوں صورتوں یعنی مفرد اور جملہ میں عطف کے لئے ہوتا ہے۔ بنا بر تحقیق اور مشہور عند النحاۃ عاطفہ ہونا اس کا مختص بالمفرد ہی ہے۔ یعنی جس صورت میں کہ بعد اس کے مفرد واقع ہو اور جملہ میں حرف ابتداء کا ہوگا۔ بنا بر مشہور بل مشترک ٹھہرا عطف اور ابتداء میں اور ظاہر ہے ذکی ماہر پر کہ عدم اشتراک صحیح ہے بہ نسبت اشتراک کے۔ فقط بودے لوگ سرسری جو امتیاز درمیان معنی وضعی اور اس کے افراد میں نہیں کر سکتے جب
استعمال لفظ کا افراد میں بھی معنی وضعی مطلق کی طرح پاتے ہیں۔ تو ان کو دھوکا اشتراک اللفظ بین المطلق والا فراد کا لگ جاتا ہے۔ بلکہ فرد معین ہی کو بلحاظ کثرت استعمال کے موضوع لہ سمجھ لیتے ہیں۔ جیسا کہ آج کل اردو خوانوں کو لفظ توفی میں دھوکا لگا ہوا ہے۔ بیان اس کا عنقریب آئے گا۔ کلمہ بل کا موضوع لہ فقط اعراض ہے۔ پہلے کا مسکوت عنہ کرنا یا تقریر اس کی علیٰ ہذا القیاس۔ ابطال ذات پہلے کی یا انتقال غرض سے، یہ سب انواع ہیں اعراض کے لئے جو معنی وضعی ہیں، بحر العلوم مسلم الثبوت، الغرض کلمہ بل کا بنا بر تحقیق ہٰذا آیت مذکورہ میں حرف عطف ٹھہرا۔ ابطال جملہ اولیٰ یعنی قتلوہ کے لئے اور منجملہ طریق قصر کے قصر بالعطف بھی ہے۔ جس میں متکلم پر واجب ہے کہ نص علی المثبت والمنفی کرے۔ کیونکہ مطلق کلام قصری کو متکلم تمیز ابین الخطاء والصواب کے بولتا ہے۔ تاکہ مخاطب کے اعتقاد میں جو خلط بین الصواب والخطاء ہی نکل جاوے اور بالخصوص قصر بالعطف میں کسی طرح ترک کرنا تصریح کا جائز نہیں مانحن فیہ میں یہود کا افتراء دو وجہ سے تھا۔ ایک مسیح کا بذریعہ صلیب کے مقتول کہنا دوسرا اس مقتولیت کو محقق بولنا۔ یعنی انا قتلنا سے تعبیر تاکید کی کرنی۔ وجہ اوّل کو متکلم بلیغ نے وما قتلوہ وما صلبوہ سے رد کیا۔ وجہ دوسری کو وما قتلوہ یقیناً بل رفعہ اللہ الیہ سے۔ اب اگر بل رفعہ اللہ الیہ کو کنایہ اعزاز واکرام سے کہا جائے۔ جیسا کہ مرزا قادیانی و رافعك الیٰ میں کہتا ہے تو بمقتضائے قصر قلب کے چاہئے کہ ما بعد بل یعنی اعزاز اور ماقبل یعنی مقتولیت مجتمع نہ ہوں۔ مع آنکہ مقتول مومنین میں سے قطعاً اعلیٰ درجہ کا معزز اور مکرم عند اللہ ہوتا ہے۔ قصر قلب میں اگرچہ تنافی بین الوصفین بنا بر تحقیق ضروری نہیں۔ مگر احد الوصفین کا ملزوم نہ ہونا دوسرے وصف کے لئے نہایت ضروری ہے تاکہ مخاطب کا اعتقاد برعکس ما یدعیہ متکلم کے متصور ہو اور اگر رفع سے مراد موت طبعی بعد واقعہ صلیب بعرصہ دراز مثل مزعوم مرزا کے لے جاوے تو بحسب مضمون بالا کے تصریح بہ بل نفی حیات ثم توفہ اللہ ورفعہ الیہ کے ضروری ہے۔ ورنہ فصاحت اور بلاغت قرآن کریم میں جو اعلیٰ وجوہ اعجاز اس کے سے ہے خلل واقع ہوگا۔ متکلم بلیغ کی شان سے بالکل بعید ہے کہ مقتضائے مقام یعنی تمیز ضروری کو چھوڑ کر مزید براں ایسے کلام بولے۔ جس کا معنی بحسب المتبادر مخالف ہوں معنی مراد سے۔ کیونکہ بل رفعہ اللہ الیہ سے تحقق رفع در واقعہ صلیب یا قبل اس کے بحسب محاورہ قرآنیہ وغیرہ مفہوم ہوتا ہے۔ دیکھو ”بل جاء ہم بالحق“ ”جو“ بعد ام یقولون افتراہ“ کے ہے اور ارادہ رفع روح کا موت طبعی کے طور پر مستلزم جمع بین الحقیقت والمجاز ہے۔ ”کما ھو مزعوم القادیانی“ کیونکہ مرزا بصورت ہونے کلمہ الیٰ کے صلہ رفع کا اس ترکیب کو مجاز فی التقرب ٹھہراتا ہے۔ پس یہ ارادہ مرزا کا قول باری تعالیٰ ”بل رفعه الله اليه“ سے مع
زعم تحقق اس کے قبل از واقع صلیب مستلزم ہے۔ وقوع کذب کو کلام الٰہی میں والعیاذ باللہ لانتفاء المحکی عنہ بعد ملاحظہ ماضویت اضافیہ کے یعنی بہ نسبت ماقبل بل کے اور ظاہر کہ ’ماضویت بالاضافة الیٰ زمان النزول“ ہے۔ محل فصاحت میں بعد از قطع احتمالات مذکورہ آیت ”بل رفعہ اللہ الیہ“ کی محکم ٹھہری۔ رفع جسمی معنی میں، لہٰذا اہل لسان اور محاورہ داں صحابہ اور سلف سے رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین ۔ رفع جسمی کو آیت ہذا سے ایسے سمجھے ہوئے تھے کہ کسی سے اس آیت کے معنی میں اختلاف مروی نہیں اور اسی وجہ سے یعنی چونکہ محکم ہے۔ رفع جسمی میں تو مخصص ہوگی۔ واسطے ان آیات اور احادیث کے جو باعتبار عموم اپنے کے دال ہیں وفات مسیح پر، مثل ”قد خلت من قبلہ الرسل“ اور ”ما من نفس منفوسة“ وغیرہ وغیرہ اور یہی آیت قرینہ صارفہ ہے۔ ارادہ کرنے معنی موت کے توفیتنی سے اور متوفیک سے بر تقدیر عدم تقدم و تاخیر کے اور یہی آیت بآواز بلند کہہ رہی ہے کہ ”شهید امادمت فیهم“ میں حصر ملحوظ نہیں ہے اور یہی آیت قرینہ ہے۔ حدیث ”فاقول کما قال العبد الصالح“ میں ”فلما توفیتنی“ سے معنی غیر موت کا لینے کے اور یہی آیت قرینہ ہے۔ ”حدیث لوکان موسیٰ وعیسیٰ حیین“ میں بر تقدیر صحت کے حیات، حیات فی الارض مراد لینے کے اور یہی آیت بعد از قطع احتمالات مذکورہ کے استبعاد عقل انسانی کو جو دربارہ مرفوع ہونے جسم مسیح کے بجسدہ العنصری آسمان پر تھا۔ زائل کر رہی ہے۔ ”هذا الآیة تکفی جوابا بجمیع السوالات وان اجبنا عن کل سوال تبرعا من بعد“ اور نیز معلوم ہو کہ مرزا جو بڑے زور و شور سے کہتا ہے کہ: ”انی متوفیک سے معنی ممیتک“ کا بشہادت محاورہ قرآنیہ لیا جائے گا اور ایسا ہی ”فلما توفیتنی“ میں بھی معنی موت کا تحقق یعنی انی متوفیک سے وعدہ موت اور فلما توفیتنی سے تحقق موت کا اور بل رفعہ اللہ الیہ سے رفع روحانی مراد ہوگا۔ جیسا کہ ازالہ اوہام میں کہتا ہے۔ لفظ توفی میں مرزا اور اس کے اذناب کو سخت دھوکا لگا ہوا ہے۔ لہٰذا اس میں قدرے بیان کرنا مناسب معلوم ہوتا ہے تا کہ مرزائی جان لیں کہ توفی کے معنی سوائے موت کے قرآن اور لغت سے ثابت ہے اور اسی سے تطبیق بین الآیات بھی ہاتھ آئے گی۔ توفی ماخوذ ہے وفا سے، وفا کے معنی پورا ہونا کہتے ہیں۔ فلانی چیز وافی و کافی ہے۔ ایفا کے معنی پورا کرنا اور توفی تفعل ہے۔ بمعنی استفعال کے یعنی استیفاء جس کا ترجمہ پورا لینا۔ لغت کی کتابیں مثل صحاح، صراح، قاموس وغیرہ اور ایسا ہی تفاسیر سب اس معنی پر متفق ہیں اور یہ بھی واضح ہو کہ لغت اور تفاسیر میں معنی مستعمل فیہ کو بیان کرتے ہیں۔ اگرچہ موضوع لہ نہ بھی ہو بلکہ فرد ہی اس موضوع لہ کا ہو یا کسی نوع کا علاقہ معنی موضوع لہ سے رکھتا ہو۔ جیسا کہ لفظ الہ جس کا معنی معبود مطلق ہیں۔
واجب ہو یا ممکن اور البتہ بمعنی معبودات مطلقہ کواکب ہوں یا بت یا آدمی۔ حالانکہ بہت جگہ اہل لغت اور مفسرین لفظ الہ کی تفسیر اصنام کے ساتھ کر دیا کرتے ہیں۔ جیسا کہ کتب لغت میں ظاہر ہے اور تفسیر ابن عباس میں متعلق اموات غیر احیاء کے لکھا ہے۔ اموات اصنام وہیں پر ظاہر ہے کہ اصنام یعنی بت لفظ آلہ کے معنی وضعی نہیں ہیں۔ بلکہ اس معنی موضوع لہ کا ایک فرد ہے جو کہ معبودات مطلقہ ہیں۔ بے علم مولوی اردو خواں امی مولوی ایسے الفاظ کو دیکھ کر دھوکا کھا جاتے ہیں۔ یعنی یہ سمجھ لیتے ہیں کہ یہ بیان معنی وضعی کا ہے۔ بلکہ اسی کو حصر کے طور پر بہ نسبت اس مطلق کے موضوع لہ قرار دیتے ہیں بوجہ اس کے کہ مطلق کو فرد سے ممتاز نہیں کر سکتے۔ الغرض الفاظ مشتقہ میں معنی حقیقی کبھی اور ہوتے ہیں اور معنی مستعمل فیہ اور ہوتے ہیں۔ پس مانحن فیہ میں بھی مرزا اور اس کے اذناب کو یہی دھوکا لگا ہوا ہے۔ لغت کی کتابوں میں جو دیکھا کہ توفی کے معنی موت کے بھی ہیں اور صحیح بخاری میں متوفیک کی تفسیر ممیتک کے ساتھ کی ہے تو اس اشتباہ مذکور میں پڑ گئے ہیں۔ جانتا ہوں کہ یہ لوگ الہ اور اموات کے معنی اصنام ہی خیال کرتے ہوں گے۔ ورنہ توفی سے معنی موت ہی کے لینے میں ایسے متحکم نہ ہوتے۔ تفصیل یہ ہے کہ توفی نے جس سے تعلق پکڑا ہے وہ شے کیا ہے یا روح ہوگی یا غیر روح۔ اگر روح ہے تو پکڑنا روح کا پھر منقسم ہے۔ دو قسموں پر ایک تو اس کا پکڑنا مع الامساک یعنی پکڑنے کے بعد نہ چھوڑنا۔ اس کا نام تو موت ہے۔ پس موت کے مفہوم میں دو امر توفی کے مفہوم سے زیادہ اعتبار کئے گئے۔ ایک روح دوسرا امساک اور دوسری قسم پکڑنے کی نیند ہے۔ جس کے مفہوم میں قید روح اور ارسال یعنی چھوڑ دینا ماخوذ ہے۔ الحاصل موت اور نیند دونوں فرد ہیں توفی کے، تفسیر کبیر، تفسیر ابن کثیر، شرح کرمانی صحیح بخاری اور متعلق توفی کا اگر غیر روح ہو تو وہ بھی یا جسم مع الروح ہوگا۔ جیسا کہ: ”انی متوفیک “ یا اور چیز ہوگی۔ جیسا کہ توفیت مالی۔ قاموس بیان اس امر کا جو مذکور ہو چکا ہے۔ یعنی توفی کا معنی فقط کسی شے کا پورا لے لینا ہے۔ عام ہے اس سے کہ وہ شے روح ہو یا غیر روح اور بتقدیر روح ہونے کے مقید بارسال ہو یا بامساک نص سے بھی ثابت ہے۔ یعنی قرآن کریم کی آیت سے پروردگار اپنی قدرت کا تصرف اظہار فرماتا ہے۔ اس طور پر کہ ارواح کو بعد القبض کہیں تو بند کر رکھتا ہے اور کبھی چھوڑ دیتا ہے۔ ”اللہ یتوفی الانفس حین موتہا والتی لم تمت فی منامہا “ اللہ تعالیٰ قبض فرماتا ہے ارواح کو حالت موت اور نیند میں فقط فرق اتنا ہے کہ موت میں امساک اور نیند میں ارسال ماخوذ ہے۔ اس آیت میں تو استعمال لفظ توفی کا مشترک میں ظاہر ہے۔ یعنی فقط قبض اور ارواح مدلول ہے۔ لفظ انفس کا اور آیت ”وھو الذی یتوفاکم باللیل “ میں مستعمل ہے۔ نیند میں جو فرد
ہے مفہوم توفی کا یعنی قبض کا اور آیت ”والذین یتوفون منکم“ وغیرہ آیات میں مدلول اس کا موت ہے۔ جو منجملہ افراد اسی توفی کے ہے۔
پس ”یعیسیٰ انی متوفیک ورافعک الیٰ“ میں اور ”فلما توفیتنی کنت انت الرقیب علیہم“ میں بھی معنی موت کے مطابق بعض نظائر قرآنیہ وغیرہ غیر قرآنیہ جیسا کہ: ”توفی اللہ زیدا۔ توفی اللہ بکرا“ وغیرہ وغیرہ لیا جاتا۔ بشرطیکہ ”نص بل رفعہ اللہ الیہ“ کی رفع جسمی علیہ السلام پر شہادت نہ دیتی یا آیت ”وان من اہل الکتاب“ اور ”وانہ لعلم للساعة“ اور احادیث صحیحہ رفع جسمی پر اثر آور نہ ہوتیں۔ اسی واسطے معنی موت کے نہیں لئے جاسکتے۔ کیونکہ جب ایک شخص کا بخصوصہ کسی نص سے حکم معلوم ہو جائے تو جو آیات کہ برخلاف اس کے عام ہوتی ہیں۔ ان میں داخل نہیں ہوتا اور نہ اس لفظ کو پھر اپنے نظائر پر محمول کیا جاتا ہے۔ مثال اس کی سنو حضرت آدم علیہ السلام کی پیدائش کا حال جب کہ نص ”خلقہ من تراب“ سے معلوم ہو چکا تو پھر ”الم نخلقکم من ماء مھین“ اور ایسا ہی ”خلق من ماء دافق یخرج من بین الصلب والترائب“ سے مستثنیٰ ہے اور قول قائل کا خلق اللہ آدم محمول نہ ہوگا اپنے کروڑہا نظائر پر، خلق اللہ زیدا خلق اللہ بکرا خلق اللہ خالدا وغیرہا پر یعنی یہ نہ کہا جائے گا کہ کیفیت خلقت آدم وغیرہ بنی نوع یکساں ہے۔ ایک معنی کا بکثرت مستعمل فیہ ہونا یہ دلیل نہیں ہوسکتا کہ بوقت قائم ہونے قرینہ مانعہ اس معنی کے بھی وہ معنی مستعمل فیہ مراد ہو۔ جیسا کہ متوفی اور فلما توفیتنی میں معنی موت کے نہیں لے سکتے ہیں۔ بوجہ اس کے کہ آیت ”بل رفعہ اللہ الیہ“ بوجہ افادہ دینے اس کے رفع جسمی کو معنی موت سے روک رہی ہے۔ پس اب منصف ایماندار پر ظاہر ہو گیا ہوگا کہ: ”یعیسیٰ انی متوفیک“ اور ”فلما توفیتنی“ میں معنی موت کے لے کر اس پر بطور شہادت کے ”والذین یتوفون منکم“ وغیرہ وغیرہ کو پیش کرنا محض عناد وضد یا جہالت ہے۔ مرزا اپنے ازالہ میں اور اپنی کتاب ایام الصلح میں لفظ توفی بحسب محاورۂ قرآن شریف کے موت ہی کے معنی میں منحصر کہتا ہے اور کسی جگہ وجہ اطلاق توفی کے نیند پر النوم اخ الموت کو قرار دیتے ہیں۔ ایک تو یہ دھوکا کھایا کہ موضوع لہ کے فرد کو عین موضوع لہ سمجھ لیا اور دوسرا یہ دھوکا کھایا کہ اطلاق المطلق علیٰ بعض افراد ہ کو از قبیل اطلاق الفرد علیٰ الفرد فہم کر لیا اور پھر بعد دعوائے حصر مذکور کے قائل بھی ہوا کہ توفّی کے معنی باستعمال محاورہ قرآن شریف نیند ہے۔ واہ واہ!
پس صاف معلوم ہوا کہ اگر کسی لفظ کا ایک معنی میں استعمال زیادہ ہو تو بوقت قیام قرینہ مانعہ وصارفہ استعمال اس کا دوسرے معنی میں بھی کیا جائے گا۔ اگر چہ وہ قرینہ صارفہ حدیث ہے۔
اخبار احاد میں سے یا کوئی اور خیال کرو۔ قرآن شریف میں ہر جگہ اسف کے معنی غم ہیں۔ مگر غضب کے معنی بھی آئے ہیں۔ ”فلما اسفونا“ کے معنی ”فلما اغضبونا“ ہیں۔ انہوں نے غضب دلایا ہم کو، اور ہر جگہ قرآن کریم میں ”بعل“ کے معنی زوج ہیں۔ مگر باری تعالیٰ کے قول اتدعون بعلا میں بت ہے اور ہر جگہ قرآن پاک میں مصباح کے معنی کوکب ہیں۔ مگر سورۂ نور میں مصباح سے مراد چراغ ہے، اور ہر جگہ قرآن شریف میں قنوت سے مراد اطاعت ہے۔ مگر قولہ تعالیٰ ”کل له قانتون“ میں مراد اقرار کرنے والے ہیں اور ہر جگہ بروج سے مراد کواکب ہیں۔ مگر قولہ تعالیٰ فی بروج مشیّدۃ میں مراد محل پختہ ہے۔ ہر جگہ قرآن شریف میں صلوٰۃ سے مراد رحمت یا عبادت ہے۔ مگر بیع وصلوٰۃ ومساجد میں مراد صلوٰۃ سے مقامات ہیں۔ ہر جگہ قرآن شریف میں کنز سے مراد مال ہے۔ مگر سورۂ کہف میں جو لفظ کنز ہے۔ اس سے مراد صحیفہ علم کا ہے۔ نظائر ان کے اور بھی موجود ہیں۔ تفسیر اتقان میں ملاحظہ کرو۔
علیٰ ہذا القیاس اکثر جگہ قرآن شریف میں توفی کے معنی موت یا نیند ہیں۔ مگر فلما توفیتنی میں قبضتنی یا رفعتنی یا اخذتنی وافیا مراد ہے۔ بقرینہ بل رفعہ اللہ الیہ کے اور ایسا ہی متوفیک سے بر تقدیر عدم تقدیم و تاخیر کے۔ شمس الہدایہ، الغرض آیہ ”یعیسیٰ انی متوفیک“ میں بعد تقدیم و تاخیر کے معنی موت کے لئے جاویں اور فلما توفیتنی سے رفع کے معنی ابن عباسؓ کی طرح پر لینا پڑے گا اور یا ہر دو جگہ میں معنی قبض کے لیویں گے سوائے موت کے، اور اس دوسری صورت پر تقدیم و تاخیر کی ضرورت نہ پڑے گی اور واضح ہو کہ یہ مطلب عام فہم کرنے کے لئے کئی بار صراحۃً اور ضمناً بیان ہو چکا۔
اب مرزا اور مرزا کے بڑے مددگار فاضل حکیم نور الدین کے معنی بھی اس آیت کے متعلق سنادوں۔ فاضل نورالدین اپنی کتاب تصدیق براہین احمدیہ میں لکھتا ہے۔ ”اذ قال اللہ یعیسیٰ انی متوفیک ورافعک الیَّ“ جب اللہ تعالیٰ نے فرمایا اے عیسیٰ میں لینے والا ہوں تجھ کو اور بلند کرنے والا ہوں اپنی طرف (کتاب تصدیق براہین احمدیہ ص ٨) اور خود مرزا لکھتا ہے۔ انی متوفیک ورافعک الیَّ اے عیسیٰ میں تجھے کامل اجر بخشوں گا یا وفات دوں گا اور اپنی طرف اٹھاؤں گا۔“
(براہین احمدیہ ص ٥٥٥، خزائن ج ١ ص ٦٦٥)
اور اسی کتاب کے صفحہ ٥١٩، خزائن ج ١ ص ٦٢٠ میں لکھتا ہے۔ ”انی متوفیک ورافعک الیَّ“ میں تجھ کو پوری نعمت دوں گا اور اپنی طرف اٹھاؤں گا۔“ اب خیال کرنا چاہئے کہ مرزا نے دو دفعہ یہ ترجمہ الہام کے ذریعہ سے لکھا ہے۔ کون سے ترجمہ کو صحیح کہا جائے گا۔ پس خود ہی
ل کرو۔ قرآن شریف میں ہر جگہ اسف کے معنی غم ہیں۔ مگر غضب سفونا “ کے معنی ” فلما اغضبونا “ ہیں۔ انہوں نے غضب میں ”بعل“ کے معنی زوج ہیں۔ مگر باری تعالیٰ کے قول ور ہر جگہ قرآن پاک میں مصباح کے معنی کوکب ہیں۔ مگر سورۂ نور اور ہر جگہ قرآن شریف میں قنوت سے مراد اطاعت ہے۔ مگر قولہ مراد اقرار کرنے والے ہیں اور ہر جگہ بروج سے مراد کواکب ہیں۔ مراد محل پختہ ہے۔ ہر جگہ قرآن شریف میں صلوٰۃ سے مراد رحمت یا جد میں مراد صلوٰۃ سے مقامات ہیں۔ ہر جگہ قرآن شریف میں کنز میں جو لفظ کنز ہے۔ اس سے مراد صحیفہ علم کا ہے۔ نظائر ان کے اور لاحظہ کرو۔
لہ قرآن شریف میں توفی کے معنی موت یا نیند ہیں۔ مگر فلما توفیتنی مراد ہے۔ بقرینہ بل رفعہ اللہ الیہ کے اور ایسا ہی متوفیک سے یا الہدایہ، الغرض آیۃ ”یعیسی انی متوفیک “ میں بعد تقدیم ویں اور فلما توفیتنی سے رفع کے معنی ابن عباسؓ کی طرح پر لینا ں کے لیویں گے سوائے موت کے، اور اس دوسری صورت پر گی اور واضح ہو کہ یہ مطلب عام فہم کرنے کے لئے کئی بار صراحۃً
بڑے مددگار فاضل حکیم نورالدین کے معنی بھی اس آیت کے پنی کتاب تصدیق براہین احمدیہ میں لکھتا ہے۔ ” اذ قال اللہ ك الی“ جب اللہ تعالیٰ نے فرمایا اے عیسیٰ میں لینے والا ہوں رف (کتاب تصدیق براہین احمدیہ ص ٨) اور خود مرزا لکھتا ہے۔ یعیسیٰ میں تجھے کامل اجر بخشوں گا یا وفات دوں گا اور اپنی طرف
(براہین احمدیہ ص ٥٥٧، خزائن ج ١ ص ٦٦٥)
اور خزائن ج ١ ص ٦٢٠ میں لکھتا ہے۔ ”انی متوفیك ت دوں گا اور اپنی طرف اٹھاؤں گا ۔“ اب خیال کرنا چاہئے کہ یہ سے لکھا ہے۔ کون سے ترجمہ کو صحیح کہا جائے گا۔ پس خود ہی
اس نے فیصلہ تو کیا ہوا ہے۔ عیسیٰ علیہ السلام کی موت پر، تو خود اس کو جزم اور یقین نہیں ہے۔ مگر بیچارہ ایک بار جو کہہ چکا ہے۔ اسی کو شرم کے مارے چھوڑ نہیں سکتا اور براہین احمدیہ ص ٤٦١، خزائن ج ١ ص ٥٤١ میں خود اقرار کیا کہ عیسیٰ علیہ السلام آسمانوں میں ہیں۔ ”میرے بعد ایک دوسرا آنے والا ہے۔ وہ سب باتیں کھول دے گا اور علم دین کو بمرتبہ کمال پہنچاوے گا۔ سو حضرت مسیح تو انجیل کو ناقص کی ناقص ہی چھوڑ کر آسمانوں پر جا بیٹھے۔“ اور (براہین احمدیہ ص ٤٩٨، ٤٩٩، خزائن ج ١ ص ٥٩٣) میں لکھتا ہے۔ ”ھوالذی ارسل رسولہ بالہدی ودین الحق لیظہرہ علی الدین کلہ یہ آیت جسمانی اور سیاست ملکی کے طور پر حضرت مسیح کے حق میں پیش گوئی ہے اور جس غلبہ کاملہ دین اسلام کا وعدہ دیا گیا ہے۔ وہ غلبہ مسیح کے ذریعہ سے ظہور میں آوے گا اور جب حضرت مسیح علیہ السلام دوبارہ اس دنیا میں تشریف لاویں گے تو ان کے ہاتھ سے دین اسلام جمیع آفاق اور اقطار میں پھیل جاوے گا۔“
خیال کرو کہ اب عیسیٰ علیہ السلام کا دوبارہ آنا دنیا میں اظہر من الشمس بیان کر دیا۔ پس کون سی بات اس کی مانی جاوے۔ موافق دین و اسلام کے یہی بات ہے۔ ہم یہی جانتے ہیں۔ الحمدللہ کہ حق بات اس کی زبان پر جاری ہوگئی۔ پس مرزائیوں کو بدل و جان یہ فیصلہ مرزا ہی کا ماننا چاہئے۔ غرض کہ ایسے تناقض ہزاروں اس مجنون اور بے علم کے کلام میں موجود ہیں۔ عوام کا خیال کر کے چند ورق اس کے رد میں لکھے گئے۔ ورنہ اہل علم کے مخاطبہ کے قابل نہیں ہے۔ وبس مسلمان اس کی ہر ایک بات کو ایسا ہی بیقرار جانیں۔ فقط ! وفیہ کفایۃ لذوی الدرایۃ وللہ یہدی من یشاء الی صراط مستقیم!
احوال قیامت اور اس کی نشانیاں
قیامت کے علامات دو قسم ہیں۔ چھوٹے اور بڑے۔ پس چھوٹے علامات یہ ہیں کہ علم اٹھ جائے گا۔ اور جہالت زیادہ ہو جائے گی اور علم کے ہوتے ہوئے علماء اس پر عمل نہ کریں گے۔ زنا اور شراب بہت ہوگا۔ عورتیں بہت ہوں گی اور مرد کم۔ یہاں تک کہ ایک مرد میں عورتوں کی پرورش کرے گا۔ صحیح بخاری وصحیح مسلم میں ہے کہ جاہل لوگ سردار ہوں گے اور حکم کریں گے۔ خود گمراہ ہوں گے اور دوسروں کو گمراہ کریں گے۔ امام احمد وغیرہ ائمہ حدیث نے زیاد بن لبید سے روایت کی کہ وہ کہتے ہیں کہ کہا میں نے یا رسول اللہ ﷺ کیسے یہ ہوگا۔ ہم قرآن شریف پڑھتے ہیں اور اپنے بیٹوں کو پڑھاتے ہیں اور وہ پھر اپنی بیٹوں کو پڑھائیں گے۔ پس قیامت تک ایسا ہی رہے گا۔ پس حضرت ﷺ نے مجھ کو فرمایا کہ میں تم کو دانا مرد جانتا تھا۔ کیا تم نہیں دیکھتے ہو کہ یہود
اور نصاریٰ تورات اور انجیل کو پڑھتے ہیں اور اس پر عمل نہیں کرتے۔ یعنی ایسا ہی میری امت میں ہو گا کہ لوگ علم پڑھیں گے۔ مگر اس پر عمل نہ کریں گے۔ نالائق لوگوں کے ذمہ لیاقت کے کام سپرد کئے جائیں گے اور بوجہ سختی اور مصیبت کے لوگ موت کی آرزو کریں گے۔ ترمذی شریف میں ہے کہ فرمایا رسول اللہ ﷺ نے کہ اللہ تعالیٰ کے مال کو یعنی غنیمت کے مال کو جو غازیوں اور فقیروں کا حصہ ہے سردار اور امیر لوگ اپنا مال سمجھیں گے۔ امانت میں خیانت کریں گے۔ زکوۃ دینے کو تاوان اور نقصان جانیں گے۔ علم دنیا کمانے کے لئے سیکھیں گے۔ مرد اپنی عورت کی تابعداری ہر بات میں کریں گے۔ دوست اور یار کو نزدیک اور ماں باپ کو دور کریں گے۔ مسجدوں میں زور سے آواز بلند کریں گے۔ بدمعاش فاسق لوگ سرداری کریں گے۔ رذیل اور کمینے لوگ بڑے مرتبے میں جائیں گے اور بدمعاش لوگوں کی عزت کریں گے بوجہ خوف کے۔ ڈھول، طبلہ، باجا، دوتارا، سارنگی، ستار، رباب، چنگ وغیرہ اسباب گانے بجانے کے ظاہر استعمال کریں گے۔ اس امت کے لوگ پچھلے اگلے لوگوں کو ملامت اور طعن کریں گے۔ لواطت بہت ہو گی۔ بے حیائی بہت ہو گی۔ سود، حرام خوری بہت ہو گی۔ مسجدیں بہت ہوں گی اور پختہ خوبصورت مگر لوگ ان کو عبادت کے ساتھ آباد نہ کریں گے اور جھوٹ بولنا ہنر سمجھا جائے گا۔ غرضیکہ اس قسم کی علامات قیامت کی بہت ہیں۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ ایسے وقت میں ایسے ایسے عذابوں کے منتظر رہو کہ سرخ آندھی آئے اور بعضے لوگ زمین میں دھنس جائیں اور آسمان سے پتھر برسیں اور صورتیں آدمی کی سؤر کتے کی ہو جائیں اور بہت سی آفتیں پے در پے جلدی آنے لگیں۔ جیسے کہ بہت سے دانے کسی تاگے اور ڈورے میں پرو رکھے ہوں اور وہ تاگا ٹوٹ جائے اور سب دانے اوپر تلے گرنے لگیں۔ کفار کا سب طرف زور ہو جائے گا اور جھوٹے جھوٹے طریقے نکلنے لگیں گے۔ ان نشانیوں کے بعد اس وقت میں سب ملکوں میں نصاریٰ لوگوں کی عملداری ہو جائے گی اور اسی زمانے میں ابوسفیان کی اولاد سے ایسا ایک شخص پیدا ہو گا کہ بہت سیدوں کا خون کرے گا۔ ملک شام اور ملک مصر میں اس کے احکام چلنے لگیں گے۔ اس عرصہ میں روم کے مسلمان بادشاہ کی نصاریٰ کی ایک جماعت سے لڑائی ہو جائے گی اور نصاریٰ کی ایک جماعت سے صلح بھی ہو جائے گی۔ پس دشمن کی جماعت شہر قسطنطنیہ پر چڑھائی کر کے اپنا دخل کر لے گی اور وہ روم کا مسلمان بادشاہ اپنا ملک چھوڑ کر شام کے ملک میں چلا جائے گا اور نصاریٰ کی جس جماعت سے صلح اور محبت ہو گی اس جماعت کو ہمراہ کر کے اس دشمن کی جماعت سے بھاری لڑائی ہو گی۔ مگر اسلام کے لشکر کو فتح ہو گی۔
ایک دن بیٹھے بٹھائے جو نصاریٰ کی جماعت موافق ہوگی اس میں سے ایک نصرانی ایک شخص مسلمان کے سامنے کہنے لگے گا کہ ہماری صلیب یعنی دین عیسوی کی برکت سے فتح ہوئی ہے اور مسلمان اس کے جواب میں کہے گا کہ اسلام کی برکت سے فتح ہوئی ہے۔ اسی میں بات بڑھ جائے گی۔ یہاں تک کہ دونوں آدمی اپنے اپنے طرفداروں اور مذہب والوں کو جمع کر لیں گے اور آپس میں لڑائی شروع ہو جائے گی۔ اس میں اسلام کا بادشاہ شہید ہو جائے گا اور شام کے ملک میں بھی نصاریٰ کا عمل ہو جائے گا اور نصاریٰ اس دشمن کی جماعت سے صلح کر لیں گے اور باقی رہے سہے مسلمان مدینہ منورہ کو چلے جائیں گے اور خیبر کے قریب تک نصاریٰ کی عملداری ہو جائے گی۔ اس وقت مسلمانوں کو فکر ہوگی کہ امام مہدیؑ کی تلاش کریں تاکہ ان مصیبتوں سے امن پائیں۔ اس وقت حضرت امام مہدیؑ مدینہ منورہ میں ہوں گے اور اس ڈر سے کہ کہیں مجھ کو حاکم اور بادشاہ نہ بنادیں۔ مدینہ منورہ سے مکہ معظمہ کو چلے جائیں گے اور اس زمانے کے بزرگ، ولی لوگ، جو ابدال کا درجہ رکھتے ہیں سب امام مہدیؑ کی تلاش کریں گے اور بعضے لوگ اس وقت جھوٹے مہدی بننا شروع ہوں گے۔ غرضیکہ امام مہدیؑ خانہ کعبہ کا طواف کرتے ہوں گے اور رکن اور مقام ابراہیم کے درمیان میں ہوں گے کہ بعضے نیک لوگ ان کی شناخت کر لیں گے اور ان کو زبردستی گھیر گھار کر حاکم بنا دیں گے اور ان کے ہاتھ پر بیعت کریں گے اور اسی بیعت میں ایک آواز آسمان سے ایسی آئے گی جس کو سب لوگ جتنے وہاں موجود ہوں گے سنیں گے۔ وہ آواز یہ ہوگی کہ یہ شخص اللہ تعالیٰ کا خلیفہ اور حاکم بنایا ہوا امام مہدیؑ ہے اور اس وقت سے بڑی بڑی نشانیاں قیامت کی ظاہر ہوں گی اور جب امام مہدیؑ کی بیعت کا قصہ مشہور ہوگا تو مسلمانوں کے لشکر کی جو فوجیں مدینہ منورہ میں ہوں گی وہ مکہ معظمہ کو چلی آئیں گی اور ملک شام اور یمن اور عراق والے ابدال نجباء غوث لوگ سب امام مہدیؑ کی خدمت میں حاضر ہوں گے اور ملک عرب کی فوجیں اور جگہ سے بھی بہت آجائیں گے۔ جب یہ خبر مسلمانوں میں خوب مشہور ہوگی تو ملک خراسان یعنی افغانستان جس میں کابل سوات بنیر غزنی قندھار وغیرہ سے ایک بڑی فوج لے کر امام مہدیؑ کی مدد کے لئے روانہ ہوگا اور اس کے لشکر کے آگے چلنے والے کا نام منصور ہوگا اور وہ راہ میں چلتے چلتے بہت بددینوں کی صفائی کرتا جائے گا اور وہ ظالم جو ابوسفیان کی اولاد میں سے ہوگا اور سید لوگوں کا قاتل ہوگا چونکہ امام مہدیؑ بھی سید ہوں گے رسول اللہ ﷺ کی اولاد سے، ان کے لڑنے کے لئے ایک فوج روانہ کریں گے یہ فوج مکہ اور مدینہ کے درمیان جنگل میں پہنچے گی اور ایک پہاڑ کے تلے ڈیرا لگائے
گی۔ پس سب فوج اس زمیں میں دھنس جائے گی۔ صرف دو آدمی بچیں گے۔ ان میں سے ایک تو امام مہدیؑ کو خوشخبری جا کر سنا دے گا اور دوسرا اس ظالم سفیانی کو جا کر خبر دیگا۔ پھر نصاریٰ لوگ ہر ملک سے لشکر جمع کر کے مسلمانوں سے لڑنا چاہیں گے۔ اس لشکر میں اس روز تعداد ی اسی جھنڈے ہوں گے اور ہر جھنڈے کے ساتھ بارہ ہزار آدمی ہوں گے۔ پس کل آدمی لشکر کا نو لاکھ ساٹھ ہزار ہوگا۔ امام مہدیؑ مکہ سے چل کر مدینہ منورہ تشریف لائیں گے اور وہاں رسول اللہ ﷺ کے مزار مبارک کی زیارت کر کے ملک شام کی طرف روانہ ہوں گے اور شہر دمشق تک پہنچنے پائیں گے کہ دوسری طرف سے نصاریٰ کی فوج مقابلہ میں آجائے گی۔ پس امام مہدیؑ کی فوج تین حصہ میں ہو جائے گی۔ ایک حصہ تو بھاگ جائے گی اور ایک حصہ لڑ کر شہید ہو جائے گی اور ایک یہاں تک لڑے گی کہ اس کو نصاریٰ پر فتح ملے گی اور اس فتح کا قصہ یہ ہوگا کہ جب حضرت امام مہدیؑ نصاریٰ سے لڑنے کے لئے لشکر تیار کریں گے تو بہت سے مسلمان آپس میں قسمیں کھائیں گے کہ بے فتح کئے ہوئے ہرگز نہ ہٹیں گے۔ پس سارے آدمی شہید ہو جائیں گے۔ صرف تھوڑے سے رہیں گے ان کو لے کر امام مہدیؑ اپنے لشکر میں چلے آئیں گے۔ دوسرے دن پھر اسی طرح سے قسم کھا کر لڑائی شروع کریں گے۔ اکثر آدمی شہید ہو جائیں گے اور تھوڑے آدمی بچ جائیں گے اور تیسرے روز پھر ایسا ہی ہوگا۔ آخر چوتھے روز یہ تھوڑے سے آدمی مقابلہ کریں گے اور اللہ تعالیٰ فتح دے گا اور بعد اس کے کافروں کے دماغ میں حکومت کا شوق نہ رہے گا۔ پس اب امام مہدیؑ ملک کا بندوبست کرنا شروع کریں گے اور سب طرف کو مسلمانوں کی فوجیں روانہ کریں گے اور خود امام مہدیؑ ان سب کاموں سے فراغت پا کر قسطنطنیہ کے فتح کرنے کو چلے جائیں گے۔ جب کہ دریائے روم کے کنارے پر پہنچے گے۔ اس وقت بنو اسحاق قبیلہ کے ستر ہزار آدمیوں کو کشتیوں کے اوپر سوار کر کے اس شہر کے فتح کرنے کے واسطے روانہ فرمائیں گے۔ جب یہ لوگ قسطنطنیہ کی حد کے قریب پر پہنچیں گے۔ اللہ اکبر اللہ اکبر۔ بلند آواز سے کہنا شروع کریں گے۔ اس نام کی برکت سے شہر پناہ کے سامنے کی دیوار پھٹ جائے گی اور گر پڑے گی اور مسلمان لوگ حملہ کر کے شہر کے اندر گھس پڑیں گے اور لڑ کر کفار کو قتل کریں گے اور عمدہ طور سے ملک کا انتظام کریں گے اور ابتدائے بیعت سے لے کر اس شہر کی فتح تک چھ یا سات سال کی مدت گزری ہوگی کہ امام مہدیؑ اس طرف انتظام کرتے ہوں گے کہ یکا یک ایک بے اصل اور جھوٹی خبر مشہور ہو جائے گی کہ یہاں کیا بیٹھے ہو۔ وہاں شام کے ملک میں تو دجال آ گیا ہے اور فتنہ و فساد تمہارے خاندان میں کر رکھا ہے۔ اس خبر
کے سننے سے امام مہدیؑ شام کی طرف جا کر اس حال کے معلوم کرنے کے لئے پانچ یا کہ نو سواروں کو اپنے آگے روانہ کر دیں گے۔ ان میں سے ایک شخص واپس آ کر خبر دے گا کہ وہ بات دجال کے آنے کی غلط ہے امام مہدی کو سن کر تسلی ہو جائے گی اور پھر خوب بندوبست کے ساتھ درمیان کے ملکوں اور شہروں کا حال دیکھتے بھالتے تسلی کے ساتھ ملک شام کو جا پہنچیں گے۔ بعد پہنچنے کے تھوڑے روز گزریں گے کہ دجال ظاہر ہو جائے گا اور دجال یہودیوں کی قوم میں سے ہوگا۔
دجال سے پہلے تین برس سخت قحط ہوگا۔ اوّل برس میں تیسرا حصہ بارش کا آسمان کم کر دے گا اور زمین تیسرا حصہ زراعت کا کم کر دے گی۔ دوسرے برس سے زمین و آسمان دو حصے کم کر دیں گے اور تیسرے برس میں آسمان سے ایک قطرہ بارش کا نہ برسے گا اور زمین سے کوئی سبزی نہ ہوگی۔ مال مویشی ہلاک ہوں گے اور مسلمان لوگوں کے لئے طعام کے بدلہ اللہ کی تسبیح تہلیل حمد و ثناء ہوگی اور دجال کی صورت مثل عبدالعزے بن قطن کے ہوگی اور دجال کے ماں باپ کے گھر میں قبل پیدا ہونے دجال کے تیس برس تک اولاد نہ ہوگی۔ شرح السنہ وغیرہ کتب حدیث اور صحیح مسلم میں تمیم داری کے قصے سے معلوم ہوتا ہے کہ دجال موجود ہے۔ مگر دریائے شام یا دریائے یمن کے جزیرے میں بند ہے۔ باذن پروردگار اوّل شام اور عراق کے درمیان میں سے نکلے گا اور پیغمبری کا دعویٰ کرے گا۔ جب شہر اصفہان میں جا پہنچے گا وہاں کے ستر ہزار یہودی مرد اور عورت اس کے ساتھ ہو جائیں گے اور مسلمان طرف وادی افیق کے چلے جائیں گے۔ پھر خدائی کا دعویٰ شروع کر دے گا۔ حلیہ اس کا یہ ہے کہ اس کی دائیں آنکھ اندھی ہے اور بعض روایت میں بائیں آنکھ کا ذکر ہے۔ دونوں آنکھوں کے درمیان میں کافر لکھا ہوگا۔ اس کو ہر مسلمان پڑھ لے گا۔ خنثیٰ ہو یا غیر خنثیٰ اور دجال جوان ہوگا۔ پریشاں بال ہوں گے۔ چالیس روز زمین پر رہے گا ایک روز برس کے مثل، ایک روز مہینہ کے مثل، اور ایک روز ہفتہ کی مثل اور سوائے ان تین دنوں کے باقی دن ہمارے دنوں کی طرح ہوں گے۔ ان دنوں میں جو سال اور ماہ اور ہفتہ کے برابر ہوں گے۔ نمازوں کا حساب کر کے پڑھنا ہوگا۔ فقط پانچ ہی نمازیں کافی نہ ہوں گی۔ آسمان سے کہے گا پانی برسا تو برسائے گا۔ جب زمین سے کہے گا کہ سبزی نکال تو زمین سبزی نکالے گی۔ جو لوگ اس کے تابع ہوں گے ان کا مال کھیتی خوب ہوگا اور بیل گائے موٹے ہوں گے اور جو اس کے مخالف ہوگا اس کا مال اسباب خراب ہوگا۔ غیر آباد زمین سے خزانہ نکالے گا۔ جنت اور دوزخ کی صورت اس کے پاس ہوگی۔ فی الواقع اس کی جنت دوزخ، اور دوزخ جنت ہے۔ ایک شخص سے کہے گا مجھ کو
خدا جان وہ انکار کرے گا۔ پس آرے کے ساتھ دو ٹکڑے کر دے گا۔ پھر دونوں پارے کے درمیان سے گزرے گا اور اس سے کہے گا کہ زندہ ہو جا اور اٹھ پس وہ زندہ ہوگا۔ اس سے وہی بات کہے گا وہ کہے گا کہ تو دجال ہے۔ اب مجھ کو خوب یقین ہو گیا۔ پس اس کو ذبح کرنا چاہے گا مگر اس کی گردن تانبے کی ہو جائے گی۔ تلوار اس پر اثر نہ کرے گی۔ پس اس کو پاؤں سے پکڑ کر پھینکے گا لوگ جانیں گے کہ دوزخ میں پھینک دیا۔ مگر وہ جنت میں چلا جائے گا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ وہ شخص شہادت کے درجہ میں نزدیک اللہ تعالیٰ کے بہت بزرگ ہوگا۔ صحابہؓ لوگ سمجھتے تھے کہ یہ شخص عمر بن خطابؓ ہوں گے۔ مگر جب وہ فوت ہو گئے تو وہ گمان جاتا رہا اور بعض حضرت خضر علیہ السلام کو کہتے تھے۔ اسی طرح بہت ملکوں سے پھرتا ہوا ملک یمن کے کنارے پر جا پہنچے گا اور ہر جگہ سے بددین بد نصیب بدمعاش شیطانی کام کرنے والے ساتھ ہوتے جائیں گے اور تند باد کی طرح تیز چلے گا۔ آتے آتے مکہ معظمہ سے باہر قریب جا ٹھہرے گا۔ لیکن فرشتوں کی چوکیداری کے سبب سے شہر مکہ معظمہ کے اندر نہ جا سکے گا۔ فرشتے تلوار لے کر آگے ہو جایا کریں گے۔ پھر وہاں سے مدینہ منورہ کا ارادہ کرے گا۔ وہاں پر فرشتوں کی حفاظت کی وجہ سے اندرون شہر مدینہ منورہ کے جانے نہ پائے گا۔ بلکہ کوہ احد کے بعد قیام کرے گا۔ مگر پروردگار کی یہ آزمائش ہوگی کہ مدینہ منورہ کو تین زلزلے ہوں گے۔ جتنے آدمی کمزور اور سست دین ہوں گے وہ زلزلہ کے سبب سے ڈر کر باہر مدینہ سے جا کھڑے ہوں گے اور دجال کے جال اور مکر میں گرفتار ہو جائیں گے۔ اس وقت مدینہ منورہ میں کوئی بزرگ نیک شخص ہوں گے۔ وہ دجال سے خوب بحث کریں گے۔ دجال زبردستی اس کو قتل کر دے گا اور پھر زندہ کر کے پوچھے گا کہ اب بھی میرے خدا ہونے پر قائل ہوتے ہو یا نہیں وہ بزرگ صاحب جواب میں کہیں گے کہ اب اور زیادہ میرا یقین ہو گیا ہے کہ تو دجال لعین ہے۔ پھر اس بزرگ صاحب کو مارنا چاہے گا۔ مگر اس کی ہمت نہ ہوگی اور اس بزرگ پر کچھ تاثیر نہ کر سکے گا۔ پس وہاں سے دجال ملک شام کو روانہ ہوگا۔ جب دمشق شہر کے قریب جا پہنچے گا اور امام مہدیؑ تو آگے ہی سے وہاں پہنچ چکے ہوں گے اور جنگ و جدال کا سامان کرتے ہوں گے کہ عصر کی نماز کے لئے مؤذن اذان کہے گا اور نماز کی تیاری میں لوگ ہوں گے کہ اچانک حضرت عیسیٰ علیہ السلام دو فرشتوں کے کندھوں پر ہاتھ رکھے ہوئے آسمان سے اترتے دکھائی دیں گے۔ جب سر نیچے کریں گے تو اس سے قطرے ٹپکیں گے اور جب سر کو بلند کریں گے تو مروارید موتی کی طرح دانے گریں گے اور صورت ان کی مثل صورت عروہ بن مسعود صحابی کے
پس آرے کے ساتھ دو ٹکڑے کر دے گا۔ پھر دونوں پارے کے درمیان کھڑا ہو کر کہے گا کہ زندہ ہو جا اور اٹھ پس وہ زندہ ہو گا۔ اس سے وہی بات کہے گا کہ اب مجھ کو خوب یقین ہو گیا۔ پس اس کو ذبح کرنا چاہے گا مگر اس کی گردن اس پر اثر نہ کرے گی۔ پس اس کو پاؤں سے پکڑ کر پھینکے گا لوگ سمجھیں گے کہ آگ میں پھینک دیا۔ مگر وہ جنت میں چلا جائے گا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ وہ شخص میرے نزدیک اللہ تعالیٰ کے بہت بزرگ ہوگا۔ صحابہ لوگ سمجھتے تھے کہ یہ شخص حضرت عمرؓ ہیں۔ جب وہ فوت ہو گئے تو وہ گمان جاتا رہا اور بعض حضرت خضر علیہ السلام سمجھتے ہیں۔ اور ملکوں سے پھرتا ہوا ملک یمن کے کنارے پر جا پہنچے گا اور ہر جگہ سے بد کار لوگ اس کی شیطانی کام کرنے والے ساتھ ہوتے جائیں گے اور تند باد کی طرح تیز چلے گا۔ مکہ معظمہ سے باہر قریب جا ٹھہرے گا۔ لیکن فرشتوں کی چوکیداری کے سبب اندر نہ جانے پائے گا۔ فرشتے تلوار لے کر آگے ہو جایا کریں گے۔ پھر وہاں سے مدینہ منورہ آئے گا۔ وہاں پر فرشتوں کی حفاظت کی وجہ سے اندرون شہر مدینہ منورہ کے نہ جا سکے گا۔ ایک کوہ کے باہر قیام کرے گا۔ مگر پروردگار کی یہ آزمائش ہوگی کہ مدینہ منورہ کے جتنے آدمی کفر اور سست دین میں ہوں گے وہ زلزلہ کے سبب سے ڈر کر بھاگیں گے اور دجال کے جال اور مکر میں گرفتار ہو جائیں گے۔ اس وقت مدینہ منورہ میں ایک شخص ہوں گے۔ وہ دجال سے خوب بحث کریں گے۔ دجال اس کو دو ٹکڑے کرے گا اور پھر زندہ کر کے پوچھے گا کہ اب بھی میرے خدا ہونے پر قائل ہوا کہ نہیں۔ تو وہ صاحب جواب میں کہیں گے کہ اب اور زیادہ میرا یقین ہو گیا ہے کہ تو دجال ہے۔ دجال اس صاحب کو مارنا چاہے گا۔ مگر اس کی ہمت نہ ہوگی اور اس بزرگ پر اس کا قابو نہ چلے گا۔ اس سے دجال ملک شام کو روانہ ہوگا۔ جب دمشق شہر کے قریب جا پہنچے گا۔ تو امام مہدی بھی وہاں پہنچ چکے ہوں گے اور جنگ وجدال کا سامان کرتے ہوں گے۔ اور اسی دن کا مؤذن اذان کہے گا اور نماز کی تیاری میں لوگ ہوں گے کہ اچانک حضرت عیسیٰ علیہ السلام دو فرشتوں کے کندھوں پر ہاتھ رکھے ہوئے آسمان سے اترتے دکھائی دیں گے۔ اور سر کو جھکائیں گے تو اس سے قطرے ٹپکیں گے اور جب سر کو بلند کریں گے تو موتیوں کی طرح قطرے گریں گے اور صورت ان کی مثل صورت عروہ بن مسعود صحابی کے
ہوگی۔ مسلم، اور سینہ ان کا چوڑا ہوگا۔ بخاری، اور جامع مسجد کے مشرق کی طرف کے منارے سفید پر آکر ٹھہریں گے اور وہاں سے زینہ لگا کر نیچے تشریف لائیں گے۔ حضرت امام مہدی لڑائی کا سارا سامان حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے سپرد کرنا چاہیں گے۔ مگر عیسیٰ علیہ السلام فرمائیں گے کہ لڑائی کا سامان اور انتظام آپ ہی رکھیں میں فقط دجال کے قتل کرنے کو آیا ہوں۔ جب رات گزر کر صبح ہوگی امام مہدی لشکر کو تیار کریں گے اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام ایک گھوڑے پر سوار ہو کر ایک نیزہ ہاتھ میں لے کر دجال کی طرف جائیں گے اور مسلمان لوگ دجال کے لشکر پر حملہ کریں گے اور بہت بڑی جنگ ہوگی اور اس وقت حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے سانس یعنی دم کی یہ تاثیر ہوگی کہ جس جگہ تک نظر جائے گی اس جگہ تک سانس بھی جائے گی اور جس کافر کو ان کے سانس کی ہوا جا پہنچے گی اسی وقت وہ کافر ہلاک ہو جائے گا۔ دجال، عیسیٰ علیہ السلام کو دیکھ کر بھاگے گا اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام اس کے پیچھے تشریف لے جائیں گے۔ لد کے دروازہ شرقی پر جا کر اس کو نیزہ مار کے قتل کر دیں گے۔ بیہقی نے روایت کیا کہ گدھے پر سوار ہوگا۔ اس کے دونوں کانوں میں فاصلہ دوسو اسی گز ہوگا۔ اس قدر بڑا وہ خر دجال ہوگا۔ پس اگر قتل نہ کرتے جب بھی وہ ان کو دیکھ کر ایسا پانی ہو جاتا۔ جیسا کہ پانی میں نمک گل جاتا ہے۔ مگر لوگوں کو اس کا خون نیزے پر دکھائیں گے۔ اس لئے قتل کریں گے۔
لد وہاں ایک جگہ کا نام ہے۔ ایک گاؤں ہے قریب بیت المقدس کے اور بعض علماء نے کہا کہ ملک شام میں ایک پہاڑ کا نام ہے اور بعض نے کہا کہ موضع فلسطین ہے۔ فقیر مؤلف الکتاب عرض کرتا ہے کہ بہر صورت وہ لد مخفف لدھیانہ کا نہیں ہے۔ پنجاب میں جیسا کہ مرزا قادیانی نے کہا ہے۔ بعد قتل ہونے دجال کے مسلمان لوگ اس کے لشکر کو قتل کریں گے ١؎ اور حضرت شہر بشہر تشریف لے جائیں گے اور مسلمانوں کو تسلی دیں گے اور درجات بہشت کی خوشخبری سنائیں گے۔ پس اس وقت کافر کوئی باقی نہ رہے گا۔ پھر حضرت امام مہدیؒ کا انتقال ہو جائے گا اور سب بندوبست حضرت عیسیٰ علیہ السلام کریں گے۔ پس پروردگار حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی طرف پیغام روانہ کرے گا کہ اب میں نے اپنے ایسے بندے ظاہر کئے ہیں کہ کسی کو لڑائی کرنے کی طاقت
١؎ جس درخت یا دیوار پتھر یا اور جس چیز کے پیچھے کافر ہوگا وہ چیز کہے گی کہ آؤ مؤمن کافر یہاں پر ہے۔ اس کو قتل کر۔ مگر غرقدہ جو ایک قسم کا درخت ہے۔ یہود کے درختوں میں سے وہ نہ بولے گا۔
ان کے ساتھ نہیں۔ اے عیسیٰ میرے بندوں کو تو کوہ طور میں لے جا۔ پس خارج ہوں گے یاجوج وماجوج اور ان کے رہنے کی جگہ شمال کی طرف کی آبادی ختم ہونے سے بھی آگے سات ولایت سے باہر ہے اور بوجہ زیادہ سردی کے اس طرف کا دریائے سمندر ایسا جما ہوا ہے کہ کشتی جہاز بھی اس پر نہیں چل سکتا۔ یاجوج ماجوج میں سے کچھ لوگ جو آگے ملک شام میں طبریہ بستی کے دریا پر گزریں گے۔ اس کا سارا پانی پی جائیں گے۔ بعد والے جب آئیں گے تو کہیں گے کہ جیسا کہ کبھی اس دریا میں پانی نہیں ہوتا تھا۔ ایسا خشک ہوگا۔ پس وہ کیچڑ چاٹیں گے اور ان کی موت کی صورت یہ ہے کہ ہر ایک کی اولاد جب ایک ہزار پوری ہوتی ہے۔ جب مرنا شروع ہوتے ہیں۔ بعضے کا قد بقدر یک بالشت کے اور بعض بلند مثل آسمان کے، کان ان کے اتنے بڑے ہوں گے کہ ان کو بچھا کر سویا کریں گے۔ تین جگہ نہ جاسکیں گے مکہ مدینہ اور بیت المقدس۔
پس سیر کرتے ہوئے بیت المقدس کے قریب جبل خمر ایک پہاڑ ہے۔ اس کے پاس جا پہنچیں گے اور کہیں گے کہ اہل زمین کو قتل کر چکے۔ اب اہل آسمان کو قتل کریں گے۔ پس آسمان کی طرف تیر پھینکیں گے۔ اللہ تعالیٰ ان کے تیروں کو خون سے آلودہ کر کے نیچے ڈال دے گا۔ وہ اس سے خوش ہوں گے کہ واقعی آسمان کے رہنے والوں کو ہم نے قتل کر دیا ہے اور اس حال میں عیسیٰ علیہ السلام لوگوں کو لے کر طور پہاڑ پر بند ہوں گے۔ ایک سر بیل گائے کا ان لوگوں کو بوجہ بھوک کے سو اشرفی سے بہتر ہوگا۔ پس عیسیٰ علیہ السلام سے التماس کریں گے۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام اپنے ساتھ والوں کو لے کر دعاء کریں گے۔ پس اللہ تعالیٰ ان کی گردن میں ایک کیڑا پیدا کرے گا اس سبب سے سب مرجائیں گے۔ بعدہ عیسیٰ علیہ السلام لوگوں کو لے کر پہاڑ سے نیچے اتریں گے۔ مگر یاجوج ماجوج کی بدبو اور مردار کے سبب سے ایک بالشت زمین بھی خالی نہ ہوگی۔ پس عیسیٰ علیہ السلام اور ان کے یار دعا کریں گے۔ اللہ تعالیٰ ایسے جانور پرندے بھیجے گا جن کی گردنیں بختی خراسانی اونٹوں کی طرح بڑی بڑی ہوں گی۔ وہ جانور ان مرداروں کو اٹھا کر کوہ قاف کے پیچھے ڈالیں گے اور ان کے تیر و کمان اس قدر باقی رہیں گے کہ مسلمان لوگ سات برس تک جلاتے رہیں گے۔ پس پروردگار بارش برسائے گا کوئی جگہ زمین، پتھر، جامہ، لباس اس بارش سے خالی نہ رہے گا۔ پس تمام زمین کو دھو کر صاف کر کے مثل آئینہ کے صاف کر دے گا۔ پس پروردگار زمین کو ایسی برکت دے گا کہ میوہ غلہ بکثرت ہوگا۔ ایک ایک انار اتنا بڑا ہوگا کہ آدمیوں کی ایک جماعت اس سے پیٹ بھر کر کھائے گی اور اس کی پوست کے سایہ میں بیٹھ سکے گی اور چارپایوں میں ایسی
سے عیسیٰ میرے بندوں کو تو کوہ طور میں لے جا۔ پس خارج ہوں گے یاجوج بنے کی جگہ شمال کی طرف کی آبادی ختم ہونے سے بھی آگے سات ولایت یادہ سردی کے اس طرف کا دریائے سمندر ایسا جما ہوا ہے کہ کشتی جہاز بھی اس ج ماجوج میں سے کچھ لوگ جو آگے ملک شام میں طبریہ بستی کے دریا پر سارا پانی پی جائیں گے۔ بعد والے جب آئیں گے تو کہیں گے کہ جیسا کہ نی نہیں ہوتا تھا۔ ایسا خشک ہوگا۔ پس وہ کیچڑ چاٹیں گے اور ان کی موت کی یک کی اولاد جب ایک ہزار پوری ہوتی ہے۔ جب مرنا شروع ہوتے ہیں۔ شت کے اور بعض بلند مثل آسمان کے، کان ان کے اتنے بڑے ہوں گے کہ گے۔ تین جگہ نہ جاسکیں گے مکہ مدینہ اور بیت المقدس۔ تے ہوئے بیت المقدس کے قریب جبل خمر ایک پہاڑ ہے۔ اس کے پاس جا گے کہ اہل زمین کو قتل کرچکے۔ اب اہل آسمان کو قتل کریں گے۔ پس آسمان کی ۔ اللہ تعالیٰ ان کے تیروں کو خون سے آلودہ کرکے نیچے ڈال دے گا۔ وہ اس انعی آسمان کے رہنے والوں کو ہم نے قتل کر دیا ہے اور اس حال میں عیسیٰ علیہ طور پہاڑ پر بند ہوں گے۔ ایک سر بیل گائے کا ان لوگوں کو بوجہ بھوک کے سو پس عیسیٰ علیہ السلام سے التماس کریں گے۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام اپنے دعا کریں گے۔ پس اللہ تعالیٰ ان کی گردن میں ایک کیڑا پیدا کرے گا اس یں گے۔ بعدہ عیسیٰ علیہ السلام لوگوں کو لے کر پہاڑ سے نیچے اتریں گے۔ مگر اور مردار کے سبب سے ایک بالشت زمین بھی خالی نہ ہوگی۔ پس عیسیٰ علیہ دعا کریں گے۔ اللہ تعالیٰ ایسے جانور پرندے بھیجے گا جن کی گردنیں بختی رح بڑی بڑی ہوں گی۔ وہ جانور ان مرداروں کو اٹھا کر کوہ قاف کے پیچھے تیر و کمان اس قدر باقی رہیں گے کہ مسلمان لوگ سات برس تک جلائیں گا بارش برسائے گا کوئی جگہ زمین، پتھر، جامہ، لباس اس بارش سے خالی نہ ن کو دھو کر صاف کر کے مثل آئینہ کے صاف کر دے گا۔ پس پروردگار زمین کو میوہ غلہ بکثرت ہوگا۔ ایک ایک انار اتنا بڑا ہوگا کہ آدمیوں کی ایک جماعت ئے گی اور اس کی پوست کے سایہ میں بیٹھ سکے گی اور چارپایوں میں ایسی
برکت ہوگی کہ ایک اونٹنی یعنی شتر مادہ کا دودھ ایک بڑی جماعت کو کافی ہوگا اور ایک گائے کا دودھ ایک بڑے قبیلہ کے لوگوں کو بس ہوگا اور بکری کا دودھ چھوٹے قبیلہ کو کفایت کرے گا ١؎ اور عیسیٰ علیہ السلام حضرت شعیب پیغمبر کے خاندان میں نکاح کریں گے اور ان کی اولاد بھی ہوگی ٢؎۔ بعد چالیس برس کے انتقال فرمائیں گے اور مدینہ منورہ میں رسول اللہ ﷺ کے روضہ پاک میں دفن ہوں گے۔
تفسیر درمنثور میں ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام کی قبر حضرت محمد ﷺ کے مقبرہ میں ہوگی اور عبارت تفسیر درمنثور کی یہ ہے۔ ”اخرج الترمذی وحسنه عن محمد بن یوسف بن عبدالله بن سلام عن ابيه عن جده قال مكتوب فى التوارة صفة محمد وعيسى بن مريم عليهم السلام يدفن معه وقال ابوداؤد وقد بقى فى البيت موضع قبر“ اور مرقات میں ہے ”قال ﷺ ینزل عیسٰی بن مریم الی الارض فیتزوج ویولد ویمکث خمسا واربعین سنة ثم یموت فیدفن معی فی قبری ای مقبرتی وعبر عنها بالقبر لقرب قبره بقبره فکأنما فی قبر واحد“ اور ابن جوزی کتاب الوفاء میں بھی اس کو لایا ہے اور سوائے ان کے اور کئی کتابوں میں ہے۔ طبرانی اور امام بخاری نے تاریخ کبیر میں اور جلال الدین سیوطی نے تفسیر درمنثور میں عبداللہ بن سلام سے روایت کی ہے۔ ”یدفن عیسٰی بن مریم مع رسول اللہ ﷺ وصاحبیه فیکون قبره رابعا“ مدینہ منورہ میں رسول اللہ ﷺ کے گنبد میں بالفعل تین قبریں ہیں۔ حضرت محمد ﷺ کی قبر مبارک اور حضرت ابوبکرؓ اور حضرت عمرؓ کی دو قبریں اور چوتھی قبر کی جگہ باقی ہے۔ اس میں حضرت
١؎ عمدہ گھوڑا تھوڑے روپیہ کے ساتھ ملے گا۔ بوجہ نہ ہونے لڑائی کے گھوڑا بہت سستا ہوگا اور بیل کی قیمت زیادہ ہوگی۔ بوجہ کشت کاری کی محبت کے ایک من تخم سے سات سو من غلہ ہوگا۔
اور مشکوٰۃ شریف وغیرہ میں ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام پینتالیس سال زمیں میں زندگانی کریں گے۔ مرقات میں ہے کہ جب آسمان پر گئے تو عمر چالیس برس کی تھی اور بعد اترنے کے سات برس زندگانی کریں گے۔ سات برس کا ذکر صحیح مسلم میں ہے۔ اگرچہ اس حساب سے چالیس برس ہوتے ہیں۔ مگر فی الواقع پینتالیس برس زمین پر پورے ہوں گے اور جس نے چالیس برس کو بیان کیا ہے اس نے کسر کو بیان نہیں کیا۔ جو کہ پانچ برس ہیں۔ کیونکہ عینی اور ابونعیم نے ذکر کیا ہے کہ بعد نزول کے ١٩ برس رہیں گے۔ جیسا کہ مرزا کے جواب وسوال میں یہ امر گزرا ہے۔ پس اس حساب سے مجموعہ ٥٢ برس ہوتا ہے۔
عیسیٰ علیہ السلام جب فوت ہوں گے تو دفن ہوں گے اور ان کی جگہ پر ایک شخص مجاہ نام ملک یمن کا رہنے والا بیٹھے گا اور وہ قبیلہ قحطان کا ہوگا اور بہت انصاف اور عدل کے ساتھ حکومت کرے گا اور ان کے بعد یکے بعد دیگرے کئی اور بادشاہ ہوں گے۔ پھر رفتہ رفتہ نیک باتیں کم ہونا شروع ہوں گی اور بری باتیں زیادہ ہوتی جائیں گی۔
بیان قیامت کی بڑی بڑی نشانیوں کا
امام مسلم نے حضرت حذیفہ بن اسید غفاریؓ سے روایت کیا ہے کہ فرمایا رسول اللہ ﷺ نے کہ قیامت برپا نہ ہوگی۔ جب تک کہ دس نشانیاں ظہور میں نہ آ جائیں۔ دخان، دجال، دابۃ الارض، طلوع آفتاب کا مغرب سے، اترنا حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا، نکلنا یاجوج ماجوج کا اور تین بار خسف یعنی دب جانا زمین میں۔ ایک بار مشرق میں، دوسری بار مغرب میں، تیسری بار جزیرۂ عرب میں، اور آخر سب سے ایک آگ ملک یمن سے نکلے گی جو کہ لوگوں کو بطرف محشر کے ملک شام کی زمین میں لے جائے گی اور ایک روایت میں دسویں نشانی باد سخت کا ذکر آیا ہے۔ جو کہ لوگوں کو دریا میں پھینک دے گی، اور ابوذرؓ نے رسول اللہ ﷺ سے روایت کیا ہے کہ بعد ظاہر ہونے دجال اور دابۃ الارض اور طلوع آفتاب کے مغرب سے، کافر کا ایمان اور کسی کی توبہ قبول نہ ہوگی، اور امام بغوی وغیرہ نے حضرت حذیفہؓ سے روایت کیا ہے کہ جو آگ کہ لوگوں کو چلا کر بطرف محشر کے لے جائے گی وہ عدن شہر کے غار سے نکلے گی۔ حذیفہؓ نے رسول اللہ ﷺ سے سوال کیا کہ دخان کیا ہے؟ فرمایا حضرت محمد ﷺ نے اس آیت کو ”فارتقب یوم تاتی السماء بدخان مبین یغشی الناس ھذا عذاب الیم“ منتظر ہو اس روز کا کہ لائے گا آسمان ایک دھواں ظاہر جو کہ ڈھانک لے گا لوگوں کو یہ عذاب درد دینے والا ہے اور فرمایا کہ وہ دھواں مشرق سے مغرب تک ہو جائے گا اور چالیس دن رات تک رہے گا۔ مسلمانوں کو زکام کی طرح پہنچے گا اور کافروں کو بیہوشی دے گا اور ان کی ناک اور کان اور پاخانہ کے رستہ سے نکلے گا اور حضرت ابن مسعودؓ نے کہا ہے کہ دخان ہو چکا ہے۔ اس وقت میں جب کہ کفار قریش نے حضرت محمد ﷺ کے ساتھ کمال برائی اور بے ادبی کی تو حضرت نے بددعا کی پس ایسا قحط ہوا کہ لوگ ہڈیاں کھاتے تھے اور بھوک کے سبب سے ان کو زمین سے آسمان تک دھواں نظر آتا تھا۔ ابن مسعودؓ کا مطلب یہ ہے کہ فی الواقع دھواں نہیں ہے۔ لیکن حضرت حذیفہؓ وغیرہ حضرات سے معلوم ہوتا ہے کہ جو دخان ہے فی الواقع وہ علاماتِ کبریٰ قیامت سے ہے اور یہی ہے نزدیک عبداللہ بن عباسؓ اور عبداللہ بن
عمرؓ اور امام حسن بصریؒ کے اور وہ قحط کا واقعہ دوسرا ہے۔ بعد چالیس روز کے آسمان صاف ہو جائے گا اور اسی زمانہ کے قریب بقرعید کے مہینے میں دسویں تاریخ کے بعد دفعۃً ایک رات ایسی لمبی ہوگی کہ لوگوں کا دل گھبرا جائے گا اور بچے سوتے سوتے دق ہو جائیں گے اور چار پائے جانور جنگل میں جانے کے واسطے شور مچائیں گے اور کسی طرح صبح ہی نہ ہوگی اور تمام آدمی ہیبت اور پریشانی سے بیقرار ہو جائیں گے۔ جب بقدر تین راتوں کے وہ ایک رات ہو چکے گی اس وقت سورج مغرب کی طرف سے نکلے گا اور روشنی اس کی تھوڑی سی ہوگی۔ جیسے کسوف یعنی گرہن لگنے کے وقت روشنی تھوڑی ہوتی ہے۔ اس وقت جو لوگ موجود دنیا پر ہوں گے کسی کافر کا ایمان لانا قبول نہ ہوگا اور مسلمان جو کوئی گناہ سے توبہ کرے گا اس کی توبہ قبول نہ ہوگی۔ پس سورج اتنا اونچا آئے گا جیسا کہ دوپہر سے ذرہ قدر پہلے بلند ہوتا ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ کے حکم سے مغرب کی طرف لوٹ جائے گا اور دستور کے موافق غروب ہوگا۔ پھر ہمیشہ پہلے کی طرح روشن اور صاف لوٹ جائے گا اور دستور کے موافق غروب ہوگا۔ پھر ہمیشہ پہلے کی طرح روشن اور صاف اپنے قدیمی دستور کے موافق نکلتا رہے گا۔ اس کے بعد بہت تھوڑے دنوں میں قریب دابۃ الارض نکلے گا۔ جیسا کہ پروردگار نے فرمایا ہے۔ ”وَاِذَا وَقَعَ الْقَوْلُ عَلَيْهِمْ اَخْرَجْنَا لَهُمْ دَابَّةً مِّنَ الْاَرْضِ تُكَلِّمُهُمْ اَنَّ النَّاسَ كَانُوْا بِاٰيٰتِنَا لَا يُوْقِنُوْنَ“ یعنی جس وقت واقع ہوگا حکم اللہ تعالیٰ کا ساتھ قائم ہونے قیامت کے یعنی قیامت نزدیک پہنچے گی تو خارج کریں گے۔ ہم لوگوں کے لئے چارپایہ زمین سے کہ لوگوں سے باتیں کرے گا۔ اس امر میں کہ ہماری آیتوں کے ساتھ وہ لوگ یقین نہیں رکھتے تھے اور ایک متواتر قرأت میں ”تَكْلِمُهُمْ“ ساتھ سکون کاف اور تخفیف لام کے بھی آچکا ہے۔ یعنی لوگوں کو زخمی کرے گا۔ اس بات کے لئے کہ ہماری آیات کے اوپر یقین نہ رکھتے تھے۔ حضرت ابن عباسؓ نے فرمایا کہ دونوں باتیں ہو سکتی ہیں۔ یعنی مسلمانوں سے کلام کرے گا اور کافروں کو زخم پہنچائے گا اور احادیث کی روایات میں اختلاف ہے۔ بعض میں ذکر ہے کہ منہ اس کا مثل انسان کے منہ کے ہوگا اور داڑھی اس کی ہوگی اور باقی سارا بدن اس کا پرندے کے بدن کی طرح ہوگا اور اکثر روایات میں آیا ہے کہ چہار پایہ ہوگا کہ صفا کے پہاڑ سے نکلے گا۔ حضرت ابن عباسؓ نے اپنا عصا حج کے موسم میں صفا کے پہاڑ پر مارا اور کہا کہ دابۃ الارض اس میرے عصا مارنے کی آواز سنتا ہے۔ پس مکہ شریف میں زلزلہ پیدا ہوگا اور صفا پہاڑ پھٹ جائے گا اور اس جگہ وہ دابۃ الارض جانور نہایت عجیب صورت کا نکلے گا ۔ قد اس کا بہت بڑا ہوگا۔
عبداللہ بن عمرؓ نے کہا ہے کہ سر اس کا ابر کے ساتھ لگے گا اور پاؤں اس کے ابھی زمین میں ہوں گے اور امام بغویؒ نے ابو شریح انصاری سے روایت کی ہے کہ دابۃ الارض تین بار خارج ہوگا۔ اوّل بار یمن میں خارج ہوگا اور بات چیت اس کی فقط جنگل میں پہنچے گی اور مکہ شریف میں ذکر اس کا نہ پہنچے گا۔ دوسری بار مکہ شریف کے قریب ایک جنگل میں نکلے گا اور چرچا اس کا مکہ شریف میں جا پہنچے گا۔ تیسری بار خاص مکہ شریف سے نکلے گا اور سر اپنے کو جھاڑے گا اور بہت جلدی سے لوگوں پر گزرے گا اور اس سے کوئی بھاگ نہ سکے گا اور بات کرے گا۔ مسلمانوں کو کہے گا یا مؤمن اور کافر کو کہے گا یا کافر، اور ایک روایت میں آیا ہے کہ اس کے پاس حضرت موسیٰ علیہ السلام کا عصا ہوگا اور حضرت سلیمان علیہ السلام کی انگوٹھی ہوگی۔ ایمان والوں کی پیشانی پر اس عصا کے ساتھ سفید نقطہ لگائے گا۔ اس سے لفظ مؤمن کا لکھا جائے گا اور سارا چہرہ اس کا روشن ہوجائے گا۔ مثل ستارہ چمکنے والے کے اور بے ایمان کافر کی پیشانی پر اس انگوٹھی سے سیاہ نقطہ لگائے گا۔ جس سے لفظ کافر لکھا جائے گا اور منہ اس کا کالا ہو جائے گا۔ بعد اس کے لوگ ایک دوسرے کو شناخت کرلیا کریں گے۔ یہاں تک کہ بازار میں کہیں گے۔ مؤمن سے کہ اے مؤمن اپنی فلانی چیز کتنی قیمت پر بیچتا ہے اور بعض روایات میں آیا ہے کہ دابۃ الارض حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے زمانہ میں خارج ہوگا کہ زمین کانپ جائے گی اور صفا پہاڑ پھٹ جائے گا اور دابۃ الارض نکلے گا۔ لیکن قوی بات یہی ہے کہ بعد عیسیٰ علیہ السلام کے نکلے گا۔
جلال الدین سیوطیؒ نے کہا کہ بعد دابۃ الارض کے نیک کام کا امر کرنا اور برے کام سے منع کرنا باقی نہ رہے گا اور بعد اس کے کوئی کافر ایمان نہ لائے گا۔ پس دابۃ الارض یہ کام کر کے غائب ہوجائے گا۔ اس کے بعد جنوب کی طرف سے ایک ہوا نہایت فرحت دینے والی چلے گی۔ اس ہوا سے سب ایمان والوں کی بغل میں کچھ نکل آئے گا۔ جس سے وہ سب مرجائیں گے۔ جب سب مسلمان مرجائیں گے اس وقت کافر عاصیوں کا ساری زمین میں عمل دخل ہوجائے گا اور وہ لوگ خانہ کعبہ کو شہید کریں گے اور حج بند ہوجائے گا اور قرآن شریف دلوں سے اور کاغذوں سے اٹھ جائے گا اور خدا کا خوف اور خلقت کی شرم سب اٹھ جائے گی اور کوئی اللہ اللہ کہنے والا نہ رہے گا۔ اس وقت شام کے ملک میں غلہ کی بہت ارزانی ہوگی۔ بہت لوگ سواریوں پر اور پا پیادہ اس طرف کو روانہ ہوجائیں گے اور جو رہ جائیں گے ایک آگ پیدا ہوگی۔ جس کا ذکر پہلے ہوچکا ہے۔ وہ آگ سب لوگوں کو ہانکتی ہوئی شام کے ملک میں پہنچا دے گی۔ اس واسطے کہ قیامت کے دن ساری مخلوقات کو اسی جگہ ملک شام میں کھڑا ہونا ہوگا۔ پھر وہ آگ غائب ہو جائے گی اور اس
وقت دنیا کو بڑی ترقی ہوگی۔ تین چار برس اسی حال میں گزریں گے کہ دفعۃً جمعہ کے دن محرم کی دسویں تاریخ صبح کے وقت سب لوگ اپنے اپنے کام میں لگے ہوں گے کہ اسرافیل علیہ السلام فرشتہ جو کہ صور لئے کھڑا ہے اس صور کو پھونک دے گا۔ صور کی شکل سینگ کی طرح پر ہوتی ہے۔ اوّل ہلکی ہلکی آواز ہوگی۔ پھر اس قدر بڑھے گی کہ اس کی ہیبت سے حاملہ عورتوں اور جانوروں کے حمل گر جائیں گے۔ کھانے والے کے منہ سے لقمہ گر جائے گا۔ جس جگہ میں جو کوئی ہوگا وہیں رہ جائے گا۔ زمین و آسمان پھٹ جائیں گے اور دنیا فنا ہو جائے گی اور جب کہ آفتاب مغرب سے نکلا تھا صور کے پھونکنے تک ایک سو بیس برس کا زمانہ ہوگا۔ پس اب یہاں سے قیامت کا دن شروع ہوگیا۔ یا اللہ اس فقیر حقیر ہیچمدان قاضی غلام گیلانی اور اس کے والدین وغیرہ خویش و اقارب اور پیروں اور استادوں اور دوستوں اور جملہ اہل سنت و جماعت کو خاتمہ بالایمان مقدر فرما اور صغیرہ وکبیرہ کل گناہ بخش دے۔ ساتھ برکت اپنے حبیب محمد ﷺ کے۔ قاضی غلام گیلانی، پنجابی حنفی، نقشبندی، سیاح بنگال، بقلمہ ١٣٣٠ھ۔
مسئلہ متعلق رسالہ رد قادیانی از جانب مولوی غلام ربانی
برادر حقیقی مصنف رسالۂ ھذا
در ثبوت ایں امر کہ عیسیٰ علیہ السلام زندہ بآسمان رفتہ اند و تاحال برآسمان اند۔ ایں آیت زیریں در حق عیسیٰ علیہ السلام وارد شد۔
”قولہ تعالیٰ (وجیھا فی الدنیا والآخرۃ ومن المقربین ای عند ربہ بارتفاعہ الی السماء وصحبۃ الملائکۃ فیھا، روح البیان جلد اوّل (ص٢٢٧ طبع مصر) وھمدران جلد تفسیر روح البیان ص٣٢٨ فرمودہ ولما رفع الی السماء وجد عندہ ابرۃ کان یرقع بھا ثوبہ فاقتضت الحکمۃ الالھیۃ نزولہ فی السماء الرابعۃ۔ اذ قال اللہ یا عیسٰی انی متوفیک ای مستوفی اجلک ومعناہ انی عاصمک من ان یقتلک الکفار ومؤخرک الی اجل کتبتہ لک وممیتک حتف انفک لا قتلا بایدیھم (ورافعک) الآن (الیّ) ای الیٰ محل کرامتی ومقر ملائکتی وجعل ذلک رفعا الیہ للتعظیم (ومطھرک) ای مبعدک ومنحیک (من الذین کفروا) ای من سوء جوارھم وخبث صحبتھم ودنس معاشرتھم قیل سینزل عیسٰی علیہ السلام من السماء علٰی عھد الدجال حکما عدلا یکسر الصلیب ویقتل الخنزیر ویضع الجزیۃ فیفیض المال حتٰی لا یقبلہ احد
ويهلك فى زمانه الملل كلها الا الاسلام يقتل الدجال ويتزوج بعد قتله امرأة من العرب وتلد منه ثم يموت هو بعد ما يعيش اربعين سنة من نزوله فيصلى وعليه المسلمون لا نه سأل ربه ان يجعله من هذه الامة فاستجاب الله دعائه
(ج اول ص ٣٣١)“
”قوله تعالى (وما قتلوه وما صلبوه ولكن شبه لهم) فاجتمعت اليهود على قتل عيسى عليه السلام فبعث الله تعالى جبرئيل فاخبره بانه يرفعه الى السماء
(ج اوّل ص ٥١٣)“
”قوله تعالى (بل رفعه الله اليه) رد وانكار لقتله واثبات لرفعه قال الحسن البصرى اى الى السماء التى هى محل كرامة الله تعالى رفع الى السماء لما لم يكن خوله الى الوجود الدنيوى من باب الشهوة وخروجه لم يكن من باب المنية بل دخل من باب القدرة وخرج من باب العزة (وكان الله عزيزا) لا يغالب فيما يريده فعزة الله تعالى عبارة عن كمال قدرته فان رفع عيسى عليه السلام الى السموات وان كان متعذرا بالنسبة الى قدرة البشر لكنه سهل بالنسبة الى قدرة الله تعالى لا يغلبه عليه احد (حكيما) فى جميع افعاله ولما رفع الله عيسى عليه السلام كساه الريش والبسه النور وقطعه عن شهوات المطعم والمشرب وطار مع الملئكة فهو معهم حول العرش فكان انسيا ملكيا سماويا ارضيا. قال وهب بن منبه بعث عيسى على رأس ثلثين سنة ورفعه الله وهو ابن ثلث وثلاثين سنة وكانت نبوة ثلاث سنين فان قيل لم يرد الله تعالى عيسى الى الدنيا بعد رفعه الى السماء قيل اخر رده ليكون علما للساعة وخاتما للولاية العامة لا نه ليس بعده ولي يختم الله به الدورة المحمديه تشريفا لها بختم نبي مرسل يكون على شريعة محمدية يؤمن بها اليهود والنصارى ويجدد الله به عهد النبوة على الامة ويخدمه المهدى واصحاب الكهف ويتزوج ويولد له ويكون فى امة محمد عليه السلام وخاتم اولياء ووارثيه من جهة الولاية واجمع السيوطى فى تفسير الدر المنثور فى سورة الكهف عن ابن شاهين اربعة من الانبياء احياء اثنان فى السماء عيسى وادريس عليهما السلام اثنان فى الارض الخضر والياس فاما
الخضر فانه في البحر واما صاحبه فانه في البر، واعلم ان الارواح المهيمة التي من العقل الاول كلها صف واحد حصل من الله ليس بعضها بواسطة بعض وان كانت الصفوف الباقية من الارواح بواسطة العقل الاول كما اشار عليه انا ابو الارواح وانا من نور الله والمؤمنون فیض نوری فاقرب الارواح فى الصف الاول الى الروح الاول والعقل الاول روح عيسوى لهذا السر شاركه بالمعراج الجسماني الى السماء وقرب عهده بعهده فالروح العيسوى مظهر الاسم الاعظم وفائض من الحضرة الالهية في مقام الجمع بواسطة اسم من الاسماء وروح من الارواح فهو مظهر الاسم الجامع الا الهى وراثة اولية ونبينا عليه السلام اصالة كذافى شرح الفصوص ، روح البيان ج اول ص ٥١٤ ( وان من اهل الكتاب الا ليؤمنن به قبل موته ) این هر دو ضمير برائے عيسى عليه السلام اندوالمعنى وما من اهل الكتاب الموجودين عند نزول عيسى عليه السلام من السماء احد الا ليؤمنن به قبل موته، وفي الحديث ان المسيح جائ فمن لقيه فليقرئه منى السلام، (تكلم الناس في المهد وكهلا ) مراد بتکلم دركهل اینست که کلام خواهد کرد در آخر زمان بعد نازل شدن او از آسمان قبل زمانه كهولت“
”در مذهب مالكيه حنفيه شافعيه وغيره جميع مذاهب حقه مشهور بلکه متواترست که حضرت عیسى علیه السلام بهمین جسم عنصری ای خاکی بر آسمان رفته اند و قبل از قیامت بهمین جسم از آسمان فرودآیند وکارهائ که بایشان متعلق باشند خواهند کرد از مذهب شافعیه نیز عبارت يك كتاب فقط برائے نمونه حاضر میکنم در نهاية الامل لمن رغب في صحة العقيدة والعمل للشيخ محمد ابی خضیر الدمیاطی ص ١٠٨ (نوشته دجال يك شخص ست از بني آدم کوتاه قد وهورجل قصير كهل براق الثنايا عريض الصدر مطموس العين ، واکنون موجودست نام او صاف بن صياد وكنيت آن ابویوسف ست وگفته شدکه نام اوعبدالله است و آن از قوم یهودست یهودیان انتظار اومیكنند چنان که مسلمانان انتظار امام مهدی میکنند خارج باشددر آخر زمانه بندگان راپروردگار مبتلا خواهد کرد
که زمین و آسمان وهمه چیز در اذن وقدرت او کرده شود وطعام وآب ومیوه وزروسیم وهر اسباب آرام در دست او باشد (در آن وقت معاش اهل اسلام تسبیح وتهلیل وتقدیس پروردگار قوت روحانی باشد) ومردگان بادجال کلام کنند هر قسم فتنه وفساد در زمانه او برپاشود کسی که سعادتمند ازلی ست ازو دور ماند وشقی ازلی تابع اوباشد و او خارج خواهد شد از جانب مشرق از قریه سرابادین یا از عوازن یا از اصبهان یا از مدینۀ خراسان وابوبکر صدیق فرموده در میان عراق وخراسان و آن اکنون موجود ست ومحبوس ست در دیر عظیم زیر زمین بهفتاد هزار زنجیر مقیدست وبراو مردی زور آور عظیم قد مقرر ست در دست گرز آهن گرفته است وقتیکه دجال ارادۀ حرکت کند آن مرد عظیم البدن آنرا بآں گرز آهنی میزند پس قرار می کند وپیش دجال يك اژدهای عظیم ست وقتیکه دجال نفس میگیرد اژدهای عظیم ارادۀ خوردن او می کند پس بوجه خوف آں مار عظیم دم زدن هم نتواند وقتیکه دجال خواجه خضر علیه السلام را قتل کرده دو قطعه بکند در میان هر دو قطعه برخر خود سوار شده بگذر دوباره زنده کند وپرسد که مرا خدا میگوئی یانه خواجه خضر علیه السلام انکار فرماید همچنیں سه بار قتل کرده زنده گرداند (بعده برقتل اوقدرت نیابد) همه بلاد و امصار در حکومت آرد مگر مکه معظمه ومدینه منوره وبیت المقدس وکوه طور، وقتیکه باری تعالیٰ ارادۀ هلاک آں دجال وهلاک تابعین دجال کند ناگاه فرود آید از آسمان حضرت عیسیٰ ابن مریم علیهما السلام (از مناره مسجد دمشق بوقت عصر ونماز خواند همراه امام مهدی در روایتی امام مهدی امام شود و در دیگر روایت آمده که عیسیٰ علیه السلام امام باشد بعد از ادائ نماز برای قتل دجال برود برخر خود سوار شده یا بربراق نبوی ﷺ که درمعراج آمده بود یا بر اسپ که بقد مثل استر (خچر) باشد و به نیزه دجال را قتل کند وخون او مردماں را نماید وهمه یهود از رسیدن بادنفس عیسیٰ علیه السلام مثل گداختن قلعی گداخته شوند وباد دم عیسیٰ علیه السلام تا بدوازده کروه خواهد رفت هر
کافر راکہ رسد آب خواہد شد) روایت ست کہ ہر کافر کہ درپس سنگ و درخت پوشیدہ شود آن سنگ و درخت آواز کند کہ ای مؤمن قتل کن یہودی را اینک زیر من مستتر و پوشیدہ است بعد ہلاک دجال عیسیٰ علیہ السلام حکم کند برزمین و نکاح کند و حج بیت اللہ کند و ہرقسم غلہ و درختان از زمین رویند و بسیار برکت باشد تا چہل سال و این مدت مقام عیسیٰ علیہ السلام برزمین باشد و حضرت عبداللہ بن عمر روایت کردہ از حضرت پیغمبر علیہ السلام کہ حضرت عیسیٰ بعد فرو آمدن از آسمان چہل و پنج سال برزمین ہدایت و حکومت کند باز بمیرد و دفن شود بقرب قبر من و من و عیسیٰ علیہ السلام از یک قبرستان برخیزیم از درمیان ابوبکر و نکاح کند بزنی از عرب و دختر آن پیدا شدہ وفات یابد و بعض گفتہ اند کہ دو پسران او پیدا شوند نام یکی محمد و نام دیگری موسیٰ و بعد وفات عیسیٰ علیہ السلام مردمان برکفر رجوع کنند و ضلال و کفر طغیان از حد درگذرد تابہ این کہ آفتاب طلوع کند برایشان از مغرب پس توبۂ کسی مقبول نخواهد شد و ہو معنی قولہ تعالیٰ عزوجل یوم یاتی بعض آیت ربک لا ینفع نفسا ایمانہا الایہ انتہیٰ علی شرح الخطیب ببعض تصرف انتہی ما فی نہایۃ الامل بزیادۃ منی بین القوسین ملتقطا من کتب اُخریٰ. اینہمہ روایات و صدہا روایات کہ در دیگر کتب مذکور اند ہمہ باعلی ندا منادی اند کہ عیسیٰ علیہ السلام شخص خاص کہ مشہورست بر آسمان بہمین جسم رفتہ و بہمان جسم از آسمان نزول فرماید برزمین و برانیکہ مہدی نیز شخصی معین ست کہ از اولاد رسول اللہ ﷺ باشد بقرب قیامت پیدا باشد و وزارت کند پیش عیسیٰ علیہ السلام و روحانیت حضرت علی کرم اللہ تعالیٰ وجہہ از وزرای مہدیٰ خواهد شد در تفسیر روح البیان جلد چہارم ص ٢٥٢ فرمودہ. نعم ان روحانیۃ علیّ من وزراء المہدیٰ فی آخرالزمان لان الارواح تعین الارواح والاجسام فی کل زمان. در حاشیہ طحطاوی کہ بر در مختار ست فرمودہ کہ امام مہدی قیاس را خواهد دانست برائ پرہیز کردن ازو نہ برائے حکم کردن بر قیاس پس
در هر حکم يك فرشته آنرا از جانب رب العلمین تعلیم خواهد داد و مطابق آن تعلیم حکم خواهد کرد آنچنان که اگر رسول الله ﷺ زنده در دنیا بودے همچناں حکم کردے۔ یعنی خاص یقیناً شرع محمدی بیان خواهد کردد قیاس کردن برو حرام باشد باوجود آمدن نصوص از پروردگار۔ پس مهدی متبع باشند نه مشرع درباره او رسول الله ﷺ فرموده یقفو اثری ولا یخطئ . فعلى هذا المهدى ليس بمجتهد اذا المجتهد يحكم بالقياس وهو يحرم عليه الحكم بالقياس ولان المجتهد يخطئ ويصيب والمهدى لا يخطئ قط فانه معصوم فى احكام لشهادة النبى ﷺ وهو مبنى على عدم جواز الاجتهاد فى حق الانبياء عليهم السلام وهو التحقيق انتهی . پس هر کسے داند که ایں صفات در مرزا قادیانی کجا بلکه بوئ ایں صفات بدماغ او هم نرسیده و دجال نیز علم شخصی است و انکار ایں محض جنوں یا جهل یا ضلال يا کفرست نه اینکه مراد از دجال کفاراند و مراد از مهدی وعیسیٰ علیه السلام مردیست که صفت مهدویت و عیسویت درو باشد یا روح هر دو دراں حلول کرده باشد چنانکه قادیانی خود را مصداق ایں می ساخت وافعال واقوال وعقائد قادیانی خود شاهد عدل اند براینکه صادق امام مهدی بودن برکنار باد امام مهدی نیز براو نگذشته غرض که همه اهل اسلام از شرقاً غرباً برهمیں ایمان آورده اند که ضرور مهدی وعیسیٰ علیه السلام ظاهر باشند قبل از قیامت و کسی که همه اُمت مرحومه محمدیه و دیگر اُمم سابقه را بر ضلال داند او خود ضال مضل ست “
”روبه از حیله چساں بگسلد ایں سلسله را .
والله تعالى يهدی من يشاء الى صراط مستقيم . العبد المفتقر الى الفيض السبحانى غلام ربانى الحنفی مذهباً والچشتى مشرباً الفنجابی ثم الجهاجهی ثم الشمس آبادی مسقطاً و مسكناً كان الله له ولوالديه ولمشايخه ولاساتذته ولا قربائه ولاحبائه ولجميع المؤمنين الى يوم الدين بجاه حبيبه الامين وصحبه المكرمين الميامين عند اهل السماوات والارضين آمين “
ین تعلیم خواهد داد و مطابق رسول اللہ ﷺ زنده در دنیا ناً شرع محمدی بیان خواهد ن نصوص از پروردگار، پس لہ ﷺ فرموده يقف أثرى ولا المجتهد يحكم بالقياس وهو ی ويصيب والمهدى لا يخطی للہ وهو مبنى على عدم جواز لتحقيق انتهی ، پس هر کسے بوئے ایں صفات بدماغ اوهم رایں محض جنون یا جهل یا داراند و مراد از مهدی و عیسیٰ و عیسویت درو باشد یا روح دیانی خود را مصداق ایں می شاهد عدل اند براینکه صادق و نگذشته غرض که همه اهل که ضرور مهدیؑ و عیسیٰ علیه مه امت مرحومه محمدیه و دیگر ت“
سلسلہ اند
سلسله را، والله تعالیٰ یهدی قر الی الفیض السبحانی غلام جابی ثم الجهاجهی ثم الشمس يه ولمشايخه ولاساتذته ولا يوم الدين بجاه حبيبه الامين والارضين آمين“
خَاتَمَ النَّبِيِّينَ لَا نَبِيَّ بَعْدِيْ
سمی بآخره من اسمائهم كقولنا
جواب حقانی
در رد بنگالی قادیانی
(حضرت مولانا قاضی غلام گیلانیؒ)
بسم الله الرحمن الرحيم! الحمد لله حمد الشاكرين كحمد اهل السموات والارضين من الجنة والناس اجمعين والصلوة والسلام على رسوله محمد وآله واصحابه اجمعين . اللهم اغفرلنا ولوالدينا ولاستاذينا ولاحبائنا ولاساتذتنا ولتلامذنا ولاقاربنا ولمن له حق علينا ولجميع المؤمنين والمومنات والمسلمين والمسلمات . الاحياء منهم والاموات انك سميع قريب مجيب الدعوات يا خالق الارضين والسموات آمين ثم آمين ثم آمين الى يوم الدين بجاه سيد المرسلين . اما بعد!
بخدمت اہل اسلام عموماً، واہل بنگال ضلع پبترہ مقام برہمن بڑیہ خصوصاً، عرض ہے کہ ملک پنجاب موضع قادیان ضلع گورداسپور میں مسمی غلام احمد پیشہ کاشت کاری قوم مغل نے پہلے بزرگی کا دعویٰ کیا۔ رفتہ رفتہ مہدی مطلق ہوا۔ بعد کو یہ کہا کہ میں وہ مہدی موعود ہوں جس کا تم لوگ انتظار کر رہے ہو اور حضرت عیسیٰ بن مریم مرگیا۔ اب وہ دنیا میں نہ آئے گا۔ بلکہ اس کی روح میرے اندر آگئی ہے۔ غرض کہ کبھی کچھ بکا اور کبھی کچھ۔ جیسا موقع اور لوگ دیکھے بکتا رہا اور اپنی زبان اور تحریر میں ایسے کفریات بکتا رہا کہ شیطان پر بھی سبقت لے گیا۔ عیسیٰ علیہ السلام کو گالیاں دیں۔ حضرت مریم علیہا السلام وغیرہ پروردگار کے محبوبوں کو گالیاں دیں۔ عجب یہ کہ جس کا مثیل بننا چاہتا ہے۔ اس میں طرح طرح کے ناشائستہ گناہ کے کام اپنے گمراہ اعتقاد کے موافق ثابت کرتا ہے۔ علماء نے ہر طرف سے سمجھایا بجھایا۔ مگر وہ باز نہ آیا۔ آخرالامر علماء ربانیین نے مجبوراً ایسے الفاظوں پر کفر کا حکم دیا۔ خود تو وہ مر گیا مگر بعض جگہ اس کے تعلیم یافتہ گمراہ بے دین خلیفے اور چیلے رہ گئے ہیں جو کہ مسلمانوں کو کافر کرنا چاہتے ہیں اور دن رات رسول اللہ ﷺ کے دین متین کے خراب کرنے کے درپے ہیں۔ مگر الحمد للہ کہ نتیجہ برعکس ہوتا جاتا ہے۔ چنانچہ اہل اسلام کے علماء کے وعظ نصیحت کی تاثیر سے صد ہا قادیانی مسلمان ہوگئے، اور اب بھی ہمیشہ توبہ کر کے مسلمان ہوتے جاتے ہیں اور قادیانی چونکہ اپنے دعویٰ کو ثابت نہیں کر سکتے اور قیامت تک بھی ثابت نہ کرسکیں گے۔ کیونکہ باطل چیز کا ثبوت ہی کیا ہوگا۔ لہٰذا علماء نے ان کو لاجواب جان کر ان سے خطاب وعتاب ترک کر دیا تھا۔
٢
لیکن ملک بنگالہ ضلع تپرہ مقام برہمن باڑیہ میں ایک ملا عبدالواحد نامی مسجد کا خطیب قدرے اردو فارسی لکھا پڑھا ہوا۔ نصیب کی شامتوں سے قادیانی ہوکر دائرہ اسلام سے خارج ہوکر مسلمانوں کو گمراہ کرنے کے لئے آمادہ ہوا اور مرزا غلام احمد قادیانی کو نبی کہنے لگا اور جن باتوں کے سبب سے اس پر علماء نے کفر کا حکم دیا تھا۔ انہی باتوں کو برحق کہنے لگا اور اسی اپنے پیغمبر کی کتابوں سے چند باتیں پرانی نکال کر ایک رسالہ بنایا اور اس کا نام ہدیۃ المہدی رکھا۔
اس رسالہ کا نام ضلالۃ المہدی ہونا چاہئے اور جاہل نے اتنا نہ سوچا کہ ان باتوں کا جواب دنداں شکن بارہا دیا گیا ہے۔ جس کے سبب سے قادیانی بحر خموشی اور چاہ مرگ میں غرق ہوچکے ہیں۔ مگر برہمن باڑیہ اور اطراف کے بعض جاہل بے وقوف لوگوں کو گمراہ کرنے کے لئے بظاہر ایک صورت نکالی کہ کتاب کا نام سن کر عوام الناس دام فریب میں آئیں گے اور اہل اسلام کے علماء اس کی کتاب کو قابل جواب نہ سمجھ کر اپنے دین و اسلام کی اشاعت میں سرگرم رہتے ہیں۔ اس طرف قادیانیوں کو بے علم لوگوں کے ورغلانے کا خوب موقع ہاتھ آیا۔ گاؤں بہ گاؤں بکتے ہیں کہ اگر اس رسالے کی باتوں کا کوئی جواب ہوتا تو مسلمان علماء جواب کیوں نہ دیتے۔ معلوم ہوا کہ قادیانیوں کا اعتقاد حق ہے اور کل روئے زمین کے مسلمانوں کا اعتقاد باطل چونکہ اس میں بعض سیدھے سادے مسلمانوں کے گمراہ ہو جانے کا احتمال ہے۔ لہٰذا میں نے اس ملا عبدالواحد خطیب کے رسالہ کی بعض موٹی موٹی غلطیوں کا رد لکھا تا کہ پروردگار اپنا فضل کرے تو لوگ اس کے مکر کے دام میں نہ آئیں اور وہ ملا خود اور اس کے ہم مذہب لوگ اگر بغور اس کتاب کو اور میری دوسری کتاب کو جس کا نام ”تیغ غلام جیلانی برگردن قادیانی“ ہے مطالعہ کریں اور کسی مسلمان عالم دین سمجھدار سے پڑھیں تو امید ہے کہ اپنے کفری اعتقاد سے توبہ کریں اور کم از کم اتنا تو ہو کہ اپنی بے علمی اور جہالت پر خبردار ہوویں۔
بلفظ ”قولہ“ کے بعد عبدالواحد برہمن باڑیہ کے خطیب کی عبارت ہے اور لفظ الجواب کے بعد اس فقیر کا جواب ہوگا۔
قولہ ...... ایک لاکھ چوبیس ہزار پیغمبر دنیا میں آئے۔
الجواب ...... انبیاء علیہم السلام کی تعداد میں مشہور ہے کہ روایات مختلفہ وارد ہیں۔ ایک روایت میں ایک لاکھ چوبیس ہزار، دوسری روایت میں دو لاکھ چوبیس ہزار، تیسری روایت میں بائیس لاکھ رواہ کعب الاحبار، چوتھی روایت میں دس لاکھ چوبیس ہزار ہیں۔ رواہ مقاتلؒ ۔ پس
٣
درست بات یہی ہے کہ کوئی تعداد مقرر نہ کرنی چاہئے۔ بلکہ پروردگار کے علم پر سپرد کرے اور کہے کہ سب انبیاء پر میرا ایمان ہے جس قدر بھی ہوں۔ کیونکہ اگر خاص ایک عدد اور ایک مقدار کو لے لیا تو یہ خرابی لازم آئے گی کہ کسی غیر نبی کو نبی کہنا ہوگا۔ یا نبی کو غیر نبی کہنا ہوگا۔ واقعی مقدار سے اگر تھوڑے کہے تو بعض انبیاء کو نہ مانا اور اگر واقعی عدد سے زائد کہہ دیئے تو جو نبی نہ تھے ان کو نبی کہا اور یہ دونوں باتیں کہ نبی کو غیر نبی کہے یا غیر نبی کو نبی کہے۔ کفر کی ہیں۔ ”بناء علی ان اسم العدد اسم خاص فی مدلولہ لا یحتمل الزیادۃ والنقصان“
(دیکھو شرح عقائد نسفی وغیرہ )
مگر مرزائیوں کے لئے یہ دونوں باتیں سہل معلوم ہوتی ہیں کہ اگر کسی موقع میں کسی نبی اللہ کو درجہ نبوت سے نکال کر عدد کو درست کرنا ہوا تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو مثلاً طرح طرح کے طعن کذب اور زنا اور مکاری و دغابازی و شراب خواری کے اس میں ثابت کر کے نکال دیں گے اور کسی غیر نبی کو نبی بنانا ہو اور پورا کرنے کی خاص عدد کے، تو مرزا غلام احمد قادیانی یا اس کے کسی خلیفہ کو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا مثل کر کے پیغمبر کر دیں گے اور قرآن شریف کی آیات اس کے حق میں فوراً نازل کر لیں گے اور جو نہ مانے اس کو کافر اور مردود اور مرتد کہہ دیں گے۔ کیونکہ مرزا خود اپنی کتاب ( توضیح المرام ص ١٨، خزائن ج ٣ ص ٦٠) میں لکھتا ہے کہ باب نبوت کا من کل الوجوہ مسدود نہیں اور نہ ہر ایک طور سے وحی پر مہر لگائی گئی ہے۔“ ( تیغ غلام گیلانی ص ٢٦) ”نعوذ باللہ من ذلک القول کالبول“
قولہ ...... اور کتب آسمانی بھی بہت نازل ہوئیں کہ سب سے اکمل قرآن کریم ہے۔
الجواب ...... ارے ملا جی کیا کہتے ہو۔ تم تو اپنے پیغمبر قادیانی سے مخالف ہو گئے اور تمہارے نزدیک قادیانی کا مخالف اسلام سے خارج ہے۔ تم قرآن کریم کو اکمل کہتے ہو۔ تمہارا نبی تو اپنی کتاب ( ازالۃ اوہام ص ٢٥، خزائن ج ٣ ص ١١٥) میں لکھتا ہے کہ قرآن شریف میں گندی گالیاں بھری ہیں اور قرآن شریف سخت زبانی کے طریق کو استعمال کر رہا ہے۔ قرآن شریف کے معجزات مسمریزم اور شعبدے ہیں اور اسی (ازالۃ اوہام ص ٧٥٣، خزائن ج ٣ ص ٥٠٦) میں ہی حضرت ابراہیم علیہ السلام کا چار پرندوں کے معجزے کا ذکر جو قرآن شریف میں ہے۔ وہ بھی ان کا مسمریزم کا عمل تھا تو پھر قرآن شریف تو انقص بلکہ اس سے بھی زیادہ نکما ہوا۔ معاذ اللہ! دیکھو تیغ غلام گیلانی کہ قادیانی نے کیسے کیسے اعتراض اور نقصان قرآن شریف میں نکالے ہیں۔
معلوم ہوتا ہے کہ لفظ اکمل کا مقابل انقص ہے۔ یعنی سوائے قرآن کریم کے سب آسمانی کتابیں انقص ہیں۔ مرزا نے اپنی کتاب ( دافع البلاء ٹائٹل پیج ص ٤، خزائن ج ١٨ ص ٢١٩) میں لکھا
٤
ہے ۔ ”عیسیٰ کوئی کامل شریعت نہ لایا تھا ۔“ اور ظاہر ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر شریعت کی کتاب انجیل تھی ۔ یعنی انجیل کامل نہ تھی ۔ بلکہ ناقص تھی اور فقہ کا یہ مسئلہ ہے کہ جو کوئی پروردگار کی شریعت کو ناتمام اور ناقص کہے گا۔ وہ کافر ہے ۔ اگر ملا جی کا یہ اعتقاد ہے جو کہ اس کے پیغمبر کا ہے تو یہ تو صاف کفر ہے اور اگر وہ کتب آسمانی اور انبیاء علیہم السلام کی شریعتوں کو کامل اور اکمل جانتا ہے۔ تو اس کے نزدیک پھر بھی کفر ہے ۔ کیونکہ وہ اپنے نبی قادیانی سے مرتد ہوا۔
بلائے صحبت لیلیٰ وفرقت لیلیٰ
قولہ ...... کیونکہ موعود کے صفات من قبیل پیشین گوئیوں کے ہیں اور پیشین گوئیوں کی حقیقت قبل وقوع کے کھل جانا ضروری نہیں ہے۔ اکثر وقت وقوع کے ان کی حقیقت کھلتی ہے۔
الجواب ...... جو مہدی موعود ہوگا۔ اس میں وہ ساری نشانیاں جو صحیح طور پر وارد ہیں۔ ضرور پائی جائیں گی اور مرزا کی زندگانی میں تو خود وقت پیشین گوئیوں کے وقوع کا تھا۔ کیونکہ واقع نہ ہوئیں ۔ یقیناً معلوم ہوا کہ مرزا ہرگز ہرگز سچا مہدی موعود نہ تھا۔ بلکہ کذاب مکار مہدیوں میں سے ایک مہدی تھا کہ اتنی عمر دراز میں دعویٰ مہدویت کا کیا اور اقوال وافعال اس کے اکثر شرع شریف کے برخلاف تھے۔
قولہ ص ٤...... ہر ایک کو ایک مدت معینہ عمر انسانی پا کر ضرور پیالہ موت کا نوش جان کرنا ہے۔ اگر کسی فرد بشر کو یہ مرتبہ حاصل ہو سکتا کہ زمین میں کیا بلکہ آسمان پر جا کر برخلاف دوسرے افراد بشر کے ہزاروں برس زندہ رہ سکے ۔ تب ضرور رسول اللہ ﷺ کو یہ مرتبہ حاصل ہوتا۔
الجواب ...... اس عبارت سے قادیانی ملا کو کوئی فائدہ نہیں۔ ہم خود سب مسلمان لوگ مدت معینہ عمر انسانی پر موت کے قائل ہیں۔ نہ ایک ساعت آگے ہوگی نہ ایک ساعت پیچھے ہوگی ۔ قرآن شریف میں خود موجود ہے۔ ”اذا جاء اجلهم لا يستأخرون ساعة ولا یستقدمون“ مگر یہ تو تصریح کے ساتھ کسی آیت یا حدیث میں مذکور نہیں کہ زید کی عمر بیس برس اور بکر کی تیس برس اور خالد کی سو برس کی ہوگی ۔ باقی یہ امر کہ جس کا مرتبہ زیادہ ہو۔ جیسے کہ محمد ﷺ اس کی عمر بھی زیادہ ہونی چاہئے ۔ یہ کوئی شرع کی بات نہیں ۔ البتہ قادیانیوں کی نئی شریعت میں ہوگی ۔ دیکھو خیال کرو کہ قرآن پاک میں خبر ہے کہ اصحاب کہف جو کہ تین آدمی مع ایک کتے کے یا چار آدمی مع ایک کتے کے یا اس سے زیادہ ہیں۔ ٣٠٩ برس تک غار میں سوئے اور یہ خبر آنے سے
٥
اب اس وقت تک اور تیرہ سو چھتیس برس گزر چکے ہیں۔ مجموعہ سولہ سو پینتالیس برس ہو گئے اور حضرت نوح علیہ السلام کی عمر ایک ہزار چار سو برس تھی۔ حضرت آدم علیہ السلام کی عمر ٩٣٠ (نوسو تیس) سال تھی اور حضرت شیث علیہ السلام کی عمر ٩١٢ سال اور حضرت ادریس علیہ السلام کی عمر ٣٦٥ (تین سو پینسٹھ) برس کی ہوئی تو آسمان چہارم پر اٹھائے گئے اور حضرت ابراہیم علیہ السلام کی عمر ٢٢٣ برس اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کی عمر ١٢٠ برس کی تھی۔ کیا اس بات سے ان کا مرتبہ زائد اور حضرت ﷺ کا کم ہو جائے گا؟ نہیں ہرگز نہیں۔ بلکہ جمیع انبیاء علیہم السلام کو جو کچھ عطا ہوا۔ وہ بذریعہ سرور عالم ﷺ کے ہوا۔ ان کے کمالات اور مراتب سب کے سب ظلی اور طفیلی تھے۔ پس اگر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو اس قدر دراز حیات واسطے ارشاد اور ہدایت دین محمدی ﷺ کے عطاء ہوئی تو اس میں حضرت ﷺ کا شان اور بھی اعلیٰ ہو جاتا ہے۔ کما لا یخفی، بلکہ بعض کافروں کو بھی پروردگار نے دراز عمر دی ہے۔ (شریعۃ الاسلام ص ٥٤٨) میں ہے کہ صمصام بن عوج بن عنق کی عمر ایک ہزار سات سو برس کی تھی۔ یاجوج ماجوج کے ہر ایک فرد بشر کی اتنی عمر ہوتی کہ ہر ایک کی ہزار اولاد ہوتی ہے۔ جب مرنا شروع ہوتا ہے۔
(تتمہ ص ١٣٠)
مرزا غلام احمد قادیانی نے اپنی کتاب (ایام الصلح ص ١٤١، خزائن ج ١٤ ص ٣٨٦) میں علمائے اہل اسلام پر یہ سوال کیا ہے کہ آیت ”ومن نعمره ننکسه فی الخلق“ دال ہے۔ وفات عیسیٰ علیہ السلام پر، کیونکہ حسب مفاد اس آیت کے جو شخص اسی یا نوے سال کو پہنچتا ہے۔ اس کو نکوس اور واژگونی بہ نسبت پہلی حیاتی کے پیدا ہو جاتی ہے تو کیا حال ہوگا۔ اس شخص کا (یعنی عیسیٰ علیہ السلام کا) جو دو ہزار سال تک زندہ ہے پس میرے جواب سے اس سوال کا جواب بھی ہو گیا۔ مرزا کی جہالت کہ اسی نوے برس کی عمر کو اس آیت قرآنی کا مفاد سمجھ رہا ہے۔ افسوس جہالت بھی لاعلاج بیماری ہے۔
قولہ...... وفات عیسیٰ علیہ السلام کی قرآن کریم سے ایسی ثابت ہے کہ کسی دوسرے پیغمبر کی وفات ایسی ثابت نہیں۔ چنانچہ حضرت مسیح موعود مہدی آخر الزمان (مرزا قادیانی) نے تیس آیتوں سے وفات عیسوی پر استدلال فرمایا ہے اور دوسرے علماء سلسلۂ حقہ احمدیہ نے تو پچاس ساٹھ آیت تک پیش کئے ہیں اور ان میں ایسی آیات بھی موجود ہیں جن میں خاص لفظ توفی کے مشتقات جن میں صریح وفات کا مادہ واقع ہے۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی نسبت وارد ہوئی ہیں اور عیسیٰ علیہ السلام کی حیات کا مفید مطلقاً ایک لفظ بھی قرآن پاک میں نہیں ہے۔ چہ جائیکہ مادہ حیات پر کوئی لفظ کوئی شخص دکھا سکے۔
٦
الجواب....... ”لعنة الله آیات سے قادیانی موت کی دلیل لاتا۔ ہے۔ جمیع احادیث شہادت حیات کی د اسلام بلکہ مخالف فرقوں کا بھی یہی اعتقا اب تک زندہ ہیں۔ قرآن کریم کی ایک مگر جب کہ کسی کو حیا نہ ہو تو جو چاہے سو۔ فقط قادیانیوں کو معلوم تھیں اور حضرت رس وائمہ کبار و علمائے اخیار کو معلوم تھیں جو ائمہ کریم میں اتنی آیات سے موت عیسیٰ علی اور تابعین و تبع تابعین وغیرہ جمیع مذاہب رہنے اور اترنے اور دجال کو قتل کرنے رسول اللہ ﷺ اور ان سب علماء نے قر ہیں۔ پس مرزائی لوگوں کا ایمان تو ایسی میں ہے کہ صحابہ کرامؓ میں آیتوں کو جب آیات کے معنی اور ان پر عمل کا طریقہ بھی منا اذا تعلم عشرايات لم يج عبدالرحمن السلم حدثنا ا النبی ﷺ وكانوا اذا تعلموا العمل فتعلمنا القرآن والعمل ، خود معلوم ہے کہ صحابی کی تفسیر غیر کی تفسیر الكتاب الا ليؤمنن به قبل موتہ ثابت کر رہی ہے۔ ”ولکن التعم مرزائیوں کی سند لانی باطل ہے۔ کیونک قبض کرنا بھی ہے اور قبض موت سے بھی کا قول جو کہ موت کا نقل کیا ہے۔ اسی
الجواب ...... ”لعنۃ اللہ علی الکذبین“ بالکل دروغ بے فروغ ہے۔ جس قدر آیات سے قادیانی موت کی دلیل لاتا ہے۔ انہی آیات سے حیات عیسیٰ علیہ السلام کی ثابت ہوتی ہے۔ جمیع احادیث شہادت حیات کی دے رہی ہیں۔ ہر چہار اماموں کا مذہب بلکہ جمہور اہل اسلام بلکہ مخالف فرقوں کا بھی یہی اعتقاد ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام آسمانوں میں زندہ گئے اور اب تک زندہ ہیں۔ قرآن کریم کی ایک آیت سے بھی عیسیٰ علیہ السلام کی موت کا ثبوت نہیں ملتا۔ مگر جب کہ کسی کو حیا نہ ہو تو جو چاہے سو کہے۔ ”اذا لم تستحی فافعل ما تشاء“ وہ تیس آیتیں فقط قادیانیوں کو معلوم تھیں اور حضرت رسول اللہ ﷺ کو معلوم نہیں تھیں اور نہ بعد کے صحابہ و تابعین وائمہ کبار و علمائے اخیار کو معلوم تھیں جو انہوں نے قرآن شریف کے مخالف اعتقاد رکھا۔ اگر قرآن کریم میں اتنی آیات سے موت عیسیٰ علیہ السلام کی ثابت ہوتی ہے تو حضرت محمد ﷺ اور صحابہ کبار اور تابعین و تبع تابعین وغیرہ جمیع مذاہب اسلام سے عیسیٰ علیہ السلام کے آسمان پر جانے اور وہاں رہنے اور اترنے اور دجال کو قتل کرنے کی صحیح حدیثیں اور اقوال کیسے وارد ہوتے۔ معلوم ہوا کہ رسول اللہ ﷺ اور ان سب علماء نے قرآن کریم کے مطلب کو نہیں سمجھا اور معاذ اللہ یہ سب غلط ہیں۔ پس مرزائی لوگوں کا ایمان تو ایسی ہی باتوں سے اڑا ہوا ہے۔ صحیح بخاری وغیرہ کتب احادیث میں ہے کہ صحابہ کرام دس آیتوں کو جب پڑھتے تو آگے نہیں گزرتے تھے۔ جب تک کہ ان دس آیات کے معنی اور ان پر عمل کا طریقہ نہیں سیکھ لیتے تھے۔ ”عن ابن مسعودؓ قال کان الرجل منا اذا تعلم عشر آیات لم یجاوزہن حتیٰ یعرف معانیہن والعمل بہن ، وقال عبدالرحمن السلمی حدثنا الذین کانوا یقرؤننا انہم کانوا یستقرؤن من النبی ﷺ وکانوا اذا تعلموا عشر آیات لم یخلفوہا حتیٰ یعملوا بما فیہا من العمل فتعلمنا القرآن والعمل جمیعا“ غرض کہ سب صحابہؓ سے حیات عیسوی مذکور ہے اور خود معلوم ہے کہ صحابی کی تفسیر غیر کی تفسیر پر مقدم ہے۔ دیکھو اللہ تعالیٰ کا قول ”وان من اہل الکتاب الا لیؤمنن بہ قبل موتہ“ یہ آیت صاف طور پر حیات عیسوی کو مثل دیگر آیات کے ثابت کر رہی ہے۔ ”ولکن التعصب اذا تملک اہلک“ اور لفظ متوفی کے مشتقات سے مرزائیوں کی سند لانی باطل ہے۔ کیونکہ یہ مادہ موت کے معنی میں خاص نہیں۔ کیونکہ توفی کا معنی قبض کرنا بھی ہے اور قبض موت سے بھی ہوتا ہے اور صعود سے بھی، جلالین کے حاشیہ میں ابن حزم کا قول جو کہ موت کا نقل کیا ہے۔ اسی حاشیہ میں دوسرا معنی بھی موجود ہے اور موت کا قول ضعیف
٧
لکھا ہے۔ سو وہ بھی وہ موت ہے جو کہ قبل چلے جانے عیسیٰ علیہ السلام کے آسمان پر بعض علماء کا اعتقاد ہے۔ ظاہر لفظ توفی کو دیکھ کر وہ عبارت یہ ہے۔ ”التوفى هو القبض يقال وفانى فلان درهمى واوفانى وتوفيتها منه غير ان القبض يكون بالموت وبالاصعاد ، فقوله ورافعك الى من الدنيا من غير موت تبيين للمراد وفى البخارى قال ابن عباس متوفيك مميتك اى مميتك فى وقتك بعد النزول من السماء ورافعك الان قال شيخ الاسلام ابن حجر قد اختلفوا فى موت عيسى قبل رفعه فقيل على ظاهر الآية انه مات قبل رفعه ثم يموت ثانيا بعد النزول وقال متوفى نفسك بالنوم اذ روى انه رفع نائماً (کرمانی)“ دیکھو توفی کے مشتقات کا استعمال قرآن شریف میں غیر معنی موت میں ”ثم توفى كل نفس ما كسبت يوفون بالنذر“ اس میں بھی مادہ وفات کا موجود ہے۔ حالانکہ موت کا معنی نہیں لیا گیا۔ ”وانما يوفى الصابرون اجرهم بغير حساب“ دیکھو تیغ غلام جیلانی کو غور سے کہ کیسے حیات عیسیٰ علیہ السلام کی ثابت ہوتی ہے اور سب سے بڑا فیصلہ تو الحمد للہ کہ مرزا قادیانی نے خود کر دیا ہے کہ وہ خود ہی (براہین احمدیہ ص ٤٩٩، خزائن ج ١ ص ٥٩٣ حاشیہ) میں لکھتا ہے۔ ”هو الذى ارسل رسوله بالهدى ودين الحق ليظهره على الدين كله“ یہ آیت جسمانی اور سیاست ملکی کے طور پر حضرت مسیح کے حق میں پیش گوئی ہے اور جس غلبہ کاملہ دین اسلام کا وعدہ دیا گیا ہے وہ غلبہ مسیح کے ذریعہ سے ظہور میں آوے گا اور جب حضرت مسیح علیہ السلام دوبارہ اس دنیا میں تشریف لاویں گے تو ان کے ہاتھ سے دین اسلام جمیع آفاق اور اقطار میں پھیل جائے گا۔“ مرزا قادیانی کے سب امتی یہی پکار رہے ہیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام مر گئے اور اپنے نبی کا خیال نہیں کرتے کہ اس کا ایسا نکما حافظہ ہے کہ اگلی پچھلی بات اس کو یاد ہی نہیں رہتی۔ دیکھو اس عبارت بالا میں کیسا صاف امر حق کا اقرار کر لیا ہے۔ مرزائیوں کو ضرور اس پر ایمان لانا چاہئے۔ ورنہ راندہ درگاہ نبی اپنے کے ہوں گے اور کم از کم مرزا کو عیسیٰ علیہ السلام کی موت وحیات میں تردد تو ضرور ہی ہے۔ دیکھو رسالہ (تیغ ص ١٢٠، ١٢١) وغیرہ کو۔ بس جب کہ موت پر یقین اس کو نہ ہوا تو محض مبہوت اور پریشان ہی رہا۔ ”فبهت الذى كفر“
قولہ....... مخالف مولویوں میں سے بھی جس جس کو کسی قدر فہم و درایت سے حصہ ملا ہے۔ ہرگز عند المقابلہ اس مسئلہ میں بحث کرنا قبول نہیں کرتا۔
٨
الجواب....... كاذب لوگوں پر الـ بحث میں تمہارا پیغمبر حاضر ہی نہ ہوا اور امر تر فرار کر گیا کہ خواب کے اندر بھی ڈرتا رہا۔ خود تـ تم نے بحث مقرر کی اور مدت دراز تک لوگوں دیگر ملکوں کے مولوی لوگ جمع ہوئے اور یہـ جب تمہارے ساتھ بحث کرنے کے لئے یہـ بھی لرزاں و ہراساں ہو کر ایسے بھاگے کہ تمہـ سے ایسی ہوئیں کہ جس سے حاضرین مکان تمہاری استعداد نہیں۔ پھر اسی ناز پر بحث کا بـ
قولہ....... ”يَعِيسَىٰ إِنِّي مُتَـ
الجواب....... مفصل اگر دیکھ دیکھو۔ مختصر اب بھی لکھے دیتا ہوں کہ اس کـ والا ہوں اور بلند کرنے والا ہوں۔ تم کو طر موت دے کر اپنے پاس مکرم کروں گا اور متوفیک میں وعدہ وفات ہے کہ میں تم کو مار ہے۔ ماضی نہیں ہے اور حضرت ابن عباس متوفیک سے نہیں لیتے۔ ”كمـا هو مفـ فليطالع ثمه“ اور اگر ان کی رائے یہی پر وہ آیت میں تقدیم و تاخیر کا قول کرتے من طريق جويبر عن الضحاك ورافعك الىٰ“ یعنی رافعك ثم متوفـ ابن عباس) اور مـواضع تقدیم وتـ کرو۔ متوفیک کا لفظ کچھ اسی بات کی خوابـ عیسیٰ علیہ السلام کو وفات دے دیتا۔ بلکہ ا تو بھی متوفیک کے معنی صادق آتے ہیں۔ متوفيك الآن او بعد سنة وغيره
الجواب ...... کاذب لوگوں پر اللہ تعالیٰ کی لعنت ہے۔ ارے کاذب کج بحث خود تم لاہوری بحث میں تمہارا پیغمبر حاضر ہی نہ ہوا اور امرتسر سے مرزائیوں کو سخت شکست ہوئی اور تمہارا نبی ایسا فرار کر گیا کہ خواب کے اندر بھی ڈرتا رہا۔ خود تم ہی شرماؤ اور گریبان ندامت میں منہ ڈال کر سوچو کہ تم نے بحث مقرر کی اور مدت دراز تک لوگوں کو اپنا فخر اور شان دکھاتا رہا۔ آخرالامر براہمن بڑیہ و دیگر ملکوں کے مولوی لوگ جمع ہوئے اور یہ فقیر بھی گیا اور تم اپنی بیت الخلاء سے باہر ہی نہ نکلے۔ جب تمہارے ساتھ بحث کرنے کے لئے یہ فقیر دولت خاں وکیل کے مکان پر گیا تو تم وہاں سے بھی لرزاں و ہراساں ہو کر ایسے بھاگے کہ تمہارا پتہ نہ چلا اور معمولی عبارت خوانی میں چند غلطیاں تم سے ایسی ہوئیں کہ جس سے حاضرین مکان عام و خاص جان گئے کہ ابتدائی علوم صرف ونحو میں بھی تمہاری استعداد نہیں۔ پھر اسی ناز پر بحث کا نام لیتے ہو۔ واہ، واہ، واہ!
قول ...... ”یعیسیٰ انی متوفيك ورافعك الیٰ“
الجواب ...... مفصل اگر دیکھنا چاہتے ہو تو (تیغ غلام جیلانی ص ٦٩، ٧٠) وغیرہ میں دیکھو۔ مختصر اب بھی لکھے دیتا ہوں کہ اس کا معنی یہ ہے کہ: ”اے عیسیٰ تحقیق میں تم کو وفات دینے والا ہوں اور بلند کرنے والا ہوں ۔ تم کو طرف اپنی“ یعنی بعد نزول من السماء کے تم کو تیری طبعی موت دے کر اپنے پاس مکرم کروں گا اور قتل یہود سے جو ذلت کی موت ہے بچاؤں گا۔ پس متوفیک میں وعدہ وفات ہے کہ میں تم کو ماروں گا یہ تو نہیں کہ میں نے تم کو مار دیا۔ اسم فاعل کا صیغہ ہے۔ ماضی نہیں ہے اور حضرت ابن عباسؓ جن کی روایت پر تم کو بہت ناز ہے وہ ممیتک کا معنی متوفیک سے نہیں لیتے ۔ ”کما هو مذكور مفصلاً في كتابی تیغ غلام گیلانی فليطالع ثمه “ اور اگر ان کی رائے یہی مانی جائے کہ وہ متوفیک کا معنی ممیتک لیتے ہیں تو اس بناء پر وہ آیت میں تقدیم و تاخیر کا قول کرتے ہیں ۔ ”اخرج اسحق بن بشر وابن عساكر من طريق جويبر عن الضحاك عن ابن عباس في قوله تعالىٰ انی متوفيك ورافعك الیٰ “ یعنی رافعك ثم متوفيك في آخر الزمان (تفسير درمنثور وتفسير ابن عباس) اور مواضع تقديم وتاخیر کے قرآن شریف میں تیغ غلام جیلانی سے معائنہ کرو۔ متوفیک کا لفظ کچھ اسی بات کی خواہش نہیں کرتا کہ جس وقت متوفیک فرما گیا۔ اسی وقت میں عیسیٰ علیہ السلام کو وفات دے دیتا۔ بلکہ اگر بعد ہزار، دو ہزار، چار ہزار، دس ہزار، لاکھ برس کے ہو تو بھی متوفیک کے معنی صادق آتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے یہ تو نہیں فرمایا کہ: ”یعیسیٰ انی متوفيك الآن او بعد سنة وغيره ذلك“ اللہ تعالیٰ نے یہ نہیں فرمایا کہ عیسیٰ میں تم کو مارنے
٩
والا ہوں۔ اب یا برس، دس برس، سو برس کے بعد بلکہ مطلق فرمایا۔ پس جب اللہ تعالیٰ ان کو مارے گا۔ متوفیک صادق ہو جائے گا اور اگر یہ معنی لو کہ اے عیسیٰ میں ابھی تم کو مارنے والا ہوں اور اٹھانے والا ہوں۔ طرف اپنے اور قبل بعثت حضرت محمدﷺ کے عیسیٰ علیہ السلام کی موت متحقق ہوچکی تو اور آیات واحادیث واقوالِ ائمہ عظام وعلمائے کرام کا جواب کیا دو گے۔ جو حیات کو بآواز بلند ثابت کر رہے ہیں۔ ان سب کو ترک کرنا ہوگا اور تطبیق ہاتھ سے جاتی رہے گی۔ اسی واسطے علمائے مفسرین اور خود حضرت ابن عباسؓ تقدیم وتاخیر کے آیت مذکورہ میں قائل ہوئے ہیں۔ کیونکہ ظاہر تر ہے کہ کوئی باعث قول تقدیم وتاخیر کا آیت مذکورہ میں سوائے تطبیق کے مابین نصوص کے نہیں اور بھی سنو متوفیک میں ضمیر خطاب کا مرجع حضرت عیسیٰ علیہ السلام ہیں اور رافعک میں بھی مخاطب وہی عیسیٰ علیہ السلام ہوں گے۔ کیونکہ معطوف بحکم معطوف علیہ ہوا کرتا ہے اور ظاہر ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام نام جسم مع روح کا ہے اور خطاب بھی اس عبارت میں عیسیٰ علیہ السلام ہی کو ہے اور وہ زندہ ہے۔ وقت مخاطبہ کے، تو جیسے کہ موت عیسیٰ علیہ السلام پر یعنی اس کے جسم پر آئی ہے۔ رفع بھی اسی کے لئے ثابت ہوا تو معنی یہ ہوا کہ اے عیسیٰ میں تیرے بدن کو مار کر پھر تم کو مع بدن اور روح کے اٹھانے والا ہوں۔ حالانکہ جسم کے مرفوع ہونے کا کوئی قادیانی قائل نہیں۔ بلکہ مرزائیوں کے مطابق یہ معنی ہے کہ اے عیسیٰ میں تجھ کو مار کر تیری روح کو سوائے بدن کے اٹھا لیا اور یہ پورا معنی خود اس عبارت کا مطلب ہرگز نہیں ہو سکتا۔ کما مر اور اگر معطوف میں ضمیر خطاب سے مراد روح لیا جاوے۔ بعلاقہ ذکر کل اور مراد اس سے جزو ہے۔ کما ہو مذہب الجمہور تو کیا وجہ ہے کہ اسم فاعل کو اپنے معنی میں نہیں لیتا اور ظاہر نصوص آیات واحادیث وکلام علماء میں مجاز درمجاز اور تاویل علی التاویل کا بھروسہ لیتا ہے۔ شاید کہ قادیانی ملّا میری بات کو تو نہ مانے اب میں وہی معنی پیش کردوں۔ جو اس آیت کا اس کے نبی اور نبی کے مددگار فاضل نورالدین نے لکھے ہیں۔
حکیم نورالدین نے کتاب (تصدیق براہین احمدیہ ص٨) میں لکھا ہے۔ ”اِذْ قَالَ اللّٰهُ يٰعِيْسٰٓی اِنِّیْ مُتَوَفِّيْكَ وَرَافِعُكَ اِلَیَّ“ جب اللہ تعالیٰ نے فرمایا اے عیسیٰ میں لینے والا ہوں تجھ کو اور بلند کرنے والا ہوں اپنی طرف۔ اب خیال کرو کہ اس عبارت میں موت کا ذکر بھی نہیں بلکہ لینے کا ذکر ہے اور لینے کا معنی درست یہی ہے کہ میں تجھ کو آسمان پر اٹھا کر تیرا درجہ بلند کرنے والا ہوں اور مرزا خود (براہین احمدیہ ص٥١٩، خزائن ج١ ص٦٢٠) میں لکھتا ہے۔ ”اِنّی متوفیک ورافعک الیّ“ ”اے عیسیٰ میں تجھے کامل اجر بخشوں گا۔ یا وفات دوں گا اور اپنی طرف اٹھاؤں گا۔“ اور اسی کتاب کے ص٥١٩ میں لکھا ہے۔ ”انی متوفیک ورافعک الیّ“ ”میں تجھ کو
١٠
پوری نعمت دوں گا اور اپنی طرف اٹھاؤ اوّل معنی میں موت یقینی نہیں محض احتمال احتمال سے کام نہیں چلتا۔ جب احتمال الاستدلال ”اور دوسرے معنی میں جب ہی ہے کہ عیسیٰ کو مع اس کے جسد فیصلہ کر دیا ہے کہ اس کو عیسیٰ علیہ السلام معنی اور مرزا کا دوسرا معنی ہم اہل سنت اور قادیانیوں کو بھی یہ معنی ماننا چاہئے و یہ ہے کہ باطل کی طرف کتنا ہی کوئی مخ سے بالاختیار یا بلا اختیار نکل ہی جاتا اندھا زور لگایا۔ مگر آخریہ حضرت عیسیٰ کیسا صاف موافق مذہب مسلمانوں السلام آسمانوں میں ہیں۔ میرے بع ”ھو الذی ارسل رسولہ ب حیات فی السماء کا عیسیٰ علیہ السلام بھی اہل سنت والجماعتہ کو مضر نہیں ہے مارنے والا ہوں۔ اس سے ثبوت مو میں کیا نقصان ہے۔ مطلب یہ ہے عیسیٰ علیہ السلام کو خوف گزرا تو پرو تمہاری موت کے وقت میں یہود موت عیسیٰ علیہ السلام کی ثابت نہ ہو قولہ....... ”بل رفع الجواب....... اس آیہ رسالہ فتح کو یعنی عیسیٰ علیہ السلام کو یہ رفعہ کی ضمیر کا مرجع عیسیٰ نام روح اور ہے کہ مراد اس سے رفع تکریمی رو
پوری نعمت دوں گا اور اپنی طرف اٹھاؤں گا، تو یہ دونوں معنی مرزا نے الہام کی برکت سے کئے ہیں۔ اول معنی میں موت یقینی نہیں محض احتمال ہے اور مرزا مقام استدلال میں ہے۔ مستدل کو لزوم چاہے احتمال سے کام نہیں چلتا۔ جب احتمال پیدا ہوا دلیل باطل ہوئی۔ ”اذا جاء الاحتمال بطل الاستدلال“ اور دوسرے معنی میں موت کا ذکر بھی نہیں کیا۔ بلکہ پوری نعمت کا اور پوری نعمت دنیا جب ہی ہے کہ عیسیٰ کو مع اس کے جسد کے آسمانوں پر اٹھا کر معزز کیا جائے۔ پس مرزا نے تو خود ہی فیصلہ کر دیا ہے کہ اس کو عیسیٰ علیہ السلام کی موت پر ہرگز جزم اور یقین نہیں ہے۔ مولوی نور الدین کا معنی اور مرزا کا دوسرا معنی ہم اہل سنت و جماعت کے اعتقاد کے موافق ہے۔ ہم اسی کو مانتے ہیں اور قادیانیوں کو بھی یہ معنی ماننا چاہئے ورنہ مرتد ہوں گے۔ اپنے دھرم اور دین سے، اصل میں بات یہ ہے کہ باطل کی طرف کتنا ہی کوئی شخص اگرچہ زور لگاوے۔ مگر حق بات گاہے ماہے اس کی زبان سے بالاختیار یا بلا اختیار نکل ہی جاتا ہے۔ مرزا نے چند سال سے موت عیسیٰ علیہ السلام پر بہت اندھا زور لگایا۔ مگر آخر یہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور علمائے اہل سنت و جماعت کی کرامت دیکھو کہ کیسا صاف موافق مذہب مسلمانوں کے معنی کر گیا۔ اسی براہین احمدیہ میں موجود ہے۔ عیسیٰ علیہ السلام آسمانوں میں ہیں۔ میرے بعد ایک دوسرا آنے والا ہے۔ وہ سب باتیں کھول دے گا اور ”هو الذی ارسل رسوله بالهدیٰ“ کے متعلق مرزا کا ترجمہ گزر چکا ہے۔ اس کو دیکھو کہ حیات فی السماء کا عیسیٰ علیہ السلام کے لئے اقرار کیا ہے اور اگر متوفیک کا معنی ممیتک لیا جاوے تو بھی اہل سنت والجماعت کو مضر نہیں ہے۔ کیونکہ اس کا معنی یہ ہے کہ اے عیسیٰ علیہ السلام میں تجھ کو مارنے والا ہوں۔ اس سے ثبوت موت بالفعل تو نہیں ہوا۔ بلکہ وعدہ موت ثابت ہوا ہے اور اس میں کیا نقصان ہے۔ مطلب یہ ہے کہ جب کہ یہود نے عیسیٰ علیہ السلام کو قتل کرنے کا ارادہ کیا اور عیسیٰ علیہ السلام کو خوف گزرا تو پروردگار نے فرمایا کہ اے عیسیٰ میں ہی تم کو مارنے والا ہوں۔ تمہاری موت کے وقت میں یہود کے قتل سے تم مت ڈرو۔ دیکھو رسالہ فتح کو اس آیت سے بھی موت عیسیٰ علیہ السلام کی ثابت نہ ہوئی۔
قولہ ...... ”بل رفعه الله اليه الآية“
الجواب ...... اس آیت سے تو خود حیات عیسیٰ علیہ السلام ثابت ہوتی ہے۔ دیکھو رسالہ فتح کو یعنی عیسیٰ علیہ السلام کو یہود کے ہاتھ سے قتل نہ ہونے دیا۔ بلکہ زندہ آسمانوں پر اٹھا لیا۔ رفع کی ضمیر کا مرجع عیسیٰ نام روح اور بدن دونوں کا ہے۔ مرجع اس کا روح عیسیٰ نہیں جیسا مرزا کہتا ہے کہ مراد اس سے رفع تکریمی روح عیسیٰ کا ہے۔ جیسے کہ شہداء کے لئے رفع تکریمی ہے۔ کیونکہ
١١
اس بناء پر عبارت قرآنی اس طرح ہونی چاہئے تھی کہ: ”بل رفع روحہ“ اس میں ایک تو یہ کہ بلا ضرورت حذف ماننا پڑتا ہے۔ ”والمذکور راجع عن المحذوف“ دوسرا یہ کہ کل امت مرحومہ کے اعتقاد کے مخالف ہو جاتا ہے۔ اس سے بھی موت عیسیٰ علیہ السلام کی ثابت نہ ہوئی۔
قولہ...... ”وما جعلنا لبشر من قبلك الخلد“
الجواب...... اس آیت کے ذکر کرنے میں نہ ہمارا کوئی نقصان اور نہ قادیانی کا کوئی فائدہ۔ معنی اس کا نہیں سوچتا۔ خلود کا ایک معنی مکث طویل یعنی ٹھہرنا بہت عمر تک بلا کسی مقدار معین کے سو یہ معنی تو اس مقام میں کسی صورت سے درست نہیں ہو سکتا ہے۔ کیونکہ حضرت ﷺ سے پہلے صد ہا ہزار لوگوں کو پروردگار نے مکث طویل اور عمر دراز میں بلا کسی مقدار معین کے دنیا میں رکھا اور دوسرا معنی خلود کا ہمیشہ ابدالآباد رہنا۔ سو یہ معنی درست ہے۔ کیونکہ آیت کریمہ کا یہ معنی ہوا کہ کسی شخص کے لئے قبل آپ کے اے محمدؐ صاحب ہم نے ہمیشہ کا رہنا دنیا میں مقرر نہیں کیا۔ پس کیا اگر آپ فوت ہو جائیں تو وہ لوگ ہمیشہ رہیں گے۔ یعنی ہمیشہ کوئی نہ رہے گا۔ سو جملہ اہل اسلام اس امر کے معتقد ہیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام ہمیشہ نہ رہیں گے۔ بلکہ جب ان کو موت کی تاریخ ہوگی۔ ضرور وفات پائیں گے۔ پس اس آیت سے بھی موت عیسیٰ علیہ السلام ثابت نہ ہوئی۔
قولہ...... ”الم نجعل الارض كفاتاً احياء وامواتاً“
الجواب...... مطلب اس آیت کریمہ کا یہ ہے کہ پروردگار نے زمین کو زندہ اور مردہ لوگوں دونوں کے لئے کافی کیا ہے۔ زندہ لوگ زمین کے اوپر اور مردے لوگ زمین کے پیٹ میں رہیں گے۔ اس کا مطلب یہ تو نہیں کہ کوئی زندہ شخص عارضی طور پر بھی آسمان پر نہ جائے گا۔ کیا اعتقاد ہے تمہارے اے قادیانی فرقے کے لوگو کہ حضرت ادریس علیہ السلام آسمان پر گئے ہیں یا نہیں اور اب تک موجود ہیں یا نہیں اور حضرت سرور عالم ﷺ کا معراج مبارک جو اجماعاً ثابت ہے اور جابجا احادیث صحاح کی موجود ہیں۔ مگر معلوم ہوتا ہے کہ معراج سے بھی تم لوگ منکر ہو۔ جیسے کہ تمہارا نبی اس کا انکار کرتا ہے۔ ”وليس هذا بمصادرة على المطلوب“ یہ سوال بھی ملا عبدالواحد خطیب نے اپنے پیغمبر کی کتابوں سے نکالا ہے اور اس آیت سے بھی موت عیسیٰ علیہ السلام کی ثابت نہ ہوئی اور مرزا قادیانی کی کتابوں میں ایک اور سوال بھی ہے وہ یہ ہے۔
سوال...... پروردگار نے قرآن پاک میں فرمایا: ”فيها تحيون وفيها تموتون“ اس زمین میں تم لوگ زندہ رہو گے اور اس میں تم مرو گے۔ مرزا اسی حصر سے سمجھا ہے کہ کوئی فرد بشر کسی صورت سے نہ آسمان پر زندہ رہ سکتا ہے اور نہ وہاں پر مرے گا۔ یہ بڑی دلیل
١٢
ہے۔ اس بات کی کہ بغیر کرۂ زمین کے نوع انسانی کا مستقر اور مستودع یعنی قرار گاہ اور نہیں تو پھر مسیح بن مریم آسمان پر کس طرح بقیہ ایام حیات بسر کر رہا ہے۔
الجواب ...... یہ بیان بطریق اصالت ہے۔ یعنی اصل تو یہ ہے کہ اسی زمین میں زندگانی بسر کریں گے اور اسی میں مریں گے۔ اس میں یہ تو نہیں فرمایا کہ کبھی کسی امر عارضی کے سبب سے بھی کسی دوسرے کرہ میں نہ جائیں گے۔ بلکہ اگر کوئی زمین پر پیدا ہوتے ہی آسمان پر اٹھایا جائے اور دو ہزار سال یا دس ہزار سال تک وہاں زندہ رہ کر پھر وقت موت کے زمین پر آ کر مرجائے تو اس پر بھی یہ آیت صادق آئے گی۔ بوجہ اس کے کہ اس کی حیات کچھ قدر اور موت دونوں علی الارض اور فی الارض پائی گئیں۔ ”ولعمری ھذا ظاہر جدا“ غرض کہ کرہ ارضی کا قرار گاہ اور سکونت کی جگہ ہونا بطریق اصالت کے یہ منافی نہیں۔ اس کے کہ بعض افراد بشری کو عارضی طور پر کسی اور کرہ میں رکھا جاوے۔ دیکھو جیسا کہ ملائکہ کے لئے موطن اصلی اور قرار گاہ طبعی افلاک ہیں۔ پھر بھی باوجود اس کے زمین پر عارضی طور پر سکونت اور آمدورفت رکھتے ہیں۔ جیسے کہ ہر قطرۂ بارش کے ساتھ ملائکہ کا آنا۔ جنگ بدر میں ملائکہ کا آنا واسطے امداد اہل اسلام کے۔ خود حضرت جبرئیل علیہ السلام کا آنا حضرت ﷺ پر فتاویٰ غیاثیہ ص ١٨٣ میں ہے کہ جبرائیل علیہ السلام چوبیس ہزار بار رسول اللہ ﷺ پر نازل ہوا ہے اور ایسا ہی بکثرت نزول ہوا ہے۔ جمیع پیغمبروں پر اور ہر انسان کے ساتھ جو کثیر ملائکہ مقرر ہیں۔ ہاتھ، پاؤں، ناک، کان، آنکھ وغیرہ سوراخوں پر متعین ہیں۔ خود منہ پر ایک فرشتہ مقرر ہے۔ جب کوئی مسلمان درود شریف پڑھتا ہے۔ فوراً حضرت ﷺ کی دربار میں لے جاتا ہے۔ دن کے اعمال رات کو اور رات کے دن کو فرشتے لے جاتے ہیں۔ خود کراماً کاتبین جو ہر انسان کے دائیں بائیں مونڈھے پر مقرر ہیں۔ کیا مرزا کو یاد نہیں۔ بعد موت مسلمان کی اس کے ہمراہی فرشتے اس کی قبر پر استغفار اور تسبیح و تہلیل پڑھتے رہتے ہیں اور قیامت تک پڑھتے رہیں گے۔ مسجد اور خانہ کعبہ کے گردا گرد جو ہزار ہا فرشتے محافظ رہتے ہیں۔ وقت خروج دجال کے مدینہ منورہ اور مکہ معظمہ اور بیت المقدس اور طائف کے گردا گرد فرشتے دیوار باندھ کر دجال کو روک لیں گے۔ اگر ساری مثالیں لکھوں تو دفتر عظیم ہوگا۔ مسلمان منصف کو اس قدر کافی ہیں اور بد مزاج بے دین عدوّ المسلمین کو قرآن شریف بھی کافی نہیں اور ”فیھا تحیون وفیھا تموتون“ میں تقدیم ظرف سے جو کہ حصر پایا جاتا ہے کہ اسی زمین ہی میں زندہ رہو گے اور اسی زمین ہی میں تم مرو گے۔ سو وہ حصر حقیقی نہیں بلکہ اضافی ہے۔ بہ نسبت استقرار اصلی کے ”واما الاختصاص المستفاد من “الا فی قوله تعالیٰ ولکم فی الارض مستقر
١٣
ومتاع الی حین ، فہو اثر للجعل التکوینی الذی لہ المجعول الیہ عارض غیر لازم وفی ہذہ الصورة یتصور الانفکاک بین المجعول ولمجعول الیہ کما فی قولہ تعالیٰ وجعل اللیل لباساً وجعل النہار معاشا، اذا کان زید یحصل وجہ المعاش فی اللیل وینام فی النہار ”دلیل عارضی ہونے مجعول الیہ یعنی حیاۃ فی الارض کے قصہ اترنے ابلیس کا اور بعد ازاں پھر چڑھ جانا اس کا بدلیل ’فوسوس لھما الشیطان فاخرجہما مما کانا فیہ “ ہے۔ جب کہ ابلیس ملعون نے بعد امر نزول کے پھر آسمان پر جا کر حضرت آدم علیہ السلام کو وسوسہ ڈالا تو بعض افراد نوع انسانی جن کا مادہ پیدائشی وفطرتی نفخ روح القدس کا ہو۔ یعنی جو آدمی کہ حضرت جبرئیل علیہ السلام کی پھونک مارنے سے پیدا ہوا ہو۔ جیسے کہ عیسیٰ علیہ السلام تو ان کا آسمان پر جانا کیسے نادرست ہو سکتا ہے۔ پس اس آیت سے بھی موت ثابت نہ ہوئی۔
قولہ...... ” والیٰ غیر ذلک من الآیات “
الجواب...... وہ آیات حلاجی کے شکم ہی میں پوشیدہ رہ گئیں۔ اگر ذکر کرتا تو ان کا جواب بھی دندان شکن دیا جاتا اور بارہا علماء اہل اسلام نے ایسے جواب دیئے ہیں کہ اب تک ٣١٣ مرزائیوں سے اس کا غلط جواب بھی نہ ہوسکا۔ جس شخص نے مسلمانوں کی کتابیں دیکھی ہیں وہ اس کو خوب جانتا ہے۔
قولہ...... اور احادیث میں بھی حیات عیسوی کا ذکر کہیں نہیں ہے۔ اگر ہے تو وفات کا ثبوت پایا جاتا ہے۔
الجواب...... ”لعنة الله علی الکذبین الدجالین “ عیسیٰ علیہ السلام کی حیات کی احادیث متواتر المعنی ہیں۔ یہ اجماعی مسئلہ ہے۔ جمیع علمائے امت وائمہ ملت نے تسلیم کیا ہوا ہے۔ روز روشن سے زیادہ واضح ہے۔ مگر جن پر اللہ تعالیٰ کا قہر ہے اور جو شقی ازلی اور قرآن وحدیث کے دشمن اور انبیاء علیہم السلام سے اپنے آپ کو بلاف وگزاف شیطانی فوق جانتے ہیں وہ اندھے ہو گئے ہیں۔ بیت
چشمۂ آفتاب را چہ گناہ
رسالہ تیغ کو دیکھو تاکہ جہالت کا پردہ اٹھ جائے اور کچھ قدر تمہاری تردید کے ضمن میں اس کتاب میں بھی مذکور ہے۔
١٤
قولہ ....... چنانچہ ذیل میں بطور نمونہ کے تین حدیث کے ٹکڑے ہم نقل کرتے ہیں۔ ”قال ﷺ فاقول کما قال العبد الصالح وکنت علیہم شہیدا مادمت فیہم فلما توفیتنی کنت انت الرقیب علیہم“ یہ حدیث بتمامہ صحیح بخاری میں ہے۔
٢ ....... ”قال ﷺ فاخبرنی ان عیسی بن مریم عاش عشرین ومائة سنة “ یہ حدیث بروایت حضرت عائشہ صدیقہ مستدرک حاکم وطبرانی میں موجود ہے۔
٣ ....... ”قال ﷺ لوکان موسیٰ وعیسیٰ حیین لما وسعہما الا اتباعی “ یہ حدیث بایں لفظ بہت کتابوں میں موجود ہے۔ مثل تفسیر ابن کثیر وفتوحات مکیہ والیواقیت والجواہر وغیرہ وغیرہ۔
اقول ...... بے علمی بھی بری بلا ہے۔ ملا جی فقط عبارت کتابوں کی سوائے فہم مطلب کے لکھ مارتا ہے اور وہی عبارت اس کے منہ پر الٹی ماری جاتی ہے۔ ملاجی نے تین ٹکڑے تین حدیث کے بیان کئے ہیں۔ پس میں بھی بالترتیب یکے بعد دیگرے جواب دیتا ہوں اور انہی کتابوں سے حیات عیسیٰ علیہ السلام کو ثابت کرتا ہوں۔ ناظرین کو غور وانصاف سے ملاحظہ فرمانا چاہئے۔ اوّل ٹکڑے کا جواب مفصل تیغ غلام گیلانی بر گردن قادیانی میں ہے۔ یہاں بقدر کفایت بیان کرتا ہوں۔ اوّل قادیانی کا مطلب بیان کرتا ہوں وہ یہ ہے کہ بخاری کی حدیث کے اس اوّل ٹکڑے سے معلوم ہوتا ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام قبل رسول اللہ ﷺ کے فوت ہوگیا ہے۔ کیونکہ رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں کہ جب روز قیامت کے پروردگار مجھ سے میری امت کے اعمال کی نسبت دریافت فرمائے گا تو میں جواب میں وہ بات عرض کروں گا جو کہ بندہ صالح یعنی عیسیٰ علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ کے دربار میں کہی ہے۔ یعنی جب کہ عیسیٰ علیہ السلام سے اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اے عیسیٰ تم نے کہا تھا کہ نصاریٰ تم کو اور تمہاری ماں کو خدا مانیں تو عیسیٰ علیہ السلام نے کہا: ”وکنت علیہم شہیداً مادمت فیہم فلما توفیتنی کنت انت الرقیب علیہم “ اور تھا میں ان پر حاضر اور ان کا نگہبان جب تک کہ میں ان کے اندر تھا اور جب کہ وفات دی تو نے مجھ کو یا اللہ تو تو ہی تھا نگہبان ان پر۔ رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں کہ میں بھی ایسا ہی کہوں گا۔ اپنی امت کے ناجائز افعال کی نسبت جو انہوں نے میرے بعد کئے ہوں گے۔ مرزا اس طور پر ترجمہ کرتا ہے۔ اس وجہ سے کہ: ”فاقول کما قال العبد الصالح“ میں لفظ قال صیغہ ماضی کا ہے۔ رسول اللہ ﷺ سے قبل یہ واقعہ ہوچکا ہے۔ یہ واقعہ روز قیامت کا نہیں۔ بلکہ دنیا ہی کا ہے اور عیسیٰ علیہ السلام کے مرنے کے بعد اس کے روح نے اللہ تعالیٰ کے دربار میں یہ عرض کیا ہے۔ پس قال کی ماضیّت بہ
١٥
نسبت زمانہ حضرتﷺ کے لیتا ہے اور توفیتنی کا معنی موت کا (مارا ہے تو نے مجھ کو) لیتا ہے۔
اول جواب....... اس بناء پر کہ قال بمعنی یقول ہے اور توفیتنی کا معنی موت حقیقی کی تقدیر پر اور یہ واقعہ بروز حشر ہوگا۔ معنی یہ ہوا کہ کہے گا عیسیٰ علیہ السلام بروز حشر یا اللہ جب تک کہ میں ان کے اندر موجود تھا تو ان کے اقوال وافعال پر حاضر اور نگہبان رہا اور جب کہ تو نے مجھ کو وفات دی بعد اتر آنے کے آسمان سے تو اس وقت تو خود ہی ان پر نگہبان تھا۔ پس جب کہ تحقیق موت کا مسیح ابن مریم کے لئے بعد النزول ہوگا تو توفیتنی کی ماضیت بہ نسبت یوم الحشر کے خود ہی ہو جائے گی اور چونکہ بروز حشر یہ جواب وسوال یقینی ہے۔ لہٰذا یقول کی جگہ جو کہ صیغہ مضارع کا ہے۔ قال صیغہ ماضی لایا گیا تا کہ تحقیق واقعہ پر دلالت کرے اور ماضی بمعنی مستقبل قرآن شریف میں بقرینہ سباق و سیاق بہت جگہ آیا ہے۔ چنانچہ ”اذا الشمس کوّرت“ تفسیر خازن میں ابن عباس سے روایت ہے۔ ”یكوّر اللہ الشمس والقمر یوم القیامة واذا النجوم انكدرت قال الكلبی وعطاء تمطر السماء یومئذ فلا یبقی نجم الا وقع“ اور ایسے ہی اس کے بعد کے کلمات اس سورۂ مبارک کے اگرچہ بصورت ماضی ہیں۔ مگر معنی ان کا مضارع کا ہے۔ دیکھو ”اذ تبرّأ الذین اتبعوا“ میں ماضی تبرّأ بمعنی مضارع مستقبل ہے۔ کیونکہ یہ برأت حشر کے دن ہوگی اور حدیث شریف میں بہت جگہ ماضی مضارع کی جگہ آیا ہے۔ (صحیح بخاری شریف ص ٣١٦) میں کتاب المساقات سے دو تین حدیثیں قبل ایک حدیث ہے۔ ابوہریرہؓ کی جس میں استاذن ماضی کا صیغہ بمعنی مضارع یستاذن لیا گیا ہے۔ بقرینہ فیقول اللہ تعالیٰ کی پوری حدیث یہ ہے۔ ”عن ابی ھریرةؓ ان النبیﷺ كان یوما یحدث وعنده رجل من اھل البادیة ان رجلا من اھل الجنة استاذن ربه فی الزرع فقال له الست“ اور خود عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کی حدیث موجود ہے کہ جب دجال عیسیٰ علیہ السلام کو دیکھے گا تو پگھل جائے گا۔ جیسا کہ قلعی پگھل جاتی ہے۔ اس حدیث میں صیغہ ماضی کا فرمایا گیا اور مراد اس سے مستقبل ہے۔ وہ عبارت یہ ہے۔ ”ذاب کما یذوب الرصاص“ صحیح بخاری کتاب الجہاد باب مسح الغبار فی سبیل اللہ میں پہلی حدیث میں جو یہ عبارت ہے۔ ”ویح عمار تقتله الفئة الباغیة عمار یدعوھم الی اللہ و یدعونه الی النار“ اس پر (علامہ عینی ج ٦ ص ٥٥٩) میں فرماتے ہیں۔ ”العرب تخبر بما الفعل المستقبل عن الماضی اذا عرف المعنی کما تخبر بالماضی عن المستقبل“ کتاب الجہاد باب جوائز الوفد میں ہے۔ ”فقالوا اھجر رسول اللہﷺ“ میں ماضی بمعنی مستقبل ہے۔ ”ای یھجر من الدنیا واطلق
١٦
لفظ الماضی لمارأوا فیہ من علامات الہجرۃ عن دار الفناء اھ حاشیہ بخاری“
قرآن شریف میں پوری کلام اس مقام کی یہ ہے۔ ”واذ قال الله یعیسیٰ ابن مریم أأنت قلت للناس اتخذونی وامی الہین من دون الله قال سبحانک ما یکون لی ان اقول ما لیس لی بحق ان کنت قلتہ فقد علمتہ تعلم ما فی نفسی ولا اعلم ما فی نفسک انک انت علام للغیوب ما قلت لہم الا ما امرتنی بہ ان اعبدوا الله ربی وربکم وکنت علیہم شہیدا مادمت فیہم فلما توفیتنی کنت انت الرقیب علیہم وانت علی کل شئ شہید ان تعذبہم فانہم عبادک وان تغفر لہم فانک انت العزیز الحکیم وقال الله ہذا یوم ینفع الصادقین صدقہم لہم جنت تجری من تحتہا الانہار خلدین فیہا ابدا. رضی الله عنہم ورضوا عنہ ذلک الفوز العظیم“
تفسیر خازن میں ہے۔” قولہ عزوجل اذقال الله یعیسیٰ ابن مریم أأنت قلت للناس تخذونی وامی الہین من دون الله وقال سائر المفسرین انما یقول الله لہ ہذا القول یوم القیامۃ بدلیل قولہ یوم یجمع الله الرسل وذلک یوم القیمۃ “ یہاں جب کہ قال کو بمعنی مستقبل لیا تو یہ اعتراض وارد ہوتا تھا کہ: ” اذقال الله “ میں اذ کی اقتضاء تو یہ ہے کہ مدخول اس کا ماضی رہے تو جواب دیا کہ اذ بمعنی اذا ہے۔ جواب کی عبارت یہ ہے۔” واجیب عن حرف اذ بانہا قد تجیئ بمعنی اذا کقولہ ولوتری اذ فزعوا یعنی اذا فزعوا وقال الراجز . ثم جزاک الله عنی اذجزی . جنات عدن فی السموات العلیٰ “ اور مدارک وغیرہ میں بھی ایسا ہی ہے۔” قال الله ہذا یوم ینفع الصادقین “ کے متعلق ہی خازن میں کہ جمہور علماء کا اتفاق ہے کہ یہ دن قیامت کے ہوگا۔ عیسیٰ علیہ السلام جب کہ روز قیامت کے قبر سے اٹھے گا تو کہے گا۔ یہ جو کہ اللہ تعالیٰ نے اس کی طرف سے قصہ کیا ہے۔” الا ما امرتنی بہ الآیہ “ اور تفسیر جلالین میں بھی قال کو بمعنی یقول لیا ہے۔” واذکر اذ قال ای یقول الله یعیسیٰ فی یوم القیامۃ توبیخا لقومہ“ کمالین میں ہے۔” فالماضی بمعنی المضارع علی طریق قولہ تعالیٰ ونادی اصحب الجنۃ “ نادیٰ بمعنی ینادی ہے اور امام بخاری کا مذہب بھی یہی ہے کہ آیت کریمہ ”اذ قال الله یعیسیٰ ابن مریم “ میں قال بمعنی یقول ہے۔ جیسا کہ ” فاقول کما قال العبد
١٧
الصالح“ میں قال بمعنی یقول ہے اور ”فلما توفیتنی“ سے مراد موت ہے۔ مگر وہ موت جو بعد النزول من السماء عیسیٰ علیہ السلام پر وارد ہوگی۔ امام بخاری کتاب التفسیر باب میں ”قولہ ما جعل الله من بحيرة“ کے اذ قال اللہ میں قال کو بمعنی یقول کہتے ہیں۔ مگر وہ اذ کو صلہ یعنی زائد ٹھہراتے ہیں۔ گویا صاف اپنے مذہب کو بیان کرتے ہیں کہ ابن عباسؓ کی حدیث ”فاقول كما قال العبد الصالح“ سے کوئی یہ نہ سمجھے کہ عبد صالح یعنی عیسیٰ علیہ السلام کا جواب پہلے ہو چکا ہے اور ”فلما توفیتنی“ خبر دیتا ہے کہ عیسیٰ مر چکا ہے۔ بلکہ ”واذ قال الله“ میں قال بمعنی یقول کے ہے اور یہ سوال و جواب قیامت کے دن ہوگا۔ جس کا ثمرہ یہ ہوا کہ: ”فلما توفيتنی“ کا تعلق قیامت کے دن سے ہے۔ جیسا کہ درمنثور میں مذکور ہے کہ قتادہؒ سے کسی نے کہا کہ اس آیت کا قصہ کب ہوگا۔ کہا قیامت کے دن اس پر دلیل یہ فرمائی کہ کیا تو نہیں دیکھتا۔ خدا تعالیٰ خود فرماتا ہے کہ یہ تمام باتیں ایسے دن ہوں گی جن میں سچوں کو سچائی نفع دے گی۔ ”هذا یوم ینفع الصادقين صدقهم“ حاصل یہ ہوا کہ آنحضرت ﷺ فرماتے ہیں کہ پروردگار جب روز قیامت کے مجھ سے فرمائے گا کہ اے محمد تجھ کو معلوم نہیں کہ تیرے اصحاب یعنی امت کے لوگوں نے کیا کچھ کیا ہے۔ بعد تیرے تو میں اس کے جواب میں بندہ صالح عیسیٰ علیہ السلام کا قول عرض کروں گا کہ: ”وكنت عليهم شهيدا مادمت فيهم فلما توفيتنی کنت انت الرقيب عليهم“ اور میں ان کا نگران تھا۔ جب تک کہ میں ان کے بیچ تھا۔ پھر جب کہ مار دیا تو نے مجھ کو تو تو ہی ان پر نگہبان رہا۔ اس حدیث میں ”کما قال العبد الصالح“ میں قال بمعنی یقول ہے۔ اور فلما توفیتنی سے معنی موت کا ہوا۔ مگر وہ موت جو بعد النزول عیسیٰ علیہ السلام کے لئے ہوگی۔ جس کے سارے اہل اسلام صحابہ کرام سے لے کر آج تک قائل ہیں۔ پس امام بخاری بھی کل امت مرحومہ کی طرح نزول مسیح بن مریم اسرائیلی کا ہی قائل ہے۔ نہ اس کے کسی مثیل کا چنانچہ امام بخاری نے اپنی تاریخ کبیر میں بھی فرمایا ہے۔ جس کو علامہ سیوطی نے تفسیر درمنثور میں ذکر کیا ہے۔
”واخرج البخاری فی تاريخه والطبرانی عن عبدالله بن سلام قال يدفن عيسى بن مريم مع رسول الله ﷺ وصاحبيه فيكون قبره رابعا“ اب ذرہ
بخاری کے محشی امام بدرالدین عینی کی عبارت نقل کرتا ہوں۔ ”باب وكنت عليهم شهيدا، وانه قال الله يا عيسى ابن مريم أأنت قلت للناس ، مما يخاطب الله به عبده ورسوله عيسى بن مريم عليهما السلام قائل له يوم القيامة بحضرة من اتخذه وامه الهين من دون الله تهديد النصارى وتوبيخا وتقريعا على رؤس
١٨
الاشهاد ۔ هكذا قال قتادة وغيره “امام بخاری کے اس قول ” واذ قال الله يقول قال الله واذ ههنا صلة“ پر عینی فرماتے ہیں۔” اشار به الى قوله تعالى واذ قال الله ياعيسى ابن مريم وان لفظ قال الذى هو ماض بمعنى يقول المضارع لان الله تعالى انما يقول هذا القول يوم القيمة وان كلمة اذ صلة اى زائدة وقال الكرماني لان اذ للماضى وههنا المراد به المستقبل قلت اختلف المفسرون هنا فقال قتادة هذا خطاب الله تعال لعبده ورسوله عيسى ابن مريم عليهما السلام يوم القيمة توبيخا وتقريعا للنصارى“ اختلاف فقط اس میں ہے کہ آیا یہ جواب وسوال قیامت کو ہوگا۔ یا وقت آسمان پر جانے کے ہو چکا ہے۔ جیسا کہ عنقریب آئے گا اس سے ثبوت موت فی الحال نہیں اور نہ کسی کو مضر ہے۔ بلکہ اختلاف کی دوسری شق سے تو رفع جسدہ علیٰ السماء ثابت ہوتا ہے اور علامہ سندی اس پر فرماتے ہیں کہ قال بمعنی یقول ہے اور اذ عبارت میں زائد ہے۔”قوله واذ قال الله ، يقول قال الله واذ ههنا صلة اعلم ان قوله يقول تفسير لبيان ان الماضى بمعنى المضارع وقوله قال الله لبيان ان اذ زائدة ثم صرح بذلك بقوله واذ ههنا صلة كأنه قال قال فى اذ قال الله بمعنى يقول واصله قال الله واذ زائد والله تعالى اعلم انتهى “ اور امام بخاری نے جو کہ اسی جگہ میں متوفیک کا معنی ابن عباسؓ سے ممیتک لکھا ہے تو اس میں وعدہ موت ہوا۔ بالفعل موت ثابت نہیں ہوتی۔ پروردگار فرماتا ہے کہ اے عیسیٰ میں ہی تجھ کو مارنے والا ہوں نہ یہود، اور اظہار اس امر کا ہے کہ عیسیٰ نہ خدا ہے اور نہ خدا کا بیٹا۔ بلکہ اللہ تعالیٰ اس کو اس کے وقت موت میں مارے گا اور جو کہ عیسیٰ علیہ السلام کو خدا یا خدا کا بیٹا کہتے ہیں وہ سمجھ جائیں کہ مسیح ابن مریم بھی مثل آنحضرت ﷺ کے اثر موت سے متاثر ہوں گے۔ امام بخاری کا صاف یہی مذہب ہے کہ یہ سوال وجواب حشر کے دن ہوگا۔”كما يدل عليه قوله تعالى (هذا اليوم ينفع) فلما توفیتنی “ حکایت ہے وفات بعد النزول سے، اور حدیث فاقول کما قال العبد الصالح میں قال بمعنی یقول ہے۔ اگر امام بخاری کا یہ مذہب نہ ہوتا تو قال کو بمعنی یقول اور اذ کو زائد کہنے اور ہذا یوم ینفع الصادقین صدقہم کے لانے کی کیا وجہ تھی اور موت کو زمانہ ماضی میں کیوں نہ ثابت کرتے۔ خود امام بخاری کا باب نزول عیسیٰ کا باندھنا اور ان کے آنے کو قیامت کی نشانیوں سے ٹھہرانا اور اس زمانے میں ایک سجدہ کا دنیا اور مافیہا سے اچھا ہونا اور ان کو رسول اللہ ﷺ کے مقبرہ میں دفن ہونا اور حج اور عمرہ کا احرام باندھنا اور اہل کتاب سے سوائے اسلام کے جزیہ وغیرہ کچھ قبول نہ ١٩
کرنا۔ یہ صاف کہہ رہا ہے کہ امام بخاری کا مذہب موافق مذہب کل امت مرحومہ کے ہے۔ بڑا احمق اور اندھا اور گمراہ ہے جو امام بخاری کا مذہب یہ کہتا ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام مر گئے اور ان کا مثیل آیا۔ ان احادیث و آیات و تفاسیر میں تو عیسیٰ بن مریم اسرائیلی ہی کے دوبارہ زمین پر زندہ بجسدہ آنے کی خوشخبری ہے۔ مرزائی لوگ کسی ایک ضعیف حدیث ہی سے ثابت کر دیں کہ نزول عیسیٰ سے مراد اس کا مثیل ہے۔ خالی زبانی باتیں بکتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان کو اسلام دیوے۔ افسوس کہ مثیل عیسیٰ علیہ السلام ثابت کرتے ہیں۔ مگر موقوف ہونا جزیہ کا یا بہتر ہونا ایک سجدہ کا تمام دنیا سے وغیرہ وغیرہ۔ اب تک کوئی نشان ثابت نہ کر سکے۔ زیادہ تحقیق اس مقام کی جناب فضیلت مآب فاضل گولڑوی کی تصنیفات میں موجود ہے۔ اس میں دیکھو۔
جواب دوم...... اس بناء پر کہ آیت ”اذ قال الله“ میں اذ زائد نہیں اور قال ماضی بھی اپنے ہی معنی میں ہے۔ یعنی رسول اللہ ﷺ سے قبل درمیان باری تعالیٰ اور عیسیٰ علیہ السلام کے یہ جواب وسوال ہو چکا ہے۔ مگر ( توفیتنی ) فلما توفیتنی میں بمعنی موت نہیں۔ بلکہ بمعنی رفعتنی ہے۔ معنی یہ ہوا کہ رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں کہ جب مجھ سے پروردگار میری امت کی نسبت دریافت فرمائے گا تو میں وہ عرض کروں گا جو کہ بندہ صالح عیسیٰ علیہ السلام نے بوقت زندہ اٹھ جانے کے آسمان پر عرض کی تھی۔ وہ یہ کہ عیسیٰ علیہ السلام نے کہا تھا کہ یا اللہ میں اپنی امت پر نگران تھا۔ جب تک کہ ان میں موجود تھا اور جب کہ اٹھا لیا تو نے مجھ کو یا اللہ آسمان پر تو تو خود ہی ان کا نگران تھا۔ قرآن شریف میں اکثر جگہ توفی کا معنی موت یا نیند ہے۔ مگر فلما توفیتنی میں بمعنی موت نہیں بلکہ معنی رفعتنی ہے۔ جس کا معنی یہ ہے کہ جب کہ اٹھا لیا تو نے مجھ کو یہ معنی بہت کتابوں میں موجود ہے۔ جس میں صاف رفع جسمی مسیح بن مریم کے لئے ثابت ہوتا ہے۔ مگر بہتر یہی ہے کہ عبداللہ بن عباسؓ ہی کی روایت نقل کر دوں تاکہ ملاجی کو گریز کا رستہ نہ ملے۔ کیونکہ ہدایۃ المہدی کی اخیر میں کسی ہندوستانی شاعر کی نظم جو ملاجی نے لکھی ہے اس میں خود ابن عباس سے سند لی ہے۔ وہ شعر یہ ہے۔
دیکھے جسے ہو شک ذرا کیا ہے بخاری میں رقم
اس فرزند عم مصطفیٰ سے عبداللہ بن عباسؓ مراد ہیں اور ملاجی کے قادیانی نبی نے تو جابجا عبداللہ بن عباسؓ سے نقل کیا ہے اور اس کو افقہ الناس لکھا ہے۔ وہی عبداللہ بن عباسؓ نے اگرچہ بخاری میں متوفیک کا معنی ممیتک میں تیرا مارنے والا ہوں۔ لیا ہے جس سے فقط وعدۂ موت ثابت ہوتا ہے۔ مگر فلما توفیتنی کا معنی فلما رفعتنی لیتے ہیں۔ موت کا معنی نہیں لیتے۔ اب امید ہے کہ مرزائی ٢٠
لوگ ابن عباسؓ کا معنی تو مان ہی لیں گے توفیتنی کے متعلق رفعتنی کا معنی مروی ہے فانهم عبادك يقول عبيدك قد من تركت منهم ومد فی عمره يعـ الى الارض يقتل الدجال فنزلو تغفرلهم حيث رجعوا عن مقالـ ابن عباسؓ کے قول ومد فی عمرہ کو جس سے اس کا آسمان سے زمین پر ثابت ہوتا ہے
(تفسیر خازن جلد اول ص ٥٠٩)
الى السماء فالمراد به ووفاة الر ہے اور ایسا ہی تفسیر عباس میں فلما توفیتنی کـ نقل کیا ہے۔ ”وقال السدى هذا هذا هو الصواب وكان ذلك حين (تفسیر خازن ص ٥٠٧) میں متو مريم أأنت قلت“ کے ہے۔ ”اخـ السدى قال الله يعيسى هذا الـ يكون للماضى“ اور (تفسیر خازن ص ٥٠٩) میں حيث يقول ان هذه المخاطـ السماء“ مگر سدی کا قول جمہور کے خـ بروز قیامت ہوگا۔ اسی عبارت کے بعد ر له هذا القول يوم القيمة اما عـ يقع يوم القيمة“ ثانی ٹکڑے حدیث کا جواب روایت کی ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام ایک سـ پاتا ہے۔ پس پہلے قول کو سب نے فسا
لوگ ابن عباس کا معنی تو مان ہی لیں گے۔ اپنے نبی کا اتباع کر کے دیکھو۔ تفسیر درمنثور میں فلما توفیتنی کے متعلق رفعتنی کا معنی مروی ہے۔ ”اخرج ابوالشيخ عن ابن عباس ان تعذبهم فانهم عبادك يقول عبيدك قد استوجبوا العذاب بمقالتهم وان تغفرلهم اى من تركت منهم ومدفی عمره يعنى عيسى عليه السلام حتى اهبط من السماء الى الارض يقتل الدجال فنزلوا عن مقالتهم ووحدوك واقروا انا عبيد وان تغفرلهم حيث رجعوا عن مقالتهم فانك انت العزيز الحکیم“ درمنثور خیال کیجئے ابن عباس کے قول ومدفی عمرہ کو جس سے واضح طور پر درازی عمر عیسیٰ بن مریم اسرائیلی کی اور اترنا اس کا آسمان سے زمین پر ثابت ہوتا ہے۔
(تفسیر خازن جلد اول ص ٥٠٩) میں ہے۔ ”فلما توفيتنى یعنی فلما رفعتنى الى السماء فالمراد به توفية الرفع لا الموت“ ٨٢ نمبر کی حدیث میں یہ عبارت موجود ہے اور ایسا ہی تفسیر عباس میں فلما توفیتنی کا معنی فلما رفعتنی مذکور ہے اور بخاری کی عینی میں یہ بمعنی بھی نقل کیا ہے۔ ”وقال السدى هذا الخطاب والجواب فى الدنيا وقال ابن جرير هذا هو الصواب وكان ذلك حين رفعه الى السماء الدنيا“
(تفسیر خازن ص ٥٠٧) میں متعلق قول باری تعالیٰ ”اذ قال الله یا عيسى ابن مريم أانت قلت“ کے ہے۔ ”اختلف المفسرون فى وقت هذا القول فقال السدى قال الله يعيسى هذا القول حين رفعه الى السماء بدليل ان حرف اذ يكون للماضى“
اور (تفسیر خازن ص ٥٠٩) میں ہے۔ ”وهذا القول موافق لمذهب السدى حيث يقول ان هذه المخاطبة جرت مع عيسى عليه السلام حين رفع الى السماء“ مگر سدی کا قول جمہور کے مخالف ہے۔ جمہور اہل اسلام یہ کہتے ہیں کہ یہ جواب و سوال بروز قیامت ہوگا۔ اسی عبارت کے بعد مذکور ہے۔ ”وقال سائر المفسرين انما يقول الله له هذا القول يوم القيمة اما على قول جمهور المفسرين ان هذا السوال انما يقع يوم القيمة“
ثانی ٹکڑے حدیث کا جواب یہ ہے کہ حاکم نے مستدرک میں عائشہؓ سے اس طور پر روایت کی ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام ایک سو بیس برس تک زندہ رہا اور ہر نبی اپنے ماقبل کے نبی کی نصف عمر پاتا ہے۔ پس پہلے قول کو سب نے نصاریٰ کی طرف منسوب کیا اور حدیث عائشہؓ کو ذکر کر کے حافظ
٢١
ابن حجر عسقلانی نے خود غیر معتبر ٹھہرایا اور کہا کہ صحیح یہی ہے کہ عیسیٰ زندہ اٹھایا گیا اور ابن عساکر کی حدیث اس کے بعد نقل کر کے ثابت کر دیا کہ عیسیٰ علیہ السلام مدینہ منورہ میں فوت ہوں گے۔ اگر کتب سیر وتواریخ پر بالاستقراء نظر ڈالی جائے تو ہرگز یہ قضیہ ثابت نہیں ہوتا کہ ہر نبی اپنے ماقبل کے نبی کی نصف عمر پاتا ہے اور ظاہر ہے کہ فساد مضمون کا منجملہ علامات وضع حدیث کے ہوتا ہے۔ معلوم ہوا کہ حدیث موضوع ہے دیکھو اصل حدیث کو، اور حاکم کا مذہب تو یہی معلوم ہوتا ہے کہ وہ عیسیٰ علیہ السلام کا ٣٣ برس کی عمر میں زندہ آسمان پر چلے جانے کا قائل ہے۔ جیسا کہ درمنثور جلد ثانی ص ٣٦ میں ہے۔ "واخرج ابن سعد واحمد في الزهد والحاكم عن سعيد بن المسيب قال رفع عيسى ابن ثلث وثلثين سنة انتهی" پھر بی بی عائشہ صدیقہؓ کی طرف جو موضوع حدیث ہے۔ لانے کی ضرورت ہی نہ تھی۔ مگر یہ حاکم کی تساہل ہے اور حاکم تساہل میں مشہور ہے۔ فتح المغیث شرح الفیۃ الحدیث میں ہے۔ "وكالمستدرك على تساهل منه فيه بادخاله فيه عدة موضوعات حمله على تصحيحها اما التعصب كما رمى به من التشيع واما غيره فصلا عن الضعيف وغيره بل يقال ان السبب في ذلك انه صنفه في آخر عمره وقد حصلت له غفلة وتغير اوانه لم تيسر له تحريره وتنقيحه ويدل له ان تساهله في قدر الخمس الاول منه قليل جدا بالنسبة لباقيه ، نعم هو معروف عند اهل العلم بالتساهل في التصحيح والمشاهدة تدل عليه" اور طبرانی میں تو خود یہ موجود ہے کہ بہشت میں لوگ داخل ہوں گے۔ ٣٣ برس کی عمر پر جو کہ میلاد ہے عیسیٰ علیہ السلام کی قبل رفع کے، دیکھو بدور السافرہ ص ٧٢ پر کہ طبرانی کی عبارت کو نقل کیا ہے۔ تفسیر درمنثور میں ہے۔ "اخرج البخاري في تاريخه والطبراني عن عبدالله بن سلام قال يدفن عيسى بن مريم مع رسول الله ﷺ وصاحبيه فيكون قبره رابعاً" حاکم اور طبرانی دونوں عیسیٰ علیہ السلام کو زندہ مان رہے ہیں۔ اگر ملا جی حیا ہو تو مان لو اور امام مہدی کے آنے کا بھی امام طبرانی قائل ہے۔ اس نے اس کے اثبات میں حدیث نقل کی ہے۔ جس کے آخر میں کہا ہے۔ رواہ جماعۃ عن ابی الصدیق حضرت علیؓ سے روایت ہے کہ یا رسول اللہ ﷺ امام مہدی ہم اہل بیت سے ہوں گے یا کسی غیر سے، فرمایا حضرت ﷺ نے کہ ہم سے ہوں گے اور اللہ تعالیٰ ان کے ساتھ اس دین کو ختم کرے گا۔ رواہ الطبرانی ورواہ ابو نعیم فی الحلیۃ اور طبرانی نے اور علامات امام مہدی کی بھی بیان کئے ہیں۔ دیکھو رسالہ تیغ کو۔ ٢٢
تیسرے ٹکڑے کا جواب....... اوّل جواب یہ کہ حدیث بعض ناقدین حدیث کے نزدیک غیر ثابت ہے۔ کمافی اصول الحدیث دوسرا جواب یہ کہ بر تقدیر اس کے ثابت کے مقید بقید فی الارض ہی یعنی حدیث کی تقدیر عبارت یہ ہے۔ لوکان موسى وعيسى حيين في الارض لما وسعهما الا اتباعی یعنی اگر حضرت موسیٰ وعیسیٰ علیہما السلام زندہ ہوتے زمین پر تو ان کو جائز نہ ہوتا مگر میرا اتباع، مگر چونکہ وہ دونوں زندہ فی الارض نہیں ہیں۔ لہٰذا اتباع فی الارض اس وقت منتفی ہے۔ یعنی دونوں زندہ ہیں۔ مگر زندہ زمین پر نہیں ہیں۔ موسیٰ علیہ السلام اگرچہ بظاہر فوت ہو گئے ہیں ۔ مگر انبیاء علیہم السلام بحیات حقیقی عنداللہ زندہ ہیں۔ جیسا کہ اور اولیاء اللہ کما ورد ان اولیاء الله لا يموتون بل ينقلون من دار الفناء الى دار البقاء“ اور ان دونوں پیغمبروں کی تخصیص اس لئے کی کہ یہ دونوں نبی آخر کے اولو العزم ہیں اور عیسیٰ علیہ السلام بھی اگرچہ زندہ ہے۔ مگر زندہ فی الارض نہیں۔ بلکہ آسمان پر زندہ ہے۔ جو لوگ حدیث کو صحیح مانتے ہیں وہ فی الارض کی قید ضرور لگاتے ہیں۔ اگر برہمن بڈیہ کا ملا جی نہ مانے تو اس کے قادیانی مذہب کے جید عالم ثقہ ملقب بہ فاضل محمد احسن امروہی کی کتاب سے ثابت کردوں اور سبحان اللہ غرائبات زمانہ سے ہے کہ مرزائیوں کی زبان سے ایسی بات نکل جاتی ہے۔ جس سے جمہور اہل اسلام کی بات مانی جاتی ہے۔ اس محمد احسن امروہی نے اپنی کتاب شمس بازغہ کے صفحہ ٦٠ میں لکھا ہے۔ دربارہ اثبات موت عیسیٰ علیہ السلام کے (اور یہی آیت قرینہ ہے حدیث ”لوکان موسى وعيسىٰ حيين “ جس کی صحت صاحب فتوحات کو مسلم ہے۔ حیات سے حیات فی الارض مراد لینے پر )
اقول...... چونکہ فتوحات ہی میں حیات مسیح کی تصریح کئی مقامات پر کر دی ہے۔ جیسا کہ کچھ گزرا اور اب بھی بیان ہوگا۔ لہٰذا یہ حدیث صاحب فتوحات وغیرہ اہل اسلام کو جو متفق ہیں۔ حیات مسیح پر مضر نہیں۔ کیونکہ جب کہ صاحب فتوحات نے حدیث مذکور میں لفظ حیین کو مقید بحیوۃ فی الارض ٹھہرایا تو بمقتضی کلمہ لو کے اتباع موسیٰ وعیسیٰ علیہ السلام کا شرع محمدی کے لئے منتفی ہوا۔ اس لئے کہ موسیٰ وعیسیٰ علیہما السلام زندہ فی الارض نہیں تو حدیث مذکور سے صرف یہی مفہوم ہوا کہ عیسیٰ علیہ السلام بوقت بولنے آنحضرت ﷺ کے اس حدیث کو زندہ زمین پر موجود نہ تھے۔ اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ آسمان پر بھی زندہ نہ ہوں۔ تفسیر ابن کثیر میں اس حدیث کا یہی معنی لیا ہے جو بیان ہوا۔ کیونکہ اس تفسیر میں عیسیٰ علیہ السلام کے آسمان پر جانا اس خاکی بدن کے ساتھ واضح ثابت کیا ہے۔ دیکھو حدیث ٣٩ کو اور ٧٣ کے بعد کی عبارت کو اور شیخ اکبر نے فتوحات کے ٣٦٧ باب میں
٢٣
ابن عمرؓ کی حدیث مرفوع جس میں نصلہ انصاری کا ذکر ہے۔ حیات مسیح کو صاف ثابت کیا ہے اور بڑی قوت سے کہ جس سے چار ہزار صحابی کا اجماع حیات مسیح پر ثابت ہوا ہے اور اس حدیث سے اوّل ٣ سطر پر فرمایا کہ ہمارے موجودہ زمانے میں ایک جماعت زندہ ہے۔ عیسیٰ اور الیاس کے اصحاب میں سے۔ ”وفي زماننا اليوم جماعت احياء من اصحاب عيسى والياس“ اور فتوحات کے باب ٣٦٧ میں حدیث معراج میں لکھتے ہیں کہ جب رسول اللہ ﷺ داخل ہوئے آسمان میں تو عیسیٰ علیہ السلام اپنے بدن اصلی کے ساتھ وہاں تھا۔ کیونکہ وہ اب تک مرا نہیں۔ اٹھا لیا ہے۔ اس کو اللہ تعالیٰ نے اس آسمان کی طرف اور اس میں اس کو ٹھہرایا ہے اور اس آسمان میں اللہ تعالیٰ نے اس کو حاکم بنایا ہے اور وہ ہمارے اوّل مرشد ہے کہ جس کے ہاتھ پر ہم نے رجوع کیا ہے اور اس کو ہمارے حال پر بڑی عنایت ہے۔ ہم سے ایک ساعت بھی غافل نہیں رہتا۔ عبارت ہے: ”فلما دخل اذا بعیسٰی علیہ السلام بجسده عینه فانه لم يمت الى الآن بل رفعه الله الى هذا السماء واسكنه بها وحكمه فيها وهو شيخنا الاوّل الاول رجعنا على يديه وله بنا عناية عظيمة لا يغفل عنا ساعة واحدة“ اسی فتوحات کے باب ٥٧٥ میں ہے کہ حضرت محمد ﷺ کی کرامت میں سے ہے کہ پروردگار نے ان کی امت سے رسول کئے۔ پھر خاص کیا رسولوں سے اس کو جس کی نسبت انسان سے بعید تھی۔ پس نصف اس کا ہوا انسان اور دوسرا نصف اس کا ہوا روح پاک فرشتہ۔ کیونکہ جبرئیل علیہ السلام نے ہبہ کیا۔ اس کو یعنی عیسیٰ علیہ السلام کو بی بی مریم کے لئے بشر کر کے اور اٹھا لیا اللہ تعالیٰ نے اس کو اپنی طرف۔ پھر اس کو اتارے گا درحالیکہ وہ پروردگار کا ولی ہوگا۔ خاتم الاولیا ہوگا۔ آخر زمانہ میں حکم کرے گا۔ محمد ﷺ کی امت میں ان کے شرع کے ساتھ عبارت یہ ہے۔ ”اعلم وفقنا الله واياك ان من كرامته محمد ﷺ على ربه ان جعل من امته رسلا ثم انه اختص من الرسل من بعدن نسبة من البشر فكان نصفه بشرا ونصفه الآخر روحا مطهرا ملكا لان جبرئيل عليه السلام وهبه لمريم عليها السلام بشرا سويا رفعه الله اليه ثم ينزله وليا،خاتم الاولياء في آخر الزمان يحكم بشرع محمد ﷺ فى امته“ فتوحات کے ص ٧٣ میں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے باقی رکھا ہے۔ بعد رسول اللہ ﷺ کے تین رسولوں کو ان کے جسموں کے ساتھ اس دار دنیا میں اور باقی رکھا ہے اللہ تعالیٰ نے حضرت الیاس اور حضرت خواجہ خضر علیہما السلام کو اور یہ دونوں پیغمبروں میں سے ہیں اور نزول عیسیٰ ٢٤
علیہ السلام کا مسئلہ اجماعی ہو ہونے میں کوئی خلاف ہی نہیں ینزل في آخر الزمان“ مرا۔ بلکہ اس کو اٹھا لیا ہے۔ اللہ رفعه الله اليه الى هذا الـ کہ عیسیٰ علیہ السلام اب تک آ کے ملا جی نے فتوحات کو شاید کے کسی رسالہ کی بے سروپا عبار ہے۔ کسی کے پاس نہ ہو گی۔ جو قبل اس سے گزر چکی ہے کہ و مقر ہیں اور اسی کے مثبت اور مـ على الكاذبين“ اور الیواقـ دنداں شکن دیا جاتا۔ یہ حوالہ بھی ملا جی کتاب کا نام بجائے وغیر کی محض مکاری اور ابلہ فریبی ہـ ان کی بے علمی کا ایک قسم کا پردہ ہـ بیعت نہ یہی پر قولہ ...... اور مد اگر چہ موضوع ہو ایک حدیث مذکور ہو کہ عیسیٰ علیہ السلام زندہ بـ زندہ ہیں اور پھر وہ کسی وقت اس جائے گا۔ مگر آج تک میں رجو تک کسی سے نہ ہوسکا کہ اس انعـ
علیہ السلام کا مسئلہ اجماعی ہونا ثابت فرمایا۔ اسی باب ٧٣ میں ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام کے نازل ہونے میں کوئی خلاف ہی نہیں۔ وہ قیامت کے قریب نازل ہوں گے۔ ”وانه لاخلاف انه ينزل في آخرالزمان“ اور فتوحات کے باب ٣٦٧ میں ہے۔ عیسیٰ علیہ السلام اب تک نہیں مرا۔ بلکہ اس کو اٹھا لیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان آسمانوں کی طرف ” فـانـه لـم يمـت الـى الان بـل رفعه الله اليه الى هذا السماء“ اسی شیخ اکبر نے فتوحات میں اور بھی کئی جگہ تصریح کر دی ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام اب تک آسمانوں میں زندہ ہیں۔ جیسے کہ الیاس اور خضر علیہ السلام برہمن بڈیہ کے ملاجی نے فتوحات کو شاید کہ دیکھا نہیں ہے۔ فقط کسی مرزائی غلط نویس دھوکہ باز ، ابلہ فریب کے کسی رسالہ کی بے سروپا عبارت کو دیکھ کر فتوحات کا نام لے لیا۔ ملاجی نے جانا کہ فتوحات نایاب ہے۔ کسی کے پاس نہ ہوگی۔ حوالہ دے کر جاہلوں میں نام کر لوں گا اور تفسیر ابن کثیر کی عبارت مفصل قبل اس سے گذر چکی ہے کہ وہ عیسیٰ علیہ السلام کے آسمان پر جانے کے اس جسم عنصری کے ساتھ مقر ہیں اور اسی کے مثبت اور مدعی ہیں۔ پس مرزائیوں کی بات کذب ثابت ہوئی۔ ”فلعنة الله على الكاذبين“ اور الیواقیت والجواہر کی عبارت اگر ملاجی لکھتے تو اس کا جواب بھی اسی طور سے دنداں شکن دیا جاتا۔ یہ حوالہ بھی ملاجی کا بفضلہ تعالیٰ دھوکہ کی ٹٹی ہے اور قولہ وغیرہ وغیرہ اقوال اگر ملاجی کتاب کا نام بجائے وغیرہ وغیرہ کے لکھتا تو ہم ان کتابوں کو دیکھ کر اس کا رد دیتے۔ مگر یہ ملاجی کی محض مکاری اور ابلہ فریبی ہے۔ بعضے بے علم لوگ ایسے ہی کاذب حوالہ دے دیا کرتے ہیں۔ یہ ان کی بے علمی کا ایک قسم کا پردہ ہوا کرتا ہے۔
یہی پردہ ہے بے علمی کا بنوا چنوا خیرا کا
قولہ ...... اور مدت دراز سے مخالف مولویوں کو اشتہار دیا گیا ہے کہ اگر کسی قسم کی بھی اگرچہ موضوع ہو ایک حدیث یہ لوگ کسی کتاب حدیث سے نکال کر دکھا سکیں۔ جس میں صریح مذکور ہو کہ عیسیٰ علیہ السلام زندہ بجسم عنصری (یعنی خاکی) آسمان میں چلے گئے تھے اور اب تک وہ زندہ ہیں اور پھر وہ کسی وقت اس دنیا میں رجوع کریں گے۔ تب ان کو بیس ہزار روپیہ انعام دیا جائے گا۔ مگر آج تک میں رجوع کریں گے تب ان کو بیس ہزار روپیہ انعام دیا جائے گا۔ مگر آج تک کسی سے نہ ہو سکا کہ اس انعام کو حاصل کرنے کی جرأت کر سکے۔ چہ جائیکہ حاصل کر لیوے۔
(ہدایۃ المہتدی ص ٧)
٢٥
اقول...... کیسا صاف جھوٹ بولا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی لعنت ہے کاذبوں دروغگویوں پر بلکہ مدت دراز سے مرزا کے دعوٰی باطل کی ابتداء ہی سے صدہا کتابیں صدہا رسالہ جات مرزا کی تردید میں چھپ چکے اور بکثرت صحیح احادیث اس امر کی دکھائی گئیں۔ مگر منکروں نے اپنے آپ کو خفاش اندھا کرلیا۔ انبیاء علیہم السلام سے منکر لوگ معجزات دیکھا کرتے تھے اور پھر انکار کر جایا کرتے تھے۔ ملک پنجاب و ہند وسندھ و خراسان و غیرہا ملکوں میں تو روز روشن سے زیادہ روشن ہے کہ قادیانی صحیح احادیث اور کتب احادیث کو نہیں مانتا اور بارہا بحث معین کر کے فرار کر گیا۔ مگر ملا عبدالواحد برہمن ندیہ کا جانتا ہے کہ بنگالہ میں قادیانی کے کفر اور فرار اور بے علمی کے بارہ میں شہرت نہیں ہے۔ لہٰذا مسلمانوں کو دھوکہ اور فریب دینے کے لئے ایسا بک دیا۔ اب اگر اس کا ایمان رواجی ہے اور اپنی بات کی کچھ قدر غیرت بھی ہے تو میں اس طفل مکتب کو چند احادیث اس امر کی بتاتا ہوں۔ جن سے اس کی جہالت کا پردہ کھل جائے۔ اب دل کے کانوں کا پردہ کھول کر ملا جی سنو اور بیس ہزاروں کی فکر کرو۔ ورنہ منافقانہ کلام سے توبہ کرو۔ تفسیر ابن کثیر کی عربی عبارت کا مطلب بیان کرتا ہوں۔
- حدیث:١...... حضرت ابن عباسؓ نے فرمایا کہ جب اللہ تعالیٰ ؎١ نے عیسیٰ علیہ السلام
کو آسمان پر اٹھانا چاہا تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام اپنے مکان کے چشمہ سے باہر نکل کر آئے۔ اس حال میں کہ آپ کے سر مبارک سے پانی کے قطرے ٹپک رہے تھے۔ بارہ حواریوں کے پاس آئے اور فرمایا کہ بے شک تم میں سے ایک شخص مجھ پر ایمان لانے کے بعد بارہ مرتبہ کافر ہوگا۔ بعدازاں فرمایا کہ کون شخص ہے تم میں سے جس پر میری شباہت ڈالی جاوے اور وہ میری جگہ مقتول ہو اور میرے ساتھ میرے درجہ میں بہشت کے اندر رہے۔ پس ایک نوجوان شخص نے کھڑے ہو کر عرض کی کہ میں ہوں یا رسول اللہ تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے اس کو فرمایا کہ بیٹھ جا اور آپ نے دوبارہ پھر اسی لفظ کا اعادہ فرمایا۔ پھر وہی شخص کھڑا ہوا غرض چوتھی مرتبہ عیسیٰ علیہ السلام نے فرمایا کہ تو ہی وہ شخص ہے۔ پھر وہی شخص حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی شباہت اس پر ڈالی گئی۔ یعنی بعینہ مثل عیسیٰ علیہ السلام کے ہر ایک چیز میں ہوگیا۔ باذن پروردگار اور عیسیٰ علیہ السلام مکان کے روشندان سے آسمان کی طرف اٹھائے گئے۔ بعدازاں یہود کے جاسوس آئے اور اس شبیہ کو پکڑا اور اس کو حضرت عیسیٰ جان کر سولی پر قتل کر دیا اور یہ اسناد صحیح ہے۔
؎١ حواریوں کے معنی مددگار ہیں۔ ان میں اختلاف ہے کہ کون لوگ تھے۔ بعض علماء نے کہا کہ مچھلی پکڑنے والے لوگ تھے۔ بعض نے کہا کہ رنگریز یعنی دھوبی لوگ تھے اور بعض نے کہا کہ امیر لوگ تھے۔ کتاب السبعیات
٢٦
ابن عباس کی طرف ابو معاوية عن الاعمش عباس قال لما اراد الله تـ وفى البيت اثنا عشر ر البيت ورأسه يقطر ماء آمن بى قال ثم قال ايكـ درجتي فقام شاب من احد الشاب فقال انا فقال هوانـ روزنة فى البيت الى السمـ فقتلوه ثم صلبوه بعضهم اثـ فقالت كان الله فينا ماشاء ثم كان فينا ابن الله ماشاء ثم الكافرفان على المسلمة فقـ محمد ﷺ (تفسیر ابن کثیر) “ اور اور انہوں نے ابی معاویہ سے مثل طریق نے۔
- ......٢ اور روایـ
حضرت مجاہدؒ سے کہ یہودیوں نے عـ کرتے تھے اس شبیہ کو حضرت عیسیٰ علیہ السلاـ آسمان پر اٹھا لیا۔ درمنثور
- ......٣ حضرت قتادہؒ تابعی حضـ
یہود حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے قتل کرنے پر فخر کـ عیسیٰ علیہ السلام زندہ آسمان پر اٹھائے گئے اور الـ درمنثور!
- ......٤ روایت کیا ہے ابن جریـ
٧
ابن عباس کی طرف ”قال ابن ابی حاتم حدثنا احمد بن سنان حدثنا ابومعاوية عن الاعمش عن المنهال بن عمرو وعن سعيد بن جبير عن ابن عباس قال لما اراد الله تعالى ان يرفع عيسى الى السماء خرج على اصحابه وفى البيت اثنا عشر رجلا من الحوارين يعنى فخرج عليهم من عين فى البيت ورأسه يقطر ماء فقال ان منكم من يكفر بى اثنى عشره مرة بعد ان آمن بى قال ثم قال ايكم يلقى عليه شبهى فيقتل مكانى ويكون معى فى درجتى فقام شاب من احدثهم سنا فقال له اجلس ثم اعاد عليهم فقام ذلك الشاب فقال انا فقال هو انت ذاك فالقى عليه شبه عيسى ورفع عيسى من روزنة فى البيت الى السماء قال وجاء الطلب من اليهود فاخذوا الشبه فقتلوه ثم صلبوه فكفر به اثنى عشر مرة بعد ان آمن به وافترقوا ثلث فرق فقالت كان الله فينا ماشاء ثم صعد الى السماء وهولاء اليعقوبية وقالت فرقة كان فينا ابن الله ماشاء ثم رفعه الله اليه وهؤلا المسلمون فتظاهرت الكافرتان على المسلمة فقتلوها فلم يزل الاسلام طامسا حتى بعث الله محمدﷺ (تفسیر ابن کثیر) “ اور روایت کیا ہے اس حدیث کو نسائی نے بھی ابی کریب سے اور انہوں نے ابی معاویہ سے مثل طریق مذکور کے اسی طرح ذکر کیا ہے۔ بہت علمائے متقدمین نے۔
- ......٢ اور روایت کیا بن حمید اور ابن مردویہ اور ابن جریر اور ابن المنذر نے
حضرت مجاہدؒ سے کہ یہودیوں نے دار پر چڑھایا عیسیٰ علیہ السلام کی شبیہ کو اس حال میں کہ گمان کرتے تھے اس شبیہ کو حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور حالانکہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو پروردگار نے زندہ آسمان پر اٹھا لیا۔ درمنثور
- ......٣ حضرت قتادہؒ تابعی حضرت انسؓ سے روایت کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے دشمن
یہود حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے قتل کرنے پر فخر کرتے تھے۔ مگر ان کا گمان غلط ہے۔ کیونکہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام زندہ آسمان پر اٹھائے گئے اور ان کی شبیہ ایک شخص پر ڈالی گئی اور وہی قتل کیا گیا۔ درمنثور
- ......٤ روایت کیا ہے ابن جریر نے سدی تابعی سے جو شاگرد ہے ابن عباسؓ کا
٢٧
کہ فرمایا سدی نے محاصرہ کیا یہود نے عیسیٰ علیہ السلام کا مع ان کے مددگاروں کے ایک مکان میں پس عیسیٰ علیہ السلام کی شباہت ایک شخص پر ڈالی گئی۔ یہود نے اس شخص کو قتل کر ڈالا اور عیسیٰ علیہ السلام آسمان پر چلے گئے۔ یہ مضمون ہے پروردگار کے اس قول پاک کا۔ ”ومکروا ومکر الله والله خير الماكرين“ یعنی یہود نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے قتل کرنے کا حیلہ اور مکر کیا اور اللہ تعالیٰ نے ان کو ان کے مکر کی سزا دی اور اللہ تعالیٰ عمدہ سزا دینے والوں سے ہے۔
- ٥...... ”واخرج ابن جرير عن مالك وان من اهل الكتاب الا
ليؤمنن به قبل موته قال ذلك عند نزول عیسیٰ ابن مريم ولايبقى احد من اهل الكتاب الا آمن به“ نزول سے مراد نزول من السماء ہی ہے۔ کیونکہ اس کے غیر میں آسمانوں پر جانا جا بجا مذکور ہے اور قرینہ دوسرے معنی کے ہونے کا موجود ہے۔ جس کو اس جگہ معنی غیر نزول سے دھوکہ لگا ہے اور نزول من السماء مراد نہیں لیتا۔ وہ پورا جاہل ہے۔
- ٦...... اخراج کیا عبد بن حمید اور ابن المنذر نے شہر بن حوشب سے کہ روایت
ہے محمد بن علی بن ابی طالب سے آیت مذکور کی تفسیر میں کہ ہر ایک اہل کتاب کو ملائکہ منہ اور چوتڑ پر ماریں گے اور کہیں گے کہ تم جھوٹ بولے تھے کہ مسیح خدا ہے۔ بلکہ عیسیٰ علیہ السلام تو روح اللہ اور کلمتہ اللہ ہے۔ وہ فوت نہیں ہوئے اور اٹھائے گئے ہیں۔ آسمانوں پر پھر نازل ہوں گے قیامت سے آگے پس کل اہل کتاب ایمان لائیں گے۔ ساتھ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے قبل موت عیسیٰ علیہ السلام کے۔
- ٧...... اور انہیں محمد بن حنفیہ یعنی محمد بن علی بن ابی طالب سے پوری مفصل روایت
ہے۔ جن کے آخر میں یہ بیان ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام کے مددگاروں میں سے ایک شخص عیسیٰ علیہ السلام کی صورت پر بدل گیا اور ایک دریچہ چھت سے آسمان کی طرف ظاہر ہو گیا اور عیسیٰ علیہ السلام کو اونگھ آئی۔ یعنی مقدمہ نوم جو کہ پوری نیند آنے سے پہلے آنکھیں نیم بندی ہو کر بدن میں سستی آ جایا کرتی ہے۔ پس اٹھائے گئے عیسیٰ علیہ السلام بطرف آسمان کے اور یہی معنی ہیں باری تعالیٰ کے قول کے۔ ”یعیسٰی انی متوفيك ورافعك الیٰ“ اے عیسیٰ میں تجھ کو نیند لا کر اپنی طرف اٹھانے والا ہوں۔ وفات کا معنی وہ بھی ہے کہ اے عیسیٰ میں تجھ کو مارنے والا ہوں۔ یعنی موت دینے والا ہوں اور یہ معنی بھی درست ہیں کہ میں تجھ کو اس وقت اونگھ دینے والا ہوں۔
- ٨...... ابن جریر نے جو حدیث امام حسن سے روایت کی ہے بواسطہ ابو رجا اور ابن
٢٨
علیہ اور یعقوب کے اس میں یہ ؟ نزل آمنوا به اجمعون ہیں۔ باری تعالیٰ کے پاس اور ب
- ٩...... اور ایسا
وہ جویریہ بن بشیر سے روایت ک نہیں ۔ کیونکہ وہ تو ہر نبی اور امو ہے اور نہ وہ جائے تعجب ہے ۔ ؛ حیات سے زندہ ہیں۔ قسم کھا کر بعید معلوم ہوتا ہے۔ ظاہر ہے کہ ہی مراد ہے۔ ” ولعمری ھذا ،
- ١٠...... اور امام
آسمان سے ذکر فرمایا ہے۔
- ١١، ١٢...... اور امام
اللہ ﷺ نے البتہ عیسیٰ ابن مریم
- ١٣...... امام احمد
دجال کو لد کے دروازہ پر قتل کر ۔
- ١٤...... اوزاعی
اور عمران بن حصین اور نافع بن بن ابی العاص اور جابر اور ابواما سمعان اور عمرو بن عوف اور حذی قبل از قیامت حضرت عیسیٰ بن سب احادیث میں عیسیٰ علیہ السلا الترمذی“
- ٣١...... امام احم
علامات شمار کئے اور عیسیٰ علیہ السلا
علیہ اور یعقوب کے اس میں یہ جملہ بھی ہے۔ ”واللہ انہ لحی الان عنداللہ ولکن اذا نزل آمنوا بہ اجمعون “ یعنی قسم ہے پروردگار کی کہ وہ عیسیٰ علیہ السلام اب اس وقت زندہ ہیں۔ باری تعالیٰ کے پاس اور جب اتریں گے ان پر ایمان لائیں گے بدکار اور نیک۔
- ٩...... اور ایسا ہی ابن ابی حاتم نے اپنے باپ سے اور وہ علی بن عثمان لاحقی سے
وہ جویریہ بن بشیر سے روایت کرتے ہیں اور اس معنی اور زندہ رہنے سے زندہ رہنا روحانی مراد نہیں ۔ کیونکہ وہ تو ہر نبی اور صحابی اور ہر مومن کے لئے ثابت ہے۔ اس پر قسم کھانا کیا ضرورت ہے اور نہ وہ جائے تعجب ہے۔ بلکہ مراد اس سے ثابت کرنا اس امر کا ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام جسمانی حیات سے زندہ ہیں۔ قسم کھا کر اور حروف تاکید سے وہی امر بیان کیا جاتا ہے جو کہ عقل میں ذرہ بعید معلوم ہوتا ہے۔ ظاہر ہے کہ حرف قسم اور ان تحقیقیہ اور لام تاکیدیہ سے بیان کرنا حیات جسمانی ہی مراد ہے۔ ”ولعمری ھذا ظاہر لمن ادنی درایۃ“
- ١٠...... اور امام بخاری نے اپنی بخاری میں ذکر الانبیاء میں ابو ہریرہؓ سے بھی اترنا
آسمان سے ذکر فرمایا ہے۔
- ١١، ١٢...... اور امام مسلمؒ اور امام احمدؒ نے بھی ابو ہریرہؓ سے روایت کیا ہے کہ فرمایا رسول
اللہ ﷺ نے البتہ عیسیٰ ابن مریم علیہما السلام حج اور عمرہ کی نیت باندھیں گے۔ روحاء کی وادی میں۔
- ١٣...... امام احمدؒ نے حدیث بیان کی کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ عیسیٰ علیہ السلام
دجال کو لد کے دروازہ پر قتل کرے گا۔
- ١٤...... اوزاعی نے زہری سے بطریق مجمع بن حارثہ اور امام ترمذی نے قتیبہ سے
اور عمران بن حصین اور نافع بن عیینہ اور ابو ہریرہؓ اور حذیفہ بن اسید اور ابو سریحہؓ اور کیسان اور عثمان بن ابی العاص اور جابر اور ابو امامہ اور ابن مسعود اور عبداللہ بن عمر اور سمرہ بن جندب اور نواس بن سمعان اور عمرو بن عوف اور حذیفہ بن الیمان رضی اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین سے حدیثیں آ چکی ہیں کہ قبل از قیامت حضرت عیسیٰ بن مریم علیہما السلام دجال کو قریہ لد کے دروازہ پر قتل کریں گے۔ ان سب احادیث میں عیسیٰ علیہ السلام کے آنے کا ذکر موجود ہے۔ ”اومأ الی ذلک کلہ الامام الترمذی“
- ١٥...... امام احمد نے سفیانؒ سے حدیث بیان کی ہے اور اس میں قیامت کے
علامات شمار کئے اور عیسیٰ علیہ السلام کا آنا آسمانوں سے بھی ذکر فرمایا ہے۔
٢٩
٣٢...... اور امام مسلم نے عبدالعزیز کی روایت سے بھی ایسا ہی بیان فرمایا ہے۔
٣٣...... حیات الحیوان میں ابوداؤد سے ایک حدیث مفصل بیان کی ۔ جس میں آثار حشر ذکر کر کے تصریح کی ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام بطرف زمین کے نازل ہوئیں گے۔ پس اس سے لزوماً بھی معلوم ہو گیا کہ آسمان ہی سے بطرف زمین کے نازل ہوئیں گے اور اگر آسمان سے مراد نہ لیا جائے تو الی الارض کا لفظ بے معنی ہو جاتا ہے۔
٣٤...... اور اخراج کیا امام بخاری نے اپنی تاریخ میں اور طبرانی نے عبداللہ بن سلام سے کہ دفن کئے جائیں گے عیسیٰ علیہ السلام ساتھ رسول اللہ ﷺ اور ابوبکر اور عمر بن خطاب کے۔ پس ان کی قبر چوتھی ہوگی اور عبارت یہ ہے۔ ”یدفن عیسی بن مریم مع رسول الله ﷺ وصاحبيه فيكون قبره رابعاً“ اھ! امام ترمذی نے فرمایا: ”عن محمد بن يوسف بن عبدالله بن سلام عن ابيه عن جده قال مكتوب في التوراة صفة محمد وعيسى ابن مریم یدفن معه (در منثور)“ اور حضرت عائشہ صدیقہ نے حضرت ﷺ کی خدمت میں عرض کی کہ یا رسول اللہ ﷺ مجھے معلوم ہوتا ہے کہ میں آپ کے بعد زندہ رہوں گی۔ اگر اجازت ہو تو میں آپ کے پاس مدفون ہوں۔ پس فرمایا حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ نے کہ میرے پاس تو ابوبکر اور عمر اور عیسیٰ علیہ السلام کی قبر کے سوا جگہ نہیں ہے۔ ”عن عائشة قالت قلت يا رسول الله انى ارى ان اعيش بعدك فتاذن لى ادفن الى جنبك فقال وانى بذلك الموضع مافيه الا موضع قبرى وقبر ابى بكر وعمر وعيسى عليه السلام ابن مريم“
پس یہ حدیث مرسل ہوئی اور مرسل حدیث نزدیک جمہور علماء کے حجت ہے۔ شرح نخبۃ الفکر میں ہے۔ ”قال جمهور العلماء المرسل حجة مطلقاً بناء على الظاهر وحسن ظن به انه ما يروى حديثه الا عن الصحابى انما حذفه بسبب من الاسباب كما اذا كان يروى الحديث عن جماعة من الصحابة لما ذكر عن الحسن البصرى انه قال انما اطلقه اذا سمعته من السبعين من الصحابة وكان قد يحذف اسم على ايضا بالخصوص لخوف الفتنة“
یعنی امام حسن بصری صاحب فرماتے ہیں کہ میں جب صحابی کو چھوڑ کر قال رسول اللہ کہتا ہوں کہ اس حدیث کو ستر صحابی سے سن لیتا ہوں اور امام حسن بصریؒ کی تو خود مرزا نے اپنی کتابوں میں بارہا وصف بھی کی ہے۔ ضرور ہی مرزائی لوگ تسلیم کریں گے اور شیخ شہاب الدین
٤٠
سہروردی نے عوارف کی ششم فصل میں لکھا ہے کہ امام حسن بصری نے فرمایا کہ میں نے ستر صحابی بدری کی ملاقات کی ہے۔ ان کا لباس صوف کا تھا۔
- ٣٥...... اور روایت کیا حدیث کو امام ابن جوزی نے اپنی کتاب وفاء میں عبداللہ
بن عمرؓ سے کہ فرمایا رسول اللہ ﷺ نے اتریں گے عیسیٰ بن مریم آسمان سے پس نکاح کریں گے اور صاحب اولاد ہوں گے اور مدفون ہوں گے ساتھ میرے ۔ پس کھڑے ہوں گے ہم دونوں ایک قبر سے (یعنی ایک مقبرے سے) درمیان ابوبکرؓ اور عمرؓ کے۔
- ٣٦...... یعنی بخاری میں بھی ایسا ہی ہے۔
- ٣٧...... محقق ابن جزری نے بھی ایسا ہی فرمایا۔
- ٣٨...... ابونعیم نے کتاب الفتن میں ابن عباسؓ سے روایت کیا کہ عیسیٰ علیہ السلام
آسمان سے آ کر زمین پر موسیٰ علیہ السلام کی سسرال میں حضرت شعیب علیہ السلام کی قوم میں نکاح کریں گے اور وہ لوگ جذامی ہوں گے۔ پس ان کی اولاد ہوگی۔ پھر فوت ہو جائیں گے اور دفن ہوں گے رسول اللہ ﷺ کی قبر کے قریب۔
- ٣٩...... تفسیر خازن اور در منثور اور ابن کثیر اور مسند امام احمد میں ہے کہ شب
قیامت کے قائم ہونے کے بارہ میں کہا کہ عیسیٰ علیہ السلام نے کہا اس کا معین وقت تو میں نہیں بتا سکتا۔ مگر میرے ساتھ میرے رب نے وعدہ کیا ہے کہ قیامت قائم نہ ہوگی۔ جب تک تو زمین پر اتر کر قوم یاجوج ماجوج اور دجال کو ہلاک نہ کر لے گا۔
- ٤٠...... اور اس حدیث کو ابن ماجہ نے بھی ذکر کیا ہے۔ دوسری اسناد سے۔
- ٤١...... امام فخرالدین رازی نے تفسیر کبیر میں فرمایا: ”الاول معنى قوله
تعالى انی متوفیک ای انی متم عمرك فحينئذ اتوفاك فلا اتركهم حتى يقتلوك بل انا رافعك الى سمائ ومقربك بملائكتي واصونك من ان يتمكنوا من قتلك وهذا تاويل حسن اقول لانه ليس فيه دلالة على الوفاة بمعنى الموت واتمام العمر وقت الرفع بل فيه اظهار ان الرفع قبل اتمام العمر وهذا لا يخفى على اولى النهى. وقد ثبت بالدليل انه حى وورد الخبر عن النبي ﷺ انه سينزل ويقتل الدجال ثم انه تعالى يتوفاه بعد ذلك“
- ٤٣...... حضرت شیخ امام اجل ابونصر محمد بن عبدالرحمٰن ہمدانی نے اپنی کتاب
سبعیات میں فرمایا کہ یوم السبت یعنی سنیچر کے روز سات شخصوں نے مکر کیا ہے۔ سات شخصوں کے
جاہلوں اور دہریوں پر جماعت مرزائیہ کی تردید اپنے آپ کو معاف کر جایا کرتے تھے۔ ہے کہ قادیانی مسیح کا دعویٰ براہین احمدیہ کا ہے۔ لہٰذا مسلمانوں کو اپنی بات کی کچھ قدر سے اس کی جہالت کا نہ کرو۔ ورنہ منافقانہ
نے عیسیٰ علیہ السلام نکل کر آئے۔ اس حواریوں کے پاس وہ مرتد کافر ہوگا۔ وہ میری جگہ مقتول اس نے کھڑے ہو کر بیٹھ جا اور آپ نے السلام نے فرمایا کہ گئی۔ یعنی بعینہ مثل مکان کے روشندان شبیہ کو پکڑا اور اس کو
ت تھے۔ بعض علماء تھے اور بعض نے کہا
ساتھ نوح علیہ السلام سے ان کی قوم کا مکر، صالح علیہ السلام سے ان کی قوم کا مکر، یوسف علیہ السلام سے ان کے بھائیوں کا مکر، موسیٰ علیہ السلام سے ان کی قوم کا مکر، عیسیٰ علیہ السلام سے ان کی قوم کا مکر، قریش کے سرداروں کا مکر حضرت رسول اللہ ﷺ سے، بنی اسرائیل کی قوم کا مکر، پروردگار کے منع کرنے کے ساتھ شکار کرنے سے بروز سنیچر کے یعنی شنبہ کے روز، اور بیان کیا کہ عیسیٰ علیہ السلام کو ان کی قوم کے مکر کے سبب سے پروردگار نے بواسطہ حضرت جبرائیل علیہ السلام کے آسمان پر بلالیا اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی ایک شخص پر شباہت ڈالی گئی۔ جس کا نام اشبوع تھا اور وجہ قتل کرنے کی یہ تھی کہ عیسیٰ علیہ السلام مردوں کو زندہ کرتے تھے۔ بیماروں اندھوں جذامیوں کوڑھیوں کو لنگڑوں کو بحکم پروردگار اچھا کر دیتے تھے اور یہود اس کو برا جان کر اپنے نبی موسیٰ علیہ السلام کی بے قدری اور ذلت جانتے تھے اور عیسیٰ علیہ السلام کے اس معجزے کو سحر اور جادو کہتے تھے۔ پھر عیسیٰ علیہ السلام کی دعاء سے ان یہودیوں کی صورتیں خنزیر اور بندر کی مثل ہو گئیں۔ یہ قصہ مفصل دیکھو میری کتاب تج میں، امام بدر الدین عینی نے بخاری کی شرح جلد گیارھویں ص ٣٧١ میں فرمایا: ”وان عیسٰی یقتلہ بعد ان ینزل من السماء فیحکم بشریعة محمدیہ“ یعنی دجال کی باتوں میں سے ایک یہ بات ہے کہ اس کو حضرت عیسیٰ علیہ السلام قتل کریں گے۔ آسمان سے نازل ہونے کے بعد پس حکم کریں گے۔ ساتھ شریعت محمدی ﷺ کے۔
- ٤٤...... ابوداؤد طیالسی نے قیامت کے علامات کا بیان کیا اور کہا کہ خانہ کعبہ کو حبشی
لوگ خراب کریں گے کہ اس کے بعد آباد نہ ہوگا اور خانہ کعبہ سے خزانہ نکالیں گے اور امام طیبی نے فرمایا کہ یہ واقعہ عیسیٰ علیہ السلام کے زمانہ میں ہوگا۔
- ٤٥...... امام قرطبیؒ نے فرمایا کہ عیسیٰ علیہ السلام کی موت کے بعد خانہ کعبہ خراب کیا
جائے گا۔ گویا کہ زمانہ عیسیٰ علیہ السلام سے مراد ان کی موت کے بعد کا زمانہ ہے۔
- ٤٦...... (عینی بخاری ج ٢ ص ٢٠١) میں ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام گھوڑے پر جس کا
نام براق ہے سوار ہو کر آسمان پر تشریف لے گئے اور اسی براق پر رسول اللہ ﷺ بھی سوار ہوئے تھے۔
- ٤٧...... (عینی بخاری ج ٢ ص ٢٠٧) میں ہے کہ شب معراج میں آسمان پر جب کہ
رسول اللہ ﷺ کی انبیاء علیہم السلام سے ملاقات ہوئی تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو مع ان کے جسم کے دیکھا۔ جیسا کہ دنیا میں زندہ رہتے تھے۔
- ٤٨...... ابو عمرو الدارانی نے رسول اللہ ﷺ سے روایت کی ہے کہ میری امت سے
ایک قوم حق پر اس قدر لڑے گی کہ عیسیٰ علیہ السلام اتر آئیں گے آسمانوں سے۔
٣٢
- ٤٩....... (تفسیر روح البیان، ج ٤ ص ٥١٤) میں ہے۔ ”وفی الحدیث ان المسیح
یجیئ فمن لقیہ فلیقرئہ منی السلام“ یعنی حدیث شریف میں ہے کہ فرمایا رسول اللہ ﷺ نے کہ تحقیق عیسیٰ علیہ السلام آنے والا ہے۔ پس تم میں سے جو کوئی ان سے ملاقات کرے تو میرا سلام ان سے کہہ دے۔
- ٥٠....... (تفسیر ابن جریر) میں ہے۔ ”حدثنا ابن بشار حدثنا عبدالرحمٰن
عن سفیان عن ابی حصین عن سعید بن جبیر عن ابن عباس وان من اھل الکتاب الا لیؤمنن بہ قبل موتہ قال قبل موت عیسیٰ ابن مریم علیھما السلام“
- ٥١،٥٢،٥٣....... ”وقال العوفی عن ابن عباس مثل ذلک قال ابو مالک
فی قولہ الا لیؤمنن بہ قبل موتہ قال ذلک عند نزول عیسیٰ ابن مریم لا یبقی احد من اھل الکتاب الا لیؤمنن بہ وقال ابن جریر حدثنی یعقوب حدثنا ابن علیۃ حدثنا ابو رجاء عن الحسن وان من اھل الکتاب الا لیؤمنن بہ قبل موتہ قال قبل موت عیسیٰ علیہ السلام واللہ انہ لحی الآن عند اللہ ولکن اذا نزل آمنوا بہ اجمعون“
- ٥٤....... ”وقال ابن ابی حاتم حدثنا ابی حدثنا علی بن عثمان
الاحقی حدثنا جویریۃ بن بشر قال سمعت رجلا قال للحسن یا ابا سعید قول اللہ عزوجل وان من اھل الکتاب الا لیؤمنن وقال قبل موتہ عیسیٰ علیہ السلام ان اللہ رفع الیہ عیسیٰ وھو باعثہ قبل یوم القیمۃ مقاماً یؤمن بہ البر والفاجر آہ وھکذا قال عبدالرحمٰن بن زید بن اسلم“
- ٥٥....... خروج اور ظاہر ہونا عیسیٰ علیہ السلام کا قیامت کی علامات سے ایک بڑی
علامت ہے۔ تفسیر درمنثور میں ہے۔ ”اخرج الفریابی وسعید بن منصور وسدی وعبد بن حمید وابن ابی حاتم والطبرانی من طرق عن ابن عباس فی قولہ تعالیٰ وانہ لعلم الساعۃ قال خروج عیسیٰ قبل یوم القیمۃ“
- ٥٦....... ”واخرج عبد بن حمید عن ابی ھریرۃ وانہ لعلم للساعۃ
قال خروج عیسیٰ مکثا فی الارض اربعین سنۃ یحج ویعمر“
٣٣
٥٧...... ”واخرج عبد بن حميد وابن جرير عن مجاهد وانه لعلم للساعة قال آية للساعة خروج عيسى ابن مريم قبل يوم القيمة“
٥٩،٥٨...... ”واخرج عبد بن حميد وابن جرير عن الحسن تفسير قوله تعالى وانه لعلم للساعة قال نزول عيسىٰ“
٦٠...... ”واخرج ابن جرير عن طرق عن ابن عباس في تفسير قوله تعالى وانه لعلم للساعة قال نزول عیسیٰ علیه السلام“
ان سب عبارتوں میں واضح ہے کہ آنا عیسیٰ علیہ السلام کا نشانی ہے قیامت کی۔
٦٦،٦٥،٦٤،٦٣،٦٢،٦١...... امام احمد نے ابن عباسؓ سے، ابو العالیہؓ اور ابو مالکؓ اور عکرمہ اور قتادہ اور ضحاک سے سب سے عیسیٰ بن مریم کے تشریف لانے کی احادیث وارد ہیں۔
٧٢،٧١،٧٠،٦٩،٦٨،٦٧...... ایسا ہی عبداللہ بن مسعودؓ اور ابو امامہؓ اور عبداللہ بن عمرو بن العاص اور ابو شریحہ اور عائشہ صدیقہؓ اور انسؓ سے ذکر نزول اور قتل دجال اور آنا عیسیٰ علیہ السلام کا قبل یوم قیامت کے بہت واضح مذکور ہے۔
غرض کہ عیسیٰ علیہ السلام کے دوبارہ زمین پر آنے میں احادیث متواترہ موجود ہیں۔ سب کا ذکر کرنا بہت مشکل امر ہے اور دیکھنے والا بھی ساری کتاب کو دیکھنے کی ہمت نہیں کرتا۔ چنانچہ امام ابن کثیر نے آخر میں فرما دیا۔ ”قد تواترت الاحادیث عن رسول الله ﷺ انه اخبر بنزول عيسىٰ عليه السلام قبل يوم القيمة اماما عادلاً“ احادیث و آثار دربارہ مرفوع ہونے جسم مسیح کے اور نزول ان کے من السماء سوائے مذکورات کے اور بھی بکثرت ہیں۔ تفسیر درمنثور اور ابن کثیر وابن جریر و کنز العمال ومسند امام احمد صاحب کو ملاحظہ کیا جاوے۔ ہر ایک عورت مرد جس کو ذرہ بھی فکر ایمان ہے جان سکتا ہے کہ ان تفاسیر واحادیث میں نزول بمعنی آنے کے ہے آسمان سے، کیونکہ نزول مسیح کا جو مستلزم رفع کو ہے سب میں اتفاقی ہے اور لفظ بعث اور خروج سب کا یہی مطلب ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام جو حضرت مریم علیہا السلام کا بیٹا ہے وہی تشریف لائے گا اور وہی دجال کو قتل کرے گا اور وہی ساری باتیں کرے گا جو اس کے متعلق ہیں۔
ان عبارتوں میں یہ تو کہیں نہیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی جگہ میں اس کا ایک ہم مثل آئے گا ملک پنجاب موضع قادیان سے، اگر مثیل مراد تھا تو کیوں کسی عبارت میں کسی تفسیر کسی حدیث میں اس کا ذکر نہ آیا۔ قادیانی لوگ قیامت تک بھی ایک آیت یا ایک حدیث اگرچہ موضوع
٣٤
ہو یا ایک کوئی کتاب تفسیر یا فقہ یا اصول یا علم تصوف کی کہیں نہ دکھا سکیں گے کہ مراد رسول اللہ ﷺ کی عیسیٰ بن مریم کے نزول سے مرزا غلام احمد قادیانی ہے۔ ہم نے اس قدر آیات واحادیث وتفاسیر واقوال ائمہ عظام دکھا دیئے۔ مرزائی لوگ ایک ہی دکھا دیں کہ جس سے مراد عیسیٰ علیہ السلام کا ہم مثل مرزا غلام احمد قادیانی ہے۔ افسوس کہ دیگر علماء سے اتنے بڑے مطالبے اور خود ایک کتاب کے دکھانے پر قدرت نہیں۔ اگر عیسیٰ علیہ السلام کا مثیل مراد ہے تو آسمان پر اس مکان میں عیسیٰ علیہ السلام کس لئے چلے گئے اور مرزا نے تو نہ حج کیا اور نہ عمرہ اور نہ عرب کا ملک دیکھا اور نہ شعیب علیہ السلام کے خاندان سے شادی کی اور نہ مدینہ شریف میں رسول اللہ ﷺ کے قبر مبارک میں اس خالی جگہ میں جاکر دفن ہوا۔ جس کی آرزو بی بی عائشہؓ نے اپنے لئے کی تھی۔ مرزا کو عیسیٰ علیہ السلام کا ہم مثل اور ہم فعل ہونا درکنار مرزا اور کل مرزائی اگر اپنے آپ کو مسلمان بھی ثابت کر دکھائیں تو بڑی بات ہے۔
سوال ..... قرآن شریف کی آیت میں جو ضمیر وانہ کی ہے اس کا مرجع قرآن شریف ہے۔ یعنی قرآن شریف ایک علامت ہے قیامت کی علامات سے، جیسے کہ مرزانے ازالہ اوہام میں لکھا ہے یا مرجع اس کا عیسیٰ علیہ السلام کا فعل احیاء الموتی اور ابراء الاکمہ والابرص یعنی مطلب یہ ہوا کہ عیسیٰ علیہ السلام کا مردوں کو زندہ کرنا اور جذامی اور کوڑھی اور اندھوں کو اچھا کرنا یہ علامت ہے قیامت کی۔
جواب ..... قرآن کو مرجع کرنا یہ غلط ہے اور صحیح یہی ہے کہ مرجع ضمیر منصوب متصل کا عیسیٰ علیہ السلام ہی ہے۔ کیونکہ ذکر عیسیٰ علیہ السلام کا ہے۔ سیاق عبارت نظم قرآنی خود اس کا شاہد ہے۔ امام ابن کثیر نے خود اپنی تفسیر میں فرمادیا۔ ”بل الصحيح انه عائد على عيسى عليه السلام فان السياق ذكره ثم المراد بذلك نزوله قبل يوم القيامة كما قال تبارك وتعالى وان من اهل الكتاب الا ليؤمنن به قبل موته اى قبل موت عيسى عليه السلام ثم يوم القيمة يكون عليهم شهيدا“ اور تفسیر صحابہؓ اور تابعین اسی کی مؤید ہے۔
دوسری تائید دیکھو پروردگار کے قول پاک کی ”ولما ضرب ابن مريم مثلاً اذا قومك منه يصدون“ اس آیت کریمہ میں منہ کی ضمیر اور ایسا ہی ”اَمْ ھو اور اِنْ ھو“ اور ”انعمنا علیہ“ اور ”وجعلناہ“ یہ سب ضمائر ابن مریم کی طرف ہی راجع ہیں۔ مرزا اگر ان کی ضمیر کو قرآن کی طرف پھیرتا ہے تو یہ ضمائر بھی قرآن کی طرف راجع کرے تاکہ تحریف قرآن شریف کے مضمون کی تبیین ہو جاوے۔
٣٥
- ٧٣ ،٧٤ ...... (صحیح مسلم جلد آخر ص ٢٢ حاشیہ) میں امام نووی شافعی المذہب تحریر
فرماتے ہیں کہ نزدیک اہل سنت و جماعت کے بہ سبب وارد ہونے صحیح حدیثوں کے آنا حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا اور قتل کرنا اس کا دجال کو حق اور صحیح ہے اور شرع شریف اور عقل میں ایسی کوئی بات نہیں جس کی وجہ سے عیسیٰ علیہ السلام کا آنا باطل ہو۔ بعض معتزلہ اور جہمیہ وغیرہ گمراہ فرقوں نے انکار کیا ہے۔ اس وجہ سے کہ قرآن شریف میں رسول اللہ ﷺ کے حق میں ”وخاتم النبیین“ آچکا ہے۔ یعنی حضرت ﷺ سب نبیوں کے آخر ہیں۔ پس اگر عیسیٰ علیہ السلام آئیں تو رسول اللہ ﷺ ختم النبیین نہ رہیں گے۔ پس عیسیٰ علیہ السلام کا آنا قرآن شریف کے مخالف ہے اور اس وجہ سے بھی کہ حدیث شریف میں آیا ہے۔ ”لا نبی بعدی“ یعنی رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں اور اس پر مسلمانوں کا اجماع ہے۔ پس معتزلہ وغیرہ گمراہ فرقوں کی یہ دلیل باطل ہے۔ کیونکہ عیسیٰ علیہ السلام کے نزول سے یہ مراد نہیں کہ وہ نبی مستقل غیر تابعی ہوکر آئیں گے اور شریعت محمدیہ کو منسوخ کردیں گے بلکہ مراد یہ ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام باوجود نبی اولوالعزم ہونے کے رسول اللہ ﷺ کی شریعت پر حکم کریں گے اور جو باتیں دین اسلام کی لوگوں نے ترک کردی ہوں گی ان کو رواج دیں گے۔ انتہی بہت تفسیروں اور حدیثوں میں ایسا مذکور ہے۔
- ٧٥ ...... امام شافعیؒ کے مذہب کی دوسری کتاب معتبر نہایۃ الامل لمن رغب فی صحۃ
العقیدہ والعمل میں شیخ محمد ابوخیر الدمیاطی ص ١٠٨ میں فرماتے ہیں کہ دجال ایک خاص شخص ہے۔ کوتاہ قد عمر رسیدہ چپکتے دانت والا چوڑے سینہ والا اور وہ اب موجود ہے اور اسم کنیت اس کا ابو یوسف ہے اور بعض نے فرمایا کہ نام اس کا عبداللہ ہے۔ قوم یہود سے ہے۔ یہود لوگ اس کا انتظار کرتے ہیں۔ جیسا کہ مسلمان لوگ امام مہدی کا انتظار کرتے ہیں۔ خارج ہوگا جانب مشرق سے قریہ سراہا دین یا عوازین یا اصبہان یا مدینہ یا خراسان ١؎ سے اور ابو بکر صدیقؓ نے فرمایا کہ وہ اب ایک بڑے بت خانہ میں زیر زمین ستر ہزار زنجیر سے قید ہے اور اس پر ایک بہت زور آور مرد مقرر ہے۔ اس کے ہاتھ میں لوہے کا گرز ہے۔ جب دجال حرکت کا ارادہ کرتا ہے تو وہ مرد اس کو گرز مارتا ہے۔ پس آرام کرتا ہے اور اس کے آگے ایک بڑا اژدھا ہے اور وہ دجال کے کھانے کا ارادہ کرتا ہے۔ پس دجال سانس تک لینے میں حیران ہے۔ قیامت کے قریب ظاہر ہوگا۔ اپنے
١؎ تطبیق اس میں یہ ہے کہ ان سب مقاموں سے نوبت بنوبت ظہور غیر مشہور ہوگا۔ ”كما لا يخفى ولما كان اصل الخروج حقا فاختلاف الروايات فى الظهور ليس بمضر“
٣٦
گدھے پر سوار ہوکر اور خواجہ خضر علیہ السلام کو تین بار قتل کرے گا۔ بوجہ اس کے کہ وہ دجال کو خدا نہ مانے گا۔ سوائے مکہ معظمہ و مدینہ منورہ و بیت المقدس و کوہ طور کے ہر جگہ حکمرانی کرے گا۔ پھر عیسیٰ علیہ السلام بن مریم آسمان سے اترے گا اور امام مہدی اس کے ہمراہ ہوکر دجال کو قتل کریں گے اور دجال کا خون نیزہ کے اوپر لوگوں کو دکھائیں گے اور عیسیٰ علیہ السلام اپنے گدھے پر یا رسول اللہ ﷺ کے براق پر سوار ہوں گے اور بہت کافر اس کی سانس کی گرمی سے ہلاک ہو جائیں گے اور عیسیٰ علیہ السلام ایک عرب کی عورت سے نکاح کریں گے۔ شعیب علیہ السلام کے خاندان میں اور دو بیٹے ہوں گے۔ ایک کا نام محمد اور دوسرے کا نام موسیٰ ہوگا۔ پھر فوت ہو جائیں گے اور لوگ گمراہی اختیار کریں گے۔ یہاں تک کہ مغرب کی جانب سے سورج نکلے گا اور کسی کی توبہ اس وقت قبول نہ ہوگی۔ ”وهو معنى قوله تعالى يوم يأتي بعض آيات ربك لا ينفع نفساً ایمانها“ یہ بیان تفصیل وار میری کتاب تیغ غلام گیلانی بر گردن قادیانی میں مذکور ہے اور مرقات شرح مشکوۃ میں ہے۔ ”ينزل عيسى بن مريم الى الارض فيتزوج ويولد ويمكث خمساً واربعين سنة ثم يموت فيدفن معى فى قبرى اى مقبرتی وعبر عنها بالقبر لقربه فكانہما فی قبر واحد“
- ٧٦...... ابو طالب مکی نے قوت القلوب میں اور امام یافعی نے کتاب روض
الریاحین میں رسول اللہ ﷺ سے حدیث لکھی ہے۔ فرمایا رسول اللہ ﷺ نے کہ میں کیسے غم کروں اس امت پر کہ جس کے اوّل میں میں ہوں اور اس کے آخر میں حضرت عیسیٰ بن مریم۔
- ٧٧...... اور ابو نعیم نے کتاب الفتن میں ابن عباسؓ سے بھی ایسا ذکر کیا ہے۔
- ٧٨...... حضرت شیخ اکبر قدس سرہ نے اپنی کتاب فتوحات کے ٣٦ باب جلد اوّل
میں حضرت عبداللہ بن عمرؓ کی حدیث طول طویل بیان کی ہے۔ جس کا ابتدائی ترجمہ اردو میں یہ ہے کہ میرے والد عمر بن خطابؓ نے سعد بن وقاصؓ کی طرف لکھا کہ نضلہ انصاری کو حلوان عراق کی طرف روانہ کرو۔ تاکہ اس کے گردو نواح میں جہاد کریں۔ پس سعد نے نضلہ انصاری کو بجماعت مجاہدین روانہ کیا ان لوگوں نے وہاں جاکر مال غنیمت کا لے کر واپس آئے اور وقت مغرب کے ایک پہاڑ کے دامن میں ٹھہرے اور خود نضلہ نے اذان دینی شروع کی۔ جب اللہ اکبر کہا تو پہاڑ سے آواز آئی اے نضلہ تو نے اللہ تعالیٰ کی بہت بڑائی کی۔ پھر نضلہ نے اشہد ان لا الہ الا اللہ کہا تو پہاڑ سے آواز آئی کہ اے نضلہ یہ کلمہ اخلاص ہے۔ غرض ہر کلمہ اذان کے بعد جواب آتا رہا۔ بعد اس کے نضلہ نے کہا اے آواز دینے والے صاحب آپ کون ہیں۔ فرشتہ یا جن یا انسان ہیں۔ جیسے ہم
٣٧
کو آواز سنایا۔ ایسے ہم کو اپنی صورت دکھا۔ پس پہاڑ پھٹا اور ایک شخص نکلا۔ اس کا سر بڑا چکی کے برابر تھا۔ داڑھی اور سر سفید تھا اور اس کے اوپر دو کپڑے پرانے صوف کے تھے۔ اس نے السلام علیکم کہا اور بتایا کہ میں رزیب بن برتملا وصی عیسیٰ مریم ہوں۔ مجھ کو عیسیٰ علیہ السلام نے اس پہاڑ میں ٹھہرایا ہے اور اپنے نزول من السماء تک میری درازی عمر کے لئے دعاء فرمائی ہے۔ جب وہ اتریں گے آسمان سے خنزیروں کو قتل کریں گے اور صلیب کو توڑیں گے اور بیزار ہوں گے نصاریٰ کے اختراع سے۔ پھر حضرت ﷺ کا حال دریافت کیا تو ہم نے کہا کہ حضرت محمد ﷺ تو فوت ہوچکے۔ یہ سن کر اتنا روئے کہ آنسوؤں سے داڑھی تر ہوگئی۔ پھر دریافت کیا کہ حضرت کے بعد کون خلیفہ ہوئے ہم نے کہا کہ ابوبکرؓ پھر فرمایا وہ کیا کرتے ہیں۔ ہم نے کہا وہ بھی فوت ہوگئے اور اب عمرؓ خلیفہ ہیں۔ اس نے فرمایا کہ حضرت ﷺ کی ملاقات تو مجھ کو نہ ملی۔ پس تم حضرت عمرؓ سے میرا سلام کہنا اور کہو کہ اے عمر عدل اور انصاف کر۔ اس واسطے کہ قیامت قریب آگئی ہے۔ پھر اس نے قیامت کی بہت سی علامتیں بیان کیں اور ہم سے غائب ہو گیا۔ پس اس قصہ کو نضلہ نے سعدؓ کی طرف لکھا اور سعدؓ نے حضرت عمرؓ کی طرف لکھا۔ پھر حضرت عمرؓ نے سعدؓ کو لکھا کہ تم اپنے ہمراہیوں کو لے کر اس پہاڑ کے پاس جا کر اقامت کرو اور جس وقت ان سے ملو تو میرا سلام ان سے کہو۔ اس واسطے کہ رسول خدا ﷺ نے فرمایا ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام کے بعض وصیت کردہ آدمی عراق کے پہاڑوں میں رہتے ہیں۔ پس حضرت سعد چار ہزار آدمی انصار اور مہاجرین کی قوم میں سے ہمراہ لے کر پہاڑ کے پاس جا کر اترے اور برابر چالیس روز تک ہر نماز کے ساتھ اذان کہتے رہے۔ مگر پھر پہاڑ سے کوئی جواب نہ آیا اور رزیب بن برتملا سے ملاقات نہ ہوئی۔ یہ حدیث بروایت ابن عباسؓ مروی ہے اور اس سے چند امور معلوم ہوئے۔ اوّل عیسیٰ علیہ السلام کے وصی کا اتنے دراز زمانہ تک سوائے کھانے اور پینے کے باقی رہنا۔ دوم عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کی خوشخبری دینا۔ سوم حضرت عمرؓ کے علاوہ چار ہزار صحابہؓ مہاجرین وانصار کا عیسیٰ علیہ السلام کے آنے اور نازل ہونے کے ساتھ ایمان رکھنا۔ یہاں تک کہ نضلہ اور تین سو سوار کی روایت سے رزیب بن برتملا کو عیسیٰ علیہ السلام کا وصی تسلیم کر کے اپنا سلام وصی عیسیٰ کی طرف بھیجنا۔
.......٧٩ اور یہی شیخ اکبرؒ جلد اوّل فتوحات ص ٢٥٠ میں لکھتے ہیں ”وفی زماننا اليوم جماعة احياء من اصحاب عيسى والياس“ یعنی ہمارے زمانہ موجودہ میں ایک جماعت زندہ ہے۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور حضرت الیاس علیہ السلام کے اصحاب میں سے۔
.......٨٠ تفسیر کبیر میں بروایت محمد بن اسحاق ونیز بروایت عبداللہ بن عباسؓ بیان
٣٨
صورت دکھا۔ پس پہاڑ پھٹا اور ایک شخص نکلا۔ اس کا سر بڑا چکی کے پاٹ اور اس کے اوپر دو کپڑے پرانے صوف کے تھے۔ اس نے السلام علیک یا رزیب بن برتھلا وصی عیسیٰ مریم ہوں۔ مجھ کو عیسیٰ علیہ السلام نے اس پہاڑ میں من السماء تک میری درازی عمر کے لئے دعاء فرمائی ہے۔ جب وہ دجال کو قتل کریں گے اور صلیب کو توڑیں گے اور بیزار ہوں گے نصاریٰ سے پھر آپﷺ کا حال دریافت کیا تو ہم نے کہا کہ حضرت محمد ﷺ تو فوت ہوگئے کہ آنسوؤں سے داڑھی تر ہوگئی۔ پھر دریافت کیا کہ حضرت کے اصحاب کا ابوبکر و عمر فرمایا وہ کیا کرتے ہیں۔ ہم نے کہا وہ بھی فوت ہو گئے پھر فرمایا کہ حضرت ﷺ کی ملاقات تو مجھ کو نہ ملی۔ پس تم حضرت عمرؓ سے میرا سلام بیان کریں اور ہم سے غائب ہو گیا۔ پس اس قصہ کو نضلہ نے سعدؓ سے عمرؓ کی طرف لکھا۔ پھر حضرت عمرؓ نے سعدؓ کو لکھا کہ تم اپنے ہمراہیوں کو لے کر اس مقام پر جاؤ۔ جس وقت ان سے ملو تو میرا سلام ان سے کہو۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام کے بعض وصیت کردہ آدمی عراق کے پہاڑ پر رہتے ہیں۔ حضرت سعد چار ہزار آدمی انصار اور مہاجرین کی قوم میں سے ہمراہ لے کر وہاں گئے۔ اور برابر چالیس روز تک ہر نماز کے ساتھ اذان کہتے رہے۔ مگر پھر وہ شخص نہ نکلا اور رزیب بن برتھلا سے ملاقات نہ ہوئی۔ یہ حدیث بروایت ابن عباسؓ ہے۔ اس سے چند امور معلوم ہوئے۔ اوّل عیسیٰ علیہ السلام کے وصی کا اتنے دراز عمر تک اس پہاڑ میں جینے کے باقی رہنا۔ دوم عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کی خوشخبری دینا۔ سوم یہود کا قتل کرنا اور صحابہ مہاجرین وانصار کا عیسیٰ علیہ السلام کے آنے اور نازل ہونے کا عقیدہ رکھنا۔ یہاں تک کہ نضلہ اور تین سو سوار کی روایت سے رزیب بن برتھلا کو عیسیٰ علیہ السلام کے حکم سے اپنا سلام وصی عیسیٰ کی طرف بھیجنا۔
نیز علامہ محی الدین ابن عربی شیخ اکبر جلد اوّل فتوحات ص ٢٥٠ میں لکھتے ہیں ”وفی زماننا شخص بالصین من اصحاب عیسی و الیاس“ یعنی ہمارے زمانہ موجودہ میں ایک شخص چین میں عیسیٰ علیہ السلام اور حضرت الیاس علیہ السلام کے اصحاب میں سے۔ موجود ہے۔ تفسیر ابن کثیر میں بروایت محمد بن اسحاق و نیز بروایت عبداللہ بن عباسؓ بیان
٣٨
کیا کہ عیسیٰ علیہ السلام کو پروردگار نے یہودیوں کے قتل سے بچا کر آسمان پر اٹھا لیا۔
- ٨١...... طحاوی میں ابوبکر واسطی سے ہے کہ جب عیسیٰ علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے
آسمان پر اٹھا لیا تو شہوت اور غضب ان سے دور ہو گیا مثل فرشتوں کے۔
- ٨٢...... (تفسیر خازن جلد اوّل ص ٥٠٩) میں ہے۔ ”فلما توفیتنی یعنی فلما
رفعتنی الی السماء فـالمراد به وفاة الرفع لا الموت فذكر هذا الكلام ليدل على انه عليه الصلوة والسلام رفع بتمامه الى السماء لا بروحه وحده ويدل على هذا التاويل وما يضرونك من شئ “ پروردگار فرماتا ہے۔ ”وما يضرونك من شئے “ یعنی اے عیسیٰ تم کو یہودی لوگ کسی شئے کا ضرر نہ دے سکیں گے۔ پس مرزا جو کہتا ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام کو یہود نے سولی پر چڑھایا تھا اور اس کے بدن میں زخم ہو گئے تھے۔ اس آیت کے مخالف ہے۔
- ٨٣...... تفسیر مفاتیح الغیب میں ہے کہ کسی محقق سے سوال ہوا کہ قرآن شریف میں
عیسیٰ علیہ السلام کا زمین کی طرف اترنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہاں ہے۔ قرآن شریف میں عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں وکھلا کا لفظ موجود ہے۔ ”تكلم الناس فی المهد وكهلا “ کیونکہ عیسیٰ علیہ السلام دنیا میں جب تھے تو کہولت کی عمر کو نہیں پہنچے تھے۔ پس نزول من السماء کے بعد کہولت کی عمر کو پہنچیں گے۔ چالیس برس اور کچھ اوپر تک کہولت کا زمانہ ہے۔
- ٨٤...... تفسیر روح البیان میں متعدد جگہوں میں ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام مع اپنے
جسم خاکی کے آسمان پر اٹھایا گیا ہے اور عیسیٰ علیہ السلام چونکہ سوائے باپ کے محض قدرت الٰہی سے پیدا ہوئے تھے۔ ایسے ہی عزت اور قدرت الٰہی سے چلے بھی گئے۔ ”ومـا قـتـلـوه ومـا صلبوه ولكن شبه لهم ٠ بل رفعه الله اليه وكان الله عزيزاً حكيماً “ روح البیان میں ہے ”وكـان الله عـزيـزاً ، لا يـغـالـب فـيـمـايـريـده فـعـزة الله تعالى عبارة عن كمال قدرة فان رفع عيسى عليه السلام الى السموات وان كان متعذراً بـ نسبة الى قدرة البشر لكنه سهل بالنسبة الى قدرة الله تعالى لا يغلبه عليها احد حكيماً فى جميع افعاله ولما رفع الله عيسى عليه السلام كساه الريش والبسه النور وقطع عن شهوات المطعم والمشرب وطار مع الملئكة فهو معهم حول العرش فكان انسيا ملكيا سماويا ارضيا “ عیسیٰ علیہ السلام کی شہوت کھانے پینے کی سلب کر کے ملائکہ کے ساتھ کر دیا گیا۔ پس ہو گیا وہ انسی وملکی وسماوی وارضی یعنی چونکہ اصل
٣٩
انسان ہے تو اُنسی ہوا اور مثل فرشتوں کے ہو گیا۔ عدم اکل وشرب میں تو ملکی ہو گیا اور چونکہ آسمانوں پر رہنے لگا تو سماوی ہو گیا اور چونکہ قیامت کے قریب پھر زمین پر آئے گا۔ لہٰذا ارضی بھی ہوا اور جب عیسیٰ علیہ السلام آئیں گے تو ولایت عامہ کا دورہ شریعت محمدیہ میں ان کے ساتھ تمام ہوگا اور یہود اور نصاریٰ رسول اللہ پر بوجہ تشریف آوری عیسیٰ علیہ السلام کے ایمان لائیں گے اور امام مہدی اور اصحاب کہف اس کی خدمت کریں گے اور امام جلال الدین سیوطی نے درمنثور میں اس بات پر اجماع نقل کیا ہے کہ چار انبیاء علیہم السلام زندہ ہیں۔ دو آسمان میں، ادریس علیہ السلام اور عیسیٰ علیہ السلام اور دو زمین میں حضرت خضر علیہ السلام اور الیاس علیہ السلام۔
خضر علیہ السلام دریاؤں پر اور الیاس علیہ السلام خشکی پر متعین ہیں۔ روح البیان میں نقل کیا شرح الفصوص سے اور نسائی اور ابن ابی حاتم ثابت کرتے ہیں۔ ”عن ابن عباس ان رہطا من الیہود سبوہ وامہ فدعا علیہم فمسخہم قردۃ وخنازیر فاجتمعت الیہود علی قتلہ فاخبرہ اللہ بانہ یرفعہ الی السماء ویطہرہ من صحبۃ الیہود ۔ صحیح نسائی، ابن ابی حاتم، ابن مردویہ، قال ابن عباس سیدرک اناس من اہل الکتاب عیسیٰ حین یبعث یؤمنون بہ، فتح البیان“
مرزا نے بھی (ازالہ اوہام ص ٣٣١، خزائن ج ٣ ص ٢٧٤) میں تفسیر رازی وابن کثیر ومدارک وفتح البیان کا حوالہ دیا ہے اور ہم نے ان کتابوں سے بھی صعود عیسیٰ علیہ الی السماء ونزول اس کا بجسدہ العنصری ثابت کر دیا۔ اب تو قادیانیوں کو ماننا ہی پڑے گا۔
قولہ ...... اور نزول کے لفظ سے جو حیات عیسوی پر استدلال کرتے ہیں یہ بھی بالکل بیہودہ ہے۔ کیونکہ یہ لفظ ہرگز اس پر حجت نہیں ہو سکتی ہے۔ کماسیاتی۔ حالانکہ بعض احادیث میں بجائے نزول کے لفظ بعث اور بعض میں لفظ خروج مذکور ہے اور مخالفین کے زعم فاسد کے مطابق تو مناسب مقام لفظ رجوع تھا اور وہ کسی حدیث میں مذکور نہیں ہے۔ فافہم! ہدایۃ المہدی کے صفحہ سات میں یہ لکھا ہے۔
اقول...... بے علمی بھی عجب بری بلا ہے اور داء بلا دواء ہے۔ ضرور لفظ نزول آسمان سے اسی جسم خاکی کے ساتھ اترنے کے لئے حجت تامہ ہے۔ جب کہ اس کے ساتھ انضمام قرائن موجود ہوں۔ جیسا کہ ان روایات واحادیث گذشتہ میں تم نے دیکھا اور ذرہ قدر عقل والا بھی سمجھ سکتا ہے کہ جس قدر احادیث دربارہ نزول عیسیٰ علیہ السلام ثابت ہیں۔ ان سے یہی مراد ہے کہ حضرت عیسیٰ بن مریم قیامت سے پہلے آسمانوں سے زمین پر تشریف فرمائیں گے اور یہی
٤٠
مراد ہے حضرتﷺ واصحاب عظام وتابعین وتبع تابعین وجمیع مسلمین کی اور مخالف اس کا گمراہ بے دین ہے۔
لفظ نزول کا معنی ذو افراد ہے۔ ہر جگہ مناسب مقام کے مراد ہوگا۔ جیسے کہ لفظ عین کا معنی آفتاب، چشمہ آب، زر، ترازو، ذات شے، آنکھ جب کوئی کہے کہ میری عین میں میل اور تاریکی ہے تو اس سے ہر کوئی آنکھ ہی سمجھتا ہے۔ دوسرے معنی کی طرف خیال نہیں جاتا۔ جب کوئی کہے کہ آسمان سے عین نے طلوع کیا تو ہر کوئی اس سے آفتاب ہی سمجھے گا۔ لفظ مسیح کا دیکھو کہ عیسیٰ علیہ السلام کو بھی بولتے ہیں اور دجال پر بھی اپنے اپنے قرینہ پر بولا جاتا ہے تو ایسے ہی لفظ نزول کا بولنا کہ اگر مسافر سے کہا جاوے کہ آپ کہاں نازل ہوئے تو مراد اس سے اس کا ٹھکانا اور محل اور ورود شب باشی ہوتا ہے اور جب کہا جاوے کہ بجلی یا صاعقہ نازل ہوا تو مراد اس سے بھی ہوتا ہے کہ اوپر سے نیچے عام اس سے کہ خاص آسمان سے آئی یا اس کے نیچے ابر میں سے پس ایسا ہی جب کہ کہا جاتا ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام زمین پر نازل ہوگا یا آسمان سے زمین کی طرف نازل ہوگا۔ تو اس سے یہی مراد متعین ہوتی ہے کہ زمین کی جانب مخالف یعنی فوق سے زمین پر آئے گا اور چونکہ نصوص واحادیث میں اس فوقیت سے مراد فوقیت آسمان دوم ظاہر ہے۔ لہٰذا اس میں ابر وغیرہ بلند مقام کا احتمال بھی نہیں ہے اور اگر عیسیٰ علیہ السلام زمین ہی پر ہوں تو الارض کا لفظ بے معنی ہو جاتا ہے اور یہ مضمون تو بہت صاف ہے۔ بے علم کو کیسے اس میں مغالطے واقع ہوتے ہیں اور امام حسن بصری کا تو مذہب یہی ٹھہرا کہ حضرت مسیح بحیات جسمانی زندہ ہیں۔ چنانچہ اوپر در منثور سے نقل کیا گیا۔ ”قال الحسن قال رسول اللہﷺ لليهود ان عيسى لم يمت وانه راجع اليكم قبل يوم القيمة“ اور اب لفظ بعث سے بھی حسن بصری کے قول سے مسیح بن مریم کا آسمان سے اترنا بجسدہ العنصری ثابت کر دیتا ہوں۔ اسی امام حسن سے کسی نے دریافت کیا کہ پروردگار کا قول ”وان من اهل الكتاب الا ليؤمنن به قبل موته“ میں موتہ کی ضمیر کا مرجع کون ہے تو امام حسن نے فرمایا: ”(قبل موت عيسى) ان الله رفع عيسى وهو باعثه قبل يوم القيمة مقاما يؤمن به البر والفاجر“ پس جب کہ باعثہ والی عبارت میں قبل موتہ کی تفسیر قبل موت عیسیٰ خود حسن بصری سے موجود ہے تو پھر کس احمق کو حیات عیسیٰ میں شک ہوگا اور لفظ بعث کا ارسال کے معنی میں بھی بکثرت مستعمل ہے۔ جس کے افراد میں سے ایک نزول بھی ہے۔
”وفي حديث على يصفهﷺ بعيثك تعمه اى مبعوثك الذى بعثته
٤١
الى الخلق اى ارسلته وهو اى عمرو بن سعيد يبعث البعوث اى يرسل الجيش ثم يبعث الله ملكا فيبعث الله عيسى اى ينزله من السماء حاكم بشرعنا مجمع البحار مختصراً “ بنگالی قادیانی نے اپنے زعم باطل کے سبب سے مجمع البحار سے عیسیٰ علیہ السلام کی موت ثابت کی ہے۔ ہم نے اس کتاب سے اس کی حیات ثابت کر دی۔
اب میں لفظ رجوع بھی دکھا دیتا ہوں۔ پس کچھ ایمان و اسلام کی خواہش ہو تو دیکھ کر ایمان لاؤ اور اپنے سابق باطل اور حرام اعتقاد سے توبہ کرو اور توبہ نامہ کو چھاپ کر مشہور کر دو۔ مگر مجھ کو تو منافقانہ کورانہ جاہلانہ چال معلوم ہوتی ہے۔ سنو اور دیکھو امام المحدثین علامہ سیوطیؒ نے تفسیر درمنثور میں حدیث شریف بیان کی ہے۔ ”قال رسول الله ﷺ لليهود ان عیسیٰ لم يمت وانه راجع اليكم قبل يوم القيامة “ یعنی حضرت ﷺ نے قوم یہود کو مخاطب کر کے فرمایا کہ حضرت عیسیٰ مرے نہیں اور یہ بات محقق اور درست ہے کہ وہ لوٹنے والا ہے۔ تمہاری طرف قیامت کے دن سے پہلے اسی درمنثور میں دوسری جگہ حضرت امام حسن بصریؒ سے حدیث بیان کی ہے۔ ”قال الحسن قال رسول الله ﷺ لليهود ان عيسى لم يمت وانه راجع اليكم قبل يوم القيامة “ تفسیر درمنثور جلد دوم ص ٢٦ اور حسن بصریؒ متوفیک میں لفظ وفات کا معنی نیند یعنی اونگھ لیتے ہیں۔ ”یا عیسیٰ انی متوفیک ورافعک الی“ کا یہ معنی لیتے ہیں کہ اے عیسیٰ میں تم کو نیند میں اپنی طرف بلانے والا ہوں۔ پوری حدیث اس طور پر ہے۔ ”وقال ابن حاتم حدثنا احمد بن عبدالرحمن حدثنا عبدالله بن ابی جعفر عن ابيه حدثنا الربيع بن انس عن الحسن انه قال فی قوله تعالیٰ انی متوفیک یعنی وفاة المنام رفعه الله فی منامه قال الحسن قال رسول الله ﷺ لليهود ان عيسى لم يمت وانه راجع اليكم قبل يوم القيمة ابن جرير“
یونس بن عبید نے حسن بصری سے کہا کہ آپ نے رسول اللہ ﷺ کا زمانہ نہیں پایا۔ باوجود کہ آپ رسول خدا سے روایت کرتے ہیں۔ انہوں نے جواب دیا کہ میں حضرت علی سے روایت کرتا ہوں۔ مگر علی کا نام بلحاظ زمانہ حجاج بن یوسف کے ترک کر دیتا ہوں۔ اسناد سے ”انی احدث الحديث عن على وما تركت اسم على فى الاسناد الا لملاحظة زمان الحجاج“ اور ان احادیث میں قادیانی کو گنجائش تاویل کی بھی نہیں کہ وہ عیسیٰ علیہ السلام کے راجع ہونے سے عیسیٰ علیہ السلام کا ہم مثل اور مثیل مراد لے اور یہ کہے کہ میں مثیل عیسیٰ ہوں اور ان احادیث میں میرا آنا مذکور ہے۔ کیونکہ پورے طور پر ظاہر ہو رہا ہے کہ وہی عیسیٰ بن مریم ہے۔ قبل
٤٢
قیامت کے دنیا میں آئینگے۔ آسمان پر شب معراج میں قادیانی نے تو حضرت ﷺ سے بات چیت نہیں کی اور قادیانی نے تو نہیں کہا کہ اللہ تعالیٰ نے دجال کا مارنا میرے سپرد کیا ہے۔ تفسیر در منثور میں ہے۔ ”عن ابن مسعود عن النبی ﷺ قال لقیت لیلة اسریٰ بی ابراهیم وموسٰی وعیسٰی قال فتذاکروا امر الساعة قال فردوا امرهم الیٰ ابراهیم فقال لا علم لی بھا فردوا امرھم الیٰ عیسٰی فقال عیسٰی اما وجبتها فلا یعلم بھا احد الا الله عزوجل وفیما عهد الیٰ ربی ان الدجال خارج ومعی قضیبان “ مرزا اور مرزائی اس کو تسلیم کریں کہ امام حسن بصریؒ کی مرزا نے اپنی کتابوں میں بہت وصف کی ہے۔ تفسیر در منثور میں ہے کہ امام حسنؒ فرماتے ہیں۔ ”والله انه لحی الآن عند الله تعالیٰ“ یعنی عیسیٰ علیہ السلام مرا نہیں۔ قسم ہے اللہ تعالیٰ کی کہ تحقیق وہ البتہ زندہ ہے۔ اب اللہ تعالیٰ کے پاس، اور حسن بصریؒ ایسا شخص ہے کہ اس نے ستر صحابہ جنگ بدر والوں کی ملاقات کی ہے۔ جیسا کہ عوارف کے ٦ باب میں ہے۔
سوال ...... اگر کہا جائے کہ قتادہ نے کہا ہے ”والله ما حدثنا الحسن عن بدری مشافهة “
جواب ...... یونس بن عبیدؒ نے اور ملا علی قاریؒ نے شرح شرح النخبۃ میں حسن بصریؒ کی ملاقات حضرت علیؓ سے ثابت کی ہے اور قتادہ تو نفی روایت کی بدری سے اپنی مواجہت میں بیان کرتا ہے۔ اس سے یہ نہیں نکلتا کہ کسی بدری سے ملاقات اور روایت نہ کی ہو۔ دوسرا یہ کہ قتادہ کے قول سے فقط نفی حدثنا کی لازم آتی ہے۔ جو اخص ہے سمعت سے، کرمانی شرح صحیح بخاری اور قاعدہ منطقیہ ہے کہ سلب اخص کی مفید سلب اعم کو نہیں ہوتی۔ چہ جائیکہ مفید ہو۔ سلب اعم الاعم کو یعنی ملاقات کو اور حسن بصریؒ کی روایت اور ملاقات زبیر بن العوام سے بھی ثابت ہے۔ جن کے بدری ہونے میں کوئی شک نہیں۔ ”کما فی تهذیب الکمال“
قولہ ...... اور عیسیٰ علیہ السلام کی عمر کی تعیین کہ بقولے ٣٣ برس اور بقولے ١٢٠ برس اور بقولے ١٢٥ و غیرہ ہے۔ یہ بھی ان کی وفات پر دال ہے۔ ”کما لا یخفی علی اولی النهی “
اقول ...... مشکوٰۃ شریف وغیرہ میں ٤٥ برس بھی وارد ہیں۔ حضرات محدثین نے کہ جس میں اہل کشف بھی ہیں اس طور پر تطبیق دی ہے کہ ابوداؤد کی حدیث مرفوع ابو ہریرہ سے جس میں ٤٠ سال کا ذکر ہے۔ مراد اس سے ٤٥ ہیں۔ مگر بیان کرنے میں پانچ والی کسر کو ساقط کر کے
٤٣
٤٠ بیان کیا گیا۔ جیسا کہ کسور کا ساقط کر دینا حساب میں شائع ہے۔ اعداد میں حساب تقریبی زیادہ ہوا کرتا ہے۔ جیسا کہ حضرت ﷺ بعد رسالت کے مکہ معظمہ میں ١٣ سال تشریف فرمائے۔ مگر کئی کتابوں میں دس برس لکھے ہیں۔ ٣ برس کی کسر کو ساقط کر دیا گیا۔ دیکھو امام عبدالرؤف کی مناوی کو اور جامع صغیر کو مطلب یہ ہوا کہ ٣٣ سال قبل رفع آسمانی کے گزرے ہیں اور بعد نزول من السماء ١٢ سال ہوں گے۔ مگر بجائے بارہ کے سات سال کا صحیح مسلم میں ذکر ہے۔ تا کہ ظاہری حساب میں پورے ٤٠ سال رہیں اور عینی وابونعیم نے جو کہا ہے کہ بعد نازل ہونے کے آسمان سے ١٩ سال رہیں گے۔ تو اس حساب سے ٣٣ قبل از رفع اور ١٩ بعد نزول مجموعہ ٥٢ ہوئے۔ مگر بیان میں اوپر کے ١٢ کو ساقط کر کے پورے ٤٠ بیان کئے۔ یہ اس بناء پر کہ ابونعیم کی ١٩ سال والی روایت کو معتبر کہا جاوے۔ ورنہ تحقیق وہی ہے کہ مجموعہ ٤٥ ہوں گے اور ابوداؤد والی حدیث جس میں ٤٠ سال مذکور ہیں اور صحیح مسلم والی جس میں ٤٥ سال ہیں۔ ان سے ابونعیم کی حدیث معارضہ نہیں کر سکتی۔ ”لان المعارضة تقتضي المساواة واذ ليست فلیست“ اگر بسط کا ارادہ ہو تو امام سیوطی کی مرقاۃ الصعود اور امام بیہقی کی کتاب البعث والنشور کو ملاحظہ کرو۔ باقی رہی ١٢٥ برس کی روایت اور ایسی ہی ١٢٠ برس کی اور ١٥٠ کی۔ سو یہ شاذ غریب بعید ہیں جو کہ ابن عساکر سے روایت ہوئی۔ دیکھو ابن کثیر میں جب لوگ جنت میں داخل ہوں گے تو مردوں کی عمر ٣٣ برس کی ہوگی۔ مثل میلاد عیسیٰ علیہ السلام کی قبل از رفع اور حسن ان کا ہوگا۔ مثل حسن یوسف علیہ السلام کے اور بعض کتابوں میں ہے کہ قد ان کے دراز ہوں گے۔ ٦٠ گز کے اور سینہ چوڑا ہوگا۔ ١٨ یا ١٢ گز کا کما ہو مبسوط فی کتب السیر والفقہ طبرانی نے باسناد جید انسؓ سے روایت کیا ۔” واخرج الطبرانی بسند جید عن انس قال قال رسول الله ﷺ یدخل اهل الجنة علی طول آدم عليه السلام ستين ذراعا بذراع الملك وعلى حسن یوسف علیه السلام وعلى میلاد عيسى عليه السلام ثلث وثلثین سنة “ (بدور السافره ص٢٧٣، ابن کثیر ص ٢٤٥) میں ہے۔ ”فانه رفع وله ثلث وثلثون سنة فی الصحیح وقد وردذلك فی حدیث فی صفة اهل الجنة انهم علی صورة آدم میلا وعیسی ثلث وثلثین سنة واماما حكاه ابن عساکر عن بعضهم انه رفع وله مائة وخمسون سنة فشاذ غریب بعید انتهی“ اور حاکم نے اسی روایت کو صحابہ کی طرف منسوب کیا ہے۔” قال ابن عباس ارسل الله عيسى عليه السلام وهو ابن ثلث وثلثین سنة فمکث فی رسالة ٤٤
ثلاثين شهراً ثم رفعه فى الزهدو الحاكم سنة (درمنثورج ٢ روایات صحیح قابل حجت ہیں روایات کے تفاوت سے نفس قاتل نے جو کہ اپنے برادر کہاں قتل ہوا اور کس چیز سے ہے یا کہ یقین ہے۔ یا کہ قائل یہ قصہ مفصل مذکور ہے۔ ان اختلاف روایات کے ان کی نہیں۔ کیونکہ اس کی عمر ٨٠ قولہ ..... اور قائل ہیں۔ جیسا کہ مجمع البح ابوحنیفہ جو آپ کے معاصر کشا نہیں ہوئے اور ایسا عق ہے کہ چاروں اماموں کی ر ہے کہ: ” کمالا یخفی! اقول وبع سے حیات عیسیٰ علیہ السلام مریم اسرائیلی بعینہ نہ بمثیلہ یہ بات خود ظاہر ہے کہ نزول یقین سے ہم کہتے ہیں کہ کل بھی یعنی آسمان کی طرف مذکورہ پر نزول جسمی فرع ۔ ہی رہا یا کچھ دیر کے لئے م اور جمہور ائمہ عظام و علمائے
ثلاثين شهراً ثم رفعه الله اليه (تفسير خازن ص ٥٠٤) واخرج ابن سعد واحمد فى الزهد والحاكم عن سعيد بن المسيب قال رفع عيسى ابن ثلث وثلثين سنة (درمنثور ج ٢ ص ٣٦) ” بہر صورت اگر فرض بھی کر لیں کہ ١٢٥ یا ١٥٠ برس والی وغیرہ روایات صحیح قابل حجت ہیں تو بھی ہمارے اہل اسلام کے اعتقاد کو کوئی نقصان نہیں۔ کیونکہ ان روایات کے تفاوت سے نفس واقعہ میں کوئی شک نہیں آسکتا۔ دیکھو حضرت آدم علیہ السلام کے بیٹے قابیل نے جو کہ اپنے برادر ہابیل کو قتل کیا ہے۔ اس میں کس قدر اختلاف ہے کہ کب قتل ہوا اور کہاں قتل ہوا اور کس چیز سے قتل کیا اور کس سبب سے قتل کیا اور قاتل کا نام دراصل کیا ہے۔ قابیل ہے یا کہ قین ہے۔ یا کہ قائن بن آدم ہے۔ مگر نفس قتل میں کوئی شبہ نہیں۔ رسالہ شیخ غلام جیلانی میں یہ قصہ مفصل مذکور ہے۔ ایسا ہی نزول عیسیٰ علیہ السلام بجسم خاکی میں کوئی شک نہیں ہو سکتا۔ بوجہ اختلاف روایات کے ان کی عمر میں اور پھر باایں ہمہ مرزا قادیانی کو تو اس اختلاف سے کوئی فائدہ نہیں۔ کیونکہ اس کی عمر ٨٠ یا ٨٥ برس کی تھی۔ وہ تو روایات مذکورہ میں سے ایک بھی نہیں ہو سکتی۔
قولہ ...... اور ائمہ دین میں سے حضرت امام مالک وفات عیسیٰ علیہ السلام کے صریحا قائل ہیں۔ جیسا کہ مجمع البحار وغیرہ میں ہے۔ وقال مالک مات وهو ابن ثلث و ثلثين سنة اور امام ابو حنیفہ جو آپ کے معاصر تھے اور ادنیٰ ادنیٰ مسائل میں ان کی مخالفت کی۔ مگر قول مذکور میں لب کشا نہیں ہوئے اور ایسا ہی امام شافعی اور امام احمد حنبل بھی اس پر سکوت کئے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ چاروں اماموں کی رائے وفات عیسیٰ علیہ السلام کی ہے۔ کیونکہ سکوت معرض بیان میں بیان ہے کہ ”کمالا يخفى !
اقول وبعونه تعالىٰ اعول مجمع البحار “ اور چاروں اماموں کی کتابوں سے حیات عیسیٰ علیہ السلام ثابت کر دکھاتا ہوں۔ کل ائمہ متبوعہ کا اجماع ہے۔ اس پر کہ عیسیٰ بن مریم اسرائیلی بعینہ نہ مثیلہ بحسب پیشین گوئی آنحضرت ﷺ کے آسمان سے ضرور اتریں گے اور یہ بات خود ظاہر ہے کہ نزول جسمی بعینہ بغیر رفع جسمی بحالت زندگی کے ممکن نہیں۔ لہٰذا بڑے زور اور یقین سے ہم کہتے ہیں کہ کل امت کا جیسے کہ نزول مذکور پر اجماع ہے ایسا ہی حیات مسیح عند الرفع پر بھی یعنی آسمان کی طرف اٹھایا جانے کے وقت مسیح کی حیات پر سب کا اتفاق ہے۔ بحکم مقدمہ مذکورہ نزول جسمی فرع ہے رفع جسمی کی ، رہا یہ امر کہ قبل از رفع الی السماء کے عیسیٰ علیہ السلام زندہ ہی رہا یا کچھ دیر کے لئے مر کر بعد زندہ ہو کر آسمان پر گیا۔ سو اس میں اختلاف ہے۔ کل صحابہ کرام اور جمہور ائمہ عظام و علمائے اہل اسلام سب کے سب یہی کہتے ہیں کہ عیسیٰ علیہ السلام پر قبل آسمان
٤٥
پر جانے کے بالکل موت وارد نہیں ہوئی اور جیسے کہ پہلے سے زندہ تھا ایسے ہی آسمان پر اٹھایا گیا اور یہی صحیح بھی ہے اور بعض نصاریٰ کا مذہب یہ ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام آسمان پر جانے سے ذرہ قبل مر گیا۔ بعدہ زندہ کر کے آسمان پر پہنچایا گیا اور بعض اہل اسلام میں سے بھی اس کے قائل ہوگئے ہیں۔ مگر زندہ ہوکر آسمان پر چلے جانے کے بھی مقر ہیں۔ چنانچہ تفسیر مفاتیح الغیب میں ہے کہ پروردگار نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام قتل یہود سے بچا کر آسمان پر اٹھا لیا۔ مگر وہبؒ کہتے ہیں کہ جس دن حضرت عیسیٰ علیہ السلام آسمان پر گئے ہیں قبل از رفع اس دن تین ساعت فوت ہوئے۔ بعد اس کے زندہ ہو کر آسمان پر گئے اور محمد بن اسحاق کہتے ہیں کہ فوت ہوئے سات ساعت دن میں پھر اللہ تعالیٰ نے ان کو زندہ کر کے آسمان پر اٹھا لیا اور آیت یٰعیسٰی انی متوفیک ورافعك الیٰ میں دو طور معنی کیا جاتا ہے۔ ایک معنی تو ظاہری ترتیب قرآنی کا سوائے قول تقدیم وتاخیر کے اور متوفیک کا معنی عمر کا پورا کرنے والا اور اونگھ لینے والا یعنی اے عیسیٰ میں ہی تیری عمر پوری کرنے والا ہوں اور اب تجھ کو اٹھانے والا ہوں۔ یا یہ کہ اے عیسیٰ میں تجھ کو اونگھ دے کر اٹھانے والا ہوں اور دوسرا معنی بقول تقدیم و تاخیر اس طور پر کہ اے عیسیٰ میں تجھ کو اٹھانے والا ہوں اور پھر تم کو وفات دینے والا ہوں۔ یعنی بعد نزول من السماء کے جب کہ تیری عمر پوری ہوگی اور جو کام تیرے متعلق ہیں ہو چکیں گے۔ عبارت اس تفسیر کی یہ ہے۔ ” قال الله يا عيسى انى متوفيك ورافعك الى ومطهرك من الذين كفروا. واختلف اهل التاويل فى هاتين الايتين على طريقين احدهما اجراء الآية على ظاهرها من غير تقديم ولا تاخير فيها (الثانى) فرض التقديم والتاخير فيها اما الطريق الاول فبيانه من وجوه الاول معنى قوله تعالى انى متوفيك اى انى متم عمرك فحينئذ اتوفاك فلا اتركهم حتى يقتلوك بل انا رافعك الى سمائى ومقربك بملائكتى واصونك عن ان يتمكنوا من قتلك وهكذا تاويل حسن اقول لانه ليس فيه دلالة على الوفاة بمعنى الموت واتمام العمر وقت الرفع بل فيه اظهار ان الرفع قبل اتمام العمر وهذا لا يخفى على اولى النهى الوجه الثانى متوفيك اى مميتك وهوروى عن ابن عباس ومحمد بن اسحاق قالوا والمقصود ان لا يصل اعداؤه من اليهود الى قتله ثم بعد ذلك اكرمه الله بان رفعه الى السماء ثم اختلفوا فى هذا الوجه على وجهين احدهما قال وهب توفى ثلاث ساعات من النهار ثم رفع اى بعد احياء وثانيها قال محمد بن ٤٦
اسحاق توفى سبع سا فرماتے ہیں کہ: ”یاعیسٰی انی نہیں کہ بالترتیب ہی یہ کام ہوں سے ہوں اور کب ہوں گے اور کیا سے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام زند اور قتل کریں گے دجال کو پھر مارے ”حيث قال ومن ورافعك الى لا تفيد الترتيـ فاما كيف يفعل ومتى يفعـ انه حى وورد الخبر عن يتوفاه بعد ذلك“ پس مـ ہوئی۔ اس بناء پر امام مالکؒ بھی وحضرت محمد بن اسحاق کے زندہ ہو کر کنارہ کر سکتے ہیں ہر امام کے مذھـ سے معلوم ہوتی ہے۔ پس امام ما السلام کا بخوبی ثابت ہے اور صراحـ عیسیٰ علیہ السلام کے زندہ آسمان پـ میں ”قال مالك مات“ کے بعـ ويجئ آخر الزمان لتواتر مالکؒ نے مات سے عیسیٰ علیہ السلـ میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام آسمـ پر اٹھ جانا اس مناسبت سے ہو سکـ پہلے اونگھ آئی تھی۔ جس کو نیم خوابی اور نیند بھائی ہے موت کی۔ عربی مالکؒ صاحب نے اس نیم خوابی کہہ دیا۔ یا حقیقت مری گئے تـ
اسحق توفی سبع ساعات من النهار ثم احیاہ اللہ تعالیٰ ورفعہ الیہ‘‘ پھر فرماتے ہیں کہ : ’’یاعیسیٰ انی متوفیک ورافعک الی ومطھرک‘‘ میں واؤ ترتیب کی مفید نہیں کہ بالترتیب ہی یہ کام ہوں ۔ بلکہ ہو جانا ان کاموں کا مقصود ہے۔ جس کیفیت اور ماہیت سے ہوں اور کب ہوں گے اور کیسے ہوں گے ۔ سو یہ موقوف ہے دلیل پر اور ثابت ہو چکا ہے دلیل سے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام زندہ ہیں اور حدیث شریف میں وارد ہے کہ قریب ہے کہ اتریں گے اور قتل کریں گے دجال کو پھر مارے گا اس کے بعد ان کو اللہ تعالیٰ ۔
”حیث قال ومن الوجوہ فی تاویل الآیۃ ان الواو فی قولہ متوفیک ورافعک الی لا تفید الترتیب فالایۃ تدل علیٰ انہ تعالیٰ یفعل بہ ہذہ الافعال فاماکیف یفعل ومتی یفعل فالامر فیہ موقوف علیٰ الدلیل وقد ثبت بالدلیل انہ حی وورد الخبر عن النبیﷺ انہ سینزل ویقتل الدجال ثم انہ تعالیٰ یتوفاہ بعد ذلک“ پس حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی موت کی روایت اس طور پر ہے جو بیان ہوئی۔ اس بناء پر امام مالکؒ بھی قائل ہوئے ہیں ۔ مگر امام مالکؒ صاحب مثل حضرت وہب وحضرت محمد بن اسحق کے زندہ ہو کر آسمان پر جانے کے بھی ضرور معتقد ہیں ۔ صحیح احادیث سے کیسے کنارہ کر سکتے ہیں ہر امام کے مذہب کی تحقیق اس کے مذہب کے علمائے محققین اور معتبر کتابوں سے معلوم ہوتی ہے ۔ پس امام مالکؒ صاحب کے مذہب کی کتابوں سے یہ زندہ چلا جانا عیسیٰ علیہ السلام کا بخوبی ثابت ہے اور صاحب مجمع البحار نے بھی امام مالکؒ کا مذہب یہی سمجھا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے زندہ آسمان پر اسی جسم خاکی کے ساتھ جانے کے مقر ہیں ۔ اسی واسطے مجمع البحار میں ”قال مالک مات“ کے بعد لکھتے ہیں ۔ ”ولعلہ اراد رفعہ علیٰ السماء او حقیقۃ ویجئ آخر الزمان لتواتر خبر النزول“ شیخ محمد طاہر صاحب مجمع البحار کہتے ہیں کہ امام مالکؒ نے مات سے عیسیٰ علیہ السلام کا رفع آسمان پر مراد لیا ہے یا موت حقیقی اور آخر کے زمانے میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام آئیں گے ۔ اس واسطے کہ اترنے کی خبر متواتر ہے ۔ موت کا معنی آسمان پر اٹھ جانا اس مناسبت سے ہو سکتا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو آسمان پر جانے سے ذرہ قدر پہلے اونگھ آئی تھی۔ جس کو نیم خوابی اور مقدمہ خواب کہتے ہیں ۔ ”کما بین فی مواضع عدۃ“ اور نیند بھائی ہے موت کی ۔ عرب کا مقولہ مشہور ہے کہ : ”النوم اخ الموت“ اسی بناء پر امام مالکؒ صاحب نے اس نیم خوابی کو موت کے قائم مقام سمجھ کر رفع عیسیٰ الی السماء کی جگہ مات عیسیٰ کہہ دیا ۔ یا حقیقۃً مر ہی گئے تھے ۔ مگر بعد تھوڑی دیر کے موت سے زندہ ہو کر آسمان پر گئے اور
٤٧
قریب قیامت کے آنا ان کا متواتر اخبار سے ثابت ہے۔ پس امام مالکؒ اگر لفظ مات سے موت حقیقی لیتے ہوں گے تو یہی موت ہے۔ جو کہ آسمان پر اٹھ جانے سے قبل چند ساعت تک بعض کے قول پر عیسیٰ علیہ السلام پر وارد ہوئی ہے۔ نہ وہ موت کہ اس وقت سے لے کر اب تک مرے ہوئے ہیں اور آسمان پر ان کی روح گئی ہے۔ جسم نہیں گیا۔ موت ابدی کو امام مالکؒ کل جمہور کے خلاف اور متواتر احادیث کے برعکس کیسے قبول کر سکتے ہیں۔ اب ناظرین انصاف سے دیکھیں کہ جس مجمع البحار سے قادیانی ملا عیسیٰ علیہ السلام کی موت ثابت کرتا تھا اسی مجمع البحار میں عیسیٰ علیہ السلام کا اترنا آسمان سے ثبوت متواتر لکھا ہے۔ جیسے کہ صاحب توضیح وامام سیوطی وغیرہ حضرات قائل ہیں کہ عیسیٰ علیہ السلام کے آسمان سے اترنے پر متواتر احادیث موجود ہیں۔ جن سے انکار کرنے والا سخت گمراہ بے دین ہے۔ مجمع البحار ہی کی عبارت ہے۔ معلوم ہوا کہ مسئلہ نزول کی طرح حیات مسیح پر بھی اجماع ہے۔ کل اہل اسلام اس پر متفق ہیں۔ بلکہ نصاریٰ بھی اس میں مسلمانوں سے الگ نہیں۔ مگر اجماعی حیات الی مابعد النزول وہ ہے جو مسیح کے لئے عند الرفع مانی گئی ہے اور قبل رفع موت کا قول بعض علماء کا یہ اختلاف بے موقع ہے۔ ورنہ جمہور کا مذہب جو کہ وہ بھی کالاجماع ہے۔ یہی ہے کہ قبل رفع اور بعد رفع اور بعد النزول ایک ہی دراز حیات ہے اور عمل اکثر ہی کی بات پر ہے۔ حدیث شریف میں ہے۔ ”اتبعوا السواد الاعظم فانه من شذ شذ فی النار، شامی“ میں متعدد جگہوں میں ہے۔ ”العمل علی ما علیہ الاکثر ، العمل علی ماعلیہ الجمہور ، والقاعدة ان العمل علی قول الاکثر“ ملاجی نے شامی کا یہی حوالہ دیا ہے۔ اور سنو اور صاحب مجمع البحار فرماتے ہیں کہ قیامت کی بعض علامتوں میں سے امام مہدی سے امام آخر زمانہ کا جو کہ عیسیٰ علیہ السلام کے وقت میں ہوگا اور عیسیٰ علیہ السلام کے ساتھ نماز پڑھے گا اور وہ دونوں قتل کریں گے۔ دجال کو اور فتح کرے گا اور امام مہدی قسطنطنیہ کو اور مالک ہوگا عرب و عجم کا اور بھر دے گا زمین کو عدل اور انصاف سے اور پیدا ہوگا مدینہ میں اور لوگ اس سے بیعت کریں گے۔ خانہ کعبہ کے پاس رکن اور مقام کے درمیان میں اور وہ اس پر راضی نہ ہوگا اور قتل کرے گا مرد سفیانی کو اور جائے پناہ لیں گے اس کے پاس بادشاہ ہند کے اور بڑے بے وقوف اور نادان اور نقصان کار ہیں۔ وہ لوگ جو کہ اپنے دین اسلام کو مزاح سمجھتے ہیں اور بے علموں کو پیشوا بناتے ہیں اور جب کوئی مسافر غریب الوطن مثلاً دعویٰ کرتا ہے کہ میں امام مہدی ہوں تو اس کو بلا تامل تسلیم کر لیتے ہیں اور امام مہدی کے اوصاف و خواص و علامات اس میں نہیں ہوا کرتے اور وہ جاہل ہوتا ہے کھلم کھلا علوم دین اور صرف ونحو وغیرہ فنون کی اس کو بو تک نہیں ہوتی۔ کلام الٰہی کی تفسیر
٤٨
اپنے پاس سے کرتا ہے اور اپنا ٹھکانا دوزخ میں بناتا ہے اور اپنی مراد کے موافق تاویلات اور معنی کرتا ہے اور اپنے مریدوں کے لئے جو جو اعتقاد کی باتیں بتاتا ہے ان کا باطل ہونا لڑکوں پر بھی ظاہر ہوتا ہے اور جب امام مہدی کی شروط وعلامات حدیث نبوی سے ثابت کی جاتی ہیں تو ان احادیث کو غیر صحیح کہتا ہے اور جو حدیث اس کی اپنی اوصاف کے موافق ہوتی ہے اس سے دلیل لاتا ہے اور جو اس سے مخالف ہو اس کو غیر صحیح کہتا ہے اور کہتا ہے کہ ایمان کی کنجی میرے ہاتھ میں ہے جو کوئی مجھ کو مہدی سچا مانے گا وہ مؤمن ہے اور جو انکار کرے گا وہ کافر ہے اور اپنی بزرگی اور ولایت کو رسول اللہ ﷺ کی نبوت پر افضل جانتا ہے اور حلال جانتا ہے۔ قتل کرنا علماء کا، اور لینا جزیہ کا اور اس کے ساتھ والوں کے ایک کا نام ابوبکر صدیق اور کسی کا حضرت عمر اور کسی کا حضرت عثمان اور کسی کا حضرت علی ہے اور بعض کو مہاجرین اور بعض کو انصار اور عائشہ اور فاطمہ کہتے ہیں اور بعض بے وقوفوں نے ملک سندھ میں ایک شخص غدار کاذب کو عیسیٰ مقرر کر لیا۔ پس اس فقیر کی کوشش سے بعض جلاوطن کئے گئے اور قتل کئے گئے اور بعضوں نے اس اعتقاد سے توبہ کر لی اور عبارت یہ ہے۔
”ومنه مهدی آخر الزمان ای الذی فی زمن عیسیٰ علیه السلام ویصلی معه ويقتلان الدجال ويفتح القسطنطنية ويملك العرب والعجم ويملاء الارض عدلا وقسطا ويولد بالمدينه ويكون بيعته بين الركن والمقام كرها عليه ويقاتل السفيانى ويلجاء اليه ملوك الهند مغلغلين الى غير ذلك وما اقل حياء واسخف عقلا اجيل دنيا وديانة قوما اتخذوا دينهم لهوا ولعبا (تكمله مجمع البحار ص ١٨٠)“
ناظرین انصاف سے دیکھیں کہ یہ ساری قباحت اور ملامت کی باتیں مرزا غلام احمد اور اس کے مریدوں پر برابر آتی ہیں۔ اسی مجمع البحار میں ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام آسمان سے اترے گا۔ ہمارے نبی ﷺ کی شریعت پر حکم کرے گا۔”وفى حديث على تصفه ﷺ بعيثك نعمه اى مبعوثك الذى بعثه الى الخلق اى ارسله وهو اى عمر وبن سعيد يبعث البعوث اى يرسل الجيش ثم يبعث الله ملكا ٠ فيبعث الله عيسى اى ينزله من السماء حاكما بشرعنا مختصراً“ ہم اگر خود بخود مجمع البحار کا حوالہ اس مسئلے میں دیتے تو مرزائی لوگ کبھی نہ مانتے۔ مگر اب تو ماننا ہی ہوگا۔ کیونکہ ان کے نزدیک بھی یہ کتاب قابل سند ہے۔ ارے ملاجی نے تو اوندھے منہ کی کھائی۔ بیت، عدو شود سبب خیر گر خدا خواہد خمیر مایہ دکان شیشہ گر سنگست۔
٤٩
اب مالکی مذہب کی معتبر کتابوں سے حیات مسیح اور جانا ان کا آسمان پر نقل کرتا ہوں تاکہ مرزائیوں کا سند لانا عیسیٰ علیہ السلام کی موت پر امام مالک صاحب کے مذہب سے بھی غلط ہوجائے۔ شیخ الاسلام النفراوی مالکی نے فواکہ دوانی میں تصریح کردی ہے کہ اشراط قیامت سے ہے۔ عیسیٰ علیہ السلام کا اترنا اور علامہ زرقانی مالکی شرح مواہب قسطلانی میں بڑی تفصیل سے لکھتے ہیں ۔ ”فاذا نزل سيدنا عيسىٰ عليه الصلوة والسلام فانه يحكم بشريعة نبيناﷺ بالهام اواطلاع على الروح المحمدى اوبما شاء الله من استنباط لها من الكتاب والسنة ونحو ذلك“ اور اس کے بعد لکھتے ہیں۔ ”فهو عليه السلام وان كان خليفة في الامة المحمدية فهو رسول ونبى كريم حاله لا كما يظن بعض وانه ياتى واحدا من هذه الامة به وان نبوة ورسالة وجعل انهما لايزولان بالموت كما تقدم فكيف بمن هو حىّ نعم هوواحد من هذه الامة مع بقائه على نبوته ورسالته “ دیکھو کیسا صاف لکھتے ہیں کہ جب عیسیٰ علیہ السلام آئے گا تو حکم کرے گا رسول اللہ ﷺ کی شریعت پر بذریعہ الہام کے کہ اس کے دل میں شریعت محمدی کے احکام ڈالے جائیں گے یا رسول اللہ کی روح سے فیض حاصل کر کے یا اپنا اجتہاد کر کے آیت اور حدیث سے مسائل نکالے گا اور امت محمدیہ میں محمد صاحب کا خلیفہ ہوگا۔ پس وہ اپنے حال پر نبی اور رسول ہوگا۔ کیونکہ نبوت اور رسالت موت کے سبب سے زائل نہیں ہوتیں۔ جیسے کہ پہلے گزر چکا ہے۔ پس کیسے زائل ہوں گی اس شخص سے جو کہ زندہ ہے۔ البتہ یہ بات ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام باوجود باقی رہنے نبوت کے رسول اللہ کے امتی ہوں گے۔ جس کو ایمان کی غرض ہے۔ اس کے لئے اسی قدر مالکی مذہب کی نقل کافی ہے اور ضدی بے ایمان کو تو دفتر بھی کم ہے۔
مذہب شافعیہ علامہ سیوطی جو کہ باوجود علم ظاہری کے علم باطن سے بھی مشرف ہے اور مرزا غلام احمد اپنی کتابوں میں اس کا وصاف و مدّاح ہے۔ کتاب الاعلام میں فرماتے ہیں کہ عیسیٰ علیہ السلام ہمارے رسول اللہ کے شرع کے ساتھ حکم کرے گا۔ اس کے ساتھ حدیثیں وارد ہوئی ہیں اور اسی کے اوپر اجماع منعقد ہوچکا ہے۔
”انه يحكم بشرع نبينا ووردت به الاحاديث وانعقد عليه الاجماع“ اسی جلال الدین سیوطی نے قیامت کے علامات میں دابۃ الارض وغیرہ علامات کو بھی ثابت کیا ہے کہ مرزائیوں کو جن باتوں کا صاف انکار ہے۔ دیکھو رسالہ تنقیح اسی علامہ سیوطی نے
٥٠
درمنثور میں حیات مسیح الی قرب القیامۃ اور نزول اس کا آسمان سے بجسدہ الترابی متعدد جگہوں میں ذکر کیا ہے۔ ”كما مر اخرج ابو الشيخ عن ابن عباس “اور(فتح ص٧٠) میں بھی ہے۔ اسی علامہ نے تفسیر در منثور میں یہ بھی فرمایا ہے۔ ”عن ابن عباس في قوله تعالى انى متوفيك ورافعك يعنى رافعك ثم متوفيك في آخرالزمان“ اور شیخ مقدیش علی وسطی الشیخ السنوسی شافعی کی کتابوں میں جس کو فتاویٰ کاملیہ میں نقل کیا ہے بطور سوال و جواب کے۔
سوال...... عیسیٰ بن مریم جب کہ آخر زمان میں اتریں گے تو کیا حضرت کی امت میں سے ایک آدمی کی مثل ہوں گے اور مرتبہ رسالہ و نبوت سے معزول ہوں گے۔
جواب...... حضرت ﷺ کی امت میں سے ایک آدمی امتی کی مثل ہوں گے۔ اس شریعت پر چلنے میں لیکن مرتبہ رسالت سے معزول ہونا پس یہ ہرگز نہیں بلکہ ان کا درجہ اور بھی زیادہ ہوگا پہلے سے، کیونکہ رسول اللہ ﷺ کے دین و شریعت کو جاری کریں گے اور فتنہ و فساد جو پہلے کا موجود ہوگا دور کریں گے۔ پس عیسیٰ علیہ السلام حاکم ہوگا اور سنت کے ساتھ اور اللہ تعالیٰ اس پر قرآن شریف اور احادیث نبوت کی مراد واضح مکشوف کر دے گا۔ وہ عبارت یہ ہے۔
”الجواب مافى حواشى مقديش على وسطى الشيخ السنوسى وهذا نصه قوله كواحد من امة يعنى يكون كواحد منهم فى المشى على شريعة محمدﷺ واما نزوله عن مرتبة الرسالة فلا بل يزيده الله تعالى رفع درجات وعلو مقامات حيث احى الله تعالى به هذا الدين . فيكون عيسى عليه السلام حاكما بنصوص الكتاب والسنة ويكشف الله له الغطاء عن المراد من احكام كتاب الله وسنة رسول الله ﷺ “ اور تاج الدین سبکی شافعی نے بھی عیسیٰ علیہ السلام بن مریم کا اترنا آسمانوں سے بیان کیا ہے۔ حافظ ابن حجر شافعی بھی یہی مذہب رکھتے ہیں۔ ملاعلی قاری نے اپنے رسالہ المشرب الوردی فی مذہب المہدی میں لکھا ہے۔ ”ان الحافظ بن حجر يسئل هل ينزل عيسى عليه السلام حافظا للقرآن والسنة اويتلقاهما عن علماء ذلك الزمان فاجاب لم ينقل فى ذلك شئ صريح والذى يليق بمقامه عليه السلام انه يتلقى ذلك عن رسول اللهﷺ فيحكم فى امته كما تلقاه منه لانه فى الحقيقة خليفة عنه“
٥١
شافعی المذہب امام یافعی کی روض الریاحین میں ہے کہ کس طرح خوف کروں۔ اس امت پر کہ اول اس کے میں ہوں اور آخر اس کے عیسیٰ علیہ السلام ہوں گے۔ یہ حدیث شریف کے ایک ٹکڑہ کا ترجمہ ہے۔ یعنی رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے کہ میری امت کے اوّل میں میں ہوں اور عیسیٰ علیہ السلام جب آسمان سے اتریں گے تو وہ میری امت کے آخر میں ہوں گے۔ پس جبکہ دو پیغمبروں کے درمیان یہ امت رہی تو امید ہے کہ اللہ تعالیٰ اس پر فضل کرے گا۔
منتخب النفائس شیخ عبدالرحمن صفوریؒ میں ہے کہ خوشخبری ہے امت محمدی ﷺ کو کہ دونوں جلیل الشان پیغمبروں کے درمیان میں ہے اور دونوں کو برحق نبی مانتی ہے۔ محمدؐ اور عیسیٰ بن مریم علیہما السلام کو امام فخر الدین رازیؒ نے جو شافعی مذہب کا بڑا مقتدا فاضل ہے۔ تفسیر کبیر میں جابجا تصریح کر دی کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام اسی جسم عصری کے ساتھ آسمان پر پہنچائے گئے ہیں اور قیامت کے قریب تک زندہ رہیں گے اور آسمان سے اتر کر دجال کو قتل کریں گے۔ (فتح البیان ج٢ ص٣٤٤) میں ہے۔ ”وقد تواترت الاحاديث بنزول عيسىٰ عليه السلام جسما اوضح ذلك الشوكاني في مؤلف مستقل يتضمن ذكر ما ورد في المنتظر والدجال والمسيح وغيره في غيره وصحيح الطبري هذا القول ووردت بذلك الاحاديث المتواتره “ اے مرزائیو! اس عبارت میں احادیث متواترہ کا لفظ دیکھو اور اسلام لاؤ۔ امام نوویؒ شافعی المذہب صحیح مسلم کی جلد اخیر ص ٤٤ میں نمبر ٧٤ والی حدیث نہایت الامل لمن رغب کی عبارت طول طویل نمبر ٧٥ والی کو ملاحظہ کرو۔
امام اجل شیخ ابونصر محمد بن عبدالرحمن ہمدانی شافعیؒ بھی اپنی کتاب سبعیات میں اس کے قائل ہیں کہ سنیچر یعنی شنبہ کے روز اللہ تعالیٰ نے عیسیٰ علیہ السلام کو ان کی قوم کے مکر سے بچا کر بواسطہ حضرت جبرائیل علیہ السلام کے آسمان پر بلا لیا۔ رسالہ تیغ غلام جیلانی کے صفحہ ٨٥ میں دیکھو مفصل مذکور ہے۔ غرض کہ سب شافعی مذہب والوں کا یہی مذہب ہے۔ کہاں تک نقل کرتے جائیں۔ ایماندار کو اسی قدر بس ہے۔
مذہب امام احمد بن حنبلؒ صاحب کا اپنا اور ان کے تابعین کا بھی یہی مذہب ہے۔ خواجہ امام احمدؒ کی حدیث نمبر ١٢ میں ابو ہریرہؓ سے اور نمبر ١٣ کی اور نمبر ٣٦ کی سفیان سے اور نمبر ٣٩ کی حدیث مسند امام احمدؒ کی اور نمبر ٦١ والی حدیث امام احمدؒ کی ابن عباسؓ سے اور امام احمدؒ کی کتاب الزہد کو ملاحظہ کرو۔ شیخ الاسلام ابن تیمیہؒ حرانی اپنے مسائل میں لکھتے ہیں کہ آسمانوں پر چڑھ جانا آدمی
٥٢
کا عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں قریب ہے کہ اتریں گے زمین کی ط ببدنه الى السماء قد ثبت صعد الى السماء وسوف المسلمين فانهم يقولو المسلمون وكما اخبر بـ النصارى يقولون انه اليهود يقولون انه صلـ النصارى يقولون انه لم يمـ ومن وافقهم من النصـ نزوله من اشراط الساعة كـ
تفسیر ابن کثیر میں اما احمد حدثنا هاشم بن القـ ابی رزین عن ابی یحییٰ علمت آية من القرآن وا السلام قبل يوم القيمة من بن ابی حفصة عن الزهـ رسول الله قال ليهلن عيسـ اجمعین (طريق آخر) قال عن عبد الرحمن عن ابی شتى ودينهم واحد وانى وبينه وانه نازل فاذا ار عليه ثوبان ممصران كـ الخنزير ويضع الجزية و كلها الا الاسلام ويهلـ
کا عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں ثابت ہو گیا ہے۔ کیونکہ وہ چڑھ گئے ہیں آسمان کی طرف اور قریب ہے کہ اتریں گے زمین کی طرف، اور عبارت اس مقام کی یہ ہے۔ ”وصعود الآدمی ببدنه الی السماء قد ثبت فی امر المسیح عیسی ابن مریم علیه السلام فانه صعد الی السماء وسوف ینزل الی الارض وهذا ماتوافق النصاری علیه المسلمین فانهم یقولون المسیح صعد الی السماء ببدنه روحه کما یقوله المسلمون وکما اخبر به النبی ﷺ فی الاحادیث الصحیة لکن قلیلا من النصاری یقولون انه صعد بعد ان صلب وانه قام من القبر وکثیر اهل الیهود یقولون انه صلب ولم یقم من قبره واما المسلمون وکثیر من النصاری یقولون انه لم یصلب ولکن صعد الی السماء بلا صلب والمسلمون ومن وافقهم من النصاری یقولون انه ینزل الی الارض قبل القیمة وان نزوله من اشراط الساعة کما دل علیٰ ذلک الکتاب والسنة“
تفسیر ابن کثیر میں امام احمد کی ابن عباسؓ سے روایت منقول ہے ۔ ”وقال الامام احمد حدثنا هاشم بن القاسم حدثنا شیبان عن عاصم بن ابی النجود عن ابی رزین عن ابی یحیی مولی بن عقیل الانصاری قال قال ابن عباسؓ لقد علمت آیة من القرآن وانه لعلم للساعة قال هو خروج عیسی بن مریم علیه السلام قبل یوم القیمة مقصودا، قال الامام احمد حدثنا روح حدثنا محمد بن ابی حفصة عن الزهری عن حنظله بن علی الاسلمی عن ابی هریرة ان رسول الله قال لیهلن عیسی بن مریم بفج الروحاء بالحج والعمرة او یثنیهما جمیعا (طریق آخر) قال الامام احمد حدثنا عفان حدثنا همام انبانا قتادة عن عبدالرحمن عن ابی هریرة قال النبی ﷺ الانبیاء اخوة العلات امهاتهم شتی ودینهم واحد وانی اولی الناس بعیسی ابن مریم لانه لم یکن نبی بینی وبینه وانه نازل فاذا ارايتموه فاعرفوه رجل مربوع الى الحمرة والبياض عليه ثوبان ممصران كان راسه يقطر وان لم يصبه بلل فيدق الصليب ويقتل الخنزير ويضع الجزية ويدعو الناس الى الاسلام ويهلك الله فى زمانه الملل كلها الا الاسلام ويهلك الله في زمانه المسيح الدجال ثم تقع الامانة علىٰ
٥٣
الارض حتى ترتع الاسود مع الابل والنمار مع البقر والذاب مع الغنم ويلعب الصبيان مع الحيات لا تضرهم فيمكث اربعين ثم يتوفى ويصلى عليه المسلمون“
”حديث آخر قال الامام احمد حدثنا هشيم عن العوام بن حوشب عن جبر بن سيحم عن مؤثّر بن غفارة عن ابن مسعود عن رسول الله ﷺ قال لقيت ليلة سرى بى ابراهيم وموسى وعيسى عليهم السلام فتذاكر وامر الساعة فردوا امرهم الى ابراهيم فقال لا علم لى بها افردوا امرهم الى موسى فقال لا علم لى بها فرد وامرهم الى عيسى فقال اما وجبتها فلا يعلم بها احد الا الله وفيما عهد الى ربى عزوجل ان الدجال خارج ومعى قضيبان فاذا رانی ذاب كما يذوب الرصاص قال فيهلك الله اداراآنی حتى ان الحجر والشجر يقول يا مسلم ان تحتى كافر انتعال فاقتله قال فيهلكهم الله ثم ترجع الناس الى بلادهم واوطانهم فعند ذلك يخرج ياجوج وماجوج الى آخره رواه ابن ماجة عن محمد بن بشار عن يزيد بن هارون عن العوام بن حوشب به نحوه حديث آخر قال الامام احمد حدثنا يزيد بن هارون حدثنا حماد بن مسلمة عن على بن زيد عن ابي نضرة قال اتينا عثمان بن العاص في يوم الجمعة “ یہ حدیث طویل ہے آخر میں یہ عبارت ہے۔” وينزل عيسى بن مريم عند صلوة الفجر فيقول له اميرهم ياروح الله تقدم صل فيقول هذه الامة امراء بعضهم على بعض فيتقدم اميرهم حتى اذا قضى صلوة اخذ عيسى حربة فيذهب نحو الدجال فاذا راه الدجال ذاب كما يذوب المرصاص فيضع حربة من تندوته فيقتله ويهزم اصحابه“
اور ایک اور حدیث دراز امام احمد نے ذکر کی ہے۔ عبدالرحمٰن بن یزید بن جابر کے طریق سے اس میں نزول عیسیٰ علیہ السلام بعینہٖ نہ بتمثیلہ مذکور ہے اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے زمانے میں جو جو کام ہوں گے وہ سب بیان کئے ہیں۔
”حديث آخر قال الامام احمد اخبرنا عبدالرزاق اخبرنا معمر عن الزهرى بن عبدالله بن ثعلبة الانصارى عن عبدالله بن زيد الانصارى عن
٥٤
مجمع بن جارية قال ر الدجال بباب لد اوالى مـ حديث لليث والاوزاعى عبدالرحمن بن يزيد عن عيسى ابن مريم الدجـ وقال هذا حديث صحـ فرات عن ابى الطفيل الله ﷺ من غرفة ونحن آيات طلوع الشمس مـ ونزول عيسى بن مر بالمغرب وخسف بـ الناس تبيت معهم حيتـ رواية عبد العزيز بن ر احادیث متواترہ سے ثابت ـ اخبر بنزول عيسى عليـ اور حنفی مذہب كـ خاکی آسمان پر ہیں اور قبل قيا قبل اس سے مذکور ہیں اور ر نقل کرے دیتا ہوں۔ کیونکـ جس میں اس کو کچھ فائدہ نہیـ ہے کہ اس کے اصحاب اور شـ کے زمانے سے لے کر اس عمل کریں گے اور فتویٰ ديـ متابعت کی ہے اور اس پر كـ پر عمل نہ کریں گے۔ کیونکـ
مجمع بن جارية قال سمعت رسول اللہ ﷺ یقول یقتل ابن مریم المسیح الدجال بباب لد او الیٰ جانب لد ورواہ احمد ایضا عن سفیان بن عینیة من حدیث للیث والاوزاعی عن الزھری عن عبداللہ بن عبید اللہ بن ثعلبة عن عبدالرحمن بن یزید عن عمہ مجمع بن جارية عن رسول اللہ ﷺ قال یقتل عیسیٰ ابن مریم الدجال بباب لد وکذا رواہ الترمذی عن قتیبة عن لیث وقال ھذا حدیث صحیح حدیث آخر قال الامام احمد حدثنا سفیان عن فرات عن ابی الطفیل عن حذیفة بن اسید الغفاری اشرف علینا رسول اللہ ﷺ من غرفة ونحن نتذاکر الساعة فقال لا تقوم الساعة حتیٰ تروا عشر آیات طلوع الشمس من مغربھا والدخان والدابة وخروج یاجوج وماجوج ونزول عیسیٰ بن مریم والدجال وثلثہ خسوف خسف بالمشرق وخسف بالمغرب وخسف بجزیرة العرب ونار تخرج من قعر عدن تسوق او تحشر الناس تبیت معھم حیث باتوا وتقیل معھم حیث قالوا ورواہ مسلم ایضاً من رواية عبدالعزیز بن رفیع “ غرض کہ حیات عیسیٰ ابن مریم اور نزول ان کا بعینہ آسمان سے احادیث متواترہ سے ثابت ہے۔ ” وقد تواترت الاحادیث من رسول اللہ ﷺ انہ اخبر بنزول عیسیٰ علیہ السلام قبل یوم القیمة اماما عادلا، ابن کثیر “ اور حنفی مذہب کے سارے علمائے کرام کا یہی مذہب ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام زندہ بجسم خاکی آسمان پر ہیں اور قبل قیامت کے نازل ہوں گے اور دجال کو قتل کریں گے۔ بعض کتابوں کے قبل اس سے مذکور ہیں اور رسالہ تیغ میں بھی ذکر کی ہیں۔ فقط ایک شامی کی عبارت ملا جی کے لئے نقل کر کے دیتا ہوں۔ کیونکہ اس نے بھی ہدایة المہتدی کے ص ٨ میں شامی کی عبارت نقل کی ہے۔ جس میں اس کو کچھ فائدہ نہیں۔ درمختار میں ہے کہ امام اعظم صاحب ابوحنیفہ اتنا بڑا جلیل القدر امام ہے کہ اس کے اصحاب اور شاگردوں اور تابعین کو پروردگار نے شریعت کا حکم دیا ہے۔ امام صاحب کے زمانے سے لے کر اس وقت ہمارے زمانے تک بلکہ عیسیٰ علیہ السلام بھی ابوحنیفہ کے مذہب پر عمل کریں گے اور فتویٰ دیں گے۔ اس پر شامی نے فرمایا کہ یہ علامہ قہستانی صاحب جامع الرموز کی متابعت کی ہے اور اس پر کوئی دلیل نہیں اور یہ بات باطل ہے۔ مذاہب اربعہ میں سے کسی مذہب پر عمل نہ کریں گے۔ کیونکہ وہ نبی ہو کر مجتہد کی تقلید کیسے کرے گا۔ بلکہ اپنے اجتہاد سے حکم کرے گا جو
٥٥
کہ قبل اترنے کے ہمارے شریعت کا علم بواسطہ وحی کے جان چکا ہوگا۔ پہلے سے یا آسمانوں میں جو کچھ ہماری شریعت محمدیہ کا علم سیکھا ہو گا اس پر عمل کریں گے اور حکم دیں گے یا قرآن شریف میں نظر کر کے نکالیں گے۔ جیسے ہمارے نبی ﷺ نکالا کرتے تھے۔ ”وهذه عبارة قوله وقد جعل الله الحكم لاصحاب الامام الاعظم واتباعه من زمنه الى هذه الايام اى ان يحكم بمذهبه عیسی السلام تبع فيه القهستاني لكن لادليل فى ذلك على ان نبى الله عیسی عليه السلام يحكم بمذهب ابي حنيفة وان كان العلماء موجودين فى زمنه فلا بدله من دليل ولهذا قال الحافظ السيوطى فى رسالة سماها الاعلام ماحاصله ان ما يقال انه يحكم بمذهب من المذاهب الاربعة باطل لا اصل له وكيف يظن بنبي انه يقلد مجتهد ان المجتهد من احاد هذه الامة لايجوز له التقليد وانما يحكم بالاجتهاد اوبما كان يعلمه قبل من شريعتنا بالوحى اوبما تعلمه منها وهو فى السماء اوانه ينظر فى القرآن فيفهم منه كما كان يفهم نبينا عليه الصلوة والسلام “ شامی کا ماننا بھی ملاجی پر ضروری ہے اور پھر شامی نے نقل کیا ہے۔ امام سیوطی سے اور وہ باقرار مرزا غلام احمد فاضل ظاہری وباطنی ہے اور اس کی صفت مرزانے جابجا ازالۃ اوہام وغیرہ میں کی ہے۔ کما سیاتی فیما یاتی اور یہی مذہب ہے۔ امام صاحب اور امام ابو یوسف وامام محمد صاحب وامام زفر و حسن بن زیاد وغیرہ جمیع حضرات مجتہدین مرجحین کا احناف میں سے جیسا کہ صدہا کتابوں میں موجود ہے۔ امام صاحب کی خود فقہ اکبر میں موجود ہے۔ ”وخروج الدجال وياجوج وماجوج وطلوع الشمس من المغرب ونزول عيسى عليه السلام من السماء وسائر علامات يوم القيمة على ماوردت به الاخبار الصحيحة حق كائن “ دیکھو فقہ اکبر وغیرہ صدہا کتابوں میں چاروں مذہب کے امام وعلماء اسی عیسیٰ بن مریم ہی آنے کی بشارت دے رہے ہیں۔ کسی کتاب قوی یا ضعیف میں نزول بروزی اور مثیل کا نام تک نہیں۔ اگر سچے ہوں تو مرزا کی تین سو تیرہ مل کر کسی آیت یا حدیث ضعیف ہی میں یا کسی عالم جید کے قول میں دکھا دیں کہ نزول عیسیٰ بن مریم سے مراد نزول اس کے مثیل کا ہے جو کہ غلام احمد ہے یا دوسرا کوئی۔ ہرگز قیامت تک نہ دکھا سکیں گے۔ ہم کو مرزائیوں کا علم معلوم ہے۔ علوم آلیہ میں مہارت تو در کنار ابتدائی صرف ونحو میں نو آموز ہیں۔ بیت
٥٦
نہ خنجر یہ بازو قولہ ..... اور علاوہ ا ہوئے ہیں۔ مثل امام ابن حزم وعلا الجواب ..... اول یہ ہی ان کے مقلدین کی تصانیف میں بن مریم کا اترنا آسمان سے مذکور حضرت عمرؓ اور حضرت ابن عباسؓ ا اور انسؓ اور کعبؓ اور حضرت ابو ہ وابوداؤد وطبرانی وعبد بن حمید وبیہقی اور حاکم اور ابن جریر وابن کثیر اور بشیر وابن عساکر وابن ماجہ وبزار و اور قسطلانی اور شیخ اکبر صاحب فتو قیم وشوکانی وابن سیرین وغیرہ کل کہ عیسیٰ علیہ السلام بجسدہ الاصلی از قیامت اتر کر یہود وغیرہ فرقو ایمان ہوگا۔ ایمان لائیں گے ا قول بموت عیسیٰ اوّل تو یہ کہ ان آیات توفی وفات مسیح کے قائل بظاهر الاية وقال بموته الا ليؤمنن به قبل موته ہیں۔ کیونکہ درصورت تسلیم آم جاوے۔ کوئی چارہ نہیں ہاں ورنہ اليه . وان من اهل الك جب تک مخالف ہمارا بہ نسبت
یہ بازو میرے آزمائے ہوئے ہیں
قولہ ....... اور علاوہ ان کے اور ائمہ و علمائے عظام بھی وفات عیسیٰ علیہ السلام کے قائل ہوئے ہیں۔ مثل امام ابن حزم و علامہ ابن القیم وغیرہ وغیرہ کے۔
الجواب ...... اوّل یہ کہ محض دروغ بیفروغ بکتے ہو بلکہ ائمہ اربعہ کے مسانید اور ایسے ہی ان کے مقلدین کی تصانیف میں نزول مسیح مع دیگر امور کے موجود ہے۔ جس سے صاف عیسیٰ بن مریم کا اترنا آسمان سے مذکور ہے۔ اس کے مثیل کا تو ذکر بھی کہیں نہیں اور صحابہ کرامؓ جیسے حضرت عمرؓ اور حضرت ابن عباسؓ اور حضرت علیؓ و عبداللہ بن مسعودؓ و ابوہریرہؓ و عبداللہ بن سلامؓ و ربیع اور انسؓ اور کعبؓ اور حضرت ابوبکر صدیقؓ اور امام احمد اور ابن حبان اور بخاری و ترمذی و نسائی وابوداؤد وطبرانی وعبد بن حمید وبیہقی ومصنف ابن ابی شیبہ اور جابر وثوبان وعائشہ صدیقہ و تمیم داری اور حاکم اور ابن جریر وابن کثیر اور ابی حاتم وعبد الرزاق وقتادہ وشریح ومجاہد وسعید بن منصور واسحق بن بشیر وابن عساکر وابن ماجہ وبزار و ابن مردویہ اور ابو نعیم و شیخ سیوطی وعلامہ ذہبی اور ابن حجر عسقلانی اور قسطلانی اور شیخ اکبر صاحب فتوحات ومجدد وقت امام ربانی وسائر صوفیہ کرام اور ابن تیمیہ وابن قیم و شوکانی وابن سیرین و غیرہ کل علماء فقہاء واصولین و غیرہ کا آج کے روز تک اجماع چلا آیا ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام بجسدہ الاصلی لا بمثیلہ آسمانوں پر اٹھائے گئے اور وہی عیسیٰ علیہ السلام مرفوع قبل از قیامت اتر کر یہود وغیرہ فرقہائے مضلہ و گمراہی کا منہ کالا کریں گے اور جن کے نصیب میں ایمان ہوگا۔ ایمان لائیں گے اور اس پر کل امت مرحومہ کا اجماع ہے اور ابن حزم اور ابن قیم کا قول بموت عیسیٰ اوّل تو یہ کہ ان کو اجماعی عقیدہ سے خارج نہیں کرتا۔ کیونکہ وہ اگرچہ بنظر ظاہر آیات توفی وفات مسیح کے قائل ہیں۔ جیسا کہ حاشیہ جلالین میں ہے۔ "ويتمسك ابن حزم بظاهر الآية وقال بموته" مگر بلحاظ ”بل رفعه الله اليه اور وان من اهل الكتاب الا ليؤمنن به قبل موته“ اور احادیث نزول کے پھر عندالرفع حیات مسیح کے بالضرور قائل ہیں۔ کیونکہ درصورت تسلیم احادیث نزول بلا تاویل بغیر اس کے کہ مسیح کو عند الرفع زندہ مانا جاوے۔ کوئی چارہ نہیں ہاں درصورت انکار احادیث نزول یا عدم فہم معنی آیت ”بل رفعه الله اليه ۔ وان من اهل الكتاب“ کے بے شک عقیدہ اجماعیہ کے برخلاف ہو سکتے ہیں۔ لہٰذا جب تک مخالف ہمارا بہ نسبت ان دونوں عالموں کے احادیث نزول کا انکار یا اپنی طرف قول بالبروز
٥٧
یا تصریح رفع روحانی متعلق آیت بل رفعہ اللہ الیہ کے ثابت نہ کرے تب تک اقوال مذکورہ سے تمسک اس کو مفید نہیں ہو سکتا۔ بلکہ ہمارے پاس دلائل موجود ہیں جو کہ قائلین موت مسیح کو قبل از رفع مثل ابن حزم وابن قیم کے اجماع سے خارج نہیں ہونے دیتے۔ دیکھو انہی لوگوں کی کتابوں کو اور ان کے استادوں اور شاگردوں کی کتابوں کو کہ سب کے سب نزول من السماء کے قائل ہیں۔ اس عیسیٰ بن مریم کے نہ اس کے مثیل کے اور دوم یہ کہ ابن حزم اگر حیات عندالرفع کا قائل نہ بھی ہو تب بھی کوئی نہیں۔ اس واسطے کہ ابن حزم فاسد العقیدہ بد مذہب ہے اکثر علماء نے اس پر فتویٰ کفر کا دیا ہے۔ وہ اس کا قائل ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے شان پاک میں کسی قسم کی بے ادبی کرنے والا کافر نہیں ہوتا۔ حالانکہ اس کے کفر پر کل امت کا اجماع ہی سوائے ابن حزم کے درمختار وغیرہ میں ہے کہ جو کوئی شخص حضرت کی شان میں بے ادبی کرنے والے کے کفر میں شک کرے وہ کافر ہے من شك في كفره وعذابه فقد كفر ۔ اسی ابن حزم نے کتاب الملل والنحل میں لکھا ہے کہ پروردگار اپنا بیٹا اگر نہ پیدا کر سکے تو وہ عاجز ہو جائے گا اور اپنے مذہب باطل کی ترویج کے لئے صحیح بخاری کی مستند حدیث کو رد کر کے موضوع کہہ دیا۔ دیکھو المطالب الوفیہ سیدنا عبدالغنی النابلسی اور ابن حجر کی کف الرعاع اور نووی شرح مسلم کو۔ پس ابن حزم کا تو یہ حال ہے کہ بہت سی باتوں میں اجماع کا خلاف کیا اور الگ راہ چلا۔ تیسرا یہ کہ مرزا ابن حزم سے سند تو لایا ہی مگر اس کے مذہب پر بھی اقرار نہیں پکڑتا۔ کیونکہ ابن حزم نے خود معراج کی حدیث بیان کی ہے۔ جس میں کمی وبیشی نمازوں کی واقع ہے بخاری ص ٤٧١) حالانکہ مرزا اور مرزائی اس حدیث کو موضوع کہتے ہیں۔ یہاں ابن حزم کو بھی رخصت کر گئے اور ابن قیم مذہب کا حنبلی ہے۔ اس کے امام احمد بن حنبلؒ کا یہی مذہب ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام زندہ ہیں۔ کما مر اور ابن قیم کا اپنا مذہب خاص بھی یہی ہے کہ بعد چند ساعت کی موت کے زندہ ہو کر مرفوع علی السماء ہو گیا۔ جن جن فضلائے ہند و پنجاب نے مرزا کا رد لکھا ہے۔ انہوں نے ابن قیم کا یہی مذہب بیان کیا ہے۔ جیسا کہ حجۃ اللہ البالغہ میں بھی ہے۔ خود ابن قیم کے استاد شیخ الاسلام ابن تیمیہ کا بھی یہی مذہب ہے کہ عیسیٰ بن مریم زندہ آسمان پر گئے اور پھر وہی بعینہ لا مثیلہ آئیں گے۔ کما مر ابن قیم اس قدر بڑا آدمی نہیں جو کہ اپنے امام سے ایسے اعتقادی مسئلہ میں مخالف ہو سکے اور بصورت مخالف ہونے کے بمقابلہ اس کے استاد ابن تیمیہ اور صاحب مذہب امام احمد کے اس کا قول غیر معتبر ہے اور ابن قیم بھی اکثر مسائل میں خلاف اجماع امت مرحومہ چلتا ہے۔ مثل اپنے استاد ابن تیمیہ کے چنانچہ ان کے اعتقادیات سے بعض باتیں یہ ٥٨
ہیں ۔ خدا بر عرش تختہ و بر کرسی پا۔۔ قولہ ...... فی الواقع طرف اشارہ پایا جاتا ہے۔ چنانچہ اكبر من خلق الناس ” الدجال المذكور في القرآ خلق الناس ان المراد بـ دجال مراد کیا گیا ہے یعنی دجال۔ فی الواقع شخص واحد نہیں ہے۔ بلـ آدمی کے ہیں اور حدیث میں جـ (کنز العمال ج ٧ ص ١٧٤) میں ہے بالدين ، الحدیث‘‘ کیونکہ الجواب ...... اوّل بہت سے شریروں فسادیوں پر مـ واحد نہیں ہے۔ لفظ کے ذو افراد خاص کا علم ہو کہ دجال نام شخصی بے دین لوگ ہیں تو چاہئے تھا کـ ہوتے۔ کیونکہ احادیث میں دجـ شریر لوگ ان جگہوں میں ہر زمـ نہیں اور وہی احادیث میں مرا ان مقاموں میں داخل نہ ہوگا دجال ایک صفت عامہ ہے۔ قـ میں لکھا ہے۔ بحوالہ سراج دجا پیر کے حافظہ کی طرح نکما ہے ہے۔ دجال کے بارہ میں جو کیونکہ وہ خود کہتے ہیں کہ عیسیٰ کے اترے گا۔ دیکھو کنز العمال
ہیں ۔ خدا بر عرش شتہ و بر کرسی پائے نہادہ و کرسی از ان آوازی کند و طلاق حائض واقع نمی گردد۔
قولہ ...... فی الواقع دجال ایک گروہ کا نام ہے۔ قرآن وحدیث میں بھی اس کی طرف اشارہ پایا جاتا ہے۔ چنانچہ سورۃ المؤمن رکوع ٦ میں ہے۔ ’’لخلق السموات والارض اکبر من خلق الناس ‘‘ فتح الباری میں ہے۔ ”وقد وقع فی تفسیر البغوی ان الدجال المذکور فی القرآن فی قوله تعالى لخلق السموات والارض اکبر من خلق الناس ان المراد بالناس ههنا الدجال ‘‘ پس قرآن کریم میں جو لفظ ناس سے دجال مراد کیا گیا ہے یعنی دجال سے لفظ ناس کے ساتھ تعبیر کی گئی ہے۔ یہ دال ہے اس پر کہ دجال فی الواقع شخص واحد نہیں ہے۔ بلکہ ذو افراد ہے کیونکہ لفظ ناس بھی ذو افراد ہے کہ معنی اس کے مطلق آدمی کے ہیں اور حدیث میں بھی اشارہ دجال کے جمع ہونے کے طرف پایا جاتا ہے۔ چنانچہ (کنز العمال ج ٧ ص ١٧٤) میں ہے۔ ”یخرج فی آخر الزمان رجال یختلون الدنیا بالدین ، الحدیث‘‘ کیونکہ اس حدیث میں دجال کے لئے فعل جمع جو لفظ یختلون لایا گیا ہے۔
الجواب ....... اول اہل سنت و جماعت خود قائل ہیں کہ دجال معنی وصفی بھی ہے جو کہ بہت سے شریروں فسادیوں پر صادق آتا ہے۔ اس سے یہ تو ثابت نہیں ہوتا کہ دجال کوئی شخص واحد نہیں ہے۔ لفظ کے ذو افراد ہونے سے اس امر کی نفی نہیں ہوتی کہ وہ دوسرے لحاظ سے کسی شخص خاص کا علم ہو کہ دجال نام شخصی بھی ہے اور وصف بھی ہے۔ اگر دجال سے مراد فسادی اور شریر اور بے دین لوگ ہیں تو چاہئے تھا کہ وہ لوگ مکہ معظمہ و مدینہ منورہ و بیت المقدس و کوہ طور میں داخل نہ ہوتے۔ کیونکہ احادیث میں دجال کے داخل ہونے کی ان جگہوں میں نفی آ چکی ہے۔ پس جب کہ شریر لوگ ان جگہوں میں ہر زمانے میں بکثرت رہتے ہیں تو معلوم ہوا کہ دجال شخصی ان سے مراد نہیں اور وہی احادیث میں مراد ہے۔ یعنی دجال شخصی جو سب دجالوں کا پیشوا اور شخص خاص ہے۔ ان مقاموں میں داخل نہ ہوگا اور اسی کو عیسیٰ علیہ السلام قتل کریں گے اور اس آیت میں ناس بمعنی دجال ایک صفت عامہ ہے۔ فلا فائدۃ للمستدل ولا ضرر لنا خود ہی ملاجی نے ہدایتہ المہتدی کے ص ٩ میں لکھا ہے۔ بحوالہ صراح دجال نام مسیح کذاب و گروہ بزرگ دجالہ مثلہ۔ ملاجی کا حافظہ بھی اپنے پیر کے حافظہ کی طرح نکما ہے۔ اپنے کتاب میں بھی اس کو یاد نہ رہا کہ دجال ایک شخص کا نام بھی ہے۔ دجال کے بارہ میں جو جو احادیث لکھتے ہیں اور کنز العمال کا حوالہ قادیانی کو کچھ مفید نہیں۔ کیونکہ وہ خود کہتے ہیں کہ عیسیٰ علیہ السلام اسی جسم خاکی کے ساتھ آسمان پر گیا ہے اور قریب قیامت کے اترے گا۔ دیکھو کنز العمال کو اسی صفحہ میں لکھتا ہے اور بہت حدیثوں میں جو دجال کو شخص واحد
٥٩
سے تعبیر کی گئی ہے یا اس اعتبار سے کہ اس گروہ کا سردار اور افسر شخص واحد ہوگا۔ اب اس عبارت میں بھی صاف اقرار ہے کہ دجال شخص واحد ہے۔ شرارتیوں کے گروہ کا سردار پس ملاجی نے بعینہ ہمارا دعویٰ مان لیا۔
حضرت مغیرہ بن شعبہ صحابی کہتے ہیں کہ کسی نے دجال کے بارہ میں مجھ سے بڑھ کر آنحضرت ﷺ سے سوال نہیں کیا اور آپ نے مجھ کو فرمایا کہ تجھ کو ضرر نہ دے گا میں عرض کیا کہ لوگ کہتے ہیں اس کے ساتھ روٹیوں کا پہاڑ اور پانی کی نہر ہوگی۔ فرمایا حضرت نے یہ حدیث بخاری ومسلم وغیرہ ہی میں آچکی ہے۔ اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ صحابہ کرام میں دجال کا چرچا بہت تھا۔ جیسا کہ حدیث کے ٹکڑے انہم یقولون سے معلوم ہوتا ہے۔ اگر دجال سے مراد شرارتی لوگ تھے تو اس کی اس قدر توضیح اور بار بار دریافت کی کیا ضرورت تھی۔ شرارتیوں کو تو خود ہر کوئی جانتا ہے اور ہر زمانے میں بکثرت ہوتے ہیں۔ عبداللہ بن عمر فرماتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ نے لوگوں میں کھڑے ہو کر باری تعالیٰ کی ثناء کہی۔ پھر ذکر کیا دجال کو اور فرمایا سب انبیاء علیہم السلام نے اپنی اپنی قوم کو دجال سے ڈرایا ہے۔ نوح علیہ السلام نے بھی اپنی قوم کو خوف دکھلایا۔ لیکن میں تم کو اس کے بارہ میں ایسی بات کہوں گا جو کسی نبی نے نہیں کہی۔ جان لو کہ وہ دجال کانا ہوگا اور اللہ تعالیٰ اس سے پاک ہے۔ بخاری ومسلم، ذرہ ذرہ بات رسول اللہ ﷺ نے صحابہ کرام کو تعلیم فرمادی تھی تو اگر دجال کے معنی ہیں اور نزول عیسیٰ میں کچھ اور ہی مطلب تھا جو ظاہر عبارت کے مخالف ہے تو ضرور بیان فرماتے۔ پس جب کہ بیان نہ فرمایا تو معلوم ہوا کہ جس دجال میں نزاع ہے وہ دجال وہی ہے جس کو عیسیٰ علیہ السلام ابن مریم قتل کریں گے اور نزول عیسیٰ سے مراد نزول اسی عیسیٰ بن مریم کا ہے نہ نزول بروزی یعنی نزول اس کے کسی ہم مثل کا۔ باری تعالیٰ فرماتا ہے ”ان ھو الا وحی یوحی وقال اللہ تعالیٰ قد جاءکم من اللہ نور وکتاب مبین یھدی بہ اللہ من اتبع رضوانہ سبل السلام“ صحیح بخاری میں ہے ”اتیتکم بیضاء نقیۃ“ یعنی میں تمہارے پاس سفید اور صاف شریعت لایا ہوں۔ صحیح مسلم میں ہے ”ان بعض المشرکین قالوا لسلمان لقد علمکم نبیکم کل شئ حتی الخراءۃ قال اجل وقال ﷺ ترکتکم علی البیضاء لیلھا کنھارھا لا یزیغ عنھا بعدی الا ھالک وقال ماترکت من شئ یقربکم الی الجنۃ الا وقد حدثتکم بہ ولا من شئ یبعدکم عن النار الا وقد حدثتکم عنہ“ یعنی بعض کافروں نے سلمان سے کہا کہ تمہارے نبی نے تم کو سب کچھ سکھایا۔ یہاں تک کہ بول و براز کا طریقہ بھی سلمان نے کہا کہ ہاں حضرت نے فرمایا ہے کہ ٦٠
شریعت کو ایسا صاف تمہارے پاس میں نے چھوڑا ہے کہ اس کی رات مثل اس کے دن کے سفید ہے۔ اس سے کوئی کج رو نہ ہوگا۔ مگر ہلاک ہونے والا اور جو چیز کہ تم کو جنت کی طرف قریب کرے اور دوزخ سے دور کرے۔ وہ میں نے نہیں چھوڑی۔ مگر بیان کر دی ہے۔ ہاں مکاشفہ اجمالی کے اجمال میں بعض لوگوں کو دھوکہ لگ جاتا ہے۔ اس کی تفصیل سنو کہ جو مکاشفہ اجمالی ہوتا ہے وہ تعبیر و تفسیر طلب ہوا کرتا ہے۔ یعنی پہلے بیان کی تفسیر دوبارہ ہو جایا کرتی ہے اور جو مکاشفہ تفصیلی ہوتا ہے۔ اس میں پھر تفسیر اور تعبیر کی ضرورت نہیں رہتی۔ حضرت ﷺ نے جو کہ مرض وبا کو بصورت عورت گردا گرد مدینہ منورہ کے پھرتے دیکھا تھا یہ مکاشفہ اجمالی تھا کہ دیکھا تھا کچھ اور ظہور میں آیا کچھ، اور پر مرزا اس اجمالی مکاشفہ پر کل مکاشفات تفصیلیہ کو قیاس کر کے تاویل کرتا جاتا ہے اور یہ باطل ہے اور بعض جگہ امر مستبعد عقلی کو جیسے صعود علی السماء اور حیات علی السماء اور اختیارات دجال کو محال عقلی سمجھ کر انکار کر جاتا ہے۔ حالانکہ مستبعد عقلی و محال عقلی میں دن رات کا فرق ہے۔ ہاں نبی کی تعبیر میں اگرچہ وقوع خطا ممکن ہے۔ مگر بقاء علیٰ الخطاء نا ممکن ہے۔ کیونکہ یہ امر نبی کی عصمت کو باطل کر دیتا ہے۔ اب سمجھ لو کہ احادیث نزول عیسیٰ علیہ السلام وخروج دجال ومہدی مکاشفات تفصیلیہ میں سے ہیں۔ جیسا کہ بارہا ثابت ہو چکا ہے۔ بناء علیٰ ہذا اگر احادیث نزول عیسیٰ علیہ السلام وخروج دجال مکاشفات اجمالیہ سے ہوویں تو ساری عمر باقی رہنا غلط بیانی اور خطاء فی التعبیر پر معاذ اللہ آپ کی عصمت کو سخت مضر ہوگا۔ پس ضرور ہے کہ مکاشفات تفصیلیہ میں ذرہ قدر فرق بھی نہ آئے گا۔ حضور کی پیشین گوئیاں جو از قبیل مکاشفات تفصیلیہ کے ہیں ان کو کتب صحاح وسیر سے اگر ملاحظہ کیا جائے تو ہو بہو بالکل جیسے حضرت فرما گئے ایسے ہی واقع ہو چکیں ہیں۔ اس میں ہر مسلمان کو بہت پختگی اور حضرت کے فرمودہ پر بہت سخت تصدیق چاہئے۔ ورنہ ایمان کا ایک رکن بلکہ کل ایمان جاتا رہے گا۔ ہم اہل اسلام تو ایمان رکھتے ہیں۔ اس پر کہ جو کچھ رسول اللہ ﷺ نے قرآن سے سمجھا اور بیان فرمایا اور ہمارے تک براہ تواتر وامانت پہنچ گیا۔ اس کو ایسے ہی ہونا ہوگا۔ اس میں سرمو بھی تفاوت نہ ہوگا۔ ہم اپنی گندی تاویلوں سے باز رہیں گے جو اس وقت سے لے کر آج کے روز تک کل امت مرحومہ کا اعتقاد ہے۔ وہی ہمارا ہے ساری امت کو غلطی پر کہنے والا پختہ گمراہ ہے۔ دیکھو حواشی شرح عقائد اب رسول اللہ ﷺ کی چند پیش گوئیاں تحریر کرتا ہوں۔ ام حرام صحابیہ روایت کرتی ہے کہ آنحضرت قیلولہ سے بیدار ہوئے حالت تبسم میں میں نے تبسم کا باعث عرض کیا۔ فرمایا کہ میں متعجب ہوں اپنی امت کے ایک گروہ سے جو بادشاہوں کی طرح تختوں پر سوار ہوں گے۔ میں نے عرض کی کہ یا حضرت دعا کیجئے کہ اللہ تعالیٰ مجھ کو ان لوگوں سے ٦١
کرے۔ حضرت نے فرمایا تو انہیں میں سے ہے۔ بخاری اور اس کا ظہور حضرت عثمانؓ کے عہد میں بوقت فتح ہونے جزیرہ قبرص کے ہوا۔ ان ایام میں ام حرام عبادہ بن صامت کے نکاح میں تھیں۔ ام حرامؓ کہتی ہے کہ میں نے رسول خدا سے سنا کہ فرماتے تھے کہ میری امت سے ایک لشکر دریا کا جنگ کریں گے اور ان سے جنت میں داخل ہونے کا عمل صادر ہوگا۔ میں نے عرض کی یا رسول اللہ میں بھی ان میں سے ہوں۔ حضرت نے فرمایا تو ان میں سے ہے۔ بعدہ آپ نے فرمایا میری امت سے ایک لشکر قیصر کے شہر کا جنگ کریں گے اور وہ بخشے جائیں گے۔ میں نے عرض کی میں ان میں سے ہوں یا رسول اللہ ﷺ تو حضور ﷺ نے فرمایا، نہ بخاری عن عمیر بن الاسود العنسی، حضرت عثمانؓ کے حق میں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ فلاں فتنہ میں بحالت مظلومی قتل کیا جائے گا۔ ترمذی حضرت نے عثمانؓ کو فرمایا کہ تو سورۂ بقر کے پڑھتے ہوئے قتل کیا جائے گا اور تیرے خون کا قطرہ اس آیت پر پڑے گا۔ ”فسیکفیکہم اللہ وہو السمیع العلیم“ حاکم علی کرم اللہ وجہہ فرماتے ہیں کہ میرے ساتھ عہد کیا آنحضرت ﷺ نے کہ جب تک تو امیر نہ بنایا جائے گا وفات نہ پائے گا اور پھر رنگین کی جائے گی ریش سر کے خون سے۔ احمد، امام حسنؓ کی شہادت اور امام حسینؓ کے قتل سے خبر دی اور واقعہ حرہ وخروج عبداللہ بن زبیر اور خروج بنی مروان سے اور خلافت عباسیہ سے اور واقعہ نہرواں سے خبر دی اور وہ حدیث متواتر ہے اور علیؓ اس واقعہ میں بوقت معاینہ پیشین گوئی آنحضرت ﷺ کے بعینہ بغیر تفاوت سرمو کے فرماتے تھے کہ صدق رسول اللہ ﷺ صدق رسول اللہ ﷺ۔ احمد، اور خبر دی حضرت نے ترکوں کی بادشاہی سے طبرانی وابونعیم، ابن مسعود اور ہلاکو خان کے واقعہ سے خبر فرمائی۔ خصائص اور فرمایا حضرت ﷺ نے سراقہ بن مالک کو جو ایک اعرابی تھا۔ اس کے دونوں بازوں کو ملاحظہ فرما کر گویا دیکھ رہا ہوں میں، جو تو نے کنگن کسریٰ کے اور کمربند اس کا اور تاج اس کا پہنے ہیں۔ امیر المومنین عمر کی خلافت میں ایسا ہی وقوع میں آیا۔ ازالۃ الخفاء اور ایک یہودی کو فرمایا حضرت نے جو کہ بنی ابی الحقیق سے تھا کہ کیسا حال ہوگا تیرا جب کہ تو نکالا جائے گا خیبر سے پھر اس کو عمرؓ نے نکال دیا تھا۔ حذیفہؓ کہتے ہیں کہ قسم ہے اللہ تعالیٰ جل شانہ کی کہ رسول اللہ ﷺ نے سب مفاسد کے پیشواؤں سے دنیا کے تمام ہونے تک خبر دی ہے اور پہنچتا ہے عدد ان کا جو ساتھ اس کے ہوں گے۔ سو سے زائد کو، ان کے نام اور ان کے باپ کے نام اور ان کے قبیلہ کے نام سے بھی خبر دی ہے۔ حجۃ اللہ البالغہ، اب غور کرو کہ ان لوگوں سے اور ان کے سوا کے صدہا پیشین گوئیاں ہیں جو مکاشفات تفصیلیہ کی قسم سے ہیں۔ خاص یہی زماں ومکاں واسامی مراد ہیں۔ جو جو احادیث میں مذکور ہیں بعینہ نہ ان کے ہم صورت اور مثیل۔ پس حضرت عیسیٰ علیہ ٦٢
السلام کی خبر دی میں اس کا مثیل کہاں سے بے حیا خلافت عثمانیہ اگرچہ عالم مثال دوسرا مثیل ان کا۔ غرض کہ مکاشفات تفصی طلب نہیں۔ گو کہ بعض فقرات ماسواء اس متعذر ہے۔ تعبیر طلب ہیں اور وقوع تاو ہو سکتا۔ بلکہ یہ منوط بعذر حقیقت ہے۔ بق دجال کے ذو افراد ہونے پر دلیل پکڑنی ا اس نے اپنی کتاب شمس بازغہ کے ص ٧٥ م لانه يغشى الارض بكثرة جموعه خیال نہ کیا۔ جس سے دجال واحد شخصی م انکار کرتے ہیں۔ قولہ ...... ص ١٠ میں حالاً علم بجز باری تعالیٰ کے دوسرے کو نہیں م ہے۔ ”و المتشابه ما استاثر الخبر عن اشراط الساعة وخر فی علوم القرآن میں ایسا ہی لکھا ہے۔” كقيام الساعة وخروج الدجال اقول ...... ان عبارتوں کہ قیام قیامت اور خروج دجال کا بعینہ متشابہات اور مغیبات سے ہے اور ب متشابہات میں سے ہے۔ یعنی یہ مطلو جاوے تو قیام قیامت یعنی قیامت امت وقیاس جمیع الامان دین اور اعتا الدین سیوطی تفسیر اور درمنثور کی عبار صاف حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا آنا پر
السلام کی خبر دی میں اس کا مثیل کہاں سے آ گیا۔
خلافت عثمانیہ اگرچہ عالم مثال میں برنگ قمیص نظر آئی۔ مگر عثمانؓ وہی عثمانؓ ہیں نہ کوئی دوسرا مثیل ان کا۔ غرض کہ مکاشفات تفصیلیہ میں جو لوگ بقید اپنے اسماء کے مذکور ہیں کوئی تاویل طلب نہیں۔ گو کہ بعض فقرات ماسواء اسماء کے جو در رنگ استعارہ ہیں اور ارادہ معنی حقیقی وہاں پر متعذر ہے۔ تعبیر طلب ہیں اور وقوع تاویل بعض فقرات کلام میں موجب تاویل کل کلام کا نہیں ہوسکتا۔ بلکہ یہ منوط بعذر حقیقت ہے۔ لفظ ”یختلون الدنیا بالدین“ کے جمع ہونے سے دجال کے ذو افراد ہونے پر دلیل پکڑنی ایسی باطل ہے جیسے کہ مولوی امروہی نے دلیل پکڑی ہے۔ اس نے اپنی کتاب شمس بازغہ کے ص ٣٠٥ میں لکھا ہے کہ لسان العرب میں لکھا ہے۔ ”وقیل لانہ یغطی الارض بکثرة جموعه“ اقول مولوی امروہی کی یہ بے فکری ہے کہ لانہ کی ضمیر کو خیال نہ کیا۔ جس سے دجال واحد شخصی مراد ہے اور اس کے ساتھ جماعات کے ہونے کا ہم کب انکار کرتے ہیں۔
قولہ ...... ص ١٠ میں حالانکہ خروج دجال کو متشابہات میں سے شمار کیا گیا ہے۔ جن کا علم بجز باری تعالیٰ کے دوسرے کو نہیں ہو سکتا۔ چنانچہ تفسیر معالم التنزیل میں محی السنۃ امام بغویؒ کے ہے۔ ”والمتشابہ ما استاثر اللہ تعالیٰ بعلمه لا سبیل لاحد الیٰ علمه نحو الخبر عن اشراط الساعة وخروج الدجال“ اور امام جلال الدین سیوطیؒ نے بھی اتقان فی علوم القرآن میں ایسا ہی لکھا ہے۔ ”حيث قال والمتشابہ ما استاثر اللہ بعلمه کقیام الساعة وخروج الدجال“
اقول ...... ان عبارتوں سے قادیانی بنگالی کو کوئی فائدہ نہیں۔ کیونکہ مراد اس سے یہ ہوا کہ قیام قیامت اور خروج دجال کا بعینہ کون سے برس کون سے مہینے کون سے دن میں ہوگا۔ یہ امر متشابہات اور مغیبات سے ہے اور یہ مطلب ہرگز نہیں کہ نفس خروج دجال اور نفس قیام قیامت متشابہات میں سے ہے۔ یعنی یہ مطلب کہ معلوم نہیں کہ قیام قیامت کیا چیز ہے۔ اگر یہ مطلب لیا جاوے تو قیام قیامت یعنی قیامت کے آنے سے انکار ہوا۔ حالانکہ آیات و احادیث و اجماع امت و قیاس جمیع ائمہ دین اور اعتقاد کل مؤمنین کے مخالف ہے اور صاف کفر ہے۔ امام جلال الدین سیوطیؒ تفسیر درمنثور کی عبارت کو دیکھو جو ہم نے اس سے قبل لکھ دی ہے کہ کیسا صاف صاف حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا آنا بیان کرتے ہیں اور دجال کا خروج اور عیسیٰ علیہ السلام کے ہاتھ
٦٣
سے اس کا مرنا بھی ذکر کیا ہے۔ ”حيث قال ان الدجال خارج ومعى قضيبان“ اور ایسا ہی تفسیر اتقان میں ہے۔ مگر اندھوں کو آفتاب جہاں تاب سے کیا فائدہ ہے اور اسی علامہ نے اسی در منثور میں بھی فرمایا کہ شب معراج میں رسول اللہ ﷺ نے ابراہیم و موسیٰ وعیسیٰ علیہم السلام سے ملاقات کی۔ پس قیامت کا ذکر کیا سب نے ابراہیم علیہ السلام کی طرف اس ذکر کو رد کیا۔ انہوں نے فرمایا کہ مجھ کو علم نہیں۔ پھر عیسیٰ علیہ السلام کی طرف رد کیا تو انہوں نے کہا کہ وقوع قیامت کو سوائے اللہ تعالیٰ کے دوسرا کوئی نہیں جانتا۔ ”فقال عيسى اما وجبتها فلا يعلم بها احد الا الله عزوجل وفيما عهد اليّ ربى ان الدجال خارج ومعى قضيبان“ اس عبارت میں وجبتہا کا معنی وقوعہا ہے۔ مراد اس سے بھی نفی تعیین یوم بالخصوص کی ہے۔ جیسا کہ آیات صریحہ میں موجود ہے اور خود مشکوٰۃ وغیرہ صحاح کی کتب میں بکثرت وارد ہے کہ جبرائیل علیہ السلام نے آ کر رسول اللہ ﷺ سے عرض کیا۔ متی الساعۃ قیامت کب کو ہوگی۔ رسول اللہ ﷺ نے جواب دیا۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ مجھ کو نہیں معلوم۔ پس اس سے مراد بھی بالخصوص تعیین یوم وزمان کی نفی ہے۔ اگر یہ مطلب نہ ہو جو میں اور جملہ اہل اسلام کہتے ہیں تو کل احادیث و کتب ائمہ دین اور خود امام سیوطی کی تصانیف میں ایسے تدافع اور تعارض اور تناقض ہوں گے کہ کسی مجنون کی کلام میں بھی نہ ہوں گے۔ کیونکہ کسی جگہ عیسیٰ کا آنا اور دجال کو قتل کرنا اور قیامت کا آنا بیان کیا اور کسی جگہ ان کو متشابہات سے کہہ کر ان کا انکار ثابت کر دیا۔ نعوذ باللہ منہا۔ ہم کل مسلمان اہل سنت وجماعت بلکہ شیعہ و رافضی و وہابی بھی ایمان تفصیلی میں ”آمنت بالله وملائكته ورسله واليوم الآخر“ پڑھتے ہیں۔ مگر قادیانی لوگ ”واليوم الآخر“ سے منکر ہیں۔ اسی واسطے نفس قیام قیامت کو متشابہات سے کہتے ہیں۔ مرزا نے خود ٹائٹل (ازالۃ الاوہام ص٢، خزائن ج٣ ص١٠٢) میں لکھا ہے۔ میں ایک مسلمان ہوں۔ ”آمنت بالله وملائكته وكتبه ورسله والبعث بعد الموت بلفظه“ استغفر اللہ بے علمی کے کیسا سخت مغالطہ واقعہ ہوا کہ جس کے سبب سے آیات بینات و ہزاروں احادیث سے انکار کرنا پڑا اور ایسا ہی حال ہے۔ تفسیر معالم التنزیل کا اور امام بغوی کا اعتقاد عیسیٰ علیہ السلام کے بارہ میں اہل سنت و جماعت کی مثیل ہے۔ اس سے سند لانی مرزائیوں کو سخت مضر ہے۔ اس نے تو ابو شریح انصاری سے دابۃ الارض کے نکلنے کا قصہ مفصل بیان کیا ہے۔ حالانکہ مرزا دابۃ الارض سے منکر ہے اور کہتا ہے کہ دابۃ الارض کوئی خاص جانور نہیں۔ بلکہ اس زمانہ کے علماء ہوں گے جو آسمانی قوت اپنے میں نہیں رکھتے۔
(نزول المسیح ص٤٧، خزائن ج١٨ ص٤٢١)
٦٤
آخری زمانہ میں ان کی کثرت ہوگی۔ تفسیر معالم التنزیل اور تفسیر عزیزی اور تفسیر مظہری وابن کثیر و فتح البیان میں تو خود موجود ہے کہ جبرائیل علیہ السلام ہر وقت عیسیٰ علیہ السلام کے ساتھ موجود رہتا تھا۔ یہاں تک کہ ان کے ساتھ آسمان کی طرف چلا گیا۔ ”وهذا عبارتهم كان معه لازما فى جميع الاحوال حتى رفع مع عیسیٰ عليه السلام الى السماء“
قولہ....... کیونکہ اگر واقعی اسی صورت پر دجال معہود ظاہر ہو جاوے تو العیاذ باللہ قرآن وحدیث کا باطل ہونا لازم آئے گا۔ اس لئے کہ ام القرآن یعنی سورۃ فاتحہ سے معلوم ہوتا ہے کہ کوئی مفسد و مخرب دین قوم یہود و نصاریٰ سے باہر نہیں ہوگا۔ کیونکہ اگر ہوتا تو ضرور ام القرآن میں اس کی طرف اشارہ ہوتا۔ ورنہ ام القرآن کا مرتبہ گھٹتا جاتا ہے۔
اقول ....... ملا جی کا مطلب یہ ہے کہ الحمد میں غیر المغضوب علیہم ولا الضالین سے مراد یہود و نصاریٰ ہیں اور کل مفسد و مخرب دین کے انہیں دونوں فرقوں میں سے ہوں گے۔ حالانکہ یہ سمجھ غلط ہے۔ کیونکہ فرقہ قادیانی و بابی و دہریہ و قرآنیہ و نیچریہ و شیعی و رافضی اعلیٰ قسم کے مخرب دین ومفسدین سے ہیں۔ حالانکہ یہود و نصاریٰ سے باہر ہیں اور ام القرآن میں مذکور نہیں اور صدہا احکام نماز و روزہ وزکوٰۃ و حج و مزارعت و نکاح و طلاق و بیع و عتاق و غیرہ ام القرآن میں کوئی نہیں کیا۔ اس سے ام القرآن کا مرتبہ گھٹتا جائے گا۔ یہ کیسی عندیہ باتیں ملا جی نقل کر رہا ہے۔
قولہ....... اور یہود سے دجال معہود کا آنا تو قولہ تعالیٰ وضربت علیہم الذلۃ والمسکنۃ وغیرہ سے باطل ہے۔
اقول ....... یہود کا خوار و ذلیل ہونا جو قرآن وحدیث میں مذکور ہے اس کے ظہور کے اسباب میں سے ایک یہ بھی ہے کہ دجال تھوڑے روز باس و کروفر خدائی دعویٰ کر کے مسیح بن مریم کے ہاتھ سے مقتول ہوگا۔ اس کا چند روزہ شان و شوکت کتاب وسنت کی پیشین گوئی کو مضر نہیں۔ چنانچہ حدیث شریف میں ہے کہ ہمیشہ میری امت میں سے ایک جماعت حق پر ہوگی اور غالب رہے گی۔ قیامت تک اس کا یہ معنی نہیں کہ کوئی بالمقابل ان کے سر نہ اٹھائے گا۔ بلکہ مطلب یہ ہے کہ بعد تقاتل کے غلبہ اہل حق ہی کو ہوگا۔ ایسا ہی دجال بھی مسیح بن مریم کے ہاتھ سے ہلاک ہوگا۔ جس سے اس کو اور اس کے تابعین کو بڑی ذلت ہوگی۔ جیسا کہ خود اس جواب کو حجۃ اللہ البالغہ میں لکھا ہے۔ اب جو کہ بعض جگہوں میں بعض یہود ملکوں کے والی اور رئیس ہیں یا نصاریٰ کہ قریب قریب تمام روئے زمین کی سلطنت کر رہے ہیں تو آیات واحادیث میں جو کہ ان کی ذلت وارد ہے۔ وہ بیکار اور غلط ہے۔ بلکہ مقصود شارع کا یہ ہے کہ یہ چند روزہ شان و شوکت کا کوئی اعتبار نہیں۔ اعتبار
٦٥
نتیجہ اور خاتمہ کا ہے۔ ”العبرة بالخواتم“ یہ اعتراض بھی مرزائیوں کا غلط ہوا۔
قولہ ...... اور تمیم داری کی روایت کے مطابق جزیرہ کے قوی ہیکل دجال کا نکل آنا بھی صحیح مسلم وغیرہ کے سو برس والی حدیث سے باطل ٹھہرتا ہے۔ چنانچہ صحیح مسلم میں ہے ۔ ”عن جابر قال سمعت رسول الله ﷺ یقول قبل ان یموت بشهر تسئلونی عن الساعة وانما علمها عندالله واقسم بالله ماعلى الارض من نفس منفوسه یاتی علیها مائة سنة وهی حی یومئذ وعن ابن مسعود اما یاتی مأته سنة وعلی الارض نفس منفوسة الیوم رواه مسلم“
الجواب ...... ہم نے رسالہ تیغ غلام گیلانی بر گردن قادیانی میں خوب تحقیق سے تحریر کر دیا ہے کہ آیت ”بل رفعه الله الیه“ محکم ہے۔ رفع جسمی میں لہٰذا اہل لسان اور محاورہ داں صحابہ اور سلف سے رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین رفع جسمی کو آیت ہذا سے ایسے سمجھے ہوئے تھے کہ کسی سے اس آیت کے معنی میں اختلاف ہی مروی نہیں اور اسی وجہ سے یعنی چونکہ محکم ہے۔ رفع جسمی میں تو مخصص ہوگی ۔ واسطے ان آیات اور احادیث کے جو بظاہر، عموم اپنے کے دال ہیں۔ وفات مسیح پر مثل ”قد خلت من قبله الرسل“ اور ”ما من نفس منفوسة“ وغیرہ۔
- ٢...... جس وقت یہ حدیث رسول اللہ ﷺ نے فرمائی۔ اس وقت حضرت عیسیٰ
علیہ السلام زمین پر موجود نہ تھے۔ بلکہ آسمان پر تھے۔ پس حدیث کا حکم اس شخص کے لئے ہے جو کہ اس وقت زمین پر تھا۔ پس علی الارض کی قید سے عیسیٰ علیہ السلام نکل گئے ۔ وھذا ظاھر جدا!
- ٣...... یہ حکم حدیث کا کلی نہیں بلکہ جزئی ہے۔ کیونکہ اس وقت تو زمین پر خواجہ خضر
اور مہتر الیاس علیہما السلام زندہ موجود تھے اور باتفاق اہل باطن واہل کشف اب تک زندہ ہیں اور اصحاب کہف جو کہ اس وقت غار میں تھے جن کو غار میں جانے کے اس وقت ٣٠٩ برس ہو چکے تھے اور اب تک ١٣٣٦ اور بھی گزر چکے ہیں۔ پس ان احادیث سے عیسیٰ علیہ السلام کی موت ہرگز ثابت نہیں ہوئی ۔ مرزائیوں کا یہ اعتراض بھی خاک میں مل گیا اور صحیح مسلم کا حوالہ دینا تو تم کو کوئی مفید نہیں بلکہ وہ تو تمہارے حق میں زہر قاتل ہے۔ دیکھو (صحیح مسلم مطبع انصاری جلد اول ص ٨٧ باب نزول عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام) اور (ج ٢ ص ٣٩٢) میں ہے کہ عیسیٰ ابن مریم دجال کو قتل کر کے لوگوں کو اس کا خون نیزہ پر دکھائیں گے اور (جلد ثانی ص ٣٩٩) میں ہے کہ دجال کو اللہ تعالیٰ بعض چیزوں کا اختیار دے کر لوگوں کی آزمائش کرے گا۔ جیسا کہ زندہ کرنا مردوں کا اور دوزخ و جنت اور دو نہروں کا اس کے ساتھ ہونا اور آسمان اس کے امر سے بارش برسانا وغیرہ وغیرہ۔ پھر عیسیٰ علیہ
٦٦
السلام اس کو قتل کریں گے اور یہی مذہب اہل سنت و جماعت اور جمیع محدثین اور فقہاء وغیرہ کا ہے اور خوارج اور جہمیہ اور بعض معتزلہ اس کے خلاف پر ہیں اور بوجہ یاجوج ماجوج کے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا ایک جگہ میں بند ہونا (ص٢٠١، ٢٠٣) میں ہے کہ آنا عیسیٰ علیہ السلام کا اور قتل کرنا اس کا دجال کا بالکل صحیح ہے اور حق ہے۔ عقل اور شرع میں اس کو کوئی شے باطل نہیں کرتی۔ ان سب میں اسی دجال حقیقی شخص واحد اور اسی عیسیٰ ابن مریم بعینہ کا ذکر ہے۔ مثیل عیسیٰ علیہ السلام کا تو اشارہ قدر بھی نہیں ہے۔
قولہ ...... اور علاوہ ماذکر سے دجال معہود میں ایسی ایسی صفتیں بھی تسلیم کی گئیں ہیں کہ کسی نبی اولوالعزم میں ایسی صفتیں پائی نہیں گئیں۔ بلکہ بعض بعض خدائی صفتیں بھی دجال میں مانی گئی ہیں۔ مثل عالم الغیب ہونے واحیاء اماتت کے پس ایسا دجال خیالی کا آنا بحکم قرآن عظیم واحادیث رسول کریم ﷺ کے یکسر باطل ہے۔ کما لا یخفی!
الجواب ...... غیب کا علم جاننا بالذات بلا کسی ذریعہ سے اس طور پر کہ ذات عالم کی خود بخود مبداء انکشاف ہو جائے۔ یہ خاصہ باری تعالیٰ کا ہے اور علم غیب کا جاننا بواسطہ وحی یا الہام اور القاء فی القلب اور کشف القلوب اور بذریعہ قرائن کے یہ خاصہ خداوندی نہیں بلکہ یہ علم اس پہلے علم کا مقابل ہے۔ یہ نیک بندوں کو چنانچہ انبیاء علیہم السلام وغیرہ بزرگان دین کو دیا گیا ہے۔ اس کا تحقق ضرور بندوں میں ہونا چاہئے۔ ”لاقتضاء المقابلة“ صدہا احادیث واقوال و مذاہب اس پر موجود ہیں کہ ایسا علم غیب بندگان خدا کو دیا گیا ہے۔ پس اس وقت دجال کو بھی ایسا علم غیب واسطے امتحان بندوں کے دیا جائے گا۔ جیسا کہ کاہنوں اور برہمنوں کو بعض امور کا علم غیب حاصل ہے۔ بوجہ پابندی قواعد جفر ورمل کے اور بعض کو بذریعہ اخبار جن حاصل ہوتا ہے۔ ”کما فی الحدیث وکتب العقائد“ ایسا ہی کسی مردہ کو زندہ کرنا اور زندہ کو مارنا باذن پروردگار کا یہ بندوں کو حاصل ہے۔ جیسا کہ عیسیٰ علیہ السلام کے بارہ میں قرآن شریف میں وارد ہے۔ ”ابری الاکمہ والا برص واحی الموتیٰ باذن الله وانبئکم بماتاكلون وماتدخرون فی بیوتکم“ اور میں بحکم خدا مادر زاد اندھے اور بدن بگڑے کو اچھا کرتا ہوں اور مردے زندہ کرتا ہوں اور تم کو خبر دیتا ہوں جو تم کھاتے ہو اور جو گھروں میں اٹھا رکھتے ہو۔
اور خواجہ خضر علیہ السلام نے جو کہ ایک لڑکے کو باذن پروردگار مار ڈالا تھا باشارہ اپنی انگلی کے کہ موسیٰ علیہ السلام نے کہا۔ ”اقتلت نفسا زكية بغیر نفس“ اور اس قسم کا اختیار اماتت کا اللہ تعالیٰ کے بندوں سے بہت صادر ہوا ہے اور ہوگا۔ موسیٰ علیہ السلام کے زمانے میں ایک مقتول
٦٧
کا قاتل معلوم نہیں ہوتا تھا تو موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا کہ گائے ذبح کر کے اس کا کوئی اندام میت پر مارو تو میت زندہ ہو کر قاتل اپنا بتا دے گا۔ پس بنی اسرائیل نے گائے ذبح کر کے اس کی زبان یا دایاں ران اس کا یا کان اس کا یا دم اس کی مقتول پر ماری گئی۔ اوّل پارہ میں سورۃ بقرہ میں یہ قصہ موجود ہے۔ ”اضربوہ ببعضھا کذالک یحیی اللّٰہ الموتیٰ“ کو پڑھو۔ حضرت عزیر علیہ السلام کے بارہ میں خود قرآن شریف میں موجود ہے کہ اس کو اللہ تعالیٰ نے مارا اور وہ ایک سو برس کے بعد پھر زندہ ہوا۔ ”اوکالذی مر علی قریۃ وھی خاویۃ علی عروشھا قال انی یحیی ھذہ اللّٰہ بعد موتھا فاماتہ اللّٰہ مائۃ عام ثم بعثہ قال لبثت یوما او بعض یوم قال بل لبثت مائۃ عام فانظر الی طعامک وشرابک لم یتسنہ“ یعنی جبکہ عزیر علیہ السلام ایک ویران شہر پر گزرے تو بطور استبعاد و تعجب کے کہا کہ ایسے مرے ہوئے اور ویران شہر کو اللہ تعالیٰ کیسے زندہ کرے گا۔ پس اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت کاملہ دکھانے کے لئے عزیر علیہ السلام کو سو برس تک مردہ رکھ کر زندہ کیا اور فرمایا کہ تو کتنی دیر یہاں رہا تو عزیر علیہ السلام نے کہا کہ ایک دن یا کچھ کم۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا نہیں تو ایک سو برس تک یہاں مرا ہوا رہا۔ اپنے طعام اور پانی کو دیکھ کہ باوجود گزر جانے ایک سو برس کے خراب نہیں ہوا اور اپنے گدھے کو دیکھ کہ کس طرح اس کی ہڈیاں بوسیدہ ہوگئی تھیں۔ غرضیکہ عزیر علیہ السلام کا گدھا بھی اللہ تعالیٰ نے ان کے سامنے زندہ کیا اور غلام احمد قادیانی اس آیت کی تحریف اس طور پر کرتا ہے۔ ازالہ میں کہ (خدائے تعالیٰ کے کرشمہ قدرت نے ایک لمحہ کے لئے عزیر کو زندہ کر کے دکھلایا۔ مگر وہ دنیا میں آنا صرف عارضی تھا اور دراصل عزیر علیہ السلام بہشت ہی میں موجود تھا۔ (ازالہ اوہام ص٣٦٥، خزائن ج٣ ص٢٨٧) افسوس کہ مرزا نے اپنی بات بنانے کے لئے قرآن شریف کے معنی کو بگاڑا۔ مگر کچھ نہ ہوا۔ کیونکہ اوّل تو یہ کہ آیت کے سیاق و سباق سے خود ظاہر ہے کہ عزیر علیہ السلام کی موت وحیات سے حقیقی موت وحیات پروردگار کا مقصود ہے نہ مجازی، سچ ہے تو دکھاؤ کہ کون سے محقق نے یہ لکھا ہے کہ فی الواقعہ عزیر دنیا میں نہ آیا تھا اور یہ حیات مجازی تھی۔ دوم یہ کہ جو بات چیت کہ اللہ تعالیٰ اور عزیر علیہ السلام کو لوگوں کے ساتھ ہوا ہے وہ ایک لمحہ میں ہو جاتا۔ مستبعد خیال کیا جاتا ہے۔ کیونکہ تفسیر بیضاوی میں ہے کہ جب عزیر نبی اللہ زندہ ہوئے بعد ایک سو برس کے لوگوں پر تورات کو لکھوایا اپنی یاد سے پس لوگ اس سے متعجب ہوئے۔ تیسرا یہ کہ مرزا تو بالکل کسی مردہ کا دنیا میں آنا نہیں مانتا۔ حقیقی ہو یا مجازی بہت دیر تک ہو یا ایک لمحہ ہو۔ پس جب کہ ایک لمحہ بھر بھی بعد مرنے کے دنیا میں آنا مان لیا تو اس کا دعویٰ ٹوٹ گیا۔ چوتھا یہ کہ بہت اچھا یہ دنیا میں آنا عزیر نبی اللہ کا عارضی ہی طور پر
٦٨
یہی ہم بھی تو کہتے ہیں کہ عیسیٰ علیہ السلام کے لئے زندگی اور معاش کی جگہ اصل فی الواقع زمین ہی ہے ۔ مگر وہ عارضی طور پر آسمان پر ہیں۔ پس اس میں کیوں مرزا خفا ہوتا ہے اور دیکھو موسیٰ علیہ السلام کی قوم کے بارہ میں کہ بعد ان کے مرنے کے زندہ ہونے کی صاف صریح طور پر خبر موجود ہے ۔ ” ثم بعثناكم من بعد موتكم لعلكم تشكرون “ قرآن شریف میں دوسری جگہ میں ہے ” الم ترا الیٰ الذین خرجو من دیارهم وهم الوف حذر الموت فقال لهم الله موتوا ثم احياهم “ نہایت صریح الفاظ سے یہ آیت بتلا رہی ہے کہ اے محمد ﷺ کیا تجھے معلوم نہیں کہ وہ ہزاروں لوگ جو کہ خوف موت کے سبب سے اپنے گھروں سے نکلے تھے۔ پس کہا ان کو اللہ تعالیٰ نے کہ تم مر جاؤ۔ ( پس وہ مر گئے ) پھر زندہ کیا ان کو اللہ تعالیٰ نے۔ تفسیر جلالین میں ہے کہ یہ لوگ بعد مرنے کے زندہ ہو کر زمانہ دراز تک دنیا میں رہے۔ لیکن ان پر موت کا اثر باقی رہا کہ جو کپڑا وہ لوگ پہنا کرتے تھے۔ کفن کی طرح ہو جاتا تھا اور یہ حالت ان کے تمام قبائل میں رہی اور قریش کے ٢٤ سردار جو کہ بدر کے جنگ میں مار کر بدر مقام کے کنوؤں میں پھینک دیئے گئے تھے اللہ تعالیٰ نے ان کو زندہ کر کے حضرت ﷺ کی کلام ان کو تنبیہ اور افسوس کے لئے سنادی۔ چنانچہ صحیح بخاری میں بروایت قتادہ ہے۔ ”وزاد البخاري قال قتادة احياهم الله حتى اسمعهم قوله توبيخا وتصغيرا ونقمة وحسرتآ وندما “ مشکوٰۃ غرض کہ آیت اور احادیث وقصص وروایات صحیحہ میں موتیٰ کا زندہ ہونا دنیا میں بکثرت موجود ہے۔ کہاں تک مرزائیوں کو لڑکوں کی طرح تعلیم دی جاوے۔
سوال ...... ” از طرف قادیانی “ وحرام على قرية اهلكناها انهم لا يرجعون “ یعنی جس بستی اور موضع کو ہم نے ہلاک کر دیا ان کا دنیا میں پھر رجوع کرنا حرام ہے۔
الجواب ...... اس کا مطلب یہ ہے کہ مردوں کا دوبارہ دنیا میں آنا بطور قاعدہ کلیہ کے ان کی طبع کا مقتضٰی نہیں اور یہ امر منافی نہیں۔ اس کے کہ اگر اللہ تعالیٰ ان کے اعادہ اور دوبارہ دنیا میں لانے کو چاہے تو وہ نہ آسکیں۔ بلکہ اللہ تعالیٰ قادر مطلق ہے۔ اگر یہ مراد نہ ہو تو آیات و احادیث میں صاف تعارض حقیقی ہے۔ جو کہ شارع کے عاجز ہونے پر دلالت کرتا ہے۔ سب سے بہتر یہ ہے کہ قادیانی کی کتابوں سے جواب دیا جائے تا کہ اس کو اور اس کے اذناب کو دم مارنے کی جگہ باقی نہ رہے۔ قرآن وحدیث میں تو وہ تاویل وتحریف وانکار کرنے کے عادی ہیں۔ قادیانی نے خود ازالہ میں لکھا ہے کہ الیسع کی لاش نے وہ معجزہ دکھلایا کہ اس کی ہڈیوں کے لگنے سے ایک مردہ زندہ ہو گیا۔ اے مرزائیو ! بان لومان تو تفسیر کبیر میں ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام کے پاس بار ہا پچاس ہزار بیمار
٦٩
جمع ہوتے تھے جو آنے کی طاقت رکھتا خود آتا اور نہ آسکتا تو عیسیٰ علیہ السلام خود اس کے پاس چلے جاتے تھے اور فقط دعا ہی کیا کرتے تھے۔ امام کلبیؒ نے کہا ہے کہ یا حی یا قیوم کے لفظ سے مردہ کو زندہ کرتے تھے۔ مگر یہ شرط کر لیا کرتے تھے کہ بعد اچھا ہونے کے میری رسالت پر ایمان لانا ہوگا۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی دعاء سے جو جو لوگ زندہ ہوئے ان میں سے حضرت عبداللہ بن عباسؓ نے جن کو مرزا نے افقہ الناس لکھا ہے چار شخصوں کو ذکر کیا ہے۔
- ١...... عازر: پیر زن کا بیٹا اور عاشر کی بیٹی اور نوح علیہ السلام کا بیٹا سام، سوائے
سام بن نوح علیہ السلام کے سب کے سب زندہ رہے اور ان کی اولاد بھی ہوئی اور سام بن نوح علیہ السلام کا قصہ یوں ہے کہ اس کی قبر پر عیسیٰ علیہ السلام آئے اور دعاء کی۔ پس وہ قبر سے نکلا اور آدھا سر اس کا سفید ہو گیا تھا۔ بوجہ خوف قیامت کے۔ حالانکہ اس زمانے میں لوگ بوڑھے نہیں ہوا کرتے تھے۔ پس انہوں نے پوچھا کہ قیامت ہوگئی ہے۔ عیسیٰ علیہ السلام نے فرمایا کہ نہیں بلکہ میں نے اسم اعظم کے ساتھ تمہارے لئے دعاء کی ہے۔ پھر ان سے مرجانے کو کہا انہوں نے کہا کہ مجھ کو مرنا قبول ہے۔ مگر شرط یہ ہے کہ موت کی سختی میرے اوپر دوسری بار نہ ہو۔ پس عیسیٰ علیہ السلام نے دعاء کی اور ان پر موت کی سختی نہ ہوئی۔
(تفسیر لباب التاویل ج ١ ص ٣٣٨)
قولہ...... مخفی نہ رہے کہ حقیقت دجال کی یہ ہے کہ دجال اصل میں شیطان لعین ہے جو کہ شرالخلائق بلکہ منبع الشرور ہے۔ جس نے اللہ تعالیٰ سے قیامت تک کی مہلت طلب کر کے حاصل کی ہے۔ ”کماقال تعالیٰ رب فانظرنی الی یوم یبعثون قال فانک من المنظرین الی یوم الوقت المعلوم“ پس بناء علیہ چونکہ یہ زمانہ بھی دجالی زمانہ ہے۔ اس میں ہر ایک مضل خلق ومفسد دین حق اس کا مظہر ہے۔ چنانچہ مخالفین سلسلہ احمدیہ بھی خواہ مولوی ہوں یا نہ مولوی ہوں۔ جو ناحق لوگوں کو راہ حق سے بہکاتے ہیں۔ حصہ داروں میں سے اس کے ہیں۔
الجواب...... ایسی باتوں سے پورا بے علمی اور جہالت کا ثبوت ملتا ہے۔ افسوس علمیت کا یہ حال اور تصنیف کا یہ شوق۔ جو آیت قرآنی کہ خاص ابلیس لعین کے بارہ میں تھے۔ اس کو دجال کے بارہ میں نازل کر دیا اور بیچ یہ ڈالا کہ دجال اصل میں شیطان لعین ہے۔ ہم کہتے ہیں کہ کون سنے کہانی تیری اور وہ بھی زبانی تیری۔ کسی آیت یا صحیح حدیث خواہ ضعیف غیر موضوع خواہ موضوع ہی سے ثابت کرو کہ دجال کوئی شخص خاص نہ ہوگا۔ بلکہ یہی شیطان ہے اور یہ قیامت تک بھی ثابت نہ کر سکو گے۔ اگرچہ اپنے ہمراہ شیطان کو بھی کر لو۔ مکہ معظمہ اور مدینہ منورہ و بیت المقدس
٧٠
طاقت رکھتا خود آتا ورنہ آسکتا تو عیسیٰ علیہ السلام خود اس کے پاس چلے کرتے تھے۔ امام کلبیؒ نے کہا ہے کہ یا حی یا قیوم کے لفظ سے مردہ کو زندہ کیا کرتے تھے کہ بعد اچھا ہونے کے میری رسالت پر ایمان لانا ہوگا۔ علاوہ ان کے جو لوگ زندہ ہوئے ان میں سے حضرت عبداللہ بن عباسؓ نے لکھا ہے چار شخصوں کا ذکر کیا ہے۔ عازر : پیرزن کا بیٹا اور عاشر کی بیٹی اور نوح علیہ السلام کا بیٹا سام، سوائے اس کے سب کے سب زندہ رہے اور ان کی اولاد بھی ہوئی اور سام بن نوح جو کہ اس کی قبر پر عیسیٰ علیہ السلام آئے اور دعاء کی۔ پس وہ قبر سے نکلا اور اٹھا۔ بوجہ خوف قیامت کے۔ حالانکہ اس زمانے میں لوگ بوڑھے نہیں ہوا کرتے۔ اس نے پوچھا کہ قیامت ہوگئی ہے۔ عیسیٰ علیہ السلام نے فرمایا کہ نہیں بلکہ میں نے تمہارے لئے دعاء کی ہے۔ پھر ان سے مرجانے کو کہا انہوں نے کہا کہ شرط یہ ہے کہ موت کی سختی میرے اوپر دوسری بار نہ ہو۔ پس عیسیٰ علیہ السلام کی سختی نہ ہوئی۔
(تفسیر لباب التاویل ج١ ص٣٤٨)
مخفی نہ رہے کہ حقیقت دجال کی یہ ہے کہ دجال اصل میں شیطان لعین مع الشرور ہے۔ جس نے اللہ تعالیٰ سے قیامت تک کی مہلت طلب کر لی۔ فقال تعالیٰ رب فانظرنی الیٰ یوم یبعثون قال فانک الیٰ یوم الوقت المعلوم ” پس بناء علیہ چونکہ یہ زمانہ بھی دجالی زمانہ مضل خلق و مفسد دین حق اس کا مظہر ہے۔ چنانچہ مخالفین سلسلہ احمدیہ بھی وہی ہیں۔ جو ناحق لوگوں کو راہ حق سے بہکاتے ہیں۔ حصہ داروں میں ایسی باتوں سے پورا بے علمی اور جہالت کا ثبوت ملتا ہے۔ افسوس علمیت وذوق۔ جو آیت قرآنی کہ خاص ابلیس لعین کے بارہ میں تھی۔ اس کو دجال پر چسپاں کر لیا اور یہ گھڑ لیا کہ دجال اصل میں شیطان لعین ہے۔ ہم کہتے ہیں کہ کون سی آیت یا صحیح حدیث خواہ ضعیف غیر موضوع خواہ مرفوع میں ہے کہ دجال کوئی شخص خاص نہ ہوگا۔ بلکہ یہی شیطان ہے اور یہ قیامت تک بھی زندہ رہے گا۔ پس اپنے ہمراہ شیطان کو بھی کرلو۔ مکہ معظمہ اور مدینہ منورہ وبیت المقدس ٧٠
وکوہ طور سے دجال داخل ہونے سے روکا گیا ہے۔ اگر وہ دراصل شیطان ہی ہے تو شیطان اور شیطانی تو اعلیٰ قسم کی ان جگہوں میں ہوتی رہی اور اب بھی ہوتی ہے اور ہوتی رہے گی۔ ظاہر ہے کہ طرح بطرح کے فتنے اور فساد انبیاء علیہم السلام اور صحابہ کرامؓ و تابعین اور ان کے بعد کے زمانہ میں انہی جگہوں میں ہوئے ہیں۔ علمائے اہل اسلام پر مرزائیوں نے جابجا اپنی تصانیف میں طعن و تشنیع کرتے ہیں تو اس کی وجہ یہی ہے کہ ہم کل لوگ ان کے گمان میں شیطان اور شیطان کے حصہ داروں میں سے ہیں۔ جیسا کہ اس براہین احمدیہ کے مصنف کی عبارت میں گذرا اور اس کے سوائے باقی مرزائیوں نے بھی اپنے نبی غلام احمد کے ساتھ مل کر ہم اہل اسلام پر کفر کا حکم بارہا دیا ہے اور خود ظاہر ہے کہ جو کوئی کسی مسلمان کو کافر کہے گا وہ خود کافر ہے۔ لہٰذا ہمارے اوپر جو کہ حکم شیطان اور دجال ہونے کا مرزائیوں نے دیا ہے وہ حکم مرزائیوں پر ہی لوٹتا ہے۔
قول ...... اکثر احادیث میں چونکہ استعارہ کے طور پر مثل کشوف و خوابوں کے دجال کو ایک قوی ہیکل شخص کی صورت میں بیان کیا گیا ہے۔ اس لئے اکثر الفاظ پرست ظاہر بین لوگ اس کو دلیل پکڑے ہوئے ہیں اور باوجود تفہیم کامل و تنبیہ شدید کے اس سے نہیں ٹلتے۔
الجواب ...... دجال کا شخص واحد قوی ہیکل ہونا از بس درست ہے۔ ایسا ہی ہووے گا۔ یہ بیان حضرت کا آخری ہے اور مفصل ہے۔ خیال کرو کہ جب ابتداء میں حضرت ﷺ نے مکاشفہ اجمالی کے ذریعہ سے بعض علامات دجال کے بیان کئے تو ابن صیاد پر وہ باتیں مطابق پائی گئیں۔ لہٰذا عمرؓ نے اس کے قتل کرنے کی اجازت مانگی۔ مگر حضرت ﷺ نے نہ دی اور فرمایا کہ اگر دجال یہی ہے تو اس کا قاتل تو نہیں ہے۔ بغیر عیسیٰ ابن مریم کے قاتل اس کا اور کوئی نہیں اور اگر یہ ابن صیاد دجال نہیں تو اہل ذمہ میں سے ایک شخص کا قتل کر دینا تم کو سزا وار نہیں۔ اس حدیث سے دجال کا شخص واحد متعین ہونا بخوبی ثابت ہے۔ کیونکہ رسول اللہ ﷺ کا تشریف لے جانا ابن صیاد کی طرف یہ دلیل ہے۔ اس کے شخص معین ہونے کی۔ بفرض اگر دجال قوم دغا باز اور شریر سے عبارت ہوتا تو حضرت نبی ﷺ ابن صیاد کی طرف بخیال اس کے کہ شاید دجال ہو کیوں آتے اور اس سے یہ بھی ثابت ہوا کہ دجال کا قاتل سوائے عیسیٰ بن مریم کے دوسرا کوئی نہیں۔ اگر قتل سے مراد ظاہری قتل نہ تھا بلکہ دلائل اور بینات سے ساکت کرنا تھا تو حضرت ﷺ اس وقت عمرؓ سے فرماتے کہ اے عمرؓ اس کو جان سے کیوں مارتے ہو۔ اس کو دلائل اور بینات سے ساکت کر دو کہ یہی اس کا قتل ہے۔ پس عمرؓ کی اذن طلبی ابن صیاد کے قتل کے بارہ میں اور حضرت کا اس کو روک دینا اور عمرؓ کا باز رہنا یہ پختہ دلیل ہے۔ بطرف شخص معین ہونے دجال کے چونکہ یہ اجمالی علامات ٧١
دجال کی بیان کی گئی تھیں۔ لہٰذا بعض صحابہ پر ابتداء میں یہ امر مخفی رہا۔ جیسا کہ ابن عمرؓ نے کہا کہ ما اشک ان اصبح الدجال ابن صیاد اور اسی کو مرزا نے لے کر تیرہ سو برس سے اس کے مرکز مدینہ میں دفن ہونے کا اعتقاد کر لیا۔ پس خلاصہ یہ ہوا کہ مرزا ہرگز مسیح موعود نہیں۔ کیونکہ وہ دجال شخص کا قاتل نہیں بلکہ حضرت عمرؓ نے خطبہ میں فرمایا کہ تمہارے بعد ایک قوم آئے گی جو کہ رجم اور دجال اور شفاعت اور عذاب قبر کی منکر ہوگی۔ سبحان اللہ مرزا وغیرہ منکروں کے بارے میں حضرت عمر کی یہ پیشین گوئی کیسے صادق ہوئی۔ اگر دجال قوم شریر سے اشارہ ہے تو اس سے کون انکار کر سکتا ہے۔ وہ تو ہر زمانہ میں بکثرت ہیں۔ جب بعد کو حضرت ﷺ سے پورے علامات دجال کے حضرت عمرؓ نے سنے تو ابن صیاد کے دجال نہ ہونے کا مانا اور آئندہ کو دجال کے بارہ کے تاکید فرمائی اور سب صحابہؓ اس پر ایمان رکھتے تھے۔ عبداللہ بن عمرؓ کہتے ہیں کہ حضرت عمرؓ جس شے کی نسبت جو خیال کرتا ہے وہ ویسی ہی نکلتی ہے۔ قیس بن حازق کہتا ہے کہ ہم آپس میں باتیں کیا کرتے تھے کہ عمرؓ کی زبان پر فرشتہ بول رہا ہے۔
قولہ...... ص١٤ میں ہے کیونکہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام...... کا وفات پا جانا محکمات قرآن وحدیث سے کماینبغی ثابت ہے اور یہ بھی اپنے محل میں محکمات قرآن وحدیث سے پایہ ثبوت کو پہنچ گیا ہے کہ جو شخص مرجاتا ہے پھر رجوع الی الدنیا نہیں کر سکتا ہے۔
الجواب...... وہ محکمات قرآن وحدیث اگر وہی ہیں جن کا سابقہ جواب ہو گیا ہے تو چشم ما روشن دل ما شاد اور اگر سوائے ان کے دارالعلوم قادیان میں ہیں تو لائے تاکہ دنداں شکن جواب دیا جائے۔ افسوس کہ محض خلق خدا کو دھوکہ اور گمراہ کرنا ان کا مقصود ہے۔ ذکر اس پر پہلے گزر چکا ہے کہ مردے کیسے زندہ ہوتے ہیں۔ اس کے دیکھو اور جہالت سے باز آؤ۔ محکمات میں تاویل کہاں درست ہے اور آپ تو ہر جگہ تاویل کر رہے ہو اور ص ١٥، ١٦ میں جو کہ لفظ نزول کو تختہ مشق بنایا ہے۔ اس کا جواب سابق میں ہوچکا ہے۔
قولہ...... احادیث نزول عیسیٰ علیہ السلام کے روایات صحیحہ میں تو سماء کا لفظ بھی عربی میں بمعنی آسمان موجود نہیں۔ کما لا يخفی!
الجواب...... متعدد احادیث میں صراحۃً ودلالۃً موجود ہے۔ آپ کی یا کسی قادیانی کی ورق گردانی میں نہ ملا تو اس میں کسی غیر کا قصور تو نہیں۔ مرزائیوں کی علمیت اور نظر کا قصور ہے۔
چشمۂ آفتاب راچہ گناہ
٧٢
”روى اسحق بن بشر وابن عساکر عن ابن عباس قال قال رسول الله ﷺ فعند ذلك ينزل اخى عيسى بن مريم من السماء “فقہ اکبر میں امام ابوحنیفہؒ باب ونزول عیسیٰ علیہ السلام من السماء فرماتے ہیں۔ ساری دنیا کا مانا ہوا قطب العارفین اور خاص کر مرزا کا بڑا بھاری معتمد علیہ صوفی باخدا شیخ اکبر فتوحات میں فرماتے ہیں۔ عیسیٰ علیہ السلام کے بارہ میں ”فانه لم يمت الى الان بل رفعه الله الى هذا السماء “ اس سے پیشتر بھی کتابوں کا حوالہ دیا گیا ہے۔ فتدبر وتفکر خود نسائی شریف کو دیکھو کہ حضرت ابن عباسؓ سے حضرت عیسیٰ بن مریم کا زندہ آسمان پر اٹھایا جانا ثابت ہے۔ ”عن ابن عباس ان رهطا من اليهود سبوه وامه فدعا عليهم فمسخهم قردة وخنازير فاجمعت اليهود على قتله فاخبره الله بانه يرفعه الى السماء ويطهره من صحبة اليهود“ صحیح نسائی اور ایسا ہی ابن ابی حاتم و ابن مردویہ ”قال ابن عباس سيدرك ناس من اهل الكتاب عيسى حين يبعث فيومنون به فتح البيان“
قولہ ...... تیسرا اشکال یہ ہے کہ کہاں حضرت مرزا صاحب نے دجال کو قتل کیا ہے۔ کیونکہ جس گروہ کو آپ دجال قرار دئے تھے۔ وہ تو اب تک زندہ موجود ہے (اور وہ گروہ دجال کا انگریز لوگ اور کل روئے زمین کے عیسائی ہیں) تو حل اس کا یہ ہے کہ قتل دو قسم کا ہوتا ہے۔ ایک تو معروف ہے کہ کسی حربہ سے جسمانی قتل کرنا ہے اور دوسرا قسم قتل کا بینہ و برہان کے ساتھ ہے۔ جیسا کہ فرمایا اللہ تعالیٰ نے سورۂ انفال میں۔ ”ليهلك من هلك عن بينة ويحيى من حي عن بينة “ اور یہ قسم ثانی قتل دفع فساد دینی کے لئے کامل تر ہے۔ قسم اوّل سے کیونکہ قسم اوّل میں ممکن ہے کہ مفسدوں کو قتل کر ڈالنے کے بعد ان کی اولاد یا دوسرے ہم مشرب لوگ اٹھ کر دوسرے وقت فساد مچادیں۔ مگر قسم ثانی میں کبھی سر اٹھانے کا مجال باقی نہیں رہتا۔ كمالا يخفى!
الجواب ...... مولوی محمد احسن امروہی باشندہ بلدہ امروہہ کا جو کہ کچھ روز بطمع مبلغ خرچ پچاس روپیہ ماہوار کے مرزائی ہوا تھا اور مرزا کی تائید میں اس نے کتاب شمس بازغہ لکھی تھی۔ پھر جب ماہانہ مرزا سے بند ہو گیا تو اس نے اعتقاد مرزائیت کو سلام کر دیا۔ اس نے شمس بازغہ کے ص ٩٥ میں ”ويهلك الله فى زمانه الملل كلها الا الاسلام “کے متعلق لکھا ہے کہ یہ جملہ بھی دلیل ہے جہاد بابرہان پر ”كما قال يهلك من هلك عن بينة اويحيى من حيى عن بينة “ اسی طرح جملہ ”يهلك الله فى زمانه المسيح الدجال “ سے معنی مذکور مراد ہے۔ انتہیٰ مختصراً!
٧٣
اقول...... عبارت ”ويهلك الله فى زمانه المسيح الدجال“ سے ہلاک بالحربۃ ہی مراد ہے۔ جیسے کہ ان جملہ احادیث صحیحہ سے جنگ بآلات اور قتل کرنا دجال کو نیزہ سے مقصود ہے۔ وہ اس بارہ میں بکثرت آ چکی ہیں اور جملہ ”ويهلك الله“ کو قیاس کرنا آیت مذکورہ ”ويهلك من هلك عن بينة الى آخره“ پر کس قدر جہالت وغباوت ہے۔ کیونکہ ادنیٰ طالب علم بھی جانتا ہے کہ جس جگہ کسی کو ہلاک کرنا دلیل اور برہان اور حجت سے مقصود ہوتا ہے اس جگہ اس کی تصریح ضروری ہے۔ چنانچہ آیت مذکور میں لفظ عن بینۃ موجود ہے اور جیسا کہ سورۃ الحاقہ میں ”فھلک عنی سلطانیہ“ اسی واسطے جس جگہ ابطال اور ہلاک بآلات حرب وعقاب ظاہری مراد ہے۔ وہاں پر بینہ اور حجت کا ذکر نہیں ہے۔ چنانچہ آیت ”وكم اهلكنا من قرية وحرام علی قرية اهلكناها وكم اهلكنا قبلهم من قرن“ اور ان کی مثل دوسری آیات میں الحمد سے لے کر والناس تک سارا قرآن دیکھ لو کہ جس جگہ ہلاک کرنا دلیل اور حجت سے مراد ہو۔ وہاں پر اس کی تصریح ہوگی اور جس جگہ ہلاک بالات عذاب ظاہری چشم دید اور ہلاک بمعنی موت ظاہری ہو۔ وہاں اس کی تصریح ضروری نہیں کہیں ہوگی۔ کہیں نہیں ہوگی۔ امثال مذکورہ بالا میں نہیں اور امثال مذکورہ تحت میں ہے۔ ”فاما ثمود فاهلكوا بالطاغيه واما عاد فاهلكوا بريح صرصر عاتية“ (اور قتل بالدلیل کا قوی ہونا قتل بالحربہ سے اس وجہ سے کہ قسم ثانی میں کبھی بھی سر اٹھانے کا مجال باقی نہیں رہتا محل نظر ہے) بعض جگہ ایسا بھی ہوتا ہے کہ پہلے لوگ اگر کسی دلیل کا جواب نہیں دے سکتے تو بعد کے لوگ اس کا جواب دینے پر خوب قادر ہوا کرتے ہیں۔ جیسا کہ مناظرات و علوم آلیہ و فلسفیہ میں ناظر ذہین پر یہ امر روشن ہے۔
قولہ...... فی الجملہ اسی قتل دجال کا یہ اثر ہے کہ احمدیوں سے مباحثہ کرنے کی جرات اب دجال کے گروہ نہیں پاتے۔ ناچار حیلہ وحوالہ کر کے پسپا ہوتے ہیں۔
الجواب...... اس جگہ پھر روئے زمین کے علماء وجملہ اہل اسلام کو اس قادیانی دجال بطال نے گروہ دجال سے شمار کر دیا۔ مگر وجہہ یہ ہے کہ خود گروہ دجال میں سے پس ناچار اس کے دل سے زبان پر یہی بات آتی ہے۔
قولہ...... لفظ مہدی کا یہ معنی ہے کہ لفظ مہدی اسم مفعول کا صیغہ ہے۔ اس کے معنی ہیں ۔ ہدایت پایا ہوا۔ اس سے ایسا شخص مراد ہے جو خود اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہدایت پا کر دوسرے بندگان خدا کی ہدایت کرنے کے لئے مامور ہو کر مبعوث ہوا ہے اور ابو نعیم کی ایک
٧٢
روایت اسی طرح مروی ہے۔ ”عن ابن عمران قال محمد بن الحنفیه المهدی من یهدی ویصلح به الناس کما یقال الرجل الصالح واذا کان الرجل الصالح قیل له المهدی“ پس اسی روایت کے مطابق تو ہر رجل صالح مہدی کہلانے کا مستحق ہے۔ کما لا یخفی!
الجواب....... اس سے تو فقط لفظ مہدی کی تشریح کر دی ہے۔ اس عبارت میں یہ تو کہیں نہیں کہ مہدی کوئی شخص خاص اپنی صفات مذکورہ کے ساتھ نہ ہوگا۔ اب اگر لفظ محمد کا معنی اس طور پر کرے کہ صیغہ اسم مفعول کا ہے۔ باب تفعیل سے معنی اس کا صفت کیا ہوا۔ پس جو کوئی صفت کردہ شدہ ہو وہی محمد ہے تو کیا اس سے حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کے وجود باجود کی نفی ہو جائے گی۔ اسمائے محضہ میں مناسبت وضعی مقصود ہوا کرتی ہے نہ معنی۔ وضعی دیکھو اطول اور مطول کو۔
٢....... کیا رجل صالح امام مہدی سے تعبیر نہ ہو اور بواقی روایات میں متعدد جگہوں میں ہو تو کیا نقصان ہے۔ ایک واقعہ میں مجمل پر مفصل قاضی ہوتا ہے۔ مجمل کو بھی اسی مفصل پر حمل کیا جاتا ہے اور روایت بالمعنی میں خاص لفظ کا ترک کرنا کوئی معیوب نہیں ہوتا۔ عالم اصول حدیث پر مخفی نہیں۔ ملا جی نے ابونعیم سے بے فہم و عقل حوالہ دے دیا۔ دیکھو میں اسی ابونعیم سے حیات عیسوی ثابت کرتا ہوں۔ ٣٨ نمبر کی حدیث میں گذر چکا ہے کہ ابونعیم نے کتاب الفتن میں ابن عباسؓ کی حدیث نقل کی ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام بقرب قیامت نازل ہو کر حضرت شعیب علیہ السلام کے خاندان میں شادی کریں گے جو کہ موسیٰ علیہ السلام کی سسرال ہے اور ان کی اولاد ہوگی۔ اور رسول اللہ ﷺ کے مقبرہ میں دفن ہوں گے۔ دیکھو اس کو رسالہ تیغ غلام گیلانی کے ص ٦٦، ١١١ کو اور ایسا ہی ابونعیم نے حلیہ میں بھی کہا ہے۔ اسی ابونعیم نے یہ بھی روایت کی ہے کہ جب عیسیٰ علیہ السلام آسمان سے اتریں گے تو امام مہدی لوگوں کے سردار ان سے کہیں گے کہ آیئے اور امامت کیجئے تو عیسیٰ علیہ السلام کہیں گے کہ خبردار ہو جاؤ کہ تم ہی آپس میں ایک دوسرے کے سردار ہو۔ اس امت کی کرامت کے سبب سے یعنی تمہارے اوپر دوسرا آدمی سرداری اور پیشوائی نہیں کر سکتا۔ اسی ابونعیم نے یہ بھی روایت کیا ہے کہ فرمایا رسول اللہ ﷺ نے کہ جس وقت تم دیکھو کہ ملک خراساں سے کالے جھنڈے اور نشان ظاہر ہوئے ہیں تو تم آؤ ان نشانوں میں۔ اگرچہ گھٹنوں کے زور پر۔ کیونکہ وہ نشان اللہ تعالیٰ کے خلیفہ امام مہدی کے ہوں گے اور اسی ابونعیم نے اس گاؤں کا نام کرعہ لکھا ہے جس سے کہ امام مہدی پیدا ہوں گے۔ اسی ابونعیم نے تو یہ بھی لکھا ہے کہ امام مہدی کے ہمراہ ایک فرشتہ آواز کرے گا کہ یہ مہدی ہیں۔ اللہ تعالیٰ کے خلیفہ ہیں۔ ان کی
٧٥
متابعت کرو۔ کل قادیانیوں پر فرض ہے کہ ابونعیم کو مان کر عیسیٰ علیہ السلام ابن مریم کے زندہ رہنے کے قائل ہو جائیں۔
قول....... اور جائے ظہور امام مہدی موعود کے بارے میں اگرچہ علماء کے مختلف اقوال ہیں۔ مگر ایک حدیث صریح اس طرح مروی ہے کہ: ”یخرج المہدی من قریۃ یقال لہا کدعہ“ اور بعض کتابیں کرعہ لکھا ہوا ہے۔ بہر کیف یہ قریب قریب قادیان یا قادی کے ہے جو اس ملک کے لوگ مختلف طور پر بولا کرتے ہیں اور اس قدر فرق پڑ جانا نام میں اہل انصاف کے نزدیک کچھ ان کا وجہ استعجاب کے موجب نہیں ہو سکتا۔
الجواب....... یہ سب مرزا نے خود ازالۃ الاوہام میں یہ مضمون لکھا ہے کہ موضع قادیان کا نام دراصل قادیان نہ تھا۔ بلکہ مرزا کے مورث اعلیٰ سمی قاضی ماجھی نے اس کو آباد کیا۔ بابر بادشاہ کے زمانہ میں اور اس کا نام اسلام پور قاضی ماجھی رکھا۔ جب اس موضع کے باشندے شریر ہو گئے تو اسلام پور جاتا رہا۔ محض قاضیان رہ گیا۔ تلفظ عوام میں ضاد کو دال سے مناسبت صوتی ہوتی ہے۔ قاضیان کا قادیان ہو گیا۔ پس ثابت ہوا کہ یہ قصبہ قادیان مدت چار سو سال سے آباد ہے۔ قبل اس کے آباد نہ تھا۔ پس ظاہر ہوا کہ ظہور و تولد امام مہدی صاحب کی حدیث کو موضع قادیان سے کوئی لگاؤ نہیں ہے۔ کیونکہ حدیث شریف کو ١٣٣٦ برس ہوئے اور قادیان اس وقت معدوم تھا۔ اب چار سو سال سے آباد ہے اور مرزا تو (ازالہ اوہام ص ٧٧، خزائن ج ٣ ص ١٤٠) میں کہتا ہے کہ قادیان کا نام قرآن شریف میں موجود ہے۔ (”انا انزلناہ قریباً من القادیان“ ہاں واقعی طور پر قادیان کا نام قرآن شریف میں درج ہے اور تین شہروں کا نام قرآن شریف میں اعزاز کے ساتھ لکھا ہوا ہے۔ مکہ، مدینہ، قادیان ) پھر قادیان کو کدعہ سے بنانے کی کون سی ضرورت رہ گئی ہے اور ماشاء اللہ اس کے موضع کا نام بھی خوب ہے کہ فرار اور بزدلی کا معنی دیتا ہے۔ قاموس میں ہے کہ قادی بمعنی جلدی، کنارہ یا جنگل سے آنے والا اور قادیان قادی کی جمع ہے اور قادیانی اسی کی طرف منسوب ہے۔ اس مناسبت سے ہر بھگوڑے جنگلی کا نام قادیانی ہوا اور اصل حدیث میں لفظ کدعہ کا ک، د، ع، ہ ہرگز ثابت نہیں۔ یہ مرزا کا محض دھوکہ ہے اور اگر کہیں ہو بھی تو کاتب کی غلطی ہے اور صحیح لفظ کرعہ ہے۔ بجائے دال مہملہ کے راء ملہ ہے اور ابو نعیم نے اس موضع کا نام کرعہ لکھا ہے۔ مگر صحیح کرعہ ہے۔ پس مرزائیوں کا یہ سوال بھی خاک میں مل گیا۔ بڑا افسوس ہے کہ لفظوں کو سوچ سوچ کر کیسے مکر وحیلہ کے بیان نکالتے ہیں۔ یہ بیان مفصل رسالہ تیغ میں دیکھو قولہ، اور جس حدیث سے امام مہدی کو نکالا ہے اس حدیث میں مہدی کا لفظ بھی نہیں۔ چہ جائیکہ مہدی آخر الزمان کی
٧٦
تعین ہو۔ بلکہ اس حدیث میں فقط رجل کا لفظ واقع ہے۔ جس کے معنی ایک مرد کے ہیں۔ فقط اٹکل سے اس کو امام مہدی آخر زمان پر لگایا گیا ہے۔
الجواب ...... یہ حدیث ترمذی، ابوداؤد نے رسول اللہ ﷺ سے روایت کی ہے۔ فرمایا رسول اللہ ﷺ نے دنیا ختم نہ ہوگی جب تک کہ مالک نہ ہولے۔ عرب کا ایک مرد میری اہل بیت سے۔ اس کا نام میرا نام ہوگا اور عدل سے زمین کو پر کر دے گا۔ چونکہ اور احادیث میں ایسے اوصاف کے ذکر کے ساتھ لفظ مہدی کی تصریح بھی ہے۔ لہٰذا یہ مجمل اس مفصل کا عین ہوگا اور تصریح لفظ مہدی کی دیکھو تو وہ بھی بکثرت وارد ہے۔ چنانچہ ابوعمر دانی اور ام شریک کی روایت میں اور نیز ابوامامہ باہلی کی حدیث مرفوع میں جس کو ابن ماجہ اور دیلمی وابن خزیمہ وابو عوانہ وحاکم نے اپنی اپنی صحاح میں اور ابونعیم نے حلیہ میں بیان کیا ہے اور ایسا ہی حدیث ابن سیرین کی مصنف ابن ابی شیبہ میں اور حدیث کعب کی مطول ان سب میں امامت مہدی کی تصریح ہے۔ یہ آخر تمہارے نزدیک بھی وجود مہدی آخر زمان کا کسی صحیح حدیث ہی سے تو ثابت ہوگا۔ پھر معلوم نہیں کہ تم کو اس میں لفظ رجل سے کیوں شک ہو گیا۔ و شاک فی انہ شاک قولہ اور پھر لفظ مہدی کا عدد اور لفظ ہند کا عدد ایک ہی ہے۔ یعنی ٥٩ اور لفظ پنجاب چونکہ اصل میں پنج آب تھا اور الف ممدودہ حقیقت میں دو الف ہے۔ اس اعتبار سے اگر لفظ پنجاب میں دو الف پڑھا جاوے تو لفظ پنجاب کا عدد ٥٩ ہوتا ہے اور کسی سابق زمانے میں قادیان کا نام قاضی ماجھی تھا۔ اس کے ماجھی کے لفظ کے بھی یہی عدد ہوتے ہیں۔ یعنی ٥٩۔ پس اصل لحاظ سے جائے ظہور امام کا ملک ہند میں سے سرزمین پنجاب اور اس میں سے خاص قادیان متعین ہو جاتا ہے۔ کمالا یخفی!
الجواب ...... الفاظ کے اعداد سے مرزا کو امام مہدی بنانا بازیچہ اطفال ہے ۔ آیت وحدیث وفقہ وتفسیر سے تو ناامید ہے۔ لہٰذا ابجد خوان ہوئے ہم اگر چاہیں تو بدکار اور کفار کے نام اور ان کے مواقع کے نام کے اعداد ٥٩ نکال دیں گے تو اس سے کیا ہوگا۔
قولہ ...... امام مہدی کے بارے میں سب علامتیں چار قسم کی ہیں۔
- ١...... ایک قسم وہ ہیں کہ بطور غلط فہمی کے لکھے گئے ہیں۔ یہ سب بالکل غلط ہیں۔
مثلاً عیسیٰ علیہ السلام کا آسمان سے اترنا اور دجال خیالی کا نکلنا اور امام مہدی کا ظاہر ہوکر جبراً کافروں کو مسلمان کرنا اور جو مسلمان نہ ہوئے اُس کو قتل کر ڈالنا۔ یہاں تک کہ سوائے مسلمان کے کوئی کافر بھی دنیا میں باقی نہ رہے گا اور اس کا بطلان بھی آیات بینات قرآن کریم سے ظاہر ہے۔ جیسا کہ سورۂ مائدہ میں ہے ۔ ”فاغرينا بينهم العداوة والبغضاء الى يوم القيمة“
٧٧
ظاہر ہے کہ قیامت کے روز تک عداوت اور بغض یہود و نصاریٰ کے درمیان میں رہنا ان دونوں قوموں کے قیامت تک رہنے کا موجب ہے اور ایسا ہی دوسری آیات بھی اس پر دال ہیں اور جبراً کافروں کو مسلمان کرنا اور جو مسلمان نہ ہوئے اس کو قتل کر ڈالنا بھی قولہ تعالیٰ ”لا اکراہ فی الدین وقوله تعالى حكاية عن عيسى عليه السلام ولم يجعلنى جباراً شقيا“ وغیرہ وغیرہ سے باطل ہے۔
الجواب ...... ارے بد نصیب تو یہ کہ کیا کہتا ہے۔ حدیث وقت کے اماموں کی بیان کی ہوئی علامتوں کو باطل غلط کہتے ہو۔ اللہ کا خوف کرو کیا ساری دنیا کے علماء غلط ہوئے اور خود رسول اللہ ﷺ اور صحابہ کرام بھی غلط ہو گئے۔ فقط آپ اور آپ کا نبی غلام احمد راہ راست پر ہے۔ مگر قلم اور کاغذ آپ کے ہاتھ میں ہے اور زبان آپ کے منہ میں ہے جو دل چاہتا ہے کہتے ہو اور لکھتے ہو۔ افسوس مرزا نے بھی (ازالۃ الاوہام ص ٦٢٩، خزائن ج ٣ ص ٤٣٩) میں لکھا ہے کہ ”چار سو نبی کو وحی شیطانی ہوئی اور وہ جھوٹے نکلے“ اب آپ خود ہی ایمان سے کہو کہ یہ قول کفر کا ہے یا نہیں۔ جب مسلمانوں کو غلبہ ہو تو کفار کو جبراً مسلمان کرنا یا جزیہ لینا ورنہ قتل کرنا درست بلکہ عبادت ہے۔ اس وقت تو لیا نہ جائے گا۔ کیونکہ مال بہت ہوگا۔ لہٰذا جبریہ اسلام ورنہ قتل ہوگا۔ دیکھو کتب احادیث و کتب سیر کو اور یہ جبر اور شقاوت نہیں بلکہ عدل و سعادت ہے۔ پس آیت ”ولم یجعلنی“ کو اس سے کوئی تعلق نہیں اور آپ کو ”لا اکراہ فی الدین“ یاد ہے۔ مگر ”واقتلوهم حيث ثقفتموهم“ کو نہیں دیکھتے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ قتل کرو کفار کو جس جگہ کہ تم پاؤ ان کو۔ کیا یہ آیت آپ جانتے ہیں یا نہیں ۔ ”فان كنت لا تدرى فتلك مصيبة وان كنت لا تدرى فالمصيبة اعظم“ اور آیت ”فاغرينا الى آخره “ میں ”الی یوم القیمۃ“ کنایہ ہے۔ طول زماں سے ”كما لا يخفى على طلبة العلم “ چنانچہ ”السموات والارض“ میں اہل تفسیر نے لکھا ہے۔ جیسے کہ حدیث ”بعثت انا والساعة كهاتين وضم السبابة والوسطى“ اشارہ ہے۔ بطرف قرب قیامت اور اس کی مجاورت کے اور قرینہ اس پر یہی احادیث صحیحہ متواترہ المعنی ہیں جو بار ہا گذر چکی ہیں اور ایک فریق کا غلبہ بوجہ کمال جب ہی ہوتا کہ دوسرا فریق مقابل اس کا بالکل تابع ہوجائے۔ خود آیہ کریمہ میں ہے ۔ ”جاعل الذین اتبعوك فوق الذين كفروا الى يوم القيامة“ اور باری تعالیٰ کے قول ”لیظهره علی الدین کلہ“ کو مطالعہ کرو۔
قولہ ...... اور مہدی کے بارہ میں جتنی پیش گوئیاں آنحضرت ﷺ کی احادیث
٧٨
مرویہ میں مذکور ہیں یہ سب بھی دال اس مقتضاء مہدی آئے ہیں اور ایک شخص ک روایت میں ہے کہ مہدی بنی فاطمہ سے ا کسی روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ مہدی کیونکہ موصوف ہو سکتا ہے۔ انتہی ص ٢١
الجواب ...... بے شک مہد اس امت میں لاکھوں کروڑوں ہیں جو جس کا نام ہے اور ہم جس کا انتظار کر ر میں آپ کو ممکن ثابت کر کے دیتا ہوں فاطمہ کے بسبب خویش و قرابت کے س ہی انشاء اللہ تعالیٰ کما فی تطبیق ۔
دوسرا جواب یہ ہے کہ مہد ہونا اس کا بنی عباس سے یا یہ حدیث کہ ”قال الطبراني مرفوعا قالوا خير الشهداء وهو عم ابيك ح حيث شاء وهو ابن عم ابي وهما ابناك ومنا المهدی العباسين اوخبر لا مهدی الا کیا نہیں دیکھتے ہو کہ رسول اللہ کو کئی د جاتا ہے اور وہ تو ناممکن نہیں۔ پس د اور کچھ نہ رہے گا اور حیران ہو جائے
مہدی معہود خلیفہ حق کا اندھا ہے۔”واما وجود الام الاخبار اخرجها احمد والروياني والطبراني وابن
قولہ ...... ص ٢١ می
مرویہ میں مذکور ہیں یہ سب بھی دال اس پر ہیں کہ مہدی اس امت میں متعدد ہیں۔ کیونکہ صفات متضادۂ مہدی آئے ہیں اور ایک شخص کا ان سب کے ساتھ موصوف ہونا ناممکن ہے۔ مثلاً کسی روایت میں ہے کہ مہدی بنی فاطمہ سے ہوگا۔ کسی روایت میں ہے کہ مہدی بنی العباس سے ہوگا۔ کسی روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ مہدی بنی امیہ سے ہے۔ پس تینوں صفتوں کے ساتھ ایک شخص کیونکر موصوف ہوسکتا ہے۔ انتہیٰ ص ٢١
الجواب ...... بے شک مہدی بمعنی ہدایت یافتہ شدہ یعنی صفت عامہ کے حساب سے اس امت میں لاکھوں کروڑوں ہیں جو کوئی دین واسلام پر چلے وہی مہدی ہے۔ مگر مہدی معہود جس کا نام ہے اور ہم جس کا انتظار کررہے ہیں وہ ایک ہی ہے اور آپ جو لفظ ناممکن بولتے ہیں میں آپ کو ممکن ثابت کرکے دیتا ہوں۔ کیا خرابی ہے کہ اگر تینوں قبیلے بنی امیہ وبنی العباس وبنی فاطمہ کے بسبب خویش وقرابت کے ملتے ملتے اس وقت ایک ہوجائیں اور فی الواقع ہوگا۔ یہی ایسا ہی انشا اللہ تعالیٰ کما فی التطبیق۔
دوسرا جواب یہ ہے کہ مہدی کا ہونا بنی فاطمہ سے اخبار متواترة المعنی سے ثابت ہے اور ہونا اس کا بنی عباس سے یا یہ حدیث کہ: ”لا مهدی الا عیسیٰ“ ضعیف ہے۔ غیر مسموع ہے۔ ”قال الطبراني مرفوعا قالوا لفاطمة نبينا خير الانبياء وهو ابوك وشهيدنا خير الشهداء وهو عم ابيك حمزه وعمنا من له جنا حان يطير بهما في الجنة حيث شاء وهو ابن عم ابيك جعفر ومنا سبطا هذه الامة الحسن والحسين وهما ابناك ومنا المهدى وفيه اخبار كثيرة متواترة المعنى واماكونه من العباسين اوخبر لايسمع نظم الفرائد“ کیا نہیں دیکھتے ہو کہ رسول اللہ تو مکی، مدنی، ہاشمی، قریشی، یثربی، ابطحی وغیرہ اوصاف سے متصف کیا جاتا ہے اور وہ تو ناممکن نہیں۔ پس یہ کیوں ناممکن ہوا۔ اب قادیانی کے ہاتھ میں سوائے تعجب کے اور کچھ نہ رہے گا اور حیران ہوجائے گا۔ ”فبھت الذی کفر“
مہدی معہود خلیفہ حق کا وجود باوجود تواتر الثبوت ہے۔ اس سے جو منکر ہوگا وہ پورا اندھا ہے۔ ”واماوجود الامام المهدى الخليفة الحق متفق عليه تواترت به الاخبار اخرجها احمد والخمسة والحاكم ونعيم بن حماد وابونعيم والرويانى والطبرانى وابن حبان عن جماعة من الصحابة بطرق كثيرة“
قولہ ...... ص ٢١ میں اور ایک روایت میں وارد ہے۔ اس طرح ”لن تهلك امة
٧٩
انا فى اولها وعيسى بن مريم فى آخرها والمهدى فى اوسطها‘‘ اس سے ظاہر ہے کہ اوسط زمانے میں ایک مہدی ہوگا۔ غیر مہدی آخر زمان کے۔ الجواب ...... یہ کہاں سے معلوم ہوا کہ وہ غیر مہدی آخر زمان کے ہوگا اور متعین نہ کیا کہ وہ کون سا مہدی تھا کہ جس کے بارے میں حدیث میں پیش گوئی وارد ہے۔ الحمد للہ کہ اس حدیث سے ہمارا سراسر فائدہ ہے۔ کیونکہ واقعی ایسا ہوگا کہ اوّل امام مہدی صاحب پیدا ہو کر بہت دنوں تک لوگوں کو ہدایت کرے گا۔ اس کے بعد عیسیٰ علیہ السلام نازل ہوں گے۔ آسمان سے تھوڑے دن باہم دونوں مل کر خلقِ خدا کو ہدایت کریں گے کہ امام مہدی صاحب فوت ہو جائیں گے اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام مستقل ملک کا بندوبست فرمائیں گے۔ پس مہدی کا وسط ہونا اس طور پر سے وسط حقیقی مراد نہیں۔ ورنہ دلیل سے ثابت کرو اور ایک ضروری عرض ہے کہ یہ روایت جب کہ مرزائی نے اپنی کتاب میں لکھی ہے تو ضرور صحیح ہوگی۔ کیونکہ وہ اپنے گمان میں سب کچھ صحیح لکھتا ہے۔ اس حدیث میں عیسیٰ بن مريم بعینہ کا آخر امت محمدیہ میں ہونا مذکور ہے اور کسی مثیل کا ذکر بھی نہیں۔ تا کہ مرزا تاویل کر کے اپنے آپ کو مثیل عیسیٰ کر کے اپنے اوپر سے حدیث کو لگالے۔ مشہور بات یہ ہے کہ جو کوئی امر حق کا دشمن اور اس سے منکر ہوتا ہے کبھی سہو ونسیان وخطاء سے بلا اختیار وہ بات حق اس کے منہ پر آہی جاتی ہے۔ عرصہ پچاس سال سے مرزا اور مرزائی عیسیٰ علیہ السلام بن مریم کا انکار کر رہے تھے اور یہی حدیث علمائے دین ان کے آگے پیش کرتے رہے۔ مگر اس میں بہت تاویلیں کرتے رہے۔ اب اس مردود حدیث کو خود مقبول کر لیا اور مدت العمر کی کمائی اپنے پیغمبر اور اس کے کلمہ گویوں کی برباد کر دی۔ کیونکہ امت محمدیہ کے آخر میں ہونا عیسیٰ بن مریم کا مان لیا۔ برہمن عبارات جمع کر کے رسالہ لکھنے سے تو سارے مرزائی لاحول پڑھتے ہوں گے اور اگر مافات کے تدارک کے لئے عیسیٰ ابن مریم سے مثیل اس کا لیتا ہے تو مہدی اور محمد ﷺ سے کیوں ان کا مثیل نہیں لیتا۔ نیز واضح ہو کہ اصولِ ثلاثہ یعنی قرآن وحدیث واجماع میں تعارض واختلاف حقیقی ہر گز ممکن نہیں۔ پس جب کہ احادیث صحیحہ متواترۃ المعنی اور اجماعِ امت مرحومہ اس عیسیٰ بن مریم کے رجوع پر صراحتہ ناطق ہیں تو آیۃ قرآنیہ کا معنی بھی وہی صحیح ہو گا جو کہ سنت اور اجماع کے مخالف ہو۔ جیسا کہ یہی اعتقاد کل متقدمین کا ہے۔ پس اس سے یہی ثابت ہوتا ہے کہ اخبار نزولِ عیسیٰ علیہ السلام اور خروجِ دجال وظہور مہدی کی ظاہر المعنی وصریح المراد ہیں۔ تاویل اس میں مردود ہے اور ضرور مرزائی اور ان کے نبی نے ان احادیث کو صحیح الثبوت ومسلم المراد جان کر تاویل کی ہے اور حضرت ﷺ کے معانی مراد کو پس پشت ڈالا۔ لہٰذا تاویل ان کی مردود ٨٠
ا ہے۔ ثبوت اس کا یہ ہے کہ امروہی کی عبارت من ورجوع اور اقوال مفسرین جن سے حیات و رجو مراد وہی معنی ہے۔ جس کو ہم چھوڑ کر تاویلی معنی کیونکہ یہ احادیث دلائل قطعیہ کے معارض ہیں۔ قولہ ...... پھر مرزا قادیانی کا سرص میں میدان بالکل خالی ہے۔ دوسرا کوئی شریک نہ الجواب ...... ملا جی کا مقصود یہ ہے صدی کے سر پر ظاہر ہوا ہے۔ حالانکہ یہ بات ب چودھویں صدی کے اندر کا ہے۔ ١٨٨٢ء میں ہو دیکھو اپنے استاد عبدالحق کا مجموعہ فتاویٰ۔ قولہ ...... پھر ان کے وقت میں ستارہ ذوالسنین اور ستارہ دم دار کا طلوع کرنا۔ الجواب ...... دروغ بے فروغ ۔ نے اس کی تردید کر دی ہے اور مرزا اثبات خسوف قمر کا واقع تین بار ہوگا۔ دو بار ہوا ہے۔ ابھی الف ثانی کو صدہا علامات امام مہدی کی باقی ہی جائے گا اور اس میں سے ایک سونے کا پہاڑ ظاہ
- ٢ ...... آسمان سے ندا ہوگی۔
آلِ محمدؐ میں ہے۔ امام مہدی کی شناخت کی عل ہوگا۔ یہ نشان بعد حضرت ﷺ کے کبھی نہ نکلا ہ اللہ تعالیٰ کے واسطے ہے۔
- ٢ ...... امام مہدی کے سر پر
ہوگا۔’’هذا المهدي خليفة الله فاتبعـ کرو۔
- ٣ ...... ایک خشک شاخ زمین
پتے اور میوہ آئے گا۔
ہے۔ ثبوت اس کا یہ ہے کہ امروہی کی عبارت منقولہ سے صاف ثابت ہوتا ہے کہ احادیث نزول و رجوع اور اقوال مفسرین جن سے حیات و رجوع عیسیٰ بن مریم پر استدلال کیا گیا ہے۔ قائل کی مراد وہی معنی ہے۔ جس کو ہم چھوڑ کر تاویلی معنی لیتے ہیں اور اس تاویل کرنے میں ہم مجبور ہیں۔ کیونکہ یہ احادیث دلائل قطعیہ کے معارض ہیں۔ دیکھو امروہی مرزائی کے شمس بازغہ (ص ٧٨) کو۔
قولہ ...... پھر مرزا قادیانی کا سرصدی میں ظاہر ہونا خصوصاً ایسے سرصدی میں جس میں میدان بالکل خالی ہے۔ دوسرا کوئی شریک سہیم نہیں پایا گیا۔
الجواب ...... ملا جی کا مقصود یہ ہے کہ مرزا قادیانی مجدد بنتا ہے۔ کیونکہ سترھویں صدی کے سر پر ظاہر ہوا ہے۔ حالانکہ یہ بات غلط ہے۔ بلکہ ظہور اور دعویٰ مہدی موعود ہونے کا چودھویں صدی کے اندر کا ہے۔ ١٨٨٢ء میں ہوا ہے اور مجدد کا نشان پیدائش سرصدی ہے نہ ظہور۔ دیکھو اپنے استاد عبدالحق کا مجموعہ فتاویٰ۔
قولہ ...... پھر ان کے وقت میں خسوف وکسوف رمضان شریف کے چاند ہونا پھر ستارہ ذوالسنین اور ستارہ دم دار کا طلوع کرنا۔
الجواب ...... دروغ بے فروغ ہے۔ اب تک یہ واقع نہیں ہوا بارہا علماء ہند و پنجاب نے اس کی تردید کر دی ہے اور مرزا اثبات خسوف وکسوف سے عاجز ہو کر خسف و مسخ ہو گیا اور ستارہ دنبالہ کا واقع تین بار ہوگا۔ دو بار ہوا ہے۔ ابھی تیسری بار نہیں ہوا۔ دیکھو مکتوبات امام ربانی مجدد الف ثانی کو صدہا علامات امام مہدی کی باقی ہیں۔ مثلاً قریب ظہور مہدی کے دریائے فرات کھل جائے گا اور اس میں سے ایک سونے کا پہاڑ ظاہر ہوگا۔
- ٢ ...... آسمان سے ندا ہوگی۔ ”الا ان الحق فی آل محمد“ اے لوگو! حق
آل محمد میں ہے۔ امام مہدی کی شناخت کی علامتیں ان کے پاس رسول اللہﷺ کا کرتہ وتیغ وعلم ہوگا۔ یہ نشان بعد حضرتﷺ کے کبھی نہ نکلا ہوگا اور اس نشان پر لکھا ہوگا ”البیعۃ لله“ بیعت اللہ تعالیٰ کے واسطے ہے۔
- ٢ ...... امام مہدی کے سر پر ایک بادل سایہ کرے گا۔ اس کے اندر سے آواز
ہوگی۔ ”ھذا المہدی خلیفۃ اللہ فاتبعوہ“ یہ مہدی خلیفہ ہے۔ اللہ تعالیٰ کا اس کی متابعت کرو۔
- ٣ ...... ایک خشک شاخ زمین میں لگائیں گے اور وہ ہری ہو جائے گی اور اس میں
پتے اور میوہ آئے گا۔
٨١
- ٤....... دریا ان کے لئے اس طرح پھٹ جائے گا جیسا کہ بنی اسرائیل کے لئے
پھٹ گیا تھا۔ تحقیق امام مہدی موعود کا آنا مستقل طور پر ایسا معروف اور ثابت ہے کہ بعض علماء متقدمین نے انجیل وتورات وزبور و کتب ہنود وغیرہ سے اس کو مفصل بیان کیا ہے۔ باوجودیکہ ان کتابوں کے اندر بہت ہی تبدل وتغیر واقع ہوچکا ہے اور کتب ہنود وغیرہ بے دینوں پر اگرچہ کوئی اعتبار نہیں۔ مگر تاہم اس امر میں وہ بھی متحد اور موافق ہیں کہ اپنے زمانہ آئندہ میں ایک شخص معین امام مہدی کے نام سے پیدا ہوگا۔ جس کی اوصاف ایسی ویسی ہوں گی۔ لہٰذا بقدر حاجت محض تائید اور تاکید کے لئے نقل کرتا ہوں۔
بشارت اوّل....... حضرت اشعیاء پیغمبر علیہ السلام نے اپنی کتاب میں ٢٦، ٢٧ میں فرمایا ہے۔ ”بیوم یعهویو شرہشیر ہژ بیرص یہودا غیر عازلا نو بشوع عاع حوموت واصل“ خلاصہ معنی اس پاسوک کا ساتھ مابعد کے پاسوقوں کے یہ ہے کہ اس روز یہودا کی زمین یعنی بیت المقدس میں اس کی صفت اور ستائش کی جائے گی اور کہا جائے گا کہ یہ وہ ہے کہ ہمارے شفاعت کرے گا اور قلعوں کے دروازے اس کے لئے کھول دیے جائیں گے۔ نیک کاروں کے داخل ہونے کے لئے۔
”بخو متخنا نوبلاتی یقومیم ها تقیعوا ورننی شوخفا عفارکی تل اوروں طلکا وارص رفاہیم تفیل“ یعنی زندہ ہوں گے مردے اور ان کی روحیں کھڑی ہوں گی تو وہ خاک جو ان کے سبب سے بیدار ہوں گے اور اس کی اوس سبزوں کی اوس ہوگی اور زمین مردوں کو باہر ڈال دے گی۔ یسعیاہ ٢٧ میں اور لویاتان کا معنی جرائیم نصرانی نے عبرانی اسماء کی فہرست میں اجماع لکھا ہے اور حلیف یعنی باہم عہد و پیمان کرنے والے لوگ۔ یعنی اس وقت جس قدر لوگ دین کے مخالف ان کی اگرچہ جماعتیں ہوں گی۔ ان سے شمشیر کے ساتھ بدلہ لے گا۔ یسعیاہ ٣٢ میں ”ہن لصدق یملخ ملخ اولصاریم ولمشپاط یاسورو خلاصہ معنی اس کا یہ ہے کہ بالکل ہر کام میں شریعت محمدیہ کے موافق بادشاہی کرے گا۔ سب کی آنکھیں حق بین اور کان حق سننے والے اور دل لوگوں کے عالم اور گنگ لوگوں کی زبانیں فصیح ہو جائیں گے۔ جاہل کو کوئی پیشوا اور منافق کو بزرگ نہ جانے گا۔ ظالموں سے بدلہ لے گا۔ ایمان اس کا کمر بند اور عدالت اس کی میان بند ہوگی۔ اس کے وقت میں گرگ اور بکری کا بچہ ایک جگہ میں رہیں گے اور پلنگ اور بزغالہ یعنی بکری کا بچہ ایک مقام میں بیٹھیں گے۔ گوسالہ اور شیر بچہ اور پروار ایک جگہ
٨٤
ہوں گے۔ گائے اور ریچھ اور شیر ا سوراخ میں ہاتھ ڈالے گا اور اس کو ن دلبند محمد مہدی ہوگا۔ ایسا ہی یسعیاہ ١١
بشارت دوم....... بعد ازاں حضرت ﷺ کا جانشین ہوگا او بعد دنیا برطرف ہو جائے گی۔ زمین عاصی گرفتار ہو کر اُس وقت قتل کیا ج سندھ اور فرنج اور قبائل اور فض اللہ تعالیٰ کی طرف پکارے گا اور اِ پس بر عرش و آسمان کہ عبارت ہے جو کہ موکل مسافروں کا ہے اور فرع ماہ کے اوّل روز کا ملک اور سب وا زندہ کرے گا بہت سے نیک و بد لو زندہ ہوں گے۔ چنانچہ لقمان بوذرؔ، ارسطالیس اور آصف بن برخیا و سام بن نوح و فریدوں کہ نوح علیہ ا علیہ السلام اور میخا اور حزقیل اور م اسرائیلیوں اور زندہ ہوگا۔ عابر نبی کرے گا۔ فرعون کو جو کہ نمرود وزیر تھا اور اس کو زندہ دار پر کھینچے اس کے ظلموں کا دفتر پاک کرے گا اور کیا تھا اور زندہ کرے گا سامری کو اور السلام کے شہر کے قاضی کو اور اس علیہ السلام کا تھا اور قارون کو جو پرستی کو نکالا تھا اور زندہ کرے گا
ہوں گے۔ گوسالہ اور ریچھ اور شیر اور مادہ گاؤ ایک جگہ کھائیں گے اور طفل شیر خوارہ سانپ کی سوراخ میں ہاتھ ڈالے گا اور اس کو نہ کاٹے گا اور یہی رسول اللہ آخر زمان محمد ﷺ کی دختر کا فرزند دلبند محمد مہدی ہوگا۔ ایسا ہی سیمان ٢٦، ٣٩ میں بھی مذکور ہے۔
بشارت دوم ...... از کتاب جاماسپ حضرت پیغمبر آخر زمان کی دختر کا فرزند بحکم یزداں حضرت ﷺ کا جانشین ہوگا اور اس کی حکومت قیامت تک جائے گی اور اس کی بادشاہی کے بعد دنیا برطرف ہو جائے گی۔ زمین و آسمان اس کے مددگار ہوں گے اور بڑا دیو اللہ تعالیٰ کا بندہ عاصی گرفتار ہو کر اُس وقت قتل کیا جائے گا۔ (یعنی دجال کو اس زمانے میں قتل کیا جائے گا) اور سمندع اور فرج اور عبائل اور فغفد جو کہ رئیس دجال کے ہوں گے مجوس ہوں گے۔ لوگوں کو اللہ تعالیٰ کی طرف پکارے گا اور اسی کا مذہب رواج پائے گا اور اس کی خدمت میں آئیں گے۔ بسر و سروش و آسمان کہ عبارت ہے۔ میکائیل و جبرائیل و عزرائیل سے، اور نازل ہوگا بہرام فرشتہ جو کہ موکل مسافروں کا ہے اور فرخ زاد موکل زمین کا اور بہمن فرشتہ بیلوں اور بھیڑوں کا اور آذر ہر ماہ کے اوّل روز کا ملک اور سب واذر کشب موکّل آتش کا اور رواج بخش کہ روح القدس ہے اور زندہ کرے گا بہت سے نیک و بد لوگ اور بعض پیغمبر بھی اللہ تعالیٰ کی حکمت سے اس کے وقت میں زندہ ہوں گے۔ چنانچہ مکان بدر خواجہ خضر اور حضرت مہر اس پدر الیاس علیہم السلام اور نقوماس پدر ارسطالیس اور آصف بن برخیا وزیر وصی کہ سلیمان علیہ السلام ہے اور ارسطوطی ماقدونی اور سام بن نوح افریدوں کہ نوح علیہ السلام ہے اور سموں عابد اور سولان اور شادل اور حضرت شمول علیہ السلام اور میخا اور بخنقل اور سینہ اور حضرت شیعیا علیہ السلام اور حیواول و حوقون و زکریا پیغمبران اسرائیلیاں اور زندہ ہوگا۔ غابر بن سالح اور حاضر ہوگا اس کے پاس سمرغ اور بدکار لوگوں سے زندہ کرے گا۔ سویروں کو جو کہ نمرود ہے اور ریح و قرح جو کہ فرعون اور قارون ہیں اور ہامان فرعون کے وزیر کو اور اس کو زندہ دار پر کھینچ دے گا اور دماوند کے چاہ سے باہر نکالے گا۔ ضحاک علوایز او کو اور اس کو ظلموں کا دفتری کرے گا اور جلا دے گا بخت نصر کو کہ جس نے مسجد یعنی بیت المقدس کو خراب کیا تھا اور زندہ کرے گا شامو کو اور پہلوپ کو اور قتل کر دے گا اور زندہ کرے گا سدوم یعنی لوط علیہ السلام کے شہر کے قاضی کو اور اسقف ترساں کے قاضی کو اور فردیاغ اہرمن کو جو کہ بانی عمل قوم لوط علیہ السلام کا تھا اور زرون کو جو کہ اکابر فرس سے ہے اور فیذرنگ اور صائب کو کہ جس نے ستارہ پرستی کو نکالا تھا اور زندہ کرے گا کیوت کو اور سب کو جلا کر سہ بارہ زندہ کرے گا اور اپنی قوم کے فتنہ گر
٨٣
بادشاہوں کو قتل کرے گا اور زندہ کرے گا رستم بن زال اور بختنصر کو اور نام اس کا بادشاہ بہرام مہدی محمد موعود اولاد دختر شاہ مخلوقات سے ہوگا۔ جس کا نام سین ہے (اور سین رسول ﷺ کا نام ہے) بلغت پہلوی چنانچہ قرآن مجید میں یٰسین مذکور ہے اور ظہور اس کا آخر دنیا میں ہوگا۔ (مخالف ہے کتب اسلامیہ کے کیونکہ ان کی عمر اس قدر نہ ہوگی ہفت کرگس کی عمر بہت بڑی ہوتی ہے) عمر اس کی مثل سات کرگس کے ہوگی اور جب مہدی خروج کرے گا رسول اللہ ﷺ کے زمانے سے لے کر اس وقت تک (امام حسنؓ کے نزدیک قرن دس سال ہے اور قتادہ نے ستر سال نخفی نے ٤١ سال زرارہ بن ابی اوفیٰ نے ١٢٠ سال عبدالملک بن عمیر نے ایک سو سال کہے ہیں۔ شرح مسلم) ٣٠ قرن گذرے ہوں گے۔ تازی لوگ فارسیوں پر غلبہ کریں گے اور ان کے شہر لے لیں گے اور زورو یعنی دجال کو قتل کرے گا اور وہ دجال اندھا ہوگا۔ گدھے پر سوار ہوگا۔ خدائی کا دعویٰ کرے گا۔ اس کے قتل میں امام مہدی صاحب ہوگا۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا قسطنطنیہ اور ہندوستان کو زیر قبضہ کر کے اسلام کے نشان اس میں قائم کر دے گا اور سرخ عصا موسوی اور انگشتری سلیمان علیہ السلام کی اس کے پاس ہوگی اور یہ بہرام یعنی امام مہدی موعود علیہ السلام اولاد مکرم درمان سے یعنی ابراہیم علیہ السلام سے ہوگا اور وہ اس وقت ہوگا۔ انروکشب یعنی بڑا خدا پرست ہوگا۔ داتا بک بزرگ و کیادنہ و شیر و یعنی شکوہ مند ہوگا اور عرب داد و بار و زنجہ وافریقہ و مقدونیہ دارالملک فیلتوس سے لے کر بحر اقیانوس تک کہ آدُنیا ہے خیمہ گاڑے گا اور سب جہان میں ایک دین اسلام کر دے گا کیش گبری اور وثنی نہ رہے گا اور مہدی مغرب سے واپس آکر ظلمات میں داخل ہو جائے گا اور جزیرہ نسناس کو خراب کرے گا اور صاحب بوق یعنی اسرافیل اس کے پاس آئے گا تمام ہوئی کلام جاماسب کی۔
بشارت سوم ....... سیف الامتہ کا مصنف لکھتا ہے کہ میں نے قریباً ٣٠ سال قبل اس سے جاماسب کو دیکھا کہ اس میں بطریق استخراج نجوم نہ بقاعدہ تخمین ہر ستارہ کے لئے دست و پا ثابت کر کے آئندہ کا حکم نکالا۔ اب تفصیل تو یاد نہیں مگر اس قدر یاد ہے کہ موسیٰ علیہ السلام کا سرخ عصا نشان ہوا ۔ دار امام آخر زمان مہدی بہرام کے پاس ہوگا جو کہ بنی ہاشم کی اولاد سے ہوگا اور رسول اللہ کی مثل اولاد نرینہ اس کی نہ ہوگی اور وہ دنیا کو مثل باغ کے کر دے گا۔ (انتہاء)
بشارت نمبر ٤ ....... برہمنوں کی کتابوں میں پاتنجل جو کہ ہند کے بڑے کفار سے ہوا اپنی کتاب میں لکھتا ہے عمر دنیا کی چہار طور ہے۔ ہر طور چہار کو اور ہر دور چالیس سال ہے جب ٨٤
کل دورے تمام ہوں گے ملک کا تازہ بکثرت ظاہر ہوں گی اور باپوں کا دین قبو بشارت پنجم ...... شا کہتے ہیں خطاؤتن کے ملک میں لوگوں پـ اس کی شہر کیلواس ہے۔ وہ کہتا ہے کہ دولت کشن بزرگوار ہوگا اس کا حکم پہاڑوں ۔ ہوگا اور فرشتے اس کے آگے کام کریں ۔ قطب شمالی اور ماوراء اقلیم ہفتم و باغ ارم کل بشارت ششم ....... کتاب : ہوا ہے کہ دنیا ایسے بادشاہ پر تمام ہوگی جو سے ہوگا اور جو کچھ مال و دنیا دریاؤں ا نکالے گا۔ نام اسکا بہرام محمد مہدی ہوگا۔ بشارت ہفتم ....... ماہی شود ہے۔ اپنی کتاب وید میں جس کو ہندو آسـ زمانے میں ایک بادشاہ ہوگا کہ امام خلائق مؤمن و کافر اس کو شناخت کریں گے۔ ا شاہ بہرام مہدی آخر زمان ہوگا۔ بشارت ہشتم ....... کرشن کـ انجام اس شخص پر ہوگی جو کہ اللہ تعالیٰ کو در کا رستہ بتائے گا اور لوگوں کو زندہ کرے گا تبہ کاروں کو یہی زندہ کرے گا۔ جمہور جلادے گا اور دنیا کو نیا کر دے گا۔ وصدا صدلک صدلک صدلک صدلک صدلک ہوگی۔ انتہی ہر لفظ دوسرے کی طرف مضاف بشارت نہم ...... وہ پاسوق
کل دورے تمام ہوں گے ملک کا تازہ پیدا ہوگا۔ حضرت محمدﷺ کی اولاد نیز اولاد علیؓ کی کرامات بکثرت ظاہر ہوں گی اور پاپوں کا دین قبول کرنے والا عزت دار ہوگا۔
بشارت پنجم...... شاکمونی جو کہ باعتقاد کفار ہندوستان پیغمبر کتاب ہوا ہے اور کہتے ہیں خطا و تن کے ملک میں لوگوں پر مبعوث ہوا تھا اور بہت لوگ اس کے تابع ہوئے اور مولد اس کی شہر کیلو اس ہے۔ وہ کہتا ہے کہ دولت دنیا کی سیدالخلایق محمدﷺ کے فرزند پر تمام ہوگی جو کہ کشن بزرگوار ہوگا اس کا حکم پہاڑوں کے سرے پر جاری ہوگا۔ مشرق ومغرب میں وہ ابر پر سوار ہوگا اور فرشتے اس کے آگے کام کریں گے اور حکومت اسکی مبدا آن خط استواء سے عرض تعین خط قطب شمالی اور ماوراء اقلیم ہشتم و باغ ارم کی بسیط زمین پر ہوگی اور دین مسلمانی کا دین ہو جائے گا۔
بشارت ششم...... کتاب ناسک میں ہے جو کہ کفار ہندوستان میں صاحب شریعت کا ہوا ہے کہ دنیا ایسے بادشاہ پر تمام ہوگی جو کہ بنی آدم اور ملائکہ کا پیشوا ہوگا اور نبی آخر زمان کی اولاد سے ہوگا اور جو کچھ مال و دنیا دریاؤں اور پہاڑوں اور زمینوں کے اندر ہوگا۔ پوشیدہ وہ سب کو نکالے گا۔ نام اسکا بہرام محمد مہدی ہوگا۔
بشارت ہفتم...... ماہی شود نے جو کہ ہندوستان کے کفار میں صاحب شریعت کا ہوا ہے۔ اپنی کتاب وید میں جس کو ہندو آسمانی کتاب کہتے ہیں۔ دنیا کی خرابی میں بیان کیا ہے کہ آخر زمانے میں ایک بادشاہ ہوگا کہ امام خلائق ہوگا۔ سب جہان کو دین مسلمانی میں لاوے گا اور سب مؤمن و کافر اس کو شناخت کریں گے۔ وہ جو کچھ اللہ تعالیٰ سے طلب کرے گا۔ اس کو دے گا اور وہ شاہ بہرام مہدی آخر زمان ہوگا۔
بشارت ہشتم...... کرشن کی کتاب جس کا نام حوک ہے اس میں لکھا ہے کہ دنیا کی انجام اس شخص پر ہوگی جو کہ اللہ تعالیٰ کو دوست رکھے گا۔ اس کا خاص بندہ ہوگا اور لوگوں کو اللہ تعالیٰ کا رستہ بتائے گا اور لوگوں کو زندہ کرے گا۔ بحکم جیائن یعنی خداوند تعالیٰ نام اس کا محمد مہدی ہوگا اور تبہ کاروں کو یہی زندہ کرے گا۔ جنہوں نے دین اسلام میں نئی باتیں ناجائز نکالی تھیں۔ ان کو جلا دے گا اور دنیا کو نیا کر دے گا۔ وصدلک صدلک صدلک صدلک صدلک صدلک صدلک صدلک صدلک صدلک صدلک صدلک صدلک صدلک صدلک صدلک قہر دولت اس کی ہوگی۔ انتہیٰ ہر لفظ دوسرے کی طرف مضاف ہے۔
بشارت نہم...... وہ پاسوق ہے جو کہ حضرت یحییٰ اور حضرت یعقوب علیہما السلام کی
٨٥
پارس میں تورات شریف سے منقول ہے اور وہ حکایت ہی اس بات کی جس کو حضرت یعقوب نے بروقت رحلت کے اپنے قبیلہ یہود سے فرمایا تھا۔ وہ عبارت یہ ہے۔ ’’لویا صور شئت می یہودا اوم محقق مبین رقلا وعد کی یابو شیو ولو یقهت عمیم ‘‘ یعنی بادشاہی کا تاج قبیلہ یہود سے اور لباس امامت ان کے مونڈھوں سے نہ گرے گا۔ کہیں نہ کہیں فی الجملہ ان کی شوکت باقی رہے گی۔ مگر جب کہ وہ شخص آخر زمان کا آئے گا۔ جس پر دانائی تمام ہو جائے گی۔ اس سے امام مہدی کا بیان پایا جاتا ہے۔ کمالا یخفی!
بشارت دہم ...... وہ پاسوق ہیں جو کہ حضرت شعیاء کی کتاب کے ٤٢ سیمان میں موجود ہیں۔ ’’ھاری شونوت ہینہ بایو وحد اشوت انی مگید بیٹرم بتسمخنا اشمیع اوخم یہ اشعار پڑھو توشیرو لدونائی شیر خاداش تہیلاتو میقصهیارص یوردی ہیام اوملواو اییم ویوشویہم یسئیو مدبر وعاراو حصریم تشب قدار یارونو یوشوی سلع مروش ہاریم یصوحو یاسیمو لدونائی کابود وتہیلاتو باییم یگیدو یہواہ کگبور یصی کایش ملحاموت یعیر قنآہ یاریاع اف یصریح عل اویواو یتگبر ‘‘ یعنی یہ طائفہ مابعد والوں کا آتا ہے اور ان سے آگے میں تم کو خبر دیتا ہوں کہ وہ لوگ اللہ تعالیٰ کے مداح ووصاف ہوں گے اور ان کے زمانے میں زمین کی کل اطراف میں دریاؤں جزیروں بیابانوں شہروں، مکانوں میں دین اسلام پھیل جائے گا۔ پس شرمندہ ہوگی وہ جماعت جو کہ بت پرستی کرتی تھی اور بتوں کو کہتے تھے کہ تم ہمارے خدا ہو۔ پس اس وقت کل عزت اللہ ہی کے واسطے ہوگی اور ہر جگہ میں تسبیح الٰہی ظاہر ہوگی۔
اقول ...... امام مہدی کا نام اگرچہ ان عبارتوں میں ظاہر نہیں۔ مگر وہی مراد ہے کہ ایمان تمام زمین شورہ وشیریں پر اسی وقت پر منحصر ہے۔ باتفاق احادیث صحیحہ۔
بشارت یازدہم ...... حضرت یوئل نبی کی کتاب میں مذکور ہے جو کہ انبیاء بنی اسرائیل میں سے ہے۔ اس عبارت کا اوّل یہ ہے۔ ’’کی با یوم یہواہ کی قاروب یوم حوشخ وافیلہ یوم عنان وعرافل کشحر پاروس عل ہہاریم عم راب وعاصوم کاموہو لا نہیہ من ہعولام واحرایو لا یوسف عد شنی دور ودور ‘‘ خلاصہ معنیٰ ان فقرات کا یہ ہے کہ صدا بلند ہوگی کوہِ مقدس میں جب کہ ایک بندہ نیک آئے گا اور تیرگی و تاریکی کل دنیا سے دور ہوگی۔ اس کے آگے آگ جلانے والی ہوگی اور پیچھے اس
٨٦
کے شعلہ فروزاں ہوگا۔ کل جائیں گے اور عدل اپنی او فرنگی لوگ حزقیال اور زکریا نصاریٰ اپنے اولوالعزم پیغمبـ ہے اور ملاجی کی کتاب کے تـ حضرت عیسیٰ علیہ السلام ابن صحیفہ لقمان ابن عباس میں امـ ویہود میں بھی یہ مذکور ہے ا جس کو میرے بیان میں شک قولہ ...... چنا کہ یہ دعویٰ مہدویت کردہ بود الجواب ...... و ہے وہ امام مہدی تو گزر چکا کہ مصداق حدیث جو امام مـ موعود اور معہود نہ ہوگا۔ معہود بھی اس حج الکرامہ سے تحریر تک آسمان سے نہیں اترے مریم نازل ہوں گے۔ دجال موت پائیں گے۔ مسلمان ا منعقد ہوگا خلیفہ بنائیں گے ا رہنے والا بیٹھے گا اور وہ قبیلہ ا نام ہوں گے۔ دونوں قبیلہ ہوں گے اور ہر ایک کارنامہ دوسرے کی یا دونوں معاً ہلاک مر جائے گا تو اس کی وفات
کے شعلہ فروزاں ہوگا۔ کل بے دینوں کا سب صفایا کر دے گا اور کل دین دین اسلام کے تابع ہو جائیں گے اور عدل اپنی انتہاء کو پہنچے گا اور حضرت حزقیل کی کتاب میں ایسا ہی مذکور ہے کہ جس کو فرنگی لوگ ذکیال اور انزکیا کہتے ہیں اور سکلیاس نبی کی کتاب میں بھی ایسا ہی وارد ہے۔ جس کو نصاریٰ اپنے اولوالعزم پیغمبروں سے جانتے ہیں اور ازدراس نبی کی کتاب میں محمد مہدی کی تصریح ہے اور ملاجی کی کتاب کے تیسویں سیماں میں ایسا ہی ہے اور آٹھویں سیماں عاموس کی کتاب میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام ابن مریم اور حضرت آخر زمان امام مہدی دونوں کے آنے کا ذکر ہے۔ صحیفہ لقمان بن عباس میں امام مہدی کا ذکر واضح ہے۔ سوائے ان کتابوں کے اور کتب ہنود نصاریٰ و یہود میں بھی یہ مذکور ہے اور یہ کتب مذکورہ ہندوستان کے ملک میں تلاش کرنے سے ملتی ہیں۔ جس کو میرے بیان میں شک ہو وہ دیکھ سکتا ہے۔
قولہ ...... چنانچہ حج الکرامہ میں ہے۔ قومے از سلف در محمد بن عبداللہ محض ملقب بہ نفس زکیہ دعویٰ مہدویت کردہ بود۔
الجواب ...... ملاجی کا مقصود اس سے یہ ہے کہ ابوداؤد کی حدیث جس پر صادق آتی ہے وہ امام مہدی تو گذر چکا ہے اور مہدی آخر زمان سے اس کو کوئی تعلق نہیں۔ میں کہتا ہوں جب کہ مصداق حدیث جو امام مہدی ہے وہ گذر گیا تو اب آخر زمان کا مہدی کون ہوگا۔ جو ہوگا وہ ہرگز موعود اور معہود نہ ہوگا۔ معہود وہی ہوگا جس پر علامات حدیث شریف صادق آتے ہیں۔ اب میں بھی اس حج الکرامہ سے تحریر کرتا ہوں کہ امام مہدی آخر زمان باقی ہے۔ کیونکہ عیسیٰ علیہ السلام ابھی تک آسمان سے نہیں اترے۔ حج الکرامہ کے ص ٤٢٤ پر یہ حدیث منقول ہے کہ حضرت عیسیٰ بن مریم نازل ہوں گے۔ دجال کو قتل کریں گے اور کتاب اللہ اور میری سنت پر عمل کریں گے۔ پھر موت پائیں گے۔ مسلمان لوگ حضرت عیسیٰ ابن مریم کی جگہ ایک شخص کو قبیلہ بنی تمیم سے جس کا نام مقعد ہوگا خلیفہ بنائیں گے اور بعض کتابوں میں ہے کہ ان کی جگہ پر ایک شخص جہجاہ نام ملک یمن کا رہنے والا بیٹھے گا اور وہ قبیلہ قحطان سے ہوگا۔ سو اس میں تطبیق یہ ہے کہ یہ دونوں ایک ہی شخص کے نام ہوں گے۔ دونوں قبیلہ سے اس کو نسبت ہوگی یا دونوں جدا جدا ہیں اور یکے بعد دیگرے ہوں گے اور ہر ایک کا زمانہ چونکہ تھوڑا گذرے گا لہٰذا کسی ملک میں ایک کی شہرت ہوگی۔ کسی میں دوسرے کی یا دونوں معا ہوں گے۔ مگر ایک تابع ہوگا۔ دوسرا متبوع ہوگا۔ التطبیق۔ جب وہ بھی مر جائے گا تو اس کی وفات کے بعد بیس سال پورے نہ ہوئے ہوں گے کہ لوگوں کے سینہ سے
٨٧
قرآن شریف اٹھایا جائے گا۔ رواہ ابو الشیخ عن ابی ہریرہ مرفوعا۔ اس سے بھی معلوم ہوا کہ مرزا ہرگز مسیح موعود نہیں۔
قولہ ....... مخفی نہ رہے کہ حدیث مذکور (یواطی اسمہ اسمی واسم ابیہ اسم ابی برابر ہوگا۔ نام اس کا میرے نام پر اور اس کے باپ کا نام میرے باپ کے نام پر ) کے ایک معنی غامض اور بھی ہیں۔ جو عوام کالانعام تو کیا ہیں۔ خواص کالعوام کے فہم سے بھی بہت دور ہیں اور وہ یہ ہیں کہ حدیث مذکور میں اشارہ ہے۔ طرف اس بات کے کہ امام مہدی آخر زمان بروز ہوں گے۔ حضرت خاتم النبیین ﷺ کے اور کوئی جداگانہ انسان نہیں ہوں گے۔ گویا کہ حضرت ﷺ کی بعثت ثانی ہوگی۔ جیسا کہ آیت ”و آخرین منہم لما یلحقوابہم“ سے پایا جاتا ہے۔ اس تقدیر میں حدیث مذکور امام مہدی آخر زمان ہی کی صفت ہوتی ہے اور اس صورت میں بعض کتب ورسائل میں جو لکھا ہے کہ مہدی کی ماں کا نام آمنہ ہوگا۔ یہ بھی صادق آتا ہے۔ اگرچہ روایات صحاح میں اس کا ذکر نہیں ہے۔ خلاصہ کلام یہ ہے کہ جیسا باعتبار مثیل مسیح اسرائیلی ہونے کے مہدی آخر زمان کا نام عیسیٰ بن مریم ہوا۔ اسی طرح بروز خاتم النبیین ﷺ ہونے کی وجہ سے ان کا نام محمد بن عبداللہ ہوا فافہم وتدبر فانہ دقیق جداً ص ٢٤۔
اقول ....... اس عبارت کا خلاصہ عام فہم مطلب یہ ہوا کہ مرزا غلام احمد میں دو قسم کی صفت ہے ایک ایسی کہ اس کے سبب سے حضرت محمد صاحب کا بروز یعنی ظہور دوسری بار ہوا۔ گویا امام مہدی کچھ نہیں۔ خود حضرت محمد صاحب ہی دوبارہ ظاہر ہوئے۔ دوسری صفت وہ کہ اس کے سبب سے عیسیٰ ابن مریم کا مثیل ہوا تو مرزا قادیانی کے اندر حضرت محمد صاحب اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام دونوں کا ظہور ہوا اور مرزا حضرت محمد صاحب کا ہم مثل بھی ہے اور عیسیٰ ابن مریم کا بھی۔ پس مرزا اور کوئی شی وانسان جداگانہ نہیں ہے۔ انہیں دونوں پیغمبروں کے اوصاف وارواح کا مجموعہ ہے۔ یعنی دونوں کی روحیں اس ایک جسم مرزا میں ظاہر ہوئی ہیں اور یہ دونوں پیغمبر دنیا میں دوبارہ مرزا غلام احمد کے قالب میں ظاہر ہوئے۔
ثم اقول ....... اوّل یہ کہ سب باتیں تمہارے پیر کی بناوٹیں ہیں اور تم نے وہی نقل کر دی۔ اس سے ہمیشہ علماء کا مطالبہ رہا کہ ان کو کسی آیت یا صحیح حدیث سے ثابت کرو۔ مگر وہ تو اپنے دعویٰ کو ثابت نہ کر سکے اور افسوس سے ہاتھ ملتے ملتے قبر میں چلے گئے۔ اب آپ اور کل مرزائی عام و خواص ثابت کردیں۔ بلکہ قیامت تک ثابت نہ ہوگا۔ ہاں اگر یہ شریعت الٹی ہوجائے
٨٨
تو شاید اس وقت ثابت ہو جائے کہ حضرت محمد صاحب اور عیسیٰ بن مریم کا دنیا میں ظہور دوبارہ بحکم مرزا غلام احمد ہوا ہے۔ دوسرا یہ کہ اگر یہی درست ہے تو مثیل عیسیٰ بن مریم کا دعویٰ کرنا کیا فائدہ مثیل حضرت محمد صاحب کا دعویٰ کیا ہوتا جو کہ خاتم النبیین ہیں۔ حالانکہ یہ کہیں بھی مرزا نے نہ کہا کہ میں مثیل محمد صاحب ہوں مگر بعد اعتراض وارد ہونے کے کہیں بھی مرزا نے نہ کہا کہ میں مثیل محمدؐ صاحب ہوں۔ مگر بعد اعتراض وارد ہونے کے کہیں کہیں لکھ مارا۔ تیسرا یہ کہ تم تو مردوں کا دوبارہ دنیا میں آنا ہرگز مانتے ہی نہ تھے۔ اصل صورت میں ہو یا کہ بروزی صورت میں ہو بروز کے ماننے پر تمہارا دعویٰ سہ پایہ جاتا رہا۔ چوتھا یہ کہ عذر گناہ بدتر از گناہ ہو گیا۔ یہ تو ہندوؤں کا مذہب ہو گیا کہ وہ حشر اجساد اور قیامت کے منکر ہو گئے اور یہ کہتے ہیں کہ ایک میت کی روح دوسرے بدن میں ہو کر ظاہر ہوتی ہے۔ حالانکہ یہ مذہب باتفاق کل اہل اسلام باطل ہے۔ تفصیل معنی بروز کے یہ ہے کہ اہل کمون و بروز کی اصطلاح میں بروز اس کو کہتے ہیں کہ ایک شخص کامل کی روح دوسرے شخص مبروز فیہ میں بصفات خود ظہور کرے۔ چنانچہ امام ربانی مجدد الف ثانیؒ دوسری جلد مکتوبات کے ص ٥٨ میں فرماتے ہیں کہ ”در بروز تعلق نفس بہ بدن از برائے حصول حیات نیست کہ ایں مستلزم تناسخ است بلکہ مقصود ازیں تعلق حصول کمالات است مر آن بدن را۔ چنانچہ جنی بفرد انسانی تعلق پیدا کند و در شخص مبروز نماید و مشائخ مستقیم الاحوال بعبارت کمون و بروز ہم لب نمی کشایند۔ ونزد ایں فقیر قول بنقل روح از قول بتناسخ ہم ساقط ترست زیرا کہ بعد حصول کمال نقل ببدن ثانی برائے چہ بود۔ وایضاً در نقل روح اماتت بدن اول است و احیاء بدن ثانی۔ افسوس ایں قسم بطلان خود را بمسند شیخی گرفتہ اند و مقتدائی اہل اسلام گشتہ اند ضلوا فاضلوا“ اور مرزا نے اپنی کتاب (ایام الصلح ص ١٢٨، خزائن ج ١٤ ص ٣٨٢) پر کتاب اقتباس الانوار کا حوالہ دے کر ذکر بروز کیا۔ مگر یہ بھی لوگوں کو دھوکہ دیا اور کہا کہ: ”لا مهدی الا عیسی ابن مریم“ یعنی مہدی کوئی نبی نہیں مگر وہی عیسیٰ ابن مریم، یعنی روح عیسوی مہدی آخر الزمان میں جو کہ میں غلام احمد ہوں۔ متصرف ہوئی ہے اور مصنف اقتباس الانوار کو جو صابری خاندان کے ہیں اکابر صوفیہ سے لکھتے ہیں۔ اسی (ایام الصلح ص ١٢٨، خزائن ج ١٤ ص ٣٨٢) میں ہے کہ ...... اکابر صوفیہ سے تھے۔ مگر مرزا اس کو نہیں دیکھتا کہ بعد نقل کرنے قول بروز کے خود ہی وہ شیخ محمد اکرم صابری صاحب اقتباس الانوار میں فرماتے ہیں۔ ”وایں مقدمہ بغایت ضعیف است“ اور اس (اقتباس ص ٤٤) میں فرماتے ہیں ”و ایں رواست“ موقوف کسی را کہ میگوید مہدی ہمیں عیسیٰ علیہ السلام است و تمسک کند بایں حدیث کہ لا مہدی الاعیسیٰ ٨٩
ابن مریم۔ وجواب ایں حدیث حمل است برحذف لامہدی بعد المہدی المشہور الذی ہو من اولاد محمد وعلی علیہ السلام الا عیسی علیہ السلام ۔‘‘ یعنی مہدی مشہور کے بعد جو کہ رسول اللہ کی اولاد سے ہوگا۔ دوسرا کوئی کامل مہدی نہیں۔ مگر حضرت عیسیٰ علیہ السلام اس اقتباس الانوار کی عبارت سے مرزا کا دعویٰ بروز اور تمسک بحدیث لامہدی الاعیسیٰ بن مریم سے باطل ہوگیا۔ جیسا کہ اس کا دعویٰ بروز کا مکتوبات کی عبارت سے بھی باطل ہوا اور بروز کے دونوں معنی میں سے مرزا دل سے معتقد ہے جو کہ مستلزم تناسخ کو ہے اور وہ باتفاق باطل ہے اور اس کے اعتقاد کا ثبوت اس عبارت سے ہے جو کہ مرزا نے اپنی کتاب ست بچن کے ص٨٤ خزائن ج ١٠ ص٢٠٨ میں یہ شعر لکھا ہے۔
بارہا چوں سبزہا روئیدہ ام
پس معلوم ہوا کہ مرزا کا اعتقاد تناسخ کا ہے اور یہ کفار کا اعتقاد ہے۔ مگر کوئی قباحت نہیں۔ کیونکہ مرزا جی مہاراج کرشن اوتار بھی تو تھے۔ جیسا کہ کلمہ فضل رحمانی سے تیغ صفحہ ص ٥٠ میں ہے اور اگر بروز کا دوسرا معنی لیتا ہے تو بھی مردود ہے۔ کمامر (و ایں قول بغایت ضعیف است) غرض کہ مرزا کا مثیل عیسیٰ ومثیل محمد ﷺ ہونا بالکل ثابت نہیں ہوتا۔ بلکہ بطلان اس کا ثابت ہے۔
ثم اقول ...... علامہ سیوطی کی تفسیر درمنثور میں یہ حدیث ہے۔ ”قال رسول الله ﷺ لليهود ان عيسى لم يمت وانه راجع اليكم قبل يوم القيمة “ پہلے بھی یہ حدیث ذکر ہوچکی ہے۔ یعنی حضرت ﷺ نے یہود کو مخاطب کر کے فرمایا کہ محقق ہے۔ یہ بات کہ عیسیٰ نہیں مرا اور یہ بھی محقق ہے کہ وہ لوٹنے والا ہے تمہاری طرف قیامت کے دن سے پہلے۔
سوال ...... از طرف مرزائی ممکن ہے کہ لفظ راجع سے مراد عیسیٰ کا رجوع بروزی طور پر بصورت قادیانی ہو۔
جواب ...... ایک جواب تو سابق میں بچند وجوہ ہوچکا ہے۔ ثانیا سنو! مرزا جو کہ بروز عیسوی اور بروز محمدؐ دونوں کا مدعی تھا تو کیا وجہ ہے کہ حضرت محمد ﷺ عیسوی رجوع سے بصورت قادیانی احادیث متواترہ میں خبر دیتے ہیں۔ جیسا کہ یہ زعم اور گمان بالکل قادیانی کا ہے اور خود حضرت محمد ﷺ اپنے رجوع بروزی یعنی دوبارہ دنیا میں بصورت غلام احمد قادیانی ہوکر آنے سے ایک حدیث میں بھی بصیغہ عیسیٰ علیہ السلام کا مراد ہے۔
سوال ...... بروز سے مراد ہے کہ روح قادیانی روح عیسوی سے مستفیض ہوتا ہے۔
جواب ...... قادیانی اور اس کے اذناب کہیں بھی یہ مراد نہیں لیتے۔ بلکہ وہ یہی اعتقاد
٩٠
رکھتے ہیں کہ روح محمدؐ اور روح عیسوی دونوں مرزا کے اندر آ رہی ہیں۔ کما مراراً اور گر مان بھی لیں کہ مرزا اس بروز سے مراد لیتا ہے تو بھی یہ مراد نا مراد ہے اور اس پر دعویٰ مثلیت اور اقتباس الانوار کی پوری عبارت یہ ہے۔ (ص٥٢) پر نزول بروزی عیسیٰ علیہ السلام کی تردید فرماتے ہیں ”بعضے برانند کہ روح عیسیٰ در مہدی بروز کند نزول عبارت ازیں بروز است مطابق الحدیث لا مہدی الا عیسیٰ ابن مریم وایں مقدمہ بغایت ضعیف ست۔“ (ص٧٢) پر ہے کہ ”یک فرقہ بر آں رفتہ اند کہ مہدی آخر الزمان عیسیٰ بن مریم است وایں قول بغایت ضعیف است زیراکہ اکثر احادیث صحیحہ و متواتر از حضرت رسالت پناہﷺ ورود یافتہ کہ مہدی از بنی فاطمہ خواہد بود وعیسیٰ ابن مریم باو اقتدا کردہ نماز خواہد گزارد و جمیع عارفان صاحب تمکیں برین متفق اند۔ چنانچہ شیخ محی الدین بن عربی قدس سرہ در فتوحات مکی مفصل نوشتہ کہ مہدی آخر الزمان از آل رسولﷺ باشد از اولاد فاطمتہ الزہرہؓ ظاہر شود۔“ کا خرط القتاد ہے۔ کما لا یخفیٰ!
کیونکہ یہ استفاضہ تو مرزا قادیانی کے بغیر بہت سے لوگوں کو حاصل ہوا ہے۔ چنانچہ حضرت شیخ اکبر فتوحات میں فرماتے ہیں کہ عیسیٰ بن مریم ہمارا پہلا شیخ ہے۔ اس کے ہاتھ پر ہم نے توجہ کی اور ہمارے حال پر ان کی بڑی عنایت ہے۔ ”کما قال وھو شیخنا الاول رجعنا علیٰ یدیہ ولہ بنا عنایۃ عظیمۃ لا یغفل عنا ساعۃ “ اور ان کے سوا اور بھی عیسوی المشرب صوفیہ بہت گزرے ہیں اور اب موجود بھی ہیں تو کیا وجہ کہ کسی نے مسیح موعود ہونے کا دعویٰ نہیں کیا اور نیز اس طرح کا فیض عیسیٰ ابن مریم کا اس کے زندہ ہونے پر موقوف نہیں۔ بلکہ بر تقدیر مرجانے عیسیٰ ابن مریم کے بھی قادیانی کو فیض پہنچ سکتا ہے۔ پس آنحضرتﷺ کا فرمانا انہ راجع الیکم اگر بطریق بروز ہوتا تو ”ان عیسٰی لم یمت“ بے ربط رہ جاتا تھا۔ کیونکہ وہ بروز موت کی تقدیر پر بھی ہو سکتا ہے اور نیز ”وانہ راجع الیکم “ سے بروز فی القادیانی جب لیا جا سکتا ہے کہ قادیانی صاحب یہود کی قوم سے ہوں۔ کیونکہ آنحضرتﷺ تو قوم یہود کو مخاطب کر کے فرما رہے ہیں کہ :”(وانہ راجع الیکم) ای بارز فیکم “ جیسا کہ مولوی احمد حسن ہندوستانی نے راجع الیکم کا معنی بارز فیکم لیا ہے۔ شاید اس کو معلوم ہو چکا ہے کہ قادیانی یہود میں سے ہے اور یہ راجع الیکم کا معنی بارز فیکم جب ہی صادق آ سکتا ہے کہ یہود میں سے کسی شخص کو عیسوی بروز کا مالک قرار دیا جائے۔ چنانچہ لَیَنزِلَنَّ فِیکُم ابن مریم کا معنی قادیانی کے نزدیک یہی ہے کہ تم مسلمانوں میں سے ایک مسلمان میں عیسیٰ کا بروز ہوگا اور آج تک کسی نے چونکہ نزول و رجوع بروزی کا دعویٰ نہیں کیا تا کہ اس پر یہودی ہونے کا الزام عائد ہو۔ لہٰذا اس کا مدعی بھی مرزا ہے اور یہ الزام بھی اسی پر وارد ہے۔
٩١
پس آفتاب جہاں تاب سے بھی زیادہ روشن ہو گیا کہ مرزا ہرگز مہدی موعود و مسیح معہود نہیں ہے اور مہدی و عیسیٰ سے مراد یہی دونوں الگ الگ بعینہ مراد ہیں۔ نہ ان کا کوئی مثیل اور انہیں کے بعینہ دنیا میں آنے پر اجماع ہے نہ ان کے کسی مثیل پر ورنہ رسول اللہ کی تعلیم اس مطلب میں ہے۔ غلط کہنا ہوگا اور یہ امر منافی ہے انبیاء علیہم السلام کی عصمت کا خصوصاً ایسے مہتم بالشان مسئلے میں جس کے ذریعہ سے حضرت ﷺ امت مرحومہ کو دھوکہ کھانے سے بچانا چاہتے ہیں۔ بالکل منافی شان نبوت کے ہے۔ کیونکہ بجائے ہدایت کے الٹا امت مرحومہ کو دھوکے میں ڈالنا ہوا کہ نزول قادیانی کی جگہ نزول عیسیٰ بن مریم فرما دیا۔ حالانکہ پہلے لوگ ایلیا کے نزول بروزی سے دھوکہ کھا چکے تھے۔
ثم اقول ...... مرزا اور مرزائیوں کا بہت زور اسی پر ہے کہ ”لا مهدی الا عیسیٰ بن مریم “ اور اسی سے بروز نکالتے ہیں۔ کما مر اسی واسطے اس مقام میں ذرہ زیادہ تفصیل کی گئی۔ اس حدیث کے متعلق میں نے (رسالہ تیغ ص ١٠٠) میں بھی مفید بحث کی ہے۔ جہاں ان کی زبان پر ”لا مهدی الا عیسیٰ “ بہت ہے، مگر سوائے تحقیق ماسبق کے اور جوابات بھی ہیں۔ اول تو یہ کہ یہ حدیث ضعیف اور مضطرب ہے۔ دوسرا یہ کہ محتمل التاویل ہے۔ بعد صحت اخبار مہدی کے یقیناً ماوّل ہے۔ کیونکہ دونوں باہم متغایر ہیں۔ بہ سبب تغایر اوصاف کے تو معنی حقیقی یعنی نفی وجود امام مہدی کی متعذر ہے اور ایسے وقت مجاز متعین ہوگا۔ پس بعض تاویل کرنے والوں نے مہدی کو معنی منسوب الی المہدی پر محمول کیا ہے اور یہ حصر بہ نسبت انبیاء علیہم السلام کے ہے اور بعض علماء نے مہدی سے مہدی لغوی مراد لیا ہے۔ چونکہ مطلق مہدی کا ذکر ہے۔ لہٰذا اس سے مراد فرد کامل ہوگا اور مہدی ہونے میں فرد کامل نبی اور پیغمبر ہوتا ہے۔ لہٰذا یہ معنی ہوا کہ بعد نبی صلعم کے ہدایت دینے کا فرد کامل عیسیٰ علیہ السلام ہوگا۔ کیونکہ بقرب قیامت کے شریروں اور گمراہوں کو ہدایت فرمائیں گے۔ ایضاً حدیث ”لا مهدی الا عیسیٰ بن مریم “ کو علامہ زرقانی نے مردود ٹھہرایا ہے۔ دوم یہ کہ اس کو ابن ماجہ نے بھی اخراج کیا ہے۔ حالانکہ خود ابن ماجہ ابو امامہ کی حدیث میں تصریح فرمارہے ہیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کے وقت بیت المقدس میں ایک رجل صالح نماز کی جماعت کرارہا ہوگا کہ اتنے میں عیسیٰ علیہ السلام کا نزول ہوگا اور وہ امام پچھلے پاؤں ہٹ جائے گا تا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام آگے بڑھے اور یہی مضمون بخاری کی حدیث کا ہے جو بروایت ابو ہریرہؓ مذکور ہے اور بعض زکی مولویوں نے بروز کے مسئلے کو اس آیت سے نکالا ہے۔ ”نحن قدرنا بینکم الموت وما نحن بمسبوقین علی ان نبدل امثالکم وننشئکم فیما لا تعلمون “ مگر مؤلف صاحب اقتباس الانوار فرماتے ہیں کہ اس کو مسئلہ
٩٢
بروز سے کوئی تعلق نہیں۔ کیونکہ آیت میں انتقال روح دوسرے بدن میں عمر دنیا میں ثابت نہیں ہوتا۔ خواہ امثال کو جمع مثل بفتحتین کی مقرر کی جائے یا جمع مثل بمعنی مثیل کے برتقدیر اوّل آیت کا مفاد تغیر اوصاف ہوگا۔ یعنی طفولیت اور شباب اور کہولت اور شیخوخت اور برتقدیر ثانی یا تو تبدل اشکال دنیویہ واخرویہ پر دلالت کرے گی اور یا تبدل اشخاص دنیویہ واخرویہ پر جو متخالفۃ الروح والجسم ہوں گے اور یا تغیر اشخاص دنیویہ علی سبیل المسخ پر علیٰ ما قال الحسن ای نجعلکم قردۃ وخنازیر پہلی صورت تو ظاہر ہے کہ روح کا انتقال نہیں۔ صرف اوصاف طفولیت وغیرہ وغیرہ کا تغیر ہے۔ دوسری صورت میں منتقل الیہ جسم جو بشری ہے اور مرزا نے تو اس وقت جب کہ دعویٰ کیا تو دنیا ہی میں تھا اور تیسری صورت میں آیت کا حاصل یہ ہوگا کہ (تم کو دوسرے جہان میں لے جاویں اور تمہاری جگہ یہاں اور خلقت بسا دیں) تو اس صورت میں مماثلت بمعنی الدخول تحت النوع الواحد ہوئی اور امثال بایں معنی مسلم بین الفریقین ہیں نہ ہم کو مضر نہ مرزا کو مفید۔ کیونکہ اہل اصطلاح بروز وکموں اس کو بروز نہیں کہتے۔ چوتھی صورت سو اس کو علاوہ مخالفت اہل اصطلاح کے مرزا اور مرزائی بھی ناگوار سمجھیں گے اور نیز تبدیل امثال آیت سے صرف تحت قدرت اور مقدور ہونا ثابت ہوتا ہے نہ وقوع اس کا حجة اللہ البالغہ۔
قولہ ....... امام مہدی ظاہر ہونے کے بعد چاروں مذہب قائم رہیں گے یا نہیں اور ان کا خاص کوئی مذہب وطریقہ ہوگا یا نہیں۔ ہدیۃ المہتدی کے اس ص ٢٦، ٢٧ کا خلاصہ ملاجی نے یہ بیان کیا ہے کہ چاروں مذہب کا انتظام زمانہ مہدی تک رہے گا اور اپنے زمانہ میں مہدی خود مجتہد مطلق ہوگا۔ وہ کسی مذہب کی تقلید نہ کریں گے اور دنیا میں انہیں کا مذہب جاری ہوگا۔ ایسا فیصلہ کریں گے کہ اگر رسول اللہ دنیا میں موجود ہوتے تو آنحضرتﷺ بھی ایسا ہی فیصلے فرماتے اور مذاہب متداولہ کے اغلاط ومسائل ضعیفہ کی اصلاح فرمائیں گے۔ مذہب مہدی کے بارے میں ایک مستقل رسالہ ملا علی قاریؒ کا ہے جو مجددین میں معدود ہیں۔ جس کا نام مشرب وردی فی مذہب المہدی ہے اور سوائے اس کے فتوحات مکیہ اور یواقیت والجواہر و حجج الکرامہ وفتاویٰ شامیہ وغیرہ وغیرہ میں اس کا ذکر ہے۔ فلیراجع!
الجواب ....... ان آٹھوں باتوں کا جواب دیتا ہوں۔
- ١...... درست ہے مگر اس مہدی کاذب یعنی مرزا نے تو انتظام مذاہب کو روک نہ سکا۔
- ٢...... مہدی راست کے بارے میں یہ بھی درست ہے۔ مگر مرزا پر بالکل
درست نہیں۔ کیونکہ وہ موت تک شرح وقایہ وہدایہ کنز الدقائق درمختار شامی وعالمگیری وغیرہ کتب
٩٣
فقہ پر مسائل اجتہاد میں عمل کرتا رہا۔
- .......٣....... مہدی صادق کسی کا مقلد نہ ہوگا۔ مگر مہدی کاذب جو کہ مرزا ہے کل ائمہ
بلکہ علمائے اسلام کا مقلد رہا ہے۔ ذرہ ذرہ بات میں تقلید کا دم بھر کے نقل کرتا رہا ہے۔
- .......٤....... ساری دنیا کیا بلکہ دنیا کے کروڑ حصہ کے ایک حصہ میں بھی مرزا کا مذہب
جاری نہ ہوا۔
- .......٥....... جتنے فیصلے مرزا کے ہیں جب کہ کتب فقہ وتفاسیر واحادیث سے مخالف
ہوئے تو رسول اللہ ﷺ سے تو خود ہی مخالف ہوئے۔ مرزا نے قرآن اور حدیث اور کل ائمہ مذہب کے خلاف راہ نکالی ہے۔ رسول اللہ ﷺ کی احادیث کے معنی مراد کو سمجھ کر تاویلات شروع کرتا ہے۔ پس وہ موافق شرع محمدی کے کیسے ہو سکتا ہے۔
- .......٦....... مذاہب کی غلطیاں نکالنے کا ادراک اور علم کہاں تھا۔ مسئلہ مہدی موعود ومسیح
معہود ہونے کے سوا اس نے بہت کم قلم اٹھائی ہے اور پھر جس جگہ کچھ لکھا ہے اس پر طالب العلم کافیہ خواں بھی ہنس رہے ہیں۔ چنانچہ تفسیر القرآن جو اس نے لکھی ہے اس کے اغلاط اور مرزا کی لغزشیں اور جہالتیں اس میں جو جو ہوئی ہیں آخر میں عرض کروں گا اور ملا علی قاری کا نام تو شاید کہ آپ نے غلطی سے لے لیا ہے۔ ورنہ اگر اس کو مانتے ہو تو وہ تمہارے سارے مذہب کو جڑ سے اکھیڑتا ہے۔ مشکوۃ کی شرح مرقات میں انہوں نے حدیث بیان کی ہے کہ فرمایا رسول اللہ ﷺ نے کہ اترے گا عیسیٰ بن مریم زمین کی طرف اور ٹھہرے گا ٤٥ برس پھر فوت ہوگا اور دفن ہوگا میرے قبرستان میں اور فتوحات مکیہ کی عبارتیں بکرات مرات گزر چکی ہیں کہ وہ حضرت عیسیٰ کے زندہ آسمان پر اسی جسم خاکی کے ساتھ جانے اور قرب قیامت تک وہاں رہنے اور اتر کر دجال کو قتل کرنے وغیرہ وغیرہ کے سب سے زیادہ قائل ومعتقد اور مدعی ہیں اور ایسا ہی الیواقیت والجواہر میں مذکور ہے اور حج الکرامہ میں بھی عیسیٰ ابن مریم کی موت کے قائل کو ذلیل اور شرمندہ کیا ہے۔ دیکھو اس کا ص٤٣٢ کہ عیسیٰ ابن مریم آسمان سے نازل ہو کر دجال کو قتل کریں گے۔ چالیس سال قیام کریں گے اور میری سنت پر عمل کریں گے۔ پہلے بھی یہ حدیث گذر چکی ہے اور علامہ شامی نے بھی حاشیہ درمختار میں اوّل جلد کی ابتداء میں امام اعظمؒ کے مناقب میں ذکر عیسیٰ علیہ السلام اور امام مہدی صاحب کا کیا ہے۔ اس سے صاف بلا غبار ظاہر ہے کہ وہ بھی حضرت عیسیٰ اور مہدی کے بارے میں سب مسلمانوں کی طرح قائل اور معتقد ہیں۔ البتہ وہ تو یہ کہتے ہیں کہ امام مہدی چونکہ مجتہد مطلق ہوگا اور قرآن وحدیث کا حافظ ہوگا۔ لہٰذا وہ کسی دوسرے مجتہد کی تقلید نہ کرے گا۔ نفی وجود عیسیٰ یا
٩٤
مہدی یا ان کے کسی مثیل کا ہندی ہو یا پنجابی ہو شریف ہو یا ذلیل ہو ذکر تک نہیں ہے۔ الحمد للہ! کہ جن کتابوں سے مرزائی لوگ اپنی جاہلانہ بات کو ثابت کرنا چاہتے ہیں اسی سے امر حق کو ہم دکھا دیتے ہیں۔
قولہ ...... (ص ٢٨) میں ہے بلکہ حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلویؒ جو اہل حدیث کے پاسدار ہیں۔ فرقہ اہل سنت و جماعت موسومہ کی مذمت میں رسالہ تاویل الاحادیث میں تحریر فرماتے ہیں۔ اس سے ملا جی قادیانی کا یہ مقصود ہے کہ کل روئے زمین کے مسلمان آج کل کے اہل سنت و جماعت نہیں بلکہ فقط اہل سنت و جماعت ہم ہی مرزائی لوگ ہیں۔
جواب ...... ہم اسی شاہ ولی اللہ صاحب سے حیات عیسیٰ بن مریم ثابت کر دیتے ہیں۔ شاہ صاحب ترجمہ القرآن میں ”فلما توفیتنی“ کا معنی (ہرگاہ برداشتی مرا) لکھتے ہیں اور (میراندی مرا) نہیں لکھتے۔ دیکھو خود اس سے عیسیٰ بن مریم کا مرفوع علی السماء ہونا ثابت ہو گیا۔ اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ شاہ صاحب کے رسالہ فوز الکبیر میں رفع عیسیٰ سے مراد رفع روحانی نہیں بلکہ جسمی جسدی رفع ہے۔
قولہ ...... تنبیہ لبعض دھوکہ باز مولوی (ص ٢٧، ٢٩) تک کوئی مفید مطلب مرزا اور مضر مقصود ہمارے کے بات نہیں بلکہ بیکار ایک اجنبی بات کو جو فی الواقع بے عقلی سے ملا جی نے لکھ ماری ہے۔ محض ورقوں کی تعداد کو زیادہ کر کے رسالہ کا حجم بڑھا دیا ہے۔
قولہ ...... اب اصلی اہل سنت و جماعت کون لوگ ہیں۔ اس کا بیان سنئے۔ قوۃ القلوب سے وکان سہلؒ یقول السنۃ ما کان علیہ النبیﷺ واصحابہؓ۔
الجواب ...... الحمد للہ کہ ہم ہی ہر چہار مذہب کے مسلمان رسول اللہ اور اصحاب کے طریقہ پر ہیں نہ مرزا اور نہ مرزائی لوگ کیونکہ ان کے اقوال وافعال واعتقاد سراسر کفریات اور خلاف شرع ہیں۔ محض نماز روزہ تلاوت قرآن وغیرہ ظاہری امور سے ایمان باقی نہیں رہتا۔ جب تک کہ اعتقاد موافق شرع کے نہ ہو اور ہم نے قوت القلوب سے نزول عیسیٰ بعینہ وغیرہ سب نقل کر دیا ہے۔ اس کو دیکھو۔
قولہ ...... پس یہی فرقہ ناجیہ اہل سنت و جماعت اصلی ہیں۔
الجواب ...... یعنی مرزائی لوگ ہی فرقہ ناجیہ دوزخ سے نجات پانے والے ہیں اور باقی سوائے مرزائیوں کے سب ناری دوزخی بدعتی ہیں۔ یہاں تک کہ ملا عبد الواحد کے استاد وماں باپ، دادا، دادی، پردادا، پردادی، نانا، نانی، پرنانا، پرنانی، وغیرہ کل کے کل اوپر کے
٩٥
دوزخی ہیں۔ نعوذ باللہ منہ ایسا نالائق بیٹا کہ مسئلے کی ہار جیت میں اپنے مردگان کو ملعون اور ناری و دوزخی کہہ دے۔
قولہ ....... امام مہدی کا علم شریعت و عرفان من قبیل قولہ تعالیٰ وعلمنا من لدنا علما بوساطت و اقتباس انوار مشکوٰۃ نبوت کبریٰ سرور عالم ﷺ حاصل ہوتا تھا اور بفضلہ تعالیٰ ایسا ہی ہوا۔
الجواب ....... رسالہ تیغ میں ہم نے مفصل لکھ دیا ہے کہ مرزا نے قرآن کو ناقص کہا اور انبیاء علیہم السلام کو برا کہا اور خود رسول اللہ کو غلط گو کہا اور ان کی پیشین گوئیوں کو غلط کہا اور معنی مراد حضرت کا جان کر اس میں تاویلات کرتا رہا۔ وغیرہ وغیرہ ۔ معائب و کفریات مرزا کے آیت وعلمناہ من لدنا علما کے بالکل مخالف ہے ببین تفاوت راہ از کجا است تا بکجا۔
قولہ ....... یہ جو مشہور ہے کہ زمان مہدی میں بجز دین واسلام کے اور کوئی بالکل دنیا میں باقی نہیں رہے گا۔ یعنی دنیا میں فقط مسلمان ہی رہیں گے اور کوئی کافر یہود ونصاریٰ میں سے باقی نہیں رہے گا۔ یہ سراسر غلط ہے۔ کیونکہ قرآن کریم کے خلاف ہے۔ کما مر !
الجواب ....... بیان اس کا مفصل سابق اس سے ہو چکا ہے اور مخالف کی جہالت کا پردہ اٹھایا گیا ہے۔ فلیراجع ثمہ!
قولہ ....... مگر بعض روایات سے جو پایا جاتا ہے کہ امام مہدی لوگوں کو مال دیں گے تو اس مال سے مراد دنیوی مال نہیں بلکہ خزینہ علوم دین و معارف و حقائق مراد ہے اور یہ امر حضرت علیؓ کی ایک روایت سے بھی مؤید ہے۔ حج الکرامہ میں ہے۔ علی مرتضیٰ گفت رحمت خدا باد بر بلدۂ طالقان کہ آنجا خدا را خزائن است اما نہ زرو سیم بلکہ مردان اند کہ خدا را شناختہ اند حق معرفت او وایشان انصار مہدی باشند اخرجہ ابونعیم انتہی۔ اس روایت میں جو لفظ طالقان واقع ہے ممکن ہے کہ قادیان سے بگڑا ہوا ہو۔
الجواب ....... مال سے مراد دنیوی ہی ہے۔ کیونکہ کل زمین پر زراعت ہوگی۔ کوئی زکوٰۃ لینے والا نہ ملے گا۔ دیکھو رسالہ تیغ کو، اور خزانہ دین و حقائق و معارف وہ ہیں جو موافق قرآن وحدیث واجماع کے ہوں اور مرزا جو معارف وحقائق دیتا ہے اور لوگ اس کو رد کرتے ہیں۔ وہ صاف ظاہر شریعت محمدیہ سے مخالف ہیں۔ لہٰذا وہ علوم و معارف نہیں بلکہ وہ اباطیل اور خرافات اور تحریفات وواہیات وکفریات و بدعات سیئات ہیں۔ لہٰذا مرزا نہ تو مہدی حق ہے اور نہ اس کے علوم علوم دین ہیں اور حج الکرامہ اور ابونعیم کی مراد کو دیکھو جو پہلے اس سے مذکور ہے کہ وہ بالکل تمہارے مخالف ہے اور یہ قول تمہارا کہ طالقان ممکن ہے کہ قادیان سے بگڑا ہو۔ تم مدعی ہو تم کو لزوم کے طور پر
٩٦
دلیل لانی ضرور ہے۔ احتمال اور نفس امکان کافی نہ ہوگا۔ خانہ ساز باتوں سے کچھ نہیں ہوتا۔ قادیان اب چار سو سال سے آباد ہے اور حضرت علیؓ کی خبر دینے سے معلوم ہوتا ہے کہ اس وقت بلدہ طالقاں موجود تھا۔ چنانچہ بطور اخبار حالیہ کے کہہ رہے ہیں اور جب کہ مرزا کے الہام کے مطابق لفظ قادیان قرآن شریف میں موجود ہے تو اس کو بلدہ طالقاں یا اس کو کُدھ سے نکالنے کی کون سی ضرورت ہے۔ ”ولن یصلح العطار ما افسده الدهر“
قولہ ...... کیونکر رسول اللہ ﷺ نے نہ اپنے واسطے مال دنیا کو پسند فرمایا ہے اور نہ امت کے لئے بلکہ فرمایا: ”ما الفقر اخشی علیکم“ دفعۃً اس قدر مال دنیا کے لوگوں کو دینا کہ سب تو نگر ہو جائیں۔ کوئی محتاج باقی نہ رہے یہ تو عادت الٰہی و حکمت باری عزاسمہ کے مخالف ہے۔
الجواب ...... رسول اللہ ﷺ نے بے شک دنیا کو پسند نہیں فرمایا۔ ہم بھی مانتے ہیں مگر دنیا نام ہی غفلت اور حجاب عن ذکر اللہ کا، مثنوی میں ہے۔
نے قماش ونقره وفرزند وزن
روپیہ و مال و متاع کی ایسی کثرت کہ کوئی محتاج نہ رہے۔ یہ دنیا نہیں دنیا جب ہے کہ غفلت، اللہ کے ذکر سے ہو جائے۔ روپیہ پیسہ پاس ہو یا نہ ہو اگر دنیا نام جمع کرنے حلال مال کا ہوتا ہے تو حضرت سلیمان علیہ السلام و حضرت سلطان سکندر علیہ السلام و حضرت عثمان غنیؓ و ابوبکر صدیقؓ وغیرہ صحابہؓ مالدار بڑے دنیا دار کہلائیں گے۔ حالانکہ ایسے لوگوں کے شان میں یہ لفظ استعمال کرنا ان حضرات کی بدگوئی ہے۔ کما لا یخفی!
حضرت ﷺ نے بارہا بکثرت دراہم اور بکریاں اور غلہ جات اللہ تعالیٰ کے راہ میں تقسیم کیں ہیں۔ کما فی البخاری وغیرہ اور یہ عادت الہیہ نہیں کیونکہ اس کے لئے تو کوئی تبدیل نہیں۔ ”ولن تجد لسنة الله تبديلا“ بلکہ یہ ”امتداد احکم الی انتھاء العلة وزوال الحكم بزوال العلة“ ہے۔
قولہ ...... امام مہدی علیہ السلام نے لوگوں کو ہزاروں روپیہ انعام دینے کے اشتہارات کثیرہ دیئے ہیں۔ مگر کسی نے ان انعامات کو حاصل کرنا قبول نہ کیا۔
الجواب ...... کاذب نے برائے نام اشتہار تو دیا مگر جب دیکھا کہ چاروں طرف سے جوابات موافق کتاب اللہ وکتاب الرسول کے آرہے ہیں تو خود ہی فرار کر گیا۔ جیسا کہ ہر کس
٩٧
و ناکس کو معلوم ہے اور وہ بیچارہ دریوزہ گر۔ اگر سائل کسی کو کیا روپیہ دیتا وہ تو خود طرح طرح کے حیلوں سے روپیہ جمع کرتا رہا۔ چنانچہ ایک مطرب اللہ دیا سے حرام مال کی درخواست کی مگر اس کا شکار خالی گیا۔ منارہ بنانے کے لئے صدہا روپیہ لیا اور اس کی عین حیات میں مدراس وغیرہ سے لوگ ماہوار روپیہ اس کی معاش کے لئے روانہ کرتے تھے۔ دیکھو رسالہ تبلیغ وہ عبارت یہ ہے۔ مالی فتوحات آج تک پندرہ ہزار کے قریب فتوح غیب کا روپیہ آیا۔ جس کو شک ہو ڈاکخانہ کی کتابیں دیکھ لے۔
(ضمیمہ انجام آتھم ص ٢٨، خزائن ج ١١ ص ٣١٢)
”حاجی سیٹھ اللہ رکھا تاجر مدراس نے کئی ہزار روپیہ دیا۔“
(ضمیمہ انجام آتھم ص ٢٨، خزائن ج ١١ ص ٣١٢)
”شیخ رحمت اللہ صاحب دو ہزار سے زیادہ دے چکے ہیں۔ منشی رستم علی کوٹ انسپکٹر گورداسپور بیس روپیہ ماہوار دیتے ہیں۔ حیدرآباد کا مولوی سید مردان علی مولوی سید ظہور علی و مولوی عبدالمجید دس دس روپیہ اپنی تنخواہ سے دیتے ہیں۔ خلیفہ نور الدین صاحب پانچ سو روپیہ دے چکے ہیں۔“
(ضمیمہ انجام آتھم ص ٢٨، ٢٩، خزائن ج ١١ ص ٣١١، ٣١٢)
قولہ ...... حالانکہ علامات مہدی آخر زمان جن روایات حدیث سے ثابت ہیں۔ اخبار احاد سے فوق نہیں۔ جو مفید علم یقینی کے نہیں ہیں۔
(ہدایۃ المہدی ص ٣٣)
الجواب ...... مجموعہ مل کر متواترۃ المعنی ہوگئی ہیں اور علم یقینی کو مفید ہیں ”الا من اضله الشيطان كما مر مراراً“ اور امام مہدی صاحب کو لوگ خود بخود شناخت کر لیں گے۔
قولہ ...... اگر ایسا ہوتا تو ایمان بالغیب باقی نہ رہتا۔
الجواب ...... یعنی جن جن رسولوں نے خود اپنے آپ کو بدعویٰ نبوت ظاہر کیا ہے اور لوگوں نے ان کو نشان و معجزات سے پہچانا ہے۔ ان کی نسبت ایمان بالغیب باقی نہ رہا۔ واہ واہ جہالت!
قولہ ...... پس معلوم ہوا کہ مہدی صادق کا خود دعویٰ نہ کرنا اور فقط نشانات دیکھ کر لوگوں کا ان کو پہچان لینے کا قول محض بے دلیل و سراسر باطل ہے۔ ”ومن يدعی خلافه فعليه البيان بالبرهان“
الجواب ...... قرآن شریف و تفاسیر و کتب سیر و تصوف و تواریخ و فقہ و اجماع امت سے فوق اور کیا برہان ہوگی؟۔ مگر ہدایت اللہ تعالیٰ کے قبضہ قدرت میں ہے اور ص ٣٥ قولہ در سنہ تلاشی ہجری و قرآن خواہد بود۔ از پی مہدی و دجال نشان خواہد بود۔
٩٨
الجواب ...... مہدی اور دجال سے مراد مرزا قادیانی کی دو قومیں یہود و نصاریٰ کی ہیں اور یہ زمانہ دراز سے موجود ہیں۔ کیا وجہ کہ اجتماع کسوف و خسوف ١٣١١ھ میں ہوا۔ حالانکہ یہ محض مرزائیوں کا دعویٰ ہے۔ ورنہ اب تک واقع نہیں ہوا۔ چنانچہ پنجاب وغیرہ اضلاع کے لوگ بخوبی جانتے ہیں۔
قولہ ....... مرزا غلام احمد صاحب تخمیناً ١٢٥١ھ میں یا تھوڑا آگے پیچھے تولد فرمائے تھے اور ١٣٢٦ھ مطابق ١٩٠٨ء کے وفات فرمائے ہیں۔ چنانچہ ١٣٢٦ کے لئے لفظ مغفور مادۂ تاریخ وفات ہے۔
الجواب ....... اگر تاریخ کے مادہ پر امام مہدی و دجال کی شناخت موقوف ہے تو میں ایسے مادے تاریخ ولادت مرزا و جوانی و وفات مرزا نکال دیتا ہوں کہ اس کے لحاظ سے مرزا ظالم اور فتنہ گر اور کاذب ہو جائے گا۔ مرزا غلام احمد قادیانی کی محمد احمد سوڈانی سے بالکل مطابقت ہے۔ اس نے بھی مہدی معہود و مسیح موعود ہونے کا دعویٰ کیا تھا اور آخر کو کاذب نکلا۔ مہدی سوڈانی ١٢٥٩ھ مطابق ١٨٤٢ء اور ان کی مہدویت کے اعلان کا خلاصہ یہ تھا کہ میں وہ مہدی موعود ہوں۔ جس کا تمہیں دس گزشتہ صدیوں سے انتظار رہتا اور تم کو سچی شریعت پر چلاؤں گا وغیرہ وغیرہ اور اس نے اپنا نام محمد احمد رکھا جو غالباً زیادہ اعتبار کے لائق ہے۔ بہر حال وہ بھی تمام قرائن کے رو سے کاذب تھا۔ مگر پھر بھی ایک نہایت درجہ کا محتاط عالم تھا۔ جس کی علمی اور تمدنی لیاقتوں کا اس سے زیادہ کیا ثبوت ہو سکتا ہے کہ اس وقت اس کے پاس بقدر ٣ لاکھ جانثار خدا کے واسطے لڑنے کو موجود تھے۔ مرزا کی پیدائش کی ١٢٥٩ھ ہے۔ سیپارہ واعلموا میں پروردگار نے گویا کہ اس کی طرف اشارہ فرمایا ہے۔ ”الا فی الفتنۃ سقطوا“ یعنی آگاہ ہو جاؤ وہ فتنے میں گرے اور یہی تاریخ محمد احمد سوڈانی مہدی کاذب کی بھی ہے اور مرزا کتاب آئینہ کمالات میں لکھتا ہے کہ عدد ١٢٧٥ کا جو آیت وآخرین منہم لما یلحقوا بہم سے نکلتا ہے۔ اس عاجز کی بلوغ اور پیدائش ثانی اور تولد روحانی کی تاریخ ہے۔ بلفظہ یعنی ١٢٧٥ کو مرزا جوان ہوا اور یہی ”شباب ظلم“ ہے۔ جس کے اعداد ١٢٧٥ ہوتے ہیں۔ اس سے مرزا جوان ظالم ثابت ہوا۔ اس سے جب ١٥ سال بلوغت کے نکالے جائیں تو ١٢٥٩ رہتے ہیں جو کہ : ”الا فی الفتنۃ سقطوا“ کے اعداد ہیں اور مہدی سوڈانی کی تاریخ ١٨٨٢ء ہے اور یہی تاریخ مرزا کے مہدی اور مسیح کے مثیل ہونے کی ہے۔ جیسا کہ اس نے خود براہین احمدیہ ص اوّل حصہ سوم پر لکھا ہے اور مرزا غلام احمد قادیانی نے لکھا ہے کہ میرے نام کے اعداد
٩٩
پورے تیرہ سو ہیں۔ اسی واسطے میں مجدد اور مسیح موعود ہوں۔ یعنی میں تیرہویں صدی پر ہوا ہوں اور مرزا اس کو بڑی قوی دلیل جانتا ہے۔ اب میں چند لوگوں کے نام کے اعداد تیرہ سو پورے کر کے دیتا ہوں۔ جن کو مرزا اور ہم کوئی مہدی یا مسیح نہیں کہتے بلکہ مرزا ان کو سخت گالیاں دیتا ہے۔
- ١....... مہدی کاذب محمد احمد متمہدی (عاجز) سوڈانی ١٣٠٠ء۔
- ٢....... مرزا امام الدین ابوالا تلال بیکیاں قادیانی۔ اس کے نام کے بھی تقریباً
تیرہ سو ہیں اور مرزا کا فاضل حواری نورالدین موجود ہے۔
- ٣....... مولوی حکیم نورالدین مستہام ۔ (حیران) بھیروی، علیٰ ہٰذا القیاس اور جس
قدر نام چاہوں تیرہ سو کے عدد والے نکالتا جاؤں۔ لیکن اس سے کسی کا مجدد یا مسیح یا اس کا مثیل ہونا تو ثابت نہیں ہوتا۔
اقول ....... سب سے لطیف تر قرآنی معجزہ ہے جو کہ قادیانی پر خوب لگتا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ ”تنزل علی کل افاك اثیم“ شیطان اترتے ہیں ہر بڑے بہتان کرنے والے گنہگار پر اس آیت کریمہ کے اعداد بھی پورے تیرہ سو ہیں اور بلاشبہ مرزا پر شیطان اترتے ہیں اور انہیں کے وسوسوں کو مرزا وحی جانتا تھا۔
قولہ ....... مرزا قادیانی امی محض جو مصداق اس مصرع مشہور کا ہے کہ امی قلم را بگیرد بدست۔ ایسے تو نہ تھے اوائل عمر میں بعض بعض اساتذہ کے نزدیک کسی قدر مختصر تعلیم پائے ہوئے تھے۔ مگر علوم و حکم شرائع و ادیان و حقائق و معارف میں کوئی ان کا استاد نہ تھا۔
الجواب ....... اوائل عمر میں جو بعض استادوں سے پڑھا ہے وہ کیا سوائے علوم و حکم و ادیان کے کوئی ناٹک اور مسمریزم اور شعبدہ بازی اور مکاری تھی۔ ضرور یہی تھی۔ جیسا کہ اس کے حالات سے معلوم ہوتا ہے۔
قولہ ....... اسی وجہ سے تو آیہ کریمہ ”من كان فی ھذہ اعمی فھو فی الآخرۃ اعمیٰ“ ان لوگوں پر چسپاں ہوتا ہے۔
الجواب ....... یہ آیت کفار نابکار کے بارے میں تھی۔ اس کو اہل سنت و جماعت پر لگا دیا اور اسی صفحہ میں مسلمانوں کو ابو جہل کافر سے مشابہت دی ہے۔
قولہ ....... ”مما ينجر الی الطوالہ“ الجواب ....... الی الطوالہ غلط ہے اور صحیح الی طوالہ ہے۔ مضاف کو معرف باللام نہ ہو چاہئے۔
١٠٠
قولہ..... ضمیرم نہ زن بلکہ آتش زنست کہ مریم صفت بکر و آبستن است۔ مراد اس سے قادیانی کی یہ ہے کہ مرزا جیسا کہ مسیح موعود کے نام سے موسوم ہوا۔ ایسا ہی مریم کے نام سے بھی مسمی ہوا۔
الجواب..... مولانا نظامی گنجوی سکندر نامہ میں دل کو جس کو عربی میں قلب کہتے ہیں مریم صفت بتارہے ہیں اور قلب تو مونث سماعی ہے۔ اس کو مریم صفت کہہ دینا بطور استعارہ کے کوئی مستبعد نہیں۔ مگر مرزا تو با وجود مذکر ہونے کے مریم صفت نہیں بلکہ مریم لقب ہوا۔ وبينهما بون بعید!
قولہ..... الغرض بعد مرتبہ مریمیت کے حضرت اقدس کو مرتبہ عیسویت و مسیحیت کا دیا گیا تھا۔ گویا مریم سے عیسیٰ علیہ السلام پیدا ہوئے تھے۔ بلکہ رموز واشارات سے قرآن کریم کے بھی اس کا ثبوت پایا جاتا ہے۔ چنانچہ سورہ تحریم کے آخر میں ہے۔ ”قوله تعالى وضرب الله مثلاً للذين آمنوا امرأة فرعون الى قوله تعالى ومريم بنت عمران التى احصنت فرجها فنفخنا فيه من روحنا وصدقت بكلمات ربها وكتبه وكانت من القانتین“ اس آیت شریفہ میں اشارہ اس طرف ہے کہ بعض افراد اس امت مرحومہ کے مریم صدیقہ سے مشابہت پیدا کریں گے۔ یعنی اسی سبب سے مرزا غلام احمد کو ابن مریم کہا جاتا ہے۔
الجواب..... جب تک کہ حقیقت کا تعذر نہ ہو تب تک مجاز نہیں لیا جاتا۔ حالانکہ تعذر حقیقت کے دلائل کا فساد ثابت ہو چکا ہے۔ ثانیا یہ کہ قطع نظر تعذر حقیقت سے آیت کا مفاد تو صرف اتنا ہی فائدہ بخشتا ہے کہ وصف ایمان علاقہ مصحہ لارادة القادیانی ابن مریم سے ہے۔ یعنی لفظ مریم سے اگر قادیانی بعلاقہ ایمان مراد رکھا جاوے تو یہ علاقہ اس ارادہ کی صلاحیت رکھتا ہے اور صرف صلاحیت بغیر اس کے وقوع استعمال فی غیر محل النزاع قرآن یا حدیث سے ثابت کیا جاوے مفید نہیں۔ پس اگر انصاف سے کوئی دیکھے تو قرآن یا حدیث میں ایک جگہ بھی (مریم) یا (امرأۃ فرعون) سے مراد کوئی مؤمن نہیں۔ خود مریم اور فرعون کی عورت ہی مراد ہے۔ ثالثاً ابن مریم سے مراد ہونا قادیانی کا چنانچہ شمس بازغہ کے ص٩٣ پر امروہی نے لکھا ہے کہ ہر ایک مؤمن مثیل مریم ہے تو مؤمن کی اولاد ابن مریم ہوئی اور یہ جب ہو سکتا ہے کہ پہلے مرزا کے والد صاحب غلام مرتضیٰ صاحب مرحوم لفظ مریم سے کسی استعمال سے پنجابی یا اور کسی زبان میں مراد لئے گئے ہوں اور وہ اس لفظ مریم سے بھی پکارے گئے ہوں۔ ”وانّى فيكون له ذلك “ پس مرزا کا ابن مریم ہونا
١٠١
ثابت نہیں ہوتا اور اگر فقط علاقہ مصححہ وجود ایمان ہی لیا جائے تو مرزا کی خصوصیت کیا ہے۔ ہر مؤمن کو ابن مریم کہنا درست ہے۔
قولہ ...... ملخص کلام اس مقام میں یہ ہے کہ قولہ تعالیٰ ' يمحوا الله ما يشاء ويثبت وعنده ام الكتاب ' اس سے استنباط کیا جاسکتا ہے کہ پیشین گوئیوں میں جو من قبیل معجزات وکرامات ہوتے ہیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے کس قدر تبدل وتغیر ممکن ہے نہ یہ کہ سر مو تجاوز ممکن نہیں۔ جیسا کہ خیال کل عوام کالانعام اور اکثر خواص کالعوام کا ہے۔ کیونکہ اس تقدیر میں غناء ذاتی میں باری تعالیٰ کے فتور راہ پاتا ہے۔
الجواب ...... اگر امکان تبدل مسلم ہی ہو تب اس واقعہ خاصہ میں کسی آیت یا حدیث قولی یا فعلی یا تقریری یا اجماع صحابہ یا مذہب مجتہد سے آپ کو ثابت کرنا ہوگا کہ وہ امکان جو تھا اب فعلیت اور وجود خارجی میں آگیا۔ کیونکہ مقام استدلال میں ہیں اور ظاہر ہے کہ مدعی اور مستدل کو لزوم چاہئے۔ اس کو احتمال کافی نہیں ہوتا اور جب کہ کسی دلیل سے ثابت نہ کر سکو تو نیست ہی ثابت رہے گا اور غنا ذاتی میں نقصان جب ہو کہ غناء فعلی مستلزم ہو غناء ذاتی کو حالانکہ یہ باطل ہے۔ کیونکہ غناء ذاتی جیسی کہ بصورت تبدل وتغیر موجود ہے۔ ایسی ہی بصورت عدم تبدل وتغیر میں بھی موجود ہے۔ پس باری تعالیٰ کی غناء ذاتی میں فتور ہرگز راہ نہیں پاتا۔ بلکہ وہم بھی فتور کا نہیں ہوتا۔ پس تبدل وتغیر ممکن مگر علت بیان کرنی آپ کی باطل وعاطل ہے اور صفحہ ٤٣، ٤٤، ٤٥، ٤٦ میں جو جواز خلف لکھا ہے۔ وہ اگر چہ علماء میں مختلف فیہ ہے اور اس میں راجح ومرجوح کے قطع نظر ہونے سے مخالف کو کسی قسم کا فائدہ نہیں۔ کیونکہ اگر یہ امر مسلم بھی ہو تو ایک دو چار باتوں میں نہ یہ کہ صدہا باتوں میں جو کہ علامات امام مہدی و خواص عیسیٰ علیہ السلام و آیات دجال وغیرہ ہیں۔ سب کے سب میں وعدہ خلافی ہو جائے اور ایسا ضروری مسئلہ کہ اتنی مخلوقات گمراہ ہو جائے اور پھر حضرت ﷺ اور کل صحابہ کرام وائمہ مجتہدین عظام کا اس تبدل وتغیر کا ذکر نہ کرنا یہی قرینہ قاطعہ یقینیہ جازمہ موجبہ للیقین والایمان ہے کہ اگر خلف وتبدل وتغیر اس میں باعتبار نفس قدر الہیہ کے ممکن ہے الا وقوع تبدل وتغیر کا ہرگز ہرگز نہ ہوگا۔ لعدم استلزام الامکان الفعلية کما لا یخفی
قولہ ...... جو کچھ مرزا احمد بیگ کی لڑکی کی نسبت مرزا کی تکذیب اور پیش گوئی کے غلط ہونے میں پردہ پوشی کی ہے وہ سب خلاف واقع بیان کی ہیں۔ کل پنجاب اور ہندوستان میں معلوم ہے کہ مرزا اس میں صاف نامراد گیا اور اگر کوئی پیش گوئی کسی شخص کی صادق بھی ہو جائے تو اس
١٠٢
جائے تو مرزا کی خصوصیت کیا ہے۔ ہر قوله تعالى ”يــمــحــوا الله مـا يـشـاء اسکتا ہے کہ پیشین گوئیوں میں جو سن قبل قدر تبدل وتغیر ممکن ہے نہ یہ کہ سر مو تجاوز کا العوام کا ہے۔ کیونکہ اس تقدیر میں غناء
اس واقعہ خاصہ میں کسی آیت یا حدیث کو ثابت کرنا ہوگا کہ وہ امکان جو تھا اب میں ہیں اور ظاہر ہے کہ مدعی اور مستدل کو یل سے ثابت نہ کرسکو تو وہبیت ہی ثابت غناء ذاتی کو حالانکہ یہ باطل ہے۔ کیونکہ بصورت عدم تبدل وتغیر کے بھی موجود پاتا۔ بلکہ وہم بھی فتوہ کا نہیں ہوتا۔ پس
ہے اور صفحہ ٤٣، ٤٤، ٤٥، ٤٦ میں جو جواز سا راجح ومرجوح کے قطع نظر ہونے سے یک دو چار باتوں میں نہ یہ کہ صد ہا باتوں ت دجال وغیرہ ہیں۔ سب کے سب میں مراہ ہو جائے اور پھر حضرتﷺ اور کل کرنا یہی قرینہ قاطعہ یقینیہ جازمہ موجبہ تبار نفس قدر الہیہ کے ممکن ہے الا وقوع الفعلية كما لا يخفى!
ت مرزا کی تکذیب اور پیش گوئی کے غلط ہیں۔ کل پنجاب اور ہندوستان میں معلوم کسی شخص کی صادق بھی ہو جائے تو اس
سے اس شخص کا امام مہدی یا مثیل عیسیٰ ابن مریم ہونا تو ثابت نہیں ہوتا۔ کیونکہ برہمنوں اور بت پرستوں اور کافروں کی پیش گوئیاں بھی کبھی صادق ہو جاتی ہیں اور ہدایۃ المہدی کے ص ٤٩، ٥٠ کا خلاصہ یہ ہے کہ مرزا صاحب اگرچہ سچا مہدی نہ بھی ہو تو بھی اس کو مان لینے میں کوئی نقصان نہیں۔ کیونکہ اس سلسلہ میں کوئی امر بھی خلاف حجج شرعیہ قویہ نہیں ہے۔ اہل سلسلہ نے جو بانی سلسلہ کو قبول کیا ہے سو یہی قرآن وحدیث کے دلائل قویہ سے قبول کیا ہے۔ اگرچہ بدبختوں کی سمجھ میں نہ آوے۔ پس اس تقدیر میں اگر بالفرض بحال بانی سلسلہ واقعی مسیح موعود مہدی معہود نہ بھی ہو تو کیا نقصان ہو سکتا ہے۔
الجواب ...... اس سلسلہ کے خلاف شرع اقوال وافعال واعتقادیات اظہر من الشمس ہیں جو بانی سلسلہ کے ناجائز اقوال وافعال واعتقادیات ہیں وہی سلسلہ قبول کرنے والوں کے بھی ہیں۔ جن کے سبب سے علمائے روئے زمین نے کفر کے فتوے دیئے ہیں۔ جن کا کچھ قدر ذکر اس رسالہ میں اور میرے دوسرے رسالہ تیغ غلام جیلانی میں موجود ہے۔ پس ایسے شخص کو مہدی معہود یا مسیح موعود جاننا کفر ہے۔ کیونکہ قرآن وحدیث، تفسیر وفقہ کل علوم دینیہ جس شخص کو دائرہ اسلام کے اندر نہیں چھوڑتے اور کم از کم علانیہ فسق جس کا ظاہر ہو اس کو مسیح موعود اور مہدی معہود کہنا قرآن وحدیث کو کاذب کہنا ہے۔ خبردار رہو اے مسلمانو! یہ کیسی دھوکے کی بات بنگالی قادیانی نے لکھی ہے۔ نعوذ باللہ من غضب الرب!
قول ...... ازمنہ ماضیہ میں بعض بعض علماء نے بعض حضرات کو مہدی قرار دیا ہے اور دوسرے علماء نے بعض حضرات کو مہدی قرار دیا ہے اور دوسرے علماء ان کے ساتھ متفق ہوئے۔ مگر ان علمائے مخالفین نے ان علماء سابقین الذکر پر کوئی برا حکم نہیں لگایا اور ان کو کسی طرح مطعون نہیں کیا۔ چنانچہ امام جلال الدین سیوطی کی تاریخ الخلفاء میں ہے۔ "وقال وهب بن منبه ان كان فى هذه الامة مهدى فهو عمر بن عبدالعزيز ويضاهيه وقال الحسن ان كان مهدی فعمر بن عبدالعزیز“
الجواب ...... اگر مقصود قادیانی کا اس عبارت سے یہ ہے کہ جلال الدین سیوطیؒ اور امام حسنؒ کے قول میں مہدی سے مراد مہدی آخر زمان ہے تو مرزا غلام احمد کا دعویٰ کرنا کہ میں مہدی آخر زمان ہوں ۔ بالکل بیہودہ اور غلط ہے اور اگر مراد اس سے یہ ہے کہ اس قدر صفات حمیدہ امام مہدی کے عمر بن عبدالعزیز میں موجود تھے کہ بوجہ مبالغہ کے اس کو مہدی کہا گیا۔ جیسا کہ یہی فی
١٠٣
الواقع کتاب کا مقصود بھی ہے تو اس کے لانے سے ہمارا کوئی نقصان اور قادیانی کا کوئی فائدہ نہیں ، تمت ۔ فقط اعلان مولوی عبدالواحد باشندہ مقام برہمن بڑیہ ضلع ٹپرہ ملک بنگال کے رسالہ ہدایۃ المہتدی کا رد ہم نے اللہ تعالیٰ کے فضل وکرم سے اس طور پر لکھا ہے کہ جس کتاب سے اسن اور اس کے پیر مرزا غلام احمد متوفی یا مولوی محمد حسن امروہی یا اور کسی قادیانی نے عیسیٰ علیہ السلام کی موت پر دلیل لائی تھی۔ ہم نے بھی اسی کتاب سے حیات عیسوی کو ثابت کر دکھایا۔ اگر ہم ایسی کتابوں کو حوالہ دیتے ہیں جو کہ ان لوگوں کے مذہب میں نہیں مانی جاتیں تو ان کو رد کرنے میں بھی اگرچہ بددیانتی اور بے ایمانی ہوتی۔ مگر تاہم ایک قسم کا عذر ان کے ہاتھ میں ہوتا۔ اب باوجودیکہ انہی کی مانی ہوئی کتابوں کو اور انہی کے پیشواؤں سے ہم نے حیات عیسیٰ علیہ السلام ثابت کر دیا تو ان کو شرعاً و عقلاً کسی طرح سے رد کرنے کی گنجائش نہیں اور ہم نے یا اور کسی عالم سنی حنفی یا اور کسی سچے مذہب والے نے جو کہ قادیانیوں کو اپنی تصنیفات میں سخت الفاظ سے پکارا ہے۔ سو یہ کوئی بری بات نہیں۔ کیونکہ قادیانیوں نے اور خود مرزا قادیانی نے علمائے دیندار کو سخت گالیاں دی ہیں اور وہ ایسے سخت الفاظ ہیں کہ ہم لوگوں کے الفاظ ان کا بدلہ بھی نہیں ہو سکتے ۔ دیکھو رسالہ تیغ غلام گیلانی کو جو کہ ہم نے ان کی گالیوں کو نقل کیا ہے۔ خاص کر حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور ان کی والدہ ماجدہ کو ایسی گالیاں دی ہیں۔ جس سے قادیانی مرزا اسلام سے خارج ہو گئے اور یادرہے کہ بعضے مسلمان مولوی مرزائی مولویوں کو ادب کے لفظ سے بولتے ہیں۔ چنانچہ مرزا قادیانی ومولوی صاحب سو یہ گناہ ہے۔ کیونکہ حدیث شریف میں وارد ہے کہ جب کسی فاسق کی مدح اور صفت کی جاتی ہے تو اللہ تعالیٰ کا عرش مجید کانپ اٹھتا ہے۔ پس مرزائیوں کو ادب کے لفظ سے یاد نہ کرنا چاہئے۔ خود اسی رسالہ ہدایۃ المہتدی کو دیکھو کہ علمائے اہل سنت وجماعت کو کیسے بے ادب لفظوں سے یاد کیا ہے۔ ص ٦ دھوکے میں ڈالتے ہیں۔ ص ٨ فیج اعوج کے کتنے علماء، ص ١٢ مخالفین سلسلہ حقہ احمدیہ بھی خواہ مولوی ہوں یا نامولوی ہوں۔ دجال کے حصہ داروں میں سے ہیں۔ دیکھو اب کل روئے زمین کے علماء وصحابہ کرام و تابعین وغیرہ کو دجال کا حصہ دار یعنی دجال اور شیطان کہہ دیا۔ ص ١٧ میں ہے۔ احمدیوں سے مباحثہ کرنے کی جرأت اب دجال کے گروہ نہیں پاتے۔ ص ٢٧ بعض دھوکا باز مخالف مولوی ص ٣٣ بد بخت لوگ نشان کو نشان تسلیم نہیں کرتے۔ ص ٣٧ ابو جہل وامثال سے اس کے دریافت کیا جاوے۔ ص ٣٨ دشمنان دین ومخالفان اسلام ص ٣٩ سادہ لوح مخالف مولوی سے ص ٤١ جن کو اللہ تعالیٰ نے اندھا بنا رکھا ہے۔
١٠٤
ہمارا کوئی نقصان اور قادیانی کا کوئی فائدہ ام برہمن بڑیہ ضلع ٹپڑہ ملک بنگال کے رسالہ اس طور پر لکھا ہے کہ جس کتاب سے اس سنہ روی یا اور کسی قادیانی نے عیسیٰ علیہ السلام کی حیات عیسوی کو ثابت کر دکھایا۔ اگر ہم ایسی یں نہیں مانی جاتیں تو ان کو رد کرنے میں بھی عذر ان کے ہاتھ میں ہوتا۔ اب باوجودیکہ ہم نے حیات عیسیٰ علیہ السلام ثابت کر دیا تو ور ہم نے یا اور کسی عالم سنی حنفی یا اور کسی سچے سخت الفاظ سے پکارا ہے۔ سو یہ کوئی بری علمائے دیندار کو سخت گالیاں دی ہیں اور وہ نہیں ہو سکتے۔ دیکھو رسالہ شیخ غلام گیلانی کو ت عیسیٰ علیہ السلام اور ان کی والدہ ماجدہ کو خارج ہو گئے اور یاد رہے کہ بعضے مسلمان ۔ چنانچہ مرزا قادیانی ومولوی صاحب سو یہ کسی فاسق کی مدح اور صفت کی جاتی ہے تو سب کے لفظ سے یاد نہ کرنا چاہئے۔ خود اسی ت کو کیسے بے ادب لفظوں سے یاد کیا ہے۔ علماء، ص١٢ مخالفین سلسلہ حقہ احمدیہ بھی خواہ میں سے ہیں۔ دیکھو اب کل روئے زمین عنی دجال اور شیطان کہہ دیا۔ ص١٧ میں کے گروہ نہیں پاتے۔ ص٢٧ بعض دھوکا باز کرتے۔ ص٣٧ ابو جہل وامثال سے اس نِ اسلام ص٣٩ سادہ لوح مخالف مولوی
اَنَا خَاتَمُ النَّبِيِّيْنَ لَا نَبِيَّ بَعْدِيْ
میں آخری نبی ہوں، میرے بعد کوئی نبی نہیں
مسلمان
قادیانیوں کو کیوں کافر سمجھتے ہیں؟
(حضرت مولانا قاضی زاہد الحسینیؒ)
مقدمہ طباعت چہارم
بسم الله الرحمن الرحيم . الحمدلله رب العالمين ، والصلوة والسلام على رسوله خاتم النبيين ، اما بعد!
اگرچہ قادیانیت کے خطرات سے مسلمانوں کو آگاہ کرنے کے لئے روز اوّل ہی سے علماء کرام اور ہمدردان ملت اسلامیہ نے چھوٹی بڑی کئی کتابیں تحریر فرمائی ہیں۔ (جن کی برکت سے بحمدہ تعالیٰ عام اہل اسلام اس فتنے سے محفوظ رہے۔ اللہ تعالیٰ آئندہ بھی سب مسلمانوں کو ہر قسم کے فتنوں سے محفوظ رکھے اور علماء کرام کو دفاع عن الدین کے فریضہ کی ادائیگی کی زیادہ سے زیادہ توفیق عطا فرمائے اور اپنی رحمت سے جزاء خیر سے نوازے۔ آمین!)
مگر پھر بھی ایک ایسی کتاب کی ضرورت محسوس ہو رہی تھی جس میں سادہ اور مختصر الفاظ میں قوی دلائل کے ساتھ اس فتنہ سے بچانے کے لئے ان دلائل کو ذکر کیا جائے جن کی وجہ سے قادیانی کافر ہیں۔ احقر نے آج سے چند سال قبل ایک مختصر مگر مدلل رسالہ بعنوان ”مسلمان قادیانیوں کو کیوں کافر سمجھتے ہیں؟“ شائع کیا تھا۔ جس سے بحمدہ تعالیٰ مسلمانوں کو بہت فائدہ پہنچا۔ اس کی افادیت اور اہل اسلام کے طلب کرنے پر دوسری بار بھی شائع کیا گیا۔ اب مسلمان بھائیوں کے شدید تقاضا کے پیش نظر تیسری بار کئی مفید اضافوں اور حوالہ جات کے ساتھ شائع کرایا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ قبول فرمادے۔ آمین!
بسم الله الرحمن الرحيم!
کلمہ طیبہ
جس میں ہر مسلمان کے لئے نبوت خاتمہ اور رسالت کاملہ پر ایمان لانا ضروری قرار دیا گیا ہے۔ ”لا اله الا الله محمد رسول الله “ ﴿ترجمہ: اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں اور حضرت محمد ﷺ اللہ تعالیٰ کے رسول (آج بھی) ہیں۔﴾
ضروری عرض
بعض لوگ کسی کافر کو کافر کہنے سے یوں کتراتے ہیں گویا کافر کو کافر کہنا ان کی شرافت کے خلاف ہے۔ حالانکہ یہ امر واقعہ ہے کہ بیمار کو بیمار ہی کہا جاتا ہے۔ مردہ کو مردہ ہی کہا جاتا ہے۔ برے کو برا ہی کہا جاتا ہے۔ بیمار کو تندرست کہنا اور مردہ کو زندہ کہنا، بروں کو نیک کہنا کسی بھی لحاظ سے درست نہیں۔ قرآن عزیز نے کافروں کو کافر، مشرکوں کو مشرک، فاسقوں کو فاسق اور منافقوں کو منافق کے ساتھ ہی تعبیر فرمایا۔
٢
اس لئے ان لوگوں کو جن کے عقائد کفریہ ہوں ان کو کافر کہنا نہ صرف مناسب ہے بلکہ بہت ہی ضروری ہے تاکہ مسلمان ان کے فریب سے محفوظ رہیں اور فتنہ کا شکار نہ ہوں۔ قرآن عزیز نے دین اسلام کے تحفظ کے لئے جو احکام صادر فرمائے ہیں ان میں نہایت تاکید کے ساتھ ایسے لوگوں سے میل جول سے منع کرتے ہوئے فرمایا: ”لا تركنوا الى الذين ظلموا فتمسكم النار وما لكم من دون الله من اولياء ثم لا تنصرون (ھود:١١٣)“ ﴿اور مت جھکو ان لوگوں کی طرف جو ظالم ہیں ورنہ تم کو آگ لگے گی اور تمہارے لئے اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی مددگار نہ ہوں گے اور پھر تمہاری مدد نہ کی جائے گی۔﴾
بعض ظالموں کی نشاندہی کرتے ہوئے خصوصی طور پر ان سے لاتعلق رہنے کا حکم فرمایا: ”وقد نزل عليكم في الكتب ان اذا سمعتم آیت الله يكفر بها ويستهزأ بها فلا تقعدوا معهم (النساء:١٤٠)“ ﴿اور اللہ تعالیٰ نے تم پر اس کتاب میں یہ بات نازل فرمائی کہ جب تم نے سنا کہ اللہ تعالیٰ کی آیتوں کا انکار کیا جارہا ہے۔ یا ان کے ساتھ ٹھٹھا کیا جارہا ہے تو ان کے ساتھ مت بیٹھو۔﴾
خداوند قدوس نے رحمت دو عالمﷺ کو حکم دیا کہ کافروں کو کافر کہیں ۔ ”قل يا ايها الكافرون “ ﴿ آپ فرما دیجئے اے کافرو!﴾
اس لئے کفار سے محبت اور ان کو کافر نہ کہنا یا کافر نہ سمجھنا از روئے قرآن عزیز مسلمانوں کے لئے خطرناک ہے۔ جس کا انجام کفر ہی ہو سکتا ہے۔ جیسا کہ متعدی امراض کے شکار بیماروں کے ساتھ اٹھنا ، بیٹھنا ، کھانا پینا صحت کے لئے سخت خطرناک ہے کہ اس سے صحت مند آدمی بھی اس موذی مرض کا شکار ہو سکتا ہے۔
ضروری نوٹ !
جب ایک مسلمان کہلانے والا اپنی زبان سے ایسے کلمات بولے جو اسلامی عقائد کے خلاف ہوں تو ان کلمات کے بولنے سے وہ کافر ہو جائے گا۔ قرآن عزیز میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ”ولقد قالوا كلمة الكفر وكفروا بعد اسلامهم (توبه:٧٤)“ ﴿بے شک انہوں نے کہی بات کفر کی اور کافر ہوگئے اپنے اسلام کے اظہار کے بعد۔﴾ یعنی جب کوئی مسلمان کہلانے والا کفر کی بات کہے تو وہ کافر ہو جائے گا مسلمان نہ رہے گا۔
مختصر حالات مرزا غلام احمد قادیانی
قادیانیت کے خلاف، اسلامی عقائد و نظریات کا اصلی منبع مرزا غلام احمد ہے۔ اس لئے
٣
مناسب معلوم ہوتا ہے کہ اس رسالہ کی مناسبت سے مرزا قادیانی کے حالات مختصر ہی ذکر کئے جائیں۔ یہ حالات مرزا قادیانی کے فرزند مرزا بشیر الدین محمود کی مرتبہ کتاب ”سیرت مسیح موعود الشركة اسلامیہ لمیٹڈ ربوہ“ سے لئے گئے ہیں۔ یہ کتاب ٨٠ صفحات پر مشتمل ہے اور ضیاء الاسلام پریس ربوہ طبع ہوئی ہے۔
صفحہ : ١...... ”احمد آخری زمانہ کا رسول۔“
صفحہ : ٢...... احمد قادیانی علیہ الصلوٰۃ والسلام (نعوذ باللہ منہ) ”احمد جو سلسلہ احمدیہ کے بانی تھے۔ آپ کا پورا نام غلام احمد تھا اور آپ قادیان کے باشندے تھے۔“
صفحہ : ٣، ٥، ٦...... ”سر لیپل گریفن کی کتاب پنجاب چیفس میں ہے، نو نہال سنگھ، شیر سنگھ اور دربار لاہور کے دور سے غلام مرتضیٰ (مرزا غلام احمد کا والد ) ہمیشہ فوجی خدمات پر مامور رہا اور ١٨٤١ء میں یہ جرنیل ونچوار کے ساتھ منڈی اور کلو کی طرف بھیجا گیا اور ١٨٤٢ء میں ایک پیادہ فوجی کا کمیدان بنا کر پشاور روانہ کیا گیا۔ ہزارہ کے مفسدے میں اس نے کارہائے نمایاں کئے اور جب ١٨٤٨ء کی بغاوت ہوئی تو یہ اپنی سرکار کا نمک حلال رہا اور اس کی طرف سے لڑا۔ اس موقع پر اس کے بھائی غلام محی الدین نے بھی اچھی خدمات کیں۔ اس خاندان نے غدر ١٨٥٧ء کے دوران میں بہت اچھی خدمات کیں۔ غلام مرتضیٰ (مرزا قادیانی کے باپ) نے بہت سے آدمی بھرتی کئے اور اس کا بیٹا غلام قادر جنرل نکلسن صاحب بہادر کی فوج میں اس وقت تھا جب کہ افسر موصوف نے تریمو گھاٹ پر ٤٦ نیٹو انفنٹری کے باغیوں کو جو سیالکوٹ سے بھاگے تھے، تہ تیغ کیا۔ جنرل نکلسن بہادر نے غلام قادر کو ایک سند دی جس میں یہ لکھا ہے کہ ١٨٥٧ء میں خاندان قادیان ضلع گورداسپور کے تمام دوسرے خاندانوں سے زیادہ نمک حلال رہا۔“
صفحہ : ٦، ٧...... ”مسٹر گریفن کی معلومات متعلق امام الزمان ”غلام احمد جو غلام مرتضیٰ کا چھوٹا بیٹا تھا۔......عربی، فارسی اور اردو کی بہت سی کتابوں کا مصنف تھا۔ جس میں اس نے جہاد کے مسئلہ کی تردید کی۔“
صفحہ : ١٤...... ”والد صاحب کے مشورہ سے آپ سیالکوٹ بحصول ملازمت تشریف لے گئے اور وہاں ڈپٹی کمشنر صاحب کے دفتر میں ملازم ہو گئے۔“
صفحہ : ١٦...... ”قریباً چار سال آپ سیالکوٹ میں ملازم رہے۔ لیکن نہایت کراہت کے ساتھ آخر والد صاحب کے لکھنے پر فوراً استعفاء دے کر واپس آگئے۔“
٤
صفحہ : ٢١...... ”آپ کی عمر چالیس تھی جبکـ گو ان کی بیماری چنداں خوفناک نہ تھی۔ لیکن حضرت آ الطارق وما الطارق...... یہ پہلا الہام تھا جو آپ کو آپ صفحہ : ٢٢...... ”یہ دوسرا الہام ہوا۔ الیس ہندو کھتری ملاوا مل نام کو جو ساکن قادیان ہے اور ابھی اس کو سنایا۔“
صفحہ : ٥٧...... ”١٩٠١ء میں مردم شماری میں آپ نے اپنی جماعت کے نام ایک اعلان شائع شماری میں اپنے آپ کو احمدی مسلمان لکھوائیں۔ گویا نام سے مخصوص کر کے دوسرے مسلمانوں سے ممتاز کر
صفحہ : ٥٩...... ”اس سال حضرت مسیح دمشق کے مشرق کی جانب ایک سفید منارہ پر اترے گا بھی پوری ہو جائے۔“
صفحہ : ٦٠...... ”١٩٠٢ء کے آخر میں جـ قاضی مظہر حسین صاحب کے والد ماجد مولانا کرم مقدمہ کیا۔“
صفحہ : ٦١...... ”اس سال جماعت احمـ میں اس جماعت کے برگزیدہ ممبر کو صرف مذہبی مخالـ
صفحہ : ٦١...... ”اسی (مولانا کرم دین عرفی کی نالش کر دی۔“
صفحہ : ٦٣...... ”آخر ایک لمبے مقد سیشن جج صاحب امرتسر مسٹر ہیری کی عدالت میں
صفحہ : ٦٣...... ”اور انہوں نے دو دیا اور اس طرح دوسری دفعہ ایک یورپین حاکم حکومت ان ہی لوگوں کے ہاتھ میں دیتا ہے جن
صفحہ : ٧١...... ”دسمبر ١٩٠٥ء میں آ
صفحہ: ٢١...... ”آپ کی عمر چالیس تھی جب کہ آپ کے والد ایک دفعہ بیمار ہوئے اور گو ان کی بیماری چنداں خوفناک نہ تھی۔ لیکن حضرت مسیح موعود کو اللہ تعالیٰ نے بذریعہ الہام بتایا کہ الطارق وما الطارق....... یہ پہلا الہام تھا جو آپ کو آپ کے والد کی وفات کی خبر دی گئی۔“
صفحہ: ٢٢...... ”یہ دوسرا الہام ہوا۔ الیس بکاف عبدہ..... تب میں نے ایک ہندو کھتری ملاوامل نام کو جو ساکن قادیان ہے اور ابھی تک زندہ ہے وہ الہام لکھ کر دیا اور سارا قصہ اس کو سنایا۔“
صفحہ: ٥٧...... ”١٩٠١ء میں مردم شماری ہونے والی تھی۔ اس لئے ١٩٠١ء کے اواخر میں آپ نے اپنی جماعت کے نام ایک اعلان شائع کیا کہ ہماری جماعت کے لوگ کاغذات مردم شماری میں اپنے آپ کو احمدی مسلمان لکھوائیں۔ گویا اس سال آپ نے اپنی جماعت کو احمدی کے نام سے مخصوص کر کے دوسرے مسلمانوں سے ممتاز کر دیا۔“
صفحہ: ٥٩...... ”اس سال حضرت مسیح موعود نے بعض پیش گوئیوں کی بناء پر کہ مسیح دمشق کے مشرق کی جانب ایک سفید منارہ پر اترے گا۔ ایک منارہ کی بنیاد رکھی تاکہ وہ پیش گوئی لفظاً بھی پوری ہو جائے۔“
صفحہ: ٦٠...... ”١٩٠٢ء کے آخر میں حضرت مسیح موعود پر ایک شخص کرم دین (جناب قاضی مظہر حسین صاحب کے والد ماجد مولانا کرم دین صاحب مرحوم) نے ازالہ حیثیت عرفی کا مقدمہ کیا۔“
صفحہ: ٦١...... ”اس سال جماعت احمدیہ کے لئے ایک دردناک حادثہ پیش آیا۔ کابل میں اس جماعت کے برگزیدہ ممبر کو صرف مذہبی مخالفت کی وجہ سے سنگسار کیا گیا۔“
صفحہ: ٦١...... ”اسی (مولانا کرم دین) نے پھر گورداسپور میں آپ پر ازالہ حیثیت عرفی کی نالش کر دی۔“
صفحہ: ٦٣...... ”آخر ایک لمبے مقدمے کے بعد آپ پر دو سو روپے جرمانہ کیا۔ اس پر سیشن جج صاحب امرتسر مسٹر ہیری کی عدالت میں جو ایک یورپین تھے اس فیصلہ کی نگرانی کی گئی۔“
صفحہ: ٦٣...... ”اور انہوں نے دو گھنٹے کے اندر آپ کو بری کر دیا اور جرمانہ معاف کر دیا اور اس طرح دوسری دفعہ ایک یورپین حاکم نے اپنے عمل سے ثابت کر دیا کہ خدائے تعالیٰ حکومت ان ہی لوگوں کے ہاتھ میں دیتا ہے جن کو وہ اس کے قابل سمجھتا ہے۔“
صفحہ: ٧١...... ”دسمبر ١٩٠٥ء میں آپ کو الہام ہوا کہ آپ کی وفات قریب ہے۔ جس پر
٥
آپ نے ایک رسالہ الوصیت لکھ کر اپنی جماعت میں شائع کر دیا اور اس میں جماعت کو اپنی وفات کے قریب کی خبر دی اور ان کو تسلی دی اور الہام الہی کے ماتحت ایک مقبرہ بنائے جانے کا اعلان فرمایا اور اس میں دفن ہونے والوں کے لئے یہ شرط مقرر کی کہ وہ اپنی تمام جائیداد کا دسواں حصہ اشاعت اسلام کے لئے دیں اور تحریر فرمایا کہ مجھے اللہ تعالیٰ نے بشارت دی ہے کہ اس مقبرہ میں وہی دفن ہوسکیں گے جو جنتی ہوں گے۔ جماعت کی حفاظت اور اس کو سنبھالنے کے لئے خدائے تعالیٰ میری وفات کے بعد اس طرح انتظام کرے گا جس طرح کہ پہلے نبیوں کے بعد کرتا رہا ہے۔“
صفحہ :٧٢..... ”١٩٠٧ء میں پنجاب میں کچھ ایجی ٹیشن پیدا ہو گیا۔ اس پر آپ نے اپنی جماعت کو گورنمنٹ کا ہر طرح وفادار رہنے کی تاکید فرمائی اور مختلف جگہ پر آپ کی جماعت نے اس شورش کے فرو کرنے میں بغیر کسی لالچ کے خدمت کی۔“
صفحہ :٧٣، ٧٤...... ”سرولسن کی ملاقات اور مسلم لیگ کی پیش گوئی کے متعلق ٣١؍ مارچ ١٩٠٨ء میں سرولسن صاحب بہادر فنانشل کمشنر صوبہ پنجاب قادیان تشریف لائے۔ چونکہ یہ پہلا موقعہ تھا کہ پنجاب کا ایک ایسا معزز اعلیٰ عہدیدار قادیان آیا۔ آپ نے تمام جماعت کو ان کے استقبال کرنے کا حکم دیا اور آپ نے اپنی سکول گراؤنڈ میں ان کا خیمہ لگوایا اور ان کی دعوت بھی کی۔ چونکہ آپ کی نسبت آپ کے (دنیاوی) مخالفین نے مشہور کر رکھا تھا کہ آپ درپردہ گورنمنٹ کے مخالف ہیں۔ کیونکہ افسران بالا سے باوجود اپنے قدیم خاندانی تعلقات کے کبھی نہیں ملتے۔ آپ نے عملی طور پر اس اعتراض کو دور کر دیا اور فنانشل کمشنر صاحب سے ملاقات کے لئے خود بھی تشریف لے گئے۔ میں اس وقت آپ کے ساتھ سات آٹھ آدمی آپ کی جماعت کے بھی تھے.......... صاحب ممدوح نے نہایت ہی تکریم کے ساتھ اپنے خیمہ کے دروازہ پر حضرت مسیح موعود کو ریسیو کیا اور آپ سے مختلف امور آپ کے سلسلہ کے متعلق دریافت کرتے رہے۔ لیکن اس تمام گفتگو میں ایک بات خاص طور پر قابل ذکر ہے کہ ان دنوں میں مسلم لیگ نئی نئی قائم ہوئی تھی اور حکام انگریزی اس کی کانسٹی ٹیوشن پر ایسے خوش تھے کہ ان کے خیال میں کانگریس کے نقائص دور کرنے میں ایک زبردست آلہ ثابت ہوگی اور بعض حکام رؤسا کو اشارۃً اس میں شامل ہونے کی تحریک بھی کرتے تھے۔ فنانشل کمشنر بہادر صاحب نے بھی برسبیل تذکرہ آپ سے مسلم لیگ کا ذکر کیا اور اس کی نسبت آپ کی رائے دریافت کی۔ آپ نے فرمایا: میں اسے پسند نہیں کرتا۔ فنانشل کمشنر نے اس کی خوبی کا اقرار کیا۔ آپ نے فرمایا یہ راہ خطرناک ہے۔ انہوں نے کہا کہ آپ اسے کانگریس پر قیاس نہ کریں۔ اس کا قیام تو ایسے رنگ میں ہوا تھا کہ اس کا اپنے مطالبات میں
٦
حد سے بڑھ جانا شروع سے ہی نظر آتا ہے۔ لیکن مسلم لیگ کی بنیاد ایسے لوگوں کے ہاتھوں اور ایسے قوانین کے ذریعے پڑی ہے کہ یہ کبھی کانگریس کا رنگ اختیار کر ہی نہیں سکتی۔ اس پر آپ کے ایک مرید کمال الدین نے جو ووکنگ مشن کے بانی اور رسالہ مسلم انڈیا کے مالک ہیں۔ سرولسن کی تائید کی اور کہا کہ میں بھی اس کا ممبر ہوں۔ اس کے ایسے قواعد بنائے گئے ہیں کہ اس کے گمراہ ہونے کا خطرہ نہیں۔ مگر دونوں کے جواب میں حضرت مسیح موعود نے فرمایا کہ مجھے تو اس سے بو آتی ہے کہ ایک دن یہ بھی کانگریس کا رنگ اختیار کرے گی۔“
صفحہ :٧٥...... ”اسی سال (١٩٠٨ء) ٢٦؍اپریل بوجہ والدہ صاحبہ کی بیماری کے آپ کو لاہور جانا پڑا۔“
صفحہ :٧٦...... ”چونکہ رؤسا ہند بلکہ یوں کہنا چاہئے کہ ساری دنیا کے رؤسا دین سے نسبتاً غافل ہوتے ہیں۔ اس لئے آپ نے ان کو سمجھانے کے لئے یہ تجویز فرمائی کہ لاہور کے ایک غیر احمدی رئیس کی طرف سے جو آپ کا بہت معتقد تھا رؤسا کو دعوت دی اور دعوت طعام سے کچھ (قبل) تقریر فرمائی۔ اس تقریر کی نسبت لوگوں میں مشہور ہوگیا کہ آپ نے اپنا دعویٰ نبوت واپس لے لیا۔ لاہور کے اردو روزنامہ اخبار عام نے بھی یہ خبر شائع کردی۔ اس پر آپ نے اسی وقت تردید فرمائی اور لکھا کہ ہمیں دعوائے نبوت ہے اور ہم نے اسے کبھی واپس نہیں لیا۔“
صفحہ :٧٥...... ”آپ کو ہمیشہ دستوں کی شکایت رہتی تھی۔ (اور یہ بہت پرانی تھی) جیسا کہ مئی ١٨٩٣ء کے اواخر میں امرتسر گئے اور وہاں بقول عرفانی: ”آپ کو اسہال کی شکایت تھی۔ آخری دن تو بہت ہی زیادہ اسہال آئے تھے۔ اسی مقصد کے لئے مجھے اور میاں الدین صاحب کو اس مکان میں اندر جانا پڑا تو آپ ایک چٹائی پر لیٹے ہوئے تھے اور وہ اتنی چوڑی تھی کہ آپ کا نیچے کا جسم گھٹنوں تک زمین پر تھا۔“
(سیرت مسیح موعود از عرفانی حصہ سوم ص ٣٨٤)
”رات کو آپ کو دست آیا اور سخت ضعف ہوگیا۔ اس کے بعد ایک اور دست آیا اس سے بہت ہی ضعف ہوگیا۔ جب صبح کا وقت ہوا اٹھے اور اٹھ کر نماز پڑھی، گلہ بالکل بیٹھ گیا کچھ فرمانا چاہا لیکن بول نہ سکے۔ اس پر قلم دوات طلب فرمائی لیکن لکھ بھی نہ سکے۔ قلم ہاتھ سے چھوٹ گئی۔ اس کے بعد لیٹ گئے۔“
صفحہ :٨٠...... ”ساڑھے دس بجے آپ فوت ہوئے......... اور شام کی گاڑی سے۔......... اس کے بعد خلیفہ وقت نے آپ کا جنازہ پڑھا اور دوپہر کے بعد آپ دفن کئے گئے۔“
٧
بعض مقامات کی تشریح
مندرجہ بالا تحریر میں چند ایسے مقامات بھی ہیں جن کی تشریح ضروری ہے۔ انگریز کا نمک حلال خاندان، اسی نمک حلالی کی وجہ سے سب قادیانیوں کو (خاص مقصد کے لئے) بڑی عمدگی اور حفاظت کے ساتھ پاکستان پہنچایا گیا یعنی ”جہاں اور لوگ لاکھوں کی تعداد میں لوٹے گئے اور مارے گئے وہاں احمدی جماعت کے اکثر افراد حضور کی راہنمائی میں بڑی عمدگی اور حفاظت کے ساتھ ایک خاص انتظام کے ماتحت پاکستان پہنچ گئے۔“
(تاریخ احمدیت مطبوعہ ربوہ ص ١٠٠)
اسی نمک حلالی کا اجر اور انعام، عیسائی حکومت نے یوں دیا کہ یہاں سے جاتے جاتے بھی اسلام کے خلاف ان کے لئے ربوہ کے نام سے ایک قلعہ تعمیر کرگئے۔ جس کا مختصر سا حال درج کیا جاتا ہے:
”پنجاب کے آخری انگریز عیسائی گورنر سر فرانس موڈی نے قادیانیوں کو ١٠٣٤ء١ ایکڑ زمین غالباً ڈیڑھ آنہ فی ایکڑ کے حساب سے دے دی۔ جس میں قائد اعظم کی وفات کے صرف نو دن بعد ٢٠ ستمبر ١٩٤٨ء ربوہ کا سنگ بنیاد رکھا گیا اور ١٤ ستمبر ١٩٤٩ء تک ڈاک خانہ، تار گھر اور ریلوے اسٹیشن بنا دیا گیا۔“
(ہفت روزہ لیل ونہار ٢٢؍ جون ١٩٦٤ء ص ١١)
سید دو عالم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے کہ دمشق کے مینارہ سے ان کا نزول ہوگا۔ مرزا قادیانی نے یہاں بھی دجل اور فریب سے کام لیتے ہوئے قادیان میں ایک مینارہ بنا دیا۔ یعنی مسیح تو پہلے آ گیا مگر مینارہ بعد میں مسیح نے آ کر بنایا۔ جیسا کہ استنجاء تو پہلے کرلے اور پیشاب بعد میں کرے۔
٣...... افغانستان کے صوبہ خوست کے رہنے والا عبداللطیف نامی بدقسمتی سے قادیانی ہو گیا تھا۔ جب امیر حبیب اللہ خان مرحوم کو اس کا علم ہوا تو انہوں نے علماء کرام سے اس کے متعلق فتویٰ پوچھا۔ علماء کرام نے با اتفاق اسے کافر اور مرتد قرار دیا۔ چنانچہ ١٤؍ جولائی ١٩٠٣ء کو اسے سنگسار کر دیا گیا۔
اسی طرح امیر امان اللہ خان کے دور حکومت میں قادیانیوں نے پھر ایک بد نصیب نعمت اللہ کو قادیانی کرلیا۔ مگر امان اللہ مرحوم نے اسے مرتد قرار دے کر ٣١؍ اگست ١٩٢٤ء کو بعد از نماز ظہر اتوار کے دن شیر پور چھاؤنی (کابل) میں ہزاروں مسلمانوں کے سامنے سنگسار کردیا۔ اس طرح بحمدہ تعالیٰ افغانستان قادیانیت کے فتنہ سے محفوظ رہا۔ اسی زمانہ میں شیخ الاسلام مولانا شبیر احمد عثمانیؒ نے قتل مرتد کے متعلق ایک مدلل کتاب بنام ”الشہاب لرجم الخاطف المرتاب“
لکھی جو کئی بار طبع ہو چکی ہے۔ جزاہم اللہ خیر الجزاء! (نوٹ : یہ کتاب بھی احتساب قادیانیت کی سابقہ جلدوں میں شائع ہو چکی ہے۔ فالحمد اللہ ۔ مرتب)
٤...... خواجہ کمال الدین کی حیثیت قادیانیوں کے ہاں کیا تھی؟ عرفانی نے سیرت مسیح موعود ج ٣ ص ٣٢٢ میں یہ لکھا ہے کہ:
’’خواجہ کمال الدین حضرت مسیح موعود کی نوازشوں اور کرم فرمائیوں اور جود وعطاء کے بہت بڑے تجربہ کار ہیں۔ بیش قرار رقوم انہوں نے لیں اور باوجود لینے کے کبھی اقرار نہیں کیا اور اپنی خدمات کی ڈینگ مارتے رہے۔ ایک دفعہ دوران مقدمہ انہوں نے حضرت کو خط دکھایا جو انہیں اپنے گھر پشاور سے آیا تھا۔ (خط کیوں لکھا گیا، ایک راز ہے۔ عرفانی ) اس میں خرچ کی تنگی کا ذکر تھا۔ حضرت نے فوراً پانچ سو روپے نقد ان کو دے دیئے اور پھر ماہانہ ایک سو روپیہ ماہوار دیتے رہے۔ ایک قیمتی کوٹ جو افغانی طرز کا تھا خواجہ صاحب نے یہ کہہ کر مانگ لیا کہ حضور یہ کوٹ مجھے عنایت کر دیں کہ میں پہن کر عدالت میں داخل ہوا کروں اور اس کی برکت سے فریق مخالف کے وکیل اور عدالت پر میرا رعب رہے۔ حضور نے ہنس کر یہ کامدار قیمتی چغہ خواجہ صاحب کو دے دیا۔‘‘
نوٹ از مرتب نمبر ١: وہ راز یہ ہوگا کہ خواجہ کمال الدین نے اپنے نبی سے روپیہ حاصل کرنے کے لئے یہ ڈھونگ رچایا ہوگا۔
نمبر ٢: مرزا قادیانی کی ہنسی اسی وجہ سے ہوگی کہ یہ وکیل نہ میری برکت کا قائل ہے اور نہ چغے کی برکت کا۔ صرف قیمتی چغہ حاصل کرنے کے لئے دھوکہ دے رہا ہے۔
نوٹ! یہ وہ کمال الدین ہے جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یورپ اور انگلستان میں اس نے بہت کام کیا ہے۔ اگر تحقیق کی جائے تو سارا کھیل صرف دولت کمانے کے لئے رچایا گیا ہے۔
٥...... وجہ یہ تھی کہ انجام کار مسلم لیگ بھی انگریزوں کے خلاف ہو جائے گی۔ اس لئے کہ ہر مسلمان انگریز کے خلاف تھا۔ جنگ خواہ سیاسی ہی کیوں نہ ہو اس میں مختلف تدابیر اختیار کی جاتی ہیں۔ اس لئے مسلم لیگ نے بھی کچھ تدابیر اختیار کیں اور آخر کار انگریزی حکومت کی پوری مخالف ہوگئی۔ یہی خطرہ اس نمک حلال قادیانی خاندان کو تھا۔
خلاصہ حیات مرزا قادیانی
- ١...... مسلمانوں سے غصب کرنے والی ظالم ترین عیسائی حکومت کا خاندانی نمک حلال۔
- ٢...... غلام احمد سے احمد۔
٩
- ٣...... جہاد کی تردید۔
- ٤...... ہندو کھتری کو الہام کا قصہ سنانا اور مشرک کو لکھ کر دیا۔
- ٥...... اپنی جماعت کو مسلمانوں سے علیحدہ کرنا۔
- ٦...... انگریزوں کی حکومت کو منجانب اللہ ظل سمجھنا۔
- ٧...... بہشتی مقبرہ کی بنیاد۔
- ٨...... انگریزوں سے آزادی حاصل کرنے والی ہر تحریک کو خطرناک کہنا۔
- ٩...... موت تک دعویٰ نبوت پر قائم رہنا۔
- ١٠...... اسہال کی بیماری سے مرنا۔
- ١١...... آخر وقت کلمہ نہ پڑھ سکنا اور بول نہ سکنا۔
مسلمان قادیانیوں کو اس لئے کافر سمجھتے ہیں کہ:
- ١...... مرزا قادیانی نے خداوند تعالیٰ کی ایسی گستاخی کی ہے کہ ایسی کسی نے نہیں
کی۔ اس نے لکھا ہے کہ: ”اما مقامی فاعلموا ان خالقی یحمدنی من عرشه ويوقر“ (اور میرا مقام یہ ہے کہ میرا خدا عرش پر سے میری تعریف کرتا ہے اور عزت دیتا ہے)
(اعجاز احمدی ص ٦٩، خزائن ج ١٩ ص ١٨١)
”يحمدك الله من عرشه“
(اربعین ص ٢٤، خزائن ج ١٧ ص ٤١١)
”يحمدك الله ويمشى اليك“
(تذکرہ ص ٧٩)
ترجمہ: اللہ تیری حمد کرتا ہے اپنے عرش سے۔ اللہ تیری حمد کرتا ہے اور تیری طرف چل کر آتا ہے۔ ”يحمدك الله من عرشه ، يحمدك الله ويمشى اليك“ (ترجمہ از مرزا: خدا عرش پر سے تیری تعریف کرتا ہے، خدا تیری تعریف کرتا ہے اور تیری طرف چلا آتا ہے۔)
(انجام آتھم ص ٥٥، خزائن ج ١١ ص ایضاً)
حالانکہ اسلام اور تمام سماوی ادیان کا یہ عقیدہ ہے کہ حمد و ثناء کا حقیقی مستحق صرف اللہ تعالیٰ ہی ہے۔ نبی کریم ﷺ کی تعریف کو بھی نعت کہا جاتا ہے۔ حمد صرف اللہ تعالیٰ ہی کا خصوصی حق ہے۔ چنانچہ قرآن عزیز کی پہلی سورہ فاتحہ کی پہلی آیت ”الحمد لله رب العلمين“ ہے جس کو ہر مسلمان اپنی ہر نماز میں پڑھ کر اس بنیادی عقیدہ کا اعلان کرتا ہے کہ حمد صرف اللہ تعالیٰ ہی کی ہے جو تمام جہانوں کو پالنے والا ہے۔ اسی عقیدہ کو نماز میں رکوع سے کھڑے ہو کر پھر دہرایا جاتا ہے۔ ”ربنا لك الحمد“ اے ہمارے پالنے والے حمد تیرے ہی لئے ہے۔ قیامت کے دن
١٠
اہل جنت بھی اسی کا اقرار کرتے ہوئے کہیں گے۔ ”الحمد لله رب العالمین (یونس:١٠)“ ﴿حمد اللہ تعالیٰ ہی کے لئے ہے جو رب العلمین ہے۔﴾
اسی طرح سورہ (الروم:١٨) میں فرمایا: ”وله الحمد فی السمٰوٰت والارض“ ﴿اور اسی اللہ تعالیٰ کی حمد ہے آسمانوں میں اور زمین میں۔﴾ اس آیت میں حصر کردیا کہ حمد صرف اسی اللہ تعالیٰ کی ہے۔
سورہ (الجاثیہ:٣٦) میں فرمایا: ”فللله الحمد رب السمٰوٰت والارض رب العالمین“ ﴿پس اللہ تعالیٰ ہی کے لئے حمد ہے۔ جو آسمانوں اور زمین کا رب ہے۔ سارے جہانوں کا رب ہے۔﴾
سید دو عالم ﷺ کو ارشاد فرمایا کہ آپ بھی یہ اعلان فرمادیں کہ: ”قل الحمد لله وسلام علٰی عبادہ الذین اصطفٰی (النمل:٥٩)“ ﴿آپ فرمادیجئے ہر قسم کی حمد صرف اللہ تعالیٰ ہی کے لئے ہے اور سلام ہو اللہ تعالیٰ کے ان بندوں پر جن کو اللہ تعالیٰ نے چن لیا ہے۔﴾
مندرجہ بالا چند آیات میں یہ فوائد ہیں کہ:
- الف...... حمد صرف اللہ تعالیٰ ہی کے لئے ہے۔
- ب...... وہی تمام کائنات کا رب ہے۔ اس لئے حمد کا مستحق بھی وہی اللہ تعالیٰ ہے۔
- ج...... حمد کا کلمہ ان پاکیزہ بندوں کے لئے بھی نہ بولا جائے گا۔ جن کو خود اللہ تعالیٰ نے چن کر
نبی اور رسول بنایا۔ بلکہ ان پر سلام کہا جائے گا۔ موسٰی علیہ السلام عیسیٰ علیہ السلام۔
- د...... اس آخری آیت میں اصطفٰی کا کلمہ ارشاد فرمایا جو کہ فعل ماضی ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ نے
جن کو اپنا نبی بنانا تھا بنالیا ہے۔ اب آئندہ کسی کو نبی نہ بنائے گا۔
- ٢...... مرزا قادیانی نے لکھا ہے کہ: ”اور خداوند وہیں کھڑا ہوتا ہے جہاں تو کھڑا
ہو۔“
(تذکرہ ص٢٩١)
اس عبارت میں ایک تو خداوند قدوس کا جسم ثابت کیا ہے۔ کھڑا ہونا تو یہ بدن کا عمل ہے اور پھر اس میں اللہ تعالیٰ سے اپنے آپ کو اعلیٰ بتایا ہے کہ جہاں مرزا کھڑا ہوتا ہے وہاں اللہ تعالیٰ بھی کھڑا ہوتا ہے۔
مسلمان، قادیانیوں کو اس لئے بھی کافر سمجھتے ہیں کہ:
- ٢...... مرزا قادیانی نے سب انبیاء علیہم السلام سے اپنے آپ کو اعلیٰ اور برتر کہا
اور ان کے نام لے لے کر اپنی برتری کا اعلان کیا ہے۔ جیسا کہ (اعجاز احمدی ص٦٩، خزائن ج١٩
١١
ص ١٨١) میں لکھا ہے کہ: ”تکدر ماء السابقین وعیننا ، الی آخر الایام لا تتکدر“ (ترجمہ از مرزا: پہلوں کا پانی مکدر ہوگیا اور ہمارا پانی آخر زمانہ تک مکدر نہ ہوگا۔) یعنی انبیاء سابقین علیہم السلام جو اللہ تعالیٰ کے سچے نبی تھے ان کا پانی تو مکدر (گدلا) ہوگیا۔ مگر مرزا کا پانی قیامت تک گدلا نہ ہوگا۔ (نعوذ باللہ)
مرزا قادیانی نے کہا ہے؎
نیز ابراہیم ہوں نسلیں ہیں میری بے شمار
(براہین احمدیہ پنجم ص ١٠٣، خزائن ج ٢١ ص ١٣٣)
مرزا قادیانی نے کہا ہے کہ: ”آسمان سے کئی تخت اترے۔ مگر سب سے اونچا میرا تخت بچھایا گیا۔“
(تذکرہ ص ٣٤٩)
مرزا قادیانی نے کہا ہے کہ: ”خداوند تعالیٰ نے اس بات کے ثابت کرنے کے لئے کہ میں اس کی طرف سے ہوں۔ اس قدر نشان دکھلائے ہیں کہ اگر وہ ہزار نبی پر بھی تقسیم کئے جائیں تو ان کی بھی ان سے نبوت ثابت ہوسکتی ہے۔“
(چشمہ معرفت ص ٣١٧، خزائن ج ٢٣ ص ٣٣٢)
مرزا قادیانی نے اپنے ایک بیٹے مرزا بشیر احمد کا نام ”قمر الانبیاء“ رکھا۔ جس کا ترجمہ ”نبیوں کا چاند“ ہے اور اسی نام کے ساتھ بشیر احمد کی سوانح حیات اتالیق منزل ربوہ نے ١٩٦٤ء میں شائع کی ہے۔ مرزا قادیانی کو اس کی بیوہ نے نبیوں کا چاند کہا۔ جیسا کہ سیرت مسیح موعود میں عرفانی نے لکھا ہے کہ: ”جب حضرت مسیح موعود کا جسد مبارک لاہور سے لاکر باغ میں رکھا ہوا تھا، خاکسار عرفانی بعض دوسرے دوستوں کے ساتھ جنازہ کی حفاظت پر مامور تھا۔“ حضرات ام المومنین تشریف لائیں اور فرمایا: ”تو نبیوں کا چاند تھا۔ تیرے ذریعہ میرے گھر میں فرشتے اترتے تھے اور خدا کلام کرتا تھا۔“
(ص ٣٥)
- ٣...... مسلمان قادیانیوں کو اس لئے کافر سمجھتے ہیں کہ: مرزا غلام احمد قادیانی نے
سید دو عالم ﷺ کی جس قدر توہین کی ہے اتنی کسی کافر نے بھی نہیں کی۔ اس بے ادبی اور توہین کے بیان کے لئے تو دفاتر درکار ہیں۔ مگر یہاں صرف چند امور ذکر کئے جاتے ہیں۔
- ٤...... ختم نبوت کا وہ باب عظیم جو چودہ سو سال سے بند تھا اور اب بھی بند ہے۔
اس ڈاکو نے اسے توڑنے کے لئے بڑا زور لگایا اور اعلان کیا کہ وہ نبی ہے اور انبیاء سابقین علیہم السلام کی طرح نبی ہے۔
سب سے بڑی جرأت اور گستاخی اور سب سے بڑا کفر یہ کیا ہے کہ جو آیات خداوند قدوس نے قرآن عزیز میں سید دو عالم ﷺ کی رسالت کے لئے نازل فرمائی ہیں ان کو اپنے ناپاک بدن پر پیوست کرنے کی مذموم کوشش کی ہے۔ حتی کہ اس سارق نے وہ مبارک نام بھی اپنے لئے بتائے ہیں۔ جو صرف سید دو عالم ﷺ کے ساتھ مخصوص ہیں۔ جیسا کہ سورۃ (الفتح:٢٨) میں ارشاد ہے ۔ ”ھوالذی ارسل رسولہ بالہدی ودین الحق“ ﴿ اللہ تعالیٰ نے اپنا رسول ہدایت اور دین حق دے کر بھیجا۔ ﴾ مگر مرزا قادیانی نے کہا ہے کہ مجھے بتایا گیا تھا کہ تیری خبر قرآن اور حدیث میں موجود ہے اور تو ہی اس آیت کا مصداق ہے کہ: ”ھوالذی ارسل رسولہ بالہدی ودین الحق“
(اعجاز احمدی ص ٧، خزائن ج ١٩ ص ١١٣)
اس سے بڑا کفر اور کون سا ہوسکتا ہے کہ اس آیت کو صرف اپنے لئے خاص کیا ہے۔ جیسا کہ تو ہی کے کلمہ سے ظاہر ہے۔ اسی سورۃ (الفتح:٢٩) میں ارشاد فرمایا: ”محمد رسول اللہ“ ﴿محمد (ﷺ) اللہ تعالیٰ کے رسول ہیں۔ ﴾
مگر مرزا قادیانی یہ کہتا ہے کہ: ”اس وحی الٰہی میں میرا نام محمد رکھا گیا ہے اور رسول بھی۔“
(ایک غلطی کا ازالہ ص ٣، خزائن ج ١٨ ص ٢٠٧)
تنبیہہ: جن مسلمانوں کو رواداری کا ہیضہ ہے وہ یہ کہہ دیتے ہیں کہ قادیانی کم از کم کلمہ تو وہی پڑھتے ہیں جو ہم پڑھتے ہیں۔ ان کو غور کرنا چاہئے کہ جب قادیانی، مرزا قادیانی کو محمد رسول اللہ مانتے ہیں تو اب ان کا کلمہ، اسلام کا کلمہ کیسے ہوا؟
- ٢....... قرآن عزیز نے سورہ (انبیاء: ١٠٧) میں ارشاد فرمایا: ”وما ارسلناک الا
رحمۃ للعالمین“ ﴿اور ہم نے نہیں بھیجا آپ کو مگر رحمت تمام جہانوں کیلئے۔ ﴾ مرزا قادیانی اپنے لئے کہتا ہے۔ ”وما ارسلنک الا رحمۃ للعلمین“ اور میں نے تجھے اس لئے بھیجا ہے کہ تا سب لوگوں کے لئے رحمت کا سامان پیش کروں۔
(تذکرہ ص ٨١)
- ٣....... قرآن عزیز نے سید دو عالم ﷺ کو سب سے آخری نبی قرار دیتے ہوئے
(احزاب: ٤٠) میں فرمایا: ”ماکان محمد ابا احد من رجالکم ولکن رسول اللہ وخاتم النبیین وکان اللہ بکل شئ علیماً“ ﴿محمد ﷺ تمہارے مردوں میں سے کسی کے باپ نہ تھے۔ بلکہ اللہ تعالیٰ کے رسول اور سب نبیوں پر مہر تھے اور اللہ تعالیٰ ہر چیز کو بخوبی جانتا ہے۔ ﴾
اس آیت میں ارشاد فرمایا کہ:
- الف...... محمد ﷺ کسی مرد کے باپ نہیں۔
١٣
- ب ..... آپ اللہ تعالیٰ کے رسول ہیں۔
- ج ..... آپ سب نبیوں پر مہر ہیں۔ (نبوت کا دروازہ بند کر دیا گیا ہے)
- د ...... اللہ تعالیٰ ہر چیز کو جانتا ہے۔ اس لئے کوئی یہ شک نہ کرے کہ آپ ہی کو کیوں خاتم
الانبیاء بنایا گیا۔ آپ سے پہلے یہ درجہ اور اعزاز کسی دوسرے نبی علیہ السلام کو کیوں نہ دیا گیا۔
ختم نبوت کی واضح مثال دیتے ہوئے سید دو عالم ﷺ نے فرمایا: ”میری مثال اور مجھ سے پہلے انبیاء علیہم السلام کی مثال اس خوبصورت محل کی طرح ہے جسے شاندار طریقہ پر تعمیر کیا گیا۔ مگر اس میں صرف ایک اینٹ کی جگہ چھوڑ دی گئی ہو۔ پس دیکھنے والے اس کے ارد گرد پھر کر اس شاندار عمارت کو بہت ہی پسند کرتے ہوں۔ مگر اس ایک اینٹ کی جگہ خالی دیکھتے ہوں۔ پس وہ آخری اینٹ میں ہوں اور میرے آنے پر وہ عمارت مکمل ہوگئی۔“ (بخاری ج ١ ص ٥٠١، باب خاتم النبیین، مسلم ج ٢ ص ٢٤٨، باب ذکر کونه (ﷺ) خاتم النبیین، مشکوۃ ص ٥١١، باب فضائل سید المرسلین ﷺ)
سید دو عالم ﷺ کے جسد اطہر کو غسل دیتے ہوئے حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے یہ فرما کر ہر قسم کی آسمانی خبر کے ختم ہونے کا اعلان فرمایا۔ آپ نے فرمایا: ”بابی وامی لقد انقطع بمو تك مالم ينقطع بموت غيرك من النبوة والانباء واخبار السماء (نهج البلاغة مترجم ص ١٣٠٤) ﴿ میرا باپ اور میری ماں آپ پر قربان ہوں۔ جناب کی موت سے وہ سلسلہ بند ہو گیا۔ جو اس سے پہلے کسی نبی کی موت سے بند نہ ہوا تھا۔ نبوت، اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے خبر دینی اور آسمان سے خبر آنی بند ہوگئی۔﴾
مگر مرزا قادیانی نے کہا ہے: ”فاراد الله ان يتم النبأ و يكمل البناء باللبنة الاخرة فانا تلك اللبنة ايها الناظرون “ (پس خدا نے چاہا کہ اس عمارت میں وہ آخری اینٹ لگا کر اس کو مکمل کر دے۔ پس اے دیکھنے والو وہ آخری اینٹ میں ہوں۔)
(خطبہ الہامیہ ص ١٧٨، خزائن ج ١٦ ص ایضاً)
اسی طرح اس گستاخ اور شقی مرزا قادیانی نے صرف ختم نبوت کو توڑنے کی مذموم کوشش نہیں کی بلکہ قادیانیوں نے نبوت کا دروازہ کھول دیا ہے۔ جیسا کہ قادیانیوں نے قرآن مجید کی سورہ فاتحہ کی معنوی تحریف کرتے ہوئے یہ لکھا ہے کہ: ”اس دعاء کے ذریعہ ہر ایک مسلمان کا فرض رکھا گیا ہے کہ وہ اعلیٰ سے اعلیٰ انعامات جن میں نبوت بھی ہے۔ اللہ تعالیٰ سے طلب کرے۔“
(ترجمہ قرآن مجید مطبوعہ ضیاء الاسلام پریس قادیان)
١٤
چنانچہ ایسی کتابیں اب بھی لکھی جارہی ہیں اور شائع ہورہی ہیں۔ جیسا کہ ”زندہ خدا اور سلسلہ وحی والہام“ کے نام سے کتب اور رسائل شائع کئے جارہے ہیں۔ مذکورہ بالا نام کے رسالہ ص ٤٥ میں نورالدین بھیروی کے متعلق لکھا ہے کہ: ”اسے اللہ تعالیٰ کی ہم کلامی کا شرف عطاء ہوا ہے اور اس نے خدا کی آواز سنی ہے۔“
مرزا قادیانی نے کہا ہے کہ: ”یہ خیال مت کرو کہ خدا کی وحی آگے نہیں۔ بلکہ پیچھے رہ گئی ہے اور روح القدس (جبرئیل علیہ السلام) اب اتر نہیں سکتا۔ بلکہ پہلے زمانوں میں ہی اتر چکا اور میں تمہیں سچ سچ کہتا ہوں کہ ہر ایک دروازہ بند ہو جاتا ہے۔ مگر روح القدس کے اترنے کا کبھی دروازہ بند نہیں ہوتا۔“
(کشتی نوح ص ٦٦، خزائن ج ١٩ ص ٢٤، ٢٥)
اسی طرح بدبخت مرزا قادیانی نے سید دو عالم ﷺ کی شان اقدس میں جو گستاخی کی ہے دل پر پتھر رکھ کر چند عبارتیں نقل کی جاتی ہیں۔ ”تم خوب توجہ کر کے سن لو کہ اب اسم محمد کی تجلی ظاہر کرنے کا وقت نہیں یعنی اب جلالی رنگ کی کوئی خدمت باقی نہیں۔ کیونکہ مناسب حد تک وہ جلال ظاہر ہو چکا۔ سورج کی کرنوں کی اب برداشت نہیں۔ اب چاند کی ٹھنڈی روشنی کی ضرورت ہے اور وہ احمد کے رنگ میں ہوکر میں ہوں۔“
(اربعین نمبر ٤ ص ١٤، خزائن ج ١٧ ص ٤٤٥)
مرزا قادیانی نے یہ بھی کہا ہے کہ: ”اور اسلام ہلال کی طرح شروع ہوا اور مقدر تھا کہ آخر زمانہ میں بدر ہو جائے۔ خدا تعالیٰ کے حکم سے۔“
(خطبہ الہامیہ ص ٢٧، خزائن ج ١٦ ص ٢٧٥)
یعنی حضور انور ﷺ کا زمانہ اقدس تو پہلی رات کا چاند تھا۔ مگر قادیانی کا زمانہ چودھویں رات کا چاند ہے۔
مرزا قادیانی نے کہا کہ: اس کے لئے چاند کے خسوف کا نشان ظاہر ہوا اور میرے لئے چاند اور سورج دونوں کا اب کیا تو انکار کرے گا۔“
(اعجاز احمدی ص ٧١، خزائن ج ١٩ ص ١٨٣)
اس عبارت پر غور فرماویں۔ سید دو عالم ﷺ کے لئے مفرد کی ضمیر استعمال کی پھر معجزہ شق القمر کو جس کا ذکر قرآن عزیز نے سورۃ القمر پ ٢٧ میں فرمایا اس کو خسوف کہا۔ یعنی چاند گرہن پھر اپنی فضیلت یوں ظاہر کی کہ میرے زمانہ میں چاند اور سورج دونوں کو گرہن لگا تو میرا درجہ حضور انور ﷺ سے بڑھ گیا۔ (نعوذ باللہ)
مرزا قادیانی نے اپنے آپ کو سید الانبیاء ﷺ سے اعلیٰ اور افضل سمجھ کر درود شریف میں یہ تبدیلی کی۔ جیسا کہ مرزا قادیانی کا ایک مرید سراج الحق کہتا ہے۔ ”جب میں پہنچا تو فرمایا صاحبزادہ صاحب آگئے ہیں۔ میں نے عرض کیا حضرت صلی اللہ علیک وعلیٰ محمد آ گیا...... میں نے
١٥
عرض کیا کہ حضرت صلی اللہ علیک وعلیٰ محمد مجھے کوئی تکلیف نہیں...... میں نے عرض کیا حضرت صلی اللہ علیک وعلیٰ محمد بہت اچھا...... میں نے عرض کیا حضرت صلی اللہ علیک وعلیٰ محمد جاگ اٹھا۔“
(سیرۃ مسیح موعود از یعقوب علی عرفانی ج٣ ص٣٤١ تا ٣٤٣)
”ایک دفعہ مغرب کی نماز پڑھی گئی اور میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے پاس کھڑا تھا۔ جب نماز کا سلام پھیرا گیا تو آپ نے بایاں ہاتھ میرے دائیں ران پر رکھ کر فرمایا کہ صاحبزادہ صاحب اس وقت میں التحیات پڑھتا تھا۔ الہاماً میری زبان پر جاری ہوا کہ صلی اللہ علیک وعلیٰ محمد“
(سیرۃ مسیح موعود ج٣ ص٣٤٥)
مرزا قادیانی نے کہا کہ: ”داعی الی اللہ اور سراج منیر یہ دو نام اور دو خطاب خاص آنحضرت ﷺ کو قرآن شریف میں دیئے گئے ہیں۔ پھر وہی دو خطاب الہام میں مجھے دیئے گئے۔“
(اربعین نمبر ٢ ص ٥، خزائن ج١٧ ص٣٥١)
مرزا قادیانی نے سید دو عالم ﷺ کی حدیث کو بھی اپنی وحی کے تابع قرار دیتے ہوئے لکھا ہے۔ ”تائیدی طور پر ہم وہ حدیثیں بھی پیش کرتے ہیں جو قرآن شریف کے تابع ہیں اور میری وحی کے معارض نہیں اور دوسری حدیثوں کو ہم ردی کی طرح پھینک دیتے ہیں۔“
(اعجاز احمدی ص ٣٠، خزائن ج١٩ ص١٤٠)
الغرض کہاں تک اس مختصر رسالہ میں ان کفریات کو ذکر کیا جائے۔ جو مرزا قادیانی نے سید دو عالم ﷺ کی شان اقدس میں کہے ہیں۔ نعوذ باللہ منہا۔
مسلمان قادیانیوں کو اس لئے بھی کافر سمجھتے ہیں کہ:
- ٥...... مرزا قادیانی نے ازواج نبی کریم ﷺ (امہات المؤمنین اور اولاد سید
دو عالم ﷺ کی شان میں گستاخی کی ہے) جیسا کہ:
- ١...... اپنی بیوی کو شعائر اللہ کہا۔ (خدا کی عظمت کی نشانی)
”ڈاکٹر صادق نے بیان کیا ہے کہ کسی دیوار کے متعلق حضرت ام المؤمنین کی رائے تھی کہ یوں بنائی جائے اور مولوی عبدالکریم کی رائے اس کے خلاف تھی۔ چنانچہ مولوی صاحب موصوف نے حضرت اقدس سے عرض کیا تو آپ نے فرمایا۔ خدا تعالیٰ نے مجھے لڑکوں کی بشارت دی ہے اور وہ اس بی بی کے بطن سے پیدا ہوئے۔ اس لئے میں اسے شعائر اللہ سے سمجھ کر اس کی خاطر داری رکھتا ہوں اور جو وہ کہے مان لیتا ہوں۔“
(سیرۃ مسیح موعود از عرفانی ج٣ ص٣٩٧)
- ٢...... حضرت خدیجۃ الکبریٰ کا نام یوں لیا ہے۔ ”اذکر نعمتی رأیت
١٦
خدیجتی ”مجھے بشارت دی گئی کہ تمہاری شادی خاندان سادات میں ہوگی ...... اور فقرہ خدیجتی سے مراد اولاد خدیجہ یعنی بنی فاطمہ ہے۔
(اربعین نمبر ٢ ص ٣٦، خزائن ج ١٧ ص ٣٨٥)
- ٣...... سیدہ مکرمہ حضرت فاطمہؓ کے بارہ میں کہا ہے کہ: ”ایک مرتبہ نماز مغرب
کے بعد عین بیداری میں ایک تھوڑی سی غیبت سے جو خفیف سی غشی سے مشابہ تھی۔ ایک عجیب عالم ظاہر ہوا کہ پہلے یک دفعہ چند آدمیوں کے جلد جلد آنے کی آواز آئی۔ جیسے بسرعت چلنے کی حالت میں پاؤں کی جوتی اور موزہ کی آواز آتی ہے۔ پھر اسی وقت پانچ آدمی نہایت وجیہہ اور مقبول اور خوبصورت سامنے آ گئے۔ یعنی پیغمبر خدا (ﷺ) و حضرت علی و حسنین و فاطمہ زہراؓ اور ایک نے ان میں سے اور ایسا یاد پڑتا ہے کہ حضرت فاطمہؓ نے نہایت محبت اور شفقت سے مادر مہربان کی طرح اس عاجز کا سر اپنی ران پر رکھا۔“
(تذکرہ ص٢٠)
سیدہ مکرمہ و محترمہ کی شان تو یہ ہے کہ قیامت کے دن جب اس جگر گوشہ سید دوعالم ﷺ کا گذر ہوگا تو سب انسانوں کو ادب اور احترام کے ساتھ آنکھیں بند کرنے کا حکم دیا جائے گا۔ ”حتی تمر بنت محمد ﷺ“
امام عالی مقام سیدنا امام حسین بن علی علیہما السلام کا درجہ اسلام میں جس قدر بلند ہے وہ سب دنیا جانتی ہے۔ مگر مرزا قادیانی نے یہاں بھی خبث باطن کا یوں اظہار کیا۔ ”اور انہوں نے کہا کہ اس شخص نے امام حسن اور امام حسین سے اپنے تئیں اچھا سمجھا۔ میں کہتا ہوں کہ ہاں میرا خدا عنقریب ظاہر کر دے گا اور مجھ میں اور تمہارے حسین میں بہت فرق ہے۔ کیونکہ مجھے تو ہر وقت خدا کی تائید اور مدد مل رہی ہے۔ مگر حسین پس تم دشت کربلا کو یاد کرلو۔ اب تک تم روتے ہو۔ پس سوچ لو اور میں خدا کا کشتہ ہوں۔ لیکن تمہارا حسین دشمنوں کا کشتہ ہے۔ پس فرق کھلا کھلا اور ظاہر ہے۔“
(اعجاز احمدی ص ٥٢، خزائن ج ١٩ ص ١٦٤)
قادیانیوں کو مسلمان اس لئے بھی کافر سمجھتے ہیں کہ:
- ٦...... مرزا قادیانی نے قرآن عزیز کی توہین کی ہے۔ جیسا کہ:
- الف...... مرزا قادیانی نے اپنے کلام کو بھی قرآن عزیز کی طرح معجزہ کہا ہے۔ ”اس
کے معجزات میں سے معجزانہ کلام بھی تھا۔ اسی طرح مجھے وہ کلام دیا گیا جو سب پر غالب ہے۔“
(اعجاز احمدی ص ٧١، خزائن ج ١٩ ص ١٨٣)
اس کلام میں ایک تو حسب عادت مرزا قادیانی نے سید دوعالم ﷺ کو ”اس کے“ گستاخانہ کلمہ سے تعبیر کیا ہے اور دوسرا ادھر اشارہ کیا ہے کہ سید دوعالم ﷺ کا معجزانہ کلام ”تھا“ یعنی
١٧
اب نہیں رہا اور تیسرا اپنے کلام کو بھی قرآن عزیز کی طرح معجزانہ کلام کہا۔
- ب....... قرآن شریف کے بارہ میں اس نے کہا ہے کہ: ”قرآن شریف خدا کی
کتاب اور میرے منہ کی باتیں ہیں۔“
(تذکرہ ص ٩٩)
آج تک مسلمانوں کا یہی عقیدہ ہے کہ قرآن شریف اس کلام پاک کا نام ہے جو اللہ تعالیٰ نے سید دو عالم ﷺ پر نازل فرمایا اور وہ اللہ تعالیٰ ہی کا کلام ہے۔ اس لئے کسی بھی سچے نبی علیہ السلام کے کلام کو بھی قرآن شریف نہیں کہا جاسکتا۔ بلکہ خود سید دو عالم ﷺ کے ارشادات عالیہ کو اس کے باوجود کہ قرآن کریم نے سورہ النجم آیت نمبر ٤ میں آپ کے نطق کو وحی فرمایا ہے۔ ہم قرآن شریف نہیں کہہ سکتے۔ بلکہ حدیث ہی کہہ سکتے ہیں اور یہی مسلمانوں کا اجماعی عقیدہ ہے۔
مگر مرزا قادیانی نے اپنے منہ کی باتوں کو قرآن شریف کہا ہے اور ان باتوں کے پڑھنے کو قرأت اور تلاوت کے ساتھ تعبیر کیا۔ جیسا کہ قرآن عزیز کی قرأت اور تلاوت کی جاتی ہے۔ تذکرہ ص ٥٢ پر یہ کلمات ذکر کئے گئے۔ ”واتل عليهم ما اوحي اليك من ربك“
اس بدبخت نے ارشاد قرآن عزیز کے ارشاد: ”اتل ما اوحي اليك من الكتاب :العنكبوت ٤٥)“ میں لفظی تحریف بھی کردی۔ حالانکہ قرآن کا اعلان ہے کہ دنیا بھر کے انسان اور جن سب اکٹھے ہو کر بھی اس قرآن کی مثل ہرگز نہ لاسکیں گے۔ ارشاد قرآن عزیز ہے کہ: ”قل لئن اجتمعت الانس والجن على ان يأتوا بمثل هذا القرآن لا يأتون بمثله ولو كان بعضهم لبعض ظهيراً (بنی اسرائیل: ٨٨) “ آپ فرمادیجئے اگر سارے انسان اور جن اکٹھے ہو کر بھی اس قرآن کی مثل لانا چاہیں تو ہرگز نہ لاسکیں گے اگر وہ آپس میں ایک دوسرے کی مدد بھی کریں۔
مگر مرزا قادیانی کا عقیدہ اور دعویٰ یہ ہے کہ قرآن شریف صرف خدا کی کتاب کا نام نہیں بلکہ اس کے ساتھ اس کے منہ کی باتوں کو بھی ملایا جائے۔ تب قرآن شریف کہلایا جائے گا۔ اس کی مثال یوں سمجھ لیجئے کہ مرزا نے اپنا الہام یہ بیان کیا ہے۔ ”انا انزلناه قريباً من القادیان (تذکره: ٧٤)“ اس کلام میں مسلمانوں کے ہاں تو صرف ”انا انزلناه“ قرآن شریف ہے۔ باقی مرزا قادیانی کی خرافات ہیں۔ مگر قادیانیوں کے ہاں انا انزلناہ قرآن نہیں جب تک کہ ”قريباً من القاديان“ نہ ملایا جائے۔
قادیانیوں کو مسلمان اس لئے بھی کافر کہتے ہیں کہ:
- ٧....... مرزا قادیانی نے اپنے بیٹے بشیر الدین محمود کے بارہ میں یہ الہام بیان کیا
١٨
کہ: ”انا نبشرك بغلام حلیم مظہر .......”ہم تجھے ایک حلیم لڑکے کی خوشخبری آسمان سے اترا۔“
چنانچہ قادیان میں فروری کو اس کا مقام ہے۔ قیس میناتی قادیانی کی ایک طویل نظـ
ہے جہاں تک خیال کی پرواز
آسماں سے ہے قدسیوں کا نزول
کس کی تکریم کے لئے اترے
جس کو حاصل ہے منصب عالی
مظہر ...... مظہر مظہر ...... الحق
اسی طرح بلکہ اس سے بھی زیادہ لقد جاء ند وفي الصـ (ا
ترجمہ: بیشک تیرا ذکر محمد (ﷺ ”ناظرین! باانصاف کی نـ موعود) کا ایک واقعہ نقل کیا جاتا ہے۔ جـ جاڑے کا موسم تھا۔ محمود ۔ اینٹ ڈال دی۔ آپ جب لیٹیں وہ ا چند روز ہوئے ہماری پسلی میں درد ۔ آپ کے جسد مبارک پر ہاتھ پھیر۔ نکالی اور عرض کی، اینٹ تھی جو آپ میں ڈال دی تھی اور کہا تھا اسے نکالنا
ہے کہ: ”انا نبشرك بغلام حليم مظهر الحق والعلاء كأن الله نزل من السماء“ ترجمہ :...... ”ہم تجھے ایک حلیم لڑکے کی خوشخبری دیتے ہیں جو حق اور بلندی کا مظہر ہوگا۔ گویا خدا آسمان سے اترا۔“
(انجام آتھم ص ٦٢ ، خزائن ج ١١ ص ایضاً)
چنانچہ قادیانی بیس فروری کو اس کا دن مناتے ہیں۔ ان کے ہاں بھی بشیر الدین کا یہی مقام ہے۔ قیس مینائی قادیانی کی ایک طویل نظم سے چند اشعار درج کئے جاتے ہیں:
ہے جہاں تک خیال کی پرواز ہر فرشتہ ہے سربسجود
آسماں سے ہے قدسیوں کا نزول ہورہا ہے ملائکہ کا ورود
کس کی تکریم کے لئے اترے آسماں سے ملائکہ کے جنود
جس کو حاصل ہے منصب عالی جس کو کہتے ہیں مصلح موعود
مظہر ذوالجلال والاکرام
مظہر الحق والعلا محمود
اسی طرح بلکہ اس سے بھی زیادہ توہین آمیز مندرجہ ذیل کلام ہے جو الفضل میں شائع ہوا ہے۔
وفى الصحف الاولى التي للاوائل
(الفضل مورخہ ٢٧ جولائی ١٩٤٩ء، الفضل مورخہ ١٩ فروری ١٩٥٠ء)
ترجمہ: بیشک تیرا ذکر محمد (ﷺ) کی حدیث میں آیا ہے اور پہلی کتابوں میں بھی آیا ہے۔
”ناظرین! باانصاف کی خدمت میں باپ (مسیح موعود) اور اس کے بیٹے (مصلح موعود) کا ایک واقعہ نقل کیا جاتا ہے۔ جس سے ان دونوں کے تشخص کو سمجھنے میں مدد ملے گی۔
جاڑے کا موسم تھا۔ محمود نے جو اس وقت بچہ تھا آپ کی واسکٹ کی جیب میں ایک بڑی اینٹ ڈال دی۔ آپ جب لیٹے وہ اینٹ چبھی، میں موجود تھا۔ آپ حامد علی سے فرماتے ہیں حامد چند روز ہوئے ہماری پسلی میں درد ہے۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کوئی چیز چبھتی ہے۔ وہ حیران ہوا اور آپ کے جسد مبارک پر ہاتھ پھیرنے لگا اور آخر اس کا ہاتھ اینٹ سے جالگا۔ جھٹ جیب سے نکالی اور عرض کی، اینٹ تھی جو آپ کو چبھتی تھی۔ مسکرا کر فرمایا، چند روز ہوئے محمود نے میری جیب میں ڈال دی تھی اور کہا تھا اسے نکالنا نہیں میں اس سے کھیلوں گا۔“
(سیرت مسیح موعود از عرفانی حصہ سوم ص ٣٦٩)
١٩
”یہ وہ بیٹا ہے جس کے لئے باپ نے کہا:”کان الله نزل من السماء“ (نعوذ باللہ منہ)
(سیرت مسیح موعود از عرفانی ص ٦١٩)
قادیانیوں کی قرآن مجید کے خلاف خطرناک سازش
اللہ تعالیٰ نے قرآن عزیز کو کتاب کامل قرار دیا۔ جس طرح دین اسلام کو دین کامل قرار دلایا، ارشاد خداوند قدوس ہے۔ ”وتمت کلمت ربك صدقاً وعدلاً (الانعام:١١٥)“ ﴿اور پوری ہو چکیں تیرے رب کی باتیں سچائی اور انصاف کے لحاظ سے۔﴾
اسی طرح ارشاد قرآن عزیز ہے۔ ”اليوم اكملت لكم دينكم واتممت عليكم نعمتى (المائدہ:٣)“ ﴿آج میں پورا کر چکا تمہارے لئے دین تمہارا اور پورا کیا تم پر احسان اپنا۔﴾
ساتھ ہی قرآن عزیز نے ایک خطرہ سے آگاہ کرتے ہوئے ارشاد فرمایا:”وكذلك جعلنا لكل نبى عدواً شياطين الانس والجن يوحى بعضهم الى بعض زخرف القول غرورا (الانعام:١١٢)“ ﴿اور اسی طرح کر دیا ہم نے ہر نبی کے لئے دشمن شریر آدمیوں کو اور جنوں کو جو کہ سکھلاتے ہیں ایک دوسرے کو طمع کی ہوئی باتیں فریب دینے کے لئے۔﴾
چنانچہ مرزا قادیانی پر جو شیطانی وحی نازل ہوتی ہے اس کا مختصر سا حال یہ ہے۔ ادھر تو قرآن عزیز کو اپنے منہ کی بات قرار دیا اور پھر قرآنی آیات میں قطع برید کر کے اپنی من مانی باتیں اس طرح ملا دیں کہ قرآن عزیز کا تشخص بالکل بدل گیا۔ اگر اس خطرناک سازش کا ازالہ نہ کیا جاتا تو کچھ عرصہ بعد قرآن عزیز، قرآن عزیز نہ رہتا۔ دراصل یہودیوں اور قادیانیوں کی ملی جلی سازش ہے۔ قادیانی اس وحی شیطانی کو وحی ربانی سمجھتے ہیں اور نمازوں میں بھی پڑھتے ہیں جیسا کہ: ”رؤیا میں، میں نے ایک سفید تہ بند باندھا ہوا ہے۔ مگر وہ بالکل سفید نہیں کچھ کچھ میلا ہے۔ اسی اثناء میں مولوی صاحب نماز پڑھانے لگے ہیں اور انہوں نے سورۃ الحمد جہر سے پڑھی اور انہوں نے یہ پڑھا:’الفارق وما ادراک ما الفارق‘ اسی وقت مجھے یہی معلوم ہوا کہ قرآن شریف میں سے ہی ہے۔ رؤیا۔ مولوی حکیم نور الدین صاحب نے نماز جہری میں سورہ فاتحہ پڑھ کر ”الفارق وما ادراک ما الفارق“ پڑھا۔“
(تذکرہ ص ٥٢٢)
احقر مرتب: یہ کلام نہ تو قرآن عزیز میں ہے اور نہ ہی حدیث میں ہے۔ برادران اسلام کی آگاہی کے لئے اس شیطانی وحی کا نمونہ پیش کیا جاتا ہے۔ جسے آسمانی اور حقیقی وحی (قرآن
٢٠
عزیز) میں داخل کرنے کی ناپاک کوشش کی گئی ہے۔ ملاحظہ ہو: ”انا انزلناہ قریباً من القادیان وبالحق انزلناہ وبالحق نزل صدق اللہ ورسولہ وكان امر اللہ مفعولا. ان السمٰوت والارض كانتا رتقا ففتقنهما هما ھوالذی ارسل رسولہ بالهدى ودين الحق ليظهره على الدين كله ومن يبتغ غيره، قاتلهم الله انی يوفكون قل یا ایها الكفار انی من الصادقین فسیكفیكهم الله ویردها اليك لا مبدل لكلمات الله ان وعد الله حق وان ربك فعال لما یرید قل ای وربی انہ لحق ولاتكن من الممترین انا زوجناكها انما امرنا اذا اردنا شيئا ان تقول له كن فیکون“
(اربعین نمبر ٢ ص ٣٢ تا ٣٥، خزائن ج ١٧ ص ٣٨٠ تا ٣٨٣)
”خسفنا القمر والشمس فی رمضان فبای آلاء ربكما تكذبان“
(تذکرہ ص ٤٤١)
”خلقنا الانسان فی احسن تقویم وكنا كذالك خالقین“
(تذکرہ ص ٩١٠)
”یا احمد فاضت الرحمة على شفتيك انا اعطیناك الكوثر، فصل لربك وانحر واقم الصلوٰة لذكری انت معی وانا معك سرك سرى وضعنا عنك زرك الذی انقض ظهرك ورفعنا لك ذكرك انك علٰی صراطٍ مستقیم وجیھا فی الدنیا والآخرة ومن المقربین“
(تذکرہ ص ٩٤)
مرزا قادیانی کے زعمہ الہامات میں بہت سے کلمات قرآن عزیز کے ہیں جن کا خطاب سید دوعالم ﷺ کو ہے۔ آخری آیت سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کے متعلق ہے۔ مرزا قادیانی نے قرآن عزیز میں خلط کر کے سب کا مخاطب اپنی ذات کو بنایا ہے۔ یہ بھی سب سے بڑا کفر ہے۔
نوٹ! اربعین کی مذکورہ بالا وحی محمدی بیگم مرحومہ کے متعلق ہے۔ جس سے مرزا محروم ہی رہا۔ رسالہ کے طوالت کے خوف سے انہی چند عبارات پر اکتفا کیا جاتا ہے۔
مسلمان قادیانیوں کو اس لئے بھی کافر سمجھتے ہیں کہ مرزا قادیانی نے مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کی توہین کرتے ہوئے لکھا ہے کہ:
- ٨...... ”میرا دعویٰ ہے کہ تمام دنیا میں گورنمنٹ برطانیہ جیسی کوئی ایسی گورنمنٹ
نہیں جس نے زمین پر ایسا امن قائم کیا ہو۔ میں سچ سچ کہتا ہوں کہ جو کچھ ہم پوری آزادی سے اس گورنمنٹ کے تحت میں اشاعت حق کر سکتے ہیں یہ خدمت ہم مکہ معظمہ یا مدینہ منورہ میں بیٹھ کر بھی
٢١
ہرگز بجا نہیں لا سکتے۔“
(کشتی نوح ص ٦٩، حاشیہ خزائن ج ١٩ ص ٧٥، ازالہ اوہام ص ٥٦ حاشیہ، خزائن ج ٣ ص ١٣٠)
مرزا قادیانی نے کہا ہے کہ: ”کشفی طور پر میں نے دیکھا ہے کہ میرے بھائی مرحوم غلام قادر میرے قریب بیٹھ کر بآواز بلند قرآن شریف پڑھ رہے ہیں۔ انہوں نے ان فقرات کو پڑھا ”انا انزلناہ قریباً من القادیان“ تو میں نے سن کر بہت تعجب سے کہا کہ کیا قادیان کا نام بھی قرآن شریف میں لکھا ہوا ہے؟ تب انہوں نے کہا یہ دیکھ لکھا ہوا ہے۔ تب میں نے نظر ڈال کر جو دیکھا تو معلوم ہوا کہ فی الحقیقت قرآن شریف کے دائیں صفحہ پر شاید قریب نصف کے موقع پر یہی الہامی عبارت لکھی ہوئی موجود ہے۔ تب میں نے اپنے دل میں کہا کہ ہاں واقعی طور پر قادیان کا نام قرآن شریف میں درج ہے اور میں نے کہا کہ تین شہروں کا نام اعزاز کے ساتھ قرآن شریف میں درج کیا گیا ہے۔ مکہ اور مدینہ اور قادیان۔“
(تذکرہ ص ٧٥، ازالہ ص ٧٦، ٧٧، خزائن ج ٣ ص ١٤٠ حاشیہ)
قادیان چھن جانے کے بعد اب ربوہ کے متعلق توہین آمیز عقیدہ ملاحظہ فرمادیں۔ رسالہ کے اختصار کی وجہ سے صرف چند عبارتیں باحوالہ نقل کی جاتی ہیں۔ ربوہ کی عبادت گاہ کا سنگ بنیاد رکھنے کی تقریب پر الفضل نے جو مقالہ لکھا ہے اس کی آخری سطور یہ ہیں۔ ”ربوہ کی مسجد کا سنگ بنیاد صرف اسی مسجد کا سنگ بنیاد نہیں بلکہ مسجد قادیان، مسجد نبوی کے استحکام اور کعبۃ اللہ کی مرکزی حیثیت کا اعتراف ہے۔“
(الفضل مورخہ ٢٧؍اکتوبر ١٩٤٩ء)
مرزا بشیر الدین نے ”خدا تعالیٰ سے خطاب“ کے گستاخانہ عنوان سے ایک نظم کہی ہے جس کے چند اشعار درج ہیں۔
پھر ناف میں دنیا کی ترا گاڑ دیں نیزہ پھر پرچم اسلام کو عالم میں اڑائیں
جس شان سے آئے تھے مکہ میں مری جاں اک بار اسی شان سے ربوہ میں آئیں
از مرتب! مرزا بشیر الدین نے خدا تعالیٰ کو خطاب کیا ہے کہ مکہ کی طرح ربوہ میں آجا۔ جس طرح بیت اللہ مکرمہ کے متعلق مشہور ہے کہ وہ دنیا کے عین وسط میں ہے۔ اسی طرح بشیر نے ربوہ کو مرکز ارضی قرار دے کر گستاخی کا ارتکاب کیا ہے۔ دربار رسالت مآب کے گستاخ اکمل قادیانی نے بھی ایک نظم کہی جس میں یہ کہا ہے۔
٢٢
وہ براہیمی ہیں اس واسطے من کل ثمرات پائیں گے بہرہ وافی نہ کبھی ہوں گے حزیں
(الفضل مورخہ یکم اکتوبر ١٩٢٨ء)
بڑے میاں نے تو قادیان کو مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ جیسی عظمت کی بستی قرار دیا تھا اور چھوٹے میاں نے ربوہ کو بھی اس فہرست میں شریک کر لیا۔ انا لله!
از مرتب ! حضرت ابراہیم علیہ السلام نے مکہ مکرمہ میں خانہ کعبہ کے قریب یہ دعا فرمائی تھی۔"ربنا انی اسکنت من ذریتی بواد غیر ذی زرع (ابراهيم:٣٧) "تو قادیانیوں نے ربوہ کو اس پاک سرزمین کا نام دیا اور مرزا بشیر الدین کو ابراہیمی کہا۔ اس کی دلیل میں اسی شاعر نے مرزا کا یہ قول درج کیا ہے۔
(براہین احمدیہ حصہ پنجم، خزائن ج ٢١ ص ١٣٣)
مسلمان قادیانیوں کو اس لئے بھی کافر سمجھتے ہیں کہ:
- ٩...... مرزا قادیانی نے تمام مکاتب فکر کے علماء کرام اور اولیاء عظام کو مغلظ
گالیاں دی ہیں۔ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے برصغیر جب سے نورِ اسلام سے منور ہوا ہے اس وقت سے لے کر آج تک حفاظت اسلام کی سعادت برصغیر کے علماء کرام اور اولیاء عظام کو حاصل رہی ہے۔ جب کبھی کوئی فتنہ دینِ اسلام کے خلاف نمودار ہوا یہ پاکیزہ لوگ کمر بستہ ہو گئے اور اس کو ملیا میٹ کر دیا۔ کیونکہ برصغیر کے عامۃ المسلمین کو علماء کرام اور اولیاء عظام پر اعتماد رہا ہے اور آج بھی ہے۔ (فالحمد للہ )
ورنہ اسپین جہاں آٹھ سو سال تک مسلمانوں نے حکومت کی، آج وہ پورا عیسائیت کی گود میں جا چکا ہے اور برائے نام بھی کوئی مسلمان موجود نہیں۔ اس کی یہی وجہ ہے کہ وہ ملک علماء کرام اور اولیاء عظام کی سرپرستی سے محروم تھا۔ مگر برصغیر میں جب بھی کوئی فتنہ اٹھا تو علماء کرام بے خطر اس کے مقابلہ کے لئے اٹھ کھڑے ہوئے۔ ان ہی کی برکت سے برصغیر تمام فتنوں سے محفوظ رہا اور انشاء اللہ محفوظ رہے گا۔ برصغیر کے بادشاہ اکبر نے جب دینِ الٰہی اور دینِ اکبری کا فتنہ کھڑا کیا تو مجدد الف ثانی قدس سرہ العزیز نے اس عظیم بادشاہ کے ساتھ ایسی ٹکر لی کہ وہ فتنہ ہمیشہ ہمیشہ کے لئے مٹ گیا۔ چنانچہ ہر لادینی تحریک نے علماء کرام ہی کو نشانہ بنایا۔ مگر علماء کرام کامیاب رہے۔ اسی طرح جب مرزا قادیانی نے دینِ اسلام کے خلاف سازش شروع کی تو تمام مکاتبِ فکر
٢٣
کے علماء کرام اور اولیاء عظام نے یک آواز ہو کر اس فتنہ سے لوگوں کو آگاہ کر کے بچانے کی مہم کا آغاز کیا تو اسی وقت سے علماء کرام اور اولیاء عظام اس بد زبان کی گالیوں کا نشانہ بن گئے۔ جن میں سے چند گالیوں کو ذکر کیا جاتا ہے۔
چونکہ تمام مکاتب فکر کے علماء کرام نے مرزا کے کفر پر اتفاق کر لیا تھا۔ اس لئے سب کو اس نے گالیاں دیں۔ جیسا کہ علامہ علی حائری شیعہ کے متعلق کہا: ”تو مجھے گالی دیتا ہے اور میں نہیں جانتا کہ کیوں مجھے گالی دیتا ہے۔ کیا امام حسینؓ کے سبب تجھے رنج پہنچا۔ پس تو برافروختہ ہوا۔ کیا تو اس کو تمام دنیا سے زیادہ پرہیز گار سمجھتا ہے اور یہ تو بتلاؤ کہ اس سے تمہیں دینی فائدہ کیا پہنچا ہے۔ اے مبالغہ کرنے والے۔ میں تمہیں حیض والی عورت کی طرح دیکھتا ہوں۔ نہ اس عورت کی طرح جو حیض سے پاک ہوتی ہے۔“
(اعجاز احمدی ص ٦٨، خزائن ج ١٩ ص ١٨٠)
مولانا ثناء اللہ امرتسری ثم پاکستانی کو یوں خطاب کیا: ”اے عورتوں کے عار ثناء اللہ کب تک مردانِ جنگ کی طرح ہانکتی دکھلائے گا۔“
(اعجاز احمدی ص ٨٣، خزائن ج ١٩ ص ١٩٦)
قطب الارشاد مولانا رشید احمد گنگوہی قدس سرہ کے متعلق لکھا ہے کہ: ”واخــــرهــم الشيطان الاعمى والغول الاغوى يقال له رشيد احمد الجنجوهی“ اس کا مرزا نے خود فارسی میں ترجمہ کیا ہے۔ مگر ناظرین کو سمجھانے کے لئے اردو میں ترجمہ کیا جا رہا ہے۔ ”اور ان سب سے آخر وہ اندھا شیطان اور گمراہ دیو جس کو رشید احمد گنگوہی کہا جاتا ہے۔“
(انجام آتھم ص ٢٥٢، خزائن ج ١١ ص ایضاً)
ان ہی اکابر کے ساتھ حضرت مرشد عالم شیخ اللہ بخش تونسوی اور شیخ نظام الدین تونسویؒ کے خلاف بھی کہا ہے۔ جامع شریعت و طریقت مرشد عالم حضرت پیر سید مہر علی شاہ صاحب قدس سرہ کے بارہ میں بدبخت نے یہ لکھا ہے: ”مجھے ایک کتاب کذاب کی طرف سے پہنچی ہے۔ وہ خبیث کتاب اور بچھو کی طرح نیش زن۔ پس میں نے کہا اے گولڑہ کی زمین تجھ پر لعنت تو ملعون کے سبب سے ملعون ہوگئی۔ پس تو قیامت کو ہلاکت میں پڑے گی۔ اے دیو تو نے بدبختی کی وجہ سے جھوٹ بولا۔ اے موت کے شکار خدا سے ڈر۔ کیوں دلیری کرتا ہے۔“
(اعجاز احمدی ص ٧٦، ٧٧، خزائن ج ١٩ ص ١٨٨، ١٨٩)
کہاں تک ان دلخراش باتوں کو نقل کیا جائے گا۔ جو آج تک کسی نے نہ کہیں اور نہ کوئی شریف کہہ سکتا ہے۔ عام علماء کرام کے متعلق کہا ہے کہ: ”اَلہ، مولویوں پر افسوس! اَگر اِن میں دیانت ہوتی تو وہ تقویٰ کی راہ سے اپنی تسلی ہر طرح سے کراتے۔ مگر وہ لوگ جو ابو جہل کی مٹی سے
٢٤
بنے ہوئے ہیں وہ اسی طریق کو اختیار کرتے ہیں جو ابو جہل نے اختیار کیا تھا۔
فائدہ! ان علماء کرام اور اولیاء عظام کا قصور یہ ہے کہ وہ ایک کافر کو کافر کہتے ہیں اور یہ قصور عین ایمان کامل ہے۔ اللہ تعالیٰ علماء کرام کو جزاء خیر دے کہ امت کو ایک فتنہ سے بچالیا۔
- .......١٠ قادیانی کو مسلمان اس لئے بھی کافر سمجھتے ہیں کہ: اس نے مسلمانوں کو
گالیاں دی ہیں اور کافر کہا ہے۔ ”کل مسلم يقبلنى ويصدق دعوتى الاذرية البغايا “ کل مسلمانوں نے مجھے مان لیا ہے اور تصدیق کی ہے۔ مگر کنجریوں کی اولاد نے مجھے نہیں مانا۔
(آئینہ کمالات اسلام ص ٥٤٧، خزائن ج ٥ ص ایضا)
مرزا قادیانی کی موت ٢٦ مئی ١٩٠٨ء میں ہوئی اور ٢٠ مئی ١٩٠٨ء کی مطبوعہ کتاب چشمہ معرفت میں مسلمانوں کے بارہ میں یہ لکھا۔ ”اور خدا تعالیٰ نے اس بات کے ثابت کرنے کے لئے کہ میں اس کی طرف سے ہوں اس قدر نشان دکھلائے ہیں کہ اگر وہ ہزار نبی پر بھی تقسیم کئے جائیں تو ان کی بھی ان سے نبوت ثابت ہوسکتی ہے۔ لیکن چونکہ یہ آخری زمانہ تھا اور شیطان کا مع اپنی ذریت کے آخری حملہ تھا۔ اس لئے خدا نے شیطان کو شکست دینے کے لئے ہزار ہا نشان ایک جگہ جمع کر دیئے۔ لیکن پھر بھی وہ لوگ جو انسانوں میں سے شیطان ہیں وہ نہیں مانتے۔“
(چشمہ معرفت ص ٣١٧، خزائن ج ٢٣ ص ٣٣٢)
اگر کوئی کافر مسلمان ہو جائے یعنی ”لا اله الا الله محمد رسول الله “ پڑھ لے تو اس کو قادیانی کافر ہی سمجھتے ہیں۔ جب تک کہ مرزا قادیانی پر ایمان نہ لائے۔ مندرجہ ذیل واقعہ اس کی تصدیق کرتا ہے۔ ملک کے سابق وزیر اعظم ملک سرفیروز خان نونؒ نے یہ تحریر فرمایا ہے کہ: ”ایک شخص نے انگلینڈ میں اسلام قبول کیا۔ اسی رات ایک احمدی قادیانی مبلغ ان سے ملنے گئے اور کہا جب تک آپ مرزا غلام احمد کو نبی تسلیم نہیں کریں گے آپ مسلمان نہیں بن سکیں گے۔ اس شخص نے جواب دیا میں نے تو اسلام اس لئے قبول کیا تھا کہ اس میں فرقے نہیں۔ لیکن چونکہ فرقہ بندی آپ کے ہاں بھی ہے اس لئے میں عیسائی ہی بھلا۔“
(کتاب چشم دید از فیروز خان نون مرحوم مطبوعہ فیروز سنز ص ١١١)
- .......١١ مسلمان قادیانیوں کو اس لئے بھی کافر سمجھتے ہیں کہ:
- .......١ مرزا قادیانی نے تمام انبیاء علیہم السلام کی توہین کی اور اپنے آپ کو محمد اور احمد کا نام
دے کر سید الانبیاء ﷺ کی توہین کی ہے۔
- .......٢ مرزا قادیانی کے الہامات کو وحی مقدس کا نام دیا گیا۔
٢٥
- ٣...... مرزا کی بیوی کو ام المومنین اور شعائر اللہ کہا۔
- ٤...... مرزا کی اولاد کو خاندان نبوت کہا گیا۔
- ٥...... مرزا پر ایمان لانے والے بدبختوں کو صحابی کہا گیا۔
- ٦...... بہشتی مقبرہ میں دفن ہونے والوں کو جنتی کہا۔
- ٧...... قادیان اور ربوہ کو مثیل مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کہا گیا۔
یعنی سید دو عالم ﷺ کی ذات پر انوار، حضور انور ﷺ کی ازواج مطہرات واولاد حضور انور ﷺ کے جان نثار صحابہ کرامؓ اور شعائر اللہ کی پوری نقالی کی ہے اور سید دو عالم ﷺ پر آنے والی وحی کے مقابلہ میں اپنے الہامات کو قرآن شریف اور کتاب مقدس کہا۔ مدینہ منورہ کے قبرستان جنت البقیع کا مقابلہ کرتے ہوئے بہشتی مقبرہ بنایا۔ اس لئے ایسے نقال اور گستاخ کو کافر کہنا اور کافر سمجھنا از روئے اسلامی تعلیمات ضروری ہے۔ واللہ الموفق!
ضروری
اس رسالہ میں قادیانیوں کے عقائد وغیرہ مرزا قادیانی اور قادیانیوں کی کتابوں سے نقل کئے گئے ہیں۔ اس لئے ہم پوری دیانت سے اعلان کرتے ہیں کہ اس میں مندرجہ حوالہ جات کو غلط ثابت کرنے والے کو ایک ہزار روپیہ انعام دیا جائے گا۔
خوشخبری! اس رسالہ کا انگریزی ترجمہ عنقریب شائع کیا جائے گا۔ خواہش مند حضرات ہم سے رابطہ قائم فرمائیں۔ ناشر!
ایک غلطی کا ازالہ
بعض دین سے بے بہرہ پڑھے لکھے لوگ اس مغالطہ کا شکار ہو جاتے ہیں کہ اگر قادیانی کافر ہوتے تو اتنے بڑے بڑے قانون دان، ڈاکٹر، سائنس دان کیوں قادیانی ہوتے۔ اس کا جواب یہ ہے کہ کفر اور اسلام کا تعلق قرآن وحدیث اور اجماع امت کے ساتھ ہے۔ جس نظریہ کو قرآن وحدیث نے کفر قرار دیا وہ کفر ہی ہے۔ اگر کسی بڑے قانون دان یا سائنس دان کا کسی نظریہ کو قبول کرنا ہی معیار صداقت ہے تو پھر دنیا جانتی ہے کہ بھارت کا سابق ہندو وزیر اعظم خود اپنا پیشاب پینا ہی اپنی صحت کا راز بتاتا تھا۔ اخبارات میں اس کے بیان اور اس کی تصاویر اپنے پیشاب سے بھرے ہوئے گلاس کے ساتھ کئی مرتبہ شائع ہو چکی ہیں تو پھر کیا اس لئے لوگ اپنا پیشاب پینا پسند کر لیں گے کہ ایک بہت بڑے ملک کا وزیر اعظم یہ عمل کرتا ہے؟۔
٢٦
خاتم النبیین لا نبی بعدی
میں آخری نبی ہوں، میرے بعد کوئی نبی نہیں
اہل وطن کے لئے
دعوت
غور و فکر
(حضرت مولانا قاضی زاہد الحسینیؒ)
بسم الله الرحمن الرحيم!
مقدمہ
جب سے آزاد کشمیر کی اسمبلی نے قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے کی تجویز متفقہ طور پر پاس کرنے کی سعادت حاصل کی ہے۔ اس دن سے قادیانیت کے ایوان میں زلزلہ آ رہا ہے اور ایسی چالوں سے کام لیا جا رہا ہے کہ جس سے عام مسلمان اس مسئلہ کو معمولی مسئلہ خیال کرتے ہوئے خاص توجہ نہ کریں۔
قادیانیوں کا آرگن ”الفضل“ اور دوسرے پمفلٹ اور اشتہارات یہ تاثر دینے کی سعی باطل کر رہے ہیں کہ قادیانی مسلمان ہیں اور ان کی ساری محنت اور کوشش اسلام کی اشاعت کے لئے ہے۔ اس مختصر سے رسالہ میں جذبات سے خالی رہ کر قادیانیوں کے لٹریچر سے ہی ثابت کیا جائے گا کہ قادیانیت ایک سیاسی تحریک ہے جو اسلام کے نام پر تسلط حاصل کرنا چاہتی ہے۔ قادیانیت ایک مستقل علیحدہ امت ہے جو اپنے متنبی مرزا غلام احمد قادیانی کے دین کو پھیلاتے ہیں اور پھر اسی بل بوتے پر اقتدار کا خواب بھی دیکھ رہے ہیں۔ ناظرین سے استدعاء ہے کہ از راہ کرم بالکل خالی الذہن ہو کر اس رسالہ کو اوّل تا آخر مطالعہ فرمائیں۔ اگر یہ معروضات درست معلوم ہوں تو ان کے مطابق توجہ فرماویں تاکہ یہ فتنہ جو سارے پاکستان کے لئے علمی، دینی، روحانی فتنہ ہے۔ اس ملک سے مٹ جائے اور ہم سب اپنے محبوب آقا سید الانبیاء رحمت دوعالم محمد رسول اللہ ﷺ کو منہ دکھانے کے قابل ہو جائیں۔ اللہ تعالیٰ صحیح سمجھ عطاء فرماویں۔
ساتھ ہی قادیانی اہل وطن سے بھی درخواست ہے کہ آپ میں سے غالب اکثریت ان لوگوں کی ہے جنہوں نے قادیانیت کو باپ دادا کا دین سمجھ کر اپنایا ہوا ہے۔ آپ نے نہ تو بانی قادیانیت مرزا غلام احمد قادیانی کا لٹریچر دیکھا اور نہ ہی کبھی تحقیق کی نظر سے اس تحریک کو دیکھا۔ اس لئے درخواست ہے کہ اپنی عاقبت کو سنوارنے کے لئے اس تحریک پر غور و فکر کریں۔ انشاء اللہ نور بصیرت حاصل ہو جائے گا اور امام الانبیاء ﷺ کی غلامی کی ابدی و سرمدی سعادت حاصل ہو جائے گی۔ واللہ الموفق!
قادیانیت کا پس منظر
مرزا غلام احمد قادیانی نے کسی خارجی اشارہ کی بناء پر نبوت اور رسالت کا دعویٰ کیا۔ مگر اسے علم تھا کہ جناب رسول کریم ﷺ کے امتی آپؐ کے بعد کسی کو نبی ماننے کے لئے تیار نہیں ہیں۔
٢
اس لئے کہ ایسا دعویٰ آپ کے بعد نہ کسی صحابی نے کیا، نہ تابعی نے کیا، نہ اہل بیت کے کسی گوہر آبدار نے کیا، نہ کسی ولی نے کیا، نہ کسی عالم اور کسی مسلمان فلسفی نے کیا۔ اس لئے مرزا قادیانی نے ایک طرف تو دعویٰ نبوت کا کیا اور دوسری طرف نہایت ہوشیاری سے اپنے آپ کو دامن اسلام سے وابستہ رکھنے کا دعویٰ بھی کیا۔ شتر مرغ کی چال اختیار کر کے اس نے مسلمانوں کو اپنے جال میں پھنسایا اور آج تک بعض کوتاہ نصیب پھنس رہے ہیں۔ حالانکہ مرزا قادیانی نے بالکل واضح الفاظ میں اپنے آپ کو نبی کہا۔ چنانچہ اس کا دعویٰ اس کی اپنی کتاب (اعجاز احمدی ص ٧، خزائن ج ١٩ ص ١١٣) پر اس ہی کے الفاظ میں درج کیا جاتا ہے۔
’’اور مجھے بتلایا گیا تھا کہ تیری خبر قرآن اور حدیث میں موجود ہے اور تو ہی اس آیت کا مصداق ہے۔ ”هو الذى ارسل رسوله بالهدى ودين الحق ليظهره على الدين كله“
مندرجہ بالا عبارت میں مرزا قادیانی نے اس امر کا دعویٰ کیا ہے کہ قرآن مجید کی اس آیت میں جو سورۃ الفتح پارہ نمبر ٢٦ کی آیت نمبر ٢٨ ہے۔ جس سے سید دوعالم ﷺ کی نبوت اور رسالت کا اعلان کیا جا رہا ہے۔ اس آیت سے مراد جناب محمد رسول اللہ ﷺ نہیں بلکہ اس سے مراد غلام احمد قادیانی ہے۔ آپ حضرات ہی انصاف سے فیصلہ فرمائیں کہ کیا مرزا قادیانی کا یہ کہنا درست ہے؟ کیا مرزا قادیانی نے اس دعویٰ میں اپنے آپ کو جناب محمد رسول اللہ ﷺ سے اعلیٰ نہیں بتایا؟۔ یعنی آیت تو نازل ہوئی محمد رسول اللہ ﷺ پر، مگر آپ کے لئے نہیں بلکہ آپ کو مرزا قادیانی کے لئے اعلان کرنے والا بتایا گیا کہ آپ اس کی نبوت کا اعلان کریں۔ یہی بات مرزا نے اپنے پیروکاروں کو سمجھائی اور وہ بدبختی سے یوں ہی سمجھنے لگے۔ جیسا کہ مرزا کے پیروکار عرفانی نے لکھا ہے ’’آپ اپنی نبوت پر یقین رکھتے تھے اور آپ علی وجہ البصیرت دوسرے انبیاء علیہم السلام کے طرز پر اپنی صداقت کو پیش کرتے تھے۔‘‘ (سیرت مسیح موعود مطبوعہ قادیان ١٩٢٤ء ص ٤٥٥)
مرزا کی یہی کوشش تھی کہ سید الانبیاء کی ذات عالی کو کچھ اس طرح پس منظر میں رکھا جائے کہ آپ کا نام تو استعمال ہوتا رہے۔ مگر اشاعت مرزا غلام احمد کی ہوتی رہے۔ چنانچہ یہی عرفانی اپنی ایک روداد حاضری بیان کرتے ہوئے لکھتا ہے کہ: ’’ایک رات اس نے حضرت کی خدمت گزاری اور جب حضرت سے مخاطب کا موقع ملا تو یوں خطاب کیا۔ فرمایا: صاحبزادہ صاحب آگئے۔ میں نے عرض کیا حضرت صلی اللہ علیک وعلیٰ محمد آگیا۔ اللہ درود بھیجے تجھ پر اور (پھر) محمد پر۔
٣
آپ نے فرمایا صاحبزادہ صاحب رات بہت چلی گئی سوجا۔ میں نے عرض کیا حضرت صلی اللہ علیک وعلیٰ محمد کوئی تکلیف نہیں۔ پھر فرمایا کہ میں بایاں پاسا بدل لوں۔ یعنی بائیں کروٹ لے لوں میں نے عرض کیا کہ حضرت صلی اللہ علیک وسلم وعلیٰ محمد بہت اچھا۔ فرمایا صاحبزادہ صاحب جاگ اٹھے۔ میں نے عرض کیا کہ حضرت صلی اللہ علیک وعلیٰ محمد جاگ اٹھا۔ یہ چند سطور اسی کتاب سیرت مسیح موعود کے صفحہ ٣٣١ تا ٣٣٣ سے نقل کی گئی ہیں کہ ناظرین ان کو دیکھ کر خود فیصلہ کرلیں کہ مرزا کے ہاں اپنا ہی مقام رفیع تھا۔ وہ ذات بابرکات جس کو خداوند قدوس نے سب نبیوں کا امام بنایا۔ اس کا درجہ بھی مرزا کے ہاں دوسرے نمبر پر تھا۔ امام الانبیاء پر مسلمانوں کو جو درود پڑھنے کا حکم دیا گیا ہے۔ اس میں سے تو آپ کے جد اعلیٰ خلیل اللہ علیہ السلام کا ذکر عالی بھی آپ کے بعد ہے۔ سارے مسلمان جو درود پڑھتے ہیں وہ یہ ہے۔
”اللهم صلى على محمد وعلى آل محمد كما صليت على ابراهيم وعلى آل ابراهيم انك حميد مجید“ اسی پر بس نہیں بلکہ مرزا قادیانی جب ایسا کلام اور ایسے اشعار سنتا تھا۔ جس میں اسے سید دو عالم ﷺ پر فضیلت دی جاتی تو وہ خوش ہوتا تھا جیسا کہ:
قاضی اکمل نے مرزا قادیانی کے سامنے یہ شعر پڑھا
وہ آگے سے ہیں بڑھ کر اپنی شان میں
محمد دیکھنے ہوں جس نے اکمل
غلام احمد کو دیکھے قادیان میں
(اخبار البدر قادیان نمبر ٤٣ ج ٢ ص ١٤، مورخہ ٢٥؍اکتوبر ١٩٠٦ء)
ناظرین! خود ہی فیصلہ فرمائیں کہ کوئی مسلمان کہلانے والا یہ تصور بھی کرسکتا ہے کہ محمد رسول اللہ ﷺ سے اس کی شان بڑھ کر ہے۔ قرآن مجید تو آپ کو ”ورفعنا لك ذكرك “ کا خطاب عطاء کرے اور کائنات ساری آپ کی رحمت کی محتاج ہو۔ ”وما ارسلناك الا رحمة للعالمين “ آپ کی شان قرآن مجید بیان کرے۔ بالفاظ مولانا ظفر علی خان مرحوم ؎
وہ نور نہ ہو سیاروں میں یہ رنگ نہ ہو گلزاروں میں
تو آپ ﷺ سے مرزا کو بڑھ کر مانا جائے اور مرزا غلام احمد قادیانی یہ سنے اور سن کر خوش ہو۔ پھر بھی مسلمان بات کو نہ سمجھے تو افسوس ہے۔
٤
تنبیہ : بے ادبی بے ادبی ہے بے ادب اور گستاخ کو بھی کبھی کبھی احساس ہو جاتا ہے ۔ چنانچہ باپ کی اس گستاخی کو بیٹے نے بھی محسوس کر لیا۔ محمد نذیر لائلپوری قادیانی نے لکھا ہے کہ: ” اگست ١٩٣٢ء کو میں نے حضرت خلیفۃ المسیح الثانی کی خدمت میں یہ شعر پیش کیا۔ چونکہ یہ شعر بے ادبی پر مشتمل نظر آتا تھا۔ اس لئے (مرزا محمود) نے اسے ناپسند کیا اور بے ادبی قرار دیا۔“
(الحق اکٹین مطبوعہ ربوہ ص ٢٧٧)
ہماری دلی دعاء ہے کہ اللہ تعالیٰ سب مرزائیوں کو توفیق دے کہ وہ ان سب الہامات فاسدہ کو بے ادبی سمجھ کر ان سے توبہ کریں۔ جن سے سید دو عالم محبوب رب العالمین جناب محمد رسول اللہ ﷺ کی بے ادبی ظاہر ہوتی ہے۔ ہماری دلی دعاء ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کو راہ ہدایت پر چلنے کی توفیق بخشے۔ آمین!
مرزا قادیانی اور اس کی جماعت کا تحریک آزادی وطن میں کردار
قادیانیت کی تاریخ جاننے والے جانتے ہیں کہ اس جماعت نے عقیدہ کے طور پر جہاد کو منسوخ قرار دیا۔ اس لئے ہر اس جماعت کی مخالفت کی جس نے عیسائیوں کی جابرانہ حکومت سے آزادی حاصل کرنے کے لئے جد و جہد کی۔ منسوخی جہاد اور انگریزوں کی وفاداری اور ان کی شکرگزاری میں مرزا قادیانی کی کتابیں اور دوسرا لٹریچر بھرا پڑا ہے۔ رسالہ کے اختصار کے پیش نظر صرف ایک حوالہ پیش کیا جاتا ہے۔
آزاد قبائل نے آزادی وطن تک فرنگی سامراج کے خلاف جہاد کا علم بلند رکھ کر ساری امت کی طرف سے فرض کفایہ ادا کیا۔ جس کے لئے وہ امت کی طرف سے شکریہ کے مستحق ہیں۔ مگر مرزا قادیانی کو ان کا یہ مجاہدانہ عمل کس قدر ناپسند ہے اور اس کو کس دلفریب انداز میں معیوب بنایا۔ اس کے لئے مرزا قادیانی کی کتاب اربعین مطبوعہ ١٩٠٠ء سے ایک حوالہ درج ہے۔
”آج کل بھی بعض سرحدی نادان اس قسم کے مولویوں کی تعلیم سے دھوکہ کھا کر محمدی جلال کے ظاہر کرنے کے بہانہ سے لوٹ مار اپنا شیوہ رکھتے ہیں اور آئے دن ناحق کے خون کرتے ہیں۔ سو تم خوب توجہ کر کے سن لو کہ اب اسم محمد کی تجلی ظاہر کرنے کا وقت نہیں یعنی اب جلالی رنگ کی کوئی خدمت باقی نہیں۔ کیونکہ مناسب حد تک وہ جلال ظاہر ہو چکا سورج کی کرنوں کی اب برداشت نہیں۔ اب چاند کی ٹھنڈی روشنی کی ضرورت ہے اور وہ احمد کے رنگ میں ہو کر میں ہوں۔“
(اربعین نمبر ٤ ص ١٩، خزائن ج ١٧ ص ٤٣٥)
مندرجہ بالا عبارت کو غور سے پڑھ لیا جائے کہ کس طرح سید الانبیاء ﷺ کی گستاخی کے
٥
ساتھ جہاد جیسے عظیم حکم پر عمل کرنے والوں کو نادان ،لٹیرے، ناحق خون کرنے والے کہا گیا۔
بلکہ جب کبھی آزادی کے متوالوں نے انگریزوں کا مقابلہ کیا اور قربانی دی تو بجائے خراج تحسین ادا کرنے کے انگریز کی ظالمانہ اور سفاکانہ کارروائی کو مرزا قادیانی نے اور اس کی امت نے مرزا کی مخالفت کی آسمانی سزا سے تعبیر کیا۔ چنانچہ جب جلیانوالہ باغ امرتسر کا اندوہناک واقعہ پیش آیا تو اس پر قادیانیوں نے جو تبصرہ کیا وہ مندرجہ ذیل ہے۔
”جہاں جہاں حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) کو اعلائے کلمۃ الحق کے لئے خدا تعالیٰ کے اشارہ سے سفر کرنا پڑا ہر جگہ اس قسم کے مناظر پیش آئے۔ دہلی، لدھیانہ، امرتسر میں اس کی نظیریں موجود ہیں۔ امرتسر کے مقام پر تو وہ طوفان بے تمیزی برپا کیا گیا کہ وہاں کی پولیس اور مقامی حکام کو انتظام قائم رکھنے اور حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) اور ان کے خدام کی حفاظت کا خاص طور پر انتظام کرنا پڑا۔ آپ کی گاڑی پر دور تک پتھروں کی بارش ہو رہی تھی۔ اسی امرتسر میں جہاں اس کے مرسل پر پتھر برسائے گئے تھے۔ گولیوں کی بارش کرادی اور تاریخی طور پر یہ عبرت بخش نظارہ ایک یادگار کے طور پر جلیانوالہ باغ کی صورت میں قائم رہ گیا۔ احمق اور نادان اس قسم کے واقعات سے سبق اور عبرت حاصل نہیں کیا کرتے۔ لیکن سنت الٰہی یہی ہے کہ وہ اپنا عتاب وعذاب مختلف صورتوں میں نازل کرتا ہے اور خصوصاً ایسے اوقات میں کہ اہل قریہ بالکل غافل ہو جاتے ہیں۔“
(سیرت مسیح موعود مرتبہ عرفانی حصہ سوم ص ٤٦١، مطبوعہ ١٩٢٤ء)
فائدہ! مناسب معلوم ہوتا ہے کہ جلیانوالہ باغ کے اس حادثہ کا مختصر سا تذکرہ کر دیا جائے تاکہ ناظرین کو ان دونوں باتوں کا اندازہ ہوسکے۔
حادثہ جلیانوالہ باغ کا مختصر سا تعارف
جنگ عظیم کے خاتمہ پر انگریزوں نے ایک قانون بنایا جس کی رو سے ملکی آزادی کے لئے کام کرنے والوں کے لئے شدید سزائیں مقرر کی گئیں۔ اس قانون کو کالا قانون کہا گیا۔ اس کالے قانون کی مخالفت صوبہ پنجاب (جہاں مسلمانوں کی اکثریت تھی) سے شروع ہوئی۔ صوبہ پنجاب کے لوگوں نے سینہ تان کر اس کی مخالفت کی۔ اسی سلسلہ میں اس قانون کے خلاف امرتسر کے جلیانوالہ باغ میں ایک زبردست جلسہ ہوا۔ جس میں بیس ہزار لوگ جمع ہوئے۔ اس موقع پر ایک انگریز افسر جنرل ڈائر نے مجمع پر گولی چلانے کا حکم دے دیا اور جب تک گولیوں کا ذخیرہ ختم نہیں ہو گیا وہ مجمع پر برابر آگ برساتا رہا۔ اس مجمع میں تقریباً چار سو آدمی مارے گئے اور بیشمار زخمی ہوئے۔
٦
اس ظالمانہ کارروائی کو خود برطانیہ کی حکومت نے کس قدر برا سمجھا۔ اس کے لئے ”برطانیہ کے وزیر جنگ مسٹر ونسٹن چرچل کا فیصلہ“ ڈائر نے فیصلہ کرنے میں غلطی کی اور اسے نصف تنخواہ پینشن پر سبک دوش کیا جاتا ہے۔ اس تصریح کے ساتھ کہ اب کوئی فوجی منصب اسے نہیں دیا جا سکتا۔“
(جلیانوالہ باغ ص ١٢٢ از ابوالہاشم ندوی)
حکومت برطانیہ کے وزیر جنگ نے تو اس ظالمانہ فعل کے مرتکب کو سخت ترین سزا دی۔ مگر مرزا قادیانی نے اس کو آسمانی انتقام کا ہیرو بتایا۔ اس تاریخی شہادت سے یہ بات واضح ہوگئی کہ قادیانی مسلمانوں کو عذاب کا مستحق سمجھتے اور دنیا میں جب کبھی مرزا قادیانی کے جھوٹے دعویٰ نبوت کے بعد مسلمانوں کو تکلیف پہنچی انہوں نے خوشی منائی۔ جس کی تفصیل کا یہ موقع نہیں۔ یہ قادیانی امت کا مذہبی رخ تھا۔ اب مختصر الفاظ میں اس امت کا سیاسی رخ بھی مشاہدہ فرما لیجئے۔ اس جماعت نے اپنے ظہور کے روز اوّل ہی سے عیسائی حکومت کی فرمانبرداری اور اس کی بقاء کے لئے ہر قسم کی محنت کرنا اپنا فریضہ بنایا ہوا تھا۔
انگریزوں کے لئے دعائیں اور ان کی عظمت کا اعتراف
ہندوستان کی اسلامی حکومت پر جونہی انگریزوں نے قبضہ کیا اور آخری مسلمان تاجدار بہادر شاہ ظفر کی آنکھوں کے سامنے اس کے لخت جگر بچوں کو ذبح کر کے اس بادشاہ کو اندھا کر کے برما (رنگون) لے جاکر ہمیشہ کے لئے نظر بند کر دیا۔ اسی وقت سے بلکہ اس سے بھی کچھ پہلے علماء اسلام نے ہندوستان کو دارالحرب قرار دے کر انگریزوں کے خلاف جہاد کا علم بلند کر دیا تھا۔ مگر مرزا غلام احمد قادیانی نے انگریزی بادشاہت اور اس ظالمانہ حکومت کو مکہ اور مدینہ سے بھی بہتر سمجھا۔ جیسا کہ اس کا اعلان ہے کہ: ”ان (انگریزوں) کا شکر ہمیں اس لئے لازم ہے کہ ہم اپنا کام یعنی (قادیانی مذہب) مکہ اور مدینہ بھی نہیں کر سکتے تھے۔ مگر ان کے ملک میں یہ خدا کی طرف سے حکمت تھی کہ مجھے اس ملک میں پیدا کیا۔“
(کشتی نوح ص ٦٨، خزائن ج ١٩ ص ٧٥)
تو جو آدمی انگریزوں کی حکومت کو مکہ اور مدینہ سے بھی بہتر سمجھے وہ کب ان کے خلاف اعلان جہاد کرے گا یا وہ کس طرح ان کے ہندوستان سے جانے کو برداشت کر سکے گا۔ یہی وجہ ہے کہ مرزا قادیانی نے اپنی ساری جماعت کو انگریزوں کے ساتھ گہرا تعلق اور ان کے لئے دعائیں کرنے کا حکم دے رکھا تھا۔ رسالہ کے اختصار کے پیش نظر صرف ایک حوالہ لکھا جاتا ہے۔
چوہدری سر ظفر اللہ خان نے اپنی ماں کے حالات پر ایک کتاب ”میری والدہ“ لکھی ہے۔ جس کی طباعت چہارم ص ٨٠ میں ہے کہ: ”والدہ صاحبہ نے فرمایا لیڈی ولنگڈن (وائسرائے
٧
ہند کی اہلیہ) میرے ساتھ بہت محبت کا اظہار کرتی ہیں اور میں بھی محسوس کرتی ہوں کہ انہیں ضرور میرے ساتھ لگاؤ ہے۔“ چنانچہ ظفر اللہ خان نے وائسرائے ہند اور اس کی بیوی کے ساتھ اپنی اور اپنی والدہ کی ملاقات کا نقشہ یوں کھینچا ہے۔
” لیڈی ولنگڈن کا معمول تھا کہ جب والدہ صاحبہ کے پاس بیٹھتی ہیں تو ایک بازو والدہ صاحبہ کے کمر کے گرد ڈال لیا کرتی تھیں اور بالکل ان کے ساتھ مل کر بیٹھا کرتی تھیں۔ اب بھی دونوں ویسے ہی بیٹھی ہوئی تھیں۔ لیڈی ولنگڈن کسی کسی وقت اپنے فارغ ہاتھ سے والدہ صاحب کے ہاتھ بھی دباتی تھیں ۔“
(میری والدہ ص ٨١)
اس چار رکنی خصوصی مجلس میں جس میں سر ظفر اللہ خان اس کی والدہ لارڈ ولنگڈن وائسرائے ہند اور اس کی بیوی تھی۔ سر ظفر اللہ خان کی والدہ نے وائسرائے ہند سے جو گفتگو کی وہ بھی ظفر اللہ خان کی زبانی سن لیجئے۔ ” میں احمدیہ جماعت کی ایک فرد ہوں۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام جو ہمارے سلسلہ کے بانی تھے نے ہمیں تعلیم دی ہے کہ سلطنت برطانیہ کے وفادار رہیں اور اس کے لئے دعاء کرتے رہیں۔ کیونکہ اس کی عملداری میں ہمیں مذہبی آزادی حاصل ہے اور بغیر خوف و خطر کے اپنے دین (اسلام نہیں احمدیت) کے احکام بجا لا سکتے ہیں۔ میں باقی جماعت کے متعلق تو نہیں کہہ سکتی ۔ لیکن اپنے متعلق وثوق سے کہہ سکتی ہوں اور یہاں والدہ صاحب نے اپنا دایاں ہاتھ اپنے سینے پر رکھ لیا کہ میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی اس ہدایت پر باقاعدہ عمل کر رہی ہوں اور سلطنت برطانیہ کی بہبودی کے لئے متواتر دعاء کرتی ہوں ۔“
(میری والدہ ص ٨٢)
یہ ١٩٣٥ء کا واقعہ ہے۔ جب کہ برصغیر میں تحریک آزادی جواں ہو رہی تھی۔ اسی ١٩٣٥ء میں مسئلہ دستور ہند پر تنقید کرتے ہوئے قائد اعظم محمد علی جناح یہ باطل شکن اعلان کر رہے تھے۔ ” میں ابھی انگریزوں کا کان پکڑ کر انہیں ہندوستان سے باہر کردوں گا۔ جس کے بعد سارا قصہ ہی پاک ہو جائے گا۔
(خطبات قائد اعظم ص ٩٣، مرتبہ رئیس احمد جعفری)
اسی لئے قیام پاکستان تک کوئی خدمت تحریک آزادی میں قادیانیوں نے نہ کی۔ بلکہ قیام پاکستان تک ان کو صرف اپنی ہی فکر رہی۔ رسالہ کے اختصار کے پیش نظر میں صرف چند حوالہ جات پیش کرتا ہوں۔
- ......١ کیا اس وقت کے خلیفہ بشیر الدین محمود نے یہ حکم نہیں دیا تھا کہ: ” اس لئے
اپنے دوستوں کو ١٥ اگست ١٩٤٧ء تک خاص طور پر دعائیں کرنی چاہئیں کہ جو بھی فیصلہ ہو جائے وہ ہمارے حق میں مفید ہو اور شماتت اعداء کا باعث نہ ہو۔“
(الفضل قادیان ٨/ اگست ١٩٤٧ء)
٨
گویا ابھی تک پاکستان کی تائید اور طلب نہ تھی۔ اس لئے دعاء میں اپنے بھلے کا خیال رکھا نہ کہ مسلمانوں کی بہتری اور بہبود کا۔
......٢ کیا یہ حقیقت نہیں کہ مرزائیوں کے خلیفہ نے پاکستان بنتے ہی جو تاثر دیا وہ یہ نہ تھا کہ: ”اوّل تو مسلمانوں کو بھاگنا ہی نہ چاہئے تھا، لیکن اگر بھاگتے بھی تو انہیں بجائے پاکستان کی طرف آنے کے دہلی کی طرف جانا چاہئے تھا۔“
(الفضل لاہور ج ١ نمبر ٢٨٦ ص ٢، مورخہ ٢٨ نومبر ١٩٤٧ء)
......٣ پاکستان منتقل ہوتے ہوئے لاکھوں مسلمان شہید ہوئے۔ ہزاروں معصوم کلیوں کو نوچا گیا۔ ہندوؤں اور سکھوں نے انسانیت کا جامہ پھاڑ کر پوری درندگی کا مظاہرہ کیا کوئی خاندان، کوئی قبیلہ، کوئی گھرانہ ایسا نہیں جس نے اسلام کے لئے پاکستان کے لئے قربانی نہ دی ہو۔ مگر صرف مرزائی ہی صحیح سلامت لاہور پہنچ گئے۔
کیا (الفضل ج ٣ نمبر ٢٣٤ ص ٦ ، لاہور، مورخہ ١٣؍ اکتوبر ١٩٤٩ء) نے یہ اعتراف نہیں کیا کہ قادیانی قادیان سے لاہور بالکل محفوظ پہنچے۔ اندریں حالات قادیانیوں کا یہ کہنا کہ انہوں نے قیام پاکستان کے لئے قربانیاں دی ہیں۔ حقیقت سے کوسوں دور ہے۔
قادیانیوں کا مسلمانوں سے بائیکاٹ
قادیانی مذہب کے ماننے والے بظاہر اپنے آپ کو مسلمانوں کے ساتھ ملا ہوا جتاتے ہیں۔ ان کی غمی، شادی کی مجلسوں میں شریک ہو جاتے ہیں۔ مگر یہ سب میل ملاپ اس لئے نہیں کہ وہ جناب محمد رسول اللہ ﷺ کی امت کو مسلمان سمجھتے ہیں۔ بلکہ وہ اپنے مقاصد کی برآری کے لئے ظاہری طور پر یہ سلسلہ رکھتے ہیں۔ ورنہ انہوں نے تو زندگی کے تمام دینی رشتوں کو مسلمانوں سے کاٹا ہوا ہے۔
نکاح
ان کے ہاں کسی قادیانی لڑکی کا نکاح کسی بھی مسلمان سے ناجائز ہے۔ اگر کسی قادیانی نے اپنی لڑکی کا نکاح کسی مسلمان کے ساتھ کر دیا تو اس کو جماعت سے خارج کر دیتے ہیں۔ جیسا کہ مندرجہ ذیل واقعہ اس کی شہادت میں درج کیا جاتا ہے۔
”چونکہ عبدالغنی ڈپو ہولڈر ابن میاں عبداللہ مہاجر قادیان حال وارد گجرات نے اپنی لڑکی کی شادی باوجود سمجھانے کے خلاف تعلیم احمدیت غیر احمدیوں میں کر دی ہے۔ نیز یہ قولاً و عملاً جماعت کے نظام سے علیحدہ ہیں۔ اس لئے انہیں بعد منظوری حضرت امیر المؤمنین خلیفۃ المسیح
٩
الثانی اخراج از جماعت کی سزا دی جاتی ہے۔ احباب مطلع رہیں۔“
(الفضل ج ٣٨، ٤ نمبر ١٤٣ ص ٧ لاہور، مورخہ ٩؍ جون ١٩٥٠ء)
بلکہ قادیانیوں کے دین میں اگر کوئی مسلمان بے غیرت ہو کر اپنی لڑکی کسی قادیانی کو دینا چاہے تو ایسے قادیانی کو بھی سختی سے منع کر دیا گیا۔ جیسا کہ مرزا بشیر الدین محمود نے کہا: ”جب لڑکا احمدی اور لڑکی غیر احمدی (مسلمان) ہو تب بھی نکاح نہ کرنا چاہئے کہ ٩٥ فیصدی ایسے لڑکے ہمارے ہاتھ سے جاتے رہے ہیں اور غیر احمدی لڑکیاں ان کو اور اپنی اولاد کو ارتداد کی طرف لے جاتے ہیں۔“
(الفضل لاہور مورخہ ١٢؍ ستمبر ١٩٤٨ء)
گویا کسی قادیانی کا مسلمان ہو جانا ان کے ہاں مرتد ہو جانا ہے۔
نماز جنازہ
کوئی قادیانی کسی مسلمان کا جنازہ نہیں پڑھتا۔ حتیٰ کہ اس برصغیر کے مسلمانوں کے محسن قائداعظم محمد علی جناح کی نماز جنازہ ظفر اللہ قادیانی نے جنازہ گاہ میں موجود ہوتے ہوئے اس لئے نہیں پڑھی کہ قائد اعظم مرزا قادیانی کو نبی نہیں مانتے تھے۔ بلکہ قادیانی تو اس مسلمان کے چھوٹے معصوم بچے کا جنازہ بھی اسی طرح حرام سمجھتے ہیں۔ جیسا کہ کافر کے بیٹے کا۔
ایک مرزائی نے پوچھا کہ: ”غیر احمدی کے بچے کا جنازہ کیوں نہ پڑھا جائے وہ تو معصوم ہے اور کیا یہ ممکن نہیں کہ وہ بچہ جوان ہو کر احمدی ہوتا۔ اس کے متعلق میاں محمود صاحب خلیفہ قادیان نے فرمایا۔ جس طرح عیسائی بچے کا جنازہ نہیں پڑھا جاسکتا اگرچہ وہ معصوم ہی ہوتا ہے۔ اسی طرح ایک غیر احمدی کے بچے کا بھی جنازہ نہیں پڑھا جاسکتا۔“
(الفضل قادیان ج ١٠ نمبر ٢٣ ص ٦، مورخہ ٢٣؍ اکتوبر ١٩٢٢ء، قادیانی مذہب ص ٥٨٢)
مطلب یہ کہ قادیانی مسلمانوں سے بالکل علیحدگی اختیار کرتے ہیں۔ حتیٰ کہ تعلیم کے میدان میں بھی قادیانی سکولوں اور کالجوں کو ترجیح دیتے ہیں۔ اس سے بڑھ کر علیحدگی کی اور دلیل کیا ہو سکتی ہے کہ قادیانیوں نے کیلنڈر بھی اپنا علیحدہ بنا رکھا ہے۔ مثلاً (الفضل ج ٢٧، ٢٦، نمبر ١٠٨، مورخہ ١٢؍ ربیع الثانی ١٣٩٣ھ) ١٦؍ ہجرت ١٣٥٢ھ، ١٦؍ مئی ١٩٧٣ء، ہجری اور عیسوی کے درمیان قادیانی علیحدگی کا واضح گواہ ہے۔ اندریں حالات ان کا مسلمانوں کے حقوق پر ڈاکہ ڈالنا واضح اور عیاں ہے۔
اس لئے ہماری قادیانی اہل وطن سے مخلصانہ درخواست ہے کہ آپ میں سے اکثریت ان کی ہے جنہوں نے قادیانی والدین کی گود میں پرورش پائی۔ اس لئے اس مذہب کو موروثی سمجھ کر
١٠
اپنالیا۔ اگر آپ حضرات صاف دل سے مرزا قادیانی کی کتابوں کا مطالعہ کریں تو انشاء اللہ آپ کو اس مذہب کی حقیقت معلوم ہو جائے گی۔ ہم دل سے دعاء کرتے ہیں کہ آپ حضرات اس چھوٹی سی برادری سے نکل کر اسلام کی عظیم گود میں آجائیں اور اگر آپ کو اسی مذہب پر اصرار ہے تو پھر از خود ہی رضا کارانہ طور پر بہائیوں کی طرح علیحدگی اختیار کر لیں۔ اس سے بھی آپ کے حقوق محفوظ ہو جائیں گے۔ اسلامی مملکت آپ کی جان، مال اور عزت کی حفاظت کرے گی۔ ہمارا یہ مطالبہ کسی دنیاوی عداوت کی بناء پر نہیں ہے۔ بلکہ یہ ہمارا دینی اور ملی مطالبہ ہے۔
سوال: قادیانیوں کی طرف سے کہا جاتا ہے کہ جو آدمی اپنے آپ کو مسلمان کہے بس وہ مسلمان ہے۔ جیسا کہ (الفضل ج٦٢، نمبر ١٠٨ص٢ ربوہ، مورخہ ١٦ مئی ١٩٧٣ء) میں ہے کہ: ”ہر وہ شخص جو اپنے آپ کو مسلمان کہتا ہے مسلمان ہے۔“ اس کا جواب یہ ہے کہ اگر یہ بات درست ہے تو پھر بہائیوں اور بابیوں کو قادیانی کیوں کافر کہتے ہیں۔ حالانکہ مرزائی خود مانتے ہیں کہ بہائی اور بابی اپنے آپ کو مسلمان کہتے ہیں۔ جیسا کہ قادیانیوں کی تبلیغی پاکٹ بک (مہتمم نشرواشاعت قادیان ص٢٤٠، دسمبر ١٩٤٥ء) میں ہے۔ ”بابی یا بہائی عوام کو دھوکہ دیتے ہیں کہ وہ مسلمان ہیں۔ حالانکہ بہاء اللہ کی اصل کتابوں کی رو سے وہ اسلام سے کوسوں دور ہیں۔“ تو اگر کسی جماعت یا فرد کا اپنے آپ کو مسلمان کہنا ہی اس کے مسلمان ہونے کی دلیل ہے تو پھر قادیانی بہائیوں کو کیوں کافر کہتے ہیں۔ اسی طرح مرزا غلام احمد قادیانی کی کتابوں کی رو سے قادیانی کافر ٹھہرائے جاتے ہیں۔
ف...... بہائی اور بابی وہ لوگ ہیں جو بہاء اللہ کو نبی اور رسول مانتے ہیں۔ یہ فرقہ ایران میں پیدا ہوا۔ مگر وہاں ان کو خلاف قانون قرار دے دیا گیا۔ پاکستان میں یہ بھی پائے جاتے ہیں۔
مغالطہ
قادیانیوں نے روز اوّل سے ان کی تکفیر کے مسئلہ کو علماء کرام کا ایک مشغلہ قرار دیا ہے۔ عام لوگوں کو وہ یہی تاثر دیتے ہیں کہ عام مسلمان اور لکھے پڑھے مسلمان تو ہم کو مسلمان سمجھتے ہیں۔ مگر یہ چند مولوی حضرات ہم کو کافر کہتے، اس مغالطہ کا جواب یہ ہے کہ تمام عالم اسلامی قادیانیوں کو کافر سمجھتا ہے۔ کسی مسلمان نے آج تک ان کو مسلمان نہیں سمجھا اور نہ ہی سمجھ سکتا ہے۔ محسن ملت اسلامیہ فلسفی دنیائے اسلام عاشق سید المرسلین فدائے خاتم الانبیاء علامہ ڈاکٹر محمد اقبالؒ نے قادیانیوں کے متعلق جو فیصلہ فرمایا اس کا ایک حصہ درج ذیل ہے:
١١
- الف...... قادیانی جماعت کا مقصد پیغمبر عرب ﷺ کی امت سے ہندوستانی پیغمبر کی امت تیار
کرنا ہے۔
- ب...... پنڈت نہرو اور قادیانی دونوں مختلف وجوہ کی بناء پر مسلمانان ہند کے مذہبی اور سیاسی
استحکام کو پسند نہیں کرتے ہیں۔
- ج...... ملت اسلامیہ کو اس مطالبہ کا پورا حق حاصل ہے کہ قادیانیوں کو علیحدہ کر دیا جائے۔ اگر
حکومت نے یہ مطالبہ تسلیم نہ کیا تو مسلمانوں کو شک گزرے گا کہ حکومت اس نئے مذہب کی علیحدگی میں دیر کر رہی ہے۔
(فیضان اقبال ص ٤٢٨ تا ٤٣٠، طباعت یکم مارچ ١٩٦٨ء، اشاعت اول، ٢١؍اپریل ١٩٦٨ء)
مرزا غلام احمد قادیانی نے نبوت اور رسالت کا دعویٰ کیا اور اس دلیری کے ساتھ کیا کہ قرآن مجید کی جن آیات سے سید دوعالم ﷺ کی رسالت بالکل واضح ہوتی ہے ان کو اپنے اوپر چسپاں کر لیا۔ جیسا کہ اس کی کتابوں میں تفصیل سے موجود ہے اور یہ بات بالکل واضح ہے کہ قادیانی مرزا غلام احمد کو نبی اور رسول مانتے ہیں۔ ان کے ہاں مرزا قادیانی کی نبوت بھی از روئے قرآن مجید ثابت ہے۔ بالفاظ دیگر جس آیت میں سید دوعالم ﷺ کی بشارت بطور اسم گرامی احمد ہے۔ اس کو بھی مرزا نے اپنے اوپر چسپاں کر رکھا ہے۔ جیسا کہ حوالہ پہلے دیا جا چکا ہے۔ قادیانیوں کے ہاں ان انبیاء کی فہرست جن کا نام نامی قرآن مجید میں آیا ہے مندرجہ ذیل ہے۔
’’حضرت آدم، حضرت نوح، حضرت ابراہیم، حضرت لوط، حضرت اسماعیل، حضرت یعقوب، حضرت یوسف، حضرت ہود، حضرت صالح، حضرت شعیب، حضرت موسیٰ، حضرت ہارون، حضرت داؤد، حضرت سلیمان، حضرت الیاس، حضرت یونس، حضرت ذوالکفل، حضرت الیسع، حضرت ادریس، حضرت ایوب، حضرت زکریا، حضرت یحییٰ، حضرت لقمان، حضرت عزیر، حضرت ذوالقرنین علیہم السلام، حضرت محمد ﷺ اور حضرت احمد علیہ السلام۔‘‘
(رسالہ دینی معلومات ص ١٠، ١١، شائع کردہ مجلس خدام الاحمدیہ ربوہ)
اس لئے قادیانیوں کے ہاں مرزا غلام احمد قادیانی کی نبوت پر ایمان لانا ضروری ہے۔ اگر کوئی آدمی سید دوعالم ﷺ جناب محمد رسول اللہ ﷺ کو تو نبی اور رسول مان لے۔ مگر مرزا کو نہ مانے۔ اگرچہ اس کو اس کا پتہ بھی نہ ہو تو وہ قادیانیوں کے ہاں مسلمان نہیں ہو سکتا۔ اس کی شہادت میں ملک فیروز خان صاحب نون (مرحوم) سابق وزیر اعظم پاکستان کا ایک بیان درج ذیل ہے۔
١٢
”ایک شخص نے انگلینڈ میں اسلام قبول کیا۔ اسی رات ایک احمدی قادیانی مبلغ ان سے ملنے گئے اور کہا جب تک آپ مرزا غلام احمد قادیانی کو نبی تسلیم نہیں کریں گے۔ آپ مسلمان نہیں بن سکیں گے۔ اس شخص نے جواب دیا میں نے تو اسلام اس لئے قبول کیا تھا کہ اس میں فرقے نہیں ہیں۔ لیکن چونکہ فرقہ بندی آپ کے ہاں ہے۔ اس لئے میں عیسائی ہی بھلا۔“
(کتاب چشم دیدار فیروز خان نون، مطبوعہ فیروز سنز ص ١١١)
تو جب مرزا قادیانی کو یہ لوگ نبی مانتے ہیں تو لامحالہ ایک علیحدہ امت بن گئی۔ یہی وجہ ہے کہ امت سید دوعالم ﷺ کے ساتھ یہ کسی بھی سطح پر اتفاق نہیں کرتے۔
ایک سوال اور اس کا جواب
قادیانیوں کی طرف سے عموماً یہ کہا جاتا ہے کہ بانی پاکستان حضرت قائد اعظم محمد علی جناحؒ نے قادیانیوں کو ساتھ ملایا اور ان پر اعتماد کرتے ہوئے پاکستان کا پہلا وزیر خارجہ ظفر اللہ خان قادیانی کو مقرر فرمایا۔ مگر اس کو ظفر اللہ کے اسلام یا قادیانیوں کے اسلام کی دلیل نہیں کہا جا سکتا۔ جب کہ آپ خود مانتے ہیں کہ یہ سیاسی اتحاد تھا۔ جیسا کہ (الفضل ج ٧٢، ٢٧ نمبر ١٠٨ ص ٢، مورخہ ١٦ مئی ١٩٧٣ء) کے ایڈیٹوریل میں تصریح ہے کہ یہ اتحاد سیاسی تھا اور یہ سیاسی اتحاد دوسرے غیر مسلموں کے ساتھ بھی کیا گیا۔ سب جانتے ہیں کہ پاکستان کا پہلا وزیر قانون سر جوگندر ناتھ منڈل تھا تو کیا اس سے یہ دلیل لی جا سکتی ہے کہ قائد اعظم کے نزدیک منڈل بھی مسلمان تھا یا یحییٰ خان کے دور میں تو وزیر قانون بھی کارنیلیس تھا جو اسلامی قانون بنا رہا تھا۔ محترم قائد عوام کے ایک ہی نعرۂ حق نے مستعفی ہونے پر مجبور کر دیا۔ میرے خیال میں کارنیلیس سمجھدار، مدبر، ماہر قانون ہے۔ جس نے اس حقیقت کو تسلیم کر لیا کہ ایک عیسائی کس طرح اسلامی قانون کی تدوین کر سکتا ہے۔ کاش یہ فکر قادیانیوں میں پیدا ہو جائے اور وہ از خود اپنے دل کی بات پر عمل کرتے ہوئے مسلمانوں سے علیحدگی کا اعلان واضح طور پر کر دیں۔
مسلمان بھائیوں کی خدمت میں دردمندانہ درخواست
.......! اس میں شک نہیں کہ آپ سب بھائیوں اور بہنوں کے دل میں اسلام سے عقیدت اور سید دو عالم جناب رسول اللہ ﷺ سے بے پناہ محبت ہے۔ آپ اگر مرزائیوں اور قادیانیوں کے بارہ میں کسی شک میں مبتلا ہیں تو اس کی وجہ یہ ہے کہ آپ کو ان کے عقائد اور لٹریچر سے واقفیت نہیں۔ اس لئے ضروری ہے کہ آپ ”قادیانی مذہب“ کتاب کا مطالعہ کریں۔ بلکہ
١٣
جس بستی میں یہ مذہب موجود ہو وہاں کے ائمہ مساجد روزانہ اس کتاب کا کم از کم ایک صفحہ نمازیوں کو سنا دیا کریں۔ یہ کتاب پروفیسر محمد الیاس صاحب برنی کی مرتبہ ہے۔ اس میں انہوں نے اپنی طرف سے کچھ نہیں لکھا بلکہ مرزا قادیانی اور قادیانیوں کی کتاب سے اس مذہب کا پورا نقشہ پیش کیا ہے۔
- ٢...... قادیانیوں کے عقائد سمجھنے اور سمجھانے اور عام مسلمانوں تک پہنچانے کے
لئے کسی قسم کا ضعف یا خطرہ محسوس نہ کریں۔ پاکستان اسلامی ملک ہے۔ اس میں اگر اقلیتی فرقوں کو اپنے عقائد اور نظریات کی اشاعت کا حق مل سکتا ہے تو اکثریت کو کوئی محروم نہیں رکھ سکتا۔ مگر اتنی بات عرض ہے کہ تحریر و تقریر میں قانون سے باہر قدم نہ رکھا جائے۔ یہ وطن ہمارا اپنا وطن ہے۔ ہم اس کے محافظ ہیں۔ اس میں کسی قسم کا غلط عمل اسلامی ملک کے لئے غیر مفید ہے۔
- ٣....... قادیانیوں کو اقلیت قرار دینے کے لئے اپنے اپنے حلقہ کے ممبران صوبائی
اسمبلی اور قومی اسمبلی کو توجہ دلاتے رہیں کہ وہ آئینی جدوجہد جاری رکھیں۔
ارباب اقتدار سے
آپ حضرات کو یہ عظیم وطن اور اس وطن میں اقتدار کی کرسی اور اس کی عزت سید دوعالم ﷺ کی برکات سے عطاء ہوئی ہے۔ ہمیں پورا یقین ہے کہ آپ حضرات کے دل میں ہم سے زیادہ امام الانبیاء ﷺ کے ساتھ محبت ہے اور آپ کے دل محبت نبوی سے سرشار ہیں۔ اس مملکت کی ملکی حدود کا تحفظ جس طرح ضروری ہے اسی طرح بلکہ اس سے بھی زیادہ ملی اور دینی حدود کا تحفظ ضروری ہے۔ اگر آپ حضرات اس دینی اور ملی مسئلہ کو آئینی شکل سے حل کر دیں گے تو اس کے لئے آپ کو اللہ تعالیٰ جزائے خیر عطاء فرماوے گا۔ آخر بہائی مذہب ایران میں پیدا ہوا اور ایرانی لوگوں کو شکار کیا۔ مگر ایران ہی میں اس مذہب کو خلاف قانون قرار دیا۔ ایران میں جب کہ بہائیوں کی تعداد سات لاکھ تھی اس فرقہ کو ختم کر دیا گیا۔
بحوالہ (تعمیر راولپنڈی ١٩/مئی ١٩٥٥ء، رائٹر) ایران کے وزیر داخلہ اسد اللہ نے ایرانی پارلیمنٹ میں یہ کہا کہ حکومت بہائی فرقہ کو ختم کرنے کا فیصلہ کر چکی ہے۔ آپ حضرات اگر مرزائیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دے دیں گے تو تمام امت محمدیہ پر آپ کا احسان ہوگا۔ واللہ الموفق!
جب آپ کے نزدیک اقلیت کے حقوق کا تحفظ ضروری ہے تو اس اکثریت کے جائز حقوق کا بھی تحفظ فرمائیے جن کے ووٹوں سے آپ کو اقتدار ملا۔
١٤
انا خاتم النبیین لا نبی بعدی
میں سب سے آخری نبی ہوں، میرے بعد کوئی نبی نہیں
مرزا غلام احمد قادیانی کا
قرآن عزیز میں
ردو بدل کا نمونہ
(حضرت مولانا قاضی زاہد الحسینیؒ)
بسم الله الرحمن الرحيم! الحمدلله وحده والصلوة والسلام على من لا نبي بعده!
آج سے تقریباً پون صدی پہلے مرزا غلام احمد قادیانی نے نبی اور رسول ہونے کا دعویٰ کیا۔ مگر اس بیباکی سے بڑھ کر یہ بیباکی کی کہ قرآن مجید کی ان آیات کو جو سید دو عالم ﷺ کی نبوت اور رسالت کے لئے خداوند قدوس نے نازل فرمائیں۔ ان کو اپنے کرم خاکی پر منطبق کرنے کا دعویٰ کیا۔ جیسا کہ سورۃ الفتح کی آیت نمبر ٢٨ (جس میں سید دو عالم ﷺ کی رسالت کاملہ کا ارشاد فرمایا ہے) کے متعلق مرزا قادیانی نے کہا ”اور مجھے بتلایا گیا تھا کہ تیری خبر قرآن وحدیث میں موجود ہے اور تو ہی اس آیت کا مصداق ہے۔“
(اعجاز احمدی ص ٧، خزائن ج ١٩ ص ١١٣)
اسی طرح اس بے ادب اور گستاخ نے نہایت دیدہ دلیری کے ساتھ قرآن کریم کی آیات میں تحریف کر کے اپنا الہام قرار دیا۔ جس سے قرآن کریم کی آیات کا تحفظ خطرہ میں پڑ جانے کا امکان تھا۔ علماء حق نے پوری توجہ اور محنت کے ساتھ مسلمانوں کو اس فتنے سے باخبر رکھا۔ اسی سلسلے میں جناب محمد شفیع صاحب میرپوری کا ایک مضمون اخبارات میں شائع ہوا جسے انجمن اشاعت القرآن والحدیث کیمبل پور کی طرف سے رسالہ کی شکل میں شائع کیا جارہا ہے۔ دعاء ہے کہ خداوند قدوس مسلمانوں کو اس فتنے کے سمجھنے کی توفیق عطاء فرمائے اور اپنے فضل و کرم سے اس فتنے کے خطرناک نتائج سے مسلمانوں کو محفوظ رکھے۔ آمین! محمد زاہد الحسینی ٥ نومبر ١٩٧٣ء
بعض کتب میں آیات قرآنی کی تحریف
(محمد شفیع جوش میر پوری لاہور)
گزشتہ کچھ عرصہ سے اخبارات میں اس قسم کی اطلاعات شائع ہوتی رہی ہیں کہ بعض لوگوں نے قرآن مجید کی آیات میں تحریف کی ہے اور قرآن مجید کے تحریف شدہ نسخے تقسیم ہوتے رہے ہیں۔ یہ مسئلہ صوبائی اسمبلی (پنجاب) میں اٹھایا گیا تھا۔ جس پر قائد ایوان نے یقین دلایا تھا
٢
کہ اس کا جائزہ لیا جارہا ہے۔ اگر الزام درست ہوا تو ایسے نسخے ضبط کر لئے جائیں گے اور اس کے ناشرین کو سزادی جائے گی۔ ہم نے اپنے ادارتی کالموں میں چند روز قبل دعوت دی تھی کہ اگر کسی شخص کی نظر سے قرآن پاک کا تحریف شدہ نسخہ گزرا ہے تو وہ اسے منظر عام پر لائے۔ اس کے جواب میں ہمیں زیر نظر مضمون ملا ہے جو ہم شائع کر رہے ہیں۔ ادارہ!
میرا وطن لاہور سے بہت دور، ایسی جگہ ہے جہاں قادیانیت کی بحث کبھی سننے میں نہیں آئی۔ لاہور آنے کے بعد عام لوگوں کی زبانی قادیانی عقائد کا ذکر اذکار سنا تو دل نہیں مانتا تھا کہ ایسے عقائد بھی ہو سکتے ہیں۔ خیال ہوتا تھا کہ ضرور یہ لوگ تعصب اور مبالغے سے کام لے رہے ہیں۔ مسئلے میں میری دلچسپی بڑھی تو انصاف اسی میں نظر آیا کہ خود جناب مرزا غلام احمد قادیانی کی تحریروں سے ان کے عقائد معلوم کئے جائیں۔ چنانچہ پچھلے چند ماہ سے میں قادیانی کتب کا مطالعہ کر رہا ہوں کہ مجھے شبہ گزرا کہ کچھ آیات قرآنی جو ان میں نقل کی گئی ہیں صحیح نقل نہیں کی گئیں۔ قرآن شریف میں سے یہی آیات نکال کر دونوں کا مقابلہ کیا گیا، تو دیکھا کہ کتابوں میں منقول آیات واقعی چھپی ہیں۔ پہلے تو یہی خیال رہا کہ یہ محض سہو کتابت ہے جو کتابوں کے دوسرے ایڈیشنوں میں درست کر دیا گیا ہوگا۔ لیکن جب دوسری جگہوں پر بھی انہی غلطیوں کا تکرار دیکھا تو میرے شبہات گہرے ہو گئے۔ بالخصوص جب شرکت اسلامیہ ربوہ کی ١٩٥٧ء کی شائع شدہ کتابوں میں (بسلسلہ روحانی خزائن) یہ پڑھا کہ مرزا قادیانی کی کتابوں کے نئے ایڈیشنوں میں کتابت وغیرہ کی تمام سہو برقرار رکھے گئے ہیں۔ الا قرآن وحدیث کے منقولہ ٹکڑوں کے جنہیں اب درست کر دیا گیا ہے تو یقین ہو گیا کہ قرآن شریف کی منقولہ آیات میں جو اغلاط مجھے نظر آئی تھیں وہ سہو کاتب تو نہ تھیں بلکہ قادیانی جماعت کے سربراہ انہیں گویا اسی طرح (محرفہ) ہی قرآن سمجھتے تھے۔ جیسا کہ خود نقل کرتے تھے۔ فیالعجب۔ قرآن حکیم کے صحیح نسخہ کے سوا دیگر ہر طرح کی منقول آیات کی اشاعت پر پابندی ہونی چاہئے۔ مگر مرزا قادیانی انہی آیات کو قرآن شریف کی صحیح جانتے اور مانتے ہیں اور انہیں ویسے کا ویسا رکھنا چاہتے ہیں۔
٣
قارئین میں سے بعض حضرات یقیناً باخبر ہوں گے کہ مرزا غلام احمد قادیانی کے کچھ اپنے الہامات بھی عربی زبان میں ہیں۔ ان الہاموں کے الفاظ اور قرآنی الفاظ میں بعض اوقات ایک قریبی مماثلت پائی جاتی ہے۔ ان مذکورہ ٹکڑوں سے یہاں بحث نہیں۔ کیونکہ مرزا قادیانی انہیں قرآن نہیں بلکہ اپنا الہام کہتے ہیں اور ظاہر ہے کہ ان کا الہام ان کا اپنا ذاتی معاملہ ہے۔ جس پر یہاں ردوکد نہیں ہورہی۔ زیر بحث شے یہاں وہ آیات ہیں جسے قرآن پاک سے نقل کیا گیا ہے ان میں یقیناً تحریف کی گئی ہے اور اس تحریف سے میری مراد ترجمے کا ادل بدل نہیں میری مراد خود قرآن پاک کے اپنے حروف والفاظ سے ہے کہ انہیں نقل کرنے میں بدل دیا گیا ہے اور متعدد بار چھپنے والے ایڈیشنوں میں انہیں درست نہیں کیا گیا۔ اب ان کی مثالیں ملاحظہ ہوں۔
تحریف شدہ آیات کے حوالے
مرزا قادیانی کی کتابوں میں قرآن مجید میں الم يعلموا انه من يحادد الله ورسوله الم يعلموا انه من يحادد الله ورسوله يدخله ناراً خالداً فيها ذالك الخزى فان له نار جهنم خالدا فيها ذالك العظيم (الجز نمبر ١٠ سوره توبه) الخزى العظيم (توبه: ٦٣) (حقیقت الوحی ص ١٣٠)
نوٹ: مرزا قادیانی نے يدخله اپنی طرف سے داخل کیا اور فان له اور جھنم کو خارج کر کے قرآن مجید کی تصحیح فرمائی۔ (نعوذ باللہ)
ان يجاهدوا فى سبيل الله باموالهم وجاهدوا باموالكم وانفسكم فى وانفسهم (سوره توبه، ع٦، جنگ مقدس سبيل الله (توبه: ٤١) ص ١٧٦، مرزا غلام احمد قادیانی)
مرزا قادیانی نے ان یجاھدو اپنی طرف سے داخل کیا اور وجاھدوا خارج کر کے فی سبیل اللہ کو آخر سے اٹھا کر درمیان میں رکھ دیا۔
٤
وما ارسلنا من قبلك من رسول ولا نبى الا اذا تمنى القى الشيطن فى امنيته (حج:٥٢)
اللہ جل شانہ قرآن کریم میں اشارہ فرماتا ہے: وما ارسلنا من رسول ولا نبى اذا تمنى القى الشيطان فى امنيته (ازالہ اوہام ص ٦٢٩، آئینہ کمالات ص ٤٣٩، مرزا غلام احمد)
مرزا غلام احمد قادیانی نے قرآن شریف کی آیت سے قبلك خارج کردیا ہے۔ کیونکہ اگر قبلك یہاں رہتا تو مرزا قادیانی کی نبوت کا ٹھکانا نہ بنتا۔
ولقد اتينك سبعا من المثانى والقرآن العظيم (حجر:٨٧)
انا اتيناك سبعا من المثانى والقرآن العظيم (براہین احمدیہ ص ٤٨٨ حاشیہ نمبر ١١ چہارحصص)
ولقد غائب انا زائد قرآن میں ن پر زبر ہے اور کتاب میں زیر ہے۔ العظیم کے م پر قرآن مجید میں زبر ہے اور مرزا قادیانی کی کتاب میں زیر ہے۔
كل من عليها فان ويبقى وجه ربك ذوالجلال والاكرام (رحمن:٢٦، ٢٧)
كل شئى فان ويبقى ربك ذوالجلال والاكرام (ازالۃ اوہام ص ١٣٦ طبع اوّل ١٣٠٨ھ، باہتمام لالہ کاشی رام، کاشی رام پریس لاہور)
مرزا قادیانی نے مزید من عليها غائب کردیا اور شیٔ زائد کردیا ہے۔
يايها الذين آمنوا ان تتقوا الله يجعل لكم فرقانا ويكفر عنكم سياتكم ويغفرلكم والله ذوالفضل العظيم
(انفال:٢٩)
يايها الذين آمنو ان تتقوالله يجعل لكم فرقاناً ويجعل لكم نوراً تمشون به (آئینہ کمالات اسلام ص ٩٧)
ويجعل لكم نوراً تمشون بہ مرزا قادیانی نے داخل کیا۔ ويغفر لكم والله ذوالفضل العظيم خارج کیا۔
٥
وما ارسلنا من قبلك من رسول الا نوحى اليه انه لا اله الا انا فاعبدون (الانبياء:٢٥)
وما ارسلنا من قبلك من رسول ولا نبى ولا محدث الا اذا تمنى القى الشيطان فى امنيته فينسخ الله ما يلقى الشيطان ثم يحكم الله آياته (براہین احمدیہ ص ٥٣٨ حاشیہ، خزائن ج١ ص ٦٥٥)
اصل آیت من رسول تک تحریر کی۔ آگے اپنی طرف سے ساری عبارت لگائی اور محدث کا لفظ جو سارے قرآن مجید میں نہیں ہے داخل کر دیا۔ یہ کتابیں مرزا غلام احمد قادیانی کی ان کے اپنے دور میں چھپی ہوئی خلیفہ ثانی مرزا بشیر الدین محمود کے دور کی چھپی ہوئی۔ خلیفہ ثالث مرزا ناصر کے دور کی مطبوعہ میرے پاس موجود ہے جو دکھائی جاسکتی ہے۔
ہمیں خوف ہے کہ ان تحریف شدہ آیات کی موجودگی میں اغیار ہمیں طعنہ دیں گے کہ لو جی وہ تمہارے رب کا جو وعدہ ”انا له لحفظون“ کا تھا وہ غلط ثابت ہوا۔ اگر تمہارے قرآن میں اس دور میں جب کہ ذرائع نشر و اشاعت اتنے اچھے اور عام ہیں تحریف ہو سکتی ہے تو پچھلی چودہ صدیوں میں کیا کچھ نہ ہوا ہوگا۔ اس لئے ہم ربوہ کے ارباب اختیار سے اپیل کریں گے کہ وہ مرزا قادیانی کی تمام نقل کردہ آیات قرآنی پر منصفوں والی نظر ڈالیں اور ایسی تحریفات کی بھی جو ابھی تک ہماری نظر سے نہیں گزریں تصحیح کر دیں۔ اگر وہ ایک مناسب عرصے کے اندر یہ نہیں کرتے یا الگ اغلاط نامے شائع کر کے ان کی کما حقہ اشاعت نہیں کرتے تو ہم حکومت پاکستان سے یہ اپیل کرنے میں حق بجانب ہوں گے کہ وہ قادیانی لٹریچر میں سے ان تمام کتابوں اور رسالوں کو اس وقت تک ضبط شدہ قرار دیئے رکھیں۔ جب تک کہ ان کی تصحیح نہیں کر دی جاتی اور صحیح کو باقاعدہ مشتہر نہیں کیا جاتا۔ (بشکریہ روزنامہ نوائے وقت ٢؍ دسمبر ١٩٧٣ء)
٦
خاتم النبیین لا نبی بعدی
میرے بعد کوئی نبی نہیں
براءۃ امام
از
افتراء پیغام
(حضرت مولانا قاضی زاہد الحسینیؒ)
انہ من سلیمان وانہ، بسم اللہ الرحمن الرحیم!
مرزا غلام احمد قادیانی کی عمر کا اکثر حصہ خداوند تعالیٰ کی شان میں گستاخی، انبیاء علیہم السلام کی تحقیر اور سید الرسل خاتم النبیین ﷺ کی شان اقدس میں بے باکی ، اولیاء کرام اور علماء ملت اسلامیہ پر الزامات واقع کرنے میں گزرا۔ اگر اس نے اپنے لڑکے کو خداوند تعالیٰ کی ذات پاک سے تشبیہ دیتے ہوئے ”كان الله نزل من السماء“ کا دعویٰ کر دیا تو جناب محمد ﷺ کی شان پاک میں یہ کہلوا کر مسرت کے شادیانے بجائے ؎
آگے سے بڑھ کر ہیں اپنی شان میں
محمد دیکھنے ہوں جس نے اکمل
غلام احمد کو دیکھے قادیان میں
امام حسین علیہ السلام کے متعلق یہ کہنے میں باک نہ کیا ۔ ”مجھ میں اور تمہارے حسین میں بہت فرق ہے۔ کیونکہ مجھے تو ہر ایک وقت خدا کی تائید مل رہی ہے۔ مگر حسین پس تم دشت کربلا کو یاد کرلو۔ اب تک تم روتے ہو۔ پس سوچ لو اور میرا مقام یہ ہے کہ مرا خدا عرش پر سے میری تعریف کرتا ہے اور عزت دیتا ہے۔“
(اعجاز احمدی ص ٦٩، خزائن ج ١٩ ص ١٨١)
حضرت پیر مہر علی شاہ صاحب قدس سرہ العزیز کے بارے میں کہا: ”اے گولڑہ کی زمین تجھ پر لعنت ہو۔ تو ملعون کے سبب سے ملعون ہو گئی۔ پس تو قیامت کو ہلاکت میں پڑے گی ۔“
(اعجاز احمدی ص ٧٥، خزائن ج ١٩ ص ١٨٨)
اسی مرزا غلام احمد قادیانی کی امت نے اپنے نبی کی سنت میں امام اعظمؒ کی شان میں یہ گستاخی کی کہ جب ان سے مرزا کی قبر کے متعلق پوچھا گیا کہ سکھوں نے اس کی تذلیل وتحقیر کر دی تو اس کے جواب میں یہ کہا کہ : ” شاہ اسماعیل نے ابو حنیفہ کوفی کی قبر جو کہ بغداد میں تھی کھدوایا اور ہڈیوں کو جلا دیا اور اس جگہ ایک کتے کو گاڑ دیا گیا۔ اس مقام پر اہل بغداد کا پاخانہ بنایا گیا ۔“
(پیغام صلح مورخہ ١٢؍ نومبر ١٩٣٧ء بحوالہ مجالس المومنین ص ٣٨١، اخبار الہلال ص ١٦، ٢٢ مورخہ ٢٦؍ نومبر ١٩١٣ء)
ایسی بد زبانی کے متعلق مرزا غلام احمد کا فیصلہ یہ ہے کہ : ”بدتر ہر ایک بد سے وہ ہے جو بد زبان ہے۔ جس دل میں یہ نجاست ہے بیت الخلاء یہی ہے۔“
(درثمین ص ٨٢ اردو)
یہ الزام اور افتراء جس طرح شرافت اور اخلاق سے دور ہے۔ اسی طرح حقیقت سے بھی
٢
کوسوں دور ہے اور یہ افتراء پورا افتراء ہے۔ اس میں ایک ذرہ بھی صداقت نہیں ہے۔ ایسے پر آشوب اور پرفتن زمانہ میں جب کہ مسلمانوں میں اتحاد اور اتفاق کی ضرورت ہے۔ مرزائی آئے دن مسلمانوں میں اختلاف اور انتشار پیدا کرنے میں مصروف عمل ہیں۔ ان کا ہر مضمون اور تقریر یا ہر ایک تحریر، شرافت، اخلاق سے نہ صرف بعید ہوتی ہے بلکہ انتشار اور اختلاف میں جدوجہد کی جاتی ہے کہ کسی طرح امت کا شیرازہ بکھر جائے۔ آپ خیال تو فرمائیں کہ جس پاکستان میں مرزائیوں کو جائے پناہ ملی۔ امن ملا، یہ ابو حنیفہؒ امام اعظم کے مقلدین سے آباد ہے۔ وہ مجاہدین جو آج کشمیر میں اپنے خون بہا کر پاکستان کو بچا رہے ہیں۔ امام اعظم کے جانثار ہیں۔ مگر ان مرزائیوں نے ان کروڑوں مسلمانوں کے دلوں کو مجروح کرتے ہوئے امام ابو حنیفہ کی شان بابرکات میں یہ گستاخانہ الفاظ تشہیر کر دیئے۔ کسی مؤرخ یا سیرت نگار نے اس واقعہ کو نقل نہ کیا۔ بلکہ خواجہ عباد اللہ امرتسری جو مرزائیوں کے ہاں بھی معتمد علیہ ہیں۔ تاریخ بغداد میں لکھتے ہیں کہ ٤٧٩ھ کو شاہ سلجوقی اور اس کا وزیر نظام الملک جناب امام اعظم کی زیارت کو آیا تو اس وقت بھی قبر پر ایک گنبد تھا۔
٥٨٠ھ میں ابن جبیر اندلسی بغداد آیا تو اس نے بھی قبر کی تصدیق کی۔ ٦٣٧ھ کو ابن بطوطہ وہاں آیا۔ اس نے بھی اس کی تصدیق کی۔ نادر شاہ ایرانی نے جب بغداد پر حملہ کیا تو امام صاحب کے مزار پر ایک دستہ اس لئے متعین فرمایا کہ شیعہ مزار شریف کی بے ادبی نہ کریں۔ حضرت کا مقبرہ ہی بغداد شریف میں ایک ایسی عمارت میں ہے۔ جو بغداد کی بنیاد سے اس وقت تک قائم ہے۔ زمانہ نے شہر کی یادگاریں ایک ایک کر کے مٹا دیں۔ مگر یہ روضہ پاک اسی طرح قائم ہے۔
(تاریخ بغداد جلد دوم ص ٨٢)
یہ بہتان اکابر ملت اسلامیہ کی نظر میں نہایت ہی فساد انگیز اور شرارت افشاں واقع ہوا ہے۔
- ......١ علامہ شبیر احمد عثمانی فرماتے ہیں کہ بلاشبہ اس طرح کی رکیک حکایات کا
بے تحقیق نقل کر دینا اشتعال انگیز ہے۔ جس سے اجتناب کرنا ضروری ہے۔ ان چیزوں کی اشاعت سے عام جذبات کو بہت ٹھیس لگتی ہے اور اندیشہ ہوتا ہے کہ کوئی فساد نہ ہو جائے۔ اس لئے ایسی تحریرات کی اشاعت کی روک تھام کرنی چاہئے۔
شبیر احمد عثمانی، ١٥؍مئی ١٩٤٨ء
- ......٢ مولانا عبدالماجد دریا بادی کا ارشاد ہے کہ خدا معلوم وہ دنیا کی کون سی عجب
العجائب قسم کی کتاب ہے۔ جس میں روایت بھی ایسی پوچ قسم کی درج ہے۔
(صدق ٩؍جنوری ١٩٤٨ء)
- ......٣ مولانا سید محمد داؤد صاحب غزنوی ایم۔ ایل، اے فرماتے ہیں۔ امام
٣
ابو حنیفہ صاحب کی قبر کے متعلق پیغام صلح کا بیان بالکل کذب وافتراء ہے اور اس کی کوئی حقیقت نہیں ہے۔
(٧؍ فروری ١٩٣٨ء)
- ٤...... مولانا السید گل بادشاہ صاحب سجادہ نشین اکوڑہ فرماتے ہیں۔ امام ابو حنیفہؒ
کے متعلق اس طرح بیہودہ اور بے بنیاد باتیں شائع کرنا عقل اور تدبر سے باہر ایک متعصب اور دشمن اسلام کا کام ہے۔
اس افتراء اور بہتان کا حوالہ پیغام صلح نے دو چیزوں سے دیا ہے۔ ایک تو الہلال کا اور دوسرا مجالس المومنین کہ دارالاشاعت شمس آباد کی طرف سے لا تعداد خطوط اخبار مذکورہ کو لکھے گئے کہ الہلال سے کون سا الہلال مراد ہے اور مجالس المومنین کس کی کتاب ہے۔ مگر جواب نہ آیا۔ آخر مجبوراً مورخہ ٦؍ فروری ١٩٣٨ء کو رجسٹرڈ نوٹس بھیجا گیا۔ مگر اس کا بھی تا حال جواب نہ آیا اور نہ ہی انشاء اللہ آئے گا۔ الہلال سے تبادر مولانا ابوالکلام آزاد کا الہلال ہے اور مجالس المومنین ایک شیعہ کی کتاب ہے۔ دارالاشاعت کی طرف سے مولانا آزاد کی توجہ اس افتراء کی طرف مبذول کرائی گئی۔ مگر مولانا نے بیزاری کا اعلان کرتے ہوئے مندرجہ ذیل جواب دیا۔
(اخبار پیغام صلح میں الہلال کا حوالہ غلط ہے، ١٣؍ فروری ١٩٣٨ء)
مجالس المومنین کے متعلق عرض ہے کہ اس کتاب میں یہ عبارت موجود نہیں ہے۔ میں نے خود اس کو دیکھا۔ نیز شیعہ حضرات کے ممتاز الافاضل محمد بشیر صاحب نے بھی اس کا مطالعہ کیا۔ مگر یہ عبارت نہ ملی۔ جناب محمد بشیر صاحب نے تحریر فرمایا کہ: ”میں نے کتاب مجالس المومنین ص ٣٨١ بغور مطالعہ کیا۔ مگر مجھے آپ کی پیش فرمودہ عبارت نظر نہیں آئی ۔ احتیاطاً میں نے ص ٣٨٠ ، ٣٨٢ بھی دیکھا۔ مگر مجھے اس عبارت کا کوئی جزو بھی نہیں ملا۔“ (محمد بشیر ٢٢؍ اکتوبر ١٩٣٨ء)
مرزائیوں کے اخبار پیغام صلح نے یہ افتراء شائع کر کے مندرجہ ذیل مذموم حرکات کا ارتکاب کیا۔
- ١...... اخلاقی
قرآن پاک کی تعلیم یہ ہے کہ تم غیر مسلموں کے معبودوں کو بھی برا نہ کہو ۔ مگر مرزائیوں نے جناب امام اعظمؒ کی شان میں ایک نہایت ہی بری اشاعت کا ارتکاب کر کے اپنا اخلاقی دیوالیہ نکالا۔
- ٢...... سیاسی
آج جب کہ مسلمانوں میں تنظیم اتحاد کی ضرورت ہے۔ مختلف فیہ مسائل اور اہم امور پر بھی اطمینان اور اخلاص سے بحث کرنے کی ضرورت ہے۔ مگر مرزائیوں نے ایک ایسے نشتر کو شائع کرنا مصلحت سمجھا کہ جس سے کروڑوں مسلمانوں کے دل زخمی ہوں اور اشتعال پیدا ہو۔ وہ مخلص
٤
اور جانثار مجاہدین جو اپنے خون سے محاذ کشمیر اور دوسری خطرناک جگہوں پر تحفظ ملک کی خاطر قربانی کر رہے ہیں۔ سب کے سب امام اعظمؒ کے مقلد ہیں۔ ان پر اس کا کیا اثر پڑتا۔ اگر وہ صبر اور تحمل سے کام نہ لیتے۔ پھر مجالس المومنین کا حوالہ دے کر شیعہ اور سنی مسلمانوں میں افتراق اور انتشار پیدا کرنے کی ناکام کوشش کی گئی ہے۔ یہ بہت ہی خطرناک چال ہے۔
- ٣....... صحافتی
ایک اخبار کا بلا دلیل اور بلا کسی حوالہ کے ایک خطرناک مضمون کا نقل کر دینا اور پھر حوالہ بھی بالکل غلط اور جھوٹا دے دینا صحافت کے لحاظ سے ایک مذموم فعل ہے اور دوسرے اخبارات کے متعلق یہ رائے قائم کرنے کا پیش خیمہ ہے کہ اخبارات غلط اور جھوٹے حوالہ جات کے ذریعہ خبریں شائع کرتے رہتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اس رکیکانہ حملے کے خلاف جس طرح مسلمان اخبارات و رسائل نے صدائے احتجاج بلند کی۔ اسی طرح عیسائی رسالہ المائدہ نے بھی اس کو نقل کر کے صحافتی معیار کا حق ادا کیا ہے۔ بہر کیف پیغام صلح نے اس مضمون کو شائع کر کے مذہبی اور اخلاقی جرم کے ساتھ ساتھ صحافت پر بدنما داغ لگایا ہے۔ جس کا ازالہ ہرگز نہ ہو سکے گا۔ مسلمانوں کو عموماً اور حکومت کو خصوصاً ایسے فساد انگیز اخبارات سے باخبر رہنا چاہئے۔
امام اعظمؒ
کروڑوں انسانوں کے پیشوا ہو گزرے ہیں۔ آپ کا فقہ حنفی اکثر بلاد اسلامیہ میں نافذ اور مقبول ہے۔ خصوصاً ہندوستان پر تو جتنے مسلمان بادشاہوں نے حکومت کی وہ سب کے سب حنفی ہی تھے۔ سلاطین اسلامیہ میں سے سلطان محمود غزنوی فقہ حنفی کے زبردست عالم تھے۔ ان کی تصنیف یادگار کتاب التفرید آج بھی کتب خانوں میں موجود ہے۔ عالمگیر کی یادگار فتاویٰ عالمگیری کئی جلدوں میں موجود ہے۔ سلطان فیروز شاہ کی یادگار فتاویٰ تاتار خانیہ اس امر کی دلیل ہے کہ سلاطین اسلام فقہ حنفی کے عامل تھے اور امام اعظمؒ ہی کو اپنا امام اور مقتداء سمجھتے تھے۔ ہر زمانہ میں امام صاحب کا مزار مرجع خلائق اور عقیدت گاہ خواص و عوام رہا ہے۔ شاہ سلجوقی اور نظام الملک مزار پر انوار پر حاضری سے مشرف ہوئے۔ الپ ارسلاں نے وہاں ایک مدرسہ جاری کرایا۔ ناصر الدین قاچار شاہ ایران نیاز مندانہ دربار ابی حنیفہ پر حاضر ہوا۔
امام صاحب کی مختصر سوانح حیات
اسم گرامی نعمان والد صاحب کا نام ثابت ہے۔ فارسی نسل میں سے تھے۔ ٨٠ھ میں
٥
بمقام کوفہ پیدا ہوئے۔ کافی صحابہ رسول اللہ ﷺ سے ملاقات کی اور ان سے روایت کی۔ اس لئے آپ کا تابعی ہونا ایک ایسا وصف ہے۔ جو دوسرے اماموں میں نہیں۔ بہت ہی زبردست عالم اور امام گزرے ہیں۔ تقویٰ میں بھی آپ کی نظیر کم ملے گی۔ کئی سال تک عشاء کے وضو کے ساتھ صبح کی نماز ادا کی اور تیس برس تک برابر ایک رکعت میں قرآن ختم کرتے اور دن کو روزہ رکھتے تھے۔ بہت ہی زیادہ پرہیز گار تھے۔ پچپن حج کئے۔ آپ کپڑے کے بہت بڑے تاجر تھے۔ ساری عمر اشاعت دین اور تبلیغ مذہب میں گزاری۔
١٥٠ھ میں شوال کے مہینہ میں انتقال فرمایا۔ جنازہ کی نماز میں پچاس ہزار آدمی شریک ہوئے اور بیس روز تک آپ کی قبر پر دعاء کرتے رہے۔ ٤٩٥ھ میں سلطان محمد خوارزمی نے آپ کی قبر پر ایک بہت بڑا گنبد اور اس کے قریب ایک بڑا مدرسہ جاری کیا۔ ہر زبان میں آپ کی سوانح حیات لکھی گئی ہیں۔ آپ کی وفات میں متعدد اقوال ہیں۔ اکثر مورخین کی رائے یہی ہے کہ منصور خلیفہ نے آپ کو زہر دلوا کر مروا ڈالا اور اس کی وجہ یہ بیان کرتے ہیں کہ آپ نے قضا کا عہدہ قبول نہ کیا۔ مگر اصلی وجہ یہ ہے کہ امام اعظمؒ بہت بڑے شجاع اور حق گو تھے۔ آپ نے منصور کی خلافت کو ناجائز سمجھ کر زید بن علی بن حسینؓ کی تائید فرمائی تھی۔ اس لئے ابن ہبیرہ نے عہدۂ قضا کو بہانہ بنا کر آپ کو زہر دلوا دیا۔ رحمة الله تعالى رحمة واسعة!
مسلمانوں کی خدمت
مسلمانوں کی خدمت میں مؤدبانہ عرض ہے کہ آپ کم از کم اتنا تو کریں کہ حکومت سے ”تحفظ ناموس اکابر“ کے نام سے ایک ایسا قانون بنوائیں کہ جس کی رو سے کسی انسان کو یہ طاقت اور یہ اجازت نہ ہو کہ وہ جو دل میں آئے بلا تحقیق کسی معزز برگزیدہ انسان کے بارے میں کہہ ڈالے اور اس کی اشاعت سے اپنی دکان کو فروغ دے کر مسلمانوں میں انتشار اور اختلاف پیدا کرے۔ علمائے کرام اور صوفیائے عظام کی خدمت میں درخواست ہے کہ وہ ضرور اس طرف توجہ فرمائیں۔ بلکہ اس توہین آمیز اشاعت پر صدائے احتجاج بلند کر کے حکومت کو اس طرف متوجہ فرمائیں اور دارالاشاعت جیسے واحد تبلیغی ادارہ کے ممبر کثرت سے بن کر غیروں کے حملوں کا دفاع کریں۔ یہی واحد ادارہ ہے کہ جس نے تمام غیر مسلم اقوام کے جارحانہ حملوں کے دفاع میں اپنا سب کچھ نثار کرنا اپنا شعار بنایا ہوا ہے۔ اس کا تقریباً سارا لٹریچر اردو، گجراتی، انگریزی زبانوں میں مفت شائع ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ سب کا حامی و ناصر ہو۔ وهو نعم الوكيل!
٦؍ ذی الحجہ ١٣٩٧ھ، قاضی محمد زاہد الحسینی غفرلہ
اللہ ﷺ سے ملاقات کی اور ان سے روایت کی۔ اس لئے جو دوسرے اماموں میں نہیں۔ بہت ہی زبردست عالم اور نظیر کم ملے گی۔ کئی سال تک عشاء کے وضو کے ساتھ صبح کی رکعت میں قرآن ختم کرتے اور دن کو روزہ رکھتے تھے۔ بہت آپ کپڑے کے بہت بڑے تاجر تھے۔ ساری عمر اشاعت
انتقال فرمایا۔ جنازہ کی نماز میں پچاس ہزار آدمی شریک کرتے رہے۔ ٢٩٥ھ میں سلطان محمد خوارزمی نے آپ سبب ایک بڑا مدرسہ جاری کیا۔ ہر زبان میں آپ کی سوانح تعدد اقوال ہیں۔ اکثر مورخین کی رائے یہی ہے کہ منصور کی وجہ یہ بیان کرتے ہیں کہ آپ نے قضا کا عہدہ قبول بڑے شجاع اور حق گو تھے۔ آپ نے منصور کی خلافت کو بنائی تھی۔ اس لئے ابن ہبیرہ نے عہدۂ قضا کو بہانہ بنا کر رحمة واسعة!
گزارش ہے کہ آپ کم از کم اتنا تو کریں کہ حکومت سے قانون بنوائیں کہ جس کی رو سے کسی انسان کو یہ طاقت بلا تحقیق کسی معزز برگزیدہ انسان کے بارے میں کہہ فروغ دے کر مسلمانوں میں انتشار اور اختلاف پیدا خدمت میں درخواست ہے کہ وہ ضرور اس طرف توجہ صدائے احتجاج بلند کر کے حکومت کو اس طرف متوجہ وہ کے کبر کثرت سے بن کر غیروں کے حملوں کا دفاع غیر مسلم اقوام کے جارحانہ حملوں کے دفاع میں اپنا تقریباً سارا لٹریچر اردو، گجراتی، انگریزی زبانوں میں امر ہو- وهو نعم الوكيل! ٦/ ذی الحجہ ١٣٦٧ھ، قاضی محمد زاہد الحسینی غفرلہ ٦
خاتم النبیین لا نبی بعدی
میں آخری نبی ہوں ۔ میرے بعد کوئی نبی نہیں
ایک خطرناک
انقلاب
(حضرت مولانا قاضی زاہد الحسینیؒ)
بسم الله الرحمن الرحیم!
تاریخ عالم کا مطالعہ کرنے سے یہ بات بخوبی واضح ہو جاتی ہے کہ ابتدائے آفرینش ہی سے خداوند تعالیٰ نے انسانوں کی ہدایت کے لئے ہر زمانہ میں اپنے بندوں کو بھیجا۔ جن کو رسول پیغمبر رشی وغیرہ کے ناموں سے یاد کیا جاتا ہے۔ ان پاک بندوں نے اپنے اپنے اوقات میں اپنے فرض کو ادا کرنے میں ہر طرح کی تکالیف کا سامنا کیا۔ دنیا کا کوئی گوشہ ایسا نہیں جہاں یہ مقدس لوگ تشریف نہ لائے ہوں۔ خدا کا آخری اور مکمل قانون اس بات کا شاہد ہے کہ ہر قوم اور ہر بستی میں خدا کے رسول تشریف لائے۔ حضرت مجدد الف ثانیؒ کا ارشاد ہے کہ اس سرزمین ہند میں بھی بعض انبیاء علیہم السلام تشریف لائے اور ان کی قبور کا پتہ بھی اہل کشف حضرات کو ہو سکتا ہے۔ مگر ان لاتعداد انبیاء اور مبلغین حضرات کا علم آج ہم کو کس قدر ہے ان کا لایا ہوا قانون آج کہاں ہے ان کی امت ان کی قوم آج کہاں گئی؟۔ یہ وہ سوالات ہیں جن کا جواب نہ تو تاریخ دے سکتی ہے اور نہ ہی واقعات بتلا سکتے ہیں۔ یہ واضح حقیقت ہے کہ سرکش قوموں نے بعض کو بالکل تسلیم نہیں کیا۔ ان پر ایک فرد بھی ایمان نہیں لایا۔ بعض پر ایک یا دو ایمان لائے اور جن پر کافی تعداد ایمان لائی وہ اس نبی کے تشریف لے جانے پر قوم ہی ختم ہو گئی۔ ان کا قانون راہ عمل نیست و نابود ہو کر رہ گیا۔ اکثر کے تو نام ہی معلوم نہیں رہے۔ اسی دوران میں مصلح اعظم، نجات دہندہ کائنات، محمد رسول اللہ ﷺ تشریف لائے۔ آپؐ کا اعلان نبوت واظہار حکومت اس حال میں ہوتا ہے کہ آپؐ کا پیغام سننے کے لئے ماحول کے حالات ناسازگار، ذرائع پیغام رسانی معدوم، نہ اخبارات و رسائل، نہ ریڈیو، نہ ہوائی جہاز، نہ موٹر۔ ان ناسازگار حالات میں تمام لوگوں کی طرف اللہ کا پیغام پہنچانے کا دعویٰ کیا جاتا ہے۔ خاص قوم، خاص ملک، خاص وقت، خاص حالات کے ماتحت نہیں جس ذات پر جس جگہ جس وقت انسانیت صادق آگئی اس کو پیغام پہنچانے کا حکم دیا جاتا ہے۔ اللہ کا مقدس اور محبوب رسول کمر ہمت باندھ کر اٹھتا ہے اور تمام دنیا کو خطاب کرتا ہے۔ مصائب کے زبردست طوفانوں میں سر کو ہتھیلی پر رکھ کر اللہ کا پیغام پہنچاتا ہے۔ چند ہی ایام میں عرب کے ہر طبقہ کے لوگ حلقہ بگوش اسلام ہو جاتے ہیں۔ صرف خود مسلمان ہی نہیں ہوتے بلکہ ان کے ذہن میں یہ
٢
بات راسخ کر دی جاتی ہے کہ تمہاری زندگی کا مقصد اعظم یہی ہے کہ: ”لوگوں تک میری طرف سے احکام پہنچاؤ۔ اگرچہ ایک ہی آیت کیوں نہ ہو۔“
اللہ کی لاکھ لاکھ رحمتیں ہوں ان پاک روحوں پر جنہوں نے اس پیغام کو اپنی زندگی کا معمول بنایا۔ وہ اگر تاجر بن کر دوسرے ممالک میں گئے تو بڑی تجارت کو ہاتھ سے نہ چھوڑا۔ اگر دن بھر تجارت کی تو شام کو گلیوں میں پھر کر اللہ کا پیغام پہنچایا۔ وہ اگر غریب الوطن مسافر رہے تب بھی ان کا مقصد یہی رہا۔ انہوں نے ملک کے بادشاہوں کو اللہ کا پیغام ایسی حالت میں دیا کہ ان کے مخالف ان کی جان کو تباہ کرنے کے خواب دیکھ رہے تھے۔ مگر ان کی سچی تڑپ نے بادشاہوں کو ان کا غلام بنایا۔ اسی پر بس نہیں۔ وہ سردار بھی اسی پیغام کو سنا کر کئی بھٹکے ہوئے لوگوں کو راہ راست پر لانے میں کامیاب ہو گئے۔ یہی وہ جذبہ تھا جس کے زیر اثر محمد رسول اللہ ﷺ نے بشیر و نذیر ہر دو صفات سے موصوف ہو کر زندگی کے ہر لمحہ کو اس پر نثار کر دیا۔ بلکہ ہر وقت خواہ آپ کسی بڑی سے بڑی عبادت میں مشغول ہوئے اپنے اصلی فرض تبلیغ کو نہ چھوڑا۔ اگر آپ حج بیت اللہ جیسی مقدس عبادت میں مشغول ہو کر خانہ خدا کا طواف فرما رہے تھے اور کسی انسان نے خواہ وہ عورت ہی ہو اللہ کا حکم پوچھا تو پاک نبی اس عبادت کو ملتوی کر کے اس عورت کی طرف متوجہ ہو کر اسے پیغام الٰہی پہنچانے لگے۔ اگر اتباع اسماعیل علیہ السلام میں جمرات ثلاثہ کی رمی کرتے ہوئے کوئی بات پوچھی گئی۔ فوراً ادھر توجہ فرمائی۔ اگر مردوں کو پیغام پہنچانے سے فرصت ملی تو عورتوں کو رموز ایمان و حکمت بتانے میں مصروف ہو گئے۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ صرف ٢٣ سال کی قلیل مدت میں ایک لاکھ کے قریب قدسی نفوس (صحابہ کرامؓ) محبوب رب العالمین ہو کر شاہان عالم بن جاتے ہیں۔ اس کے ساتھ لازمی طور پر دس لاکھ مربع میل سے بھی زیادہ رقبہ زیر اقتدار آ جاتا ہے۔ گویا جہاں روزانہ دو سو ستر میل ملک فتح ہوا وہاں ہزار آدمی روزانہ اسلام جیسی نعمت سے مشرف ہو کر دوسروں کو مسلمان بنانا اپنا فرض یقین کر لیتے ہیں۔ نائبان رسول اعظم ﷺ کی جدوجہد نے یہ کر دکھایا کہ عرب کے سوا، افریقہ، اندلس، ترکی، افغانستان، ایران، ہندوستان، بلکہ جاوا، سماٹرا، چین تک اسلامی ندا جا پہنچی اور اللہ اکبر کی حقیقی صدا سے بحر و بر گونج پڑے۔ اس زمانہ کے حالات سفر کا اندازہ لگا کر
٣
انصاف سے فرما دیں کہ یہ کارنامہ اعجاز سے کم ہے یا مجسم اعجاز ہے؟۔ ان پاک نفوس کی جدوجہد نے سلطانوں کو بھی ولایت کے مرتبہ عالی پر فائز فرما دیا تھا۔ یہ دلیل کافی نہیں کہ نبی ﷺ کی وفات کے بعد ہندوستان کا تاجدار اس مرتبہ ولایت و عظمت پر جلوہ افروز ہو جاتا ہے کہ جب حضرت خواجہ قطب الدین بختیار کاکیؒ کا وصال ہوتا ہے اور ان کی حسب وصیت اعلان کیا جاتا ہے کہ: ”نماز جنازہ وہ پڑھائے جس کی کبھی عصر کی سنتیں اور تکبیر اولیٰ فوت نہ ہوئی ہو۔“
آپ مشکل سے یقین کریں گے کہ اس کی نماز جنازہ حسب وصیت پڑھانے والا نہ کوئی مولوی ہے، نہ متقی ہے، نہ پیر ہے، نہ سید ہے، جس نے نماز جنازہ پڑھائی وہ ہندوستان کی وسیع سلطنت کا فرمانروا سلطان شمس الدین التمش ہے۔
خلاصہ یہ کہ محمدؐ کے جان نثار غلاموں نے بڑے سے بڑے مرکز اقوام و ادیان میں بھی جا کر نبی کا نام اور خدا کا کلمہ بلند کیا۔ غیروں نے نہایت ہی حسرت اور افسوس سے اس امر کا اظہار کیا کہ: ”یروشلم میں جو مسیح کا مولد ہے۔ دن میں پانچ دفعہ محمدؐ کے نام کی منادی کی جاتی ہے۔ مگر مکہ میں جو محمدؐ کا مولد ہے آج تک مسیح علیہ السلام کے نام کی منادی نہ ہو سکی۔“
اتنے عروج کے بعد ایک دم انقلاب آیا اور حالت یہ ہو گئی کہ ان کی تعلیمات کے بقول: ”وہ مسیحی قوم جس نے اپنے پیغمبر کو صلیب پر اکیلا چھوڑ دیا اور جو تیس زبانی طور جان نثاری کا دعویٰ کرنے والے تھے ان میں سے ایک بھی نہ رہا۔ مگر جب انہوں نے مسلمانوں کا یہ نعرہ سنا کہ ہر مسلمان مبلغ ہے۔ فوراً اس نعرہ کو اپنا لیا اور یہ کہنے لگے کہ ہر مسیحی مبلغ ہے۔ یہ مسیحی قوم اپنے راہنما کے حکم کے باوجود کہ غیر قوموں کی طرف نہ جانا (متی ١٠/ ٥) بحروبر میں پھیل گئے اور جہاں انسان کا وجود ممکن تھا وہاں پہنچ گئے۔ کیا یہ امر قابل ستائش نہیں کہ یروشلم سے ہزاروں میل دور غیر مہذب و غیر متمدن جزیرہ نیوگنی میں ١٨٧١ء میں مشن قائم کر دیا۔ ١٨٧١ء میں جب وہاں کا مسیحی سیاح لندن بائبل سوسائٹی کو مایوسی کی حالت میں یہ رپورٹ بھیجتا ہے کہ: ”یہاں تو بس مگر مچھ، سانپ، کھجورے ہیں اور جو انسان ہیں وہ بھی ایسے ظالم خونخوار کہ ان کے درمیان قدم رکھنے کا بھی خیال نہ کیجئے۔“
٤
لندن سے جواب ملتا ہے۔ اتنی اطلاع کافی ہے۔ بس انسان جہاں کہیں آباد ہیں مشنری کا وہاں پہنچنا ضروری ہے۔
یہی جذبہ تبلیغ جب ١٨٨٦ء میں طامس کوریا میں صرف اس لئے قتل کراتا ہے کہ وہ انجیل کا مبلغ ہے۔ اسی کوریا میں ١٩٣٤ء میں سترہ آدمی روزانہ کے حساب سے تین لاکھ افراد کو عیسائی اور ٣٢ گرجا گھر تعمیر کرا دیتا ہے۔ آج ہندوستان میں ان مسیحیوں کی تعداد ٧٥ لاکھ ہے جو ہندوستانی ہیں۔ ١٩٠٤ء سے ١٩٣٠ء تک برٹش اینڈ فارن بائیبل سوسائٹی کا مختصر سا تبلیغی کام یہ رہا کہ ٦٥٥ زبانوں میں انجیل کے تراجم شائع کئے گئے۔ ہندوستانی ایک سو بارہ زبانوں میں انجیل کو شائع کیا اور اندھوں کی تعلیم کے لئے چالیس زبانوں میں ابھرے ہوئے حروف کی انجیل شائع کی۔ لندنی مشن نے ١٨٩٥ء سے لے کر اب تک اٹھارہ سو مشنریوں نے چین، افریقہ، ہند، مڈغاسکر، پاپوا اور جنوبی سمندروں میں بشارت کا کام کیا جس پر ایک کروڑ تیس لاکھ پونڈ خرچ کئے۔ اسی جذبے کو لے کر ہر ایک مسیحی کہتا ہے۔
سارا عجم ہمارا سارا عرب ہمارا
یہ جذبہ صرف مردوں تک ہی محدود نہیں۔ بلکہ عورتوں کا کام مردوں سے بھی زیادہ ہے۔ اسی ہندوستان میں عیسائی عورتوں کی تبلیغی یونین ١٩٢٨ء میں ایک کرایہ کے مکان میں منعقد ہوئی۔ مگر صرف چھ سال میں ١٩٣٤ء میں اسی یونین کا سالانہ اجلاس دہلی میں چالیس ہزار کی رقم سے تیار کردہ بلڈنگ میں زیر صدارت لیڈی ویلنگڈن منعقد ہوئی جس میں امریکہ، انگلینڈ، آسٹریلیا کی نمائندہ عورتوں نے شرکت کی۔
ذرا کلیجہ تھام کر سنئے۔ یہ نزلہ سارے کا سارا کس پر گر رہا ہے کس کا شکار کیا جا رہا ہے۔ اس سوال کا جواب عیسائیوں کے ترجمان اخوت، المائدہ وغیرہما کی زبانی سن لیں:
٥
- ١...... مراکش قلعہ اسلام ١٨٨٣ء میں شمالی افریقہ میں مشن قائم ہوئی اور اب ہر دو مراکش اور
الجزائر کے شمالی علاقوں میں تبلیغی مقامات کی ایک لمبی زنجیر بن گئی۔ ان تمام جگہوں میں تعلیمی اور طبی خدمات کے ساتھ ساتھ بشارت انجیل بھی باقاعدہ ہوتی ہے۔
- ٢...... عرب بسرعت تمام بدل رہا ہے۔
- ٣...... عرب میں مسیحی کلیسا معرض وجود میں آرہی ہے۔ بحرین میں ایک انتظامیہ کلیسائی
جماعت منظم کی جائے گی۔
- ٤...... عمان مرکز تبلیغ ہے۔
- ٥...... آرام گاہ ابو ایوب انصاریؓ (ترکی) سے مسیحی امیدیں یہ ہیں۔
اب ایسا معلوم ہوتا ہے کہ کمال پاشا کی موت کے ساتھ ترکی حکومت کی سابقہ پالیسی میں فرق آگیا ہے اور اب از سر نو اسلام کی ترقی و بہبود پر زور دیا جانے لگا ہے۔
- ٦...... چین میں ایک کروڑ مسلمانوں کو مسیحی بنانے کے لئے مشن جاری ہو رہا ہے۔
- ٧...... سویڈن میں چینی لوگوں کے لئے ایک لاکھ کی تعداد میں بائبل چینی زبان میں شائع
ہو رہی ہے۔ کہا جاتا ہے کہ ہندوستان میں ساٹھ کروڑ روپیہ عیسائی بنانے میں خرچ کیا جاتا ہے۔
مشہور مسیحی مبلغ پادری زویمر کہتا ہے: ”مراکش اسلام کے زوال کا نمونہ بن چکا ہے۔ ایران میں اسلام کا شیرازہ بکھر رہا ہے۔ عرب میں اسلام جمود کی حالت میں ہے۔ چین میں اسلام کس مپرسی کی حالت میں ہے۔ جاوا میں اسلام مسیحیت سے بدل رہا ہے۔ ہندوستان میں ہم کو اسلام مسیحیت کی دعوت دے رہا ہے۔ افریقہ اسلام کو ایک خطرے کی شکل میں پیش کر رہا ہے۔ ممالک اسلامیہ کی گونا گوں کیفیتیں گویا فرداً فرداً عیسائیت سے اپیل کر رہی ہیں کہ دنیائے اسلام کی سب سے بڑی ضرورت یسوع مسیح ہے۔“
آپ مشکل سے یقین کریں گے مگر پادری برکت اللہ کا بیان ہے کہ: ”اس احاطہ کے اندر ایک پرانی قبر تھی۔ جس پر ایک بڑا گنبد تھا۔ اس قبر کے چوگرد آٹھ محراب دار کمرے تھے۔ یہ
٦
محرابیں بند کر دی گئیں اور ان میں خشت اور کھڑکیاں وغیرہ لگا دی گئیں اور ان کمروں میں لاہور پادری فورمین نے ١٨٤٩ء میں رہائش اختیار کی۔“
پادری فرنچ صاحب ١٨٧٨ء میں لاہور میں ایک گرجا گھر کے تعمیر کی تحریک کرتے ہوئے کہتے ہیں: ”بڑے شرم کی بات ہے کہ لاہور میں صرف دو ہی گرجا گھر ہوں اور وہ بھی مسلمانوں کے مقبرے ہوں جو انگریزوں کی عبادت کے واسطے درست کئے گئے ہوں۔“ (صلیب
کے علمبردار)
ایک شبہ کا ازالہ
آپ کہہ سکتے ہیں کہ ہر قوم و مذہب کے نمائندوں کو حق ہے کہ وہ اپنے اپنے مذہب کی تبلیغ کریں۔ اس میں عیسائیوں کا کونسا قصور ہے اور ان کا رویہ تبلیغ کیوں قابل گرفت؟۔
میں ضرور اس کا قائل ہوں کہ ہر ایک مذہب کو اس کی اشاعت کا موقع دیا جائے۔ یہ اسلام کی وسعت نظر تھی کہ زمانہ رسول اللہﷺ سے لے کر اسلامی عروج کے آخری دور تک عیسائیت کو فروغ رہا۔ اگر آپ غور سے واقعات کا اندازہ لگائیں گے تو یقین کرلیں گے کہ ہندوستان جیسے بے نظیر ملک پر عیسائیوں کی حکومت مسلمانوں کی اخلاقی وسعت کا ثمرہ ہے۔ بہر کیف عیسائی قوم اپنے مذہب کی اشاعت نہیں کرتی۔ بلکہ وہ اس کے در پردہ رہ کر خود دار قوم کو فنا کر کے اپنی سلطنت قائم کرنا چاہتی ہے۔ جس سے اس کی منڈیاں اور کارخانے قائم ہو کر سرمایہ داری زوروں پر ہو۔
سر ولیم جائس ہیک نے ١٩٢٥ء میں پارلیمنٹ کے سامنے تقریر کرتے ہوئے کہا: ”ہمارے مسیحی مشنری اپنے جلسوں میں کہا کرتے ہیں کہ ہم نے ہندوستان اس لئے فتح کیا ہے کہ ہندوستانیوں کے مرتبہ میں ترقی ہو۔ یہ دعویٰ محض دھوکہ کی ٹٹی ہے۔ ہم نے ہندوستان اس لئے فتح کیا ہے کہ برطانیہ کے مال و اسباب کے فروخت کے لئے ایک منڈی ہاتھ آئے۔“
بلکہ پادری صاحبان جہاں تشریف لے گئے۔ اخلاق، عادات کو بگاڑ کر قوموں کو تباہ کر دیا۔ چنانچہ سر آرتھر ٹاٹ لین کا بیان ہے کہ: ”کیا کوئی شخص کہہ سکتا ہے کہ جس کسی دیسی قوم پر
٧
پہلے ہمارے بحری تاجروں اور ہمارے پادریوں کا سایہ پڑا ہے۔ اس میں کسی قوم کو ہم نے خفیف ترین مادی فائدہ بھی پہنچایا ہے۔ ہمارے بحری تاجروں نے تو وہاں پہنچ کر شراب خوری اور بیماریوں کی افراط پہنچادی۔ پادریوں نے پہنچ کر ان عادات کو ایسا بدل دیا اور ان کو ایسی اخلاقی تعلیم دی ہے جس کا انجام ہمیشہ ان کی تباہی اور بربادی پر ہوا ہے۔“
(مسلمانوں کے تنزل سے نقصان ص ١٧٥)
جے ای کلینز میکفارلین نے اپنی کتاب دی کیس فار پولی گامی میں تصریح کی ہے کہ: ”ہمارا کلیسا ایک راہنما محافظ کی بجائے ایک ڈکٹیٹر رہا ہے۔ ایک طرف یہ محبت کا پیغام دیتا ہے جس سے شہید اور ولی پیدا ہوں ۔ دوسری طرف تلوار چلاتا ہے۔ انسانی روح کو غلام بنانے کے لئے اس نے وحشیانہ جنگ کی ترغیب دی ہے اور ایسی لڑائیاں لڑی ہیں۔ مختلف العقیدہ لوگوں پر خونی مظالم کئے ہیں۔ ارتداد کے بہانے انسانوں کو جلایا ہے اور انسانی غلامی کو دور کرنے کی شدید مخالفت کی ہے۔“
(کتاب مذکور ص ٦٦ ، برہان جولائی ١٩٣٥ء)
ان مختصر حوالہ جات پر غور کرنے سے معلوم ہو گیا کہ عیسائی لوگ جو تبلیغ کرتے ہیں اس میں وہ ہرگز اس مذہب کی اشاعت نہیں کرتے بلکہ ان کا مقصد وحید اپنی ملکی منڈیوں کو فروغ دینا اور پھر اپنی قومی سلطنت کا قیام کرنا ہے۔ ہندوستان ہی کی تاریخ پر نظر ڈالنے سے معلوم ہو گا کہ ہندوستان کی باگ دوڑ سنبھالنے میں پادریوں کا کافی حصہ رہا ہے اور اس تمام نزلہ کا شکار مسلمان قوم ہی ہوئی۔ مسلمانوں کے مذہب کو صاف کرنے کی سعی کی گئی۔ مگر اس کا علاج کیا ہے۔ اس کا علاج صرف یہی ہے کہ ہر ایک مسلمان مبلغ بن جائے ۔ وہ جس رنگ میں ہو جس ڈیوٹی پر ہو جس پوزیشن میں ہو اسے مبلغ بننا ضروری ہے۔ وہ پہلے مبلغ ہو اور پھر جو کچھ چاہے بنے۔
آج مسلمانوں میں اسی جذبہ تبلیغ کے فقدان سے سب بربادی اور تباہی ہورہی ہے۔
مگر مسلمان خواب غفلت میں مدہوش ہے اور اسے احساس تک نہیں کہ کیا ہو رہا ہے اور اس کا انتظام کیا جانا ضروری ہے۔
کارواں کے دل سے احساس زیاں جاتا رہا
٨
ایک زبردست مغالطہ
ادھر مسلمانوں کی تباہی کا یہ عالم ہے اور مرزا غلام احمد قادیانی نے ایک عجیب چال سے مسلمانوں کو زیادہ مدہوش کر کے ان کی رہی سہی بیداری کو بھی فنا کر دیا۔ اگر کبھی اللہ کی مہربانی سے کسی جماعت یا فرد نے جذبہ تبلیغ کا اظہار بھی کیا تو یہ واحد ٹھیکیدار تبلیغی مشن کا نام لے کر سامنے آگئے اور سیدھے سادھے مسلمانوں کو یہ کہہ کر قابو کر لیا کہ یورپ میں تبلیغ ہم نے کی۔ یہاں ہم کررہے ہیں۔ کسر صلیب، عیسائیت کی شکست مسیح موعود کا نام ہے۔ جو ہم نے ادا کر دیا۔ مگر یہ زبردست مغالطہ ہے جس سے مسلمانوں کو اور بھی غفلت میں ڈالا جاتا ہے۔ مرزا غلام احمد قادیانی کے متبع دو قسم کے لوگ ہیں۔ ایک تو وہ جو اسے نبی مانتے ہیں۔ ان کو تو آج تک کوئی معتد بہ تبلیغی کام میں کامیابی ظاہر طور پر نہیں۔ اس جماعت کا کام ہے محض سرکار برطانیہ کی خوشنودی۔ چنانچہ مولوی محمد علی امیر انجمن احمدیہ کا بیان ہے کہ: ”لیکن جماعت قادیان کی توجہ اور کاموں کی طرف لگ گئی۔ اس لئے باوجود اس اعلان کے کہ ہم ایک ماہ میں ایک پارہ نکالا کریں گے۔ بیس سال تک بھی ایک انگریزی ترجمہ پورا نہ ہوا۔ یہ کیوں۔ اس لئے کہ جماعت کی توجہ اس طرف نہ رہی اور جماعت کو اس سیاسی شغل میں لگا دیا گیا کہ کانگریس کی مخالفت کر کے گورنمنٹ میں ہر دلعزیزی حاصل کی جائے اور یہ اعتراف سال گزشتہ میاں محمود احمد کر چکے ہیں کہ انہوں نے لاکھوں روپے کانگریس کی مخالفت میں صرف کئے۔“
(پیغام صلح ١٠ ذی الحجہ ١٣٥٥ھ)
دوسری جماعت جو مرزا قادیانی کو مجدد مانتی ہے ان کا پروپیگنڈہ حد سے زیادہ ہے کہ یورپ میں تبلیغ کے وہی واحد ٹھیکیدار ہیں۔ دیگر ممالک میں اسلام ان ہی کی بدولت پھیلا مگر واقعات اس کی تکذیب کرتے ہیں۔ ایک جرمن نو مسلم مصطفیٰ صاحب کا خط برلن سے آیا تھا جو ١٩٣٦ء کے اخبارات میں چھپا تھا۔ اس میں انہوں نے اس امر کو مدلل ثابت کیا ہے کہ صرف دستاویز پر دستخط کرالئے جاتے ہیں۔ ضروری نہیں کہ وہ دستخط کنندہ اپنے سابق مذہب سے علیحدہ ہو۔ موصوف نے کافی امثلہ سے واضح کیا تھا کہ برلن اور اسی طرح اور ممالک میں تبلیغ کی نوعیت کیا ہے اور اس کا مقصد حصول زر ہے۔ اسی طرح مبلغ یورپ علامہ خالد شیلڈ رک نے اپنے ایک مبسوط و مدلل مضمون میں اس راز کو فاش فرمایا ہے۔ یہ بالکل غلط بات ہے کہ دیگر ممالک میں اسلام قادیانیوں نے پھیلایا۔ اسلامی اشاعت کا حال جاننے والے سمجھ سکتے ہیں کہ ممالک دیگر میں اسلام جناب رسول اللہ ﷺ اور صحابہ کرامؓ کے زمانہ ہی میں پہنچ چکا تھا۔ سینہ یورپ قسطنطنیہ میں ابوایوب انصاریؓ کی آخری آرام
٩
گاہ اس امر کا واضح اور بین دلیل ہے کہ یورپ میں اسلام اسی وقت پھیل چکا تھا۔ آسٹریا، بوسینیا، ہرزیگوینا میں مسلمان کافی تعداد میں موجود ہیں اور ان اطراف کے جملہ مسلمان حنفی المذہب اور عقاید اہل سنت والجماعت ہیں۔ روس، سائبیریا وغیرہ میں پانچ کروڑ حنفی مسلمان، البانیہ، بلغاریہ، یونان پانچ کروڑ احناف اور طرابلس، ٹیونس، جنوبی افریقہ میں حنفی مسلمان ہیں۔ علیٰ ہذا چین میں پانچ کروڑ سے زیادہ حنفی مسلمان ہیں۔
(تانیب الخطیب علامہ زاہد کوثری ص ١٤)
ان ممالک میں ١٩٣٢ء تک حاجیوں کی تعداد تقریباً تین سو تک پہنچ چکی تھی۔ یہی نہیں بلکہ ممالک غیر کے مذہبی پیشواؤں نے پوری پوری حملہ آور طاقتوں کا مقابلہ کیا۔ الجزائر میں ایک درویش عالم امیر سید عبدالقادر ١٨٠٨ء، ١٨٨٣ء گزرے ہیں۔ انہوں نے چودہ سال تک فرانسیسی مظالم کو اپنی قوت اور طاقت سے روکے رکھا۔ داغستان میں مشائخ نقشبندیہ روس کے مقابلہ میں میدان میں آئے۔ ان کا قائد غازی محمد شہید ہوا۔ ان کے جانشین ٣٥ برس تک روسیوں سے مقابلہ جاری رکھا۔ (حاضر العالم اسلامی)
اسی ہندوستان میں دس کروڑ مسلمان خواجہ اجمیریؒ اور مجدد الف ثانیؒ کی تبلیغی کوششوں کا نتیجہ ہیں۔ مگر کیا کسی نے اپنے نام کی جماعت بنا کر اسلام کے نام پر دنیاوی وجاہت اور زر چندہ حاصل کیا۔ اس وقت بھی مشائخ اسلام کی کوششوں سے ہزاروں لوگ حلقہ بگوش اسلام ہو رہے ہیں۔ خواجہ غلام حسن کروڑوی قدس سرہ نے تقریباً پانسو سکھوں کو مسلمان کیا جن میں سے اکثر عالم فاضل صوفی۔ سیالکوٹ کے ایک صاحب علم گرنتھ صاحب کا ترجمہ کر رہے ہیں۔ کئی رسائل لکھ کر کافی تعداد میں سکھوں کو مسلمان کیا۔
علیٰ ہذا القیاس احمدیوں کا یہ امتیازی دعویٰ ہے کہ انہوں نے انگریزی اور دوسری چند زبانوں میں قرآن مجید کا ترجمہ شائع کر دیا۔ اس لئے ان کے مجدد کو ماننا ضروری ہے۔ مگر یہ بات بھی حقیقت سے دور ہے۔ احمدیوں سے پہلے بھی کئی زبانوں میں قرآن شریف کے تراجم شائع ہو چکے ہیں۔ ذیل میں ان کی مختصر فہرست درج ہے:
زبان تعداد تراجم زبان تعداد تراجم انگریزی ١٧ چینی ٤ جرمنی ١٣ فارسی ٦
١٠
اٹلی ٨ بنگالی ٥ فرنچ ٧ گجراتی ٤ اسپین ٦ پنجابی ٤ ہالینڈ ٥ ہندی ٢
(برہان ماہ فروری ١٩٤٠ء)
مرزا غلام احمد قادیانی کا یہ دعویٰ تھا کہ وہ عیسائیت کو اسلام کی طرف لانے کے لئے مبعوث ہوا۔ اس نے کہا ہے کہ ؎
مصلحت را ابن مریم نام من بنہادہ اند
مگر واقعات اس کی تکذیب کر رہے ہیں۔ اس نور کا لازمی نتیجہ تو یہ ہونا چاہئے تھا کہ اسلام کی زیادہ ترقی ہوتی اور عیسائی کافی تعداد میں مسلمان ہوتے۔ مگر یہاں معاملہ برعکس ہے۔ پیغام صلح ٦ مارچ ١٩٢٨ء کی اشاعت میں رقمطراز ہے کہ: ”عیسائیت دن بدن ترقی کر رہی ہے“ خود گورداسپور کی عیسائی آبادی کی رپورٹ ملاحظہ کر کے معلوم کر لیں کہ عیسائیت کو فروغ ہوا یا شکست:
١٨٩١ء ٢٤٠٠ ١٩٠١ء ٤٤٧١ ١٩١١ء ٢٣٣٥٦ ١٩٢١ء ٣٢٨٣٢ ١٩٣١ء ٤٣٤٤٣
(محمدیہ پاکٹ بک ص ٥٣٤)
اس وقت صوبہ پنجاب میں پانچ لاکھ سے زائد عیسائی ہیں۔
(المائدہ)
مرزا غلام احمد کی حقیقت
یہ جماعت جس مشن کی تعلیم دے رہی ہے جس کی اشاعت کر رہی ہے وہ دراصل
١١
اسلامی تعلق کی بنا پر ہرگز نہیں۔ بلکہ وہ خود ایک مستقل دین اور مذہب کی بنیاد رکھ رہے ہیں۔ سادہ لوح مسلمان یہ کہہ دیا کرتے ہیں کہ اشتراک کلمہ کی وجہ سے وہ اور ہم ایک ہیں۔ مرزائی لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ کی تبلیغ کرتے ہیں۔ مگر اس کا اجمالی اور خلاصہ جواب یہ ہے کہ:
اس کلمہ میں محمدؐ صاحب سے مراد جناب رسول اللہ ﷺ نہیں ہیں۔ بلکہ مرزا قادیانی نے اپنا نام محمد بھی رکھا ہوا ہے۔ اس نے کہا کہ؎
اس مصرعہ کی تشریح ان قادیانیوں کی زبانی سن لیں۔ مرزا قادیانی خود کہتا ہے کہ:
”محمد رسول اللہ والذین معہ اشداء علی الکفار رحماء بینھم اس وحی الٰہی میں میرا نام محمد رکھا گیا اور رسول بھی۔“
”محمد اور احمد سے مسمی ہو کر میں رسول بھی ہوں اور نبی بھی ہوں۔“
”اسی لحاظ سے میرا نام محمد اور احمد ہوا۔ پس نبوت اور رسالت کسی دوسرے کے پاس نہیں گئی۔ محمد کی چیز محمد کے پاس ہی رہی۔“
(ایک غلطی کا ازالہ، خزائن ج١٨ ص٢٠٧، ازالہ ص٣)
یہی وجہ ہے کہ مرزائی قوم مسلمانوں کا شکار کر رہی ہے۔ اگر اس کی تبلیغ اسلامی تھی تو مسلمانوں کو قادیانی کرنے کا کیا مطلب تھا۔ ١٩٣٥ء میں قادیانی ہونے والوں کی تعداد کا موازنہ کر کے فیصلہ کر لیں کہ کون سی قوم کو شکار کیا گیا۔
مسلمان ٢٦٩٠ عیسائی ١٨
(الفضل ١٧ جنوری ١٩٤٦ء)
اب تو واضح طور پر معلوم ہو گیا کہ مسلمانوں کو دیگر اقوام خصوصاً عیسائیت کے شکار سے محفوظ کرنے کی ضرورت ہے۔ بلکہ ضرورت اس امر کی ہے کہ مسلمان اپنے نبی کے ارشاد کی تعمیل کریں اور ان کے اسوۂ حسنہ پر عمل پیرا ہو کر اس بات پر عمل کریں کہ ہر مسلمان مبلغ بن جائے۔
محمد زاہد
٣٠ رمضان شریف ١٣٦٥ھ.........٢٧؍اگست ١٩٤٦ء
☆☆☆☆☆☆☆☆☆
١٢
خاتم النبیین لا نبی بعدی
میں آخری نبی ہوں ۔ میرے بعد کوئی نبی نہیں
صاحب کو اپنے حسن پہ کتنا غرور تھا
محاسبہ
یعنی
عدالت تحقیقات فسادات پنجاب (١٩٥٣ء)
کی رپورٹ پر ایک جامع اور بلیغ تبصرہ
(مولانا مرتضیٰ احمد خان میکشؔ درانی)
بسم اللہ الرحمن الرحیم!
پیش لفظ
عدالت تحقیقات فسادات ١٩٥٣ء کی رپورٹ جو مسٹر چیف جسٹس محمد منیر سابق چیف جسٹس ہائیکورٹ پنجاب حال چیف جسٹس فیڈرل کورٹ پاکستان اور مسٹر جسٹس محمد رستم کیانی جج ہائیکورٹ پنجاب نے دس ماہ کی لگا تار محنت شاقہ کے بعد تیار کی ہے۔ بہت ہی قیمتی اور غور طلب مندرجات کی حامل ہے۔ اس رپورٹ میں پاکستانی معاشرے کے متعدد اہم عناصر کے انداز فکر وطرز عمل کے نقائص پر تحقیقات کی تیز روشنی ڈالی گئی ہے۔ پاکستان کے ارباب دانش و بینش اگر چاہیں تو اس رپورٹ کے مندرجات کی روشنی میں اپنے ہاں کی کیفیات کا جائزہ لے کر ان نقائص کی اصلاح اور ان مسائل کے حل کی تدابیر سوچ سکتے ہیں۔ جن کی نشاندہی فاضل جج صاحبان نے مکمل اور ہمہ گیر تحقیقات کے بعد کر دی ہے۔
یہ مجمل سا تبصرہ اس خیال سے سپرد قلم کیا گیا ہے کہ عامتہ الناس کو بالعموم اور ملک کے ارباب فہم و فکر کو بالخصوص ان اہم کوائف ومسائل کی طرف توجہ دلائی جائے۔ جن کا ذکر فاضل جج صاحبان نے اس رپورٹ میں نہایت ہی فاضلانہ انداز سے کیا ہے۔ رپورٹ کے مندرجات کے متعلق پڑھے لکھے لوگوں میں بھی فکر و ذہن کا بہت کچھ الجھاؤ نظر آ رہا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ بہت کم لوگوں نے اس رپورٹ کو اس توجہ کے ساتھ پڑھا جس کی وہ مستحق تھی۔ اس تبصرہ یا تنبیہ کو ضبط تحریر میں لانے کا ایک مقصد یہ بھی ہے کہ اس ذہنی الجھاؤ کو دور کرنے کی سعی کی جائے جو رپورٹ کے متعلق عامتہ الناس میں ترقی پذیر ہے۔ فقط!
٢١ اگست ١٩٥٤ء، مرتضیٰ احمد خان میکش
عدالت تحقیقات فسادات پنجاب (١٩٥٣ء) کی رپورٹ پر تبصرہ
ایک ضخیم اور متنوع دستاویز
عدالت تحقیقات فسادات پنجاب (١٩٥٣ء) کی رپورٹ جو ایک ضخیم کتاب کی شکل میں شائع ہوئی ہے۔ اس ہاتھی کی مانند ہے جس کے مختلف اعضاء کو چھ اندھوں نے اپنے ہاتھوں سے ٹٹولا اور اپنی حس لامسہ کی مدد سے ہاتھی کے متعلق ہر ایک نے اپنا جدا جدا مخصوص تصور قائم کر لیا۔ ایک نے کہا، ہاتھی ایسا تھا جیسے عمارت کا ستون، دوسرا بولا ایک بہت بڑا چھاج، تیسرے
٢
نے کہا موٹا سا اژدھا، چوتھے نے کہا کہ ہاتھ بھر کی موٹی رسی، پانچویں نے کہا ناہموار سا چبوترہ، چھٹے نے ارشاد فرمایا وہ تو ایک دیوار سی تھی اور بس۔ اس رپورٹ نے بعینہ اسی قسم کی کیفیت عامتہ الناس میں پیدا کر رکھی ہے اور ہر شخص اپنی سمجھ کے مطابق اس کے متعلق اپنا خیال اور تصور قائم کر چکا ہے یا کر رہا ہے۔
عدالت تحقیقات محض فسادات کی ذمہ داری کا سراغ لگانے اور فسادات کے سلسلے میں حکومت پنجاب کے اختیار کردہ ذرائع کا متکفی یا نامتکفی ہونا معلوم کرنے کے لئے معرض وجود میں لائی گئی تھی۔ لیکن اس کا دائرہ کار بتدریج وسیع تر ہوتا چلا گیا اور اس عدالت نے فسادات کے اسباب و علل کی کنہ تک پہنچنے کی کوشش میں ایسے علمی اور عملی کوائف کا جائزہ بھی لینا چاہا جو اس عدالت کے بجائے اگر کسی علمی بحث و مناظرہ کی مجلس میں پیش کئے جاتے تو مفید تر نتائج حاصل کئے جاسکتے تھے۔
عدالت کن نتائج پر پہنچی
حکومت کی کوتاہی
اہم امور تنقیح پر عدالت اس نتیجے پر پہنچی کہ پنجاب کی حکومت (میاں ممتاز محمد خان دولتانہ کی مسلم لیگی وزارت) نے فسادات کا سدباب کرنے یا ان سے عہدہ برآ ہونے کے لئے جو ذرائع اختیار کئے وہ متکفی نہ تھے۔ بلکہ حکومت قانون ملکی کے احترام کو قائم رکھنے اور امن و آئین کی حفاظت کرنے کے فرض کی کما حقہ بجا آوری سے قاصر رہی۔
فسادات کی ذمہ داری
١...... احرار
دوسرے امر تنقیح یعنی فسادات کی ذمہ داری کے بارے میں عدالت کی تفتیش کا نتیجہ یہ ہے کہ ہنگامہ آرائی اور خلل امن کے اس حمام میں مارشل لاء کے حکام کے سوا باقی سب ننگے ہیں۔ عدالت نے فسادات کی کیفیت پیدا کرنے کی ذمہ داری بدرجہ اوّل مجلس احرار اور زعمائے احرار پر عائد کی ہے۔ جنہوں نے ایک مذہبی سوال کو عامتہ الناس میں ہر دل عزیزی حاصل کرنے کا ذریعہ بنایا اور قادیانیوں کے مقابلے میں ان سے شدید تر جارحانہ طرزِ عمل اختیار کیا۔
٤
٢...... قادیانی
قادیانیوں کے بارے میں عدالت تحقیقات اس نتیجے پر پہنچی کہ ان کے معتقدات مسلمانوں کے معتقدات سے متغائر ہیں اور مسلمانوں کے لئے ان کا طرزعمل، ان کی جارحانہ تبلیغ اور ان کے عزائم بدرجہ غایت دل آزارانہ اور اشتعال انگیز ہیں۔ خود ان کے امام مرزا بشیر الدین محمود، چوہدری ظفر اللہ خان اور مرزائی سرکاری افسروں نے منافرت کے اس جذبے کو ترقی دی جو مسلمانوں میں مرزائیوں کے متعلق پہلے ہی سے بدرجہ اتم موجود تھا۔ عدالت نے قادیانیوں کو فسادات کی براہ راست ذمہ داری سے بری قرار دیا۔ یعنی بالواسطہ ذمہ داری کا مورد ٹھہرایا۔
حکومت پنجاب اور میاں دولتانہ
عدالت نے حکومت پنجاب، بالخصوص پنجاب کے وزیراعلیٰ میاں ممتاز محمد خان دولتانہ کو فسادات کی ذمہ داری میں اس بناء پر شریک گردانا کہ اس حکومت نے احرار کی ایسی سرگرمیوں کو روکنے میں چشم پوشی اور رعایت سے کام لیا جو قانون کی زد اور گرفت میں آسکتی تھیں اور پبلک میں ہر دلعزیز بننے کی خاطر قانون و آئین کا احترام قائم رکھنے کے معاملے میں کوتاہی اور غفلت سے کام لیا اور ایسے اخبارات کو مالی امداد دی۔ جو ڈائریکٹر پبلک ریلیشنز کے ایما پر تحریک کو خاص رخ پر ڈالنے کے لئے مضامین شائع کرتے تھے۔
مرکزی حکومت اور خواجہ ناظم الدین
عدالت نے خواجہ ناظم الدین وزیراعظم پاکستان کی مرکزی حکومت کو اس وجہ سے فسادات کا ذمہ دار قرار دیا کہ اس نے چوہدری ظفر اللہ خان کو محض باہر کے ملکوں کی چہ میگوئیوں کے خوف سے وزارت سے برطرف نہ کیا اور مسلمانوں کے مطالبات کو مسترد کر کے ہیجان عمومی کو ترقی دی۔ مزید برآں عدالت نے تعلیمات اسلامیہ کے سرکاری بورڈ کو بھی ذمہ داری کا شریک ٹھہرایا۔ کیونکہ اس بورڈ کے ارکان بھی مجلس عمل کے اقدامات سے متفق تھے۔
مجلس عمل
عدالت کی رائے میں آل مسلم پارٹیز کنونشن کی مجلس عمل اور علمائے دین کی وہ انجمنیں جنہوں نے مجلس عمل کی ساخت میں حصہ لیا اس بناء پر فسادات کی ذمہ داری میں شریک ہیں کہ مجلس عمل نے اپنی بات منوانے اور اپنے مقاصد حاصل کرنے کے لئے راست اقدام کا فیصلہ کیا۔
٤
جماعت اسلامی
مجلس عمل کو جن دینی انجمنوں نے تشکیل کیا تھا ان میں سے جماعت اسلامی نے عدالت تحقیقات کے سامنے اپنا کیس اس شکل میں پیش کیا تھا کہ جماعت اسلامی کو مجلس عمل کے فیصلہ ”راست اقدام“ سے اتفاق نہ تھا اور مجلس مذکور کا یہ فیصلہ آئینی ہی نہ تھا۔ لہٰذا فسادات کی ذمہ داری سے جماعت اسلامی کا دامن پاک ہے اور وہ لوگ فسادات کی ذمہ داری میں شریک ہیں۔ جنہوں نے راست اقدام کا فیصلہ کیا۔
جماعت اسلامی نے اپنے آپ کو بری الذمہ ثابت کرنے کے لئے شہادتیں پیش کیں اور ان کے وکیل نے راست اقدام اور فسادات کی ذمہ داری کا بوجھ مجلس عمل کے ارکان پر ڈالنے کے لئے بہت کچھ زور استدلال صرف کیا۔ لیکن عدالت تحقیقات نے جملہ بیانات کی جرح وتعدیل کر کے اس نقطہ پر حسب ذیل فیصلہ دیا۔
- ١...... جماعت اسلامی مجلس عمل پنجاب کا عضو تھی۔
- ٢...... یہ جماعت اس مجلس عمل کا ایک عضو بھی تھی۔ جسے آل پاکستان مسلم پارٹیز
کنونشن نے برپا کیا اور جس نے ١٨؍ جنوری ١٩٥٣ء کو بمقام کراچی ”راست اقدام“ کی قرارداد منظور کی۔
- ٣...... مولانا سلطان احمد نے جو مجلس عمل کے اجلاس کراچی مورخہ ٢٦؍ فروری
میں حاضر تھے۔ مجلس عمل کی سرگرمیوں سے بے تعلقی کا اظہار نہیں کیا اور یہ پروگرام کہ گورنر جنرل اور وزیراعظم کے دولت کدوں کی طرف رضا کار بھیجے جائیں۔ اس کی موجودگی میں اور اس کی طرف سے کسی قسم کے احتجاج کے بغیر طے ہوا تھا۔
- ٤...... جماعت اسلامی کا کوئی نہ کوئی نمائندہ مجلس عمل کے اجلاسوں میں بمقام
لاہور و کراچی شامل ہوتا رہا۔
- ٥...... اس تاریخ سے لے کر جس دن کہ راست اقدام کی قرارداد منظور ہوئی اس
وقت تک جب کہ فسادات اپنے عروج پر تھے۔ جماعت اسلامی نے کوئی پبلک اعلان اس مضمون کا نہیں دیا کہ راست اقدام سے اس کا کوئی تعلق نہیں اور وہ ان سرگرمیوں سے جو مجلس عمل کے طے کردہ پروگرام کو چلانے کے لئے کی جارہی ہیں۔ اپنے آپ کو الگ کرتی ہے۔
- ٦...... مولانا مودودی نے ٥؍ مارچ کو گورنمنٹ ہاؤس میں تقریر کرتے ہوئے یہ
٥
کہا کہ عامۃ الناس اور حکومت کے درمیان سول وار جاری ہے اور جب تک حکومت طاقت کا استعمال ترک کر کے عوام کے نمائندوں کے ساتھ بات چیت پر آمادہ نہیں ہوتی۔ امن کی اپیل شائع کرنے کا کوئی موقعہ نہیں۔
- ٧....... جماعت اسلامی نے ٥/مارچ کی قرارداد میں انہی خیالات و آراء کا اظہار
کیا جو مودودی صاحب نے اسی دن گورنمنٹ ہاؤس میں ظاہر کئے تھے۔
(رپورٹ انگریزی ص ٢٥١، ٢٥٢)
فاضل جج صاحبان نے جماعت اسلامی کے بیانات کا تجزیہ کرتے ہوئے اس رائے کا اظہار کیا ۔ ”ہم سمجھتے ہیں کہ ہم نے جماعت اسلامی کے ذہن کا صحیح طور پر مطالعہ کر لیا ہے اور ہم کہہ سکتے ہیں کہ اگر چہ جماعت مذکورہ اس پروگرام کی موزونیت کی قائل نہ تھی جو راست اقدام کی قرارداد کو عملی جامہ پہنانے کے لے طے ہوا تھا۔ لیکن وہ پبلک کے سامنے اپنے حقیقی خیالات کا کھلا اور دیانتدارانہ اظہار کرنے سے خائف تھی۔ تاکہ کہیں عوام میں نامقبول نہ ہو جائے۔ گویا اس ذہنیت اور روش میں وہ دوسری سیاسی جماعتوں یا شخصیتوں سے مختلف نہ تھی۔ یہ جماعت بھی دوسری کی طرح کوئی ایسی بات کرنے سے خائف تھی جو اسے عوام کی نکتہ چینی کا تختہ مشق بنادے۔“
(رپورٹ انگریزی ص ٢٥٣)
مسلم لیگ
عدالت کے خیال میں مسلم لیگ اس لئے ذمہ دار ہے کہ اس کی صوبائی کونسل نے ایسی قرارداد منظور کی۔ جس میں قادیانیوں کو مسلمانوں سے جداگانہ عقائد رکھنے والا گروہ قرار دیا اور مسلم لیگ کے بعض لیڈروں اور کارکنوں نے تحفظ ختم نبوت اور راست اقدام کی تحریکات میں عملی حصہ لیا اور مجلس عمل کا ساتھ دیا اور دوسرے لیڈروں اور کارکنوں نے راست اقدام کی تحریک کی مخالفت نہ کی۔ مزید برآں مسلم لیگ نے مقتدر سیاسی نظام کی حیثیت میں ان مسائل پر پبلک کی صحیح رہنمائی نہ کی۔
مجلس عمل کے مطالبات
فسادات کی ذمہ داری کے بارے میں عدالت تحقیقات کے فاضل جج صاحبان جن نتائج پر پہنچے ہیں۔ ان سے مترشح ہے کہ اگر اس ذمہ داری کی سزا موت تجویز کی جائے تو احرار کے زعما کو قادیانی کے لیڈروں اور قادیانی سرکاری افسروں کو۔ علمائے اسلام کی ایک کثیر جماعت کو خواجہ ناظم الدین اور ان کی کابینہ کے جملہ ارکان کو تعلیمات اسلامیہ کے سرکاری بورڈ کے ممبروں کو میاں ممتاز محمد خان دولتانہ اور مسلم لیگ کے رہنماؤں کو تختہ دار پر لٹکا دینا ضروری ہو جاتا ہے۔ لیکن
٦
اس کے باوجود فاضل جج صاحبان کے ارشاد کے مطابق مطالبات کا بچہ یعنی فساد کا مرکزی نقطہ پھر بھی زندہ رہتا ہے۔ اگر اس بچے کی پرورش کر کے اس سے کام لینے کے لئے کوئی طالع آزما گروہ کھڑا ہو جائے تو ملک میں پھر اسی قسم کی کیفیات پیدا ہوسکتی ہیں۔ جو مارچ ١٩٥٣ء کے اوائل میں لاہور اور پنجاب کے دوسرے مقامات پر دیکھنے میں آئیں۔
رپورٹ میں فاضل جج صاحبان نے احرار کی مذمت کرنے میں پورا زور قلم صرف کیا ہے۔ کیونکہ انہوں نے ایک دینی موضوع کو دنیوی مقصد کی خدمت پر لگا کر اس کا استخفاف کیا اور اپنی ذاتی اغراض کی خاطر عامۃ الناس کے مذہبی جذبات سے ناجائز فائدہ اٹھایا۔
(رپورٹ انگریزی ص ٢٥٩)
لیکن جہاں تک موضوع فساد کے دینی ہونے کا تعلق ہے عدالت کو اس کی صحت، اہمیت اور موجودگی سے انکار نہیں۔ بلکہ عدالت نے پوری وضاحت کے ساتھ بیان کر دیا ہے کہ مسلمانوں اور قادیانیوں کے درمیان مذہبی حیثیت سے اہم بنیادی اختلافات روزِ اوّل ہی سے موجود تھے اور موجود ہیں۔ اس سلسلے میں جس قدر نقاط مجلس عمل کی طرف سے عدالت کے سامنے پیش کئے گئے عدالت نے اپنی رپورٹ میں اس سب کا ذکر کر دیا ہے اور ان کی صحت کو تسلیم کر لیا ہے۔ اس سلسلے میں تفصیلات حسب ذیل ہیں۔
مسلمانوں اور قادیانیوں کے بنیادی مذہبی اختلافات
احمدی، قادیانی یا مرزائی
سرکاری کاغذات اور پولیس کی رپورٹوں میں اس کیفیت کو جو فسادات معلومہ پر منتج ہوئی۔ ”احرار احمدی اختلاف“ کی اصطلاح سے تعبیر کیا جاتا تھا اور قادیانی اپنے آپ کو احمدی اور مسلمانوں کو غیر احمدی لکھنے کے عادی تھے۔ مجلس عمل اور اس کی حلیف جماعتوں کی طرف سے ان الفاظ و تراکیب کے استعمال پر اعتراضات وارد کئے گئے۔ جن کی صحت کو عدالت نے صحیح تسلیم کرتے ہوئے رپورٹ میں لکھا ہے۔ ”ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ مسلمانوں کے سوادِ اعظم کو جو مرزا غلام احمد قادیانی پر ایمان نہیں رکھتا۔ ان لوگوں سے جو اس پر ایمان رکھتے ہیں۔ ممیز کرنے کے لئے لفظ ”مسلمان“ استعمال کریں اور احمدیوں کی قادیانی جماعت کے لئے جو مرزا غلام احمد کے نبی ہونے پر ایمان رکھتی ہے۔ ”احمدی“ ”قادیانی“ یا ”مرزائی“ کی اصطلاح استعمال کریں۔“
(رپورٹ انگریزی ص ٩)
٧
مرزا غلام احمد کا دعویٰ نبوت
مرزا غلام احمد کے دعویٰ نبوت کے سلسلے میں فاضل جج صاحبان نے مسلمانوں اور قادیانیوں کے عقائد کی وضاحت کرتے ہوئے اس خیال کا اظہار کیا ہے۔ ”اگرچہ مرزا غلام احمد نے شروع شروع میں لوگوں کے سامنے اپنا ہاتھ اس ہدایت کے ساتھ پیش کیا کہ وہ اسے قبول کر لیں۔ تاہم یہ سوال تحقیق طلب ہے کہ آیا اس نے اپنی وحی کے متعلق وحی نبوت کے درجے کا دعویٰ کیا تھا یا نہیں۔ جس پر ایمان لانے سے کوتاہی بعض روحانی اور اخروی نتائج کی حامل ہے۔ احمدیوں نے اور ان کے موجودہ امام نے انتہائی غور و فکر کے بعد ہمارے سامنے یہ پوزیشن اختیار کی ہے کہ مرزا غلام احمد نے ایسا دعویٰ نہیں کیا۔ لیکن فریق ثانی شدت اصرار کے ساتھ مجادل ہے کہ اس نے ایسا کیا۔ احمدیوں کے لٹریچر میں جس میں مرزا غلام احمد اور احمدیہ جماعت کے موجودہ امام کی بعض تحریرات بھی شامل ہیں۔ بعض ایسے اظہارات موجود ہیں جو فریق مجادل کے دعویٰ کی تائید کرتے ہیں۔ لیکن ہمارے سامنے اب جو پوزیشن اختیار کی گئی ہے وہ ظاہر کرتی ہے کہ مرزا غلام احمد نے اپنے آپ کو محض اس لئے نبی کہا کہ اس کے الہام میں خدا نے اسے اسی طرح ظاہر کیا تھا۔ وہ کوئی نئی شریعت نہیں لایا۔ نہ اس نے اصلی شریعت کو منسوخ کیا۔ نہ اس میں کچھ اضافہ کیا۔ نیز یہ کہ کوئی شخص مرزا قادیانی کی وحی پر ایمان نہ لانے کی وجہ سے یا اس وحی پر ایمان لانے سے محروم یا قاصر رہ جانے کے باعث دائرہ اسلام سے خارج نہیں ہوتا۔ ہم پیش ازیں لکھ چکے ہیں کہ ہمارا منصب یہ نہیں کہ ہم اس بات کا فیصلہ کریں کہ آیا احمدی دائرہ اسلام سے خارج ہیں یا نہیں۔ ہم نے اس نقطہ کا ذکر محض اختلافات کی تشریح کرنے کے خیال سے کیا ہے جو احمدیوں اور غیر احمدیوں کے درمیان مبینہ طور پر موجود ہیں۔ ہم اس امر کا فیصلہ غیر احمدیوں پر چھوڑتے ہیں کہ (اس نئی پوزیشن کے اعلان کے بعد) وہ احمدیوں کو مسلمان سمجھیں یا نہ سمجھیں۔“
(رپورٹ انکوائری ص ١٨٩)
قادیانی وکیل نے عقیدہ اجرائے نبوت کی تائید میں قرآن پاک کی جو آیات پیش کیں اور جس نوعیت کے استدلال سے کام لیا۔ اس پر فاضل جج صاحبان نے رائے زنی کرتے ہوئے تحریر کیا ہے۔ ”ایک سلسلہ استدلال کی بناء پر قرآن پاک کی ان آیات سے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی گئی ہے کہ مستقبل میں یعنی ہمارے رسول اقدس واطہر ﷺ کے بعد بھی ایسے لوگ ظاہر ہوتے رہیں گے جن پر لفظ نبی یا رسول کا اطلاق ہو سکتا ہے۔ یہاں اس سلسلہ استدلال کی تشریح
٨
مرزا غلام احمد کا دعویٰ نبوت
مرزا غلام احمد کے دعویٰ نبوت کے سلسلے میں فاضل جج صاحبان نے مسلمانوں اور قادیانیوں کے عقائد کی وضاحت کرتے ہوئے اس خیال کا اظہار کیا ہے۔ ”اگرچہ مرزا غلام احمد نے شروع شروع میں لوگوں کے سامنے اپنا ہاتھ اس ہدایت کے ساتھ پیش کیا کہ وہ اسے قبول کر لیں۔ تاہم یہ سوال تحقیق طلب ہے کہ آیا اس نے اپنی وحی کے متعلق وحی نبوت کے درجے کا دعویٰ کیا تھا یا نہیں۔ جس پر ایمان لانے سے کوتاہی بعض روحانی اور اخروی نتائج کی حامل ہے۔ احمدیوں نے اور ان کے موجودہ امام نے انتہائی محتاطانہ غورو فکر کے بعد ہمارے سامنے یہ پوزیشن اختیار کی ہے کہ مرزا غلام احمد نے ایسا دعویٰ نہیں کیا۔ لیکن فریق ثانی شدت اصرار کے ساتھ مجادل ہے کہ اس نے ایسا کیا۔ احمدیوں کے لٹریچر میں جس میں مرزا غلام احمد اور احمدیہ جماعت کے موجودہ امام کی بعض تحریرات بھی شامل ہیں۔ بعض ایسے اظہارات موجود ہیں جو فریق مجادل کے دعوے کی تائید کرتے ہیں۔ لیکن ہمارے سامنے اب جو پوزیشن اختیار کی گئی ہے وہ ظاہر کرتی ہے کہ مرزا غلام احمد نے اپنے آپ کو محض اس لئے نبی کہا کہ اس کے الہام میں خدا نے اسے اسی طرح ظاہر کیا تھا۔ وہ کوئی نئی شریعت نہیں لایا۔ نہ اس نے اصلی شریعت کو منسوخ کیا۔ نہ اس میں کچھ اضافہ کیا۔ نیز یہ کہ کوئی شخص مرزا قادیانی کی وحی پر ایمان نہ لانے کی وجہ سے یا اس وحی پر ایمان لانے سے محروم یا قاصر رہ جانے کے باعث دائرہ اسلام سے خارج نہیں ہوتا۔ ہم پیش ازیں لکھ چکے ہیں کہ ہمارا منصب یہ نہیں کہ ہم اس بات کا فیصلہ کریں کہ آیا احمدی دائرہ اسلام سے خارج ہیں یا نہیں۔ ہم نے اس نقطہ کا ذکر محض اختلافات کی تشریح کرنے کے خیال سے کیا ہے جو احمدیوں اور غیر احمدیوں کے درمیان مبینہ طور پر موجود ہیں۔ ہم اس امر کا فیصلہ غیر احمدیوں پر چھوڑتے ہیں کہ (اس نئی پوزیشن کے اعلان کے بعد ) وہ احمدیوں کو مسلمان سمجھیں یا نہ سمجھیں۔“
(رپورٹ انکوائری ص ١٨٩)
قادیانی وکیل نے عقیدہ اجرائے نبوت کی تائید میں قرآن پاک کی جو آیات پیش کیں اور جس نوعیت کے استدلال سے کام لیا۔ اس پر فاضل جج صاحبان نے رائے زنی کرتے ہوئے تحریر کیا ہے۔ ”ایک سلسلۂ استدلال کی بناء پر قرآن پاک کی ان آیات سے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی گئی ہے کہ مستقبل میں یعنی ہمارے رسول اقدس واطہرﷺ کے بعد بھی ایسے لوگ ظاہر ہوتے رہیں گے جن پر لفظ نبی یا رسول کا اطلاق ہو سکتا ہے۔ یہاں اس سلسلۂ استدلال کی تشریح
٨
کرنے کی ضرورت نہیں۔ کیونکہ نہ تو ہم اس امر کا فیصلہ کرنے کے مکلف ہیں نہ ہم سے اس کی توقع کرنی چاہئے کہ آیات مذکورہ کی کون سی مخصوص تفسیر صحیح یا غلط ہے۔“
(رپورٹ انکوائری ص ١٨٨)
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی حیات وممات
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی حیات اور قیامت کے قریب ان کے نزول کے بارے میں قادیانیوں کے عقائد اور آیات متعلقہ کی قادیانی تفسیر کا ذکر کرتے ہوئے فاضل جج صاحبان لکھتے ہیں کہ: ”مولانا مرتضیٰ احمد خان نے مجلس عمل کی جانب سے بحث کرتے ہوئے بتایا کہ ان آیات اور بعض دیگر آیات قرآنی کی احمدی تفسیریں تاویل و تحریف کے درجے تک پہنچ جاتی ہیں اور اس قسم کی تاویل وتحریف کفر وارتداد پر مستلزم ہے جو اس کے مرتکب کو حلال الدم والمال کے فتویٰ کا مستوجب بنا دیتی ہے۔ یعنی ایسے شخص کا خون اور مال (ازروئے شریعت اسلام) مباح ہو جاتا ہے۔ ہمیں اس اختلاف کے حسن و قبح پر اپنی رائے ظاہر کرنے کا مکلف نہیں بنایا گیا۔ جس کا مرکزی نقطہ سورہ ٣ کی آیت ٥٥ کے لفظ اور مادہ ’توفی‘ کے مشتقات جو آیات محولہ بالا میں آئے ہیں۔ نیز سورہ ٤ کی آیت ١٥٩ کا لفظ موتہ ہے۔“
(رپورٹ انکوائری ص ١٩١)
جہاد کے بارے میں قادیانی عقائد
جہاد کے قرآنی حکم کی تنسیخ کے بارے میں قادیانیوں کی طرف سے جو صفائی پیش کی گئی اس کا ذکر بالوضاحت کرتے ہوئے فاضل جج صاحبان نے تحریر کیا ہے۔ ”جہاد کے بارے میں مرزا قادیانی کی نشریات کا عام انداز ظاہر کرتا ہے کہ یہ تحریریں ان واقعات کے سلسلے میں لکھی گئیں جو ان دنوں سرحد پر رونما ہو رہے تھے اور جہاں برطانوی افسروں کے پے در پے قتل کی وارداتیں واقع ہوتی رہتی تھیں۔ ہر برطانی افسر کو جو ہندوستان میں آتا تھا ہدایت کی جاتی تھی کہ وہ غازی یعنی افغان یا قبائلی مذہبی دیوانے سے محتاط رہے۔ جو کافر کو قتل کرنا مذہبی حیثیت سے کار ثواب اور مالی حیثیت سے نفع بخش خیال کرتا ہے تاکہ بہشت میں اجر پائے۔ ایسے حملے اگر ان کا محرک مذہبی جوش تھا بلاشبہ اسلامی عقیدۂ جہاد کے منافی تھے اور مرزا قادیانی نے اس اعتقاد کی تردید کرکے اچھا کام کیا۔ لیکن حکم جہاد کی جو تشریح مرزا قادیانی نے کی اسے انہوں نے ان متملقانہ اور خوشامدانہ بیانات سے جو اس تشریح میں مہربان حکومت برطانیہ اور اس کی مذہبی رواداری کی پالیسی کے بارے میں لکھے۔ مشتبہ بنالیا جب مرزا قادیانی نے اس عدم رواداری جو مسلمان ملکوں میں پائی جاتی تھیں اور انگریزوں کی فراخ دلانہ مذہبی حکمت عملی کے درمیان تحقیر آمیز مقابلہ وموازنہ شروع کر دیا تو مسلمانوں میں مزید غصہ واشتعال پیدا ہوا۔ معلوم
٩
ہوتا ہے کہ مرزا قادیانی کو اس امر کا بخوبی احساس تھا کہ ان کے پیش کردہ عقائد کو اسلامی ملکوں میں ارتداد کی نشر واشاعت پر محمول کیا جائے گا۔ جب افغانستان میں عبداللطیف (نامی ایک قادیانی) کو سنگسار کر دیا گیا تو ان کے اس خیال کی تصدیق ہو گئی ہوگی۔ پہلی جنگ عظیم کے دوران میں جس میں ترکی نے شکست کھائی جب ١٩١٨ء میں انگریزوں نے بغداد فتح کیا تو قادیان میں جشن فتح منایا گیا۔ اس بات نے مسلمانوں کے قلوب میں سخت رنج اور تلخی پیدا کر دی اور وہ احمدیت کو برطانیہ کی لونڈی خیال کرنے لگے۔“
(رپورٹ انگریزی ص ١٩٦)
اسلامی اصطلاحات کا استعمال
عدالت تحقیقات نے قادیانیوں کے خلاف مسلمانوں کی ایک اور بہت بڑی شکایت کی صحت کو بھی من وعن تسلیم کر لیا ہے کہ مرزا غلام احمد نے اپنی تحریرات میں انبیاء کرام علیہم السلام اور حضور سید المرسلین ﷺ پر اپنی فضیلت کا اظہار کر کے مسلمانوں کی سخت دل آزاری کی ہے اور قادیانی اپنی مطبوعات میں مسلمانوں کی مقدس اصطلاحات مثلاً امیر المؤمنین، ام المؤمنین، سیدۃ النساء، صحابہ کرامؓ جن کا محل استعمال مخصوص ہو چکا ہے۔ اپنے اکابر کے لئے استعمال کر کے دل آزاری کے مرتکب ہوتے رہتے ہیں۔ فاضل جج تحریر فرماتے ہیں کہ: ”ہمارا وظیفہ یہ نہیں کہ ہم اس امر کا فیصلہ کریں کہ آیا یہ نام صحیح طور پر استعمال کئے گئے یا نہیں۔ لیکن ان اصطلاحات کے استعمال سے مسلمانوں کے احساسات پر جو اثر ہوتا ہے اس کے متعلق ہمیں ذرہ بھر شک نہیں۔ یہ اصطلاحات اپنے مخصوص اور محدود استعمال کی وجہ سے مقدس بن چکی ہیں اور تاریخ اسلام کی بعض اعلیٰ ہستیوں کی یاد سے مختص ہو چکی ہیں۔ اس طرح احمدیوں کے لٹریچر میں حضرت رسول اکرم ﷺ کے خاندان (اہل بیت) کی بعض خواتین کے متعلق جو ذکر ہوا ہے اس کے بارے میں بھی ہماری رائے یہی ہے۔ اگرچہ اس شکایت کی ایک مثال غالباً زیادہ بیہودہ صورت میں ملا جلالوہار میں بھی موجود ہے۔ بلاشبہ حضرت رسول اکرم ﷺ اور کسی اور زندہ یا مردہ شخص کے درمیان کسی قسم کا موازنہ ہر مومن کے لئے دل آزاری کا موجب ہے۔“
(رپورٹ انگریزی ص ١٩٧)
پاکستان کی مخالفت
عدالت تحقیقات نے اس امر پر بھی مہر تصدیق ثبت کر دی ہے کہ قادیانی نہ صرف دیگر اسلامی مملکتوں پر برطانیہ کے راج کو ترجیح دیتے تھے۔ بلکہ تقسیم ملکی سے پہلے وہ پاکستان کی اسلامی مملکت کے قیام کے بھی مخالف تھے اور اب بھی اس امر کے خواہاں ہیں کہ ہندوستان پھر سے متحد ہو کر اکھنڈ بھارت بن جائے۔ فاضل جج صاحبان نے اس نقطہ پر حسب ذیل رائے ظاہر کی ہے۔
١٠
”جب تقسیم ملکی کے ذریعے سے مسلمانوں کے لئے ایک جدا گانہ وطن کے امکانات افق پر نمودار ہونے لگے تو آنے والے واقعات کا سایہ احمدیوں کو فکر مند بنانے لگا۔ ١٩٤٥ء سے لے کر ١٩٤٧ء کے آغاز تک احمدیوں کی بعض تحریرات منکشف ہیں کہ وہ برطانیہ کا جانشین بننے کے خواب دیکھ رہے تھے۔ لیکن جب پاکستان کا دھندلا سا رؤیا ایک آنے والی حقیقت کی شکل اختیار کرتا نظر آنے لگا تو وہ محسوس کرنے لگے کہ ان کے لئے اپنے آپ کو ایک نئی مملکت کے تصور پر راضی کرنا ذرا ٹیڑھی کھیر ہے۔ وہ ضرور اپنے آپ کو ایک عجیب مخمصے میں مبتلا محسوس کرتے ہوں گے۔ کیونکہ وہ نہ تو ایک ہندو دنیوی حکومت یعنی ہندوستان کو اپنے لئے پسند کر سکتے تھے۔ نہ پاکستان کو منتخب کر سکتے تھے۔ جہاں اس امر کی توقع نہیں کی جاسکتی تھی کہ اعتزال و تفریق کی حوصلہ افزائی کی جائے گی۔ ان کی بعض تحریرات ظاہر کرتی ہیں کہ وہ تقسیم ملکی کے خلاف تھے۔ لیکن اگر تقسیم معرض عمل میں آ جائے تو وہ ملک کو از سر نو متحد کرنے کے لئے کوشاں رہیں گے۔“
(رپورٹ انگریزی ص١٩٦)
مسلمانوں سے علیحدگی
عدالت نے اس امر کو بھی تسلیم کر لیا کہ احمدی سرکاری افسر اور ملازم دوسروں کا مذہب تبدیل کراتے رہے ہیں۔
(رپورٹ انگریزی ص١٩٧)
اور اپنی جداگانہ جماعتی تنظیم رکھتے ہیں۔ اس تنظیم کے دفاتر میں امور خارجہ کا محکمہ بھی ہے اور امور داخلہ۔ امور عامہ اور نشر و تبلیغ کے محکمے بھی قائم ہیں۔ ان کے ہاں رضا کاروں کا ایک جیش بھی ہے۔ جس کا نام خدام الدین؟ (خدام الاحمدیہ) ہے جو فرقان بٹالین یعنی کشمیر میں کام کرنے والے مخصوص احمدی بٹالین پر مشتمل ہے۔ وہ مسلمانوں سے رشتے ناطے کا تعلق بھی نہیں رکھتے اور نہ مسلمانوں کے ساتھ نماز پڑھتے ہیں۔
(رپورٹ انگریزی ص١٩٨)
وہ کسی مسلمان کی نماز جنازہ بھی نہیں پڑھتے۔ اس سلسلے میں قادیانی فریق نے عدالت کے سامنے اپنے طرز عمل کی جو تصریح پیش کی اور نئی پوزیشن بیان کی۔ اس بارے میں عدالت کا فیصلہ یہ ہے کہ: ”یہ توجیہہ صورت حال کو بہتر نہیں بناتی۔ کیونکہ اس خیال کا لازمی نتیجہ یہ ہے کہ ایسے متوفی کی نماز جنازہ نہ پڑھی جائے جو مرزا غلام احمد پر ایمان نہیں رکھتا۔ اس طرح یہ نئی توجیہہ درحقیقت ان کے موجودہ طرز عمل کی تصدیق کرتی ہے۔“
(رپورٹ انگریزی ص١٩٩)
تکفیر مسلمین
تکفیر مسلمین کے بارے میں قادیانی فریق کی طرف سے جو نئی توجیہات عدالت کے سامنے پیش کی گئیں ان کے بارے میں فاضل جج صاحبان کی رائے یہ ہے کہ: ”ہم نے اس
١١
موضوع پر احمدیوں کے سابقہ اعلانات دیکھے ہیں۔ جن کی تعداد بہت زیادہ ہے اور ہمارے نزدیک یہ اعلانات اس کے سوا..... اور کسی تشریح کے حامل نہیں کہ جو لوگ مرزا غلام احمد پر ایمان نہیں رکھتے وہ دائرہ اسلام سے خارج ہیں۔ اب یہ بیان کیا گیا ہے کہ جو مسلمان حضرت رسول اقدس و اطہر ﷺ کے بعد کسی مامور من اللہ کے دعویٰ کو قبول نہ کرے وہ اللہ اور رسول کا منکر نہیں۔ لہٰذا وہ امت میں داخل ہے۔ یہ توجیہہ ان کے سابقہ اعلانات سے مختلف نہیں کہ دوسرے مسلمان کافر ہیں۔ حقیقتاً یہ الفاظ ان کے سابقہ اعتقاد کی بالواسطہ از سر نو تصدیق کرتے ہیں کہ ایسے لوگ صرف اس معنی میں مسلمان ہیں کہ وہ حضرت رسول اکرم ﷺ کی امت میں سے ہیں اور اس لحاظ سے ایسے سلوک کے مستحق ہیں جو مسلمانوں کے معاشرہ کے افراد سے ہونا چاہئے۔ یہ بات یہ کہنے سے بہت مختلف ہے کہ وہ مسلمان ہیں کافر نہیں۔
(رپورٹ انگریزی ص ١٩٩)
اشتعال انگیزیاں
عدالت نے قادیانی اکابر کی تحریروں اور تقریروں کے اشتعال انگیز ہونے کا نوٹس بھی لیا ہے۔ خونی ملا کے آخری دن کے عنوان والے مضمون کے بارے میں فاضل جج صاحبان نے لکھا ہے کہ: ”یہ مضمون قطعی طور پر اشتعال انگیز ہے۔ اس مضمون میں مولانا احتشام الحق اور مولانا محمد شفیع ایسے علماء کے بارے میں جو مجلس دستور ساز سے ملحقہ تعلیمات اسلامیہ بورڈ کے رکن ہیں۔ نیز مولانا ابوالاعلیٰ مودودی کے بارے میں جن کے وسیع مبلغ علم دین سے کسی کو مجال انکار نہیں جو استہزاء آمیز کلمات درج ہیں۔ ان سے نہ صرف ان علماء کی جن کے نام اس مضمون میں لئے گئے ہیں۔ بلکہ سارے علماء کی دل آزاری ہوئی ہوگی۔“
(رپورٹ انگریزی ص ١٩٧، ١٩٨)
اسی سلسلے میں فاضل جج صاحبان نے مرزا بشیر الدین محمود کی تقریر کوئٹہ (مطبوعہ الفضل مورخہ ١٣؍اگست ١٩٤٨ء) جس میں بلوچستان کو خالص مرزائی صوبہ بنا کر تبلیغ احمدیت کا بیس بنانے کے عزائم کا اظہار کیا گیا۔ ان کے خطبہ جلسہ ربوہ (مطبوعہ الفضل مورخہ ٣؍جنوری ١٩٥٢ء) جس میں مخالفین احمدیت کو دھمکی دی گئی ہے کہ عنقریب مرزا قادیانی یا ان کے کسی جانشین کے سامنے مجرموں کی طرح پیش ہوں گے اور ان کے خطبہ جمعہ (مطبوعہ الفضل مورخہ ١١؍جنوری ١٩٥٢ء) جس میں احمدیوں کو تلقین کی گئی ہے کہ وہ فوجی محکمہ کی طرح گورنمنٹ کے دوسرے محکموں میں بھی بھرتی ہونے کی کوشش کریں۔ تا کہ تبلیغی پروگرام کو تقویت پہنچے اور اعلان (مطبوعہ الفضل مورخہ ١٦؍جنوری ١٩٥٢ء) جس میں احمدیوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ ایسے حالات پیدا کرو کہ ١٩٥٢ء کے گزرنے سے پہلے پہلے دشمن احمدیت کے آغوش میں گرنے پر مجبور ہو جائے اور بعض
١٢
دوسری تحریرات کی اشتعال انگیزانہ ماہیت کا اعتراف کیا ہے اور لکھا ہے کہ احمدیوں کی جارحانہ تبلیغ نہ صرف پاکستان میں بلکہ دوسرے ملکوں میں بھی ہنگاموں اور حملوں کی وجہ بنتی رہی ہے۔
(رپورٹ انگریزی ص ١٩٩، ٢٠٠)
فاضل جج صاحبان نے قادیانیوں کی اشتعال انگیزیوں کے سلسلے میں چوہدری ظفر اللہ خان وزیر خارجہ پاکستان کی اس تقریر کا تذکرہ اس موقع پر تو نہیں کیا جو انہوں نے جہانگیر پارک کراچی کے ایک جلسہ عام میں مورخہ ١٨؍ مئی ١٩٥٢ء کو کی تھی اور جس کی وجہ سے ملک بھر میں غصہ واشتعال کی ایک زبردست لہر پیدا ہو گئی تھی۔ البتہ رپورٹ کے ابتدائی حصے میں جہاں واقعات کی رفتار کو سلسلہ وار درج کیا گیا ہے۔ اس تقریر کا اور اس سے پیدا ہونے والے ہیجان اور ہنگاموں کا جامع تذکرہ فاضل جج صاحبان کی طرف سے کسی قسم کے تبصرے کے بغیر موجود ہے۔
(رپورٹ انگریزی ص ٧٥ تا ٧٧)
قادیانیوں کی ذمہ داری
رپورٹ کے حصہ بعنوان ذمہ داری میں فاضل جج صاحبان نے احمدیوں کے متعلق حسب ذیل شذرہ سپرد قلم کیا ہے۔ ”احمدی براہ راست یا بلاواسطہ فسادات کے ذمہ دار نہیں۔ کیونکہ فسادات حکومت کے اس اقدام کا نتیجہ تھے جو اس پروگرام کے خلاف اختیار کیا۔ جس پر چلنے کا فیصلہ آل مسلم پارٹیز کنونشن نے قرار داد راست اقدام کے ماتحت کیا تھا۔ لیکن مطالبات احمدیوں کے متعلق تھے اور وہ احمدیوں کے عجیب و غریب مخصوص عقائد اور ان کی سرگرمیوں نیز ان کی طرف سے دوسرے مسلمانوں پر اپنے ممتاز ہونے پر زور دیئے جانے کی وجہ سے وضع ہوئے۔ از بس کہ یہ عقائد اور سرگرمیاں بلاشبہ مطالبات کے وقوع میں آنے کا سبب تھیں۔ اس لئے اس بات کا فیصلہ کرنا ضروری ہے کہ آیا احمدی فسادات کا محرک ہونے میں حصہ دار ہیں یا نہیں۔ مسلمانوں کے سواد اعظم سے ان کے اختلافات نصف صدی سے زیادہ عرصہ سے چلے آ رہے تھے اور تقسیم ملکی سے پہلے احمدی کسی قسم کی رکاوٹ یا بندش کے بغیر اپنا پروپیگنڈا کیا کرتے تھے اور لوگوں کو مرتد بنانے کی سرگرمیوں میں مصروف رہتے تھے۔ پاکستان کے قیام کی بدولت کیفیت حال تمام و کمال بدل گئی۔ اگر احمدیوں نے یہ خیال کیا کہ اس بارے میں حکومت کی طرف سے کسی قسم کی پالیسی کے اعلان کا نہ ہونا کہ پاکستان کے اندر اسلام کے سوا دیگر مذہب یا دائرہ اسلام کے فرقہ وارانہ عقائد کی تبلیغ واشاعت کی اجازت کس حد تک دی جاسکتی ہے۔ یہ معنی رکھتا ہے کہ اس نئی مملکت میں ان کی سرگرمیاں خلل پیدا نہیں کریں گی اور نوٹس میں آئے بغیر جاری رکھی جاسکیں گی تو وہ اپنے آپ کو بیوقوف بنا رہے تھے۔
١٣
تبدیل شدہ حالات نے ان کی سرگرمیوں میں کسی قسم کی جوابی تبدیلی پیدا نہ کی۔ ان کی جارحانہ تبلیغ اور غیر احمدی مسلمانوں کے متعلق ان کے دل آزارانہ اظہارات جاری رہے۔ مرزا بشیر الدین محمود کی کوئٹہ والی تقریر جس میں اس نے اس صوبے کی ساری آبادی کو احمدی بنا لینے اور اسے مزید کارروائیوں کے لئے بیس (مرکز) بنانے کی کھلم کھلا تلقین کی نہ صرف بداندیشانہ تھی۔ بلکہ اس کے علاوہ نادانشمندانہ اور اشتعال انگیز بھی تھی۔ اسی طرح اپنے متبعین کو اس کی یہ ہدایت کہ وہ احمدیت کی تبلیغ کے لئے اپنے پروپیگنڈا کو اس قدر تیز کر دیں کہ ساری مسلمان آبادی ١٩٥٢ء کے اختتام سے پہلے پہلے احمدیت کی آغوش میں آ گرے۔ مسلمانوں کے لئے ان کی ارتداد آفرین سرگرمیوں کا ایک کھلا نوٹس تھی اور ان لوگوں کو جو مرزا غلام احمد پر ایمان نہیں رکھتے۔ دشمن یا مجرم یا صرف مسلمان کے الفاظ سے یاد کرنا ایسے اشخاص کو اشتعال دلائے بغیر نہیں رہ سکتا۔ جن کی توجہ ان الفاظ کی جانب مبذول کرائی جاتی۔ احمدی افسر سمجھتے تھے کہ ارتداد پھیلانے کے معرکے میں پوری تن دہی اور دل جمعی کے ساتھ حصہ لینا ان کا مذہبی فرض ہے۔ احمدی افسروں کی اس روش نے احمدیوں کے حوصلے اور بھی بڑھا دیئے اور وہ ایسی جگہوں پر جہاں انہیں افسروں کی تائید حاصل تھی یا وہ اس کی توقع رکھتے تھے۔ اپنے مقاصد کے حصول کے لئے زیادہ قوت کے ساتھ کام کرنے لگے۔ ہمیں پورا یقین ہے کہ اگر منٹگمری کا انتظامی افسر اعلیٰ احمدی نہ ہوتا تو احمدی کبھی غیر احمدیوں کے ایک مجموعہ دیہات کی طرف تبلیغی مشن پر جانے کی جرأت نہ کرتے۔ جب کوئی سرکاری افسر اپنے فرقہ وارانہ خیالات کا اظہار کھلے بندوں کرنے لگے۔ جیسا کہ بعض احمدی افسروں نے کیا تو اس کا نتیجہ اس کے سوا اور کچھ نہیں کہ ایسے جھگڑوں میں جہاں اس کی اپنی جماعت کا کوئی فرد شامل ہو اس کی غیر جانب داری اور بے طرفی پر سے اعتماد یکسر اٹھ جائے۔ اس کا فیصلہ خواہ کتنا ہی صحیح اور دیانت دارانہ ہو۔ لیکن اگر وہ فیصلہ کسی ایسے شخص کے خلاف ہے جو اس کی جماعت سے تعلق نہیں رکھتا تو وہ یہ اثر لئے بغیر نہیں رہ سکتا کہ اسے فرقہ وارانہ وجوہ کی بناء پر بے انصافی کا شکار بنایا گیا ہے۔ لہٰذا ان افسروں کا طرز عمل بہت ہی افسوس ناک اور بد بختانہ تھا اور ظاہر کرتا تھا کہ یہ افسر اس اصول کو سمجھنے اور اخذ کرنے سے قاصر ہیں۔ جسے ہر سرکاری افسر کو اپنی روش پر حکم فرما بنانا چاہئے۔ بنا بریں ہم مطمئن ہیں کہ اگر چہ احمدی فسادات کے براہ راست ذمہ دار نہیں۔ لیکن ان کی اپنی روش نے ان کے خلاف ایک عام شورش کو ابھرنے کا موقع بہم پہنچایا۔ اگر (عوام کے) احساسات ان کے خلاف اس قدر تیز نہ ہوتے تو ہمارا خیال ہے کہ احرار کبھی اپنے ارد گرد مختلف العقائد مذہبی جماعتوں کو جمع کرنے میں کامیاب نہ ہو سکتے۔“
(رپورٹ انگریزی ص ٢٦٠، ٢٦١)
١٤
فاضل جج صاحبان نے تاہم اس سلسلے میں مجلس عمل کے پُ فسادات کی بالواسطہ ذمہ داری قا انگیزانہ سرگرمیوں اور قادیانی سرکا میں مذہبی تفوق حاصل کرنے کی غر
علمی دینی اور نظریاتی حیثی
فاضل جج صاحبان ۔ ونقاط پر بھی تبصرہ آرائی اور خامہ ف المعروف کے خیال میں عدالت ن موزوں مقام نہ تھا۔ اس کے بجا بحث لائے جاتے تو مفید تر ثابت جید علمائے دین اور دیگر گواہو بیانات حاصل کئے گئے۔ ان ا وفکر اور تحقیق وتعدیل کے محتاج تھا کہ اس مقصد کے لئے مخصوص کو اظہار فکر ورائے کی دعوت د گئی تحقیقات کی معینہ تنقیحات ۔ بھی کٹہرے میں لاکر کھڑا کر ل حسب منشاء گواہ یا وکیل پیش کر بنے۔ حسب ذیل ہیں۔
- ١....... آل مسلم پارٹیز کن
- ٢....... مسلم ومؤمن کی
- ٣....... مسئلہ قتل مرتد ۔
- ٤....... مسئلہ جہاد۔
فاضل جج صاحبان نے اگرچہ قادیانیوں کو فسادات کا براہ راست ذمہ دار قرار نہیں دیا۔ تاہم اس سلسلے میں مجلس عمل کے پیش کردہ نقاط کو من وعن صحیح تسلیم کرتے ہوئے تحریر فرمایا ہے کہ فسادات کی بالواسطہ ذمہ داری قادیانیوں کے عجیب و غریب عقائد، ان کی جارحانہ اور اشتعال انگیزانہ سرگرمیوں اور قادیانی سرکاری افسروں کے ناروا شوق تبلیغ پر عائد ہوتی ہے۔ جو پاکستان میں مذہبی تفوق حاصل کرنے کی غرض سے اختیار کیا گیا۔
علمی دینی اور نظریاتی حیثیت کے مسائل
فاضل جج صاحبان نے اس رپورٹ میں ان علمی، دینی اور نظریاتی حیثیت کے مسائل و نقاط پر بھی تبصرہ آرائی اور خامہ فرسائی کی ہے جو تحقیقات کے دوران میں زیر تدقیق آئے۔ راقم الحروف کے خیال میں عدالت مذکور کا ایوان ان علمی اور نظریاتی مسائل کی تحقیق و تدقیق کے لئے موزوں مقام نہ تھا۔ اس کے بجائے اگر یہ مسائل کسی جداگانہ علمی مجلس یا دیوان عالی کے سامنے زیر بحث لائے جاتے تو مفید تر نتائج حاصل و مرتب کئے جا سکتے تھے۔ فاضل جج صاحبان نے چند ایک علمائے دین اور دیگر گواہوں کے ان بیانات کی بناء پر جو ان سے عدالت کے اندر برسبیل تعجیل و ارتجال حاصل کئے گئے ۔ ان اہم ترین مسائل کا تذکرہ رپورٹ میں کر دیا ہے۔ جو بہت کچھ غور وفکر اور تحقیق و تعدیل کے محتاج ہیں۔ ان مسائل کے متعلق صحیح نتائج حاصل کرنے کے لئے ضروری تھا کہ اس مقصد کے لئے مخصوص دیوان عالی مقرر کیا جاتا اور اس میں تنقیحات معین کر کے ارباب علم کو اظہار فکر و رائے کی دعوت دی جاتی۔ عدالت مذکور کے لئے افراد و جماعات کے اعمال کا جائزہ لینا تحقیقات کی معینہ تنقیحات کے پیش نظر ضروری تھا۔ لیکن عدالت نے علمی نظریات وتصورات کو بھی کٹہرے میں لا کر کھڑا کر لیا اور ان ”ملزمان“ کو موقع نہیں دیا گیا کہ وہ اپنی صفائی میں اپنے حسب منشاء گواہ یا وکیل پیش کر سکیں۔ ایسے ملزمان جو فاضل جج صاحبان کے ریمارکس کا تختہ مشق بنے۔ حسب ذیل ہیں۔
- ١...... آل مسلم پارٹیز کنونشن کے مطالبات۔
- ٢...... مسلم ومؤمن کی تعریف۔
- ٣...... مسئلہ قتل مرتد۔
- ٤...... مسئلہ جہاد۔
١٥
- ......٥ مسئلہ مال غنیمت وخمس۔
- ......٦ اسلامی ریاست۔
- ......٧ جمہوریت۔
- ......٨ نمائندہ حکومت اور نفاذ قانون واستحفاظ آئین۔
- ......٩ لہو ولعب اور اسلام۔
- ......١٠ آرٹ اور اسلام۔
- ......١١ بین الاقوامی قوانین ومجالس اور اسلام۔
- ......١٢ حدیث وسنت۔
١...... مجلس عمل کے مطالبات
فاضل جج صاحبان نے آل مسلم پارٹیز کنونشن کے سہ گانہ مطالبات کو ”فسادات کی براہ راست علت“ قرار دیا ہے۔ (رپورٹ انگریزی ص ١٨٤، ١٨٥) لیکن اس کے ساتھ ہی اس امر کا اعتراف کیا ہے کہ مقصد جس کے لئے تحریک اٹھائی گئی۔ خالصۃً دینی تھا۔ (رپورٹ انگریزی ص ٢٥٩) عدالت نے اپنی رپورٹ میں کسی مقام پر بھی مطالبات کو فضول اور بیہودہ قرار نہیں دیا۔ جیسا کہ بعض سرکاری افسروں نے اپنے بیانات میں اور اپنی رپورٹوں میں جو عدالت کے سامنے پیش کی گئیں ظاہر کیا تھا۔ بلکہ یہ لکھا ہے کہ: ”مطالبات ایسے خوشنما انداز میں پیش کئے گئے کہ اس زور تاکید کے پیش نظر جو اسلام یا اسلامی ریاست سے دور کا تعلق رکھنے والی کسی بات پر دیا جانا ضروری تھا۔ کسی شخص کو ان کی مخالفت کرنے کی جرأت نہ ہوئی۔ حتیٰ کہ مرکزی حکومت کو جرأت نہ ہوئی کہ ان چند مہینوں میں جب کہ تحریک اپنی جملہ پیچیدگیوں کے ساتھ عروج اظہار پر تھی۔ اس موضوع پر کوئی ایک آدھ اعلان عام ہی شائع کر دیتی۔“
(رپورٹ انگریزی ص ٢٣٥)
فاضل جج صاحبان نے اس حقیقت کو تسلیم کر لیا ہے کہ علمائے اسلام کے یہ مطالبات مان لئے جاتے تو فساد برپا نہ ہوتا۔ اس صورت میں ”چوہدری ظفر اللہ خان کے عزل وطرد پر بین الاقوامی حلقوں میں کچھ ہلچل مچتی۔ لیکن پاکستان کی آبادی (حکومت کے) اس اقدام پر نعرہ ہائے تحسین بلند کرتی۔“
(رپورٹ انگریزی ص ٢٨٢)
١٦
فاضل جج صاحبان نے کیفیت حالات کا تجزیہ کر کے ان اسباب و علل کو ڈھونڈ نکالنے کی سعی کی ہے۔ جن کی بناء پر خواجہ ناظم الدین اور ان کی حکومت نے اپنے ہاں کے عوام کے یہ سادہ سے مطالبات منظور کرنے کے بجائے ملک کو ایسے خطرات میں ڈالنا گوارا کر لیا جو مارشل لاء کے نفاذ پر منتج ہوئے۔ اگر خدانخواستہ مارشل لاء بھی امن و آئین کے قیام و تحفظ کے مقصد میں ناکام رہ جاتا تو نہ معلوم پاکستان کا حشر کیا ہوتا؟ فاضل جج صاحبان اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ خواجہ ناظم الدین نے کسی ملکی مفاد کے پیش نظر ایسا نہیں کیا۔ بلکہ انہیں باہر کے ان ملکوں کی رائے کا خوف لاحق تھا۔ جہاں چوہدری ظفر اللہ خان کو بہت کچھ عزت و احترام کی نگاہوں سے دیکھا جاتا ہے۔ بقول عدالت انہیں خوف تھا تو یہ کہ: ”چوہدری ظفر اللہ خان بین الاقوامی دنیا میں بہت شہرت رکھتے ہیں اور احترام کی نگاہ سے دیکھے جاتے ہیں۔ ان کی برطرفی کی خبر بڑے وسیع پیمانے پر نشر ہوگی اور بین الاقوامی تنقیدات کا مورد بنے گی۔ اس برطرفی کی کوئی ایسی تشریح جو بین الاقوامی ضمیر کو مطمئن کر سکے تلاش کرنا مشکل ہوگا..... لہٰذا مطالبات کی منظوری بین الاقوامی دنیا میں چہ میگوئیوں کے دروازے کھول دیتی اور بین الاقوامی دنیا کی توجہ نفیاً یا اثباتاً پاکستان کے واقعات کی رفتار کی طرف جلب ہونے لگتی۔“
(رپورٹ انگریزی ص ٢٣٣)
فاضل جج صاحبان نے یہ بھی لکھا ہے کہ خواجہ ناظم الدین کو یہ خیال بھی تھا کہ ہندوستان بھی اسی صورت میں پاکستان کو بدنام کرنے کا موقع ہاتھ سے نہ جانے دیتا۔
(رپورٹ انگریزی ص ٢٣٣، ٢٣٤)
قصہ مختصر فاضل جج صاحبان اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ: ”اگر مطالبات منظور کر لئے جاتے تو پاکستان کو بین الاقوامی سوسائٹی سے خارج کر دیا جاتا۔“
(رپورٹ انگریزی ص ٢٨٢)
فاضل جج صاحبان نے اس خیال کا اظہار کیا ہے کہ خواجہ ناظم الدین محض باہر کی دنیا کی نظروں میں پاکستان کو نکو بنانے کے خوف سے پہلے تو مطالبات کے بارے میں علماء سے گفت وشنید کرتے رہے تاکہ وہ اپنے اصرار سے باز آجائیں اور آخر کار انہوں نے مطالبات کو مسترد کر دیا اور اس بچے کو قتل کر کے اسے ختم کر دینے کے درپے ہو گئے۔ اس کے بعد جو کچھ ہوا اس کے باوجود فاضل جج صاحبان کی رائے میں مطالبات کا یہ بچہ جسے احرار نے پیدا کیا اور علمائے اسلام نے اپنایا اور دولتانہ نے کراچی کی جانب نہر کھدوائی اور اس بچے کو صندوق میں ڈال کر اس نہر میں
١٧
مرکزی حکومت کی طرف بہا دیا۔
”ابھی زندہ ہے اور انتظار کر رہا ہے کہ کوئی آئے اور اسے اٹھا لے۔ پاکستان کی دولت خداداد میں سیاسی رہزنوں طالع آزماؤں اور مجہول الکیفیت لوگوں سب کے لئے پنپنے کا موقع ہے اور کوئی بھی اس بچے کو اپنی گود میں لے کر اپنے مقاصد کے لئے استعمال کر سکتا ہے۔ ہمارے سامنے جن دو شخصوں نے ایسے کیرئیر سے انکار کیا ہے۔ ان میں سے ایک تو خان سردار بہادر خان وزیر مواصلات پاکستان ہیں اور دوسرے مسٹر حمید نظامی ایڈیٹر ”نوائے وقت“ ان دونوں نے اس بچے سے بیزاری کا اظہار کیا۔ خواہ اس کے نتائج کچھ بھی کیوں نہ ہوں۔“
(رپورٹ انگریزی ص ٢٨٦)
فاضل جج صاحبان کے ان ریمارکس سے واضح طور پر کوئی نتیجہ اخذ نہیں کیا جا سکتا کہ آیا عدالت نے اس بچے کو جسے باشندگان ملک کی بھاری اکثریت کی سرپرستی حاصل ہے۔ عصر حاضر کی بین الاقوامی دنیا کی چہ میگوئیوں کے خوف سے کشتنی اور گردن زدنی قرار دے دیا ہے یا اس کے زندہ رہنے کا حق تسلیم کیا ہے۔ لیکن یہ چاہا ہے کہ سیاسی رہزن، طالع آزما اور مجہول الکیفیت اشخاص اس کے سرپرست نہ بننے پائیں اور اسے اپنے دنیوی اغراض کے لئے استعمال نہ کریں۔
٢...... مسلم کی تعریف
عدالت تحقیقات کے فاضل جج صاحبان نے اپنی رپورٹ میں لکھا ہے کہ ہم نے بعض سرکردہ علماء سے مسلم کی معین تعریف کرنے کے متعلق سوالات کئے۔ لیکن ”تحقیقات کے اس حصے کے نتائج اور کچھ بھی کیوں نہ ہوں۔ لیکن تسلی بخش نہ تھے۔ اگر ایسے آسان سے مسئلے پر علماء کے دماغوں میں کافی حد تک الجھاؤ موجود ہے تو خیال کیا جا سکتا ہے کہ پیچیدہ تر امور میں ان کے باہمی اختلافات کی حالت کیا ہو گی۔“
(رپورٹ انگریزی ص ٢١٥)
اس کے بعد رپورٹ میں بعض علمائے کرام کے وہ جوابات درج کئے گئے ہیں جو انہوں نے عدالت کے سوالات پر بیان کئے اور یہ نتیجہ اخذ کیا گیا ہے کہ: ”(مسلم کی) ان متعدد تعریفات کو جو علماء نے کیں پیش نظر رکھتے ہوئے ہم اس کے سوا اور کیا تبصرہ کر سکتے ہیں کہ کوئی سے دو عالم دین اس بنیادی مسئلے پر متفق نہیں۔ اب اگر ہم ان علماء کی طرح اپنی طرف سے مسلم کی تعریف لکھیں اور وہ تعریف ان سب علماء کی پیش کردہ تعریف سے مختلف ہو تو ہم ان سب کے اتفاق سے دائرہ اسلام سے خارج کر دیئے جائیں گے اور اگر ہم ان میں سے کسی ایک عالم کی پیش کردہ تعریف کو اختیار کریں تو ہم اس عالم دین کی رائے کے مطابق تو مسلمان رہیں گے۔ لیکن
١٨
دوسرے علماء کی پیش کردہ تعریف کے مطابق ”کافر“ بن جائیں گے۔“ (رپورٹ انگریزی ص ٢١٨)
مجھے یہ کہنے میں تامل نہیں ہونا چاہئے کہ فاضل جج صاحبان کا استنباط صحیح نہیں۔ علمائے دین نے عدالت کے اس سوال کے جواب میں جو بیانات دیئے وہ الفاظ وعبارت کے لحاظ سے تو بلاشبہ ایک نہیں۔ لیکن معنی اور مفہوم کے اعتبار سے ان میں کسی قسم کا اختلاف نظر نہیں آتا۔ جن علمائے دین سے یہ سوال کیا گیا ان سب نے توحید باری تعالٰی اور رسالت محمدیہ پر ایمان لانے اور ضروریات دین کا اقرار کرنے کو مسلم کہلانے کے لئے ضروری قرار دیا۔ اگر وہ علمائے دین جن سے یہ سوال کیا گیا۔ عدالت کے سامنے مسلم کی جامع ومانع تعریف پیش کرنے سے قاصر رہ گئے تو اس کی وجہ یہ تھی کہ انہیں اچانک اس سوال کا سامنا کرنا پڑا اور انہیں معلوم نہ ہو سکا کہ عدالت ان سے مسلم کی ایسی جامع ومانع تعریف حاصل کرنا چاہتی ہے۔ جسے اسلامی مملکت کے دستور اساسی میں شامل کیا جا سکے۔ اس مقصد کو حاصل کرنے کے لئے صحیح طریق کار یہ ہے کہ یہ سوال علمائے دین کی ایک مجلس کے سامنے پیش کر کے مسلم کی جامع تعریف معین کرالی جائے۔
٣...... ارتداد
فاضل جج صاحبان نے ارتداد اور کفر وتکفیر کے بارے میں علمائے دین کے باہمی اختلافات کا تذکرہ کیا ہے اور لکھا ہے کہ تکفیر کے ان فتوؤں کی موجودگی میں جو مختلف فرقوں کے علماء نے ایک دوسرے کے بارے میں دے رکھے ہیں۔ ارتداد کے جرم کے اطلاق کا دائرہ بہت وسیع ہو جائے گا اور وہابیوں، دیوبندیوں، بریلویوں، شیعوں اثنا عشریوں وغیرہ میں سے ایک فرقہ کو چھوڑ کر دوسرے فرقے کے عقائد قبول کرنے والے شخص کو مرتد سمجھنا پڑے گا۔ فاضل جج صاحبان نے کفر وارتداد کی بحث کے دوران میں جن مشکلات کا نوٹس لیا ہے وہ بلاشبہ غور طلب ہے اور ایک اسلامی مملکت کے علمائے دین کو ان مسائل کے بارے میں معین اصول وقواعد ضبط تحریر میں لانے پڑیں گے۔ جن کو دستور اساسی اور قوانین ملکی کے لئے مشعل راہ بنایا جا سکے۔ فاضل جج صاحبان رپورٹ کے اس مقام پر اگر تکفیر کی وہ تصریح درج کر دیتے جو مولانا ابوالحسنات محمد احمد قادری نے عدالت کے سامنے پیش کی تھی اور بتایا تھا کہ ان کے نزدیک کفر کی دو قسمیں ہیں۔ ایک کفر قطعی اور ایک کفر فقہی، کفر قطعی کی صورت میں اس کا مرتکب دائرہ اسلام سے خارج ہو جاتا ہے اور کفر فقہی کی صورت میں دائرہ اسلام سے خارج نہیں ہوتا تو رپورٹ کے پڑھنے والوں کو اس اشکال کی ماہیت سمجھنے میں بہت مدد ملتی۔ جس کی طرف فاضل جج صاحبان نے ملک کے ارباب دانش وبینش کو توجہ دلائی ہے۔
١٩
٤...... مسئلہ جہاد اسلامی
فاضل جج صاحبان نے شارٹر انسائیکلو پیڈیا آف اسلام اور مولانا ابوالاعلیٰ مودودی کی تحریرات، ان کے بیانات نیز بعض علماء کے جوابات سے فریضۂ جہاد بالسیف اور اس کے متعلقہ نقاط مثلاً غنیمت، خمس، اسیران جنگ، دارالحرب، دارالسلام، ہجرت، غازی اور شہید وغیرہ پر بھی مجمل سا تبصرہ کیا ہے اور لکھا ہے کہ جہاد اور اس کے متعلقہ مسائل کے بارے میں جو آراء عدالت کے سامنے پیش کی گئیں وہ ان خیالات وافکار سے لگاؤ نہیں کھاتیں جو عصر حاضر کے فکر نے جارحیت، نسل کشی، بین الاقوامی جرائم کی عدالتی گیرائی اور بین الاقوامی قوانین کے مسلمات وقواعد وغیرہ کے متعلق قائم کرلئے ہیں۔ اسی فصل میں فاضل جج صاحبان نے قرآن پاک کی آیات کے ناسخ ومنسوخ ہونے کی بحث کا ذکر بھی کیا ہے۔ جو قادیانی فریق کی طرف سے پیش کی گئی۔ مجھے یہ کہنے میں تامل نہیں ہونا چاہئے کہ ان مسائل کے بارے میں فاضل جج صاحبان کے افکار جس التباس کا شکار ہوئے ہیں وہ نتیجہ ہے۔ اس بات کا کہ جہاد اور اس کے متعلقہ مسائل کے اسلامی تصورات نامکمل صورت میں عدالت کے سامنے آئے۔ اگر عدالت ان مسائل کے بارے میں پوری تحقیقات کرنے کی زحمت گوارا کرتی تو جج صاحبان کے ضمائر پر یہ بات روشن ہو جاتی کہ جنگ اور اس کے متعلقہ کوائف کے بارے میں اسلام کے تصورات ان تصورات سے کہیں افضل اور نوع انسانی کے لئے آیہ رحمت وموجب خیر وبرکت ہیں۔ جو عصر حاضر کے مفکرین نے صد ہا سال کے تجربوں پر غور وفکر کرنے کے بعد قائم کئے۔ قوانین جنگ کے بارے میں اسلام کے صحیح تصورات اگر بین الاقوامی محافل کے سامنے پیش کئے جائیں تو کوئی وجہ نہیں کہ عصر حاضر کا دماغ جو نوع انسانی کی مشکلات کا حل تلاش کرنے کی جستجو میں ہے۔ انہیں قبول نہ کرے۔ اسلام کے جہاد کا بنیادی نقطہ دین اسلام اور مسلمانوں کے جان ومال، عزت و آبرو اور شئون ملی کے دفاع کی خاطر لڑنا یعنی اسلحہ کے ساتھ جنگ کرنا ہے اور جب تک اسلام اور مسلمانوں کے خلاف علانیہ برسر پیکار رہنے والی قوتیں موجود ہیں۔ مسلمانوں کے لئے شمشیر بکف رہنا اور قرآن پاک کے بتائے ہوئے قواعد واصول کے مطابق دفاعی جنگ جاری رکھنا ضروری ہے۔ انسائیکلو پیڈیا آف اسلام کے مقالہ نگار نے یا مودودی صاحب نے جہاد کا مقصد جو یہ بیان کیا ہے کہ تلوار کی طاقت کے بل پر دین اسلام کی اشاعت کی جائے وہ صحیح نہیں۔ اس بنیادی نقطہ کو سمجھ لینے کے بعد دارالحرب، دارالسلام، عام
٢٠
کیفیت میں جہاد کے فرض کفایہ ہونے اور خاص حالات میں فرض لازم بننے کے مسائل بخوبی سمجھ میں آسکتے ہیں۔ مال غنیمت، اسیران جنگ اور دشمن سے بحالت جنگ اور بعد از جنگ سلوک کرنے کے بارے میں اسلام کے احکام ان قواعد وضوابط سے کہیں زیادہ افضل ہیں۔ جن پر عصر حاضر کی متمدن دنیا عمل پیرا ہے۔ اسلام کو جارحیت اور نسل کشی کا حامی قرار دینا دشمنانِ اسلام کا پروپیگنڈا ہے۔ مسلمانوں نے عملاً جارحیت اور نسل کشی سے اجتناب کیا ہے۔ مسلمانوں کی تاریخ میں نسل کشی کی کوئی مثال دکھائی نہیں جاسکتی۔ حالانکہ اسلام سے پہلے اور بعد عصر حاضر تک بعض اقوام دشمن کی نسل کشی کو جائز سمجھتی چلی آئی ہیں اور اس پر عمل پیرا ہوتی رہی ہیں۔ ایک صحیح اسلامی مملکت کو اس امر کا خوف لاحق نہیں ہوسکتا کہ عصر حاضر کے بین الاقوامی قوانین کے ساتھ اسلام کے قوانین منطبق نہیں ہوتے۔ بلکہ صحیح اسلامی مملکت اگر بین الاقوامی محافل کے سامنے اسلام کے قوانین پیش کرے تو دنیا کے مذاقِ سلیم کو اپنا ہم نوا بنا سکتی ہے۔
٥...... مال غنیمت اور خمس
مال غنیمت اور خمس کے بارے میں اسلام کے قانون کے متعلق فاضل جج صاحبان نے اس اندیشے کا اظہار کیا ہے۔ ”البتہ اگر غنیمت اور خمس کو جہاد کے لوازم خیال کیا جائے تو بین الاقوامی سوسائٹی اسے خالصۃً لوٹ مار کے اقدام سے تعبیر کرے گی۔“
(رپورٹ انگریزی ص ٢٢٧)
اس معاملے میں بھی فاضل جج صاحبان کو اس وجہ سے التباس ہوا کہ ان کے سامنے مسئلے کی ماہیت جامع صورت میں پیش نہیں ہوئی۔ اسلام کے نزدیک جہاد ایک مذہبی فریضہ ہے۔ جو خالصۃً فی سبیل اللہ ادا کیا جاتا ہے۔ جہاد کی نیت کو اگر کسی قسم کے دنیوی لالچ سے آلودہ کرلیا جائے تو وہ جہاد نہیں رہتا۔ لیکن جنگ میں مالِ غنیمت کا ہاتھ آنا ایک لازمی امر ہے۔ عصر حاضر کی جنگوں میں بھی فاتح فریق مال غنیمت پر قبضہ جمالیتا ہے اور وہ مال فاتح فریق کا حق متصور ہوتا ہے۔ یہی قانونِ اسلام کا ہے۔ اسلام کے رو سے اصولاً مال غنیمت بیت المال کا حق متصور ہوتا ہے۔ ”یَسْئَلُوْنَکَ عَنِ الْاَنْفَالِ قُلِ الْاَنْفَالُ لِلّٰهِ وَالرَّسُوْلِ (١:٨)“ کی آیہ کریمہ اس پر دال ہے۔ اس کے بعد خمس یعنی پانچویں حصے کو بیت المال میں رکھنے اور باقی مال کو مجاہدین پر بحصہ رسدی تقسیم کردینے کا جو حکم قرآنِ پاک میں مذکور ہے وہ مخصوص حالات سے متعلق ہے۔ یہ مال صرف ان مجاہدین پر بانٹا جاتا ہے جو محض اللہ کی راہ میں جہاد کرنے کی نیت خالص کے ساتھ اپنے
٢١
خرچ پر اور اپنا ساز و سامان لے کر میدان جنگ میں حاضر ہوں۔ اسلام نے عربوں کے رواج کو کہ وہ فتح کی حالت میں مد مقابل کے اموال کو لوٹنا اپنا حق سمجھتے تھے۔ کلیۃً محو کرنے کے احکام صادر کئے ہیں اور انفرادی حیثیت سے دشمن کا مال لوٹ کر اپنے قبضے میں لینا قطعاً ممنوع قرار دیا ہے۔ خمس و تقسیم کا حکم صرف اس مال کے لئے ہے جو جنگ کے نتیجے میں خود بخود ہاتھ لگ جائے اور اس کی تقسیم بھی امیر کی مرضی پر موقوف ہے۔ امیر چاہے تو سارے مال غنیمت کو بیت المال میں داخل کر کے مجاہدین کے وظائف مقرر کر سکتا ہے۔ جیسا کہ حضرت فاروق اعظمؓ نے فتح ایران کے بعد کیا۔ اگر مال غنیمت اور اسیران جنگ کے بارے میں دنیا کی اقوام باہمی مشورے سے ایسا قانون بنائیں جس پر عمل کرنا سب کے لئے ضروری ہو تو اسلام مسلمانوں کو ایسے بین الاقوامی معاہدات طے کرنے سے نہیں روکتا۔ جس کا فائدہ متحارب فریقوں کو یکساں طور پر پہنچتا ہو۔ ایسے متبادل معاہدات کرنے میں مسلمانوں کو کسی قسم کی دقت پیش نہیں آسکتی۔ البتہ جہاں اسیران جنگ کا تبادلہ ممکن نہ ہو وہاں اسلام نے ہزیمت خوردہ دشمن کے ساتھ انسانیت کا سلوک کرنے کے لئے انہیں اجتماعی طور پر یا انفرادی طور پر غلام بنا لینے کی اجازت دی ہے اور دنیا جانتی ہے کہ اسلام کے ہاں جس کیفیت کو غلامی کی اصطلاح سے تعبیر کیا گیا ہے۔ وہ کس قدر رحمدلانہ سلوک کی حامل ہے۔ دنیا کی ”مہذب ترین“ قومیں عصر حاضر میں اسیران جنگ کو موت کے گھاٹ اتارنے، انہیں بدترین صورتوں میں غلام بنا کر رکھنے کی مرتکب ہورہی ہیں اور بدنام اسلام کو کیا جارہا ہے کہ اس نے اسیران جنگ کو مخصوص حالات میں غلام بنا کر رکھنے کی اجازت دے دی۔ اس بات کو کوئی نہیں دیکھتا کہ اسلام کے ہاں غلام کے حقوق کیا ہیں؟ اس کا درجہ کیا ہے؟ عصر حاضر کا دماغ اسیران جنگ کے متعلق کوئی ایسا قاعدہ وضع نہیں کرسکا جو اسلام کے بتائے ہوئے قاعدے سے بہتر ہو اور جس کی رو سے جنگی اسیر امن و عافیت کی زندگی بسر کرنے کے قابل بن سکتا ہو۔
٦...... اسلامی ریاست
ریاست اور حکومتی نظام کے متعلق اسلام کے تصورات کیا ہیں؟ اس موضوع پر فاضل جج صاحبان نے بعض گواہوں کے بیانات کی روشنی میں مسئلے کا تجزیہ کرنے کی کوشش کی ہے اور لکھا ہے کہ اسلامی ریاست و امر کے بارے میں علمائے کرام نے جو تصورات پیش کئے ہیں وہ جمہوری ریاست کے ان تصورات سے بہت مختلف اور متصادم ہیں جو عصر حاضر کے سیاسی فکر نے وضع کر
٢٢
رکھے ہیں۔ اس سلسلے میں فاضل جج صاحبان نے افکار کے اس الجھاؤ کا بھی ذکر کیا ہے۔ جو پاکستان کی اسلامی مملکت کا تصور پیدا کرنے والے زعمائے فکر وعمل کے دماغوں میں پایا جاتا ہے اور لکھا ہے کہ قرارداد مقاصد جس پر پاکستان کے دستور اساسی کی بنیاد رکھی گئی ہے۔ خود اسلامی ریاست کے اس تصور سے لگاؤ نہیں کھاتی جو بعض علماء نے عدالت کے سامنے پیش کیا۔ فاضل جج صاحبان نے اس بارے میں فکر وتخیل کے غیر واضح ہونے کے متعلق جو تجزیہ کیا ہے اس کی صحت سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔ اسلامی سٹیٹ کی ہیئت ترکیبی کے بارے میں افکار کا الجھاؤ ان متصادم ومخالف نظریات کا نتیجہ ہے جو دنیا میں آج سے نہیں بلکہ بہت پہلے سے موجود ہیں اور سب سے بڑی مشکل یہ ہے کہ علمائے اسلام نے کسی دور میں بھی سٹیٹ کے متعلق خالص اسلامی تصورات کو پوری طرح مدون کرنے کے لئے اس توجہ، تدقیق اور محنت سے کام نہیں لیا۔ جس سے کہ انہوں نے فقہ، حدیث، اخلاقیات اور دیگر دینی اور دنیوی علوم کی تدوین کی۔ اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ اگر دنیا کے کسی خطے میں اسلامی نظام سیاست قائم کیا گیا تو اس کے خدوخال ان نظام ہائے سیاسی سے مختلف ہوں گے جو جمہوری نظریات کے نام پر دنیا کے مختلف ملکوں میں قائم ہیں اور چہرے مہرے کے اعتبار سے خود اپنے درمیان بہت کچھ مختلف انداز رکھتے ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ مسلمان مفکرین تحقیق وتدقیق اور بحث وتمحیص سے کام لے کر اسلامی ریاست کا ایک جامع نظام نامہ مرتب کریں تاکہ افکار کے اس الجھاؤ کو دور کیا جاسکے جو اس سلسلے میں دماغوں کے اندر پایا جاتا ہے۔
٧......لہو ولعب اور آرٹ
فاضل جج صاحبان نے بعض علماء سے فنون لطیفہ اور لہو ولعب کے متعلق بھی سوالات کئے اور ان کے جوابات کی بناء پر یہ نتیجہ اخذ کیا کہ پاکستان کو اسلامی ریاست بنانے کے بعد مجسمہ سازی، مصوری، فوٹوگرافی، موسیقی، ناچ، مخلوط اداکاری، سینما، تھیٹر اور تاش، شطرنج وغیرہ کو بند کرنا پڑے گا۔ یہ صحیح ہے کہ اسلام مخرب اخلاق آرٹ اور تضیع اوقات کرنے والے کھیل تماشوں کی اجازت نہیں دیتا اور ایک معاشرہ جو اسلامی تصورات کو زندگی بسر کرنے کے لئے راہ عمل بنائے گا۔ ہر اس بات کو معیوب سمجھے گا جو اسلام کے معیار اخلاق پر پوری نہیں اترتی۔ لیکن اس کا معنی یہ نہیں کہ اسلام فنون لطیفہ اور ایجادات عصری کے صحیح استعمال کا بھی مخالف ہے۔ فنون لطیفہ ایجادات کے متعلق جواز وعدم جواز کا بنیادی معیار اسلام کے نزدیک یہ ہے کہ اگر وہ لہو ولعب کے لئے ہیں تو
٢٣
ان کا یہ استعمال ناجائز ہے اور اگر ضرورت وافادیت کے لئے استعمال کئے جاتے ہیں تو ان پر شرعی حیثیت سے کسی قسم کا اعتراض وارد نہیں ہو سکتا۔ بنابریں اسلامی ریاست کو فنون لطیفہ اور کھیل تماشوں کے بارے میں امتناع وعدم امتناع کا فیصلہ ان کی افادی حیثیت کے پیش نظر کرنا پڑے گا۔ خواہ یہ بات تہذیب عصری کے دل دادگان کے طبائع پر گراں گزرے۔
٨...... جمہوریت، قیادت اور نمائندہ حکومت
عدالت تحقیقات کو ان ذرائع کے مکتفی یا نامکتفی ہونے کا جائزہ لینا تھا جو حکومت پنجاب نے فسادات کو دبانے کے لئے اختیار کئے۔ اس سلسلے میں فاضل جج صاحبان نے جمہوریت، قیادت اور نمائندہ حکومت کے موضوعات پر بھی ضمناً تبصرہ کیا ہے اور لکھا ہے: ”فریق ہائے مقدمہ کے فاضل وکلاء ہمارے سامنے جمہوری اصولوں کی بناء پر اپیل کی اور بڑی شدومد کے ساتھ اس بات پر زور دیا کہ مطالبات متفقہ تھے اور ایک جمہوری ملک میں جب کسی مطالبے کو اتنی طاقت ور اور ہمہ گیر تائید حاصل ہو تو حکومت اس کے سامنے سر تسلیم خم کرنے کے لئے مجبور ہے۔ خواہ اسے منظور کرنے کے نتائج کچھ بھی کیوں نہ ہوں۔ ہمیں بتایا گیا کہ ہمارے سیاسی لیڈر جنہیں عوام اپنے ووٹ سے منتخب کرتے ہیں۔ اقتدار کی گدیوں پر متمکن ہونے کی پوزیشن محض اس لئے پاتے ہیں کہ عوام انہیں اس جگہ پر بٹھاتے ہیں۔ اس لئے وہ اپنے ووٹروں کی خواہشات کے مطابق عمل کرنے پر مجبور ہیں۔ وزارت اور مسلم لیگ کی جانب سے بھی ہمارے سامنے اسی اصول کا اعادہ کیا گیا اور اس بات پر زور دیا گیا کہ نمائندہ طرز کی حکومت میں سیاسی لیڈر کو اسی صورت میں عوام کا نمائندہ قرار دیا جاسکتا ہے جب کہ وہ عوام کے احساسات، معتقدات اور خواہشات کا احترام کرے اور انہیں جامہ عمل پہنائے۔ لیکن ایک ایسے ملک میں جس کے عوام کا حصہ غالب جاہل ہو اور نہایت معمولی شرح فیصد تعلیم یافتہ اشخاص کی ہو۔ اس مؤقف کا اعتراف اس اضطراب آفرین نتیجہ پر لے جائے گا کہ ہمارے لیڈر بدیہیات کی طرف سے کورے رہتے ہوئے عوام کی جہالت وعصبیت کے پیکر بنے رہیں۔ جن ملکوں کے انتخاب کنندگان اپنے ووٹ کی قدر و قیمت سے واقف ہوں اور اپنے ہاں کے مخصوص مسائل اور دنیا کے عمومی واقعات ورجحانات کو سمجھنے کے لئے فہم وذکاوت کا کافی سرمایہ رکھتے ہوں اور قومی اہمیت کے جملہ امور پر صحیح فیصلہ کرنے کے لئے کافی حد تک ترقی یافتہ فکر کے مالک ہوں۔ وہاں لیڈروں کو عوام کے فیصلے کے مطابق عمل کرنا چاہئے یا
٢٤
اقتدار کی کرسیوں کو چھوڑ دینا چاہئے۔ لیکن ایک ایسے ملک میں جیسا کہ ہمارا ملک ہے ہم ہر قسم کے شک وشبہ سے بالا ہو کر کہتے ہیں کہ لیڈروں کا حقیقی وظیفہ عوام کی رہنمائی کرنا ہے نہ کہ ہر بات میں ان کی خواہشات کے سامنے چلنا۔"
(رپورٹ انگریزی ص ٣٨٦،٣٨٧)
"انہی تفکرات کی بناء پر فاضل جج صاحبان نے اپنی رپورٹ کو حسب ذیل فقرہ پر ختم کیا ہے۔ "بالآخر ایک شے جسے انسانی ضمیر کہا جاتا ہے۔ ہمیں یہ سوال کرنے پر مجبور کر رہی ہے کہ آیا ہمارے سیاسی ارتقاء کی موجودہ حالت میں آئین وقانون کے انتظامی مسئلے کو اس کے جمہوری ہم بستر یعنی وزارتی حکومت سے الگ کیا جا سکتا ہے یا نہیں۔ جس کے سینے پر سیاسیات کا کابوس سوار رہتا ہے۔ اگر جمہوریت کے معنی یہ ہیں کہ قانون وآئین کو سیاسی اغراض کا تابع بنادیا جائے تو واللہ اعلم بالصواب اور ہم اپنی رپورٹ کو ختم کرتے ہیں۔"
(رپورٹ انگریزی ص ٣٨٧)
عدالت کے یہ ریمارکس بہت غور طلب ہیں۔ حکومت خواہ کسی شکل کی ہو یعنی جمہور کی نمائندہ حکومت ہو یا کسی مطلق العنان حکمران کی استبدادی حکومت یا غیر ملکی غلبہ واستعمار کی حکومت، اس کا اولین وظیفہ بلاشبہ ضبط ونظم اور امن وآئین کو قائم رکھنا ہے۔ اس کے ساتھ ہی ہر قسم کی حکومت کے فرائض میں یہ بات بھی داخل ہے کہ عوام کے مطالبے کی طرف مناسب توجہ دے۔ نمائندہ حکومتیں تو اس کے بغیر ایک قدم بھی نہیں چل سکتیں۔ البتہ استبدادی حکومتیں طاقت وقوت کے بل پر عوام کی خواہشات کو عارضی طور پر کچلنے اور دبائے رکھنے میں کامیاب ہو سکتی ہیں۔ عدالت تحقیقات کی اس دریافت کے بعد کہ ہمارے عوام تعلیم یافتہ اور عصری افکار سے باخبر نہیں۔ اس لئے یہاں نمائندہ جمہوری حکومتیں قانون وآئین کے احترام کو ملحوظ خاطر نہیں رکھ سکتیں۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ یہ وظیفہ کس کے سپرد کیا جائے؟ تاکہ عوام کو ایسے مطالبات وضع کرنے سے روکا جاسکے۔ جن پر ارباب حکومت کسی نہ کسی وجہ سے توجہ نہیں دے سکتے یا جن کو وہ اپنی سمجھ کے مطابق لغو اور بیہودہ یا ناقابل عمل خیال کرتے ہیں اور نہ اس بات کی جرات رکھتے ہیں کہ عوام پر ان کی ”لغویت“ ظاہر کرنے کے لئے سامنے آسکیں۔ انہی مطالبات کو لیجئے جو خود عدالت کی رائے میں مذہبی احساسات پر مبنی اور اشتعال انگیزی کا نتیجہ ہیں۔ جو ایک قلیل التعداد مذہبی گروہ نے ملک کی ساری آبادی کے احساسات کے علی الرغم شدومد کے ساتھ جاری رکھی تھی۔ ان مطالبات کو ارباب حکومت نے
٢٥
شروع ہی سے درخور اعتنا خیال نہ کیا اور سیاسی جماعتوں کے لیڈر جن میں مسلم لیگ کی با اقتدار ہستیاں بھی شامل ہیں ان کے بارے میں آج تک کوئی رائے قائم نہیں کر سکے۔ چہ جائیکہ وہ عوام کی رائے کو ہم نوا بنانے کے لئے ساعی ہوتے۔ کیا یہ کیفیت ان مطالبات کے وزن پر شاہد عدل نہیں؟ اور اگر ارباب حکومت وقیادت کی کم نگاہی، بزدلی اور بے بصیرتی کی وجہ سے عوام کا اضطراب ترقی پذیر ہوکر ایسی صورت اختیار کر لیتا ہے کہ آئین وقانون کے مسائل کھڑے کر دے تو اس کی ذمہ داری کس پر عائد ہوتی ہے؟
٩.......مغرب زدہ فکر کی خوف زدگی
اس رپورٹ میں منجملہ دیگر امور کے یہ بات نہایت واضح طور پر اور عام اشجار کے مقابلے میں شمشاد وصنوبر کی بلند قامتی کے ساتھ نمایاں طور پر ظاہر ہورہی ہے کہ ہمارے ملک کا وہ طبقہ جو برسر اقتدار ہے اور جس کے اذہان نے مغربی افکار اور صرف مغربی افکار کی گود میں پرورش پائی ہے۔ بے طرح ذہنی غلامی کا شکار ہورہا ہے اور اپنے ہاں کی ہر چیز کو حتیٰ کہ دینی معتقدات وشعائر کو بھی قدروں کے اسی معیار پر پرکھنے کا عادی ہے جو اہل مغرب کے فکر نے عصر حاضر میں مقرر کر لیا ہے اور جس میں مرور زمانہ کے ساتھ ساتھ تبدیلی ہوتی رہتی ہے۔ دوسری جانب ہمارا وہ طبقہ جس نے علوم دینیہ کے مطالعہ کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنارکھا ہے۔ عصری افکار سے ناآگاہ ہونے کے باعث اسلام کی تعلیمات کو ایسے انداز میں پیش کرنے سے قاصر ہے جو عصر حاضر کے دماغوں کے لئے قابل فہم ہو۔ رپورٹ میں جابجا اس امر کے اعترافات واظہارات موجود ہیں کہ ہمارے ارباب اقتدار کو جن ملحوظات ومفکورات نے عامۃ المسلمین کے سہ گانہ مطالبات پر سنجیدگی کے ساتھ غور کرنے سے روکے رکھا۔ وہ یہی تھے کہ باہر کی دنیا ہمیں کیا کہے گی؟ چنانچہ فاضل صاحبان لکھتے ہیں کہ: ”بلاشبہ وہ (خواجہ ناظم الدین) مطالبات کو منظور کر سکتے تھے یا ذاتی طور پر وعدہ کر سکتے تھے کہ وہ مطالبات کی حمایت کریں گے۔ اس صورت میں کوئی گڑ بڑ نہ ہوتی اور اگر کچھ ہوتی تو شاید اس وقت جب کہ یہ معاملہ دستور ساز اسمبلی کے سامنے پیش ہوتا۔ احمدی ایک قلیل التعداد قوم ہیں۔ وہ غالباً مزاحمت نہ کر سکتے اور بدامنی پھیلانے کے قابل نہ ہوتے۔ چوہدری ظفر اللہ خان کے الگ کئے جانے پر بین الاقوامی حلقوں میں کچھ چہ میگوئیاں ہوتیں۔ لیکن پاکستان کی آبادی (خواجہ صاحب کے) اس اقدام پر تحسین و آفرین کے پھول نچھاور کرتی۔ پھر خواجہ ناظم
٢٦
الدین نے یہ پیش پا افتادہ اقدام کیوں نہ کیا؟ صرف اس لئے نہیں جیسا کہ وہ کہتے ہیں کہ اس قسم کا اعلان دوسرے اسلامی ملکوں میں موثر نہ ہوتا۔ بلکہ انہوں نے ان دور رس نتائج کے خوف سے ایسا نہ کیا جن کا ذکر اس رپورٹ کے دوسرے مقام پر کر دیا گیا ہے۔ اگر مطالبات منظور کر لئے جاتے تو پاکستان کو بین الاقوامی سوسائٹی سے خارج کر دیا جاتا۔‘‘
(رپورٹ انگریزی ص ٢٨٢)
”وہ (خواجہ ناظم الدین) مطالبات کو منظور نہیں کر سکتے تھے۔ کیونکہ ایسا کرنا پاکستان کو مضحکہ خیز پوزیشن میں ڈال دیتا اور بین الاقوامی دنیا کی آنکھیں کھل جاتیں کہ مترقی، متمدن اور جمہوری ریاست ہونے کے بارے میں پاکستان کے دعاوی کی حقیقت کیا ہے؟‘‘
(رپورٹ انگریزی ص ٢٦٤، ٢٦٥)
فاضل جج صاحبان نے خواجہ ناظم الدین کے فکری الجھاؤ کا ذکر کرتے ہوئے تحریر فرمایا کہ انہیں یہ فکر تھا کہ: ”چوہدری ظفر اللہ خان بین الاقوامی دنیا میں بہت شہرت رکھتے ہیں اور احترام کی نگاہ سے دیکھے جاتے ہیں۔ ان کی برطرفی کی خبر بڑے وسیع پیمانے پر نشر ہو گی اور بین الاقوامی تنقیدات کا مورد بنے گی۔ اس برطرفی کی کوئی ایسی تشریح جو بین الاقوامی ضمیر کو مطمئن کر سکے۔ تلاش کرنا مشکل ہو گا...... لہٰذا مطالبات کی منظوری بین الاقوامی حلقوں میں چہ میگوئیوں کے دروازے کھول دیتی اور بین الاقوامی دنیا کی توجہ نفیاً یا اثباتاً پاکستان کے واقعات کی رفتار کی طرف جلب ہونے لگتی۔“
(رپورٹ انگریزی ص ٢٣٣)
١٠...... تجدید اسلام اور احیائے دین
اور ان مقدمات کی بناء پر فاضل جج صاحبان نے یہ نتیجہ اخذ کیا: ”(بحالات موجودہ) اسلام کو عالمگیر تخیل کی حیثیت سے محفوظ رکھنے کی اور مسلمان کو اس دقیانوسی ناموزونیت سے نکال کر جس میں وہ مبتلا ہے عالم حاضر و دنیائے مستقبل کا شہری بنانے کی صورت یہ ہے کہ جرأت سے کام لیتے ہوئے اسلام کی تجدید کر کے اس کی زندہ و عامل خصوصیات کو بے جان خصوصیات سے الگ کر دیا جائے۔“
(رپورٹ انگریزی ص ٢٣٢)
یہ ہے مغرب زدہ طبقہ کی پکار جو مغرب کے افکار، اہل مغرب کی معاشرت اور ان کے طرز بود و باش سے اس حد تک مسحور ہو چکا ہے کہ زندگی کے متعلق اسلام کے تصورات کی عظمت و ماہیت کا اخذ کرنا بھی اس کے دماغ کے لئے بڑا مشکل اور کٹھن کام بن رہا ہے۔ وہ یہ نہیں دیکھتا کہ سیاسیات و معاشرت میں بین الاقوامی فکر ابھی ارتقائی منازل طے کر رہا ہے اور ان تلخ تجربوں
٢٧
کی روشنی میں جو نوع انسان کو ہر شعبہ حیات میں آئے دن پیش آتے رہتے ہیں۔ کسی مستقل اور پائیدار حل کو تلاش کرنے میں سرگرداں ہے۔ اسلام اب سے کوئی چودہ سو سال پہلے ان جملہ مشکلات کا حل نوع انسان کے سامنے پیش کر چکا ہے۔ اگر نوع انسان کا فکر اس چراغ کی روشنی سے استفادہ کرتے ہوئے جو اسلام نے روشن کر رکھا ہے۔ راستہ تلاش کرے تو انسانیت صراط مستقیم پر سرعت رفتار کے ساتھ گامزن ہو سکتی ہے اور ان منازل مقصود تک جلد پہنچ سکتی ہے۔ جن تک پہنچنے کے لئے اس کے شعوری اور لاشعوری تقاضے اسے بیقرار رکھتے ہیں۔ نوع انسانی کو یہ روشنی دینا اور یہ صراط مستقیم دکھانا مسلمانوں سے مفقود ہو کر رہ گئی ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ان صلاحیتوں کو بروئے کار لایا جائے اور اقوام عالم کے سامنے ان مسائل کا صحیح حل پیش کرنے کے لئے اسلام کی تعلیمات یعنی قرآن و سنت سے رہنمائی حاصل کرنے کی سعی کی جائے اور اس بارہ میں پوری تحقیق اور کاوش سے کام لیا جائے۔ تجدید اسلام یا احیائے دین اسی سعی و کوشش کا نام ہے اور یہ سعی و کوشش ایسے ادوار میں ضروری ہو جاتی ہے جب مسلمانوں میں بیرونی اثرات کی وجہ سے فکر و عمل کی گمراہیاں ترقی پذیر ہو جاتی ہیں۔ اگر تجدید اسلام کا مطلب یہ ہے کہ اسلام کی تعلیمات کو توڑ مروڑ کر یا تاویلات و تحریفات کے بل پر عصری افکار کے مطابق ڈھالنے کی کوشش کی جائے تو یہ تجدید اسلام کی نہیں بلکہ تخریب اسلام کی کوشش ہوگی۔ اس قسم کی سعی پر وقت اور طاقت ضائع کرنے سے یہی بہتر ہے کہ مغرب زدہ لوگ اسلام کو اپنے حال پر چھوڑ دیں اور سیاسی، معاشرتی، معاشی اور قانونی امور میں عصر حاضر کے ترکوں کی طرح افکار مغرب کا پورا تتبع کرتے ہوئے پاکستان کو ایسی مملکت بنالیں جسے عصر حاضر کی اصطلاح میں متجدد، مترقی، متقدم اور جمہوری کہا جاتا ہے اور اجتماعی اور انفرادی زندگی کے تصورات کے اسی میدان میں ناچنے اور دوڑنے لگیں۔ جس میں کہ اقوام مغرب دوڑیں لگا رہی ہیں اور صحیح تجدید اسلام اور احیائے دین کا کام کسی اور قوم کے لئے یا آنے والی نسلوں کے لئے محفوظ رہنے دیں۔ جس کار عظیم سے عہدہ برآ ہونے کے ہم اہل نہیں۔ اسے کرنے کی حامی بھرنے یا اس پر ہاتھ ڈالنے سے یہی بہتر ہے کہ ہم اس کا خیال ہی ترک کردیں۔ لیکن ایسا کرنے کے باوجود مسائل بدستور حل طلب رہیں گے۔ جن کو حل کرنے سے گریز کی راہ اختیار کر کے ہمارے ارباب سیاست و قیادت نے ملک کو ١٩٥٣ء کے فسادات سے دوچار کر دکھایا۔ جب تک ہم اس ذہنیت کے ساتھ چلنے پر مجبور ہیں کہ اگر ہم نے یہ ٢٨
کام کیا یا وہ کام کیا تو دنیا ہمیں کیا کہے گی؟ اس وقت تک ہم اپنے داخلی اور خارجی امور کو اپنے حسب منشاء اور اپنے لوگوں کے آرام و آسائش کے لئے سرانجام نہیں دے سکیں گے۔ اس مفروضہ یعنی ”دنیا ہمیں کیا کہے گی۔“ کے ماتحت عدالت تحقیقات کے فاضل جج صاحبان نے مغرب زدہ طبقہ کی جن دماغی الجھنوں کا اور جن مسائل کا تذکرہ کیا ہے۔ ان پر اگر ٹھنڈے دل و دماغ سے غور کیا جائے اور ان کے حل کی مناسب تدابیر اپنے لوگوں کے محسوسات کے پیش نظر سوچی جائیں تو یہ عقدے اتنے لایحل نہیں۔ جس قدر کہ سمجھے جا رہے ہیں۔ مصیبت صرف یہ ہے کہ ہمارے ارباب حل و عقد کی فکری صلاحیتیں محض اس خوف سے کہ دنیا ہمیں کیا کہے گی۔ شل ہو کر رہ جاتی ہیں اور ان کیفیات و مسائل کو حل کرنے سے جو ملک کے اندر رونما ہوتے ہیں گریز کی راہ اختیار کر لیتی ہیں اور یہ بات عدالت تحقیقات کے سامنے اظہر من الشمس اور بین من الامس ہو کر ظاہر ہو چکی ہے۔ ہمارے ارباب قیادت نے متفق اللسان ہو کر یہ کہا کہ ہمارے دماغوں نے ابھی تک مطالبات کے حسن و قبح یا ان کی صحت و عدم صحت کے بارے میں کوئی فیصلہ ہی نہیں کیا۔ ایسی حالت میں وہ عوام کی رہنمائی کیا کریں گے۔
١١...... ارباب سیاست و قیادت کی کوتاہیاں
بہرکیف جہاں تک مطالبات کا تعلق ہے۔ تحقیقات نے یہ بات ایک دفعہ پھر ثابت کر دی ہے کہ عوامی مطالبہ کی طرف سے ارباب سیاست و قیادت کا آنکھیں موند لینا ہمیشہ ناگوار کیفیات پیدا کرنے کا موجب بنتا ہے۔ ان کو دیکھنا چاہئے کہ اگر عوامی مطالبات میں وزن ہے اور وہ معقولیت پر مبنی ہیں تو انہیں کسی اندرونی یا بیرونی خوف سے متاثر ہوئے بغیر عوام کو ان مطالبات کے بارے میں مطمئن کرنے کی تدابیر اختیار کرنے میں تامل سے کام نہ لینا چاہئے اور اگر مطالبات لغو اور بیہودہ ہوں جیسا کہ بعض پولیس افسروں نے سیاسیین کا لبادہ پہن کر اپنی رپورٹوں میں مجلس عمل کے مطالبات کو قرار دینا شروع کر دیا۔
(رپورٹ انگریزی ص ١٤٤، ٨٠)
تو ارباب سیاست کا وظیفہ یہ ہے کہ وہ عوام پر ان کے مطالبات کی لغویت واضح کرنے کے لئے آگے بڑھیں اور اپنے ہم خیالوں کی جمعیت کو تقویت دیں۔ فاضل جج صاحبان نے بھی اپنی اس رائے کا اظہار کیا ہے کہ: ”ہمارے عوام اتنے بیہودہ نہیں کہ وہ معقول بات پر کان نہ دھریں اور اگر ان کو سمجھایا جائے تو نہ سمجھیں۔“
(رپورٹ انگریزی ص ٢٧٥)
ظاہر ہے کہ اگر مدعیان قیادت یہ طرز عمل اختیار کرتے تو مطالبات کی منظوری یا
٢٩
نامنظوری کا معاملہ جمہوری سیاسی اختلاف کی نوعیت اختیار کر لیتا اور ان معاملات کو طے کرنے کی آئینی جمہوری صورتیں پیدا ہو جاتیں۔ مطالبات کے حامیوں کو ڈائرکٹ ایکشن کی راہ اختیار کرنے کی ضرورت ہی محسوس نہ ہوتی۔ جس کو عدالت نے منجملہ اسباب فسادات کے ایک سبب قرار دیا ہے۔
١٢...... علمائے دین
طبقہ علمائے دین کے بارے میں عدالت نے اس رائے کا اظہار کیا ہے؟ علماء فاضل طبقہ کے لوگ ہیں۔ لہٰذا جملہ پرستاران علم کی طرح واجب الاحترام ہیں۔ لیکن ان فاضلین کی طرح جو اپنی قوتوں کو کسی خاص موضوع کے لئے وقف کر دیتے ہیں۔ ان کے اذہان کا ارتقاء ایک ہی راستے پر ہوا ہے اور ایک راہ ذہن خطرناک امکانات کا حامل ہوتا ہے۔ تاہم آپ متخصصین کے بغیر گزارا بھی نہیں کر سکتے۔ لیکن اس کے لئے ایک عمومی پیشہ ور یعنی ایک ایسے شخص کی ضرورت ہے جو ان تمام مضامین پر جو کسی شخص کے خصوصی دائرہ علم وفکر سے تعلق رکھتے ہیں۔ حاوی ہو، اپنے مضمون کے سوا دیگر مضامین کے متعلق متخصص کے زاویہ نگاہ کا تنگ ہونا ایک لازمی امر ہے۔ ہم ”ملائیت“ اور ”مذہبی دیوانگی“ ایسی ارزاں اور عمومی اصطلاحات کو پسندیدگی کی نگاہ سے نہیں دیکھتے۔ ایک عام گریجویٹ جو اپنے مضامین کے سطحی علم سے زیادہ اور کچھ مبلغ علم نہیں رکھتا۔ ایسے جملوں کے استعمال میں خوشی محسوس کرتا ہے۔ گویا کہ وہ برتر شخصیت کا مالک ہے۔ کیا اسی طرح آپ ایک ماہر علم النبات کو نباتیات کا ایک ماہر علاج امراض پا کر معالجہ یا کا طعنہ دے سکتے ہیں۔ اس لئے ہم یہ نہیں کہتے کہ علماء کا زاویہ نگاہ اس لئے تنگ ہے کہ وہ علماء ہیں۔ وہ اس لئے تنگ ہے کہ علماء زندگی کے ایک ہی شعبہ کے متخصصین ہیں۔
(رپورٹ انگریزی ص ٢٩٨، ٢٩٩)
علمائے دین پر مخالف فریق کی طرف سے ان کے تشدد پسند ہونے کے بارہ میں جو اعتراضات وارد کئے گئے ان کا ذکر کرتے ہوئے فاضل جج صاحبان نے لکھا ہے کہ: ”یہ دلیل کہ وزیر اعظم نے علماء سے متصادم ہونے کی جو ممانعت کر رکھی تھی وہ صوبائی دائرہ میں ان کے خلاف کوئی اقدام نہ کرنے پر منتج ہوئی۔ اس مفروضہ کی حامل ہے کہ علماء شورشی اور بد زبان مذہبی دیوانوں کا ایک گروہ ہیں۔ جو تشدد کی تلقین کرتے ہیں اور خونی نظاروں سے خوش ہوتے ہیں۔ علماء کو مذہبی دیوانے پکارا جائے تو غالباً انہیں اس سے انکار نہ ہوگا۔ لیکن ان سے ایک بھی ہمارے سامنے اس ٣٠
امر کا اعتراف کرنے کے علماء کے مقدمہ کی وکالت ہونے کے باوجود چھو کے مرتکب جو حوالہ جات سید مظفر علی شاہ شمسی، ماسٹ علی خان کو بھی فراموش نہ مدعی بھی نہیں اور نہ اپنے
خاتمہ کلام
فاضل جج ص ملک کو درپیش ہیں پاک معاشرے کے مختلف عن اپنے چہرے دیکھیں اور موجب ہو۔ واخر دع
عرض حال
یہ تبصرہ جو پاکستان“ کے خاص رپ تحریر واشاعت کے لی کر دیئے گئے تھے۔
وهوهذا! ”آج کی کی جارہی ہے۔ یہ تبص کے پیش نظر کہ معروضا میں درج کیا جارہا ہے
امر کا اعتراف کرنے کے لئے تیار نہ تھا کہ وہ تشدد کی مذمت نہیں کرتا۔ مولانا میکش نے جنہوں نے علماء کے مقدمہ کی وکالت نمایاں سرگرمی کے ساتھ کی احمدیوں کے خلاف دیوانہ وار جوش کا حامل ہونے کے باوجود چھوٹے چھوٹے لیڈروں کی بد زبانی اور تیز کلامی کی مذمت کی۔ ایسی تیز کلامیوں کے مرتکب جو حوالہ جات میں پائی جائیں گی۔ سید عطاء اللہ شاہ بخاری، مولانا محمد علی جالندھری، سید مظفر علی شاہ شمسی، ماسٹر تاج الدین انصاری اور چند دیگر اشخاص۔ ہمیں اس سلسلہ میں مولانا اختر علی خان کو بھی فراموش نہ کرنا چاہئے۔ لیکن یہ حضرات علم دین کی گہرائیوں سے آگاہ ہونے کے مدعی بھی نہیں اور نہ اپنے آپ کو علماء کی جماعت میں سے خیال کرتے ہیں۔“
(رپورٹ انگریزی ص ٢٩٧)
خاتمہ کلام
فاضل جج صاحبان نے ان اہم کوائف و مسائل کو بے نقاب کرنے میں جو ہمارے ملک کو درپیش ہیں پاکستانی معاشرے کی بہت بڑی خدمت سرانجام دی ہے۔ اب پاکستانی معاشرے کے مختلف عناصر کا کام یہ ہے کہ عدالت تحقیقات کی اس رپورٹ کے آئینے میں اپنے اپنے چہرے دیکھیں اور ایسا طرزِ عمل اختیار کریں جو ملک میں امن و سکون کی فضاء کو تقویت دینے کا موجب ہو۔ واخر دعوانا ان الحمدللہ رب العلمین! ٢١ اگست ١٩٥٤ء احقر العباد، مرتضیٰ احمد خان میکش درانی
عرض حال
یہ تبصرہ جو کتابچہ کی صورت میں ہدیہ قارئین کرام ہے۔ پہلے پہل روزنامہ ”نوائے پاکستان“ کے خاص رپورٹ نمبر مورخہ ٢٩؍ اگست ١٩٥٤ء کی اشاعت میں شائع ہوا۔ اس تبصرہ کی تحریر و اشاعت کے لئے جو محرکات محرک ہوئے وہ اخبار مذکور کے اداریہ میں مشرح طور پر بیان کر دیئے گئے تھے۔ یہ اداریہ بھی توضیح مطالب کے پیش نظر کتابچہ میں شامل کیا جاتا ہے۔
وہو ہذا! ”آج کی اشاعت عدالت تحقیقات فسادات کی رپورٹ پر سیر حاصل تبصرے کی نذر کی جارہی ہے۔ یہ تبصرہ کتابچہ کی صورت میں شائع کرنے کی نیت سے لکھا گیا تھا۔ لیکن اس خیال کے پیش نظر کہ معروضات زیادہ سے زیادہ ہاتھوں میں پہنچ جائیں۔ اسے اخبار کی ایک ہی اشاعت میں درج کیا جا رہا ہے۔
٣١
اس تبصرہ کی اشاعت کا ابتدائی مقصد جیسا کہ پیش لفظ میں ظاہر کر دیا گیا ہے۔ اس کے سوا کچھ نہیں کہ ان لوگوں کو جنہیں ضخیم رپورٹ پڑھنے کی فرصت نہیں۔ ایک مرتب اور اجمالی صورت میں ملک کے اہم کوائف و مسائل پر فاضل جج صاحبان کی تنقیدات سے روشناس کرا دیا جائے۔ جنہوں نے دس ماہ کی محنت شاقہ سے کام لینے کے بعد اس رپورٹ کی صورت میں نہایت ہی قیمتی دستاویز تیار کر کے ملک کے سامنے پیش کر دی ہے۔
اس تبصرہ کی اشاعت کا دوسرا مقصد یہ ہے کہ ان غلط فہمیوں کا ازالہ کرنے کی سعی کی جائے جو اس رپورٹ کے مندرجات پر پوری توجہ نہ دینے کی وجہ سے عامۃ الناس میں بلکہ پڑھے لکھے حلقوں میں پھل پھول رہی ہیں۔
تیسرا مقصد یہ ہے کہ مملکت عزیز پاکستان کے جملہ عناصر کو توجہ دلائی جائے۔ وہ اس کے مندرجات کی روشنی میں اپنے فکر و عمل کے رجحانات کا جائزہ لیں اور آئندہ کے لئے ان رجحانات سے بچنے کی کوشش کریں۔ جو مارچ ١٩٥٣ء کے افسوسناک حادثات کی تخلیق کا موجب بنے۔
جان لینا چاہئے کہ ہمارے ملک کو اس سلسلے میں اہم فکری اور حسیاتی مسائل درپیش ہیں۔ جن کو خوش اسلوبی کے ساتھ اور وطن خواہی کی اسپرٹ میں حل کئے بغیر ہم امن و سکون کی وہ فضاء پیدا نہیں کر سکتے۔ جو کسی ملک کو یا کسی معاشرے کو ترقی و بلندی کی شاہراہ پر گامزن کرنے کے لئے ضروری ہے۔ ایسے اہم مسائل کی طرف سے آنکھیں بند کر لینے یا ان کو حل کرنے کی سعی سے گریز کرنے کی روش معاملات کو مزید الجھاؤ ہی میں ڈالنے پر منتج ہو سکتی ہے۔ سلجھاؤ پیدا نہیں کر سکتی۔ یہ مسائل جن کی نشاندہی فاضل جج صاحبان نے اپنی رپورٹ میں کی ہے۔ ایسے ہیں جو کسی نہ کسی لحاظ سے پاکستان کے ہر فرد کے دل و دماغ کو متاثر کر رہے ہیں۔ طبائع عمومی کا یہ اضطراب و انتشار اس وقت تک دور نہ ہوگا۔ جب تک کہ ارباب حکومت سیاسی پارٹیاں اور ارباب قیادت اور ملک کے دیگر عناصر ان مسائل کا خوشگوار حل تلاش کرنے کے لئے کمر ہمت باندھ کر آگے نہیں بڑھیں گے اور باہمی مشورت اور افہام و تفہیم سے ایسے نتائج پر پہنچنے کی کوشش نہیں کریں گے جو تصادموں کو روکنے والے اور فسادات کے سرچشموں کو بند کر دینے والے ہوں۔
ان گذارشات کے ساتھ قارئین کرام کی خدمت میں یہ ”رپورٹ نمبر“ پیش کیا جا رہا ہے۔ امید ہے کہ ارباب فہم و بصیرت اسے اسی توجہ کے ساتھ پڑھیں گے۔ جس کی امید میں نویسندۂ عاجز نے یہ تبصرہ سپرد قلم کیا ہے۔ مرتضی احمد خان میکش درانی!
٣٢
خاتم النبیین لا نبی بعدی
میں آخری نبی ہوں، میرے بعد کوئی نبی نہیں
کمبخت منافق ہے ادھر بھی ہے ادھر بھی
قادیانی سیاست
(مولانا مرتضیٰ احمد خان میکشؔ درانی)
پاکستان سے بیزاری، بھارت سے وفاداری
پاکستان کی اسلامی مملکت کے اندر جو تخریبی فتنے پرورش پا رہے ہیں ان میں سب سے زیادہ خطرناک فتنہ مرزائیت کا ہے۔ کیونکہ مرزائیت دین اسلام کی کھلی تحقیر و تضحیک کا دوسرا نام ہے۔ اس مذہب کے پیرو نہ تو اسلام کے وفادار ہیں نہ مسلمانوں کے خیر خواہ ہیں اور نہ پاکستان کے ساتھ کسی قسم کا انس رکھتے ہیں۔ اس فتنہ کے سب سے زیادہ خطرناک ہونے کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ مرزا کے پیرو خارج میں اپنے آپ کو مسلمانوں ہی کا ایک فرقہ ظاہر کرتے ہیں اور باطن میں اپنے آپ کو مسلمانوں سے یکسر الگ قوم سمجھتے ہوئے دینِ اسلام کے بنیادی عقائد کی بیخ کنی کے در پے رہتے ہیں۔ اپنے آپ کو مسلمان ظاہر کرنے کے باوجود یہ منافقین کسی مسلمان کی نماز جنازہ میں شامل ہونا اور مؤمن میت کے لئے دعائے مغفرت کرنا بھی اپنے مذہبی عقیدہ کی رو سے حرام سمجھتے ہیں ١؎ اور ادھر مسلمانوں کی غفلت اور بے خبری کا یہ عالم ہے کہ وہ ان کی حقیقت و ماہیت سے صحیح طور پر آگاہ نہ ہونے کے باعث انہیں بھی مسلمانوں کے دوسرے فرقوں کی طرح ایک فرقہ سمجھ رہے ہیں اور جب کوئی مرزائی مر جاتا ہے تو اس کے مسلمان رشتہ دار اس کی نماز جنازہ میں شامل ہونے اور اس کے لئے دعائے مغفرت کرنے میں کسی قسم کی عار یا ہچکچاہٹ محسوس نہیں کرتے۔ ظاہر ہے کہ کھلے دشمن کی بہ نسبت وہ چھپا دشمن زیادہ خطرناک ہوتا ہے۔ جس کے خُبثِ باطن کی طرف سے انسان غافل ہو، اور یہی حالت پاکستان اور دنیائے اسلام کے عام مسلمانوں کی ہے۔ جو مرزائیوں کو مسلمانوں کا ایک فرقہ سمجھ کر ان کی ان ظاہری اور مخفی سرگرمیوں سے بے خبر رہتے ہیں۔ جو کہ منافقین کے اس گروہ کی طرف سے پیہم کی جا رہی ہیں۔
١؎ منافقوں کی یہ ہے نشانی زباں پہ دیں ہو تو کفر دل میں ...... اسی نشانی سے قادیانی تعارف اپنا کرا رہے ہیں !
(ظفر علی خان)
٢
یہ بات اظہر من الشمس ہے کہ مرزائی مسلمان نہیں۔ کیونکہ وہ قادیان کے ایک مدعی کاذب و دجال و مفتری کی نبوت پر ایمان لانا ذریعہ نجات قرار دیتے ہیں۔ لیکن سیاسی حیثیت سے مرزائیوں کو جو ملت پاکستان کا ایک جزو اور پاکستان کا خیر خواہ اور وفادار سمجھا جا رہا ہے۔ وہ پاکستان کے عوام اور ان کے ارباب سیاست کی بہت بڑی کم نظری اور نافہمی پر دال ہے۔ ہم جانتے ہیں کہ اس کم نظری اور نافہمی کی وجہ محض یہ ہے کہ مسلمان مرزائیوں کی سرگرمیوں اور ان کے رجحانات کا جائزہ لینے کی طرف سے غافل ہیں اور اپنی اس غفلت کی وجہ سے مرزائیوں سے دھوکا کھاتے چلے جا رہے ہیں۔ چند ماہ ہوئے ہم نے مرزائیوں کے سیاسی عزائم کا تجزیہ کرتے ہوئے مسلسل مقالات کی دس قسطیں شائع کی تھیں۔ جن میں ناقابل تردید حقائق و دلائل سے ثابت کر دکھایا تھا کہ اس فرقہ کے لوگ پاکستان میں مرزائیوں کی حکومت قائم کرنے کے خواب دیکھ رہے ہیں اور اس کے ساتھ ہی وہ بھارت کو بھی اپنے ان برے دنوں کا ملجا و ماوٰی سمجھ رہے ہیں۔ جب پاکستان میں ان کے عزائم پروان چڑھنے سے یکسر ناکام رہ جائیں گے۔ معلوم ہوتا ہے کہ پاکستان کے مسلمانوں کی آنکھیں کھلنے کے آثار دیکھ کر مرزائی اپنے اوّل الذکر مقصد یعنی پاکستان پر مرزائیوں کی حکومت مسلط کرنے کے خیال کی تکمیل کی طرف سے مایوس ہو رہے ہیں اور اب اس فکر میں ہیں کہ بھارت کی زمین انہیں اپنے آغوش میں لے لے۔ ”ٹائمز آف انڈیا“، بمبئی کے نامہ نگار کی اطلاع مظہر ہے کہ امت مرزا کے افراد کا جو اجتماع ٢٦، ٢٧ دسمبر کو قادیان ضلع گورداسپور میں منعقد ہوا اور جس میں پاکستان سے جانے والے یکصد کے قریب مرزائی یاتری بھی شامل ہوئے۔ اس میں پاکستان کو مرزائیت کے نقطہ نگاہ سے بہت کوسا گیا اور بھارت کی اس قدر تعریف کی گئی کہ بھارت کی حکومت کو اللہ کی نعمت اور بھارت کو مرزائیوں کا دارالامان ظاہر کیا گیا۔
ٹائمز آف انڈیا کے نامہ نگار کا بیان یہ ہے۔
”ایک نشست میں جس کے صدر لاہور کے ایک بیرسٹر شیخ بشیر احمد تھے۔ علی الاعلان
٣
کہا گیا کہ پاکستان کی حکومت جو اسلامی تحریک کا نتیجہ ہے۔ مرزائیوں کی حفاظت سے قاصر رہی ہے۔ وہاں تین مرزائی قتل ہو چکے ہیں۔ اس کے بالمقابل ہندوستان کی حکومت نے بیدین ہونے کے باوجود ہر مذہب کے پیروؤں اور بالخصوص مرزائیوں کی حفاظت کا خاطر خواہ سامان مہیا کر رکھا ہے۔ پاکستان میں ابوالاعلیٰ مودودی کی جماعت نے ادھم مچا رکھا ہے۔ مگر ہندوستان میں ہمیں ہر قسم کا امن واطمینان میسر ہے۔ ان امور کی روشنی میں ہندوستان کی حکومت کو اللہ کی نعمت قرار دیا گیا اور اعلان کیا گیا کہ اس حکومت کے وفادار ہیں۔“
اس کے علاوہ اخبار ”بندے ماترم“ کی اطلاع مظہر ہے۔ ” قادیان ٢٨؍ دسمبر کل یہاں احمدیوں کا سہ روزہ سالانہ جلسہ شروع ہو گیا۔ جس میں پاکستان سے آمدہ ٧٩ احمدیوں اور ہند کے مختلف حصوں کے ١٥٢٠٠ احمدیوں کے علاوہ مقامی ہندوؤں اور سکھوں کی بھاری تعداد بھی شامل ہوئی۔ جلسہ میں ایک ریزولیوشن پاس کیا گیا۔ جس میں ہند سرکار سے درخواست کی گئی کہ وہ قادیان میں موجودہ احمدیوں کی وہ تمام جائیداد واپس کر دے جو نکاسی قرار دی جا چکی ہے۔ ایک اور ریزولیوشن میں ہند و پنجاب کی حکومتوں سے درخواست کی گئی ہے کہ قادیان کی زیارت کے لئے سہولیات دی جائیں اور ان نکاسیوں کی واپسی کی اجازت دی جائے ۔ جو کہ ١٩٤٧ء کی گڑ بڑ میں قادیان سے چلے گئے تھے اور ہر دو مہینوں میں آنے جانے کے عارضی پرمٹ دیئے جائیں۔ مسٹر بشیر الدین احمد نے ہندوستانی احمدیوں کو تلقین کی کہ وہ ہند سرکار کے وفادار رہیں اور کوئی شرارت نہ کریں۔“
مرزائیوں کے سالانہ جلسہ منعقدہ قادیان کی یہ تقریریں اور قراردادیں مرزائیوں کے باطنی رجحانات اور دلی احساسات کو بخوبی ظاہر کر رہی ہیں۔ اس حقیقت کبریٰ کے باوجود کہ پاکستان نے مرزائیوں کو پناہ دی اور مرزائیوں نے اپنی عیاریوں سے اپنے حق سے کہیں زیادہ عمارتیں، کارخانے، دکانیں اور اقتصادی ادارے الاٹ کرا لئے۔ پنجاب کے انگریز گورنر
٤
سر فرانس موڈی کی خصوصی نظر عنایت سے ربوہ میں اپنا نیا مرکز بنانے اور نیا شہر بسانے کے لئے کوڑیوں کے مول زمین کے وسیع قطعات حاصل کر لئے۔ پاکستان کے کوتاہ اندیش ارباب اقتدار کی چشم پوشی اور کوتاہ نظری سے فائدہ اٹھا کر چوہدری ظفر اللہ خان قادیانی کو پاکستان کا وزیر خارجہ بنوایا اور اس چوہدری کے اثر و رسوخ کی بدولت مرزائیوں نے آبادکاری کے محکموں میں بڑے بڑے عہدے حاصل کر لئے تاکہ ناجائز الاٹمنٹوں کے بل پر مرزائیوں کو مالا مال کر سکیں۔ وزارت خارجہ کی ملازمتوں میں مرزائیوں کو اتنی کثیر تعداد میں بھرتی کر لیا گیا کہ پاکستان کے سفارت خانے بیرونی ملکوں میں دین مرزائیت کی تبلیغ کے اڈے بن گئے اور تو اور خود چوہدری ظفر اللہ خان وزیر خارجہ پاکستان نے فلسطین اور دوسرے عرب ملکوں کے مسلمانوں پر یہ ظاہر کرنے کی کوشش کی کہ وہ حکومت پاکستان کے وزیر نہیں بلکہ مرزائیوں کے امیر المومنین مرزا بشیر الدین کے سفیر ہیں۔ القصہ مرزائیوں نے ایک بھاری سازش کے ماتحت اپنی قومی تنظیم کے بل پر پاکستان کی دولت و ثروت کو دونوں ہاتھوں سے لوٹا اور پاکستان کی کلیدی آسامیوں پر قبضہ جما کر اسے ایک مرزائی مملکت بنانے کی پوری کوشش کی۔
سے۔
(ظفر علی خان)
لیکن اب کہ عامۃ المسلمین میں مرزائیوں کے عزائم بد کی طرف سے ایک حد تک باخبر ہونے کے آثار پیدا ہونے لگے ہیں۔ مرزائی بھارت کی حکومت کو اللہ تعالیٰ کی نعمت قرار دے کر اس سے درخواستیں کرنے لگے ہیں کہ ہماری جائیدادیں واپس کر دی جائیں اور ہمیں قادیان میں لوٹ آنے کی اجازت دی جائے۔ بلاشبہ مرزائیوں کو حق پہنچتا ہے کہ وہ بھارت سرکار سے واپس بھارت جانے کی اجازت حاصل کرنے کے لئے درخواستیں کریں اور ہم دل سے خواہاں ہیں کہ ایسے لوگ جو اسلام کے بدترین دشمن اور پاکستان کے باطنی بدخواہ ہیں۔ پاکستان سے نکل
٥
جائیں۔ کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ دین مرزائیت کے پیرو، انگریز کے، ہندو کے، یہودی کے اور اسلام کے ہر دشمن حکومت کے وفادار اور خیر خواہ بن سکتے ہیں۔ وہ اگر کسی کے وفادار نہیں بن سکتے تو وہ اسلام ہے اور اسلامی حکومت ہے۔ ہم پاکستان میں ایسی منافق غیر مسلم قوم کی موجودگی کو پاکستان اور دین اسلام کے بہترین مقاصد کے لئے سخت خطرناک سمجھتے ہیں اور ہمیں ڈر ہے کہ پاکستان کے بھولے بھالے اور بے خبر مسلمان ایک نہ ایک دن ان منافقین کے ہاتھوں بہت بڑی مصیبتوں کی طرف سے یکسر غافل ہیں جو اس فتنہ کے آغوش میں پل رہی ہیں۔ صرف مجلس احرار اسلام ایک ایسی جماعت ہے جو اس فتنہ کے شر کا سد باب کرنے اور مسلمانوں کو اس سے بچانے کے لئے جدوجہد کر رہی ہے۔ مسلمانوں کو مجلس احرار اسلام کی ان خالص دینی خدمات کی قدر کرنی چاہئے اور ان سرگرمیوں میں مجلس احرار اسلام کا ہاتھ بٹانا چاہئے۔
اس کے ساتھ ہی ہم مرزائیوں کو ان کے دنیوی بھلے کی خاطر یہ مشورہ دیں گے کہ وہ جلد سے جلد اپنے آپ کو بھارت کے دارالامان میں پہنچانے کا بندوبست کر لیں۔ بلاشبہ آج کے بعض نام نہاد سیاسی لیڈر مرزائیوں کے ووٹ حاصل کرنے کے لئے مرزا بشیر الدین قادیانی کی خوشامد کر رہے ہیں اور اپنی لاعلمی کی وجہ سے مرزائیوں کو مسلمان اور پاکستان کے وفادار لوگ سمجھ رہے ہیں۔ لیکن یہ حالت دیر تک قائم نہیں رہے گی۔ پاکستان کے مسلمان بیدار ہوں گے اور مرزائیوں سے ان کی اسلام دشمنی اور پاکستان آزاری کا حساب لے کر رہیں گے۔ انشاء اللہ تعالیٰ! ١
٥؍ جنوری ١٩٥١ء، مرتضیٰ احمد خان
١ یقیناً ان پرفتن ایام میں تاج وتخت ختم نبوت کی حفاظت اور فتنہ مرزائیت کی سرکوبی کے لئے مجلس احرار اسلام سے اشتراک وتعاون کرنا ہر مسلم کا ملی فرض ہے اور بخدا ہمارا یہ اشتراک و تعاون باعث رحمت ثابت ہوگا۔ (فاروق)
خاتم النبیین لا نبی بعدی
میں آخری نبی ہوں، میرے بعد کوئی نبی نہیں
پاکستان میں
مرزائیت
(مولانا مرتضیٰ احمد خان میکشؔ درانی)
بسم اللہ الرحمن الرحیم!
پیش لفظ
١٨٥٧ء کے بعد فتنہ مرزائیت کو جن اغراض کے تحت برطانوی استعمار نے جنم دیا۔ وہ مرزا غلام احمد قادیانی کی اپنی تحریرات سے ظاہر ہیں۔ دنیا بھر کے مسلمانوں کو سلطنت برطانیہ کے زیر سایہ آنے کی دعوت دی۔ نیز انگریز کو اسلام کا خالق قرار دیا اور اپنے مشن کی بنیاد اطاعت حکومت برطانیہ اور حرمت عقیدہ جہاد پر رکھی۔ تمام عمر اپنی پولیٹکل اغراض کے لئے اسلام اور مسلمانوں کی بربادی کی خاطر برطانوی سلطنت کی جاسوسی کرتے رہے اور آج تک ان کا بیٹا موجود خلیفہ بشیر الدین محمود احمد اور ان کے تمام مرید اسی راہ پر چل رہے ہیں۔ اسلامیان پاکستان کی آگاہی کے لئے صرف دو حوالے پیش کرتا ہوں۔ جن سے واضح ہوگا کہ مرزائیت اور برطانوی سلطنت لازم وملزوم ہیں۔
ممالک اسلامیہ میں مرزائیوں کا پروگرام
”ایرانی گورنمنٹ نے جو سلوک مرزا علی محمد باب، بانی فرقہ بابیہ اور اس کے بیکس مریدوں کے ساتھ محض مذہبی اختلاف کی وجہ سے کیا اور جو ستم اس فرقہ پر توڑے گئے وہ ان دانشمند لوگوں پر مخفی نہیں ہیں۔ جو قوموں کی تاریخ پڑھنے کے عادی ہیں اور پھر سلطنت ترکی نے جو ایک یورپ کی سلطنت کہلاتی ہے جو برتاؤ بہاء اللہ بانی فرقہ بہائیہ اور اس کے جلاوطن شدہ پیروؤں سے ١٨٦٣ء سے لے کر ١٨٩٢ء تک پہلے قسطنطنیہ، پھر ایڈریا نوپل اور بعدازاں مکہ کے جیل خانہ میں کیا۔ وہ بھی دنیا کے اہم واقعات پر اطلاع رکھنے والوں پر پوشیدہ نہیں ہے۔ دنیا میں تین ہی بڑی اسلامی سلطنتیں کہلاتی ہیں اور تینوں نے جو تنگ دلی اور تعصب کا نمونہ اس شائستگی کے زمانے میں دکھایا وہ احمدی قوم کو یہ یقین دلائے بغیر نہیں رہ سکتا کہ احمدیوں کی آزادی تاج برطانیہ کے ساتھ وابستہ ہے اور چونکہ خدا نے برٹش راج میں سلامتی کے شہزادہ، مرزا قادیانی کو دنیا کی رہنمائی کے لئے بھیجا۔ گویا خدا نے تمام دنیا کی حکومتوں پر بلحاظ فیاضی، فراخدلی اور بے تعصبی کے برٹش گورنمنٹ کو ترجیح دی۔ لہٰذا تمام سچے احمدی جو حضرت مرزا قادیانی کو مامور من اللہ اور ایک مقدس انسان تصور کرتے ہیں۔ بدون کسی خوشامد اور چاپلوسی کے دل سے یقین کرتے ہیں کہ برٹش گورنمنٹ ان کے لئے فضل ایزدی اور سایہ رحمت ہے اور اس کی ہستی کو وہ اپنی ہستی خیال کرتے ہیں۔“
(اخبار الفضل قادیان ج ٢ نمبر ٣٨، مورخہ ١٣؍ ستمبر ١٩١٤ء)
٢
قادیانی تلوار
”حضرت مسیح موعود فرماتے ہیں کہ میں وہ مہدی موعود ہوں اور گورنمنٹ برطانیہ میری وہ تلوار ہے جس کے مقابلے میں ان علماء کی کچھ پیش نہیں جاتی۔ اب غور کرنے کا مقام ہے کہ پھر ہم احمدیوں کو اس فتح سے کیوں خوشی نہ ہو۔ عراق، عرب ہو یا شام ہم ہر جگہ اپنی تلوار کی چمک دیکھنا چاہتے ہیں۔“
(اخبار الفضل قادیان ج ٦ نمبر ٤٢، مورخہ ١٧؍ دسمبر ١٩١٨ء)
یہ تو دنیائے اسلام کے متعلق معتقدات ہیں۔ دولتِ خداداد پاکستان کے متعلق آئندہ صفحات سے ظاہر ہوگا کہ یہ مرتد گروہ اس نوزائیدہ مملکت کے متعلق کیا عزائم رکھتا ہے۔
جس شرح وبسط کے ساتھ حضرت مولانا مرتضیٰ احمد خان صاحب میکش مدیر اعلیٰ روزنامہ مغربی پاکستان نے اپنے اخبار مغربی پاکستان میں مسلسل دس اقساط میں ملت اور ملک کو اس گروہ کے ناپاک ارادوں سے آگاہ کیا ہے۔ یہ شرف موصوف کو ہی حاصل ہے۔ میری صرف اتنی استدعا ہے کہ اسلامیان پاکستان اس بروقت انتباہ سے استفادہ حاصل کریں اور ملک وملت کو اس سازشی گروہ کی ریشہ دوانیوں سے بہرحال بچائیں۔
یہ کتابچہ ادارۂ طیبہ کی طرف سے شائع کیا جارہا ہے۔ اس کی جس قدر زیادہ اشاعت ہوگی۔ پاکستان کے مستقبل کے لئے اتنا ہی بہتر ہوگا۔ قاضی احسان احمد شجاع آبادی! ٢٢؍اپریل ١٩٥٠ء
پاکستان میں مرزائیت کا مقام اور مستقبل
پیروانِ مرزا کے لئے لمحہ فکریہ
پاکستان کی مرزائی اقلیت جو قادیان کے مدعی نبوت ”مرزاغلام احمد“ کی پیرو ہے اور ”احمدی“ کہلاتی ہے۔ پاکستان کے داخلی مسائل میں سے ایک نہایت ہی الجھا ہوا مسئلہ ہے۔ جس کے حدود اگر ابھی سے متعین نہ کرلئے گئے تو یہ مسئلہ آگے چل کر مسلمانان پاکستان، اور دولتِ پاکستان، حکومت پاکستان اور خود مرزائی قوم کے لئے بہت بڑی مشکلات اور پیچیدگیاں پیدا کرنے کا موجب بن جائے گا۔ پھر ان مشکلات سے عہدہ برآ ہونے کے لئے جمہور پاکستان اور حکومت پاکستان کو ان سے بہت زیادہ شدید تر ذرائع اختیار کرنے پڑیں گے۔ جو آنے والے فتنوں سے بچنے کے لئے آج آسانی سے اختیار کئے جاسکتے ہیں۔
مرزائیت جس کے موٹے موٹے خدوخال ہم آگے چل کر بیان کریں گے۔ اپنی
٣
پیدائش کے دن ہی سے امت مسلمہ کے لئے شدید ترین روحانی اور فکری اذیتوں کا موجب بنی رہی ہے اور جب تک وہ اپنے موجودہ معتقدات و تاویلات کو بحال و برقرار رکھتی ہوئی موجود ہے۔ امت مسلمہ کے لئے روحانی اور فکری اذیتوں کا موجب بنی رہے گی اور کسی وقت مادی طاقت حاصل کر کے مسلمانوں کے دینی اور دنیوی شئون پر ایسی ضرب لگائے گی۔ جس کے زخم کی تلافی کرنے کے لئے مسلمانوں کو بہت کچھ کرنا پڑے گا۔ مرزائیت کے مذہبی معتقدات ، دین حقہ اسلام کا کھلا استہزاء ہیں۔ بلکہ اللہ اور اس کے بھیجے ہوئے نبیوں اور رسولوں (علیہم السلام والصلوٰۃ) اور حضرت ختمی مرتبت محمد مصطفیٰ ﷺ (بآبانا ھو وامھاتنا) کی توہین و تضحیک کر رہے ہیں۔ اس کے علاوہ اس امر کے شواہد صاف نظر آ رہے ہیں کہ مرزائیت کے پیروں کی گروہ بندی سیاسی اور تمدنی اعتبار سے پاکستان کے وجود اور اس کے داخلی امن کے لئے ایک مستقل خطرہ ہے۔ جس کی طرف سے تسامح نہ صرف پاکستان کے لئے بلکہ پورے عالم اسلام اور دین حقہ اسلام کے لئے بدرجۂ غایت مضرت رساں ثابت ہو سکتا ہے۔ ہم اسلام کی، پاکستان کی، عام مسلمانوں کی اور خود اس فرقہ ضالہ کے لوگوں کی فلاح و بہبود کے جذبہ سے متاثر ہو کر اس موضوع پر قلم اٹھا رہے ہیں۔ ایسا کرنے سے ہمارا مقصد حاشا و کلا یہ نہیں کہ ہم پاکستان کی حدود میں بسنے والی دو قوموں کے درمیان منافرت کے ان جذبات کو ترقی دیں۔ جو پہلے ہی سے طرفین کے دلوں میں موجود ہیں۔ ہمارا مقصد اپنے ملک کے داخلی کوائف کی اصلاح کے سوا اور کچھ نہیں۔ اگر ہم اپنے ہاں کے جمہور کو جن میں مرزائی بھی شامل ہیں اپنے ارباب حکومت کو اور اصحاب فکر و بصیرت کو ان خطرات سے آگاہ نہیں کرتے جو ہمیں صاف نظر آ رہے ہیں تو ہم اپنے فرض منصبی سے قاصر رہنے کے مجرم متصور ہوں گے۔ جو ذمہ دارانہ صحافت کی جانب سے ہم پر عائد ہوتے ہیں۔ ہم جانتے ہیں کہ مرزائی جماعت کے لوگ اور ان کے ساتھ دوستی رکھنے والے کج فہم اور کوتاہ نظر مسلمان حکومت کے احتسابی دوائر کو ہمارے خلاف حرکت میں لانے کی کوشش کریں گے اور وہ دوائر بھی مرزائیوں کے اور ان کے دوستوں کی تحریک سے متاثر ہو کر ہمیں بلاوجہ و بلاسبب پریشان کرتے رہیں گے۔ لیکن مخالفوں اور کج فہموں کی یہ روش ہمیں کلمتہ الحق کے اعلاء سے باز نہیں رکھ سکتی۔ ہم محسوس کر رہے ہیں کہ پاکستان کے لوگوں کو جن میں ارباب حکومت بھی شامل ہیں۔ ان خطرات سے آگاہ کر دینا ضروری ہے۔ جو ان کی نظروں سے اوجھل ہیں۔ لیکن ہمیں مرزائی جماعت کے رجحانات وعزائم اور اس کی سرگرمیوں کا جائزہ لینے کے بعد صاف نظر آ رہے ہیں۔ ٤
دجل و تلبیس کے کھیل
مرزائیت بعض مخصوص عقائد وعزائم کی ایک ایسی تحریک ہے جو طرح طرح کی ابلہ فریبیوں کے بل پر قائم ہے۔ مرزائیت کے پیرو جملہ مسلمانوں کو کافر سمجھتے ہیں۔ دینی امور میں ان سے الگ تھلگ رہنا اپنے مذہبی عقیدے کی بناء پر لازمی تصور کرتے ہیں۔ مسلمانوں کی نمازوں میں شریک نہیں ہوتے۔ ان کی میتوں کی نماز جنازہ میں شرکت نہیں کرتے۔ اسلام کے بنیادی ارکان وعقائد میں مسلمانوں کے ہم نوا نہیں۔ حج بیت اللہ پر قادیان کے سالانہ اجتماع کو مرجح سمجھتے ہیں اور قادیان کے چھن جانے کے بعد پاکستان میں اپنا نیا کعبہ بنانے کی فکر میں ہیں۔ اپنے آپ کو مسلمانوں سے یکسر الگ قوم متصور کرتے ہیں۔ لیکن مسلمان کہلاتے ہیں۔ عامتہ المسلمین کو دھوکہ دینے کے لئے بوقت ضرورت اپنے آپ کو مسلمانوں کے سواد اعظم کے فروعی اختلافات رکھنے والے فرقوں یا صلحائے امت میں سے کسی کے ساتھ اپنی نسبت ظاہر کرنے والی جماعتوں میں سے ایک فرقہ یا ایک جماعت ظاہر کرنے لگتے ہیں۔ یہ لوگ ان مسلمانوں کو جو مرزائیت کی حقیقت وماہیت سے آگاہ نہیں۔ یہ کہہ کر دھوکہ دیتے ہیں کہ احمدی بھی شیعہ، سنی، حنبلی، مالکی، شافعی، حنفی، اسماعیلی، اثناعشری فرقوں کی طرح امت مسلمہ ہی کا ایک فرقہ ہیں۔ یا صوفیائے کرام کے خانوادوں نقشبندی، قادری، سہروردی، چشتی، صابری، نظامی، نوشاہی وغیرہ کی طرح ایک خانوادہ ہیں جو مرزا غلام احمد سے بیعت کرنے کی بناء پر احمدی کہلاتے ہیں۔ بہت سے مسلمان جن کو ان کے بنیادی عقائد اور ان کی جداگانہ گروہ بندی کی ماہیت کا صحیح صحیح علم نہیں۔ ان کے اس فریب واستدلال کا شکار ہوکر انہیں بھی مسلمانوں ہی کا ایک فرقہ سمجھنے لگتے ہیں۔ حالانکہ وہ خود اپنے آپ کو ایسا نہیں سمجھتے۔ محض دوسروں کو دھوکہ دینے کے لئے بوقت ضرورت ایسا کہہ دیتے ہیں۔
یہ لوگ یعنی دین مرزائیت کے پیرو، اس وقت حکومت کی وفاداری کا دم بھرتے ہیں لیکن اپنے پیشوا کو امیرالمؤمنین قرار دے کر کسی قدر ظاہر اور کسی قدر خفیہ طور پر ایک متوازی حکومت کا نظام رکھتے ہیں۔ مرزائی فرقہ کے لوگ اس حکومت کے بجائے جس کے زیر سایہ وہ زندگی بسر کر رہے ہیں۔ اپنے ’’امیر المومنین‘‘ کے اطاعت گزار ہیں۔ جو صرف ان کا مذہبی پیشوا نہیں۔ بلکہ سیاسی حیثیت کا امیر بھی ہے۔ یہ لوگ قادیان کو اپنا دینی مرکز و متبرک مقام، سیاسی دارالخلافہ خیال کرتے ہیں جو اب ہندوستان کے قبضہ میں جاچکا ہے۔ لیکن پاکستان میں ’’ربوہ‘‘ بنارہے ہیں۔ ان کا امام اور امیر ہندوستان کو احمدیت کے فروغ کے لئے اللہ کی دی ہوئی وسیع زمیں (مرکز) سمجھتا ہے اور اس کے ساتھ ہی پاکستان کو مرزائیوں کا ملک بنالینے کی فکر میں ہے۔ یہ لوگ یعنی دین
٥
مرزائیت کے پیرو مسلمانوں کو کافر اور ان کے اسلام کو مردہ قرار دیتے ہیں اور انہی کی دینی اور ملی اصطلاحیں بلا تکلف استعمال کر رہے ہیں۔ مرزائے قادیان کو اللہ کا بھیجا ہوا نبی اور رسول جملہ انبیائے کرام علیہم السلام ، صلحائے امت ، صدیقین ، شہداء ، صحابہ کرام ، اہل بیت پر ہر طرح کی فضیلت رکھنے والا شخص سمجھتے ہیں۔ لیکن اس کے ساتھ ہی کفر و ارتداد اور الحاد بے دینی کے حکم سے بچنے کی خاطر یا لوگوں کو مبتلائے فریب کرنے کی خاطر ، ظل و بروز ، صوفیائے کرام کے مقامات سیر و سلوک وغیرہ کی اصطلاحوں کا سہارا لینے لگتے ہیں۔ غرض مرزائیت دینی اور سیاسی اعتبارات سے دجل و تلبیس کے رنگ برنگے پردوں کا ایک تماشہ ہے۔ جو مسلمانوں کو دینی حیثیت سے نقصان پہنچانے کی غرض سے دکھایا جا رہا ہے۔ مرزائیت کی ہر بات اور ہر حرکت دجل و فریب اور منافقت پر مبنی ہے۔ مسلمانوں کے ساتھ ان کے حال کی کیفیت مذہبی اور دنیوی حیثیت سے وہی ہے۔ جو اللہ تعالیٰ جل شانہ نے قرآن حکیم میں منافقوں کا پردہ چاک کرتے ہوئے ارشاد فرمائی۔ ”واذا لقوا الذین آمنوا قالوا آمنا واذا خلوا الی شیطینہم قالوا انا معکم انما نحن مستھزؤن (البقرہ:١٤) “﴿اور یہ لوگ جب مؤمنوں سے ملتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ہم ایمان لے آئے ہیں اور جب اپنے شیطانوں میں جاتے ہیں تو ان سے کہتے ہیں کہ ہم تمہارے ساتھ ہیں۔ ہم تو (مسلمانوں سے ) مذاق کر رہے ہیں۔﴾ ......٢
اشاعت دیروز میں ہم لکھ چکے ہیں کہ مرزائیت دجل و تلبیس کا ایک کھیل ہے جو مسلمانوں کو گمراہ کرنے انہیں فریب دینے اور مادی حیثیت سے انہیں نقصان پہنچانے کی غرض اور نیت سے کھیلا جا رہا ہے۔
مرزائیت کے متعدد چہرے اور متعدد زبانیں ہیں۔ جن میں سے کبھی ایک کو، کبھی دوسرے کو مرزائیت کے پیرو دنیا کے سامنے پیش کر دیتے ہیں۔ مرزائیوں کا بنیادی عقیدہ یہ ہے کہ مرزا غلام احمد قادیانی ، اللہ کا بھیجا ہوا نبی اور رسول تھا۔ اس کی نبوت اور رسالت پر ایمان لانا ضروری ہے اور جو اس پر ایمان نہیں لاتا وہ کافر ہے اور جو اس پر ایمان لائے ہیں وہی مؤمن کہلانے کے مستحق ہیں۔ صرف یہ ہی نہیں بلکہ مرزائی اپنے مذہب کے بانی کو مسیح موعود، نبی آخر زمان، رودر گوپال، کرشن اور نہ جانے کیا کیا مانتے ہیں اور اس کی ذات کو تمام نبیوں، رسولوں اور جملہ ادیان کی برگزیدہ ہستیوں سے برتر اور بہتر سمجھتے ہیں۔ اس لحاظ سے وہ اپنے آپ کو دوسری ملتوں سے الگ یکسر نئی ملت خیال کرتے ہیں۔ لیکن مسلمانوں کو دھوکا دینے کے لئے اور خود کو ٦
مسلمان ظاہر کر کے دنیوی فائدے حاصل کرنے کے لئے وہ اپنے کو مسلمانوں کا ہی ایک فرقہ یا ایک جماعت ظاہر کرنے لگتے ہیں۔ ہمارا یہ دعویٰ کہ مرزائی اپنے عقائد کے رو سے اپنے آپ کو مسلمانوں سے جداگانہ ملت سمجھ رہے ہیں اور اسی بنیادی عقیدہ کی بناء پر اپنی مذہبی اور سیاسی تنظیم کر رہے ہیں۔ خود ان کے اکابر کے دعوؤں اور قولوں سے ظاہر ہے۔ جن میں سے چند ایک ہم برسبیل تذکرہ ذیل میں درج کئے دیتے ہیں۔
- ١...... ”حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے منہ سے نکلے ہوئے الفاظ میرے
کانوں میں گونج رہے ہیں۔ آپ نے فرمایا کہ یہ غلط ہے کہ دوسرے لوگوں سے ہمارا اختلاف صرف وفات مسیح یا اور چند مسائل میں ہے۔ آپ نے فرمایا اللہ تعالیٰ کی ذات رسول کریمﷺ، قرآن، نماز، روزہ، حج، زکوٰۃ۔ غرضیکہ آپ نے تفصیل سے بتایا کہ ایک ایک چیز میں ان سے اختلاف ہے۔“
(خطبہ میاں محمود احمد مندرجہ الفضل ج ١٩ نمبر ١٣، مورخہ ٣٠؍ جولائی ١٩٣١ء)
- ٢...... ”کیا مسیح ناصری نے اپنے پیروں کو یہود یہود سے الگ نہیں کیا۔ کیا وہ
انبیاء جن کی سوانح کا علم ہم تک پہنچا ہے اور ہمیں ان کے ساتھ جماعتیں بھی نظر آتی ہیں۔ انہوں نے اپنی ان جماعتوں کو غیروں سے الگ نہیں کردیا۔ ہر ایک شخص کو ماننا پڑے گا کہ بیشک کیا ہے۔ پس اگر مرزا قادیانی نے بھی جو کہ نبی اور رسول ہیں۔ اپنی جماعت کو منہاج نبوت کے مطابق غیروں سے علیحدہ کردیا تو نئی اور انوکھی بات کون سی ہے۔“
(الفضل ج ٥ نمبر ٦٩،٧٠، ص ٣، مورخہ ٢٣، ٢٧؍ فروری ١٩١٨ء)
- ٣...... ”ہمارا فرض ہے کہ غیر احمدیوں کو مسلمان نہ سمجھیں اور ان کے پیچھے نماز نہ
پڑھیں ۔ کیونکہ ہمارے نزدیک وہ خدائے تعالیٰ کے ایک نبی کے منکر ہیں۔ یہ دین کا معاملہ ہے۔ اس میں کسی کا اپنا اختیار نہیں کہ کچھ کر سکے۔“
(انوار خلافت ص ٩٠، مصنفہ مرزا محمود احمد)
- ٤...... ”غیر احمدیوں سے ہماری نمازیں الگ کی گئیں۔ ان کو لڑکیاں دینا حرام
قرار دیا گیا۔ ان کے جنازے پڑھنے سے روکا گیا۔ اب باقی کیا رہ گیا جو ہم ان کے ساتھ مل کر کر سکتے ہیں۔ دو قسم کے تعلقات ہوتے ہیں۔ ایک دینی اور دوسرا دنیوی۔ دینی تعلق کا سب سے بڑا ذریعہ عبادت کا اکھٹا ہونا ہے اور دنیوی تعلقات کا بھاری ذریعہ رشتہ و ناطہ ہے۔ سو یہ دونوں ہمارے لئے حرام قرار دیئے گئے...... غرض ہر ایک طریق سے ہم کو حضرت مسیح موعود نے غیروں سے الگ کیا ہے۔“
(کلمۃ الفصل ص ١٦٩، مصنفہ بشیر احمد قادیانی)
٧
ہمارا اعتراض اس بات پر نہیں کہ مرزائی اپنے آپ کو کیوں مسلمانوں سے علیحدہ ملت سمجھ رہے ہیں؟ ان کا یہ اعتقاد ان کو مبارک ہو اور ہم جانتے ہیں کہ حضرت ختمی مرتبت محمد مصطفیٰ ﷺ (ان پر ہماری جانیں اور ہمارے ماں باپ قربان ہیں) کی بعثت کے بعد نبوت و رسالت کے کسی مدعی کے دعویٰ پر ایمان رکھنے والے لوگ مسلمانوں میں سے نہیں ہو سکتے۔ لیکن ہمیں اس پر دکھ ہے کہ یہ لوگ بوقت ضرورت اپنے آپ کو امت مسلمہ کا ایک فرقہ یا مسلمانوں کی ایک جماعت کیوں ظاہر کرنے لگتے ہیں اور اپنے اس منافقانہ طرز عمل سے بے خبر اور بھولے بھالے مسلمانوں کو فریب کیوں دیتے ہیں؟
تیرہویں اور چودھویں صدی ہجری کے مسیلمہ کذاب مرزا غلام احمد قادیانی کی یہ امت جس پر مسلمانوں سے کسی قسم کا دینی یا دنیوی تعلق رکھنا حرام ہے۔ مصیبت اور ضرورت کے وقت امت مسلمہ کے آغوش میں پناہ لینے کی کوشش کیوں کرتی ہے؟ اور امت مسلمہ کی پناہ میں آنے کے بعد عقرب کی دم کی طرح اس امت پر نیش زنی کیوں جاری رکھتی ہے؟ مرزائیوں کی متذکرہ صدر ذہنیت اور ان کے محولہ بالا عقائد کے ساتھ ان کا اپنے آپ کو مسلمانوں کے سواد اعظم کا ایک حصہ ظاہر کرنا منافقت اور عیاری نہیں تو اور کیا ہے؟ مرزائیت کا سارا لٹریچر مسلمانوں کے خلاف منافرت انگیزی اور انبیائے کرام علیہم السلام اور صلحائے امت کے ہتک آمیز تذکار سے بھرا پڑا ہے۔ ہم برسبیل تذکرہ بھی غلاظت کے ان انباروں کی نمائش نہیں کر سکتے۔ جو مرزائیوں کے بدزبان متنبی نے اپنی تصنیفات میں ذخیرہ کر رکھے ہیں۔ جس قوم کی بنیادیں ہی مسلمانوں کے خلاف منافرت و مغایرت کے جذبے کی خشت و گل سے استوار کی گئی ہوں۔ اس کا مسلمانوں میں مسلمانوں کی طرح گھل مل کر رہنا کس حد تک صحیح، جائز اور قابل برداشت سمجھا جا سکتا ہے؟ تاہم یہ ایک ٹھوس حقیقت ہے کہ پاکستان کی اسلامی مملکت میں اس قسم کی خطرناک ذہنیت رکھنے والی ایک جماعت موجود ہے جو دینی معتقدات کے لحاظ سے مسلمان کہلانے کے مستحق نہیں اور اپنے آپ کو مسلمانوں سے الگ ایک نئے دین کے پیروؤں کی جماعت سمجھ رہی ہے۔ لیکن اس کے ساتھ ہی پناہ لینے کے لئے نوکریاں اور عہدے حاصل کرنے کے لئے، ناجائز الاٹ منٹیں کرانے کے لئے دنیوی اور سیاسی فوائد حاصل کرنے کے لئے اور مسلمانوں کو دھوکہ دینے کے لئے بوقت ضرورت اپنے آپ کو مسلمانوں میں سے ظاہر کرنے لگتی ہے۔ ظاہر ہے کہ مرزائیوں کی یہ منافقانہ روش مسلمانوں اور مرزائیوں کے درمیان جذبات و حسیات کی تلخی اور کشیدگی کو نہ صرف جاری رکھے گی۔ بلکہ ترقی دیتی چلی جائے گی۔ لہٰذا دین مرزائیت کے پیروؤں کو سب سے پہلے اپنے مذہبی
٨
معتقدات کا معاملہ صاف کر لینا چاہئے اور دجل وتلبیس منافقت، تاویل اور فریب استدلال کے تمام ہتھکنڈوں کو بالائے طاق رکھ کر جنہیں وہ اپنی امت کے ظہور کے وقت سے لے کر استعمال کرتے چلے آرہے ہیں۔ واضح اور معین الفاظ میں اعلان کر دینا چاہئے کہ وہ کیا ہیں اور کیا بن کر پاکستان میں رہنا چاہتے ہیں؟ اگر وہ مرزا غلام احمد قادیانی کی نبوت ورسالت پر ایمان رکھتے ہوئے مسلمانوں سے الگ ایک قوم بن کر رہنا چاہتے ہیں تو انہیں صاف طور پر اپنی اس خواہش کا اعلان کر دینا چاہئے تاکہ پاکستان کے جمہور اور پاکستان کے آئین وقانون کے نزدیک ان کا مقام معین ہو جائے۔ اگر وہ مسلمانوں ہی کا ایک فرقہ یا ایک جماعت بن کر رہنے کے خواہاں ہیں تو انہیں اپنے ان عقائد باطلہ سے دست برداری کا کھلم کھلا اعلان کر دینا چاہئے جن کی انہیں مسلمان کہلانے کی خاطر طرح طرح کی تاویلیں کرنی پڑتی ہیں۔
٣...... مغشوش ذہنیت اور سیاسی منافقت
گذشتہ صحبت میں ہم دینی اور مذہبی حیثیت سے مرزائیوں کی منافقانہ روش پر روشنی ڈال چکے ہیں اور دکھا چکے ہیں کہ اس جماعت کے افراد مذہبی عقیدے کی رو سے اپنے آپ کو مسلمانوں سے ایک الگ قوم سمجھنے پر مجبور ہیں۔ لیکن دنیوی فوائد کے حصول کی خاطر، حسب ضرورت خود کو مسلمانوں ہی کے سواد اعظم کا ایک فرقہ یا ان میں کی ایک جماعت ظاہر کرنے لگتے ہیں۔ لہٰذا مذہبی حیثیت سے پاکستان میں ان کے مقام وموقف کی تعیین خود ان کے لئے اور مسلمانوں کے لئے ضروری ہے۔ تاکہ حدیں متعین ہو جائیں تو اس مسلسل اور متواتر کشمکش اور بحث وجدال میں کمی واقع ہو جائے جو مرزائیت کی پیدائش کے دن سے مسلمانوں اور مرزائیوں کے درمیان جاری ہے اور دونوں قوموں کے لئے اذیت کا موجب بنی رہی ہے۔ آج ہم سیاسی اعتبار سے اس فرقہ کی مغشوش ذہنیت اور منافقت پر روشنی ڈالتے ہیں۔ جس کی طرف حال ہی میں ملک کے مقتدر اخبارات ایک اچٹتی ہوئی نگاہ ڈالنے پر مجبور ہو گئے تھے۔
مخفی نہ رہے کہ دین مرزائیت پچھلے دور کی برطانوی حکومت کی سیاسی مصلحتوں کا ”خود کاشتہ پودا“ ہے۔ جس کا اعتراف خود اس مذہب کے بانی مرزا غلام احمد قادیانی نے اپنی کتاب میں کیا ہے۔ پچھلی صدی کے دوران میں برطانیہ کی استعمار خواہانہ سیاست کو جس نے زوال پذیر اسلامی ملکوں کو یونین جیک کے زیر سایہ لانے کی زبردست مہم جاری کر رکھی تھی۔ اسلامی ملکوں میں جابجا مسلمانوں کے جذبہ جہاد کا مقابلہ درپیش تھا اور برطانیہ کے وزیراعظم مسٹر گلیڈسٹون نے پارلیمنٹ میں قرآن کریم کو اپنے ہاتھ میں لے کر یہ کہا تھا کہ جب تک یہ کتاب موجود ہے اس
٩
وقت تک برطانیہ کو اسلامی ملکوں پر تسلط جمانے میں دقتیں پیش آتی رہیں گی۔ اس دور میں انگریز ہندوستان میں مسلمانوں کی سیاسی طاقت کو پامال کرنے میں کامیاب ہو چکا تھا اور پٹے ہوئے اور سہمے ہوئے مسلمان دل سے فرنگی حکومت کے استیلاء کو برا محسوس کر رہے تھے۔ مسلمانوں کے صحیح الخیال علماء ہندوستان کو دارالحرب قرار دے رہے تھے۔ ان حالات میں مرزا غلام احمد قادیانی نے مہدی، مسیح موعود، نبی اور رسول ہونے کے دعوؤں کے ساتھ مسلمانوں میں سے ایک ایسی جماعت تیار کرنے کا کام شروع کر دیا جو برطانیہ کی حکومت کو منجانب اللہ آیہ رحمت سمجھے۔ اس کی غیر مشروط وفاداری کا دم بھرے۔ جہاد بالسیف کے عقیدہ کو مذہبِ باطل ٹھہرا کر حکام وقت کی خوشنودی حاصل کرے۔ کیونکہ مسلمانوں کا یہی وہ جذبہ تھا جو دنیا میں ہر جگہ برطانیہ کی استعماری سیاست کی راہ میں مزاحم ہو رہا تھا اور مسلمانوں کے اسی جذبہ سے برطانیہ کی حکومت کو ہندوستان میں خطرہ تھا کہ کہیں یہ جذبہ ملک میں پھر ١٨٥٧ء کے جہادِ آزادی کی سی کیفیت پیدا نہ کر دے۔ مرزائیت کے بانی مرزا غلام احمد قادیانی نے مسلمانوں کے ان عقائد پر ضرب لگانے کے لئے سرکارِ انگریزی کی وفاداری اور جہاد بالسیف کے عقیدے کی تنسیخ کے حق میں اتنا لٹریچر تصنیف کیا جس سے خود اس کے قول کے مطابق پچاس الماریاں بھر سکتی تھیں۔ اس نے اپنی تحریروں میں بڑے فخر سے دعویٰ کیا ہے کہ میں نے جہاد کے عقیدہ کی تردید میں اشتہارات چھپوا چھپوا کر روم، شام اور دوسرے اسلامی ملکوں میں بھجوائے۔ صرف یہی نہیں بلکہ مرزا غلام احمد قادیانی نے دین مرزائیت کی بنیاد رکھنے کے بعد اپنے مریدوں کو جو پہلی فہرست شائع کی اس کی تمہید میں صاف طور پر یہ لکھ دیا کہ سرکار عالیہ اور اس کے حکام اپنے ان وفادار بندوں کا خاص خیال رکھے اور ان پر ہر طریق سے مہربان رہے۔ مرزا غلام احمد قادیانی نے سرکارِ انگریزی کے سائے کو اپنی نبوت ورسالت کے لئے ربوہ یعنی جائے پناہ قرار دیا اور خدمتِ سرکار کے جوش میں نبی ہونے کا دعویٰ رکھنے کے باوجود جاسوسی اور مخبری کی رضاکارانہ خدمات سرانجام دیں۔ جو اس کی حسب ذیل تحریر سے ظاہر ہیں جو اس کی کتاب (تبلیغ رسالت ج ٥، مجموعہ اشتہارات ج ٢ ص ٢٢٧) میں اب بھی موجود ہے۔
”قابلِ توجہ گورنمنٹ از طرف مہتمم کاروبار تجویز تعطیل جمعہ مرزا غلام احمد قادیان ضلع گورداسپور پنجاب۔
چونکہ قرین مصلحت ہے کہ سرکار انگریزی کی خیر خواہی کے لئے ایسے نافہم مسلمانوں کے نام بھی نقشہ جات میں درج کئے جائیں جو در پردہ اپنے دلوں میں برٹش انڈیا کو دارالحرب قرار دیتے ہیں اور ایک چھپی ہوئی بغاوت کو اپنے دلوں میں رکھ کر اسی اندرونی بیماری کی وجہ سے فرضیت
١٠
جمعہ سے منکر ہو کر اس کی تعطیل سے گریز کرتے ہیں۔ لہذا یہ نقشہ اسی غرض کے لئے تجویز کیا گیا کہ تا اس میں ان ناحق شناس لوگوں کے نام محفوظ رہیں کہ جو ایسے باغیانہ سرشت کے آدمی ہیں۔ اگرچہ گورنمنٹ کی خوش قسمتی سے برٹش انڈیا میں مسلمانوں میں ایسے لوگ معلوم ہو سکتے ہیں جن کے نہایت مخفی ارادے گورنمنٹ کے برخلاف ہیں۔ اس لئے ہم نے اپنی محسن گورنمنٹ کی پولیٹکل خیر خواہی کی نسبت اس مبارک تقریب پر یہ چاہا کہ جہاں تک ممکن ہو ان شریر لوگوں کے نام ضبط کئے جائیں۔ جو اپنے عقیدے سے اپنے مفسدانہ حالت کو ثابت کرتے ہیں۔ کیونکہ جمعہ کی تعطیل کی تقریب پر ان لوگوں کا شناخت کرنا ایسا آسان ہے کہ اس کی مانند ہمارے ہاتھ میں کوئی بھی ذریعہ نہیں۔ وجہ یہ کہ جو ایک ایسا شخص ہو جو اپنی نادانی اور جہالت سے برٹش انڈیا کو دارالحرب قرار دیتا ہے۔ وہ جمعہ کی فرضیت سے ضرور منکر ہوگا اور اسی علامت سے شناخت کیا جائے گا کہ وہ درحقیقت اسی عقیدہ کا آدمی ہے۔ لیکن ہم گورنمنٹ میں بہ ادب اطلاع کرتے ہیں کہ ایسے نقشے ایک پالیٹکل راز کی طرح اس وقت تک ہمارے پاس محفوظ رہیں گے۔ جب تک گورنمنٹ ہم سے طلب کرے۔ ہم امید رکھتے ہیں کہ ہماری گورنمنٹ حکیم مزاج بھی ان نقشوں کو ایک ملکی راز کی طرح اپنے کسی دفتر میں محفوظ رکھے گی اور بالفعل یہ نقشے جن میں ایسے لوگوں کے نام درج ہیں گورنمنٹ میں نہیں بھیجے جائیں گے۔ صرف اطلاع دہی کے طور پر ان سے ایک سادہ نقشہ چھپا ہوا جس پر کوئی نام درج نہیں۔ فقط یہی مضمون درج ہے۔ ہمراہ درخواست بھیجا جاتا ہے اور ایسے لوگوں کے نام معہ پتہ ونشان یہ ہیں۔ نمبر شمار ...... نام معہ لقب وعہدہ ...... سکونت ...... ضلع ...... کیفیت ۔“
٤......مغشوش ذہنیت اور سیاسی منافقت
قسط ماسبق میں ہم اجمالی طور پر بیان کر چکے ہیں کہ دین مرزا برطانیہ کی استعماری سیاست کا ایک خودکاشتہ پودا ہے۔ یعنی ایک ایسی سیاسی تحریک ہے جو انگریزوں کے مقبوضہ ہندوستان میں ایک ایسی مذہبی جماعت پیدا کرنے کے لئے شروع کی گئی جو سرکار برطانیہ کی وفاداری کو اپنا جزو ایمان سمجھے۔ غیر اسلامی حکومت یا نامسلم حکمرانوں کے استیلاء کو جائز قرار دے اور ایک ایسے ملک کو شرعی اصطلاح میں دارالحرب سمجھنے سے عقیدہ کا بطلان کرے۔ جس پر کوئی غیر مسلم قوم اپنی طاقت وقوت کے بل پر قابض ہو گئی ہو۔ انگریز حکمرانوں کی قہاریت اور جباریت کو مسلمان از روئے عقیدہ دینی اپنے حق میں اللہ کا بھیجا ہوا عذاب سمجھتے تھے اور ان کی رضا کارانہ اطاعت کو گناہ متصور کرتے تھے۔ انگریز حکمران مسلمانوں کے اس جذبے اور عقیدے سے پوری
١١
طرح آگاہ تھے۔ لہٰذا انہوں نے اس سرزمین میں ایک ایسا پیغمبر کھڑا کر دیا جو انگریزوں کو ”اولى الامر منکم“ کے تحت میں لاکر ان کی اطاعت کو مذہباً فرض قرار دینے لگا اور ان کے پاس ہندوستان کو دارالحرب سمجھنے والے مسلمانوں کی مخبری کرنے لگا۔ جس طرح باغبان اپنے خودکاشتہ پودے کی حفاظت و آبیاری میں بڑے اہتمام سے کام لیتا ہے۔ اسی طرح سرکار انگریزی نے دین مرزائیت کو فروغ دینے کے لئے مرزائی جماعت کی پرورش کرنا اپنی سیاسی مصلحتوں کے لئے ضروری سمجھا اور اس دین کے پیروؤں سے مخبری، جاسوسی اور حکومت کے ساتھ جذبہ وفاداری کی نشر و اشاعت کا کام لیتی رہی۔ ١٩١٩ء میں جب مولانا محمد علیؒ جوہر نے خلافت اسلامیہ ترکی کی شکست سے متاثر ہو کر مسلمانوں کو انگریزوں کی قابوچیانہ گرفت سے چھڑانے اور ارضِ مقدس کو عیسائیوں کے ہاتھ میں جانے سے بچانے کے لئے تحریک احیائے خلافت کے نام سے مسلمانوں کو بیدار کرنے کی مہم شروع کی اور عام مسلمان مولانا محمد علیؒ اور دیگر زعمائے اسلام کی دعوت و نفیر پر کان دھر کر انگریزی حکومت سے ترک موالات کرنے پر آمادہ ہو گئے تو مرزائی جماعت نے اس دور کے وائسرائے کے سامنے سپاسنامہ پیش کرتے ہوئے سرکار انگریزی کو یقین دلایا کہ مسلمانوں کے اس جہاد آزادی کا مقابلہ کرنے کے لئے آپ کے خادم موجود ہیں جو سرکار انگریزی کی وفاداری کو مذہبی عقیدہ کے رو سے اپنا فرض سمجھتے ہیں۔ چوہدری ظفر اللہ خان کا سیاسی عروج جسے پاکستان کی حکومت نے اپنا وزیر امور خارجہ بنا رکھا ہے۔ اس نقطہ سے شروع ہوتا ہے۔ کیونکہ مذکورہ بالا سپاسنامہ اسی چوہدری نے پڑھا تھا۔ جو اس زمانہ میں ایک معمولی پایہ کا وکیل تھا۔ اس سپاسنامہ کی بدولت وہ برطانوی سرکار کی نظروں میں چڑھ گیا۔ جس نے اسے اتنا نوازا اتنا نوازا کہ آج پاکستان کی حکومت نے بھی اسے اپنا وزیر خارجہ بنا رکھا ہے۔ خیر یہ تو ایک جملہ معترضہ تھا۔ ہم یہ کہہ رہے تھے کہ انگریزی حکومت کے عہد میں مرزائیوں کی سیاست کا جو انداز تھا وہ اوپر مذکور ہوا۔ اس پس منظر کے ساتھ مرزائیت کو نئے حالات سے دوچار ہونا پڑا۔ کیونکہ عوامی تحریکوں نے سرکار انگریزی کو مجبور کر دیا کہ وہ ہندوستان کے ہندوؤں اور مسلمانوں کے مطالبۂ آزادی کے سامنے سر جھکاتے ہوئے بھارت اور پاکستان کی دو آزاد مملکتیں پیدا ہونے دے۔ یہاں سے بھارت اور پاکستان کے متعلق مرزائیوں کی منافقانہ سیاست کا آغاز ہوا۔ جب تک مرزائی جماعت کے اکابر کو اس امر کا یقین نہ ہو گیا کہ پاکستان بن کر رہے گا۔ اس وقت تک وہ ہندوستان کو اکھنڈ رکھنے کے حامی بنے رہے۔ بلکہ مرزائیوں کے دین کا موجودہ پیشوا مرزا بشیر الدین محمود اپنے پیروؤں کو حسب
١٢
معمول اپنے رؤیاؤں اور الہاموں کے بل پر یہ نکتہ سمجھاتا رہا ہے کہ اکھنڈ ہندوستان ”احمدیت“ کے فروغ کے لئے اللہ کی دی ہوئی ودیعت میں ہے۔ اس لئے مرزائیوں کو چاہئے کہ وہ اس معاملہ میں ہندوؤں اور عیسائیوں کے ساتھ مشارکت کرتے ہوئے ہندوستان کو اکھنڈ رکھنے کی کوشش جاری رکھیں۔ لیکن جب اس نے دیکھا کہ پاکستان تو بن کر رہے گا اور ہندو اور سکھ ان کی مشارکت کو قبول نہ کریں گے تو مرزا محمود نے یہ کہنا شروع کر دیا کہ ہم پاکستان کی حمایت اس لئے کرتے ہیں کہ وہ مسلمانوں کا حق ہے۔ اس مقام پر یہ نقطہ نوٹ کر لینے کے قابل ہے کہ اکھنڈ ہندوستان کی حمایت کا جذبہ تو مرزا محمود کے رؤیا اور الہام پر مبنی تھا۔ لیکن پاکستان کی حمایت کا اظہار محض واقعات کی رفتار کا نتیجہ ہے۔ جس کے لئے مرزائیوں کے پاس کوئی رؤیائی یا الہامی سند موجود نہیں۔
پاکستان میں اس مغشوش ذہنیت کے ساتھ داخل ہونے کے بعد مرزائیوں نے مسلمانوں کے بھیس میں ڈاکوؤں کی ایک منظم جماعت کی طرح اس لوٹ کھسوٹ میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ جو قیام پاکستان کے ابتدائی اضطرابی دور میں عام ہو گئی تھی۔ جائز اور ناجائز الاٹ منٹوں کے بل پر انہوں نے جلد ہی اپنی حالت درست کر لی اور مرزا محمود نے پنجاب کے انگریز گورنر سر فرانسس موڈی سے دریائے چناب کے کنارے ”ربوہ“ کے نام سے مرزائیت کا نیا مرکز بنانے کے لئے کوڑیوں کے مول زمین کا ایک قطعہ خرید لیا اور نوآبادی کی بنیاد رکھ دی۔ ادھر قائد اعظم نے جنہیں عمر بھر مرزائیوں کی منافقانہ سیاست اور چوہدری ظفر اللہ خان کی پست ذہنیت کے مطالعہ کا موقعہ نہ ملا تھا۔ غالباً انگریزوں کی سفارش پر چوہدری ظفر اللہ خان کو پاکستان کا وزیر خارجہ بنالیا۔ ان کیفیات نے مرزائیوں کے حوصلے بہت بلند کر دیئے اور وہ اپنے آپ کو پاکستان کے مستقبل کا حکمران سمجھنے لگے۔ ان کی تنظیمی سرگرمیوں کا رخ ان دو مقاصد کی طرف منعطف ہو گیا کہ اپنی جماعت کو پاکستان کا حکمران طبقہ بنالیں اور مرزائیت کے مرکز قادیان کو ہر ذریعہ سے حاصل کرنے کی کوشش جاری رکھیں۔ پاکستان سے وفاداری پاکستان کی خیر خواہی اور پاکستان کا استحکام ان کے سیاسی عزائم میں نہ کبھی پہلے داخل تھا نہ اب داخل ہوا۔ غرض مرزائی پاکستان میں آباد ہونے اور اس کے سایہ عاطفت میں ہر قسم کی آسائشیں اور رعایتیں حاصل کرنے کے باوجود سیاسی اغراض و مقاصد میں ملت اسلامیہ کے سواد اعظم سے اسی طرح الگ کھڑے ہیں جس طرح وہ مذہبی حیثیت سے الگ ہیں۔ سیاسی اعتبار سے ان کا لائحہ عمل یہ ہے کہ اپنی تنظیمی طاقت کے بل پر پاکستان کا حکومتی اقتدار حاصل کر لیا جائے اور قادیان کی بستی کو ہر ذریعہ سے حاصل کرنے کی کوشش کی جائے۔ خواہ اس کی خاطر پاکستان کے کسی بڑے سے بڑے مفاد کو یا پاکستان کو قربان ہی کیوں
١٣
نہ کرنا پڑے اس نکتہ کی وضاحت ہم آئندہ اقساط میں کریں گے۔
٥...... اکھنڈ ہندوستان اور قادیان
پاکستان کے متعلق مرزائیوں کی مغشوش ذہنیت اور سیاسی منافقت تو اسی امر سے ظاہر ہے کہ ان کا موجودہ پیشوا اپنے ایک رویا کی بناء پر اکھنڈ ہندوستان کو احمدیت کے فروغ کے لئے خدا کی دی ہوئی ایک وسیع بیس سمجھتا تھا اور شاید اب بھی سمجھ رہا ہو۔ کیونکہ اس نے پہلے اس خیال یا عقیدہ کی تردید اب تک نہیں کی۔ صرف اتنا کہا کہ اپریل ١٩٤٧ء تک میں ذاتی طور پر اکھنڈ ہندوستان کا حامی تھا۔ لیکن مئی ١٩٤٧ء میں پاکستان کے نصب العین کا حامی بن گیا۔ اس کے علاوہ قادیان کی بستی کے ساتھ ان کی مذہبی عقیدت کا معاملہ بھی سیاسی حیثیت سے مرزائیوں کی ذہنیت کو مغشوش رکھنے کی غمازی کر رہا ہے۔ کیونکہ مرزائی قادیان کو اسی طرح اپنا قبلہ و کعبہ، مقدس مقام اور متبرک سمجھتے ہیں۔ جس طرح مسلمان مکہ معظمہ، مدینہ منورہ اور القدس کو سمجھتے ہیں اور مرزائیوں کا یہ متبرک مقام بھارت کے حصے میں جا چکا ہے۔ جس کے تحفظ کے لئے وہ ہمیشہ بھارت کی حکومت کے دست نگر اور محتاج رہیں گے۔ مرزائیت کے مرکز کا بھارت کی ہندو حکومت کے قبضے میں ہونا اس امر کی دلیل ہے کہ مرزائیوں کی مذہبی جان ہندوؤں کی مٹھی میں ہے اور اس جان کی خاطر مرزائی بھارت کی ہندو حکومت کی ہر طرح خوشامد اور چاپلوسی کرتے رہیں گے۔ اس سلسلہ میں یہ امر ہمیشہ پیش نظر رکھنے کے قابل ہے کہ چوہدری ظفر اللہ خان مرزائی نے پاکستان کا وزیر خارجہ بننے کے بعد بھارت کے ارباب حکومت سے قادیان سے سکھوں کے متبرک مقام ننکانہ کا تبادلہ کرنے کی بات چیت کی تھی۔ جس کا حال انہی دنوں بھارت کے اخباروں نے شائع کر دیا تھا۔ چوہدری ظفر اللہ خان کا مدعا یہ تھا کہ ننکانہ صاحب کا قصبہ بھارت کو دینے کے لئے پاکستان کی مملکت کا ایک معتدبہ ٹکڑا بھارت کے حوالے کر دیا جائے تاکہ مرزائی قادیان کی بستی کو حاصل کر لیں۔ مرزائیوں کی یہ خطرناک تجویز حکومت پاکستان کے کسی ہوشمند رکن کی بروقت فراست کے باعث عملی صورت اختیار نہ کرسکی۔ لیکن چوہدری ظفر اللہ خان نے ننکانہ میں سکھ سیواداروں کی ایک جماعت کو سکھوں کے متبرک مقامات کی دیکھ بھال کی اجازت دے کر بھارت کی حکومت سے پاکستان کے لئے نہیں اور پاکستان کے مسلمانوں کے لئے نہیں بلکہ اپنی مرزائی قوم کے لئے یہ حق حاصل کر لیا کہ مرزائی درویشوں کی ایک تعداد قادیان میں بود و باش رکھے۔
پاکستان کے وزیر خارجہ چوہدری ظفر اللہ خان کے متذکرہ صدر کارنامے کے بعد یہ حقیقت الم نشرح ہو جاتی ہے کہ مرزائی جماعت کے لوگ قادیان کی خاطر پاکستان کا بڑے سے بڑا
١٤
مفاد بھی قربان کرنے کے لئے آمادہ ہیں۔ چنانچہ ہر مرزائی نے اپنے پیشوا کو اس مضمون کا تحریری حلف نامہ دے رکھا ہے کہ وہ قادیان کے حصول کے لئے ہر قسم کی کوشش اور جدوجہد کرتا رہے گا۔ اس عہد نامہ کے الفاظ بصورت ذیل ہیں۔
ہمارا عہد
”میں خدا تعالیٰ کو حاضر ناظر جان کر اس بات کا اقرار کرتا ہوں کہ خدا تعالیٰ نے قادیان کو احمدیہ جماعت کا مرکز مقرر فرمایا ہے۔ میں اس حکم کو پورا کرنے کے لئے ہر قسم کی کوشش اور جدوجہد کرتا رہوں گا اور اس مقصد کو کبھی بھی اپنی نظروں سے اوجھل نہیں ہونے دوں گا اور میں اپنے نفس کو اور اپنے بیوی بچوں کو اور اگر خدا کی مشیت یہی ہو تو اولاد کی اولاد کو ہمیشہ اس بات کے لئے تیار کرتا رہوں گا کہ وہ قادیان کے حصول کے لئے ہر چھوٹی اور بڑی قربانی کرنے کے لئے تیار رہیں۔ اے خدا مجھے اس عہد پر قائم رہنے اور اس کو پورا کرنے کی توفیق عطاء فرما۔“
بظاہر یہ عہد نامہ بے ضرر سا نظر آتا ہے اور کہا جائے گا کہ اگر مرزائی اپنے دینی مرکز کو دوبارہ حاصل کرنے کی خواہش رکھتے ہیں اور اس کے لئے ہر قسم کی کوشش جاری رکھنے کا عہد کرتے ہیں تو اس میں حرج کی کون سی بات ہے۔ ہمارے نزدیک اس میں پاکستان کے لئے اور پاکستان کے مسلمانوں کے لئے حرج کی بات یہ ہے کہ قادیان کے حصول کے لئے ہر قسم کی کوشش کرنے کے ضمن میں ایسی کوششیں بھی آجاتی ہیں جو پاکستان اور مسلمانان پاکستان کے مفاد کو خطرہ میں ڈالنے والی ہوں۔ مثلاً مرزائی ایک وقت ننکانہ صاحب سے قادیان کا تبادلہ کرنے کے لئے آمادہ ہو گئے تھے۔ جیسا کہ ہم اوپر بیان کر آئے ہیں اور کسی وقت وہ قادیان حاصل کرنے کے لئے ہندوؤں سے ہندوستان کو پھر سے اکھنڈ بنانے کی جدوجہد کا سودا کر سکتے ہیں یا بھارت سرکار سے قادیان کی واپسی کا وعدہ لے کر پاکستان میں بھارت کا ففتھ کالم بننے کے لئے آمادہ ہو سکتے ہیں۔ ہمارے نزدیک مرزائیوں کی یہ ذہنیت وکیفیت اس قابل نہیں کہ اسے سرسری طور پر نظر انداز کر دیا جائے۔ ان کے دینی مرکز کی یہ حیثیت اور ان کا خود پاکستان میں رہنا ایسی کیفیات ہیں جو انہیں ہمیشہ پاکستان کا وفادار شہری بننے سے روکتی رہیں گی اور پاکستان کے متعلق ان کی مغشوش ذہنیت ہمیشہ انہیں پاکستان کے متعلق سیاسی منافقت کی روش جاری رکھنے پر آمادہ کرتی رہے گی۔
٦...... متوازی نظام حکومت
گزشتہ اقساط میں ہم روشن شواہد اور بین دلائل سے دکھا چکے ہیں کہ مرزائیت مذہبی اعتبار سے دجل وتلبیس کے ایسے کھیلوں کا دوسرا نام ہے جو تاویلات اور فریب استدلال کے بل پر
١٥
رچائے جارہے ہیں۔ اس کے معتقدات، دین اسلام کے بنیادی معتقدات سے یکسر متغائر اور مسلمانوں کے لئے شرعاً وایماناً نا قابل برداشت ہیں۔ ہم یہ بھی ثابت کر چکے ہیں کہ مرزائی از روئے عقیدہ مذہبی اپنے آپ کو مسلمانوں سے ایک الگ قوم سمجھتے ہیں۔ لیکن دنیوی فوائد حاصل کرنے کے لئے پہلے بھی اپنے آپ کو مسلمانوں کے سوادِ اعظم کا ایک فرقہ ظاہر کرنے کی منافقانہ کوشش کرتے رہے ہیں اور اب بھی کرتے رہتے ہیں۔ اس کے بعد ہم سیاسی اعتبار سے مرزائیت کے پس منظر پر روشنی ڈالتے ہوئے اس امر کو واضح کر چکے ہیں کہ پاکستان کے متعلق مرزائیوں کی ذہنیت مغشوش اور ملت اسلامیہ کی سیاسی رفتار کے متعلق ان کی روش صریح منافقت پر مبنی ہے۔ سیاسی اعتبار سے وہ من حیث الجماعت مسلمانوں سے الگ اغراض ومقاصد رکھتے ہیں جو کسی نہ کسی وقت مسلمانوں کے مقاصد سے متصادم ہو کر ہمیں نقصان پہنچانے کا موجب بن سکتے ہیں۔ آج ہم ان کی سیاسی تنظیم کا تجزیہ کر رہے ہیں۔ جو مذہبی تنظیم کے نام پر چلائی جا رہی ہے اور جو پاکستان میں اس کے جمہوری نظام حکومت کے مقابلے میں متوازی نظام حکومت قائم کر چکی ہے یا کر رہی ہے۔
امیر المومنین
اس سلسلے میں سب سے پہلی اور سب سے زیادہ اہم حقیقت یہ ہے کہ مرزائیوں نے اپنے مذہبی پیشوا اور اپنے سیاسی لیڈر کو ”امیرالمومنین“ کا لقب دے رکھا ہے۔ مسلمانوں کی روایات میں ”امیر المومنین“ کا لقب اس بلند ترین سیاسی مقام کا مظہر ہے جو عصر حاضر کے جمہوری نظام ہائے حکومت میں صدر جمہوریت کو حاصل ہوتا ہے۔ ”امیر المومنین“ کی اصطلاح خالصتاً سیاسی اصطلاح ہے۔ جس کا استعمال صرف اسی شخصیت کے لئے مخصوص ہونا چاہئے جسے مسلمانوں نے خود منتخب کر کے ”امیر“ یعنی طے شدہ حکومتی اختیارات کا حامل ومجاز بنا دیا ہو۔ مرزائیوں کی طرف سے اپنے پیشوا کے لئے ”امیر المومنین“ کے لقب کا استعمال ہی ان کے اس معہود ذہنی کو ظاہر کر رہا ہے۔ وہ پاکستان میں جمہور پاکستان کے مشورے کے بغیر اس کا ایک امیر بنائے بیٹھے ہیں اور ملت پاکستان کے نظام حکومت کو باطل سمجھتے ہیں۔ کسی اسلامی مملکت میں دو ہی اقسام کے شخص اپنے آپ کو امیر المومنین کہلا سکتے ہیں۔ ایک وہ جن کے دماغوں میں اختلال ہو اور اختلال دماغی کے باعث وہ یہ سمجھ رہے ہوں کہ اس جلیل القدر عہدہ پر فائز ہونے کے حقدار وہ ہیں لیکن واقعات نے انہیں ایسا بننے نہ دیا۔ دوسرے وہ لوگ جو ملک کا امر یعنی حکومتی اقتدار غصب کرنے کے خواہشمند ہوں اور اس کے لئے ساز باز و تیاری اور کوشش کرنے کے سلسلہ میں پہلے قدم کے طور پر حکومت مؤقتہ قائم کر کے خود امیر المومنین بن بیٹھیں۔ ظاہر ہے کہ مرزا بشیر الدین محمود حواس باختہ لوگوں کے زمرے میں سے
١٦
نہیں بلکہ ایک عیار آدمی ہے جو پاکستان میں ”امیر المومنین“ بننے کے خواب دیکھ رہا ہے اور مقصد کے حصول کے لئے جمہور پاکستان کے بنائے ہوئے نظام حکومت کے مقابلے میں اپنا الگ نظام حکومت قائم کر رہا ہے تا کہ وقت آنے پر اپنے مؤقتہ نظام حکومت کو نافذ کر سکے۔ مرزا بشیر الدین محمود کا امیر المومنین کہلانا تو کئی اعتبارات سے قابل اعتراض بات ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ اگر وہ امیر المرزائین یا امیر الاحمدیین کا لقب بھی اختیار کرتا تو جمہور پاکستان اور حکومت پاکستان کے لئے یہ دیکھنا ضروری تھا کہ آیا یہ شخص متوازی نظام حکومت چلانے کا مرتکب تو نہیں ہو رہا اور امیر کہلانے کے متعلق اس کی خواہش سیاسی بغاوت کے ارادوں کی حامل تو نہیں؟
مرزائی تنظیم کا رنگ و روغن
صرف یہی نہیں کہ مرزائی اپنے پیشوا کو امیر المومنین کے لقب سے پکارتے ہیں۔ بلکہ مرزائیوں کے اس امیر نے ایک قسم کا متوازی نظام حکومت بھی قائم کر رکھا ہے۔ جس میں حکومتی نظام کی طرح الگ الگ شعبے اور نظارتیں موجود ہیں۔ نظارت امور داخلہ، نظارت امور خارجہ، نظارت نشر واشاعت، نظارت امور عامہ، نظارت امور مذہبی وغیرہ کے نام سے مرزائیوں کی اس امارت کے باقاعدہ شعبے کام کر رہے ہیں اور تمام مرزائی بدرجہ اوّل اپنے امیر المومنین اور اپنے نظام حکومت کے تابع فرمان ہیں اور ملکی نظام حکومت کے کاموں میں اسی کے حکم اور اسی کی اجازت سے حصہ لیتے ہیں۔ ان میں سے کوئی ملکی وزیر بنا لیا جاتا ہے یا کسی بڑے عہدے پر فائز کیا جاتا ہے۔ فوج میں بھرتی ہوتا ہے یا کوئی اور ملازمت اختیار کرتا ہے تو معہودِ ذہنی کے ساتھ ایسا کرتا ہے کہ وہ سب سے پہلے اپنے امیر المومنین کا تابع فرمان ہے۔ جس نے اسے مرزائیوں کے متوازی نظام حکومت کے مقاصد کی پیش برد کی غرض سے ایسا کرنے کی اجازت دے رکھی ہے۔ یہ بات کہ مرزائی جماعت کے لوگ بدرجہ اوّل اپنے امیر المومنین کے نظام حکومت کے تابع فرمان ہیں۔ اس امر سے ظاہر ہے کہ مرزائیوں کی حکومت اس شخص کو اپنی تنظیم سے خارج کر دیتی ہے۔ جو امیر المومنین کی اجازت کے بغیر یا اس کے حکم کی پروا نہ کرتے ہوئے پاکستان کی کوئی ملازمت اختیار کر لیتا ہے۔ اس حقیقت کے شواہد مرزائیوں کے سرکاری گزٹ ”الفضل“ کی ورق گردانی سے بہت مل سکتے ہیں۔ مرزائیوں کے اس معہودِ ذہنی کا ثبوت حضرت علامہ اقبالؒ کے ایک بیان سے بھی ملتا ہے جو انہوں نے ١٩٣٣ء میں کشمیر کمیٹی کی صدارت سے مستعفی ہونے کے بعد دیا۔ اس بیان میں حضرت علامہ اقبالؒ اپنے استعفیٰ کے وجوہ دیتے ہوئے لکھتے ہیں۔ بدقسمتی سے کمیٹی میں کچھ ایسے لوگ بھی ہیں جو اپنے مذہبی فرقہ کے امیر کے سوا کسی دوسرے کا اتباع کرنا سرے سے گناہ سمجھتے ہیں۔ چنانچہ احمدی
١٧
وکلاء میں سے ایک صاحب نے جو میر پور کے مقدمات کی پیروی کر رہے تھے حال ہی میں اپنے ایک بیان میں واضح طور پر اس خیال کا اظہار کر دیا۔ انہوں نے صاف طور پر کہا کہ وہ کسی کشمیر کمیٹی کو نہیں مانتے اور جو کچھ انہوں نے یا ان کے ساتھیوں نے اس ضمن میں کیا وہ ان کے امیر کے حکم کی تعمیل تھی۔ مجھے اعتراف ہے کہ میں نے ان کے اس بیان سے اندازہ لگایا کہ تمام احمدی حضرات کا یہی خیال ہوگا اور اس طرح میرے نزدیک کشمیر کمیٹی کا مستقبل مشکوک ہوگیا۔
٧...... متوازی نظام حکومت
حضرت علامہ اقبالؒ کا متذکرۃ الصدر بیان (جو ہم سابقہ قسط میں درج کر چکے ہیں) اس امر کا روشن ثبوت ہے کہ مرزائی جہاں کہیں ہو اور جس نظام کار میں کام کر رہا ہو وہاں بھی اپنے ہی امیر کے حکم پر چلنا ضروری سمجھتا ہے اور وہیں سے احکام حاصل کرتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ مرزائی جماعت کے افراد کشمیر کمیٹی میں ہوں یا مسلم لیگ میں ملکی سرکاری ملازمت میں ہوں یا پاکستان کی افواج میں قانون ساز اسمبلیوں میں ہوں یا مجلس وزراء میں ہر جگہ اپنے فرقہ کے امیر المومنین کے تابع فرمان ہیں اور اس دوسرے نظام کی اطاعت وفاداری کو جس میں وہ منافقانہ ذہنیت کے ساتھ منسلک ہوجاتے ہیں اپنے اس نظام حکومت کی اطاعت ووفاداری کا تابع خیال کرتے ہیں جو انہوں نے کسی قدر ظاہر اور کسی قدر مخفی حیثیت سے قائم کر رکھا ہے۔ مرزائیوں کے اس ذہنی تحفظ کا نتیجہ یہ ہے کہ مرزائی افسر اپنی سرکاری حیثیت کو مرزائیت کے فروغ اور اپنے متوازی نظام حکومت کے مقاصد کی پیش برد کے لئے استعمال کرتے رہتے ہیں۔ پاکستان کے مرزائی ملازمین کے اس ذہنی تحفظ کے بہت سے ثبوت مہیا کئے جاسکتے ہیں۔ لیکن ہم برسبیل تذکرہ اپنے دعوے کی تائید میں صرف چند مثالیں پیش کرنے پر اکتفاء کریں گے۔
چوہدری ظفر اللہ خان کی منافقت
سب سے پہلے پاکستان کے وزیر خارجہ چوہدری ظفر اللہ خان ہی کو لیجئے۔ اس شخص پر مرحوم ومغفور قائد اعظمؒ نے احسان کیا اور اسے کسی قسم کی عوامی تائید کے بغیر پاکستان کا وزیر امور خارجہ بنالیا تاکہ اقوام متحدہ کی بحثوں میں حکومت پاکستان کے زاویہ نگاہ کی وکالت کا وظیفہ ادا کرے۔ راقم الحروف چوہدری ظفر اللہ خان کی قانونی قابلیتوں اور وکیلانہ صلاحیتوں کا بھی چنداں قائل نہیں اور سمجھتا ہے کہ اس کام کے لئے چوہدری ظفر اللہ خان کی بہ نسبت بہتر صلاحیتوں کا کوئی اور شخص مقرر کیا جاسکتا تھا۔ جو اس کام کو احسن طریق سے سرانجام دے سکتا۔ لیکن قائد اعظمؒ مرحوم کی نگاہ انتخاب چوہدری ظفر اللہ خان پر پڑی۔ چاہئے تو یہ تھا کہ یہ مرزائی وکیل وزارت خارجہ کے منصب
١٨
پرفائز ہو جانے کے بعد اپنی سرگرمیوں کو پاکستان کی خدمت کے لئے وقف کر دیتا۔ جس کے خزانے سے وہ بھاری بھر کم تنخواہ اور الاؤنس لے رہا ہے۔ لیکن اس نے اپنے بلند منصب سے ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے باہر کے ملکوں پر یہ ظاہر کرنے کی کوشش شروع کر دی کہ پاکستان میں ایک امیر المؤمنین بھی ہے۔ جس کے حکم سے وہ یو۔این۔او کی بحثوں میں پاکستان کے زاویہ نگاہ کی وکالت کرنے پر مامور ہے اور اس کی اجازت کے بغیر وہ عرب ممالک کی مجلس متحدہ کو اس خواہش کو پورا نہیں کر سکتا کہ انجمن اقوام متحدہ کے دوائر کی تعطیل کے دنوں میں بھی وہیں ٹھہرے اور بین الاقوامی سیاسی حلقوں میں فلسطین کے مسائل کے متعلق عرب ملکوں اور پاکستان کے زاویہ نگاہ کی وضاحت اور نشر و اشاعت کرے۔ چوہدری ظفر اللہ خان کی اس عیارانہ چال سے متاثر ہو کر فلسطین کے عربوں کی انجمن نے مرزائیوں کے امیر المؤمنین کی خدمت میں اس مضمون کی درخواست بزبان برق بھیجی کہ آپ پاکستان کے وزیر خارجہ کو یو۔این۔او کے کام کے تعطل کے دوران میں واپس نہ بلائیں۔ بلکہ اسے یہیں رہنے کا حکم صادر فرمائیں۔ چوہدری ظفر اللہ خان کی یہ حرکت یقیناً اس قابل تھی کہ پاکستان کی حکومت اس سے اس کا جواب طلب کرتی۔ اگر پاکستان میں کوئی حقیقی امیر المؤمنین ہوتا تو اپنی حکومت کے اس وزیر خارجہ سے بھی جواب طلب کرتا اور اس خود ساختہ ”امیر المؤمنین“ سے بھی پوچھ لیتا جو لاہور کی ایک الاٹ شدہ بلڈنگ میں بیٹھ کر حکومت پاکستان کے وزیر خارجہ کے نام احکام صادر کرنے کی جرات کا مرتکب ہو رہا ہے۔ لیکن ہمیں افسوس ہے کہ ابھی پاکستان کا بنیادی دستور حکومت وضع ہو کر نافذ نہیں ہوا اور اس کے موجودہ ارباب حکومت بیدار مغز نہیں۔ جو پاکستان کے متعلق عزائم بد رکھنے والے اور جمہور کے برپا کئے ہوئے نظام حکومت کے سائے میں ایک متوازی نظام حکومت چلانے والے لوگوں کی حرکات کا نوٹس لیں۔
ڈپٹی سیکرٹری اور ڈپٹی کسٹوڈین
مرزائیت کے فروغ کے لئے سرکاری حیثیت کے استعمال کی ایک افسوس ناک مثال حال ہی میں حکومت پاکستان کے ڈپٹی سیکرٹری شیخ اعجاز احمد اور کراچی کے ڈپٹی کسٹوڈین چوہدری محمد عبداللہ خان برادر اصغر چوہدری ظفر اللہ خان نے پیش کر دکھائی۔ ٢٠ فروری کو مرزائیوں نے ملک کے متعدد مقامات پر ”یوم مصلح موعود“ منایا۔ اس روز مرزائیوں نے کراچی کے خالق دینا ہال میں بھی ایک تبلیغی جلسہ منعقد کیا۔ اس جلسہ کی صدارت شیخ اعجاز احمد ڈپٹی سیکرٹری فوڈ ڈیپارٹمنٹ گورنمنٹ پاکستان نے کی اور اس میں چوہدری عبداللہ خان ڈپٹی کسٹوڈین کراچی نے بھی تقریر کی۔ اپنے مذہبی تبلیغی جلسے میں سرکاری اور حکومت کے بڑے عہدے داروں کی شمولیت
١٩
تو ایک حد تک جائز اور قابل عفو سمجھی جاسکتی ہے۔ لیکن اس سلسلہ میں مرزائیوں نے کراچی میں جو قد آدم پوسٹر شائع کئے ان میں جلی قلم سے ان سرکاری عہدے داروں کے نام اور عہدے خصوصیت کے ساتھ درج کر دیئے گئے اور ان دونوں سرکاری عہدے داروں نے جلسہ میں نمایاں اور ذمہ دارانہ حیثیت سے شرکت کی۔ تاکہ لوگوں پر یہ ظاہر ہو کہ حکومت پاکستان سرکاری حیثیت کے استعمال کی اس حرکت پر کراچی کے اخبار ”نوروز“ نے احتجاج کی صدا بلند کی۔ لیکن مرزائی ایسی احتجاجوں کو کب خاطر میں لاتے ہیں۔ ان کے متوازی نظام حکومت کی ہدایات یہی ہیں کہ پہلے عہدے حاصل کرو اور پاکستان کے نظام ملازمت سرکار میں منسلک ہو جاؤ۔ پھر اپنی سرکاری حیثیت کو مرزائیت کے فروغ کے لئے استعمال کرو۔ تاکہ کسی وقت مرزائیوں کا متوازی نظام حکومت جمہور پاکستان کے از روئے آئین و قانون قائم کئے ہوئے نظام حکومت کو برطرف کر کے اس کی جگہ خود لے سکے۔
ملازمت کے لئے اجازت کی شرط
متذکرہ مثالیں یہ ظاہر کرنے کے لئے کافی سے زیادہ ہیں کہ جو مرزائی پاکستان کے سرکاری عہدوں پر فائز ہیں یا سرکاری ملازمتوں میں کام کر رہے ہیں وہ اپنے آپ کو اس نظام حکومت کا ملازم نہیں سمجھتے۔ جس کے خزانہ میں سے وہ تنخواہیں لے رہے ہیں۔ بلکہ وہ اپنے آپ کو اس متوازی نظام حکومت کا ملازم خیال کرتے ہیں۔ جو مرزائیوں نے الگ قائم کر رکھا ہے۔ جس کا ایک امیر المؤمنین بھی ہے۔ نظارتیں بھی ہیں محکمے اور شعبے بھی قائم ہیں۔ یہ نظام حکومت اپنی رعایا میں نظم وضبط قائم رکھنے کے لئے اس قدر متعصب ہے کہ اگر کوئی مرزائی اس نظام حکومت سے اجازت لئے بغیر کوئی سرکاری ملازمت قبول کر لیتا ہے تو اسے جماعت سے خارج کر دیا جاتا ہے اور اس کو مقاطعہ کی سزا دے دی جاتی ہے۔ ایسے حکم کی ایک مثال ہم ذیل میں درج کر رہے ہیں۔ جو مرزائیوں کے سرکاری گزٹ (الفضل ج ٢٨ نمبر ١٨٣ ص٤، مورخہ ١٢/اگست ١٩٣٩ء) پر شائع ہوئی۔ وھو ھذا!
چونکہ شریف احمد گجراتی واقف زندگی ابن ماسٹر محمد الدین صاحب لائبریرین تعلیم الاسلام کالج لاہور بغیر اجازت متعلقہ دفتر والٹن سکول لاہور میں سٹیشن ماسٹری کی ٹریننگ کے لئے داخل ہو گئے تھے۔ ان کے اس فعل پر حضور نے انہیں اخراج از جماعت اور مقاطعہ کی سزا دی ہے۔ احباب کی آگاہی کے لئے اعلان کیا جاتا ہے۔ نافذ: امور عامہ سلسلہ عالیہ احمدیہ!
٢٠
پاکستان کے ارباب حکومت وقیادت کی غفلت اور کم نگاہی کا نتیجہ ہے کہ مرزائی جماعت نے پاکستان میں آ کر پاکستان کے نظام حکمرانی کے مقابلے میں اپنا ایک متوازی نظام قائم کرلیا اور پاکستان کی سرکار کے مرزائی ملازم جو ہر صیغہ اور ہر شعبہ میں بڑے بڑے عہدوں اور کلیدی اسامیوں پر فائز نظر آتے ہیں۔ پاکستانی سرکار کے بجائے مرزائیوں کے اپنے نظام حکومت کے ظاہری اور مخفی احکام پر چلنے لگے۔ پاکستان کے وزیر خارجہ نے تو علی الاعلان بیرونی اسلامی ملکوں پر یہ ظاہر کرنا چاہا بلکہ ظاہر کر دیا کہ پاکستان میں ایک ”امیر المؤمنین“ بھی ہے جس کے حکم اور ہدایت سے وہ پاکستان کی وزارت امور خارجہ کے وظائف ادا کر رہا ہے۔ ظاہر ہے کہ عربوں کی انجمن نے چوہدری ظفر اللہ خان سے لیک سکسس میں قیام کرنے اور مسئلہ فلسطین کے متعلق بین الاقوامی سیاسی حلقوں میں عربوں کے زاویہ نگاہ کی وضاحت کرنے کی جو درخواست کی تھی وہ ان کی پرائیویٹ یا مرزائیانہ حیثیت سے نہ تھی۔ بلکہ ان کی درخواست پاکستان کے اس وزیر امور خارجہ سے تھی جو انجمن اقوام متحدہ کے دوائر میں پاکستان کی نمائندگی کرنے پر مامور تھا۔ اس درخواست کے جواب میں چوہدری ظفر اللہ خان کا یہ کہنا کہ مجھے ٹھہرانے کی ضرورت ہے تو حکومت پاکستان سے نہیں۔ بلکہ امیر المؤمنین سے استدعا کرو۔ مرزا بشیر الدین محمود کو پاکستان کا امیر المؤمنین ظاہر کرنے کی کوشش نہیں تو اور کیا ہے۔
فرقان بٹالین
اور لیجئے مرزائیوں کا متوازی نظام حکومت صرف امیر المؤمنین اور محکمے شعبے اور نظارتیں ہی نہیں رکھتا بلکہ اس نے باقاعدہ فوج کی بنیاد بھی رکھ لی ہے۔ چنانچہ آزاد کشمیر کی افواج میں مرزائیوں کی ایک الگ پلٹن ”فرقان بٹالین“ کے نام سے قائم ہو چکی ہے۔ جس کو آزاد کشمیر کی حکومت سے اسلحہ، گولی بارود، وردی اور راشن مہیا کیا جاتا ہے۔ کہا جائے گا کہ اگر مرزائی اپنے شوق سے کشمیر کے جہاد آزادی میں حصہ لے رہے ہیں تو ان کی الگ بٹالین بنا دینے میں حرج کی بات ہی کیا ہے؟ لیکن سوال یہ ہے کہ آزاد کشمیر کی حکومت نے مرزائی مجاہدین کو الگ بٹالین بنانے کی اجازت کس بناء پر دی۔ کیا مرزائی دوسرے مجاہدین کی طرح آزاد کشمیر کی افواج میں عام لوگوں کی طرح بھرتی نہیں ہو سکتے تھے؟ ہو سکتے تھے۔ لیکن مرزائیوں کے متوازی نظام حکومت کو اپنی جداگانہ تربیت یافتہ فوج تیار کرنا مقصود تھا۔ اس لئے مرزائی اکابر نے آزاد کشمیر کی کم نظر حکومت سے فرقان بٹالین بنانے کی اجازت حاصل کر لی تا کہ مرزائی جوان جنگی تربیت حاصل کر لیں اور جب مرزا بشیر الدین محمود کو کوئی نیا خواب آئے یا وہ کوئی نیا رؤیا دیکھنے کا دعویٰ کر بیٹھے تو یہ فوج
٢١
مرزائیوں کے متوازی نظام حکومت کے کام آ سکے۔
صیغہ راز یا خفیہ امور
مرزائیوں کے متوازی نظام حکومت میں مختلف محکمے اور نظارتیں اور دارالقضاء یعنی فیصلے صادر کرنے والے ادارے ہی نہیں بلکہ ان کے ہاں دوسرے حکومتی نظاموں کی طرح ”راز“ کا ایک صیغہ بھی ہے۔ چنانچہ ”الفضل“ جنوری کے صفحات ٤،٣ پر مقامی امیروں (مرزائی گورنروں) اور مقامی جماعتوں کے پریذیڈنٹوں وغیرہ کے وظائف واختیارات کے متعلق جو نظام نامہ شائع کیا گیا اس میں حسب ذیل قواعد کی شقیں بھی موجود ہیں۔
- ٥....... ایسی صورت (یعنی ویٹو پاور کے استعمال کی صورت) میں مقامی امیر کا یہ
فرض ہوگا کہ وہ ایک باقاعدہ رجسٹر میں جو سلسلہ کی ملکیت تصور ہوگا اپنے اختلاف کی وجوہ ضبط تحریر میں لائے یا اگر ان وجوہ کا اس رجسٹر میں لکھنا سلسلہ کے مفاد کے خلاف سمجھے تو کم از کم یہ نوٹ کرے کہ میں ایسی وجوہ کی بناء پر جن کا اس جگہ ذکر کرنا سلسلہ کے مفاد کے خلاف ہے۔ کثرت رائے کے خلاف فیصلہ کرتا ہوں۔
- ٦....... لیکن اس مؤخر الذکر صورت میں مقامی امیر کا یہ فرض ہوگا کہ اپنے
اختلاف کی وجوہ تحریر کر کے بصیغہ راز مرکز میں ارسال کرے۔
مرزائیوں کے نظام حکومت کے ان قواعد سے یہ بات ظاہر ہوگئی کہ اس مذہبی جماعت کی بعض باتیں بصیغہ راز بھی ہیں۔ جن کی روداد کو وہ رجسٹر میں درج کرنا خلاف مصلحت سمجھتے ہیں۔ یہ سب مرزائیوں کی تنظیم کی ظاہری علامات ہیں جو ثابت کر رہی ہیں کہ اس جماعت کے لوگوں نے ایک متوازی نظام حکومت قائم کر رکھا ہے اور مرزائی جہاں بھی ہے۔ اس نظام حکومت کا تابع اور وفادار ہے اور اس کی ترقی اور تحکیم کے لئے کام کر رہا ہے۔
قادیان کا ایک نظارہ
مرزائیوں کے رجحانات، عزائم اور اعمال کو پوری طرح جانچنے اور سمجھنے کے لئے ایک نگاہ ان کے ان مصدقہ کوائف پر بھی ڈال لی جائے جو زمانہ قبل از تقسیم کے ایک عدالتی فیصلہ میں ثبت ہوچکے ہیں۔ تو بے جا نہ ہوگا۔ گورداسپور کے سیشن جج نے سید عطاء اللہ شاہ بخاری کے مشہور مقدمہ کا فیصلہ لکھتے ہوئے جس میں فاضل جج نے شاہ صاحب موصوف کو مرزائیوں کے خلاف منافرت پھیلانے کے جرم کا مرتکب ٹھہرایا۔ مرزائیوں کی تنظیم پر بھی تبصرہ کیا۔ جس کے ضمن میں اس نے لکھا۔
٢٢
”قادیانی مقابلتاً محفوظ تھے۔ اس حالت نے ان میں متمردانہ غرور پیدا کر دیا۔ انہوں نے اپنے دلائل دوسروں سے منوانے اور اپنی جماعت کو ترقی دینے کے لئے ایسے حربوں کا استعمال شروع کیا جنہیں ناپسندیدہ کہا جائے گا۔ جن لوگوں نے قادیانیوں کی جماعت میں شامل ہونے سے انکار کیا۔ انہیں مقاطعہ قادیان سے اخراج اور بعض اوقات اس سے بھی مکروہ تر مصائب کی دھمکیاں دے کر دہشت انگیزی کی فضاء پیدا کی۔ بلکہ بسا اوقات انہوں نے ان دھمکیوں کو عملی جامہ پہنا کر اپنی جماعت کے استحکام کی کوشش کی۔ قادیان میں رضا کاروں کا ایک دستہ (والنٹیئر کور) مرتب ہوا اور اس کی ترتیب کا مقصد غالباً یہ تھا کہ قادیان میں ’لمن الملک الیوم‘ کا نعرہ بلند کرنے کے لئے طاقت پیدا کی جائے۔ انہوں نے عدالتی اختیارات بھی اپنے ہاتھ میں لے لئے۔ دیوانی اور فوجداری مقدمات کی سماعت کی دیوانی مقدمات میں ڈگریاں صادر کیں اور ان کی تعمیل کرائی گئی۔ کئی اشخاص کو قادیان سے نکالا گیا۔ یہ قصہ یہیں ختم نہیں ہوتا۔ بلکہ قادیانیوں کے خلاف کھلے ہوئے طور پر الزام لگایا گیا ہے کہ انہوں نے مکانوں کو تباہ کیا۔ جلایا اور قتل تک کے مرتکب ہوئے۔ اس خیال سے کہ کہیں ان الزامات کو احرار کے تخیل ہی کا نتیجہ نہ سمجھ لیا جائے۔ میں چند ایسی مثالیں بیان کر دینا چاہتا ہوں جو مقدمہ کی مثل میں درج ہیں۔“ یہاں چند مثالیں بیان کرنے کے بعد جو عدالت کی رائے میں پایہ ثبات کو پہنچ چکی تھیں اور مسل پر لائی جاچکی تھیں فاضل جج نے لکھا۔
”یہ افسوس ناک واقعات اس بات کی منہ بولتی شہادت ہیں کہ قادیان میں قانون کا احترام بالکل اٹھ گیا تھا۔ آتشزنی اور قتل تک کے واقعات ہوئے تھے۔ مرزا نے کروڑوں مسلمانوں کو جو اس کے ہم عقیدہ نہ تھے شدید دشنام طرازی کا نشانہ بنایا۔ اس کی تصانیف ایک اسقف اعظم کے اخلاق کا انوکھا مظاہرہ ہیں۔ جو صرف نبوت کا مدعی نہ تھا۔ بلکہ خدا کا برگزیدہ انسان اور مسیح ثانی ہونے کا مدعی تھا۔ معلوم ہوتا ہے کہ (قادیانیت کے مقابلہ میں) حکام غیر معمولی حد تک مفلوج ہو چکے تھے۔ دینی اور دنیوی معاملات میں مرزا کے حکم کے خلاف کبھی آواز بلند نہیں ہوئی۔ مقامی افسروں کے پاس کئی مرتبہ شکایت پیش ہوئی۔ لیکن وہ اس کے انسداد سے قاصر رہے۔ مثل پر کچھ اور شکایات بھی ہیں۔ لیکن ان کے مضمون کا حوالہ دینا غیر ضروری ہے۔ اس مقدمہ کے سلسلہ میں صرف یہ بیان کر دینا کافی ہے کہ قادیان میں جو ستم رانی کا دور دورہ ہونے کے متعلق نہایت واضح الزامات عائد کئے گئے ۔ لیکن معلوم ہوتا ہے کہ قطعاً کوئی توجہ نہ ہوئی۔“
قصہ مختصر متوازی نظام حکومت بنا کر چلنا مرزائیوں کی پرانی عادت ہے۔ سوال یہ ہے
٢٣
کہ سرکار انگریزی نے تو اپنے خودکاشتہ پودے کی ترقی کے لئے مرزائیوں کو متوازی نظام حکومت بنانے کی کھلی چھٹی دے رکھی تھی ۔ کیا پاکستان کی حکومت بھی اس امر کو گوارا کرسکتی ہے کہ مرزائی اس ملک میں بیٹھ کر متوازی نظام حکومت چلائیں ۔ جو کسی وقت پاکستان کی صحیح حکومت اور پاکستان کے عوام کے لئے طرح طرح کی مشکلات پیدا کرنے کا موجب بن سکتا ہے اور بن کر رہے گا۔
٩...... پاکستان کے لئے ایک مستقل خطرہ
ہم نے اقساط ماسبق میں ”مرزائیت“ کے خدوخال کا جو نقشہ قارئین کرام کے سامنے پیش کیا ہے اور مرزائی جماعت کی تنظیم کا جو تجزیہ کر دکھایا ہے وہ ٹھوس حقائق پر مبنی ہے اور ایسا کرتے وقت ہم نے کسی قسم کی مبالغہ آرائی ، داستان سرائی اور متعصبانہ قیاس آرائی سے کام نہیں لیا۔ ہر دعویٰ کے ساتھ ہم نے محض برسبیل تذکرہ خود مرزائی اکابر کے اعمال واقوال کے ناقابل تردید حوالے پیش کر دیئے ہیں۔ انہی بین اور روشن شواہد کی بناء پر ہم نے وہ نتائج اخذ کئے ہیں جو مرزائیت اور مرزائیوں کی تنظیم کے خطرناک رجحانات وعزائم کا پتہ دے رہے ہیں۔ اپنی صحافتی ذمہ داریوں کے پیش نظر ہمارا فرض منصبی یہ ہے کہ جمہور پاکستان اور اس کے ارباب فکر و قیادت نیز ارکان اعضائے حکومت کو اس کیفیت کی طرف توجہ دلائیں جو پاکستان میں دجل و تلبیس اور فریب و مکاری کے پردوں کے پیچھے نشو و نما پا رہی ہے اور اس کا بروقت انسداد نہ کیا گیا تو کسی دن پاکستان کو کئی قسم کے خطرات سے دوچار کرنے اور پاکستان کے باشندوں کو بے طرح مبتلائے آلام بنانے کا موجب بن سکتی ہے۔ بلاشبہ ہم مرزا بشیر الدین محمود یا اس کے باپ کی طرح یہ پیشین گوئی کسی وحی ، الہام ، رؤیا یا خواب کی بناء پر نہیں کر رہے ہیں۔ بلکہ اس بصیرت کی بناء پر جو اللہ تعالیٰ اپنے عام بندوں کو عطاء فرماتا ہے۔ ایسا کہہ رہے ہیں لیکن ہم کہے دیتے ہیں کہ مرزا غلام احمد کی الہامی پیش گوئیاں اور مرزا بشیر الدین محمود کی رؤیائی تعبیریں تو غلط ہوسکتی ہیں۔ لیکن ہمارا یہ پیش اندازہ حرف بحرف صحیح ثابت ہوکر رہے گا کہ مرزائیت مسلمانان پاکستان کو بھاری تکالیف اور ہمت آزما آلام میں مبتلا کرکے رہے گی۔ ان تکالیف و آلام سے بچنے کا واحد طریق یہ ہے کہ مرزائیت کی حدود ابھی سے متعین کر دی جائیں اور مرزائیوں کی تنظیم پر سرکاری اور غیر سرکاری حیثیت سے کڑی نگاہ رکھی جائے۔ ورنہ اس طرف سے غافل رہنے کا خمیازہ مسلمانوں کو بھاری نقصانات کی صورت میں بھگتنا پڑے گا۔ وما علینا الا البلاغ !
حرف مطلب
اقساط ماسبق میں ہم نے مرزائیت کا جو تجزیہ کیا ہے اس کا لب لباب بصورت ذیل
٢٤
بیان کیا جاسکتا ہے۔
- ١...... مرزائی مسلمانوں سے الگ ایک اور قوم ہیں۔ جس کا بنیادی اعتقادی نقطہ
مرزا غلام احمد قادیانی کی نبوت ورسالت پر ایمان لانا ہے۔ لیکن یہ قوم دنیوی فوائد حاصل کرنے کے لئے بوقت ضرورت اپنے آپ کو مسلمانوں ہی کے متعدد فرقوں کا ایک فرقہ ظاہر کرنے لگتی ہے جو فروعی اختلافات یا بزرگان دین سے نسبتی امتیاز ظاہر کرنے کے باعث بن چکے ہیں۔
- ٢...... دین مرزائیت کے پیرو مسلمانوں کی دینی اور ملی اصطلاحات ان کے صحیح
محل کے علاوہ اپنے اکابر کے لئے بالاصرار استعمال کر کے دین اسلام اور عامۃ المسلمین کی غیرت کا استہزاء کرتے ہیں اور اس طرح مسلسل اشتعال انگیزی کے مرتکب ہوتے رہتے ہیں۔ مرزا غلام احمد کے لئے صلوٰۃ وسلام مرزا کے ساتھیوں کو ”صحابہ کرام“ کا لقب دے کر ان کے لئے ”رضی اللہ تعالیٰ عنہ“ کی دعاء کا استعمال مرزا قادیانی کی بیویوں کے لئے ”امہات المؤمنین“ کا لقب۔ مرزا قادیانی کی بیٹی کے لئے ”سیدۃ النساء“ کا لقب۔ اپنے پیشوا کے لئے ”امیر المؤمنین“ کا لقب اور مرزائیوں کے متوازی نظام حکومت کے لئے ”خلافت“ کی اصطلاح بلا تکلف استعمال کر رہے ہیں۔ ان کی یہ حرکتیں پاکستان کی مسلمان اکثریت کے لئے ناقابل برداشت ہیں اور ان کے استعمال پر مرزائیوں کا اصرار ایک قسم کی شرارت ہے جو فساد انگیزی کی نیت سے مسلسل کی جا رہی ہے۔
- ٣...... پاکستان کی اسلامی مملکت کے متعلق مرزائیوں کی ذہنیت مغشوش ہے۔ وہ
اکھنڈ ہندوستان کو ”احمدیت“ کے فروغ کے لئے خدا کی دی ہوئی وسیع بیس سمجھنے پر مجبور ہیں اور پاکستان کی حمایت محض منافقت کے انداز میں کر رہے ہیں۔ قادیان حاصل کرنے کی خاطر وہ بھارت کی حکومت سے ہر قسم کا سودا کرنے کے لئے تیار ہیں اور اس مقصد کی خاطر پاکستان کے ہر مفاد کو بلکہ خود پاکستان کو بھی قربان کرنے کے لئے آمادہ ہیں۔
- ٤...... مرزائیت کے دینی اور دنیوی مقاصد حاصل کرنے کے لئے انہوں نے
ایسی تنظیم استوار کر رکھی ہے جو صریح طور پر پاکستان کے نظام حکومت کے مقابلے میں مرزائیوں کا متوازی نظام حکومت بن چکی ہے۔
- ٥...... پاکستانی سرکار کے مرزائی ملازم اپنے آپ کو پاکستان کے نظام حکومت کا
تابع فرمان نہیں سمجھتے۔ بلکہ اپنے ”امیر المؤمنین“ کی حکومت کا تابع خیال کرتے ہیں۔ ان کی یہ ذہنیت پاکستان کے تحفظ کے لئے بدرجہ غایت خطرناک ہے۔
٢٥
یہ وہ کیفیات ہیں جن کے موجود ہونے سے کسی کو خواہ وہ کتنا بڑا مرزائی یا ان کا دوست یا ان کا تنخواہ دار ہو۔ مجال انکار نہیں ہو سکتی اور ان کی کیفیات کی طرف مسلمانوں کے دینی عالم، سیاسی مفکر، واعظ، خطیب اور مقرر۔ نیز مسلمانوں کے اخبارات کم وبیش توجہ مبذول کرتے رہے ہیں۔ لیکن پاکستان کے ارباب حکومت و قیادت کو دینی حیثیت کے ان فتنوں اور سیاسی نوعیت کی ان شرارتوں کی طرف توجہ مبذول کرنے کی فرصت ہی نہیں ملتی۔ جو پاکستان کے خرمنوں کے لئے برق خرمن کی طرح پرورش پارہی ہے۔ ان کیفیات و خطرات سے پاکستان کو بچانے کی ایک صورت تو یہ ہے کہ مرزائی جماعت کے لوگ اپنی دینی پوزیشن اور اپنے سیاسی عزائم پر از سر نو غور کریں اور ان تمام لغویتوں کو جو انہوں نے انگریزوں کے عہد میں مسلمانوں کے دینی معتقدات کی تخریب اور ان کی دنیوی حیثیتوں کو نقصان پہنچانے کی نیت سے انگریزوں ہی کی شہ پر اختیار کر رکھی تھیں۔ خود ہی ترک کر کے مسلمان بن جائیں اور مرزا غلام احمد قادیانی اور مرزا بشیر الدین محمود کی ساری خرافات کو دریائے چناب کے پانی میں بہا دیں جس کے کنارے وہ اپنا اپنا مرکز ربوہ کے نام سے تعمیر کر رہے ہیں۔ مرزائے قادیان کی ہفوات واہیہ کو برقرار رکھتے ہوئے حسب ضرورت وحسب موقع ان کی توجیہیں اور تاویلیں کرنے سے یہ گتھی سلجھ نہیں سکتی۔ اگر وہ رشد و ہدایت کی سیدھی راہ اختیار کرنے کے خواہاں ہیں تو انہیں اپنے پرانے قصے انگریزی حکومت کے اقتدار کے ساتھ اسی جگہ دفن کر دینے چاہئیں۔ جہاں زمانے کی رفتار نے انگریزوں کا اقتدار دفن کر دیا ہے۔ کیونکہ ”مرزائیت“ کا ڈھونگ انہی کی خاطر رچایا گیا تھا اور انہی کے حکم و ایما سے رچایا گیا تھا۔ لیکن اگر اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں، ان کی آنکھوں اور ان کے کانوں پر مہریں لگا دی ہیں اور وہ مرزا غلام احمد قادیانی کو انگریز کی سیاست کے بجائے اللہ کا بھیجا ہوا رسول، نبی، مسیح، مہدی، کرشن اور نہ جانے کیا کیا ماننے پر مصر و مقر رہنا ضروری سمجھتے ہیں تو انہیں اپنے آپ کو مسلمانوں میں کا ایک فرقہ ظاہر کرنے کی تلبیسی کوششیں یک قلم ترک کر دینی چاہئیں اور اپنے آپ کو مسلمانوں سے الگ مرزا غلام احمد قادیانی کو اللہ کا رسول ماننے والی ایک قوم قرار دے لینا چاہئے۔ اسی صورت میں مرزائی کہلائیں یا احمدی۔ لیکن ان کو مسلمانوں کی دینی اور ملی مصطلحات استعمال کرنے کا وتیرہ خود ہی ترک کر دینا چاہئے۔ مسلمانوں کی دینی و ملی اصطلاحوں کے بجائے وہ اپنی ہی اصطلاحیں وضع کر لیں اور مرزا کے لئے ”علیہ الصلوٰۃ والسلام“ اور اس کی بیویوں کے لئے ”امہات المومنین“ اس کے ساتھیوں کے لئے ”صحابہ کرام“ اور اس کی بیٹی کے لئے ”سیدۃ النساء“ اور اس کے متعلقین کے لئے ”رضی اللہ تعالیٰ“ کی قبیل کے القاب اور دعائیں استعمال کر کے اسلام کی روایات سے تلعب
٢٦
واستہزاء نہ کیا کریں۔ اس طرح مسلمانوں کے دل دکھا کر انہیں اشتعال نہ دلائیں۔ اس کے ساتھ ہی مرزائیوں کو اپنی وہ بدرجہ غایت بری عادت بھی ترک کرنی پڑے گی۔ جو انہوں نے مرزا غلام احمد قادیانی کے کارخانہ نبوت کو صحیح اور ممکن ثابت کرنے کے لئے انبیاء کرام اور صلحائے عظام کی توہین کی صورت میں اپنے اندر راسخ کر رکھی ہے۔ ایک غیر مسلم قوم بن کر مرزائی لوگ اپنے دین کی تبلیغ اور اپنے دنیوی اور سیاسی حقوق کے تحفظ کے لئے پاکستان کی مسلم اکثریت سے ایسے حقوق حاصل کر سکتے ہیں جو ان کے لئے ضروری ہوں اور ملک کی دوسری غیر مسلم اقلیتوں کو حاصل ہوں۔ لیکن انہیں اپنی ایسی حرکات سے باز آنا پڑے گا۔ جو مسلمانوں کی اکثریت اور پاکستان کی دوسری اقلیتوں کی دل آزاری کا موجب ہیں۔ مرزائیوں کے لئے ضروری ہے کہ وہ ابھی سے اپنی دینی اور دنیوی حیثیت پر از سر نو غور کر لیں۔ کیونکہ پاکستان میں انہیں مسلمانوں کے دین سے استہزاء اور تلعب کرنے اور ان کی دل آزاریاں کر کے ان کے کلیجے چھلنی کرنے کا وہ لائسنس نہیں مل سکتا۔ جو انہیں پچھلے دور کی انگریزی حکومت کے عہد میں حاصل رہا ہے۔
١٠...... تتمہ کلام
راقم الحروف کا خیال تھا کہ مرزا غلام احمد قادیانی کے الہاموں اور مرزا بشیر الدین محمود کے رؤیاؤں کے علی الرغم پاکستان کے بن جانے کے بعد اور مرزائیوں کو پاکستان کے سوا اور کسی جگہ جائے پناہ نہ ملنے کے بعد مرزائی دین کے پیرو خود ہی دین حقہ اسلام اور امت مسلمہ کے متعلق اپنی بیہودہ اور از سر تا پا لغو بلکہ شرارت افروز اور فتنہ پرور روش پر خود ہی غور کر کے مائل بہ اصلاح ہو جائیں گے اور سوچ لیں گے کہ پاکستان کی جمہوری اسلامی مملکت میں بود و باش رکھنے کے لئے ان کو ضروری ہے کہ دینی اور سیاسی حیثیت کی فساد آرائیوں کا وتیرہ ترک کر دیں۔ لیکن مرزائیوں نے بدلے ہوئے حالات میں اپنے مقام، موقف اور مستقبل پر سنجیدگی کے ساتھ غور کرنے کے بجائے پاکستان میں آ کر اپنی مفسدانہ سرگرمیاں تیز تر کر دیں۔ اپنے آپ کو پاکستان کا حکمران بنا لینے کے خواب دیکھنے لگے۔ پنجاب کے فرنگی گورنر فرانس موڈی نے انہیں پاکستان میں اپنا نیا مرکز بنانے کے لئے کوڑیوں کے مول سرکاری زمین دے دی۔ مسلمان مہاجرین کے لئے اس قسم کی کوئی گنجائش آج تک نہیں نکالی گئی۔ الاٹ منٹوں کے سلسلے میں ابتدائی دور میں جو اندھیر مچا اس سے مرزائی افسروں نے خوب ہی فائدہ اٹھایا اور مرزائیوں کو اچھے اچھے مکان اچھے اچھے کارخانے، عمدہ باغات اور بڑی بڑی دکانیں ناجائز طریقوں سے الاٹ کر دیں۔
چوہدری ظفر اللہ خان کو وزیر خارجہ بنالیا گیا تو مرزائیوں کے حوصلے بہت بڑھ گئے اور
٢٧
وہ سمجھنے لگے کہ پاکستان تو ان کے لئے اور ان کے امیر المؤمنین ہی کے لئے بنایا گیا ہے۔ مسلمانوں کو تو خدا نے محض ان کے طفیل اور انہی کے صدقے میں اس لئے بچالیا ہے کہ وہ مرزائیوں کے محکوم بن جائیں اور مرزائیت کے فروغ اور ترقی کے لئے غذا کا کام دیں۔ عامتہ المسلمین کو اور پاکستان کی حکومت کو غافل اور دوسرے معاملات میں الجھا ہوا دیکھ کر مرزائیوں نے اپنے اس متوازی نظام حکومت کو مستحکم بنانے کا عمل شروع کر دیا جو انہوں نے کسی قدر ظاہر اور کسی قدر مخفی طور پر قائم کر رکھا ہے۔ جسے ہم دلائل ساطعہ و براہین قاطعہ سے اوپر ثابت کر آئے ہیں۔ اگر مرزائی اپنی تنظیمی اور جنگی طاقت کی آزمائش کرنے کے لئے سیالکوٹ کا وہ تبلیغی جلسہ منعقد نہ کرتے۔ جس میں چند اضلاع کی مرزائی جمعیتیں مسلح ہو کر اور مسلمانوں کے ساتھ جنگ کرنے کی پوری تیاری کر کے حتیٰ کہ زخمیوں کی مرہم پٹی تک کا انتظام کر کے شامل ہوئی تھیں تو یہ لوگ اندر ہی اندر اپنا کام کرتے رہتے اور مسلمانوں کے اخبارات کی توجہ ابھی چندے اور اس فتنہ کی طرف منعطف نہ ہوتی۔ جو پاکستان کے اندر پاکستان کی تخریب کرنے کے لئے پرورش پا رہا ہے۔ مرزائیوں کا سرکاری گزٹ الفضل اس حقیقت کو تسلیم کر چکا ہے کہ اگر سیالکوٹ کے حکام غفلت سے کام لیتے اور مرزائیوں کے فتنہ آرائی کے ارادوں کے پیش نظر پولیس کی جمعیت کا انتظام نہ کر لیتے تو مرزائی مسلمانوں کی ایسی سرکوبی کر دیتے کہ مرزائیت کی مخالفت کے دروازے ہمیشہ کے لئے بند ہو جاتے۔
قصہ مختصر سیالکوٹ کے ہنگامہ نے جو ١٥؍ جنوری کو رونما ہوا۔ ہمیں اس امر کی ضرورت کا احساس دلا دیا کہ مرزائیوں کی سرگرمیوں اور ان کے ارادوں کا پوری طرح جائزہ لیں اور حسن ظن میں مبتلا نہ رہیں کہ مرزائیوں نے خود ہی اپنے آپ کو سدھارنے کی ضرورت محسوس کر لی ہوگی۔ اس جائزہ کے نتائج ہم نے دلائل و شواہد کے ساتھ گزشتہ نو قسطوں میں عامتہ المسلمین کی خدمت میں پیش کر دیئے ہیں اور ہم سمجھتے ہیں کہ پاکستان کے مستقبل کو آنے والے خطرات سے محفوظ رکھنے کے لئے ضروری ہے کہ مرزائی خود ہی اپنے مقام اور موقف کی تعیین و تحدید کر لیں اور پاکستان کے وفادار، شریف اور امن پسند باشندوں کی طرح اس کے سایہ عاطفت میں زندگی بسر کرتے رہیں۔ ایسا کرنے کی دو واضح صورتیں ہم قسط نمبر ٩ میں پیش کر چکے ہیں۔ مرزائیوں کو ان دونوں صورتوں پر اچھی طرح غور کر کے اپنے مستقبل کی روش کا فیصلہ کر لینا چاہئے۔ اگر وہ ایسا کرنے کے لئے تیار نہیں ہو سکتے اور اپنے مسلک پر جو مسلمانوں کے لئے بدرجہ غایت دل آزار اشتعال انگیز اور ناقابل برداشت ہے۔ اصرار کرنے کے خواہاں ہیں تو عامتہ المسلمین کو چاہئے کہ
٢٨
وہ مملکت پاکستان کو آنے والے خطروں اور فتنوں سے بچانے کے لئے ابھی سے ہوشیار ہو جائیں اور دستور ساز اسمبلی کی وساطت سے ان امور کا فیصلہ کرانے کے لئے آواز بلند کریں جو دینی اور سیاسی حیثیت سے مسلمانوں اور مرزائیوں کے درمیان موضوع بحث وجدال ہیں۔ مسلمانوں کو اس امر پر ٹھنڈے دل و دماغ اور پوری سنجیدگی کے ساتھ غور کرنا چاہئے کہ وہ:
- ١...... کسی غیر مسلم اقلیت کو کس حد تک اس امر کی اجازت دے سکتے ہیں کہ وہ
انبیائے کرام علیہم التحیۃ والسلام کی توہین کے ارتکاب کو اپنا حق سمجھے۔
- ٢...... حضرت ختمی مرتبت محمد مصطفےٰ احمد مجتبےٰ ﷺ کے مرتبہ ختم الرسل وسید
المرسلین ہونے کا صریح انکار کرنے کے باوجود مسلمان کہلائے۔ نہ صرف مسلمان کہلائے بلکہ اس کی بناء پر تمام مسلمانوں کو کافر قرار دے۔
- ٣...... مسلمانوں کی دینی اور ملی اصطلاحات کو جو امت مسلمہ کے ساڑھے تیرہ سو
سال کے عمل سے تخصیص کا مقام حاصل کر چکی ہیں۔ اپنے اکابر کے لئے استعمال کرتی رہے۔ مثلاً مرزا غلام احمد کے لئے ”علیہ الصلوٰۃ والسلام“ مرزا کے ساتھیوں کے لئے ”صحابہؓ“ اور ”رضی اللہ تعالیٰ عنہم“ مرزا کی بیوی کے لئے ”ام المومنین“ مرزا کی بیٹی کے لئے ”سیدۃ النساء“ اپنے دینی اور دنیوی پیشوا کے لئے ”خلیفہ“ اور ”امیر المؤمنین“ اور اپنے نظام حکومت کے لئے ”خلافت“ کی اصطلاحیں بلا تکلف استعمال کرے۔
مرزائیوں کی یہ حرکات نہ صرف دین حقہ اسلام اور امت مسلمہ کی مقدس روایات سے ایک کھلا ہوا تلعب واستہزاء ہیں۔ بلکہ عملاً چالیس کروڑ مسلمانان عالم کے وجود کی نفی کر رہی ہیں۔ ہر مسلمان کو اپنے سینے پر ہاتھ رکھ کر اپنے دل سے پوچھنا چاہئے کہ وہ کس حد تک مرزائیوں کی ان لغویتوں کو برداشت کر سکتا ہے۔ اگر مسلمان رواداری، فیاضی، مصلحت یا مسامحت سے مرزائیوں کو اپنی یہ لغویات جاری رکھنے کا حق دینے کے لئے تیار ہیں تو انہیں یا تو مرزائی ہو جانا چاہئے یا اپنے آپ کو مسلمان کہلانا چھوڑ دینا چاہئے۔ کیونکہ مصطلحات کا وہ سرمایہ جو دین اسلام اور امت مسلمہ سے مختص تھا۔ مرزائیوں اور صرف مرزائیوں کی ملکیت بن چکا ہے اور اس سرقہ اور ڈاکہ کا نوٹس نہ لینے کے معنی یہ ہیں کہ ہم اسے عملاً صحیح تسلیم کر رہے ہیں۔ مسلمانوں کے علمائے دین اور ارباب فکر و قیادت کو چاہئے کہ وہ ان خطوط کی روشنی میں جو ہم نے اس سلسلہ مضامین میں بیان کر دیئے ہیں۔ مرزائیت کے مقام اور مستقبل پر پوری طرح غور کر کے دستور اسمبلی کی رہنمائی کے لئے اپنے مطالبات کا ایک نقشہ تیار کر لیں اور اس نقشہ کو جامہ عمل پہنانے کے لئے کوشاں ہو جائیں۔ اگر وہ
٢٩
ایسا کرنے کے لئے تیار نہیں تو ہم اس کے سوا اور کیا کہہ سکتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ عصر حاضر کے غفلت شعار مسلمانوں کے حال پر رحم کرے اور انہیں دینی اور دنیوی فتن سے آگاہ ہونے کے لئے صحیح بصیرت عطاء فرمائے۔
ضمیمہ
مرزائیوں کے سرکاری گزٹ ”الفضل“ کو شکایت ہے کہ ہم نے اس سلسلہ مضامین میں گورداسپور کے سشن جج کے فیصلے سے جو حوالے دیئے ہیں۔ انہیں اپیل پر پنجاب ہائی کورٹ کا ایک انگریز جج جسٹس کولڈ سٹریم مسترد کر چکا ہے۔ مخفی نہ رہے کہ جسٹس کولڈ سٹریم نے اپنے فیصلے میں سشن جج گورداسپور کے بعض ریمارکس کو صرف غیر متعلقہ قرار دیا تھا۔ ان کی صحت و عدم صحت کے متعلق کسی قسم کی رائے ظاہر نہیں کی سیشن جج کے ریمارک ان شہادتوں پر مبنی ہیں جو مقدمہ کے دوران میں اس کے سامنے پیش کی گئیں۔ ”وما علينا الا البلاغ واخر دعوانا ان الحمدلله رب العلمين“
پاکستان کا وجود عارضی ہے
مرزا بشیر الدین محمود کا الہامی عقیدہ
ہم نے ١١؍ فروری کی اشاعت میں ملتان سے موصول شدہ ایک اشتہار کا تذکرہ کرتے ہوئے پاکستان کی مرزائی اقلیت کے پیشوا اور سیاسی لیڈر مرزا بشیر الدین محمود کی ایک عرفانی گفتگو کا پردہ چاک کرتے ہوئے لکھا تھا کہ اپریل ١٩٤٧ء کے آغاز میں اس شخص نے اپنے پیروؤں میں اس امر کی تلقین کی تھی کہ مرزائیوں کے خدا نے اکھنڈ ہندوستان کو مرزائیت کے فروغ کے لئے بیس کے طور پر منتخب کر رکھا ہے۔ لہٰذا ہندوستان کو اکھنڈ رکھنے کی کوشش کرنا ہر مرزائی کا مذہبی فریضہ ہے۔
مسلمان جو پاکستان بنانے کی کوشش کر رہے ہیں افتراق پسند ہیں۔ اگر وہ ہلاکت کے اس گڑھے یعنی پاکستان میں گرنے کے ارادہ سے باز نہ آئے تو مرزائیوں کو بھی اپنی کھوپڑی بچانے کے لئے عارضی طور پر ان کا ساتھ دینا چاہئے۔ مرزا بشیر الدین محمود کی یہ عرفانی گفتگو جو ٥؍ اپریل ١٩٤٧ء کے الفضل میں شائع ہوئی اور اب اشتہارات کی صورت میں مرزائی جماعت کے لوگوں میں بانٹی جارہی ہے۔ پاکستان کے متعلق اس فرقہ کے لوگوں کی منافقانہ ذہنیت کا ایک کھلا ثبوت ہے۔ یہ گفتگو ظاہر کرتی ہے کہ مرزائی جماعت کے لوگ اپنے مذہبی عقیدہ کی رو سے
٣٠
اکھنڈ ہندوستان کو مرزائیت کے فروغ کے لئے بیس تصور کرتے ہیں اور اس بیس کو قائم رکھنے کی کوشش کرنا اپنا مذہبی فریضہ خیال کرتے ہیں۔ پاکستان کے وجود کو محض عارضی سمجھتے ہیں اور ہلاکت کا گڑھا خیال کرتے ہیں۔ پاکستان میں وہ محض بامر مجبوری (عقیدۃً عارضی طور پر) پناہ لے رہے ہیں۔ کیونکہ مسلمانوں کی افتراق پسندی نے اکھنڈ ہندوستان کے وجود کا خاتمہ کر دیا اور مرزائیوں کو بھی مسلمانوں کے ساتھ یہ کیفیت جسے وہ عقیدۃً عارضی سمجھ رہے ہیں، قبول کرنی پڑی۔
معاصر مؤقر زمیندار اور مرزائیوں کے اخبار الفضل کی تحریروں سے ثابت ہوتا ہے کہ اس مضمون کے ٹریکٹ اور اشتہار ملتان کے علاوہ لائل پور اور گوجرانوالہ میں بھی نشر کئے گئے ہیں۔ مرزائیوں کا اخبار الفضل یہ ظاہر کرنے کی کوشش کر رہا ہے کہ ان اشتہاروں اور ٹریکٹوں کو چھاپنے اور نشر کرنے والے لوگ احمدی یعنی مرزائی نہیں بلکہ احراری ہیں جو مرزائیوں کو بدنام کرنے کے لئے ایسا کر رہے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی الفضل مرزا بشیر الدین محمود کی کسی سابقہ تقریر یا تحریر کے ایک فقرہ کو اچھال کر یہ ظاہر کرنے کی کوشش کر رہا ہے کہ اپریل ١٩٤٧ء میں اکھنڈ ہندوستان کو احمدیت کے فروغ کے لئے اللہ کا دیا ہوا بیس قرار دینے والا اور اسے قائم رکھنے کی کوشش کو مرزائیوں کے لئے مذہبی فرض قرار دینے والا بشیر الدین واقعات کی رفتار کو بھانپ کر مئی ١٩٤٧ء میں یہ کہنے لگا تھا کہ: ”ہم پاکستان کی حمایت اس لئے کرتے ہیں کہ مسلمانوں کا جائز حق ہے اور وہ انہیں ملنا چاہئے اور اگر حق کی تائید میں ہمیں پھانسی پر بھی لٹکا دیا جائے تو یہ ہمارے لئے موجب راحت ہوگا۔“
مرزائی جماعت کے پیشواؤں اور مقتداؤں کی الہامی اور عرفانی گفتگو میں بلاشبہ بھان متی کا سا پٹارا ہوتی ہیں۔ جن سے بوقت ضرورت ہر قسم کی چیز نکالی جاتی ہے اور مرزا بشیر الدین محمود بھی اپنے باپ کی طرح اپنے خوابوں، رویاؤں اور الہاموں کی تعبیر و تفسیر بیان کرتے وقت اس بات کی خاص احتیاط کر لیتا ہے کہ اس کا مطلب یوں بھی ہو سکتا ہے اور یوں بھی نکل سکتا ہے اور عام طور پر کہہ دیتا ہے کہ یہ میرا خواب مبشر بھی ہے اور منذر بھی ہو سکتا ہے۔ اس لئے ہم الفضل اور دوسرے مرزائیوں کے اس استدلال سے مطمئن نہیں ہو سکتے کہ مرزا بشیر الدین محمود کے بیانات میں ایسے فقرے بھی موجود ہیں جو پاکستان کے حق میں ہیں۔ بلکہ ایسی متضاد باتیں جن سے اکھنڈ ہندوستان اور پاکستان دونوں کی حمایت کے پہلو نکلتے ہیں۔ ہمارے اس دعویٰ کی صحت کا ایک اور روشن ثبوت ہے کہ پاکستان کے متعلق مرزائی جماعت کے پیشوا کی ذہنیت اور روش منافقانہ ہے۔ جس سے پاکستان کی حکومت اور پاکستان کے عوام کو ہر وقت ہوشیار رہنا چاہئے۔ باقی رہا الفضل یا
٣١
لائل پور اور گوجرانوالہ کی مقامی مرزائی جماعتوں کے سیکریٹریوں کا یہ دعویٰ کہ محولہ بالا اشتہار اور ٹریکٹ مرزائیوں کی طرف سے نہیں بلکہ احراریوں کی طرف سے مرزائیوں کو بدنام کرنے کے لئے شائع کئے جارہے ہیں۔ اس کے متعلق ہمیں تحقیق وتفتیش کے خلجان میں پڑنے کی ضرورت نہیں ہو سکتا ہے کہ احراری، مرزا بشیر الدین محمود کی اس عرفانی گفتگو کو نشر کر رہے ہوں تاکہ مسلمان عوام پر مرزائیوں کی منافقانہ روش ظاہر ہو جائے اور یہ بھی ممکن ہے کہ خود مرزائی جماعت کے لیڈر اپنی جماعت کو اپنے پیشوا کی بنیادی تلقین یاد دلانے کے لئے اور ان کے دلوں اور دماغوں میں یہ عقیدہ قائم رکھنے کے لئے اس حرکت کا ارتکاب کر رہے ہوں کہ مرزائیوں کے خدا نے اکھنڈ ہندوستان کو مرزائیت کے فروغ کے لئے بیس بنایا تھا۔ جو مسلمانوں کی افتراق پسندی نے ختم کر دیا۔ لیکن مرزائیوں کو اپنے خدا کی بات پوری کرنے کے لئے ہندوستان کو پھر اکھنڈ بنانے کی کوشش جاری رکھنی چاہئیں اور یہ یاد رکھنا چاہئے کہ ان کا پیشوا آغاز اپریل کی ایک عرفانی مجلس میں اس امر کا اعلان کر چکا ہے کہ اگر مسلمان پاکستان بنانے میں کامیاب ہو بھی گئے تو یہ کیفیت عارضی ہوگی۔
یہ سوال اتنا اہم نہیں کہ مرزائیوں کے اس بنیادی مذہبی عقیدہ کی اشاعت کہ اکھنڈ ہندوستان خدا کی طرف سے احمدیت کے فروغ کے لئے بیس بنایا جا چکا ہے اور پاکستان کا قیام ایک عارضی کیمپ ہے۔
مرزائی کر رہے ہیں یا احراری کر رہے ہیں۔ اہم سوال یہ ہے کہ پاکستان اور اکھنڈ ہندوستان کے متعلق مرزائیوں کے بنیادی، مذہبی عقائد حقیقتاً کیا ہیں؟ وہ عقائد مرزا بشیر الدین کی اس عرفانی گفتگو سے ظاہر ہیں جو ٥؍ اپریل ١٩٤٧ء کے الفضل میں چھپ چکی ہے اور اب اشتہاروں اور ٹریکٹوں کی شکل میں چھاپ چھاپ کر نشر کی جارہی ہے۔ اکھنڈ ہندوستان کو احمدیت کے فروغ کے لئے خدا کا دیا ہوا بیس سمجھنے اور پاکستان کے وجود کو عارضی کیفیت قرار دینے کے متعلق نہ تو الفضل کو کچھ کہنے کی توفیق حاصل ہوئی ہے۔ نہ مرزا بشیر الدین محمود نے اپنی اس عرفانی گفتگو کی کوئی نئی تفسیر یا تاویل کرنے کی ضرورت محسوس کی ہے۔ پاکستان کے متعلق اس قسم کے خطرناک مذہبی عقائد رکھنے والی اقلیت کس حد تک اس ترجیحی سلوک کی مستحق ہے جو پاکستان میں مرزائیوں کے ساتھ کیا جارہا ہے۔ ایسا اہم سوال ہے جس کا جواب ہم پاکستان کی حکومت اور اس کے وفادار عوام سے حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ لیکن سردست انہیں اس سوال کا جواب دینے کے لئے آمادہ و مائل نہیں پاتے۔ (مولانا) مرتضیٰ احمد خان میکش درانی!
٣٢
خاتم النبیین لا نبی بعدی
میں آخری نبی ہوں میرے بعد کوئی نبی نہیں
مرزائی نامہ
(مولانا مرتضیٰ احمد خان میکشؔ درانی)
عرض ناشر
بسم اللہ الرحمن الرحیم!
الحمدلله وسلام علی عباده الذی اصطفیٰ . اما بعد!
قادیانیت پر بے شمار حضرات نے اپنے اپنے ذوق و انداز کے مطابق خامہ فرسائی کی ہے۔ اس موضوع پر جو اچھی کتابیں لکھی گئی ہیں ان میں سے ایک یہ کتاب ہے جو آپ کے ہاتھ میں ہے۔ جناب مرتضیٰ احمد خان میکش اپنے دور کے ممتاز ادیب اور صحافی تھے۔ انہیں قادیانی مسئلہ سے بطور خاص دل چسپی تھی۔ ١٩٥٣ء کی منیر تحقیقاتی عدالت میں مجلس عمل کی وکالت کے فرائض بھی انہوں نے انجام دیئے۔
موصوف کی یہ کتاب قادیانیوں کے سوالوں کا جواب ہے۔ مصنف نے روزنامہ احسان میں اعلان کیا تھا کہ قادیانیوں کو اگر اسلامی عقائد میں شبہات ہیں تو پیش کریں۔ ان کے حل کی پوری کوشش کی جائے گی۔ چنانچہ بہت سے لوگوں نے خطوط لکھے جنہیں مصنف نے مجتمع کر کے نو سوالوں میں ان کی تلخیص کی اور پھر ان کے جوابات دیئے۔ یہ جوابات اخبار میں شائع ہوئے۔ بعد میں متعدد اضافوں کے ساتھ انہیں کتابی شکل میں تاج کمپنی نے شائع کیا۔ مصنف نے اپنے دور کے ان تین اکابر کا بطور خاص شکریہ ادا کیا ہے۔ جن سے مصنف نے اپنی کتاب میں استفادہ کیا ہے۔ مولانا ابوالحسنات، حکیم سید محمد احمد صاحب خطیب مسجد وزیر خان لاہور، مولانا عبدالمنان صاحب خطیب مسجد آسٹریلیا لاہور، مولانا احمد علی صاحب خطیب مسجد اندرون شیرانوالہ۔ جس سے ان کی بے نفسی اور جامعیت کا اندازہ ہوتا ہے۔
مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان کی طرف سے تاج کمپنی کے مطبوعہ نسخہ کا عکس شائع کیا جا رہا ہے (اور اب کمپیوٹر ایڈیشن ۔ مرتب) ہمیں توقع ہے کہ ہمارا جدید طبقہ اس رسالہ سے مستفید ہوگا اور قادیانیوں کو بھی اپنے شکوک و شبہات دور کرنے کا موقع ملے گا۔ واللہ ھو الموفق!
محمد یوسف عفا اللہ عنہ
١٩ ربیع الثانی ١٤٠٥ھ، بمطابق ١٢ جنوری ١٩٨٥ء
بسم اللہ الرحمن الرحیم!
تقدیمیہ
چار سال ہوئے قادیانیت کے کاسہ سر پر ”اسلام کے البرز شکن گرز کی ضرب کاری“ کے
٢
مستقل عنوان کے ماتحت میرے مضامین کا ایک سلسلہ زمیندار اور احسان میں چھپا تھا۔ بعض نکتہ رس جوہر شناس اصحاب نے انہی دنوں خاکسار کو توجہ دلائی تھی کہ ان مضامین کا کتابی شکل میں مرتب و محفوظ کر لینا نہایت ضروری ہے۔ لیکن اخبار نویسی کی مہلت نہ دینے والی مصروفیتوں میں مجھے چار سال کے بعد اب فرصت ملی ہے کہ ان مضامین کو ترتیب دے کر اور ان پر نظر ثانی کر کے اپنے پبلشرز (تاج کمپنی لمیٹڈ) کے حوالے کر سکوں۔
قادیانی مذہب کے پیروؤں نے تاویل بازی کے بل پر مسلمانوں کے مسلمہ مذہبی عقائد خراب کرنے کا جو معرکہ شروع کر رکھا ہے اور اس مقصد کے لئے جس قسم کے فریب استدلال سے کام لیا جا رہا ہے وہ عام نوجوان ان کے شکار ہیں۔ دینی عقائد کے متعلق کئی طرح کی الجھنیں پیدا کر کے انہیں گمراہی کی طرف لے جانے والا ہے۔ پس فرقہ ضالہ کی متاع حیات معتقدات سے تعلق رکھنے والے معدودے چند مخصوص مباحث پر منحصر و مشتمل ہے۔ جنہیں اس مذہب کے پیرو بے خبر، کم علم اور کوتاہ نظر لوگوں کے سامنے بیان کر کے کام نکالنے کے عادی ہیں۔ ان اوراق میں قادیانی فرقہ کے انہی مخصوص مباحث پر بعض نئے گوشوں سے روشنی ڈال کر قادیانی فریب کے پردے چاک کئے گئے ہیں۔
ان مضامین کے سپرد قلم کئے جانے کی مختصر تاریخ یہ ہے کہ راقم الحروف نے احسان کے ایک تبلیغی نمبر میں یہ اعلان کیا کہ قادیانی مذہب کے پیروؤں کو اگر دین اسلام کی حقیقت سمجھنے میں بعض اشکالات درپیش ہیں تو وہ اس عاجز سے اپنے اشکالات بیان کریں۔ جن کے رفع و حل کی پوری کوشش کی جائے گی۔ اس اعلان پر بعض قادیانیوں کی طرف سے متعدد استفسارات موصول ہوئے۔ لیکن وہ سب کے سب مطالب کے لحاظ سے حسب ذیل نو سوالوں کی گہرائی کے دامن سے باہر نہ تھے۔ جنہیں میں نے جواب دینے کے لئے چنا اور یہ سلسلہ مضامین سپرد قلم کیا۔ مرزائی مستفسرین کے سوالات حسب ذیل ہیں۔
- ......١ آپ کے نزدیک اسلام کے وہ کون سے عقائد ہیں جو اصل الاصول کہلانے کے مستحق ہیں؟
- ......٢ کیا آپ قرآن مجید میں اختلاف کے قائل ہیں یا نہیں۔ اگر ہیں تو پھر یہ آیہ شریفہ
”لوکان من عند غیر اللہ لوجدوا فیہ اختلافاً کثیراً“ کو مد نظر رکھتے ہوئے تطبیق کی صورت آپ کے نزدیک مسئلہ ناسخ و منسوخ ہے یا کوئی اور طریق؟۔
- ......٣ قرآن مجید کی وہ کون سی آیت ہے جس سے بطور صراحت النص کے باب نبوت غیر
تشریعی تابع شریعت محمدیہ مسدود ثابت ہوتا ہے؟۔
٣
- ٤....... آیہ شریفہ ”ولو تقول علینا بعض الا قاویل لا خذنا منہ بالیمین ، ثم
لقطعنا منہ الوتین (الحاقه)“ جو بطور دلیل آنحضرت ﷺ کو شاعر اور کاہن کہنے والوں کے سامنے پیش کی گئی ہے۔ یہ بطور قاعدہ کلیہ کے ہے یا نہیں۔ اگر بطور قاعدہ کلیہ کے نہیں تو پھر دلیل مخالفین کے لئے کس طرح وجہ تسکین ہوسکتی ہے۔ اذا جاء الاحتمال بطل الاستدلال کو مدنظر رکھ کر جواب دیں۔
- ٥....... آپ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو بہ ایں جسد عنصری آسمان پر تا ایں دم زندہ مانتے ہیں۔
یا دیگر انبیاء کی طرح فوت شدہ اور ان کی آمد ثانی کے قائل ہیں یا نہیں؟۔
ان سوالات کے جواب قرآن مجید اور احادیث صحیحہ اور اقوال سلف صالحین۔ (جو قرآن مجید اور احادیث صحیحہ کے خلاف نہ ہوں) سے دیں۔
- ٦....... امت مسلمہ میں باب نبوت کا مسدود ہو جانا تسلیم کر لیا جائے تو کیا آنحضرت ﷺ
کے رحمۃ اللعالمین ہونے اور اس امت کے خیر الامم ہونے پر زد نہیں پڑتی؟
- ٧....... کیا مجدد وقت یا امام زمان کا ماننا اور پہچاننا رکن ایمان ہے اور اس کے بغیر نجات نہیں
ہوسکتی؟
- ٨....... حضرت مسیح موعود کو مجدد ماننے سے آپ کے خیال میں ایمان پر کیا زد پڑتی ہے؟۔
- ٩....... احادیث صحیحہ کی رو سے آپ کے نزدیک حضرت عیسیٰ علیہ السلام، مہدی آخر الزمان،
دجال، یاجوج ماجوج وغیرہ کے متعلق مسلمان کو کیا عقائد رکھنے چاہئیں؟۔
ان سوالات سے پیدا ہونے والے مباحث کی تشریح کے علاوہ اس کتاب میں زلازل اور دیگر آیات ارضی و سماوی کے سلسلہ میں قادیانی مدعی کی پیش گوئیوں پر علمی بحث کی ایک فصل نیز اس مدعی کے بلند بانگ اور بے ہنگام دعاوی اور صوفیائے کرام کے شطحیات کی بحث کے متعلق ایک فصل بھی شامل کر دی ہے۔ غرض قادیانی تلبیس کے تمام بڑے بڑے ہتھکنڈوں کی جن کے بل پر وہ عام انسانوں کو دھوکا دیتے ہیں تشریح وتوضیح ان اوراق میں ہے جو نہ صرف فریب خوردہ مرزائیوں کے لئے مشعل ہدایت کا کام دے گی۔ بلکہ عام مسلمانوں کو اس فتنہ سے بچے رہنے کے لئے ہر قسم کے دلائل سے مسلح اور ہر نوع کے فریب استدلال سے آگاہ کرنے میں مفید وممد ثابت ہوگی۔ وما توفیقی الا بالله!
ان سطور کے ساتھ میں اس مرزائی نامہ کو حق کی جستجو رکھنے والے اصحاب کی خدمت میں پیش کرتا ہوں۔ یکم نومبر ١٩٣٨ء، مرتضیٰ احمد خان!
٤
تمہید
مرزا غلام احمد قادیانی کے متبعین میں بعض لوگ تو ایسے ہیں جو اپنے پیشوا کی دی ہوئی تعلیمات کے کھلے ہوئے نقائص سے پوری طرح آگاہ ہیں اور جانتے ہیں کہ طائفہ بندی اور خلافت سازی کا سارا ڈھونگ کن دنیوی مقاصد کے لئے رچایا گیا تھا۔ کس نے رچایا تھا اور کیوں رچایا تھا؟ ان لوگوں کے نزدیک دین کا نام بعض پیش پا افتادہ ذلیل مقاصد کے حصول کے لئے ایک وسیلہ کے سوا زیادہ اہمیت نہیں رکھتا اور ان کا وجود ہی دین حقہ اسلام کی تخریب اس کے شئون وارکان میں رخنہ اندازی اور ملت بیضائے اسلام کی تذلیل کے لئے خریدا جا چکا ہے۔ لہٰذا ان کے دفع شر کے لئے مسلمانان ہند کے پاس اس کے سوا اور کوئی چارہ کار نہیں کہ سواد اعظم کو ان کے مکائد ودسائس سے آگاہ کرتے رہیں اور ان کی ملحدانہ سرگرمیوں پر رقابت واحتساب کی کڑی نگاہیں لگائے رکھیں۔
لیکن مرزائیوں میں بعض ایسے لوگ بھی نظر آتے ہیں جو اپنی بے خبری، علمی کم مائیگی اور ضعیف الاعتقادی کے باعث متذکرہ صدر شور بختان ازلی کے اس دام فریب کا شکار ہو چکے ہیں۔ جو انہوں نے دین اسلام کے نام سے سادہ لوح اشخاص کو الحاد کی الجھنوں میں گرفتار کرنے کے لئے پھیلا رکھا ہے۔ خطاب ذیل میں میرا روئے سخن زیادہ تر انہی مؤخر الذکر مرزائیوں کی طرف ہوگا۔ مقصد یہ ہے کہ وہ سعید روحیں جو دین حقہ اسلام کے سرمدی فیضان کے سرچشمہ سے اپنے طلب کی پیاس بجھانے کی خواہاں تھیں۔ لیکن اپنی سادگی اور بے خبری کے باعث عصر حاضر کے ایک دجالی فتنہ کے ہتھے چڑھ گئیں۔ ان گزارشات کو پڑھ کر دین اسلام کی کھلی ہوئی صداقتوں سے شناسا ہو جائیں اور مرزائیت کی ان الجھنوں سے چھٹکارا حاصل کر لیں۔ جن میں انہیں اسلام کا نام لے کر گرفتار کر دیا گیا ہے اور وہ مجبور ہو گئے ہیں کہ قادیانیت کی منافی اسلام تعلیم کو مطابق اسلام ظاہر کرنے کے لئے دور از کار تاویلوں سے کام لیں تا کہ اپنے فریب کھائے ہوئے دلوں کی ڈھارس کا کچھ سامان تو ان کے پاس موجود ہو۔ ایسی ژرف شناس نگاہیں بہت کم ہوتی ہیں جو قلبی تسکین کے سامان کے کھرے یا کھوٹے ہونے کی پہچان کر سکیں۔ جن نگاہوں کی رسائی کبھی زر خالص تک نہ ہو سکی ہو وہ مس کو زر سمجھنے کی غلطی میں پھنسے رہیں تو کوئی تعجب کی بات نہیں۔
ایسے مرزائی حضرات کے سوالات کی فہرست دیباچہ میں درج کی جا چکی ہے۔ جو راقم الحروف سے بعض مطالب کی تشریح اور بعض مسائل کی توضیح کے طالب ہوئے۔ ان میں سے ایک
٥
ایک سوال، جواب کے لئے بڑی طویل صحبتوں کا محتاج ہے۔ ہر چند عدیم الفرصت اور علوم دینی کے میدان میں ہیچمداں ہوں۔ لیکن میرا فرض ہے کہ ان سوالات کا مشرح جواب لکھوں اور وقت کی اس منہ بولتی ہوئی ضرورت پر لبیک کہتا ہوا آگے بڑھوں جس کی پکار ہر گوشہ ودیوار سے سنی جارہی ہے۔ اگر میری ان کاوشوں سے خدا کے بندوں کی ایک تعداد راہ راست پر آجائے یا کم از کم اس فتنہ آخر زمان کے دجل کا شکار ہونے سے بچ رہے تو میں سمجھوں گا کہ میں نے اپنی عاقبت کے لئے بضاعت مزجات فراہم کر لی جو روز حساب میں مجھے حضور سرور کونین رحمت العالمین کے دامن شفاعت کے سایہ میں پناہ دلانے کا موجب ہوگی۔
اسلام کا اصل الاصول
سوال کیا گیا ہے کہ اسلام کے وہ کون سے عقائد ہیں جو اصل الاصول کہلانے کے مستحق ہیں؟ واضح ہو کہ اسلام کا اصل الاصول کلمہ طیبہ ”لا اله الا الله محمد رسول الله“ ہے اور اس دین کے تمام عقائد اساسی جو ایمان کے لئے ضروری ہیں۔ اسی اصل الاصول کے ماتحت ہیں یا ان میں سے کسی ایک کے فقدان و ہبوط کی صورت میں ایمان نامکمل رہ جاتا ہے۔ بلکہ الحاد وزندقہ وارد ہو جاتا ہے۔ ان عقائد کا بیان اپنے اپنے محل اور موقع پر اسی مضمون میں کر دیا جائے گا۔
توحید ذات باری تعالیٰ
خدائے جلیل و قدیر کو ایک اور محمد عربی ﷺ کو اس کا فرستادہ مان لینے کے بعد خدا کے اس پیغام کو صحیح اور کامل ومکمل سمجھنا ہر فرد مؤمن پر واجب آتا ہے۔ جو خدا کے رسول محمد ﷺ پر نازل ہوا اور آپ کی وساطت سے نوع بشر کو ملا۔ ذرا دقت نظر سے دیکھا جائے تو معلوم ہو جائے گا کہ توحید ورسالت کا عقیدہ بھی اسی پیغام ربانی کی وساطت سے ہمیں پہنچا ہے۔ جو رسول خدا ﷺ پر نازل ہوا۔ پس دین اسلام کی قومیت کا اولین ستون حضرت محمد مصطفے احمد مجتبیٰ ﷺ کی رسالت ہے۔ جس کی وساطت سے ہم ذات باری تعالیٰ کی توحید کے اولین مسئلہ اساسی سے شناسائی حاصل کر سکتے ہیں۔ خدا نے اسی رسول کی معرفت اپنے بندوں کو بتایا ہے کہ وہ ایک ہے۔ اس کے سوا کوئی دوسری ہستی کائنات کے ظاہر وباطن میں ایسی موجود نہیں۔ جس کی طرف موجودات عالم کے سرہائے نیاز و عبدیت جھکیں۔ ”انما الهکم اله واحد“ کے ساتھ ہی ہمیں بتا دیا گیا ہے کہ اس معبود حقیقی کے اسماء وصفات کیا ہیں۔ جن کو تسلیم کرنے اور سمجھنے کے بغیر عقیدہ توحید کامل نہیں ہوتا۔ کہنے کو تو بتوں، پتھروں، قدرت کی مخفی قوتوں اور اپنے فہم و پندار کے کرشموں کی پرستش کرنے والے بھی ناقص شکل میں خدا کی ہستی کے قائل بلکہ اسے ایک سمجھنے اور ایک جاننے کے دعویدار
٦
ہیں ۔ لیکن وہ اس توحید کے ماننے والے نہیں کہلا سکتے ۔ جس کی تعلیم قرآن پاک نے دی ہے ذات باری تعالیٰ کو اس کی بیان کردہ صفات میں سے کسی ایک صفت کے بغیر جاننے والا شخص مسلمان اور صاحب ایمان نہیں ہو سکتا۔ کسی شخص کے اسلام اور ایمان کے صحت و تکمیل جانچنے کے لئے اس کے خیالات وعقائد واقوال کو قرآن حکیم کے بیان کردہ معیار پر پرکھنا ضروری ہے۔ لہٰذا اے مرزا غلام احمد قادیانی کی وساطت سے اسلام کی حقیقتوں کو ڈھونڈنے والو۔ دیکھو کہ ذات باری تعالیٰ کے متعلق قرآن پاک کی تعلیم کیا ہے؟ اور اس شخص نے جسے تم اپنا دینی پیشوا سمجھتے رہے ہو۔ تمہیں اس تعلیم سے کس طرح دور لے جانے کی کوشش کی ہے۔
اسلام کا خدا
ارشاد ربانی اپنی ذات کے متعلق یہ ہے۔ ’’لیس کمثلہ شیء، اللہ نور السمٰوت والارض ۔ مثل نورہ کمشکوٰۃ فیہا مصباح ۔ المصباح فی زجاجۃ ۔ الزجاجۃ کانہا کوکب دری یوقد من شجرۃ مبارکۃ زیتونۃ لا شرقیۃ ولا غربیۃ یکاد زیتہا یضیء ولو لم تمسسہ نار ۔ نور علٰی نور یہدی اللہ لنورہ من یشاء ویضرب اللہ الامثال للناس ۔ واللہ بکل شیء علیم (النور،٣٥)‘‘ ﴿اس کی مانند کوئی شے نہیں ۔ اللہ (ذات باری تعالیٰ عزاسمہ ) آسمانوں اور زمین کا نور ہے۔ اس کے نور کی مثال ایسی ہے جیسے کوئی طاق ہو۔ جس میں چراغ ہو۔ وہ چراغ فانوس کے اندر ہو اور فانوس اس طرح نظر آئے کہ گویا چمکتا ہوا ستارہ ہے جو زیتون کے ایسے شجرہ مبارکہ سے روشن کیا گیا ہے جو نہ شرقی ہے نہ غربی ۔ اس کا تیل برابر روشن ہے ۔ اگر آگ اس کے نزدیک تک نہیں آئی۔ نور پر نور اللہ جسے چاہتا ہے اپنے نور کی طرف ہدایت بخش دیتا ہے اور اللہ لوگوں کے لئے مثالیں بیان کرتا ہے اور وہ ہر شے کا جاننے والا ہے۔﴾
مرزائے قادیانی کا خدا
مرزائیوں کا پیشوا اس ذات بحت کے متعلق حسب ذیل عقیدہ کا اظہار کرتا ہے۔ جو قرآن حکیم کے پیش کردہ تصور سے سراسر مختلف اور ذات باری تعالیٰ کی توہین وتحقیر کرنے والا ہے۔ مرزا لکھتا ہے کہ : ’’ہم فرض کر سکتے ہیں کہ قیوم العالمین ایک ایسا وجود اعظم ہے۔ جس کے بے شمار ہاتھ بیشمار پیر اور ہر ایک عضو اس کثرت سے ہے کہ تعداد سے خارج اور لا انتہاء عرض اور طول رکھتا ہے۔ تیندوے کی طرح اس وجود اعظم کی تاریں بھی ہیں ۔‘‘
(توضیح مرام ص ٥٧، خزائن ج ٣ ص ٩٠)
٧
ولہ ”ربنا عاج“ ہمارا پروردگار ہاتھی دانت ہے۔
(براہین احمدیہ ص ٥٥٥ حاشیہ در حاشیہ، خزائن ج ١ ص ٦٦٢)
خدا کو تیندوے کی شکل میں تصور کرنے والا اور ذات باری تعالیٰ کو عاج یعنی ہاتھی دانت قرار دینے والا مسلمان نہیں ہو سکتا۔ چہ جائیکہ اس کے متبعین کو اسلام کی نعمت سرمدی سے حصہ ملے۔
اسلام کا خدا
”قال الله تبارك وتعالىٰ . قل هو الله احد . الله الصمد . لم يلد ولم يولد . ولم يكن له كفوا احد (اخلاص)“ ﴿(اے محمدﷺ) کہہ دے کہ وہ معبودِ حقیقی ایک ہی ہے۔ اللہ بے نیاز اور پاک ہے۔ نہ اس نے کسی کو جنا اور نہ اسے کسی نے جنا اور نہ اس کے لئے کوئی کفو ہے۔﴾
”تكاد السموت يتفطرن منه وتنشق الارض وتخر الجبال هداً ان دعوا للرحمن ولداً (مريم: ٩٠، ٩١)“ ﴿قریب ہے کہ آسمان پھٹ جائیں اور زمین شق ہو جائے اور پہاڑوں کے ٹکڑے اڑ جائیں جبکہ اللہ تعالیٰ کے لئے بیٹا پکارا جائے۔﴾
”لم يتخذ ولداً سبحانه (بنی اسرائیل: ١١١)“ ﴿وہ کسی کو بیٹا نہیں بناتا۔ وہ پاک ذات ہے (یعنی ایسی لغویات سے مبرا ہے)﴾
یہی وہ اعلان تھا جس کی تفسیر جا بجا قرآن پاک میں پائی جاتی ہے اور جس کے رو سے مشرکین، یہود، نصاریٰ، صابئین اور دیگر مذاہب کے لوگوں کے غلط عقائد پر یک قلم خط تنسیخ کھینچ کر ذات باری تعالیٰ کے متعلق صحیح عقیدہ قائم کیا گیا۔ یہود و نصاریٰ کے عقائد باطلہ کا ابطال معرض عمل میں آیا اور ذات باری تعالیٰ کے ساتھ انسانی علائق کی نسبت دینے والوں کی تکذیب کی گئی۔ اب اس ارشاد ربانی کی روشنی میں مرزائے قادیانی کے حسب ذیل اقوال کو پرکھ لیجئے۔ صاف نظر آ جائے گا کہ اس شخص کا مقصد خالص اسلامی عقیدہ کو مغشوش کرنے کے سوا اور کچھ نہ تھا۔
مرزا اور اس کے خدا کے تعلقات بوقلموں
”انت منى بمنزلة ولدى“ اے مرزا تو مجھ سے بمنزلہ مرے فرزند کے ہے۔
(حقیقت الوحی ص ٨٦، خزائن ج ٢٢ ص ٨٩)
”اسمع ولدی“ اے میرے بیٹے سن۔
(البشریٰ ج اول ص ٤٩)
فرزند، دل بند، گرامی ارجمند، مظہر الحق والعلا کان الله نزل من السماء“
٨
فرزند، دل بند، گرامی ارجمند۔ حق و علا کا مظہر ایسا جیسا کہ خود خدا آسمان سے اتر آیا۔
(ازالۃ اوہام ص ١٥٦، خزائن ج ٣ ص ١٨٠)
”یا قمر یا شمس انت منی وانا منك“ اے چاند اے خورشید تو مجھ سے ہے اور میں تجھ سے۔
(حقیقت الوحی ص ٧٤، خزائن ج ٢٢ ص ٧٧)
”حضرت مسیح موعود نے ایک موقع پر اپنی حالت یہ ظاہر فرمائی ہے کہ کشف کی حالت آپ پر اس طرح طاری ہوئی کہ گویا آپ عورت ہیں اور اللہ تعالیٰ نے رجولیت کی قوت کا اظہار فرمایا۔“
(اسلامی قربانی ص ١٢، مصنفہ قاضی یار محمد قادیانی)
”مریم کی طرح عیسیٰ کی روح مجھ میں نفخ کی گئی اور استعارہ کے رنگ میں مجھے حاملہ ٹھہرایا گیا اور آخر کئی مہینے کے بعد جو دس مہینے سے زیادہ نہیں بذریعہ الہام مجھے مریم سے عیسیٰ بنایا گیا۔ پس اس طور سے میں ابن مریم ٹھہرا۔“
(کشتی نوح ص ٤٧، خزائن ج ١٩ ص ٥٠)
”ومثل ذالك من الخرافات“ ظاہر ہے کہ ایک ایسے شخص کو جو ذات باری تعالیٰ کے ساتھ اپنی نسبتیں باپ بیٹے اور بیوی کی طرح ظاہر کرتا ہے۔ اسلام سے دور کی نسبت بھی نہیں ہوسکتی۔ متذکرہ صدر اقوال سے یہی مستنبط ہوتا ہے کہ قائل نے ذات باری تعالیٰ کی تضحیک وتحقیر کی ہے۔ ایسا شخص مسلمان کہلانے کا مستحق کس طرح ٹھہر سکتا ہے؟ چہ جائیکہ اسے مسلمانوں کے ایک فرقہ کا دینی امام و پیشوا سمجھا جائے۔
مرزائے قادیانی کے خدا کی دیگر صفات
جس خدا کے ساتھ مرزائے قادیانی نے اپنے گوناگوں تعلقات کا اظہار کیا ہے وہ اس خدائے واحد وقدیر سے سراسر مختلف ہے۔ جس کی صفات قرآن پاک میں بیان کی گئی ہیں۔ ذات باری تعالیٰ کے تصور کے متعلق مرزائے قادیانی کے متذکرہ صدر اقوال مشتے نمونہ از خروارے ہیں۔ ورنہ اس کی تصانیف میں تو خدا کے متعلق نہایت عجیب وغریب خیالات بھرے پڑے ہیں۔ مرزا کا خدا نماز پڑھتا اور روزے رکھتا ہے۔
(تذکرہ ص ٤٦٠)
مرزا کا نام لینے سے شرما جاتا اور اسے ادب سے بلاتا ہے۔
(حقیقت الوحی ص ٣٥٦، خزائن ج ٢٢ ص ٣٦٩)
اس کی حمد و ثناء کرتا ہے۔
(انجام آتھم ص ٧٧، خزائن ج ١١ ص ایضاً)
مرزا کے حیض کو بمنزلہ اطفال اللہ کے بچہ بناتا ہے۔
(تتمہ حقیقت الوحی ص ١٤٣، خزائن ج ٢٢ ص ٥٨١)
٩
اس پر رجولیت کا اظہار کرتا ہے۔ (حوالہ اوپر ملاحظہ ہو) اس کے کاغذ پر سرخ روشنائی سے دستخط کرتا قلم جھاڑتا اور اس روشنائی کے چھینٹے اس کے کپڑوں پر ڈالتا ہے۔
(تریاق القلوب ص ٣٣، خزائن ج ١٥ ص ١٩٧، حقیقت الوحی ص ٢٥٥، خزائن ج ٢٢ ص ٢٦٧)
اگر آپ مرزائے قادیان کے خدا کا پورا جلال دیکھنا چاہیں تو اس کے حسب ذیل بیان کو پڑھ کر اندازہ لگا لیں کہ اس شخص کو کیسے خدا کی بندگی کا شرف حاصل تھا۔
”پھر اس کے بعد ہی زور سے جس سے بدن کانپ اٹھا الہام ہوا۔ ’وی کین واٹ وی ول ڈو‘ (جو ہم چاہتے ہیں کر سکتے ہیں) اور اس وقت ایسا لہجہ اور تلفظ معلوم ہوا کہ گویا ایک انگریز ہے جو سر پر کھڑا بول رہا ہے۔“
(براہین احمدیہ ص ٤٨٠، خزائن ج ١ ص ٥٧٢)
مرزائیوں سے خطاب
اس صحبت میں عاجز نے اسلام کے اصل الاصول کی ایک شق یعنی عقیدہ توحید ذات باری تعالیٰ کا اجمالی طور پر ذکر کیا ہے۔ واضح رہے کہ کوئی شخص اس وقت تک ”لا الہ الا اللہ“ کا قائل نہیں سمجھا جا سکتا جب تک ذات باری تعالیٰ عزاسمہ کی تمام ان صفات اثباتی و سلبی کا قائل نہ ہو۔ جو اسمائے حسنیٰ میں اور دیگر مقامات پر جابجا قرآن پاک میں مذکور ہوئی ہیں۔ اسلام کا عقیدہ تمہارے سامنے ہے۔ اس عقیدہ کی کسوٹی پر مرزا غلام احمد کے عقائد واقوال کو پرکھ کر دیکھ لو اور خود فیصلہ کر لو کہ جو لوگ تمہارے سر نیاز کو اس شخص کی چوکھٹ پر جھکا رہے ہیں۔ اس کے اپنے عقائد کا حال کیا ہے؟ آیا اس کی پیروی کر کے تم اسلام کی تعلیم سے قریب جا رہے ہو یا اس سے بہت بعد اختیار کر چکے ہو۔ اگر خوش عقیدتی کی بناء پر تم نے مرزائے قادیانی کے متذکرہ صدر اور دوسرے اقوال کی تاویل و تفسیر کر کے دل کو تسلی دینے کی کوشش کی تو تمہیں اسلام اور قرآن کے ان تمام اعتراضات کو باطل قرار دینا پڑے گا جو خدائے اسلام نے مشرکوں، یہودیوں، عیسائیوں اور صابیوں کے عقائد باطلہ پر کئے ہیں۔ ان تمام مذاہب کے پیرو یہی کہتے ہیں کہ بت پرستی یا خدا سے ولد وکفو وغیرہ کی نسبت دینے کے معاملات ان کے ہاں استعارہ کے رنگ میں آئے ہیں۔ جن کی بڑی خوشنما تاویلیں کی جا سکتی ہیں۔
شاید بعض قادیانی یہ کہنے لگیں کہ وہ اپنے پیشوا کے ان الہامات واقوال کو لغو سمجھتے ہیں اور انہیں اس قسم کی اہمیت نہیں دیتے۔ جیسی کہ عیسائیوں نے انجیل میں باپ اور بیٹے کے الفاظ دیکھ کر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو دینی شروع کر دی تھی۔ اگر یہ بات ہو تو میں کہوں گا کہ پھر تمہیں اپنے پیشوا کے دوسرے دعاوی کو برحق قرار دینے میں کیوں اصرار ہے۔ انہیں بھی متذکرہ صدر دعاوی
١٠
کی طرح لغو سمجھو اور مجذوب کی بڑ قرار دے لو۔ اگر مرزائیوں کا ایک گروہ آج مرزا کے دعویٰ نبوت و مسیحیت کو اپنے لئے اساس دین قرار دے رہا ہے تو کوئی وجہ نہیں کہ کل مرزائیوں کا کوئی دوسرا گروہ مرزا کے متذکرہ صدر اقوال کو لے کر اس کی الوہیت ، شرکت فی ذات باری تعالیٰ ، ابن اللہی اور زوجیت خداوندی کا اعلان کرنے لگے اور اسی کو اساس دین قرار دے لے۔
لہٰذا میرے فریب خوردہ مرزائی دوستوں کو اس امر پر غور کرنا چاہئے کہ مرزا غلام احمد قادیانی کے متبع بن کر وہ قصر اسلام کے اولین سنگ بنیاد یعنی عقیدہ توحید سے کس قدر دور جا پڑے ہیں اور ذات باری تعالیٰ اور اس کی صفات کاملہ کے متعلق ان کا عقیدہ کس حد تک مغشوش کر دیا گیا ہے۔ لہٰذا انہیں اس دن کی فکر کر لینی چاہئے۔ جس کے متعلق صاف الفاظ میں یہ بتا دیا گیا ہے کہ: ”تلفح وجوههم النار وهم فيها كالحون . الم تكن آيتي تتلى عليكم فكنتم بها تكذبون (مؤمنون: ١٠٤، ١٠٥) “ ﴿آگ ان کے چہروں کو جھلس رہی ہوگی اور اس میں پیچ و تاب کھائیں گے اور ان سے کہا جائے گا کہ تم پر میری آیات پڑھ کر نہیں سنائی گئی تھیں ۔ سنائی گئیں تھیں ۔ لیکن تم ان کو جھٹلایا کرتے تھے۔﴾
اساس اسلام کا دوسرا جزو
محمد رسول اللہ ﷺ پر ایمان اور اس کا اقرار
ذات باری تعالیٰ عزاسمہ کی توحید اور تمام صفات لازم پر ایمان لانے اور ان کا اقرار کر لینے کے ساتھ ہی مسلم ہونے کے لئے ضروری ہے کہ انسان خدا کے اس رسول مقبول ﷺ کا بدل معترف ہو اور زبان سے اس کی رسالت ونبوت کا اقرار کرے۔ جس کی معرفت اسے دین اسلام اپنی کامل ومکمل صورت میں ملا۔ محمد عربی ﷺ کو رسول مان لینے کے یہ معنی ہیں کہ حضور ﷺ کے دیئے ہوئے پیغام کو خدا کا آخری مکمل اور قائم پیغام سمجھے۔ حضور کی سکھائی ہوئی شریعت کو آخری، مکمل اور قائم شریعت جانے ، حضور کے بتائے ہوئے دین کو قیامت تک کے لئے نوع بشر کی ہر گونہ ضروریات زندگی کا کفیل اور اس کی دنیوی اور اخروی فوز وفلاح کا موجب تصور کرے۔
ارشاد ربانی : ”اليوم اكملت لكم دينكم واتممت عليكم نعمتي ورضيت لكم الاسلام دينا (مائده:٣)“ ﴿آج میں نے تمہارے لئے تمہارا دین پایہ تکمیل کو پہنچا دیا اور اپنی نعمت تم پر تمام کر دی اور میں نے تمہارے لئے دین اسلام کو پسند کر لیا۔﴾ اس پر شاہد و دال ہے۔ مخفی نہ رہے کہ قرآن پاک ایسا فصیح وبلیغ ، جامع واکمل کلام جو ١١
اپنے خدائی کلام ہونے کی خود دلیل ہے۔ محمد عربی ﷺ کی رسالت کا مصدق و شاہد ہے اور محمد رسول اللہ ﷺ ایسے صادق و امین رسول کی سیرت پاک اور حضور کا اسوۂ حسنہ قرآن کے خدا کا کلام ہونے کا ثبوت ہے۔ ایک کو دوسرے سے الگ نہیں کیا جاسکتا۔ دونوں حضرت باری تعالیٰ کی قدرت کاملہ کے ایسے عدیم النظیر مظہر ہیں۔ جن کے اجتماع پر دین اسلام کی حقانیت کا قصر قائم ہے۔ لہٰذا ان کے صحیح رتبہ کو کماحقہ نہ پہچاننا یا ایسے خیالات کا اظہار کرنا جن سے ان کی صحیح منزلت پر مخالفانہ زد پڑتی ہو۔ انسان کے نقص ایمان کا موجب ہے۔ تکمیل دین و اتمام نعمت ربانی کے بعد اگر کوئی شخص یہ کہے کہ قرآن پاک کی مانند کوئی اور کلام بھی نوع بشر کے پاس موجود ہے یا ہوسکتا ہے۔ تو وہ شرائط اسلام کا منکر ہو جائے گا۔ اسی طرح اگر کوئی شخص یہ کہہ دے کہ حضور سرور کائنات ﷺ کے بعد بھی نوع انسانی میں کوئی رسول مبعوث ہوا یا ہوسکتا ہے۔ تو وہ بھی اسلام کے دعوائے تکمیل و اتمام نعمت کا منکر ہوگا۔ جس کی نص سطور بالا میں مذکور کی جا چکی ہے۔ قرآن کے بعد کسی اور کلام کے متعلق ارشاد ربانی کا ادعا کرنا اور محمد ﷺ کے بعد کسی اور فرد بشر کو رسول قرار دینا اسلام کی اساس پر تبر چلانے کا مترادف ہے۔ کیونکہ اس سے قرآن پاک کے دعوائے تکمیل دین اور اتمام نعمت کی نفی ہوتی ہے۔ چہ جائیکہ مرزائیوں کی طرح اسلام کی شرط اولین مرزا غلام احمد قادیانی کی نبوت و رسالت کو قرار دیا جائے اور یہ کہا جائے کہ اسے نبی یا مجدد یا کچھ اور مانے بغیر کوئی شخص مسلمان نہیں ہوسکتا۔ اگر مرزائیوں کے دعوے کو صحیح سمجھا جائے تو تکمیل دین اور اتمام نعمت الٰہی کا باعث قرآن اور محمد عربی ﷺ کو نہیں بلکہ نعوذ باللہ اس دوسرے شخص کو سمجھنا ہوگا۔ جس کی ارادت کا حلقہ کان میں ڈالے بغیر مرزائیوں کے عقیدہ کے مطابق کوئی شخص مسلم نہیں ہوسکتا۔ لہٰذا ایسا عقیدہ جو قرآن پاک کے بغیر کسی دوسرے کلام کو کلام خداوندی اور محمد ﷺ کے بغیر کسی دوسرے شخص کو نبی یا رسول قرار دینے والا ہو۔ قرآن اور محمد ﷺ کا بتایا ہوا اسلام نہیں بلکہ اس کی نفی ہے۔ اس کے مکمل و اکمل ہونے کا صریح انکار ہے اور اس کی حقانیت کا کفر ہے۔
اس اسلام کے آخری، قطعی اور مکمل دین ہونے پر جو قرآن اور خدا کے رسول محمد ﷺ نے نوع بشر کو دیا۔ قرآن پاک کی حسب ذیل آیت بھی شاہد و دال ہے۔
”هو الذى ارسل رسوله بالهدى ودين الحق ليظهره (صف:٩)“
﴿وہ (خدا) جس نے اپنے رسول کو ہدیٰ کے ساتھ اور دین حق کے ساتھ بھیجا تاکہ وہ تمام دینوں پر غالب آجائے۔﴾
اس مکمل دین اور نعمت تام کے بعد جو قرآن اور محمد ﷺ کی وساطت سے نوع بشر کو
١٢
قیامت تک کے لئے مل گئی۔ خدا کے مزید کلام اور اس کے دیگر ایلچیوں کی ضرورت جاتی رہی۔ لہٰذا متذکرہ صدر نصوص قرآنی کے علی الرغم جو شخص بھی اس کے برعکس کوئی دعویٰ کرے گا۔ وہ قرآن اور رسول اللہ ﷺ کے بتائے ہوئے اسلام کا منکر اور مسلمانوں کے نزدیک مفتری اور کذاب ہونے کے سوا اور کچھ نہیں ہوسکتا۔
پس ان مرزائیوں کو جو اسلام کے نام پر مرزائیت کے دام میں پھنسے ہوئے ہیں۔ غور کرنا چاہئے کہ وہ حقیقت اسلام سے کتنی دور پڑے ہیں اور انہیں اپنے دام فریب میں گرفتار کرنے والوں نے حقیقی اسلام کے بنیادی عقیدہ سے کس قدر دور پھینک دیا ہے۔ انہیں دیکھنا چاہئے کہ جس شخص کی نبوت ورسالت کے اقرار کو انہیں شرط اسلام بتایا گیا ہے۔ اس نے حقیقی اسلام کی صداقتوں سے روگردانی کر کے اپنی نبوت کا ڈھونگ رچانے کے لئے نبوت کے مرتبہ عالیہ کی تحقیر وتذلیل پر اپنا سارا زور صرف کر دیا۔ تاکہ سادہ لوح اشخاص اس منصب جلیل کو اس عامیانہ اور سہل الحصول سی چیز سمجھ کر اس کے دام فریب کا شکار ہو جائیں اور سمجھنے لگیں کہ حقیقی اسلام یہی ہے۔ جو ان کو سکھایا جا رہا ہے۔ میرے قلم میں یارا نہیں کہ مرزائے قادیانی کی اس خرافات کو نقل کر سکوں۔ جس میں اس نے ان انبیائے کرام و مرسلین یزدانی علیہم وعلیٰ نبینا الصلوٰۃ والسلام کی عمداً تحقیر کی ہے۔ جن کی تعظیم وتکریم کا حکم ہمیں قرآن پاک میں مل چکا ہے۔ مرزا کی تصانیف کو خوش عقیدتی کے ساتھ تاویلات کرنے والے مرزائی خود اندازہ لگا سکتے ہیں کہ اس شخص کو جسے وہ ہادی ومہدی رسول ونبی بلکہ خاتم النبیین تک مان رہے ہیں۔ اپنی نبوت کا ڈھونگ رچانے کے لئے کیسے کیسے رنگ بدلنے پڑے۔ دین اسلام کے صحیح عقیدہ یعنی ختم نبوت کے اقرار سے لے کر محدثیت ومہدویت، مسیحیت، ظلی وبروزی نبوت، امتی خالص غیر تشریعی نبوت، تشریعی نبوت، حتیٰ کہ ختم المرسلینی کے دعویٰ تک طرح طرح کے منطقیانہ استدلال سے کام لینا پڑا اور آخر نوبت اس درجہ تک پہنچ گئی کہ خود کو حضرت سید المرسلین خاتم النبیین محمد مصطفےٰ ﷺ سے (نعوذ باللہ) افضل ظاہر کرنے میں بھی تامل سے کام نہیں لیا گیا اور اب اس کا فرزند کھلم کھلا اپنے باپ کی افضلیت تام کا ڈھنڈورا پیٹ رہا ہے۔ کیا یہ اسی اسلام کی تعلیم دی جا رہی ہے۔ جس کی تکمیل خدائے لایزال نے آج سے ساڑھے تیرہ سو سال پیشتر ملک عرب میں کی تھی اور جس کی اساس جیسا کہ میں اوپر بیان کرچکا ہوں قرآن پاک اور حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی رسالت پر رکھی گئی تھی۔ واضح ہو کہ مرزا غلام احمد قادیانی نے نبی کہلانے کے شوق میں جس قدر ہفوات سے اپنے قلم وزبان کو آلودہ کیا ہے اس میں سے ایک ایک سطر اور ایک ایک فقرہ دین اسلام کے ان مسلمات کی نفی ہے جو قرآن حکیم میں ١٣
مذکور ہو چکے ہیں۔ اس موقع پر مجھے تفصیلی بحث میں جانے کی ضرورت نہیں۔ جب مرزائیت کی اساس ہی دین اسلام کی اساس سے مختلف ثابت ہو گئی تو جزئیات کی بحث میں پڑ کر وقت ضائع کرنے کی ضرورت نہیں۔ مرزائی جانتے ہیں کہ مرزائیت کی اساس مرزا غلام احمد کو نبی اور نبی کے علاوہ اور بہت کچھ ماننے اور اس کی تصانیف کو الہامی قرار دینے پر قائم ہے اور اسلام کی اساس یہ ہے کہ قرآن پاک کو خدا کا صحیح ومکمل پیغام اور حضرت محمد مصطفے ﷺ کو خدا کا آخری رسول مانا جائے۔
مرزائی کہیں گے کہ ہم بھی دین اسلام کی اساس ”لا اله الا الله محمد رسول الله“ کے قائل ہیں اور اس کے منکر نہیں لیکن انہیں معلوم ہونا چاہئے کہ اسلام و ایمان کے لئے متذکرہ صدر اساس کا ان شرائط لازم کے ساتھ جو قرآن پاک میں آچکی ہیں۔ ماننا ضروری ہے جس طرح مرزا غلام احمد کا تصور ذات باری تعالیٰ عزاسمہ وجل جلالہ کے متعلق سراسر غیر اسلامی ہے اور وہ اپنے دعاوی بوقلموں کے باعث توحید کے صحیح عقیدہ سے محروم ہو چکا ہے۔ اسی طرح مرزائیوں کے محمد رسول اللہ کہنے میں بھی کوئی معنی پیدا نہیں ہوتے۔ کیونکہ وہ اپنے دین کی اساس محمد رسول اللہ پر نہیں بلکہ مرزا نبی اللہ وغیرہ پر قائم کرتے ہیں۔
قال اللہ تعالیٰ ”اذا جاءك المنافقون قالوا نشہد انك لرسول الله والله یعلم انك لرسوله والله یشہد ان المنافقین لكذبون (منافقون:١)“ ﴿جب منافق تیرے پاس آتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ہم گواہی دیتے ہیں کہ آپ بلاشبہ اللہ کے رسول ہیں اور اللہ جانتا ہے کہ تو اس کا رسول ہے۔ لیکن اللہ گواہی دیتا ہے کہ منافق لوگ بلاشبہ جھوٹے ہیں۔﴾
ارکان و احکام اسلام
اس امر کی تشریح سطور بالا میں کی جا چکی ہے کہ دین اسلام ہمیں حضرت محمد مصطفیٰ احمد مجتبیٰ ﷺ کی وساطت سے ملا اور وہ دین اس کلام ربانی میں درج ہے۔ جسے قرآن مجید اور فرقان حمید کہا جاتا ہے۔ ہمارے آقا ومولیٰ ﷺ کی زندگی اس دین کی عملی تفسیر اور حضور کے ارشادات اس کی توضیح ہیں۔ نیز یہ کہ دین اسلام دین کامل ہے۔ جس میں قیامت تک کے لئے ردو بدل، ترمیم وتنسخ یا تحریف و تاویل کی گنجائش و ضرورت نہیں۔
ارکان اسلام جو قرآن حکیم اور اسوۂ حسنہ نبوی ﷺ سے ہمیں پہنچے ہیں۔ ذات باری تعالیٰ کی توحید منزہ عن الخطاء اور صمدیت منزہ عن الشرک و دیگر صفات پر نیز محمد عربی ﷺ کی کامل
١٤
و اکمل رسالت پر ایمان لانے کے بعد نماز، روزہ، حج اور زکوٰۃ ایسے فریضوں کے ادا کرنے پر مشتمل ہے۔ ان فریضوں کی بجا آوری کے احکام کی تفصیلات حدیث کی کتابوں میں اچھی طرح بیان ہو چکی ہیں اور ساڑھے تیرہ سو سال سے مسلمانوں کا تعامل ان پر مہر تصدیق ثبت کر چکا ہے۔ جس میں کسی کے لئے شک وشبہ کی گنجائش باقی نہیں رہی اور خدا اور اس کے رسول نے کہیں یہ خبر نہیں دی کہ کوئی ”مامور من اللہ“ روز قیامت سے پہلے پہلے نئے خدائی احکام کے ماتحت ان میں ردو بدل کرے گا۔
نماز ادا کرنے کے لئے قرآن پاک میں اس امر کی نص صریح موجود ہے کہ روئے زمین کے تمام مسلمان اس مسجد حرام کی طرف منہ کر کے خدا کی بندگی کیا کریں۔ جو مکہ معظمہ میں واقع ہے اور حج کا فریضہ ادا کرنے کے لئے بھی اسی مسجد حرام کا رخ کریں۔ جس کے مناسک دین کے شعائر سے تعلق رکھتے ہیں۔ بیت اللہ شریف امت مسلمہ کا قبلہ اور اس کی وحدت کا مرکز ہے اس سے الگ ہو جانا یا منہ پھیر لینا اسلام کے ایک بڑے رکن یعنی خود اسلام سے انکار کر دینے کا مترادف ہے۔
اسلام کا قبلہ اور مسلمانوں کا حج
خانہ کعبہ یعنی مسجد حرام کی فضیلت و مرکزیت پر حسب ذیل آیات کلام ربانی شاہد ہیں۔ ”فول وجهك شطر المسجد الحرام وحيث ما كنتم ولوا وجوهكم شطره (بقرہ:١٤٤) ﴿پس مسجد حرام کی طرف اپنا منہ پھیر لے اور تم جہاں کہیں بھی ہو اسی کی طرف منہ پھیر لیا کرو۔﴾
”ومن دخله كان امناً (آل عمران:٩٧) ﴿اور جو اس میں داخل ہو گیا امان پا گیا۔﴾
”ان الصفا والمروة من شعائر الله فمن حج البيت او اعتمر فلا جناح عليه ان يطوف بهما ومن تطوع خيرا فان الله شاكر عليم (البقرة. ١٥٨) ﴿اور بے شک صفا اور مروہ اللہ کی نشانیوں میں سے ہیں۔ پس جو کوئی بیت کا حج یا عمرہ کرے اور ان دونوں کے بیچ میں پھرے تو کچھ گناہ نہیں اور جو کوئی شوق سے نیک کام کرے تو اللہ قدر دان اور جاننے والا ہے۔﴾
”واتموا الحج والعمرة لله (البقره:١٩٦) ﴿اور حج اور عمرہ کو اللہ کے لئے پورا کرو۔﴾
”ولله على الناس حج البيت من استطاع اليه سبيلا ، ومن كفر
١٥
فان الله غنی عن العلمین (آل عمران:٩٧) ”اور لوگوں پر اللہ کی طرف سے بیت اللہ کا حج کرنا فرض ہے جو اس تک راہ پاسکیں اور جو کوئی منکر ہو تو (وہ جان لے) کہ اللہ دونوں جہانوں سے غنی ہے۔ (یعنی کسی کے حج کا محتاج نہیں)“
”واذن فی الناس بالحج یاتوک رجالا وعلیٰ کل ضامر یاتین من کل فج عمیق (الحج:٢٧)“ ”اور لوگوں میں حج کی منادی کر دے وہ تیرے پاس پیدل اور دبلے پتلے اونٹوں پر سوار جو دور کے راستے سے آرہے ہوں گے۔“
مرزائیوں کا قبلہ اور حج
متذکرہ صدر احکام صریح جان لینے کے بعد ذرا قادیانیوں کے خیالات اور عمل پر بھی نگاہ ڈال لیجئے۔ اس مذہب کا بانی کہتا ہے کہ: ”بیت الفکر سے مراد وہ چوبارہ ہے جس میں یہ عاجز کتاب کی تالیف کے لئے مشغول رہا ہے اور رہتا ہے اور بیت الذکر سے مراد وہ مسجد ہے جو اس چوبارہ کے پہلو میں بنائی گئی ہے اور آخری فقرہ مذکورہ بالا ”و من دخله کان آمنا“ اسی مسجد کی صفت میں بیان فرمایا ہے۔“
(براہین احمدیہ ص ٥٥٨ حاشیہ، خزائن ج١ ص ٦٦٧)
ہجوم خلق سے ارض حرم ہے
(درثمین ص ٥٠)
باپ کے بعد بیٹے کی باری آئی تو مرزا بشیر الدین محمود نے مرزا غلام احمد قادیانی کے متذکرہ صدر ملفوظات کی تشریح یوں کی: ”کیونکہ حج کا مقام ایسے لوگوں کے قبضہ میں ہے جو احمدیوں کو قتل کر دینا بھی جائز سمجھتے ہیں۔ اس لئے خدا تعالیٰ نے قادیان کو اس کام کے لئے مقرر کیا ہے۔“
”جیسا حج میں رفث فسوق اور جدال منع ہیں۔ ایسا ہی اس جلسہ میں بھی منع ہیں۔“
(خطبہ جمعہ از میاں محمود احمد ١٩١٤ء)
اسی طرح ١٩٣٢ء میں مرزا بشیر الدین محمود احمد نے اسی سالانہ جلسہ کی اہمیت جتاتے ہوئے اپنے مریدوں کو ہدایت کی کہ اس جلسہ میں شامل ہونے کا ثواب حج کے ثواب سے کم نہیں۔ لوگ جوق جوق آئیں اور شعائر اللہ کو دیکھیں۔ شعائر اللہ مرزا غلام احمد قادیانی کا حرم۔ اس کے صحابی اور اس کے اٹھنے بیٹھنے اور چلنے پھرنے کے مقامات اور ایسی ہی دیگر اشیاء بیان کی گئیں۔ اس وقت الفضل کا وہ پرچہ جس میں یہ تقریر چھپی تھی۔ میرے سامنے نہیں جس کو تحقیق کی ضرورت
١٦
ہو۔ وہ دسمبر ١٩٣٢ء کے الفضل کی فائل دیکھ سکتا ہے۔ قادیانیوں کے اس عقیدہ پر کہ قادیان کے سالانہ جلسہ کی شرکت بیت اللہ شریف کے حج کا بدل ہے۔ ایک قادیانی بزرگ کا حسب ذیل ارشاد بھی شاہد ہے۔ ”جیسے احمدیت بغیر پہلا یعنی حضرت مرزا قادیانی کو چھوڑ کر جو اسلام باقی رہ جاتا ہے۔ وہ خشک اسلام ہے۔ اس طرح اس ظلی حج کو چھوڑ کر مکہ والا حج بھی خشک رہ جاتا ہے۔ کیونکہ وہاں پر آج کل حج کے مقاصد پورے نہیں ہوتے۔“
(پیغام صلح ج٢١ نمبر٢٢)
مرزائیوں سے خطاب
اب آپ ہی اندازہ فرمالیں کہ توحید ورسالت کے بعد ارکان اسلام کے معاملہ میں بھی اس مذہب کے پیشوا اپنے متبعین کو اسلام کی حقیقی تعلیم سے کس طرح دور لے جارہے ہیں۔ زکوٰۃ کا مصرف تو انہوں نے اپنی جیبیں اور اپنے خزانے بنا ہی رکھے ہیں۔ (ان چندوں کی طرف اشارہ ہے جو ٹیکس کے طور پر قادیانیوں سے وصول کر کے خزانہ خلافت میں داخل کئے جاتے ہیں) حج کو بھی اپنے گھر کی طرف کھینچا جارہا ہے اور اسلام کے حقیقی حج کو کبھی خشک اور کبھی ساقط اور کبھی ناممکن ظاہر کر کے کوشش کی جارہی ہے کہ قادیان ہی کو اس نئے مذہب کے پیروؤں کا قبلہ و مرجع بنادیا جائے۔ پس ان مرزائیوں کو جو قادیانیت کو اسلام سمجھ کر اس کے دام تزویر کا شکار ہورہے ہیں۔ اپنی نجات کی فکر کرنی چاہئے اور اسلام کی اصلی تعلیم قادیان کے سوا کسی دوسری جگہ ڈھونڈنی اور حاصل کرنی چاہئے۔ حج اور زکوٰۃ کو اپنے ڈھب پر ڈھال لینے اور عقیدۂ توحید ورسالت میں تحریف و تاویل کر لینے کے بعد ارکانِ اسلام میں صرف نماز اور روزہ ایسے رکن رہ جاتے ہیں جن میں ترمیم و تنسیخ کر دینے سے اس مذہب کے پیشواؤں کو کوئی ذاتی فائدہ نہیں پہنچ سکتا تھا۔ شاید یہی وجہ ہے کہ اسلام کے یہ دو ارکان قادیانیت میں جا کر اس کے بانی ومبدع کی ”الہامی“ دست برد کا شکار ہونے سے بچ گئے۔ قادیانیوں کو معلوم ہونا چاہئے کہ ان کے پیر و مرشد نے تو حج وزکوٰۃ پر ہاتھ صاف کیا ہے۔ اسی سطح ارضی پر بعض لوگ ایسے بھی ہو گزرے ہیں۔ جن کی تاویلات سے نماز اور روزہ بھی محفوظ نہ رہ سکے۔ بہر حال ایسے لوگوں نے حسب ضرورت اور حسب موقع و محل اسلام کے احکام میں تصرف سے کام لیا۔ لیکن ان سب پر اسلام کا حکم یہی ہے کہ وہ اس کی حقیقی تعلیم سے بہت دور چلے گئے ہیں کہ اب ان کا کسی قسم کی تاویل کے بل پر اسلام میں واپس لانا (یعنی مسلمان ثابت کرنا) امر محال ہوگیا ہے۔ اگر تمہیں اپنی عاقبت کی کچھ فکر ہے تو سیدھے سادے مسلمان بن جائیے اور ان لوگوں کا دامن چھوڑ دیجئے جو تمہیں کشاں کشاں اسلام کے دامن فوز سے دور براہ
١٧
راست جہنم کی طرف جارہے ہیں۔ وقولہ تعالیٰ عزاسمہ!
”ان الذین کفروا ویصدون عن سبیل اللہ والمسجد الحرام الذی جعلنہ للناس سواءن العاکف فیہ والباد ومن یرد فیہ بالحاد بظلم نذقہ من عذاب الیم (الحج:٢٥)“ ﴿جولوگ انکار کرتے ہیں اور خدا کے راستے سے اور اس مسجد حرام سے لوگوں کو روکتے ہیں جسے ہم نے لوگوں کے لئے یکساں (عبادت کا مقام) ٹھہرایا ہے۔ وہاں کا رہنے والا اور باہر سے آنے والا دونوں برابر ہیں اور جو کوئی اس میں شرارت سے ٹیڑھی راہ چلنا چاہے اسے ہم تکلیف کا عذاب چکھائیں گے۔﴾
جہاد فی سبیل اللہ
قرآن حکیم میں جس طرح نماز ، روزہ ، حج اور زکوٰۃ ایسے فرائض اساسی کی ادائیگی کے لئے مسلمانوں کو جابجا صاف اور صریح احکام دیئے گئے ہیں۔ اسی طرح حضرت باری تعالیٰ عزاسمہ نے مسلمانوں کو دین مبین کی حفاظت اور اپنے ناموس، جانوں اور اموال کی مدافعت کے لئے جابجا قتال فی سبیل اللہ کی تاکید کی ہے اور اس فریضہ مقدس کی بجا آوری کے لئے اس قدر وضاحت کے ساتھ احکام صادر فرمائے ہیں جن میں ہر قسم کی صورتحال سے عہدہ برآ ہونے کے لئے پورے پورے قواعد وضوابط بیان کر دیئے گئے ہیں۔ اسلام چونکہ دین کامل ہے اس لئے وہ ظلم وجور اور استیلاء حق ناشناسی سے بھری ہوئی اس دنیا میں اپنے متبعین کو اولین لازمہ حیات یعنی حق دفاع سے محروم نہیں کر سکتا تھا۔ قرآن حکیم چونکہ خدا کا آخری اور مکمل پیغام ہے۔ اس لئے اس میں قیامت تک کے لئے ایک دفاعی دستور العمل کا بالتصریح بیان ہونا لازمی امر تھا۔ حضرت ختمی مرتبت ﷺ (بابی ہو وامی) نے اپنے اسوۂ حسنہ سے اور قرآن پاک نے نہایت کھلے الفاظ میں زندگی کی یہ ضرورت مسلمانوں پر واضح کر دی اور بتا دیا کہ مسلمانوں کو قتال کے دفاعی حق سے ”حتی لا تکون فتنۃ ویکون الدین کلہ للہ (انفال:٣٩)“ کی کیفیت کے پیدا ہونے تک یا بالفاظ دیگر ”حتی تضع الحرب اوزارھا (محمد:٤)“ کا وقت آنے تک غافل نہیں ہونا چاہئے۔ قتال فی سبیل اللہ کی اہمیت پر علمائے امت اور مفسرین ام الکتاب نے اس حد تک استدلال فرمایا ہے کہ تمام فرائض انفرادی واجتماعی یعنی نماز، روزہ، حج اور زکوٰۃ کا ماحصل اسے اور فقط اسے قرار دیا ہے اور اس حقیقت کو ساری دنیا تسلیم کرتی ہے کہ قتال کے دفاعی حق کو استعمال کئے بغیر نہ تو دنیا سے ظلم وتعدی کا استیصال ممکن ہے اور نہ کوئی قوم عزت و آزادی کی زندگی بسر کر سکتی ہے۔ اللہ تعالیٰ جل جلالہ نے سورۂ صف میں قتال فی سبیل اللہ کو ایسی تجارت بیان فرمایا ہے جو
١٨
انسانوں کو عذاب الیم سے بچانے کی کفیل ہے اور جس کے معاوضہ میں مسلمانوں کو جنت کا وعدہ دیا گیا ہے۔ ”یا ایھاالذین آمنوا هل ادلكم على تجارة تنجیكم من عذاب الیم (صف:١٠)“ اور صحابہ کرام کے استفسار کے جواب میں کہ خدا کے نزدیک احب الاعمال کیا ہے۔ ارشاد فرمایا ہے: ”ان الله یحب الذین یقاتلون فی سبیله صفا، كانھم بنیان مرصوص (صف:٤)“ ﴿البتہ اللہ ان لوگوں کو دوست رکھتا ہے جو اس کی راہ میں صف بصف ہو کر اس طرح لڑتے ہیں کہ گویا وہ سیسہ پلائی دیوار ہیں۔﴾
قتال فی سبیل اللہ کے متعلق خدائے جلیل و قدیر عزاسمہ کے چند صاف صاف احکام جو قرآن حکیم میں مذکور ہیں بطور تذکار لازم ذیل میں درج کئے جاتے ہیں۔ ”وقاتلوا فی سبیل الله الذین یقاتلونكم ولا تعتدوا ان الله لا یحب المعتدین (البقره:١٩٠)“ ﴿اور اللہ کی راہ میں ان لوگوں سے جنگ کرو جو تم سے جنگ کرتے ہیں۔ لیکن (کسی پر) زیادتی نہ کرو۔ کیونکہ اللہ زیادتی کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔﴾
”كتب علیكم القتال وھو كره لكم عسٰی ان تكرھوا شیئاً وھو خیر لكم وعسٰی ان تحبوا شیئاً وھو شر لكم والله یعلم وانتم لا تعلمون (البقره:٢١٦)“ ﴿تم پر قتال فرض کر دیا گیا اور وہ تم پر شاق گزرتا ہے۔ عین ممکن ہے کہ ایک بات تم کو بری لگے۔ لیکن (درحقیقت) وہ تمہارے لئے اچھی ہو اور یہ بھی ممکن ہے کہ تم کسی بات کو پسند کرو اور وہ تمہارے لئے بری ہو۔ اللہ جانتا ہے اور تم نہیں جانتے۔﴾
”واعدوا لھم ما استطعتم من قوة ومن رباط الخیل ترھبون به عدو الله وعدوكم وآخرین من دونھم لا تعلمونھم الله یعلمھم (انفال:٦٠)“ ﴿اور تم کافروں کے مقابلہ میں جہاں تک تم سے ہو سکے اپنا زور تیار رکھو اور گھوڑے باندھے رکھو۔ اس سامان سے، اللہ کے دشمن اور تمہارے دشمن اور ان کے سوا دوسروں پر تمہاری دھاک رہے گی۔ جن کو تم نہیں جانتے اللہ جانتا ہے۔﴾
متنبی قادیان کا انحراف
خدائے بزرگ و برتر کے متذکرہ صدر واضح احکام مؤکدہ کے بعد ذرا مرزا غلام احمد قادیانی کے ان کارناموں پر بھی ایک نگاہ ڈال لیجئے۔ جو جہاد وقتال کے رد میں حکام وقت کی خوشنودی حاصل کرنے کے لئے سرانجام دیئے گئے۔ توحید کو مغشوش، رسالت کو ناتمام اور حج کو ساقط کرنے کے بعد اس شخص نے حکم جہاد کی تنسیخ کا اعلان کر دیا اور اس پر اپنے خاص تاویلی انداز
١٩
میں رسائل واشتہارات لکھے جن کا ماحصل اسی کے الفاظ میں درج ذیل ہے۔
”جہاد یعنی دینی لڑائیوں کی شدت کو خدا تعالیٰ آہستہ آہستہ کم کرتا گیا ہے...... اور پھر مسیح موعود کے وقت قطعاً جہاد کا حکم موقوف کر دیا گیا۔“ (اربعین نمبر ٤ ص ١٤ حاشیہ، خزائن ج ١٧ ص ٤٤٣)
”وہ گھنٹہ جو اس منارہ کے کسی حصہ دیوار میں نصب کرایا جائے گا اس کے نیچے یہ حقیقت مخفی ہے تا کہ لوگ اپنے وقت کو پہچان لیں۔ یعنی سمجھ لیں کہ آسمان کے دروازہ کھلنے کا وقت آ گیا۔ اب سے زمینی جہاد بند ہو گیا ہے اور لڑائیوں کا خاتمہ ہو گیا...... سو آج سے دین کے لئے لڑنا حرام کیا گیا ۔“
(مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ٢٨٤)
”میں یقین رکھتا ہوں کہ جیسے جیسے میرے مرید بڑھیں گے ویسے ویسے مسئلہ جہاد کے معتقد کم ہوتے جائیں گے ۔ کیونکہ مجھے مسیح اور مہدی مان لینا ہی مسئلہ جہاد کا انکار کرنا ہے۔“
(درخواست مرزا بحضور حاکم پنجاب مندرجہ تبلیغ رسالت جلد ہفتم ص ١٧، مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ١٩)
”میری عمر کا اکثر حصہ اس سلطنت انگریزی کی تائید وحمایت میں گذرا ہے اور میں نے ممانعت جہاد اور انگریزی اطاعت کے بارہ میں اس قدر کتابیں لکھی اور اشتہارات طبع کئے ہیں کہ اگر وہ رسائل اور کتابیں اکٹھی کی جائیں تو پچاس الماریاں ان سے بھر سکتی ہیں۔ میں نے ایسی کتابوں کو تمام ممالک عرب اور مصر اور شام اور کابل اور روم تک پہنچایا ہے۔ میری ہمیشہ کوشش رہی ہے کہ مسلمان اس سلطنت کے سچے خیر خواہ ہو جائیں اور مہدی خونی اور مسیح خونی کی بے اصل روایتیں اور جہاد کے جوش دلانے والے خیالات جو احمقوں کے دلوں کو خراب کرتے ہیں۔ ان کے دلوں سے معدوم ہو جائیں۔“
(تریاق القلوب ص ١٥، خزائن ج ١٥ ص ١٥٥)
”میں نے مناسب سمجھا کہ اس رسالہ کو بلاد عرب یعنی حرمین اور شام ومصر وغیرہ میں بھی بھیج دوں ۔ کیونکہ اس کتاب کے صفحہ ١٥٢ میں جہاد کی مخالفت میں ایک مضمون لکھا گیا ہے اور میں نے بائیس برس سے اپنے ذمہ یہ فرض کر رکھا ہے کہ ایسی کتابیں جن میں جہاد کی مخالفت ہو اسلامی ممالک میں ضرور بھیج دیا کرتا ہوں۔“
(تحریر مرزا مندرجہ تبلیغ رسالت ج ١٠ ص ٢٦، مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ٢٤٣)
”ہم نے کئی کتابیں مخالفت جہاد اور گورنمنٹ کی اطاعت میں لکھ کر شائع کیں اور کافر وغیرہ اپنے نام رکھوائے ۔“
(اشتہار مرزا مندرجہ تبلیغ رسالت ج ١٠ ص ٢٨، مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ٢٢٥)
”ہر ایک شخص جو میری بیعت کرتا ہے اور مجھ کو مسیح موعود جانتا ہے اسی روز سے اس کو یہ عقیدہ رکھنا پڑتا ہے کہ اس زمانے میں جہاد قطعاً حرام ہے۔“ (ضمیمہ رسالہ جہاد ص ٦، خزائن ج ١٧ ص ٢٨)
٢٠
مرزائیوں سے خطاب
حکام وقت کی خوشنودی کے حصول کے لئے قرآن پاک کی تعلیم پر بے باکانہ خط نسخ کھینچنا۔ کسی مسلمان اور حضرت ختمی مرتبت ﷺ کے سچے متبع کا کام نہیں ہوسکتا۔ قرآن کے ایک حصہ کا انکار صریح جیسا کہ جہاد وقتال کے بارہ میں کیا گیا ہے۔ کلام ربانی کا انکار یعنی اسلام کا انکار ہے۔ لاہوری مرزائی تلبیس سے کام لے کر عام طور پر یہ کہا کرتے ہیں کہ ہمارے امام زماں نے دیگر علمائے اسلام کی طرح عدم استطاعت کی بناء پر فریضۂ جہاد کو عارضی طور پر ساقط عن العمل قرار دیا تھا۔ لیکن مرزائے قادیانی کی اپنی تحریرات اس کے لاہوری متبعین کے دعویٰ کی تکذیب کرتی ہیں۔ جو جہاد کو حرام قرار دیتا ہے اور آئندہ زمانے کے لئے مسلمانوں سے قتال فی سبیل اللہ کا دفاعی حق چھین لینے کا خواہشمند ہے۔ عدم استطاعت کی بناء پر روزہ، حج، زکوٰۃ اور جہاد ایسے فریضوں کی ادائی سے غیر مستطیع مسلمانوں کو بلاشبہ اسلام نے ایک حد تک رخصت دی ہے۔ لیکن کسی مسلمان کو قرآن پاک کے صریح احکام پر خط نسخ کھینچنے کی جرات نہیں ہو سکتی۔ خواہ وہ حکام وقت کا کتنا ہی مقرب بننے کا آرزو مند ہو۔ میں دین اسلام کے موٹے موٹے بنیادی اصول کی کسوٹی پر مرزا غلام احمد قادیانی کی تعلیمات کو پرکھ کر دکھا چکا ہوں کہ وہ کسی امر میں بھی حقیقی اسلام کے مطابق نہیں۔ جس شخص کے عقائد توحید ذات باری تعالیٰ کے متعلق تعلیم قرآنی کے خلاف ہیں جو رسالت میں شرک کرنے کے گناہ کا مرتکب ہے اور حج اور جہاد کو ساقط و منسوخ قرار دے رہا ہے۔ اس کے متعلق یہ حسن ظن رکھنا کہ اس کی تعلیم اسلام کی صحیح تعلیم ہے۔ سراسر ہٹ دھرمی ہے جو شخص اسلام کے بنیادی عقائد کی جڑوں پر تبر چلانے سے دریغ نہیں کرتا۔ اس کے متعلق یہ کہنا کہ وہ بعث بعد الموت اور آخرت کے حساب کتاب کا معتقد اور قائل تھا۔ ایک بعید از قیاس امر ہے۔ پس اے فرقۂ مرزائیہ کے فریب خوردہ لوگو! اگر نجات کے صراط مستقیم کے طالب ہو تو ایسے شخص کی متابعت سے باز آ جاؤ اور دین اسلام کو دنیا کے سامنے مضحکہ نہ بناؤ۔ تائب ہو جاؤ ورنہ یاد رکھو کہ اس خدائے قدیر کی گرفت بڑی ہی سخت ہوتی ہے۔ جس کی سنت میں کفار ومشرکین کو ایک حد تک ڈھیل اور مہلت دینا بھی داخل ہے۔ ”قال الله تعالیٰ عزاسمہ وجل جلاله“
”بل زين للذين كفروا مكرهم وصدوا عن السبيل ومن يضلل الله فماله من هاد لهم عذاب في الحيوٰة الدنيا ولعذاب الاٰخرة اشق وما لهم من الله من واق (الرعد: ٣٤، ٣٣)“ اور یہ کہ ان منکروں کو اپنا مکر اچھا معلوم ہوتا ہے اور وہ
٢١
سیدھی راہ سے بھٹک چکے ہیں اور جن کو اللہ گمراہ کرے اس کے لئے کوئی ہادی نہیں۔ ایسے لوگوں کے لئے دنیوی زندگی میں بھی عذاب ہے اور آخرت کا عذاب تو بہت سخت ہے اور اللہ کے عذاب سے انہیں بچانے والا کوئی نہیں۔﴾
گزارشات
اوراق ماقبل میں مرزائے قادیانی کے اقاویل و دعاوی کو جن پر قادیانیت کے قصر کی بنیادیں قائم ہیں۔ اسلام کے اصل الاصول یعنی ”لا اله الا الله محمد رسول الله“ کے اٹل عقیدہ کی بناء پر رکھ کر دکھا چکا ہوں کہ اس شخص کے خیالات و عقائد اور اس کی تعلیمات جسے یہ کم فہم حضرات ذریعہ نجات سمجھ رہے ہیں۔ اصول وارکانِ اسلام سے کس قدر بُعد بلکہ تضاد رکھتی ہیں۔ دین اسلام ایک یسیرالفہم سیدھا سادا دین ہے جو بینات یعنی صاف صاف اور واضح واضح عقائد کی برہان ثابتہ لے کر آیا ہے۔ اسے سمجھنے کے لئے ان موشگافیوں میں جانے کی ضرورت نہیں۔ جن میں گرفتار ہو کر یہودی اور نصرانی بارگاہِ ایزدی سے مغضوبین وضالین کے سُرٹیفکیٹ حاصل کر چکے ہیں اور جن میں آج مرزائی یا قادیانی مذہب کے پیروؤں کو الجھا دیا گیا ہے۔ قرآن حکیم کے نصائح محکم کے باوجود لاہوری جماعت کے لیڈر میاں محمد علی کا یہ کہنا کس قدر مضحکہ خیز اور معقولیت کی بین توہین ہے کہ مرزائے قادیانی نے خدا کا باپ، خدا کا بیٹا، خدا کی بیوی وغیرہ بننے کے متعلق جو کچھ کہا ہے وہ بطور مجاز ہے۔ (رسالہ مغرب میں تبلیغِ اسلام ص٢٣) میں اس امر کی تصریح کر چکا ہوں کہ جن یہودیوں اور عیسائیوں کے متعلق قرآن پاک میں حضرت عزیر علیہ السلام اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو خدا کا ولد قرار دینے پر سخت وعید آئی ہے۔ وہ بھی آسمانی باپ اور ابن اللہ کی اصطلاحوں کو مجازی طور پر استعمال کرتے تھے اور کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ قرآن پاک میں یہ بھی مذکور ہے کہ حشر کے روز حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے اس امر کی شدید جواب طلبی کی جائے گی کہ آیا انہوں نے اپنی امت کو ایسی لغویات کی تعلیم دی تھی؟ جس کے جواب میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام اپنی برأت کا اظہار فرمائیں گے۔
”واذ قال الله يعيسى ابن مريم ء انت قلت للناس اتخذونى وامى الهين من دون الله قال سبحنك ما يكون لى ان اقول ما ليس لى بحق (المائدہ: ١١٦)“ ﴿جب اللہ کہے گا اے مریم کے بیٹے عیسیٰ کیا تو نے لوگوں سے کہا تھا کہ مجھے اور میری ماں کو اللہ کو چھوڑ کر معبود بنالو۔ تو وہ جواب دے گا تیری ذات پاک ہے۔ کب سزاوار تھا کہ ایسی بات کہتا کہ جس کے کہنے کا مجھے حق نہ تھا۔﴾
٢٢
خیرہ چشمی کی اور بات ہے۔ لیکن کوئی فہمیدہ انسان جو اسلام کے عقیدہ توحید ذات باری تعالیٰ کو کسی نہ کسی حد تک صحیح طور پر سمجھ چکا ہے۔ خدا کے ساتھ ایسی مجازی نسبتیں دینے والے کو مسلمان نہیں سمجھ سکتا اور میں علی وجہ البصیرت کہتا ہوں کہ مرزائی محمد علی ایسے لوگ ان حقائق کو جاننے کے باوجود بعض دنیوی فوائد کی خاطر گمراہی پر اصرار کر رہے ہیں۔ خیر یہ تو جملہ معترضہ تھا۔ اوراق گزشتہ میں بیان کیا جا چکا ہے کہ پیشوائے قادیانیت کی تعلیم اسلام کے عقیدۂ توحید کے خلاف، عقیدہ تکمیل دین و ختم نبوت کے خلاف، رکن حج و اصول جہاد کے خلاف ہے اور یہ اختلاف بین میں مرزائے قادیانی کے اقاویل کو قرآن پاک کی آیات محکمات کے بالمقابل رکھ کر دکھا چکا ہوں۔ اگر اس کے باوجود مرزائیوں کو مرزائی رہنے پر اور بعض مسلمانوں کو ان کے مسلمان ہونے پر اصرار ہو۔ تو میرے لئے اس سے زیادہ حیرت و استعجاب کا مقام اور کوئی ہو نہیں سکتا۔
مرزائی حضرات کے دیگر سوالات
اب میں مرزائی اور قادیانی مستفسرین کے دیگر سوالات کو لیتا ہوں۔ جن کی بھول بھلیاں میں یہ لوگ دانستہ یا نادانستہ طور پر پھنسے ہوئے ہیں اور جن میں دوسرے کم علم مسلمانوں کو الجھا کر ان کے مبلغ اپنے دام فریب کو توسیع دینے کے عادی ہیں۔ ان سوالات کا جواب دینے سے قبل ضروری ہے کہ مرزائے قادیانی کے دعاوی کا ایک مجمل سا جائزہ لے لیا جائے۔ جن میں اسے حق بجانب ثابت کرنے کے لئے اس کے پیروؤں کو اس قسم کے سوالات وضع کرنے کی ضرورت پیش آئی ہے۔ جن کی حیثیت اس سے زیادہ نہیں کہ ان دعاوی کے جواز کے لئے دور از کار تاویلیں وضع کی جائیں۔ آیات قرآنی اور احادیث نبوی ﷺ کے معانی کی تحریف کے لئے راہیں نکالی جائیں۔ لاطائل دلیلوں کا سہارا ڈھونڈا جائے اور طرح طرح کی موشگافیوں کے بل پر اپنی غلطیوں کے جواز کے پہلو پیدا کر کے دل کی ڈھارس کا سامان مہیا کیا جائے۔ مرزائے قادیانی کے دعاوی باطلہ کی بھول بھلیاں ایسی پیچ در پیچ ہیں کہ تاویلوں اور تحریفوں کے بغیر کوئی عقلمند آدمی ان کے دام کا گرفتار نہیں ہو سکتا۔ یہی وجہ ہے کہ مرزائیوں کو اسلامی تعلیمات کا سیدھا سادا مفہوم چھوڑ کر ایسے ایسے مسائل گھڑنے کی ضرورت لاحق ہو جاتی ہے جو کوتاہ نظروں اور کم علموں کے دماغ کو پریشان کر کے انہیں شکوک و شبہات میں ڈالنے والے ہوتے ہیں۔ جتنے سوالات بھی مرزائی حضرات نے کئے ہیں وہ متذکرہ بالا کلیہ کی تحت میں آتے ہیں۔
مرزائے قادیانی کے دعاوی
اب ذرا مرزائے قادیانی کے دعاوی پر ایک اچٹتی ہوئی نظر ڈال لیجئے۔ جن پر قادیانی
٢٣
مذہب کی بنیادیں رکھی گئی ہیں۔ مرزائے قادیانی کی کتابوں اور اس کے متبعین کی تصانیف کے مطالعہ کے بعد قادیانی مذہب اور اس کے پیشوا کی تعلیمات کے متعلق جو نتائج اخذ کئے جاسکتے ہیں وہ یہ ہیں کہ ایک زمانہ میں مرزا قادیانی عام مسلمانوں کی طرح مسلمان تھے اور وہ اسلام کے عقائد پر سختی سے کاربند رہنے کو فخر کا مقام سمجھا کرتے تھے۔ لیکن کچھ عرصہ کے بعد اس شخص نے اپنے آپ کو دوسرے رنگوں میں ظاہر کرنا شروع کر دیا اور یہ دعویٰ کیا کہ اللہ تعالیٰ میرے ساتھ ہم کلام ہوتا ہے تاکہ لوگ اس کے ولی اللہ ہونے کا اعتبار کرنے لگیں۔ ولایت سے ایک قدم آگے بڑھا کر پھر اس نے محدث ہونے کا دعویٰ کیا۔ پھر اس پر خط نسخ کھینچ کر چودھویں صدی کا مجدد اور امام بنا۔ آہستہ آہستہ مثیل مسیح، مسیح موعود، امتی نبی، ظلی و بروزی نبی، خالص نبی، مرسل یزدانی، غیر تشریعی نبی اور پھر تشریعی نبی بننے کی نوبت آئی۔ اس پر بھی اکتفا نہ کیا گیا تو انبیائے کرام علیہ الصلوٰۃ والسلام سے افضل بننے کی ٹھان لی اور حضور سرور کائنات ﷺ سے منصب ختم نبوت و تکمیل رسالت چھین کر اپنے خاتم الانبیاء جامع کمالات انبیاء علیہم السلام اور خدا کا برگزیدہ ترین رسول کہلانے کی خواہش پیدا ہوئی۔ ان مقاصد کے حصول کے لئے کفریات کا ایک ایسا طومار جمع کر دیا جس کی داد ابلیس لعین کے سوا اور کہیں نہیں مل سکتی۔ اس طومار میں سے مرزائے قادیانی کے چند اقوال بطور مشت نمونہ از خروارے ذیل میں درج کئے جاتے ہیں۔
’’میرا دعویٰ ہے کہ میں وہ مسیح موعود ہوں جس کے بارے میں خدا تعالیٰ کی تمام پاک کتابوں میں پیش گوئیاں ہیں کہ وہ آخری زمانہ میں ظاہر ہوگا۔‘‘
(تحفہ گولڑویہ ص ١٨، خزائن ج ١٧ ص ٢٩٥)
’’ہم پر کئی سال سے وحی نازل ہورہی ہے اور اللہ تعالیٰ کے کئی نشان اس کے صدق کی گواہی دے چکے ہیں۔ اس لئے ہم نبی ہیں۔‘‘
(اخبار بدر قادیان مورخہ ٥؍ مارچ ١٩٠٨ء)
’’سو میں خدا کے حکم کے موافق نبی ہوں اور اگر میں اس سے انکار کروں تو میرا گناہ ہوگا اور جس حالت میں خدا میرا نام نبی رکھتا ہے تو میں کیونکر انکار کر سکتا ہوں۔ میں اس پر قائم ہوں۔ اس وقت تک جب اس دنیا سے گزر جاؤں۔‘‘
(مرزا کا خط بنام اخبار عام لاہور، مورخہ ٢٣؍مئی ١٩٠٨ء)
’’حق یہ ہے کہ خدا تعالیٰ کی وہ پاک وحی جو میرے پر نازل ہوتی ہے۔ اس میں ایسے لفظ رسول اور مرسل اور نبی کے موجود ہیں۔ نہ ایک دفعہ بلکہ ایک صدہا دفعہ۔‘‘
(ایک غلطی کا ازالہ ص ٢، خزائن ج ١٨ ص ٢٠٦)
٢٤
”پس میں جب کہ اس مدت تک ڈیڑھ سو پیش گوئی کے قریب خدا کی طرف سے پا کر بچشم خود دیکھ چکا ہوں کہ صاف طور پر پوری ہوگئیں تو میں اپنی نسبت نبی یا رسول کے نام سے کیوں کر انکار کر سکتا ہوں۔“
(ایک غلطی کا ازالہ ص ٦، خزائن ج ١٨ ص ٢١٠)
”اللہ تعالیٰ نے اس بات کے ثابت کرنے کے لئے کہ میں اس کی طرف سے ہوں۔ اس قدر نشان دکھلائے کہ اگر وہ ہزار نبی پر بھی تقسیم کئے جائیں تو ان سے نبوت ثابت ہوسکتی ہے۔“
(چشمہ معرفت ص ٣١٧، خزائن ج ٢٣ ص ٣٣٢)
”خدا نے اپنے ہزار ہا نشانوں سے میری وہ تائید کی ہے کہ بہت ہی کم نبی گزرے ہیں۔ جن کی یہ تائید کی گئی ہے۔“
(تتمہ حقیقت الوحی ص ١٣٨، خزائن ج ٢٢ ص ٥٨٧)
”سچا خدا وہی ہے جس نے قادیان میں اپنا رسول بھیجا۔“
(دافع البلاء ص ١١، خزائن ج ١٨ ص ٢٣١)
”نبی کا نام پانے کے لئے میں ہی مخصوص کیا گیا اور دوسرے تمام لوگ اس نام کے مستحق نہیں اور ضرور تھا کہ ایسا ہوتا جیسا کہ احادیث صحیحہ میں آیا ہے کہ ایسا شخص ایک ہی ہوگا۔ وہ پیش گوئی پوری ہوجائے۔“
(حقیقت الوحی ص ٣٩١، خزائن ج ٢٢ ص ٤٠٧)
بخدا پاک دانمش زخطا
ہمچو قرآن منزہ اش دانم
از خطاہا ہمیں ست ایمانم
(نزول المسیح ص ٩٩، خزائن ج ١٨ ص ٤٧٧)
”مجھے اپنی وحی پر ایسا ہی ایمان ہے جیسا کہ تورات اور انجیل اور قرآن کریم پر۔“
(اربعین نمبر ٤ ص ١٩، خزائن ج ١٧ ص ٤٥٤)
”میرے پاس ائیل آیا۔ (اس جگہ ائیل خدا تعالیٰ نے جبرائیل کا نام رکھا ہے۔ اس لئے کہ بار بار رجوع کرتا ہے۔ حاشیہ ) اور اس نے مجھے چن لیا اور اپنی انگلی کو گردش دی اور یہ اشارہ کیا کہ خدا کا وعدہ آگیا۔ پس مبارک ہے وہ جو اس کو پاوے اور دیکھے۔“
(حقیقت الوحی ص ١٠٣، خزائن ج ٢٢ ص ١٠٦)
”اور خدا کا کلام اس قدر مجھ پر نازل ہوا ہے کہ اگر وہ تمام لکھا جائے تو بیس جزو سے کم نہیں ہوگا۔“
(حقیقت الوحی ص ٣٩١، خزائن ج ٢٢ ص ٤٠٧)
٢٥
”میری وحی میں امر بھی ہے اور نہی بھی۔ مثلاً یہ الہام .......... ایسا ہی اب تک میری وحی میں امر بھی ہوتے ہیں اور نہی بھی اور اگر کہو شریعت سے وہ شریعت مراد ہے جس میں نئے احکام ہوں تو یہ باطل ہے۔ یہ بھی تو سمجھو کہ شریعت کیا چیز ہے۔ جس نے اپنی وحی کے ذریعہ سے چند احکام بیان کئے اور اپنی امت کے لئے ایک قانون مقرر کیا۔ وہی صاحب شریعت ہو گیا۔“
(اربعین نمبر ٤ ص ٧، خزائن ج ١٧ ص ٤٣٥، ٤٣٦)
”مجھے الہام ہوا جو شخص تیری پیروی نہیں کرے گا اور تیری بیعت میں داخل نہیں ہوگا وہ خدا اور رسول کی نافرمانی کرنے والا جہنمی ہے۔“
(تبلیغ رسالت ج ٩ ص ٢٧، مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ٢٧٥)
من بعرفان نہ کمترم زکسے
آنچہ دادست ہر نبی را جام
داد آں جام را مرا بہ تمام
کم نیم زاں ہمہ بروئے یقیں
ہر کہ گوید دروغ ہست لعیں
(نزول المسیح ص ٩٩، خزائن ج ١٨ ص ٤٧٧، ٤٧٨)
”اس کے (یعنی نبی کریم کے لئے صرف) چاند کے گرہن کا نظام ظاہر ہوا اور میرے لئے چاند اور سورج دونوں کے گرہن کا، اب تو انکار کرے گا۔“
(اعجاز احمدی ص ٧١، خزائن ج ١٩ ص ١٨٣)
”ہمارے نبی کریمﷺ کی روحانیت نے پانچویں ہزار میں اجمالی صفات کے ساتھ ظہور فرمایا اور وہ زمانہ اس روحانیت کی ترقی کا انتہا نہ تھا۔ بلکہ اس کے کمالات کے معراج کے لئے پہلا قدم تھا۔ پھر اس روحانیت نے چھٹے ہزار کے آخر میں یعنی اس وقت پوری طرح سے تجلی فرمائی۔“
(خطبہ الہامیہ ص ٢٦٦، خزائن ج ١٦ ص ایضاً)
”غرض اس زمانہ کا نام جس میں ہم ہیں۔ زمان البرکات ہے۔ لیکن ہمارے نبیﷺ کا زمانہ زمان التائیدات ودفع الآفات تھا۔“
(تبلیغ رسالت ج ٩ ص ٤٤، بقیہ حاشیہ ص ٤٣، مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ٢٩٢)
٢٦
”میں آدم ہوں، میں نوح ہوں، میں ابراہیم ہوں، میں اسحاق ہوں، میں یعقوب ہوں، میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہوں۔ یعنی بروزی طور پر جب کہ خدا نے اسی کتاب میں یہ سب نام مجھے دیئے اور میری نسبت جری اللہ فی حلل الانبیاء فرمایا۔ یعنی خدا کا رسول نبیوں کے لباس میں سو ضرور ہے کہ ہر ایک نبی کی شان مجھ میں پائی جائے۔“
(تتمہ حقیقت الوحی ص ٨٤، ٨٥، خزائن ج٢٢ ص ٥٢١)
”اور ہر ایک نبی کا نام مجھے دیا گیا ہے۔ چنانچہ جو ملک ہند میں کرشن نام ایک نبی گذرا ہے جس کو ردر گوپال بھی کہتے ہیں۔ (یعنی فنا کرنے والا اور پرورش کرنے والا) اس کا نام بھی مجھے دیا گیا ہے۔“
(تتمہ حقیقت الوحی ص ٨٥، خزائن ج٢٢ ص ٥٢١)
تمام امراض کی جڑ
یہ ہے مرزائے قادیانی کے ان تمام دعاوی کا مجمل سا ماحصل جن میں اسے حق بجانب اور اصدق ثابت کرنے کے لئے اسے اور اس کے متبعین کو قرآن پاک کی آیات کے معانی میں تحریف کرنے، کلمتہ اللہ کو اپنے مواضع سے ہٹا کر دوسری جگہ چسپاں کرنے، احادیث و آیات کے معانی میں تاویل سے کام لینے کے علاوہ انبیائے کرام علیہم الصلوٰۃ والسلام کی توہین، صلحائے امت کی تذلیل، معجزات کے انکار، مسلمہ عقائد اسلامی سے انحراف وغیرہ کی ضرورتیں لاحق ہوتی ہیں اور وہ طرح طرح کے سوالات اٹھانے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ ہر اس الزام کو جو مرزائے قادیانی اور اس کی تضاد و تخالف سے پر تحریرات پر عائد ہوتا ہے۔ انبیائے کرام بلکہ حضرت ختمی مرتبﷺ کی ذات قدسی صفات اور قرآن پاک پر لوٹا دینے کی جسارت کے مرتکب ہوتے رہتے ہیں۔ قرآن کریم اور دیگر کتب سماوی کی ان بشارتوں کو جو حضور سرور کونین ﷺ کے لئے آئی ہیں۔ اپنے گرو پر منطبق کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ قادیان کو دمشق اور کعبۃ اللہ ظاہر کرنے، وہاں پر مینار بنانے، مسجد اقصیٰ کو قادیان میں ثابت کرنے اور مرزائے قادیانی کے سلسلۂ نسب کو رجل من فارس سے ملانے پر مجبور ہوجاتے ہیں اور خود مرزائے قادیانی کشف و استعارہ کے بھیس میں مریم بننے (حقیقت الوحی ص ٣٣٧، خزائن ج٢٢ ص ٣٥٠)، خدا کے پانی سے (انجام آتھم ص ٥٥، خزائن ج١١ ص ایضاً)، حاملہ ہونے (کشتی نوح ص ٤٧، خزائن ج١٩ ص ٥٠)، اور اس حمل کے نتیجہ کے طور پر خود پیدا ہو کر مسیح موعود کہلانے (کشتی نوح ص ٤٧، خزائن ج١٩ ص ٥٠)، کی ضرورت محسوس کرنے لگتا ہے۔ تاکہ ابن مریم بن کر مسیح موعود کا دعویٰ کرنے کے قابل بن سکے۔ ذرا اس بھول بھلیاں کی تفصیل دیکھنا
٢٧
چاہو تو مرزائے قادیانی کے حسب ذیل ارشادات پر عقل سلیم کی روشنی میں غور کر کے فیصلہ کر لو کہ جن دعاوی کی بنیاد ایسی لچر اور پوچ تاویلوں اور توجیہوں پر قائم کی گئی ہو۔ انہیں برحق تسلیم کرنے والوں کی اور خود اس کے مدعی کی ذہنی کیفیات کا عالم کیا ہوگا۔ لکھا ہے: ”مریم کی طرح عیسیٰ کی روح مجھ میں نفخ کی گئی اور استعارہ کے رنگ میں مجھے حاملہ ٹھہرایا گیا اور آخر کئی مہینے کے بعد جو دس مہینے سے زیادہ نہیں۔ بذریعہ الہام مجھے مریم سے عیسیٰ بنایا گیا۔ پس اس طور سے میں ابن مریم ٹھہرا۔“
(کشتی نوح ص ٤٧، خزائن ج ١٩ ص ٥٠)
”اس بارہ میں قرآن کریم میں بھی ایک اشارہ ہے اور وہ میرے لئے بطور پیش گوئی کے ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ قرآن شریف میں اس امت کے بعض افراد کو مریم سے تشبیہ دیتا ہے اور پھر کہتا ہے کہ وہ مریم عیسیٰ سے حاملہ ہوگئی اور اب ظاہر ہے کہ اس امت میں کسی نے بجز میرے اس بات کا دعویٰ نہیں کیا کہ میرا نام خدا نے مریم رکھا اور پھر اس مریم میں عیسیٰ کی روح پھونک دی ہے اور خدا کا کلام باطل نہیں۔ ضرور ہے کہ اس امت میں کوئی اس کا مصداق ہو اور خوب غور کر کے دیکھ لو اور دنیا میں تلاش کر لو کہ قرآن شریف کی اس آیت کا بجز میرے کوئی مصداق نہیں۔ پس یہ پیش گوئی سورۂ تحریم میں خاص میرے لئے ہے اور وہ آیت یہ ہے۔ ”ومريم ابنت عمران التى احصنت فرجها فنفخنا فيه من روحنا (تحریم: ١٢)“
(حقیقت الوحی ص ٣٣٧، ٣٣٨ حاشیہ، خزائن ج ٢٢ ص ٣٥٠، ٣٥١)
اب اگر مرزا قادیانی کے اس ”ارشاد گرامی“ پر یہ خاکسار کہہ دے کہ ایں کار از تو آید و مرداں چنیں کنند تو کیا ہرج واقع ہوگا۔ مرزائے قادیانی نے ابن مریم بننے کے لئے تاویلیں تو خوب کی ہیں۔ جن کی داد دینی چاہئے۔ لیکن ایک امر میں وہ چوک گئے۔ یعنی اپنے کو بنت عمران ثابت کرنے کے لئے استعارہ کے رنگ میں کوئی مکاشفہ بیان نہیں کیا۔ یعنی یہ نہیں بتایا کہ ان کے والد ماجد عمران کس طرح بن گئے۔
معارف قرآنی کو سمجھنے کا طریق
قادیانی مذہب کے مبلغین کا قاعدہ ہے کہ وہ عام مسلمانوں کو جو عربی زبان اور دینیات کی تعلیم سے پوری طرح آگاہ نہیں ہوتے۔ یہ دکھانے کی کوشش کرتے ہیں کہ قرآن حکیم میں اختلاف موجود ہے۔ تاکہ ان کی تاویلات کے لئے راستہ صاف ہو جائے۔ ہمارے قادیانی مستفسر کا دوسرا سوال اسی مسئلہ کے متعلق ہے۔ پوچھا گیا ہے۔ ”کیا آپ قرآن مجید میں اختلاف
٢٨
کے قائل ہیں یا نہیں۔ اگر ہیں تو آیہ شریفہ ”ولوكان من عند غير الله لوجدوا فيه اختلافاً کثیرا“ (اگر (قرآن) غیر اللہ کی طرف سے ہوتا تو لوگ اس میں بہت زیادہ اختلاف پاتے) کو مدنظر رکھتے ہوئے تطبیق کی صورت آپ کے نزدیک مسئلہ ناسخ و منسوخ ہی ہے یا کوئی اور طریق ۔“
جواباً عرض ہے کہ کوئی مسلمان قرآن مجید میں اختلاف کا قائل نہیں ہو سکتا۔ خود آیت کلام ربانی جو مستفسر نے اپنے سوال میں لکھ دی ہے۔ اس پر شاہد و دال ہے۔ اگر کسی بے بصیرت کو قرآن کریم کی ایک آیت کا مفہوم دوسری آیت سے ٹکراتا ہوا نظر آتا ہے تو یہ اس کے نقص علم ونقص فہم پر دال ہے۔ اگر کسی مسلمان کو اس قسم کا اشتباہ پیدا ہو جائے یا عیسائی اور قادیانی معترضین کسی مسلمان کے دل میں قرآن حکیم کی بعض آیات کے متعلق اس قسم کا اشتباہ پیدا کر دیں تو اسے چاہئے کہ ان آیات کا صحیح مفہوم سمجھنے کے لئے ان کے شان نزول ، ان کے سیاق و سباق اور ان کے محل اطلاق کو جاننے اور قرآن حکیم کی دوسری آیات کی روشنی میں اس کے معانی سمجھنے کی کوشش کرے اور نزول کے تقدم و تاخر کو پیش نظر رکھ کر ان احکام کی حکمت جاننے کے درپے ہو۔ تا کہ تکمیل احکام اور تکمیل دین کا مسئلہ اس پر واضح ہو سکے۔
جس امر کو دین اسلام کے قادیانی اور عیسائی معترضین نے مسئلہ ناسخ و منسوخ بنارکھا ہے۔ اس کی حیثیت اس سے زیادہ نہیں کہ ذات باری تعالیٰ نے بعض امور میں اپنے احکام میں تبدیلی کی ہے۔ مثلاً یہود کو بیت المقدس کی طرف منہ کر کے نماز پڑھنے کا حکم دیا گیا تھا۔ جسے تبدیل کر کے مسلمانوں کو مسجد حرام کی طرف رخ پھیر لینے کا حکم دیا گیا۔ اسی تبدیلی کی طرف ذات باری تعالیٰ عزاسمہ نے آیہ ”ما ننسخ من آية او ننسها نأت بخير منها او مثلها (بقرہ:١٠٦) “ ﴿ہم کسی آیت کو منسوخ نہیں کرتے نہ اسے محو کرتے ہیں۔ مگر یہ کہ اس کی جگہ اس سے بہتر یا اس جیسی دوسری لے آتے ہیں۔﴾
میں اپنی سنت بیان فرمادی ہے اور یہ صورت اسی وقت تک کے لئے تھی جب تک کہ خدائے بزرگ و برتر نے حضرت رسول خدا ﷺ کی وساطت سے اپنے دین کو نوع بشر کے لئے کامل نہیں کیا تھا۔ بلکہ اس دین کامل کی طرف انسانوں کی راہنمائی کی جا رہی تھی ۔ جب ”الیوم اكملت لكم دينكم واتممت عليكم نعمتي ورضيت لكم الاسلام دينا (مائدہ:٣) “ ﴿آج میں نے تمہارے لئے تمہارے دین کو کامل کر دیا اور تم پر اپنی نعمت مکمل کر دی
٢٩
اور تمہارے لئے دین اسلام پسند کر لیا۔ ﴿ کا حکم آ گیا۔ تو تبدیلی احکام کی ضرورت بھی باقی نہ رہی۔ کیونکہ خیر الکتب میں تمام سابقہ ادیان کو منسوخ کر کے کامل دین نوع انسانی کو دے دیا گیا۔ احکام الٰہی جس قدر کہ نوع بشر کی دنیوی اور اخروی فلاح کے لئے ضروری تھے۔ اپنی مکمل شکل میں آ گئے اور اس مجموعہ احکام کے متعلق یہ بھی کہہ دیا گیا کہ: ”انا له لحفظون“ (ہم اس کے نگہبان ہیں)
اس سوال کے مستفسر سے راقم الحروف کی گزارش ہے کہ اسے قرآن پاک کی بعض آیات کے سمجھنے میں دقت محسوس ہو رہی ہے تو سوال کو متذکرہ بالا شکل میں پیش کرنے کے بجائے وہ ان آیات کو پیش کرے جن کا مطلب سمجھنے سے وہ قاصر ہے۔ یادرہے کہ قرآن حکیم کے حقائق ومعارف انسان کے قلب پر اسی قدر زیادہ وضاحت کے ساتھ روشن ہوں گے جس قدر کہ اس کا قلب تاویلات کے گورکھ دھندوں سے الگ ہو کر نہایت سادگی اور صفائی کے ساتھ انہیں اخذ کرنے کی طرف مائل ہوگا۔ اگر کوئی شخص قادیانیوں کی طرح قرآن پاک کی آیات کے معانی کی لاطائل تاویلات کی الجھنوں میں گرفتار ہونے کی کوشش کرے گا یا ان الفاظ کو اپنی فرومایہ دانش اور اپنے ناقص علم کے مطابق معانی پہنانے کے مرض میں مبتلا ہو جائے گا تو وہ قرآن پاک کی بیان کردہ اس وعید الٰہی کا مستوجب ہو گا جو علمائے یہود کے تذکار کے سلسلہ میں مذکور ہوئی ہے۔
”فبما نقضهم ميثاقهم لعنهم وجعلنا قلوبهم قسية يحرفون الكلم عن مواضعه ونسوا حظا مما ذكروا به (المائده:١٣)“
سائل کو معلوم ہونا چاہئے کہ قادیانی مذہب اور اس کے بانی کے دعاوی کی بنیاد ہی آیات قرآنی کی بے سروپا تاویلات اور کلام الٰہی کے معانی کی تحریف پر رکھی گئی ہے۔ تا آنکہ بعض آیات کلام ربانی کو جو حضور سرور کونین ﷺ کے متعلق یا ان کی صفت و تعریف میں نازل ہوئیں۔ قادیانی مذہب کے پیشوا نے اپنے متعلق ظاہر کرنے اور اپنے حال پر چسپاں کرنے میں بھی تامل سے کام نہیں لیا۔ اس سے بڑھ کر جسارت اور دیدہ دلیری اور کیا ہو سکتی ہے؟ دین حنیفۂ اسلام اور کلام مجید کی آیات کا استخفاف اس سے زیادہ اور کیا سمجھا جا سکتا ہے کہ ارشاد ربانی کو کھینچ تان کر اپنی خواہشات کے مطابق معانی پہنانے کی کوشش کی جائے اور یہ دعویٰ کر دیا جائے کہ ان آیات کا شان نزول وہ نہیں جو فی الواقع ہو گزرا ہے۔ بلکہ وہ ہے جس کے لئے ایک مدعی کاذب کی ضرورت داعی ہو رہی ہے۔ مثال کے طور پر میں مرزائے قادیانی کے بعض ان اقوال کو اس جگہ درج کرتا
٣٠
ہوں جس کے متعلق اس نے یہ دعویٰ کیا ہے کہ یہ آیات ربانی جو قرآن پاک میں مذکور ہیں۔ خدا نے دوبارہ میرے حق میں نازل کی ہیں۔ یا قرآن پاک میں میرے لئے موجود ہیں۔ ”مارمیت اذرمیت ولکن اللہ رمی (انفال:١٧) ﴿جو کچھ تو نے پھینکا وہ تو نے نہیں چلایا بلکہ خدا نے چلایا۔﴾
یہ آیت شریف خدائے بزرگ اور برتر نے سیدنا ومولانا محمد مصطفےٰ ﷺ کو مخاطب کر کے نازل فرمائی۔ اس میں جنگ بدر کے اس واقعہ کی طرف اشارہ ہے۔ جس میں حضور ﷺ نے پتھر کی چند کنکریاں مٹھی میں لے کر کفار کے لشکر کی طرف پھینکیں۔ لیکن مرزائیوں کا پیشوا اپنی کتاب (حقیقت الوحی ص٧٠، خزائن ج٢٢ ص٧٣) پر لکھتا ہے کہ یہ الفاظ مجھ پر میرے لئے نازل ہوئے۔ کلام اللہ کو اپنے مواضع سے محرف کرنے کی جسارت اس سے زیادہ اور کیا ہوگی۔ اسی طرح قرآن پاک کی حسب ذیل آیات کو اس نے اپنے حال پر چسپاں کرنے کا دعویٰ کر کے بارگاہ الٰہی کی وہ سند وعید حاصل کر لی جس کا تذکرہ میں سطور بالا میں کرچکا ہوں۔
”لقد لبثت فیکم عمرا من قبلہ افلا تعقلون“
(حقیقت الوحی ص٧١، خزائن ج٢٢ ص٧٤)
”هو الذی ارسل رسولہ بالہدیٰ ودین الحق لیظہرہ علی الدین کلہ“
(حقیقت الوحی ص٧١، خزائن ج٢٢ ص٧٤)
”وما ارسلنک الا رحمۃ للعالمین“
(حقیقت الوحی ص٨٢، خزائن ج٢٢ ص٨٥)
”انا فتحنا لک فتحا مبینا لیغفر اللہ ما تقدم من ذنبک وما تاخر“
(حقیقت الوحی ص٩٤، خزائن ج٢٢ ص٩٧)
”انا ارسلنا الیکم رسولا شاہدا علیکم کما ارسلنا الی فرعون رسولا“
(حقیقت الوحی ص١٠١، خزائن ج٢٢ ص١٠٥)
”انا اعطیناک الکوثر“
(حقیقت الوحی ص١٠٢، خزائن ج٢٢ ص١٠٥)
”مبشراً برسول یأتی من بعدی اسمہ احمد“
(اربعین نمبر٣ ص٣١، خزائن ج١٧ ص٤٢١)
جو شخص قرآن پاک کی ان آیات کو حضرت ختمی مرتبت ؐ اور خود حضور کی ذات اقدس وانور کے متعلق نازل ہوئیں۔ اپنے پر چسپاں کرنے کی جسارت کر کے قرآن، خدا اور رسول خدا ﷺ ٣١
سب سے استہزاء کا مرتکب ہوتا ہے۔ اس کے ملحد ہونے میں کس کو کلام ہوسکتا ہے۔ اگر قرآن کو سمجھنے کے معنی قادیانی لوگ یہی لیتے ہیں تو۔
دین الٰہی کی تکمیل وسلسلہ نبوت کا اختتام
قادیانی مفسر کا تیسرا سوال یہ ہے ”قرآن مجید کی وہ کون سی آیت ہے جس سے بطور صراحۃ النص کے باب نبوت غیر تشریعی تابع شریعت محمدیہ مسدود ہوتا ہے۔“
گردش روزگار کی نادرہ کاریاں ہیں کہ چودھویں صدی کے ایام پرفتن میں بعض ایسے لوگ بھی پیدا ہو گئے ہیں جو ایک مدعی کاذب کے دعاوی باطلہ کے جواز کے لئے بحث و جدال کا بازار گرم کرنے کی نیت سے نبوت کی قسمیں بنانے اور باب نبوت کے مسدود، یا وا ہونے کے متعلق سوال پیدا کرنے لگے ہیں۔ سوال ہے کہ قرآن مجید کی کوئی آیت بتاؤ جس سے باب نبوت کے مسدود ہونے کا ثبوت ملتا ہو؟ حالانکہ سارا کلام مجید شروع سے لے کر آخر تک اس امر پر شاہد و دال ہے کہ اس کتاب کی موجودگی میں کسی نئے نبی کے مبعوث ہونے کی (خواہ وہ تشریعی ہو یا غیر تشریعی، ظلی ہو یا بروزی) ضرورت باقی نہیں رہتی۔ خدا کا دین جب تک اپنی مکمل شکل میں نوع بشر کے سامنے نہیں آیا تھا اور نوع بشر کی استعداد حمل امانت ابھی ناقص تھی تو خدا کے رسول اور نبی مبعوث ہوتے رہے تاکہ نوع بشر کو خدا کا آخری پیغام سننے کے لئے تیار کریں اور حسب ضرورت وقتی اسے خدائی احکام کی خبر دیتے رہیں۔ نوع انسانی پر جب تک ضلالت و گمراہی بلکہ کفر و طغیان کی اندھیری رات مسلط رہی۔ انبیائے کرام رہنمائی کرنے والے ستاروں کی طرح اس کے آسمان بخت پر تعداد کثیر میں جلوہ افروزی کرتے رہے۔ جب نبوت ورسالت کا آفتاب عالم تاب دین کامل کی ضیاء لے کر نمودار ہوگیا۔ تو ستاروں کی ضرورت باقی نہ رہی۔ یہ روشنی اس قدر بین، اس قدر واضح اور اس قدر کامل ہے کہ خیرہ چشم اور بوم صفت کم نظروں اور بصارت وبصیرت کے اندھوں کے سوا باقی ساری کائنات اس کے فیض عمومی سے بہرہ اندوز ہورہی ہے۔ جو لوگ آفتاب رسالت محمدی کے طلوع ہونے کے بعد چراغ لاؤ کی رٹ لگا رہے ہیں اور یہ کہہ رہے کہ انہیں حصول ہدایت کے لئے کسی متنبّی کی ضرورت ہے۔ وہ اندھے نہیں تو اور کیا ہیں؟ نبوت اور رسالت کے خدائی انعام کے مل چکنے کے بعد جو امت محمدیہ کو نبی آخر زمان ﷺ کی ذات میں کامل ومکمل طور پر دیا جا چکا جو لوگ ھل من مزید پکار رہے ہیں۔ ان سے زیادہ بیوقوف اور نادان اور کون ہوسکتا
٣٢
ہے؟ کوتاہ اندیشو! رشد و ہدایت کامل کے خدائی انعام کا چشمہ اپنی مکمل حالت میں تمہارے لئے موجود کیا جا چکا اور تم اس سے منہ موڑ کر، یا اسے ناقص سمجھ کر سراب کی طرح بھاگتے ہو۔ تاکہ اپنی تشنگی کے لئے تسکین کا سامان حاصل ہو۔ اس لئے اور محض اس لئے کہ جس شخص کو تم اپنا ہادی اور رہبر سمجھ چکے ہو۔ اس نے نبوت کا مدعی ہونے کی جسارت کی ہے۔ تم سوال کرنے لگے ہو کہ قرآن پاک میں باب نبوت کے مسدود ہونے کی نص کونسی ہے؟ اگر تم قرآن پاک کے ماننے والے ہو تو جان لو کہ جس دین کی تکمیل کی خاطر حضرت رب العزت جل جلالہ اپنے تشریعی اور غیر تشریعی پیغمبر جنہیں وہ انبیاء و مرسلین کے نام سے موسوم کرتا ہے بھیجا کرتا تھا۔ وہ آج سے ساڑھے تیرہ سو سال پہلے پایہ تکمیل کو پہنچ چکا۔ جس پر قرآن پاک کی حسب ذیل آیت شاہد و دال ہے۔
”اليوم اكملت لكم دينكم واتممت عليكم نعمتى ورضيت لكم الاسلام دينا (المائدہ:٣)“ ﴿آج میں نے تمہارے لئے تمہارا دین مکمل کر دیا۔ اور تم پر اپنی (نعمت ورسالت) تمام کر دی اور میں نے تمہارے لئے اسلام کو پسند کر لیا۔﴾
غور کرو اور جان لو کہ جس مقصد کے لئے انبیائے کرام مبعوث ہوا کرتے تھے۔ جب وہ پایہ تکمیل کو پہنچ گیا اور نوع انسانی کی ایک جماعت اس دین کو تاقیام قیامت زندہ رکھنے اور اسے تمام دوسرے ادیان پر غالب کرنے کے لئے تیار ہو گئی تو نئے نبیوں کے آنے کی ضرورت بھی جاتی رہی۔ اس دین کے مکمل ہونے سے پہلے تشریعی نبی تو نوع انسانی کو نئے احکام خداوندی سے روشناس کرانے کے لئے مبعوث ہوتے تھے۔ تاکہ بشر کی روحانیت اس کے اخلاق اور اس کی ذہنی ودماغی کیفیت کو منزل مقصود کی طرف چند قدم آگے لے جائیں اور غیر تشریعی نبی اس لئے آتے تھے تاکہ تشریعی نبی کی امت کو ضلالت و گمراہی کے ان گڑھوں سے نکالیں۔ جن میں وہ خدا کے دیئے ہوئے احکام کو بھلا کر گر جانے کے عادی تھے۔ تکمیل دین کے بعد جب وہ کتاب جس میں اس دین کے احکام بیان کئے گئے ہیں۔ اپنی مکمل شکل میں تیار ہو گئی اور نوع بشر کی ملک بن گئی۔ نیز اس میں ردو بدل آمیزش وحک ونسخ وتحریف کی گنجائش بھی خدائے آمرزگار نے ”انـــــا لـــــــه لحافظون“ کہہ کر مفقود کر دی۔ تو کسی نئے فرستادہ خداوندی کے آنے کی ضرورت ہی کیا تھی کہ وہ لوگوں کو خدا کے نئے احکام سنائے۔ یہی وجہ ہے کہ فرمانروائے عالم وعالمیاں نے اپنے اس نامہ کو مکمل کرنے کے بعد جو اسے نوع انسانی کو بھیجنا تھا۔ اس پر اپنی آخری مہر ثبت کر دی اور ساتھ ہی اس امر کا ذمہ لے لیا کہ قیام قیامت بلکہ اس سے بھی پرے میں اس کی حفاظت کروں گا اور فرمایا: ”ما
٣٣
كان محمد ابا احد من رجالكم ولكن رسول الله وخاتم النبيين
(احزاب:٤٠) ﴿محمد (ﷺ) تمہارے مردوں میں سے کسی کے باپ نہیں البتہ وہ اللہ کے رسول ہیں اور نبیوں پر مہر یعنی ان کے ختم کرنے والے۔﴾
لفظ خاتم کے معنی اور مفہوم
خاتم النبیین کے معنی میں تحریف کے جرم کے مرتکب ہونے والے قادیانی کہتے ہیں کہ لفظ خاتم یعنی مہر سے مراد یہ ہے کہ حضور ﷺ کی ذات قدسی صفات آنے والے نبیوں کی نبوت کے اجراء کے لئے بمنزلہ مہر کے ہے۔ ظاہر ہے تکلف سے پیدا کئے ہوئے یہ معانی سراسر بیہودہ ہیں۔ حضور سرور کائنات ﷺ آخری نبی اور ختم المرسلین ہونے کی حیثیت میں تمام انبیائے گذشتہ علیہم الصلوۃ اجمعین کی نبوتوں کی تصدیق کے لئے خاتم قرار دیئے گئے۔ اس لئے کہ حضور ﷺ کے بعد انبیائے کرام کی نبوت ورسالت کا ایسا مصدق جو اللہ کی طرف سے اسی غرض کے لئے بھیجا جاتا کوئی اور آنے والا نہ تھا اور رسول مقبول ﷺ اور حضور کی ذات گرامی پر نازل ہونے والی کتاب سے بڑھ کر انبیائے سابق کے خدا کی طرف سے مرسل ہونے کی کوئی اور مکمل و معتبر شہادت بن نہیں سکتی تھی۔ اگر خاتم کے معنی حضور ﷺ کے بعد آنے والے نبیوں کی نبوت پر تصدیق کرنے کے لئے جائیں۔ جیسا کہ قادیانی لوگ اپنے ایک متنبی کے لئے بہ تکلف لے رہے ہیں تو انہیں ثابت کرنا پڑے گا کہ حضور کی طرف سے کسی مدعی نبوت کو کون سا تصدیق نامہ ملا ہے۔ ایسے واضح تصدیق نامے کے بغیر خاتم النبیین کے وہ معنی جو قادیانی لے رہے ہیں باطل ہوجاتے ہیں۔ اگر یہ کہا جائے کہ اپنے آپ کو حضور کی امت میں سے ظاہر کرنا اور اپنی نبوت کو حضور ﷺ کی نبوت ورسالت کا ظل و بروز قرار دینا ہی اس خاتم کی طرف سے تصدیق نامہ ہونے کے لئے کفایت کرتا ہے تو یہ کیوں نہیں کہا جاتا کہ تمام مسلمان جو حضور ﷺ پر ایمان لے آئے اور آپ کی امت میں داخل ہو گئے نبی ہیں۔ کہنے کو تو یہ قادیانی مفتری خاتم النبیین کے معنی آئندہ آنے والے یعنی حضرت ختمی مرتبت ﷺ سے بعد میں آنے والے انبیاء مبعوثین بصیغہ جمع کا خاتم قرار دیتے ہیں۔ لیکن ان معنوں کا اطلاق صرف ایک مرزائے قادیانی کی نبوت کے دعویٰ پر کر کے خاموش ہو جاتے ہیں اور یہ نہیں بتاتے کہ اس امت میں بہت زیادہ نبی کیوں مبعوث نہ ہوئے۔ کم از کم بنی اسرائیل کے انبیائے کرام کی تعداد سے امت محمدیہ کے انبیاء کی تعداد کا بڑھ جانا لازمی امر تھا تا کہ قرآن پاک کی آیت کا وہ مفہوم جو قادیانی بتا رہے ہیں۔ صحیح ثابت ہو جاتا۔
٣٤
حضورؐ کے خاتم النبیین یعنی نبیوں پر مہر ہونے کی حیثیت اس امر سے بھی واضح ہے کہ تمام انبیائے گذشتہ علیہم الصلوٰۃ اجمعین نے اس خاتم النبیین کے آنے کی خبر دی تھی۔ جو دین کو پایۂ تکمیل تک پہنچانے والا تھا اور تمام انبیائے کرام اور ان کی امتوں سے حضرت باری تعالیٰ عزاسمہ نے یہ میثاق کر رکھا تھا کہ جب وہ خاتم النبیین آئے گا تو اس کے زمانہ کو پانے والے لوگ اس کی اطاعت کریں گے۔ اس میثاق کا ذکر قرآن پاک میں متعدد مقامات پر آیا ہے اور پرانے زمانہ کی کتب سماوی جیسی حالت میں بھی اس وقت تک موجود ہیں۔ اس میثاق اور ان بشارتوں کے ذکر سے خالی نہیں جو حضور ختم المرسلین ﷺ یعنی اس رسول کے متعلق جس پر دین خداوندی کی تکمیل ہونے والی تھی مذکور ہوئیں اور جن کی تصدیق کے لئے ضروری تھا کہ ایک آخری پیغمبر، دین الٰہی کو کامل کرنے والا اور سلسلۂ نبوت کو ختم کر دینے والا آئے۔ تا کہ ازمنہ گذشتہ کے انبیائے کرام علیہم السلام کے ارشادات پر تصدیق کی مہر لگ جائے۔ یعنی ان کی نبوت نوع انسانی کے نزدیک مصدق ہو جائے۔ دیکھئے قرآن حکیم کیسے واضح الفاظ میں اس میثاق کا ذکر کرتا ہے۔ ”واذ اخذ الله میثاق النبیین لما اٰتیتکم من کتاب وحکمة ثم جاء کم رسول مصدق لما معکم لتؤمنن به ولتنصرنه قال ء اقررتم واخذتم علیٰ ذلکم اصری قالوا اقررنا قال فاشهدوا وانا معکم من الشاهدین (آل عمران: ٨١) “ ﴿جب اللہ تعالیٰ نے پیغمبروں سے عہد لیا کہ میں جو تم کو کتاب اور شریعت دیتا ہوں (تو اس شرط پر) کہ جب تمہارے پاس وہ رسول پہنچے جو اس دین کی جو تمہارے پاس ہے تصدیق کرنے والا ہو تو اس پر ایمان لانا اور اس کی مدد کرنا۔ کہا کیا تم نے یہ اقرار کیا۔ ان سب نے کہا ہم نے اقرار کیا۔ فرمایا دیکھو اس امر پر گواہ رہو اور میں بھی تمہارے ساتھ گواہ ہوں۔﴾
مصدق لما معکم کی تصدیق سے کلام ربانی بھرا پڑا ہے اور ذات باری تعالیٰ عزاسمہ نے قرآن پاک میں اس امر کی پوری پوری تصریح کر دی ہے کہ قرآن سابقہ کتب سماوی کی تصدیق کے لئے نازل ہوا ہے اور حضور سرور کونین ﷺ کی بعثت کی ایک غرض یہ بھی تھی کہ تمام سابقین انبیائے کرام علیہم السلام کی نبوت کی تصدیق کریں۔ ملاحظہ ہوں ارشادات ربانی۔ ”هذا کتب انزلنه مبارک مصدق الذی بین یدیه (الانعام: ٩٢) “ ﴿اور یہ کتاب ہے جسے ہم نے نازل کیا برکت والی اور اس شے کی تصدیق کرنے والی جو پہلے سے موجود ہے۔﴾
”نزل علیک الکتاب بالحق مصدقا لما بین یدیه (آل عمران: ٣) “
٣٥
﴿اس نے تجھ پر ٹھیک ٹھیک کتاب اتاری اس کی تصدیق کرنے والی جو پہلے سے موجود ہے۔﴾ اسی طرح مصدقا لما معکم کی تراکیب قرآن کریم کے حق میں اکثر جگہ مذکور ہوئی ہیں اور حسب ذیل ارشاد ربانی نے لفظ خاتم کی پوری پوری تشریح کردی ہے۔ قولہ تعالیٰ ! ”بل جاء بالحق وصدق المرسلین (صفت:٣٧)“ ﴿البتہ وہ حق لے کر آیا اور اس نے تمام رسولوں کی تصدیق کردی۔﴾
یعنی تمام انبیائے گذشتہ کے خدا کی طرف سے سچے نبی ہونے کی حقیقت پر مہر تصدیق ثبت کر دی۔ جو خاتم النبیین کے آنے اور دین الٰہی کے پایۂ تکمیل تک پہنچنے کی خبریں دیتے رہے تھے۔ اگر خاتم (مہر) کے معنی وہ ہوتے جو مرزائے قادیانی نے اپنے دعویٰ نبوت کے اجزائے جواز کے لئے بہ تکلف پیدا کرنے کی کوشش کی ہے۔ تو قرآن حکیم میں آئندہ آنے والے نبیوں کے متعلق بھی اسی صراحت کے ساتھ ذکر کا آنا ضروری تھا۔ جس صراحت کے ساتھ زمانہ ماسبق کے مرسلین یزدانی کا ذکر آیا ہے۔ اگر خدا کے خوف کو بالائے طاق رکھ کر کوئی سر پھرا شخص یہ کہنے لگے کہ تمام وہ آیات جو قرآن پاک میں حضرت ختمی مرتبتﷺ سے متعلق ہیں۔ کسی دوسرے کی نبوت کے لئے مذکور ہوئی ہیں تو اس قسم کے دعویٰ کی بناء پر اسے مفتری اور کذاب کے سوا اور کوئی خطاب نہیں دیا جا سکتا۔
اتمام نعمت
قادیانی اور ان کے پیشوا جہلاء کو دھوکے میں ڈالنے کے لئے یہ کہنے کے بھی عادی ہیں کہ اس سے بڑا ظلم کسی امت پر اور کیا ہو سکتا ہے کہ اس کے افراد سے نبی ہونے کا امکان سلب کر لیا جائے اور حضور سرور کائناتﷺ کے افضل الانبیاء و مرسلین ہونے کے لئے ضروری ہے کہ حضور کی امت میں بھی بنی اسرائیل کی طرح بہت سے نبی بلکہ دوسری تمام امتوں سے بڑھ کر نبی نازل ہوں۔ اس سے زیادہ تلبیس حق بالباطل اور کیا ہو سکتی ہے کہ ہنر کو عیب اور عیب کو ہنر ظاہر کیا جائے۔ احمقو! پچھلی امتوں میں تشریعی اور غیر تشریعی نبی اس لئے نازل ہوتے تھے کہ دین ابھی کامل نہیں ہوا تھا اور ان امتوں اور قوموں کے لوگ بہت جلد گمراہ ہو جانے اور صحائف آسمانی کو گم کر دینے یا ان میں تحریف کر لینے کے عادی تھے۔ اس لئے ان کی ہدایت کے لئے نبی بھی جلد جلد بھیجنے کی ضرورت پیش آتی تھی۔ جب نوع انسانی میں خدا کے مکمل دین کو قبول کرنے کی صلاحیت پیدا ہو گئی تو آخری نبی کے ذریعے ہدایت کا آخری پیغام بھی پہنچا دیا گیا جو سارے عالموں اور
٣٦
سارے زمانوں کے لئے ہے۔ لہٰذا ایسی امت کو جو خیر الامم ہے جس کے اخیار کا گروہ اور جس کی آسمانی کتاب قیام قیامت تک کے لئے محفوظ ہے۔ اس میں نئے تشریعی یا غیر تشریعی نبیوں کا مبعوث ہونا کیا معنی رکھ سکتا ہے۔ امت محمدیہ پر باب نبوت کا مسدود ہو جانا اس کی سعادت و افضلیت کی دلیل ہے۔ کیونکہ اس نے خدا کے آخری نبی کا پیغام سنا اور قبول کر لیا اور یاد رکھا اور اس کے پھیلانے کے لئے کوشاں رہی اور رہے گی۔ امت محمدیہ کی افضلیت اسی میں ہے کہ وہ خدا کے کامل دین کی حامل اور اس کے آخری رسول کی امت ہے۔ جس کا عہد پانے کے لئے بنی اسرائیل کے انبیاء آرزو کرتے رہے۔ خدا کا سب سے بڑا انعام یہی ہے کہ اس نے ہمارے آقا ومولاناﷺ کو آخری نبی ہونے کی بناء پر اپنی نعمت ہم پر تمام کردی۔
ایک مغالطہ کی تصریح
تم کہو گے کہ دوسری امتوں کی طرح امت محمدیہ میں بھی غیر تشریعی نبیوں کے مبعوث ہونے کی ضرورت اسی لئے ہے کہ امت کے افراد کو گمراہی سے بچائیں۔ لیکن قرآن حکیم کا دعویٰ یہ ہے کہ خاتم المرسلین کے بعد اس امت کو کسی نئے نبی کی تعلیم و تربیت کی ضرورت پیش نہیں آئے گی۔ کیونکہ قرآن حکیم نے کسی جگہ بھی کسی نئے نبی کے آنے کی خبر نہیں دی۔ جس کے معنی یہ ہیں کہ یہ امت تاقیام قیامت گمراہ نہیں ہوگی اور اگر ہوگی تو کسی نئے نبی کے آنے کے بجائے نوع بشر پر وہ الساعت آجائے گی۔ جس کے آنے پر زندگی ختم اور بالکل نئی زندگی شروع ہو جائے گی۔ دین کے کامل ہونے کے معنی یہی ہیں کہ اگر اسے نوع بشر قبول کرنے سے انکار کردے تو اس کی اصلاح کے لئے کسی نبی کو بھیجنے کی بجائے وہ احکم الحاکمین اسے یوم الحساب میں لاکھڑا کرے۔ یہی وجہ ہے کہ خدا کے آخری پیغام میں اس آنے والی الساعۃ کی خبر کامل وضاحت، پوری تشریح، مکمل تحکم اور پورے زور کے ساتھ جا بجا دی گئی ہے۔ خدائے بزرگ و برتر نے اس امت کو دین حقہ پر قائم رکھنے اور اس دین کی نشر واشاعت کرنے کے لئے مزید نبی بھیجنے کا وعدہ نہیں کیا۔ بلکہ بتا دیا ہے کہ خود مسلمانوں کو یہ کام کرنا ہوگا۔ ملاحظہ ہو ارشاد ربانی۔ ”كنتم خير امة اخرجت للناس تأمرون بالمعروف وتنهون عن المنكر وتؤمنون بالله (آل عمران: ١١٠)“
﴿تم بہترین قوم ہو جو عام لوگوں کے لئے نکال کھڑی کی گئی (تاکہ) تم نیک کاموں کا حکم کرو اور برے کاموں سے منع کیا کرو اور اللہ پر ایمان لائے رکھو۔﴾
”ولتكن منكم امة يدعون الى الخير ويأمرون بالمعروف وينهون
٣٧
عن المنکر واولیک ہم المفلحون (آل عمران:١٠٤) ”اور تم میں ایک گروہ ایسا ہو جو نیک کاموں کے لئے کہتا رہے اور برے کاموں سے روکتا رہے۔ (جب لوگ ایسا کریں گے) وہی فلاح پانے والے ہیں۔“
پس امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کرنے والوں کو تم نبی کہنا چاہتے ہو تو سارے مسلمانوں کو نبی کہو۔ اس میں کسی مرزائے قادیانی کی تخصیص نہیں۔ ورنہ قرآن حکیم کا یہ حکم چون و چرا کے بغیر تسلیم کر لو کہ حضرت ختمی مرتبتﷺ کے بعد کسی تشریعی یا غیر تشریعی نبی آنے کی ضرورت نہیں۔
مرزائیوں کے لئے لمحہ فکریہ
مرزائی مستفسر کو اور اس کے رفقائے مسلک کو جو غیر تشریعی نبوت کا باب وا رکھنے کے خواہشمند نظر آتے ہیں سوچنا چاہئے کہ ان کے پیشوا نے اپنی نبوت تسلیم کرانے کے لئے تو طرح طرح کی موشگافیوں سے کام لیا اور بحث و جدال کے نئے دروازے کھول دیئے۔ لیکن یہ نہ بتایا کہ غیر تشریعی نبوت کا باب صرف اسی کے لئے کیوں کھولا جائے۔ کیا وجہ ہے کہ تیرہ سو سال پہلے کے مسلمانوں کو اس سے محروم رکھا اور سمجھا جائے۔ پھر انہیں سوچنا چاہئے کہ ان کا پیشوا تو ظلی، بروزی، امتی، نقلی، مجازی، غیر تشریعی نبی ہونے کے دعویٰ کے ساتھ ہی صاحب شریعت نبی ہونے کا مدعی بھی ہے۔ بلکہ اپنے کو مجموعہ کمالات انبیاء اور حضرت ختمی مرتبتﷺ سے افضل قرار دینے کی جسارت بھی کرتا ہے۔ جس کے ثبوت میں میں ان کے پیشوا کے بعض الفاظ قسط ہشتم میں جو اس بحث کی تمہید کے طور پر لکھی گئی پیش کر چکا ہوں۔ پھر وہ کس منہ سے امت محمدیہ پر فقط غیر تشریعی نبوت کے دروازے مسدود ہونے کے ثبوت میں نص قرآنی کے طالب ہوئے ہیں۔ اپنے پیشوا کی اس خرافات کو چھپانے کے لئے کیوں کوشاں ہیں۔ جس کے جواز کے لئے انہیں کسی قسم کی تاویل نہیں مل سکتی۔ امر واقعہ یہ ہے کہ تم میں سے اکثر لوگ اپنے پیشوا کے کذاب و مفتری ہونے کے قائل و شاہد ہیں۔ لیکن اغراض اور ہٹ دھرمی کی بناء پر اپنے کفر پر ڈٹے ہوئے ہیں یا اپنے پیشوا کی طرح دین کو تسخر خیال کر کے اسے حصول دنیا کا سلسلہ بنائے بیٹھے ہیں۔ اگر یہ نہیں تو کیا وجہ ہے کہ تم اپنے پیشوا کی تعلیمات کے بھان متی کے پٹارے کی ہر شے کو صحیح سمجھ کر یہ نہیں کہتے کہ ہم مرزائے قادیانی کو تمام انبیاء سے افضل خاتم المرسلین اور صاحب شریعت نبی خیال کرتے ہیں۔ اگر تمہارا دین یہ ہے تو میں تمہیں بتائے دیتا ہوں کہ تم مسلمان نہیں۔ کیونکہ دین اسلام وہی دین کامل
٣٨
ہے جو نوع بشر کو محمد عربی ﷺ نے دیا اور جس کے احکام قرآن پاک میں موجود ہیں اور جس کے اصول سیاسی کی مختصر تشریح میں کر چکا ہوں۔ ”لکم دینکم ولی دین“
رسول مکفیٰ اور دین کامل
اب میں ان مرزائیوں سے جو چالاک اور عیار قادیانی گروہ کی تاویلات کے گورکھ دھندے میں اپنی کم علمی اور کوتاہ نظری کے باعث گرفتار ہیں۔ مخاطب ہو کر کہتا ہوں کہ راہ ہدیٰ کی طرف آؤ اور اسی صراط مستقیم پر چلو جو خدا نے نوع انسانی کو محمد ﷺ کی وساطت سے دکھایا ہے۔ محمد ﷺ کے بعد ہمیں کسی قسم کے نبی کی ضرورت باقی نہیں رہی اور قرآن کے بعد کوئی کلام ربانی نہیں ہو سکتا جو کسی بندے پر خدا کی طرف سے لوگوں کی اصلاح کے لئے اتارا گیا ہو۔ اگر کسی کو محمد ﷺ کی رسالت اور قرآن کی صداقت میں کلام ہو تو وہ علیحدہ سوال ہے۔ جس کے متعلق اس کی تسکین کے سامان مہیا کئے جاسکتے ہیں۔ سردست میں ان مرزائیوں سے مخاطب ہوں جو قادیانیت کو محمد عربی ﷺ کا لایا ہوا دین اسلام سمجھ کر اس کے دام تزویر میں گرفتار ہیں۔ حضرت باری تعالیٰ عزاسمہ اپنے حبیب پاک ﷺ کو تمام لوگوں کے لئے ساری نوع بشر کے لئے رسول مکفیٰ ہونے کی سند دیتے ہیں اور فرماتے ہیں۔ ”وما ارسلنك الا كافة للناس بشيرا ونذيرا ولكن اكثر الناس لا يعلمون (السباء:٢٨)“ ﴿اور ہم نے تجھے ایسا رسول بنا کر بھیجا ہے جو بشیر ونذیر ہونے کی حیثیت میں الناس یعنی تمام نوع بشر کے مکفیٰ ہے۔ لیکن اکثر لوگ اس حقیقت سے بے خبر ہیں۔﴾
نیز فرمایا: ”يا ايها الناس انى رسول الله اليكم جميعاً (الاعراف:١٥٨)“ ﴿اے نوع بشر میں تم سب کی طرف اللہ کا رسول ہوں۔﴾
اسی طرح ”انما انت منذر ولكل قوم هاد (الرعد:٧)“ ﴿تو ڈرانے والا اور تمام اقوام کو ہدایت کا پیام دینے والا ہے۔﴾
اور ”للعالمين نذيرا “ ﴿تمام جہانوں کے لئے نذیر﴾ اور ”رحمة للعالمين “ ﴿تمام جہانوں کے لئے رحمت۔﴾ کہہ کر قصہ ختم کر دیا گیا کہ نوع بشر کے لئے رسول مکفیٰ آگیا۔
پھر اے قادیانیو! اس بشیر ونذیر کو چھوڑ کر تم کسی دوسرے کو اپنے لئے بشیر ونذیر کس طرح تسلیم کر سکتے ہو۔ جب کہ خدا ساری نوع بشر کے لئے محمد ﷺ کو مکفیٰ قرار دے چکا ہے۔ اس خدائے جبار کی باز پرس سے ڈرو۔ جس نے اپنی شان حسب ذیل الفاظ میں بیان کرتے ہوئے
٣٩
بتا دیا ہے کہ دین وہی ہے جو اس کے رسول مقبول ﷺ کی وساطت سے مل چکا اور یہی دین تمام ادیان پر غالب آکر رہے گا۔ ملاحظہ ہو ارشاد ربانی۔ ”هو الذي ارسل رسوله بالهدیٰ ودين الحق ليظهره علی الدين کله ولو کره المشرکون (صف:٩)“ وہ جس نے اپنا رسول ہدیٰ دے کر اور دین حق دے کر بھیجا تا کہ یہ دین حق تمام ادیان پر غالب آ جائے۔ خواہ مشرکوں کو یہ بات بری ہی کیوں نہ لگے۔
اختتام سلسلۂ نبوت کی برکات
تکمیل دین اتمام نعمت اور ختم نبوت کے متعلق صریح احکام و بین شواہد آجانے کے باوجود جن سے کسی کو مجال انکار نہیں ہوسکتی۔ یہ حال ہے کہ ذریات ابلیس نے دین اسلام میں رخنہ اندازی کے لئے نبوت و رسالت کے بیسیوں جھوٹے مدعی کھڑے کر دیئے۔ جن میں مسیلمہ کذاب سے لے کر مرزائے دجال تک کئی لوگ شامل ہیں۔ اگر کہیں امت محمدیہ پر بنی اسرائیل یا دوسری اقوام کی طرح نبوت کا باب کھلا ہوتا یعنی دین کی تکمیل معرض عمل میں نہ آئی ہوتی اور انبیاء کی بعثت ہونے کی ضرورت باقی رہتی تو مسلمانوں کی ہر بستی میں کوڑیوں جھوٹے نبی پیدا ہونے لگتے اور عموم ملت کے لئے جھوٹے اور سچے کی پہچان میں اتنی مشکلات پیش آتیں کہ کسی کو اپنے راستے کی درستی کے متعلق اطمینان قلب کی نعمت حاصل نہ ہوسکتی۔ بنی اسرائیل کی تاریخ کے اکثر ادوار میں نبوت کے متعلق یہی انارکی پیدا ہوئی جس کا ثبوت بنی اسرائیل کی کتابوں میں جابجا ملتا ہے۔ اس لحاظ سے بھی امت محمدیہ پر ختم نبوت و تکمیل دین کا ہو جانا خدا کی ایسی دین ہے جسے وہ خود اتمام نعمت کے نام سے موسوم کرتا ہے۔ اسی کی بدولت دین اسلام خدا کا آخری دین ٹھہرا اور اس کی ایسی جامع و پائیدار حیثیت قرار پائی۔ جو ہر طرح کی مکانی اور زمانی قیود سے آزاد ہے اور صرف کرۂ ارضی کے مساکنین پر نہیں۔ بلکہ دیگر اجرام سماوی کی باشعور مخلوق پر بھی اس کے احکام محیط ہیں اس اتمام نعمت کی بدولت امت محمدیہ پر لامحدود مادی، روحانی، دماغی، نفسیاتی اور معاشرتی ترقیات کے دروازے کھل گئے اور نوع انسانی کو اپنے پروردگار کی طرف سے کائنات اور اس کی ساری موجودات کو مسخر کرنے اور اللہ کی ودیعت کی ہوئی تمام حاضر و آئندہ نعمتوں سے جائز تمتع حاصل کرنے کا پروانہ مل گیا۔ تکمیل دین کے ساتھ ہی نوع انسانی پر شعور کا زمانہ شروع ہوگیا۔ اس کے زاویہ نگاہ میں خدا کے آخری پیغام نے حیرت انگیز تبدیلی پیدا کردی اور امت محمدیہ کو بتا دیا گیا کہ کائنات کی تمام اچھائیاں اور خوبیاں اس کے لئے ہیں جنہیں وہ ایمان اور تقویٰ میں ترقی کرنے
٤٠
کی شرط کے۔ ہے جو دین ا قرنی وخیر تکمیل دین
حضور سرور کا سے آزاد کر د ومثل الان من زاوية اللبنة قال النبيين) گذشتہ کی مث میں ایک اینٹ ایک اینٹ کی
ورثہ کا مینار دوسری امتوں ہوسکی کہ خدا وہ خیر الامم ا اسی دین کامل حقیقت کو تو ممکن نہیں ہ اور یہ اصول وظیفہ محمد رسوا نعمت کا دعوی
کی شرط کے ساتھ حاصل کر سکتے ہیں۔ نوع انسانی کی تاریخ اس عظیم الشان انقلاب پر شاہد عادل ہے جو دین اسلام کی بعثت کے باعث اس کی زندگی میں رونما ہوا۔ ارشاد نبوی خیر القرون قرنی وخیر الامم امتی میں اسی حقیقت حال کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔
تکمیل دین کی ایک مثال
تکمیل دین، اتمام نعمت اور وظیفہ نبوت کے اپنی معراج کمال تک پہنچنے کی مثال خود حضور سرور کائنات ﷺ (بابی ہو وامی) نے ارشاد فرما کر مسلمانوں کو کسی نبی کے انتظار کی زحمت سے آزاد کر دیا ہے۔ ارشاد ہوا ہے۔ ” عن ابی ہریرہ ان رسول اللہ ﷺ قال ان مثلی ومثل الانبیاء من قبلی کمثل رجل بنی بیتا فاحسنہ واجملہ الا موضع لبنۃ من زاویۃ فجعل الناس یطوفون بہ ویتعجبون لہ ویقولون ھلا وضعت ھذہ اللبنۃ قال فانا اللبنۃ وانا خاتم النبیین (صحیح بخاری ج ١ ص ٥٠١، باب خاتم النبیین) “ ﴿حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ میری اور انبیائے گزشتہ کی مثال ایسی ہے کہ کسی شخص نے ایک عمدہ اور خوبصورت گھر بنایا۔ مگر اس کے ایک کونے میں ایک اینٹ کی جگہ خالی رہ گئی۔ پس لوگ اس گھر کے گرد پھرنے لگے اور تعجب کرنے لگے کہ یہ ایک اینٹ کیوں نہیں لگائی گئی۔ فرمایا کہ میں وہ اینٹ ہوں اور نبیوں کو ختم کرنے والا ہوں۔﴾
ظاہر ہے کہ قصر نبوت کے اس طرح پایۂ تکمیل کو پہنچ کر نوع انسانی کے لئے ہدایت و رشد کا مینار ضیا بننے کے بعد اس امر کی گنجائش باقی نہیں رہ جاتی کہ اس پر مزید اضافہ کیا جائے۔ دوسری امتوں کے لئے مرسلین یزدانی مبعوث ہوتے رہے۔ لیکن کسی امت کو یہ سعادت حاصل نہ ہو سکی کہ خدا کے دین کو اپنی مکمل صورت میں پا سکے۔ امت محمدیہ پر اللہ کی اس نعمت کا اتمام ہو گیا اور وہ خیر الامم اور شاہد علی الناس قرار پائی اور اسے بتا دیا گیا کہ اس کی زندگی کا مقصد ساری نوع بشر کو اسی دین کامل کا حلقہ بگوش بنانا ہے۔ جو حبیب خدا ﷺ کی وساطت سے مل چکا۔ اس ظاہر و باہر حقیقت کو تو نہایت موٹی عقل کا انسان بھی سمجھ سکتا ہے کہ نوع بشر کی نجات اس وقت تک کے لئے ممکن نہیں ہو سکتی۔ جب اس کے سلیم الفطرت طبائع کو ایک مرکز پر جمع کرنے کا اصول موجود نہ ہو اور یہ اصول لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ کے سوا اور کوئی ہو نہیں سکتا۔ اگر نوع بشر کو ایک مرکز پر لانے کا وظیفہ محمد رسول اللہ ﷺ کے سوا کسی اور شخص کے لئے مقدر ہوتا تو قرآن پاک تکمیل دین اور اتمام نعمت کا دعویٰ کبھی نہ کرتا۔ جو شخص مرد مسلم و فرد مؤمن ہو کر قرآن پاک کے اس دعویٰ کو برحق سمجھتا
٤١
ہے اس کے وہم و گمان میں بھی یہ بات نہیں آسکتی کہ حضور سرور کونینﷺ کے بعد کوئی نبی مبعوث ہوسکتا ہے۔ چہ جائیکہ کسی اور کو افضل الانبیاء جامع کمالات انبیاء اور خاتم الانبیاء سمجھا جائے۔ اس قسم کے دعویٰ کرنے والا شخص ملحد اور خدا کا منکر ہونے کے سوا اور کچھ نہیں ہوسکتا۔ کیونکہ وہ اللہ کے قائم کئے ہوئے شعائر کی تذلیل و تضحیک کرنے کی جسارت کا مرتکب ہورہا ہے اور جان بوجھ کر دین اسلام کے مسلمات سے استہزاء کر رہا ہے۔ ایسے ہی لوگوں سے بچنے کے لئے ہمارے آقا و مولیٰ حضورﷺ نے ہمیں بتا دیا کہ بہت سے مفتری پیدا ہوں گے۔ جو نبوت و رسالت کا دعویٰ کریں گے۔ لیکن ان سب کو دجال اور فریب کار سمجھنا اور ان کے دام تزویر سے بچنا۔ کیونکہ میرے بعد کوئی نبی مبعوث نہیں ہوگا۔ یعنی وظیفہ نبوت کا اجرا نہیں کرے گا۔ کیونکہ یہ وظیفہ قیامت تک آنے والے انسانوں کے لئے میں نے پایہ تکمیل تک پہنچا دیا۔ ارشاد نبوی ہے۔ ”لا تـقـوم الساعة حتى يخرج كذابون ثلاثون كلهم يزعم انه نبى وانا خاتم النبيين لا نبى بعدى (رواه طبرانى عن نعيم ابن مسعود ورواه مسلم عن ثوبان) “ ﴿رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ قیامت اس وقت تک قائم نہ ہوگی جب تک کہ تیس کذاب نہ نکل لیں۔ جو سب یہی گمان کریں گے کہ وہ نبی ہیں۔ حالانکہ میں خاتم النبیین ہوں۔ میرے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا۔﴾
مرزائے قادیانی کا دعویٰ
قرآن پاک کی ان تصریحات جو میں پہلے بیان کر چکا ہوں اور حضور سرور کائناتﷺ کے ان ارشادات کے بعد نبوت کا باب وا ثابت کرنے والوں کی ضلالت و گمراہی کے متعلق کسی مسلمان کو شک نہیں ہوسکتا۔ لہٰذا مجھے مرزا غلام احمد قادیانی کے دعویٰ نبوت کے بطلان کے لئے اس کی عجیب و غریب زندگی۔ اس کے اخلاق و اطوار اور اس کی عادات و خصائل کو زیر بحث لانے کی ضرورت نہیں۔ جن میں سے ایک ایک چیز اس کی تکذیب کر رہی ہے۔ مرزائے قادیانی نے اپنی نبوت کو واضح نشان دکھانے کے لئے اپنے ہی خاندان کی ایک لڑکی محمدی بیگم کو اپنے حبالہ عقد میں لانے کے لئے جو سرتوڑ اور خلاف آداب معاشرت کوششیں کیں وہ نہ مجھ سے مخفی ہیں نہ قادیانی ان پر پردہ ڈال سکتے ہیں۔ اس لڑکی کے حصول کے لئے مرزائے موصوف نے اپنے بیٹے کو اس بناء پر عاق کر دیا کہ اس نے اپنی بے قصور بیوی کو جو محمدی بیگم کے قرابت داروں میں سے تھی طلاق کیوں نہیں دی۔ اپنے لڑکے اور اپنی بہو کی ازدواجی زندگی کو اپنی ایک خواہش پر
٤٢
بلا وجہ اور بلا قصور قربان کر دینے کا اقدام جس اخلاق کے شخص سے ہو سکتا ہے وہ محتاج بیان نہیں۔ اگر قادیانی حضرات اس دلچسپ داستان کو از سر نو سننے کے متمنی ہوئے تو انہیں اپنے پیغمبر کی یہ کہانی خود اس کی زبانی سنا دی جائے گی۔ کیا اسی معیار شرافت کا اظہار کرنے والے شخص کے دعاوی کے لئے قادیانی حضرات کو تشریعی یا غیر تشریعی نبوت کا باب وا کرنے کی ضرورت لاحق ہو رہی ہے۔ اگر صحت عقائد و سلامتی ایمان کی ذرہ بھر پرواہ بھی ہے تو اے مرزائیو! تمہیں اپنی عاقبت کی فکر کر لینی چاہئے اور اگر ہٹ دھرمی کے ساتھ تمہیں اپنی ضلالت و گمراہی پر قائم رہنا ہے تو تم جانو اور خدائے جبار و قہار کی وہ ڈھیل جو تم ایسے لوگوں کی رسی دراز ہونے کے لئے وہ دے دیا کرتا ہے۔ ”قاتلهم الله انی یوفکون (منافقون:٤)“ ”ان پر خدا کی مار یہ کہاں بھٹکے جا رہے ہیں۔“
قرآن پاک کی ایک آیت کا مفہوم
قادیانی مستفسر کا چوتھا سوال حسب ذیل ہے۔ آیہ شریفہ ”ولو تقول علینا بعض الاقاویل لا خذنا منه بالیمین ثم لقطعنا منه الوتین (الحاقه)“ جو بطور دلیل آنحضرت ﷺ کو شاعر اور کاہن کہنے والوں کے سامنے پیش کی گئی ہے۔ یہ بطور قاعدہ کلیہ کے ہے یا نہیں۔ اگر بطور قاعدہ کلیہ کے نہیں تو پھر یہ دلیل مخالفین کے لئے کس طرح وجہ تسکین ہو سکتی ہے۔ جاء الاحتمال بطل الاستدلال کو مدنظر رکھ کر جواب دیں۔
مستفسر نے اپنے سوال میں جس آیت شریفہ کا حوالہ دیا ہے اس کے سیاق و سباق کو پیش نظر رکھنے کے بعد صاف طور پر یہ حقیقت مترشح ہو جاتی ہے کہ حضرت باری تعالیٰ جل شانہ نے یہ آیات منکرین رسالت و معترضین کلام الہی کے سامنے بطور استدلال نازل نہیں فرمائیں اور نہ ان میں کسی قسم کا قاعدہ کلیہ بیان کیا گیا ہے۔ بلکہ صرف ان مشککین کی تسلی کے لئے آئی ہیں جو حضور ﷺ کی رسالت کو برحق جاننے کے باوجود اس شبہ میں گرفتار تھے کہ شاید محمد ﷺ خدا کے کلام میں بعض اپنی باتیں بھی شامل کر دیتے ہوں۔ لفظ بعض الاقاویل (بعض باتیں) اس پر شاہد و دال ہے۔ اس امر کو جاننے کے لئے ان آیات میں نہ تو کوئی قاعدہ کلیہ بیان کیا گیا ہے اور نہ ان سے کسی قسم کا استدلال مقصود ہے۔ سورۃ الحاقہ کے آخری رکوع پر جن میں یہ آیات مذکور ہیں۔ ایک نظر ڈال لینا ضروری ہے تاکہ سیاق و سباق پر غور کرنے کے بعد اس تحریف مطلب کی قلعی کھل جائے۔ جس کے مرتکب قادیانی ماؤل اپنے نظریہ کو ثابت کرنے کے لئے ہو رہے ہیں۔
”قال الله تعالى عزاسمه . فلا اقسم بما تبصرون . وما لا
٤٣
تبصرون ٠ انه لقول رسول كريم ٠ وماهو بقول شاعر قليلا ما تؤمنون ٠ ولا بقول كاهن قليلا ما تذكرون ٠ تنزيل من رب العالمين ولو تقول علينا بعض الاقاويل ٠ لاخذنا منه باليمين ٠ ثم لقطعنا منه الوتين ٠ فما منكم من احد عنه حاجزين وانه لتذكرة للمتقين ٠ وانا لنعلم ان منكم مكذبين وانه لحسرة على الكفرين وانه لحق اليقين ٠ فسبح باسم ربك العظيم (الحاقه : ٣٨ تا ٥٢) ﴿پس میں ان اشیاء کی قسم کھاتا ہوں جو تم دیکھ رہے ہو اور ان اشیاء کو جنہیں تم نہیں دیکھتے (اس امر پر) کہ بے شک یہ معزز رسول کا قول ہے اور کسی شاعر کا قول نہیں تم لوگ بہت کم ایمان لاتے ہو۔ نہ یہ کسی کاہن کا قول ہے تم لوگ بہت کم غور کرتے ہو۔ رب العالمین کی طرف سے اتارا گیا ہے۔ اگر وہ (رسول) بعض باتیں ہم پر گھڑ کر لگا دیتا تو ہم اس کو داہنے ہاتھ سے پکڑتے اور اس کی شاہ رگ کاٹ ڈالتے۔ پھر تم میں سے کوئی بھی آڑے نہ آتا۔ بے شک یہ قرآن پرہیز گاروں کے لئے تذکرہ ہے اور ہم جانتے ہیں کہ بے شک تم میں سے بعض لوگ اس کے جھٹلانے والے ہیں اور بیشک یہ قرآن نہ ماننے والوں کے لئے حسرت لانے کا باعث ہوگا اور بیشک یہ قرآن یقینی اور حتمی ہے۔ پس اپنے رب عظیم کے نام کا ورد کیا کر۔﴾
استشہاد کا حقیقی مرجع
ظاہر ہے کہ اس رکوع میں قرآن پاک کے تنزیل من رب العالمین ہونے پر استشہاد واستدلال کے طور پر وہ چیز پیش نہیں کی گئی جو قادیانی مفسر نے بیان کی ہے۔ بلکہ اصول کلام ربانی کے مطابق خدائے پاک نے ”بما تبصرون وما لا تبصرون“ ﴿جسے تم دیکھ رہے ہو اور جسے تم نہیں دیکھتے۔﴾ یعنی ساری کائنات اور اس کے مخفی عوامل کی طرف انسانوں کو توجہ دلائی ہے اور ایمانداری کے ساتھ ان پر غور کرنے کا حکم دیا ہے۔ جس کے بعد اس امر میں شک و شبہ کی گنجائش باقی نہیں رہ سکتی کہ قرآن خدا کا کلام ہے اور خدائی کلام میں بعض من گھڑت باتیں اپنی طرف سے شامل کرنے اور اس کے نتیجہ میں سزا پانے کے متعلق جو کچھ مذکور ہوا ہے۔ وہ خاص حضرت رسول کریمﷺ کی ذات اقدس کے متعلق ہے۔ سباق کی عبارت پر غور کرنے کے بعد جب معترض قرآن کے خدائی کلام ہونے کا قائل ہو جاتا ہے اور اس کے دل میں رسول کریمﷺ کے متعلق یہ شبہ پیدا ہوتا ہے کہ اس امر کی کیا ضمانت ہے کہ پیغمبر خداﷺ اپنی طرف سے بعض اقاویل کلام ربانی میں شامل نہیں کرتے تو اسے بتا دیا جاتا ہے کہ اگر رسول کریم جو شروع ہی سے
٤٤
صادق الامین چلے آ رہے ہیں ایسی جسارت کے مرتکب ہوتے تو خدا انہیں سخت سزا دیتا۔ اس آیت سے کسی طرح یہ معنی نہیں نکالے جاسکتے کہ اس میں تمام رسولوں کے متعلق سنت الٰہی بیان کی گئی ہے اور خدا پر یکسر افتراء باندھنے والوں کی سزا کے لئے کوئی قاعدہ کلیہ بیان کر دیا گیا ہے۔
واقعات کی شہادت بینہ
اپنے پیر و مرشد کی خرافات کو اس آیت کے تحریف کردہ معانی کے بل پر خدائی الہام ثابت کرنے کے لئے مضطرب ہونے والے مرزائیوں کو معلوم ہونا چاہئے کہ جس بات کو وہ اپنے محرف معانی کے بل پر سنت الٰہی قرار دے رہے ہیں واقعات اس کی تغلیط کرتے ہیں۔ بنی اسرائیل میں بے شمار جھوٹے نبی پیدا ہوئے۔ جنہوں نے باب نبوت کے وا ہونے کی رخصت سے فائدہ اٹھا کر مرزا غلام احمد قادیانی کی طرح لوگوں کو دھوکے میں مبتلا کرنے کی کوشش کی اور خدائے بزرگ و برتر نے ایسی مفتریوں کی رسی دراز کی اور انہیں ڈھیل دی۔ قادیانی مستفسر کو ایسے جھوٹے نبیوں کے حالات معلوم کرنے کا شوق ہو تو کتاب مقدس کا پرانا عہد نامہ پڑھ لے اسے معلوم ہو جائے گا کہ خدا کے بعض سچے نبی ابتلاؤں اور مصیبتوں میں مبتلا ہوتے رہے۔ حتیٰ کہ بعض شہید بھی کر دیئے گئے اور اللہ پر افتراء باندھنے والوں نے بادشاہوں کے مقرب بن کر زندگی گزاری۔ بنی اسرائیل کا قصہ جانے دیجئے۔ خود امت محمدیہ میں مرزا غلام احمد قادیانی کی طرح اللہ پر افتراء باندھنے والے متنبی پیدا ہوئے۔ لیکن بطش ایزدی نے انہیں قادیانی نظریہ کے مطابق سخت پکڑ کرنے کے بجائے اپنی سنت جاریہ کے مطابق مہلت دی۔ جن میں بعض کے نام حسب ذیل ہیں ۔ ”محمد ابن تومرت ساکن جبل سوس۔ جس نے برابر ٢٢ سال اپنی جھوٹی نبوت ومہدویت کا چکر چلایا۔“
(فتوحات اسلامیہ بحوالہ تاریخ کامل، ج٩ ص١٩٥)
طریف ابو صبیح وصالح بن طریف جن میں موخر الذکر نئی کتاب کے نزول کا مدعی تھا جس کی چند سورتوں کے نام الدیک، الجمل، الفیل، آدم، نوح، ہاروت و ماروت، ابلیس، غرائب الدنیا وغیرہ تھے۔ انہوں نے سلطنت کی بنیاد ڈالی اور ان کے بعد پشتوں تک ان کے خاندان کی سلطنت قائم رہی۔
(ابن خلدون)
پس ثابت ہو گیا کہ: ”ولو تقول علينا بعض الاقاويل لا خذنا منه باليمين ثم لقطعنا منه الوتين“ میں ذات باری تعالیٰ نے معترضین نبوت کو قائل کرنے کے لئے کوئی قاعدہ کلیہ بیان نہیں فرمایا۔ بلکہ متشککین کا شک دور کرنے کے لئے خود حضور ﷺ کی
٤٥
صداقت پر اپنی طرف سے شہادت بیان کی ہے۔ ظاہر ہے کہ جو لوگ قرآن پاک کو کلام ربانی تسلیم نہیں کرتے ان سے یہ کہنا کہ اگر پیغمبر ﷺ نے بعض باتیں اپنی طرف سے بنالیں تو ہم اس سے یہ سلوک کریں گے۔ ان کی تسلی کا موجب نہیں ہو سکتا۔ یہ ارشاد ربانی انہیں لوگوں کو تسلی دے سکتا ہے جو حضور پر نزول وحی کے قائل تو تھے لیکن اس میں ملاوٹ کئے جانے کا شبہ کرتے تھے۔
مرزائیوں سے خطاب
”یحرفون الکلم عن مواضعہ“ کے جرم کے مرتکب ہونے والے مرزائیوں کو معلوم ہونا چاہئے کہ انہیں اپنے پیشوا کے باطل دعاوی کو برحق ثابت کرنے کی کوششوں میں کیسی کیسی تاویلیں کرنے اور کیسے کیسے مسائل گھڑنے کی ضرورت محسوس ہو رہی ہے اور یہی وہ دجل و تلبیس ہے جس کے دام میں وہ بعض سادہ لوح اشخاص کو پھنسا لیتے ہیں اور قرآن پاک کی آیات کے غلط معنی کر کے ان کے اصلی مطلب کو توڑ مروڑ کر اور انہیں اپنے صحیح محل استعمال سے ہٹا کر لوگوں کو دھوکا دیتے ہیں۔ یہ دین اسلام کو سمجھنے اور حاصل کرنے کی صورتیں نہیں بلکہ طرح طرح کی مفسدہ پردازیوں کے دروازے کھول کر اس کی تخریب کے درپے ہونے کی باتیں ہیں۔ اسے اپنی ہوا و ہوس کے مطابق بنانے کی کوششیں ہیں۔ میں اس سلسلۂ مضمون گزشتہ اوراق میں قادیانی متنبی کی تعلیم اور اس کے اقوال کو اسلام کی تعلیم اور قرآن پاک کے نصوص کے مقابل رکھ کر دکھا چکا ہوں کہ قادیانیت اسلام کے اصل الاصول کی کسوٹی پر پوری نہیں اترتی۔ اس کے پیشواء نے توحید ذات باری تعالیٰ عزاسمہ کے اسلامی تصور کو مسخ کر کے عیسائیوں اور آریوں کی طرح خدائے تعالیٰ کے متعلق مغشوش اور غلط تصور کو پیش کیا۔ نبوت رسالت کے اسلامی عقیدہ کو پس پشت ڈال کر اس سے استہزاء بلکہ اس کی توہین کا مرتکب ہوا۔ جہاد کے احکام پر جو قرآن پاک میں کامل تصریح کے ساتھ مذکور ہوئے ہیں۔ خط تنسیخ کھینچنے کی کوشش کی، حج باطل کر دیا۔ مسجد حرام، مسجد اقصیٰ اور دیگر شعائر اللہ کی تحقیر کا مرتکب ہوا۔ پھر میں ایک قادیانی مستفسر کے جواب میں اس امر کی تصریح بھی کر چکا ہوں کہ قرآن پاک کے معارف سمجھنے کے لئے دور از کار تاویلیں کرنا جسے شرعی اصطلاح میں تفسیر بالرائے کہتے ہیں۔ اسلام سیکھنے کا طریق نہیں بلکہ اس سے دور بھاگنے کے کرتوت ہیں اور نصوص قرآنی پیش کر کے اتمام حجت پیش کر چکا ہوں کہ حضور سرور کونین ﷺ کی رسالت کے بعد قیامت تک ہر قسم کی نبوت رسالت کے دعاوی باطل ہیں۔ صحیفۂ امروز میں قادیانی مستفسر کے کھائے ہوئے اس فریب کی قلعی بھی کھول دی گئی۔ جس میں عیار مرزائیوں نے اسے اور اس جیسے
٤٦
دوسرے قادیانیوں کو سورۃ الحاقہ کے آخری رکوع کے غلط معانی بتا کر مبتلا کر رکھا ہے۔ اس کے باوجود اگر حق کی روشنی ان کے قلوب میں سرایت نہیں کرتی تو اس کے سوا اور کیا کہا جاسکتا ہے۔
” ختم الله على قلوبهم وعلى سمعهم وعلى ابصارهم غشاوة ولهم عذاب عظیم (البقرہ:٧)“ ﴿ اللہ نے ان کے دلوں پر ان کے کانوں پر مہر کر دی اور ان کی آنکھوں پر پردے ڈال دیئے اور ان کے لئے عذاب عظیم تیار ہے۔ ﴾
قادیانیوں کو واضح ہو کہ وہ ختم اللہ کے معنی ہی سے لفظ خاتم کے معنی کا استنباط کر سکتے ہیں اور جان سکتے ہیں کہ جس چیز پر اللہ اپنی مہر کر دیتا ہے وہ پھر وا نہیں ہوا کرتی۔
آگے چل کر میں ان فریبوں کی ردا چاک کروں گا جو مرزائے قادیانی نے اپنی مہدویت اور مسیحیت منوانے کے لئے سادہ لوح مرزائیوں کے لئے تیار کر رکھی ہے اور جس کے دجالی تار و پود کے نیچے مرزائی حضرات سر چھپا کر یہ سمجھ لینے کے عادی ہیں کہ وہ بڑے ہی محفوظ مامن میں بیٹھے ہیں۔ متذکرہ صدر تصریحات کے بعد ان مباحث میں پڑنے کی ضرورت تو نہ تھی۔ لیکن بعض مرزائیوں نے ان کے متعلق استفسارات کئے ہیں۔ لہٰذا لگے ہاتھوں ان کی توضیح کر دینا بھی ضروری ہے۔ قادیانیوں کو معلوم ہونا چاہئے کہ وہ حق کی بینات کے مقابلہ میں تاویلات لاطائل کی تدلیس کے سوا اور کوئی وزنی شے پیش نہیں کر سکتے۔
” ومنهم اميون لا يعلمون الكتاب الا امانی وان هم الا يظنون فويل للذين يكتبون الكتاب بايديهم ثم يقولون هذا من عند الله ليشتروا به ثمناً قليلاً فويل لهم مما كتبت ايديهم وويل مما يكسبون (البقرہ:٧٨، ٧٩)“ ﴿ اور ان میں کچھ جاہل لوگ بھی ہیں جو کتاب کو اپنی ہوا و ہوس کا ذریعہ سمجھنے کے سوا اور کچھ اہمیت نہیں دیتے۔ یہی لوگ ہیں جو محض گمان پر چلتے ہیں۔ پس ان لوگوں پر افسوس جو اپنے ہاتھوں سے کتاب لکھتے ہیں پھر کہہ دیتے ہیں کہ یہ اللہ کی طرف سے ہے تا کہ اس کے معاوضہ میں تھوڑی سی قیمت حاصل کر لیں۔ پس ان پر افسوس اس کے باعث جو وہ اپنے ہاتھوں لکھتے ہیں اور اس کے لئے بھی افسوس جو وہ (اس کے معاوضہ میں) کمائی کرتے ہیں۔ ﴾
حضرت عیسیٰ علیہ السلام ...... عرض حال
جن لوگوں کو روزانہ اخبارات کے کاروبار سے ذرہ بھر بھی واقفیت ہے وہ جانتے ہیں کہ ایک روزنامہ نویس کی مصروفیتیں کس قدر بڑھی ہوئی اور اس کے اوقات کس طرح بٹے ہوئے
٤٧
ہوتے ہیں۔ لہٰذا اگر محولہ بالا عنوان کے سلسلۂ مضامین کی اقساط کی اشاعت کچھ عرصہ کے لئے معرض تعویق اور محل التواء میں پڑی رہی تو راقم الحروف کے مشاغل کی اس بھر مار کو سبب قرار دینے میں قارئین کرام سراسر حق بجانب ہیں۔ جن سے ایک روز نامہ نویس کی زندگی کو ہر وقت دو چار رہنا پڑتا ہے۔ لیکن ہمارے قادیانی دوستوں نے اس التواء کو اپنے متنبی کی کرامت کہنا شروع کر دیا کہ قادیانیت کے کاسہ سر پر اسلام کا البرز شکن گرز چلانے والے مدیر وسردبیر کے ہاتھ شل ہو گئے۔ اس کے دماغ کی ساری قوتیں سلب کر لی گئیں۔ اس کا گرز پاش پاش ہو گیا اور وہ سر پکڑ کر بیٹھنے پر مجبور ہو رہا ہے۔ راقم الحروف قادیان کے اخبار الفضل کی اس قسم کی تعریضات کو متبسم ہو ہو کر ایک گونہ خوش مزگی کے ساتھ پڑھتا رہا اور ان اثرات کے نتائج کا منتظر رہا جو ان تمہیدی مضامین کی اشاعت سے اطراف واکناف مملکت میں پیدا ہو رہے تھے۔ یہ امر میری انتہائی خوشی، دل جمعی اور حوصلہ افزائی کا موجب ہے کہ میرے قلم سے نکلے ہوئے ان مضامین نے جہاں قادیانیت کی دنیا میں ایک تہلکہ عظیم برپا کر دیا۔ وہاں مسلمانوں کے ہر طبقہ نے اسے انتہائی پسندیدگی اور مقبولیت کی نگاہ سے دیکھا۔
تا نہ بخشد خدائے بخشندہ
قادیانیوں کو معلوم ہونا چاہئے کہ اسلام کا البرز شکن گرز بفضل ایزدی وفیض سرمدی ان کے دجل وزور کی ایسی سرکوبی کر کے چھوڑے گا کہ پھر اسے سر اٹھانے کی سکت ہی نہ رہے گی اور ان کی تلبیس حق بالباطل کے پردے اس طرح چاک کر دیئے جائیں گے کہ دیکھنے والی آنکھیں پھر دھوکا نہیں کھائیں گی اور دین ھٰذا اسلام میں رخنہ اندازیوں کا وہ طلسم جو قادیانی متنبی اور اس کے متبعین نے عامتہ المسلمین کی علم دین سے بے خبری سے فائدہ اٹھا کر مسیحی حکومت کے ایما اور عیسائی کلیساؤں سے عقد کر کے شروع کر دیا تھا یکسر ٹوٹ کر رہے گا۔ ”یریدون لیطفؤا نور اللہ بافواہہم واللہ متم نورہ ولوکرہ الکفرون“
حضرت عیسیٰ علیہ السلام
اب میں قادیانی مستفسرین کے ان سوالات کو لیتا ہوں جو انہوں نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی زندگی ان کے رفع الی السماء اور نزول الی الارض وغیرہ کے متعلق کئے ہیں۔ ان سوالات میں الفضل قادیان کے وہ سوالات بھی شامل ہیں جو اس نے ”تبلیغی مسیحیت“ کی نمائندگی کرتے
٤٨
ہوئے اس خاکسار سے کئے ہیں اور جن کا مقصد اس کے سوا اور کچھ نہیں کہ قادیانی متنبی کی اس خرافات کے لئے جواز کا پہلو پیدا کر کے دکھایا جائے۔ جو اس نے حضرت عیسیٰ ابن مریم علیہما الصلوٰۃ والسلام کے متعلق ملحدانہ دریدہ دہنی سے کام لے کر اپنی تصنیفات میں متعدد مقامات پر کی ہے۔ قادیانی مستفسرین کو معلوم ہونا چاہئے کہ ان کے تمام سوالات کا جواب تذکار ذیل میں اپنے اپنے موقع پر آ جائے گا اور حسب موقع ان کے سوالوں کا ذکر بھی کر دیا جائے گا۔
مرزا کے دعاوی کی بنیاد
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی ولادت، زندگی، وفات یا رفع الی السماء، نزول وغیرہ کے مباحث سے جن پر یہودیوں، عیسائیوں، مسلمانوں، قادیانیوں میں کئی قسم کے جھگڑے رونما ہو چکے ہیں اور ان مذاہب کے پیرووں کے مختلف فرقوں کے مابین کئی قسم کے اختلافی خیالات موجود ہیں سردست قطع نظر کر کے ہم مرزا غلام احمد قادیانی کے دعاوی کی اساس کی طرف متوجہ ہوتے ہیں۔ جس پر اس نے اپنے نئے مذہب کی عمارت کھڑی کرنے کی کوشش کی اور جس کے جواب کے لئے اسے دلیل و برہان کے میدان میں قدم قدم پر ٹھوکر کھا کر بے شمار قلا بازیاں کھانے کی ضرورت محسوس ہوئی۔
مرزا غلام احمد قادیانی نے دعویٰ کیا کہ قیامت کے نزدیک جس مسیح کے آنے کی خبر مختلف کتب سماوی اور احادیث رسول مقبول ﷺ میں دی گئی ہے وہ میں ہوں اور میرے سوا ان پیشگوئیوں کے مورد کا مستحق اور کوئی نہیں۔ از بس کہ کسی دوسری شخصیت کی جگہ دنیا کو دھوکا دینے کے لئے اپنے آپ کو پیش کرنا آسان کام نہ تھا۔ لہٰذا اسے اپنے دعویٰ کی بنیاد انتہا درجہ کے بودے اور لچر استدلال پر رکھنی پڑی اور وہ مجبور ہو گیا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو فوت شدہ قرار دے کر ان کے نزول یا ظہور کے امکانات کو مسدود ثابت کر دے تاکہ اخبار کی روشنی میں لوگوں کو کسی دوسرے مسیح کی جستجو پیدا ہو تو وہ طرح طرح کے حیلوں سے کام لے کر اپنی مسیحیت کا اقرار لینے کے در پے ہو جائے۔ مشکل یہ تھی کہ اخبار مذکورہ میں صاف طور پر اسی عیسیٰ ابن مریم علیہما الصلوٰۃ والسلام کے آنے کی خبر دی گئی تھی۔ جو حضرت رسول کریم ﷺ کی بعثت سے کوئی چھ سو سال پہلے ملک شام کے یہودیوں کی اصلاح کے لئے مبعوث ہوئے تھے اور جن کی الوہیت کے افسانے تراش تراش کر عیسائیوں نے خدائی دین کی صورت کو مسخ کر دیا تھا۔ اس مشکل کے ارتفاع کے لئے مرزا غلام احمد قادیانی کو طرح طرح کی حیلہ جوئیوں سے کام لینا پڑا۔ جن کی ایک مثال میں کسی سابقہ قسط میں
٤٩
برسبیل تذکرہ بیان کر چکا ہوں اور جسے دوبارہ یہاں اس لئے نقل کرتا ہوں کہ قارئین کو یاد آجائے کہ مرزائے موصوف نے ”ابن مریم“ کہلانے کے لئے کیسی کیسی بیہودہ دلیلوں سے کام لیا اور تعجب کا مقام یہ ہے کہ اس کے پیرو اسی قسم کے استدلال کو جس کی لغویت اظہر من الشمس ہے۔ دلیل آسمانی سمجھتے اور قبول کر لیتے ہیں۔ مرزا غلام احمد نے لکھا: ”مریم کی طرح عیسیٰ کی روح مجھ میں نفخ کی گئی اور استعارہ کے رنگ میں مجھے حاملہ ٹھہرا دیا گیا اور آخر کئی مہینے کے بعد جو دس مہینے سے زیادہ نہیں بذریعہ الہام مجھے مریم سے عیسیٰ بنایا گیا۔ پس اس طور سے میں ابن مریم ٹھہرا۔“
(کشتی نوح ص ٤٧، خزائن ج ١٩ ص ٥٠)
”اس بارہ میں قرآن کریم میں بھی ایک اشارہ ہے اور وہ میرے لئے بطور پیش گوئی کے ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ قرآن شریف میں اس امت کے بعض افراد کو مریم سے تشبیہہ دیتا ہے اور پھر کہتا ہے کہ وہ مریم عیسیٰ سے حاملہ ہوگئی اور سب ظاہر ہے کہ اس امت میں کسی نے بجز میرے اس بات کا دعویٰ نہیں کیا کہ میرا نام خدا نے مریم رکھا اور پھر اس مریم میں عیسیٰ کی روح پھونک دی ہے اور خدا کا کلام باطل نہیں۔ ضرور ہے کہ اس امت میں کوئی اس کا مصداق ہو اور خوب غور کر کے دیکھ لو اور دنیا میں تلاش کر لو کہ قرآن شریف کی اس آیت کا بجز میرے کوئی مصداق نہیں۔ پس یہ پیش گوئی سورۂ تحریم میں خاص میرے لئے ہے اور وہ آیت یہ ہے۔ ”ومریم ابنت عمران التی احصنت فرجہا فنفخنا فیہ من روحنا (مریم)“ (حقیقت الوحی ص ٣٣٧ حاشیہ، خزائن ج ٢٢ ص ٣٥٠)
مرزائے قادیانی کی متذکرہ صدر تحریر زبان حال سے پکار پکار کر کہہ رہی ہے کہ اس کا گوئندہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام ابن مریم بنت عمران کی آمد کا قائل ہونے کے ساتھ ہی خود مسیح موعود کہلانے کا شائق ہے اور اس شوق میں وہ یہ بھی نہیں دیکھ سکتا کہ جو الفاظ اس کے منہ سے نکل رہے ہیں ان کی حیثیت فہم عامہ اور عقل سلیم کی روشنی میں کیا ہے؟ پس جس شخص کو مسیح موعود کہلانے کا شوق، مریم یا مثیل مریم بن کر استعارہ کے رنگ میں خدا کی روح سے حاملہ ہونے اور پھر اس عمل کے نتیجہ کے طور پر خود ہی پیدا ہو کر عیسیٰ یا مسیح کہلانے کی لچر اور پوچ بات کہنے پر آمادہ کر سکتا ہے۔ اس کے لئے اپنی مسیحیت کا ڈھول پیٹنے کے لئے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی وفات اور قبر وغیرہ کے افسانے تراشنے اور کئی قسم کے استبعادات پیدا کر کے اپنے دعویٰ کے لئے راستہ صاف کرنے میں کیا تامل ہو سکتا ہے۔ لطف یہ ہے کہ مرزا غلام احمد قادیانی نے اپنے مریم بننے، حاملہ ہونے اور اپنے
٥٠
استعاراتی شکم سے خود پیدا ہو کر مثیل عیسیٰ بننے پر اپنے دعویٰ کے سوا اور کوئی شہادت پیش نہیں کی۔ بلکہ صرف یہ کہہ دیا کہ امت محمدیہ میں مثیل مریم بننے کا دعویٰ میرے سوا کسی نے نہیں کیا۔ لہٰذا میں نے حاملہ ہو کر خود اپنے آپ کو جنا اور عیسیٰ بن گیا۔ ”لاحول ولا قوة الا بالله العلی العظیم“
اگر اس قسم کی دور از کار تاویلات گھڑنے کے بجائے جو ماؤل کی کیفیت ذہنی و ساخت دماغی کا پتہ دے رہی ہیں۔ مرزا غلام احمد قادیانی یہ کہہ دیتے کہ قریہ شام کے جس مینار پر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کی خبر دی گئی وہ مینار میری ذات ہے اور اس میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی روح آسمان دوم سے اتر کر حلول کر چکی ہے تو متذکرہ صدر تاویل کی بہ نسبت اکثر لوگوں کو زودتر فریب میں مبتلا کر سکتے۔ لیکن وہ جو کہا جاتا ہے کہ عیب کرنے کے لئے ہنر چاہئے۔ ہمارے متنبئ کی ذات ہنر سے یکسر خالی تھی۔
ختم نبوت اور نزول مسیح
ان تمہیدی اشارات کے قلمبند کرنے کا مقصد اس کے سوا اور کچھ نہیں کہ قارئین پر اس حقیقت کو واضح کر دیا جائے کہ مرزا غلام احمد قادیانی اور اس کے متبعین نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی ولادت، حیات، ممات، رفع الی السماء، نزول وظہور وغیرہ کے متعلق جتنے سوالات تشکیکی مسیحیوں کے ساتھ مل کر پیدا کر رکھے ہیں اور جو ناواقف اور کم آگاہ اشخاص کے دماغوں میں طرح طرح کے شکوک وشبہات پیدا کرنے کا موجب بن جاتے ہیں ان سب کی علت اس ناشدنی خواہش میں مضمر ہے کہ کسی طرح مرزائے قادیانی کی مسیحیت کا ڈھونگ کھڑا کیا جائے۔ آئندہ ان تمام سوالات کا تجزیہ کر دیا جائے گا جو اس سلسلہ میں لوگوں کو فریب دینے کے لئے خواہ مخواہ گھڑے گئے ہیں اور دکھا دیا جائے گا۔ ایک ایسے مبحث کو جس کا عقائد اسلامی کی اساس کے ساتھ کوئی تعلق نہیں۔ خواہ مخواہ کی اہمیت دے کر امت محمدیہ میں طرح طرح کے فتن کا دروازہ کھول دیا گیا ہے۔ مسلمانوں کو مبدء فیاض سے یہ سرمدی تعلیم مل چکی ہے کہ دین الٰہی اپنی مکمل صورت میں انہیں مل چکا۔ جو تا قیام قیامت زندہ وقائم رہے گا۔ خدا کا کوئی فرستادہ اس دین میں اضافہ کرنے کے لئے نہیں آئے گا۔ نوع انسانی کو اس مکمل دین تک پہنچانے کے لئے جتنے پیغمبر مبعوث ہونے تھے ہو چکے اور ہر ایک نبی نے مخلوق خداوندی کو من حیث دین پہلے کی بہ نسبت آگے لے جانے کی خدمت ادا کی۔ اس عقیدہ کے ہوتے ہوئے مسلمانوں پر کسی نئے نبی پر ایمان لانے کی ضرورت کے تمام دروازے مسدود ہو گئے۔ لہٰذا حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول، احیاء ظہور کی صورت
٥١
میں اگر اسے ضروری سمجھ لیا جائے، اسلام کے دین کامل کے پیرووں کے معتقدات اساسی پر کوئی زد نہیں پڑتی اور انہیں مسلمان ہونے کے لئے اس امر کا تسلیم کرنا یا نہ کرنا ضروری نہیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے دنیوی مستقبل کے متعلق کیا عقیدہ رکھیں۔ ان کے لئے یہ ضروری ہے کہ نبوت و رسالت کے کسی نئے دعویٰ دار کو کذاب سمجھیں۔ کیونکہ اس کے بغیر وہ مسلمان نہیں رہ سکتے۔ خدا کے اسی جلیل القدر پیغمبر یعنی حضرت عیسیٰ علیہ السلام ابن حضرت مریم علیہا السلام کا قیامت کے نزدیک اس دنیا میں تشریف لانا اس لئے نہیں مانا جا رہا ہے کہ وہ دین اسلام کے کسی نقص کو پورا کرنے کے لئے ازسرنو مبعوث ہوں گے۔ کیونکہ دین اسلام تو دین کامل ہے۔ بلکہ ان کی آمد و تشریف آوری کی غرض و غایت بالکل دوسری ہے۔ جسے میں اپنے موقع پر بالتصریح بیان کر دوں گا۔ اس موقع پر صرف اتنا عرض کر دینا ضروری ہے کہ جس کل کو نوع انسانی کی ملک بنانے کے لئے انبیائے کرام مبعوث ہوتے رہے اور اس کل کی تکمیل کے لئے سابقہ طے شدہ کام پر اضافہ کرتے رہے۔ اسے پایۂ تکمیل تک پہنچانے کا سہرا صرف ایک ہی ذات قدسی کے لئے مختص تھا۔ جب اس وجود قدسی کا ظہور ہو گیا تو اس کے عہد میں کسی سابقہ پیغمبر کا موجود ہونا اس کے خاتم النبیین ہونے کی نفی نہیں کرتا۔ البتہ کسی نئے شخص کے نبی ہو کر مبعوث ہونے کی ضرورت اسی وقت قابل تسلیم ہوگی جب دین اسلام کو ناقص اور اس کے الفاظ میں تحریف و تبدیلی یا ان کی گم شدگی کا امکان تسلیم کرلیا جائے۔ اس صورت میں ماننا پڑے گا کہ خاتم الانبیاء یعنی وہ نبی جس کی وساطت سے خدا کا دین پایۂ تکمیل کو پہنچے اور اللہ کی وہ نعمت جو روز ازل میں نوع انسانی کی نجات کے لئے مقدر ہو چکی تھی اور انبیائے کرام علیہم السلام کی وساطت سے اس تک جزاً جزاً پہنچتی رہی، تمام ہو۔ اس صورت میں قرآن پاک کے وہ تمام ربانی ارشادات جو ”الیوم اکملت لکم دینکم واتممت علیکم نعمتی ورضیت لکم الاسلام دینا“ اور ”نحن نزلنا الذکر وانا لہ لحافظون“ کی صورت میں مذکور ہوئے ہیں، غلط ٹھہرتے ہیں۔ ظاہر ہے کہ اگر حضرت ختمی مرتبت ﷺ کے عہد تک تمام انبیائے کرام علیہم السلام یا ان کی ایک تعداد کثیر زندہ رہتی تو ان کے لئے اس کے سوا اور کوئی چارۂ کار ہی نہ تھا کہ اسی دین کو جس کے بعض حصوں کو نوع انسانی کی مختلف اقوام تک پہنچانے کا کام وہ سرانجام دیتے رہے تھے، اپنی کامل و مکمل شکل میں پا کر اس کے سامنے سر تسلیم و اطاعت جھکا دیتے اور حضرت ختمی مرتبت ﷺ کی امت میں داخل ہو جاتے۔ جو اس دین کامل کو قبول کرنے اور اسے تا قیام قیامت برقرار رکھنے کی سعادت کے باعث خیر الامم کہلانے کی
٥٢
مستحق بنی۔ میں لکھ چکا ہوں کہ قرآن پاک کی آیت: ”واذ اخذ اللہ میثاق النبیین لما آتیتکم من الکتاب والحکمة ثم جاء کم رسول مصدق لما معکم لتؤمنن بہ ولتنصرنہ قال ء اقررتم واخذتم علی ذلکم اصریٰ قالوا اقررنا قال فاشھدوا وانا معکم من الشھدین (آل عمران: ٨١) ﴿جب اللہ تعالیٰ نے پیغمبروں سے عہد لیا کہ میں جو تم کو کتاب اور شریعت دیتا ہوں (تو اس شرط پر) کہ جب تمہارے پاس وہ رسول پہنچے جو اس دین کی جو تمہارے پاس ہے تصدیق کرنے والا ہو تو اس پر ایمان لانا اور اس کی مدد کرنا کہا کیا تم نے یہ اقرار کیا سب نے کہا ہم نے اقرار کیا۔ فرمایا دیکھو اس امر پر گواہ رہو اور میں بھی تمہارے ساتھ گواہ ہوں۔﴾
اسی مطلب پر شاہد و دال ہے۔ اس آیۃ شریفہ میں تمام نبیوں کو ایک طرف اور آنے والے رسول کو جس پر ایمان لانے کے لئے میثاق لیا جارہا ہے ایک طرف رکھا گیا ہے۔ یہ حقیقت تورات اور انجیل کے صحائف پڑھنے کے بعد اور بھی روشن ہو جاتی ہے۔ جن میں جا بجا بنی اسرائیل کے انبیاء نے آنے والے رسول کی نہ صرف خبر دی ہے۔ بلکہ اپنے آپ پر اس آنے والے کی فضیلت و برتری کا اعتراف بھی کیا ہے، اور حضرت ختمی مرتبت ﷺ کی بعثت کا انتظار حضور کی تشریف آوری سے قبل اس قدر شدید تھا کہ قرآن پاک نے ان اہل کتاب کے متعلق جو انتظار کرنے، جاننے، سمجھنے اور پہچاننے کے باوجود حضرت ختمی مرتبت ﷺ پر ایمان لانے میں متذبذب و متأمل تھے۔ ’الذین آتینھم الکتاب یعرفونہ کما یعرفون ابناء ھم وان فریقا منھم لیکتمون الحق وھم یعلمون (البقره: ١٤٦) ﴿جن لوگوں کو ہم نے کتاب دے رکھی ہے وہ (رسول ختمی مرتبت کو) اس طرح پہچانتے ہیں جس طرح اپنے بیٹوں کو پہچانتے ہیں۔ لیکن بے شک ان میں ایک گروہ حق کو چھپا رہا ہے۔ حالانکہ وہ حقیقت حال سے آگاہ ہے۔﴾
”الذین آتینھم الکتاب یعرفونہ کما یعرفون ابناء ھم الذین خسروا انفسھم فھم لا یؤمنون (انعام: ٢٠) ﴿وہ لوگ جنہیں ہم نے کتاب دے رکھی ہے اسے (رسول اکرم ﷺ کو) اسی طرح پہچانتے ہیں جس طرح اپنے بیٹوں کو پہچانتے ہیں۔ لیکن ان میں سے جن لوگوں نے اپنے آپ کو خسارے میں ڈال رکھا ہے وہ ایمان نہیں لاتے۔﴾
قادیانیوں کی طرف سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول یا ان کی حیات کو حضور سرور کونین ﷺ کے مرتبہ خاتمیت کی نفی ثابت کرنے کی جتنی کوششیں کی جاتی ہیں وہ یکسر فضول
٥٣
ہیں ۔ لطف یہ ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کو تو وہ حضور سرور کونین ﷺ کے مرتبۂ خاتمیت کی نفی قرار دے کر لوگوں کو اس عقیدہ سے برگشتہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ لیکن خود امت محمدیہ میں نبوت کا باب وا رکھ کر حضور ﷺ کے مرتبہ خاتمیت کے ایسے منکر ہو جاتے ہیں کہ اساس اسلام ہی کو خیر باد کہہ دیتے ہیں۔ ان کے خیال میں ایک پرانے اور سچے نبی کا زندہ رہنا آسمان پر اٹھایا جانا حضرت ختمی مرتبت پر ایمان لانا اور ایک امتی کی حیثیت میں زمین پر نازل ہونا حضور سرور کونین ﷺ کی شان فضیلت کے منافی ہے۔ لیکن مرزائے قادیانی کا دعویٰ نبوت کر کے اسلام کو ناقص ٹھہرانا قرآن پاک کی تکذیب کرنا، اساس دین کو اڑا دینا اور مرتبہ خاتمیت کا منہ چڑانا حضور کی شان فضیلت کو دوبالا کرنے والا ہے۔
ایک مابہ النزاع زندگی
اس سے قبل کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی ولادت، زندگی اور حالات مابعد کے متعلق قرآن حکیم کے قول فیصل کو بیان کیا جائے۔ ان اختلافات ونزاعات کا بیان کر دینا ضروری ہے جو اس پیغمبر کے متعلق ظہور اسلام سے قبل یہودیوں اور نصرانیوں اور ان کے مختلف فرقوں کے مابین پائے جاتے تھے اور آج تک موجود ہیں۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام ملک شام کے راہ گم کردہ یہودیوں کو راہ راست پر لانے کے لئے مبعوث ہوئے، یہودیوں نے انہیں قبول نہ کیا۔ ان کا خیال یہ ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام خدا کے سچے نبی نہ تھے۔ ان کی پیدائش بھی آیات الٰہی کا کوئی محیر العقول واقعہ نہ تھی۔ یعنی وہ باپ کے بغیر پیدا نہیں ہوئے۔ ان کی زبانیں حضرت مریم علیہا السلام کی عفت وعصمت پر حملہ آور ہوئیں اور آج تک ہیں۔ وہ تاحال اس مسیح کی بعثت کے منتظر ہیں۔ جس کی خبر ان کے آسمانی صحیفوں میں موجود ہے۔ مسیح ناصری یعنی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو وہ جھوٹا سمجھتے ہیں اور یہ یقین رکھتے ہیں کہ ہمارے آباؤ اجداد نے اسے شام کے رومی حاکم پر دباؤ ڈال کر صلیب دلوا دی تھی جو اس کی زندگی کا خاتمہ کرنے پر منتج ہوئی۔
عیسائی عام طور پر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا بے باپ کے معجز نما طور پر پیدا ہونا تسلیم کرتے ہیں اور یہ سمجھتے ہیں کہ وہ بچہ جو خدا کی قدرت سے حضرت مریم علیہا السلام کی گود میں آ گیا تھا۔ خدا کا بیٹا تھا جس نے نوع انسانی کے دردوں اور دکھوں کو دور کرنے کی کوشش کی۔ لیکن یہودیوں نے اسے نہ مانا۔ بلکہ صلیب پر لٹکوا دیا۔ صلیب دیئے جانے اور دفن ہو جانے کے بعد حضرت عیسیٰ علیہ السلام تیسرے دن پھر زندہ ہو گئے اور اپنے بعض حواریوں سے ہم کلام ہونے
٥٤
کے بعد بادلوں پر سوار ہو کر آسمانوں کی طرف چلے گئے۔ جہاں وہ اپنے باپ یعنی خدائے ذوالجلال کے پاس اس وقت کا انتظار کر رہے ہیں۔ جب انہیں دنیا کی اصلاح کے لئے دوبارہ کرۂ ارضی پر بھیجا جائے گا۔
عیسائیوں کے کئی فرقے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو یوسف نجار کا جائز فرزند قرار دیتے ہیں۔ لیکن یہ کہتے ہیں کہ خدا خود اس شکل میں زمین پر اتر آیا تھا۔ یہ عقیدہ بالکل ایسا ہی ہے۔ جیسا ہندوؤں میں اوتاروں وغیرہ کے متعلق پایا جاتا ہے اور جس کی تشریح کرشن کی کتاب گیتا میں موجود ہے۔ وہ حضرت عیسیٰ کے مصلوب ہونے ، وفات پا جانے ، دوبارہ زندہ ہونے ، آسمان پر اٹھائے جانے کے عقائد میں دوسرے عیسائیوں سے اتفاق کرتے ہیں۔
عصر حاضر کے عیسائیوں کا ایک گروہ جس پر مادیت کا اثر غالب ہے۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے وجود ہی کا منکر ہو رہا ہے اور کہتا ہے کہ یہ سب عقائد انسان کے فکری ارتقاء کا نتیجہ ہیں۔ ایک گروہ اس امر کا قائل بھی ہے کہ رومی حاکم نے یہودیوں کے پر زور مطالبہ سے متاثر ہو کر انہیں صلیب پر تو لٹکا دیا تھا۔ لیکن ابھی وہ زندہ ہی تھے کہ خفیہ طور پر صلیب پر سے اتروا لیا۔ کیونکہ وہ دل سے ان کی نیکی اور صداقت کا قائل تھا۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا وجود گرامی اور ان کی زندگی کے حالات ظہور اسلام سے قبل لوگوں میں اس قدر مسئلہ مابہ النزاع بن چکے تھے کہ سوچنے والوں کے افکار کی پریشانی کا موجب بنے ہوئے تھے۔ آج بھی ان مسائل کے متعلق یہودیوں عیسائیوں اور خود مسلمانوں میں جتنی بحثیں نظر آ رہی ہیں وہ انہی بحثوں کی صدائے بازگشت ہیں۔ جو قبل از ظہور اسلام پائی جاتی تھیں۔ قرآن حکیم نے ان عقائد مختلفہ میں سے ان کی تردید کر دی جو خدا کے صحیح دین میں رخنہ اندازی کا موجب ہو رہے تھے اور یہودیوں اور نصرانیوں کے ان جھگڑوں کا فیصلہ چکا دیا۔ جو ان کی باہمی سر پھٹول کا موجب بنے ہوئے تھے۔ یہ امر کس قدر افسوس ناک ہے کہ بعض لوگوں نے امت محمدیہ کو بھی بعض ایسے مباحث میں الجھانے کی کوششیں شروع کر دیں جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی زندگی کے متعلق پیدا ہو چکے تھے۔ لیکن اساس عقیدہ اسلام سے کسی قسم کا تعلق نہ رکھتے تھے۔ ایسے لوگوں کی کوششیں اس وقت اور بھی قابل افسوس ہو جاتی ہیں جب وہ اپنے معبود ذہنی کے لئے جواز کے پہلو نکالنے کے لئے دین اسلام کے اساسی عقائد میں رخنہ اندازی کا موجب بن جاتے ہیں۔ خدا کے اوتار بن کر زمین پر اترنے ، ایک روح کے دوسرے جسم میں حلول کر جانے ، نبوت کے دروازے کھولنے اور دین اسلام کے کامل ہونے کے مسلمہ کو معرض بطلان میں ڈالنے کے سراسر ملحدانہ عقائد کی
٥٥
نشر و اشاعت پر کمر باندھ لیتے ہیں۔ قادیانیت کا سارا تانا پودا انہی مؤخر الذکر قسم کے لوگوں کی کوششوں کا نتیجہ ہے۔ جسے دین اسلام سے دور کا تعلق بھی نہیں۔ اب ہمیں دیکھنا چاہئے کہ قرآن پاک نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے متعلق کیا گواہی دی ہے۔
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی پیدائش آیت اللہ تھی
قرآن حکیم نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے متعلق متضاد بیانات کی اس تمام افراط تفریط کی اصلاح کر دی۔ جن میں یہودی اور عیسائی اور ان کے مختلف گروہ مبتلا ہو چکے تھے۔ جو لوگ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی ولادت پر معترض ہو کر حضرت مریم علیہا السلام کے دامن عصمت کو آلودہ بہ عصیان ظاہر کرنے کے درپے تھے۔ انہیں صاف الفاظ میں بتا دیا گیا کہ حضرت عیسیٰ کی پیدائش کا واقعہ دراصل یوں ہے۔
”اذ قالت امرة عمران رب انی نذرت لک ما فی بطنی محرراً فتقبل منی انک انت السمیع العلیم فلما وضعتها قال رب انی وضعتها انثی والله اعلم بما وضعت ولیس الذکر کالانثی وانی سمیتها مریم وانی اعیذها بک وذریتها من الشیطن الرجیم فتقبلها ربها بقبول حسن وانبتها نباتاً حسناً وکفلها زکریا (آل عمران: ٣٥ تا ٣٧) “﴿جب عمران کی بیوی نے کہا اے میرے پروردگار میں تیرے لئے نذر مانتی ہوں کہ جو کچھ میرے پیٹ میں ہے وہ تیری عبادت کے لئے آزاد کر دیا جائے گا۔ پس تو میری یہ نذر قبول کر بے شک تو سنتا اور جانتا ہے۔ پس جب اس نے بیٹی جنی تو کہا اے میرے پروردگار میں نے بیٹی جنی، اللہ بہتر جانتا تھا کہ اس نے کیا جنا۔ (کیونکہ ) بیٹا (جو اس کی مراد تھی) اس بیٹی کی طرح نہ ہوتا (اس نے کہا) میں نے اس لڑکی کا نام مریم رکھا اور میں اس کو اس کی اولاد کو شیطان رجیم سے تیری پناہ دیتی ہوں۔ پس اس کے پروردگار نے اس کی نذر کو اچھی طرح قبول کر لیا اور اس لڑکی کو پروان چڑھایا اور زکریا کو اس کا کفیل مقرر کر دیا۔﴾
”واذکر فی الکتب مریم اذا انتبذت من اهلها مکانا شرقیا، فاتخذت من دونهم حجابا فارسلنا الیها روحنا فتمثل لها بشراً سویا قالت انی اعوذ بالرحمن منک ان کنت تقیا، قال انما انا رسول ربک لا هب لک علما زکیا۔ قالت انی یکون لی غلم ولم یمسسنی بشر ولم اک بغیا قال کذلک قال ربک هو علی هین ولنجعله آیة للناس ورحمة منا وکان امراً مقضیا فحملته فانتبذت به مکانا قصیا، فاجاء المخاض الی جذع النخلة قالت یلیتنی مت قبل هذا
٥٦
وكنت نسيا منسيا فنادھا من تحتھا الاتحزنى قد جعل ربك تحتك سريا وھزى اليك بجذع النخلة تسقط عليك رطبا جنيا، فكلى واشربى وقرى عينا فاما ترين من البشر احدا فقولى انى نذرت للرحمن صوما فلن اكلم اليوم انسيا، فاتت به قومھا تحمله قالوا يمريم لقد جئت شيئاً فريا ياخت ھرون ما كان ابوك امرا سوء وما كانت امك بغيا، فاشارت اليه قالوا كيف نكلم من كان فى المھد صبيا، قال انى عبدالله آتنى الكتب وجعلنى نبيا وجعلنى مبارکاً اين ما كنت واوصانى بالصلوة والزكوة مادمت حيا وبرا بوالدتى ولم يجعلنى جباراً شقيا والسلام على يوم ولدت ويوم اموت ويوم ابعث حيا ہ ذلك عيسى ابن مريم قول الحق الذى فيه يمترون (مريم: ١٦ تا ٣٤) ﴿(اے محمدؐ) قرآن میں مريم کا قصہ بیان کر جب وہ اپنے لوگوں سے الگ ہو کر (ہیکل سے) مشرق کی طرف ایک جگہ پر جابیٹھی اور اپنے اور ان کے درمیان اس نے پردہ حائل کرلیا تو ہم نے اس کی طرف اپنی روح کو (حضرت جبرائیل کو) بھیجا جو اسے صحیح سالم انسان کی شکل میں نظر آیا۔ مریم نے کہا اگر تو خدا سے ڈرنے والا ہے تو میں تجھ سے خدا کی پناہ مانگتی ہوں۔ اس نے جواب دیا میں تو تیرے پاس تیرے پروردگار کی طرف سے بھیجا ہوا آیا ہوں تاکہ تجھے ایک پاک لڑکا دوں۔ مریم نے جواب دیا مجھے لڑکا کیونکر ہوگا۔ حالانکہ کسی مرد نے مجھے چھوا تک نہیں اور نہ میں بدکار عورت ہوں۔ فرشتے نے کہا کہ یوں ہی ہوگا۔ کیونکہ تیرا پروردگار کہتا ہے کہ یہ بات میرے لئے آسان ہے (کہ تجھے مس بشر کے بغیر ہی بچہ ہو جائے) تاکہ ہم اس کو نوع بشر کے لئے آیت یعنی نشانی بنائیں اور اپنے طرف سے رحمت بنائیں اور یہ بات (بے باپ کے لڑکا ہونا) طے شدہ امر ہے۔ پس وہ لڑکے سے حاملہ ہوگئی اور وہ اس حالت میں ایک دور کے مکان میں چلی گئی۔ پھر درد اسے کھجور کی جڑ کی طرف لے گیا تو وہ کہنے لگی اے کاش میں اس وقت سے پہلے مرجاتی اور مرمٹ کر بھولی بسری ہوئی جاتی۔ پھر نیچے کی طرف سے (فرشتے نے) اسے آواز دی کہ تو فکر نہ کر تیرے پروردگار نے تیرے نیچے سرداب رکھا ہے اور کھجور کی جڑ پکڑ کر اسے اپنی طرف ہلا تجھ پر تازی پکی کھجوریں گریں گی۔ پس کھا اور پی اور اپنی آنکھیں (نومولود کو دیکھ کر) ٹھنڈی کر۔ پس اگر تو کسی بشر کو دیکھے تو کہہ دے کہ میں نے اللہ کی منت کا روزہ رکھا ہے۔ پس میں آج کسی سے کلام نہیں کرسکتی۔ پھر مریم لڑکے کو گود میں لئے ہوئے اپنی قوم کی طرف آئی۔ لوگوں نے کہا اے مریم تو نے یہ کیا غضب کیا۔ اے ہارون کی بہن تیرا باپ بھی برا آدمی نہ تھا اور نہ تیری ٥٧
ماں بدکار تھی۔ پس مریم نے (ان سوالات کے جواب میں) اپنے لڑکے کی طرف اشارہ کر دیا (کہ اس سے پوچھ لو) انہوں نے کہا یہ پنگوڑے میں لیٹا ہوا بچہ کس طرح بتائے گا۔ (لیکن) وہ لڑکا بولا میں اللہ کا بندہ ہوں۔ اس نے مجھے کتاب دی ہے اور نبی بنایا ہے اور جہاں میں رہوں اس نے مجھے برکت والا بنایا ہے اور جب تک میں زندہ رہوں اس نے مجھے نماز پڑھنے اور زکوٰۃ دینے کا حکم دیا ہے اور اپنی ماں کا تابعدار بنایا ہے۔ اس نے مجھے جبار اور شقی نہیں بنایا۔ سلام ہو اس دن پر جس دن میں پیدا ہوا اور جس دن میں مروں گا اور جس دن ازسر نو زندہ کیا جاؤں گا۔ یہ ہے عیسیٰ بن مریم کا صحیح حال سچی بات جس میں وہ جھگڑا کر رہے ہیں۔ ﴾
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی پیدائش کا یہ حال اور حضرت مریم علیہا السلام کے دامن عصمت کی پاکیزگی کی شہادت قرآن حکیم نے سورۂ مریم کے علاوہ اور بہت سے مقامات پر دی ہے اور صاف طور پر ظاہر کر دیا ہے کہ اللہ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی پیدائش کو اپنی آیت بنایا اور اس آیت کے ظہور کے لئے حضرت مریم علیہا السلام کو دنیا بھر کی عورتوں سے چن لیا۔ سورۂ آل عمران میں مذکور ہے ۔ ” واذ قالت الملئکۃ یمریم ان اللّٰہ اصطفک وطہرک واصطفک علی نساء العلمین (آل عمران:٤٢)“ ﴿جب فرشتوں نے کہا اے مریم بیشک اللہ نے تجھے چن لیا اور تجھے پاک کیا اور سارے جہانوں کی عورتوں میں سے تجھے (اس آیت کے لئے ) چن لیا۔﴾
قرآن حکیم کے اس بیان سے یہودیوں کے اس بہتان عظیم کی تکذیب کے ساتھ ساتھ جو وہ حضرت مریم علیہا السلام کی عصمت پر لگانے کے عادی ہو چکے تھے۔ بعض عیسائی فرقوں کے اس خیال کی تردید بھی ہو جاتی ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام یوسف نجار کے جائز فرزند تھے اور یہ کہ حضرت مریم علیہا السلام بچپن ہی سے یوسف مذکور کے ساتھ نامزد ہو چکی تھیں۔ اگر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی پیدائش میں کوئی ندرت نہ ہوتی تو قرآن پاک اس واقعہ کو کبھی آیۃ للناس قرار نہ دیتا اور یہ نہ کہتا کہ عیسیٰ علیہ السلام کی پیدائش کی ندرت کو جاننا چاہو تو آدم کی پیدائش کے مسئلہ کو سامنے رکھ لو۔ ملاحظہ ہو ارشاد ربانی: ” ان مثل عیسیٰ عند اللہ کمثل آدم خلقہ من تراب ثم قال لہ کن فیکون الحق من ربک فلا تکن من الممترین (آل عمران:٥٩، ٦٠) “ ﴿بے شک اللہ کے نزدیک عیسیٰ کی پیدائش کی مثال بالکل ایسی ہے جیسی آدم کی پیدائش۔ آدم کو مٹی سے پیدا کیا۔ پھر کہا کہ آدم بن جا۔ پس وہ آدم بن گیا۔ تیرے پروردگار کی طرف سے یہ حق ہے۔ پس تو شک کرنے والوں میں سے نہ ہو۔﴾
٥٨
جو لوگ آدم یعنی نو کہ ماء و طین کے درمیان حیات مدارج تک پہنچی۔ کس طرح پی ابھر آنے کا امکان تسلیم کرتے ہ عورت کے شکم میں حیات انسا عام ہو چکا ہے۔ حضرت عیسیٰ ع لوگوں کا حال یہ ہے کہ اگر وہ د سانپ یا کسی اور قسم کے جانور سنائی جائے تو (Nature of باور کرنے میں انہیں تامل ہے
حضرت عیسیٰ علیہ السلام
صاف اور صریح الفاظ میں اعلا مطابق نہ تھی جو اولین آدم کی پ عیسیٰ علیہ السلام کی زندگی کے زندگی بھی آیات اللہ سے پر تھی والانجیل ورسولا الی ب من الطین کھیئۃ الط والابرص واحی المو بیوتکم ان فی ذلک لا کتاب وحکمت اور تورات وا (اور کہے گا) میں تمہارے پا پرندے کی شکل کا بناتا ہوں۔ نہیں) پرندہ بن جاتا ہے اور مردے کو جلا دیتا ہوں اور تم اگر تم ایمان لانے والے ہو تو
جولوگ آدم یعنی نوع بشر کو حیات کے ارتقائی عمل کا نتیجہ مانتے ہیں وہ بھی یہ نہیں بتا سکتے کہ ماء وطین کے درمیان حیات کی اولین صورت جو بعد میں ترقی کر کے حیوانات وانسان کے مدارج تک پہنچی۔ کس طرح پیدا ہوئی تھی۔ جب حیات کے لئے ایک دفعہ ماء وطین سے خود بخود ابھر آنے کا امکان تسلیم کرتے ہو تو اس امکان سے تمہاری عقلیں کس طرح انکار کر سکتی ہیں کہ ایک عورت کے شکم میں حیات انسانی اس عمل مروجہ کے بغیر ظہور پذیر ہو گئی۔ جو تولید وتناسل کے لئے عام ہو چکا ہے۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی پیدائش پر عقل کے اعتبار سے اعتراض کرنے والے لوگوں کا حال یہ ہے کہ اگر دو سروں اور چھ ٹانگوں کے جانور پیدا ہونے یا عورت کے پیٹ سے سانپ یا کسی اور قسم کے جانور کے تولد ہو جانے یا اسی قسم کی کسی اور واردات کے ظاہر ہونے کی خبر سنائی جائے تو (Freak of Nature خرق عادت) کہہ کر فوراً باور کر لیتے ہیں۔ لیکن اس امر کو باور کرنے میں انہیں تامل ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام بے باپ کے پیدا ہو گئے۔
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی زندگی
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی ولادت کے واقعہ کو قرآن حکیم نے آیت اللہ ظاہر کیا ہے اور صاف اور صریح الفاظ میں اعلان کر دیا ہے۔ یہ ولادت بقائے سلسلۂ تناسل کے اس عام طریق کے مطابق نہ تھی جو اولین آدم کی پیدائش کے بعد اس کی نسل میں مروج ہو چکا ہے۔ اسی طرح حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی زندگی کے واقعات کے متعلق قرآن حکیم نے اس امر کی تصدیق کر دی کہ ان کی زندگی بھی آیات اللہ سے پر تھی۔ ارشاد ربانی ہے: ”ویعلمہ الکتٰب والحکمۃ والتورۃ والانجیل ورسولاً الی بنی اسرائیل انی قد جئتکم بایۃٍ من ربکم انی اخلق لکم من الطین کہیئۃ الطیر فانفخ فیہ فیکون طیراً باذن اللہ وابری الاکمہ والابرص واحی الموتی باذن اللہ وانبئکم بما تاکلون وما تدخرون فی بیوتکم ان فی ذلک لایۃً لکم ان کنتم مؤمنین (آل عمران:٤٨، ٤٩)“ ﴿اللہ اسے کتاب وحکمت اور تورات وانجیل سکھادے گا۔ وہ بنی اسرائیل کی طرف خدا کا رسول بن کر آئے گا (اور کہے گا) میں تمہارے پاس پروردگار کی طرف سے نشانی لے کر آیا ہوں۔ میں مٹی کا ایک پتلا پرندے کی شکل کا بناتا ہوں۔ پھر اس میں پھونک مارتا ہوں اور وہ اللہ کے حکم سے (میرے کمال سے نہیں) پرندہ بن جاتا ہے اور میں اللہ کے حکم سے مادر زاد اندھے اور کوڑھی کو تندرست کر دیتا ہوں اور مردے کو جلا دیتا ہوں اور تم جو کھا کر آؤ یا گھروں میں چھوڑ کر آؤ۔ اس کی تمہیں خبر دے دیتا ہوں۔ اگر تم ایمان لانے والے ہو تو (ان امور میں) تمہارے لئے (اللہ کی قدرت) کا نشان ہے۔﴾
٥٩
حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے آیات الٰہی کے ظہور کا تذکرہ قرآن حکیم میں دوسرے مقامات پر بھی آیا ہے اور پنگوڑے میں لیٹے لیٹے کلام کرنا اور اپنی ماں کی عصمت کی شہادت دینا اوپر مذکور ہو چکا ہے۔ بعض انسانوں کی حیرت زدہ عقلیں معجزے کو قبول نہیں کرتیں تو نہ کریں۔ لیکن خرق عادت کا ظہور سنن الہی میں سے ایک ایسی سنت ہے جس کے مشاہدوں سے نوع انسانی کو بارہا سابقہ پڑ چکا ہے۔ دانش فروشان اسباب ظاہری کو اگر یہ بتایا جائے کہ علم طب اتنا ترقی کر چکا ہے کہ مادرزاد اندھوں اور جذامیوں کا علاج ممکن ہو گیا ہے تو وہ باور کر لیں گے۔ اگر ان سے یہ کہا جائے گا کہ میڈیکل سائنس کی ترقی کے امکانات مردوں کو زندہ کرنے کی کامیابی کی طرف اشارہ کر رہے ہیں تو مان لیں گے۔ لیکن اگر ان سے یہ کہا جائے کہ یہی باتیں معجزہ کے طور پر پہلے بھی ظہور پذیر ہو چکی ہیں تو بول اٹھیں گے کہ یہ بات عقل کے منافی اور غیر ممکن ہے۔ حالانکہ امر واقعہ یہ ہے کہ انبیائے کرام علیہم السلام کے معجزے نوع انسانی کی ممکنات مضمر کو ظاہر کر کے اس پر علمی ترقیوں کے دروازے کھولنے کی خبر دے رہے ہیں۔ معجزات پر بحث کرنے کا یہ وقت نہیں۔ کبھی موقع ہوا تو اس موضوع پر بھی دیدہ افروز روشنی ڈالی جائے گی۔ اس موقع پر صرف یہی ظاہر کرنا مقصود ہے کہ پروردگار عالم نے عیسیٰ علیہ السلام کو بنی اسرائیل کے لئے اپنی ایک نشانی بنا کر پیدا کیا اور ان کی زندگی ان کے لئے خدا کا ایک واضح نشان بنی رہی۔
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا رفع الی السماء
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی جسمانی زندگی کے خاتمہ کے متعلق یہود کا یہ دعویٰ تھا کہ انہوں نے رومی حاکم پر زور ڈال کر اسے صلیب پر لٹکوا دیا۔ جہاں وہ جانبر نہ ہو سکا اور اس کی لاش کو دفن کر دیا گیا۔ عیسائی کہتے ہیں کہ بلاشبہ حضرت عیسیٰ کو صلیب دے دی گئی اور انہیں مٹی کے نیچے دفن بھی کر دیا گیا۔ لیکن حضرت مسیح علیہ السلام دفن ہونے کے تیسرے روز دوبارہ زندہ ہو کر قبر سے باہر نکل آئے۔ اپنے بعض حواریوں سے ملے اور بادل پر سوار ہو کر آسمانوں کی طرف چلے گئے۔ قرآن حکیم نے ان غلط عقائد کی تصحیح کرتے ہوئے اعلان کیا: ”بل طبع الله عليها بكفرهم فلا يؤمنون الا قليلا وبكفرهم وقولهم على مريم بهتانا عظيما وقولهم انا قتلنا المسيح ابن مريم رسول الله وما قتلوه وما صلبوه ولكن شبه لهم وان الذين اختلفوا فيه لفى شك منه ما لهم به من علم الا اتباع الظن وما قتلوه يقينا بل رفعه الله اليه وكان الله عزيزا حكيما۔ وان من اهل الكتاب الا ليؤمنن به قبل موته ويوم القيامة يكون عليهم شهيدا (النساء: ١٥٥ تا ١٥٩)“
٦٠
﴿ حالانکہ اللہ نے ان کے کفر کی وجہ سے ان پر مہر کر دی۔ پس وہ ایمان نہ لائیں گے۔ مگر تھوڑا (ان پر لعنت کی گئی) بسبب ان کے کفر اور ان کے اس قول کے (جس سے) مریم پر بہتان عظیم لگایا اور بسبب ان کے اس قول کے کہ ہم نے اللہ کے رسول مسیح ابن مریم کو قتل کر دیا۔ حالانکہ (امر واقعہ یہ ہے) کہ نہ انہوں نے اسے قتل کیا اور نہ انہوں نے اسے صلیب دیا۔ لیکن اس امر میں انہیں اشتباہ ہو گیا۔ بے شک وہ لوگ جنہوں نے اس کے بارہ میں اختلاف کیا وہ اس کے متعلق شک میں ہیں اور ان کے پاس اس (واقعہ کا) کوئی علم نہیں۔ (صرف وہ) ظن و گمان کی پیروی کرتے ہیں۔ (حتمی بات یہ ہے) کہ انہوں نے یقینی طور پر اسے قتل نہیں کیا۔ بلکہ اسے اللہ نے اپنی طرف اٹھا لیا اور بے شک اللہ زبردست حکمت والا ہے اور یہ بھی واضح ہو کہ اہل کتاب میں سے کوئی ایسا شخص نہیں رہے گا۔ جو اس (حضرت عیسیٰ) کی موت سے پہلے اس پر ایمان نہ لے آئے اور قیامت کے دن وہ ان پر گواہ ہوگا۔ ﴾
یہی وہ صاف اور صریح ارشاد ربانی ہے جو یہودیوں اور نصرانیوں کے جھگڑوں اور ان کے ظنوں کا فیصلہ کرنے کے لئے بطور حکم فیصل نازل ہوا۔ اس ارشاد میں پروردگار عالم نے یہودیوں کے اس دعویٰ کی تکذیب کر دی کہ انہیں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو قتل کرنے اور صلیب دینے کے معاملہ میں کامیابی حاصل ہوگئی تھی اور عیسائیوں کے اس ظن کی بھی تغلیط کر دی گئی کہ ان کے خداوند کو صلیب دی گئی تھی۔ البتہ اس ارشاد ربانی میں عیسائیوں کے اس بیان کی تصدیق کر دی گئی کہ اللہ نے اسے اپنی طرف اٹھا لیا تھا۔
قادیانی ”بل رفعہ اللہ الیہ“ سے اپنے حسب دل خواہ یہ معنی نکالنے کے خوگر ہیں کہ اس رفع سے وہ رفع روحانی مراد ہے جو ہر انسان پر موت آنے کے بعد وارد ہوتا ہے۔ لیکن انہیں معلوم ہونا چاہئے کہ اگر عیسائیوں کا یہ عقیدہ یعنی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے رفع الی السماء کا عقیدہ صلیب و قتل کے عقیدہ کی طرح غلط اور بے بنیاد ہوتا تو پروردگار عالم کو اس جگہ لفظ موت کا کوئی مشتق استعمال کرنے سے کوئی عیسائی روکنے والا نہ تھا۔ جہاں قرآن پاک نے یہودیوں کے بے شمار عقائد باطلہ کی تردید و تصریح نہایت صاف اور واضح الفاظ میں کی ہے۔ وہاں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے رفع الی السماء کے عقیدہ کی تغلیط کرتے ہوئے (بشرطیکہ وہ غلط ہوتا) اسے کوئی عار نہیں ہوسکتی تھی۔ جب ہم دیکھتے ہیں کہ انہی آیات میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے لئے موت کا لفظ صاف طور پر استعمال نہیں کیا گیا ہے۔ تو صاف ثابت ہو جاتا ہے کہ: ”بل رفعہ اللہ الیہ“ میں رفع کا لفظ موت کے معنی میں استعمال نہیں ہوا۔ بلکہ اس کے معنی وہی ہیں جو لفظ رفع سے سیدھی
٦١
سادی عربی زبان میں مراد لئے جاتے ہیں۔
عیسائیوں کے دیگر معتقدات کی تکذیب
از بس کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی ولادت کا واقعہ ان کی زندگی کے دوسرے امور اور ان کا آسمان پر اٹھایا جانا ایسے غیر معمولی واقعات تھے جن سے نوع انسانی کو بہت کم واسطہ پڑا تھا۔ لہٰذا عیسائیوں میں یہ واقعات حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی الوہیت یا ابن اللہی کے عقائد پیدا کرنے کا موجب بن گئے۔ قرآن حکیم نے جہاں ان کے صحیح عقائد کی تصدیق کی۔ وہاں ان کے غلط عقائد کی تردید بھی کردی۔ جن میں سب سے بڑی تردید ان کے صلیب دیئے جانے کے واقعہ کے متعلق ہے۔ عیسائی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی زندگی کے غیر معمولی اور محیر العقول واقعات سے مرعوب ہوکر انہیں الوہیت کا درجہ دے رہے تھے اور جسم انسانی میں خدا کے حلول کرنے، نیز حضرت مریم علیہا السلام پر خدا کی بیوی ہونے اور خدا پر نکاح کرنے کے اتہام باندھ کر تثلیث کا عقیدہ قائم کرنے کے مرتکب ہوگئے تھے۔ قرآن حکیم نے انہیں اور ان کے ساتھ تمام نوع انسانی کو بتایا کہ یہ محیر العقول واقعات جن سے تم اس قدر مرعوب ہورہے ہو محض اللہ کے نشان ہیں اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی الوہیت کے مظہر نہیں۔ خدا وہی خدائے واحد لاشریک ہے۔ عیسائیوں کے ان عقائد کی تردید قرآن پاک نے بڑے زور اور تحدی کے ساتھ کی اور فرمایا: ”لقد كفر الذين قالوا ان الله هو المسيح ابن مريم . قل فمن يملك من الله شيئاً ان اراد ان يهلك المسيح ابن مريم وامه ومن فى الارض جميعا (المائدہ:١٧)“ ﴿بے شک وہ لوگ کافر ہوگئے جنہوں نے کہا کہ اللہ تو وہ مسیح ابن مریم تھا۔ (اے محمدؐ) کہہ دے کہ اگر اللہ مسیح ابن مریم، ماں اس کی اور جو کوئی بھی زمین میں ہے سب کو ہلاک کرنے پر آجائے تو اسے کون روک سکتا ہے۔﴾
”لقد كفر الذين قالوا ان الله هو المسيح ابن مريم وقال المسيح يبنى اسرائيل اعبدوا الله ربى وربكم (المائدہ:٧٢)“ ﴿بے شک کافر ہیں وہ لوگ جنہوں نے کہا کہ اللہ تو وہ مسیح ابن مریم ہی تھا۔ حالانکہ مسیح نے تو کہا تھا کہ اے بنی اسرائیل تم (میری نہیں بلکہ) اللہ کی عبادت کرو جو میرا اور تمہارا پروردگار ہے۔﴾
”لقد كفر الذين قالوا ان الله ثالث ثلثة وما من اله الا اله واحد (المائدہ:٧٣)“ ﴿بے شک وہ لوگ کافر ہوئے جو کہتے ہیں کہ اللہ تین میں کا ایک ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ خدائے واحد کے سوا اور کوئی معبود نہیں۔﴾
”ما المسيح ابن مريم الا رسول قد خلت من قبله الرسل وامه
٦٢
صدیقہ کانا یاکلن الطعام (المائدہ: ٧٥) ”مسیح ابن مریم کچھ نہ تھا مگر رسول تھا۔ ایسا ہی جیسے اس سے قبل اور بہت سے رسول ہو گزرے ہیں اور اس کی ماں بڑی ایماندار تھی دونوں کھانا کھایا کرتے تھے۔“
”ان هو الا عبد انعمنا عليه وجعلناه مثلا لبنی اسرائیل ولو نشاء لجعلنا منکم ملئكة فی الارض يخلفون (الزخرف: ٥٩، ٦٠) ”وہ (ابن مریم) کچھ نہ تھا مگر بندہ۔ اس پر ہم نے انعام کیا اور اسے بنی اسرائیل کے لئے ہم نے (اپنی قدرت کا) ایک نمونہ بنایا (ہماری قدرت ایسی ہے کہ ) اگر ہم چاہیں تو تم میں سے فرشتے بنادیں جو زمین میں تمہاری جگہ رہیں۔“
نوٹ: اس آیت شریفہ میں پروردگار عالم فرماتے ہیں کہ تم حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی پیدائش زندگی اور ان کے رفع الی السماء کے واقعات پر تعجب کر کے مرعوب کیوں ہوئے جارہے ہو۔ یہ سب ہماری قدرت کاملہ کے مختلف ظہور ہیں۔ ہم تو اس سے زیادہ حیرت انگیز کام کرکے دکھا سکتے ہیں۔ یعنی تم میں سے تمہارے اخلاف کو فرشتے بنا سکتے ہیں۔ یعنی جو نہ کھائیں نہ پیئیں اور عوارض بشری سے بالا ہوکر زندگی بسر کریں۔ پس اگر آج ہمیں کسی انسان کی زندگی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی زندگی سے بھی زیادہ محیر العقول نظر آئے تو سچے مسلمان کبھی اس کو الوہیت کا درجہ دینے کے لئے تیار نہ ہوں گے۔ بلکہ یہی سمجھیں گے کہ یہ بھی خدا کی قدرت کاملہ کا ایک مظہر ہے۔ میرے خیال میں یہ آیت نوع انسانی کے ارتقاء کی ایک آئندہ منزل کی طرف بھی اشارہ کر رہی ہے۔ جس میں پہنچ کر انسان فرشتے بن جائیں گے۔ یعنی وہ صفات حاصل کرلیں گے جو فرشتوں کو حاصل ہیں۔
”وقال اتخذ الرحمن ولداً، لقد جئتم شيئاً اداً، تكاد السمٰوت يتفطرن منه وتنشق الارض وتخر الجبال هداً، ان دعوا للرحمن ولدا، وما ينبغی للرحمن ان يتخذ ولداً، ان کل من فی السمٰوت والارض الا اتی الرحمن عبدا (مریم: ٨٨ تا ٩٣) ”کہتے ہیں کہ رحمٰن نے بیٹا بنایا (اے کفار) تم نے تو ایسی بات گھڑ لی کہ عجب نہیں آسمان پھٹ پڑیں اور زمین شق ہو جائے اور پہاڑ ریزہ ریزہ ہوکر گر جائیں۔ اس لئے کہ انہوں نے خدا کے لئے بیٹا پکارا۔ خدا کی شان اس سے ارفع واعلیٰ ہے کہ وہ بیٹا لے۔ آسمانوں اور زمین میں جتنے لوگ بھی ہیں سب اس کے سامنے عبد یعنی غلام اور ناچیز بندے بن کر آئیں گے۔“
٦٣
یہ تمام آیات جو اوپر مذکور ہوئیں قرآن پاک میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام ہی کے تذکار کے سلسلہ میں نازل ہوئیں۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی ولادت اور زندگی کے متعلق جتنی باتیں بھی یہود اور نصاریٰ میں پھیل چکی تھیں ان کی صحت و عدم صحت کا فیصلہ قرآن حکیم نے نہایت صاف اور واضح الفاظ میں کر دیا۔ اگر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے رفع الی السماء کا عقیدہ جو عیسائیوں میں مروج اور عام تھا، غلط یا دین الٰہی کی مسلمات کے خلاف ہوتا تو قرآن حکیم اس کی اصلاح بھی کر دیتا۔ لیکن قرآن پاک نے عیسائیوں کے ان عقائد کو جو حضرت مریم علیہا السلام کی عفت عصمت، حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی ولادت بلا اب۔ ان کی زندگی کے معجزات اور ان کے رفع الی السماء کے متعلق تھے۔ برحق قرار دیا اور ان کے صلیب دیئے جانے، قتل ہو کر دفن ہونے اور ان کی الوہیت کے تمام فسانوں کی تردید کر دی اور بتا دیا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی زندگی خواہ عام انسانوں کی زندگیوں کے اسلوب سے کسی قدر مغائر ہی واقع ہوئی ہے۔ لیکن ان کی ہستی اس سے زیادہ نہ تھی کہ وہ دوسرے انسانوں کی طرح خدا کے ایک بندے اور اس کے ویسے ہی رسول تھے۔ جیسے ان سے پہلے بہت سے رسول گزر چکے ہیں۔ وہ خوارق عادات اور معجزے جو ان کی زندگی میں نظر آ رہے ہیں اس سے زیادہ کوئی اور اہمیت نہیں رکھتے کہ وہ خدا کی قدرت کاملہ کے عجائب میں سے اس کا ایک واضح اور بین نشان ہیں۔ جو بنی اسرائیل کو حق کی طرف بلانے کے لئے دکھایا گیا۔
قادیانیوں سے ایک سوال
”بل رفعہ اللہ الیہ“ کی تفسیر میں رفع کو رفع روحانی سے تعبیر کرنے والے قادیانیوں سے میں پوچھتا ہوں کہ اگر یہود حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو صلیب پر لٹکانے میں کامیاب ہو جاتے اور ان کی زندگی کا اختتام وہیں ہو جاتا۔ یعنی ان کی روح ان کے بدن سے الگ ہو جاتی تو کیا اس صورت میں حضرت عیسیٰ کی روح اوپر نہ اٹھائی جاتی اور وہ یہیں مقید رہتی۔ ”بل رفعہ اللہ الیہ“ کو ”ما قتلوہ وما صلبوہ“ کے بالمقابل لانے کے معنی یہی ہیں کہ جس جسم کو یہودی صلیب پر لٹکانے کے درپے تھے اسے خدا نے اپنی طرف اٹھا لیا۔ رفع کو رفع روحانی پر محمول کر کے مطلب نکالنا ہرگز صحیح نہیں۔ کیونکہ روح کا جسم سے الگ ہونا خواہ وہ قتل، صلیب، مرض یا حادثہ کی وجہ سے ہو۔ ہر صورت میں روح کے رفع اور جسم کے سقوط پر منتج ہوتا ہے اور وہ جو لفظ توفی و متوفی سے موت کے معانی نکالنے کی کوششیں کی جاتی ہیں وہ بھی مبنی بر اغراض تکلف کا نتیجہ ہیں۔ کیونکہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی اس زندگی کے خاتمہ کے لئے جو ان کے رفع الی السماء سے پہلے گزر چکی ہے۔ لفظ توفی کا استعمال ہی یہ ظاہر کرتا ہے کہ یہ موت سے کچھ مغائر کیفیت کا نام ہے۔
٦٤
کیونکہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی حقیقت وفات کے لئے جو اسلام کے صحیح عقیدہ کے مطابق نزول کے بعد وقوع پذیر ہوگی۔ قرآن حکیم نے موت کا لفظ استعمال کیا ہے۔ ان الفاظ اور ان کے معانی کی بحث پر قادیانی ماوّل ہمارے علماء کرام کا کافی وقت ضائع کر چکے ہیں۔ لہٰذا مجھے ان جھگڑوں میں پڑنے کی ضروت نہیں۔ اپنے استدلال کے لئے میں اسی امر کو مکفی سمجھتا ہوں کہ قادیانیوں کو دکھا دوں کہ قرآن حکیم حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے رفع الی السماء کی صاف اور صریح الفاظ میں تصدیق کرتا ہے اور اس زندگی کے خاتمہ کے لئے جو اس رفع کے واقعہ سے پہلے گزر چکی ہے موت کا لفظ استعمال نہیں کرتا۔ بلکہ توفی کے مشتق استعمال کرتا ہے۔ جس کے معنی پورا ہونے کے ہیں۔
حضرت عیسیٰ علیہ السلام زندہ ہیں
”بل رفعہ اللہ الیہ“ کے معنی کو رفع جسمانی پر محمول کرنے پر معترضین کا سب سے بڑا اعتراض یہ ہے کہ ایسا کبھی نہیں ہوا اور ایسا ہونا ممکنات سے نہیں۔ لیکن قدرت خداوندی کی ممکنات کا فیصلہ کرنا میرا اور آپ کا کام نہیں۔ ہماری عقلیں تو ان ممکنات مضمر کا اندازہ بھی نہیں لگا سکتیں۔ جو خدائے قدوس و جلیل نے انسان کے اندر ودیعت کر رکھی ہیں اور جن کی طرف نوع انسانی بڑی سرعت رفتار کے ساتھ گامزن ہے۔ اگر قرآن پاک کو کلام ربانی سمجھتے ہو تو جان لو کہ اس کے واضح اور بین بیانات کو اپنی رائے کے تابع بنانا ملحدوں کا کام ہے۔ مسلمان کا کام یہی ہے کہ اسے من وعن قبول کر لے اور اس کی روشنی میں اپنی عقل کو چلانے کی کوشش کرے تاکہ منزل مقصود سے نزدیک تر ہوتا چلا جائے۔
اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے رفع الی السماء کے بعد ان پر کیا گزری۔ اس کا جواب قرآن پاک نے اس سے اگلی آیت میں دیا ہے جو اس کے بالکل متصل آئی ہے ارشاد ہوا ہے: ”و ان من اهل الكتاب الا ليؤمنن به قبل موته ويوم القيامة يكون عليهم شهيدا (النساء:١٥٩)“ ”اہل کتاب میں سے کوئی لازمی طور پر اس پر (حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر حضرت عیسیٰ علیہ السلام) کی موت سے پہلے ایمان لائے بغیر نہیں رہے گا اور قیامت کے دن وہ (حضرت عیسیٰ علیہ السلام) ان پر گواہ ہوں گے (کہ ہاں یہ ایمان لے آئے تھے)“
اس آیت شریفہ سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے مستقبل کے متعلق حسب ذیل امور واضح ہو جاتے ہیں۔
- ا...... ان کا رفع الی اللہ موت کے مرادف نہ تھا۔
٦٥
- ٢....... ان کے لئے موت کا وقت معین ہے۔ یعنی اس رفع ہی پر اس دنیا سے ان کا چھٹکارا
نہیں ہوا۔
- ٣....... ان کے مرنے سے پہلے پہلے تمام اہل کتاب کا ان پر ایمان لانا ضروری ہے۔
- ٤....... حضرت عیسیٰ علیہ السلام اہل کتاب کے ایمان لانے کے واقعہ کی شہادت قیامت کے
روز بارگاہ ذوالجلال میں پیش کریں گے اور یہ اسی صورت میں ہو سکتا ہے کہ یہ واقعہ ان کی زندگی میں ان کی آنکھوں کے سامنے وقوع پذیر ہو۔
اب دیکھنا چاہئے کہ آیا اہل کتاب حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر ایمان لا چکے ہیں۔ اس سوال کا جواب نفی میں ہے۔ یہود آج تک انہیں جھوٹا نبی قرار دے رہے ہیں اور یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ ان کے آباؤ اجداد نے انہیں صلیب دلوادی تھی۔ عیسائی آج تک انہیں مصلوب قرار دے کر اور اللہ ابن اللہ، ثالث ثلاثہ کہہ کر ان کی رسالت کے منکر ہیں۔ صرف مسلمان ہی ایک ایسی قوم ہیں جو دیگر انبیائے کرام کے ساتھ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو بھی خدا کا نبی برحق سمجھتی ہے۔ یعنی ان پر ایمان لا چکی ہے۔ اس سے ثابت ہوا کہ ابھی وقت نہیں آیا۔ جس کے متعلق خدائے پاک نے متذکرہ صدر آیت میں ارشاد کیا ہے۔ یعنی ابھی اہل کتاب حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر ایمان نہیں لائے۔ چونکہ ان کا ایمان لانا حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی موت کے ساتھ مشروط کر دیا گیا ہے۔ لہٰذا حضرت عیسیٰ علیہ السلام ابھی زندہ ہیں۔ ”لیؤمنن به قبل موته“ کی طرف سورۂ آل عمران کی اس آیت میں بھی اشارہ موجود ہے۔
”اذ قال الله یٰعیسیٰ انی متوفیک ورافعک الی ومطهرک من الذین کفروا وجاعل الذین اتبعوک فوق الذین کفروا الی یوم القیمۃ ثم الی مرجعکم فاحکم بینکم فیما کنتم فیه تختلفون (آل عمران:٥٥)“ ﴿جب خدا نے فرمایا اے عیسیٰ میں تیرا عہد پورا کروں گا اور تجھے اپنی طرف اٹھالوں گا اور تجھے ان لوگوں کے (الزامات اور شرارتوں سے) پاک کروں گا۔ جنہوں نے کفر کیا اور جن لوگوں نے تیری پیروی کی ان کو کفر کرنے والوں پر قیامت کے دن تک غالب رکھوں گا۔ پھر تم سب میری طرف لوٹ آؤ گے اور میں ان امور میں جن میں تم اختلاف کر رہے تھے فیصلہ کروں گا۔﴾
”مطہرک من الذین کفروا“ کی آیت اپنے منہ سے بول رہی ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے متعلق جتنے بہتان بھی تراشے جا رہے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان سب سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی ذات کو پاک کر کے دکھائے گا اور یہ اسی صورت میں ہو سکتا ہے کہ قتل اور صلیب
٦٦
کے ذریعے موت کا الزام دینے والے یا مرزائے قادیانی کے متبعین کی طرح طبعی موت وارد ہو چکنے کا بہتان لگانے والے یا ان کو الوہیت کا درجہ دینے والے لوگوں پر حضرت عیسیٰ علیہ السلام خود ظاہر ہو کر اتمام حجت کر دیں۔ جب ’’مطهرك من الذين كفروا‘‘ کو ’’ليؤمنن به قبل موته‘‘ کے ساتھ رکھ کر حقیقت حال کو جاننے کی کوشش کی جائے تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے ظہور ثانی کا مقصد بالکل واضح ہو جاتا ہے اور اس امر میں شک و شبہ کی گنجائش باقی نہیں رہ جاتی کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام ابھی تک زندہ ہیں۔
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے زندہ ہونے پر سورۂ آل عمران کی وہ میثاق النبیین والی آیت بھی گواہی دے رہی ہے۔ اس امر میں تمام مفسرین کا اتفاق ہے کہ سورۂ آل عمران کا حصہ غالب عیسائیوں کو دین اسلام کی تبلیغ کرنے کے متعلق ہے۔ اسی سورۃ میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا تذکرہ اور عیسائیوں کے عقائد کا تذکرہ زیادہ وضاحت سے پایا جاتا ہے اور اسی تذکار کے سلسلہ میں میثاق والی آیت مذکور ہوئی ہے۔ جس میں عیسائیوں کو بتایا گیا ہے کہ حضور خاتم المرسلین ﷺ سے پہلے جتنے انبیائے کرام علیہم السلام گزر چکے ہیں ان سب سے اس امر کا عہد لیا جا چکا ہے کہ اگر وہ ان کی امتوں کے افراد اپنی زندگی میں حضور سرور کائنات ﷺ کو پالیں گے تو حضور ﷺ پر ایمان لائیں گے اور حضور کی مدد کریں گے۔ ظاہر ہے کہ یہ آیت عیسائیوں کے اس شبہ کو دور کرنے کے لئے نازل ہوئی کہ جب ہمارا خداوند زندہ ہے تو ہمیں کسی نبی پر ایمان لانے کی کیا ضرورت ہے۔ انہیں بتایا گیا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام خود حضرت رسول اکرم ﷺ پر ایمان لانے اور ان کی مدد کرنے کا وعدہ کر چکے ہیں۔ اگر مرسلین سابقین میں سے کوئی نبی حضور سرور کائنات ﷺ کے زمانہ تک زندہ نہ رہتے اور ان پر ایمان لا کر ان کی مدد نہ کرتے تو خدائے جلیل کے اس فرمان کی جو میثاق والی آیت میں مذکور ہوا۔ اس دنیا میں عملی تصدیق کا سامان کیا تھا؟۔ حضرت ایزد متعال جل جلالہ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو جو زندہ رکھا ہے تو اس کا ایک سبب یہ بھی ہے کہ عملی طور پر انبیائے کرام علیہم السلام کے اس میثاق کی تصدیق ہو جائے جو ان سے خدا نے ان سب کی رسالتوں اور کتابوں کے مصدق رسول خاتم الانبیاء وافضل المرسلین ﷺ (بابی وامی) پر ایمان لانے اور اس کی مدد کرنے کے لئے لے رکھا تھا۔ یاد رہے کہ جب تک قرآن پاک کے بیان کردہ حقائق کا شوشہ شوشہ عملی طور پر منکشف اور وارد ہو کر نوع بشر پر اتمام حجت نہیں کرے گا اس وقت تک قیامت نہیں آسکتی۔ میرا عقیدہ ہے کہ ماضی اور مستقبل کے متعلق جتنی باتیں قرآن حکیم میں مذکور ہوئی ہیں۔ ان کی حقیقت و واقعیت قیامت سے پہلے پہلے نوع بشر پر آئینے کی طرح روشن
٦٧
ہو کر رہے گی اور قیامت ان لوگوں پر آئے گی جو حجت کامل کا اتمام ہو چکنے کے باوجود محض اپنی رعونتوں کے باعث خدا کے دین کے منکر ہو جائیں گے۔ کیا ان نصوص واضحہ کے علی الرغم کسی شخص کو جو قرآن پر ایمان رکھتا ہے۔ یہ کہنے کی جرات ہو سکتی ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام زندہ نہیں۔ بلکہ کسی نہ کسی طریق سے کسی نہ کسی مقام پر فوت ہو چکے ہیں۔
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کہاں ہیں؟
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے متعلق یہ جان لینے کے بعد کہ وہ زندہ ہیں سوال پیدا ہوتا ہے کہ وہ کہاں ہیں؟ قرآن پاک میں یہ بتایا گیا ہے کہ اللہ نے انہیں اپنی طرف اٹھا لیا۔ ایک مسلمان کے لئے اس نص صریح کے بعد اس کے معنی کے تعمق میں جانے کی ضرورت نہیں کہ خدا نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو جسم و روح کی اس مجموعی حیثیت سے جس میں انہوں نے اپنی زندگی کے حسب روایت انجیل ٣٣ سال اس کرۂ ارض پر بسر کئے اٹھا کر کہاں رکھا؟ خدائے قدیر کی کائنات بہت وسیع ہے۔ اس کے لئے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو ارض کے سوا عوالم سماوی میں کوئی مسکن دے دینا چنداں مشکل امر نہیں۔ انسان اپنی علمی کاوشوں میں ترقی کر کے آج اس نقطہ پر پہنچ چکا ہے کہ وہ ان اجرام فلکیہ کے متعلق جو کائنات کی لامتناہی فضا میں کرۂ ارضی کی طرح تیر رہے ہیں کچھ کچھ معلومات حاصل کرنے لگا ہے اور اسے معلوم ہو رہا ہے کہ یہ اجرام فلکی بھی ارض سے مختلف نہیں۔ بعض اس وقت ایسی حالت میں ہیں جو ارض پر کروڑوں سال پہلے گزر چکی ہے۔ بعض ایسی حالت میں ہیں جو کروڑوں سالوں کے بعد زمین پر وارد ہو کر رہے گی۔ بعض ارضی حالت کے اس قدر قریب ہیں اور اس سے اسی قدر مماثل ہیں کہ ان کی فضاؤں میں نباتی اور حیوانی زندگی کو تربیت کرنے کی صلاحیتیں رکھنے کا امکان تسلیم کیا جا رہا ہے۔ اگر ان علمی تحقیقاتوں سے جن کو ابھی ٢×٢=٤ کے مطابق واقعیت کی حیثیت حاصل نہیں ہوئی قطع نظر کر لیا جائے تو بھی مسلمان کے لئے یہ ماننا ضروری ہے کہ اجرام فلکی میں سے بعض کی کیفیات ارض کے مماثل ہیں اور کائنات میں ارض کے علاوہ اور بھی بہت سے عوالم موجود ہیں جن میں نباتات، حیوانات بلکہ حیات باشعور کی کوئی نہ کوئی ترقی یافتہ شکل آباد ہے۔ اس حقیقت کو قرآن حکیم نے جا بجا بیان کیا ہے۔ چند آیات مثال کے طور پر ذیل میں درج کی جاتی ہیں۔
”ومن آیٰتہ خلق السمٰوت والارض وما بث فیھما من دابۃ ط وھو علٰی جمعھم اذا یشاء قدیر (الشوریٰ: ٢٩)“ اور اس کی نشانیوں میں سے اجرام فلکی اور زمین کا نیز جانداروں کا جو ان میں نشو و نما پا کر پھیل چکے ہیں پیدا کرنا بھی ہے اور وہ ان سب کو یک جا کر
٦٨
کرنے پر جب چاہے قادر ہے۔﴾
"تسبح له السموت السبع والارض ومن فيهن (بني اسرائيل:٤٤)" ﴿سارے آسمان اور زمین اور جو ذی شعور ہستیاں ان میں ہیں۔ سب اس کی تسبیح کرتے ہیں۔﴾ "وربك اعلم بمن فى السموت والارض (بني اسرائيل:٥٥)" ﴿اور تیرا پروردگار ان سے جو آسمانوں اور زمین میں ہیں زیادہ باخبر ہے۔﴾
"من فى السموت والارض" کی ترکیب قرآن پاک میں جا بجا آئی ہے اور من کی ضمیر عربی زبان میں عام طور پر ذی شعور جاندار ہستی کے لئے استعمال ہوتی ہے۔
پس اگر حضرت عیسیٰ علیہ السلام، رفع کے بعد کسی ایسے سیارے میں پہنچ گئے ہوں۔ جس کی کیفیات، ارض کی کیفیتوں سے متماثل ہوں تو وہاں پر جسم وروح کے اتحاد کے ساتھ زندہ رہنا ایک غیر اغلب امر نہیں۔ بلکہ عین ممکن ہے۔ یہ کہنا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو کسی دوسرے سیارے پر پہنچانے کے اسباب عالم مادی میں کیا تھے؟ کوئی ایسا مسئلہ نہیں جس کے پیچھے انسان کو سرگرداں ہونا پڑے۔ اگر آج انسان کی عقلیں اسے اور اس جیسے دوسرے معجزات کو سمجھنے سے قاصر ہیں تو ہوا کریں۔ ایک وقت آئے گا جب نوع انسانی پر یہ سارے اسرار منکشف ہوجائیں گے۔ قرآن حکیم کے بیان کردہ ان حقائق کو جن کے سمجھنے سے ابھی تک انسان کی محدود عقلیں قاصر ہیں تسلیم نہ کرنا، ایک کھلا ہوا الحاد ہے۔ فرد مسلم و مرد مؤمن کا فرض یہ ہے کہ قدرت خداوندی کے مظاہر کو اپنے علم وفہم کے مطابق سمجھنے کی کوشش جاری رکھے اور جو باتیں اس کی سمجھ میں نہ آئیں انہیں اپنے قصور فہم کا اعتراف کرتے ہوئے قبول کرلے اور جان لے کہ علیم و خبیر صرف خدا کی ذات ہے۔ ”وما اوتيتم من العلم الا قليلا“
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا نزول اور اس کی غرض وغایت
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی ولادت اور زندگی کو قرآن حکیم نے جا بجا آیت اللہ سے تعبیر کیا ہے اور بتایا ہے کہ اس زندگی کے محیر العقول واقعات جو نوع انسانی کے عام طریق سے بہ ظاہر مختلف ومتغائر نظر آتے ہیں۔ محض اس لئے ہیں کہ انسان ان میں خدائے لا یزال کی قدرتوں کا مطالعہ کرے اور جان لے کہ اسکی قدرت کاملہ سے بڑی سے بڑی حیرت زا واردات کا ظہور بھی بعید از قیاس امر نہیں۔ میں لکھ چکا ہوں کہ قرآن حکیم نے عیسائیوں کے اس عقیدہ کی تکذیب وتغلیط کی ہے۔ جو انہوں نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی زندگی کے محیر العقول واقعات کی بناء پر ان کی الوہیت کے متعلق قائم کرلیا تھا۔ قرآن پاک نے نوع انسانی کو بتایا کہ جن عجیب مظاہر پر تم
٦٩
حیرت زدہ اور خوف زدہ ہو کر اپنی عبدیت کی گردنیں غیر اللہ کے آگے جھکانے پر آمادہ ہو رہے ہو وہ سولہ آنے صحیح ہیں۔ لیکن یہ سب آیات اللہ ہیں۔ اللہ نہیں۔ اس کی قدرت کاملہ کے ظہور ہیں جن کو ضرورت سے زیادہ اہمیت نہیں دینی چاہئے۔ بلکہ ان کی ندرت کو عرفان کبریائی سے قریب تر جانے کا ایک وسیلہ سمجھنا چاہئے۔ قرآن حکیم نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے رفع و نزول کے متعلق عیسائیوں کے عقیدہ کی تکذیب نہیں کی۔ بلکہ اس عقیدہ کی تغلیط کی۔ جو اس رفع اور متوقع نزول کی بدولت حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی الوہیت کے متعلق ان میں پیدا ہو گیا تھا۔
اب دیکھنا چاہئے کہ عیسائی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے رفع و نزول کے متعلق کیا کہتے ہیں۔ قرآن حکیم ان کے بیان کے کس حصہ کی تردید کرتا ہے اور کسے صحیح قرار دے کر امر واقعہ کے طور پر تسلیم کر رہا ہے۔
متی کی انجیل باب ٢٤ میں مذکور ہے: ”اور جب وہ زیتون کے درخت پر بیٹھا تھا تو اس کے شاگرد الگ اس کے پاس آ کر بولے۔ ہمیں بتا کہ یہ باتیں کب ہوں گی اور تیرے آنے اور دنیا کے آخر ہونے کا نشان کیا ہوگا۔ یسوع نے جواب میں ان سے کہا کہ خبردار کوئی تمہیں گمراہ نہ کر دے۔ کیونکہ بہتیرے میرے نام سے آئیں گے اور کہیں گے کہ میں مسیح ہوں اور بہت سے لوگوں کو گمراہ کریں گے اور تم لڑائیاں اور لڑائیوں کی افواہ سنو گے۔ خبردار گھبرا نہ جانا۔ کیونکہ ان باتوں کا واقع ہونا ضرور ہے۔ لیکن اس وقت خاتمہ نہ ہوگا۔ کیونکہ قوم پر قوم اور بادشاہت پر بادشاہت چڑھائی کرے گی اور جگہ جگہ کال پڑیں گے۔ لیکن یہ سب باتیں مصیبتوں کا شروع ہی ہوں گی اس وقت لوگ تمہیں تکلیف دینے کے لئے پکڑوائیں گے اور ایک دوسرے سے عداوت رکھیں گے اور بہت سے جھوٹے نبی اٹھ کھڑے ہوں گے اور بہتیروں کو گمراہ کریں گے اور بے دینی کے بڑھ جانے کے سبب بہتیروں کی محبت ٹھنڈی پڑ جائے گی۔ مگر جو آخر تک برداشت کرے گا وہ نجات پائے گا اور بادشاہت کی اس خوشخبری کی منادی تمام دنیا میں ہوگی تا کہ سب قوموں کے لئے گواہی ہو اور اس وقت خاتمہ ہوگا۔ بس جب تم اس اجاڑنے والی مکروہ چیز کو جس کا ذکر دانیال نبی کی معرفت ہوا مقدس مقام میں کھڑا ہوا دیکھو تو جو یہودیہ میں ہوں وہ پہاڑوں پر بھاگ جائیں جو کوٹھے پر ہو وہ اپنے گھر کا اسباب لینے کو نیچے نہ اترے اور جو کھیت میں ہو وہ اپنا کپڑا لینے کو پیچھے نہ لوٹے۔ مگر ان پر افسوس ہے جو ان دنوں میں حاملہ ہوں اور جو دودھ پلاتی ہوں۔ پس دعا مانگو کہ تمہیں جاڑوں میں یا سبت کے دن بھاگنا نہ پڑے۔ کیونکہ اس وقت ایسی بڑی مصیبت ہوگی کہ دنیا کے شروع سے نہ اب تک ہوئی ہے نہ ہوگی اور اگر وہ دن گھٹائے نہ جاتے تو کوئی بشر نہ بچتا۔ مگر
٧٠
برگزیدوں کی خاطر وہ دن گھٹائے جائیں گے۔ اس وقت اگر کوئی تم سے کہے کہ دیکھو مسیح یہاں ہے یا وہاں ہے تو یقین نہ کرنا۔ کیونکہ جھوٹے مسیح اور جھوٹے نبی اٹھ کھڑے ہوں گے اور ایسے بڑے نشان اور عجیب کام دکھائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو برگزیدوں کو بھی گمراہ کرلیں۔ دیکھو میں نے تم سے کہہ دیا ہے۔ پس اگر تم سے کہیں کہ دیکھو وہ بیابان میں ہے تو باہر نہ جانا۔ دیکھو وہ کوٹھریوں میں ہے تو یقین نہ کرنا۔ کیونکہ جیسے بجلی پورب سے کوند کر پچھم تک دکھائی دیتی ہے ویسے ہی ابن آدم کا آنا ہوگا۔ جہاں مردار ہے وہاں گدھ جمع ہو جائیں گے اور فوراً ان دنوں کی مصیبت کے بعد سورج تاریک ہو جائے گا اور چاند اپنی روشنی نہ دے گا اور ستارے آسمان سے گریں گے اور آسمانوں کی قوتیں ہلائی جائیں گی اور اس وقت ابن آدم کا نشان آسمان پر دکھائی دے گا اور اس وقت زمین کی ساری قوتیں چھاتی پیٹیں گی اور ابن آدم کو بڑی قدرت اور جلال کے ساتھ آسمان کے بادلوں پر آتے دیکھیں گی اور وہ نرسنگے کی بڑی آواز کے ساتھ اپنے فرشتوں کو بھیجے گا اور وہ اس کے برگزیدوں کو چاروں طرف سے آسمان کے اس سرے سے اس سرے تک جمع کریں گے۔‘‘
بعض دوسری اناجیل میں بھی اسی قسم کے بیانات آئے ہیں۔ جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ آثار قیامت اور نوع انسانی کی موجودہ زندگی کے خاتمہ کی علامات کے سلسلہ میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے اپنی آمد ثانی کا بھی ذکر کیا ہے اور ساتھ ہی جھوٹے نبیوں اور دجال مسیحوں سے بچنے اور ان کے دھوکے سے محتاط رہنے کی تاکید بھی کر دی ہے۔ نیز بتا دیا ہے کہ ان کی آمد معمولی واقعہ نہ ہوگی۔ بلکہ جس طرح مشرق سے مغرب کی طرف کوندنے والی بجلی کو دیکھنے والی آنکھیں دیکھتی اور پہچانتی ہیں۔ اس طرح انسان کی نگاہیں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کو دیکھیں گی اور پہچان لیں گی۔
قرآن حکیم نے اناجیل کے اس بیان کی کہیں تغلیط نہیں کی۔ بلکہ انہیں صحیح قرار دیتے ہوئے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو بھی علامۃ من علامات قیامت تسلیم کیا ہے۔ سورۃ الزخرف میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا ذکر کرتے ہوئے حضرت باری تعالیٰ عزاسمہ کہتا ہے۔ ”ان ھو الا عبد انعمنا علیہ وجعلنہ مثلا لبنی اسرائیل ولو نشاء لجعلنا منکم ملئکۃ فی الارض یخلفون وانہ لعلم للساعة فلا تمترن بھا واتبعون ھذا صراط مستقیم ولا یصدنکم الشیطن انہ لکم عدو مبین (زخرف: ٥٩،٦٢)“ (پس) وہ تو ہمارا ایک بندہ تھا جس پر ہم نے اپنا انعام کیا اور اسے بنی اسرائیل کے لئے اپنی قدرت کا نمونہ بنایا ( تم اس زندگی کے محیر العقول حالات پر حیران کیوں ہوتے ہو۔ ہماری قدرت تو وہ ہے) کہ
٧١
اگر ہم چاہیں تو تم میں سے فرشتے پیدا کر دیں جو زمین میں تمہارے وارث بن جائیں اور وہ (عیسیٰ) البتہ الساعت (قیامت) کے لئے (بمنزلہ) علم کے ہے۔ (جو تمہیں دیا جائے گا) پس تم قیامت کے آنے میں شک نہ کرو اور میری (محمدﷺ) کی پیروی کرو۔ یہی صراطِ مستقیم ہے۔ (دیکھنا کہیں) شیطان تمہیں اس راستے سے گمراہ نہ کر دے۔ بیشک وہ تمہارا کھلا ہوا دشمن ہے۔ ﴿
پس حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو اٹھانے اور زندہ رکھنے کا ایک مقصد یہ بھی ہے کہ انہیں قیامت کے قریب اس ساعت کے آنے کے نشان کے طور پر نوعِ انسانی کے سامنے پیش کیا جائے۔ جس کی خبر تمام انبیائے کرام علیہم السلام نے اپنے صحائف میں دی ہے اور جس کے متعلق قرآن پاک میں جابجا تذکرے موجود ہیں۔ آثارِ قیامت اور بھی بہت سے قرآن پاک میں مذکور ہوئے ہیں۔ جو تمام کے تمام بڑے ہی حیرت افزا ہیں۔ تاہم حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا غائب ہو کر صدیوں کے بعد نوعِ انسانی پر نمودار ہو جانا ایسا واقعہ ہو گا جس کے ظہور کے بعد قرآن کے ماننے والوں کو قیامت کے نزدیک آ جانے کا کلی طور پر یقین ہو جائے گا۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کی حیثیت از روئے قرآنِ کریم علم للساعہ یعنی علامتِ ظہورِ قیامت سے زیادہ نہیں اور اناجیل کا دعویٰ بھی صرف اسی قدر ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے اپنی آمدِ ثانی کو قیامت کی خبر کے طور پر بیان فرمایا تھا۔ پس ایمانی حیثیت سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی آمد کا انتظام اور انہیں ایک نئے پیغمبر کی حیثیت سے جو گمراہوں کو راہِ راست پر لانے کے لئے مبعوث ہوا ہو قبول کرنے کا لزوم اسلام کی اساس سے کوئی تعلق نہیں رکھتا۔ قرآن ہمیں صرف اتنا بتاتا ہے کہ قیامت کے قریب قیامت کی علامت کے طور پر حضرت عیسیٰ علیہ السلام زمین پر نازل ہوں گے اور یہ علامت اسی صورت میں علامت کہلائی جا سکے گی جب نوعِ انسانی جان لے کہ نازل ہونے والی شخصیت وہی ہے جو صدہا سال پیشتر فلسطین میں باپ کے بغیر پیدا ہوئی تھی اور جسے دشمنوں کے نرغہ سے بچا کر آسمانوں کی طرف اٹھا لیا گیا تھا۔ لہٰذا حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی آمد اس وقت کسی قسم کا مابہ النزاع مسئلہ نہیں رہے گی۔ بلکہ ان کے موافق و مخالف سب جان لیں گے کہ یہ وہی ابنِ مریم ہیں جو زندگی کا کچھ عرصہ پہلے اس کرۂ ارضی پر بسر کر چکے ہیں۔ اس علامت کے ظہور کے بعد جو لوگ حق کی طرف رجوع کر لیں گے۔ وہ ناجی ہوں گے اور جو اپنے کفر و طغیان پر مصر رہیں گے۔ ان پر قیامت آ جائے گی۔
آیت کے ظہور کا وقت
کہا جائے گا کہ خدائے بزرگ و برتر نے اس قسم کی واضح آیت کے ظہور کا وقت قربِ ٧٢
قیامت کیوں مقرر کیا۔ اس وقت سے پہلے آنے والے انسانوں کو اس قسم کا کوئی واضح اور بین نشان کیوں نہ دیا۔ اس کا جواب یہ ہے کہ قیامت کے نزدیک زمانہ کے حالات ایسے دگرگوں ہو جائیں گے کہ اس وقت اس قسم کے بین نشان کے ظہور کی اشد ضرورت پیش آجائے گی۔ مسیحیت اور نبوت کا دعویٰ کرنے والے اشخاص جن کو کئی قسم کی طاقتیں حاصل ہوں گی۔ ظاہر ہونے لگیں گے جو نوع انسانی کے لئے زبردست فتنہ کا موجب بن جائیں گے۔ لہٰذا حضرت عیسیٰ علیہ السلام خود ظاہر ہوکر ان سب کے قصوں کو پاک کردیں گے۔ خدا کی آیتیں اپنے موقع ومحل پر ظاہر ہوتی ہیں اور جس دور میں جیسی آیت کی ضرورت ہو ویسی ہی ظہور پذیر ہو جاتی ہے۔ اگر ہم غور سے دیکھنے والی نگاہیں پیدا کر لیں تو ہمیں اپنے گردو پیش اور تحت و فوق ہر سمت خدا کی آیات نظر آئیں گی۔ جو زمانے کے حسب حال ہوں گی اور جان سکیں گے کہ خدا کے بڑے بڑے نشان جو کتب سماوی میں مذکور ہوچکے ہیں اپنے اپنے وقت پر ظاہر ہوتے آئے ہیں اور ہوتے رہیں گے۔ ایسی ہی ایک آیت مبین کو نوع انسانی ١٩٠٨ء میں ملاحظہ کر چکی ہے۔ قرآن کریم نے آج سے ساڑھے تیرہ سو سال پیشتر چار پانچ ہزار سال پہلے کے واقعہ یعنی آل فرعون کی غرقابی کا ذکر کرتے ہوئے کہہ دیا تھا کہ: ”فاليوم ننجيك ببدنك لتكون لمن خلفك آية وان كثيرا من الناس عن آيتنا لغفلون (یونس:٩٢)“ ﴿ (اے فرعون) پس آج ہم نے تیرے بدن کو (غرقابی سے) بچالیا۔ تاکہ اس کے لئے جو تیرے بعد آرہا ہے۔ آیت کا کام دے اور تحقیق اکثر لوگ ہمارے نشانیوں کی طرف سے غافل ہیں۔ ﴾
فرعون کی لاش بعد میں آنے والے فرعونوں کی عبرت کے لئے آیت کے طور پر بچالی گئی اور یہ لاش عصر حاضر میں جب انسان پھر خدائی دعویٰ کرنے کے نزدیک جارہا ہے۔ لندن کے عجائب گھر میں پڑی اپنے آیت اللہ ہونے کا اعلان کررہی ہے۔ ظاہر ہے کہ خدا کی یہ آیت جس کا ذکر قرآن حکیم میں آیا ہے۔ چار پانچ ہزار سال کے بعد نوع انسانی پر اس وقت ظاہر ہوئی ہے۔ جب اس کی ضرورت تھی اسی طرح نزول عیسیٰ علیہ السلام کی آیت بھی اس وقت ظاہر ہوکر رہے گی۔ جب نوع انسانی کو اس کے ظہور کی ضرورت ہوگی۔
وفات و نزول مسیح کے متضاد عقائد
قرآن حکیم کے اور خصائص جن سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے زندہ ہونے اور اپنے عمر کے آخری دور میں نوع انسانی کے ساتھ واسطہ پیدا کرنے کے متعلق استشہاد کیا جاسکتا ہے۔ یہ ہیں۔ ”اذ قال الله يعيسى ابن مريم اذكر نعمتى عليك وعلى والدتك اذ ايدتك
٧٣
بروح القدس تكلم الناس فى المهد وكهلا (المائدہ:١١٠) ”جب اللہ نے کہا اے عیسٰی ابن مریم میری اس نعمت کو یاد کر جو میں نے تجھ پر اور تیری ماں پر کی۔ وہ جب میں نے روح القدس سے تیری مدد کی۔ (نیز) تجھے پنگوڑے میں اور عمر رسیدہ ہوکر لوگوں سے باتیں کرنے والا بنایا۔﴾
”اذ قالت الملئكة يمريم ان الله يبشرك بكلمة منه اسمه المسيح عيسى ابن مريم وجيها فى الدنيا والآخرة ومن المقربين ويكلم الناس فى المهد وكهلا ومن الصلحين (آل عمران:٤٥، ٤٦) ”جب فرشتوں نے کہا اے مریم تحقیق اللہ تجھے اپنے ایک کلمہ (نشان) کی خوشخبری دیتا ہے۔ جس کا نام مسیح عیسٰی ابن مریم ہوگا۔ دنیا اور آخرت میں بڑے مرتبے والا اور خدا کے مقربوں میں سے اور وہ لوگوں سے پنگوڑے میں اور عمر رسیدہ ہوکر باتیں کرے گا اور صالح بندوں میں سے ہوگا۔﴾
ان آیات میں قرآن حکیم نے حضرت عیسٰی کے پنگوڑے میں اور عمر رسیدہ ہوکر لوگوں سے باتیں کرنے کو انعام خداوندی میں سے مخصوص طور پر بیان کیا ہے۔ کیونکہ دونوں محیر العقول باتیں ہونے والی تھیں۔ پیدا ہونے کے بعد حضرت عیسٰی علیہ السلام کا پنگوڑے میں لیٹے لیٹے اپنی والدہ کی عصمت و عفت کی شہادت دینا دوسرے مقامات پر بھی مذکور ہوا ہے۔ لہٰذا عمر رسیدہ ہوکر لوگوں سے باتیں کرنے کا واقعہ بھی اسی صورت میں تکلم فی المہد کی طرح محیر العقول ہو سکتا ہے جب اس میں کوئی ندرت ہو اور وہ ندرت یہی ہے کہ حضرت عیسٰی علیہ السلام صدہا سال کے بعد زمین پر نازل ہوکر ازسرنو زندگی شروع کریں گے اور عمر کے اس حصہ تک پہنچیں گے۔ جسے عربی زبان میں کہل کے لفظ سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ لوگ ان کے اس کلام کرنے پر اسی طرح حیران ہوں گے جس طرح بنی اسرائیل کے افراد انہیں گود میں باتیں کرتے دیکھ کر بھونچکے رہ گئے تھے۔
آپ نے دیکھ لیا ہوگا کہ قرآن حکیم کی آیات جو حضرت عیسٰی علیہ السلام کے متعلق آئی ہیں کس طرح ایک دوسرے کی تائید کرتی ہوئی یہ ظاہر کرتی ہیں کہ حضرت عیسٰی علیہ السلام کی محیر العقول زندگی از ابتداء تا انتہاء آیت اللہ واقع ہوئی ہے۔ جس کا اظہار قرآن حکیم کا مقصد نظر آتا ہے۔ اگر ان میں سے کسی ایک شے کو اپنی محدود اور ناقص عقلوں کے مطابق بنانے کی سعی میں کھینچ لیا جائے اور تاویلات لاطائل کے دروازے کھول دیئے جائیں تو آیت اللہ کا یہ سارا قصر دھڑام سے زمین پر آ رہتا ہے۔ اس صورت میں فرقہ مرزائیہ کے لاہوری ملاحدہ کی طرح قرآن حکیم کی بینات کے علی الرغم یہ کہنا پڑے گا کہ ”نعوذ بالله من شرور انفسنا وسيئات اعمالنا“
٧٤
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی پیدائش میں کسی قسم کی ندرت نہ تھی اور وہ یوسف نجار کے فرزند تھے۔ زندگی میں ان سے کسی قسم کے معجزہ کا ظہور نہیں ہوا اور وہ صلیب پر لٹکائے گئے تھے یا صلیب پر بچالئے گئے تھے۔ لیکن دنیا سے روپوش رہ کر زندگی بسر کر گئے۔ اس صورت میں ان کے علم للساعۃ اور تکلم فی المہد وکہلا کی بھی بے سروپا تاویلیں کرنی پڑیں گی اور وہ جو اہل کتاب کے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی موت سے پہلے ان پر ایمان لانے کے متعلق پیش گوئی مذکور ہوئی ہے اس کی بھی کوئی نئی توجیہ لانی پڑے گی۔ گویا قرآن حکیم کو بالائے طاق رکھ کر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی زندگی کا ایک سراسر نیا اور متغائر تار و پود اپنے اوہام کی بناء پر بننا پڑے گا۔ ظاہر ہے کہ اس سے بڑی معصیت انسان کے لئے اور کوئی نہیں ہو سکتی کہ قرآن پاک کی صریح آیات کی تکذیب کرے اور ایک نبی کی زندگی پر طرح طرح کے اتہام باندھے۔ یہ میں لکھ چکا ہوں کہ جن لوگوں کو جھوٹی مسیحیت اور دجالی نبوت کے قیام کے لئے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی وفات کا مسئلہ گھڑنا پڑا ان کے پیرو مرشد نے تو استعارہ کے رنگ میں مریم بن کر حاملہ ہونے اور اس حمل کے نتیجہ کے طور پر خود پیدا ہو کر مسیح کہلانے کی بیہودہ سی تاویلیں گھڑنے میں بھی تامل سے کام نہیں لیا۔ چہ جائیکہ ان سے قرآن پاک کی آیات کو صحیح طور پر سمجھنے کی امید رکھی جائے۔
کہا جاتا ہے کہ مولانا ابوالکلام آزاد، ڈاکٹر اقبال اور اسلام کے بعض دیگر متقدم و متاخر علمائے کرام وفات مسیح کے قائل ہیں، ہوں گے۔ لیکن معلوم ہونا چاہئے کہ وفات مسیح کے قائل کسی مسیح کی آمد کے منتظر بھی نہیں۔ لہٰذا مرزائیوں کا جو اپنے متنبّی کو مسیح موعود کہتے ہیں اور نزول و آمد مسیح کی روایات کے قائل ہیں ایسے علماء کے اقوال سے استشہاد کرنا بے معنی ہے۔ اے ضلالت و گمراہی کی پیروی کرنے والو! اگر تم ان اخبار کو جو مسیح کی آمد اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کے متعلق ہیں درست خیال کرتے ہو تو انہی کی آمد کا انتظار کرو اور محض تاویلات کے بل پر کسی مدعی کو ابن مریم ثابت کرنے کی کوشش سے باز آجاؤ۔ جس پر صریح طور پر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا یہ قول کہ: ”بہترے میرے نام سے آئیں گے اور کہیں گے کہ میں مسیح ہوں“ نیز حضرت ختمی مرتبت ﷺ کی حدیث پاک جو تیس جھوٹے نبیوں کے خروج کے متعلق وارد ہوئی ہے۔ اگر مسیح ابن مریم علیہ السلام کو فوت شدہ تصور کرتے ہو تو کہہ دو کوئی مسیح آنے والا نہیں۔ اس صورت میں تمہیں جھوٹ کا جواز ثابت کرنے کے لئے تاویلیں گھڑنے کی ضرورت پیش نہیں آئے گی اور جب مسیح ابن مریم آجائیں گے تو سب کو معلوم ہو جائے گا کہ وہ آگئے۔ کیونکہ ان کی آمد کوئی معمولی آمد نہ ہوگی۔ جس کے ثبوت کے لئے تاویل و استدلال کی ضرورت پیش آئے گی۔ وہ خدائے جلیل و قدیر کا ایک بین
٧٥
نشان ہوگا۔ جسے موافق ومخالف سب کی آنکھیں دیکھ سکیں گی اور سب کی عقلیں جان لیں گی کہ یہ وہی مسیح ابن مریم ہیں جو صد ہا سال پہلے فلسطین میں پیدا ہوئے تھے۔ جنہوں نے گود میں لیٹے لیٹے اپنی ماں کی پاک دامانی کی شہادت دی تھی۔ جنہیں یہودیوں نے مصلوب کرنے کی کوشش کی تھی۔ لیکن جنہیں خدائے جلیل وقدیر نے اپنی قدرت کاملہ سے بچالیا اور محفوظ کر لیا تھا تا کہ علم للساعة کے طور پر قیامت کے قریب اپنا نشان بنائے ۔
دیگر آثار قیامت اور نزول حضرت عیسیٰ علیہ السلام
میں لکھ چکا ہوں کہ نزول حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی حیثیت علم للساعة یعنی قیامت کے قرب کی ایک علامت سے زیادہ اور کچھ نہیں ۔ مخبر صادق حضور سرور کائنات ﷺ کی احادیث میں بھی جہاں جہاں ابن مریم کے نزول کا ذکر آیا ہے علامات قیامت ہی کے ضمن میں مذکور ہوا ہے۔ لہٰذا مسیح کے نام سے دینی رخنہ اندازیوں کی جتنی کوششیں بھی اس وقت تک بروئے کار آچکی ہیں یا آئندہ ظاہر ہوں گی وہ سب باطل اور جھوٹے مدعیوں کی اس فہرست کے تحت میں آتی ہیں۔ جس کی طرف خود حضرت عیسیٰ علیہ السلام بھی اشارہ کر چکے ہیں اور حضرت ختمی مرتبت ﷺ بھی اپنی امت کو ان سے ہوشیار رہنے کی تاکید فرماچکے ہیں ۔ احادیث نبوی میں آثار وعلامت قیامت کے سلسلہ میں مسیح الدجال کے ایک بہت بڑے فتنہ کا ذکر بھی آیا ہے۔ جس میں بتایا گیا ہے کہ قیامت کے قریب ایک شخص جسے بڑی محیر العقول قدرتیں حاصل ہوں گی ۔ حتیٰ کہ ایسا معلوم ہوگا کہ مصنوعی جنت وجہنم کی کلیدیں بھی اس کے ہاتھ میں ہیں۔ جن میں وہ اپنے ماننے اور نہ ماننے والوں کو ڈالتا چلا جائے گا۔ نیز اسے مردوں کو زندہ کرنے اور بظاہر انسانوں کے مرے ہوئے آباؤ اجداد سے باتیں کرانے کی قدرتیں بھی حاصل ہوں گی ۔ یہ شخص جس کی دونوں آنکھیں یکساں نہ ہوں گی۔ اپنی محیر العقول قدرتوں کے بل پر مسیح اور خدا ہونے کا دعویٰ کرے گا۔ یعنی عیسائیوں کے عقیدۂ الوہیت کی تصدیق کرتے ہوئے یہ کہے گا کہ میں ہی وہ مسیح ابن اللہ ثالث من ثلاثہ ہوں۔ جس کی عبادت تم صدیوں سے کرتے آئے ہو۔ از بس کہ اس کی طاقتیں بہت محیر العقول ہوں گی۔ اس لئے نوع بشر کا ایک حصہ غالب اس کے سامنے اطاعت وعبدیت کی گردنیں جھکانے لگے گا۔ اسی مسیح الدجال کو قتل کرنے اور اس مہلکہ فتنہ کا سدباب کرنے کا کام ایزد متعال عزاسمہ کی قدرت کاملہ نے حقیقی مسیح یعنی حضرت عیسیٰ علیہ السلام ابن مریم کے لئے مقدر کر دیا تا کہ اس وقت کی نوع بشر کو دجال کے دجال ہونے میں کسی قسم کے شک وشبہ کی گنجائش باقی نہ رہے اور مسیح علیہ السلام کے نام سے انسانوں کو مختلف قسم کے دھوکے دینے والوں کا سارا پول کھل جائے ۔
٧٦
اخبار صحیحہ سے معلوم ہوتا ہے کہ مسیح الدجال کا فتنہ بہت بڑا فتنہ ہوگا اور ارشادات نبوی علیٰ صاحبہا الصلوٰۃ والسلام میں مسلمانوں کو تاکید کی گئی ہے کہ اس فتنہ سے بچنے کے لئے ہر وقت ایزد متعال کی بارگاہ میں پناہ مانگتے رہیں اور اس امر کا خیال رکھیں کہ مسیح الدجال کو خود حضرت عیسیٰ علیہ السلام ابن مریم قتل کریں گے۔ لہٰذا مسلمانوں کے لئے ہر ایسے مدعی کو جو استعارہ کے رنگ میں مریم بن کر حاملہ ہونے اور اس کے نتیجہ میں کود پیدا ہو کر مسیح کہلانے کا خواہاں ہو مفتری و کاذب سمجھنا ایک لازمی امر ہے۔ کیونکہ اس مضمون پر احادیث شریفہ اس قدر واضح ہیں کہ ان میں تاویل و تحریف کی قطعاً گنجائش نہیں۔
مسیح الدجال کے خروج اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کے سلسلہ میں مخبر صادق ﷺ نے جس قدر ارشادات اپنی امت کی آگاہی کے لئے بیان فرمائے ہیں وہ سب آثار قیامت کے طور پر مذکور ہوئے ہیں اور بتا دیا گیا ہے کہ امت مسلمہ پر ایک ایسا وقت آنے والا ہے جب غیر مسلم قومیں علی الخصوص نصاریٰ ان پر غالب آجائیں گے تا آنکہ کفار کے لشکر اس سرزمین کو جس میں بیت المقدس واقع ہے فتح کرلیں گے اور ان کی یلغاریں جزیرۃ العرب کی پاک سرزمین پر اس حد تک تجاوز کرجائیں گی کہ مکہ معظمہ اور مدینہ منورہ کی حالت بھی مخدوش ہو جائے گی۔ مسلمان سخت مصیبت میں مبتلا ہوں گے۔ جنگ ہورہی ہوگی اور اس وقت کا امیر المومنین شہید ہوجائے گا۔ اس وقت ساری دنیائے اسلام میں کوئی شخص مسلمانوں کی امارت و قیادت کی ذمہ داری کا بوجھ اپنے کندھوں پر اٹھانے کے لئے تیار نہ ہوگا۔ امت مسلمہ امیر کے انتخاب کے معاملہ میں پریشان ہوگی۔ امت کے صلحاء مکہ معظمہ میں حج کے لئے جمع ہوں گے۔ وہیں ایک شخص کو جو طواف کر رہا ہو گا اس کے انکار کے باوجود اپنا امیر بنالیں گے اور اس کے ہاتھ پر کفار سے جنگ کرنے کے لئے بیعت کریں گے۔ یہی وہ مہدی آخر الزمان ہوں گے۔ جن کے انتخاب کی خبر غیبی آواز کے ذریعہ ساری دنیا کو سنادی جائے گی۔ حضرت مہدی علیہ السلام مسلمانوں کا لشکر لے کر کفار کا مقابلہ کریں گے اور انہیں شکست دیتے ہوئے شام کی سرزمین تک پہنچ جائیں گے۔ اسلامی لشکر دمشق کے مقام پر ہوگا کہ مسیح الدجال کے خروج کی اطلاع ملے گی۔ اس وقت حضرت عیسیٰ علیہ السلام دو فرشتوں کے سہارے مشرقی مینار پر نازل ہوں گے۔ ظہر کی نماز تیار ہوگی۔ مہدی رضوان اللہ اجمعین حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے کہیں گے کہ امامت کے فرائض آپ انجام دیجئے۔ لیکن حضرت عیسیٰ علیہ السلام یہ کہہ کر انکار فرمائیں گے کہ امامت آپ ہی کا حق ہے۔ آپ ہی مسلمانوں کے امیر ہیں۔ میرا کام تو فقط دجال کا قتل ہے۔ جس کے زیر قیادت کفار
٧٧
کے لشکر مسلمانوں کے بالمقابل صف آرا ہیں۔ دجال اور اس کے لشکروں سے مقابلہ ہوگا۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام مسلمانوں کے لشکر میں شامل ہوکر ان سے جنگ کریں گے اور دجال کو اپنے نیزے سے قتل کردیں گے۔
ان جنگوں کے واقعات احادیث نبوی میں اس تفصیل کے ساتھ بطور پیش گوئی بیان ہوئے ہیں کہ ان میں کسی قسم کے التباس کی گنجائش نہیں۔ مقام تعجب ہے کہ بعض لوگ ان پیش گوئیوں کے بعض اجزا کو لے کر ان کی تاویلیں کرنے کے درپے ہوجاتے ہیں اور یہ کہنے لگتے ہیں کہ مہدی آخر الزمان کا ظہور اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا نزول اس وقت کی امت مسلمہ کے سیاسی اور بین الاقوامی حالات سے مختلف کیفیات کے حامل ہیں۔ ان اخبار کی حیثیت جو قرب قیامت کے فتن کے متعلق مذکور ہوئے ہیں محض اخبار اور پیش گوئی ہی ہے اور ان سے یہ استنباط نہیں کیا جاسکتا کہ مہدی ومسیح دین اسلام میں کسی قسم کی تجدید واصلاح کی خدمت انجام دیں گے۔ ظاہر ہے کہ صرف سچے مسلمان ہی ان فتن میں مہدی ومسیح علیہما الصلوٰۃ والسلام کا ساتھ دیں گے اور اس غزوہ اور جہاد میں شامل ہوکر جو کفر واسلام کا آخری معرکہ ہوگا شہادت یا فتح کے درجے حاصل کرسکیں گے۔ کسی ایسے مسیح کاذب کے پیرو جس نے جہاد کو منسوخ قرار دے دیا ہو اس سعادت میں حصہ نہیں لے سکیں گے۔ کیونکہ وہ اپنے عقیدہ کے مطابق اس وقت کی دجالی حکومت کے جو روئے زمین پر پھیل جائے گی وفادار رہنے پر مجبور ہوں گے۔
میں نے ظہور مہدی اور نزول مسیح علیہ السلام کے ان واقعات کو جو احادیث میں بیان ہوئے ہیں اختصار اور اجمال کے ساتھ اوپر بیان کردیا ہے۔ اگر ان تمام احادیث کو جو اس آنے والے زمانہ کے فتن کے متعلق مذکور ہوئے ہیں یک جا جمع کیا جائے تو اس کے لئے ایک مستقل کتاب کی ضرورت ہے۔ یہ واقعات احادیث شریفہ میں جس شکل میں بیان ہوئے ہیں۔ اسے جان لینے کے بعد کوئی مسلمان ایک لمحہ کے لئے کسی مفتری یا مدعی کاذب کے دام فریب کا شکار نہیں ہوسکتا۔ سچے مسلمان جو مسیح الدجال ایسے صاحب قدرت واختیار شخص کے مقابلہ میں جانیں لڑائیں گے قادیان کے کسی متنبّی کے جھانسے میں نہیں آسکتے۔ جس کی پٹاری میں لاطائل تاویلوں اور بیہودہ دعووں کے سوا اور کوئی شے نہیں۔ جس نے نہ مکہ دیکھا نہ بیت المقدس کی سیر کی نہ میدان جنگ کی لذتوں سے شناسا ہوا، نہ جہاد کے ثواب سے بہرہ مند ہوا۔ کیا تو یہ کیا کہ جہاد بالسیف کی تنسیخ کا اعلان کرکے ان تمام احادیث پاک کی تکذیب کردی جو کفر واسلام کے اس آخری معرکہ کے متعلق بیان ہوئی ہیں اور دین فروشوں کی ایک ایسی جماعت کھڑی کردی جس کا
٧٨
کام مسلمانوں کے خلاف جاسوسی کرنے اور آزاد اسلامی ممالک کو کفار کی ان سلطنتوں کے زیر نگین لانے کی کوشش کے سوا اور کچھ نہیں، جو شاید آئندہ چل کر مسیح الدجال کی پشت پناہ بننے والی ہیں۔ لیکن دعویٰ یہ کر دیا کہ میں ہی مہدی موعود و مسیح موعود ہوں۔
کس پیش تو غم نامۂ ہجراں بکشاید
احادیث و اخبار کی غلط تاویلات
مرزائیت کی قادیانی اور لاہوری شاخوں کے امراء اور متبعین غیر عیسیٰ کو عیسیٰ اور ناسخ کو مسیح ثابت کرنے کے لئے ان اخبار کے تذکار و تاویل میں جو علامات قیامت کے طور پر بیان ہوئیں۔ اس قدر بددیانتی سے کام لینے کے عادی ہیں کہ سب کو یکجا نہیں لیتے۔ بلکہ صرف ایسی احادیث کو جن کے معانی میں وہ تاویل و تحریف کر کے اپنے متنبّی کی ذات پر چسپاں کر سکتے ہیں بیان کرتے اور ان احادیث کو چھوڑ دیتے ہیں۔ جن میں صاف اور صریح الفاظ میں کفار کے ساتھ پیہم جنگیں کرنے اور دجال کے خلاف جہاد بالسیف کرنے کی خبریں دی گئی ہیں۔ ان لوگوں اور ان کے پیشوا کا سب سے بڑا دجل یہ ہے کہ وہ ان تمام احادیث کو جو ظہور حضرت مہدی علیہ السلام اور نزول حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے متعلق مذکور ہوئی ہیں امت مسلمہ کی دینی ضرورت کے لئے ظاہر کر کے پہلے یہ منوانے کی کوشش کرتے ہیں کہ مسلمان کے لئے مہدی و مسیح کی نبوت و رسالت پر ایمان لانا ویسا ہی ضروری ہے جیسا کہ حضرت ختمی مرتبت ﷺ کی رسالت پر ایمان لانا ضروری ہے۔ حالانکہ مسلمان حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی رسالت پر پہلے ہی ایمان لاچکے ہیں۔ جس کی حیثیت پر ان کے زندہ ہونے یا دوبارہ امت مسلمہ میں آنے سے کوئی زد نہیں پڑتی۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام، اسلام کے پیغمبر ہیں اور حضرت رسول کریم ﷺ پر اسی وقت سے ایمان لا چکے ہیں۔ جب ان کو نبوت و رسالت کا منصب عطاء کرتے وقت پروردگار عالم نے ان سے حضرت ختمی مرتبت ﷺ پر ایمان لانے اور بشرط زندگی ان کی مدد کرنے کا وعدہ لے لیا تھا۔ (ملاحظہ ہو آیہ میثاق النبیین جس کا ذکر پہلے آچکا ہے) اور حضرت مہدی علیہ السلام کے متعلق اللہ کا نبی یا رسول ہونے کی کوئی خبر نہیں دی گئی۔ ان کی حیثیت صرف اس امیر المومنین کی ہے جو آخری زمانہ کے فتن میں جب کفار چاروں طرف سے مسلمانوں پر ہجوم لا چکے ہوں گے اور یہ خطرہ پیدا ہو چکا ہو گا کہ حرمین الشریفین پر کفار کا علم بلند ہونے والا ہے۔ مسلمانوں کے لشکروں کی قیادت کرتے ہوئے کفار سے قتال بالسیف کریں گے۔ احادیث جو اس زمانہ کے واقعات کے متعلق آئی ہیں محض پیش ٧٩
گوئی کی حیثیت رکھتی ہیں اور اس قدر واضح ہیں کہ ان میں کسی قسم کی تلبیس وتدلیس کی گنجائش باقی نہیں رہ جاتی۔ پس جب یہ واقعات جن کی خبر احادیث میں دی گئی ہے رونما ہوں گے تو مسلمان اور نامسلمان سب سمجھ لیں گے کہ وہ وقت آگیا جسے قیام قیامت کا پیش خیمہ سمجھنا چاہئے۔ باقی رہی یہ بات کہ کون سے مسلمان اس دور فتن میں حضرت مہدی علیہ السلام کا ساتھ دیں گے۔ سو اس کے متعلق بھی چنداں پریشان ہونے کی ضرورت نہیں۔ کیونکہ وہی مسلمان حضرت مہدی علیہ السلام کا ساتھ دیں گے جو اس وقت اسلام کی حفاظت ومدافعت کے لئے صدق دل سے کوشاں ہوں گے۔ احادیث صحیحہ میں یہ بھی مذکور ہے کہ بعض لوگ جو مسلمان کہلاتے ہوں گے۔ یہ جان لینے کے باوجود کہ مہدی علیہ السلام کا ساتھ دینے والے مسلمان اسلام کی صحیح خدمت کر رہے ہیں۔ اپنی دنیوی اغراض کے لئے کفار کا ساتھ دیں گے۔ اس کی مثال بعینہ وہ ہے جو گذشتہ جنگ عظیم میں ممالک اسلامی میں دیکھی گئی۔ ترکی خلیفۃ المسلمین نے جہاد کا علم بلند کیا۔ لیکن اکثر ممالک کے مسلمان کہلانے والے لوگ محض اپنے دنیوی فوائد کی خاطر ترکوں کے خلاف جا لڑے۔ حالانکہ وہ جانتے تھے کہ وہ اسلام سے صریح غداری کے مرتکب ہو رہے ہیں۔
احادیث میں مہدی، مسیح، دجال اور یاجوج وماجوج وغیرہ کے متعلق پیش گوئیاں علامات قیامت کے طور پر بیان ہوئی ہیں۔ وہ اس قدر واضح، بین اور جامع ہیں انہیں جان لینے کے بعد کسی کے دل میں آنے والے واقعات کے متعلق کسی قسم کے شک وشبہ کی گنجائش باقی نہیں رہتی۔ علی الخصوص ایسے دور میں جب ہم اپنی آنکھوں سے دنیا کی سیاست کا رنگ ایسا دیکھ رہے ہیں جو احادیث کے بیان کردہ حالات کے نزدیک جارہا ہے۔ جب کہ حرمین الشریفین کے شمال جنوب اور مشرق ومغرب میں مغربی اقوام کے استعمار کے بڑھتے ہوئے قدم پہنچ چکے ہیں اور یورپین اقوام سیاسیات، تہذیب اور تمدن میں سارے کرہ ارض پر حاوی ہوچکی ہیں اور صاف نظر آرہا ہے کہ آنے والی جنگوں کا نقشہ غالباً احادیث کے بیان کردہ ان حالات کے مطابق ہوگا۔ جو کفر و اسلام کے آخری معرکہ کے متعلق مذکور ہوئے ہیں اور اسی آخری معرکہ میں مہدی کے ظہور، دجال کے خروج اور عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کی پیش گوئیاں پوری ہونے والی ہیں۔
حضور سید المرسلین ﷺ کی شان میں گستاخی
قادیان کی دجالی مسیحیت اور جھوٹی مہدویت کا ڈھونگ رچانے کے لئے مرزائی بدبختوں اور ان کے پیشواؤں نے اس حد تک کفر صریح اور الحاد بین سے کام لیا ہے کہ حضرت ختمی مرتبت ﷺ کی شان میں گستاخی کرنے سے بھی دریغ نہیں کیا۔ مسیح الدجال اور یاجوج ماجوج کے
٨٠
فتنوں کے متعلق ان ممسوخ الفطرت انسانوں نے یہاں تک لکھ دیا ہے کہ : ”نعوذ باللہ من شرور انفسنا وسيات اعمالنا“ حضرت ختمی مرتبت ﷺ (فداہ ابی وامی) ان فتنوں کی حقیقت سمجھنے سے قاصر تھے اور ان کی صحیح کیفیت اگر کسی نے سمجھی ہے تو وہ قادیان کا وہ نیم ملا متنبی تھا۔ جس کو بات تک کرنے کی تمیز نہ تھی۔ متنبی قادیان اپنی کتاب ازالہ اوہام میں کس دلیری کے ساتھ لکھتا ہے: ”آنحضرت ﷺ پر ابن مریم اور دجال کی حقیقت کاملہ بوجہ نہ موجود ہونے کسی نمونہ کے موبمو منکشف نہ ہوئی اور نہ دجال کے ستر باع کے گدھے کی اصلی کیفیت کھلی اور نہ یاجوج ماجوج کی عمیق تہ تک وحی الہی نے اطلاع دی اور نہ دابۃ الارض کی ماہیت کماحقہ ظاہر فرمائی گئی ۔“
(ازالہ اوہام ص ٦٩١ ، خزائن ج ٣ ص ٤٧٣)
از بس کہ متنبی قادیان کو اپنی مسیحیت اور مہدویت کا ڈھونگ کھڑا کرنے کے لئے احادیث کے معانی میں تحریف و تاویل کرنے کی ضرورت درپیش تھی۔ لہٰذا اس بدزبان نے حضور سرور کائنات ﷺ پر یہ افتراء باندھ دیا کہ حضور نے جن امور کے واقع ہونے کی خبر اپنی امت کو سنائی تھی ان کی ماہیت و حقیقت سمجھنے سے وہ خود قاصر تھے۔ حالانکہ ان احادیث میں ایک ایک واقعہ کو اس تفصیل اور جامعیت کے ساتھ بیان کیا گیا ہے کہ اس میں تاویل کی کوئی گنجائش نہیں۔ یہاں تک بتا دیا گیا ہے کہ آخری جنگ میں مہدی کے زیر کمان ستر ڈویژن ہوں گے جن میں سے ہر ڈویژن میں بارہ ہزار کی نفری ہوگی۔ نیز یہ بھی بتا دیا گیا کہ مہدی کو بلاد و امصار کے مسلمان مندوبین جنہیں ابدال کہا گیا ہے کس مقام پر اور کن حالات میں امیر المؤمنین اور خلیفۃ المسلمین منتخب کریں گے۔ یہ بھی مذکور ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کس مقام پر اور کن حالات میں نازل ہوں گے۔ تا آنکہ احادیث میں لکھا ہے کہ : ”مہدی (حصول فتح کے بعد) ملک کے بندوبست ہی میں مصروف ہوں گے کہ افواہ اڑے گی کہ دجال نے مسلمانوں پر تباہی ڈالی ہے۔ اس خبر کے سنتے ہی حضرت امام مہدی شام کی طرف مراجعت فرمائیں گے اور اس خبر کی تحقیق کے لئے پانچ یا نو سوار جن کے حق میں حضور سرور کائنات ﷺ نے فرمایا ہے کہ میں ان کے ماں باپ اور قبائل کے نام اور ان کے گھوڑوں کا رنگ جانتا ہوں وہ اس زمانے کے روئے زمین کے آدمیوں میں سے بہتر ہوں گے لشکر کے آگے بطور طلیعہ روانہ ہو کر معلوم کر لیں گے کہ یہ افواہ غلط ہے۔“
(صحیح مسلم ص ٣٩٦ مطبوعہ انصاری)
حضور سرور کائنات ﷺ تو اپنی امت کے آنے والے حالات سے اس قدر جامعیت اور ہمہ گیری کے ساتھ واقف ہونے کا دعویٰ فرماتے ہیں کہ اپنے سربازوں کے گھوڑوں کے رنگ
٨١
تک جانتے ہیں۔ لیکن قادیان کا متنبی اپنی جھوٹی نبوت کے قیام کے لئے یہ کہہ رہا ہے کہ حضور کے ضمیر پر نور پر یہ حالات کما حقہ منکشف نہیں ہوئے تھے۔ اس سے زیادہ بدبختی اور کیا ہو سکتی ہے اور اس کے بعد ایسے دیدہ دلیر کو کس لحاظ سے مسلمان سمجھا جا سکتا ہے۔
دجال کی شناخت اور دجال کی اطاعت
مرزائی بڑے فخر سے یہ کہنے کے عادی ہیں کہ ان کے حضرت صاحب ہی اس دور کے پہلے شخص تھے۔ جنہوں نے اقوام یورپ کے استعمار کے متعلق یہ خیال ظاہر کیا کہ دجال کے جس فتنہ کا ذکر احادیث میں آیا ہے وہ یہی یورپین اقوام کے غلبہ واقتدار کا فتنہ ہے اور میاں محمد علی امیر جماعت لاہوری نے مسیح الدجال کے نام سے ایک رسالہ لکھ کر یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ دجال سے مراد انگریز قوم ہے۔ جسے شناخت کرنے کا سہرا قادیان کے مرزا غلام احمد کے سر ہے۔
”مقام تعجب ہے کہ مسیح موعود اور مہدی مسعود بننے کا مدعی یہ پہچان لینے کے باوجود کہ انگریز دجال ہیں۔ اسی دجال کی جاسوسی کرنے کو اپنے لئے موجب فخر سمجھتا ہے۔“
(تبلیغ رسالت ج ٥ ص ١١، مجموعہ اشتہارات ج ٢ ص ٢٢٧)
”اس کے تسلط واقتدار کو اپنے لئے اور اپنی امت کے لئے آیہ رحمت قرار دیتا ہے۔“
(ازالۃ اوہام ص ٥٠٩،٥٠٨، خزائن ج ٣ ص ١٣٠، ٣٧٣، تبلیغ رسالت ج ٨ ص ٦٩، مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ١٣٩)
”اپنے خاندان اور اپنی امت کو اسی دجال کا خود کاشتہ پودا ظاہر کرتا ہے۔“
(تبلیغ رسالت ج ٧ ص ٢٠، مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ٢١)
”اپنی امت کا ہر حال میں اسی دجال کے فرمانبردار رہنے کی تاکید فرماتا ہے۔“
(کتاب البریہ ص ١٠، خزائن ج ١٣ ص ایضاً)
”اور اس دجال کو یقین دلاتا ہے کہ جوں جوں میرے مرید ترقی کریں گے مسلمانوں میں سے جہاد کی روح اڑتی چلی جائے گی۔“
(تبلیغ رسالت ج ٧ ص ١٧، مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ١٩)
”نیز اس دجال کی خدمات بجالانے کے بڑے بڑے دعوے کر کے اس سے نوازشات وعنایات کا متمنی ہوتا ہے۔“
(تریاق القلوب ص ٤٥، تبلیغ رسالت ج ٧ ص ١١،٢٠، ج ١٠ ص ٢٨)
کیا ان تمام امور سے یہ ظاہر نہیں ہوتا کہ قادیان کا مدعی مسیحیت اس مسیح الدجال کا ایک ظل تھا۔ جو دنیا میں فتنہ برپا کرنے کے لئے خروج کرنے والا ہے اور جس کے ساتھ مسلمانوں کے جہاد بالسیف کرنے کی پیش گوئیاں احادیث اور اخبار میں مذکور ہوئی ہیں۔ مسلمان اسی سے اندازہ لگا سکتے ہیں کہ مسیح الدجال اپنے خروج کے بعد کن طریقوں سے مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی کوشش
٨٦
کرے گا اور از بس کہ اسے کرہ ارضی پر شاہی اقتدار حاصل ہوگا اور انسان کی علمی ترقیات کے باعث جس کے دروازے کھل چکے ہیں۔ وہ محیر العقول کارنامے انجام دے گا۔ دنیا کے سامنے الوہیت کا دعویٰ کر کے سامنے آئے گا اور متنبی قادیان اور اس کی امت کے افراد کی نوع کے لوگ حصول دنیا کی خاطر اس کی اطاعت کریں گے جس طرح کہ وہ آج انگریزوں کو دجال کہنے کے باوجود ان کی اطاعت کو اپنا مذہبی فریضہ قرار دیتے ہیں۔
باقی رہا میاں محمد علی کا یہ دعویٰ کہ یورپ کے استعماری سیلاب کے فتنہ کو فتنہ المسیح الدجال سمجھنے کا سہرا صرف اس کے حضرت مرزا قادیانی کے سر پر ہے۔ اس دعویٰ کو بھی اگر واقعات کی کسوٹی پر پرکھا جائے تو سراسر بے بنیاد ثابت ہے۔ کیا میاں محمد علی کو معلوم نہیں کہ محمد المہدی السوڈانی نے جب اس استعماری سیلاب کے مقابلہ میں جہاد کا علم بلند کیا تھا اور اپنے کو مہدی قرار دیا تھا تو ان کے پیش نظر بھی یہ حقیقت تھی کہ استعمار کا یہ سیلاب جو یورپ کی سرزمین سے اٹھا ہے فتن آخرالزمان ہی کا ایک حصہ ہے۔ اگر ان کا خیال یہ نہ ہوتا تو وہ ہرگز مہدی کا لقب اختیار نہ کرتے۔ یا ان کے پیرو انہیں مہدی کے لقب سے منسوب نہ کرتے۔ اس کے علاوہ یہ ایک کھلی ہوئی حقیقت ہے کہ تیرھویں صدی ہجری کے آخر میں یورپی استعمار کے مقابلہ میں اپنے کو عاجز پا کر ساری دنیا کے مسلمانوں میں یہ خیال پیدا ہو چلا تھا کہ وہ دور فتن جس کا ذکر احادیث میں آیا ہے آ گیا ہے اور ظہور مہدی اور نزول مسیح کا وقت قریب ہے۔ اسی عام خیال سے قادیان کے متنبی نے فائدہ اٹھانے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی کوشش کی اور جو طاقتیں اسے مہدی اور مسیح بنانے کے لئے پس پردہ کام کر رہی تھیں ان کا مقصد و مدعا یہ تھا کہ مسلمانوں کے دماغوں سے صاحب سیف وسنان مہدی کے ظہور کا خیال نکال دیا جائے تاکہ یورپین استعمار کے مقابلہ میں عالم اسلامی کے کسی خطہ پر مہدی سوڈانی کا کوئی مثیل پیدا ہو کر اس فتنہ آخرالزمان کے استیصال کے لئے کوشاں نہ ہوسکے۔ پس اگر قادیان کے متنبی نے اقوام یورپ کے سیلاب استعمار کو آخری زمانہ کا دجالی فتنہ قرار دیا تو اس نے کوئی نئی یا انوکھی بات نہیں کی۔ بلکہ وہی کہا جو اس دور کے مسلمانوں کی زبانوں پر عام ہو چکا تھا۔ اس کا نیا اور انوکھا کارنامہ تو یہ ہے کہ اس نے مسلمانوں کو اس دجالی فتنہ کی اطاعت وامداد کرنے کی تلقین کی اور دین فروشوں کی ایک ایسی جماعت پیدا کر دی جس کا مذہب اس دجالی فتنہ کی تائید و اطاعت کرنا اور اس کی جاسوسی کے فرائض انجام دینا ہے۔
- اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ آیا یورپین اقوام کا موجودہ استعماری سیلاب وہی فتنہ آخر
الزمان ہے یا نہیں جس کی خبر دی گئی ہے۔ اس کے متعلق وثوق سے کچھ نہیں کہا جاسکتا۔ بہت ممکن
٨٣
ہے کہ یہی فتنہ ترقی کر کے ان حالات کی شکل اختیار کر لے۔ جو احادیث میں بیان ہوئے ہیں۔ حالات جو ١٩١٤ء کی جنگ کے بعد پیدا ہو چکے ہیں۔ احادیث کے بیان کردہ حالات سے بہت مماثلت رکھتے ہیں اور اس امر کا قوی امکان ہے کہ انہی حالات کا ارتقاء وہ خوفناک صورت اختیار کر لے جن میں مسیح الدجال کا خروج واقع ہوگا۔ کیونکہ گذشتہ جنگ عظیم میں القدس اور دمشق مسلمانوں کے ہاتھ سے نکل چکے ہیں۔ فلسطین میں یہودیوں کا وہ ستر ہزار کا لشکر جو دجال کا معاون بنے گا پرورش پا رہا ہے۔ حرمین الشریفین کے چاروں طرف اقوام یورپ کا سیلاب استعمار گھیرا ڈال چکا ہے اور علمی ترقیات و ایجادات کا سیلاب یورپ کے اقوام کو اس نقطہ کی طرف لے جارہا ہے جہاں پہنچ کر وہ خدائی قدرتوں کی دعویٰ دار بننے والی ہیں۔ پس اگر ان حالات میں کفر و اسلام کے درمیان کوئی جنگ وقوع پذیر ہو گئی تو کچھ عجب نہیں کہ احادیث کی بیان کردہ پیش گوئیاں حرف بحرف اس کے حالات پر چسپاں ہونے لگیں اور اسی جنگ کے دوران میں مسلمان اپنے عسکری قائد سے محروم ہو جائیں۔ جو شہادت کا رتبہ حاصل کرے گا کسی موزون ہستی کو حرم کعبہ میں طواف کرتے پا کر اپنا امیر وقائد منتخب کرلیں۔ ساری دنیا آلات نشرصوت پر یا کسی اور طریقہ سے یہ سن لے کہ مسلمانوں کو خلیفۃ المہدی یعنی امیر اور قائد مل گیا۔ لیکن ان امور کے متعلق قطعیت کے ساتھ کچھ نہیں کہا جاسکتا۔ جب وقت آئے گا تو احادیث کے بیان کردہ حالات حرف بحرف پورے ہو جائیں گے۔ خواہ وقت کل آجائے۔ بہر حال مسلمانوں کو اس کے متعلق پریشان ہونے یا پریشان رہنے کی کوئی ضرورت نہیں۔ انہیں صرف یہ دیکھنا چاہئے کہ وقت حاضر میں وہ ان فرائض سے کس حد تک عہدہ برآ ہو رہے ہیں جو دینی اور ملی حیثیت سے ان پر عائد ہوتے ہیں اور انہیں عمل کی دعوت دے رہے ہیں۔
تثلیثی مسیحیت اور دجالی مسیحیت کے اعتراضات
راقم الحروف نے میرزائیوں کے استفسارات کے جواب میں یہ سلسلہ مضامین شروع کیا اور اس کی چند اقساط کی براہین قاطعہ نے مرزائیوں کے دجالی کیمپ میں کھلبلی ڈال دی تو قادیان کی دجالی مسیحیت نصاریٰ کی تثلیثی مسیحیت کا نقاب اوڑھ کر سامنے آ کھڑی ہوئی اور قادیانیوں کے اخبار الفضل نے اپنی ١٠، ١١؍ جنوری ١٩٣٥ء کی اشاعتوں میں راقم الحروف سے ایسے سوالات کئے جو مرزائیوں کے خیال میں عیسائیوں کی طرف سے اسلام کے صحیح عقائد پر وارد کئے جاتے ہیں۔ قادیانی چاہتے تھے کہ راقم الحروف کو اصل مبحث سے ہٹا کر یکسر دوسرے مسائل میں الجھا دیں۔ اس لئے میں نے اس وقت اعلان کر دیا کہ الفضل کے ان سوالات کا جواب حسب ٨٤
موقع دیا جائے گا۔ الفضل کے سوالات اگرچہ تحقیق حق کے لئے نہیں۔ بلکہ حسب عادت مرزائیہ جدال طلبی ان کی محرک ہے۔ تاہم چونکہ یہ لوگ کم فہم اور کم علم لوگوں کے دلوں میں اسی قسم کے شکوک وشبہات پیدا کر کے انہیں گمراہ کرنے کے عادی ہیں۔ میں ضروری سمجھتا ہوں کہ لگے ہاتھوں ان کا جواب بھی لکھ دوں۔ ان سوالات کا ماحصل یہ ہے کہ اگر مسلمان حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی ولادت، زندگی اور ان کے رفع ونزول کے متعلق ان تمام حقائق پر ایمان رکھتے ہیں جو قرآن شریف میں مذکور ہوئے اور جن کا مجمل سا تذکرہ اقساط ماقبل میں آچکا ہے تو ان کے پاس عیسائیوں کے ان اعتراضات کا کیا جواب ہے کہ اس محیر العقول زندگی کے باعث ان کی الوہیت وابن اللہیت مسلم ہوجاتی ہے۔ میں مناسب مواقع پر اس امر کی تشریح کر چکا ہوں کہ قرآن پاک حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی ولادت، زندگی اور رفع کے محیر العقول واقعات کی تصدیق کرنے کے باوجود نوع انسانی پر یہ حقیقت منکشف کر رہا ہے کہ وہ انسان اور اللہ کے ایک برگزیدہ بندے تھے۔ ان کی زندگی کے جتنے واقعات زمانہ کی روش سے متغائر نظر آتے ہیں۔ ان کی حقیقت اس سے زیادہ نہیں کہ اللہ نے انہیں اپنی بعض مصلحتوں کے پیش نظر اپنی آیت بنایا۔ اللہ کی آیات اور بھی بے شمار ہیں جو ہر دور اور ہر زمانہ میں ظاہر ہوتی رہی ہیں۔ انہی میں سے ایک آیت یہ بھی ہے کہ حضرت عیسیٰ کو اس قسم کی زندگی بخشی گئی۔ نصاریٰ نے ان کی زندگی کے واقعات سے متاثر ہو کر انہیں خدا کا بیٹا بنالیا۔ قرآن پاک نے اس غلط عقیدہ کی تصحیح کر دی اور کہہ دیا کہ وہ اللہ کے بیٹے نہ تھے۔ بلکہ اس کے لاکھوں برگزیدہ بندوں اور رسولوں میں سے ایک تھے۔ مرزائیوں کا دعویٰ ہے کہ مرزائیت عیسائیوں کے ان لغو اعتراضات کا جواب دینے کے لئے معرض وجود میں لائی گئی اور عیسائی افراط کے مقابلہ میں جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو خدا بنا رہے تھے۔ قادیانی تفریط کا ڈھونگ کھڑا کیا گیا۔ جس کے پیشوا نے حضرت مسیح علیہ السلام کو گالیاں دیں اور ان کی جگہ چھیننے کی کوشش کی۔ لہٰذا مسلمانوں کو چاہئے کہ عیسائیوں کی افراط کی ضد میں آ کر قادیانیوں کی اس تفریط کو قبول کر لیں۔ خواہ ایسا کرنے میں وہ قرآن کی دی ہوئی صحیح تعلیم سے منحرف ہونے پر مجبور جائیں ؎
دجالی مسیحیت کے سوالات
اب ان سوالات کو ملاحظہ فرمائیے جو قادیانی دجالی مسیحیت نے تبلیغی مسیحیت کی طرف سے نمائندہ ہو کر کئے ہیں۔
پہلا سوال...... ”خدا وند یسوع مسیح از روئے قرآن چونکہ کلمۃ اللہ اور روح
٨٥
اللہ ہیں اور از روئے احادیث پیغمبر اسلام صرف وہ اور ان کی والدہ محترمہ مس شیطانی سے پاک ہیں ۔ اس لئے ان کا ثانی کوئی نہیں ہو سکتا اور نہ کسی مذہب میں یہ طاقت ہے کہ خداوند جیسی اوصاف والی ہستی معرض وجود میں لا سکے۔‘‘
الجواب...... ”اس سوال کے جواب میں قادیانی فی الفور یہ کہہ دے گا کہ قرآن میں حضرت عیسیٰ کو کلمتہ اللہ اور روح اللہ نہیں کہا گیا اور حدیث نبوی میں انہیں اور ان کی والدہ محترمہ کو مس شیطانی سے پاک ظاہر نہیں کیا گیا۔ لیکن اس کا صحیح جواب یہ ہے کہ قرآن پاک حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو کلمتہ اللہ اور روح اللہ کہتا ہے اور خدا کی بین آیت ظاہر کرتا ہے۔ قرآن اور حدیث دونوں حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور حضرت مریم علیہ السلام کو معصوم یعنی مس شیطانی سے پاک قرار دیتے ہیں۔ لیکن اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ خدا کے نزدیک کسی اور بشر کا درجہ وہ یا اس سے بڑھ کر نہیں ہو سکتا جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو دیا گیا۔ اسلام کے نزدیک تمام انبیاء معصوم یعنی مس شیطانی سے پاک ہیں اور اگر قرآن پاک نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو کلمتہ اللہ روح اللہ یعنی آیت اللہ ہونے کا درجہ دیا ہے تو حضور سرور کائنات ﷺ کو ”ما رميت اذ رميت ولكن الله رمٰی“ اور ”قاب قوسين اوادنی“ اور اسی قسم کے دیگر خطابات سے نوازا ہے۔ جس کی تفصیلات میں جانے کی ضرورت نہیں۔
دوسرا سوال...... ”اسلام خداوند مسیح تو کیا ان کے حواریوں جیسے اوصاف والی مقدس ہستیاں بھی پیدا کرنے کی طاقت نہیں رکھتا۔ قرآن کی رو سے یہ ثابت ہے کہ حواریان خداوند، وحی الٰہی سے مستفیض فرمائے گئے۔ جیسے اذا وحیت الی الحواریون کی آیت سے ثابت ہے۔“
جواب ! یہ ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور ان کے حواری بھی اسلام ہی کے پیرو تھے۔ اس اسلام کے جو حضرت ختمی مرتبتؐ کے عہد میں آ کر پایہ تکمیل کو پہنچا۔ لہٰذا حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور ان کے حواریوں پر مسلمانوں سے زیادہ حق جتانے کے اہل نہیں۔ باقی رہا حواریوں پر وحی کے نزول کا معاملہ سو عام وحی کا نزول تو حیوانات و جمادات پر بھی قرآن سے ثابت ہے۔ وحی نبوت و وحی رسالت ختمی مرتبتؐ پر پایہ تکمیل کو پہنچ گئی اور وحی کی دیگر اقسام خدا کے بندوں پر آج بھی اسی طرح جاری ہیں۔ جس طرح حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے حواریوں پر جاری تھیں۔
ایک واقعہ
اس سلسلہ میں ایک واقعہ قلمبند کئے بغیر نہیں رہ سکتا جو راقم الحروف کو لڑکپن میں پیش ٨٦
آیا۔ عاجز ہائی کلاس میں جالندھر کے امریکن مشن ہائی سکول میں تعلیم حاصل کر رہا تھا۔ اسی ماحول میں رہنے کے باعث مجھے تحقیق مذاہب کا شوق لاحق ہوا۔ پادری صاحب ایک روز انجیل پڑھا رہے تھے اور پولس رسول کی کتاب سے اس واقعہ کو پڑھ کر سنا رہے تھے جس میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے حواریوں پر روح القدس کے نزول کا تذکرہ بیان کیا گیا ہے۔ شیطان نے جو آج الفضل قادیان کی شکل میں متذکرہ صدر سوال کر رہا ہے۔ میرے دل میں وسوسہ ڈال دیا کہ امت عیسوی پر تو روح القدس نازل ہو۔ لیکن امت محمدیؐ جو خیر الامم اور افضل الملل ہے۔ اس برکت ونعمت سے محروم رہ جائے۔ چند لمحے اس وسوسہ نے میری طبیعت کو خلجان میں مبتلا رکھا۔ لیکن معاً مجھے سورۃ القدر یاد آ گئی اور میں نے دل ہی دل میں پڑھنا شروع کیا: ”انا انزلناه في ليلة القدر وما ادراك ماليلة القدر ليلة القدر خير من الف شهر تنزل الملآئكة والروح فيها باذن ربهم من كل امر سلام هى حتى مطلع الفجر ، القدر “ بے شک ہم نے اسے لیلۃ القدر میں اتارا۔ اے پیغمبر تجھے کیا معلوم کہ لیلۃ القدر کیا ہے۔ لیلۃ القدر ہزار مہینوں سے بہتر ہے۔ اس میں فرشتے اور روح القدس اپنے پروردگار کی اجازت لے کر اترتے ہیں اور ہر امر سے سلام بھیجتے ہیں۔ تا آنکہ صبح پھوٹ پڑتی ہے۔
جب میں تنزل الملائکۃ والروح پر پہنچا تو یہ حقیقت کبریٰ میرے دل پر منکشف ہو گئی کہ امت محمدیہ پر ملائکہ اور روح القدس کا نزول تو ہر سال لیلۃ القدر میں ہوتا ہے اور امت عیسوی میں اس کی مثال صرف ایک دفعہ ملتی ہے۔ پس اس قسم کے وساوس جو مرزائی شیاطین کی طرف سے مسلمانوں کے قلوب میں عام طور پر ڈالے جاتے ہیں یکسر بے حقیقت ہیں جن میں محض لفظی ہیر پھیر اور کتمان حقیقت سے کام لیا جاتا ہے۔
قادیان کی دجالی مسیحیت کے نمائندہ الفضل کا تیسرا سوال حسب ذیل ہے: تیسرا سوال...... ”وہ طاقت ور ہستی جس نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کی امت کی اصلاح فرمانے کے لئے ظہور فرمایا اسی خداوند کو خدا باپ نے پیغمبر اسلام حضرت محمدﷺ کی امت کی اصلاح وامداد کے لئے آسمان سے نازل کرنے کا بزبان پیغمبر اسلام بقول محمدیان و کتب محمدیان پیغام سنایا اور پیغمبر اسلام کے اس پیغام پر محمدی حضرات صدق دل سے ایمان لا کر تا ایں دم خداوند کی امداد اور آسمان سے نازل ہونے کے منتظر ہیں۔ پیغمبر اسلام نے ہمارے خداوند کو نہ صرف اصلاح کرنے اور امداد دینے والا ہی فرمایا۔ بلکہ ان کی مقدس ذات کو حکم اور عدل بھی اپنے ان اقوال میں کہا جن کو حدیثیں کہتے ہیں اور یوں خداوند کے کلام کی محمدیوں میں منادی کی۔“
٨٧
حیران ہوں کہ اس بے معنی سوال کا مطلب کیا ہے۔ کیا الفضل یہ چاہتا ہے کہ چونکہ عیسائی مسلمانوں کو طعن دے رہے ہیں کہ حضور سرور کائنات ﷺ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے درجہ کی تعریف کی ہے اور انہیں حکم و عدل بتایا ہے اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے مبارک کام کی محمدیوں میں منادی کی ہے۔ لہٰذا مسلمانوں کو چاہئے کہ قرآن پاک اور حدیث شریف کے ارشاد کو بالائے طاق رکھ کر مرزائے قادیانی کی طرح حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو گالیاں دینے لگ جائیں۔ جنہیں خدا تعالیٰ وجیہا فی الدنیا والاخرة کہہ رہا ہے۔
باقی رہا یہ قصہ جو اس سوال میں مذکور ہوا ہے اور جسے مرزائی بھی بڑے زور سے اپنا رہے ہیں کہ حضرت عیسیٰ مسلمانوں کی دینی اصلاح کے لئے اس وقت آئیں گے جب امت محمدی گمراہ ہو چکی ہوگی۔ اس کی سند احادیث و قرآن سے کہیں نہیں ملتی۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا نزول علامت قیامت کے طور پر ہے جس کے سلسلہ میں حسب ذیل کام ان کے ہاتھوں پورے ہوں گے۔
قتل دجال، کسر صلیب، قتل خنزیر، رفع جزیہ۔ ان میں کہیں مذکور نہیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام امت محمدیہ کی (جو گمراہ ہو چکی ہوگی) دینی اصلاح کریں گے ان کا نزول یہودیوں اور عیسائیوں پر ہر طرح سے اتمام حجت کرنے کے لئے ہوگا اور امت محمدیہ کے صادقین ان کے نزول سے پہلے ہی اپنے فرائض انجام دے رہے ہوں گے۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام یقیناً اسلامی لشکر میں شامل ہو کر دجالی لشکر سے جنگ کریں گے اور اس طرح اسلام اور مسلمانوں کی امداد فرمائیں گے۔ وہ پہلے بھی اسلام ہی کے پیغمبر تھے اور نبوت لیتے وقت بارگاہ ایزدی میں یہ میثاق کر چکے تھے کہ میں بشرط زندگی آخری نبی پر ایمان لاؤں گا اور اس کی مدد کروں گا۔ مرزائیوں کا یہ طرز عمل کہ وہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو اسلام سے متغائر بلکہ اس کا مد مقابل بنا کر مسلمانوں کو دھوکا دینے کی کوشش کرتے ہیں کہ وہ ان کے صحیح درجہ کو قبول کرنے سے انکار کر دیں۔ حالانکہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام پہلے بھی ہمارے یعنی مسلمانوں کے تھے اور جب آئیں گے تو بھی مسلمانوں میں ہوں گے۔ عیسائی جو انہیں خداوند کہہ کر پکار رہے ہیں ان پر کسی قسم کا حق نہیں رکھتے۔
قادیان کی دجالی مسیحیت کے نمائندہ الفضل کا چوتھا، پانچواں اور چھٹا سوال یہ ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے متعلق متذکرہ صدر عقائد رکھنے سے حضور سرور کائنات ﷺ پر ان کے درجہ کی برتری ثابت ہوتی ہے۔ یعنی ان کا آسمان پر اٹھایا جانا، اتنی لمبی عمر پانا، پھر زمین پر نازل ہونا اور بقول ان کے اس امت کی اصلاح کرنا جسے حضور سید المرسلین ﷺ کی تربیت و تعلیم بھی راہ
٨٨
راست پر نہ رکھ سکی۔ ایسے امور ہیں جن سے حضرت ختمی مرتبت پر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی برتری ظاہر ہوتی ہے۔ اس سے زیادہ لغو سوال اور کوئی نہیں ہو سکتا۔ خدا کے نزدیک انبیائے کرام کی تفضیل کا معیار یہ نہیں جو اوپر بیان ہوا اور نہ دنیا میں انسان کسی انسان کو روحانی طور پر اس بنا پر برتر خیال کر سکتا ہے کہ فلاں کو موٹر یا طیارہ مل چکا ہے یا فلاں مریخ کی سیر کر آیا ہے یا فلاں کی عمر زیادہ ہے۔ اس سوال کا جواب کہ خداوند کریم نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو کفار کے ہاتھوں بچا کر آسمانوں پر اٹھا لیا۔ لیکن حضرت ختمی مرتبت ﷺ کو ایسی حالت میں ہجرت کا حکم دیا۔ انہیں آسمانوں پر کیوں پناہ نہ دی۔ وہ واقعات شہادت دے رہے ہیں جو ہجرت کے بعد ظہور پذیر ہوئے اور جنہوں نے نوع انسانی کی تقدیر پلٹ کر رکھ دی۔ مسلمان اگر حضرت ختمی مرتبت کا درجہ دیکھنا چاہیں تو انہیں قرآن پاک اور اس کی ان آیات کو پیش نظر رکھنا چاہئے جن میں تکمیل دین ، ختم رسالت، معراج اور میثاق النبیین کا ذکر کیا گیا ہے اور اگر عیسائی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی فضیلت کا قصہ لے بیٹھیں تو ان کے ساتھ بحث کرنے اور اس بحث کے سلسلہ میں مرزائے قادیانی کی طرح حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو گالیاں دینے کے بجائے انہیں انجیل ہی دکھا دینی چاہئے کہ خود حضرت عیسیٰ علیہ السلام حضرت ختمی مرتبت کے متعلق کیا کہہ گئے ہیں۔ یوحنا کی انجیل باب ١٤ میں لکھا ہے کہ: ”اور میں باپ سے درخواست کروں گا تو وہ تمہیں دوسرا مددگار (وکیل اور شفیع) بخشے گا کہ ابد تک تمہارے ساتھ رہے۔ یعنی سچائی کا روح جسے دنیا حاصل نہیں کر سکتی۔“
(آیت: ١٦، ١٧)
”میں نے یہ باتیں تمہارے ساتھ رہ کر تم سے کہیں۔ لیکن مددگار (وکیل اور شفیع) یعنی روح القدس جسے باپ میرے نام سے بھیجے گا وہی تمہیں سب باتیں سکھائے گا اور جو کچھ میں نے تم سے کہا ہے وہ سب تمہیں یاد دلائے گا۔“
(مصدقا لما معکم آیت: ٢٥، ٢٦)
”اس کے بعد میں تم سے بہت سی باتیں نہ کروں گا۔ کیونکہ دنیا کا سردار (سرور کونین) آتا ہے اور مجھ میں اس کا کچھ نہیں۔“
(آیت: ٣٠)
”میں تم سے سچ کہتا ہوں کہ میرا جانا تمہارے لئے فائدہ مند ہے۔ کیونکہ اگر میں نہ جاؤں تو وہ مددگار (وکیل و شفیع) تمہارے پاس نہ آئے گا۔ لیکن اگر جاؤں گا تو اسے تمہارے پاس بھیج دوں گا اور وہ آ کر دنیا کو گناہ اور راست بازی اور عدالت کے بارے میں قصور وار ٹھہرائے گا۔ گناہ کے بارے میں اس لئے کہ وہ مجھ پر ایمان نہیں لاتے۔ راست بازی کے بارے میں اس لئے کہ میں باپ کے پاس جاتا ہوں اور تم مجھے پھر نہ دیکھو گے۔ عدالت کے بارے میں اس لئے کہ دنیا کا سردار مجرم ٹھہرایا گیا ہے۔ مجھے تم سے اور بھی بہت سی باتیں کہنی ہیں۔ مگر اب تم ان کی
٨٩
برداشت نہیں کر سکتے۔ لیکن وہ یعنی سچائی (دین کامل) کی راہ دکھائے گا اس لئے کہ وہ اپنی طرف سے نہ کہے گا۔ لیکن جو کچھ سنے گا وہی کہے گا اور تمہیں آئندہ کی خبریں دے۔ ’’وما ينطق عن الهوى ان هو الا وحى يوحى (آیت:٧)‘‘
انجیل میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے ان ارشادات کی موجودگی میں اگر عیسائی حضرت ختمی مرتبت ﷺ کے فیضان رحمت سے محروم رہیں تو ان کی مرضی۔ مسلمان، مرزائیوں اور ان کے پیشوا کی طرح یہ نہیں کر سکتے کہ عیسائیوں کی ضد میں آ کر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو برا بھلا کہنے لگیں اور اسی طرح مردود ہو جائیں۔ جس طرح عیسائی اور مرزائی ایک یا دوسرے اولوالعزم نبی کی شان میں گستاخی کے مرتکب ہو کر مردود ہو چکے ہیں۔ عیسائیوں کی تثلیثی مسیحیت اور مرزائیوں کی دجالی مسیحیت میں اسلام کی تخریب کے لئے جو چولی دامن کا ساتھ ہے اور جو خفیہ معاہدہ ہو چکا ہے اس پر اس سلسلہ مضامین کے آخیر میں روشنی ڈالی جائے گی۔
لاہوری مرزائیوں کی منطقی موشگافیاں
استفسارات کے سلسلہ میں ایک لاہوری مرزائی نے بھی راقم الحروف سے چند سوالات کئے ہیں۔ جن کی حیثیت منطقی موشگافیوں سے زیادہ نہیں۔ یہ سوالات اور ان کے جواب ذیل میں درج کئے جاتے ہیں۔
سوال نمبر:١ ....... ہمارا ایمان ہے کہ وحی رسالت حضرت آدم صفی اللہ سے شروع ہو کر حضرت محمد مصطفے ﷺ پر ختم ہو گیا۔ اب قیامت تک وحی رسالت اور باب نبوت بند ہو چکا ہے۔ جیسا کہ قرآن شریف اور احادیث شریف سے ثابت ہے تو:
سوال الف ....... یہ آپ کس طرح مانتے ہیں کہ حضرت مسیح ابن مریم دوبارہ تشریف لائیں گے۔ جب کہ نبوت اور وحی رسالت کا سلسلہ بند ہو چکا ہے اور قرآن خاتم الکتب سماوی ہے۔
الجواب ....... حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی آمد کے سلسلہ میں جو نصائص قرآن حکیم میں ملتے ہیں اور جو خبریں احادیث صحیحہ میں دی گئی ہیں ان میں کہیں یہ مذکور نہیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی آمد اجرائے وظیفہ نبوت کے لئے ہوگی اور ان پر قرآن پاک کے علاوہ کوئی اور نئی آسمانی کتاب نازل ہوگی۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی آمد کا مقصد قرآن کے رو سے علم للساعت سے زیادہ نہیں۔ جیسا کہ میں اسی سلسلہ مضامین میں قرآن حکیم کے نصائص بیان کر کے دکھا چکا ہوں۔
٩٠
سوال ب ...... حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی وفات قرآن مجید اور احادیث شریف، ائمہ اور مجتہدین کے اقوال سے ثابت ہے اور ہندوستان کے مشہور حضرات مثلاً امام الہند مولانا ابوالکلام آزاد، مولانا سید سلیمان ندوی، ڈاکٹر سر محمد اقبال، خواجہ حسن نظامی، سرسید احمد اور علامہ یوسف علی وغیرہ وغیرہ وفات مسیح علیہ السلام کے قائل ہیں۔
الجواب ...... میں لکھ چکا ہوں کہ مجھے اس بات کا علم نہیں کہ متقدمین ومتاخرین میں کون کون سے علماء وفات مسیح کے قائل تھے یا ہیں۔ لیکن اتنا میں جانتا ہوں کہ حضور اکرم ﷺ نے ہمیں مسیح کے زندہ ہونے اور دوبارہ آنے کی خبر دی ہے اور قرآن شریف کی آیات سے بھی یہی ثابت ہے۔ اگر بعض حضرات وفات مسیح کے قائل ہیں تو ہوا کریں۔ مجھے ان سے کوئی سروکار نہیں اور اگر مستفسر ان پر اتہام باندھ رہا ہے اور افتراء سے کام لے رہا ہے تو اسے خدا سمجھے۔
سوال ج ...... اگر حضرت مسیح علیہ السلام دوبارہ آسمان سے نزول فرمائیں تو لامحالہ ان کو قرآن شریف کی تعلیم پر چلنا اور پڑھنا ضروری ہوگا۔ اگر ان کا یہ فعل خدا کے حکم کے ماتحت ہوگا جو جبریل کے ذریعے ان کو ملے گا تو یہ قرآن شریف کے خلاف ہے۔ کیونکہ وحی رسالت کا دروازہ بند ہے۔
الجواب ...... میں اس امر کی تشریح کر چکا ہوں کہ جس دین کی تبلیغ حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور دیگر انبیائے کرام نے اپنے اپنے عہد رسالت میں کی وہی دین حضرت ختمی مرتبت ﷺ نے پایۂ تکمیل کو پہنچایا۔ لہٰذا اگر حضرت عیسیٰ علیہ السلام قرآن حکیم پر عمل کریں گے تو یہ ان کی شان نبوت کے خلاف امر کیوں ہو گیا۔ باقی رہا یہ سوال کہ وہ ایسا کیوں کریں گے۔ آیا ان کو وحی کے ذریعے ایسا کرنے کا حکم دیا جائے گا۔ اس کا جواب یہ ہے کہ یہ حکم انہیں اور دیگر انبیاء کو اسی روز دیا گیا۔ جس روز ان کو اکرام ذوالجلال نے نبوت ورسالت کے منصب سے نوازا تھا اور ان سے وعدہ لے لیا تھا کہ اگر وہ ظہور ختم المرسلین ﷺ کے عہد کو پائیں تو ان کی رسالت یعنی ان کی لائی ہوئی کتاب پر ایمان لاکر ان کی مدد کریں۔ اسی مقصد کے لئے ان پر کسی تازہ وحی کے نزول کی ضرورت نہیں۔
اسی سوال کے ضمن میں یہ بھی پوچھا گیا ہے کہ اگر آپ کہیں کہ وہ امتی ہوکر آئیں گے تو صاحب شریعت اور مستقل نبی کو کس جرم کی بناء پر معزول کیا جائے گا۔ اگر وہ اس عہد جلیلہ سے اتار کر ایک امتی بنائے جائیں گے تو یہ قرآن شریف کے خلاف ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں۔ ”وما ارسلنا من رسول الا ليطاع باذن اللہ“ کسی رسول کو مطیع بنانے کے لئے نہیں
٩١
بھیجئے۔ بلکہ مطاع بنانے کے لئے بھیجتے ہیں۔
اس منطقی موشگافی کا جواب بھی وہی ہے جو اوپر مذکور ہوا۔ میثاق النبیین والی آیت اس امر پر شاہد ودال ہے کہ تمام انبیائے کرام بشرط زندگی حضرت ختمی مرتب ﷺ پر ایمان لانے اور ان کی مدد کرنے یعنی ان کی امت میں شامل ہونے کا وعدہ کر چکے ہیں۔
سوال ١....... ہر رسول سے قیامت کے دن اس کی امت کے بارے میں سوال ہوگا۔ کیا امت محمدیہ کے متعلق حضرت محمد ﷺ کافی نہیں کہ آپ اور حضرت مسیح دونوں سے سوال کیا جائے گا۔ حالانکہ قرآن شریف میں سورہ مائدہ کے آخر میں صاف درج ہے کہ مسیح سے صرف اس کی امت کے متعلق پوچھا جائے گا۔
الجواب....... یہ آپ سے کس نے کہا کہ قیامت کے دن حضرت عیسیٰ علیہ السلام امت محمدیہ کے متعلق بھی مسئول ہوں گے۔ کسی مسلمان کا یہ عقیدہ نہیں کہ ان سے امت محمدیہ کے متعلق کوئی سوال کیا جائے گا۔ البتہ وہ اپنی امت کے گمراہ ہو جانے اور ان پر آخری دور میں یعنی قیامت کے قریب ایمان لانے کے متعلق شہادت دیں گے۔
سوال ٢....... ایک طرف آپ کا یہ عقیدہ ہے کہ حضرت مسیح قیامت سے کچھ پہلے آئیں گے اور دنیا سے کفر کو مٹادیں گے اور کافر ان کی پھونکوں سے ہلاک ہو جائیں گے۔ دوسری طرف قرآن شریف میں موجود ہے۔ "والقينا بينهم العداوة والبغضاء الى يوم القيامة" کہ قیامت تک یہود اور نصاریٰ میں عداوت رہے گی۔
الجواب....... حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی آمد کے مقاصد احادیث شریف میں بالتصریح مذکور ہیں اور ان کے ساتھ ہی یہ بھی بتا دیا گیا کہ قتل دجال کے بعد مسلمانوں کو کفار پر ایک دفعہ غلبہ کامل حاصل ہو جائے گا۔ لیکن کچھ عرصہ کے بعد کفار میں سے ایک قوم پھر خروج کر کے مسلمانوں کو پریشان کر دے گی اور مسلمان پہاڑوں میں پناہ لینے کے لئے مجبور ہو جائیں گے۔ جہاں وفات پا جائیں گے۔ اس کے بعد خدا کو ماننے والا ایک متنفس بھی روئے زمین پر باقی نہ رہے گا اور کفار جو یقیناً آپس میں بغض وعداوت رکھیں گے۔ اس کرہ ارضی کو اپنے ظلم سے معمور کر دیں گے۔ انہی پر قیامت آئے گی۔
سوال ٣....... کیا آپ کے موہومہ مسیح کے بعد بھی مجددین آتے رہیں گے۔ جیسا کہ اس امت کے لئے وعدہ ہے۔
الجواب....... حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی آمد جیسا کہ میں تشریح کر چکا ہوں
٩٢
تجدید و احیائے دین سے کوئی تعلق نہیں رکھتی۔ یہ آمد محض علم للساعۃ کے طور پر ہے۔ جس کے بعد قیامت آجائے گی۔ لہذا یہ سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔
سوال نمبر : ٢...... قرآن شریف سورہ نور رکوع ٧ ”وعد الله الذين امنوا منكم وعملوا الصلحت ليستخلفنهم فى الارض“ میں اللہ تعالیٰ نے وعدہ فرمایا ہے کہ دین کی اشاعت کے لئے خلیفہ بھیجتا رہوں گا اور حضورﷺ نے اس کی یوں تفسیر فرمائی ہے کہ : ”ان الله يبعث في هذه الامة على رأس كل مائة سنة من يجدد لها دينها “ اللہ تعالیٰ ہر صدی کے سر پر ایک ایسا شخص بھیجتا رہے گا جو اس دین کو تازہ کرے گا۔
اگر قرآن شریف کی مندرجہ بالا آیت شریف اور حدیث شریف کے مطابق تیرہ سو سال سے مجدد آتے رہے اور جو آج بھی مجدد کے نام سے یاد کئے جاتے ہیں تو پھر کیا وجہ ہے کہ اس صدی کے نصف سے زائد گزر جانے پر مجدد کا نام و نشان بھی نہیں۔ اب تو پندرھویں صدی کے مجدد کا زمانہ قریب آ رہا ہے۔ کیا چودھویں صدی خالی ہی جائے گی اور نعوذ باللہ رب العالمین اور اس کے رسول مقبول کا وعدہ پورا نہ ہوگا ؟
الجواب...... امت مسلمہ میں امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کرنے والے صلحاء ہمیشہ موجود رہتے ہیں اور کسی قسم کی شہرت کی خواہش یا دعویٰ کے بغیر اپنا کام کر جاتے ہیں۔ کوئی لمحہ خدا کے ایسے بندوں سے خالی نہیں گزرتا۔ باقی رہا ہر صدی کے سرے پر مجدد کی آمد کا مسئلہ اگر یہ حدیث صحیح ہے تو اس سے ہر مسلمان کے لئے مجدد وقت کو پہچاننا اور اس پر ایمان لانے کو شرط اسلام قرار دینا ضروری اور صحیح نہیں۔ مجدد آتے اور اپنا کام کر جاتے ہیں۔ لہذا تیرھویں صدی ہجری کے سرے پر بھی حسب فرمودہ رسول اللہﷺ ضرور کوئی شخصیت دنیائے اسلام میں پیدا ہوئی ہوگی۔ جس کے ظاہری اور باطنی فیضان سے چودھویں صدی ہجری کے مسلمان مستفیض ہو رہے ہیں۔ یہ سوال کہ وہ مجدد وقت کون تھا ؟ چنداں اہمیت نہیں رکھتا۔ اگر راقم الحروف کی ذاتی رائے معلوم کرنا چاہتے ہو تو میں اس صدی کے لئے اس منصب جلیلہ کا اہل حضرت سید جمال الدین افغانی علیہ الرحمۃ کو دیکھتا ہوں جن کی روحانی برکتوں سے ترکی ، مصر، ایران اور ساری دنیائے اسلام کے مسلمان مستفیض ہو رہے ہیں۔ جن کے دلائے ہوئے احساس کی بدولت دینی حیثیت سے روشن خیال علمائے جید مثلاً حضرت شیخ عبدہ، مفتی مصر، سید رشید رضا، مولانا ابوالکلام آزاد، علامہ سر محمد اقبال اور اسی قبیل کی دوسری قابل ہستیاں دنیائے اسلام میں ایک سرے سے دوسرے تک نظر آتی ہیں اور سیاسی حیثیت سے ترکی ، مصر، ایران اور افغانستان کے روشن خیال
٩٣
سیاسین کے وہ گروہ پیدا ہوئے۔ جن کی کوششیں شوکت اسلامی کی نشاۃ ثانیہ پر منتج ہوئیں۔ مستفسر کو معلوم ہونا چاہئے کہ حضرت سید جمال الدین افغانی کے فیضان صحبت کے خوشگوار اثرات آج تک دنیائے اسلام میں خوش آئند تبدیلیاں پیدا کر رہے ہیں۔ لہٰذا اگر کوئی ہستی اس دور کی مجدد کہلانے کی مستحق ہے تو سید جمال الدین افغانی کی شخصیت ہے۔ مرزا غلام احمد قادیانی کی زندگی جسے تم مجدد بنائے پھرتے ہو اسلام کی تخریب اور مسلمانوں میں رخنہ اندازی کرنے کے سوا کسی نیک کام میں صرف نہیں ہوئی۔ محض دعویٰ پیش کر دینے سے مجدد نہیں بنا کرتے۔ بلکہ اپنے روحانی فیضان کے اثر سے پہچانے جاتے ہیں۔
ایک اور لاہوری مرزائی جناب محمد صادق صاحب ہیڈ ماسٹر سنوری گیٹ پٹیالہ نے پیغام صلح میں راقم الحروف سے یہ استفسار کیا ہے: ”مکرمی خان صاحب! السلام علی من اتبع الہدیٰ! میں آپ کے اخبار احسان کا تقریباً روزانہ مطالعہ کرتا رہتا ہوں۔ جماعت قادیان کی مخالفت کی وجہ تو میری سمجھ میں آتی ہے کہ انہوں نے اپنے امام ..... کی وصیت کی صریح خلاف ورزی کرتے ہوئے سید المرسلین ﷺ کے بعد آنحضور ﷺ کے ایک متبع کو نبی بنا دیا اور اس طرح سے اس سید الانبیاء کی ہتک کے مرتکب ہوئے ...... اگر جماعت احمدیہ قادیان کے ساتھ آپ کی مخالفت کی بناء اجرائے نبوت کا عقیدہ ہے تو پھر جماعت احمدیہ لاہور کی مخالفت کے لئے آپ کے پاس کون سے وجوہ ہیں۔ جماعت احمدیہ لاہور کے معزز اراکین بار بار اپنے عقائد کا اعلان کر چکے ہیں اور ان میں کوئی ایسی بات نہیں جس کی وجہ سے اسلام میں کسی قسم کا فتنہ پیدا ہوتا ہو۔ آپ اور ہم سب کا خدا ایک، سب کا رسول ایک، سب کا قرآن ایک، سب کا ملائکہ اور یوم آخرت پر ایمان، ان باتوں پر تو ایمان لاکر ایک دھریہ بھی پکا مسلمان ہو جاتا ہے تو پھر اس جماعت سے آپ کی بنائے مخاصمت کیا ہے؟“
الجواب ...... اگر سچ پوچھتے ہو تو لاہوری مرزائیوں سے میری بنائے مخاصمت یہ ہے کہ یہ لوگ مرزا غلام احمد قادیانی کے تمام دعاوی کو اسلام کی تعلیم کے منافی سمجھ لینے اور جان لینے کے باوجود اس کوشش میں لگے رہتے ہیں کہ اسے نہ صرف مسلمان بلکہ ایک برگزیدہ مسلمان ثابت کریں۔ لاہوری مرزائیوں کے اکثر لوگ سمجھ چکے ہیں کہ مرزا غلام احمد قادیانی مفتری اور کذاب تھا۔ ان میں کے بعض لوگ اپنے دلوں میں اسے مخبوط الحواس قرار دیتے ہیں۔ لیکن اس کے باوجود محض ہٹ دھرمی کی بناء پر دجل وزور کی اس دکان کو چمکانے کے لئے کوشاں رہتے ہیں۔ جس کے فریب خوردہ گاہک وہ بن چکے ہیں۔ لاہوری مرزائی کہتے ہیں کہ مرزا غلام
٩٤
احمد قادیانی کی تحریرات میں جو دعاوی انبیائے کرام کی توہین اور صلحائے امت کی تذلیل پر مشتمل ہیں ۔ وہ محض شطحیات یعنی مجذوب کی بڑ سے زیادہ وقعت نہیں رکھتے اور نبی رسول یا تشریعی نبی ہونے کے متعلق اس کے جتنے دعاوی ہیں وہ بطور مجاز واستعارہ استعمال ہوئے ہیں۔ لیکن محدث، ملہم من اللہ ، مامور من اللہ اور مسیح موعود ہونے کے متعلق جو دعاوی ہیں وہ صحیح ہیں۔ یہ پوزیشن عقلی حیثیت سے کس قدر فرومایہ استدلال ہے۔ اگر تم مرزائے قادیانی کے دعاوی نبوت ورسالت کو مجاز یعنی بناوٹ پر محمول کرتے ہو تو کیا وجہ ہے کہ اس کے محدث ، ملہم ، مجدد، مامور اور مسیح ہونے کے دعاوی کو بھی بناوٹ نہیں سمجھتے اور ان مؤخر الذکر دعاوی کو تسلیم کرنا شرط ایمان قرار دیتے ہو اور ان دعاوی کے جواز کے لئے قرآن پاک اور احادیث کے معانی میں تحریف وتاویل کرنے سے بھی محترز نہیں رہتے ۔ اگر اس شخص کے دعاوی کا ایک حصہ اس کے دماغی توازن کی خرابی کا نتیجہ تھا یا مجاز واستعارہ تھا تو اس کے دعاوی کا دوسرا حصہ کس طرح واجب التسلیم ہوگا۔ سوال یہ نہیں کہ تم کیا کہہ رہے ہو۔ سوال یہ ہے کہ جس شخص کو تم نے اپنا پیشوا بنا رکھا ہے اس کے اقوال واعمال شریعت غراء اسلامیہ کی روشنی میں کیسے تھے؟ تم کہتے ہو کہ تم یعنی لاہوری مرزائی خدا کی وحدانیت، محمد عربی ﷺ کی رسالت کامل، قرآن پاک، ملائکہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھنے والے اشخاص کو دائرہ اسلام سے خارج نہیں کہتے ۔ لیکن تمہارا عمل یہ ہے کہ مستفسر نے اسی استفسار میں راقم الحروف کو اسلامی طریق سے سلام کہنے کے بجائے والسلام علیٰ من اتبع الہدیٰ کا وہ جملہ لکھا ہے جو مسلمان کفار کے لئے استعمال کرتے ہیں۔ تم کہتے ہو کہ ہمیں مسلمانوں کے ساتھ نمازیں پڑھنے ان کے جنازوں میں شامل ہونے اور ان کے ساتھ رشتہ ناطہ کے تعلقات قائم رکھنے میں کوئی عذر نہیں ۔ لیکن تمہارا حال یہ ہے کہ تم نے اپنی ڈیڑھ اینٹ کی مسجد الگ تعمیر کر رکھی ہے اور کبھی مسلمانوں کا ساتھ نہیں دیتے۔ اسی لاہور میں عیدین کی نماز تم مسلمانوں سے الگ ہو کر ادا کرتے ہو۔ تم کہو گے کہ اہل حدیث بھی تو ایسا کرتے ہیں۔ اگر وہ کرتے ہیں تو وہ بھی غلطی کے مرتکب ہورہے ہیں۔ لیکن ان کی علیحدگی کی علت کسی مخرب اسلام کو مجدد اسلام، مامور من اللہ ، ملہم من اللہ اور مسیح موعود منوانے کی شرط نہیں۔ باقی رہا یہ سوال کہ تمہارے عقائد جو تم ظاہر کرتے ہو آیا تمہیں دائرہ اسلام سے خارج قرار دیتے ہیں یا نہیں۔ اس کا فیصلہ تمہیں دین اسلام کے جید علماء کے سامنے اپنے عقائد پیش کر کے حاصل کرنا چاہئے اور سب سے پہلے تمہیں مرزا غلام احمد قادیانی کے متعلق اس کے اقوال واعمال کی بناء پر فتویٰ حاصل کرنا چاہئے ۔ اگر تم یہ نہیں کرتے تو مسلمان تمہارے متعلق یہ سمجھنے پر مجبور ہیں کہ تم بھی ذرا مختلف رنگ میں تخریب دین اسلام کا وہی وظیفہ ٩٥
بجا لا رہے ہو۔ جس کے لئے مرزا غلام احمد قادیانی نے اپنا ایمان اغیار کے ہاتھ بیچ ڈالا تھا اور امت مسلمہ میں ایک ایسے فتنہ کی بنیاد رکھ دی جس کی جان کو ہم آج تک رو رہے ہیں اور نہ معلوم کب تک روتے رہیں گے۔
قادیانی تحریک اور اس کا پس منظر
قادیانیت کی تحریک جو کسی قدر ترقی پا کر اسلام اور دنیائے اسلام کے لئے ایک زبردست خطرہ بن چکی ہے۔ آج کل مسلمانان عالم کے تمام چھوٹے بڑے طبقات کی توجہات کو اپنی جانب جلب کر رہی ہے۔ علمائے دین قیم نے اس مذہب کے بانی کے ملحدانہ دعاوی کو اسی روز بھانپ لیا تھا جس روز کہ مرزا غلام احمد قادیانی نے ان کا اعلان کیا تھا۔ علمائے کرام کا کام یہی تھا کہ ایک نئے فتنہ کو دین حقہ اسلام کی مسلمات کے معیار پر پرکھ کر اس کے کھرے یا کھوٹے ہونے کا اعلان کر دیتے اور اس فتنہ کا سدباب کرنے کے لئے ارشاد و تبلیغ کے حربہ کا استعمال کرتے۔ ہندوستان کے حالات اس سے زیادہ ہمت یا اقدام کرنے کی اجازت نہیں دیتے تھے۔ حکومت کا اقتدار سات سمندر پار سے چل کر آنے والی غیر مسلم قوم کے ہاتھ میں تھا۔ حکومت اسلامی کے زوال کے باعث احتساب شرعی کا کوئی محکمہ موجود نہ تھا۔ جو الحاد و ارتداد کے اس فتنہ کو سیاستا دبا سکتا۔ لہذا علمائے اسلام کی مساعی کے باوجود مرزائیت کے دجل کی یہ دکان چل نکلی اور لوگ جو اس کی منافی اسلام تعلیم کو دیکھتے اور جانتے تھے حیران ہو ہو کر کہنے لگے کہ آیا مرزا غلام احمد قادیانی اور اس کے متبعین نے محض دکانداری اور جلب منافع دنیوی کے لئے یہ نئی قسم کی ایک گدی قائم کر لی ہے یا اس کی تہ میں کوئی محرکات کام کر رہے ہیں۔ عام طور پر یہی سمجھا گیا کہ مرزا غلام احمد نے اپنے زمانہ کی الحاد پرور فضاء سے فائدہ اٹھا کر حصول دنیا کے لئے یہ ڈھونگ کھڑا کیا اور سادہ لوح اور حقیقت دینی سے نا آگاہ اشخاص کو اپنے دام فریب میں پھنسا کر ایک گروہ پیدا کر لیا۔ جس کا داخلی نظم کسی قدر باقاعدہ بنا لیا گیا۔ مرزا غلام احمد جو طرح طرح کے ملحدانہ دعاوی کرنے سے پہلے اپنے وقت کے عام مولویوں کی طرح کا ایک مولوی تھا۔ وعظ کہنے اور عیسائیوں اور آریہ سماجیوں کے ساتھ مناظرے کرنے کے باعث خاص شہرت حاصل کر چکا تھا اور کچھ لوگ اس کی ان کوششوں کو استحسان کی نظروں سے دیکھتے اور اس کے متعلق حسن ظن رکھتے تھے۔ جب تک مرزا صحیح خطوط پر کام کرتا رہا اس وقت کے عالمان دین نے اس کا ساتھ دیا۔ اس کے کام کو سراہا اور اس کی مساعی کی تعریف کی۔ لیکن جونہی اس نے نیا بھیس بدل کر تخریب دین پر کمر ہمت باندھ لی۔ علمائے اسلام نے اپنے فرض کو پہچانا اور اس سے الگ ہو گئے۔ لیکن اس دور کے علماء و مبصرین مرزائے قادیانی
٩٦
کے اس عصیان کو محض اس کی ذاتی حرص و ہوا کا نتیجہ سمجھتے رہے اور خیال کرتے رہے کہ مقصد محض منافع دنیوی کے حصول کے لئے ایک گدی کا قائم کرنا اور بیوقوفوں کی ایک جماعت حاصل کرنا ہے۔ اس سے زیادہ اس تحریک کی تہ میں اور کوئی محرکات کام نہیں کر رہے۔
علمائے اسلام نے قادیان کی گدی قائم ہونے اور قادیانی جماعت کے ظہور پذیر ہونے کو اس دور کے لوگوں کی علم دین سے بے خبری پر محمول کیا۔ جو انگریزی حکومت اور انگریزی تعلیم کے باعث مسلمانان ہند میں عام ہو چکی تھی۔ لہٰذا اس تحریک کی حقیقی اہمیت عوام وخواص کی نظروں سے ایک طویل عرصہ اوجھل رہی۔ تاآنکہ یہ فتنہ اور اس فتنہ کے پس پردہ کام کرنے والی محرکات اپنی حقیقی شکل میں سامنے آنے لگیں اور ہر جگہ کے مسلمان محسوس کرنے لگے کہ جس پودے کو آج سے پچاس سال پہلے قادیان ایسے گمنام گاؤں میں لگایا گیا تھا۔ اس کے برگ وبار کا نشوونما مسلمانان عالم کے دین ودنیا کے لئے کیا معنی رکھتا تھا اور اس پودے کی کاشت، آبیاری، اور نگہداشت کن مقاصد کے پیش نظر کی جارہی تھی۔ نیز اس کی ترقی، اس کے زیر سایہ آنے والوں کے داخلی نظم اور ان کے حد سے بڑھے ہوئے حوصلوں اور ان کے امراء وقائدین کی بے سروپا تعلیوں کے حقیقی اسباب وعلل کیا تھے؟ ان امور کو سمجھنے کے لئے اس پس منظر کا نقاب الٹ کر ایک نظر دیکھنا ضرور ہے جو اس تحریک کے لئے بمنزلہ اساس کے ہے۔ اس پس منظر کی حقیقت سمجھے بغیر کوئی صاحب ہوش وخرد انسان اس استعجاب کا شکار نہ رہے گا کہ مرزائی مسلمان کہلانے کے باوجود اسلام کے اس قدر دشمن کیوں ہیں اور یہ دیکھنے کے باوجود کہ مرزا غلام احمد کے اقوال نفی اسلام ہونے کے علاوہ نہایت مضحکہ خیز اور عقل انسانی کی بین توہین ہیں۔ وہ کیوں اسی کا دم بھرتے ہیں اور اس سلسلہ میں شامل رہنے پر مصر ہیں۔ اس مذہب کو ہندوستان میں جو تھوڑا بہت فروغ حاصل ہوا اس کی وجہ کیا ہے اور مرزائیت کی تبلیغ کے بہانہ سے خارجہ ممالک میں جو مشن بھیجے جارہے ہیں ان کی حقیقی غرض وغایت کیا ہے؟ اس میں شک نہیں کہ اس گروہ میں کچھ فریب خوردہ لوگ بھی شامل ہیں۔ لیکن پڑھے لکھے آدمیوں کی اکثریت کے اس تحریک میں شامل ہونے کے وجوہ یکسر دوسرے ہیں۔ جو ان اسباب وعلل کو جان لینے کے بعد پوری طرح منکشف ہو جاتے ہیں۔ جو خفیہ طور پر اس فتنہ کو کھڑا کرنے کا موجب بنے۔
قادیانی فتنہ کی حقیقت واہمیت معلوم کرنے کے لئے سب سے پہلے ان حالات وکوائف پر ایک نگاہ ڈالنا ضروری ہے جو انیسویں صدی مسیحی اور اس کے نصف آخر میں تمام ممالک اسلامی کو اور مسلمانان ہند کو عام طور پر پیش آتے رہے۔ یہ وہ زمانہ ہے جس میں یورپ کی استعمار
٩٧
جن قوموں نے ایشیاء اور افریقہ کی ان سرزمینوں پر جن میں مسلمان آباد تھے ہلا بول رکھا تھا اور اسلامی ممالک یکے بعد دیگرے ان مسیحی اقوام کے زیر نگیں ہوتے چلے جا رہے تھے۔ مسلمانوں کی دوازدہ صد سالہ تاریخ میں یہ پہلا موقع تھا جب عیسائیت نے ان پر دنیوی اقتدار حاصل کرنا شروع کیا۔ اس سے پہلے عیسائیوں اور مسلمانوں میں جس قدر جنگیں ہوتی رہی۔ ان میں مسلمانوں کا پلہ بھاری رہتا تھا اور یورپ کی مسیحی دول کئی دفعہ صلیبی جنگیں کر کے مسلمانوں کے مقابلہ میں ناکامی و نامرادی کا منہ دیکھ چکی تھیں۔ اس صدی کے تصادم اور اس میں عیسائیوں کا پلہ بھاری رہنے کے باعث یورپ کی مسیحی دول کے مدبروں کو ان مسائل پر غور کرنے کی ضرورت محسوس ہوئی جو انہیں آزاد اسلامی ممالک یا مفتوح مسلمان قوموں کے مقابلہ میں اپنا اقتدار قائم کرنے اور قائم رکھنے کے لئے پیش آئے۔ انہوں نے دیکھا کہ ہر جگہ مسلمانوں کی مذہبیت ان مقاصد کی راہ میں حائل ہو رہی ہے۔ مسلمانوں کا جذبہ جہاد ان کے اقدام کے لئے زبردست خطرہ ہے اور مسیحیت کا مذہبی پیغام جو افریقہ کی غیر مسلم اقوام کو نہایت آسانی سے مغربی استعمار کا مطیع و منقاد بنانے میں کامیاب ہورہا ہے۔ اسلام کے مقابلہ میں کامیاب ہوتا نظر نہیں آتا۔ یہی وجہ تھی کہ انگلستان کا وزیر اعظم مسٹر گلیڈ اسٹون اور فرانس و روس کے بعض مدبروں اور پادریوں نے صاف الفاظ میں یہ کہہ دیا کہ جب تک قرآن حکیم موجود ہے مسلمانوں کی طرف سے عیسائیوں کے مذہبی اور دنیوی اقتدار کو خطرہ لاحق رہے گا۔ یورپ والے دیکھتے تھے کہ اسلامی ممالک میں جہاں جہاں وہ اپنے استعمار کا پرچم لے کر پہنچتے ہیں۔ مسلمانوں کا مذہبی جذبہ ان کی مخالفت پر کمر بستہ نظر آتا ہے۔ اگر افغانستان محمد اکبر خان اور ہندوستان مغل مرزا اور بہادر شاہ ظفر ایسے مجاہد پیدا کرتا ہے تو سوڈان اور سمالی لینڈ میں محمد المہدی اور ملائے کبیر ایسے قائدین پیدا ہو کر ان کی استعماری سکیموں پر ضرب کاری لگاتے ہیں اور ٹیونس، الجزائر، مراکش، مصر، طرابلس، غرض ہر جگہ انہیں ایک ہی قسم کے خیالات اور ایک ہی نوع کے جذبات سے دوچار ہونا پڑ رہا ہے۔ ان حالات میں انہوں نے مسلمانوں کے دلوں سے مذہبیت کا اثر زائل کرنے اور ان کے درمیان طرح طرح کے دینی فتنے کھڑے کرنے اور انہیں ترقی دینے کی تجاویز سوچنی شروع کردیں۔ جس کا ایک نمایاں اثر ہم اس دنیوی طریق تعلیم میں دیکھ رہے ہیں۔ جو ہر جگہ مسلمانوں کو مذہب سے بیگانہ بنارہا ہے اور اس قسم کی کوششوں کا دوسرا نتیجہ مختلف قسم کی ملحدانہ تحریکات کی شکل میں رونما ہوا۔ جو تخریب دینی کے لئے معرض ظہور میں لائی گئیں۔ ایسی ہی تحریکات میں سے ایک تو بہائیت اور بابیت کی وہ تحریک ہے جس نے روسی ڈپلومیسی سے ہر قسم کا فیض حاصل کر کے ایران کی وحدت ملی کو
٩٨
خراب کرنا شروع کر دیا تھا اور دوسری تحریک یہی فتنہ قادیان کی ہے جس کے مقاصد کی تشریح میں آگے چل کر کروں گا۔
مرزائیت کی تولید کی حقیقت سے شناسا ہونے کے لئے یہ جان لینا ضروری ہے کہ عہد زار کے روسی استعمار نے ایران میں نفاق کا بیج بونے کے لئے محمد علی باب کو پیدا کیا۔ جس نے ایران میں ایک نئے مذہب کی بنیاد ڈال دی اور روسی خزانہ کی امداد کے بل پر اپنے پیروؤں کی ایک قوی جماعت کھڑی کر لی۔ جس نے ایران میں بغاوت کا علم بلند کر دیا۔ ایرانی مسلمان اس فتنہ کا سر بزور شمشیر کچلنے میں کامیاب ہو گئے اور اس تحریک کے سرغنے بھاگ کر دولت عثمانیہ کے ممالک میں پناہ گزیں ہوئے۔ مملکت عثمانیہ کی فضا نبوت و مہدویت اور الوہیت کے دعوے داروں کے لئے سازگار نہ تھی۔ لہٰذا وہاں کچھ عرصہ نظر بند رہنے کے بعد انہوں نے مالٹا اور قبرص کو اپنی سرگرمیوں کا مرکز بنایا اور یورپ و امریکہ کے مختلف بلاد و امصار کا چکر لگاتے رہے۔ بہائی مذہب کے عقائد و مسلمات اور بہائی تحریک کے نشو و ارتقاء کا مطالعہ کیا جائے تو صاف نظر آ جائے گا کہ مرزائیت نے اسی تحریک سے ہندوستان میں نیا فتنہ برپا کرنے کا خیال حاصل کیا۔ مرزا غلام احمد قادیانی کے اکثر دعاوی اور اس کا طریق استدلال تمام تر بابیوں اور بہائیوں کے دعاوی اور ان کے طریق استدلال کا چربہ تھا۔ اگر بہائی اور بابی تحریک کا مقصد روس کے استعماری مقاصد کے لئے ایران کی قومی اور ملی وحدت کو برباد کرنا تھا تو قادیانی تحریک کا مقصد ہندوستان میں برطانیہ کے استعماری مقاصد کے قیام و دوام کے لئے راستہ صاف کرنا ہے۔ ایران کے مسلمانوں نے اس خطرہ عظیم کو جلد محسوس کر لیا۔ لیکن ہندوستان کے مسلمان جو محکوم ہو چکے تھے قادیانیت کے خطرہ کے سیاسی پہلو سے غافل رہے۔ اس کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ وہ اس فتنہ کی سیاسی حیثیت کے متعلق کچھ کہنے سے معذور بھی تھے اور انیسویں صدی مسیحی کے نصف آخر میں ١٨٥٧ء کے ناکام جہاد آزادی کے باعث وہ اس قدر دبا دیئے گئے تھے کہ حکمرانوں کے خوف کے باعث کچھ کہہ نہیں سکتے تھے۔ سوڈان، سمالی لینڈ، افغانستان اور ہندوستان کے تجارب نے برطانیہ کے استعمار خواہ مدبروں کے دلوں میں یہ اندیشے پیدا کر دیئے تھے کہ مسلمان اپنے صحیح عقائد پر قائم رہے تو کسی نہ کسی وقت اس استعمار کے لئے زبردست خطرہ بن سکتے ہیں۔ ان کے سامنے بابی اور بہائی تحریک کا تجربہ بھی تھا۔ جو روس کی استعماری ریشہ دوانیوں نے ایران میں کیا تھا۔ وہ اس تاک میں تھے کہ اس قسم کی کوئی تحریک ہندوستان میں شروع کرائی جائے۔ اس مقصد کے لئے برطانی استعمار کے ایجنٹوں نے مرزا غلام احمد قادیانی کو کار برآری کے لئے منتخب کیا۔ جس نے ان ایجنٹوں کا اشارہ پا کر ایک نئے
٩٩
مذہب کی بنیاد رکھ دی۔ اس امر کا ثبوت کہ مرزائے قادیانی ، برطانیہ کی استعماری خواہشات کا ایجنٹ تھا۔ خود اس کی تحریرات سے پیش کیا جائے گا۔
مرزائیت کی تعلیم
سیاسی حیثیت سے برطانی استعمار کو مسلمانوں کے جذبۂ جہاد میں ایک خوفناک سد سکندری اپنے مقاصد کی راہ میں حائل نظر آتی تھی۔ ١٨٥٧ء کے بعد حکومت نے اس جذبہ کو دبانے کے لئے قدغن کر رکھی تھی کہ کوئی شخص انگریزوں کو نصاریٰ کی اسلامی اصطلاح سے یاد نہ کرے۔ مرزا غلام احمد قادیانی کی قبیل کے دین فروش اور دنیا پرست مولویوں سے مذہبی حیثیت میں بادشاہ وقت کی اطاعت فرض قرار دینے کے لئے پروپیگنڈا کر لیا گیا اور ’’اطیعوا اللہ واطیعوا الرسول واولی الامر منکم‘‘ کی نئی نئی تفسیریں سامنے آنے لگیں۔ وہابیوں کو جن میں مذہبی تعصب زیادہ نمایاں تھا باغی کا مرادف سمجھا گیا۔ جس زمانہ میں مرزائے قادیانی اپنے عجیب وغریب دعاوی کے ساتھ مسلمانوں کے سامنے آیا۔ اس وقت تک ہندوستان کے ایسے مسلمان امراء اور علماء جنہیں اسلامی حکومت کی بربادی کا احساس تھا ناپید ہو چکے تھے۔ ١٨٥٧ء کے حادثہ کے بعد جس میں مسلمانوں کو خوفناک تباہی کا سامنا ہوا کامل ایک پشت ایسے دور میں سے گزری جو دینی اور دنیوی تعلیم سے یکسر بیگانہ تھا۔ گویا نئے خیالات اور نئے اثرات کو قبول کرنے کے لئے زمین ہموار ہو چکی تھی۔ ان حالات کے اندر مرزا غلام احمد قادیانی نے اس مذہب کی تبلیغ شروع کی۔ جس کے پیش نظر مسلمانوں کے عقائد کی دنیا میں حسب ذیل انتشار پیدا کرنا تھا۔ مرزائیت کی تعلیم کی نمایاں خصوصیات جیسا کہ میں اس سلسلۂ مضامین میں تشریح کر چکا ہوں حسب ذیل ہیں۔
’’حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ پر دین کی تکمیل اور نعمت خداوندی کے اتمام کا عقیدہ صحیح نہیں اور نبوت ورسالت کے دروازے تاقیام قیامت کھلے ہیں یعنی ایسے پیغمبر مبعوث ہو سکتے ہیں جو نوع انسانی کو دینی حیثیت سے نئے نئے پیغامات سنائیں گے۔ ایسے ہی پیغمبروں میں سے ایک مرزا غلام احمد قادیانی ہے جس پر ایمان لائے بغیر کوئی شخص مسلمان نہیں ہو سکتا۔ حج کے لئے مکہ معظمہ میں مسلمانوں کا اجتماع ضروری نہیں۔ یہ ثواب قادیان کی ارض حرم میں منعقد ہونے والے سالانہ جلسہ میں جا کر حاصل ہو سکتا ہے۔ اس نئے پیغمبر نے کفار کے مقابلہ میں مسلمانوں کے دین ودنیا کی حفاظت ومدافعت کے لئے جہاد بالسیف کو منسوخ قرار دے دیا ہے۔ (اگرچہ غیر مسلم ابھی تک اسلام کے مقابلہ میں تلوار استعمال کر رہے ہیں) مسلمانوں کی امیدیں جو وہ مہدی آخر
١٠٠
الزمان کے ظہور اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کے سلسلہ میں لگائے بیٹھے ہیں بے بنیاد ہیں۔ کیونکہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام فوت ہو گئے تھے اور مہدی آخرالزمان کے متعلق آنے والی پیش گوئیوں کی حقیقت امت مسلمہ نے مرزا غلام احمد قادیانی کے خروج سے پہلے نہیں سمجھی۔ انگریز حکمرانوں کی غیر مشروط اطاعت اور سلطنت برطانیہ کی خیر خواہی و خدمت نئے دور کے مسلمانوں کا مذہبی فرض ہے۔ از بس کہ روئے زمین کے تمام مسلمان اس نئے پیغمبر کی نبوت پر ایمان نہ لانے کے باعث بارگاہ الٰہی میں مقہور و مغضوب ہو چکے ہیں۔ لہٰذا کسی قسم کی ہمدردی کے مستحق نہیں۔ ترکی مٹتا ہے تو مٹ جائے۔ ایران فنا ہوتا ہے تو ہو جائے۔ عرب پر اغیار قبضہ جما رہے ہیں تو جما لیں اور ان ممالک میں بسنے والی مسلمان قومیں غلام بنتی ہیں تو بنتی چلی جائیں۔ اس نئے اسلام اور اس کے پیرووں کو ان سے کسی قسم کا سروکار نہیں ۔‘‘
ظاہر ہے کہ اس قسم کی تعلیم دینے والے مذہب کے پیش نظر صرف ایک ہی مقصد ہے اور وہ یہ ہے کہ مسلمانوں کے دلوں سے ان تمام عقائد کو اور ان کے دماغوں سے ان تمام خیالات کو دور کرنے کی سعی کی جائے جو انہیں کسی نہ کسی موقع پر برطانیہ کی استعماری کوششوں سے متصادم کرنے کے امکانات کے حامل تھے۔ جہاد، مہدی آخرالزمان کے ظہور کا انتظار، حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کی امید غرض ہر وہ شے جو مسلمان کے دل میں اس مغربی استعمار سے استخلاص کی امید پیدا کر رہی تھی محو کرنے کی کوشش کی گئی اور اخوت اسلامی کے اس جذبہ کو جو مراکشی مسلمان کو چینی مسلمان کی تکلیف کا ساتھی بنانے والا ہے دور کرنے کی پوری کوشش کی گئی۔ ان تمام امور کا اعتراف مرزا غلام احمد قادیانی کی اپنی تحریرات میں موجود ہے۔ جنہیں پڑھنے کے بعد کسی شخص کو اس امر میں شبہ کی گنجائش نہیں رہ سکتی کہ قادیان کا یہ متنبئ حکومت برطانیہ کا سرکاری نبی تھا اور جو کچھ اس نے کیا وہ دین کی خاطر نہیں کیا۔ اللہ اور اس کے رسول کی خاطر نہیں بلکہ اس سرکاری خوشنودی حاصل کرنے کے لئے کیا۔ جس کے زیر سایہ اسے اتنا بڑا فتنہ پھیلانے کا موقع مل گیا تھا۔ حکومت برطانیہ کے کارندے جو مہدی سوڈانی کے مقابلہ میں لشکر بھیجتے اور اسے اس قدر خطرناک سمجھتے ہیں کہ اس درویش باخدا کی ہڈیاں تک قبر سے نکال لیتے ہیں۔ اس قادیانی مہدی کو ہر قسم کی سہولتیں بہم پہنچاتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ سوڈان کا مہدی مسلمانوں کے ان عقائد کی ایک جیتی جاگتی مخلوق تھا۔ جو آخری زمانہ کے فتن کے متعلق ان میں موجود ہیں اور قادیان کا مہدی اس سرکار کی اس خواہش کی پیداوار تھا کہ مسلمانوں کے دلوں سے مہدی آخرالزمان کے ظہور کی امیدیں محو ہو جائیں تاکہ ان کے لئے برطانیہ کے دنیوی استعمار پر انحصار کرنے کے سوا کوئی چارہ کار باقی نہ رہ جائے۔
١٠١
قادیانیت کا سیاسی پہلو
یہ حقیقت تو اظہر من الشمس ہے کہ قادیانی مذہب کی کوئی کل دین حقہ اسلام کے مسلمہ معیار پر پوری نہیں اترتی اور اس امت کے بانی کی پٹاری میں بے سروپا تاویلوں اور عقل انسانی کی تذلیل کرنے والی دلیلوں کے سوا اور کچھ نہیں۔ نئے عقائد جن پر مرزائے قادیانی نے اپنے مذہب کی بنیاد رکھی ہے متذکرہ ذیل شقوں کے ماتحت بیان کئے جاسکتے ہیں۔
- ......١ نبوت کا دروازہ کھلا ہے۔ یعنی محمد عربی ﷺ کی ارادت وعقیدت کا دامن
اس مضبوطی کے ساتھ تھامنے کی ضرورت نہیں جو مسلمانوں میں تیرہ سو سال سے چلی آ رہی ہے اور ان کے ایمان کی صحت کی شرط اولین ہے۔
- ......٢ جہاد بالسیف منسوخ کر دیا گیا۔ یعنی مسلمانوں کو کفار کے مقابلہ میں اپنے
دینی اور دنیوی سکون کی حفاظت کے لئے جہاد نہیں کرنا چاہئے۔ بلکہ نئے متنبی یعنی مرزا غلام احمد کے جہاد لسانی پر اعتماد رکھنا چاہئے۔ جس کی امت محض مناظروں اور لفظی مجادلوں کے بل پر ساری دنیا کو فتح کر لے گی۔
- ......٣ حج کے لئے کعبۃ اللہ تک جانے کی ضرورت نہیں یہ ثواب قادیان جاکر
بھی حاصل ہوسکتا ہے۔ کیونکہ مکہ اور مدینہ کی برکات اب اس نئی ارض پر نازل ہونے لگی ہیں۔
- ......٤ ایسا مہدی آخر الزمان جس کے متعلق مسلمانوں کے اندر یہ خیال پایا جاتا
ہے کہ وہ اس وقت اسلامی لشکروں کی قیادت کرے گا جب کفار نے چاروں طرف سے ہجوم کر کے مدینہ طیبہ اور مکہ معظمہ پر چڑھائی کر رکھی ہوگی۔ پیدا نہ ہوگا۔ کیونکہ احادیث میں جس مہدی کے آنے کا تذکرہ موجود تھا وہ قادیان میں آچکا اور اس نے جہاد کرنے کے بجائے اسے منسوخ قرار دے دیا۔
- ......٥ حضرت عیسیٰ علیہ السلام جن کے متعلق مسلمانوں کا عقیدہ یہ ہے کہ وہ
دجال کو قتل اور اس کے فتنہ کا استیصال فرمائیں گے فوت ہوچکے۔ لہٰذا وہ بھی نہیں آسکتے۔ اس ابن مریم کی جگہ قادیان کا ابن چراغ بی بی آ گیا اور اس نے دجال کو اس کی اطاعت اپنے پیرووں پر فرض قرار دے کر قتل بھی کر دیا۔
- ......٦ دولتِ بہیہ برطانیہ کی اطاعت، فرمانبرداری، خیر خواہی اور خدمت ہر حال
میں اس نئے مذہب کے پجاریوں کا مذہبی فرض ہے۔
١٠٢
ان ارکان ستہ پر مرزائیت کے قصر کا سارا ڈھانچہ قائم ہے اور اس پس منظر کو ایک آنکھ دیکھ لینے کے بعد جس کا تذکرہ میں اقساط ماسبق میں کر آیا ہوں معمولی سے معمولی سمجھ بوجھ رکھنے والا انسان بھی جان سکتا ہے کہ اس نئے مذہب کی تخلیق کے سارے ڈھونگ کا مقصد کیا ہے۔ حکومت برطانیہ کے مدبروں کو اس دور میں اپنے مقاصد کے لئے آلہ کار بننے والے اشخاص کی ہی ضرورت تھی۔ یہ ضرورت مرزائے موصوف نے بطریق احسن پوری کر دی اور یہ بات ہے کہ حکومت کی مخفی و علنی توجہات کے باوجود مسلمانان ہند کا ایک نہایت ہی ناقابل ذکر طبقہ مرزائے قادیان کے اس دام فریب کا شکار ہو سکا اور جن مقاصد کے لئے یہ تحریک شروع کرائی گئی تھی وہ دوسرے طریقوں سے حاصل ہو گئے۔ کوشش تو یہ تھی کہ مسلمانوں سے دنیا کے ساتھ دین کی دولت بھی چھین لی جائے۔ لیکن مسلمانوں کی اکثریت نے دین کو اپنے ہاتھ سے نہ چھوڑا اور یکسر معاند و مخالف فضا کے باوجود اسے محفوظ رکھا۔ اب ذرا قادیانی سیاست نہیں بلکہ برطانی سیاست کے اس قادیانی کارنامہ کی کسی قدر تفصیل خود مرزائے قادیانی کی زبانی سن لیجئے۔ تاکہ آپ کو معلوم ہوسکے کہ قادیانیت دراصل کوئی مذہب نہیں بلکہ ایک سیاسی فتنہ ہے جو اغیار نے مسلمانوں کو صحیح اسلام سے دور تر لے جانے اور اسلام کو برباد کرنے کے لئے کھڑا کیا تھا۔ مرزائے قادیانی نے ایک جگہ اپنی شان نزول اور اپنے مشن کے مقاصد یوں بیان کئے ہیں۔
”میری عمر کا اکثر حصہ اس سلطنت انگریزی کی تائید اور حمایت میں گزرا ہے اور میں نے ممانعت جہاد اور انگریزی اطاعت کے بارے میں اس قدر کتابیں لکھی ہیں اور اشتہار شائع کئے ہیں کہ اگر وہ رسائل اور کتابیں اکٹھی کی جائیں تو پچاس الماریاں ان سے بھر سکتی ہیں۔ میں نے ایسی کتابوں کو تمام ممالک عرب اور مصر اور شام اور کابل اور روم تک پہنچا دیا ہے۔ میری ہمیشہ کوشش رہی ہے کہ مسلمان اس سلطنت کے سچے خیرخواہ ہو جائیں اور مہدی خونی کے بے اصل روایتیں اور جہاد کے جوش دلانے والے مسائل جو احمقوں کے دلوں کو خراب کرتے ہیں۔ ان کے دلوں سے معدوم ہو جائیں۔“
(تریاق القلوب ص ١٥، خزائن ج ١٥ ص ١٥٥)
اس نثر کے ساتھ نظم میں ارشاد ہوتا ہے:
دیں کے لئے حرام ہے اب جنگ اور قتال
دشمن ہے وہ خدا کا جو کرتا ہے اب جہاد
منکر نبی کا ہے جو یہ رکھتا ہے اعتقاد
١٠٣
اب اس کا فرض ہے کہ وہ دل کر کے استوار
لوگوں کو یہ بتائے کہ وقت مسیح ہے
اب جنگ اور جہاد حرام اور قبیح ہے
(ضمیمہ تحفہ گولڑویہ ص ٢٦، ٢٩ ، خزائن ج ١٧ ص ٧٧ ، ٨٠)
گویا اس متنبی نے بیک کشش قلم ، محمد المہدی سوڈانی ، شیخ سنوسی ، غازی انور پاشا ، غازی مصطفےٰ کمال پاشا اور اس دور کے سیکڑوں دوسرے مجاہدین اسلام کو خدا کا دشمن اور نبی کا منکر اس لئے بنا دیا کہ ان کے مساعی مغربی استعمار کے پھیلنے کی راہ میں حائل ہوئیں۔
قادیانی جماعت کن مقاصد کے لئے تیار کی جارہی تھی۔ اس کے متعلق مرزائے قادیانی کے ایک اشتہار کی عبارت کتاب الہامی قاتل سے نقل کی جاتی ہے۔
”میرا باپ اور بھائی غدر ١٨٥٧ء میں گورنمنٹ کی خدمت اور گورنمنٹ کے باغیوں کا مقابلہ کرچکے ہیں اور میں بذات خود سترہ برس سے گورنمنٹ کی یہ خدمت کرتا رہا ہوں کہ بیسیوں کتابیں عربی فارسی اور اردو میں یہ مسئلہ شائع کر چکا ہوں کہ گورنمنٹ سے مسلمانوں کو جہاد کرنا ہرگز درست نہیں ہے اور میں گورنمنٹ کی پولیٹکل خدمت وحمایت کے لئے ایسی جماعت تیار کر رہا ہوں جو آڑے وقت میں گورنمنٹ کے مخالفوں کے مقابلے میں نکلے گی۔“
(ملخص مجموعہ اشتہارات ج ٢ ص ٣٦٦، ٣٦٧)
غرض مرزائے قادیانی اپنی کتب میں جابجا گورنمنٹ کے احسانات کا تذکرہ کرتا اور اس گورنمنٹ پر اپنا یہ احسان جتاتا ہے کہ میں نے مسلمانوں کے عقیدۂ جہاد کی تردید پر اپنی زندگی وقف کر رکھی ہے اور ایک درخواست میں جو مرزائے قادیانی نے اپنے وقت کے لفٹنٹ گورنر کو لکھی۔ اس امر کا صاف طور پر اعتراف بھی کر لیا کہ وہ اور اس کا خاندان اور اس کی جماعت یعنی اس کے سلسلہ کا سارا تاروپود گورنمنٹ کا خودکاشتہ پودا ہے ،لکھا ہے۔
”التماس ہے کہ سرکار دولت مدار ایسے خاندان کی نسبت جس کو پچاس برس کے متواتر تجربہ سے ایک وفادار جاں نثار خاندان ثابت کر چکی ہے۔ اس خودکاشتہ پودہ کی نسبت نہایت حزم اور احتیاط اور تحقیق اور توجہ سے کام لے اور اپنے ماتحت حکام کو ارشاد فرمائے کہ وہ بھی اس خاندان کی ثابت شدہ وفاداری اور اخلاص کا لحاظ رکھ کر مجھے اور میری جماعت کو ایک خاص عنایت اور
١٠٤
مہربانی کی نظر سے دیکھیں۔ ہمارے خاندان نے سرکار انگریزی کی راہ میں اپنے خون بہانے اور جان دینے سے فرق نہیں کیا اور نہ اب فرق ہے۔‘‘
(تبلیغ رسالت ج ٢ ص ١٩، ٢٠، مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ٢١)
اپنی جماعت کے قیام کا مقصد ایک اور مقام پر بدیں الفاظ ظاہر کیا گیا ہے۔ ’’میں یقین رکھتا ہوں کہ جیسے جیسے میرے مرید بڑھیں گے ویسے ویسے مسئلہ جہاد کے معتقد کم ہوتے جائیں گے۔ کیونکہ مجھے مسیح اور مہدی مان لینا ہی مسئلہ جہاد کا انکار کرنا ہے۔‘‘
(تبلیغ رسالت ج ٧ ص ١٧، مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ١٩)
’’اب اس تمام تقریر سے جس کے ساتھ میں نے اپنی سترہ سالہ مسلسل تقریروں سے ثبوت پیش کئے ہیں۔ صاف ظاہر ہے کہ میں سرکار انگریزی کا بدل وجان خیر خواہ ہوں اور میں ایک شخص امن دوست ہوں اور اطاعت گورنمنٹ اور ہمدردی بندگان خدا کی میرا اصول ہے اور یہ وہی اصول ہے جو میرے مریدوں کی شرائط بیعت میں داخل ہے۔ چنانچہ پرچہ شرائط بیعت جو ہمیشہ مریدوں میں تقسیم کیا جاتا ہے۔ اس کی دفعہ چہارم میں ان ہی باتوں کی تصریح ہے۔‘‘
(ضمیمہ کتاب البریہ ص ١٠، خزائن ج ١٣ ص ١٠)
ان خدمات کے علاوہ جو مرزا غلام احمد قادیانی نے مسئلہ جہاد کی مخالفت اور اسلامی عقائد کی تخریب کے سلسلہ میں سرکار کے لئے انجام دیں۔ ایک اور نمایاں خدمت کا اظہار مرزائے موصوف نے بالفاظ ذیل کیا ہے۔
’’قرین مصلحت ہے کہ سرکار انگریزی کی خیرخواہی کے لئے ایسے نافہم مسلمانوں کے نام بھی نقشہ جات میں درج کئے جائیں جو درپردہ اپنے دلوں میں برٹش انڈیا کو دارالحرب قرار دیتے ہیں۔ ہم امید رکھتے ہیں کہ ہماری گورنمنٹ حکیم مزاج بھی ان نقشوں کو ایک ملکی راز کی طرح اپنے کسی دفتر میں محفوظ رکھے گی۔ ایسے لوگوں کے نام مع پتہ ونشان یہ ہیں۔‘‘
(تحریر مرزا مندرجہ تبلیغ رسالت ج ٥ ص ١١، مجموعہ اشتہارات ج ٢ ص ٢٢٧)
ان کھلے ہوئے اعلانات واعترافات کے بعد کون شخص ہے جو مرزائے قادیانی کو ایک سچا مبلغ دین یا مصلح قوم خیال کر سکتا ہے اور اس کے ایک نہایت ہی خطرناک سرکاری ایجنٹ ہونے میں شبہ کر سکتا ہے۔ جو اقتباسات میں نے مرزائے قادیانی کی تحریرات سے اوپر درج کیے ہیں وہ مشتے نمونہ از خروارے ہیں۔ اس کی کتابیں اس قسم کے اظہارات سے بھری پڑی ہیں۔ لہٰذا ان
١٠٥
مسائل کو جو مرزائے قادیانی نے مسلمانوں کے عقائد کی تخریب کے لئے محض اس نیت سے وضع کئے کہ حکومت کی اس وقت کی پالیسی کو کامیاب کرے۔ دینی مسائل قرار دینا اور ان کی صحت وعدم صحت کی بحث میں پڑنا لاحاصل ہے۔ مرزا غلام احمد قادیانی کی حیثیت گورنمنٹ کے ایک فریب کار ایجنٹ سے زیادہ تسلیم نہیں کی جاسکتی۔ لہٰذا جولوگ مذہبی حیثیت سے اس کے دام فریب کا شکار ہوچکے ہیں۔ انہیں اپنی اپنی عاقبت کی فکر کر لینی چاہئے اور ان لوگوں کو جو خوشنودی سرکار کی خاطر عمداً اس گروہ میں شامل ہوچکے ہیں اپنے حال پر چھوڑ دینا چاہئے۔ کیونکہ وہ ہر طرح سے اتمام حجت ہونے کے باوجود اپنی ضد پر قائم رہیں گے۔ کیونکہ یہی وہ لوگ ہیں جو عقبے کو دنیا کے لئے فروخت کرچکے ہیں اور مذہب کی ضرورت سے بے نیاز ہوچکے ہیں۔ ”اولئك الذين اشتر والضللة بالهدى فما ربحت تجارتهم وما كانوا مهتدین“ ﴿یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے ہدایت کے بدلے گمراہی مول لی۔ پس ان کی تجارت نے انہیں کچھ بھی نفع نہ پہنچایا نہ انہیں ہدایت ملی۔﴾
خاتمہ کلام
قادیانیت کے دعاوی و مسلمات کو دین حقہ اسلام کے اصول ومبانی کے بالمقابل رکھ کر پرکھا جائے تو معمولی سے معمولی فراست رکھنے والا انسان بھی اس حقیقت نفس الامری کو جان لیتا ہے کہ قادیانیت نہ صرف ایک نئی اسلام تحریک کا نام ہے۔ بلکہ یہ ڈھونگ تخریب الاسلام والمسلمین کے لئے خاص مقاصد کے ماتحت رچایا گیا ہے۔ اسی امر کے پیش نظر راقم الحروف نے امت مرزائیہ کے افراد کو مخاطب کرکے یہ صلائے عام دی تھی کہ ان میں کے بہت سے اشخاص اس دجالی فتنہ کے فریب وزور کا شکار ہیں۔ لہٰذا اگر وہ دین حقہ اسلام کے کھلے ہوئے حقائق سے آگاہی حاصل کرنے کے متمنی ہیں تو اپنے اشکالات پیش کریں۔ جن کے بارہ میں ان حضرات کی قلبی تسلی اور روحانی تسکین کا بعون ایزد متعال انتظام کردیا جائے گا۔ اس صلائے عام کے جواب میں متعدد مرزائیوں کی طرف سے استفسارات موصول ہوئے جن کا جواب دینے کے لئے یہ سلسلہ مضامین شروع کیا گیا۔ الحمدللہ والمنتہ کہ مرزائیوں کے تمام موصول شدہ سوالات کا جواب قرآن حکیم اور احادیث نبوی ﷺ سے دیا جاچکا۔ جس کے دوران میں ان منطقی پیچیدگیوں کا تجزیہ کرکے حق کو باطل سے ممیز کرکے دکھانے کی کوشش کی گئی۔ راقم الحروف کی یہ کوشش کس حد تک کامیاب رہی اس کا اندازہ ان مرزائی اور غیر مرزائی اصحاب کے دل کررہے ہوں گے۔ جنہوں نے اس سلسلہ
١٠٦
مضامین کی اقساط کو بالالتزام و بالاستیعاب مطالعہ کیا ہے۔ اسلام کھلی ہوئی حقیقتوں کا نام ہے۔ اس کے تمام دعاوی بینات یعنی واضح حقائق ہیں۔ جن کی شناخت کے لئے دور از کار تاویلوں اور فلسفیانہ بحثوں میں الجھنے کی مطلقاً کوئی ضرورت نہیں۔ اس کے مقابلہ میں مرزائیت جس دین کو پیش کرنے کی مدعی ہے اس کا سارا تار و پود بے سروپا تاویلات کی الجھنوں پر مشتمل ہے۔ جو انسان کے دماغ کو طرح طرح بھول بھلیوں میں پھنسا دیتی ہے۔ میں جس طرح روز روشن کے آفتاب کی موجودگی کا یقین رکھتا ہوں اسی طرح اس امر واقعہ سے بھی آگاہ ہوں کہ قادیانی اور لاہوری مرزائیوں کے اکثر اکابر اپنے سلسلہ کے دجالی ڈھونگ ہونے کی حقیقت سے پوری طرح باخبر ہیں۔ از بس کہ اس تحریک کا مقصد ہی مسلمانوں کے عقائد کی تخریب ہے۔ لہٰذا اس کے رہنما ہمیشہ اس کوشش میں لگے رہتے ہیں کہ تاویلات، کتمان حق اور طرح طرح کے اشتباہات کے بل پر دین اسلام میں رخنہ اندازی کرنے کے لئے طرح طرح کے مسائل گھڑتے رہیں اور اس طریق سے ایسے لوگوں کو جو مسلمات دینی سے پوری طرح آگاہ نہیں گمراہ کر کے اپنے دام فریب کا شکار بناتے رہیں۔ کسی نے مرزائے قادیانی ایسے اشخاص کو مخاطب کر کے کیا خوب کہا ہے ؎
عیسیٰ نتواں گشت بہ تصدیق خرے چند
راقم الحروف نے یہ سلسلہ مضامین شروع کیا اور اس کی چند اقساط نے قادیانی کیمپ میں کھلبلی ڈالنی شروع کر دی تو ’’الفضل‘‘ قادیان نے جس کا صحیح نام ’’الدجل‘‘ ہے۔ یہ لکھا کہ کسی مرزائی نے مجھ سے یہ استفسارات نہیں کئے۔ بلکہ میں نے اپنی طرف سے یہ سوالات گھڑ کر ان کا جواب لکھنا شروع کر دیا ہے۔ مجھے ’’الدجل‘‘ کے اس الزام کا جواب دینے کی ضرورت ہی پیش نہیں آئی۔ اسے خود ہی اپنی غلطی کا احساس ہو گیا اور دجالی مسیحیت کا یہ نمائندہ تثلیثی مسیحیت کا چولہ پہن کر خود بھی مستفسرین کی صف میں آ بیٹھا۔ ابتدائی اقساط کے اشاعت پذیر ہو جانے کے بعد غالباً مرزائیوں ہی کے اصرار و مطالبہ پر ’’الدجل‘‘ نے جواب لکھنا شروع کیا۔ لیکن وہی مدعی کاذب جو میرے سلسلہ مضامین میں جبری تعویق ہو جانے کو میرے دماغ اور اعضاء و جوارح کے شل ہو جانے پر محمول کر رہا تھا خود لاجواب ہو کر بیٹھ گیا۔ اسلام کے اس البرز شکن گرز کی پیہم ضرب رسانی نے قادیانیوں کو اتنا بدحال کر دیا کہ انہوں نے اس کے مقابلہ میں اٹھنے کی متعدد کوششیں کیں۔ لیکن ہر کوشش میں ناکام و نامراد رہ گئے۔ جو مضامین اس سلسلہ مضامین کی بعض اقساط
١٠٧
کے جواب میں ”الدجل“ یا دوسرے قادیانیوں نے لکھے۔ وہ اپنی بے سروپا تاویلات کے باعث اپنی تغلیط آپ کر رہے تھے۔ ابھی کل کی بات ہے کہ میرے اس استدلال کے جواب میں جو میں نے آیت ”ان من اهل الکتب الا ليؤمنن به قبل موته ويوم القيامة يكون عليهم شهيدا (النساء: ١٥٩)“ سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے زندہ ہونے کے متعلق بیان کیا تھا۔ الفضل نے یہ لکھا کہ قرآن پاک میں قبل موتہ کی جگہ قبل موتھم پڑھنا چاہئے۔ کیونکہ ابن جریر کی روایت کے مطابق اس آیت کی قرأت ہم کے ساتھ بھی آئی ہے۔ گویا قادیانی دعاوی کی خاطر قرآن پاک کے الفاظ میں بھی تحریف کر لی جائے۔ جس کی حفاظت کی ذمہ داری خود ذات باری تعالیٰ پر ہے۔ نیز یہ کہ اگر قرأت صحیحہ برقرار رکھی جائے تو قبل موتہ کے معنی قبل موتھم کرنے چاہئیں۔ کیونکہ صحیح معانی سے قادیانیت کے ڈھونگ کا سارا قصر دھڑام سے زمین پر آ رہتا ہے۔
اس قسم کی بے سروپا تاویلیں اور موشگافیاں جو ایک خاص مقصد کے پیش نظر کی جا رہی ہیں جاری رہیں گی۔ لیکن راقم الحروف نے قادیانیوں پر جس اتمام حجت کے لئے قلم اٹھایا تھا وہ ہو چکا۔ یہ اتمام حجت ہندوستان کے بہت سے علمائے کرام جو راقم الحروف کی بہ نسبت علم دین پر زیادہ نظر رکھتے ہیں بارہا کر چکے ہیں۔ لیکن حق بات کو صرف وہی طبائع قبول کر سکتے ہیں جو حق کے جویا ہوں۔ جو لوگ جان بوجھ کر طاغوت کے گروہ میں شامل ہو چکے ہیں اور جن کی زندگیوں کا مقصد ہی دین اسلام کی تخریب ہے ان کے متعلق ہدایت کی راہ پر آنے کی توقع نہیں کی جا سکتی۔ یہ سلسلہ مضامین مرزائیوں کے ان افراد کے لئے سپرد قلم کیا گیا تھا جو فریب خوردہ ہیں اور فریب دہندہ نہیں اور پروردگار عالم کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ بہت سے فریب خوردہ مرزائیوں کی آنکھیں اس سلسلہ مضامین کے مطالعہ سے کھل گئیں اور متعدد اشخاص ان توضیحات کی بدولت جو راقم الحروف نے کیں راہ راست پر آ گئے۔ ایسے لوگوں کے لئے جن کے قلوب میں ابھی کسی قسم کے شکوک و شبہات باقی ہوں۔ میری خدمات بدستور حاضر ہیں اور جس نکتہ یا اشکال کے متعلق وہ توضیح کے طالب ہوں اس میں ان کی تشفی و تسکین کا سامان مہیا کیا جا سکتا ہے۔ لیکن ان لوگوں کے لئے جو جان بوجھ کر اس ضلالت پر قائم ہیں۔ اللہ کی بطش شدید کے سوا میرے پاس کوئی دلیل نہیں وہ جس کا شکار ہو کر رہیں گے۔
تشکر و اعتراف
مجھے اپنی کوتاہیوں اور ہیچمدانیوں کا پورا پورا اعتراف ہے۔ میں اس موقع پر
١٠٨
ابوالحسنات مولانا حکیم سید محمد احمد صاحب خطیب مسجد وزیر خان، مولانا عبدالحنان صاحب خطیب مسجد آسٹریلیا، مولانا احمد علی صاحب خطیب مسجد دروازہ شیرانوالہ کی تو جہات کریمانہ کا خاص طور پر شکریہ ادا کرتا ہوں جنہوں نے بعض مسائل کی توضیح اور بعض حوالوں کی فراہمی میں اس ہیچ مداں کی امداد فرمانے سے دریغ سے کام نہیں لیا۔ مولانا سید انور شاہ صاحب مرحوم کے رسائل ”خاتم النبیین“ اور ”عقیدۃ الاسلام فی حیاۃ عیسیٰ علیہ السلام“ جناب الیاس برنی کی کتاب قادیانی مذہب، شیخ محمد یعقوب صاحب سنوری پٹیالوی اور بابو حبیب اللہ امرتسری کے رسائل مولانا عبدالقادر شاہ صاحب دہلوی کے رسالہ علامات قیامت اور مولوی محمد صاحب مرحوم لکھوکی والے کی کتاب احوال الآخرۃ سے بھی بعض حوالے حاصل کئے گئے۔ اس امر کا اعتراف واعلان کر دینا بھی ضروری ہے کہ اس سلسلۂ مضامین کا یہ تاریخی عنوان یعنی قادیانیت کے کاسۂ سر پر اسلام کے البرز شکن گرز کی ضرب کاری میرے اپنے تصرفات کا نتیجہ نہیں۔ بلکہ مولانا ظفر علی خان صاحب ایڈیٹر زمیندار کا قائم کردہ ہے۔ جو انہوں نے میرے ایک مضمون پر جو میں نے صوفیائے کرام کے شطحیات اور مرزائے قادیانی کی خرافات کے موضوع پر زمیندار کے لئے لکھا تھا۔ اظہار پسندیدگی کے طور پر جمایا تھا۔
صوفیائے عظام کی شطحیات اور مرزائے قادیانی کے اقوال
فرقہ ضالہ مرزائیہ کی طرف سے عموماً اور اس کی شاخ لاہور کی طرف سے خصوصاً مرزا غلام احمد قادیانی کی ان شطحیات کے متعلق جن میں مرزا قادیانی آنجہانی نے اپنے کو اولوالعزم انبیائے علیہم السلام اور صحابہ کرام پر فضیلت دے کر مختلف قسم کی شیخیاں بگھاری ہیں اور جو ان کی منثور و منظوم تصنیفات میں جا بجا پائی جاتی ہیں۔ جواز کی یہ دلیل پیش کی جاتی ہے کہ اس قسم کی باتیں اکثر ذی مرتبت صوفیائے کرام کے ساتھ بھی منسوب ہیں۔ پھر کیا وجہ ہے کہ مسلمان ایسے بیہودہ اقوال کو سن کر مرزا قادیانی پر زندیق و ضال ہونے کا فتویٰ صادر کر دیتے ہیں اور ان صوفیائے کرام کو ہمیشہ عزت و احترام کے جذبات سے یاد کرتے ہیں۔
پچھلے دنوں مدیر بزم فکاہات مولانا چراغ حسن حسرت اور مرزائیوں کی شاخ لاہور کے اخبار پیغام صلح کے مابین برسبیل تذکرہ یہی بحث چھڑ گئی تھی اور مولانا چراغ حسن صاحب نے لکھا تھا کہ ان اقوال میں جو صوفیائے کرام کی طرف منسوب کئے جارہے ہیں اور مرزا غلام احمد قادیانی کی یاوہ گوئی میں ایک بنیادی فرق یہ ہے کہ مقتدر صوفیائے کرام کی طرف جو باتیں منسوب کی جا رہی ہیں وہ شاذ، غیر معتبر اور غیر مصدقہ ہیں۔ نیز ان کے متعلق خود ذی بصیرت و ذی علم
١٠٩
صوفیائے کرام کی یہ رائے ہے کہ اگر بفرض محال ان اقوال کی صحت تسلیم کر لی جائے تو ان کی حقیقت اس سے زیادہ نہیں کہ وہ اقوال ان صوفیاء کی زبانوں سے عرفان الہی کی جستجو کی راہ میں سیر سلوک کی بعض پست منازل پر غلبہ جذب وسکر کے عالم میں سرزد ہوئے یا شیطان کے تصرف نے عالم بے خودی میں ان سے وہ الفاظ کہلائے جن پر سکر سے صحو میں آنے کے بعد انہوں نے توبہ کرلی۔ جو صوفیا اسی حال میں گرفتار رہے اور کفر طریقت کی حالت میں مر گئے۔ ان کا معاملہ بروز محشر خدائے عزوجل کے ساتھ ہے۔ ان حضرات نے کبھی اس امر پر اصرار نہیں کیا کہ عامتہ المسلمین سے اپنی الوہیت یا ربوبیت، نبوت یا مجددیت ومسیحیت تسلیم کرائیں۔ یا اپنے ان اقوال کو مستقل دعاوى کی شکل دے کر لوگوں میں اپنی برتری اور فضیلت قائم کرنے کے لئے انہیں اپنی زندگی کا مشن قرار دے لیں۔ اس کے برعکس مرزا غلام احمد کے ہاں ہم دیکھتے ہیں کہ اس شخص نے بقائمی ہوش وحواس خمسہ ایسے ایسے دعاوى کئے ہیں اور زندگی بھر ان کی صداقت پر اور انہیں دوسروں سے منوانے کے لئے پیہم اصرار کیا ہے جن میں سے ہر ایک بجائے خود انسان کو اسلام سے بعید اور ایمان سے دور لے جانے والا ہے۔ ان میں سے چند ایک جن سے عامتہ المسلمین کا بچہ بچہ آگاہ ہو چکا ہے حسب ذیل ہیں۔ ”انت منی وانا منك وانت منی بمنزلة اولادی“ (دافع البلاء ص ٦، خزائن ج ١٨ ص ٢٢٧) یعنی تو مجھ سے اور میں تجھ سے اور تو مجھے میری اولاد کی مانند ہے۔
......٢
عیسیٰ کجاست تابنہد پابمنبرم
(ازالہ ص ١٥٨، خزائن ج ٣ ص ١٨٠)
......٣
اس سے بہتر غلام احمد ہے
(دافع البلاء ص ٢٠، خزائن ج ١٨ ص ٢٤٠)
......٤
منم محمد و احمد کہ مجتبیٰ باشد
(تریاق القلوب ص ٣، خزائن ج ١٥ ص ١٣٢)
١١٠
- ٥...... جو کوئی میری جماعت میں داخل ہوا در حقیقت وہ آنحضرت ﷺ کے صحابہ
میں داخل ہوا۔
(خطبہ الہامیہ ص ٢٥٩، ٢٥٨، خزائن ج ١٦ ص ایضاً)
- ٦...... آسمان سے کئی تخت اترے سب سے اونچا میرا تخت بچھایا گیا۔
(تذکرہ ص ٣٣٩)
- ٧...... ”لولاك لما خلقت الافلاك“
(البشریٰ ج ٢ ص ١١٢)
- ٨...... ”انت اسمی الاعلیٰ“
(تذکرہ ص ٣٩٢)
- ٩...... پس اے ناظرین میں قصر نبوت کی وہی آخری اینٹ ہوں۔
(خطبہ الہامیہ ص ٧٨، خزائن ج ١٦ ص ایضاً)
- ١٠...... ہر نبی میں جو الگ الگ کمالات تھے وہ سب مجموعہ مجھ میں ہے۔
(ملفوظات احمدیہ ج ٤ ص ١٤٢)
- ١١......
داد آں جام را مرا بتمام
(نزول المسیح ص ٩٩، خزائن ج ١٨ ص ٤٧٧)
- ١٢....... میں نے خواب میں دیکھا کہ میں ہو بہو اللہ ہوں اور میں نے یقین کرلیا
کہ میں وہی ہوں۔ پھر میں نے ایک آسمان بنایا اور زمین بنائی۔ (آئینہ کمالات اسلام ص ٥٦٥،٥٦٤، خزائن ج ٥ ص ایضاً) ”وغیر ذلك من الهفوات والخرافات والهذيانات “ جن سے مرزا کی تصانیف پٹی پڑی ہیں۔
مرزائے قادیانی کی اس یاوہ گوئی کے مقابلہ میں صوفیائے کرام کے جو اقوال پیش کئے جارہے ہیں۔ ان میں سے ایک تو منصور حلاج کا نعرہ اناالحق ہے۔ دوسرے حضرت شبلیؒ کا قول ہے۔ ”لیس فی جبتی سوی اللہ“ حضرت بایزید بسطامیؒ کا قول ”سبحانی ما اعظم شانی“ حضرت بایزید بسطامیؒ کی طرف منسوب کیا ہوا فقرہ ”لوای رفع من لوائے محمد“ حضرت شیخ عبدالقادر جیلانیؒ کا قول ”قدمی علی رقبة کل ولی اللہ“ اور اسی قسم کے دوسرے اقوال ہیں۔ جن کے متعلق اوّل تو تحقیقی طور پر یہ ثابت بھی نہیں ہوسکتا کہ ان بزرگوں کی زبان سے یہ اقوال سرزد ہوئے اور اگر ان کو بفرض محال صحیح بھی تسلیم کرلیا جائے تو صوفیائے کبیر
١١١
و عارفین حقیقت کا متفقہ فیصلہ یہ ہے کہ اس قسم کے اقوال ان حضرات سے جذب وسکر کے عالم میں سرزد ہوئے جو سیر سلوک کی ابتدائی اور پست منزل ہے۔ مزید ترقی کے لئے ان سے تائب ہونا لازمی امر ہے۔ ورنہ سالک کی ترقیات رک جاتی ہیں۔ وہ کفر طریقت کی حالت میں مر جاتا ہے جو ان لوگوں کے نزدیک کفر شریعت سے کسی طرح کم نہیں۔ علاوہ بریں جذب وسکر کے عالم میں کہے ہوئے کلمات پر شریعت مؤاخذہ نہیں کرتی۔ بشرطیکہ یہ ثابت ہو جائے کہ گویندہ صاحب عقل وشعور نہیں تھا۔ لیکن طریقت ان پر بھی مؤاخذہ کرتی ہے اور ایسے مجذوبوں کی ترقی رک جاتی ہے۔ سیر سلوک کی راہ کے مخاطر ومہالک سے باخبر بزرگ حضرت امام ربانی مجدد الف ثانی شیخ احمد سرہندی علیہ الرحمۃ نے اپنے مکتوبات میں جابجا صوفیائے کرام کی شطحیات پر تبصرے کئے ہیں۔ جن میں سے چیدہ چیدہ عبارتیں ذیل میں نقل کی جاتی ہیں۔
مکتوب ٤٣ دفتر اول:
اگر کوئی کہے کہ متقدمین مشائخ میں سے بعض کی عبارتوں میں بھی ایسے الفاظ واقع ہیں جن سے صاف طور پر توحید وجودی ثابت ہوتی ہے تو وہ اس بات پر محمول ہیں کہ ابتداء میں علم الیقین کے مقام میں ان سے اسی قسم کے الفاظ سرزد ہوئے ہیں اور آخر کار ان کو اسی مقام سے گزار کر عین الیقین تک لے گئے ہیں۔
مکتوب نمبر ١٠٠ دفتر اول:
آپ کا گرامی قدر نوازش نامہ موصول ہوا۔ جو کچھ از روئے کرم آپ نے لکھا ہے واضح ہوا۔ آپ نے لکھا تھا کہ شیخ عبدالکبیر یمنی نے کہا ہے کہ حق تعالیٰ عالم الغیب نہیں۔ میرے مخدوم فقیر کو اس قسم کی باتیں سننے کی تاب نہیں بے اختیار میری فاروقی رگ جوش میں آ جاتی ہے اور اس میں توجیہہ و تاویل کی فرصت نہیں دیتی۔ ایسی باتوں کا قائل کبیر یمنی ہو یا شیخ اکبر شامی۔ مگر ہمیں تو محمد عربی علیہ الصلوٰۃ والسلام کا کلام درکار ہے۔ نہ کہ محی الدین عربی اور صدر الدین قونوی اور عبدالرزاق کاشی کی گفتگو۔ ہم کو نص سے کام ہے نہ فص سے۔ فتوحات مدینہ یعنی احادیث نے ہم کو فتوحات مکیہ سے لاپروا کر دیا ہے۔
مکتوب ٢٠٢ دفتر اول:
دوسرے یہ کہ وہ شخص جو اپنے آپ کو حضرت صدیقؓ سے افضل جانے اس کا امر دو حال سے خالی نہیں یا وہ زندیق محض ہے یا جاہل۔
١١٢
مشائخ نے غلبہ سکر میں بہت نامناسب باتیں کہی ہیں۔ چنانچہ شیخ بسطامؒ فرماتے ہیں ۔ ”لوائی ارفع من لواء محمدؐ“ میرا جھنڈا محمدؐ کے جھنڈے سے بلند ہے۔ ایسی باتوں سے افضل ہونے کا گمان نہیں کر سکتے۔ یہ عین زندقہ ہے۔
مکتوب ٢٢٠ دفتر اوّل:
بایزید بسطامیؒ باوجود اس بزرگی کے شہود و مشاہدہ سے آگے نہیں بڑھے اور سبحانی ما اعظم شانی کے تنگ کوچے سے باہر قدم نہیں نکالا۔
معلوم ہوتا ہے کہ آخر حال میں بایزید رحمتہ اللہ علیہ کو اس نقص پر اطلاع بخشی گئی کہ موت کے وقت اس طرح کہتے تھے۔
(میں نے تجھے یاد نہیں کیا۔ مگر غفلت سے اور میں نے تیری خدمت نہیں کی۔ مگر سستی سے) انہوں نے اپنے پہلے حضور کو غفلت جانا۔ کیونکہ وہ حق تعالیٰ کا حضور نہ تھا۔ بلکہ ظلال میں سے ایک ظل کا حضور اور اس کے ظہورات میں سے ایک ظہور تھا۔ پس ناچار حق تعالیٰ سے غافل رہے۔
مکتوب ٢٩٣ دفتر اوّل:
اور یہ جو حضرت شیخ عبدالقادرؒ نے فرمایا ہے۔ (میرا قدم تمام ولیوں کی گردن پر ہے) عوارف المعارف والا جو شیخ ابوالنجیب سہروردیؒ (جو حضرت شیخ عبدالقادر جیلانیؒ کے محرموں اور مصاحبوں سے ہے) کا مرید اور تربیت یافتہ ہے۔ اس کلمہ کو ان کلمات سے بیان کرتا ہے جو عجب اور خود بینی پر مشتمل ہیں۔ جو ابتدائے احوال میں بقیہ سکر کے باعث مشائخ سے سرزد ہوتے ہیں۔
مکتوب ٨٠ دفتر دوم:
آپ نے تمہید عین القضات کی عبارت کے معنی پوچھے تھے کہ اس میں ہے کہ جس کو تم خدا جانتے ہو وہ ہمارے نزدیک محمد (ﷺ) ہے اور جس کو تم محمدﷺ جانتے ہو وہ ہمارے نزدیک خدا ہے۔
میرے مخدوم! اس قسم کی عبارتیں جو توحید و اتحاد کی خبر دیتی ہیں سکر کے غلبوں میں جو مرتبہ جمع ہے اور جس کو کفر طریقت سے تعبیر کرتے ہیں مشائخ قدس سرہم سے بہت صادر ہوتی ہیں۔ اس وقت دوئی اور تمیز ان کی نظر سے دور ہو جاتی ہے۔
١١٣
مکتوب ٩٥ دفتر دوم:
آپ کا صحیفہ شریفہ پہنچا جس میں صوفیہ کی بعض باتوں کی نسبت استفسار درج تھا۔
ان تمام سوالوں کے حل میں مجمل کلام یہ ہے کہ جس طرح شریعت میں کفر واسلام ہے۔ طریقت میں بھی کفر واسلام ہے۔ جس طرح شریعت میں کفر سراسر شرارت ونقص ہے اور اسلام سراسر کمال ہے۔ اسی طرح طریقت میں بھی کفر سراسر نقص اور اسلام سراسر کمال ہے۔
مشائخ قدس سرہم جنہوں نے شطحیات نکالی ہیں اور مخالف شریعت باتیں کہی ہیں۔ سب کفر طریقت کے مقام میں رہے ہیں جو سکر و بے تمیزی کا مقام ہے۔ لیکن وہ بزرگ جو حقیقی اسلام کی دولت سے مشرف ہوئے ہیں اس قسم کی باتوں سے پاک وصاف ہیں۔
اگر کوئی شخص اس حال کے حاصل ہونے اور درجہ کمال اوّل تک پہنچنے کے بغیر اس قسم کی کلام کرتا ہے اور سب کو حق اور صراط مستقیم پر جانتا ہے اور حق وباطل میں تمیز نہیں کرتا تو ایسا شخص زندیق وملحد ہے۔
اس مقام پر اکثر سالکوں کے قدم پھسل جاتے ہیں۔ بہت مسلمان ارباب سکر کی تقلید کر کے راہ راست سے ہٹ کر گمراہی اور خسارہ میں جا پڑے ہیں اور اپنے دین کو برباد کر بیٹھے ہیں۔
مکتوب ٩٩ دفتر دوم:
اگر ان کا اعتقاد ہے کہ حال والا شخص ان مقامات عالیہ والے لوگوں کے ساتھ شرکت ومساوات کا معتقد ہے تو واقعی اس کو کافر وزندیق خیال کریں اور مسلمانوں کے گروہ سے خارج تصور کریں۔ کیونکہ نبوت میں شریک ہونا اور انبیاء علیہم السلام کے ساتھ برابری کرنا کفر ہے۔
جس شخص کا مقصود اس قسم کے احوال سے شہرت اور قبول خلق ہو تو وہ جھوٹا مدعی ہے اور یہ احوال اس کے لئے وبال اور استدراج ہیں۔ جن میں اس کی سراسر خرابی ہے۔
مکتوب ٤٣ دفتر سوم:
قول انا الحق قول سبحانی قول لیس فی جبتی سوی اللہ وغیرہ شطحیات سب اس مرتبہ جمع کے درخت کے پھل ہیں۔ اس قسم کی باتوں کا باعث محبوب حقیقی کی محبت کا غلبہ ہے۔ یعنی سالک کی نظر سے محبوب کے سوا سب کچھ پوشیدہ ہو جاتا ہے اور محبوب کے سوا اس کو کچھ مشہود نہیں ہوتا۔ اس مقام کو مقام جہل ومقام حیرت بھی کہتے ہیں۔
١١٤
صوفیاء اپنی دید کے اندازہ کے مطابق سکر اور غلبہ حال کے وقت بہت سی باتیں زبان سے نکالتے ہیں۔ ان کو ظاہر پر محمول نہ جاننا چاہئے۔ بلکہ ان کی تاویل و توجیہہ میں مشغول ہونا چاہئے۔ کیونکہ مستوں کا کلام ظاہر سے بھٹک کر توجیہہ سے معلوم کیا جاتا ہے۔ واللہ اعلم بحقائق الامور کلھا!
چونکہ آپ نے یہ بیقرار کرنے والی باتیں ایک بزرگ سے نقل کی تھیں۔ اس لئے ان کے حل میں کچھ لکھا گیا۔ ورنہ یہ فقیر اس قسم کی مخالف باتوں کی طرف توجہ نہیں کرتا اور ان کے ردو بدل میں زبان نہیں کھولتا۔
مکتوب ١٢١ دفتر سوم:
اس فقیر نے اس کے معارف سکریہ کو ایک ورق میں جمع کیا ہے۔ سکر کے بقیہ کا سبب ہے کہ اسرار کا ظاہر کرنا جائز سمجھتے ہیں اور سکری کا باعث ہے جو فخر مباہات کرتے ہیں۔ سکر ہی سے ہے کہ دوسروں پر اپنی فضیلت ظاہر کی جاتی ہے۔ جہاں صحو خالص ہے وہاں اسرار کا ظاہر کرنا کفر ہے اور اپنے آپ کو دوسروں سے بہتر جاننا شرک ہے۔
حضرت مجددؒ کی متذکرہ صدر عبارات صوفیہ کے ان اقوال کی حقیقت پر کافی روشنی ڈال رہی ہیں اور ان سے ظاہر ہو جاتا ہے کہ ایسی باتیں جو صوفیائے کرام کی طرف منسوب کی جا رہی ہیں اول تو بہت شاذ ہیں دوسرے وہ حالت غلبہ وسکر کے نتائج میں سے ہیں جن کو اعتبار سے خالی سمجھنا چاہئے۔
تیسرے یہ کہ سیر عرفان میں ایسے اقوال کی ماہیت کمال نہیں بلکہ نقص ہے اور نقص بھی اتنا شدید جسے صوفیائے کرام کی اصطلاح میں کفر طریقت کہا جاتا ہے۔ مزید براں صوفیائے کرام کی اکثر شطحیات کو حضرت مجددؒ صحیح بھی نہیں مانتے۔ جیسا کہ ان کے مکتوب ٢٣ دفتر سوم کی نقل شدہ عبارت کے آخری الفاظ سے ظاہر ہے۔
شیطان کے تصرف کا بیان
غلبہ سکر اور واردات قلبی کو سمجھنے میں غلط فہمی واقع ہو جانے کے علاوہ ایسی باتوں پر شیطان کے تصرف کا احتمال بھی کیا جاسکتا ہے۔ حضرت مجددؒ اپنے مکتوب ١٠٧ دفتر اوّل میں رقم فرماتے ہیں۔
دوسرا سوال یہ ہے کہ صادق طالبوں کے کشف وشہود میں القائے شیطان کو دخل ہے یا نہیں۔ اگر ہے تو کشف شیطانی کی کیفیت کو واضح کریں کہ کس طرح ہے اور اگر دخل نہیں تو کیا وجہ
١١٥
ہے کہ بعض امور الہامی میں خلل پڑ جاتا ہے۔ اس کا جواب اس طرح پر ہے۔ واللہ اعلم بالصواب کہ کوئی شخص القائے شیطانی سے محفوظ نہیں ہے۔ جب کہ انبیاء علیہم السلام میں متصور بلکہ متحقق ہے تو اولیاء میں بطریق اولیٰ ہوگا تو پھر طالب صادق کس گنتی میں ہے۔
حاصل کلام یہ کہ انبیائے کرام علیہم الصلوٰۃ والسلام کو اس القاء پر آگاہ کر دیتے ہیں اور باطل کو حق سے جدا کر دکھاتے ہیں۔ ”فینسخ الله ما يلقى الشيطن ثم يحكم الله ايته“ اسی مضمون پر دلالت کرتی ہے اور اولیاء میں یہ بات لازم نہیں۔
تائب ہونا ضروری ہے
ان الفاظ کے بعد حضرت مجدد صاحبؒ نے اس امر کی تصریح کی ہے کہ اولیاء اللہ کے لئے اپنی واردات کشفی والہامی کو پرکھنے کی صورت صرف یہ ہے کہ وہ حضرت محمد مصطفےٰ بآبائنا ھو وامھاتنا ﷺ کی شریعت کو معیار بنائیں اور جس امر کو اس کے خلاف دیکھیں اسے ترک کر کے اس سے تائب ہوں۔ جیسا کہ حضرت مجدد صاحبؒ نے بھی اپنے مکتوبات میں اپنے ان مشاہدات کے متعلق جن پر خلاف شرع ہونے کا گمان ہو سکتا تھا بارگاہ حضرت ذوالجلال عزاسمہ میں گڑگڑا کر معافی مانگی ہے اور اس خوف کا اظہار کیا ہے کہ کہیں غیرت خداوندی ان لغزشوں پر مواخذہ نہ کرے۔
مرزائے قادیانی کی ہفوات
متذکرہ صدر تصریح سے یہ امر پایہ تحقیق کو پہنچ جاتا ہے کہ صوفیائے کرام کی شطحیات میں سے بعض:
- ......١ پایہ اعتبار روایت سے ساقط ہیں۔
- ......٢ بعض ان کی حالت سکر و جذب کا نتیجہ ہیں۔ جن پر شریعت کوئی مواخذہ
نہیں کرتی اور باتیں احوال کے آغاز میں صادر ہوتی ہیں۔ کمال سے کوئی تعلق نہیں رکھتیں۔
- ......٣ سالک کے لئے ضروری ہے کہ ان لغزشوں سے متنبہ ہو کر بارگاہ خداوندی
میں تائب ہو اور مقتدر اولیاء اللہ نے ایسا کیا ہے اور ان شاذ کلمات کی صحت و درستی پر اصرار کے جرم کے مرتکب نہیں ہوئے۔
اس کے بالکل برعکس مرزائے قادیانی کی ہفوات اوّل تو اس جذب و سکر کا پتہ نہیں دیتیں۔ جن سے ان کا مغلوب الاحوال ہونا اور اس قسم کے کلمات بولنا ظاہر ہو۔ کیونکہ ان میں انبیاء کرام علیہم السلام پر جا بجا اپنی فوقیت ظاہر کی گئی ہے۔ جو صوفیاء کی شطحیات میں نظر نہیں آتی۔ وہاں
١١٦
معاملہ ہی دوسرا ہے اور یہاں محض نقالی اور حد سے بڑھی ہوئی خامی ہے جو عامی سے عامی شخص کو بھی صاف نظر آرہی ہے۔ اس کے علاوہ مرزائے قادیان کے ہاں ان زندیقانہ دعاوی پر اصرار اور انہیں اپنے مریدوں سے منوانے کی پیہم کوشش نظر آرہی ہے۔ جو صوفیائے کرام کے ہاں موجود نہیں۔ صوفیائے عظام کے احوال ان کی ذات تک تعلق رکھتے ہیں۔ انہوں نے کبھی یہ کوشش نہیں کی کہ مخلوق خداوندی سے اپنی الوہیت، نبوت یا مسیحیت کا اعتراف کرائیں۔ نہ انہوں نے ان شطحیات کے مطالب کی تبلیغ کو اپنی زندگی کا مشن بنایا ہے جو مرزا قادیانی کے ہاں بدرجہ اتم موجود ہے۔ لہٰذا مرزا کی ہفوات کو صوفیائے کرام کی شطحیات سے تطبیق دینا کسی لحاظ سے بھی جائز نہیں۔
مقام سکر و مقام صحو
ممکن ہے کہ مرزائی حضرات یہ کہیں کہ مرزا کی یہ ہفوات بھی ان کے عالم سکر کا نتیجہ ہیں۔ لیکن ان کا یہی قول مرزا کے تمام دعاوی نبوت و مسیحیت و مجددیت کے قصر کو دھڑام سے زمین پر گرادینے کے لئے کافی ہے۔ کیونکہ مرزا کے متعلق یہ کہا جاتا ہے اور خود اس کا دعویٰ بھی یہی ہے کہ وہ فرائض نبوت کی تکمیل کے لئے مامور ہوا ہے۔ اپنے دعاوی کے لحاظ سے وہ ان مردان خدا کی صف میں آنے کا خواہاں نہیں جو محبوب حقیقی کے ساتھ انفرادی طور پر واصل ہونے کے مقصد بلند پر اپنی زندگیاں وقف کر دیتے ہیں اور اس سیر میں انہیں جذب وسلوک سے ہی واسطہ پڑتا ہے۔ سکر و بیخودی میں سے بھی گزرنا پڑتا ہے۔ فنا و بقا کی منزلیں بھی طے کرنی پڑتی ہیں۔ جن سب کے احوال و مشاہدات جدا جدا ہیں اور بہرحال ان کی ذات سے تعلق رکھتے ہیں۔ مرزا بندگان خدا کی ہدایت و رہنمائی کا مدعی ہے اور ایسے شخص کے لئے صحو از بس لازمی ہے۔ مجذوب اور سکر زدہ صوفی دوسروں کی رہنمائی نہیں کر سکتا۔ کیونکہ وہ خود دریائے حیرت میں غرق ہوتا ہے اور بعض ایسے کلمات بھی اس کی زبان سے نکل جاتے ہیں جن پر اس کے مرفوع الحال ہونے کے باعث نہ شریعت مواخذہ کرتی ہے اور نہ بندگان خدا کو ان سے تعرض کی ضرورت ہے جو بزرگ فرائض نبوت کو انجام دیتے ہیں۔ ان کا کوئی حال ان کا کوئی کلمہ ان کی کوئی حرکت و جنبش شریعت سے باہر نہیں ہو سکتی۔ چہ جائیکہ وہ اپنے آپ کو بیک وقت حضرت باری تعالیٰ کا باپ اور فرزند بھی ظاہر کریں اور اپنے کو اولوالعزم انبیائے کرام سے افضل بھی جتائیں۔ نیز اس پر اصرار سے کام لیں۔ سکر مقام ولایت کی خصوصیت ہے اور صحو فرائض نبوت کی تکمیل وبجا آوری کے لئے لازمی ہے۔ حضرت مجدد الف ثانی اپنے مکتوب ٩٥ دفتر اوّل میں سکر وصحو کے مقامات پر بحث کرتے ہوئے لکھتے ہیں۔
١١٧
”جاننا چاہئے کہ جو کچھ احکام سکریہ سے ہے مقام ولایت سے ہے اور جو کچھ محو سے ہے۔ مقام نبوت سے تعلق رکھتا ہے کہ انبیائے علیہم السلام کے کامل تابعداروں کو بھی تابعداری کے طور پر محو کے باعث اس مقام سے حصہ حاصل ہے۔“
پس مرزائے قادیانی کے متبعین اگر اپنے پیر و مرشد کے ادعائے نبوت و مسیحیت کو ظل و بروز کا مقام دے کر یہ سمجھتے ہیں کہ وہ امت محمدیہ میں منشائے نبوت و رسالت کی تکمیل کا فرض بجا لا رہے تھے تو وہ یہ کہہ کر اپنا اور اپنے مرشد کا دامن نہیں چھڑا سکتے کہ اس کی ہفوات سکر کا نتیجہ تھیں۔ کیونکہ ایسے شخص کے لئے صحو اور محو مستمر نہایت ضروری ہے۔ اگر مرزا ان کے عقیدہ کے مطابق مجذوب تھا تو اسے اپنے حال پر چھوڑ دینا چاہئے اور اس کی ہفوات کی پیروی کر کے جن کے لئے وہ زندگی بھر تائب نہیں ہوا اور کفر شریعت و کفر طریقت کے حال میں مرا۔ اپنے ایمان کو خراب نہیں کرنا چاہئے۔ حقیقت حال تو یہ ہے کہ مرزا نہ مجذوب تھا نہ سالک۔ اسے ان راستوں کی ہوا تک نہیں لگی۔ اس نے محض نقالی کر کے اپنے ایمان کو بھی برباد کیا اور دوسروں کے لئے بھی ضلالت و گمراہی کی راہیں کھول دیں۔ مرزا کی ہفوات کی کیفیت اور ان کی کثرت ادعا کا تحکم اور ان گمراہیوں پر اصرار ہی یہ ظاہر کرنے کے لئے کافی ہے کہ وہ مفتری اور کذاب تھا اور اسے شریعت غرائے اسلامیہ کے مواخذہ سے بچانے کے لئے کسی قسم کی تاویلات کام نہیں دے سکتیں۔
بندگان خدا کا مسلک
اس موقعہ پر تذکرہ غوثیہ کی اس مشہور داستان کی طرف اشارہ کرنا بیجا نہ ہوگا۔ جس میں حضرت غوث علی شاہ صاحبؒ اور جگراؤں ضلع لدھیانہ کے ایک مست میاں محکم الدین کی ملاقات کا حال درج کیا گیا ہے۔ اس سے واضح ہو جائے گا کہ طالبان معرفت و حقیقت کا مسلک ایسی شطحیات کے متعلق کیا ہوتا ہے اور کیا ہونا چاہئے۔ روایت کی گئی ہے کہ حضرت غوث علیؒ شاہ جب میاں محکم الدین کی شہرت سن کر ان کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ نے ان سے ان کا اسم گرامی دریافت کیا۔ کیونکہ میاں صاحب موصوف مجذوب تھے اور کسی کو ان کے نام کا علم نہ تھا۔ انہوں نے جواب دیا کہ میرا نام خدا ہے۔ اس پر شاہ صاحب خاموش ہو گئے۔ چند لمحہ کے بعد میاں محکم الدین نے شاہ صاحب سے سوال کیا کہ تمہارا نام کیا ہے۔ جس کا جواب شاہ صاحب نے اپنے مخصوص ظریفانہ انداز میں یہ دیا کہ اچھے خدا ہو جو اپنے بندوں کے ناموں سے بھی واقف نہیں۔ اس پر میاں محکم الدین نے بُرانا شروع کر دیا کہ تمہارا نام غوث علی باپ کا نام یہ، پردادا کا نام یہ۔ شاہ صاحب نے مجذوب کو ایک اور ایسی ہی چبھتی ہوئی بات کہہ کر روک دیا
١١٨
کہ صاحب رہنے دیجئے۔ معلوم ہو گیا کہ آپ رسلِ خدا ہیں۔ جب تک رمل نہیں پھینکتے آپ کو کچھ معلوم نہیں ہو سکتا۔
تھوڑی دیر کی خاموشی کے بعد میاں محکم الدین نے شاہ صاحب سے اپنی رسالت کا اقرار لینا چاہا۔ کیونکہ الوہیت تسلیم کرانے کے امتحان سے وہ صاف نکل گئے تھے اور کہا کہ محکم الدین رسول اللہ کہو۔ اس پر شاہ صاحب نے جو جواب دیا وہ ہر مسلمان کو اپنے لئے مشعل راہ بنانا چاہئے۔ شاہ صاحب نے کہا کہ حضرت! کرم فرمائیے۔ رسول تو مدینے والے ہی کو رہنے دیجئے۔ وہاں آپ کی دال نہیں گل سکتی۔ وہی خدائی کا دعویٰ کیجئے۔ کیونکہ آپ سے پہلے بہتیرے فرعون، نمرود اور شداد یہ دعویٰ کر چکے ہیں۔
حاصل کلام یہ کہ کوئی شخص خواہ وہ کسی حال میں ہو الوہیت کا دعویٰ کرنے سے ویسا ہی مردود ہو جاتا ہے جیسے کہ فراعنہ اور نماردہ مردود ہو چکے ہیں۔ لیکن نبوت کا دعویدار اور وہ بھی حضرت ختمی مرتبت ﷺ کی نبوت کے بعد اور اس کے علی الرغم چہ از روئے شریعت و چہ از روئے طریقت (جو شریعت سے باہر نہیں) مردود تر ہے اور مرزا کو جو مسیح و کلیم و محمد واحمد ہونے کا مدعی ہے۔ اضل واکفر نہ سمجھا جائے تو اور کیا سمجھا جائے۔
مادی عوامل پر انسان کی روحانیت کا اثر
مرزائے قادیان کی پیش گوئیوں پر ایک تنقیدی نظر
ایک عامی سے عامی مسلمان جو قرآن پاک کے مطالب و مضامین کو دور از کار تاویلوں اور موشگافیوں کے بغیر سیدھے سادے طریق سے سمجھنے کی اہلیت رکھتا ہے۔ ان قوموں اور آبادیوں کے عبرتناک انجام سے بے خبر نہیں۔ جن کا عصیان وطغیان عذاب وعتاب الٰہی کو جوش میں لانے پر منتج ہوا۔ جن کے عقائد واعمال کی ظلمتیں اپنے منتہائے عروج کو پہنچنے کے بعد انہیں اس ہولناک انجام تک پہنچانے کا سبب بنیں کہ اجڑی ہوئی بستیوں کے مٹی اور ریت کے نیچے دبے ہوئے آثار اور ان کی حد سے بڑھی ہوئی سرکشیوں کے بکھرے ہوئے افسانوں کے سوا ان کی یاد تک دلانے والی کوئی چیز باقی نہ رہی اور یہ بھی اس لئے کہ نوع انسانی کی بعد میں آنے والی نسلیں ان کے احوال پر غور کر کے درس عبرت حاصل کر سکیں اور اگر انہیں اپنی فلاح و بہبود منظور ہو تو تمدن وعمران کی اس شاہراہ پر گامزن ہوں جو انہیں دنیوی اور اخروی سعادتوں تک پہنچانے والی ہے اور جسے جاننے کے لئے کوئی بہت زیادہ عمیق فکر اور الجھے ہوئے استدلال کی ضرورت نہیں۔
١١٩
اسلام کے نام لیوا جانتے ہیں کہ حضرت نوح علیہ السلام کی قوم نے اللہ کی رسی کو ہاتھ سے چھوڑ دیا۔ شرک اور بت پرستی کی گمراہیوں میں پڑ کر معمورۂ عالم کو طرح طرح کے فسق و فجور سے معمور کر دیا اور پکارنے والے کی پکار کو نہ سنا تو اس پر زمین کے شگاف اور آسمان کے دروازے کھول دیئے گئے۔ جن کی راہوں سے پانی کے ایک ہیبت ناک طوفان نے حملہ کر کے تمام انسانی آبادیوں کو ڈھانپ لیا اور خدا کی ہستی سے انکار اور اس کے احکام سے سرکشی کرنے والے لوگوں کو نیست و نابود کر دیا۔ انہیں یہ بھی معلوم ہے کہ قوم عاد کو ان کی سرکشی اور فتنہ انگیزی کی بناء پر سزا دینے کے لئے خدائے ذوالجلال کا قہر آٹھ دن مسلسل چلنے والی تیز آندھی کی شکل میں نازل ہوا۔ جس نے اس قوم کے تمام گردن فرازوں کو ناگہانی موت کی نیند سلا دیا۔ اس کے بعد جب ثمود کی قوم کو ان کے اعمال کی سزا دینے کا وقت آیا تو ان کی پیٹھ پر قدرت کا تادیبی اور تخریبی تازیانہ خوفناک گرج اور بجلی کی صورت میں لگا۔ جس نے آناً فاناً ان سب کو بے جان کر کے رکھ دیا۔ سدوم اور عمورہ کے لوگوں نے جب فسق و فجور میں یہاں تک غلو سے کام لیا کہ خلاف وضع فطرت جرائم کے مرتکب ہونے لگے تو ان کی بستیاں زلزلہ کے ہلاکت خیز جھٹکوں اور آتش فشاں پہاڑ کے دہانہ سے اچھل اچھل کر گرنے والے سنگریزوں کی بے پناہ بارش سے تباہ ہو گئیں۔ مدائن کے لوگوں کی بدمعاملگی جب ناقابل علاج ثابت ہوئی تو ان کو دھوئیں اور ابر کی گھنگھور گھٹاؤں نے گھیر لیا اور زلزلہ نے آ کر ان کی عمرانی اور انفرادی زندگیوں کا خاتمہ کر دیا۔ سبا والوں کی بستیاں پہاڑوں پر سے امنڈ امنڈ کر آنے والے سیل رواں کے سامنے بہہ گئیں اور وہ ملک جو سرسبزی اور شادابی میں نظیر نہ رکھتا تھا لق و دق صحرا بن کر رہ گیا۔ جس میں باغوں اور کھیتوں کی جگہ بیریاں اور جھاڑیاں اُگ آئیں۔ فرعونِ مصر کو اس کی سرکشی کی سزا یوں ملی کہ دریائے قدیم کا وہی پانی جس نے پایاب ہو کر بنی اسرائیل کو گزرنے کے لئے راہ دے دی تھی۔ اس کے لشکروں کو اپنی ہولناک لپیٹ میں لینے کے لئے بلیوں چڑھ گیا۔
غرض نوع انسانی کی تاریخ کے یہ عبرت انگیز اور ہولناک واقعات پکار پکار کر کہہ رہے ہیں کہ انسان کو اس کی بداعمالیوں کی سزا دینے کے لئے قدرت کے ظاہری اور خفی عوامل میں سے کوئی ایک عامل وقت پر جوش میں آ جاتا ہے اور اپنا کام کر جاتا ہے۔ عواملِ قدرت کے ہاتھوں تباہ ہونے والی اقوام کی خدا ناترسی اور ان کے اخلاقی تسفل کے حالات ہمیں صحائف آسمانی کے علاوہ دوسرے تاریخی شواہد سے بھی مل رہے ہیں اور عتیقیات سے عصرِ حاضر کی دلچسپیاں جس قدر بڑھ رہی ہیں اسی قدر ان کی سیہ کاریوں اور فتنہ پردازیوں اور ان کے مظالم و مصائب کے حالات روشنی
١٢٠
میں آ رہے ہیں اور عصر حاضر کا انسان اس بے لوث صداقت کے سامنے سر تسلیم خم کرنے پر مجبور ہو رہا ہے۔ جو آج سے ساڑھے تیرہ سو سال قبل خدائے وحدہ لاشریک نے حضرت ختمی مرتبت ﷺ کی وساطت سے نوع انسان پر پوری پوری وضاحت کے ساتھ بیان کر دی تھی کہ دنیا میں قوموں کے عروج و زوال اور ان کے فنا و بقاء کا راز کس چیز میں مضمر ہے؟
اس کے علاوہ القدر خیرہ وشرہ من اللہ تعالیٰ پر ایمان رکھنے والی امت کے افراد جانتے ہیں کہ آفات ارضی و سماوی کے نزول میں سرکشوں کو سزا دینے کے علاوہ خدائے لایزال کی بعض دوسری مصلحتیں بھی مضمر ہوتی ہیں۔ جن کا تعلق نیک بندوں کے امتحان، ان کے ایمان کے استحکام ان کے مدارج روحانی کی ترقی اور غفلت شعار بندوں کے لئے انتباہ کا سامان مہیا کرنے سے ہے اور جس پر قرآن کریم کی آیت ”ولنبلونکم بشئ من الخوف والجوع ونقص من الاموال والانفس والثمرات وبشر الصبرین ، الذین اذا اصابتهم مصيبة قالوا انا لله وانا اليه راجعون (البقره: ١٥٦،١٥٥)“
انفسی اور آفاقی مصائب سے انبیائے کرام علیہم السلام اور امت محمدیہ کے صلحائے عظام کو بسا اوقات سامنا ہوا اور امت مسلمہ کو اجتماعی حیثیت سے بھی بارہا خدائے بزرگ و برتر کے بھیجے ہوئے امتحانوں اور ابتلاؤں میں سے گزرنا پڑا ہے۔ لیکن حضرت ختمی مرتبت علیہ الصلوٰۃ والسلام کی امت اس فنا آموز تباہی و بربادی سے اس لئے محفوظ ہے کہ اس نے ہادی برحق ﷺ کے پیغام پر لبیک کہا اور ان سرکش اقوام کی طرح خدا کے احکام سے روگردانی نہیں کی۔ جو اپنے کفران و عصیان کے باعث صفحہ ہستی سے نیست و نابود ہوگئیں۔ کیونکہ عوامل قدرت کی ہمہ سوز قہر پاشیاں تو ان لوگوں کے لئے مختص تھیں۔ جنہوں نے پکارنے والوں کی پکار کو سنا۔ لیکن اس کی تکذیب کے مرتکب ہوئے۔ قرآن حکیم کے خدا کا آخری پیغام اور رسول کریم ﷺ کے خاتم النبیین ہونے کے معنی یہی ہیں کہ تا قیام قیامت ان دو صداقتوں پر ایمان رکھنے والے لوگ ناپید نہ ہوں گے اور اسی لئے کسی اور بشیر و نذیر کے آنے کی ضرورت ہی پیش نہ آئے گی اور جب خدا کے آخری نبی کے توسط سے ملنے والے خدا کے آخری پیغام پر ایمان رکھنے والا ایک شخص بھی باقی نہ رہے گا تو حسب دستور سابق خدا کو کسی مرسل کے بھیجنے کی ضرورت نہ ہوگی۔ بلکہ اس نوع انسانی کو اس آخری امتحان سے دوچار کر دیا جائے گا۔ جو کہ زلزلۃ الساعۃ، قیامت، طامۃ الکبریٰ، غاشیہ، واقعہ، قارعہ اور اس قسم کے دوسرے ناموں سے پکارا گیا ہے اور جس کے نزدیک آنے کی خبر پورے پورے وثوق اور وضاحت کے ساتھ صرف خدائے ذوالجلال کے امی النبی نے دی ہے جو خاتم المرسلین ہے۔
١٢١
- ٢...... یہی وہ اسلامی معتقدات ہیں جن کی طرف میں نے گاندھی اور ٹیگور کی اس
فلسفیانہ بحث کو درج اخبار کرتے ہوئے ایک مختصر سے تمہیدی نوٹ میں اشارہ کیا تھا جو ان کے درمیان زلزلہ بہار اور اس کے اخلاقی روحانی اور مادی اسباب و علل کے بارہ میں شروع ہو گئی تھی میں نے لکھا تھا۔
”مہاتما گاندھی نے زلزلہ بہار کے متعلق یہ خیال ظاہر کیا تھا کہ زلزلہ اہل ہند کے ان گناہوں کا نتیجہ ہے جو ان سے چھوت چھات کی شکل میں انسانی حقوق کو پامال کرنے کے باعث سرزد ہو رہے ہیں۔ اس پر بنگالی شاعر ڈاکٹر ٹیگور نے فلسفیانہ خیالات کا اظہار کرتے ہوئے لکھا تھا کہ مادی عوامل و مظاہر کو انسان کے اخلاق سے کوئی تعلق نہیں۔ بلکہ ایسے حادثات محض قوائے قدرت کے غیر معمولی اجتماع کا اتفاقی نتیجہ ہوتے ہیں۔ اس کے جواب میں گاندھی جی نے اپنے عقیدہ پر اصرار کرتے ہوئے ایک مضمون لکھا ہے۔ جسے ہم قارئین زمیندار کی خدمت میں اس لئے پیش کرتے ہیں کہ وہ دیکھیں کہ قرآن پاک کے مطالعہ نے گاندھی جی کے خیالات کو اسلام سے کس قدر قریب کر دیا ہے۔ زلزلہ کی نوع کے حوادث اور ارضی و سماوی بلاؤں کے نزول کے متعلق خواہ وہ انفسی ہوں یا آفاقی ، انفرادی ہوں یا اجتماعی ایک معمولی سے معمولی مسلمان بھی یہ عقیدہ رکھتا ہے کہ.. قدرت کی طرف سے انسان کے لئے سزا یا انتباہ یا آزمائش یا تزکیہ نفس و ترقی مدارج روح کے لئے ایک تازیانہ کی حیثیت رکھتے ہیں اور کائنات کی کوئی بات یونہی بے مقصد واقع نہیں ہوتی۔ جیسے کہ ٹیگور کا خیال ہے۔ بلکہ ہر جنبش اور ہر حرکت میں خدائے ذوالجلال کا کوئی مقصد پوشیدہ ہوتا ہے۔ جسے سمجھنے کی ہمیں کوشش کرنی چاہئے۔ گاندھی جی نے اسی اسلامی عقیدے پر اصرار کیا ہے۔ معلوم ہونا چاہئے کہ ایمان و حکمت کے جو موتی ہمارے ہاں عوام الناس میں ارزاں ہو چکے ہیں ان پر غیر مذاہب کے فلاسفر ابھی تک فلسفیانہ بحثیں کر رہے ہیں اور انہیں سمجھنا چاہتے ہیں۔“
- ٣...... میرے اس شذرہ پر لاہوری مرزائیوں کے اخبار پیغام صلح میں مرزائے
قادیانی کے ایک مقلد خان صاحب چوہدری محمد منظور الہی نے زلزلہ بہار کو مرزا کی صداقت کا نشان قرار دیتے ہوئے ایک مضمون سپرد قلم کیا ہے۔ جس کا عنوان ”زمیندار اینڈ کو گاندھی جی کے قدموں میں“ دیا گیا ہے۔ مرزائے قادیانی کی امت کو جھوٹ بولنے ، واقعات کو توڑ مروڑ کر بیان کرنے اور لاطائل تاویلوں سے کام لینے میں جو مہارت حاصل ہے وہ کسی پڑھے لکھے انسان سے مخفی نہیں۔ میرا مقصد جیسا کہ شذرہ مذکور بالا کی عبارت سے ظاہر ہے اس کے سوا کچھ نہ تھا کہ انسان کے
١٢٢
روحانی ترفع و تسفل سے کائنات کے مادی عوامل کا گہرا تعلق ہونے کے مسئلہ پر ٹیگور کی بہ نسبت گاندھی کے خیالات اسلامی عقائد سے زیادہ قریب ہیں۔ کیونکہ گاندھی نے قرآن حکیم کا مطالعہ کیا ہے۔ گاندھی نے لکھا تھا کہ میرا ایمان ہے کہ مادی دنیا میں کوئی حادثہ خدا کی مرضی اور اس کے ارادہ کے بغیر وقوع پذیر نہیں ہو سکتا اور خدا انسان کو بلا وجہ سزا یا مصیبت میں مبتلا نہیں کرتا۔ بلکہ اس کے ہر کام میں کوئی حکمت مضمر ہوتی ہے۔ اس کے ساتھ ہی اس نے یہ بھی لکھا تھا کہ میں ذاتی طور پر زلزلہ بہار کو ہندوؤں کے ان گناہوں کا نتیجہ سمجھ رہا ہوں۔ جو چھوت چھات کی بدولت نوع انسانی کے ایک طبقہ پر ظلم کرنے کی شکل میں ان سے سرزد ہو رہے ہیں اور میں محسوس کرتا ہوں کہ روح اور مادہ کے درمیان ایک ناقابل انفصال ازدواجی تعلق ہے۔ ظاہر ہے کہ ارضی و سماوی آفات کے نزول کے معاملہ میں گاندھی جی کے خیالات فلسفہ اسلام سے اقرب ہیں اور ان کے ضمیر پر آفتاب صداقت کی ضیاء اگر پورے طور پر نہیں تو بہت بڑی حد تک شعاع افگن ہو چکی ہے۔ لیکن میرا یہ کہنا کہ گاندھی جی کے خیالات پر قرآن پاک کے مطالعہ کا اثر نظر آ رہا ہے۔ زمیندار اینڈ کو کے قدموں میں سر رکھنے کے مرادف کیونکر ہو گیا اور کمیٹی خلافت کی وہ کون سی اندھی منطق ہے جو اس اظہار کو گاندھی جی کے چرنوں میں گرنے سے تعبیر کر رہی ہے۔
عالم روحانیات اور عالم مادیات کے باہمی تعلق اور ان پر عوالم جبروت ولاہوت کے ارادوں کے اثرات کے متعلق امت مسلمہ کے عارفین حق جن نتائج پر پہنچے ہیں وہ کچھ اور ہی ہیں اور میں ان کا ذکر اس بحث میں لانے کی ضرورت محسوس نہیں کرتا۔ کیونکہ اس وقت میرا روئے سخن مرزائیوں سے ہے۔ جنہیں اس کوچہ کی ہوا بھی نہیں لگی۔ صرف اسی قدر کہہ دینا کافی ہے کہ اسلامی فلسفہ کے نزدیک عالم مادیات عالم روحانیات کا اور عالم روحانیات اس کے پرے کے عوالم کا تابع ہے۔ جن کا سرا ذات بحت کے ”غیر متکیف بکیفیۃ ما“ عالم سے جاملتا ہے۔
- ٤....... ”پیغام صلح“ کے مرزائی مضمون نگار کا مقصد اس تحریر سے یہ ہے کہ ہم نے
آنکھیں بند کر کے ان کے اس دعویٰ کو تسلیم کیوں نہیں کر لیا کہ بہار کے لوگوں پر زلزلہ کی یہ ناگہانی آفت محض اس لئے نازل ہوئی ہے کہ اہل عالم نے اس کے قادیانی پیشوا کی مسیحیت و مہدویت یا مجددیت ومحدثیت کو تسلیم نہیں کیا۔ مرزائے قادیانی کے اقوال واعمال میں اگر کوئی معقول بات نظر آئے تو مجھے اسے معقول کہنے میں کبھی تامل نہ ہوگا۔ لیکن مشکل یہ ہے کہ اس کی تحریرات کی بھول بھلیاں اہل خرد واہل نظر کے نزدیک خرافات کے ایک طومار سے زیادہ وقعت نہیں رکھتیں اور اس کے عجیب و غریب دعاوی محض اس لئے صحیح قرار نہیں دئے جاسکتے کہ بہار میں یا جاپان میں یا
١٢٣٣
امریکہ یا دنیا کے کسی اور خطہ میں پے بہ پے زلزلے آ رہے ہیں اور اہل عالم پر دیگر اقوام کی ارضی و سماوی یا انفسی و آفاقی آفات نازل ہورہی ہیں۔ اس قسم کے حوادث مرزائے قادیانی کے خروج سے پہلے بھی واقع ہوتے رہے ہیں اور تا قیام قیامت واقع ہوتے رہیں گے اور جن لوگوں کو مبدء فیاض سے فراست ایمانی عطاء ہوچکی ہے۔ وہ اس نوع کے حوادث کے اسباب و علل سے بھی بخوبی آگاہ ہیں اور جانتے ہیں کہ قیامت تک کے عرصہ کے لئے جس بشیر اور نذیر کو آنا تھا وہ محمد عربیﷺ کے وجود قدسی کی شکل میں آچکا ہے۔ آپ کے بعد دنیا کے کسی گوشہ اور نوع انسانی کے کسی طبقہ کے لئے کسی اور بشیر و نذیر کے آنے کی ضرورت باقی نہیں رہی۔ کیونکہ حضرت ختمی مرتبتﷺ کی برپا کی ہوئی امت وسطیٰ ہی اہل عالم پر شاہد اور نوع انسانی کے لئے بشیر و نذیر ہے اور ہر سچا مسلمان اپنے وجود اور اپنے اعمال صالحہ سے ان لوگوں پر اتمام حجت کر رہا ہے جو ابھی ایمان و ایقان کی دولت سے بہرہ ور نہیں ہوئے۔ جب تک حضرت ختمی مرتبتﷺ کے حلقہ بگوش موجود ہیں نوع انسان پر ویسی ہلاکت آفریں تباہی نہیں آسکتی۔ جس نے نوح، عاد، ثمود اور مدین کی اقوام کو بے نشان کر دیا تھا۔ کیونکہ غلامان محمد کے ایمان اور ان کے اعمال صالح کے روحانی مؤثرات ان مادی عناصر کو قابو میں رکھنے کے لئے کافی ہیں۔ جنہیں نوع انسانی کا عصیان جوش میں لانے کا موجب بنا کرتا ہے۔ ہمیں بتایا جاچکا ہے کہ جب تک سطح ارضی پر ایک بھی مرد مؤمن باقی ہے نوع انسانی تباہ نہیں ہوسکتی اور جب دنیا ایمان داروں سے خالی ہو جائے گی تو نوع انسانی کے لئے آخری قیامت آجائے گی۔ کیونکہ خاتم النبیینﷺ کے بعد نوع انسانی کی ہدایت کے لئے کسی رسول کے بھیجنے کی ضرورت باقی نہیں رہی۔ پس زلزلہء بہار کی نوع کے حوادث کو انسان کے عصیان کا نتیجہ اور قدرت کی طرف سے انتباہ تو کہا جاسکتا ہے۔ لیکن اسے خود ساختہ مدعی نبوت و مجددیت کی صداقت کا نشان قرار نہیں دیا جاسکتا۔
٥...... زلازل اور اسی قسم کے دیگر حوادث کو مرزائے قادیانی کی صداقت کا نشان قرار دینے میں اندلسی اور دمشقی مرزائی یعنی مرزائیوں کی قادیانی اور لاہوری گدیاں متفق اللسان ہیں۔ حالانکہ قادیانی، مرزا کو نبی اور لاہوری اسے مجدد یا محدث قرار دیتے ہیں۔ واضح ہو کہ کسی مجدد یا محدث کے لئے اپنی مجددیت و محدثیت کا دعویٰ کرنے کی ضرورت نہیں ہوتی اور نہ وہ مظاہر قدرت کو اپنے مریدوں کی تعداد بڑھانے کے لئے اپنے نشان صداقت کے طور پر ظاہر کیا کرتے ہیں۔ نافرمان لوگوں کو ہلاکت و بربادی کا پیغام دینا ان انبیائے کرام علیہم السلام کا کام تھا۔ جو ان کی ہدایت و راہنمائی کے لئے مبعوث ہوا کرتے تھے۔ امت مسلمہ میں مجددین اور محدثین کا کام ١٤٣
صحیح عقائد اسلامی کی اشاعت اور لوگوں کے تزکیہ نفس کے سوا اور کچھ نہیں۔ انہیں اس امر کی ضرورت ہی نہیں ہوتی کہ وہ مجدد یا محدث کہلائیں یا خود لوگوں سے مجدد یا محدث منوانے کے لئے مجادلہ کرتے پھریں اور زلزلوں وغیرہ کو اپنی صداقت کا نشان جتائیں۔
یہ لوگ نوع انسانی پر نازل ہونے والی ارضی وسماوی آفات کے ظہور پر جو بغلیں بجانے اور خوشیاں منانے کے عادی ہیں تو اس کی وجہ یہ ہے کہ مرزائے قادیانی نے کمالِ دجل سے کام لے کر اپنے متعدد جھوٹے دعاوی کا سکہ بٹھانے کے لئے چند ایک کاہنانہ پیش گوئیاں کر رکھی ہیں۔ ان پیش گوئیوں کو مختلف حوادث پر منطبق کرنے کے لئے یہ لوگ اسی تلبیس بازی سے کام لینے کے عادی ہیں جو ان کے پیر و مرشد کا شیوہ تھی۔ آخری زمانہ میں یعنی قیامت کے قریب زلزلوں کے پے در پے آنے بلکہ اس سے بھی عجیب تر واقعات کے ظہور پذیر ہونے کی پیش گوئیاں خود کلام مجید میں اور احادیث نبوی ﷺ میں موجود ہیں۔ جن کو دیکھ کر اور نا آگاہ لوگوں کے سامنے تحکمانہ انداز میں اپنی طرف سے بیان کر کے ہر شخص اپنی غیب دانی کا مظاہرہ کر سکتا ہے۔ بلکہ فراست ایمانی رکھنے والے اشخاص اس مرزائے قادیانی کی بہ نسبت زیادہ صحت اور زیادہ تیقن کے ساتھ مستقبل قریب و بعید کے حالات بیان کر سکتے ہیں۔ جس کی ہر پیش گوئی مبہم اور شاید اور اغلباً وغیرہ کے قبیل کے الفاظ کی حامل ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ زلزلہ بہار کو مرزا قادیانی کی ان پیش گوئیوں کا ظہور قرار دینا جو اس نے زلازل کے متعلق کی تھیں۔ قادیانیوں کی اسی منطق کا مظاہرہ ہے۔ جس کے رو سے وہ محمدی بیگم کے مرزائے قادیانی کے ساتھ آسمانی نکاح کرنے کی پیش گوئی کی تاویل کر کے یہ کہا کرتے ہیں کہ مرزا کی وفات کے باوجود ابھی محمدی بیگم کے ساتھ اس کے نکاح کا امکان باقی ہے۔ کیونکہ مرزا زلزلہ کے متعلق صاف اور صریح الفاظ میں لکھ چکا ہے کہ: ”وہ زلزلہ میری زندگی میں آئے گا۔“
(ضمیمہ براہین احمدیہ پنجم ص٩٣، خزائن ج٢١ ص٢٥٤)
”آئندہ زلزلہ کوئی معمولی بات نکلی یا میری زندگی میں اس کا ظہور نہ ہوا تو میں خدا تعالیٰ کی طرف سے نہیں۔“
(ضمیمہ براہین احمدیہ پنجم ص٩١، ٩٢، خزائن ج٢١ ص٢٥٣)
ظاہر ہے کہ مرزائے قادیانی نے ١٩٠٥ء والے زلزلہ سے متاثر ہو کر جس میں بھاکسو وغیرہ کے مقامات تباہ ہو گئے تھے یا امریکہ کے زلزلوں سے متاثر ہو کر جو اس کی زندگی میں آئے یہ پیش گوئی کر دی تھی کہ ہندستان میں اس کی زندگی کے اندر اندر خوفناک زلزلہ آئے گا۔ اس کا خیال یہ تھا کہ اگر زلزلہ آ گیا تو پو بارہ ہیں اور نہ آیا تو اخلاف کوئی نہ کوئی تاویل کر لیں گے۔
لاہوری اور قادیانی مرزائی جو مرزا کے اقوال کو راست ثابت کرنے کے
١٢٥
نرے لا طائل تاویلوں سے کام لینے کے عادی ہیں تاکہ اس کی پیش گوئیوں کو اس کی صداقت کا نشان ظاہر کریں۔ اگر اسی چیز کو نبوت یا مجددیت کا ثبوت خیال کرتے ہیں تو انہیں مرزائے قادیانی کی بہ نسبت رسول عربی ﷺ کے اس ناچیز غلام کے ہاتھ پر بیعت کرنی چاہئے۔ جس نے مرزائیوں اور ان جیسے دوسرے راہ گم کردہ انسانوں کے عقائد واعمال کی زبون حالی سے متاثر ہو کر زلزلہ کے وقوع سے فقط آٹھ روز پیشتر غیر مشتبہ الفاظ میں ’زمیندار‘ مطبوعہ ٧؍ جنوری ١٩٣٤ء کے پہلے صفحہ پر بخط جلی یہ اعلان چھپوایا تھا۔
فلک کیوں گر نہیں پڑتا زمیں کیوں پھٹ نہیں جاتی
جب اس قسم کی پیش گوئیوں کو معیار صداقت بلکہ دلیل نبوت ومجددیت قرار دینے والے مرزائیوں نے دیکھ لیا ہے کہ اس اعلان کے صرف آٹھ روز بعد زمین پھٹ گئی۔ اس میں کئی جگہ ہاتھیوں کو نگل جانے والی دراڑیں پڑ گئیں اور پندرہ دن کے اندر اندر موسلادھار بارش بھی ہوئی اور شہاب ہائے ثاقب بھی کثیر تعداد میں گرتے دیکھے گئے۔ تو کیا وجہ ہے کہ وہ مرزائے قادیانی کا دامن چھوڑ کر خدا کے متذکرۃ الصدر بندے کے معتقد نہیں بنتے۔ مرزائیوں کو معلوم ہونا چاہئے کہ شعر بالا کا قائل ان کے نبی یا مجدد کی طرح اس قدر کم حوصلہ نہیں کہ اپنی کسی بات کے صحیح ثابت ہو جانے پر کوئی ناز و دعویٰ کر بیٹھے۔ اسے فقط اسی امر پر فخر ہے کہ وہ حضرت ختمی مرتبت ﷺ کے ادنیٰ غلاموں کا غلام ہے۔
- ٧...... قادیانی مرزائی تو اپنے بے بنیاد دعاوی اور بیہودہ تاویلات کے باعث
مرفوع القلم ہو چکے ہیں۔ کیونکہ ان کے پاس کوئی معقول بات دنیا کے سامنے پیش کرنے کے لئے باقی نہیں رہی۔ لاہوری جماعت جو قادیانیوں کی بہ نسبت زیادہ عیار واقع ہوئی ہے۔ اپنے معتقدات کو ایسے بے ضرر سے رنگ میں پیش کرنے کی کوشش کرتی ہے کہ بادی النظر میں وہ محل تنقیح و مورد اعتراض واقع نہ ہو سکیں۔ لیکن جب ان کے پیش کردہ معتقدات کا تجزیہ خود انہی کے قائم کردہ اصول پر کیا جاتا ہے اور ان پر فبہت الذی کفر والی حالت وارد ہو جاتی ہے تو خاموش ہو جاتے ہیں۔ آج سے چند ماہ پیشتر کا ذکر ہے کہ راقم الحروف نے زمیندار میں ”مرزائے قادیانی کی ہفوات تنقید کی کسوٹی پر“ کے عنوان سے ایک مضمون لاہوری جماعت کے ان دعاوی کا بخیہ ادھیڑتے ہوئے لکھا تھا جن میں وہ مرزائے قادیانی کی ہفوات کو صوفیائے کرام کی شطحیات کی مثل جتانے کی کوشش کرتے ہیں اور مسلمانوں کو دھوکا دیتے ہیں۔ لیکن یہ سننے کے باوجود کہ میاں محمد علی
١٢٦
امیر جماعت احمدیہ اور ان کے تمام لاہوری حواری میری مخلصانہ معروضات کا جواب لکھنے میں ہمہ تن مصروف ہیں۔ آج تک کوئی چیز از قسم جواب دیکھنے یا سننے میں نہیں آئی۔ حالانکہ وہ مضمون خود انہی کے استفسار پر سپرد قلم کیا گیا تھا۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ لاہوری جماعت کے ان معتقدات پر وضاحت کے ساتھ کچھ لکھا جائے۔ جنہیں وہ بھولے بھالے اور کم سواد مسلمانوں کو پھسلانے کے لئے ہم رنگ زمین دام کے طور پر پیش کرتے ہیں اور مرزائے قادیانی کے ادعائے نبوت کو چھپا کر یہ ظاہر کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ وہ امت مسلمہ کے بعض جلیل القدر علمائے ربانی کی طرح ایک برگزیدہ عالم تھا۔ اگر مشاغل لازم سے فرصت ملی تو انشاء اللہ العزیز! ان لاہوری مرزائیوں کی دوسری جماعت کی قلعی بھی اسی طرح کھولی جائے گی۔ قادیانی خلافت کے معتقدات کی تکذیب کے لئے یہی لاہوری جماعت پیدا ہوچکی ہے اور لاہوری جماعت کے ظہور و قیام کی داستان سننی ہو تو یکم مارچ ١٩٣٣ء کے الفضل کو ایک نظر دیکھ لینا چاہئے۔ جس میں قادیانی خلافت کے اس آرگن نے میاں محمد علی امیر جماعت لاہوری کی شان میں ایک منثور قصیدہ لکھتے ہوئے یہ ظاہر کیا ہے کہ لاہوری جماعت کا امیر چور بھی ہے اور سینہ زور بھی۔ چور اس لئے کہ وہ قادیان کی انجمن احمدیہ کے تنخواہ دار ملازم کی حیثیت سے قرآن کا ترجمہ کر رہے تھے کہ جھوٹ بول کر اور دھوکا دے کر قادیان سے مسودہ سمیت نکل آئے اور سینہ زور اس لئے کہ انہوں نے جلب زر کی خاطر اس بات کی ہر ممکن کوشش کی ہے کہ اس ترجمہ میں مرزائے قادیان کے دعاوی کی صداقت کا ذکر تک نہ آنے پائے۔ پیغام صلح کے مضمون نگار خان صاحب چوہدری منظور الہی پہلے اپنے امیر کے جلب زر اس کی دروغ بافی اور فریب دہی وغیرہ کے متعلق الفضل کو جواب دے لیں۔ اس کے بعد وہ زمیندار ایڈیٹر کو یہ کہنے کی جرأت کریں کہ ان کا مطمح نظر حصول دنیا ہے نہ رضائے الہی۔
(زمیندار ١١ مارچ ١٩٣٣ء)
مرزائے قادیانی کے دعوائے مجددیت و مہدویت پر ایک نظر
فرقہ مرزائیہ کی معتقداتی قلابازیاں
فرقہ ضالہ مرزائیہ کی لاہوری شاخ سے تعلق رکھنے والے اشخاص کی حالت قادیانیوں کی بہ نسبت بہت زیادہ قابل رحم ہے۔ یہ بے چارے اپنے پیر و مرشد کے عجیب و غریب دعاوی اور اپنے معتقدات کو دین قیم و حنیف کے مسلمات سے قریب تر لا کر دکھانے کے لئے ادھر ادھر ہاتھ پاؤں مارتے ہیں۔ بزرگان دین کے اقوال و ملفوظات کو ان کی ماہیت سمجھے اور ان کی اصلیت کے
١٢٧
متعلق تحقیقات کے بغیر اپنے پیر و مرشد کی ہفوات کے لئے سپر بنانے کی کوشش کرتے رہتے ہیں۔ اپنے معتقدات اور اپنے پیشوا کی تعلیمات پر ایسا رنگ چڑھاتے ہیں کہ بے خبر اور کم سواد لوگوں کو وہ بے ضرر نظر آنے لگیں اور بھولے بھالے مسلمان ان کے مرشد کے بچھائے ہوئے دام دجل و تزویر کے شکار ہو جائیں۔ صاف نظر آ رہا ہے کہ یہ لوگ اپنے پیشوا کے کفر اندوز دعاوی کی لغویت اور اس کی حیلہ سازیوں کی حقیقت سے بخوبی آگاہ ہو چکے ہیں۔ لیکن اپنی اس غلطی کا کھلم کھلا اعتراف کرنے کے بجائے جو ان سے مرزا غلام احمد قادیانی کے ہاتھوں فریب کھانے کی صورت میں سرزد ہو چکی۔ یہ لوگ کوشش کرتے ہیں کہ طرح طرح کی مضحکہ خیز تاویلوں اور لاطائل دلیلوں کے بل پر اس کی نبوت نہیں تو مجددیت ہی کا ڈھونگ کھڑا رکھتے ہیں۔ کامیاب ہو جائیں اور یہ ظاہر کرنے کی کوشش کریں کہ آں جہانی نے کوئی بات ایسی نہیں کی جو اسلام کے منافی اور سلف صالحین کے مسلک سے ہٹی ہوئی ہو۔ لیکن اس کو کیا جائے کہ ان کی تغلیط و تکذیب کے لئے مرزائے قادیانی کی اپنی تحریرات کے علاوہ مرزائیوں کے گھر اور مرکز میں ایک ایسی جماعت موجود ہے جس نے ان کے پیر و مرشد کی خرافات واہیہ کو بہ افتخار تام الم نشرح کرتے رہنے کا اجارہ لے رکھا ہے اور جو تاویل بازی اور داستان سرائی میں ان سے بیباک تر اور چالاک تر واقع ہوئی ہے۔
ان لوگوں کی معتقداتی قلابازیوں کے متعلق اگر برسبیل تفنن جس کی وہ مستحق ہیں کہا یا لکھا جائے تو چیخنے لگتے ہیں کہ ان کے ساتھ ثقاہت و متانت کا سلوک نہیں کیا جاتا۔ اگر سنجیدگی کے ساتھ ان کے اور ان کے جماعتی پیشوا کے معتقدات و دعاوی کی قلعی کھولی جائے تو یہ لوگ متانت وسنجیدگی کے ساتھ جواب دینے کی بجائے منہ چڑانے اور گالیاں دینے پر اتر آتے ہیں۔ اسی طرح جب ان کے پیر و مرشد کے دعاوی نبوت و مسیحیت پر تنقید کی جاتی ہے تو یہ لوگ اس میدان سے فرار ہو کر اس کی مجددیت کے آغوش میں پناہ لینے کی کوشش کرتے ہیں اور جب اس کے دعویٰ مجددیت کا تار و پود بکھیرا جاتا ہے تو نبوت و رسالت کی تمثیلات اور انبیائے کرام علیہم السلام سے منسوب خصائص کے دامن میں پناہ ڈھونڈنے لگتے ہیں۔ علمائے امت انہیں معقولات کی بحث میں رگیدتے ہیں تو یہ لوگ کہتے ہیں کہ ہماری تکذیب کے لئے وہی پرانی دلیلیں استعمال کرتے ہو اور اگر ان پر معقولات کے سلسلہ میں نئی قسم کے اعتراضات وارد کئے جائیں تو پھر یہ حیات و ممات مسیح کی قسم کے مسائل چھیڑ دیتے ہیں۔ جن کے متعلق انہیں کافی سے زیادہ براہین بتائے جاچکے ہیں۔
”فمثله كمثل الكلب ان تحملہ يلهث ذٰلك مثل القوم الذين كذبوا بايتنا فاقصص القصص لعلهم يتفكرون (اعراف:١٧٦)“
١٢٨
شطحیات و ہفوات کی بحث
ان لوگوں پر ان کے بے بنیاد دعاوی کی لغویت واضح کرنے اور انہیں شمع ہدایت کی ضیاء دکھانے کے لئے خود انہی کے استفسار پر میں نے ٧؍ستمبر ١٩٣٣ء کے زمیندار میں صوفیاء کرام کے ان اقوال کی حقیقت حضرت مجدد الف ثانی علیہ الرحمۃ کے مکتوبات شریف کے حوالے دے کر روشن کی تھی جو بظاہر بین آنکھوں کو شریعت کے خلاف نظر آتے ہیں۔ کیونکہ ان لوگوں نے اپنے پیر و مرشد کی کفر آلود ہفوات کے لئے جواز کا پہلو نکالنے کی خاطر ”پیغام صلح“ میں یہ لکھا تھا کہ دین اسلام کے بعض اعاظم رجال سے بھی خلاف شرع اقوال منسوب کئے جاتے ہیں۔ لہٰذا مرزائے قادیانی کی تحریرات میں اگر ایسی لغویات نظر آتی ہیں تو انہیں بھی اسی قسم کے شطحیات پر محمول کرنا چاہئے جو بعض اولیاء اللہ کی طرف منسوب کئے گئے ہیں۔ میں نے اس مضمون میں مرزائے آنجہانی کے اقوال پیش کر کے ان کا اور صوفیائے کرام کے اقوال کا فرق واضح کر دیا تھا اور ثابت کر دیا تھا کہ عارفین حق کے نزدیک وہ شطحیات کیا حقیقت رکھتے ہیں۔ یہ مضمون پڑھ کر اس فرقہ کے لوگوں پر ”فبہت الذی کفر“ کی سی حالت طاری ہو گئی اور پھر ان کو اپنے پیر و مرشد کی ولایت مجددیت ثابت کرنے کے لئے کم از کم میرے سامنے اپنی پیش پا افتادہ دلیل کے لانے کی جرأت نہ ہو سکی۔ تعجب ہے کہ خاں صاحب چوہدری منظور الٰہی نے ١٩؍ مارچ کے پیغام صلح میں میرے دوسرے مضمون کا جواب لکھنے کی کوشش کرتے ہوئے جو مادی عوامل اور انسانی روحانیات کے باہمی تعلق کے متعلق اسلامی زاویۂ نگاہ کی وضاحت کے لئے مورخہ ١١؍ مارچ ١٩٣٣ء کے زمیندار میں سپرد قلم کیا گیا۔ پھر اس بحث کو تازہ کرنے کی ضرورت محسوس کی۔ انہیں چاہئے تھا کہ ایک دفعہ پھر اس مضمون کو پڑھ لیتے اور اس کے بعد یہ لکھنے کی جرأت کرتے۔
”تمہارے اولیائے کرام باوجود شطحیات یعنی خلاف شرع باتیں کہنے لکھنے کے خدا کے مقرب اور ولی ہیں تو اسی کسوٹی پر پرکھ کر حضرت مسیح موعود کو کس منہ سے جھوٹا کہہ سکتے ہو۔“
اب بھی اگر انہیں اپنے پیر و مرشد کے کفریات کی حقیقت معلوم کرنے کی ضرورت ہو تو اسی مضمون کو ایک دفعہ پھر نظر غائر سے مطالعہ کر لیں اور دیکھ لیں کہ مرزا قادیانی کو اس کے اقوال کس طرح مفتری اور کذاب ثابت کر رہے ہیں؟
مجددین امت کا مسلک عمومی
خان صاحب چوہدری منظور الٰہی نے میرے دوسرے مضمون کے بعض فقرات نامکمل اور ناقص حالت میں سامنے رکھ کر جواب نویسی کے لئے جو سوالات پیدا کئے ہیں ان کا کافی
١٢٩
وشافی جواب خود اسی مضمون میں موجود ہے۔ ان کا یہ لکھنا کہ ”تفہیمات الہیہ“ میں حجۃ الاسلام حضرت شاہ ولی اللہ رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی مجددیت اور اپنے مقام عرفانی کا دعویٰ کیا ہے اور اپنے اس مقام سے بے خبر رہنے والوں کے متعلق یہ لکھا ہے کہ وہ خائب ہوں گے۔ مرزائے قادیانی کے عجیب و غریب دعاوی کے جواز کی سند نہیں ہو سکتا۔ حضرت شاہ صاحب نے اپنی مجددیت منوانے کے لئے لوگوں سے مجادلہ نہیں کیا اور نہ ان کی زندگی اس امر کے لئے صرف ہوئی کہ لوگوں سے اپنے مقام ولایت کا اعتراف کراتے پھریں اور یہ کہیں کہ ان کی ولایت کی دلیل کے طور پر زلزلہ وغیرہ کی قسم کے نشانات ظاہر ہوں گے۔ اس کے علاوہ ان کا یہ قول خلاف شرع بھی نہیں کہ اسے شطحیہ سے تعبیر کیا جائے۔ حضرت شاہ صاحب کی زندگی دیگر صلحائے امت محمدیہ کی طرح صحیح عقائد اسلامی کی اشاعت اور لوگوں کے تزکیہ نفس کے لئے وقف رہی۔ انہوں نے مرزائے قادیانی کی طرح انبیائے کرام علیہم السلام اور صلحائے امت کے حق میں کبھی بدگوئی سے کام نہیں لیا اور نہ مسلمانوں کو چوہدری صاحب کے پیر و مرشد کی طرح ذریۃ البغایا حرامزادے، سوئر اور کتے وغیرہ ایسے الفاظ سے یاد کیا۔ نہ انہوں نے جہاد کی تعلیم کو ناپاک قرار دے کر اس پر خط تنسیخ کھینچا اور نہ نصاریٰ کی غیر مشروط وفاداری پر اتنی کتابیں لکھیں کہ ان کی حفاظت کے لئے پچاس الماریوں کی حاجت ہو۔
حضرت شاہ صاحب کے علاوہ چوہدری منظور الہی نے حضرت مجدد الف ثانیؒ پر بھی مجددیت کے ادعاء کا بہتان باندھنے کی کوشش کی ہے اور ان کے اس مکتوب کا حوالہ دے کر جس میں حضرت مجددؒ نے ایک مستفسر پر مجدد الف ثانی کے مقام و فضائل کی تشریح کی ہے۔ یہ ظاہر کرنے کی کوشش کی ہے کہ وہ یہ سب کچھ اپنے متعلق لکھ رہے ہیں۔ حالانکہ انہوں نے نہ اس مکتوب میں جس کا چوہدری صاحب نے حوالہ دیا ہے اور نہ کسی دوسرے مکتوب میں یہ فرمایا ہے کہ الف ثانی کا مجدد موعود میں ہوں۔ وہ مستفسرین کو ہمیشہ یہی لکھتے رہے ہیں کہ مجدد الف ثانی کا اس دور میں موجود ہونا ضروری ہے اور طالبین رشد و ہدایت کا فرض ہے کہ وہ اسے پہچانیں۔ یہ اور بات ہے کہ حضرت مجدد صاحب کو اپنے مقام کا علم ہو اور وہ جانتے ہوں کہ الف ثانی کے مجدد وہی ہیں لیکن انہوں نے کسی جگہ اس امر کا دعویٰ نہیں کیا۔ اگر حضرت مجددؒ کا کوئی دعویٰ مرزائی جماعت کی نظر سے گزرا ہو تو اسے پیش کریں۔
چوہدری منظور الہی صاحب نے تلبیس دلالت سے کام لیتے ہوئے مولانا ابوالکلام آزاد کی بعض تحریرات حضرت شاہ ولی اللہ اور حضرت مجدد الف ثانیؒ کے متعلق پیش کی ہیں۔ جن
١٣٠
میں مولانا ابوالکلام نے ان کے رتبہ مجددیت سے فائز ہونے کا اظہار کیا ہے۔ تعجب ہے کہ مولانا ابوالکلام کی تحریرات کو خود مجددین کا دعویٰ مجددیت کس طرح قرار دیا جاسکتا ہے۔ چوہدری صاحب کو معلوم ہونا چاہئے کہ مجدد خود دعویٰ نہیں کیا کرتے۔ بلکہ کام کرتے ہیں اور بصارت وبصیرت رکھنے والے لوگ انہیں ان کے کام اور روحانی اثر کی وجہ سے پہچان لیتے ہیں کہ عصر حاضر کا مجدد یہی ہے۔ چوہدری صاحب یا ان کے ہم مسلک بزرگ ذرا گذشتہ تیرہ صدیوں کے مجددوں کی فہرست ان کے دعاویٰ مجددیت کے ساتھ پیش کر کے دکھائیں تاکہ ہمیں بھی معلوم ہوسکے کہ مجددوں کو بھی دعویٰ کرنے کی ضرورت پیش آیا کرتی ہے اور ان کے لئے دعویٰ ایسا ہی ضروری ہے جیسا کہ نبی کے لئے اپنے مرسل من اللہ ہونے کا اظہار لازمی ہے۔ اس کے علاوہ ذرا یہ بتانے کی زحمت بھی گوارا فرمائیں کہ مجددین امت محمدیہ سے فیض پانے والے مسلمانوں نے مرزائیوں کی طرح کبھی جماعت بندی سے کام لے کر یہ کوشش کی ہو کہ عامۃ المسلمین سے اپنے سرچشمہ فیض روحانی کی مجددیت منوائیں اور اس امر کو ایمان وایقان کی صحت کا معیار قرار دیں۔
امت مسلمہ کا منصب شہادت
میں نے لکھا تھا کہ چونکہ امت مسلمہ اس داعی برحق کی دعوت پر لبیک کہہ چکی ہے۔ جو خاتم المرسلین ﷺ ہے۔ اس لئے تاقیام قیامت کسی بشیر ونذیر کے آنے کی ضرورت نہیں۔ کیونکہ خود امت مسلمہ کا وجود اور اس کے صلحاء کے اقوال واعمال دوسری قوموں کے لئے بشارت کا فریضہ انجام دے رہے ہیں۔ لیکن چوہدری منظور الٰہی کی سخن فہمی ملاحظہ ہو کہ وہ پھر خاکسار سے سوال کر رہے ہیں کہ علمائے اسلام اور مجھ ناچیز ایسے اخبار نویس شب وروز دعوت الی الحق کا کام کیوں کر رہے ہیں اور اسی کام کے ضمن میں عامۃ الناس کو اچھے کاموں کے صلہ میں بشارت اور برے کاموں کے صلہ میں انذار کا پیغام کیوں دیتے ہیں۔ چوہدری صاحب کو معلوم ہونا چاہئے کہ جس معمولی سے معمولی شخص نے حضرت ختمی مرتبت ﷺ کے آستان پاک پر سر نیاز جھکا دیا ہے اس پر ان کے لائے ہوئے پیغام کی نشر واشاعت فرض ہے اور تمام مسلمان علیٰ قدر مراتب اس فرض کی ادائیگی میں مصروف ہیں۔ بلکہ خود ان کا وجود ہی اس امر کا کفیل ہے کہ حضرت ختمی مرتبت ﷺ کی رسالت کا مقصد پورا ہورہا ہے۔ اس حقیقت کبریٰ پر قرآن پاک کی نص صریح بھی شاہد وعادل ہے اور حضرت ذوالجلال والاکرام نے امت مسلمہ کو تاقیام قیامت بلکہ روز قیامت کے لئے بھی یہ رتبہ بلند عطا فرما دیا ہے اور کہا ہے کہ: ”وکذلک جعلنکم امۃ وسطاً لتکونوا شھداء علی الناس ویکون الرسول علیکم شھیدا (البقرۃ: ١٤٣)“
١٤١
مرزائے قادیانی کا مطمح نظر
یہ باتیں میں نے ان لوگوں کے لئے لکھی تھیں جو حضرت ختم المرسلین ﷺ بابی ہو وامی کے بعد کسی متنبی کے دعاوی کے سامنے سر تسلیم کر رہے ہیں۔ اس لئے لاہوری مرزائیوں کو اس کے قبول کر لینے میں کوئی عذر نہیں ہونا چاہئے تھا۔ البتہ چوہدری منظور الٰہی صاحب یہ لکھ سکتے تھے کہ مرزا غلام احمد قادیانی کو بھی امت محمدیہ کا ایک فرد تسلیم کرتے ہوئے ہم یہ مان لیں کہ مرزا نے اسی حیثیت میں بشارت وانذار کا کام کیا ہے۔ جس حیثیت میں امت مسلمہ کے دیگر افراد اس فرض کو ادا کر رہے ہیں۔ اگر معاملہ یہیں تک ہوتا تو مسلمانان ہند کو ان فتن کا سامنا ہرگز نہ کرنا پڑتا۔ جن میں امت مرزائیہ نے انہیں مبتلا کر رکھا ہے۔ لیکن اس امر سے خود مرزائیوں کو بھی مجال انکار نہیں ہو سکتی کہ مرزائے آں جہانی اور اس کی امت کا سارا زور محمد عربی ﷺ کے بتائے ہوئے دین کی صداقتوں کو آشکارا کرنے کے بجائے مرزائے قادیانی کی نبوت و مسیحیت یا مجددیت و محدثیت کے جھوٹے دعاوی قائم و ثابت کرنے پر صرف ہورہا ہے اور یہی شے ان کے کذب و افتراء پر شاہد ودال ہے۔ صلحائے امت و مجددین ومحدثین اور ان کے پیروؤں کا شیوہ ہرگز یہ نہ تھا کہ وہ اپنی پیری کے ڈھونگ رچاتے پھریں اور اسی کو زندگی بھر کا مقصد قرار دے لیں۔ بلکہ وہ تو صداقت محمدی کے بحر ناپیدا کنار کی عام موجیں ہیں جن کے وجود کا مقصد اس کے سوا کچھ نہیں کہ اسلام کی تقویت کا باعث ہوں۔
مرزائی مضمون نگار کا افترا علی القرآن
اسی زلزلہ بہار کے قصہ کو لیجئے۔ اس بندۂ عاجز نے اس سلسلہ میں ان حقائق کی وضاحت کی جو آج سے ساڑھے تیرہ سو سال پیشتر حضرت خیر البشر ﷺ نے اپنی امت کو بتائے تھے اور قادیانی اور لاہوری مرزائیوں نے شور مچانا شروع کر دیا کہ مرزا کی صداقت کا نشان ظاہر ہو گیا اور خیرہ چشمی اور ڈھٹائی کی انتہاء یہ ہے کہ اپنے پیرو مرشد کے واضح الفاظ کے باوجود کہ یہ نشان میری زندگی میں ظاہر ہوگا۔ اس معاملہ میں بھی محمدی بیگم والے قصہ کی سی لغو تاویلیں کر رہے ہیں اور ”زلزلوا زلزالاً شدیداً“ کی آیت پیش کر کے نعوذ باللہ قرآن پاک کو جھٹلانے کے شیدائی نظر آتے ہیں۔ یہ مرزائی مضمون نگار لکھتا ہے کہ قرآن پاک میں ”وزلزلوا زلزالاً شدیداً“ کے الفاظ مخالفین اسلام کے لئے زلزلہ کی پیش گوئی کے طور پر آئے۔ لیکن مخالفین پر کوئی ویسا زلزلہ نہ آیا۔ جیسا بہار میں آیا ہے۔ اس سے زیادہ شوخ چشمانہ افتراء کی نظیر مرزائیوں کے سوا
١٣٢
اور کہیں نہیں مل سکتی۔ کیونکہ آیہ مافوق الذکر سورۂ احزاب کے دوسرے رکوع میں خود مسلمانوں کے متعلق مذکور ہے۔ جہاں خدائے تعالیٰ نے ایک تازہ مگر گذشتہ واقعہ یعنی جنگ احزاب کا ذکر کرتے ہوئے مسلمانوں کو میدان جنگ کے اندر فرائض منصبی کی ادائیگی پر جمے رہنے کی تاکید فرمائی اور مسلمانوں پر کفار کے ہجوم لانے کا ذکر کرتے ہوئے کہا ہے کہ: ”هنالك ابتلى المؤمنون وزلزلوا زلزالا شدیداً (احزاب:١١)“ یعنی اس جگہ مسلمانوں کی آزمائش کی گئی اور انہیں بڑی شدت سے جھنجھوڑا گیا۔
اب آپ ہی فرمائیے کہ اس آیت کو مخالفین اسلام کے متعلق پیش گوئی قرار دینا اور پھر زلزال کے معنی کا حصر زلزلہ ارضی پر کر کے یہ ظاہر کرنے کی کوشش کرنا کہ قرآن پاک کی یہ پیش گوئی لفظاً پوری نہیں ہوئی۔ انتہاء درجہ کی ضلالت اور تیرہ باطنی نہیں تو اور کیا ہے؟ ”من الذین هادوا یحرفون الكلم عن مواضعه ویقولون سمعنا وعصینا واسمع غیر مسمع وراعنا لیا بالسنتهم وطعنا فی الدین ولوانهم قالوا سمعنا واطعنا واسمع وانظرنا لكان خیرا لهم واقوم ولكن لعنهم الله بكفرهم فلا یؤمنون الا قلیلا (النساء:٤٦)“
علامات محمد کی فراست ایمانی
میں نے لکھا تھا کہ امت محمدیہ کی فراست ایمانی رکھنے والے اشخاص مرزائے کذاب کی بہ نسبت زیادہ صحت اور زیادہ تیقن کے ساتھ مستقبل قریب وبعید کے حالات بیان کر سکتے ہیں۔ اس پر مرزائیوں کی لاہوری جماعت کے نفس ناطقہ چوہدری منظور الٰہی صاحب لکھتے ہیں کہ جب آپ کو ابھی تک ایسا آدمی میسر نہیں آیا تو یہ الفاظ بڑے زیادہ حقیقت نہیں رکھتے۔ شاید چوہدری صاحب نے میرے اس مضمون کو غور سے نہیں پڑھا ورنہ انکے اس سوال کا جواب انہیں اسی سے مل جاتا۔ جہاں انہیں اس شخص کو تلاش کرنے کی تاکید کی گئی تھی۔ جس نے زلزلہ بہار کے آٹھ دن پہلے غیر مبہم الفاظ میں فلک کے گرنے اور زمین کے پھٹنے کا اعلان کر دیا تھا۔ خیر اسے جانے دیجئے۔ اگر چوہدری صاحب فراست ایمانی رکھنے والے اشخاص سے اپنے اور اسلام کے مستقبل کا حال دریافت کرنا چاہتے ہیں تو انہیں مرزائے کذاب کا دامن چھوڑ کر غلامان محمد مصطفیٰﷺ میں ایسے افراد کو تلاش کرنا چاہئے جو خود ان میں فراست ایمانی پیدا کرنے کی اہلیت رکھتے ہیں اور جن کی زندگی کا ایک ایک لمحہ صداقت اسلامی کا واضح اور بین نشان ہے اس کے ساتھ ہی یہ لکھ دینا بھی
١٤٣٣
ضروری ہے کہ ایسے اشخاص کو مرزائے غلام احمد قادیانی کی طرح اپنی بزرگی کی دھاک بٹھانے کے لئے محمدی بیگم کے آسمانی نکاح کی پیش گوئیاں کرنے کی ضرورت نہیں ہوتی اور ان کا منصب یہ ہے کہ وہ بلاضرورت شرعی مستقبل کے حالات بیان کریں۔
مہدی موعود کہاں ہے؟
چوہدری صاحب نے یہ بھی لکھا ہے کہ اگر قرآن پاک اور حدیث شریف کی پیش گوئیوں کے مطابق موجودہ زمانہ قرب قیامت کا زمانہ ہے اور اسی لئے ارض کا زلزال شروع ہو گیا ہے تو مسلمانوں کا مہدی اور مسیح کہاں ہے؟ اس سوال کے ساتھ ہی آپ کمال شوخ چشمی کے ساتھ لکھتے ہیں۔ کیا جب قیامت آچکے گی تب وہ صفیں لپیٹنے کے لئے آئیں گے۔
اس بیہودہ سوال کا جواب اس کے سوا اور کیا دوں کہ وقت پر یہ سب باتیں ظاہر ہو کر رہیں گی۔ مہدی موعود جس کے ہاتھ پر پیش گوئی کے مطابق دور فتن میں اسلام کی سیاسی نجات لکھی جا چکی ہے اور جس کے متعلق احادیث شریف میں واضح طور پر بیان کر دیا گیا ہے کہ وہ کفار کے ان لشکروں کے مقابلہ میں جو مرکز اسلام پر حملہ آور ہوں گے۔ عساکر اسلامی کا قائد اعظم اور صاحب سیف و سناں ہوگا۔ جس کے متعلق یہ بھی بتا دیا گیا ہے کہ وہ مہدی ہونے کا دعویٰ نہیں کرے گا۔ بلکہ خود مسلمان اسے مجبور کر کے عساکر اسلامی کی قیادت کی ذمہ داری اس پر ڈال دیں گے۔ مرزائیوں کے مدعی کاذب کی طرح کوئی گدی قائم کرنے والا پیر نہ ہوگا۔ بلکہ ایک ایسا ہمہ صفت موصوف قائد عسکری و سیاسی ہوگا جس کے جھنڈے تلے جمع ہو کر عصر حاضر کے بہترین باش کمانڈن غازی مصطفےٰ کمال ایسی ہستیاں کفار کے ساتھ وہی جہاد کریں گی جسے مرزائیوں کے پیرو مرشد نے منسوخ معطل اور دین اسلام کے ایک بیکار شدہ رکن قرار دے رکھا ہے۔
”يسئلونك عن الساعة ايان مرسها قل انما علمها عند ربی لا يجليها لوقتها الا هو ، ثقلت فی السمٰوت والارض لا تاتيكم الا بغتة يسئلونك كانك حفی عنها ، قل انما علمها عند الله ولكن اكثر الناس لا يعلمون
(اعراف:١٨٧)“
مرزائیوں کی دجال پرستی
کچھ عرصہ سے میں سن رہا ہوں کہ میرے اس شعر پر
فرنگی لشکر دجال ہیں یاجوج ہیں روسی
١٣٣
امت مرزائیہ لاہوریہ کے افراد امیر سے لے کر مقتدی تک سب کے سب رقص شادمانی کر رہے ہیں۔ کیونکہ وہ میرے اس شعر کو بھی زلزلہ بہار کی طرح مرزائے قادیانی کی صداقت کا نشان قرار دے رہے ہیں۔ اس لئے کہ کہیں مرزا نے اپنی تحریرات میں یہ لکھ دیا تھا کہ دجال سے مراد شاید یہی عیسائی پادری ہوں جن کے ساتھ اسے مجادلہ لسانی کرنا پڑتا ہے اور ریل اس دجال کا گدھا ہو۔ مرشد نے تو لفظ شائد استعمال کیا تھا۔ لیکن مرید نے اس پر ایک کتاب لکھ ماری۔ جس میں اقوام یورپ کو دجال اور یاجوج ماجوج ثابت کرنے کی کوشش کی گئی اور جب نتائج اخذ کرنے کی نوبت آئی تو لکھ دیا گیا کہ اقوام یورپ کے سیاسی استیلاء کے مقابلہ کی صورت فقط یہ ہے کہ عیسائی پادریوں کے ساتھ مناظرے کرلئے جائیں اور سمجھ لیا جائے کہ ہم حفاظت اسلام کے فرض سے سبکدوش ہوگئے۔ اب چوہدری منظور الٰہی نے میرے اس شعر کا حوالہ دے کر اس خاکسار پر یہ الزام لگایا ہے کہ میں نے مرزائیت کے خرمن سے خوشہ چینی کی ہے۔ مرزائیوں کو اختیار ہے کہ کل میرے لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ کہنے پر یہ شور مچانے لگیں کہ میں مرزائیت کا خوشہ چین ہوں۔ لیکن انہیں معلوم ہونا چاہئے کہ سخن فہمی کوئی اور شے ہے اور ہر بات کی جھوٹی سچی تاویلیں کر لینا اور شے ہے۔ میرے اس شعر کے معنے اس کے سوا اور کچھ نہیں کہ دنیائے اسلام کو آج جو دول یورپ کی سرمایہ دارانہ سیاست اور روس کی مبنی بر لادینیت استعمار طلبی سے مقابلہ ہو رہا ہے اس پر احادیث میں بیان شدہ فتنہ دجال اور فتنہ یاجوج ماجوج کا اطلاق کیا جاسکتا ہے۔ یعنی انتہائی مصیبت کا سامنا ہے۔ اگر ان کے پیرو مرشد اور اس کی امت کا عقیدہ یہ ہے کہ اقوام فرنگ جن میں انگریز بھی شامل ہیں دجال اور یاجوج ماجوج ہیں تو خدارا اس شخص کے متعلق وہ دیانت دارانہ رائے ظاہر کریں جس نے انگریزی حکومت کو ظل الٰہی سے تعبیر کرتے ہوئے مذہبًا دجال اور یاجوج ماجوج کی اطاعت کرنے کی تاکید کی ہے اور جن کی خاطر اس نے جہاد ایسے فریضہ اسلامی کو منسوخ کر دیا ہے۔ کیا ایسا شخص لشکر دجال کا ایک ممتاز رکن نہیں جس نے طرح طرح کے حیلوں سے اسی دجال کی خاطر اسلامی جمعیت کو منتشر کرنے اور اسلامی عقائد کو بیخ و بن سے اکھاڑ پھینکنے کی کوشش کی؟
امت مرزائیہ سے خطاب عمومی
پس اے راہ گم کردہ لوگو! اگر تم یوم الحساب پر یقین رکھتے ہو تو کج بحثیوں اور تاویل بازیوں سے باز آ جاؤ اور بارگاہ ذوالجلال میں صدق دل سے توبہ کرو کہ آئندہ اپنی دنیا کی خاطر لوگوں کو گمراہ کرنے کی کوشش نہیں کرو گے۔ خدائے قہار کی بطش شدید تمہاری تاک میں ہے۔
١٤٥
دجال کی اطاعتیں اور خدمت گزاریاں تمہیں اللہ کے غضب سے نہیں بچا سکیں گی۔ تم اپنے پیرو مرشد کے باطل دعاوی کو سچا ثابت کرنے کے لئے آیات قرآنی کے مطالب میں تحریف کرتے ہو۔ انبیائے کرام کی شان میں دریدہ دہنی کی مرتکب ہوتے ہو۔ اپنے مرشد کی کذابیوں پر پردہ ڈالنے اور ان کی توجیہہ کرنے کے لئے رسولوں پر طرح طرح کے اتہام باندھتے ہو۔ مسلمانوں میں اپنے پیرو مرشد کے باطل عقائد کی نشر واشاعت کر کے انہیں گمراہ کرنے کی کوشش کرتے ہو۔ تمہاری باطل کوششوں کا منتہائے مقصود اس کے سوا کچھ نہیں کہ اپنے گرو کی قائم کی ہوئی ابلیسی گدی کو برقرار رکھو۔ اپنے پیشوا کے فاحش عیوب کی کراہت کم کرنے کے لئے تم اللہ کے پاک بندوں اور نبیوں پر اتہام باندھ کر یہ ظاہر کرنے کی کوشش کرتے ہو کہ تمہارے متنبی پر وارد ہونے والے الزامات ’’نعوذ باللہ من شرور انفسنا وسیئات اعمالنا‘‘ انبیائے کرام پر بھی وارد ہو سکتے ہیں۔ حالانکہ تم اپنے دلوں میں اور اپنی روحوں کے اندر اچھی طرح جانتے ہو اور عام لوگوں کی بہ نسبت بہتر طریق سے آگاہ ہو کہ تمہارا پیشوا مفتری اور کذاب تھا۔ اے قادیانیو! تم کس ضلالت کے گڑھے میں گرے جا رہے ہو کہ کفر صریح کے مرتکب ہو کر خانہ ساز نبوت قائم کرنے کی فکر میں ہو۔ حالانکہ نبوت و رسالت کو معراج کمال و منتہی تک پہنچے ساڑھے تیرہ سو سال کا عرصہ گزر گیا اور ابے لاہوریو! تم اپنے مرشد کے دعاوی نبوت کو افترائے صریح سمجھنے کے باوجود اس لا حاصل ادھیڑ بن میں لگے ہو کہ اس کی مجددیت ہی کا ڈھونگ کھڑا رکھنے میں کامیاب ہو جاؤ۔ تم کسی علمی یا نظری تحقیق کی بناء پر نہیں بلکہ اپنے پیشوا کی مسیحیت مآبی ثابت کرنے کے لئے معجزات انبیاء اور آیات الٰہی سے انکار کرتے ہو اور کہتے ہو کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام یوسف نجار کے فرزند تھے اور وہ آسمان پر نہیں اٹھائے گئے۔ دانش فروشو! تم جہالتوں اور اپنی نظر کی کوتاہیوں پر پردہ ڈالنے کے لئے قرآن پاک کے معانی میں اپنی ہوا و ہوس کے مطابق تصرفات کر لیتے ہو۔ اے تاویل بازو! اپنے آپ کو اور بے خبر لوگوں کو دھوکا دینے کی کوششوں سے باز آجاؤ۔ عقائد و اقوال کی ضلالتوں اور اعمال کی سیہ کاریوں سے توبہ کرو۔ خدا کے مسلمان بندے اور محمد عربی ﷺ کے غلام بن کر رہو۔ ورنہ ابے مرزائے قادیانی سے نسبت پیدا کرنے والے دجال پرستو! یاد رکھو کہ خدائے قدیر کا سزا دینے والا ہاتھ تمہیں زیادہ دیر تک طغیان و سرکشی کی مہلت نہ دے گا اور تم بہت جلد اپنے کئے کی سزا پاؤ گے۔
’’وآخر دعوانا ان الحمدللہ رب العالمین‘‘
١٣٦
اللہ کے غضب سے نہیں بچا سکیں گی۔ تم اپنے لئے آیات قرآنی کے مطالب میں تحریف کرتے ب ہوتے ہو۔ اپنے مرشد کی کذابیوں پر پردہ طرح طرح کے اتہام باندھتے ہو۔ مسلمانوں ت کر کے انہیں گمراہ کرنے کی کوشش کرتے ہو۔ کچھ نہیں کہ اپنے گرو کی قائم کی ہوئی ابلیسی گدی ہت کم کرنے کے لئے تم اللہ کے پاک بندوں کرتے ہو کہ تمہارے متنبی پر وارد ہونے والے ما وسیئات اعمالنا“ انبیائے کرام پر بھی وارد ں کے اندر اچھی طرح جانتے ہو اور عام لوگوں ا مفتری اور کذاب تھا۔ اے قادیانیو! تم کس ج کے مرتکب ہو کر خانہ ساز نبوت قائم کرنے کی نبی تک پہنچے ساڑھے تیرہ سو سال کا عرصہ گذر نبوت کو افترائے صریح سمجھنے کے باوجود اس کا ڈھونگ کھڑا رکھنے میں کامیاب ہو جاؤ۔ تم کی مسیحیت مآبی ثابت کرنے کے لئے معجزات حضرت عیسیٰ علیہ السلام یوسف نجار کے فرزند ! تم جہالتوں اور اپنی نظر کی کوتاہیوں پر پردہ وجہوں کے مطابق تصرفات کر لیتے ہو۔ اے ینے کی کوششوں سے باز آ جاؤ۔ عقائد واقوال خدا کے مسلمان بندے اور محمد عربی ﷺ کے ت پیدا کرنے والے دجال پرستو! یاد رکھو کہ طغیان و سرکشی کی مہلت نہ دے گا اور تم بہت للہ رب العالمین“
خاتم النبیین ﷺ لا نبی بعدی
میں آخری نبی ہوں، میرے بعد کوئی نبی نہیں
کیا پاکستان میں
مرزائیوں کی حکومت قائم ہوگی؟
(مولانا مرتضیٰ احمد خان میکشؔ درانی)
واقعات کی رفتار پر ایک نظر
راقم الحروف نے اب سے کوئی ڈھائی سال قبل یعنی اوائل ١٩٥٠ء میں روزنامہ ”مغربی پاکستان“ میں مقالات اور اداریے کی مسلسل دس اقساط لکھ کر پاکستان کے ارباب بست و کشاد اس نوزائیدہ ملک کے اصحاب فکر و تدبیر اور یہاں کے جمہور مسلمین کو اس حقیقت سے آگاہ و متنبہ کرنے کی کوشش کی تھی کہ مرزائی فرقہ کے لوگ اپنی تنظیم اور دشمنان اسلام کی ظاہری اور مخفی امداد کے بھروسے پر پاکستان کے اندر مرزائیوں کی حکومت قائم کرنے کے خواب دیکھ رہے ہیں اور اپنا یہ مقصد حاصل کرنے کی خاطر طرح طرح کی سازشوں اور ریشہ دوانیوں کا بہت بڑا جال پھیلا رہے ہیں۔ جو آگے چل کر مسلمانان پاکستان کے لئے بدرجہ اتم تکلیف دہ ثابت ہوگا۔ میں نے ان مضامین میں قادیانیت کے مذہبی دجل کا پول کھولنے کے ساتھ اس فرقہ کے پیشوا بشیر الدین محمود اور قصر مرزائیت کے رکن اعظم چوہدری سر ظفر اللہ خان کے اقوال و اعمال کو سامنے رکھ کر ان کے سیاسی رجحانات کا تجزیہ کرتے ہوئے اپنے اس دعویٰ کو نا قابل تردید حد تک ثابت کر دکھایا تھا کہ: ”سیاسی اعتبار سے ان (مرزائیوں) کا لائحہ عمل یہ ہے کہ اپنی تنظیمی طاقت کے بل بوتے پر پاکستان کا حکومتی اقتدار حاصل کیا جائے اور قادیان کی بستی کو ہر ذریعہ سے حاصل کرنے کی کوشش کی جائے۔ خواہ اس کی خاطر پاکستان کے کسی بڑے سے بڑے مفاد کو یا پاکستان کو قربان بھی کیوں نہ کرنا پڑے۔“
اس کے ساتھ ہی راقم الحروف نے عام سیاسی بصیرت کے بل بوتے پر اس امر کی پیشگوئی کر دی تھی کہ: ”میرزائیت مسلمانان پاکستان کو بھاری تکالیف اور ہمت آزما آلام میں مبتلا کر کے رہے گی۔ ان تکالیف و آلام سے بچنے کا واحد طریقہ یہ ہے کہ مرزائیت کی حدود ابھی سے متعین کر دی جائیں اور مرزائیوں کی تنظیم پر سرکاری اور غیر سرکاری حیثیت سے کڑی نگاہ کی جائے۔ ورنہ اس طرف سے غافل رہنے کا خمیازہ مسلمانوں کو بھاری نقصانات کی صورت میں بھگتنا پڑے گا۔“
آج میں پاکستان کے اندر رونما ہونے والے واقعات کی رفتار کو دیکھ کر اس ملک کے ارباب اختیار و اقتدار اور عامۃ المسلمین سے یہ سوال کرنے پر مجبور ہوں کہ: ”کیا پاکستان میں مرزائیوں کی حکومت قائم ہوگئی؟“
٢
حیرت انگیز واقعات
واقعات جن کی بنا پر میرے دل سے یہ سوال اٹھا ہے یہ ہیں کہ ١٧ر اور ١٨؍مئی ١٩٥٢ء کو پاکستان کے دارالسلطنت کراچی میں مرزائیوں کے ایک جلسہ عام کو کامیاب بنانے کے لئے صوبہ کراچی کی پولیس استعمال کی گئی۔ تاکہ چوہدری سرظفر اللہ خان وزیر خارجہ پاکستان، چوہدری عبداللہ خان ڈپٹی کسٹوڈین کراچی، شیخ اعجاز احمد جوائنٹ سیکرٹری وزارت خوراک پاکستان، میجر شمیم اسسٹنٹ سیکرٹری وزارت مال پاکستان، مسٹر احمد جان ملازم محکمہ سول سپلائی کراچی اور دیگر مرزائی سرکاری افراد اور عہدیدار مسلمانوں کو مرزائی بنانے کے لئے اپنے دین کی تبلیغ کرسکیں۔ مرزائیوں کے اس تبلیغی جلسہ کو کامیاب بنانے کے لئے پاکستانی پولیس کی بھاری جمعیت بلائی گئی۔ جلسہ عام تھا۔ اس لئے کچھ مسلمان بھی وہاں پہنچ گئے۔ جب مرزائیت کے مبلغوں نے اپنے عقائد کی تبلیغ کے سلسلے میں مسلمانوں کے عقائد پر حملے شروع کئے اور ان کے بیانات ہی نازک مذہبی جذبات کو مجروح کرنے لگے تو انہوں نے احتجاج کی آوازیں بلند کیں۔ پولیس نے جو پہلے ہی اس مقصد کے لئے بلائی گئی تھی مسلمانوں پر لاٹھی چارج کیا۔ ان کو مجروح و مضروب کر کے گرفتار کر لیا۔ اس پر عوام مشتعل ہو گئے۔ انہوں نے سڑکوں، بازاروں اور گلی کوچوں میں احتجاجی مظاہرے کئے۔ ان مظاہروں کو روکنے کے لئے پھر پولیس کے ڈنڈے استعمال کئے گئے اور اشک آور گیسیں چھوڑی گئیں۔
اگلے دن پھر اسی تماشے کو دہرایا گیا اور مسلمانوں کو پولیس اور فوج کی طاقت کے بل پر چوہدری سرظفر اللہ خان وزیر خارجہ پاکستان کی تبلیغی تقریر سننے کے لئے مجبور کیا گیا۔ کراچی کے حکام کی اس حرکت پر جسے لازماً پاکستان کی مرکزی حکومت کی آشیرباد حاصل ہوگی ملک بھر میں غم و غصہ کی ایک لہر دوڑ گئی۔ مسلمانوں نے احتجاجی جلسوں اور مظاہروں کا ایک سلسلہ شروع کر دیا اور مجلس احرار اسلام نے رمضان المبارک کے جمعتہ الوداع کا دن یوم احتجاج مقرر کر دیا۔ تاکہ مسلمان اس روز جا بجا جلسے منعقد کر کے اپنی اسلامی حکومت کے ارباب اقتدار پر ظاہر کر دیں کہ مسلمان مرزائیت کے عقائد باطلہ کی کسی تبلیغ کو برداشت کرنے کے لئے تیار نہیں۔ کیونکہ وہ عقائد مسلمانوں کے بنیادی عقائد کے منافی اور ان کے نازک دینی احساسات کو ٹھیس پہنچانے والے ہیں۔ نیز حکومت سے مطالبہ کیا جائے کہ مرزائی فرقہ کو ملک کی ایک الگ غیر مسلم اقلیت قرار دے دیا جائے۔ تاکہ اس فرقہ کے لوگ ان منافقانہ چالوں کو استعمال کرنے سے باز آجائیں۔ جن کے بل پر وہ مسلمانوں کو گمراہ کرنے اور انہیں ہر میدان اور ہر مقام پر نقصان پہنچاتے رہے ہیں اور
٣
پہنچا رہے ہیں۔ مسلمانوں کو اپنے دلی جذبات کے اظہار سے روکنے کے لئے پنجاب کی حکومت نے ایک عجیب و غریب پالیسی وضع کی۔ اس کے ماتحت حکام نے ہر جگہ دفعہ ١٤٤ نافذ کر کے اس مضمون کے احکام صادر کروا لئے کہ مرزائیت یا مرزائیوں اور چوہدری سر ظفر اللہ خان کے متعلق بھرے مجمعوں میں اظہار خیال کرنا قانوناً ممنوع قرار دیا جاتا ہے۔ لہٰذا جو شخص اس مقصد کے لئے جلسہ منعقد کرے گا یا جلوس نکالے گا یا تقریر کرے گا اسے گرفتار کر لیا جائے گا۔ مسلمانوں نے حکومت کے ان احکام کا احترام کیا۔ عام جلسوں اور جلوسوں کے پروگرام معطل کر دیئے اور اظہار حق کے لئے صرف اسی امر پر اکتفا کر لیا کہ مساجد کے اندر جمعۃ الوداع کے موقع پر جو اجتماعات ہوں گے وہی ان مطالبات کی تائید میں آواز بلند کر کے حکمرانوں کو حقیقت حال سے متنبہ کر دیں۔ اضلاع کے حکام نے حکومت پنجاب کی طے کردہ پالیسی کے ماتحت ان لوگوں کو بھی گرفتار کر لیا جنہوں نے مساجد کے اجتماعات میں مرزائیت اور چوہدری سر ظفر اللہ خان کے خلاف لب کشائی کی جرات کی اس طرح عامۃ الناس پر ظاہر کر دیا کہ پاکستان کی سرزمین میں کوئی شخص مرزائیت اور چوہدری سر ظفر اللہ خان کے متعلق کچھ کہنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی اور حکومت کے اس نادر شاہی حکم کی لپیٹ میں پبلک جگہیں نہیں آتیں۔ بلکہ ان کے گھر اور خدا کے گھر یعنی مسجدیں بھی آجاتی ہیں۔ واقعات کی یہ رفتار دیکھ کر میں یہ سوال کرنے میں حق بجانب نہیں ہوں کہ پاکستان میں کس کی فرماں روائی ہے اور یہ فرماں روائی کس قانون اور کس قاعدہ کی رو سے کی جارہی ہے؟ ان واقعات نے یہ ثابت نہیں کر دکھایا کہ:
یک بام و دو ہوا کی پالیسی
- ١...... مرزائیوں کے عام تبلیغی جلسوں کو کامیاب بنانے کے لئے حکومت اپنی
ساری طاقتیں استعمال کرے گی۔ تاکہ مرزائی کھلے بندوں پولیس کے ڈنڈوں اور فوج کی سنگینوں کے سائے میں دین حقہ اسلام کا منہ چڑائیں۔ ختم نبوت کے انکار کا پرچار کر کے مسلمانوں کے نازک مذہبی جذبات کو مجروح کریں۔ گالیوں اور بد زبانیوں کے اس انبار کی جن سے مرزائیت کا لٹریچر بھرا پڑا ہے خوب نشر واشاعت کر سکیں۔
- ٢...... مسلمان اگر عقیدہ ختم نبوت کے تحفظ اور اس کی نشر و اشاعت کے لئے
اپنے تبلیغی جلسے اپنی مساجد کے اندر بھی منعقد کریں گے تو انہیں گرفتار کر کے زندان میں ڈال دیا جائے گا اور کسی کو اس امر کی اجازت نہیں دی جائے گی کہ مرزائی وزیر خارجہ چوہدری ظفر اللہ خان کی اسلام سوز سرگرمیوں کے متعلق کوئی حرف حق زبان پر لائے۔
٤
حکومت کی طرف سے اپنی متذکرہ صدر پالیسی کے اس عملی طور پر واضح اعلان کے بعد مسلمان یہ سوچنے پر مجبور ہیں کہ اس ملک پر کس کی فرمانروائی ہے اور ان کیفیات کو جن کا آغاز متذکرہ صورت میں ہوا ہے وہ کس حد تک برداشت کرنے کے لئے آمادہ ہیں؟۔
مدنی حقوق اور دستور ماسبق
کہا گیا ہے کہ مرزائی بھی پاکستان کے باشندے ہیں اور انہیں بھی اس امر کا قانونی حق حاصل ہے کہ وہ اپنے خیالات وعقائد کی نشر واشاعت کے لئے دوسرے لوگوں کی طرح عام جلسے منعقد کریں۔ اصولی طور پر یہ بات کتنی صحیح اور کتنی خوبصورت نظر آتی ہے۔ لیکن ایسا کہتے وقت اس کے دوسرے اہم پہلو کو نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔ وہ پہلو یہ ہے کہ کسی آبادی کا کوئی گروہ مدنی آزادی کے حقوق کو اس طریق سے استعمال کرنے کا مجاز نہیں جو فساد انگیزی کا موجب ہو۔ یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ مرزائی اپنے جن عقائد کی نشر واشاعت کا حق مانگتے ہیں۔ مرزائیوں کو عام جلسہ منعقد کر کے تبلیغی مہمیں جاری کرنے کی اجازت دینا ملک کے اندر فتنہ و فساد برپا کرنے کو دعوت دینے کے مترادف ہے۔ پھر فتنہ آرائی کی اس دعوت کو کامیاب بنانے کے لئے ملک کی پولیس اور فوج استعمال کرنا یہ معنی رکھتا ہے کہ حکمران طبقے طاقت وقوت کے بل پر لوگوں کو مجبور کرنا چاہتے ہیں کہ وہ اپنا دین چھوڑ کر مرزائیت کا دین اختیار کر لیں۔ ایسے باتدبیر ارباب حکومت سمجھ اور بوجھ سے کام لیا کرتے ہیں اور کسی نئے فتنہ کو سر اٹھانے کی اجازت نہیں دیا کرتے۔ چہ جائیکہ اس کی حفاظت اور اس کی کامیابی کے لئے پولیس اور فوج کو استعمال کرنے لگیں۔ ایسے امور میں حکمرانوں کا دستور العمل STATUSQUO یعنی حسب دستور سابق ہوا کرتا ہے۔ تاکہ نئے فتنے پیدا نہ ہوں۔
متحدہ ہندوستان میں انگریز حکمران مختلف مذہبی گروہوں کے مدنی حقوق کے اجراء کے بارے میں اسی اصول کو دستور العمل بنا کر چلا کرتے تھے۔ مثلاً جھٹکا کرنا، سکھوں کا مذہبی حق تھا۔ گائے ذبح کرنا مسلمانوں کا مذہبی حق تھا۔ تعزیہ نکالنا شیعہ مسلمانوں کا مذہبی حق تھا۔ لیکن اس دور کے حکمران صرف ان مقامات پر ان مذہبی حقوق کے اجراء کی اجازت دیتے تھے۔ جہاں یہ حقوق پہلے سے مسلم ہو چکے تھے۔ کسی نئی جگہ پر وہ نہ تو جھٹکا کرنے کی اجازت دیتے تھے۔ ان مدنی حقوق کے اجراء سے لوگوں کو روکنے کی وجہ محض یہ تھی کہ فتنہ و فساد کے دروازے بند رہیں۔ لیکن کراچی کے حکام نے پاکستان کی مرکزی حکومت کی آنکھوں کے سامنے شاید انہی کے ایماء سے مرزائیوں کو
٥
جلسہ عام کرنے کی اجازت دے دی۔ جو انہیں پہلے سے حاصل نہ تھی۔ نہ صرف اجازت دی بلکہ حکمرانی کی طاقتیں جو اچھے مقاصد کے لئے استعمال ہونی چاہئیں تھیں۔ اس جلسہ کو کامیاب بنانے کے لئے لگا دیں۔ نتیجہ ہنگامہ آرائی کی شکل میں رونما ہوا اور ملک کے اندر ایسی تحریک چل نکلی جو اب اس معاملے کا دو ٹوک فیصلہ کر کے رہے گی کہ اس ملک کے انتظامات سنبھالنے کا حق کس کو حاصل ہے۔ آیا مسلمانوں کو حاصل ہے جن کی غالب اکثریت اس ملک میں آباد ہے یا مرزائیوں کو حاصل ہے جن کو ملک کے اندر تو کسی قسم کا اثر اور رسوخ حاصل نہیں۔ البتہ جو اسلام کی دشمن طاقتوں کے ساتھ ساز باز ضرور رکھتے ہیں۔
مسلمانوں پر دفعہ ١٤٤ کا نفاذ کیوں؟
سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر پاکستان کے ارباب حکومت کراچی کے حکام نے اس بنیادی اصول کی بنا پر پاکستان میں ہر طبقہ کے افراد کو عام جلسہ منعقد کرنے کا حق حاصل ہے۔ کراچی میں مرزائیوں کا جلسہ عام پولیس کی مدد سے کامیاب کرنا اپنا فرض منصبی خیال کیا تو پنجاب میں احرار کے جلسوں اور عام مسلمانوں کے جلسوں پر دفعہ ١٤٤ نافذ کر کے اسی پولیس کو اس کام پر کیوں لگا دیا گیا کہ وہ جلسے منعقد نہ ہونے دے اور عوام کو اپنے مدنی حقوق سے بہرہ اندوز نہ ہونے دے۔ اگر فتنہ آرائی کے اندیشے سے مسلمانوں کے جلسے بند کئے گئے ہیں تو مرزائیوں کے جلسے اسی اندیشے کی بنا پر سب سے پہلے بند کرنے چاہئے تھے اور یہ مسجدوں کو دفعہ ١٤٤ کی لپیٹ میں لانا ایسا نادر کارنامہ ہے جس کی نظیر تو کافر انگریز کی حکومت نے بھی اپنے صد سالہ دور حکمرانی میں مشکل ہی سے دی ہوگی۔
مسلمانوں کے مطالبات
مسلمان اپنے جلسوں میں کیا کہنا چاہتے تھے۔ صرف یہی کہ مرزائی لوگ اپنے جن عقائد کی تبلیغ کرنا چاہتے ہیں وہ ہمارے لئے بدرجہ غایت اشتعال انگیز ہیں۔ لہٰذا حکومت کو چاہئے کہ انہیں خواہ مخواہ کی اشتعال انگیزی سے باز رکھے۔ نیز وہ چوہدری سر ظفر اللہ خان کے تدبر، کی لیاقت اور اس کی پاکستان سے وفاداری پر اعتماد نہیں رکھتے۔ اس لئے چوہدری ظفر اللہ کو وزارت ایسے ذمہ دار عہدے سے ہٹا دیا جائے۔ مزید برآں وہ حکومت سے جسے وہ غلط یا صحیح طور پر اپنی حکومت سمجھتے ہیں اس مضمون کی استدعا کرنا چاہتے تھے کہ مرزائیوں کو ملک کی جداگانہ غیر مسلم اقلیت قرار دیا جائے۔ کیونکہ وہ مسلمان نہیں۔
٦
میں پوچھنا چاہتا ہوں کہ مسلمانوں کے ان مطالبات میں وہ کونسا زہر بھرا تھا کہ حکومت پنجاب نے ایسے جلسے منعقد کرنے کی ممانعت کر دی۔ جن کے اندر متذکرہ صدر مضامین کی آوازیں بلند کی جاتیں۔ کیا پاکستان کے حکمران ڈنڈے کے بل پر عامتہ المسلمین کو اس امر پر مجبور کرنا چاہتے ہیں کہ وہ بھی پاکستان کے ارباب حکومت کی طرح چوہدری ظفر اللہ خان کے حسن تدبر اور اس کی روحانیت (جیسا کہ انگریزی کے ایک مرزائی اخبار نے لکھا تھا) پر ایمان لے آئیں اور حکومت برطانیہ کی اس لاڈلی شخصیت کے متعلق کوئی حرف زبان پر نہ لائیں۔
مجھے تعجب ہے کہ چوہدری ظفر اللہ کو پاکستان کے انتظامات سنبھالنے، اول وزارت میں لیا ہی کیوں گیا اور اگر لیا گیا تو کیا وجہ ہے کہ عامتہ الناس کی طرف سے اس پر عدم اعتماد کے اس قدر اظہار کے باوجود جو گزشتہ پانچ سال کے دوران ہوا ہے اسے برطرف کیوں نہ کیا گیا؟۔
آخر وہ کون سی طاقت ہے جس کے بل بوتے پر چوہدری صاحب پاکستان کے دفتر خارجہ کو قادیانیوں کی میراث بنائے بیٹھے ہیں اور اس کے بل پر ملک کے اندر اور ملک کے باہر جہاں کہیں موقع ملتا ہے مرزائیت کی تبلیغ کرنے میں ذرہ بھر دریغ سے کام نہیں لیتے۔
فتنہ انگیزیوں کی ابتداء
قصہ مختصر گزشتہ ڈیڑھ ماہ سے جس نوعیت کے واقعات اس سلسلہ میں رونما ہوئے ہیں اور ہو رہے ہیں وہ ظاہر کرتے ہیں کہ راقم الحروف نے ڈھائی سال پہلے جن خطرات کو محسوس کیا تھا وہ بہت قریب آگئے ہیں۔ بلکہ شروع ہو چکے ہیں۔ مرزا بشیر الدین محمود کچھ عرصہ سے اپنے مریدوں سے کہہ رہے ہیں کہ پاکستان میں عنقریب مرزائیوں کی حکومت قائم ہونے والی ہے اور مخالفین مجرموں کی طرح ان کی یا ان کے کسی جانشین کی بارگاہ میں پیش ہوں گے۔ نیز وہ اپنے مریدوں کو اس امر کی تلقین کر رہے تھے کہ ملک کے اندر ایسے حالات پیدا کر دو کہ مسلمان مرزائیوں کی طاقت شرانگیزی کا لوہا مان جائیں اور احمدیت کا رعب دشمن اس رنگ میں محسوس کر لے کہ اب احمدیت مٹائی نہیں جاسکتی اور مجبور ہو کر احمدیت کی آغوش میں آ گرے۔
تو یہ حالات جن کے پیدا کرنے کا منصوبہ دیر سے باندھا جا رہا تھا۔ کراچی میں جلسہ عام منعقد کرنے کا فتنہ کھڑا کر کے پیدا کرنے کی ابتدا کر دی گئی ہے اور نہیں کہا جا سکتا کہ مرزا بشیر الدین محمود اور چوہدری ظفر اللہ خان پاکستان کے ارباب سیاست و اقتدار میں سے اور اس کے فوجی اور ملکی حکام میں سے کس کس کو اس منصوبہ کے ساتھ وابستہ کرنے میں کامیاب ہو چکے ہیں۔
٧
البتہ حالات کی رفتار کہہ رہی ہے کہ مرزائی عنقریب ملک کے اندر درجہ اول کے فتنہ و فساد کی آگ مشتعل کر پائیں گے۔ تاکہ عامۃ المسلمین کی روحوں کو کچل کر اور ان کے سروں کو پھوڑ کر پاکستان کے اندر مرزائیت کے اقتدار کو مستحکم کرلیں۔ وہ اپنے اس برے ارادے میں کامیاب ہوتے ہیں یا نہیں۔ اس کا حال اللہ تعالیٰ کو معلوم ہے۔ جو علیم و خبیر ہے۔ البتہ ایک بات یقینی ہے۔ وہ یہ کہ مرزائی لوگ شرارت پر کمر بستہ ہیں اور وہ ملک کے اندر طرح طرح کے فتنہ برپا کر کے پاکستان کو اور پاکستان کے مسلمانوں کو نقصان عظیم پہنچا کر رہیں گے۔
مسلمانوں کو ابھی سے حفظ ماتقدم کی تدابیر سوچ لینی چاہئیں۔ پانی سر سے گزر گیا تو بڑی مشکلات پیش آئیں گی۔
(سہ روزہ آزاد لاہور ٣ جولائی ١٩٥٢ء)
مساجد میں دفعہ ١٤٤ کے نفاذ کو مسلم عوام برداشت نہیں کر سکتے
(حکومت تشدد کے ذریعہ مسلمانوں کے دینی حقوق سلب کرنا چاہتی ہے)
حضرت مولانا ظفر احمد عثمانی کا بیان
مولانا ظفر احمد عثمانی صدر مرکزی جمعیت علمائے اسلام نے جو جمعیت کی تنظیم جدید کے سلسلے میں جمعیت کے مقامی لیڈروں کو ضروری ہدایات دینے کے لئے لاہور تشریف لائے ہیں اخباری نمائندوں کو بیان دیتے ہوئے فتنہ مرزائیت کے متعلق فرمایا کہ یہ صورت حال بڑی افسوس ناک ہے کہ دنیا کی سب سے بڑی اسلامی حکومت کا وزیر خارجہ ایک ایسے فرقہ سے تعلق رکھتا ہے جو ختم نبوت کا منکر اور اسلام میں ایک نئی رسالت کا دعویدار ہے۔ مولانا نے مزید فرمایا کہ مجھے یہ معلوم کر کے افسوس ہوا کہ حکومت پنجاب مرزائیت کے خلاف مسلمانوں کے اظہار خیال کی آزادی کو سلب کرنے پر تلی ہوئی ہے اور مسلمانوں کو مساجد میں بھی اظہار خیال کرنے کی آزادی حاصل نہیں۔
میں حکومت کے ذمہ داروں کو بتلا دینا چاہتا ہوں کہ مساجد میں دفعہ ١٤٤ کا نفاذ مساجد کی انتہائی بے حرمتی ہے۔ جس کو مسلم عوام کسی طرح بھی برداشت نہیں کر سکتے۔ انگریزوں کے زمانے میں بھی مساجد پر کسی قسم کی پابندی کو برداشت نہیں کیا گیا۔ اس لئے حکومت کا فرض ہے کہ وہ فوراً اپنی پالیسی میں مناسب تبدیلی پیدا کرے۔ ورنہ اس کے نتائج اس کے حق میں انتہائی مضر ثابت ہوں گے۔ مولانا ظفر احمد عثمانی!
(سہ روزہ آزاد لاہور ٣ جولائی ١٩٥٢ء)
٨
کے اندر درجہ اول کے فتنہ و فساد کی آگ ل کر اور ان کے سروں کو پھوڑ کر پاکستان برے ارادے میں کامیاب ہوتے ہیں یا ہے۔ البتہ ایک بات یقینی ہے۔ وہ یہ کہ رح طرح کے فتنہ برپا کر کے پاکستان کو
وچ لینی چاہئیں۔ پانی سر سے گزر گیا تو
(سہ روزہ آزاد لاہور ٣ جولائی ١٩٥٢ء)
م برداشت نہیں کر سکتے
حقوق سلب کرنا چاہتی ہے)
اسلام نے جو جمعیت کی تنظیم جدید کے ینے کے لئے لاہور تشریف لائے ہیں ق فرمایا کہ یہ صورت حال بڑی افسوس جہ ایک ایسے فرقہ سے تعلق رکھتا ہے جو ہے۔ مولانا نے مزید فرمایا کہ مجھے یہ خلاف مسلمانوں کے اظہار خیال کی میں بھی اظہار خیال کرنے کی آزادی
کہ مساجد میں دفعہ ١٤٤ کا نفاذ مساجد داشت نہیں کر سکتے۔ انگریزوں کے گیا۔ اس لئے حکومت کا فرض ہے کہ کے نتائج اس کے حق میں انتہائی مضر
(سہ روزہ آزاد لاہور ٣ جولائی ١٩٥٢ء)
انا خاتم النبیین لا نبی بعدی
میں آخری نبی ہوں، میرے بعد کوئی نبی نہیں
الظفر الرحمانی
فی
کسف القادیانی
(حضرت مولانا مفتی غلام مرتضیٰؒ)
بسم اللہ الرحمن الرحیم!
الحمدلله الذى ارسل رسوله بالهدى والدين الكامل المبين ليظهره على سائر اهل الملل كلهم اجمعين ، والصلوة والسلام على رسول الله وخاتم النبيين وعلى اله وصحبه وخلفائه الراشدين المهديين ٠ اما بعد!
واضح ہو کہ اسلامی جماعت کی خدمت میں عموماً اور قادیانی جماعت کی خدمت میں خصوصاً درخواست ہے کہ آپ ہر ایک صاحب اس کتاب کو از ابتدا تا اخیر نہایت غور سے سمجھ کر پڑھیں ۔ اگر کوئی بات سمجھ میں نہ آوے تو اس کو کسی لائق عالم سے سمجھ لیں اور پھر ایمان کے دائرہ کے اندر کھڑے ہو کر یہ فیصلہ کریں کہ ہر دو مناظروں میں سے کون مناظر ایمان کے مقتضا کے اندر رہ کر فاتح و کامیاب ہوا ہے اور کون مناظر ایمان کے مقتضا سے خارج ہو کر مفتوح و ناکام ہوا؟
سبب مناظرہ
جو لوگ حضرت مولانا مفتی غلام مرتضیٰ صاحب کے مشرب و مذاق سے واقف ہیں وہ جانتے ہیں کہ مفتی صاحب کو مناظرہ کے ساتھ انس و دلچسپی نہیں۔ نہ اس وجہ سے کہ ان میں کوئی علمی کمزوری ہے۔ بلکہ اس لئے کہ آج کل کے مناظرے در حقیقت مناظرے نہیں ہوتے۔ بلکہ مجادلے یا مکابرے ہوتے ہیں۔ لیکن قادیانی جماعت کے بعض افراد نے مفتی صاحب کے اس تنفر کو اس رنگ میں بیان کرنا شروع کر دیا۔ چونکہ مفتی صاحب کے پاس اپنے مذہب کی حقانیت کی کوئی دلیل نہیں۔ اس لئے وہ میدان مناظرہ میں نہیں آتے اور اس ذکر کو عرصہ دراز تک جاری رکھا۔ یہاں تک کہ اسلامی جماعت کے کثیر التعداد آدمی مضطرب العقائد و متردد الایمان ہو گئے۔ جب مفتی صاحب نے اسلامی جماعت میں یہ اضطراب و تردد محسوس کیا تو انہوں نے اپنے دل میں یہ ناطق فیصلہ کر لیا کہ اسلامی جماعت کے ایمان و عقائد حقہ کی حفاظت کرنے کے لئے اب منجانب اللہ تیرا مناظرہ کرنا لازمی فرض ہو چکا ہے اور مفتی صاحب نے بڑے زور سے اعلان کر دیا کہ میں مناظرہ کرنے پر ہر طرح سے تیار ہوں۔
تعیین موضوع مناظرہ
کئی سال سے قادیانی جماعت کے بعض افراد مفتی صاحب کے پاس آتے رہے اور جب وہ اپنے قادیانی مذہب کی تائید میں طول طویل تقریریں کرتے اور مفتی صاحب اخیر میں ایک ہی فاضلانہ فقرہ سے سب کی تردید کر دیتے تو وہ قادیانی آدمی گھبرا کر مفتی صاحب کو کہتے کہ تم
٢
ہمارے عالم کے ساتھ مناظرہ کیوں نہیں کرتے۔ کبھی تو مفتی صاحب سکوت فرماتے اور کبھی یہ فرماتے کہ اگر تمہارا کوئی عالم یہاں آ جائے تو ہم مضامین مفصلہ ذیل میں تبادلۂ خیالات کریں گے۔ ختم نبوت، مرزا قادیانی کی نبوت، مرزا قادیانی کا مسیح موعود ہونا، مرزا قادیانی کے منکروں کی تکفیر، مرزا قادیانی کا اسلام و کفر، مرزا قادیانی کی صداقت و تکذیب۔
لیکن قادیانی آدمی ہر بار اس بات پر زور دیتے کہ ہمارا عالم پہلے مسیح ابن مریم کی حیات و وفات پر مناظرہ کرے گا۔ بلحاظ وجہ مذکور مفتی صاحب نے بھی مسیح ابن مریم کی حیات و وفات پر مناظرہ کرنا تسلیم کر لیا اور قادیانی جماعت کے اس مضمون پر زور دینے کی یہی وجہ معلوم ہوتی ہے کہ ان کے نبی مرزا قادیانی نے بھی اس مسئلہ حیات و وفات مسیح ابن مریم پر بہت زور دیا ہے۔ چنانچہ وہ لکھتے ہیں: ”یاد رہے کہ ہمارے اور ہمارے مخالفین کے صدق و کذب آزمانے کے لئے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی وفات حیات ہے۔ اگر حضرت عیسیٰ علیہ السلام درحقیقت زندہ ہیں تو ہمارے سب دعوے جھوٹے اور سب دلائل ہیچ ہیں اور اگر وہ درحقیقت قرآن کریم کی رو سے فوت شدہ ہیں تو ہمارے مخالف باطل پر ہیں۔ اب قرآن درمیان میں ہے۔ اس کو سوچو۔“
(تحفہ گولڑویہ ص ١٠٢، خزائن ج ١٧ ص ٢٦٢)
اور واقعی اسلامی جماعت کے علماء اس موضوع پر مناظرہ کرنے سے کسی قدر جھجھکتے تھے۔ لیکن جب زبدۃ المحققین ورئیس العارفین مرکز الہدایت ومحور الولایت مولانا ومرشدنا حضرت خواجہ سید مہر علی شاہ صاحب لازالت فیوضہم نے کتب ذیل شمس الہدایۃ، حجۃ اللہ البالغۃ علیٰ الشمس البازغۃ، فیوضات مہریہ، تالیف فرمائیں تو اس وقت سے اسلامی جماعت کے علماء کے بازو اس موضوع یعنی حیات و وفات مسیح ابن مریم پر مناظرہ کرنے کے لئے ہمیشہ کے واسطے قوی ہو گئے ہیں۔ کیونکہ مرشدنا الممدوح نے حیات مسیح ابن مریم کے ثابت کرنے کے لئے ایسے طرق استدلالات واستنادات بیان فرمائے ہیں۔ جن کے جواب دینے سے مرزا قادیانی اور مرزا قادیانی کے مریدین آج تک عاجز ہیں اور ان کی حقیقت پر مطلع ہونے سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ یہ طرق استدلالات واستنادات موہوبی ہیں اور یہی وجہ ہے کہ جب مرشدنا الممدوح بغرض مناظرہ لاہور تشریف لے گئے اور قریباً ہفتہ عشرہ وہاں قیام فرمایا تو مرزا قادیانی مناظرہ کے لئے نہ آئے۔ بلکہ انکار کر دیا اور نیز یہی وجہ ہے کہ چونکہ اسلامی مناظر یعنی مفتی صاحب مرشدنا الممدوح کے مریدین مستفیضین میں سے ہیں۔ اس لئے قادیانی مناظر نہ ان کی تردید کر سکا اور نہ ہی کوئی دلیل تام التقریب پیش کر سکا اور مناظرہ ختم ہونے کے بعد علامہ دہر حضرت مولانا مولوی غلام محمد
٣
صاحب گھٹوی پریذیڈنٹ اسلامی جماعت دوسرے دن اسٹیشن میانی سے ریل پر سوار ہو کر بمقام گولڑہ شریف پہنچے اور وہاں مرشدنا الممدوح کے حضور میں مناظرہ کے تمام واقعات عرض کئے۔ جس پر مرشدنا الممدوح نے اسلامی مناظر کو یہ خط لکھا جس کے الفاظ بعینہا حسب ذیل ہیں۔
”مخلصی فی اللہ مفتی غلام مرتضیٰ حفظکم اللہ تعالیٰ“
بعد سلام و دعاء کے الحمد للہ ای المنہ کہ او سبحانہ و تعالیٰ نے آپ کو توفیق اظہار حق بوجہ اتم عنایت فرمائی۔ مخلصی مولوی غلام محمد صاحب سے مفصل کیفیت معلوم ہوئی۔ بل کے بل نے سب بل مبطلین کے نکال دیئے۔ ”اللہم وفقنا لما تحب وترضیٰ وصل وسلم وبارک علیٰ سیدنا محمد و آلہ وصحبہ والحمد للہ اولاً وآخراً“ سب احباب سے مبارک بادی۔
(العبد الراجی الملتجی الیٰ اللہ المدعو بہ مہر علی شاہ بقلم خود از گولڑہ، مورخہ ٢٢؍ اکتوبر ١٩٢٤ء)
شرائط مناظرہ
بتاریخ ٢٥؍ اگست ١٩٢٤ء کسی اپنے خاص کام کے لئے مفتی صاحب نے ایک ہفتہ کا سفر اختیار کیا اور قادیانی جماعت کے لوگ اپنے ایک مولوی صاحب مسمی جلال الدین شمس کو قادیان سے میانی لائے اور اس قادیانی مولوی نے بتاریخ ٢٧؍ اگست ١٩٢٤ء کنج منڈی میانی میں تقریر کی اور بعد اختتام تقریر ایک قادیانی نے کہا کہ یہ مولوی صاحب کل وفات مسیح ابن مریم پر دلائل پیش کریں گے۔ اگر کسی نے مناظرہ کرنا ہے تو میدان میں آوے۔ یہ بات سن کر بوجہ عدم موجودگی مفتی صاحب اسلامی جماعت میں سخت اضطراب پیدا ہوا۔ لیکن مطابق ”الاسلام یعلو ولا یعلیٰ“ خدا تعالیٰ نے یہ اتفاق پیدا کر دیا کہ مفتی صاحب کو سفر میں گرمی محسوس ہوئی۔ اس وجہ سے وہ ارادہ سفر ملتوی کر کے بتاریخ ٢٨؍ اگست ١٩٢٤ء صبح کی گاڑی پر براستہ بھیرہ واپس میانی پہنچ گئے۔ جس پر اسلامی جماعت میں نہایت سرور وخوشی ہو گئی اور قادیانی جماعت کے اندر اضطراب ہوا۔ ”وتلک الایام نداولھا بین الناس“ اور مفتی صاحب نے قادیانی جماعت کو کہلا بھیجا کہ تم نے اسلامی جماعت کو مخاطب کر کے مناظرہ کے لئے دعوت دی ہے۔ اس پر میں بتائید اللہ مناظرہ کرنے پر تیار ہوں۔ آپ میرے ساتھ شرائط مناظرہ طے کریں۔ چنانچہ بتاریخ ٢٨؍ اگست ١٩٢٤ء مابین مولانا مفتی غلام مرتضیٰ صاحب ساکن میانی و مولوی جلال الدین صاحب شمس مولوی فاضل قادیانی بموجودگی ہر دو فریقین شرائط مفصلہ ذیل باتفاق فریقین طے ہوئیں۔
المناظرہ فی حیات و وفات مسیح
- ١...... ایک مناظر دوسرے مناظر کے مقابلہ میں قرآن کریم اور حدیث صحیح کو
٤
پیش کرے گا۔ علاوہ ازیں مناظر جماعت اسلامیہ سنیہ جماعت احمدیہ کے مقابلہ میں مرزا قادیانی کے اقوال بھی پیش کر سکے گا۔ بشرطیکہ دعویٰ نبوت کے بعد کے ہوں۔
- ٢....... قرآن کریم اور حدیث صحیح کی تفسیر امور مفصلہ ذیل سے کی جائے گی۔ قرآن
کریم، حدیث صحیح، اقوال صحابہ بشرطیکہ قرآن کریم اور حدیث صحیح کے مخالف نہ ہوں، لغت عرب، صرف، نحو، معانی، بیان، بدیع۔ اگر کوئی حدیث قرآن کریم کے مخالف ہوگی تو وہ صحیح نہیں سمجھی جائے گی۔
- ٣....... کل پرچے پانچ ہونگے۔ پہلے دن ہر ایک مناظر اپنے دعویٰ کے دلائل
تحریری طور پر پیش کرے گا اور ہر ایک تقریر کے لئے ڈیڑھ گھنٹہ وقت ہوگا اور قبل از شروع اس تمام تقریر کو تحریر میں لاکر دوسرے مناظر کو دے دے گا اور ہر ایک مناظر تحریر کردہ مضمون کے علاوہ اور کوئی مضمون بیان نہیں کرے گا۔ ہاں توضیح اور تشریح کرسکتا ہے اور تردید کے تحریر کرنے کے لئے دو گھنٹہ کا وقت ہوگا اور آدھ آدھ گھنٹہ ان کے سنانے کے لئے ہوگا۔ ان کے سنانے کے بعد پہلے دن کا اجلاس ختم ہوگا۔ دوسرے دن ہر ایک مناظر کی طرف سے تین تین پرچے ہوں گے۔ ہر ایک پرچے کی تحریر کے لئے ایک ایک گھنٹہ وقت مقرر ہوگا اور تقریر کے لئے آدھ آدھ گھنٹہ ہوگا۔ پہلے دن کے پہلے پرچہ کے علاوہ کسی پرچہ میں کوئی نئی دلیل پیش نہ کی جائے گی۔
- ٤....... ہر ایک دن کا اجلاس صبح ٨ بجے سے شروع ہوگا۔ تحریر اور تقریر کے علاوہ جو
وقت صرف ہوگا وہ وقت مناظرہ میں شمار نہ ہوگا۔
- ٥....... مناظر پرچہ خود لکھے گا۔ اس کی دوسری کاپی کرنے کے لئے ایک معاون
ہوگا۔ ہر ایک مناظر کا اپنے ہاتھ سے لکھا ہوا پرچہ معہ اس کے دستخطوں کے پرچہ سنانے سے پہلے دوسرے مناظر کو دیا جائے گا اور ہر دو پریذیڈنٹوں کے دستخط اس پر ثبت ہوں گے۔
- ٦....... ہر ایک مناظر کسی غیر سے اثنائے مناظرہ میں کسی قسم کی امداد نہ لے گا۔
- ٧....... تاریخ مناظرہ ١٨، ١٩؍ اکتوبر ١٩٢٤ء مقرر ہے۔ یعنی بروز ہفتہ، اتوار۔
- ٨....... مناظرہ بمقام میانی متصل سرائے بڑ کے درخت کے نیچے ہوگا۔
- ٩....... فریقین میں سے کسی کو ضم ضمیمہ کا اختیار نہ ہوگا۔ مگر فریقین کو علیحدہ علیحدہ اس
مباحثہ کی اشاعت لازمی ہوگی۔
- ١٠....... فریقین کی طرف سے ایک ایک پریذیڈنٹ ہوگا۔ جن کا کام وقت کی
پابندی کرانا ہوگا۔ اگر کوئی مناظر خلاف تہذیب گفتگو کرے گا تو پریذیڈنٹ روک دیں گے۔
- ١١....... مناظرین اور ہر دو پریذیڈنٹوں کے بغیر کسی کو بولنے کی اجازت نہ ہوگی۔
٥
- ١٢....... صاحب ڈپٹی کمشنر بہادر سے پہلے اس مناظرہ کے لئے اجازت لی جائے گی۔
- ١٣....... فریقین کی طرف سے جو مناظر ہوں گے ان پر مذکورہ بالا شرائط کی پابندی
لازمی ہوگی۔ بقلم خود نبی محمد سیکرٹری انجمن احمدیہ میانی و گھوگھیات۔
نوٹ: جب شرط نمبر ١ کا یہ فقرہ یعنی ہر ایک مناظر دوسرے مناظر کے مقابلہ میں قرآن کریم اور حدیث صحیح کو پیش کرے گا۔ طے ہو چکا تو مفتی صاحب نے کہا کہ میں قادیانی مناظر کے مقابلہ میں مرزا قادیانی اور مرزا قادیانی کے خلیفوں کے اقوال بھی بطور حجت والزام پیش کرسکوں گا۔ اس پر مولوی جلال الدین قادیانی نے کہا کہ مرزا قادیانی کے خلیفوں کے اقوال ہم پر حجت نہیں۔ بڑے تعجب وحیرانگی کی بات ہے کہ مرزا قادیانی، قادیانی جماعت کے پیغمبر تو کہتے ہیں
داد آں جام را مرا بتمام
(نزول المسیح ص ٩٩، خزائن ج ١٨ ص ٤٧٧)
یعنی مرزا قادیانی کہتے ہیں کہ خدا تعالیٰ نے تمام انبیاء کے تمام کمالات مجھے عطاء کئے ہیں اور قادیانی امت یہ کہتی ہے کہ ہم کو اپنے پیغمبر کے خلیفوں کے اقوال نامنظور ہیں۔ حالانکہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا ہے۔ ’’فعلیکم بسنتی وسنة الخلفاء الراشدین المهدیین (مشکوٰة ص ٣٠، باب الاعتصام بالكتاب والسنة)‘‘ یعنی جیسا کہ میری فرمانبرداری تم پر لازم ہے۔ ویسا ہی میرے خلیفوں کی فرمانبرداری تمہارے اوپر لازم ہے۔‘‘ اور پھر مولوی جلال الدین قادیانی نے کہا کہ مرزا قادیانی کے اقوال بھی علی الاطلاق ہمارے اوپر حجت نہیں بلکہ وہ اقوال جو دعویٰ نبوت کے بعد کے ہوں۔ یہ عجیب پیغمبر ہے اور عجیب اس کی امت ہے۔
شرط نمبر اول و دوئم
شرائط مجوزہ مسلمہ فریقین میں سے شرط نمبر ١، و شرط نمبر ٢ نہایت قابل غور ہیں اور در حقیقت یہی دو شرطیں فتح وشکست کا معیار ومیزان ہیں اور نیز یہ دو شرطیں وہ ہیں۔ جن کو قرآن کریم وحدیث کا عربی ہونا لازمی طور پر تجویز کرتے ہیں۔ مفتی صاحب اسلامی مناظر نے ان ہر دو شرطوں کے عین مطابق اور تحت میں رہ کر اپنا دعویٰ حیات مسیح ابن مریم ثابت کر دیا اور قادیانی مناظر کے تمام خیالات کی تردید کی۔ لیکن قادیانی مناظر با وجود ان ہر دو شرطوں سے متجاوز ہونے کے بھی اپنا دعویٰ وفات مسیح ابن مریم ثابت نہ کر سکا اور نہ ہی اسلامی مناظر کی تردید کر سکا۔ جیسا کہ روئیداد مناظرہ سے روشن ہے۔
٦
اسلامی قاعدہ متعلق مناظرہ
اگر ہر دو مناظر اہل اسلام میں سے ہوں تو ان کا لازمی فرض ہے کہ وہ اس حکم اور قانون پر فیصلہ کریں جو قرآن کریم یا حدیث کے الفاظ سے مفہوم ہے اور اس حکم اور قانون کی حکمت کا نہ دریافت کرنا ضروری ہے اور نہ بیان کرنا لازمی ہے۔ کیونکہ حکم اور قانون قطعی و یقینی ہے اور حکمت ظنی ہے اور بوقت مناظرہ قطعی و یقینی امر کو ترک کر کے ظنی امر کی طرف رجوع کرنا خلاف عقل و نقل ہے۔ خلاف عقل ہونا تو ظاہر ہے۔ دیکھئے اگر صاحب جج کسی مقدمہ میں ڈگری دے دیں تو مدعاعلیہ یہ نہیں کہہ سکتا کہ جس قانون کے رو سے آپ نے ڈگری دی ہے میں اس قانون کو تو مانتا ہوں۔ لیکن مجھ کو خود اس میں یہ کلام ہے کہ یہ قانون مصلحت کے خلاف ہے۔ اس لئے آپ اس کا راز بتلاویں اور اگر وہ ایسا کہے بھی تو اس کو توہین عدالت کا مجرم سمجھا جاوے گا اور اس پر صاحب جج کو حق ہو گا کہ توہین عدالت کا اس پر مقدمہ کرے اور اگر مقدمہ بھی قائم نہ کیا تو اتنا تو ضرور کرے گا کہ کان پکڑ کر اس کو عدالت سے باہر کر دے گا اور اگر اس وقت اس کی طبیعت میں حکومت کی بجائے حکمت غالب ہوئی تو یہ جواب دے گا کہ ہم عالم قانون ہیں واضع قانون نہیں۔ مصالح واضع سے پوچھو تو کیا کسی عقلمند کے نزدیک یہ جواب نامعقول جواب ہے یا بالکل عقل کے موافق اور نقل کے خلاف ہونا اس آیت سے ثابت ہے۔ ”یا ایھا الذین آمنوا اطیعوا اللہ واطیعوا الرسول واولی الامر منکم فان تنازعتم فی شئ فردوہ الی اللہ والرسول ان کنتم تؤمنون باللہ والیوم الآخر (نساء:٥٩) “ ﴿اے ایمان والو اللہ کی اطاعت کرو اور رسول (محمدؐ) کی اطاعت کرو اور اپنے سے صاحب امر لوگوں کی، پھر اگر کسی چیز میں باہم تنازع کرو تو اسے اللہ اور رسول کی طرف لے جاؤ۔ اگر تم اللہ پر اور آخر کے دن پر ایمان لاتے ہو۔﴾
دیکھو کہ اولی الامر کے ساتھ اطیعوا نہ لانے میں یہ ایماء ہے کہ اولی الامر کی اطاعت اللہ اور رسول کی اطاعت کے ماتحت ہے اور پھر ”فردوہ الی اللہ والرسول“ میں اولی الامر کا ذکر نہ کرنا اس میں قرآن کریم نے یہ صاف فیصلہ کر دیا کہ متنازع فیہ امر میں فیصلہ کن دو ہی چیزیں ہیں۔ قرآن کریم اور حدیث، تیسری چیز کوئی نہیں اور پھر ”ان کنتم تؤمنون باللہ والیوم الآخر“ فرما کر یہ بتلا دیا ہے کہ اگر تم مؤمن ہو تو متنازع فیہ امر کے فیصلہ کے لئے قرآن کریم اور حدیث نبوی کے سوائے کسی چیز کی طرف توجہ نہ کرو گے۔ ورنہ تم مؤمن نہیں۔ ٧
ناظرین! غور کریں کہ مفتی صاحب اسلامی مناظر نے آیت ’’فان تنازعتم فی شئ فردوہ الی اللّٰہ والرسول ان کنتم تؤمنون باللّٰہ والیوم الآخر (نساء:٥٩)‘‘ کے عین مطابق مناظرہ کیا ہے اور قادیانی مناظر نے اس آیت کے خلاف اپنے مناظرہ میں کثیر التعداد امور کا ارتکاب کیا ہے۔ مثلاً تورات کا پیش کرنا اور یہ کہنا کہ مسیح ابن مریم کو آسمان پر اتنی دیر رکھنے کی کیا ضرورت ہے۔ خدا تعالیٰ نے مسیح کو دوسرے آسمان پر کیوں رکھا اور ساتویں آسمان پر کیوں نہیں لے گیا۔ ان میں کوئی نقص باقی تھا وغیرہ وغیرہ جو روئیداد مناظرہ سے روشن ہے۔ اس طرز عمل سے تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ قادیانی جماعت زبانی تو مدعی ایمان بالقرآن والحدیث ہے۔ لیکن ان کے قلوب کی حالت دگرگوں ہے۔ صاحبو! یہ نہ سمجھئے کہ اسلامی جماعت کے علماء وفضلاء اسلامی احکام وقوانین کے اسرار وحکم کو نہیں جانتے۔ ان کے پاس سب کچھ ذخیرہ موجود ہے۔ لیکن
ورنہ در مجلس رنداں خبرے نیست کہ نیست
سراج العلماء حضرت حافظ محمد اشرف علی صاحب تھانویؒ فرماتے ہیں کہ: ’’میں شاہجہان پور سے سفر کر رہا تھا۔ ایک جنٹلمین گاڑی میں بیٹھے تھے۔ ایک اسٹیشن پر ان کے خادم نے آکر اطلاع دی کہ حضور وہ تو سنبھلتا نہیں۔ کہنے لگے کہ یہاں پہنچادو۔ یہ سن کر مجھے تعجب ہوا کہ وہ کون سی چیز ان کے ساتھ ہوگی جو خادم سے نہیں سنبھل سکتی اور اب یہ گاڑی میں منگا کر اس کو سنبھالیں گے۔ آخر چند منٹ بعد دیکھا کہ خادم صاحب ایک بہت بڑے اور اونچے کتے کو زنجیر میں باندھے ہوئے لارہے ہیں اور وہ کتا زور کر رہا ہے۔ آخر وہ ان کے سپرد کیا گیا۔ انہوں نے ریل کی آہنی سلاخوں سے اس زنجیر کو باندھ دیا۔ اس کے بعد وہ میری طرف متوجہ ہوئے اور کہنے لگے کہ جناب! کتے کا کھانا کیوں حرام ہوا۔ باوجودیکہ اس میں فلاں وصف ہے اور فلاں وصف ہے۔ کتے میں انہوں نے وہ وصف بیان کئے کہ شاید ان میں بھی نہ ہوں۔ میں سب سنتا رہا۔ جب وہ کہہ چکے تو میں نے کہا کہ جناب میں نے سن لیا۔ اس کے دو جواب ہیں۔ ایک عام کہ وہ اس کے علاوہ اور بھی بہت سے شبہات کا جواب ہے اور ایک خاص کہ وہ خاص اسی کے متعلق ہے۔ کون سا عرض کروں۔ فرمانے لگے دونوں کہہ دیجئے۔ میں نے کہا جواب عام تو یہ ہے کہ حضور ﷺ نے اس کے کھانے کی ممانعت فرمائی ہے اور یہ جواب عام اس لئے ہے کہ قیامت تک کے لئے شبہات کا جواب ہے۔ البتہ اس میں دو مقدمے ہیں۔ ایک یہ کہ آپ رسول تھے۔ دوسرے یہ کہ رسول کا حکم
٨
ہے۔ اگر ان میں کلام ہے تو ثابت کروں۔ کہنے لگے یہ تو ایمان ہے۔ یہ تو عام جواب تھا اور یہ علمی اور تحقیقی جواب تھا۔ لیکن ان کو اس کی قدر نہ ہوئی اور کچھ حظ نہ آیا۔ کہنے لگے کہ جناب اور جواب خاص کیا ہے۔ میں نے کہا کہ وہ یہ ہے کہ کتے میں جس قدر اوصاف آپ نے بیان کئے واقعی وہ سب ہیں۔ لیکن باوجود ان اوصاف کے اس میں ایک عیب اتنا بڑا ہے کہ اس نے تمام اوصاف کو خاک میں ملا دیا ہے۔ وہ یہ کہ اس میں قومی ہمدردی نہیں ہوتی۔ آپ نے دیکھا ہوگا کہ ایک کتا دوسرے کتے کو دیکھ کر کس قدر از خود رفتہ ہو جاتا ہے۔ اس جواب کو سن کر وہ بہت ہی محظوظ ہوئے اور اس کو جواب قطعی سمجھے۔ حالانکہ یہ محض ایک نکتہ ہے اور جس جواب پر وہ اس قدر خوش تھے علاوہ فضول ہونے کے میری نظر میں اس کی کچھ بھی وقعت نہ تھی اور میں اس کو جواب ہی نہیں سمجھتا تھا۔ غرض علت اور حکمت دریافت کرنا عشق اور محبت کے بھی بالکل خلاف ہے۔ ہاں اگر یہ کہو کہ ہم عاشق ہی نہیں تو دوسری بات ہے۔ لیکن خدا تعالیٰ اس کی بھی نفی کرتے ہیں۔ فرماتے ہیں۔ ”والذین آمنوا اشد حباً للہ“ شدت محبت ہی کو عشق کہتے ہیں۔ اور اگر مناظرین میں سے ایک مسلم ہے اور دوسرا غیر مسلم ہے تو اس صورت میں مناظر مسلم کا فرض ہے کہ اپنے دعویٰ کے اثبات کے لئے عقلی دلائل پیش کرے۔
شرط نمبر ٩
چونکہ قادیانی جماعت نے شرط نمبر ٩ کو توڑ کر پہلے ایک اشتہار شائع کیا اور پھر روئیداد مناظرہ کے ساتھ نئے مضامین جن کا نام ”چند ضروری باتیں“ رکھا گیا اور حواشی ضم کر دیئے۔ اس لئے ہم نے بھی بعد میں اشتہار شائع کیا اور حواشی وغیرہ بغرض توضیح و تشریح ملا دیئے۔
شرط نمبر ٨
بتاریخ ١٤ / ١٥ اکتوبر ١٩٢٣ء جناب صاحب ڈپٹی کمشنر بہادر ضلع شاہپور کا حکم صادر ہو کر پہنچا کہ فی الحال مناظرہ نہ کیا جائے۔ اس حکم کے پہنچنے پر قادیانی جماعت کو از حد خوشی حاصل ہوئی اور مفتی صاحب کے ذمہ یہ اتہام لگایا کہ انہوں نے صاحب بہادر کے ساتھ کوشش کر کے مناظرہ رکوا دیا ہے۔ اس پر اسلامی جماعت نے یہ تجویز پیش کی کہ ضلع شاہپور کی حد سے باہر مناظرہ کیا جائے۔ لیکن قادیانی جماعت نے اس سے بھی گریز کی۔ جب مفتی صاحب نے یہ حالت دیکھی تو مضطربانہ صورت میں سر بسجود ہو کر دعاء کی کہ اے خدایا، اجلاس مناظرہ منعقد فرما کر اہل اسلام کے ایمان و عقائد حقہ مستحکم کر اور مجھے اس جھوٹے اتہام سے بری فرما۔ اس مجیب الدعوات
٩
ومسبب الاسباب نے ایسا اتفاق کیا کہ بتاریخ ١٧ر اکتوبر ١٩٢٤ء میاں شاہ محمد صاحب ساکن واڑہ عالم شاہ صبح کی گاڑی پر میانی پہنچ گئے۔ ان کی خدمت میں یہ بات بیان کی گئی کہ قادیانی جماعت مناظرہ سے گریز کر رہی ہے اور آپ بڑے لائق ہیں۔ ان کے ساتھ مناظرہ کرانے کے لئے کوشش کریں۔ چنانچہ میاں صاحب ممدوح قادیانی جماعت کے پاس گئے اور واپس آکر کہنے لگے کہ وہ مناظرہ پر تیار ہوگئے ہیں۔ لیکن یہ معلوم نہ ہوا کہ وہ کس وجہ سے تیار ہوگئے ہیں۔ بعد اختتام مناظرہ میاں صاحب ممدوح نے مفتی صاحب کے آگے موضع دریالہ جالب کو جاتے ہوئے بیان کیا کہ میں نے قادیانی جماعت کو یہ جاکر کہا تھا کہ میرا بھی مرزائیت کی طرف میلان ہے اور مفتی صاحب گھبراہٹ میں ہیں وہ میدان مناظرہ میں کبھی نہ آئیں گے۔ آپ تیار ہو جائیے۔ آپ کی بلامحنت فتح ہے۔ اس پر قادیانی جماعت تیار ہوگئی اور بتاریخ ١٨ر اکتوبر ١٩٢٤ء صبح کی گاڑی پر سوار ہو کر ہر دو فریق ہریا تحصیل پھالیہ ضلع گجرات پہنچے اور وہاں دو دن یعنی بتاریخ ١٨، ١٩ر اکتوبر ١٩٢٤ء مناظرہ ہوا اور ہم چوہدری غلام حیدر خان صاحب نمبردار ہریا کا خصوصاً اور دیگر باشندگان ہریا کا عموماً نہایت شکریہ ادا کرتے ہیں کہ ان کی سعی بلیغ کی وجہ سے ہر دو دن کا مناظرہ نہایت با امن وسکوت منعقد ہوا۔ علاوہ ازیں چوہدری غلام حیدر خان صاحب و دیگر باشندگان ہریا نے باوجودیکہ وہ اہل اسلام میں سے تھے۔ دو دن ہر دو فریق یعنی اسلامی جماعت وقادیانی جماعت کو نہایت باعزت کھانا دیا اور چارپائی وغیرہ کا بہت عمدہ انتظام کیا۔ حالانکہ ہر دو دن مجمع کثیر التعداد تھا۔
المناظرین
اسلامی جماعت کی طرف سے مناظر حضرت مفتی غلام مرتضیٰ صاحب ساکن میانی اور قادیانی جماعت کی طرف سے مناظر مولوی جلال الدین صاحب شمس مولوی فاضل قادیانی تھے۔
صدر جلسہ
ہر دو دن یعنی ١٨، ١٩ر اکتوبر ١٩٢٤ء اسلامی جماعت کی طرف سے مجلس مناظرہ کے پریذیڈنٹ جامع الفنون العقلیہ والنقلیہ فہامہٴ دہر علامہٴ عصر حضرت مولانا مولوی غلام محمد صاحب ساکن گھوٹہ ضلع ملتان تھے اور قادیانی جماعت کی طرف سے ١٨ر اکتوبر ١٩٢٤ء کے پریذیڈنٹ کرمداد صاحب دوالمیال تھے اور ١٩ر اکتوبر ١٩٢٤ء کو حاکم علی صاحب تھے۔ معلوم نہیں کہ دوسرے دن کرمداد صاحب کو عہدہٴ پریذیڈنٹی سے کیوں معزول کیا گیا۔
١٠
١٨/اکتوبر ١٩٣٢ء پرچہ نمبر اوّل
دلائل حیات مسیح از مفتی غلام مرتضیٰ صاحب
اسلامی مناظر
بسم الله الرحمن الرحیم! ”سبحانك لا علم لنا الا ما علمتنا انك انت العليم الحكيم“
حیات مسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام پر پہلی دلیل
”قوله تعالى وقولهم انا قتلنا المسيح عيسى ابن مريم رسول
١ حیات مسیح ابن مریم علیہ السلام کے اثبات کے لئے اسلامی جماعت کے پاس دلائل بکثرت ہیں۔ مثلاً: ١....... ”وانه لعلم للساعة (زخرف: ٦١) “ ٢....... ”وان من اهل الكتاب الا ليؤمنن به قبل موته (نساء: ١٥٩) “ ٣....... ”ويكلم الناس في المهد وكهلا (آل عمران: ٤٦) “ ٤....... ”واذ كففت بني اسرائيل عنك (مائدة: ١١٠) “ ٥....... ”وما قتلوه وما صلبوه (نساء: ١٥٧) “ ٦....... ”بل رفعه الله اليه “ ٧....... ”اني متوفيك ورافعك الي (آل عمران: ٥٥) “ ٨....... ”ومن المقربين “ ٩....... ”وان مثل عيسى عند الله كمثل آدم (آل عمران: ٥٩) “ ١٠....... ”ونجعلك للناس “ ١١....... ”وجعلني مباركا اين ما كنت (مريم: ٣١) “ ١٢....... ”ليظهره على الدين كله (فتح: ٢٨) “ اور یہ قرآنی دلائل ایسے ہیں جن میں سوائے لیظہرہ علی الدین کلہ کے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا شخصی طور پر ذکر ہے اور حدیثی دلائل تو کثیر التعداد ہیں۔ مفتی صاحب اسلامی مناظر نے اپنا دعویٰ حیات مسیح ابن مریم کے ثابت کرنے کے لئے قرآنی دو دلیلوں پر اکتفا کیا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اسلامی مناظر کو ہر ایک دلیل کے متعلق پورا اطمینان اور یقین تھا کہ اس دلیل میں حیات مسیح ابن مریم کے اثبات میں تقریب تام ہے اور تقریر کے لئے وقت معین تھا۔ ان وجوہات کے لحاظ سے مفتی صاحب اسلامی مناظر نے قرآنی دو دلیلوں کو انتخاب کر کے ان کی طرز استدلال کو شرط نمبر١، و شرط نمبر٢ کے تحت میں رہ کر اس قدر تحریر کیا جو وقت معین میں بذریعہ تقریر بیان ہوسکے اور ایسا ہی ہوا کہ قادیانی مناظر کوئی جواب صحیح نہ دے سکا۔ مولوی شیخ امام الدین صاحب ساکن ہریانہ نے بعد اختتام مناظرہ بطرز اظہار رائے فرمایا۔
جس دم عالم قادیانوالا کردای تقریراں سننے والیاں تائیں ہرگز ہون نہیں تاثیراں
نال تحمل اتے تامل مفتی صاحب بولن خوش الحانی اتے مومن جند جاناں سب گھولن
علما نوں مفتی صاحب خوب بیان سنایا علم کلام معانی اندر ابلق تیز چلایا
مسئلہ نوں محقق کیتا متن متین دکھایا جتھے قدم مبارک رکھیا کسے نہ پیر اٹھایا
١١
الله وما قتلوه وما صلبوه ولكن شبه لهم وان الذين اختلفوا فيه لفى شك منه ما لهم به من علم الا اتباع الظن وما قتلوه يقينا بل رفعه الله اليه وكان الله عزيزاً حكيما (نسا:١٥٧، ١٥٨) ”یعنی یہود اس قول کی وجہ سے بھی ملعون ہوئے کہ ہم نے مسیح ابن مریم رسول اللہ کو قتل کر دیا ہے۔ حالانکہ انہوں نے اس کو نہ قتل کیا اور نہ ہی دار پر اس کو چڑھایا۔ لیکن ان کے لئے تشبیہ واقع کی گئی اور بے شک وہ لوگ جنہوں نے اس کے بارے میں اختلاف کیا۔ البتہ وہ اس سے شک میں ہیں۔ ان کو اس کا کوئی علم نہیں۔ سوائے اتباع ظن کے اور انہوں نے یقیناً اس کو قتل نہیں کیا بلکہ اللہ تعالیٰ نے اس کو اوپر اپنی طرف اٹھا لیا اور اللہ تعالیٰ غالب کامل القدرۃ حکمت والا ہے۔ ﴾
اس آیت میں فقرہ ”بل رفعه الله اليه“ اس بات پر زبردست اور محکم دلیل ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام زندہ بجسدہ العنصری آسمان پر اٹھائے گئے ہیں۔ کیونکہ لغت عرب میں رفع کے حقیقی معنی اوپر کی طرف اٹھانا ہے۔ رفع برداشتن ”وهو خلاف الوضع (صراح ج٢ ص١٦) رفعه كمنعه ضد وضعه (قاموس ص٥١٢) رفعه رفعاً بالفتح برداشت آنرا خلاف وضعه (منتهی الارب ص١٧٦) “ اور آیت ”ورفع ابويه على العرش يوسف“ سے بھی یہی معنی ظاہر ہوتے ہیں۔ یعنی حضرت یوسف علیہ السلام نے اپنے والدین کو تخت کے اوپر چڑھایا۔ پس رفع اجسام میں حقیقی طور پر اوپر کی طرف حرکت دینی اور انتقال مکانی مراد ہوگی اور رفع معانی میں مناسب مقام، اور رفع الی اللہ سے حقیقی طور پر رفع الی اللہ مراد نہیں ہو سکتی۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ لامکان ہے اور بلحاظ صفت علم وغیرہ اس کو تمام مکانوں اور تمام مکینوں کے ساتھ ایک ہی نسبت ہے۔ بلکہ رفع الی اللہ سے مراد آسمان پر اٹھانا ہے۔ جو فرشتوں پاک ہستیوں کا مقر ہے۔ جن کی شان میں ”لا يعصون الله ما امرهم ويفعلون ما يؤمرون (التحريم:٦) “ شہادت خداوندی ہے۔ (یعنی اللہ کی نافرمانی نہیں کرتے جو وہ انہیں حکم دے اور جو کچھ انہیں حکم ملتا ہے کرتے ہیں) اور حدیث ”عن ابي هريرة عن النبی ﷺ قال الملائكة يتعاقبون ملائكة بالليل وملائكة بالنهار ويجتمعون فى صلوة الفجر والعصر ثم يعرج اليه الذين باتوا فيكم فيسألهم وهوا علمهم كيف تركتم عبادى فقالوا تركنا هم يصلون واتيناهم يصلون (بخاری ج١ ص٤٥٧، باب اذا قال احدكم آمين والملائكة فى السماء) “ اسی معنی کے مراد ہونے کو ثابت کرتی ہے۔ (یعنی حضرت ابو ہریرہؓ روایت کرتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ فرشتے آگے پیچھے آتے ہیں۔
١٢
کچھ رات کو اور کچھ دن کو اور نماز صبح اور عصر میں دونوں اکٹھے ہو جاتے ہیں۔ پھر چڑھ جاتے ہیں طرف اللہ کی وہ فرشتے جنہوں نے رات گزاری تمہارے میں۔ پھر اللہ سوال کرتا ہے۔ حالانکہ وہ اعلم ہے۔ کس حالت میں تم نے میرے بندوں کو چھوڑا تو وہ کہتے ہیں کہ ہم نے ان کو نماز پڑھتے ہوئے چھوڑا اور جب ہم ان کے پاس گئے تو وہ نماز پڑھتے تھے۔)
کیونکہ اس حدیث میں عروج الی اللہ سے عروج السماء مراد ہے اور عروج الی اللہ اور صعود الی اللہ اور رفع الی اللہ کی ایک ہی صورت ہے اور حدیث يرفع اليه عمل الليل قبل عمل النهار (صحيح مسلم ج ١ ص ٩٩ ، باب اثبات المؤمن في الآخرة ربهم سبحانه وتعالى) ”یعنی اللہ تعالیٰ کی طرف عمل رات کے اٹھائے جاتے ہیں۔ پہلے عمل دن کے۔ اسی معنی کے مراد ہونے کے لئے مؤید ہے بلکہ یہ حدیث آیت اليه يصعد الكلم الطيب والعمل الصالح يرفعه “ کی تفسیر ہے۔ یعنی اللہ کی طرف چڑھ جاتے ہیں۔ کلمے پاک اور عمل نیک کو اللہ اٹھا لیتا ہے اور مرزا قادیانی آیت ”بل رفعه الله اليه“ کے ذیل میں لکھتے ہیں کہ رفع سے مراد روح کا عزت کے ساتھ اٹھائے جانا ہے۔ جیسا کہ وفات کے بعد بموجب نص قرآن اور حدیث صحیح کے ہر ایک مؤمن کی روح عزت کے ساتھ خدائے تعالیٰ کی طرف اٹھائی جاتی ہے۔“
(ازالہ اوہام ص ٣٧٨، خزائن ج ٣ ص ٢٩٩)
اور نیز مرزا قادیانی لکھتے ہیں کہ :” جیسا کہ مقربین کے لئے ہوتی ہے کہ بعد موت ان کی روحیں علیین تک پہنچائی جاتی ہیں۔“
(ازالہ اوہام ص ٦٠٠، خزائن ج ٣ ص ٤٢٤)
اور نیز لکھتے ہیں ” بلکہ صریح اور بدیہی طور پر سیاق و سباق قرآن شریف سے ثابت ہو رہا ہے کہ حضرت عیسیٰ کے فوت ہونے کے بعد ان کی روح آسمان کی طرف اٹھائی گئی۔“
(ازالہ اوہام ص ٦٠٢، خزائن ج ٣ ص ٤٢٣)
ان عبارات منقولہ سے صاف ظاہر ہے کہ مرزا قادیانی کے نزدیک بھی رفع الی اللہ سے مراد آسمان کے اوپر اٹھائے جانا ہے۔ کیونکہ آپ جب ارواح کے اٹھائے جانے کے قائل ہیں اور ارواح کا اٹھایا جانا آسمان کی طرف ہوتا ہے۔ جیسا کہ آپ بھی اسے علیین اور آسمان کے لفظ سے تعبیر کرتے ہیں تو آیت ” بل رفعه الله اليه “ میں آسمان کی طرف حقیقی طور پر اٹھائے جانا آپ کے نزدیک مسلم ٹھہرا۔ پس تنازع واختلاف اس بات میں ہے کہ: ”فقرہ بل رفعه الله اليه “ میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے زندہ بجسدہ العنصری مرفوع ہونے کا بیان ہے یا بعد
١٣
موت ان کے روح کے مرفوع ہونے کا ذکر ہے۔ اب ہم چند وجوہ سے رفع روحانی فقط کا ابطال کرتے ہیں اور رفع جسمانی وروحانی معاً کا اثبات کرتے ہیں۔
پہلی وجہ !
یہ کہ ”انا قتلنا المسيح عیسیٰ ابن مریم“ میں قتلنا کا مفعول بہ یعنی جس پر بزعم یہود قتل کا وقوع ہوا ہے۔ وہ مسیح ہے اور یہ امر نہایت روشن ہے کہ قتل کے قابل نہ فقط جسم ہے اور نہ ہی فقط روح۔ بلکہ جسم مع الروح یعنی زندہ انسان۔ پس ثابت ہوا کہ یہود کا یہ زعم ہے کہ ہم نے مسیح کو قتل کر دیا ہے جو قبل از قتل زندہ تھا۔ یعنی اس کے جسم اور روح کے درمیان بذریعہ قتل تفریق کر دی ہے اور چونکہ ”وما قتلوه وما صلبوه“ اور ”وما قتلوه يقيناً“ یہود کے مزعوم باطل کی تردید ہے۔ اس لئے نفی قتل اور نفی صلیب اسی بعینہ مسیح سے ہوگی جو عبارت جسم مع الروح سے ہے۔ یعنی زندہ مسیح اور ہر سہ ضمیریں منصوب متصل جو ”وما قتلوه وما صلبوه“ اور ”وما قتلوه يقيناً“ میں ہیں۔ ان کا مرجع وہی مسیح زندہ ہوگا اور یہ بات بالکل مہر نیمروز کی طرح روشن ہے کہ ضمیر منصوب متصل جو ”بل رفعه الله اليه“ میں ہے۔ اس کا مرجع بھی وہی بعینہ مسیح زندہ ہے جو ہر سہ ضمائر منصوب متصل سابقہ کا ہے۔ پس ثابت بالدلیل ہوا کہ حضرت مسیح بن مریم زندہ بجسدہ العنصری آسمان پر اٹھائے گئے ہیں۔ نہ فقط روح۔
- ١۔ شرائط مجوزہ مسلمہ فریقین میں سے دو شرطیں یعنی شرط نمبر ١، شرط نمبر ٢ قابل غور ہیں۔
بلکہ یہی دو شرطیں فتح اور شکست اور ہار جیت کا معیار ہیں۔
- شرط نمبر ١: ہر ایک مناظر دوسرے مناظر کے مقابلہ میں قرآن کریم اور حدیث صحیح کو
پیش کرے گا۔ علاوہ ازیں اسلامی مناظر قادیانی مناظر کے مقابلہ میں مرزا قادیانی کے اقوال بھی پیش کر سکے گا۔ بشرطیکہ وہ دعویٰ نبوت کے بعد کے ہوں۔
- شرط نمبر ٢: قرآن اور حدیث صحیح کی تفسیر امور مفصلہ ذیل سے کی جائے گی۔ قرآن
حدیث صحیح ، اقوال صحابہ بشرطیکہ قرآن اور حدیث صحیح کے مخالف نہ ہوں۔ لغت عرب، صرف، نحو، معانی، بیان، بدیع اگر حدیث قرآن کے مخالف ہوگی تو وہ صحیح نہیں سمجھی جائے گی اور یہ دو شرطیں وہ ہیں جن کو قرآن اور حدیث کا عربی ہونا نیز لازمی طور پر تجویز کرتے ہیں۔ ان دو شرطیں مذکورین کے تحت میں رہ کر قادیانی مناظر اس پہلی وجہ کا کوئی جواب نہیں دے گا جو عنقریب مفصل ہوگا۔
١٤
دوسری وجہ لے
یہ کہ: ”وما قتلوہ یقیناً بل رفعہ اللہ الیہ“ میں بقرینہ قصر قلب و نفی کلمہ ”بل ابطالیہ“ ہے جو بعد نفی کے واقع ہے اور ”بل ابطالیہ“ میں جو بعد نفی کے واقع ہو ضروری ہے کہ صفت مبطلہ اور صفت مثبتہ کے درمیان ضدیت ہو۔ دیکھو ”ام یقولون بہ جنۃ بل جاء ہم بالحق (مؤمنون:٧٠)“ میں یہ امر بالکل ظاہر ہے کہ ایک چیز کا جنون ہونا اور اتیان بالحق ہونا متعذر ہے اور یہاں معنوی نفی ہے اور دیکھو ”ویقولون ائنا لتارکوا الھتنا لشاعر مجنون بل جاء بالحق (صافات:٣٧)“ میں بھی یہ امر بالکل روشن ہے کہ ایک چیز کا شعر وجنون ہونا اور اتیان بالحق ہونا ناممکن ہے اور دیگر نظائر قرآنی بھی بہت ہیں۔ پس اگر ”بل رفعہ اللہ الیہ“ سے رفع روحانی اور اعزاز مراد لی جاوے تو صفت مبطلہ یعنی قتل مسیح اور صفت مثبتہ یعنی رفع مسیح کے درمیان ضدیت متصور نہ ہوگی۔ کیونکہ قتل اور رفع روحانی و اعزاز کا جمع ہونا ممکن ہے۔ جب مقتول مقربین سے ہو اور اگر یہ مراد لی جاوے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام زندہ بجسدہ العنصری مرفوع ہوئے تو ضدیت متصور ہوگی۔ کیونکہ اگر حضرت عیسیٰ علیہ السلام مقتول ہیں تو پھر زندہ بجسدہ العنصری مرفوع نہیں ہو سکتے اور اگر زندہ بجسدہ العنصری مرفوع ہوئے تو پھر مقتول نہیں اور نیز ”وقولہم انا قتلنا المسیح“ سے ظاہر ہے کہ یہود کا اعتقاد جو مخاطب ہیں متکلم کے یعنی خدائے کریم کے برعکس ہے۔ اس لئے ”وما قتلوہ یقیناً بل رفعہ اللہ الیہ“ میں قصر قلب ہے اور قصر قلب میں بروئے تحقیق علم معانی گو یہ لازمی نہیں کہ دونوں وصفوں کے درمیان تنافی و ضدیت ہو۔ لیکن یہ ضروری ہے کہ احد الوصفین دوسری وصف کا ملزوم نہ ہوتا کہ مخاطب کا اعتقاد برعکس متکلم متصور ہو اور یہ امر بدیہی ہے کہ رفع روحانی و اعزاز اس قتل کو لازم ہے۔ جس میں مقتول مقربین سے ہو۔ پس ثابت بالدلیل ہوا کہ حضرت عیسیٰ بن مریم زندہ بجسدہ العنصری زمانہ گزشتہ میں آسمان پر اٹھائے گئے ہیں۔ نہ فقط روح۔
خلاصہ
یہ ہے کہ اس آیت میں فقرہ ”بل رفعہ اللہ الیہ“ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے زندہ
لے اس دوسری وجہ کا بھی قادیانی مناظر کوئی جواب نہیں دے گا اور انشاء اللہ تعالیٰ مرزائی جماعت میں سے کوئی فرد بھی ان دو شرطین مذکورین کے تحت میں رہ کر تا قیامت اس کا جواب نہ دے سکے گا۔
١٥
بجسدہ العنصری مرفوع الی السماء ہونے پر زبردست ١؎ اور محکم دلیل ہے۔ کیونکہ اس فقرہ میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا شخصی طور پر نام اور ذکر ہے اور صیغہ ماضی کا ہے اور جملہ خبریہ مخبر بہ ہے۔ میں امید کرتا ہوں کہ میرے مناظر صاحب بھی وفات حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے اثبات کے لئے قرآن کریم کا ایسا ہی فقرہ پیش کریں گے جو ان تمام صفات مذکورہ کا جامع ہو۔
اگر یہ اعتراض کیا جائے کہ آسمان پر اس جسم خاکی کا جانا محال ہے تو اس کا جواب اللہ تعالیٰ نے خود تعلیم فرمایا ہے۔ ”وكان الله عزيزاً“ یعنی اللہ تعالیٰ کامل قدرت والا ہے۔ گو حضرت عیسیٰ کی نسبت سے تو صعود الی السماء کے ناممکن ہونے کا خیال گذرتا ہے۔ لیکن اللہ تعالیٰ کی قدرت کاملہ کے لحاظ سے وہ بالکل ممکن ہے۔ اسی لئے ”بل رفعه الله اليه“ میں رفع کا فاعل خود اللہ تعالیٰ ہے اور اسی وجہ سے اسم اللہ کا لایا گیا ہے۔ جس کے معنی ذات مجمع صفات کاملہ ہیں۔
اگر اعتراض کیا جائے کہ جب دیگر رسولوں کو زمین میں محفوظ رکھا گیا تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو آسمان پر لے جا کر محفوظ رکھنے میں کیا حکمت ہے؟ تو اس کا جواب بھی خود اللہ تعالیٰ نے حکیماً کے ساتھ دیا ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ حکیم ہے اور حکیم کا فعل حکمت سے خالی نہیں ہوتا۔ مطلب یہ ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی پیدائش پر زمینی اسباب منعقد نہیں ہوئے۔ بلکہ آپ کی پیدائش نفخ روح القدس سے عالم الامر میں کلمۂ کن سے ہے۔ جیسا کہ ”ولم يمسسني بشر ولم اك بغياً (مریم:٢٠)“ سے ظاہر ہے۔ پس آپ کو کمال تشبیہ بالملائکہ حاصل ہے۔ لہٰذا بلحاظ فطرت حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے حکمت ایزدی کا یہی اقتضاء ہوا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو آسمان پر لے جا کر محفوظ رکھا جائے۔
حاصل یہ کہ اس آیت میں فقرہ ”بل رفعه الله اليه“ سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے زندہ بجسدہ العنصری آسمان پر اٹھائے جانے کے سوائے اور کوئی معنی مراد نہیں لیا جاسکتا۔ تو اگر لفظ ”رفع“ کسی اور جگہ کسی دیگر معنی میں مستعمل ہو تو مضر نہیں۔ کیونکہ عربی لفظوں کے لئے عام طور
١؎ یہ آیت واقعی حسب اعتقاد اسلامی مناظر حیات مسیح ابن مریم پر زبردست اور محکم دلیل ثابت ہوئی۔ کیونکہ قادیانی مناظر اس کا کوئی جواب نہیں دے سکا۔ باوجودیکہ مفتی صاحب اسلامی مناظر نے اس موقعہ پر یہ دعویٰ بھی کیا تھا کہ انشاء اللہ قیامت تک میرا مقابل مناظر اس کا جواب نہ دے سکے گا اور باوجود استدعا اسلامی مناظر کے قادیانی مناظر وفات مسیح ابن مریم پر قرآن کریم کا کوئی ایسا فقرہ نہیں پیش کرسکا۔ جس میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا شخصی طور پر نام و ذکر ہو اور صیغہ ماضی کا ہو اور جملہ خبریہ مخبر بہ ہو۔
١٦
مستعمل فیہ معانی کثیرہ ہوا کرتے ہیں۔ دیکھو کہ قرآن کریم میں عموماً لفظ مصباح سے مراد کوکب یعنی ستارہ ہے۔ لیکن لفظ مصباح جو سورۂ نور میں ہے۔ اس سے مراد چراغ ہے اور دیکھو صلوٰۃ سے مراد عموماً عبادت یا رحمت ہے۔ مگر ”بیع وصلوات“ سے مراد مقامات ہیں۔ وقس علیٰ ہذا!
اب میں ایک اور قاعدہ مسلمہ اسلامیہ سے اس مسئلہ حیات کو حل کرتا ہوں۔ جو قرآن کریم نے صاف لفظوں میں بیان فرمایا: ”انزلنا اليك الذكر لتبين للناس ما نزل الیہم“ ﴿یعنی ہم نے قرآن کریم تجھ پر اس لئے اتارا ہے کہ تو (اے نبی) اس کا مطلب واضح کر کے لوگوں کو سمجھا دے۔﴾
اس آیت سے ایک عام قانون ملتا ہے کہ قرآن کریم کے کسی مجمل مسئلہ میں اختلاف ہو تو اس کی تشریح وتوضیح حدیث سے ہونی چاہئے۔ اس لئے میں ایک حدیث بھی سناتا ہوں جس سے آفتاب نیمروز کی طرح مسئلہ حیات ووفات حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا فیصلہ ہو جائے گا اور اس حدیث کو مرزا قادیانی بھی تسلیم کرتے ہیں۔ محمد رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں ۔ ”ینزل عیسی ابن مریم الی الارض فيتزوج ويولد له ويمكث خمسا وأربعين سنة ثم يموت فيدفن معی فی قبری فاقوم انا وعیسی ابن مریم فی قبر واحد بین ابی بکر وعمر (مشکوٰة ص٤٨٠، باب نزول عيسى عليه السلام)“ یعنی حضرت عیسیٰ علیہ السلام زمین پر اتریں گے۔ پھر نکاح کریں گے۔ ان کی اولاد ہوگی اور وہ پینتالیس (٤٥) سال زندہ رہیں گے۔ پھر فوت ہوں گے اور میرے مقبرے میں میرے پاس دفن ہوں گے۔ پھر قیامت کے روز میں اور عیسیٰ ابن مریم ایک مقبرے سے اٹھیں گے۔ اس طرح کہ حضرت ابوبکرؓ اور حضرت عمرؓ کے درمیان ہوں گے۔ نزول فرودآمدن (صراح ج ٢ ص ٢٤٢) ’نزلہم وبہم وعلیہم نزولاً ومنزلاً کمجلس ومقعد“ فرودآمد نزدایشان (منتہی الارب ج٤ ص ٢٨٦) اور اس حدیث میں نزول سے یہی معنی مراد ہیں۔ ہاں جس جگہ نزول سے یہ معنی مراد لینے سے کوئی قرینہ روکتا ہو تو وہاں حسب قرینہ معنی مراد ہوں گے اور یہ مضر نہیں جیسا کہ گزر چکا ہے۔
اگر کہا جائے کہ جو الفاظ حضرت مسیح علیہ السلام کی بابت آئے ان سے ان کی حقیقت مراد نہیں۔ بلکہ مجاز واستعارہ ہے تو اس کا جواب یہ ہے کہ فن بلاغت وبیان کا قانون ہے کہ مجاز وہاں لی جاتی ہے۔ جہاں حقیقت متعذر ہو۔ (ملاحظہ ہو مطول بحث حقیقت ومجاز ص ٣٢٨) اب ہم
١؎ اسلامی مناظر کا یہ بھی کمال ہے کہ حدیث کو براستہ قرآن کریم پیش کیا ہے۔
١٧
دکھاتے ہیں کہ ان الفاظ کی حقیقت کی بابت جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے حق میں آئے ہیں۔ مرزا قادیانی کیا فرماتے ہیں۔ کیا ان کی حقیقت کو محال جانتے ہیں یا ممکن۔ مرزا قادیانی فرماتے ہیں۔ ”بالکل ممکن ہے کہ کسی زمانہ میں کوئی ایسا مسیح بھی آجائے جس پر حدیثوں کے بعض ظاہری الفاظ صادق آسکیں۔“
(ازالہ اوہام ص ٤٠٠، خزائن ج ٣ ص ١٩٧)
اس عبارت میں مرزا قادیانی کو تسلیم ہے کہ حقیقت مسیحیت محال نہیں بلکہ ممکن ہے۔
زلیخا نے کیا خود پاک دامن ماہ کنعاں کا
گو مرزا قادیانی کے اقرار کے بعد کسی شہادت کی حاجت نہیں۔ تاہم ایک گواہ ایسا پیش کیا جاتا ہے۔ جس کی توثیق جناب مرزا قادیانی نے خود اعلیٰ درجہ کی کی ہوئی ہے۔ مرزا قادیانی فرماتے ہیں۔ ”مولوی نور الدین صاحب بھیروی کے مال سے جس قدر مجھے مدد پہنچی ہے۔ میں کوئی ایسی نظیر نہیں دیکھتا جو اس کے مقابل پر بیان کرسکوں۔ میں نے ان کو طبعی طور پر اور نہایت انشراح صدر سے دینی خدمتوں میں جانثار پایا۔“
(ازالہ اوہام ص ٧٧٧، خزائن ج ٣ ص ٥٢٠)
یہی مولوی نور الدین صاحب ہیں جو مرزا قادیانی کے انتقال کے بعد ان کے خلیفہ اوّل ہوئے۔ وہی مولوی نور الدین صاحب اصولی طور پر ہماری تائید کرتے ہوئے فرماتے ہیں۔
”ہر جگہ تاویلات و تمثیلات سے استعارات و کنایات سے اگر کام لیا جائے تو ہر ایک ملحد، منافق، بدعتی اپنی آراء ناقصہ اور خیالات باطلہ کے موافق الٰہی کلمات طیبات کو لا سکتا ہے۔ اس لئے ظاہر معانی کے علاوہ اور معانی لینے کے واسطے اسباب قویہ اور موجبات حقہ کا ہونا ضرور ہے۔“
(ضمیمہ ازالہ اوہام ص ٩، خزائن ج ٣ ص ٦٣١)
پس ثابت (اس حدیث کا بھی قادیانی مناظر ان دو شرطیں مذکورین کے تحت میں رہ کر جواب نہ دے سکا۔) ہوا کہ ایسی حدیثوں میں مجازات اور استعارات مراد لینا جائز نہیں۔
اب میں ایک اور طریق سے بھی مختصرًا عرض کرتا ہوں کہ حیاتِ ١ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا مسئلہ مذہب اسلام کے مناسب ہے اور وفات حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا مسئلہ مذہب اسلام کے نامناسب۔ کیونکہ عیسائیت کے اصول میں سے کفارہ ہے۔ یعنی ایک شخص (حضرت
١ مفتی صاحب اسلامی مناظر نے اس تقریر میں ثابت کر دیا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی حیات مذہب اسلام کے مناسب ہے اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی وفات مذہب اسلام کے نامناسب ہے اور قادیانی مناظر اس کی تردید نہیں کر سکا۔
١٨
عیسیٰ علیہ السلام ) جو بیگناہ تھا وہ چونکہ دشمنوں کے ہاتھ سے مصلوب ہو کر تمام دنیا کی لعنتیں اس نے اٹھالیں اور اس کے تین دن دوزخ میں رہنے سے اب وہ سارے لوگ جو اس بات پر ایمان لاتے ہیں ہمیشہ کے لئے دوزخ سے نجات پاگئے۔ جس کی مذہب اسلام نے یوں تردید کی ہے۔ "لا تزر وازرة وزر اخرى" یعنی دوسرے کا بوجھ کوئی نہیں اٹھا سکتا۔ عقیدہ کفارہ کو جڑ سے کاٹتے ہوئے فرمایا: "بل رفعه الله اليه" مسیح تو مرا نہیں اس کو خدا تعالیٰ نے اٹھا لیا۔ جب حضرت عیسیٰ علیہ السلام مرے نہیں تو کفارہ کہاں؟ نہ بانس ہوگا نہ بانسری بجے گی۔ اس بات سے ثابت ہوتا ہے کہ عیسائیوں کے مقابلہ میں اگر کوئی حربہ اہل اسلام کے پاس ہے تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی حیات ہے جس سے عقیدہ کفارہ کی بنیاد کھوکھلی نہیں بلکہ جڑ سے اکھڑ جاتی ہے۔ پس جو شخص یہ دعویٰ کرے کہ میں فتنہ صلیبی کو پاش پاش کرنے آیا ہوں۔ اس کا فرض اولین ہونا چاہئے تھا کہ وہ وفات حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے انکار کرے۔ واللہ مجھے سخت حیرت ہوتی ہے۔ جب میں یہ سنتا ہوں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی حیات سے اس کی الوہیت کی تائید ہوتی ہے۔ کیونکہ الوہیت کی تائید اس صورت میں ہوتی۔ جب ہم حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو ہمیشہ کے لئے زندہ بذاتہ اعتقاد کرتے اور جب ہم قیامت سے پہلے ان کی وفات کے قائل ہیں تو پھر تائید الوہیت کیسی؟ اور نیز مجھے حیرانگی آتی ہے جب میں یہ سنتا ہوں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی موت سے عیسائیوں کا خدا مرجاتا ہے اور عیسائی مذہب ہمیشہ کے لئے مغلوب ہو جاتا ہے۔ کیا عیسائیوں کا عقیدہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی موت کا نہیں ہے؟ کیا عیسائیوں میں سے اس بات کے قائل نہیں کہ عیسیٰ نے چلا کر جان دی؟ پھر جو بات خود عیسائی مانتے ہیں اس سے ان کے مذہب کی موت اور مغلوبیت کیسی؟ یہ فقط ایک جی خوش کرنے والی بات ہے۔
ہاں اگر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی موت سے انکار کر دیا جائے اور ان کو زندہ تسلیم کیا جاوے جیسا کہ قرآن کریم کا منشاء ہے تو عقیدہ کفارہ کی بیخکنی ہو جاتی ہے۔
دوسری دلیل
"قوله تعالى وان من اهل الكتاب الا ليؤمنن به قبل موته ويوم القيامة يكون عليهم شهيدا (نساء:١٥٩)" ﴿اور نہیں ہوگا کوئی اہل کتاب میں سے۔ مگر ایمان لے آوے گا اس پر اس کی موت سے پہلے اور وہ قیامت کے دن ان پر شاہد ہوگا۔﴾ یہ آیت اس بات پر زبردست دلیل ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام ابن مریم آئندہ
١٩
زمانہ میں بعینہ یہ صیغہ مستقبل کے معنی دے گا۔ کیونکہ ”لیؤمنن“ میں نون تاکید کا ہے اور تمام نحویوں کا اس امر پر اتفاق ہے کہ نون تاکید مضارع کو خالص استقبال کے لئے کر دیتا ہے اور تمام محاورات قرآنی اور حدیثی اسی کی شہادت دیتے ہیں اور نیز اس میں لام تاکید کا ہے اور جس وقت نون تاکیدی خبر پر داخل ہو تو ضروری ہے کہ اوّل جز میں کلمہ تاکید ہو۔ مثلاً لام قسم ”نون التاكيد خفيفة وثقيلة تختص بمستقبل طلب او خبر مصدر بتاکید (متن متين ص٢٩٩)“ بلکہ قرآن کریم میں الحمد سے والناس تک جتنے صیغے معہ لام القسم ونون التأکید آئے ہیں سب سے مراد استقبال ہی ہے۔ چونکہ ”لیؤمنن“ میں نون تاکید ثقیلہ اور لام قسم ہے۔ اس لئے ثابت ہوا کہ یہ ”لیؤمنن بہ قبل موتہ“ جملہ خبریہ استقبالیہ ہے۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ حضرت عیسیٰ ابن مریم کے اترنے کے بعد اور موت سے پہلے ایک ایسا زمانہ آئے گا کہ اس وقت جتنے اہل کتاب موجود ہوں گے وہ تمام ان پر ایمان لائیں گے اور یہ امر صاف طور پر روشن ہے کہ ضمیر بہ اور ضمیر موتہ دونوں کا مرجع وہی مسیح عیسیٰ ابن مریم ہیں۔ اوّلاً اس وجہ سے کہ سیاق کلام اسی کو چاہتا ہے اور ثانیاً اس وجہ سے کہ مولوی نور الدین صاحب نے جن کی توثیق مرزا قادیانی نے اعلیٰ درجہ کی کی ہوئی ہے۔ اس آیت کا اس طرح ترجمہ کرتے ہیں۔ ”اور نہیں کوئی اہل کتاب سے مگر البتہ ایمان لاوے گا ساتھ اس کے پہلے موت اس کی کے اور دن قیامت کے ہوگا اوپر ان کے گواہ۔“
(فصل الخطاب المقدمة اہل الکتاب ج ٢ ص٧٢ حاشیہ)
اور ثالثاً اس حدیث کے بیان سے ”عن ابی هریرة قال قال رسول اللہ ﷺ والذي نفسي بيده ليوشكن ان ينزل فيكم ابن مريم حكماً عدلاً فيكسر الصليب ويقتل الخنزير ويضع الجزية ويفيض المال حتى لا يقبله احد حتى تكون السجدة الواحدة خيراً من الدنيا وما فيها ثم يقول ابو هريرة فاقرأوا ان شئتم وان من اهل الكتاب الا ليؤمنن به قبل موته (مشكوة ص٤٧٩، باب نزول عیسیٰ علیہ السلام)“ یعنی ابوہریرہؓ کہتے ہیں فرمایا رسول اللہ ﷺ نے قسم ہے اللہ پاک کی بہت جلد ابن مریم منصف حاکم ہو کر تم میں اتریں گے۔ پھر وہ عیسائیت کی صلیب کو (جسے وہ پوجتے ہیں اسے) توڑ دیں گے اور خنزیر (جو برخلاف شریعت عیسائی کھاتے ہیں اس) کو قتل کرائیں گے اور کافروں سے جو جزیہ لیا جاتا ہے۔ اسے موقوف کر دیں گے اور مال بکثرت لوگوں کو دیں گے۔ یہاں تک کہ کوئی اسے قبول نہ کرے گا۔ لوگ ایسے مستغنی اور عابد ہوں گے کہ ایک سجدہ ان کو ساری دنیا کے مال ومتاع سے اچھا معلوم ہوگا۔ (حدیث کے یہ الفاظ سن کر)
٢٠
ابو ہریرہؓ کہتے ہیں تم اس حدیث کی تصدیق قرآن کریم میں چاہتے ہو تو یہ آیت پڑھ لو۔ 'وان من اھل الکتاب ' دیکھو حضرت ابو ہریرہؓ کی یہ روایت بالتصریح پکار رہی ہے کہ وہ سب صحابہؓ کے درمیان آیت 'وان من اھل الکتاب الا لیؤمنن بہ قبل موتہ ' میں موتہ کی ضمیر کا مرجع عیسیٰ بن مریم کو شخصی طور پر قرار دے کر آپ کا نزول ثابت کر رہے ہیں اور اس تصریح نزول کے موقعہ پر کوئی صحابیؓ نہ تو نفس مضمون یعنی نزول حضرت مسیح علیہ السلام سے انکار کرتا ہے اور نہ حضرت ابو ہریرہؓ کے ضمیر کا مرجع حضرت عیسیٰ علیہ السلام بن مریم کو قرار دینے کو غلط کہتا ہے اور نہ آپ کے استدلال کو ضعیف قرار دیتا ہے۔
شاید یہ وسوسہ پیدا ہو کہ جو الفاظ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی بابت آئے ان سے ان کی حقیقت مراد نہیں۔ بلکہ مجاز مراد ہے۔ اس کا جواب یہ ہے کہ فن بیان کا قانون ہے کہ مجاز وہاں لے جاتی ہے۔ جہاں حقیقت محال ہو۔ حالانکہ مرزا صاحب کو تسلیم ہے کہ حقیقت مسیحیت محال نہیں بلکہ ممکن ہے۔ فرماتے ہیں کہ : ”بالکل ممکن ہے کہ کسی زمانہ میں کوئی ایسا مسیح بھی آ جائے جس پر حدیثوں کے بعض ظاہری الفاظ صادق آسکیں۔ کیونکہ یہ عاجز اس دنیا کی حکومت اور بادشاہت کے ساتھ نہیں آیا۔ درویشی اور غربت کے لباس میں آیا ہے۔“ (ازالۃ الاوہام ص ٢٠١ خزائن ج ٣ ص ١٩٨)
اس تمہید کے بعد واضح ہو کہ چونکہ اس آیت میں 'لیؤمنن ' مع لام قسم اور نون تاکید ثقیلہ کے ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی موت سے پہلے ایک ایسا زمانہ آنے والا ہے کہ تمام اہل کتاب موجودہ وقت حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر ایمان لائیں گے۔ چونکہ ابھی تک تمام اہل کتاب کا اتفاق علی الایمان نہیں ہوا۔ اس لئے ثابت (اس دلیل قرآنی اور دلیل حدیثی کا بھی قادیانی مناظر ان دونوں شرطیں مذکورین کے تحت میں رہ کر کوئی جواب نہ دے سکا۔ ) ہوا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام ابھی فوت نہیں ہوئے بلکہ زندہ ہیں۔
اور اس آیت کا ارتباط ماقبل سے یہ ہے کہ جب اثناء ذکر برائیوں ، یہود کے اس بدی کا ذکر کیا۔ 'وقولھم انا قتلنا المسیح ' اور اس بدی سے دو امر مترشح ہوتے تھے۔ ایک یہ کہ یہود کا زعم باطل قتل مسیح کا ہے اور دوسرا یہود کا افتخار جیسا لفظ 'رسول اللہ ' سے ظاہر ہے تو حسب اقتضاء بلاغت و مطابق حکمت خدائے کریم نے پہلے ان کے زعم باطل کی تردید 'وماقتلوہ الیٰ بل رفعہ اللہ الیہ ' سے کی اور پھر اس آیت سے ان کے افتخار کو توڑا کہ تم یہودی تو فخر کرتے ہو کہ ہم نے رسول اللہ کو قتل کر دیا ہے اور حقیقت یہ ہے کہ آئندہ زمانہ میں تمہارے ہم ملت یہود یہودیت کو ترک کر کے اسی حضرت عیسیٰ ابن مریم کے ساتھ اس کی موت سے پہلے ایمان
٢١
لائیں گے اور نیز ”بل رفعه الله الیه“ سے سوال پیدا ہوتا تھا کہ جب حضرت عیسیٰ علیہ السلام آسمان پر زندہ بجسدہ العنصری مرفوع ہوئے تو اتریں گے بھی یا نہ، تو خداوند کریم نے فرمایا کہ موت سے پہلے تشریف لائیں گے اور دین اسلام کو عالمگیر غلبہ حاصل ہوگا۔ جیسا کہ آیت ”هو الذی ارسل رسوله بالھدی ودین الحق لیظهره علی الدین کله“ سے ظاہر ہے۔ یعنی ابھی تک ذکر ہدیٰ کا ہو رہا ہے۔ لیکن چونکہ اس ہدیٰ کا یہ مقتضا تھا کہ اس کے ساتھ ہی یہ مضمون بیان کیا جاوے۔ اس لئے اللہ تعالیٰ نے بلاغت و حکمت کو پورا کیا اور اس آیت میں استثناء بعد نفی کے ہے۔ جو مفید ایجاب ہے اور ایجاب میں اتنا ہی ضروری ہے کہ بوقت ثبوت محمول پہلے موضوع موجود ہو۔ بشرطیکہ محمول وجود اور تقرر اور ذاتی نہ ہو اور موتہ قرأت متواترہ ہے۔ جس کا قرأت شاذہ مقابلہ نہیں کر سکتی اور جناب مرزا قادیانی بھی ایک زمانہ میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی حیات کے قائل تھے۔ چنانچہ فرماتے ہیں ”اور جب حضرت مسیح علیہ السلام دوبارہ اس دنیا میں تشریف لائیں گے تو ان کے ہاتھ سے دین اسلام جمیع آفاق اور اقطار میں پھیل جائے گا۔“
(براہین احمدیہ ص ٤٩٩، خزائن ج ١ ص ٥٩٣)
میری مراد کوئی الزامی جواب دینا نہیں ہے۔ بلکہ یہ بتلانا ہے کہ جن دنوں مرزا قادیانی کو الہام اور مجددیت کا دعویٰ تھا ان دنوں ان کا یہ عقیدہ تھا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام زندہ ہیں۔ حالانکہ قرآن دانی میں ان دنوں بھی اس کمال کا دعویٰ تھا کہ تین سو دلائل قرآن کی حقانیت کے قرآن ہی سے دینے کے ثبوت میں براہین احمدیہ لکھی تھی۔ اگر مسئلہ حیات مسیح اس قسم کا غلط ہوتا کہ اس کی تردید قرآن مجید میں ہوتی تو ایسا قرآن دان اور قرآن کا حامی اس عقیدہ کو دل و دماغ میں رکھ کر میدان مناظرہ میں نہ آتا۔
نوٹ: چونکہ بوقت تحریر شرائط مناظرہ میرے فریق مخالف نے فرمایا تھا کہ مرزا قادیانی کے خلیفوں یعنی مولوی نور الدین صاحب و جناب میاں صاحب کے اقوال ہم پر حجت نہ ہوں گے۔ اس لئے میں نے مولوی نور الدین صاحب کے اقوال اس حیثیت سے پیش نہیں کئے کہ مولوی صاحب ممدوح مرزا قادیانی کے خلیفہ ہیں۔ بلکہ اس لحاظ سے پیش کئے ہیں کہ مولوی صاحب ممدوح کی جناب مرزا قادیانی نے دینی رنگ میں اعلیٰ درجہ کی توثیق کی ہے۔ مجھے حیرانگی آتی ہے کہ جب مرزا قادیانی نبی امتی ہیں اور بوجہ کمال اتباع محمدی وہ تمام کمالات محمدیہ کے مظہر ہیں تو پھر کیا وجہ ہے کہ مطابق حدیث ”فعلیکم بسنتی وسنة الخلفاء الراشدین المہدیین (مشکوٰة باب الاعتصام بالكتاب والسنة ص ٣٠)“ مرزا قادیانی کے معتقدین
٢٢
مرزا قادیانی کے خلیفوں کے اقوال کو اپنے اوپر حجت ہونے سے انکار کرتے ہیں۔ مختصر یہ کہ قرآن کریم کی آیات اور آنحضرت ﷺ کی احادیث حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی حیات کو ثابت کرتی ہیں اور مرزا قادیانی کے کلمات اسی حیات کی تائید کرتے ہیں اور قرآن مجید جو سابقہ اہل کتاب کی اصلاح کے لئے آیا ہے وہ اصلاح بھی اسی میں ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی حیات کو مانا جاوے۔ تاکہ اہل کتاب کا وہ غلط اور گمراہ کن عقیدہ جس کو کفارہ کے نام سے موسوم کیا جاتا ہے۔ دنیا سے رخصت ہو جاوے۔ وقت کی پابندی ہے۔ لہٰذا یہ کہہ کر ختم کرتا ہوں۔
دستخط دستخط مفتی غلام مرتضیٰ (اسلامی مناظر ) غلام محمد بقلم خود از گھوٹھ متصل ملتان پریذیڈنٹ اسلامی جماعت
نوٹ: اگر یہ سوال ہو کہ کتاب ازالہ اوہام دعوئی نبوت سے پہلے کی ہے اور شرط نمبرا کے مطابق اسلامی مناظر مرزا قادیانی کے وہ اقوال پیش کر سکتا ہے جو دعوئی نبوت کے بعد کے ہوں تو اس کا یہ جواب ہے کہ تاریخ دعوئی نبوت جو مرزا قادیانی اور ان کے مرید بیان کرتے ہیں۔ وہ بیان ہم پر حجت نہیں۔ کیونکہ ہم مرزا قادیانی کو مفتری اور ان کے مریدوں کو مفتری کے مرید اعتقاد کرتے ہیں۔ بلکہ دیکھنا یہ ہے کہ اس کتاب ازالہ اوہام میں کوئی ایسا فقرہ ہے جس سے یہ ظاہر ہو کہ مرزا قادیانی اپنے آپ کو پیغمبر زعم کرتے ہیں۔ قرآن کریم میں ذکر ہے حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے کہا تھا ۔ ”ومبشراً برسول يأتى من بعدى اسمه احمد“ مرزا قادیانی اسی کتاب (ازالہ اوہام ص ٤٦٣، خزائن ج ٣ ص ٤٦٣) میں لکھتے ہیں ۔ ”میں وہ احمد ہوں یعنی حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے میرے حق میں بشارت دی تھی۔ پس ثابت ہوا کہ کتاب ازالہ اوہام کے اقوال پیش کرنے شرط نمبر ١ کے خلاف نہیں بلکہ عین مطابق ہیں۔“
١٨/ اکتوبر ١٩٢٤ء پرچہ نمبر اوّل
دلائل وفات مسیح از مولوی جلال الدین قادیانی مناظر
بسم الله الرحمن الرحيم . نحمده ونصلی علیٰ رسوله الكريم!
مارتا ہے اس کو فرقاں سربسر اس کے مر جانے کی دیتا ہے خبر
٢٣
١؎ وفات مسیح پر جو قادیانی مناظر یعنی مولوی جلال الدین صاحب نے قرآن کریم کی آیات پیش کی ہیں۔ ان میں سے کچھ تو ایسی ہیں کہ جن کے عموم سے کوئی حکم ثابت کیا جاتا ہے۔ ابن مریم کی شخصیت کا کوئی ذکر نہیں۔ جیسے ”ویوم نحشرهم جميعاً ثم نقول للذین اشرکو“ اور ”وما محمد الا رسول قد خلت من قبله الرسل“ اور ”والذین يدعون من دون الله“ اور ”فيها تحيون وفيها تموتون“ اور ”ولكم فى الارض مستقر ومتاع الى حين“ اور ”الم نجعل الارض كفاتا“ اور ”ومن نعمره ننكسه“ اور ”ومنكم من يتوفى ومنكم من يرد الى ارذل العمر“ اور ان تمام آیتوں کا پرچہ نمبر ٥ میں اسلامی مناظر یعنی مفتی غلام مرتضیٰ صاحب نے اجمالی و اصولی طور پر بھی جواب دیا ہے۔ جس کی توضیح یہ ہے کہ عام دلیل خاص منطوق دلیل کا مقابلہ نہیں کرسکتی۔ مثلاً آیت ”والمطلقات يتربصن بانفسهن ثلاثة قروء“ یعنی مطلقہ عورتوں کی عدت تین حیضیں ہے۔ یہ آیت اپنے عموم کے لحاظ سے حاملہ اور غیر حاملہ اور شوہر دیدہ اور شوہر نادیدہ اور حائضہ اور غیر حائضہ سب کو شامل ہے اور اس سے ان سب کی عدت تین حیضیں ثابت ہوتی ہے اور ”یا ایها الذین آمنوا اذا نكحتم المومنات ثم طلقتموهن من قبل ان تمسوهن فما لكم عليهن من عدة تعتدونها“ یعنی اے ایمان والو جب تم ایمان والی عورتوں سے نکاح کرو اور پھر قبل مس ان کو مطلقہ کر دو تو ان عورتوں کے لئے کوئی عدت نہیں۔ یہ آیت مطلقہ شوہر نادیدہ کے لئے خاص منطوق دلیل ہے اور ”واللّٰئی یئسن من المحیض من نسائكم ان ارتبتم فعدتهن ثلثة اشهر واللّٰئی لم يحضن واولات الاحمال اجلهن ان يضعن حملهن“ یعنی وہ عورتیں جن کو بوجہ صغرسنی کے حیض نہ آیا ہو اور وہ عورتیں جن کا حیض بند ہو چکا ہے۔ ان کی عدت تین مہینہ اور حاملہ عورتوں کی عدت وضع حمل ہے۔ یہ آیت غیر حائضہ اور حاملہ کے لئے خاص منطوق دلیل ہے۔ دیکھو یہاں عام دلیل خاص منطوق دلیلوں کا مقابلہ نہیں کرسکی۔ بلکہ اس عام دلیل کے حکم سے شوہر نادیدہ اور غیر حائضہ اور حاملہ عورتیں ان دلائل خاصہ منطوقہ کی دلالت کی وجہ سے مستثنیٰ ہیں اور قرآن کریم میں ایسی مثالیں بہت ہیں۔ ایسا ہی چونکہ آیت ”وما قتلوہ یقیناً بل رفعہ اللہ الیہ“ اور آیت ”وان من اہل الکتاب الا لیؤمنن بہ قبل موتہ“ حضرت عیسیٰ بن مریم کی حیات کے لئے خاص منطوق دلیل ہے۔ اس لئے یہ عام دلائل پیش کردہ قادیانی مناظر اس کا مقابلہ نہیں کرسکتے۔
٢٤
حضرات! آپ کو معلوم ہے کہ میرے مد مقابل جناب مفتی غلام مرتضیٰ صاحب اور باقی غیر احمدی علماء اور عوام کا یہ عقیدہ ہے کہ حضرت مسیح ناصری آسمان پر بجسدہ العنصری زندہ اٹھائے گئے اور اب تک بغیر خوردونوش کے زندہ ہیں اور رہیں گے اور امت محمدیہ کی اصلاح کے لئے وہی دوبارہ دنیا میں تشریف لائیں گے۔ مگر راقم اور باقی جماعت احمدیہ کا یہ عقیدہ ہے کہ حضرت مسیح ناصری اسی طرح وفات پاچکے ہیں۔ جس طرح کہ باقی رسولوں نے وفات پائی اور آنے والا مسیح آچکا اور وہ جناب (افسوس کہ موضوع مناظرہ حیات ووفات ابن مریم ہے اور قادیانی مناظر نے مرزا قادیانی کے مسیح موعود ہونے کے مسئلہ کا بھی ذکر کر دیا جو ایک علیحدہ بحث ہے۔) حضرت مرزا غلام احمد قادیانی مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام ہیں۔ مسئلہ وفات مسیح پر بحث کرنے کا فائدہ۔ اس مسئلہ پر بحث کرنے کے دو فائدے ہیں۔ ایک فائدہ تو یہ ہے کہ اس سے پتہ لگ جائے گا کہ آیا حضرت عیسیٰ علیہ السلام آسمان پر زندہ موجود ہیں یا وفات پاگئے۔ دوسرا فائدہ یہ ہے کہ اس سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا صدق وکذب ظاہر ہو جائے گا کہ آیا آپ اپنے دعویٰ میں سچے ہیں یا جھوٹے۔
چنانچہ حضرت مسیح موعود تحفہ گولڑویہ میں تحریر فرماتے ہیں۔ ”یاد رہے کہ ہمارے اور ہمارے مخالفین کے صدق وکذب آزمانے کے لئے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی وفات حیات ہے۔ اگر حضرت عیسیٰ علیہ السلام درحقیقت زندہ ہیں تو ہمارے سب دعوے جھوٹے اور سب دلائل ہیچ ہیں اور اگر وہ درحقیقت قرآن کریم کی رو سے فوت شدہ ہیں تو ہمارے مخالف باطل پر ہیں۔ اب قرآن
١ اس مناظرہ سے یہ نہایت روشن ہے کہ اسلامی مناظر نے شرط نمبر ١ وشرط نمبر ٢ کے تحت میں رہ کر اپنا دعویٰ حیات مسیح قرآن کریم سے ثابت کر دیا ہے اور قادیانی مناظر شرط نمبر ١ وشرط نمبر ٢ کے تحت میں آکر کوئی تردید نہیں کر سکا۔ پس حسب فیصلہ جناب مرزا قادیانی کے سب دعوے جھوٹے اور سب دلائل ہیچ ہوئے۔ جزاہ الله خير الجزاء!
زلیخا نے کیا خود پاک دامن ماہ کنعاں کا
اور مرزا قادیانی کا تمام مسائل مختلف فیہا میں سے فقط مسئلہ حیات ووفات مسیح کو ہی اپنے صدق وکذب کا معیار قرار دینا اس سے یہ مترشح ہوتا ہے کہ مرزا قادیانی کو یہ پورا اطمینان تھا کہ میرا فریق مخالف اس مسئلہ میں کبھی کامیاب نہ ہوگا۔ لیکن الاسلام یعلو ولا یعلیٰ۔ حق کے انوار نے ایسی روشنی کی کہ شمس کو کسوف کر کے حیات مسیح کو ثابت کر دکھایا۔
٢٥
درمیان میں ہے۔ اس کو سوچو۔‘‘ (تحفہ گولڑویہ ص ١٠٦ خزائن ج ١٧ ص ٢٦٤) علاوہ ازیں اگر غور کیا جائے تو ہمیں مسیح ناصری کی وفات ثابت کرنے کے لئے دلائل دینے کی بھی ضرورت نہیں۔ ہمارا صرف یہ کہہ دینا کہ وہ ایک انسان نبی تھے۔ اس لئے بشرط زندگی ان کا ارذل عمر تک پہنچنا اور عمر طبیعی کے دائرہ کے اندر فوت ہو جانا ضروری تھا۔ لہٰذا وہ بھی باقی انسانوں اور دوسرے انبیاء کی طرح وفات پاگئے ہیں۔ کافی ہے کسی اور دلیل دینے کی ضرورت نہیں۔ البتہ وہ شخص جو اس بات کا مدعی ہے کہ مسیح ابن مریم انسان ہو کر اور تمام انسانوں کے خواص اپنے اندر رکھ کر اب تک خلاف نصوص قرآنیہ وحدیثیہ وبرخلاف قانون فطرت کے مرنے سے بچا ہوا ہے۔ اس کے ذمہ ہے کہ وہ اس کی حیات کا ثبوت دے۔ مثلاً ایک شخص جو تین چار سو سال سے مفقود الخبر ہے۔ اس کی نسبت جب دو شخص کسی قاضی کی عدالت میں اس طور پر بحث کریں کہ ایک اس کی نسبت یہ بیان کرتا ہے کہ وہ فوت ہوگیا ہے اور دوسرا یہ بیان کرتا ہے کہ وہ اب تک زندہ ہے تو ظاہر ہے کہ قاضی ثبوت اس سے طلب کرے گا جو خارق عادت زندگی کا قائل ہے اور ایسا اگر نہ ہو تو شرعی عدالتوں کا سلسلہ درہم برہم ہوجائے۔ پس مذکورہ بالا بیان سے واضح ہے کہ اگر قرآن مجید میں وفات مسیح کی ایک دلیل بھی نہ پائی جاتی تو پھر بھی وفات مسیح ثابت تھی۔ جب تک کہ اس کے خلاف کوئی دلیل قرآن مجید سے نہ پیش کی جاتی اور آپ کی وفات دیگر سب انبیاء کی وفات کی طرح تسلیم کرنی پڑتی۔ مگر ہمارا قادر عالم الغیب خدا تعالیٰ جانتا تھا کہ جب مسیح موعود آئے گا تو اس کے مخالفین اس بات پر زور دیں گے اور عیسائیوں کے معبود کی زندگی کو ثابت کرنے کی کوشش کریں گے اور اپنے اس قول سے عیسائیوں کی حمایت کریں گے اور فتنہ برپا کریں گے۔ اس لئے خدا تعالیٰ نے اپنی کتاب میں جس کو لوگوں کی ہدایت کے لئے اس نے اتارا مسیح ناصری کی وفات پر ایک دلیل نہیں بلکہ کئی دلائل بیان فرمائے۔ چنانچہ ان دلائل میں سے چند دلائل میں صاحبان کی خدمت میں پیش کرتا ہوں۔
پہلی دلیل
خدا تعالیٰ فرماتا ہے۔ ’’واذ قال اللہ یا عیسیٰ ابن مریم الیٰ وکنت علیہم
ا؎ یہ پندرہ بلحاظ صورت دلائل ہیں اور درحقیقت مغالطات ہیں۔ جیسا کہ روئیداد مناظرہ سے واضح ہے اور یہ آیت تمام اس طرح ہے۔ ’’واذ قال اللہ یا عیسیٰ ابن مریم أنت قلت للناس اتخذونی وامی الہین من دون اللہ قال سبحانک ما یکون لی ان اقول مالیس لی بحق ان کنت قلتہ فقد علمتہ تعلم ما فی نفسی ولا اعلم ما فی نفسک انک انت علام الغیوب ما قلت لہم الا ما امرتنی بہ ان اعبدوا اللہ ربی وربکم وکنت
٢٦
عليهم شهيداً ما دمت فيهم فلما توفيتنى كنت انت الرقيب عليهم وانت على كل شئ شهيد ٥ ان تعذبهم فانهم عبادك وان تغفرلهم فانك انت العزيز الحكيم (مائدہ: ١١٨) ’’یعنی اور جب اللہ تعالیٰ نے کہا یا کہے گا اے عیسیٰ ابن مریم کیا تو نے لوگوں سے کہا تھا کہ مجھے اور میری ماں کو خدا کے سوا دو معبود بنالو۔ کہا تو پاک ہے۔ مجھے کہاں شایاں تھا کہ میں وہ کہوں۔ جس کا مجھے حق نہیں۔ اگر میں نے ایسا کہا ہوتا تو تجھے ضرور اس کا علم ہوتا۔ تو جانتا ہے جو کچھ میرے دل میں ہے اور میں نہیں جانتا جو تو مخفی رکھتا ہے۔ کیونکہ تو غیب کی باتوں کا جاننے والا ہے۔ میں نے ان سے کچھ نہیں کہا۔ مگر وہی جس کا تو نے مجھے حکم دیا کہ اللہ کی عبادت کرو جو میرا رب اور تمہارا رب ہے اور میں ان پر گواہ تھا۔ جب تک میں ان میں تھا پھر جب تو نے مجھے توفی دی تو تو ہی ان پر نگہبان تھا اور تو ہر چیز پر گواہ ہے۔ اگر تو ان کو عذاب دے تو وہ تیرے ہی بندے ہیں اور اگر تو ان کو بخش دے تو بے شک تو غالب حکمت والا ہے۔ اس دلیل کی اسلامی مناظر نے اپنے پرچہ نمبر ٢ میں اس آیت کے الفاظ کے مفہوم کے لحاظ سے تردید کی ہے۔ جس کی تصریح یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: ’’الله يتوفى الانفس حين موتها والتى لم تمت فى منامها فيمسك التى قضى عليها الموت ويرسل الاخرى الى اجل مسمی (الزمر: ٤٢)‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ جانوں کو قبض کرتا ہے۔ ان کی موت کے وقت اور جو مرے نہیں ان کی نیند میں پھر روک رکھتا ہے۔ جن پر موت کا حکم کیا ہوتا ہے اور دوسری جانوں کو ایک مقرر وقت تک بھیج دیتا ہے۔ اس آیت سے صاف ظاہر ہے کہ توفی کے معنی اور موضوع لہ مطلق قبض ہے نہ موت۔ ورنہ ’’الانفس‘‘ کے ذکر کی کیا ضرورت تھی اور نیز بلحاظ و التي لم تمت في منامها اجتماع ضدین لازم آئے گا جو باطل ہے اور جو مستلزم باطل ہو وہ خود باطل ہے۔ پس ثابت ہوا کہ لفظ توفی کے معنی اور موضوع لہ مطلق قبض ہے نہ موت۔ ہاں موت اور نیند توفی کے دو نوع ہیں اور آیت فلما توفيتنى پیش گوئی يا عيسى انى متوفيك ورافعك الىّ کے وقوع کا بیان ہے۔ اس لئے ہم پہلے آیت يا عيسى انى متوفيك ورافعك الىّ کی تفسیر کرتے ہیں اور پھر آیت فلما توفیتنی کی تشریح کریں گے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ’’اذ قال الله يا عيسى انى متوفيك ورافعك الى ومطهرك من الذين كفروا وجاعل الذين اتبعوك فوق الذين كفروا الى يوم القيمة (آل عمران: ٥٥)‘‘ یعنی جب اللہ تعالیٰ نے کہا اے عیسیٰ میں تجھے توفی کرانے والا اور اپنی طرف تیرا رفع کرنے والا اور تجھے ان سے پاک کرنے والا جو کافر ہیں اور جنہوں نے تیری پیروی کی۔ انہیں ان پر جنہوں نے انکار کیا فوقیت دینے والا ہوں قیامت کے دن تک۔ یہ آیت مانند آیت ’’وما قتلوه يقيناً بل رفعه الله اليه‘‘ اس بات پر زبردست اور ٢٧
محکم دلیل ہے کہ حضرت عیسیٰ بن مریم علیہ السلام زندہ بجسدہ العنصری آسمان پر اٹھائے گئے ہیں۔ کیونکہ اس آیت میں لفظ عیسیٰ سے مراد نہ فقط جسم ہے اور نہ ہی فقط روح، بلکہ جسم مع الروح یعنی زندہ عیسیٰ۔ اس وجہ سے کہ متوفیک سے مراد ممیتک ہوگی۔ یعنی تجھے سلانے والا ہوں یا ممیتک ہوگی یعنی میں تجھے موت دینے والا ہوں اور یہ امر صاف ظاہر ہے کہ نیند اور موت زندہ انسان کو لاحق ہوتے ہیں نہ مردہ کو اور یہ امر بالکل روشن ہے کہ ہر چہار ضمیروں خطاب کا مخاطب وہی ایک عیسیٰ زندہ بعینہ ہے۔ کیونکہ ضمیر خطاب معرفہ ہے۔ بلکہ بوجہ ضمیر متکلم اعرف المعارف ہے اور بوجہ تقدم عطف و تاخیر ربط اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ یہ چاروں واقعات قیامت سے پہلے پہلے بعینہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام زندہ کے ساتھ ہو جائیں گے اور صیغہ اسم فاعل آئندہ زمانہ کے لئے بکثرت استعمال ہوتا ہے۔ دیکھو: ”وانا لجاعلون ما عليها صعيداً جرزاً (کھف:٨) “ یعنی اور ہم یقیناً اسے جو اس (زمین) پر ہے ہموار میدان سبزہ سے خالی بنانے والے ہیں اور مرزا قادیانی کو بھی اس آیت ”ياعيسى انی متوفيك “ کا الہام ہوا تھا۔ حالانکہ اس الہام کے بعد بھی زندہ رہے۔ (براہین احمدیہ ص ٥٢٠، خزائن ج ١ ص ٦٢٠ ) اب اگر ہم متوفیک سے مراد ممیتک لیں تو مطلب صاف ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو سوتے ہوئے اٹھالیا تاکہ آپ کو خوف لاحق نہ ہو اور اگر متوفیک کے معنی ممیتک کئے جائیں تو ہر چہار ضمیروں خطاب کا مخاطب ایک عیسیٰ زندہ بعینہ ہونے کے لحاظ سے تقدیم تاخیر کا قول کیا جائے گا جو قواعد عرب کے خلاف نہیں۔ کیونکہ تمام نحویوں کا اس پر اتفاق ہے کہ واؤ عاطفہ میں ترتیب حکایت اور ترتیب محکی عنہ کا تطابق ضروری نہیں اور محاورات قرآنی بھی اس عدم وجوب ترتیب کی شہادت دیتے ہیں۔ دیکھو: ” والله اخرجكم من بطون امهاتكم لا تعلمون شيئًا وجعل لكم السمع والابصار والافئدة (نحل:٧٨) “ یعنی اللہ تعالیٰ نے تمہیں تمہاری ماؤں کے پیٹوں سے نکالا۔ تم کچھ بھی نہ جانتے تھے اور تمہیں کان اور آنکھیں اور دل دیئے۔ اس آیت میں واؤ عاطفہ ہے اور مضمون اخراج من بطون الامہات ذکر میں مقدم ہے۔ لیکن اس کا وقوع پیچھے ہوا کرتا ہے اور مضمون جعل السمع والابصار والافئدۃ ذکر میں مؤخر ہے۔ لیکن اس کا تحقق پہلے ہوا کرتا ہے اور دیکھو: ”وادخلوا الباب سجدا وقولوا حطة (بقره:٥٨) وقولوا حطة وادخلوا الباب سجدا (اعراف:١٦١) “ سورہ بقرہ کی آیت میں مضمون امر بدخول الباب ذکر میں مقدم ہے اور مضمون امر بقول حطة ذکر میں مؤخر ہے اور سورہ اعراف میں ان ہر دو مضمونوں کا ذکر برعکس ہے اور ہر دو آیتوں میں واؤ عاطفہ ہے۔ اگر واؤ عاطفہ میں ترتیب حکایت اور ترتیب محکی عنہ کا تطابق ضروری تسلیم کیا جائے تو ان ہر دو آیتوں کے درمیان تعارض لازم آئے گا۔ اگر کہا
٢٨
جائے کہ پھر متوفیک ذکر میں کیوں مقدم ہے تو اس کا یہ جواب ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں دو فرقوں کو افراط وتفریط تھا۔ ایک نصاریٰ کہ ان کو الہ مانتے تھے۔ دوسرے یہود کہ ان کو غیر طاہر جانتے تھے اور نصاریٰ کی غلطی یہود کی غلطی سے بڑھی ہوئی تھی۔ کیونکہ غیر الہ کو الہ ماننا زیادہ بعید ہے۔ نبی کو غیر نبی جاننے سے اگرچہ کفر دونوں میں ہے۔ اس لئے متوفیک کو جب کہ بمعنی ممیتک ہو مقدم کیا کہ اس میں ابطال ہے عقیدہ نصاریٰ کا۔ کیونکہ موت منافی ہے الوہیت کے، پھر رد فرمایا عقیدہ یہود کو، اس طرح سے کہ ان کے لئے رفع الی السماء ثابت کیا جو مستلزم ہے طہارت جسمانی کو اور تطہیر مطلق ثابت کی جو مستلزم ہے طہارت روحانی کو۔ اس طرح دونوں فرقوں پر رد ہوگیا اور متوفیک کی تقدیم مناسب ہوئی۔ چونکہ آیت ”فلما توفیتنی“ پیش گوئی ”انی متوفیک ورافعک الی“ کے وقوع کا بیان ہے۔ اس لئے توفیتنی یا بمعنی امتنی ہوگا تو ہم کہتے ہیں کہ اس سوال وجواب میں زمانہ رفاقت زیر تنقیح ہے۔ علمیت زیر بحث نہیں۔ اس لئے علم ہونا یا نہ ہونا دونوں برابر ہیں۔ سوال یوں ہوگا کہ کیا آپ نے اے حضرت عیسیٰ علیہ السلام دنیا میں اپنی زیر نگرانی رکھ کر مسیحیت پھیلائی تھی تو آپ جواب دیں گے کہ جب سوتے ہوئے تو نے میرا رفع جسمانی کیا تو میری رفاقت اور ذمہ داری ختم ہو چکی۔ بعد کی حالت کا میں ذمہ دار نہیں ہوں۔ زمانہ تجدید اسلام میں بنی اسرائیل بلکہ کسی کے ذمہ دار نہیں ہوں گے۔ صرف تجدید وترقی اسلام آپ کا فرض ہوگا۔ اس لئے یہ زمانہ زیر بحث نہ ہوگا اور اگر توفیتنی بمعنی امتنی ہو تو یہ واقعہ قیامت کو ہوگا۔ جیسا کہ قادیانی مناظر نے بھی اس بات کو تسلیم کیا ہے۔ پس اس آیت سے یہ ثابت ہوا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام قیامت سے پہلے وفات پا چکے ہوں گے۔ آج وفات کا ثبوت نہیں اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی غلط گوئی کا الزام قرآن کریم کے الفاظ پر غور نہ کرنے سے پیدا ہوا ہے۔ کیونکہ سوال علم سے نہ ہوگا۔ بلکہ صرف یہ سوال ہوگا کہ اے عیسیٰ علیہ السلام تو نے لوگوں کو کہا تھا کہ مجھے اور میری ماں کو معبود بنالو۔ جیسا کہ: ”أانت قلت للناس اتخذونی وامی الہین من دون الله (مائدہ:١١٦)“ سے ظاہر ہے۔ پس دراصل اسی سوال کا جواب دینا حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے ذمہ ہوگا۔ اس سے زائد نہیں چنانچہ وہ بھی صرف اسی سوال کا جواب دیں گے کہ میں نے نہیں کہا تھا جیسا کہ: ”قال سبحانک ما یکون لی ان اقول مالیس لی بحق ان کنت قلتہ فقد علمتہ تعلم ما فی نفسی ولا اعلم ما فی نفسک انک انت علام الغیوب ماقلت لہم الا ما امرتنی (مائدہ:١١٦)“ سے ظاہر ہے اور فقرات ان اقول اور ان کنت قلتہ اور ما قلت قابل توجہ ہیں۔ رہی زائد بات۔ اس کا بتلانا نہ ان پر واجب نہ مفید۔ اس لئے خاموشی اختیار کر کے استظہار بالرحمۃ کی طرف توجہ فرمائیں گے۔ جس کی
٢٩
شهيدا ما دمت فيهم فلما توفيتني كنت انت الرقيب عليهم (مائده:١١٧،١١٦) “ ان آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ قیامت کے روز اللہ تعالیٰ مسیح سے سوال کرے گا کہ یہ جو لاکھوں کروڑوں انسان تجھے اور تیری والدہ کو پوجتے رہے اور معبود سمجھتے رہے کیا تو نے ان کو یہ تعلیم دی تھی۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام اس کا مدلل جواب دیتے ہوئے فرمائیں گے کہ اس شرک کا الزام تین ذاتوں پر لگ سکتا ہے۔ خدا پر کہ شاید اس نے یہ تعلیم دی ہو تو اس کی تردید تو لفظ ”سبحانك“ میں کر دی کہ شرک کرنا تو ایک گناہ اور بدی ہے اور جیسا کہ عیسائیوں کا عقیدہ ہے کہ وہ مسیح کو جو خدا تسلیم کرتے ہیں تو منشاء الٰہی کے ماتحت یہ غلط ہے۔ کیونکہ اے خدا تو ہر ایک بدی سے پاک ہے۔ پس تیرا تمام نقائص اور بدیوں سے پاک ہونا اس خیال کی تردید کے لئے کافی ہے۔ اس کے بعد دوسرے درجہ پر حضرت مسیح تھے کہ شاید انہوں نے خود ہی شرک کی تعلیم دی ہو تو اس کے لئے فرماتے ہیں۔ ”ما يكون لى ان اقول ما ليس لي بحق“ کہ میں یہ تعلیم دے ہی کیسے سکتا تھا۔ جب کہ میں نبی ہوں اور نبی تو وہی بات کہا کرتا ہے جس کا اسے حق ہوتا ہے اور یہ کہہ سکتا کہ مجھے معبود مانو۔ کسی نبی کا حق نہیں۔ چنانچہ فرمایا: ”ماكان لبشر ان يوتيه الله الكتاب والحكم والنبوة ثم يقول للناس كونوا عباداً لى من دون الله ولكن كونوا ربانيين بما كنتم تعلمون الكتاب وبما كنتم تدرسون ولايأمركم ان تتخذوا الملئكة والنبيين ارباباً ايامركم بالكفر بعد اذ انتم مسلمون (آل عمران:٨٠) “
کسی انسان کے لئے یہ بات شایاں نہیں کہ خدا اس کو کتاب اور حکم اور نبوت عطاء فرمائے اور وہ لوگوں سے کہنے لگے کہ تم میرے بندے ہو۔ بلکہ وہ تو یہی کہے گا کہ خدا پرست ہو کر رہو۔ اس لئے کہ تم لوگ دوسروں کو کتاب الٰہی پڑھاتے رہتے ہو اور خود بھی پڑھتے رہے ہو اور وہ تم سے کبھی بھی نہیں کہے گا کہ تم فرشتوں اور نبیوں کو خدا مانو۔ بھلا ایسا ہو سکتا ہے جب تم اسلام لا چکے ہو۔ پھر وہ تمہیں کفر کرنے کو کہے اور اگر میں نے یہ بات کہی ہے تو تو اس کو جانتا ہے تو میرے دل کی بات بھی جانتا ہے۔ مگر میں نہیں جانتا۔ بے شک تو علام الغیوب ہے۔ اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ
بناء ”ان رحمتي وسعت كل شئ“ اور ”ان رحمتي سبقت غضبی“ پر ہے اور کہیں گے۔ ”ان تعذبهم فانهم عبادك وان تغفر لهم فانك انت العزيز الحكيم (مائده:١١٨) “ یعنی ان نالائقوں کو اگر تو بخش دے تو کون تجھ کو روک سکتا ہے۔ سبحان اللہ اسلامی مناظر نے تو اس آیت کے مرکز سے جواب نکالا ہے۔ لیکن قادیانی مناظر نے اس دلیل کی طرز استدلال میں صرف اپنے خیالات سے کام لیا ہے۔
٣٠
اچھا اگر صراحۃً آپ نے یہ تعلیم نہیں دی تو ہو سکتا ہے کہ کوئی ایسی تعلیم دی ہو۔ جس سے وہ سمجھتے ہوں کہ تو الوہیت کا مدعی ہے۔ اس سوال کے جواب میں فرماتے ہیں۔ ”ما قلت لهم الا ما امرتنی بہ“ کہ میں نے تو ان کو وہی بات کہی جس کا تو نے حکم دیا۔ یعنی یہ کہ خدا تعالیٰ کی عبادت کرو۔ جو میرا اور تمہارا رب ہے۔ اس پر یہ سوال ہو سکتا تھا کہ تم نے اگر ایسی بات بھی نہیں کہی جس سے غلط فہمی لگ سکے تو ہو سکتا ہے کہ وہ خود بخود اپنی مرضی سے سمجھے پوجنے لگے ہوں اور تو نے انہیں روکا نہ ہو تو اس کے جواب میں آپ فرماتے ہیں۔ ”وکنت علیہم شہیداً ما دمت فیهم فلما توفيتني كنت انت الرقيب عليهم“ کہ ایسا بھی نہیں ہوا۔ کیونکہ میں جب تک ان میں رہا تو میں ان کے عقائد اور اعمال سے غافل نہیں رہا۔ بلکہ ہر وقت ان کی نگرانی اور محافظت کرتا رہا۔ میری موجودگی میں یہ عقیدہ ان میں نہیں آیا۔ اب سوال پیدا ہوتا تھا کہ پھر یہ عقیدہ ان میں کب آیا تو فرمایا: ”فلما توفيتني كنت انت الرقيب عليهم“ یعنی مجھے کچھ علم نہیں۔ اگر بگڑے ہوں گے تو میری وفات کے بعد بگڑے ہوں گے۔ کیونکہ میری وفات کے بعد تو ہی ان پر نگراں تھا۔ وفات کے بعد کا حال مجھے معلوم نہیں۔ پس فقرہ ”وکنت علیہم شهیداً ما دمت فیهم فلما توفيتنی“ سے ہم دو طریق پر وفات مسیح پر استدلال کرتے ہیں۔ ایک تو اس طرح کہ مسیح علیہ السلام اقرار کرتے ہیں کہ نصاریٰ کا بگڑنا اور مجھے معبود بنانا اگر ہوا تو میری وفات کے بعد ہوا نہ کہ میری موجودگی میں اور آیت ”لقد كفر الذين قالوا ان الله هو المسيح ابن مریم (مائدہ:١٧)“ سے ثابت ہوتا ہے کہ نزول قرآن کے وقت نصاریٰ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو خدا بنا چکے تھے۔ اس لئے ظاہر ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام وفات پا چکے ہیں۔ دوسرا طریق یہ ہے کہ مسیح نے اس آیت میں اپنی دو حالتیں بیان فرمائی ہیں۔ ایک نصاریٰ میں موجودگی اور ان پر نگران اور محافظ ہونے کی ، اور دوسری ان کے اندر عدم موجودگی اور ان پر نگراں نہ ہونے کی حالت اور ان دونوں کے درمیان حد فاصل توفی ہے اور تیسری کوئی حالت آپ پر نہیں گذری۔ پس یا تو مانو کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نصاریٰ میں موجود ہیں یا وفات پاگئے ہیں۔ پہلی شق تو باطل ہے۔ کیونکہ آپ خود بھی مانتے ہیں کہ وہ اس وقت ان میں موجود نہیں ہیں۔ پس دوسری شق ثابت ہوئی اور وہ وفات کی حالت ہے۔ خوب اچھی طرح سمجھ لو کہ مسیح نے اپنی تیسری حالت کوئی بیان نہیں کی۔ صرف دو ہی حالتیں بیان کی ہیں۔ ایک مادمت فیہم کی اور دوسری کنت انت الرقیب علیہم کی اور یہ دوسری حالت توفی کے بعد کی ہے۔ پس اگر وہ زندہ ہیں تو ان کی نصاریٰ میں موجودگی اور ان پر نگران و محافظ ہونا ضروری ہے۔
٣١
مگر ان کی نصاریٰ میں موجودگی اور ان پر نگرانی آپ کے نزدیک بھی باطل۔ پس جو مستلزم باطل ہو وہ بھی باطل اور دوسری حالت جو عدم موجودگی کی ہے وہ وفات کے بعد کی حالت ہے۔ پس مسیح علیہ السلام کی وفات ظاہر ہے۔ چنانچہ یہی آیت آنحضرت ﷺ نے اپنے متعلق فرمائی ہے۔ جیسا کہ بخاری میں آیا ہے کہ حشر کے دن چند صحابہ پکڑ کر لے جائے جائیں گے تو آپ فرمائیں گے کہ یہ تو میرے صحابہ ہیں تو جواب دیا جائے گا ’’لا تدري ما احدثوا بعدك‘‘ تجھے نہیں معلوم کہ انہوں نے تیرے بعد کیا کیا باتیں کیں تو آپ فرماتے ہیں کہ: ’’فأقول كما قال العبد الصالح وكنت عليهم شهيداً ما دمت فيهم فلما توفيتني كنت انت الرقيب عليهم‘‘ یعنی میں بھی کہوں گا جس طرح مسیح نے کہا ہے کہ میں بھی ان پر نگران تھا۔ جب تک کہ میں ان میں تھا، مگر جب تو نے مجھے وفات دی تو تو ہی ان کا نگران تھا۔ ’’فیقال ان هؤلاء لم يزالوا مرتدين على اعقابهم منذ فارقتهم (بخاری ج٢ ص٦٦٥، کتاب التفسیر)‘‘ کہ تیری وفات کے بعد جب کہ تو ان سے جدا ہوا ان کی یہ حالت رہی کہ وہ مرتد بنے رہے۔ پس آنحضرت ﷺ نے بھی اپنی وہ ہی حالتیں بیان فرمائی
١؎ اس کا جواب اسلامی مناظر نے اس طرح دیا ہے کہ یہ ضروری نہیں کہ مشبہ اور مشبہ بہ میں ہر حیثیت میں اشتراک ہو۔ جس کی توضیح یہ ہے کہ: ”التشبيه ان يدل على مشاركة امر لآخر في معنى (مطول ص٢٨٦)‘‘ یعنی تشبیہ سے مراد بیان کرنا مشارکت ایک چیز کے ساتھ دوسری چیز کے کسی وصف میں۔ مثلاً زید کالاسد میں اتنا ضروری ہے کہ زید اور اسد کسی وصف میں مشارک ہوں۔ جیسی شجاعت اور یہ ضروری نہیں کہ زید شیر کی ہر ایک وصف میں مشارک ہو۔ ورنہ لازم آئے گا کہ تشبیہ زید کالاسد اس صورت میں صحیح ہو کہ زید سوائے ماہیت کے تمام عوارض شیر میں اس کا مشارک ہو۔ وہو کما تریٰ۔ پس ’’فأقول كما قال العبد الصالح‘‘ میں قول آنحضرت ﷺ مشبہ ہے اور قول عیسیٰ علیہ السلام مشبہ بہ ہے اور وجہ تشبیہ کے لئے اتنا ہی کافی ہے کہ مقول آنحضرت ﷺ اور مقول عیسیٰ علیہ السلام ایک الفاظ بعینہ ہوں اور یہاں تو ضرورت سے زیادہ ان الفاظ کے معنی میں بھی ایک نوع کی مشارکت ہے۔ کیونکہ اگر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے قول توفیتنی سے مراد اماتت لی جائے تو قبض روح کے معنی میں مشارکت ہوگی اور آنحضرت ﷺ کی عبارت میں قبض روح مع الامساک مراد ہوگی اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی عبارت میں قبض روح مع الارسال مراد لی جائے گی اور اگر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے قول توفیتنی سے اماتت مراد ہو تو پھر ایک زیادہ نوعی مشارکت ہو جائے گی۔
٣٢
ہیں۔ ایک اپنی قوم میں موجودگی اور دوسری قوم سے عدم موجودگی۔ تیسری حالت آپ پر بھی کوئی نہیں۔ پہلی حالت میں تو صحابہ نہیں بگڑے۔ جن کو حشر کے دن پکڑا گیا ہے۔ اسی لئے آپ نے ان کے متعلق فرمایا کہ یہ تو میرے پیارے صحابہ ہیں۔ ان کا بگڑنا چونکہ آپ کی عدم موجودگی میں وفات کے بعد ہوا تھا۔ اس لئے آپ فرماتے ہیں کہ: ”فلما توفیتنی کنت انت الرقیب علیھم“ کہ اے خدا جب تو نے مجھے وفات دی تو تو ہی ان کا نگران تھا۔ مجھے اس وقت کا علم نہیں۔ اس آیت کے پڑھنے کے بعد جواب دیا گیا کہ وہ مرتد ہو گئے تھے۔ پس آنحضرت ﷺ نے اپنی دونوں حالتوں میں اپنی امت کے چند لوگوں کے مرتد ہونے کو مسیح علیہ السلام کی دونوں حالتوں اور ان کی قوم کے مرتد ہونے کے مطابق بیان فرمایا ہے اور اپنے متعلق وہی الفاظ استعمال فرمائے ہیں جو مسیح نے اپنے متعلق کہے۔ پس جس طرح کہ چند اصحاب کے بگڑنے سے پہلے آنحضرت ﷺ کی وفات ہوئی ہے۔ اسی طرح عیسائی قوم کے بگڑنے سے پہلے مسیح علیہ السلام کی وفات ہوچکی ہے اور جس طرح آنحضرت ﷺ کی قوم میں عدم موجودگی آپ کے وفات پا جانے کی وجہ سے ہے۔ فافہم!
اگر کوئی شخص یہ کہے کہ فلما توفیتنی سے مراد یہ نہیں کہ جب تو نے مجھے وفات دی۔ بلکہ اس کے معنی یہ ہیں کہ جب تو نے مجھے آسمانوں پر اٹھا لیا تو یہ مندرجہ بالا وجوہ سے باطل ہے۔
- ١....... مندرجہ بالا حدیث اس کی تردید کرتی ہے۔ کیونکہ آنحضرت ﷺ نے اس
کو اپنے حق میں استعمال فرمایا ہے اور ظاہر ہے کہ آنحضرت ﷺ وفات پاچکے ہیں اور آپ نے فرمایا ہے کہ جس طرح مسیح اپنی قوم سے وفات پا کر جدا ہوئے ویسے ہی میں بھی وفات پا کر اپنی قوم سے جدا ہوا۔
- ٢....... حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) نے تمام علماء و فضلاء کو بدیں الفاظ چیلنج
دیا تھا کہ اگر کوئی شخص قرآن کریم سے یا کسی حدیث رسول اللہ ﷺ سے یا اشعار وقصائد نظم ونثر قدیم وجدید عرب سے یہ ثبوت پیش کرے کہ کسی جگہ توفی کا لفظ باب تفعل سے خدا تعالیٰ کا فعل ہونے کی حالت میں جو ذوی الروح کی نسبت استعمال کیا گیا ہو وہ بجز قبض روح اور وفات دینے کے کسی اور معنی مثلاً قبض جسم کر کے آسمان پر اٹھانے کے معنوں میں بھی مستعمل ہوا ہے تو میں اللہ جل شانہ کی قسم کھا کر اقرار صحیح شرعی کرتا ہوں کہ ایسے شخص کو اپنا کوئی حصہ ملکیت کا فروخت کرا کے مبلغ ہزار روپیہ نقد دوں گا اور آئندہ اس کے کمالات حدیث دانی و قرآن دانی کا اقرار کرلوں گا۔ اس چیلنج پر تیس سال کا عرصہ گزر جانا اور اس لمبے عرصہ میں اس کا جواب کسی سے نہ ہو سکنا اور تمام
٣٣
علماؤں کا عاجز آجانا اس بات کا بدیہی ثبوت ہے کہ اس چیلنج کے مطالبہ کوکوئی شخص پورا نہ کرسکا۔ اگر مفتی صاحب کو اپنی قابلیت اور علمیت جتلانا مقصود ہے تو وہ لغت عرب نظم ونثر قصائد عرب ودیگر کتب عربی وقرآن مجید واحادیث سے ایک ایسی مثال تو پیش کریں کہ جس میں توفیٰ کے باب تفعل کا کوئی مشتق استعمال ہوا ہو اور اس کا فاعل خدا تعالیٰ اور مفعول کوئی ذی روح چیز ہو اور پھر وہ قبض روح کے علاوہ آسمان پر اٹھانے کے معنوں میں بھی استعمال ہوا ہو۔ مگر کیا مفتی صاحب ایسی مثال پیش کریں گے ۔ نہیں ہرگز نہیں۔
- ......٣....... لغت عرب میں کوئی ایک بھی ایسی مثال موجود نہیں ہے کہ جس میں توفی کا
لفظ باب تفعل سے ہو اور خدا تعالیٰ فاعل اور مفعول کوئی ذی روح چیز ہو اور پھر اس کے معنی قبض روح کے نہ ہوں۔ توفی اللہ زیداً جب بھی بولا جائے گا تو اس کے معنی یہی ہوں گے کہ خدا تعالیٰ نے زید کی روح قبض کر لی اور وہ مر گیا۔ ملاحظہ ہو۔ (١)توفی اللہ فلاناً قبض روحہ (اقرب الموارد) (٢)توفاہ اللہ اماتہ الوفات الموت (مصباح) (٣)توفاہ اللہ ای قبض روحہ (صحاح، قاموس) (٤)توفاہ اللہ اذا قبض نفسہ (لسان العرب) (٥)توفاہ اللہ عز وجل اذا قبض نفسہ (تاج العروس) (٦)توفاہ اللہ تعالیٰ ای قبض روحہ (منتہی الارب)
- ......٤....... قرآن مجید میں یہ لفظ زیر بحث آیتوں کے علاوہ اسی طریق پر تئیس جگہ
١؎ اس سے صاف طور پر ثابت ہوتا ہے کہ لفظ توفی کا معنی موضوع لہ مطلق قبض ہے نہ موت۔ ورنہ ان قیود کی کیا ضرورت تھی کہ فاعل خدا ہو اور مفعول ذی روح ہو۔ بیشک موت اور نیند وغیرہ توفی کے انواع ہیں۔ جیسا کہ آیت ”الله یتوفی الانفس حین موتہا والتی لم تمت فی منامہا“ سے ظاہر ہے اور یہ زور دینا کہ توفی باب تفعل کا کوئی صیغہ ہو اور فاعل خدا ہو اور مفعول ذی روح ہو تو وہاں ضرور مراد معنی قبض روح ہوں گے۔ ایسا ہے۔ جیسا کہا جاوے کہ مصدر خلق کا کوئی صیغہ ہو اور فاعل خدا ہو اور مفعول آدم اور حوا نہ ہوں تو اس جگہ خلق سے ضرور مراد نطفہ سے پیدا کرنا ہوگی تو اس بناء پر یہ کہنا کب صحیح ہو سکتا ہے کہ خلق کے معنی نطفہ سے پیدا کرنا ہے۔ بلکہ خلق کا موضوع لہ مطلق پیدا کرنا ہے اور نیز جب توفی بمعنی موت تسلیم کرنے سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی وفات ثابت نہیں ہوتی ۔ جیسا کہ مفصل گزر چکا ہے تو پھر اس بات پر کیوں زور دیا جاتا ہے کہ توفی بمعنی موت ہے اور اس زور دکھلانے میں قادیانی مناظر کو کیا فائدہ ہے۔ بلکہ یہ معلوم ہوتا ہے کہ قادیانی جماعت مسلمانوں کو مغالطہ میں ڈالنا چاہتی ہے۔
٣٤
استعمال ہوا ہے اور اس کے معنی کسی جگہ بھی قبض جسم مع الروح کے نہیں ہیں۔ بلکہ قبض روح کے ہی ہیں۔ چند مثالیں درج ذیل ہیں۔ (١) توفنا مع الابرار (آل عمران:١٩٣) (٢) توفنا مسلمين (اعراف: ١٢٠) (٣) توفنى مسلما والحقنى بالصالحين (يوسف: ١٠١) (٤) واما نرينك بعض الذى نعدهم او نتوفينك (يونس: ٤٦) (٥) حدیث میں جہاں کہیں مذکورہ بالا تحریر پر توفی کا لفظ وارد ہوا ہے تو وہ بھی آسمان پر لے جانے کے معنوں میں استعمال نہیں ہوا۔ اگر ہوا ہے تو مفتی صاحب کوئی مثال پیش کریں۔ نماز جنازہ میں جو دعاء پڑھی جاتی ہے اس سے تو مفتی صاحب ناواقف نہیں ہوں گے۔ کیونکہ اس میں بھی یہ لفظ قبض روح کے معنوں میں ہی استعمال ہوا ہے۔ پس مذکورہ بالا آیت قطعی اور یقینی طور پر دلالت کرتی ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام وفات پاگئے ہیں۔
دوسری دلیل
خدا تعالیٰ قرآن مجید میں فرماتا ہے۔ ”لقد کفرالذين قالوا ان الله هوالمسیح ابن مریم (مائده: ١٧)“ اور ’لقد کفرالذين قالوا ان الله ثالث ثلثة (مائده: ٧٣)“ کہ وہ لوگ جو مسیح کو خدایا خدا کا بیٹا کہتے ہیں اور تثلیث کے قائل ہیں کافر ہیں۔ ان دونوں آیات سے ظاہر ہے کہ مسیح ناصری کو معبود من دون اللہ مانا جاتا ہے۔ دوسری جگہ خدا تعالیٰ فرماتا ہے۔ ”ويوم نحشرهم جميعاً ثم نقول للذين اشرکوا مكانكم انتم وشركاء كم فزيلنا بينهم وقال شركائهم ما كنتم ايانا تعبدون فكفى بالله شهيداً بيننا وبینکم ان ے کنا عن عبادتكم لغافلين (يونس: ٢٩)“ اور جس دن ہم سب کو اکٹھا کریں گے پھر مشرکین کو یہ حکم دیں گے کہ تم اور جن کو تم نے خدا کا شریک بنایا تھا ذرا اپنی جگہ ٹھہرو
ے یہ عجیب استدلال ہے۔ نہ اس دلیل میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا شخصی طور پر ذکر ہے اور نہ ہی کوئی ایسا لفظ ہے جس کا مفہوم موت ہو اور اس استدلال کی بناء استغراق پر ہے جو بالکل صحیح نہیں ہوسکتی۔ ورنہ لازم آئے گا کہ روح القدس جو تثلیث کا اقنوم ثالث ہے۔ وہ ان کے شرک سے بے خبر ہو۔ ”وہو کما ترى“ اور نیز یہ عام دلیل ہے جو خاص منطوق دلیل کا مقابلہ نہیں کرسکتی۔ جیسا کہ: ”انا خلقنا الانسان من نطفة“ عام دلیل خلقہ من تراب خاص دلیل کا مقابلہ نہیں کرسکتی اور یہی وجہ ہے کہ مولوی نورالدین صاحب جن کی مرزا قادیانی نے توثیق کی ہے۔ لکھتے ہیں ”لفظ جمع کا ہو تو اس سے مراد کلہم اجمعون نہیں ہوگا۔ جب تک کہ تصریح نہ ہو۔ بلکہ مراد بعض سے ہوتی ہے۔“ (اخبار بدر ص ٤، مورخہ ٢٢؍ مئی ١٩١٣ء)
٣٥
پھر ہم ان کے درمیان پھوٹ ڈال دیں گے اور ان کے شرکاء کہیں گے کہ تم ہماری عبادت نہیں کرتے تھے۔ پس اب ہمارے اور تمہارے درمیان بس خدا ہی شاہد ہے۔ ہم کو تمہاری پرستش کی مطلق خبر نہیں۔ ان دونوں آیتوں کے ملانے سے صاف نتیجہ نکلتا ہے کہ مسیح ناصری فوت ہو چکے ہیں۔ ورنہ اگر انہیں زندہ مانا جاوے اور پھر دوبارہ انہی کا نزول ہو اور آکر اپنی آنکھوں سے دیکھ لیں کہ انہیں خدا تعالیٰ کے ساتھ شریک بنایا جاتا ہے اور ان کی عبادت کی جاتی ہے۔ پھر حشر کے دن خدا تعالیٰ کے حضور کہیں کہ مجھے تو ان کی عبادت کرنے کی بالکل خبر نہیں۔ صریح جھوٹ ہے جو کسی نبی کی شان کے شایاں نہیں۔ خدا تعالیٰ تو سچا ہے کہ وہ یہ جواب دیں گے اور مسیح ناصری کا یہ جواب بھی صحیح ہوگا۔ کیونکہ وہ وفات پاچکے ہیں۔ جیسا کہ دلیل اوّل میں ہم بتا چکے ہیں کہ مسیح ناصری نے ایسی بات سے لاعلمی ظاہر کی ہے کہ انہیں خدا کے سوا معبود بنایا گیا ہے اور بتایا ہے۔ اگر بنایا بھی ہو تو میری وفات کے بعد بنایا ہوگا۔ جس کا مجھے علم نہیں۔ پس مسیح تو اس بات میں سچے ہیں۔ لیکن وہ علماء اپنے دعوٰی میں سچے نہیں جو کہتے ہیں کہ مسیح زندہ ہیں اور باوجود عیسائی قوم کو دیکھتے ہوئے کہ وہ ان کو خدا بنا رہے ہیں قیامت کے دن خدا تعالیٰ کے سامنے جھوٹ بولیں گے کہ مجھے تو ان کی عبادت کی بالکل خبر نہیں۔
تیسری دلیل
”وما محمد الا رسول قد خلت من قبلہ الرسل فان مات او قتل انقلبتم علٰی اعقابکم (آل عمران:١٤٤)“ یعنی محمد ﷺ محض رسول ہیں۔ آپ سے پہلے جو بھی رسول تھے وہ گزر گئے۔ اگر آپ بھی مرجائیں یا قتل کئے جائیں تو تم کو اپنی ایڑیوں پر نہیں پھر جانا چاہئے اور اسلام کو نہیں چھوڑ دینا چاہئے۔
١؎ اسلامی مناظر نے اپنے پرچہ نمبر٢ میں اس تیسری دلیل کا تفصیلی جواب بھی اس طرح دیا ہے۔ اس کی توضیح یہ ہے کہ: ”خلت بمعنی ماتت“ نہیں ورنہ لازم آئے گا کہ یہ ہر دو فقرے قرآنی یعنی ”سنۃ اللّٰہ التی قد خلت ولن تجد لسنۃ اللّٰہ تبدیلا“ متعارض ہوں۔ بلکہ خلت خلو سے ہے۔ جس کے معنی نقل مکانی ہے۔ ”واذا خلوا الی شیاطینہم“ یا زمانے کا گزرنا ”بما اسلفتم فی الایام الخالیۃ“ اور خلو ذی مکان اور ذی زمان کی صفت بالعرض ہوا کرتی ہے۔ پس بہر تقدیر آیت زیر بحث کے معنی یہ ہوں گے کہ جگہ خالی کر گئے یا گزر چکے ہیں۔ پیشتر اس کے کئی رسول اور یہ معنی زندوں اور مردوں دونوں میں صادق آسکتے ہیں۔ جس طرح ہم کہا کرتے ہیں کہ اس شہر میں ایسے کئی حاکم ہو گزرے ہیں۔ یہ فقرہ اس حاکم کو جو مر گیا ہو اور اس حاکم کو جو تبدیل ہو گیا ہو اور اس حاکم کو جو بعد اختتام میعاد ڈگری گھر میں چلا گیا ہو شامل ہے۔
٣٦
پس اس آیت میں یہ بتلایا گیا ہے کہ آنحضرتﷺ سے پہلے جس قدر رسول تھے فوت ہوگئے ہیں۔ پس اس آیت سے مسیح علیہ السلام کی وفات یقین طور پر ثابت ہوتی ہے۔ کیونکہ وہ بھی رسول کریمﷺ سے پہلے ایک رسول تھے اور لفظ خلت کیا بلحاظ لغت ”خلا فلان ای مات (لسان العرب، تاج العروس) “اور کیا بلحاظ قرینہ فقرہ آیت ”أفان مات أو قتل “موت کے معنوں میں استعمال ہوا ہے۔ جس سے ظاہر ہے کہ جس طرح آنحضرتﷺ سے پہلے دوسرے رسول فوت ہوگئے۔ اسی طرح حضرت عیسیٰ علیہ السلام بھی فوت ہوگئے ہیں۔
(شان نزول) یہ آیت ١؎ جنگ احد میں اس وقت نازل ہوئی جب کہ آپ کو قمئہ ممارثی نے پتھر مارا۔ جس سے آپ کے دو دانت شہید ہو گئے اور آپ کا خود آپ کے سر میں دھنس گیا اور آپ بیہوش ہو کر زمین پر گر پڑے تو کفار نے یہ مشہور کر دیا کہ رسول اللہﷺ قتل ہو گئے ہیں۔ تب مسلمان گھبرائے اور بعض نے میدان جنگ سے بھاگ جانے کا ارادہ کیا تو اس وقت یہ آیت مؤمنوں کی تسلی کے لئے نازل ہوئی اور اس میں یہ بتلایا گیا کہ رسول کریمﷺ کو تم نے خدا تعالیٰ پر قیاس کیا ہے کہ آپ کو مرنا نہیں چاہئے۔ حالانکہ آپ تو ایک رسول ہی ہیں۔ اس لئے آپ
١؎ اسلامی مناظر نے اس کا جواب اس طرح دیا ہے کہ جنگ احد کے واقعہ میں سالبہ کلیہ کی تردید ہے جو مہملہ سے ہو سکتی ہے جو قوت موجبہ جزئیہ میں ہے اور اس کی تشریح یہ ہے کہ اگر ہم تسلیم کر لیں کہ خلت بمعنی مات ہے تو پھر ہم یہ جواب دیتے ہیں کہ جنگ احد میں جب یہ غلط خبر اڑ گئی کہ آنحضرتﷺ شہید ہو گئے اور بعض لوگوں نے نبوت اور موت میں منافات سمجھی جو سالبہ کلیہ کا مصداق ہے اور ارتداد کا راستہ کرنے لگے تو اللہ تعالیٰ نے ان کے خیال باطل کی تردید کے لئے یہ آیت نازل فرمائی اور ظاہر کر دیا کہ نبوت اور موت میں منافات نہیں۔ پس الف لام الرسل میں استغراقی نہیں۔ بلکہ جنسی اور جنس لا بشرط شئے کے مرتبہ میں ہوتی ہے۔ نہ بشرط لا کے مرتبہ میں اور قد خلت من قبلہ الرسل قضیہ موجبہ مہملہ ہے جو قوت موجبہ جزئیہ میں ہے اور سالبہ کلیہ کی نقیض موجبہ جزئیہ ہوتی ہے اور آیت ”ولقد اتینا موسی الکتاب وقفينا من بعد بالرسل“ کو غور سے پڑھنا چاہئے کہ یہی لفظ الرسل بصیغہ جمع با الف ولام موجود ہے اور یہاں استغراق افراد قطعاً باطل ہے۔ کیونکہ اس آیت کے یہ معنی ہیں کہ موسیٰ علیہ السلام کو ہم نے کتاب دی اور اس کے پیچھے اس کے آئین پر کئی رسول بھیجے۔ نہ یہ کہ سب رسول حضرت موسیٰ علیہ السلام کے بعد بھیجے گئے۔ کیونکہ یہ معلوم ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام سب سے پہلے رسول نہیں ہیں۔ بلکہ کئی رسول آپ کے پہلے ہوئے اور کئی آپ کے بعد۔
٣٧
کو رسولوں پر قیاس کرنا چاہئے۔ پس جس طرح کہ پہلے رسولوں کا خلو ہو چکا ہے۔ اسی طرح ان کا بھی ہو جائے تو تمہیں گھبرانا نہیں چاہئے۔ پس آپ کی الوہیت کی تردید اور رسالت کا اثبات لفظ خلو سے کیا ہے اور خلو کی تفسیر موت اور قتل سے کی ہے۔ کیونکہ ”افاٰن مات او قتل“ کی جگہ اگر لفظ ”قد خلت من قبله الرسل“ میں خلو کا ایک طریقہ آسمان پر چلے جانا بھی تسلیم کیا جائے تو نہ ہی ”مات او قتل“ کہنا درست ہو سکتا ہے اور نہ ہی صحابہ کے خیال کی تردید ہو سکتی ہے۔ کیونکہ وہ کہہ سکتے ہیں کہ جس طرح پر فلاں رسول زندہ ہے ویسے ہی آپ کو بھی زندہ رہنا چاہئے۔
چنانچہ ہمارے اس قول کی تائید و تصدیق حضرت ابوبکرؓ کے اس خطبہ سے ہوتی ہے جو آپ نے آنحضرت ﷺ کی وفات پر پڑھا۔ جس میں آپ نے فرمایا: ”من كان يعبد محمد افان محمدا قد مات ومن كان يعبد الله فان الله حى لا يموت“ کہ جو تو آنحضرت ﷺ کو اپنا معبود خیال کرتا تھا تو وہ سن لے کہ آنحضرت ﷺ تو وفات پا گئے ہیں اور جو خدا تعالیٰ کی عبادت کرتا تھا وہ زندہ ہے۔ کبھی نہیں مرے گا۔ پھر آپ نے ”ما محمد الا رسول قد خلت من قبله الرسل“ کی تلاوت فرما کر آنحضرت ﷺ کی وفات کے متعلق جو استعجاب صحابہ کرام کے دلوں میں پیدا ہوا تھا اسے سابقہ رسول کی موت سے دور کر دیا اور بتایا کہ آنحضرت ﷺ کا فوت ہونا کوئی انوکھی بات نہیں۔ بلکہ اس سنت میں وہ سب رسول داخل ہو چکے ہیں جو آپ سے پہلے ہو گزرے۔
پس حضرت ابوبکرؓ کے اس خطبہ کے موقعہ پر حضرت ﷺ کے بعد صحابہؓ کا پہلا ١؎ اجماع جس بات پر ہوا وہ یہی تھا کہ آنحضرت ﷺ سے پہلے جس قدر بھی رسول تھے خواہ موسیٰ، عیسیٰ علیہم السلام سب فوت ہو گئے ہیں اور الرسل کا الف لام بقرینہ لفظ من قبل استغراق کا ہے۔ جس سے ظاہر ہے کہ آنحضرت ﷺ کے قبل کے رسولوں سے کوئی بھی مستثنیٰ نہیں اور اگر الرسل سے مراد بعض
١؎ اسلامی مناظر نے اس کا جواب اپنے پرچہ نمبر ٢ میں اس طرح دیا ہے کہ حضرت ابوبکرؓ کی نظر ”افاٰن مات“ پر ہے۔ اسی لئے انہوں نے اس موقعہ پر یہ آیت بھی پڑھی۔ ”انك میت وانہم میتون“ اور اس کی توضیح یہ ہے کہ ”قد خلت من قبله الرسل“ سالبہ کلیہ کی تردید ہے۔ بلکہ حضرت ابوبکرؓ کی نظر آنحضرت ﷺ کی موت کے ممکن ہونے کے لئے ”افاٰن مات“ پر ہے۔ اس وجہ کی تائید دوسری آیت سے بھی ہوتی ہے جو حضرت ابوبکرؓ نے اس وقت حاضرین کو پڑھ کر سنائی تھی۔ وہ آیت یہ ہے۔ ”انك میت وانہم میتون“ یعنی اے پیغمبر تو (بھی اپنے وقت مقررہ پر) مرنے والا ہے اور یہ کفار بھی اپنے اپنے اوقات مقررہ پر مرنے والے ہیں۔
٣٨
٢ یہ قادیانی صاحبان کا عجیب اجماع ہے۔ یہ اجماع صحابہ کرامؓ میں بلکہ اجماع صحابہؓ وہ ہے جس کو اسلامی مناظر نے اپنے پرچہ نمبر ١ میں لکھا ہے کہ صحیح بخاری ج ١ ص ٤٩٠، باب نزول عیسیٰ علیہ السلام ) میں حضرت ابو ہریرہؓ کی روایت بالتصریح پکار رہی ہے کہ وہ صحابہؓ کے درمیان آیت ”وان من اهل الکتاب الا لیؤمنن به قبل موته (نساء: ١٥٩)“ میں موتہ کی ضمیر کا مرجع عیسیٰ علیہ السلام کو شخصی طور پر قرار دے کر آپ کا نزول ثابت کر رہے ہیں اور اس تصریح نزول کے موقعہ پر کوئی صحابی نہ نفس مضمون یعنی نزول حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے انکار کرتا ہے اور نہ حضرت ابو ہریرہؓ کے ضمیر موتہ کا مرجع حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو قرار دینے کو غلط کہتا ہے اور نہ آپ کے استدلال کو ضعیف قرار دیتا ہے۔ پس صحابہؓ کا اجماع حیات و نزول حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر ہوا نہ کہ وفات پر۔ کیونکہ آیت ”وان من اهل الکتاب الا لیؤمنن به قبل موته“ میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام شخصی طور پر مذکور ہیں اور آیت ”قد خلت من قبله الرسل“ میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے عام طور پر مذکور ہونے کا وہم کیا جاتا ہے اور یہ بات بالکل صاف ہے کہ عام دلیل خاص منطوق شخصی دلیل کا مقابلہ نہیں کر سکتی۔ جیسا کہ بیان ہو چکا ہے۔
٣ سبحان اللہ کیا کہئے۔ جناب من! آیت ”قد خلت من قبله الرسل“ میں من قبلہ قرینہ اس بات کا نہیں کہ الرسل میں الف لام استغراقی ہے۔ بلکہ یہ من قبلہ اس امر پر قرینہ قطعیہ ہے کہ الرسل میں الف لام استغراقی نہیں ہے۔ جیسا کہ اسی مضمون کی طرف اسلامی مناظر نے اپنے پرچہ نمبر ٤ میں اشارہ کیا ہے کہ اگر ہم بخوشنودی مناظر صاحب ان کے معنی لیں تو لازم آئے گا کہ (نعوذ باللہ) آنحضرت ﷺ رسول نہیں۔ پس موجبہ کلیہ نہ ہوا اور اس کی تشریح یہ ہے کہ اگر ہم بالفرض تسلیم کر لیں کہ خلت بمعنی ماتت ہے تو پھر ہم یہ نہیں تسلیم کرتے کہ الرسل میں الف لام استغراقی ہے۔ بلکہ ہم دعویٰ سے کہتے ہیں کہ یہ الف لام استغراقی نہیں۔ کیونکہ قد خلت میں قبلہ الرسل میں من قبلہ الرسل کی نعت نحوی ہوگی یا الرسل سے حال نحوی ہوگا اور یہ دونوں شقیں باطل ہیں۔ شق اوّل اس وجہ سے باطل ہے کہ تمام نحویوں کا اتفاق ہے کہ نعت نحوی منعوت پر ذکر میں مقدم نہیں ہوتی اور شق ثانی اس لئے باطل ہے کہ بروئے قواعد نحو حال اپنے ذوالحال پر ذکر میں اس وقت مقدم کیا جانا چاہئے۔ جب ذوالحال نکرہ ہو اور ما نحن فیہ میں الرسل معرفہ ہے۔ پس معین ہوا کہ من قبلہ خلت کے متعلق ہے۔ قادیانی مناظر کی رائے کے مطابق آیت قد خلت من قبله الرسل کے یہ معنی ہوئے کہ تمام رسول محمد ﷺ سے پہلے فوت ہو چکے ہیں اور یہ معنی بدیہی البطلان ہیں۔ کیونکہ
٣٩
رسول ہوتے تو ال کے لانے کی کوئی ضرورت نہ تھی۔ بلکہ اس صورت میں ال کا لانا مخل مطلب ٹھہرتا ہے اور نہ استدلال صحیح ہو سکتا تھا اور نہ ہی جنگ احد کے دن صحابہؓ کے دلوں میں پیدا شدہ شبہ کا ازالہ ہو سکتا تھا۔ کیونکہ معترض کہہ سکتا ہے کہ جب تمام کے لئے خلو بالموت یا قتل ضروری نہیں اور بعض اس سے مستثنیٰ ہیں تو پھر رسول اللہ ﷺ بھی ان بعض مستثنیٰ میں کیوں داخل نہیں اور صحابہؓ اس بات پر کس طرح صبر کرتے تھے کہ مسیح تو آسمان پر زندہ موجود ہو اور رسول کریم فوت ہو جائیں۔ وہ اس گھاٹے سودے پر کبھی بھی راضی نہیں ہو سکتے تھے۔ ان کو تو رسول اللہ ﷺ کی موت کے سوا کسی کی پرواہ نہیں تھی۔ جیسا کہ آپ کے مرثیہ میں حسان بن ثابتؓ کہتے ہیں۔
من شاء بعدك فليمت فعليك كنت حاذر
اور نیز وہ بات کہ آپ محض ایک رسول ہیں خدا نہیں، ثابت نہیں ہو سکتی۔ اگر خلو کی ایک صورت آسمان پر زندہ جانا بھی مان لی جائے تو اعتراض بھی اٹھ جاتا ہے اور پیدا شدہ شبہ کا ازالہ بھی ہو جاتا ہے اور نیز یہی آیت مسیح کے لئے بھی استعمال ہوئی ہے۔ جیسے کہ خدا تعالیٰ فرماتا ہے: ”مَا الـ المسيح ابن مريم الا رسول قد خلت من قبله الرسل“ پس جس طرح کہ اس آیت میں ”قد خلت من قبله الرسل“ سے مسیح سے پہلے کے تمام رسول مراد ہیں۔ اسی طرح ”ما محمد الا رسول قد خلت من قبله الرسل“ میں آنحضرت ﷺ سے پہلے کے تمام رسول جن میں مسیح بھی شامل ہیں مراد ہے۔ اگر یہ آیت نازل نہ ہوتی اور صرف ”ما المسيح ابن مريم الا رسول“ کی یہ آیت ہوتی تو کوئی شخص یہ کہہ سکتا تھا کہ مسیح الرسل میں شامل نہیں۔ اس لئے انہوں نے وفات پائی نہیں۔ خدا تعالیٰ نے ”ما محمد الا رسول“ والی آیت نازل کر کے مسیح کو جو پہلے آیت سے باہر تھا اس کو بھی مردوں میں شامل کر دیا۔ ”فتفکر فیہا حق التفکر“
١ اس آیت کے پہلے فقرے ”ما محمد الا رسول“ سے ثابت ہوتا ہے کہ محمد ﷺ رسول ہیں اور فقرے ”قد خلت من قبله الرسل“ سے بوقت استغراق مراد لینے کے یہ ثابت ہوتا ہے کہ آنحضرت ﷺ (نعوذ باللہ ) رسول نہیں۔ ”وبل هذا التناقض فی القرآن وهو بدیہی البطلان“ پس ثابت ہوا کہ من قبلہ اس بات کا قرینہ قطعیہ ہے کہ الرسل میں الف لام استغراقی نہیں۔
١؎ اس آیت ”ما المسيح ابن مريم الا رسول قد خلت من قبله الرسل“ میں بھی الف لام استغراقی نہیں ہو سکتا ورنہ بروئے قواعد نحویہ مذکورہ لازم آئے گا کہ (نعوذ باللہ ) حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور آنحضرت ﷺ رسول نہیں۔ وهو كما ترى!
٤٠
چوتھی دلیل
آیات ”لقد كفر الذين قالوا ان الله هو المسيح ابن مريم (مائدہ:١٧)“ اور ”لقد كفر الذين قالوا ان الله ثالث ثلثة (مائدہ:٧٣)“ سے ثابت ہے کہ مسیح کو خدا تعالیٰ کے سوا معبود مانا جاتا ہے اور اس کی پرستش کی جاتی ہے۔ اس سے دعائیں مانگی جاتی ہیں اور سورۂ نحل رکوع میں خدا تعالیٰ فرماتا ہے۔ ”والذين يدعون من دون الله لا يخلقون شيئا وهم يخلقون اموات غير احياء وما يشعرون ايان يبعثون (نحل: ٢٠)“ کہ وہ جن کو اللہ کے سوا پکارتے ہیں اور ان کی طرف خلق منسوب کرتے ہیں وہ کوئی چیز پیدا نہیں کرتے اور وہ خود عالم خلق سے ہیں یعنی ان کو خدا تعالیٰ نے خلق کیا ہے۔ وہ مردے ہیں زندہ نہیں اور ان کو یہ بھی معلوم نہیں کہ وہ موت کے بعد قیامت کے دن کب اٹھائے جائیں گے۔ پس ان دونوں آیتوں کے ملانے سے صاف نتیجہ نکلتا ہے کہ حضرت مسیح ناصری وفات پا گئے ہیں۔ کیونکہ ان کو خدا تعالیٰ کے سوا معبود مانا جاتا ہے اور آیت ”اموات غير احياء “ سے ثابت ہے کہ جس قدر خدا تعالیٰ کے سوا معبود مانے جاتے ہیں۔ جن کی طرف خلق منسوب کی جاتی ہے اور ان سے دعائیں کی جاتی ہیں وہ مردہ ہیں زندہ نہیں۔ پس ثابت ہوا کہ مسیح ناصری بھی وفات پاگئے ہیں زندہ نہیں ہیں۔ فافہم!
لے سبحان اللہ یہ کیا عجیب دلیل ہے۔ نہ اس میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا نام ہے اور نہ ہی کوئی ایسا لفظ ہے۔ جس کے معنی موت کے ہوں۔ مناظر اسلامی نے اپنے پرچہ نمبر ٢ میں اس دلیل کا تفصیلی جواب دیا ہے کہ یہ ساری آیت: ”والذين يدعون من دون الله لا يخلقون شيئاً وهم يخلقون اموات غير احياء “ قضیہ مطلقہ عامہ ہے۔ ورنہ لازم آئے گا کہ روح القدس فوت ہو چکے ہوں اور نیز آیت: ”انك ميت وانهم ميتون “ سے بھی اس کا قضیہ مطلقہ عامہ ہونا ثابت ہوتا ہے اور توضیح اس کی یہ ہے کہ قضیہ مطلقہ عامہ وہ قضیہ ہے جس میں یہ حکم کیا جائے کہ محمول موضوع کے لئے کسی وقت ثابت ہے یا محمول موضوع سے کسی وقت مسلوب ہے اور اموات غیر احیاء اس آیت میں مطلقہ عامہ کا محمول ہے اور مطلب آیت کا یہ ہے کہ جو معبودات باطلہ اللہ کے سوا پرستش کئے جاتے ہیں وہ کسی وقت میں مرنے والے اور اس سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ وہ تمام معبودات باطلہ مرچکے ہیں۔ ورنہ لازم آئے گا کہ روح القدس جو تثلیث کا اقنوم ثالث ہے فوت ہو چکا ہو تو پھر مرزا قادیانی کی نبوت کا سلسلہ کیسا جاری رہا اور نیز آیت ”انك ميت وانهم ميتون “ سے اموات غیر احیاء کے قضیہ مطلقہ عامہ ہونے کی تائید ہوتی ہے۔ کیونکہ آنحضرت ﷺ اس آیت کے نزول کے وقت زندہ تھے اور بعد میں بھی زندہ رہے اور نیز آنحضرت ﷺ کے مخالفین جن کو میتون کہا گیا زندہ تھے اور زندہ رہے۔
٤١
پانچویں دلیل
”ما المسيح ابن مريم الا رسول قد خلت من قبله الرسل وامه
١۔ قادیانی مناظر نے اپنے دعویٰ وفات مسیح پر بہت دلائل پیش کئے ہیں۔ جن سے ان کی غرض یہ معلوم ہوتی ہے کہ سامعین پر اچھا اثر پڑے کہ انہوں نے بکثرت دلائل پیش کئے اور اصل بات یہ ہے کہ درحقیقت قادیانی مناظر نے ایک بھی ایسی دلیل نہیں بیان کی کہ جو بروئے قواعد ومحاورات عربیت دعویٰ وفات مسیح کو ثابت کر سکے۔ بلکہ سب مغالطات ہیں۔ جیسا کہ اس مناظرہ سے اظہر من الشمس ہے اور اس دلیل کا اسلامی مناظر نے اپنے پرچہ نمبر ٢ میں اس طرح جواب دیا ہے کہ ایسا ہی آیت ”کانا یأکلان الطعام“ میں صیغہ ماضی ان کی ماں کی وجہ سے تغلیب ہے۔ جیسے ”کانت من القانتین“ میں۔ اگر سوال ہو کہ ابن مریم کیا کھاتے ہیں تو ہم یہ حدیث سنائیں گے۔ ”لست کاحدکم اولست کھیئتکم انی یطعمنی ربی ویسقینی (باب الوصال ومن قال لیس فی اللیل صیام ج ١ ص ٢٦٣)“ اور اس کی تشریح یہ ہے کہ کانا صیغہ مذکر کا ہے اور مذکر کو مونث پر غلبہ دے کر دونوں سے یعنی عیسیٰ علیہ السلام اور مریم سے مذکر کے صیغہ کے ساتھ تعبیر کی گئی ہے۔ جیسا ”کانت من القانتین“ میں اور کانا کی موضوعیت حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی ماں کی وجہ سے ہے۔ یعنی حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور ان کی ماں مریم صدیقہ علیہا السلام۔ یہ ہیئت مجموعی زمانہ گذشتہ میں کھانا کھایا کرتے تھے اور اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ جیسا کہ مریم صدیقہ علیہا السلام فوت ہو چکی ہیں۔ ویسا ہی حضرت عیسیٰ علیہ السلام بھی فوت ہو گئے ہوں۔ مثلاً جب یہ کہا جائے کہ مرزا قادیانی اور ان کی بیوی صاحبہ دونوں مل کر زمانہ گذشتہ میں باغ کی سیر کیا کرتے تھے تو اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ اگر بالفرض ان دونوں میں سے ایک صاحب فوت ہو جائیں تو دوسرے صاحب بھی ضرور فوت ہو جائیں۔ اگر سوال کیا جائے کہ اب حضرت عیسیٰ علیہ السلام آسمان پر کیا کھاتے ہیں تو اس کا جواب یہ ہے کہ طعام ما یطعم بہ کا نام ہے۔ یعنی جو طعم اور غذا ہو کر مایۂ حیات بنے اور طعام میں یہ ضروری نہیں کہ وہ حبوب ارضی وغیرہ ہی ہوں۔ دیکھو آنحضرت ﷺ صحابہ کو صوم الوصال سے نہی فرماتے ہیں اور صحابہ عرض کرتے ہیں کہ: ”انک تواصل یارسول اللہ“ آپ پھر کیوں صوم الوصال رکھتے ہیں تو اس کے جواب میں ارشاد فرماتے ہیں: ”لست کاحدکم اولست کھیئتکم انی یطعمنی ربی ویسقینی (بخاری ج ١ ص ٢٦٣، باب الوصال ومن قال لیس فی اللیل صیام)“ یعنی میں تمہاری مثل نہیں ہوں۔ مجھے اللہ تعالیٰ طعام دیتا ہے اور پلاتا ہے۔ اس حدیث میں حبوب ارضی وغیرہ کے سوا کسی اور طعام کا بیان ہے۔
٤٢
صديقة كانا ياكلان الطعام انظر كيف نبين لهم الآيات ثم انظر انى يؤفكون (مائدہ:٧٥) ”مسیح ابن مریم تو ایک رسول ہی ہیں۔ آپ سے پہلے رسول گذر چکے ہیں اور آپ کی والدہ صدیقہ ہیں۔ آپ اور آپ کی والدہ دونوں کھانا کھایا کرتے تھے۔ اس آیت سے پہلے عیسائیوں کا قول پیش کیا ہے کہ عیسائی مسیح کو خدا بناتے ہیں۔ حالانکہ مسیح خدا نہیں ہو سکتے۔ بلکہ آپ تو ایک رسول ہی ہیں۔ اس کے تین دلائل بیان فرمائے ہیں۔ (١)”قد خلت من قبله الرسل“ (٢)”امه صديقة“ (٣)”كانا يأكلان الطعام“ اس وقت میں جس سے وفات مسیح پر استدلال کرنا چاہتا ہوں وہ آخری فقرہ ہے۔ اس میں خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ مسیح اور آپ کی والدہ کھانا کھایا کرتے تھے اور سب لوگ سمجھ سکتے ہیں کہ انسان کیوں کھانا کھاتا ہے اور کیوں کھانا کھانے کا محتاج ہے۔ اس میں اصل بھید یہ ہے کہ ہمیشہ انسان کے بدن میں سلسلہ تحلیل کا جاری ہے۔ یہاں تک کہ تحقیقات قدیمہ و جدیدہ سے ثابت ہے کہ چند سال میں پہلا جسم تحلیل پاکر معدوم ہو جاتا ہے اور دوسرا بدل ما يتحلل ہو جاتا ہے اور ہر ایک قسم کی غذا جو کھائی جاتی ہے اس کا بھی روح پر اثر ہوتا ہے۔ کیونکہ یہ امر بھی ثابت شدہ ہے کہ کبھی روح جسم پر اپنا اثر ڈالتی ہے اور کبھی جسم روح پر اپنا اثر ڈالتا ہے۔ جیسے کہ اگر کوئی روح کو یکدفعہ کوئی خوشی پہنچتی ہے تو اس خوشی کے آثار یعنی بشاشت اور چمک چہرہ پر بھی نمودار ہوتی ہے اور کبھی جسم کے ہنسنے رونے کے آثار روح پر بھی پڑتے ہیں۔ اب جبکہ یہ حال ہے تو کس قدر مرتبہ خدائی سے یہ بعید ہوگا کہ ایسے اللہ کا جسم بھی ہمیشہ اڑتا رہے اور اس مفہوم کے مخالف ہے جو خدا تعالیٰ کی ذات میں مسلم ہے۔ اب ظاہر ہے کہ مسیح ان تمام حاجت مندیوں سے بری نہ تھے۔ جو تمام انسانوں کو لگی ہوئی ہیں۔ پس آپ کی حالت کا متغیر ہونا آپ کے حدوث کی دلیل ہے کہ آپ حادث اور کھانے کا محتاج ہونا اور بیرونی واندرونی عوارضات سے متاثر ہونا اس بات کی دلیل ہے کہ مسیح خدا نہیں۔ پس اس آیت میں مسیح کے کھانے اور اس کے حالات کے متغیر ہونے کو اس کی الوہیت کے بطلان کی دلیل بیان کیا گیا ہے اور ساتھ ہی بصیغہ ماضی بیان کر کے ظاہر کیا گیا ہے کہ وہ اب نہیں کھاتے۔ پس دو ہی صورتیں ہیں کہ وہ زندہ ہوں اور کھانا نہ کھاتے ہوں اور دوسری صورت یہ ہے کہ وہ وفات پاگئے ہیں اور کھانا نہ کھاتے ہوں ۔ پس اگر پہلی صورت تسلیم کی جاوے تو ایک تو اس کی الوہیت ثابت ہوگی اور دوسرے خدا تعالیٰ نے جو دلیل دی ہے وہ صحیح نہیں ہوگی۔ کیونکہ جب وہ کھانے کا محتاج نہیں ہوگا تو غیر متغیر ہوگا اور اس کا کھانا کھانا اور متغیر ہونا ہی اس کی الوہیت کو باطل کرنے کے لئے خدا تعالیٰ نے پیش کیا تھا۔ لیکن وہ دونوں باتیں اس کی زندگی میں پائی گئیں۔ اس لئے وہ صرف رسول ہی نہ
٤٣
ہوئے بلکہ خدا بھی ثابت ہوئے اور نیز یہ آیت ”وما جعلناهم جسداً لا يأكلون الطعام وما كانوا خالدين (انبیاء:٨)“ کے بھی خلاف ہوگی۔ چونکہ اس آیت میں خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ وہ لوگ جن کی طرف خدا تعالیٰ وحی کرتا ہے ان کے ایسے جسم نہیں بنائے جو کھانا نہ کھاتے ہوں۔ پس زندگی کی حالت میں اس آیت کے مطابق کھانا ضروری ہوا اور قرآن مجید سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ اس وقت کھانا نہیں کھاتے۔ تیسرے حدیث میں آتا ہے کہ آنحضرت ﷺ فرماتے ہیں ۔”وما مستغنى عند ربنا (بخاری)“ کہ اے ہمارے خدا ہم اس کھانے سے مستغنی نہیں ہیں۔ پس کھانے سے پاک اور مستغنی صرف خدا تعالیٰ ہی ہے اور کوئی نہیں۔ پس اگر مسیح کو زندہ مان کر کہا جائے کہ وہ کھانا کھانے سے مستغنی ہیں اور کھانا نہیں کھاتے تو وہ ان کی الوہیت کی دلیل ہے۔ اب دوسری صورت یہی ہو سکتی ہے کہ وہ وفات پاگئے ہوں اور کھانا نہ کھاتے ہوں ۔ اس کے سوا تیسری صورت کوئی نہیں ہو سکتی ۔ پس آیت ”كانا يأكلان الطعام“ سے صاف طور پر ثابت ہوتا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام وفات پاگئے ہیں۔
چھٹی دلیل
”واوصانی بالصلوٰة والزكوة مادمت حیا (مریم:٣١)“ مسیح علیہ السلام فرماتے ہیں کہ خدا تعالیٰ نے مجھے تاکیدی حکم دیا ہے کہ جب تک میں زندہ ہوں نماز پڑھتا رہوں اور زکوٰۃ دیتا رہوں ۔ اب سوال یہ ہے کہ وہ زکوٰۃ دیتے ہیں تو کس کو؟ آیا فرشتوں کو یا خدا کو؟ اگر کہو کہ ان کے پاس تو مال نہیں وہ زکوٰۃ کیسی دیں تو ہم کہیں گے کہ خدا تعالیٰ کا خاص طور پر
١ اس چھٹی دلیل کا جواب اسلامی مناظر نے اپنے پرچہ نمبر ٢ میں اس طرح دیا ہے کہ نماز کے آسمان پر ادا ہونے میں تو کوئی اشکال نہیں۔ کیا آسمان جائے عبادت نہیں اور شب و روز فرشتے تسبیح و ذکر الٰہی میں مشغول نہیں رہتے اور زکوٰۃ کے متعلق دو جواب ہیں۔ پہلا یہ کہ زکوٰۃ سے مراد پاکیزگی وطہارت ہے۔ جیسا کہ پیشتر اس کے حضرت یحییٰ علیہ السلام کے ذکر میں فرمایا: ”وحنانا من لدنا وزكوة (مریم)“ یعنی ہم نے یحییٰ علیہ السلام کو اپنے پاس سے نرم دلی اور پاکیزگی عطا کی ہے اور نیز حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے متعلق پیشتر بشارت دی گئی ہے ۔ ”لأهب لك غلاما زكيا (مریم:١٩)“ یہاں بھی لڑکا پاکیزہ مراد ہے۔ پس اس آیت کا مطلب یہ ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے حکم کیا ہے کہ جب تک زندہ رہوں نماز ادا کرتا رہوں اور پاکیزہ رہوں۔ دوسرا جواب یہ کہ زکوٰۃ سے مراد صدقہ مفروضہ ہے۔ لیکن فرضیت ادا زکوٰۃ اس وقت ہے جب انسان صاحب نصاب ہو۔ میرے قادیانی مناظر صاحب پہلے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا قرآن کریم یا صحیح حدیث سے صاحب نصاب ہونا ثابت کریں۔ پھر ہم زکوٰۃ کا مصرف بتائیں گے۔ ”اللهم اغفر لكاتبه والوالديه وللمؤمنين“
٤٤
انہیں حکم دینا کہ جب تک تم زندہ رہو زکوٰۃ دو۔ اس بات کی دلیل ہے کہ وہ زکوٰۃ دینے کے قابل تھے۔ ورنہ خاص طور پر ان کو حکم نہ دیا جاتا۔ دوسرے ہم کہتے ہیں کہ آسمان کا عرصہ تو دو ہزار برس کا تو قریباً ہو چکا ہے اور آسمان میں مستحقین کا وجود بھی نہیں پایا جاتا۔ پس اس لئے ”مادمت حیا“ کی قید کسی طرح بھی صحیح نہیں ہو سکتی۔ اس کے لئے تو مادمت علی الارض کہنا ہی صحیح ہو سکتا تھا۔ نہ مادمت حیا۔ پھر اس کے علاوہ سوال یہ ہے کہ وہ کون سی نماز پڑھتے ہیں۔ اسرائیلی نماز یا محمدی؟ اگر کہو اسرائیلی تو ماننا پڑے گا کہ ابھی پہلی شرائع منسوخ نہیں۔ حالانکہ جمیع مسلمانوں کا یہ عقیدہ ہے کہ پہلی شرائع منسوخ ہو گئی ہیں اور اگر کہو محمدی نماز تو پھر یہ سوال ہے کہ ان کو کس نے بتائی۔ اگر کہو کہ نبی کریم ﷺ یا صحابہؓ نے تو یہ غلط ہے۔ کیونکہ ان میں سے آسمان پر کوئی نہیں گیا اور اگر کہو کہ معراج میں بتائی ہوگی تو اس کا بھی کوئی ثبوت نہیں۔ کیونکہ نمازوں کے فرض ہونے کے بعد آنحضرت ﷺ کی مسیح علیہ السلام سے ملاقات ثابت نہیں اور اگر کہو کہ وہ ان کو الہاماً بتائی گئی تو اس سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے دوبارہ نزول کو تسلیم کر کے ماننا پڑے گا کہ وہ تشریعی نبی ہیں۔ کیونکہ شریعت کا ایک حصہ دونوں پر نازل ہوا۔ پس حضرت عیسیٰ علیہ السلام اس وجہ سے نماز پڑھیں گے کہ وہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر نازل ہوئی نہ کہ آنحضرت ﷺ پر اور ایسا ہونا آیت خاتم النبیین کے خلاف ہے۔ پھر علاوہ ازیں یہ سوال ہوگا کہ آیا حضرت عیسیٰ علیہ السلام دارالعمل میں ہیں یا دارالجزاء میں؟ اگر کہو دارالعمل میں تو ان کو سب اعمال کا بجالانا ضروری ہے۔ اگر کہو کہ وہ ایسی جگہ ہیں کہ جہاں وہ یہ اعمال بجا نہیں لا سکتے تو اس پر یہ سوال ہوگا کہ آیا وہ ایسے مقام پر بخوشی خاطر اپنے ارادہ سے ٹھہرے ہوئے ہیں یا مجبوری؟ اگر کہو کہ اپنے ارادہ سے تو یہ غلط ہے۔ اگر کہو کہ مجبوری تو پھر یہ سوال ہوگا کہ آیا شریعت محمدیہ کے احکام پر عمل کرنے سے تقویٰ اور تقرب الی اللہ میں ترقی ہوتی ہے یا تنزل۔ اگر کہو تنزل تو یہ فریقین کے نزدیک باطل ہے۔ اگر کہو ترقی ہوتی ہے تو مسیح کو اس ترقی سے کیوں محروم کیا گیا ہے۔ اگر کہو کہ دارالجزاء میں ہیں تو دارالجزاء میں جانا وفات کے بعد ہی ہو سکتا ہے اور دارالجزاء کا نام ہی جنت ہے اور جنتیوں کے متعلق خدا تعالیٰ فرماتا ہے۔ ”وماهم منها بمخرجین“ کہ وہ جنت سے نکالے نہیں جائیں گے۔ اس لئے مسیح دنیا میں نہیں آ سکتے اور اگر کہو کہ وہ اس دارالجزاء سے پھر دوبارہ دارالعمل میں بھیجا جائے گا تو اس سے مسئلہ تناسخ کو صحیح ماننا پڑے گا۔ پس سوائے اس کے کہ اعمال نہ کرنے کا باعث وفات کو تسلیم کیا جائے اور مانا جائے کہ وہ زندہ نہیں ہیں۔ اس لئے اب ان سب اعمال کے بجالانے کے مکلف نہیں ہیں اور کوئی صورت نہیں ہو سکتی۔ فافہم!
٤٥
ساتویں دلیل
”وسلام علی یوم ولدت ویوم اموت ویوم ابعث حیا (مریم:٣٣)“
١؎ ساتویں دلیل کا جواب اسلامی مناظر نے اپنے پرچہ نمبر ٢ میں اس طرح دیا ہے کہ عدم ذکر شے سے اس شے کی نفی لازم نہیں آتی۔ جیسا کہ مرزا قادیانی لکھتے ہیں کہ: ”عدم علم سے عدم شے لازم نہیں آتا ۔“ (براہین احمدیہ ص ٥٤٥) اور نیز اس آیت سے پیشتر رفع اور نزول کا ایک فقرہ وسیعہ کے ساتھ ذکر ہے۔ چنانچہ فرمایا: ”وجعلنی مبارکاً این ما کنت“ یعنی حضرت عیسیٰ علیہ السلام فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے برکت والا کیا ہے۔ جہاں کہیں میں ہوں بمقابلہ چند برکات حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور برکات مرزا قادیانی ذکر کرتے ہیں۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی برکت: دشمنی، حسد، بغض کا دور ہو جانا جیسا کہ صحیح مسلم میں ہے۔ ”ولتذهبن الشحناء والتباغض والتحاسد (مشکوة ص ٤٨٠ ، باب نزول عیسیٰ)“ مرزا قادیانی کی برکت: بغض کی آگ لگ جانی اور ایسی عداوت کا پیدا ہو جانا جس سے ایک دوسرے سے جدائی اور قطع تعلق بلکہ قطع رحم نتائج نکل رہے ہیں۔ (لاہوری مرزائی اور قادیانیوں کا باہم بغض وحسد۔ مرتب) حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی برکت: مال کا کثرت سے ہو جانا حتیٰ کہ زکوٰۃ کے قبول کرنے والے نہیں ملیں گے۔ صحیح بخاری وصحیح مسلم میں ہے۔ ”ویفیض المال حتی لا یقبله احد (مشکوة ص ٤٧٩، باب نزول عیسیٰ علیہ السلام)“ مرزا قادیانی کی برکت: مسلمانوں کا سخت محتاج اور فقر کی حالت میں ہونا اگر ایک شخص خیرات کا دروازہ کھولے تو اس کثرت سے فقراء کا جمع ہو جانا کہ اسے دروازہ بند کرنا پڑے اور بعض کا افلاس کے مارے ارتداد کی طرف مائل ہونا۔ (خود مرزا قادیانی کا سود وزنا کی کمائی کا مال طلب کرنا (سیرۃ المہدی) چندہ پے چندہ حتیٰ کہ چندوں کے دھندا میں مرزا کا ساری زندگی مشغول رہنا۔) حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی برکت: دلوں میں آخرت کی تیاری کی فکر اور دنیا سے بے رغبتی کا پیدا ہو جانا۔ ”حتیٰ تکون السجدة الواحدة خيراً من الدنيا وما فيها (مشکوة ص ٤٧٩، باب نزول عیسیٰ علیہ السلام)“ مرزا قادیانی کی برکت: لالچ اور طمع نفسانی کا بڑھ جانا حتیٰ کہ حلال وحرام کی تمیز نہ رہنا۔ رشوت ستانی اور خیانت اور غبن کا کثرت سے وقوع میں آنا اور بعض کا لالچ کے مارے بے دینی اختیار کر لینا عاقبت کو بھلا دینا اور دنیوی فائدوں کو پیش نظر رکھنا۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی برکت: کثرت سے بارش کا ہونا اور دودھ اور پھلوں کا معمول سے زیادہ ہونا اور جو امر عام خلق اللہ کے حق میں مضر ہوں ان کا رک جانا۔ مرزا قادیانی کی برکت خشک سالی اور ہر جنس کی گرانی خصوصاً گھی دودھ کا کم ہو جانا اور آئے دن نئی بیماریاں اور وبائیں اور طاعون اور زلزلے اور بہت سی مصیبتیں دنیا میں عام طور پر بدامنی اور بے آرامی کا ہونا۔ خلاصہ جواب یہ کہ القرآن کلمة واحدة ہے۔ لہٰذا آیت ”بل رفعه الله اليه“ اور آیت ”رافعك الى“ اور آیت ”وان من اهل الكتاب الا ليؤمنن به قبل موته“ اور آیت ”وجعلنی مبارکاً این ما کنت“ قابل غور ہیں۔
٤٦
مسیح علیہ السلا موت تیسرے یہود آپ کے آسمان پر اٹھا سے معلوم ہو بھی سلامتی ۔ میں دوبارہ د حضرت یحییٰ ع عظیم الشان سلامتی کے س آٹھویں د
تموتون کرو گے اور ایک فرد بشر پ
ہے کہ آیت الارض مد نہیں ۔ کیونکہ لیکن عارضی مناسبت ہو ۔ آمد و رفت ن عارضی ۔’’ ذب صحیح مطلب کرسکتے ہیں اغفر لکاتبہ
مسیح علیہ السلام اپنی سلامتی کے تین دنوں کا ذکر فرماتے ہیں۔ ایک تو پیدائش کے دن دوسرے موت تیسرے بعث بعد الموت کے دن کا۔ حالانکہ اگر بغور دیکھا جائے تو اس وقت جب کہ تمام یہود آپ کے قتل کے درپے تھے اور چاہتے تھے کہ آپ کو جان سے مار دیں تو اس وقت آپ کو آسمان پر اٹھا لینا ایک بڑا سلامتی کا دن تھا۔ مگر اس کا آپ ذکر تک نہیں کرتے۔ اس کا ذکر نہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ ایسا کوئی واقعہ نہیں ہوا۔ اگر ہوا ہوتا تو ضرور اس کا بھی ذکر کرتے کہ اس دن بھی سلامتی ہے۔ جس دن کہ مجھے آسمان پر اٹھایا جائے گا اور اس دن بھی سلامتی ہے جس دن کہ میں دوبارہ دنیا میں نازل ہوں گا اور ان تین مواقع میں تو سب نبی ان کے شریک تھے۔ چنانچہ حضرت یحییٰ علیہ السلام کے لئے بھی یہی تینوں باتیں خدا تعالیٰ نے فرمائی ہیں۔ پس جن دو اہم اور عظیم الشان واقعات کی مسیح کے ساتھ خصوصیت ہے یعنی آسمان پر جانا اور آسمان سے واپس آنا یہ سلامتی کے ساتھ ذکر کرنے کے زیادہ قابل تھے۔ خصوصاً جب کہ یہ کلام وحی الٰہی کے ماتحت تھی۔
آٹھویں دلیل
خدا تعالیٰ بنی آدم کے لئے ایک قانون بیان فرماتا ہے۔ ”فيها تحيون وفيها تموتون ومنها تخرجون (اعراف:٢٥)“ کہ اے بنی آدم تم اسی زمین میں ہی زندگی بسر کرو گے اور اسی میں مرو گے اور پھر اسی سے اٹھائے جاؤ گے۔ پس یہ ایک عام قانون ہے جو ہر ایک فرد بشر پر حاوی ہے تو پھر کیونکر ہو سکتا ہے کہ مسیح ”فيها تحيون“ کے صریح خلاف آسمان پر
١؎ آٹھویں دلیل کا مفتی صاحب اسلامی مناظر نے اپنے پرچہ نمبر ٢ میں یہ جواب دیا ہے کہ آیت ”فيها تحيون وفيها تموتون ومنها تخرجون“ اور آیت ”ولكم فی الارض مستقر ومتاع الى حين (بقره:٣٦)“ وغیرہ سے وفات عیسیٰ بن مریم ثابت نہیں۔ کیونکہ یہ حصر بلحاظ مقر طبعی و اصلی کے ہے۔ یعنی انسان کے لئے طبعی اور اصلی مقر زمین ہے۔ لیکن عارضی طور پر آسمان میں رہ سکتا ہے۔ خاص کر وہ انسان جس کو فرشتوں کے ساتھ کمال مناسبت ہو۔ جیسا کہ فرشتوں کا مقر طبعی و اصلی آسمان ہے۔ لیکن زمین پر بھی عارضی طور پر ان کی آمد و رفت رہتی ہے اور نیز جہاں جعل تکوینی پایا جاوے وہاں مجعول الیہ لازم نہیں ہوتا۔ بلکہ عارضی۔ ”دیکھو وجعلنا الليل لباساً وجعلنا النهار معاشاً (النباء:١٠)“ میں یہی صحیح مطلب ہے کہ آرام اور نیند کا اصلی وقت رات ہے۔ مگر عارضی طور پر دن کو بھی آرام و نیند کر سکتے ہیں اور معاش کا اصلی وقت دن ہے۔ لیکن عارضی طور پر رات کو بھی کما سکتے ہیں۔ ”اللهم اغفر لكاتبه والوالديه ولاستاذه“
٤٧
زندگی بسر کریں۔ چنانچہ دوسری آیات بھی اس کی تائید کرتی ہیں۔ مثلاً ”ولکم فی الارض مستقر ومتاع الی حین (بقرہ:٣٦)“ کہ تمہارے لئے زمین ہی قرار گاہ ہے اور ایک وقت تک نفع اٹھانا ہے۔ پھر اسی طرح خدا تعالیٰ فرماتا ہے: ”الم نجعل الارض کفاتا احیاء وامواتاً“ کہ جاندار و غیر جاندار اور مردوں اور زندوں کے لئے ہم نے زمین کو قبض کرنے والی اور سمیٹنے والی اور اپنے ساتھ ملائے رکھنے والی بنایا ہے۔ اس آیت میں خدا تعالیٰ نے مسئلہ کشش ثقل کا بیان فرمایا ہے کہ زمین میں یہ ایک خاصیت ہے کہ وہ اپنی چیز کو باہر نہیں ٹھہرنے دیتی اور اگر کسی مانع کی وجہ سے اس سے اوپر کوئی چیز چلی جائے تو پھر وہ اس کو اپنی طرف کھینچ لیتی ہے۔ پس مسیح علیہ السلام کو اگر فرشتے آسمان کی طرف اٹھا کر لے گئے تو آسمان پر رہنے کی دو صورتیں ہو سکتی ہیں۔ ایک تو یہ کہ فرشتے انہیں پکڑے رکھیں۔ دوسری یہ کہ آسمان کو بھی زمین کی طرح قرار دیا جائے یا زمین کے اس حصہ کی جس کے مقابلہ میں مسیح علیہ السلام ہو وہ خاصیت ہی ماری گئی ہو۔ بہر حال جو بھی صورت اختیار کی جائے اس کا ثبوت دینا ضروری ہے۔ لیکن موت کی صورت میں ان سوالات میں سے کوئی سوال بھی وارد نہیں ہوتا۔ خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ انسان زندہ ہو یا مردہ اس کے لئے زمین ہی رہنے کی جگہ ہے۔ پس مسیح زندہ ہو یا مردہ تو اس کے لئے زمین میں ہی رہنا ضروری ہے۔ پہلی شق تو آپ کے نزدیک بھی صحیح نہیں کہ وہ زمین پر زندہ ہوں۔ پس دوسری شق ہی صحیح ہے کہ وہ وفات پاگئے ہیں اور زمین میں ہی مدفون ہیں۔
نویں دلیل
”واذ قال عیسی ابن مریم یا بنی اسرائیل انی رسول اللہ الیکم مصدقا لما بین یدی من التوراۃ ومبشراً برسول یأتی من بعدی اسمہ احمد فلما جاءہم بالبینات قالوا ھذا سحر مبین (صف:٦)“ بقول آپ کے اس آیت سے ظاہر ہے کہ مسیح ناصری نے اپنی موت کے بعد آنحضرتﷺ کے آنے کی بشارت دی ہے۔ لیکن اگر ان کی حیات کو تسلیم کیا جائے اور مانا جائے کہ وہ پھر دوبارہ نازل ہوں گے تو اس آیت کا
١؎ اس نویں دلیل کا اسلامی مناظر نے اپنے پرچہ نمبر ٢ میں یہ جواب دیا ہے کہ: ”بعدی“ دونوں صورتوں یعنی بعد الموت وبعد الغیبوبت کو شامل ہے۔ دیکھو جب آنحضرتﷺ نے حضرت علیؓ کو جنگ تبوک کے موقعہ پر اہل وعیال کی خبر گیری کے لئے مدینہ میں چھوڑا تو اس وقت آپ نے یہ حدیث فرمائی۔ ”انت منی بمنزلۃ ھارون من موسی الا انہ لا نبی بعدی (مشکوۃ ص ٥٦٤، باب مناقب علی بن ابی طالب)“
٤٨
صریح خلاف ہوگا اور ماننا پڑے گا کہ آنحضرت ﷺ اس پیش گوئی کے مصداق نہیں۔ کیونکہ اس وقت یہ صادق آئے گا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بعد آنحضرت ﷺ مبعوث نہیں ہوئے بلکہ آپ کے قبل مبعوث ہوئے ہیں اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام آپ کے بعد میں۔ لیکن آنحضرت ﷺ اور قرآن مجید کی صداقت مسلمہ فریقین ہیں۔ پس مسیح کا زندہ ہونا باطل ہو گیا اور ان کی وفات متعین ہو گئی۔
دسویں دلیل
”ومن ١؎ نعمرہ ننکسہ فی الخلق افلا یعقلون (یسین:٦٨)“ ہم جس کی عمر زیادہ کرتے ہیں تو اس کی بناوٹ میں اس کو الٹاتے گھٹاتے چلے جاتے ہیں۔ کیا یہ لوگ اتنی بات بھی نہیں سمجھتے۔ پھر خدا تعالیٰ فرماتا ہے۔ ”ومنکم من یتوفی ومنکم من یرد الیٰ ارذل العمر لکیلا یعلم بعد علم شیئا (حج:٥)“ اور تم سے وہ ہے جس کو وفات دی جاتی ہے اور تم میں سے وہ بھی ہے جن کو ارذل ترین عمر (انتہائی بڑھاپا) کی طرف لوٹایا جاتا ہے۔ جس کی وجہ سے وہ جاننے کے بعد نہ جاننے والا بن جاتا ہے۔ پس خدا تعالیٰ ان آیات میں فرماتا ہے کہ انسان دو قسم کے ہیں۔ ایک وہ جو انتہائی درجہ کا بڑھاپا پانے سے پیشتر وفات پا جاتے ہیں۔ دوسرے وہ ہیں جن پر انتہائی درجہ کا بڑھاپا آتا ہو۔ جس کی وجہ سے ان کے تمام اعضاء کمزور ہو جاتے ہیں اور ان کی قوتیں زائل ہو جاتی ہیں اور علم وغیرہ بھی باقی نہیں رہتا۔ پس مسیح بھی اس قانون سے باہر نہیں رہ سکتے۔ پس یا تو ان کو ان دونوں قسموں میں شامل کرو ورنہ مانو کہ وہ انسان نہیں بلکہ کچھ اور ہیں اور اگر تم ان کو دوسری قسم میں شامل کرو تو دو ہزار سال کی عمر میں سمجھ لو کہ ان کی کیا حالت ہوئی ہو گی یا پہلی قسم میں شامل کرو کہ وہ وفات پا گئے ہیں۔ تیسری کوئی صورت خدا تعالیٰ نے بیان نہیں کی۔ پہلی صورت تو آپ کو بھی منظور نہیں اور نہ آپ تسلیم کرتے ہیں۔ پس دوسری صورت ہے کہ وفات پا گئے ہیں تسلیم کرنی پڑے گی۔
١؎ اس دسویں دلیل کا اسلامی مناظر نے اپنے پرچہ نمبر ٢ میں اس طرح جواب دیا ہے کہ ان آیات کو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی وفات سے کوئی تعلق نہیں۔ کیونکہ ہم حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو ہمیشہ کے لئے موت سے بچنے والا نہیں اعتقاد کرتے۔ بلکہ آنحضرت ﷺ نے خبر دی ہے کہ عیسیٰ فوت ہو کر میرے مقبرے میں میرے پاس مدفون ہوں گے۔
٤٩
گیارھویں دلیل
آنحضرت ﷺ١؎ فرماتے ہیں: ”لوکان موسیٰ وعیسیٰ حیّین لما وسعهما الا اتباعی (الیواقیت ج٢ ص٢٢)“ کہ اگر موسیٰ علیہ السلام اور عیسیٰ علیہ السلام زندہ ہوتے تو ان کو میری پیروی کے سوا کوئی چارہ نہ تھا۔ اس حدیث میں تو موسیٰ اور عیسیٰ علیہما السلام کی وفات کا اکٹھا ذکر کیا اور دو اور حدیثیں ہیں جن میں سے ایک میں تو صرف موسیٰ کا نام آیا ہے اور ایک میں صرف حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا۔ چنانچہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے متعلق فرمایا ہے۔ ”لوکان موسیٰ حیاً ما وسعه الا اتباعی“ اور تیسری حدیث جس میں صرف حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا ذکر ہے جو شرح فقہ اکبر مطبوعہ مصر ایڈیشن اول کے ص ١٣٦ پر ہے۔ ”ویقتدی به ليظهر متابعة لنبينا صلعم كما اشار الى هذا المعنى صلعم لوكان عيسى حياً ما وسعه الا اتباعی“ یعنی مسیح موعود مہدی کی اقتداء کریں گے تاکہ ظاہر کریں کہ آپ آنحضرت ﷺ کے پیرو ہیں۔ جیسا کہ آنحضرت ﷺ نے اپنی حدیث میں اس مدعا کی طرف اشارہ فرمایا ہے کہ اگر عیسیٰ زندہ ہوتے تو انہیں میری پیروی کے سوا چارہ نہ تھا۔ پس ان کا پیروی نہ کرنا اس بات کی دلیل ہے کہ وہ زندہ نہیں ہیں۔ اس دلیل کو میں ایک مثال سے واضح کرتا ہوں جو یہ ہے۔ مثلاً ایک سائل ہم سے ایک روپیہ مانگے اور ہم جواب میں اسے یہ فقرہ کہیں کہ اگر ہمارے پاس روپیہ ہوتا تو ہم دے دیتے تو اس فقرہ کا نتیجہ اور مقصود اور مآل یہ ہے کہ ہمارے پاس روپیہ نہیں ہے۔ اسی طرح آنحضرت ﷺ فرماتے ہیں کہ اگر موسیٰ اور عیسیٰ علیہما السلام زندہ ہوتے تو وہ میری پیروی کرتے۔ نتیجہ یہ ہے کہ وہ زندہ نہیں ہیں۔
١؎ مفتی صاحب اسلامی مناظر نے اپنے پرچہ نمبر ٢ میں یہ جواب دیا ہے کہ حدیث صحاح ستہ میں نہیں بلکہ (مشکوٰۃ ص ٣٠، باب اعتصام بالکتاب والسنۃ) میں بروایت جابر اس طرح ہے۔ ”ولوکان موسیٰ حیاً ما وسعه الا اتباعی رواہ احمد والبیہقی فی شعب الایمان“ جس میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا ذکر نہیں اور نیز مشکوٰۃ میں ایک اور جگہ یہ حدیث یوں مذکور ہے۔ ”ولوکان حیاً و ادرک نبوتی لا تبعنی رواہ الدارمی“ اور اس میں نیز حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا ذکر نہیں۔ خلاصہ یہ کہ غیر مستند حدیث کیوں پیش کی جاتی ہے۔ اس کا راوی کون ہے۔ احادیث مستندہ صحیحہ کے خلاف ایک منکر حدیث کو پیش کرنا کون سا اسلام ہے اور الیواقیت والجواہر نے فتوحات مکہ کا حوالہ دیا ہے اور فتوحات مکیہ میں صرف لوکان موسیٰ حیاً مذکور ہے اور نیز وہ حدیث جس میں عیسیٰ علیہ السلام کا ذکر ہے بلحاظ شرط نمبر ٢ بوجہ اس کے کہ نص قرآنی اور احادیث صحیحہ کے خلاف ہے صحیح نہیں اور اگر اس حدیث کے ان الفاظ کو بالفرض صحیح تسلیم کیا جائے تو تعارض بین الاحادیث کو دور کرنے کے لئے اس کا یہ معنی ہوگا۔ ”لوکان موسیٰ وعیسیٰ حیّین علی الارض“
٥٠
بارھویں دلیل
”واخبرنى ؎١ ان عيسى ابن مريم عاش مائة وعشرين سنة الا ارانی الا ذاهبا على رأس ستین (حجج الکرامه ص٤٢٨، حاشیہ تفسیر جلالین زیر آیت متوفيك مطبوعہ دھلی) ”حضرت عائشہؓ سے مستدرک میں حاکم اور حضرت فاطمہ الزہراؓ سے طبرانی نے روایت کیا ہے کہ آپ نے اپنی مرض الموت میں فرمایا ہے کہ جبرائیل علیہ السلام نے مجھے خبر دی ہے کہ مسیح نے ایک سو بیس برس عمر پائی اور میری عمر ساٹھ برس کی ہوگی اور مصنف حجج الکرامہ نے اس حدیث کو روایت کر کے کہا ہے۔ رجالہ ثقات کہ اس کے تمام راوی ثقہ ہیں اور پھر جلالین کے حاشیہ پر جو یہ حدیث بیان ہوئی ہے تو وہ ابن الحجر نے روایت کی ہے۔ یہ حدیث بالوضاحت دلالت کرتی ہے کہ جب آنحضرت ﷺ ساٹھ برس کی عمر پا کر وفات پا جائیں گے۔ ویسے ہی مسیح ایک سو بیس برس کی عمر پا کر وفات پاگئے ہیں اور اگر انہیں زندہ تسلیم کیا جائے تو ان کی عمر آپ کے وقت میں ایک سو بیس نہیں بلکہ سات سو برس کے قریب ہونی چاہئے۔ کیونکہ کسی کی زندگی میں جو زمانہ گزرتا ہے وہی اس کی عمر ہوتی ہے۔ مگر آنحضرت ﷺ نے فیصلہ فرما دیا اور اپنی مرض الموت میں فرمایا تاکہ یہ بات بطور وصیت کے لوگ یاد رکھیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام ایک سو بیس برس کی عمر پا کر وفات پا چکے ہیں جیسا کہ آنحضرت ﷺ ساٹھ برس کی عمر پا کر وفات پاگئے۔
تیرھویں دلیل
معراج ؎٢ کی حدیث ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے مسیح ناصری اور حضرت یحییٰ
؎١ مفتی صاحب اسلامی مناظر نے اپنے پرچہ نمبر ٢ میں یہ جواب دیا ہے کہ یہ حدیث اس وجہ سے کہ نص قرآنی اور احادیث مستند صحیحہ کثیرہ کے متعارض ہے۔ غیر صحیح بلکہ موضوع ہے۔ ورنہ مرزا قادیانی کی عمر تیس سال ہونی چاہئے تھی۔ اگر بالفرض صحیح تسلیم کی جاوے تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ عیسیٰ بن مریم نے زمین پر یہ عرصہ گزارہ ہے۔ عیش خوردنی وآنچہ بداں زیست نمایند۔
(منتہی الارب ج٣ ص٢٢٨)
؎٢ مفتی صاحب اسلامی مناظر نے اپنے پرچہ نمبر ٢ میں یہ جواب دیا ہے کہ میرے مناظر صاحب کو معراج کی تمام حدیثوں پر احاطہ نہیں۔ سنن بن ماجہ میں ہے۔ ”عن عبدالله ابن مسعود قال لما كانت ليلة اسرى برسول الله ﷺ لقی ابراهيم وموسٰی وعيسٰی فتذاکروا الساعة فبدأوا بابراهیم فسألوه عنها فلم يكن عنده منها
٥١
علیہما السلام کو ایک جگہ اکٹھے دیکھا ہے۔ بعض حدیثوں میں تو دوسرے آسمان میں اور بعض احادیث میں چوتھے آسمان میں۔ اب سوال یہ ہے کہ مردوں کا مقام زندوں کا کیسے ہوسکتا ہے۔ البتہ مردوں میں وہی رہ سکتا ہے جو مردہ ہو نہ کہ زندہ۔ اب اس مقام کے متعلق ہم پوچھتے ہیں کہ آیا وہ مقام جنت تھا یا برزخ۔ اگر کہو مقام برزخ تو پھر بھی صحیح نہیں آسکتے اور نہ ہی وہ زندہ ہو سکتے ہیں۔ کیونکہ مقام برزخ مردوں کے لئے ہے نہ کہ زندوں کے لئے اور مقام برزخ میں رہنے والا دنیا میں نہیں آسکتا۔ جیسا کہ خدا تعالیٰ فرماتا ہے۔ "حتیٰ اذا جآء احدهم الموت قال رب ارجعون لعلی اعمل صالحاً فیما ترکت کلا انها کلمة هو قائلها ومن ورآئهم برزخ الیٰ یوم یبعثون (مؤمنون:١٠٠)" پس جو برزخ مقام میں پہنچ گیا قیامت کے دن تک اس کا ٹھکانا برزخ ہی ہے نہ کہ دنیا اور اگر کہو کہ جنت میں ہیں تو جنت بھی مرنے کے بعد حاصل ہوتی ہے اور پھر جو جنت میں داخل کیا جاتا ہے تو اس کو پھر وہاں سے نکالا نہیں جاتا۔ جیسا کہ خدا تعالیٰ فرماتا ہے: "وماهم منها بمخرجین" پس کوئی صورت اختیار کرو۔ معراج کی حدیث سے مسیح کی وفات اور اس کا دوبارہ دنیا میں نہ آنا ثابت ہے۔
بقیہ حاشیہ: علم ثم سألوا موسیٰ فلم یکن عنده منها علم فرد الحدیث الیٰ عیسیٰ ابن مریم فقال قد عهد الیٰ فیما دون وجبتها فاما وجبتها فلا یعلمها الا الله فذکر خروج الدجال قال فانزل فاقتله الحدیث (سنن ابن ماجه ص ٩٩، باب فتنة الدجال وخروج عیسیٰ بن مریم) "یعنی جس رات رسول اللہ ﷺ کو معراج کرایا گیا اس رات آپ نے حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت موسیٰ اور حضرت عیسیٰ علیہما السلام سے ملاقات کی تو ان سب میں قیامت کی بابت ذکر چلا۔ سب سے پہلے ابراہیم علیہ السلام سے پوچھا گیا۔ آپ کو قیامت کے وقوع کی بابت کوئی خبر نہ تھی۔ پھر موسیٰ علیہ السلام سے پوچھا گیا۔ آپ کو بھی کچھ معلوم نہ تھا۔ پھر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی باری آئی تو آپ نے کہا کہ ہاں قیامت کے نزدیک اللہ تعالیٰ کا مجھ سے عہد ہے۔ لیکن قیامت کے واقع ہونے کا وقت سوائے خدا کے کسی کو معلوم نہیں۔ پھر آپ نے دجال کا ذکر کیا اور کہا پھر میں نازل ہوں گا اور اس کو قتل کروں گا۔ دیکھو اس حدیث میں آنحضرت ﷺ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی زبانی نزول ثانی کو بیان فرماتے ہیں۔ اس حدیث سے آفتاب نصف النہار کی طرح روشن ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام رسول اللہ ﷺ سے اپنے قرب قیامت میں نازل ہونے کی بابت ذکر کر رہے ہیں۔ اس حدیث کی تصریح کے مقابلہ میں قادیانی مناظر کی وہمی اور خیالی باتوں کا کچھ اثر نہیں۔
٥٢
چودھویں دلیل
طبقات کبیر محمد بن سعد جو کہ حالات شریفہ آنحضرت ﷺ و حالات صحابہ کرام بلکہ ابتدائی اسلامی تاریخ کی جڑ ہے۔ اس کے (جلد ثالث ص ٢٨ دارالکتب بیروت) پر ھبیرہ بن مریم سے روایت کی ہے کہ: ”لما توفى على ابن ابى طالب قام الحسن بن على فصعد المنبر وقال ايها الناس قد قبض الليلة رجل لم يسبقه الاولون ولقد قبض في الليلة التي عرج فيها بروح عيسى ابن مريم ليلة سبع وعشرين من رمضان“ ھبیرہ ابن مریم نے کہا کہ جب علی ابن ابی طالب فوت ہوئے تو حسن بن علی علیہما السلام کھڑے ہوئے اور منبر پر چڑھ کر آپ نے فرمایا کہ اے لوگو! آج رات وہ شخص فوت ہوا ہے جس سے نہ تو پہلے بڑھے اور نہ پیچھے آنے والے لوگ ان کو پہنچیں گے۔ آنحضرت ﷺ ان کو جنگ پر روانہ فرماتے تھے تو حضرت جبرائیل علیہ السلام ان کی داہنی طرف اور حضرت میکائیل علیہ السلام ان کی بائیں طرف سے اسے گھیر لیتے تھے۔ تو آپ نہیں واپس ہوتے۔ یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ فتح دیتا تھا اور واللہ یقیناً وہ اس
- ١ گو اس چودھویں دلیل کا جواب دنیا اسلامی مناظر کا فرض نہیں تھا۔ کیونکہ بروے شرط نمبر ١
قادیانی مناظر کا فرض تھا کہ قرآن کریم اور حدیث کے سوا کوئی دلیل پیش نہ کرتا اور اس نے امام حسن کا قول تاریخی رنگ میں پیش کیا ہے۔ لیکن پھر بھی اسلامی مناظر نے جواب دیا ہے۔ جس کی توضیح یہ ہے کہ بالحاظ آیت ”فنفخنا فيها من روحنا (الانبياء:٩١) “ و آیت ”فارسلنا اليها روحنا (مریم:١٧)“ اور بلحاظ حدیث شفاعت ”ولكن عليكم بعيسى فانه روح الله تعالى (الشفاء ج ١ ص ٤٦٦)“ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو روح اللہ ہونے میں خصوصیت ہے اور اسی وجہ سے حضرت امام حسن نے عیسیٰ ابن مریم سے روح کے ساتھ تعبیر فرمائی ہے اور اضافیت روح کی طرف عیسیٰ ابن مریم کے اضافیت بیانیہ ہے۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ عرج فيها بالروح الذی هو عیسٰی ابن مریم، اور یہی وجہ ہے کہ حضرت امام حسن نے حضرت علی کے لئے فقرہ ولقد قبض استعمال فرمایا ہے اور حضرت عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام کے لئے لفظ عرج فیہا بولا ہے اور اسی کتاب طبقات ابن سعد کی یہ عبارت اس مضمون کی تائید کرتی ہے: ”عن ابن عباس وان الله رفعه بجسده وانه حىّ الآن وسيرجع الى الدنيا فيكون فيها ملكاً ثم يموت كما يموت الناس (طبقات ابن سعد ج ١ ص ٤٥، دار الكتب بيروت)“ یعنی اور حضرت ابن عباسؓ روایت کرتے ہیں کہ تحقیق اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو بجسدہ العنصری اٹھالیا ہے اور وہ اس وقت زندہ ہے اور عنقریب دنیا میں دوبارہ آئے گا۔ پھر اس میں بادشاہ ہوگا۔ پھر وہ فوت ہوگا اور لوگ فوت ہوتے ہیں۔
٥٣
معروف و مشہور رات میں فوت ہوا ہے۔ جس کو تم جانتے ہو کہ اس میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی روح اوپر چڑھائی گئی تھی اور رمضان کی ستائیسویں رات ہے۔ پس اس حدیث میں صاف طور پر مسیح کے رفع روح کی خبر دی گئی ہے۔ پھر اس کی خاص تاریخ اور خاص وقت بھی بتلایا گیا ہے اور وہ بھی ایسے الفاظ کے ساتھ جن کے کوئی اور معنی نہیں ہو سکتے۔ پھر ایسی طرز سے کہ جس سے صاف ثابت ہوتا ہے کہ سب مخاطبین صحابہ اور تابعین اس وقت اس تاریخ کو اس وصف کے ساتھ پہلے سے جانتے تھے کہ حضرت مسیح علیہ السلام کی روح اس میں اٹھائی گئی۔ پھر مجمع بھی کوئی تھوڑا نہیں بلکہ حضرت علیؓ کی وفات کا موقعہ ہے اور اس اجتماع کے موقعہ پر امام حسنؓ فرماتے ہیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی روح اٹھائی گئی نہ کہ جسم اور وہ ستائیسویں رمضان کی ہے اور اس وقت کوئی صحابیؓ کوئی تابعی کوئی عالم بھی یہ نہیں کہتا کہ حضور آپ کیا فرما رہے ہیں وہ بجسدہ العنصری آسمان پر اٹھائے گئے تھے اور اب تک آسمان پر زندہ موجود ہیں اور پھر اس پر طرفہ یہ کہ ہم کو بھی ساتھ شریک کرتے ہیں کہ یہ بھی اس کو جانتے اور مانتے ہیں کہ وہ فلاں رات میں فوت ہوئے ہیں۔ لیکن کوئی نہیں بولتا اور سب سکوت اختیار کر کے ان کی بات کی تصدیق کرتے ہیں۔
دیکھ لو دنیا کی اصلاح کے لئے دو قدرتیں مبعوث ہوا کرتی ہیں۔ قدرت اولیٰ، وہ نبی کا وجود ہوتا ہے اور قدرت ثانیہ اس کے جانشین ہوتے ہیں۔ قدرت اولیٰ کی وفات ہوتی ہے۔ یعنی آنحضرتﷺ کی وفات تو اس وقت قدرت ثانیہ کا پہلا فرد اٹھتا ہے ١؎ ہے اور آیت ”وما محمد الا رسول قد خلت من قبله الرسل“ اور ”انك ميت وانهم ميتون (زمر:٣٠)“ اور آیت ”ماجعلنا لبشر من قبلك الخلد افأن مت فهم الخالدون (انبیاء:٣٤)“
١؎ ایک فقرہ سے جس میں عیسیٰ علیہ السلام کا شخصی طور پر ذکر نہیں۔ اجماع صحابہ گنانا ایک خیالی امر ہے۔ بلکہ اجماع صحابہؓ درحقیقت وہ ہے جس کو اسلامی مناظر نے اپنے پرچہ نمبر ١ میں بیان کیا ہے کہ حضرت ابو ہریرہؓ نے حدیث ”والذي نفسي بيده ليوشكن ان ينزل فيكم ابن مريم“ ذکر کر کے فرمایا: ”فاقرأوا ان شئتم وان من اهل الكتاب الا ليؤمنن به قبل موته (بخاری ج ١ ص ٤٩٠، باب نزول عیسیٰ علیہ السلام)“ اور اس تصریح نزول ابن مریم کے موقعہ پر کوئی صحابی نہ تو نفس مضمون یعنی نزول ابن مریم سے انکار کرتا ہے اور نہ حضرت ابو ہریرہؓ کے ضمیر قبل موتہ کا مرجع ابن مریم کو قرار دینے کو غلط کہتا ہے اور نہ ہی آپ کے استدلال کو ضعیف قرار دیتا ہے اور قدرت ثانیہ کے چوتھے فرد کے فوت ہونے پر حضرت امام حسنؓ نے کہا: ”ولقد قبض في الليلة التي عرج فيها بروح عيسىٰ ابن مريم“ اور اس عبارت کا صحیح مطلب وہی ہے جو گزر چکا ہے تو اس لحاظ سے اس موقعہ پر بھی حضرت عیسیٰ ابن مریم کے زندہ بجسدہ العنصری مرفوع ہونے پر اجماع صحابہ ثابت ہوا نہ کہ جیسا قادیانی مناظر نے زعم کیا ہے۔
٥٤
وغیرہ آیات پڑھ کر مسیح کی وفات ثابت کرتا ہے اور سب لوگ اپنی خاموشی سے اس کی تصدیق کرتے ہیں۔ پھر خلفاء اربعہ میں سے یعنی قدرت ثانیہ کا چوتھا فرد جب فوت ہوتا ہے تو موجودہ خلافت راشدہ کا آخری فرد بھی اٹھ کر حضرت مسیح علیہ السلام کی وفات کو ثابت کرتا ہے اور اس کا اعلان کرتا ہے کہ حضرت مسیح ناصری بجسمہ العنصری آسمان پر نہیں اٹھائے گئے بلکہ ان کی روح کا رفع ہوا ہے اور وہ وفات پاگئے ہیں۔
پندرھویں دلیل
امام بخاریؒ اپنی صحیح میں کتاب بداء الخلق کے باب ”واذکر فی الکتاب مریم“ میں چند احادیث لائے ہیں۔ جن پر غور کرنے سے ہر ایک عقلمند سمجھ سکتا ہے کہ مسیح ابن مریم فوت ہو گئے ہیں اور آنے والا ابن مریم اور ہے جو امت محمدیہ سے ہوگا۔ چنانچہ پہلے وہ دو حدیثیں لائے ہیں۔
١؎ مفتی صاحب اسلامی مناظر نے اپنے پرچہ نمبر ٢ میں اس طرح جواب دیا ہے کہ لفظ مسیح کے دو مصداق قرار دینا مرزا قادیانی کی ساخت و پرداخت ہے۔ کسی اسلامی کتاب میں کسی امام، صحابی، اہل مذہب کا کوئی قول مؤید نہیں۔ اصل بات یہ ہے کہ مرزا قادیانی کو علم حدیث اور اصول حدیث کی واقفیت نہ تھی۔ ورنہ خود محدثین نے حضرت مسیح علیہ السلام کے مختلف حلیوں کی تطبیق دی ہوئی ہے۔ وہ یہ کہ گندم گوں رنگت کو جب صاف کیا جاوے تو سرخ معلوم ہونے لگتی ہے اور سیدھے بال قدرے جعودت کے منافی نہیں ہیں۔ کیونکہ آنحضرت ﷺ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا حلیہ آپ کی تروتازگی کی حالت کا بیان فرمایا۔ چنانچہ فرماتے ہیں کانہ خرج من دیماس گویا آپ دیماس سے ابھی غسل کر کے نکل رہے ہیں۔ ہم حیران ہیں کہ حدیث حلیہ میں تو اختلاف الفاظ سے دو مسیح آپ نے سمجھا ہے اور کہہ دیا کہ ایک میں دو حلیے جمع نہیں ہو سکتے ہیں۔ مگر بحکم:۔
منم محمد واحمد کہ مجتبیٰ باشد
(تریاق القلوب ص ١٥٦، خزائن ج ١٥ ص ١٣٢)
حضرت موسیٰ و حضرت محمد علیہما الصلوٰۃ والسلام کے دو مختلف حلیوں کا ایک شخص میں جمع ہونا کیسا تسلیم کیا گیا ہے اور نیز صحیح بخاری ج ١ ص ٤٨٩، باب واذکر فی الکتاب مریم) میں ہے ۔ ”حدثنا احمد قال سمعت ابراہیم عن ابیہ قال لا واللہ ماقال النبی ﷺ بعیسی احمر“ اس سے بھی صاف طور پر ثابت ہوتا ہے کہ احمر اور آدم سے مراد ایک شخص ہے۔ کیونکہ اگر احمر وآدم دو شخص ہوتے تو ایک شخص کا سرخ رنگ اور دوسرے کا گندم گوں ہونا ناممکن اور غیر واقعی نہیں مانا جا سکتا تو پھر حلفی نفی کا کیا معنی۔
٥٥
- .......١ "عن ابن عمرؓ قال قال النبی ﷺ رایت عیسیٰ وموسیٰ وابراهیم
فاما عیسیٰ فاحمر جعد عریض الصدر (بخاری ج٢ ص٤٨٩، باب واذکر فی الکتاب مریم) "ابن عمرؓ سے روایت ہے کہ میں نے معراج کی رات موسیٰ وعیسیٰ وابراہیم علیہم الصلوٰۃ والسلام کو دیکھا۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا حلیہ یہ تھا کہ وہ سرخ رنگ کے ہیں اور بال گھنگریالے اور سینہ چوڑا ہے۔
- .......٢ "عن نافع قال عبدالله ذکر النبی ﷺ ...... وارانی اللیلة عن
الکعبة فی المنام فاذا رجل آدم کاحسن مایری من ادم الرجال تضرب لمته بین منکبیه وفیه الحدیث الثانی فاذا رجل آدم سبط الشعر رجل الشعر یقطر رأسه ماء واضعاً یدیه علی منکبی رجلین یطوف بالبیت قلت من هذا فقالوا المسیح ابن مریم (بخاری ج٢ ص٤٨٩، باب واذکر فی الکتاب مریم) "آپ فرماتے ہیں کہ مجھے کعبہ کے پاس خواب میں دکھایا گیا کہ ایک آدمی جو گندم گوں ہے اور بہت عمدہ رنگ ہے۔ اس کے بال شانوں کے درمیان تک ہیں۔ کنگھی کئے ہوئے بالوں والا ہے۔ دوسری روایت میں جو اس کے ساتھ متصل آئی ہے یہ ہے کہ وہ گندم گوں ہے اور اس کے سر کے بال سیدھے ہیں۔ اس کے سر سے پانی کے قطرے ٹپکتے ہیں۔ وہ دو آدمیوں کے کندھوں پر ہاتھ رکھے ہوئے بیت اللہ کا طواف کر رہا ہے۔ میں نے کہا یہ کون ہے تو انہوں نے کہا کہ یہ مسیح ابن مریم ہے۔ پھر آپ نے دیکھا کہ مسیح سے آگے دجال طواف کر رہا ہے۔ ان دونوں حدیثوں کو لاکر امام بخاری نے یہ سمجھایا ہے کہ ابن مریم دو ہیں اور ان دونوں حدیثوں میں اس پر دو دلیلیں دی ہیں۔ پہلی دلیل تو امام بخاری نے حلیتین سے دی ہے کہ ابن مریم کے دو حلیے بتائے گئے ہیں۔ ایک میں سرخ رنگ دوسرے میں گندمی۔ ایک میں سیدھے بال اور دوسرے میں گھنگریالے بال۔ پس اختلاف حلیتین اس بات پر دال ہے کہ ابن مریم دو ہیں۔ ایک نہیں۔ کیونکہ ایک شخص کے دو حلیے نہیں ہو سکتے۔ ہاں ایک نام دو شخصوں کا ہو سکتا ہے۔ دوسری دلیل یہ دی ہے کہ پہلے ابن مریم یعنی مسیح ناصری کو تو معراج کی رات مردوں کے ساتھ دیکھا ہے اور دوسری حدیث میں جس میں ابن مریم کا ذکر ہے اس کو آئندہ آنے والے دجال کے پیچھے۔ پس زندہ مردوں میں نہیں جا سکتا اور مردہ زندوں میں نہیں آ سکتا۔ اس سے معلوم ہوا کہ ابن مریم دو ہیں۔ معراج کی رات جسے دیکھا وہ اور ہے اور جس کو دجال کے پیچھے دیکھا وہ اور ہے۔ اس کے بعد اس ترتیب سے وہ دو حدیثیں لاتے ہیں۔ ایک تو وہ حدیث جس میں "فاقول کما قال العبد الصالح وکنت علیهم شهیداً ما دمت فیهم فلما توفیتنی کنت انت الرقیب علیهم (بخاری ج١ ص٦٦٥، باب قوله وکنت علیهم شهیداً مادمت فیهم) "اور دوسری حدیث "کیف انتم اذا
٥٦
نزل ابن مریم فیکم وامامکم ١؎ منکم (بخاری ج ١ ص ٤٩٠، باب نزول عیسی ابن مریم) “ پہلی حدیث میں تو پہلے ابن مریم کی جسے معراج کی رات میں دیکھا وفات کی طرف اشارہ کیا ہے اور آیت کی بجائے حدیث پیش لائے ہیں۔ اس لئے کہ حدیث بیان کرنے میں ایک مزید فائدہ تھا۔ وہ یہ کہ علماء جو توفیتنی کے معنی رفعتی کے کرتے ہیں غلط ہیں۔ پس حدیث پیش کر کے بتا دیا کہ توفیتنی کے معنی اماتنی کے ہیں اور انہی معنوں میں مسیح نے استعمال کیا ہے۔ جن معنوں میں کہ آنحضرت ﷺ نے اور دوسری حدیث میں امام بخاری نے بتایا ہے کہ وہ ابن مریم جس کو آپ نے دجال کے پیچھے طواف کرتے دیکھا ہے اور جس کا کام اس حدیث سے پہلی حدیث میں کسر صلیب اور قتل خنزیر بتایا گیا ہے وہ تم میں سے پیدا ہوگا۔ کہیں باہر سے نہیں آئے گا۔ بلکہ وہ امت محمدیہ سے ہی ہوگا۔ پس لفظ ”امامکم منکم“ سے بتایا کہ وہ مسیح اسرائیلی جس کی وفات کی طرف اشارہ کر دیا گیا ہے وہ نہیں آئے گا۔ بلکہ آنے والا مسیح اس امت محمدیہ سے ہی ہوگا۔ چنانچہ وہ مسیح آ گیا اور وہ حضرت مرزا غلام احمد قادیانی ہیں اور آپ نے بآواز بلند پکار کر کہا ؎
(آئینہ کمالات اسلام ص ٣٥٨، خزائن ج ٥ ص ایضاً)
١؎ مفتی صاحب اسلامی مناظر نے اپنے پرچہ نمبر ٢ میں اس حدیث یعنی ”کیف انتم اذا نزل ابن مریم فیکم وامامکم منکم“ کا یہ جواب دیا ہے کہ: ”وامامکم منکم“ حال ہے۔ جس کی تائید یہ حدیث کرتی ہے۔ ”کیف تہلک امۃ انا اولھا والمہدی وسطھا والمسیح آخرھا (مشکوۃ ص ٥٨٣، باب ثواب ھذہ الامۃ)“
٢؎ قادیانی مناظر عجیب لیاقت کا آدمی ہے کہ جا بجا مرزا قادیانی کے اشعار پیش کرتا ہے۔ حالانکہ اسلامی مناظر جس کے مقابلہ پر یہ اشعار پیش کئے جاتے ہیں وہ مرزا قادیانی کو مفتری اور متنبی سمجھتے ہیں اور مرزا قادیانی کو یہ نور بھی نرالا دیا گیا۔ کیونکہ مرزا قادیانی پر انوار کے چمکار ہر طرف سے ایسے نمودار ہو رہے ہیں جیسا کہ مثلاً صائب کہتا ہے؎
غلام چھوڑ کر احمد بنا تو رسول حق باستحکام مرزا
مسیح ومہدی موعود بن کر بچھائے تو نے کیا کیا دام مرزا
ہوا بحث نصاریٰ میں باخبر مسیحائی کا یہ انجام مرزا
مہینے پندرہ بڑھ چڑھ کے گزرے ہے آتھم زندہ اے غلام مرزا
تری تکذیب کی شمس وقمر نے ہوا حجت کا خوب اتمام مرزا
ڈبویا قادیان کا نام تو نے کہیں کا اے بد و بد نام مرزا
کہاں ہے اب وہ تیری پیش گوئی جو تھا شیطان کا الہام مرزا
اگر ہے کچھ بھی غیرت ڈوب مر تو بظاہر اس میں ہے آرام مرزا
٥٧
(حقیقت الوحی ص٣٩٢، خزائن ج٢٢ ص٤٠٨)
بشنوید اے طالباں کزغیب بلند ایں ندا مصلحے باید کہ در ہر جا مفاسد زادہ اند
صادقم و از طرف مولیٰ بانشاں ہا آمدم صد در علم وہدیٰ برروئے من بکشادہ اند
(آئینہ کمالات اسلام ص٤٥٨، خزائن ج٥ ص ایضاً)
پیارو! غور کرو، فکر کرو۔ دیکھو یہود نے مسیح ناصری کے وقت کہا کہ جب تک ایلیا آسمان سے نہ آئے تب تک ہم تجھے نہیں مانیں گے۔ کیا کوئی ایلیا آسمان سے اترا؟ پس مطابق حدیث ”السعيد من وعظ بغيره“ نصیحت پکڑو اور ڈر جاؤ اور اس بات پر مت زور دو کہ جس کی خرابی تم پر عیاں ہو چکی ہے۔ کیونکہ آنحضرت ﷺ نے بھی فرمایا ہوا ہے کہ میری امت بھی یہود کا طریق اختیار کرے گی۔ مطابق شرط نمبر ٢ ہم نے مذکورہ بالا پندرہ ١؎ دلائل وفات مسیح پر قرآن مجید وحدیث ٢؎ صحیح سے لکھے ہیں۔ جن پر غور کرنے سے ہر ایک عقلمند انسان صحیح نتیجہ تک پہنچ سکتا ہے اور معلوم کر سکتا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام وفات پا گئے ہیں۔
دستخط دستخط جلال الدین شمس مولوی فاضل پریذیڈنٹ جماعت احمدیہ کرم داد، از دولمیال مناظر منجانب جماعت احمدیہ از قادیان ...... ١٨؍اکتوبر ١٩٣٢ء
١؎ پندرہ دلائل کو غور سے پڑھا اور مفتی صاحب اسلامی مناظر نے جو ان کی تردید کی ہے وہ بھی نہایت تدبیر سے ذہن نشین کی۔ جس سے یہ ظاہر ہوا کہ اسلامی مناظر نے ہر ایک دلیل کے طرز استدلال کو شرط نمبر ١ وشرط نمبر ٢ کے تحت میں رہ کر ایسا توڑا اور بے اصل ثابت کیا کہ قادیانی مناظر کی کسی دلیل کا طرز استدلال وفات مسیح ابن مریم کو ثابت نہ کر سکا۔ بلکہ قادیانی مناظر نے جو قرآنی دس دلیلیں ذکر کی ہیں ان میں سے سوائے پہلی دلیل کے کسی دلیل میں حضرت عیسیٰ ابن مریم کی وفات کا ذکر ہی نہیں اور پہلی دلیل کے متعلق خود قادیانی مناظر نے تسلیم کیا ہے کہ یہ واقعہ قیامت کو ہوگا اور قیامت سے پہلے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی موت کو ہم بھی تسلیم کرتے ہیں۔ آج وفات کا ثبوت نہیں۔
٢؎ قادیانی جماعت بڑے فخر سے یہ کہتی تھی کہ ہم وفات مسیح ابن مریم قرآن سے ثابت کر سکتے ہیں اور حیات مسیح ابن مریم پر ہمارے مخالف فریق کے پاس کوئی قرآنی دلیل نہیں۔ بلکہ اگر پیش کرتے ہیں تو حدیث۔ اس مناظرہ میں ان کا یہ مصنوعی فخر بخوبی ٹوٹ گیا ہے اور قادیانی مناظر کو اپنے دلائل پر ایسی بے اعتباری اور بے اطمینانی تھی کہ اس نے زمرۂ دلائل میں چند ایسی احادیث بیان کر دیں جن کا حال گذر چکا ہے اور مفتی صاحب اسلامی مناظر نے شرط نمبر ١ وشرط نمبر ٢ کے تحت میں رہ کر حیات مسیح ابن مریم کو قرآن کریم سے ثابت کیا۔ جس کا قادیانی مناظر کوئی جواب نہ دے سکا۔ اگر حیات مسیح ابن مریم کو حدیثوں سے تلاش کیا جائے تو فن حدیث اس مضمون سے لبریز ہے۔
٥٨
١٨ / اکتوبر ١٩٢٢ء پرچہ نمبر دوم
تردید دلائل وفات مسیح از مفتی غلام مرتضیٰ صاحب
اسلامی مناظر
”سبحانك لا علم لنا الا ما علمتنا انك انت العليم الحكيم . فان تنازعتم فی شئی فردوه الی اللہ والرسول“
وہ ابھی داخل نہیں اموات میں ہے یہی مضمون بیس آیات میں
میں بے نہایت افسوس کرتا ہوں کہ میرے مناظر صاحب نے کوئی دلیل قرآنی یا حدیثی پیش نہیں کی۔ جس سے وفات ابن مریم ثابت ہو۔ آپ قرآن کریم کے الفاظ میں غور کریں۔ آپ نے کوئی فقرہ ایسا پیش نہیں کیا جس سے بلحاظ الفاظ و قواعد عربیت وفات ابن مریم ثابت ہو۔ مثلاً آیت ”واذ قال الله يعيسى ابن مريم أأنت قلت للناس اتخذونی“ کیونکہ اس کے لفظوں پر غور کرنے سے اتنا ہی ثابت ہوا کہ : ”لما توفیتنی“ وعدہ ”انى متوفيك ورافعك الیٰ“ کے وقوع کا بیان ہے۔ اب اگر بلحاظ آیت ”الله يتوفى الانفس حين موتها والتى لم تمت فى منامها“ توفیتنی سے نومتی مراد لی جائے تو اس سوال و جواب میں زمانہ رقابت زیر تنقیح ہے۔ علم حیثیت زیر بحث نہیں۔ اس لئے علم ہونا یا نہ ہونا دونوں برابر ہیں۔ سوال یوں ہوگا کہ کیا آپ اے حضرت عیسیٰ علیہ السلام دنیا میں اپنی زیر نگرانی رہ کر تثلیث پھیلاتے تھے تو آپ جواب دیں گے کہ جب سوتے ہوئے میرا رفع جسمانی ہوا تو میرے ذمہ داری اور رقابت ختم ہو چکی اور اپنی ڈیوٹی پوری کر چکا اور اگر توفیتنی سے موتتی مراد لی جاوے تو ہم کہتے ہیں کہ یہ واقعہ قیامت کو ہوگا اور اذا استقبال کے لئے بھی آتا ہے۔ ”فسوف يعلمون اذا الاغلال فى اعناقهم“ اور مولوی نور الدین صاحب اس کا ترجمہ اس طرح کرتے ہیں: ”اور جب کہے گا اللہ“
(فضل الخطاب ص١٤٣)
١؎ اس کا مطلب یہ ہے کہ قادیانی مناظر نے دلائل وفات مسیح ابن مریم اپنے زعم کے مطابق پیش کئے ہیں۔ لیکن قرآن یا حدیث میں سے کوئی ایسی دلیل نہیں بیان کی جو بلحاظ الفاظ و قواعد عربیت وفات ابن مریم کو ثابت کرے۔
٥٩
پس اس آیت سے یہ ثابت ہوا کہ ابن مریم قیامت سے پہلے وفات پا چکے ہوں گے۔ آج وفات کا ثبوت نہیں اور ابن مریم کی غلط گوئی کا الزام قرآن کریم کے الفاظ پر تدبر نہ کرنے کی وجہ سے پیدا ہوا ہے۔ کیونکہ سوال علم سے نہیں ہوگا۔ بلکہ سوال صرف یہ ہوگا کہ اے عیسیٰ تو نے لوگوں کو یہ کہہ کر تثلیث پھیلائی تھی۔ چنانچہ وہ اسی سوال کا جواب دیں گے کہ میں نے نہیں کہا۔ رہی زائد بات۔ اس کا بتلانا نہ ان پر واجب نہ مفید۔ اس لئے خاموشی اختیار کر کے استظہار بالرحمۃ کریں گے اور کہیں گے۔ ”ان تعذبهم فانهم عبادك وان تغفرلهم فانك انت العزيز الحکیم“ اور ”فاقول كما قال العبد الصالح“ میں یہ ضروری نہیں کہ مشبہ اور مشبہ بہ میں ہر حیثیت میں اشتراک ہو اور قال کا ماضی ہونا اس کے متعلق اتنا کہنا کافی ہے کہ ماضی بمعنی مضارع بکثرت قرآن کریم میں وارد ہے۔ ”ونفخ فی الصور واشرقت الارض ووضع الكتاب جيئ بالنبيين قضی بینھم “ میں قال بمعنی یقول ہو سکتا ہے اور ایسا ہی آیت ”قد خلت من قبله الرسل “ کیونکہ خلت کا معنی ماتت نہیں۔ دیکھو ”سنة الله التي قد خلت (المؤمن:٨٥) “ اور دیکھو ”ولن تجد لسنة الله تبدیلا “ بلکہ خلو کے معنی نقل مکانی ہے۔ ”واذا خلوا الى شياطينهم (بقرہ:١٤) “ یا زمانے کا گزرنا ”بما اسلفتم فى الايام
١؎ رہا یہ امر کہ ماضی سے کیوں تعبیر فرمایا۔ سو گو بیان نکتہ کو اصل مقصود میں کوئی دخل نہیں۔ مگر تبرعاً بیان کرتا ہوں وہ یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے جو اپنی حکایت بیان فرمائی کہ میں قیامت میں اس طرح کہوں گا۔ اس بیان سے پہلے صحابہؓ یہ آیت سن چکے تھے۔ ”واذ قال الله یا عیسى اانت قلت للناس اتخذونی ان تعذبهم فانهم عبادك “ پس مقتضا بلاغت کا ہوا کہ حکایت کے ماضی ہونے کو بمنزلہ محکی عنہ کے ماضی ہونے کے ٹھہرا کر صیغہ ماضی استعمال فرمایا۔ یا یوں کہا جائے کہ قیامت کے روز حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا یہ قول پہلے ہوچکے گا۔ پھر آنحضرت ﷺ کا یہ قول صادر ہوگا تو حضور کے قول کے وقت چونکہ وہ قول ماضی ہوچکا ہے۔ اس لئے صیغہ ماضی سے تعبیر فرمایا۔ قرآن کریم میں بھی اس کی نظیر ہے۔ ”قال تعالى يوم يأتی بعض آيات ربك لا ينفع نفساً ايمانها لم تكن آمنت “ مستقبل ہے۔ مگر باعتبار وقت لاحق کے ماضی تھا۔ اس لئے ماضی لائے۔ بلکہ اس سے بڑھ کر بعض جگہ تو مستقبل سے مستقبل کو بھی ماضی سے تعبیر فرمایا گیا ہے۔ ”قال تعالى وعلى الاعراف رجال يعرفون كلا بسيماهم ونادوا اصحاب الجنة (الاعراف:٤٦) “ اس میں یقیناً ندا بعد معرفت کے ہے۔ پھر یعرفون کو مستقبل لائے اور نادوا اس مستقبل سے بھی مستقبل ہے۔ اس کو ماضی سے تعبیر فرمایا۔
٦٠
الخالية (حاقہ:٢٤)‘‘ اور ذی مکان اور ذی زمان کی صفت بالعرض ہوا کرتا ہے اور جنگ احد کے واقعہ میں سالبہ کلیہ کی تردید ہے جو مہملہ سے ہو سکتی ہے جو قوت موجبہ جزئیہ میں ہے اور حضرت ابوبکر کی نظر ’’افائن مات‘‘ پر ہے۔ اسی لئے انہوں نے اس موقعہ پر یہ آیت بھی پڑھی۔ ’’انک میت وانہم میتون (زمر:٣٠)‘‘ اور ویسا ہی آیت ’’والذین یدعون من دون الله لا یخلقون شیئاً وہم یخلقون اموات غیر احیاء (نحل:٢٠)‘‘ قضیہ مطلقہ عامہ ہے ورنہ لازم آئے گا کہ روح القدس فوت ہو چکے ہوں اور نیز آیت ’’انک میت وانہم میتون‘‘ سے بھی اس کا قضیہ مطلقہ عامہ ہونا ثابت ہوتا ہے اور ایسا ہی آیت ’’کانا یأکلان الطعام‘‘ میں صیغہ ماضی ان کی ماں کی وجہ سے تغلیب ہے۔ جیسے ’’کانت من القانتین‘‘ میں اگر سوال ہو کہ ابن مریم کیا کھاتے ہیں تو ہم حدیث سنائیں گے۔ ’’لست کاحدکم‘‘ اور ’’لست کہیئتکم انی یطعمنی ربی ویسقینی‘‘، اور ایسا ہی آیت ’’واوصانی بالصلوة‘‘ کیونکہ نماز کے آسمان پر ادا ہونے میں کوئی اشکال نہیں اور زکوٰۃ کے متعلق یہ جواب ہے کہ زکوٰۃ سے مراد پاکیزگی ہے۔ جیسا ’’وحنانا من لدنا وزکوۃ‘‘ اور نیز ’’لاھب لک غلاما زکیاً‘‘ قابل غور ہے اور اگر زکوٰۃ سے صدقہ مفروضہ مراد لیا جاوے تو پہلے میرے مناظر صاحب ابن مریم کا صاحب نصاب ہونا قرآن وحدیث سے ثابت کریں۔ پھر ہم مصرف بتا دیں گے اور ایسا ہی آیت ’’والسلام علی یوم ولدت ویوم اموت‘‘ کیونکہ عدم ذکر شئے سے اس شئے کی نفی لازم نہیں آتی۔ جیسا مرزا قادیانی کہتے ہیں کہ: ’’عدم علم سے عدم شئے لازم نہیں آتی۔‘‘
(براہین احمدیہ ص ٥٤٥، خزائن ج ١ ص ٦٥١)
اور نیز لفظ وسع اس سے پیشتر مذکور ہے۔ ’’وجعلنی مبارکاً اینما کنت‘‘ اور ایسا ہی آیت ’’ولکم فی الارض مستقر ومتاع الی حین‘‘ اور آیت ’’فیہا تحیون وفیہا تموتون‘‘ کیونکہ یہ حصر بلحاظ مقر طبعی کے ہے۔ مانند ملائکہ کی اور نیز جعل تکوینی میں یہ لازم نہیں کہ مجعول الیہ لازم ہو۔ ’’وجعلنا اللیل لباساً وجعلنا النهار معاشاً‘‘ اور ایسا ہی ’’مبشراً برسول‘‘ کیونکہ ’’بعدی‘‘ بہر دو صورتوں یعنی بعد الموت اور بعد الغیوبت کو شامل ہے۔ دیکھو حدیث ’’انت منی بمنزلۃ ہارون من موسیٰ الا انہ لا نبی بعدی‘‘ بوقت غیوبت فرمائی گئی اور ویسا ہی آیت ’’ومن نعمرہ ننکسہ‘‘ اور آیت ’’ومنکم من یتوفی ومنکم من یرد الی ارذل العمر‘‘ کیونکہ ہم ابن مریم کو ہمیشہ کے لئے موت سے بچنے والا
٦١
نہیں اعتقاد کرتے اور ویسا ہی حال احادیث کا ہے۔ مثلاً ”لوکان موسیٰ وعیسی حیین“ کیونکہ یہ حدیث صحاح ستہ میں نہیں بلکہ (مشکوٰۃ ص٣٠، باب الاعتصام بالکتاب والسنۃ) میں بروایت جابرؓ یہ حدیث اس طرح پر ہے۔ ”لوکان موسیٰ حیا ما وسعہ الا اتباعی (رواہ احمد)“ اور نیز بلحاظ شرط نمبر ٢ بوجہ خلاف قرآن ہونے کے غیر صحیح ہی اگر مانی جاوے تو اس کا معنی بقرینہ تطبیق بین الاحادیث حیین علی الارض ہوگا اور ایسا ہی حدیث ”ان عیسی ابن مریم عاش مائۃ وعشرین سنۃ“ کیونکہ بصورت صحت اس کا مطلب یہ ہے کہ ابن مریم نے زمین پر یہ عرصہ گزارہ ہے۔ عیش خوردنی و آنچہ بداں زیست نماند (منتہی الارب ج٣ ص٢٧٨) اور حدیث معراج کے متعلق یہ گزارش ہے کہ میرے مناظر صاحب نے معراج کی تمام حدیثوں پر نظر نہیں کی۔ چنانچہ (سنن ابن ماجہ ص ٢٩٩، باب فتنۃ الدجال وخروج عیسیٰ علیہ السلام) میں ہے ۔ ”عن عبداللہ ابن مسعودؓ قال لما کان لیلۃ اسری برسول اللہ ﷺ لقی ابراہیم وموسی فتذاکرو الساعۃ فبدأ وابابراہیم فسألوا عنھا فلم یکن عندہ منھا علم ثم سألوا موسی فلم یکن عندہ منھا علم فرد الحدیث الی عیسی ابن مریم فقال قد عہد الیّ فیما دون وجبتھا فاما وجبتھا فلا یعلمھا الا اللہ فذکر خروج الدجال قال فانزل فاقتلہ “ اور روایت طبقات ابن سعد کے متعلق اتنا کہنا کافی ہے کہ بوجہ خصوصیت روح اللہ ہونے کے ابن مریم سے بالروح تعبیر کی گئی ہے۔ اس کی تائید اسی (طبقات ابن سعد ج١ ص٤٥) میں ہے۔ ”یحیی عن ابن عباس وان اللہ رفعہ بجسدہ وانہ حی الآن وسیرجع الی الدنیا فیکون فیھا ملکاً ثم یموت کما یموت الناس “ ایسا ہی احادیث حلیہ۔ کیونکہ گندم گوں رنگ کو جب صاف کیا جاوے تو سرخ معلوم ہونے لگتا ہے اور سیدھے بال قدرے جعودت کے منافی نہیں۔ کیونکہ آنحضرت ﷺ ابن مریم کا حلیہ تر و تازگی کی حالت کا بیان فرمایا۔ چنانچہ بیان فرماتے ہیں ”کانہ خرج من دیماس “ گویا آپ حمام سے ابھی غسل کر کے نکل رہے ہیں۔ ہم حیران ہیں کہ حدیث حلیہ میں تو اختلاف الفاظ سے دوجگہ آپ نے سمجھ لئے۔ مگر بحکم؎
منم محمد واحمد کہ مجتبیٰ باشد
(تریاق القلوب ص٦، خزائن ج١٥ ص١٣٢)
٦٢
حضرت موسیٰ علیہ السلام وحضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کے دو مختلف حلیوں کا ایک شخص میں جمع ہونا کیسا تسلیم کیا گیا ہے اور حدیث ”کیف انتم اذا نزل ابن مریم فیکم وامامکم منکم“ میں ”امامکم منکم (بخاری ج ١ ص ٤٩٠، باب نزول المسیح)“ حال ہے۔ جس کی تائید یہ حدیث کرتی ہے۔ ”کیف تھلک امۃ انا اولھا والمھدی وسطھا والمسیح اخرھا (مشکوۃ ص ٥٨٣، باب ثواب ھذہ الامۃ)“
دستخط دستخط مفتی غلام مرتضیٰ (اسلامی مناظر) مولوی غلام محمد بقلم خود از گھوٹہ متصل ملتان پریزیڈنٹ اسلامی جماعت پرچہ نمبر دوم
١٨/اکتوبر ١٩٢٤ء
تردید دلائل حیات مسیح از جلال الدین
قادیانی مناظر
”بسم الله الرحمن الرحیم . نحمدہ ونصلی علی رسولہ الکریم“ پہلی دلیل حیات مسیح پر جو مفتی صاحب نے پیش کی ہے وہ آیت ”بل رفعہ اللہ الیہ“ ہے۔ اس آیت کے فقرہ ”بل رفعہ اللہ“ سے مفتی صاحب استدلال کرتے ہیں کہ وہ آسمان پر بجسدہ العنصری زندہ اٹھائے گئے اور اس بات کے ثبوت میں لفظ رفع کی لغوی تحقیق پیش کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ لغت عرب میں رفع کے حقیقی معنی اوپر کی طرف اٹھانا ہے۔ آگے آپ نے مثالیں دی ہیں۔ مگر میں مفتی صاحب کو بتانا چاہتا ہوں کہ لغت نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ خدا تعالیٰ کا نام رافع ان معنوں میں استعمال نہیں ہوتا۔ جیسا کہ لسان العرب میں لکھا ہے۔ ”وفی اسماء الله الرافع لے الذی یرفع المؤمنین بالاسعاد واولیاءہ بالتقریب“ اس کے سوا اور کوئی معنی خدا تعالیٰ کے نام رافع کے نہیں۔ جب کہ مفعول ذی روح انسان ہو اور رفع کا فاعل خدا تعالیٰ
لے اسلامی مناظر نے اپنے پرچہ نمبر ٣ میں اس کی اس طرح تردید کی ہے کہ بل رفعہ اللہ الیہ میں بلحاظ سیاق و سباق و بروئے قواعد عربیت ایسی رفع جسمانی مراد ہے جس کو اعزاز لازم ہے اور اعزاز بوجہ لازم ہونے کے معنی کنائی ہوں گے اور فن بیان کا قانون ہے کہ معنی حقیقی اور معنی کنائی دونوں معا مراد لئے جا سکتے ہیں۔ ”لان الکنایۃ مستعملۃ فی غیر ما وضعت لہ مع جواز ارادتہ (مطول بحث حقیقت ومجاز ص ٢٢٨)“
٦٣
ہو تو اس کے معنی سوائے تقرب اور اسعاد کے نہیں ہوتے اور اگر ہوتے ہوں تو مفتی صاحب! کوئی ایک مثال پیش کریں۔ پس مسیح کے لئے جو لفظ رفع کا استعمال ہوا ہے وہ اسی طریق پر ہوا ہے کہ اس کا فاعل خدا تعالیٰ ہے اور مفعول ذی روح انسان ہے اور اس طریق پر ایسی مثالیں عملی بھی موجود ہیں کہ ان میں باوجود سماء کا لفظ ہونے کے بھی آسمان پر لے جانے کے معنی نہیں۔ چنانچہ حدیث میں آتا ہے۔ ”اذا تواضع العبد رفعه الله الى السماء السابعة (كنز العمال ج ٣ ص ١٠٠، حدیث نمبر ٥٧٢) “ کہ جب کوئی بندہ خاکساری کرتا ہے تو خدا تعالیٰ ساتویں آسمان تک اس کا رفع کرتا ہے اور اسی طرح حدیث میں آیا ہے۔ ”ما تواضع احد الا رفعه الله (مسند احمد ج ٢ ص ٣٨٦) “ اسی طرح قرآن مجید سے مثالیں ملاحظہ ہوں۔ ”ولو شئنا لرفعناه بها ولكنه اخلد الى الارض (اعراف: ١٧٦)“
١ قادیانی مناظر نے اس بات پر بڑا زور دیا ہے کہ رفع کا فاعل خدا تعالیٰ ہو اور مفعول ذی روح انسان ہو تو اس کے معنی سوائے تقرب اور اسعاد کے نہیں ہوتے۔ بلکہ قادیانی مناظر نے ایک پرچہ کی تقریر میں یہ ظاہر کیا کہ اگر مفتی صاحب ایسی مثالیں کریں کہ رفع کا فاعل خدا تعالیٰ ہو اور مفعول ذی روح انسان ہو اور معنی مراد سوائے تقرب اور اسعاد کے ہوں تو میں مفتی صاحب کو پچاس روپیہ انعام دوں گا۔ مفتی صاحب اسلامی مناظر نے اپنے پرچہ نمبر ٥ میں بعد ختم ہونے زور و جوش قادیانی مناظر کے اس کی تردید یوں کی کہ حدیث میں ہے۔ ”ثم رفعت الى سدرة المنتهى (صحیح بخاری ج ١ ص ٥٤٩، باب حديث الاسرى وقوله سبحان الذى اسرى بعبده) “ دیکھو اس فقرہ میں رفعت گو ماضی مجہول الفاعل ہے۔ لیکن جیسا کہ خلقت میں خلق ایسا فعل ہے جس کا فاعل درحقیقت خدا تعالیٰ ہے۔ پس اس فقرہ میں رفع کا فاعل خدا تعالیٰ ہے اور مفعول ذی روح انسان ہے اور معنی مراد سدرۃ المنتہیٰ پر اٹھائے جانا ہے۔ اگرچہ بطور کنایت اس رفع کو تقرب لازم ہے۔ اس موقعہ پر بعض فضلا نے کہا کہ اب قادیانی مناظر سے پچاس روپیہ وصول کرو۔ لیکن مفتی صاحب اسلامی مناظر نے کہا کہ میں قادیانی کا روپیہ لینا پسند نہیں کرتا۔
٢ مفتی صاحب اسلامی مناظر نے اپنے پرچہ نمبر ١ میں یہ لکھا ہے کہ بلحاظ سیاق و سباق و بروئے قواعد عربیت مجوزہ فریقین اس آیت میں فقرہ ”بل رفعه الله الیہ“ سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے زندہ بجسدہ العنصری آسمان پر اٹھائے جانے کے سوا اور کوئی معنی مراد نہیں لیا جاسکتا تو اگر لفظ رفع کسی اور جگہ کسی دیگر معنی میں مستعمل ہو تو مضر نہیں۔ کیونکہ عربی لفظوں کے لئے مستعمل فیہ معانی کثیرہ ہوا کرتے ہیں۔ اب قادیانی مناظر کا اس مضمون کو پڑھ کر اور سن کر پھر ایسی مثالیں پیش کرنا اس کی کم علمی کا نتیجہ ہے اور نیز ان مثالوں میں ایک بھی رفع الیٰ اللہ کی مثال نہیں اور اسلامی مناظر نے اپنے پرچہ نمبر ٣ میں اسی طریق سے تردید کی ہے۔
٦٤
- ٢...... ”في بيوت اذن الله ان ترفع (النور:٣٦)“ اور حدیث میں ”ان
الله يرفع بهذا الكتاب اقواماً ويضع به آخرين (ابن ماجه ص٢٠، باب فضل من تعلم القرآن وعلمه)“ ان مثالوں سے واضح ہے کہ جب خدا تعالیٰ رفع کا فاعل ہو اور مفعول کوئی انسان ہو۔ جیسا کہ مسیح کے لئے وارد ہوا ہے تو اس کے معنی مع الجسم اٹھانا نہیں ہوتے۔
دوسری بات جو آپ فرماتے ہیں وہ یہ ہے کہ الیہ سے مراد آسمان کی طرف اٹھانا ہے۔ مگر سوال ١؎ یہ ہے کہ جب خدا تعالیٰ ہر ایک جگہ ہے تو اس کی تعیین آپ کس قرینے سے کرتے ہیں کہ اس سے مراد ضرور آسمان ہی ہے اور اگر اس بات کو تسلیم بھی کیا جائے تو معلوم ہوا کہ الیٰ ٢؎ انتہاء غایت کے لئے آتا ہے اور خدا تعالیٰ کے متعلق ”استویٰ علی العرش“ قرآن مجید میں وارد ہوا ہے اور مسلمانوں کا عقیدہ ہے کہ وہ ساتویں آسمان پر ہے۔ تو پھر کیوں یہ نہ تسلیم کیا جائے کہ وہ
- ١؎ قادیانی مناظر کی علمی لیاقت پر افسوس۔ کیونکہ اسلامی مناظر نے اپنے پرچہ نمبر ١ میں یہ
مضمون درج کیا ہے اور ”رفع الی اللہ“ سے حقیقی طور پر رفع الی اللہ مراد نہیں ہو سکتی۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ لامکان ہے اور بلحاظ صفت علم وغیرہ اس کو تمام مکانوں اور تمام مکینوں کے ساتھ ایک ہی نسبت ہے۔ بلکہ ”رفع الی اللہ“ سے مراد آسمان پر اٹھانا ہے جو فرشتوں پاک ہستیوں کا مقر ہے۔ جن کی شان میں ”لا يعصون الله ما امرهم ويفعلون ما يؤمرون (تحريم:٦)“ شہادت خداوندی ہے۔ اس مضمون میں اسلامی مناظر نے آسمان کی تعیین کا قرینہ اور دلائل بیان کر دئیے ہیں۔ اب قادیانی مناظر کا طلب قرینہ جہالت محضہ ہے۔
- ٢؎ اسلامی مناظر نے اپنے پرچہ نمبر ٢ میں اس کی اس طرح تردید کی ہے کہ ”الرحمٰن علی
العرش استویٰ“ سے یہ مراد نہیں کہ اللہ تعالیٰ کا عرش مکان ہے۔ جیسا کہ تمام اہل اسلام کا عقیدہ ہے کہ اللہ تعالیٰ لامکان ہے۔ بلکہ اس سے یہ مراد ہے کہ ”رحمان من حيث الرحمانیت“ عرش مستوی ہے۔ جیسا کہ حدیث قدسی ”ان رحمتي سبقت غضبي“ سے ظاہر ہے اور چونکہ رفع الی اللہ سے رفع الی السماء مراد ہونا مدلل ہو چکا ہے۔ اس لئے بلحاظ اس امر کے کہ الی انتہاء غایت کے لئے ہوتا ہے۔ فقرہ ”بل رفعه الله اليه“ کا یہ مقتضاء ہوگا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام آسمان پر اٹھائے گئے ہیں نہ یہ کہ ساتویں پر اٹھائے گئے ہیں اور پھر قادیانی مناظر نے جو مثال یعنی ”ثم اتموا الصيام الی اللیل“ اپنی تائید میں پیش کی ہے وہ مثال در حقیقت ہماری تائید کرتی ہے۔ کیونکہ اس آیت کا یہ مطلب ہے کہ جب آفتاب غروب ہو جائے۔ اور رات کا شروع ہو تو اسی وقت روزہ افطار کیا جائے اور اس میں ہماری تائید ہے اور حسب تقریر قادیانی مناظر اس آیت کا یہ مطلب ہونا چاہئے کہ جب تمام رات گزر جائے تو اخیری جزو رات میں افطار کیا جائے۔ وهو کما تری!
٦٥
ساتویں آسمان پر خدا تعالیٰ کے دائیں طرف بیٹھا ہے جو کہ عیسائیوں کا عقیدہ ہے۔ کیوں دوسرے اور تیسرے یا چوتھے آسمان پر ٹھہرایا جاتا ہے۔ اگر مثال چاہیں تو ”ثم اتموا الصيام الی اللیل (بقرہ:١٨٧)“ پر غور کرلیں اور نیز ہم بتا چکے ہیں کہ ”رافع“ کے معنی جب کہ خدا تعالیٰ فاعل ہو بجسمہ العنصری اٹھانا ہوتے ہی نہیں۔ بلکہ رفع روحانی ہوتا ہے تو آسمان وغیرہ کا جھگڑا ہی نہیں رہتا اور جو آپ نے مثالیں پیش کی ہیں ان میں سے کسی میں بھی ہماری شرائط پورے طور پر نہیں پائی جاتیں۔
اور حضرت ١؎ مسیح موعود کی عبارتیں جو پیش کی گئی ہیں ان سے بھی یہ قطعاً ثابت نہیں ہوتا کہ رفع کے معنی بجسمہ العنصری زندہ اٹھا لینا مراد ہے۔ بلکہ رفع روحانی جو دوسرے لفظوں میں تقرب کے معنی ہیں مراد ہے اور مرنے کے بعد روحوں کا علیین میں جانا رفع کے منافی نہیں اور روح کا مرنے کے بعد آسمان پر جانا مسلمانوں کا عقیدہ ہے۔ اس لئے ہم یہ بھی کہہ سکتے ہیں کہ خدا تعالیٰ مطابق آیت ”وهو الله فی السموات وفی الارض“ زمین و آسمان میں ہے۔ اس لئے مسیح کا رفع زمین کی طرف بھی ہوا اور آسمان کی طرف بھی۔ یعنی جسم چونکہ زمینی چیز تھی۔ اس لئے وہ زمین میں چلا گیا اور روح چونکہ آسمانی چیز تھی وہ آسمان پر چلا گیا اور روح و جسم کے درمیان تفریق کا نام ہی موت ہے۔
اور پھر عجب بات یہ ہے کہ جیسے کہ جسم زمینی اور مادی چیز ہے۔ اس کے اٹھانے والے بھی انسان ہیں اور روح چونکہ لطیف اور آسمانی چیز ہے۔ اس لئے اس کے اٹھانے والے اور لے
١؎ مفتی صاحب اسلامی مناظر نے اپنے پرچہ نمبر ٣ میں اس کی یوں تردید کی ہے کہ مرزا قادیانی کی عبارتوں سے صرف یہ فائدہ حاصل کیا گیا ہے کہ رفع الی السماء سے مراد مرزا قادیانی کے نزدیک بھی آسمان کی طرف اٹھائے جانا ہے اور رفع جسمانی ثابت کرنے کے لئے ہم نے بل کو میدان مناظرہ میں چھوڑ دیا ہے۔ جو اس کا مقابلہ کرے گا۔ انشاء اللہ شکست کھائے گا۔ جیسا کہ قادیانی مناظر نے شکست کھائی ہے اور مرزا قادیانی نے صراحتاً آسمان کا لفظ بولا ہے۔ جس میں کوئی تاویل نہیں ہو سکتی اور فقرہ ”بل رفعه الله اليه“ بلحاظ سیاق آیت وقواعد عربیت حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے زندہ بجسمہ العنصری آسمان پر اٹھائے جانے کو ثابت کرتا ہے تو اس کے مقابلہ میں یہ کہنا کہ زمینی چیز زمین میں چلی گئی اور آسمانی آسمان میں چلی گئی۔ یہ خیالی اور وہمی ڈھکوسلے ہیں جو ”بل رفعه الله اليه“ کے مدلول قطعی کا مقابلہ نہیں کر سکتے اور نیز قادیانی مناظر نے ان خیالی اور وہمی باتوں کے پیش کرنے کی وجہ سے دو شرطیں مذکورین سے تجاوز کی ہے۔
٦٦
جانے والے بھی فرشتے ہیں جو لطیف ہیں اور نظر نہیں آتے اور آپ ١؎ کی یہ وجہ کہ چونکہ یہود جسم مع الروح کو قتل کرنا چاہتے تھے۔ اس بات کی دلیل ہے کہ: ”بل رفعہ اللہ“ میں جسم مع الروح ہی مراد ہے۔ غلط ہے کیونکہ قتل تو اخراج الروح من الجسد کا نام ہے اور یہ ضروری نہیں کہ جو ایک جگہ مراد ہو دوسری جگہ ضمیر سے بھی وہی مراد ہو۔ یہ غلط ہے کہ جب دو ضمیروں کا مرجع ایک ہو تو ضروری ہے کہ ایک ہی حیثیت سے اس کی طرف دونوں ضمیریں پھیری جاویں۔ قرآن مجید میں اس کے برخلاف مثالیں موجود ہیں۔ مثلاً ”و لا تقولوا لمن يقتل فى سبيل الله اموات بل احياء ولكن لا تشعرون (بقرہ:١٥٤)“ اور اسی طرح ”انا للہ وانا الیہ راجعون (بقرہ:١٥٦)“ کیونکہ اسی جسم اور روح کے ساتھ ہم خدا تعالیٰ کی طرف جانے والے نہیں۔
اور عربی ٢؎ زبان میں جائز ہے کہ ایک چیز کی طرف ضمیر اور معنوں کے لحاظ سے اور دوسری ضمیر دوسرے معنوں کے لحاظ سے پھیر دی جائے اور ایسا کرنے کا نام علم بدیع میں صنعت استخدام ہے۔ چنانچہ مختصر معانی میں اس کی مثال ”فسقى الغضا، والمسكنيه وانہم . شبوه بين جوانح وضلوع “ دی گئی ہے۔ پس اگر صرف رفع روحانی بھی لیا جائے تو عربی قواعد کی رو سے کوئی بھی اشکال لازم نہیں آتا۔ مگر میں آپ کو بتانا چاہتا ہوں کہ ہم جو اس کے معنی کرتے ہیں تو وہ مقرب کے کرتے ہیں۔ یہود کا مقصد قتل سے یہ تھا کہ وہ ثابت کریں کہ وہ نعوذ باللہ ملعون ہیں۔ کیونکہ (استثناء: ٢٣:٢١) میں لکھا ہے کہ جو پھانسی دیا جاتا ہے وہ ملعون ہے۔ لیکن خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ وہ ملعون نہیں بلکہ میرا مقرب ہے۔
١؎ اسلامی مناظر نے اپنے پرچہ نمبر ٣ میں اس کی تردید یوں کی ہے کہ ہمارا یہ دعویٰ ہے کہ بل ابطالیہ میں ضمیر صفت مبطلہ اور ضمیر صفت مثبتہ دونوں کا مرجع ایک شے بعینہ ہوگی اور ”و لا تقولوا لمن يقتل فى سبیل اللہ امواتاً بل احیاء “ میں صفت مبطلہ امواتا ہے اور صفت مثبتہ احیاء ہے اور ان دو صفتوں کے ضمیروں کا مرجع ”من يقتل فى سبيل الله “ بعینہ ہے۔ نہ فقط من کیونکہ ”الموصول ما لا يتم جزءا الا بصلة وعائد “ ایسے مغالطے اردو خوانوں اور انگریزی خوانوں کو دیا کریں اور ”انا للہ وانا الیہ راجعون “ میں پہلے تو بل ابطالیہ نہیں۔ اس لئے یہ استشہاد مع الفارق ہے اور نیز یہ امر بالکل ظاہر ہے کہ دونوں ضمیریں متکلم مع الغیر سے ایک شے بعینہ مراد ہے۔
٢؎ اسلامی مناظر نے اپنے پرچہ نمبر ٣ میں اس کی اس طرح تردید کی ہے کہ صنعت استخدام کے اختیار کرنے میں یہ ضروری ہے کہ وہ مقتضاء حال اور وضوح دلالت کے منافی نہ ہو۔ دیکھو ”علم البدیع ھو علم يعرف بہ وجوه تحسين الکلام بعد رعایۃ المطابقۃ ووضوح الدلالۃ (مطول)“ اور نیز ایک مرجع بعینہ قرار دینے سے قرینہ مانع ہو جیسا کہ ”وسقى الغضا والمسكنيه وان ھم ...... شبوه بين جوانح وضلوع “ پہلی ضمیر سے مراد مکان ہے اور دوسری سے بقرینہ شبوہ آگ ہے اور ”وماقتلوہ یقیناً بل رفعہ اللہ الیہ “ میں صنعت استخدام اختیار کرنا مقتضاء حال اور وضوح دلالت کے منافی ہے۔ جیسا کہ پرچہ نمبر ١ میں مفصل گذر چکا ہے اور نیز اس آیت میں ایک بعینہ مرجع مراد لینے سے کوئی قرینہ مانع نہیں۔ معلوم ہوتا ہے کہ قادیانی مناظر نے کسی سے طوطے کی طرح صنعت استخدام کا قصہ پڑھ لیا ہے اور اصل ماہیت کا کچھ پتہ نہیں۔ ورنہ اس آیت میں صنعت استخدام کا ذکر نہ کرتا۔
٦٧
اور دوسری ١؎ وجہ کا یہ جواب ہے کہ وہ یہ کہتے تھے کہ ہم نے صلیب پر لٹکا کر قتل کر کے ملعون ثابت کر دیا ۔ مگر خدا تعالیٰ ان کی اس بات کی تردید کرتا ہے کہ انہوں نے ملعون ثابت نہیں کیا۔ بلکہ خدا تعالیٰ نے اس کو اپنا مقرب بنایا ہے۔ پس یہاں پر قصر قلب بھی مانیں تو ان کے خیالات میں ہو سکتا ہے۔ مخاطب یہ ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ ہم نے ملعون کیا۔ مگر خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ انہوں نے قتل نہیں کیا کہ وہ ملعون ہو۔ بلکہ وہ خدا تعالیٰ کا مقرب ہے۔
اور تائید میں جو ”کان الله عزیزاً ٢؎ حکیما (نساء:١٥٨)“ کو پیش کیا ہے وہ کسی طرح بھی مفتی صاحب کی تائید نہیں کرتا۔ کیونکہ عزیز تو وہ ہوتا ہے جو غالب ہو، مگر مسیح کو آسمان پر
١؎ قادیانی مناظر نے تورات باب ٢١ وغیرہ کو پیش کر کے یہ ثابت کرنا چاہا کہ جو مصلوب ہو وہ ملعون ہے اور بل ابطالیہ اور قصر قلب کے مقتضاء پورا ہونے کی کوشش کی۔ لیکن مفتی صاحب اسلامی مناظر نے اس کی دو طریق سے تردید کی۔ اوّل یہ کہ بلحاظ آیۃ ”فاسئلوا اھل الذکر ان کنتم لا تعلمون (انبیاء:٧)“ تورات کی طرف رجوع اس وقت جائز ہوتا۔ جب ہم کو قرآن کریم سے یہود کا وہ اعتقاد جس کی وہ ناقل و تردید ہے معلوم نہ ہوتا۔ حالانکہ قرآن کریم نے یہود کے اس اعتقاد کو ان لفظوں میں ”وقولهم انا قتلنا المسیح عیسیٰ ابن مریم رسول الله“ واضح طور پر بیان کر دیا ہے۔ دوم یہ کہ قادیانی مناظر نے قرآن کریم اور حدیث اور اقوال صحابہ اور قواعد عربیت سے تجاوز ہو کر تورات کے ساتھ جا کر پناہ لی جو یہود کی محرف منسوخ شدہ کتاب ہے۔ لیکن تورات محرف منسوخ شدہ کتاب نے بھی اس بیچارے قادیانی مناظر کی امداد نہ کی۔ کیونکہ تورات میں یہ نہیں کہ جو مصلوب ہو وہ ملعون ہے۔ بلکہ تورات کا یہ مضمون ہے کہ جو کسی جرم میں مصلوب ہو وہ ملعون ہے۔ (استثناء:باب٢١، ص٣٠٣) اور قرآن کریم میں ہے ”انما جزاء الذین یحاربون الله ورسوله ویسعون فی الارض فساداً ان یقتلوا اویصلبوا اوتقطع ایدیہم وارجلہم من خلاف اوینفوا من الارض ذلک لہم خزی فی الدنیا ولہم فی الاخرۃ عذاب عظیم (مائدہ:٣٣)“ پس اس سے واضح ہے کہ عند اللہ ملعون و غیر ملعون ہونے کا سبب صلاح و فساد ہے۔ نہ قتل و صلب۔ قادیانی مناظر نے تورات کے پیش کرنے میں ایک تو دو شرطیں مذکورین سے تجاوز کیا ہے اور دوسرا اس نے یہ تسلیم کر لیا ہے کہ میرے پاس قرآن کریم اور حدیث اور اقوال صحابہ اور قواعد عربیت کے مطابق کوئی جواب نہیں۔
٢؎ قادیانی مناظر کے یہ خیالی اور وہمی مضامین ہیں۔ کیونکہ اس نے اللہ تعالیٰ کے مقدورات کو محدود ومعدود سمجھ لیا ہے اور درحقیقت مطابق ”ان الله علی کل شئی قدیر“ اللہ تعالیٰ کے مقدورات غیر محدود و غیر معدود ہیں۔ کسی کو ”یا نار کونی برداً وسلاماً“ کہہ کر نجات دیتا ہے اور کسی کو ہجرت کا حکم دے کر غلبہ دیتا ہے اور کسی کو دریا سے پار اتار کر اور اس کے دشمن کو غرق کر کے نجات عطا کرتا ہے اور کسی کو بوقت حملہ دشمنان آسمان پر اٹھا کر محفوظ کرتا ہے اور اس کے دشمنوں میں سے ایک شخص پر اس کی شکل ڈال کر باقی دشمنوں سے اس کو قتل کراتا ہے وغیرہ وغیرہ اور یہ سب ”کان الله عزیزاً“ کے نتائج ہیں۔
٦٨
لے جانے سے عزیز ثابت ہوتا ہے یا ضعیف ہونا؟ کیونکہ طاقتور غالب اپنی چیز کو مقابلہ کے وقت چھپایا نہیں کرتا اور پھر اس سے تو اتنا ضعیف ثابت ہوتا ہے کہ باوجود اس کے کہ اس کو آسمان پر اٹھا لیا۔ پھر بھی اسے فکر پڑی کہ کہیں یہودی آسمان پر بھی آکر مسیح کو نہ لے جائیں۔ اس لئے اس کی بجائے مسیح کی شکل کسی اور کو دی تا کہ وہ اسے پھانسی پر لٹکا دیں۔ پس بتاؤ کہ اس طرح وہ عزیز ثابت ہوتا ہے یا ضعیف۔ بلکہ عزیز ہونا اس کا تب ہی ثابت ہوتا ہے کہ وہ اپنی تمام تدبیریں کر گزریں۔ مگر خدا تعالیٰ اس کو بچالے۔ جیسا کہ ابراہیم علیہ السلام کے وقت کیا۔ مخالفوں نے آگ میں ڈالدیا۔ مگر خدا تعالیٰ نے فرمایا: ”یانار کونی برداً وسلاماً علی ابراهیم (انبیاء:٦٩)“ اور اسی طرح حضرت ﷺ کے متعلق فرمایا: ”و اذ یمکر بک الذین کفروا الخ لیخرجوك (انفال:٣٠)“ انہوں نے آپ کو مکہ سے نکال دیا۔ لیکن خدا تعالیٰ نے پھر ان پر غلبہ اور فتح عطاء فرمائی اور حضرت یوسف علیہ السلام کو ان کے بھائیوں نے کنوئیں میں ڈال دیا۔ مگر خدا تعالیٰ نے انہیں بچالیا۔ پس یہ عزیز ہونے کا ثبوت ہے اور حکیم کہ وہ اس طرح اپنی حکمت سے دشمنوں کے پنجہ سے بچا لیا کرتا ہے اور مطابق وعدہ ”کتب الله لا غلبن انا ورسلی“ رسولوں کو دنیا میں غلبہ دیتا ہے۔
اور جو ١؎ حکمت آپ نے بیان فرمائی ہے اہل علم تو ضرور اس کی داد دیں گے۔ جناب مفتی صاحب! اگر مسیح کی پیدائش کلمہ کن اور نفخ روح سے ہوئی تو کیا باقی آدمیوں کی پیدائش نفخ روح سے نہیں ہوا کرتی؟ آنحضرت ﷺ فرماتے ہیں ۔ ” فیرسل الله الملك فينفخ فيه “ اور ”ثم سوّاہ ونفخ فیہ من روحہ “ پس ہر انسان میں خدا تعالیٰ کی طرف سے نفخ روح ہوتا ہے اور پھر حضرت آدم علیہ السلام کو آپ کو کامل خدا تسلیم کرنا چاہئے۔ کیونکہ اس میں تو خدا تعالیٰ نے خود روح پھونکی ۔ جیسا کہ فرمایا: ” و نـفـخـت فـيـه مـن روحی “ دیکھئے خدا تعالیٰ فرماتا ہے: ” ان مثل عیسیٰ عند الله کمثل آدم خلقه من تراب ثم قال له كن فيكون (آل عمران: ٥٩) “ مسیح علیہ السلام کی پیدائش کو کوئی عجیب قسم کی پیدائش خیال نہ کرو اور حضرت آدم علیہ
١؎ اسلامی مناظر نے اس کی اپنے پرچہ نمبر ٣ میں اس کی اس طرح تردید کی ہے کہ بلحاظ ”فارسلنا الیها روحنا (مریم:١٧) “ اور بلحاظ ”لـم یمسسنی بشر ولم اك بغیاً (مریم: ٢٠) “ کے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی فطرت میں ایک خصوصیت ہے۔ جس کی وجہ سے ان کو فرشتوں کے ساتھ ایک خاص تشابہ ہے اور اسی لئے اللہ تعالیٰ نے حکماً فرما کر یہ اشارہ کیا کہ حکمت ایزدی کا یہی اقتضا ہوا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو مناسب فطرت جگہ دی جائے۔
٦٩
السلام کی طرف غور کر کے سمجھ لو کہ اس کی پیدائش میں اس سے بڑھ کر کون سی بات پائی جاتی ہے۔
پھر ١؎ آپ نے حدیث پیش کی ہے اور اس میں ایک تو لفظ نزول سے استدلال کیا ہے۔ مگر کیا آپ کو معلوم نہیں کہ اس سے ظاہر طور پر مع الجسم اترنا ہی مراد نہیں ہوتا۔ دیکھو قرآن مجید سے اس کی مثالیں: ”ان من شئ الا عندنا خزائنه وما ننزله الا بقدر معلوم“ اور ”انزل لكم من الانعام ثمانية ازواج (زمر:٦)“ اور ”قد انزل الله اليكم ذكراً رسولاً (طلاق:١٠)“ اور ”قد انزلنا عليكم لباساً (اعراف:٢٦)“ اور ”انزلنا الحديد فيه بأس شدید (حدید:٢٥)“
اور اس ٢؎ حدیث کے ظاہری معنی کسی طرح صحیح نہیں ہو سکتے۔ ایک تو اس لئے کہ کون بے غیرت مسلمان ہے کہ جو آنحضرتﷺ کی قبر کو کھودے۔ جب کہ کوئی اپنے باپ کی قبر کو بھی کھودنا گوارا نہیں کرتا اور ”من قبر واحد“ اور ”معي في قبري“ بتا رہے ہیں کہ مسیح آپ کے ساتھ مدفون ہوگا۔
١؎ اسلامی مناظر نے اپنے پرچہ نمبر ٣ میں اس کی یوں تردید کی ہے کہ میں نے اپنے پرچہ نمبر ١ میں یہ لکھا ہے اور اس حدیث میں نزول سے یہی معنی فرود آمدن مراد ہیں۔ ہاں جس جگہ نزول سے یہ معنی مراد لینے سے کوئی قرینہ روکتا ہو تو وہاں حسب قرینہ سے مراد ہوں گے اور یہ مضر نہیں۔ قادیانی مناظر کی عجیب لیاقت ہے کہ جن مضامین کی تردید میرے پرچہ نمبر ١ میں موجود ہے ان مضامین کو اس نے پھر بھی درج کر دیا ہے۔ دیکھو مثلاً ”انزلنا الحديد“ وغیرہ میں بقرینہ الحدید معنی پیدا ہونے کے لینے سے یہ لازم نہیں آتا کہ جہاں نزول ہو وہاں پیدا ہونے کے معنی مراد ہوں گے۔ ورنہ لازم آئے گا کہ حدیث ”فينزل عند المنارة البيضاء شرقي دمشق بين مهرودتين واضعا كفيه على اجنحة ملكين (مسلم ج٢ ص ٤٠١، باب ذکر الدجال)“ کے معنی استغفر اللہ یہ ہوں گے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام دو رنگین کپڑے پہنے ہوئے دو فرشتوں کے کندھوں پر ہاتھ رکھے ہوئے پیدا ہوں گے۔ اول تو یہ مطلب کیسا مہمل ہے۔ پھر افسوس کہ مرزا قادیانی مدعی مسیحیت میں یہ صفت بھی نہیں پائی جاتی۔
٢؎ اسلامی مناظر نے اپنے پرچہ نمبر ٣ میں اس کا یہ جواب دیا ہے کہ قبر سے مراد گورستان ہے اور یہ اعتراض جو قادیانی مناظر نے کیا ہے یہ تو نعوذ بالله من ذالك آنحضرتﷺ پر ہے نہ مجھ پر۔
٧٠ پر۔
اور حضرت عائشہؓ سے موطا امام مالکؒ میں حدیث ہے کہ آپ نے اپنے حجرہ میں تین چاند دیکھے نہ کہ چار اور فتح الباری میں لکھا ہے: ”قول عائشۃ فی قصۃ عمر کنت اریدہ ولا وثرنہ الیوم علیٰ نفسی یدل علی انہ لم یبقی الاموضع قبر واحد (فتح الباری ج٧ ص٥٣)“ پس حضرت عمرؓ کے فوت ہونے کے بعد وہاں اور قبر کی جگہ نہیں اور نقشہ قبور پر غور کرنے سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ صاحبین کی قبر کے درمیان ان کی قبر نہیں ہوسکتی۔ پھر آنحضرتﷺ کی فضیلت کہ ”انا سید ولد آدم واوّل من تنشق عنہ الارض (ترمذی ج٢ ص١٤٧، کتاب التفسیر)“ باطل ہوجاتی ہے۔
١ اسلامی مناظر نے اپنے پرچہ نمبر ٣ میں اس کی تردید کی ہے۔ جس کی تشریح یہ ہے کہ قادیانی مناظر نے حضرت عائشہ صدیقہؓ کی خواب کی صحیح تعبیر نہیں سمجھی اور صحیح تعبیر یہ ہے کہ حضرت عائشہ صدیقہؓ نے خواب میں اپنے حجرہ میں تین چاند دیکھے۔ آفتاب اور آنحضرتﷺ اس لحاظ سے کہ اللہ تعالیٰ سے بلا واسطہ مستنیر و مستفیض ہیں۔ بمنزلہ آفتاب ہیں اور شیخینؓ اور حضرت مسیح علیہ السلام مجدد وقت ہونے اور آنحضرتﷺ کے تابع ہونے اور آپ کے نور سے مستنیر ہونے کی وجہ سے آپ کے مقابلہ میں بمنزلہ چاند کے ہیں۔ ”وبیان جمیع ذالك ان جرم القمر فی نفسہ کجرم ارض مظلم غیر نورانی کثیف صقیل انما یستضیئ بضیاء الشمس (شرح چغمینی ص٩٠)“ چونکہ آنحضرتﷺ چاند ہی نہیں بلکہ آفتاب اور دو چاند یعنی حضرت ابوبکرؓ اور حضرت عمرؓ کی قبریں عائشہ صدیقہؓ کے حجرہ میں ہوچکی ہیں۔ اس لئے تیسرا چاند یعنی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی قبر ہونی اور ان کا اس حجرہ میں مدفون ہونا باقی ہے اور نیز اگر آنحضرتﷺ چاند کی صورت میں دکھائی دیتے تو آپ کے دفن کے وقت یہ حدیث کیوں پیش کی جاتی کہ انبیاء جہاں فوت ہوتے ہیں وہیں دفن ہوتے ہیں۔ پس معلوم ہوا کہ خواب کا جائے ظہور نہ مرزائیوں کو سمجھ آیا ہے اور نہ خود مرزا قادیانی کو؎
کار طفلاں تمام خواہد شد
اور نقشہ قبور کا دو سطرین مذکورین سے تجاوز ہے اور نیز قادیانی کا یہ کہنا قابل اعتبار نہیں۔ کیونکہ نہ مرزا قادیانی کو مدینہ طیبہ میں جانا نصیب ہوا اور نہ ہی مرزائیوں کو اور حدیث ”انا اوّل من تنشق عنہ الارض (ترمذی ج٢ ص١٤٧، کتاب التفسیر)“ اور حدیث ”فاقوم انا وعیسیٰ ابن مریم (مشکوٰۃ ص٤٨٠، باب نزول عیسیٰ علیہ السلام)“ میں تعارض نہیں۔ کیونکہ آنحضرتﷺ کی قبر پہلے منشق ہوگی اور پھر حضرت عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام بھی اسی گورستان سے مبعوث ہوں گے۔
٧١
اور ؎١ آپ کی یہ تقریر کہ علمائے بلاغت کا قانون ہے کہ مجاز وہاں لی جاتی ہے جہاں حقیقت محال ہو۔ یہ تقریر تو آپ نے مولوی ثناء اللہ کی کتاب شہادت مرزا سے نقل کر دی مگر کاش! آپ نے کمالات مرزا بجواب شہادت مرزا بھی پڑھ لیا ہوتا۔
سنئے ؎٢ پیش گوئیوں میں حقیقت اور مجاز دونوں مراد ہو سکتی ہے۔ دیکھئے نہایہ ابن اثیر میں ”جعل منھم القردۃ والخنازیر“ کے ماتحت لکھا ہے کہ اس سے مراد یہ بھی ہے کہ وہ حقیقی طور پر بندر بن گئے ہیں اور یہ بھی ہے کہ مجازی طور پر ان کو بندر اور سؤر کہا گیا ہو اور پھر (قسطلانی ج ٥ ص ٤٩٩) میں یکسر الصلیب کے معنی کرتے ہوئے لکھا ہے کہ حقیقتاً کسر صلیب بھی ہو سکتی ہے اور عقیدۂ صلیبی بھی مراد ہو سکتا ہے۔ اگر آپ کے خیال کے ہی لوگ ہوتے تو پیش گوئی ”اسرعکن لحوقاً بی اطولکن یداً“ کو جھٹلا دیتے اور کہہ دیتے کہ یہ پیش گوئی پوری نہیں ہوئی۔ کیونکہ حقیقت متعذر نہیں ہوئی۔
؎١ اسلامی مناظر نے اپنے پرچہ نمبر ٣ میں یوں تردید کی ہے کہ کمالات مرزا بجواب شہادت مرزا۔ مرزا قادیانی یا اس کے کسی مرید کی تحریر ہے اور مرزا قادیانی یا اس کے مرید کی تحریر قادیانی مناظر میرے مقابلہ میں نہیں پیش کر سکتا۔ کیونکہ میں مرزا قادیانی کو مفتری و متنبّی اعتقاد کرتا ہوں اور نیز مرزا قادیانی کی تحریر پیش کرنی دو شرطیں مذکورین سے تجاوز ہے اور اسلامی مناظر نے فن بیان کا قانون پیش کیا ہے کہ مجاز وہاں لی جاتی ہے جہاں حقیقت متعذر ہو تو اس کے جواب میں یہ کہنا کہ مولوی ثناء اللہ کی کتاب شہادت مرزا سے نقل کر دی۔ ایک نہایت جاہلانہ جواب ہے۔ کیونکہ مولوی ثناء اللہ کا یہ قانون بیان کرنا اس بات کا موجب نہیں کہ یہ قانون قابل اعتبار نہ رہے۔
؎٢ اسلامی مناظر نے اپنے پرچہ نمبر ٣ میں اس طرح تردید کی ہے کہ فن بیان میں ہے۔ ”اما المجاز المفرد فھو الکلمۃ المستعملۃ فی غیر ما وضعت لہ فی اصطلاح بہ التخاطب علی وجہ یصح مع قرینۃ عدم ارادتہ ای ارادۃ ما وضعت لہ (مطول ص ٣٢٨)“ اس تعریف مجاز سے صاف طور پر ظاہر ہے کہ حقیقت اور مجاز مطلقاً جمع نہیں ہو سکتے۔ نہ پیش گوئیوں میں اور نہ غیر پیش گوئیوں میں۔ تو قادیانی مناظر کا یہ کہنا کہ پیش گوئیوں میں حقیقت اور مجاز دونوں مراد ہو سکتے ہیں۔ ثمرہ جہالت ہے اور ابن اثیر اور قسطلانی کی تحریر کو پیش کرنا ایک تو دونوں شرطیں مذکورین سے تجاوز ہے اور دوسرا ان کی تحریر کا یہ مطلب ہے کہ حقیقت مراد ہے اور اگر حقیقت کا مراد لینا متعذر ہو تو مجاز مراد ہو سکتی ہے۔
٧٦
حضرت مسیح موعود (مرزا) کی عبارت کا آپ مطلب نہیں سمجھے۔ آپ یہ نہیں مانتے کہ حقیقی طور پر وہی مسیح ناصری دنیا میں واپس آئے گا جیسا کہ آپ فرماتے ہیں۔ ہاں ان کی یہ خاص مراد کشفاً والہاماً وعقلاً وفرقاناً مجھے پوری ہوتی نظر نہیں آتی کہ وہ لوگ سچ مچ کسی دن حضرت مسیح علیہ السلام بن مریم کو آسمان سے اترتا ہوئے دیکھیں گے۔ سو اس بات پر ضد کرنا کہ ہم تب ہی ایمان لائیں گے کہ جب مسیح علیہ السلام کو اپنی آنکھوں سے آسمان سے اترتا ہوا مشاہد کریں گے۔ ایک خطرناک ضد ہے اور یہ قول ان لوگوں کے قول سے ملتا جلتا ہے ۔ جن کا ذکر خدا تعالیٰ نے قرآن شریف میں فرمایا ہے کہ وہ ”حتى نرى الله جهرة “ کہتے رہے اور ایمان لانے سے بے نصیب رہے۔
پھر (ص١٤١) میں تحریر فرماتے ہیں: ” مجھے اس بات کے ماننے اور قبول کرنے سے معذور فرمائیے کہ وہی مسیح ابن مریم جو فوت ہو چکا ہے۔ اپنے خاکی جسم کے ساتھ پھر آسمان سے اترے گا۔“
حضرت ١؎ خلیفہ المسیح اول کا جو قول پیش کیا گیا ہے اس میں محض لوگوں کو دھوکہ دیا گیا ہے۔ دیکھئے ہر جگہ استعارات وغیرہ نہیں لینے چاہئیں۔ ہر جگہ سے مراد آپ نے عبادات اور تمدن اور معاشرت کے مسائل کو لیا ہے۔ (ضمیمہ ازالہ اوہام) اور پیش گوئیوں کے متعلق فرماتے ہیں۔ مگر جو کچھ پیش گوئیوں میں مذکور ہے اور جو کچھ انبیاء علیہم السلام کے مکاشفات اور رؤیاء صالحہ میں نظر آتا ہے وہ عالم مثال میں ہوا کرتا ہے۔ پس ایسے موقعہ پر علوم ضروریہ یقینیہ الہامات صادقہ مشاہدات وحقائق نفس الامریہ اور قواعد شرعیہ ان نصوص کو لامحالہ بظاہر ایسے اور معنوں کی طرف لے جائیں گے اور مسئلہ متنازعہ فیہ کے متعلق فرماتے ہیں۔ یاد رکھو کہ مجھ ...... کو آگاہ کیا گیا ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام کا قصہ بدوں کسی قسم کی تاویل اور کسی قسم کے استعارہ ومجاز کے کسی قوم نے تسلیم نہیں فرمایا۔ یہ میری بات سرسری نہ سمجھو۔ نمونہ کے طور پر دیکھ لو کہ ہمارے اکثر مفسرین حضرت مسیح علیہ السلام کے قصہ میں ”انی متوفیک ورافعك“ میں کیا کچھ ہیر پھیر نہیں کرتے ۔اب
١؎ مرزا قادیانی کی یہ عبارت ہے۔ ”بالکل ممکن ہے کہ کسی زمانہ میں کوئی ایسا مسیح بھی آجائے جس پر حدیثوں کے بعض ظاہری الفاظ صادق آسکیں۔“ (ازالہ اوہام ص ٢٠٠، خزائن ج ٣ ص٨٤) قانون فن بیان اور مرزا قادیانی کا تسلیم امکان اور محولیت دو شرطیں مذکورین نے قادیانی مناظر کو عاجز کر دیا ہے۔
٢؎ اسلامی مناظر نے اپنے پرچہ نمبر ٣ میں یوں تردید کی ہے کہ مولوی نور الدین کا فقرہ (ہر جگہ ) آپ کو کوئی تاویل کرنے نہیں دیتا۔ کیونکہ ”الاعتبار لعموم اللفظ لا لخصوص المورد “ چونکہ اسباب حقہ اور موجبات قویہ حقیقت کے مراد ہونے کو چاہتے ہیں۔ اس لئے حقیقت مراد ہوگی اور مجاز مراد نہیں لی جاسکتی۔
٧٣٠
معاملہ صاف ہے۔ پس حضرت خلیفۃ المسیح اوّل کا قول ہماری تائید میں ہے نہ کہ تردید میں اور یہ آپ نے خلاف شرط کیا ہے۔
ہم نے دوسرے ١؎ ائمہ کے حوالہ جات موت مسیح کے متعلق مثلاً یہ کہ امام مالکؒ کا مذہب ہے کہ مسیح علیہ السلام وفات پاگئے ہیں اور امام ابوحنیفہؒ اور امام شافعیؒ وغیرہ اپنے سکوت سے ان کی تصدیق کرتے ہیں اور ان کی وفات کے قائل ہیں۔ پیش نہیں کئے لیکن آپ نے خلاف شرائط بہت سی باتیں پیش کی ہیں۔ ہم نے یہ بھی نہیں کہا کہ خلفاء مسیح موعود کی نیک بتائی ہوئی بات یا ان کے عقائد کے خلاف ہمارے عقائد ہیں۔ یا ان کی واجب الاتباع بات ہم ماننے کے لئے تیار نہیں ہرگز نہیں۔
پھر ٢؎ جناب والا کو معلوم رہے کہ وفات مسیح ماننے سے عیسائیت کو تقویت نہیں پہنچتی۔ بلکہ اس کی بیخکنی ہو جاتی ہے۔ کیونکہ وہ کہتے ہیں کہ مسیح تھوڑی سی دیر کے لئے وفات پاکر آسمان پر زندہ اٹھالیا گیا اور آپ کا بھی یہ عقیدہ ہے کہ مسیح آسمان پر اٹھالیا گیا اور تفسیروں میں ایسے کئی اقوال موجود ہیں کہ چند گھنٹے مسیح نے وفات پائی اور پھر وہ آسمان پر اٹھایا گیا۔
١؎ اسلامی مناظر نے اپنے پرچہ نمبر ٣ میں اس کے متعلق یہ کہا ہے کہ امام ابوحنیفہؒ اور امام شافعیؒ اور امام مالکؒ کا کسی طرح سے ذکر کرنا دو شرطیں مذکورین سے تجاوز ہے اور پھر ان ائمہ رضوان اللہ علیہم کا ذکر قادیانی مناظر کو مفید بھی نہیں بلکہ مضر۔ کیونکہ امام الائمہ ابوحنیفہؒ فرماتے ہیں ”وخروج الدجال ویاجوج وماجوج وطلوع الشمس من المغرب ونزول عیسیٰ علیہ السلام من السماء وسائر علامات یوم القیمۃ علی ماوردت بہ الاخبار الصحیحۃ حق کائن (فقہ اکبر ص٨)“ اور یہی مذہب ہے کل ائمہ شافعیہ کا یعنی سب ہی عیسیٰ ابن مریم بعینہ نہ بمثیلہ کے نزول پر متفق ہیں۔ چنانچہ ائمہ صحاح ستہ اور شیخ سیوطیؒ وغیرہ کی تصریح سے ظاہر ہے اور ائمہ مالکیہ کا بھی یہی مذہب ہے۔ چنانچہ شیخ الاسلام احمد نفراوی المالکی نے فواکہ دوانی میں تصریح کردی کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا آسمان سے اترنا اشراط ساعت سے ہے۔
٢؎ اسلامی مناظر نے اپنے پرچہ نمبر ١ میں اس بات کو ثابت کیا ہے کہ حیات مسیح ابن مریم علیہ السلام مذہب اسلام کے مناسب ہے اور وفات مسیح ابن مریم مذہب اسلام کے نامناسب، اور ناظرین کو غور کرنے سے ظاہر ہوگا کہ قادیانی مناظر نے بھی اس بات کو تسلیم کرلیا ہے۔ کیونکہ قادیانی مناظر نے یہاں لکھا ہے کہ عیسائیوں کے نزدیک عیسیٰ علیہ السلام تھوڑی دیر کے لئے وفات پاکر آسمان پر زندہ اٹھالیا گیا۔ تو اس سے صاف طور پر ظاہر ہوتا ہے کہ عیسائیوں کے نزدیک موت اور معبودیت میں منافات نہیں۔ ہاں اگر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی حیات تسلیم کی جائے تو عیسائیوں کے عقیدہ کفارہ کی بیخکنی ہوجاتی ہے۔
٧٤
سنئے! جناب! اس عقیدہ کو ماننے سے حضرت مسیح علیہ السلام کو آنحضرت ﷺ سے
- ١۔ اسلامی مناظر نے اپنے پرچہ نمبر ٣ میں اس کی یوں تردید کی ہے کہ قادیانی مناظر کے یہ وجوہات
بروئے قرآن کریم وحدیث نہیں بلکہ خیالی اور وہمی ڈھکوسلے ہیں۔ ہم کہتے ہیں کہ بروئے قرآن کریم اور حدیث آنحضرت ﷺ کا مدفون ہونا اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا آسمان پر ہونا اس سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام آنحضرت ﷺ سے افضل ہیں۔ کیونکہ قرآن کریم اور حدیث کا یہ فیصلہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کا کمال الوہیت میں ہے اور انسان کا کمال عبودیت میں ہے۔ قرآن کریم میں ہے۔ ’’يٰاَيُّهَا النَّاسُ اعْبُدُوْا رَبَّكُمُ الَّذِيْ خَلَقَكُمْ وَالَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُوْنَ الَّذِيْ جَعَلَ لَكُمُ الْاَرْضَ فِرَاشًا وَّالسَّمَاءَ بِنَاءً وَّاَنْزَلَ مِنَ السَّمَاءِ مَاءً فَاَخْرَجَ بِهٖ مِنَ الثَّمَرَاتِ رِزْقًا لَّكُمْ (بقرہ:٢٢)‘‘ اس آیت میں خداوند کریم نے انسان کو عبادت کا امر فرمایا ہے جو اعلیٰ درجہ کی عبودیت کا نام ہے اور پھر کریم اپنی صفت بیان کر کے یہ بتایا ہے کہ میری صفت ربوبیت یعنی کمال تک پہنچانا اس وقت کام کرتی ہے جب انسان اعلیٰ درجہ کی عبودیت میں لگ جاتا ہے اور پھر اپنی چند صفات بیان کر کے اخیر میں صفت ’’وَاَنْزَلَ مِنَ السَّمَاءِ مَاءً فَاَخْرَجَ بِهٖ مِنَ الثَّمَرَاتِ رِزْقًا لَّكُمْ‘‘ کو ذکر کیا ہے اور اس میں یہ بتایا ہے کہ زمین جو پستی کا مظہر ہے بوجہ پست ہونے کے آسمان سے جو بلندی کا مظہر ہے کس طرح فائدہ اٹھاتی ہے۔ اسی طرح جب انسان اپنے آپ کو عبادت یعنی اعلیٰ درجہ کی عبودیت میں لگا کر پستی کا مظہر بناتا ہے تو اس پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے جو بلند سے بلند ہستی ہے، رحمت و برکات کا نزول ہوتا ہے اور انسان جس قدر عبودیت میں ترقی کرتا ہے اسی قدر زیادہ عنداللہ مقرب ہوتا ہے اور یہ امر بالکل روشن ہے کہ اللہ تعالیٰ الوہیت میں لاشریک لہ ہے اور محمد رسول اللہ ﷺ کمال عبودیت میں لاشریک لہ ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن کریم نے ان مقامات میں جہاں آنحضرت ﷺ کو اعلیٰ درجہ کے اعزاز دینے کا ذکر ہے اور جہاں یہ شبہ پیدا ہوتا ہے کہ اس اعلیٰ اعزاز ملنے کی وجہ سے آنحضرت ﷺ کی عبودیت میں نقص پیدا ہو گیا ہو۔ اس بات کی شہادت دی ہے کہ باوجود ایسے اعلیٰ اعزاز ملنے کے آنحضرت ﷺ کی عبودیت میں ذرہ بھر فرق نہیں آیا۔ بلکہ عبودیت میں ترقی کی ہے۔ دیکھو ’’سُبْحَانَ الَّذِيْ اَسْرٰى بِعَبْدِهٖ‘‘ اور ’’فَاَوْحٰى اِلٰى عَبْدِهٖ مَا اَوْحٰى‘‘ اور ’’تَبٰرَكَ الَّذِيْ نَزَّلَ الْفُرْقَانَ عَلٰى عَبْدِهٖ (اسریٰ:١)‘‘ میں باوجود مقامات اعزاز ہونے کے خدا تعالیٰ نے عبد کی اضافت اپنی طرف کر کے سمجھا دیا کہ آنحضرت ﷺ کی عبودیت میں کوئی نقص پیدا نہیں ہوا۔ بلکہ ترقی ہوئی ہے۔ ورنہ یہ اپنی طرف اضافت نہ کرتا اور اسی کمال عبودیت کا نتیجہ ’’وَرَفَعْنَا لَكَ ذِكْرَكَ‘‘ ہے اور اسی کمال عبودیت کی وجہ سے آنحضرت ﷺ افضل المرسلین بلکہ افضل الملائکۃ المقربین ہیں اور آنحضرت ﷺ کو حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر قرب الہی اور رفعت منزلت میں بدرجہا فوقیت ہے اور اسی کمال عبودیت کا یہ اقتضاء ہے کہ از ابتداء پیدائش تا وفات آنحضرت ﷺ کا ایسا رنگ رہے جو عبودیت کے مناسب ہو۔ یہی وجہ ہے کہ آنحضرت ﷺ کی پیدائش پر زمینی اسباب منعقد ہوئے اور تمام حیات زمین پر بسر کی اور زمین پر ہی فوت ہوئے اور زمین میں ہی مدفون ہوئے جو پستی کا مظہر ہے۔ ایک شاعر نے کہا ہے:
جہاں کے خوبرو قرباں زمانہ کے حسیں صدقے
زماں قرباں زمیں صدقے مکاں قرباں مکیں صدقے
میرا دل ہی نہیں قرباں میری جاں ہی نہیں صدقے
نیاز وانکساری پر الہ العالمین صدقے
اور حدیث میں ہے ’’مَنْ تَوَاضَعَ لِلّٰهِ رَفَعَهُ اللّٰهُ‘‘
٧٥
افضل ماننا پڑتا ہے اور عیسائیوں کی تائید ہوتی ہے۔ قاعدہ ہے کہ جتنی کسی کو پیاری اور محبوب چیز ہو وہ اس کی حفاظت کرتا ہے۔ مگر تکلیفوں کے وقت مسیح کو آسمان پر اٹھا لیا۔ اور ١؎ آنحضرت ﷺ کو زمین پر چھوڑا۔ آپ نے پتھر کھائے ، ایڑیوں سے خون بہا۔ دو دانت شہید ہوئے۔ اس سے معلوم ہوا کہ مسیح علیہ السلام خدا تعالیٰ کو آپ سے زیادہ محبوب ہے۔ دوسرے اس کو اعلیٰ مقام پر پہنچایا گیا اور اپنے پاس ٢؎ بٹھایا اور آنحضرت ﷺ کو زمین پر سلایا۔ بتاؤ ان میں سے افضل کون ہوا۔ تیسرے آپ نے مانا کہ مسیح کی پیدائش میں زمینیت کا کوئی دخل نہ تھا۔ اسی وجہ سے ان کا آسمان پر جانا صحیح ہوا۔ مگر بتائیے کہ آنحضرت ﷺ جو آسمان پر نہ گئے۔ اس لئے ان میں زمین کا دخل ہوا۔ چوتھے وہ دو ہزار برس سے بغیر کھانے پینے کے زندہ اور پھر اسی کو دوبارہ بھیجا جائے گا اور قاعدہ ہے کہ جس کا کام اچھا رہا ہو اس کو دوبارہ بھیجا جاتا ہے۔ پس اس سے ظاہر ہے کہ آنحضرت ﷺ سے وہ افضل ہیں اور ان میں روحانیت اور قدوسیت زیادہ ہے۔ اس لئے ان کا دوبارہ بھیجا جانا تجویز کیا گیا۔ پانچویں وہ اپنے آسمان پر جانے اور ہزاروں برس زندہ رہنے اور پیدائش میں زمینیت سے پاک ہونے کی وجہ سے تمام بنی آدم سے نرالے ہیں۔ بتاؤ یہ عقائد صلیبی عقائد کی تائید کرتے ہیں یا ہمارے عقائد کہ وہ وفات پاگئے ہیں۔ سچ ہے۔
زبوئے نافۂ عرفاں چو محروم ازاں بودند پسندیدند درشان شہ خلق ایں مذلت را
ہمہ عیسائیانرا از مقال خود مدد دادند دلیری ہا پدید آمد پرستاران میت را
(آئینہ کمالات اسلام ص ٥٦، خزائن ج ٥ ص ایضاً)
١؎ یہ واہی ڈھکوسلے ہیں۔ قرآن کریم کا تو یہ ارشاد ہے ۔ ”وبشر الصابرين الذين اذا اصابتهم مصيبة قالوا انا لله وانا اليه راجعون (بقره : ١٥٦) “ اور بلحاظ آیت ”لقد كان لكم في رسول الله اسوة حسنة لمن كان يرجوا الله واليوم الآخر وذكر الله كثيراً (احزاب : ٢١)“ آنحضرت ﷺ اسوۂ حسنہ کاملہ ہیں۔ اس لئے حکمت ایزدی کا یہ اقتضاء ہوا کہ آنحضرت ﷺ پر تمام انبیاء سے سخت ترین مصائب نازل کی جائیں تا کہ صبر کا ظہور بھی بے نظیر رنگ میں ہو۔
٢؎ اس عبارت سے تو یہ ظاہر ہوتا ہے کہ قادیانی مناظر کا خدا کے مکین ہونے کا اعتقاد ہے۔ حالانکہ تمام اہل اسلام کا یہ عقیدہ ہے کہ خدا تعالیٰ لامکان ہے۔
٣؎ ایسے اشعار اسلامی مناظر کے مقابلہ پر پیش کرنے جن کے شاعر کو وہ مفتری سمجھتا ہے۔ کمال درجہ کی جہالت ہے۔
٧٦
پس وفات ماننے سے صلیبی عقائد پاش پاش ہو جاتے ہیں اور اس کی حیات ماننے سے اسے پورا خدامان لینا پڑتا ہے۔
دوسری دلیل
آپ نے اس آیت میں ایک تو ”لیؤمنن“ پر زور دیا ہے کہ اس کے معنی سوائے استقبال کے ہو ہی نہیں سکتے۔ آپ دعویٰ سے فرماتے ہیں کہ تمام محاورات قرآن وحدیث اس کی شہادت دیتے ہیں۔ فی الحال میں آپ کے اس دعویٰ کو توڑنے کے لئے دو مثالیں پیش کرتا ہوں۔ غور سے پڑھیں۔ خدا تعالیٰ فرماتا ہے: ”وان منكم لمن ليبطئن فان اصابتكم مصيبة قال قد انعم الله على اذ لم اكن معهم شهيدا ولئن اصابكم فضل من الله ليقولن كان لم تكن بينكم وبينه مودة يا ليتنى كنت معهم فافوز فوزاً عظيما (نساء: ٧٣)“ اس کے معنی بھی وہی پیش کرتا ہوں جو مولانا شاہ رفیع الدین صاحب نے کئے اور تحقیق بعضے تم میں سے البتہ وہ شخص ہیں کہ دیر کرتے ہیں نکلنے میں۔ پس اگر پہنچ جاتی ہے ان کو مصیبت۔ کہتا ہے تحقیق احسان کیا اللہ نے اوپر میرے جس وقت کہ نہ ہوا میں ساتھ ان کے حاضر اور اگر پہنچ جاتا ہے تم کو فضل خدا کی طرف سے البتہ کہتا ہے کہ گویا نہ تھی درمیان تمہارے اور درمیان اس کے دوستی۔ پھر آیت ”والذين جاهدوا فينا لنهدينهم سبلنا (عنکبوت: ٦٩)“ میں استمرار کے معنی ہیں۔ خالص استقبال کے لئے نہیں۔
١؎ اسلامی مناظر نے اپنے پرچہ نمبر ٣ میں اس کی اس طرح تردید کی ہے کہ: ”وان منكم لمن ليبطئن“ وغیرہ میں بھی بلحاظ قاعدہ نحوی اتفاقی جو ہم نے پیش کیا ہے۔ استقبال ہی مراد ہے اور آپ بھی کوئی قاعدہ نحوی پیش کریں جس سے یہ ثابت ہو کہ بوقت دخول لام تاکید و نون ثقیلہ غیر استقبال ہی مراد ہو سکتا ہے۔ آپ ہرگز پیش نہ کر سکیں گے اور جب حسب شرائط مقررہ ہم قرآن کریم اور حدیث اور قواعد عربیت کے مطابق مناظرہ کر رہے ہیں تو آپ گھبرا کر ہر ایک فقرہ میں شرائط سے کیوں تجاوز کر رہے ہیں اور کبھی شاہ رفیع الدین صاحب کا نام لیا جاتا ہے اور کبھی خلاف واقع امام مالک کا ذکر کیا جاتا ہے اور یہی حال ”لنهدينهم سبلنا“ کا ہے۔ کیونکہ بر تقدیر تسلیم استمرار استمرار استقبالی مراد ہوگا اور قادیانی مناظر نے جو قرآن کریم کا اس موقعہ پر یہ فقرہ یعنی ”ولئن اصابكم فضل من الله ليقولن (نساء: ٧٣)“ پیش کیا ہے۔ اس سے بھی اس کی جہالت ٹپکتی ہے۔ کیونکہ ایک تو ”ليقولن“ پر لام تاکید اور نون ثقیلہ داخل ہے اور دوسرا شرط پر حرف ان داخل ہے جو نیز استقبال کے لئے آتا ہے۔ ”فان للاستقبال وان دخلت على الماضى (کافیہ ابن حاجب)“ کیا ”فان تنازعتم في شئ فردوه الى الله والرسول“ کے طریق پر مباحثہ کرنا اسی کا نام ہے۔
٧٧
اور خلیفہ ١؎ اول کا جو قول آپ نے پیش کیا ہے وہ اس وقت کا ہے جب کہ آپ اس جماعت میں شامل نہیں تھے اور ان معنوں پر مجھے مندرجہ ذیل اعتراضات ہیں۔
- ١....... کیا وجہ ٢؎ ہے کہ جب مجاہد اور ابن عباس جیسے بزرگ تابعی اور صحابی نے
قبل موتہ سے مراد کتابی کی موت لی ہے اور وہ صحیح نہیں۔ وجہ بیان کریں اور لکھا ہے کہ کوئی یہودی نہیں مرتا۔ مگر وہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر اپنے مرنے سے پہلے ایمان لاتا ہے۔ اس روایت سے تفسیریں بھری پڑی ہیں اور ایسے ایمان کے لئے مسیح کی زندگی کی ضرورت نہیں۔
- ٢....... قبل ٣؎ موتہ کی قرأت آپ کے معنوں کی تردید کرتی ہے۔ آپ کہتے
ہیں شاذہ قرأت قراء کی ہے۔ معلوم ہے یہ کس شخص نے روایت کی ہے۔ یہ ابی کی روایت جو عالم بالقرآن تھا اور آنحضرت ﷺ اس سے قرآن سنا کرتے تھے۔ بہر حال قرأت شاذہ لغو اور متروک نہیں ہو سکتی۔ وہ قرأت مشہورہ کی تفسیر ہوا کرتی ہے۔
١؎ اسلامی مناظر نے اپنے پرچہ نمبر ٣ میں یوں تردید کی ہے کہ مولوی نور الدین وہ شخص ہے جس کی مرزا قادیانی نے جو آپ کے پیغمبر ہیں توثیق کی ہے اور توثیق کے بعد بھی مولوی نور الدین صاحب نے اس معنی میں کوئی ترمیم نہیں کی۔
٢؎ اسلامی مناظر نے اپنے پرچہ نمبر ٣ میں اس کی اس طرح تردید کی ہے کہ مجاہد تابعی ہے۔ جیسا کہ قادیانی مناظر نے لکھا ہے اور قرآن کریم کی تفسیر میں تابعی کا قول پیش کرنا شرط نمبر ٢ سے تجاوز ہے۔ حضرت ابن عباسؓ کے متعلق قادیانی جماعت کا حال مانند ”أفتؤمنون ببعض الكتاب وتكفرون ببعض“ ہے۔ ورنہ ہم اور قادیانی جماعت ما نحن فیہ میں حضرت ابن عباسؓ کے قول پر فیصلہ کریں ۔ ”عن ابن عباسؓ وان اللہ رفعہ بجسدہ وانہ حی الآن وسیرجع الی الدنیا فيكون فيها ملكاً ثم يموت كما يموت الناس (طبقات ابن سعد ج ١ ص ٤٥)“ یعنی حضرت ابن عباسؓ سے روایت ہے اور یقیناً اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو بجسدہ العنصری اٹھا لیا ہے اور وہ اس وقت زندہ ہیں اور دوبارہ دنیا میں تشریف لائیں گے۔ پھر بادشاہ ہوں گے پھر فوت ہوں گے۔ جیسا کہ اور لوگ فوت ہوتے ہیں۔
٣؎ اسلامی مناظر نے اپنے پرچہ نمبر ٣ میں یوں تردید کی ہے کہ میں نے اپنے پرچہ نمبر ١ میں یہ مضمون درج کیا ہے اور موید قرآۃ متواترہ ہے۔ جس کا قرآۃ شاذہ مقابلہ نہیں کر سکتی اور قادیانی مناظر کی علمی لیاقت پر افسوس ہے کہ جن باتوں کا مکمل طور پر جواب پرچہ نمبر ١ میں درج ہے۔ اس سے چشم پوشی کر کے پھر بھی طوطے کی طرح رٹی ہوئی بات پیش کی جاتی ہے۔
٧٨
- ٣...... یہ معنی کہ سب اہل کتاب ایمان لے آئیں گے۔ آیت ”وجاعل
الذين اتبعوك فوق الذين كفروا الى يوم القيمة (آل عمران:٥٥)“ اور آیت ”واغرينا بينهم العداوة والبغضاء (مائدة:١٤)“ کے خلاف ہیں۔ کیونکہ اس میں فرمایا ہے کہ مسیح کے متبعین اور منکرین دونوں قیامت تک رہیں گے۔
- ٤...... سیاق ١؎ سباق کے خلاف ہے۔ کیونکہ پہلے اس کے فرمایا: ”فبما
يؤمنون الا قلیلا“ کہ یہودی ایسے شریر ہیں کہ ان میں سے تھوڑے ہی ایمان لائیں گے اور پھر کہہ دیا کہ سب ہی ایمان لے آئیں گے۔
- ٥...... یہ معنی عبارت النص کے بھی خلاف ہیں۔ کیونکہ یہاں یہودیوں کی
شرارتوں کا بیان کرنا مقصود ہے اور یہ ان کی شرارتیں بیان ہوئی ہیں۔ چنانچہ اس کے آگے بھی ان کی شرارتوں کا بیان ہے۔ اس کی مثال ایسی ہے کہ پہلے شرارت بیان کر کے پھر اس کی تعریف کر کے پھر کہہ دیا کہ یہ بڑا بدمعاش ہے۔ بتاؤ یہ طریق کلام شریفوں کا ہوا کرتا ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ یہ بھی ان کی شرارت ہے کہ باوجود اس کے کہ خدا تعالیٰ نے بتا دیا کہ وہ صلیب پر نہیں مرا۔ یہ
- ١؎ اسلامی مناظر نے اپنے پرچہ نمبر ٣ میں اس کی یوں تردید کی ہے کہ: ”وجاعل الذين“
میں ”الی یوم القيامة“ جاعل الذین کے متعلق نہیں بلکہ بروئے قواعد عربیت ہر چہار واقعات مسیحیہ کے متعلق ہے اور اگر اسی کے متعلق ہو تو نیز مضر نہیں۔ کیونکہ فوقیت اور غلبہ کامل اسی صورت میں ہے کہ کفر معدوم ہو جائے۔ جیسا کہ اس آیت سے صاف ظاہر ہے ۔ ”هوالذی ارسل رسوله بالهدی ودین الحق ليظهر علی الدین کله (فتح:٢٨)“ اس آیت کا مرزا قادیانی یوں بیان کرتے ہیں۔ ”یعنی خدا وہ خدا ہے جس نے اپنے رسول کو کامل ہدایت اور سچے دین کے ساتھ بھیجا۔ تا اسکو ہر ایک دین پر غالب کردے۔ یعنی ایک عالمگیر غلبہ اس کو عطاء کرے اور چونکہ وہ عالمگیر غلبہ آنحضرت ﷺ کے زمانہ میں ظہور میں نہیں آیا اور ممکن نہیں کہ خدا کی پیش گوئی میں کچھ تخلف ہو۔ اس لئے اس آیت کی نسبت ان سب متقدمین کا اتفاق ہے جو ہم سے پہلے گزر چکے ہیں کہ یہ عالمگیر غلبہ مسیح موعود کے وقت میں آئے گا۔“ (چشمہ معرفت ص ٨٣ ،خزائن ج ٢٣ ص ٩١) پس آیت ”اغرينا بينهم العداوة والبغضاء“ سے مراد طول زمان ہے۔ ورنہ یہ آیت اور آیت ”هو الذی ارسل رسوله“ متعارض ہوں گی۔
- ٢؎ اسلامی مناظر نے اپنے پرچہ نمبر ١ میں جو آیت ”وقولهم انا قتلنا المسيح“ اور آیت ”وان
من اهل الكتاب الا ليؤمنن به قبل موته“ کے درمیان ارتباط بیان کیا ہے۔ اس مضمون ارتباط میں غور کرنے سے یہ اعتراضات وارد نہیں ہوتے تو پھر قادیانی مناظر کا ان اعتراضات کو درج کرنا کجی علم کا نتیجہ ہے۔
٧٩
اہل کتاب مانتے رہیں گے کہ ہم نے اسے صلیب پر لٹکا کر مار ڈالا ہے۔ کیونکہ اگر یہ نہ مانیں تو ان کا مذہب باطل ہوتا ہے۔ ان میں سے جو نیک تھے ان کا آگے لکن الراسخون میں لکن کے لفظ سے علیحدہ بیان کیا ہے۔
٦...... اور ١؎ اگر خدانخواستہ اہل کتاب نے سمجھوتہ کر لیا کہ ہم نہیں مانتے تو خدا تعالیٰ کو بھی مشکل پڑ جائے گی۔ کیونکہ وہ مارتا ہے تو اس آیت کے خلاف ہوتا ہے۔ کیونکہ مسیح کا مرنا اور اہل کتاب کا مرنا ان کے ایمان لانے پر موقوف ہے۔
اور ٢؎ جو استشہاد ابوہریرہؓ کا پیش کیا ہے وہ صحیح نہیں ہے۔ جیسا کہ ان کا دوسرا استشہاد کہ: ”مامن مولود يولد الا يمسه الشيطان وقت ولادته الا مريم وابنها عيسىٰ “ پر آیت ”فاقرؤا ان شئتم انى اعيذها بك وذريتها من الشيطان الرجيم (مسلم ج٢ ص ٢٦٥، باب فضائل عيسىٰ عليه السلام) “ صحیح نہیں ہے۔ کیونکہ حدیث میں مس شیطان کا وقت ولادت کا ذکر ہے اور حضرت مریم کی والدہ نے جو دعاء کی تھی تو وہ ان کی پیدائش کے بعد کی ہے۔ پس حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے مس شیطان سے محفوظ رہنے کا باعث مندرجہ بالا دعاء قرار دینا بالکل غلط ہے اور اصول والوں نے لکھا ہے ۔ ”القسم الثانى من الرواة هم المعروفون فى الحفظ والعدالة دون الاجتهاد والفتوىٰ كابى هريرة وانس ابن مالك “
١؎ یہ بھی خداوند کریم کے ساتھ استہزاء ہے۔ نعوذ بالله من ذالك!
٢؎ (صحیح مسلم ج٢ ص٣٠١، باب مناقب ابی ہریرہؓ) میں ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا جو شخص اپنے کپڑے کو بچھائے گا پس وہ نہ بھولے گا اس بات کو جو میرے سے سنی ہے۔ ابوہریرہؓ فرماتے ہیں کہ میں نے اپنا کپڑا بچھا دیا اور آنحضرت ﷺ حدیث بیان فرماتے رہے۔ پھر میں نے اس کپڑے کو اپنے ساتھ چسپاں کر لیا۔ اس کے بعد جو حدیث میں نے آنحضرت ﷺ سے سنی ہے اس کو بھولا نہیں۔ سبحان اللہ ابوہریرہؓ پر جو ایسا جلیل القدر صحابی ہے محض اس وجہ سے کہ اس کی روایت قادیانی مناظر کے خلاف ہے اعتراض کئے جاتے ہیں اور قادیانی مناظر کا یہ کہنا کہ ابوہریرہؓ حقیقی معنوں میں مراد نہیں۔ عجیب لیاقت ہے اور اسلامی مناظر نے اپنے پرچہ نمبر٢ میں حقیقت ومجاز کا قانون بیان کر کے اور مرزا قادیانی کی تسلیم امکان حقیقت ظاہر کر کے ایسی حدیثوں سے مجازات مراد لینے کا دروازہ بند کر دیا ہے۔ اب قادیانی مناظر کا یہ کہنا کہ اس حدیث میں مجازات مراد ہیں۔ یہ محض دعویٰ بلا دلیل ہے اور دونوں شرطیں مذکورین سے تجاوز ہے۔
٨٠
پس ابوہریرہؓ کا یہ استشہاد صحیح نہیں اور اسی آیت کے ماتحت نووی میں لکھا ہے کہ اکثر علماء نے موتہ کا مرجع کتابی ٹھہرایا ہے اور جو حدیث ہے اس میں مجاز ہی مجاز مراد ہے۔ اوّل تو اس کا راوی ابوہریرہؓ ہے جو حقیقی معنوں میں ابوہریرہؓ مراد نہیں ہے اور اسی طرح منکم، امّکم فیکم، امامکم میں کم کے حقیقی مخاطب صحابہ ہیں اور مجازی طور پر ہم اور اسی طرح ابن مریم بھی حقیقی نہیں بلکہ مجازی مراد ہے۔ اور ١؎ جو آپ نے براہین احمدیہ سے عبارت پیش کی ہے وہ خلاف شرائط ہے۔ کیونکہ وہ آپ کے دعویٰ سے پہلے کی ہے۔ مگر پھر بھی میں اس کا جواب دیتا ہوں۔ آپ نے اس کے متعلق فرمایا ہے۔ ”اسی واسطے میں نے مسلمانوں کا رسمی عقیدہ براہین احمدیہ میں لکھ دیا۔ تا میری سادگی اور عدم بناوٹ پر وہ گواہ رہے۔ وہ میرا لکھنا جو الہامی نہ تھا محض رسمی تھا۔ مخالفوں کے لئے قابل استناد نہیں۔ کیونکہ مجھے خود بخود علم غیب کا دعویٰ نہیں۔ جب تک کہ خدا تعالیٰ خود نہ سمجھاوے۔“
(کشتی نوح ص ٤٧، خزائن ج ١٩ ص ٥٠)
١؎ اسلامی مناظر نے اپنے پرچہ نمبر ٣ میں اس طرح جواب دیا ہے کہ براہین احمدیہ کی عبارت کو پیش کرنا خلاف شرائط نہیں۔ کیونکہ مرزا قادیانی اس کتاب کے متعلق لکھتے ہیں۔ معلوم نہیں یہ کتاب کہاں اور کب ختم ہوگی۔ اس کتاب کا ظاہر و باطن متولی خدا ہے۔ جس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ اس کتاب کے مضامین تصدیق شدہ خداوندی ہیں اور نیز اسلامی مناظر نے اپنے پرچہ نمبر ١ میں براہین احمدیہ کی یہ عبارت پیش کر کے یہ لکھا ہے کہ میں نے اس عبارت کو بطور الزام نہیں پیش کیا۔ بلکہ یہ بتلانا ہے کہ جن دنوں مرزا قادیانی کو الہام و مجددیت کا دعویٰ تھا ان دنوں ان کا یہ عقیدہ تھا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام زندہ ہیں۔ حالانکہ قرآن دانی میں ان دنوں بھی اس کمال کا دعویٰ تھا کہ تین سو دلائل قرآن کی حقانیت کے قرآن ہی سے دینے کے ثبوت میں براہین احمدیہ لکھی تھی۔ اگر مسئلہ حیات مسیح اس قسم کا غلط ہوتا کہ اس کی تردید قرآن مجید میں ہوتی تو ایسا قرآن دان قرآن کا حامی اس عقیدہ کو دل و دماغ میں رکھ کر میدان مناظرہ میں نہ آتا اور قادیانی مناظر مرزا قادیانی کا کوئی قول ہمارے مقابلہ پر پیش نہیں کر سکتے۔ کیونکہ ہم بوجہ اس اعتقاد کے کہ مرزا قادیانی مفتری ہیں۔ یہی سمجھے ہیں کہ مرزا قادیانی نے جو عقیدہ براہین احمدیہ میں ظاہر کیا ہے وہ نیک نیتی سے ہے اور جو دعاوی بعد میں کئے ہیں وہ بوجہ لالچ وطمع نفسانی کے ہیں۔
٨١
پس جب خود حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) اسے قابل استناد نہیں مانتے اور اصولی طور پر بھی قابل استناد نہیں۔ کیونکہ لے استصحاب یعنی الابقاء ماکان علیہ حجت نہیں ہوتا تو پھر کسی کا کیا حق ہے کہ وہ اسے پیش کرے۔ اس کی مثال تو ایسی ہے کہ کوئی شخص ”فول ٢ وجهك شطر المسجد الحرام“ کے نزول کے بعد بیت المقدس کی طرف منہ کرنے کو بطور سند پیش کر کے کہے کہ آپ اس لئے رسول آخر الزمان نہیں ہیں کہ اس کا قبلہ مکہ ہونا تھا اور آپ بیت المقدس کی طرف نماز پڑھتے رہے۔ اسی طرح سے امام ربانی ٣ مجدد الف ثانی کے متعلق روضتہ القیومیہ ص ٨٠ میں لکھا ہے۔
مکتوب نمبر ٢٠٦ ج اوّل میں تحریر فرماتے ہیں کہ میں نے جو معارف توحید وجودی وغیرہ کے بارے میں لکھے ہیں وہ محض عدم اطلاع سے لکھے گئے ہیں۔ جب مجھے کام کی اصل حقیقت معلوم ہوئی تو جو کچھ ابتداء اور وسط میں لکھا گیا اس سے شرمندہ اور مستغفر ہوا۔
پس باوجودیکہ شرائط میں یہ طے ہو چکا تھا کہ قبل دعویٰ مسیحیت کی تحریر پیش نہیں کی جائے گی۔ مگر آپ نے خلاف شرائط اس کے علاوہ اور بھی بہت سی باتیں لکھیں۔ ہمارے مذکورہ بالا بیان سے واضح ہے کہ قرآن مجید سے جو دلائل پیش کئے گئے ہیں ان میں سے ایک دلیل بھی حضرت مسیح کی حیات پر دلالت نہیں کرتی۔ فافہم!
دستخط دستخط جلال الدین شمس (قادیانی مناظر) کرم داد دولمیال، پریذیڈنٹ جماعت احمدیہ
لے استصحاب کا ذکر بھی دو شرطیں مذکورین سے تجاوز ہے۔
٢ اسلامی مناظر نے اپنے پرچہ نمبر ٣ میں یوں تردید کی ہے کہ یہ قیاس مع الفارق ہے۔ کیونکہ مسئلہ حیات مسیح ابن مریم اعتقادیات سے ہے اور تحویل قبلہ عملیات سے اور نیز تحویل قبلہ والا معاملہ محمد رسول اللہ ﷺ کے ذریعہ ہے۔ جس کو سب اہل اسلام نبی برحق اعتقاد کرتے ہیں اور پہلے حیات مسیح ابن مریم کا قول کرنا اور پھر وفات کا قول کرنا۔ یہ مرزا قادیانی کے ذریعہ ہے۔ جن کو تمام اہل اسلام مفتری اعتقاد کرتے ہیں۔
٣ امام ربانی کا ذکر بھی دو شرطیں مذکورین سے تجاوز ہے۔
٨٢
١٩ اکتوبر ١٩٢٣ء پرچہ نمبر ٤
از مولوی جلال الدین صاحب قادیانی مناظر
وقت تحریر پرچہ ایک گھنٹہ
”بسم الله الرحمن الرحیم ، نحمده ونصلی علی رسولہ الکریم“ ”رب اشرح لی صدری ویسرلی امری واحلل عقدۃ من لسانی یفقهوا قولی“
- ١...... آپ نے لکھا ہے وہ ابھی داخل نہیں اموات میں ۔ ہے یہی مضمون تیس
آیات میں ۔ آپ ١؎ تیس آیات ہی نقل کر دیں جن میں یہ لکھا ہے کہ مسیح زندہ ہیں مردوں میں شامل نہیں۔ اگر آیات نہیں لکھ سکتے تو صرف سپارہ سورۃ رکوع وغیرہ ہی لکھ دیں۔
- ٢...... آپ ٢؎ مجھ پر الزام لگاتے ہیں کہ میں نے کوئی آیت یا حدیث وفات
مسیح پر پیش نہیں کی۔ مگر بعد میں پھر خود ہی میرے دلائل پیش کردہ کی تردید بھی کرتے ہیں تو پھر آپ کا یہ کہنا کہ میں نے کوئی آیت یا حدیث وفات مسیح پر پیش نہیں کی ۔ کیونکر صحیح ہوسکتا ہے۔
- ٣...... آپ ٣؎ فرماتے ہیں کہ ”فلما توفیتنی“ سے مراد ”انمتنی“ ہے۔
١؎ اسلامی مناظر نے اپنے پرچہ نمبر ٤ میں اس کے متعلق یہ لکھا ہے کہ شعروں کا مطلب یہ ہے کہ تمام قرآن کریم سے وفات ابن مریم ثابت نہیں ہوتی۔ بلکہ قرآن کریم سے حیات مسیح ابن مریم ثابت ہے اور کوئی قرآنی آیت حیات کے خلاف نہیں ۔
٢؎ اگر قادیانی مناظر اسلامی مناظر کی عبارت پرچہ نمبر ٢ کا مطلب سمجھتا تو یہ اعتراض نہ کرتا۔ کیونکہ اسلامی مناظر کا مطلب یہ ہے کہ قادیانی مناظر نے اپنے زعم کے مطابق دلائل وفات مسیح ابن مریم پیش کئے ہیں۔ لیکن قرآن کریم یا حدیث میں سے کوئی ایسی دلیل نہیں بیان کی جو بلحاظ الفاظ وقواعد عربیت وفات ابن مریم کو ثابت کرے ۔ جیسا کہ تردید سے ظاہر ہے۔
٣؎ اسلامی مناظر نے اپنے پرچہ نمبر ٤ میں اس کی تردید کی طرف یوں اشارہ کیا ہے کہ مطابق آیت ”اللہ یتوفی الانفس حین موتھا (زمر: ٤٢) “ توفیتنی سے معنی انمتی مراد لینے صحیح ہیں اور قادیانی مناظر حد فاصل کہہ کر محض عوام کو مغالطہ میں ڈالنا چاہتا۔ ورنہ معاملہ صاف ہے۔ کیونکہ جب اسلامی مناظر نے اپنے پرچہ نمبر ٢ میں یہ لکھا ہے کہ توفیتنی پیش گوئی انی متوفیک ورافعک الیٰ کے وقوع کا بیان ہے تو نیند مع الرفع مراد ہو گی جو حد فاصل بھی ہے۔
٨٣
قرآن شریف کہتا ہے کہ مسیح علیہ السلام کی صرف دو حالتیں ہیں اور دونوں کے درمیان حد فاصل توفی ہے۔ اس سے ثابت ہوا کہ پہلی حالت میں کبھی توفی نہیں پائی گئی اور پہلی حالت کا اختتام توفی سے ہوا۔ جس کے معنی حسب تفسیر آپ کے یہ ہوئے کہ مادمت کے زمانہ میں کبھی نہیں سوئے اور یہ قرآن مجید کے الفاظ ”لا تأخذه سنة ولا نوم“ کا ترجمہ ہے جو مادمت کی حالت میں ان میں الوہیت کو ثابت کرتا ہے۔ دوسری توفی کی دو صورتیں ہیں۔ ایک نیند اور دوسری موت ۔ قرآن شریف کہتا ہے کہ نیند کی توفی ایسی ہے جو بار بار آتی ہے اور موت کے وقت جو توفی ہوتی ہے وہ ایسی ہے جو ایک ہی دفعہ ہوتی ہے اور یہ آیت بتاتی ہے کہ یہ توفی ایسی ہے جو ایک ہی بار ہوئی ۔ کیونکہ یہ دو حالتوں کے درمیان حد فاصل ہے اور دونوں حالتوں کو علیحدہ علیحدہ کرتی ہے۔ اس لئے وہ موت ہی ہے نہ کوئی اور ۔
٣....... آپ ١؎ لکھتے ہیں کہ تثلیث زیر بحث نہیں ہے۔ اس کے لئے علم ہونا یا نہ ہونا دونوں برابر ہیں۔ مگر سوال یہ ہے کہ مسیح علیہ السلام نے جواب میں یہ بات کہی ہے یا نہیں۔ اگر بفرض تسلیم مان بھی لیا جائے کہ وہ اس سوال سے باہر تھی۔ مگر مسیح علیہ السلام نے جو جواب میں اس کا ذکر کیا تو ان کا کہنا یہ جھوٹ تھا یا سچ ۔ اگر جھوٹ تھا تو (نعوذ باللہ ) نبی جھوٹا ٹھہرتا ہے۔ اگر سچ تھا تو ان کی وفات ثابت ہے۔ کیونکہ وہ اپنی لاعلمی کا اظہار کرتے ہیں۔
١؎ اس مضمون کی تردید ہو چکی ہے۔ لیکن اسلامی مناظر نے اپنے پرچہ نمبر ٤ میں بھی قادیانی مناظر کو یوں ہدایت کی ہے کہ آیت المخاطب تمام اس طرح ہے۔ ”واذ قال الله يا عيسى ابن مريم أأنت قلت للناس اتخذونى وامى الهين من دون الله قال سبحانك ما يكون لى ان اقول ما ليس لى بحق ان كنت قلته فقد علمته تعلم ما فى نفسى ولا اعلم ما فى نفسك انك انت علام الغيوب ما قلت لهم الا ما امرتنى به ان اعبدوا الله ربی وربكم وكنت عليهم شهيدا مادمت فيهم فلما توفيتنى كنت انت الرقيب عليهم وانت على كل شئ شهيد ۔ ان تعذبهم فانهم عبادك وان تغفر لهم فانك انت العزيز الحكيم (مائدہ: ١١٨)“ اور آیت کے الفاظ میں غور کرنے سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ زیر بحث قول ہے نہ علم ۔ دیکھو ” أأنت قلت للناس “ اور دیکھو ”ما يكون لى ان اقول“ اور دیکھو ” ان كنت قلته “ اور دیکھو ”ماقلت لهم الا ما امرتنى“ یہ امر نہایت روشن ہے کہ سوال قول سے ہے۔ اس لئے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے ذمہ قول کے متعلق جواب دینا ضروری تھا نہ علم کے متعلق اور علم کا ہونا نہ ہونا برابر ہے اور اس آیت میں ایسا کوئی لفظ نہیں جس سے یہ ظاہر ہو کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے اپنے سے علم کی نفی کی ہے۔
٨٤
- ...... ٥ توفیتنی کے معنی نیند کرنا بالکل غلط ہیں۔ کیونکہ نیند کے معنی توفی کے اس
وقت ہوتے ہیں جب کوئی قرینہ منام یا لیل وغیرہ ہو اور یہ مسلمہ فریقین ہے اور پھر سوال یہ ہے کہ جب کوئی قرینہ موجود نہ ہو اور توفی باب تفعل سے ہو اور خدا تعالیٰ فاعل اور مفعول کوئی انسان ہو تو اس کے معنی سوائے اماتت کے کوئی نہیں ہوں گے۔ اگر ہوتے ہیں تو کوئی مثال پیش کرو اور ہم پہلے پرچے میں اپنے معنوں کی تائید میں آیات اور لغت کے حوالہ پیش کر چکے ہیں۔ ”توفنی مسلماً اور توفنا مع الابرار (آل عمران: ١٩٣) “ اور ”اما نرینک بعض الذی نعدهم او نتوفينك (يونس: ٤٦) “ وغیرہ۔
- ١۔ قادیانی مناظر کی اس عبارت سے ظاہر ہے کہ توفی نیند کے معنی میں مجاز ہے۔ بوجہ
ضرورت قرینہ کے اور اماتۃ کے معنی میں حقیقت ہے۔ بوجہ عدم ضرورت قرینہ کے اور قادیانی مناظر کا یہ کہنا بالکل باطل ہے۔ کیونکہ آیت ”الله يتوفى الانفس حين موتها والتي لم تمت في منامها فيمسك التي قضى عليها الموت ويرسل الاخرى الى اجل مسمى (زمر: ٤٢)“ سے ثابت ہے کہ توفی کا حقیقی معنی اور موضوع لہ مطلق قبض ہے۔ اماتت کیونکہ اگر توفی کا موضوع لہ اماتت پر معطوف ہے۔ اجتماع ضدین یعنی موت اور عدم موت لازم آئے گا۔ ”وهو باطل “ پس ثابت ہوا کہ توفی کا حقیقی معنی مطلق قبض ہے اور نیند اور موت اس کے انواع ہیں۔ نہ بالخصوص موت موضوع لہ ہے اور نہ ہی نیند اور قادیانی مناظر کا یہ کہنا کہ توفی باب تفعل سے ہو اور خدا تعالیٰ فاعل ہو اور مفعول انسان یا روح ہو تو اس جگہ معنی قبض روح یا اماتت کے ہوتے ہیں۔ اس امر کا اعتراف ہے کہ توفی کے حقیقی معنی اماتت کے نہیں۔ ورنہ ان قیود کی کیا ضرورت تھی۔ اس بات پر بڑی حیرانگی و تعجب آتا ہے کہ مرزا قادیانی اور ان کے معتقدین نے اس امر پر بڑا زور و جوش ظاہر کیا ہے اور کرتے ہیں کہ توفی باب تفعل سے ہو اور خدا تعالیٰ فاعل ہو اور مفعول ذی روح ہو تو اس جگہ قبض روح کے معنی ہوتے ہیں۔ کیونکہ اس زور و جوش ظاہر کرنے سے مرزائیت کو کوئی فائدہ نہیں۔ کیونکہ اگر متوفیک بمعنی ممیتک تسلیم کیا جائے تو پھر بھی برائے قواعد عربیت یہ آیت توفی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی حیات پر قطعی دلیل ہے اور اگر توفیتنی بمعنی امتنی مانا جائے تو پھر بھی بروئے الفاظ جیسا کہ آیت تخاطب حیات ابن مریم پر دلیل نہیں۔ ویسا ہی یہ آیت تخاطب ابن مریم کی وفات پر دلیل نہیں اور آیت توفی اور آیت تخاطب کے متعلق مفصل تقریر بیان ہو چکی ہے۔ پھر مرزائیوں کو اس زور و جوش سے کیا فائدہ ہوا۔
٨٥
- ٦....... آپ لکھتے ہیں اگر توفیتنی سے مراد امیتنی لی جاوے نہیں معلوم کہ جناب
مفتی صاحب نے امیتنی کیسے لکھ دیا۔ ہم تو آپ کی شان سے بالکل بعید سمجھتے ہیں۔ غالباً انہوں نے امیت کو سقیت کی طرح سمجھ لیا ہے۔ کسی سے سنا ہوگا کہ سقیت واحد مخاطب مذکر ماضی کا صیغہ ہے۔ انہوں نے اماتہ سے بھی اسی وزن اماتہ بروزن سقایہ پا کر واحد مخاطب ماضی کا صیغہ امیت بنالیا۔ مگر جناب کو معلوم ہو کہ اماتہ میں ہمزہ زائدہ ہے اور سقایہ میں سین اصلی ہے۔ اس لئے یہ لفظ امیتنی نہیں بلکہ امتی ہے۔ ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ مفتی صاحب نے غلطی سے لکھ دیا ہوگا۔ کیونکہ انہوں نے تقریر میں بھی یہی بیان کیا تھا۔
١؎ قادیانی مناظر نے ہر دو دن کی تقریروں میں تلفظ عموماً بکثرت غلط کیا اور خصوصاً قرآن مجید کو ایسا غلط پڑھا کہ حفاظ بے اختیار بول اٹھے کہ اے قادیانی صاحب للہ قرآن مجید کو تو صحیح پڑھو۔ مگر وہ بیچارہ کیا کرے کہ صحیح پڑھنا تو اس کی طاقت سے باہر تھا۔ باوجود ایسے تلفظات کثیرہ کے مفتی صاحب اسلامی مناظر نے بلحاظ حدیث ’’ لکل امرأ ما نویٰ ‘‘ کوئی مواخذہ لفظی نہ کیا اور اصل موضوع پر بلحاظ معانی مناظرہ کرتے رہے۔ لیکن قادیانی مناظر کو موضوع مناظرہ کے متعلق جب ناکامی ہوئی تو اس نے یہ مسئلہ امتی و امیتنی کا چھیڑ دیا۔ اس کی اصل حقیقت یہ ہے کہ قادیانی مناظر نے اپنے دلائل وفات ابن مریم میں ایک دلیل ’’ فلما توفیتنی ‘‘ بھی پیش کی۔ جس کے جواب میں اسلامی مناظر نے کہا کہ اگر توفیتنی بمعنی امیتنی ہو تو اس کی یہ تردید ہے اور اگر توفیتنی بمعنی امتی ہو تو اس کی یہ تردید ہے۔ جس سے اسلامی مناظر کا یہ مطلب تھا کہ اگر توفیتنی بمعنی نیند ہو تو یہ جواب ہے اور اگر بمعنی موت ہو تو یہ جواب ہے۔ اب قادیانی مناظر کا یہ مواخذہ کرنا اس لحاظ سے کہ یہ مواخذہ لفظی موضوع مناظرہ سے چسپاں نہیں۔ لیس من ادآب المحصلین والمناظرین بل من ادآب المجادلین والمکابرین اور نیز یہ تلفظ ایسا نہیں جس کی لغت عرب میں صحت کی کوئی صورت نہ ہو۔ کیونکہ یہ صیغہ واحد مذکر مخاطب اصل میں اَمَتی ہے۔ جس میں دو حرف ایک جنس کے جمع ہیں۔ اب اگر تاء کو تا میں ادغام کیا جائے تو اَمَتّی پڑھا جائے گا اور اگر تاء کو یاء کے ساتھ بدل دیا جائے تو اَمَتیِ پڑھا جائے گا اور دو حرف ایک جنس میں سے ایک حرف کا یاء کے ساتھ بدل دینا تخفیف کے لئے لغت عرب میں بکثرت آیا ہے۔ فصول اکبری میں ہے ’’ ویا بدل مے آید از یکی از دو حرف یا سہ حرف تضعیف چوں دینار اصلہ دنّار واملیت اصلہ امللت وقصیت اصلہ قصصت ‘‘ اور شافیہ میں ہے۔ ’’ والیاء تبدل من احد حرفی المضاعف نحو املیت وقصیت ‘‘ قادیانی مناظر نے یہ مجادلہ کے رنگ میں نہایت کمزوری دکھائی ہے۔ شجاعت تو یہ تھی کہ جیسا کہ مفتی صاحب اسلامی مناظر نے قرآن کریم کے فقرہ ’’ بل رفعہ الله الیہ ‘‘ کے ساتھ بروئے بل ابطالیہ و قصر قلب دو شرطیں مذکورین کے تحت میں رہ کر اپنا دعویٰ حیات مسیح ابن مریم ایسا ثابت کر دیا ہے۔ جس کے جواب دینے سے قادیانی مناظر ہی نہیں بلکہ کل کی کل قادیانی جماعت عاجز ہوگئی ہے۔ ویسا ہی قادیانی مناظر بھی ایک فقرہ قرآن کریم کا ایسا پیش کرتا جس کے ساتھ دو شرطیں مذکورین کے تحت میں رہ کر اپنا دعویٰ وفات مسیح ابن مریم ایسا ثابت کرتا جس کے جواب سے کم از کم اسلامی مناظر ہی عاجز ہو جاتا اور تمام حاضرین پر روشن ہے کہ قادیانی مناظر کے طول وطویل خیالی و وہمی ڈھکوسلوں کو اسلامی مناظر نے دو شرطیں مذکورین کے تحت میں رہ کر مختصر فقروں کے ساتھ رد کر دیا ہے۔ واقعی اسلامی مناظر مناظرہ کرتا رہا اور قادیانی مناظر مدعی مناظرہ ہو کر حقیقت میں مجادلہ یا مکابرہ کرتا رہا۔
٨٦
ے...... پھر ١ آپ نے اذ قال کے معنی استقبال کے کرنے کے لئے مثال میں اذ الاغلال کو پیش کیا ہے۔ جناب مفتی صاحب کو شاید یہ معلوم نہیں کہ اغلال فعل نہیں بلکہ اسم ہے۔ اگر یقین نہ ہو تو کسی مولوی سے پوچھ لیجئے کہ آیا الاغلال اسم ہے یا فعل۔ اور نیز ٢ اس بات کی ضرورت کیا تھی۔ ہم نے خود استقبال کے معنی کئے تھے۔ آپ ہماری دلیل کو بغور پڑھیں کہ انہوں نے قیامت کے دن اپنی بریت کرتے ہوئے اپنی قوم کا بگڑنا اپنی موت کے بعد قرار دیا ہے اور ان کا معاملہ خدا کے سپرد کیا ہے۔
١ اسلامی مناظر نے اپنے پرچہ نمبر ٤ میں یوں تردید کی ہے کہ قادیانی مناظر کا عقل کہاں گیا۔ کیونکہ میں نے اپنے پرچہ نمبر ٢ میں اس طرح لکھا ہے۔ اور اذ استقبال کے لئے بھی آتا ہے اور ”فسوف یعلمون اذ الاغلال فی اعناقھم (غافر: ٧١)“ اس میری عبارت سے صاف طور پر ظاہر ہے کہ اذ الاغلال مثال اذ کے لئے ہے نہ ماضی کے لئے اور ماضی کا بمعنی استقبال آنے کے لئے میں نے اپنے اسی پرچہ نمبر ٢ میں نفخ وغیرہ کے ساتھ مثال دی ہے۔ پس قادیانی مناظر کا اذ الاغلال میں ماضی کا ذکر کرنا نری جہالت ہے۔
٢ جناب من اسلامی مناظر کا یہ مذاق نہیں کہ الزام پر اکتفاء کرے۔ بلکہ اس کا مذاق تحقیق ہے۔ سبحان اللہ۔ صداقت کا آفتاب اپنے انوار و تجلیات ظاہر کرنے سے کبھی نہیں رک سکتا۔ دیکھو کہ قادیانی مناظر نے خود ہی تسلیم کرلیا ہے کہ یہ واقعہ ”اأنت قلت للناس اتخذونی“ قیامت کو ہوگا۔ جس سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی آج وفات ثابت نہیں ہوتی۔
مولوی شیخ امام الدین صاحب ساکن ہریانے بعد اختتام مناظرہ فرمایا۔
منور کس طرح ہوگا جسے گردش نے گھیرا ہے
لڑائی باز کی اکثر ہوا کرتی ہے بازوں سے
کوئی بٹیر جا ڈھونڈ لو کہ تو بھی اک بٹیرا ہے
غلام مرزا پہلے تو کر لے علم کی تحصیل
غلام مرتضیٰ سے کم بہت کچھ علم تیرا ہے
٨٧
- ٨....... پھر ١؎ جناب مفتی صاحب فرماتے ہیں کہ مشبہ اور مشبہ بہ میں کل
مشابہت ضروری نہیں ہوتی۔ صحیح مگر کیا آپ یہاں صرف لہجہ میں مشارکت مانتے ہیں کہ میں مسیح کے لہجہ میں کہوں گا۔ نہیں بلکہ آپ تو مسیح کی امت کے واقعات کو اپنی امت کے واقعات پر قیاس کر کے اپنا وہی جواب دیتے ہیں جو مسیح علیہ السلام کا ہے۔ اگر حدیث میں ان واقعات کی تشریح نہ ہوتی تو آپ یہ بات کہہ بھی سکتے تھے۔ مگر اب تو حدیث میں جن واقعات میں مشارکت تھی تشریح کردی گئی ہے۔
- ٩....... قد خلت کے متعلق آپ فرماتے ہیں کہ خلو کے معنی نقل مکانی کے
١؎ یہ خیالی اور وہمی باتیں پھر پھر پیش کی جاتی ہیں۔ حالانکہ اسلامی مناظر نے اپنے پرچہ نمبر ٢ میں اس کا جواب دے دیا ہے اور پھر بلاضرورت اسلامی مناظر نے اپنے پرچہ نمبر ٤ میں بھی یوں تردید کی ہے کہ تشبیہ میں یہ ضروری نہیں کہ مشبہ اور مشبہ بہ میں ہر حیثیت میں اشتراک ہو۔ جس کی توضیح یہ ہے کہ ”التشبیہ ان یدل علی مشارکۃ امر لاخر فی معنی (مطول ص ٢٨٦)“ یعنی تشبیہ سے مراد بیان کرنا مشارکت ایک چیز کی ساتھ دوسری چیز کے کسی وصف میں۔ مثلاً زید کالاسد میں اتنا ضروری ہے کہ زید اور اسد کسی وصف میں شریک ہوں۔ جیسے شجاعت اور یہ ضروری نہیں کہ زید شیر کی ہر ایک وصف میں شریک ہو۔ ورنہ لازم آئے گا کہ تشبیہ زید کالاسد اس صورت میں صحیح ہو کہ زید سوائے ماہیت کے تمام عوارض شیر میں اس کا شریک ہو۔ ”وھو کما تری“ پس ”فاقول کما قال العبد الصالح“ میں قول آنحضرتﷺ مشبہ ہے اور قول عیسیٰ علیہ السلام مشبہ بہ ہے اور وجہ تشبیہ کے لئے اتنا کافی ہے کہ مقول آنحضرتﷺ اور مقول عیسیٰ علیہ السلام کے الفاظ بعینہا ہوں اور یہاں ما نحن فیہ میں تو ضرورت سے زیادہ ان الفاظ کے معنی میں بھی ایک نوع کی شراکت ہے۔ کیونکہ اگر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے قول توفیتنی سے مراد امتی لی جائے تو قبض روح کے معنی میں شراکت ہوگی اور آنحضرتﷺ کی عبارت میں قبض روح مع الامساک مراد ہوگی اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی عبارت میں قبض روح مع الارسال مراد لی جائے گی اور اگر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے قول توفیتنی سے امتی مراد ہو تو پھر ایک اور زیادہ قوی مشارکت ہو جائے گی۔
٢؎ اسلامی مناظر نے اپنے پرچہ نمبر ٢ میں اس دلیل قد خلت کا جواب دیا ہے۔ لیکن چونکہ قادیانی مناظر نے اپنے پرچہ نمبر ٣ میں اس کے متعلق ادھر ادھر کی باتیں کی ہیں۔ اس لئے اسلامی مناظر نے اپنے پرچہ نمبر ٤ میں بھی یوں تردید کی ہے کہ آیت ”سنة اللہ التی قد خلت“
٨٨
ہوتے ہیں۔ مگر آپ کو معلوم ہونا چاہئے کہ آیت میں مکان کا تو ذکر نہیں ۔ اس لئے نقل زمانی ہی خلو سے مراد ہو سکتی ہے اور اس سے مراد یہی ہے کہ زندگی کا زمانہ گزار کر وفات پا گئے۔ نیز ہم نے لغت کے حوالہ جات سے ثابت کیا تھا کہ خلو کے معنی مرنے کے ہیں۔ اب میں ایک شعر بھی پیش کرتا ہوں جو یہ ہے۔
قول لما قال الكرام فعول
تمام شراح نے یہاں خلا کے معنی مات کے کئے ہیں۔ اسی طرح قرآن مجید کی آیات (١) ”تلك امة قد خلت لها ما کسبت (بقره:١٤١)“ اور آیت ”وان من قرية الا خلا فيها نذير (فاطر:٢٤)“ اور آیت ”قد خلت من قبلها امم (رعد:٣٠)“ وغیرہ سب میں خلو سے مراد موت ہے اور جو آیت ”واذا خلوا الى شياطينهم (بقره:١٤)“ ہے۔ اس میں صاف قرینہ نقل مکانی کا موجود ہے۔
بقیہ حاشیہ: کا قادیانی مناظر نے کوئی جواب نہیں دیا۔ اگر ہم قادیانی مناظر کو خوش کرنے کے لئے یہ تسلیم کر لیں کہ ”قد خلت من قبله الرسل“ میں خلت بمعنی ماتت ہے تو پھر بھی یہ دلیل وفات مسیح ابن مریم کو ثابت نہیں کرتی ۔ کیونکہ الرسل میں الف لام استغراقی نہیں۔ اس وجہ سے کہ ”قد خلت من قبله الرسل“ میں ”من قبله“ یا الرسل کی نعت نحوی ہوگی۔ یا الرسل سے حال ہوگا اور یہ دونوں شقیں باطل ہیں۔ شق اوّل اس وجہ سے باطل ہے کہ تمام نحویوں کا اتفاق ہے کہ نعت نحوی منعوت نحوی پر ذکر میں مقدم نہیں ہوتی اور شق ثانی اس لئے باطل ہے کہ بروئے قواعد نحو حال کی تقدیم اس وقت ہونی چاہئے جب ذوالحال نکرہ ہو اور ما نحن فیہ میں الرسل معرفہ ہے۔ پس معین ہوا کہ من قبلہ خلت کے متعلق ظرف لغو ہے اور قادیانی مناظر کی رائے کے مطابق آیت ”قد خلت من قبله الرسل“ کے یہ معنے ہوئے کہ تمام رسول محمد رسول اللہ ﷺ سے پہلے فوت ہو چکے ہیں اور یہ معنی بدیہی البطلان ہیں۔ کیونکہ اس آیت کے پہلے فقرے یعنی ما محمد الا رسول سے ثابت ہوتا ہے کہ محمد رسول ہیں اور فقرے ”قد خلت من قبله الرسل“ سے بوقت استغراق مراد لینے کے یہ ثابت ہوتا ہے کہ آنحضرت ﷺ نعوذ باللہ من ذلک رسول نہیں۔ ”وهل هذا الا تناقض في القرآن وهو بديهي البطلان“ پس ثابت ہوا کہ من قبلہ اس بات کا قرینہ قطعیہ ہے کہ الرسل میں الف لام استغراقی نہیں بلکہ جنس کے لئے ہے جو لا بشرط شے کے مرتبہ میں ملحوظ ہوتی ہے نہ بشرط کے مرتبہ میں۔
٨٩
١٠....... جناب اے نے لکھا ہے کہ جنگ احد کے واقعہ میں سالبہ کلیہ کی تردید ہے جو مہملہ سے ہو سکتی ہے۔ مفتی صاحب اصطلاح تو لکھنا جانتے ہیں۔ مگر حقیقت سے واقف نہیں ۔ مفتی صاحب کو معلوم ہونا چاہئے کہ صحابہ تو صحابہ دنیا میں کوئی انبیاء کو ماننے والا اس بات کا قائل نہیں کہ کوئی نبی نہیں مرا۔ جو سالبہ کلیہ ہے بلکہ ان کو تو عیسائیوں کے قصہ کی وجہ سے یہ خیال ہو سکتا تھا کہ بعض نبی فوت نہیں ہوئے ۔ جو سالبہ جزئیہ ہے اور جس کی تردید موجبہ کلیہ سے ہونی چاہئے اور موجبہ کلیہ یہ ہے کہ: ”قد خلت من قبله الرسل“ کہ سب رسول فوت ہو چکے ہیں۔ پھر مفتی صاحب کا یہ کہنا کہ موجبہ جزئیہ سے تردید ہونی چاہئے ۔ کیوں کیا موجبہ کلیہ سے تردید نہیں ہو سکتی ؟ کل رسولوں کے فوت شدہ ہونے سے بعض رسولوں کا فوت شدہ ہونا بھی لازم آتا ہے۔ اب میں نہیں کہہ سکتا کہ مفتی صاحب نے یہ عدم علم کی وجہ سے لکھا ہے یا جان بوجھ کر۔ جان بوجھ کر تو میں کہہ نہیں سکتا۔
١؎ افسوس کہ قادیانی مناظر نے مفتی صاحب اسلامی مناظر کے پرچہ نمبر ٢ کی عبارت کو نہیں سمجھا۔ یا عمداً یہ خیالی باتیں کی ہیں۔ کیونکہ اسلامی مناظر کی عبارت پرچہ نمبر ٢ کا یہ مطلب ہے کہ جنگ احد میں جب یہ غلط خبر اڑ گئی کہ آنحضرت ﷺ شہید ہو گئے ہیں اور بعض لوگوں نے نبوت اور موت میں منافات سمجھی جو سالبہ کلیہ کا مصداق ہے اور ارتداد کا راستہ اختیار کرنے لگے تو اللہ تعالیٰ نے ان کے خیال باطل کی تردید کے لئے یہ آیت نازل فرمائی اور ظاہر کر دیا کہ نبوت اور موت میں منافات نہیں۔ پس الف لام الرسل میں استغراقی نہیں بلکہ جنسی اور جنس لا بشرط شے کے مرتبہ میں ہوتی ہے نہ بشرط لا کے مرتبہ میں اور قد خلت من قبلہ الرسل قضیہ موجبہ مہملہ ہے۔ جو قوۃً موجبہ جزئیہ میں ہے اور سالبہ کلیہ کی نقیض موجبہ جزئیہ ہوتی ہے اور آیت ”ولقد آتينا موسى الكتاب وقفينا من بعده بالرسل (بقرہ: ٨٧) “ کو غور سے پڑھنا چاہئے کہ یہی لفظ الرسل بصیغہ جمع با الف ولام موجود ہے اور یہاں استغراق افراد قطعاً باطل ہے۔ کیونکہ اس آیت کے یہ معنی ہیں کہ موسیٰ علیہ السلام کو ہم نے کتاب دی اور اس کے پیچھے اس کی آئین پر کئی رسول بھیجے۔ نہ یہ کہ سب رسول حضرت موسیٰ علیہ السلام کے بعد بھیجے گئے ۔ کیونکہ یہ معلوم ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام سب سے پہلے رسول نہیں۔ ایسا بلکہ کئی رسول آپ کے پہلے ہوئے اور کئی آپ کے بعد ۔
٩٠
- ١١....... آپ کا ١؎ پر لکھنا کہ حضرت ابوبکرؓ کی نظر ”افإن مات“ پر تھی تو اس پر
سوال یہ ہے کہ وہ لوگ جو آنحضرت ﷺ کے متعلق کہتے تھے کہ آپ کو فوت نہیں ہونا چاہئے۔ کیا وہ سمجھتے تھے کہ بعض زندہ ہیں یا سب؟ ظاہر ہے کہ وہ بعض کو زندہ مانتے تھے۔ پس انہیں کی تردید مقصود تھی۔ جب یہ ثابت ہو جائے کہ کوئی بھی زندہ نہیں تو انہوں نے مان لیا۔ اس لئے زیادہ تر نظر ”قد خلت من قبله الرسل“ پر ہی تھی۔
- ١٢....... آپ ٢؎ پر فرماتے ہیں: ”والذین یدعون من دون الله
(نحل:٢٠)“ قضیہ مطلقہ عامہ ہے۔ ورنہ لازم آئے گا کہ روح القدس فوت ہو گئے ۔ مگر جناب مفتی صاحب! آپ کو معلوم ہونا چاہئے کہ یہاں ان معبودان باطلہ کا ذکر ہے جن کی طرف خلق منسوب کی جاتی ہے اور وہ عالم خلق سے ہیں نہ عالم امر سے اور ان سے دعائیں کی جاتی ہیں۔ پہلے روح القدس کے متعلق یہ تینوں صفات ثابت کر دیں۔ پھر اعتراض کریں۔
- ١؎ اسلامی مناظر نے اپنے پرچہ نمبر ٢ میں اس کی تردید کی ہے اور اس نے اپنے پرچہ نمبر ٢ میں
قادیانی مناظر کو ہدایت کی ہے جس کا خلاصہ یہ ہے کہ اس لحاظ سے کہ صحابہؓ کو آنحضرت ﷺ کی شخصیت کے متعلق اضطراب تھا۔ اس لئے حضرت ابوبکرؓ نے ”افإن مات او قتل“ کہہ کر ان کا اضطراب رفع کیا اور یہی وجہ ہے کہ اس موقعہ پر حضرت ابوبکرؓ نے حاضرین کو مخاطب کر کے فرمایا: ”ایها الناس من كان يعبد محمداً فان محمداً قد مات ومن كان يعبد رب محمد فان الله حى لا يموت
(مجلس معارف ص٥٨٨، بيروت)“
- ٢؎ اسلامی مناظر نے اپنے پرچہ نمبر ٢ میں اس دلیل یعنی ”والذین یدعون من دون الله
لا يخلقون شيئاً وهم يخلقون اموات غير احياء وما يشعرون ايان يبعثون (نحل:٢٠)“ کا جواب دیا ہے اور پھر اسلامی مناظر نے اپنے پرچہ نمبر ٤ میں بھی قادیانی مناظر کی مذکورہ باتوں کا جواب دیا ہے کہ روح القدس جو تثلیث کا اقنوم ثالث ہے۔ ان معبودات باطلہ میں داخل ہے۔ جن کا اس آیت میں بیان ہے۔ کیونکہ ”والذین یدعون من دون الله“ اور ”لا يخلقون شيئاً“ اور ”وهم يخلقون“ یہ تمام صفات روح القدس میں پائی جاتی ہیں اور اسم موصول میں عموم ہے اور قادیانی مناظر کا یہ کہنا کہ وہ عالم خلق سے ہے نہ عالم امر سے۔ عجیب بات ہے۔ کیونکہ جو چیز امر اللہ سے پیدا ہو کیا وہ عالم خلق اور مخلوق اللہ سے نہیں۔ اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ خداوند کریم نے معبودات باطلہ کی معبودیت کو کئی رنگوں میں باطل کیا ہے۔ اوّل اس طرح کہ ”لا يخلقون شيئاً“ یعنی وہ کوئی چیز پیدا نہیں کرتے اور معبود خالق ہوتا ہے۔ دوم اس طرح کہ ”وهم يخلقون“ یعنی وہ پیدا کئے جاتے ہیں اور معبود مخلوق نہیں ہوتا۔ سوم یہ کہ ان پر فی وقت من الاوقات موت آنے والی اور معبود پر موت کا آنا ناممکن ہے۔ چہارم یہ کہ ان کو علم نہیں کہ کب زندہ کئے جائیں گے اور معبود عالم الغیب والشہادۃ ہے۔
٩١
باقی ١؎ رہا یہ کہ یہ قضیہ مطلقہ عامہ ہے۔ اس سے ان کا مرے ہوئے ہونا ثابت نہیں ہوتا۔ یہ آپ کی خوش فہمی ہے۔ کیونکہ اگر تمام معبودان باطلہ کو مرے ہوئے بھی مان لیا جائے تو پھر بھی مطلقہ عامہ کا اطلاق صحیح ہوگا اور یہاں محل موت مراد لینا بھی صحیح نہیں۔ کیونکہ ”غیر احیاء“ اس کی تردید کر رہا ہے اور اس کے معنی کوئی نہیں بنتے۔ بالکل مہمل کلام ہو جاتا ہے کہ وہ مرنے والے ہیں زندہ نہیں۔
باقی رہا اس کی تائید میں ”انك ميت“ پیش کرنا یہ صحیح نہیں۔ بے شک کسی حافظ سے پوچھ لیں کہ اس میں ”انك ميت غير حى وانهم ميتون غير احیاء“ نہیں ہے اور نیز آیت اموات الذین کی خبر ہے اور اسم موصول ٢؎ استغراق کے لئے ہوتا ہے۔ اس لئے کوئی فرد اس سے باہر نہیں۔
١٣...... پھر آپ فرماتے ہیں کہ: ”کانا یأکلان الطعام“ میں تغلیب مریم کی وجہ سے کی گئی ہے۔ حالانکہ یہاں تردید ٣؎ صرف مسیح کی الوہیت کی مقصود ہے۔ پہلی آیات پڑھ لیں۔ دوسرے ٤؎ تغلیب جب مذکر و مؤنث اکٹھے ہوں تو مذکر کی طرف سے ہوتی ہے۔ جیسے القمران سورج چاند کے لئے کہا جاتا ہے۔ شمسان نہیں کہا جاتا۔ کیونکہ شمس عربی زبان میں مؤنث ہے اور ”كانت من القانتين“ تو بالکل آپ کے مدعا کے خلاف ہے۔ کیونکہ آپ نے تغلیب مؤنث کی مثال دی ہے اور طعام کے متعلق تو سوال یہ ہے کہ: ”يطعمنى ربی ويسقينى“
١؎ اسلامی مناظر نے اپنے پرچہ نمبر ٤ میں یوں ہدایت کی ہے کہ چونکہ اس آیت میں معبودان باطلہ کی معبودیت باطل کرنا مقصود ہے۔ اس لئے تاکیداً اموات غیر احیاء (نحل: ٢٠) فرمایا اور اگر یہ قضیہ مطلقہ عامہ نہ ہوتا تو اگر کوئی شخص یا کوئی قوم اس وقت کسی زندہ شخص کو معبود قرار دے تو اس کو اس آیت کی رو سے جیتے جی کس طرح مردہ تسلیم کر سکتے ہیں۔ پس آیت اپنے مطلب میں غیر کافی رہے گی۔ جس سے قرآن کریم پاک ہے اور قادیانی مناظر لکھتا ہے کہ اگر تمام معبودان باطلہ کو مرے ہوئے مان بھی لیا جائے تو پھر بھی مطلقہ عامہ کا اطلاق صحیح ہوگا۔ افسوس کہ قادیانی مناظر کو خود تو مطلقہ عامہ کے مفہوم اور مصداق کے درمیان فرق معلوم نہیں اور خلاف تہذیب اسلامی مناظر کے متعلق لکھتا ہے کہ اصطلاح تو لکھ جانتے ہیں۔ لیکن حقیقت سے واقف نہیں۔
٢؎ سبحان اللہ قادیانی مناظر کا کیا علم و فضل ہے کہ ایک مقام پر تو اس اسم موصول سے روح القدس کو خارج کر رہے ہیں جو معبودان باطلہ سے ہے اور اس مقام پر ارشاد فرماتے ہیں کہ اسم موصول ”الذین یدعون“ استغراق کے لئے ہے۔ کوئی اس سے فرد باہر نہیں۔
٣؎ قادیانی مناظر صاحب لکھتے ہیں حالانکہ یہاں تردید صرف مسیح کی الوہیت کی مقصود ہے۔ پہلی آیات پڑھ لیں۔ قادیانی مناظر کے علم پر رونا آتا ہے۔ دیکھو اس آیت کا سیاق سباق یوں ہے۔
”لقد کفر الذین قالوا ان الله ثالث ثلثة وما من اله الا اله واحد وان لم ینتهوا عما یقولون لیمسن الذین کفروا منهم عذاب الیم افلا یتوبون الی الله ویستغفرونه
٩٢
واللہ غفور رحیم ، ما المسیح ابن مریم الا رسول قد خلت من قبلہ الرسل وامہ صدیقۃ کانا یأکلان الطعام انظر کیف نبین لہم الایات ثم انظر انی یوفکون (مائدہ:٧٥) ”یہ امر بالکل ظاہر ہے کہ ان آیات سے مقصود دو امر ہیں۔ اثبات توحید، ابطال الوہیت عیسیٰ اور مریم۔ اثبات توحید کے لئے فرمایا: ”ما من الہ الا الہ واحد“ اور ابطال الوہیت کے لئے فرمایا: ”ما المسیح ابن مریم الا رسول قد خلت من قبلہ الرسل وامہ صدیقۃ کانا یا کلان الطعام “ یعنی عیسیٰ اور مریم کی احتیاج الی الطعام ان کی الوہیت کو باطل کرتی ہے۔ اس آیت میں حضرت مریم علیہا السلام کا ذکر اس لئے کہ عیسائیوں میں سے بعض فرقوں کے نزدیک حضرت مریم علیہا السلام بھی الوہیت کے مرتبہ تک پہنچ چکی ہیں۔ جیسا کہ اسی سورۃ کے اخیر میں ہے۔ ”أانت قلت للناس اتخذونی وامی الہین من دون اللہ (مائدہ)“ اس مضمون بالا سے صاف طور پر ظاہر ہے کہ ابطال مقصود ہے۔ نہ صرف مسیح کی الوہیت کا۔ پس قادیانی مناظر کا یہ کہنا کہ یہاں تردید صرف مسیح کی الوہیت کی مقصود ہے۔ جہل مرکب کا ثمرہ ہے۔
- ٤ اسلامی مناظر نے اپنے پرچہ نمبر ٤ میں اس کی یوں تردید کی ہے کہ سبحان اللہ قادیانی مناظر
نے کیا گل کھلایا ہے۔ کیونکہ میں نے اپنے پرچہ نمبر ٢ میں یہ لکھا ہے: ”کانا یا کلان الطعام“ میں صیغہ ماضی ان کی ماں کی وجہ سے اور میری مراد اس سے یہ ہے کہ کانا صیغہ ماضی کا حضرت مریم علیہا السلام کی وجہ سے ہے۔ کیونکہ وہ اس وقت طعام نہیں کھاتے اور پھر میں نے اپنے پرچہ نمبر ٢ میں لکھا ہے۔ (تغلیب ہے جیسے ”کانت من القانتین“ میں) اور اس سے مراد میری یہ ہے کہ مذکر ومؤنث اکٹھے ہو گئے۔ جس میں تذکیر کو تانیث پر غلبہ دے کر مذکر کے ساتھ تعبیر کی گئی ہے اور قادیانی مناظر ایسے اجہل المرکب ہیں کہ بات تو ہماری بیان کر رہے ہیں اور سمجھتے یہ ہیں کہ ہم تردید کر رہے ہیں۔
- ٥ افسوس کہ قادیانی مناظر بے ربط اور بے اصل باتیں کئے جاتے ہیں۔ کیونکہ طعام ”من
حیث ھو ھو ما یطعم بہ“ کو کہتے ہیں۔ یعنی جو طعم اور غذا ہو کر مایہ حیات بنے۔ مادی ہو یا غیر مادی ہو۔ جیسا کہ اس حدیث سے واضح ہے۔ ”لست کا حدکم یطعمنی ربی ویسقینی (بخاری ج ١ ص ٢٦٢، باب الوصال ومن قال لیس فی اللیل صیام)“ دیکھو یطعمنی جس کا اصل ماخذ طعام ہے اور کانا یاکلان الطعام میں زیر بحث احتیاج الی الطعام ہے۔ مادی ہو یا غیر مادی۔ کیونکہ مطلق احتیاج الوہیت کو باطل کرتی ہے۔
٩٣
میں طعام مادی مراد ہے یا غیر مادی۔ ظاہر ہے کہ غیر مادی مراد ہے۔ ورنہ وصال کا روزہ کیسے صحیح ہوسکتا ہے اور ”کانا یأکلان الطعام“ میں زیر بحث طعام مادی ہے۔ غیر مادی نہیں اور آنحضرت ﷺ مادی کھانے کے متعلق فرماتے ہیں۔ ”ولا مستغنی عنہ ربنا“ نیز اس کے متعلق ثابت کریں کہ خدا تعالیٰ ان کو یہ کھانا کھلاتا ہے۔
١٤...... ”اوصانی بالصلوٰۃ والزکوٰۃ“ کے متعلق جو اشکال تھا اس کو پہلے پرچہ میں کھول کر بیان کردیا گیا ہے اور زکوٰۃ ١ کے متعلق یہ کہتا ہوں کہ قرآن مجید میں جہاں کہیں صلوٰۃ اور زکوٰۃ اکٹھے آئے ہیں۔ وہاں فریضۂ زکوٰۃ مراد ہے کہ محض پاکیزگی۔ جیسے اقیموا الصلوٰۃ والزکوٰۃ اور آپ کا یہ فرمانا کہ میں ان کے لئے نصاب اور ان کا مالدار ہونا ثابت کروں عجیب بات ہے۔ یہ تو تب ٢ تھا کہ میں ان کو زندہ مانتا ہوتا۔ یہ تو آپ پر لازم آتا ہے۔ علاوہ ازیں اگر وہ صاحب مال نہیں تھے تو ان کو تکلیف بالمحال کیوں دی گئی اور ”جعلنی ٣ مبارکاً اینما کنت“ تو صلوٰۃ اور زکوٰۃ کو آسمان کے لئے بھی ثابت کررہا ہے کہ ان کو یہ احکام بجالانے چاہئیں۔
١٥...... والسلام علیٰ کی وجہ بیان کریں۔ کیونکہ ان دو خاص دنوں کا ذکر نہ کیا۔ اگر ”جعلنی مبارکاً“ میں وہ دن آچکے ہیں تو کیا ”یوم اموت“ وغیرہ نہیں آچکے۔ ان کی وجہ ذکر بیان کرو۔
١ اسلامی مناظر نے اپنے پرچہ نمبر ٤ میں اس کی اس طرح تردید کی ہے کہ میں نے ”حناناً من لدنا وزکوٰۃ“ کو پیش کیا ہے۔ قادیانی مناظر نے اس کا کوئی ذکر نہیں کیا اور قادیانی مناظر کا یہ کہنا کہ جہاں صلوٰۃ اور زکوٰۃ اکٹھے مذکور ہیں وہاں زکوٰۃ سے مراد صدقہ مفروضہ ہے۔ یہ استدلال استقرائی ہے اور استقرائی ظنی دلیل ہوتی ہے۔ یقینی نہیں ہوتی۔ پس اس سے اتنا تسلیم کیا جاسکتا ہے کہ بیشک قرآن شریف میں اکثر جگہ ایسا ہی وارد ہے۔ مگر اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ جس جگہ نماز کے ساتھ زکوٰۃ کا ذکر آوے اس جگہ خواہ مخواہ صدقہ مفروضہ ہی مراد لیا جاتا ہے۔ کیونکہ لغت اور عقل اس کی شہادت نہیں دیتے۔
٢ اسلامی مناظر نے اپنے پرچہ نمبر ٢ میں یہ لکھا ہے کہ پہلے میرے مناظر صاحب ابن مریم کا صاحب نصاب ہونا قرآن کریم یا حدیث سے ثابت کریں اور اس سے مراد یہ ہے کہ ابن مریم کا کسی وقت صاحب نصاب ہونا ثابت کریں۔
٣ یہ وہمی باتیں ہیں۔
٩٤
- ١٦...... آیت ١؎ ”ولکم فی الارض مستقر“ جب آپ کے نزدیک
مقر طبعی پر دلالت کرتی تھی تو مسیح مقر طبعی کو چھوڑ کر آسمان پر کیوں چلا گیا؟ اور ”فیھا تموتون“ بتا رہا ہے کہ یہاں میعاد کا ذکر ہے کہ موت تک زمین میں رہنا ہوگا۔ معلوم نہیں آپ ٢؎ جعل کے جال میں کیوں پھنس گئے۔
- ١٧...... اور آیت ”برسول یأتی ٣؎ من بعدی اسمه احمد“ میں بعد نبوت
اور موت دونوں کو شامل ہے۔ اب سوال ہے کہ آیا منفرداً یا مجتمعاً؟ اگر مجرد نبوت مراد ہے تو لا نبی بعدی کو مثال میں پیش کر کے آپ نے ثابت کر دیا کہ آنحضرت ﷺ کے بعد بھی نبی آ سکتا ہے اور نیز محض نبوت مراد لینے کے لئے کوئی آیت میں قرینہ بتانا چاہئے اور اگر مجتمعاً تو ہمارا مدعا ثابت ہے۔
- ١٨...... معمر سے مراد لمبی عمر پانے والا ہے نہ ہمیشہ کی عمر۔ کیونکہ ”منکس فی
الخلق“ ہونے کے لئے یا ارذل العمر تک پہنچنے کے لئے دوامی زندگی کی شرط نہیں۔
- ١٩...... یہ بھی ٤؎ آپ نے خوب کہی کہ حدیث ”لوکان موسیٰ وعیسیٰ“
چونکہ خلاف قرآن ہیں۔ اس لئے میں نہیں مانتا جب تک آپ اسے خلاف قرآن نہ ثابت
١؎ اس آیت کا کافی جواب گزر چکا ہے اور قادیانی مناظر کے یہ خیالات وتوہمات ”یفعل ما یشاء“ اور ”ان الله علی کل شئ قدیر“ کے خلاف ہیں۔
٢؎ جب جعل بخوبی قادیانی مناظر کو سمجھ نہ آیا تو کہہ دیا کہ آپ جعل کے جال میں کہاں پھنس گئے۔
٣؎ اسلامی مناظر نے اپنے پرچہ نمبر٤ میں اس کی یوں تردید کی ہے کہ بعدی میں مطلق نبوت ہے اور نبوت بالموت اور نبوت بغیر الموت اس کے انواع ہیں۔ چونکہ لا نبی بعدی میں نکرہ حیز نفی میں ہے۔ اس لئے اس کا یہ مطلب ہے کہ نہ آنحضرت ﷺ کی نبوت بالموت کے وقت کوئی نبی ہو سکتا ہے اور نہ آنحضرت ﷺ کی نبوت بغیر الموت کے وقت کوئی نبی ہو سکتا ہے۔ کیونکہ نکرہ حیز نفی میں مفید استغراق ہے۔ اس سے تو مرزا قادیانی کی نبوت بروزی وغیرہ بھی باطل ہو گئی اور یاتی من بعدی میں بعدی اثبات میں واقع ہے اور اثبات میں نبوت کے ایک نوع کا تحقق کافی ہے۔ یعنی نبوت بالموت ہو یا نبوت اس طرح پر ہو کہ ابن مریم آسمان پر اٹھانے کے بعد آنحضرت ﷺ تشریف لاویں۔
٤؎ اسلامی مناظر نے اپنے پرچہ نمبر٤ میں اس کی یوں تردید کی ہے کہ حدیث ”لـــوکـــان موسیٰ و عیسیٰ حَیَّیْن (الیواقیت والجواهر ج ٢ ص ٢٢) “ آیت ”وماقتلوه یقیناً بـل رفعه الله الیه“ کے بالکل خلاف ہے اور یہ وہ آیت ہے جس کا قادیانی مناظر کوئی جواب نہیں دے سکا اور اگر حیین علی الارض مراد لی جائے تو یہی آیت و دیگر آیات واحادیث حیات قرینہ ہوں گی۔
٩٥
کریں۔ اس وقت تک آپ کا یہ کہنا کیونکر صحیح ہو سکتا ہے۔ جب کہ اس حدیث کو بڑے بڑے ائمہ نے لکھا ہے۔ مثلاً (الیواقیت والجواہر ج ٢ ص ٢٢) میں امام عبدالوہاب شعرانی نے اور (مدارج السالکین) میں امام ابن قیم نے اور (تفسیر ابن کثیر) میں حافظ ابن کثیر نے۔ تو صرف آپ کے کہنے کی وجہ سے ہم کیونکر اسے درست مان لیں اور آپ نے علی الارض کی قید بڑھا کر ثابت کر دیا کہ ہمارا مدعا ثابت ہے اور اصل حدیث کے وہی معنی ہیں جو ہم نے کئے ہیں اور آپ صرف عن الظاہر کرتے ہیں۔ جس کا دوسرا نام حمل علی المجاز ہے اور اس کے لئے کسی قرینہ کی ضرورت ہے وہ قرینہ پیش کریں اور صحاح ستہ میں کسی حدیث کا بیان نہ ہونا کسی محدث نے وجہ ضعف ہی قرار نہیں دی۔
٢٠....... اور عمر ١؎ والی حدیث کا بھی اس میں جواب آ گیا ہے اور نیز اس طرح تو ماننا پڑے گا کہ آنحضرت ﷺ بھی ساٹھ برس کی عمر زمین پر گزاریں گے اور باقی کہیں اور حدیث میں تو مقدار رہائش کا ذکر ہے نہ کھانے پینے کا اور عمر کا بتانا مقصود ہے۔
٢١....... معراج کی حدیث کے متعلق جو ہم نے سوال کیا تھا وہ ویسے ٢؎ کا ویسا ہی قائم ہے۔ جو صحیح بخاری وغیرہ کی حدیث کے مطابق پڑتا ہے کہ وہ فوت شدہ انبیاء میں کیوں گئے۔ ان کا مردوں میں کیا کام۔
٢٢....... طبقات کبیر کی روایت پر جو آپ نے جرح کی ہے وہ بھی صحیح نہیں۔ افسوس ہے کہ آپ نے روایت کے الفاظ پر غور نہیں کیا۔ اس میں مسیح کو روح سے تعبیر نہیں کیا گیا۔ بلکہ ٣؎ روح کو مسیح بن مریم کی طرف مضاف کیا گیا ہے۔ آپ مضاف اور مضاف الیہ کے فرق کو بھی نہیں سمجھ سکے۔
١؎ اگر اس عمر والی حدیث کو حسب تشریح قادیانی مناظر لیا جائے تو اس پر یہ اعتراض وارد ہوگا کہ چونکہ قادیانی مناظر کے زعم میں مرزا قادیانی نبی ہیں۔ اس لئے مرزا قادیانی کی عمر بہتر سال ہونی چاہئے تھی۔
٢؎ اسلامی مناظر نے اپنے پرچہ نمبر ٤ میں اس کی اس طرح تردید کی ہے کہ معراج کی حدیث جو سنن ابی ماجہ سے میں نے پیش کی ہے۔ اس کے جواب دینے کی ضرورت بھی نہیں۔ کیونکہ اس حدیث میں آنحضرت ﷺ راوی ہیں اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی زبانی ان کا نزول بعینہ نہ بمثیلہ بیان فرماتے ہیں تو پھر اس کا کیسا جواب ہو سکتا ہے۔
٣؎ اسلامی مناظر نے اپنے پرچہ نمبر ٤ میں اس کی یوں تردید کی ہے کہ میں تو مضاف اور مضاف الیہ کے فرق کو جانتا ہوں۔ کیونکہ اس عبارت یعنی عروج بروح عیسیٰ میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے تعبیر بالروح کرنے سے یہ لازم نہیں آتا کہ یہاں اضافت نہ ہو۔ کیونکہ بروح عیسیٰ میں اضافت بیانیہ ہے یعنی ”عرج بالروح الذی ھو عیسیٰ “ یہ قادیانی مناظر کا کمال ہے کہ لفظ تعبیر بالروح کو اضافت کے منافی سمجھتا ہے۔
٩٦
پھر روح منہ میں مسیح کی روح کو کوئی خصوصیت نہیں۔ تمام پاک لوگوں کے ارواح خدا تعالیٰ ہی کی طرف سے ہوتی ہیں اور اسی کی طرف منسوب ہوتی ہیں۔ کیا آنحضرت ﷺ کی روح خدا تعالیٰ کی طرف سے نہیں تھی۔ ہم تو ایسے خیال سے بیزار ہیں اور آنحضرت ﷺ کا بقول حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) یہ درجہ مانتے ہیں کہ؎
واں مسیحِ ناصری شد از دمِ او بیمار
(آئینہ کمالات اسلام ص٢٧، خزائن ج٥ ص ایضاً)
اور؎
ختمت به نعماء کل زمان
(آئینہ کمالات اسلام ص٣٩٣، خزائن ج٥ ص ایضاً)
اور ”والمهدی فی وسطها“ کو پیش کرنے سے تو شیعوں ٢ کا عقیدہ ماننا پڑتا ہے۔ کیونکہ ڈیڑھ ہزار برس امت کا زمانہ ہو تو ساڑھے سات سو برس ان کو زندہ ماننا پڑے گا۔ تب مسیح علیہ السلام کو مل سکتے ہیں۔
١ یہ سب شطحیات ہیں۔ ورنہ مرزا قادیانی کے اس شعر پر غیرت نہیں آتی؎
منم محمد و احمد کہ مجتبیٰ باشد
(تریاق القلوب ص١٥٧، خزائن ج١٥ ص١٣٤)
٢ اسلامی مناظر نے اپنے پرچہ نمبر٤ میں اس کی یوں تردید کی ہے کہ حدیث ”وكيف تهلك امة انا اولها والمهدى وسطها والمسيح آخرها (مشكوة ص٥٨٣، باب ثواب هذه الامة)“ میں میرے اوپر شیعوں کے ہم اعتقاد ہونے کا الزام لگایا گیا ہے۔ جناب من ہم ہر بات میں امامیہ کے مخالف نہیں۔ بلکہ اس بات میں اتفاق ہے کہ حضرت امام مہدی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کے وقت موجود ہوں گے۔ یہ دوسرا اختلاف ہے کہ اب پیدا ہو چکے ہیں یا نہیں۔ ”اللهم اغفر لكاتبه ولمن سعى فيه“
٩٧
چونکہ وقت ختم ہو گیا ہے۔ اس لئے میں اسی پر ختم کرتا ہوں۔ والسلام!
مناظر منجانب جماعت احمدیہ پریزیڈنٹ جلال الدین شمس، مولوی فاضل (چوہدری) حاکم علی احمدی
پس باوجود یکہ شرائط میں یہ طے ہو چکا تھا کہ قبل دعویٰ مسیحیت کی تحریر پیش نہیں کی جائے گی۔ مگر آپ نے خلاف شرائط اس کے علاوہ اور بھی بہت سی باتیں لکھیں۔ ہمارے مذکورہ بالا بیان سے واضح ہے کہ قرآن مجید سے جو دلائل پیش کئے گئے ہیں ان میں سے ایک دلیل بھی حضرت مسیح علیہ السلام کی حیات پر دلالت نہیں کرتی ۔ فافہم !
دستخط دستخط جلال الدین شمس (قادیانی مناظر) کرم داد دولمیال، پریزیڈنٹ ١٩؍ اکتوبر ١٩٣٣ء بسم اللہ الرحمن الرحیم! پرچہ نمبر ٣
از مفتی غلام مرتضیٰ صاحب
اسلامی مناظر
”سبحانك لا علم لنا الا ما علمتنا انك انت العليم الحكيم ٠ فان تنازعتم فی شىٔ فردوه الى الله والرسول“
اللہ کا اسم رافع کا معنی اعزاز دہندہ رفع روحانی اور رفع جسمانی دونوں کو لازم ہے جو معنی کنائی ہے اور جس کا حقیقت کے ساتھ معاً مراد لینا جائز ہے اور ”اذا تواضع العبد رفعه الله الى السماء (كنز العمال ج ٢ ص ١١٠)“ اور ”ولو شئنا لرفعناه بها (اعراف:١٧٦)“ اور ”فی بيوت اذن الله ان ترفع (النور:٣٦)“ اور ”ان الله يرفع بهذا الكتاب اقواما ويضع بها آخرين (ابن ماجه ص ٢٠، باب فضل من تعلم القرآن وعلمه)“ وغیرہ میں رفع جسمانی مراد نہ ہونا ہم کو مضر نہیں اور اس کے خلاف نہیں کہ : ”بل رفعه الله اليه“ میں بلحاظ سیاق و سباق و بلحاظ قواعد عربیہ مجوزہ مناظرہ رفع جسمانی مراد ہو۔ جیسا کہ پہلے پرچہ میں بیان کیا گیا اور میرے مناظر صاحب نے کوئی مثال رفع الیہ یعنی الی اللہ کی نہیں پیش کی اور ”الرحمن علی العرش استوی“ کا معنی استواء من حیث الرحمانیت ہے اور آپ تحریف کر کے عیسائیت کے ہم عقیدہ ہونے کا الزام نہ لگا دیں اور ”ثم اتموا الصيام الی اللیل“ کا یہ مطلب ہے کہ رات تک روزہ کو پورا کرو اور رات ہوتے ہی افطار کیا جائے اور
٩٨
مرزا قادیانی کی عبارتوں سے فقط یہ فائدہ حاصل کیا گیا ہے کہ رفع الی اللہ سے مراد آسمان کی طرف اٹھائے جانا ہے اور رفع جسمانی ثابت کرنے کے لئے ہم نے بل کو میدان مناظرہ میں چھوڑ دیا ہے جو اس کا مقابلہ کرے گا۔ انشاء اللہ شکست کھائے گا اور مرزا قادیانی نے آسمان کا لفظ بولا ہے جس میں کوئی تاویل نہیں ہو سکتی۔ جناب قرآن کے الفاظ میں بحث کریں۔ دوسری باتوں کو چھوڑ دیں اور ”ولا تقولوا لمن یقتل فی سبیل اللہ امواتا بل احیاء“ میں صفت مبطلہ یعنی امواتا اور صفت مثبتہ یعنی احیاء دونوں کے ضمیروں کا مرجع ایک من یقتل ہے نہ من کیونکہ ”الموصول مالایتم جزءا الا بصلة وعائد“ اور صنعت استخدام میں یہ ضروری ١؎ ہے کہ وہ مقتضاء حال اور وضوح دلالت کے منافی نہ ہو اور نیز ایک معنی مراد لینے کو وہاں قرائن حصر ٢؎ ثابت کریں۔
جیسا کہ ۔
شبوه بين جوانح وضلوع
١؎ کیونکہ صنعت استخدام تحسین کلام کے وجوہ سے ہے اور تحسین کلام کے وجوہ میں یہ ضروری ہے کہ قواعد فن معانی وقواعد فن بیان کے منافی نہ ہوں۔ جیسا کہ تعریف فن بدیع سے ظاہر ہے۔ ”البديع هو علم يعرف به وجوه تحسين الكلام بعد رعاية المطابقة ووضوح الدلالة (مطول)“ اور اگر ”وما قتلوہ وما صلبوہ وما قتلوہ یقیناً بل رفعہ اللہ الیہ“ میں صنعت استخدام اختیار کی جائے تو ”وما قتلوہ یقیناً بل رفعہ اللہ الیہ“ میں جو بل ابطالیہ اور قصر قلب ہے ان کے منافی ہوگی۔ پس یہاں صنعت استخدام کا اختیار کرنا بروئے فن بدیع جائز نہیں۔
٢؎ اور ”مانحن فیہ“ میں یعنی ”وما قتلوہ وما صلبوہ وما قتلوہ یقیناً بل رفعہ اللہ الیہ (النساء: ١٥٨)“ میں ہر چہار ضمائر منصوب متصل سے ایک معنی یعنی عیسیٰ علیہ السلام زندہ بجسدہ العنصری مراد لینے سے کوئی قرینہ روکتا نہیں۔ بلکہ بل ابطالیہ اور قصر قلب قطعی طور پر اس بات کو ثابت کرتے ہیں کہ ہر چہار ضمیروں سے مراد حضرت عیسیٰ زندہ بجسدہ العنصری ایک ہی بعینہ ہیں۔
٣؎ دیکھو اس شعر میں صنعت استخدام ہے۔ کیونکہ ضمیر مجرور جو الساکنیہ میں ہے اور ضمیر منصوب جو شبوہ میں ہے دونوں کا مرجع الغضاء ہے اور ضمیر مجرور سے مراد بقرینہ الساکنی مکان ہے اور ضمیر منصوب سے مراد بقرینہ شبوہ آگ ہے اور یہاں صنعت استخدام اختیار کرنا نہ قواعد معانی کے منافی ہے اور نہ ہی قواعد بیان کے اور نیز یہاں قرائن موجود ہیں جو ایک معنی مراد لینے سے روکتے ہیں۔
٩٩
پہلے ضمیر سے مراد مکان ہے اور دوسری ضمیر سے بقرینہ شجرہ آگ ہے۔ قرآن کریم نے ”وقولهم انا قتلنا المسیح“ کے ساتھ یہود کا اعتقاد بیان کر دیا تو اب تورات استثناء باب ٢١ آیت ٢٢ وغیرہ کو پیش کرنے میں میرے مناظر نے ١ تسلیم کر لیا ہے کہ میرے پاس قرآن کریم اور قواعد عربیہ کے مطابق کوئی جواب نہیں۔ بلکہ تورات میں بھی وہ مصلوب ملعون قرار دیا گیا ہے جو کسی جرم میں مصلوب ہو اور ”ولم یمسنی ٢ بشر ولم اك بغیاً“ کی خصوصیت کے لحاظ سے ”حکیما“ کے معنی صحیح ہیں۔ میرے مناظر صاحب نے دیدہ دانستہ یا کسی وجہ سے دوسرے پرچہ میں ایسے مضامین درج فرمائے ہیں۔ جن کی تردید میرے پرچہ اوّل میں موجود ہے۔ مثلاً لفظ نزول انزلنا الحدید وغیرہ میں بقرینہ الحدید وغیرہ اور معنی مراد لینے سے یہ لازم نہیں آتا۔ جہاں نزول ہو وہاں پیدا ہونے کے معنی مراد ہوں گے اور لازم آئے گا کہ حدیث ”فینزل ٣ عند المنارة البیضاء شرقی دمشق بین مهرودتین واضعا کفیه علی اجنحة ملکین (مسلم ج ٢ ص ٤٠١، باب ذکر الدجال)“ کے معنی (استغفر اللہ) یہ ہوں گے کہ عیسیٰ علیہ السلام دو رنگین کپڑے پہنے ہوئے دو فرشتوں کے کندھوں پر ہاتھ رکھے ہوئے پیدا ہوں گے اور قبر سے مراد گورستان ہے۔ یہ اعتراض تو (نعوذ باللہ) آنحضرت ﷺ پر ہے نہ مجھ پر اور عائشہ صدیقہؓ کے خواب میں تین چاند دیکھنے کی تعبیر اس کی عظمت کو بالائے طاق رکھنے سے کی گئی ہے۔ ورنہ صحیح تعبیر یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ بمنزلہ آفتاب ہیں اور شیخین اور مسیح علیہ السلام بمنزلہ چاند کے ہیں۔ مرزا قادیانی کے اقوال ہم پر حجت نہیں ہو سکتے بلکہ آپ پر، اور آپ کا یہ کہنا
١ کیونکہ بلحاظ آیت ”فاسئلوا اهل الذکر ان کنتم لا تعلمون (الانبیاء:٧)“ بھی تورات کی طرف رجوع اس وقت جائز ہوتا جب ہم کو یہود کا وہ اعتقاد جس کی ”وما قتلوه“ تردید ہے۔ قرآن کریم سے معلوم نہ ہوتا جیسا کہ ”ان کنتم لا تعلمون“ سے روشن ہے اور قرآن کریم نے اپنے اس فقرے ”وقولهم انا قتلنا المسیح عیسیٰ ابن مریم رسول اللہ“ کے ساتھ یہود کے اس اعتقاد کو واضح طور پر بیان کر دیا ہے تو اب قادیانی مناظر کا قرآن کریم اور حدیث اور اقوال صحابہ اور قواعد عربیت سے روگردانی کر کے تورات کو پیش کرنا اس بات کی دلیل ہے کہ وہ جواب دینے سے عاجز ہے۔
٢ اور حالانکہ نہ مجھے کسی نے نکاح کر کے چھوا ہے اور نہ میں بدکار ہوں۔
٣ یہ حدیث (صحیح مسلم ج ٢ ص ٤٠١، باب ذکر الدجال) میں ہے اور اس کا ترجمہ یہ ہے۔ پس حضرت عیسیٰ علیہ السلام اتریں گے اس منارہ سفید کے پاس جو دمشق کی شرقی کی جانب واقع ہے۔ دو رنگین کپڑے پہنے ہوئے دو فرشتوں کے کندھوں پر ہاتھ رکھے ہوئے۔
١٠٠
کہ حقیقت و مجاز جمع ہو سکتے ہیں۔ بالکل فن بیان کے خلاف ہے۔ ہاں حقیقت اور معنی کنائی جمع ہو سکتے ہیں۔ کنایت اور مجاز میں شاید آپ فرق نہ سمجھتے ہوں گے اور مولوی نور الدین صاحب کا فقرہ (ہر جگہ ) آپ کو کوئی تاویل کرنے نہیں دیتا۔ کیونکہ ”الاعتبار لعموم اللفظ لا لخصوص المورد “ اور قرآن وحدیث کو چھوڑ کر امام مالک وغیرہ کا نام لینا یہ آپ کی کمزوری ہے۔ کیونکہ میں تو ” من حيث انا مسلم “ مناظر ہوں پس بس، اور آنحضرت ﷺ کا زمین میں مدفون ہونا اور عیسیٰ علیہ السلام کا آسمان پر ہونا اس سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا افضل ہونا نہیں ثابت کرتا۔ کیونکہ افضل یا غیر افضل ہونا ہم بروئے قرآن کریم اور صحیح حدیث کے سمجھیں گے اور قرآن اور حدیث کا یہ فیصلہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کا کمال الوہیت میں ہے اور انسان کا کمال عبودیت میں ہے۔ قرآن کریم میں ہے ”يا ايها الناس ١ اعبدوا ربكم الذي خلقكم الخ وانزل من السماء ماء فاخرج به من الثمرات رزقا لكم (بقره: ٢١) “ اس آیت میں خداوند کریم نے انسانوں کو عبادت کا حکم فرمایا ہے جو اعلیٰ درجہ کی عبودیت کا نام ہے اور پھر اپنے چند صفات ذکر کر کے اخیر میں صفت ”و انزل من السماء “ کو بیان فرمایا ہے اور اس میں یہ بتایا ہے کہ زمین جو پستی کا مظہر ہے آسمان سے جو بلندی کا مظہر ہے کس طرح فائدہ اٹھاتی ہے۔ اسی طرح جب انسان اپنے آپ کو عبادت یعنی اعلیٰ درجہ کی عبودیت میں لگا کر پستی کا مظہر بناتا ہے تو اس پر اللہ تعالیٰ کی رحمت و برکات کا نزول ہوتا ہے اور انسان جس قدر عبودیت میں ترقی کرتا ہے اسی قدر عنداللہ زیادہ مقرب ہوتا ہے اور یہ امر بالکل روشن ہے کہ اللہ تعالیٰ الوہیت میں لاشریک لہ ہے اور محمد رسول اللہ ﷺ کمال عبودیت میں لاشریک لہ ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن کریم نے ان مقامات میں جہاں آنحضرت ﷺ کو اعلیٰ درجہ کے اعزاز دینے کا ذکر ہے اور جہاں یہ شبہ پیدا ہوتا ہے کہ اس اعلیٰ اعزاز ملنے کی وجہ سے آنحضرت ﷺ کی عبودیت میں نقص پیدا ہو گیا ہو۔ اس بات کی شہادت دی ہے کہ باوجود ایسے اعلیٰ اعزاز ملنے کی آنحضرت ﷺ کی عبودیت میں ذرہ بھر فرق نہیں آیا۔ بلکہ عبودیت میں ترقی ہوئی ہے۔
ا۔ یعنی لفظ کا عموم معتبر ہوتا ہے اور خصوصیت نزول شان ملحوظ نہیں ہوتی ۔
٢۔ یہ آیت تمام اس طرح ہے ۔ ” يا ايها الناس اعبدوا ربكم الذي خلقكم والذين من قبلكم لعلكم تتقون الذي جعل لكم الارض فراشا والسماء بناء وانزل من السماء ماء فاخرج به من الثمرات رزقاً لكم (البقره: ٢١) “ یعنی اے لوگو اپنے رب کی عبادت کرو۔ جس نے تمہیں پیدا کیا اور انہیں جو تم سے پہلے تھے تا کہ تم متقی بنو۔ وہ جس نے زمین کو تمہارے لئے قرار گاہ بنایا اور آسمان کو عمارت اور اوپر سے پانی اتارا۔ پھر اس کے ساتھ تمہارے لئے پھلوں سے رزق نکالا ۔
١٠١
دیکھو ”سبحان ١ الذی اسریٰ بعبدہ (اسریٰ: ١)“ اور دیکھو ”فاوحی ٢ الی عبدہ ما اوحیٰ (نجم: ١٠)“ اور دیکھو ”تبارک ٣ الذی نزل الفرقان علی عبدہ (الفرقان: ١)“ اور ملاحظہ ہو اضافت عبد طرف اللہ کی اس وجہ سے ”ورفعنا ٤ لک
١ یہ کیا کمال اعزاز کا مقام ہے۔ کیونکہ ملک الملوک ایک اپنے مقرب فرشتے جبرئیل علیہ السلام کو براق دے کر آنحضرت ﷺ کی خدمت میں بھیجتا ہے اور وہ حسب ارشاد الٰہی دست بستہ ہو کر عرض کرتا ہے کہ حضور براق پر سوار ہو کر آیات الٰہیہ کا معائنہ کیجئے۔ ایسے اعلیٰ اعزاز کے مقام میں یہ گمان پیدا ہوتا ہے کہ شاید آنحضرت ﷺ کی عبودیت میں کسی قسم کا نقص آ گیا ہو۔ لیکن اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ ”سبحان الذی اسریٰ بعبدہ“ یعنی پاک ہے وہ ذات جس نے سیر کرایا اپنے بندے کو۔ دیکھو کہ اللہ تعالیٰ نے آنحضرت ﷺ سے لفظ عبد کے ساتھ تعبیر کر کے اور پھر عبد کو اپنی طرف مضاف کر کے اس بات کی شہادت دی ہے کہ آنحضرت ﷺ کی عبودیت میں ذرہ بھر فرق نہیں آیا۔ ورنہ اس سے لفظ عبد کے ساتھ تعبیر کر کے اپنی طرف اضافت نہ کرتا۔
٢ یہ آیت ماقبل کے ساتھ یوں ہے۔ ”دنا فتدلیٰ فکان قاب قوسین او ادنیٰ فاوحی الی عبدہ ما اوحیٰ (نجم: ١٠)“ یہ کیسا اعلیٰ اعزاز واکرام کا مقام ہے اور اس کا بیان یہ ہے کہ دنا یعنی آنحضرت ﷺ اللہ تعالیٰ کی صفات کے قریب ہوئے اور اس کی صفات کے مظہر اتم ہوئے۔ فتدلیٰ پس آنحضرت ﷺ اللہ تعالیٰ کی ذات کے قریب ہوئے۔ ”فکان قاب قوسین“ پس اللہ تعالیٰ اور آنحضرت ﷺ کے درمیان مقدار دو کمانوں کے ہوا۔ یعنی دائرہ وجود کو جب خط مستقیم نے قطع کیا تو دو کمانیں پیدا ہو گئیں۔ ایک کمان وجوب اور دوسری کمان امکان اور اللہ تعالیٰ اور آنحضرت ﷺ کے درمیان اتنا فرق رہا کہ اللہ تعالیٰ واجب الوجود اور آنحضرت ﷺ ممکن الوجود۔ او ادنیٰ یہ فرق بھی نہ رہا۔ اب وہم پیدا ہوتا تھا کہ آنحضرت ﷺ میں عبودیت نہیں رہی۔ بلکہ الوہیت آ گئی ہے تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ”فاوحی الی عبدہ ما اوحی“ اور عبدہ کے ساتھ شہادت دی کہ آنحضرت ﷺ کی عبودیت میں ذرہ بھر فرق نہیں۔
٣ یہ آیت تمام اس طرح ہے۔ ”تبارک الذی نزل الفرقان علی عبدہ لیکون للعالمین نذیراً (الفرقان: ١)“ یعنی برکت والی وہ ذات ہے جس نے اپنے بندے (محمد) پر کتاب حق اور باطل کے درمیان فرق کرنے والی نازل کی۔ اس لئے کہ وہ تمام دنیا کی اصلاح کرے۔ یہ یہی اعلیٰ مقام اعزاز کا ہے۔
٤ حضرت ابراہیم خلیل اللہ علیہ الصلوٰۃ والسلام نے عرض کیا ”واجعل لی لسان صدق“ اے خدایا! لوگوں میں میرا ذکر چلا دے اور محمد رسول اللہ ﷺ کی کمال عبودیت کا یہ ثمرہ ہے کہ بغیر عرض کرنے کے خداوند کریم ان کو رفع الذکر کر کے فرماتا ہے۔ ”ورفعنا لک ذکرک“ اے محمد ﷺ! آیا ہم نے تیرا ذکر بلند نہیں کیا۔ وہ خلیلی رنگ ہے اور یہ محبوبی رنگ ہے۔
١٠٢
ذكرك (الم نشرح:٤)“ ہے اور اسی کمال عبودیت کی وجہ سے آنحضرت ﷺ افضل المرسلین ہیں اور آپ کو حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر قرب الٰہی اور رفعت منزلت میں بدرجہا فوقیت ہے اور اسی کمال عبودیت کا یہ اقتضاء ہے کہ از ابتداء پیدائش تا وفات آپ کا ایسا رنگ رہے جو عبودیت کے مناسب ہو۔ یہی وجہ ہے کہ آپ کی پیدائش پر زمینی اسباب منعقد ہوئے اور تمام حیات زمین پر بسر کی اور زمین پر ہی فوت ہوئے اور زمین میں ہی مدفون ہوئے۔ جو پستی کا مظہر ہے۔
اور دوسری دلیل کے متعلق جو یہ قول پیش کیا گیا ہے۔ ”وان منكم لمن لیبطئن (النساء:٧٢)“ وغیرہ اس کے متعلق ہم یہ کہتے ہیں کہ یہاں مراد استقبال ہے۔ بلحاظ قواعد نحو۔ آپ بھی کوئی قاعدہ نحوی پیش کریں۔ جس سے یہ ثابت ہو کہ بوقت دخول لام تاکید ونون ثقیلہ غیر استقبال بھی مراد ہو سکتا ہے۔ آپ ہرگز پیش نہ کر سکیں گے اور جب حسب شرائط مقررہ ہم قرآن کریم اور حدیث اور قواعد عربیت کے مطابق مناظرہ کر رہے ہیں تو آپ گھبرا کر ہر ایک فقرہ میں شرائط سے کیوں تجاوز کر رہے ہیں اور امام مالکؒ کا کبھی نام لیا جاتا ہے اور کبھی شاہ رفیع الدینؒ کا نام لیا جاتا ہے۔ کیا ”فان ٢؎ تنازعتم“ کے طریق پر بحث کرنا اسی کا نام ہے اور یہی حال ”لنهدينهم سبلنا“ کا ہے۔ مولوی نورالدین صاحب کی مرزا قادیانی نے جو آپ کے پیغمبر تھے توثیق کی اور بعد توثیق بھی مولوی صاحب ممدوح نے اس معنیٰ میں کوئی ترمیم نہیں کی۔ جناب ناسخ کا نام اور ذکر کیوں کرتے ہیں اور ابن عباسؓ کو ہم ثالث تسلیم کرتے ہیں۔
١؎ لکھنؤ کے ایک پنڈت کو آنحضرت ﷺ کی سوانح عمری پڑھتے پڑھتے عشق محمدی نصیب ہوا اور وہ پنڈت صاحب نہایت فصیح شاعر تھے۔ انہوں نے یہ اشعار بصورت مخمس فرمائے:
جہاں کے خوبرو قرباں زمانہ کے حسیں صدقے
زماں قرباں زمیں صدقے مکاں قرباں مکیں صدقے
میرا دل ہی نہیں قرباں میری جاں ہی نہیں صدقے
نیاز وانکساری پر الہ العالمین صدقے
٢؎ یہ آیت اس طرح ہے۔ ”فان تنازعتم فی شیئ فردوہ الی الله والرسول ان کنتم تؤمنون بالله والیوم الآخر (النساء:٥٩)“ یعنی اگر کسی چیز میں باہم جھگڑا کرو تو اسے اللہ (قرآن) اور رسول (حدیث) کی طرف لے جاؤ۔ اگر تم اللہ پر اور آخرت کے دن پر ایمان لاتے ہو۔ دیکھو قرآن کریم کا یہ قطعی فیصلہ ہے کہ امر متنازع فیہ اور مختلف فیہ میں قرآن کریم اور حدیث نبوی کے مطابق اس تنازع واختلاف کو رفع کرو۔ ورنہ تم مومن نہ ہوگے اور قادیانی مناظر نے نہ اس قرآنی فیصلہ کو ملحوظ رکھا ہے اور نہ ہی اپنے شرائط مجوزہ کا پاس خاطر کیا ہے۔
١٠٣
دیکھئے عن ابن عباس ان ١؎ اللہ رفعہ بجسدہ وانہ حی الآن وسيرجع الى الدنيا فيكون فيها ملكاً ثم يموت كما يموت الناس (طبقات ابن سعد ج١ ص٤٥) ”اور الی یوم القیمۃ کا مطلب حسب قواعد عربیت یہ ہے کہ یہ چاروں واقعات قیامت سے پہلے پہلے ہو جائیں گے اور آیت ”اغرينا بينهم العداوة والبغضاء“ سے مراد طول زماں ہے۔ ورنہ یہ آیت اس آیت کے متعارض ہوگی ۔ ”ھوالذی ارسل رسولہ بالهدى ودين الحق ليظهره على الدين كله“ کیونکہ مرزا قادیانی اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں ۔ ”ایک عالمگیر غلبہ اس کو عطاء کرے ۔“ (٢؎ چشمہ معرفت ص ٨٣، خزائن ج ٢٣ ص ٩١)
سبحان اللہ! جن باتوں کا جواب مکمل طور پر پرچہ نمبر١ میں درج ہے اس سے چشم پوشی کر کے پھر بھی طوطے والی بات سیکھی ہوئی پیش کی جاتی ہے اور واہ واہ! ابو ہریرہؓ سے ابو ہریرہؓ حقیقی معنوں میں مراد نہیں اور براہین احمدیہ کی عبارت کو پیش کرنا خلاف شرائط نہیں۔ کیونکہ مرزا قادیانی اس کتاب کے متعلق فرماتے ہیں۔ معلوم نہیں کہ یہ کتاب کہاں اور کب ختم ہوگی۔ اس کتاب کا ظاہر باطن متولی خدا ہے۔ جس سے ثابت ہوتا ہے کہ اس کتاب کے مضامین تصدیق شدہ خداوندی ہیں اور آپ مرزا قادیانی کا کوئی قول مجھ پر حجت نہیں قائم کر سکتے اور ”فول وجهك ٣؎ شطر المسجد الحرام (بقره:١٤٤)“ کا معاملہ قیاس مع الفارق ہے۔ کیونکہ مسئلہ حیات مسیح اعتقادیات سے ہے اور تحویل قبلہ عملیات سے ہے۔ خلاصہ یہ ہے کہ میرے مناظر صاحب شرائط مقررہ سے دور بمراحل جا رہے ہیں اور انہوں نے میرے پرچہ نمبر١ کا کوئی جواب نہیں دیا۔ آخر گھبرا کر تورات محرف کتاب کو اپنا ملجا قرار دیا اور عجیب بات یہ ہے کہ وہ کتاب بھی ان کی امداد سے انکاری ہے۔
اور آیت ”حتی ٤؎ اذا جاء احدهم الموت قال رب ارجعون لعلى اعمل
١؎ حضرت ابن عباسؓ سے روایت ہے اور یقیناً اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو بجسدہ العنصری اٹھا لیا ہے اور وہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام اس وقت زندہ ہیں اور دوبارہ دنیا میں تشریف لائیں گے۔ پس بادشاہ ہوں گے پھر فوت ہوں گے۔ جیسا کہ اور لوگ فوت ہوتے ہیں۔
٢؎ اس کتاب چشمہ معرفت میں مرزا قادیانی لکھتے ہیں ”اور اللہ تعالیٰ نے اس بات کے ثابت کرنے کے لئے کہ میں اس کی طرف سے ہوں اس قدر نشان دکھلائے ہیں کہ اگر وہ ہزار نبی پر بھی تقسیم کئے جائیں تو ان کی بھی ان سے نبوت ثابت ہو سکتی ہے۔“ (چشمہ معرفت ص ٣١٧، خزائن ج ٢٣ ص ٣٣٢)
٣؎ یعنی پس اے محمدؐ اپنے منہ کو مسجد حرام کی طرف کرو۔
٤؎ یعنی جس وقت تمہارے ہر ایک پر موت آجائے تو وہ کہتا ہے کہ میرے رب مجھے واپس لوٹا تاکہ میں اعمال صالحہ بجالاؤں۔ یہ بات ہرگز نہیں ہوگی۔ یہ صرف ایک بات ہے۔ جو وہ کہہ رہا ہے اور ان کے پیچھے ایک برزخ ہے۔ قیامت کے دن تک۔
١٠٤
صالحاً فيما تركت كلا انها كلمة هو قائلها ومن ورائهم برزخ الى يوم يبعثون (مؤمنون: ١٠٠) ’’میں ظالمین کا ذکر ہے اور نیز اس آیت کا مصداق وہ لوگ ہیں جن پر موت آجائے اور حضرت مسیح ابن مریم علیہا السلام کو یہ آیت شامل نہیں۔ میں افسوس کرتا ہوں کہ میرے مناظر صاحب نے تہذیب کو جواب دے کر کلا کو ابن مریم کے لئے بکا کہا اور چونکہ ابن مریم علیہا السلام کی توہین ہم برداشت نہیں کر سکتے اور نہ ہی ابن مریم علیہا السلام اس کے مصداق ہیں۔ اس لئے مطابق ”جزاء سيئة سيئة مثلها“ ہم اتنا عرض کرتے ہیں کہ بقول میرے مناظر کے مصنوعی مسیح موعود اس آیت کا مصداق ہے اور یہ کلا ان کے لئے کلا ہے۔
دستخط دستخط مولوی غلام محمد بقلم خود از گھوگہ متصل ملتان مفتی غلام مرتضیٰ (اسلامی مناظر ) پریذیڈنٹ اسلامی جماعت ١٩/اکتوبر ١٩٣٢ء پرچہ نمبر ٤
از مولوی جلال الدین صاحب
قادیانی مناظر
”بسم الله الرحمن الرحيم ٠ نحمده ونصلى على رسوله الكريم ٠ ربی اشرح لي صدري“
......١...... مفتی صاحب مجھ پر الزام لگاتے ہیں کہ میں شرائط کے خلاف لکھتا ہوں۔ حالانکہ میں نے شرائط کے خلاف نہیں کیا۔ بلکہ مفتی صاحب خود شرائط کے خلاف طے کر رہے ہیں۔ مثلاً حضرت مسیح موعود کا براہین احمدیہ کا حوالہ اور خلیفہ اوّل کا قول اور دوسرے پرچہ میں حضرت ابن عباس وغیرہ کا قول سب باتیں خلاف شرائط ہیں جو انہوں نے لکھی ہیں۔
ا۔ اسلامی مناظر نے اپنے پرچہ نمبر ٥ میں بھی اس کی یوں تردید کی ہے کہ دعویٰ نبوت کی جو تاریخ مرزا قادیانی اور ان کے مریدین بیان کرتے ہیں۔ وہ ہمارے پر حجت نہیں بلکہ اس لحاظ سے کہ مرزا قادیانی کے دعویٰ نبوت کی علت الہام ہے۔ اس لئے جب سے وہ ملہم ہیں۔ تب سے ہی وہ اپنے زعم میں نبی ہیں اور بوقت تصنیف براہین احمدیہ مرزا قادیانی ملہم تھے اور نیز اسلامی مناظر نے اپنے پرچہ نمبر ١ میں براہین احمدیہ کی عبارت نقل کر کے یہ لکھا ہے۔ میری مراد کوئی الزامی جواب دینا نہیں بلکہ یہ بتلانا ہے۔ جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ اسلامی مناظر نے براہین احمدیہ کی عبارت الزاماً پیش نہیں کی۔ بلکہ مرزا کی کاریگری جتلائی ہے اور ابن عباس صحابی ہیں تو ان کا ذکر شرط نمبر ٢ کے مطابق ہے اور کمال تو قادیانی مناظر نے کیا ہے کہ شرط نمبر ١ کا یہ مقتضاء تھا کہ زمرہ دلائل میں قرآن کریم اور حدیث نبوی کے سوائے کوئی دلیل پیش نہ کی جائے۔ لیکن قادیانی مناظر نے اپنے پرچہ نمبر ١ دلائل میں حضرت امام حسن کا قول تاریخی رنگ میں پیش کر دیا ہے۔ یہ عجیب بات ہے کہ قادیانی مناظر اپنے پیغمبر اور اپنے پیغمبر کے خلیفے مولوی نورالدین صاحب کی باتیں سننی نہیں چاہتا۔ حالانکہ اسلامی مناظر نے اپنے پرچہ نمبر ١ میں لکھا ہے کہ میں نے مولوی نورالدین کے اقوال بحیثیت خلیفہ ہونے کے پیش نہیں کئے۔ بلکہ اس حیثیت سے کہ مرزا قادیانی نے مولوی صاحب کی دینی رنگ میں اعلیٰ درجہ کی توثیق کی ہے۔
١٠٥
٢...... آپ فرماتے ہیں کہ خدا تعالیٰ کا نام رافع رفع جسمانی اور روحانی ١؎ دونوں کو شامل ہے۔ یہ بالکل لغت کے خلاف ہے۔ کیونکہ لغت کا حوالہ جو میں نے پیش کیا ہے اس سے صاف ظاہر ہے کہ اس کے معنی رفع جسمانی قطعاً نہیں ہوں گے اور آپ مجھ سے پوچھتے ہیں کہ ایسی مثال پیش کرو۔ جس میں الیٰ بھی موجود ہو۔ مگر اس کی مثال پیش کرنا میرے ذمہ نہیں۔ کیونکہ لغت والوں کے حوالہ سے ظاہر ہے کہ خدا تعالیٰ کے نام رافع کے معنی چاہے صلہ الیٰ ہو یا نہ ہو، اس کے معنی رفع جسمانی کے نہیں ہوتے اور میری مثالیں آپ کے مدعا کو باطل ثابت کرتی ہیں۔ کیونکہ الیہ سے آپ آسمان مراد لیتے ہیں کہ آسمان کی طرف اٹھا لیا اور حدیث میں باوجود آسمان کا لفظ موجود ہونے کے اس کے معنی آسمان پر لے جانا نہیں ہے۔ اس سے روح کا علیین ٢؎ میں لے جانا ہی مراد ہے۔ پس حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) کا قول بالکل حدیث کے مطابق ہے اور آپ کا حدیث کے خلاف اور الیٰ تو دوسری مثالوں میں بھی ہے۔ مثلاً ”انی ٣؎ مهاجر الی ربی (عنکبوت:٢٦)“ اور ”ففروا الی اللّٰه (ذاریات:٥٠)“ اور ”انا الیہ راجعون“ اور ”اتوب الیه“ وغیرہ میں کسی کے معنی آسمان پر لے جانا نہیں۔ پس الیٰ کا لفظ ثابت نہیں کرتا کہ آسمان پر جائیں۔ پھر ”ثم
١؎ اسلامی مناظر نے اپنے پرچہ نمبر ٥ میں پھر دوبارہ قادیانی مناظر کو یہ ہدایت کی ہے کہ میری مراد یہ نہیں کہ خدا تعالیٰ کا نام رافع رفع جسمانی اور رفع روحانی دونوں کو شامل ہے۔ بلکہ میری مراد یہ ہے کہ جب اللہ تعالیٰ کسی کی رفع جسمانی یا رفع روحانی کرے تو اس رفع کو اعزاز لازم ہے۔ جو معنی کنائی ہوں گے اور لازم وملزوم دونوں معاً مراد ہو سکتے ہیں۔ جیسا کہ فن بیان میں مصرح ہے اور ”بل رفعه اللّٰه الیه“ میں رفع جسمانی واعزاز دونوں معاً مراد ہیں۔
٢؎ واہ رے قادیانی مناظر صاحب۔ آپ کے فہم و ادراک پر افسوس۔ مرزا قادیانی نے فقط علیین کا لفظ ہی نہیں کہا۔ بلکہ آسمان کا بھی کہا ہے اور پھر قادیانی مناظر نے علیین اور آسمان میں غیریت سمجھی ہے۔ حالانکہ حدیث میں بروایت براء ابن عازب ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ مومن کا روح فرشتے لے کر آسمانوں سے گذرتے ہوئے جب ساتویں آسمان پر پہنچتے ہیں تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ ”اكتبوا کتاب عبدی فی علیین“ اور علیین ساتویں آسمان میں سے ایک موضع کا نام ہے۔ (مشکوۃ ص ١٤٢، ما یقال عند من حضرہ الموت)
٣؎ اسلامی مناظر نے اپنے پرچہ نمبر ٥ میں یوں کہا ہے کہ یہ قیاس مع الفارق ہے۔ کیونکہ ان مثالوں میں سے کوئی ایسی مثال نہیں جس میں رفع الی اللہ یا عروج الی اللہ یا صعود الی اللہ ہو اور مراد الی غیر السماء ہو۔
١٠٦
اتموا الصيام الی اللیل (بقرہ:١٨٧) ”میں ١؎ میں نے بتایا ہے کہ مسیح کو ساتویں آسمان تک جانا چاہئے تھا۔ یہ کیا وجہ ہے کہ وہ دوسرے آسمان پر ٹھہر جائیں اور آپ مانتے ہیں کہ استواء صفت رحمانیت کے لحاظ سے ہے اور مسیح کا آسمان پر لیجانا بھی صفت رحمانیت کے ماتحت ہے تو دوسرے آسمان پر کیوں رکھا گیا اور اوپر کیوں نہیں لے جایا گیا؟
٣...... آپ نے بل کے متعلق لکھا ہے اور میں ٢؎ نے جو معنی کئے ہیں وہ بل اضرابیہ کے لے کر کئے ہیں۔ کیونکہ ٣؎ ان کا عقیدہ یہ تھا کہ صلیب پر لٹکا کر مارا ہوا جھوٹا نبی ہوتا
١؎ اسلامی مناظر نے اپنے پرچہ نمبر ٥ میں کھول کر یوں تردید کی ہے کہ قادیانی مناظر نے اپنی تائید میں آیت ”ثم اتموا الصيام الی اللیل“ پیش کی ہے اور اس کو اتنا پتہ نہیں کہ یہ آیت میری تردید کر رہی ہے۔ کیونکہ الی کا مدخول اللیل ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ جب آفتاب غروب ہو جائے تو رات ہوتے ہی افطار کرو۔ یہ مطلب نہیں کہ جب تمام رات گذر جائے تو رات کے اخیر جزو میں افطار کرو اور ویسا ہی آیت ”بل رفعہ اللہ الیہ“ سے جب الی السماء مراد ہے اور مدخول الی کا السماء ہے تو اس میں اتنا ضروری ہے کہ رفع الی السماء ہو۔ یہ ضروری نہیں کہ ساتویں آسمان پر رفع ہو اور قادیانی مناظر کا یہ فقرہ (اور مسیح کا آسمان پر لے جانا بھی صفت رحمانیت کے ماتحت ہے۔ تو دوسرے آسمان پر کیوں رکھا گیا اور اوپر ہی کیوں نہ لے جایا گیا) داد دینے کے قابل ہے۔ ارے قادیانی صاحب تجلیات رحمانیہ کا ظہور اسی میں محصور ہے کہ مسیح کو دوسرے آسمان سے اوپر لے جایا گیا ہو۔
٢؎ اس عبارت سے یہ مفہوم ہوتا ہے کہ قادیانی مناظر کے نزدیک بل ابطالیہ اور ہے اور بل اضرابیہ اور ہے۔ حالانکہ درحقیقت ابطال اضراب کا ایک نوع ہے۔
٣؎ اسلامی مناظر نے اپنے پرچہ نمبر ٥ میں پھر اس کی یوں تردید کی ہے کہ تورات کا ہم نے مطالعہ کیا ہوا ہے۔ لیکن قرآن کریم کی آیت ”فاسئلوا اهل الذكر ان كنتم لا تعلمون“ میں فقرہ ”ان كنتم لا تعلمون“ تورات کی طرف اس امر نحن فیہ میں رجوع کرنے کی اجازت نہیں دیتا۔ کیونکہ یہود کا وہ عقیدہ جس کی ”وما قتلوہ“ تردید ہے۔ قرآن کریم نے اپنے اس فقرے ”وقولهم انا قتلنا المسيح عیسیٰ“ کے ساتھ صاف طور پر بیان کر دیا ہے اور نیز قرآن کریم میں ہے۔ ”انما جزاء الذین یحاربون اللہ ورسولہ ويسعون فی الارض فساداً ان يقتلوا او يصلبوا او تقطع ایدیہم وارجلہم من خلاف اوینفوا من الارض ذلك لهم خزی فی الدنيا ولهم فی الآخرة عذاب عظيم (مائده:٣٣)“ یعنی سوائے اس کے نہیں کہ ان لوگوں کی جزا جو خدا اور اس کے رسول سے لڑتے ہیں اور زمین میں فساد مچاتے ہیں۔ یہ ہے کہ ان کو قتل کیا جائے یا صلیب پر لٹکایا جائے یا ان کے ہاتھ اور پاؤں الٹے کاٹ دیئے جائیں یا ان کو جلا وطن کیا جائے یا ان کے لئے دنیا میں خواری ہے اور آخرت میں ان کو بہت بڑا عذاب ہوگا۔ دیکھو کہ اس آیت سے صاف طور پر معلوم ہوتا ہے کہ لعنتی ہونے کا باعث جرم وعصیان ہے۔ نہ صلیب پر لٹکا کر مارا جانا اور نیز تورات محرف منسوخ شدہ میں مطلقاً قتل بالصلیب کو موجب لعن قرار نہیں دیا گیا۔ بلکہ خاص اس شخص کو ملعون قرار دیا گیا ہے جو کسی سخت جرم واجب الصلیب کی سزا میں مصلوب ہو۔ جیسا کہ سیاق وسباق عبارت سے ظاہر ہے۔ (استثناء باب ٢١ ص٣٠٣) اور یہود کا رسول اللہ کہنا بطور استہزاء وافتخار ہے اور نبوت و قتل میں منافات نہیں۔ جیسا کہ: ”افائن مات او قتل انقلبتم علی اعقابکم“ سے ظاہر ہے۔ کیونکہ اس آیت میں یہ بیان کیا گیا ہے کہ موت یا قتل سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ یہ فوت شدہ یا مقتول نبی نہیں تھا۔
١٠٧
ہے۔ معلوم ہوتا ہے آپ نے استثناء کتاب کا مطالعہ نہیں کیا۔ کیونکہ اس میں لکھا ہے کہ جھوٹا نبی قتل کیا جائے گا اور صلیب پر جو لٹکایا جائے وہ لعنتی ہوتا ہے اور آیت ”فاسئلوا اہل الذکر“ پر ہی غور کر لیتے۔ علماء اس سے کیا مراد لیتے ہیں اور ”سل بنی اسرائیل“ وغیرہ آیات سے ثابت ہے کہ ہر ایک آیت اس میں سے محرف ومبدل نہیں ہے اور قرآن مجید سے بھی ان کا یہی مقصد ظاہر ہے۔ یعنی وہ آپ کو جھوٹا قرار دے کر لعنتی ثابت کرنا چاہتے ہیں اور خدا نے بل کے ساتھ اس کی تردید کی ہے اور بل بمعنی ترقی کے لئے بھی ہوتا ہے۔ ملاحظہ ہو مسلم الثبوت اور اس میں ترقی کی گئی ہے اور ثابت کیا گیا ہے کہ وہ ملعون نہیں ہوئے۔ بلکہ وہ خدا تعالیٰ کے مقرب ہیں۔
- ١؎ قادیانی مناظر نے یہاں ”فاسئلوا اھل الذکر“ لکھا ہے اور معلوم ہوتا ہے کہ اس آیت کا
آخری فقرہ ”ان کنتم لا تعلمون“ بوجہ مضر ہونے کے قصداً ذکر نہیں کیا۔ اس معاملہ میں قادیانی مناظر کی بعینہ وہی مثال ہے جو کسی نے ایک بے نماز کو کہا کہ تم نماز کیوں نہیں پڑھتے تو اس بے نماز نے کہا کہ قرآن کریم کا یہ فقرہ ”لا تقربوا الصلوٰۃ“ تو نے نہیں پڑھا تو اس شخص نے کہا کہ آگے بھی پڑھو۔ ”وانتم سکاری“ تو بے نماز نے کہا کہ قرآن کریم کے ایک فقرہ پر بھی عمل ہو تو غنیمت ہے۔
- ٢؎ تورات کی ہر ایک آیت کے محرف ومبدل نہ ہونے سے یہ لازم نہیں آتا کہ یہ آیت ما نحن فیہ غیر
محرف وغیر مبدل ہے۔
- ٣؎ قادیانی مناظر کو درمیان اس بل کے جو ابطال کے لئے ہے اور اس بل کے جو ترقی کے لئے ہے۔
تمیز نہیں۔ میں آپ کو فرق بتاتا ہوں۔ بل اضراب کے لئے آتا ہے اور اس سے مراد کبھی پہلے خیال کا ابطال ہوتا ہے اور اس بل کو ابطالیہ کہتے ہیں۔ جیسا ”ام یقولون بہ جنۃ بل جاءھم بالحق (مؤمنون:٧٠)“ اور ”ما قتلوہ یقیناً بل رفعہ اللہ الیہ (نساء:١٥٨)“ اور کبھی ایک مضمون سے دوسرے مضمون کی طرف انتقال مراد ہوتا ہے اور اس کو بل ترقی کہتے ہیں۔ جیسا ”قد افلح من تزکیٰ وذکر اسم ربہ فصلیٰ بل تؤثرون الحیاۃ الدنیا (الاعلیٰ:١٦)“
خاص قابل توجہ: قادیانی مناظر نے روئیداد مناظرہ مطبوعہ بار اول کے ساتھ ایک ضمیمہ چسپاں کیا ہے۔ جس میں یہ لکھتے ہیں مفتی صاحب نے اپنے پرچہ میں لکھا ہے کہ جب جملہ منفی ہو تو اس وقت بل ابطالیہ ہی ہوگا۔ قرآن مجید کی آیت ”وما یشعرون ایان یبعثون بل ادارک علمہم فی الاٰخرۃ“ کے صریح خلاف ہے۔ کیونکہ یہاں بل ابطالیہ لے کر معنی درست ہو نہیں سکتے۔
قادیانی مناظر کا یہ نرالا جہل مرکب ہے: کیونکہ اس آیت کا یہ مطلب ہے اور وہ نہیں جانتے کہ کب اٹھائے جائیں گے۔ بلکہ آخرت کے بارے میں ان کا علم انتہاء کو پہنچ کر رہ گیا۔ یعنی ان کا علم وہاں تک نہ پہنچ سکا۔ جس سے مراد ہے کہ وہ جاہل رہ گئے۔ اب دیکھو کہ اس آیت میں شعور منفی کو بل باطل کر رہا ہے۔ جیسا کہ ”وما قتلوہ یقیناً بل رفعہ اللہ الیہ“ میں قتل منفی کو بل باطل کر رہا ہے اور اس آیت میں ادارک بمعنی جہالت کو بل ثابت کر رہا ہے۔ جیسا کہ: ”بل رفعہ اللہ الیہ“ میں رفع اسی جسدہ العنصری کو بل ثابت کر رہا ہے اور شعور و جہالت دونوں ضدین ہیں۔ جیسا کہ قتل اسی اور رفع اسی جسدہ العنصری کے درمیان ضدیت ہے۔ قادیانی صاحب! ہم آپ کا شکریہ ادا کرتے ہیں کہ خداوند کریم نے حسب فقرہ ”وما یشعرون“ بلا شعور آپ سے ہماری تائید کرائی۔
١٠٨
اور آپ نے پہلے پرچہ میں جو احد الوصفین دوسری وصف کا ملزوم نہ ہو۔ لکھا ہے۔ اس جگہ ملزوم نہیں ہے۔ کیونکہ قتل ١؎ بغیر رفع روحانی کے پایا جاتا ہے اور رفع روحانی بغیر قتل کے بھی خصوصاً جو قتل اس جگہ مراد ہے اس میں نہ صرف یہ کہ ملازم نہیں بلکہ ضدیت موجود ہے۔
پس آپ ٢؎ ایک ہی مثال پیش کریں کہ خدا تعالیٰ رافع ہو اور انسان مرفوع تو اس کے معنی آسمان پر لے جانا ہوں۔ لیکن آپ قیامت تک نہیں پیش کرسکیں گے اور آیت ”بل ٣؎ احیاء“ میں ”بل ہم احیاء“ ہے۔ میں نے یہی ٤؎ پوچھا تھا کہ جس جسم مقتول کو اموات کہنے سے انکار کیا گیا ہے۔ آیا اسی جسم کے لئے زندگی ثابت کی گئی ہے یا کچھ اور، اور اگر اور ہے تو ہم کی ضمیر کا مرجع
١؎ اسلامی مناظر نے اپنے پرچہ نمبر ١ میں یہ لکھا ہے (اور یہ امر بدیہی ہے کہ رفع روحانی و اعزاز اس قتل کو لازم ہے جس میں مقتول مقربین سے ہو) دیکھو کہ اسلامی مناظر نے یہ نہیں کہا کہ مطلق قتل کو رفع روحانی لازم ہے۔ بلکہ قتل المقرب الی اللہ کو لازم ہے اور مانحن فیہ میں بھی قتل مسیح کا ذکر ہے جو مقربین سے ہے۔ یہ قادیانی مناظر کی عدم لیاقت کے نتائج ہیں یا اس گھبراہٹ کے ثمرات ہیں۔
٢؎ قادیانی مناظر نے اپنے پرچوں میں اس بات پر بڑا زور دیا ہے کہ خدا تعالیٰ فاعل و رافع ہو اور انسان ذی روح مفعول و مرفوع ہو اور مراد رفع الی السماء ہو۔ ایسی مثال کوئی نہیں اور اسلامی مناظر قیامت تک ایسی مثال پیش نہ کر سکے گا اور قادیانی مناظر نے زبانی یہ بھی کہا کہ اگر اسلامی مناظر ایسی مثال پیش کرے تو میں مبلغ پچاس روپیہ ان کو انعام دوں گا۔ مفتی صاحب اسلامی مناظر نے اپنے پرچہ نمبر ٥ اس کا اس طرح جواب دیا ہے کہ صحیح بخاری میں ہے کہ آنحضرت ﷺ فرماتے ہیں۔ ”ثم رفعت الی سدرۃ المنتھیٰ (باب المعراج ج ١ ص ٥٧٩) “اس فقرہ میں رفعت اگرچہ ماضی مجہول ہے۔ لیکن در حقیقت اس کا فاعل خدا تعالیٰ ہے۔ کیونکہ جیسا کہ خلقت میں خلق ایسا فعل ہے کہ جس کا فاعل سوائے اللہ تعالیٰ کے اور نہیں ہو سکتا۔ ویسا ہی رفع الی سدرۃ المنتھیٰ ایسا فعل ہے جس کا فاعل بغیر خدا تعالیٰ کے نہیں ہو سکتا اور مفعول انسان ذی روح ہے اور مراد آسمان پر لے جانا ہے۔ اس موقعہ پر اہل اسلام حاضرین میں سے بعض الفضلاء نے فرمایا کہ پچاس روپیہ انعام والا طلب کرو۔ لیکن مفتی صاحب اسلامی مناظر نے کہا کہ ہم قادیانی جماعت سے روپیہ لینا پسند نہیں کرتے۔ قادیانی مناظر نے اپنی روئداد مناظرہ مطبوعہ بار اول کے ساتھ ایک ضمیمہ چسپاں کیا ہے۔ جس میں یہ لکھا ہے۔ (مفتی صاحب بھی کوئی ایک مثال رفع کی پیش نہیں کر سکے۔ جس میں خدا تعالیٰ فاعل اور مفعول ذی روح۔ پھر رفع کے معنی اسی جسم کے ساتھ آسمان پر اٹھانا ہو اور رفعت الی ربی کی مثال پیش کی ہے جس میں فاعل مذکور نہیں۔ دوسرے معراج کا واقعہ خود زیر بحث ہے) اس کے متعلق چند امور قابل توجہ ہیں۔ (١) یہ کہ مفتی صاحب اسلامی مناظر نے اپنے پرچہ نمبر ٥ میں صحیح بخاری کا یہ فقرہ ”ثم رفعت الی سدرۃ المنتھیٰ “ پیش کیا ہے۔ جس میں در حقیقت رفع کا فاعل خدا تعالیٰ ہے اور مفعول ذی روح۔ پھر رفع کے معنی اسی جسم کے ساتھ آسمان پر اٹھانا ہیں۔ (٢) یہ کہ مفتی صاحب اسلامی مناظر نے فقرہ ”رفعت الی سدرۃ المنتھیٰ “ پیش کیا ہے۔ نہ ”رفعت الی ربی “ جیسا کہ قادیانی مناظر نے لکھا ہے۔ (٣) یہ کہ رفعت اگرچہ ماضی مجہول ہے۔ لیکن در حقیقت اس رفع کا فاعل خدا تعالیٰ ہے جو تفصیلاً بیان ہو چکا ہے۔ (٤) یہ کہ معراج کا واقعہ زیر بحث ہونا اس فقرے ”ثم رفعت الی سدرۃ المنتھیٰ “ کے معنی میں تبدیلی نہیں کرتا۔ کیونکہ معراج عالم شہادت میں ہو یا عالم رؤیا میں ہو دونوں صورتوں میں اس فقرہ کے الفاظ کے معنی اسی جسم کے ساتھ آسمان پر اٹھانا ہی ہوں گے۔
٣؎ یہ آیت تمام اس طرح ہے۔ ” ولا تقولوا لمن یقتل فی سبیل اللہ اموات بل احیاء ولکن لا تشعرون (البقرہ:١٥٤) “ اور اس میں بل احیاء ہے نہ کہ بل ہم۔
٤؎ یہ عجیب فہم ہے۔ بات یہ ہے کہ جس جسم مقتول کو اموات کہنے سے نہی کی گئی ہے۔ اسی جسم مقتول کے لئے احیاء ثابت کیا گیا ہے۔
١٠٩
اور ہوگا۔ آپ فرماتے ہیں صنعت استخدام میں قرینہ ہونا ضروری ہے تو اس میں قرینہ ١؎ یہ ہے کہ اس کے تو معنی کسی طرح بھی آسمان پر بجسم عنصری جانے کے عربی زبان کی رو سے ہو نہیں سکتے۔ اور میں نے ٢؎ کہا تھا کہ نزول سے مراد یہی نہیں کہ آسمان سے اترنا ہی معنے ہوں۔ حدیث ٣؎ کے الفاظ ظاہر ہیں کہ ایک ہی قبر میں دفن ہوں گے نہ کہ ایک مقبرہ میں۔ ورنہ معنے کچھ
١؎ ”وما قتلوہ یقینا بل رفعہ اللّٰہ الیہ (مائدۃ:١٥٨)“ میں صنعت استخدام اختیار کرنے کا کوئی قرینہ نہیں ہے۔ بلکہ بل ابطالیہ اور قصر قلب اس بات پر قطعی قرینے ہیں کہ یہاں صنعت استخدام نہیں۔
[حاشیہ] ٢؎ اسلامی مناظر اپنے پرچہ نمبر ٣ میں یوں تردید کر چکے ہیں کہ یہ اعتراض آنحضرتﷺ پر ہے نہ ہم پر اصل بات یہ ہے کہ آنحضرتﷺ کے فقرے یُدْفَنُ مَعِیَ فِیْ قَبْرِیْ میں چونکہ قبر کے لفظ سے حقیقی معنی مراد لینے متعذر ہیں۔ اس لئے اس قدر مجاز اختیار کی جائے گی کہ قبر سے مراد وہ مقبرہ ہے۔ لیکن بروئے قواعد بیان یہ مجاز اختیار کرنا ہرگز جائز نہیں کہ قادیان کا مقبرہ مراد لی جائے۔
٣؎ مواہب لدنیہ میں ہے۔ ”ثم قالوا این تدفنونه فقال ابوبکرؓ سمعت رسول اللّٰہﷺ یقول ما ھلك نبی قط الا يدفن حيث تقبض روحه وقال على وانا ايضاً سمعته (مجلس معارف ص ٥٩٣ بیروت)“ یعنی آنحضرتﷺ کے فوت ہونے کے بعد صحابہؓ نے کہا کہ آنحضرتﷺ کو کس جگہ دفن کیا جائے تو حضرت ابوبکر صدیقؓ نے کہا کہ میں نے آنحضرتﷺ سے سنا ہے کہ آپ فرماتے ہیں کہ کوئی نبی فوت نہیں ہوا۔ مگر وہ اسی جگہ دفن کیا جاتا ہے۔ جہاں اس کا روح قبض کیا گیا اور حضرت علیؓ نے فرمایا کہ میں نے بھی اس حدیث کو آنحضرتﷺ سے سنا ہے۔ دیکھو کہ آنحضرتﷺ کے دفن کے وقت حضرت ابوبکرؓ اور حضرت علیؓ یہ حدیث پیش کرتے ہیں اور اسی پر فیصلہ ہوتا ہے اور حضرت عائشہؓ کی خواب نہیں پیش کی جاتی اور قادیانی مناظر نے حضرت یوسف علیہ السلام اور حضرت یعقوب علیہ السلام کے متعلق بطور تحکم ایک دعویٰ بلا دلیل پیش کر دیا ہے۔ نہ اس دعویٰ پر قرآن کریم کا فقرہ پیش کیا گیا ہے اور نہ حدیث کا نہ ہی قول صحابہؓ کا اور جب اس حدیث کے مطابق جس کو حضرت ابوبکرؓ اور حضرت علیؓ روایت کرتے ہیں اور جس پر تمام صحابہؓ کا آنحضرتﷺ کی وفات کے وقت بالاتفاق اجماع ہوا کہ سچے نبی کا یہ نشان ہے کہ وہ جہاں مرے اسی جگہ دفن کیا جاتا ہے تو کیا وجہ ہے کہ مرزا قادیانی جن کا دعویٰ تھا کہ میں آنحضرتﷺ کی تابعداری میں رہ کر نبی بن گیا ہوں۔ فوت تو ہیضہ سے ہوئے لاہور میں۔ مدفون ہوئے قادیان میں۔ کیا یہ واقعہ مرزا قادیانی کے جھوٹا نبی ہونے پر کافی ثبوت نہیں اور بعد مرنے کے مرزا قادیانی کی لاش کو لاہور سے لاد کر قادیان لانے کے لئے سوائے ریل کی کمتر درجہ کی گدھے گاڑی کے اور کوئی سواری نہ مل سکی۔ حالانکہ اپنی تصنیفات میں مرزا قادیانی ریل کو دجال کا گدھا لکھتے رہے۔ پھر جو شخص ساری عمر دجال کے گدھے پر سفر کرتا رہا ہو اور مرنے کے بعد بھی اس کی لاش کو دجال ہی کے گدھے پر سوار ہونا نصیب ہوا ہو۔ کیا ایسا شخص بقول مرزا قادیانی سچا مسیح ہو سکتا ہے یا پورا پورا دجال۔ مرزائی دوستو! ہم کچھ نہیں کہتے۔ اس بات کو آپ خود ہی سوچیں اور اپنے ضمیر سے جواب لیں۔ ”فتفکروا فی انفسکم افلا تعقلون“
١١٠
نہیں اور لغت میں مقبرہ کا لفظ موجود ہے اور آپ نے جو تاویل حضرت عائشہؓ کی حدیث کی کی ہے ۔ اس سے تو تین چاند اور ایک سورج بنا۔ لیکن حدیث (طبرانی کبیر حدیث نمبر ١٢٧ ، ج ٢٣ ص ٤٨) میں ہے کہ جب آنحضرت ﷺ دفن ہوئے تو حضرت ابوبکرؓ نے فرمایا کہ اے عائشہؓ یہ ایک چاند ہے تین چاندوں میں سے اور آپ کا اپنی خواب کو پیش نہ کرنا اس وجہ سے تھا کہ انہیں تعبیر معلوم نہ تھی اور ہر ایک نبی کے لئے اپنے مرنے کی جگہ دفن ہونا ضروری نہیں۔ کیا آپ کو معلوم نہیں کہ حضرت یوسف علیہ السلام کو مصر سے شام کو لایا گیا تھا اور حضرت یعقوب علیہ السلام کو بھی مرنے کی جگہ دفن نہیں کیا گیا تھا۔ بلکہ یہاں اصل میں آنحضرت ﷺ ہی مراد ہیں اور خلیفہ ١ اول نے جب خود ہر جگہ کی تفسیر کر دی ہے تو آپ کون ہوتے ہیں کہ کسی کی تفسیر کریں۔ میں نے مسیح کی فضیلت بلحاظ معاملہ کے جو خدا تعالیٰ نے ان سے کیا ثابت کی تھی۔ اس کی تردید نہیں کی۔ آخر آسمان پر لے جانا تو بری بات نہیں۔ اچھی ہے تو وہ ان کی ٢ عبودیت کے نتیجہ میں ہی تو ہے اور آیت ” ان منكم لمن ليبطئن “ اور ” ليقولن “ کے معنی استقبال کے لے کر کچھ بھی نہیں بنتے اور آیت ” لنهدينهم سبلنا “ کے بھی جب تک استمراری معنی نہ لئے جائیں صحیح نہیں۔ قرآن مجید ٣ نحو کے تابع نہیں بلکہ قرآن مجید نحو پر حاکم ہے۔
اور ٤ حضرت ابن عباسؓ کے متعلق تفسیر فتح البیان کے مقدمہ میں لکھا ہے کہ ان کی طرف بہت سی روایات منسوب کی گئی ہیں اور ان سے اعلیٰ طرق کی پکی اور صحیح روایات وہ ہیں جو امام بخاری نے کی ہیں اور بخاری میں انہوں نے متوفیک کے معنی ممیتک کئے ہیں۔
١ فقرہ (ہر جگہ ) کے متعلق اسلامی مناظر نے تفسیر نہیں کی بلکہ اتنا کہا ہے ۔ ” الاعتبار لعموم اللفظ لا لخصوص المورد “
٢ قادیانی مناظر نے بھی تسلیم کر لیا ہے کہ افضلیت کا سبب کمال عبودیت ہے نہ آسمان پر اٹھائے جانا۔
٣ اس عبارت میں قادیانی مناظر نے تسلیم کر لیا ہے کہ میرے پاس ایسا نحوی قاعدہ کوئی نہیں۔ جس کو میں اپنی تائید میں پیش کر سکوں اور اصل بات یہ ہے کہ لغت عرب کو قواعد عربیت کے مطابق سمجھنا ضروری ہے اور قرآن کریم بھی عربی لغت میں ہے اور ”لنهدينهم سبلنا“ میں بھی استمرار استقبالی ہے۔
٤ قادیانی مناظر نے تفسیر فتح البیان کا حوالہ دینے میں شرط نمبر ١ و شرط نمبر ٢ سے تجاوز کیا ہے اور حضرت ابن عباسؓ کی تفسیر ممیتک پیش کرنے میں شرط نمبر ٣ سے تجاوز کیا ہے۔ لیکن پھر بھی مفتی صاحب اسلامی مناظر نے اپنے پرچہ نمبر ٥ میں اس کا اس طرح جواب دیا ہے کہ حضرت ابن عباسؓ نے جو متوفیک کی تفسیر ممیتک کی ہے اس سے قادیانی مناظر کا یہ دعویٰ ثابت نہیں ہوتا کہ مسیح ابن مریم فوت ہو چکے ہیں۔ بلکہ اس تفسیر اختیار کرنے کے بعد بھی یہ آیت ” يا عیسی انی متوفيك “ مانند آیت ” وما قتلوه يقيناً بل رفعه الله اليه “ اس بات پر زبردست اور محکم دلیل ہے کہ مسیح ابن مریم زندہ بجسدہ العنصری آسمان پر اٹھائے گئے ہیں جس کی توضیح یہ ہے۔
١١١
یہ آیت اس طرح ہے۔ ”اذ قال الله يا عيسى انى متوفيك ورافعك الى ومطهرك من الذين كفروا وجاعل الذين اتبعوك فوق الذين كفروا الى يوم القيامة (آل عمران:٥٥) “ یعنی جب اللہ تعالیٰ نے کہا اے عیسیٰ میں تجھے فوت کرنے والا ہوں اور اپنی طرف تجھے اٹھانے والا اور تجھے ان سے پاک کرنے والا جو کافر ہیں اور جنہوں نے تیری پیروی کی ان کو ان پر جنہوں نے انکار کیا فوقیت دینے والا ہوں قیامت کے دن تک اور اس آیت میں لفظ عیسیٰ سے مراد نہ فقط جسم ہے اور نہ ہی فقط روح۔ بلکہ جسم مع الروح یعنی زندہ عیسیٰ کیونکہ توفی یعنی موت زندہ انسان کو لاحق ہوتی ہے نہ مردہ کو۔ اور یہ امر بالکل روشن ہے کہ ہر چہار ضمیریں خطاب کا مخاطب وہی ایک عیسیٰ زندہ بعینہ ہے۔ کیونکہ ضمیر خطاب معرفہ ہے۔ بلکہ بوجہ ضمیر متکلم کے اعرف المعارف ہے اور بوجہ تقدیم عطف و تاخیر ربط اس آیت کا یہ مطلب ہے کہ یہ چاروں واقعات قیامت سے پہلے پہلے حضرت عیسیٰ علیہ السلام زندہ بعینہ کے ساتھ ہو جائیں گے اور صیغہ اسم فاعل استقبال کے لئے بکثرت مستعمل ہوتا ہے۔ دیکھو ”وانا لجاعلون ما عليها صعيداً جرزاً (کہف:٨) “ یعنی اور ہم یقیناً اسے جو اس (زمین) پر ہے ہموار میدان سبزہ سے خالی بنانے والے ہیں اور مرزا قادیانی کو بھی اس آیت ”یا عیسی انی متوفیک“ کا الہام ہوا تھا۔ حالانکہ مرزا قادیانی اس الہام کے بعد بھی زندہ رہے۔ (براہین احمدیہ ص ٥٥٦، خزائن ج١ ص ٦٦٤ حاشیہ نمبر٤) اب اگر ہم متوفیک سے حسب تفسیر حضرت ابن عباس ممیتک مراد لیں تو ہر چہار ضمیریں خطاب کا مخاطب ایک عیسیٰ زندہ بعینہ ہونے کے لحاظ سے تقدیم و تاخیر کا قول کیا جائے گا جو قواعد عربیت کے خلاف نہیں۔ کیونکہ تمام نحویوں کا اس پر اتفاق ہے کہ واؤ عاطفہ میں ترتیب حکایت اور ترتیب محکی عنہ کا تطابق ضروری نہیں اور محاورات قرآنی بھی اس بات کی شہادت دیتے ہیں کہ واؤ عاطفہ میں ترتیب ضروری نہیں دیکھو ”والله اخرجكم من بطون امهاتكم لا تعلمون شيئاً وجعل لكم السمع والابصار والافئدة (نحل:٧٨)“ یعنی اللہ تعالیٰ نے تمہیں تمہاری ماؤں کے پیٹوں سے نکالا۔ تم کچھ بھی نہ جانتے تھے اور تمہیں کان اور آنکھیں اور دل دئے۔ اس آیت میں واؤ عاطفہ ہے اور مضمون اخراج من بطون الامہات ذکر میں مقدم ہے۔ لیکن اس کا وقوع پیچھے ہوا کرتا ہے اور مضمون ”جعل السمع والابصار والافئدة“ ذکر میں مؤخر ہے۔ لیکن اس کا تحقق پہلے ہوا کرتا ہے اور دیکھو ”وادخلوا الباب سجداً وقولوا حطة (بقره:٥٨) “ اور ”وقولوا حطة وادخلوا الباب سجداً (اعراف:١٦١)“ سورہ بقرہ کی آیت میں مضمون امر بدخول الباب ذکر میں مقدم ہے اور مضمون امر بقول حطۃ ذکر میں مؤخر ہے اور سورہ اعراف میں ان ہر دو مضمونوں کا ذکر برعکس ہے اور ہر دو آیتوں میں واؤ عاطفہ ہے۔ اگر واؤ عاطفہ میں ترتیب حکایت اور ترتیب محکی عنہ کا تطابق ضروری ہو تو ان ہر دو آیتوں کے درمیان تعارض لازم آئے گا۔ ”وهو كما ترى“ اور عقل بھی یہی فیصلہ کرتا ہے کہ اس آیت میں بر تقدیر تفسیر ممیتک تقدیم و تاخیر ہے۔ کیونکہ اگر متوفیک کا وقوع پہلے فرض کیا جائے اور رافعک الی سے رفع روحانی مراد لی جائے تو علاوہ مخالفت قواعد عربیت کے یہ اعتراض بھی وارد ہوتا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام مقرب الٰہی ہیں اور بعد الموت ہر ایک مقرب الٰہی کی رفع روحانی تو ضرور ہوتی ہے تو پھر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے حق میں ورافعک الی کی خصوصیت کی کیا وجہ ہے۔
١١٢
اور یہ عالمگیر غلبہ سے یہ مراد نہیں کہ ہر ایک فرد مان لے اور ٢ ابو ہریرہؓ کے متعلق جو میں نے کہا ہے اسے آپ نہیں سمجھے۔ عبارت پر غور کریں۔ آپ ٣ میرے پرچہ میں ابن مریم کے لئے کلا کا لفظ نہیں دکھا سکتے۔ یہ محض الزام جو آپ نے مجھ پر لگایا۔ اب آپ کے اعتراضوں کے جواب دے کر میں چند اعتراضات ٤ آپ کی خدمت میں پیش کرتا ہوں۔
١ اسلامی مناظر نے بوجہ تنگی وقت مرزا قادیانی کا ایک فقرہ نقل کیا۔ اب تفصیلاً نقل کی جاتی ہے۔ مرزا قادیانی لکھتے ہیں ۔ ”ھو الذی ارسل رسولہ بالھدی ودین الحق لیظہرہ علی الدین کلہ (الفتح:٢٨)“ یعنی خداوند ہے جس نے اپنے رسول کو ایک کامل ہدایت اور سچے دین کے ساتھ بھیجا۔ تا اس کو ہر ایک قسم کے دین پر غالب کر دے۔ یعنی ایک عالمگیر غلبہ اس کو عطاء کرے اور چونکہ وہ عالمگیر غلبہ آنحضرت ﷺ کے زمانہ میں ظہور میں نہیں آیا اور ممکن نہیں کہ خدا کی پیش گوئی میں کچھ تخلف ہو۔ اس لئے اس آیت کی نسبت ان سب متقدمین کا اتفاق ہے۔ جو ہم سے پہلے گزر چکے ہیں کہ یہ عالمگیر غلبہ مسیح موعود کے وقت ظہور میں آئے گا۔ (چشمہ معرفت ص ٨٣ خزائن ج ٢٣ ص ٩١) دیکھو مرزا قادیانی کے یہ فقرے ”چونکہ وہ عالمگیر غلبہ آنحضرت ﷺ کے زمانہ میں ظہور میں نہیں آیا۔“ تا ”یہ عالمگیر غلبہ مسیح موعود کے وقت ظہور میں آئے گا“ قادیانی مناظر کے اس فقرہ ”اور عالمگیر غلبہ سے یہ مراد نہیں کہ ہر ایک فرد مان لے ۔“ کی صاف طور پر تردید کرتے ہیں۔
٢ قادیانی مناظر نے ابو ہریرہؓ سے جو مراد ہے کیوں اب بیان نہیں کی۔
٣ اسلامی مناظر نے اپنے پرچہ نمبر ٣ میں لکھا ہے۔ میں افسوس کرتا ہوں کہ میرے مناظر صاحب نے تہذیب کو جواب دے کر کلا کو ابن مریم کے لئے کلا کہا ہے۔ دیکھو کہ اسلامی مناظر نے یہ نہیں لکھا کہ قادیانی مناظر نے کلا لکھا ہے۔ بلکہ یہ لکھا ہے کہ قادیانی مناظر نے کلا کہا ہے۔
٤ اسلامی مناظر نے اپنے پرچہ نمبر ٥ میں ان اعتراضات کے متعلق اتنا لکھا ہے کہ قادیانی مناظر نے جو نمبر دے کر قریباً ٢٢ باتیں لکھی ہیں یہ محض خیالی اور وہمی باتیں ہیں۔ جو شرط نمبر ١، شرط نمبر ٢ کے سراسر خلاف ہیں۔ کیونکہ یہ باتیں نہ قرآن کریم سے مستنبط ہیں اور نہ حدیث سے اور نہ اقوال صحابہ سے اور قواعد عربیت سے بلکہ عقل و نقل ان کی تردید کرتے ہیں۔ دیکھئے ہم نمبر وار ان کی منہاج نبوت پر تردید کرتے ہیں۔
١ ...... فضیلت کا سبب بروئے قرآن وحدیث کمال عبودیت ہے نہ مقر ملائکہ میں ہونا یہی وجہ ہے کہ محمد رسول اللہ ﷺ ملائکہ سے بھی افضل ہیں۔ کیونکہ ملائکہ میں فقط قوت ملکیہ ہے۔ قوت بہیمیہ نہیں۔ جیسا کہ خدا تعالیٰ فرماتا ہے۔ ”لا یعصون اللہ ما امرھم ویفعلون ما یؤمرون (تحریم:٦)“ تو ملائکہ کی یہ تعریف نہیں ہو سکتی کہ وہ جرم نہیں کرتے۔ کیونکہ ان میں جرم کرنے کی قوت ہی نہیں۔ جیسا کہ عنین کی یہ تعریف نہیں کی جاتی کہ وہ زنا نہیں کرتا۔ کیونکہ عنین میں زنا کرنے کی قوت ہی نہیں اور جیسا کہ مفلوج کی یہ تعریف نہیں کی جاتی کہ وہ چوری نہیں کرتا۔ کیونکہ مفلوج میں چوری کرنے کی قوت ہی نہیں اور انسان میں چونکہ قوت ملکیہ اور قوت بہیمیہ دونوں ہیں۔ اس لئے جو انسان قوت بہیمیہ کی خواہشات کو ترک کر کے قوت ملکیہ کی خواہشوں کو پورا کرے
١١٣
اور عبودیت میں کمال پیدا کرے وہ انسان فرشتوں سے بھی افضل ہے اور چونکہ آنحضرت ﷺ نے باوجود انسان ہونے کے تمام انسانوں سے عبودیت میں زیادہ کمال پیدا کیا ہے۔ اس لئے وہ تمام مخلوق سے افضل ہے۔
- ٢...... محبوبیت کی علت کمالِ عبودیت ہے نہ آسمان پر اٹھائے جانا۔ یہی وجہ ہے کہ
آنحضرت ﷺ میں محبوبیت مطلقہ ہے۔ جیسا کہ: "فاتبعونی یحببکم اللہ" سے ظاہر ہے اور جو محبوب اللہ ہوتے ہیں وہ دنیا میں مخلوق کے لئے اسوۂ حسنہ ہوتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ وہ خدا کے راستہ میں دکھ دیئے جاتے اور ستائے جاتے ہیں تا کہ صفت صبر کا بھی ظہور ہو۔
- ٣...... یہ سوال ایسا ہے جیسا کوئی کہے کہ اہل فارس وروم وغیرہ آنحضرت ﷺ کے زمانہ میں
مشرف باسلام نہیں ہوئے تو اگر خلیفہ اوّل یا ثانی یا ثالث یا رابع کے زمانہ میں وہ مشرف باسلام ہو جائیں تو لازم آئے گا کہ خلفاء کی روحانیت وقدسیت زیادہ ہے تو ایسے قائل کے جواب میں یہی کہا جائے گا کہ خلفاء کی کارروائی چونکہ تاسیس نبوی کی ترقی ہے اور اس بنیاد ڈالی ہوئی کی تعمیر ہے۔ اس لئے وہ بعینہ نبوی کارروائی کہلانے کا استحقاق رکھتی ہے۔ ویسا ہی پیش گوئی آیت "لیظهره علی الدین کلہ" والی آخری خلیفہ نبوی یعنی مسیح ابن مریم کے زمانہ میں متحقق ہوگی۔ کیونکہ مسیح ابن مریم آنحضرت کی امت میں داخل ہوکر اور خلیفہ نبوی ہوکر تاسیس نبوی کی تعمیر کریں گے۔ اس وجہ سے یہ تعمیر بعینہ تعمیر نبوی ہوگی۔
- ٤...... خدا تعالیٰ فرماتا ہے۔ "لا یسئل عما یفعل وهم یسئلون
(الانبیاء:٢٣)" یعنی اس اللہ سے اس کے متعلق پوچھا نہیں جاتا جو وہ کرتا ہے اور ان سے پوچھا جائے گا۔
- ٥...... اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ "لا یسئل عما یفعل وهم یسئلون"
- ٦...... جیسا کہ ملاقات موتی موجب موت نہیں۔ ویسا ہی ملاقات احیاء مستلزم حیات نہیں۔
انبیاء کی حیات سے تو قادیانی جماعت متنفر ہے اور ہم اسلامی جماعت کو تو اس نبی کی حیات کے ساتھ ایمان ہے۔ جس کی حیات کی قرآن کریم یا حدیث نبوی شہادت دیں۔
- ٧...... مسیح ابن مریم کے شبیہ بنانے میں یہ حکمت تھی کہ یہود کو جو مسیح ابن مریم کے قتل کرنے
کے لئے آئے ان کو سزا دی جائے۔ جیسا کہ خدا تعالیٰ کا ارشاد ہے۔ "ومکروا ومکر اللہ واللہ خیر الماکرین (آل عمران:٥٤)" یعنی یہود نے (عیسیٰ علیہ السلام کو قتل کرنے اور صلیب پر چڑھانے کی) تدبیر کی اور اللہ تعالیٰ نے بھی ایک تدبیر کی (کہ آپ کو آسمان پر اٹھا لیا اور ان یہود میں سے ہی ایک شخص کو مصلوب کرا کے قتل کروایا) اور اللہ تعالیٰ سب تدبیر کرنے والوں سے بہتر تدبیر کرنے والا ہے۔
- ٨...... قرآن کریم میں اتنا ذکر ہے کہ مسیح ابن مریم کا شبیہ مصلوب ہوا۔ جیسا کہ خدا تعالیٰ
فرماتا ہے۔ "وما قتلوه وما صلبوه ولكن شبه لهم (النساء:١٥٧)" اور اسی کے ساتھ ہمارا ایمان ہے اور اس شبیہ کی شخصیت معلوم کرنی ضروری نہیں۔
- ٩...... اس فعل میں اللہ تعالیٰ کی یہ حکمت و تدبیر محکم تھی کہ جولوگ ایک مقرب الہی کو بے گناہ
قتل کرنے کے ارادے پر آئے انہی میں سے ایک شخص کو انہی کے ہاتھوں سے مصلوب کرا دیا۔
- ١٠...... خدا تعالیٰ کو یہود سے محبت نہ تھی۔ بلکہ ان کو اس وجہ سے کہ انہوں نے ایک مقرب الہی
کے قتل کا ارادہ کیا۔ سزا دینی مقصود تھی۔
١١٤
- ١١...... اس شبہ ڈالنے سے اللہ تعالیٰ کو یہ مقصود نہ تھا کہ مسیح ابن مریم کی بے قدری کی جائے۔
بلکہ اس میں یہ حکمت تھی کہ تدبیر محکم کے ساتھ سزا دی جائے۔ ”واللہ خیر الماکرین“
- ١٢...... یہ عجیب وہم ہے۔ کیونکہ یہود تو اس وجہ سے مجرم ہیں کہ انہوں نے مسیح ابن مریم کے جو
مقرب الٰہی ہے قتل کرنے کا ارادہ کیا اور شبیہ کا مصلوب ہونا یہ تو سزا کا رنگ ہے۔
- ١٣...... ”وکان اللہ عزیزاً حکیما“ اور ”ان اللہ علٰی کل شئ قدیر“ کے لحاظ
سے اللہ تعالیٰ کی حکمتیں اور قدرتیں غیر متناہی وغیر محدود ہیں اور یہ ضروری نہیں کہ جب ایک موقعہ پر حکمت اور تجلی قدرت کا جس رنگ میں ظہور ہو تو دوسرے موقعہ پر بھی حکمت اور تجلی قدرت اسی رنگ میں جلوہ گر ہو۔ کیونکہ ”کل یوم ھو فی شأن“
- ١٤...... مسیح ابن مریم کی عمر کتنی بھی ہو وہ ”رسولاً الیٰ بنی اسرائیل (آل
عمران:٤٩)“ کے منافی نہیں اور قادیانی مناظر کا یہ فقرہ (بلکہ رسولاً الیٰ اہل السماء کہنا چاہئے تھا) عجیب جہالت ہے۔ کیونکہ اہل سماء یعنی فرشتے مکلف ہی نہیں۔ جیسا کہ اس آیت میں ”وحملھا الانسان انہ کان ظلوماً جھولاً (احزاب:٧٢)“ یعنی انسان اس لئے مکلف ہے کہ اس میں مکلف ہے کہ اس میں کمال بالفعل نہیں اور کمال حاصل کرنے کی اس میں قوت ہے۔ کیونکہ ظلوم وہ ہے جس میں عدل بالفعل نہ ہو اور عدل کے حاصل کرنے کی اس میں قوت ہو اور جہول وہ ہے جس میں علم بالفعل نہ ہو اور علم کے حاصل کرنے کی اس میں قوت ہو۔ یعنی انسان اس لئے مکلف ہے کہ اس میں قوت ملکیہ اور قوت بہیمیہ دونوں ہیں اور چونکہ باقی حیوانوں میں فقط قوت بہیمیہ ہے۔ قوت ملکیہ اور قوت ملکیہ نہیں اور فرشتوں میں فقط قوت ملکیہ ہے۔ بہیمیہ نہیں۔ اس لئے جیسا کہ باقی حیوانات غیر مکلف ہیں ویسا ہی فرشتے بھی غیر مکلف ہیں اور رسول اہل تکلیف کی طرف بھیجے جاتے ہیں۔ نہ غیر اہل تکلیف کی طرف۔ پس ثابت ہوا کہ قادیانی مناظر کا فقرہ مذکورہ عجیب جہالت ہے۔
- ١٥...... مسیح ابن مریم کے زندہ بجسدہ العنصری آسمان پر اٹھانے سے خدا تعالیٰ کی قدرت کاملہ
کا ظہور ہوتا ہے۔ کیونکہ یرفع الی السماء کامل القدرۃ والے کے سوائے کوئی نہیں کر سکتا اور نیز یہ رفع ”کتب اللہ لا غلبن انا ورسلی“ کے بالکل مطابق ہے۔ کیونکہ یہود کے مقابلہ میں اللہ تعالیٰ اور رسول یعنی مسیح ابن مریم غالب ہوئے اور مسیح ابن مریم کو ایسا غلبہ ہوا کہ اخیر زمانہ میں خدا تعالیٰ اسی مسیح کو زمین پر نازل کرے گا اور وہ مسیح آنحضرت ﷺ کا آخری خلیفہ ہو کر تجدید اسلام کرے گا اور اسی مسیح کے ہاتھ پر اہل الملۃ الیہودیہ مشرف باسلام ہوں گے۔ اعلیٰ غلبہ ہے۔
- ١٦...... مسیح ابن مریم میں رفع جبرائیلی کی ایک جزوی خصوصیت ہے۔ جس کی وجہ سے وہ آسمان پر
اٹھائے گئے اور یہ جزوی خصوصیت فضیلت کلی کا موجب نہیں ہو سکتی۔ بلکہ فضیلت کلی کی علت کمال عبودیت ہے اور جیسا کہ اللہ تعالیٰ الوہیت میں لاشریک لہ ہے۔ ویسا ہی آنحضرت ﷺ کمال عبودیت میں لاشریک لہ ہیں اور قادیانی مناظر نے جو آنحضرت ﷺ کے متعلق چند اشعار درج کئے ہیں۔ ان کے متعلق میں یہ ظاہر کرنا چاہتا ہوں کہ یہ اشعار نہ مرزا قادیانی نے دلی اعتقاد واخلاص سے کہے ہیں اور نہ ہی قادیانی جماعت کو ان اشعار کے مضامین کے ساتھ اعتقاد ہے۔ بلکہ ایسے اشعار اسلامی جماعت کو شکار کرنے کے لئے کہے جاتے ہیں۔ ورنہ مرزا قادیانی یہ اشعار کیوں کہتے ؎
١١٥
آدم نیز احمد مختار در برم حلقۂ ہمہ ابرار
آنچہ داد است ہر نبی را جام داد آں جام را مرا بتمام
آنچہ من بشنوم زوحی خدا بخدا پاک دانمش زخطا
ہمچو قرآں منزہ اش دانم از خطاہا ہمیں ست ایمانم
انبیاء گرچہ بودہ اند بسے من بعرفاں نہ کمترم زکسے
(درثمین ص ٩٩، خزائن ج ١٨ ص ٤٧٧)
اور نیز
(تریاق القلوب ص ٦، خزائن ج ١٥ ص ١٣٢)
اور اسلامی جماعت کا بااِخلاص یہ ایمان ہے۔
وکلهم من رسول الله ملتمس غرفا من البحر او رشفا من الدیم
وکل آی اتی الرسل الکرام بها فانما اتصلت من نوره بهم
فانه شمس فضل هم کواکبها یظهر انوارها للناس فی الظلم
- ١٧...... مسیح ابن مریم کے دو ہزار سال میں ان کے قویٰ کو قائم رکھنا اللہ تعالیٰ کی قدرت کاملہ
سے باہر نہیں۔ درحقیقت یہ استعجاب ”ان الله علی کل شئی قدیر“ پر ہے۔
- ١٨...... قرآن کریم میں ہے ۔ ”لا یسئل عما یفعل وھم یسئلون“ اور ما موصولہ غالباً
غیر ذوی العقول کے لئے آتا ہے۔
- ١٩...... اسلامی مناظر نے اپنے پرچوں میں واضح کردیا ہے کہ:”الیٰ یوم القیامۃ“ ہر
چہار واقعات کے متعلق ہے۔ جس کی تائید آیت ”لیظهره علی الدین کله“ کرتی ہے۔
- ٢٠...... انسان اور انسان کے قویٰ اور قوّی کے افعال اور کیلوس و کیموس ہونا اور خون کا بدل
ما تحلل بننا یہ سب چیزیں اس قادر مطلق کی مسخر اور محکوم ہیں اور جیسا کہ وہ قادر مطلق انسان کی حیاتی کو بذریعہ مادی غذا کے قائم رکھتا ہے۔ ویسا ہی وہ قادر مطلق انسان کی حیاتی بذریعہ غذا غیر مادی قائم رکھ سکتا ہے۔ دیکھو حدیث ”ولست کاحدکم یطعمنی ربی ویسقینی“
- ٢١...... دو امر قابل توجہ ہیں۔ اوّل یہ کہ: ”رسولا الیٰ بنی اسرائیل“ میں حصر نہیں۔
ورنہ عبارت یوں ہوتی ۔الیٰ بنی اسرائیل رسولاً اور دوسرا یہ کہ مسیح ابن مریم آنحضرت ﷺ کے خلیفہ اور مجدد ہو کر تشریف لائیں گے۔
- ٢٢...... یہ جان بوجھ کر قرآن کریم کے ساتھ ہنسی ہے۔
١١٦
جامہ ہمہ ابرار
جام را مرا بتمام
پاک دانش زخطا
خطایا ہمیں ست ایمانم
بعرفاں نہ کمترم زکے
(درثمین ص ٩٩ ، خزائن ج ١٨ ص ٤٧٧)
(تریاق القلوب ص ٦ ، خزائن ج ١٥ ص ١٣٤)
ا من البحر او رشفا من الدیم
ما اتصلت من نوره بهم
ر انوارها للناس فی الظلم
کے قوی کو قائم رکھنا اللہ تعالیٰ کی قدرت کاملہ د‘‘ پر ہے۔ ما یفعل وهم یسئلون‘‘ اور ما موصولہ غالباً
ج کر دیا ہے کہ ”الیٰ یوم القیامۃ‘‘ ہر لدین کله‘‘ کرتی ہے۔ ے افعال اور کیلوس و کیموس ہونا اور خون کا بدل کہ وہ قادر مطلق انسان کی حیاتی کو بذریعہ مادی یہ غذا غیر مادی قائم رکھ سکتا ہے۔ دیکھو حدیث
سولاً الیٰ بنی اسرائیل‘‘ میں حصر نہیں۔ ن مریم آنحضرت ﷺ کے خلیفہ اور مجدد ہو کر
یا ہے۔
- ......١ کیا تمام انبیاء میں سے صرف حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو آسمان پر مقر ملائکہ
میں مع جسم عنصری زندہ قرار دینا کمال صفائی سے تمام انبیاء پر ان کی فضیلت ماننا نہیں ہے؟
- ......٢ وہ آسمان پر اٹھائے جانے سے آنحضرت ﷺ سے خدا کے نزدیک زیادہ
محبوب ٹھہرتے ہیں۔ کیونکہ ان کی زیادہ حفاظت کی گئی۔
- ......٣ ان کو دوبارہ بھیجنے سے ان کی روحانیت اور قدسیت زیادہ ماننی پڑتی ہے۔
کیونکہ جس کا کام اعلیٰ ہو اسی کو دوبارہ بھیجا جاتا ہے۔
- ......٤ اتنی دیر تک رکھنے کی کیا ضرورت تھی۔ کیا خدا تعالیٰ اور مسیح نیا نہیں بنا سکتا تھا؟
- ......٥ خدا تعالیٰ نے مسیح علیہ السلام کو دوسرے آسمان پر کیوں رکھا؟ اور ساتویں
آسمان پر کیوں نہیں لے گیا۔ کیا ان میں کوئی نقص باقی تھا؟
- ......٦ کیا وجہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے جن انبیاء کو معراج میں دیکھا اور جن کی
وفات پر قرآن مجید میں کوئی نص موجود نہیں۔ زندہ نہ مان لیا جائے۔
- ......٧ مسیح علیہ السلام کی تشبیہ بنانے میں کیا حکمت تھی۔ کیا یہود سے صرف پیچھا
چھڑانا مقصود تھا؟
- ......٨ اس شخص کا جو مسیح کی بجائے مصلوب ہوا قرآن وحدیث میں کوئی ذکر نہیں
ہے۔ آپ حدیث صحیح مرفوع متصل نہیں کوئی ضعیف مرفوع متصل ہی پیش کریں۔
- ......٩ اس فعل میں کہ حلیہ بدل کر ایک دوسرے شخص کو مروانے میں کیا حکمت
تھی۔ اللہ تعالیٰ کی ذات سے بعید ہے کہ اس کی طرف کوئی لغو کام منسوب کیا جائے۔
پھر اس میں بھی سنئے کہ وہ کون تھا۔ (١) حواری تھا۔ (٢) منافق۔ (٣) طیطاؤس۔ (٤) یہودیوں کا چوکیدار تھا۔ (٥) کوئی شخص تھا۔ (٦) ایک پر شبیہ ڈالی گئی۔ (٧) جماعت پر شبیہ ڈالی گئی؟ اگر یہ واقعہ ہوا تھا تو اس میں زمین و آسمان کے فرق پائے جانے کی کیا وجہ ہے؟
- ......١٠ کیا خدا تعالیٰ کو یہود سے اتنی محبت تھی کہ ان کی خاطر خدا تعالیٰ نے کسی اور
کو مسیح علیہ السلام کا ہم شکل بنا کر ان کو خوش کر دیا؟
- ......١١ کوئی پیارے کی شکل کی ہتک نہیں کرتا۔ اگر کسی کے باپ کی تصویر پر پیر
رکھ دیں تو وہ لڑنے کے لئے تیار ہو جائے گا۔ تو پھر خدا تعالیٰ نے اپنے پیارے کی شکل کو دوسرے کو دے کر کیوں اس کی بے قدری کی۔
- ......١٢ جب وہ یہود کی طرف رسول تھے اور خدا نے ان کو چھپا لیا اور اس کی
١١٧
بجائے ایک اور شخص کو مسیح کی شکل دی جسے انہوں نے مسیح سمجھ کر صلیب پر لٹکا کر مار دیا تو یہود عنداللہ مجرم نہیں ہو سکتے۔ کیونکہ ان کے مسلمات سے یہی بات تھی کہ جھوٹا نبی قتل کیا جائے گا اور جو کاٹھ پر لٹکا کر مارا جائے وہ لعنتی ہے۔
- ......١٣...... ایسے ملعون شخص کو جو مسیح کا دشمن تھا بندر اور سؤر کی شکل دینی چاہئے تھی نہ کہ
اپنے پیارے مسیح کی جو اس کا محبوب تھا۔ جیسے ”ومنهم من لعنه الله وغضب عليه وجعل منهم القردة والخنازير (مائده:٦٠)“ سے ظاہر ہے۔
- ......١٤...... جب ان کی مدت کل چالیس سال زمین میں پہلی اور آخری ملا کر ہے تو وہ
بنی اسرائیل کی طرف بقول آپ کے صرف تین برس تک رہے۔ پھر آسمان پر وہ ہزار سال تک اٹھائے گئے تو انہیں ”رسولاً الیٰ بنی اسرائیل“ نہیں کہنا چاہئے۔ بلکہ ”رسولاً الیٰ اهل السماء“ کہنا چاہئے۔
- ......١٥...... نیز آسمان پر اٹھانے سے خدا تعالیٰ کو کمزور ماننا پڑتا ہے۔ کیونکہ کمزور ہی
چیز کو چھپایا کرتا ہے اور نیز آیت ”كتب الله لا غلبن انا ورسلی“ کے بھی خلاف ہے۔
- ......١٦...... مسیح میں وہ کون سی خاص صفت ایسی تھی جو آسمان پر جانے کی متقاضی تھی
اور دوسرے انبیاء میں وہ نہیں پائی جاتی۔ اب سوال یہ ہے کہ وہ مابہ الامتیاز کون سی صفت ہے اور پھر وہ صفت اچھی ہے یا بری۔ اگر بری ہے تو وہ آسمان پر لے جانے کی باعث نہیں ہو سکتی۔ اگر اچھی تو رسول اللہ اس سے کیوں محروم رہے۔ ہم تو آنحضرت ﷺ کو افضل الانبیاء مانتے ہیں۔ آنحضرت ﷺ کے متعلق حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) فرماتے ہیں۔
ووالله ان محمد اكبر رافة وبه الوصول بسد السلطان
(آئینہ کمالات اسلام ص ٥٩٠، خزائن ج ٥ ص ٥٩٠)
اور
(ازالۃ اوہام ص ١٧٩، خزائن ج ٣ ص ١٨٥)
اور
(اخبار ریاض ہند امرتسر مورخہ یکم مارچ ١٨٨٣ء)
١١٨
صلیب پر لٹکا کر مار دیا تو یہود عند اللہ جھوٹا نبی قتل کیا جائے گا اور جو کاٹھ پر
اور سؤر کی شکل دینی چاہئے تھی نہ کہ عنہ اللہ وغضب علیہ وجعل
مین میں پہلی اور آخری ملا کر ہے تو وہ ہے۔ پھر آسمان پر وہ ہزار سال تک ہنا چاہئے۔ بلکہ ”رسولاً الی اھل
کمزور ماننا پڑتا ہے۔ کیونکہ کمزور ہی تسلّی“ کے بھی خلاف ہے۔ تھی جو آسمان پر جانے کی متقاضی تھی وہ مابہ الامتیاز کون سی صفت ہے اور پھر نے کی باعث نہیں ہوسکتی۔ اگر اچھی تو ﷺ کو افضل الانبیاء مانتے ہیں۔ فرماتے ہیں۔
الوصول بسد السلطان
(مباحث اسلام ص ٥٩٠، خزائن ج ٥ ص ٥٩٠)
(ازالۃ الاوہام ص ١٧٦، خزائن ج ٣ ص ١٨٥)
(ریاض ہند امرتسر مورخہ یکم مارچ ١٨٨٤ء)
اور ”تمت علیہ صفات کل مزیۃ“ وغیرہ سے ثابت ہے کہ آنحضرت ﷺ ہی تمام کمالات کے جامع ہیں۔
- ١٧...... مسیح کے دو ہزار سال میں ان کے قویٰ میں تغیر ہوتا ہے یا نہیں۔ اگر ہوتا
ہے تو دو ہزار برس میں جو ان کی حالت ہوئی ہوگی۔ اس کا اندازہ کر لیجئے اور اگر نہیں تو کیوں؟
- ١٨...... مسیح کو آسمان پر اتنی دیر رکھنے سے کیا فائدہ تھا۔ زمین پر کیوں نہ رکھا گیا۔
تاکہ ان سے مخلوق خدا کو بھی فائدہ پہنچتا۔ خصوصاً جب کہ فرمایا: ”واما ما ینفع الناس فیمکث فی الارض (الرعد:١٧)“
- ١٩...... اگر تمام اہل کتاب ایمان لے آئیں گے تو آیت ”وجاعل الذین
اتبعوک فوق الذین کفروا“ کے خلاف ہوگا۔ یہ نہیں کہ یہ وعدہ کسی وقت میں ہوگا۔ بلکہ الیٰ یوم القیٰمۃ کے الفاظ پر غور کرلیں۔
- ٢٠...... اور علم فزیالوجی کے ماتحت ذی حیات چیز کے لئے پاور آف ایکسکریشن اور
پاور آف اسی ملیشن کا پایا جانا ضروری ہے۔ مگر وہ اس وقت دونوں مسیح میں نہیں پائی جاتیں۔
- ٢١...... اگر مسیح دنیا میں دوبارہ آئیں تو وہ تمام جہاں کی طرف رسول ہو کر
آئیں گے تو یہ ”رسولاً الیٰ بنی اسرائیل“ کے خلاف ہوگا۔ کیونکہ وہ کہیں گے کہ میں تمام جہان کی طرف رسول ہوں اور قرآن مجید کہے گا ”ورسولاً الیٰ بنی اسرائیل“
- ٢٢...... پھر یہ سوال بھی ہوگا کہ مسیح کی موت نہیں ہوسکتی۔ جب تک کہ تمام اہل
کتاب ایمان نہ لائیں اور قرآن مجید سے ثابت ہے کہ قیامت کے دن تک سب یہود ایمان نہیں لائیں گے۔ پس ثابت ہوگا کہ مسیح کی وفات قیامت کے بعد ہوگی۔
پس یہ بائیس ٢٢ سوال ہیں جو میں نے آپ کے تمام اعتراضوں کے جواب دے کر پیش کئے ہیں اور نیز چھ سوال ٦ اور باقی وہ سوالات جو میرے پہلے پرچوں میں آچکے ہیں ان کے جوابات دیں۔
- ١؎ ان بائیس وہمی سوالوں کی تردید عقل اور نقل کے ساتھ کی گئی ہے۔ اب ناظرین پر روشن ہوگیا
ہے کہ جیسا کہ قادیانی مناظر نے اپنے پہلے پرچوں میں جا بجا شرط نمبر ١ اور شرط نمبر ٢ کی خلاف ورزی کی ہے۔ ویسا ہی ان بائیس وہمی سوالوں میں اس نے شرطین مذکورین سے تجاوز کی ہے اور نیز خیالی اور وہمی باتیں پیش کرنے سے یہ ثابت ہوگیا ہے کہ قادیانی مذہب کی بناء خیال اور وہم پر ہے نہ عقل اور نقل پر۔
- ٢؎ یہ چھ ڈھکوسلے بصورت سوال بھی آپ پیش کر دیئے۔ انشاء اللہ عقل اور نقل کے
ساتھ ان کا بخیہ ادھیڑا جاتا ہے۔
١١٩
مگر میں جانتا ہوں کہ آپ کی یہ ١ طاقت نہیں کہ آپ ان کا جواب دے سکیں۔ پس حیات مسیح کا مسئلہ ایک ایسا مسئلہ ہے جس پر کئی سو اعتراضات ٢ وارد ہو سکتے ہیں اور عیسائیوں کو یہ کہنے کا موقع ملتا ہے کہ ہمارا نبی زندہ ہے اور تمہارا نبی مردہ، اور قرآن مجید کہتا ہے کہ مردے اور زندے ٣ برابر نہیں۔ پس آنحضرت ﷺ سے مسیح افضل ہیں اور کفارہ ٤ کی بھی تائید ہوتی ہے۔ کیونکہ محض موت کو وہ کفارہ کا باعث نہیں مانتے۔ بلکہ صلیبی موت کو، اور پھر اس کا آسمان پر جانا وغیرہ باتیں ان کے عقائد کی تائید کرتی ہیں اور اگر مطلق موت نہیں تو جب بھی وہ مریں تو کفارہ ثابت ہو جائے گا اور ہمارا عقیدہ کہ طبعی موت سے وہ وفات پاچکے ہیں۔ کفارہ کو جڑ سے کاٹ دیتا ہے۔ سچ فرمایا ہے حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) نے۔
(آئینہ کمالات اسلام ص٣٩٣، خزائن ج٥ص ایضاً)
١ روئیداد مناظرہ دیکھنے سے ناظرین یہ فیصلہ کریں گے کہ جواب دینے کی اسلامی مناظر کو طاقت نہیں یا قادیانی مناظر میں جواب دینے کی استعداد ہی نہیں۔
٢ واقعی جن لوگوں کو ایمان بالقرآن والحدیث نہیں ان کو اس مسئلہ حیات مسیح ابن مریم پر کئی سو خیالات باطلہ اور توہمات کاذبہ پیدا ہوتے ہیں۔
٣ قرآن کریم کا یہ مطلب ہے کہ وہ لوگ جن کی روحانیت زندہ ہے اور وہ لوگ جن کی روحانیت مردہ ہے برابر نہیں اور قرآن کریم کا یہ مطلب نہیں کہ جو لوگ زندہ ہیں وہ فوت شدہ سے افضل ہیں۔ ورنہ لازم آئے گا کہ مولوی جلال الدین صاحب شمس جو زندہ ہیں مرزا قادیانی سے افضل ہوں جو فوت شدہ ہیں۔
٤ ناظرین انصاف کیجئے۔ دیکھو یہ قادیانی مناظر کیا کہتا ہے۔ عیسائیوں کا عقیدہ ہے کہ مسیح ابن مریم بذریعہ صلیب فوت ہوئے ہیں اور قادیانی جماعت کا عقیدہ ہے کہ صلیب سے اتر کر کچھ عرصہ کے بعد حتف انف کی موت کے ساتھ فوت ہوئے ہیں۔ عیسائیوں اور قادیانی جماعت کے درمیان اگر چہ مسیح ابن مریم کی موت کے اسباب میں اختلاف ہے۔ لیکن نفس موت میں متفق ہیں اور اسلامی جماعت کا یہ عقیدہ ہے کہ مسیح ابن مریم پر موت آئی ہی نہیں۔ بلکہ اللہ تعالیٰ نے اس کو زندہ بجسدہ العنصری آسمان کی طرف اٹھالیا ہے اور وہ اب تک زندہ ہے اور قرب قیامت میں نزول فرما کر تجدید اسلام کریں گے۔ چونکہ کفارہ کی بنا مسیح ابن مریم کی موت پر ہے۔ اس لئے اب دیکھنا یہ ہے کہ وہ مذہب جس میں مسیح ابن مریم کی موت کو تسلیم کیا گیا ہے۔ کفارہ کی پختگی کرتا ہے یا وہ مذہب جس میں مسیح ابن مریم کی موت سے بالکل انکار کیا گیا ہے۔ کفارہ کی پختگی کرتا ہے۔ اسی کفارہ کی پختگی کرنے کے لئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے۔ ”وما قتلوه يقيناً بل رفعه الله اليه“ حضرت عیسیٰ علیہ السلام مرے نہیں بلکہ ان کو زندہ اللہ تعالیٰ نے واقعہ صلیبی سے پہلے آسمان کی طرف اٹھا لیا ہے۔ نہ بانس ہو گا نہ بانسری بجے گی۔
٥ قادیانی مناظر کا مرزا قادیانی کے اشعار کو جا بیجا پیش کرنا شرائط مناظرہ کی کس قدر خلاف ورزی ہے۔
١٢٠
کیونکہ زندہ وہی ہوتا ہے جس کا کام زندہ ہو۔ جس کی قوم زندہ ہو۔ جس کا مذہب زندہ ہو۔ (آئینہ کمالات اسلام ص ٥٩٣، خزائن ج ٥ ص ٥٩٣) لیکن مسیح خود وفات پا چکے۔ اس کی قوم روحانیت کے لحاظ سے مر چکی۔ ان کی شریعت منسوخ ہو چکی۔ اس لئے آنحضرتﷺ ہی 1 زندہ نبی ہیں اور کوئی نہیں۔ 2 فافھم!
دستخط دستخط جلال الدین شمس (قادیانی مناظر) حاکم علی بقلم خود پریذیڈنٹ قادیانی جماعت ١٩؍ اکتوبر ١٩٢٤ء پرچہ نمبر ٤
از مفتی غلام مرتضیٰ صاحب
اسلامی مناظر
"سبحانك لا علم لنا الا ما علمتنا انك انت العليم الحكيم ، فان تنازعتم في شئ فردوه الى الله والرسول"
مجھے افسوس ہے کہ باوجود میرے مناظر صاحب کے جواب نہ دے سکنے کے پھر بھی وہ شرائط سے باہر ہو کر ادھر ادھر کی باتیں غیر متعلقہ کر رہے ہیں۔ کیونکہ میں نے "رفعہ اللہ" کے معنی "رفع الی السماء" کئے اور میرے مناظر صاحب نے "رفع الی اللہ" کی کوئی مثال پیش نہیں کی اور دیگر مثالوں کو پیش کر کے رفع کے لئے اور معنی ثابت کئے۔ یہ ان کو کیا مفید ہو سکتا ہے۔ دیکھئے کہ قرآن کریم میں بعل کا معنی زوج ہے۔ مگر "اتدعون بعلا" میں بت مراد ہے اور ہر جگہ قرآن کریم میں کنز سے مراد مال ہے۔ مگر کنز جو سورہ کہف میں ہے۔ اس سے مراد صحیفہ علم
1 چونکہ محمد رسول اللہﷺ (فداہ ابی وامی) قیامت تک زندہ نبی ہیں اور تمام دنیا میں یہی ایک کامل انسان ہے۔ اس لئے اسلامی جماعت ان کو خاتم النبیین اعتقاد کرتی ہے اور ان کے ظل نبوت سے خارج ہو کر کسی متنبّی کے زیر سایہ ہونا ایسا سمجھتی ہے۔ جیسا کہ آگ جلتی ہوئی شعلہ زن میں داخل ہونا۔ لیکن افسوس کہ قادیانی جماعت زبانی تو یہ کہتی ہے کہ آنحضرتﷺ زندہ نبی ہیں اور کوئی نہیں۔ لیکن اعتقاد خاتم النبیین کا انکار کر کے مرزا قادیانی کو نبی سمجھتی ہے اور ایسے زندہ نبی اور انسان کامل کے ظل ظلیل سے خارج ہو کر متنبّی کے زیر سایہ ہونا اعلیٰ درجہ کی ضلالت وشقاوت ہے۔ کیونکہ لوگ "ذالك ھو الفوز العظيم" سے محروم ہیں۔
2 فافہم کے ساتھ شاید قادیانی مناظر نے یہ ایماء کیا ہے کہ اے اسلامی مناظر تو سمجھ لے کہ میں آنحضرتﷺ کو زندہ نبی لساناً کہہ رہا ہوں نہ اعتقاداً۔
١٢١
ہے وغیرہ وغیرہ۔ جیسا کہ پرچہ نمبر ١ میں درج ہے۔ اس کا کوئی جواب نہیں۔ میں نے ”بل ابطالیہ“ کے مقتضاء کو اور قصر قلب کے مقتضاء کو لے کر فقرہ ”بل رفعہ اللہ الیہ “ سے ابن مریم کی حیات ثابت کی۔ لیکن میرے مناظر صاحب نے اس کا بھی کوئی جواب مطابق شرائط نہیں دیا اور ہر چہار ضمائر کے معرفہ ہونے کے لحاظ اور ان کا مرجع ایک ابن مریم زندہ بعینہ ہونے کے لحاظ سے بھی میں نے حیات ابن مریم کو ثابت کیا۔ مگر میرے مناظر صاحب نے اس کا بھی کوئی جواب عنایت نہیں فرمایا۔ ہاں صنعت استخدام کا نام لے کر ایک شعر پڑھ دیا ہے۔ لیکن علم بدیع کی طرف توجہ نہیں کی۔ ”البدیع هو علم یعرف به وجوه تحسين الكلام بعد رعاية المطابقة ووضوح الدلالة “ تو صنعت استخدام اس جگہ مراد نہیں ہو سکتی۔ جہاں اس کے اختیار کرنے سے مطابقت اور وضوح کے خلاف ہو اور نیز قرینہ کا ہونا ضروری ہے۔ جیسا کہ سیبویہ میں اور قواعد نحو کے مطابق لیؤمن سے استقبال مراد ہونا ثابت کیا گیا ہے۔ لیکن میرے مناظر صاحب نے قواعد نحوی کے رو سے کوئی جواب نہیں دیا اور قرآن کریم اور حدیث صحیح اور اقوال صحابہ اور لغت عرب اور صرف اور نحو اور معانی اور بیان اور بدیع امور مقررہ قرار دیئے گئے تھے اور میرے مناظر صاحب نے تو عجیب کام کیا ہے کہ کبھی تورات کا نام لیتے ہیں اور کبھی کسی تابعی کا ذکر کر دیتے ہیں اور کبھی شاہ رفیع الدین صاحب کو اپنے استدلال میں پیش کرتے ہیں اور کبھی آیات کو ان کے غیر مصداق پر پیش کر کے اس کو ان آیات کا مصداق قرار دیتے ہیں۔ جیسا کہ کلا میں کہا گیا ١؎ اور کبھی جبرائیل کا مسئلہ چھیڑ دیتے ہیں اور کبھی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی توہین شروع ٢؎ کر دیتے ہیں۔ جو فی الحقیقت ہماری توہین ہے۔
١؎ یہاں لفظ کہا گیا ہے نہ لکھا گیا۔ ٢؎ قادیانی مناظر نے یہ تقریر کی کہ قرآن کریم میں ہے کہ: ”حتی اذا جاء احدهم الموت قال رب ارجعون لعلی اعمل صالحاً فيما تركت كلا انها كلمة هو قائلها (مؤمنون: ١٠٠)“ یہ آیت عیسیٰ کو واپس نہیں ہونے دیتی۔ بلکہ یہ کلا مسیح کے لئے کلا ہے۔ اسلامی مناظر نے اپنے پرچہ نمبر ٤ وغیرہ میں اس کے متعلق یہ لکھا ہے کہ ہم حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی توہین برداشت نہیں کر سکتے۔ کیونکہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو قرآن کریم نے جلیل القدر نبی قرار دیا ہے۔ ہم مطابق آیت ”جزاء سيئة سيئة مثلها“ اتنا عرض کرتے ہیں کہ یہ آیت ظالموں کے حق میں ہے اور نیز اس آیت میں ان لوگوں کا ذکر ہے۔ جن پر موت وارد ہو اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا زندہ ہونا تو قرآنی دلائل سے قطعا ثابت ہے۔ اس لئے وہ اس آیت کا مصداق نہیں ہو سکتے۔ بلکہ مصنوعی مسیح یعنی مرزا قادیانی چونکہ فوت ہو چکے ہیں۔ اس لئے اس آیت کا وہ مصداق ہیں اور یہ کلا ان کے لئے کلا ہے۔
١٢٢
اور شعروں کا مطلب یہ ہے کہ تمام قرآن سے وفات ثابت نہیں ہوئی۔ بلکہ قرآن کریم سے حیات ثابت ہوتی ہے اور کوئی آیت حیات کی مخالف نہیں اور ”امتنی“ جب مطابق آیت لیا گیا تو پھر کیا اعتراض ہے اور ”فلما توفيتنی“ کی آیت کے الفاظ میں غور کریں تو صاف معلوم ہوتا ہے کہ زیر بحث قول ہے نہ علم اور ”اذ الاغلال“ کی مثال اذ کے لئے ہے نہ ماضی کے لئے اور ماضی بکثرت بمعنی استقبال آتی ہے۔ ”ونفخ فی الصور“ وغیرہ اور جب توفی بمعنی نیند اور موت ہے تو اس قدر تشبیہ کے لئے کافی ہے کہ دونوں میں معنی قبض روح کے ہوں اور ایک میں قبض مع الارسال ہونا اور دوسرے میں قبض مع الامساک ہونا تشبیہ کے خلاف نہیں۔
اور ”قد خلت من قبله الرسل“٢ میں ”سنة الله التي قد خلت“ کا کوئی جواب نہیں دیا گیا۔ اگر ہم بخوشنودی مناظر صاحب ان کے معنی مان لیں تو لازم آئے گا کہ (نعوذ باللہ) آنحضرت ﷺ رسول ہی نہیں۔ پس موجبہ کلیہ نہ ہوا اور ”تلك امة قد خلت“ میں بھی کوئی دلیل نہیں۔٣ ابوبکر کے متعلق خصوصیت سے ہم نے جواب دیا نہ کہ دوسرے مقاموں کا اور روح القدس بھی بوجہ اقنوم ثالث ہونے کے معبودات باطلہ میں داخل ہے اور ”والذین“ عام لفظ ہے اور ”اموات غیر احیاء“ میں اموات کی تاکید غیر احیاء سے کی ہے۔ اسی لئے کہ یہاں ان کی معبودیت کا باطل کرنا مقصود ہے۔ ”کانا یأکلان الطعام“ میں سبحان اللہ کیا گل کھلایا گیا۔ ہم نے تو یہی بات کہی ہے۔ کانا کی ماضی بوجہ مریم کے ہے اور مریم کی اس تعبیر برنگ تذکیر میں تغلیب ہے تو مناظر صاحب ہماری بات بیان کر رہے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ ہم تردید کر رہے ہیں اور ”یا مریم٤ اقنتی لربک واسجدی وارکعی مع الراکعین (آل عمران:٤٣)“ سے
- ١۔ یعنی تیروں کے زخم مل جاتے ہیں اور جو زبان زخم کرے وہ نہیں ملتے۔ دیکھو اس شعر میں
کلمات کو جرح کے ساتھ تشبیہ دی گئی ہے اور مابہ الشبیہ مطلق تاثیر ہے نہ خاص تاثیر جرح۔
- ٢۔ کیونکہ ”قد خلت من قبله الرسل“ میں بروئے قواعد نحو ”من قبله خلت“ کے
متعلق ہے۔
- ٣۔ کیونکہ جہاں فقرہ ”تلك امة قد خلت“ ہے وہاں پہلے عیسیٰ علیہ السلام کا ذکر نہیں اور جہاں
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا ذکر ہے ”قد خلت“ نہیں۔ قرآن کریم نکال کر سورۃ بقرہ میں ملاحظہ کریں۔
- ٤۔ یعنی اے مریم فرمانبرداری کر واسطے رب اپنے کے اور سجدہ کر اور رکوع کر ساتھ رکوع
کرنے والوں کے۔
١٢٣
صاف ثابت ہے کہ جیسا ہماری نماز کے ارکان قیام رکوع سجود وغیرہ میں ویسا ہی عیسوی نماز میں اور اس بحث میں میں نے جو ”حــنــانـاً مـن لـدنـا وزكـوة “ کو پیش کیا اس کا کوئی جواب نہیں دیا گیا اور یہ اعتراض کہ بہت جگہ زکوٰۃ سے صدقہ مفروضہ مراد ہے۔ یہ اس امر کو ثابت نہیں کرتا کہ ہر جگہ یہی مراد ہو اور ”من بعدی“ میں اس آیت کو ملاحظہ فرماویں۔ ”واتخذ ١ قوم موسی من بعده من حليهم عجلا جسداً له خوار (اعراف:١٤٨)“ سبحان اللہ ”لا نبی بعدی“ کو اور من بعدی کو ایک نظر سے دیکھا۔ جناب من! ”لا نـبـي بـعـدى“ میں بوجہ ہونے نکرہ تحت نفی میں مرزا قادیانی کی نبوت کا بطلان ہوتا ہے۔ یہ فقرہ مشتمل بر نفی ہے اور ”مـن بـعـدی “ مشتمل بر اثبات ہے۔ ذرا غور کریں۔ اگر بات نہ بنے تو ویسے بلا سمجھے سوچے کچھ کہہ دینا مفید نہیں اور ”من نعمره“ میں اعطاء عمر و تنکیس کا بیان ہے۔
پس یہ اور حدیث ”لـوكـان مـوسـى وعـيـسـىٰ “ آیت ”بـل رفـعـه اللـه الـيـه “ کے بالکل برخلاف ہے اور یہ وہ آیت ہے جس کا جواب آپ نے کوئی نہیں عطاء فرمایا۔ معراج کی حدیث ابن ماجہ جو میں نے پیش کی ہے اس کا کوئی جواب دینے کی ضرورت ٢ بھی نہیں۔ میں تو مضاف اور مضاف الیہ کے درمیان فرق سمجھتا ہوں۔ آپ امتحان کر کے ٣ دیکھ لیں اور حدیث ”كيف تهلك امة انا اولها والمهدى اوسطها والمسيح آخرها (مشكوة ص٥٨٣، بـاب ثـواب هـذا الامـة)“ میں میرے پر الزام لگایا گیا ہے کہ یہ شیعوں کا اعتقاد ہے۔ جناب من! ہم ہر حیثیت سے امامیہ صاحبان کے مخالف نہیں بلکہ اس امر میں اتفاق ہے کہ امام مہدی عیسیٰ علیہ السلام کے وقت تشریف لاویں گے۔ یہ دوسرا اختلاف ہے کہ اب پیدا ہو چکے ہیں یا نہ۔
دســتــخــط دســتــخــط مفتی غلام مرتضیٰ (اسلامی مناظر) مولوی غلام محمد بقلم خود از گھوٹہ متصل ملتان پریزیڈنٹ اسلامی جماعت
١ یعنی اور بنالیا موسیٰ علیہ السلام کی قوم نے پیچھے موسیٰ کے اپنے زیوروں سے بچھڑا۔ محض ایک جسم سے آواز نکلتی تھی۔ دیکھو اس آیت میں ”من بعده“ سے مراد ”مـن بـعـد غـيـبـوبـة مـوسـىٰ “ ہے نہ کہ ”مـن بـعـد مـوت مـوسـىٰ “ اور جیسا کہ اس آیت میں اثبات ہے۔ ویسا ہی آیت ”مبشراً برسول یأتی من بعدی اسمه احمد (صف:٦)“ اثبات ہے۔
٢ یعنی چونکہ قادیانی مناظر کے پاس اس حدیث ابن ماجہ کا کوئی جواب نہیں۔ اس لئے مجبوراً قادیانی مناظر کو جواب دینے کی ضرورت نہیں۔
٣ کیونکہ ”عـرج فـيـهـا بـروح عـيـسـىٰ “ میں اضافت بیانی ہے۔ اے ”ای عـرج بالروح الذي هو عيسىٰ “ جیسا کہ عرج کے لفظ سے ظاہر ہے۔
١٤٤
پرچہ نمبر ٥ ١٩؍اکتوبر ١٩٣٢ء
ازمولوی جلال الدین شمس
قادیانی مناظر
”بسم الله الرحمن الرحيم، نحمده ونصلى على رسوله الكريم ، رب اشرح لى صدرى ويسرلى امرى واحلل عقدة من لسانى يفقهوا قولى“
آپ ؎١ مجھ پر افسوس کرتے ہیں۔ لیکن جناب مفتی صاحب آپ کو افسوس نہیں کرنا چاہئے۔ بلکہ آپ کی حالت پر مجھے افسوس آتا ہے۔ کیونکہ یہ پرچہ میرے تیسرے پرچہ کے جواب میں تھا نہ کہ چوتھے یا دوسرے پرچہ کے جواب میں کہ آپ نے حیات مسیح علیہ السلام کی دلیل لکھنی شروع کردی۔ اہل علم آپ کو کیا کہیں گے۔ سوائے اس کے کہ وہ کہیں کہ مفتی صاحب گھبرا گئے تھے اور کچھ نہیں کہیں گے۔ دیکھئے یہی بیان آپ کے تیسرے پرچہ میں موجود ہے اور اسی کو آپ دوہرا رہے ہیں۔
میں نے ؎٢ آپ کی تمام توجیہات کو خدا تعالیٰ کے فضل سے توڑ دیا اور قرینہ بھی بتا دیا
؎١ قادیانی مناظر کو مفتی صاحب اسلامی مناظر کے پرچہ نمبر ١ و پرچہ نمبر ٢ کے تحت میں رہ کر کوئی جواب نہیں آیا۔ جیسا کہ روئیداد مناظرہ سے روشن ہے۔ اس لئے گھبرا کر اور حیا کو دور کر کے اسلامی مناظر کو گھبراہٹ کا الزام لگا رہا ہے۔ اسلامی مناظر نے اپنے پرچہ نمبر ١ کے سوائے کوئی نئی بات بطور دلیل پیش نہیں کی۔ بلکہ بطور تردید اور قادیانی مناظر نے گھبرا کر اپنے پرچہ نمبر ١ کے جواب میں بھی نئی دلیلیں پیش کی ہیں۔ مثلاً حضرت ابن عباسؓ کی تفسیر ممیتک جو متوفیک کے ذیل میں لکھی ہے۔ حالانکہ ’’یاعیسیٰ انی متوفیک‘‘ کو قادیانی مناظر نے اپنے پرچہ نمبر ١ میں نہیں پیش کیا۔
؎٢ سبحان اللہ ! قادیانی مناظر نے اسلامی مناظر کی توجیہات کو اس طرح توڑا ہے کہ قرآن کریم اور حدیث اور اقوال صحابہ اور قواعد عربیت کے مطابق وہ کوئی جواب نہیں دے سکا۔ اس لئے گھبرا کر اس قادیانی مناظر نے تورات کو پیش کیا۔ جو یہودی کی محرف اور منسوخ شدہ کتاب ہے اور جابرؓ سے روایت ہے کہ حضرت عمرؓ نے آنحضرت ﷺ کے پاس تورات کا ایک نسخہ پیش کیا اور عرض کیا کہ یا رسول اللہ یہ تورات کا نسخہ ہے۔ حضور ﷺ نے کوئی جواب نہ دیا۔ پس عمرؓ نے تورات کو پڑھنا شروع کر دیا۔ جس پر آنحضرت ﷺ کا چہرہ متغیر ہوتا جاتا تھا۔ پس حضرت ابوبکرؓ نے کہا کہ اے عمر تم کو کیا ہو گیا۔ دیکھتے نہیں کہ حضور ﷺ کے چہرے کی کیا حالت ہو رہی ہے۔ حضرت عمرؓ نے جب آنحضرت ﷺ کی طرف دیکھا تو خوف زدہ ہو کر کہنے لگے۔ ’’اعوذ بالله من غضب الله وغضب رسوله رضينا بالله ربا وبالاسلام دينا وبمحمد نبياً‘‘ پس آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ مجھے اللہ تعالیٰ کی قسم ہے کہ اگر موسیٰ ظاہر ہو اور مجھے ترک کر کے اس کی اتباع کرو تو یقیناً تم صراطِ مستقیم سے گمراہ ہوتے اور اگر موسیٰ علیہ السلام زندہ ہوتا اور میری نبوت کے زمانہ کو پاتا ضرور وہ بھی میری اتباع کرتا۔ رواہ الدارمی (مشکوٰۃ ص ٣٠، باب الاعتصام بالکتاب والسنۃ) یہ تورات وہ محرف منسوخ شدہ کتاب ہے۔ جس کو آنحضرت ﷺ نے دیکھنا نہیں چاہا۔ لیکن قادیانی مناظر نے اس تورات کو اپنی تائید میں پیش کیا اور افسوس کہ اس کتاب محرف منسوخ شدہ نے بھی اس بیچارے قادیانی مناظر کی امداد نہ کی۔ کیونکہ قادیانی مناظر نے تورات سے یہ ثابت کرنا چاہا کہ جو مصلوب ہو وہ ملعون ہے اور تورات کا یہ مضمون ہے کہ جو کسی جرم میں مصلوب ہو وہ ملعون ہے۔ (استثناء ب ٢١ ص ٣٠٣)
١٢٥
اور بل کے لفظ سے جو آپ تضاد ثابت کرتے ہیں اس کو لے کر بھی آپ کے معنوں کی تردید کر دی اور بل (یہ کمی علم کا نتیجہ ہے۔ جیسا کہ ظاہر ہو چکا ہے) ترقی کے لئے ہوتا ہے۔ کوئی شرط نہیں ہے۔ آپ اپنی طرف سے بڑھا رہے ہیں۔
میں خوب جانتا تھا کہ آپ مقابلہ نہیں کر سکیں گے۔ کیونکہ قرآن مجید نے جو دلائل وفات مسیح پر دیئے ہیں کوئی ١؎ نہیں جو انہیں توڑ سکے۔ آپ کی منطق دانی کی کیفیت تو میں تیسرے پرچے میں لکھ چکا ہوں۔ اب آپ کی صرف قابلیت لفظ ٢؎ امیتنی سے ظاہر ہے۔ میں نے کہا تھا کہ آپ نے غلطی سے نہیں لکھا بلکہ آپ کے علم میں ہی یہی ہے اور علم صرف میں آپ کی تعلیمی حالت بہت کمزور ہے۔ حاضرین کو میں اس بات کی طرف توجہ دلاتا ہوں کہ مفتی صاحب کو بار بار کہا گیا کہ آپ پرچہ میں سے اپنے الفاظ ”امات یمیت“ باب جس کی ماضی توفیتنی کے مقابلے میں امیتنی ہوئی نہ امتی۔ کیونکہ موت کا لفظ مضاعف نہیں۔ بلکہ اجوف ہے پڑھیں مگر آپ نے نہیں پڑھے۔ لہٰذا مجبوراً مجھے ہی ان کی ڈیوٹی ادا کرنی پڑی ہے۔ سنئے مفتی صاحب! اس سے ایک تو آپ کی قرآن دانی کا بھی پتہ لگ گیا۔ کیا آپ نے قرآن مجید میں یہ آیت نہیں پڑھی کہ: ”ربنا امتنا اثنتين واحييتنا اثنتين“ کیا قرآن مجید میں ”امیتنا“ ہے یا ”امتنا“۔ پھر روح المعانی میں آیت ”فلما توفیتنی“ کے ماتحت اس کے معنی امتی لکھے ہیں نہ کہ امیتنی۔ کتاب ہمارے پاس موجود ہے۔ اگر آپ کسی مبتدی سے بھی اس کی گردان کرائیں گے تو وہ بھی بتا دے گا کہ: ”امات اماتا اماتوا اماتت اماتتا امتن امت“ جب مذکر واحد مخاطب کے صیغہ پر آئے گا تو امت کہے گا نہ امیت اور ادغام کا بھی شاید آپ کو قاعدہ معلوم نہیں رہا کہ ادغام کس وقت ہوتا ہے۔ اگر آپ صرف کی کوئی ابتدائی کتاب بھی پڑھیں گے تو آپ کو معلوم ہو جائے گا کہ یہ لفظ امتی ہے نہ امیتنی۔ توفیتنی کے متعلق میں پہلے پرچہ میں بالوضاحت لکھ چکا ہوں۔ نیز اذ الاغلال کی مثال صرف اذ کے لئے تھی کہ وہاں اذ آیا ہوا ہے۔
١؎ اسلامی مناظر نے تمام دلائل وفات کو توڑ دیا ہے۔ جیسا کہ روئیداد مناظرہ سے روشن ہے اور قادیانی مناظر کا یہ کہنا محض تحکم ہے۔
٢؎ قادیانی مناظر کا امتی اور امیتنی پر زور دینا یہ اس کی شکست و مغلوبیت کی دلیل ہے۔ کیونکہ قادیانی مناظر ایسا کوئی مضمون پیش نہیں کر سکا جو موضوع مناظرہ سے چسپاں ہو کر یہ ظاہر کرے کہ اسلامی مناظر اس کا جواب نہیں دے سکا اور اس کے متعلق قادیانی مناظر کے پرچہ نمبر ٣ کے حاشیہ میں تفصیل کی گئی ہے اور نیز اسلامی مناظر نے اپنے پرچہ نمبر ٥ میں یہ بھی لکھا ہے کہ امتی کے متعلق مضمون پرچہ میں کاٹا گیا ہے۔ اگر کوئی فقرہ رہ گیا ہو تو مضائقہ نہیں۔
یا اس لئے کہ جب اِذا فعل ماضی پر داخل ہو تو اس کے معنی استقبال کے ہوتے ہیں۔ جب اہل علم اس مناظرہ کو دیکھیں گے تو وہ آپ کے متعلق کیا رائے قائم کریں گے اور تشبیہ موت ١؎ اور نیند میں نہیں ہو سکتی۔ کیونکہ میں بتا چکا ہوں کہ توفی جب بغیر قرینہ منام اور لیل وغیرہ کے استعمال ہو تو اس کے معنی نیند کے نہیں ہوتے۔ دوسرے حدیث میں حالات امت بیان کر کے آپؐ نے فرمایا ہے کہ میں وہی کلمات کہوں گا (جو عیسیٰ علیہ السلام نے کہے) اور آیت ”قد خلت من قبلہ الرسل“ میں ”سنة اللّٰہ التی قد خلت“ کو پیش کرنا قیاس مع الفارق ہے۔ کیا سنة بھی ذی روح ہے۔ چاہئے تھا کہ آپ مثال ایسی پیش کرتے کہ جس میں خلا کا لفظ ذی روح ٣؎ کے لئے آیا ہوتا۔ ہم نے جو قرآن مجید سے مثالیں پیش کی ہیں ان میں ذوی الروح پر خلت کا لفظ آیا ہے۔ آپ فرماتے ٤؎ ہیں کہ: ”تلك امة قد خلت“ میں موت مراد نہیں ہے۔ بہت ہی عجیب ہے۔ کیا پہلے جن کا ذکر ہے وہ آسمان پر چلے گئے تھے یا وفات پاچکے تھے۔
١؎ اسلامی مناظر نے اپنے پرچہ نمبر ٢ میں یہ لکھا ہے۔ اِذا استقبال کے لئے بھی آتا ہے۔ ”فسوف یعلمون اذ الاغلال فی اعناقھم“ اس عبارت سے دو امر ظاہر ہوتے ہیں۔ پہلا یہ کہ یہ مثال فقط اذ کی ہے نہ ماضی کی اور دوسرا یہ کہ اذ ماضی کے لئے بھی آتا ہے اور استقبال کے لئے بھی۔ جب اہل علم مناظرہ کو پڑھیں گے تو قادیانی مناظر کے فہم و ادراک پر افسوس کریں گے۔
٢؎ اس کی کافی تردید اسلامی مناظر اپنے پرچہ نمبر ٤ میں کر چکا ہے۔ جس کی توضیح حاشیہ میں کی گئی ہے۔ قادیانی مناظر ایسی بلا ربط باتیں لکھ دیتا ہے۔
٣؎ قادیانی مناظر سخت اضطراب و گھبراہٹ میں ہے۔ کیونکہ اس کو اتنا بھی یاد نہیں رہا کہ اسلامی مناظر نے اپنے پرچہ نمبر ٢ میں دلیل ”قد خلت من قبلہ الرسل“ کی تردید کرتے ہوئے یہ مثال پیش کی ہے۔ ”واذا خلوا الی شیاطینھم“ جس میں فاعل ذی روح ہے۔
٤؎ قادیانی مناظر کا اضطراب موجزن ہے۔ کیونکہ وہ اسلامی مناظر کو مخاطب کر کے اپنے پرچہ نمبر ٥ میں یہ لکھتا ہے کہ آپ فرماتے ہیں کہ: ”تلك امة قد خلت“ میں موت مراد نہیں اور اسلامی مناظر کی عبارت پرچہ نمبر ٤ میں اس طرح ہے اور ”تلك امة قد خلت“ وغیرہ میں بھی کوئی دلیل نہیں۔ دیکھو اسلامی مناظر کی عبارت میں یہ فقرہ (موت مراد نہیں) کہاں ہے بلکہ اسلامی مناظر کی اس عبارت کا (کوئی دلیل نہیں) یہ مطلب ہے کہ جہاں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا ذکر ہے وہاں ”قد خلت“ نہیں اور جہاں ”قد خلت“ ہے وہاں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا ذکر نہیں۔
١٢٧
پھر لکھتے ہیں ١؎ کہ اگر موجبہ کلیہ ہی مان لیں تو لازم آئے گا کہ (نعوذ باللہ) آنحضرت ﷺ رسول نہیں ہیں اور پھر پرچہ کے علاوہ آپ تقریر میں بیان فرماتے ہیں کہ ”من قبله“ کو صفت الرسل کی بنانا صحیح نہیں۔ کیونکہ صفت موصوف سے مقدم نہیں آتی۔ لیکن میں کہاں تک مفتی صاحب کو نحو سکھاؤں۔ آپ کو معلوم نہیں کہ فاعل کے متعلق لکھا ہے۔ ”والاصل فی الفاعل ان یلی الفعل ولهذا جاز ضرب غلامه زید وامتنع ضرب غلامه زیداً“ کافیہ ہی پڑھ لیا ہوتا۔ پس الرسل جو خلت کا فاعل ہے اور اصل فاعل میں یہ ہے کہ وہ فعل سے ملا ہوا ہو۔ اس لئے یہاں صفت محلاً مؤخر ہے اور یہ جائز ہے اور قرآن مجید میں بھی صفت مقدم آئی ہے۔ جیسے ”صراط العزیز الحمید اللّٰه“ پس آپ نے کافیہ نہیں تو قرآن مجید کو ہی پڑھ لیا ہوتا۔ اور میں نے لکھا تھا کہ روح القدس اموات میں تینوں باتوں کی وجہ سے شامل نہیں ٢؎
١؎ قادیانی مناظر نے اسلامی مناظر کی تحریر و تقریر کا مطلب نہیں سمجھا۔ کیونکہ اسلامی مناظر کا یہ مطلب ہے کہ اگر خلت کے معنی ماتت کئے جائیں اور الرسل کا الف لام استغراقی تسلیم کیا جائے تو لازم آئے گا کہ ”نعوذ باللّٰه“ آنحضرت ﷺ رسول نہیں۔ کیونکہ ”قد خلت من قبله الرسل“ میں من قبله بروئے ترکیب نحوی الرسل کی صفت ونعت نحوی نہیں ہو سکتی۔ اس لئے کہ صفت ونعت نحوی تابع کا قسم ہے اور جو تابع ہو وہ ذکر میں متبوع سے مؤخر ہوتا ہے۔ جیسا کہ تابع کی تعریف سے ظاہر ہے ”التابع کل ثان ای کل متأخر (کافیه وشرح جامی ص ١٧٧)“ اور جب ”من قبله الرسل“ کی بروئے ترکیب نحوی صفت نہ ہو سکی تو وہ ”خلت“ کے متعلق ہوگا۔ جس کا یہ معنی ہوگا کہ آنحضرت ﷺ سے پہلے سب رسول فوت ہو چکے ہیں۔ ”وهو کما تری“ اور قادیانی مناظر نے جو کافیہ کی یہ عبارت پیش کی ہے اس سے مراد یہ ہے کہ فاعل کا اصل محل فعل کے ساتھ متصل ہے۔ جس کی وجہ سے ”ضرب غلامه زید“ میں زید ضمیر مجرور کا مرجع ہو سکتا ہے اور اس سے یہ مراد لینی بالکل غلط ہے کہ صفت ونعت نحوی بھی فاعل سے ذکر میں مقدم ہو سکتی ہے۔ جیسا کہ قادیانی مناظر کو خبط ہوا ہے۔ معلوم ہوتا ہے کہ قادیانی مناظر نے اردو اور انگریزی خوانوں کو دھوکا دینے کے لئے کافیہ کے بعض الفاظ یاد کئے ہوئے ہیں اور صراط العزیز الحمید اللّٰہ میں العزیز الحمید اللہ کی صفت ونعت نحوی نہیں۔ بلکہ العزیز الحمید مبدل منہ ہے اور اللہ بدل ہے۔ اب یہ امر آفتاب نصف النہار کی طرح روشن ہو گیا کہ قادیانی مناظر کو نہ کافیہ آتا ہے اور نہ ہی قرآن کا فہم وادراک ہے۔
٢؎ اسلامی مناظر نے جن باتوں کا مکمل طور پر جواب دے دیا ہے۔ قادیانی مناظر عام لوگوں کو مغالطہ دینے کے لئے پھر پھر بیان کرتا ہے۔ ”والذین یدعون“ عام ہے اور الاعتبار لعموم اللفظ لا لخصوص المورد۔ ”اللّٰهم اغفر لکاتبیه ولوالدیه ومن سعی فیه“
١٢٨
ہے۔ باقی تمام معبودان باطلہ جن کے متعلق تینوں باتیں ثابت ہیں وہ اس میں شامل ہیں۔ فرماتے ہیں ”غیر احیاء“ کا لفظ لانے سے ان کی معبودیت کا باطل کرنا مقصود ہے۔ ٹھیک ہے معبودیت ان کے مردہ ہونے سے ہی باطل ہو گئی اور غیر احیاء نے اموات کے لفظ کی تفسیر کر دی اور آیت کانا یا کلان الطعام میں جو تغلیب ١؎ آپ نے لکھی تھی وہ حضرت مریم علیہا السلام کے لحاظ سے تھی اور اب آپ نے تسلیم کر لیا کہ تغلیب مسیح کے لحاظ سے ہے۔ کیونکہ مقصود بالذات انہی کا ذکر ہے کہ وہ پہلے کھانا کھاتے تھے۔ لیکن اب نہیں کھاتے اور آیت ”کانت من القانتین“ اور ”وارکعی مع الراکعین“ سے ہمارے استدلال پر بالکل زد نہیں پڑسکتی۔
آپ ٢؎ فرماتے ہیں کہ: ”حنانًا من لدنا وزکوٰۃ“ کا ذکر نہیں کیا۔ حضرت میں کیوں ذکر کرتا۔ شرط میں لکھا ہے۔ قرآن مجید کی قرآن مجید سے تفسیر کی جائے گی۔ لہٰذا میں نے اس سے تفسیر کی کہ صلوٰۃ اور زکوٰۃ کا جہاں کہیں قرآن مجید میں اکٹھا ذکر آیا ہے وہاں مال زکوٰۃ ہی مراد ہے۔
اور ابن ٣؎ ماجہ کی حدیث کا میں پہلے پرچہ میں جواب دے چکا ہوں کہ جب بخاری کی حدیث ثابت کرتی ہے کہ مسیح مردوں میں شامل ہیں تو یہ حدیث اس کا مقابلہ نہیں کر سکتی اور بخاری
١؎ قادیانی مناظر سخت گھبرا کر ادھر ادھر ہاتھ مار رہا ہے۔ مثل مشہور ہے کہ ڈوبتے کو تنکے کا سہارا۔ اصل مطلب بالکل صاف ہے کہ مریم علیہا السلام اور ابن مریم دونوں سے تعبیر کرنے کے وقت تذکیر کو تانیث پر غلبہ دے کر کانا یا کلان الطعام کہا گیا اور کانت من القانتین اور وارکعی مع الراکعین بھی کانا کلان کے نظائر ہیں۔
٢؎ سبحان اللہ! زکوٰۃ کی تفسیر میں آیت ”حنانًا من لدنا وزکوٰۃ“ کو پیش کرنا یہ تفسیر القرآن بالقرآن نہیں تو اور کیا ہے اور لفظ صلوٰۃ کے صدقہ مفروضہ میں کثرت استعمال سے یہ لازم نہیں آتا کہ جہاں لفظ صلوٰۃ ہو وہاں اس سے صدقہ مفروضہ ہی مراد ہو۔
٣؎ اسلامی مناظر نے سنن ابن ماجہ کی وہ حدیث تردید میں پیش کی ہے۔ جس میں آنحضرت ﷺ عیسیٰ بن مریم کی زبانی ان کا نزول بعینہ بیان فرماتے ہیں۔ اب قادیانی مناظر کا یہ کہنا کہ بخاری کی حدیث میں ہے کہ آنحضرت ﷺ نے حضرت عیسیٰ بن مریم کو مردوں کی جماعت میں دیکھا۔ عجیب بات ہے۔ کیونکہ مردوں کی معیت بندے کی موت کو مستلزم نہیں۔ ورنہ آنحضرت ﷺ بھی جب مردوں میں شامل ہوتے ہیں تو فوت ہو جاتے۔
١٢٩
کی حدیث ”امامكم ١؎ منكم“ بھی اس کے خلاف ہے اور اس کی تردید کرتی ہے۔ ”من ٢؎ نعمره“ میں دوامی عمر قطعاً مراد نہیں اور حدیث ”لوکان ٣؎ موسیٰ وعیسیٰ“ کا جواب میں پہلے پرچہ میں دے چکا ہوں اور بڑے بڑے ائمہ نے اسے حدیث تسلیم کیا ہے۔ اس سے آپ نے مان لیا کہ اس سے وفات مسیح ثابت ہوتی ہے۔
اب رہی حدیث ”كیف ٤؎ تهلك امة انا فی اولها والمهدی فی وسطها وعیسیٰ بن مریم فی آخرها (مشكوٰة ص٥٨٣، باب ثواب هذا الامة)“ اس حدیث میں امت کے وسط میں مہدی کا آنا قرار دیا گیا ہے۔ حضرت شیعہ صاحبان کے عقائد کی طرح آپ کا عقیدہ قرار دینے کی وجہ میں پہلے پرچہ میں لکھ چکا ہوں اور سنیوں کی طرح ہمارا ٥؎ یہ فتویٰ نہیں کہ ان سے کھانا پینا اور ان کا ذبیحہ حرام ہے۔ حضرت مسیح موعود سب کے متعلق فرماتے ہیں۔
کاخر کنند دعوئے حب پیمبرم
(ازالہ اوہام ص ١٦٤، خزائن ج ٣ ص ١٨٢)
١؎ بیان ہو چکا ہے کہ: ”وامامكم منكم“ حال ہے جو غیریت کو چاہتا ہے۔
٢؎ اسلامی مناظر نے کہا ہے کہ اس سے مراد عمر ہے اور یہ نہیں کہا کہ دوامی عمر مراد ہے۔
٣؎ قادیانی مناظر کے پیغمبر لکھتے ہیں: ”یاد رہے کہ ہمارے اور ہمارے مخالفین کے صدق وکذب آزمانے کے لئے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی وفات وحیات ہے۔ اگر درحقیقت حضرت عیسیٰ علیہ السلام زندہ ہیں تو ہمارے سب دعوے جھوٹے اور سب دلائل ہیچ ہیں اور اگر وہ درحقیقت قرآن کریم کی رو سے فوت شدہ ہیں تو ہمارے مخالف باطل پر ہیں۔ اب قرآن درمیان ہے۔ اس کو سوچو“ (تحفہ گولڑویہ ص١٠٢، خزائن ج ١٧ ص٢٦٣) پیغمبر تو قرآن پر فیصلہ کرنے کی نصیحت کرتا ہے اور اس کا امتی قرآنی ثبوت دینے سے عاجز ہوکر ضعیف بلکہ موضوع حدیثوں پر زور دے رہا ہے۔ طرفہ یہ کہ ان سے بھی اس کا دعویٰ وفات مسیح ثابت نہیں ہوتا۔ [اختتام حاشیہ]
٤؎ یہ حدیث بہمہ الفاظ اس طرح ہے: ”كیف تهلك امة انا اولها والمهدی وسطها والمسیح آخرها (مشكوٰة ص٥٨٣، باب ثواب هذا الامة)“ اور اسلامی مناظر نے بھی اپنے پرچہ نمبر٤ میں اس حدیث کو انہی الفاظ کے ساتھ لکھا ہے۔ امامیہ کا ذکر کرنا یہ قادیانی مناظر کا ڈھکوسلہ ہے جس کا جواب دیا جاچکا ہے۔
٥؎ قادیانی مناظر جابجا شرائط مناظرہ سے تجاوز کر رہا ہے۔ اسلامی مناظر کا یہ فتویٰ نہیں۔ بلکہ اس کا یہ فتویٰ ہے کہ: ”ولا تقولوا لمن القی الیكم السلام لست مؤمناً“ اور قادیانی جماعت کے ہی مسلمہ لٹریچر سے خلاف وسعت اسلام فتویٰ ظاہر ہوچکے ہیں۔ مثلاً مرزا قادیانی نے جو خط عبدالحکیم خان صاحب کو لکھا اس میں یہ فقرہ ہے: ”ہر ایک شخص جس کو میری دعوت پہنچی ہے اور اس نے مجھے قبول نہیں کیا وہ مسلمان نہیں ہے“ (حقیقت الوحی ص١٦٣، خزائن ج٢٢ ص١٦٧) اور میاں محمود صاحب خلف رشید مرزا قادیانی رسالہ تشحیذ الاذہان پر یہ لکھتے ہیں: ”تیسری بات یہ معلوم ہوتی ہے کہ جن پر تبلیغ نہیں ہوئی ان کا حساب خدا کے ساتھ ہے۔ ہم نہیں جانتے کہ تبلیغ ان کو ہوچکی ہے یا نہیں۔ کیونکہ کسی کے دلی خیالات پر آگاہ نہیں۔ اس لئے چونکہ شریعت کی بنا ظاہر پر ہے ہم ان کو کافر کہیں گے“ (تشحیذ الاذہان ج٦ نمبر ٤ ص ١٣٦، اپریل ١٩١١ء)
١٣٠
رہا نبوت کے متعلق تو آپ کو معلوم ہونا چاہئے کہ جو مسیح ناصری کے نزول کو مانتے ہیں وہ اسے نبی بھی قرار دیتے ہیں۔ جیسا کہ حجج الکرامہ میں لکھا ہے ۔ ” فانه وان كان خليفة في الامة المحمدية لكنه رسول ونبی كريم علی حاله لا كما يظن بعض الناس انه ياتی واحداً من هذه الامة بدون نبوة ورسالة “ اور انبیاء سے نبوت کو چھینا جانا آیت ” ذالك بان الله لم يك مغيراً نعمة انعمها علی قوم حتی يغيروا ما بانفسهم “ اور سنیوں کے عقیدہ کے بھی خلاف ہے۔ پس اب اہل دانش فیصلہ کر سکتے ہیں کہ اگر کوئی نبی آنا چاہے تو اس امت سے یا بنی اسرائیل سے ظاہر ہے کہ مطابق آیت ” وازواجه امهاتهم “ اور مطابق عقائد اسلامیہ کل رسول ابو امتہ آنحضرت ہمارے باپ اور مطابق حدیث بخاری ” الانبياء اخوة علات “ حضرت عیسیٰ علیہ السلام ہمارے چچا ہیں تو آنحضرت ﷺ کی روحانی وراثت کسے ملنی چاہئے۔ عقل، نقل ، قانون ، رواج، شریعت سب یہی کہتے ہیں کہ ١؎ بیٹا وارث ہوگا نہ چچا۔ پس نبی کا آنا تو آپ بھی مانتے ہیں اور حدیث میں بھی آیا ہے کہ وہ آنے والا مسیح نبی اللہ ہوگا۔ پس ہماری بات کہ آنے والا اسی امت سے ہوگا صحیح ہے۔
ہمارے تمام بیانات سے ظاہر ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام وفات پا چکے ہیں اور قرآن مجید ٣؎
١؎ اسلامی مناظر تو ” فان تنازعتم في شئ فردوه الی الله والرسول “ کے مطابق مناظرہ کر رہا ہے اور قادیانی مناظر شرائط مناظرہ کی خلاف ورزی کر کے حجج الکرامہ کی عبارت پیش کر رہا ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ نبوت کے دورخ ہیں۔ بطون اور ظہور۔ ظہور میں انقلاب آسکتا ہے نہ بطون میں۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام جب نازل ہوں گے تو بطون میں انقلاب نہ ہوگا۔ بلکہ ظہور میں انقلاب ہوگا کہ آنحضرت ﷺ کی امت میں داخل ہو کر بذریعہ قرآن کریم تجدید اسلام فرمائیں گے۔
٢؎ قادیانی مناظر جہلاء کے لئے تو طمع سازی کرتے ہیں۔ لیکن فضلاء کے لئے ان کا مغالطہ مؤثر نہیں ہو سکتا۔ سنئے جناب مناظر صاحب! حضرت عیسیٰ علیہ السلام اس حیثیت سے کہ بعد النزول وہ مؤمن بالقرآن ہوں گے اور قرآن پر عامل ہو کر آنحضرت ﷺ کی اتباع سے مستفیض ہوں گے اور بذریعہ قرآن تجدید اسلام کریں گے۔ آنحضرت ﷺ کے روحانی بیٹے ہوں گے نہ چچا۔
٣؎ قادیانی مناظر نے اپنے زعم کے مطابق اپنے پرچہ نمبر ١ میں وفات مسیح ابن مریم پر قرآن کریم سے دس دلیلیں پیش کی ہیں جو درحقیقت مغالطات ہیں۔ کیونکہ نو دلیلیں تو ایسی ہیں جن میں مسیح ابن مریم کی وفات کا ذکر تک نہیں اور ایک پہلی دلیل اگر چہ ایسی ہے جس میں مسیح ابن مریم کی وفات کا ذکر ہے۔ لیکن اس دلیل کے متعلق قادیانی مناظر نے لکھا ہے کہ یہ واقعہ قیامت کو ہوگا۔ جس سے اتنا ثابت ہوتا ہے کہ مسیح ابن مریم قیامت سے پہلے وفات پا چکے ہوں گے۔ آج وفات کا ثبوت نہیں اور پھر بھی اسلامی مناظر نے ہر ایک دلیل کی شرط نمبر ١ اور شرط نمبر ٢ کے تحت میں رہ کر اجمالی اور تفصیلی طور پر پوری تردید کی ہے۔ جیسا کہ روئیداد مناظر سے روشن ہے اور ویسا ہی حال پانچ حدیثی دلیلوں کا ہے اور اسلامی مناظر نے دو قرآنی دلیلیں اور دو حدیثی دلیلیں اپنے پرچہ نمبر ١ میں اپنے دعوٰی حیات مسیح ابن مریم کے اثبات کے لئے بیان کی ہیں اور شرط نمبر ٢ کے تحت میں رہ کر ایسے استدلال کئے ہیں جن کا قادیانی مناظر کوئی جواب نہیں دے سکا۔ ناظرین پڑھ کر خود فیصلہ کریں گے۔
١٣١
اور احادیث سے ان کی وفات ثابت ہے اور ان کی وفات سے آنحضرت ﷺ کی فضیلت لے ظاہر ہوتی ہے۔ اسی واسطے مسیح موعود (مرزا قادیانی) فرماتے ہیں۔
(آئینہ کمالات اسلام ص٥٩٣، خزائن ج٥ص٥٩٣)
کیونکہ زندہ وہی ہوتا ہے جس کا کام زندہ ہو۔ جس کی قوم زندہ۔ جس کا دین زندہ ہو۔ لیکن عیسائیت مرچکی۔ عیسائی بلحاظ دین مرچکے اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا کام ختم ہوچکا۔ اب رسول اللہ ﷺ کے دین کو تازہ کرنے کے لئے آپ کے خادم (کیا حضرت عیسیٰ علیہ السلام میں امتی اور خادم ہونے کی قابلیت نہیں) ہی آئیں گے نہ کوئی اور پیارو! آنے والا آچکا اور اس نے اپنے مقابل پر بلایا اور اس نے توفی کے لفظ کے متعلق ٢ے ایک ہزار روپیہ انعام دینے کا وعدہ دیا۔ مگر کسی کو جرات نہ ہوئی کہ وہ اس انعام کو حاصل کرسکے۔
پس جب وفات لے ثابت ہوگئی تو حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) کی صداقت بھی ثابت ہوگئی۔ پس ٢ے یاد رکھو کہ مسیح کا آسمان سے اترنا محض جھوٹا خیال ہے اور کوئی آسمان سے نہ
لے اسلامی مناظر نے یہ بات مدلل کردی ہے کہ علت افضلیت کمال ہے۔ نہ عمر کا زیادہ ہونا۔
٢ے یہ اردو خوانوں اور انگریزی خوانوں کے لئے سخت مغالطہ ہے۔ کیونکہ جب یہ کہا جاتا ہے کہ توفی باب تفعل سے ہو اور فاعل خدا تعالیٰ ہو اور مفعول ذی روح ہو تو وہاں ضرور قبض کے معنی ہوتے ہیں۔ اگر اس کے برخلاف کوئی دکھائے تو ایک ہزار روپیہ انعام دیا جائے گا تو اردو خوان اور انگریزی خوان سمجھتے ہیں کہ مسیح ابن مریم فوت ہوچکے ہیں اور بوجہ عربیت سے ناواقف ہونے کے یہ نہیں سمجھتے کہ توفی مع القیود المذکورہ سے قبض روح کے معنی مراد لینے سے یہ لازم نہیں آتا کہ آیت توفی یا عیسیٰ انی متوفیک ای ممیتک اور آیت مخاطب یعنی فلما توفيتنى ای امتنی ”وفات مسیح ابن مریم کو ثابت کرتی ہیں۔ کیونکہ آیت ”توفی“ سے بتقدیر تفسیر ممیتک بھی یہ ثابت ہوتا ہے کہ مسیح ابن مریم زندہ بجسدہ العنصری آسمان پر اٹھائے گئے ہیں اور آیت مخاطب سے بتقدیر تفسیر امتی جیساحیات مسیح ابن مریم ثابت نہیں ہوتی۔ ویسا ہی وفات مسیح ابن مریم ثابت نہیں ہوتی جو مفصل بیان ہوچکا۔
لے پس اب اسلامی مناظر نے اپنے پرچہ نمبر ١ میں حیات مسیح ابن مریم قرآن کریم سے ثابت کردی تو حسب تحریر مرزا قادیانی مرزا قادیانی کے سب دعویٰ جھوٹے اور سب دلائل ہیچ ہوئے۔
٢ے یہ کیسا ڈھکوسلہ بدیہی البطلان ہے۔ کیونکہ قیامت کا وقوع حسب اہل اسلام کے نزدیک مسلم ہے اور تمام اہل اسلام کو قیامت کے وقوع کے ساتھ اس لئے ایمان ہے کہ مخبر صادق اور قرآن کریم نے اس کے وقوع کی خبر دی ہے۔ اگر قادیانی مناظر کے اس ڈھکوسلے کو سچ مانا جائے تو قیامت کا وقوع بھی باطل ثابت ہوتا ہے۔ کیونکہ یوں کہہ سکتے ہیں۔ پس یاد رکھو کہ قیامت کا وقوع محض جھوٹا خیال ہے۔ قیامت کوئی نہ ہوگی۔ قیامت کے ماننے والے جو اب زندہ موجود ہیں وہ تمام مریں گے اور کوئی ان میں سے قیامت کو نہ دیکھے گا اور پھر ان کی اولاد جو باقی رہے گی وہ بھی مرے گی اور ان میں سے بھی کوئی آدمی قیامت کو نہ دیکھے گا اور پھر اولاد کی اولاد مرے گی۔ وہ بھی قیامت کو نہ دیکھیں گے۔ تب خدا ان کے دلوں میں گھبراہٹ ڈالے گا کہ زمانہ دراز گزر چکا اور دنیا دوسرے رنگ میں آگئی۔ مگر قیامت واقع نہیں ہوئی۔ تب دانشمند یکدفعہ اس عقیدہ سے بیزار ہو جائیں گے اور اس عقیدہ کو ہی اختیار کریں گے کہ قیامت نہیں ہوگی اور قیامت کا وقوع حق واجب الایمان ہے۔ پس ثابت ہوا کہ یہ ڈھکوسلہ باطل ہے۔ قادیانی مناظر کے تمام پرچے ایسی ہی خیالی اور وہمی باتوں سے ہی بھرے ہوئے ہیں۔
١٣٢
اترے گا۔ ہمارے سب مخالف جو اب زندہ موجود ہیں۔ وہ تمام مریں گے اور کوئی ان میں سے عیسیٰ بن مریم کو آسمان سے اترتے نہ دیکھے گا اور پھر ان کی اولاد جو باقی رہے گی وہ بھی مرے گی اور ان میں سے بھی کوئی آدمی عیسیٰ علیہ السلام کو آسمان سے اترتا نہ دیکھے گا اور پھر اولاد کی اولاد مرے گی۔ وہ بھی حضرت مریم علیہا السلام کے بیٹے کو آسمان سے اترتے نہیں دیکھیں گے۔ تب خدا ان کے دلوں میں گھبراہٹ ڈالے گا کہ زمانہ صلیب کے غلبہ کا بھی گزر گیا اور دنیا دوسرے رنگ میں آگئی۔ مگر حضرت عیسیٰ علیہ السلام اب تک آسمان سے نہ اترے۔ تب دانشمند یک دفعہ اس عقیدہ سے بیزار ہو جائیں گے اور اس عقیدہ کو ہی اختیار کریں گے کہ وہ وفات پا چکے ہیں اور اگر مفتی صاحب ١؎ ابھی ایک مثال جس میں کہ توفی باب تفعل سے ہو اور خدا تعالیٰ فاعل اور مفعول ذی روح ہو اور اس کے معنی بجسدہ العنصری آسمان پر لے جانے کے ہوں پیش کریں تو میں ابھی نقد پچاس روپیہ مفتی صاحب کو انعام دوں گا۔ قرآن مجید حدیث یا لغت سے پیش کریں۔ اب میں آخر میں دعاء کرتا ہوں۔ اے ہمارے قادر خدا۔ ہماری عاجزانہ دعائیں سن لے۔ اس قوم کے کان اور دل کھول دے۔
اور ہمیں وہ وقت دکھا کہ باطل معبودوں کی پرستش دنیا سے اٹھ جائے اور زمین پر تیری پرستش اخلاص سے کی جائے اور زمین تیرے راست باز اور موحد بندوں سے ایسی بھر جائے۔ جیسا کہ سمندر پانی سے بھرا ہوا ہے اور تیرے رسول کریم محمد مصطفیٰ ﷺ کی عظمت اور سچائی دلوں میں بیٹھ جائے۔ اے خدا تو ایسا ہی کر۔ جو ہر ایک طاقت اور قدرت تجھ کو ہے۔ اے قادر خدا ایسا ہی کر۔ آمین! ”والسلام على من اتبع الهدى“
مناظر: جلال الدین شمس، مولوی فاضل حاکم علی پریذیڈنٹ جماعت احمدیہ
١٩؍اکتوبر١٩٢٣ء بسم الله الرحمن الرحيم! پرچہ نمبر ٥
از مفتی غلام مرتضیٰ صاحب
اسلامی مناظر
”سبحانك لا علم لنا الا ما علمتنا انك انت العليم الحكيم ، فان تنازعتم فى شئ فردوه الى الله والرسول“
؎١ یہ عوام کے لئے مغالطہ ہے۔ ورنہ مفتی صاحب اسلامی مناظر نے یہ کب دعویٰ کیا ہے کہ میں توفی سے رفع جسمانی ثابت کرتا ہوں۔ بلکہ ان کا یہ دعویٰ ہے کہ: ”وما قتلوه يقيناً بل رفعه الله اليه“ سے بالحاظ بل ابطالیہ وقصر قلب یہ امر ثابت ہے کہ مسیح ابن مریم زندہ بجسدہ العنصری آسمان پر اٹھائے گئے ہیں۔
١٣٣
حضرات سامعین! یہ میرا آخری پرچہ ہے۔ آپ کو میں اس طرف متوجہ کرنا چاہتا ہوں کہ میں نے ”رفع الی اللہ“ اور ”بل ابطالیہ“ اور قصر قلب ”بل ١؎ رفعہ اللہ الیہ“ سے لے کر اور لام تاکید اور نون تاکید ثقیلہ اور مرجع ابن مریم ہونا لیؤمنن بہ قبل موتہ سے لے کر ان سپاہیوں سے ایک لشکر تیار کیا اور پھر میں نے ان کو ہتھیار مطابق شرائط جنگ مناظرہ پہنا کر میدان میں بھیجا۔ الحمد للہ کہ اس میرے لشکر زبردست کا فریق مخالف مقابلہ نہ کر سکا۔ بلکہ اس نے شکست کھائی۔ میں نے یہ ہتھیار نہایت کوشش سے تیار کئے تھے۔
١؎ اس کی تشریح یہ ہے کہ آیت ”وما قتلوہ یقیناً بل رفعہ اللہ الیہ“ سے اسلامی مناظر نے شرط نمبر ٢ کے تحت میں رہ کر چند باتیں قطعی طور پر ثابت کر دی ہیں۔ پہلی یہ کہ رفع الی اللہ سے مراد آسمان کی طرف اٹھائے جانا ہے اور اس تفسیر کی تائید میں دو حدیثیں اور ایک آیت اور عقلی شہادت پیش کی گئی ہے اور نیز اس تفسیر کی تائید میں مرزا قادیانی کا قول پیش کیا گیا ہے اور دوسری یہ کہ اس آیت میں بقرینہ نفی بل ابطالیہ ہے اور بل ابطالیہ میں یہ ضروری ہے کہ وہ وصف جس کا ابطال مقصود ہو اور وہ وصف جس کا اثبات مقصود ہو ان دونوں وصفوں کے درمیان تنافی وضدیت ہو۔ دیکھو آیت ”ام یقولون بہ جنۃ بل جاء ھم بالحق (مؤمنون)“ اور آیت ”ویقولون ائنا لتارکوا الھتنا لشاعر مجنون بل جاء بالحق (صافات:٣٦)“ اور آیت ”وقالوا اتخذ الرحمن ولداً سبحانہ بل عباد مکرمون (انبیاء:٢٦)“ پس بل ابطالیہ کے مقتضا کے لحاظ سے یہ ثابت ہوا کہ ”بل رفعہ اللہ الیہ“ سے یہ مراد ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مسیح ابن مریم کو زندہ بجسدہ العنصری آسمان کی طرف اٹھا لیا ہے۔ کیونکہ وہ وصف جس کا ابطال مقصود ہے۔ یعنی قتل مسیح اور وہ وصف جس کا اثبات مقصود ہے۔ یعنی رفع مسیح ان دونوں وصفوں کے درمیان تنافی وضدیت اسی صورت میں متصور ہوتی ہے کہ جب ”بل رفعہ اللہ الیہ“ سے بصورت زندگی رفع جسمانی مراد لی جائے اور اگر رفع روحانی مراد لی جائے تو قتل مسیح اور رفع مسیح کے درمیان تنافی وضدیت نہ ہوگی اور قادیانی مناظر اس بل ابطالیہ کے استدلال کا شرط نمبر ١ اور شرط نمبر ٢ کے تحت میں رہ کر کوئی جواب نہیں دے سکا۔ جیسا کہ روئیداد مناظرہ سے روشن ہے اور میں نہایت زور سے اعلان کرتا ہوں کہ انشاء اللہ تعالیٰ مرزائی جماعت میں سے کوئی فرد بھی قیامت تک اس کا جواب نہ دے سکے گا اور تیسری یہ کہ: ”وما
١٣٤
قتلوه يقيناً بل رفعه الله اليه “ قصر قلب ہے اور قصر قلب میں یہ ضروری ہے کہ ” احد الوصفين “ دوسری وصف کا ملزوم نہ ہو، تا کہ مخاطب کا اعتقاد متکلم کے اعتقاد کے برعکس متصور ہو اور قصر قلب کا یہ مقتضیٰ بھی اسی صورت میں پورا ہوتا ہے کہ جب ” بل رفعه الله اليه “ سے یہ مراد لی جائے کہ اللہ تعالیٰ نے مسیح ابن مریم کو زندہ بجسدہ العنصری آسمان کی طرف اٹھا لیا ہے۔ کیونکہ اگر رفع روحانی مراد لی جائے تو چونکہ مسیح ابن مریم مقربین سے ہے۔ اس لئے قتل مسیح کو رفع مسیح لازم ہوگا اور یہ قصر قلب کے خلاف ہے اور قادیانی مناظر اس قصر قلب کے استدلال کا بھی شرط نمبر ٢ کے تحت میں رہ کر کوئی جواب نہیں دے سکا۔ جیسا کہ روئیداد مناظرہ سے واضح ہے اور میں نہایت زور سے اعلان کرتا ہوں کہ انشاء اللہ مرزائی جماعت میں سے کوئی فرد بھی قیامت تک اس کا جواب نہ دے سکے گا اور اس دلیل ” وما قتلوه يقيناً بل رفعه الله اليه “ میں یہ خوبی ہے کہ یہ قرآن کریم کا فقرہ ہے اور اس میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا شخصی طور پر نام و ذکر ہے اور رفعہ صیغہ ماضی کا ہے اور یہ جملہ خبریہ تنجیزیہ ہے اور مرزائی جماعت جو مغالطات برنگ دلائل پیش کرتے ہیں ان میں قرآن کریم کا ایسا فقرہ کوئی نہیں جو ان صفات مذکورہ کا جامع ہو اور آیت ” وان من اهل الكتاب الا ليؤمنن به قبل موته “ کے متعلق اسلامی مناظر نے شرط نمبر ٢ کے تحت میں رہ کر چند امور ذکر کئے ہیں۔ اوّل یہ کہ تمام نحویوں کا اس بات پر اتفاق ہے کہ جس فعل مضارع کے اخیر میں نون تاکید ثقیلہ ہو اور ابتداء میں لام تاکید ہو اس فعل مضارع سے زمانہ استقبال اور خبر یقینی مراد ہوتی ہے۔ جیسا لیؤمنن میں۔ دوسرا یہ کہ موتہ کی ضمیر کا مرجع ابن مریم ہے۔ ایک سیاق کلام کے لحاظ سے اور دوسرا مولوی نورالدین صاحب نے بھی اس ضمیر کا مرجع مسیح ابن مریم کو قرار دیا ہے۔ جن کی مرزا قادیانی نے دینی رنگ میں اعلیٰ درجہ کی توثیق کی ہے اور تیسرا حضرت ابو ہریرہؓ کی روایت بھی اسی کو ثابت کرتی ہے کہ موتہ کی ضمیر کا مرجع مسیح ابن مریم ہے اور ان امور مذکورہ کے لحاظ سے آیت ” وان من اهل الكتاب الا ليؤمنن به قبل موته “ کا یہ مطلب ہوا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی موت سے پہلے ایک ایسا زمانہ آنے والا ہے کہ تمام اہل کتاب موجود وقت حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر ایمان لائیں گے۔ چونکہ ابھی تک تمام اہل کتاب کا اتفاق علی الایمان نہیں ہوا۔ اس لئے ثابت ہوا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام ابھی فوت نہیں ہوئے بلکہ زندہ ہیں۔ قادیانی مناظر اس دلیل کا بھی شرط نمبر ١ و شرط نمبر ٢ کے مطابق کوئی جواب نہیں دے سکا۔ جیسا کہ روئیداد مناظرہ سے روشن ہے۔
١٣٥
اور دو ١؎ خادم یعنی دو حدیثیں بھی اس لشکر کو رسد پہنچا کر تقویت دے رہی تھیں اور پھر یہ بات قابل غور ہے کہ منطوق کے دلائل کا عام دلائل مقابلہ نہیں کر سکتے۔ دیکھو ”والمطلقات يتربصن بانفسهن ثلثة قروء (بقرہ:٢٢٨)“ ہیں۔ حاملہ اور غیر حاملہ اور شوہر دیدہ اور شوہر نادیدہ اور حائضہ اور غیر حائضہ سب داخل ہیں۔ لیکن یہ آیت عام ان آیات خاص کا مقابلہ نہ کر سکیں۔
- ١ اسلامی مناظر نے اپنے پرچہ نمبر ٢ میں قرآنی دلائل کے علاوہ دو حدیثیں بھی پیش کی ہیں۔
ایک ”ینزل عیسٰی بن مریم الی الارض فیتزوج ویولدله (مشکوۃ ص ٤٨٠، باب نزول عیسٰی، کتاب الفتن)“ اور دوسری ”لیوشکن ان ینزل فیکم ابن مریم حكماً عدلاً (مشکوۃ ص ٤٨٠، باب نزول عیسٰی، کتاب الفتن)“ اور ان دونوں حدیثوں سے اس طرح استدلال کیا گیا ہے کہ ان دونوں حدیثوں کے الفاظ سے حقیقی معانی مراد ہیں۔ نہ مجازات۔ کیونکہ بروئے قواعد فن بیان مجاز وہاں لی جاتی ہے۔ جہاں حقیقت متعذر ہو اور مرزا قادیانی ان حدیثوں میں حقیقت کے امکان کے قائل ہیں۔ مرزا قادیانی فرماتے ہیں۔ ”بالکل ممکن ہے کہ کسی زمانہ میں کوئی ایسا مسیح بھی آجائے جس پر حدیثوں کے بعض ظاہری الفاظ صادق آسکیں۔“ (ازالۃ اوہام ص ١٠٠، خزائن ج ٣ ص ١٩٧) اور بلحاظ قانون فن بیان اور مرزا قادیانی کے تسلیم امکان ان دو حدیثوں سے بھی حیات مسیح ابن مریم ثابت ہوگئی اور قادیانی مناظر ان حدیثوں کا بھی شرط نمبر ١ و شرط نمبر ٢ کے مطابق کوئی جواب نہیں دے سکے گا۔ جیسا کہ روئیداد مناظرہ سے واضح ہے۔
- ٢ قادیانی مناظر نے جو وفات مسیح ابن مریم کے ثابت کرنے کے لئے مغالطات برنگ
دلائل پیش کئے ہیں ان میں سے کچھ تو ایسے ہیں جن کے عموم سے استدلال کیا گیا ہے اور مسیح ابن مریم کی شخصیت کا ان میں کوئی ذکر نہیں۔ جیسے ”ويوم نحشرهم جميعاً ثم نقول للذين اشركوا مكانكم انتم وشركاؤكم فزيلنا بينهم وقال شركاؤهم ماكنتم ايانا تعبدون فكفٰی بالله شهيداً بيننا وبينكم ان كنا عن عبادتكم لغافلين (یونس:٢٩)“ اور ”ما محمد الا رسول قد خلت من قبله الرسل فان مات او قتل انقلبتم علٰی اعقابكم (آل عمران:١٤٤)“ اور ”والذين يدعون من دون الله لا يخلقون شيئاً وهم يخلقون اموات غير احياء وما يشعرون ايان يبعثون (نحل:٢١)“ اور ”فيها تحيون وفيها تموتون ومنها تخرجون (اعراف:٢٥)“ اور ”ولكم فى الارض مستقر ومتاع الٰی حين (بقرہ:٣٦)“ اور ”الم نجعل الارض كفاتاً احياءً وامواتاً (مرسلات:٢٦)“ اور
١٣٦
”ومن نعمره ننكسه فى الخلق افلا يعقلون (يسين:٦٨)“ اور ”منكم من يتوفى ومنكم من يرد الى ارذل العمر لكيلا يعلم بعد علم شيئاً (الحج:٥)“ اسلامی مناظر نے ان آیات عامہ کے تفصیلی جوابات دے کر پھر اپنے پرچہ نمبر ٥ میں اجمالی واصولی طور پر بھی جواب دیا ہے۔ جس کی توضیح یہ ہے کہ یہ امر مسلم ہے کہ عام دلیل خاص منطوق دلیل کا مقابلہ نہیں کر سکتی۔ دیکھو ”والمطلقات يتربصن بانفسهن ثلثة قروء“ یعنی مطلقہ عورتوں کے لئے عدت تین حیض ہیں۔ یہ آیت اپنے عموم کے لحاظ سے حاملہ اور غیر حاملہ شوہر دیدہ اور شوہر نادیدہ حائضہ اور غیر حائضہ سب کو شامل ہے اور اس سے ان سب کی عدت تین حیضیں ثابت ہوتی ہے اور دیکھو ”يا ايها الذين امنوا اذا نكحتم المؤمنات ثم طلقتموهن من قبل ان تمسوهن فما لكم عليهن من عدة تعتدونها (احزاب:٤٩)“ یعنی اے ایمان والو! جب تم ایمان والی عورتوں سے نکاح کرو اور پھر قبل میں ان کو مطلقہ کر دو تو ان عورتوں کے لئے کوئی عدت نہیں۔ یہ مطلقہ شوہر نادیدہ کے لئے خاص منطوق دلیل ہے اور دیکھو ”واللئى يئسن من المحيض من نسائكم ان ارتبتم فعدتهن ثلثة اشهر واللئى لم يحضن واولات الاحمال اجلهن ان يضعن حملهن (طلاق:٤)“ یعنی وہ عورتیں جن کی وجہ کبرسنی کے حیض بند ہو چکی ہے اور وہ عورتیں جن کو ابھی حیض آئی ہی نہیں۔ ان کی عدت تین مہینے ہے اور حاملہ عورتوں کی عدت وضع حمل ہے۔ یہ آیت غیر حائضہ اور حاملہ کے لئے خاص منطوق دلیل ہے۔ یہاں یہ عام دلیل ان خاصہ منطوقہ دلیلوں کا مقابلہ نہیں کرسکی۔ بلکہ اس عام دلیل کے حکم سے شوہر نادیدہ اور غیر حائضہ اور حاملہ عورتیں ان دلائل خاصہ منطوقہ کی وجہ سے مستثنیٰ ہیں اور دیکھو ”انا خلقنا الانسان من نطفة“ اور ”خلقه من تراب“ ویسا ہی چونکہ آیت ”وما قتلوه يقيناً بل رفعه الله اليه“ اور آیت ”وان من اهل الكتاب الا ليؤمنن به قبل موته (نساء:١٥٩)“ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی حیات کے لئے خاص منطوق دلیلیں ہیں۔ یہ عام دلائل پیش کردہ قادیانی مناظر ان کا مقابلہ نہیں کرسکتیں۔ خلاصہ یہ ہے کہ اسلامی مناظر نے قادیانی مناظر کے عام دلائل کا یہ اجمالی واصولی طور پر جواب دیا ہے۔ لیکن افسوس ہے۔ مخدوم محمد صدیق صاحب امیر جماعت احمدیہ کے فہم وادراک پر کہ انہوں نے اپنے اشتہار میں یہ لکھا ہے۔ ”طلاق اور حیض والی عورتوں کے مسائل سنانے شروع کر دیئے۔ غیر متعلقہ مسائل کے بیان کرنے سے سمجھدار طبقہ پر ظاہر ہو گیا کہ مفتی صاحب سخت گھبرا گئے ہیں اور ان کا علمی ذخیرہ ختم ہو گیا ۔ تب ہی تو حیات مسیح کے مسئلہ کو چھوڑ کر حیض اور طلاق کے مسائل بیان کرنے لگ گئے ۔“ اب اہل علم فیصلہ کر سکتے ہیں کہ مفتی صاحب اسلامی مناظر کے یہ مضمون حسب قول مخدوم صاحب غیر متعلقہ ہے یا موضوع مناظرہ کے ساتھ چسپاں و مربوط ہے۔ مخدوم صاحب اس فہم وادراک میں معذور ہیں۔ کیونکہ ان کی علمی بضاعت اسی قدر ہے۔
١٣٧
”يا ايها الذين اٰمنوا اذا نكحتم المؤمنات ثم طلقتموهن من قبل ان تمسوهن فمالكم عليهن من عدة تعتدونها“ اور ”واللّٰئی یئسن من المحيض من نسائكم ان ارتبتم فعدتهن ثلاثة اشهر واللّٰئی لم يحضن واولات الاحمال ان يضعن حملهن (بقرہ:٢٣٧)“ اور آپ ١؎ جو تاریخ نبوت بیان کرتے ہیں۔ وہ ہمارے اوپر حجت نہیں بلکہ اس لحاظ سے کہ الہام نے مرزا قادیانی کو نبی بنایا ہے۔ اس لئے جب سے وہ ملہم ہیں اس وقت سے نبی ہیں اور ابن عباسؓ تو صحابی ہیں جو شرائط کے مخالف نہیں اور ابن (اس کا بیان ہو چکا ہے) عباسؓ کا متوفیک سے ممیتک مراد لینا اس امر کو ثابت نہیں کرتا کہ ابن عباسؓ کے نزدیک عیسیٰ علیہ السلام مرچکے ہیں۔ بلکہ اسی آیت ”انی متوفیک“ سے
١؎ اسلامی مناظر کا یہ مطلب ہے کہ دعویٰ نبوت کی جو تاریخ مرزا قادیانی اور ان کے مریدین بیان کرتے ہیں وہ ہمارے اوپر حجت نہیں۔ کیونکہ ہم ان کو مفتری اعتقاد کرتے ہیں اور اسلامی مناظر نے مرزا قادیانی کی تین کتابوں کے حوالے دیئے ہیں۔ چشمہ معرفت، ازالہ اوہام، براہین احمدیہ۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ ان کتابوں کی تصنیف کے وقت مرزا قادیانی کی کیسی حالت تھی۔ مرزا قادیانی اپنی کتاب چشمہ معرفت میں لکھتے ہیں ”اور خدا تعالیٰ نے اس بات کے ثابت کرنے کے لئے کہ میں اس کی طرف سے ہوں۔ اس قدر نشان دکھلائے ہیں کہ اگر وہ ہزار نبی پر تقسیم کئے جائیں تو ان کی بھی ان سے نبوت ثابت ہوسکتی ہے۔“ (چشمہ معرفت ص٣١٧، خزائن ج٢٣ ص٣٣٢) اور مرزا قادیانی ازالہ اوہام میں لکھتے ہیں ”اور فرمان یجعلناک المسیح ابن مریم نے اس کو درحقیقت وہی بنا دیا ہے۔“ وكان الله علی كل شئی قدیر ”اور اس آنے والے کا نام جو احمد رکھا گیا ہے وہ بھی اس کے مثیل ہونے کی طرف اشارہ ہے۔ کیونکہ محمد جلالی نام ہے اور احمد جمالی اور احمد اور عیسیٰ اپنے جمالی معنوں کے رو سے ایک ہی ہیں۔ اسی کی طرف یہ اشارہ ہے۔“ ومبشراً برسول یاتی من بعدی اسمه احمد“ (ازالہ اوہام ص ٦٧٣، خزائن ج٣ ص٤٦٣) اور اسلامی مناظر نے براہین احمدیہ کی عبارت بطور الزام نہیں پیش کی۔ جیسا کہ اس نے اپنے پرچہ نمبر١ میں تصریح کی ہے اور اگر بطور الزام پیش کی جائے تو پھر بھی شرط نمبر١ کے خلاف نہیں۔ کیونکہ مرزا قادیانی کے دعویٰ نبوت کی علت الہام ہے اور بوقت تصنیف براہین احمدیہ مرزا قادیانی ملہم تھے۔ اگر یہ سوال کیا جائے کہ مرزا قادیانی کے دعویٰ نبوت کی علت نفس الہام نہیں۔ بلکہ کثرت الہام ہے تو اس کا یہ جواب ہے کہ جب آنحضرت ﷺ کو پہلے پہلے ”اقراء باسم ربک الذی خلق“ کا وحی ہوا تو اسی وقت نبوت کا دور شروع ہو گیا نہ یہ کہ قرآن کے کثیر حصہ کے نزول کے بعد نبی بنے تو اس لحاظ سے جب مرزا قادیانی کا دعویٰ نبوت ہے تو ان کو اور ان کے مریدوں کو یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ مرزا قادیانی جب سے ملہم ہیں تب سے ہی اپنے زعم میں نبی ہیں۔
١٣٨
رفع جسمانی ثابت ہوتی ہے اور الرافع کا معنی اعزاز دہندہ کو یہ منافی ١ نہیں کہ رفع جسمانی بھی مراد لی جاوے یا رفع روحانی ہی مراد لی جاوے اور امتی ٢ کے متعلق مضمون پرچہ میں کاٹا گیا ہے۔ اگر کوئی فقرہ رہ گیا ہو تو مضائقہ نہیں اور فقرہ (اس کی تفصیل گزر چکی ہے ) حدیث ” ثــــــم رفعت الى سدرة المنتهی“ میں ظاہر ہے کہ گو فاعل مذکور نہیں۔ لیکن یہ رفع فی الحقیقت من جانب اللہ ہے جو اس لحاظ سے فاعل اللہ اور مفعول ذی روح ہے اور ”انی مهاجر الی ربی“ وغیرہ میں رفع الی اللہ کا ذکر نہیں۔ بلکہ ہجرت الی اللہ یا فرار الی اللہ وغیرہ اور ”ثم اتموا الصیام الی اللیل“ سے صاف ظاہر ہے کہ رات ہوتے ہی افطار کیا جاوے۔ یہ نہیں ثابت ہوتا کہ تمام رات گزار کر اخیر جزو رات میں افطار کیا جاوے۔ تو یہی حال رفع الی اللہ یعنی رفع الی السماء کا ہے اور مطابق ”فاسئلوا اهل الذکر ان کنتم لا تعلمون“ جب ”وقولهم انا قتلنا المسیح“ سے یہود کا اعتقاد معلوم ہے تو پھر تورات کی طرف رجوع کرنے کی کیا ضرورت ہے اور استثناء باب ٢١ ص ٣٠٣ میں درج ہے کہ مجرم مصلوب ملعون ہوتا ہے نہ کہ مطلق مصلوب اور ابن مریم کا بنی اسرائیل کی طرف رسول ہو کر آنا اس کے منافی نہیں کہ مجدد ہو کے اخیر زمانہ میں آوے اور میرے مناظر صاحب نے جو کئی ایک نمبر دے کر قریباً ٢٢ باتیں لکھی ہیں۔ ان کا قرآن کریم کے لفظوں کے ساتھ کوئی تعلق نہیں۔ آپ کا فرض تھا کہ پہلے مضمون لکھتے اور پھر اس پر آیت قرآنی یا حدیث نبوی پیش کرتے اور معراج کی رات کو آنحضرت ﷺ کا عیسیٰ علیہ السلام کو دیکھنا اس سے موت لازم نہیں آتی اور ”لکن شبه لهم“ کے قصہ کو آپ نے کیوں چھیڑ دیا۔ ہم نے تو ”بل رفعه الله الیه“ سے مع لحاظ ”وقولهم انا قتلنا المسیح“ حیات مسیح علیہ السلام ثابت کی ہے۔ بلکہ قابل غور یہ بات ہے کہ: ”بل رفعه الله الیه“ میں بل ٣ ہے۔ جو ماضی پر داخل
١؎ کیونکہ کنایت اور حقیقت دونوں معاً مراد ہو سکتی ہیں۔
٢؎ اسلامی مناظر نے جب یہ فقرہ لکھ دیا ہے تو تمام مناظرہ میں سے اسی بات پر زور دینا یہ قادیانی مناظر کی شکست کی دلیل ہے۔
٣؎ اسلامی مناظر نے اس فقرے کے ساتھ مرزائی عقیدہ کی تردید کی ہے۔ کیونکہ وہ کہتے ہیں کہ مسیح ابن مریم صلیب پر چڑھائے گئے، لیکن کھینچ کر زندہ اتر آئے اور کچھ عرصہ زمین پر گزار کر فوت ہو گئے اور تردید کی تفصیل یہ ہے کہ آیت ”وما قتلوه یقیناً بل رفعه الله الیه“ میں بل ابطالیہ ماضی پر داخل ہے اور بل ابطالیہ جس ماضی پر داخل ہو اس ماضی کی ماضویت ماقبل بل کے لحاظ سے ہوتی ہے۔ جیسا کہ ”ام یقولون به جنة بل جاءهم بالحق“ میں اتيان بالحق پہلے ہے اور نسبت جنون پیچھے ہے۔ ویسا ہی ”بل رفعه الله الیه“ سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ مسیح ابن مریم کی رفع پہلے ہے اور واقعہ قتل پیچھے ہے۔ یعنی مسیح ابن مریم صلیب پر چڑھائے ہی نہیں گئے۔
١٣٩
ہے اور بلحاظ ”ام یقولون بہ جنۃ بل جاءھم بالحق“ وغیرہ ضروری ہے کہ اس ماضی کی ماضویت ماقبل کے لحاظ سے ہو۔ پس ثابت ہوا کہ واقعہ یہود پیچھے ہوا اور پہلے حضرت عیسیٰ علیہ السلام آسمان پر اٹھائے گئے تو اس سے عقیدہ احمدی کی تردید ہوتی ہے اور میرے مناظر صاحب نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے متعلق تو آنحضرت ﷺ کی افضلیت پر بڑا زور دیا۔ لیکن مرزا قادیانی پھر یہ کیوں فرماتے ہیں ؎
اور پھر مرزا قادیانی اپنی کتاب چشمہ معرفت میں کیوں بیان کرتے ہیں کہ مجھے اس قدر معجزات دیئے گئے ہیں کہ اگر وہ معجزات ہزار نبی پر تقسیم کئے جاویں تو ہر ایک کی نبوت ثابت ہو جاتی ہے اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام آنحضرت ﷺ کی امت میں داخل ہو کر شرف امتی حاصل کرنے کے لئے زندہ ہیں جو امت محمدیہ میں داخل ہو کر تجدید دین کریں گے اور ہم لوگ تو اس بات کے ساتھ ایمان رکھتے ہیں کہ ؎
اور میں نے پہلے پرچہ میں لکھ دیا ہے کہ: ”وان من اھل الکتاب الا“ میں استثناء بعد نفی کے ہے جو مفید ایجاب ہے اور ایجاب میں اتنا ہی ضروری ہے کہ بوقت ثبوت محمول موضوع موجود ہو بشرطیکہ محمول وجود اور تقرر اور ذاتی نہ ہو۔
افسوس! جان بوجھ کر چھیڑتے ہیں اور دیکھو (اس کی تشریح ہو چکی ہے) ”یا عیسیٰ انی متوفیک“ میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا زندہ بجسدہ العنصری مرفوع ہونا مطابق بمعنی ابن عباسؓ نیز ثابت ہے۔ کیونکہ متوفیک سے ممیتک مراد لیا جاوے تو بھی بلحاظ ہر چہار ضمائر خطاب اور بلحاظ واؤ عاطفہ یہ ماننا پڑتا ہے کہ عیسیٰ ابن مریم زندہ بجسدہ العنصری آسمان پر اٹھائے گئے ہیں اور واؤ عاطفہ کے متعلق قاعدہ نحوی متعلق عدم ترتیب ملاحظہ ہو اور نیز ”ادخلوا الباب سجداً وقولوا حطۃ (بقرہ:٥٨)“ ”وقولوا حطۃ وادخلوا الباب سجداً (اعراف:١٦١)“ ملاحظہ ہو۔
١ یہ بیت قصیدہ بردہ کا ہے۔ یعنی آنحضرت ﷺ مجمع کمالات ہیں اور دیگر انبیاء کے کمالات کو آنحضرت ﷺ کے کمالات کے ساتھ وہ نسبت ہے جو ایک چلو کو دریا کے ساتھ نسبت ہے یا ایک چوسے کو باران کے ساتھ نسبت ہے اور پھر یہ کمالات بھی دیگر انبیاء نے آنحضرت ﷺ سے حاصل کئے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ آنحضرت ﷺ بمنزلہ آفتاب ہیں اور دیگر انبیاء بمنزلہ چاند کے ہیں۔
١٤٠
اخیری فیصلہ
”قال ١؎ رسول اللہ ﷺ بداء الاسلام غريباً ثم سيعود كما بداء (کنزالعمال حدیث ١٢٠١، ج١ ص٢٤٠) ”اور نیز قال رسول اللہ ﷺ ان الایمان لیازر الى المدينة كما تازر الحية الى حجرها (کنز العمال حدیث ١١٩٧ ج١ ص٢٣٩)“
دیکھو کہ مدینہ طیبہ میں اس وقت کوئی احمدی جماعت میں سے نہیں ہے۔ بلکہ کلہم دوسرے مسلمان ہیں۔ اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ جس مذہب کا نام اسلام ہے۔ مذہب احمدی اس میں داخل نہیں ہے۔ بلکہ مذہب اسلام کے سوائے جو اور مذاہب ہیں۔ ان میں سے ہے۔ پس ثابت ہوا کہ مطابق ”ان الدين عند الله الاسلام“ کے یہ مذہب احمدی حق نہیں۔
دستخط دستخط مفتی غلام مرتضیٰ (اسلامی مناظر) مولوی غلام محمد بقلم خود از گھوٹہ متصل ملتان پریذیڈنٹ اسلامی جماعت
دعاء
اے ہمارے قادر مطلق ہماری مخلصانہ دعائیں سن لے۔ اس قوم کے کان اور دل کھول دے جو تیرے حبیب خاتم النبیین کے سایہ سے لوگوں کو نکال کر متنبئ کے سایہ کے نیچے داخل کرنے کی کوشش میں ہیں اور ہمیں وہ وقت دکھا کہ بمطابق پیش گوئی ”لیظهره علی الدین کله“ تمام ادیان باطلہ اٹھ جائیں اور تمام دنیا میں دین اسلام ہی پھیل جائے اور ہر جگہ اور ہر ملک میں محمد رسول اللہ کے نعرے بلند ہوں جو معلم توحید ہے۔
ناظرین
غور فرماویں کہ جو شخص مؤمن ہے وہ مطابق آیہ ”والذین آمنوا اشد حبا لله“ اللہ تعالیٰ کا عاشق ہے۔ کیونکہ شدت محبت ہی کو عشق کہتے ہیں اور معشوق جب ایک امر کے متعلق فیصلہ کردے تو عاشق من حیث ہو عاشق کا یہ حق نہیں کہ اس فیصلہ کی مصلحت دریافت کرے۔ اگر مصلحت دریافت کرے تو وہ عاشق الٰہی نہیں تو پھر مطابق آیہ مذکورہ وہ مؤمن بھی نہیں۔
١؎ یعنی فرمایا حضرت محمد رسول اللہ ﷺ نے کہ اسلام غربت میں شروع ہوا اور عنقریب غربت کی طرف رجوع کرے گا۔ جیسا کہ شروع ہوا اور نیز فرمایا رسول اللہ ﷺ نے یقیناً ایمان واپس ہوگا۔ طرف مدینہ طیبہ کی جیسا کہ سانپ اپنے سوراخ کی طرف واپس ہوتا ہے۔
١٤١
روئداد مناظرہ کے پڑھنے سے روشن ہو گیا ہوگا کہ مفتی صاحب اسلامی مناظر نے آیہ مذکورہ پر پورا پورا عمل کیا ہے اور قادیانی مناظر نے خلاف، اور نیز روشن ہو گیا ہوگا کہ مطابق "أذا جاء الاحتمال بطل الاستدلال" کے اسلامی مناظر نے قادیانی مناظر کے تمام دلائل کے جانب مخالف کے احتمالات راجحہ بلکہ یقینیہ پیدا کر کے اس کے تمام استدلالات کو باطل کر دیا ہے اور قادیانی مناظر اسلامی مناظر کے دلائل کے جانب مخالف کا احتمال مرجوح بھی نہیں دکھا سکا۔ علماء وفضلاء حاضرین مناظرہ کثیر التعداد کے آراء حقہ متعلق مناظرہ موصول ہو چکی ہیں۔ ان میں سے بوجہ خوف طوالت فقط چند علماء وفضلاء کی آراء حقہ بطور مشتے نمونہ خروار ہدیۂ ناظرین کی جاتی ہیں۔ جن کے مطالعہ سے مفتی صاحب اسلامی مناظر کے دلائل قویہ اور تبحر علمیہ کا پتہ چلتا ہے۔
عالم بے مثل فاضل بے بدل علامہ دہر حضرت مولانا مولوی غلام محمد صاحب
ساکن گھوگہ ضلع ملتان پریذیڈنٹ (اسلامی جماعت)
احقر بحیثیت صدر جماعت اسلامیہ مناظرہ واقعہ موضع ہریا ضلع گجرات بتاریخ ١٨، ١٩ / اکتوبر ١٩٢٤ء ظاہر کرتا ہے کہ جماعت اسلامیہ کی طرف سے ہمارے ملک کے مشہور فاضل مفتی غلام مرتضیٰ صاحب ساکن میانی ضلع شاہ پور مناظر تھے اور قادیانی جماعت کے مناظر مولوی جلال الدین شمس مولوی فاضل تھے۔ جن کا اس سے زیادہ کچھ پتہ نہیں۔ اس مناظرہ کے متعلق میری رائے یہ ہے کہ:
- ١...... انعقاد مجلس مناظرہ کے متعلق مفتی صاحب کے مساعی جمیلہ قابل شکریہ
ہیں۔ یہ مفتی صاحب کا ہی اثر تھا کہ جس مناظرہ کی ذمہ داری بڑے بڑے افسر نہ لے سکے۔ اس کا ذمہ دار مفتی صاحب کا ایک معتقد ہو گیا۔ مفتی صاحب نے بڑی کوشش کی کہ مناظرہ ضرور ہوتا کہ قادیانی جماعت کو حوصلہ نکالنے کا موقعہ دیا جائے اور ان کے خیالات کا پورا قلع قمع کر دیا جائے۔ گو قادیانی جماعت نے بیحد کوشش کی کہ مناظرہ نہ ہو سکے۔ مگر مفتی صاحب کی تدابیر نے ان کی ایک نہ چلنے دی۔ اگر قادیانی جماعت حق شناس ہوتی تو اس کو مفتی صاحب کا شکریہ ادا کرنا چاہئے تھا۔
- ٢...... مفتی صاحب نے ہر دو دن کے اجلاسوں میں اپنے اخلاق جمیلہ کا وہ ثبوت
دیا کہ ہر کہ ومہ نے آفرین آفرین کہی۔ باوجودیکہ فریق مخالف کا مناظر نہایت بدخو تھا اور دونوں اجلاسوں کے غیر مہذبانہ الفاظ جو مفتی صاحب کی ذات کے متعلق اس نے استعمال کئے جمع کئے
١٤٢
جائیں تو کافی تعدا ہوئے ان الفاظ کو حلم و بردباری تقر
- ٣......
عادت فرقہ ہذا نہا آنے دیتا۔ جس مسلمان کو جوش آ ٹھوکتے۔ مگر آپ نہ بھاتے تھے۔
- ٤......
"أنت قلت لا سخت ابتری پھیل یہ بالکل سچ ہے فساد پر آمادہ ہیں وہ جھنجھلاہٹ وا مفتی صاحب ۔ بھی ہو۔ اس وا
- ٥......
خلاف ورزیاں نہیں چھوڑا۔ آ
- ٦......
قادیانی مناظر
- ٧......
تھے۔ مگر قادیا جماتی تھی۔ مگر جاتے تھے۔
جائیں تو کافی تعداد ہو جائے۔ مگر مفتی صاحب نے اپنی کوہ وقاری و نسبی و جبلی شرافت کو مدنظر رکھتے ہوئے ان الفاظ کو غیر مسموع تصور کیا۔ میرے خیال میں فی زمانہ ایک مولوی صاحب کے لئے یہ حلم و بردباری تقریباً محال ہے۔
- ٣...... قادیانی مناظر نے گو حضرت مسیح علی نبینا وعلیہ السلام کے متعلق حسب
عادت فرقہ ہذا نہایت ناشائستہ الفاظ استعمال کئے۔ مثلاً کہا کہ مسیح علیہ السلام کو کلا کا گلا واپس نہیں آنے دیتا۔ جس کا مطلب بیان کرنا بھی کفر ہے اور بزرگوں کی اہانت کے کلمات سننے سے ہر مسلمان کو جوش آجاتا ہے۔ مفتی صاحب بھی جوش میں آئے اور مناسب تھا کہ جھوٹے مسیح کو بھی کلا ٹھوکتے۔ مگر آپ نے مرزا قادیانی کے متعلق نہایت عزت کے الفاظ استعمال کئے جو کسی مسلمان کو نہ بھاتے تھے۔
- ٤...... قادیانی مناظر نے دو دفعہ قرآن کریم کو سخت غلط پڑھا۔ ایک تو آیت
”أنت قلت للناس“ کو اور دوسرے ”ماکان لبشر“ کو جس کی وجہ سے میدان مناظرہ میں سخت ابتری پھیل گئی۔ اس واسطے کہ قرآن شریف کو غلط پڑھنا سخت قبیح ہے اور پھر عوام کے نزدیک تو یہ بالکل اقبح ہے۔ میں نے دیکھا کہ عوام مفتی صاحب اور احقر کے سکوت کو بے محل قرار دے کر فساد پر آمادہ ہیں۔ چنانچہ حافظ غلام محمد صاحب ساکن میانہ گوندل کا نام نامی مجھے یاد ہے اور ان کی وہ جھنجھلاہٹ والی شکل یاد ہے۔ جس سے باور ہوتا تھا کہ قادیانی مناظر کو شاید نگل جائیں گے۔ مگر مفتی صاحب نے لوگوں کو سخت منع کیا اور فرمایا کہ ہماری طرف سے کوئی حرکت بھی نہ ہو۔ گو باطل بھی ہو۔ اس واسطے کہ ذمہ دار اس کا میں ہوں اور شریف اپنی ذمہ داری کو نباہا کرتا ہے۔
- ٥...... قادیانی مناظر کے سارے مناظرہ کے اجلاسوں کی بیقاعدگیاں یعنی
خلاف ورزیاں شرائط مقررہ فریقین ٤٩ ہیں اور مفتی صاحب نے ایک جگہ بھی شرائط کی پابندی کو نہیں چھوڑا۔ اگر تطویل کا خوف نہ ہوتا تو میں ایک ایک کو علیحدہ علیحدہ لکھتا۔
- ٦...... مفتی صاحب کی ہر دلیل تحقیقی والزامی تقریب تام سے مزین تھی۔ مگر
قادیانی مناظر بالکل تقریب کے قریب نہ جاتا۔
- ٧...... مفتی صاحب اپنا بیان تقریری و تحریری بڑے آرام اور نرمی سے سناتے
تھے۔ مگر قادیانی مناظر کے زبان کی رفتار بہت تیز تھی۔ سامعین پر مفتی صاحب کی تقریر اپنا سکہ جماتی تھی۔ مگر قادیانی مناظر کی تقریر کامل تنفیر کا موجب ہوتی تھی۔ بلکہ بعض تو اٹھ کر چلے جاتے تھے۔
١٤٤
- ٨....... قادیانی جماعت نے مفتی صاحب پر پہرہ لگا دیا کہ کسی سے مدد نہ لے
سکیں۔ جب ہم نے بھی قادیانی مناظر کے متعلق ایسا انتظام کرنا چاہا تو مفتی صاحب نے روک دیا اور فرمایا کہ جس سے مدد لیں روکو نہیں۔ چنانچہ ایک پتلے دبلے عینک دار قادیانی مناظر کی کاپی کی اصلاح کرتے رہے اور مفتی صاحب کے علمی اعتماد نے انہیں اپنے ارمان نکالنے دیئے۔ مگر ہوا وہی جو منظور ایزدی تھا۔
- ٩....... جب پہلے دن کا اجلاس ختم ہوا تو اسلامی جماعت کو خیال آیا کہ مجمع کثیر
ہے اور فرصت کو ہاتھ سے نہ کھونا چاہئے اور سلسلہ تبلیغ شروع کرنا چاہئے تا کہ عوام آریہ وغیرہ کے خیالات سے متاثر نہ ہوں۔ چنانچہ اس کا اعلان کیا گیا۔ مگر قادیانی مناظر معہ قادیانی جماعت نہایت ناراض ہوئے اور کہا کہ اگر تبلیغ وغیرہ کا ارادہ ہے تو ہم کو گوارا نہیں۔ پس ہم جاتے ہیں۔ لہٰذا تبلیغ کا سلسلہ روکا گیا۔
- ١٠....... قادیانی جماعت نے پہلے دن ایک صدر مقرر کیا اور دوسرے دن دوسرا
صدر مقرر کیا۔ تا کہ کسی طرح سے مسلمان لوگ ہماری مخالفت کریں اور ہم دوسرے دن کا مناظرہ کئے بغیر نکل چلیں۔ احقر صدر اسلامی جماعت بار بار وقت کی پابندی کی تاکید کرتا تھا۔ مگر صدر قادیانی جماعت فرماتے تھے کہ ابھی وقت نہیں ہوا۔ اتفاقاً احقر کہہ بیٹھا کہ آپ کی گھڑی مجدد ہے۔ یعنی نئی ہے۔ جس پر قادیانی جماعت بگڑ گئی اور بڑے اصرار سے رو براہ ہوئی۔ جس سے ان کی غرض یہ تھی کہ بہانہ کر کے نکل چلیں۔
تلك عشرة كاملة ولدينا مزيد
اس سے ناظرین اندازہ لگا لیں کہ کون مفتوح ہوا اور کون فاتح۔ میرا دل اس وقت یہ گواہی دیتا تھا کہ اگر مفتی صاحب کی تقریر مرزا قادیانی خود ہی سنتے تو مسلمان ہو جاتے۔ مگر ہدایت مقدر نہ تھی۔ احقر غلام محمد ساکن گھوگہ ضلع ملتان
جامع الفنون النقلیہ والعلوم العقلیہ مولانا مولوی محمد نجم الدین صاحب
پروفیسر اورینٹل کالج لاہور
بتاریخ ١٨، ١٩؍ اکتوبر ١٩٢٣ء ایک تحریری مناظرہ اہل اسلام واہل قادیان میں منعقد ہوا۔ سامعین میں سے ایک میں بھی تھا۔ اہل اسلام کے مناظر جناب مولانا مولوی مفتی غلام مرتضیٰ صاحب ساکن میانی تھے اور اہل قادیانی کی طرف سے مولوی جلال الدین شمس تھے۔ میں نہ صرف تقاریر ودلائل جانبین میں حقانیت کے عنصر غالب کا متلاشی تھا۔ بلکہ یہ بھی دیکھ رہا تھا کہ پابندی
١٤٤
شرائط کو ملحوظ رکھتے ہوئے کون سی جانب متانت وثبات، استقلال وتحمل سے کام لے رہی ہے۔ مجھے دوروزہ تجربہ کی بناء پر افسوس سے یہ اعلان کرنا پڑتا ہے کہ قادیانی مناظر نے متانت وسنجیدگی کو بالائے طاق رکھ کر نہ صرف شرائط مناظرہ کی پابندی سے آزادی کا عملاً اعلان کیا۔ بلکہ اسلامی مناظر کی شخصیت پر بار بار تحریروں میں شوخیانہ اور غیر شریفانہ حملے کر کے اپنی تنگ نظری وحقیر مائیگی پر شہادت دی۔ مفتی صاحب جہاں عزم وثبات وقار واستقلال ان کا طرۂ امتیازی تھا۔ وہیں متانت وشرافت، تہذیب وشائستگی کے پیکر بن کر موافق ومخالف سے تحسین لے رہے تھے۔ قادیانی مناظر نے مولانا مفتی صاحب کے دلائل وشواہد کو توڑنے کی تکلیف گوارا نہیں کی۔ بلکہ ادھر ادھر کے غیر مربوط وغیر متعلق امور سے حاضرین کی تواضع کرتے رہے۔ مناظرہ آخر تک سکون وامن سے ہوتا رہا۔ یہ سکون اور زیادہ ہو گیا جب آخر میں آفتاب صداقت کی ضیاباری سے کذب وبطلان کی گھنگھور گھٹاؤں کا شیرازہ سراسر منتشر ہو گیا۔ والسلام!
نجم الدین پروفیسر اورینٹل کالج لاہور
جناب مولانا مولوی ابوالقاسم محمد حسین صاحب مولوی فاضل
از کوپوتاڑہ ضلع گوجرانوالہ
مکرم بندہ حضرت مفتی صاحب سلمہ اللہ ۔ السلام علیکم ورحمۃ اللہ! ہریا سے روانہ ہو کر میں جلال پور جٹاں پہنچا تھا۔ وہاں دو تین تقریریں مرزا قادیانی کے کفر والحاد پر ہوئیں۔ جن سے نہایت عمدہ اثر ہوا۔ اس کے بعد یہی مولوی جلال الدین شمس قادیانی معہ ان چوہدری صاحب کے جو وہاں جلسہ ہریا میں پریزیڈنٹ تھے جلالپور آئے۔ شرائط مناظرہ طے نہ ہوئے۔ لہٰذا وہاں کی انجمن نے اعلان کر دیا کہ مرزا قادیانی کے کفر والحاد پر تقریر ہوگی۔ جلسہ ہوا قادیانی بھی مجبوراً آئے اور مناظرہ میں پھنس گئے۔ کیفیت دیکھنے سے تعلق رکھتی تھی۔ جس کا خلاصہ یہ ہے کہ جس شخص نے مرزائیوں کو دعوت دی تھی اس نے بھی ان کی شکست کا اقرار کیا اور مرزائی بصد رسوائی سے بھاگے۔ شیعہ وسنی اخباروں میں ان کی شکست کا حال شائع ہوا۔ فالحمدللہ علی ذلک!
مناظرہ ہریا کے متعلق خاکسار کی رائے
میں مناظرہ ہریا میں جو مابین مفتی غلام مرتضیٰ صاحب مولوی جلال الدین شمس دربارہ حیات مسیح منعقد ہوا تھا حاضر تھا۔ مناظرہ دو دن نہایت خوش اسلوبی سے ہوا۔ حضرت مفتی صاحب موصوف نے قرآن کریم سے دو دلیلیں حیات مسیح پر پیش کیں۔ جن کو انہوں نے نہایت خوش اسلوبی سے بیان کیا اور قواعد عربیت سے نہایت محکم استدلال کے ساتھ ثابت کر دیا کہ حضرت
١٤٥
عیسیٰ علیہ السلام نبینا وعلیہ الصلوٰۃ والسلام زندہ بجسدہ العنصری آسمان پر اٹھائے گئے ہیں۔ ان کا جواب مرزائی مناظر صاحب سے کچھ نہ ہو سکا اور حقیقت یہ ہے کہ ان ادلہ کا جواب ہو ہی نہیں سکتا۔ چنانچہ اہل علم جو قواعد عربیت کے ساتھ قرآن کریم کی آیات سے حیات مسیح پر استدلال کرتے ہیں۔ مرزائی مناظر ہر مناظرہ میں مبہوت رہ جاتے ہیں اور سوائے کج بحثی اور دفع الوقتی کے ان کا کوئی سہارا نہیں ہوتا۔ چنانچہ ٹھیک اسی طرح شمس قادیانی نے پندرہ دلیلیں جو در حقیقت مغالطات تھے وفات مسیح پر پیش کیں۔ مگر کسی کو بھی صاف طور پر وفات مسیح سے کوئی تعلق نہ تھا اور وہ اہل علم کی نظر میں صرف ابلہ فریبی اور دفع الوقتی تھی اور یہی اس قوم کا مشن ہے۔ جس کو مرزا قادیانی نے اپنی امت کے لئے مسنون قرار دیا۔
الغرض شمس صاحب قادیانی اگر چہ زود نویسی کی وجہ سے نقل رسائل وغیرہ سے بہت سے اوراق سیاہ کر دیتے تھے اور خلاف شرائط مناظرہ بہت جلدی تقریر کر کے مرزائی تبلیغ بھی کرتے جاتے تھے۔ مگر مفتی صاحب ممدوح کے ادلہ قطعیہ اور براہین یقینیہ کا جواب نہ دے سکے۔ ”ربنا لا تزغ قلوبنا بعد اذ هديتنا وهب لنا من لدنك رحمة انك انت الوهاب“
ابوالقاسم محمد حسین عفا عنہ مولوی فاضل، از کولوتاڑر
مولانا مولوی محمد کامل الدین صاحب منشی فاضل از میلیووال
حال مقیم رتو کالا تحصیل بھلوال ضلع شاہپور
میں مناظرہ ہریا کے سب اجلاسوں میں شریک رہا۔ علامہ مفتی صاحب نے اپنا دعویٰ صرف ایک آیت ”وما قتلوہ“ سے بھی ثابت کر دیا اور اس آیت سے اسی طریقہ پر استدلال بر حیات مسیح کیا جو شرائط میں مشروط تھا۔ یعنی آیت کے ان معنی سے جو احادیث نبوی اور اقوال صحابہ وقواعد صرف نحو لغت معانی بیان بدیع کے عین مطابق تھے۔ مولوی جلال الدین احمدی اپنے دعویٰ وفات مسیح کے لئے تذبذب کی حالت میں کبھی کوئی آیت پیش کرتے تھے کبھی کوئی۔ کبھی تورات تحریف شدہ کو پیش کرتے تھے۔ کبھی اشعار مرزا قادیانی زبان پر لاتے تھے۔ جو شرائط مجوزہ کے بالکل خلاف تھا اور اس بات پر دلالت کرتا تھا کہ خود ان کو کسی ایک آیت پر اپنے دعویٰ کے ثبوت کے لئے پورا وثوق اور تسلی نہیں۔ بلکہ تمام حاضرین نے قادیانی مناظر کی گھبراہٹ اور علامہ مفتی صاحب کے استقلال کو اچھی طرح اس وقت پرکھا جب کہ مفتی صاحب دوسرا پرچہ لکھ کر
١٤٦
مولوی جلال الدین صاحب کو دینے لگے تو انہوں نے مفتی صاحب کو کہا کہ آپ اخیر پرچہ میں ان الفاظ کے ساتھ قسم لکھ دیں۔ ”مجھے قسم ہے اللہ کی کہ میں نے یہ پرچہ اسی اجلاس میں لکھا ہے اور میں نے کسی غیر سے امداد نہیں لی۔“ چنانچہ حضرت مفتی صاحب نے بلا توقف یہ الفاظ لکھ دیئے۔ حالانکہ حضرت مفتی صاحب قادیانی مناظر سے پہلے کوئی قسم وغیرہ طلب نہیں کی۔ حالانکہ قادیانی مناظر سے ضرور قسم لینی چاہئے تھی۔ کیونکہ انہوں نے بعض امور کی بابت میرے ہم جماعت اور اپنے استاد مولوی محمد اسماعیل صاحب مولوی فاضل سے مدد لی ہے۔ جس کا مجھے ذاتی علم ہے اور اس بات پر میں مولوی صاحب موصوف کے ساتھ قسم اٹھانے کے لئے تیار ہوں اور باوجود اس بات کے کہ مفتی صاحب کو آج تک کبھی کسی میدان مناظرہ میں آنے کا موقعہ نہیں ملا۔ صرف ایک آیت میں اپنے مناظر کو لاجواب کر دیا۔ خصوصاً ایسی قوم کے مقابل کھڑا ہونا نہایت ہی مشکل ہے جو قرآن کریم میں تحریف کرنے اور احادیث میں ردو بدل کرنے سے ذرا بھر بھی نہیں جھجکتی۔ اس بات کا پورا ثبوت مرزا قادیانی کے اس قول سے چلتا ہے جو انہوں نے اعجاز احمدی میں لکھا ہے اور وہ یہ ہے کہ: ”جو حدیثیں میرے الہام کے خلاف ہوں ہم ان کو ردی کی طرح پھینک دیتے ہیں۔“ (اعجاز احمدی ص ٣٠، خزائن ج ١٩ ص ١٤٠) یہ کتنی حیرت انگیز بات ہے کہ اگر مرزا قادیانی کے وہ اقوال اور الہامات پیش کئے جائیں جو صراحتاً قرآن کریم اور احادیث کے خلاف ہوں تو ادھر سے پہلو تہی کر کے ان کا لقب متشابہات تجویز کیا جاتا ہے۔ مثلاً
دوران گفتگو جلسہ گاہ میں میرے سابق ہم جماعت مدرسہ حمیدیہ لاہور مولوی محمد اسماعیل صاحب احمدی جلالپوری مولوی فاضل و منشی فاضل مدرس مدرسہ احمدیہ قادیان نے علامہ مفتی صاحب کی لیاقت کا اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ مفتی صاحب ایک عالی دماغ آدمی ہیں اور تقریر سے ان کی علمی لیاقت ٹپکتی ہے۔ بوقت تقریر مفتی صاحب کے حق میں لا فضل فوقک کی صدائیں آرہی تھیں۔ رپورٹ شائع ہونے پر مولوی جلال الدین صاحب کو پتہ چلے گا کہ میں کیا اور کس سے باتیں کر رہا تھا۔
حکایت بود بے پایاں بخاموشی ادا کردم
حافظ کامل الدین منشی فاضل میلووالی مقیم رتوکالہ مورخہ ٢٧؍اکتوبر ١٩٢٤ء
١٤٧
مولانا مولوی امام الدین صاحب ساکن کندوال تحصیل پنڈ دادنخان ضلع جہلم
مرزائیوں کی عجائب گت بنی جب مباحثہ شہر ہریا میں ہوا
مرزائیوں سے جلال الدین تھا اہل سنت سے غلام مرتضیٰ
بحث تھی عیسیٰ کی زندگی موت میں یعنی عیسیٰ زندہ ہے یا مرگیا
معیار تھا قرآن ہم قول نبی فیصلہ اس پر مسلم ہوچکا
مفتی صاحب جب پڑھا قرآن شریف لحن داؤدی سے جلسہ بھر دیا
آیت انا قتلنا جب پڑھی رفعہ اللہ سے یہ ثابت کردیا
زندہ ہے عیسیٰ ابھی افلاک پر دیکھ لے نکتہ عجب بل میں پڑا
ہے یہ اضرابیہ ابطالیہ بل اور قصر قلب ہے اس میں چھپا
موت کو باطل کیا ماقبل نے جوکہ پہلے آچکا نافیہ ما
رفعہ سے یہ آوازے آرہے زندہ ہے وہ آسماں پر چڑھ گیا
اس میں ہیں اثبات جسد عنصری اس کا منکر ہے نہیں جز اشقیا
بل کے اندر پھنس گیا معنی شمس منہ پہ پردہ پڑ گیا کسوف کا
ہاتھ پاؤں مارے سب لکن کہیں رستگاری کا نہ ہرگز راہ ملا
سب کو روشن ہوگیا زندہ مسیح موت کا قائل ہوا ہے روسیا
ہر طرف سے آرہی تھی یہ ندا آفریں صد آفریں مفتی غلام مرتضیٰ
ہے امام الدین کی یہ التجا دست بالا ہو سدا اسلام کا
راقم امام الدین از کندوال ڈاکخانہ المہ شریف
مولانا مولوی شیخ امام الدین صاحب ساکن ہریا تحصیل پھالیہ ضلع گجرات
بہ ہریا قدم رنجہ چوں بفرمود دیا کر حق و باطل میں نتارا
لوائے میرزائی منہدم شد بمیدان مباحثہ آشکارا
غلام مرتضیٰ در ملک پنجاب چمکتا ہے ہدایت کا ستارا
بگوید شیخ از شادی ہمہ دم عجب بین عالم دینی دلارا
١٤٨
یا الٰ... چو آمد صا... گروہ ... چو بشنید ... یزید ... کہ تاد... کر ... سلیماں ...
واہ سبحان ا... باغ قلوب ... جہاں غریباں ... ہوئی زیارت ... مفتی صاحب ... اس زمانے ... نص حدیث ... حیات مسیح ... جسد ... نال ... علم بیا... مسئلہ محو ...
ایضاً
چو آمد صدق وحق باطل نہاں شد عیاں شد صدق وحق را دلربائی
گروہ احمدی زیر وزبر شد چو غالب شد بیاں مرتضائی
چو بشنیدند علم مفتیے دیں شکست آمد بشان مرزائی
بزیر سایہائے امغولاں مباحثہ گشت بہر رہنمائی
کہ تادانند سنی حق وباطل کنند از فرقہ ضالہ جدائی
کمر بستہ در آمد مفتیے دیں بسر کردہ کلاہ چشتیائی
سلیماں وار بر کرسی نشستہ چو یوسف وار از اخواں رہائی
ایضاً
باغ قلوب اساڈیاں اتے کھلی باد بہاری ہسیاں کلیاں ہویاں شگفتہ آئی انہاندی واری
جنہاں غریباں کدیں نہ ڈٹھا ایہ جلسہ فیضانی درافشانی ایہ حقانی دیکھ ہوئے قربانی
ہوئی زیارت لوکاں تائیں عالم گھر وچ آئے کڈھ قرآن حدیث کتاباں مسئلے خوب سنائے
مفتی صاحب میانی والے وچہ آہے سرکردے کاٹھدے سنگ لوہے بہدے جل بچدے تردے
اس زمانے ظاہر جاپن ثانی تفتازانی اخفش اتے مبرد وانگوں نحوی مرد حقانی
نص حدیثوں مفتی صاحب کل جواب لیایا قادیانوالے ملاں صاحب سائنس کل سنایا
حیات مسیح دی ثابت کیتی واہ حدیث قرآنوں نازل ہوسی وچہ زمانے آخر سچ پچھانوں
جسدم عالم قادیانوالا کردا سی تقریراں سننے والیاں تائیں ہرگز ہوں نہیں تاثیراں
نال تحمل اتے تامل مفتی صاحب بولن خوش بیانی اتے مؤمن جند جانان سب گھولن
علم بیانوں مفتی صاحب خوب بیان سنایا علم کلام معانی اندر ابلق تیز چلایا
مسئلہ نحو محقق کیتا متن متین دکھایا جتھے قدم مبارک رکھیا کسے نہ پھیر اٹھایا
کتبہ وصنفہ، مسکین شیخ امام الدین از قریہ ہریہ
جناب مولوی گل احمد ساکن پنڈ دادنخان ضلع جہلم
لڑائی باز کی اکثر ہوا کرتی ہے بازوں سے کوئی بٹیر جا ڈھونڈھو کہ تو بھی ایک بٹیرا ہے
غلام مرزا پہلے تو کرلے علم کی تحصیل غلام مرتضیٰ سے کم بہت کچھ علم تیرا ہے
١٤٩
اگر مصلوب زندہ ہے تو بل رفع کی بل دیکھو مسیح موعود کا چرخ بلندی پر بسیرا ہے
فلک کی کج ادائی نے لگایا شمس کو گہنا جبھی تو اس کی دنیا میں اندھیرا ہی اندھیرا ہے
گل احمد از پنڈدادخان ضلع جہلم
جناب مولوی بدرالدین صاحب ساکن رکن ضلع گجرات
نماندہ مشتبہ دجال عیسیٰ جلی شد کذب فرعوں صدق موسیٰ
غلام مرتضیٰ مفتی حقانی رمیدہ ازوے شمس قادیانی
دم از علم بیاں بروئے دمیدہ ببیں حلقوم کاید چوں بریدہ
نمے گویم کہ عیسائے زمان است ولے دجال کشتن را جوان است
بدرالدین رکنوی
واعظ بینظیر و مبلغ خوش تقریر مولونا حضرت سید صدیق شاہ صاحب
ساکن منگوال تحصیل خوشاب ضلع شاہپور
مرزایاں تے مفتی صاحب شرطاں کیتیاں تاہیں وچہ انہاندے جھگڑا کوئی باہر جائے ناہیں
مفتی صاحب فاضل پورا شرماں والا بندا وچہ شرطاندے پورا اتریا چھوڑ جہاں دھندا
کل شئ یرجع الیٰ اصلہ حضرت دا فرمانا جیسا اصل کسیدا ہووے اس تھیں پایا جانا
ہر کوئی جانے مفتیانوالا ہے شریف گھرانہ نال شرافت پورا اتریا چھڈ کے مکر بہانہ
مفتی صاحب مرزایاں نوں خنجر ماری گل دی تاہیں وچہ انہاندے سینے آتش غمدی بلدی
عیسیٰ نوں آسماناں اتے رب چڑھایا جلدی بل انہاندے دل نکالے واہ نہیں کوئی چلدی
خوش رہیں اے مفتی شالا ہووے لمی حیاتی اللہ پاک بنایا تینوں رحمت دی برساتی
مردیاں دے دل زندے کیتے تیریاں خوش تقریراں دنیا تے رب زندہ رکھے تیں جیہاں تصویراں
ہے خوش خلقت ساری تیں تے رب ہووے خوش شالا تو اج مردیاں دلاں اندر جان پاون والا
توں ہن اپنے شعر سنا کے بس کر شاہ صدیقا
مفتی صاحب چھوڑیا ناہیں باقی کوئی دقیقہ
صدیق شاہ از منگوال
١٥٠
خلاصہ
یہ ہے کہ جیسا مرزائی جماعت کے پاس دیگر مسائل مختلف فیہا میں اپنا دعویٰ ثابت کرنے کے لئے کوئی ایسی شرعی دلیل نہیں۔ جس میں تقریب تام ہو ویسا ہی وفات مسیح ابن مریم کے ثابت کرنے کے لئے ان کے پاس ایسی کوئی شرعی دلیل نہیں جس میں تقریب تام ہو۔ اس کی تائید میں ہم ایک مکالمہ پیش کرتے ہیں۔
مکالمہ مابین مفتی غلام مرتضیٰ صاحب
ومولوی نور الدین صاحب خلیفہ اوّل مرزا قادیانی
جن دنوں مفتی غلام مرتضیٰ صاحب اسلامی مناظر مدرسہ نعمانیہ لاہور میں اوّل مدرس تھے۔ ان دنوں مولوی ابراہیم صاحب کے مکان واقع کشمیری بازار میں بموجودگی مولوی ابراہیم صاحب ودیگر چند اصحاب بتاریخ ١٤ یا ١٥ مئی ١٩٠٨ء مابین مفتی صاحب ومولوی صاحب موصوف یہ مکالمہ ہوا۔
مفتی صاحب: میں آپ کو مرزا قادیانی کے معتقدین میں سے وسیع المعلومات اعتقاد کرتا ہوں۔ اس لئے مجھے اشتیاق ہے کہ آپ وفات مسیح ابن مریم پر کچھ تقریر فرمائیں۔
مولوی صاحب: تقریر شروع کرنے سے پہلے میں ایک حکایت بیان کرتا ہوں۔ اس حکایت کو میری تمام تقریر میں ملحوظ رکھنا۔ وہ حکایت یہ ہے کہ ایک دن ایک سائل نے میرے سے دریافت کیا کہ اس مقدمہ کا کیا مطلب ہے۔ ”اذا جاء الاحتمال بطل استدلال“ میں نے سائل کو کہا کہ تم نے اس مقدمہ کا کیا مطلب سمجھا ہوا ہے۔ سائل نے کہا کہ میں نے اس کا یہ مطلب سمجھا ہوا ہے کہ ایک دعویٰ مثلاً موجبہ ہے تو اس کی دلیل کے مقدمات واجزاء بھی موجبے ہوں گے اور وہ دلیل اپنی ایجابی جانب کے لحاظ سے اس دعویٰ کو ثابت کرے گی اور اگر اس دلیل کے مقدمات واجزاء کی جانب مخالف یعنی سلبی جانب کا احتمال ہوا تو وہ استدلال باطل ہوگا اور وہ دلیل اس دعویٰ کو ثابت نہ کرے گی۔ میں نے سائل کو کہا کہ یہ مطلب غلط ہے۔ بلکہ اس مقدمے کا یہ مطلب ہے کہ اگر احتمالوں پر غور کی جائے تو کوئی شخص دلیل قائم ہی نہیں کرسکتا۔
مفتی صاحب: جناب میں نے اس حکایت کو سمجھ لیا ہے۔ لیکن جس طریق سے میں استفسار کروں اس طرز پر آپ تقریر فرمائیں۔
مولوی صاحب: کہئے۔
مفتی صاحب: یہ تو آپ کا عقیدہ ہے ہی۔ ”مات عیسیٰ“ لیکن میں یہ دریافت
١٥١
کرتا ہوں کہ آپ کا عقیدہ مات عیسیٰ وہماً ہے یا شکاً یا ظناً یا تقلیداً یا یقیناً۔
مولوی صاحب: میرا عقیدہ مات عیسیٰ یقیناً ہے۔
مفتی صاحب: تو پھر ضروری ہے کہ اس یقینی دعویٰ کے ثابت کرنے کے لئے جو دلیل آپ بیان فرمائیں گے اس دلیل کے مقدمات اور اجزاء بھی یقینی ہوں۔
مولوی صاحب: یقینی دعویٰ میں یہ لازم نہیں کہ وہ اپنے ثبوت میں دلیل کا محتاج ہو۔
مفتی صاحب: واقعی یقینی دعویٰ دو قسم ہیں۔ بدیہی اور نظری، بدیہی تو اپنے ثبوت میں دلیل کے محتاج نہیں۔ لیکن نظری اپنے ثبوت میں دلیل کے محتاج ہیں۔ اب میں یہ دریافت کرتا ہوں کہ آپ کا دعویٰ مات عیسیٰ یقیناً بدیہی ہے یا نظری۔
مولوی صاحب: نظری ہے۔
مفتی صاحب: جب آپ کا یہ دعویٰ نظری ہے تو پھر ضرور اپنے ثبوت میں دلیل کا محتاج ہے اور چونکہ آپ کا یہ دعویٰ یقینی ہے۔ اس لئے جو دلیل آپ بیان فرمائیں گے اس کے دلیل کے مقدمات اور اجزاء بھی یقینی ہونے چاہئیں۔ ورنہ یہ دلیل اس یقینی دعویٰ کو ثابت نہ کر سکے گی۔
مولوی صاحب: تو پھر کیا ہوا۔
مفتی صاحب: جناب پھر جو مطلب مقدمہ ”اذا جاء الاحتمال بطل الاستدلال“ کا سائل نے بیان کیا ہے وہ صحیح ثابت ہوا اور جو معنی آپ نے کئے ہیں وہ غلط ہوئے۔
مولوی صاحب: آپ مانحن فیہ کی طرف رجوع کیجئے۔
مفتی صاحب: رجوع کرتا ہوں۔ جناب من اتنا عرض کرتا ہوں کہ آپ اپنے دعویٰ مات عیسیٰ یقیناً کے ثابت کرنے کے لئے جو دلیل بیان فرمائیں گے خواہ وہ دلیل قرآنی ہو یا حدیثی یا مجموعی اس دلیل کے متعلق اتنا فرما دیجئے کہ اس دلیل میں تقریب تام ہے۔
مولوی صاحب: یہ تو میں کبھی نہ کہوں گا۔
مفتی صاحب: جناب جب آپ کا دعویٰ یقینی ہے اور آپ کو اپنی دلیل پر پورا بھروسہ ہے تو پھر آپ یہ کیوں نہیں فرماتے۔
مولوی صاحب: یہ میں نہیں کہوں گا۔
اسی نزاع میں مکالمہ ختم ہوا اور مولوی نور الدین صاحب نے اخیر میں فرمایا کہ مفتی صاحب نے مناظرہ کا نیا ڈھنگ نکالا ہے۔
ناظرین! غور فرمائیں کہ یہ مولوی نور الدین صاحب وہ ہیں کہ جن کو تمام مرزائی
١٥٢
جماعت کے اشخاص اپنی جماعت میں علمی حیثیت سے فائق سمجھے جاتے ہیں اور ان کے مضامین کے ساتھ مرزا قادیانی ہمیشہ رطب اللساں رہے اور مرزا قادیانی کے انتقال کے بعد یہی مولوی صاحب موصوف خلیفہ اول ہوئے۔ با ایں ہمہ پھر بھی یہ مولوی صاحب اپنا دعویٰ مات عیسیٰ یقیناً کے ثابت کرنے کے لئے کوئی ایسی دلیل نہیں بیان کر سکے جس میں تقریب تام ہونے کا دعویٰ کریں۔
مرزا محمود احمد صاحب خلیفہ ثانی مرزا قادیانی کو مناظرہ کے لئے دعوت
مرزا قادیانی کے خلیفہ اول کا حال تو ناظرین نے سن لیا ہے۔ اب ہم مرزا قادیانی کے خلیفہ ثانی یعنی مرزا محمود احمد قادیانی کو دعوت دیتے ہیں کہ وہ مفتی غلام مرتضیٰ صاحب کے ساتھ مسئلہ حیات و وفات مسیح ابن مریم میں بمقام لاہور اس طریق پر مناظرہ کریں کہ تمام مناظرہ کے دو پرچے ہوں۔ پہلے پرچہ میں مرزا محمود احمد قادیانی اپنے دعویٰ مات عیسیٰ یقیناً کے ثابت کرنے کے لئے فقط ایک ہی دلیل ایسی تحریر کریں جس کے متعلق یہ لکھا ہوا ہو کہ اس دلیل میں تقریب تام ہے اور طرز استدلال شرط نمبر ١ و شرط نمبر ٢ کے عین مطابق ہو اور دوسرے پرچہ میں ہر ایک مناظر اپنے فریق مخالف کے پرچہ اوّل کے مطابق شرط نمبر ١ و شرط نمبر ٢ تردید تحریر کرے اور ہر ایک مناظر اپنے ہر دو پرچوں کو عام اجلاس میں ایک وقت معین کے اندر بیان کرے۔
نوٹ: ہم نے خاص کر مسئلہ حیات و وفات مسیح ابن مریم میں مناظرہ کرنے کے لئے اس لئے دعوت دی ہے کہ مرزا قادیانی نے اس مسئلہ حیات و وفات مسیح ابن مریم کو ہی اپنے صدق و کذب کے لئے معیار و میزان قرار دیا ہے۔
ہدایات
قادیانی مناظر نے روئیداد مناظرہ کے ساتھ ایک ضمیمہ بعنوان ”چند ضروری باتیں“ چسپاں کر دیا ہے۔ جس میں اس نے اختراعیات اور مغالطات درج کر دیئے ہیں۔ جن کے متعلق چند ہدایات کا بیان کرنا ضروری معلوم ہوتا ہے۔
مغالطہ
قادیانی مناظر نے لکھا ہے۔ ”مشتہر سطر ٢، ٣ میں لکھتا ہے کہ موضوع مناظرہ حیات و وفات مسیح ابن مریم تھا اور صرف اسی مسئلہ پر مباحثہ کرنے کی وجہ یہ ہے کہ قادیانی جماعت نے اسی موضوع پر مناظرہ کرنا چاہا۔ یہ بالکل غلط ہے۔ خود مفتی صاحب نے کہا تھا کہ میں صرف اس مسئلہ پر ہی بحث کروں گا۔“
١٥٣
ہدایت
یہ ناممکن ہے۔ کیونکہ مشتہر نے لکھا ہے کہ قادیانی جماعت نے اسی موضوع پر مناظرہ کرنا چاہا اور قادیانی جماعت کا یہ چاہنا ہم ابتداء میں بعنوان تعیین موضوع مناظرہ مفصل لکھ چکے ہیں۔
مغالطہ
قادیانی مناظر نے لکھا ہے۔ مشتہر نے ہم پر شرط نمبر ٢١ لکھ کر یہ الزام لگایا ہے کہ ہم نے ان کے خلاف کیا کیا ہے۔ یہ تو مناظرہ کے پرچہ جات پڑھنے سے ہر ایک شخص معلوم کر سکتا ہے کہ دونوں مناظروں میں سے کس نے شرائط کے خلاف کیا ہے۔ براہین احمدیہ سے حوالے اور حضرت خلیفہ مسیح اوّل کی جماعت احمدیہ میں داخل ہونے سے پہلے کی تحریریں اور اپنے آخری پرچوں میں نئے دلائل پیش کرنا کیا شرائط کے خلاف نہیں تھا۔ جس کے مفتی صاحب مرتکب ہوئے۔
ہدایت
براہین احمدیہ کے حوالے خلاف شرط نمبر ٢١ نہیں۔ کیونکہ پہلے تو اسلامی مناظر نے براہین احمدیہ کی عبارت نقل کرنے کے بعد اپنے پرچہ نمبر ١ میں یہ لکھ دیا ہے کہ میری مراد کوئی الزامی جواب دینا نہیں ہے۔ بلکہ یہ بتلانا ہے اور دوسرا یہ کہ دعویٰ نبوت کی تاریخ جو مرزا قادیانی اور ان کے معتقدین نے بیان کی ہے وہ ہمارے پر حجت نہیں۔ کیونکہ ہم مرزا قادیانی کو متنبّی اور ان کے معتقدین کو معتقدین متنبّی سمجھتے ہیں۔ بلکہ دیکھنا یہ ہے کہ مرزا قادیانی نے اپنے دعویٰ نبوت کی علت ملہمیت کو قرار دیا ہے اور بوقت تالیف براہین احمدیہ مرزا قادیانی بزعم خود ملہم تھے۔ اگر یہ کہا جائے کہ مرزا قادیانی کے پیغمبر ہونے کی علت نفس الہام نہیں بلکہ کثرت ہے تو اس کا یہ جواب ہے کہ آنحضرت ﷺ کو جب پہلی دفعہ یہ وحی ہو ۔ ”اقراء باسم ربك الذی خلق“ تو اسی وقت سے سلسلۂ نبوت شروع ہوگیا۔ نہ یہ کہ قرآن کریم کے حصہ کثیر نازل ہونے کے بعد سلسلۂ نبوت شروع ہوا اور نیز مولوی نورالدین صاحب کی تحریریں پیش کرنا شرط نمبر ٢١ کے خلاف نہیں۔ کیونکہ مفتی صاحب اسلامی مناظر نے اپنے پرچہ نمبر ١ میں لکھ دیا ہے کہ میں نے مولوی نورالدین صاحب کے اقوال کو اس حیثیت سے پیش نہیں کیا کہ وہ احمدی ہیں اور نہ ہی اس حیثیت سے کہ وہ مرزا قادیانی کے خلیفہ ہیں۔ بلکہ اس حیثیت سے پیش کئے ہیں کہ مرزا قادیانی نے اپنے دعویٰ نبوت کے زمانہ میں مولوی نورالدین صاحب کی دینی رنگ میں اعلیٰ درجہ کی توثیق کی اور ان اقوال پیش کردہ کے بعد نہ مرزا قادیانی نے ترمیم و تنسیخ کی ہے اور نہ ہی مولوی صاحب موصوف نے، اور ویسا ہی مفتی صاحب اسلامی مناظر نے آخری پرچوں میں کوئی نیا مضمون بطور دلیل بیان نہیں کیا۔ بلکہ بطور تردید۔
١٥٤
بیشک قادیانی مناظر نے شرط نمبر ١،٢ کے خلاف کثیرالتعداد امور کا ارتکاب کیا ہے۔ مثلاً تورات کا پیش کرنا، حضرت امام مالکؒ وحضرت امام ابوحنیفہؒ وامام شافعیؒ کا ذکر کرنا شاہ رفیع الدینؒ صاحب ومجاہد کو پیش کرنا اور پرچہ نمبر ١ دلائل میں حضرت امام حسنؓ کا قول درج کرنا خیالی اور وہمی باتوں سے اپنے پرچوں کو لبریز کردینا جو مؤمن من حیث ہو مؤمن کا بھی حق نہیں کہ ایسی باتیں مؤمن کے مقابلہ میں پیش کرے۔ علم قریالوجی کے مسائل کو بیان کرنا وغیرہ وغیرہ۔
مغالطہ
قادیانی مناظر نے لکھا ہے۔ پھر ’’بل رفعه الله الیه‘‘ آیت لکھ کر کہتے ہیں کہ بل ابطالیہ میں ضروری ہے کہ وہ وصف جس کا ابطال مقصود ہو اور وہ وصف جس کا اثبات مقصود ہو ان میں تنافی اور ضدیت ہونی ضروری ہے۔ مگر رفع روحانی واعزاز اس قتل کو لازم ہے۔ اس کا مفصل جواب ہم پرچوں میں لکھ چکے ہیں۔ مختصر اُس کا جواب یہ ہے کہ بل ابطالیہ بھی یہاں مان لیا جائے تو ہمارا مدعا ثابت ہے۔ کیونکہ یہود کے قتل کرنے سے مراد نعوذ باللہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو دعویٰ میں جھوٹا اور ان کی روح کو ناپاک اور ملعون ثابت کرنا تھا۔ اسی وجہ سے انہوں نے اپنے قول میں رسول اللہ کا لفظ بڑھایا ہے اور نیز خدا تعالیٰ کا ان سے وعدہ تھا کہ: ’’انی متوفیک‘‘ کہ میں تجھے طبعی موت سے ماروں گا۔ پس اگر وہ قتل ہوجاتے تو ان کا دعویٰ باطل ہوجاتا تھا جو رفع روحانی کے منافی ہے۔ اس لئے یہود کے قول کی نفی کرتے ہوئے کہ انہوں نے اس کو قتل نہیں کیا۔ یعنی دعویٰ میں جھوٹے ثابت نہیں کرسکے۔ اس کی ضد کہ وہ خدا تعالیٰ کے مقرب ہیں کو لفظ بل سے ثابت کیا ہے۔
ہدایت
’’ڈوبتے کو تنکے کا سہارا‘‘ اب قادیانی مناظر کا بھی یہی حال ہورہا ہے۔ دیکھو قادیانی صاحب فرماتے ہیں۔ اس کا مفصل جواب ہم پرچوں میں لکھ چکے ہیں۔ پرچوں میں انہوں نے جواب دیتے ہوئے تورات کو ہی پیش کیا ہے جو یہود کی محرف منسوخ شدہ کتاب ہے اور جس کا پیش کرنا بروئے قرآن کریم وحدیث نبوی جائز نہیں اور نیز یہ کتاب محرف منسوخ شدہ قادیانی مناظر کی امداد کرنے سے انکاری ہے۔ کیونکہ قادیانی مناظر نے تورات سے یہ ثابت کرنا چاہا کہ جو مصلوب ہو وہ ملعون ہوتا ہے اور تورات کا درحقیقت یہ مضمون ہے کہ جو کسی جرم میں مصلوب ہو وہ ملعون ہے اور قرآن کریم سے بھی یہی ثابت ہوتا ہے کہ سبب ملعونیت جرم ہے نہ مصلوبیت۔ ارشاد ہے۔ ’’انما جزاء الذین یحاربون الله ورسوله ویسعون فی الارض فساداً ان یقتلوا اویصلبوا اوتقطع ایدیهم وارجلهم من خلاف اوینفوا من الارض ذلك
١٥٥
لهم خزي في الدنيا ولهم في الآخرة عذاب عظيم (مائدہ:٣٣)“ دیکھو اس آیت میں خزی کا سبب قتل وصلب بوجہ جرائم یعنی محاربہ اور فساد فی الارض کو قرار دیا گیا ہے نہ مطلق مقتولیت اور مصلوبیت وغیرہ کو اور پھر قادیانی مناظر لکھتے ہیں۔ کیونکہ یہود کے قتل کرنے سے مراد نعوذ باللہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو دعویٰ میں جھوٹا اور ان کی روح کو ناپاک اور ملعون ثابت کرنا تھا۔ اسی وجہ سے انہوں نے اپنے قول میں رسول اللہ کا لفظ بڑھایا ہے۔ یہ کیسی اعلیٰ جہالت ہے۔ کیونکہ اس مضمون کی صحت اس صورت میں موہوم ہو سکتی تھی جب قتل اور رسالت میں تنافی وضدیت ہوتی۔ حالانکہ قتل اور رسالت میں تنافی وضدیت نہیں۔ جیسا کہ اس آیت سے ظاہر ہے۔ ”افأن مات او قتل انقلبتم علیٰ اعقابکم (آل عمران: ١٤٤)“ خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ آیا اگر محمد رسول اللہ ﷺ فوت ہو جائیں یا قتل کئے جائیں تو تم مرتد ہو جاؤ گے۔ یعنی اگر وہ فوت ہوں یا مقتول ہوں تو تب بھی تم کو اپنے ایمان پر مستحکم رہنا چاہئے۔ کیونکہ موت اور قتل رسالت کے منافی نہیں اور یہود کا لفظ رسول اللہ کو بڑھانا بطور استہزاء ہے اور پھر قادیانی مناظر فرماتے ہیں اور خدا تعالیٰ کا ان سے وعدہ تھا کہ انی متوفیک کہ میں تجھے طبعی موت سے ماروں گا۔ پس اگر وہ قتل ہو جاتے تو ان کا دعویٰ باطل ہو جاتا تھا۔ یہ کیسی نرالی جہالت ہے۔ کیونکہ بروئے قرآن کریم یہود کا عقیدہ ہے۔ ”انا قتلنا یقینا بل رفعه اللہ الیہ“ کے ساتھ ہے اور ہم اہل اسلام کا عقیدہ ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام قیامت سے پہلے اپنی طبعی موت سے مریں گے۔ قادیانی مناظر کی اس تحریر سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ یا وہ مغلوب الجہالۃ ہے یا اس نے بوقت سلامتی عقل یہ تحریر نہیں کی۔
مغالطہ
قادیانی مناظر لکھتے ہیں اور مشتہر خود لکھتا ہے کہ احد الوصفین دوسرے وصف کا ملزوم نہ ہوتا کہ مخاطب کا اعتقاد برعکس اعتقاد متکلم متصور ہو۔ ہر امر میں ایسا ہونا ضروری نہیں۔ ورنہ کیا یہ جمع نہیں ہو سکتے کہ ایک شخص زندہ ہو اور مرفوع الی اللہ نہ ہو۔ یہاں پر یہود کے اعتقاد کی رفع الیہ سے تردید کی گئی ہے اور ثابت کیا ہے کہ وہ خدا تعالیٰ کے مقرب تھے۔
ہدایت
یہ کیسی بے نظیر جہالت ہے۔ کیونکہ کلام اس میں ہے کہ قصر قلب میں یہ ضروری ہے کہ احد الوصفین دوسرے وصف کا ملزوم نہ ہو اور قادیانی مناظر نے نہ تو قصر قلب کی کوئی مثال پیش کر کے نقض کیا ہے اور نہ ہی لزوم اور عدم لزوم کا ذکر کیا ہے۔ بلکہ غیر مربوط یہ فقرہ لکھ دیا ہے۔ ورنہ کیا یہ جمع نہیں ہو سکتے کہ ایک شخص زندہ ہو۔
١٥٦
مغالطہ
قادیانی مناظر نے لکھا ہے کہ مفتی صاحب نے اپنے پرچہ میں لکھا ہے کہ جب جملہ منفی ہو تو اس وقت بل ابطالیہ ہی ہوگا۔ قرآن مجید کی آیت ”وما یشعرون ایان یبعثون بل ادرک علمہم فی الاخرة (نمل:٦٥)“ کے صریح خلاف ہے۔ کیونکہ یہاں بل ابطالیہ لے کر معنی درست نہیں ہو سکتے۔
ہدایت
یہ قادیانی مناظر کا نرالا جہل مرکب ہے۔ کیونکہ نفی کے بعد بل ابطالیہ سے یہ مراد ہے کہ وصف منفی کو یہ بل باطل کرتا ہے اور جس وصف پر داخل ہے اس کو ثابت کرتا ہے۔ جیسا کہ: ”وما قتلوہ یقیناً بل رفعہ اللہ الیہ“ میں قتل مسیح منفی ہے۔ جس کو بل نے باطل کر دیا ہے اور رفع مسیح پر بل داخل ہے۔ جس کو اس نے ثابت کر دیا ہے اور قادیانی مناظر نے جو آیت بطور تردید پیش کی ہے وہ درحقیقت اسلامی مناظر کی صاف طور پر تائید کرتی ہے۔ کیونکہ اس آیت کے یہ معنی ہیں کہ اور وہ نہیں جانتے کہ کب اٹھائے جائیں گے۔ بلکہ آخرت کے بارے میں ان کا علم انتہاء کو پہنچ کر رہ گیا۔ یعنی وہ جاہل رہ گئے۔ دیکھ اس آیت میں شعور یعنی علم بالآخرۃ منفی ہے۔ جس کو بل باطل کر رہا ہے اور جہل بالآخرۃ پر بل داخل ہے۔ جس کو وہ ثابت کر رہا ہے اور جیسا کہ: ”وما قتلوہ یقیناً بل رفعہ اللہ الیہ“ میں قتل مسیح اور رفع مسیح کے درمیان لزوم نہیں۔ بلکہ تنافی وضدیت ہے۔ ویسا ہی آیت ”وما یشعرون ایان یبعثون بل ادرک علمہم فی الاخرة“ میں علم بالآخرۃ اور جہل بالآخرۃ کے درمیان لزوم نہیں۔ بلکہ تنافی وضدیت ہے۔ یہ عجیب اتفاق ہوا ہے کہ قادیانی مناظر نے تردید میں آیت ”وما یشعرون“ پیش کی ہے۔ جس میں شعور کی نفی ہے اور یہ آیت اسلامی مناظر کی ایسی تائید کر رہی ہے کہ قادیانی مناظر کو اس تائید کا شعور نہیں۔ خلاصہ یہ ہے کہ قادیانی جماعت کی پردہ دری ہو کر اس کے مذہب کا بطلان آفتاب نصف النہار کی طرح روشن ہو چکا ہے۔
مغالطہ
قادیانی مناظر لکھتا ہے۔ مشتہر لکھتا ہے کہ یہ دلیل معدوم النظیر ہے۔ بیشک اس سے جو استدلال کیا گیا ہے اپنی بیہودگی میں معدوم النظیر ہے۔ کیونکہ صحیح دلائل اور استدلالوں کے نظائر دنیا میں موجود ہوتے ہیں۔
١٥٧
ہدایت
بیشک قادیانی مناظر کا اس مقام اور ایسے استدلال پر لفظ بیہودگی استعمال کرنا بیہودگی میں معدوم النظیر ہے۔ کیونکہ اس نے اس بیہودگی کی کوئی صحیح وجہ بیان نہیں کی اور ہم نے جہاں قادیانی مناظر کی جہالت کا دعویٰ کیا ہے وہاں ہی اس جہالت کو مدلل و مبرہن کیا ہے۔
مغالطہ
قادیانی مناظر لکھتا ہے۔ کیونکہ یہ جملہ خبریہ محضہ ہے۔ ایسا وفات مسیح ابن مریم کے متعلق کوئی فقرہ نہیں۔ اس آیت میں تو رفع کے معنی بجسدہ العنصری آسمان پر اٹھا لینا ہی ثابت نہیں ہو سکتے تو یہ آیت آپ کے مفید کیسے ہو سکتی ہے۔
ہدایت
جناب من اسلامی مناظر نے اپنے پرچہ نمبر ١ میں بروئے محاورہ قرآنی و محاورات احادیث و بروئے قاعدہ نحوی متعلق بہ و بروئے قاعدہ علم معانی متعلق قصر قلب آیت ”وماقتلوہ یقیناً بل رفعہ اللہ الیہ“ کے ساتھ ثابت کر دیا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام زندہ بجسدہ العنصری آسمان پر اٹھائے گئے ہیں۔ جس کا قادیانی مناظر کوئی جواب نہیں دے سکا۔ جیسا کہ روئیداد مناظرہ پڑھنے سے روشن ہے۔ بلکہ قادیانی مناظر نے اس استدلال کے جواب میں تورات پیش کر کے اس بات کا اعتراف کر لیا ہے کہ میرے پاس اس استدلال کا کوئی جواب نہیں اور ہم نہایت زور سے اعلان کرتے ہیں کہ انشاء اللہ قادیانی جماعت میں سے کوئی فرد بھی شرط نمبر ٢،١ کے تحت میں رہ کر اس استدلال کا تاقیامت جواب نہ دے سکے گا۔ جیسا کہ وقتاً فوقتاً علماء وفضلاء زمانہ پر اس پیش گوئی کی صداقت ظاہر ہوتی رہے گی تو پھر قادیانی مناظر کا یہ کہنا تو یہ آیت آپ کے مفید کیسے ہو سکتی ہے۔ کیسی دیدہ دانستہ دلیری ہے۔
مغالطہ
قادیانی مناظر لکھتا ہے مفتی صاحب بھی کوئی ایک مثال رفع کی پیش نہیں کر سکے۔ جس میں خدا تعالیٰ فاعل ہو اور مفعول ذی روح پھر رفع کے معنی اسی جسم کے ساتھ آسمان پر اٹھانا ہوں اور رفعت الی ربی مثال پیش کی ہے۔ جس میں فاعل مذکور ہی نہیں۔ دوسرے معراج کا واقعہ خود زیر بحث ہے۔ حضرت عائشہؓ اور امام حسنؓ و معاویہؓ کا یہی مذہب تھا کہ وہ آپ کا ایک کشف یا خواب تھا۔ جیسا کہ بخاری کی حدیث ”واستیقظ وهو فى المسجد الحرام“ سے ثابت ہے کہ معراج کا واقعہ
١٥٨
دیکھ کر پھر رسول اللہ ﷺ بیدار ہو گئے اور اس کو واقعہ خاص کہہ کر پیچھا چھڑانا نہایت مشکل ہے۔
ہدایت
جناب من اسلامی مناظر نے اپنے پرچہ نمبر ٥ میں آپ کے اس مضمون کی تردید میں صحیح بخاری کی حدیث کا یہ فقرہ پیش کیا ہے۔ ”ثم رفعت الی سدرة المنتهی (بخاری ج ١ ص ٥٧٩، باب حدیث الاسریٰ قوله سبحن الذی اسریٰ بعبده)“ اور ”رفعت الی ربی“ پیش نہیں کیا اور اس فقرہ حدیث میں طرز تردید یہ ہے کہ جیسا خلقت میں اگر فاعل مذکور نہیں۔ لیکن اس لحاظ سے کہ فعل خلق کا فاعل خدا تعالیٰ کے سوائے کوئی نہیں ہو سکتا۔ خلقت کا فاعل معین بمنزلہ مذکور کے ہے۔ ویسا ہی ”رفعت الی سدرة المنتهی“ کا فاعل معین بمنزلہ مذکور کے ہے۔ اب دیکھو کہ اس صحیح بخاری کی حدیث کے فقرہ میں رفع کا فاعل خدا تعالیٰ ہے اور مفعول ذی روح انسان ہے اور مراد اسی جسم کے ساتھ آسمان پر اٹھا لینا ہے۔
اور پھر قادیانی مناظر نے کہا ہے۔ دوسرے معراج کا واقعہ خود زیر بحث ہے۔ ہم اس کو اس کے متعلق یہ ہدایت کرتے ہیں کہ اسلامی مناظر کی طرف تردید یہ ہے کہ فقرہ ”ثم رفعت الی سدرة المنتهی“ میں فعل رفع ہے اور خدا تعالیٰ فاعل اور مفعول ذی روح انسان ہے اور اس فقرہ کے الفاظ سے مراد اسی جسم کے ساتھ آسمان پر اٹھا لینا ہے اور معراج کا واقعہ زیر بحث ہونا اسلامی مناظر کی طرز تردید کو مضر نہیں۔ کیونکہ معراج عالم رؤیا میں ہو یا عالم کشف میں یا عالم یقظہ میں ہو ہر صورت میں فقرہ ثم رفعت الی سدرة المنتهی کے الفاظ سے مراد تو اسی جسم کے ساتھ آسمان پر اٹھا لینا ہی ہے۔ قادیانی جماعت کے ان افراد کا جنہوں نے لالچ دنیاوی اور طمع نفسانی کی وجہ قادیانی مذہب کو اختیار کیا ہوا ہے ہمیشہ وتیرہ ہے کہ اردو خوانوں اور انگریزی خوانوں کو شکار کرنے کے لئے ایسی تحریریں عملاً پیش کرتے رہتے ہیں۔
مغالطہ
قادیانی مناظر لکھتا ہے۔ اس طرح تو ”انی مهاجر الی ربی“ کے متعلق کوئی کہہ سکتا ہے کہ یہاں آسمان پر جانا مراد ہے۔ ورنہ کسی کے لئے دکھاؤ تو سہی کہ قرآن کریم یا حدیث میں کسی نے اپنے لئے مہاجر اور الی ربی کا لفظ کہا ہو اور اسی طرح حضرت ابراہیم علیہ السلام کا ”انی ذاهب الی ربی سیهدین“ سے بھی کوئی ان کے آسمان پر جانے کا استدلال کرے تو کر سکتا ہے اور دلیل مانگی جائے تو آپ کی طرح کہہ دے کہ یہ واقعہ خاص ہے۔ ورنہ یہ لفظ الفاظ کسی اور کے لئے آئے ہوئے ہوں تو پیش کرو۔
١٥٩
ہے اس عقیدہ کو قرآن کریم نے ا ساتھ صاف طور پر بیان کر دیا ہے انكنتم لا تعلمون " قرآن ہے کہ ہر ایک مصلوب ملعون نہیں قادیانی مناظر نے کرنے میں تضیع الاوقات ہے۔ ایسے جن کی تشریح گذر چکی ہے " اللهم اهدنا المغضوب عليهم ولاالضا تحمل علينا اصرا كما حملت به واعف عنا واغفر لنا وار
مرزا غلام ا کئی سال سے قادیا کرنے کے لئے مجھے دعوت د مناظرہ نہیں ہوتا ۔ بلکہ مغالطہ بازیا جماعت کو یہ کہنا شروع کر دیا کہ ق غلام مرتضیٰ مناظرہ سے بھاگتے تشویش اور اضطراب پیدا ہو گیا کثیر التعداد افراد مرتد ہو جائیں حفاظت عقائد حقہ میں نے م یا متوسط یا ادنیٰ جو میدان مناظرہ چنانچہ مولوی جلال تحریری و تقریری بتواریخ ٨، ٩، ١٠ ہدیہ ناظرین ہے۔ عامۃ المسلم کے لئے میں دعوات دوں و وعید
ہے اس عقیدہ کو قرآن کریم نے اپنے اس فقرہ ”انا قتلنا المسیح عیسیٰ ابن مریم“ کے ساتھ صاف طور پر بیان کر دیا ہے۔ پھر قادیانی مناظر نے بلحاظ آیت ”فاسئلوا اہل الذکر انکنتم لا تعلمون “ قرآن کریم کی خلاف ورزی کی ہے اور نیز قادیانی مناظر نے تسلیم کر لیا ہے کہ ہر ایک مصلوب ملعون نہیں بلکہ مجرم مصلوب ملعون ہے۔
قادیانی مناظر نے اور بھی اختراعات اور مغالطات لکھے ہیں۔ لیکن ان کے متعلق ہدایت کرنے میں تضیع الاوقات ہے۔ کیونکہ ان میں سے بعض تو ایسے ہیں جو بدیہی البطلان ہیں اور بعض ایسے جن کی تشریح و تردید ہو چکی ہے اور بعض ایسے جن کا موضوع مناظرہ کے ساتھ کوئی تعلق نہیں۔
”اللہم اهدنا الصراط المستقیم صراط الذین انعمت علیہم غیر المغضوب علیہم ولا الضالین . ربنا لا تواخذنا ان نسینا او اخطأنا ربنا ولا تحمل علینا اصرا کما حملتہ علی الذین من قبلنا ربنا ولا تحملنا مالا طاقۃ لنا بہ واعف عنا واغفر لنا وارحمنا انت مولانا فانصرنا علی القوم الكافرین“
میاں محمود احمد قادیانی خلیفہ ثانی
مرزا غلام احمد قادیانی کو مناظرہ کے لئے دعوت
کئی سال سے قادیانی جماعت کے لوگ مسئلہ حیات ووفات مسیح ابن مریم پر مناظرہ کرنے کے لئے مجھے دعوت دے رہے تھے۔ لیکن اس لحاظ سے کہ آج کل کا مباحثہ درحقیقت مناظرہ نہیں ہوتا۔ بلکہ مجادلہ یا مکابرہ ہوتا ہے۔ میں اجتناب کرتا رہا اور قادیانی جماعت نے اسلامی جماعت کو یہ کہنا شروع کر دیا کہ تمہارے پاس اپنے مذہب کی حقانیت کی کوئی دلیل نہیں۔ ورنہ مفتی غلام مرتضیٰ مناظرہ سے اجتناب نہ کرتا۔ اس پر اسلامی جماعت کے کثیر التعداد اشخاص کے عقائد میں تشویش اور اضطراب پیدا ہو گیا۔ بلکہ اغلب امید ہو گئی کہ اگر مناظرہ نہ ہوا تو اسلامی جماعت کے کثیر التعداد افراد مرتد ہو جائیں گے۔ اس حالت کے لحاظ سے مناظرہ کرنا فی سبیل اللہ یعنی بغرض حفاظت عقائد حقہ میں نے منجانب اللہ اپنا فرض لازمی سمجھ کر اعلان کر دیا کہ قادیانی جماعت کا فرد اعلیٰ یا متوسط یا ادنیٰ جو میدان مناظرہ میں نکلے میں اس کے ساتھ مناظرہ کرنے کے لئے تیار ہوں۔
چنانچہ مولوی جلال الدین شمس مولوی فاضل آمدہ از قادیان کے ساتھ میرا مناظرہ تحریری و تقریری بتاریخ ١٨، ١٩ اکتوبر ١٩٢٣ء بمقام ہریا ضلع گجرات ہوا۔ جس کی تمام روئیداد ہدیۂ ناظرین ہے۔ بنابریں اب میرا استحقاق ہے کہ قادیانی جماعت میں سے جس فرد کو مناظرہ کے لئے میں دعوت دوں وہ میدان مناظرہ میں نکلے۔
١٦١
چونکہ میاں محمود احمد قادیانی کو قادیانی جماعت نے سب سے فائق سمجھ کر مرزا قادیانی کی خلافت کے لئے منتخب کیا ہے اور نیز میاں صاحب قریباً چالیس کروڑ اہل اسلام اور کلمہ گو کی تکفیر کرنے میں مقتداء ہیں اور مرزا غلام احمد قادیانی کہتے ہیں۔ ”یاد رہے کہ ہمارے اور ہمارے مخالفین کے صدق وکذب آزمانے کے لئے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی وفات وحیات ہے۔ اگر حضرت عیسیٰ علیہ السلام درحقیقت زندہ ہیں تو تو ہمارے سب دعویٰ جھوٹے اور سب دلائل ہیچ ہیں اور اگر وہ درحقیقت قرآن کریم کے رو سے فوت شدہ ہیں تو ہمارے مخالفین باطل پر ہیں۔ اب قرآن درمیان ہے اس کو سوچو۔“
(تحفہ گولڑویہ ص ١٠٢، خزائن ج ١٧ ص ٢٦٢)
اس لئے میں میاں محمود احمد قادیانی خلیفہ ثانی مرزا غلام احمد قادیانی کو دعوت دیتا ہوں کہ وہ میرے ساتھ مسئلہ حیات ووفات مسیح ابن مریم پر بمقام لاہور اس طریق سے مناظرہ تحریری وتقریری کریں کہ ہر ایک مناظر مطابق آیہ ”فان تنازعتم فی شئ فردوہ الی الله والرسول“ اپنا اپنا دعویٰ قرآن کریم اور حدیث نبوی کے ساتھ ثابت کرے اور قرآن کریم وحدیث نبوی چونکہ عربی لغت میں ہیں۔ اس لئے ان کی تفسیر میں امور مفصلہ ذیل کے سوائے کوئی سند پیش نہ کی جائے گی۔ قرآن، حدیث، اقوال صحابہ، لغت عرب، صرف نحو، معانی، بیان۔ میں میاں صاحب کے مقابلہ میں مرزا قادیانی اور مولوی نور الدین قادیانی خلیفہ اول کے اقوال وتحریر پیش کر سکوں گا۔ کیونکہ میاں صاحب مرزا قادیانی کو نبی اعتقاد کرتے ہیں اور میں مرزا قادیانی کو نبی نہیں اعتقاد کرتا بلکہ متنبی سمجھتا ہوں۔
اب تمام ناظرین پر واضح ہو کہ اگر میاں صاحب میری دعوت کو قبول کر کے میدان مناظرہ میں آگئے تو ہم سمجھیں گے کہ میاں صاحب کے دل میں خلوص اور دیانت داری ہے اور اپنے عقائد ثابت کرنے کے لئے ان کے دل میں جرات اور قوت ہے اور اگر میاں صاحب نے میری دعوت کو قبول نہ کیا اور مناظرہ میں نہ آئے تو یہ ثابت ہوگا کہ ان کے پاس اپنے مذہب کی حقانیت کی کوئی دلیل نہیں ہے اور نہ ہی ان کے دل میں خلوص اور دیانت داری ہے۔ بلکہ میاں صاحب کی تمام تلبیسات اور ڈھکوسلوں میں شکار بازی مقصود ہے اور زر بدہ سخن دریں است والا معاملہ ہے۔
”اللهم اهدنا الصراط المستقيم صراط الذين انعمت عليهم غير المغضوب عليهم ولا الضالين، آمین“
الداعـــــے
خادم الاسلام والمسلمین مفتی غلام مرتضیٰ از میانی ضلع شاہ پور
١٦٢