توہین رسالت کی شرعی سزا · مولانا محمد علی جانباز
Toheen-e-Risalat ki Sharai Saza · Muhammad Ali Janbaz
PDF 1

بسم الله الرحمن الرحيم

اِنَّ الَّذِیْنَ یُؤْذُوْنَ اللّٰہَ وَ رَسُوْلَہٗ لَعَنَہُمُ اللّٰہُ فِی الدُّنْیَا وَ الْاٰخِرَۃِ وَ اَعَدَّ لَہُمْ عَذَابًا مُّہِیْنًا

جو لوگ اللہ اور اس کے رسول کو ایذا پہنچاتے ہیں ان پر دنیا اور آخرت میں اللہ نے لعنت فرمائی ہے اور ان کیلئے رسوا کن عذاب تیار کر رکھا ہے (القرآن الحکیم الاحزاب)

توہین رسالت کی شرعی سزا

شیخ الحدیث مولانا محمد علی جانباز دامت برکاتہم

مکتبہ رحمانیہ

ناصر روڈ سیالکوٹ Ph:052-4591911 Mob:03006151913

PDF 2

جملہ حقوق بحق ناشر محفوظ ہیں

نام کتاب

توہین رسالت کی شرعی سزا

تالیف

شیخ الحدیث مولانا محمد علی جانباز دامت برکاتہم

سال اشاعت ........................................ اگست 2007ء ناشر ........................................ مکتبہ رحمانیہ طبع ........................................ سوم تعداد ........................................ 1100 قیمت ........................................

ملنے کے پتے

مکتبہ نعمانیہ: اردو بازار گوجرانوالہ مکتبہ قدوسیہ: رحمان مارکیٹ، غزنی سٹریٹ، اردو بازار لاہور نعمانی کتب خانہ: اردو بازار لاہور والی کتاب گھر: اردو بازار لاہور

مکتبہ رحمانیہ ناصر روڈ سیالکوٹ Ph: 052-4591911 Mob: 03006161913

فہرست

رکھنا چاہیے۔ ــــــ

کرنا منع ہے۔ ــــــ

صفحہ ۳

فہرست

فہرست

رکھنا چاہئے۔ ------------------------------- ٧٣

کرنا منع ہے۔ -------------------------------- ٧٥

صفحہ ۴

فہرست

یا دو عورتوں کا قصہ؟ -------------------------- ۱۳۶

فہرست

بارے میں اللہ کی سنت ----

32 Questions on the importance of the issue of the Seal of prophethood. Also discu... ed by Maulana Muhammad Qasim Nanotvi (R.A) and Allama Anwar ... - Discuss the proof of the Seal of prophethood in light of the Jewish ... regard. 3- What were the Jews waiting for and what supplication ... munawwarah and highlight the importance of the conversion of the ... Prophet Muhammad ﷺ testify to the seal of the prophethood? Elabora... their relationship with the Seal of the prophethood. 5- How does the inci... itself to underscore the announcement of the Seal of the prophethood... also, discuss why did the Prophet Muhammad ﷺ lead the prayer in the ... 6- "Thus, just like the Prophet Muham...

صفحہ 5

فہرست

بارے میں اللہ کی سنت ------------- ۲۰۲

صفحہ ٦

فہرست

رشتہ دار ہی کیوں نہ ہوتا ------------------------- ۲۳۶

کی توہین ہے -------------------------------- ۲۴۳

فہرست

32 Questions on the importance of the issue of the Seal of Prophethood. Also discu by Maulana Muhammad Qasim Nanotvi (R.A) and Allama Anwar - Discuss the proof of the Seal of Prophethood in light of the Jewish in munawarah and highlight the importance of the conversion of the regard. 3- What were the Jews waiting for and what supplication did ir relationship with the Seal of the Prophethood. 5- How does the incide ? 4-Discuss the pivotal role of ablution (wudhu) and prayer (salah Prophet Muhammad ﷺ testify to the seal of the prophethood? Elabor itself to underscore the announcement of the Seal of the prophethood. e, discuss why did the Prophet Muhammad ﷺ lead the prayer in the s Thus, just like the Prophet Muh

صفحہ ۷

فہرست

❁❁❁❁❁❁

صفحہ ۸

توہین رسالت ﷺ کی شرعی سزا

شیخ الحدیث مولانا محمد علی جانباز حفظہ اللہ

ولادت باسعادت:

مولانا محمد علی جانباز حفظہ اللہ ۱۹۳۲ء میں مشرقی پنجاب کے ضلع فیروز پور (بھارت) کے قصبہ بدھو چک میں پیدا ہوئے۔ آپ کے والد محترم کا نام حاجی نظام الدین ہے اور آپ کا تعلق راجپوت وٹو برادری سے ہے۔

تعلیم کا آغاز:

مولانا محمد علی جانباز حفظہ اللہ نے تعلیم کا آغاز اپنے قصبہ ہی کی مسجد سے کیا۔ یہاں آپ کے استاد مولانا محمد رحمہ اللہ تھے۔ قرآن مجید کے ساتھ ساتھ علوم دینیہ کی ابتدائی کتابیں بھی انہیں سے پڑھیں اور بعد ازاں اپنے استاد محترم محمد رحمہ اللہ کی ترغیب پر ۱۹۵۱ء میں آپ مدرسہ تعلیم الاسلام اوڈانوالہ ضلع فیصل آباد میں داخل ہوئے۔ یہاں پر آپ نے فضیلۃ الشیخ حضرت مولانا محمد صادق خلیل رحمہ اللہ اور شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد یعقوب قریشی رحمہ اللہ سے مختلف فنون کی کتابیں پڑھیں۔

۱۹۵۳ء میں آپ جامعہ اسلامیہ گوجرانوالہ میں تشریف لے گئے۔ وہاں پر آپ نے شیخ العرب والعجم استاد العلماء حضرت العلام حافظ محمد محدث گوندلوی رحمہ اللہ اور استاد العلماء محدث العصر حضرت الشیخ مولانا ابوالبرکات احمد مدراسی رحمہ اللہ سے کسب فیض کیا۔ یہاں سے فراغت کے بعد ۱۹۵۸ء میں جب جامعہ سلفیہ کا باقاعدہ آغاز ہوا تو آپ حضرت العلام حافظ محمد گوندلوی رحمہ اللہ کے ہمراہ جامعہ سلفیہ فیصل آباد تشریف لے گئے۔ جامعہ سلفیہ میں آپ نے حافظ محمد گوندلوی رحمہ اللہ سے صحیح بخاری ، موطا امام

صفحہ 9

توہین رسالت ﷺ کی شرعی سزا

مالک ، حجۃ اللہ البالغہ، سراجی اور کئی ایک کتابوں کا درس لیا۔ حافظ محمد گوندلوی رحمہ اللہ کے علاوہ آپ نے جامعہ سلفیہ میں ہی فضیلۃ الشیخ حضرت مولانا شریف اللہ خان سواتی اور حضرت مولانا پروفیسر غلام احمد حریری رحمہ اللہ سے بھی استفادہ کیا۔ اور اسی اثنا میں آپ نے پنجاب یونیورسٹی سے فاضل عربی اور فاضل فارسی کے امتحانات بھی پاس کئے۔

تدریس کی ابتداء:

فارغ التحصیل ہونے کے بعد ۱۹۵۸ء میں حضرت مولانا محمد اسماعیل سلفی رحمہ اللہ کی تحریک پر آپ نے جامعہ سلفیہ فیصل آباد سے ہی اپنے تدریسی دور کا آغاز کیا۔

۱۹۶۲ء میں مولانا جانباز سیالکوٹ تشریف لے آئے۔ یہاں پر آپ نے پہلے پہل مدرسہ دارالحدیث جامع مسجد اہلحدیث ڈپٹی باغ میں درس وتدریس شروع کی دو سال بعد یہ مدرسہ ڈپٹی باغ والی مسجد سے مسجد اہل حدیث ابراہیمی میانہ پورہ منتقل ہو گیا۔ اور مدرسہ کا نام دار الحدیث سے تبدیل کر کے جامعہ ابراہمیہ رکھا گیا اور مولانا محمد علی جانباز حفظہ اللہ کے درس وتدریس کا سلسلہ جاری و ساری رہا اور آپ کی شب و روز کی محنت کی وجہ سے جامعہ ابراہمیہ ترقی کے منازل طے کرتا رہا۔

۱۹۷۰ء میں مولانا محمد علی جانباز حفظہ اللہ نے جامعہ ابراہمیہ کو جامع مسجد اہل حدیث محلہ لاہوری شاہ ناصر روڈ پر منتقل کیا۔ ۱۹۷۹ء تک آپ اسی مسجد میں درس وتدریس کا کام سر انجام دیتے رہے اور ۱۹۸۰ء میں جامعہ ابراہمیہ کو

صفحہ 10

توہین رسالت ﷺ کی شرعی سزا

مستقل طور پر الگ عمارت میں منتقل کیا اور بعد میں اس کا نام ابراہیمیہ سے تبدیل کر کے جامعہ رحمانیہ رکھا گیا۔ جو الحمد للہ ابھی تک اللہ کے فضل و کرم اور مولانا محمد علی جانباز ؒ کی انتھک محنت اور کاوش کی وجہ سے کتاب وسنت کی تعلیمات کو پھیلانے کے لیے سرگرم عمل ہے۔

مضمون نگاری:

مولانا محمد علی جانباز ؒ نے اپنے زمانہ طالب علمی میں ہی مضمون نگاری کا آغاز کر دیا تھا۔ چنانچہ آپ نے مختلف موضوعات پر جماعت اہل حدیث کے رسائل و جرائد میں مضامین کا سلسلہ شروع کیا۔

تصانیف:

شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد علی جانباز ؒ نے مختلف مضامین کے علاوہ مختلف عنوانات پر مستقل کتابیں بھی لکھی ہیں جن میں سے شہرہ آفاق کتاب إنجاز الحاجہ شرح ابن ماجہ (۱۲ جلدیں ) ،اہمیت نماز، صلوٰۃ المصطفیٰ ﷺ، معراج مصطفیٰ، آلِ مصطفیٰ ﷺ، توہین رسالت کی شرعی سزا، احکام نکاح، احکام طلاق، حُرمتِ مُتعہ بجواب جواز متعہ اور تاریخ پاکستان اور حکمرانوں کا کردار قابلِ ذکر ہیں۔

مولانا کی شخصیت:

نابغہ عصر ،فضیلۃ الشیخ ،شیخ الحدیث ،حضرت مولانا محمد علی جانباز ؒ جماعت اہلحدیث کے ممتاز عالم دین ہونے کے ساتھ ساتھ محقق ،مورخ،

صفحہ 11

توہین رسالت ﷺ کی شرعی سزا

مجتہد، فقیہ، ادیب اور دانشور ہیں۔ آپ کی ذات محتاجِ تعارف نہیں۔ آپ بلند پایہ خصوصیات کے حامل ہیں تمام علوم دینیہ پر آپ کو یکساں دسترس حاصل ہے، تفسیر، حدیث، فقہ، اصولِ فقہ، اسماء الرجال، تاریخ وسیر، منطق وفلسفہ، لغت وادب اور صرف ونحو پر آپکو کامل عبور حاصل ہے۔ حدیث اور اسماء الرجال پر آپ کی نگاہ وسیع ہے۔ فقہ مذاہب اربعہ کے ساتھ ساتھ فقہ جعفریہ سے بھی آپ کو خوب شناسائی حاصل ہے۔

علومِ اسلامیہ میں جامع الکمالات ہونے کے ساتھ ساتھ مولانا صاحب عادات وخصائل کے اعتبار سے نہایت پاکیزہ انسان ہیں۔ عزت وشرافت اور قناعت آپ کی سیرت کا جوہرِ خاص ہے۔ زُہد وورع، تقویٰ وطہارت اور شمائل واخلاق میں سلف صالحین اور علماءِ ربانیین کے اوصاف کے حامل ہیں۔

عبادت وریاضت میں بھی آپ اپنی مثال آپ ہیں اور سب سے بڑھ کر آپ کی جو امتیازی خصوصیت ہے وہ یہ ہے کہ آپ متبعِ سنت ہیں اور سنتِ رسول ﷺ سے بہت زیادہ شغف رکھتے ہیں۔

مولانا جانباز مدظلہ ایک کریم النفس اور شریف الطبع شخصیت کے حامل ہیں۔ اللہ تعالیٰ آپکی تمام تر محنتوں اور کاوشوں کو شرفِ قبولیت سے نوازے اور آپ کا سایہ شفقت ہمارے سروں پر تادیر قائم ودائم رکھے۔ آمین

طالبِ دعا حافظ محمد اشتیاق ۰۳۲۱۷۱۹۳۴۴۹ مارچ ۲۰۰۶ء جامعہ رحمانیہ، سیالکوٹ

صفحہ ۱۲

توہین رسالت ﷺ کی شرعی سزا

تقریظ

از محترم پروفیسر مشتاق احمد صاحب (شکر گڑھ)

حضرت مولانا محمد علی جانباز عصر حاضر کے نامور جیّد اور اکابر علمائے اہل حدیث میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے اپنی پوری زندگی درس و تدریس، تعلیم و تبلیغ اور تصنیف و تسوید میں گزاری ہے۔ آپ کا ذوق اور مزاج شروع سے ہی نہایت محققانہ ہے اور مسائل کی تحقیق میں ان کی ایک خاص شان یہ ہے کہ وہ ہمیشہ افراط و تفریط سے پہلو بچاتے ہوئے رہتے ہیں اور انصاف کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑتے۔ آپ کی زیر نظر کتاب ’’توہین رسالت ﷺ کی شرعی سزا‘‘ کا راقم الحروف نے بنظرِ غائر مطالعہ کیا ہے۔ تحقیق تو حضرت کا مزاج ہے لیکن اس کتاب میں بالخصوص موضوع کی تحقیق کے ساتھ ساتھ ان کی محبت رسول جس خاص شان سے نمایاں ہے وہ کتاب کے لفظ لفظ سے جھلکتی ہے۔

جہاں تک حضور ﷺ کے آداب و احترام کا تعلق ہے کتاب کے صفحہ ۲۷ پر یوں رقمطراز ہیں: ’’وہ ہستی جو ساری انسانیت کے لیے واجب الاحترام ہے اس کے دربار رسالت میں ادب و احترام گفتگو اور تخاطب کے آداب بھی قرآن مجید نے اہل ایمان کو سکھلائے ہیں آپ ﷺ کی مخالفت اور دشمنی تو صریحاً کفر ہے لیکن آپ ﷺ کی شان میں کسی قسم کی سوءِ ادبی بھی غارت گر اعمال اور اعلان کفر ہے۔‘‘

جب کتاب میں گستاخان رسول کا کہیں حوالہ دیتے ہیں تو ایسے نظر

صفحہ ۱۳

توہین رسالت ﷺ کی شرعی سزا

رشدی اور عاصمہ کو عاصمہ ملعونہ اور راجپال جیسے بدبختوں جیسے الفاظ والقاب سے ذکر کرتے ہیں۔ اور یقیناً جو گستاخ رسول ہے وہ ان سے بھی زیادہ سخت الفاظ کا مستحق ہے۔

مولانا نے یہ کتاب اسی پس منظر اور اسی جذبہ کے تحت لکھی ہے۔ جس پس منظر اور جذبہ کے تحت امام ابن تیمیہ رحمہ اللّٰہ نے اپنے زمانہ میں ”الصارم المسلول علی شاتم الرسول“ تحریر کی تھی۔ جب حضرت الامام کے زمانہ میں ایک نصرانی نے حضور علیہ السلام کی شان میں گستاخی کی تو حضرت الامام نے قید و بند کی صعوبتیں برداشت کیں اور رہا ہونے کے بعد مذکورہ بالا کتاب لکھ کر مسلمانان عالم کو گستاخ رسول ﷺ کی شرعی سزا کے بارے میں آگاہ کیا۔

بعینہ حضرت شیخ الحدیث نے زمانہ حاضر کے گستاخان رسول سلمان رشدی، عاصمہ ملعونہ اور راجپال جیسے بدبختوں کے بارے میں یہ کتاب لکھ کر ایک طرف تو اپنے جذبہ صادق حب رسول کا مظاہرہ کیا ہے تو دوسری طرف عوام کو شاتم رسول ﷺ کی شرعی سزا کے بارے میں خبردار کیا ہے۔

اور یہ ایک ایسی سعادت ہے جو صرف ایک اہل حدیث عالم ہی کا نصیب ہے یوں تو عربی زبان میں اس موضوع پر چند کتابیں موجود ہیں ان میں سے چار کتابوں کا حوالہ حضرت شیخ الحدیث نے کتاب کے مقدمہ میں ذکر کیا ہے۔ لیکن اردو زبان میں اس موضوع پر کسی بریلوی یا دیوبندی، شیعہ یا سُنی عالم نے کوئی کتاب نہیں لکھی یا کم از کم میری نظر سے نہیں گزری۔

یہاں تک کہ عصر حاضر کے ایک محقق عالم دین حضرت مولانا محمد علی

صفحہ ۱۴

توہین رسالت ﷺ کی شرعی سزا

جانباز کو اللہ تعالیٰ نے اس عظیم کام کے لیے چنا۔ چنانچہ موصوف نے توہین رسالت کی شرعی سزا کے عنوان سے ایک عظیم الشان کتاب لکھ کر امت مسلمہ پر احسان عظیم کیا ہے۔ میری نظر میں یہ کتاب طلباء، علماء فضلاء اور وکلاء کے لیے یکساں مفید اور قابل مطالعہ ہے۔ ہر لائبریری میں اس کتاب کا موجود ہونا بے حد ضروری ہے۔ اگرچہ مولانا نے اس کتاب کی تسوید میں انہیں چار کتابوں سے استفادہ کیا ہے جن کا حوالہ آپ نے کتاب کے مقدمہ میں دیا ہے۔ لیکن مولانا کا اپنا ہی اسلوب تحریر ہے جس عمدگی، ترتیب وتنسیق کے ساتھ آپ نے شہ سرخیوں کے تحت دلائل ومواد کو پیش کیا ہے وہ آپ کا ہی حصہ ہے۔ آپ نے کتاب کو نہایت سلیس اور عام فہم بنا دیا ہے۔ اور کتابوں کے حوالے بمع اصل عبارت کے بزبان عربی دے کر تحقیق کا حق ادا کر دیا ہے۔ یہ کتاب وکلاء اور جج حضرات کے لیے بھی توہین رسالت کے مقدمات کا فیصلہ کرنے میں بے حد مفید اور راہنما ثابت ہوگی۔ دعا ہے اللہ تبارک وتعالیٰ حضرت مولانا شیخ الحدیث کی اس محنت کو ”سَعْيًا مَّشْکُورًا“ بنا کر فلاح دارین کا ذریعہ بنا دے۔ اٰمین ثُمَّ اٰمِین۔

پروفیسر حافظ مشتاق احمد جامعہ رحمانیہ شکر گڑھ ۲۶/۹/۲۰۰۵

صفحہ 15

توہین رسالت ﷺ کی شرعی سزا

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

مقدمہ

اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ وَكَفٰى وَسَلَامٌ عَلَىٰ عِبَادِهِ الَّذِيْنَ اصْطَفٰى. اَمَّا بَعْدُ!

رسول اللہ ﷺ کی عزت و حرمت ایک مسلمان کے لیے سب سے بڑی متاعِ ایمان ہے۔ مسلمان سب کچھ برداشت کر سکتا ہے لیکن محبوبِ خدا، شافعِ روزِ جزا، حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کی شان میں ادنیٰ بے ادبی و گستاخی اس کے لیے ناقابلِ برداشت ہے اور اس گئے گزرے دور میں بھی مسلمان سرکار دوعالم ﷺ کی عزت و حرمت پر کٹ مرنے کے لیے تیار ہے اور ایسے موذیوں کے مقابلے میں سچے محبِّ رسول ﷺ کا کردار ادا کر سکتا ہے۔

یہود و نصاریٰ رسول اللہ ﷺ کی شانِ عالی میں گستاخی کے شوشے وقتاً فوقتاً چھوڑتے رہتے ہیں اور اہل ایمان کی طرف سے ان پر احتجاج کی خبریں اخبارات میں شائع ہوتی رہتی ہیں۔ گذشتہ دو سالوں سے شیطان رُشدی کی شیطانی کتاب پر فرزندانِ اسلام نے جس غم و غصہ کا اظہار کیا اور انگلینڈ سے

صفحہ ۱۶

توہین رسالت ﷺ کی شرعی سزا

پاکستان تک اس پر جس قدر احتجاج کیا گیا اس کا ذکر کرنے کی ضرورت نہیں۔

ایسا لگتا ہے کہ اسلام دشمن عناصر مسلمانوں کے اس احتجاج سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔ اس لیے ان کی طرف سے گستاخی و دریدہ دہنی کا مسلسل مظاہرہ ہوتا رہتا ہے اور وہ کسی نہ کسی شیطان رشدی اور عاصمہ ملعونہ جیسوں کو اپنا آلہ کار بنا لیتے ہیں اور اپنے خبیث باطن کا مظاہرہ کرتے رہتے ہیں۔

یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ جہاں ہر دور اور ہر عہد میں اس محبوب کائنات ﷺ کے حضور ان کے چاہنے والے عقیدت و محبت کے گلاب پیش کرتے رہے وہاں کبھی کبھی ان سے بغض اور ان کے دین سے عداوت رکھنے والے بیمار ذہن ان کی شان میں زبانِ طعن بھی دراز کرتے رہے۔ تاہم یہ بھی حقیقت ہے کہ اوائل اسلام ہی سے اہانت رسول ﷺ کے جرمِ قبیح کا ارتکاب کرنے والوں کو موت کی سزا دی جاتی رہی ہے۔ کرہ ارض پر جہاں بھی اسلامی حکومت قائم ہوئی وہاں شاتم رسول ﷺ کے لیے سزائے موت کا قانون رائج رہا عہد رسالت، دورِ خلافت اور بعد میں شرق وغرب کی تمام اسلامی سلطنتوں میں گستاخی کرنے والوں کو ہمیشہ موت کی سزا دی جاتی رہی اور جہاں کہیں یا جب کبھی ان کے پاس حکومت نہیں وہاں جانثارانِ تحفظ ناموس رسالت نے غیر مسلم حکومت رائج الوقت قانون کی پروا کئے بغیر گستاخانِ رسول ﷺ کو کیفر کردار تک پہنچایا اور خود ہنستے مسکراتے تختہ دار پر چڑھ گئے۔

چنانچہ انگریز کے دور اقتدار میں ناموس رسالت کے تحفظ کے لیے کوئی

توہین رسالت ﷺ کی شرعی سزا

قانون نہیں تھا لیکن راج پال جیسے پر ناپاک حملے کئے اور وہ غازی علم کیفر کردار کو پہنچے تو انگریز کو مذہبی وضع کرنا پڑا۔ چنانچہ ۱۹۲۷ء میں کیا گیا جو مجموعہ تعزیرات پاکستا مذکور ہے۔

دفعہ ۲۹۵۔الف

جو کوئی شخص ارادۃً اور ال کسی جماعت کے مذہبی احساسا جماعت کے معتقدات مذہبی کی تو کو دونوں قسموں میں سے کسی قسم تک ہو سکتی ہے یا جرمانے کی سزا

”چوہدری محمد شفیع باجوہ

یہ دفعہ ۱۹۲۷ء میں زیاد آمیز حملہ کیا جائے تو ایسا کرنے کے اشخاص کے خلاف دفعہ ۱۵۳ کے ایک فیصلہ کی رو سے یہ طریق

چونکہ توہین رسالت

صفحہ ۱۷

توہین رسالت ﷺ کی شرعی سزا

قانون نہیں تھا لیکن راج پال جیسے بدبختوں نے سرکار دو عالم ﷺ کی عزت پر ناپاک حملے کئے اور وہ غازی علم الدین شہید جیسے فدایان رسالت کے ہاتھوں کیفر کردار کو پہنچے تو انگریز کو مذہبی راہنماؤں کی عزتِ ناموس کے لیے قانون وضع کرنا پڑا۔ چنانچہ ۱۹۲۷ء میں تعزیرات ہند میں دفعہ ۲۹۵۔الف کا اضافہ کیا گیا جو مجموعہ تعزیرات پاکستان مطبوعہ یکم جولائی ۱۹۶۲ء درج الفاظ میں مذکور ہے۔

دفعہ ۲۹۵۔الف

جو کوئی شخص ارادۃً اور اس عداوتی نیت سے کہ پاکستان کے شہریوں کی کسی جماعت کے مذہبی احساسات کو بھڑکائے بذریعہ الفاظ زبانی یا تحریری اس جماعت کے معتقدات مذہبی کی توہین کرے یا توہین کرنے کا اقدام کرے اس کو دونوں قسموں میں سے کسی قسم کی قید کی سزا دی جائے گی جس کی میعاد دو برس تک ہو سکتی ہے یا جرمانے کی سزا یا دونوں سزائیں دی جائیں گی۔

”چوہدری محمد شفیع باجوہ“ اس کی شرح میں لکھتے ہیں: یہ دفعہ ۱۹۲۷ء میں زیادہ کی گئی تا کہ اگر کسی مذہب کے بانی پر توہین آمیز حملہ کیا جائے تو ایسا کرنے والے کو سزا دی جاسکے۔ اس سے پہلے اس قسم کے اشخاص کے خلاف دفعہ ۱۵۳۔ الف استعمال ہوا کرتی تھی۔ مگر ہائی کورٹ کے ایک فیصلہ کی رو سے یہ طریقہ غلط قرار پایا۔

[شرح مجموعہ تعزیرات پاکستان ص ۱۱۲۔۱۲۱]

چونکہ توہین رسالت کے مجرم کی یہ سزا [جو انگریزی قانون نے تجویز

صفحہ ۱۸

توہین رسالت ﷺ کی شرعی سزا

کی اور جسے تعزیرات پاکستان میں جوں کا توں رکھا گیا تھا بالکل ناکافی تھی اس لیے ۱۹۸۴ء میں تعزیرات پاکستان میں دفعہ ۲۹۵۔سی کا اضافہ کیا گیا اور اس کے ذریعہ اس جرم کی سزا سزائے موت یا عمر قید مع جرمانہ تجویز کی گئی۔

تعزیرات پاکستان کی یہ دفعہ ۲۹۵۔سی اسلامی قانون سے ہم آہنگ نہیں تھی کیونکہ اس میں اس سنگین جرم کی سزا سزائے موت یا عمر قید تجویز کی گئی حالانکہ توہین رسالت کی سزا صرف اور صرف قتل ہے اس لیے وفاقی شرعی عدالت نے اکتوبر ۱۹۹۰ء میں اپنے فیصلہ میں صدر پاکستان کو ہدایت کی کہ ۳۰ اپریل ۱۹۹۱ء تک اس قانون کی اصلاح کی جائے اور اس دفعہ میں ”یا عمر قید“ کے الفاظ حذف کرکے توہین رسالت کی سزا صرف موت مقرر کی جائے اگر اس تاریخ تک حکومت نے اس قانون کی اصلاح نہ کی تو اس تاریخ کے بعد یہ الفاظ خود بخود کالعدم قرار پائیں گے اور صرف سزائے موت ملک کا قانون قرار پائے گا۔ لیکن حکومت نے اس تاریخ سے قبل اس قانون کی اصلاح نہیں کی اس لیے وفاقی شرعی عدالت کے فیصلہ کے مطابق دفعہ ۲۹۵۔سی میں ”یا عمر قید“ کے الفاظ کالعدم قرار پائے اور قانون یہ بن گیا کہ توہین رسالت کے مجرم کی سزا صرف موت ہے۔

ہمارے قانون ساز اداروں کو بعد از وقت خیال آیا کہ اس قانون کی اصلاح ہونی چاہیے اور دفعہ ۲۹۵۔سی میں ”یا عمر قید“ کے الفاظ حذف کرنا چاہئیں۔ چنانچہ قومی اسمبلی نے ۲ جون ۱۹۹۲ء کو متفقہ قرار داد منظور کی کہ توہین رسالت کے مرتکب کو سزائے موت دی جائے۔

صفحہ ۱۹

توہین رسالت ﷺ کی شرعی سزا

سینٹ کا فیصلہ:

۸ جولائی ۱۹۹۲ء کو سینٹ نے توہین رسالت ﷺ کے مجرم کو سزائے موت کا ترمیمی بل منظور کیا۔

پھر سینٹ نے ایک اور بل کی منظوری دی جس کے تحت سرور دو عالم ﷺ کے اسم مبارک کی بے حرمتی کی سزا موت ہوگی۔ فوجداری قانون میں تیسری ترمیم کا بل وفاقی شرعی عدالت کے حالیہ فیصلے کی روشنی میں منظور کیا گیا ہے۔ عدالت نے اپنے فیصلہ میں کہا تھا کہ تعزیرات پاکستان کی دفعہ ۲۹۵ سی کے تحت رسول ﷺ کے اسم مبارک کی بے حرمتی پر عمر قید کی سزا اسلامی احکامات کے منافی ہے۔

یہ بل جو قومی اسمبلی پہلے ہی منظور کر چکی ہے سینٹ میں وزیر قانون چوہدری عبدالغفور نے پیش کیا انہوں نے بل کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ قانون میں شاتم رسول ﷺ اور توہین رسالت کی سزا عمر قید یا سزائے موت ہے۔ وفاقی شرعی عدالت کے فیصلے کی روشنی میں رسول اکرم ﷺ کے اسم مبارک کی توہین کی سزا عمر قید کی بجائے سزائے موت تجویز کی گئی ہے کیونکہ عدالت کے خیال میں ایسے مجرم کو صرف سزائے موت ہی دی جانی چاہئے۔

اب توہین رسالت ﷺ کی سزا پاکستان میں بطور سزائے حد نافذ ہو گئی ہے مگر حکومت چونکہ بے دین ہے اسے یہ سزا گوارا نہیں ہے اس لیے سزا میں وہ ترمیم کرنا چاہتی ہے مگر عوام کے احتجاج اور غیض و غضب سے ڈر کر اب تک وہ ایسا نہیں کر سکی اور نہ آئندہ ان شاء اللہ کر سکے گی۔

صفحہ ۲۰

توہین رسالت ﷺ کی شرعی سزا

توہین رسالت کے مسئلہ پر کئی علماء دین نے کتابیں لکھیں جن میں سے چند ایک یہ ہیں۔

ان مذکورہ کتب میں سے زیادہ جامع اور اہم اول الذکر دو کتابیں ہیں۔

احقر العباد

محمد علی جانباز

جولائی ٢٠٠٢ء

توہین رسالت ﷺ کی شرعی سزا

توہین

کی صور

جو آدمی [کافر ہو یا مسـ حضرت محمد ﷺ پر ہنسی اڑاتا بارے میں استہزائیہ انداز اختیا شان میں گستاخی کرتا ہے یا ان منسوب کرتا ہے یا آپ کی اہـ بازاری عورت اور طوائفوں کے میں نازیبا الفاظ استعمال کرتا ہـ خواب بتاتا ہے یا ایک ناول مرتد ، زندیق اور ملحد ہے اگر ان اس کو قتل کرنا مسلمانوں کی حکومـ توبہ قبول نہیں کی جائے گی اور اور اس پر تمام امت کا اجماع شیخ الاسلام حافظ ابن ان من سب النبی قتله هذا مذهب

صفحہ ۲۱

توہین رسالت ﷺ کی شرعی سزا

توہین رسالت

کی صورت اور اُس کی سزا

جو آدمی [کافر ہو یا مسلم] سید الاولین ، شفیع المذنبین ، رحمۃ للعالمین، حضرت محمد ﷺ پر ہنسی اڑاتا ہے یا ان کی سیرت و زندگی کے کسی گوشے کے بارے میں استہزائیہ انداز اختیار کرتا ہے یا ان کی توہین و تنقیص کرتا ہے یا ان کی شان میں گستاخی کرتا ہے یا ان کو گالی دیتا ہے یا ان کی طرف بری باتوں کو منسوب کرتا ہے یا آپ کی ازواج مطہراتؓ اور امہات المومنین رضی اللہ عنہن کو بازاری عورت اور طوائفوں کے ساتھ تشبیہ دیتا ہے اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی شان میں نازیبا الفاظ استعمال کرتا ہے اور قرآن مجید کو ایک دیوانہ اور مجنون آدمی کا خواب بتاتا ہے یا ایک ناول اور کہانی سے تعبیر کرتا ہے تو وہ آدمی سراسر کافر ، مرتد ، زندیق اور ملحد ہے اگر ایسا آدمی کسی مسلمان ملک میں یہ حرکت کرتا ہے تو اس کو قتل کرنا مسلمانوں کی حکومت پر واجب ہے اور مشہور قول یہی ہے کہ اس کی توبہ قبول نہیں کی جائے گی اور جو اس کے کفر میں شک کرتا ہے وہ بھی کافر ہے اور اس پر تمام امت کا اجماع ہے۔

شیخ الاسلام حافظ ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں : ان من سب النبی ﷺ من مسلم او کافر فانه يجب قتله هذا مذهب عليه عامة اهل العلم قال ابن المنذر:

صفحہ ۲۲

توہین رسالت ﷺ کی شرعی سزا

اجمع عوام اهل العلم على ان حد من سب النبى ﷺ القتل وممن قاله مالك والليث واحمد واسحاق وهو مذهب الشافعى قال وحكى عن نعمان لا يقتل يعنى الذين هم عليه من الشرك أعظم وحكى ابوبكر الفارسى من اصحاب الشافعى اجماع المسلمين على ان حد من سب النبى ﷺ القتل وقال محمد بن سحنون: اجمع العلماء على ان شاتم النبى ﷺ و المنتقص له كافر والوعيد جاء عليه بعذاب الله له حكمه عند الامة القتل ومن شك فى كفره وعذابه كفر.

[الصارم المسلول ص ٣]

عام اہل علم کا مذہب ہے کہ جو آدمی چاہے مسلمان ہو یا کافر نبی ﷺ کو گالی دیتا ہے اس کو قتل کرنا واجب ہے۔ ابن منذر نے فرمایا کہ عام اہل علم کا اجماع ہے کہ جو آدمی نبی ﷺ کو گالی دیتا ہے اس کی حد قتل کرنا ہے اور اسی بات کو امام مالک ؒ، امام لیث ؒ، امام احمد ؒ، امام اسحاق ؒ نے بھی اختیار کیا ہے اور امام شافعی ؒ کا بھی یہی مذہب ہے۔ اور ابوبکر فارسی نے اصحاب امام شافعی سے مسلمانوں کا اجماع نقل کیا ہے کہ شاتم رسول ﷺ کی حد قتل ہے۔ محمد بن سحنون نے فرمایا کہ علماء کا اجماع ہے کہ شاتم رسول ﷺ اور اس کی توہین و تنقیص کرنے والا کافر ہے اور حدیث میں اس کے لیے سخت سزا کی وعید آئی ہے اور امت مسلمہ کے

صفحہ ۲۳

توہین رسالت ﷺ کی شرعی سزا

نزدیک اس کا شرعی حکم قتل ہے اور جو آدمی اس شخص کے کفر اور عذاب کے بارے میں شک و شبہ کرے گا وہ بھی کافر ہو جائے گا۔

قاضی عیاضؒ فرماتے ہیں: اس بات پر امت کا اجماع منعقد ہے کہ اگر مسلمانوں میں سے کوئی شخص رسول کریم ﷺ کی توہین کرے یا آپ ﷺ کو گالی دے تو اسے قتل کیا جائے اسی طرح دیگر علماء سے بھی رسول کریم ﷺ کی توہین کرنے والے کے واجب القتل اور کافر ہونے کے بارے میں اجماع نقل کیا گیا ہے۔

امام خطابیؒ فرماتے ہیں: میرے علم کی حد تک کسی مسلمان نے بھی اس کے واجب القتل ہونے میں اختلاف نہیں کیا۔

[الصارم المسلول ص ۵]

مندرجہ بالا عبارات سے یہ بات آفتاب نیم روز کی مانند واضح ہو گئی کہ باجماع امت نبی ﷺ کو گالی دینے والا یا ان کی توہین و تنقیص کرنے والا کھلا کافر ہے اور اس کو قتل کرنا واجب ہے اور آخرت میں اس کے لیے درد ناک عذاب ہے اور جو آدمی اس کے کافر ہونے اور عذاب دینے میں شک کرے گا وہ بھی کافر ہو جائے گا کیونکہ اس نے ایک کافر کے کفر میں شبہ کیا ہے۔

شیخ الاسلام ابن تیمیہؒ نے ابن سحنون سے مزید نقل کیا ہے کہ:

ان الساب ان كان مسلما فانه يكفر ويقتل بغير خلاف

صفحہ ۲۴

توہین رسالت ﷺ کی شرعی سزا

وهو مذهب الائمة الاربعة وغيرهم.

[الصارم المسلول ص ۵]

’’اگر گالی دینے والا مسلمان ہے تو وہ کافر ہو جائے گا اور بلا اختلاف اس کو قتل کر دیا جائے گا اور یہ ائمہ اربعہ وغیرہ کا مذہب ہے۔‘‘

اور امام احمد بن حنبلؒ نے تصریح کی ہے کہ

كل من شتم النبی ﷺ او تنقصه مسلما كان او كافرا فعليه القتل وارى ان يقتل ولا يستتاب.

[الصارم المسلول ص ٤]

’’جو آدمی بھی خواہ مسلمان ہو یا کافر اگر رسول اللہ ﷺ کو گالی دیتا ہے یا ان کی توہین و تنقیص کرتا ہے اس کو قتل کرنا واجب ہے اور میری رائے یہ ہے کہ اس کو توبہ کرنے کی مہلت نہ دی جائے بلکہ فوراً ہی قتل کر دیا جائے۔‘‘

درمختار میں ہے:

وفی الاشباه لا تصح ردة السكران الا الردة بسب النبی ﷺ فانه يقتل ولا يعفى عنه.

[فتاوی شامی ص ۲۲۴ ج ٤]

’’اشباہ میں ہے کہ مست آدمی کی ردت کا اعتبار نہیں ہے البتہ کوئی آدمی نبی کریم ﷺ کو گالی دینے کی وجہ سے مرتد ہو جائے تو اس کو قتل کر دیا جائے گا اور اس گناہ کو معاف نہیں کیا جائے گا۔‘‘

امام احمدؒ اور اشباہ کی عبارت سے یہ بات معلوم ہوئی کہ شاتم

صفحہ ۲۵

توہین رسالت ﷺ کی شرعی سزا

رسول ﷺ کے جرم کو معاف نہیں کیا جائے گا بلکہ اس کو قتل کیا جائے گا۔

پھر یہ شخص جب مسلسل اس جرم کے ارتکاب پر قائم ہے اور اس پر مصر ہے تو اس کے واجب القتل ہونے اور اس کی توبہ قبول نہ کرنے کے بارے میں کوئی شک ہی نہیں۔

جیسا کہ فتاوی شامی میں ہے:

وعن ابن عمر وعلى رضى الله عنهما لا تقبل توبة من تكررت ردته كالزنديق وهو قول مالك واحمد والليث وعن ابى يوسف لو فعل ذلك مراراً يقتل غيلة.

[فتاوی شامی ص ٢٢٥ ج ٤]

”حضرت عبداللہ بن عمر اور حضرت علی رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ جو آدمی زندیق کی مانند بار بار مرتد ہوتا ہے اس کی توبہ قبول نہیں ہے اور یہ امام مالکؒ، احمدؒ اور لیثؒ کا مذہب ہے۔ امام ابو یوسفؒ سے مروی ہے کہ اگر کوئی آدمی مرتد ہونے کا جرم بار بار کرتا ہے اس کو حیلہ سے اس کی بے خبری میں قتل کر دیا جائے ۔“

اسی طرح در مختار میں ہے:

وكل مسلم ارتد فتوبته مقبولة الا جماعة من تكررت ردته على ما مَرَّ والكافر لسب نبى من الانبياء فانه يقتل حدا ولا تقبل توبته مطلقا.

[فتاوی شامی ص ٢٢١ ج ٤]

”ہر وہ مسلم جو (نعوذ باللہ) مرتد ہو جاتا ہے اس کی توبہ قبول ہوتی

PDF 26

توہین رسالت ﷺ کی شرعی سزا

ہے مگر وہ جماعت جن کا ارتداد مکرر (بار بار ) ہوتا ہو ان کی توبہ قبول نہیں ہوتی اور جو آدمی انبیاء میں سے کسی کو گالی دینے کی وجہ سے کافر ہو جائے اس کو قتل کر دیا جائے گا اور اس کی توبہ کسی حال میں بھی قبول نہیں کی جائے گی۔“

فقہاء کی ان عبارات سے یہ بات واضح ہوگئی ہے کہ سبّ رسول ﷺ اور اس کی توہین اتنا بڑا جرم ہے کہ بالفرض اگر کوئی مست آدمی بھی نبی کریم ﷺ کو گالی دے گا یا آپ ﷺ کی توہین و تحقیر کرے گا تو اس کو قتل کر دیا جائے گا۔

اسی طرح امہات المومنین رضی اللہ عنہن کی شان میں گستاخی کرنے سے رسول اللہ ﷺ کو تکلیف پہنچتی ہے اور گستاخی کرنے والے پر دنیا و آخرت میں اللہ تعالیٰ کی لعنت ہوتی ہے اسی لئے حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ امہات المومنین رضی اللہ عنہن کی شان میں گستاخی کرنے والے کی توبہ قبول نہیں کی جائے گی اور وہ مباح الدم ہے۔

چنانچہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کو گناہ کی تہمت لگانے والے کے جرم کا ثبوت اور حضرت صدیقہ رضی اللہ عنہا کی پاکدامنی کا ثبوت تو قرآن میں مذکور ہے۔ فقہاء کرام نے بھی اس کی رو سے ایسے شخص کو مباح الدم کہا ہے جو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا پر تہمت گناہ لگاتا ہے۔

توہین رسالت ﷺ کی سزا کے تاریخی شواہد

تاریخ کے اوراق شاہد ہیں کہ جو شخص بھی رسول اللہ ﷺ کو گالی دیتا تھا اس کو قتل کر دیا جاتا تھا۔ قاضی عیاضؒ نے اپنی کتاب ”الشفاء“ میں ایسے

توہین رسالت ﷺ کی شرعی سزا

کئی افراد کا ذکر کیا ہے۔ جن میں کعب لونڈی ،نضر بن حارث، عقبہ بن ابی مع وغیرہ جو رسول اللہ ﷺ کے امر یا ا ولید رضی اللہ عنہ نے قتل کیا۔ کسی کو حضرت زبیر طالب نے۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ایک کو خدائی صفات سے موصوف کر کے دکھا کے امت میں حضرت محمد ﷺ تھی۔ قاضی عیاضؒ نے حضرت جعفر ص حضرت حسینؓ بن علیؓ بن ابی طالب کا ف کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جو کسی نبی جو میرے اصحاب کو گالی دے اسے کوڑے عیاضؒ نے ابن قانع کی روایت سے تحر خدمت میں عرض کیا کہ میرا والد آپ میں نے اسے موت کے گھاٹ اتار دیا، رسول اللہ ﷺ کو ناگوار نہ گزری۔ نبی اکرم ﷺ کے بعد دور ثانی اثنین اذہما فی الغار، حضرت ابوبکر خلاف جہاں گروہی اور جماعتی بغاوتوں شان میں گستاخی کے مرتکب فرد کو بھی م بن علی بن سعید نے اپنی کتاب مسند اب

صفحہ ۲۷

توہین رسالت ﷺ کی شرعی سزا

کئی افراد کا ذکر کیا ہے۔ جن میں کعب بن اشرف، ابو رافع، ابن خطل اور اس کی لونڈی، نضر بن حارث، عقبہ بن ابی معیط، یہودیہ عورت اور قبیلہ خطمہ کی عورت وغیرہ جو رسول اللہ ﷺ کے امر یا ایماء پر قتل ہوئے کسی کو حضرت خالد بن ولید ؓ نے قتل کیا۔ کسی کو حضرت زبیر ؓ نے۔ کسی کو حضرت علی ؓ بن ابی طالب نے۔ حضرت علی ؓ نے ایک ایسے شخص کو زندہ جلوا دیا جس نے خود ان کو خدائی صفات سے موصوف کر کے اور اس طرح رسول اللہ ﷺ سے اونچا دکھا کے امت میں حضرت محمد ﷺ کی مرکزیت کو ختم کرنے کی کوشش کی تھی۔ قاضی عیاض نے حضرت جعفر صادق کے والد بزرگوار محمد کی روایت سے حضرت حسین ؓ بن علی ؓ بن ابی طالب کا قول بروایت حضرت علی ؓ نقل کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جو کسی بھی نبی ﷺ کو گالی دے اس کو قتل کر دو اور جو میرے اصحاب کو گالی دے اسے کوڑوں کی سزا دو۔ ایک شخص کی بابت قاضی عیاض ؒ نے ابن قانع کی روایت سے تحریر کیا ہے کہ اس نے رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں عرض کیا کہ میرا والد آپ کے بارے میں نازیبا باتیں کرتا تھا لہٰذا میں نے اسے موت کے گھاٹ اتار دیا یہ بات ایک فرزند کا اپنے باپ کو قتل کرنا رسول اللہ ﷺ کو ناگوار نہ گزری۔

نبی اکرم ﷺ کے بعد روح اسلام کے سب سے بڑے رمز شناس ثانی اثنین اذہما فی الغار، حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے رسول اللہ ﷺ کے خلاف جہاں گروہی اور جماعتی بغاوتوں کا سر کچل دیا وہاں رسول اللہ ﷺ کی شان میں گستاخی کے مرتکب فرد کو بھی مستوجب سزائے قتل جانا۔ ابوبکر بن احمد بن علی بن سعید نے اپنی کتاب مسند ابی بکر میں تین حوالوں سے ذکر کیا ہے کہ

صفحہ ۲۸

توہین رسالت ﷺ کی شرعی سزا

ایک شخص نے حضرت ابوبکر ؓ سے گستاخی ، بے ادبی کا رویہ اختیار کیا تو حاضرین میں سے کسی نے کہا اجازت دیں اس کا سر اڑا دوں ، حضرت ابوبکر ؓ نے فرمایا نہیں فقط رسول اللہ ﷺ کی شان میں گستاخی کرنے والے کی سزا موت ہے۔ رسول اللہ ﷺ کے سوا کسی دوسرے کی یہ شان نہیں ۔

قاضی عیاضؒ نے ”الشفاء“ میں ذکر کیا ہے کہ حضرت عمر بن عبدالعزیزؒ کی خدمت میں کسی نے لکھ بھیجا کہ فلاں شخص حضرت عمر بن الخطاب ؓ کی بابت نازیبا کلمات کہتا ہے کیا میں اسے قتل کردوں؟

حضرت عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ نے جواب دیا فقط رسول اللہ ﷺ کی یہ شان ہے کہ ان کی ذات سے متعلق گستاخی کرنے والے کی سزائے موت دی جائے۔

قاضی عیاضؒ نے ذکر کیا ہے کہ خلیفہ عباسی ہارون الرشید نے حضرت امام مالکؒ سے دریافت کیا کہ شاتم رسول ﷺ کی کیا سزا ہے؟ عراقی فقہاء کہتے ہیں کہ کوڑوں کی سزا دی جائے اس پر حضرت امام مالکؒ جلال میں آگئے اور فرمایا اگر رسول اللہ ﷺ کو دشنام کا ہدف بنایا گیا تو امت باقی نہیں رہے گی۔ جو شخص انبیاء کو دشنام دے اس کی سزا قتل ہے اور جو شخص اصحاب رسول ﷺ کو سب و شتم کا نشانہ بنائے اسے کوڑوں کی سزا دی جائے۔

شاتم رسول ﷺ کی سزا کے بارے میں ائمہ کے اقوال

تمام ائمہ دین کا اس بات پر اجماع ہے کہ شاتم رسول ﷺ واجب القتل ہے اور یہ سزا اسے بطور حد دی جائے گی۔

صفحہ ۲۹

توہین رسالت ﷺ کی شرعی سزا

چنانچہ امام شوکانیؒ فرماتے ہیں:

وفی حدیث ابن عباس رضی اللہ عنہما وحدیث الشعبی دلیل علی انہ یقتل من شتم النبی ﷺ ونقل ابن المنذر الاتفاق علی ان من سب النبی ﷺ صریحا وجب قتلہ قال الخطابی لا اعلم خلافا فی وجوب قتلہ اذا کان مسلما۔

[ نیل الاوطار ص ۲۱۴ ج ۷ ]

’’حدیث ابن عباسؓ اور حدیث شعبی اس بات کی دلیل ہے کہ نبی ﷺ کو سبّ وشتم کرنے والے کو قتل کردیا جائے گا اور ابن منذر نے شاتم رسول ﷺ کے وُجوبِ قتل پر اتفاق نقل کیا ہے ۔امام خطابیؒ فرماتے ہیں کہ اس فعل شنیع کا مرتکب اگر مسلمان ہو تو اس کے وجوبِ قتل میں کوئی اختلاف نہیں ۔‘‘

امام شوکانیؒ اس کے بعد لکھتے ہیں:

ونقل ابو بکر الفارسی احد ائمۃ الشافعیۃ فی کتاب الاجماع ان من سب النبی ﷺ بما ھو قذف صریح کفر باتفاق العلماء فلو تاب لم یسقط عنہ القتل لان حد قذفہ القتل وحد القذف لا یسقط بالتوبۃ۔

[ نیل الاوطار ص ۲۱۴ ج ۷ ]

’’امام ابوبکر الفارسی جن کا تعلق علماء شافعیہ سے ہے اپنی کتاب ’’الاجماع‘‘ میں شاتم رسول ﷺ کو واجب القتل قرار دیتے ہیں

صفحہ 30

توہین رسالت صلی اللہ علیہ وسلم کی شرعی سزا

اور اگر توبہ بھی کر لے تب بھی قتل ساقط نہیں ہو گا کیونکہ آپ پر قذف کی سزا قتل ہے اور حدِّ قذف توبہ سے ساقط نہیں ہوتی ۔“

شیخ الاسلام ابن تیمیہؒ امام احمدؒ کا موقف بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

جو شخص بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو گالی دے یا آپ کی توہین کرے خواہ وہ مسلم ہو یا کافر تو وہ واجب القتل ہے میری رائے یہ ہے کہ اسے قتل کیا جائے اور اس سے توبہ کا مطالبہ نہ کیا جائے ۔

[الصارم المسلول ص ۵]

قاضی عیاضؒ فرماتے ہیں جو شخص بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو گالی دے یا آپ کی ذات یا نسب یا دین یا آپ کی عادت میں نقص وعیب نکالے یا اسے ایسا شبہ لاحق ہو جس سے آپ کو گالی دینے آپ کی تنقیص شان آپ سے بغض وعداوت اور نقص وعیب کا پہلو نکلتا ہو وہ دشنام دہندہ ہے اور اس کا حکم وہی ہے جو گالی دینے والے کا ہے اور وہ یہ کہ اسے قتل کیا جائے اس مسئلہ کی کسی شاخ کو نہ مستثنیٰ کیا جائے نہ اس میں شک وشبہ روا رکھا جائے ۔ خواہ گالی صراحۃً دی جائے یا اشارۃً وہ شخص بھی اسی طرح ہے جو آپ پر ”معاذ اللہ“ لعنت کرے یا آپ کو نقصان پہنچانا چاہے یا آپ پر بددعا کرے یا آپ کی طرف بھی ایسی چیز کو بطریق مذمت منسوب کرے جو آپ کی شان کے لائق نہ ہو یا آپ کے کسی عزیز کے بارے میں رکیک ، بیہودہ اور جھوٹی بات کرے یا جن مصائب سے آپ دوچار ہوئے ان کی وجہ سے آپ پر عیب لگائے یا بعض بشری عوارض کی وجہ سے جن سے آپ دوچار ہوئے آپ کی تنقیص شان کرے اس بات پر تمام

توہین رسالت صلی اللہ علیہ وسلم کی شرعی سزا

علماء اور ائمہ فتویٰ کا عہد صحابہؓ سے آتا ہے [کہ وہ واجب القتل ہے]

ابن القاسم امام مالکؒ سے صلی اللہ علیہ وسلم کو گالی دے اسے قتل کر دیا جائے

امام ابوبکر الجصاصؒ فرماتے ولا خلاف بين المسلمين عليه وسلم بذلك فهو يستحق القتل.

کسی مسلمان کو اس میں اختلاف صلی اللہ علیہ وسلم کی اہانت اور ایذاء رسانی وہ مرتد اور واجب القتل ہے۔

علامہ ابن عابدین شامیؒ لکھتے فنفس المؤمن لا تشتفى من فى سيد الاولين والآخرين وضربه فان ذلك هو الكفر سيّىء افعاله.

Questions 32 the importance of the issue of the seal of prophethood. Also discuss t Maulana Muhammad Qasim Nanotvi (R.A) and Allama Anwar Sha cuss the proof of the seal of prophethood in light of the Jewish tribes l surah and highlight the importance of the conversion of the Jews rd. 3- What were the Jews waiting for and what supplication did th Discuss the pivotal role of ablution (wudhu) and prayer (salah) an lationship with the Seal of the Prophethood. 5- How does the incident o that Muhammad ﷺ testify to the seal of the prophethood? Elaborate o underscores the announcement of the Seal of the prophethood duri

صفحہ ۳۱

توہین رسالت ﷺ کی شرعی سزا

علماء اور ائمہ فتویٰ کا عہد صحابہؓ سے لے کر اگلے تاریخی ادوار تک اجماع چلا آتا ہے [کہ وہ واجب القتل ہے]

[ الصارم المسلول ص ۵۲۸ ]

ابن القاسم امام مالک سے روایت کرتے ہیں کہ جو شخص رسول اللہ ﷺ کو گالی دے اسے قتل کر دیا جائے اور اس سے توبہ کا مطالبہ نہ کیا جائے۔

[ الصارم المسلول ص ۵۲۶ ]

امام ابوبکر الجصاص فرماتے ہیں: ولا خلاف بین المسلمین ان من قصد النبی صلی اللہ علیہ وسلم بذلك فہو ممن ینتحل الاسلام انہ مرتد یستحق القتل .

[احکام القرآن ص ۸۶ ج ۳]

کسی مسلمان کو اس میں اختلاف نہیں کہ جس شخص نے رسول اللہ ﷺ کی اہانت اور ایذاء رسانی کا قصد کیا اور وہ مسلمان کہلاتا ہو تو وہ مرتد اور واجب القتل ہے۔

علامہ ابن عابدین شامی لکھتے ہیں: فنفس المؤمن لا تشتفی من ہذا الساب اللعین الطاعن فی سید الاولین والآخرین الا بقتلہ وصلبہ بعد تعذیبہ وضربہ فان ذلك ہو اللائق بحالہ الزاجر لامثالہ عن سیّیء افعالہ .

[رسائل ابن عابدین ص ۳۴۷ ج ۱ ]

صفحہ ۳۲

توہین رسالت ﷺ کی شرعی سزا

جو ملعون اور موذی رسول اللہ ﷺ کی شانِ عالی میں گستاخی کرے اور سب وشتم کرے اس کے بارے میں مسلمانوں کے دل ٹھنڈے نہیں ہوتے جب تک کہ اس خبیث کو سخت سزا کے بعد قتل نہ کیا جائے یا سُولی پر نہ لٹکایا جائے کیونکہ وہ اسی سزا کا مستحق ہے اور یہ سزا دوسروں کے لیے موجبِ عبرت ہے۔

شیخ ابن ہمام حنفی لکھتے ہیں:

جس نے رسول اللہ ﷺ کے بارے میں دل میں بغض رکھا وہ مرتد ہو گیا اور شاتم رسول ﷺ تو اس سے بھی بدتر ہے ہمارے نزدیک وہ واجب القتل ہے اور اس کی توبہ سے سزائے موت موقوف نہیں ہوگی اور یہ مذہب اہل کوفہ اور امام مالک کا بھی ہے ۔ اور یہ حکم حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے منقول ہے۔

[فتح القدیر شرح ہدایہ]

ابراہیم بن حسین فقیہ لکھتے ہیں کہ:

شاتم رسول ﷺ کی سزا موت ہے اور ان کی دلیل یہ ہے کہ یہ عمل صحابہ رضی اللہ عنہم سے ثابت ہے۔ چنانچہ اس بارے میں وہ حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کے واقعہ کو بطور دلیل پیش کرتے ہیں کہ انہوں نے مالک بن نویرہ کو اس لیے قتل کیا تھا کہ اس نے ”حضرت خالد رضی اللہ عنہ“ سے گفتگو کرتے ہوئے رسول اللہ ﷺ کو تمہارے ساتھی کہا تھا۔

مالکی مسلک کے فقیہ اور قرطبہ کی عدالت کے قاضی، قاضی عیاضؒ نے اپنی

صفحہ 33

توہین رسالت ﷺ کی شرعی سزا

مشہور کتاب ”الشفاء“ میں توہین رسالت کے تمام پہلوؤں پر شرح وبسط سے گفتگو کرتے ہوئے شاتم رسول ﷺ کے جرم کو ناقابل معافی جرم قرار دیا ہے۔

شیخ الاسلام ابن تیمیہؒ نے اپنی کتاب ”الصارم المسلول“ میں قرآن وسنت ، تعامل صحابہ وتابعین اور دلائل وبراہین سے یہ ثابت کیا ہے کہ شاتم رسول ﷺ کو سزائے موت دی جائے اور اس سلسلہ میں توبہ قبل الاخذ اور بعد الاخذ یعنی گرفتاری سے قبل یا گرفتاری کے بعد قبول نہیں کی جائے گی۔

کتاب الصارم المسلول لکھنے کا سبب

شیخ الاسلام ابن تیمیہؒ کو معلوم ہوا کہ ایک نصرانی نے رسول کریم ﷺ کی شان میں دشنام طرازی کی ہے تو وہ اسی وقت اپنی مجلس درس وتدریس سے اُٹھے اور اپنے سینکڑوں شاگردوں کے ساتھ حاکم دمشق کے پاس پہنچے اور اس کے قتل کا مطالبہ کیا اس وقت ان کے ہمراہ علامہ زین الدین عبداللہ بن مروان الفاروقی بھی تھے۔ وہ عیسائی عوام کے غیض وغضب کے ڈر سے ایک بدوی کے گھر روپوش تھا۔ نائب السلطنت نے اس نصرانی اور اسے پناہ دینے والے بدوی کو اپنی عدالت میں طلب کیا جب وہ حاضر ہوئے تو انہوں نے وہاں موجود شہریوں کے ساتھ تلخ کلامی کی جس پر مجمع مشتعل ہوگیا اور انہوں نے وہیں پر سنگ باری شروع کی جس پر نقص امن کی بنا پر حاکم دمشق نے امام ابن تیمیہؒ اور علامہ زین الدینؒ دونوں کو گرفتار کرلیا اور ان پر تشدّد کیا جسے ان دونوں بزرگوں نے نہایت صبر واستقامت سے برداشت کیا مقدمہ میں جب وہ نصرانی بری ہوگیا تو ان دونوں حضرات کو رہائی نصیب

صفحہ ۳۴

توہین رسالت ﷺ کی شرعی سزا

ہوئی۔ نائب السلطنت نے اپنے اس بے جا اور ناروا سلوک پر ان دونوں سے معذرت طلب کی ۔ اسی واقعہ کے سبب شیخ الاسلام نے اپنی یہ مایہ ناز کتاب ” الصارم المسلول“ لکھی اور مسئلہ ہذا کی پوزیشن واضح کی اور اپنی ایمانی غیرت اور محب رسول ﷺ ہونے کا ثبوت دیا۔

شاتم رسول ﷺ کی توبہ

شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ رقم طراز ہیں کہ القاضی اور ان کے بیٹے ابو الحسین کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کو گالی دینے والے کو قتل کیا جائے اور اس کی توبہ قبول نہ کی جائے خواہ وہ مسلم ہو یا کافر ۔ حضرت امام احمدؒ نے تصریح کی ہے کہ ایسا شخص ناقض عہد ہے ۔ پھر سابق الذکر قاضی صاحب نے امام احمدؒ کی تصریحات نقل کی ہیں کہ اسے قتل کیا جائے اور اس سے توبہ کا مطالبہ نہ کیا جائے اس لیے کہ وہ واجب القتل ہے قاضی صاحب فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ کے حق کے ساتھ دو حق وابستہ ہوتے ہیں ایک اللہ کا حق اور دوسرا انسان کا حق اور سزا کے ساتھ جب اللہ اور بندوں کا حق وابستہ ہو تو وہ توبہ کرنے سے ساقط نہیں ہوگا ۔ مثلاً محاربہ کی حد اگر وہ گرفتار ہونے سے پہلے توبہ کرلے تو بندوں کا حق جو کہ قصاص ہے ساقط نہیں ہوگا۔ البتہ اللہ کا حق ساقط ہو جائے گا۔

ابو المواہب العسکری فرماتے ہیں:

رسول اللہ ﷺ پر بہتان لگانے سے حد مغلظ واجب ہو جاتی ہے جو کہ قتل ہے خواہ توبہ کرے یا نہ کرے اور خواہ ذمی ہو یا مسلم ۔

[الصارم المسلول]

صفحہ ۳۵

توہین رسالت ﷺ کی شرعی سزا

مرتد کی سزا

جو لوگ حصارِ دین میں داخل ہونے کے بعد دوبارہ کفر کی طرف لوٹ جائیں تو مرتد کہلاتے ہیں ان کی سزا بھی قتل ہے چنانچہ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا:

مَنْ بَدَّلَ دِينَهُ فَاقْتُلُوْهُ.

[صحیح البخاری، کتاب استتابۃ المرتدین، باب حکم المرتد (رقم: ۶۹۲۲)]

جو شخص اپنا دین [یعنی اسلام] تبدیل کر لے اسے قتل کیا جائے۔

جو شخص مسلمان ہو کر اہانتِ رسول ﷺ کا ارتکاب کرتا ہے وہ مرتد ہے بلکہ مرتد سے بھی زیادہ سنگین مجرم ہے کیونکہ توہین رسالت کے مجرم کی سزا قتل ہے جو توبہ سے بھی معاف نہیں ہو سکتی۔ جب کہ عام مرتد کی سزا توبہ کرنے سے معاف ہو جاتی ہے چنانچہ مرتد کے بارے میں شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

جمہور اہل علم کا مؤقف یہ ہے کہ مرتد سے توبہ کا مطالبہ کیا جائے۔ امام مالکؒ اور امام احمدؒ کا بھی یہی قول ہے کہ مرتد سے توبہ کا مطالبہ کیا جائے اور پھر مطالبہ کرنے کے بعد اسے تین دن کی مہلت دی جائے۔ امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کا بھی یہی مذہب ہے۔ حنفیہ میں سے امام طحاوی نے ذکر کیا ہے کہ توبہ کرنے سے پہلے مرتد کو قتل نہ کیا جائے البتہ اگر وہ مہلت مانگے تو اسے تین دن کی مہلت دی جائے۔

[الصارم المسلول ص ۳۲۱]

صفحہ ۳۶

توہین رسالت ﷺ کی شرعی سزا

رسول اللہ ﷺ کو گالی دینے سے ذمی کا عہد ٹوٹ جاتا ہے

جب کوئی ذمی ، اللہ، اس کی کتاب اور اس کے رسول ﷺ کو گالی دے تو اس کا عہد ٹوٹ جاتا ہے وہ واجب القتل ہو جاتا ہے اگر کوئی مسلمان ہو کر اس کا ارتکاب کرے گا تو اسے بھی قتل کر دیا جائے اس کے دلائل کتاب وسنت، اجماع صحابہ و تابعین اور قیاس میں پائے جاتے ہیں۔ چنانچہ ذیل میں اسی سلسلہ کی چند آیات ملاحظہ فرمائیں۔

صفحہ ۳۷

توہین رسالت ﷺ کی شرعی سزا

آیات قرآنی

﴿ وَ قَاتِلُوا الَّذِينَ لَا يُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَ لَا بِالْيَوْمِ الْاٰخِرِ وَ لَا يُحَرِّمُوْنَ مَا حَرَّمَ اللّٰهُ وَ رَسُوْلُهٗ وَ لَا يَدِيْنُوْنَ دِيْنَ الْحَقِّ مِنَ الَّذِيْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ حَتّٰى يُعْطُوا الْجِزْيَةَ عَنْ يَّدٍ وَّ هُمْ صٰغِرُوْنَ ﴾

[توبہ:۲۹]

’’جنگ کرو اہل کتاب میں سے ان لوگوں کے خلاف جو اللہ اور روز آخرت پر ایمان نہیں لاتے اور جو کچھ اللہ اور اس کے رسول ﷺ نے حرام قرار دیا ہے اسے حرام نہیں کرتے اور دین حق کو اپنا دین نہیں بناتے [ان سے لڑو] یہاں تک کہ وہ اپنے ہاتھ سے جزیہ دیں ذلیل ہو کر۔

شیخ الاسلام حافظ ابن تیمیہ رحمہ اللہ اس آیت کی تشریح میں لکھتے ہیں: اس آیت کریمہ میں ہمیں اہل کتاب سے لڑنے کا حکم دیا گیا ہے یہاں تک کہ وہ ذلیل ہو کر جزیہ ادا کریں۔ ان کے قتل سے اس وقت تک رکنا جائز نہیں جب تک وہ ذلیل و رسوا ہو کر جزیہ ادا نہ کریں۔ ظاہر ہے کہ جزیہ دینے

صفحہ ۳۸

توہین رسالت ﷺ کی شرعی سزا

کی صورت یہ ہے کہ وہ اسے ادا کریں اور اس کو حکومت کی تحویل میں دیتے وقت وہاں موجود رہیں ۔حتیٰ کہ حاکم وقت اس کو اپنے قبضے میں لے لے۔ وہ جب جزیہ دینے کا آغاز کریں گے اور ہم اس پر قابض ہو جائیں گے تو ہم ان سے کچھ تعرض نہ کریں گے۔ اس طرح جزیہ کی ادائیگی تکمیل پذیر ہوگی۔ اگر وہ ادائیگی کا التزام نہ کریں یا التزام تو کریں مگر آخر کار ادا کرنے سے انکار کر دیں ۔ تو انہیں جزیہ ادا کرنے والا قرار نہیں دیا جائے گا اس لیے کہ ادائیگی کی حقیقت یہاں موجود نہیں اور جب اس پوری مدت میں ان کا ذلیل رہنا شرط ہے تو ظاہر ہے کہ جو شخص علانیہ ہمارے منہ پر نبی کریم ﷺ کو گالی دے ، برملا ہمارے رب کو بُرا بھلا کہے اور ہمارے دین میں طعنہ زنی کا مرتکب ہو تو ایسا شخص ذلیل نہیں ہے۔ اس لیے کہ صاغر ذلیل اور حقیر کو کہتے ہیں اور جو کام یہ کر رہا ہے ایسے آدمی کو مغرور اور متکبر کہتے ہیں بلکہ یوں کہنا چاہیے کہ یہ شخص ہمیں ذلیل و رسوا کر رہا ہے۔

جب ان سے لڑنا ہم پر واجب ہے تاوقتیکہ وہ ذلیل ہوں اور وہ ذلیل نہیں ہیں۔ تو ہم ان سے لڑنے کے لیے مامور ہیں۔ اور جن کفار سے بھی ہمیں لڑنے کا حکم دیا گیا ہے جب ہم ان پر قابو پالیں گے تو انہیں قتل کر دیں گے نیز یہ کہ جب ہم ان کے خلاف لڑنے کے لیے اس حد تک مامور ہیں تو اس سے کم درجے کا کوئی معاہدہ ہم ان سے نہیں کریں گے اور اگر کریں گے تو یہ معاہدہ فاسد ہوگا۔ اور وہ بدستور مباح الدم والمال رہیں گے ان کے بارے میں یہ نہیں کہا جا سکتا کہ وہ سمجھتے ہوں گے کہ ہم نے امن کا معاہدہ کیا ہے۔ اس طرح انہیں امان کا شبہ ہوگا۔ اور امان کا شبہ اصلی اور حقیقی امان کی مانند ہے ۔اس لیے کہ جو

صفحہ ۳۹

توہین رسالت ﷺ کی شرعی سزا

شخص ایسی بات کرے جس کو کافر امان سمجھتا ہو تو اسے اس کے حق میں امان تصور کیا جائے گا۔ اگرچہ مسلمان کا ارادہ اسے امان دینے کا نہ ہو۔ اس لیے ہم کہتے ہیں کہ ان سے یہ امر پوشیدہ نہیں کہ ہم اس بات کو پسند نہیں کرتے کہ وہ ہمارے زیر سایہ ہوں اور اس کے باوجود ہمارے نبی ﷺ اور دین کو گالیاں دیتے رہیں۔ انہیں بخوبی معلوم ہے کہ ہم کسی ذمی کے ساتھ ایسا معاہدہ نہیں کرتے۔

[الصارم المسلول ص ١١]

قاضی ثناء اللہ پانی پتیؒ مذکورہ بالا آیت کی تفسیر میں لکھتے ہیں:

وفى ذكر الله عزوجل بما لا يليق بجلاله او ذكر كتابه المجيد او ذكر دينه القويم او ذكر رسوله الكريم بما لا ينبغى ينتقض عهده عند احمد سواء شرط منه ذلك او لا وكذا قال مالك انه اذا ذكر منهما بغير ما كفروا به ينتقض عهده وقال اكثر اصحاب الشافعى ان لم يشترط لا ينتقض عهده وان شرط ينتقض.

[ تفسير مظهرى ج ٤ ص ١٩٠ ]

اللہ تعالیٰ کی شان میں نازیبا الفاظ کہنے یا قرآنِ مجید یا دینِ اسلام کے متعلق نا مناسب الفاظ ادا کرنے یا رسول اللہ ﷺ کی بابت ناشائستہ کلام کرنے سے امام احمدؒ کے نزدیک معاہدۂ ذمیت ٹوٹ جاتا ہے خواہ معاہدہ کے وقت اس شرط کا تذکرہ آیا ہو یا نہ آیا ہو۔ امام مالکؒ نے فرمایا: اگر اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی شان میں

صفحہ ۴۰

توہین رسالت ﷺ کی شرعی سزا

ایسے الفاظ کہے جو سابقہ کفریہ عقیدہ وکلام کے علاوہ ہیں تو معاہدہ ذمیت ٹوٹ جائے گا۔ امام شافعیؒ کے اکثر شاگردوں کا خیال ہے کہ معاہدہ میں اس کی شرط لگائی گئی ہوتو معاہدہ ٹوٹ جائے گا کیونکہ یہ معاہدے کی خلاف ورزی ہوگی ورنہ نہیں ٹوٹے گا۔

2

﴿ كَيْفَ يَكُونُ لِلْمُشْرِكِينَ عَهْدٌ عِنْدَ اللّٰهِ وَ عِنْدَ رَسُولِهِ اِلَّا الَّذِيْنَ عَاهَدْتُّمْ عِنْدَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ فَمَا اسْتَقَامُوْا لَكُمْ فَاسْتَقِيْمُوْا لَهُمْ ط اِنَّ اللّٰهَ يُحِبُّ الْمُتَّقِينَ ٭ كَيْفَ وَ اِنْ يَّظْهَرُوْا عَلَيْكُمْ لَا يَرْقُبُوْا فِيْكُمْ اِلًّا وَّ لَا ذِمَّةً ط يُرْضُوْنَكُمْ بِاَفْوَاهِهِمْ وَ تَأْبٰى قُلُوْبُهُمْ وَ اَكْثَرُهُمْ فٰسِقُوْنَ ﴾

[توبہ: ۷۔۸]

ان مشرکین کے لیے اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے نزدیک کوئی عہد کیسے ہوسکتا ہے بجز ان لوگوں کے جن سے تم نے مسجد حرام کے پاس معاہدہ کیا تھا۔ تو جب تک وہ تمہارے ساتھ سیدھے رہیں تم بھی ان کے ساتھ سیدھے رہو کیونکہ اللہ متقین کو پسند کرتا ہے۔ مگر ان کے سوا دوسرے مشرکین کے ساتھ کوئی عہد کیسے ہو سکتا ہے جبکہ ان کا حال یہ ہے کہ تم پر قابو پا جائیں تو نہ تمہارے معاملہ میں کسی قرابت کا لحاظ کریں نہ کسی معاہدہ کی ذمہ داری کا ۔ وہ اپنی زبانوں سے تم کو راضی کرنے کی کوشش کرتے ہیں مگر دل ان کے انکار کرتے ہیں اور ان میں سے اکثر فاسق ہیں۔

صفحہ ۴۱

توہین رسالت ﷺ کی شرعی سزا

ان آیات کی شرح میں شیخ الاسلام فرماتے ہیں:

رسول کریم ﷺ نے جن لوگوں سے عہد کیا ہے۔ ان میں سے کسی کا عہد بھی درست نہیں۔ البتہ اس قوم کا عہد درست ہے جو اپنے عہد پر قائم ہیں۔ اس سے معلوم ہوا کہ مشرک کے ساتھ عہد اسی وقت تک قائم رہتا ہے جب تک وہ اپنے معاہدے پر قائم رہیں۔ واضح بات ہے کہ جو شخص برملا ہمارے رب تعالیٰ اور رسول ﷺ کو گالیاں دیتا اور دینِ اسلام کی تنقیص کرتا ہو وہ اپنے معاہدہ پر قائم نہیں ہے جس طرح عہد اس وقت ٹوٹ جاتا ہے جب ہم اعلانیہ حرب و ضرب کا آغاز کریں۔ اگر ہم مومن ہیں تو ان کا یہ طرز عمل ہمارے لئے اس سے زیادہ ناگوار ہے۔ ہم پر واجب ہے کہ اعلاء کلمۃ اللہ کے لیے ہم اپنی جان اور مال تک قربان کردیں۔ اور ہمارے دیار و بلاد میں اعلانیہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کو اذیت والا کوئی کام نہ کیا جائے جب وہ ایک معمولی کام میں بھی ثابت قدم نہیں رہ سکتے تو اس سے بڑے کاموں میں مستقل مزاج کیسے رہ سکتے ہیں؟

[الصارم المسلول ص ۱۳]

﴿ وَ اِنْ نَّكَثُوْا اَيْمَانَهُمْ مِّنْۢ بَعْدِ عَهْدِهِمْ وَ طَعَنُوْا فِيْ دِيْنِكُمْ فَقَاتِلُوْۤا اَئِمَّةَ الْكُفْرِ اِنَّهُمْ لَاۤ اَيْمَانَ لَهُمْ لَعَلَّهُمْ يَنْتَهُوْنَ ﴾

[توبہ : ۱۲]

اور اگر عہد کرنے کے بعد یہ پھر اپنی قسموں کو توڑ ڈالیں اور تمہارے دین پر حملے کرنا شروع کر دیں تو کفر کے علمبرداروں سے جنگ

صفحہ 42

توہین رسالت ﷺ کی شرعی سزا

کرو۔ کیونکہ ان کی قسموں کا کوئی اعتبار نہیں۔ شاید (پھر تلوار کے زور سے) وہ باز آئیں گے۔

قرآن پاک کی اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ:

اگر ذمی لوگ تمہارے دین میں طعن کریں تو ان کا معاہدہ ٹوٹ جاتا ہے اور ان سے ہمیں لڑائی کرنے کا حکم ہے اور یہ شک و شبہ سے بالا ہے کہ نبی اکرم ﷺ کو گالی دینے سے بڑھ کر دین میں کوئی طعن نہیں۔ کیونکہ اس سے شریعت کی اہانت اور اسلام کی تذلیل ہوتی ہے۔

چنانچہ شیخ الاسلام ابن تیمیہؒ لکھتے ہیں:

ان الذمى اذا سب الرسول ﷺ او سب الله او عاب الاسلام علانية فقد نكث يمينه وطعن فى ديننا لأنه لا خلاف بين المسلمين انه يعاقب على ذلك ويؤدب عليه.

[الصارم المسلول ص ١٦]

”ایک ذمی شخص اگر اللہ یا رسول اللہ ﷺ کو گالی دے یا علانیہ اسلام میں عیب نکالے تو اس نے طعن فی الدین کا ارتکاب کر کے اپنی قسم کو توڑ دیا اس لئے بلاخوف و نزاع اسے سزا دی جائے گی اور اس پر اس کی تأدیب کی جائے گی۔

نیز شیخ الاسلام ؒ لکھتے ہیں:

وأما الشافعى فالمنصوص عنه نفسه ان عهده ينتقض بسب النبى ﷺ وانه يقتل.

[الصارم المسلول ص ٨]

صفحہ ۴۳

توہین رسالت ﷺ کی شرعی سزا

’’ امام شافعیؒ، امام مالکؒ اور امام احمد بن حنبلؒ کے نزدیک نبی ﷺ کو گالی دینے سے بھی معاہدہ ٹوٹ جاتا ہے پس اگر ذمی نبی ﷺ کو گالی دے تو اسے قتل کیا جائے گا۔

﴿اَلَا تُقَاتِلُوْنَ قَوْمًا نَّكَثُوْا اَيْمَانَهُمْ وَ هَمُّوْا بِاِخْرَاجِ الرَّسُوْلِ وَ هُمْ بَدَءُوْكُمْ اَوَّلَ مَرَّةٍ ط اَتَخْشَوْنَهُمْ ج فَاللّٰهُ اَحَقُّ اَنْ تَخْشَوْهُ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِيْنَ﴾

[توبۃ: ۱۳]

’’کیا تم نہ لڑو گے ایسے لوگوں سے جو اپنے عہد توڑتے رہے ہیں اور جنہوں نے رسول ﷺ کو ملک سے نکال دینے کا قصد کیا تھا اور زیادتی کی ابتداء کرنے والے وہی تھے کیا تم ان سے ڈرتے ہو؟ اگر تم مومن ہو تو اللہ اس کا زیادہ مستحق ہے کہ اس سے ڈرو ان سے لڑو اللہ تمہارے ہاتھوں سے ان کو سزا دے گا اور انہیں ذلیل و خوار کرے گا۔

یہ آیت اس حقیقت کی آئینہ دار ہے کہ جس شخص نے صرف نقض قسم کا ارتکاب کیا ہو اس سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ ایمان لے آئے گا۔ اور اس کے ساتھ معاہدہ بھی کیا جائے گا مگر دین کو طعن بنانے والے کے خلاف حرب و قتال ضروری ہے۔ رسول اکرم ﷺ کا طریق کار یہی تھا۔ آپ اللہ اور اس کے رسول کو ایذاء دینے والے اور دین کو ہدف طعن بنانے والوں کے خون کو مباح

صفحہ 44

توہین رسالت ﷺ کی شرعی سزا

ٹھہرا دیتے تھے مگر دوسروں کو قتل کرنے سے احتراز کرتے تھے۔

اس آیت میں کفار کے رسول اکرم ﷺ کو جلا وطن کرنے کے ارادے کو ان کے ساتھ جنگ کا محرک اور موجب قرار دیا ہے اس لیے کہ اس سے رسول اللہ ﷺ کو تکلیف پہنچتی ہے مگر آپ کو گالی دینا جلاوطن کرنے کے ارادے سے بھی زیادہ شدید ہے۔ اس کی دلیل یہ ہے کہ جن لوگوں نے آپ کو جلا وطن کرنے کا ارادہ کیا تھا فتح مکہ کے روز ان کو رسول کریم ﷺ نے معاف کر دیا تھا مگر گالی دینے والوں کو معاف نہیں کیا تھا۔

بنابریں ذمی جب رسول کریم ﷺ کو گالی دے گا تو اپنے عہد کو توڑ ڈالے گا اور ایسے فعل کا مرتکب ہوگا جو رسول کریم ﷺ کو جلاوطن کرنے کے ارادے سے بھی عظیم تر ہے اور چونکہ اس نے ایذاء رسانی کی بنیاد ڈالی ہے لہٰذا اس سے لڑنا واجب ہے۔

5

﴿ قَاتِلُوْهُمْ يُعَذِّبْهُمُ اللّٰهُ بِاَيْدِيْكُمْ وَ يُخْزِهِمْ وَ يَنْصُرْكُمْ عَلَيْهِمْ وَ يَشْفِ صُدُوْرَ قَوْمٍ مُّؤْمِنِيْنَ ٭ وَ يُذْهِبْ غَيْظَ قُلُوْبِهِمْ وَ يَتُوْبُ اللّٰهُ عَلٰى مَنْ يَّشَاءُ ۗ وَ اللّٰهُ عَلِيْمٌ حَكِيْمٌ ﴾

[توبہ: ۱۵۔۱۴]

”ان سے لڑو اللہ تمہارے ہاتھوں سے ان کو سزا دے گا اور انہیں ذلیل وخوار کرے گا اور ان کے مقابلے میں تمہاری مدد کرے گا اور بہت سے مومنوں کے دل ٹھنڈے کرے گا اور ان کے قلوب کی

صفحہ ۴۵

توہین رسالت ﷺ کی شرعی سزا

جلن مٹادے گا اور جسے چاہے گا توبہ کی توفیق بھی دے گا اللہ سب کچھ جاننے والا اور دانا ہے۔‘‘

یہ آیت اس امر کی دلیل ہے کہ سینوں کو نقض عہد اور طعن سے شفا دینا اور اس غصہ کو دور کرنا جو اہلِ ایمان کے دلوں میں اس کی وجہ سے پیدا ہو گیا ہے۔ شارع ؑ کا اصل مقصود و مطلوب ہے۔ اور یہ اس صورت میں حاصل ہوتا ہے جب اہلِ ایمان جہاد کریں جیسا کہ ایک مرفوع حدیث میں آیا ہے کہ علیکم بالجہاد فانہ باب من ابواب اللہ یدفع اللہ بہ عن النفوس الہمَّ والغَمَّ.

[فیض القدیر ص ۳۲۸ ج ٤]

”جہاد کا دامن تھامے رکھو اس لیے کہ یہ اللہ کے دروازوں میں سے ایک دروازہ ہے اس کے ذریعہ اللہ دل سے ھمّ وحزن کو دور کرتا ہے۔‘‘

اس میں شبہ نہیں کہ جو ذمی رسول کریم ﷺ کو گالی دیتا ہے تو وہ اہلِ ایمان کو ناراض کرتا اور انہیں ایسا دکھ پہنچاتا ہے جو ان کا خون بہانے اور ان کا مال لینے سے بھی زیادہ المناک ہے۔

اس لیے کہ رسول کو گالی دینے سے اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے لیے غضب وحمیت کے جذبات بیدار ہوتے ہیں اور اس سے بڑا غیظ وغضب مومن کے دل میں کسی اور چیز سے نہیں بھڑکتا۔ بلکہ صراطِ مستقیم پر چلنے والا مومن صرف اللہ کے لیے ہی اس قدر غضب ناک ہو سکتا ہے۔ شارع ؑ چاہتے ہیں کہ اہلِ ایمان کے سینہ کو شفا حاصل ہو اور اس کا غم وغصہ دور ہو جائے اور یہ مقصد صرف گالی دینے والے کو قتل کرنے سے حاصل ہوتا ہے اس کے حسبِ ذیل

صفحہ ۴۶

توہین رسالت ﷺ کی شرعی سزا

وجوہ ہیں۔

و تادیب سے مسلمان کا غصہ دور ہو جاتا ہے اگر وہ رسول کریم ﷺ کو گالی دے اور اس کی تعزیر و تادیب سے مسلمان کا غصہ رفع ہو جائے تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ رسول کریم ﷺ کو گالی دینے سے ایک مومن کو اتنا ہی غصہ آیا جو ایک مومن کو گالی دینے سے آیا ہے اور یہ باطل ہے۔

اس کا مال لینے سے اتنا غصہ نہیں آتا۔ اگر ایک شخص کسی کافر کو قتل کر دے تو ان کا غصہ تبھی دور ہوگا اگر قاتل کو قتل کیا جائے۔ اسی طرح ایک مسلم کا غصہ تبھی دور ہوگا جب رسول کریم ﷺ کو گالی دینے والے کو قتل کیا جائے یہی وجہ اولیٰ وافضل ہے۔

دیا ہے اور کسی وجہ سے شفا کا حصول ناممکن ہے لہٰذا واجب ٹھہرا کہ اہل ایمان کے سینوں کو شفا دینے کے لیے قتل وقتال کے سوا دوسری کسی چیز کو اختیار نہ کیا جائے۔

اہل ایمان کے سینوں کو بنو بکر سے شفا دینا چاہی جو ان سے لڑے تھے چنانچہ عین دوپہر کے وقت ان کو یہ اختیار دیا۔ جب کہ دیگر لوگوں کو آپ نے امان دے دی تھی۔ اگر بنو بکر کو قتل کئے بغیر بنو خزاعہ کا غصہ دور ہو سکتا اور ان کے سینوں کو شفا مل

صفحہ ۴۷

توہین رسالت ﷺ کی شرعی سزا

سکتی تو آپ ان کو قتل نہ کرتے جبکہ آپ نے دوسرے تمام لوگوں کو امان دے دی تھی۔

[الصارم المسلول ص ۲۰]

6

يَحْلِفُوْنَ بِاللّٰهِ لَكُمْ لِيُرْضُوْكُمْ وَ اللّٰهُ وَ رَسُوْلُهٗ اَحَقُّ اَنْ يُّرْضُوْهُ اِنْ كَانُوْا مُؤْمِنِيْنَ ٭ اَلَمْ يَعْلَمُوْا اَنَّهٗ مَنْ يُّحَادِدِ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ فَاَنَّ لَهٗ نَارَ جَهَنَّمَ خَالِدًا فِيْهَا ط ذٰلِكَ الْخِزْیُ الْعَظِيْمُ ۝

[توبه : ۶۲-۶۳]

یہ لوگ تمہارے سامنے قسمیں کھاتے ہیں تاکہ تمہیں راضی کریں حالانکہ اگر یہ مومن ہیں تو اللہ اور رسول ﷺ اس کے زیادہ حقدار ہیں کہ یہ ان کو راضی کرنے کی فکر کریں۔ کیا انہیں معلوم نہیں ہے کہ جو اللہ اور اس کے رسول ﷺ کا مقابلہ کرتا ہے اس کے لیے دوزخ کی آگ ہے جس میں وہ ہمیشہ رہے گا اور یہ بہت بڑی رسوائی ہے۔

اگر رسول کریم ﷺ کو اذیت پہنچا کر وہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کا مقابلہ کرنے والے نہ ہوتے تو ان کو یوں دھمکی دینا مناسب نہ ہوتا کہ مقابلہ کرنے والے کے لیے جہنم کی آگ ہے اس وقت یوں کہنا ممکن ہوتا کہ انہیں معلوم ہے کہ مقابلہ کرنے والے کے لیے جہنم کی آگ ہے مگر انہوں نے مقابلہ نہیں کیا بلکہ صرف ایذاء دی ہے۔ اس طرح یہ آیت ان کی وعید پر مشتمل نہ ہوتی پس معلوم ہوا کہ یہ فعل مقابلہ کے عموم میں داخل ہے تاکہ مقابلہ کرنے والے کے لیے جو وعید ہے وہ ان کی وعید بن سکے اور کلام میں ربط ونظم پیدا ہو جائے۔

صفحہ ۴۸

توہین رسالت ﷺ کی شرعی سزا

اس پر وہ حدیث بھی دلالت کرتی ہے جس کو امام حاکم ؒ نے اپنی صحیح میں اور ابن کثیر نے اپنی تفسیر میں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کیا ہے۔ ان رسول الله ﷺ كان فى ظل حجرة من حجره وعنده نفر من المسلمين فقال انه سيأتيكم انسان ينظر بعين الشيطان فإذا اتاكم فلا تكلموه فجاء رجل ازرق فدعاه رسول الله ﷺ فقال علام تشتمنی انت وفلان و فلان فانطلق الرجل فدعاهم فحلفوا بالله واعتذروا اليه فانزل الله تعالى: ﴿ يَوْمَ يَبْعَثُهُمُ اللَّهُ جَمِيعًا فَيَحْلِفُونَ لَهُ كَمَا يَحْلِفُونَ لَكُمْ وَيَحْسَبُونَ أَنَّهُمْ عَلَى شَيْءٍ ۚ أَلَا إِنَّهُمْ هُمُ الْكَاذِبُونَ ﴾.

[المجادلة : ١٨]

” رسول اللہ ﷺ اپنے حجروں میں سے کسی حجرہ کے سایہ میں تشریف فرما تھے اور آپ کے پاس مسلمانوں کی ایک جماعت بھی تھی۔ آپ نے فرمایا تمہارے پاس ایک آدمی آئے گا جو شیطان کی نگاہ سے دیکھنے والا ہوگا۔ وہ جب تمہارے پاس آئے تو اس سے بات چیت نہ کرنا۔ اندریں اثناء ایک نیلی آنکھوں والا شخص آیا۔ رسول اللہ ﷺ نے اسے بلا کر کہا تم اور فلاں فلاں اشخاص مجھے گالیاں کیوں دیتے ہو؟ وہ شخص چلا گیا اور ان کو بلا لایا انہوں نے قسم کھائی اور آپ سے معذرت کی تب مذکورہ آیت نازل ہوئی۔

پھر اس کے آگے فرمایا۔

صفحہ ۴۹

توہین رسالت ﷺ کی شرعی سزا

7

﴿ إِنَّ الَّذِينَ يُحَادُّونَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ أُوْلَئِكَ فِي الأَذَلِّينَ ﴾

[المجادلة: ۲۰]

یقیناً ذلیل ترین مخلوقات میں سے ہیں وہ لوگ جو اللہ اور اس کے رسول ﷺ کا مقابلہ کرتے ہیں۔

اس آیت سے ثابت ہوا کہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی مخالفت ان کے ساتھ مقابلہ کرنے کے مترادف ہے۔

شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ رقمطراز ہیں کہ:

رسول اللہ ﷺ کی شان عالی میں زبان دراز اگرچہ مسلمان ہو یا کافر ہو بغیر کسی اختلاف کے قتل کیا جائے گا اور یہی ائمہ اربعہ و غیرہم کا مذہب ہے۔

امام احمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

میں نے ابو عبداللہ کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ جس نے رسول اللہ ﷺ کی شان عالی میں زبان درازی یا تنقیص کا مرتکب ہوا مسلمان ہو یا کافر اس کا قتل کرنا ضروری اور واجب ہے۔

عبداللہ اور ابو طالب کی روایت میں ہے کہ:

رسول اللہ ﷺ کے بارے میں زبان درازی کرنے والے کے بارے میں سوال کیا گیا تو کہا کہ اسے قتل کیا جائے گا۔ ان سے کہا گیا کہ اس بارے میں احادیث ہیں؟ تو انہوں نے کہا ہاں اس بارے میں احادیث وارد

صفحہ ۵۰

توہین رسالت ﷺ کی شرعی سزا

ہیں ان میں سے ایک نابینا کی حدیث ہے جس نے ایک عورت کو قتل کر دیا تھا اس کا کہنا تھا کہ میں اس عورت کو رسول اللہ ﷺ کے بارے میں زبان درازی کرتے سنا تھا۔

اور حصین سے مروی حدیث میں ہے کہ: حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں جس نے رسول اللہ ﷺ کے بارے میں زبان درازی کی تو اسے قتل کیا جائے گا۔

حضرت عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ نے فرمایا کہ: ایسے شخص کو قتل کیا جائے گا اس لیے کہ جو رسول اللہ ﷺ کے بارے میں زبان درازی کرتا ہے وہ مرتد ہے۔ اسلام سے خارج ہے اور مسلمان رسول اللہ ﷺ کی شان میں کبھی بے ادبی نہیں کرتا۔ حضرت عبداللہ فرماتے ہیں کہ میں نے اپنے والد سے اس آدمی کے بارے میں پوچھا جو رسول اللہ ﷺ کی شان میں بے ادبی کرتا ہے۔ آیا اس کو توبہ کے لیے کہا جائے گا؟ فرمایا اس کا قتل واجب ہے اور توبہ کا مطالبہ نہیں کیا جائے گا کیونکہ حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے ایک ایسے آدمی کو قتل کر دیا تھا جس نے رسول اللہ ﷺ کی شان میں گستاخی کی تھی اور انہوں نے اس سے توبہ کا مطالبہ نہیں کیا۔

حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ: ایک یہودی عورت نبی کریم ﷺ کو گالی دیا کرتی تھی۔ ایک آدمی نے اس کا گلا گھونٹ دیا یہاں تک کہ وہ مر گئی رسول اللہ ﷺ نے اس کے خون کو رائیگاں فرمایا۔

صفحہ ۵۱

توہین رسالت ﷺ کی شرعی سزا

یہ حدیث شاتم رسول ﷺ کے قتل کے جواز پر نص ہے۔

حضرت ابو ہریرہ ؓ کی حدیث کے بارے میں شیخ الاسلام ابن تیمیہ ؒ فرماتے ہیں علماء کی ایک جماعت نے اس حدیث سے شاتم رسول ﷺ کے قتل کے جواز کا استدلال کیا ہے۔ یہ اس لیے کہ حضرت ابو برزہ ؓ نے جب دیکھا کہ حضرت ابوبکر ؓ کو گالی دی ہے تو آپ کو غصہ آیا تو انہوں نے آپ سے اس آدمی کے قتل کی اجازت چاہی اگر آپ انہیں حکم دے دیتے تو وہ اسے ضرور قتل کر دیتے لیکن حضرت ابوبکر ؓ صدیق نے کہا کہ نبی کریم ﷺ کے بعد یہ کسی کے لیے جائز نہیں۔

اس حدیث سے معلوم ہوا کہ نبی ﷺ کی بارگاہ میں اگر کوئی زبان درازی کرتا ہے تو آپ کی خاطر قتل کیا جاسکتا ہے۔ آپ ایسے شخص کے قتل کا حکم کیوں فرماتے ہیں جس کے قتل کی وجہ لوگوں کو معلوم نہ ہو لوگوں پر آپ کی اس بارے میں اطاعت فرض ہے کیونکہ آپ وہی حکم فرماتے ہیں جو اللہ تعالیٰ نے حکم فرمایا ہے جس نے رسول اللہ ﷺ کی اطاعت کی تو گویا اس نے اللہ تعالیٰ کی اطاعت کی۔

یہ حدیث آپ کی دو خصوصیات کو متضمن ہے۔

درازی کی ہے۔

حدیث کا مفہوم آپ کے اس دنیا سے تشریف لے جانے کے بعد بھی

صفحہ ۵۲

توہین رسالت صلی اللہ علیہ وسلم کی شرعی سزا

باقی ہے جس نے بھی آپ کی شان اقدس میں گستاخی کی اس کا قتل جائز ہے بلکہ آپ کے اس دنیا سے تشریف لے جانے کے بعد اور زیادہ ضروری ہے کیونکہ آپ کی حرمت اکمل ہے اور آپ کی عزت کی خاطر کسی قسم کا تساہل ناممکن ہے۔

اس حدیث سے معلوم ہوا کہ جس نے بھی آپ کی شان میں گستاخی کی اس کا قتل جائز ہے اس حدیث کے عموم سے مسلمان اور کافر دونوں کے قتل کا استدلال کیا جائے گا۔

﴿إِنَّ الَّذِينَ يُؤْذُونَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ لَعَنَهُمُ اللَّهُ فِي الدُّنْيَا وَالآخِرَةِ وَأَعَدَّلَهُمْ عَذَابًا مُّهِينًا ﴾

[الاحزاب: ٥٧]

”جولوگ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو اذیت دیتے ہیں ان پر دنیا اور آخرت میں اللہ نے لعنت فرمائی ہے اور ان کے لیے رسوا کن عذاب تیار کیا ہے۔“

یہ آیت اس امر پر دلالت کرتی ہے کہ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو اذیت دینے والا واجب القتل ہے اور معاہدہ بھی اس کو نہ بچا سکے گا۔ اس لیے کہ ہم نے معاہدہ اس بات پر نہیں کیا تھا کہ وہ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو ایذاء دے گا۔ اس کی وضاحت اس حدیث سے ہوتی ہے جس میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

من لكعب بن الاشرف فانه قد اذى الله ورسوله .

[صحيح البخارى ، كتاب المغازی باب قتل كعب بن اشرف]

صفحہ ۵۳

توہین رسالت ﷺ کی شرعی سزا

”کعب بن اشرف کا کون ذمہ دار ہے کیونکہ اس نے اللہ اور اس کے رسول ﷺ کو ایذاء دی ہے۔“

اس حدیث میں آپ نے مسلمانوں کو ایک یہودی کے قتل کرنے کا حکم دیا۔ جس نے معاہدہ کیا ہوا تھا، محض اس لیے کہ اس نے اللہ اور رسول ﷺ کو ایذاء دی تھی۔ اس سے معلوم ہوا کہ ہر ذمی کے بارے میں یہ نہیں کہا جاسکتا کہ وہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کو ایذاء دیتا ہے ورنہ اس کے اور دوسروں کے درمیان کچھ فرق نہ رہے گا۔ ”اور یوں کہنا بھی صحیح نہیں کہ یہودی دنیا اور آخرت میں ملعون ہیں جبکہ وہ اپنے مذہب کے واجبات پر قائم بھی ہوں۔ اس لیے کہ ہم نے ان سے یہ نہیں کہا تھا کہ وہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کو اعلانیہ ایذاء دیں ہم نے تو ان کے ساتھ یہ عہد کیا تھا کہ وہ اپنے مذہبی احکام پر عمل پیرا رہیں۔

[الصارم المسلول ص ۲۷]

9

قرآن کریم نے منافقین کا کردار اور ان کی گستاخیوں کا ذکر کرتے ہوئے یہ واقعہ ذکر کیا ہے۔

﴿ يَقُوْلُوْنَ لَئِنْ رَّجَعْنَا إِلَى الْمَدِينَةِ لَيُخْرِجَنَّ الْأَعَزُّ مِنْهَا الْأَذَلَّ وَلِلّٰهِ الْعِزَّةُ وَلِرَسُوْلِهِ وَلِلْمُؤْمِنِيْنَ وَلٰكِنَّ الْمُنَافِقِيْنَ لَا يَعْلَمُوْنَ ﴾.

[منافقون: ۸]

” یہ کہتے ہیں کہ اگر اب ہم لوٹ کر مدینہ جائیں گے تو ہر عزت والا وہاں سے ذلت والے کو نکال دے گا۔ سنو عزت تو صرف اللہ تعالیٰ

صفحہ ۵۴

توہین رسالت ﷺ کی شرعی سزا کے لیے اور اس کے رسول ﷺ کے لیے اور ایمان داروں کے لیے ہے لیکن یہ منافق بے علم ہیں۔

یہ بات اس وقت پیش آئی جب رسول اللہ ﷺ غزوہ تبوک سے واپس لوٹ رہے تھے تو منافقوں کے سردار عبداللہ بن ابی بن سلول اور اس کے ساتھیوں نے آپس میں اس قسم کی گفتگو کی۔ ابن ابی بن سلول کے بیٹے جو صحابی اور مخلص مسلمان تھے ان کو جب اس بات کا علم ہوا تو وہ اپنے باپ کی گردن پر تلوار لے کر سوار ہوئے اور یہ کہا کہ اگر تو نے یہ بات کہی ہے تو میں تجھ کو ابھی قتل کرتا ہوں ۔ ورنہ تو اس چیز سے توبہ کر اور اقرار کر کہ تو خود ذلیل ہے اللہ اور اس کا رسول ﷺ عزت والے ہیں ۔

[ابن کثیر ج ۲ ص ۳۷۲]

ایک روایت میں یہ لفظ ہیں کہ انہوں نے نبی اکرم ﷺ سے یہ عرض کیا کہ یا رسول اللہ آپ مجھے اجازت دیں کہ میں اپنے باپ کا سر قلم کر کے آپ کی خدمت میں لا کر رکھ دوں ۔

قرآن حکیم کی اس آیت سے واضح ہوا کہ اگر کوئی منافق تنہائی میں بھی رسول اللہ ﷺ کے متعلق صرف اتنی بات کرے کہ پیغمبر اور اس کے ساتھی ذلیل ہیں ۔ عزت والے نہیں تو اس کو بھی مستحق قتل شمار کیا جائے گا۔

10

اللہ تعالیٰ نے سورہ انفال میں اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی مخالفت کرنے والوں کے لیے قتال کا حکم صادر فرمایا ہے۔ ﴿ فَاضْرِبُوْا فَوْقَ الْاَعْنَاقِ وَ اضْرِبُوْا مِنْهُمْ كُلَّ بَنَانٍ ٭ ﴾

صفحہ 55

توہین رسالت ﷺ کی شرعی سزا

ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ شَآقُّوا اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ ج وَ مَنْ يُّشَاقِقِ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ فَاِنَّ اللّٰهَ شَدِيْدُ الْعِقَابِ

[الانفال: ١٢ - ١٣]

”پس تم ان کی گردنوں پر ضرب اور جوڑ جوڑ پر چوٹ لگاؤ یہ اس لیے کہ ان لوگوں نے اللہ اور اس کے رسول ﷺ کا مقابلہ کیا اور جو اللہ اور اس کے رسول ﷺ کا مقابلہ کرے اللہ اس کے لیے نہایت سخت گیر ہے۔“

یہ آیات سورۂ انفال ۲ھ میں اس وقت نازل ہوئیں جب کہ اسلامی ریاست معرض وجود میں آ رہی تھی اور دشمنان اسلام اللہ کے رسول ﷺ کی مخالفت اور ایذاء رسانی پر کمر بستہ ہو گئے تھے۔ اس پاداش جرم میں ان کے لیے یہ سزا تجویز ہوئی۔

11

سورہ توبہ میں اللہ تعالی کے رسول ﷺ کو ایذاء پہنچانے والوں کو دردناک عذاب سے خبردار کیا گیا ہے فرمایا:

وَ مِنْهُمُ الَّذِيْنَ يُؤْذُوْنَ النَّبِيَّ وَ يَقُوْلُوْنَ هُوَ اُذُنٌ ط قُلْ اُذُنُ خَيْرٍ لَّكُمْ يُؤْمِنُ بِاللّٰهِ وَ يُؤْمِنُ لِلْمُؤْمِنِيْنَ وَ رَحْمَةٌ لِّلَّذِيْنَ اٰمَنُوْا مِنْكُمْ ط وَ الَّذِيْنَ يُؤْذُوْنَ رَسُوْلَ اللّٰهِ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِيْمٌ

[توبۃ: ٦١]

”ان منافقین میں کچھ لوگ ہیں جو اپنی باتوں سے نبی ﷺ کو دکھ دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ شخص کانوں کا کچا ہے ۔ کہو وہ تمہاری

صفحہ ۵۶

توہین رسالت ﷺ کی شرعی سزا

بھلائی کے لیے ایسا ہے اللہ پر ایمان رکھتا ہے اور اہل ایمان پر اعتماد کرتا ہے اور سراسر رحمت ہے ان لوگوں کے لیے جو تم میں سے ایمان دار ہیں اور جو لوگ اللہ کے رسول کو دکھ دیتے ہیں ان کے لیے دردناک سزا ہے۔‘‘

اس آیت میں یہ نکتہ قابل توجہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی مخالفت اور دشمنی میں آپ کو کوئی جسمانی تکلیف یا اذیت نہیں پہنچائی جا رہی ہے بلکہ صرف کانوں کا کچا کہہ کر جو لوگ آپ کو قلبی اور ذہنی اذیت پہنچاتے ہیں وہ بھی گستاخی اور توہین رسالت کا ارتکاب کرتے ہیں اور ان کے لیے بھی دردناک عذاب کی وعید ہے۔

اسلام کے پیروکاروں پر تو رسول اللہ ﷺ کا ادب و احترام فرض ہے لیکن منکرین رسالت کو بھی حکم دیا گیا کہ وہ بھی دربار رسالت کے آداب کو ملحوظ رکھیں اور انہیں ایسے ذومعنی الفاظ کے استعمال سے بھی روک دیا گیا جس میں خیر کے علاوہ شر کا معنوی پہلو بھی پوشیدہ ہو۔ چنانچہ وہ بدبخت یہودی جو شرارۃً اور بدنیتی سے ذومعنی الفاظ استعمال کرتے تھے۔ مندرجہ ذیل آیت میں ان کے لیے سخت وعید نازل فرمائی۔

12

﴿مِنَ الَّذِيْنَ هَادُوْا يُحَرِّفُوْنَ الْكَلِمَ عَنْ مَّوَاضِعِهِ وَ يَقُوْلُوْنَ سَمِعْنَا وَ عَصَيْنَا وَاسْمَعْ غَيْرَ مُسْمَعٍ وَّ رَاعِنَا لَيًّا ۢ بِاَلْسِنَتِهِمْ وَ طَعْنًا فِي الدِّيْنِ ؕ وَ لَوْ اَنَّهُمْ قَالُوْا سَمِعْنَا وَ اَطَعْنَا وَاسْمَعْ وَ

صفحہ ۵۷

توہین رسالت ﷺ کی شرعی سزا

انْظُرْنَا لَكَانَ خَيْرًا لَّهُمْ وَ اَقْوَمَ وَ لٰكِنْ لَّعَنَهُمُ اللّٰهُ بِكُفْرِهِمْ فَلَا يُؤْمِنُوْنَ اِلَّا قَلِيْلًا ﴾

[النساء : ٤٦]

”جو لوگ یہودی بن گئے ان میں سے کچھ لوگ ہیں جو الفاظ کو ان کے محل سے پھیر دیتے ہیں اور دینِ حق کے خلاف نیش زنی کرنے کے لیے اپنی زبانوں کو توڑ موڑ کر کہتے ہیں سمعنا وعصینا اور اسمع غیر مسمع اور راعنا حالانکہ اگر وہ کہتے سمعنا واطعنا اور اسمع اور انظرنا تو یہ انہی کے لیے بہتر تھا اور زیادہ راستبازی کا طریقہ تھا مگر ان پر تو ان کی باطل پرستی کی بدولت اللہ کی پھٹکار پڑی ہوئی ہے اس لیے وہ کم ہی ایمان لاتے ہیں۔“

ابو بکر جصاصؒ اس آیت کی تفسیر میں لکھتے ہیں:

وهذا يدل على ان كل لفظ احتمل الخير والشر فغير جائز اطلاقه حتى يقيد بما يفيد الخير .

[احكام القرآن للجصاص ٥٨/١]

”ہر وہ لفظ جس میں خیر و شر دونوں معنی کا احتمال ہو اس لفظ کا استعمال اس وقت تک درست نہیں جب تک کہ اس کے ساتھ کوئی ایسی حد یا قید نہ لگائی جائے جس سے خیر کا پہلو نمایاں ہو۔“

امام رازیؒ لفظ ”راعنا“ کی تشریح کرتے ہوئے تحریر فرماتے ہیں:

هذه الكلمة وان كانت صحيحة المعنى الا ان اهل الحجاز ما كانوا يقولونها الا عند الهزؤ و السخرية فلا

صفحہ ۵۸

توہین رسالت ﷺ کی شرعی سزا

جرم نہی اللہ عنہا۔

[تفسیر کبیر ص ۲۲٤/٣]

”اگرچہ یہ لفظ صحیح المعنی ہے جس کا ایک مفہوم تو یہ ہے کہ ہم سے رعایت کریں یا ہماری طرف توجہ کریں لیکن عربی میں اس لفظ کو بطور استہزاء بھی استعمال کیا جاتا تھا یعنی ایسے صاحب رعونت شخص کے لیے جو علم سے بے بہرہ ہو۔ اس کے علاوہ اس لفظ کو اگر صحیح معنی میں بھی استعمال کیا جائے تو اس سے برابری اور مساوات کا گمان ہوتا ہے۔ اس لیے اس لفظ کے استعمال ہی کو منع کر دیا گیا۔“

مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی لفظ ’راعنا‘ کی تفسیر کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

یہودی جب رسول اللہ ﷺ کی مجلس میں آتے تو اپنے سلام و کلام میں ہر ممکن طریقہ سے اپنے دل کا بخار نکالنے کی کوشش کرتے۔ ذومعنی الفاظ بولتے زور سے کچھ کہتے زیر لب کچھ اور کہہ دیتے۔ ظاہر میں ادب و آداب برقرار رکھتے ہوئے در پردہ آپ کی توہین کرنے میں کوئی دقیقہ اٹھا نہ رکھتے تھے۔ لفظ ”راعنا“ ایک ذومعنی لفظ ہے۔ جب آپ کی گفتگو کے دوران یہودیوں کو کبھی یہ کہنے کی ضرورت پیش آتی کہ ٹھہریئے ذرا ہمیں یہ بات سمجھ لینے دیجئیے! تو وہ راعنا کہتے۔ اس لفظ کا ظاہری مفہوم تو یہ تھا کہ ہماری رعایت کیجئے! اور ہماری بات سن لیجئے! مگر اس میں کئی احتمالات اور بھی تھے۔ مثلاً عبرانی میں اس سے ملتا جلتا ایک لفظ تھا۔ جس کے معنی تھے ”سن تو بہرا ہو جائے“ گفتگو میں ایسے موقع پر بولا جاتا تھا جب یہ کہنا ہو کہ تم ہماری سنو تو ہم تمہاری سنیں اور ذرا زبان لچکا کر ”راعینا“ بھی بنا لیا جاتا تھا۔ جس کے معنی ”اے ہمارے

صفحہ 59

توہین رسالت ﷺ کی شرعی سزا

چرواہے“ کے تھے۔

[تفہیم القرآن ١٠٠/١]

امام شوکانی ”لفظ 'راعنا'“ کی تشریح کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

في ذلك دليل على انه ينبغى تجنب الالفاظ المحتملة للسب والنقص وان لم يقصد المتكلم بها ذلك المعنى المفيد للشتم سدًّا للذريعة و دفعا للوسيلة وقطعًا للمادة المفسدة والتطرق اليه .

[فتح القدير ١٢٤/١]

اس آیت میں اس بات کی دلیل ہے کہ ایسے تمام الفاظ جن سے توہین رسالت کا احتمال ہو اگرچہ بولنے والے کی نیت توہین رسالت نہ ہو۔ پھر بھی ان کا استعمال قطعی طور پر ممنوع ہے۔

اس لیے اہل ایمان کو براہ راست مخاطب کر کے یہ حکم دیا گیا کہ وہ ایسے ذو معنی الفاظ سے قطعی طور پر احتراز کریں تاکہ شانِ رسالت میں کسی قسم کی پنہاں اور پوشیدہ گستاخی کا احتمال بھی ہمیشہ ہمیشہ کے لیے ختم ہو جائے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں۔

13

﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَقُولُوا رَاعِنَا وَقُولُوا انظُرْنَا وَاسْمَعُوا وَلِلْكَافِرِينَ عَذَابٌ أَلِيمٌ ﴾ .

[البقرة : ١٠٤]

”اے ایمان والو! راعنا نہ کہا کرو بلکہ انظرنا [یعنی ہماری طرف التفات کیجئے ] کہا کرو۔ اور توجہ سے بات سنو اور کافروں کے لیے عذاب الیم

صفحہ ٦٠

توہین رسالت ﷺ کی شرعی سزا

کے مستحق ہیں۔“

مولانا مفتی محمد شفیعؒ لکھتے ہیں:

بعض یہودیوں نے ایک شرارت ایجاد کی کہ جناب رسول اللہ ﷺ کے حضور میں آکر لفظ ”راعنا“ سے آپ کو خطاب کرتے۔ جس کے معنی ان کی عبرانی زبان میں ایک بددعا کے ہیں اور وہ اسی نیت سے کہتے تھے۔ مگر عربی زبان میں اس کے معنی ”ہماری مصلحت کی رعایت کیجئے“ کے ہیں۔ اس لیے عربی دان اس شرارت کو نہ سمجھ سکے اور اچھے معنی کے قصد سے بعض مسلمان بھی آپ کو اس کلمہ سے خطاب کرنے لگے۔ اس سے ان شریروں کو اور گنجائش ملی آپس میں بیٹھ کر ہنستے تھے کہ اب تک ہم ان کو خفیہ ہی برا کہتے تھے اب علانیہ کہنے کی تدبیر ایسی ہاتھ آگئی کہ مسلمان بھی اس میں شریک ہوگئے۔ حق تعالیٰ نے اس گنجائش کے قطع کرنے کو مسلمانوں کو حکم دیا کہ اس لفظ ”راعنا“ کا استعمال چھوڑ کر لفظ ”انظرنا“ استعمال کرو۔ تاکہ یہودیوں کی شرارت کامیاب نہ ہوسکے۔

[معارف القرآن ج ۱ ص ۲۸۰]

مذکورہ آیت کریمہ میں یہ بھی بتلایا گیا کہ ان کافروں کو اپنے کئے کی سزا ضرور ملے گی۔ بعض صاحبان نظر نے اس آیت کے اسلوب بیان سے یہ نتیجہ بھی اخذ کیا ہے کہ حق تعالیٰ کو یہودیوں کے اس فتنہ پرور گروہ کا یہ گستاخانہ انداز تخاطب اتنا ناگوار گزرا کہ ذاتِ الٰہی نے ان شریر یہودیوں سے خطاب کرنا بھی پسند نہیں فرمایا حالانکہ قرآن مجید میں اور دوسرے مواقع پر یہود ونصاریٰ کو جابجا مخاطب کیا گیا ہے۔

صفحہ ۶۱

توہین رسالت ﷺ کی شرعی سزا

امام شوکانیؒ حضرت عبداللہ بن عباسؓ کے حوالے سے بیان کرتے ہیں:

قال المؤمنون بعد هذه الآية من سمعتموه يقولها فاضربوا عنقه فانتهت اليهود بعد ذلك.

[فتح القدير ١٢٥/١]

اس آیت کے نزول کے بعد مسلمانوں کا یہ عقیدہ ہو گیا کہ اگر کوئی شخص ایسا لفظ استعمال کرے جس میں توہین رسالت کا احتمال ہو تو اس کی گردن اڑا دی جائے یہ دھمکی سن کر یہودی ایسے الفاظ استعمال کرنے سے باز آگئے۔

اس کی تائید اس حدیث سے بھی ہوتی ہے کہ جب حضرت سعد بن معاذؓ کو یہ معلوم ہوا کہ یہودی لفظ ”راعنا“ رسول اللہ ﷺ کے بارے میں بطور طعن و تشنیع استعمال کرتے ہیں تو آپ نے یہودیوں سے کہا:

عَلَيْكُمْ لَعْنَةُ اللّٰهِ لَئِنْ سَمِعْتُهَا مِنْ رَّجُلٍ مِّنْكُمْ يَقُوْلُهَا لِلنَّبِيِّ ﷺ لَاَضْرِبَنَّ عُنُقَهُ.

[تفسير قرطبی ٥٧/٢]

اے یہودیو! تم پر لعنت ہو اللہ کی آئندہ اگر میں نے تم میں سے کسی کو لفظ ”راعنا“ کہتے ہوئے سنا تو اس کی گردن اڑا دوں گا۔

14

﴿ فَلَا وَ رَبِّكَ لَا يُؤْمِنُوْنَ حَتّٰى يُحَكِّمُوْكَ فِيْمَا شَجَرَ بَيْنَهُمْ ثُمَّ لَا يَجِدُوْا فِىْٓ اَنْفُسِهِمْ حَرَجًا مِّمَّا قَضَيْتَ وَ يُسَلِّمُوْا تَسْلِيْمًا ﴾

[النساء: ٦٥]

”اے محمد ﷺ آپ کے رب کی قسم یہ کبھی مومن نہیں ہو سکتے جب

صفحہ ٦٢

توہین رسالت ﷺ کی شرعی سزا

تک کہ اپنے باہمی اختلافات میں یہ آپ کو فیصلہ کرنے والا نہ مان لیں پھر جو کچھ آپ فیصلہ کریں اس پر اپنے دلوں میں بھی کوئی تنگی محسوس نہ کریں بلکہ سر بسر تسلیم کرلیں۔‘‘

اس آیت کا حکم صرف آپ کی زندگی تک محدود نہیں ہے بلکہ قیامت تک کے لیے ہے جو کچھ اللہ کی طرف سے نبی ﷺ لائے ہیں اور جس طریقہ پر اللہ کی ہدایت و رہنمائی کے تحت آپ ﷺ نے عمل کیا ہے۔ وہ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے مسلمانوں کے درمیان فیصلہ کن سند ہے۔ اور اس سند کو ماننے یا نہ ماننے ہی پر آدمی کے مومن ہونے اور نہ ہونے کا فیصلہ ہے۔ حدیث میں اسی بات کو نبی ﷺ نے ان الفاظ میں بیان فرمایا ہے کہ:

لاَ يُؤْمِنُ أَحَدُكُمْ حَتَّى يَكُوْنَ هَوَاهُ تَبَعًا لِمَا جِئْتُ بِهِ

[البغوى فى شرح السنة ، كتاب الإيمان ، باب رد البدع والأهواء (رقم: ١٠٤)]

’’تم میں سے کوئی شخص مومن نہیں ہو سکتا جب تک کہ اس کی خواہش نفس اس طریقہ کے تابع نہ ہو جائے جسے میں لے کر آیا ہوں۔‘‘

آیت مذکورہ کا شان نزول مشہور و معروف وہ واقعہ ہے جس میں حضرت زبیر ؓ کا کسی شخص سے نالیوں سے باغ میں پانی لینے کے بارے میں جھگڑا ہو گیا تھا تو آپ نے فرمایا: زبیر تم پانی پلا لو پھر پانی کو انصاری کے باغ میں جانے دو اس پر انصاری نے کہا ہاں رسول اللہ! یہ تو آپ کی پھوپھی کے لڑکے ہیں۔ یہ سن کر آپ کا چہرہ مبارک متغیر ہو گیا۔ اور فرمایا زبیر ؓ تم پانی پلا لو پھر پانی روکے رکھو یہاں تک کہ باغ کی دیواروں تک پہنچ جائے پھر اپنے پڑوسی کی طرف چھوڑ دو۔ پہلے تو رسول ﷺ نے ایک ایسی صورت نکالی تھی کہ

صفحہ ٦٣

توہین رسالت ﷺ کی شرعی سزا

جس میں حضرت زبیر ؓ کو تکلیف نہ ہو اور انصاری کو کشادگی ہو جائے لیکن جب انصاری نے اسے اپنے حق میں بہتر نہ سمجھا تو آپ نے حضرت زبیر ؓ کو ان کا پورا حق دلوا دیا۔ حضرت زبیر ؓ فرماتے ہیں جہاں تک میرا خیال ہے یہ آیت ’’فلا وربك ..... الخ‘‘ اسی بارے میں نازل ہوئی ہے۔

[ابن کثیر، صحیح البخاری، کتاب المساقاة ، باب سکر الأنهار ، رقم (٢٣٥٩) ومسلم ، کتاب

الفضائل ، باب وجوب اتباعہ ، رقم (٢٣٥٧)]۔

یہاں کچھ مفسرین نے آیت مذکورہ کے شانِ نزول کا ایک دوسرا واقعہ بھی بیان فرمایا ہے جس کی روایت زیادہ غریب ہے واقعہ یہ ہے کہ ایک شخص بظاہر مسلمان [جو اصل منافق تھا] اور ایک یہودی کے درمیان کسی معاملہ پر تنازع ہوگیا۔ دونوں اس سلسلہ میں آپ کی خدمتِ اقدس میں حاضر ہوئے۔ آپ نے فیصلہ یہودی کے حق میں صادر فرمایا جس سے دوسرا فریق راضی نہ ہوا اور اس کے اصرار پر یہ دونوں معاملہ کو لے حضرت عمر ؓ کے پاس پہنچے ۔ آپ نے ان دونوں کے بیانات سنے۔ اور جب آپ ؓ کو معلوم ہوا کہ رسول اللہ ﷺ اس بارے میں یہودی کے حق میں فیصلہ صادر فرما چکے ہیں تو آپ نے خود اس منافق سے اس کی تصدیق کرلی اور اس کے بعد اسی وقت تلوار سے ان منافق کا سر قلم کر دیا اس کے بعد فرمایا:

اقضی بقضاء رسول الله ﷺ فاتی جبریل رسول الله ﷺ فقال ان عمر قد قتل الرجل وفرق الله بین الحق والباطل علی لسان عمر فسمی الفاروق .

[تفسیر الدر المنثور للسیوطی ٣٢٢/٢]

صفحہ ۶۴

توہین رسالت ﷺ کی شرعی سزا

جو اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے فیصلہ سے راضی نہ ہو اس کا یہی فیصلہ ہے۔ مقتول کے ورثاء کو جب یہ خبر پہنچی تو وہ آپ کے پاس آئے اور حضرت عمر ؓ کے خلاف قتل کا دعویٰ دائر کیا۔ جس پر سورہ نساء کی مذکورہ آیت مبارکہ نازل ہوئی۔

اور رسول اللہ ﷺ نے حضرت عمر ؓ کو ”فاروق“ کے خطاب سے سرفراز فرمایا۔

حضرت عمر ؓ کے اس فیصلے سے اور آیہ مبارکہ کے شانِ نزول کی روشنی میں یہ صاف ظاہر ہو گیا کہ آپ کے فیصلے کو تسلیم نہ کرنا بھی توہین اور گستاخی کا موجب ہے جس کی تصدیق سورہ نساء کی اس آیت نے کر دی ہے۔ اگر کوئی کافر یا منافق توہینِ رسالت کا ارتکاب کرے تو اس کی سزا صرف موت ہے۔ ایک مسلمان جس کا اللہ اور اس کے رسول ﷺ پر ایمان ہے وہ آپ کی گستاخی کا تصور بھی نہیں کر سکتا اور نہ ہی آپ کی شان میں کسی قسم کی گستاخی یا سوء ادبی برداشت کر سکتا ہے۔

15

﴿يٰأَيُّهَا الَّذِيْنَ آمَنُوْا لَا يَسْخَرْ قَوْمٌ مِّنْ قَوْمٍ عَسٰى أَنْ يَّكُوْنُوْا خَيْرًا مِّنْهُمْ وَلَا نِسَاءٌ مِّنْ نِّسَاءٍ عَسٰى أَنْ يَّكُنَّ خَيْرًا مِّنْهُنَّ ط وَلَا تَلْمِزُوْا أَنْفُسَكُمْ وَلَا تَنَابَزُوْا بِالْأَلْقَابِ ط بِئْسَ الاِسْمُ الْفُسُوْقُ بَعْدَ الْإِيْمَانِ ج وَمَنْ لَّمْ يَتُبْ فَأُولٰئِكَ هُمُ الظَّالِمُوْنَ﴾

[الحجرات: ۱۱]

صفحہ ٦٥

توہین رسالت ﷺ کی شرعی سزا

اے ایمان والو! نہ مرد مردوں کا مذاق اڑائیں ہو سکتا ہے کہ وہ ان سے بہتر ہوں اور نہ عورتیں دوسری عورتوں کا مذاق اڑائیں ہو سکتا ہے کہ وہ ان سے بہتر ہوں۔ آپس میں ایک دوسرے پر طعن نہ کرو نہ ایک دوسرے کو بُرے القاب سے یاد کرو ایمان لانے کے بعد فسق میں نام پیدا کرنا بہت بری بات ہے اور جو لوگ اس روش سے باز نہ آئیں وہی ظالم ہیں۔

اس آیت کی تفسیر میں مولانا مودودی لکھتے ہیں:

مذاق اڑانے سے مراد محض زبان ہی سے کسی کا مذاق اڑانا نہیں بلکہ کسی کی نقل اتارنا، اس کی طرف اشارے کرنا، اس کی بات پر یا اس کے کام یا اس کی صورت یا اس کے لباس پر ہنسنا، اس کے کسی نقص یا عیب کی طرف لوگوں کو اس طرح توجہ دلانا کہ دوسرے اس پر ہنسیں یہ سب بھی مذاق اڑانے میں داخل ہے۔ اصل ممانعت جس چیز کی ہے وہ یہ ہے کہ ایک شخص دوسرے شخص کی کسی نہ کسی طور پر تضحیک کرے کیونکہ اس تضحیک میں لازماً اپنی بڑائی اور دوسرے کی تذلیل اور تحقیر کے جذبات کارفرما ہوتے ہیں جو اخلاقاً سخت معیوب ہیں۔ مزید برآں اس سے دوسرے شخص کی دل آزاری بھی ہوتی ہے۔ جس سے معاشرے میں فساد رونما ہوتا ہے۔ اس بنا پر اس فعل کو حرام کیا گیا ہے۔

[تفہیم القرآن ص ۸۵/۵]

16

﴿يَحْذَرُ الْمُنٰفِقُوْنَ اَنْ تُنَزَّلَ عَلَيْهِمْ سُوْرَةٌ تُنَبِّئُهُمْ بِمَا فِیْ

صفحہ ۶۶

توہین رسالت ﷺ کی شرعی سزا

قُلُوبِهِمْ ۚ قُلِ اسْتَهْزِءُوْا اِنَّ اللّٰهَ مُخْرِجٌ مَّا تَحْذَرُوْنَ ٭ وَلَئِنْ سَاَلْتَهُمْ لَيَقُوْلُنَّ اِنَّمَا كُنَّا نَخُوْضُ وَ نَلْعَبُ ؕ قُلْ اَبِاللّٰهِ وَ اٰيٰتِهٖ وَرَسُوْلِهٖ كُنْتُمْ تَسْتَهْزِءُوْنَ ٭ لَا تَعْتَذِرُوْا قَدْ كَفَرْتُمْ بَعْدَ اِيْمَانِكُمْ ؕ اِنْ نَّعْفُ عَنْ طَآئِفَةٍ مِّنْكُمْ نُعَذِّبْ طَآئِفَةً ۢ بِاَنَّهُمْ كَانُوْا مُجْرِمِيْنَ﴾

[التوبة : ٦٤ - ٦٥ - ٦٦]

”یہ منافق ڈر رہے ہیں کہ کہیں ان پر کوئی ایسی سورت نازل نہ ہو جائے جو ان کے دلوں کے بھید کھول کر رکھ دے۔ اے نبی! ان سے کہو اور مذاق اڑاؤ، اللہ اس چیز کو کھول دینے والا ہے جس کے کھل جانے سے تم ڈر رہے ہو۔ اگر ان سے پوچھو کہ تم کیا باتیں کر رہے تھے تو جھٹ کہہ دیں گے کہ ہم تو ہنسی مذاق اور دل لگی کر رہے تھے۔ ان سے کہو کیا تمہاری ہنسی دل لگی اللہ اور اس کی آیات اور اس کے رسول ہی کے ساتھ تھی؟ اب عذر نہ کرو تم نے ایمان کے بعد کفر کیا ہے اگر ہم نے تم میں سے ایک گروہ کو معاف کر بھی دیا تو دوسرے گروہ کو ہم ضرور سزا دیں گے کیونکہ وہ مجرم ہے۔

شیخ الاسلام ابن تیمیہ ؒ لکھتے ہیں:

وهذا نص فى ان الاستهزاء بالله وبآياته وبرسوله كفر فالسب المقصود بطريق الاولى وقد دلت هذه الآية على ان كل من تنقص رسول الله ﷺ جادًّا او هازلًا فقد كفر.

[الصارم المسلول ص ٣٣]

”یہ آیت اس بارے میں نص ہے کہ اللہ تعالیٰ، اس کی آیات اور اس

توہین رسالت ﷺ کی شرعی سزا کے رسول ﷺ کا مذاق مقصود ہے یہ آیت اس امر ﷺ کی توہین کرے خوا مذاق وہ کافر ہوجاتا ہے۔

غزوہ تبوک کے زمانہ اللہ ﷺ اور مسلمانوں کا مذاق ہمتیں پست کرنے کی کوشش جہاد پاتے ۔ چنانچہ روایات مثلاً ایک محفل میں چند منافق رومیوں کو بھی تم نے کچھ عربوں سورما جو لڑنے تشریف لائے بولا مزا ہو جو اوپر سے موسلا دھار رسول ﷺ کو جنگ کی سرگرمی آپ کو دیکھتے آپ روم و شام شیخ الاسلام ابن تیمیہ ایک منافق نے غز جیسا کوئی شخص نہیں دیکھا جن جھوٹی ہو اور جو جنگ میں ان اور آپ کے صحابہ رضی اللہ عنہم تھے

rt Muhammad testify to the seal of the prophethood? Elaborate lationship with the Seal of the prophethood. 5- How does the incident discuss the pivotal role of ablution (wudhu) and prayer (salah) a ard. 3- What were the Jews waiting for and what supplication did th merah and highlight the importance of the conversion of the Jew cuss the proof of the Seal of prophethood in light of the Jewish tribes Maulana Muhammad Qasim Nanotvi (R.A) and Allama Anwar Sh the importance of the issue of the Seal of prophethood. Also discuss

Questions 32

صفحہ ۶۷

توہین رسالت صلی اللہ علیہ وسلم کی شرعی سزا

کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا مذاق اڑانا کفر ہے پس گالی دینا بطریق اولی مقصود ہے یہ آیت اس امر پر دلالت کرتی ہے کہ جو شخص رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی توہین کرے خواہ سنجیدگی سے ہو یا از راہ مذاق وہ کافر ہو جاتا ہے۔

غزوہ تبوک کے زمانہ میں منافقین اکثر اپنی مجلسوں میں بیٹھ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور مسلمانوں کا مذاق اڑایا کرتے تھے اور اپنی تضحیک سے ان لوگوں کی ہمتیں پست کرنے کی کوشش کرتے تھے۔ جنہیں وہ نیک نیتی کے ساتھ آمادہ جہاد پاتے۔ چنانچہ روایات میں ان لوگوں کے بہت سے اقوال منقول ہیں۔ مثلاً ایک محفل میں چند منافق بیٹھے گپ شپ کر رہے تھے۔ ایک نے کہا جی کیا رومیوں کو بھی تم نے کچھ عربوں کی طرح سمجھ رکھا ہے۔ کل دیکھ لینا کہ یہ سب سورما جو لڑنے تشریف لائے ہیں رسیوں میں بندھے ہوئے ہوں گے۔ دوسرا بولا مزا ہو جو اوپر سے سو سو کوڑے لگانے کا بھی حکم ہو جائے ایک اور منافق نے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو جنگ کی سرگرم تیاریاں کرتے دیکھ کر اپنے یار دوستوں سے کہا آپ کو دیکھتے آپ روم و شام کے قلعے فتح کرنے چلے ہیں۔

شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ لکھتے ہیں:

ایک منافق نے غزوہ تبوک میں کہا میں نے اپنے ان قاریوں جیسا کوئی شخص نہیں دیکھا جن کے پیٹ اتنے بڑے ہوں جن کی زبان اتنی جھوٹی ہو اور جو جنگ میں ان سے زیادہ بزدل ہوں اس کی مراد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ رضی اللہ عنہم تھے۔ حضرت عوف بن مالک رضی اللہ عنہ نے اس سے کہا تم

صفحہ ۶۸

توہین رسالت ﷺ کی شرعی سزا

منافق ہو اور جھوٹ کہتے ہو میں رسول اللہ ﷺ کو اس سے آگاہ کردوں گا چنانچہ حضرت عوفؓ رسول کریم ﷺ کو بتانے کے لیے گئے تو پتہ چلا کہ اس بارے میں پہلے ہی قرآن نازل ہوچکا ہے ۔ یہ شخص رسول کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ اس وقت سفر کے لیے اپنی اونٹنی پر سوار ہوچکے تھے۔ اس نے کہا یا رسول اللہ ! ہم ہنسی مذاق کرتے تھے۔ جس طرح قافلہ والے کرتے ہیں اور اس طرح اپنا سفر طے کرتے ہیں۔

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں گویا کہ میں اسے دیکھ رہا ہوں وہ رسول کریم ﷺ کی ناقہ کی رسی کے ساتھ لٹکا ہوا تھا۔ پتھر اس کے پاؤں زخمی کر رہے تھے اور وہ کہہ رہا تھا کہ ہم تو صرف کھیل تماشا کر رہے تھے۔ رسول کریم ﷺ اسے فرما رہے تھے کہ کیا تم اللہ اور اس کے رسول اور اس کی آیات کا مذاق اڑا رہے تھے۔

[الصارم المسلول ص ۳۳]

شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ آگے چل کر لکھتے ہیں:

ان لوگوں نے جب رسول کریم ﷺ اور آپ کے اہل علم صحابہؓ کی تحقیر اور مذمت کی اور آپ کی باتوں کو اہمیت نہ دی تو اللہ تعالیٰ نے خبر دی کہ ان لوگوں نے کفر کا ارتکاب کیا ہے اگرچہ انہوں نے یہ بات مذاق کے طور پر کہی تھی پھر جو چیز اس سے شدید تر ہوگی اس کا کیا حال ہوگا؟ ان پر حد اس لیے نہ لگائی کہ ابھی منافقین کے خلاف جہاد کرنے کا حکم نازل نہیں ہوا تھا۔ بخلاف ازیں آپ کو حکم دیا گیا تھا کہ ان کی ایذاء رسانی کو نظر انداز کردیں نیز اس لیے کہ آپ کو یہ حق حاصل تھا کہ آپ کی تحقیر کرنے والوں کو معاف کردیں۔

[الصارم المسلول ص ۳۴]

صفحہ ٦٩

توہین رسالت ﷺ کی شرعی سزا 17 ﴿ وَ مِنْهُم مَّنْ يَّلْمِزُكَ فِي الصَّدَقَاتِ ۚ فَاِنْ اُعْطُوْا مِنْهَا رَضُوْا وَ اِنْ لَّمْ يُعْطَوْا مِنْهَا اِذَا هُمْ يَسْخَطُوْنَ ﴾

[التوبہ: ٥٨]

’’اے نبی! ان میں سے بعض لوگ صدقات کی تقسیم میں تم پر اعتراضات کرتے ہیں اگر اس مال میں سے انہیں کچھ دے دیا جائے تو خوش ہو جائیں اور نہ دیا جائے تو بگڑنے لگتے ہیں۔‘‘

مولانا مودودی مرحوم لکھتے ہیں:

عرب میں یہ پہلا موقع تھا کہ ملک کے تمام ان باشندوں پر جو ایک مقرر مقدار سے زائد مال رکھتے تھے باقاعدہ زکوٰۃ عائد کی گئی تھی اور وہ ان کی زرعی پیداوار سے، ان کے مویشیوں سے، ان کے اموالِ تجارت سے، کان کی معدنیات سے اور ان کے سونے، چاندی کے ذخائر سے ٢.٥ فیصد، ٥ فیصد، ١٠ فیصد اور ٢٠ فیصد کی مختلف شرحوں کے مطابق وصول کی جاتی تھی۔ یہ سب اموالِ زکوٰۃ ایک منظم طریقہ سے وصول کئے جاتے اور ایک مرکز پر جمع ہو کر منظم طریقہ سے خرچ کئے جاتے اس طرح نبی ﷺ کے پاس ملک کے اطراف سے اتنی دولت سمٹ کر آتی اور آپؐ کے ہاتھوں خرچ ہوتی تھی جو عرب کے لوگوں نے کبھی اس سے پہلے کسی ایک شخص کے ہاتھوں جمع اور تقسیم ہوتے نہیں دیکھی تھی۔ دنیا پرست منافقین کے منہ میں اس دولت کو دیکھ کر پانی بھر آتا تھا وہ چاہتے تھے کہ اس بہتے ہوئے دریا سے ان کو خوب سیر ہو کر پینے کا موقع ملے۔

صفحہ 70

توہین رسالت ﷺ کی شرعی سزا

مگر یہاں پلانے والا خود اپنے اوپر اور اپنے متعلقین پر اس دریا کے ایک ایک قطرے کو حرام کر چکا تھا اور کوئی یہ توقع نہ کر سکتا تھا کہ اس کے ہاتھوں سے مستحق لوگوں کے سوا کسی اور کے لب تک جام پہنچ سکے گا۔ یہی وجہ ہے کہ منافقین رسول اللہ ﷺ کی تقسیم صدقات کو دیکھ کر دلوں میں کڑھتے تھے اور تقسیم کے موقع پر آپ کو طرح طرح کے الزامات سے مطعون کرتے تھے دراصل شکایت تو انہیں یہ تھی کہ اس مال پر ہمیں دست درازی کا موقع نہیں دیا جاتا مگر اس حقیقی شکایت کو چھپا کر وہ الزام یہ رکھتے تھے کہ مال کی تقسیم، انصاف سے نہیں کی جاتی اور اس میں جانب داری سے کام لیا جاتا ہے۔

[تفہیم القرآن ۲۰۴/۲]

حافظ ابن کثیرؒ لکھتے ہیں:

روایت میں ہے کہ ایک نو مسلم اعرابی رسول اللہ ﷺ کو سونا چاندی تقسیم کرتے ہوئے دیکھ کر کہنے لگا اگر اللہ نے آپ ﷺ کو عدل کا حکم دیا ہے تو آپ عدل نہیں کرتے آپ نے فرمایا تیرا ستیاناس ہو اگر میں بھی عادل نہیں تو زمین پر کون عادل ہوگا؟ پھر آپ نے فرمایا اس سے اور اس جیسوں سے بچو۔ میری امت میں اس جیسے لوگ ہوں گے قرآن پڑھیں گے لیکن حلق سے نیچے نہیں اترے گا۔ وہ جب نکلیں ان کو قتل کر ڈالو پھر نکلیں پھر مار ڈالو پھر جب ظاہر ہوں پھر گردنیں مارو۔ آپ نے فرمایا قسم اللہ کی نہ میں تمہیں دوں نہ تم سے روکوں میں تو ایک خازن ہوں۔

[تفسیر ابن کثیر ۴۱۰/۳]

جنگ حنین کے مال غنیمت کی تقسیم کے وقت ذوالخویصرہ حرقوص نامی شخص نے آپ پر اعتراض کیا اور کہا:

صفحہ ۷۱

توہین رسالت ﷺ کی شرعی سزا

اعدل فانك لم تعدل فقال لقد خبت و خسرت ان لم اكن اعدل ثم قال رسول اللہ ﷺ وقد رآه مقفيا انه يخرج من ضئضئ هذا قوم يحقر احدكم صلاته مع صلاتهم وصيامه مع صيامهم يمرقون من الدين مروق السهم من الرمية فاينما لقيتموهم فاقتلوهم فانهم شر قتلة تحت اديم السماء.

[تفسیر ابن کثیر ٤١١/٣]

”آپ عدل نہیں کرتے ، انصاف سے کام کریں، آپ نے فرمایا اگر میں بھی عدل نہیں کرتا تو پھر تو برباد ہو اور تیرا ستیاناس ہو جب وہ منہ پھیر کر جانے لگا تو آپ نے فرمایا اس کی نسل سے ایک قوم نکلے گی جن کی نمازوں اور روزوں کے مقابلے میں تم اپنی نمازوں اور روزوں کو حقیر سمجھو گے لیکن وہ دین سے ایسے نکل جائیں گے جیسے تیر شکار سے، تمہیں جہاں بھی وہ مل جائیں ان کے قتل میں کمی نہ کرو۔ آسمان تلے ان مقتولوں سے بدتر مقتول اور کوئی نہیں۔“

18

يٰاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا تُقَدِّمُوْا بَيْنَ يَدَيِ اللّٰهِ وَرَسُوْلِهٖ وَاتَّقُوا اللّٰهَ اِنَّ اللّٰهَ سَمِيْعٌ عَلِيْمٌ ☆ يٰاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا تَرْفَعُوْا اَصْوَاتَكُمْ فَوْقَ صَوْتِ النَّبِيِّ وَلَا تَجْهَرُوْا لَهٗ بِالْقَوْلِ كَجَهْرِ بَعْضِكُمْ لِبَعْضٍ اَنْ تَحْبَطَ اَعْمَالُكُمْ وَاَنْتُمْ لَا تَشْعُرُوْنَ ☆ اِنَّ الَّذِيْنَ يَغُضُّوْنَ اَصْوَاتَهُمْ عِنْدَ رَسُوْلِ اللّٰهِ اُولٰئِكَ الَّذِيْنَ

صفحہ 77

توہین رسالت ﷺ کی شرعی سزا

امْتَحَنَ اللّٰهُ قُلُوْبَهُمْ لِلتَّقْوٰى لَهُمْ مَّغْفِرَةٌ وَّ أَجْرٌ عَظِيْمٌ ۞ إِنَّ الَّذِيْنَ يُنَادُوْنَكَ مِنْ وَّرَاءِ الْحُجُرَاتِ أَكْثَرُهُمْ لَا يَعْقِلُوْنَ ﴿

[الحجرات : ۱ - ۲ - ۳ - ٤]

”اے لوگو جو ایمان لائے ہو اللہ اور اس کے رسول کے آگے پیش قدمی نہ کرو اور اللہ سے ڈرو اللہ سب کچھ سننے اور جاننے والا ہے۔ اے لوگو جو ایمان لائے ہو اپنی آواز نبی کی آواز سے بلند نہ کرو اور نہ نبی کے ساتھ اونچی آواز سے بات کیا کرو جس طرح تم آپس میں ایک دوسرے کے ساتھ کرتے ہو کہیں ایسا نہ ہو کہ تمہارا کیا کرایا سب غارت ہو جائے اور تمہیں خبر بھی نہ ہو ۔ جولوگ رسول اللہ ﷺ کے حضور بات کرتے ہوئے اپنی آواز پست رکھتے ہیں وہ در حقیقت وہی لوگ ہیں جن کے دلوں کو اللہ نے تقوی کے لیے جانچ لیا ہے ان کے لیے مغفرت ہے اور اجر عظیم ۔ اے نبی جو لوگ تمہیں حجروں کے باہر سے پکارتے ہیں ان میں سے اکثر بے عقل ہیں ۔“

وہ ہستی ساری انسانیت کے لیے واجب الاحترام ہے اس کے دربار رسالت میں ادب واحترام سے گفتگو اور مخاطب کے آداب بھی قرآن مجید نے اہل ایمان کو سکھلائے ہیں آپ کی مخالفت اور دشمنی تو صریحاً کفر ہے۔ لیکن آپ کی شان میں کسی قسم کی سوء ادبی بھی غارت گر اعمال اور اعلان کفر ہے۔

سورۂ حجرات کا موضوع ہی اہل ایمان کو دربار رسالت میں آداب کی تعلیم دینا ہے ۔ سب سے پہلے مسلمانوں کو واضح طور پر یہ حکم دیا جارہا ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے سامنے تقدّم اور پیش قدمی نہ کرو۔ کس چیز میں پیش قدمی کو

توہین رسالت ﷺ کی شرعی سزا

منع فرمایا ہے قرآن کریم نے ا ہے کہ کسی قول یا فعل میں رسول رسول اللہ ﷺ کیا جواب دی مامور فرمادیں تو وہ جواب دے آپ سے آگے نہ بڑھے۔ کھا کرے مگر یہ کہ آپ کی تصریح ا کسی کو آگے بھیجنا چاہتے ہیں پر مامور کیا جاتا تھا۔

علمائے دین اور دینی م ملحوظ رکھنا چاہیے۔

بعض علماء نے فرمایا وارثِ انبیاء ہیں اور دلیل اس ضی اللہ کو رسول اللہ ﷺ نے دی تو آپ نے تنبیہ فرمائی اور فر و آخرت میں تم سے بہتر ہے ا ایسے شخص پر نہیں ہوا جو انبیاء کے اس لئے علماء نے فرمایا کہ

لَا تَرْفَعُوْا أَصْوَاتَكُ

the importance of the issue of the Seal of prophethood. Also discuss i Maulana Muhammad Qasim Nanotvi (R.A) and Allama Anwar Sha cuss the proof of the Seal of prophethood in light of the Jewish tribes i ward. 3- What were the Jews waiting for and what supplication did th baqarah and highlight the importance of the conversion of the Jew Discuss the pivotal role of ablution (wudhu) and prayer (salah) a relationship with the Seal of the prophethood. 5- How does the incident that Muhammad ﷺ testify to the seal of the prophethood? Elaborate

Questions 32

صفحہ ٧٣

توہین رسالت ﷺ کی شرعی سزا

منع فرمایا ہے قرآن کریم نے اس کو ذکر نہیں کیا جس میں اشارہ عموم کی طرف ہے کہ کسی قول یا فعل میں رسول اللہ ﷺ سے پیش قدمی نہ کرو بلکہ انتظار کرو کہ رسول اللہ ﷺ کیا جواب دیتے ہیں۔ ہاں آپ ہی کسی کو جواب کے لیے مامور فرمادیں تو وہ جواب دے سکتا ہے اسی طرح اگر آپ چل رہے ہیں تو کوئی آپ سے آگے نہ بڑھے۔ کھانے کی مجلس ہے تو آپ سے پہلے کھانا نہ شروع کرے مگر یہ کہ آپ کی تصریح یا قرائن قویہ سے یہ ثابت ہو جائے کہ آپ خود ہی کسی کو آگے بھیجنا چاہتے ہیں جیسے سفر اور جنگ میں کچھ لوگوں کو آگے چلنے پر مامور کیا جاتا تھا۔

علمائے دین اور دینی مقتداؤں کے ساتھ بھی یہی ادب

ملحوظ رکھنا چاہیے۔

بعض علماء نے فرمایا ہے کہ علماء اور ائمہ دین کا بھی یہی حکم ہے کیونکہ وہ وارثِ انبیاء ہیں اور دلیل اس کی یہ واقعہ ہے کہ ایک دن حضرت ابو درداء ؓ کو رسول اللہ ﷺ نے دیکھا کہ حضرت ابوبکر ؓ کے آگے چل رہے ہیں تو آپ نے تنبیہ فرمائی اور فرمایا کہ کیا تم ایسے شخص کے آگے چلتے ہو جو دنیا و آخرت میں تم سے بہتر ہے اور فرمایا کہ دنیا میں آفتاب کا طلوع و غروب کسی ایسے شخص پر نہیں ہوا جو انبیاء کے بعد ابو بکر ؓ سے بہتر افضل ہو۔

اس لئے علماء نے فرمایا کہ اپنے استاذ کے ساتھ بھی یہی ادب ملحوظ رکھنا چاہیے۔ لَا تَرْفَعُوْا اَصْوَاتَكُمْ فَوْقَ صَوْتِ النَّبِيِّ : یہ دوسرا وہ ادب ہے جو

صفحہ ۷۴

توہین رسالت ﷺ کی شرعی سزا

رسول اللہ ﷺ کی مجلس میں بیٹھنے والوں اور آپ کی خدمت میں حاضر ہونے والوں کو سکھایا گیا تھا۔ اس کا منشا یہ تھا کہ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ملاقات اور بات چیت میں اہل ایمان آپ کا انتہائی احترام ملحوظ رکھیں کسی شخص کی آواز آپ کی آواز سے بلند تر نہ ہوں۔ آپ سے خطاب کرتے ہوئے لوگ یہ بھول نہ جائیں کہ کسی عام آدمی یا اپنے برابر والے سے نہیں بلکہ اللہ کے رسول ﷺ سے مخاطب ہیں۔ اس لیے عام آدمیوں کے ساتھ گفتگو اور آپ کے ساتھ گفتگو میں نمایاں فرق ہونا چاہیے اور کسی کو آپ سے اونچی آواز میں کلام نہ کرنا چاہیے۔

یہ ادب اگرچہ نبی ﷺ کی مجلس کے لیے سکھایا گیا تھا اور اس کے مخاطب وہ لوگ تھے جو حضور ﷺ کے زمانے میں موجود تھے۔ مگر بعد کے لوگوں کو بھی ایسے تمام مواقع پر یہی ادب ملحوظ رکھنا چاہیے۔ جب آپ کا تذکرہ ہو رہا ہو یا آپ کا کوئی حکم سنایا جائے یا آپ کی احادیث بیان کی جائیں اس کے علاوہ اس آیت سے یہ ایماء بھی نکلتا ہے کہ لوگوں کو اپنے سے بزرگ تر اشخاص کے ساتھ گفتگو میں کیا طرز عمل اختیار کرنا چاہیے کسی شخص کا اپنے بزرگوں کے سامنے اس طرح بولنا جس طرح وہ اپنے دوستوں سے یا عام آدمیوں کے سامنے بولتا ہے دراصل اس بات کی علامت ہے کہ اس کے دل میں ان کے لیے کوئی احترام موجود نہیں اور وہ ان میں اور عام آدمیوں میں کوئی فرق نہیں سمجھتا۔

آیت کے نزول کے بعد صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا حال

رسول اللہ ﷺ کے سامنے آپ کی آواز سے زیادہ آواز بلند کرنا یا بلند آواز سے اس طرح گفتگو کرنا جیسے آپس میں ایک دوسرے سے بے محابا

صفحہ ۷۵

توہین رسالت ﷺ کی شرعی سزا

کیا کرتے ہیں۔ ایک قسم کی بے ادبی گستاخی ہے۔ چنانچہ اس کے نزول سے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا یہ حال ہو گیا کہ حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ قسم ہے کہ اب مرتے دم تک آپ سے اس طرح بولوں گا جیسے کوئی کسی سے سرگوشی کرتا ہو۔

[درمنثور للسیوطی ص ۵۴۸/۷]

اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ اس قدر آہستہ بولنے لگے کہ بعض اوقات دوبارہ پوچھنا پڑتا تھا۔

[جامع الترمذي ، أبواب التفسير عن رسول الله ﷺ ، باب سورة الحجرات]

اور حضرت ثابت بن قیس رضی اللہ عنہ طبعی طور پر بہت بلند آواز تھے ۔ یہ آیت سن کر وہ بہت ڈرے اور روئے اور اپنی آواز کو پست کیا۔

[درمنثور للسیوطی ۵۴۹/۷]

روضہ رسول ﷺ کے سامنے بھی بہت بلند آواز سے

سلام و کلام کرنا منع ہے

قاضی ابوبکر بن عربیؒ نے فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ کی تعظیم اور ادب آپ کی وفات کے بعد بھی ایسا ہی واجب ہے جیسا حیات میں تھا اس لیے بعض علماء نے فرمایا کہ آپ کی قبر شریف کے سامنے بھی زیادہ بلند آواز سے سلام و کلام کرنا ادب کے خلاف ہے ۔ اسی طرح مجلس میں رسول اللہ ﷺ کی احادیث پڑھی یا بیان کی جارہی ہوں اس میں بھی شور و شغب کرنا بے ادبی ہے کیونکہ آپ کا کلام جس وقت آپ کی زبان مبارک سے ادا ہو رہا ہو اس وقت سب کے لیے خاموش ہو کر اس کا سننا واجب و ضروری تھا اسی طرح وفات کے

صفحہ ۷۶

توہین رسالت ﷺ کی شرعی سزا

بعد جس مجلس میں آپ کا کلام سنایا جاتا ہو وہاں شور و شغب کرنا بے ادبی ہے۔

جس طرح تقدّم علی النبی ﷺ کی ممانعت میں علماء دین بحیثیت وارثِ انبیاء ﷺ ہونے کے داخل ہیں اسی طرح رفع صوت کا بھی یہی حکم ہے کہ علماء کی مجلس میں اتنی بلند آواز سے نہ بولے جس سے ان کی آواز دب جائے۔

[تفسیر قرطبی ۳۰۷/۱۶]

شیخ الاسلام حافظ ابن تیمیہؒ لکھتے ہیں: فاذا كان الاذى والاستخفاف الذى يحصل فى سوء الادب من غير قصد صاحبه يكون كفرا فالاذى والاستخفاف المقصود المعتمد كفر بطريق الاولى.

[الصارم المسلول ص ۵۵]

”جب ایسی تکلیف واستخفاف جو بلا قصد ہونے کے باوجود سوءِ ادب اور کفر میں داخل ہے تو پھر جو استخفاف اور تکلیف عمداً اور بالقصد کی جائے تو اس کے صریح کفر ہونے میں کیا شبہ رہ جاتا ہے تو یہ تو بطریق اولیٰ کفر شمار ہوگا۔“

امام قرطبیؒ لکھتے ہیں: وليس الفرض برفع الصوت ولا الجهر ما يقصد به الاستخفاف والاستهانة لان ذلك كفر والمخاطبون مؤمنون.

[الجامع لاحكام القرآن ۳۷۰/۱۶]

”اس آیت میں جس بلند آواز سے منع کیا گیا ہے وہ ایسی بلند آواز نہیں جس کا مقصد رسول اللہ ﷺ کا استخفاف واہانت ہو کیونکہ

توہین رسالت ﷺ کی شرعی سزا

ایسی بلند آواز تو کفر ہے اور کے لیے آپ کی ذات گرامی آپ ہی سراپا دین ہیں۔“

علامہ آلوسی بغدادیؒ لکھتے ہیں والقاعدة المختارة ان ای مبلغ الكفر المحبط للعمل مظنة لاذى النبى ﷺ حماية للذريعة وحسمًا

یہ مسلمہ قاعدہ ہے کہ رسو تکلیف پہنچانا کفر ہے جس سے ا ایسے اعمال سے بھی منع فرمایا گیا إِنَّ الَّذِيْنَ يُنَادُوْنَكَ مِنْ وَّرَاءِ اس آیت میں نبی ﷺ آپ ﷺ اپنے مکان اور آرام گا ہو کر آپ ﷺ کو پکارنا خصوصاً بے ادبی ہے، عقل والوں کے یہ میں حجرہ ایک چار دیواری سے گھرا ہو کچھ مسقف عمارت ہو نبی ﷺ نہ تھیں ان میں سے ہر ایک کے

32 Questions phet Muhammad ﷺ testify to the seal of the prophethood? Elaborate lationship with the Seal of the prophethood. 5- How does the inciden urah and highlight the importance of the conversion of the Jew ed. 3- What were the Jews waiting for and what supplication did th discuss the pivotal role of ablution (wudhu) and prayer (salah) a Maulana Muhammad Qasim Nanotvi (R.A) and Allama Anwar Sh ate the importance of the issue of the Seal of prophethood. Also discuss

صفحہ ۷۷

توہین رسالت ﷺ کی شرعی سزا

ایسی بلند آواز تو کفر ہے اور یہ خطاب بھی اہل ایمان سے ہے جن کے لیے آپ کی ذاتِ گرامی اصل ایمان بلکہ عین ایمان ہے کیونکہ آپ ہی سراپا دین ہیں۔‘‘

علامہ آلوسی بغدادیؒ لکھتے ہیں:

و القاعدة المختارة ان ايذاءه عليه الصلوة و السلام يبلغ مبلغ الكفر المحبط للعمل باتفاق فورد النهى عما هو مظنة لاذى النبى ﷺ سواء وجد هذا المعنى او لا حماية للذريعة و حسمًا للمادة.

[روح المعانی ص ۱۳۶ ج ۲۶]

یہ مسلمہ قاعدہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ کو کسی قول یا فعل کے ذریعہ تکلیف پہنچانا کفر ہے جس سے انسان کے تمام اعمال ضائع ہوجاتے ہیں لہذا ایسے اعمال سے بھی منع فرمایا گیا ہے جس سے آپ کو اذیت پہنچنے کا احتمال ہو۔

اِنَّ الَّذِيْنَ يُنَادُوْنَكَ مِنْ وَّرَاءِ الْحُجُرَاتِ اَكْثَرُهُمْ لَا يَعْقِلُوْنَ۔

اس آیت میں نبی ﷺ کا ایک تیسرا ادب سکھایا گیا ہے کہ جس وقت آپ ﷺ اپنے مکان اور آرام گاہ میں تشریف فرما ہوں اس وقت باہر کھڑے ہو کر آپ ﷺ کو پکارنا خصوصاً گنوار پن کے ساتھ کہ نام لے کر پکارا جائے یہ بے ادبی ہے، عقل والوں کے یہ کام نہیں۔ حجرات حجرہ کی جمع ہے۔ اصل لغت میں حجرہ ایک چار دیواری سے گھرے ہوئے مکان کو کہتے ہیں جس میں کچھ صحن ہو کچھ مُسَقَّف عمارت ہو نبی ﷺ کی ازواج مطہرات رضی اللہ عنہن مدینہ طیبہ میں نو تھیں ان میں سے ہر ایک کے لیے ایک حجرہ الگ الگ تھا جن میں آپ باری

صفحہ 78

توہین رسالت ﷺ کی شرعی سزا

باری تشریف فرما ہوتے تھے۔

حُجراتِ امہات المومنین رضی اللہ عنہن

ابن سعد نے بروایت عطاء خراسانی لکھا ہے کہ یہ حُجرات کھجور کی شاخوں سے بنے ہوئے تھے اور ان کے دروازوں پر موٹے سیاہ اون کے پردے پڑے ہوئے تھے۔ امام بخاری رحمہ اللہ نے ”الأدب المفرد“ میں اور امام بیہقی نے داؤد بن قیس سے روایت کیا ہے وہ کہتے ہیں کہ میں نے ان حُجرات کی زیارت کی ہے۔ میرا گمان یہ ہے کہ حجرہ کے دروازہ سے سقفِ بیت تک چھ سات ہاتھ ہوگا۔ اور بیت (کمرہ) دس ہاتھ اور چھت کی اونچائی سات آٹھ ہاتھ ہوگی۔ یہ حُجرات امہات المومنین ولید بن عبدالملک کی حکومت میں ان کے حکم سے مسجد نبوی میں شامل کر دیئے گئے۔ مدینہ میں اس روز لوگوں پر آہ و بکا طاری تھی۔

[تفسیر روح المعانی ١٣٩/٢٦]

آیت مذکورہ کا شانِ نزول

امام بغویؒ نے بروایت قتادہ رضی اللہ عنہ ذکر کیا ہے کہ قبیلہ بنو تمیم کے جو لوگ آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے تھے یہ دوپہر کے وقت مدینہ میں پہنچے جبکہ آپ کسی حجرہ میں آرام فرما رہے تھے۔ یہ لوگ اعرابی تھے، آداب معاشرت سے ناواقف تھے۔ انہوں نے حُجرات کے باہر ہی سے پکارنا شروع کر دیا ”اُخْرُجْ اِلَيْنَا يَا مُحَمَّدُ“ اس پر یہ آیت نازل ہوئی جس میں اس طرح پکارنے کی ممانعت اور انتظار کرنے کا حکم دیا گیا۔ مسند احمد، ترمذی وغیرہ میں بھی یہ روایت مختلف الفاظ سے آئی ہے۔

صفحہ ۷۹

توہین رسالت ﷺ کی شرعی سزا

تنبیہ: صحابہ و تابعینؒ نے اپنے علماء و مشائخ کے ساتھ بھی اسی ادب کا استعمال کیا ہے۔ صحیح بخاری وغیرہ میں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے منقول ہے کہ جب میں کسی عالم صحابیؓ سے کوئی حدیث دریافت کرنا چاہتا تو ان کے مکان پر پہنچ کر ان کو آواز یا دروازہ پر دستک دینے سے پرہیز کرتا اور دروازہ کے باہر بیٹھ جاتا کہ جب وہ خود ہی باہر تشریف لائیں گے اس وقت ان سے دریافت کروں گا وہ مجھے دیکھ کر فرماتے ”اے رسول اللہ کے چچا زاد بھائی آپ نے دروازہ پر دستک دے کر کیوں نہ اطلاع کر دی تھی۔“ ابن عباسؓ نے فرمایا کہ عالم اپنی قوم میں مثل نبیؐ کے ہوتا ہے اور اللہ تعالیٰ نے نبی کی شان میں یہ ہدایت فرمائی ہے کہ ان کے باہر آنے کا انتظار کیا جائے۔ حضرت ابو عبیدہؓ نے فرمایا کہ میں نے کبھی کسی عالم کے دروازہ پر جا کر دستک نہیں دی بلکہ ان کا انتظار کیا کہ وہ خود ہی جب باہر تشریف لائیں گے اس وقت ملاقات کروں گا۔

[روح المعانی ١٤٤/٢٦]

19 ﴿ لَا تَجْعَلُوْا دُعَاءَ الرَّسُوْلِ بَيْنَكُمْ كَدُعَاءِ بَعْضِكُمْ بَعْضًا قَدْ يَعْلَمُ اللّٰهُ الَّذِيْنَ يَتَسَلَّلُوْنَ مِنْكُمْ لِوَاذًا فَلْيَحْذَرِ الَّذِيْنَ يُخَالِفُوْنَ عَنْ اَمْرِهٖ اَنْ تُصِيْبَهُمْ فِتْنَةٌ اَوْ يُصِيْبَهُمْ عَذَابٌ اَلِيْمٌ ﴾.

[سورہ نور: ٦٣]

”مسلمانوں اپنے درمیان رسول ﷺ کے بلانے کو آپس میں ایک دوسرے کا سا بلانا نہ سمجھ بیٹھو اللہ ان کو خوب جانتا ہے جو تم میں ایسے ہیں کہ ایک دوسرے کی آڑ لیتے ہوئے چپکے سے سَرک جاتے ہیں

صفحہ 80

توہین رسالت ﷺ کی شرعی سزا

رسول کے حکم کی خلاف ورزی کرنے والوں کو ڈرنا چاہیے کہ وہ کسی فتنہ میں گرفتار نہ ہو جائیں یا ان پر درد ناک عذاب نہ آئے۔

اس آیت کی ایک تفسیر تو یہ ہے کہ ”دُعَاءَ الرَّسُوْلِ“ سے مراد رسول اللہ ﷺ کا لوگوں کو بلانا ہے [جو نحوی قاعدہ سے اضافت الی الفاعل ہے] اور معنی آیت کے یہ ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جب لوگوں کو بلائیں تو اس کو عام لوگوں کے بلانے کی طرح نہ سمجھو کہ اس میں ”آنے ، نہ آنے کا اختیار رہتا ہے بلکہ اس وقت آنا فرض ہو جاتا ہے اور بغیر اجازت جانا حرام ہو جاتا ہے۔

اور اس کی ایک دوسری تفسیر حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے ابن کثیر اور قرطبی وغیرہ نے نقل کی ہے کہ ”دُعَاءَ الرَّسُوْلِ“ سے مراد لوگوں کا رسول اللہ ﷺ کو کسی کام کے لیے پکارنا اور بلانا ہے [جو نحوی ترکیب میں اضافت الی المفعول ہوگی] اس تفسیر کی بنا پر معنی آیت کے یہ ہوں گے کہ جب تم رسول اللہ ﷺ کو کسی ضرورت سے بلاؤ یا مخاطب کرو تو عام لوگوں کی طرح آپ کا نام لے کر یا محمد نہ کہو کہ بے ادبی ہے بلکہ تعظیمی القاب کے ساتھ یا رسول اللہ ، یا نبی اللہ وغیرہ کہا کرو۔ اس کا حاصل رسول اللہ ﷺ کی تعظیم وتوقیر کا مسلمانوں پر واجب ہونا اور ہر ایسی چیز سے بچنا جو ادب کے خلاف ہو یا جس سے رسول اللہ ﷺ کو تکلیف پہنچے یہ حکم ایسا ہو گا جیسے سورہ حجرات میں اس طرح کے کئی حکم دیئے گئے ہیں جن کا ذکر تفصیل سے ہم کر چکے ہیں۔

تنبیہ :۔ اس دوسری تفسیر میں ایک عام ادب بزرگوں اور بڑوں کا بھی معلوم ہوا کہ اپنے بزرگوں ، بڑوں کو ان کے نام لے کر پکارنا اور بلانا بے ادبی ہے

صفحہ ۸۱

توہین رسالت ﷺ کی شرعی سزا

تعظیمی لقب سے مخاطب کرنا چاہیے۔

شیخ الاسلام حافظ ابن تیمیہ رحمہ اللہ علیہ فرماتے ہیں:

فاذا كان المخالف عن امره قد حذر من الكفر والشرك أو من العذاب الأليم دل على انه قد يكون مفضيا الى الكفر أو العذاب الأليم ومعلوم ان افضاءه الى العذاب هو مجرد فعل المعصية فافضاءه الى الكفر انما هو لما قد يقترن به من استخفاف بحق الآمر كما فعل ابليس فكيف لما هو اغلظ من ذلك كالسب والانتقاص ونحوه؟ وهذا باب واسع مع انه بحمد الله مُجْمَع عليه لكن اذا تعددت الدلالات تعاضرت على غلظ كفر الساب وعظم عقوبته وظهر ان ترك الاحترام للرسول وسوء الادب مَعَه مما يخاف معه الكفر المحبط كان ذلك ابلغ فيما قصدنا له.

(الصارم المسلول ص ٥٧)

جب آپؐ کے حکم کے خلاف ورزی کرنے والے کو کفر و شرک اور عذاب الیم سے ڈرایا گیا ہے تو اس سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ آپؐ کے حکم کی خلاف ورزی کفر یا عذاب الیم تک پہنچانے والی ہے۔ ظاہر ہے کہ عذاب تک پہنچانا محض فعل معصیت کی وجہ سے ہے اور کفر تک پہنچانے کی وجہ یہ ہے کہ معصیت کے ساتھ ساتھ اس میں حکم دینے والے ”رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم“ کی تحقیر واستخفاف بھی شامل ہو جاتا ہے پھر اس فعل کی سزا کیا ہو گی جو اس سے شدید تر ہے

صفحہ ۸۲

توہین رسالت ﷺ کی شرعی سزا

مثلاً آپ ﷺ کو گالی دینا اور تحقیر کرنا وغیرہ نہایت وسیع باب ہے تاہم بحمد اللہ اس پر اجماع ہو چکا ہے اور جب دلائل متعدد ہوں تو گالی دینے والے کے کفر اور اس کی سزا کی شدت کے مسئلہ کو مزید تائید وتقویت حاصل ہو جاتی ہے۔ اور یہ بات کھل کر سامنے آجائے گی کہ رسول ﷺ کا عدم احترام اور سوءِ ادبی ایسے کفر کی موجب ہو سکتی ہے جس سے جملہ اعمال غارت ہو جائیں اس لیے ہمارا مقصد بڑے بلیغ ترین انداز سے پورا ہو جائے گا۔

20

﴿ یٰاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَدْخُلُوْا بُیُوْتَ النَّبِیِّ اِلَّا اَنْ یُّؤْذَنَ لَكُمْ اِلٰی طَعَامٍ غَیْرَ نٰظِرِیْنَ اِنٰهُ وَ لٰكِنْ اِذَا دُعِیْتُمْ فَادْخُلُوْا فَاِذَا طَعِمْتُمْ فَانْتَشِرُوْا وَ لَا مُسْتَاْنِسِیْنَ لِحَدِیْثٍ ط اِنَّ ذٰلِكُمْ كَانَ یُؤْذِی النَّبِیَّ فَیَسْتَحْیٖ مِنْكُمْ وَ اللّٰهُ لَا یَسْتَحْیٖ مِنَ الْحَقِّ ... ﴾

[الاحزاب : ۵۳]

اس آیت میں دعوتِ طعام اور مہمانی کے متعلق تین احکام کا بیان ہے اور حکم اگرچہ عام ہے مگر سبب نزول چونکہ خاص واقعہ رسول اللہ ﷺ کے مکان میں ہوا اس لیے عنوان میں بیوت النبی ﷺ کا ذکر فرمایا گیا۔ پہلا حکم یہ ہے کہ نبی ﷺ کے مکانات میں بغیر اجازت داخل نہ ہوں۔ لَا تَدْخُلُوْا بُیُوْتَ النَّبِیِّ اِلَّا اَنْ یُّؤْذَنَ لَكُمْ ۔ قدیم زمانہ میں اہل عرب بے تکلف ایک دوسرے کے گھروں میں

صفحہ ۸۳

توہین رسالت ﷺ کی شرعی سزا

چلے جاتے تھے کسی شخص کو کسی دوسرے شخص سے ملنا ہوتا تو دروازے پر کھڑے ہو کر پکارنے اور اجازت لے کر اندر جانے کا پابند نہ تھا بلکہ اندر جا کر عورتوں اور بچوں سے پوچھ لیتا تھا کہ صاحب خانہ گھر میں ہے یا نہیں؟ یہ جاہلانہ طریقہ بہت سے خرابیوں کا موجب تھا اور بسا اوقات اس سے بہت گھناؤنے اخلاقی مفاسد کا بھی آغاز ہو جاتا تھا اس لیے پہلے نبی ﷺ کے گھروں میں یہ قاعدہ مقرر کیا گیا کہ کوئی شخص خواہ قریبی دوست یا دور پرے کا رشتہ دار ہی کیوں نہ ہو آپ کے گھروں میں اجازت کے بغیر داخل نہ ہوں پھر سورہ نور میں اس قاعدے کو تمام مسلمانوں کے گھروں میں رائج کرنے کا عام حکم دے دیا گیا۔

آیت میں دوسرا ادب یہ بیان کیا گیا ہے کہ جب داخل ہونے کی اجازت بلکہ کھانے کی دعوت بھی ہو تو وقت سے پہلے آ کر کھانا تیار ہونے کے انتظار میں نہ بیٹھ جاؤ ’’ غَیْرَ نَاظِرِیْنَ اِنٰہُ ‘‘ ناظر کے معنی اس جگہ منتظر کے ہیں اور لفظ اِناً بکسر ہمزہ کھانا پکنے کو کہتے ہیں۔ آیت کا مطلب یہ ہوا کہ نہ بلا اجازت داخل ہو اور نہ وقت سے پہلے آ کر کھانا پکنے کا انتظار کرو بلکہ وقت پر جب بلایا جائے اس وقت مکان میں داخل ہو۔

جو غیر مہذب عادات اہل عرب میں پھیلی ہوئی تھیں ان میں سے ایک یہ بھی تھی کہ کسی دوست یا ملاقاتی کے گھر کھانے کا وقت تاک کر پہنچ جاتے یا اس کے گھر آ کر بیٹھے رہتے یہاں تک کہ کھانے کا وقت ہو جائے اس حرکت کی وجہ سے صاحب خانہ اکثر عجیب مشکل میں پڑ جاتا تھا۔ منہ پھاڑ کر کہے کہ میرے کھانے کا وقت ہے آپ تشریف لے جائیے تو بے مروتی ہے۔ کھلائے تو آخر

صفحہ ۸۴

توہین رسالت ﷺ کی شرعی سزا

اچانک آئے ہوئے کتنے آدمیوں کو کھلائے ہر وقت ہر آدمی کے بس میں یہ نہیں ہوتا کہ جب جتنے آدمی بھی اس کے ہاں آجائیں ان کے کھانے کا انتظام فوراً کر لے۔ اللہ تعالیٰ نے اس بیہودہ عادت سے منع فرمایا اور حکم دے دیا کہ کسی شخص کے گھر کھانے کے لیے اس وقت جانا چاہیے جبکہ گھر والا کھانے کی دعوت دے یہ حکم صرف نبی ﷺ کے گھر کے لیے خاص نہ تھا بلکہ اس نمونے کے گھر میں یہ قواعد اسی لیے جاری کئے گئے تھے کہ وہ مسلمانوں کے ہاں عام تہذیب کے ضابطے بن جائیں۔

اس آیت میں تیسرا ادب یہ ہے کہ کھانے سے فارغ ہو جاؤ تو اپنے اپنے کاموں میں منتشر ہو جاؤ دعوت کے گھر میں باہم باتیں کرنے کے لیے جم کر نہ بیٹھو فَإِذَا طَعِمْتُمْ فَانْتَشِرُوْا وَ لَا مُسْتَانِسِيْنَ لِحَدِيْثٍ، یہ ایک اور بیہودہ عادت کی اصلاح ہے۔ بعض لوگ کھانے کی دعوت میں بلائے جاتے ہیں تو کھانے سے فارغ ہو جانے کے بعد دھرنا مار کر بیٹھ جاتے ہیں اور آپس میں گفتگو کا ایک ایسا سلسلہ چھیڑ دیتے ہیں جو کسی طرح ختم ہونے میں نہیں آتا۔ انہیں اس بات کی پروا نہیں ہوتی کہ صاحب خانہ اور گھر کے لوگوں کو اس سے کیا زحمت ہوتی ہے ناشائستہ لوگ اپنی عادت سے نبی ﷺ کو بھی تنگ کرتے تھے اور آپ اپنے اخلاق کریمانہ کی وجہ سے اس کو برداشت کرتے تھے۔ آخر کار حضرت زینب ؓ کے ولیمے کے روز یہ حرکت اذیت رسانی کی حد سے گزر گئی رسول اللہ ﷺ کے خادم خاص حضرت انس بن مالک ؓ کی روایت ہے کہ رات کے وقت ولیمے کی دعوت تھی۔ عام لوگ تو کھانے سے فارغ ہو کر رخصت ہو گئے مگر دو تین حضرات بیٹھ کر باتیں کرنے میں لگ گئے تنگ آکر رسول

صفحہ ۸۵

توہین رسالت ﷺ کی شرعی سزا

اللہ ﷺ اُٹھے اور ازواج مطہرات کے ہاں ایک چکر لگایا واپس تشریف لائے تو دیکھا کہ وہ حضرات بیٹھے ہوئے ہیں آپ پھر پلٹ گئے اور حضرت عائشہ کے حجرے میں جا بیٹھے اچھی خاصی رات گزر جانے پر جب آپ ﷺ کو معلوم ہوا کہ وہ چلے گئے ہیں تب آپ حضرت زینب کے مکان میں تشریف لائے اس کے بعد ناگزیر ہو گیا کہ اللہ تعالیٰ خود ان بری عادات پر لوگوں کو متنبہ فرمائے۔ حضرت انسؓ کی روایت کے مطابق یہ آیات اسی موقع پر نازل ہوئی تھیں۔

شیخ الاسلام ابن تیمیہؒ فرماتے ہیں:

فان المؤذى له هنا اطالتهم الجلوس فى المنزل واستئناسهم للحديث لا انهم اذوا النبى ﷺ و الفعل اذا اذى النبى ﷺ من غير ان يعلم صاحبه انه يؤذيه ولم يقصد صاحبه اذاه فانه ينهى عنه ويكون معصية كرفع الصوت فوق صوته فاما اذا قصد اذاه وكان مما يؤذيه وصاحبه يعلم انه يؤذيه واقدم عليه مع استحضار هذا العلم فهذا الذى يوجب الكفر وحبوط العمل.

[الصارم المسلول ص ٥٧]

اس آیت میں جس ایذاء دینے والی چیز کا ذکر کیا گیا ہے وہ رسول کریم ﷺ کے گھر میں دیر تک بیٹھے رہنا اور باتوں میں لگے رہنا ہے یہ مطلب نہیں کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم رسول کریم ﷺ کو ایذا دیتے تھے۔ اور کسی فعل سے جب رسول کریم ﷺ کو تکلیف پہنچتی ہو مگر اس کے فاعل کو معلوم نہ ہو کہ وہ آپ کو اذیت پہنچا رہا ہے اور نہ ہی اس کا ارادہ اذیت پہنچانے کا ہو تو پھر بھی اس فعل

صفحہ ٨٦

توہین رسالت ﷺ کی شرعی سزا

سے اسے روکا جا رہا ہے اور فعل گناہ کا موجب ہے جیسے رسول کریم ﷺ کی آواز سے زیادہ اونچی آواز میں بولنا مگر جب وہ قصد ایذاء دے رہا ہو اور اسے معلوم بھی ہو کہ وہ آپ ﷺ کو ایذاء دے رہا ہے اور اس علم کے استحضار کے باوجود وہ اس کی جسارت کر رہا ہو تو یہ فعل کفر اور حبوط اعمال کا موجب ہے۔

21

﴿ وَ مَا كَانَ لَكُمْ اَنْ تُؤْذُوْا رَسُوْلَ اللّٰهِ وَ لَا اَنْ تَنْكِحُوْا اَزْوَاجَهٗ مِنْۢ بَعْدِهٖٓ اَبَدًا ط اِنَّ ذٰلِكُمْ كَانَ عِنْدَ اللّٰهِ عَظِیْمًا ﴾

[الاحزاب: ٥٣]

”تمہارے لئے یہ ہرگز جائز نہیں کہ اللہ کے رسول کو تکلیف پہنچاؤ اور نہ یہ جائز ہے کہ ان کے بعد ان کی ازواج سے نکاح کرو۔ یہ اللہ کے نزدیک بہت بڑا گناہ ہے۔“

ازواج مطہرات رضی اللہ عنہن کا رسول اللہ ﷺ کی وفات کے بعد کسی سے نکاح جائز نہیں۔ آیت کے پہلے جملے میں تو عام الفاظ میں ایسے ہر قول وفعل کو حرام کر دیا گیا جس سے رسول اللہ ﷺ کو ایذاء و تکلیف پہنچے اس کے بعد یہ حکم دیا گیا کہ آپ کی ازواج مطہراتؓ سے آپ کی وفات کے بعد کسی سے نکاح حلال نہیں۔

آیت مذکورہ میں اوپر جتنے احکام آئے ہیں ان میں اگرچہ خطاب رسول اللہ ﷺ اور آپ کی ازواج مطہرات رضی اللہ عنہن کو ہوا ہے مگر حکم ساری امت کے لیے عام ہے بجز اس آخری حکم کے کہ عام امت کے لیے قانون یہ

صفحہ ۸۷

توہین رسالت ﷺ کی شرعی سزا

ہے کہ شوہر کی وفات کے بعد جب عدت گزر جائے تو اس کی بیوی دوسرے آدمی سے نکاح کر سکتی ہے۔ ازواج مطہراتؓ کے لیے یہ خصوصی حکم ہے کہ وہ آپ کی وفات کے بعد کسی سے نکاح نہیں کر سکتیں۔

اس کی وجہ یہ بھی ہو سکتی ہے کہ وہ بنص قرآن امہات المومنین رضی اللہ عنہن ہیں اور اگرچہ ان کے امہات ہونے کا اثر ان کی اولاد روحانی پر نہیں پڑتا کہ وہ سب بہن بھائی ہوکر باہم نکاح نہ کر سکیں مگر ان کی اپنی ذات کی حد تک امتناع نکاح کا حکم دیا گیا۔

دوسری وجہ یہ بھی ہو سکتی ہے کہ شرعی قاعدے سے جنت میں ہر عورت اپنے آخری شوہر کے ساتھ رہے گی۔ حضرت حذیفہؓ نے اپنی زوجہ کو وصیت فرمائی تھی کہ اگر تم جنت میں میری بیوی رہنا چاہتی ہو تو میرے بعد کوئی دوسرا نکاح نہ کرنا کیونکہ جنت میں عورت اپنے آخری شوہر کو ملے گی۔

[تفسیر قرطبی ۲۲۹/۱۴]

اس لیے ازواج مطہرات رضی اللہ عنہن جو شرف حق تعالیٰ نے دنیا میں آپ ﷺ کی زوجیت کا عطا فرمایا ہے اس کو آخرت اور جنت میں باقی رکھنے کے لیے ان کا نکاح کسی دوسرے سے حرام کر دیا گیا۔

اس کے علاوہ طبعی طور پر کوئی شوہر اس کو پسند نہیں کرتا کہ اس کی بیوی دوسرے کے نکاح میں جائے مگر اس طبعی خواہش کا پورا کرنا عام لوگوں کے لیے شرعاً ضروری نہیں رسول اللہ ﷺ کی اس طبعی خواہش کا بھی حق تعالیٰ نے احترام فرمایا یہ آپ کا خصوصی اعزاز ہے۔

صفحہ ۸۸

توہین رسالت ﷺ کی شرعی سزا

ساری امت کا اس پر اتفاق ہے کہ جو ازواج مطہراتؓ رسول اللہ ﷺ کی وفات تک آپ کے حرم میں رہیں ان سب کا یہی حکم ہے لیکن جن کو آپؐ نے طلاق دے دی یا کسی وجہ سے وہ آپ کی زوجیت سے علیحدہ ہوگئیں ان کے بارے میں فقہاء امت کے مختلف اقوال ہیں جن کو امام قرطبی نے اپنی تفسیر ”الجامع لاحکام القرآن“ میں تفصیل سے لکھا ہے۔ اِنَّ ذٰلِكُمْ كَانَ عِنْدَ اللّٰهِ عَظِيْمًا ۔ یعنی رسول اللہ ﷺ کو کسی طرح ایذاء و تکلیف پہنچانا یا آپؐ کی وفات کے بعد آپؐ کی ازواج سے نکاح کرنا اللہ تعالیٰ کے نزدیک بڑا گناہ ہے۔

شیخ الاسلام ابن تیمیہؒ لکھتے ہیں:

اس آیت میں امتِ مسلمہ پر ہمیشہ کے لیے نبی ﷺ کی ازواج کو حرام قرار دیا گیا ہے کیونکہ اس سے آپ ﷺ کو ایذاء پہنچتی ہے پھر اس کی حرمت کی عظمت کی وجہ سے اللہ کے نزدیک عظیم جرم قرار دیا گیا ہے۔

کہا گیا ہے کہ یہ آیت اس وقت اتری جب بعض لوگوں نے کہا اگر رسول کریم ﷺ وفات پا گئے ہوتے تو حضرت عائشہؓ عقد ثانی کر لیتیں جو شخص آپ کی ازواج یا لونڈیوں کے ساتھ نکاح کرے تو اس کی سزا قتل ہے۔ یہ حرمت نبوی ﷺ کو توڑنے کی سزا ہے تو قیاس کریں نبی ﷺ کو گالیاں دینے والا بالاولیٰ اس سزا کا مستحق ہے۔ اس کی دلیل وہ حدیث ہے جسے حضرت انس ؓ نے روایت کیا ہے کہ ایک شخص کو رسول کریم ﷺ کی اُمِّ ولد کے ساتھ متہم کیا جاتا تھا۔ رسول اللہ ﷺ نے حضرت علی ؓ کو حکم دیا کہ جاکر

صفحہ 89

توہین رسالت ﷺ کی شرعی سزا

اسے قتل کر دو۔ حضرت علیؓ اس کے پاس آئے تو وہ ایک ٹب میں نہا رہا تھا حضرت علیؓ نے اسے نکلنے کو کہا اور وہ اپنا ہاتھ اسے پکڑا کر اسے باہر نکالا جب دیکھا تو اس کا آلہ تناسل کٹا ہوا تھا حضرت علیؓ اس کے قتل سے باز رہے۔ اور رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر کہا یا رسول اللہ وہ مقطوع الذکر ہے لیکن پھر بھی آپ نے اس کو قتل کرنے کا حکم دیا کیونکہ اس نے آپ کی حُرمت کو پامال کیا تھا۔ آپ نے اس پر زنا کی حد لگانے کا حکم نہیں دیا تھا اس لیے کہ زنا کی سزا قتل نہیں ہے بلکہ شادی شدہ کو رجم کیا جاتا ہے اور غیر شادی شدہ کو کوڑے مارے جاتے ہیں اور حد بھی اس صورت میں لگائی جاتی ہے اگر چار گواہ موجود ہوں یا وہ بذات خود اعتراف جرم کرے۔

جب رسول اللہ ﷺ نے یہ تفصیل معلوم کیے بغیر اس کو قتل کرنے کا حکم دیا کہ آیا وہ شادی شدہ ہے یا مجرد تو اس سے معلوم ہوا کہ قتل کا حکم اس کی حرمت شکنی کی وجہ سے دیا گیا تھا۔ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ دو گواہوں نے آپ کے سامنے شہادت دی ہو کہ انہوں نے اس کو اس عورت کے ساتھ مباشرت کرتے دیکھا تھا یا اس سے ملتے جلتے الفاظ میں شہادت دی ہو اور آپ نے اس قتل کرنے کا حکم دیا جب پتہ چل گیا کہ وہ مقطوع الذکر ہے تو معلوم ہوا کہ اس فساد کا کوئی اندیشہ نہیں ہے یا آپ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو اس واقعہ کی تحقیق کرنے کے لیے بھیجا ہو کہ اگر یہ واقعہ صحیح ہے تو اسے قتل کر دیا جائے اسی لیے آپ نے اس واقعہ یا کسی اور واقعہ کے بارے میں ارشاد فرمایا:

أكون كالسكة المحماة . ام الشاهد يرى مالا يرى الغائب.

”میں گرم سکے مانند ہوتا ہوں یا یہ کہ حاضر آدمی وہ کچھ دیکھتا ہے جو

صفحہ 90

توہین رسالت ﷺ کی شرعی سزا غائب نہیں دیکھا۔‘‘ اس کی دلیل یہ بھی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے قیلہ بنت قیس بن معدیکرب سے جو اشعث کی بہن تھی نکاح کیا مگر اس کو گھر میں آباد کرنے سے پہلے وفات پا گئے یہ بھی کہا گیا ہے کہ آپ نے اسے اختیار دیا کہ یا تو دیگر ازواج کی طرح پردہ میں رہو اور یا مجھ سے طلاق لے کر کسی اور کے ساتھ نکاح کر لو اس نے نکاح کرنے کو ترجیح دی جب رسول اللہ ﷺ نے وفات پائی تو عکرمہ بن ابی جہل رضی اللہ عنہ نے حضرموت میں اس سے نکاح کر لیا۔ جب حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کو پتہ چلا تو فرمایا میں نے ارادہ کیا تھا کہ ان کی موجودگی میں ان کے گھر نذر آتش کردوں۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ یہ عورت امہات المومنین سے نہیں نہ ہی آپ کے ہاں آباد ہوئی ہے اور نہ ہی اس کو حرم سرا میں داخل کیا گیا بعض لوگ کہتے ہیں کہ مرتد ہو گئی تھی۔ اس لیے حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے حضرت ابوبکرؓ کے خلاف یہ احتجاج کیا کہ مرتد ہونے کی وجہ سے یہ آپ کی ازواج میں شامل نہیں رہی۔

انداز استدلال یہ ہے کہ حضرت ابوبکرؓ نے اس عورت اور مرد کو جلانے کا عزم کیا تھا کیونکہ ان کا خیال تھا کہ یہ آپ ﷺ کی ازواج مطہراتؓ میں سے ہیں حتی کہ حضرت عمرؓ نے ان سے مناظرہ کیا کہ وہ آپ کی ازواج میں سے نہیں ہیں اس لیے آپ اس سے باز رہے اس سے معلوم ہوا کہ صحابہ رسول کریم ﷺ کی حرمت توڑنے والے کو قتل کر دیا کرتے تھے۔ یہ نہیں کہا جا سکتا کہ قتل کرنا زنا کی حد تھی۔ اس لیے کہ وہ عورت اس پر حرام تھی اور جو شخص ذات

صفحہ ۹۱

توہین رسالت ﷺ کی شرعی سزا

محرم سے نکاح کرے اس پر زنا کی حد لگائی جاتی ہے یا اسے قتل کیا جاتا ہے اس کی دو وجہ ہیں:

ہونے سے ہوتا ہے یا اقرار سے۔

حضرت ابوبکرؓ نے جب ان کے گھر کو جلانے کا ارادہ کیا حالانکہ یہ احتمال موجود تھا کہ اس نے مجامعت نہ کی ہو تو معلوم ہوا کہ سزا رسول کریم ﷺ کی حُرمت شکنی کی وجہ سے دی جانے والی تھی۔

(الصارم المسلول ص ۵۸)

22

﴿النَّبِيُّ اَوْلَى بِالْمُؤْمِنِينَ مِنْ اَنْفُسِهِمْ وَاَزْوَاجُهُ اُمَّهَاتُهُمْ﴾ [الاحزاب: ٦]

”بلاشبہ نبی تو اہل ایمان کے لیے ان کی اپنی ذات پر مقدم ہے اور نبی کی بیویاں ان کی مائیں ہیں۔“

سورۂ احزاب میں بیشتر مضامین رسول اللہ ﷺ کی تعظیم اور آپ کی ایذاء رسانی کے حرام ہونے سے متعلق ہیں۔ شروع سورت میں مشرکین و منافقین کی ایذاؤں کا ذکر کر کے رسول اللہ ﷺ کو ہدایات دی گئی تھیں اس کے بعد جاہلیت کی تین رسموں کا ابطال کیا گیا جن میں آخری رسم کا تعلق رسول اللہ ﷺ کی ایذاء سے تھا کیونکہ کفار نے حضرت زیدؓ کی مطلقہ بیوی حضرت زینبؓ سے رسول اللہ ﷺ کے نکاح کے وقت اسی اپنی جاہلانہ رسم متبنیٰ

صفحہ ۹۲

Elaborate on the analogy of Qadiani following to be like a weak sapi Discuss in light of the Day of Judgment and grave. 18-- Present a proof of the Day Judgment based on the following incidents: i - Prophet Muhammad ﷺ was asked ab the moon. ii - Prophet Muhammad ﷺ informed about the false prophets. iii - Dajjal seen by the Prophet ﷺ in his dream. iv- The Caliphate came into existence after t Prophet ﷺ. v - Prophet ﷺ asked for the Quran and Sunnah to be held onto strongly. 19 How has Maulana Nanotwi used various means to testify to the seal of the prophethood 20-- According to the Hadith, what does the Straight Path mean? Also highlight th importance of the Hadith in solving the issue of the seal of the prophet hood. 21-- Discus the immense recollection and remembrance of the Prophet ﷺ and build your argument to present a proof of the seal of prophethood. 22-- “Mirza became an imposter prophet just to gain fame”. Discuss the essential credentials required to present the above claim.

توہین رسالت ﷺ کی شرعی سزا

کی بناء پر آپؐ پر یہ الزام لگایا کہ آپؐ نے اپنے بیٹے کی مطلقہ بیوی سے نکاح کر لیا اس طرح شروع سورۃ سے یہاں تک ایذاء رسول اللہ ﷺ سے متعلق مضمون تھا۔ اس آیت مذکورہ میں آپ ﷺ کی تعظیم واطاعت کو تمام مخلوق سے زیادہ واجب ہونا بیان کیا گیا۔

حضرت مولانا سید مودودی مرحومؒ لکھتے ہیں:

[تفہیم القرآن ۷۱/۴]

نبی ﷺ کا مسلمانوں سے اور مسلمانوں کا نبی ﷺ سے جو تعلق ہے وہ تو تمام دوسرے انسانی تعلقات سے ایک بالاتر نوعیت رکھتا ہے کوئی رشتہ اس رشتے سے اور کوئی تعلق اس تعلق سے جو نبی ﷺ اور اہل ایمان کے درمیان ہے ذرہ برابر بھی کوئی نسبت نہیں رکھتا۔ نبی ﷺ مسلمانوں کے لیے ان کے ماں باپ سے بھی بڑھ کر شفیق و رحیم اور ان کی اپنی ذات سے بھی بڑھ کر خیر خواہ ہیں۔ ان کے ماں باپ اور ان کے بیوی بچے ان کو نقصان پہنچا سکتے ہیں ان کے ساتھ خود غرضی برت سکتے ہیں ان کو گمراہ کر سکتے ہیں ان سے غلطیوں کا ارتکاب کرا سکتے ہیں ان کو جہنم میں دھکیل سکتے ہیں، مگر نبی ﷺ ان کے حق میں وہی بات کرنے والے ہیں جس میں ان کی حقیقی فلاح ہو۔ وہ خود اپنے پاؤں پر کلہاڑی مار سکتے ہیں۔ حماقتیں کر کے اپنے ہاتھوں اپنا نقصان کر سکتے ہیں، لیکن نبی ﷺ ان کے لیے وہی کچھ تجویز کریں گے جو فی الواقع ان کے حق میں نافع ہو اور جب معاملہ یہ ہے تو نبی ﷺ کا بھی مسلمانوں پر یہ حق ہے کہ وہ آپ ﷺ کو اپنے ماں باپ اور اولاد اور اپنی جان سے بڑھ کر عزیز رکھیں۔ دنیا کی ہر چیز سے زیادہ آپ سے محبت رکھیں اپنی رائے پر آپ ﷺ کی رائے

توہین رسالت ﷺ کی شرعی سزا

کو اور اپنے فیصلے پر آپؐ کے فیص سر تسلیم خم کردیں۔

اسی مضمون کو نبی ﷺ ومسلم وغیرہ نے تھوڑے سے لفظی لَا يُؤْمِنُ اَحَدُكُمْ حَتّٰى وَالنَّاسِ اَجْمَعِينَ .

[صحيح البخاری، کتاب الایمان، باب

الایمان، باب وجوب محبة رسول ﷺ

”تم میں سے کوئی شخص مو کے باپ اور اولاد سے اور اسی خصوصیت کی بنا پر خصوصیت یہ بھی ہے کہ مسلمانوں کی مائیں نہیں ہیں لیکن نبی ﷺ جس طرح ان کی حقیقی مائیں حرام میں اور کسی انسان کے ساتھ نہیں اس سلسلے میں یہ بھی معنی میں امہات المومنین ہیں اور ان کے ساتھ کسی مسلمان کا ن ماں کی طرح نہیں ہیں مثلاً ان ان کے لیے غیر محرم تھے جن

صفحہ ٩٣

توہین رسالت ﷺ کی شرعی سزا

کو اور اپنے فیصلے پر آپؐ کے فیصلے کو مقدم رکھیں اور آپ کے ہر حکم کے آگے سر تسلیم خم کردیں۔

اسی مضمون کو نبی ﷺ نے اس حدیث میں ارشاد فرمایا ہے جسے بخاری ومسلم وغیرہ نے تھوڑے سے لفظی اختلاف کے ساتھ روایت کیا ہے۔

لَا يُؤْمِنُ اَحَدُكُمْ حَتّٰى اَكُوْنَ اَحَبَّ اِلَيْهِ مِنْ وَّالِدِهٖ وَوَلَدِهٖ وَالنَّاسِ اَجْمَعِيْنَ.

[صحیح البخاری، کتاب الایمان ، باب حب الرسول ﷺ من الایمان رقم (١٠) و مسلم، کتاب

الایمان ، باب وجوب محبة رسول ﷺ ...رقم (٧٠)

”تم میں سے کوئی شخص مومن نہیں ہوسکتا جب تک میں اس کو اس کے باپ اور اولاد سے اور تمام انسانوں سے بڑھ کر محبوب نہ ہوں۔“

اسی خصوصیت کی بنا پر جو اوپر مذکور ہوئی ہے نبی ﷺ کی ایک خصوصیت یہ بھی ہے کہ مسلمانوں کی اپنی منہ بولی مائیں تو کسی معنی میں بھی ان کی مائیں نہیں ہیں لیکن نبی ﷺ کی بیویاں اسی طرح ان کے لیے حرام ہیں جس طرح ان کی حقیقی مائیں حرام ہیں یہ مخصوص معاملہ نبی کریم ﷺ کے سوا دنیا میں اور کسی انسان کے ساتھ نہیں ہے۔

اس سلسلے میں یہ بھی جان لینا چاہیے کہ ازواج نبی ﷺ صرف اس معنی میں امہات المومنین ہیں کہ ان کی تعظیم وتکریم مسلمانوں پر واجب ہے اور ان کے ساتھ کسی مسلمان کا نکاح نہیں ہوسکتا تھا۔ باقی دوسرے احکام میں وہ ماں کی طرح نہیں ہیں مثلاً ان کے حقیقی رشتہ داروں کے سوا باقی سب مسلمان ان کے لیے غیر محرم تھے جن سے پردہ واجب تھا۔ ان کی صاحبزادیاں

صفحہ ۹۴

توہین رسالت ﷺ کی شرعی سزا

مسلمانوں کے لیے ماں جائی بہنیں نہیں تھیں کہ ان سے بھی مسلمانوں کا نکاح ممنوع ہوتا ان کے بھائی بہن مسلمانوں کے لیے خالہ اور ماموں کے حکم میں نہ تھے ان سے کسی غیر رشتہ دار مسلمان کو وہ میراث نہیں پہنچتی تھی جو ایک شخص کو اپنی ماں سے پہنچتی ہے۔

یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ قرآن مجید کی رو سے یہ مرتبہ ازواج نبی ﷺ کو حاصل ہے جن میں لامحالہ حضرت عائشہ صدیقہؓ بھی شامل ہیں لیکن ایک گروہ نے جب حضرت علیؓ و فاطمہؓ اور ان کی اولاد کو مرکز دین بنا کر سارا نظام دین انہی کے گرد گھما دیا اور اس بنا پر دوسرے بہت سے صحابہؓ کے ساتھ حضرت صدیقہ عائشہ ام المومنینؓ کو بھی ہدف لعن وطعن بنایا تو ان کی راہ میں قرآن مجید کی یہ آیت حائل ہوگئی جس کی رو سے ہر اس شخص کو انہیں اپنی ماں تسلیم کرنا پڑتا ہے جو ایمان کا مدعی ہو۔ آخر کار اس مشکل کو رفع کرنے کے لیے یہ عجیب و غریب دعویٰ کیا گیا کہ نبی ﷺ نے حضرت علیؓ کو یہ اختیار دے دیا تھا کہ آپ ﷺ کی وفات کے بعد آپ ﷺ کی ازواج مطہرات میں سے جس کو چاہیں آپ ﷺ کی زوجیت پر باقی رکھیں اور جسے چاہیں آپ ﷺ کی طرف سے طلاق دے دیں۔

ابو منصور احمد بن ابو طالب طبرسی نے کتاب الاحتجاج میں یہ بات لکھی ہے اور سلیمان بن عبداللہ البحرانی نے اسے نقل کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے حضرت علیؓ سے فرمایا:

یا ابا الحسن ان ھذا الشرف باق ما دُمنَ عَلٰی طاعة اللّٰہ

صفحہ 95

Discuss in light of the Day of Judgment and grave. 18-- Present a proof of the Day of Judgment based on the following incidents: i - Prophet Muhammad ﷺ was asked about the moon. ii - Prophet Muhammad ﷺ informed about the false prophets. iii - Dajjal was seen by the Prophet ﷺ in his dream. iv- The Caliphate came into existence after the Prophet ﷺ. v - Prophet ﷺ asked for the Quran and Sunnah to be held onto strongly. 19-- How has Maulana Nanotwi used various means to testify to the seal of the prophethood? 20-- According to the Hadith, what does the Straight Path mean? Also highlight the importance of the Hadith in solving the issue of the seal of the prophet hood. 21-- Discuss the immense recollection and remembrance of the Prophet ﷺ and build your argument to present a proof of the seal of prophethood. 22-- "Mirza became an imposter prophet just to gain fame". Discuss the essential credentials required to present the above claim.

توہین رسالت ﷺ کی شرعی سزا

تعالی فایتهن عصتِ اللہ تعالی بعدی بالخروج عليكِ فطلّقها من الازواج واسقِطها من شرف امهات المؤمنین۔

”اے ابوالحسن! یہ شرف تو اسی وقت تک باقی ہے جب تک ہم لوگ اللہ کی اطاعت پر قائم ہیں لہٰذا میری بیویوں میں سے جو بھی میرے بعد تیرے خلاف خروج کر کے اللہ کی نافرمانی کرے اسے طلاق دے دینا اور اس کو امہات المومنین کے شرف سے خارج کر دینا۔“

اصول روایت کے اعتبار سے تو یہ روایت سراسر بے اصل ہے ہی لیکن اگر آدمی اسی سورہ احزاب آیات ۲۸۔۲۹۔۵۱۔۵۲ پر غور کرے تو معلوم ہو جاتا ہے کہ یہ روایت قرآن کے بھی خلاف پڑتی ہے کیونکہ آیت تخییر کے بعد جن ازواج مطہرات نے ہر حال میں رسول اللہ ﷺ کی رفاقت کو اپنے لئے پسند کیا تھا انہیں طلاق دینے کا اختیار رسول اللہ ﷺ کو باقی نہ رہا تھا۔

علاوہ بریں ایک غیر متعصب آدمی اگر محض عقل ہی سے کام لے کر اس روایت کے مضمون پر غور کرے تو صاف نظر آتا ہے کہ یہ انتہائی لغو اور رسول پاک ﷺ کے حق میں سخت توہین آمیز افترا ہے۔ رسول ﷺ کا مقام تو بہت بالا و برتر ہے۔ ایک معمولی شریف آدمی سے بھی یہ توقع نہیں کی جاسکتی کہ وہ اپنی وفات کے بعد اپنی بیوی کو طلاق دینے کی فکر کرے گا اور دنیا سے رخصت ہوتے وقت اپنے داماد کو یہ اختیار دے جائے گا کہ اگر کبھی تیرا اس کے ساتھ جھگڑا ہو تو میری طرف سے اسے طلاق دے دینا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ جو لوگ اہل بیت کی محبت کے مدعی ہیں ان کے دلوں میں صاحب البیت کی عزت

صفحہ ٩٦

توہین رسالت ﷺ کی شرعی سزا

وناموس کا پاس کتنا کچھ ہے اور اس سے گذر کر خود اللہ تعالیٰ کے ارشادات کا وہ کتنا احترام کرتے ہیں۔

إِنَّمَا يُرِيدُ اللَّهُ لِيُذْهِبَ عَنْكُمُ الرِّجْسَ أَهْلَ الْبَيْتِ وَيُطَهِّرَكُمْ تَطْهِيرًا .

[الاحزاب : ٣٣]

” اللہ تو یہ چاہتا ہے کہ تم، اہل بیت نبی سے گندگی کو دور کرے اور تمہیں پوری طرح پاک کردے ۔“

جن کی پاکیزگی اور طیب‘ طاہر ہونے کی شہادت خود اللہ تعالیٰ دے رہے ہیں آپ خیال کیجئے کہ ان کے متعلق کچھ برا کہنے والا اللہ تعالیٰ کے ارشاد جھٹلا رہا ہے تو غور کیجئے کہ کیا اس میں اسلام کی کوئی رمق باقی ہوگی۔ وہ مسلمان رہ سکے گا کیا سزائے سخت سے بچ سکے؟

ازواج مطہراتؓ کی فضیلت واحترام کے بارے میں کنزالعمال سے چند روایات درج کی جاتی ہیں۔

خياركم خياركم لنسائی .

[كنز العمال ٢٦٦/٦]

” تم میں سے بہترین وہ لوگ ہیں جو میری عورتوں کے حق میں بہترین ہوں ۔“

ازواج مطہرات رضی اللہ عنہن کو طیب وطاہر ماننے والا ہی خیر ہو سکتا ہے ان میں کسی قسم کا شبہ بھی پیدا کرنے والا اسلام اور مسلمانوں کا دشمن ہوگا۔

لن يحنو عليكن بعدى الا الصالحون وفي رواية الا الصابرون .

[كنز العمال ٢٦٦/٦]

صفحہ ۹۷

توہین رسالت ﷺ کی شرعی سزا

”تم پر میرے بعد صرف نیک لوگ ہی شفقت کریں گے ۔ یہ پیشن گوئی صاف بتا رہی ہے کہ آوارہ و بدکردار لوگ بکواس کیا کریں گے صرف نیک اور طاہر ہی میرے بعد تم پر شفقت کریں گے ۔

ان الذين يحنو عليكن بعدى فهو الصادق البار[قال لازواجه].

[كنز العمال ٢٦٧/٦]

”میرے بعد تم پر جو شفقت کرے گا وہی سچا اور نیک ہوگا ۔ غور کیجیے کہ رسول اللہ ﷺ کے بعد سچے اور نیک ہونے کا معیار کیا ہے ۔

ان فضل عائشة على النساء كفضل الثريد على سائر الطعام .

[كنز العمال ٢٢٤/٦]

”حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی فضیلت باقی خواتین پر ایسی ہے جیسے ثرید کی فضیلت باقی تمام کھانوں پر۔“

دنیا و آخرت کی تمام عورتوں پر حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو وہ فضیلت حاصل ہے جو سب کھانوں پر ثرید کو [ عرب کا مرغوب ترین کھانا ہے ] سب کھانوں پر ۔

احب النساء الى عائشة ومن الرجال ابوها .

[كنز ٢٢٤/٦]

عورتوں میں مجھے سب سے زیادہ محبوب عائشہ ہیں اور مردوں میں ان کے والد ”ابوبکر“ سب سے زیادہ محبوب ہیں ۔

غور کیجیے کہ اللہ و رسول ﷺ کے بعد عورتوں میں سب سے زیادہ محبوب حضرت عائشہ اور مردوں میں ان کے والد چونکہ قاعدہ ہے دوست کا

صفحہ ۹۸

توہین رسالت ﷺ کی شرعی سزا

دوست ، دوست ہوتا ہے۔ رسول اللہ ﷺ اللہ تعالیٰ کے حبیب اور یہ دونوں رسول اللہ ﷺ کے حبیب تو دونوں اللہ تعالیٰ کے حبیب ہیں۔

عائشہ زوجتی فی الجنہ

[کنز ٢٢٤/٦]

”عائشہ رضی اللہ عنہا جنت میں میری زوجہ ہوں گی۔“ دنیا و آخرت میں جن کو یہ اعزاز حاصل ہے تو وہ کون قرار پائے گا جو ان سے نفرت کرے۔

هذا جبريل يقرئكِ السلام .

[کنز ٢٢٤/٦]

اے عائشہ یہ جبریل تمہیں سلام کہہ رہے ہیں۔ تمام فرشتوں میں سے افضل فرشتہ تمام انبیاء پر وحی لانے والے فرشتہ نے جن کو سلام کیا وہ کیا ہوں گی۔

وان الله جمع بينى وبين ريقه .

[کنز ٢٢٤/٦]

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ وصال نبوی ﷺ کے وقت اللہ تعالیٰ نے میرے اور حضور کے لعاب اطہر کو جمع فرمایا تھا ”مسواک کا واقعہ وصال اطہر کے وقت کا معروف ہے ۔“

حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا کے بیوہ ہونے کے بعد ان کے والد حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے حضرت عثمانؓ سے نکاح کرنے کا ارادہ ظاہر کیا مگر حضرت عثمانؓ نے اعراض کیا اس پر حضرت عمرؓ نے جب حضرت عثمانؓ کی شکایت بارگاہ نبوی ﷺ میں کی تو آپ نے فرمایا:

صفحہ ۹۹

تعالیٰ کے حبیب اور یہ دونوں حبیب ہیں۔

[٢٢٤/٦

“ ل ہے تو وہ کون قرار پائے گا جو

[کنز ٢٢٤/٦]

ہیں۔

م انبیاء پر وحی لانے والے فرشتہ

[کنز ٢٢٤/٦]

ال نبوی ﷺ کے وقت اللہ تعالیٰ تھا ”مسواک کا واقعہ وصال اطہر

کے بعد ان کے والد حضرت وہ ظاہر کیا مگر حضرت عثمانؓ نے ن کی شکایت بارگاہ نبوی ﷺ

Discuss in light of the Day of Judgment and grave. 18-- Present a proof of the Day of Judgment based on the following incidents: i - Prophet Muhammad ﷺ was asked about the moon. ii - Prophet Muhammad ﷺ informed about the false prophets. iii - Dajjal was seen by the Prophet ﷺ in his dream. iv- The Caliphate came into existence after the Prophet ﷺ. v - Prophet ﷺ asked for the Quran and Sunnah to be held onto strongly. 19-- How has Maulana Nanotwi used various means to testify to the seal of the prophethood? 20-- According to the Hadith, what does the Straight Path mean? Also highlight the importance of the Hadith in solving the issue of the seal of the prophet hood. 21-- Discuss the immense recollection and remembrance of the Prophet ﷺ and build your argument to present a proof of the seal of prophethood. 22-- “Mirza became an imposter prophet just to gain fame”. Discuss the essential credentials required to present the above claim.

توہین رسالت ﷺ کی شرعی سزا

تزوج حفصة خير من عثمان وتزوج عثمان خيرا من حفصة فزوجه النبى ﷺ ابنته.

[کنز ١١٧/٧]

حضرت حفصہؓ سے وہ شادی کرے گا جو عثمانؓ سے بہتر ہوگا اور عثمانؓ ایسی خاتون سے شادی کریں گے جو حفصہؓ سے بہتر ہوگی۔ جن کی بہتری رسول اللہ ﷺ فرمائیں ان کو کسی قسم کا عیب لگانا خالص جھوٹ اور مکاری نہیں تو اور کیا ہے۔

قال لى جبريل راجع حفصة فانها صوّامة قوّامة فانها زوجتك فى الجنة.

[کنز ٢٢٦/٦]

مجھے جبریل امین علیہ السلام نے کہا کہ حفصہؓ سے رجوع کر لیجیے کیونکہ وہ بہت روزہ دار اور بہت قیام اللیل کرنے والی ہیں اور یہ جنت میں آپ ﷺ کی زوجہ ہوں گی۔

جبریل علیہ السلام بغیر اللہ تعالیٰ کے حکم کے کچھ نہیں کہہ سکتے تو جن کو اللہ تعالیٰ بواسطہ جبریل روزوں والی، رات کی عبادت کرنے والی فرمائیں ان کی شان میں گالیاں بکنا اللہ تعالیٰ کو جھوٹا کہنا ہوگا غور کیجئے کتنا سخت جرم ہے۔

23

﴿ إِنَّ الَّذِينَ يُؤْذُونَ اللَّهَ وَ رَسُولَهُ لَعَنَهُمُ اللَّهُ فِي الدُّنْيَا وَ الْآخِرَةِ وَ أَعَدَّ لَهُمْ عَذَابًا مُّهِينًا ٭ وَ الَّذِينَ يُؤْذُونَ الْمُؤْمِنِينَ وَ الْمُؤْمِنٰتِ بِغَيْرِ مَا اكْتَسَبُوا فَقَدِ احْتَمَلُوا بُهْتَانًا وَّ اِثْمًا مُّبِينًا ﴾.

[الاحزاب ٥٧ - ٥٨]

صفحہ 100

Discuss in light of the Day of Judgment and grave. 18-- Present a proof of the Day of Judgment based on the following incidents: i - Prophet Muhammad ﷺ was asked about the moon. ii - Prophet Muhammad ﷺ informed about the false prophets. iii - Dajjal was seen by the Prophet ﷺ in his dream. iv- The Caliphate came into existence after the Prophet ﷺ. v - Prophet ﷺ asked for the Quran and Sunnah to be held onto strongly. 19-- How has Maulana Nanotwi used various means to testify to the seal of the prophethood? 20-- According to the Hadith, what does the Straight Path mean? Also highlight the importance of the Hadith in solving the issue of the seal of the prophet hood. 21-- Discuss the immense recollection and remembrance of the Prophet ﷺ and build your argument to present a proof of the seal of prophethood. 22-- "Mirza became an imposter prophet just to gain fame". Discuss the essential credentials required to present the above claim.

توہین رسالت ﷺ کی شرعی سزا

”جو لوگ اللہ اور اس کے رسول کو اذیت دیتے ہیں ان پر دنیا اور آخرت میں اللہ نے لعنت فرمائی ہے اور ان کے لیے رسوا کن عذاب مہیا کر دیا ہے اور جولوگ مومن مردوں اور عورتوں کو بے قصور اذیت دیتے ہیں انہوں نے ایک بڑے بہتان اور صریح گناہ کا وبال اپنے سر لے لیا ہے۔“

ان آیات سے سابقہ آیات میں مسلمانوں کو ان چیزوں پر تنبیہ کی گئی تھی جن سے رسول اللہ ﷺ کو ایذاء و تکلیف پہنچتی تھی۔ مگر کچھ مسلمان ناواقفیت یا بے توجہی کی وجہ سے بلاقصد ایذاء رسانی میں مبتلا ہوجاتے تھے جیسا کہ آپ کے بیوت میں بلا دعوت چلے جانا یا دعوت کے وقت سے پہلے آکر بیٹھ جانا یا کھانے کے بعد آپ کے گھر میں باہمی بات چیت میں مشغول ہو کر دیر لگانا وغیرہ جن پر آیت یٰاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَدْخُلُوْا بُیُوْتَ النَّبِیِّ الآیۃ میں تنبیہ کی گئی ہے یہ وہ ایذاء تھی جو بلاقصد وارادہ غفلت سے پہنچ جاتی اس پر تو صرف تنبیہ کر دینا کافی سمجھا گیا مذکورہ دو آیات میں اس ایذاء و تکلیف کا ذکر ہے جو مخالفین اسلام کفار ومنافقین کی طرف سے قصداً آپ ﷺ کو پہنچائی جاتی تھی اس میں وہ جسمانی ایذائیں بھی داخل ہیں جو مختلف اوقات میں کفار کے ہاتھوں آپ ﷺ کو پہنچتی ہیں اور روحانی ایذائیں بھی جو آپ ﷺ پر طعن و تشنیع اور ازواج مطہراتؓ پر بہتان تراشی کے ذریعہ پہنچائی گئیں اس بالا رادہ ایذاء پہنچانے پر لعنت اور عذاب شدید کی وعید بھی آیت مذکورہ میں آئی ہے۔

اس آیت کے شروع میں جو یہ ارشاد ہوا ہے کہ جو لوگ اللہ تعالیٰ

توہین رسالت ﷺ کی شرعی سزا

کو ایذاء پہنچاتے ہیں اس میں عادۃً ایذاء کا سبب بنا کرتے ہ سے بالاتر ہے کسی کی مجال ہی ن جن سے عادۃً ایذاء پہنچا کرتی ہ اس میں ائمہ تفسیر کا کیا مراد ہے بعض ائمہ تفسیر نے کے بارے میں رسول اللہ ﷺ تعالی کی ایذاء کا سبب ہے م در حقیقت فاعل حقیقی حق تعالیٰ تو در حقیقت وہ فاعل حقیقی بکہ چیزوں کی تصویریں بنانا اللہ دینے سے مراد یہ اقوال وافعال اور دوسرے ائمہ م ﷺ کی ایذاء سے روکنا اور ﷺ کو ایذاء حق تعالیٰ کے ع پہنچانا ہے جبکہ حدیث میں آئ ترجیح اسی دوسرے قول کی مع اور آگے بھی اسی کا بیان آر لیے ایذاء ہونا حضرت عبداللہ

صفحہ ۱۰۱

۱۰۰ تے ہیں ان پر دنیا کرنے کے لیے رسوا کن عورتوں کو بے قصور لا اور صریح گناہ کا

ان چیزوں پر تنبیہ کی گئی پہنچتی تھی۔ مگر کچھ مسلمان میں مبتلا ہو جاتے تھے جیسا کے وقت سے پہلے آ کر بیٹھ میں مشغول ہو کر دیر لگانا بُیُوتَ النَّبِیِّ الآیۃ میں ت سے بچتی جاتی اس پر تو ایذاء وتکلیف کا ذکر ہے پ ﷺ کو پہنچائی جاتی ف اوقات میں کفار کے میں جو آپ ﷺ پر طعن پہنچائی گئیں اس بالا ارادہ سورہ میں آئی ہے۔

کہ جو لوگ اللہ تعالی

following to be like a weak sapling. Discuss in light of the Day of Judgment and grave. 18-- Present a proof of the Day of Judgment based on the following incidents: i - Prophet Muhammad ﷺ was asked about the moon. ii - Prophet Muhammad ﷺ informed about the false prophets. iii - Dajjal was seen by the Prophet ﷺ in his dream. iv- The Caliphate came into existence after the Prophet ﷺ. v - Prophet ﷺ asked for the Quran and Sunnah to be held onto strongly. 19-- How has Maulana Nanotwi used various means to testify to the seal of the prophethood? 20-- According to the Hadith, what does the Straight Path mean? Also highlight the importance of the Hadith in solving the issue of the seal of the prophet hood. 21-- Discuss the immense recollection and remembrance of the Prophet ﷺ and build your argument to present a proof of the seal of prophethood. 22-- "Mirza became an imposter prophet just to gain fame". Discuss the essential credentials required to present the above claim.

توہین رسالت ﷺ کی شرعی سزا

کو ایذاء پہنچاتے ہیں اس میں ایذاء پہنچانے سے مراد وہ اقوال وافعال ہیں جو عادۃً ایذاء کا سبب بنا کرتے ہیں اگر چہ حق تعالی کی ذات پاک ہر تاثر وانفعال سے بالا تر ہے کسی کی مجال ہی نہیں کہ اس تک کوئی تکلیف پہنچا سکے لیکن وہ افعال جن سے عادۃً ایذاء پہنچا کرتی ہے ان کو ایذاء اللہ سے تعبیر کر دیا گیا ہے۔

اس میں ائمہ تفسیر کا اختلاف ہے کہ یہاں پر اللہ کو ایذاء دینے سے کیا مراد ہے بعض ائمہ تفسیر نے ان افعال واقوال کو اس کا مصداق ٹھہرایا ہے جن کے بارے میں رسول اللہ ﷺ کی زبانی احادیث میں بتلایا گیا ہے کہ یہ اللہ تعالی کی ایذاء کا سبب ہے مثلاً حوادث ومصائب کے وقت زمانہ کو برا کہنا کہ در حقیقت فاعل حقیقی حق تعالی ہے یہ لوگ زمانہ کو فاعل سمجھ کر گالیاں دیتے ہیں تو در حقیقت وہ فاعل حقیقی تک پہنچتی ہیں اور بعض روایات میں ہے کہ جان دار چیزوں کی تصویریں بنانا اللہ تعالی کی ایذاء کا سبب ہے تو آیت میں اللہ کو ایذاء دینے سے مراد یہ اقوال وافعال ہوئے۔

اور دوسرے ائمہ مفسرین نے فرمایا کہ یہاں در حقیقت رسول اللہ ﷺ کی ایذاء سے روکنا اور اس پر وعید کرنا مقصود ہے مگر آیت میں ایذاء رسول ﷺ کو ایذاء حق تعالی کے عنوان سے تعبیر کر دیا گیا۔ کیونکہ آپ ﷺ کو ایذاء پہنچانا ہے جبکہ حدیث میں آگے آتا ہے اور قرآن مجید کے سیاق وسباق سے بھی ترجیح اسی دوسرے قول کی معلوم ہوتی ہے کیونکہ پہلے بھی ایذاء رسول کا بیان تھا اور آگے بھی اسی کا بیان آ رہا ہے اور رسول اللہ ﷺ کی ایذاء کا اللہ تعالی کے لیے ایذاء ہونا حضرت عبد الرحمن بن مغفل مزنی کی روایت سے ثابت ہے کہ:

صفحہ ١٠٢

توہین رسالت ﷺ کی شرعی سزا

قال رسول الله ﷺ الله الله فى اصحابى الله الله فى اصحابى لا تتخذوهم غرضًا من بعدى فمن احبهم فبحبى احبهم ومن ابغضهم فببغضى ابغضهم ومن اذاهم فقد اذانى ومن اذانى فقد اذى الله ومن اذى الله فيوشك ان يأخذه.

[سنن الترمذی، کتاب المناقب، باب فی فضل من رأی النبی ﷺ، رقم (۳۸۵۸)]

”رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ میرے صحابہ کے بارے میں اللہ سے ڈرو اللہ سے ڈرو ان کو میرے بعد اپنے اعتراضات و تنقیدات کا نشانہ نہ بناؤ کیونکہ ان سے جس نے محبت کی میری محبت کی وجہ سے کی اور جس نے بغض رکھا میرے بغض کی وجہ سے رکھا اور جس نے ان کو ایذاء پہنچائی اس نے مجھے ایذاء دی اور جس نے مجھے ایذاء دی اس نے اللہ کو ایذاء دی اور جس نے اللہ کو ایذاء دی تو قریب ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کی گرفت کرے گا۔“

اس حدیث سے جیسا یہ معلوم ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی ایذاء سے اللہ تعالیٰ کی ایذاء ہوتی ہے اسی طرح یہ بھی معلوم ہوا کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں سے کسی کو ایذاء پہنچانا، ان کی شان میں گستاخی کرنا، رسول اللہ ﷺ کی ایذاء ہے۔

مذکورہ آیت کے شانِ نزول کے متعلق متعدد روایات ہیں بعض میں ہے کہ یہ حضرت صدیقہ عائشہؓ پر بہتان لگانے کے متعلق نازل ہوئی ہے جیسا کہ حضرت عبداللہ بن عباسؓ سے روایت ہے کہ جس زمانہ میں حضرت صدیقہ عائشہؓ پر بہتان باندھا گیا تو عبداللہ بن ابی منافق کے گھر میں کچھ لوگ

توہین رسالت ﷺ کی شرعی سزا

جمع ہوئے اور اس بہتان کو پھیلایا وقت رسول اللہ ﷺ نے صحابہ کو ایذاء پہنچاتا ہے۔

بعض روایات میں ہے منافقین نے طعن کیا اس کے متعلق ایسے معاملہ کے متعلق نازل ہوئی اس میں صدیقہ عائشہؓ پر بہتان نکاحوں پر طعن و تشنیع بھی شامل ہے پر تبرا کرنا بھی داخل ہے۔

رسول اللہ ﷺ کو کسی

جو شخص رسول اللہ ﷺ صفات میں کوئی عیب نکالے خواہ رو سے اس پر اللہ تعالیٰ کی لعنت

دوسری آیت میں عام ہونے کو بیان کیا گیا ہے جبکہ اس لیے لگائی کہ ان میں دونوں کوئی ایسا کام کیا ہے جس کے آیت میں چونکہ معاملہ اللہ نہیں لگائی اس لیے کہ وہاں جو

Discuss in light of the Day of Judgment and grave. 18-- Present a proof of the Day of Judgment based on the following incidents: i - Prophet Muhammad ﷺ was asked about the moon. ii - Prophet Muhammad ﷺ informed about the false prophets. iii - Dajjal was seen by the Prophet ﷺ in his dream. iv- The Caliphate came into existence after the Prophetﷺ. v - Prophetﷺ asked for the Quran and Sunnah to be held onto strongly. 19-- How has Maulana Nanotwi used various means to testify to the seal of the prophethood? 20-- According to the Hadith, what does the Straight Path mean? Also highlight the importance of the Hadith in solving the issue of the seal of the prophet hood. 21-- Discuss the immense recollection and remembrance of the Prophet ﷺ and build your argument to present a proof of the seal of prophethood. 22-- "Mirza became an imposter prophet just to gain fame". Discuss the essential credentials required to present the above claim.

صفحہ ۱۰۳

توہین رسالت ﷺ کی شرعی سزا

جمع ہوئے اور اس بہتان کو پھیلانے اور چلتا کرنے کی باتیں کرتے تھے۔ اس وقت رسول اللہ ﷺ نے صحابہ کرام سے اس کی شکایت فرمائی کہ یہ شخص مجھے ایذاء پہنچاتا ہے۔

بعض روایات میں ہے کہ حضرت صفیہؓ سے نکاح کے وقت کچھ منافقین نے طعن کیا اس کے متعلق نازل ہوئی اور صحیح بات یہی ہے کہ یہ آیت ہر ایسے معاملہ کے متعلق نازل ہوئی ہے جس سے رسول اللہ ﷺ کو اذیت پہنچے، اس میں صدیقہ عائشہؓ پر بہتان بھی داخل ہے اور حضرت صفیہؓ اور زینبؓ کے نکاحوں پر طعن و تشنیع بھی شامل ہے دوسرے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو برا کہنا اور ان پر تبرا کرنا بھی داخل ہے۔

رسول اللہ ﷺ کو کسی طرح کی ایذاء پہنچانا کفر ہے

جو شخص رسول اللہ ﷺ کو کسی طرح کی ایذاء پہنچائے آپ کی ذات یا صفات میں کوئی عیب نکالے خواہ صراحۃً ہو یا کنایۃً وہ کافر ہو گیا اور اس آیت کی رو سے اس پر اللہ تعالیٰ کی لعنت دنیا میں بھی ہوگی اور آخرت میں بھی۔

دوسری آیت میں عام مومنین کو ایذاء پہنچانے کے حرام اور بہتان عظیم ہونے کو بیان کیا گیا ہے جبکہ وہ شرعاً اس کے مستحق نہ ہوں عام مومنین میں یہ قید اس لیے لگائی کہ ان میں دونوں صورتیں ہو سکتی ہیں یہ بھی ممکن ہے کہ کسی نے کوئی ایسا کام کیا ہے جس کے بدلے میں اس کو ایذاء دینا شرعاً جائز ہے اور پہلی آیت میں چونکہ معاملہ اللہ و رسول ﷺ کی ایذاء کا تھا اس میں کوئی قید نہیں لگائی اس لیے کہ وہاں جائز ہونے کا کوئی احتمال ہی نہیں۔

صفحہ ۱۰۴

توہین رسالت ﷺ کی شرعی سزا

مذکورہ آیت اَلَّذِيْنَ يُؤْذُوْنَ الْمُؤْمِنِيْنَ [الی] بُهْتَانًا عَظِيمًا۔ سے کسی مسلمان کو بغیر وجہ شرعی کے کسی قسم کی ایذاء اور دکھ پہنچانے کی حرمت ثابت ہوئی اور رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے:

المسلم من سلم المسلمون من لسانه ويده والمؤمن من امنه الناس على دمائهم واموالهم.

[سنن الترمذي ، كتاب الايمان ، باب ما جاء في ان المسلم من سلم . . . رقم (۲۶۲۷)

والنسائي ، كتاب الايمان ، باب صفة المؤمن رقم (۵۰۱۰)]

”مسلمان تو صرف وہ آدمی ہے جس کے ہاتھ اور زبان سے سب محفوظ ہوں کسی کو تکلیف نہ پہنچے اور مومن تو صرف وہی ہے جس سے لوگ اپنے خون اور مال کے معاملہ میں محفوظ و مامون ہوں۔“

شیخ الاسلام حافظ ابن تیمیہؒ فرماتے ہیں

سورۂ احزاب کی مذکورہ نو آیات سے استدلال کرتے ہوئے شیخ الاسلام حافظ ابن تیمیہؒ نے ”الصارم المسلول“ میں بڑی عمدہ علمی بحث کی ہے جو قابل ذکر ہے قارئین کرام کے لیے ہم یہاں اس کا خلاصہ پیش کرتے ہیں۔ چنانچہ پہلی آیت کے بارے میں لکھتے ہیں۔

یہ آیت کئی وجوہ سے مسئلہ زیر بحث پر دلالت کرتی ہے۔

پہلی وجہ :۔ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی ایذاء کو رسول ﷺ کی ایذاء اور اپنی اطاعت کو رسول ﷺ کی اطاعت کے مقرون و متصل کر کے بیان کیا ہے۔ یہ بطریق منصوص بھی آپ سے منقول ہے اور جو شخص اللہ کو ایذاء دے وہ کافر

صفحہ ۱۰۵

توہین رسالت ﷺ کی شرعی سزا

اور مباح الدم ہے۔ اس سے مستفاد ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی اور رسول ﷺ کی محبت اپنی اور رسول ﷺ کی رضامندی اپنی اطاعت اور رسول کی اطاعت کو ایک ہی چیز قرار دیا ہے، قرآن پاک میں ارشاد خداوندی ہے ۔

﴿ قُلْ اِنْ كَانَ اٰبَآؤُكُمْ وَ اَبْنَآؤُكُمْ وَ اِخْوَانُكُمْ وَ اَزْوَاجُكُمْ وَ عَشِيْرَتُكُمْ وَ اَمْوَالُ ۨاقْتَرَفْتُمُوْهَا وَ تِجَارَةٌ تَخْشَوْنَ كَسَادَهَا وَ مَسٰكِنُ تَرْضَوْنَهَآ اَحَبَّ اِلَيْكُمْ مِّنَ اللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ وَ جِهَادٍ فِیْ سَبِيْلِهٖ فَتَرَبَّصُوْا حَتّٰي يَاْتِیَ اللّٰهُ بِاَمْرِهٖ ؕ وَ اللّٰهُ لَا يَهْدِی الْقَوْمَ الْفٰسِقِيْنَ ﴾

[التوبۃ : ٢٤]

’’اگر تمہارے باپ اور تمہارے بیٹے اور تمہارے بھائی اور تمہاری بیویاں اور تمہارے عزیز و اقارب اور تمہارے وہ مال جو تم نے کمائے ہیں اور تمہارے وہ کاروبار جن کے ماند پڑ جانے کا تم کو خوف ہے اور تمہارے وہ گھر جو تم کو پسند ہیں تم کو اللہ اور اس کے رسول اور اس کی راہ میں جد و جہد سے عزیز ہیں تو انتظار کرو یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اپنا فیصلہ تمہارے سامنے لے آئے اور اللہ فاسق لوگوں کو ہدایت نہیں کرتا۔‘‘

ایک اور مقام پر اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:

﴿ وَ اللّٰهُ وَ رَسُوْلُهٗۤ اَحَقُّ اَنْ يُّرْضُوْهُ ﴾

[التوبۃ : ٦٢]

’’ اللہ اور اس کا رسول ﷺ اس بات کے بہت حقدار ہیں کہ ان کو راضی کریں۔‘‘

صفحہ ۱۰۶

توہین رسالت ﷺ کی شرعی سزا

اس آیت میں ”یُرْضُوْہُ“ کی ضمیر واحد ہے اس سے اللہ اور اس کا رسول دونوں مراد ہیں۔

ارشاد فرمایا:

﴿اِنَّ الَّذِیْنَ یُبَایِعُوْنَکَ اِنَّمَا یُبَایِعُوْنَ اللّٰہَ﴾

[الفتح: ١٠]

”جو لوگ آپ کی بیعت کرتے ہیں وہ اللہ کی بیعت کرتے ہیں۔“

﴿یَسْئَلُوْنَکَ عَنِ الْاَنْفَالِ ط قُلِ الْاَنْفَالُ لِلّٰہِ وَالرَّسُوْلِ ۚ﴾

[الانفال: ١]

”مالِ غنیمت کے بارے میں آپ ﷺ سے پوچھتے ہیں۔ آپ ﷺ کہہ دیجیے کہ مال غنیمت اللہ اور اس کے رسول کے لیے ہے۔“

مندرجہ ذیل آیات میں اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت، عداوت، اذیت اور معصیت کو ایک ہی چیز قرار دیا گیا ہے۔

[الانفال: ١٣]

”یہ اس لیے ہے کہ انہوں نے اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت کی ہے۔“

[المجادلۃ: ٢٠]

”بے شک وہ لوگ جو اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت کرتے ہیں۔“

[التوبۃ: ٦٣]

”کیا انہیں معلوم نہیں کہ جو شخص اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت کرتا ہے۔“

[النساء: ١٤]

صفحہ ۱۰۷

توہین رسالت ﷺ کی شرعی سزا

”اور جو اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کرے۔“

اللہ اور اس کے رسول ﷺ کا حق باہم لازم وملزوم ہیں

مذکورہ آیات سے معلوم ہوتا ہے اللہ اور اس کے رسول کا حق باہم لازم وملزوم ہیں۔ نیز یہ کہ اللہ اور اس کے رسول کی حرمت کی جہت ایک ہی ہے۔ لہٰذا جس نے رسول ﷺ کو ایذاء دی اس نے اللہ کو ایذاء دی اور جس نے رسول ﷺ کی اطاعت کی اس نے اللہ کی اطاعت کی اس لیے کہ امت کے تعلق باللہ کا رشتہ صرف رسول کے واسطہ سے استوار ہوسکتا ہے کسی کے پاس بھی اس کے سوا دوسرا کوئی طریقہ یا سبب نہیں ہے۔ اوامر ونواہی اور اخبار و بیان میں اللہ نے رسول اللہ ﷺ کو اپنا قائم مقام مقرر کیا ہے اس لیے ان امور میں اللہ اور رسول ﷺ کے مابین تفریق جائز نہیں۔

دوسری وجہ:۔ یہ ہے کہ اس نے اللہ اور رسول ﷺ کی ایذاء اور مومنین اور مومنات کی ایذاء میں تفریق کی ہے۔ اہل ایمان کی ایذاء کے بارے میں فرمایا کہ ”اس نے بہتان باندھا اور واضح گناہ کا ارتکاب کیا۔“

[الاحزاب: ۵۸]

جبکہ اللہ اور اس کے رسول کو ایذاء دینے والے پر دنیا و آخرت میں لعنت کی اور اس کے لیے رسوا کرنے والا عذاب تیار کیا گیا۔ ظاہر ہے کہ اہل ایمان کو ایذاء کبھی تو کبائر کا ارتکاب کر کے دی جاتی ہے اور اس میں کوڑے مارنا بھی شامل ہے اس سے اوپر صرف کفر اور قتل باقی رہ جاتا ہے۔

صفحہ ۱۰۸

توہین رسالت ﷺ کی شرعی سزا

تیسری وجہ:۔ اللہ نے ذکر کیا ہے کہ اس نے ان پر دنیا اور آخرت میں لعنت کی اور رسوا کن عذاب تیار کیا ہے لعنت کے معنی رحمت سے دور کرنے کے ہیں اور دنیا و آخرت میں اس کی رحمت سے محروم صرف کافر ہوتا ہے۔ اس لیے کہ مومن بعض اوقات لعنت کے قریب تو پہنچ جاتا ہے مگر وہ مباح الدم نہیں ہوتا اس لیے کہ خون کی حفاظت اللہ کی طرف سے عظیم رحمت ہے جو اس کے حق میں ثابت نہیں ہوئی اس کی تائید درج ذیل آیت سے ہوتی ہے۔

﴿ لَئِنْ لَّمْ یَنْتَهِ الْمُنٰفِقُوْنَ وَ الَّذِیْنَ فِیْ قُلُوْبِهِمْ مَّرَضٌ وَّ الْمُرْجِفُوْنَ فِی الْمَدِیْنَةِ لَنُغْرِیَنَّكَ بِهِمْ ثُمَّ لَا یُجَاوِرُوْنَكَ فِیْهَا اِلَّا قَلِیْلًا ٭ مَّلْعُوْنِیْنَ اَیْنَمَا ثُقِفُوْا اُخِذُوْا وَ قُتِّلُوْا تَقْتِیْلًا ﴾

[الاحزاب: ٦٠ - ٦١]

”اگر منافقین اور وہ لوگ جن کے دلوں میں خرابی ہے اور وہ جو مدینہ میں ہیجان انگیز افواہیں پھیلانے والے ہیں اپنی حرکتوں سے باز نہ آئے تو ہم ان کے خلاف کاروائی کرنے کے لیے تمہیں اٹھا کھڑا کریں گے پھر وہ اس شہر میں مشکل ہی سے تمہارے ساتھ رہ سکیں گے ان پر ہر طرف سے لعنت کی بوچھاڑ ہوگی، جہاں کہیں پائے جائیں گے پکڑے جائیں گے اور بُری طرح مارے جائیں گے۔“

ان کو پکڑنا اور قتل کرنا ان کی لعنت کی توضیح اور اس کے حکم کا تذکرہ ہے اس لیے اعراب میں اس کا کوئی محل نہیں اور وہ حال ثانی بھی نہیں ہے اس لیے کہ جب ملعون کی صورت میں وہ آپ کے پڑوس میں رہیں گے اور ان پر لعنت

صفحہ ۱۰۹

...Elaborate on the analogy of Qadiani following to be like a weak sapling. Discuss in light of the Day of Judgment and grave. 18-- Present a proof of the Day of Judgment based on the following incidents: i - Prophet Muhammad ﷺ was asked about the moon. ii - Prophet Muhammad ﷺ informed about the false prophets. iii - Dajjal was seen by the Prophet ﷺ in his dream. iv- The Caliphate came into existence after the Prophetﷺ. v - Prophetﷺ asked for the Quran and Sunnah to be held onto strongly. 19-- How has Maulana Nanotwi used various means to testify to the seal of the prophethood? 20-- According to the Hadith, what does the Straight Path mean? Also highlight the importance of the Hadith in solving the issue of the seal of the prophet hood. 21-- Discuss the immense recollection and remembrance of the Prophet ﷺ and build your argument to present a proof of the seal of prophethood. 22-- "Mirza became an imposter prophet just to gain fame". Discuss the essential credentials required to present the above claim.

توہین رسالت ﷺ کی شرعی سزا

کا اثر دنیا میں ظاہر نہ ہوا تو یہ ان کے حق میں وعید نہ ہوگی بلکہ لعنت وعید سے قبل اور بعد بھی ثابت ہے پس یہ امر ناگزیر ہے کہ ان کو پکڑنا اور قتل کرنا اس لعنت کے آثار میں سے ہے جس کی وعید انہیں سنائی گئی ہے پس یہ اس شخص کے حق میں ثابت ہوگی جس پر اللہ نے دنیا اور آخرت میں لعنت کی ۔

اس کی مؤید وہ حدیث ہے جس میں آپ نے فرمایا:

مَنْ لَّعَنَ مُؤْمِنًا فَهُوَ كَقَتْلِهِ.

[صحیح البخاری، کتاب الآداب، باب ما ینھی عن السباب واللعن، رقم (٦٠٤٧) ومسلم ،

کتاب الایمان ، باب غلظ تحریم قتل الانسان رقم (١١٠-١٧٦)]

”مومن پر لعنت کرنا اس طرح ہے جیسے اس کو قتل کر دیا جائے ۔“

جب اللہ تعالیٰ نے اس پر دنیا اور آخرت میں لعنت فرمائی تو یہ اس طرح ہے جس طرح اسے قتل کر دیا گیا پس اس سے معلوم ہوا کہ اس کا قتل مباح ہے یہ بھی کہا گیا ہے کہ لعنت کا مستوجب کافر ہوتا ہے مگر علی الاطلاق اس کا استعمال درست نہیں اس کی مؤید یہ آیت ہے۔

﴿ اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِيْنَ اُوْتُوْا نَصِيْبًا مِّنَ الْكِتٰبِ يُؤْمِنُوْنَ بِالْجِبْتِ وَ الطَّاغُوْتِ وَ يَقُوْلُوْنَ لِلَّذِيْنَ كَفَرُوْا هٰؤُلَآءِ اَهْدٰى مِنَ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا سَبِيْلًا O اُولٰئِكَ الَّذِيْنَ لَعَنَهُمُ اللّٰهُ وَ مَنْ يَّلْعَنِ اللّٰهُ فَلَنْ تَجِدَ لَهٗ نَصِيْرًا ﴾.

[النساء : ٥١-٥٢]

”کیا تو نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جنہیں کتاب کے علم میں سے کچھ حصہ دیا گیا ہے اور ان کا حال یہ ہے کہ جبت اور طاغوت کو مانتے ہیں اور کافروں کے متعلق کہتے ہیں کہ ایمان لانے والوں

صفحہ ۱۱۰

توہین رسالت ﷺ کی شرعی سزا

سے تو یہی زیادہ صحیح راستے پر ہیں ایسے ہی لوگ ہیں جن پر اللہ نے لعنت کی ہے اور جس پر اللہ لعنت کرے پھر تم اس کا کوئی مدد گار نہیں پاؤ گے۔“

اگر وہ معصوم الدم ہوتا تو مسلمانوں پر اس کی مدد واجب ہوتی اور اس کے مدد گار ہوتے۔ اس کی مزید توضیح اس سے ہوتی ہے کہ یہ آیت کعب بن اشرف کے بارے میں نازل ہوئی اس پر یہ لعنت ہوئی کہ اسے قتل کیا گیا اس لیے کہ وہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کو ایذاء دیا کرتا تھا۔

[الصارم المسلول ص ۴۱]

سورہ احزاب کی مذکورہ آیت نمبر ۵۸ کے بارے میں اکثر اہل علم کا خیال ہے کہ یہ آیت بطور خاص امہات المؤمنین رضی اللہ عنہن کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سورہ نور کی تفسیر کرتے ہوئے جب آیت کریمہ ”یرمون المحصنات“ تک پہنچے تو فرمایا یہ آیت بطور خاص حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے بارے میں نازل ہوئی۔ یہ آیت اس لیے مبہم ہے کہ اس میں توبہ کا ذکر نہیں کیا گیا۔ جو شخص کسی مومن عورت پر بہتان باندھے تو اسے توبہ کا حق حاصل ہے پھر انہوں نے یہ آیت تلاوت فرمائی: ﴿ وَالَّذِيْنَ يَرْمُوْنَ الْمُحْصَنَاتِ ثُمَّ لَمْ يَأْتُوْا بِاَرْبَعَةِ شُهَدَاءَ ﴾ .

[النور : ٤]

”جو لوگ پاکدامن عورتوں پر تہمت لگائیں پھر چار گواہ لے کر نہ آئیں۔“

اس آیت میں ان کو توبہ کا حق دیا گیا ہے مگر اللہ اور اس کے رسول ﷺ کو ایذاء دینے والوں کو توبہ کا موقع نہیں دیا گیا۔ حاضرین میں سے ایک کو یہ تفسیر اس قدر پسند آئی کہ اس نے ارادہ کیا کہ اٹھ کر ابن عباس رضی اللہ عنہما کا سر چوم لے۔ حضرت سعید بن جبیرؒ حضرت ابن عباسؓ سے بیان فرماتے ہیں کہ یہ آیت

صفحہ 111

توہین رسالت ﷺ کی شرعی سزا

خصوصاً حضرت عائشہ صدیقہؓ کے بارے میں نازل ہوئی ہے اس میں منافقین پر عمومی لعنت کا ذکر کیا گیا ہے۔

حضرت ابن عباسؓ فرماتے ہیں کہ یہ آیت ان لوگوں کے بارے میں نازل ہوئی جنہوں نے حضرت عائشہؓ اور امہات المومنینؓ پر بہتان طرازی کی تھی اس لیے کہ ان پر بہتان لگانے سے رسول اللہ ﷺ پر طعنہ زنی اور عیب جوئی لازم آتی ہے اس لیے کہ بیوی پر بہتان طرازی خاوند اور اس کے بیٹے کے لیے اذیت رسانی کا موجب ہوتی ہے کیونکہ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ اس کا شوہر بے غیرت ہے اور اس کی بیوی نقص و فساد سے مبرہ نہیں۔ بیوی کے ساتھ بدکاری ، شوہر کے لیے حد درجہ اذیت رساں ہے۔ اسی لیے شارع نے اس کے لیے جائز قرار دیا ہے کہ اگر بیوی زنا کی مرتکب ہو تو شوہر اس پر بہتان لگائے اور لعان کے ذریعہ شوہر سے حد کو ساقط کر دے مگر کسی اور کے لیے مباح نہیں کسی صورت میں بھی عورت پر بہتان طرازی کرے۔ بیوی پر بہتان لگانے سے بعض لوگوں کو جو ننگ و عار لاحق ہوتی ہے وہ اس عار سے کہیں بڑھ کر ہے جو ان کی اپنی ذات پر بہتان طرازی سے لاحق ہوتی ہے۔ چنانچہ امام احمدؒ سے اس ضمن میں جو دو منصوص روایات مذکور ہیں ان میں سے ایک کے مطابق انہوں نے یہ موقف اختیار کیا ہے کہ جو غیر محصنہ پر بہتان لگائے مثلاً لونڈی یا ذمیہ پر جب کہ اس عورت کا خاوند یا بیٹا محصن ہو تو بہتان لگانے والے پر حد لگائی جائے گی اس لیے کہ بہتان طرازی کی وجہ سے اس کے محصن بیٹے اور شوہر کو عار لاحق ہوتی ہے۔

صفحہ ۱۱۲

توہین رسالت ﷺ کی شرعی سزا

امام احمدؒ سے دوسری روایت نقل کی گئی ہے: اور وہی اکثر علماء کا موقف ہے کہ بہتان طرازی کرنے والے پر کوئی حد نہیں ہے اس لیے کہ خاوند اور بیٹے کو اس سے ایذاء تو پہنچتی ہے مگر ان پر بہتان لگایا گیا اور مکمل حدّ قذف کی وجہ سے لگائی جاتی ہے مگر رسول اللہ ﷺ کی ذات کے بارے میں ایذاء رسانی بھی قذف کی مانند ہے جو رسول کریم ﷺ کی ازواجؓ کی تنقیص کر کے رسول اللہ ﷺ پر عیب لگائے وہ منافق ہے اور یہی مفہوم حضرت ابن عباسؓ کے اس قول کا ہے کہ منافقین کے بارے میں عام لعنت ہے۔

حضرت سعید بن جبیرؓ سے کسی نے پوچھا کہ آیا زنا زیادہ بُرا فعل ہے یا پاکدامن عورت پر بہتان طرازی؟ تو انہوں نے کہا کہ زنا زیادہ برا ہے میں نے کہا کہ قرآن میں تو آیا ہے کہ: ”جو لوگ پاکدامن اور احساسِ گناہ سے غافل عورتوں پر بہتان لگاتے ہیں ان پر دنیا اور آخرت میں لعنت ہے۔“

[النور: ۲۳]

یہ سن کر حضرت ابن عباسؓ نے کہا یہ بطورِ خاص حضرت عائشہؓ کے بارے میں ہے اگر کوئی شخص مسلم عورت پر بہتان لگائے تو وہ نصِ قرآنی کے مطابق فاسق ہے اور وہ توبہ کرے۔

اس کی وجہ ہم قبل ازیں بیان کر چکے ہیں کہ محض بہتان لگانے کی وجہ سے کوئی شخص دنیا اور آخرت کی لعنت کا مستوجب نہیں ہو سکتا۔ بنا بریں ”المحصنات الغافلات المؤمنات“ کا لام تعریف عہد کے لیے ہے۔ اور معہود یہاں رسولِ کریم ﷺ کی ازواجِ مطہراتؓ ہیں اس لیے کہ آیت کے سیاق

توہین رسالت ﷺ کی شرعی سزا وسباق میں واقعہ افک اور حضرت ہے یا یوں کہیے کہ خصوصی سبب کی و اس کا مؤید یہ امر ہے عورتوں پر بہتان لگانے پر مرتب ک وَالَّذِیْنَ یَرْمُوْنَ الْمُحْصَ فَاجْلِدُوْهُمْ ثَمَانِیْنَ جَلْدَةً ”وہ لوگ جو پاکدامن عورتو نہیں لاتے انہیں اسّی کوڑ اس آیت میں کوڑے بہتان لگانے پر مرتب کیا گیا ہے محض پاکدامن عورتوں پر ترجیح ہو اس لیے کہ ازواج مطہ ہے کہ وہ اہل ایمان کی مائیں ہیں ہیں جبکہ عام مسلمان عورتوں کے نیز اس لیے کہ اللہ تعالیٰ نے حضر وَالَّذِیْ تَوَلّٰی کِبْرَهُ مِ ”اور جس نے ان میں سے ا اس آیت میں ’تَوَلّٰی‘ عذابِ عظیم کے ساتھ مختص ہو

Discuss in light of the Day of Judgment and grave. 18-- Present a proof of the Day of Judgment based on the following incidents: i - Prophet Muhammad ﷺ was asked about the moon. ii - Prophet Muhammad ﷺ informed about the false prophets. iii - Dajjal was seen by the Prophet ﷺ in his dream. iv- The Caliphate came into existence after the Prophet ﷺ. v - Prophet ﷺ asked for the Quran and Sunnah to be held onto strongly. 19-- How has Maulana Nanotwi used various means to testify to the seal of the prophethood? 20-- According to the Hadith, what does the Straight Path mean? Also highlight the importance of the Hadith in solving the issue of the seal of the prophet hood. 21-- Discuss the immense recollection and remembrance of the Prophet ﷺ and build your argument to present a proof of the seal of prophethood. 22-- “Mirza became an imposter prophet just to gain fame”. Discuss the essential credentials required to present the above claim.

صفحہ ۱۱۳

توہین رسالت ﷺ کی شرعی سزا

وسباق میں واقعہ افک اور حضرت عائشہؓ پر بہتان لگانے والوں کا ذکر کیا گیا ہے یا یوں کہیے کہ خصوصی سبب کی وجہ سے لفظِ عام کو مخصوص و محدود کر دیا گیا ہے۔

اس کا مؤید یہ امر ہے کہ اس وعید کو پاکدامن اور غافل طبع مومن عورتوں پر بہتان لگانے پر مرتب کیا گیا ہے۔ سورۂ ہذا کے آغاز میں فرمایا:

﴿وَالَّذِيْنَ يَرْمُوْنَ الْمُحْصَنَاتِ ثُمَّ لَمْ يَأْتُوْا بِأَرْبَعَةِ شُهَدَاءَ فَاجْلِدُوْهُمْ ثَمَانِيْنَ جَلْدَةً ﴾.

[النور: ٤]

”وہ لوگ جو پاکدامن عورتوں پر بہتان لگاتے ہیں اور پھر چار گواہ نہیں لاتے انہیں اسی کوڑے مارو۔“

اس آیت میں کوڑے مارنے شہادت کے ردّ کرنے اور فسق کو محض بہتان لگانے پر مرتب کیا گیا ہے۔ لہٰذا پاکدامن غافل طبع اور مومن عورتوں کو محض پاکدامن عورتوں پر ترجیح ہونی چاہیے۔ واللہ اعلم

اس لیے کہ ازواج مطہراتؓ کے ایمان کی سب سے بڑی شہادت یہ ہے کہ وہ اہلِ ایمان کی مائیں ہیں وہ دنیا اور آخرت میں نبی ﷺ کی بیویاں ہیں جبکہ عام مسلمان عورتوں کے لیے ایمان کا پتہ محض ان کے ظاہر سے چلتا ہے نیز اس لیے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت عائشہؓ کا واقعہ بیان کرتے ہوئے فرمایا:

﴿وَالَّذِيْ تَوَلّٰى كِبْرَهٗ مِنْهُمْ لَهٗ عَذَابٌ عَظِيْمٌ ﴾

[النور: ١١]

”اور جس نے ان میں سے اس بہتان کا بوجھ اٹھایا اس کو بڑا عذاب ہوگا۔“

اس آیت میں ”تَوَلّٰى كِبْرَهٗ“ [بڑا بوجھ اٹھانے] کی تخصیص اس کے عذابِ عظیم کے ساتھ مختص ہونے کی دلیل ہے۔

صفحہ ۱۱۴

Discuss in light of the Day of Judgment and grave. 18-- Present a proof of the Day of Judgment based on the following incidents: i - Prophet Muhammad ﷺ was asked about the moon. ii - Prophet Muhammad ﷺ informed about the false prophets. iii - Dajjal was seen by the Prophet ﷺ in his dream. iv- The Caliphate came into existence after the Prophet ﷺ. v - Prophet ﷺ asked for the Quran and Sunnah to be held onto strongly. 19-- How has Maulana Nanotwi used various means to testify to the seal of the prophethood? 20-- According to the Hadith, what does the Straight Path mean? Also highlight the importance of the Hadith in solving the issue of the seal of the prophet hood. 21-- Discuss the immense recollection and remembrance of the Prophet ﷺ and build your argument to present a proof of the seal of prophethood. 22-- "Mirza became an imposter prophet just to gain fame". Discuss the essential credentials required to present the above claim.

توہین رسالت ﷺ کی شرعی سزا

نیز فرمایا:

﴿وَلَوْلَا فَضْلُ اللّٰهِ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَتُهُ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ
لَمَسَّكُمْ فِيْ مَآ اَفَضْتُمْ فِيْهِ عَذَابٌ عَظِيْمٌ﴾.

[النور: ١٤]

”اور اگر دنیا اور آخرت میں اللہ کا فضل اور اس کی رحمت نہ ہوتی تو جس بات کا تم چرچا کرتے تھے اس کی وجہ سے تم پر بڑا عذاب نازل ہوتا۔“

اس آیت سے مستفاد ہوتا ہے کہ بڑے عذاب میں ہر شخص کو مبتلا نہیں کیا جائے گا بلکہ اس سے وہ شخص دوچار ہوگا جس نے اس میں بڑا پارٹ ادا کیا ہے یہاں فرمایا ”وَلَهُمْ عَذَابٌ عَظِيْمٌ“ اس سے معلوم ہوا کہ یہ وہ شخص ہے جس نے امہات المومنینؓ پر بہتان باندھا، رسول اللہ ﷺ کو عیب دار بنانا چاہا اور اس واقعہ میں سرگرم حصہ لیا یہ عبداللہ بن ابی منافق کی علامات ہیں۔

[الصارم المسلول ص ٤٧]

واقعہ افک کا تاریخی پس منظر

رسول اللہ ﷺ کے دشمنوں نے آپ کے خلاف اپنی ساری ہی تدبیریں صرف کر ڈالیں اور آپ کو ایذاء پہنچانے کی جو جو صورتیں کسی کے ذہن میں آسکتی تھیں وہ سبھی جمع کی گئیں۔ کفار کی طرف سے جو ایذائیں آپ ﷺ کو پہنچی ہیں ان میں یہ شاید آخری سخت اور روحانی ایذاء تھی کہ ازواج مطہراتؓ میں سب سے زیادہ عالم وفاضل اور مقدس ترین امّ المومنین صدیقہ عائشہؓ پر اور ان کے ساتھ حضرت صفوان بن معطلؓ جیسے مقدس صحابی پر عبداللہ بن ابی منافق نے تہمت گھڑی اور منافقین نے اس کو اور پھیلایا اس میں سب سے زیادہ

صفحہ ۱۱۵

...مۃُ فِی الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ ...مٌ﴾ [النور: ١٤] ...میں کی رحمت نہ ہوتی تو جس ...پر بڑا عذاب نازل ہوتا۔“ ...بڑے عذاب میں ہر شخص کو مبتلا ...ہوگا جس نے اس میں بڑا پارٹ ...۔“ اس سے معلوم ہوا کہ یہ وہ شخص ...کہ رسول اللہ ﷺ کو عیب دار بنانا ...مانی منافق کی علامات ہیں۔

[الصارم المسلول ص ٤٧]

...آپ کے خلاف اپنی ساری ہی ...کرنے کی جو جو صورتیں کسی کے ذہن ...طرح سے جو ایذائیں آپ ﷺ ...جسمانی ایذاء تھی کہ ازواج مطہراتؓ ...کہ ام المومنین صدیقہ عائشہؓ پر ...اس مقدس صحابی پر عبداللہ بن ابی ...نے پھیلایا اس میں سب سے زیادہ

Discuss in light of the Day of Judgment and grave. 18-- Present a proof of the Day of Judgment based on the following incidents: i - Prophet Muhammad ﷺ was asked about the moon. ii - Prophet Muhammad ﷺ informed about the false prophets. iii - Dajjal was seen by the Prophet ﷺ in his dream. iv- The Caliphate came into existence after the Prophet ﷺ. v - Prophet ﷺ asked for the Quran and Sunnah to be held onto strongly. 19-- How has Maulana Nanotwi used various means to testify to the seal of the prophethood? 20-- According to the Hadith, what does the Straight Path mean? Also highlight the importance of the Hadith in solving the issue of the seal of the prophet hood. 21-- Discuss the immense recollection and remembrance of the Prophet ﷺ and build your argument to present a proof of the seal of prophethood. 22-- "Mirza became an imposter prophet just to gain fame". Discuss the essential credentials required to present the above claim.

توہین رسالت ﷺ کی شرعی سزا

رنج دہ بات یہ ہوئی کہ چند سیدھے سادھے مسلمان بھی ان کی سازش سے متاثر ہو کر تہمت کے تذکرے کرنے لگے۔ یہ بے اصل و بے دلیل ہوائی تہمت کی چند روز میں خود ہی حقیقت کھل جاتی مگر ام المومنین کو اور خود رسول اللہ ﷺ جو اس تہمت سے روحانی ایذاء پہنچی تھی حق تعالیٰ نے اس کے ازالہ اور صدیقہؓ کی براءت کے لیے وحی الہی کے کسی اشارہ پر اکتفا نہیں فرمایا بلکہ قرآن کے تقریباً دو رکوع ان کی براءت میں نازل فرمائے اور جن لوگوں نے یہ تہمت گھڑی یا جن لوگوں نے اس کے تذکرے میں حصہ لیا ان سب پر عذاب دنیا و آخرت کی ایسی وعیدیں بیان فرمائیں کہ شاید اور کسی موقع پر ایسی وعیدیں نہیں آئیں۔

در حقیقت اس واقعہ نے حضرت صدیقہ عائشہؓ کی عفت و تقدس کے ساتھ ان کی اعلیٰ عقل و فہم کے کمالات کو بھی روشن کر دیا۔ اسی لیے اس واقعہ میں جو آیات نازل ہوئیں ان میں سے پہلی آیت میں حق تعالیٰ نے فرمایا کہ اس حادثہ کو اپنے لیے شر نہ سمجھو بلکہ یہ تمہارے لیے خیر ہے اس سے بڑی خیر کیا ہوگی کہ اللہ تعالیٰ نے دس آیات میں ان کی پاکی اور نزاہت کی شہادت دی جو قیامت تک تلاوت کی جائیں گی۔ خود صدیقہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ مجھے اپنی جگہ تو یقین تھا کہ اللہ تعالیٰ بذریعہ وحی رسول اللہ ﷺ پر میری صفائی اور براءت ظاہر فرما دیں گے مگر میں اپنے آپ کو اس قابل نہیں سمجھتی تھی کہ میرے معاملہ میں قرآن کی آیات نازل ہو جائیں گی جو ہمیشہ پڑھی جائیں گی۔ اس کے بعد اصل واقعہ اور اس کا تاریخی پس منظر ملاحظہ فرمائیں۔

جس غزوہ میں یہ واقعہ پیش آیا اس کا نام غزوہ بنی المصطلق ہے۔ بنی

صفحہ ۱۱۶

توہین رسالت ﷺ کی شرعی سزا

المصطلق قبیلہ بنی خزاعہ کی ایک شاخ ہے جو ساحل بحر احمر پر جدہ اور رابغ کے درمیان قدید کے علاقے میں رہتی تھی اس کے چشمے کا نام مریسیع تھا جس کے آس پاس اس قبیلے کے لوگ آباد تھے اس مناسبت سے احادیث میں اس مہم کا نام مریسیع بھی آیا ہے۔

شعبان ۶ھ میں نبی ﷺ کو اطلاع ملی کہ یہ لوگ مسلمانوں کے خلاف جنگ کی تیاریاں کررہے ہیں اور دوسرے قبائل کو بھی جمع کرنے کی کوشش میں لگے ہوئے ہیں۔ یہ اطلاع پاتے ہی آپ ایک لشکر لے کر ان کی طرف روانہ ہوگئے تاکہ فتنے کے سر اٹھانے سے پہلے ہی اس کو کچل دیا جائے اس مہم میں عبداللہ بن ابی منافقوں کی ایک بڑی تعداد لے کر آپ کے ساتھ ہوگیا۔ ابن سعد کا بیان ہے کہ اس سے پہلے کسی جنگ میں منافقین اس کثرت سے شامل نہ ہوئے تھے۔ مریسیع کے مقام پر رسول اللہ ﷺ نے اچانک دشمن کو جالیا اور تھوڑی سی رد و کد کے بعد پورے قبیلے کو مال، اسباب سمیت گرفتار کرلیا۔ اس مہم سے فارغ ہو کر ابھی مریسیع ہی میں لشکر اسلام پڑاؤ ڈالے ہوئے تھا کہ ایک روز حضرت عمرؓ کے ایک ملازم اور قبیلہ خزرج کے ایک شخص کے درمیان پانی لینے پر جھگڑا ہوگیا۔ ایک نے انصار کو پکارا دوسرے نے مہاجرین کو آواز دی لوگ دونوں طرف سے جمع ہوگئے اور معاملہ رفع دفع کر دیا گیا لیکن عبداللہ بن ابی نے جو انصار کے قبیلہ خزرج سے تعلق رکھتا تھا بات کا بتنگڑ بنادیا اس نے انصار کو یہ کہہ کہہ کر بھڑکانا شروع کیا کہ یہ مہاجرین ہم پر ٹوٹ پڑے ہیں اور ہمارے حریف بن بیٹھے ہیں۔ ہماری اور ان قریش کنگلوں کی مثال ایسی ہے کہ ”کتے کو پال تاکہ تجھی کو بھنبھوڑ کھائے“ یہ سب کچھ تمہارا اپنا

صفحہ ۱۱۷

Elaborate on the analogy of Qadiani following to be like a weak sapling. Discuss in light of the Day of Judgment and grave. 18-- Present a proof of the Day of Judgment based on the following incidents: i - Prophet Muhammad ﷺ was asked about the moon. ii - Prophet Muhammad ﷺ informed about the false prophets. iii - Dajjal was seen by the Prophet ﷺ in his dream. iv- The Caliphate came into existence after the Prophet ﷺ. v - Prophet ﷺ asked for the Quran and Sunnah to be held onto strongly. 19-- How has Maulana Nanotwi used various means to testify to the seal of the prophethood? 20-- According to the Hadith, what does the Straight Path mean? Also highlight the importance of the Hadith in solving the issue of the seal of the prophet hood. 21-- Discuss the immense recollection and remembrance of the Prophet ﷺ and build your argument to present a proof of the seal of prophethood. 22-- "Mirza became an imposter prophet just to gain fame". Discuss the essential credentials required to present the above claim.

توہین رسالت ﷺ کی شرعی سزا

کیا دھرا ہے۔ تم لوگوں نے خود ہی انہیں لا کر اپنے ہاں بسایا ہے اور ان کو اپنے مال و جائیداد میں حصہ دار بنایا ہے۔ آج اگر تم ان سے ہاتھ کھینچ لو تو یہ چلتے پھرتے نظر آئیں پھر اس نے قسم کھا کر کہا کہ مدینے واپس پہنچنے کے بعد جو ہم میں سے عزت والا ہے وہ ذلیل کو نکال باہر کر دے گا۔ اس کی ان باتوں کی اطلاع جب نبی ﷺ کو پہنچی تو حضرت عمرؓ نے مشورہ دیا کہ اس شخص کو قتل کرا دینا چاہیے مگر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: فکیف یا عمر اذا تحدث الناس ان محمدا یقتل اصحابہ. عمر دنیا کیا کہے گی کہ محمد ﷺ خود اپنے ہی ساتھیوں کو قتل کر رہا ہے۔

پھر آپؐ نے فوراً ہی اس مقام سے کوچ کا حکم دے دیا اور دوسرے دن دوپہر تک کسی جگہ پڑاؤ نہ کیا، تاکہ لوگ خوب تھک جائیں اور کسی کو بیٹھ کر چہ میگوئیاں کرنے اور سننے کی مہلت نہ ملے راستے میں اسید بن حضیرؓ نے عرض کیا یا نبی اللہ! آج آپ نے اپنے معمول کے خلاف ناوقت کوچ کا حکم دے دیا؟ آپؐ نے جواب دیا تم نے سنا نہیں کہ تمہارے صاحب نے کیا باتیں کی ہیں؟ انہوں نے پوچھا کون صاحب؟ آپ نے فرمایا عبداللہ بن ابی ۔ انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ! اس شخص سے رعایت فرمائیے۔ آپؐ جب مدینے تشریف لائے ہیں تاہم لوگ اسے اپنا بادشاہ بنانے کا فیصلہ کر چکے تھے اور اس کے لیے تاج تیار ہورہا تھا آپ ﷺ کی آمد سے اس کا بنا بنایا کھیل بگڑ گیا اس کی جلن وہ نکال رہا ہے۔

یہ شوشہ ابھی تازہ ہی تھا کہ اسی سفر میں اس نے ایک خطرناک فتنہ

صفحہ ۱۱۸

Discuss in light of the Day of Judgment and grave. 18-- Present a proof of the Day of Judgment based on the following incidents: i - Prophet Muhammad ﷺ was asked about the moon. ii - Prophet Muhammad ﷺ informed about the false prophets. iii - Dajjal was seen by the Prophet ﷺ in his dream. iv- The Caliphate came into existence after the Prophet ﷺ. v - Prophet ﷺ asked for the Quran and Sunnah to be held onto strongly. 19-- How has Maulana Nanotwi used various means to testify to the seal of the prophethood? 20-- According to the Hadith, what does the Straight Path mean? Also highlight the importance of the Hadith in solving the issue of the seal of the prophet hood. 21-- Discuss the immense recollection and remembrance of the Prophet ﷺ and build your argument to present a proof of the seal of prophethood. 22-- "Mirza became an imposter prophet just to gain fame". Discuss the essential credentials required to present the above claim.

توہین رسالت ﷺ کی شرعی سزا

اٹھا دیا اور فتنہ بھی ایسا کہ اگر نبی ﷺ اور آپ کے جاں نثار صحابہ رضی اللہ عنہم کمال درجہ ضبط و تحمل اور حکمت و دانائی سے کام نہ لیتے تو مدینے کی نوخیز مسلم سوسائٹی میں سخت خانہ جنگی برپا ہو جاتی یہ حضرت عائشہؓ پر تہمت کا فتنہ تھا۔ اس واقعہ کو خود انہی کی زبان سے سنیے جس سے پوری صورت حال سامنے آجائے گی۔ بیچ بیچ میں جو امور تشریح طلب ہوں گے انہیں ہم دوسری معتبر روایات کی مدد سے قوسین میں بڑھاتے جائیں گے تا کہ جناب سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے تسلسل بیان میں خلل نہ واقع ہو۔

فرماتی ہیں:

رسول اللہ ﷺ کا قاعدہ تھا کہ جب آپ سفر پر جانے لگتے تو قرعہ ڈال کر فیصلہ فرماتے کہ آپ ﷺ کی بیویوں میں سے کون آپ کے ساتھ جائے گی۔ غزوہ بنی المصطلق کے موقع پر قرعہ میرے نام نکلا اور میں آپ کے ساتھ گئی۔ واپسی پر جب مدینے کے قریب تھے ایک منزل پر رات کے وقت رسول اللہ ﷺ نے پڑاؤ کیا اور ابھی رات کا کچھ حصہ باقی تھا کہ کوچ کی تیاریاں شروع ہو گئیں میں اٹھ کر رفع حاجت کے لیے گئی اور جب پلٹنے لگی تو قیام گاہ کے قریب پہنچ کر مجھے محسوس ہوا کہ میرے گلے کا ہار ٹوٹ کر کہیں گر پڑا ہے میں اسے تلاش کرنے میں لگ گئی اور اتنے میں قافلہ روانہ ہو گیا۔ قاعدہ یہ تھا کہ میں کوچ کے وقت اپنے ہودے میں بیٹھ جاتی تھی اور چار آدمی اسے اٹھا کر اونٹ پر رکھ دیتے تھے۔ ہم عورتیں اس زمانے میں غذا کی کمی کے سبب سے بہت ہلکی پھلکی تھیں۔ میرا ہودہ اٹھاتے وقت لوگوں کو یہ محسوس ہی نہ ہوا کہ میں

توہین رسالت ﷺ کی شرعی سزا

اس میں نہیں ہوں وہ بے خبری میں جب ہار لے کر پلٹی تو وہاں کوئی نہ میں سوچ لیا کہ آگے جا کر جب ہوئے آجائیں گے۔ اسی حالت میں

دوسری طرف قدرت صحابی جن کو رسول اللہ ﷺ نے کے پیچھے رہیں اور قافلہ روانہ ہو اٹھا کر محفوظ کرلیں وہ صبح کے وقت کہ کوئی آدمی پڑا سو رہا ہے۔ قر لیا کیونکہ انہوں نے پردہ کے ا پہچاننے کے بعد انتہائی افسوس ک رَاجِعُوْن نکلا۔ یہ کلمہ س ڈھانپ لیا۔ حضرت صفوانؓ ن کھڑے ہو گئے میں اونٹ پر س کے قریب ہم نے لشکر کو جالیا جو کو ابھی یہ پتہ نہ چلا تھا کہ میں بہتان اٹھا دیئے اور ان میں سر سے بے خبر تھی کہ مجھ پر کیا بات

دوسری روایات میں

صفحہ 119

Discuss in light of the Day of Judgment and grave. 18-- Present a proof of the Day of Judgment based on the following incidents: i - Prophet Muhammad ﷺ was asked about the moon. ii - Prophet Muhammad ﷺ informed about the false prophets. iii - Dajjal was seen by the Prophet ﷺ in his dream. iv- The Caliphate came into existence after the Prophet ﷺ. v - Prophet ﷺ asked for the Quran and Sunnah to be held onto strongly. 19-- How has Maulana Nanotwi used various means to testify to the seal of the prophethood? 20-- According to the Hadith, what does the Straight Path mean? Also highlight the importance of the Hadith in solving the issue of the seal of the prophet hood. 21-- Discuss the immense recollection and remembrance of the Prophet ﷺ and build your argument to present a proof of the seal of prophethood. 22-- "Mirza became an imposter prophet just to gain fame". Discuss the essential credentials required to present the above claim.

توہین رسالت ﷺ کی شرعی سزا

اس میں نہیں ہوں وہ بے خبری میں خالی ہودج اونٹ پر رکھ کر روانہ ہو گئے میں جب ہار لے کر پلٹی تو وہاں کوئی نہ تھا آخر اپنی چادر اوڑھ کر وہیں لیٹ گئی اور دل میں سوچ لیا کہ آگے جا کر جب یہ لوگ مجھے نہ پائیں گے تو خود ہی ڈھونڈتے ہوئے آجائیں گے ۔ اسی حالت میں مجھ کو نیند آگئی ۔

دوسری طرف قدرت نے یہ سامان کیا کہ حضرت صفوان بن معطلؓ صحابی جن کو رسول اللہ ﷺ نے اسی خدمت کے لیے مقرر کیا ہوا تھا کہ وہ قافلہ کے پیچھے رہیں اور قافلہ روانہ ہونے کے بعد گری پڑی کوئی چیز رہ گئی ہو تو اس کو اٹھا کر محفوظ کرلیں وہ صبح کے وقت اس جگہ پہنچے ابھی روشنی پوری نہ تھی اتنا دیکھا کہ کوئی آدمی پڑا سو رہا ہے ۔ قریب آئے تو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا صدیقہ کو پہچان لیا کیونکہ انہوں نے پردہ کے احکام نازل ہونے سے پہلے ان کو دیکھا تھا۔ پہچاننے کے بعد انتہائی افسوس کے ساتھ ان کی زبان سے انا للہ وانا الیہ راجعون نکلا۔ یہ کلمہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے کان میں پڑا تو آنکھ کھل گئی اور چہرہ ڈھانپ لیا۔ حضرت صفوانؓ نے اپنا اونٹ قریب لاکر بٹھا دیا اور الگ ہٹ کر کھڑے ہوگئے میں اونٹ پر سوار ہوگئی اور وہ نکیل پکڑ کر روانہ ہو گئے ۔ دوپہر کے قریب ہم نے لشکر کو جالیا جبکہ وہ ابھی ایک جگہ جا کر ٹھہرا ہی تھا اور لشکر والوں کو ابھی یہ پتہ نہ چلا تھا کہ میں پیچھے رہ گئی ہوں اس پر بہتان اٹھانے والوں نے بہتان اٹھا دیئے اور ان میں سب سے پیش پیش عبداللہ بن ابی تھا۔ مگر میں اس سے بے خبر تھی کہ مجھ پر کیا باتیں بن رہی ہیں۔

دوسری روایات میں آیا ہے کہ جس وقت صفوانؓ کے اونٹ پر حضرت

صفحہ ۱۲۰

Discuss in light of the Day of Judgment and grave. 18-- Present a proof of the Day of Judgment based on the following incidents: i - Prophet Muhammad ﷺ was asked about the moon. ii - Prophet Muhammad ﷺ informed about the false prophets. iii - Dajjal was seen by the Prophet ﷺ in his dream. iv- The Caliphate came into existence after the Prophet ﷺ. v - Prophet ﷺ asked for the Quran and Sunnah to be held onto strongly. 19-- How has Maulana Nanotwi used various means to testify to the seal of the prophethood? 20-- According to the Hadith, what does the Straight Path mean? Also highlight the importance of the Hadith in solving the issue of the seal of the prophet hood. 21-- Discuss the immense recollection and remembrance of the Prophet ﷺ and build your argument to present a proof of the seal of prophethood. 22-- “Mirza became an imposter prophet just to gain fame”. Discuss the essential credentials required to present the above claim.

توہین رسالت ﷺ کی شرعی سزا

عائشہ رضی اللہ عنہا لشکر گاہ میں پہنچیں اور معلوم ہوا کہ آپ اس طرح پیچھے رہ گئی تھیں اسی وقت عبداللہ بن ابی پکار اٹھا کہ اللہ کی قسم یہ بچ کر نہیں آئی ہے، لو دیکھو تمہارے نبی ﷺ کی بیوی نے رات ایک اور شخص کے ساتھ گزاری اور اب وہ اسے علانیہ لئے چلا آرہا ہے۔

مدینہ پہنچ کر میں بیمار ہو گئی اور ایک مہینے کے قریب پلنگ پر پڑی رہی شہر میں اس بہتان کی خبریں اڑ رہی تھیں رسول اللہ ﷺ کے کانوں تک بھی بات پہنچ چکی تھی مگر مجھے پتہ نہ تھا۔ البتہ جو چیز مجھے کھٹکتی تھی وہ یہ کہ رسول اللہ ﷺ میں وہ لطف و کرم اپنے ساتھ نہ دیکھتی تھی جو ہمیشہ سے معمول تھا۔ بلکہ اس عرصہ میں آپ ﷺ کا معاملہ یہ رہا کہ گھر میں تشریف لاتے اور سلام کرتے پھر پوچھ لیتے کیا حال ہے۔ اور واپس تشریف لے جاتے تھے۔ مجھے چونکہ اس کی کچھ خبر نہ تھی کہ میرے بارے میں کیا خبر مشہور کی جا رہی ہے اس لیے رسول اللہ ﷺ کے اس طرز عمل کا راز مجھ پر نہ کھلتا تھا میں اسی غم میں گھلنے لگی۔

ایک روز رات کے وقت قضاء حاجت کے لیے مدینہ کے باہر گئی۔ اس وقت تک ہمارے گھروں میں یہ بیت الخلاء نہ تھے اور ہم لوگ جنگل ہی جایا کرتے تھے۔ میرے ساتھ مسطح بن اثاثہ کی ماں بھی تھیں جو میرے والد کی خالہ زاد بہن تھیں۔ [دوسری روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ اس پورے خاندان کی کفالت حضرت ابوبکر نے اپنے ذمے لے رکھی تھی مگر اس احسان کے باوجود مسطح بھی ان لوگوں میں شریک ہو گئے تھے جو حضرت عائشہؓ کے خلاف اس بہتان کو پھیلا رہے تھے] راستے میں ان کو ٹھوکر لگی اور بے ساختہ ان کی زبان

صفحہ ۱۲۱

Discuss in light of the Day of Judgment and grave. 18-- Present a proof of the Day of Judgment based on the following incidents: i - Prophet Muhammad ﷺ was asked about the moon. ii - Prophet Muhammad ﷺ informed about the false prophets. iii - Dajjal was seen by the Prophet ﷺ in his dream. iv- The Caliphate came into existence after the Prophet ﷺ. v - Prophet ﷺ asked for the Quran and Sunnah to be held onto strongly. 19-- How has Maulana Nanotwi used various means to testify to the seal of the prophethood? 20-- According to the Hadith, what does the Straight Path mean? Also highlight the importance of the Hadith in solving the issue of the seal of the prophet hood. 21-- Discuss the immense recollection and remembrance of the Prophet ﷺ and build your argument to present a proof of the seal of prophethood. 22-- "Mirza became an imposter prophet just to gain fame". Discuss the essential credentials required to present the above claim.

توہین رسالت ﷺ کی شرعی سزا

سے نکلا غارت ہو مسطح میں نے کہا اچھی ماں ہو جو بیٹے کو کوستی ہو اور بیٹا بھی وہ جس نے جنگ بدر میں حصہ لیا ہے۔ انہوں نے کہا بیٹی کیا تم کو خبر نہیں کہ مسطح میرا بیٹا کیا کہتا پھرتا ہے؟ میں نے پوچھا وہ کیا کہتا ہے۔ تب ان کی والدہ نے مجھے یہ سارا واقعہ اہلِ افک کی چلائی ہوئی تہمت کا اور مسطح کا اس میں شریک ہونا بیان کیا۔ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ یہ سن کر میرا مرض دوگنا ہو گیا۔ جب میں گھر میں واپس آئی اور حسب معمول رسول اللہ ﷺ تشریف لائے سلام کیا اور مزاج پرسی فرمائی تو صدیقہ رضی اللہ عنہا نے رسول اللہ ﷺ سے اجازت طلب کی کہ اپنے والدین کے گھر چلی جاؤں۔ آپ ﷺ نے اجازت دے دی۔ منشا یہ تھا کہ والدین سے اس معاملہ کی تحقیق کریں میں نے جا کر والدہ سے پوچھا انہوں نے تسلی دی کہ تم جیسی عورتوں کے دشمن ہوا کرتے ہیں اور ایسی چیزیں مشہور کیا کرتے ہیں تم اس کے غم میں نہ پڑو۔ خود بخود معاملہ صاف ہو جائے گا۔ میں نے کہا سبحان اللہ ! لوگوں میں اس کا چرچا ہو چکا میں اس پر کیسے صبر کروں۔ میں ساری رات روتی رہی، نہ میرے آنسو تھمتے نہ آنکھ لگی۔ دوسری طرف رسول اللہ ﷺ جو اس خبر کے پھیلنے سے سخت غمگین تھے اور اس عرصہ میں اس معاملے کے متعلق کوئی وحی بھی آپ ﷺ پر نہ آتی تھی۔ اس لیے حضرت علی کرم اللہ وجہہ اور اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما جو دونوں گھر کے ہی آدمی تھے ان سے مشورہ لیا کہ ایسی حالت میں مجھے کیا کرنا چاہیے؟ حضرت اسامہ بن زیدؓ نے تو کھل کر عرض کیا کہ جہاں تک ہمارا علم ہے ہمیں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے بارے میں کوئی بدگمانی نہیں۔ ان کی کوئی بات ایسی نہیں جس سے بدگمانی کی راہ پیدا ہو۔ آپ ان افواہوں کی کچھ پروا نہ کریں۔ حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے

صفحہ ۱۲۲

توہین رسالت ﷺ کی شرعی سزا

[آپ کو غم واضطراب سے بچانے کے لیے] یہ مشورہ دیا کہ اللہ تعالیٰ نے آپ پر تنگی نہیں فرمائی۔ اگر افواہوں کی بنا پر عائشہؓ کی طرف سے کچھ تکدر طبعی ہو گیا ہے تو عورتیں اور بہت ہیں اور آپ ﷺ کا یہ تکدر اس طرح بھی رفع ہوسکتا ہے کہ بریرہؓ سے جو عائشہ صدیقہؓ کی کنیز ہیں ان سے ان کے حالات میں تحقیق فرما لیجئے۔ چنانچہ رسول اللہ ﷺ نے بریرہ رضی اللہ عنہا سے پوچھ گچھ فرمائی۔ بریرہ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا اور تو کوئی بات عیب کی مجھے ان میں نظر نہیں آتی بجز اس کے کہ نو عمر لڑکی ہیں۔ بعض اوقات آٹا گوند کر رکھ دیتی ہیں۔ خود سو جاتی ہیں بکری آ کر آٹا کھا جاتی ہے۔ [اس کے بعد حدیث میں رسول اللہ ﷺ کا خطبہ دینا اور افواہ پھیلانے والوں کی شکایت کا ذکر فرمانا اور طویل قصہ مذکور ہے آگے کا مختصر قصہ یہ ہے] صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ مجھے سارا دن اور پھر دوسری رات بھی مسلسل روتے ہوئے گزری۔ میرے والدین بھی میرے پاس آگئے تھے۔ وہ ڈر رہے تھے کہ رونے سے میرا کلیجہ پھٹ جائے گا۔ میرے والدین میرے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ رسول اللہ ﷺ تشریف لائے اور میرے پاس بیٹھ گئے اور جب سے یہ قصہ چلا تھا اس سے پہلے آپ میرے پاس آ کر نہ بیٹھے تھے۔ پھر آپ نے ایک مختصر خطبہ شہادت پڑھا اور فرمایا۔ اے عائشہ ! مجھے تمہارے بارے میں یہ باتیں پہنچی ہیں۔ اگر تم بری ہو تو ضرور اللہ تمہیں بری کر دیں گے [یعنی برائت کا اظہار بذریعہ وحی فرمادیں گے] اور اگر تم سے کوئی لغزش ہوگئی ہے تو اللہ تعالیٰ سے توبہ واستغفار کرو کیونکہ بندہ جب اپنے گناہ کا اعتراف کر کے توبہ کر لیتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کی توبہ قبول فرما لیتے ہیں۔ جب رسول اللہ ﷺ نے اپنا کلام پورا فرمالیا تو میرے آنسو بالکل خشک ہوگئے۔

صفحہ 123

Discuss in light of the Day of Judgment and grave. 18-- Present a proof of the Day of Judgment based on the following incidents: i - Prophet Muhammad ﷺ was asked about the moon. ii - Prophet Muhammad ﷺ informed about the false prophets. iii - Dajjal was seen by the Prophet ﷺ in his dream. iv- The Caliphate came into existence after the Prophet ﷺ. v - Prophet ﷺ asked for the Quran and Sunnah to be held onto strongly. 19-- How has Maulana Nanotwi used various means to testify to the seal of the prophethood? 20-- According to the Hadith, what does the Straight Path mean? Also highlight the importance of the Hadith in solving the issue of the seal of the prophet hood. 21-- Discuss the immense recollection and remembrance of the Prophet ﷺ and build your argument to present a proof of the seal of prophethood. 22-- “Mirza became an imposter prophet just to gain fame”. Discuss the essential credentials required to present the above claim.

۱۲۲ مشورہ دیا کہ اللہ تعالیٰ نے آپ پر طرف سے کچھ تکدر طبعی ہو گیا کا یہ تکدر اس طرح بھی رفع ہیں ان سے ان کے حالات میں نے بریرہ رضی اللہ عنہا سے پوچھ گچھ طیب کی مجھے ان میں نظر نہیں آتی بند کر رکھ دیتی ہیں۔ خود سو جاتی حدیث میں رسول اللہ ﷺ کا کر فرمانا اور طویل قصہ مذکور ہے کہ مجھے سارا دن اور پھر دوسری الدین بھی میرے پاس آگئے ٹ جائے گا۔ میرے والدین تشریف لائے اور میرے پاس آپ میرے پاس آکر نہ بیٹھے اور فرمایا۔ اے عائشہ ! مجھے گئی ہو تو ضرور اللہ تمہیں بری کر دیں گے ] اور اگر تم سے کوئی کیونکہ بندہ جب اپنے گناہ کا توبہ قبول فرما لیتے ہیں۔ جب ے آنسو بالکل خشک ہو گئے۔

توہین رسالت ﷺ کی شرعی سزا

میری آنکھوں میں ایک قطرہ نہ رہا۔ میں نے اپنے والد حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے کہا کہ آپ رسول اللہ ﷺ کی بات کا جواب دیجیے ابوبکر ؓ نے عذر کیا کہ میں کیا کہہ سکتا ہوں۔ پھر میں نے اپنی والدہ سے کہا آپ جواب دیجیے انہوں نے بھی عذر کر دیا کہ میں کیا کہہ سکتی ہوں اب مجبور ہو کر مجھے ہی بولنا پڑا۔ میں ایک کم عمر لڑکی تھی۔ اب تک قرآن بھی زیادہ نہ پڑھ سکتی تھی۔ اس وقت اس رنج وغم اور انتہائی صدمہ کی حالت میں جب کہ اچھے اچھے عقلاء کو بھی کوئی معقول کلام کرنا آسان نہیں ہوتا۔ حضرت صدیقہ رضی اللہ عنہا نے جو کچھ فرمایا وہ ایک عجیب وغریب عاقلانہ فاضلانہ کلام ہے۔ ان کے الفاظ بعینہ لکھے جاتے ہیں:

وَاللّٰهِ لَقَدْ عَرَفْتُ لَقَدْ سَمِعْتُمْ هٰذَا الْاَمْرَ حَتّٰى اسْتَقَرَّ فِيْ اَنْفُسِكُمْ وَصَدَّقْتُمْ بِهٖ وَلَئِنْ قُلْتُ لَكُمْ اِنِّيْ مِنْهُ بَرِيْئَةٌ وَاللّٰهُ يَعْلَمُ لَاتُصَدِّقُوْنِيْ بِذٰلِكَ وَلَانِ اعْتَرَفْتُ لَكُمْ بِاَمْرٍ وَاللّٰهُ يَعْلَمُ اَنِّيْ بَرِيْئَةٌ لَتُصَدِّقُوْنَنِيْ وَاللّٰهِ لَا اَجِدُ لِيْ وَلَكُمْ مَثَلًا اِلَّا كَمَا قَالَ اَبُوْ يُوْسُفَ فَصَبْرٌ جَمِيْلٌ وَاللّٰهُ الْمُسْتَعَانُ عَلٰى مَا تَصِفُوْنَ. [طبرانی کبیر ٥٤/٢٣]

”اللہ کی قسم مجھے معلوم ہو گیا ہے کہ آپؓ نے اس بات کو سنا اور سنتے رہے یہاں تک کہ آپؓ کے دل میں بیٹھ گئی اور آپؓ نے اس کی [عملاً ] تصدیق کر دی۔ اب اگر میں یہ کہتی ہوں کہ میں اس سے بری ہوں جیسا کہ اللہ جانتا ہے کہ میں واقع میں بری ہوں تو آپؓ میری تصدیق نہیں کریں گے اور اگر میں ایسے کام کا اعتراف کر لوں جس

صفحہ 124

Discuss in light of the Day of Judgment and grave. 18-- Present a proof of the Day of Judgment based on the following incidents: i - Prophet Muhammad ﷺ was asked about the moon. ii - Prophet Muhammad ﷺ informed about the false prophets. iii - Dajjal was seen by the Prophet ﷺ in his dream. iv- The Caliphate came into existence after the Prophet ﷺ. v- Prophet ﷺ asked for the Quran and Sunnah to be held onto strongly. 19-- How has Maulana Nanotwi used various means to testify to the seal of the prophethood? 20-- According to the Hadith, what does the Straight Path mean? Also highlight the importance of the Hadith in solving the issue of the seal of the prophet hood. 21-- Discuss the immense recollection and remembrance of the Prophet ﷺ and build your argument to present a proof of the seal of prophethood. 22-- "Mirza became an imposter prophet just to gain fame". Discuss the essential credentials required to present the above claim.

توہین رسالت ﷺ کی شرعی سزا ۱۲۴

سے میرا بری ہونا اللہ تعالیٰ جانتا ہے تو آپ میری بات مان لیں گے۔ واللہ! اب میں اپنے اور آپ کے معاملہ میں کوئی مثال بجز اس کے نہیں پاتی جو یوسف علیہ السلام کے والد یعقوب علیہ السلام نے اپنے بیٹوں کی غلط بات سن کر فرمائی تھی کہ میں صبر جمیل اختیار کرتا ہوں اور اللہ تعالیٰ سے اس معاملے میں مدد چاہتا ہوں جو تم بیان کر رہے ہو۔‘‘

صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ اتنی بات کر کے میں الگ بستر پر جا کر لیٹ گئی اور فرمایا کہ مجھے یقین تھا کہ جیسا میں فی الواقع بری ہوں اللہ تعالیٰ میری برائت کا اظہار بذریعہ وحی ضرور فرمائیں گے۔ لیکن یہ وہم و خیال بھی نہ تھا کہ میرے معاملے میں قرآن کی آیات نازل ہوں گی۔ جو ہمیشہ تلاوت کی جائیں گی۔ کیونکہ میں اپنا مقام اس سے بہت کم محسوس کرتی تھی ہاں یہ خیال تھا کہ غالباً آپ ﷺ کو خواب میں میری برائت ظاہر کر دی جائے گی۔ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ اپنی اس مجلس سے ابھی نہیں اٹھے تھے اور گھر والوں میں سے کوئی بھی نہیں اٹھا تھا کہ آپ پر وہ کیفیت طاری ہوئی جو نزول وحی کے وقت ہوا کرتی تھی جس سے سخت سردی کے زمانے میں آپ ﷺ کی پیشانی مبارک سے پسینہ پھوٹنے لگتا تھا جب یہ کیفیت رفع ہوئی تو رسول اللہ ﷺ ہنستے ہوئے اٹھے اور سب سے پہلا کلمہ جو فرمایا وہ یہ تھا۔ اَبْشِرِیْ یَا عَائِشَةُ ! أَمَّا اللّٰهُ فَقَدْ أَبْرَأَكِ ۔ یعنی اے عائشہ! خوشخبری سنو اللہ تعالیٰ نے تو تمہیں بری کر دیا۔ میری والدہ نے کہا کھڑی ہو جاؤ اور رسول اللہ ﷺ کے پاس حاضر ہو۔ میں نے کہا کہ نہ میں اس معاملہ میں اللہ کے سوا کسی کا احسان مانتی ہوں نہ کھڑی ہوں گی میں اپنے

توہین رسالت ﷺ کی شرعی سزا

رب کی شکر گزار ہوں کہ اس نے م

[تفسیر

حضرت صدیقہ رضی اللہ عنہا کی

امام بغوی نے انہیں آیا عائشہ رضی اللہ عنہا کی چند خصوصیات ایسی نصیب نہیں ہوئیں اور صدیقہ عا چیزوں کو فخر کے ساتھ بیان فرمایا ک نکاح میں آنے سے پہلے جبریل لے کر رسول اللہ ﷺ کے [ترمذی] اور بعض روایات میں ی لے کر تشریف لائے تھے۔

نہیں کیا۔

حضرت صدیقہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ ای یہ خصوصیت حاصل نہیں تھی۔

صفحہ ۱۲۵

توہین رسالت ﷺ کی شرعی سزا

رب کی شکر گزار ہوں کہ اس نے مجھے بری فرمایا۔

[تفسیر معارف القرآن ۳۷۰/٦]

حضرت صدیقہ رضی اللہ عنہا کی چند خصوصیات

امام بغوی نے انہی آیات کی تفسیر میں فرمایا ہے کہ حضرت صدیقہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی چند خصوصیات ایسی ہیں جو ان کے علاوہ کسی دوسری عورت کو نصیب نہیں ہوئیں اور صدیقہ عائشہ رضی اللہ عنہا بھی [بطور تحدیث بالنعمۃ] ان چیزوں کو فخر کے ساتھ بیان فرمایا کرتی تھیں۔ ایک یہ کہ رسول اللہ ﷺ کے نکاح میں آنے سے پہلے جبریل امین ایک ریشمی کپڑے میں میری تصویر لے کر رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے اور فرمایا کہ تمہاری زوجہ ہے [ترمذی] اور بعض روایات میں ہے کہ جبریل امین اپنی ہتھیلی میں یہ صورت لے کر تشریف لائے تھے۔

نہیں کیا۔

حضرت صدیقہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ ایک لحاف میں ہوتے تھے۔ دوسری کسی بیوی کو یہ خصوصیت حاصل نہیں تھی۔

[ترمذی ۲۲۷/۲]

صفحہ ۱۲۶

توہین رسالت ﷺ کی شرعی سزا

ساتویں یہ کہ وہ خلیفہ رسول اللہ ﷺ کی بیٹی ہیں اور صدیقہ رضی اللہ عنہا ہیں اور ان میں سے ہیں جن سے دنیا ہی میں مغفرت اور رزق کریم کا اللہ تعالیٰ نے وعدہ فرمایا ہے۔

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو فقیہانہ اور عالمانہ تحقیقات اور فاضلانہ تقریر کو دیکھ کر حضرت موسیٰ بن طلحہ رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ میں نے صدیقہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے زیادہ فصیح و بلیغ نہیں دیکھا۔

[ترمذی ص ۲ / ۲۲۸]

ایک اہم تنبیہ

حضرت صدیقہ عائشہ رضی اللہ عنہا پر تہمت کے قضیہ میں جو بعض مسلمان بھی شریک ہو گئے تھے ۔ یہ قضیہ اس وقت کا تھا جب تک آیات براءت قرآن میں نازل نہیں ہوئی تھیں آیات براءت نازل ہونے کے بعد جو شخص حضرت صدیقہ عائشہ رضی اللہ عنہا پر تہمت لگائے وہ بلاشبہ کافر ، منکر قرآن ہے ۔ جیسا کہ شیعوں کے بعض فرقے اور بعض افراد اس میں مبتلا پائے جاتے ہیں ان کے کافر ہونے میں کوئی شک وشبہ کرنے کی بھی گنجائش نہیں وہ باجماع امت کافر ہیں ۔

حدّ قذف

قرآنی ضابطہ کے مطابق اُم المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا پر جس کا ذکر قرآن میں ہوا تہمت لگانے والوں سے شہادت کا مطالبہ کیا گیا تو وہ ایک بالکل ہی بے بنیاد خبر تھی، گواہ کہاں سے لاتے؟ نتیجہ یہ ہوا کہ نبی کریم ﷺ نے تہمت لگانے والوں پر شرعی ضابطہ کے مطابق حدّ قذف جاری کی ہر ایک کو اسّی

صفحہ ۱۲۷

توہین رسالت ﷺ کی شرعی سزا

اسّی کوڑے لگائے ۔ بزار اور ابن مردویہ نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے کہ اس وقت رسول اللہ ﷺ نے تین مسلمانوں پر حد قذف جاری فرمائی مسطح ، حمنہ، حسان اور طبرانی نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اس موقع پر عبداللہ بن ابی منافق جس نے اصل تہمت گھڑی تھی اس پر دوہری حد جاری فرمائی ۔ پھر مومنین نے توبہ کر لی اور منافقین اپنے حال پر قائم رہے۔

حضرت صدیقہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو گالی دینے والے کا حکم

شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:

قال القاضی ابو یعلی من قذف عائشة بما برأها الله منه کفر بلاخلاف وقد حکی الاجماع علی هذا غیر واحد وصرح غیر واحد من الائمة بهذا الحکم فروی عن مالك من سب ابابکر جُلِدَ و من سب عائشة قتل قیل له لم ؟ قال من رماها فقد خالف القرآن لان الله تعالی قال یعظکم الله ان تعودوا لمثله ابداً ان کنتم مؤمنین وقال ابوبکر بن زیاد النیسابوری سمعت القاسم بن محمد یقول لاسماعیل بن اسحاق اتی المأمون بالرقة برجلین شتم احدهما فاطمة والآخر عائشة فامر بقتل الذی شتم فاطمة وترك الآخر فقال اسماعیل ما حکمهما الا ان یقتلا لان الذی شتم عائشة ردّ القرآن وعلی هذا مضت سیرة اهل الفقه والعلم من اهل البیت

صفحہ ۱۲۸

توہین رسالت ﷺ کی شرعی سزا

وغيرهم. ...قال ابو السائب القاضى كنت يوما بحضرة الحسن بن زيد الداعى بطبرستان وكان يلبس الصوف ويأمر بالمعروف وينهى عن المنكر ويوجه فى كل سنة بعشرين الف دينار الى مدينة السلام يفرق على سائر ولد الصحابة وكان بحضرته رجل فذكر عائشة بذكر قبيح من الفاحشة فقال يا غلام اضرب عنقه فقال العلويون هذا رجل من شيعتنا فقال معاذ الله هذا رجل طعن على النبى صلى الله عليه وسلم قال الله تعالى الخبيثات للخبيثين والخبيثون للخبيثات والطيبات للطيبين والطيبون للطيبات اولئك مبرؤن مما يقولون لهم مغفرة ورزق كريم فان كانت عائشة خبيثة فالنبى ﷺ خبيث فهو كافر فاضربوا عنقه فضربوا عنقه وانا حاضر رواه اللالكائى . وروى عن محمد بن زيد اخى الحسن بن زيد انه قدم عليه رجل من العراق فذكر عائشة بالسوء فقام اليه بعمود فضرب به دماغه فقتله فقيل له هذا من شيعتنا ومن بنى الآباء فقال هذا سمى جدى قرنان ومن سمى قرنان استحق القتل فقتله .

[الصارم المسلول ص ۵۷۱]

”قاضی ابویعلیٰ فرماتے ہیں کہ جوشخص حضرت صدیقہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو گالی دے اسے قتل کیا جائے ان سے اس کی وجہ پوچھی تو کہا جس نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا پر بہتان باندھا اس نے قرآن کی مخالفت کی قرآن کریم نے فرمایا:

صفحہ ۱۲۹

توہین رسالت ﷺ کی شرعی سزا

اللہ تعالیٰ تمہیں نصیحت کرتے ہیں کہ پھر کبھی بھی ایسا کام (نہ) کرنا اگر تم سچے مومن ہو۔

[النور: ۱۷]

ابوبکر بن زیاد نیشاپوری فرماتے ہیں کہ میں نے قاسم بن محمد سے سنا وہ اسماعیل بن اسحاق کو کہہ رہے تھے کہ رقہ کے شہر میں خلیفہ مامون کے پاس دو آدمیوں کو لایا گیا ان میں سے ایک نے حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کو گالی دی تھی اور دوسرے نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو اس نے حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کو گالی دینے والے کو قتل کا حکم دیا اور دوسرے کو چھوڑ دیا۔ اسماعیل نے کہا دونوں کا حکم یہ ہے کہ ان کو قتل کیا جائے کیونکہ جس نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو گالی دی اس نے قرآن کی مخالفت کی اہل الفقہ والعلم کا طرز عمل اہل بیت وغیرہم کے ساتھ یہی ہے۔

ابوالسائب القاضی نے کہا کہ ایک دن میں طبرستان حسن بن زید الداعی کے پاس تھا وہ اُون کا لباس پہنتے اور امر بالمعروف و نہی عن المنکر پر عمل پیرا تھے وہ ہر سال بیس ہزار دینار مدینہ منورہ بھیجتے تھے تا کہ صحابہ کے بچوں میں تقسیم کئے جائیں ان کے پاس ایک شخص تھا جس نے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کا تذکرہ قبیح الفاظ میں کیا تو انہوں نے غلام کو حکم دیا کہ اس کی گردن اڑا دے یہ دیکھ کر علویوں نے کہا کہ یہ ہمارے گروہ کا آدمی ہے اس نے کہا اللہ کی پناہ اس شخص نے رسول کریم ﷺ پر طعن کیا۔ قرآن میں فرمایا گیا ہے:

”ناپاک عورتیں ناپاک مردوں کے لیے اور ناپاک مرد ناپاک عورتوں کے لیے اور پاک عورتیں پاک مردوں کے لیے اور پاک مرد پاک عورتوں کے

صفحہ ۱۳۰

توہین رسالت ﷺ کی شرعی سزا

لیے یہ [پاک لوگ] ان [بدلوگوں] کی باتوں سے بری ہیں اور ان کے لیے بخشش اور اچھی روزی ہے۔“

اگر حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا [معاذ اللہ] ناپاک تھیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی [معاذ اللہ] ناپاک ہوں گے ۔ لہٰذا یہ شخص کافر ہے اس کی گردن اڑا دو چنانچہ میری موجودگی میں اسے قتل کر دیا گیا اس کو لالکائی نے روایت کیا ہے۔

حسن بن زید کے بھائی محمد بن زید سے مروی ہے کہ ان کے پاس عراق کا ایک شخص آیا اور اس نے بُرے الفاظ میں حضرت صدیقہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا ذکر کیا وہ ایک کھمبا لے کر اس کی طرف بڑھے اور اس کے سر پر مار کر اسے قتل کر دیا ان سے کہا گیا کہ یہ شخص [مقتول] تو ہمارے گروہ سے ہمارا چچا زاد تھا۔ انہوں نے کہا اس نے میرے جد [دادا یا نانا] کو قرنان کہا اور جو انہیں قرنان کہے گا وہ قتل کا مستحق ہوگا لہٰذا میں نے اسے قتل کر دیا۔

حضرت صدیقہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے سوا دیگر امہات المؤمنین کو

گالی دینا

شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:

وما من سب غير عائشةؓ من ازواجہ ﷺ ففیہ قولان احدھما انہ کساب غیرھن من الصحابة علی ما سیأتی والثانی وھو الاصح انہ من قذف واحدة من امہات المؤمنین فھو کقذف عائشةؓ وقد تقدم معنی ذلک عن ابن عباسؓ وذلک لان ھذا

صفحہ ۱۳۱

Discuss in light of the Day of Judgment and grave. 18- Present a proof of the Day of Judgment based on the following incidents: i - Prophet Muhammad ﷺ was asked about the moon. ii - Prophet Muhammad ﷺ informed about the false prophets. iii - Dajjal was seen by the Prophet ﷺ in his dream. iv- The Caliphate came into existence after the Prophet ﷺ. v - Prophet ﷺ asked for the Quran and Sunnah to be held onto strongly. 19- How has Maulana Nanotwi used various means to testify to the seal of the prophethood? 20- According to the Hadith, what does the Straight Path mean? Also highlight the importance of the Hadith in solving the issue of the seal of the prophet hood. 21- Discuss the immense recollection and remembrance of the Prophet ﷺ and build your argument to present a proof of the seal of prophethood. 22- “Mirza became an imposter prophet just to gain fame”. Discuss the essential credentials required to present the above claim.

۱۳۰ جن سے بری ہیں اور ان کے لیے

اللہ ناپاک تھیں تو رسول اللہ ہذا یہ شخص کافر ہے اس کی گردن پایا گیا اس کو لالکائی نے روایت

عمر سے مروی ہے کہ ان کے پاس الفاظ میں حضرت صدیقہ عائشہ رضی اللہ عنہا طرف بڑھے اور اس کے سر پر مار کر مقتول] تو ہمارے گروہ سے ہمارا کے جد [دادا یا نانا] کو قرنان کہا اور جو میں نے اسے قتل کر دیا۔

علاوہ دیگر امہات المؤمنین کو

تے ہیں: رحمہ اللہ ففیه قولان احدهما على ما سيأتى والثانى وهو ت المؤمنين فهو كقذف ابن عباس وذلك لان هذا

توہین رسالت ﷺ کی شرعی سزا ۱۳۱

فيه عار وغضاضة على رسول الله ﷺ واذى له اعظم من اذاه بنكاحهن بعده وقد تقدم التنبيه على ذلك فيما مضى عند الكلام على قوله ان الذين يؤذون الله ورسوله الآية والامر فيه واضح.

[الصارم المسلول ص ٥٧٢]

جو شخص صدیقہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے علاوہ دیگر امہات المؤمنین رضی اللہ عنہن کو گالی دے تو اس کے بارے میں دو قول ہیں:

پر بہتان لگائے وہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا پر بہتان لگانے کی مانند ہے۔ یہی قول قبل ازیں حضرت ابن عباسؓ سے بھی نقل کیا گیا ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ بات رسول اللہ ﷺ کے لیے باعث عار و ننگ ہے یہ رسول اللہ ﷺ کے لیے اتنی بڑی اذیت رساں ہے کہ آپؐ کے بعد آپ ﷺ کی بیویوں سے نکاح کرنا بھی اتنا اذیت رساں نہیں ہے۔ ہم قبل ازیں مندرجہ ذیل آیت کی تفسیر کرتے ہوئے اس پر روشنی ڈال چکے ہیں فرمایا:

بے شک وہ لوگ جو اللہ اور اس کے رسول کو ایذاء دیتے ہیں۔

[الاحزاب : ٥٧]

اور یہ معاملہ نہایت واضح ہے۔

صفحہ ۱۳۲

توہین رسالت ﷺ کی شرعی سزا

احادیث نبوی ﷺ

قرآنی آیات کے بعد اب وہ چند احادیث ملاحظہ فرمائیں جن میں توہین رسالت کے مرتکب اور شاتم رسول ﷺ کی سزا کا بیان ہے۔

حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ:

ان يهودية كانت تشتم النبى ﷺ وتقع فيه فَخَنَقَها رجل حتى ماتت فابطل رسول الله ﷺ دمها.

[ابوداؤد ۲۵۲/۲]

”ایک یہودی عورت رسول اللہ ﷺ کو گالیاں دیا کرتی تھی، ایک شخص نے اس کا گلا گھونٹ کر اسے ہلاک کر دیا تو آپ نے اس عورت کے خون کو رائیگاں قرار دے دیا ۔“

شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

هذا الحديث نص فى جواز قتلها لاجل شتم النبى ﷺ ودليل على قتل الرجل الذمى وقتل المسلم والمسلمة اذا سبا بطريق الاولى لان هذه المرأة كانت موادعة مهادنة لان النبى ﷺ لما قدم المدينة وادع جميع اليهود الذين كانوا بها موادعة مطلقة ولم يضرب عليهم جزية وهذا مشروع عند

صفحہ 133

Discuss in light of the Day of Judgment and grave. 18- Present a proof of the Day of Judgment based on the following incidents: i - Prophet Muhammad ﷺ was asked about the moon. ii - Prophet Muhammad ﷺ informed about the false prophets. iii - Dajjal was seen by the Prophet ﷺ in his dream. iv- The Caliphate came into existence after the Prophet ﷺ. v - Prophet ﷺ asked for the Quran and Sunnah to be held onto strongly. 19- How has Maulana Nanotwi used various means to testify to the seal of the prophethood? 20-- According to the Hadith, what does the Straight Path mean? Also highlight the importance of the Hadith in solving the issue of the seal of the prophet hood. 21-- Discuss the immense recollection and remembrance of the Prophet ﷺ and build your argument to present a proof of the seal of prophethood. 22-- “Mirza became an imposter prophet just to gain fame”. Discuss the essential credentials required to present the above claim.

توہین رسالت ﷺ کی شرعی سزا

اهل العلم بمنزلة المتواتر بينهم حتى قال الشافعى لم اعلم مخالفا من اهل العلم بالسير أن رسول الله ﷺ لما نزل المدينة وادع يهود كافة على غير جزية وهو كما قال الشافعى .

[الصارم المسلول ص ۶۲]

یہ حدیث اس مسئلہ میں نص کا حکم رکھتی ہے کہ نبی ﷺ کو گالیاں دینے والے کو قتل کرنا جائز ہے نیز یہ کہ ایسے ذمی کو قتل کیا جاسکتا ہے جو شاتم ہے۔ مسلم مرد یا عورت اگر آپ کو گالیاں دیں تو ان کو بطریق اولیٰ قتل کرنا جائز ہے اس لیے کہ یہ عورت ان لوگوں میں سے تھی جن کے ساتھ معاہدہ کیا گیا تھا رسول اللہ ﷺ جب مدینہ تشریف لائے تو مدینہ کے تمام یہودیوں کے ساتھ مطلق معاہدہ کیا گیا تھا اور ان پر جزیہ بھی نہیں لگایا گیا تھا اہل علم کے مابین یہ مسئلہ متواتر کا درجہ رکھتا ہے۔ امام شافعیؒ فرماتے ہیں علماء سیر میں سے کوئی بھی اس کی مخالفت نہیں کرتا کہ جب رسول اللہ ﷺ مدینہ منورہ تشریف لائے تو عام یہودیوں سے بلا جزیہ معاہدہ کیا گیا تھا۔ اور امام شافعی کا یہ قول درست ہے۔

جب رسول اللہ ﷺ نے یہودیوں کے ساتھ جزیہ کے بغیر معاہدہ کیا پھر ایک یہودی عورت کے خون کو اس لیے ہدر قرار دیا کہ وہ رسول اللہ ﷺ کو گالیاں دیا کرتی تھی۔ تو ایک یہودی عورت کے خون کو جن پر جزیہ عائد کیا گیا تھا۔ اور وہ ذمی احکام کے پابند بھی تھے ہدر ٹھہرا دیں تو یہ اولیٰ وافضل ہے۔ اور اگر اس عورت کا قتل جائز نہ ہوتا تو آپ اس عورت کے قاتل کے فعل کی مذمت

صفحہ ۱۳۴

توہین رسالت ﷺ کی شرعی سزا

فرماتے۔ رسول اللہ ﷺ کا ارشادِ گرامی ہے:

من قتل نفسا معاهدة بغير حقها لم يرح رائحة الجنة.

[ابن حبان ص ۲۳۸/۱۱]

”جس نے کسی معاہد کو بلاوجہ قتل کیا تو وہ جنت کی خوشبو نہیں پائے گا۔“ اور آپ اس عورت کی ضمانت یا معصوم کو قتل کرنے کا کفارہ واجب کرتے۔ جب اس عورت کے خون کو آپ نے ہدر قرار دے دیا تو اس سے معلوم ہوا کہ اس کا خون مباح تھا۔

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ:

ان اعمى كانت له ام ولد تشتم النبى ﷺ وتقع فيه، فينهاها فلا تنتهى ويزجرها فلا تنزجر، قال: فلما كانت ذات ليلة جعلت تقع فى النبى ﷺ وتشتمه، فاخذ المِغْوَل فوضعه فى بطنها، واتكأ عليها فقتلها، فوقع بين رجليها طفل، فلطخت ما هناك بالدم، فلما اصبح ذكر ذلك لرسول الله صلى الله عليه وسلم فجمع الناس فقال: ”انشد الله رجلا فعل ما فعل، لى عليه حقٌّ، الا قام“ فقام الاعمى يتخطى الناس وهو يتزلزل حتى قعد بين يدى النبى صلى الله عليه وسلم فقال: يارسول الله! انا صاحبها، كانت تشتمك وتقع فيك فأنهاها فلا تنتهى، وأزجرها فلا تنزجر، و لى منها ابنان مثل اللؤلؤتين،

صفحہ ۱۳۵

Discuss in light of the Day of Judgment and grave. 18- Present a proof of the Day of Judgment based on the following incidents: i - Prophet Muhammad ﷺ was asked about the moon. ii - Prophet Muhammad ﷺ informed about the false prophets. iii - Dajjal was seen by the Prophet ﷺ in his dream. iv- The Caliphate came into existence after the Prophet ﷺ. v - Prophet ﷺ asked for the Quran and Sunnah to be held onto strongly. 19- How has Maulana Nanotwi used various means to testify to the seal of the prophethood? 20- According to the Hadith, what does the Straight Path mean? Also highlight the importance of the Hadith in solving the issue of the seal of the prophet hood. 21- Discuss the immense recollection and remembrance of the Prophet ﷺ and build your argument to present a proof of the seal of prophethood. 22- “Mirza became an imposter prophet just to gain fame”. Discuss the essential credentials required to present the above claim.

توہین رسالت ﷺ کی شرعی سزا

و كانت بي رفيقة، فلما كان البارحة جعلت تشتمك وتقع فيك، فاخذت المغول فوضعته فى بطنه واتكأت عليها حتى قتلتها، فقال النبي ﷺ :" الا اشهدوا ان دمها هدر“.

[ابوداؤد، کتاب الحدود، باب الحكم فيمن سب النبى ﷺ رقم (٤٣٦١)، و النسائى ١٦٣/٢]

ایک اندھے شخص کی ایک ام ولد لونڈی تھی ۔ جو رسول اللہ ﷺ کو گالیاں دیا کرتی تھی وہ اسے روکتا مگر وہ باز نہ آتی وہ ڈانٹتا مگر وہ رکتی نہ تھی۔ ایک رات اس نے رسولِ کریم ﷺ کو گالیاں دینے کا آغاز کیا۔ اس نے بھالا لے کر اس کے شکم میں پیوست کر دیا اور اسے زور سے دبایا جس سے وہ ہلاک ہو گئی صبح کو اس کا تذکرہ رسول کریم ﷺ سے کیا گیا تو لوگوں کو جمع کر کے آپؐ نے فرمایا: ”میں اس آدمی کو قسم دیتا ہوں جس نے کیا جو کچھ کیا اور میرا اس پر حق ہے کہ وہ کھڑا ہو جائے ۔“

یہ سن کر ایک نابینا آدمی کھڑا ہوا اور لوگوں کی گردنیں پھلانگتا ہوا آپؐ کے پاس آیا اور بیٹھ گیا اس نے کہا یا رسول اللہ ! اسے میں نے قتل کیا ہے وہ آپؐ کو گالیاں دیا کرتی تھی میں اسے روکتا مگر وہ باز نہ آتی تھی میں اسے ڈانٹ ڈپٹ کرتا مگر وہ پرواہ نہ کرتی ۔ میں نے بھالا لے کر اس کے پیٹ میں گاڑ دیا اور اس زور سے دبایا اس کے بطن سے میرے دو ہیروں جیسے بیٹے ہیں وہ میری رفیقہ حیات تھی گذشتہ شب جب وہ آپ ﷺ کو گالیاں بکنے لگی تو میں نے بھالا لے کر اس کے پیٹ میں گاڑ دیا اور اسے زور سے دبایا حتیٰ کہ وہ مرگئی تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تم گواہ رہو کہ اس کا خون ہدر ہے ۔

صفحہ ۱۳۶

توہین رسالت ﷺ کی شرعی سزا

کیا پہلی حدیث اور دوسری حدیث میں ایک ہی واقعہ

ہے؟ یا دو عورتوں کا قصہ؟

شیخ الاسلام بن تیمیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

یہ امر بعید از قیاس ہے کہ یہ دو واقعات ہوں اندھے آدمیوں میں سے ہر ایک کی عورت رسول کریم ﷺ کو گالیاں دیتی ہو اور دونوں نے اپنی اپنی بیوی کو قتل کر دیا اور دونوں ہی کے بارے میں رسول اللہ ﷺ نے لوگوں کو قسم دی۔ صحیح یہ ہے کہ مقتولہ ایک یہودی عورت تھی جیسا کہ ایک روایت میں صراحۃً ذکر کیا گیا ہے قاضی ابو یعلیٰ کا قول بھی یہی ہے۔ اس حدیث سے انہوں نے استدلال کیا ہے کہ ذمی اگر نقض عہد کا مرتکب ہو تو اسے قتل کیا جائے ان کے خیال میں ہر دو احادیث میں ایک ہی واقعہ بیان کیا گیا ہے۔

اس امر کا بھی احتمال ہے کہ یہ دو واقعات ہوں۔ امام خطابیؒ فرماتے ہیں اس حدیث سے مستفاد ہوتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ کو گالیاں دینے والے کو قتل کیا جاسکتا ہے اس لیے کہ اس عورت کا آپ ﷺ کو گالیاں دینا ارتداد عن الدین ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ امام خطابی رحمہ اللہ اس عورت کو مسلمان تصور کرتے ہیں حالانکہ حدیث میں اس کی کوئی دلیل موجود نہیں بلکہ اس کا کافر ہونا ہی واضح ہے اس کو امان اس لیے دی گئی تھی کہ وہ ایک مسلم کی مملوکہ تھی۔ اس لیے کہ مسلمانوں کے غلام کو بھی ذمی کے حقوق حاصل ہوتے ہیں بلکہ معاہدین کی نسبت ان پر زیادہ پابندی ہوتی ہے۔ یا اس لیے اسے پناہ ملی کہ وہ ایک مسلم

صفحہ ۱۳۷

Discuss in light of the Day of Judgment and grave. 18- Present a proof of the Day of Judgment based on the following incidents: i - Prophet Muhammad ﷺ was asked about the moon. ii - Prophet Muhammad ﷺ informed about the false prophets. iii - Dajjal was seen by the Prophet ﷺ in his dream. iv- The Caliphate came into existence after the Prophet ﷺ. v - Prophet ﷺ asked for the Quran and Sunnah to be held onto strongly. 19- How has Maulana Nanotwi used various means to testify to the seal of the prophethood? 20- According to the Hadith, what does the Straight Path mean? Also highlight the importance of the Hadith in solving the issue of the seal of the prophet hood. 21- Discuss the immense recollection and remembrance of the Prophet ﷺ and build your argument to present a proof of the seal of prophethood. 22- “Mirza became an imposter prophet just to gain fame”. Discuss the essential credentials required to present the above claim.

توہین رسالت ﷺ کی شرعی سزا

کی منکوحہ تھی کیونکہ مسلمانوں کی اہل کتاب بیویاں محفوظ الدم ہونے کے اعتبار سے ذمیوں کا حکم رکھتی ہیں اس لیے کہ ہمیشہ رسول اللہ ﷺ کو گالیاں دینا صرف مرتد سے صادر ہوسکتا ہے جس نے کوئی اور دین اختیار کر لیا ہو۔

اگر وہ عورت مرتد ہوتی اور اس نے کوئی اور مذہب اختیار کر لیا ہوتا تو اس کا مالک ایک طویل عرصہ تک اسے اس حالت میں نہیں رکھ سکتا تھا وہ اسے گالیوں سے روکنے پر ہی اکتفا نہ کرتا بلکہ اس سے مطالبہ کرتا کہ اپنے اسلام کی تجدید کرے خصوصاً اگر وہ اس سے ہم بستر ہوتا ہو اس لیے کہ مرتد عورت کے ساتھ مجامعت جائز نہیں اصل بات یہ ہے کہ وہ اپنے مذہب پر بدستور قائم تھی اور اس میں کوئی تبدیلی نہیں آئی تھی ۔ بایں ہمہ اس آدمی نے یہ نہیں کہا کہ وہ تو کافر یا مرتد ہوگئی ہے بلکہ اس نے صرف اس کو گالیوں کا تذکرہ کیا ہے۔ اس سے کھل کر یہ بات سامنے آتی ہے کہ اس سے گالیاں دینے کے سوا دوسرا کوئی جرم سرزد نہیں ہوا تھا مثلاً ارتداد یا ایک مذہب سے دوسرے مذہب کی طرف انحراف وغیرہ۔

بہر کیف یہ عورت یا تو اس کی منکوحہ بیوی ہوگی یا مملوکہ لونڈی دونوں صورتوں میں اگر اس کو قتل کرنا ناروا ہوتا تو رسول کریم ﷺ فرما دیتے کہ اس کو قتل کرنا حرام ہے اور اس کا خون معصوم ہے۔ معصوم کو قتل کرنے کی وجہ سے اس پر کفارے کو واجب قرار دیتے اور اگر وہ اس کی لونڈی نہ ہوتی تو اس پر دیت کو واجب قرار دیتے جب آپ نے فرمایا کہ اس کا خون ہدر ہے اور ہدر وہ خون ہوتا ہے جس کا نہ قصاص دیا جاتا ہے نہ دیت اور نہ کفارہ۔ تو اس سے معلوم ہوا

صفحہ ۱۳۸

توہین رسالت ﷺ کی شرعی سزا

کہ وہ ذمی ہونے کے باوجود مباح الدم تھی۔ گویا کہ گالیاں دینے نے اس کے خون کو مباح الدم کر دیا تھا۔ آپؐ نے اس کے خون کو اس وقت ہدر قرار دیا جب آپؐ کو بتایا گیا کہ گالیاں دینے کی وجہ سے اس کو قتل کیا گیا ہے۔ پس معلوم ہوا کہ اس کا موجب ومحرک یہی ہے اور اس واقعہ کی دلالت اس پر واضح ہے۔

[الصارم المسلول ص ٦٨]

امام شوکانیؒ فرماتے ہیں:

وفى حديث ابن عباس وحديث الشعبى دليل على انه يقتل من شتم النبى ﷺ وقد نقل ابن المنذر الاتفاق على ان من سب النبى ﷺ صريحا وجب قتله و نقل ابوبكر الفارسى احد ائمة الشافعية فى كتاب الاجماع ان من سب النبى ﷺ بما هو قذف صريح كفر باتفاق العلماء فلو تاب لم يسقط عنه القتل لان حد قذفه القتل وحد القذف لا يسقط بالتوبة.

[نيل الاوطار ص ٢١٤/٧]

حدیث ابن عباس رضی اللہ عنہما اور حدیث شعبیؒ میں اس بات کی دلیل ہے کہ جو شخص نبی ﷺ کو گالیاں دے اسے قتل کر دیا جائے۔ ابن المنذر نے اس پر اجماع نقل کیا ہے کہ جو شخص صریحاً نبی ﷺ کو گالیاں دے اس کا قتل کرنا واجب ہے۔ ابوبکر فارسی جو ائمہ شافعیہ میں سے ہیں نے کتاب الاجماع میں نقل کیا ہے کہ جو شخص نبی ﷺ کو گالیاں دے تو وہ تمام ائمہ کے نزدیک کافر ہے اگر وہ توبہ بھی کر لے تو پھر بھی اس سے سزائے قتل ساقط نہیں ہو سکتی کیونکہ قذف کی حد قتل ہے اور حد قذف توبہ سے ساقط نہیں ہوتی۔

صفحہ ۱۳۹

توہین رسالت ﷺ کی شرعی سزا

امام سندھی فرماتے ہیں:

فيه دليل على ان الذمى اذا لم يكف لسانه عن الله ورسوله فلاذمة له فيحل قتله.

[حاشیہ نسائی]

حدیث ابن عباس رضی اللہ عنہما میں اس بات کی دلیل ہے کہ ذمی آدمی جب اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے خلاف زبان درازی سے باز نہ آئے تو اس کا معاہدہ ختم اور اس کا قتل جائز ہے۔

امام خطابی فرماتے ہیں:

ولا اعلم احدا من المسلمين اختلف في وجوب قتله ولكن اذا كان الساب ذميا فقد اختلفوا فيه فقال مالك ابن انس من شتم النبى ﷺ من اليهود والنصارى قتل الا ان يسلم وكذلك قال احمد بن حنبل وقال الشافعى يقتل الذمى اذا سب النبى ﷺ وتبرأ منه الذمة واحتج فى ذلك بخبر كعب بن الاشرف وحكى عن ابى حنيفة انه قال لا يقتل الذمى بشتم النبى ﷺ ما هم عليه من الشرك اعظم.

[معالم السنن ۳/ ۲۵۵]

شاتم رسول ﷺ کے قتل کے واجب ہونے میں مسلمانوں میں سے کسی کا اختلاف نہیں ہے لیکن جب شاتم ذمی ہو تو اس میں اختلاف ہے۔ امام مالک و احمد بن حنبل کے نزدیک یہود و نصاریٰ میں سے کوئی بھی آپ ﷺ کو گالیاں دے تو اسے قتل کیا جائے گا۔ الا یہ کہ وہ مسلمان ہو جائے۔ امام شافعی

صفحہ ۱۴۰

توہین رسالت ﷺ کی شرعی سزا

فرماتے ہیں ذمی آدمی اگر آپ ﷺ کو گالی دے تو اسے قتل کیا جائے گا اور اس سے معاہدہ ختم ہو جائے گا اور وہ اس سلسلہ میں کعب بن اشرف کے قتل والی حدیث سے استدلال کرتے ہیں۔ حضرت امام ابو حنیفہ کے متعلق کہا گیا ہے کہ ان کے نزدیک شاتم ذمی کو قتل نہیں کیا جائے گا کیونکہ وہ جس کفریہ شرکیہ عقیدہ میں مبتلا ہے وہ آپ ﷺ کو گالیاں دینے سے بھی زیادہ بڑا جرم ہے۔

3

حضرت علی سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

من سب نبیا قتل ومن سب اصحابه جلد.

[الصارم المسلول ص ۹۲]

جس نے نبی ﷺ کو گالی دی اسے قتل کیا جائے اور جس نے آپؐ کے صحابہ کو گالی دی اسے کوڑے مارے جائیں۔

شیخ الاسلام ابن تیمیہ ؒ فرماتے ہیں:

اگر اس حدیث کی صحت ثابت ہو جائے تو یہ حدیث اس امر کی دلیل ہے کہ نبی ﷺ کو گالی دینے والے کا قتل واجب ہے۔ بظاہر معلوم ہوتا ہے کہ اسے توبہ کا مطالبہ کئے بغیر قتل کیا جائے نیز یہ کہ قتل اس کے لیے حد شرعی ہے۔

حضرت آدم علیہ السلام سے لے کر حضرت محمد ﷺ تک کسی نبیؐ کو بھی جو گالیاں دے گا یا برا کہے گا تو وہ قتل کا مستحق ہے اور جو صحابہ میں سے کسی کو برا کہے گا اسے کوڑے لگانا ہیں۔ حضرت علی ؓ کے نام لیوا صاحبان کو کان کھول کر سن لینا چاہیے۔

صفحہ ۱۴۱

Discuss in light of the Day of Judgment and grave. 18-- Present a proof of the Day of Judgment based on the following incidents: i - Prophet Muhammad ﷺ was asked about the moon. ii - Prophet Muhammad ﷺ informed about the false prophets. iii - Dajjal was seen by the Prophet ﷺ in his dream. iv- The Caliphate came into existence after the Prophet ﷺ. v - Prophet ﷺ asked for the Quran and Sunnah to be held onto strongly. 19-- How has Maulana Nanotwi used various means to testify to the seal of the prophethood? 20-- According to the Hadith, what does the Straight Path mean? Also highlight the importance of the Hadith in solving the issue of the seal of the prophet hood. 21-- Discuss the immense recollection and remembrance of the Prophet ﷺ and build your argument to present a proof of the seal of prophethood. 22-- “Mirza became an imposter prophet just to gain fame”. Discuss the essential credentials required to present the above claim.

توہین رسالت ﷺ کی شرعی سزا

حضرت ابو برزہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:

کنت عند ابی بکر فتغیظ علی رجل، فاشتد علیه، فقلت تأذن لی یا خلیفة رسول الله اضرب عنقه، قال: فاذهبت کلمتی غضبه، فقام فدخل، فارسل الیَّ فقال ما الذی قلت آنفًا قلت ائذن لی اضرب عنقه قال اکنت فاعلًا لو امرتک، قلت: نعم، قال: لا والله ما کان لِبَشَرٍ بعد محمد ﷺ.

[ابوداؤد ، کتاب الحدود، باب الحکم فی من سب النبی ﷺ رقم(٤٣٦٣) ونسائی ١٦٣/٢]

میں حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر تھا آپ رضی اللہ عنہ کسی شخص سے ناراض ہوئے تو وہ شخص درشت کلامی پر اتر آیا میں نے کہا اے خلیفہ رسول! آپ مجھے اجازت دیتے ہیں کہ میں اس کی گردن اڑا دوں؟ میرے ان الفاظ سے ان کا سارا غصہ جاتا رہا وہ وہاں سے اٹھ کر گھر چلے گئے اور مجھے بلا بھیجا میں گیا تو مجھ سے فرمایا کہ ابھی تم نے کیا کہا تھا؟ میں نے کہا یہ کہا تھا کہ مجھے اجازت دیجیے کہ میں اس شخص کی گردن اڑا دوں۔ فرمایا اگر میں تم کو حکم کرتا تو تم یہ کام کرتے؟ عرض کیا آپ فرماتے تو ضرور کرتا فرمایا: نہیں! اللہ کی قسم یہ بات [ کہ بدکلامی پر گردن اڑا دی جائے ] محمد ﷺ کے بعد کسی کے لیے نہیں۔

صفحہ ۱۴۲

توہین رسالت ﷺ کی شرعی سزا

مطلب یہ کہ صرف رسول اللہ ﷺ کی شان میں بدزبانی کرنے والا سزائے موت کا مستوجب ہے۔ آپ ﷺ کے بعد کوئی انسان ایسا نہیں جس کی بدگوئی کرنے والے کو سزائے موت دی جائے۔

شیخ الاسلام ابن تیمیہؒ فرماتے ہیں:

فعلم ان النبی ﷺ کان لہ ان یقتل من سبہ و من اغلظ لہ و ان لہ ان یأمر بقتل من لا یعلم الناس منہ سببا یبیح دمہ وعلی الناس ان یطیعوہ فی ذلک لانہ لا یأمر الا بما امر اللہ بہ ولا یأمر بمعصیۃ اللہ قط بل من اطاعہ فقد اطاع اللہ فقد تضمن الحدیث خصوصیتین لرسول اللہ ﷺ احداہما انہ یطاع فی کل من امر بقتلہ والثانیۃ ان لہ ان یقتل من شتمہ واغلظ لہ وہذا المعنی الثانی الذی کان لہ باق فی حقہ بعد موتہ فکل من شتمہ او اغلظ فی حقہ کان قتلہ جائزاً بل ذلک بعد موتہ اوکد واوکد لان حرمتہ بعد موتہ اکمل والتساہل فی عرضہ بعد موتہ غیر ممکن وہذا الحدیث یفید ان سبہ فی الجملۃ یبیح القتل ویستدل بعمومہ علی قتل الکافر والمسلم۔

[ الصارم المسلول ص ٩٤]

اس حدیث سے معلوم ہوا کہ رسول کریم ﷺ کو یہ حق حاصل تھا کہ اپنے گالی دینے والے کو قتل کردیں۔ آپ ﷺ کو یہ حق بھی حاصل تھا کہ اس شخص کو قتل کرنے کا حکم دیں جس کے بارے میں لوگوں کو کچھ علم نہ ہو کہ اسے کیوں قتل کیا جارہا ہے اس معاملہ میں لوگوں کو آپؐ کی اطاعت کرنا چاہیے اس

صفحہ ۱۴۳

توہین رسالت ﷺ کی شرعی سزا

لیے کہ آپ اسی بات کا حکم دیتے ہیں جس کا اللہ نے انہیں حکم دیا ہو آپ اللہ کی نافرمانی کا کبھی حکم نہیں دیتے۔ جو آپ کی اطاعت کرتا ہے وہ اللہ کی اطاعت کرتا ہے اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ رسول کریم کی دو خصوصیات ہیں۔

قتل کر سکتے ہیں۔

آپ ﷺ کو یہ دوسرا اختیار جو دیا گیا تھا وہ آپ ﷺ کی وفات کے بعد بھی باقی ہے لہذا جو شخص آپ ﷺ کو گالی دے یا آپ ﷺ کی شان میں سخت الفاظ کہے اسے قتل کرنا جائز ہے بلکہ آپ ﷺ کی وفات کے بعد یہ حکم مؤکد تر ہو جاتا ہے اس لیے کہ آپ ﷺ کا تقدس اور حرمت وفات کے بعد اور زیادہ کامل ہو جاتی ہے۔ اور آپ ﷺ کی وفات کے بعد آپ ﷺ کی ناموس و آبرو میں سہل انگاری اور تغافل شعاری ممکن نہیں اس حدیث سے مستفاد ہوتا ہے کہ آپ ﷺ کو مطلقاً قلت و کثرت کو ملحوظ رکھے بغیر گالی دینے سے ایسے شخص کا قتل مباح ہو جاتا ہے۔ علاوہ بریں اس حدیث کے عموم سے اس امر پر استدلال کیا جاتا ہے کہ ایسے شخص کو قتل کیا جائے قطع نظر اس سے کہ وہ مسلم ہو یا کافر۔

شیخ الاسلام ابن تیمیہؒ نے مسئلہ زیر بحث پر قرآن و سنت کے نصوص اور صحابہ و تابعین کا مسلسل تعامل ذکر کرتے ہوئے آخر میں خلیفہ راشد حضرت عمر بن عبدالعزیزؒ کا یہ واقعہ نقل کیا ہے کہ کسی شخص نے ان کو برا بھلا

صفحہ ۱۴۴

Discuss in light of the Day of Judgment and grave. 18-- Present a proof of the Day of Judgment based on the following incidents: i - Prophet Muhammad ﷺ was asked about the moon. ii - Prophet Muhammad ﷺ informed about the false prophets. iii - Dajjal was seen by the Prophet ﷺ in his dream. iv- The Caliphate came into existence after the Prophet ﷺ. v - Prophet ﷺ asked for the Quran and Sunnah to be held onto strongly. 19-- How has Maulana Nanotwi used various means to testify to the seal of the prophethood? 20-- According to the Hadith, what does the Straight Path mean? Also highlight the importance of the Hadith in solving the issue of the seal of the prophet hood. 21-- Discuss the immense recollection and remembrance of the Prophet ﷺ and build your argument to present a proof of the seal of prophethood. 22-- “Mirza became an imposter prophet just to gain fame”. Discuss the essential credentials required to present the above claim.

توہین رسالت ﷺ کی شرعی سزا

کہا اور ان کی ہتک عزت کی [غالباً اس علاقے کے گورنر نے حضرت عمر بن عبدالعزیز سے استصواب کیا ہوگا کہ ایسے مفسد شخص کو قتل کر دیا جائے؟ اس کے جواب میں] حضرت عمر بن عبدالعزیز نے گورنر کو لکھا کہ قتل صرف اس شخص کو کیا جاتا ہے جو شانِ رسالت میں دریدہ دہنی کرے لہٰذا اس شخص کو قتل تو نہ کیا جائے البتہ سرزنش کے لیے اس کے سر پر اتنے کوڑے لگائے جائیں ۔ اور یہ کوڑے لگانا بھی محض اس شخص کی اصلاح اور بہتری کے لیے ہے۔ اگر یہ بات نہ ہوتی تو میں اس کے کوڑے لگانے کا بھی حکم نہ دیتا۔

اس واقعہ کو نقل کرنے کے بعد شیخ الاسلام حافظ ابن تیمیہؒ لکھتے ہیں:

وهذا مشهور عن عمر بن عبدالعزيز وهو خليفة راشد، عالم بالسنة متبع لها فهذا قول اصحاب رسول الله ﷺ والتابعين لهم باحسان لا يعرف عن صاحب ولا تابع خلاف لذلك بل اقرار عليه واستحسان له .

[الصارم المسلول ص ٢٠٥]

اور حضرت عمر بن عبدالعزیز کا یہ واقعہ مشہور ہے جبکہ وہ خلیفہ راشد ہیں قرآن و سنت کے عالم اور بے حد متبع سنت ہیں پس شاتم رسول کا واجب القتل ہونا صحابہؓ و تابعین کا اجماعی فیصلہ ہے کسی ایک صحابی اور ایک تابعی سے بھی اس کے خلاف منقول نہیں۔

خلاصہ یہ کہ اسلامی قانون کی رو سے توہین رسالت کا مرتکب سزائے موت کا مستحق ہے اور اس مسئلہ پر تمام صحابہ و تابعین اور فقہائے امت متفق ہیں۔

توہین رسالت ﷺ کی شرعی

حضرت عبداللہ بن هجت امرأة من خطم من قومها انا يا رسول لا ينتطح فيها عنزان . خطمہ قبیلے کی ایک عورت عورت سے کون نمٹے گا اس میں انجام دوں گا چنانچہ دو بکریاں اس میں سینگوں واقدی نے اس وا عصماء بنت مروان، بنی ام کی بیوی تھی۔ یہ رسول کریم اور آپؐ کے خلاف لوگوں کو باتوں اور اشتعال بازی کا نذر مانتا ہوں کہ اگر تو نے اس عورت کو قتل کر دوں گا بدر سے واپس آئے تو عمیر میں داخل ہوئے اس کے کے سینے کے ساتھ چمٹا ہو

صفحہ ۱۴۵

توہین رسالت ﷺ کی شرعی سزا

5

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے فرماتے ہیں کہ:

هجت امرأة من خطمة النبى ﷺ فقال من لى بها فقال رجل من قومها انا يارسول الله فنهض فقتلها فاخبر النبي ﷺ فقال لا ينتطح فيها عنزان .

[الصارم المسلول ص ٩٤]

خطمہ قبیلے کی ایک عورت نے رسول اللہ ﷺ کی ہجو کی آپؐ نے فرمایا اس عورت سے کون نمٹے گا اس کی قوم سے ایک آدمی نے کہا یا رسول اللہ ! یہ کام میں انجام دوں گا چنانچہ اس نے جاکر اسے قتل کر دیا۔ آپؐ نے فرمایا دو بکریاں اس میں سینگوں سے نہیں ٹکراتیں:

واقدی نے اس واقعہ کو پوری تفصیل سے ذکر کیا ہے۔ فرماتے ہیں کہ

عصماء بنت مروان، بنی امیہ بن زید کے خاندان سے تھی اور یزید بن حصن خطمی کی بیوی تھی۔ یہ رسول کریم ﷺ کو ایذاء دیا کرتی تھی۔ اسلام میں عیب نکالتی اور آپؐ کے خلاف لوگوں کو بھڑکایا کرتی تھی۔ عمیر بن عدی خطمی کو جب اس کی باتوں اور اشتعال بازی کا علم ہوا تو اس نے کہا اے اللہ ! میں تیرے حضور نذر مانتا ہوں کہ اگر تو نے رسول اللہ ﷺ کو بخیر وعافیت مدینہ لوٹا دیا تو میں اس عورت کو قتل کردوں گا۔ رسولِ کریم ﷺ اس وقت بدر میں تھے جب آپؐ بدر سے واپس آئے تو عمیر بن عدی آدھی رات کے وقت اس عورت کے گھر میں داخل ہوئے اس کے اردگرد اس کے بچے سوئے ہوئے تھے ایک بچہ اس کے سینے کے ساتھ چمٹا ہوا تھا اور وہ اسے دودھ پلا رہی تھی عمیر نے اپنے ہاتھ

صفحہ ۱۴۶

توہین رسالت ﷺ کی شرعی سزا

سے عورت کو ٹٹولا تو معلوم ہوا کہ وہ بچے کو دودھ پلا رہی ہے۔ عمیر نے بچے کو الگ کیا پھر اپنی تلوار کو اس کے سینے پر رکھا اور اس کی پشت کے پار کر دیا۔ پھر صبح کی نماز رسول کریم ﷺ کے پیچھے ادا کی جب آپؐ نماز سے فارغ ہوئے تو عمیر کی طرف دیکھ کر فرمایا کہ تو نے بنت مروان کو قتل کر دیا ہے؟ عرض کیا جی ہاں! میرا ماں باپ آپؐ پر قربان ہو۔ عمیر اس بات سے ڈرا کہ اس نے رسول کریم کی مرضی کے خلاف کام کیا ہو۔ اس نے کہا یا رسول اللہ! کیا اس ضمن میں مجھ پر کوئی چیز واجب ہے فرمایا نہیں دو بکریاں اس میں سینگوں سے نہیں ٹکراتی ۔ یہ فقرہ پہلی مرتبہ رسول کریم ﷺ سے سنا گیا۔ عمیر کہتے ہیں کہ رسول کریم نے ارد گرد دیکھا اور فرمایا اگر تم ایسا شخص دیکھنا چاہو جس نے اللہ اور اس کے رسول کی غیبی مدد کی ہے تو عمیر کو دیکھ لو۔

جب حضرت عمیر رضی اللہ عنہ رسول کریم ﷺ کے یہاں لوٹ کر آئے تو دیکھا کہ اس عورت کے بیٹے لوگوں کی ایک جماعت کے ساتھ اسے دفن کر رہے ہیں ۔ جب سامنے آتے دیکھا تو وہ لوگ عمیر رضی اللہ عنہ کی طرف آئے اور کہا اے عمیر! اسے تو نے قتل کیا ہے؟ عمیر نے کہا ہاں، تم نے جو کرنا ہے کر لو اور مجھے ڈھیل نہ دو مجھے اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے اگر تم سب وہ بات کہو جو وہ کہا کرتی تھی تو میں اپنی تلوار سے تم پر وار کروں گا یہاں تک کہ میں مارا جاؤں یا تمہیں قتل کر دوں۔ اس دن سے اسلام بنی خطمہ میں پھیل گیا۔ قبل ازیں ان میں سے کچھ آدمی ڈر کے مارے اپنے اسلام لانے کو پوشیدہ رکھتے تھے۔

[الصارم المسلول ص ١٩٤]

صفحہ 147

توہین رسالت ﷺ کی شرعی سزا

6

واقدی نے لکھا ہے کہ بنو عمرو بن عوف میں ایک شیخ تھا جس کو ابو عفک کہتے تھے۔ نہایت بوڑھا تھا اور اس کی عمر ایک سو بیس سال تھی یہ شخص مدینہ آ کر رسول اللہ ﷺ کی عداوت پر بھڑکایا کرتا تھا۔ اس نے اسلام قبول نہیں کیا تھا۔ جب رسول کریم ﷺ بدر تشریف لے گئے اور اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کو فتح و کامرانی سے نوازا تو وہ حسد کرنے لگا اور بغاوت پر اتر آیا اس نے رسول کریم ﷺ اور صحابہ رضی اللہ عنہم کی مذمت میں ایک ہجویہ قصیدہ کہا۔

سالم بن عمیر نے نذر مانی کہ میں ابو عفک کو قتل کروں گا یا اسے قتل کرتے ہوئے مارا جاؤں گا۔ سالم غفلت کی تلاش میں تھا۔ موسم گرما کی ایک رات تھی ابو عفک موسم گرما میں قبیلہ بنی عمرو بن عوف کے صحن میں سورہا تھا۔ اندریں اثناء سالم بن عمیر آیا اور تلوار اس کے جگر پر رکھ دی۔ دشمن بستر پر چیخنے لگا اس کے ہم خیال بھاگتے ہوئے اس کے پاس آئے پہلے اس کے گھر میں لے گئے اور پھر قبر میں دفن کر دیا۔ کہنے لگے اسے کس نے قتل کیا ہے؟ بخدا اگر ہم کو قاتل کا پتہ چل جائے تو ہم اسے قتل کر دیں گے۔

شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ لکھتے ہیں:

وهذا فيه دلالة واضحة على ان المعاهد اذا اظهر السب ينقض عهده ويقتل غيلة لكن هو من رواية اهل المغازى وهو يصلح ان يكون مؤيدا مؤكدا بلا تردد. [الصارم المسلول ص ١٠٤]

اس واقعہ میں اس امر کی واضح دلیل موجود ہے کہ معاہد اگر علانیہ نبی ﷺ

صفحہ ۱۴۸

توہین رسالت ﷺ کی شرعی سزا

کو گالیاں دے تو اس کا عہد ٹوٹ جاتا ہے اسے دھوکے سے قتل کیا جا سکتا ہے مگر یہ اہل مغازی کی روایت ہے اور بلاشبہ دوسری روایات کی مؤید ومؤکد ہو سکتی ہے۔

7

کعب بن اشرف یہودی کا قتل

ساتویں حدیث جس سے حضرت امام شافعیؒ نے اس امر پر استدلال کیا ہے کہ ذمی اگر رسول کریم ﷺ کو گالیاں دے تو اسے قتل کیا جائے۔ اس کا عہد وامان اس سے باقی نہیں رہتا وہ کعب بن اشرف کا واقعہ ہے۔

امام خطابی المعالم میں [ص ۲۵۵/۳] پر حضرت امام شافعیؒ سے نقل کرتے ہیں کہ ذمی اگر رسول کریم ﷺ کو گالیاں دے تو اسے قتل کیا جائے اس فعل سے مسلمانوں کی ذمہ داری ختم ہو جاتی ہے اس پر انہوں نے کعب بن اشرف کے واقعہ سے استدلال کیا ہے۔

حضرت امام شافعیؒ کتاب الأم میں فرماتے ہیں:

رسول کریم ﷺ کے سامنے یا آپؐ کے قرب وجوار میں یہود مدینہ کے سوا کوئی مشرک کتابی نہ تھا یہ انصار کے حلیف تھے اور انصار نے رسول اللہ ﷺ کی آمد کے آغاز میں اسلام لانے کا پختہ ارادہ نہیں کیا تھا۔ چنانچہ یہود نے رسول کریم ﷺ کے ساتھ مصالحت کر لی اور جنگ بدر کے بعد یہودیوں نے اظہار عداوت کا آغاز کیا اور لوگوں کو آپؐ کے خلاف بھڑکانے لگے۔ چنانچہ

صفحہ 149

توہین رسالت ﷺ کی شرعی سزا

رسول کریم ﷺ نے بھی یہود کے خلاف جنگ و پیکار کا ارادہ کیا اس ضمن میں پہلا واقعہ کعب بن اشرف کا پیش آیا۔

مدینہ منورہ میں جب فتح بدر کی بشارت پہنچی تو کعب بن اشرف کو بے حد صدمہ ہوا اور یہ کہا کہ اگر یہ خبر صحیح ہے کہ مکہ کے بڑے بڑے سردار اور اشراف مارے گئے تو پھر زمین کا بطن [اندرون] اس کی ظہر [پشت] سے بہتر ہے یعنی مرجانا، جینے سے بہتر ہے تاکہ آنکھیں اس ذلت اور رسوائی کو نہ دیکھیں۔

لیکن جب اس خبر کی تصدیق ہو گئی تو مقتولین بدر کی تعزیت کے لیے مکہ روانہ ہوا اور جو لوگ بدر میں مارے گئے ان پر مرثیے لکھے جن کو پڑھ پڑھ کر خود بھی روتا تھا اور دوسروں کو بھی رلاتا تھا اور رسول اللہ ﷺ کے مقابلہ میں لوگوں کو جوش دلا دلا کر آمادہ قتال کرتا تھا۔ ایک روز قریش کو حرم میں لے کر آیا سب نے بیت اللہ کا پردہ تھام کر مسلمانوں سے لڑائی کرنے کا حلف اٹھایا پھر بعد ازاں مدینہ واپس آیا اور مسلمان عورتوں کے متعلق عشقیہ اشعار کہنے شروع کئے۔

[زرقانی ص ۹/۲]

کعب بن مالک ؓ راوی ہیں کہ کعب بن اشرف بڑا شاعر تھا۔ رسول اللہ ﷺ کی ہجو میں اشعار کہا کرتا تھا اور کفار مکہ کو رسول اللہ ﷺ کے مقابلہ کے لیے ہمیشہ بھڑکاتا رہتا تھا اور مسلمانوں کی طرح طرح کی ایذائیں پہنچاتا تھا۔

رسول اللہ ﷺ مسلمانوں کو صبر اور تحمل کا حکم فرماتے رہے لیکن جب کسی شرارت سے باز نہ آیا تو آپ نے اس کے قتل کا حکم دے دیا۔

[فتح الباری ۲۳۷/۷]

صفحہ ۱۵۰

Judgment based on the following incidents: i - Prophet Muhammad ﷺ was asked about the moon. ii - Prophet Muhammad ﷺ informed about the false prophets. iii - Dajjal was seen by the Prophet ﷺ in his dream. iv- The Caliphate came into existence after the Prophetﷺ. v - Prophetﷺ asked for the Quran and Sunnah to be held onto strongly. 19-- How has Maulana Nanotwi used various means to testify to the seal of the prophethood? 20-- According to the Hadith, what does the Straight Path mean? Also highlight the importance of the Hadith in solving the issue of the seal of the prophet hood. 21-- Discuss the immense recollection and remembrance of the Prophet ﷺ and build your argument to present a proof of the seal of prophethood. 22-- “Mirza became an imposter prophet just to gain fame”. Discuss the essential credentials required to present the above claim.

توہین رسالت ﷺ کی شرعی سزا

ایک روایت میں ہے کہ ایک مرتبہ کعب بن اشرف نے آپ ﷺ کو دعوت کے بہانے سے بلایا اور کچھ آدمی متعین کر دیئے کہ جب آپ ﷺ تشریف لائیں تو قتل کر ڈالیں۔ آپ ﷺ آکر بیٹھے ہی تھے کہ جبریل امین نے آکر آپ ﷺ کو ان کے ارادے سے مطلع کر دیا آپ فوراً وہاں سے روح الامین کے پروں کے سایہ میں باہر تشریف لے آئے اور واپسی کے بعد قتل کا حکم دیا۔

[فتح الباری ۷ / ۲۳۸]

صحیح بخاری میں حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

من لکعب بن الاشرف فانہ قد اذی اللہ ورسولہ فقام محمد بن مسلمۃ فقال انا یارسول اللہ اتحب ان اقتلہ قال نعم قال فاذن لی ان اقول شیئا قال: قل.

[البخاری ۲ / ۸۸۷]

تم میں سے کعب بن اشرف کے قتل کے لیے کون تیار ہے؟ اس نے اللہ اور اس کے رسول ﷺ کو بہت ایذاء پہنچائی ہے یہ سنتے ہی حضرت محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ کھڑے ہو گئے اور عرض کیا یا رسول اللہ! آپ اس کا قتل چاہتے ہیں آپ نے فرمایا ہاں۔ تو محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا یا رسول اللہ! پھر مجھے کچھ کہنے کی اجازت دیجیئے [یعنی اسے مبہم اور تعریفی کلمات اور ذو معنی الفاظ] کہہ سکوں جن کو سن کر وہ بظاہر خوش ہو جائے۔ آپ نے فرمایا اجازت ہے۔

محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ ایک روز کعب سے ملنے گئے اور اثناء گفتگو میں کہا کہ یہ مرد [یعنی رسول اللہ ﷺ] ہم سے فقراء و مساکین پر تقسیم کرنے کے لیے]

توہین رسالت ﷺ کی شرعی

صدقہ اور زکوٰۃ مانگتا ہے اور اس حریص اور طامع نفوس پر بہت صدق دل سے صدقات کا دین محبوب اور غایت درجہ لذیذ ہ اور گراں ہے۔

میں اس وقت آپ ابھی کیا ہے آگے چل کر دیکھنا رضی اللہ عنہ نے کہا کہ اب تو ہم ان کے انجام کے منتظر ہیں [اور دل می اور دشمنوں کی شکست یقینی اور وقت ہم یہ چاہتے ہیں کہ آپ ہے مگر کوئی چیز میرے پاس ر رکھوانا چاہتے ہیں۔ کعب نے لوگوں نے کہا اپنی عورتوں کو کی نہیں کرتی پھر یہ کہ آپ نہای اپنے لڑکوں کو رہن رکھ دو۔ ان ہماری اولاد کو یہ طعن دیں گے رہن رکھے گئے تھے۔ ہاں ہم ا عکرمہ رضی اللہ عنہ کی ایک

صفحہ 151

Disease in light of the Day of Judgment and grave. 18-- Present a proof of the Day of Judgment based on the following incidents: i - Prophet Muhammad ﷺ was asked about the moon. ii - Prophet Muhammad ﷺ informed about the false prophets. iii - Dajjal was seen by the Prophet ﷺ in his dream. iv- The Caliphate came into existence after the Prophet ﷺ. v - Prophet ﷺ asked for the Quran and Sunnah to be held onto strongly. 19-- How has Maulana Nanotwi used various means to testify to the seal of the prophethood? 20-- According to the Hadith, what does the Straight Path mean? Also highlight the importance of the Hadith in solving the issue of the seal of the prophet hood. 21-- Discuss the immense recollection and remembrance of the Prophet ﷺ and build your argument to present a proof of the seal of prophethood. 22-- “Mirza became an imposter prophet just to gain fame”. Discuss the essential credentials required to present the above claim.

توہین رسالت ﷺ کی شرعی سزا

صدقہ اور زکوٰۃ مانگتا ہے اور اس شخص نے ہم کو مشقت میں ڈال دیا ہے یہ چیز حریص اور طامع نفوس پر بہت شاق اور گراں ہے لیکن مخلصین اور صادقین کو صدق دل سے صدقات کا دینا اور فقراء ومساکین کی اعانت اور امداد کرنا انتہائی محبوب اور غایت درجہ لذیذ ہے بلکہ اللہ کی راہ میں مال نہ خرچ کرنا ان پر شاق اور گراں ہے۔

میں اس وقت آپ کے پاس قرض لینے کے لیے آیا ہوں کعب نے کہا ابھی کیا ہے آگے چل کر دیکھنا خدا کی قسم تم ان سے اکتا جاؤ گے۔ محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ اب تو ہم ان کے پیرو ہو چکے ہیں ان کو چھوڑنا ہم پسند نہیں کرتے انجام کے منتظر ہیں [اور دل میں یہ تھا کہ انجام کار اللہ اور اس کے رسول کی فتح اور دشمنوں کی شکست یقینی اور محقق جس میں شبہ کی ذرہ برابر گنجائش نہیں] اس وقت ہم یہ چاہتے ہیں کہ آپ کچھ غلہ بطور قرض دے دیں۔ کعب نے کہا بہتر ہے مگر کوئی چیز میرے پاس رہن رکھ دو۔ ان لوگوں نے کہا آپ کیا چیز رہن رکھوانا چاہتے ہیں۔ کعب نے کہا اپنی عورتوں کو میرے پاس رہن رکھ دو۔ ان لوگوں نے کہا اپنی عورتوں کو کیسے رہن رکھ سکتے ہیں اس کو غیرت اور حمیت گوارا نہیں کرتی پھر یہ کہ آپ نہایت حسین و جمیل اور نوجوان ہیں۔ کعب نے کہا آپ اپنے لڑکوں کو رہن رکھ دو۔ ان لوگوں نے کہا کہ یہ تو ساری عمر کی عار ہے لوگ ہماری اولاد کو یہ طعنہ دیں گے کہ تم وہی ہو جو دو اور تین سیر غلہ کے معاوضہ میں رہن رکھے گئے تھے۔ ہاں ہم اپنے ہتھیار تمہارے پاس رہن رکھ سکتے ہیں۔

صفحہ ۱۵۲

Discuss in light of the Day of Judgment and grave. 18-- Present a proof of the Day of Judgment based on the following incidents: i - Prophet Muhammad ﷺ was asked about the moon. ii - Prophet Muhammad ﷺ informed about the false prophets. iii - Dajjal was seen by the Prophet ﷺ in his dream. iv- The Caliphate came into existence after the Prophet ﷺ. v - Prophet ﷺ asked for the Quran and Sunnah to be held onto strongly. 19-- How has Maulana Nanotwi used various means to testify to the seal of the prophethood? 20-- According to the Hadith, what does the Straight Path mean? Also highlight the importance of the Hadith in solving the issue of the seal of the prophet hood. 21-- Discuss the immense recollection and remembrance of the Prophet ﷺ and build your argument to present a proof of the seal of prophethood. 22-- “Mirza became an imposter prophet just to gain fame”. Discuss the essential credentials required to present the above claim.

توہین رسالت ﷺ کی شرعی سزا

آپ کو معلوم ہے کہ ہم ہتھیاروں کے کس درجہ محتاج اور ضرورت مند ہیں۔ لیکن بایں ہمہ یہ ہو سکتا ہے کہ ہتھیار آپ کے پاس رہن رکھ دیں لیکن یہ ناممکن ہے کہ عورتوں اور بیٹیوں کو رہن رکھ دیں۔ کعب نے اس کو منظور کیا اور وعدہ ٹھہرایا کہ شب کو آ کر غلہ لے جائیں اور ہتھیار رہن رکھ جائیں۔

حسب وعدہ یہ لوگ رات کو پہنچے اور جا کر کعب کو آواز دی کعب نے اپنے قلعہ سے اترنے کا ارادہ کیا۔ بیوی نے کہا اس وقت کہاں جاتے ہو کعب نے کہا محمد بن مسلمہ اور میرا دودھ شریک بھائی ابونائلہ ہے کوئی غیر نہیں تم فکر نہ کرو بیوی نے کہا مجھے اس آواز سے خون ٹپکتا ہوا نظر آتا ہے۔ کعب نے کہا شریف آدمی اگر رات کے وقت نیزہ مارنے کے لیے بھی بلایا جائے تو اس کو ضرور جانا چاہیے۔ اس اثناء میں محمد بن مسلمہ ؓ نے اپنے ساتھیوں کو یہ سمجھا دیا کہ جب کعب آئے گا تو میں اس کے بال سونگھوں گا۔ جب دیکھو کہ میں نے اس کے بالوں کو مضبوطی سے پکڑ لیا ہے تو فوراً اس کا سر اتار دینا۔ چنانچہ جب کعب نیچے آیا تو سر تا پا خوشبو سے معطر تھا۔ محمد بن مسلمہ ؓ نے کہا کہ آج جیسی خوشبو تو میں نے کبھی سونگھی ہی نہیں۔ کعب نے کہا میرے پاس عرب کی سب سے زیادہ حسین وجمیل اور سب سے زیادہ معطر عورت ہے۔ محمد بن مسلمہ ؓ نے کہا کیا آپ مجھ کو اپنے معطر سر کے سونگھنے کی اجازت دیں گے۔ کعب نے کہا ہاں اجازت ہے۔ محمد بن مسلمہ ؓ نے آگے بڑھ کر خود بھی سر کو سونگھا اور اپنے رفقاء کو بھی سونگھایا۔ کچھ دیر کے بعد پھر محمد بن مسلمہ ؓ نے کہا کیا آپ دوبارہ اپنے سر سونگھنے کی اجازت دیں گے کعب نے کہا شوق سے۔ محمد بن مسلمہ ؓ اٹھے اور سر سونگھنے میں مشغول ہو گئے جب سر کے بال مضبوط

توہین رسالت ﷺ کی شرعی

پکڑ لئے تو ساتھیوں کو اشارہ ک کا کام تمام کیا۔ پھر اخیر شب دیکھتے ہی یہ ارشاد فرمایا: اَفْلَحَ ہوئے۔ ان لوگوں نے جواباً پہلے آپ ﷺ کا چہرہ مبا اشرف کا سر آپ کے سامنے

جب یہود کو اس و اور جب صبح ہوئی تو یہود کی ا ہوئی اور عرض کیا کہ ہما مسلمانوں کو طرح طرح کی برانگیختہ کرتا اور آمادہ کرتا تھ اور بعد ازاں آپؐ نے ان اس قسم کی حرکت نہ کرے گا

کعب بن اشرف ۔

روایات حدیث معلوم ہو سکے ہیں وہ حسب

کلمات کا زبان سے نکالنا

صفحہ 153

توہین رسالت ﷺ کی شرعی سزا

پکڑ لئے تو ساتھیوں کو اشارہ کیا فوراً ہی سب نے اس کا سر قلم کر دیا اور آناً فاناً اس کا کام تمام کیا۔ پھر اخیر شب رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں پہنچے۔ آپؐ نے دیکھتے ہی یہ ارشاد فرمایا: اَفْلَحَتِ الْوُجُوْهُ ان چہروں نے فلاح پائی اور کامیاب ہوئے۔ ان لوگوں نے جواباً عرض کیا: وَوَجْهُكَ يَارَسُولَ اللّٰهِ۔ اور سب سے پہلے آپ ﷺ کا چہرہ مبارک اے اللہ کے رسول! اور بعد ازاں کعب بن اشرف کا سر آپؐ کے سامنے رکھ دیا۔ آپ نے الحمد للہ کہا اور اللہ کا شکر ادا کیا۔

[فتح الباری ٧/ ٣٤٠]

جب یہود کو اس واقعہ کا علم ہوا تو یک لخت مرعوب اور خوفزدہ ہو گئے اور جب صبح ہوئی تو یہود کی ایک جماعت رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئی اور عرض کیا کہ ہمارا سردار اس طرح مارا گیا۔ آپؐ نے فرمایا کہ وہ مسلمانوں کو طرح طرح کی ایذائیں پہنچاتا تھا اور لوگوں کو ہمارے خلاف قتال پر برانگیختہ کرتا اور آمادہ کرتا تھا۔ یہود دم بخود رہ گئے اور کوئی جواب نہ دے سکے اور بعد ازاں آپؐ نے ان سے ایک عہد نامہ لکھوایا کہ یہود میں سے آئندہ کوئی اس قسم کی حرکت نہ کرے گا۔

[طبقات ابن سعد ٣٣/٢]

کعب بن اشرف کے قتل کے اسباب

روایات حدیث سے کعب بن اشرف کے قتل کے جو وجوہ اور اسباب معلوم ہو سکے ہیں وہ حسب ذیل ہیں:

کلمات کا زبان سے نکالنا۔

صفحہ ۱۵۴

توہین رسالت ﷺ کی شرعی سزا

لیکن قتل کا سب سے قوی سبب آپ کی شان اقدس میں دریدہ دہنی اور سب وشتم اور آپ کی ہجو میں اشعار کہنا ہے۔ شیخ الاسلام حافظ ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے اپنی کتاب ’’الصارم المسلول علی شاتم الرسول‘‘ میں ص ۷۰ تا ۹۱ پر اس پر مفصل کلام کیا ہے۔

امام زہری سے مروی ہے کہ یہ آیت ﴿وَلَتَسْمَعُنَّ مِنَ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ مِن قَبْلِكُمْ وَمِنَ الَّذِينَ أَشْرَكُوا أَذًى كَثِيرًا﴾

[آل عمران: ۱۸۶]

’’البتہ سنو گے تم اہل کتاب سے اور مشرکین سے بہت بدگوئی اور بد زبانی۔‘‘

کعب بن اشرف کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔

[- عیون الاثر: ۱/ ۳۰۰]

مذکورہ حدیث سے یہ بھی ثابت ہوا کہ شاتم رسول ﷺ کی سزا میں دوستی اور بھائی کا رشتہ بھی مانع نہیں آتا۔

امام عبدالرزاق بن الہمام الیمانی رحمہ اللہ کے مقام اور مرتبہ سے اہل علم

صفحہ ۱۵۵

توہین رسالت ﷺ کی شرعی سزا

واقف ہیں۔ یہ امام بخاری اور امام احمد بن حنبل کے جلیل القدر استاذ اور تبع تابعی ہیں ان کے مجموعہ احادیث کا نام ”المصنّف“ ہے۔ اس میں اکثر احادیث ثلاثی ہیں اور امام بخاری کی تصریح کے مطابق تمام حدیثیں صحیح ہیں۔ اس میں امام صاحب نے ”سبّ النبی“ کا علیحدہ باب قائم کیا ہے۔

جس میں چند حدیثیں نقل کی ہیں چنانچہ ملاحظہ فرمائیں:

بارے میں دشنام طرازی کی رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کون ہے جو ہمارے اس دشمن کی خبر لے گا؟ اس پر حضرت زبیر رضی اللہ عنہ نے کہا میں حاضر ہوں۔ پھر حضرت زبیر رضی اللہ عنہ نے جا کر اس گستاخ کو قتل کر دیا تو آپ نے حضرت زبیر رضی اللہ عنہ کو اس کی سلب عطا کر دی۔

[ص ۳۰۷/۵]

حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے اس کو قتل کر دیا۔

[ص ۳۰۷/۵]

گالیاں دی تھیں جس پر اس کو قتل کر دیا گیا تھا۔

[ص ۳۰۷/۵]

ﷺ کی تکذیب کی آپؐ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ اور حضرت زبیر رضی اللہ عنہ سے فرمایا جاؤ اگر وہ مل جائے تو اسے قتل کر دو۔

[ص ۳۰۸/۵]

اس کی گردن مار دی جائے۔

[ص ۳۰۸/۵]

PDF 156

توہین رسالت ﷺ کی شرعی سزا

قاضی عیاض نے کتاب الشفاء میں ابن قانع سے روایت کی ہے کہ ایک مرتبہ ایک شخص نے بارگاہِ رسالت میں حاضر ہو کر عرض کیا یا رسول اللہ میں نے اپنے والد کو آپ ﷺ کی شان میں گستاخی کرتے ہوئے سنا تو یہ مجھ سے برداشت نہ ہوسکا اس لیے میں نے اسے قتل کر دیا تو آپ نے اس باز پُرس نہیں فرمائی۔

[الشفاء ص ٤٨٩ ج ٢]

8

ابن سُبینہ یہودی کا قتل

کعب بن اشرف کے قتل کے بعد رسول اللہ ﷺ نے صحابہ رضی اللہ عنہم کو حکم دیا کہ اس قسم کے یہود کو جہاں کہیں پاؤ قتل کر ڈالو۔ چنانچہ حویصہ بن مسعود کے چھوٹے بھائی محیصہ بن مسعود نے ابن سبینہ یہودی کو قتل کر ڈالا جو تجارت کرتا تھا اور خود حویصہ اور محیصہ اور دیگر اہل مدینہ سے دادوستد کا معاملہ رکھتا تھا۔

حویصہ ابھی مسلمان نہ ہوئے تھے اور محیصہ پہلے سے مسلمان تھے۔ حویصہ چونکہ عمر میں بڑے تھے۔ محیصہ کو پکڑ کر مارنا شروع کیا اور کہا کہ اے اللہ کے دشمن تو نے اسے قتل کر ڈالا۔ خدا کی قسم اس کے مال سے کتنی چربی تیرے پیٹ میں ہے۔ محیصہ نے کہا اللہ کی قسم مجھ کو اس کے قتل کا ایسی ذات نے حکم دیا ہے کہ اگر وہ ذات بابرکات تیرے قتل کا بھی حکم دیتی تو واللہ تیری بھی گردن اڑا دیتا۔ حویصہ نے کہا کیا اللہ کی قسم اگر محمد ﷺ تجھ کو میرے قتل کا حکم دیں تو واقعی تو مجھ کو قتل کر ڈالے گا محیصہ نے کہا ہاں اللہ کی قسم اگر تیری گردن مارنے کا

ment and grave. 18-- Present a proof of the Day of Judgment based on the following incidents: i - Prophet Muhammad ﷺ was asked about the moon. ii - Prophet Muhammad ﷺ informed about the false prophets. iii - Dajjal was seen by the Prophet ﷺ in his dream. iv- The Caliphate came into existence after the Prophetﷺ. v - Prophetﷺ asked for the Quran and Sunnah to be held onto strongly. 19-- How has Maulana Nanotwi used various means to testify to the seal of the prophethood? 20-- According to the Hadith, what does the Straight Path mean? Also highlight the importance of the Hadith in solving the issue of the seal of the prophet hood. 21-- Discuss the immense recollection and remembrance of the Prophet ﷺ and build your argument to present a proof of the seal of prophethood. 22-- "Mirza became an imposter prophet just to gain fame". Discuss the essential credentials required to present the above claim.

توہین رسالت ﷺ کی شرعی سزا

حکم دیتے تو ضرور تیری گردن اڑا ذرہ برابر تیرے بھائی ہونے کا اور بے ساختہ یہ بول اٹھے کہ اللہ راسخ اور مستحکم اور رگ و پے میں حویصہ رسول اللہ ﷺ کی خدمت قبول کیا۔

[اس

یہ واقعہ علماء سیر کے نز کے مابین پیش آیا وہ یہ ہے کہ ا کی۔ قبیلہ خزاعہ کے ایک لڑکے سر پر چوٹ ماری وہ اپنی قوم ہوا بنوبکر پہلے ہی خزاعہ سے ا

واقدی نے لکھا ہے سواروں میں رسول اللہ ﷺ اس واقعہ کا تذکرہ کیا جو ان کو پہلا مصرعہ یہ ہے۔

لا هم إنى ناشد مح

اور جب قافلہ وال بن زنیم الدیلی نے آپ ﷺ

صفحہ ۱۵۷

Judgment based on the following incidents: i - Prophet Muhammad ﷺ was asked about the moon. ii - Prophet Muhammad ﷺ informed about the false prophets. iii - Dajjal was seen by the Prophet ﷺ in his dream. iv- The Caliphate came into existence after the Prophet ﷺ. v - Prophet ﷺ asked for the Quran and Sunnah to be held onto strongly. 19- How has Maulana Nanotwi used various means to testify to the seal of the prophethood? 20-- According to the Hadith, what does the Straight Path mean? Also highlight the importance of the Hadith in solving the issue of the seal of the prophet hood. 21- Discuss the immense recollection and remembrance of the Prophet ﷺ and build your argument to present a proof of the seal of prophethood. 22- “Mirza became an imposter prophet just to gain fame”. Discuss the essential credentials required to present the above claim.

توہین رسالت ﷺ کی شرعی سزا

حکم دیتے تو ضرور تیری گردن اڑا دیتا۔ یعنی رسول اللہ ﷺ کے حکم کے بعد ذرہ برابر تیرے بھائی ہونے کا خیال نہ کرتا۔ حویصہ یہ سن کر حیران رہ گئے اور بے ساختہ یہ بول اٹھے کہ اللہ کی قسم یہی دین حق ہے جو دلوں میں اس درجہ راسخ اور مستحکم اور رگ و پے میں اس درجہ جاری وساری ہے۔ اس کے بعد حویصہ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور سچے دل سے اسلام قبول کیا۔

[استیعاب ١٤٦٣/٤]

یہ واقعہ علماء سیر کے نزدیک مشہور ہے کہ آخری واقعہ جو خزاعہ اور کنانہ کے مابین پیش آیا وہ یہ ہے کہ انس بن زنیم الدیلی نے رسول اللہ ﷺ کی ہجو کی۔ قبیلہ خزاعہ کے ایک لڑکے نے سن لیا اس نے اس پر حملہ کر دیا اور اس کے سر پر چوٹ ماری وہ اپنی قوم کے پاس آیا اور اپنا زخم دکھایا۔ فتنہ بازی کا آغاز ہوا بنو بکر پہلے ہی خزاعہ سے اپنے خون کا مطالبہ کر رہے تھے۔

واقدی نے لکھا ہے کہ عمرو بن سالم خزاعی قبیلہ خزاعہ کے چالیس سواروں میں رسول اللہ ﷺ سے مدد طلب کرنے کے لیے نکلا۔ انہوں نے اس واقعہ کا تذکرہ کیا جو ان کو پیش آیا تھا اور اس قصیدے کا بھی ذکر کیا جس کا پہلا مصرعہ یہ ہے۔

لا هم إني ناشد محمدًا

اور جب قافلہ والے فارغ ہوئے تو انہوں نے کہا یا رسول اللہ ! انس بن زنیم الدیلی نے آپ ﷺ کی ہجو کی ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے اس کے

صفحہ ۱۵۸

توہین رسالت ﷺ کی شرعی سزا

خون کو ہدر قرار دے دیا۔ جب انس بن زنیم کو پتہ چلا تو وہ معذرت طلبی کے لیے آپ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ اس نے رسول اللہ ﷺ کی شان میں مدحیہ کہا وہ آپ ﷺ کو سنایا۔

واقدی کہتے ہیں کہ ”حرام“ نامی شخص نے مجھے وہ قصیدہ سنایا۔ رسول کریم ﷺ کے پاس وہ قصیدہ بھی پہنچا اور اس نے جو معذرت چاہی تھی وہ بھی پہنچی اور نوفل بن معاویہ الدیلی آپ ﷺ سے ہم کلام ہوا اس نے عرض کی یا رسول اللہ ! آپ ﷺ سب لوگوں سے زیادہ معاف کرنے کے اہل ہیں ہم میں سے کون ہے جس نے آپ سے عداوت نہ رکھی ہو اور آپ ﷺ کو ستایا نہ ہو۔ دور جاہلیت میں ہمیں کچھ معلوم نہ تھا کہ کیا چیزیں لیں اور کیا نہ لیں حتی کہ آپ کے ذریعہ اللہ نے ہمیں ہدایت سے نوازا اور آپ ﷺ کی وجہ سے ہمیں ہلاکت سے چھڑایا قافلہ والوں نے اس پر جھوٹ باندھا اور آپ کے پاس مبالغہ آمیزی سے کام لیا۔ آپ نے فرمایا قافلہ کا ذکر چھوڑئیے ہم نے سرزمین تہامہ میں کسی دور ونزدیک کے رشتہ دار کو نہیں دیکھا جو خزاعہ سے زیادہ اطاعت شعار ہو۔ آپ نے نوفل بن معاویہ کو خاموش کرا دیا۔ جب وہ خاموش ہوگیا تو رسول کریم ﷺ نے فرمایا میں نے اس معاف کیا نوفل نے کہا میرے ماں باپ آپ پر فدا ہوں۔

[کتاب المغازی ۷۹۱/۲]

اس واقعہ سے وجہ استدلال

وجہ استدلال یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے حدیبیہ والے سال دس

صفحہ ۱۵۹

توہین رسالت ﷺ کی شرعی سزا

برس کے لیے قریش کے ساتھ مصالحت کر لی تھی۔ قبیلہ خزاعہ آپ ﷺ کا حلیف بن گیا تھا ان میں سے اکثر مسلمان ہو چکے تھے۔ ان کے مسلم اور کافر رسول کریم ﷺ کے لیے ہمہ تن پیکر ہمدرد و خیر خواہ تھے۔ بنو بکر قریش کے حلیف بن گئے یہ سب لوگ آپ کے معاہد بن گئے۔ اور یہ وہ بات ہے جو نقل متواتر سے ثابت ہے اور اہل علم کے ہاں اس میں کوئی اختلاف نہیں پایا جاتا۔

انس بن زنیم کے بارے میں آپ ﷺ کو بتایا گیا تھا کہ معاہد ہونے کے باوجود اس نے آپ کی ہجو کی ہے۔ چنانچہ قبیلہ خزاعہ کے کسی آدمی نے اس کے سر پر چوٹ ماری اور رسول کریم ﷺ کو بتایا کہ اس نے آپ کی ہجو لکھی ہے۔ اس سے ان کا مقصد رسول کریم ﷺ کو بنو بکر کے خلاف بھڑکانا تھا۔ رسول کریم ﷺ نے اس کے خون کو ہدر قرار دے دیا اور کسی اور کے خون کو ہدر قرار نہ دیا۔ اگر انہیں یہ بات معلوم نہ ہوتی کہ معاہد کی ہجو کہنے سے اس سے انتقام لینا واجب ہو جاتا ہے تو وہ ایسا نہ کرتے۔ اسی وجہ سے رسول کریم ﷺ نے اس کے خون کو ہدر قرار دیا حالانکہ اس نے معاہد ہوتے ہوئے ہجو گوئی کا ارتکاب کیا تھا لہذا یہ اس ضمن میں نص ہے کہ ہجو گو معاہد کا خون مباح ہو جاتا ہے۔

بعد ازاں جب وہ حاضر ہوا تو اس نے اپنے اشعار میں اسلام لانے کا اظہار کیا اسی لیے اسے آپ کے صحابہ میں شمار کیا گیا ہے اس کے اشعار میں یہ الفاظ کہ ”تعلم رسول اللہ انی رسول اللہ“ اس بات پر دلالت کرتے ہیں کہ وہ پہلے اسلام لا چکا تھا۔ یا یہ کہ اس کا یوں کہنا ہی اس کا اسلام لانا ہے۔ اس لیے

صفحہ ۱۶۰

توہین رسالت ﷺ کی شرعی سزا

کہ بت پرست جب کہے ”محمد رسول اللہ“ تو اسے مسلم قرار دیا جائے گا۔ اس نے ہجو گوئی سے انکار بھی کیا تھا اور ان لوگوں کی شہادت کو یہ کہہ کر رد کر دیا تھا کہ وہ اس کے دشمن ہیں اس لیے کہ دونوں قبیلوں کے درمیان عرصہ سے حرب وضرب کا سلسلہ چلا آ رہا تھا اگر اپنی اس حرکت سے وہ مباح الدم نہ ہو جاتا تو اسے اس بات کی ضرورت نہ تھی۔

پھر اس نے اسلام لانے، معذرت خواہی، مخبرین کی تردید اور رسول کریم ﷺ کی مدح گوئی کے بعد اس نے خون کو ہدر قرار دینے کے بارے میں رسول کریم ﷺ سے معافی طلب کی حالانکہ معافی تب دی جاتی ہے جب جرم کی سزا دینے کا جواز موجود ہو۔ اس سے معلوم ہوا کہ اسلام لانے اور معذرت خواہی کے بعد بھی آپ اسے سزا دے سکتے تھے۔ مگر آپ نے تحمل و بردباری کے پیش نظر اس پر کرم نوازی فرمائی اور اسے معاف کر دیا۔

[الصارم المسلول ص ١٠٦]

عن البراء بن عازب قال بعث رسول الله صلى الله عليه وسلم الى ابى رافع اليهودى رجالا من الانصار فامر عليهم عبدالله بن عتيك وكان يؤذى رسول الله صلى الله عليه وسلم ويعين عليه.

[بخاری ١٤٨٢/٤]

رسول اللہ ﷺ نے ابو رافع یہودی کو قتل کرنے کے لیے چند انصار کا انتخاب فرمایا جن پر امیر عبداللہ بن عتیک کو مقرر کیا گیا۔ اور یہ

Judgment based on the following incidents: i - Prophet Muhammad ﷺ was asked about the moon. ii - Prophet Muhammad ﷺ informed about the false prophets. iii - Dajjal was seen by the Prophet ﷺ in his dream. iv- The Caliphate came into existence after the Prophet ﷺ. v - Prophet ﷺ asked for the Quran and Sunnah to be held onto strongly. 19-- How has Maulana Nanotwi used various means to testify to the seal of the prophethood? 20-- According to the Hadith, what does the Straight Path mean? Also highlight the importance of the Hadith in solving the issue of the seal of the prophet hood. 21-- Discuss the immense recollection and remembrance of the Prophet ﷺ and build your argument to present a proof of the seal of prophethood. 22-- “Mirza became an imposter prophet just to gain fame”. Discuss the essential credentials required to present the above claim.

توہین رسالت ﷺ کی شرعی سزا ابو رافع رسول اللہ ﷺ کو ا کی مدد کیا کرتا تھا۔

ابو رافع یہودی کا قتل

ابو رافع کے قتل کا واقعہ جـ کیا گیا ہے اسے مفصل طور پر ملاحظہ فـ ابو رافع ایک بڑا مالدار یہو بن ابی الحقیق اس کا نام تھا۔ سلام بنـ گڑھی میں رہتا تھا۔ رسول اللہ ﷺ کـ ایذاء اور تکلیف پہنچاتا تھا۔ کعب بنـ غزوہ احزاب میں قریش مکہ کو مسلمانـ مالی امداد کی اور ہمیشہ رسول اللہ ﷺ کرتا رہتا تھا۔ [البدایہ واـ کعب بن اشرف کے قاتلـ سب قبیلہ اوس کے تھے اس لیے قبیلـ رسول اللہ ﷺ کے ایک جانی دشـ اور دریدہ دہن کعب بن اشرف کو قتل ہم کو چاہیے کہ بارگاہ نبوت کے دوسـ کر کے دارین کی عزت و رفعت حا حاضر ہو کر ابو رافع کے قتل کی اجازت

صفحہ ۱۶۱

توہین رسالت ﷺ کی شرعی سزا

Judgment based on the following incidents: i - Prophet Muhammad ﷺ was asked about the moon. ii - Prophet Muhammad ﷺ informed about the false prophets. iii - Dajjal was seen by the Prophet ﷺ in his dream. iv- The Caliphate came into existence after the Prophetﷺ. v - Prophetﷺ asked for the Quran and Sunnah to be held onto strongly. 19-- How has Maulana Nanotwi used various means to testify to the seal of the prophethood? 20-- According to the Hadith, what does the Straight Path mean? Also highlight the importance of the Hadith in solving the issue of the seal of the prophet hood. 21-- Discuss the immense recollection and remembrance of the Prophet ﷺ and build your argument to present a proof of the seal of prophethood. 22-- "Mirza became an imposter prophet just to gain fame". Discuss the essential credentials required to present the above claim.

ابو رافع رسول اللہ ﷺ کو ایذاء دیتا تھا اور آپؐ کے خلاف لوگوں کی مدد کیا کرتا تھا۔

ابو رافع یہودی کا قتل

ابو رافع کے قتل کا واقعہ جو کتب حدیث و کتب تاریخ وسیر میں ذکر کیا گیا ہے اسے مفصل طور پر ملاحظہ فرمائیں۔

ابو رافع ایک بڑا مالدار یہودی تاجر تھا۔ ابو رافع اس کی کنیت تھی عبداللہ بن ابی الحقیق اس کا نام تھا۔ سلام بن ابی الحقیق بھی کہتے تھے۔ خیبر کے قریب گڑھی میں رہتا تھا۔ رسول اللہ ﷺ کا سخت دشمن تھا اور طرح طرح سے آپ کو ایذاء اور تکلیف پہنچاتا تھا۔ کعب بن اشرف کا معین اور مددگار تھا۔ یہی شخص غزوہ احزاب میں قریش مکہ کو مسلمانوں پر ابھار کر لایا تھا اور بہت زیادہ ان کی مالی امداد کی اور ہمیشہ رسول اللہ ﷺ اور مسلمانوں کی عداوت میں روپیہ خرچ کرتا رہتا تھا۔

[البدایۃ والنہایۃ ۱۳۷/۴]

کعب بن اشرف کے قاتل محمد بن مسلمہ اور ان کے رفقاء رضی اللہ عنہم چونکہ سب قبیلہ اوس کے تھے اس لیے قبیلہ خزرج کو یہ خیال ہوا کہ قبیلہ اوس نے تو رسول اللہ ﷺ کے ایک جانی دشمن اور بارگاہ رسالت کے ایک گستاخ اور دریدہ دہن کعب بن اشرف کو قتل کر کے سعادت اور شرف حاصل کرلیا لہٰذا ہم کو چاہیے کہ بارگاہ نبوت کے دوسرے گستاخ اور دریدہ دہن ابو رافع کو قتل کر کے دارین کی عزت و رفعت حاصل کریں۔ چنانچہ آپ کی خدمت میں حاضر ہو کر ابو رافع کے قتل کی اجازت چاہی تو آپ نے اجازت دے دی۔ اور

صفحہ ۱۶۲

توہین رسالت ﷺ کی شرعی سزا

عبداللہ بن عتیک، مسعود بن سنان، عبداللہ بن انیس، ابوقتادہ، حارث بن ربعی اور خزاعی بن اسود رضی اللہ عنہم کو اس کے قتل کے لیے روانہ فرمایا اور عبداللہ بن عتیک کو ان پر امیر بنایا اور تاکید فرمائی کہ کسی بچہ اور عورت کو ہرگز قتل نہ کرنا۔

[فتح الباری ۳۴۲/۷]

نصف جمادی الاخریٰ ۳؁ھ کو حضرت عبداللہ بن عتیک مع اپنے رفقاء کے خیبر کی طرف روانہ ہوئے۔

[تاریخ طبری ۲/۳]

صحیح بخاری میں حضرت براء بن عازب سے مروی ہے کہ غروب آفتاب کے بعد لوگ اپنے جانور چراگاہ سے واپس لاچکے تھے تب یہ لوگ خیبر پہنچے۔ ابو رافع کا قلعہ جب قریب آگیا تو حضرت عبداللہ بن عتیک نے اپنے رفقاء سے کہا تم یہیں بیٹھو میں قلعہ کے اندر جانے کی کوئی تدبیر نکالتا ہوں۔ جب بالکل دروازہ کے قریب پہنچ گئے تو کپڑا ڈھانک کر اس طرح بیٹھ گئے جیسے کوئی قضائے حاجت کرتا ہو۔ دربان نے یہ سمجھ کر کہ یہ ہمارا ہی کوئی آدمی ہے یہ آواز دی کہ اے اللہ کے بندے! اگر اندر آنا ہے تو جلد آجا میں دروازہ بند کرتا ہوں میں فوراً داخل ہو گیا اور ایک طرف چھپ کر بیٹھ گیا۔

ابو رافع بالا خانہ پر رہتا تھا اور شب کو قصہ گوئی ہوتی تھی جب قصہ گوئی ختم ہوگئی اور لوگ اپنے اپنے گھر واپس ہوگئے تو دربان نے دروازہ بند کر کے چابیوں کا حلقہ ایک جگہ پر لٹکا دیا۔ جب سب لوگ سوگئے تو میں اٹھا اور کھونٹی سے چابیوں کا حلقہ اتار کر دروازہ کھولتا ہوا بالا خانہ پر پہنچا اور جو دروازہ کھولتا تھا وہ اندر سے بند کر لیتا تھا تا کہ لوگوں کو اگر میری خبر ہو جائے تو میں اپنا کام کر گزروں۔

Judgment based on the following incidents: i - Prophet Muhammad ﷺ was asked about the moon. ii - Prophet Muhammad ﷺ informed about the false prophets. iii - Dajjal was seen by the Prophet ﷺ in his dream. iv- The Caliphate came into existence after the Prophetﷺ. v - Prophetﷺ asked for the Quran and Sunnah to be held onto strongly. 19— How has Maulana Nanotwi used various means to testify to the seal of the prophethood? 20-- According to the Hadith, what does the Straight Path mean? Also highlight the importance of the Hadith in solving the issue of the seal of the prophet hood. 21-- Discuss the immense recollection and remembrance of the Prophet ﷺ and build your argument to present a proof of the seal of prophethood. 22-- "Mirza became an imposter prophet just to gain fame". Discuss the essential credentials required to present the above claim.

توہین رسالت ﷺ کی شر

جب میں بالاخانہ عیال میں سورہا تھا مجھ کو معلو دی اے ابو رافع ! ابو رافع تلوار کا وار کیا مگر خالی گیا ابو بدلی ہمدردانہ لہجہ میں کہا ابو را شخص نے تلوار کا وار کیا ہے کے کاری زخم آیا بعد ازاں سے دبائی کہ پشت تک کر چکا اور واپس ہو گیا اور اترنے لگا تو یہ خیال ہوا کہ ز ٹوٹ گئی ۔ چاندنی رات تھی پاس آیا اور کہا کہ تم چلو ا ہوں اس کی موت اور قتل کا نے اذان دی تو خبر دینے و کیا ۔ تب میں وہاں سے ر ابو رافع کو ہلاک کر دیا ۔ وہاں ہوئے اور خوشخبری سنائی اور ٹانگ پھیلاؤ ۔ میں نے ٹا معلوم ہوا گویا کہ کبھی شکائت

صفحہ 163

Judgment based on the following incidents: i - Prophet Muhammad ﷺ was asked about the moon. ii - Prophet Muhammad ﷺ informed about the false prophets. iii - Dajjal was seen by the Prophet ﷺ in his dream. iv- The Caliphate came into existence after the Prophet ﷺ. v - Prophet ﷺ asked for the Quran and Sunnah to be held onto strongly. 19-- How has Maulana Nanotwi used various means to testify to the seal of the prophethood? 20-- According to the Hadith, what does the Straight Path mean? Also highlight the importance of the Hadith in solving the issue of the seal of the prophet hood. 21-- Discuss the immense recollection and remembrance of the Prophet ﷺ and build your argument to present a proof of the seal of prophethood. 22-- "Mirza became an imposter prophet just to gain fame". Discuss the essential credentials required to present the above claim.

۱۶۲ عبداللہ بن انیس، ابوقتادہ، حارث بن ربعی ق کے لیے روانہ فرمایا اور عبداللہ بن کی بچہ اور عورت کو ہرگز قتل نہ کرنا۔

[فتح الباری ٧/ ٣٤٢]

کو حضرت عبداللہ بن عتیک مع اپنے

[تاریخ طبری ٣/ ٦]

بن عازب سے مروی ہے کہ غروب سے واپس لا چکے تھے تب یہ لوگ خیبر حضرت عبداللہ بن عتیک نے اپنے جانے کی کوئی تدبیر نکالتا ہوں۔ جب مانگ کر اس طرح بیٹھ گئے جیسے کوئی کر کہ یہ ہمارا ہی کوئی آدمی ہے یہ آواز تو جلد آجائیں دروازہ بند کرتا ہوں بند ہو گیا۔ ت کو قصہ گوئی ہوتی تھی جب قصہ ش ہو گئے تو دربان نے دروازہ بند جب سب لوگ سو گئے تو میں اٹھا کھولتا ہوا بالاخانہ پر پہنچا اور جو کہ لوگوں کو اگر میری خبر ہو جائے

توہین رسالت ﷺ کی شرعی سزا جب میں بالاخانہ پر پہنچا تو وہاں اندھیرا تھا اور ابورافع اپنے اہل و عیال میں سو رہا تھا مجھ کو معلوم نہ تھا کہ ابورافع کہاں اور کدھر ہے میں نے آواز دی اے ابورافع ! ابورافع نے کہا کون ہے؟ میں نے اسی جانب ڈرتے ڈرتے تلوار کا وار کیا مگر خالی گیا ابورافع نے ایک چیخ ماری میں نے تھوڑی دیر بعد آواز بدلی ہمدردانہ لہجہ میں کہا ابورافع یہ کیسی آواز ہے؟ ابورافع نے کہا ابھی مجھ پر کسی شخص نے تلوار کا وار کیا ہے یہ سنتے ہی میں نے تلوار کا دوسرا وار کیا جس سے اس کے کاری زخم آیا بعد ازاں میں نے تلوار کی دھار اس کے پیٹ پر رکھ کر اس زور سے دبائی کہ پشت تک پہنچ گئی جس سے میں سمجھا کہ میں اب اس کا کام تمام کر چکا اور واپس ہو گیا اور ایک ایک دروازہ کھولتا جاتا تھا۔ جب سیڑھی سے اترنے لگا تو یہ خیال ہوا کہ زمین قریب آگئی اترنے میں گر پڑا اور پنڈلی کی ہڈی ٹوٹ گئی۔ چاندنی رات تھی عمامہ کھول کر ٹانگ کو باندھا اور اپنے ساتھیوں کے پاس آیا اور کہا کہ تم چلو اور رسول اللہ ﷺ کو بشارت سناؤ۔ میں یہیں بیٹھا ہوں اس کی موت اور قتل کا اعلان سن کر آؤں گا۔ چنانچہ جب صبح ہوئی اور مرغ نے اذان دی تو خبر دینے والے نے قلعہ کی فصیل سے اس کی موت کا اعلان کیا۔ تب میں وہاں سے روانہ ہوا اور ساتھیوں سے آملا اور کہا تیز چلو اللہ نے ابورافع کو ہلاک کر دیا۔ وہاں سے چل کر رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور خوشخبری سنائی اور جو واقعہ گذرا تھا وہ سب بیان کیا آپ نے فرمایا اپنی ٹانگ پھیلاؤ۔ میں نے ٹانگ پھیلا دی آپ نے اپنا دست مبارک پھیرا ایسا معلوم ہوا گویا کہ کبھی شکایت ہی پیش نہ آئی تھی۔

[بخاری ٤/ ٤٨٢، البدایہ والنہایہ ٤/ ١٣٨]

صفحہ ۱۶۴

توہین رسالت ﷺ کی شرعی سزا

فتح مکہ اور عفو عام

فتح مکہ کے دن آپ ﷺ نے عفوِ عام کا اعلان کر دیا۔ جنہوں نے آپؐ کے راستہ میں کانٹے بچھائے تھے اور جنہوں نے آپؐ پر پتھر برسائے تھے اور جو ہمیشہ آپؐ سے برسرِ پیکار رہے اور جنہوں نے آپؐ کی ایڑیوں کو لہولہان کیا تھا سب کو معافی دے دی گئی مگر چند اشخاص جو بارگاہِ نبوی میں غایت درجہ گستاخ اور دریدہ دہن تھے ان کے متعلق یہ حکم ہوا کہ جہاں کہیں ملیں قتل کر دیئے جائیں۔ ایسے لوگوں کے متعلق اللہ ذوالجلال کا یہی حکم ہے۔

﴿مَّلْعُوْنِيْنَ اَيْنَمَا ثُقِفُوْا اُخِذُوْا وَ قُتِّلُوْا تَقْتِيْلًا O سُنَّةَ اللّٰهِ
فِى الَّذِيْنَ خَلَوْا مِنْ قَبْلُ وَ لَنْ تَجِدَ لِسُنَّةِ اللّٰهِ تَبْدِيْلًا﴾

[الاحزاب: ٦١-٦٢]

”یہ ملعون جہاں کہیں پائے جائیں پکڑے جائیں اور خوب قتل کئے جائیں جیسا کہ گذشتہ مفسدین کے بارے میں اللہ کی سنت ہے اور اللہ کے آئین اور عادت میں کوئی تغیر و تبدل نہ پاؤ گے۔“

نبی مکرم ﷺ کی توقیر و تعظیم اور ان کی نصرت و حمایت تمام امت پر فرض ہے ان کی بے حرمتی دینِ الہی کی بے حرمتی ہے وقال اللہ تعالیٰ

اِنَّ شَانِئَكَ هُوَ الْاَبْتَرُ.

[الکوثر: ٣]

وقال اللہ تعالیٰ : ﴿وَ اِنْ نَّكَثُوْا اَيْمَانَهُمْ مِّنْ ۢ بَعْدِ عَهْدِهِمْ وَ طَعَنُوْا فِىْ دِيْنِكُمْ فَقَاتِلُوْا اَئِمَّةَ الْكُفْرِ اِنَّهُمْ لَا اَيْمَانَ لَهُمْ لَعَلَّهُمْ يَنْتَهُوْنَ O اَلَا تُقَاتِلُوْنَ قَوْمًا نَّكَثُوْا اَيْمَانَهُمْ وَ هَمُّوْا

Judgment based on the following incidents: i - Prophet Muhammad ﷺ was asked about the moon. ii - Prophet Muhammad ﷺ informed about the false prophets. iii - Dajjal was seen by the Prophet ﷺ in his dream. iv- The Caliphate came into existence after the Prophetﷺ. v - Prophetﷺ asked for the Quran and Sunnah to be held onto strongly. 19-- How has Maulana Nanotwi used various means to testify to the seal of the prophethood? 20-- According to the Hadith, what does the Straight Path mean? Also highlight the importance of the Hadith in solving the issue of the seal of the prophet hood. 21-- Discuss the immense recollection and remembrance of the Prophet ﷺ and build your argument to present a proof of the seal of prophethood. 22-- “Mirza became an imposter prophet just to gain fame”. Discuss the essential credentials required to present the above claim.

توہین رسالت ؐ بِإِخْرَاجِ الـ فَاللّٰهُ اَحَقُّ أَن ”اگر عہد کر طعن کریں تو تاکہ اس قسم ان لوگوں نکالنے کی صرف اللہ یعنی جن قتال میں اہل ایما اور مادی سازوسا رسول ﷺ کی اور یہ امر اہل عِـ گستاخی اور درید حکومت اپنے شان میں گستا کرسکتی اس میں علاوہ حرمتی ہے لہذا

صفحہ ۱۶۵

توہین رسالت ﷺ کی شرعی سزا

بِاِخْرَاجِ الرَّسُوْلِ وَ هُمْ بَدَءُوْكُمْ اَوَّلَ مَرَّةٍ اَتَخْشَوْنَهُمْ فَاللّٰهُ اَحَقُّ اَنْ تَخْشَوْهُ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِيْنَ ﴾

[التوبۃ: ۱۲۔۱۳]

”اگر عہد کرنے کے بعد اپنی قسموں کو توڑیں اور تمہارے دین میں طعن کریں تو ان پیشوایانِ کفر سے قتال کرو ان کی قسمیں کچھ نہیں تاکہ اس قسم کی شرارتوں سے باز آجائیں۔ کیوں نہیں جنگ کرتے تم ان لوگوں سے جنہوں نے اپنی قسموں کو توڑا اور فکر کی پیغمبر کے نکالنے کی اور عہد شکنی میں ابتداء کی کیا ان لوگوں سے ڈرتے ہو صرف اللہ ذوالجلال سے تم کو ڈرنا چاہیے اگر تم سچے مومن ہو۔“

یعنی جن لوگوں نے پیغمبر کے نکالنے کا فقط ارادہ اور قصد ہی کیا ان کے قتال میں اہل ایمان کو ذرہ برابر تامل نہ ہونا چاہیے ان کی ظاہری قوت وشوکت اور مادی سازوسامان سے خائف نہ ہوں۔ صرف اللہ سے ڈریں اور اس کے رسول ﷺ کی خاطر جان اور مال جو کچھ بھی درکار ہو اس سے دریغ نہ کریں اور یہ امر اہل عقل پر روز روشن کی طرح واضح ہے کہ سب وشتم ، استہزاء اور تمسخر گستاخی اور دریدہ دہنی کا جرم نکال دینے کے جرم سے کہیں زیادہ سخت ہے۔ حکومت اپنے سخت مجرم کو معافی دے سکتی ہے لیکن ملکِ معظم اور وائسرائے کی شان میں گستاخی اور دریدہ دہنی کرنے والے سے ایک لمحہ کے لیے اغماض نہیں کر سکتی اس میں حکومت کی بے حرمتی اور بے وقعتی ہے۔

علاوہ ازیں پیغمبر کی توہین اور بے حرمتی ساری امت کی توہین اور بے حرمتی ہے لہٰذا ہر امتی کا فرض ہے کہ جب آپ ﷺ کی شان میں گستاخی سنے

صفحہ 166

Judgment based on the following incidents: i - Prophet Muhammad ﷺ was asked about the moon. ii - Prophet Muhammad ﷺ informed about the false prophets. iii - Dajjal was seen by the Prophet ﷺ in his dream. iv- The Caliphate came into existence after the Prophet ﷺ. v - Prophet ﷺ asked for the Quran and Sunnah to be held onto strongly. 19-- How has Maulana Nanotwi used various means to testify to the seal of the prophethood? 20-- According to the Hadith, what does the Straight Path mean? Also highlight the importance of the Hadith in solving the issue of the seal of the prophet hood. 21-- Discuss the immense recollection and remembrance of the Prophet ﷺ and build your argument to present a proof of the seal of prophethood. 22-- "Mirza became an imposter prophet just to gain fame". Discuss the essential credentials required to present the above claim.

توہین رسالت ﷺ کی شرعی سزا

تو فوراً اس کی جان لے لے یا اپنی جان دے دے۔

تشتم ايدينا ويحلم رأينا ونشتم بالافعال لا بالتكلم

”ہمارے ہاتھ گالیاں دیتے ہیں اور ہماری رائے اور عقل حلم اور بردباری کرتی ہے ہم عمل سے گالیاں دیتے ہیں زبان سے نہیں۔“

قاضی عیاضؒ کی کتاب ”الشفاء“ میں ہے کہ خلیفہ ہارون رشید نے جب امام مالکؒ سے نبی اکرم ﷺ کی شان میں گستاخی کرنے والے کا حکم دریافت کیا تو امام مالکؒ نے یہ ارشاد فرمایا۔

مابقاء الامة بعد شتم نبيها۔

[٤٩٢/٢]

اس امت کی کیا زندگی ہے جس کے پیغمبر کو گالیاں دی جائیں۔

شیخ الاسلام حافظ ابن تیمیہؒ کے زمانہ میں ایک نصرانی نے رسول اللہ کی شان اقدس میں گستاخی کی تو امام موصوف نے چھ سو صفحات کی ایک ضخیم کتاب صرف اسی موضوع پر تصنیف فرمائی اور ”الصارم المسلول علی شاتم الرسول“ اس کا نام رکھا۔ جس میں آیات قرآنیہ اور احادیث نبویہ اور اجماع صحابہ و تابعین اور تعامل خلفاء راشدین اور عقل و دلائل و براہین سے شاتم رسول کا واجب القتل ہونا ثابت کیا ہے۔

الحاصل:۔ جن لوگوں کے متعلق رسول اللہ ﷺ نے فتح مکہ کے دن یہ حکم دیا تھا کہ جہاں ملیں قتل کر دیئے جائیں تقریباً پندرہ سولہ تھے۔ جن کی تفصیل حسب ذیل ہے۔

صفحہ ١٦٧

Judgment based on the following incidents: i - Prophet Muhammad ﷺ was asked about the moon. ii - Prophet Muhammad ﷺ informed about the false prophets. iii - Dajjal was seen by the Prophet ﷺ in his dream. iv- The Caliphate came into existence after the Prophetﷺ. v - Prophetﷺ asked for the Quran and Sunnah to be held onto strongly. 19-- How has Maulana Nanotwi used various means to testify to the seal of the prophethood? 20-- According to the Hadith, what does the Straight Path mean? Also highlight the importance of the Hadith in solving the issue of the seal of the prophet hood. 21-- Discuss the immense recollection and remembrance of the Prophet ﷺ and build your argument to present a proof of the seal of prophethood. 22-- "Mirza became an imposter prophet just to gain fame". Discuss the essential credentials required to present the above claim.

توہین رسالت ﷺ کی شرعی سزا

بنا کر صدقات وصول کرنے کے لیے بھیجا ایک غلام اور ایک انصاری ساتھ تھے۔ ایک منزل پر پہنچ کر ابن خطل نے غلام کو کھانا تیار کرنے کے لیے کہا۔ غلام کسی وجہ سے سو گیا جب بیدار ہوا تو ابن خطل نے دیکھا کہ اس نے ابھی تک کھانا تیار نہیں کیا غصہ میں آ کر اس غلام کو قتل کر ڈالا بعد میں خیال آیا کہ رسول اللہ ﷺ ضرور مجھ کو اس کے قصاص میں قتل کریں گے۔ مرتد ہو کر مکہ چلا آیا اور مشرکین میں جا ملا اور صدقات کے اونٹ بھی ساتھ لے گیا۔ آپ ﷺ کی ہجو میں شعر کہتا تھا اور باندیوں کو ان اشعار کے گانے کا حکم دیتا۔ پس اس کے تین جرم تھے۔ ایک خون ناحق دوسرا مرتد ہونا تیسرا جرم یہ کہ آپ کی ہجو میں شعر کہنا۔ ابن خطل فتح مکہ کے دن خانہ کعبہ کے پردوں سے جا کر لپٹ گیا۔ آپ ﷺ سے عرض کیا گیا کہ ابن خطل بیت اللہ کے پردے کو پکڑے ہوئے ہے آپ نے فرمایا وہیں قتل کر ڈالو۔ چنانچہ ابو برزہ اسلمیؓ اور سعد بن حریثؓ نے وہیں جا کر قتل کیا حجر اسود اور مقام ابراہیم کے درمیان اس کی گردن اڑا دی گئی۔

[الصارم المسلول ص ۱۲۲ وزرقانی ۳۱۴/۲ و کتاب المغازی للواقدی ۸۵۹/۲]

٢ اور ٣

قرتنی اور قریبہ یہ دونوں ابن خطل کی لونڈیاں تھیں شب و روز آپ کی ہجو گاتی رہتی تھیں۔ مشرکین مکہ کسی مجلس میں جمع ہوتے تو شراب کا دور چلتا اور یہ دونوں آپ ﷺ کی ہجو میں اشعار پڑھتیں اور گاتی بجاتیں تھیں ایک ان میں سے ماری گئی اور دوسری نے امن کی درخواست کی اس کو امن دے دیا گیا حاضر

صفحہ ۱۶۸

توہین رسالت ﷺ کی شرعی سزا

ہو کر مسلمان ہو گئی۔

[زرقانی ۳۱۵/۲]

۴: سارہ، جاریہ بنو المطلب

سارہ جاریہ بنو المطلب کا خون بھی مباح قرار دے دیا تھا۔ یہ مکہ کی ایک مغنیہ تھی جو رسول اللہ ﷺ کی ہجو کے اشعار گایا کرتی تھی۔ کہا گیا ہے کہ یہ وہی عورت تھی جو حضرت حاطبؓ بن ابی بلتعہ کا خط لے کر مکہ روانہ ہوتی تھی۔ اس نے مدینہ میں رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر اپنی تنگدستی کی شکایت پیش کر کے آپؐ سے مدد مانگی تھی۔ جس پر آپؐ نے فرمایا کیا تمہیں اپنے گانے سے کچھ روپیہ نہیں ملتا؟ عرض کیا جب سے غزوہ بدر میں قریش کے آدمی مارے گئے ہیں اس وقت سے انہوں نے گانا سننا ہی چھوڑ دیا ہے پس آپؐ نے اس پر ترس کھا کر ایک اونٹ پر غلہ بار کر کے عنایت فرما دیا جسے لے کر یہ مکہ واپس آگئی۔ ابن خطل انہیں رسول اللہ ﷺ کی شان میں ہجو لکھ کر دیتا اور یہ گاتی تھی اسی بنا پر فتح مکہ کے دن روپوش ہوگئی مگر ان کے لیے رسول اللہ ﷺ سے امان کی درخواست کی گئی اور اس نے حاضر خدمت ہو کر اسلام قبول کر لیا اور پکی مسلمان رہیں یہ حضرت ابوبکرؓ کے زمانہ خلافت تک زندہ رہیں۔

[کتاب المغازی للواقدی ۸۶۰/۲]

۵: حویرث بن نُقید

رسول اللہ ﷺ نے اس شخص کا خون مباح قرار دیا تھا کیونکہ یہ آپؐ کی شان میں گستاخانہ باتیں کرتا اور آپ ﷺ کی ہجو میں اشعار کہتا تھا۔ جب آپ ﷺ مکہ میں تھے تو آپ ﷺ کو بہت اذیت

صفحہ ۱۶۹

Judgment based on the following incidents: i - Prophet Muhammad ﷺ was asked about the moon. ii - Prophet Muhammad ﷺ informed about the false prophets. iii - Dajjal was seen by the Prophet ﷺ in his dream. iv- The Caliphate came into existence after the Prophet ﷺ. v - Prophet ﷺ asked for the Quran and Sunnah to be held onto strongly. 19-- How has Maulana Nanotwi used various means to testify to the seal of the prophethood? 20-- According to the Hadith, what does the Straight Path mean? Also highlight the importance of the Hadith in solving the issue of the seal of the prophet hood. 21-- Discuss the immense recollection and remembrance of the Prophet ﷺ and build your argument to present a proof of the seal of prophethood. 22-- "Mirza became an imposter prophet just to gain fame". Discuss the essential credentials required to present the above claim.

توہین رسالت ﷺ کی شرعی سزا

پہنچایا کرتا تھا اور جب آپ ﷺ کی صاحبزادی حضرت زینبؓ نے مکہ سے ہجرت فرمائی تو ان کے اونٹ کو لکڑی چبھو کر بھڑکانے میں یہ بھی ہبار بن اسود کا شریک تھا اس لیے حضرت علیؓ نے اس کا کام تمام کر دیا۔

[کتاب المغازی للواقدی ۸۵۷/۲]

۶: مُقیس بن صبابہ

یہ پہلے اسلام لے آیا تھا بعد میں اس نے ایک انصاری کو قتل کر ڈالا جنہوں نے غزوہ ذی قرد میں اس کے بھائی ہشام بن صبابہ کو دشمن کا آدمی سمجھ کر غلطی سے قتل کر دیا تھا۔ پس یہ مقیس آیا اور اس نے بھائی کے خون بہا کی رقم بھی وصول کی پھر ان انصاری کو بھی قتل کر ڈالا پھر مرتد ہو کر قریش کے پاس واپس چلا گیا۔ اس لیے رسول اللہ ﷺ نے اس کا خون مباح قرار دے دیا۔ چنانچہ اسی کی قوم کے ایک شخص نمیلہ بن عبداللہ لیثی نے اسے قتل کر ڈالا۔

[کتاب المغازی للواقدی ۸۶۱/۲]

۷: عبداللہ بن ابی سرح

یہ پہلے رسول اللہ ﷺ کے کاتب الوحی تھے مرتد ہو کر کفار سے جاملے۔ حضرت عثمان بن عفانؓ کے رضاعی بھائی تھے۔ فتح مکہ کے دن جان بچانے کی خاطر چھپ گئے۔ حضرت عثمانؓ ان کو لے کر خدمت اقدس میں حاضر ہوئے رسول اللہ ﷺ اس وقت بیعت لے رہے تھے۔ عرض کیا یا رسول اللہ عبداللہ حاضر ہے اس سے بھی بیعت لے لیجیے آپؐ نے کچھ دیر سکوت فرمایا بالآخر حضرت عثمانؓ نے آپؐ سے کئی بار درخواست کی تو آپؐ نے عبداللہ بن ابی

صفحہ ۱۷۰

توہین رسالت ﷺ کی شرعی سزا

سرح سے بیعت لے لی اور اسلام قبول فرمالیا۔ اس طرح ان کی جان بخشی ہوئی بعد میں صحابہؓ سے فرمایا کہ تم میں کوئی سمجھ دار نہ تھا کہ جب میں نے عبداللہ کی بیعت سے ہاتھ روک لیا تھا اُٹھ کر اس کو قتل کر ڈالتا کسی نے عرض کیا یا رسول اللہ! آپ نے اس وقت کوئی اشارہ کیوں نہ فرمایا۔ آپؐ نے فرمایا نبی کے لیے اشارہ بازی زیبا نہیں۔

اس مرتبہ عبداللہ بن ابی سرح نہایت سچائی کے ساتھ اسلام لائے اور کوئی بات بعد میں ظاہر نہیں ہوئی۔ حضرت عمرؓ اور حضرت عثمانؓ کے زمانہ خلافت میں مصر وغیرہ کے والی اور حاکم رہے۔ اور حضرت عثمانؓ کے زمانہ خلافت ۲۷ھ یا ۲۸ھ میں افریقہ کی فتح کا سہرا انہی کے سر رہا اور مالِ غنیمت جب تقسیم ہوا تو ایک شخص کے حصہ میں تین ہزار دینار آئے۔ حضرت عثمانؓ کی شہادت کے بعد فتنوں سے بالکل علیحدہ رہے۔ حضرت علیؓ اور حضرت معاویہؓ میں سے کسی کے ہاتھ پر بھی بیعت نہیں کی۔ حضرت معاویہؓ کی اخیر زمانہ امارت میں عسقلان میں وفات پائی۔ وفات کا عجیب واقعہ ہے ایک روز صبح کو اٹھے اور یہ دعا مانگی۔

اللهم اجعل اخر عملى الصبح .

اے اللہ! میرا آخری عمل صبح کے وقت ہو۔

وضو کیا اور نماز پڑھائی دائیں جانب سلام پھیر کر بائیں جانب سلام پھیرنا چاہتے تھے کہ روح عالم بالا کو پرواز کر گئی۔

اِنَّا لِلّٰهِ وَ اِنَّا اِلَيْهِ رَاجِعُوْنَ .

[الاصابہ ۳۱۶/۲]

صفحہ ١٧١

توہین رسالت ﷺ کی شرعی سزا

۸ : عکرمہ بن ابی جہل رضی اللہ عنہ

یہ بھی انہی لوگوں میں سے تھے جن کا خون آپ نے فتح مکہ کے دن مباح کیا تھا۔ عکرمہ، ابو جہل کے فرزند تھے۔ باپ کی طرح یہ بھی آپؐ کے شدید ترین دشمن تھے۔ فتح مکہ کے بعد بھاگ کر یمن چلے گئے۔ عکرمہ کی بیوی ام حکیم بنت حارث بن ہشام اسلام لے آئیں اور بارگاہ نبوی میں حاضر ہو کر اپنے شوہر کے لیے امن کی درخواست کی۔ رحمت عالم اور عفو مجسم ﷺ نے فرزند ابی جہل کے لیے امان کی درخواست کو فوراً قبول فرما لیا۔

عکرمہ بھاگ کر یمن کے ساحل پر پہنچے کشتی پر سوار ہو گئے کشتی کا چلنا تھا کہ تند ہواؤں نے آکر کشتی کو گھیر لیا۔ عکرمہ نے لات اور عزی کو مدد کے لیے پکارا۔ کشتی والوں نے کہا اس وقت لات اور عزی کچھ کام نہ دیں گے ایک اللہ کو پکارو۔ عکرمہ نے کہا اللہ کی قسم اگر دریا میں کوئی چیز اللہ کے سوا کام نہیں آسکتی تو سمجھ کہ خشکی میں بھی اللہ کے سوا کوئی چیز کام نہیں آسکتی اس وقت سچے دل سے اللہ کے ساتھ یہ عہد کر لیا۔

اللہم ان لک علی عہد ان عافیتنی مما انا فیہ ان آتی محمدا حتی اضع یدی فی یدہ فلاجدنہ عفوا کریما۔

[النسائی، کتاب تحریم الدم ، باب ما جاء فی حکم المرتد]

اے اللہ ! تجھ سے عہد کرتا ہوں کہ اگر تو نے اس پریشانی سے نجات بخشی تو ضرور محمد رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر اپنا ہاتھ ان کے ہاتھ میں دے دوں گا۔ اور یقیناً ان کو بڑا معاف کرنے والا

صفحہ ۱۷۲

توہین رسالت ﷺ کی شرعی سزا

اور درگزر کرنے والا اور مہربان پاؤں گا۔

ادھر سے عکرمہ کی بیوی ام حکیم پہنچ گئیں اور کہا:

يا ابن عم جئتك من عند ابر الناس واوصل الناس وخير الناس لا تهلك نفسك اني قد استأمنت لك رسول الله ﷺ .

”اے ابن عم! میں سب سے زیادہ نیکوکار اور سب سے زیادہ صلہ رحمی کرنے والے اور سب میں سے بہتر شخص کے پاس سے آئی ہوں تو اپنے آپ کو ہلاک مت کر میں نے تیرے لئے رسول اللہ ﷺ سے امان حاصل کر لی ہے۔“

یہ سن کر عکرمہ ام حکیم کے ساتھ ہو لیا راستہ میں مباشرت کا ارادہ کیا تو ام حکیم نے کہا کہ ابھی تو کافر ہے اور میں مسلمان ہوں۔ عکرمہ نے کہا کسی بڑی چیز نے تجھ کو روکا ہے اور یہ کہہ کر مکہ کا قصد کیا اور رسول اللہ ﷺ نے عکرمہ کے پہنچنے سے پہلے ہی صحابہؓ سے مخاطب ہو کر فرمایا:

يأتيكم عكرمة مؤمنا فلا تسبوا اباه فان سب الميت يؤذى الحى .

”عکرمہ مومن ہو کر آ رہا لہٰذا اس کے باپ کو برا نہ کہنا کیونکہ مردہ کو بُرا کہنے سے زندہ کو تکلیف ہوتی ہے۔“

عکرمہ آپ ﷺ کی خدمت میں پہنچے اور آپؐ کے سامنے کھڑے ہو گئے اور بیوی ساتھ تھی وہ نقاب ڈالے ہوئے ایک طرف کھڑی ہوگئی اور عرض

صفحہ 173

توہین رسالت ﷺ کی شرعی سزا

کیا کہ یہ میری بیوی حاضر ہے اس نے مجھ کو خبر دی ہے کہ آپ نے مجھ کو امان دے دیا ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا اس نے سچ کہا تجھ کو امان ہے۔ عکرمہ نے کہا آپ ﷺ کس چیز کی دعوت دیتے ہیں؟ آپ نے فرمایا اس امر کی شہادت دو کہ اللہ ایک ہے اس کے سوا کوئی معبود نہیں اور میں اللہ کا رسول ہوں اور نماز قائم کرو اور زکوۃ دو اور اس کے علاوہ اور چند خصال اسلام کی تلقین فرمائی عکرمہ نے کہا:

قد كنت الى الخير وامر حسن جميل قد كنت فينا يارسول الله قبل ان تدعونا وانت اصدقنا حديثا وابرنا.

بے شک آپ نے خیر اور مستحسن اور پسندیدہ امر ہی کی دعوت دی ہے اور یا رسول اللہ اس دعوت حق سے پیشتر بھی آپ ہم میں سب سے زیادہ سچے اور نیکو کار تھے۔

اور اس کے بعد کہا اشهد ان لا اله الا الله وان محمدا عبده ورسولہ۔ کلمہ شہادت کے بعد عکرمہ نے کہا کہ میں اللہ کو اور تمام حاضرین کو گواہ بناتا ہوں کہ میں مسلمان اور مجاہد اور مہاجر ہوں۔

[زرقانی ٣١٤/٢]

پھر عکرمہ رضی اللہ عنہ نے کہا یا رسول اللہ ! میری یہ درخواست ہے کہ آپ میرے لیے استغفار کریں آپ نے عکرمہ کے لیے دعائے مغفرت فرمائی عکرمہ نے عرض کیا یا رسول اللہ ! قسم ہے اللہ ذوالجلال کی جو خرچ میں نے اللہ کی راہ سے روکنے کے لیے کیا اب میں اللہ کی راہ میں دعوت دینے کے لیے اس سے ڈبل خرچ کروں گا۔ اور جس قدر لڑائی میں نے اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے

صفحہ ۱۷۴

توہین رسالت ﷺ کی شرعی سزا

خلاف کی ہے اس سے ڈبل اللہ کی راہ میں کروں گا اور جس جس مقام پر لوگوں کو اللہ کی راہ سے روکا ہے اس مقام پر جاکر لوگوں کو اللہ کی طرف دعوت دوں گا۔ چنانچہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے جب مرتدین کے مقابلہ کے لیے لشکر روانہ کئے تو ان میں سے ایک لشکر کے سردار حضرت عکرمہ رضی اللہ عنہ تھے۔ الغرض باقی ساری عمر اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے دشمنوں سے جہاد میں گزار دی۔ حضرت صدیق اکبرؓ کے زمانہ خلافت میں جنگ اجنادین میں شہید ہوئے جسم پر تیر اور تلوار کے ستر سے زیادہ زخم تھے۔

[الاستیعاب لابن عبدالبر ۳/ ۱۳۸]

ام المومنین حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک بار یہ فرمایا کہ میں نے خواب میں ابوجہل کے لیے جنت میں ایک خوشہ دیکھا جب عکرمہ مسلمان ہوئے تو آپؐ نے ام سلمہ سے فرمایا اس خواب کی تعبیر یہ ہے۔

[اصابہ ترجمہ عکرمہؓ]

عکرمہ کے مسلمان ہونے کے بعد ان کی حالت یہ تھی کہ تلاوت کے لیے بیٹھتے اور قرآن کھولتے تو روتے اور غشی کی کیفیت طاری ہو جاتی اور بار بار یہ کہتے ”هٰذَا كَلَامُ رَبِّيْ“ ”یہ میرے پروردگار کا کلام ہے یہ میرے پروردگار کا کلام ہے۔

[احیاء العلوم ۱/ ۲۵۳]

ایک روایت میں ہے کہ فتح مکہ میں عکرمہ کے ہاتھ سے ایک مسلمان شہید ہوا جب آپ ﷺ کو یہ خبر پہنچی تو آپؐ مسکرائے اور فرمایا کہ قاتل اور مقتول دونوں ہی جنت میں ہیں۔

[مدارج النبوت ۲/ ۳۹۳]

اشارہ اس طرف تھا کہ عکرمہ اگرچہ فی الحال کافر ہیں لیکن عنقریب

صفحہ ۱۷۵

توہین رسالت صلی اللہ علیہ وسلم کی شرعی سزا

اسلام میں داخل ہوں گے۔

۹: ہبار بن الاسود

اس کا جرم یہ تھا کہ مسلمانوں کو بہت ایذائیں پہنچاتا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی حضرت زینبؓ زوجہ ابوالعاصؓ بن ربیع جب ہجرت کر کے مکہ سے مدینہ جارہی تھیں تو ہبار بن الاسود نے چند اوباشوں کے ساتھ مل کر راستہ میں جاتے ہوئے حضرت زینبؓ کے ایک نیزہ مارا جس سے وہ ایک پتھر پر گر پڑیں حاملہ تھیں حمل ساقط ہو گیا اور اسی بیماری میں انتقال فرمایا۔ اِنَّا لِلّٰهِ وَاِنَّا اِلَیْهِ رَاجِعُوْنَ۔

فتح مکہ کے دن آپ نے ہبار کا خون مباح قرار دے دیا۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم جعرانہ سے واپس ہوئے تو ہبار حاضر خدمت ہوئے اور آکر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ہو گئے۔ صحابہ نے عرض کیا یا رسول اللہ ! یہ ہبار بن اسود ہے۔ آپؐ نے فرمایا میں نے دیکھ لیا۔ حاضرین میں سے ایک شخص نے ہبار کی طرف اٹھنے کا قصد کیا تو آپؐ نے اشارہ سے فرمایا بیٹھ جاؤ۔ ہبار بن الاسود نے کھڑے ہو کر عرض کیا ۔ ”السلام عليك يا نبي الله “ سلام ہو آپ پر اے اللہ کے نبی! اشهد ان لا اله الا الله واشهد ان محمداً رسول الله وقد هربت منك فى البلاد واردت اللحاق بالاعاجم ثم ذكرت عائدك وصلتك وصفحك عمن جهل عليك و كنا يا نبي الله اهل شرك فهدانا الله بك وانقذنا من الهلكة فاصفح عن جهلى وعما كان يبلغك عنى فانى مقر بسوء فعلى معترف

صفحہ ۱۷۶

توہین رسالت ﷺ کی شرعی سزا

بذنبی فقال رسول اللہ ﷺ قد عفوت منک وقد احسن الله الیک حیث ہداک الی الاسلام والاسلام یجب ما قبله۔

[الاصابہ ۵۹۸/۳]

”سلام عرض کر کے کلمہ شہادت پڑھا۔ پھر گذارش کی یا رسول اللہ ! میں آپ ﷺ کے ڈر سے گھبرا کر ادھر اُدھر بھاگتا پھرا اور ارادہ کیا کہ دوسرے ملک میں چلا جاؤں لیکن پھر مجھے آپؐ کے حسن خلق کا خیال آیا کہ کس فراخ حوصلگی سے آپؐ نے ہماری حماقتوں اور جہالتوں سے درگذر فرمایا۔ یا رسول اللہ ! ہم مشرک تھے اللہ تعالیٰ نے ہمیں آپؐ کے ذریعہ ہدایت عطا فرمائی اور ہمیں تباہ و بربادی سے بچالیا۔ التجا کرتا ہوں کہ آپؐ میری تقصیرات سے درگذر فرمائیں اور جو کچھ آپؐ نے میرے بارے میں سنا ہے اسے فی سبیل اللہ بھول جائیں۔ رسول اللہ ﷺ نے ان کی یہ گفتگو سنی تو فرمایا میں نے تجھے معاف کیا اور اللہ تعالیٰ کا تجھ کتنا کرم ہے کہ تجھے قبول اسلام کی توفیق عطا فرمائی اور اسلام زمانہ جاہلیت کے گناہوں کو مٹا دیتا ہے۔“

۱۰: وحشی بن حرب

رسول اللہ ﷺ نے ان کا خون مباح فرما دیا تھا کیونکہ انہوں نے احد کے دن سیدنا امیر حمزہ رضی اللہ عنہ کو شہید کر دیا تھا اور صحابہ ان کے قتل کر ڈالنے پر بہت مُصر تھے یہ فتح مکہ کے بعد بھاگ کر طائف چلے گئے جب طائف کا وفد اسلام لانے کے لیے روانہ ہوا تو ان پر تمام راہیں تنگ ہو گئیں تو وہ بھی وہاں سے روانہ ہو کر خدمت اقدس میں حاضر ہو گئے اور اسلام قبول کر لیا پھر حضرت ابوبکر

صفحہ ۱۷۷

توہین رسالت ﷺ کی شرعی سزا

رضی اللہ عنہ کے دورِ خلافت میں مرتدین سے جنگ کے لیے جانے والوں کے ہمراہ یہ بھی روانہ ہوئے اور اسی نیزہ سے جس سے حضرت حمزہ کو شہید کیا تھا، مسیلمہ کذاب کو قتل کر ڈالا وہ کہا کرتے تھے کہ اسی نیزہ سے خیرالناس کو قتل کیا ہے اور اسی نیزہ سے شرالناس کو واصل جہنم کیا ہے۔ مجھے یہ امید ہے کہ میرا یہ عمل سابق جرم کا کفارہ ہو جائے گا۔

[زرقانی ص۲۱۶/۲]

۱۱: کعب بن زُہیر

یہ شاعر تھے رسول اللہ ﷺ کی ہجو میں شعر کہا کرتا تھا۔ اپنے بھائی بُجیر کو اس کے اسلام لانے کی وجہ سے شرم دلایا کرتا تھا اس لیے رسول اللہ ﷺ نے اس کے قتل کا حکم دے دیا تو وہ ڈر گیا اور رسول اللہ ﷺ کی فتح مکہ کے بعد مدینہ واپسی پر آپ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوکر اسلام لے آیا اور آپ ﷺ کو اپنا وہ مشہور قصیدہ سنایا جس کا مطلع یہ ہے۔

بانت سعاد وقلبی الیوم متبول

میری محبوبہ سعاد مجھ سے دور چلی گئی اس لیے آج میرا دل بے قراری سے کٹا جا رہا ہے۔

اسی قصیدہ کا ایک شعر یہ ہے۔

ان الرسول لنور یستضاء بہ مہند من سیوف اللہ مسلول

”بلا شبہ رسولِ اکرم وہ نور ہیں جن کی روشنی سے اکتساب فیض کیا جاتا ہے اور آپؐ اللہ کی تلواروں میں سے ایک بے نیام کھینچی ہوئی ہندی تلوار ہیں۔“

صفحہ ۱۷۸

توہین رسالت ﷺ کی شرعی سزا

جب وہ قصیدہ سناتے ہوئے اس شعر پر پہنچے تو رسول اللہ ﷺ نے اپنی چادر مبارک جو اوڑھے ہوئے تھے ان کی طرف پھینک دی۔ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے اپنے زمانہ خلافت میں اس چادر مبارک کے عوض ابن زہیر کو دس ہزار درہم دینے چاہے انہوں نے جواب دیا کہ میں رسول اللہ ﷺ کی چادر مبارک کو جو آپ ﷺ نے مجھے عطا فرمائی کسی دوسرے کو دے کر اپنے اوپر ترجیح نہیں دے سکتا پھر جب ان کا انتقال ہو گیا تو حضرت معاویہ نے ان کے ورثاء کے پاس بیس ہزار درہم بھیج کر یہ چادر مبارک ان سے حاصل کی۔ یہ چادر مبارک بعد کو آنے والے سلاطین کے پاس منتقل ہوتی رہی جسے تمام خلفاء عید و جشن کے مواقع پر زیب تن کیا کرتے تھے۔ کہا گیا ہے کہ یہ تاتاری حملہ میں ضائع ہو گئی۔

[اسد الغابہ: ۲۴۰/۲]

کعب بن زہیر بڑے فاضل شعراء میں سے تھے۔ علی ہذا ان کے والد زہیر ان کے بھائی بحیر ان کے فرزند عقبہ بن کعب اور ان کے پوتے عوام بن عقبہ بھی پایہ کے شعراء تھے۔

[استیعاب ۱۳۱۵/۳]

۱۲: حارث بن طلاطل:

یہ شخص رسول اللہ ﷺ کی ہجو کیا کرتا تھا۔ فتح مکہ کے دن حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اس کو قتل کر دیا۔

[فتح الباری: ۱۱/۸]

۱۳: عبداللہ بن زبعری

یہ بڑے زبردست شاعر تھے۔ رسول اللہ ﷺ کی ہجو اور مذمت میں

صفحہ ۱۷۹

توہین رسالت ﷺ کی شرعی سزا

شعر کہا کرتے تھے۔ سعید بن مسیب فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فتح مکہ کے دن ابن زبعری کے قتل کا حکم دیا یہ بھاگ کر نجران چلے گئے بعد میں تائب ہو کر حاضر خدمت ہوئے اور اسلام لائے اور معذرت میں اشعار کہے۔

یارسول الله المليك ان لسانی راتق ما فتقت اذا نابوا

[استیعاب ۹۰۲/۳]

”اے اللہ کے رسول میری زبان اس نقصان کا جبر کرے گی جو میں نے اپنی ہلاکت اور گمراہی کے زمانہ میں پہنچایا ہے۔“

آمَنَ اللَّحْمُ وَالْعِظَامُ بِرَبِّي ثُمَّ قَلْبِي الشَّهِيدُ أَنْتَ النَّذِيرُ

میرا گوشت اور میری ہڈی پروردگار پر ایمان لے آئیں پھر میرا دل شہادت دیتا ہے کہ آپ اللہ کے بشیر ونذیر ہیں۔

[سیرت ابن ھشام ٦١/٤]

۱۴: ہبیرہ بن ابی وہب مخزومی

یہ بھی انہیں شعراء میں تھا جو آپ ﷺ کی ہجو میں شعر کہا کرتے تھے۔ فتح مکہ کے دن نجران کی طرف بھاگ نکلا اور وہیں کفر کی حالت میں مرا۔

[سیرت ابن ھشام ٦٢/٤ واصابہ ٤٢٥/٤]

۱۵: ہندہ بنت عتبہ، زوجہ ابوسفیانؓ، والدہ امیر معاویہؓ

یہ وہی ہندہ ہے جس نے معرکہ احد میں سید الشہداء حضرت حمزہ کا حلیہ مسخ کر دیا تھا اور ان کا دل نکال کر چبایا تھا۔ ہندہ بھی انہیں عورتوں میں داخل ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فتح مکہ کے دن جن کے قتل کا حکم دیا تھا ہندہ رسول

صفحہ ۱۸۰

توہین رسالت ﷺ کی شرعی سزا

اللہ ﷺ کو بہت ایذاء دیتی تھی ۔ ہندہ نے آپ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر معذرت کی اور اسلام قبول کر لیا اور گھر جا کر تمام بتوں کو ٹکڑے ٹکڑے کر ڈالا اور کہا اللہ کی قسم تمہاری ہی وجہ سے ہم دھوکہ میں تھے ۔

[سیرت ابن ہشام ٩٦/٣ و اصابہ ٤٢٥/٤]

۱۶: حارث بن ہشام مخزومی

یہ شخص اور اس کا بیٹا عبدالرحمن بن حارث بن ہشام دونوں رسول اللہ ﷺ کی شان میں گستاخی کرنے میں شدید تھے۔

۱۷: زہیر بن امیہ

حارث بن ہشام کی طرح اپنے کفر میں شدید تھے اس لیے رسول اللہ ﷺ نے فتح مکہ کے دن ان دونوں کا خون مباح قرار دے دیا یہ دونوں فرار ہو کر حضرت ام ہانی بنت ابی طالب ، ہمشیرہ حضرت علیؓ کے گھر میں جا چھپے انہوں نے انہیں پناہ دے دی پھر رسول اللہ ﷺ نے ان کی پناہ کو تسلیم کر لیا تب یہ دونوں کو لے کر حاضر خدمت ہوئیں اور یہ دونوں مشرف باسلام ہو گئے پھر ان کا اسلامی کردار مثالی اور بہترین رہا۔

[سیرت ابن ہشام ۵۳/۴]

۱۸: صفوان بن امیہ

یہ حالت کفر میں رسول اللہ ﷺ سے عداوت رکھنے اور آپ کی ایذاء رسانی میں دوسروں سے بہت سخت تھے اس لیے رسول اللہ ﷺ نے ان کا خون مباح کر دیا تھا ، یہ سن کر چھپ گئے اور ارادہ کیا کہ دریا میں کود کر خودکشی

صفحہ ۱۸۱

توہین رسالت ﷺ کی شرعی سزا

کر لیں تب ان کے چچازاد بھائی حضرت عمیر بن وہبؓ جمحی حاضر خدمت ہوئے اور عرض کیا یا رسول اللہ! صفوان اپنی قوم کے سردار ہیں اور وہ یہاں سے بھاگ کر خود کو سمندر میں ڈالنے کے لیے چل پڑے ہیں۔ پس آپؐ سے درخواست ہے کہ آپؐ انہیں امان عطا فرما دیں کیونکہ آپؐ نے تو ہر سرخ و سیاہ فام کو امان عطا فرمادی ہے۔ آپؐ نے فرمایا جا کر اپنے بھائی کو تلاش کر لاؤ میں نے انہیں امان دی۔ عرض کیا کہ مجھے ایسی نشانی عطا فرمائیں جسے دیکھ کر وہ آپ ﷺ کی امان کی تصدیق کر سکیں کیونکہ میں نے ان سے واپسی کی درخواست کی تھی لیکن انہوں نے کہا میں تمہارے ساتھ واپس نہیں آؤں گا جب تک کوئی ایسی نشانی نہ لاؤ گے جسے میں پہچان سکوں۔ پس رسول اللہ ﷺ نے انہیں اپنا وہ عمامہ عطا فرما دیا جسے باندھے ہوئے آپ ﷺ مکہ میں داخل ہوئے تھے۔ یہ اسے لے کر بھائی کے پاس عین اس وقت پہنچے جب وہ سمندر میں جہاز پر سوار ہونے والے تھے۔ انہیں دیکھ کر صفوان نے کہا مجھ سے دور رہو، مجھ سے بات نہ کرو۔ انہوں نے کہا اے صفوان! تم پر میرے والدین فدا ہوں میں اس ہستی کے پاس سے تمہارے پاس آیا ہوں جو تمام بنی نوع بشر میں افضل، سب سے زیادہ حسن سلوک کرنے والی، سب سے زیادہ نرم دل اور سب سے بہتر ہستی ہے اور وہ تمہارے چچازاد برادر بھی ہیں۔ ان کی عزت، تمہاری عزت، ان کا شرف تمہارا اور ان کی حکومت خود تمہاری حکومت ہے۔ کہا مجھے ان سے اپنی جان کا خطرہ ہے۔ انہوں نے کہا وہ اس سے کہیں زیادہ درگزر اور مہربانی فرمانے والے ہیں یہ کہہ کر انہیں وہ عمامہ مبارک دکھایا جسے وہ لے کر آئے تھے پس وہ ان کے ساتھ واپس آ گئے اور حاضر خدمت ہو کر عرض کیا یہ عمیر

صفحہ ۱۸۲

توہین رسالت ﷺ کی شرعی سزا

کہتے ہیں کہ آپؐ نے مجھے امان بخشی ہے۔ آپؐ نے فرمایا انہوں نے سچ کہا ہے عرض کیا مجھے اپنے معاملہ میں رائے قائم کرنے کے لیے دوماہ کی مہلت عطا فرما دیں آپؐ نے فرمایا تمہیں چارماہ کی مہلت دی جاتی ہے۔

جب رسول اللہ ﷺ نے جنگ ہوازن پر جانے کا ارادہ فرمایا تو صفوان سے چالیس درہم بطور قرض طلب کئے نیز ان کے پاس جتنی زرہیں تھیں وہ طلب فرمائیں۔ انہوں نے کہا اے محمد ! کیا مجھ سے یہ سب زبردستی وصول کیا جا رہا ہے؟ فرمایا نہیں بلکہ مستعار طلب کیا جا رہا ہے جو واپس کیا جائے گا یا اس کی ضمانت دی جائے گی پھر جب رسول اللہ ﷺ جنگ ہوازن پر روانہ ہوئے تو یہ بھی آپؐ کے ہمراہ روانہ ہوئے حالانکہ اس وقت شرک پر ہی قائم تھے۔ پھر جب آپؐ ہوازن کے اموال غنیمت حنین میں پہنچ کر مجاہدین میں تقسیم فرماتے تو انہیں بھی تین مرتبہ سو سو اونٹ [جملہ تین سو اونٹ] عطا فرمائے] پھر آپؐ نے ان کی طرف دیکھا کہ یہ مجاہدین کو اس بات پر للچائی نظروں سے دیکھ رہے ہیں کہ انہیں اونٹوں اور بکریوں کے بھر پور عطیات ملے ہیں تو آپؐ نے ان سے دریافت فرمایا کیا تمہیں یہ پسند ہیں؟ عرض کیا ہاں۔ فرمایا یہ سب کچھ تمہارا ہے پس صفوان نے ان لوگو کے حصہ پر قبضہ کرلیا اور بول اٹھا کہ بادشاہ کبھی ایسی فراخ دلانہ بخشش پر آمادہ نہیں ہوئے اس جیسی فراخ دلانہ بخشش نبی ہی کر سکتا ہے۔ میں کلمہ ”اشہد ان لا الہ الا اللہ وان محمدا رسول اللہ “ پڑھتا ہوں۔ پس وہ اسلام لے آئے اور ان کا اسلام مثالی اور بہترین رہا پھر انہوں نے وہ مدت ترک کردی جس کی مہلت مانگی تھی۔

[ابن ہشام ۴۰/۴]

صفحہ 183

توہین رسالت ﷺ کی شرعی سزا

۱۹: ابوسفیان بن حارث

ابوسفیان بن حارثہ بن عبدالمطلب بھی ان لوگوں میں سے تھے جن کے خون کو فتح مکہ میں رسول اللہ ﷺ نے مباح قرار دے دیا تھا کیونکہ اس نے آپ ﷺ کی ہجو گوئی کی تھی۔ پھر تائب ہوکر آیا اور آپ ﷺ کے اعراض کرنے کا واقعہ بہت مشہور ہے۔

واقدی نے ”کتاب المغازی ۸۰۶/۲“ میں لکھا ہے کہ ابوسفیان رسول اللہ ﷺ کا رضاعی بھائی تھا۔ حضرت حلیمہ سعدیہ نے چند روز اسے دودھ پلایا تھا یہ رسول اللہ ﷺ کا ہم عمر تھا اور آپ ﷺ سے بہت محبت رکھتا تھا جب آپ ﷺ کو مبعوث کیا گیا تو آپؐ سے اس قدر عداوت کرنے لگا کہ کسی نے نہ کی ہوگی۔ یہ شعب ابی طالب میں اقامت گزیں نہیں ہوا تھا۔

اس نے رسول اللہ ﷺ اور صحابہ کی ہجو کی تھی۔ پھر اللہ تعالیٰ نے اس کے دل میں اسلام کی محبت ڈال دی۔ ابوسفیان نے کہا اب میں کس کی محبت اختیار کروں اب اسلام ہر طرف چھا گیا ہے پھر میں اپنی بیوی اور بچوں کے پاس آیا اور کہا باہر نکلنے کے لیے تیار ہو جاؤ محمد کا لشکر آگیا ہے انہوں نے کہا اب وقت آگیا ہے کہ تم محمد کی مدد کرو سب عرب و عجم نے آپ ﷺ کی اطاعت قبول کرلی ہے۔ اور تم اس کی عداوت میں بھاگے جارہے ہو حالانکہ تم ان کی امداد کے بہت لائق ہو میں نے اپنے غلام مذکور نامی سے کہا کہ میرے اونٹ اور گھوڑے جلدی سے تیار کرو۔

پھر ہم چلے یہاں تک کہ ”ابواء“ میں اترے۔ رسول اللہ ﷺ کا

صفحہ 184

توہین رسالت ﷺ کی شرعی سزا

ہراول دستہ ابواء میں اتر چکا تھا۔ مجھے عجیب سا لگا اور میں ڈرا کہ مجھے قتل کر دیا جائے گا۔ رسول اللہ ﷺ نے میرے خون کو ہدر قرار دے دیا تھا چنانچہ میں اور میرا بیٹا جعفر صبح کے وقت ایک میل چل کر وہاں پہنچے جہاں آپ ﷺ کی قیام گاہ تھی۔ لوگ تھوڑی تھوڑی جماعتوں کی صورت میں آئے میں صحابہ کے ڈر سے [باقی لوگوں سے] الگ تھلگ رہا۔ جب آپؐ اپنے لشکر میں نمودار ہوئے تو میں آپؐ کے چہرے کی طرف سے سامنے آیا آپؐ نے بھرپور نگاہوں سے مجھے دیکھا اور چہرہ دوسری طرف پھیر لیا۔ میں دوسری طرف سے آپؐ کے سامنے آیا مگر آپؐ نے کئی دفعہ مجھ سے اعراض فرمایا۔

میرے ذہن پر دور ونزدیک کے کئی خیالات ابھرے میں نے کہا مجھے آپؐ کے پاس پہنچنے سے قبل ہی قتل کر دیا جائے گا۔ پھر مجھے آپ ﷺ کا لطف وکرم اور قرابت داری کا خیال آیا تو یہ وہم کافور ہوگیا۔ مجھے اس امر کا یقین تھا کہ رسول اللہ ﷺ اور صحابہؓ میرے اسلام پر مسرت کا اظہار کریں گے اس لیے کہ وہ میری قرابت داری سے آگاہ تھے ٭ جب مسلمانوں نے مجھ سے انحراف کیا۔ اندریں اثناء ابوبکر مجھے ملے اور مجھ سے منہ موڑ لیا میں نے عمر کو دیکھا کہ وہ میرے خلاف ایک انصاری کو بھڑکا رہے ہیں۔

ایک آدمی مجھ سے چمٹ گیا اور کہنے لگا اے اللہ کے دشمن! تو ہی وہ شخص ہے جو رسول اللہ ﷺ اور آپ ﷺ کے صحابہؓ کو ایذا دیا کرتا تھا۔ آپ ﷺ کی عداوت میں تو مشرق ومغرب کی انتہا کو پہنچ گیا تھا میں نے کسی حد تک اپنا دفاع کیا اس نے میرے ساتھ دست درازی کی اور مجھے آدمیوں کے

صفحہ ۱۸۵

توہین رسالت ﷺ کی شرعی سزا

گھیرے میں لے گیا جو میرے ساتھ ہونے والے سلوک سے خوش ہو رہے تھے۔ ابوسفیان کہتے ہیں پھر میں آپ کے چچا عباسؓ کے پاس گیا میں نے کہا اے عباس مجھے امید تھی کہ رسول کریم ﷺ میری قرابت داری اور میری عظمت وشرف کی وجہ سے میرے اسلام لانے سے خوش ہوں گے مگر اس کا حشر آپ نے دیکھ لیا لہٰذا آپ رسول کریم ﷺ سے بات کر کے انہیں راضی کیجئے حضرت عباسؓ نے کہا نہیں اللہ کی قسم میں تمہارے بارے میں ہرگز ان سے ایک کلمہ بھی نہ کہوں گا۔ میں نے جو کچھ دیکھنا تھا دیکھ لیا۔ الا یہ کہ مجھے کوئی صورت نظر آئے۔ میں رسول اللہ ﷺ کو بڑی عظمت کی نگاہ سے دیکھتا ہوں اور آپؐ سے ڈرتا ہوں۔ میں نے کہا چچا جان! آپ مجھے کس کے سپرد کر رہے ہیں؟ عباس نے کہا بس یہی ہے۔

پھر میں نے حضرت علیؓ سے مل کر یہی ماجرا بیان کیا انہوں نے بھی یہی جواب دیا۔

ابوسفیان کہتے ہیں کہ پھر میں نکل کر رسول کریم ﷺ کی جائے قیام کے پاس بیٹھ گیا یہاں تک کہ آپؐ اٹھ جانے لگے آپؐ اور مسلمانوں میں سے کوئی بھی میرے ساتھ بات نہیں کرتا تھا۔ پھر میں آپؐ جہاں پڑاؤ کرتے ہیں اس کے دروازے پر بیٹھ جاتا میرے ساتھ میرا بیٹا جعفر کھڑا تھا جونہی آپؐ مجھے دیکھتے تو منہ موڑ لیتے یہاں تک کہ میں آپؐ کے ساتھ فتح مکہ کے موقع پر حاضر ہوا میں آپؐ کے لشکر میں موجود تھا حتیٰ کہ آپؐ اذخر نامی جگہ سے اتر کر وادی ابطح میں پہنچے پھر آپؐ نے مجھے ایسی نگاہ سے دیکھا جو پہلے سے بہت نرم تھی جس سے

صفحہ ۱۸۶

توہین رسالت ﷺ کی شرعی سزا

مجھے امید تھی کہ آپ مسکرائیں گے۔ بنو عبدالمطلب کی خواتین آپؐ کے یہاں آئیں ان میں میری بیوی بھی تھی اس نے رسول کریم ﷺ کے ساتھ بات چیت کر کے ان کو میرے بارے میں نرم کیا۔ پھر آپؐ مسجد کی طرف گئے اور میں آپؐ کے آگے آگے تھا اور کسی حالت میں آپؐ سے جدا نہیں ہوتا تھا۔ پھر آپؐ ہوازن کی طرف گئے تو میں بھی آپؐ کے ساتھ گیا پھر ہوازن کا واقعہ ذکر کیا جو کہ مشہور ہے۔

واقدی کہتے ہیں کہ میں نے ابوسفیان کے اسلام لانے کا واقعہ ایک اور طریقہ سے بھی سنا ہے۔ ابوسفیان کہتے ہیں کہ میں رسول کریم ﷺ سے ثنیۃ العقاب میں ملا آگے اسی طرح ذکر ہے جس طرح ابن اسحاق نے بیان کیا ہے۔

ابن اسحاق کہتے ہیں کہ ابوسفیان بن حارث اور عبداللہ بن ابی امیہ بن المغیرہ رسول کریم ﷺ سے ثنیۃ العقاب میں مکہ اور مدینہ کے درمیان ملے۔ اور داخل ہونے کی اجازت مانگی۔ حضرت ام سلمہؓ نے دونوں کے بارے میں گفتگو کی۔ انہوں نے کہا یا رسول اللہ! ابوسفیان آپؐ کے چچا اور پھوپھی کا بیٹا اور آپؐ کا خسر ہے۔ آپؐ نے فرمایا مجھے ان دونوں کی ضرورت نہیں۔ میرے چچا زاد نے تو میری بے عزتی کی باقی رہا میرا پھوپھی زاد اور خسر تو اس نے مجھے مکہ میں کہا جو کچھ کہا۔

جب دونوں تک یہ خبر پہنچی اور ابوسفیان ہمراہ اس کا بیٹا بھی تھا اس نے کہا: یا رسول اللہ! مجھے اجازت دیں گے یا میں اپنے بیٹے کا دامن تھام کر جدھر

صفحہ ۱۸۷

توہین رسالت ﷺ کی شرعی سزا

چاہیں گے چلے جائیں گے۔ یہاں تک کہ ہم بھوک پیاس سے مر جائیں۔ جب رسول اللہ ﷺ کو یہ اطلاع ملی تو دونوں کے لیے آپ کا دل نرم ہو گیا۔ دونوں آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور ابوسفیان نے اپنے اسلام لانے اور سابقہ خطاؤں سے معذرت پر مبنی اشعار آپ ﷺ کو سنائے۔

واقدی کی روایت میں ہے کہ دونوں نے رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہونے کی اجازت چاہی۔ مگر آپ نے شرف باریابی بخشنے سے انکار کر دیا آپ ﷺ کی بیوی ام سلمہ نے کہا یا رسول اللہ! ابوسفیان آپ ﷺ کا چچا زاد، پھوپھی زاد اور رضاعی بھائی ہے۔ اللہ تعالیٰ ان دونوں کو مسلمان کر کے آپ ﷺ کے پاس لایا ہے آپ ﷺ اسے فیوض برکات سے محروم نہ رکھیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا مجھے ان دونوں کی ضرورت نہیں جہاں تک میرے بھائی کا تعلق ہے اس نے تو مجھے مکہ میں کہا جو کچھ کہا۔ اس نے کہا تھا کہ وہ مجھ پر ایمان نہیں لائے گا یہاں تک کہ میں آسمان پر چڑھ جاؤں حضرت ام سلمہؓ نے کہا یا رسول اللہ! وہ آپ ﷺ کی قوم کا ایک فرد ہے آپ ﷺ تمام قریش سے بولتے ہیں اور اس کے بارے میں قرآن نازل ہو چکا ہے۔ آپ نے ایسے لوگوں کو بھی معاف کر دیا ہے جو اس سے بڑے مجرم تھے۔ ابوسفیان آپ ﷺ کا چچا زاد ہے اور آپ ﷺ کا اس کے ساتھ قریبی رشتہ ہے آپ ﷺ اسے معاف کرنے کے بہت حقدار ہیں۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اس نے میری بے عزتی کی ہے۔ لہٰذا مجھے ان کی کچھ ضرورت نہیں۔

صفحہ ۱۸۸

توہین رسالت ﷺ کی شرعی سزا

جب دونوں کو اس کا پتہ چلا تو ابوسفیان نے کہا اور اس کے ساتھ اس کا بیٹا تھا یا تو میری بات مانیں گے یا میں اپنے بیٹے کا ہاتھ پکڑ کر نکل جاؤں گا اور چلتے چلتے بھوک پیاس سے مرجائیں گے۔ اور آپ سب لوگوں سے زیادہ حلیم اور کریم تر ہیں اور آپ میرے رشتہ دار بھی ہیں جب رسول اللہ ﷺ کو اس کے الفاظ کا پتہ چلا تو آپ ﷺ کا دل نرم ہو گیا۔ عبداللہ بن امیہ نے کہا میں آپ ﷺ کی تصدیق کرنے آیا ہوں ۔ آپ کی خسر [ابوسفیان] کی طرح میں بھی آپ ﷺ کا رشتہ دار ہوں ۔ حضرت ام سلمہ دونوں کے بارے میں گفتگو کرتی تھیں چنانچہ رسول اللہ ﷺ کا دل دونوں پر نرم ہو گیا۔ اور آپ ﷺ نے شرف باریابی بخشا۔ دونوں آپ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر مشرف باسلام ہوئے اور ان کا اسلام اچھا ثابت ہوا۔

عبداللہ بن ابی امیہ طائف میں مقتول ہوئے ابوسفیان مدینہ میں خلافت فاروقی میں وفات پائی اور کسی ضمن میں اس پر کوئی عیب گیری نہ کی گئی ملاقات سے پہلے رسول اللہ ﷺ نے ابوسفیان کے خون کو ہدر قرار دے دیا تھا۔

[الصارم المسلول ص ۱۳۵]

واقعہ ابی سفیان سے استدلال

ابوسفیان کے واقعہ سے اس طرح احتجاج کیا گیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے مشرکین کے بڑے بڑے رؤساء کو چھوڑ کر صرف ابوسفیان کے خون کو ہدر قرار دیا تھا۔ حالانکہ اس کی وجہ سے جہاد بالید والمال کی زیادہ ضرورت پیش آئی۔ جب کہ رسول اللہ ﷺ مدینہ سے مکہ تشریف لائے تھے۔ اور اہالیان مکہ

صفحہ ۱۸۹

توہین رسالت ﷺ کی شرعی سزا

کی خون ریزی آپ ﷺ کا مطلوب و مقصود نہ تھا۔ بلکہ آپ ﷺ نرمی سے ان کی دعوتِ اسلام دیتے تھے۔ ابوسفیان میں پایا جانے والا مخصوص سبب جو کفر کے سوا کوئی دوسرا نہ تھا۔ پھر وہ اسلام لانے کے لیے آیا مگر آپ ﷺ اعراض فرماتے رہے حالانکہ آپ ﷺ دور کے لوگوں کے اسلام کے لیے تالیف قلب فرماتے تھے۔ پھر قریشی رشتہ داروں کی دلجوئی تو اور بھی ضروری ہے اس کی وجہ صرف یہ تھی کہ ابوسفیان آپ کی تحقیر و تنقیص کرتا تھا جیسا کہ حدیث میں تفصیلاً مذکور ہے۔

نضر بن حارث و عقبہ بن ابی مُعَیط

ان میں سے ایک کا واقعہ یہ ہے کہ آپ جب بدر سے مدینہ لوٹے تو نضر بن حارث اور عقبہ بن ابی معیط کو قتل کر دیا بدر کے قیدیوں میں سے اور کسی کو قتل نہیں کیا۔ ان دونوں کا واقعہ معروف ہے۔

ابن اسحاق رقم طراز ہیں:

قیدیوں میں عقبہ بن ابی معیط اور نضر بن حارث بھی تھے۔ جب رسول اللہ ﷺ الصفراء کے مقام پر پہنچے تو حضرت علی ؓ نے نضر بن حارث کو قتل کر دیا۔ پھر آپ سفر پر روانہ ہو گئے جب عرق الظبیہ کے مقام پر پہنچے تو عقبہ بن ابی معیط کو قتل کر دیا اس کو عاصم بن ثابت نے قتل کیا تھا۔

واقدی نے ”کتاب المغازی ۱/۱۱۴“ میں لکھا ہے کہ:

رسول اللہ ﷺ قیدیوں کو لے کر جب عرق الظبیہ نامی جگہ پر پہنچے تو آپؐ نے حضرت عاصم بن ثابت بن ابی الافلح کو حکم دیا کہ عقبہ کی گردن اڑا دے۔ عقبہ نے کہنا شروع کیا۔ ہائے افسوس اے قریش! سب لوگوں میں

صفحہ 190

توہین رسالت ﷺ کی شرعی سزا

سے مجھے ہی کیوں قتل کیا جارہا ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اس لیے کہ تم اللہ اور اس کے رسول سے دشمنی رکھتے تھے اس نے کہا اے محمد ! تمہارا احسان کرنا بہت اچھا ہے مجھے میری قوم کا ایک فرد تصور کیجیے اگر آپ انہیں قتل کریں تو مجھے بھی قتل کر دیں اگر ان پر احسان کریں تو مجھ پر بھی احسان کریں اگر ان سے فدیہ لیں تو میں بھی ان میں سے ایک ہوں گا۔ اے محمد ! بچوں کی حفاظت کون کرے گا۔ آپ نے فرمایا جہنم ! اے عاصم اسے آگے کرو اور اس کی گردن اڑا دو۔ عاصم نے اسے آگے بڑھایا اور اس کی گردن اڑا دی۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تو بہت برا آدمی تھا۔ بخدا میں نے اللہ اس کی کتاب اور اس کے رسول کا انکار کرتے کسی شخص کو نہیں دیکھا جو اس کے نبی کو ایذاء دیتا ہو۔ میں اللہ کی تعریف کرتا ہوں جس نے تجھے قتل کر کے میری آنکھیں ٹھنڈی کیں۔

وجہ استدلال

شیخ الاسلام ابن تیمیہ فرماتے ہیں۔

یہ بیان اس حقیقت کا آئینہ دار ہے کہ تمام قیدیوں میں سے ان دو آدمیوں کو قتل کرنے کی وجہ یہ تھی کہ یہ اپنے قول وفعل سے اللہ اور اس کے رسول کو ایذاء دیتے تھے۔ جو آیات نضر بن حارث کے بارے میں نازل ہوئیں وہ معروف ہیں اسی طرح عقبہ اپنی زبان اور ہاتھوں سے ایذاء دیا کرتا تھا وہ معروف ہے۔ اس شخص نے رسول اللہ ﷺ [میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں] کا گلا اپنی چادر سے پورے زور سے دبایا یہ آپ ﷺ کو قتل کرنا چاہتا تھا۔ اسی طرح رسول اللہ ﷺ سجدہ کی حالت میں تھے تو اس نے آپ کی پشت

صفحہ ۱۹۱

توہین رسالت ﷺ کی شرعی سزا

مبارک پر اونٹ کا اوجھ لا کر رکھ دیا تھا۔

[الصارم المسلول ص ۱۴۳]

ابوعزہ عمرو جُمحی شاعر کی گستاخی اور انجام

جنگ بدر کے بعض قیدیوں کو رسول اللہ ﷺ نے احسان کرتے ہوئے فدیہ لیے بغیر چھوڑ دیا تھا۔ انہی میں ابوعزہ عمرو جُمحی شاعر بھی تھا یہ اپنے اشعار سے رسول اللہ ﷺ اور آپ کے صحابہؓ کو تکلیف پہنچایا کرتا تھا۔ اس نے عرض کیا یا رسول اللہ جیسا کہ آپ کو معلوم ہے میں صاحب عیال اور مفلس ہوں پس مجھ پر احسان فرمائیں چنانچہ از راہِ کرم آپ نے اسے رہا فرما دیا اور اس سے عہد لیا کہ آئندہ آپ کے مقابلہ پر کسی کو آمادہ نہ کرے گا۔ جب وہ مکہ پہنچا تو ساتھیوں سے کہا کہ میں نے محمد ﷺ پر جادو کر دیا اور حسب سابق اپنے اشعار سے آپ ﷺ کو قلبی اذیت پہنچانے لگا۔ جب احد کا معرکہ پیش آیا تو یہ مشرکوں کے ساتھ ہو کر میدان میں آیا اور اپنے اشعار سے کفار کو مسلمانوں کے قتل پر بھڑکانے لگا اس جنگ میں وہ گرفتار ہو کر پیشِ خدمت ہوا تو آپ نے اس کی گردن اڑا دینے کا حکم فرمایا اس نے کہا مجھے آزاد کر دیجئے اور چھوڑ دیجئے میں اب کے پھر توبہ کرتا ہوں تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا مومن ایک سوراخ سے دو مرتبہ نہیں ڈسا جاتا۔ پس اس کی گردن اڑا دی گئی اور اس کا کٹا ہوا سر مدینہ لایا گیا۔ حق تعالیٰ نے اس کے متعلق یہ آیات نازل فرمائی:

﴿وَاِنْ يُّرِيْدُوْا خِيَانَتَكَ فَقَدْ خَانُوْا اللّٰهَ مِنْ قَبْلُ فَاَمْكَنَ مِنْهُمْ ﴾.

[الانفال: ۷۱]

”اگر انہوں نے آپ سے بدعہدی کی ہے تو یہ اس سے پہلے اللہ سے بھی بدعہدی کر چکے ہیں پس اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کو ان پر

صفحہ ۱۹۲

توہین رسالت ﷺ کی شرعی سزا

غلبہ عطا فرمایا۔“

[السیرۃ النبویۃ لابن کثیر ۱۰۲/۳]

گستاخ رسول ابو جہل ملعون کا انجام

حضرت عبدالرحمٰن بن عوف ؓ سے مروی ہے کہ بدر کے روز میں صف میں کھڑا تھا کہ میں نے اپنے دائیں بائیں دیکھا کہ اچانک مجھے دو انصاری نوجوان نظر آئے میری آرزو تھی کہ دونوں میں سے جو طاقتور ہے میں اس کے پاس ٹھہروں۔ دونوں میں سے ایک نے مجھے اشارہ کر کے پوچھا چچا! کیا تم ابو جہل کو پہچانتے ہو؟ میں نے اثبات میں جواب دیا اور پوچھا بھتیجے! تمہیں اس سے کیا سروکار؟ لڑکے نے کہا مجھے بتایا گیا ہے کہ وہ رسول کریم ﷺ کو گالیاں دیتا ہے مجھے اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے اگر میں نے اسے دیکھ لیا تو اسے زندہ نہیں چھوڑوں گا یہاں تک کہ جس کی تقدیر پہلے آئی ہے مرجائے۔

حضرت عبدالرحمٰن ؓ کہتے ہیں کہ میں اس پر بڑا حیران ہوا پھر دوسرے لڑکے نے اشارہ کر کے اسی قسم کی بات کہی جلدی ہی میں نے ابو جہل کو لوگوں میں گھومتے دیکھا میں نے دونوں سے کہا کیا تم اسے دیکھتے نہیں؟ یہ وہی شخص ہے جس کے بارے میں تم مجھ سے پوچھتے ہو۔ انہوں نے کہا کہ دونوں تلواریں لے کر جھپٹ پڑے اور اسے مار ڈالا پھر آکر رسولِ کریم کو اطلاع کی۔ آپؐ نے فرمایا تم میں سے کس نے اسے قتل کیا ہے؟ دونوں میں سے ہر ایک نے کہا میں نے اسے قتل کیا ہے۔ آپؐ نے فرمایا کیا تم نے اپنی اپنی تلواروں کو پونچھ لیا ہے؟ دونوں نے کہا نہیں؟ چنانچہ رسول اللہ ﷺ نے

صفحہ 193

توہین رسالت ﷺ کی شرعی سزا

دونوں کی تلواروں کو دیکھا اور فرمایا تم دونوں نے اسے قتل کیا ہے۔

رسول اللہ ﷺ نے ابو جہل کا سامان معاذ بن عمرو بن الجموح کو دے دیا۔ ان کا نام معاذ بن عمرو بن الجموح اور معاذ بن عفراء تھا۔ رسول اللہ ﷺ کا ابو جہل کے قتل سے خوش ہونے اور سجدہ شکر بجا لانے کا واقعہ مشہور ہے آپؐ نے ارشاد فرمایا:

هذا فرعون هذه الامة.

’’یہ اس امت کا فرعون ہے۔‘‘

مذکورہ روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ ابو جہل کے قاتل معاذ بن عمرو بن الجموح اور معاذ بن عفراء ہیں لیکن بخاری کی روایت جو غزوہ بدر کے بیان میں مذکور ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ قاتل معاذ اور معوذ عفراء کے بیٹے ہیں۔

حافظ ابن حجرؒ فرماتے ہیں کہ عفراء کے بیٹوں کے ساتھ معاذ بن عمرو بن الجموح بھی شریک قتل تھے۔ بلکہ معاذ بن عمرو بن الجموح ہی نے قتل میں زیادہ حصہ لیا اس لیے رسول اللہ ﷺ نے سلب ’’معاذ بن عمرو‘‘ کو ہی دلوایا۔

[کذا فی فتح الباری ۷/۳۴۰، غزوہ بدر و زرقانی ۱/۴۲۸]

حضرت عبداللہ بن عباس اور عبداللہ بن ابی بکر بن حزم، معاذ بن عمرو بن الجموح سے روایت کرتے ہیں کہ میں ابو جہل کی تاک میں تھا جب موقع پڑا تو اس زور سے تلوار کا وار کیا کہ ابو جہل کی ٹانگ کٹ گئی۔

ابو جہل کے بیٹے عکرمہ نے [جو فتح مکہ میں مشرف باسلام ہوئے] باپ کی حمایت میں معاذ کے شانہ پر اس زور سے تلوار ماری کہ ہاتھ کٹ گیا۔ لیکن تسمہ لگا رہا۔ ہاتھ بیکار ہوکر لٹک گیا مگر سبحان اللہ معاذ شام تک اسی حالت

صفحہ ۱۹۴

توہین رسالت ﷺ کی شرعی سزا

میں لڑتے رہے، جب ہاتھ کے لٹکنے سے تکلیف زیادہ ہونے لگی تو ہاتھ کو قدم کے نیچے دبا کر زور سے کھینچا کہ وہ تسمہ علیحدہ ہوگیا حضرت عثمان کے زمانہ خلافت تک زندہ رہے مگر معوذ بن عفراء ابو جہل سے فارغ ہو کر لڑائی میں مشغول ہو گئے یہاں تک کہ جام شہادت نوش فرمایا اِنَّا لِلّٰهِ وَاِنَّا اِلَیْهِ رَاجِعُوْنَ۔

ایک اعتراض اور اس کا جواب

یہاں ایک اعتراض یہ پیدا ہوتا ہے کہ گالی دہندہ کو قتل کرنا سنت رسول کا حتمی تقاضا یہ ہے اور اس کو کسی صورت میں بھی معاف نہیں کیا جا سکتا تو اس پر یہ اشکال پیدا ہوتا کہ رسول اللہ ﷺ نے فتح مکہ میں جن گستاخان رسول کا خون مباح کیا تھا ان میں سے اکثر و بیشتر کو معافی مل گئی اور وہ مسلمان ہو گئے اور جن کو قتل کیا گیا ان کی تعداد صرف چند تھی اگر گالی دہندہ اور گستاخی کرنے والے کا قتل ضروری ہے تو ان لوگوں کو معافی کیسے مل گئی؟

اس کا جواب یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ رحمۃ للعالمین ہیں وہ اپنی حیات میں کسی کو معاف کرنا چاہیں تو معاف کر سکتے ہیں۔ لیکن آپؐ کے بعد امت کو یہ حق حاصل نہیں کہ گالی دہندہ اور گستاخ رسول کو معاف کر دے اور نہ کسی فرد یا حکومت کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ ایسے مجرم کو معافی دے دے۔

شیخ الاسلام حافظ ابن تیمیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں

ان النبی ﷺ كان له ان يعفو عمن شتمه وسبه فی حياته وليس للامة ان يعفو عن ذلك.

[الصارم المسلول ص ۲۱۹]

صفحہ ۱۹۵

توہین رسالت ﷺ کی شرعی سزا

”رسول اللہ ﷺ اس شخص کو معاف کر سکتے تھے جو آپ کی زندگی میں آپ ﷺ کو گالی دیتا مگر آپ کی امت اس امر کی مجاز نہیں ہے۔“

کفار کی رسول اللہ ﷺ کو ایذاء رسانی

قریش نے جب یہ دیکھا کہ اسلام کی علی الاعلان دعوت دی جا رہی ہے اور کھلم کھلا بت پرستی کی برائیاں بیان کی جا رہی ہیں تو قریش اس کو برداشت نہ کر سکے اور جو ایک اللہ کی طرف بلا رہا تھا اس کی دشمنی اور عداوت پر کمر بستہ اور توحید کے مقابلہ کے لیے تیار ہو گئے اور یہ تہیہ کر لیا کہ آپ ﷺ کو اس قدر تکلیف و ایذاء پہنچائی جائے کہ آپ دعوتِ اسلام سے باز آ جائیں۔

کہ لوگوں کو یہ فرماتے تھے کہ اے لوگو لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ کہو فلاح پاؤ گے۔ مگر بعض بدنصیب تو آپ ﷺ کو گالیاں دیتے تھے اور آپ ﷺ پر تھوکتے اور بعض آپ ﷺ پر خاک ڈالتے۔ آپ ﷺ کا جینا اور اسلام کا اعلان دوبھر ہو گیا۔ اس وقت ایک لڑکی پانی لے کر آئی اور آپ ﷺ کے چہرہ انور اور دست مبارک کو دھویا میں نے دریافت کیا یہ کون ہے لوگوں نے کہا یہ آپ ﷺ کی صاحبزادی زینب ہے۔

[معجم للطبرانی ۳۴۲/۲۰]

بخاری نے اس حدیث کو مختصراً اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے یہ حدیث حارث بن حارث غامدی سے بھی مروی ہے اس میں اس قدر اضافہ ہے کہ آپ ﷺ نے حضرت زینب سے مخاطب ہو کر یہ فرمایا اے بیٹی تو اپنے باپ

صفحہ ۱۹۶

توہین رسالت ﷺ کی شرعی سزا

کے مغلوب اور ذلیل ہونے کا خوف مت کر۔

[رواہ البخاری فی تاریخہ ١٤/٤ والطبرانی وابونعیم]

ابو زرعہ دمشقی فرماتے ہیں یہ حدیث صحیح ہے۔ [کنز العمال ٣٠٧/٦]

اللہ ﷺ کو بازار ذی المجاز میں دیکھا کہ یہ فرماتے جاتے تھے کہ اے لوگو لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ کہو فلاح پاؤ گے اور ایک شخص آپ کے پیچھے پیچھے پتھر مارتا تھا جس سے جسم مبارک خون آلود ہو گیا اور ساتھ ساتھ کہتا جاتا تھا۔ یا ایھا الناس لا تطیعوہ فانہ کذاب ”اے لوگو! اس کی بات نہ سننا یہ جھوٹا ہے۔

[طبرانی کبیر ٣٧٦/٨، رواہ ابن ابی شیبۃ۔ کنز العمال ٣٠٢/٦]

المجاز میں دیکھا کہ یہ فرماتے تھے اے لوگو لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ کہو فلاح پاؤ گے اور ابو جہل آپ پر مٹی پھینکتا تھا اور کہتا تھا کہ اے لوگو تم اس کے دھوکہ میں نہ آنا یہ تم کو لات اور عزیٰ سے چھڑانا چاہتا ہے اور رسول اللہ ﷺ اس کی طرف ذرہ برابر بھی التفات نہ فرماتے تھے۔ [مسند احمد ١٣/٤]

ابن العاص سے کہا کہ مشرکین نے رسول اللہ ﷺ کو جو تکلیف پہنچائی ہو اس کا ذکر کرو تو عبداللہ بن عمرو بن العاص نے فرمایا کہ ایک روز رسول اللہ ﷺ حطیم میں نماز ادا فرما رہے تھے کہ عقبہ بن ابی معیط نے آپ ﷺ کی گردن میں کپڑا ڈال کر اس زور سے کھینچا کہ گلا گھٹنے لگا سامنے سے ابو بکر آگئے اور عقبہ کو ایک دھکا دیا اور یہ آیت پڑھی:

صفحہ ۱۹۷

توہین رسالت ﷺ کی شرعی سزا

﴿اَتَقْتُلُوْنَ رَجُلًا اَنْ يَّقُوْلَ رَبِّيَ اللهُ وَقَدْ جَاءَ كُمْ بِالْبَيِّنٰتِ مِنْ رَّبِّكُمْ ﴾ .

[المؤمن: ۲۸]

”کیا تم ایک مرد کو اس بات پر قتل کرتے ہو کہ وہ کہتا ہے کہ میرا رب پروردگار صرف اللہ ہے اور اپنی نبوت ورسالت کے واضح اور روشن دلائل تمہارے رب کی طرف سے لے کر آیا ہے۔“

[البخاری: ١٣٤٥/٣]

فرعون اور ہامان نے جب حضرت موسیٰ ؑ کے قتل کا مشورہ کیا تو فرعون کے لوگوں میں سے ایک شخص نے جو مخفی طور پر حضرت موسیٰ ؑ پر ایمان رکھتا تھا یہ کہا ایسے شخص کو قتل کرتے ہو جو یہ کہتا ہے کہ میرا رب اللہ ہے۔ حق تعالیٰ نے اس قصہ کا سورہ مومن میں ذکر فرمایا ہے۔

﴿وَقَالَ رَجُلٌ مُّؤْمِنٌ مِّنْ اٰلِ فِرْعَوْنَ يَكْتُمُ اِيْمَانَهُ اَتَقْتُلُوْنَ رَجُلًا اَنْ يَّقُوْلَ رَبِّيَ اللَّهُ ﴾ .

[سورة المؤمن: ۲۸]

”کہا ایک مرد مسلمان نے جو فرعون کے لوگوں میں سے تھا اور اپنے ایمان کو چھپاتا تھا کہ تم ایک مرد کو محض اس لیے قتل کئے ڈالتے ہو جو یہ کہتا ہے کہ میرا رب اللہ ہے۔“

مسند بزار اور دلائل ابی نعیم میں محمد بن علیؓ سے مروی ہے کہ ایک روز علی کرم اللہ وجہہ نے اثناء خطبہ میں پوچھا بتلاؤ سب سے زیادہ شجاع اور بہادر کون ہے۔ لوگوں نے کہا آپ حضرت علی نے فرمایا میرا حال تو یہ ہے کہ جس کسی نے میرا مقابلہ کیا میں نے اس سے انتقام لیا سب سے زیادہ شجاع ابوبکر تھے۔ میں نے ایک بار دیکھا کہ قریش رسول اللہ ﷺ کو مارتے جاتے ہیں اور کہتے

صفحہ ۱۹۸

توہین رسالت ﷺ کی شرعی سزا

جاتے ہیں۔

أَنْتَ جَعَلْتَ الْآلِهَةَ إِلٰهًا وَّاحِدًا. ’’تو نے ہی تمام معبودوں کو ایک معبود بنادیا۔‘‘

ہم میں سے کسی کی ہمت نہ ہوئی کہ آپ ﷺ کے قریب جاتے اور آپ ﷺ کو دشمنوں سے چھڑاتے۔ حسن اتفاق سے ابوبکر ؓ آگئے اور دشمنوں کے غول میں گھس پڑے۔ ایک مکہ اس کے ایک، ایک گھونسہ اس کے رسید کیا اور جس طرح اس مرد مومن نے فرعون اور ہامان کو کہا تھا۔ أَتَقْتُلُوْنَ رَجُلًا اَنْ يَّقُوْلَ رَبِّيَ اللّٰهُ . الآیۃ اسی طرح ابوبکر نے اس وقت کفار سے مخاطب ہو کہا۔ وَيْلَكُمْ أَتَقْتُلُوْنَ رَجُلًا اَنْ يَّقُوْلَ رَبِّيَ اللّٰهُ. افسوس: کیا تم ایسے مرد کو قتل کرتے ہو جو کہتا ہے کہ میرا رب اللہ ہے۔

حضرت علی ؓ یہ کہہ کر رو پڑے اور یہ فرمایا تم کو اللہ کی قسم دے کر پوچھتا ہوں کہ ال فرعون میں کا رجل مومن افضل تھا یا ابوبکر ؓ۔ لوگ خاموش رہے پھر فرمایا خدا کی قسم! ابوبکر کی ایک گھڑی ال فرعون کے مرد مومن کی تمام زندگی سے بدرجہا بہتر ہے۔ اس نے اپنے ایمان کو چھپایا اور ابوبکر نے اپنے ایمان کا اظہار کیا۔

[فتح الباری ۱۲۹/۷ باب ما لقی النبی ﷺ واصحابه من المشرکین بمكة ]

نیز اس شخص نے زبانی نصیحت پر کفایت کی اور ابوبکر نے زبانی نصیحت کے علاوہ ہاتھ سے بھی رسول اللہ ﷺ کی نصرت و حمایت کی۔

صفحہ 199

توہین رسالت ﷺ کی شرعی سزا

خلق افعال العباد میں اور ابو یعلی اور ابن حبان نے روایت کیا ہے کہ جب دشمن علیحدہ ہو گئے تو آپ ﷺ نے فرمایا:

والذي نفسي بيده ما ارسلت اليكم الا بالذبح.

’’قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ میں میری جان ہے تم جیسوں کے ذبح کے لیے بھیجا گیا ہوں۔‘‘

[فتح الباری باب مالقی النبی ﷺ واصحابہ من المشرکین بمکہ ]

اور دلائل ابی نعیم اور دلائل بیہقی اور سیرۃ ابن اسحاق کی روایت میں یہ ہے کہ آپ ﷺ کے یہ فرماتے ہی کفار پر سکتہ کا عالم طاری ہو گیا۔ ہر شخص اپنی جگہ پر سرنگوں تھا۔ [الخصائص الکبریٰ ۱/ ۱۴۳] اس لیے کہ جانتے تھے کہ آپ ﷺ جو فرماتے ہیں وہ ضرور ہو کر رہے گا۔

مروی ہے کہ ایک دفعہ قریش نے آپ ﷺ کو اس قدر مارا کہ آپ ﷺ بیہوش ہو گئے۔ ابوبکر حمایت کے لیے آئے تو آپ ﷺ کو چھوڑ کر ابوبکر کو لپٹ گئے۔ مسند ابی یعلی میں باسناد حسن حضرت اسماء بنت ابی بکرؓ سے مروی ہے کہ ابوبکر کو اس قدر مارا کہ تمام سر زخمی ہو گیا۔ ابوبکر زخموں کی شدت کی وجہ سے سر کو ہاتھ نہ لگا سکتے تھے۔

[فتح الباری ۷/ ۱۴۹]

ﷺ کو بیت اللہ کا طواف کرتے دیکھا آپ ﷺ طواف فرما رہے تھے اور عقبہ بن ابی محیط اور ابو جہل اور امیہ بن خلف حطیم میں بیٹھے ہوئے تھے۔ جب آپ ﷺ ان کے سامنے سے گذرے تو کچھ نازیبا کلمات آپ ﷺ کو

صفحہ ۲۰۰

توہین رسالت ﷺ کی شرعی سزا

سنا کر کہے۔ آپ ﷺ دوسری بار ادھر سے گزرے تب بھی ایسا ہی کیا۔ جب آپ ﷺ تیسری بار گزرے پھر اسی قسم کے بیہودہ کلمات کہے تو آپ ﷺ کا چہرہ مبارک متغیر ہو گیا اور ٹھہر گئے اور یہ فرمایا کہ اللہ کی قسم تم باز نہ آؤ گے یہاں تک کہ تم پر عذاب جلد نازل ہو۔ حضرت عثمانؓ فرماتے ہیں کہ اس وقت کوئی شخص ایسا نہ تھا کہ جو کانپ نہ رہا ہو آپؐ یہ فرما کر گھر کی طرف روانہ ہوئے اور ہم آپؐ کے پیچھے ہولئے اس وقت آپ نے ہم سے یہ فرمایا:

ابشروا فان اللہ مظہر دینہ ومتم کلمتہ وناصر دینہ ان ہؤلاء الذین ترون ممن یذبح بایدیکم عاجلاً فواللہ لقد رأیتہم ذبحہم اللہ بایدینا۔ [دار قطنی وعیون الاثر ١٠٤/١]

”بشارت ہو تم کو اللہ اپنے دین کو یقیناً غالب کرے گا اور اپنے کلمہ کو پورا کرے گا اور اپنے دین کی مدد کرے گا اور ان لوگوں کو جن کو تم دیکھتے ہو عنقریب ان کو اللہ تمہارے ہاتھوں ذبح کرائے گا۔“

حضرت عثمانؓ فرماتے ہیں کہ اللہ کی قسم ہم نے دیکھ لیا کہ اللہ نے ان کو ہمارے ہاتھوں سے ذبح کرایا۔

یہ روایت دلائل ابی نعیم میں بھی مذکور ہے، اور مختصر فتح الباری ۷/۱۲۸ میں اس کا ذکر کیا گیا ہے۔

حضرت عبداللہ بن مسعود سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ ایک دفعہ حرم میں نماز پڑھ رہے تھے۔ ابو جہل اور اس کے احباب بھی وہاں موجود تھے۔ ابو جہل نے کہا کوئی ایسا نہیں جو اونٹ کی اوجھ اٹھا لائے ۔تا کہ محمد ﷺ

صفحہ ۲۰۱

توہین رسالت ﷺ کی شرعی سزا

جب سجدے میں جائے تو وہ اوجھ آپ ﷺ کی پشت پر رکھ دے۔ اس وقت قوم میں جو سب سے زیادہ شقی تھا یعنی عقبہ بن ابی معیط وہ اٹھا اور ایک اوجھ اٹھا کر آپ ﷺ کی پشت پر ڈال دی۔ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں اس منظر کو دیکھ رہا ہوں اور کچھ نہیں کر سکتا اور مشرکین ہیں کہ ایک دوسرے کو دیکھ کر ہنس رہے ہیں اور ہنسی کے مارے ایک دوسرے پر گرے جاتے ہیں اتنے میں حضرت فاطمۃ الزہراء رضی اللہ عنہا جو اس وقت چار پانچ سال کی تھیں دوڑی ہوئی آئیں اور آپ سے اوجھ کو ہٹایا آپ ﷺ نے سجدہ سے سر اٹھایا اور قریش کے لیے تین بار بددعا کی۔ قریش کو آپ ﷺ کی بددعا بہت شاق گزری اس لیے کہ قریش کا یہ عقیدہ تھا کہ اس شہر میں دعا قبول ہوتی ہے۔ اس کے بعد آپ ﷺ نے خاص طور پر ابو جہل اور عتبہ بن ربیعہ اور شیبہ بن ربیعہ اور ولید بن عتبہ اور امیہ بن خلف اور عقبہ بن ابی معیط اور عمارہ بن الولید کے لیے نام بنام بددعا کی جن میں سے اکثر جنگ بدر میں مقتول ہوئے بخاری کتاب الطہارۃ وکتاب الصلوٰۃ کی ایک روایت میں ہے کہ کپڑوں کی طہارت کا حکم یعنی ”وَثِیَابَكَ فَطَهِّرْ“ یہ آیت اسی واقعہ کے بعد نازل ہوئی۔

[فتح الباری ۵۲۱/۸]

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ میں دو بدترین پڑوسیوں کے مابین رہتا تھا ابولہب اور عقبہ بن ابی معیط یہ دونوں میرے دروازے پر نجاستیں لاکر ڈالا کرتے تھے۔

[زرقانی ۵۲۱/۱ و فتح الباری ۳۰۲/۱]

ہجرت سے قبل مکی دور میں کفار مکہ نے رسول اللہ ﷺ اور صحابہ کرام

صفحہ ۲۰۲

توہین رسالت ﷺ کی شرعی سزا

کو ستانے اور ایذائیں دینے میں انتہا کردی تھی۔ مگر مسلمان اس وقت کمزور تھے اور مظلومی کی حالت میں تھے اس لیے انتقام نہ لے سکے تو اللہ تعالیٰ نے خود ان گستاخان رسول سے انتقام لیا اور ان کو ذلت کی موت سے واصل جہنم کیا۔

جن گستاخان رسالت ﷺ سے مسلمان انتقام نہ لے

سکیں ان کے بارے میں اللہ کی سنت

اللہ تعالیٰ کی یہ سنت رہی ہے کہ جو لوگ اللہ اور اس کے رسول کو ایذاء دیتے ہیں اور اہل ایمان انہیں سزا دینے پر قادر نہ ہوں تو اللہ تعالیٰ ان سے اپنے رسول کا انتقام خود لے لیتے ہیں۔ اور اپنے رسول کی مدد فرماتے ہیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:

فَاصْدَعْ بِمَا تُؤْمَرُ وَاَعْرِضْ عَنِ الْمُشْرِكِيْنَ O اِنَّا كَفَيْنٰكَ الْمُسْتَهْزِءِيْنَ .

[الحجر: ٩٤-٩٥]

’’پس اے نبی! جس چیز کا تمہیں حکم دیا جارہا ہے وہ لوگوں کو سنا دو اور شرک کرنے والوں کی ذرا پروا نہ کرو تمہاری طرف سے ہم ان مذاق اڑانے والوں کی خبر لینے کے لیے کافی ہیں۔‘‘

ان مذاق اڑانے والوں کو اللہ نے ایک ایک کر کے ہلاک کردیا ان کا واقعہ معروف ہے۔ جس کو علماء سیرت اور مفسرین نے ذکر کیا ہے اور جیسا کہ کہا گیا ہے یہ قریش کے چند سردار تھے جن کا واقعہ تفصیلاً آگے چل کر ہم بیان کریں گے۔

صفحہ ۲۰۳

توہین رسالت ﷺ کی شرعی سزا

قیصر و کسریٰ کے نام دعوتِ اسلام کے خطوط

رسول اللہ ﷺ نے قیصر و کسریٰ کو بھی [دعوتِ اسلام پر مشتمل] خطوط تحریر کئے تھے مگر دونوں نے اسلام قبول نہ کیا۔ قیصر نے رسولِ کریم ﷺ اور ان کے خط کو احترام کی نگاہ سے دیکھا اس لیے اس کی سلطنت قائم رہی۔ کہا جاتا ہے کہ اس کے خاندان میں ابھی تک حکومت و سلطنت باقی ہے۔ بخلاف ازیں کسریٰ نے رسولِ کریم ﷺ کے خط کو چاک کر دیا اور رسولِ کریم ﷺ کا مذاق اڑایا اس لیے بہت جلد اللہ تعالیٰ نے اسے تباہ کر دیا اس کی سلطنت کو پارہ پارہ کر دیا اور اس کے خاندان میں حکومت باقی نہ رہی۔

[الصارم المسلول ص ۱۶۱]

اس کی تصدیق اس آیت سے ہوتی ہے۔

﴿اِنَّ شَانِئَكَ هُوَ الْاَبْتَرُO﴾

[الکوثر: ۳]

”بے شک تیرا دشمن ہی خیر و برکت سے محروم ہے۔“

جو شخص بھی رسولِ کریم ﷺ سے بغض و عداوت اور عناد رکھے گا۔ اللہ رب العزت اس کی جڑ کاٹ دے گا اور اس کا نام و نشان مٹا دے گا، عربی میں مثل مشہور ہے کہ:

لُحُوْمُ الْعُلَمَاءِ مَسْمُوْمَةٌ.

”علماء کا گوشت زہریلا ہوتا ہے۔“

تو پھر انبیاء علیہم السلام کا گوشت کیسا ہوگا۔ حدیث قدسی میں ہے آپ ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:

مَنْ عَادَى لِیْ وَلِیًّا فَقَدْ بَارَزَنِیْ بِالْمُحَارَبَةِ.

[الصارم المسلول ص ۱۶۱]

صفحہ ۲۰۴

توہین رسالت ﷺ کی شرعی سزا

"جس نے میرے ولی سے دشمنی رکھی اس نے میرے ساتھ اعلان جنگ کیا۔"

تو پھر اس شخص کی کیا حالت ہوگی جو انبیاء علیہم السلام سے دشمنی رکھے جو اللہ تعالیٰ سے اعلان جنگ کرتا ہے اس سے جنگ کی جاتی ہے۔ انبیاء علیہم السلام کے جو واقعات قرآن کریم میں مذکور ہیں ان سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کی امتوں نے جب انبیاء علیہم السلام کو ایذاء دی اور قول و عمل سے ان کی مخالفت کی تو ان کو ہلاک کیا گیا۔ اسی طرح بنی اسرائیل کو ذلیل کیا گیا وہ غضب الٰہی سے دوچار ہوئے اور ان کا کوئی مددگار نہ تھا اور وہ اس لیے کہ انہوں نے ناحق انبیاء کو قتل کیا جب کہ وہ کافر بھی تھے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں ذکر کیا ہے۔

آپ کسی ایسے شخص کو نہ پائیں گے جس نے کسی نبی کو ایذاء دی ہو اور پھر توبہ نہ کی تو اس پر کوئی نہ کوئی آفت ضرور آئی جس میں مبتلا ہو کر وہ ہلاک ہوا اسی طرح جب کفار رسول کریم ﷺ کو گالیاں دینے لگتے ہیں تو ان سے جلد انتقام لیا جاتا ہے۔

دشمنان خاص

اعلان توحید اور اعلان دعوت کے بعد عام طور پر سارے ہی اہل مکہ آپ ﷺ کے دشمن ہو چکے تھے۔ مگر جو لوگ رسول اللہ ﷺ کی دشمنی اور عداوت میں انتہا کو پہنچے ہوئے تھے ان کے نام حسب ذیل ہیں:

صفحہ ۲۰۵

توہین رسالت ﷺ کی شرعی سزا

ان میں سے اکثر و بیشتر آپ ﷺ کے ہمسایہ تھے اور صاحب عزت و وجاہت تھے آپ ﷺ کی دشمنی میں سرگرم تھے۔ لیل و نہار یہی مشغلہ اور یہی دھن تھی ابو جہل اور ابو لہب اور عقبہ بن ابی معیط یہ تین شخص سب سے بڑھے ہوئے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کے ان دشمنوں کو ذلیل و رسوا کیا اور ان کی موت کو لوگوں کے لیے عبرت بنا دیا۔

اب دشمنانِ خاص کا کچھ مختصر حال ہدیہ ناظرین کرتے ہیں۔

۱:۔ ابو جہل بن ہشام

آپ ﷺ کی امت کا فرعون تھا جس نے آپ ﷺ کی دشمنی اور عداوت میں کوئی دقیقہ نہ اٹھا رکھا تھا۔ اس نے مرتے وقت جو پیغام دیا ہے اس

صفحہ 206

توہین رسالت ﷺ کی شرعی سزا

سے ناظرین کرام کو ابو جہل کی عداوت اور دشمنی کا پورا پورا اندازہ ہو جاتا ہے۔ ابو جہل کا اصل نام ابو الحکم تھا رسول اللہ ﷺ نے ابو جہل کا لقب عطا فرمایا۔

[كما في فتح الباري باب ذكر النبي ﷺ من يقتل ببدر]

ابو جہل کہا کرتا تھا کہ میرا نام عزیز کریم ہے یعنی عزت والا اور سردار اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔

﴿ إِنَّ شَجَرَةَ الزَّقُّومِ O طَعَامُ الْأَثِيمِ O كَالْمُهْلِ يَغْلِي فِي الْبُطُونِ O كَغَلْيِ الْحَمِيمِ O خُذُوهُ فَاعْتِلُوهُ إِلَى سَوَاءِ الْجَحِيمِ O ثُمَّ صُبُّوا فَوْقَ رَأْسِهِ مِنْ عَذَابِ الْحَمِيمِ O ذُقْ إِنَّكَ أَنْتَ الْعَزِيزُ الْكَرِيمُ O إِنَّ هَذَا مَا كُنْتُمْ بِهِ تَمْتَرُونَ ﴾

[الدخان : ٤٣ تا ٥٠]

”زقوم کا درخت گناہ گار کا کھانا ہوگا۔ تیل کی تلچھٹ جیسا، پیٹ میں اس طرح جوش کھائے گا جیسے کھولتا ہوا پانی جوش کھاتا ہے۔ پکڑو اسے اور گھسیٹتے ہوئے لے جاؤ اس کو جہنم کے بیچ و بیچ ، انڈیل دو اس کے سر پر کھولتے پانی کا عذاب۔“

ابو جہل کا قتل

حضرت عبدالرحمن بن عوف ؓ فرماتے ہیں کہ میں بدر کے دن صف میں کھڑا تھا اچانک نظر جو پڑی تو دیکھتا ہوں کہ میرے دائیں بائیں دو انصار کے دو نوجوان ہیں اس لیے مجھے اندیشہ ہوا کہ لوگ آکر مجھ کو دو لڑکوں کے درمیان کھڑا دیکھ کر نہ گھیر لیں۔

صفحہ ۲۰۷

توہین رسالت ﷺ کی شرعی سزا

اسی خیال میں تھا کہ ایک نے آہستہ سے کہا اے چچا! مجھ کو ابو جہل دکھاؤ کہ کون سا ہے ؟ میں نے کہا اے میرے بھتیجے ! ابو جہل کو دیکھ کر کیا کرو گے؟ نوجوان نے کہا میں نے اللہ سے عہد کیا ہے اگر ابو جہل کو دیکھ پاؤں تو اس کو قتل کر ڈالوں یا خود مارا جاؤں اس لیے کہ مجھ کو خبر ملی ہے کہ ابو جہل رسول اللہ ﷺ کو سب و شتم کرتا ہے۔ قسم ہے اس ذات پاک کی جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے اگر اس کو دیکھ پاؤں تو میرا سایہ اس کے سایہ سے جدا نہ ہو گا یہاں تک کہ ہم میں سے جس کی موت پہلے مقدر ہو چکی ہے نہ مر جائے۔

ان کی یہ گفتگو سن کر دل سے یہ آرزو جاتی رہی کہ کاش میں بجائے دو لڑکوں کے دو مردوں کے مابین ہوتا میں نے اشارہ سے ابو جہل کا بتایا سنتے ہی شکرے اور باز کی طرح ابو جہل پر دوڑے اور اس کا کام تمام کر دیا۔

[بخاری کتاب الجهاد باب من لم يخمس الاسلاب و بخاری جلد دوم باب غزوہ بدر]

یہ دونوں عفراء کے بیٹے معاذؓ اور معوذؓ تھے۔

حضرت عبداللہ بن عباس اور عبداللہ بن ابی بکر بن حزم، معاذ بن عمرو بن الجموح راوی ہیں کہ میں ابو جہل کی تاک میں تھا جب موقع پڑا تو اس زور سے تلوار کا وار کیا کہ ابو جہل کی ٹانگ کٹ گئی۔ ابو جہل کے بیٹے عکرمہ نے [جو فتح مکہ میں مشرف باسلام ہوئے ] باپ کی حمایت میں معاذ رضی اللہ کے شانہ پر اس زور سے تلوار ماری کہ ہاتھ کٹ گیا۔ لیکن تسمہ لگا رہا۔ ہاتھ بیکار ہو کر لٹک گیا مگر سبحان اللہ معاذ شام تک اسی حالت میں لڑتے رہے ، جب ہاتھ کے لٹکنے سے تکلیف زیادہ ہونے لگی تو ہاتھ کو قدم کے نیچے دبا کر زور سے کھینچا کہ وہ تسمہ علیحدہ ہو گیا۔

صفحہ ۲۰۸

توہین رسالت ﷺ کی شرعی سزا

حضرت معاذ رضی اللہ عنہ حضرت عثمانؓ کے زمانہ خلافت تک زندہ رہے مگر معوذ بن عفراءؓ ابو جہل سے فارغ ہو کر لڑائی میں مشغول ہو گئے یہاں تک کہ جام شہادت نوش فرمایا۔ رضی اللہ تعالیٰ عنہ۔

ابوجہل کی لاش کی تلاش

ابوجہل اگرچہ زخمی ہو چکا تھا لیکن زندگی کی رمق ابھی تک باقی تھی۔ حضرت انسؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے بدر کے دن فرمایا کہ ہے کوئی ابوجہل کی خبر لائے۔ حضرت عبداللہ بن مسعودؓ نے جا کر لاشوں میں تلاش کیا دیکھا کہ ابھی اس میں کچھ رمق باقی ہے۔

یہ بخاری کی روایت ہے ابن اسحاق اور حاکم کی روایت میں ہے کہ حضرت ابن مسعودؓ نے ابوجہل کی گردن پر پاؤں رکھ کر یہ کہا:

اخزاك الله يا عدو الله۔

ذلیل اور رسوا کیا تجھ کو اللہ نے اے اللہ کے دشمن۔

اور بعد ازاں اس کا سر کاٹا اور رسول اللہ ﷺ کے قدموں پر لا کر ڈال دیا اور عرض کیا:

هذا رأس عدو الله ابى جهل۔

یہ اللہ کے دشمن ابوجہل کا سر ہے۔

آپ ﷺ نے فرمایا:

الله الذى لا اله الا هو۔

قسم ہے اس ذات کی جس کے سوا کوئی معبود نہیں کیا یہ ابوجہل ہی کا

صفحہ ۲۰۹

توہین رسالت ﷺ کی شرعی سزا

سر ہے؟

میں نے عرض کیا: نعم و الله الذی لا الہ غیرہ.

ہاں قسم ہے اس اللہ کی جس کے سوا کوئی معبود نہیں یہ ابو جہل ہی کا سر ہے۔

آپ ﷺ نے اللہ کا شکر کیا اور تین مرتبہ زبان مبارک سے یہ فرمایا: الحمد لله الذی اعز الاسلام واہلہ.

[فتح الباری ۷/۲۳۰]

تمام تعریفیں اس ذات پاک کے لیے ہیں جس نے اسلام کو اور اہل اسلام کی عزت بخشی۔

بعض روایات میں ہے کہ آپ ﷺ نے سجدہ شکر بھی ادا فرمایا۔

[عمدۃ القاری باب قتل ابی جہل]

اور ابن ماجہ کی روایت ہے کہ آپ ﷺ نے [اس شکر] میں ایک دوگانہ پڑھا۔

[البدایہ والنہایہ ۳/۲۸۹]

ایک روایت میں حضرت عبداللہ بن مسعودؓ سے مروی ہے کہ میں ابوجہل کے سینہ پر چڑھ کر بیٹھ گیا ابو جہل نے آنکھیں کھولیں اور کہا اے بکریوں کے چرانے والے تو بہت اونچے مقام پر چڑھ بیٹھا ہے میں نے کہا: الحمد لله الذی مکننی من ذلك.

حمد ہے اس ذات پاک کی جس نے مجھ کو یہ قدرت دی۔

پھر کہا کس کو فتح اور غلبہ نصیب ہوا میں نے کہا اللہ اور اس کے رسول

صفحہ ۲۱۰

توہین رسالت ﷺ کی شرعی سزا

ﷺ کو پھر کہا تیرا کیا ارادہ ہے۔ میں نے کہا تیرا سر قلم کرنے کا۔ کہا اچھا یہ میری تلوار ہے اس سے میرا سر کاٹنا یہ بہت تیز ہے تیری مراد اور مدعا کو جلد پورا کرے گی اور دیکھو میرا سر شانوں کے پاس سے کاٹنا تا کہ دیکھنے والوں کی نظروں میں مہیب ہیبت ناک معلوم ہو۔

اور جب محمد [ﷺ] کی طرف واپس ہو تو میرا یہ پیام پہنچا دینا کہ میرے دل میں بہ نسبت گزشتہ کے آج کے دن تمہاری عداوت اور بغض کہیں زیادہ ہے۔ ابن مسعودؓ فرماتے ہیں کہ بعد ازاں میں نے اس کا سر قلم کر کے اور اس کا سر لے کر آپ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا یا رسول اللہ یہ اللہ کے دشمن ابو جہل کا سر ہے اور اس کا پیام پہنچایا آپ ﷺ نے اللہ اکبر کہا اور فرمایا یہ میرا اور میری امت کا فرعون تھا۔ جس کا شر اور فتنہ موسیٰ علیہ السلام کے فرعون کے شر اور فتنہ سے کہیں بڑھ کر ہے۔ موسیٰ علیہ السلام کے فرعون نے تو مرتے وقت ایمان کا کلمہ پڑھا مگر اس امت کے فرعون نے مرتے وقت بھی کفر اور تکبر ہی کے کلمات کہے اور ابو جہل کی تلوار آپؐ نے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کو عطا فرمائی۔

جس طرح رسول اللہ ﷺ فضائل و کمالات میں تمام انبیاء و مرسلین [صلوات اللہ علیہم اجمعین] سے افضل و برتر تھے۔ اسی طرح آپ ﷺ کی امت کا فرعون تمام امم کے فراعنہ سے کفر اور شقاوت میں بڑھ کر تھا مرتے وقت بھی اس کی آنکھ نہ کھلی اور سکرات موت نے بھی اس کے کفر اور تکبر کو متزلزل نہ کیا بلکہ کفر اور تکبر میں اور اضافہ ہو گیا۔

[اعاذنا اللہ تعالیٰ من ذلک امین]

صفحہ ۲۱۱

توہین رسالت ﷺ کی شرعی سزا

۲: ابولہب

سب سے بڑا گستاخ اور موذی رسول ﷺ آپؐ کا چچا ابولہب ملعون تھا۔ جب اس نے آپ ﷺ کو ایذاء دی اور بنو ہاشم کی مدد نہ کی تو اس کی لعنت پر مشتمل قرآن میں ایک پوری سورت نازل ہوئی اور نام لے کر اس کو وعید سنائی گئی۔ یہ ایسی رسوائی ہے جس سے دیگر کفار دوچار نہیں ہوئے۔ جیسا کہ حضرت ابن عباس سے مروی ہے کہ ابولہب اپنی قوم کے کفار میں سے تھا جب ہمارے خلاف قریش متحد ہو گئے تو ہم سے الگ ہو گیا اور ہمارے اعداء کی پشت پناہی کرنے لگا اس لیے اللہ تعالی نے قرآن میں اس کا نام لے کر مذمت کی چنانچہ ملاحظہ ہو۔

﴿تَبَّتْ يَدَآ اَبِيْ لَهَبٍ وَّتَبَّ O مَآ اَغْنٰى عَنْهُ مَالُهٗ وَمَا كَسَبَ O سَيَصْلٰى نَارًا ذَاتَ لَهَبٍ O وَامْرَاَتُهٗ حَمَّالَةَ الْحَطَبِ O فِىْ جِيْدِهَا حَبْلٌ مِّنْ مَّسَدٍ﴾

[سورة لهب]

ٹوٹ گئے ابولہب کے ہاتھ اور نامراد ہو گیا وہ اس کا مال اور جو کچھ اس نے کمایا وہ اس کے کسی کام نہ آیا ضرور وہ شعلہ زن آگ میں ڈالا جائے گا اور [اس کے ساتھ] اس کی جورو بھی لگائی بجھائی کرنے والی۔ اس کی گردن میں مونجھ کی رسی ہو گی۔

یہ سورہ لہب مکی ہے لیکن ٹھیک ٹھیک یہ متعین کرنا مشکل ہے کہ مکی دور کے کسی زمانے میں نازل ہوئی تھی۔ البتہ ابولہب کا جو کردار رسول اللہ ﷺ اور آپ ﷺ کی دعوتِ حق کے خلاف تھا اس کو دیکھتے ہوئے یہ اندازہ کیا

صفحہ ۲۱۲

توہین رسالت ﷺ کی شرعی سزا

جاسکتا ہے کہ اس سورہ کا نزول اس زمانے میں ہوا ہوگا جب وہ نبی مکرم ﷺ کی عداوت میں حد سے گزر گیا تھا اور اس کا رویہ اسلام کی راہ میں ایک بڑی رکاوٹ بن رہا تھا۔ بعید نہیں کہ اس کا نزول اس زمانے میں ہوا ہو جب رسول اللہ ﷺ اور آپؐ کے خاندان والوں کا مقاطعہ کر کے قریش کے لوگوں نے ان کو شعب ابی طالب میں محصور کر دیا تھا اور تنہا ابولہب ہی ایسا شخص تھا جس نے اپنے خاندان والوں کو چھوڑ کر دشمنوں کا ساتھ دیا تھا۔ ہمارے اس قیاس کی بنا یہ ہے کہ ابولہب رسول اللہ ﷺ کا چچا تھا اور بھتیجے کی زبان سے چچا کی کھلم کھلا مذمت کرانا اس وقت تک مناسب نہ ہو سکتا تھا جب تک چچا کی حد سے گزری ہوئی زیادتیاں علانیہ سب کے سامنے نہ آگئی ہوں۔ اس سے پہلے اگر ابتداء ہی میں سورہ نازل کر دی گئی ہوتی تو لوگ اس کو اخلاقی حیثیت سے معیوب سمجھتے کہ بھتیجا اپنے چچا کی اس طرح مذمت کرے۔

پس منظر

قرآن مجید میں ایک ہی مقام ہے جہاں دشمنان اسلام میں سے کسی شخص کا نام لے کر اس کی مذمت کی گئی ہے حالانکہ مکہ میں اور ہجرت کے بعد مدینہ میں بھی بہت سے لوگ ایسے تھے جو اسلام اور حضرت محمد ﷺ کی عداوت میں ابولہب سے کسی طرح کم نہ تھے سوال یہ ہے کہ اس شخص کی وہ کیا خصوصیت تھی جس کی بنا پر اس کا نام لے کر مذمت کی گئی؟ اس بات کو سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ اس وقت کے عربی معاشرے کو سمجھا جائے اور اس میں ابولہب کے کردار کو دیکھا جائے۔

صفحہ ۲۱۳

توہین رسالت ﷺ کی شرعی سزا

قدیم زمانے میں چونکہ پورے ملک عرب میں ہر طرف بدامنی غارت گری اور طوائف الملوکی پھیلی ہوئی تھی اور صدیوں سے یہ حالت تھی کہ کسی شخص کے لیے اس کے اپنے خاندان اور خونی رشتہ داروں کی حمایت کے سوا جان و مال اور عزت و آبرو کے تحفظ کی کوئی ضمانت نہ تھی۔ اس لیے عربی معاشرے کی اخلاقی قدروں میں صلہ رحمی [یعنی رشتہ داروں کے ساتھ حسن سلوک] کو بڑی اہمیت حاصل تھی اور قطع رحمی کو بہت بڑا گناہ سمجھا جاتا تھا۔ عرب کی انہی روایات کا یہ اثر تھا کہ رسول اللہ ﷺ جب اسلام کی دعوت لے کر اٹھے تو قریش کے دوسرے خاندانوں اور ان سرداروں نے تو رسول اللہ ﷺ کی شدید مخالفت کی مگر بنی ہاشم اور بنی المطلب [ہاشم کے بھائی مطلب کی اولاد] نے نہ صرف یہ کہ آپ کی مخالفت نہیں کی بلکہ وہ کھلم کھلا آپ کی حمایت کرتے رہے حالانکہ اس میں سے اکثر لوگ آپ ﷺ کی نبوت پر ایمان نہیں لائے تھے۔ قریش کے دوسرے خاندان خود بھی رسول اللہ ﷺ کے ان خونی رشتہ داروں کی حمایت کو عرب کی اخلاقی روایات کے عین مطابق سمجھتے تھے۔ اسی وجہ سے انہوں نے کبھی بھی بنو ہاشم اور بنی المطلب کو یہ طعنہ نہیں دیا کہ تم ایک دوسرا دین پیش کرنے والے شخص کی حمایت کر کے اپنے آبائی دین سے منحرف ہو گئے ہو وہ اس بات کو جانتے اور مانتے تھے کہ اپنے خاندان کے ایک فرد کو وہ کسی حالت میں اس کے دشمنوں کے حوالے نہیں کر سکتے اور ان کا اپنے عزیز کی پشت پناہی کرنا قریش اور اہل عرب سب کے نزدیک بالکل ایک فطری امر تھا۔

اس اخلاقی اصول کو جسے زمانہ جاہلیت میں بھی عرب کے لوگ واجب الاحترام سمجھتے تھے صرف ایک شخص نے اسلام کی دشمنی میں توڑ ڈالا اور وہ تھا ابو

صفحہ ۲۱۴

توہین رسالت ﷺ کی شرعی سزا

لہب بن عبدالمطلب‘ یہ رسول اللہ ﷺ کا چچا تھا رسول اللہ ﷺ کے والد ماجد اور یہ ایک باپ کے بیٹے تھے۔ عرب میں چچا کو باپ کی جگہ سمجھا جاتا تھا خصوصاً جبکہ بھتیجے کا باپ وفات پاچکا ہو تو عربی معاشرے میں چچا سے یہ توقع کی جاتی تھی کہ وہ بھتیجے کو اپنی اولاد کی طرح عزیز رکھے گا لیکن اس شخص نے اسلام کی دشمنی اور کفر کی محبت میں ان تمام عربی روایات کو پامال کر دیا۔

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے متعدد سندوں کے ساتھ یہ روایت محدثین نے نقل کی ہے کہ جب رسول اللہ ﷺ کو دعوت عام پیش کرنے کا حکم دیا گیا۔ اور قرآن مجید میں یہ ہدایت نازل ہوئی کہ آپ ﷺ اپنے قریب ترین عزیزوں کو سب سے پہلے اللہ کے عذاب سے ڈرائیں تو آپ ﷺ نے صبح سویرے کوہ صفا پر چڑھ کر بلند آواز سے پکارا ” یاصباحاہ‘ [ہائے صبح کی آفت] عرب میں یہ صدا وہ شخص لگاتا تھا جو صبح کے جھٹ پٹے میں کسی دشمن کو اپنے قبیلہ پر حملہ کرنے کے لیے دیکھ لیتا تھا۔ رسول اللہ ﷺ کی یہ آواز سن کر لوگوں نے دریافت کیا کہ یہ کون پکار رہا ہے بتایا گیا کہ یہ محمد ﷺ کی آواز ہے اس پر قریش خاندان کے تمام لوگ آپ ﷺ کی طرف دوڑ پڑے جو خود آسکتا تھا وہ خود آیا اور جو نہ آسکتا تھا اس نے اپنی طرف سے کسی کو بھیج دیا جب سب جمع ہو گئے تو آپ ﷺ نے قریش کے ایک ایک خاندان کا نام لے لے کر پکارا اے بنی ہاشم‘ اے بنی عبدالمطلب‘ اے بنی فہر‘ اے بنی فلاں‘ اے بنی فلاں! اگر میں تمہیں یہ بتاؤں کہ پہاڑ کے پیچھے ایک لشکر تم پر حملہ کرنے کے لیے تیار ہے تو کیا تم میری بات سچ مانو گے؟ لوگوں نے کہا ہاں ہمیں کبھی تم سے جھوٹ سننے کا تجربہ نہیں ہوا ہے آپ ﷺ نے فرمایا تو میں تمہیں خبردار کرتا ہوں

توہین رسالت ﷺ کہ آگے سخت عذاب آر کے اپنے چچا ابولہب نے اس لیے تو نے ہمیں جمع ک اٹھایا تا کہ رسول ﷺ پر

ابن زید کی رو پوچھا اگر میں تمہارے د اور سب ایمان والوں کو رسول اللہ ﷺ نے فرما تَبّاً اَنْ اَكُوْنَ وَهُؤُلَاءِ جس میں میں اور یہ دوسر

مکہ میں ابولہب گھر ایک دیوار بیچ واقع بن ابی معیط‘ عدی بن حمر تھے۔ یہ لوگ گھر میں بھ ﷺ کبھی نماز پڑھ پھینک دیتے کبھی مح رسول اللہ ﷺ باہر ہمسائیگی ہے۔ ابولہب وطیرہ ہی اختیار کر رکھا

صفحہ ۲۱۵

توہین رسالت ﷺ کی شرعی سزا

کہ آگے سخت عذاب آ رہا ہے اس پر قبل اس کے کہ کوئی اور بولتا رسول اللہ ﷺ کے اپنے چچا ابولہب نے کہا: تَبّاً لَكَ أَلِهَذَا جَمَعْتَنَا ستیاناس ہو جائے تیرا کیا اس لیے تو نے ہمیں جمع کیا ہے۔ ایک روایت میں یہ بھی ہے کہ اس نے پتھر اٹھایا تا کہ رسول ﷺ پر کھینچ مارے۔

[مسند احمد، بخاری، مسلم، ترمذی، ابن جریر وغیرہ]

ابن زید کی روایت ہے کہ ابولہب نے رسول ﷺ سے ایک روز پوچھا اگر میں تمہارے دین کو مان لوں تو مجھے کیا ملے گا۔ آپ ﷺ نے فرمایا جو اور سب ایمان والوں کو ملے گا۔ اس نے کہا میرے کوئی فضیلت نہیں ہے؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اور آپ کیا چاہتے ہیں؟ اس پر وہ بولا تَبّاً لِهَذَا الدِّینِ تَبّاً أَنْ أَكُوْنَ وَهُؤُلَاءِ سَوَاءً . [ابن جریر ۳۳۶/۱۵] ستیاناس ہو جائے اس دین کا جس میں میں اور یہ دوسرے لوگ برابر ہوں۔

مکہ میں ابولہب رسول اللہ ﷺ کا قریب ترین ہمسایہ تھا دونوں کے گھر ایک دیوار بیچ واقع تھے۔ اس کے علاوہ حکم بن عاص [مروان کا باپ] عقبہ بن ابی معیط، عدی بن حمراء اور ابن الاصداء الہذلی بھی آپ ﷺ کے ہمسائے تھے۔ یہ لوگ گھر میں بھی رسول اللہ ﷺ کو چین نہیں لینے دیتے تھے۔ آپ ﷺ کبھی نماز پڑھ رہے ہوتے تو یہ اوپر سے بکری کا اوجھ آپ ﷺ پر پھینک دیتے کبھی صحن میں کھانا پک رہا ہوتا یہ ہنڈیا پر غلاظت پھینک دیتے۔ رسول اللہ ﷺ باہر نکل کر ان لوگوں سے فرماتے اے بنی عبد مناف یہ کیسی ہمسائیگی ہے۔ ابولہب کی بیوی ام جمیل [ابوسفیان کی بہن] نے تو یہ مستقل وطیرہ ہی اختیار کر رکھا تھا کہ راتوں کو آپ ﷺ کے گھر کے دروازے پر خاردار

صفحہ ۲۱۶

توہین رسالت ﷺ کی شرعی سزا

جھاڑیاں لا کر ڈال دیتی تا کہ صبح سویرے جب آپ یا آپ کے بچے باہر نکلیں تو کوئی کانٹا پاؤں میں چبھ جائے۔

[بیہقی ۔ ابن ابی حاتم ۔ ابن جریر ۔ ابن عساکر ۔ ابن ہشام]

نبوت سے پہلے رسول ﷺ کی دو صاحبزادیاں ابولہب کے دو بیٹوں عتبہ اور عتیبہ سے بیاہی ہوئی تھیں ۔ نبوت کے بعد جب رسول اللہ ﷺ نے اسلام کی طرف دعوت دینی شروع کی تو اس شخص نے اپنے دونوں بیٹوں سے کہا کہ میرے لیے تم سے ملنا حرام ہے اگر تم محمد ﷺ کی بیٹیوں کو طلاق نہ دے دو چنانچہ دونوں نے طلاق دے دی اور عتیبہ تو جہالت میں اس قدر آگے بڑھ گیا ایک روز رسول اللہ ﷺ کے سامنے آکر اس نے کہا کہ میں وَالنَّجْمِ إِذَا هَوَى اور اَلَّذِیْ دَنَا فَتَدَلّٰى کا انکار کرتا ہوں اور یہ کہہ کر اس نے رسول اللہ ﷺ کی طرف تھوکا جو آپ ﷺ پر نہیں پڑا ۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا خدایا اس پر اپنے کتوں میں سے ایک کتے کو مسلط کر دے اس کے بعد عتیبہ اپنے باپ کے ساتھ شام کے سفر پر روانہ ہو گیا ۔ دوران سفر ایک ایسی جگہ پر قافلے نے پڑاؤ کیا جہاں مقامی لوگوں نے بتایا کہ درندے راتوں کو آتے ہیں۔ ابولہب نے اپنے ساتھی اہل قریش سے کہا کہ میرے بیٹے کی حفاظت کا کچھ انتظام کرو کیونکہ مجھے محمد ﷺ کی بددعا کا خوف ہے ۔ اس پر قافلے والوں نے عتیبہ کے گرد ہر طرف اپنے اونٹ بٹھادیئے اور سوگئے ۔ رات کو ایک شیر آیا اور اونٹوں کے حلقہ میں سے گزر کر اس نے عتیبہ کو پھاڑ کھایا۔

[الاستیعاب لابن عبدالبر۔ الاصابہ لابن حجر ، دلائل النبوۃ لابی نعیم الاصفہانی، الروض الانف

للسہیلی ]

صفحہ 217

توہین رسالت ﷺ کی شرعی سزا روایات میں یہ اختلاف ہے کہ بعض راوی طلاق کے معاملے کے اعلان نبوت کے بعد کا واقعہ بیان کرتے ہیں اور بعض کہتے ہیں کہ یہ ’’تَبَّتْ يَدَا أَبِي لَهَبٍ ‘‘ کے نزول کے بعد پیش آیا تھا اس امر میں بھی اختلاف ہے کہ یہ ابولہب کا لڑکا عتبہ تھا یا عتیبہ تھا لیکن یہ بات ثابت ہے کہ فتح مکہ کے بعد عتبہ نے اسلام قبول کر کے رسول اللہ ﷺ کے دست مبارک پر بیعت کر لی۔ اس لیے صحیح بات یہی ہے کہ یہ لڑکا عتیبہ تھا۔ اس کے خبیث نفس کا یہ حال تھا جب رسول ﷺ کے صاحبزادے حضرت قاسم کے بعد دوسرے صاحبزادے حضرت عبداللہ کا بھی انتقال ہو گیا یہ اپنے بھتیجے کے غم میں شریک ہونے کی بجائے خوشی خوشی دوڑا ہوا قریش کے سرداروں کے پاس پہنچا اور ان کو خبر دی کہ لو آج محمد ﷺ بے نام ونشان ہو گئے۔

رسول اللہ ﷺ جہاں بھی اسلام کی دعوت دینے کے لیے تشریف لے جاتے تو ابولہب آپ ﷺ کے پیچھے پیچھے جاتا اور لوگوں کو آپ ﷺ کی بات سننے سے روکتا۔ ربیعہ بن عباد الدیلی بیان کرتے ہیں کہ میں نو عمر تھا اپنے باپ کے ساتھ ذوالمجاز کے بازار میں گیا۔ وہاں میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا کہ آپ ﷺ کہہ رہے تھے کہ لوگو اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں فلاح پاؤ گے اور آپ ﷺ کے پیچھے پیچھے ایک شخص کہتا جا رہا تھا یہ جھوٹا ہے دین آبائی سے پھر گیا ہے میں نے پوچھا یہ کون شخص ہے لوگوں نے کہا یہ ان کا چچا ابولہب ہے۔

[السيرة النبوية ٤٦٢/١]

دوسری روایت انہی حضرت ربیعہ سے یہ ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا کہ آپ ایک ایک قبیلے کے پڑاؤ پر جاتے اور فرماتے ہیں۔ اے بنی فلاں میں تمہاری طرف اللہ کا رسول ہوں تمہیں ہدایت کرتا ہوں کہ صرف اللہ کی

صفحہ ۲۱۸

توہین رسالت ﷺ کی شرعی سزا

عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو۔ تم میری تصدیق کرو اور میرا ساتھ دو، تاکہ میں وہ کام پورا کروں جس کے لیے اللہ نے مجھے بھیجا ہے آپ ﷺ کے پیچھے پیچھے ایک اور شخص آتا ہے اور وہ کہتا ہے کہ اے بنی فلاں یہ تم کو لات اور عزیٰ سے پھیر کر اس بدعت اور گمراہی کی طرف لے جانا چاہتا ہے جسے یہ لے کر آیا ہے اس کی بات ہرگز نہ مانو اور اس کی پیروی نہ کرو میں نے اپنے باپ سے پوچھا کہ یہ کون ہے؟ انہوں نے کہا یہ ان کا چچا ابولہب ہے۔

[مسند احمد ٤٩٢/٢ ۔ طبرانی ٥٥/٥]

طارق بن عبداللہ المحاربی کی روایت بھی اس سے ملتی جلتی ہے وہ کہتے ہیں میں نے ذوالمجاز کے بازار میں دیکھا کہ رسول اللہ ﷺ لوگوں سے کہتے جاتے ہیں کہ لوگو ”لا الہ الا اللہ“ کہو فلاح پاؤ گے اور پیچھے ایک شخص ہے جو پتھر مار رہا ہے یہاں تک کہ آپ ﷺ کی ایڑیاں خون سے تر ہو گئی ہیں وہ کہتا جاتا ہے کہ یہ جھوٹا ہے اس کی بات نہ مانو میں نے لوگوں سے پوچھا یہ کون ہے لوگوں نے کہا ان کا چچا ابولہب ہے۔

[طبرانی کبیر ٣٧٦/٨]

نبوّت کے ساتویں سال جب قریش خاندان کے تمام خاندانوں نے بنی ہاشم اور بنی المطلب کا معاشرتی اور معاشی مقاطعہ کیا اور یہ دونوں خاندان رسول ﷺ کی حمایت پر ثابت قدم رہتے ہوئے شعب ابی طالب میں محصور ہو گئے تو تنہا یہی ابولہب تھا جس نے اپنے خاندان کا ساتھ دینے کے بجائے کفار قریش کا ساتھ دیا یہ مقاطعہ تین سال تک رہا اور اس دوران میں بنو ہاشم اور بنی المطلب پر فاقوں کی نوبت آ گئی مگر ابولہب کا حال یہ تھا کہ جب مکہ میں کوئی تجارتی قافلہ آتا اور شعب ابی طالب کے محصورین میں سے کوئی

صفحہ ۲۱۹

توہین رسالت ﷺ کی شرعی سزا

خوراک کا سامان خریدنے کے لیے اس کے پاس جاتا تو یہ تاجروں سے پکار کر کہتا کہ ان سے اتنی قیمت مانگو کہ یہ خرید نہ سکیں۔ تمہیں جو خسارہ بھی ہوگا اسے میں پورا کروں گا۔ چنانچہ وہ بے تحاشا قیمت طلب کرتے اور خریدار بیچارہ اپنے بھوک سے تڑپتے ہوئے بال بچوں کے ساتھ خالی ہاتھ پلٹ جاتا۔ پھر ابولہب انہیں تاجروں سے وہی چیزیں بازار کے بھاؤ خرید لیتا۔

[ابن سعد وابن ہشام]

یہ اس شخص کی حرکات تھیں جن کی بنا پر اس سورت میں نام لے کر اس کی مذمت کی گئی خاص طور پر اس کی ضرورت اس لیے تھی کہ مکہ سے باہر کے اہل عرب جو حج کے لیے آتے یا مختلف مقامات پر لگنے والے بازاروں میں جمع ہوتے ان کے سامنے جب رسول اللہ ﷺ کا اپنا چچا آپ ﷺ کے پیچھے لگ کر آپ ﷺ کی مخالفت کرتا تو وہ عرب کی معروف روایات کے لحاظ سے یہ بات خلاف توقع سمجھتے کہ کوئی چچا بلا وجہ دوسروں کے سامنے خود اپنے بھتیجے کو برا بھلا کہے اور اسے پتھر مارے اور اس پر الزام تراشیاں کرے اس وجہ سے وہ ابولہب کی بات سے متاثر ہوکر رسول اللہ ﷺ کے بارے میں شک میں پڑ جاتے مگر جب یہ سورہ نازل ہوئی اور ابولہب نے غصے میں بپھر کر اول فول بکنا شروع کردیا تو لوگوں کو معلوم ہوگیا کہ رسول اللہ ﷺ کی مخالفت میں اس شخص کا قول قابل اعتبار نہیں ہے کیونکہ یہ اپنے بھتیجے کی دشمنی میں دیوانہ ہورہا ہے۔

اس کے علاوہ نام لے کر جب آپ ﷺ کے چچا کی مذمت کی گئی تو لوگوں کی یہ توقع ہمیشہ کے لئے ختم ہوگئی کہ رسول اللہ ﷺ دین کے معاملے میں کسی کا لحاظ کرکے کوئی مداہنت برت سکتے ہیں جب علی الاعلان رسول ﷺ

صفحہ 220

توہین رسالت ﷺ کی شرعی سزا

کے اپنا چچا کی خبر لے ڈالی گئی تو لوگ سمجھ گئے کہ یہاں لاگ لپٹ کی گنجائش نہیں ہے۔ غیر اپنا ہو سکتا ہے اگر ایمان لے آئے اور اپنا غیر ہو جاتا ہے اگر کفر کرے اس معاملہ میں فلاں ابن فلاں کوئی چیز نہیں ہے۔

ابولہب کی عبرتناک موت

اس گستاخ رسول کو اللہ تعالیٰ نے موت بھی بڑی ذلت آمیز دی ہے۔ ابولہب ملعون نے رسول اللہ ﷺ کی دعوت کو ترک کرنے کے لیے واقعی اپنا پورا زور لگا دیا تھا لیکن اس سورہ کے نزول پر سات آٹھ سال ہی گزرے تھے کہ جنگ بدر میں قریش کے اکثر و بیشتر وہ بڑے بڑے سردار مارے گئے جو اسلام کی دشمنی میں ابولہب کے ساتھ تھی۔ مکہ میں جب اس شکست کی خبر پہنچی تو اس کو اتنا رنج ہوا کہ وہ سات دن سے زیادہ زندہ نہیں رہ سکا پھر اس کی موت بھی نہایت عبرتناک تھی۔ اسے عدسہ [طاعون] کی بیماری ہو گئی جس کی وجہ سے اس کے گھر والوں نے اسے چھوڑ دیا کیونکہ انہیں اچھوت لگنے کا ڈر تھا۔ مرنے کے بعد بھی تین روز تک کوئی اس کے پاس نہ آیا یہاں تک کہ اس کی لاش سڑ گئی اور بو پھیلنے لگی آخر کار جب لوگوں نے اس کے بیٹوں کو طعنے دینے شروع کئے تو ایک روایت یہ ہے کہ انہوں نے کچھ حبشیوں کو اجرت دے کر اس کی لاش اٹھوائی اور انہی مزدوروں نے اس کو دفن کیا اور دوسری روایت یہ ہے کہ انہوں نے ایک گڑھا کھدوایا اور لکڑیوں سے اس کی لاش دھکیل کر اس میں پھینکا اور اوپر سے مٹی پتھر ڈال کر اسے ڈھانک دیا اس کی مزید اور مکمل شکست اس طرح ہوئی کہ جس دین کی راہ روکنے کے لیے اس نے ایڑی چوٹی کا زور لگایا تھا

صفحہ ۲۲۱

توہین رسالت ﷺ کی شرعی سزا

اسی دین کو اس کی اولاد نے قبول کیا سب سے پہلے اس کی بیٹی درّہ ہجرت کر کے مکہ سے مدینہ پہنچیں اور اسلام لائیں پھر فتح مکہ کے موقع پر اس کے دونوں بیٹے عتبہ اور معتب حضرت عباس کی وساطت سے حضور کے سامنے پیش ہوئے اور ایمان لاکر انہوں نے آپ ﷺ کے دست مبارک پر بیعت کی۔

۳:۔ اُمیّہ بن خلف

امیہ بن خلف آپ ﷺ کو علی الاعلان گالیاں دیتا اور جب آپ ﷺ اس کے پاس سے گزرتے تو آنکھیں مٹکاتا اس پر یہ سورہ نازل ہوئی۔

﴿ وَيْلٌ لِّكُلِّ هُمَزَةٍ لُّمَزَةٍ O اَلَّذِيْ جَمَعَ مَالًا وَّعَدَّدَهٗ O يَحْسَبُ اَنَّ مَالَهٗ اَخْلَدَهٗ O كَلَّا لَيُنْبَذَنَّ فِي الْحُطَمَةِ O وَمَا اَدْرٰكَ مَا الْحُطَمَةُ O نَارُ اللّٰهِ الْمُوْقَدَةُ O اَلَّتِيْ تَطَّلِعُ عَلَى اَلْاَفْئِدَةِ O اِنَّهَا عَلَيْهِم مُّؤْصَدَةٌ O فِيْ عَمَدٍ مُّمَدَّدَةٍ ﴾

[سورة همزة]

[الاصابہ ٤٥٥/٢]

”تباہی ہے ہر اس شخص کے لیے جو [منہ در منہ] لوگوں پر طعن اور [پیٹھ پیچھے] برائیاں کرنے کا خوگر ہے۔ جس نے مال جمع کیا اور اسے گن گن کر رکھا وہ سمجھتا ہے کہ اس کا مال ہمیشہ اس کے پاس رہے گا ہر گز نہیں وہ چکنا چور کر دینے والی جگہ پھینک دیا جائے گا اور تم کیا جانو کہ کیا ہے وہ چکنا چور کر دینے والی جگہ؟ اللہ کی آگ خوب بھڑکائی ہوئی جو دلوں تک پہنچے گی وہ ان پر ڈھانک کر بند کر دی جائے گی [اس حالت میں کہ وہ] اونچے اونچے ستونوں میں

صفحہ ۲۲۲

توہین رسالت ﷺ کی شرعی سزا

گھرے ہوئے ہوں گے۔‘‘

جس وقت جنگ بدر کا کوئی وہم و گمان بھی نہ تھا اس وقت سعد بن معاذ ؓ کی زبانی مکہ ہی میں اپنے قتل کی پیشین گوئی سن چکا تھا۔ اس لیے بدر کے موقع پر جنگ میں شریک ہونے سے گریز کرتا تھا۔ ابو جہل نے یہ کہہ کر ”أَدْرِكُوْا عِيْرَكُمْ“ اپنے تجارتی قافلہ کی خبر لو [یعنی قافلہ ابو سفیان] لوگوں کو جنگ کے لیے آمادہ کیا امیہ نے پہلو تہی کی ابو جہل نے کہا اے صفوان آپ اس وادی کے سردار ہیں آپ کی پہلو تہی کو دیکھ کر دوسرے لوگ بھی پہلو تہی کریں گے۔ ابو جہل برابر اصرار کرتا رہا امیہ جب مجبور ہو گیا تو یہ کہا کہ خدا کی قسم میں ایک نہایت عمدہ تیز رؤ اونٹ خریدوں گا۔ تاکہ جب موقع ملے تو راستہ ہی سے واپس آجاؤں اور اپنی بیوی ام صفوان سے جاکر کہا کہ سفر کا سامان تیار کردے۔ ام صفوان نے کہا کیا تم کو اپنے یثربی بھائی کا قول [کہ تم محمد ﷺ کے اصحاب کے ہاتھ سے مارے جاؤ گے] یاد نہیں رہا‘ امیہ نے کہا نہیں خوب یاد ہے۔ میرا ارادہ جانے کا نہیں تھوڑی دور تک ساتھ جاتا ہوں اور پھر موقع پا کر واپس ہو جاؤں گا اسی طرح تمام منزلیں طے کرتا ہوا بدر تک پہنچ گیا۔

[بخاری باب من یقتل ببدر فتح الباری ۳۲۱/۷]

جب بدر کے میدان میں آیا تو بلال ؓ کی نظر پڑی جن کو امیہ مکہ میں گرم پتھروں پر لٹایا کرتا تھا۔ حضرت بلال ؓ نے امیہ کو دیکھتے ہی انصار کو پکارا۔

حضرت عبد الرحمن بن عوف ؓ زمانہ جاہلیت سے امیہ کے دوست تھے وہ چاہتے تھے کہ امیہ قتل نہ ہو بلکہ گرفتار اور اسیر ہو جائے۔ شائد اللہ تعالی اس بہانہ سے اس کو ہدایت نصیب فرمائے اور ہمیشہ کے لیے عذاب سے نجات پائے۔

صفحہ ۲۲۳

توہین رسالت ﷺ کی شرعی سزا

عبدالرحمن بن عوفؓ کے ہاتھ میں کچھ زرہیں تھیں جو کافروں سے چھینی تھیں ان کو زمین پر ڈال دیا اور امیہ اور اس کے بیٹے کا ہاتھ پکڑ لیا۔ حضرت بلال نے دیکھ کر آواز دی پکڑو کفر کے سردار امیہ کو نہ بچوں میں اگر امیہ بچ جائے انصار یہ آواز سنتے ہی دوڑے۔ حضرت عبدالرحمنؓ نے امیہ کے بیٹے کو آگے کر دیا انصار نے اس کو قتل کر دیا اور امیہ کی طرف دوڑے۔ عبدالرحمن امیہ کے اوپر لیٹ گئے مگر انصار نے اسی حالت میں پاؤں کے نیچے سے تلواریں چلا کر امیہ کو قتل کیا جس سے عبدالرحمن کے پیر پر زخم آیا اور مدتوں تک اس زخم کا نشان باقی رہا۔

[السيرة النبوية لابن كثير ۲/ ۳۳۸]

عبدالرحمنؓ فرمایا کرتے تھے خدا بلالؓ پر رحم فرمائے میری زرہیں بھی گئیں اور میرے قیدی بھی ہاتھ سے گئے۔

۴:۔ اُبی بن خلف

ابی بن خلف بھی اپنے بھائی امیہ بن خلف کے قدم بقدم تھا۔ ایک روز بوسیدہ ہڈی لے کر آپﷺ کے پاس آیا اور اس کو ہاتھ میں مل کر اور اس کی خاک کو ہوا میں اڑا کر کہنے لگا کیا اللہ اس کو پھر زندہ کرے گا؟ آپﷺ نے فرمایا ہاں اس کو اور تیری ہڈیوں کو ایسا ہو جانے کے بعد اللہ پھر زندہ کرے گا اور تجھ کو آگ میں ڈالے گا۔ اس پر سورہ یس کی یہ آیت نازل ہوئی ”وَضَرَبَ لَنَا مَثَلًا وَّنَسِیَ خَلْقَهٗ“ تا آخر سورۃ۔

ابی بن خلف جنگ احد میں رسول اللہﷺ کے ہاتھ سے مارا گیا۔

[تاریخ ابن الاثیر ۶۶/۲ وابن ہشام ۱۶۶/۱ باب من قتل من المشركين يوم احد]

صفحہ 224

توہین رسالت ﷺ کی شرعی سزا

۵: عقبہ بن ابی معیط

یہ شخص رسول اللہ ﷺ کے شدید ترین دشمنوں میں سے تھا۔ بدزبان اور دریدہ دہن تھا۔ قول اور فعل سے آپ ﷺ کی تذلیل اور توہین سب و شتم میں استہزاء اور تمسخر میں ہاتھ اور زبان سے ایذاء رسانی میں کوئی دقیقہ نہ اٹھا رکھا تھا۔ ایسا ہی ایک اور شخص تھا جس کا نام نضر بن حارث تھا وہ بھی بڑا موذی اور گستاخ رسول تھا اس لیے خاص طور پر جنگ بدر کے تمام قیدیوں میں سے صرف ان دونوں کی گردن مارنے کا حکم دیا۔ اسی عقبہ بن ابی معیط نے جب کہ آپ ﷺ بارگاہ خداوندی میں سربسجود تھے آپ ﷺ کی پشت مبارک پر اونٹ کی اوجھ لا کر رکھی تھی اور آپ کا گلا گھونٹا تھا۔ دلائل ابی نعیم میں صحیح سند کے ساتھ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ اس گستاخ نے رسول اللہ ﷺ کے چہرہ انور پر تھوکا بھی تھا جس کی اسے فوری سزا بھی مل گئی تھی چنانچہ ملاحظہ ہو۔

سورة الفرقان میں یہ آیت ہے۔ ’’ يَقُوْلُ يَالَيْتَنِى لَمْ اَتَّخِذْ فُلَانًا خَلِيْلًا‘‘ مفسرین حضرات لکھتے ہیں کہ یہ آیت ایک خاص واقعہ میں نازل ہوئی ہے واقعہ یہ ہے کہ عقبہ بن ابی معیط مکہ کے مشرک سرداروں میں سے تھا اس کی عادت تھی کہ جب کسی سفر سے واپس آتا تو شہر کے معزز لوگوں کی دعوت کرتا اور اکثر رسول اللہ ﷺ سے بھی ملا کرتا تھا ایک مرتبہ اس نے حسب عادت معززین شہر کی دعوت کی اور رسول اللہ ﷺ کو بھی بلایا جب اس نے آپ ﷺ کے سامنے کھانا رکھا تو آپ ﷺ نے فرمایا میں تمہارا کھانا اس

صفحہ 225

توہین رسالت ﷺ کی شرعی سزا

وقت تک نہیں کھا سکتا جب تک تم اس کی گواہی نہ دو کہ اللہ تعالیٰ ایک ہے اس کا کوئی شریک عبادت نہیں ہے اور یہ کہ میں اللہ تعالیٰ کا رسول ہوں۔ عقبہ نے یہ کلمہ پڑھ لیا اور رسول اللہ ﷺ نے شرط کے مطابق کھانا تناول فرمالیا۔

عقبہ کا ایک گہرا دوست ابی بن خلف تھا جب اس کو خبر لگی کہ عقبہ مسلمان ہو گیا تو یہ بہت برہم ہوا عقبہ نے عذر کیا کہ قریش کے معزز مہمان محمد ﷺ میرے گھر پر آئے ہوئے تھے اگر وہ بغیر کھانا کھائے میرے گھر سے چلے جاتے تو میرے لئے بڑی رسوائی ہوتی اس لیے میں نے ان کی خاطر سے یہ کلمہ کہہ لیا۔ ابی بن خلف نے کہا میں تیری ایسی باتوں کو قبول نہیں کروں گا جب تک تو جا کر ان کے منہ پر نہ تھوکے۔ یہ کمبخت دوست کے کہنے سے اس گستاخی پر آمادہ ہو گیا اور کر گزرا اللہ تعالیٰ نے فوری یہ سزا دی کہ اس کا تھوک چہرہ انور پر تو نہیں گرا بلکہ الٹا اسی کے چہرہ پر آ گرا جس سے اس کا چہرہ جل گیا اور وہ چیخنے چلانے لگا پھر مرنے تک اس کے چہرہ پر جلنے کے نشانات قائم رہے۔

عقبہ جنگ بدر میں گرفتار ہوا اور مقام صفراء میں پہنچ کر اس کی گردن حضرت عاصم بن ثابت انصاریؓ نے اڑا دی۔

[السيرة النبوية لابن كثير ٤٧٣/٢]

بے دین دوستوں کی دوستی کا انجام

مذکورہ واقعہ سے یہ سبق ملتا ہے کہ غلط کار اور بے دین دوستوں کی دوستی قیامت کے روز حسرت و ندامت کا باعث ہوگی جو دو دوست کسی معصیت

صفحہ ۲۲۶

توہین رسالت ﷺ کی شرعی سزا

اور گناہ پر جمع ہوں خلاف شرع امور میں ایک دوسرے کی اعانت کرتے ہوں ان سب کا یہی حکم ہے کہ قیامت کے روز اس گہرے دوست کی دوستی پر روئیں گے۔ مسند احمد، ترمذی، ابوداؤد وغیرہ نے حضرت ابوسعید خدریؓ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: لَا تُصَاحِبْ إِلَّا مُؤْمِنًا وَلَا يَأْكُلْ مَالَكَ إِلَّا تَقِيٌّ .

[ابن حبان ٣١٤/٢]

کسی غیر مسلم کو اپنا ساتھی نہ بناؤ اور تمہارا مال [بطور دوستی کے] صرف متقی آدمی کھائے یعنی غیر متقی سے دوستی نہ کرو۔

اور حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: المرء على دين خليله فلينظر احدكم من يخالل .

[أحمد ٣٠٣/٢ ، وأبوداود ، كتاب الأدب ، باب من يؤمر أن يجالس رقم (٤٨٣٢) والترمذى ،

كتاب الزهد ، باب (٤٥) رقم (٢٣٧٨) والبيهقى رقم ٩٤٣٦]

ہر انسان عادۃً اپنے دوست کے دین اور طریقہ پر چلا کرتا ہے اس لیے دوست بنانے سے پہلے خوب غور کر لیا کرو کہ کس کو دوست بنا رہے ہو۔

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ سے دریافت کیا گیا ہمارے مجلسی دوستوں میں کون لوگ بہتر ہیں تو آپ ﷺ نے فرمایا: من ذكركم بالله رؤيته وزاد في علمكم منطقه وذكركم بالاخرة عمله [بزار]

وہ شخص جس کو دیکھ کر خدا یاد آئے اور جس کی گفتگو سے تمہارا علم

صفحہ ۲۲۷

توہین رسالت ﷺ کی شرعی سزا

بڑھے اور جس کے عمل کو دیکھو آخرت کی یاد تازہ ہو۔

۶:۔ ولید بن مغیرہ

ولید بن مغیرہ بھی بڑا گستاخ اور کثیر الایذاء تھا کہا کرتا تھا کہ بڑے تعجب کی بات ہے کہ محمد پر وحی نازل ہو اور میں اور ابو مسعود ثقفی چھوڑ دیئے جائیں حالانکہ ہم دونوں اپنے اپنے شہر کے بڑے معزز ہیں میں قریش کا سردار ہوں ابو مسعود قبیلہ ثقیف کا سردار ہے اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔

﴿ وَقَالُوا لَوْلَا نُزِّلَ هٰذَا الْقُرْآنُ عَلَى رَجُلٍ مِّنَ الْقَرْيَتَيْنِ عَظِيمٍ O أَهُمْ يَقْسِمُونَ رَحْمَةَ رَبِّكَ نَحْنُ قَسَمْنَا بَيْنَهُم مَّعِيشَتَهُمْ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَرَفَعْنَا بَعْضَهُمْ فَوْقَ بَعْضٍ دَرَجَاتٍ لِّيَتَّخِذَ بَعْضُهُم بَعْضًا سُخْرِيًّا وَرَحْمَةُ رَبِّكَ خَيْرٌ مِّمَّا يَجْمَعُونَ ﴾ .

[سورة زخرف:٣١] [ابن هشام ١٢٦/١]

”کہتے ہیں یہ قرآن دونوں شہروں کے بڑے آدمیوں میں سے کسی پر کیوں نہیں نازل کیا گیا تیرے رب کی رحمت یہ لوگ تقسیم کرتے ہیں دنیا کی زندگی میں ان کی گزر بسر کے لئے ذرائع تو ہم نے ان کے درمیان تقسیم کئے ہیں اور ان میں سے کچھ لوگوں کو دوسرے کچھ لوگوں پر ہم نے بدرجہا فوقیت دی ہے تاکہ یہ ایک دوسرے سے خدمت لیں اور تیرے رب کی رحمت اس دولت سے زیادہ قیمتی ہے جو [ان کے رئیس] سمیٹ رہے ہیں۔“

یعنی نبوت و رسالت کا مدار مال و دولت اور دنیاوی عزت و وجاہت پر

صفحہ ۲۲۸

توہین رسالت صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی شرعی سزا

نہیں ۔ چنانچہ ایک روز کا واقعہ ہے کہ ولید بن مغیرہ ، امیہ بن خلف ، ابو جہل ، عتبہ اور شیبہ پسران ربیعہ اور دیگر سرداران قریش اسلام کے متعلق کچھ دریافت کرنے کے لیے آپؐ کی خدمت میں حاضر ہوئے آپؐ ان کو سمجھانے میں مشغول تھے کہ عبداللہ بن ام مکتوم جو ایک نابینا مؤذن تھے کچھ دریافت کرنے کے لیے آ پہنچے آپؐ نے یہ سمجھ کر کہ ابن مکتومؓ تو مسلمان ہیں ہی پھر کسی وقت دریافت کرلیں گے ۔ لیکن یہ لوگ ذی اثر ہیں اگر اسلام لے آئیں تو ان کی وجہ سے ہزاروں آدمی مسلمان ہو جائیں گے ۔ اس لیے آپؐ نے ابن ام مکتوم کی طرف التفات نہ فرمایا اور ان کے اس بے محل سوال سے چہرہ انور پر انقباض کے آثار نمودار ہوئے ۔ اس لیے کہ ان کو چاہیئے تھا کہ سابق گفتگو کے ختم ہونے کا انتظار کرتے مگر اللہ ذوالجلال کی رحمت جوش میں آگئی اور یہ آیتیں نازل ہوئیں ۔

﴿عَبَسَ وَتَوَلّٰى اَنْ جَآءَهُ الْاَعْمٰى﴾ الی آخر سورہ [سورہ عبس]

اس کے بعد رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی یہ حالت تھی کہ جب کبھی عبداللہ بن ام مکتوم حاضر ہوتے تو آپؐ ان کے لیے اپنی چادر بچھا دیتے اور یہ فرماتے ”مَرْحَبًا بِمَنْ فِيهِ عَاتَبَنِىْ رَبِّیْ“ مرحبا ہو اس شخص کو جس کے بارے میں میرے پروردگار نے مجھ کو عتاب فرمایا۔

ولید بن مغیرہ کے ذلیل ہو کر مرنے کا ذکر ہم آگے چل کر کریں گے ۔

۷ :۔ ابوقیس بن الفاکہ

یہ بھی رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو شدید ایذاء پہنچاتا تھا۔ ابو جہل کا خاص معین

صفحہ ۲۲۹

توہین رسالت ﷺ کی شرعی سزا

اور مددگار تھا۔ ابوقیس جنگ بدر میں حضرت حمزہ کے ہاتھ سے مارا گیا۔

۸:۔ نضر بن حارث

نضر بن حارث سردارانِ قریش میں سے تھا۔ تجارت کے لیے فارس جاتا اور وہاں سے شاہانِ عجم کے قصے اور تواریخ خرید کر لاتا اور قریش کو سناتا اور یہ کہتا کہ محمد تم کو عاد اور ثمود کے قصے سناتے ہیں اور میں تم کو رستم اور اسفندیار اور شاہانِ فارس کے قصے سناتا ہوں۔ لوگوں کو یہ افسانے دلچسپ معلوم ہوتے [ جیسے آج کل ناول ہیں ] لوگ ان قصوں کو سنتے اور قرآن کو نہ سنتے اس نے ایک گانے والی لونڈی بھی خرید رکھی تھی لوگوں کو اس کا گانا سنواتا جس کسی کے متعلق یہ معلوم ہوتا کہ یہ اسلام کی طرف راغب ہے اس کے پاس اس لونڈی کو لے جاتا اور کہتا کہ اس کو کھلا اور پلا اور گانا سنا پھر اس سے کہتا کہ بتلا یہ بہتر ہے یا وہ شیء بہتر ہے کہ جس کی طرف محمد بلاتے ہیں کہ نماز پڑھو اور روزہ رکھو اور اللہ کے دشمنوں سے جہاد کرو اس پر یہ آیات نازل ہوئیں۔ ﴿ وَ مِنَ النَّاسِ مَنْ يَّشْتَرِيْ لَهْوَ الْحَدِيْثِ لِيُضِلَّ عَنْ سَبِيْلِ اللّٰهِ بِغَيْرِ عِلْمٍ وَّ يَتَّخِذَهَا هُزُوًا اُولٰٓئِكَ لَهُمْ عَذَابٌ مُّهِيْنٌ O وَ اِذَا تُتْلٰى عَلَيْهِ اٰيٰتُنَا وَلّٰى مُسْتَكْبِرًا كَاَنْ لَّمْ يَسْمَعْهَا كَاَنَّ فِيْٓ اُذُنَيْهِ وَقْرًا فَبَشِّرْهُ بِعَذَابٍ اَلِيْمٍ ﴾

[سورة لقمان: ٦]

[روح المعانی ٦٩/٢١]

”اور انسانوں ہی میں سے کوئی ایسا بھی ہے جو کلامِ دلفریب خرید کر لاتا ہے تا کہ لوگوں کو اللہ کے راستے سے علم کے بغیر بھٹکا دے اور حق

صفحہ ۲۳۰

توہین رسالت ﷺ کی شرعی سزا

کے راستے کی دعوت کو مذاق میں اڑادے ایسے لوگوں کے لیے سخت ذلیل کرنے والا عذاب ہے۔“

تنبیہ:۔

کھلانا پلانا اور لڑکیوں کا گانا سنوانا اور اس طرح اپنے مذہب کی طرف لوگوں کو مائل کرنا یہ اہل باطل کا قدیم طریقہ ہے جس پر نصاریٰ خاص طور پر کار بند ہیں اور ان کی دیکھا دیکھی ہندوستان کے آریوں نے بھی یہی طریقہ اختیار کیا ہے اور شیعہ کے ہاں متعہ کی بھی یہی پوزیشن ہے جن کو اللہ تعالیٰ نے کبھی عقل دی ہے وہ خوب سمجھتے ہیں کہ یہ طریقہ اللہ والوں کا نہیں بلکہ شہوت پرستوں کا ہے۔ نعوذ باللہ من ذلک

نضر بن حارث جنگ بدر میں گرفتار ہوا اور رسول اللہ ﷺ کے حکم سے حضرت علیؓ نے اس کی گردن اڑا دی۔

۹:۔ عاص بن وائل سہمی

عاص بن وائل سہمی یعنی حضرت عمرو بن عاص کے والد ہیں یہ بھی ان لوگوں سے تھے جو آپ کی ذات برکات کے ساتھ استہزاء اور تمسخر کیا کرتے تھے رسول اللہ ﷺ کے جتنے بیٹے پیدا ہوئے وہ سب آپ کی زندگی ہی میں وفات پاگئے تو عاص بن وائل نے کہا:

ان محمدا ابتر لا يعيش له ولد.

محمد ﷺ تو ابتر ہیں ان کا کوئی لڑکا زندہ ہی نہیں رہتا۔

صفحہ ۲۳۱

توہین رسالت ﷺ کی شرعی سزا

ابتر دم کٹے جانور کو کہتے ہیں جس شخص کا آگے پیچھے کوئی نام لیوا نہ رہے گویا وہ شخص دم کٹا ہوا جانور ہے اس پر یہ آیت نازل ہوئی:

﴿إِنَّ شَانِئَكَ هُوَ الْأَبْتَرُ﴾

[سورۃ کوثر]

آپ ﷺ کا دشمن ہی ابتر ہے۔

آپ ﷺ کے نام لیوا تو لاکھوں اور کروڑوں ہیں ہجرت کے ایک ماہ بعد کسی جانور نے عاص کے پیر پر کاٹ لیا جس سے اس کا پاؤں اس قدر پھولا کہ اونٹ کی گردن کے برابر ہو گیا اس میں عاص کا خاتمہ ہو گیا۔

۱۰، ۱۱:۔ نبیہ ومنبّہ پسران حجاج

نبیہ اور منبہ بھی آپ ﷺ کے شدید ترین دشمنوں میں سے تھے جب کبھی آپ ﷺ کو دیکھتے تو یہ کہتے کہ کیا اللہ کو ان کے سوا اور کوئی پیغمبر بنانے کے لیے نہیں ملا تھا یہ دونوں بھی جنگ بدر میں مارے گئے۔

۱۲:۔ اسود بن مطلب

اسود بن مطلب اور اسکے ساتھی جب کبھی رسول اللہ ﷺ اور آپ کے صحابہ کو دیکھتے تو آنکھیں مٹکاتے اور یہ کہتے کہ یہی ہیں وہ لوگ جو روئے زمین کے بادشاہ ہوں گے اور قیصر و کسریٰ کے خزانوں پر قبضہ کریں گے یہ کہہ کر سیٹیاں اور تالیاں بجاتے ۔ رسول اللہ ﷺ نے بددعا فرمائی کہ اے اللہ اس کو نابینا فرما [تا کہ آنکھ مارنے کے قابل ہی نہ رہے] اور اس کے بیٹے کو ہلاک فرما۔ چنانچہ اسود تو اسی وقت نابینا ہو گیا اور بیٹا جنگ بدر میں مارا گیا۔ قریش مکہ

صفحہ ۲۳۲

توہین رسالت ﷺ کی شرعی سزا

جس وقت جنگ احد کی تیاری کر رہے تھے اسود اس وقت مریض تھا لوگوں کو آپ کے مقابلہ کے لیے آمادہ کر رہا تھا جنگ احد سے پہلے ہی مر گیا۔

۱۳:۔ اسود بن عبد یغوث

اسود بن عبد یغوث رسول اللہ ﷺ کے ماموں کا بیٹا تھا جس کا سلسلہ نسب یہ ہے اسود بن عبد یغوث بن وہب بن عبد مناف بن زہرہ یہ بھی آپ ﷺ کے شدید ترین دشمنوں میں سے تھا جب فقراء ومساکین کو دیکھتا تو یہ کہتا یہی روئے زمین کے بادشاہ بننے والے ہیں جو کسری کی سلطنت کے وارث ہوں گے۔ رسول اللہ ﷺ کو دیکھتا تو کہتا آسمان سے کوئی بات نہیں آئی؟ اور اس قسم کے بیہودہ کلمات کہتا۔

۱۴:۔ حارث بن قیس سہمی

جس کو حارث بن عیطلہ بھی کہا جاتا ہے عیطلہ ماں کا نام ہے قیس باپ کا نام تھا۔ یہ بھی انہیں لوگوں میں سے تھا جو آپ ﷺ کے اصحاب کے ساتھ استہزاء اور تمسخر کیا کرتے تھے اور یہ کہا کرتے تھے کہ محمد ﷺ نے اپنے اصحاب کو یہ سمجھا کر دھوکہ دے رکھا ہے کہ وہ مرنے کے بعد زندہ ہوں گے۔

﴿وَمَا يُهْلِكُنَا إِلَّا الدَّهْرُ﴾

اللہ کی قسم ہم کو زمانہ ہی ہلاک اور برباد کرتا ہے۔

جب ان لوگوں کا استہزاء اور تمسخر حد سے گذر گیا تب اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کی تسلی کے لیے یہ آیات نازل فرمائیں:

صفحہ ۲۳۳

توہین رسالت ﷺ کی شرعی سزا

﴿فَاصْدَعْ بِمَا تُؤْمَرُ وَ أَعْرِضْ عَنِ الْمُشْرِكِينَ O إِنَّا كَفَيْنَاكَ الْمُسْتَهْزِئِينَ﴾

جس چیز کا تم کو حکم دیا گیا ہے اس کو علی الاعلان بیان کریں اور مشرکین اگر نہ مانیں تو ان سے اعراض فرمائیں اور جو لوگ آپ ﷺ کی ہنسی اور مذاق اڑاتے ہیں ان کے لیے ہم کافی ہیں۔

زیادہ ہنسی اور مذاق اڑانے والے یہ پانچ شخص تھے۔

ایک بار آپ ﷺ بیت اللہ کا طواف کر رہے تھے کہ جبریل امین آ گئے آپ ﷺ نے جبریل امین سے ان لوگوں کے استہزاء اور تمسخر کی شکایت کی اتنے میں ولید بن مغیرہ سامنے سے گزرا آپ ﷺ نے بتلایا کہ یہ ولید ہے ۔ جبریل امین نے ولید کی شہ رگ کی طرف اشارہ کیا ۔ آپ ﷺ نے دریافت کیا کہ یہ کیا کیا ؟ جبریل نے کہا آپ ﷺ ولید سے کفایت کئے گئے ۔ اس کے بعد اسود بن مطلب گزرا آپ ﷺ نے بتلایا کہ یہ اسود بن مطلب ہے ۔ جبریل نے آنکھوں کی طرف اشارہ کیا ۔ آپ ﷺ نے دریافت فرمایا کہ اے جبریل کیا کیا ؟ جبریل نے کہا آپ ﷺ اسود بن مطلب سے کفایت کئے گئے ۔ اس کے بعد اسود بن عبد یغوث ادھر سے گزرا جبریل نے اس کے سر کی طرف اشارہ کیا اور حسب سابق آپ ﷺ کے سوال پر جواب

صفحہ ۲۳۴

توہین رسالت ﷺ کی شرعی سزا

دیا کہ آپ ﷺ کفایت کئے گئے اس کے بعد حارث گذرا جبریل نے اس کے پیٹ کی طرف اشارہ کیا اور فرمایا کہ آپ ﷺ کفایت کئے گئے اس کے بعد عاص بن وائل ادھر سے گذرا جبریل نے اس کے پاؤں کے تلوے کی طرف اشارہ کیا اور کہا آپ ﷺ اس سے کفایت کئے گئے۔

چنانچہ ولید کا قصہ یہ ہوا کہ ولید ایک مرتبہ قبیلہ خزاعہ کے ایک شخص پر گذرا جو تیر بنا رہا تھا اتفاق سے اس کے کسی تیر پر ولید کا پیر آ گیا جس سے خفیف سا زخم ہو گیا اس زخم کی طرف اشارہ کرنا تھا کہ زخم جاری ہو گیا اور اسی میں مر گیا۔ اسود بن عبدالمطلب کا یہ قصہ ہوا کہ ایک کیکر کے درخت کے نیچے جا کر بیٹھا ہی تھا کہ اپنے لڑکوں کو آواز دی مجھ کو بچاؤ مجھ کو بچاؤ میری آنکھوں میں کوئی شخص کانٹے چبھا رہا ہے لڑکوں نے کہا ہمیں کوئی نظر نہیں آتا اسی طرح کہتے کہتے اندھا ہو گیا۔ اسود بن عبد یغوث کا قصہ یہ ہوا کہ جبریل امین کا اس کے سر کی طرف اشارہ کرنا تھا کہ تمام سر میں پھوڑے اور پھنسیاں نکل پڑے اور اسی تکلیف میں مر گیا۔ حارث کے پیٹ میں دفعۃً ایسی بیماری پیدا ہوئی کہ منہ سے پاخانہ آنے لگا اور اسی میں مر گیا۔ عاص بن وائل کا یہ حشر ہوا کہ گدھے پر سوار ہو کر طائف جا رہا تھا راستہ میں گدھے سے گرا اور کسی خاردار گھاس پر جا گرا جس سے پاؤں میں ایک معمولی سا کانٹا لگا مگر اس معمولی کانٹے کا زخم اس قدر شدید ہوا کہ جانبر نہ ہو سکا اور اسی میں مر گیا۔

[الجامع لاحکام القرآن للقرطبی ۶۲/۱۰]

ایک مفتری کاتب کا واقعہ

امام بخاریؒ نے اپنی صحیح میں عبدالعزیز بن صہیب سے روایت کیا

صفحہ ۲۳۵

توہین رسالت ﷺ کی شرعی سزا

اور اس نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے کہ ایک عیسائی مسلمان ہو گیا اور اس نے سورۃ البقرہ اور سورۃ آل عمران پڑھیں۔ یہ رسول اللہ ﷺ کے لیے وحی لکھا کرتا تھا اس نے پھر عیسائی مذہب اختیار کر لیا اور کہا کرتا تھا کہ محمد وہی کچھ سمجھتے ہیں جو میں اسے لکھ دیتا ہوں وہ مر گیا اور لوگوں نے اسے دفن کر دیا جب صبح ہوئی تو قبر نے اسے نکال پھینکا تھا لوگوں نے کہا یہ محمد ﷺ اور اس کے اصحاب کا فعل ہے انہوں نے قبر کھود کر اسے باہر نکال دیا ہے۔ چنانچہ دوسری قبر انہوں نے کھودی جو بہت زیادہ گہری تھی لیکن جب صبح ہوئی پھر لاش باہر تھی اس مرتبہ بھی انہوں نے یہی کہا کہ یہ محمد اور اس کے ساتھیوں کا کام ہے چونکہ ان کا دین اس نے چھوڑ دیا تھا اس لیے اس کی قبر کھود کر انہوں نے لاش باہر پھینک دی ہے پھر انہوں نے قبر کھودی اور جتنی گہری ان کے بس میں تھی کر کے اسے اس کے اندر ڈال دیا لیکن صبح ہوئی تو پھر لاش باہر تھی اب انہیں یقین آیا کہ یہ کسی انسان کا کام نہیں ہے [بلکہ یہ میت عذاب الٰہی میں گرفتار ہے ] چنانچہ انہوں نے اسے یونہی [زمین پر ] ڈال دیا۔ یہ اس کے ارتداد اور توہین رسالت کی سزا تھی کہ زمین نے اس کے بدترین لاشہ کو بحکم رب العالمین باہر پھینک دیا۔

[بخاری باب علامات النبوۃ فی الاسلام ۱۳۲۵/۳]

شیخ الاسلام حافظ ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ اس کو نقل کرنے کے بعد لکھتے ہیں:

فہذا الملعون الذی افتری علی النبی ﷺ انہ ما کان یدری الا ما کتب لہ فقصمہ اللہ وفضحہ بان اخرجہ من القبر بعد ان دفن مرارا وہذا امر خارج عن العادۃ یدل کل احد علی ان ہذا کان عقوبۃ لما قالہ وانہ کان کاذبا اذ کان عامۃ الموتی

صفحہ ۲۳۶

توہین رسالت ﷺ کی شرعی سزا

لا يصيبهم مثل هذا وان هذا الجرم اعظم من مجرد الارتداد واذ كان عامة المرتدين يموتون ولا يصيبهم مثل هذا وان الله منتقم لرسوله ممن طعن عليه وسبه ومظهر لدينه ولكذب الكاذب اذ لم يكن للناس ان يقيموا عليه الحد.

[الصارم المسلول ص ١١٦]

اس افتراء پردازی کرنے والے ملعون کو جو کہا کرتا تھا کہ محمد کو وہی بات معلوم ہوتی ہے جو میں لکھ دیتا ہوں توڑ پھوڑ دیا اور اسے رسوا کر دیا اور وہ یہ کہ قبر میں دفن کرنے کے بعد قبر نے اسے کئی دفعہ باہر پھینک دیا یہ خارق عادت امر اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ یہ اس کے قول کی سزا تھی اور یہ کہ وہ جھوٹا تھا اس لیے کہ عام مردوں کی یہ حالت نہیں ہوتی اور یہ جرم محض ارتداد سے بہت بڑا ہے عام مرتد مر جاتے ہیں اور ان کو ایسا واقعہ پیش نہیں آتا نیز یہ کہ جو شخص رسول کریم ﷺ کو گالی دیتا اور آپ ﷺ پر طعن کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اپنے رسول کا انتقام لیتا اور اس کے کذب کو نمایاں کرتا ہے کیونکہ لوگوں کے لیے اس پر حد قائم کرنا ممکن نہیں ہوتا۔

صحابہ کرام شاتم رسول ﷺ کو قتل کر دیا کرتے تھے

اگرچہ ان کا رشتہ دار ہی کیوں نہ ہوتا

آپ ﷺ کے صحابہ کسی کے بارے میں سنتے کہ وہ رسول کریم ﷺ کو گالیاں دیتا ہے اور دکھ پہنچاتا ہے تو اسے قتل کر ڈالتے اگرچہ وہ ان کا قریبی رشتہ دار ہوتا اس معاملہ میں آپ ﷺ ان کی تائید کرتے اور اس سے خوش

صفحہ ۲۳۷

توہین رسالت صلی اللہ علیہ وسلم کی شرعی سزا ہوتے بعض اوقات آپ ایسا کرنے والے کو اللہ اور اس کے رسول کے ”ناصر“ کا لقب دیتے۔ ابو اسحاق الفزاری نے سیرت پر اپنی مشہور کتاب میں بطریق سفیان ثوری از اسماعیل بن سمیع ، مالک بن عمیر سے روایت کیا ہے کہ ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر کہا کہ میں نے اپنے والد کو مشرکین میں پایا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے حق میں اس سے ایک قبیح جملہ سنا میں اس وقت تک چین سے نہ بیٹھ سکا جب تک نیزہ مار کر اسے موت کی نیند نہ سلا دیا اور یہ بات آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر ناگوار نہ گزری ایک اور آدمی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہا کہ میں نے اپنے والد کو مشرکین میں پایا اور اسے قتل کر دیا اور یہ بات بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر ناگوار نہ گزری۔

حسان بن عطیہ فرماتے ہیں کہ :

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک لشکر بھیجا جس میں حضرت عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ اور جابرؓ بھی تھے۔ جب مشرکین نے صف آرائی کی تو ان میں سے ایک آدمی سامنے آکر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو گالیاں دینے لگا۔ مسلمانوں میں سے ایک شخص کھڑا ہوا اور کہنے لگا میں فلاں بن فلاں ہوں اور میری ماں فلاں عورت ہے تم مجھے اور میری ماں کو گالیاں دے لو مگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو گالیاں دینے سے باز آ جاؤ اس سے وہ اور مشتعل ہو گیا اور پھر گالیوں کا اعادہ کرنے لگا مسلمان نے پھر اسے منع کیا پھر تیسری مرتبہ کہا اگر تم نے پھر اس کا اعادہ کیا تو میں تلوار لے کر تم پر چڑھ جاؤں گا اس نے پھر گالی دی مسلمان نے اس پر حملہ کر دیا مشرک پیچھے ہٹا مسلمان نے اس کا تعاقب کیا اور مشرکین کی صفوں کو چیرتے ہوئے اس

صفحہ ۲۲۸

توہین رسالت ﷺ کی شرعی سزا

پر تلوار کا وار کیا مشرکین نے اسے شہید کر دیا یہ دیکھ کر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اعجبتم من رجل نصر الله ورسوله۔ کیا تمہیں اس آدمی پر حیرت ہوئی ہے جس نے اللہ اور اس کے رسول کی مدد کی۔

پھر اس شخص کے زخم مندمل ہو گئے اور وہ اسلام لے آیا اس شخص کو ”زیل“ کہا جاتا تھا۔

عمیر بن عدی کا واقعہ گزر چکا ہے کہ جب اسے پتہ چلا کہ بنت مروان، رسول اللہ ﷺ کو ایذاء دے رہی ہے تو اس نے کہا: اے اللہ! میں تیرے حضور نذر مانتا ہوں کہ رسول اللہ ﷺ لوٹ کر مدینہ آگئے تو میں اس عورت کو قتل کر دوں گا۔ چنانچہ اس نے رسول کریم ﷺ سے اجازت لیے بغیر اسے قتل کر دیا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اگر تم ایسے آدمی کو دیکھنا چاہو جس نے اللہ اور اس کے رسول کی غیبی مدد کی ہے عمیر بن عدی کو دیکھ لو۔

اسی طرح یہودی عورت اور ام ولد کا واقعہ پہلے گزر چکا ہے کہ رسول اللہ ﷺ کو گالیاں دینے کی وجہ سے اسے قتل کر دیا گیا۔ اسی طرح اس آدمی کا واقعہ بھی گزر چکا ہے جس نے ابن ابی سرح کو قتل کرنے کی نذر مانی تھی۔ رسول اللہ ﷺ اس کی بیعت لینے سے اس لیے رکے رہے کہ وہ شخص اسے قتل کر کے اپنی نذر پوری کر لے۔

[الصارم المسلول ص ١٤٧]

صفحہ 239

توہین رسالت ﷺ کی شرعی سزا

حدیث مَنْ كَذَبَ عَلَيَّ مُتَعَمِّدًا کا شانِ وُرود

حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

بلغوا عنی ولو اية وحدثوا عن بنی اسرائیل ولا حرج ومن کذب علی متعمدا فلیتبوأ مقعده من النار.

[البخاری، کتاب أحادیث الأنبیاء، باب ما ذکر عن بنی اسرائیل رقم (٣٤٦١)]

”میری طرف سے لوگوں کو پہنچا دو اگرچہ ایک آیت ہی کیوں نہ ہو اور بنی اسرائیل سے بیان کرو اس میں کوئی حرج نہیں اور جس نے دانستہ مجھ پر جھوٹ بولا وہ اپنا گھر دوزخ میں بنالے۔“

یہ حدیث بخاری کے علاوہ مسند احمد، ترمذی اور نسائی میں بھی ہے اس حدیث کا نصف آخر [ومن کذب علی سے آخر تک ] امام نووی اور حافظ ابن حجر کی تصریح کے مطابق دو سو صحابہ سے مروی ہے اس حدیث کے کثرت طرق کی بنا پر اسے متواتر لفظی و معنوی کہا گیا ہے۔

مشکل الآثار طحاوی میں اس حدیث کا شان ورود یہ بیان کیا گیا ہے کہ: رسول اللہ ﷺ کو پتہ چلا کہ ایک شخص نے ایک قوم سے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھے حکم دیا ہے کہ میں تمہارے اور تمہارے اموال کے بارے میں اپنی رائے سے فیصلہ کروں۔ اس نے دور جاہلیت میں ان سے ایک عورت کا رشتہ مانگا تھا اور انہوں نے عورت کو اس کے نکاح میں دینے سے انکار کر دیا تھا۔ پھر جاکر اس عورت کے یہاں مقیم ہو گیا ان لوگوں نے رسول اللہ ﷺ کو بلا

صفحہ ۲۴۰

توہین رسالت ﷺ کی شرعی سزا

بھیجا آپ ﷺ نے فرمایا اللہ کے دشمن نے جھوٹ بولا ہے پھر ایک آدمی کو بھیجا اور فرمایا اگر تم اسے زندہ پاؤ تو قتل کر دو اور اگر مردہ پاؤ تو اسے نذر آتش کر دو۔ جب وہ شخص پہنچا تو اس نے دیکھا کہ وہ سانپ کے ڈسنے سے مر چکا ہے چنانچہ اس نے اسے آگ میں جلا دیا۔ تب رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس نے دانستہ مجھ پر جھوٹ بولا وہ اپنا گھر دوزخ میں بنالے۔

ابو احمد بن عدی نے نقل کیا ہے کہ بنولیث کا ایک خاندان مدینہ سے دو میل کے فاصلے پر رہتا تھا۔ دور جاہلیت میں ایک آدمی نے ان سے رشتہ مانگا تھا مگر انہوں نے نہ دیا ایک روز وہ شخص ان کے پاس آیا اور اس نے سوٹ پہن رکھا تھا اس نے کہا رسول اللہ ﷺ نے مجھے یہ سوٹ پہنایا اور حکم دیا تھا کہ تمہارے خون و مال میں جیسے چاہوں فیصلہ کروں پھر جا کر اس عورت کے یہاں مقیم ہوا جسے وہ چاہتا تھا اس قوم نے رسول کریم ﷺ کی طرف پیغام بھیجا تو آپ ﷺ نے فرمایا اللہ کے دشمن نے جھوٹ بولا۔ پھر ایک آدمی کو بھیج کر آپ ﷺ نے حکم دیا کہ اگر تم اسے زندہ پاؤ — اور میرا خیال ہے کہ تم اسے زندہ نہ پاؤ گے — تو اس کی گردن اڑا دو اور اگر مردہ پاؤ تو آگ میں جلا دو۔

[کامل لابن عدی ۱۳۷۱/٤]

ایک دوسری روایت میں اس طرح ہے کہ آپ ﷺ نے ایک آدمی کو حکم دیا کہ جا کر اسے قتل کرو اور آگ میں جلا دو۔ پھر جب وہ آدمی نکل گیا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اسے واپس بلاؤ جب وہ آیا تو آپ ﷺ نے فرمایا میں نے تمہیں اس کی گردن اڑانے اور اسے آگ میں جلانے کا حکم دیا ہے تو اللہ اگر تجھے اس پر قدرت عطا کر دے تو اس کی گردن اڑا دو اور اسے آگ میں مت

صفحہ ۲۴۱

توہین رسالت ﷺ کی شرعی سزا

جلواؤ اس لیے کہ آگ کا عذاب صرف وہ ذات دیتی ہے جو آگ کی مالک ہے اور میرا خیال ہے کہ تمہاری جان اس سے چھوٹ جائیگی۔ اندریں اثناء گرج دار بادل آسمان پر چھا گیا وہ آدمی وضو کرنے کے لیے نکلا اور اس کو سانپ نے ڈس لیا جب رسول اللہ ﷺ کو اطلاع ہوئی تو فرمایا وہ جہنم میں جائے گا۔

[الصارم المسلول]

ایک روایت میں ہے کہ ایک شخص نے آپ ﷺ پر جھوٹ باندھا تو آپ ﷺ نے حضرت علیؓ اور حضرت زبیرؓ کو بھیج کر اسے قتل کرنے کا حکم دیا۔

[الصارم المسلول ص ۱۶۷]

مذکورہ حدیث کے بارے میں علماء کے دو قول ہیں۔ ایک قول یہ ہے کہ حدیث کے ظاہری مفہوم پر عمل کیا جائے اور جھوٹ باندھنے والے کو قتل کیا جائے ان میں سے کچھ لوگ اس کو کافر قرار دیتے ہیں شیخ الاسلام ابن تیمیہ اس قول کے دلائل تحریر کرنے کے بعد لکھتے ہیں۔

وبالجملة فمن تعمد الكذب الصريح على الله فهو المتعمد لتكذيب الله واسوأ حالا وليس يخفى ان من كذب على من يجب تعظيمه فانه مستخف به مستهين بحقه وايضا فان الكاذب عليه لابد ان يشينه بالكذب عليه وينقصه بذلك ومعلوم انه لو كذب عليه كما كذب عليه ابن ابى سرح فى قوله كان يتعلم منى او رماه ببعض الفواحش الموبقة أو الاقوال الخبيثة كفر بذلك فكذلك الكاذب عليه.

[الصارم المسلول ص ۱۷۳]

صفحہ ۲۴۲

توہین رسالت ﷺ کی شرعی سزا

خلاصہ یہ ہے کہ جو شخص عمداً اللہ پر جھوٹ باندھے وہ دانستہ اللہ کی تکذیب کرتا ہے اور وہ زیادہ برا ہے اور پوشیدہ نہ رہے کہ جو شخص اس ذات پر جھوٹ باندھے جس کی تعظیم واجب ہو تو وہ اس کی توہین و تحقیر کا ارتکاب کرتا ہے۔ مزید برآں اس پر جھوٹ باندھنے والا اس پر افتراء کر کے اسے عیب دار ظاہر کرتا ہے اور اس کی تنقیص کرتا ہے اور یہ بات عیاں اور واضح ہے کہ جو شخص رسول اللہ ﷺ پر جھوٹ باندھے جس طرح ابن ابی سرح نے باندھا تھا۔ اس نے کہا تھا کہ محمد مجھ سے سیکھتا ہے یا اس کو بعض مہلک فواحش یا اقوال خبیثہ کے ساتھ متہم کرے تو اس سے وہ کافر ہو جاتا ہے اسی طرح آپ ﷺ پر جھوٹ باندھنے والا بھی کافر ہو جاتا ہے۔

علماء کا دوسرا قول یہ ہے کہ آپ ﷺ پر جھوٹ بولنے والے کو سخت سزا دی جاتی ہے مگر اسے کافر قرار نہیں دیا جاتا اسے قتل کرنا بھی جائز نہیں اس لیے کہ کفر اور قتل کے موجبات معلوم ہیں اور یہ ان میں سے نہیں اور جائز نہیں کہ اس چیز کو ثابت کیا جائے جس کی کوئی اصل نہ ہو اور جو شخص اس کا قائل ہے اس کے قول کو اس طرح مقید کیا جائے گا کہ آپ ﷺ پر افتراء پردازی کسی ظاہری عیب کو متضمن نہ ہو لیکن اگر وہ خبر دے کہ اس نے ایسی بات سنی ہے جو ظاہراً آپ ﷺ کے نقص وعیب پر دلالت کرتی ہے تو یہ کھلم کھلا استہزاء اور تضحیک ہے بلاشبہ ایسا شخص کافر اور مباح الدم ہے جن لوگوں نے اس قول کو اختیار کیا ہے وہ حدیث کا یہ جواب دیتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کو یہ معلوم تھا کہ وہ کافر ہے اس لیے آپ ﷺ نے اسے قتل کر دیا افتراء پردازی کی وجہ نہیں ہے۔

صفحہ ۲۴۳

توہین رسالت ﷺ کی شرعی سزا

یہ جواب بیکار ہے اس لیے کہ رسول اللہ ﷺ کا یہ شیوہ نہ تھا کہ کسی منافق کو اس بنا پر قتل کر دیں کہ کسی ثقہ آدمی نے اسے منافق ٹھہرایا ہے یا قرآن سے اس کا منافق ہونا ثابت ہوتا ہے پھر آپ ﷺ ایسے شخص کو کیونکر قتل کر سکتے ہیں جس کے منافق ہونے کا صرف آپ ﷺ کو علم ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے بہت سے آدمیوں کو منافق کہا مگر ان میں سے کسی کو بھی قتل نہ کیا۔ مزید برآں حدیث میں جس سبب کا ذکر کیا گیا ہے وہ رسول کریم ﷺ پر ایسی افتراء پردازی ہے جس میں اس کی کوئی ذاتی غرض شامل نہ ہو قتل کو بھی اس پر مرتب کیا گیا ہے لہٰذا قتل کو کسی اور سبب کی طرف منسوب کرنا جائز نہیں۔

رسول اللہ ﷺ کے کسی قول یا فعل پر اعتراض وطعن کرنا

آپ ﷺ کی توہین ہے

جو شخص رسول اللہ ﷺ کے کسی فعل یا قول پر تنقید یا اعتراض کرے تو وہ توہین رسالت کا مرتکب ہے کیونکہ ایسی تنقید اور طعن و اعتراض سے آپ ﷺ کو ایذاء پہنچتی ہے لہٰذا ایسا آدمی بھی واجب القتل ہے۔

حضرت شعبی سے مروی ہے کہ جب رسول اللہ ﷺ نے مکہ فتح کیا تو عزیٰ بت کا مال منگوایا اور اسے اپنے سامنے بکھیر دیا پھر نام لے کے ایک آدمی کو بلایا اور اس میں سے کچھ دیا پھر ابوسفیان بن حرب اور سعد بن حریث کو بلا کر اس میں سے دیا پھر قریش کی ایک جماعت کو بلا کر کچھ مال دیا۔ آپ ﷺ ایک شخص کو بلا کر سونے کا ایک ٹکڑا دیتے جس میں پچاس مثقال سے ستر مثقال تک سونا ہوتا ایک آدمی نے کھڑے ہو کر اسی طرح کہا مگر رسول اللہ ﷺ

صفحہ ۲۴۴

توہین رسالت ﷺ کی شرعی سزا

نے منہ پھیر لیا پھر تیسرے نے کھڑے ہو کر کہا آپ ﷺ فیصلہ کرتے ہیں مگر اس میں ہمیں انصاف نظر نہیں آتا آپ ﷺ نے فرمایا تجھ پر افسوس ہو پھر میرے بعد انصاف کون کرے گا؟ پھر آپ ﷺ نے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کو بلا کر کہا کہ جا کر اسے قتل کر دو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ گئے اور اسے نہ پایا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اگر تم اسے قتل کر دیتے تو مجھے امید تھی کہ یہ ان میں سے پہلا آدمی بھی ہوتا اور آخری بھی۔

یہ حدیث اس مسئلہ میں نص کا حکم رکھتی ہے کہ رسول اللہ ﷺ پر طعن کرنے والے کو توبہ کا مطالبہ کئے بغیر قتل کیا جائے۔

خوارج کے بارے میں احادیث

میں روایت کرتے ہیں جس نے اس سونے کی تقسیم میں رسول کریم ﷺ کو مورد طعن بنایا تھا۔ جو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے یمن سے بھیجا تھا اس نے کہا تھا یا رسول اللہ ! اللہ سے ڈر۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اس کی نسل میں سے ایسی قوم نکلے گی جو قرآن کریم کی تازہ تلاوت کریں مگر وہ ان کے گلے سے نیچے نہیں اترے گا وہ دین سے اس طرح نکل جائیں گے جیسے تیر اپنے ہدف سے نکل جاتا ہے وہ مسلمانوں کو قتل کریں گے اور بت پرستوں کو چھوڑ دیں گے اگر میں نے ان کو پا لیا تو انہیں قوم عاد کی طرح قتل کروں گا۔

[البخاری ، کتاب احادیث الانبیاء، باب (٦) رقم (٣٣٤٤)۔ مسلم، کتاب الزکوۃ، باب اعطاء المؤلفة ....رقم (١٠٦٤)]

صفحہ ۲۴۵

توہین رسالت ﷺ کی شرعی سزا

کو فرماتے سنا کہ آخری زمانہ میں ایک قوم نکلے گی جو نوعمر اور کم عقل ہوگی۔ وہ سید المخلوقات کے اقوال سنائیں گے ان کا ایمان ان کے گلے سے نیچے نہ اترے گا۔ وہ اسلام سے اس طرح نکل جائیں گے جیسے تیر نشانے سے نکل جاتا ہے تم جہاں کہیں بھی پاؤ تو ان کو قتل کرو ان کے قاتل کا روز قیامت اجر ملے گا۔

[بخاری، کتاب استتابة والمعاندين...، باب قتل الخوارج والملحدين . ومسلم، كتاب الزكوة

باب التحريض على قتل الخوارج رقم (١٠٦٦)]

جو آپ ﷺ نے تقسیم کر دیا۔ آپ ﷺ نے دائیں جانب والوں کو بھی دیا اور بائیں جانب والوں کو بھی مگر جو پیچھے تھے ان کو کچھ نہ دیا۔ پیچھے کھڑے ہونے والوں میں سے ایک نے کہا۔ اے محمد! آپ ﷺ نے تقسیم کرتے وقت انصاف کو ملحوظ نہیں رکھا۔ وہ ایک سیاہ فام منڈھے ہوئے بالوں والا آدمی تھا اور اس نے دو سفید کپڑے پہن رکھے تھے آپ سخت ناراض ہوئے اور فرمایا:

واللہ تم میرے بعد کوئی ایسا آدمی نہ پاؤ گے جو مجھ سے زیادہ عادل ہو۔ پھر فرمایا آخری زمانہ میں ایک قوم نمودار ہوگی گویا کہ یہ بھی ان میں سے ہے وہ قرآن پڑھیں گے مگر وہ ان کے گلے سے نیچے نہ اترے گا وہ اسلام سے اس طرح نکل جائیں گے جیسے تیر نشانے سے نکل جاتا ہے۔ ان کی نشانی سر منڈوانا ہوگی وہ نکلتے رہیں گے یہاں تک کہ ان کا آخری آدمی دجال کے ساتھ ظہور پذیر ہوگا۔ جب تم انہیں ملو تو ان کو قتل کر دو وہ بنی نوع انسان اور حیوانات سب سے بدتر ہوں گے۔

ان تمام احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اس

صفحہ ۲۴۶

توہین رسالت ﷺ کی شرعی سزا عتاب کرنے والے شخص کی جماعت کو قتل کرنے کا حکم دیا تھا۔ آپ ﷺ نے یہ بھی فرمایا کہ ان کے قاتل کو آخرت میں اجر ملے گا۔ آپ ﷺ نے فرمایا اگر میں نے انکو پالیا تو ان کو قوم عاد کی طرح قتل کروں گا آپ ﷺ نے فرمایا کہ یہ انسان و حیوان سب سے بدتر ہیں۔

ترمذی اور دیگر محدثین نے ابو امامہ سے روایت کیا ہے کہ آپ ﷺ نے کہا سطح آسمان کے نیچے وہ بدترین مقتول ہیں اور جس کو انہوں نے قتل کیا وہ بہترین مقتول ہیں ابو امامہ نے بتایا کہ اس نے رسول اللہ ﷺ کو کئی مرتبہ یہ بات فرماتے ہوئے سنا ہے پھر یہ آیت تلاوت فرمائی۔

﴿ یَوْمَ تَبْیَضُّ وُجُوہٌ وَ تَسْوَدُّ وُجُوہٌ فَاَمَّا الَّذِیْنَ اسْوَدَّتْ وُجُوہُهُمْ اَکَفَرْتُمْ بَعْدَ اِیْمَانِکُمْ فَذُوقُوا الْعَذَابَ بِمَا کُنْتُمْ تَکْفُرُونَ ﴾.

[آل عمران: ١٠٦]

جس روز کچھ چہرے سفید ہوں گے اور کچھ سیاہ جن کے چہرے سیاہ ہوں گے ان سے کہا جائے گا کہ کیا تم ایمان لانے کے بعد کافر ہو گئے تھے ۔“

صفحہ ۲۴۷

توہین رسالت ﷺ کی شرعی سزا

رسول اکرم ﷺ کی شان میں بدگوئی کرنے والوں کے یہ واقعات وہ ہیں جو رسول ﷺ کے زمانہ میں پیش آئے لیکن رسول ﷺ کی شان میں گستاخی کرنے کے جرم میں انہیں معاف نہیں کیا گیا، بلکہ کیفر کردار تک پہنچایا گیا، اب چند واقعات وہ لکھے جاتے ہیں جو پاکستان بننے سے پہلے انگریزی دور حکومت میں واقع ہوئے اور غازیان اسلام نے ان شاتمانِ رسول ﷺ کو جہنم رسید کیا اور خود بھی جام شہادت نوش کیا۔

راج پال ہندو کی توہین رسالت

۱۹۲۳ء کو لاہور میں راج پال ہندو نے رسوائے زمانہ کتاب ”رنگیلا رسول“ شائع کی۔ جس میں رسول اکرم ﷺ کی شان میں بڑی توہین کی گئی تھی جب یہ کتاب چھپ کر بازار میں آئی تو مسلمانوں میں غم وغصہ کی لہر دوڑ گئی، مسلمان زعماء نے حکومت سے اس کتاب کی فوری ضبطی اور اس کے ناشر کو قرار واقعی سزا دینے کا مطالبہ کیا، جس پر راج پال کے خلاف فرقہ وارانہ منافرت پھیلانے کے جرم میں مقدمہ چلایا گیا، لاہور کے ایڈیشنل ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ نے ملزم کو چھ ماہ کی سزا دی لیکن اس وقت شادی لال جیسا متعصب چیف جسٹس تھا، اس کی ایماء پر راج پال ملزم کو سزا سے بری کر دیا گیا جس نے مسلمانوں کی آتش غضب کو اور بھڑکا دیا۔

غازی خدا بخش کا راج پال پر پہلا قاتلانہ حملہ

چنانچہ ۲۴ ستمبر ۱۹۲۷ء کو جب ملعون راج پال اپنی دکان پر موجود کاروبار میں مشغول تھا ایک مرد مجاہد خدا بخش جو لاہور کا رہنے والا تھا اس خبیث

صفحہ ۲۴۸

توہین رسالت ﷺ کی شرعی سزا

پر تیز دھار چاقو سے حملہ کر کے اسے زخمی کر دیا۔ لیکن اس بدبخت نے اس وقت بھاگ کر اپنی جان بچالی، غازی خدا بخش کو زیر دفعہ ۳۰۷ الف تعزیرات ہند گرفتار کر لیا اور ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ لاہور سی ایم جی اوگلوی کی عدالت میں اس کے مقدمہ کی سماعت شروع ہوئی۔ غازی خدا بخش نے اپنی طرف سے وکیل صفائی مقرر کرنے سے انکار کر دیا، راج پال مستغیث نے عدالت میں بیان دیتے ہوئے کہا:

مجھ پر یہ حملہ کتاب ”رنگیلا رسول“ کی اشاعت اور مسلمانوں کے ایجی ٹیشن کی وجہ سے کیا گیا ہے اور مجھے خطرہ ہے کہ ملزم خدا بخش اب بھی مجھے جان سے مار دے گا، کیونکہ حملہ کے وقت ملزم چلایا تھا: ”کافر کے بچے! آج تو میرے ہاتھ آیا ہے میں تجھے زندہ نہیں چھوڑوں گا۔“

عدالت کے استفسار پر اس مرد غازی نے گرج دار آواز میں کہا: ”میں مسلمان ہوں ناموس رسالت کا تحفظ میرا فرض ہے، میں اپنے رسول کی توہین ہرگز برداشت نہیں کر سکتا۔“

پھر راج پال کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: ”اس نے میرے رسول ﷺ کی شان میں گستاخی کی تھی اس لیے میں نے اس پر قاتلانہ حملہ کیا لیکن یہ کم بخت اس وقت میرے ہاتھ سے بچ نکلا۔“

اقرار جرم کے بعد غازی خدا بخش کو سات سال قید سخت سنائی گئی۔

صفحہ ۲۴۹

توہین رسالت ﷺ کی شرعی سزا

غازی عبدالعزیز

اس واقعہ کے چند دن بعد ایک اور مرد غازی عبدالعزیز نے جو افغانستان سے اپنے سینہ میں اس دشمن اسلام راج پال کے خلاف غصہ کی آگ لے کر لاہور پہنچا تھا۔ ۱۹/ اکتوبر ۱۹۲۷ء کی شام راج پال کی دکان پر آیا‘ اتفاقاً اس وقت راج پال کا ایک دوست سوامی ستیانند بیٹھا تھا‘ جسے غازی عبدالعزیز نے شاتم رسول سمجھ کر چاقو سے حملہ کر کے زخمی کر دیا‘ پولیس نے جائے واردات پر پہنچ کر غازی عبدالعزیز کو گرفتار کر لیا، عدالت نے اس مرد مجاہد کو بھی وہی سزا دی جو غازی خدا بخش کو دی گئی تھی‘ جسے بھگت کر یہ دونوں غازی جیل سے سرخرو ہو کر نکلے۔

غازی علم الدین شہید کا راج پال پر حملہ

علم الدین ایک محنت کش نجار ”طالع مند“ کا بیٹا تھا‘ جب علم الدین پیدا ہوا تو اس کی ماں کی گود میں دیکھ کر ایک فقیر نے بشارت دی کہ تم لوگ بڑے ہی خوش نصیب ہو کہ ایسا نیک بخت بچہ تمہارے گھر پیدا ہوا ہے۔ علم الدین نے قرآن مجید کی ابتدائی تعلیم اپنے محلہ کی مسجد میں حاصل کی جو اس زمانہ میں بازار سرفروشاں کے نام سے مشہور تھا‘ جب یہ بچہ ذرا بڑا ہوا تو باپ نے جلدی سے اپنے ساتھ کام پر لگا لیا‘ جس میں اس نے بڑی جلدی مہارت حاصل کر لی‘ علم الدین کا ایک بچپن کا ساتھی عبدالرشید تھا جسے سب پیار سے ”شیدا“ کے نام سے پکارتے تھے، شیدا کے والد کی دکان مسجد وزیر خان کے سامنے واقع تھی، ایک دن دونوں دوست گھر سے شام کے وقت جب مسجد وزیر خان پہنچے تو وہاں ایک

صفحہ ۲۵۰

توہین رسالت ﷺ کی شرعی سزا

جلسہ عام میں شیطان راج پال کے خلاف تقریریں ہو رہی تھیں، جس میں یہ اعلان ہو رہا تھا کہ مسلمان اپنی جانیں قربان کر دیں گے لیکن اس مردود راج پال کو زندہ نہیں چھوڑیں گے، یہ تقریر سن کر دونوں دوست تڑپ اٹھے گھر آکر علم الدین نے اپنے والد طالع مند سے پوچھا۔

سوال: کیا کوئی شخص جو ہمارے نبی ﷺ کی شان میں گستاخی کرے وہ زندہ رہ سکتا ہے؟

جواب: باپ نے جواب دیا: بیٹا! مسلمان اسے زندہ نہیں چھوڑیں گے۔

سوال: کیا اسے مارنے والے کو سزا ملے گی؟ علم الدین نے باپ سے دریافت کیا؟

جواب: ہاں بیٹا! یہاں گوروں کے قانون کے مطابق اس کو پھانسی کی سزا ملے گی۔

اسی رات علم الدین نے دیکھا کہ خواب میں ایک بزرگ نمودار ہوئے ہیں اور اس سے کہہ رہے ہیں: علم الدین دشمن نے تمہارے نبی ﷺ کی شان میں گستاخی کی ہے تم ابھی تک سو رہے ہو اٹھو اور جلدی کرو۔

یہ خواب دیکھ کر وہ فدائی رسول ﷺ فوراً اٹھ بیٹھا اور اپنے اوزار لے کر صبح سویرے اپنے دوست شیدا کے گھر پہنچا اور وہاں سے دونوں دوست بھائی دروازے کے سامنے والے کھلے میدان میں جا پہنچے علم الدین نے وہاں راز دارانہ طریقہ سے اپنے دوست ”شیدا“ کو رات والی خواب سنائی تو اس کی حیرت کی کوئی انتہا نہ رہی، کیونکہ اس نے بھی گذشتہ یہی خواب دیکھی تھی، اب

صفحہ ۲۵۱

توہین رسالت ﷺ کی شرعی سزا

دونوں دوستوں میں تکرار ہونے لگی، دونوں کا اصرار تھا کہ اس موذی کو مارنے کے لیے اسے بشارت ہوئی ہے، آخر طے پایا کہ قرعہ ڈالا جائے ، اس میں جس کا نام آئے ، وہی اس کام کو سرانجام دے، تین بار قرعہ ڈالا گیا اور ہر بار قرعہ فال طالع مند کے خوش نصیب فرزند علم الدین کے نام نکلا ، جس پر اس کا چہرہ خوشی سے چمک اٹھا، شیدا کو اپنے اس دوست کی خوش بختی پر رشک آیا ، اس نے علم الدین کو اس کامیابی پر مبارکباد دی، جس کے بعد دونوں دوست ایک دوسرے سے جدا ہو گئے وہاں سے علم الدین سیدھے گھر پہنچے وہ گھر آکر کچھ دیر کے لیے لیٹ گئے تو ذرا دیر کے لیے ان کی آنکھ لگ گئی کیا دیکھتے ہیں کہ وہی بزرگ دوبارہ نمودار ہو کر ان سے کہہ رہے ہیں:

’’علم الدین یہ وقت سونے کا نہیں بلکہ جس کام کے لیے تمہیں چن لیا گیا ہے اس کی تکمیل کے لیے فوراً پہنچو ورنہ بازی کوئی اور لے جائے گا۔‘‘

جس پر وہ ایک بار پھر اپنے دوست شیدا کے پاس الوداعی ملاقات کے لیے پہنچے اسے اپنی کچھ چیزیں بطور یادگار دیں اور دوبارہ گھر پہنچ کر انہوں نے اپنے منصوبے کی تکمیل کا پروگرام اپنے ذہن میں مرتب کر لیا اور گھر میں کسی سے اس بارے میں کوئی بات نہیں کی، اس ڈر سے کہ کہیں خون اور قرابت کے رشتے اس راہ میں حائل نہ ہو جائیں ، اس دن انہوں نے غسل کیا ، سرخ دھاری دار قمیص اور سفید شلوار پہنی ، سر پر پگڑی باندھی ، صاف اور سجل لباس پر خوشبو لگائی، اس سے قبل انہوں نے اپنی ماں سے میٹھے چاول کی فرمائش کی تھی جسے باپ بیٹے نے مل کر تناول کیا باپ کے کسی کام پر جانے کے بعد علم الدین نے اپنی معصوم

صفحہ 252

توہین رسالت ﷺ کی شرعی سزا

بھتیجی کے ماتھے کو سوتے میں بڑے پیار سے چوما اور اپنی بھابھی سے کچھ پیسے لے کر اس سج دھج سے خوشی خوشی اپنی مہم پر روانہ ہو گئے مگر کسی کے ذہن میں یہ بات نہ آئی کہ علم الدین نے آج کے دن یہ سارا اہتمام کیوں کیا ہے گھر سے کمیٹی بازار پہنچ کر وہاں آتمارام کباڑیئے کی دکان سے ایک روپیہ میں ایک لمبا چاقو خریدا اور اسے شلوار کے نیفہ میں رکھ لیا، پھر وہ سیدھے دوپہر کے وقت انارکلی ہسپتال روڈ، راج پال کی دکان کے سامنے والی ٹال پر پہنچے۔

راج پال جہنم رسید

جوں ہی ٹال والے جوان نے علم الدین کو بتلایا کہ وہ منحوس دکان کے اندر داخل ہوا ہے تو وہ اپنے شکار کے تعاقب میں دکان کے اندر پہنچ گئے اور اسے دیکھتے ہی ان کی آنکھوں میں خون اتر آیا اس کے ساتھ ہی ان کے اندر عقابی روح بیدار ہوئی اور انہیں اپنی منزل آسمانوں میں نظر آنے لگی، چیتے کی سی پھرتی کے ساتھ جھپٹ کر علم الدین نے راج پال خبیث کے سینے میں چاقو پیوست کر دیا، جو اس کے دل کو چیرتا ہوا نکل گیا، یہ ضرب ایسی کاری ثابت ہوئی کہ وہ مردود زخموں کی تاب نہ لا کر اوندھے منہ زمین پر گر پڑا اور وہیں اس نے دم توڑ دیا اس طرح اس بدبخت کو کیفر کردار پہنچانے کے بعد غازی علم الدین جب دکان سے باہر نکلے تو مقتول کے ملازمین نے مار دیا، مار دیا کا شور مچانا شروع کر دیا، جس پر قریب کے ایک ہندو دکاندار سیتارام کے لڑکے اور اس کے ساتھیوں نے آکر پیچھے سے اس نوجوان غازی کو پکڑ لیا، جس پر علم الدین نے کہا:

صفحہ ۲۵۳

توہین رسالت ﷺ کی شرعی سزا

آج میں نے اپنے رسول ﷺ کا بدلہ لے لیا آج میں نے اپنے رسول ﷺ کا بدلہ لے لیا۔‘‘

اس عرصہ میں پولیس بھی جائے واردات پر پہنچ گئی جس نے غازی علم الدین کو گرفتار کر لیا اور ۱۰؍ اپریل ۱۹۲۹ء کو مسٹر لوئیس ایڈیشنل مجسٹریٹ لاہور کی عدالت میں علم الدین کے خلاف زیر دفعہ ۳۰۲ تعزیرات ہند مقدمہ قتل کی کاروائی شروع ہوئی۔

مقدمہ کی سماعت کے دوران علم الدین کے چہرے پر معصوم مسکراہٹ کھیلتی رہی شہادت قلم بند ہونے کے بعد سرسری بحث کے بعد مقدمہ سیشن کے سپرد ہوا، سیشن کورٹ نے ۲۲؍ مئی ۱۹۲۹ء کو سزائے موت کا فیصلہ سنایا اور مثل حسب ضابطہ توثیق کے لیے لاہور ہائی کورٹ بھجوائی گئی والدین کے حکم کی تعمیل میں علم الدین کی جانب سے بھی اس فیصلہ کے خلاف اپیل دائر کی گئی جس کی پیروی اس وقت کے چوٹی کے قانون دان قائد اعظم محمد علی جناح نے کی قائد اعظم کی بحث کا سب سے اہم نکتہ یہ تھا کہ راج پال نے ’’رنگیلا رسول‘‘ جیسی قابل اعتراض کتاب شائع کر کے پیغمبر اسلام کی توہین کی ہے جسے کوئی مسلمان برداشت نہیں کر سکتا چونکہ یہ کتاب اشتعال انگیزی کا سبب بنی اس لیے ملزم نے قتل عمد کا ارتکاب نہیں کیا لہذا اسے سزائے موت نہیں دی جاسکتی اس کے جواب میں وکیل سرکار رام لال نے من جملہ دیگر دلائل کے یہ موقف اختیار کیا کہ پیغمبر اسلام کی اہانت واقعی افسوس ناک بات ہے لیکن تعزیرات ہند میں اس جرم کی کوئی سزا مقرر نہیں اس لیے مقتول نے کوئی خلاف قانون حرکت نہیں

صفحہ ۲۵۴

توہین رسالت ﷺ کی شرعی سزا

کی تھی چنانچہ ملزم کا یہ فعل اشتعال انگیزی کی تعریف میں نہیں آتا اور اس نے سیشن کورٹ کی سزائے موت کا فیصلہ بحال رکھا، جب یہ فیصلہ غازی علم الدین کو سنایا گیا تو وہ مارے خوشی کے چیخ اٹھے اور کہا: ”اس سے بڑھ کر میری اور کیا خوش نصیبی ہوگی کہ مجھے شہادت کی موت نصیب ہو رہی ہے۔“

جب ان کا غمگسار دوست ”شیدا“ ان سے ملاقات کے لیے میانوالی جیل پہنچا تو اسے غمگین دیکھ کر علم الدین نے کہا: ”یار آج تجھے تو میری طرح خوش ہونا چاہیے اپنے رسول کے نام پر کٹ مرنا ہی ایک مسلمان کی سب سے بڑی آرزو ہے اور اللہ تعالیٰ کی یہ کتنی بڑی کرم نوازی ہے کہ ہزاروں لاکھوں مسلمانوں میں سے اپنے اس حقیر بندے کے ہاتھوں اس ناپاک شیطان کو ختم کرایا اور دیکھو ناموس رسالت پر قربان ہونے کی میری دلی مراد بھی پوری ہو رہی ہے اس لیے تمام مسلمان بھائیوں تک میری یہ بات پہنچا دو کہ وہ میری موت پر غم نہ کریں بلکہ میرے لیے دعائے خیر کریں۔“

والدین اور عزیز واقارب سے آخری ملاقات کے موقع پر اپنی ماں کی آنکھوں میں آنسو دیکھ کر کہنے لگے: ”ماں دیکھ تو کتنی خوش نصیب ہے کہ تیرے بیٹے کو شہادت کی موت مل رہی ہے مجھے تو ہنسی وخوشی رخصت کرنا چاہیے۔“

صفحہ ۲۵۵

توہین رسالت ﷺ کی شرعی سزا

پھر علم الدین نے پیالہ سے پانی پیا اور اسی پیالہ سے اپنے عزیزوں اور والد طالع مند کو پانی پلا کر پوچھا کہ : انہیں بھی اس کی ٹھنڈک پہنچی ہے سب نے جب اثبات میں جواب دیا تو کہنے لگے: مجھے جگر تک ٹھنڈک محسوس ہو رہی ہے پھر ان سب سے کہا کہ : کوئی ان کی موت پر آنسو نہ بہائے ورنہ انہیں اس سے تکلیف ہو گی۔‘‘

جیل کے حکام کو وصیت نامہ میں اپنے عزیزوں کے لیے یہ بات بطور خاص لکھوائی کہ : ’’ان کے پھانسی پر چڑھنے سے وہ بخشے نہیں جائیں گے بلکہ ہر ایک اپنے اعمال کے مطابق جزا اور سزا کا حق دار ہوگا اور انہیں تاکید کی کہ وہ نماز نہ چھوڑیں اور زکوۃ برابر ادا کریں اور شرع محمدی ﷺ پر قائم رہیں۔‘‘

انجام کار ۳۱ / اکتوبر ۱۹۲۹ء کو وہ دن آ پہنچا جس کے لیے علم الدین کی جان بے تاب تھی رات اس جوان شب زندہ دار نے ذکر الہی اور تہجد میں گزار دی اور طلوع سحر پر انتہائی خشوع و خضوع کے ساتھ نماز فجر ادا کی ، اجل مجسٹریٹ ، داروغہ جیل اور مسلح سپاہیوں کے ہمراہ استقبال کے لیے کوٹھڑی کے دروازے پر موجود تھا ، مجسٹریٹ نے اس مرد غازی سے پوچھا کہ کوئی آخری خواہش ، تو کہا صرف دو رکعت نماز شکرانہ کی مہلت ، اجازت ملنے پر سجدہ شکر ادا کرنے کے بعد خوشی کے عالم میں وہ ان کے ساتھ سوئے دار چل پڑے ، اس وقت جیل کے قیدی اپنی اپنی کوٹھڑیوں اور بارکوں میں اس فدائی رسول کی آخری جھلک دیکھنے

صفحہ ۲۵۶

توہین رسالت ﷺ کی شرعی سزا

کے لیے تعظیماً ایستادہ کھڑے تھے رفیقانِ زنداں کو الوداع اور سلام آخر کہتے ہوئے مقتل میں پہنچ کر جب تختہ دار کو دیکھا تو فرط مسرت سے جھوم اٹھے پھر ساعت سعید کو قریب دیکھ کر تیزی سے تختہ دار کی طرف بڑھے اور شوق میں چاہا کہ پھانسی کے پھندے کو جو وصال کا مژدہ جانفزا لے کر نمودار ہوا تھا خود اپنے ہاتھوں سے گلے میں ڈال لیں لیکن اسے خلاف شریعت جان کر فوراً رک گئے اور حاضرین سے مخاطب ہو کر کہا:

”لوگو! گواہ رہنا میں نے ہی راج پال کو حرمت رسول ﷺ کی خاطر قتل کیا تھا اور آج اپنے نبی پاک کا کلمہ پڑھتے ہوئے ان کی خاطر اپنی جان نثار کر رہا ہوں۔“

یہ کہتے ہوئے اس نوجوان پروانہ نبوت نے اپنی جان عزیز ناموس مصطفیٰ ﷺ پر نچھاور کر دی جیل کے حکام نے اپنے افسران بالا کی ایما پر علم الدین شہید کی نعش کو ان کے والد اور عزیز واقارب اور سینکڑوں مسلمانوں کے حوالہ کرنے سے انکار کر دیا جو جیل سے باہر اسے لے جانے کے لیے منتظر کھڑے تھے اس بے تدبیری کی وجہ سے مسلمانوں کے جذبات مشتعل ہو گئے۔

لیکن نقض امن کے اندیشے کے پیش نظر جیل کے کارندوں نے حکومت کی خفیہ ہدایات پر شہید نبوت کی لاش نہایت خاموشی کے ساتھ عجلت میں جیل کے احاطہ میں عام قیدیوں کے قبرستان کے اندر دفن کر دیا، جس نے جلتی پر تیل کا کام کیا، لاہور اور دوسرے شہروں میں ہڑتالیں شروع ہو گئیں، کاروبار معطل ہو گیا، برہنہ پا اور برہنہ سر ماتمی جلوس نکلنے لگے اور مسلمانوں میں

توہین رسالت ﷺ کی

شدید ہیجان پیدا ہو گیا اس سر محمد شفیع، جناب محسن شاہ پاکستان اور دوسرے قائد کی لاش مسلمانوں کے حوا عامہ برقرار رکھنے کے ذم مند ہو گئی چنانچہ تدفین کے موجودگی میں شہید کی میت گزر جانے کے باوجود ہوتا تھا کہ ابھی آنکھ لگی ہے

۱۴ / نومبر ۱۹۲۹ لاکھوں انسانوں کا ایک رواں دواں تھا مسجد و پڑھائی ، مولانا ظفر علی اتر کر کہا : ”کاش! یہ سے علامہ اقبال جیسے سے بے اختیار نکل آ

غازی عبد القی

غازی ع نوجوان مرد مجاہد

صفحہ 257

رفیقان زنداں کو الوداع اور سلام آخر کہتے کو دیکھا تو فرط مسرت سے جھوم اٹھے پھر سے تختہ دار کی طرف بڑھے اور شوق میں صال کا مژدہ جان فزا لے کر نمودار ہوا تھا خود لیکن اسے خلاف شریعت جان کر فوراً رک

راج پال کو حرمت رسول ﷺ کی نبی پاک کا کلمہ پڑھتے ہوئے ان کی

پروانہ نبوت نے اپنی جان عزیز ناموس کے حکام نے اپنے افسران بالا کی ایما پر عمل عزیز واقارب اور سینکڑوں مسلمانوں کے ے باہر اسے لے جانے کے لیے منتظر ے مسلمانوں کے جذبات مشتعل ہو گئے ۔ پیش نظر جیل کے کارندوں نے ت کی لاش نہایت خاموشی کے ساتھ عجلت کے قبرستان کے اندر دفن کر دیا، جس نے رے شہروں میں ہڑتالیں شروع ہو گئیں، ے پُر امن جلوس نکلنے لگے اور مسلمانوں میں

توہین رسالت ﷺ کی شرعی سزا

شدید ہیجان پیدا ہو گیا اس پر اکابرین وقت جن میں علامہ اقبال پیش پیش تھے سر محمد شفیع، جناب محسن شاہ والد محترم جناب جسٹس ڈاکٹر نسیم حسن شاہ چیف جسٹس پاکستان اور دوسرے قائدین کے ہمراہ گورنر سے ملے اور اپنے جواں سال شہید کی لاش مسلمانوں کے حوالے کرنے کا مطالبہ کیا جو اس یقین دہانی پر کہ وہ امن عامہ برقرار رکھنے کے ذمہ دار ہوں گے حکومت نعش ان کے حوالے کرنے پر رضا مند ہو گئی چنانچہ تدفین کے تیرہویں دن مسلمان مجسٹریٹ اور میونسپل کمشنروں کی موجودگی میں شہید کی میت قبر سے نکالی گئی عینی شاہدوں کا بیان ہے کہ کئی دن گزر جانے کے باوجود لاش صحیح اور سالم حالت میں موجود تھی اور یوں محسوس ہوتا تھا کہ ابھی آنکھ لگی ہے۔

۱۴ /نومبر ۱۹۲۹ء کو سارے شہر اور اس کے گردونواح سے ہزاروں لاکھوں انسانوں کا ایک سیلِ بے پناہ فدائی رسول ﷺ کے استقبال کے لیے رواں دواں تھا مسجد وزیر خاں کے خطیب مولانا محمد شمس الدین نے نماز جنازہ پڑھائی ، مولانا ظفر علی خان نے اس شہید رسالت کی لحد میں تدفین سے قبل اتر کر کہا: ”کاش ! یہ سعادت مجھے نصیب ہوتی“ شہید کے جسم کو اشکبار آنکھوں سے علامہ اقبال جیسے شیدائی رسول ﷺ نے قبر میں اتارا، جس پر علامہ کی زبان سے بے اختیار نکل گیا ”یہ جوان ہم سب پڑھے لکھوں سے بازی لے گیا۔“

غازی عبدالقیوم شہید اور نتھو رام کا قتل

غازی عبدالقیوم کا واقعہ شہادت بڑا ہی ایمان افروز واقعہ ہے اس نوجوان مرد مجاہد کا تعلق غازی آباد ضلع ہزارہ کے ایک غریب گھرانے سے تھا

صفحہ ۲۵۸

توہین رسالت ﷺ کی شرعی سزا

لیکن کسے خبر تھی کہ ایک دن تخت ہزارہ کی شہ نشینی سے بھی اونچا مرگ باشرف کا رتبہ شہادت اسے نصیب ہوگا، اپنے گاؤں سے وہ تلاش روزگار میں کراچی آیا، جہاں سے رزق حلال کے لیے گھوڑا گاڑی مل گئی جس کی آمدن سے وہ اپنی بوڑھی ماں، بیوہ بہن اور ضعیف چچا اور نابینا بھتیجے کی کفالت کر رہا تھا، نماز فجر اور عشاء کی نماز وہ اپنے محلہ میں پڑھا کرتا تھا، ایک روز امام مسجد نے اہل مسجد کو اشکبار آنکھوں سے بتلایا کہ ایک خبیث ہندو نتھو رام نے رسول ﷺ کی شان میں گستاخی کی ہے، غازی عبدالقیوم نے جب یہ بات سنی تو تڑپ اٹھا اور اس کے تن بدن میں اک آگ سی لگ گئی اسی وقت اس نے صحن مسجد میں اپنے رب سے عہد کیا کہ وہ اس کافر کمینے کو زندہ نہیں چھوڑے گا۔

نتھو رام آریہ سماجی ہندو تھا، جس نے ۱۹۳۴ء میں ”ہسٹری آف اسلام“ نامی ایک کتاب لکھی جس میں اس نے اسلام اور پیغمبر اسلام کی ذات اقدس کو ہدف تنقید و ملامت بنایا اور شان رسالت میں گستاخانہ اور توہین آمیز الفاظ استعمال کئے تھے، جس سے مسلمانوں میں ہیجان پیدا ہوا اور سارے شہر میں غم و غصہ کی لہر دوڑ گئی حکومت نے نقض امن کے اندیشہ سے ملزم کے خلاف فوج داری مقدمہ قائم کر کے اسے ایک سال قید اور جرمانہ کی سزا دی لیکن مارچ ۱۹۳۵ء میں اس فیصلہ کے خلاف اپیل پر کراچی کے جوڈیشل کمشنر نے اس کی عبوری ضمانت منظور کر لی نتھو رام کا مقدمہ سماعت کے لیے جس دن سندھ چیف کورٹ کے دو انگریزی ججوں کی بینچ کے سامنے پیش ہونا تھا اس دن نتھو رام اپنے وکلاء اور ساتھیوں کے ساتھ ہنسی مذاق کرتا ہوا کورٹ روم میں داخل ہوا عدالت کے باہر ہندو اور مسلمان بڑی تعداد میں فیصلہ سننے کے لیے کھڑے تھے مقدمہ کی

صفحہ ۲۵۹

توہین رسالت ﷺ کی شرعی سزا

سماعت سے کچھ دیر قبل غازی عبدالقیوم کمرہ عدالت میں اس ہندو مصنف نتھو رام کے قریب پہنچنے میں کامیاب ہو گیا اور اپنے شکار پر نظریں جمائے بیٹھا تھا موقع پاتے ہی اپنے نیفہ میں چھپا ہوا تیز دھار خنجر نکال کر عقاب کی طرح وہ اس پر جھپٹا اور اس ملعون کے پیٹ میں خنجر جھونک کر اس کی آنتیں باہر نکال دیں نتھو رام منہ کے بل زمین پر گر پڑا تو اس خیال سے کہ کہیں وہ زندہ بچ نہ جائے اس نے پوری قوت سے ایک اور وار اس کی گردن پر کیا اور اس کی شہ رگ کاٹ دی اس طرح اس خبیث کا کام تمام کرنے کے بعد نہایت اطمینان اور سکون سے اس نے اپنے آپ کو گرفتاری کے لیے پیش کر دیا۔ عدالت میں اس واقعہ سے بھگدڑ مچ گئی اور جج بھی اس اچانک واردات سے خوفزدہ اور سراسیمہ ہو گئے عبدالقیوم کے مقدمہ قتل کے دوران جب ملزم کا بیان قلم بند کرتے ہوئے ایک انگریز جج نے اس مرد غازی سے دریافت کیا کہ اسے اس بھری عدالت میں اس طرح واردات کی جرأت کیسی ہوئی؟ تو اس نے عدالت میں آویزاں جارج پنجم کی تصویر کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا:

”تم اپنے بادشاہ کی توہین برداشت نہیں کر سکتے ہم اپنے دین اور دنیا کے شہنشاہ کی شان میں گستاخی کرنے والے کو کیسے معاف کر سکتے ہیں، اس موذی کو ہلاک کرنے کے بعد نہایت حقارت کے ساتھ اس کی لاش پر تھوکتے ہوئے اس نے کہا تھا:

”اس خنزیر کے بچے نے میرے رسول ﷺ کی توہین کی تھی اس لئے میں نے اسے قتل کیا ہے۔“

اس نے اپنی طرف سے وکیل صفائی پیش کرنے سے انکار کر دیا۔

صفحہ ۲۶۰

توہین رسالت ﷺ کی شرعی سزا

اقبال جرم پر سیشن کورٹ سے غازی عبدالقیوم کو سزائے موت سنائی گئی تو وہ نوجوان مرد مجاہد اپنی خوشی اور مسرت ضبط نہ کر سکا اور بے اختیار اس کی زبان سے اللہ تعالیٰ کی حمد وثنا کی صدا بلند ہوئی ، مسلمانوں نے جب اس فیصلہ کے خلاف اپیل کرنا چاہی تو اس نے ان سب کی منت سماجت کرتے ہوئے کہا:

” آپ لوگ مجھے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں حاضری کی سعادت سے محروم کرنا چاہتے ہیں۔“

اور وہ اس شعر کی مجسم تصویر بنا ہوا تھا:

دل پہ لیا ہے داغ عشق کھو کے بہار زندگی
اک گل تر کے واسطے میں نے چمن لٹا دیا

فیصلہ جب توثیق کے لیے عدالت عالیہ میں سپرد ہوا اور اس مرد غازی کی خواہش کے خلاف قانون کی توضیح اور تشریح کے لیے اپیل دائر کر دی گئی تو اپیل کی سماعت کے دوران ہر پیشی پر اس غازی کے دیدار کے لیے مسلمانوں کا بے پناہ ہجوم موجود ہوتا، جو اس پر گل پاشی کیا کرتا تھا، بالآخر وہ اپنے مقصد میں کامیاب ہو گئے اور اسے بھی دوسرے غازیان ملت کی طرح سزائے موت سنائی گئی جس کے لیے وہ بے چین اور مضطرب رہتا تھا اور یہی پروانہ موت اس کے لیے حیات جاوید لے کر آیا جب سزائے موت اس کو سنائی گئی تو اس نے ججوں سے مخاطب ہو کر کہا:

” مجھے اپنی خوش قسمتی پر ناز ہے کہ میرے ہاتھوں وہ خبیث جہنم رسید ہوا اور میرے رب نے مجھے شہادت جیسی نعمت سے سرفراز کیا، یہ

صفحہ ۲۶۱

توہین رسالت ﷺ کی شرعی سزا

ایک جان کیا چیز ہے اگر ایسی ہزاروں جانیں بھی ہوں تو وہ سب میرے ناموس رسالت پر قربان ہیں ۔“

اس طرح اس مرد غازی کے لیے جو کچھ عرصہ قبل عروس نو بیاہ کر لایا تھا، آج ان شاء اللہ حوران جنت در ہائے فردوس میں اس کے استقبال کے لیے کھڑی ہوں گی۔ یہ بھی ایک عاشق کا جنازہ تھا اس لیے بڑی دھوم سے نکلا اور ہزاروں مسلمان جب میوہ شاہ کے قبرستان اس شہید وفا کے جنازے کو لے جا رہے تھے‘ ایسے میں حکومت افرنگ کے فرعون مزاج فوجیوں نے محبان ناموس ﷺ کے اس ہجوم پر اچانک گولیوں کی بوچھاڑ کر دی‘ جس کے نتیجہ میں سینکڑوں مسلمان شہید اور زخمی ہوئے‘ معصوم عورتیں اور بچے جو مکانوں کی چھتوں سے اس کا جنازہ دیکھ رہے تھے ان کی شقاوت کا نشانہ بنے اور اس دن وہ سب شہیدان ناموس رسالت ﷺ اس فدائی رسول ﷺ کے ساتھ ان شاء اللہ جنت الفردوس میں پہنچ گئے ۔

غازی محمد صدیق شہید

غازی محمد صدیق فیروز پور ضلع قصور کے ایک دینی گھرانے میں پیدا ہوئے‘ بچپن ہی میں والد کا سایہ سر سے اٹھ گیا ماں نے بڑے لاڈ پیار سے بیٹے کی پرورش کی اور ساتھ ساتھ صحیح تربیت کی تھی ، ۱۹۳۴ء میں یہ نو خیز بچہ جب بیس برس کا ہوا تو اسے خواب میں رسول اللہ ﷺ کی زیارت نصیب ہوئی اور حکم ہوا کہ قصور کے ایک دریدہ دہن گستاخ پالال زرگر کا منہ بند کیا جائے ۔ یہ بشارت ملتے ہی نوجوان غازی تڑپ کر بیدار ہوا تو اس کے ساتھ اس کا مقدر بھی

صفحہ ۲۶۲

توہین رسالت صلی اللہ علیہ وسلم کی شرعی سزا جاگ اٹھا اس نے ماں کو یہ خوشخبری سنائی تو ماں نے خوشی سے لخت جگر کا ماتھا چوما اور شہادت کی الفت کی طرف اسے روانہ کیا قصور پہنچ کر اس مرد غازی نے اس گستاخ رسول پالامل کو راستہ ہی میں دبوچ لیا، اسے پچھاڑ کر اس کے سینہ پر سوار ہوگئے اور تیز دھار آلہ سے پے در پے وار کر کے اس موذی کو ہلاک کر دیا اور وہاں سے فرار ہونے کے بجائے قریب ہی کی مسجد میں جا کر سب سے پہلے نماز شکرانہ ادا کی اور پھر مسجد کی سیڑھیوں پر اس شان اور تمکنت کے ساتھ بیٹھ گئے کہ کسی ہندو کو ان کے پاس آنے کی جرأت نہ ہوسکی‘ فیروز مندی ان کے قدم چوم رہی تھی اور فی الحقیقت اس سے بڑھ کر اور کیا نمایاں کام ہوسکتا تھا جس پر مسرت اور شادمانی بھی ناز کرے کہ ایک شاتم رسول صلی اللہ علیہ وسلم ان کے ہاتھوں جہنم رسید ہوا حسب معمول انگریز کا قانون حرکت میں آیا اور مرد مجاہد کا مقدمہ سیشن کے سپرد ہوا‘ غازی موصوف کی جانب سے میاں عبدالعزیز مالوڈہ اور نو مسلم بیرسٹر خالد لطیف گابا نے مقدمہ کی پیروی کی‘ لیکن چونکہ آپ نے عدالت کے روبرو جرأت کے ساتھ اعتراف کرلیا تھا، اس لیے سزائے موت سنائی گئی۔

آفرین ہے اس ماں پر جس نے ایسے پیکر جرأت و ایثار کو جنم دیا اور آفرین ہے اس نوجوان مرد غازی پر جو اپنے ناموس رسالت کے نام پر قربان ہوگیا یہ فیصلہ سن کر ماں نے ایک بار پھر اپنے بیٹے کا ماتھا چوما اور کہا:

’’یہ ایک بیٹا تو کیا ایسے بیس بیٹے بھی ہوتے تو میں ان سب کو ناموسِ رسالت صلی اللہ علیہ وسلم کے نام پر قربان کردیتی۔‘‘

صفحہ 263

توہین رسالت ﷺ کی شرعی سزا

بیٹے نے بھی یہی کہا:

”یہ ایک جان کیا چیز ہے ایسی ہزاروں جانیں بھی ناموسِ رسالت ﷺ پر نثار ہیں۔“

سبحان اللہ!!

غازی عبداللہ شہید

یہ بھی تقسیم ہند سے قبل غالباً ۱۹۳۴ء کا واقعہ ہے ایک بدبخت سکھ چہل سنگھ شیخوپورہ کے گردونواح میں نبی اکرم ﷺ کے خلاف بدگوئی کر کے اپنے خبثِ باطن کا اظہار کرتا پھرتا تھا، قصور کے رہنے والے ایک جیالے جوان عبداللہ کو سرکارِ رسالت مآب ﷺ نے خواب میں حکم دیا کہ وہ اس گستاخ کا منہ بند کرے۔ چنانچہ کسی سے اس خواب کا ذکر کئے بغیر وہ شوریدہ سر آتش بجاں اٹھ کھڑا ہوا اور اس مردود کی تلاش میں نکل پڑا معلوم ہوا کہ وہ خبیث وارث شاہ کے گاؤں جنڈیالہ شیر خان میں رہتا ہے جو اس وقت سکھوں کا گڑھ تھا بستی کے قریب پہنچ کر مزید دریافت پر پتا چلا کہ وہ اپنے کنویں پر بیٹھا کسی کام میں مشغول ہے اس کے قریب ہی سکھوں کا جتھہ مصروفِ گفتگو تھا۔ غازی عبداللہ نے ایک نظر میں اس دشمنِ دین کو پہچان لیا انہیں محسوس ہوا کہ ان کے جسم میں غیر معمولی طاقت بجلی بن کر دوڑ رہی ہے، چہل سنگھ پر وہ جھپٹ کر حملہ آور ہوئے اور اسے پچھاڑ کر اس کے سینہ پر چڑھ بیٹھے اور پوری قوت سے اس کی شہ رگ کاٹ دی اور اس کا سر تن سے جدا کر دیا۔ اس ناگہانی حملہ کو دیکھ کر پاس ہی بیٹھے ہوئے سکھ وہاں سے بھاگ کھڑے ہوئے لیکن یہ مرد غازی اپنے

صفحہ ۲۶۴

توہین رسالت ﷺ کی شرعی سزا

رسول ﷺ کے فرمان کی تعمیل کے بعد اس مردود کے لاشہ سے اٹھا اور وہیں رب کے حضور بسجود ہوا کہ اس نے اس مہم کو کامیاب فرما کر اسے سرفرازی بخشی اور سرخرو کیا۔

موقع واردات پر جب پولیس پہنچی تو اس مرد مجاہد کو وہیں پر موجود پایا جس کا چہرہ خوشی سے چمک رہا تھا، پولیس نے گرفتار کر کے دلی مراد پوری کر دی، شیخوپورہ کے معروف وکیل ملک انور مرحوم نے مقدمہ کی پیروی کی، لیکن چونکہ غازی عبداللہ نے عدالت کے روبرو اعتراف جرم کر لیا تھا ، اس لیے سزائے موت سنائی گئی تو ایک مرتبہ پھر سجدہ شکر بجا لائے کہ انہیں بھی شہیدان رسالت کی صف میں جگہ مل رہی ہے جس پر جتنا بھی فخر و ناز کیا جائے کم ہے۔

غازی عبدالرشید شہید

غازی عبدالرشید شہید کا نام نامی بھی سرفروشان ملت میں ہمیشہ نمایاں رہے گا جس نے آریہ سماج کے بانی سوامی دیانند سرسوتی کے چیلے سوامی شردھا نند جیسے خبیث شاتم رسول کو دہلی میں موت کے گھاٹ اتارا اور راہ محبت رسول میں اپنی جان نثار کر کے بارگاہِ الہی میں سرخرو اور سرفراز ہوا۔

[راج پال سے یہاں تک تمام واقعات ”ناموس رسالت اور قانون توہین رسالت ﷺ“ سے بصد ترمیم اخذ کئے ہیں]

صفحہ ۲۶۵

توہین رسالت ﷺ کی شرعی سزا

توہین صحابہ رضی اللہ عنہم کی شرعی سزا

تمام صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین بلا استثناء جنتی اور اللہ تعالیٰ کی رضا سے مشرف ہیں۔ محمد بن کعب قرظی ؒ سے کسی نے دریافت کیا کہ رسول اللہ ﷺ کے صحابہ کرام کے بارے میں آپ کیا فرماتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ صحابہ کرام سب کے سب جنت میں ہیں اگرچہ وہ لوگ ہوں جن سے دنیا میں غلطیاں اور گناہ بھی ہوئے ہیں۔ اس شخص نے دریافت کیا کہ یہ بات آپ نے کہاں سے کہی [اس کی کیا دلیل ہے ] انہوں نے فرمایا کہ قرآن پاک کی یہ آیت پڑھو ”السَّابِقُوْنَ الأَوَّلُوْنَ“ اس میں تمام صحابہ کرام کے متعلق بلا کسی شرط کے رَضِیَ اللّٰہُ عَنْهُمْ وَرَضُوْا عَنْهُ ارشاد فرمایا ہے۔ البتہ تابعین کے معاملہ میں اتباع باحسان کی شرط لگائی گئی ہے جس سے معلوم ہوا کہ صحابہ کرام بلا کسی قید و شرط کے سب کے سب بلا استثناء رضوان الٰہی سے سرفراز ہیں۔

تفسیر مظہری میں یہ قول نقل کرنے کے بعد فرمایا کہ میرے نزدیک سب صحابہ کرام کے جنتی ہونے پر اس سے بھی زیادہ واضح استدلال اس آیت سے ہے۔

﴿لَا یَسْتَوِیْ مِنْکُمْ مَّنْ اَنْفَقَ مِنْ قَبْلِ الْفَتْحِ وَقَاتَلَ ؕ اُولٰٓئِکَ اَعْظَمُ دَرَجَةً مِّنَ الَّذِیْنَ اَنْفَقُوْا مِنْۢ بَعْدُ وَقَاتَلُوْا ؕ وَکُلًّا وَّعَدَ اللّٰہُ الْحُسْنٰی ؕ وَاللّٰہُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرٌ﴾

[سورة حديد: ١٠]

صفحہ ۲۶۶

توہین رسالت ﷺ کی شرعی سزا

اس آیت میں پوری صراحت سے یہ بیان کر دیا گیا ہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اولین ہوں یا آخرین سب سے اللہ تعالیٰ نے ”حسنیٰ“، یعنی جنت کا وعدہ فرمایا ہے۔

اور حدیث میں رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے کہ جہنم کی آگ اس مسلمان کو نہیں چھو سکتی جس نے مجھے دیکھا ہے یا میرے دیکھنے والوں کو دیکھا ہے۔

[الترمذی ، کتاب المناقب، باب ما جاء فی فضل من رأی النبی ﷺ رقم (۳۸۵۸)]

جب آیات اور احادیث رسول ﷺ میں صحابہ کرام کا جنتی ہونا اور رضا الٰہی سے سرفراز ہونا اظہر من الشمس ہے تو ایسی پاک باز ہستیوں کی توہین اور ان کو سب وشتم کرنا اور طعن و تشنیع کا نشانہ بنانا حرام ، اکبر الکبائر اور افحش الفواحش میں سے ہے جس کی اسلام میں سنگین سزا مقرر کی گئی ہے چنانچہ خاتمۃ الحفاظ ابن حجر فتح الباری [۳۶/۷] میں فرماتے ہیں:

اختلف فی ساب الصحابی فقال عیاض ذهب الجمهور الی انه یعزر وعن بعض المالکیة یقتل وخص بعض الشافعیة ذلک بالشیخین والحسنین فحکی القاضی حسین فی ذلک وجهین وقواه السبکی فی حق من کفر الشیخین وکذا من کفر من صرح النبی ﷺ بایمانه او تبشیره بالجنة اذا تواتر الخبر بذلک عنه لما تضمن من تکذیب رسول اللہ ﷺ۔

صحابہ کو گالی دینے والے کے بارے میں علماء کا اختلاف ہے۔ قاضی عیاض فرماتے ہیں کہ جمہور امت کا قول ہے کہ اسے سنگین سزا دی جائے [لیکن قتل

صفحہ ۲۶۷

توہین رسالت ﷺ کی شرعی سزا

کی سزا نہ دی جائے ] اور بعض مالکی علماء قتل کی سزا کے حق میں ہیں جبکہ بعض شافعی علماء فرماتے ہیں کہ صرف حضرت ابوبکرؓ، حضرت عمرؓ اور حضرت حسنؓ اور حسینؓ کی توہین کرنے والے کو قتل کی سزا دی جائے اور قاضی حسین نے اس بارے میں دو وجوہات بیان کی ہیں اور علامہ سبکی فرماتے ہیں کہ جس نے حضرات شیخین اور عشرہ مبشرہ یا وہ خوش نصیب حضرات جن کے ایمان کی آپ ﷺ نے گواہی دی ہے ایسے لوگوں کے بارے سب وشتم کیا تو اس کو قتل کی سزا دی جائے کیونکہ اس میں تکذیب رسول ﷺ پائی جاتی ہے۔

امام نووی فرماتے ہیں:

اعلم ان سب الصحابة حرام من فواحش المحرمات سواء من لابس الفتن منهم وغيره لانهم مجتهدون فى تلك الحروب ومتأولون قال القاضي وسب احدهم من المعاصي الكبائر ومذهبنا ومذهب الجمهور انه يعزر ولا يقتل وقال بعض المالكية يقتل.

[شرح مسلم ۹۳/۱۶]

سو معلوم ہونا چاہیے کہ صحابہ کرام کو برا بھلا کہنا فواحش محرمات میں سے ہے اگرچہ وہ اختلافات کے فتنوں میں کیوں نہ مبتلا ہوئے ہوں کیونکہ وہ مجتہد تھے اور ہر ایک اپنی جگہ اللہ کی رضا وخوشنودی کے لیے کام کر رہا تھا۔ قاضی عیاض فرماتے ہیں کہ صحابہ میں سے کسی کو برا بھلا کہنا کبائر معاصی میں سے ہے ہمارا اور جمہور امت کا مذہب یہ ہے کہ ایسے شخص کو قتل نہ کیا جائے بلکہ کوئی دوسری سنگین سزا دی جائے اور بعض مالکی علماء قتل کے بھی قائل ہیں۔

صفحہ ۲۶۸

توہین رسالت ﷺ کی شرعی سزا

خلاصہ:۔

مذکورہ دونوں عبارتوں کا خلاصہ یہ ہے کہ توہین صحابہ کے مرتکب کی سزا کے بارے میں علماء کے تین اقوال ہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے دی ہے ایسے حضرات کی توہین کی سزا قتل ہے باقی کی توہین کے لیے سنگین سزا ہے مگر قتل نہیں۔

اب ان اقوال کے مختصر دلائل ملاحظہ فرمائیں۔

مذکورہ اقوال کے دلائل

پہلا قول :۔

پہلا قول جمہور علماء امت کا ہے ان کا موقف یہ ہے کہ غیر نبی کے دشنام دہندہ کو قتل نہ کیا جائے بلکہ کوئی دوسری عبرتناک سزا دی جائے۔ ان کا استدلال حضرت ابوبکر صدیق ؓ کے واقعہ سے ہے جس کو سابق ہم ذکر کر چکے ہیں کہ ایک شخص نے حضرت صدیق اکبر ؓ سے نالائق گفتگو کی اور سخت سست الفاظ کہے اور ایک روایت ہے کہ اس نے آپ کو گالی دی تو حضرت ابو برزہ ؓ صحابی نے حضرت صدیق اکبر ؓ سے اس کی قتل کرنے کی

صفحہ 269

توہین رسالت ﷺ کی شرعی سزا

اجازت چاہی تو حضرت صدیق اکبرؓ نے اجازت نہ دی اور کہا کہ نبی کے بعد کسی کو قتل کی سزا نہیں دی جا سکتی۔

[ابو داؤد کتاب الحدود ۲۵۳/۲]

نیز اس لیے کہ حضرت صدیق اکبرؓ نے مہاجر بن ابی امیہ کو لکھا تھا کہ انبیاء کی حد دیگر حدود شرعیہ کی طرح نہیں۔

پھر قتل کی سزا اس لیے بھی نہیں دی جاسکتی کہ اللہ تعالی نے اللہ اور اس کے رسول ﷺ اور اہل ایمان کو ایذاء دینے والوں میں فرق و امتیاز رکھا ہے۔

چنانچہ اللہ کو ایذاء دینے والوں کو دینا و آخرت میں ملعون قرار دیا ہے اور رسول کو ایذاء دینے والے کے بارے میں فرمایا کہ

﴿فَقَدِ احْتَمَلَ بُهْتَانًا وَّإِثْمًا مُّبِينًا﴾ [النساء: ۱۱۲]

”اس نے بہت بڑے بہتان اور صریح گناہ کا ارتکاب کیا ۔“

ظاہر ہے کہ مطلق بہتان اور گناہ کہ وجہ سے قتل کی سزا نہیں دی جا سکتی بلکہ اس سے سزا فی الجملہ واجب ہوتی ہے۔ لہٰذا اسے مطلق سزا دی جائے گی جس سے قتل کا جواز لازم نہیں آتا۔

نیز قتل کی سزا اس لیے بھی نہیں دی جاسکتی کیونکہ رسول اللہ ﷺ کا ارشاد گرامی ہے:

کسی مسلمان مرد کا خون بہانا جائز نہیں جو کلمہ طیبہ کی شہادت دیتا ہو جب تک وہ تین باتوں میں سے کسی ایک کا مرتکب نہ ہو اور وہ یہ ہیں:

صفحہ ۲۷۰

توہین رسالت ﷺ کی شرعی سزا

اور غیر انبیاء کو مطلق گالی دینے سے اس کا کفر لازم نہیں آتا اس لیے کہ عہد رسالت میں لوگ ایک دوسرے کو سخت سست الفاظ کہہ لیا کرتے تھے مگر اس کی بنا پر کسی کو کافر قرار نہیں دیا گیا۔ نیز اس لیے کہ کسی خاص صحابی پر علی التعیین ایمان لانا واجب نہیں لہذا ان میں سے کسی ایک کو گالی دینے سے یہ لازم نہیں آتا کہ وہ شخص اللہ اور اس کے رسول، اس کے ملائکہ، اس کی کتابوں اور یوم آخرت پر ایمان نہیں رکھتا۔

[الصارم المسلول ص ۵۷۸]

دوسرا قول:

صحابہ کرام کی توہین کرنے والے کے بارے میں دوسرا قول یہ ہے کہ اسے توہین رسالت کے مرتکب کی طرح قتل کر دیا جائے جس کی دلیل یہ آیت ہے:

﴿مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰهِ وَالَّذِیْنَ مَعَهٗ اَشِدَّآءُ عَلَی الْکُفَّارِ رُحَمَآءُ بَیْنَهُمْ﴾

[الفتح: ۲۹]

محمد اللہ کے رسول ہیں اور جو لوگ ان کے ساتھ ہیں وہ کفار پر سخت اور آپس میں رحم دل ہیں۔

اس آیت کے الفاظ لِیَغِیْظَ بِهِمُ الْکُفَّارَ۔ تاکہ ان کی وجہ سے کفار کو غصہ دلایا جائے اور جب کفار صحابہ کی وجہ سے غصہ میں آتے ہیں تو جس نے صحابہ ؓ کو ناراض کیا گویا وہ بھی کفار کے ساتھ اس معاملہ میں شریک ہوگیا

صفحہ ۲۷۱

توہین رسالت ﷺ کی شرعی سزا

جس کی وجہ سے اللہ نے ان کو ذلیل ورسوا کیا اور ان کے کفر کی بنا پر ان کو سرنگوں کیا اور کفار کے ساتھ ان کے غصہ میں جس کی وجہ سے ان کو رسوا کیا گیا وہی شخص شریک ہوگا جو کافر ہو اس لیے کہ مومن کفر کی وجہ سے ذلیل ورسوا نہیں کیا جاتا ۔

اس کی توضیح یہ ہے کہ لِيَغِيظَ بِهِمُ الْكُفَّارَ میں حکم کو ایسے وصف کے ساتھ معلق کیا گیا ہے جو مشتق ہے اور مناسب بھی ہے اس لیے کہ کفر اس لائق ہے کہ اس کے حامل کو غصہ دلایا جائے ۔ جب کفر ہی اس بات کا موجب ہو کہ اللہ اس کے حامل کو محمد ﷺ کے صحابہ ؓ کی وجہ سے غصہ دلائے تو جس کو اللہ اصحاب محمد ﷺ کی وجہ سے غصہ دلائے اس کے حق میں اس کا موجب پایا گیا اور وہ کفر ہے امام عبداللہ بن ادریس الاودی فرماتے ہیں مجھے ڈر ہے کہ شیعہ کہیں کفار کے مماثل نہ ہوں اس لیے کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں لِيَغِيظَ بِهِمُ الْكُفَّارَ ۔ تاکہ ان کی وجہ سے کفار کو غصہ دلائے اور یہی معنی ہیں امام احمدؒ کے اس قول کے کہ میں ایسے آدمی کو مسلمان نہیں سمجھتا۔

رسول اللہ ﷺ کا یہ فرمان بھی اسی قبیل سے ہے کہ جس نے ان کے ساتھ عداوت رکھی اور جس نے ان کو رنج پہنچایا اس نے مجھے ستایا اور جس نے مجھے ستایا اس نے اللہ کو ایذا دی۔ اور آپ ﷺ نے یہ بھی فرمایا کہ:

جس نے ان کو گالی دی اس پر اللہ تعالیٰ، اس کے فرشتوں اور تمام لوگوں کی لعنت ہو اللہ تعالیٰ اس کے فرائض اور نوافل کو قبول نہیں کرے گا۔

ظاہر ہے کہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی ایذاء کفر ہے اور قتل کا

صفحہ ۲۷۲

توہین رسالت ﷺ کی شرعی سزا موجب بھی جیسا کہ پہلے ہم تفصیل سے لکھ چکے ہیں اور اسی سے اس بات کا فرق واضح ہو جاتا ہے کہ حصول صحبت سے پہلے اور حصول صحبت کے بعد صحابہ کو گالی دینے اور عام مسلمانوں کو گالی دینے میں کیا فرق ہے۔ ایک زمانہ ایسا بھی تھا کہ ایک آدمی اسلام کا اظہار کرتا تھا۔ اور اس کے بارے میں یہ امکان تھا کہ کہیں منافق یا مرتد نہ ہو لیکن اگر کوئی شخص آپ ﷺ کی صحبت پر قائم ہوتے ہوئے فوت ہو جائے اور وہ نفاق سے متہم نہ ہو تو اس کو ایذاء دینا اسی ہستی کو ایذاء دینا ہے جس کی صحبت کا شرف اسے حاصل رہا۔ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ”اعتبروا الناس باخدانهم“ لوگوں کو ان کے احباب پر قیاس کیا کرو۔ کسی شاعر کا قول ہے:

عَنِ الْمَرْءِ لَا تَسْئَلْ وَسَلْ عَنْ قَرِيْنِهِ
فَكُلُّ قَرِيْنٍ بِالْمُقَارِنِ يَقْتَدِى

آدمی کے بارے میں مت پوچھ بلکہ اس کے ساتھی کے بارے میں پوچھ اس لیے کہ ہر ساتھی اپنے رفیق کی پیروی کرتا ہے۔

[الصارم المسلول ص ۵۸۰]

حضرت علی رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ آخری زمانہ میں ایک قوم نمودار ہو گی جس کا ایک لقب ہوگا۔ ان کو رافضہ کہا جائے گا وہ اسی سے پہچانے جائیں گے وہ اپنے آپ کو ہماری طرف منسوب کریں گے حالانکہ وہ ہماری جماعت سے نہیں ان کی نشانی یہ ہے کہ وہ حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو گالیاں دینے والے ہوں گے۔ تم جہاں کہیں انہیں پاؤ قتل کر دو اس لیے کہ وہ مشرک ہوں گے۔

[الصارم المسلول]

صفحہ 273

توہین رسالت ﷺ کی شرعی سزا

تیسرا قول:

تیسرے قول میں جو تفصیل ذکر کی گئی ہے اس پر اس قول والوں نے کوئی دلیل ذکر نہیں کی البتہ شیخین ، حسنین ، عشرہ مبشرہ وغیرہ صحابہ کی چونکہ ایک امتیازی شان ہے اور ان کا ایک خاص مقام ہے اس لیے کچھ لوگوں نے ان حضرات کی توہین کو توہین رسالت کے برابر قرار دے کر اس کی سزا بھی قتل ہی تجویز کی ہے۔

صحابہ کرام کا مقام و مرتبہ

صحابہ کرام جس مقدس گروہ کا نام ہے وہ امت کے عام افراد اور رجال کی طرح نہیں وہ رسول اللہ ﷺ اور امت کے درمیان ایک مقدس واسطہ ہونے کی وجہ سے ایک خاص مقام اور عام امت سے امتیاز رکھتے ہیں۔ یہ مقام و امتیاز ان کو قرآن و سنت کی نصوص و تصریحات کا عطا کیا ہوا ہے۔ اور اسی لیے اس امت کا اجماع ہے۔ اب ذیل میں چند ایک وہ آیات ملاحظہ فرمائیں جن میں اس مقدس اور پاک باز گروہ کا مرتبہ اور شان بیان کی گئی ہے۔

آیات قرآنی

[۱]

﴿وَالسّٰبِقُوْنَ الْاَوَّلُوْنَ مِنَ الْمُهٰجِرِيْنَ وَ الْاَنْصَارِ وَ الَّذِيْنَ
صفحہ ۲۷۴

توہین رسالت ﷺ کی شرعی سزا

اتَّبَعُوْهُمْ بِاِحْسَانٍ رَّضِیَ اللّٰهُ عَنْهُمْ وَ رَضُوْا عَنْهُ وَ اَعَدَّ لَهُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ تَحْتَهَا الْاَنْهٰرُ ﴾ . [سوره توبه: ۱۰۰]

”وہ مہاجر و انصار جنہوں نے سب سے پہلے دعوت ایمان پر لبیک کہنے میں سبقت کی نیز وہ جو بعد میں راست بازی کے ساتھ ان کے پیچھے آئے اللہ ان سے راضی ہوا اور وہ اللہ سے راضی ہوئے اور اللہ نے ان کے لیے ایسے باغ مہیا کر رکھے ہیں جن کے نیچے سے نہریں بہتی ہوں گی۔“

آیت مذکورہ میں اللہ تعالیٰ نے صحابہ کرام کے دو طبقے بیان فرمائے ہیں ایک سابقین اولین کا دوسرے بعد میں ایمان لانے والوں کا۔ اور دونوں طبقوں کے متعلق یہ اعلان کر دیا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ ان سے راضی اور وہ اللہ سے راضی ہیں ان کے لیے جنت کا مقام و دوام مقرر ہے جس میں تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم داخل ہیں۔

پھر مہاجرین و انصار میں سے سابقین اولین کون لوگ ہیں اس کی تفسیر میں ابن کثیر نے تفسیر میں اور ابن عبدالبر نے مقدمہ استیعاب میں سندوں کے ساتھ دونوں قول نقل کئے ہیں ایک یہ کہ سابقین اولین وہ حضرات ہیں جنہوں نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ دونوں قبلوں کی طرف نماز پڑھی ہو۔ یہ قول ابو موسیٰ اشعری، سعید بن مسیب، ابن سیرین، حسن بصری کا ہے۔

[ابن کثیر]

اس کا حاصل یہ ہے کہ تحویل قبلہ بیت المقدس سے بیت اللہ کی طرف جو ہجرت کے دوسرے سال میں ہوئی ہے اس سے پہلے پہلے جو لوگ مشرف

صفحہ ۲۷۵

توہین رسالت ﷺ کی شرعی سزا

باسلام ہو کر شرف صحابیت حاصل کر چکے ہیں وہ سابقین اولین ہیں۔

دوسرا قول یہ ہے کہ جو لوگ بیعت رضوان یعنی واقعہ حدیبیہ واقع ۶ ھ میں شریک ہوئے ہیں وہ سابقین اولین میں سے ہیں یہ قول امام شعبی کا ہے۔

[ابن کثیر، استیعاب]

حافظ ابن کثیر لکھتے ہیں:

يا ويل من ابغضهم او سبهم أو سب بعضهم [الى قوله] فاين هؤلاء من الايمان بالقرآن اذ يسبون من رضى الله عنهم.

[ابن کثیر ٤٤٥/٣]

عذاب الیم ہے ان لوگوں کے لیے جو ان حضرات سے یا ان میں سے بعض سے بغض رکھے یا ان کو برا کہے ایسے لوگوں کو ایمان بالقرآن سے کیا واسطہ جو ان لوگوں کو برا کہتے ہیں جن سے اللہ نے راضی ہونے کا اعلان کر دیا۔

علامہ ابن عبدالبر مذکورہ آیت نقل کرنے کے بعد لکھتے ہیں:

ومن رضى الله عنه لم يسخط عليه ابدا ان شاء الله تعالى.

[الاستيعاب ص ٤ ج ١]

اللہ جس سے راضی ہو گیا پھر اس سے کبھی ناراض نہیں ہو گا ان شاء اللہ ۔

مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کو تو سب اگلی پچھلی چیزوں کا علم ہے وہ راضی اس شخص سے ہو سکتے ہیں جو آئندہ زمانے میں بھی رضا کے خلاف کام کرنے والا نہیں ہے اس لیے کسی کے واسطے رضائے الٰہی کا اعلان اس کی ضمانت ہے کہ اس کا خاتمہ اور انجام بھی اسی حالت صالحہ پر ہو گا۔ اس سے رضا

صفحہ ۲۷۶

توہین رسالت ﷺ کی شرعی سزا الٰہی کے خلاف کوئی کام آئندہ بھی نہیں ہوگا یہی مضمون شیخ الاسلام حافظ ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے شرح عقیدہ واسطیہ میں اور سفارینی نے شرح درہ مضیہ میں بھی لکھا ہے اس سے ان ملحدین کے شبہ کا ازالہ خود بخود ہو گیا کہ جو یہ کہتے ہیں کہ قرآن کے یہ اعلانات اس وقت کے ہیں جبکہ ان کے حالات درست تھے بعد میں معاذ اللہ ان کے حالات خراب ہو گئے اس لیے وہ اس انعام واکرام کے مستحق نہیں رہے نعوذ باللہ منہ۔ کیونکہ اس سے تو نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ اللہ تعالیٰ شروع میں بوجہ انجام سے بے خبری کے راضی ہو گئے تھے بعد میں یہ حکم بدل گیا نعوذ باللہ منہ۔

[۲]

﴿لَقَدْ رَضِيَ اللّٰهُ عَنِ الْمُؤْمِنِينَ إِذْ يُبَايِعُوْنَكَ تَحْتَ الشَّجَرَةِ﴾ [سوره فتح: ۱۸] اللہ مومنوں سے خوش ہو گیا جب وہ درخت کے نیچے آپ ﷺ سے بیعت کر رہے تھے۔

یہاں اس بیعت کا ذکر ہے جو حدیبیہ کے مقام پر صحابہ کرام سے لی گئی تھی۔ اس بیعت کو بیعت رضوان کہا جاتا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں یہ خوشخبری سنائی ہے کہ وہ ان لوگوں سے راضی ہو گیا جنہوں نے اس خطرناک موقع پر جان کی بازی لگا دینے میں ذرہ برابر تامل نہ کیا اور رسول کے ہاتھ پر سرفروشی کی بیعت کر کے اپنے صادق الایمان ہونے کا صریح ثبوت پیش کر دیا۔ وقت تھا کہ مسلمان صرف ایک ایک تلوار لیے ہوئے آئے تھے صرف چودہ سو

توہین رسالت ﷺ [۱۴۰۰] کی تعداد میں باندھے ہوئے تھے اور دشمن کا گڑھ جہاں فاصلے پر تھا۔ اگر اللہ لوگوں کے اندر خلوص کی اللہ ﷺ کا ساتھ چھوڑ اپنے اخلاص کے سوا لیے مجبور ہوتے ان کا ہو جانا اس بات کی کھلی دلی اور رسول ﷺ کی وفاداری ان کو یہ سند خوشنودی عطا کوئی شخص ان سے نارا سے نہیں بلکہ اللہ سے ہے حضرات کو یہ خوشنودی کی سن اور رسول ﷺ سے بے و اسے یہ آیت نازل کرتے وقت کی حالت دیکھ کر اس ل بنا پر اسے اپنی کتاب پاک میں وفا ہو جائیں ان کے بارے م غیب کی داد دیتی رہے جس ۔

صفحہ ۲۷۷

توہین رسالت ﷺ کی شرعی سزا

[۱۴۰۰] کی تعداد میں تھے جنگی لباس میں بھی نہ تھے ۔ بلکہ احرام کی چادریں باندھے ہوئے تھے۔ اپنے رہائشی مقام [مدینہ ] سے ڈھائی سو میل دور تھے اور دشمن کا گڑھ جہاں سے وہ ہر قسم کی مدد لاسکتا تھا صرف تیرہ [۱۳] میل کے فاصلے پر تھا۔ اگر اللہ اور اس کے رسول ﷺ اور اس کے دین کے لیے ان لوگوں کے اندر خلوص کی کچھ بھی کمی ہوتی تو وہ اس انتہائی خطرناک موقع پر رسول اللہ ﷺ کا ساتھ چھوڑ جاتے اور اسلام کی بازی ہمیشہ کے لیے ہار جاتی ان کے اپنے اخلاص کے سوا کوئی خارجی دباؤ ایسا نہ تھا جس کی بنا پر وہ اس بیعت کے لیے مجبور ہوتے ان کا اس وقت اللہ کے دین کے لیے مرنے مارنے پر آمادہ ہو جانا اس بات کی کھلی دلیل ہے کہ وہ اپنے ایمان میں صادق و مخلص اور اللہ اور رسول ﷺ کی وفاداری میں درجہ کمال پر فائز تھے۔ اسی بنا پر اللہ تعالیٰ نے ان کو یہ سند خوشنودی عطا فرمائی اور اللہ کی سند خوشنودی عطا ہو جانے کے بعد اگر کوئی شخص ان سے ناراض ہو یا ان پر زبان طعن دراز کرے تو اس کا معارضہ ان سے نہیں بلکہ اللہ سے ہے۔ اس پر جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ جس وقت اللہ نے ان حضرات کو یہ خوشنودی کی سند عطا کی تھی اس وقت تو یہ مخلص تھے مگر بعد میں یہ اللہ اور رسول ﷺ سے بے وفا ہو گئے ۔ وہ شائد اللہ سے یہ بدگمانی رکھتے ہیں کہ اسے یہ آیت نازل کرتے وقت ان کے مستقبل کی خبر نہ تھی اس لیے محض اس وقت کی حالت دیکھ کر اس نے یہ پروانہ انہیں عطا کر دیا اور غالباً اسی بے خبری کی بنا پر اسے اپنی کتاب پاک میں درج فرما دیا تا کہ بعد میں بھی جب یہ لوگ بے وفا ہو جائیں ان کے بارے میں دنیا یہ آیت پڑھتی رہے اور اس اللہ کے علمِ غیب کی داد دیتی رہے جس نے معاذ اللہ ان بے وفاؤں کو یہ پروانہ خوشنودی

صفحہ ۲۰۸

توہین رسالت ﷺ کی شرعی سزا

عطا کیا تھا۔

مفسر قرآن قاضی ثناء اللہ پانی پتی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:

اس آیت میں حق تعالیٰ اس بیعت کے شرکاء سے اپنی رضا کا اعلان فرمایا ہے۔ اسی لیے اس بیعت کو بیعت رضوان بھی کہا جاتا ہے اور مقصود اس سے ان شرکاء بیعت کی مدح اور ان کو اس عہد کے پورا کرنے کی تاکید کی ہے۔ صحیحین میں حضرت جابرؓ کی روایت ہے کہ حدیبیہ کے دن ہماری تعداد چودہ سو تھی ہم سے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اَنْتُمْ خَیْرُ اَھْلِ الْاَرْضِ یعنی تم لوگ روئے زمین کے انسانوں سے بہتر ہو، اور صحیح مسلم میں ام مبشر سے مرفوعاً روایت ہے کہ: لَا يَدْخُلُ النَّارَ اَحَدٌ مِّمَّنْ بَايَعَ تَحْتَ الشَّجَرَةِ یعنی جن لوگوں نے اس درخت کے نیچے بیعت کی ہے ان میں سے کوئی بھی جہنم میں نہیں جائے گا۔

[تفسیر مظہری ۲۳/۹]

اس لئے اس بیعت کے شرکاء کی مثال غزوہ بدر کی سی ہے جیسا کہ ان کے متعلق قرآن وحدیث میں رضا الہی اور جنت کی بشارتیں ہیں اسی طرح شرکاء بیعت رضوان کے لیے بھی بشارت آئی ہے۔

یہ بشارتیں اس پر شاہد ہیں کہ ان سب حضرات کا خاتمہ ایمان اور اعمال صالحہ مرضیہ پر ہوگا کیونکہ رضائے الہی کا یہ اعلان اس کی ضمانت دے رہا ہے۔

صحابہ کرام پر طعن و تشنیع اس آیت کے خلاف ہے

جن خیار امت کے متعلق اللہ تعالیٰ نے غفران ومغفرت کا یہ اعلان فرمایا ہے اگر ان سے کوئی لغزش یا گناہ ہوا بھی ہے تو یہ آیت اس کی معافی کا

صفحہ ۲۷۹

توہین رسالت ﷺ کی شرعی سزا

اعلان ہے۔ پھر ان کے ایسے معاملات کو جو مستحسن نہیں ہیں غور و فکر اور بحث و مباحثہ کا میدان بنانا بدبختی اور بظاہر اس آیت کی مخالفت ہے۔ یہ آیت روافض کے قول کی واضح تردید ہے جو حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما اور دوسرے صحابہ پر کفر و نفاق کے الزام لگاتے ہیں۔

علامہ آلوسی بغدادیؒ رضا کے معنی خوشنودی بیان کرنے کے بعد فرماتے ہیں۔

لفظ رضا کا استعمال کلام عرب میں متعدد صورتوں سے ہوتا ہے کبھی بغیر صیغہ کے استعمال ہوتا ہے۔ مثلاً کہا جائے ”رَضِیْتُ زَیْدًا“ اور کبھی ”عَنْ“ اور ”بَا“ کے ساتھ مثلاً ”رَضِیْتُ زَیْدًا بِاِحْسَانِہٖ“ اور کبھی ”لَام“ کے ساتھ مثلاً رَضِیْتُ لَکَ ۔

علماء عربیہ فرماتے ہیں کہ ”ب“ کے ساتھ استعمال سببیت کے معنی ظاہر کرتا ہے۔ باحسانہ کہنے کا مفہوم یہ ہوگا کہ اس کے احسان کی وجہ سے میں خوش ہوا اور جہاں بغیر صیغہ کے استعمال ہو تو محض ذات بحیثیت ذات رضا کے معنی ہوں گے اور جس جگہ ب کا صیغہ اور ذات دونوں کو جمع کیا جائے مثلاً ”رَضِیْتُ بِاللّٰہِ رَبًّا “ تو ذات سے خوشنودی کی نوعیت کو بتانا ہوگا۔ یعنی اللہ رب العزت کے ساتھ خوشنودی بحیثیت اس کی ربوبیت اور بندگی ہے اور جب ”عن“ کے ساتھ استعمال ہوگا تو یہ ظاہر کرنا مقصود ہوگا کہ رضا اور خوشنودی کس چیز سے واقع ہوئی اور رضا اور خوشنودی کا منشاء کیا ہے تو اس موقع ”لَقَدْ رَضِیَ اللّٰہُ عَنِ الْمُؤْمِنِیْنَ“ کا عنوان اس پر دلالت کر رہا ہے۔ کہ ان اصحاب رسول اللہ ﷺ سے اللہ کی خوشنودی ان کے ایمان و اخلاص کی وجہ سے واقع ہوئی اور یہی ایمان

صفحہ ۲۸۰

توہین رسالت ﷺ کی شرعی سزا

واخلاص اس رضا الہی کا منشاء بنا جبکہ یہ عمل بیعت ان کے ایمان کامل کے ثبوت پر ظاہر ہو رہا ہے جبکہ اس درخت کے نیچے بیعت ہو رہی تھی تو یہ عنوان بلیغ ترین عنوان ہوا بہ نسبت اس کے ”رَضِيَ اللَّهُ بَيْعَتَهُمْ“ کیونکہ اس میں صرف اس عمل پر ہی خوشنودی کا اظہار ہوتا ہے۔ اب یہاں اس کے بالمقابل عمل کو ظرف بنایا گیا اور خوشنودی کا محل صرف صحابہ کی ذات قرار دی گئی اور اس کا منشا ان کا ایمان واخلاص بتایا گیا جس کی گواہی دینے والا خود اللہ رب العزت ہو اب اس کے بعد ان حضرات میں سے کسی کے بھی ایمان واخلاص میں شک کرنا در حقیقت اللہ تعالیٰ کی گواہی کو ٹھکرانا ہوگا۔ العیاذ باللہ ثم العیاذ باللہ۔

[روح المعانی ۱۰۷/۲۶]

[۳]

﴿ مُحَمَّدٌ رَّسُولُ اللَّهِ وَالَّذِينَ مَعَهُ أَشِدَّاءُ عَلَى الْكُفَّارِ رُحَمَاءُ بَيْنَهُمْ تَرَاهُمْ رُكَّعًا سُجَّدًا يَبْتَغُونَ فَضْلًا مِّنَ اللَّهِ وَرِضْوَانًا سِيمَاهُمْ فِي وُجُوهِهِم مِّنْ أَثَرِ السُّجُودِ ﴾

[سورہ فتح : ۲۹]

”محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں اور جو لوگ ان کے ساتھ ہیں وہ کفار پر سخت اور آپس میں رحیم ہیں تم جب دیکھو گے انہیں رکوع وسجود اور اللہ کے فضل اور اس کی خوشنودی کی طلب میں مشغول پاؤ گے سجود کے اثرات ان کے چہروں پر موجود ہیں۔“

عام مفسرین امام قرطبی وغیرہ نے فرمایا کہ ”وَالَّذِينَ مَعَهُ“ عام ہے اس میں تمام صحابہ کرام کی پوری جماعت داخل ہے اور اس میں تمام صحابہ کرام

صفحہ ۲۸۱

توہین رسالت ﷺ کی شرعی سزا

کی تعدیل ان کا تزکیہ اور ان کی مدح وثنا خود مالک کائنات کی طرف سے آئی ہے۔

ابوعروہ زبیری کہتے ہیں کہ ہم ایک روز حضرت امام مالکؒ کی مجلس میں تھے لوگوں نے ایک شخص کا ذکر کیا جو بعض صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو بُرا کہتا تھا۔ امام مالکؒ نے یہ آیت ”لِيَغِيظَ بِهِمُ الْكُفَّارَ“ تلاوت فرمائی اور پھر فرمایا کہ جس شخص کے دل میں رسول اللہ ﷺ کے صحابہ میں سے کسی کے متعلق غیظ ہو وہ اس آیت کی زد میں ہے یعنی اس کا ایمان خطرہ میں ہے کیونکہ آیت میں کسی صحابی سے غیظ کفار کی علامت قرار دی گئی ہے اور ”وَالَّذِيْنَ مَعَهُ“ میں تمام صحابہ کرام کی جماعت بلا کسی استثناء کے داخل ہے۔

[قرطبی ۲۹۶/۱۶]

[۴]

سورۂ حشر میں حق تعالیٰ نے عہد رسالت کے تمام موجود اور آئندہ آنے والے مسلمانوں کے تین طبقے کر کے ذکر کیا ہے پہلا مہاجرین کا جن کے بارے میں حق تعالیٰ نے یہ فیصلہ فرمایا ”أُولَئِكَ هُمُ الصَّادِقُونَ“ یعنی یہی لوگ سچے ہیں۔

دوسرا انصار کا جن کی صفات وفضائل ذکر کرنے کے بعد قرآن کریم نے فرمایا ”أُولَئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ“ یہی لوگ فلاح پانے والے ہیں۔

تیسرا طبقہ ان لوگوں کا ہے جو مہاجرین اور انصار کے بعد قیامت تک آنے والا ہے ان کے بارے میں فرمایا: ﴿وَالَّذِيْنَ جَاءُوْا مِنْ بَعْدِهِمْ يَقُولُونَ رَبَّنَا اغْفِرْ لَنَا وَ

صفحہ 282

توہین رسالت ﷺ کی شرعی سزا

لِإِخْوَانِنَا الَّذِيْنَ سَبَقُوْنَا بِالْإِيْمَانِ وَلَا تَجْعَلْ فِيْ قُلُوْبِنَا غِلًّا لِّلَّذِيْنَ آمَنُوْا ۔ [حشر: ١٠]

”اور وہ لوگ جو بعد میں آئے یہ کہتے ہیں کہ اے ہمارے پروردگار ہماری بھی مغفرت فرما اور ہمارے ان بھائیوں کی بھی جو ہم سے پہلے ایمان لائے ہیں اور ہمارے دلوں میں ایمان لانے والوں سے کوئی بغض نہ رکھنا۔“

اس آیت کی تفسیر میں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے سب مہاجرین وانصار صحابہؓ کے لیے استغفار کرنے کا حکم سب مسلمانوں کو دیا ہے اور یہ حکم اس حال میں دیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کو یہ بھی معلوم تھا کہ ان کے باہم جنگ ومقاتلہ بھی ہوگا علماء نے فرمایا کہ اس آیت سے معلوم ہوا کہ صحابہ کرام کے بعد اسلام میں اس شخص کا کوئی مقام نہیں جو صحابہ کرام سے محبت نہ رکھے اور ان کے لیے دعا نہ کرے۔ [قرطبی ۳۳/۱۸]

[۵]

﴿ كُنْتُمْ خَيْرَ أُمَّةٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ ﴾ . [سوره آل عمران ]

”تم بہترین امت ہو جو لوگوں کے [نفع اور اصلاح] کے لیے پیدا کی گئی ہے۔“

[۶]

﴿ وَكَذٰلِكَ جَعَلْنَاكُمْ أُمَّةً وَّسَطًا لِّتَكُوْنُوْا شُهَدَآءَ عَلَى النَّاسِ ﴾ [البقرة: ١٤٣]

”اور ہم نے تم کو ایک ایسی جماعت بنا دیا ہے جو [ہر پہلو سے] نہایت

توہین رسالت ﷺ

اعتدال پر ہے تاکہ ان دونوں آیتوں باقی امت بھی اپنے اس کرام کا ان دونوں آیتوں ہے۔ ان میں صحابہ کرام اور عدل وثقہ ہونا واضح طور کے مقدمہ اور علامہ سفار کا مسلک قرار دیا ہے کہ انبیاء ابراہیم بن سعید دریافت کیا کہ حضرت معاو ہے تو انہوں نے کہا ”توبہ شرح العقيده الواسطيه لاب سمجھتے ۔ افضل ہونا تو کجا یہاں یہ بات ہیں جو سب کو پیدا کرنے ایک ایک قدم سنے اور اسے آئیں گے۔ اس نے صحا بشارت دی ہے ان سب سے ہر ایک کو عہد رسالت

صفحہ ۲۸۳

توہین رسالت ﷺ کی شرعی سزا

اعتدال پر ہے تاکہ تم [مخالف] لوگوں کے مقابلہ میں گواہ رہو۔" ان دونوں آیتوں کے اصل مخاطب اور پہلے مصداق صحابہ کرام ہیں باقی امت بھی اپنے اپنے عمل کے مطابق اس میں داخل ہو سکتی ہے لیکن صحابہ کرام کا ان دونوں آیتوں کا صحیح مصداق ہونا باتفاق مفسرین ومحدثین ثابت ہے۔ ان میں صحابہ کرام کا نبی ﷺ کے بعد تمام انسانوں سے افضل واعلیٰ اور عدل وثقہ ہونا واضح طور پر ثابت ہوتا ہے۔ جس کو ابن عبدالبر نے الاستیعاب کے مقدمہ اور علامہ سفارینی نے شرح عقیدہ الدرہ المضیہ میں اس کو جمہور امت کا مسلک قرار دیا ہے کہ انبیاء کے بعد صحابہ کرام افضل الخلائق ہیں۔

ابراہیم بن سعید جوہری لکھتے ہیں کہ میں نے حضرت ابوامامہ سے دریافت کیا کہ حضرت معاویہ اور عمر بن عبدالعزیز ان دونوں میں سے کون افضل ہے تو انہوں نے کہا ”لَا نَعْدِلُ بِأَصْحَابِ مُحَمَّدٍ ﷺ أَحَدًا“ [الروضۃ الندیہ۔ شرح العقیدہ الواسطیہ لابن تیمیہ ص ٤٥] ہم اصحاب محمد ﷺ کے برابر کسی کو نہیں سمجھتے۔ افضل ہونا تو کجا

[مقام صحابہ ص ۳۹]

یہاں یہ بات پھر سامنے رکھنی چاہیے کہ یہ ارشادات اس ذاتِ حق کے ہیں جو سب کو پیدا کرنے اور پیدائش سے پہلے ہر انسان کے ایک ایک سانس ایک ایک قدم سے اور اچھے برے عمل سے واقف ہے جو اس شخص سے وقوع میں آئیں گے۔ اس نے صحابہ کرام کے معاملے میں جو اپنی رضا کامل اور جنت کی بشارت دی ہے ان سب واقعات ومعاملات کو جانتے ہوئے دی ہے جو ان میں سے ہر ایک کو عہد رسالت میں یا اس کے بعد پیش آنے والے تھے۔

صفحہ ۲۸۴

توہین رسالت ﷺ کی شرعی سزا

حافظ ابن تیمیہ نے اپنی کتاب ”الصارم المسلول علی شاتم الرسول“ میں فرمایا کہ اللہ تعالیٰ اسی بندہ سے راضی ہو سکتے ہیں جس کے بارے میں اس کو معلوم ہے کہ وہ آخر عمر تک موجبات رضا کو پورا کرے گا۔ اور جس سے اللہ تعالیٰ راضی ہو جائے تو پھر کبھی اس سے ناراض نہیں ہوتا۔

صحابہ کرام کے فضائل احادیث نبویہ میں

یہاں فضائل صحابہ کے بارے میں چند ایک روایات لکھی جاتی ہیں جن میں پوری جماعت صحابہ کے فضائل و خصوصیات کا ذکر ہے۔

فرمایا کہ:

اذا رأيتم الذين يسبون اصحابی فقولوا لعنة الله علی شركم.

[الترمذی، کتاب المناقب، باب (۶۰) رقم (۳۸۶۶)]

جب تم ایسے لوگوں کو دیکھو جو میرے صحابہ کو برا کہتے ہیں تو تم ان سے کہو اللہ کی لعنت ہے تم پر تمہارے شر کی وجہ سے۔

ظاہر ہے کہ صحابہ کرام کے مقابلے میں بدتر وہی ہے جو ان کو برا کہنے والا ہے۔ اس حدیث میں صحابی کو برا کہنے والا مستحق لعنت قرار دیا گیا ہے اور لفظ سب عربی زبان کے اعتبار سے صرف فحش گالی ہی کو نہیں کہتے بلکہ ہر ایسا کلام جس سے کسی کی تنقیص و توہین یا دل آزاری ہوتی ہے وہ لفظ سب میں داخل ہے مذکورہ بالا روایت کو ترمذی کے علاوہ خطیب نے بھی نقل کیا ہے۔

صفحہ ۲۸۵

توہین رسالت ﷺ کی شرعی سزا

إِنَّ اَشْرَارَ اُمَّتِيْ اَجْرَؤُهُمْ عَلٰی اَصْحَابِيْ .

[ابن عدی ۲۷۵۲/۷]

بلاشبہ میری امت کے بدترین لوگ وہ ہیں جو میرے صحابہ کے بارہ گستاخ ہیں۔

يَكُونُ فِیْ آخِرِ الزَّمَانِ قَوْمٌ يُسَمَّوْنَ الرَّافِضَةَ يَرْفِضُوْنَ الْاِسْلَامَ فَاقْتُلُوهُمْ فَاِنَّهُمْ مُشْرِكُوْنَ .

[مرقاة: ۲۸۰/۱۱]

’’آخر زمانہ میں کچھ ایسے لوگ پیدا ہوں گے جن کو ’’رافضی‘‘ کہا جائے گا یہ لوگ اسلام کے تارک ہوں گے پس تم ان کو قتل کردینا کیونکہ وہ مشرک ہیں۔‘‘

وَيَنْتَحِلُوْنَ حُبَّ اَهْلِ الْبَيْتِ وَلَيْسُوْا كَذٰلِكَ وَآيَةُ ذٰلِكَ اَنَّهُمْ يَسُبُّوْنَ اَبَابَكْرٍ وَّعُمَرَ.

[مرقاة ۲۸۰/۱۱ وابن عدی ۱۸۰۱/۵]

’’اور وہ لوگ اہل بیت کی محبت کا دعویٰ کریں گے حالانکہ وہ ایسے نہیں ہوں گے ان لوگوں کی علامت یہ ہے کہ وہ حضرت ابوبکر وعمر رضی اللہ عنہما کو برا کہیں گے۔‘‘

اس دنیا میں ایسے لوگوں کا پیدا ہونا جو بعض جلیل القدر صحابہ کو برا کہتے

صفحہ ۲۸۶

توہین رسالت ﷺ کی شرعی سزا

ہیں جیسے روافض یا بعض جلیل القدر اہل بیت کے بارے میں برے عقائد و خیالات رکھتے ہیں اور بدگوئی کرتے ہیں جیسے خوارج‘ شائد اس میں حکمت ہے کہ جب وہ جلیل القدر ہستیاں اس دنیا سے رخصت ہوگئیں اور ان کے نیک اعمال کا سلسلہ منقطع ہوگیا تو حق تعالیٰ نے چاہا کہ ان کے نامہ اعمال میں ثواب کا اضافہ ہمیشہ جاری رہے تاکہ جنت میں ان کے درجات بلند سے بلند تر ہوتے رہیں اور ان کے دشمن سخت سے سخت اور زیادہ سے زیادہ عذاب سے دوچار ہوں لہٰذا ان جلیل القدر ہستیوں کو برا کہنے والے ان کے ثواب کے اس اضافہ کا سبب بنتے ہیں اور خود اپنے گرد عذاب کا گھیرا سخت سے سخت کرتے جاتے ہیں۔

رسول اللہ ﷺ لاتسبوا اصحابی فلو ان احدکم انفق مثل احد ذهبا ما بلغ مد احدهم ولا نصيفه .

[البخاری ، كتاب فضائل الصحابة ، باب قول النبی ﷺ لو كنت ... الخ رقم (٣٦٦٧) مسلم،

کتاب فضائل الصحابة ، باب تحریم سب الصحابة رقم (٢٥٣١/٢٢٢)]

”حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تم میرے صحابہ کو برا نہ کہو حقیقت یہ ہے کہ اگر تم میں سے کوئی شخص احد پہاڑ کے برابر سونا اللہ کی راہ میں خرچ کرے تو اس کا ثواب میرے صحابہ کے ایک مد یا آدھے مد کے ثواب کے برابر بھی نہیں پہنچ سکتا۔“

اس حدیث میں ”تم“ کے ذریعہ پوری امت کو مخاطب کیا گیا ہے

صفحہ ٢٨٧

توہین رسالت ﷺ کی شرعی سزا اور چونکہ نور نبوت نے پہلے ہی یہ دیکھ لیا کہ آگے چل کر میری امت میں ایسے لوگ پیدا ہوں گے جو میرے صحابہ کو برا بھلا کہیں گے ان کی شان میں گستاخیاں کریں گے [جیسا کہ روافض و خوارج سب و شتم کرتے ہیں] اس لیے آپ ﷺ نے مسلمانوں کی آئندہ نسلوں میں احترام صحابہؓ کے جذبات کو بیدار کرنے کے لیے حکم دیا کہ کوئی شخص میرے کسی صحابی کو برا نہ کہے۔

”مد“ عرب کا ایک پیمانہ ہے جو وزن کے لحاظ سے آج کل کے مروج تقریباً ایک کلو کے برابر ہوتا ہے۔ حدیث کے اس جز کی مراد ان صحابہ کے بلند و بالا مقام و مرتبہ کا تعین کرنا ہے کہ ان لوگوں کے کمال اخلاص وللہیت کی بنا پر ان کا ایک چھوٹا سا نیک عمل اپنے بعد والوں کے اسی طرح کے بڑے سے بڑے عمل پر بھاری ہے مثلاً اگر ان صحابہ میں سے کوئی شخص کلو بھر یا آدھ کلو جو وغیرہ اللہ کی راہ میں خرچ کرے تو اس عمل پر ان کو جتنا ثواب ملتا ہے اتنا ثواب ان کے بعد والوں کو اس صورت میں بھی نہیں مل سکتا کہ اگر وہ اللہ کی راہ میں احد پہاڑ کے برابر سونا خرچ کر دیں اور یہ اس وجہ سے ہے کہ اخلاص و صدق نیت اور جذبہ ایثار وللہیت کا جو کمال ان کے اندر تھا وہ بعد والوں کو نصیب نہیں ہوسکتا۔ دوسرے یہ کہ ان کا مال خالص طیب و پاکیزہ ہوتا تھا اور ان کی اپنی حاجتیں اور ضرورتیں اس بات کا تقاضا کرتی تھیں کہ ان کے پاس جو کچھ ہے اپنے ذاتی مصارف میں خرچ کریں لیکن اس کے باوجود اپنی استطاعت کے مطابق وہ اللہ کی راہ میں خوشدلی کے ساتھ خرچ کرتے اور اپنی تمام ضرورتوں پس پشت ڈال دیتے یہ تو ان کے اللہ کی راہ میں خرچ کرنے کے اجر کا ذکر ہے اسی پر قیاس کر کے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ انہوں نے انتہائی

صفحہ ۲۸۸

توہین رسالت ﷺ کی شرعی سزا

حالات میں اللہ کے دین کا جھنڈا بلند کرنے اور اللہ کے رسول ﷺ کا پیغام پہنچانے کے لیے ریاضت ومجاہدہ کے جن سخت مراحل کو طے کیا یہاں تک کہ اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا اس کی بنا پر ان کو کیا اجر وثواب ملا ہوگا اور ان کے درجات ومراتب کس قدر بلند ہوئے ہوں گے۔

طائی اور خیثمہ بن سلیمان نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے نقل کیا ہے کہ: لَا تَسُبُّوْا اَصْحَابَ مُحَمَّدٍ ﷺ فَلَمُقَامُ اَحَدِهِمْ سَاعَةً خَيْرٌ مِنْ عَمَلِ اَحَدِكُمْ عُمُرَهُ. ”اصحاب محمد ﷺ کو برا نہ کہو در حقیقت ان کو [اپنی عبادتوں کا] یہ مقام حاصل ہے کہ ان کی ساعت بھر کا نیک عمل تمہارے پوری عمر کے نیک عمل سے بہتر ہے۔“

۶: ۔ حضرت عبداللہ بن مغفل سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ:

الله الله في أصحابي، الله الله في أصحابي، لا تتخذوهم غرضا بعدى فمن أحبهم فبحبى أحبهم ومن أبغضهم فبغضى أبغضهم، ومن اذاهم فقد اذانى، ومن اذانى فقد اذى الله، ومن اذى الله فيوشك ان يأخذه.

[الترمذی، کتاب المناقب، باب فی فضل من رأى النبى ﷺ رقم (۳۸۶۲)]

”اللہ سے ڈرو پھر اللہ سے ڈرو میرے صحابہ کے حق میں میرے بعد تم ان صحابہ کو نشانۂ ملامت نہ بنانا [یاد رکھو] جو ان کو دوست رکھتا ہے

صفحہ ۲۸۹

توہین رسالت ﷺ کی شرعی سزا

تو وہ میری وجہ سے ان کو دوست رکھتا ہے اور جو شخص ان سے دشمنی رکھتا ہے تو مجھ سے دشمنی رکھنے کے سبب ان کو دشمن رکھتا ہے اور جس شخص نے ان کو ایذاء پہنچائی اس نے گویا مجھ کو اذیت پہنچائی اور جس شخص نے مجھ کو اذیت پہنچائی اس نے گویا اللہ کو اذیت پہنچائی اور جس شخص نے اللہ کو اذیت پہنچائی تو وہ دن دور نہیں جب اللہ اس کو پکڑے گا۔‘‘

اس حدیث میں جو یہ فرمایا کہ جس نے صحابہ کرام سے محبت رکھی اس نے میری محبت کے ساتھ محبت رکھی۔ اس کے دو معنی ہو سکتے ہیں ایک یہ کہ صحابی سے محبت رکھنا میری محبت کی علامت ہے۔ ان سے وہی شخص محبت رکھے گا جس کو میری محبت حاصل ہو۔ دوسرے معنی یہ ہو سکتے ہیں کہ جو شخص میرے کسی صحابیؓ سے محبت رکھتا ہے تو میں اس سے محبت رکھتا ہوں، اس طرح اس کی محبت صحابی کے ساتھ علامت اس کی سمجھو کہ مجھے اس شخص سے محبت ہے یہی دو معنی اگلے جملے بغض صحابہؓ کے ہو سکتے ہیں کہ جو شخص کسی صحابی سے بغض رکھتا ہے وہ دراصل مجھ سے بغض رکھتا ہے یا یہ کہ جو شخص ان سے بغض رکھتا ہے تو میں اس شخص سے بغض رکھتا ہوں۔ دو معنی سے جو بھی ہوں یہ حدیث ان حضرات کی تنبیہ کے لیے کافی ہے جو صحابہ کرام کو آزادانہ تنقید کا نشانہ بناتے ہیں اور ان کی طرف ایسی باتیں منسوب کرتے ہیں جن کو دیکھنے والا ان سے بدگمان ہو جائے یا کم از کم ان کا اعتماد اس کے دل میں نہ رہے۔ غور کیا جائے تو رسول اللہ ﷺ سے بغاوت کے حکم میں ہے۔

صفحہ ۲۹۰

توہین رسالت ﷺ کی شرعی سزا

لوگ بعض امراء حکومت کے سامنے حضرت علی کرم اللہ وجہہ کو برا کہتے ہیں کہ حضرت سعید بن زید نے فرمایا افسوس میں دیکھتا ہوں کہ تمہارے سامنے اصحاب رسول ﷺ کو برا کہا جاتا ہے اور تم اس پر نکیر نہیں کرتے اور اس کو روکتے نہیں [اب سن لو ] میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ کہتے ہوئے اپنے کانوں سے سنا ہے [اور پھر حدیث بیان کرنے سے پہلے فرمایا کہ یہ بھی سمجھ لو کہ مجھے کوئی ضرورت نہیں ہے کہ میں رسول اللہ ﷺ کی طرف کوئی ایسی بات منسوب کروں جو آپ ﷺ نے نہ فرمائی ہو کہ قیامت کے روز جب میں رسول اللہ ﷺ سے ملوں تو آپ ﷺ مجھ سے اس کا مواخذہ فرمائیں کہ کہنے کے بعد حدیث بیان کی کہ ] ابوبکرؓ جنت میں ہیں۔ عمرؓ جنت میں ہیں۔ عثمانؓ جنت میں ہیں۔ علیؓ جنت میں ہیں۔ طلحہؓ جنت میں ہیں۔ زبیرؓ جنت میں ہیں۔ سعد بن مالکؓ جنت میں ہیں۔ عبدالرحمن بن عوفؓ جنت میں ہیں۔ ابو عبیدہ بن جراح ؓ جنت میں ہیں۔ یہ نو حضرات صحابہ کے نام لے کر دسویں کا نام نہیں لیا۔ جب لوگوں نے پوچھا دسواں کون ہے تو ذکر کیا سعید بن زیدؓ [یعنی خود اپنا نام ابتداء بوجہ تواضع کے ذکر نہیں کیا لوگوں کے اصرار پر ظاہر کیا] اس کے بعد حضرت سعید بن زید نے فرمایا کہ

والله لمشهد رجل منهم مع النبی ﷺ یغبر فیه وجهه خیر من عمل احدكم ولو عُمر عمر نوح عليه السلام.

[جمع الفوائد ٤٩٢/٢]

”اللہ کی قسم ہے کہ صحابہ میں سے کسی شخص کا رسول اللہ ﷺ کے

صفحہ ۲۹۱

توہین رسالت ﷺ کی شرعی سزا

ساتھ کسی جہاد میں شریک ہونا جس میں اس کا چہرہ غبار آلود ہو جائے غیر صحابہؓ سے کسی شخص کی عمر بھر کی عبادت و عمل سے بہتر ہے اگرچہ اس کو عمر نوح علیہ السلام عطا ہو جائے ۔“

فرمایا:

خیر الناس قرنی ثم الذین یلونهم ثم الذین یلونهم ثم الذین یلونهم فلا ادری ذکر اثنین او ثلاثة ثم ان بعدهم قوم یشهدون ولا یستشهدون ویخونون ولا یؤتمنون وینذرون ولا یوفون ویظهر فیهم السمن۔

[مجمع الفوائد ٢/٤٩٠ ، ابن حبان ١٥/١٢٣]

بہترین قرن میرا ہے پھر ان لوگوں کا جو اس سے متصل ہیں پھر ان لوگوں کا جو اس سے متصل ہیں راوی کہتے ہیں کہ مجھے یاد نہیں رہا کہ متصل لوگوں کا ذکر دو مرتبہ فرمایا یا تین مرتبہ اس کے بعد ایسے لوگ ہوں گے جو بے کہے شہادت دینے کو تیار نظر آئیں گے خیانت کریں گے امانت دار نہ ہوں گے ۔ عہد شکنی کریں گے معاہدے پورے نہ کریں گے اور ان میں [بوجہ بے فکری کے ] موٹاپا ظاہر ہو جائے گا۔

اس حدیث میں متصل آنے والے لوگوں کا اگر دو مرتبہ ذکر فرمایا ہے تو پہلا قرن صحابہ رضی اللہ عنہم کا اور دوسرا تابعین رحمہم اللہ کا ہے اور اگر تین مرتبہ ذکر

صفحہ ۲۹۲

توہین رسالت ﷺ کی شرعی سزا

فرمایا ہے تو تیسرا قرن تبع تابعین رحمہم اللہ کا بھی اس میں شامل ہوگا۔

۹:۔ حضرت عبداللہ بن مسعودؓ سے روایت ہے۔

من كان متأسيا فليتأس باصحاب رسول الله ﷺ فانهم ابر هذه الامة قلوبا واعمقها علما واقلها تكلفا واقومها هديا واحسنها حالا، قوم اختارهم الله لصحبة نبيه واقامة دينه فاعرفوا لهم فضلهم واتبعوا آثارهم فانهم كانوا على الهدى المستقيم.

[شرح عقیدہ سفارینی ۲/ ۲۸۰]

”جو شخص اقتداء کرنا چاہتا ہے اس کو چاہیے کہ اصحاب رسول اللہ ﷺ کی اقتداء کرے کیونکہ یہ حضرات ساری امت سے زیادہ اپنے قلوب کے اعتبار سے پاک اور علم کے اعتبار سے گہرے اور تکلف و بناوٹ سے الگ اور عادات کے اعتبار سے معتدل اور حالات کے اعتبار سے بہتر ہیں یہ وہ قوم ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کی صحبت اور دین کی اقامت کے لیے پسند فرمایا ہے تو تم ان کی قدر پہچانو اور ان کے آثار کی اتباع کرو کیونکہ یہی لوگ مستقیم طریق پر ہیں۔“

۱۰:۔ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے:

ان نظر فى قلوب العباد فنظر قلب محمد ﷺ فبعثه برسالة ثم نظر فى قلوب العباد بعد قلب محمد ﷺ فوجد قلوب اصحابه خير قلوب العباد.

[احمد ۱/ ۳۷۹ وطبرانی کبیر ۹/ ۱۱۸، ابوداؤد طیالسی ص ۳۳]

صفحہ ۲۹۳

توہین رسالت صلی اللہ علیہ وسلم کی شرعی سزا

اللہ تعالیٰ نے اپنے سب بندوں کے دلوں پر نظر ڈالی تو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو ان سب قلوب میں بہتر پایا پھر ان کو رسالت کے لیے مقرر کر دیا پھر قلب محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد دوسرے دلوں پر نظر فرمائی تو اصحاب محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے قلوب کو دوسرے تمام بندوں کے قلوب سے بہتر پایا ان کو اپنے نبی کی صحبت اور دین کی نصرت کے لیے پسند کر لیا۔

اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

انه من يعش منكم فيرى اختلافا كثيرا، فعليكم بسنتى وسنة الخلفاء الراشدين المهديين عضوا عليها بالنواجذ، واياكم ومحدثات الامور فان كل محدثة بدعة و كل بدعة ضلالة.

[مسند أحمد ١٢٦/٤، وأبو داود كتاب السنة ، باب في لزوم السنة رقم (٤٦٠٧) الترمذى ، كتاب

العلم ، رقم (٢٦٧٦) وابن ماجه والمقدمة رقم (٤٣)]

تم میں جو شخص میرے بعد رہے گا وہ بہت اختلاف دیکھے گا تو تم لوگوں پر لازم ہے کہ میری سنت اور خلفائے راشدین کی سنت کو اختیار کرو اس کو دانتوں سے مضبوط تھامو اور نو ایجاد اعمال سے پرہیز کرو کیونکہ ہر بدعت گمراہی ہے۔

اس حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی سنت کی طرح خلفاء راشدین کو بھی واجب الاتباع اور فتنوں سے نجات کا ذریعہ قرار دیا ہے۔

صفحہ ۲۹۴

توہین رسالت ﷺ کی شرعی سزا

خلاصه کلام

مذکورہ الصدر آیات قرآنی اور روایات حدیث میں یہی نہیں کہ اصحاب رسول ﷺ کی مدح وثنا اور ان کو رضوان الہی اور جنت کی بشارت دی گئی ہے بلکہ امت کو ان کے ادب واحترام اور ان کی اقتداء کا حکم بھی دیا گیا ہے ان میں سے کسی کو برا کہنے پر سخت وعید بھی فرمائی ہے ان کی محبت کو رسول اللہ ﷺ کی محبت ان سے بغض کو رسول اللہ ﷺ سے بغض قرار دیا ہے۔

الصحابة كلهم عدول

صحابہ کرام کے بعد دوسرا قرن حضرات تابعین کا ہے جس کو احادیث مذکورہ میں خیر القرون میں داخل کیا ہے اس خیر القرون حضرات تابعین میں بھی حضرت عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ علیہ سب سے افضل مانے گئے ہیں انہوں نے اپنے ایک مکتوب میں صحابہ کرام کے مقام کی وضاحت اور لوگوں کو اس کے پابند ہونے کی تاکید ان الفاظ میں فرمائی ہے یہ طویل مکتوب حدیث مشہور متداول کتاب ابوداؤد میں سند کے ساتھ لکھا گیا ہے۔ اس کے ضروری جملے جو صحابہ کی شان میں ہیں ان کا ذیل میں ترجمہ ملاحظہ فرمائیں۔

پس تمہیں چاہیے کہ اپنے لیے وہی طریقہ اختیار کرو جس کو قوم [صحابہ رضی اللہ عنہم] نے اپنے لیے پسند کر لیا تھا۔ اس لیے کہ وہ جس حد پر ٹھہرے علم کے ساتھ ٹھہرے اور انہوں نے جس چیز سے لوگوں کو روکا ایک دور بین نظر کی بناء پر روکا اور بلاشبہ وہ ہی حضرات دقیق حکمتوں اور علمی الجھنوں کے کھولنے پر قادر تھے اور جس کام میں تھے اس میں سب سے زیادہ فضیلت کے وہی مستحق

صفحہ ۲۹۵

توہین رسالت ﷺ کی شرعی سزا

تھے پس اگر ہدایت اس طریق میں مان لی جائے جس پر تم ہو تو اس کے یہ معنی ہیں کہ تم فضائل میں ان سے سبقت لے گئے [ جو بالکل محال ہے ] اگر تم یہ کہو کہ یہ چیزیں ان حضرات کے بعد پیدا ہوئی ہیں اس لیے ان سے یہ طریقہ منقول نہیں تو سمجھ لو ان کو ایجاد کرنے والے وہی لوگ ہیں جو ان کے راستہ پر نہیں ہیں اور ان سے علیحدہ رہنے والے ہیں کیونکہ یہی حضرات سابقین ہیں جو معاملات دین اتنا کلام کر گئے ہیں جو بالکل کافی ہے اور اس کو اتنا بیان کر دیا جو شفا دینے والا ہے پس ان کے طریقہ سے کمی و کوتاہی کرنے کا بھی موقع نہیں ہے اور ان سے زیادتی کرنے کا بھی کسی کو حوصلہ نہیں ہے اور بہت سے لوگوں نے ان کے طریقہ سے زیادتی کا ارادہ کیا وہ غُلو میں مبتلا ہو گئے اور یہ حضرات افراط و تفریط اور کوتاہی کے درمیان ایک راہِ مستقیم پر تھے۔

افضل التابعین حضرت عمر بن عبدالعزیزؒ جن کی خلافت کو بعض علماء نے خلافت راشدہ کے ساتھ ملایا ہے اور ان کے دور خلافت میں اسلامی قوانین کی تنفیذ اور شعائر اسلام کا اعلاء بلاشبہ خلافت راشدہ ہی کے طرز پر ہوا ہے۔ ان کے اس ارشاد کے مطابق ایک دو گمراہ فرقوں کے علاوہ پوری امت محمدیہ ﷺ نے صحابہ کرام کے متعلق اسی عقیدہ پر اجماع و اتفاق کیا ہے اس اجماع کا عنوان عام طور پر کتب حدیث اور کتب عقائد میں یہ ہے کہ ” الصحابۃ کلہم عدول“ حاصل مفہوم اس جملہ کا وہی ہے جو اوپر کتاب و سنت کے حوالوں سے صحابہ کرام کے درجہ و مقام کے متعلق لکھا گیا ہے۔

[مقام صحابہؓ ص ٦٤]

صفحہ ۲۹۶

توہین رسالت ﷺ کی شرعی سزا

مغربی دنیا کی دریدہ دہنی

توہین آمیز خاکے

یہود و نصاریٰ اور ارباب کفر و شرک روزِ اول سے پیغمبر اسلام حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کے دشمن چلے آ رہے ہیں، ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اسلام اور پیغمبر اسلام ﷺ سے بغض و عداوت اور آپ ﷺ کی شان میں گستاخی و ہرزہ سرائی ان کی گھٹی، فطرت اور خمیر میں شامل ہے، جس طرح بچھو کے لیے ڈنگ مارنے کی عادت چھوڑنا ناممکن ہے اسی طرح ان ملعونوں کا گستاخی سے باز آنا بھی ناممکن ہے۔

ان کا بس نہیں چلتا، ورنہ وہ اس کوشش میں ہیں کہ کسی طرح انسانیت کو رسول اکرم ﷺ کے دامنِ رحمت سے کاٹ دیں؟ چنانچہ انہوں نے چودہ سو سال پہلے ہی یہ ہرزہ سرائی کی تھی کہ نعوذ باللہ! آپ ﷺ بے نام و نشان ہو جائیں، مگر اللہ تعالیٰ نے طے فرما رکھا ہے کہ ﴿اِنَّ شَانِئَكَ هُوَ الْاَبْتَرُ﴾ (کوثر) ، آپ ﷺ نہیں، بلکہ آپ ﷺ کے دشمن ہی بے نام و نشان ہوں گے۔ صرف یہی نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ نے وعدہ فرما رکھا ہے کہ ﴿وَرَفَعْنَا لَكَ ذِكْرَكَ﴾ (الم نشرح) ہم آپ ﷺ کے نام اور مقام کو بلند سے بلند تر کریں گے۔

یوں تو دشمنانِ اسلام اور یہود و نصاریٰ کی انبیاء دشمنی، ان کی توہین و تنقیص کی تاریخ بہت طویل اور تکلیف دہ ہے مگر گزشتہ چند مہینوں سے ان بدباطنوں نے حضرت خاتم النبیین ﷺ کی شان میں جس بے شرمی و ڈھٹائی

صفحہ 297

توہین رسالت ﷺ کی شرعی سزا

کے ساتھ توہین، تنقیص اور گستاخی کا مظاہرہ کیا ہے بلاشبہ وہ ان کی تاریخ کے سیاہ کارنامہ ہے اس سے جہاں مغرب کا مکروہ اور سیاہ چہرہ بے نقاب ہو کر سامنے آگیا ہے وہاں مسلمانوں کو بنیاد پرست، تنگ نظر اور مذہبی جنونی کہنے والوں کی اعتدال پسندی اور روشن خیالی کی حقیقت بھی کھل کر سامنے آگئی ہے۔ اخباری اطلاعات کے مطابق اس اجمال کی تفصیل یہ ہے کہ:

ڈنمارک کے اخبار ”جے لینڈ پوسٹن“ (Jylland Posten) کے ایڈیٹر جان ہینسن کے ایک بد بخت اور دریدہ دہن دوست نے نعوذ باللہ! پیغمبر اسلام ﷺ کی حیات طیبہ پر ایک گستاخانہ کتاب لکھی جسے مزید بدبودار بنانے کے لئے اس نے طے کیا کہ رسول اللہ ﷺ کے توہین آمیز تصویری خاکے اور کارٹون بھی اس میں شامل کرے، اس نے اس مقصد کے لیے مختلف آرٹسٹوں سے رابطہ کیا تو تمام آرٹسٹوں نے یہ کہہ کر معذرت کرلی کہ اگر انہوں نے یہ حرکت کی تو مسلمان انہیں توہین رسالت کا مرتکب قرار دے کر قتل کردیں گے، چنانچہ انہوں نے ہالینڈ کے اس قضیہ کا حوالہ دیا کہ ایک فلم ساز نے فلم میں کسی برہنہ اور عریاں عورت کے جسم پر قرآنی آیات لکھ دیں تو ایک مسلمان نے اس گستاخ فلم ساز کو قتل کر دیا تھا۔ جب اس مسلمان نوجوان پر مقدمہ چلا تو اس نے واشگاف الفاظ میں کہا کہ تم مجھے پھانسی دے دو اس لیے کہ اگر میں زندہ رہا تو میرے سامنے جو بھی اسلام، قرآن اور پیغمبر اسلام کی گستاخی کرے گا میں اسے بھی قتل کر دوں گا۔ ان آرٹسٹوں کا کہنا تھا کہ اس مسلمان نوجوان کا بیان مسلمانوں کی ایمانی غیرت، اپنے دین و مذہب اور شعائر اسلام سے والہانہ وابستگی اور شیفتگی کی نشاندہی کرتا ہے ان کا کہنا تھا کہ مسلمان اپنے دین ومذہب

صفحہ ۲۹۸

توہین رسالت صلی اللہ علیہ وسلم کی شرعی سزا

نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اور مقدس شخصیات کے معاملہ میں کسی سے سمجھوتا نہیں کر سکتے ، اس لیے ہم یہ خطرہ مول لینے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ اس بدبخت شاتم رسول مصنف نے جب ”جے لینڈ پوسٹن“ اخبار کے ایڈیٹر کو اس صورت حال سے آگاہ کیا اور کہا کہ ہمارے ملک کے تمام آرٹسٹ بزدل ہیں اور مسلمانوں کے پیغمبر کے خاکے بنانے پر تیار نہیں تو ”جے لینڈ پوسٹن“ کے دریدہ دہن ایڈیٹر نے کہا کہ آرٹسٹ خواہ مخواہ ڈر رہے ہیں ، ورنہ ایسی کوئی بات نہیں، کیونکہ ڈنمارک ایک سیکولر و لبرل ملک ہے یہاں آباد تمام مسلمان ہمارے کلچر میں رنگ چکے ہیں اور ان میں وہ تمام بری عادات و اطوار موجود ہیں، جو ہمارے اندر پائی جاتی ہیں، چنانچہ اس ملعون ایڈیٹر نے اپنے اخبار کے آرٹسٹ کو بلایا ، اسے ایک عندیہ دے کر خاکے بنانے کا حکم دیا، یوں اس شاتم رسول آرٹسٹ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی توہین و تنقیص پر مشتمل متعدد خاکے اور کارٹون بنا کر ایڈیٹر کے حوالے کئے جن میں بارہ خاکوں کو اشاعت کے لیے منتخب کیا گیا ، ان میں سے ایک خاکہ ایسا تھا جس میں پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی شبیہ بنائی گئی اور اس خاکے کے سر پر پگڑی بنا کر اس میں بم رکھا ہوا دکھایا گیا، گویا نعوذ باللہ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم دہشت گرد تھے۔

چھپنے والا مقامی اخبار ہے، جان ہینسن اس کے ایڈیٹر ہیں، اپنے اخبار کی معمولی شہرت کے لیے ایڈیٹر نے ۳۰ / ستمبر ۲۰۰۵ء کو نازیبا کارٹون چھاپے جن کی تعداد بارہ تھی۔ اخبار ڈینش زبان میں چھپتا ہے، اس لیے ڈنمارک میں رہائش پذیر بہت سے مسلمان اس کو نہیں پڑھتے ۔ ۳۰ / ستمبر کو جب یہ نازیبا کارٹون چھپے تو چند مسلمانوں نے انہیں دیکھا اور پھر ایک دوسرے سے ایک

صفحہ ۲۹۹

توہین رسالت ﷺ کی شرعی سزا

میٹنگ میں مشورہ کیا۔ ڈنمارک میں مسلمانوں کی تعداد لگ بھگ ۲ لاکھ ہے، جن کا تعلق مختلف مسلم ممالک سے ہے، اکثریت مشرق وسطیٰ سے ہے، وہاں متحرک مسلمان تنظیم نے فیصلہ کیا کہ ان نازیبا کارٹون کی اشاعت پر ایک پرامن احتجاج کیا جائے اور اخبار کے ایڈیٹر کو احساس دلایا جائے کہ اس سے مسلمانوں کی دل آزاری ہوئی ہے، لہٰذا وہ معافی مانگے۔ ۱۴؍ اکتوبر ۲۰۰۵ء کو کوپن ہیگن میں ایک انتہائی منظم اور پرامن ریلی منعقد کی گئی، جس میں تقریباً چار ہزار افراد نے شرکت کی۔ ریلی میں اخبار کے مدیر سے معافی طلب کی گئی، لیکن اس نے صاف انکار کر دیا کہ کوئی معافی نہیں مانگی جائے گی، یہ ہماری آزادی کا مسئلہ ہے، دل آزاری ہو تو ہوا کرے۔

ڈنمارک کے مسلمان کافی پریشان ہوئے، پھر انہوں نے فیصلہ کیا کہ ڈنمارک کے وزیراعظم جناب آندرے رمسن کی توجہ اس طرف مبذول کرائی جائے تاکہ ایسی شرمناک حرکت کو آئندہ ہونے سے روکا جائے اور ایڈیٹر کو حکومت احساس دلائے کہ وہ نازیبا حرکت پر معافی مانگے۔ ڈنمارک میں مقیم مسلمانوں نے اس سلسلے میں اپنے اپنے ملکوں کے سفیروں سے ملاقات کی اور ان سے کہا کہ وہ ان کے جذبات کو ڈنمارک کے وزیراعظم تک پہنچا دیں تاکہ آئندہ کا تدارک بھی ہو جائے اور موجودہ حرکت کی تلافی بھی۔

اسلامی ممالک کے ۱۱ سفیروں نے مشترکہ درخواست بھیجی تاکہ وزیراعظم سے ملاقات ہو سکے اور ان کی توجہ اس خطرناک حرکت کی طرف دلائی جائے اور معاملے کو خوش اسلوبی اور مہذب طریقے سے حل کر لیا جائے۔ وزیراعظم

صفحہ ۳۰۰

توہین رسالت ﷺ کی شرعی سزا

نے مسلم سفیروں سے ملنے سے صاف انکار کر دیا۔ کمال ہے! ایسا حساس معاملہ اور مودبانہ ملاقات کی گزارش؟ مگر ڈنمارک کے وزیر اعظم نے تمام سفارتی اخلاقیات کی دھجیاں بکھیرتے ہوئے صاف انکار کر کے ڈنمارک کے رہائش پذیر مسلمانوں کی مزید دل آزاری کی اور ان کو ایک دوراہے پر کھڑا کر دیا کہ اب کس کے پاس جائیں، جو ہماری بات سنے؟ یہی وہ وقت تھا جب وزیر اعظم ڈنمارک یا اس سے پہلے اخبار کے ایڈیٹر اس مسئلے کو ہمیشہ کے لیے دفن کر سکتے تھے، لیکن انہوں نے ایسا مناسب نہیں سمجھا، بلکہ ڈنمارک کے مسلمانوں کو حیرت زدہ اور اس کے ساتھ ساتھ برہم کر دیا۔

ڈنمارک کے مسلمانوں نے فیصلہ کیا کہ یہ مسئلہ اب دوسرے مسلمان بھائیوں کے علم میں لایا جائے تا کہ رسول اللہ ﷺ کی شان میں جو گستاخی کی گئی ہے، وہ دوبارہ نہ ہو۔ مسلم رہنما ابولبن نے کارٹونوں پر مشتمل ایک فائل بنا کر چار وفد: مصر، لبنان، شام اور سعودی عرب روانہ کئے۔ اب نومبر کا مہینہ شروع ہو چکا تھا، بس پھر یہ آگ بھڑک کر پھیلنا شروع ہو گئی۔

۵۷ مسلم ممالک نے مکہ سے ایک مشترکہ بیان میں سخت الفاظ میں اس حرکت کی مذمت کی۔ امام کعبہ نے مکہ شریف سے اعلان کیا کہ جو رسول اکرم ﷺ کی ذات مبارک کی شان میں تضحیک کرے وہ قابل گرفت اور سزا کا حقدار ہے۔ سعودی حکومت نے ڈنمارک سے سفارتی تعلقات منقطع کر لیے اور اپنا سفیر واپس طلب کر لیا۔ مشرق وسطیٰ کے تمام ممالک نے ڈنمارک کی مصنوعات کا بائیکاٹ شروع کر دیا۔

صفحہ ۳۰۱

توہین رسالت ﷺ کی شرعی سزا

مسلمانوں کی مزید دل آزاری اور ہتک آمیز رویہ رکھتے ہوئے فرانس، اسپین، ناروے اور جرمنی کے اخبارات نے ڈنمارک کی حمایت میں دوبارہ کارٹون کی اشاعت کی اور کہا کہ یہ سب کچھ پریس کی آزادی کے لیے کیا جارہا ہے۔ سوال یہ ہے کہ یہ کون سی آزادی ہے کہ آپ کسی کو اذیت پہنچانے کا حق مانگتے ہیں؟ یہ آزادی نہیں بلکہ معاشرتی اور مذہبی خلیج اور نفرت کا اظہار ہے تا کہ مسلمان جو پہلے ہی زخمی ہیں ان کی مزید تذلیل کی جائے۔

تین ماہ بعد وزیر اعظم ڈنمارک کو اپنی غلطی کا احساس ہوا اور انہوں نے ڈنمارک میں مقیم تمام سفیروں کو طلب کر کے اپنا نقطہ نظر بیان کیا لیکن مسلم سفیروں نے کہا کہ معاملہ اب حکومتی ذرائع سے دور نکل گیا اور عوام میں جا چکا ہے۔

اگر واقعات کی یہ ترتیب دیکھ لی جائے تو ثابت ہوتا ہے کہ مسلمانوں نے اپنا رد عمل انتہائی شائستہ اور مہذب انداز میں اور سفارتی اخلاقیات کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے کیا، اور مسئلہ کا منصفانہ اور باعزت حل چاہا، لیکن ان کو دھتکار دیا گیا، اور ان کے جذبات جان بوجھ کر بھڑکائے گئے اور اب بھی مختلف بیانات کے ذریعے ایسا کیا جارہا ہے۔ یہ ایک فطری رد عمل تھا اور ہے، ایسی مذموم حرکت سے (اسلام دشمنوں کے علاوہ) کسی کو کوئی فائدہ نہیں، پھر بھی یورپی پارلیمنٹ اور یورپی کمیشن اس کی حمایت کر رہے ہیں، آزادی اظہار کی بات کرتے ہیں، حالانکہ جرمنی میں ہٹلر سے ملتا جلتا اشتہار چھاپنے پر جس سے اس کی تعریف جھلکتی ہو، سات سال قید ہے۔ واہ! ہٹلر سے ملتی جلتی تصویر چھاپنا تو قانوناً جرم ہے، لیکن مسلمانوں کی، دل آزاری اور ان کے نبی ﷺ کی توہین آزادی صحافت

صفحہ ۳۰۲

توہین رسالت ﷺ کی شرعی سزا

ہے‘ یہ ہیں مہذب‘ تعلیم یافتہ یورپ کی اقدار‘۔

[روزنامہ جنگ کراچی: ۱۸ / فروری ۲۰۰۶ء]

جیسا کہ آپ نے دیکھا‘ یہ گستاخی جے لینڈ پوسٹن‘ اس کے ایڈیٹر اور آرٹسٹ تک محدود نہیں رہی۔ اگر بالفرض یہ خاکے لاعلمی میں شائع ہوئے تھے یا آزادی اظہار کی غلط فہمی کی وجہ سے ایسا ہوا تھا‘ تو جب یہ معلوم ہو گیا کہ ان کی اشاعت سے ۵۷ اسلامی ممالک اور دنیا بھر کے ڈیڑھ ارب مسلمانوں کی دل آزاری ہوئی ہے‘ تو نہ صرف یہ کہ ان کی اشاعت روک دی جاتی ‘ ان کی اشاعت پر ایڈیٹر اور آرٹسٹوں کو مسلمانوں سے معافی مانگنی چاہئے تھی، بلکہ ڈنمارک حکومت کا فرض تھا کہ وہ اس بد باطن آرٹسٹ ایڈیٹر اور اخبار کے خلاف تادیبی کاروائی کرتی ‘ مگر افسوس کہ اس کے برعکس اس نے ان کی پشت پناہی شروع کر دی‘ صرف یہی نہیں بلکہ دوسرے یورپی ممالک نے بھی اس بے حیائی و بے شرمی میں ان کا ساتھ دیا۔ چنانچہ ۱۰ / جنوری ۲۰۰۶ء کو یہ خاکے ناروے کے ایک جریدے ”کرسچین میگزین“ نے شائع کئے۔ اسی طرح ناروے کے ایک بڑے اخبار ”داگ بلاوت“ نے بھی انہیں انٹرنیٹ پر جاری کیا اور ۱۲ / جنوری کو اخبار میگزینٹ (MAGAZINET) نے انہیں دوبارہ شائع کرنے کی ناپاک جسارت کی اس کے ساتھ ساتھ نیوزی لینڈ اور ہالینڈ کے اخبارات نے بھی ان دل آزار خاکوں کو شائع کیا جبکہ ۱ / فروری ۲۰۰۶ء کو فرانسیسی جریدہ لی فیگارو، اور روزنامہ فرانس سوار نے بھی انہیں شائع کر کے ان گستاخوں کا ساتھ دیا‘ اسی طرح ۸ / فروری کو ان جریدوں نے ان خاکوں کو دوبارہ شائع کر کے مسلمانوں کے دل زخمی کیے اور ۸ / فروری کو ہی امریکہ کے ”فلا ڈیلفیا انکوائر“ اور ”نیو یارک

صفحہ ۳۰۳

توہین رسالت ﷺ کی شرعی سزا

سن“ نے بھی ان دل آزار خاکوں کو شائع کر کے اپنی بدبختی اور اسلام دشمنی کا مظاہرہ کیا‘ ۹؍ فروری کو یہ خاکے یمن کے ایک اخبار نے اور ۱۰؍ فروری کو روسی میوزیم کے ڈائریکٹر نے ان خاکوں کی باقاعدہ اشاعت کا اعلان کیا۔

اس کے علاوہ بی بی سی لندن‘ سی این این‘ اے بی سی‘ واشنگٹن پوسٹ‘ نیویارک ٹائمز بھی اس دریدہ دہنی میں کسی سے پیچھے نہیں رہے‘ بلکہ اخباری اطلاعات کے مطابق اب امریکہ میں اس کے لیے باقاعدہ ایک ویب سائٹ بنالی گئی ہے جس پر دنیا جہاں کے شقی ازلی‘ توہین رسالت اور عداوتِ اسلام پر مبنی خاکے بھیج اور دیکھ سکتے ہیں۔

ان بدباطنوں نے جس بے شرمی‘ ڈھٹائی اور شرمناک انداز سے رسول اکرم ﷺ کی توہین وتنقیص اور گستاخی کا ارتکاب کیا ہے‘ اس سے مسلمانوں کی قوتِ برداشت جواب دے گئی ہے‘ پوری امت مسلمہ اور عالمِ اسلام اس پر سراپا احتجاج ہے۔ بلاشبہ ان بدباطنوں نے مسلمانوں کی غیرت کو للکارا ہے اور نبی اکرم ﷺ کی شان میں گستاخانہ کارٹون اور توہین آمیز خاکے بنانے اور شائع کرنے کے بعد گویا انہوں نے کھلا اعلان جنگ کردیا ہے۔ اب دیکھتے ہیں کہ اس جنگ میں محمد عربی ﷺ کے نام لیوا کس حد تک آپ ﷺ کی عزت وناموس کا تحفظ کرتے ہیں؟ اور دشمنانِ رسول سے کس حد تک اپنی نفرت وبیزاری کا ثبوت دیتے ہیں؟

جہاں تک اب تک کی صورت حال کا تعلق ہے‘ تو بحمداللہ! دنیا بھر کے تمام مسلمانوں نے دنیائے کفر پر تھوکنے‘ ان کے اس متعصبانہ اور قابل گردن

صفحہ ۳۰۴

توہین رسالت ﷺ کی شرعی سزا

ز دنی کردار سے بھرپور نفرت کا اظہار کیا ہے، حقیقت یہ ہے کہ مسلمان اب سمجھ چکے ہیں کہ دنیائے کفر ان کو کس غار میں دھکیلنا چاہتی ہے۔

غالباً یہودی، نصاریٰ اور ان کے سرپرستوں کو اس کا اندازہ نہیں ہے کہ مسلمان خواہ کیسا ہی بے عمل یا بدعمل کیوں نہ ہو، مگر اس کو اپنے نبی امی ﷺ سے بے پناہ والہانہ تعلق اور غیر معمولی محبت وعقیدت ہے، اور وہ اس محبت وعقیدت کے تعلق پر کسی سودے بازی کا روادار نہیں۔ دنیائے کفر کا خیال تھا کہ ہم نے مسلمانوں کو عیسائی و بے دین بنانے کے لیے این جی اوز کا جال بچھایا، بودباش اور لباس و پوشاک کے اعتبار سے بالفعل مسلمانوں کو غیر مسلم بنایا، مسلمانوں کے مقابلہ میں امریکی بغل بچہ یہودی اسرائیل کی سرپرستی کی، فلسطینی مسلمانوں کا قتل عام کیا، ان کی نسل کشی کی، بیروت و لبنان کی اینٹ سے اینٹ بجائی، کوسوو اور چیچنیا کے مسلمانوں کو تہہ خاک کیا، افغانستان و عراق پر چڑھائی کی، وہاں لاکھوں مسلمانوں کا قتل عام کیا، مسلمانوں کی عزتیں اور عصمتیں پامال کیں، پچاس سال سے کشمیری مسلمانوں کو حق خودارادیت سے محروم رکھا، سعودی عرب کی معیشت پر ڈاکہ ڈالا، غرضیکہ جہاں جو چاہا کیا، مگر اس کے آگے کسی نے چوں نہیں کی، تو آئندہ بھی ہماری راہ میں کوئی رکاوٹ نہیں بنے گا۔ جب اس نے یہ مراحل با آسانی طے کرلیے مسلمانوں کی معیشت اور ان کے وسائل پر قبضہ جمالیا، تو اس کا اگلا ہدف اور نشانہ مسلمانوں کا دین و مذہب تھا۔ چنانچہ اس نے اب مسلمانوں کی محبوب از دل وجان ہستی، حضرت محمد عربی ﷺ کی ذات پر براہ راست حملہ کرنے کا ناپاک منصوبہ بنایا اس کا خیال تھا کہ مسلمان اس کو بھی اسی طرح با آسانی ہضم کرلیں گے جس طرح انہوں نے اب تک اپنے خلاف

صفحہ 305

توہین رسالت ﷺ کی شرعی سزا

کئے جانے والے تمام ناپاک اقدامات کو برداشت کر لیا ہے، لیکن موجودہ عالمی احتجاج کی صورت حال سے دنیائے کفر کو اندازہ ہو جانا چاہیے کہ مسلمان چاہے کتنا ہی گناہوں کی دلدل میں دھنسا ہوا کیوں نہ ہو مگر وہ ذات نبوی ﷺ کی ادنیٰ سے ادنیٰ گستاخی اور توہین و تنقیص برداشت نہیں کر سکتا، بلکہ گستاخان نبی کے بارہ میں مسلمانوں کا عقیدہ ہے کہ:

(الاحزاب: ٦١)

”ایسے ملعون جہاں بھی پائے جائیں ان کو پکڑا جائے اور ان کو پرزے پرزے کر دیا جائے ۔“

(الکوثر: ٣)

”بیشک آپ ﷺ پر عیب لگانے والوں کی جڑ کاٹ دی جائے گی۔“

وَ الْاٰخِرَةِ وَ اَعَدَّ لَهُمْ عَذَابًا مُّهِیْنًا﴾

(الاحزاب: ٥٧)

”اور جو لوگ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کو ایذا پہنچاتے ہیں، ان کے لیے دنیا و آخرت میں اللہ کی لعنت ہے اور ان کے لیے ذلت کا عذاب تیار کیا گیا ہے۔“

صرف یہی نہیں، بلکہ مسلمانوں کا عقیدہ ہے کہ رسول اکرم ﷺ کے زمانہ سے لے کر آج تک پوری امت مسلمہ اور علمائے امت کا اجماع و اتفاق ہے کہ: ”سید دو عالم ﷺ کی شانِ اقدس میں صراحۃً، کنایۃً، گستاخی

صفحہ ۳۰۶

توہین رسالت ﷺ کی شرعی سزا

کرنے والا کافر ہے اگر توبہ نہ کرے تو واجب القتل ہے اور اگر کوئی غیر مسلم اس گستاخی کا ارتکاب کرے تو مباح الدم ہے۔“

(الصارم المسلول‘ ابن تیمیہ)

اس لیے کوئی ادنیٰ سے ادنیٰ مسلمان اور محمد عربی ﷺ کا گناہ گار سے گناہ گار نام لیوا حضرت محمد ﷺ یا کسی بھی نبی کی توہین و تخفیف قطعاً برداشت نہیں کر سکتا۔

موجودہ صورت حال میں ایک طرف اگر پوری دنیا کے ڈیڑھ ارب مسلمان سراپا احتجاج ہیں تو دوسری طرف دنیائے کفر ان بدقماش شاتمین اور توہین رسالت کے مرتکبین کی پشت پناہی اور تحفظ پر کمر بستہ ہے بلکہ ان کی ہم نوائی میں اس حد تک ہرزہ سرا ہے کہ نعوذ باللہ ”ہمیں اللہ کے کارٹون بنانے کا بھی حق حاصل ہے۔“

(روزنامہ ”خبریں“ کراچی‘ ۲ فروری ۲۰۰۶ء)

آزادی اظہار رائے کے دعویدار، ان شاتموں سے کوئی پوچھے کہ تمہیں مسلمانوں کی توہین و تنقیص ، ان کے دین و مذہب اور ان کے نبی امی ﷺ کی گستاخی کے وقت تو آزادی اظہار رائے کا شدت سے احساس و خیال آتا ہے لیکن سوال یہ ہے کہ تمہارا یہ احساس ، خیال اور جنون تمہیں ہولوکاسٹ کے قانون کے خلاف زبان کھولنے اور لکھنے کی جرات کیوں نہیں دیتا وہاں تمہارے آزادی اظہار رائے کے جذبہ کو کیوں سانپ سونگھ جاتا ہے؟

ہولو کاسٹ کیا ہے؟

”ہولو کاسٹ“ کا مفہوم اور اس کا پس منظر یہ ہے کہ یہودیوں نے

صفحہ ۳۰۷

توہین رسالت ﷺ کی شرعی سزا

پراپیگنڈا کیا تھا کہ: جرمنی میں ہمارا قتل عام کیا گیا اور ساٹھ لاکھ یہودیوں کو دوسری جنگ عظیم میں ہٹلر کے دورِ اقتدار میں پولینڈ کے شہر شوز بنائے گئے گیس چیمبرز میں قتل کیا گیا‘ لہٰذا ہمیں الگ ملک دیا جائے ان کے اس پراپیگنڈا کی وجہ سے ان کو اسرائیل ریاست دے دی گئی مگر جب تحقیق ہوئی تو ان کا دعویٰ جھوٹا نکلا تب انہوں نے قانون بنوا دیا کہ یہودیوں کے اس دعویٰ کو چیلنج نہیں کیا جاسکے گا لہٰذا ”ہولو کاسٹ“ کے اس قانون کا معنی یہ ہے کہ جو شخص اس یہودی دعویٰ کے خلاف بولے اور لکھے وہ قابل گردن زدنی ہوگا‘ لہٰذا اس کے بعد سے آج تک کوئی ”حق گو“ اس کے خلاف بول اور لکھ نہیں سکتا حتیٰ کہ اس پر تحقیق بھی نہیں کر سکتا اب سوال یہ ہے کہ اس ہولوکاسٹ کے قانون کے خلاف کسی کو آزادیِ اظہارِ رائے کا خیال کیوں نہیں آتا۔

بلاشبہ ڈنمارک‘ اٹلی‘ جرمنی‘ فرانس اور ناروے اس شیطنت میں سب سے بڑھ کر ہیں‘ جبکہ امریکہ بھی اس سلسلہ میں دلی اور اندرونی طور پر ان کا ہم نوا ہے‘ مگر اس کا کردار خالص منافقانہ ہے‘ یہ وجہ ہے کبھی کبھی تو: ﴿قَدْ بَدَتِ الْبَغْضَاءُ مِنْ اَفْوَاهِهِمْ وَمَا تُخْفِیْ صُدُوْرُهُمْ اَكْبَرُ﴾ (آل عمران: ۱۱۸) کے مصداق وہ بھی اپنے خبث باطن کو اگلنے پر مجبور ہوجاتا ہے‘ تاہم آسمان پر تھوکنے سے آسمان کا کچھ نہیں بگڑتا‘ مگر تھوکنے والے کا منہ ضرور خراب ہوجاتا ہے۔

دراصل امریکہ اس صورت حال سے دوہرا فائدہ اٹھانا چاہتا ہے‘ ایک طرف وہ اپنے مقابلہ میں آنے والی یورپی یونین کو کمزور کرنا اور اس کی ساکھ کو بین الاقوامی طور پر متہم کرنا چاہتا ہے‘ دوسری طرف وہ مسلمانوں کے اعصاب

صفحہ ۳۰۸

توہین رسالت ﷺ کی شرعی سزا

کمزور کر کے ان پر دنیائے کفر کا رعب بٹھانا چاہتا ہے‘ اس کے ساتھ ساتھ وہ ان کو اپنے آپ سے دور بھی نہیں کرنا چاہتا‘ اس لیے کبھی کبھی مسلمانوں سے ہم نوائی کے ایک آدھے بیان سے ان کی ہمدردیاں حاصل کرنا چاہتا ہے۔

تاہم دنیائے مغرب اور امریکہ کو یہ بات ذہن میں رکھنی چاہیے کہ مسلمان اپنے نبی کی عزت وعظمت اور حرمت وناموس پر سب کچھ قربان تو کر سکتا ہے مگر اس پر آنچ نہیں آنے دے گا۔

مسلمانوں کی چودہ سو سالہ تاریخ گواہ ہے کہ انہوں نے آج تک دین‘ مذہب‘ اسلام‘ شعائر اسلام اور اپنے نبی ﷺ کی عزت وناموس کا تحفظ کیا ہے اور جس بدبخت نے کبھی کوئی ایسی حرکت کرنے کی ناپاک کوشش کی‘ اسے صفحہ ہستی سے مٹادیا گیا۔ چنانچہ اسود عنسی اور مسیلمہ کذاب سے لے کر یوسف کذاب تک تمام مدعیان نبوت‘ مسیحیت‘ مہدویت کی تاریخ گواہ ہے کہ ہمیشہ مسلمانوں نے ایسے گستاخوں کے ناپاک وجود سے اللہ کی زمین کو پاک کردیا۔

آج اگر راج پال کے جانشین موجود ہیں تو بحمد اللہ! غازی علم الدین شہید کے نام لیوا بھی موجود ہیں‘ اس لیے مغرب اور اسکے سرپرستوں کو چاہیے کہ وہ اپنی اس ناپاک روش سے باز آجائیں ورنہ دنیا کا امن تہہ و بالا ہوسکتا ہے‘ اگر مسلمانوں کی مقدس ہستیاں خصوصاً حضرات انبیاء کرام علیہم السلام کی عزت وناموس محفوظ نہ رہی تو دنیا کی کوئی شخصیت بھی محفوظ نہیں رہے گی۔

اس موقع پر مسلمانوں نے جس ملی غیرت‘ حمیت اور اتحاد اور اتفاق کا مظاہرہ کیا اور اس مذہبی دہشت گردی کے خلاف صدائے احتجاج بلند کی ہے وہ لائق

صفحہ 309

توہین رسالت ﷺ کی شرعی سزا

صد تبریک اور قابل صد مبارکباد ہے، خصوصاً سعودی عرب، مصر اور لیبیا اس سلسلہ میں سب سے سبقت لے گئے، سیاسی و مذہبی راہنماؤں، وکلاء، ججوں، صحافیوں اور اخبارات، سکول و کالج کے اساتذہ و طلبہ، بچوں، بڑوں، خواتین، سرکاری اور غیر سرکاری ملازمین۔

(ماہنامہ بینات جلد نمبر ۶۹، شمارہ نمبر ۲)

توہین آمیز خاکے اور عصرِ حاضر کے قوانین

توہین کے ان واقعات پر غیر مسلم حکومتوں کا رویہ بھی ہٹ دھرمی، تکبر و تمسخر اور انانیت کا مظہر ہے۔ اس نوعیت کے واقعات پر ان کی پیش کردہ بعض معذرت آرائیاں بھی منافقت کے پردے میں لپٹی ہوئی ہیں۔ ان اخبارات کے سابقہ رویے، ان ممالک کے اپنے قوانین اور اقوام متحدہ و دیگر عالمی قوانین ان کے اس دوہرے معیار کی کسی طور حمایت نہیں کرتے لیکن اس کے باوجود میڈیا کے بل بوتے پر ان کی تکرار جاری و ساری ہے۔

پیشانی پر یہودیوں کا عالمی نشان 'سٹار آف ڈیوڈ' اس کے متعصب یہودی ہونے کا برملا اظہار ہے...... تو اسی اخبار نے ۲ برس قبل حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں بعض متنازعہ خاکے شائع کرنے سے انکار کیا تھا، کیونکہ ان کی نظر میں اس سے ان کے بعض قارئین کے جذبات متاثر ہونے کا خدشہ تھا۔ وہ خاکے کرسٹوفر ز نامی کارٹونسٹ نے بنائے تھے۔ مذکورہ خاکوں کی اشاعت کے عمل کا بھی اگر جائزہ لیا جائے تو حادثہ کی بجائے ایک منظم سازش کا پتہ چلتا ہے۔

(تفصیلات روزنامہ جنگ ۱۶/ فروری 'زیرو پوائنٹ' جاوید چوہدری)

صفحہ ۳۱۰

توہین رسالت ﷺ کی شرعی سزا

لمحہ بہ لمحہ اس سازش کو جس طرح پروان چڑھایا گیا اور جن جن مراحل سے اسے گزارا گیا، اس کا تفصیلی تذکرہ ہفت روزہ ’ندائے ملت‘ کے یکم مارچ ۲۰۰۶ء کے شمارے میں ایک مستقل مضمون میں کیا گیا ہے۔ یوں بھی یہ ڈنمارک سکینڈے نیوین ممالک میں سب سے زیادہ یہودیت نواز ملک ہے کیونکہ تاریخی طور پر یورپ سے نکالے جانے کے بعد سب سے زیادہ یہودی ڈنمارک میں ہی رہائش پذیر ہوئے تھے اس لیے اس ملک میں اس سازش کا بیج ڈالا گیا ہے۔ اس سازش کا مختصر تذکرہ اپنے الفاظ میں حسب ذیل ہے:

”ان خاکوں کی اشاعت کے دو بنیادی کردار ہیں: پہلا ڈینئل پائپس نامی امریکی عیسائی جو صدر بش کے ساتھ گہرے سیاسی و تجارتی مراسم رکھنے کے علاوہ بعض کمیٹیوں کا بھی رکن ہے اور امریکی اخبار اسے ’اسلام فوبیا کا مریض‘ اور مغربی دانشور ’اسلام دشمن‘ قرار دیتے ہیں۔ اسلام کے نام پر دنیا بھر میں جہاں کوئی سرگرمی ہو تو وہ اس کے لیے ہر قسم کی مدد دینے کے لیے آمادہ رہتا ہے۔ دوسرا اہم کردار جٹلینڈ پوسٹن نامی اخبار کا یہودی کلچر ایڈیٹر فلیمنگ روز۔ مسلمانوں کے خلاف یہ دہشت گردی عیسائیوں اور یہودیوں کی ملی بھگت کا نتیجہ ہے۔ یہ ایڈیٹر کافی عرصہ سے توہین رسالت کے موقع کی تلاش میں تھا کہ کرے بلوٹن نامی ایک ڈینش مصنف نے نبی ﷺ پر ایک مختصر کتاب میں شائع کرنے کے لیے اس سے آپ کا کوئی خاکہ طلب کیا۔ اس تقاضے پر فلیمنگ نے ڈینئل کی حمایت اور تعاون کے بل بوتے پر آپ ﷺ کے خاکے

توہین رسالت

بنانے کے بدبخت کارٹو میں سے وہ کئے ۔ اب پولیس کی دوست ڈنمار

ذہنیت ہے فلیمنگ روز نے پوچھا گیا تو اس اشاعت کے جسے اسلام سے

طے شدہ کئی قوانین کی مخا سیکشن ۱۴۰ کے مطابق ”ہر وہ شخص جو ملک میں یا عبادات اور دیگر مقد سے زیادہ چار ماہ کی قید یا

صفحہ ٣١١

توہین رسالت ﷺ کی شرعی سزا

بنانے کے لیے ایک اخبار میں اشتہار شائع کرا دیا۔ ۴۰ میں سے ۱۲ بدبخت کارٹونسٹ اس مذموم حرکت کے لیے آمادہ ہوئے اور ان میں سے ویسٹر گارڈ نامی ملعون کارٹونسٹ نے توہین آمیز خاکے تیار کئے۔ اپنے قتل کا فتویٰ ملنے کے بعد سے یہ شخص روپوش یا ڈینش پولیس کی حفاظت میں ہے جبکہ فلیمنگ میامی (امریکہ) میں اپنے دوست ڈینیل کی میز بانی اور تحفظ سے محظوظ ہو رہا ہے۔“

(ہفت روزہ فیملی میگزین: ۵ مارچ ۲۰۰۶ء سازش کے اصل مجرم)

ڈینش اخبار کا یہ واقعہ کوئی حادثہ نہیں بلکہ ایک سوچی سمجھی ذہنیت ہے جیسا کہ واشنگٹن پوسٹ نے بھی یہی قرار دیا ہے۔ اور خود فلیمنگ روز سے جب اپنے طرز عمل پر افسوس کے بارے میں پوچھا گیا تو اس نے جواب دیا کہ ایسی کوئی بات نہیں ، ان خاکوں کی اشاعت کے پس پردہ ایک جذبہ کارفرما ہے اور وہ دہشت گردی جسے اسلام سے روحانی اسلحہ فراہم ہوتا ہے۔

(روزنامہ ڈان: ۱۹ فروری ۲۰۰۶ء)

طے شدہ کئی قوانین کی مخالفت پائی جاتی ہے۔ مثلاً ڈنمارک کے کریمنل کوڈ کے سیکشن ۱۴۰ کے مطابق ”ہر وہ شخص جو ملک میں قانونی طور پر مقیم کسی فرد یا کمیونٹی کے مذہب یا عبادات اور دیگر مقدس علامات کی تضحیک کرے گا، اسے زیادہ سے زیادہ چار ماہ کی قید یا جرمانہ کی سزا دی جاسکے گی۔“

صفحہ 312

توہین رسالت ﷺ کی شرعی سزا

غور طلب امر یہ ہے کہ جیلانڈ پوسٹن نامی اخبار اور اس کے ایڈیٹر کو اس قانون سے کیوں بالا تر رکھا جارہا ہے؟ جبکہ ڈنمارک کی سرکاری ویب سائیٹ پر خود اس اخبار پر اس قانون کے تحت کاروائی کرنے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے لیکن ابھی تک کسی قانونی اقدام سے گریز کا رویہ زیر عمل ہے۔

بھی بیان یا سرگرمیاں جرم ہیں، جو کسی بھی کمیونٹی کے افراد کے لیے رنگ، نسل، قومیت، مذہب یا جنس کے حوالے سے دل آزار ہوں ۔“ ڈنمارک کے یہ اخبارات و جرائد اس دفعہ کی خلاف ورزی کے بھی مرتکب ہوئے لیکن یہاں بھی قانون کو حرکت میں نہیں لایا جارہا۔

کی رو سے

”ہر شخص کو اپنے خیالات کے اظہار اور انہیں چھاپنے کی مکمل آزادی ہے لیکن وہ اپنے خیالات کے حوالے سے کورٹ آف جسٹس‘ کو ضرور جواب دہ ہے۔

اگر ان اخبارات کی اس حرکت کو آزادی اظہار کے زمرے میں لانے کو بھی بفرض محال تسلیم کر لیا جائے تب بھی اس ’کورٹ آف جسٹس‘ نے دنیا بھر کے مظاہروں کے بعد ان اخبارات سے کسی جواب طلبی سے تاحال کیوں گریز کیا ہے؟

صفحہ ۳۱۳

توہین رسالت ﷺ کی شرعی سزا

ہوئے ہیں تو اس امر کا جائزہ لینے کی بھی ضرورت محسوس ہوتی ہے کہ کیا عالمی قوانین اور مغرب کے مسلمہ تصورات مغربی میڈیا کو بھی انہیں شائع کرنے کی اجازت دیتے ہیں یا نہیں؟

مغرب میں اس فلسفے کو بعض وجوہ سے ایک مسلمہ حقیقت کی حیثیت حاصل ہو چکی ہے۔ باوجود اس امر کہ اسلام آزادی اظہار کے مغربی تصور کا قائل نہیں لیکن حالیہ خاکے مغرب کے اپنے پیش کردہ تصور پر بھی پورا نہیں اترتے کیونکہ ہر انسان کو اس حد تک ہی آزادی اظہار حاصل ہوتا ہے جب تک یہ اظہار دوسرے کی حدود میں داخل نہ ہو جائے۔ آزادی اظہار کا یہ مطلب قطعاً نہیں ہے کہ دوسروں کی حدود میں دخل اندازی کی جائے۔ ایک انسان جب آزادی اظہار کے ذریعے دوسروں کے مقدس تصورات و نظریات اور رہنما شخصیات پر تنقید کرے گا تو یہ آزادی کے بجائے کھلم کھلا جارحیت کا ارتکاب کہلائے گا دوسرے کے جذبات سے کھیلنا آزادی اظہار کے بجائے ’دہشت گردی کا ارتکاب‘ ہے۔

جرمن مفکر ایمانوئیل کانٹ کا مشہور مقولہ ہے کہ

”میں اپنے ہاتھ کو حرکت دینے میں آزاد ہوں لیکن جہاں سے تمہاری ناک شروع ہوتی ہے میرے ہاتھ کی آزادی ختم ہو جاتی ہے۔“

”ایسے ہی ہر انسان کی آزادی وہاں جا کر ختم ہو جاتی ہے، جہاں دوسرے کی شروع ہوتی ہے۔“

اس لحاظ سے بھی ان اخبارات کا یہ رویہ آزادی اظہار کے مغربی تصور

صفحہ ۳۱۴

توہین رسالت ﷺ کی شرعی سزا

لئے استحصال اور کھلی مخالفت پر مبنی ہے۔ آزادی اظہار کی یہ حد بندی صرف ایک مسلمہ حقیقت نہیں بلکہ یورپی کنونشن کا چارٹر (مجریہ ۱۹۵۰ء، روم) اس کو قانونی حیثیت بھی عطا کرتا ہے۔ جس کی رو سے

”آزادی خیالات کے ان حقوق پر معاشرے میں موجود قوانین کے دائرہ کار کے اندر ہی عمل کرنا ہوگا تا کہ یہ آزادیاں کسی دوسرے فرد یا کمیونٹی کے تحفظ، امن وامان اور دیگر افراد یا کمیونٹی کے حقوق اور آزادیوں کو سلب کرنے کا ذریعہ نہ بنیں۔“

مزید برآں اسی چارٹر کے سیکشن ۱، آرٹیکل ۱۰ کی شق اول و دوم میں بھی درج ہے کہ

”آزادی اظہار کے حوالے سے ملکی قوانین پامال نہیں کئے جائیں گے تاکہ جمہوری روایات، علاقائی سلامتی، قومی مفادات، دوسروں کے حقوق کی پاسداری اور باہمی اعتماد کو نقصان نہ پہنچے۔“

”آزادی اظہار کا یہ تصور فرض شناسی اور ذمہ دارانہ رویے سے مشروط ہے۔“

”آزادی اظہار کا حق نہایت حزم و احتیاط اور ذمہ داری کے ساتھ استعمال کیا جانا چاہیے، اس کے ذریعے کسی کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ ملک میں معاشرے کی اخلاقی اقدار، دوسروں کی عزت نفس اور ان کے بنیادی حقوق کو گزند پہنچائے۔“

توہین رسالتﷺ iccpr کے ذریعے ذیل مضمون دیکھیں روزنامہ پاکستان توہین آمیز سے بھی ہوتی ہے جو کے باوجود ڈینش حکمرانوں کی الف ۔ میڈیا کے بل بوتے مختلف مراحل پر اپنا پہنانے کی ناکام کوشش کی یورپی یونین کی برطانیہ کے ہاؤس آف لارڈز آرٹیکل ۱۰ کے تحت اپیل کی مملکت برطانیہ میں بڑا معرکہ ممالک پر لاگو ہے۔ یہ کیس ایک اعلیٰ توہین کا تاثر ابھرتا ہے اور روک دیا کہ اس سے عیسائی سنسر بورڈ کے اس فیصلہ کے

19. Details of 20. Places of Place (i) SIRHIND SHARIF PUN (ii) (iii) (iv) (v) (vi) (vii) (viii) 21. Address of relat Areas) (in the sa Name/Father's Name 1. NIL NIL 2. NIL NIL 3. 4. 5. 6. 7. 8. 22. Address at Place of Place 1. SIRHIND SHARIF 2. 3. 4. 5. 6. 7. 8. 23. For Transit Visa Only Place of final destination 24. If you have migrated (Approxima

صفحہ ۳۱۵

توہین رسالت ﷺ کی شرعی سزا

iccpr کے ذریعے بھی محدود کر دیا گیا ہے۔ مزید تفصیلات کے لیے حسب ذیل مضمون دیکھیں:

روزنامہ پاکستان، لاہور نسلی و مذہبی منافرت اور عالمی قوانین‘ از آغا شاہی

توہین آمیز خاکوں کی اشاعت کی مخالفت ان متعدد فیصلہ جات سے بھی ہوتی ہے جو ماضی میں مغرب کی مختلف عدالتیں سنا چکی ہیں۔ اس کے باوجود ڈینش حکمرانوں کا یہ عذر عذر گناہ بدتر از گناہ‘ کا مصداق اور دیگر حکمرانوں کی ان سے ہم نوائی دراصل اسلام سے دشمنی کا برملا اظہار ہے ۔ میڈیا کے بل بوتے پر اسلام کے بارے میں پیدا کیا جانے والا تعصب مختلف مراحل پر اپنا رنگ دکھا رہا ہے اور اس کو اپنے لبرل قوانین کا تحفظ پہنانے کی ناکام کوشش کی جارہی ہے۔

یورپی یونین کی ہیومن رائٹس کی اعلیٰ ترین عدلیہ نے سال ۱۹۹۶ء میں برطانیہ کے ہاؤس آف لارڈز کے توہین مسیح کے مقدمہ میں فیصلہ اوپر درج شدہ آرٹیکل ۱۰ کے تحت اپیل کی سماعت کے بعد ایک اہم اور دلچسپ مقدمہ ونگرو بنام مملکت برطانیہ میں بڑا معرکہ آرا فیصلہ صادر کیا ہے جو یورپی یونین کے تمام ممبر ممالک پر لاگو ہے۔

یہ کیس ایک ایسی فلم کے بارے میں تھا جس سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی توہین کا تاثر ابھرتا ہے اور اس کو برطانوی سنسر بورڈ نے اس بنا پر نمائش سے روک دیا کہ اس سے عیسائی شہریوں کے جذبات مشتعل ہونے کا اندیشہ تھا۔ سنسر بورڈ کے اس فیصلہ کے خلاف فلمساز نے برطانیہ کی سب سے بڑی عدالت‘

صفحہ ۳۱۶

توہین رسالت ﷺ کی شرعی سزا

ہاؤس آف لارڈز میں اپیل کی جہاں اس عدالت عظمیٰ کے ایک لبرل جج اسکالر نے یہ قرار دیا کہ ”توہین مسیح کا قانون برطانیہ کے لیے ناگزیر ہے“ اس ہاؤس نے بھی فلم کو نمائش سے روکنے کا فیصلہ برقرار رکھا۔ فلمساز نے پھر اس فیصلہ کے خلاف حکومت برطانیہ کو فریق بناتے ہوئے حقوق انسانی کی اعلیٰ ترین عدالت میں اس فیصلہ کو اوپر درج شدہ آرٹیکل ۱۰ کی رو سے چیلنج کردیا۔ یورپی یونین کی اس اعلیٰ ترین عدالت نے اس آرٹیکل کی تشریح کرتے ہوئے یہ قرار دیا کہ ”توہین مسیح کے قانون کی بدولت حقوق انسانی کا تحفظ برقرار رہتا ہے۔“ اور سابقہ فیصلوں کو برقرار رکھا۔

عدالتی فیصلہ ملاحظہ ہو:

”ایسے بیانات پر جو یہودیت دشمن جذبات کو ابھاریں یا انہیں تقویت دیں، پابندیوں کی اجازت ہوگی تاکہ یہودی آبادیوں کے مذہبی منافرت سے تحفظ کے حق کو بالا دست بنایا جاسکے۔“

روزنامہ نوائے وقت لاہور میں شائع ہونے والے مضمون ’یورپ اور توہین انبیاء‘ میں مجاہد ناموس رسالت ﷺ جناب محمد اسمعیل قریشی لکھتے ہیں:

”یورپ کی عیسائی اور نام نہاد سیکولر حکومتوں کا شروع سے یہ عجیب و غریب دہرا معیار رہا ہے کہ اپنے ملکوں میں تو توہین مسیح کے جرم کی سنگین سزا، سزائے موت نافذ رہی ہے جو اب بھی عمر قید کی صورت میں موجود ہے لیکن وہ چاہتے ہیں کہ پاکستان یا دوسرے مسلمان

صفحہ ۳۱۷

توہین رسالت ﷺ کی شرعی سزا

ملکوں میں پیغمبر اسلام ﷺ کی اہانت کی سزا کا سرے سے وجود ہی نہ رہے کیونکہ اس سے عیسائی اور دیگر اقلیتوں کے انسانی حقوق مجروح ہوتے ہیں۔“

مغرب کی منافقانہ روش : ان خاکوں کی اشاعت کے لیے بہت سے اخبارات نے یہ موقف بھی اختیار کیا کہ سیکولر معاشرے کے نمائندہ ہونے کی وجہ سے وہ مذہبی نظریات کے تحفظ کے پابند نہیں ۔ دوسری طرف ان ممالک کے آئین اس امر کی ضمانت بھی دیتے ہیں کہ وہ اپنے ہاں بسنے والوں میں کسی مذہبی امتیاز کو جگہ نہیں دیں گے، لیکن ان ممالک کا عملی رویہ اس دعویٰ کے برعکس ہے۔ ان ممالک میں عیسائیت اور یہودیت کو جو تحفظ حاصل ہے اور قوانین میں ان کی جو ترجیحی حیثیت موجود ہے، اسلام کو یہ تحفظ کسی مرحلہ میں بھی میسر نہیں۔

کی خود ساختہ تاریخ اور ان کی مظلومیت کو پورا تحفظ دیا گیا ہے۔ اس مزعومہ قتل عام (بنام ہولوکاسٹ ) میں مقتولین کی تعداد ۵۰ لاکھ سے کم بیان کرنا کسی کے مجرم بننے کے لیے کافی ہے۔ حتیٰ کہ اس کہانی کے کسی جز کا بھی انکار کرنا ۲۰ سال تک قید کی سزا کا مستوجب ہے۔ ان ممالک کا یہ قانون مذہبی امتیاز پر واضح دلیل اور آزادی اظہار پر صاف قدغن ہے۔ لیکن چونکہ اس سے یہودیوں کی دل شکنی ہوتی ہے، اس لیے اس کو تو قانونی تحفظ عطا کیا گیا ہے لیکن مسلمانوں کی دنیا بھر میں اور خود ڈنمارک میں دل شکنی کوئی جرم نہیں۔ یہ تضاد مغربی لبرل ازم کا پورا پول کھولتا ہے ......!

صفحہ ۳۱۸

توہین رسالت ﷺ کی شرعی سزا

سزا کو عالمی عدالت انصاف بھی مختلف موقعوں پر تسلیم کر چکی ہے گویا وہ برطانیہ کے اس تصور قانون کی مؤید ہے جیسا کہ اس کی تفصیل اوپر گزر چکی ہے۔ غور طلب امر یہ ہے کہ حضرت عیسیٰ کی توہین کو آزادی اظہار کے دائرے میں لانا کیوں برطانوی حکومت کو گوارا نہیں۔ علاوہ ازیں برطانیہ کے اس قانون کا دائرہ صرف چرچ کے تحفظ تک ہی کیوں محدود ہے؟ یہ قوانین شہریوں میں عدم مساوات اور مذہبی امتیاز پر واضح دلیل ہیں۔

سماعت لایا گیا ہے، جس سے پتا چلتا ہے کہ یہ قانون دیگر مغربی ممالک میں بھی موجود ہے۔ اس کیس ’اوٹو پریمنگر انسٹیٹیوٹ بنام آسٹریا‘ کے فیصلہ میں عدالت نے تحریر کیا کہ

”دفعہ ۹ کے تحت مذہبی جذبات کے احترام کی جو ضمانت فراہم کی گئی ہے اس کے مطابق کسی بھی مذہب کی توہین پر مبنی اشتعال انگیز بیانات کو بدنیتی اور مجرمانہ خلاف ورزی قرار دیا جاسکتا ہے ۔ جمہوری معاشرے کے اوصاف میں یہ وصف بھی شامل ہے کہ اس نوعیت کے بیانات، اقوال یا افعال کو تحمل، بردباری اور برداشت کی روح کے منافی خیال کیا جائے اور دوسروں کے مذہبی عقائد کے احترام کو صد فیصد یقینی بنایا جائے۔“

صفحہ ۳۱۹

توہین رسالت ﷺ کی شرعی سزا

نے اس بنیاد پر نمائش سے روک دیا کیونکہ اس میں چرچ کی توہین پائی جاتی تھی۔ حالانکہ بعد ازاں وہ یہ ثابت نہیں کرسکے کہ اس میں توہین آمیز اور قابل اعتراض چیزیں کہاں پائی جاتی ہیں۔

عالمی کنونشن ICERD کی بھی صریحاً خلاف ورزی کی گئی ہے۔ جس کی رو سے نسلی برتری، نفرت انگیز تقاریر اور نسلی تعصب کو ابھارنے کے عمل کو غیر قانونی قرار دیا گیا ہے۔ اور اقوام متحدہ پر لازم ہے کہ اس قسم کے قابل تعزیر اقدامات کے ذمہ داروں کو قرار واقعی سزا دے۔

ایسے معاشرے جہاں مذاہب کی بنیاد پر تفریق ممنوع ہے وہاں اسلام کو نظر انداز کر کے دیگر مذاہب کو یہ تقدس عطا کرنا بذات خود قابل مؤاخذہ اور مذہبی امتیاز کا مظہر ہے۔ یہ مغرب کی اس منافقت کا پول کھولتا ہے جو آئے روز مذہبی مساوات کا دعویٰ کرتی اور مسلم ممالک کو اس کا درس دیتی رہتی ہے۔ بالخصوص اس وقت جب جمہوری اصولوں کی دعویدار حکومتیں اس حقیقت کے علی الرغم اس زیادتی کا ارتکاب کریں کہ یہ دنیا میں پائے جانے والے ڈیڑھ ارب یعنی دنیا بھر کی چوتھائی آبادی کے مذہبی جذبات کا تمسخر اڑانا ہے۔

(ماہنامہ محدث لاہور، جلد نمبر ۳۸، شمارہ نمبر ۳)

صفحہ ۳۲۰

توہین رسالت ﷺ کی شرعی سزا

شان رسول ﷺ میں گستاخی اور پیروان رسول

ﷺ کا موقف

ذیل کی تحریر عالم اسلام کے مشہور داعی، مفکر اور فقیہ ڈاکٹر علامہ یوسف القرضاوی کے خطبہ جمعہ کی ترجمانی ہے۔ علامہ موصوف نے یہ خطبہ ۳-۲-۲۰۰۶ء کو دوحہ، قطر کی عمر بن خطاب نامی جامع مسجد میں دیا۔ اس دن کو یوم الغضب کے طور پر منایا گیا اور نماز جمعہ کے فوراً بعد احتجاجی ریلی نکالی گئی۔

الحمد لله نحمده ونستعينه ونستهديه ونستغفره ونعوذ بالله من شرور أنفسنا ومن سيئات أعمالنا من يهده الله فلا مضل له ومن يضلله فلن تجد له وليا مرشدا وأشهد ان لا اله الا الله وحده لا شريك له.

اما بعد! اللہ تعالیٰ نے نبی اکرم ﷺ کے طرز عمل اور سلوک کو پاکیزہ بنایا: ”تمہارا رفیق نہ بھٹکا ہے نہ بہکا ہے“

(نجم: ۲)

اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کی گفتگو کو پاکیزگی بخشی ”وہ اپنی خواہش نفس سے نہیں بولتے وہ تو ایک وحی ہے جو ان پر نازل ہوتی ہے۔“

(نجم: ۳)

اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کے دل کو پاکیزہ بنایا ”نظر نے جو کچھ دیکھا دل نے اس میں جھوٹ نہ ملایا۔“

(نجم: ۱۱)

اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کی نظر کو پاکیزہ بنایا ”نگاہ نہ چندھیائی نہ حد سے متجاوز ہوئی۔“

(نجم: ۱۷)

صفحہ ۳۲۱

توہین رسالت ﷺ کی شرعی سزا

اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کے اخلاق کو پاکیزگی بخشی: ”اور بے شک آپ اخلاق کے بڑے مرتبہ پر فائز ہیں۔“ (قلم:۴) اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کی رسالت کو پاکیزہ بنایا: ”اے نبی! ہم نے تو تم کو دنیا والوں کے لیے رحمت بنا کر بھیجا ہے۔“ (انبیاء:۱۰۷) اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کی امت کو پاکیزہ بنایا: ”اب دنیا میں وہ بہترین گروہ تم ہو جسے انسانوں کی ہدایت واصلاح کے لیے میدان میں لایا گیا ہے۔“ (آل عمران:۱۱۰) اور ”اس طرح ہم نے تم مسلمانوں کو ایک امت وسط بنایا ہے تاکہ تم دنیا کے لوگوں پر گواہ رہو اور رسول تم پر گواہ ہوں۔“ (البقرۃ:۱۴۳) اے اللہ درود و سلامتی بھیج ایسے جلیل القدر نبی (محمد ﷺ) پر ان کے اہل وعیال اور ان کے اصحاب پر جو ان پر ایمان لائے، ان کی مدد کی اور نور کی اتباع کی جو ان پر نازل ہوا اور درحقیقت وہی لوگ کامیاب و کامران ہیں اور اللہ خوش ہوا ان لوگوں سے جو اس پیغام کو لے کر کھڑے ہوئے اس کی سنت سے ہدایت حاصل کی اور اس کے راستے میں جہاد کیا۔

برادرانِ اسلام! زمانہ ماضی میں کسی کے اندر یہ جرأت نہ تھی کہ کسی مسلمان کی عزت کو گزند یا کسی لفظ سے تکلیف پہنچا سکے اس لیے کہ اس وقت امت مسلمہ واقعی امت مسلمہ تھی جو اپنی مدافعت پر پوری قدرت رکھتی تھی، دشمن مسلمانوں کے رعب سے ایک ماہ دور کی مسافت سے بھی گھبراتا تھا۔

حضرت عمر بن عبدالعزیزؒ کو جب یہ خبر پہنچی کہ سلطنت روم میں ایک مسلمان قیدی کی اہانت کی گئی ہے تو انہوں نے قیصر روم کو یہ خط لکھا: ”مجھے پتہ چلا ہے کہ تمہاری سلطنت میں ایک مسلمان کے ساتھ اہانت آمیز سلوک

صفحہ ۳۲۲

توہین رسالت ﷺ کی شرعی سزا

کیا گیا ہے، جب تمہیں میرا یہ خط مل جائے تو اس کا راستہ چھوڑ دو، ورنہ میں ایک ایسے لشکر سے یلغار کروں گا جس کا پہلا سرا تمہارے پاس ہوگا اور آخری سرا میرے پاس۔‘‘

اس کے بعد ملک روم کے پاس اس کے سوا کوئی چارہ نہیں بچا کہ وہ اس مسلمان قیدی کو رہا کر دے۔

تاریخ اسلام کا مشہور واقعہ ہے کہ ایک رومی نے ایک مسلمان عورت کو طمانچہ مارا اس وقت وہ خاتون اسلامی سلطنت سے بہت دور سلطنت روم میں تھی انہوں نے وہاں سے مدد کے لیے (اے خلیفہ معتصم مجھے بچاؤ) کی پکار لگائی، اس وقت ان سے کہا گیا کہ معتصم یہاں کہاں ہے! لیکن جب خلیفہ معتصم کو ان کا استغاثہ ملا تو کہا کہ (اے میری بہن میں حاضر ہوں) اور ایک لشکر جرار تیار کیا اس واقعہ کو عموریہ کے نام سے جانا جاتا ہے، عربی کے مشہور شاعر ابو تمام نے اس واقعہ کو اپنے قصیدے میں دوام بخشا ہے۔

السيف أصدق أنباء من الكتب

تلوار کی خبر کتابوں اور نجومیوں کے زائچوں سے زیادہ سچی ہے۔

في حده الحد بين الجد واللعب

جس کی دھار سنجیدگی اور مذاق دونوں کے درمیان فیصلہ کر دیتی ہے۔

یہ ہماری تاریخ تھی لیکن اس وقت ہماری حالت یہ ہے کہ ہمارے اہم مقدسات کا مذاق اڑایا جاتا ہے، ہماری عزتوں کو پامال کیا جارہا ہے، امت مسلمہ جس کی تعداد اس وقت تقریباً سوا ارب ہے اور جو دنیا کی تقریباً ایک

صفحہ ۳۲۳

توہین رسالت ﷺ کی شرعی سزا

چوتھائی آبادی ہے اس وقت اس کا کوئی وزن نہیں ہے۔ اسے کوئی خاطر میں نہیں لاتا ، احتساب کچھ ہونے کے باوجود امت پر سناٹا طاری ہے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ جیسے کان بند کر لیے گئے ہوں یا قوت سماع جواب دے گئی ہو۔

ہر طرف سے تباہیوں نے گھیر لیا، پانی سر سے اونچا ہو گیا، قرآن کریم کا مذاق اڑایا گیا، لیکن امت خاموش رہی، بند کمروں کے اندر قرآن کریم کو روندا گیا، جسے کسی نے نہیں دیکھا اس کا بعد میں انکار بھی کیا گیا ، یہاں تک کہ اب محمد ﷺ کا شب و روز کھلے عام رسائل و جرائد میں مذاق اڑایا جارہا ہے اسے امت کسی بھی حال میں برداشت نہیں کرسکتی بلاشبہ یہ ایک ہمالیائی جرم ہے جس کی کوئی نظیر نہیں ملتی ، یہ گستاخی انسانی تاریخ کی سب سے عظیم شخصیت جناب محمد رسول اللہ ﷺ کی شان میں کی گئی ہے جن کو اللہ تعالیٰ نے خاتم النبیین بنایا ، مکارم اخلاق کی تکمیل کے لیے آپ ﷺ کی بعثت فرمائی اور سارے جہاں کے لیے رحمۃ اللعالمین بنا کر بھیجا ، رسالتوں کا سلسلہ آپ ﷺ پر ختم ہو گیا اور آپ کو ایسی جامع رسالت عطا فرمائی جو رہتی دنیا تک کے لیے ہے اور تمام انسانوں کے لیے عام ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا کہ ”ہم نے کتاب تم پر نازل کر دی ہے جو ہر چیز کی صاف صاف وضاحت کرنے والی ہے اور ہدایت و رحمت اور بشارت ہے ان لوگوں کے لیے جنہوں نے سر تسلیم خم کر دیا ہے۔“

(نحل:۸۹)

نبی کریم ﷺ کی شان میں جو گستاخی کی گئی ہے وہ بہت بھیانک جرم ہے اور جرم کی شناخت کا اندازہ اس بات سے کیا جائے گا کہ یہ جرم کس کے ساتھ کیا گیا ہے اور اس نقصان کا دائرہ کیا ہے؟ اس زیادتی کا شکار کوئی ایک

صفحہ ۳۲۴

توہین رسالت ﷺ کی شرعی سزا

خاندان یا قبیلہ نہیں ہوا ہے کہ کسی شیخ قبیلہ کی شان میں گستاخی کی گئی ہو اور اس کا شکار صرف اس کا خاندان ہوا ہو جیسا کہ شاعر کہتا ہے کہ

فغض الطرف انك من نمير
فلا كعبا بلغت ولا كلابا

”تم شرم سے اپنی نگاہیں جھکا لو اس لیے کہ تمہارا انتساب قبیلہ نمیر سے ہے ۔ قبیلہ بنو کعب یا بنو کلاب کو کہاں پہنچ سکتے ہو ۔“

یہاں اس زیادتی کا شکار شمال و جنوب سے لے کر مشرق و مغرب تک پوری امت محمدیہ (شیعہ و سنی) ہے جس زاویہ نظر سے بھی دیکھا جائے یہ بہت بھیانک جرم ہے، آخر اس جرم کا سبب کیا ہے بہت سارے جرائم کا کوئی نہ کوئی سبب اور محرک ہوتا ہے لیکن اس جرم کا کوئی سبب نہیں۔

ڈنمارک کے جریدہ کے مدیر نے کارٹونسٹوں کو محمد ﷺ کی تخیلاتی کارٹون سازی کے لیے مقابلہ (کمپیٹیشن) کی دعوت دی بعض کارٹون سازوں نے اس مقابلہ میں شرکت سے گریز کیا یہ جان کر کہ یہ چیز مسلمانوں کے غم و غصہ کو بھڑکا دے گی لیکن وہ جریدہ برابر لوگوں کو مقابلہ میں شرکت پر اکساتا رہا یہاں تک کہ کچھ لوگوں نے اس کی آواز پر لبیک کہا، اور جریدہ نے نبی اکرم ﷺ کے بارہ کارٹون شائع کئے ہر کارٹون نبی اکرم ﷺ کی شخصیت کو حد درجہ بدنما اور مجروح کرتا ہے، وہاں کے ماحول میں اس جرم کا سرے سے نہ کوئی سبب ہے اور نہ محرک، کیونکہ وہاں کے مسلمانوں کے حکومت اور برادران وطن دونوں سے بہتر تعلقات ہیں ، پھر کس چیز نے ان کو اس امت کی اہانت پر اکسایا ، گویا کہ

صفحہ 325

توہین رسالت ﷺ کی شرعی سزا

ان کی اس حرکت پر کسی کو غصہ ہی نہیں آئے گا؟

اس جرم کی کوئی وجہ جواز نہیں ، لوگ کہتے ہیں کہ یہ رائے کی آزادی ہے آخر یہاں کون سی رائے تھی جس پر مباحثہ کیا جاتا اور دوسری رائے کے لیے دلیلیں پیش کی جاتیں یہاں تو سرے سے کوئی رائے تھی ہی نہیں یہ تو کھلم کھلا گالی ہے۔

اس جرم کی شناخت کا اندازہ وہی شخص کر سکتا ہے جس نے ان تصویروں کو دیکھا ہو میں یہ سمجھتا تھا کہ یہ کوئی ہلکا معاملہ ہو گا لیکن جب میں نے ان تصویروں کو دیکھا تو اس نے میری آتش غضب کو بھڑکا دیا ، میرے صبر کا پیمانہ لبریز ہو گیا ، دل غم وغصہ سے بھر آیا اور ایسا لگا کہ جیسے میں آپے سے باہر ہو جاؤں گا اس طرح کے واقعہ پر کوئی بردبار سے بردبار آدمی بھی غصہ ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا۔

اسے رائے کی آزادی کہنا بہت بڑا جھوٹ ہے کیا رائے کی آزادی یہ ہے کہ لوگوں کو اور ان کے ماں باپ کو گالی دی جائے اور پھر یہ کہا جائے کہ یہ میری رائے ہے اور مجھے رائے کے اظہار کی آزادی حاصل ہے۔

نہیں ...... ہرگز نہیں اسے رائے کی آزادی نہیں بلکہ اسے بے ادبی ، بدتمیزی ، بداخلاقی ، اقدار کی بے حرمتی اور ناروا طرز عمل کہتے ہیں جسے اخلاق ، معاشرتی اقدار ، مذاہب عالم اور ہر معقول انسان رد کرتا ہے۔

ابتداء ہی میں ڈنمارک کے مسلمانوں نے جریدہ سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ اپنی اس حرکت پر معذرت کر لے لیکن جریدہ نے معذرت کرنے سے صاف انکار کر دیا اور کہا یہ ہمارا حق ہے اور ہمیں رائے کے اظہار کی آزادی ہے ، اس کے علاوہ اسلامی ممالک کے اکیس عرب سفراء نے ڈنمارک کے وزیر اعظم سے

صفحہ ۳۲۶

توہین رسالت ﷺ کی شرعی سزا

ملاقات کرنے کا ارادہ ظاہر کیا تو اس نے ملاقات کرنے سے صاف انکار کر دیا اور کہا کہ یہ ڈنمارک کے لوگوں اور اظہار آزادی رائے کا معاملہ ہے ہمارا اس سے کوئی لینا دینا نہیں، اگر اس نے ابتداء ہی میں اس پر لگام ڈالی ہوتی اور کہا ہوتا کہ کسی کی اہانت ہمارا مقصد نہیں اور ہم اس کے لیے معذرت خواہ ہیں اور سفراء سے ملاقات کر لی ہوتی تو معاملہ وہیں کا وہیں ختم ہو جاتا، لیکن ان لوگوں نے اپنے اس قابل افسوس موقف پر مسلسل اصرار کیا جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ دو ماہ بعد ناروے کے ایک جریدہ نے انہیں تصویروں کو شائع کیا اور ڈنمارک جریدہ نے پھر انہیں تصویروں کو دوبارہ دو ماہ بعد جنوری میں شائع کیا جس کی وجہ سے مسلمانوں کا آتش غضب دوبارہ بھڑک اٹھا، حالانکہ لوگ اس موضوع کو بھول چکے تھے، لیکن ڈنمارک جریدہ نے اس موضوع کو پھر سے زندہ کر دیا، ڈنمارک کے مسلمانوں نے اس معاملہ کو پوری امت مسلمہ پر پیش کرنے کا ارادہ کیا اس لیے کہ یہ معاملہ صرف تنہا ان کا معاملہ نہیں، محمد ﷺ صرف ان کے رسول نہیں، اسلام صرف ان کا دین نہیں۔

اس جریدہ نے ایک بہت بھیانک جرم اور ایک مذموم روش کی ابتداء کی ہے اس فعل پر وہ گنہگار ہے اور جس نے بھی اس کی پیروی کی ہے وہ سب گنہگار ہیں اس لیے کہ یورپین رسائل وجرائد (فرانس، اٹلی ، ہالینڈ ، سویزرلینڈ، جرمنی ، اسپین ، بی بی سی لندن) نے اس کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لیے ان تصویروں کو بار بار شائع کیا ہے، لیکن فرانسیسی جریدہ جس کا مالک ایک مصری تاجر ہے اس کو اس معاملہ کا زیادہ علم نہیں تھا لیکن جب اس کو معلوم ہوا تو اس نے جریدہ کے مدیر کو برخاست کر دیا، اسے لگا کہ اس طرح کی چیز کسی بھی

صفحہ ۳۲۷

توہین رسالت صلی اللہ علیہ وسلم کی شرعی سزا

طرح قابل قبول نہیں ہوسکتی، مجھے یہ بھی بتایا گیا ہے کہ فرانسیسی وزیر خارجہ نے جریدہ میں جو کچھ ہوا ہے اس پر اپنی معذرت پیش کی ہے، اگر یہ صحیح ہے تو ہم فرانسیسی کو بری کرتے ہیں اور اگر یورپ کے دوسرے ممالک اپنی اس حرکت پر پشیمانی اور برأت کا اظہار نہیں کرتے اور اپنی ہٹ دھرمی پر قائم رہتے ہیں تو ان کے سلسلہ میں ہمارے موقف میں کوئی تبدیلی نہیں آئے گی۔

قرآن کریم کا مذاق (اس سے قبل قرآن کریم کا مذاق اڑایا جا چکا ہے) اسلامی مقدسات کی بے حرمتی، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا استہزاء جیسے امور پر امت مسلمہ کا کیا موقف ہونا چاہیے؟

سوا ارب آبادی والی امت مسلمہ کو سب سے پہلے چاہیے کہ اس طرح کے امور کو چیلنج کرے اور اپنے نبی، اپنے دین اور اپنے قرآن کے لیے غضبناک ہو اور اپنے غم و غصہ اور ناراضگی کا اظہار کرے اور لوگوں کو بتادے کہ اس طرح کی چیز ہرگز برداشت نہیں کی جائے گی ایسے موقع پر غضبناک ہونا صرف فضیلت کی بات نہیں بلکہ فریضہ ہے، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم شان رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میں گستاخی کا ایک لفظ نہیں برداشت کر سکتے تھے اور کہتے تھے کہ اے اللہ کے رسول آپ مجھے اجازت دیجئے کہ میں فلاں شخص کی گردن مار دوں، ذات رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت ایمان کا جزو پہلے بھی تھا اور آج بھی ہے۔ حدیث شریف میں ہے کہ

لَا يُؤْمِنُ أَحَدُكُمْ حَتَّى أَكُونَ أَحَبَّ إِلَيْهِ مِنْ نَّفْسِهِ وَمَالِهِ
وَوَلَدِهِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ.

[السنن الکبری عن قتادة: ٦/٥٣٤]

صفحہ ۳۲۸

توہین رسالت ﷺ کی شرعی سزا

تم میں سے کوئی شخص اس وقت تک مومن کامل نہیں ہو سکتا جب تک کہ میں اس کے نزدیک اس کی جان ، اس کے مال ، اس کی آل اولاد اور تمام لوگوں سے زیادہ محبوب نہ ہو جاؤں ۔

اور

ثَلَاثُ مَنْ كُنَّ فِيْهِ وَجَدَ حَلَاوَةَ الْإِيْمَانِ أَنْ يَكُونَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَحَبَّ إِلَيْهِ مِمَّا سِوَاهُمَا .

[صحیح بخاری ، کتاب الایمان عن أنس بن مالك ١٥]

تین چیزیں جس شخص کے اندر پائی گئیں تو سمجھ لو کہ وہ ایمان کی حلاوت و چاشنی کو پا گیا وہ یہ ہے کہ اللہ اور اس کے رسول اس کے نزدیک دنیا کی تمام چیزوں سے زیادہ محبوب ہو جائیں۔

بعض صحابہ کرام رضی اللہ عنہم جو مکہ کی تپتی ہوئی چٹانوں پر تکلیف سے دو چار کئے جارہے تھے ان سے مشرکین مکہ نے پوچھا کہ کیا تمہیں پسند ہے کہ محمد (ﷺ) تمہاری جگہ ہوں اور تم لوگ مکہ میں اپنے اہل وعیال کے پاس ہو، ان لوگوں نے جواب دیا کہ اللہ کی قسم آپ ﷺ کا وجود مبارک جہاں بھی ہے ہمیں وہاں یہ بھی پسند نہیں کہ آپ ﷺ کے پائے مبارک میں کانٹا بھی چبھے، یہ سن کر ابوسفیان نے کہا کہ جس طرح محمد (ﷺ) سے اصحاب محمد محبت کرتے ہیں میں نے کسی کو کسی سے اس طرح محبت کرتے ہوئے نہیں دیکھا۔

امت مسلمہ کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنی غضبناکی کا اظہار کرے، امام شافعی رحمہ اللہ سے بیان کیا جاتا ہے کہ انہوں نے فرمایا کہ کسی کے غضب کو دعوت دی جائے اور وہ غضبناک نہ ہو تو ایسا شخص گدھا ہے اور ہم اس طرح کی

صفحہ ۳۲۹

توہین رسالت ﷺ کی شرعی سزا

امت نہیں کہ جس پر سوار ہوا جائے بلکہ ہم شیر ہیں جو اپنے کچھار کی حفاظت کی خاطر دھاڑتا ہے اور اپنی عزت پر آنچ نہیں آنے دیتا۔

اس لیے امت محمدیہ کا فریضہ ہے کہ وہ اپنے اللہ، اپنے رسول ﷺ اور اپنی کتاب کے لیے بھڑک اٹھے، اس کے لیے اس طرح کی بے عزتی برداشت کرنا کسی بھی حال میں جائز نہیں اور جو شخص اس کی رسوائی قبول کرنے پر راضی ہو وہ ہم میں سے نہیں۔

’’اور عزت تو اللہ اور اس کے رسول ﷺ اور مومن کے لیے ہے مگر یہ منافق جانتے نہیں ہیں۔‘‘

[منافقون:۸]

ہمارے لئے ضروری ہے کہ ہم اپنے غضب کا اظہار کریں اور دنیا کو بتادیں کہ ہمارا غصہ کیا ہوتا ہے عرب شاعر کہتا ہے:

لئن كنت محتاجا الى الحلم
فاننی الی الجهل فی بعض الاحایین احوج

اگر میں حلم و بردباری کا ضرورت مند رہتا ہوں، تو بسا اوقات مجھے نادانی و ہٹ دھرمی کی اس سے کہیں زیادہ ضرورت پڑتی ہے۔

ولی فرس للحلم بالحلم ملجم
ولی فرس للجهل بالجهل مفرد

میرے پاس ایک حلم و بردباری کا گھوڑا ہے جسے میں نے سنجیدگی و متانت کی لگام پہنا رکھی ہے: اور جہل و ہٹ دھرمی کا بھی ایک گھوڑا ہے جو اپنے اس فن میں منفرد ہے۔

صفحہ ۳۳۰

توہین رسالت ﷺ کی شرعی سزا

فمن تقويمي فاني مقوم
ومن رام تعویجي فاني معوج

جو مجھے سیدھا دیکھنا چاہتا ہے میں اس کے لیے پہلے ہی سے سیدھا ہوں اور جو مجھے ٹیڑھا دیکھنا چاہتا ہے تو میں اس کے لیے پہلے ہی سے ٹیڑھا ہوں۔

وما كنت ارضى الجهل خزنا وصاحبا
ولکنني ارضى به حین احرج

نادانی و ہٹ دھرمی کو میں ہنسی خوشی نہیں اپناتا ہوں، بلکہ میں اس کو اس وقت اپناتا ہوں جب مجبور کر دیا جاتا ہوں۔

اپنی غیرت و حرمت کی پاسداری کے لیے آدمی کا غیرت مند ہونا ضروری ہے، اللہ تعالی نے اس شخص کو برا کہا ہے جسے غیرت نہیں آتی ہو، نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ دیوث جنت میں داخل نہیں ہو سکتا لوگوں نے پوچھا کہ اے اللہ کے رسول دیوث کون ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا کہ جو اپنی بیوی کے پاس برائی دیکھے اور پھر بھی خاموش رہے، یعنی اسے معلوم ہو کہ کوئی آدمی اس کے غائبانہ میں اس کی بیوی سے باتیں کرتا ہے اس کے پاس آتا ہے یہ سب کچھ جاننے کے باوجود اپنے کانوں میں روئی ڈال لے ایسا آدمی بے غیرت ہے اس کی مردانگی مفقود ہو چکی ہے، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا کہ:

ان سعد الغیور وانا اغیر منه والله اغیر مني. [طبرانی نے حضرت ابو ہریرہ سے روایت کیا ہے۔]

صفحہ ۳۳۱

توہین رسالت ﷺ کی شرعی سزا

”سعد بہت غیور آدمی ہیں اور میں ان سے زیادہ غیرت مند ہوں اور اللہ تعالیٰ مجھ سے زیادہ غیرت مند ہے۔“

یہ بے غیرتی ہے کہ امت کی ذلت دین کی پامالی اور نبی ﷺ کی توہین برداشت کی جائے اور کوئی اقدام نہ کیا جائے اور نہ ہی غیرت وحمیت وغضب کا اظہار کیا جائے ، ہم دیوث (بے غیرت ) امتوں میں سے نہیں ہیں ، بلکہ اگر ہماری عزت وناموس پہ حرف آئے تو ہماری غیرت ہم کو للکارتی ہے، آج کا دن اللہ اور اس کے رسول اور اس کے تمام ہی انبیاء ورسل ، آسمانی کتابوں اور مذاہب کے تقدس وحرمت کے لیے غضب کا دن ہے، اس لیے میرا امت مسلمہ سے پہلا مطالبہ یہ ہے کہ

اگر امت نے غم وغصہ اور غیرت کو کھودیا تو سمجھو کہ اس کی زندگی اور اس کی معنویت سب ختم ہوگئی۔

والوں کی تمام مصنوعات (پروڈکٹس) کا بائیکاٹ کریں جو کچھ ہم پر واجب ہے یہ اس میں سب سے کم درجہ کی چیز ہے ، ایسا کیسے ممکن ہے کہ ہم اپنی اور اپنے نبی ﷺ کی توہین کرنے والوں کی مصنوعات کو فروغ دیں، پہلے ان لوگوں نے معذرت کرنے اور پھر مسلمان سفراء سے ملاقات کا انکار کیا لیکن جب انہیں بائیکاٹ کا علم ہوا تو معذرت کرنے لگے آخر شروع ہی میں تم لوگوں کو معذرت خواہی کا احساس کیوں نہ ہوا ؟

صفحہ ۳۳۲

توہین رسالت ﷺ کی شرعی سزا

(۳) ہمارا امت مسلمہ سے یہ مطالبہ ہے کہ وہ اپنی حکومتوں پر دباؤ ڈالیں تا کہ وہ ان ممالک سے اپنے سفراء واپس بلائیں اور ہم انہیں بتا دیں کہ ہم اپنے نبی کے لیے غضبناک ہوتے ہیں، ہم مبارک باد پیش کرتے ہیں ان ممالک کو جنہوں نے اپنے سفارتی تعلقات منقطع کر لیے، جیسے سعودی عرب اور شام جنہوں نے وہاں سے اپنے سفراء واپس بلا لیے اور کویتی پارلیمنٹ کو بھی جس نے ان لوگوں کی مصنوعات (پروڈکٹس) کے بائیکاٹ کی قرارداد پاس کی اور مصر، قطر اور پورے عالم اسلام کے لوگوں کو جنہوں نے بائیکاٹ کا اعلان کیا ہم اسلامی ممالک سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ عوام کے غم وغصہ کا ساتھ دیں اور ایک موقف پر ڈٹ جائیں اور ان کو بتا دیں کہ ہم لقمہ تر نہیں جسے آسانی سے نگلا جا سکے، ہم لوگ وہ ہیں جو کسی بھی حال میں اہانت برداشت نہیں کر سکتے۔

(۴) ہم اقوام متحدہ سے یہ مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ فوری طور پر ایک ایسا قانون پاس کرے جس کی رو سے انبیاء ورسل، مقدس آسمانی کتابوں اور مذہبی مقدسات کی پامالی کو قطعی طور پر ممنوع قرار دیا جائے اس سے قبل یہودی مقدسات کی حفاظت کے لیے اس طرح کا قانون بنایا جا چکا ہے، بعض ڈنمارکیوں نے کہا ہے کہ ہم چاہیں تو مسیح اور مسیحیت کا مذاق اڑا سکتے ہیں لیکن تم یہودیت کا مذاق نہیں اڑا سکتے، یہودیت نے اپنی حفاظت کی خاطر قانون کی پناہ لے رکھی ہے یہاں تک کہ کسی کو یہ اجازت نہیں کہ وہ (نام نہاد) ہولوکوسٹ جیسے واقعہ کے اعداد وشمار پر مناقشہ کر سکے اور اس کے خلاف ایک لفظ بھی بول سکے اگرچہ وہ کوئی علمی و تحقیقی مقالہ ہی کیوں نہ ہو، روجر غارودی نے جب اس

صفحہ ۳۳۳

توہین رسالت ﷺ کی شرعی سزا

موضوع پر لب کشائی کی تو اسے جیل کی سلاخوں کے پیچھے پہنچا دیا گیا۔

اس لیے ہم چاہتے ہیں کہ ایک ایسا قانون ہو جو انبیاء ورسل، آسمانی کتابوں اور مذہبی مقدسات کی حفاظت کرے تاکہ کسی کو ان کی اہانت کی جرأت نہ ہو سکے، ہم اسلامی ممالک سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ اس طرح کا قانون بنانے کے لیے اقوام متحدہ پر دباؤ ڈالیں، اور ہم امت مسلمہ سے بھی یہ مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ اپنی حکومتوں پر دباؤ ڈالیں اور ڈنمارکیوں سے یہ کہیں کہ تمہارے سلسلہ میں ہمارا موقف اسی وقت نرم ہو سکتا ہے جب تم دینِ اسلام کا احترام کرو، مساجد اور دعوتی مراکز کے قیام کی اجازت دو اور جس جریدہ نے نبی کریم ﷺ کی اہانت کی ہے وہ اپنے جریدہ میں ذات کریم کا دفاع کرے اور آپ ﷺ کی شرافت وفضیلت اور دعوت ورسالت کی نشر واشاعت کی کئی ماہ تک اجازت دے۔

میں یہاں اس سلسلہ میں اسلامی طریقہ اور موقف کی وضاحت کروں گا، اسلام مسلمانوں کو زبان کی حفاظت اور پاکیزگی کی تربیت دیتا ہے اور کسی کو بھی سب وشتم سے منع کرتا ہے یہاں تک کہ چیزوں کو بھی گالی دینے سے روکتا ہے۔

نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ:

لا تسبوا اصحابی .

[صحیح مسلم عن ابی ہریرۃ : ٤/١٩٦٧]

”میرے اصحاب کو گالی مت دو۔“

لا تسبّن احداً ولا تحقرن

[المعجم الطبرانی عن ابی جریر ٧/٦٥]

”تو کسی کو نہ گالی دے نہ تحقیر کرے۔“

صفحہ ۳۳۳

توہین رسالت ﷺ کی شرعی سزا

لا تسبوا الاموات فتؤذوا الاحیاء.

(صحیح ابن حبان عن مغیرۃ بن شعبۃ: ٧/٢٩٢)

”مُردوں کو گالی مت دو اس طرح تم زندوں کو (جو ان کے رشتہ دار ہیں) تکلیف دو گے۔“

لا تسبی الحمی فانہا تذہب خطایا بنی آدم.

(سنن بیہقی عن جابر بن عبداللہ ٣/٣٧٧)

”بخار کو گالی نہ دی جائے اس لیے کہ اس سے بنی آدم کے گناہ دور ہوتے ہیں۔“

لا تسبوا الریح انہا مأمورۃ.

(مستدرک علی الصحیحین عن ابی بن کعب ٢/٢٩٨)

”ہوا کو گالی مت دو اس لیے کہ وہ مامور ہے۔“

لا تسبوا الدہر فان اللہ ہو الدہر.

(صحیح مسلم عن ابی ہریرۃ :٤/١٧٦٣)

”زمانہ کو گالی مت دو اس لیے کہ زمانہ خود اللہ تعالیٰ ہے۔“

لا تسبوا الدیک فانہ یوقظ للصلاۃ.

(صحیح ابن حبان عن زید بن خالد الجہنی ١٣/٣٧)

”مرغ کو گالی مت دو اس لیے کہ وہ نماز کے لیے بیدار کرتا ہے۔“

ان تمام چیزوں میں خیر کا پہلو ہے اس لیے اسے گالی دینا جائز نہیں اللہ تبارک وتعالیٰ نے تو یہاں تک فرمایا ہے کہ ”یہ لوگ اللہ کے سوا جن کو پکارتے ہیں انہیں گالیاں مت دو کہیں ایسا نہ ہو کہ یہ شرک سے آگے بڑھ کر جہالت کی بنا پر اللہ کو گالیاں دینے لگیں۔“ (انعام:١٠٨)

صفحہ ۳۳۵

توہین رسالت ﷺ کی شرعی سزا

حدیث شریف تو یہاں تک کہتی ہے کہ:

لا تسبوا الشيطان فان السب لا يدفع عنكم ضرره ولا يغنى عنكم من عداوته شيئاً ولكن تعوذوا بالله من شره.

(فیض القدیر عن ابی ھریرة: ٦/٤٠٠)

”شیطان کو گالی مت دو اس لیے کہ گالی تم سے اس کے ضرر کو نہ روک سکتی ہے اور نہ ہی اس کی دشمنی سے ذرہ برابر بھی بے نیاز کر سکتی ہے بلکہ اس کے شر سے اللہ کی پناہ مانگو۔“

اور یہ سکھایا گیا ہے کہ

”اور دعا کرو کہ پروردگار، میں شیطان کی اکساہٹوں سے تیری پناہ مانگتا ہوں۔“

(مؤمنون: ۹۷)

یہی اسلامی طریقہ ہے جو انسانوں کو گالی دینے سے روکتا ہے چہ جائیکہ انبیاء و رسل کو گالی دی جائے اور انبیاء تو وہ ذات گرامی ہیں جن کی عزت سے چھیڑ چھاڑ کی کسی کو بھی اجازت نہیں ہے اور ہم نبی اکرم ﷺ اور دوسرے تمام انبیاء حضرت ابراہیم علیہ السلام ، حضرت عیسیٰ علیہ السلام ، حضرت موسیٰ علیہ السلام ، حضرت یعقوب علیہ السلام کسی کی بھی اہانت کی اجازت نہیں دیں گے۔

بندہ عاجز ناکارہ محمد علی جانباز خادم جامعہ رحمانیہ، سیالکوٹ