احتساب قادیانیت جلد 38 · حافظ بشیر احمد مصری
Ahtasab-e-Qadyaniat · Vol. 38
PDF 1

رَدِّ قادیانیت

رسائل

احتساب قادیانیت

جلد ٣٨

عَالَمِی مَجْلِسِ تَحَفُّظِ خَتْمِ نُبُوَّت

حضوری باغ روڈ ، ملتان - فون : 061-4783486

صفحہ ٤

!M

عرض مرتب

الحمد للہ وکفی وسلام علی سید الرسل وخاتم الانبیاء ٠ اما بعد! قارئین کرام! لیجئے اللہ رب العزت کے فضل واحسان سے احتساب قادیانیت کی جلد اڑتیس (٣٨) پیش خدمت ہے۔

ظ...... اس میں دو رسالے جناب حافظ بشیر احمد صاحب مصریؒ کے ہیں۔ دنیا جانتی ہے کہ مرزا قادیانی کا ایک مرید شیخ عبدالرحمن مصری تھا۔ اس کی اولاد پر مرزا محمود نے اپنی جنسی بے راہ روی کا ہاتھ رکھا اور ان کی عفت تار تار کر ڈالی۔ شیخ عبدالرحمن مصری اس صدمہ سے قادیان چھوڑ کر لاہور آگئے اور عمر بھر لاہوری مرزائی رہے۔ بشیر احمد ان کے بیٹے تھے۔ ان پر بھی مرزا محمود نے جنسی حملہ کیا۔ اس سانحہ نے بالآخر انہیں قادیانیت اور اس کے بانی مرزا غلام احمد قادیانی پر چار حرف بھیجنے کی اللہ تعالیٰ نے توفیق بخشی۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے بانی رہنما اور امیر اول، حضرت امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ کے ہمراہ دہلی جا کر بانی جماعت تبلیغ حضرت مولانا محمد الیاسؒ کے ہاتھ پر قادیانیت ترک کر کے اسلام قبول کر لیا۔ اسلام قبول کرنے کے باوصف اپنے والد عبدالرحمن مصری لاہوری مرزائی کے احترام میں لاہوری گروپ سے ملازمت کا تعلق برقرار رکھا۔ لاہوریوں نے اسے ووکنگ مشن برطانیہ کا امام بنا دیا۔ مناظر اسلام مولانا لال حسین اخترؒ برطانیہ کے دورہ پر گئے تو بشیر احمد مصری نے ان کو ووکنگ مسجد میں بلایا۔ علی الاعلان اپنے مسلمان ہونے کا اعلان کیا اور ووکنگ شاہی مسجد بھی مسلمانوں کے سپرد کی۔ ”انگلستان میں مسلمانوں کی کامیابی“ نامی رسالہ جو احتساب قادیانیت کی جلد اوّل میں شائع شدہ ہے۔ اس میں اس کی کسی قدر تفصیل آپ کو مل سکے گی۔

قادیانی چیف گرو مرزا طاہر نے جن اہل اسلام کو مباہلہ کا چیلنج دیا۔ ان میں حافظ بشیر احمد مصریؒ بھی تھے۔ فقیر راقم کی ملاقات ان سے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے سنٹر سٹاک ویل گرین لندن میں ہوئی۔ انہوں نے یہ دو رسائل فقیر کو عنایت کئے۔

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٥

کرنے کی مختصر روئیداد قلمبند کی ہے۔

رسائل اس جلد میں شائع کرنے کی سعادت حاصل ہونے پر فقیر کا دل مارے خوشی کے بلیوں اچھل رہا ہے۔ ایک ایسا شخص جس نے حضرت امیر شریعتؒ، حضرت جی مولانا محمد الیاسؒ، میرے استاذ محترم مولانا لال حسین اخترؒ کی مساعی سے اسلام قبول کیا اور وہ قادیانی جماعت کے سرگرم رکن کا فرزند تھا۔ اسے اللہ تعالیٰ نے قادیانی طلسم کو پاش پاش کرنے کی توفیق سے سرفراز فرمایا۔ آج وہ مرحوم دنیا میں موجود نہیں۔ لیکن رد قادیانیت پر ان کے شہ پاروں کو تاریخ کا حصہ بنانے کی توفیق سے اللہ تعالیٰ نے ہمیں سرفراز فرمایا۔ بس واقعی صحیح ہے کہ اللہ تعالیٰ کی رحمت اپنے بندوں کی بخشش کے لئے بہانے ڈھونڈتی ہے۔ یہ رسائل مجلس نے پہلے بھی شائع کئے۔ اب احتساب کی اس جلد کا بھی حصہ بن رہے ہیں۔ فاالحمدللہ!

رسائل شامل کئے ہیں۔ مولانا عبدالرحیم اشرفؒ (وفات جولائی ١٩٩٥ء) ہمارے بزرگ اور بزرگوں کے ساتھی تھے۔ رد قادیانیت کے عنوان پر اللہ رب العزت نے ان سے بے پناہ کام لیا۔ وہ اپنی طرز کے رہنماء تھے۔ قادیانی گروہ سے رو رعایت کا تصور بھی ان کے لئے سوہان روح سے کم حادثہ نہ تھا۔ البتہ ان کا دل دردمند قادیانیوں کی ہدایت کے لئے ہر وقت بے قرار رہتا تھا۔ آپ کے چار رسائل:

امت اور اسلامیان پاکستان کا طرز عمل، جون ١٩٦٤ء میں نواب امیر محمد خان نواب آف کالا باغ و گورنر مغربی پاکستان نے ”ایک غلطی کا ازالہ“ مرزا قادیانی کا پمفلٹ ضبط کیا۔ اس پر مولانا عبدالرحیم اشرفؒ نے یہ مقالہ تحریر کیا۔ جو پہلے ہفت روزہ ”المنبر“ میں شائع ہوا۔ پھر پمفلٹ کی شکل میں شائع کیا گیا۔

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٦

متفقہ طور پر قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا۔ تب مولانا عبدالرحیم اشرفؒ نے سالانہ آل پاکستان ختم نبوت کانفرنس چنیوٹ وغیرہ میں قادیانیوں کو اسلام کی دعوت دی۔ اس خطاب کو بعد میں پمفلٹ کی شکل میں شائع کیا گیا۔

یہ چار پمفلٹ حضرت مرحوم کے اس جلد میں شائع کئے جارہے ہیں۔ آپ نے ١٩٧٤ء کی تحریک ختم نبوت کے دوران ممبران اسمبلی کے لئے ایک کتابچہ مرتب کیا۔ جس میں مرزا قادیانی کی کتابوں سے حوالہ جات کے اصل کتب کے فوٹو شائع کئے گئے۔ وہ بھی بہت قابل قدر محنت ہے۔ لیکن ان حوالہ جات کے فوٹو کی طباعت خاصہ مشکل و محنت طلب کام ہے۔ بھاری پتھر ہے۔ چوم کر چھوڑ دیا ہے۔ اللہ تعالیٰ کو منظور ہے تو کوئی دوست اس پر کام کریں گے۔ مولانا عبدالرحیم اشرفؒ کے صاحبزادہ جو اب ان کے جانشین ہیں۔ ڈاکٹر زاہد اشرف صاحب بہت با ہمت و با صلاحیت ہیں۔ وہ ہمت کریں تو حضرت مرحوم کے تمام رسائل رد قادیانیت اور یہ حوالہ جاتی کتاب ”محضر نامہ“ اور آپ کے المنبر میں شائع ہونے والے رد قادیانیت کے تمام ادارتی نوٹ ایک ساتھ شائع کردیں۔ تو ایک جامع چیز مرتب ہو جائے گی۔

مولانا گلزار احمد مظاہریؒ کے صاحبزادہ ڈاکٹر فرید احمد پراچہ سے بھی مولانا مظاہریؒ کے رسائل کے لئے یہی درخواست کی تھی۔ انہوں نے تو تاحال عمل نہیں فرمایا۔ اب حضرت مولانا عبدالرحیم اشرفؒ کے جانشین اس گذارش کو کس کھاتے میں ڈالتے ہیں۔ یہ سب اللہ تعالیٰ کے علم میں ہے۔ فقیر کو تو خوشی ہے کہ دونوں حضرات کے رسائل یکجا ہو گئے۔

”گوشہ نشین“ تھا۔ آپ شیعہ مکتب فکر کے نامور مناظر و خطیب تھے۔

سے ایک صدی قبل کی کتاب ہے۔ اس جلد میں اس کو شائع کیا جارہا ہے۔ اس کتاب سے آپ کو

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٧

معلوم ہوگا کہ اہل سنت کی طرح اہل تشیع بھی آنحضرت ﷺ کے بعد ختم نبوت کے منکر بالفاظ دیگر آنحضرت ﷺ کے بعد مدعی نبوت کو کافر اور دائرہ اسلام سے خارج سمجھتے ہیں۔ چنانچہ مرزا غلام احمد قادیانی کے کفر کو واضح کرنے کے لئے مصنف نے اس کتاب کے آخر میں عراق، نجف اشرف، و کربلا کے مفتیان و مجتہدین کے فتویٰ جات کو شامل کتاب کیا ہے اور یہی ہمارا مقصد ہے۔

محمد اسماعیل گوجروی کا قادیانیوں سے مندراں والی میں مناظرہ ہوا۔ درس آل محمد کے فاضل اور مولانا محمد اسماعیل صاحب کے شاگرد مولانا غلام بشیر نے اس مناظرہ کی روئیداد قلمبند کی۔ ہم نے اس کی تلخیص اس جلد میں شائع کر دی ہے۔ مولانا محمد اسماعیل صاحب نے ١٩٧٤ء کی تحریک ختم نبوت میں فیصل آباد مجلس عمل تحفظ ختم نبوت کے پلیٹ فارم سے خدمات انجام دیں۔ شیعہ مکتب فکر کے بڑے شاطر مناظر تھے۔ لیکن مولانا دوست محمد قریشیؒ، مولانا عبدالستار تونسوی مدظلہ کے نام سے انہیں پسینہ آ جاتا تھا۔ مناظرہ جھوک وڑہیل ضلع بہاولپور میں فقیر خود اس کا عینی گواہ ہے کہ ہزار للکار کے باوجود مناظر اسلام مولانا سید محمد علی شاہ صاحبؒ اور مولانا عبدالستار صاحب تونسوی مدظلہ کے سامنے آنے کا وہ حوصلہ نہ کر پائے۔ مندراں والی میں مولانا محمد اسماعیل شیعہ کا قادیانی مناظر احمد علی شاہ قادیانی سے مناظرہ ہوا تو قادیانی مناظر کے چھکے چھوٹ گئے۔

تحریر کیا۔ جس کا نام ہے:

قادیانیوں نے چار سوال قائم کئے۔ ڈاکٹر صاحب نے اس رسالہ میں ان چار سوالوں کا جواب دیا۔ یہ رسالہ بھی اسی جلد میں شامل ہے۔

قادریؒ نے اس کا جواب

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٨

دوسرا رسالہ ”انوار اللہ“ تحریر کیا۔ جو حضرت مولانا انوار اللہ خان حیدرآبادیؒ کے خلاف تھا۔ مولانا سید عبدالجبار قادریؒ، مولانا انوار اللہ خان حیدرآبادیؒ کے شاگرد رشید تھے۔ قادیانی رسالہ کا آپ نے جواب تحریر فرمایا۔ جس کا نام ہے:

مرزا قادیانی کے زمانہ میں شائع ہوئے۔

خود قادیانی تھے۔ لیکن مرزا محمود قادیانی کے جنسی کرتوت، آمرانہ ڈکٹیٹر شپ کے خلاف تھے۔ انہوں نے قادیانیوں پر مشتمل حقیقت پسند پارٹی بنائی تھی اور مرزا محمود کے خلاف یہ کتاب تحریر کی جس کا نام ہے:

ہے۔

مرزا قادیانی سے مباحثہ لاہور میں اگست ١٩٠٠ء میں طے پایا۔ مرزا قادیانی خود چیلنج دے کر ”جہاں سے نکلا تھا وہیں گھس گیا“ یہ مرزا قادیانی کا جملہ ہے۔ جو ”عطائے تو بلقائے تو“ کے بمصداق نقل کر دیا۔ مولانا پیر مہر علی شاہ گولڑویؒ لاہور تشریف لائے۔ اس معرکہ لاہور کے حالات پر مشتمل واقعات مولانا امام الدین گجراتیؒ نے اخبار ”چودھویں صدی“ میں شائع کئے۔ مرزائیوں نے جوابی مضامین لکھے۔ مولانا امام الدین گجراتی نے جواب الجواب لکھ کر قادیانی موشوں کو قادیان کی بل میں گھسیڑ دیا۔ اس روئیداد کا نام ہے:

شائع ہوئی۔ قادیانی موشوں سمیت قادیانی بلی بھی لگی کھمبا نوچنے۔ پڑھئے کہ ایک سو دس سال بعد شائع کرنے کی اللہ تعالیٰ نے توفیق بخشی۔ کتاب ملتان مرکز کے کتب خانہ میں موجود تھی۔ لیکن

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٩

ناقص۔ مولانا قاضی محمد ہارون الرشید صاحب برادر عزیز سے درخواست کی کہ گولڑہ شریف کی لائبریری سے مکمل کتاب کا فوٹو کرا دیں۔ انہوں نے بہت محنت کی۔ لیکن گولڑہ خانقاہ شریف کی لائبریری کے لائبریرین کی حکمرانی کے سامنے ان کی نہ چل سکی۔ مولانا عزیز الرحمٰن ثانی کی ڈپلومیسی کام آگئی۔ کتاب کا مکمل عمدہ فوٹو میسر آ گیا۔ میسر کیا آیا اب چھپنے کے لئے بھی حاضر ہے۔ الحمدللہ ثم الحمدللہ!

حبیب الرحمٰن عثمانیؒ صدر جلسہ تھے۔ مہمان خصوصی شیخ الاسلام مولانا سید محمد انور شاہ کشمیریؒ تھے۔ مولانا سید مرتضیٰ حسن چاند پوریؒ، مولانا قاری محمد طیب دیوبندیؒ، مولانا قاری محمد طاہر دیوبندیؒ، مولانا بابو پیر بخشؒ لاہور، مولانا ثناء اللہ امرتسریؒ، مولانا نور احمد امرتسریؒ، مولانا میر محمد ابراہیم سیالکوٹیؒ ایسے اکابر کے بیانات ہوئے۔ تین دن جلسہ قادیان کی بستی میں ہوا۔ اس کا آنکھوں دیکھا حال معروف جرنلسٹ جناب منشی مولا بخش کشتہؒ نے قلمبند کیا۔ اس کا نام:

کیسی نایاب چیزیں اللہ تعالیٰ کے فضل سے دستیاب ہورہی ہیں۔

ایک رسالہ تحریر کیا۔ جس میں اگست ١٩٠٠ء کے معرکۂ لاہور کا آنکھوں دیکھا حال تحریر فرمایا۔ مولانا پیر مہر علی شاہ گولڑویؒ کی سربراہی میں شاہی مسجد لاہور کے جلسہ عام کی پوری روئیداد اس میں آگئی ہے۔ نمبر ١٢ پر ”راست بیانی بر شکست قادیانی“ اور:

مکمل داستان اس جلد میں شائع ہوگئی ہے۔ فالحمدللہ!

تھے۔ پھر مسلمان ہوئے۔ عبدالکریم ناقد نے کتاب لکھی۔

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ١٠

خلاصہ: احتساب قادیانیت کی جلد اڑتیس (٣٨) میں:

گیارہ مصنفین کے ٹوٹل ١٦ رسائل

اس جلد میں شامل ہوگئے ہیں۔ لیجئے! اس جلد میں شیعہ، اہل حدیث، بریلوی، دیوبندی حضرات کے رد قادیانیت پر رسائل شامل ہیں۔ گویا یہ جلد متحدہ مجلس عمل (ایم۔ایم۔اے) ہے۔ اللہ تعالیٰ اس حقیر محنت کو شرف قبولیت سے نوازیں۔

مولانا محمد اقبال مبلغ ڈیرہ غازیخان، مولانا عبدالرشید مبلغ فیصل آباد، مولانا عبدالحکیم مبلغ ساہیوال و پاکپتن نے حوالہ جات کے لئے، اور حضرت مولانا غلام رسول دین پوری، مولانا محمد احمد، مولانا محمد امین، مولانا صغیر احمد، مولانا محمد اعجاز، مولانا الیاس الرحمن، مدرسین مدرسہ ختم نبوت چناب نگر نے پروف ریڈنگ میں مدد کی۔ سب کا بہت شکریہ۔ واجرہم علی اللہ تعالیٰ ٠ آمین!

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ١١

محتاج دعائے: فقیر اللہ وسایا!

یکم شعبان ١٤٣٢ھ، بمطابق ٣ / جولائی

٢٠١١ء

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ١٢

www.besturdubooks.wordpress.com

PDF 11

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٣

بسم اللہ الرحمن الرحیم!

فہرست رسائل مشمولہ ...... احتساب قادیانیت جلد ٣٨

عرض مرتب ٤

(قادیانی جماعت کے سربراہ مرزا طاہر کے نام کھلا خط) // // ٢١

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٢

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم!

نام کتاب : احتساب قادیانیت جلد اڑتیس (٣٨) مصنفین : جناب حافظ بشیر احمد مصریؒ حضرت مولانا عبدالرحیم اشرفؒ جناب سید برکت علی شاہ گوشہ نشینؒ مولانا محمد اسماعیل گوجرویؒ جناب ڈاکٹر سید فدا حسین شاہؒ حضرت مولانا سید عبدالجبار قادریؒ جناب چوہدری غلام رسول چیمہؒ حضرت مولانا امام الدین گجراتیؒ جناب منشی مولا بخش کشتہؒ حضرت مولانا سید عبدالرحمٰنؒ جناب عبدالکریم ناقدؒ

صفحات : ٥٧٦ قیمت : ٣٠٠ روپے

www.besturdubooks.wordpress.com

PDF 14

مطبع : ناصر زین پریس لاہور طبع اوّل : جولائی ٢٠١١ء ناشر : عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت حضوری باغ روڈ ملتان Ph: 061-4783486

احتساب جلد اڑتیس (٣٨)

مجموعہ رسائل

مصنفین : جناب حافظ بشیر احمد مصریؒ حضرت مولانا عبد الرحیم اشرفؒ جناب سید برکت علی شاہ گوشہ نشینؒ مولانا محمد اسماعیل گوجرویؒ جناب ڈاکٹر سید فدا حسین شاہؒ حضرت مولانا سید عبد الجبار قادریؒ جناب چوہدری غلام رسول چیمہؒ حضرت مولانا امام الدین گجراتیؒ جناب منشی مولا بخش کشتہؒ حضرت مولانا سید عبد الرحمنؒ جناب عبد الکریم ناقدؒ

www.besturdubooks.wordpress.com

PDF 15

انا خاتم النبیین لا نبی بعدی

میں سب سے آخری نبی ہوں ۔ میرے بعد کوئی نبی نہیں ۔

فریب

قادیانیت

جناب حافظ بشیر احمد مصریؒ

صفحہ ١٢

بسم اللہ الرحمن الرحیم

پیش لفظ

الحافظ بشیر احمد مصری

١٩١٤ء میں ہندوستان کے قصبہ قادیان میں پیدا ہوئے۔ جہاں انہوں نے گورنمنٹ کالج لاہور سے عربی میں بی۔اے آنرز میں ڈگری لی۔ آپ جامعہ الازہر کے شعبہ عربی کے بھی فارغ التحصیل ہیں اور لندن سے صحافت (Journalism) میں بھی سند یافتہ تھے۔ آپ کی زندگی کے بیس برس مشرقی افریقہ میں بسر ہوئے۔ جہاں وہ ہائی سکول کے ہیڈ ماسٹر کے علاوہ بہت سی انجمنوں اور سماجی اداروں کے ذمہ دار عہدوں پر کام کرتے رہے۔ ١٩٦١ء میں آپ انگلینڈ منتقل ہو گئے۔ ١٩٦٤ء سے ١٩٦٨ء تک پانچ برس آپ ماہنامہ ”اسلامک ریویو“ کے ایڈیٹر رہے اور اس دوران آپ ووکنگ مسجد کی تاریخ میں پہلے سنی تھے جو امام مقرر ہوئے۔ اس دوران مناظر اسلام مولانا لال حسین اختر کا وہاں جانا ہوا اور حافظ بشیر صاحب نے اعلانیہ قادیانیت سے تائب ہو کر اسلام قبول کرنے کا دوبارہ اعلان کیا۔

الحافظ مصری صاحب برطانیہ میں ایک امتیازی حیثیت رکھتے تھے۔ آپ کے خطاب ریڈیو اور ٹیلیویژن پر تقاریر و مکالمات اور مختلف جرائد میں مضامین نے اس ملک میں انہیں ایک ادیبانہ اور فاضلانہ مقام دے دیا۔ ان کی ایک کتاب انگریزی اور عربی میں ”الرفق بالحیوانات فی الاسلام، “The Islamic Concern For Animals کے عنوان پر چھپی تھی۔ جس میں سو کے قریب آیات قرآنی اور پچاس کے قریب احادیث رسولؐ کے حوالہ جات سے اس موضوع پر روشنی ڈالی گئی ہے۔ یہ کتاب ساری دنیا میں خصوصاً مغربی ممالک میں بہت مقبول ہوئی۔ اسی موضوع پر آپ کی دوسری کتاب جو بہت جامع ہے۔ ”اسلام اور حیوانات“ کے عنوان سے انگریزی میں زیر طبع ہے۔

امید ہے کہ قادیانیت پر اس مضمون میں الحافظ مصری صاحب نے اپنے ذاتی مشاہدات پر مبنی اپنے خیالات کا اظہار کیا ہے۔ وہ سب مسلمانوں کی آنکھیں کھولنے کے لئے کافی ہیں۔ خصوصاً ان سیدھے سادھے مسلمان نوجوانوں کے لئے ان کے بیانات سبق آموز ہوں گے۔ جو قادیانیت جیسے مذہبی دھوکہ بازوں کے دام فریب میں پھنس سکتے ہیں۔ (ناشر)

٢

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ١٣

فریب قادیانیت

میرے بہت سے دوستوں نے متعدد مرتبہ مطالبہ کیا ہے کہ میں اپنے مشاہدات پر مبنی قادیانیت پر اپنے خیالات قلمبند کروں۔ تاکہ میری زندگی میں ہی وہ ضبط تحریر ہو جائیں۔ اس مختصر مضمون میں یہ ممکن نہیں کہ تفصیلات میں جایا جائے۔ ورنہ یہ ایک ضخیم کتاب بن جائے گی۔ اس لئے میں اختصار کے ساتھ صرف ان حالات کا ملخص درج کر رہا ہوں۔ جن کی بناء پر میں نے قادیانیت کی بے راہ رو اور منافقانہ جماعت سے توبہ کی۔

١٩١٤ء میں سوء اتفاق سے قادیان میں پیدا ہوا۔ میری پیدائش کی جائے وقوع کا حادثہ میری ٧٤ سالہ زندگی میں کلنک کا ٹیکہ بنا رہا۔ بچپن میں میرے یہ ذہن نشین کرایا گیا کہ احمدیوں کے علاوہ دنیا بھر کے سب مسلمان کافر ہیں۔ یہ درس و تدریس اس انتہاء تک تھا کہ خدا کی ذات پر ایمان بھی نہیں ہو سکتا۔ جب تک کہ احمدیت کے بانی مرزا غلام احمد قادیانی کی نبوت پر ایمان نہ ہو۔ نیز یہ کہ اس کے جانشین ہی اب بندے اور خدا کے درمیان وسیلہ ہیں۔ لیکن اس کے برعکس جب میں نے سن بلوغت میں قدم رکھا تو اپنے ارد گرد قادیانیوں کی عمومیت کو بدکردار، عیار اور مکار پایا۔ اس میں شک نہیں کہ ان لوگوں میں چند ایسے لوگ بھی تھے جو اس سلسلہ کے ابتدائی ایام میں اخلاص کے ساتھ اس جماعت میں شامل ہوئے تھے اور اس دھوکے کا شکار ہو گئے تھے کہ یہ تحریک اسلام میں ایک تجدیدی تحریک ہے۔ لیکن اس قسم کے مخلصین کی تعداد بہت کم دیکھنے میں آئی اور پھر جن کو نیک و مخلص پایا۔ ان میں بھی اکثر یا تو اتنے سادہ لوح تھے کہ اپنے گردو نواح کے مذموم ماحول پر ناقدانہ نظر ڈالنے کی صلاحیت ہی نہ تھی اور یا پھر اپنے حالات کی مجبوریوں میں اتنے لاچار تھے کہ کچھ کر نہ پاتے تھے۔

نوعمری کے زمانہ میں اس قابل تو نہ تھا کہ ذہنی اعتبار سے اس بات کی اہمیت کو سمجھ سکتا کہ تحریک قادیانیت نے کس طرح اسلام کے مذہبی عقائد میں فتور ڈالنا شروع کر دیا ہے۔ البتہ ان لوگوں کے خلاف میرا ابتدائی ردعمل اخلاقیات اور جنسی بدکاریوں کی وجہ سے تھا۔ میری ذہنی اور روحانی نابالغی کی اس غیر پختگی کی حالت میں ہی قادر تقدیر نے مجھے طاغوتی آگ کی بھٹی میں پھینک کر میری آزمائش کی۔ میں ایک ١٨ برس کا صحیح الجسم اور کسرتی نوجوان تھا۔ جب کہ مجھے خلیفہ قادیان کا پیغام ملا کہ وہ کسی نجی کام کے سلسلہ میں بلاتے ہیں۔ یہ وہ دور تھا جب کہ میں اس شخص کو نیم دیوتا سمجھا کرتا تھا اور اس جذبہ کے تحت میں نے اس پیغام کو باعث عزت و فخر کے طور پر لیا۔ مجھے گمان ہوا کہ حضور میرے ذمہ کوئی ایسا مذہبی کام لگانا چاہتے ہیں جو راز دارانہ قسم کا ہو۔

٣

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ١٤

ہماری پہلی ملاقات باضابطہ اور مقررہ اسلوب کے مطابق رہی، خلیفہ مجھ سے ادھر ادھر کے ذاتی سوالات پوچھتا رہا اور میں باادب واحترام جواب دیتا رہا۔ رخصت ہوتے وقت مجھے یہ حکم دیا گیا کہ میں اس ملاقات کا کسی سے ذکر نہ کروں اور دوسری ملاقات کا تعین کر دیا۔ اس کے بعد مزید ملاقاتیں بتدریج غیر رسمی ہوتی رہیں اور بالآخر مجھے رغبت دی گئی کہ میں ایک مخصوص حلقہ داخلی میں شامل ہو جاؤں۔

پتہ چلا کہ اس نیم دیوتا نے زنا کاری کا ایک خفیہ اڈہ بنا رکھا ہے۔ جس میں منکوحہ، غیر منکوحہ حتیٰ کہ محرمات کے ساتھ کھلے بندوں زنا کاریاں ہوتی ہیں۔ اس عیاشی کے لئے اس نے دلالوں اور کٹنیوں کی ایک منڈلی منظم کر رکھی ہے جو پاک باز عورتوں اور معصوم دوشیزاؤں کو پھسلا کر مہیا کرتے ہیں۔ جو عورتیں اس طرح سے ورغلائی جاتی تھیں۔ وہ اکثر ان خاندان کی ہوتی تھیں جو اقتصادی لحاظ سے جماعتی نظام کے دست نگر ہوتے تھے۔ یا جن کے دماغ اندھی تقلید سے معطل ہو چکے تھے۔ اس کے علاوہ اور بہت سی وجوہات اور مجبوریاں بھی تھیں۔ جن کے باعث بہت سے لوگ اس ظالمانہ فریب کے خلاف مزاحمت کی طاقت نہ رکھتے تھے۔ گاہے بگاہے جب بھی کوئی ایسا شخص نکلا جس نے سرکشی کی تو اس کا منہ بند کرنے کے لئے اسے جماعت سے خارج کر دیا جاتا۔ اس کا مقاطعہ کر دیا جاتا۔ یا شہر بدری کا حکم صادر ہو جاتا اور اس کے خلاف منظم طریق پر طنز واستہزاء کی مہم شروع کر دی جاتی۔ تاکہ اس کی بات پر کوئی بھروسہ نہ کرے۔

مرزا خاندان، مذہبی اثر ورسوخ کے علاوہ قادیان اور گردونواح کی اکثر زمینوں پر حقوق جاگیرداری بھی رکھتا تھا اور روحانی عقیدت کے ساتھ ساتھ ساکنین قادیان قوانین جاگیریت میں بھی جکڑے ہوئے تھے۔ اپنے مکانوں کی زمینیں خریدنے کے باوجود بھی انہیں مالکانہ حقوق (ملک مطلق) نہیں ملتے تھے اور ان کی زمین ومکانات جاگیردار کی اجازت کے بغیر غیر منقولہ ہی رہتے تھے۔ یہ وہ لوگ تھے جو اپنا سب کچھ بیچ بٹا کر قادیان کی نام نہاد مقدس بستی میں اپنے بیوی بچوں کو بسانے کے لئے لاتے تھے۔ اس قسم کے حالات میں اور خصوصاً اس زمانہ میں کون جرأت کر سکتا تھا کہ اس خاندان کا مقابلہ کرے۔ جن لوگوں نے ذرہ بھر بھی صدائے احتجاج بلند کی وہ یا تو اس طرح مار دیئے گئے کہ ظاہراً کسی حادثہ سے مرے ہوں اور یا پھر ایسے لاپتہ ہو گئے کہ ان کا نام ونشان بھی نہ رہا۔ جب کہ یہ سب ستم ہائے پارسائی ہو رہے تھے۔ مسلمان علماء اپنی سادگی میں یہ گمان کئے بیٹھے تھے کہ مرزائیت کو عقائد کی رو سے مناظروں اور مباحثوں کے مچانوں میں شکست دے دیں گے۔

٤

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ١٥

جب میں اس انتہائی ذلیل اور وحشیانہ ماحول سے دوچار ہوا تو اپنی لاچاری کے احساس سے دماغ مختل ہو گیا۔ مجھے ابھی تک وہ بیدار راتیں یاد آتی ہیں۔ جن میں میں بے یار و مددگار خاموش آنسوؤں سے اپنے تکیے تر کیا کرتا تھا۔ اس خیال سے کہ میری باتوں پر یقین نہیں کیا جائے گا۔ میں اپنے والدین کو بھی نہیں بتا سکتا تھا کہ کیا اودھم مچا ہوا ہے۔ اسی طرح اپنے دوستوں سے بھی ان حالات پر تبادلہ خیالات نہ کر سکتا تھا کہ کہیں وہ خلیفہ کے مخبروں سے ذکر نہ کر دیں۔ میرے لئے ایک راستہ یہ بھی ہو سکتا تھا کہ کہیں روپوش ہو جاؤں۔ لیکن اس کا ایک نتیجہ یہ ہوتا کہ یونیورسٹی میں میری تعلیم چھٹ جاتی۔ اس کے علاوہ یہ اخلاقی ذمہ داری بھی مانع تھی کہ اپنے والدین کو ان بدچلنیوں اور بدکاریوں سے لاعلمی کی حالت میں چھوڑ کر فرار ہو جانا ان سے دغا کرنے کے مترادف ہوگا۔

اس ذہنی کشمکش کی حالت میں یہ خیال بھی آتا کہ اس مذہبی دھوکہ باز (مرزا محمود) کو قتل کردوں۔ لیکن باوجود کم عمری کے منطقی استدلال غالب آ جاتا کہ قتل کی صورت میں عوام الناس یہ غلط نتیجہ نکال لیں گے کہ قاتل کوئی مذہبی متعصب تھا اور مقتول کو تاریخی اسناد ایک شہید کا درجہ دے دیں گے۔ پھر یہ بھی سوچتا تھا کہ ایک فوری اور ناگہانی موت اس شخص کے لئے عقوبت کی بجائے ایک عطیہ نعمت بن جائے گی۔ اس قسم کا شخص تو ایسی موت مرنے کا مستحق ہوتا ہے جو معذبانہ ہو۔ محض اس لئے نہیں کہ وہ اس قسم کے پاجیانہ اور ظالمانہ افعال کرتا ہے۔ بلکہ خصوصاً اس لئے کہ وہ یہ افعال مذمومہ خدا اور مذہب کے نام پر کرتا ہے۔

چنانچہ بعد کے حالات نے میری توجیہات کی تصدیق کی۔ انجام کار یہ شخص (مرزا محمود خلیفہ قادیان) فالج میں مبتلا ہو کر کئی سال تک طول کھینچتا رہا اور ایڑھیاں رگڑتے جہنم رسید ہوا۔ ایک ڈاکٹر نے جو آخری ایام میں اس کا معالج تھا، بتایا کہ وہ انتہائی ضعیف العقل ہو چکا تھا اور کلمہ یا اور کسی دعا کی بجائے فحش اناپ شناپ بکتے اس نے دم توڑا۔

ان سب توجیہات کے علاوہ ایک وجہ اور بھی تھی جس کے ماتحت میں اس نتیجہ پر پہنچا کہ اس ایک فرد کا قتل بے نتیجہ اور بے اثر ہوگا۔ مجھ پر یہ حقیقت واضح ہو چکی تھی کہ قادیان کے معاشرہ میں اس قسم کی بدچلنیاں اور بدمعاشیاں اس ایک شخص کے مرجانے سے ختم نہ ہوں گی۔ صرف یہ شخص بذات اکیلا جنسی خبط میں مبتلا نہ تھا۔ بلکہ اس کے دونوں بھائی اور نام نہاد ”خاندان نبوت“ کے اکثر افراد بھی اسی رنگ میں رنگے ہوئے تھے۔ حتیٰ کہ اس جماعت کے سرکردگان جو ذمہ دارانہ عہدوں پر فائز تھے۔ ان میں سے بھی اکثر نمائشی داڑھیوں کو لہراتے

٥

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ١٦

اپنے اپنے سیاہ کاریوں کے اڈے جمائے بیٹھے تھے اور یہ سب کچھ ان لوگوں کی آپس میں اس خاموش تفہیم کے ماتحت ہو رہا تھا کہ تم میری داڑھی نہ نوچو۔ تو میں تمہاری داڑھی نہ نوچوں گا۔ در حقیقت قادیان کے نظام میں اعلیٰ عہدوں پر تقرر اکثر اسی قماش کے لوگوں کا ہوتا تھا۔ جو مرزا خاندان کے اسلوب زندگی اور ان کی جنسی قدروں کو اپنا لیتے تھے۔ یعنی اس خاندان کی مطلق العنان جنسی قدروں کے مطابق جس خاندان کو یہ لوگ خاندان نبوت کے نام سے موسوم کرنے کی جرأت اور گستاخی کرتے ہیں۔

یہ کوئی غیر متوقع بات نہ تھی کہ اس قسم کی اخلاقی قیود سے آزاد عیاشیوں کی افواہیں باہر بھی پھیلنا شروع ہوگئیں اور باہر سے اوباش نوجوان اس جماعت میں شامل ہونے لگے۔ تاکہ ان جنسی پابندیوں سے آزاد ہو جائیں۔ جو ایشیائی تمدن وثقافت ان پر عائد کرتا ہے اور اس طرح یہ شیطنت مآب دائرہ وسیع ہوتا چلا گیا۔

خلیفہ کے اس خفیہ اڈے سے قطع تعلق کر لینے کے بعد میری زندگی دائمی طور پر خطرہ میں رہنے لگی۔ اس کے غنڈوں نے سایہ کی طرح میرا تعاقب کرنا شروع کر دیا۔ ایسی مایوس کن اور پر خطر حالت میں میرے لئے کوئی چارہ نہ تھا۔ سوائے اس کے کہ کھلم کھلا مقابلہ پر اتر آؤں اور انجام خدا پر چھوڑ دوں۔ چنانچہ میں خلیفہ سے ملنے گیا اور اسے ایک تحریر کی نقل دکھائی۔ جس میں میں نے اس کے کرتوتوں کی تفاصیل لکھی تھیں اور اس کے شرکائے جرم کے نام، تاریخیں وغیرہ درج کی تھیں۔ میں نے اسے بتایا کہ اس تحریر کی نقلیں میں نے بعض ذمہ دار احباب کے پاس محفوظ کرالی ہیں اور انہیں ہدایت کی ہے کہ ان لفافوں کو میری موت یا میرے لاپتہ ہو جانے پر کھول لیا جائے۔ اس حکمت عملی نے مطلوبہ مقصد پورا کر دیا اور میں بلا خطر آزادی سے قادیان کے گلی کوچوں میں پھرنے لگا۔

جیسے جیسے مجھ پر قادیان کے اس گندے ماحول کا انکشاف ہوتا گیا۔ اسی نسبت سے میں مذہب سے بیزار ہوتا گیا۔ صرف قادیانی مذہب سے ہی نہیں بلکہ مجموعی طور پر ادارہ مذہب سے اور بتدریج یہ حالت دہریت تک پہنچ گئی۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ اس سقیم حالت نے ایک روحانی خلاء بھی پیدا کر دیا۔ جس کو پر کرنے کے لئے میری تنہا ذات میں طاقت نہ تھی۔ بالآخر مجھے اپنے والد صاحب کو یہ سب حالات بتانا پڑے جو طبعاً ان کے لئے انتہائی صدمہ کا باعث ہوئے۔ قدرتاً وہ ایک بچے کی باتوں کو بلا تصدیق مان نہیں سکتے تھے۔ لیکن انہوں نے محتاط طور پر تحقیقات کرنا شروع کر دیں اور کچھ عرصہ میں ہی ان پر ثابت ہو گیا کہ میں سچ کہہ رہا ہوں۔

٦

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ١٧

میرے والد صاحب نے اس نام نہاد خلیفہ کو ایک خط لکھا۔ جس میں مطالبہ کیا کہ وہ ان الزامات کی تکذیب کرے۔ یا اپنی بدکاریوں کا کوئی شرعی جواز پیش کرے یا پھر خلافت سے معزول ہو جائے۔ اس خط کا خلیفہ نے کوئی جواب نہ دیا۔ لیکن دو مزید خطوط کے بعد اس نے اعلان کر دیا کہ شیخ عبدالرحمن مصری (یعنی میرے والد صاحب) اور ان کے خاندان کے سب افراد کو جماعت سے خارج کر کے ان کا مقاطعہ کیا جاتا ہے۔ میرے والد صاحب کے یہ تینوں خطوط اس زمانہ میں چھپ گئے تھے۔ (نوٹ: اب احتساب قادیانیت کی کسی جلد میں ان کو شامل کیا جائے گا۔ مرتب!)

اس قسم کے مقاطعہ کے اصل ہتھکنڈے یہ ہوتے تھے کہ کسی شخص یا خاندان کا کلیتاً بائیکاٹ کر کے اس کا حقہ پانی بند کر دیا جاتا تھا۔ ان حالات میں ہمارے خاندان کی جانیں اتنے خطرہ میں تھیں کہ حکومت کو ہماری حفاظت کے لئے فوجی پولیس کے دستے متعین کرنا پڑے جو ٢٤ گھنٹے ہمارے مکان کے گرد پہرہ دیتے تھے۔ ہم میں سے کسی کو بھی بغیر پولیس کی نگرانی کے گھر سے باہر جانے کی اجازت نہ تھی۔ لیکن باوجود اس قسم کی حفاظتی پیش بندیوں کے مجھ پر اور میرے دو ساتھیوں پر قادیان کے بڑے بازار میں دن دھاڑے حملہ ہو گیا۔ میرے ایک سن رسیدہ ساتھی کو چاقو کا گھاؤ لگا۔ جس سے وہ جاں بحق ہو گئے۔ دوسرے ساتھی کو گردن اور کندھے پر چاقو سے زخم آئے اور انہیں کافی عرصہ ہسپتال میں رہنا پڑا۔ مجھے پروردگار نے اس طرح بچا لیا کہ میرے ہاتھ میں ایک پہاڑی ڈنڈا تھا۔ جو میں حملہ آور کی کھوپڑی پر اتنے زور سے مارنے میں کامیاب ہو گیا کہ اس کے سر سے خون بہنے لگا۔ اس زخم شدہ حملہ آور کو اس کے شرکائے جرم سہارا دے کر آناً فاناً غائب ہو گئے اور اسے ایک ایسی پوشیدہ جگہ میں چھپا دیا جو پہلے سے معین کر رکھی تھی۔ لیکن پولیس اس کے سر سے ٹپکے ہوئے خون کے قطرات دیکھ کر وہاں پہنچ گئی اور اسے گرفتار کر لیا۔ عدالت عالیہ میں اس کا جرم ثابت ہوا اور اسے پھانسی دی گئی۔ اس زمانہ کی قادیانی ریاست میں امن و قانون کی اتنی برملا تحقیر تھی کہ قاتل کی میت کا جلوس دھوم دھام سے نکالا گیا اور خلیفہ (مرزا محمود) نے خود نماز جنازہ پڑھائی۔ جو قادیانی مریدوں کی نظر میں بہت بڑی عزت افزائی سمجھی جاتی تھی۔

اس حادثہ کے بعد مسلمانوں کی ایک جمعیت ”مجلس احرار الاسلام“ نے ہماری حفاظت کے لئے رضا کاروں کے جتھے بھیجنا شروع کر دیئے۔ جو فوجی پولیس کے علاوہ تھے۔ ان رضا کاروں نے ہمارے بنگلے کے گرد میدان میں خیمے نصب کر دئے اور ہمارا گھر ایک محصور قلعہ کی طرح بن گیا۔ اس اثناء میں مرزائی ٹولے نے میرے والد صاحب کو جعلی مقدمات میں الجھانا

٧ www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ١٨

شروع کردیا۔ تاکہ جماعت میں ان کی ساکھ اٹھ جائے۔ نیز یہ کہ ان پر مالی بوجھ پڑے۔ الغرض ہر وہ کمینی چالیں چلی گئیں۔ جن سے ان کی زندگی اجیرن ہوجائے۔ اپنے گیارہ بچوں پر مشتمل کنبے کی پرورش کے لئے نوبت یہاں تک پہنچ گئی کہ انہیں خاندانی زیورات اور گھر کے سازوسامان بیچ بیچ کر گزارہ کرنا پڑا۔ ان آفات انگیز حالات کا سب سے بڑا سانحہ یہ تھا کہ اس دوران خاندان کے بچوں کی تعلیم کے سلسلہ میں خلل پڑ گیا۔ ہم پر حملہ اور دیگر زیادتیوں کے حالات ہندوستان کے اخبارات میں باقاعدہ چھپتے رہتے تھے۔

ہمارے خاندان کو سرکاری افسران کی طرف سے اور بہت سے مخلص دوست احباب کی طرف سے بھی یہ ترغیب دی جارہی تھی کہ ہم قادیان سے نقل مکانی کردیں اور بالآخر ہم طوعاً وکرھاً لاہور منتقل ہوگئے۔ گو ”احمدیوں“ کے لاہوری اور قادیانی فرقوں میں عقائد کے اعتبار سے کوئی لمبا چوڑا فرق نہیں۔ لیکن کم از کم یہ پہلو تو تھا کہ لاہوری جماعت کا معاشرہ قادیانی معاشرہ کی طرح اخلاقی اور جنسی بدکاریوں میں ملوث نہ تھا۔

میرے والد صاحب تو لاہوری جماعت میں شامل ہوگئے۔ لیکن جیسا کہ میں نے پہلے عرض کیا ہے۔ میرا ایمان بحیثیت مجموعی ہر مذہب سے اٹھ چکا تھا۔ اس لئے میں نے اپنے آپ کو ان بندھنوں سے آزاد رکھا۔ زندگی کے اس دور میں میرا تعلق مجلس احرار الاسلام کے سرکردہ احباب سے بڑھنا شروع ہوگیا۔ جو میرے لئے بہت روح افزاء ثابت ہوا۔ ان بزرگوں میں سے بعض کے نام درج کرنا ضروری محسوس کرتا ہوں۔ مثلاً سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ، مولانا حبیب الرحمن لدھیانویؒ، چوہدری افضل حقؒ، مولانا مظہر علی اظہرؒ وغیرہم۔ ان سب کو قریب سے دیکھنے پر احساس ہوا کہ یہ لوگ نیک سیرت مسلمان اور پرخلوص دوست ہیں۔ گو میرے والد صاحب نے میری دھریت کو ظاہراً تسلیم ورضا کے ساتھ قبول کرلیا تھا۔ لیکن میں جانتا تھا کہ دل میں یہ صدمہ ان کے لئے سوہان روح بنا ہوا ہے۔ وہ اکثر فرمایا کرتے تھے کہ میرے لئے بہت دعائیں کرتے ہیں اور مجھے بھی نصیحت کرتے رہتے تھے کہ میں دعاؤں کے ذریعہ اللہ سے ہدایت کا طالب ہوں۔ اس کا جواب میں یہ دیا کرتا تھا کہ آپ مجھ سے ایک ایسی ہستی سے دعا کرنے کو کہہ رہے ہیں جس کا وجود ہی نہیں۔ بالآخر ایک عرصہ کے بحث مباحثہ کے بعد انہوں نے یہ مشورہ دینا شروع کیا کہ میں اپنی دعاؤں کو مشروطی رنگ میں کیا کروں اور میں نے اس قسم کے اناپ شناپ الفاظ میں دعائیں کرنا شروع کردیں۔ یا اللہ! مجھے یقین ہے کہ تیری کوئی ہستی نہیں۔ لیکن اگر تیری ہستی ہے تو اس کی کوئی علامت مجھ پر ظاہر کر۔ ورنہ مجھے قابل

٨

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ١٩

الزام و ملامت نہ ٹھہرانا کہ میں تجھ پر ایمان نہ لایا۔ وغیرہ وغیرہ! اس میں کوئی شک نہیں کہ راسخ العقیدہ مومنوں کی نظر میں اس قسم کی دعا کلمہ کفر کے مترادف ہے اور اللہ سبحانہ و تعالیٰ کی شان پاک میں بے ادبی ہے۔ لیکن اس کے باوجود میری اس طرح کی دعائیں میرے لئے ایسی مآل کار ثابت ہوئیں کہ ایک سال کے عرصہ میں ہی ان کے روحانی نتائج نکل آئے۔ مجھے تواتر کے ساتھ دو خوابیں دکھائی گئیں۔ چونکہ وہ خوابیں شخصی اور نفسیاتی کیفیت کی ہیں۔ اس لئے ان کے بیان کرنے کی جرأت نہیں کرتا۔ صرف اتنا عرض کر دینا کافی ہوگا کہ یہ خوابیں خصوصاً دوسری خواب بہت لمبی یسیر الفہم اور مربوط تھی۔ ایسی کہ مجھ ایسے گنہگار کے لئے بھی اللہ تبارک و تعالیٰ کی ذات پر کسی شک و شبہ کی گنجائش باقی نہ رہی۔ یہاں پر اتنا بتا دینا مناسب ہوگا کہ دوسری خواب کے آخری لمحات میں مجھے مرزائی خلیفہ کا چہرہ دکھایا گیا جو ”بھیانک طور پر سیاہ فام اور فسق و فجور سے مسخ شدہ تھا۔“

ان خوابوں کے بعد میرے دل و دماغ سے بہت بڑا بوجھ ہلکا ہو گیا اور میں نے فیصلہ کیا کہ اپنی کتاب زندگی کا نیا ورق الٹا کر باضابطہ اسلام قبول کرلوں۔ چنانچہ سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ مجھے اپنے ساتھ مولانا محمد الیاسؒ کے ہاں مہرولی لے گئے۔ مہرولی دہلی سے چند میل پر وہ قصبہ ہے۔ جہاں پر مولانا محمد الیاسؒ نے تبلیغی جماعت کی بنا ڈالی تھی۔ اس طرح ١٩٤٠ء میں میں مولانا محمد الیاسؒ جیسے بزرگ کے ہاتھ پر بیعت کر کے مسلمان ہوا۔ اس مبارک موقع پر یہ حسن اتفاق تھا کہ شیخ الحدیث مولانا محمد زکریاؒ بھی موجود تھے۔ مغرب کی نماز پڑھانے کے بعد مولانا محمد الیاسؒ اور چالیس کے قریب معتقدین نے میرے حق میں دعا کی۔

١٩٤١ء میں میں مشرقی افریقہ ہجرت کر گیا۔ ہندوستان کو خیر باد کہتے ہوئے میرے احساسات مسرت والم کا مرکب تھے۔ بمبئی کی بندرگاہ میں جہاز کے عرشہ پر کھڑے زیر لب میں قرآن مجید کی یہ آیت تلاوت کر رہا تھا۔ ”وما لکم لا تقاتلون فی سبیل الله والمستضعفين من الرجال والنساء والولدان الذين يقولون ربنا اخرجنا من هذه القرية الظالم اهلها (النسائ: ٧٥)“ {اور تمہارے پاس کیا عذر برأت ہے کہ تم ان ضعیف و بے بس مردوں عورتوں اور بچوں کی مدد کے لئے اللہ کی راہ میں جنگ نہیں کرتے۔ جو آہ و زاری سے دعائیں مانگ رہے ہیں کہ اے ہمارے رب ہمیں اس بستی سے نجات دلوا جس کے باشندے ظالم ہیں۔}

افریقہ میں بیس سال کی سکونت کے بعد میں نے ١٩٦١ء میں انگلینڈ ہجرت کرلی۔ جہاں

٩

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ١٠

پہلے ٤ برس کے قریب بطور طالب علم اپنی تعلیمی کمزوریوں کو دور کرنے کی کوشش کرتا رہا۔ اس کے بعد اسلامک ریویو رسالہ کا بالاشتراک ایڈیٹر بن گیا اور ١٩٦٤ء میں شاہ جہاں مسجد ووگنگ کا سب سے پہلا سنی امام مقرر کیا گیا۔ یہ مسجد برطانیہ میں سب سے پہلی مسجد تھی اور اس زمانہ میں سارے یورپ کے اسلامی مرکز کی حیثیت رکھتی تھی۔ پانچ سال کی امامت کے بعد ١٩٦٨ء میں مستعفی ہو کر بذریعہ کار قریباً ٤٣ ممالک کا تین برس تک دورہ کرتا رہا۔ جن میں زیادہ تر اسلامی ممالک تھے۔ اس دورہ کا اصل مقصد میری ایک دیرینہ خواہش کو پورا کرنا تھا کہ بلا توسط بچشم خود مطالعہ کروں کہ اسلامی دنیا میں عوام الناس کس طرح اسلامی قدروں کو عملی طور پر نبھا رہے ہیں۔ میری ہنگامی اور نزاعی زندگی میں خدا نے جو سب سے زیادہ مسرت بخش اسلام کی خدمت کرنے کی مجھے توفیق دی وہ یہ تھی کہ ووگنگ مسجد کی امامت سے مستعفی ہونے سے قبل ایسے حالات پیدا کرنے میں کامیاب ہو گیا کہ اس مسجد اور مرکز میں اب کبھی بھی کسی مرزائی امام کا تقرر نہیں ہو سکتا۔ وما توفیقی الا باللہ!

میں اپنے مسلمان بھائیوں اور بہنوں کو ایک مشورہ دینے کی جرأت کرتا ہوں۔ اس توقع پر کہ مسلم اکابرین اور اسلامی حکومتوں کے سربراہ ان خیالات اور جذبات کو کما حقہ اہمیت دیں گے۔ میرے یہ تاثرات قادیانیوں کے ساتھ عمر بھر کی آویزش اور تجربات پر مبنی ہیں۔ مرزائیت کے عقائد اور فرقہ بندیوں میں اب اسلام کے لئے کوئی خطرہ باقی نہیں رہا۔ اس مذہبی فریب کا بھونڈا چہرہ مدت سے بے نقاب ہو چکا ہے۔ اسلام میں بطور ایک دین الہی کے پوری صلاحیت ہے کہ اس قسم کی غیر شرعی تحریکوں کا مقابلہ کر سکے۔ لیکن مرزائیت کی طرف سے اب ایک نئے قسم کا خطرہ پیدا ہو رہا ہے۔ قادیانی ٹولے نے اب بین الاقوامی سیاست میں بھی ناٹک کھیلنا شروع کر دیا ہے اور دشمنان اسلام کے پاس چوری چھپے اپنی خدمات بیچنا شروع کر دی ہیں۔ جاسوسی کا پیشہ ہمیشہ پر منفعت ہوتا ہے۔ لیکن جب غیر ممالک میں جاسوسی کے اڈے مذہب کے نام پر تبلیغی مراکز کے بھیس میں کھولے جائیں تو یہ گماشتگی سود مند ہونے کے ساتھ خطرہ سے بھی آزاد اور آسان ہو جاتی ہے۔ غیر مسلموں کا عام طور پر یہ خیال ہے کہ ہماری طرف سے مرزائیت کی مخالفت محض مذہبی تعصب کی بنا پر ہو رہی ہے۔ وہ یہ حقیقت نہیں سمجھ پاتے کہ عقائد کے اختلافات کے علاوہ قادیانی منڈلی کو اسلام دشمن قوموں نے خرید رکھا ہے اور انہیں اسلامی ممالک میں اپنے سیاسی اور اقتصادی فوائد کو فروغ دینے کے لئے شریک کار بنا رکھا ہے۔ ان سب ملاحظات کے علاوہ مرزائیت کی مخالفت کی ایک اور وجہ یہ بھی ہے کہ مسلم شرفاء کے دلوں میں یہ تشویش رہتی ہے کہ قادیانی معاشرہ کا رندانہ رنگ کہیں ان کے اپنے نوجوانوں پر نہ چڑھ جائے اور

www.besturdubooks.wordpress.com

PDF 25

اَنَا خَاتَمُ النَّبِيّٖنَ لَا نَبِيَّ بَعْدِيْ

میں آخری نبی ہوں، میرے بعد کوئی نبی نہیں۔

قبولیت چیلنج مباہلہ

(قادیانی جماعت کے سربراہ مرزا طاہر کے نام کھلا خط)

جناب حافظ بشیر احمد مصری

صفحہ ٢٢

بسم الله الرحمن الرحیم! الحمد لله وحده والصلوٰة والسلام علیٰ من لا نبی بعده ٠ اما بعد!

قادیانیت کی تاریخ میں عبدالرحمن مصری کو وہی درجہ حاصل ہے جو اکبر کے زمانہ میں فیضی کو حاصل تھا۔ موصوف قادیانی جماعت کی گمراہیوں کو اپنے علم سے سند جواز پیش کرتے تھے۔ قادیانی جماعت کے کئی اعلیٰ عہدوں پر فائز رہے۔ مرزا بشیر الدین نے اپنی جنسی بے راہ روی کا ہاتھ ان کے خاندان پر بھی صاف کیا۔ سخت دل برداشتہ ہو کر مرزا بشیر الدین محمود کو مباہلہ کا چیلنج دیا۔ مرزا بشیر الدین نے مباہلہ کے میدان میں آنے کی بجائے ان پر منافقت کا فتویٰ لگایا۔ یہ بے کسی کی حالت میں قادیان سے لاہور آگئے اور یوں قادیانی سے لاہوری مرزائی بن گئے۔ مصری کا صاحبزادہ حافظ بشیر احمد مصری لاہوری جماعت کی طرف سے ووکنگ مشن لندن کا انچارج مقرر ہوا۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے امیر مولانا لال حسین اختر کے سفر انگلستان کے دوران ان کے دست حق پرست پر حافظ صاحب موصوف نہ صرف اعلانیہ دوبارہ مسلمان ہوئے ۔ بلکہ وہ مسجد بھی مسلمانوں کے سپرد کر دی جس پر نصف صدی سے مرزائیوں نے غاصبانہ قبضہ کر لیا تھا۔ حافظ بشیر احمد مصری پہلے امریکہ چلے گئے۔ آج کل برطانیہ میں ہیں۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی چوتھی سالانہ عالمی ختم نبوت کانفرنس لندن میں اس سال تشریف لائے اور خطاب فرمایا۔

مرزا طاہر نے ان کو بھی مباہلہ کا چیلنج دیا۔ انہوں نے ایسا جواب تحریر کیا کہ اپنے باپ کی طرح مرزا طاہر نے بھی مجرمانہ خاموشی اپنے اوپر طاری کر لی۔ یہ جواب انہوں نے عالمی مجلس کے رہنماؤں کے سپرد کیا۔ یہ جواب مرزائیوں کے نام نہاد اخلاق کی شہ رگ پر ایک نشتر ہے۔ آپ پڑھیں اور مرزائیوں کی اخلاقی حالت پر ماتم کریں۔ ہمارا دعویٰ ہے کہ جس طرح جناب بشیر احمد مصری کے والد عبدالرحمن مصری کے مقابلے میں مباہلہ کے لئے مرزا بشیر الدین نہیں آیا تھا۔ اسی طرح آج مصری کے بیٹے کے مقابلہ میں بشیر الدین کا بیٹا مرزا طاہر بھی ہرگز میدان میں آنے کی جرأت نہیں کرے گا کہ اسے اپنے باپ، دادا، چچاؤں، بھائیوں سب کی رنگین وسنگین جنسی وارداتوں کا علم ہے۔

طالب دعا: عزیز الرحمن جالندھری خادم عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت (مرکزی دفتر ملتان) مورخہ ٦/اکتوبر ١٩٨٨ء

٢

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٢٣

بسم اللہ الرحمن الرحیم

جناب مرزا طاہر احمد، امیر جماعت احمدیہ، لندن

میں آپ کی طرف سے مبارزت طلبی کی ہے کہ میں آپ کے اس مباہلہ کے چیلنج کو قبول کروں جو آپ نے معاندین احمدیت کو بروز ١٠/جون ١٩٨٨ء کو دیا تھا۔ یہ خط جس پر کوئی تاریخ نہیں لکھی ہوئی اور اس کے ساتھ آپ کے چیلنج کا ایک نسخہ مجھے مورخہ ٥/اگست ١٩٨٨ء کو ملا۔

قادیانیت کے فریب کو بے نقاب کرنے کا موقع ملے گا۔

التجاء کرتے ہیں کہ کسی متنازعہ فیہ مسئلہ سے متعلق جھوٹ اور سچ میں تمیز کردے۔ چونکہ مباہلہ ایک نہایت ہی سنجیدہ اور اہم امر ہے۔ اس لئے مناسب ہوگا کہ ہم دونوں اس کی تفاصیل براہ راست آپس میں طے کریں۔ بجائے اس کے کہ اپنے سیکرٹریوں کے ذریعہ گفت وشنید کریں۔ تاکہ مباہلہ کے آخری فیصلہ میں کسی قسم کے شک وشبہ اور ابہام کی گنجائش نہ رہ جائے۔

آپ کے چیلنج کو قبول کرلیں۔ یہ اختیار ہوگا کہ چیلنج کی جس دفعہ کو وہ چاہیں مستثنیٰ کرلیں۔ اس لئے میں اس دفعہ کو قبول کرتا ہوں۔ جو آپ نے صفحہ دو پر مندرجہ ذیل عبارت میں لکھی ہے۔ ’’دوسرا پہلو (اس مباہلہ کا) جماعت پر سراسر جھوٹے الزامات لگانے اور اس کے خلاف شرانگیز پراپیگنڈہ کرنے سے تعلق رکھتا ہے۔‘‘

متعلق ہیں۔ جن میں اس قسم کی کریہہ باتیں بھی کہنا پڑیں گی۔ جن کا ذکر عام طور پر شریف معاشرے میں نہیں کیا جاتا۔ اس لئے اس کی توضیح کر دینا ضروری ہے کہ کن وجوہات کی بناء پر میں اس قسم کی شرمناک باتوں کو قلم بند کرنا محض بے حیائی نہیں بلکہ اپنا اخلاقی فرض سمجھتا ہوں۔

لیکن جب کوئی شخص کسی اعتمادی اور اخلاقی ذمہ داری کے عہدہ پر فائز ہوتا ہے تو اس کی

٣

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٢٤

انفرادیت ادارہ کا جزو بن جاتی ہے۔ ایسی صورت میں اس کے انفرادی اختیارات وحقوق ادارہ کے حقوق واختیارات میں مدغم ہوجاتے ہیں۔ مثلاً ہم دیکھتے ہیں کہ مہذب معاشرہ میں ڈاکٹر مدارس کے معلمین ، محتاجین کے اداروں اور یتیم خانوں کے کارکنان ۔ غرضیکہ ہر اس قسم کے اہل کاران پر سرکاری قوانین کے علاوہ اخلاقیات اور نیک چلنی کے قواعد کی پابندی بھی عائد ہوجاتی ہے۔ با وجود اس کے ہم دیکھتے ہیں کہ دنیا کے معاشرے میں مذہبی ڈھونگئے اور جعل ساز اخلاقی قواعد کی پابندی سے آزاد رہتے ہوئے سادہ لوح اور کم عقل لوگوں کو دھوکہ دیتے رہتے ہیں۔ اس قسم کے مذہبی ڈھونگیوں پر اخلاقی پابندیاں اس لئے عائد کرنا مشکل ہوتی ہیں کہ دنیوی حکومتیں مذہبی معاملات میں دخل دینا پسند نہیں کرتیں۔ وہ اسی میں عافیت سمجھتی ہیں کہ اخلاقی نظم ونسق کی پابندی مذہبی اداروں پر ہی چھوڑ دو۔ اس طرح مذہبی اداروں پر تنقیدی نظر رکھنا معاشرے کی ذمہ داری بن جاتی ہے۔

کے سرکردہ گروہ نے جو جنسی اور اخلاقی قواعد کی خلاف ورزی شروع کی ہوئی ہے۔ وہ انفرادی یا شخصی حیثیت سے نہیں کی جارہی۔ بلکہ ان بداعمالیوں کو ایک جتھہ بندی اور تنظیم کا روپ دے دیا گیا ہے اور طرہ یہ کہ یہ سب کچھ اسلام کے نام پر کیا جارہا ہے۔ اگر یہ لوگ اپنے آپ کو مسلمان کہنا چھوڑ کر ایک نئے مذہب کا اعلان کردیں اور اپنی جماعت کا نام احمدی کی بجائے کوئی بھی اور غیر مسلم نام رکھ لیں تو مسلمان ان سے مذہبی معاملات میں الجھنا بند کردیں گے۔

ایسے لوگ بھی ہیں جو دیانت داری اور اخلاص سے قادیانی عقائد پر ایمان رکھتے ہیں۔ یہ علیحدہ بات ہے کہ وہ عقائد غلط اور غیر اسلامی ہیں۔ ہم مذہبی عقائد میں اختلافات کی بناء پر کسی سے مار پیٹ نہیں شروع کردیتے۔ لیکن جب کوئی منظم گروہ مذہب وعقائد کے روپ میں معاشرہ کے طریقہ ماند و بود میں تخریب پیدا کرنا شروع کردے تب ہی عوام الناس اس تخریب کی روک تھام کے لئے استادہ ہوتے ہیں۔ اگر بنی نوع انسان میں اس قسم کے ناخلف اور بے غیرت لوگ موجود ہیں جو اپنی محرم بہو بیٹیوں کی آبرو اور عصمت کو اپنے بدچلن پیروں کی پر جوش عقیدت پر قربان کردینے کے لئے تیار ہیں تو ایسے بھڑووں کو کون بچا سکتا ہے۔

٤

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٢٥

بحث طلب مسئلہ تو اس آبرو دار معاشرے کے لئے ہے۔ جس میں سادہ لوح انسان نادانستہ اس قسم کے دھوکوں کا شکار ہونے لگیں۔ ایسی حالت میں معاشرہ کو اختیار ہو جاتا ہے کہ وہ شرفاء کو مار آستین سے خبردار کریں۔

اخلاقی احساس اور حقیقی فکر و تشویش کے تحت کر رہا ہوں۔ تاکہ حتمی طور پر واضح ہو جائے کہ آیا میرے الزامات سچے ہیں یا جھوٹے۔ میرے دعویٰ کی بنیاد کہ الزامات سچے ہیں۔ میرے ذاتی علم پر مبنی ہے جو میں نے قادیان میں رہائش کے دوران حاصل کیا جہاں کہ میری پیدائش ہوئی اور جہاں میں نے ١٩٣٧ء تک پرورش پا کر قادیانیت سے توبہ کی۔

حلف مباہلہ

میرے الزامات جن کا ذکر میں نے پیراگراف نمبر ١٣ میں کیا ہے۔ آپ کے علم کی رو سے غیر صحیح ہیں اور میں انہی الفاظ میں حلفیہ بیان دوں گا کہ میرے علم کی رو سے وہ صحیح ہیں۔

احمدیہ کے بانی تھے) موجودہ امیر جماعت قادیانی احمدی اللہ تعالیٰ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ وہ الزامات جو حافظ بشیر احمد مصری (پسر شیخ عبد الرحمٰن مصری) نے پیراگراف نمبر ١٣ میں لگائے ہیں، غلط ہیں اور مجھے قطعاً کوئی علم نہیں۔ جس کی بناء پر میں کہہ سکوں کہ وہ صحیح ہیں۔ میں اللہ تعالیٰ سے التجاء بھری دعا کرتا ہوں کہ اگر میں قصداً دروغ حلفی کر رہا ہوں اور مباہلہ کی حالت میں جھوٹا بیان دے رہا ہوں تو مجھ پر اللہ تعالیٰ کی لعنت ہو اور میں اس تاریخ سے ایک سال کے عرصہ میں مر جاؤں۔ جس تاریخ کو میں نے یہ حلف چھ گواہوں کی موجودگی میں لیا۔ ان چھ گواہوں میں سے تین گواہوں کا انتخاب میں کروں گا اور تین گواہوں کا انتخاب مذکورہ بالا حافظ بشیر احمد مصری کریں گے۔“

ہوں کہ وہ الزامات جو میں نے پیراگراف نمبر ١٣ میں لگائے ہیں۔ صحیح ہیں اور میں علم الیقین رکھتا ہوں کہ وہ صحیح ہیں۔ میں مزید اللہ تعالیٰ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ مذکورہ بالا مرزا طاہر احمد کو

٥

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٢٦

علم ہے کہ وہ الزامات صحیح ہیں۔ میں اللہ تعالیٰ سے التجاء بھری دعا کرتا ہوں کہ اگر میں قصداً دروغ گوئی حلفی کر رہا ہوں اور مباہلہ کی حالت میں جھوٹا بیان دے رہا ہوں تو مجھ پر اللہ تعالیٰ کی لعنت ہو اور میں اس تاریخ سے ایک سال کے عرصہ میں مر جاؤں ۔ جس تاریخ کو میں نے یہ حلف چھ گواہوں کی موجودگی میں لیا ۔ ان چھ گواہوں میں سے تین گواہوں کا انتخاب مذکورہ بالا مرزا طاہر احمد کریں گے ۔‘‘

مباہلہ سے متعلق الزامات

تین بیٹوں میں سب سے بڑا بیٹا تھا اور جو قادیانی جماعت کا خلیفہ ثانی تھا) بدکار تھا اور منکوحہ وغیر منکوحہ عورتوں کے ساتھ زنا کرنے کا عادی تھا۔ حتیٰ کہ خاندان کی ان عورتوں کے ساتھ بھی زنا کیا کرتا تھا جن کو نہ صرف اسلامی شریعت نے بلکہ سب الہامی مذاہب نے محرمات قرار دیا ہے۔

دوسرے نمبر کا بیٹا تھا) لواطت کا عادی تھا اور بالخصوص اسے نوعمر لڑکوں سے بدفعلی کی بہت عادت تھی۔

تیسرے نمبر کا بیٹا تھا) لواطت کا عادی تھا اور بالخصوص اسے نوعمر لڑکوں سے بدفعلی کی بہت عادت تھی۔

قادیانی کا پوتا اور قادیانی جماعت کا خلیفہ ثالث) زانی ہونے کے علاوہ لواطت بھی کیا کرتا تھا۔

اسحق قادیانی جماعت کے نظام میں ایک بلند اور باعزت حیثیت رکھتا تھا اور محدث کے خطاب سے سرفراز ہوا تھا۔ وہ بھی لواطت کا عادی تھا۔ قادیان کے یتیم خانہ کے محاسب ہونے کی حیثیت میں بیچارے کم سن یتیم بچے اس کی برگشتہ خواہشات شہوانی کا شکار ہوا کرتے تھے۔

٦

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٢٧

نظام میں بڑے بڑے عہدوں پر مامور تھے اور جو اپنے اثر و رسوخ کے بل بوتے پر اپنی شہوانی برگشتیوں میں اخلاقی پابندیوں سے آزاد تھے۔ لیکن ان فحش باتوں کی زیادہ تفاصیل لکھنے کی ضرورت نہیں۔ پیرا گراف نمبر ١٣ میں جو کچھ دیا ہے وہی کافی ہے۔ آپ سے اس موضوع پر مباہلہ کرنے کا اصل مقصد یہ ہے کہ آپ کے اس اصرار کو جھٹلایا جائے کہ یہ الزامات ” احمدیت کے خلاف سراسر جھوٹ اور شرانگیز پراپیگنڈا“ ہیں۔ حالانکہ آپ اچھی طرح واقف ہیں کہ ان الزامات میں کوئی غلط بیانی یا مبالغہ نہیں۔

تا کہ اس تنقیح طلب امر میں کسی غلط فہمی کا امکان نہ رہ جائے اور آپ کو اس مباہلہ کے ضابطہ سے کوئی راہ فرار نہ ملے۔ یہی وجہ ہے کہ مرزا خاندان سے بھی دوسری اور تیسری نسلوں کے کسی فرد کو اس فہرست میں شامل نہیں کیا۔ اس خاندان کی خواتین کے نام شامل نہ کرنے کی زیادہ تر وجہ یہ ہے کہ ان پر ترس آتا ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ ان خواتین میں بعض ایسی بھی تھیں جنہوں نے اس قسم کی مذموم حرکات میں اپنی رضامندی سے حصہ لیا۔ لیکن ان میں بہت سی ایسی بھی تھیں جو قصور وار نہ تھیں اور اس دام فریب میں مجبوراً پھنسی ہوئی تھیں۔ ان کے لئے اپنے مردوں سے تعاون کے علاوہ کوئی چارہ نہ تھا۔ ان کی حالت تنقید کی بجائے رحم کی مستحق تھی۔

جائے۔ مباہلہ کی شرائط اور کلیات کو عدم تعین پر چھوڑ دینے سے۔ جیسا کہ آپ نے اپنے چیلنج میں چھوڑ دیا ہے۔ مباہلہ کا انجام مبہم رہ جائے گا۔ لیکن اگر آپ میری تجویز کردہ ایک سال کی مدت میں کوئی قابل قبول تبدیلی کروانا چاہیں تو اس کے لئے بھی تیار ہوں۔

کی کوشش کریں گے کہ کوئی شخص کسی دوسرے شخص کی نمائندگی میں مباہلہ نہیں کر سکتا تو میں آپ کی توجہ خود آپ کی مندرجہ ذیل تحریر کی طرف مبذول کرواتا ہوں۔ جس میں آپ نے خود ہی اس اصول کو تسلیم کر لیا ہے کہ آپ کسی فرد ثانی کی نمائندگی میں مباہلہ کر سکتے ہیں۔ چیلنج

٧

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٨

کے صفحہ ٨ پر آپ لکھتے ہیں: ”چونکہ بانیٔ سلسلہ احمدیہ اس وقت اس دنیا میں موجود نہیں اور مباہلہ کا چیلنج کرنے والے کے سامنے آپ کی نمائندگی میں کسی فریق کا ہونا ضروری ہے۔ اس لئے میں اور جماعت احمدیہ اس ذمہ داری کو پورے شرح صدر، انبساط اور کامل یقین کے ساتھ قبول کرنے کا اعلان کرتے ہیں۔“

١٨...... اگر آپ اپنے وفات شدہ دادا کی نمائندگی میں مباہلہ کرنے کو تیار ہیں تو پھر کوئی بھی وجہ نہیں ہو سکتی کہ کیوں آپ اپنے وفات شدہ باپ یا وفات شدہ چچا یا وفات شدہ بھائی کی نمائندگی میں مباہلہ نہ کر سکیں۔

١٩...... ان سب باتوں کے علاوہ یہ امر بھی واضح کر دینا ضروری ہے کہ اس مباہلہ کا زیر بحث نقطہ یہ نہیں کہ آپ اپنے اسلاف کی نمائندگی میں میرے ساتھ مباہلہ کریں۔ جن کے نام میں نے پیراگراف نمبر ١٣ میں لکھے ہیں۔ میں آپ کے مباہلہ کا چیلنج اس نقطہ پر قبول کر رہا ہوں کہ آپ خود اپنی نمائندگی میں مباہلہ کریں کہ آیا آپ کے مذکورہ بالا اسلاف کا اخلاقی لحاظ سے بدچلن ہونا اور جنسی لحاظ سے زنا کار ہونا آپ کے علم میں ہے یا نہیں؟ مجھے اس امر کا پورا احساس ہے کہ یہ تین باتیں فحش اور خلاف تہذیب ہیں۔ لیکن یہ امر کہ آیا یہ باتیں آپ کے علم میں ہیں یا نہیں۔ مباہلہ کا مرکزی نقطہ ہے اور اس کا فیصلہ اس لئے ضروری ہے کہ دنیا پر واضح ہو جائے کہ آپ اپنے اسلاف کی بدچلنیوں اور زنا کاریوں سے بخوبی واقف ہوتے ہوئے بھی قادیانیت کے منافقانہ سلسلہ کے امیر بن کر اپنے مریدوں کے علاوہ عوام الناس کو بھی اسلام کے نام پر دھوکا دے رہے ہیں۔

٢٠...... آپ کو تو خوش ہونا چاہئے کہ آپ کے مباہلہ کے چیلنج کو قبول کر کے میں آپ کو ایک نادر موقع دے رہا ہوں کہ آپ ہمیشہ کے لئے دنیا پر ثابت کر دیں کہ آپ کے اسلاف پر میرے الزامات جھوٹے ہیں۔ آپ کو تو صرف یہ کرنا کہ آپ ان الفاظ میں جو مندرجہ بالا پیراگراف نمبر ١١ میں درج ہیں۔ حلفیہ اعلان کر دیں کہ پیراگراف نمبر ١٣ میں میرے بیان کردہ الزامات آپ کے علم کے مطابق جھوٹے ہیں۔ اس کے برعکس میں قطعی طور پر مصر ہوں کہ آپ کو ان الزامات کے سچا ہونے کا بغیر کسی شک و شبہ کے علم ہے۔ جہاں تک میرا تعلق ہے تو مجھے اپنے اس دعویٰ پر اتنا وثوق ہے کہ میں بلا تامل میں اس نقطہ پر مباہلہ کر کے اپنی

PDF 33

انا خاتم النبيين لا نبي بعدي

میں آخری نبی ہوں، میرے بعد کوئی نبی نہیں

قادیانی

غیر مسلم کیوں؟

حضرت مولانا عبدالرحیم اشرفؒ

صفحہ ٣٠

تقدیم

الحمد لله نحمده ونستعينه ونستغفره ونؤمن به ونتوكل عليه ونعوذ بالله من شرور انفسنا ومن سيئات اعمالنا من يهده الله فلا مضل له ومن يضلله فلا هادی له ونشهد ان لا اله الا الله وحده لا شریک له ونشهد ان محمدا عبده رسوله !

اما بعد، احسن الحدیث کتاب الله وخیر الهدی هدی محمد صلی الله علیه وآله وسلم وعلی اله وصحبه وبارک وسلم ، اللهم ارنا الحق حقاً وارزقنا اتباعه وارنا الباطل باطلاً وارزقنا اجتنابه ، اللهم وفقنا لما تحبه وترضاه من القول والعمل والنية والهدی انک علی کل شئ قدیر

اللهم رب جبرئيل وميکائيل واسرافيل فاطر السمٰوت والارض عالم الغيب والشهادة، انک تحکم بین عبادک فيما كانوا فيه يختلفون اهدنی لما اختلف فيه من الحق باذنک انک تهدی من تشاء الی صراط مستقيم

اللهم اجعلنا من عبادک الذين يحبون بحبک ويعادون بعداوتک واجعل اعمالنا كلها خالصة لوجهک ولا تجعل فيها حظاً لاحد سواک

اللهم انت عضدی وانت نصیری وبک اقاتل فلا تکلنی الی نفسی طرفة عین واصلح لی شانی كله لا اله الا انت ويارب صل وسلم علی سید المرسلين وخاتم النبيين محمد عبدک ورسولک امام الخیر وقائد الخیر ونبی الرحمة اللهم ابعثه مقاماً محمودا يغبط به الاوّلون والآخرون وصل علی جميع الانبياء والمرسلین وعلی من تبع صفوة خلقک وخاتم رسلک الی یوم الدین واجعلنا منهم برحمتک یا رب العلمین ، آمین!

قادیانی امت کی دو حیثیتیں

قادیانی امت کی دو حیثیتیں ہمارے پیش نظر ہیں ۔ ایک تو یہ کہ اس امت کے افراد، انسان ہیں اور دوسرے تمام انسانوں کی طرح ہمارا اسلامی فرض ہے کہ ہم ان کی دنیوی اور اخروی فلاح کے جذبے سے سرشار ہوں اور اپنی استطاعت کی حد تک انہیں صراطِ مستقیم

٢

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٣١

دکھلانے، اس کی جانب متوجہ کرنے کی اور انہیں پھر سے جادۂ حق پر واپس لانے کی مخلصانہ جدوجہد مسلسل جاری رکھیں۔

ان حضرات کی دوسری حیثیت یہ ہے کہ یہ اپنے آپ کو مسلمان کہلانے پر مصر ہیں۔ اسلام کے نام پر تبلیغ واشاعت کر رہے ہیں۔ مساجد نما عمارتیں بنانے کی کوشش کرتے ہیں۔ قرآن مجید کے تراجم شائع کرتے رہے اور اپنے آپ کو وہ اسلام کا خادم، مبلغ اور جانثار ظاہر کرتے ہیں۔

ان کی یہ کوششیں بظاہر ہر اس شخص کے لئے باعث مسرت ہونی چاہئیں جو اسلام کی دعوت کو عام کرنے کا متمنی ہے اور یہ چاہتا ہے کہ اسلام پوری دنیا پر چھا جائے اور وہ یوم سعید آئے کہ نسل انسانی خاتم الانبیاء فداہ ابی وامی ﷺ کے دامن رحمت میں پناہ حاصل کر کے دنیوی اور اخروی فلاح کی سعادت سے بہرہ ور ہو۔ لیکن جب ہم اس پہلو پر غور کرتے ہیں کہ مرزا غلام احمد قادیانی کی یہ امت اسلام کی تبلیغ کے نام پر ایسے عقائد، افکار اور نظریات کی اشاعت میں مصروف ہے۔ جو عقائد ونظریات اس اسلام کی نفی کے مترادف ہیں۔ جو سید الاولین والآخرین ﷺ نے خیر بقاع الارض مکہ معظمہ اور انوار نبوت کے مرکز اعظم مدینہ طیبہ میں پیش فرمائے۔ جن کی صحیح وضاحت، قرآن مجید اور احادیث نبویہ کرتے ہیں اور مزید یہ کہ قادیانی حضرات، اسلام کے نام پر کافرانہ عقائد کی تبلیغ کے ذریعہ امت خیر الانام ﷺ کے افراد کو بدراہ کرتے اور ملت کے جسد سے بوٹیاں نوچ نوچ کر اپنے اجتماعی وجود کو غذا مہیا کر رہے ہیں اور اس سے بھی آگے یہ حضرات مسلم ممالک پر لوائے احمدیت لہرانے کے لئے سیاسی میدان میں بھی گفتنی وناگفتنی کے مرتکب ہورہے ہیں اور یہ حضرات یہودیوں کی طرح یہ خواب بھی دیکھ رہے ہیں کہ مکہ معظمہ کو قادیانیت کی تبلیغ کا مرکز بنائیں۔ ان کا تصور وعزم مرزا غلام احمد قادیانی کے فرزند اور ان کے خلیفہ ثانی، مرزا محمود احمد کے الفاظ میں یہ ہے کہ: ”میرے نزدیک احمدیت کے پھیلنے کے لئے اگر کوئی مضبوط قلعہ ہے تو مکہ مکرمہ ہے۔ یا دوسرے درجہ پر پورٹ سعید...... ایسے ایسے علاقوں میں حضرت (مرزا غلام احمد قادیانی) کا نام پہنچ جائے۔ جہاں ہم مدتوں نہیں پہنچ سکتے...... مکہ مکرمہ سب سے بڑا مقام ہے۔ وہاں کے لوگ ہمارے بہت کام آسکتے ہیں۔“

(الفضل

قادیان مورخہ ١٤/ جولائی ١٩٢١ء)

اور اس سلسلے میں ان کے جذبات کی شدت اور قلبی کیفیت یہ ہے کہ مرزا محمود نے

٣

صفحہ ٣٢

١٩٢٠ء کے سالانہ جلسہ قادیان میں یہ تک فرما دیا کہ: ”مکہ مکرمہ میں مشن کی تجویز ہے۔ ایک دوست نے وعدہ کیا ہے کہ اگر مکہ میں مکان لیا جائے تو وہ پچیس ہزار روپیہ مکان کے لئے دیں گے۔ پس شیطان کے مقابلہ میں پوری طاقت سے کام لیں اور میری اس نصیحت کو یاد رکھیں۔“

(الفضل مورخہ ٨ جنوری ١٩٢٠ء)

قادیانیوں کے یہ عزائم بجائے خود ایک مسلمان کے لئے بہت بڑا چیلنج تھے۔ مگر ان عزائم کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لئے قادیانیوں نے جو طریق کار اختیار کیا اور عملاً جو سیاسی اقدامات اس گروہ نے گزشتہ نوے برس میں کئے۔ ان کی شہادت یہ ہے کہ قادیانی امت عالم اسلام کے خلاف دشمنان اسلام کے آلہ کار کی حیثیت رکھتی ہے۔

اس الزام کے بعد شواہد سے آگہی کے لئے اس عنوان کے پس منظر کی ایک جھلک ملاحظہ فرمائیے۔

مکہ مکرمہ میں قادیانی مشن کا پس منظر

یہ بات باعث عبرت بھی ہے اور عالم اسلام نیز مخلص قادیانیوں کے لئے ذریعہ موعظت بھی کہ ١٩٢٠ء میں مرزا غلام احمد قادیانی کے بیٹے اور خلیفہ دوم نے مکہ معظمہ اور پورٹ سعید میں قادیانی مشن کھولنے کے لئے جس جوش و خروش کا اظہار کیا اس کا پس منظر یہ ہے کہ جنگ عظیم اوّل ١٩١٤ء تا ١٩١٧ء میں قادیانی امت نے برطانیہ عظمیٰ کی پرخروش حمایت کی۔ آغاز جنگ ہی کے مرحلہ میں مرزا محمود نے گورنر پنجاب کے نام ایک خط میں کامل وفاداری کا اظہار بھی کیا اور یہ بھی لکھا کہ میں نے اپنی جماعت کو حکم دیا ہے کہ ملک معظم برطانیہ کا مکمل ساتھ دیا جائے۔

(الفضل قادیان مورخہ ٢٩ نومبر ١٩١٤ء)

١٩١٩ء میں جب کفار کی فوجوں نے عالم اسلام کے متعدد ممالک پر کاملاً یا جزواً تسلط حاصل کر لیا اور بے شمار مسلمانوں کو انتہائی درندگی سے ذبح کیا اور عملاً شام، عراق، افغانستان، ترکی پر اپنا سیاسی استیلاء مکمل کر لیا تو قادیان میں انگریزوں کی فتح پر جشن مسرت منعقد کیا گیا اور یہاں تک اعلان کیا گیا کہ: ”ہماری گورنمنٹ (یعنی قادیانیوں کی مہربان برطانوی گورنمنٹ) نے جو بصرہ کی طرف چڑھائی کی اور تمام اقوام سے لوگوں کو جمع کر کے اس طرف بھیجا۔ دراصل اس کے محرک اللہ تعالیٰ کے وہ فرشتے تھے جن کو گورنمنٹ کی مدد کے لئے اس نے اپنے وقت پر اتارا کہ وہ لوگوں کے دلوں کو اس طرف مائل کر کے ہر قسم کی مدد کے لئے تیار کریں۔“

٤

صفحہ ٣٣

(الفضل قادیان مورخہ ٧ دسمبر ١٩١٨ء)

خود مرزا محمود احمد قادیانی بصد فخر و مباہات اعلان کرتے ہیں کہ: ”عراق کے فتح کرنے میں احمدیوں نے خون بہائے اور میری تحریک پر سینکڑوں آدمی (انگریز کی فوج میں) بھرتی ہو کر (عراق اور دوسرے مسلم ممالک پر حملہ کرنے کے لئے) چلے گئے۔“

(الفضل قادیان مورخہ ٣١ اگست ١٩٢٣ء)

القصہ ١٩١٩ء میں ختم ہونے والی پہلی عالمگیر جنگ میں عرب و عجم کے متعدد ممالک پر برطانوی استعمار کے غلبے کا تقاضا یہ تھا کہ پورٹ سعید اور پورے عالم اسلام کے ایمانی مرکز حرمین میں وہ عناصر موجود ہوں جو برطانیہ کے اسلام دشمن اور مسلم کش پروگراموں کی تکمیل کا ذریعہ بنیں۔ اسی تقاضے کو پورا کرنے کے لئے مرزا محمود احمد بے چین تھے کہ مکہ مکرمہ اور پورٹ سعید میں مشن قائم ہوں۔

یہ تفصیلات قادیانیت کی اس حقیقت کو واضح کرنے کے لئے کافی ہیں کہ اس امت کی تاسیس و ترقی کا مقصد بعینہ وہی تھا جو صیہونیت کی تحریک اور اسرائیلی ریاست کے قیام کا محرک تھا۔

قادیانیوں کا یہ دوسرا رخ ہر مسلمان کے لئے موجب اضطراب ہے اور وہ جتنے وسیع پیمانے پر قادیانیوں کی سرگرمیوں سے آگاہی حاصل کرتا ہے۔ اسی نسبت سے وہ مضطرب ہوتا اور یہ محسوس کرتا ہے کہ قادیانی امت، اسلام، امت مسلمہ کے وجود ملی اور عالم اسلام کے لئے صیہونی فتنے سے بھی زیادہ خطرناک فتنہ ہے اور اس کا ایمان تقاضا کرتا ہے کہ وہ اپنی تمام تر صلاحیتوں کو اس فتنے کے استیصال کے لئے وقف کر دے اور دامے، درمے، قدمے، سخنے جو کچھ وہ اخلاص کے ساتھ کر سکتا ہو اس میں کوتاہی نہ کرے۔

قادیانی امت کی یہ دو حیثیتیں باہم متضاد ہیں اور ان دونوں کے ردعمل بھی بڑی حد تک ایک دوسرے کے بالضد ہیں۔ مثلاً انسانی رشتے کی بنیاد پر قادیانیوں کو دعوت الی اللہ کے ذریعہ از سر نو رحمۃ اللعالمین ﷺ کے دامن رحمت میں لانے کا کام، نرم دلی، حلم، بردباری، مروت، گفتگو میں احترام و اکرام کا متقاضی ہے اور اس سے یکسر مختلف ان کے شر سے اسلام اور مسلمانوں کو بچانے کا فریضہ، شدت، جرأت، شجاعت، حمیت، غیرت اور غلظت کے بغیر کما حقہ ادا نہیں ہو سکتا۔

٥

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٣٤

”يايها النبى جاهد الكفار والمنافقين واغلظ عليهم (التوبه:٧٣)“

{اے نبی! کفار اور منافقین کے خلاف جہاد کیجئے اور ان سے شدت کے ساتھ نمٹئے۔}

اس دوہری صورتحال کا احساس دوسرے احباب کو کس طرح ہوتا ہے اور ان کی پریشانی کی کیا کیفیت ہے؟ اس بارے میں کچھ کہنا ان سطور کے راقم کے لئے ممکن نہیں۔ البتہ اپنی اس پریشانی کا اشارۃً اظہار ناگزیر سا محسوس ہوتا ہے کہ جب مرزا غلام احمد قادیانی اور قادیانی امت کے دوسرے ذمہ دار اصحاب کی ایسی تحریریں اور اقدامات زیر بحث آتے ہیں۔ جن میں ان کی صفت دجالیت کا بھرپور مظاہرہ ہوتا ہے اور اسلام کو مسخ کرنے اور اس سے بھی زیادہ جذبات کو بھڑکانے والا ان کا یہ رویہ سامنے آتا ہے کہ انہوں نے اور تو اور، سید الاولین والآخرین، امام الانبیاء وخاتم المرسلین محمد بن عبداللہ فداہ ابی وامی ونفسی ومالی وولدی ﷺ الف الف صلوات کی توہین کا ارتکاب کیا ہے تو واقعہ یہ ہے کہ ان کے نام کو قلم سے کاغذ پر لکھنے کے لمحات میں جذبات اس کے متحمل ہی نہیں ہوتے کہ ان کا نام کسی احترام کے اسلوب سے لیا جائے۔ لیکن جونہی اس فتنے کے دام میں پھنسنے والے حضرات کو پھر سے رحمت عالم ﷺ کے امتی بنانے کی آرزو مچلتی اور یہ فریضہ شدت پذیر ہوتا ہے تو اسلوب اور لب ولہجہ میں فوری تبدیلی رونما ہوتی ہے اور یہ تبدیلی بسا اوقات سیمابیت کی صورت اختیار کر لیتی ہے۔ چنانچہ اس کے نمونے آپ اپنے زیر دست اس کتاب کے متعدد مقامات پر دیکھیں گے اور بسا اوقات ایک ہی پیرا گراف میں اس اضطراب کی جھلکیاں مشاہدے میں آئیں گی۔

لیکن یہ تو اسلوب کی بات تھی اور اس کا تذکرہ ایک تو اپنی کیفیت سے مجبوری کے باعث، دوسرے قادیانی اور مسلمان دونوں سے بطور معذرت، اسلامی اخوان کو شکوہ وہاں ہوگا۔ جہاں مرزا غلام احمد قادیانی کے نام کے ساتھ تکریم کا کوئی لفظ یا اسلوب ملاحظہ فرمائیں گے اور قادیانی احباب جب انداز بیان میں شدت محسوس کریں گے تو کبیدہ خاطر ہوں گے۔ بایں ہمہ پوری کتاب کے ناقدانہ مطالعہ کے بعد بھی انہیں کسی ایک جگہ بھی اس سب وشتم کا سراغ انشاء اللہ العزیز نہیں ملے گا۔ جو ان کے پیشوا کا روزمرہ تھا۔

اسلوب کے علاوہ دوسری بات جس کی جانب ہمیں قارئین محترم اور بالخصوص قادیانی حضرات کو متوجہ کرنا ہے وہ یہ ہے کہ قادیانیت پر تنقید اور اسے کفر قرار دینے کے جس عنوان کو یہاں زیر بحث لایا گیا ہے۔ ہماری یہ معمولی سی کاوش قادیانیوں سے کسی بھی ذاتی یا گروہی مخالفت کا

٦

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٣٥

نتیجہ ہرگز نہیں۔ اللہ علیم بذات الصدور کو گواہ کر کے ہم یہ عرض کرنا ضروری سمجھتے ہیں کہ ہماری یہ ناچیز سعی خالصتاً اس عقیدے، نظریے اور جذبے کا ایمانی مظہر ہے کہ بقول عارف باللہ، شیخ الاسلام، امام ابن تیمیہؒ۔ نبوت ایک ایسا عظیم المرتبت منصب ہے کہ اس سے انسانوں کے دو انتہائی طبقے کھل کر سامنے آجاتے ہیں۔ سچا نبی اپنے زمانے کے تمام لوگوں سے ناقابل تصور حد تک رفیع المنزلت اور مستحق اکرام ہوتا ہے اور جھوٹا نبی اسی نسبت پست، ذلیل اور مستحق نفرت، اور چونکہ ان سطور کا راقم مرزا غلام احمد قادیانی کے کذب پر اسی طرح یقین رکھتا ہے۔ جس طرح شافع روز محشر فداہ ابی و امی ﷺ کی صداقت پر ایمان لایا ہے۔ (والله على ما نقول شهيد) اسی بناء پر اس کے دل میں مرزا غلام احمد قادیانی کی مخالفت ان کے بھڑکائے ہوئے جہنم بداعتقادگی سے خلق خدا کو بچانے اور ان کے ”اینگلو انڈین صیہونی دین“ کے نام ونشان کے مٹانے کی آرزو، اس حد تک قوی ہے کہ وہ حضرت وحشیؓ ابن حرب کی طرح اس کام کو اپنے اعمال سیئہ کے کفارہ اور رحمت، رؤف ورحیم جل وعلا کے حصول کا یقینی وسیلہ تصور کرتا ہے اور جلیل الشان صحابی رسول اللہ ﷺ حضرت وحشیؓ ابن حرب کے ان الفاظ کو چالیس برس سے اپنے لئے مہمیز محسوس کئے ابطال قادیانیت میں مسلسل کوشاں ہے کہ جو انہوں نے عم رسول ﷺ سیدنا حمزہؓ کو شہید کرنے کے کچھ عرصہ بعد بصد ندامت اور وفور جذبہ تلافی کے عالم میں مصرف القلوب اور موفق بالخیر رب رحیم کے حضور کہے تھے۔ انہوں نے بارگاہ رب العزت میں عرض کیا تھا کہ بار الہہ! جس طرح میرے ہاتھوں اسلام کا ایک عظیم فرزند اور لوائے محمدی کا جلیل الشان پاسبان شہید ہوا۔ رب ذوالجلال ! توفیق عطا فرمائو کہ میں کفر کے کسی اتنے ہی بڑے جرنیل کو واصل جہنم کر کے اس جرم عظیم کی تلافی کروں...... اور مجیب الدعوات رؤف آقا نے یہ دعا اس طرح قبول فرمائی کہ ان وحشیؓ ابن حرب ہی کے ہاتھوں مسیلمہ کذاب کو واصل جہنم کیا۔

چیونٹی کو ہاتھی کی موت کا ذریعہ بنانے والے رب غیور وقدیر سے ان کی رحمت کے صدقے یہی دعا ہے کہ وہ اس مجسم معصیت نابکار کو اس دوہرے فرض کی ادائیگی کی مبنی بر اخلاص وصدق توفیق سے نوازے کہ مرزا غلام احمد قادیانی کی دجالیت کے ابطال کی سعادت بھی حاصل ہو اور قادیانیوں کو دعوت اسلام کے ذریعہ رحمت ہر دو عالم ﷺ کے دامن فلاح و کامرانی میں واپس لوٹانے کی کامیابی بھی ہمیں ودیعت ہو۔ ”وما ذلك على الله بعزيز وعليه التكلان وهو ولی النعمة وهو ولی التوفيق“

٧

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٣٦

بدیہی حقائق کی روشنی میں

ایک جملہ اس وضاحت کے لئے کہ اس مختصر کتاب میں قادیانیوں کو کافر اور دائرہ اسلام سے خارج ثابت کرنے کے لئے ایک طرز اختیار کیا گیا ہے۔ جسے بدیہی کہا جاسکتا ہے۔ یعنی وہ مسلمات و بدیہی تصورات جن کو ثابت کرنے کے لئے کسی علمی کاوش اور منطقی انداز استدلال کی حاجت ہی نہیں اور ان کے بدیہی ہونے کی ناقابل تردید شہادت یہ ہے کہ ان پڑھ دیہاتی اور بدو بھی ان تصورات کو اتنا ہی واضح اور یقینی تصور کرتا ہے جتنا ایک فلاسفر اور علامہ دہر ...... بطور مثال یہ عقیدہ کہ اللہ عزوجل کا ہر فعل مبنی بر صدق وعدل ہے۔ یہ عقیدہ کہ اللہ عزوجل نے اس کائنات کی کسی چیز کو عبث و بے فائدہ پیدا نہیں فرمایا۔ اللہ رب العزت کے انبیاء ورسل کے متعلق عقیدہ کہ وہ سب کے سب صادق القول تھے۔ ہر نبی کا ہر عمل اور قول صداقت و دیانت کے اعلیٰ ترین معیار کا مظہر ہوتا ہے۔ نبی کے اقوال اور اعمال تقویٰ و پرہیزگاری کے بہترین نمونے ہی نہیں ہوتے بلکہ تمام اعلیٰ قدروں اور دینی واخلاقی کمالات کا منبع و سرچشمہ، نبی کے اقوال واعمال ہی ہوتے ہیں۔

اسی طرح اس حقیقت پر ایمان کہ حضور رحمۃ اللعالمین ﷺ سید ولد آدم اور امام الانبیاء ہیں اور یہ کہ قرآن عزیز ہر پہلو سے بے مثال ہے اور اس کتاب مبین کا ہر جملہ اور ہر لفظ صداقت، پاکیزگی، ایمان اور اعلیٰ ترین اخلاقی قدروں کا ترجمان اور واحد ذریعہ ایمان وتقویٰ ہے۔ یہ وہ حتمی اور بدیہی عقائد ہیں جن کا تذکرہ یا حوالہ اگر کسی مسلمان کہلانے والے شخص یا گروہ کے سامنے ہو تو ان پر دلائل پیش کرنے کی ضرورت نہیں۔

یہی حیثیت بعض منفی عقائد کی بھی ہے۔ جیسے کہ اللہ ذوالجلال کی ذات اقدس کی جانب کذب، دھوکے اور فریب کی نسبت نہیں کی جاسکتی اور اللہ تعالیٰ کے کسی فعل کو (نعوذ باللہ من ذلک) لغو، حقیر، مضر اخلاق و روحانیت، قرار دینا کسی بھی دین کی رو سے ممکن نہیں۔

جس طرح اوّل الذکر معتقدات کے حق ہونے میں کسی عامی اور عالم کو شبہ نہیں۔ اسی طرح دوسری نوع کے فکر وعقیدہ کے صریح کفر ہونے کے لئے کسی استشہاد اور استنباط کی حاجت نہیں۔ دونوں باتیں بدیہی ہیں اور اس کتاب میں انہی بدیہیات کو قادیانی نبوت کے مظہر کفر وارتداد ہونے کی حیثیت سے پیش کیا گیا ہے۔

علاوہ بریں زیر بحث عنوانات کی توضیح وتفہیم میں وجوہ تکفیر کو صرف ”وجوہ تکفیر“ کی حد

٨

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٣٧

تک محدود رکھنے کے معروف علمی طریق بیان پر تبلیغ ودعوت کے تقاضے کے مطابق تفہیم وتذکیر کو ترجیح دی گئی ہے اور بعض مقامات پر تنبیہ و توضیح کے انداز پر ان دلائل کو زیر بحث لایا گیا ہے۔ تاکہ مذکورہ دونوں مقاصد حاصل ہوسکیں۔ اللہ رب العزت اس حقیر سعی کو شرف قبول سے نوازیں اور اسے طالبین حق اور خدام دین کے لئے نفع بخش بنائیں۔ ”ربنا تقبل منا انک انت السمیع العلیم ٠ وتب علینا انک انت التواب الرحیم“

”واسأل الله ربی ومولای ان یجعل اعمالی کلہا خالصۃ لوجہہ ولا یجعل فیہا حظا لاحد سواہ ویا رب صل صلوۃ جلال وسلم سلام جمال علی حضرۃ حبیبک محمد واغشہ اللہم بنورک کما غشیتہ سحابۃ التجلیات فبحقیقۃ الحقائق کلم مولاہ العظیم الذی اعادہ من کل سوء اللہم فرج کربی کما وعدت امن یجیب المضطر اذا دعاہ ویکشف السوء وعلی الہ واصحابہ واہل بیتہ وذریاتہ اجمعین! امین! آمین! آمین برحمتک یا ارحم الراحمین“

عبد الرحیم اشرف صفر المظفر ١٣٩٧ھ، مطابق ٦/ فروری ١٩٧٧ء

قادیانیوں کا کربناک تاثر

موضوع گفتگو یہ ہے کہ قادیانی غیر مسلم کیوں ہیں؟ لیکن براہ راست آغاز بحث کے بجائے ہم اس تاثر سے سلسلہ سخن شروع کرتے ہیں۔ جو بعض مخلص اور دردمند قادیانیوں نے متعدد بار ظاہر کیا ہے اور وہ یہ ہے کہ ہم نمازیں پڑھتے ہیں۔ قرآن عزیز کی تلاوت کرتے ہیں۔ صدقات وخیرات دیتے ہیں۔ دین کی تبلیغ اور قرآن وحدیث کی اشاعت کو ہم وظیفہ زندگی بنائے ہوئے ہیں اور ہم اس کار عظیم کے لئے بیرون ملک سفر کرتے ہیں اور اپنی اولادوں کو تبلیغ دین کے لئے بھجواتے ہیں۔ لیکن ان تمام اعمال واقدامات کے باوجود ہمیں کافر کہا جارہا ہے۔ ہمیں ملت اسلامیہ سے خارج قرار دیا جارہا ہے۔ ہم سے مطالبہ کیا جارہا ہے کہ ہم اپنے قلم سے اپنے آپ کو غیر مسلم لکھیں۔ اس سے ہمارے جذبات کا جو خون ہوتا ہے۔ ہمارے دل کو جو ٹھیس پہنچتی ہے اور ہمیں اس پر جو مجبور کیا جارہا ہے کہ ہم اپنا رشتہ سرور عالم ﷺ سے توڑ ڈالیں تو آخر اس بے رحمی کو کیوں روا رکھا جارہا ہے؟ اور ہمارے جذبات کا کیوں لحاظ نہیں کیا جارہا ہے؟

٩

صفحہ ٣٨

خداوند جل وعلا شاہد ہے کہ بعض حضرات کی اس قسم کی دل سوزی سے ہمارا دل پسیج جاتا ہے اور ہم ان سے ہمدردی پر اپنے آپ کو مجبور پاتے ہیں اور ہمیں ان کی اس قلبی اور ذہنی کیفیت پر ترس آتا ہے۔ مگر جب ہم اپنے اس تاثر کو اسلامی شریعت کے ترازوئے عدل میں تولتے اور دینی غیرت وحمیت کی کسوٹی پر پرکھتے ہیں تو ہم اپنے مسلمان ہونے کا اہم ترین تقاضا سمجھتے ہیں کہ ان بچھڑے بھائیوں کو یہ سمجھائیں کہ آپ نے جو راستہ اختیار کیا ہے۔ فی الواقعہ یہ کفر و ارتداد کی وادی ہلاکت ہی تک پہنچانے والا راستہ ہے اور آپ کے نیک جذبات کا انجام بعینہ وہی سامنے آنے والا ہے جو اس مسافر کے غلط تصورات اور مقصد سے متضاد عمل کا ہوتا ہے۔ جو مشرق کی سمت اپنے آبائی شہر کا تصور ذہن میں رکھتے انتہائی مغرب کے شہر کی جانب رواں ہونے والے گاڑی میں سوار ہو جائے۔ وہ چاہے اس سفر میں ہزار زحمتیں برداشت کرے، راستہ وہ کھڑے ہو کر کاٹے، دوران سفر وہ اس گاڑی میں سوار مسافروں کی خدمت کا لائق ستائش کارنامہ سر انجام دے،۔ ان میں سے کوئی نیکی اور محنت اسے اس کے اس غلط عمل کے انجام سے بچا نہیں رکھ سکتی کہ اس نے غلط سمت پر جانے والی گاڑی میں سفر کیا اور اس کی صعوبتیں برداشت کی ہیں۔ وہ جب تک اس گاڑی میں سوار رہے گا۔ گاڑی جتنی تیز رفتاری سے چلے گی وہ اتنا ہی اپنے محبوب شہر اور مطلوب منزل سے دور ہوتا چلا جائے گا اور اگر وہ کہیں بھی اپنی غلطی سے مطلع ہو کر اس گاڑی سے نہ اترا تو لازماً اپنے گھر سے محروم ہوگا اور اسے پریشانی اور منزل کی گم شدگی کے انجام سے اس کا نیک جذبہ اور کوئی بھی نیک عمل بچا نہیں سکے گا۔

رہا ان حضرات کا یہ کہنا کہ ہمیں کافر قرار دینے والے ہم پر ظلم ڈھا رہے ہیں۔ ہماری دل شکنی کر رہے ہیں اور ہمارے دعویٰ اسلام اور ہمارے کلمہ اسلام ”لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ“ پڑھنے کے باوجود ہمیں عدالتی اور پارلیمانی فیصلوں کی رو سے کافر کہا جا رہا ہے۔ یہ صریح نا انصافی اور ظلم ہے۔

ہم ان مستحق رحم دوستوں کی اس غلط فہمی اور اظہار مظلومیت پر براہ راست بات چیت سے پہلے ان کی توجہ اس جانب مبذول کرانا چاہتے ہیں کہ پوری اسلامی دنیا اور اسی کے ضمن میں پاکستان کی قومی اسمبلی کے اس فیصلے پر کہ قادیانی مرزا غلام احمد قادیانی کو اپنا نبی یا پیشوا مان کر دائرہ اسلام سے خارج ہوچکے ہیں۔ جو یہ دلی رنج محسوس کرتے ہیں کہ انہیں اسلام کی بجائے کفر کی جانب منسوب کیا جا رہا ہے تو کیا انہوں نے کبھی اس پر غور کیا کہ جب ان کے پیشوا، ان کے خلفاء

١٠

صفحہ ٣٩

اور ان کے قائدین، علماء اور مناظرین و مبلغین نے بتکرار و اعادہ اور بسا اوقات انتہائی توہین آمیز اور اشتعال انگیز انداز میں امت محمدیہ کے تمام اکابر واصاغر خواص وعوام قائدین اور متبعین سبھی کو کافر بھی کہا۔ ان کی توہین تذلیل بھی کی اور ان کے خلاف ایسے محاذ بھی قائم کئے جو پاکستان کی قومی اسمبلی کے فیصلے سے کہیں زیادہ شدید تھے تو کیا ان کے اس عمل سے مسلمانان عالم کے دل نہیں دکھے؟ اور اگر وہ خود پون صدی سے زائد عرصے سے اس مشغلے کو جاری رکھے ہوئے ہیں تو اب جو مسلمانوں نے آئین و قانون کی رو سے انہیں دائرہ اسلام سے باہر قرار دیا ہے اور ان کے بارے میں وہی بات کہی ہے جو وہ مسلمانوں کے متعلق طویل مدت سے مسلسل کہہ رہے ہیں تو اس فیصلے پر وہ جس رنج والم کا اظہار کرتے ہیں اس میں وہ کس حد تک حق بجانب ہیں؟ اس طویل مدت میں قادیانیت کے بانی اور اس کے سرخیل حضرات نے جو کچھ کہا اس عظیم ذخیرے میں سے بطور مثال چند ارشادات اور فیصلے ان حضرات کے غور وفکر کے لئے پیش خدمت ہیں۔

مرزا غلام احمد قادیانی نے اسلامیان عالم کو کافر قرار دیا

بچھڑے دوستو! آپ جنہیں مرشد، مسیح، مہدی، نبی، جری اللہ فی حلل الانبیاء مانتے ہیں۔ انہوں نے کہا تھا اور آپ آج بھی اس کی اشاعت کر رہے ہیں کہ:

آنحضرت ﷺ کو رسول نہیں مانتا، دوسرے یہ کفر کہ مثلاً وہ مسیح موعود کو نہیں مانتا...... پس اس لئے کہ وہ خدا اور رسول کے فرمان کا منکر ہے۔ کافر ہے اور اگر غور سے دیکھا جائے تو یہ دونوں قسم کے کفر ایک ہی قسم میں داخل ہیں۔“

(حقیقت الوحی ص ١٧٩، خزائن ج ٢٢ ص ١٨٥)

خدا اور رسول کی پیش گوئی موجود ہے۔“

(حقیقت الوحی ص ١٦٣، خزائن ج ٢٢ ص ١٦٨)

ایمان ہو جاتا ہے۔“

(نہج المصلی ج ١ ص ٢٧٩)

سوال ہے۔ میرا انکار، میرا انکار نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کا انکار ہے۔ کیونکہ جو میری تکذیب کرتا ہے وہ میری تکذیب سے پہلے معاذ اللہ، اللہ تعالیٰ کو جھوٹا ٹھہرالیتا ہے۔“

(نہج المصلی ج ١ ص ٢٨٠)

١١ www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٤٠

گا۔ پھر سوچو کیا میری تکذیب کوئی آسان امر ہے۔ یہ میں ازخود نہیں کہتا۔ خدا تعالیٰ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ حق یہی ہے کہ جو مجھے چھوڑے گا اور میری تکذیب کرے گا وہ زبان سے نہ کرے۔ مگر اپنے عمل سے اس نے سارے قرآن کی تکذیب کردی اور خدا تعالیٰ کو چھوڑ دیا۔"

(نہج المصلیٰ ج ١ ص ٢٨١)

نے مجھے قبول نہیں کیا وہ مسلمان نہیں ہے اور خدا کے نزدیک قابل مواخذہ ہے۔"

(نہج المصلیٰ ج ١ ص ٢٧١)

ہیں۔"

(نہج المصلیٰ ج ١ ص ٢٧٢)

یہ سات صریح اور واضح حوالہ جات تو ان بیسیوں حوالہ جات میں سے چند ایک ہیں جو مرزا غلام احمد قادیانی کی کتابوں اور دوسری تحریروں میں موجود ہیں۔ مرزا غلام احمد قادیانی کے بعد ان کے دو اہم خلفاء حکیم نور الدین خلیفہ اوّل اور مرزا بشیر الدین محمود احمد (ابن مرزا غلام احمد والد مرزا ناصر احمد موجودہ خلیفہ ثالث) خلیفہ ثانی نے غیر مبہم فتاویٰ کفر عائد کئے۔

حکیم نور الدین کا فتویٰ

مرزا غلام احمد قادیانی کے خلیفہ اوّل حکیم نور الدین بھیروی نے مرزا غلام احمد قادیانی کے نہ ماننے والوں کو خارج از زمرۂ اہل ایمان بھی قرار دیا اور قادیانیت اور اسلام کے مابین اختلاف کو کفر و ایمان کا اختلاف ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہوئے برملا کہا: ”یہ بات تو بالکل غلط ہے کہ ہمارے اور غیر احمدیوں کے درمیان کوئی فروعی اختلاف ہے۔ کیونکہ جس طرح وہ نماز پڑھتے ہیں۔ ہم بھی اسی طرح پڑھتے ہیں اور زکوٰۃ اور حج اور روزہ کے متعلق ہمارے اور ان کے درمیان کوئی فروعی اختلاف نہیں ہے۔ میری سمجھ میں ہمارے اور ان کے درمیان اصولی فرق ہے اور وہ یہ کہ ایمان کے لئے یہ ضروری ہے کہ اللہ تعالیٰ پر ایمان ہو۔ اس کے ملائکہ پر، کتب سماویہ پر اور اس کے رسل پر...... ایمان بالرسل اگر نہ ہو تو کوئی مومن نہیں ہو سکتا اور اس ایمان بالرسل میں کوئی تخصیص نہیں۔ عام ہے خواہ وہ نبی پہلے آئے یا بعد میں آئے...... ہمارے مخالف حضرت مرزا قادیانی کی ماموریت کے منکر ہیں۔ بتاؤ یہ اختلاف فروعی کیونکر ہوا۔ قرآن مجید میں تو لکھا ہے

١٢

صفحہ ٤١

کہ: ”لا نفرق بین احد من رسلہ“ لیکن حضرت مسیح موعود کے انکار میں تو تفرقہ ہوتا ہے۔“

(الحکم مورخہ ١٧؍مارچ ١٩١١ء)

مرزا غلام احمد قادیانی کو نہ ماننے والے یہودیوں اور عیسائیوں کی طرح ہیں

مرزا غلام احمد قادیانی کے فرزند اور خلیفہ دوم مرزا محمود احمد نے کہا: ”(دہریوں، برہموں، مشرکین عرب اور یہود کے بعد) آخر میں مسیحیوں کا نمبر آتا ہے کہ یہ سب اسلام سے قریب تر ہیں اور سب باتوں (ایمان باللہ، ایمان بالرسل، ایمان بالملائکہ اور بعث بعدالموت) کو قبول کرتے ہیں۔ صرف نبیوں میں ہمارے آنحضرت ﷺ کو قبول نہیں کرتے۔ لیکن یہ بھی کافر ہیں۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے جو شرائط اسلام مقرر فرمائے ہیں۔ کہ اللہ تعالیٰ پر ایمان ہو، ملائکہ پر ایمان ہو۔ سب کتب پر ایمان ہو۔ بعث بعد الموت پر ایمان ہو۔ ان میں سے ایک شرط ان میں پورے طور پر نہیں پائی جاتی۔ یعنی وہ سب نبیوں پر ایمان نہیں لائے بلکہ خاتم النبیین آنحضرت ﷺ کے منکر ہیں۔ اب آنحضرت ﷺ کے بعد اگر کوئی شخص خدا تعالیٰ کی طرف سے دنیا کی اصلاح کے لئے بھیجا جاتا ہے تو جو مسلمان کہلانے والے لوگ اس کا انکار کرتے ہیں وہ باوجود دیگر مذاہب کی نسبت اس سے قریب ہونے کے ایک شرط کے پورا نہ ہونے کی وجہ سے بیماروں میں شامل ہوں گے۔ کیونکہ اعضائے رئیسہ میں سے ان کا ایک عضو بیمار ہے۔ اب جس شخص کے خیال میں ایک دوسرے شخص میں مذکورہ بالا قاعدہ کے ماتحت جو قرآن کریم نے ”ومن یکفر باللہ وملائکتہ ورسلہ والیوم الآخر فقد ضل ضلالاً بعیدا“ بتایا ہے کوئی نقص نہیں پاتا ہے۔ وہ کافر کہنے پر مجبور ہے۔ کیونکہ وہ دیکھتا ہے کہ اس میں ایک ایسی بیماری پیدا ہوگئی ہے جس کی وجہ سے بیماروں میں شامل ہونے کے لائق ہے۔ اس شخص کو اس پر ناراض ہونے کی وجہ نہیں۔“

(احمدیت کے متعلق پانچ سوالات ص ٩، ٨)

یہ اور اسی قبیل کے سینکڑوں اقوال اور تحریریں جن میں بیشتر دل آزار بھی ہیں اور توہین وتذلیل کا باعث بھی۔ مرزا غلام احمد، حکیم نورالدین، مرزا محمود، مرزا بشیر احمد اور قادیانی اکابر کی تصنیفات وتالیفات میں موجود ہیں اور اس کے علاوہ قومی اسمبلی میں مرزا ناصر احمد نے اعتراف کیا کہ وہ ان تمام مسلمانوں کو کافر کہتے ہیں جو مرزا غلام احمد قادیانی کو نہیں مانتے۔

الغرض ”کفر“ کا مسئلہ بالکل واضح ہے۔ جس طرح عالم اسلام کی تمام قابل ذکر

١٣

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٤٢

تنظیموں، علماء اسلام اور پاکستان کی قومی اسمبلی نے قادیانیوں کو اس بناء پر کافر قرار دیا کہ انہوں نے حضور سرور کونین ﷺ کے بعد ایک ایسے شخص کو نبی تسلیم کیا جو خدا کی قسم اٹھا کر یہ دعویٰ کرتا ہے کہ وحی الٰہی نے اسے نبی کہا ہے اور اسے نہ ماننا اس طرح کا کفر ہے۔ جس طرح سید المرسلین والآخرین محمد ﷺ کو نبی نہ ماننا۔ تو اس کے بعد قادیانی حضرات کی جانب سے اس پر غم و غصے کا اظہار کہ ”لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ“ پڑھنے، قرآن مجید کا درس دینے اور اس کے تراجم شائع کرنے، نمازیں پڑھنے اور راہ خدا میں خرچ کرنے کے باوجود انہیں کافر قرار دینا، ظلم ہے اور اس سے وہ اس حد تک دل آزردہ اور مشتعل ہوں کہ وہ اہل پاکستان ہی کو نفرت اور بغض سے دیکھنے لگیں۔ جس کی قومی اسمبلی نے انہیں کافر قرار دیا ہے۔ ایک ایسا تاثر ہے جسے ان کے اپنے زیر بحث عقیدے اور طرز عمل کے بعد ظلم ہی سے تعبیر کیا جاسکتا ہے۔

قادیانیوں نے مسلمانوں سے تعلقات رکھنے کو حرام قرار دیا

مزید برآں ان حضرات پر ان کی غلطی واضح کرنے کے لئے انہیں اس جانب بھی توجہ دلانا ہے کہ انہوں نے ایک ارب کے قریب اسلامیان عالم کو کافر قرار دے کر ان سے وہی برتاؤ کیا ہے جو ان کے نزدیک کافروں سے ضروری تھا۔ مثلاً:

اور دوسرے کفار کی اولاد کی ہے۔

کر دیا گیا جنہوں نے مسلمانوں سے رشتے کئے تھے۔

یہ بھی کہا کہ اس سے خدا کا یہ منشاء پورا ہوگا کہ قادیانیوں کی جدا گانہ حیثیت قائم ہو۔

موعود کو بھیجا ہی اس لئے ہے کہ اپنے ماننے والوں کو نہ ماننے والوں سے الگ کریں۔

ہم ان تمام قادیانی حضرات سے جو اسلامیان عالم کے اس فیصلے پر انتہائی آزردگی کا اظہار کرتے ہیں۔ اپنی مظلومیت پر بار بار شدید تاثر ظاہر کرتے ہیں اور صرف اتنی سی بات پر کہ

١٤ www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٤٣

پاکستان کی قومی اسمبلی نے انہیں غیر مسلم قرار دیا ہے۔ وہ بین الاقوامی سطح پر ارکان قومی اسمبلی اور اسلامیان عالم سبھی کے خلاف انتہائی رسوا کن پروپیگنڈے میں مصروف ہیں۔ انہیں اس جانب متوجہ کریں گے کہ آپ پھر ایک مرتبہ اپنے نبی مہدی، مسیح اور مجدد کے فیصلوں کو ایک نظر دیکھ لیجئے۔ اپنی ٦٠، ٧٠ سالہ اس تاریخ کا جائزہ لیجئے۔ جس میں آپ نے مذکورہ فیصلے بھی کئے اور ان پر عمل بھی کیا اور آپ نے مسلسل و پیہم ایک ارب مسلمانوں کو اس سے کہیں ”بڑے کافر“ کہا جتنا کافر آپ کو قومی اسمبلی پاکستان نے قرار دیا ہے۔ اس دو طرفہ مطالعہ کے بعد آپ ذرا اس مہم کا پھر سے جائزہ لیجئے جو لندن، امریکہ، اقوام متحدہ کے مراکز اور دوسرے بین الاقوامی محاذوں پر آپ ١٩٧٤ء کے وسط سے اب تک جاری کر رکھے ہوئے ہیں اور جس کی متعدد مثالیں آپ کے ترجمان ”لاہور“ کے کالموں میں ہر ہفتے آپ کے سامنے آتی ہیں اور اس تمام جائزے کے بعد آپ غور فرمائیے کہ آپ کا یہ تاثر کس حد تک درست ہے۔ جس پر ہم نے مثبت و منفی دونوں پہلوؤں سے حقائق آپ کے سامنے پیش کئے ہیں۔

قادیانی امت دینی حیثیت سے

قادیانیوں کے کافر قرار دیئے جانے کے بارے میں قادیانیوں کے تاثر پر گفتگو کے بعد اب ہم براہ راست اسلامی نقطہ نظر سے قادیانیوں کی مذہبی حیثیت پر گفتگو کا آغاز کرتے ہیں۔ ”وباللہ التوفيق“ ہمارے نزدیک ”قادیانی مسلم نزاع“ میں بنیادی نقطہ یہ ہے کہ ”قادیانی مرتد ہیں“ اقلیت یا غیر مسلم اقلیت کے عنوانات رسمی اصطلاحات اور جدید سیاسی تعبیر کی حیثیت رکھتے ہیں۔ لیکن ارتداد کا عنوان ایک مستقل دینی مسئلے کی حیثیت سے قرآن مجید، احادیث رسول اللہ ﷺ اور امت کے چودہ سو سالہ دینی لٹریچر میں زیر بحث ہے اور حقیقت یہ ہے کہ عہد رسالت سے اب تک پوری امت اس پر متفق ہے کہ حضور امام الانبیاء وخاتم الرسل، سید الاولین والآخرین، محمد مصطفیٰ ﷺ کے بعد اگر کوئی مسلمان کسی اور مدعی نبوت کو تسلیم کرتا ہے تو امت کے نزدیک وہ اسی لمحے مرتد اور دائرہ اسلام سے خارج قرار پاتا ہے۔

حضور سرور کونین ﷺ کی حیات مبارکہ ہی میں طلیحہ اسدی اور مسیلمہ کذاب نبوت کے مدعی بن بیٹھے تھے۔ حضور اکرم ﷺ کی رحلت کے بعد سیدنا ابو بکر صدیقؓ نے خلیفۃ الرسول ﷺ کی حیثیت سے یہ اعلان فرمایا کہ اگرچہ مرتدین کے کئی گروہ ہمارے سامنے ہیں۔ مگر سب سے پہلے: ”نعمد لهذا الكذاب على الله وعلى رسوله طليحة“ ہم اللہ

١٥

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٤٤

ذوالجلال اور حضور نبی اکرم ﷺ پر کذب وافتراء کرنے والے طلیحہ اسدی کی جانب کوچ کرتے ہیں۔

لیکن جب سیدنا فاروق اعظمؓ اور بعض دوسرے اکابر صحابہؓ کے اصرار پر سیدنا صدیق اکبرؓ خود تو مرتدین کی سرکوبی کے لئے نہ جاسکے اور آپؓ نے سیدنا خالد بن ولیدؓ کے زیر قیادت اسلامی فوج کو مرتدین کے خلاف جہاد کے لئے روانہ فرمایا تو انہوں نے بھی سب سے پہلے طلیحہ ہی کے خلاف جہاد کیا۔ طلیحہ کے امتی کثیر تعداد میں قتل ہوئے۔ طلیحہ بھاگ گئے اور آخر کار انہوں نے اسلام قبول کر لیا اور راہ حق میں جہاد کرتے ہوئے شہید ہو گئے۔

دوسرے مدعی نبوت مسیلمہ کذاب نے نبوت کا دعویٰ کیا اور اس کے دعویٰ کی خصوصیات حسب ذیل تھیں۔ مسیلمہ کذاب:

مؤذن ”اشہد ان محمد رسول اللہ“ ہی کہتا تھا اور مسیلمہ اذان میں اس شہادت کی تصدیق زبان اور شہادت کی انگلی اٹھا کر کیا کرتا تھا۔

شریک کیا گیا ہوں۔

حضور کی جانب اس کے خط کا آغاز اس جملہ سے تھا۔ ”من مسيلمة رسول الله الى محمد رسول الله“ یہ خط مسیلمہ رسول اللہ کی جانب سے اللہ کے رسول محمد ﷺ کی طرف ہے۔

(تاریخ الطبری

ج٢ ص ٢٠٣)

لیکن اس سب کچھ کے باوجود حضور امام الاتقیاء رحمۃ اللعالمین ﷺ کا ردعمل مسیلمہ کے دعویٰ نبوت پر یہ تھا کہ ...... آپؐ نے مسیلمہ کے سفیروں سے مخاطب ہوکر دریافت فرمایا:

”وانتما تقولان بمثل ما یقول“ کیا تم وہی کہتے ہو جس کا دعویٰ مسیلمہ کرتا ہے؟

انہوں نے جواب دیا۔ نعم۔ ہاں ہم وہی کہتے ہیں۔ جس کا دعویٰ مسیلمہ نے کیا۔ اس پر اولاد آدم علیہ السلام میں سب سے بڑے غیور فی اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اما والله! لولا ان الرسل لا تقتل لضربت اعناقکما“ اگر یہ ضابطہ نہ ہوتا کہ سفیر قتل نہیں کئے جاتے تو تم دونوں

١٦

صفحہ ٤٥

کی گردنیں اڑا دیتا۔

(تاریخ الطبری ج ٢ ص ٢٠٣، ٢٠٤)

جیسا کہ ابھی ذکر ہوا۔ ازاں بعد حضور اکرم ﷺ کے خلیفہ برحق ارحم الامۃ سیدنا ابو بکرؓ نے حضرت خالد بن ولیدؓ کے زیر قیادت صحابہؓ کی ایک عظیم تعداد کو جب مرتدین کے خلاف جہاد کے لئے بھیجا تو انہوں نے طلیحہ اسدی کو شکست دینے کے بعد مسیلمہ کذاب کے خلاف معرکہ بپا کیا۔ سیدنا خالدؓ کے زیر کمان تقریباً تیرہ ہزار صحابہؓ کی فوج تھی اور مسیلمہ کذاب کے فوجیوں کی تعداد چالیس ہزار تھی۔

سیف اللہ خالدؓ بن ولید نے انتہائی شدید لڑائی لڑی۔ مسلمانوں میں سے تقریباً ایک ہزار بہترین افراد نے جام شہادت نوش کیا اور مسیلمہ کذاب کے دس ہزار امتی جہنم رسید ہوئے اور مسیلمہ خود بھی واصل جہنم ہوا۔

القصہ : ...... حضور خاتم النبیین ﷺ اور خلفاء راشدہ کے عہد سعادت سے ہی حضور ﷺ کے بعد مدعیان نبوت کو واجب القتل کی حیثیت دی گئی ہے اور امت اس لمحہ تک اس عقیدے اور فتویٰ کی حامل رہی ہے۔

اسلام کی یہ اصطلاح نزاع سے پاک ہے کہ جو شخص اپنا دین بدلتا ہے۔ یا جس دین کو وہ اب تک صحیح تسلیم کرتا تھا۔ اگر وہ اس کے اساسی معتقدات سے انحراف کر کے ان کے بالضد عقائد کو قبول کر لیتا ہے تو اسے لغت اور اصطلاح دونوں میں مرتد کہا جائے گا اور یہ بات بھی واضح اور مسلم ہے کہ مرتد ان کفار سے جداگانہ حیثیت رکھتا ہے۔ جو پیدائشی کافر ہوں اور کبھی مسلمان نہ رہے ہوں۔ مرتد کفار سے زیادہ سختی کا مستحق ہے اور مزید یہ کہ مرتد واجب القتل ہے۔

ارتداد یا خلاف قانون

لیکن ہم اس وقت مسئلہ ارتداد کے دلائل کی اہمیت، اسلام میں اس مسئلے کے مقام اور اس کے تقاضوں پر بحث کو اس لئے نظر انداز کرتے ہیں کہ اولاً تو زیر بحث موضوع کا تعلق علماء دین کے فتوے سے کم اور پاکستان اور دوسرے مسلم ممالک کی مجالس مقننہ کے قانونی فیصلے سے زیادہ ہے۔ جو قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دیئے جانے کے بارے میں کیا گیا ہے۔ ثانیاً ارتداد کے فیصلے کو عملی جامہ پہنانا بعض دوسرے مسلم اور پابند شریعت ممالک میں تو ممکن ہو سکتا ہے۔ بوجوہ پاکستان کے

١٧

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٤٦

کے سب سے بڑے ظالم خداع حکمران بھٹو کا عہد تھا۔ کتاب کی اشاعت اس دشمن عوام اور غدار اسلام حکومت کے زوال کے بعد اس اضطراب انگیز دور میں ہورہی ہے۔ جس میں اسلام کے نام پر حکمرانی اپنے دور اول میں ہے اور پاکستان کے مسلمان ایک دوراہے پر ہیں۔ اگر یہ حکومت اسلامی شریعت کے نفاذ میں کامیاب ہوتی ہے اور اس کے اعضاء و ارکان بنیان مرصوص بن کر علم اسلام کو تھامتے ہیں تو دنیا پھر سے اس موسم بہار کا نظارہ کرے گی۔ جس کا دل آویز مشاہدہ خلافت راشدہ کی جھلک دکھانے والی اسلامی حکومتوں کے عہد والوں نے بارہا کیا۔ لیکن اگر خدانخواستہ اس عظیم مہم میں ناکامی ہوتی ہے تو نہیں کہا جاسکتا۔ پاکستان کا مطلب کیا؟ ”لا الہ الا اللہ“ کے عہد و میثاق پر قائم ہونے والی مملکت کا کیا بنے گا اور اس کے کروڑوں باشندوں کا مستقبل کیا ہوگا؟

”اللهم رحمتک نرجوا فلا تکلنا الی انفسنا ولا الی احد من خلقک طرفۃ عین واصلح لنا شاننا کلہ لا الہ الا انت ویا ارحم الراحمین خذ بایدینا ونواصینا واھد قدوتنا واصلح ولاۃ امورنا واجعل کلمتک ھی العلیا کلمۃ الذین کفروا صدوا عن سبیلک السفلی برحمتک یا ارحم الراحمین“

میں بحالات موجودہ قادیانیوں کو مرتد قرار دینے اور ازاں بعد ارتداد کے تقاضے پورا کرنے کا امکان بہت کم ہے۔ اس بناء پر صرف اتنا ہی کافی ہوگا کہ ہم ان لوگوں کے سامنے ایک دوسری تعبیر پیش کریں جو دین کو بہرنوع دوسرے تمام ازموں اور نظریات و قانونی و آئینی تصورات پر مقدم رکھتے ہیں اور وہ کسی نہ کسی حد تک یہ عقیدہ بھی رکھتے ہیں کہ تمام ادیان میں سے اسلام ہی وہ واحد حق ہے۔ جسے قبول کرنا اور جس پر عمل کرنا دنیا و آخرت دونوں میں کامیابی کا ذریعہ ہے۔ اس کے علاوہ باقی تمام تصورات و نظریات، عقائد اور ازم و مذاہب باطل بھی ہیں اور دونوں زندگیوں میں ہلاکت و بربادی کا باعث بھی۔

ان حضرات سے ہمیں یہ کہنا ہے کہ قادیانی ہوں یا بہائی یا اسی طرح کوئی مسلمان اسلام کو ترک کر کے کوئی دوسرا مذہب قبول کرے۔ ان سب کے بارے میں اسلام کے تصور و اصول ارتداد کے قریب تر بدرجہ تنزل ...... جو نظریہ بحالات موجودہ قابل قبول ہو سکتا ہے۔ وہ ہے ایسے لوگوں کی جمعیت کو خلاف قانون قرار دینا جس کے بعد:

١٨

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٤٧

ہے۔

کرنے سے انکار کرنے اور اسے خندۂ استہزاء بنانے کی اجازت دی جاسکتی ہے۔ جو فیصلہ بحث و تمحیص اور خود مدعا علیہ...... قادیانیوں...... کو مکمل آزادی سے اپنا دفاع کرنے اور اپنے مؤقف کی وضاحت میں دلائل پیش کرنے کا موقع فراہم کرنے کے بعد صادر کیا گیا ہو۔

پاکستان میں یہ فیصلہ ہنوز نہیں کیا گیا اور نہیں کیا جا سکتا کہ کب قادیانی تنظیم خلاف قانون قرار دی جائے؟ لیکن ہم اس مرحلہ پر یہ کہہ دینا ضروری سمجھتے ہیں کہ جب تک قادیانیوں کو خلاف قانون قرار نہ دیا جائے اور اس فیصلے کے وہ تقاضے پورے نہ ہوں۔ جو دنیا بھر میں خلاف قانون قرار دیئے جانے کے معروف تقاضے ہیں۔ اس وقت تک قادیانی مسئلہ حل نہیں ہوگا۔

غیر مسلم اقلیت قرار دینے کا فیصلہ

رہا یہ کہ ١٩ شعبان المعظم ١٣٩٤ھ (٧ ستمبر ١٩٧٤ء) کو جو فیصلہ پاک پارلیمان نے دیا۔ اس کی حیثیت کیا ہے؟ تو ہم تمام نزاکتوں اور تحفظات کا احساس رکھنے اور ان کی رعایت کے باوجود یہ کہنا اپنا حق بھی سمجھتے ہیں اور ہمارے ذمہ یہ فرض بھی عائد ہوتا ہے کہ ہم صاف صاف لیکن مجمل اشارات کی صورت میں کہہ دیں کہ ”غیر مسلم اقلیت“ قرار دینے سے قادیانی مسئلہ نہ صرف یہ کہ ختم نہیں ہوا۔ بلکہ اس کی بعض پیچیدگیوں میں اضافہ ہوا ہے۔ البتہ یہ فیصلہ ضرور ہوا کہ قادیانی امت محمدیہ سے الگ امت ہیں اور ان دونوں امتوں میں دین کا کوئی رشتہ موجود نہیں ہے۔

لیکن اس فیصلے کی افادیت اور خود اس فیصلے کو کم از کم قانون کے تقاضوں کے مطابق

١٩

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٤٨

نافذ کرنے کے لئے از بس ضروری ہے کہ وہ امور جو ٦ ستمبر ١٩٧٤ء کو مرکزی مجلس عمل تحفظ ختم نبوت کے نمائندوں اور اس وقت کے وزیر اعظم اور ان کے نمائندے عبدالحفیظ پیرزادہ کے مابین طے پائے تھے اور جن کے بارے میں متعدد بار وزارت قانون اور دوسرے حضرات نے یہ یقین دہانی بھی کرائی کہ ان تقاضوں کے مطابق جلد ہی قانون سازی ہوگی۔ وہ لامحالہ قانونی حیثیت سے نافذ ہونے چاہئیں اور اگر ایسا نہ ہوا تو قادیانی مسئلہ پیچیدہ سے پیچیدہ تر ہو جائے گا اور اس کی پیچیدگی کے پریشان کن مرحلے تک پہنچنے کے بعد جو تحریک اسے حل کرنے کے لئے از خود ابھرے گی وہ ١٩٥٣ء اور ١٩٧٤ء کی تحریکات سے زیادہ شدید اور قوی ہوگی۔

(تفصیل کے لئے ملاحظہ فرمائیے: ”قادیانی مسئلہ اقلیت قرار دیے جانے کے بعد“)

ضروری نوٹ: کتاب کی ترتیب جیسا کہ تقدیم میں لکھا گیا۔ صفر المظفر ١٣٩٧ھ (فروری ١٩٧٧ء) میں شروع کی گئی تھی۔ مگر اس دوران پاکستان میں اس وقت کے جابر وسفاک اور نا قابل اعتماد وزیر اعظم کی سفاکیت، بے دینی اور پاکستان دشمنی کے خلاف ایک ایسی جدوجہد شروع ہوئی جو چند ہفتوں میں برصغیر ہی نہیں اس دور کی اجتماعی زندگی میں اس وقت وسعت اور شدت پذیر ہوئی کہ آخر کار اس مکار اعظم کی حکومت کا تختہ الٹا۔ اس کی مضبوط کرسی، ٹوٹی اور یہ اپنے اعمال کی پاداش میں پابند سلاسل ہے اور بہت سے قابل سماعت مقدمات میں سے پہلا مقدمہ قتل پاکستان کی عدالت عظمیٰ (سپریم کورٹ) میں زیر سماعت ہے۔

جیسا کہ گزشتہ صفحات میں حاشیہ میں بالاجمال کہا گیا۔ اس وقت پاکستان میں ایک ایسی حکومت قائم ہے۔ جسے بڑی حد تک قومی حکومت کہا جا سکتا ہے اور اس کے اعضاء وارکان میں اکثریت اس پاکستان قومی اتحاد کی ہے۔ جس نے پاکستان میں اسلامی نظام حیات کے نفاذ کے عنوان پر ہی وہ عظیم جدو جہد شروع کی۔ جو اسلامی سوشلزم کے منافقانہ اور ملحدانہ تصور اور نعرے پر قائم بھٹو حکومت کے زوال کا باعث بنی۔ اگر یہ حکومت آسمانی تائید سے ثبات واستحکام حاصل کر پائے تو اس کے دوسرے اہم تر فرائض میں سے ایک فریضہ یہ بھی ہے کہ وہ کم از کم قادیانیوں کی تنظیم کو خلاف قانون قرار دے اور اس کے تقاضے پورے کرے۔

قادیانی دائرہ اسلام سے خارج ہیں

امت مسلمہ کا عقیدہ اور عمل چودہ سو سال سے یہ ہے کہ:

٢٠

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٤٩

دونوں اگر پہلے مسلمان تھے تو مرتد ہیں اور اگر یہ پہلے غیر مسلم تھے اور اب انہوں نے یہ دعویٰ کیا یا اسے تسلیم کیا تو ان کا کفر دوسری تمام انواع کفر سے زیادہ اہم خطرناک اور اشد ہوگا۔ قرآن مجید برملا فرماتا ہے: ”ومن اظلم ممن افترى على الله كذبا او قال اوحى الى ولم يوح اليه شئ (الانعام ص ٩٣)“ {اور اس سے کون بڑا ظالم ہوسکتا ہے جس نے اللہ تعالیٰ پر افتراء باندھا یا اس نے یہ کہا کہ میری جانب وحی کی گئی ہے۔ درانحالیکہ اس پر ایک حرف وحی کا نازل نہ کیا گیا ہو۔}

حضور خاتم النبیین ﷺ کا دوٹوک فیصلہ یہ ہے کہ حضور ﷺ کے بعد جو شخص کسی مدعی نبوت کے دعویٰ کی تصدیق کرے اور اسے مان لے وہ واجب القتل ہے۔ ابوداؤد طیالسی فرماتے ہیں: ”عن ابی وائل عن عبدالله قال جاء ابن النوامة وابن اثال رسولین لمسيلمة الكذاب الى رسول الله ﷺ فقال لهما رسول الله ﷺ تشهدان انی رسول الله فقالا نشهد ان مسيلمة رسول الله فقال رسول الله ﷺ امنت باالله ورسله لو كنت قاتلا رسولا لقتلتكما و في رواية بن اسحق عن سلمة ابن نعيم ابن مسعود عن ابيه فقال والله لولا ان الرسل لا تقتل“ {ابن النوامہ اور ابن اثال دونوں بحیثیت سفیر مسیلمہ کذاب حضور ﷺ کے ہاں آئے تو حضور ﷺ نے ان سے فرمایا کہ تم شہادت دیتے ہو کہ میں اللہ کا رسول ہوں؟ انہوں نے حضور ﷺ سے سوال کیا کہ کیا آپ ﷺ مسیلمہ کو اللہ کا رسول مانتے ہیں۔ آپ نے فرمایا میں اللہ اور اس کے رسولوں پر ایمان رکھتا ہوں اور اگر میں کسی سفیر کو قتل کرنا روا رکھتا تو اللہ کی قسم تم دونوں کی گردنیں اڑا دیتا۔}

(مسند ابی داؤد الطیالسی ج ١ ص ٢٠٢، ٢٠٣، حدیث نمبر ٢٣٨)

یہ ارشاد نبوت، حضورؐ کے بعد ہر مدعی نبوت کے ماننے والوں کے واجب القتل کی واضح نص ہے۔

قتل مرتد پر اس اجمالی گفتگو کے بعد پھر سے اس جانب آئیے کہ قادیانیوں کو دائرہ اسلام سے خارج قرار دینے پر امت متحد ہے اور امت کے اس متفق علیہ عقیدہ کی وضاحت بارہا ہوچکی۔ اب تک لاکھوں صفحات پر مشتمل کتب ورسائل اس موضوع پر شائع ہوچکے۔ بیرون پاکستان، سعودی عرب، مصر، لیبیا اور بعض دوسرے مسلم ممالک میں آئینی حیثیت، عدالتوں میں

٢١

صفحہ ٥٠

مقدمات اور فیصلوں کی صورت میں علاوہ ازیں دینی اداروں وشخصیات کی جانب سے بے شمار مواقع پر اور بالخصوص رابطہ عالم اسلامی کے زیر اہتمام پوری دنیا کے مسلمان نمائندوں اور دینی جماعتوں اور تنظیموں نے متفقہ طور پر قادیانیوں کو دائرہ اسلام سے خارج قرار دیا۔ مزید برآں پاکستان کے قیام سے قبل ایک سے زائد عدالتوں میں یہ موضوع زیر بحث آیا اور ان عدالتوں نے قادیانیوں کے خارج از اسلام ہونے اور اس کے تقاضے کے طور پر قادیانی مرد کے ساتھ مسلمان عورت کے نکاح کی تنسیخ کے فیصلے صادر کئے۔

قیام پاکستان کے بعد ٥ / ٤ عدالتوں میں قادیانیوں کو صفائی کے مواقع مہیا کرنے اور ان کے نمائندوں کے جوابات اور ان کے اپنے دعویٰ کے ثبوت میں دلائل سننے کے بعد ان کے امت محمدیہ سے خارج ہونے کے عدالتی فیصلے صادر اور نافذ ہوئے۔

اس طویل سلسلے کی ایک کڑی ١٩٥٣ء میں قادیانیوں کے خلاف مسلمانان پاکستان کی تحریک (انٹی قادیانیت موومنٹ) پر غور کرنے والی تحقیقاتی عدالت کی رپورٹ کا ایک مختصر اقتباس امت مسلمہ کے موقف کی وضاحت کے لئے کافی ہوگا۔ جج صاحبان لکھتے ہیں: ”اب ہم ان عقائد پر زیادہ جامعیت کے ساتھ نظر ڈالیں گے۔ تاکہ مسلمانوں اور قادیانیوں کے دینی اختلافات کو بہتر طور پر سمجھ سکیں۔

ختم نبوت

پہلا اختلاف قادیانی جماعت کے بانی مرزاغلام احمد قادیانی کے مقام سے تعلق رکھتا ہے۔ مرزاغلام احمد قادیانی کا دعویٰ ہے کہ وہ نبی ہیں اور مسلمانوں کے نزدیک وہ اس دعویٰ کی وجہ سے بالکل خارج از اسلام ہو گئے ہیں۔ ایک متفق علیہ حدیث میں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے نوع بشر کی ہدایت کے لئے ایک لاکھ چوبیس ہزار پیغمبر بھیجے ہیں۔ مسلمانوں کا عقیدہ ہے کہ یہ انبیاء کا سلسلہ جن میں سے بعض کا ذکر قرآن مجید میں اور بائبل میں خاص طور سے آیا ہے۔ پیغمبر اسلام ﷺ پر ختم ہو جاتا ہے اور اس کے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا۔ قرآن مجید کی مندرجہ ذیل آیات سے ماخوذ بتایا جاتا ہے۔ ”ماكان محمد ابا احد من رجالكم ولكن رسول الله وخاتم النبيين وكان الله بكل شئ عليما (احزاب:٤٠)“ {محمد تمہارے مردوں میں سے کسی کے باپ نہیں۔ لیکن اللہ کے رسول ہیں اور سب نبیوں کے ختم پر ہیں اور اللہ ہر چیز کو جانتا ہے۔}

”واذ اخذ الله ميثاق النبيين لما أتيتكم من كتاب وحكمة ثم جاءكم

٢٢

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٥١

رسول مصدق لما معكم لتؤمنن به ولتنصرنه قال ء اقررتم واخذتم على ذلكم اصرى قالوا اقررنا قال فاشهدوا وانا معكم من الشهدين (آل عمران: ٨١)“ {اور جب اللہ نے عہد لیا انبیاء سے کہ جو کچھ میں تم کو کتاب اور علم دوں اور پھر تمہارے پاس کوئی پیغمبر آئے جو مصدق ہو اس کا جو تمہارے پاس ہے تو تم اس رسول پر اعتقاد بھی لانا اور اس کی طرفداری بھی کرنا، فرمایا کہ آیا تم نے اقرار کیا اور اس پر میرا عہد قبول کیا۔ وہ بولے ہم نے اقرار کیا، فرمایا کہ تم گواہ رہنا اور میں بھی تمہارے ساتھ گواہوں میں سے ہوں ۔}

”اليوم يئس الذين كفروا من دينكم فلا تخشوهم واخشون اليوم اكملت لكم دينكم واتممت عليكم نعمتی ورضيت لكم الاسلام دينا (مائده: ٣)“ {آج کے دن کافر لوگ تمہارے دین سے ناامید ہوگئے۔ سو ان سے مت ڈرنا اور مجھ سے ڈرتے رہنا۔ آج کے دن تمہارے لئے تمہارے دین کو میں نے کامل کر دیا اور میں نے تم پر انعام ختم کر دیا اور اسلام کو تمہارا دین بننے کے لئے پسند کر لیا۔}

اس کے علاوہ متعدد احادیث سے اور آیات مندرجہ کی مستند تفاسیر سے جو متقدمین کے زمانے سے چلی آتی ہے۔ یہی نتیجہ نکلتا ہے کہ ہمارے نبی ﷺ کے بعد کوئی نیا نبی مبعوث نہ ہوگا۔ عربی، فارسی اور اردو کے بعض مشہور شعراء کے اشعار اور اس موضوع پر بعض رسالوں اور کتابچوں کا حوالہ دیا گیا ہے “

(تحقیقاتی عدالت کی

رپورٹ اردو ١٩٥٣)

قادیانی، اہل ربوہ اور لاہوری

امت محمدیہ علیٰ صاحبہا الصلوٰۃ والسلام اپنے یوم تاسیس سے آج تک ختم نبوت کے واحد مفہوم کی علمبردار رہی ہے اور اس مفہوم کے منکرین اور کسی دوسرے مدعی نبوت اور اس کے دعویٰ کو تسلیم کرنے اور اسے اپنا پیشوا ماننے والوں کو دائرہ اسلام سے خارج قرار دینے کا فتویٰ اور عمل دونوں تاریخ اسلام کا ایک اہم باب ہیں۔

مناسب ہوگا کہ ہم آگے بڑھنے سے قبل مختصراً اس عنوان پر کچھ عرض کریں کہ:

٢٣

صفحہ ٥٢

نگر) کے عارضی مرکز میں مقیم اور دنیا کے متعدد ممالک میں مرزا غلام احمد قادیانی کی نبوت و مسیحیت کا پرچار کرنے میں مصروف ہے۔

اسلام کے نام سے مصروف کار ہے۔ ان تینوں کے بارے میں قطعیت کے ساتھ یہ بتادیں کہ یہ تینوں دعویٰ نبوت کے قائل و حامل ہیں اور جو بھی اس دعویٰ کی تاویل کرتا یا اس سے بریت کا اظہار کرتا ہے۔ وہ محض نفاق اور مسلمانوں کو دھوکہ میں مبتلا کرنے کے لئے ایسا کر رہا ہے۔

گروپ کا عقیدہ ہے کہ اس کا دائمی مرکز قادیان ہے۔ جو اس کے رسول کی تخت گاہ ہے اور مرزا غلام احمد قادیانی کے الہامات میں اسے تخت گاہ کہا گیا ہے۔ (دافع البلاء ص ١٠، خزائن ج ١٨ ص ٢٣٠) یہی وجہ ہے کہ قادیانی قادیان کو مدینۃ المسیح قرار دیتے رہے اور یہ اعلان بھی کرتے رہے کہ مکہ معظمہ اور مدینہ منورہ کی چھاتیوں کا دودھ تو خشک ہو چکا ہے۔ اب قادیان ہی سے نہریں جاری ہوں گی۔ (حقیقت الرؤیا ص ٤٦) اور انہوں نے اس عقیدے کے مطابق پاکستان میں اپنی رہائش کو عارضی کہا۔ چنانچہ طویل عرصے تک انہوں نے متروکہ جائیدادوں کے کلیم داخل نہیں کئے۔ وہ ربوہ کے بہشتی مقبرہ میں میتوں کو امانتاً دفن کرتے ہیں۔ مرزا محمود کی قبر پر اب تک ایسا کتبہ موجود ہے جس میں عارضی تدفین کا تذکرہ بھی ہے اور ان کی وصیت کا کتبہ بھی قبر پر آویزاں ہے کہ جب حالات سازگار ہوں تو میری نعش کو اکھاڑ کر قادیان پہنچایا جائے۔

سب سے پہلے مرزا غلام احمد قادیانی کے الفاظ ملاحظہ ہوں۔

پکارا ہے اور ان دونوں ناموں کے سننے سے میرے دل میں لذت پیدا ہوتی ہے۔“

(ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم ص ١٨٢، خزائن ج ٢١ ص ٣٥٥)

٢٤

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٥٣

(کہ مجھے نبی اللہ مسیح ابن مریم پر فضیلت حاصل نہیں) قائم نہ رہنے دیا اور صریح طور پر نبی کا خطاب مجھے دیا۔ مگر اس طرح پر کہ ایک پہلو سے نبی اور ایک پہلو سے امتی۔“

(حقیقت الوحی ص ١٥٠، خزائن ج ٢٢ ص ١٥٣، ١٥٤)

(تتمہ حقیقت الوحی ص ٦٥، خزائن ج ٢٢ ص ٥٠٠)

(ایک غلطی کا ازالہ ص ٧، خزائن ج ١٨ ص ٢١١)

مرزا غلام احمد قادیانی کا یہ دعویٰ واضح ہے اور جیسا کہ اس مضمون کے آغاز میں ہم نے مرزا غلام احمد قادیانی، حکیم نور الدین اور مرزا محمود کے حوالہ جات پیش کئے۔ یہ تینوں مرزا غلام احمد قادیانی کی نبوت کا انکار کرنے والوں کو کافر قرار دیئے جانے کا بانگ دہل اعلان کرتے رہے۔

انجمن احمدیہ اشاعت اسلام کا عقیدہ

آج قادیانی امت کا لاہوری فرقہ یا انجمن احمدیہ اشاعت اسلام کے ممبر بتکرار و اعادہ یہ کہتے سنائی دیتے ہیں کہ مرزا غلام احمد قادیانی ہرگز ہرگز مدعی نبوت نہیں تھے۔ خاتم النبیین ﷺ کے بعد مدعی نبوت کافر ہے اور مرزا غلام احمد قادیانی صرف مجدد، مہدی اور مسیح موعود ہی تھے۔

لیکن کیا حقیقت یہی ہے کہ مرزا غلام احمد قادیانی نے دعویٰ نبوت نہیں کیا اور نہ لاہوری حضرات انہیں نبی مانتے تھے اور نہ ہی انہیں نبی مانتے ہیں؟ آئیے واقعاتی صورت کا مشاہدہ کیجئے۔

اہل ربوہ اور لاہوری قادیانیوں کے مابین مسئلہ نبوت اور تکفیر المسلمین پر بیشمار مکالمے، مناظرے اور تحریری سوال و جواب ہوتے رہے۔ ان میں سے ایک فہرست حوالہ جات الفرقان ربوہ (چناب نگر) کے ایڈیٹر جناب ابوالعطاء اللہ دتا جالندھری کے ماہنامہ الفرقان ربوہ (چناب نگر) سے پیش خدمت ہے۔ ملاحظہ فرمائیے۔

اکابر غیر مبایعین کا عقیدۂ نبوت ١٩١٤ء تک سب مسیح موعود کو نبی مانتے تھے

٢٥

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٥٤

”ہم ذیل میں فریق لاہور کے اکابر کے وہ حوالہ جات پیش کرتے ہیں۔ جن سے روز روشن کی طرح ثابت ہے کہ یہ سب خلافت ثانیہ سے اپنی علیحدگی یعنی ١٩١٤ء تک سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی نبوت پر اسی طرح اعتقاد رکھتے تھے جس طرح جماعت احمدیہ رکھتی ہے۔“

(ایڈیٹر: الفرقان ربوہ)

نبی، خواہ وہ پرانا نبی ہو یا نیا، ایسا نہیں آ سکتا کہ اس کو بدوں وساطت آنحضرت ﷺ کے نبوت ملی ہو۔“

(الحکم مورخہ ١٠؍مارچ ١٩٠٦ء)

مخالف خواہ کوئی بھی معنے کرے۔ مگر ہم تو اسی پر قائم ہیں کہ خدا نبی پیدا کر سکتا ہے۔ صدیق بنا سکتا ہے اور شہید اور صالح کا مرتبہ عطا کر سکتا ہے۔ مگر چاہئے مانگنے والا......ہم نے جس کے ہاتھ میں ہاتھ دیا وہ صادق تھا۔ خدا کا برگزیدہ اور مقدس رسول تھا۔ پاکیزگی کی روح اس میں کمال تک پہنچی ہوئی تھی۔“

(الحکم مورخہ ١٨؍ جولائی

١٩٠٨ء)

”مکذب مدعی نبوت کذاب ہوتا ہے۔ مرزا قادیانی ملزم مدعی نبوت ہے۔ اس کے مرید اس کو دعویٰ میں سچا اور دشمن جھوٹا سمجھتے ہیں۔ پیغمبر اسلام مسلمانوں کے نزدیک سچے نبی ہیں اور عیسائیوں کے نزدیک جھوٹے ہیں۔“

کی موجودگی میں حلفاً بیان دیا کہ: ”مرزا قادیانی دعویٰ نبوت کا اپنی تصانیف میں کرتے ہیں۔ یہ دعویٰ نبوت اس قسم کا ہے کہ میں نبی ہوں۔ لیکن کوئی نئی شریعت نہیں لایا۔ ایسے مدعی کا مکذب قرآن شریف کی رو سے کذاب ہے۔“ (مسلِ

ورق نمبر ٣٦٢)

٢٦

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٥٥

راولپنڈی کے موقع پر پیش ہوئے تھے۔ یہ مسل گورداسپور میں قیام پاکستان تک محفوظ تھی۔ مورخہ ٦؍ جولائی ١٩٤٢ء کو میں نے باضابطہ اس کا معائنہ کر کے رسالہ فرقان قادیان بابت ماہ جولائی ١٩٤٢ء میں اس مسل کے جملہ حوالہ جات درج کر دیئے تھے۔ فرقان کا یہ نمبر عدالتی بیان نمبر کے نام سے شائع ہوا تھا اور قابل مطالعہ دستاویز ہے۔ (ابوالعطائی)

ہندوستان کے متعلق یہ لکھا ہے کہ ہندوستان کو اس وقت کسی اور نبی کی ضرورت نہ تھی۔ اسی طرح یہ بھی کسی اخبار میں شائع کرے کہ اس سے انیس سو سال پہلے ملک شام کو کسی اور نبی کی ضروت نہ تھی۔“

(ریویو آف ریلیجنز مارچ ١٩٠٤ء،

ص ٤٦)

زمانہ میں ایک اوتار کے ظہور کے متعلق جو وعدہ انہیں دیا گیا تھا وہ خدا کی طرف سے تھا اور اس کو ہندوستان کے مقدس نبی، مرزا غلام احمد قادیانی کے وجود میں خدا تعالیٰ نے پورا کر دکھایا ہے۔“

(ریویو آف ریلیجنز بابت ماہ نومبر ١٩٠٤ء، ص ٤١١)

مقدمہ ازالہ حیثیت عرفی کیا تھا۔ کیونکہ حضرت (مرزا قادیانی) نے اپنی کتاب میں مولوی مذکور کو کذاب لکھا تھا اور حکیم صاحب موصوف کتاب کے ناشر تھے۔ اس مقدمہ میں خواجہ کمال الدین اور مولوی محمد علی حضور (مرزا قادیانی) کے وکیل تھے۔ انہوں نے حضور (مرزا قادیانی) کے دستخطوں سے عدالت میں جو بیان انگریزی زبان میں داخل کیا اس میں لکھا کہ : ”اصول اسلام کے مطابق اس معاملہ کا ایک اور بھی پہلو ہے اور وہ یہ کہ جو شخص کسی مدعی نبوت ورسالت کو جھوٹا سمجھتا ہے کذاب ہے۔ یہ بات شہادت استغاثہ میں تسلیم کی گئی ہے۔ اب مستغیث (مولوی کرم الدین) نہایت اچھی طرح جانتا ہے کہ ملزم نمبر ١ (یعنی مرزا قادیانی) نے اس حیثیت یعنی نبوت ورسالت کا دعویٰ کیا ہے اور بایں ہمہ مستغیث نے اس کی تکذیب کی ہے۔ پس مذہب اسلام کی اصطلاح کی رو سے بھی مستغیث کذاب ہے۔“

(مسل مقدمہ

گورداسپور ص ١٩٤)

٢٧

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٥٦

معزز قارئین ان قابل وکلاء کی یہ دفاعی لائن قطعی طور پر ثابت کر دیتی ہے کہ مرزا قادیانی مدعی نبوت تھے اور خواجہ صاحب اور مولوی محمد علی مرزا قادیانی کو فی الواقعہ نبی مانتے تھے۔

اخبار والے مضمون میں ذکر کیا تھا کہ خواجہ صاحب نے (نعوذ باللہ) حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) کے نبی یا رسول ہونے سے انکار کیا ہے۔ مگر بٹالوی کے لئے یہ خبر جانفرسا ہوگی کہ ان کے گھر بٹالہ ہی میں خواجہ صاحب نے اپنے لیکچر میں صاف طور پر بیان کیا اور بٹالہ والوں کو خطاب کر کے کہا کہ تمہارے ہمسایہ میں ایک نبی اور رسول آیا تم خواہ مانو یا نہ مانو۔“ (الحکم

١٤؍ مئی ١٩١١ء)

(مرزا قادیانی) بنی اسحاق سے ہوا۔ تا کہ یہ پیش گوئی ”کذلک نجزی المحسنین“ کی بھی دونوں طرح سے پوری ہو اور اس طرح سے بنی اسماعیل میں سے تو ایک ایسے کامل اور مکمل سید المرسلین ﷺ پیدا ہوں۔ جن کی امت ”کنتم خیر امۃ“ کا مصداق ہو اور بنی اسحاق میں سے ایک ایسا نبی مسیح موعود (مرزا قادیانی) پیدا ہو جو ہو تو احمد کا غلام اور مع ہٰذا وہ نبی بھی ہو، تا کہ وعدہ مندرجہ ”وجعلنا فی ذریتہ النبوۃ“ کا بھی اس سے پورا ہو جائے۔“

(ضمیمہ اخبار بدر ج ١٠ نمبر ١٣ مورخہ ٢٦؍ جنوری ١٩١١ء، ص ٢)

خدا کی بات (حضرت مسیح موعود کی وحی غلبت الروم ناقل) آج پوری ہوتی ہے۔ دنیا پر ثابت کرتی ہے کہ وہ کلام خدا کا کلام ہے۔ جو اس کا لانے والا تھا، وہ اللہ کا سچا مرسل ہے۔ اللہ نے اپنی حجت تمام کردی۔“ (ضمیمہ پیغام صلح لاہور مورخہ ٢٧؍ جولائی

١٩١٣ء)

سمجھ لو اے عزیزو! ہاں سمجھ لو
نہ تعلیم مسیحا کو بھلائیں
نبی، ملہم، مجدد، وہ ہیں سب کچھ

(اخبار پیغام صلح مورخہ ٢٨؍ دسمبر ١٩١٣ء)

٢٨

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٥٧

انسانوں کے لئے اس نے ہر زمانہ میں انبیاء، اولیاء، صلحاء کے وجود کو پیدا کیا۔“

(ضمیمہ پیغام صلح مورخہ ٥؍ مارچ ١٩١٤ء)

امتی بھی ہوں گے۔ کیونکہ اس طرح بسبب امتی ہونے کے ان کی رسالت و نبوت ختم نبوت کے منافی نہ ہوگی۔“

(پیغام صلح مورخہ ٢٤؍ فروری

١٩١٤ء)

مخالفوں نے ایک طوفان برپا کر رکھا ہے۔ ہر وعظ میں بار بار لا نبی بعدی کہہ کر حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) کے دعویٰ نبوت کو کفر اور دجالیت قرار دیتے ہیں۔ سچ یہ ہے کہ ان لوگوں کی حالت بالکل علماء یہود کی طرح ہو گئی ہے...... آپ کے بعد کوئی نبی نہ ہونے کے یہ معنی ہوئے کہ کوئی ایسا رسول نہیں ہے جو صاحب شریعت جدید ہو یا نبوت تشریعی کا مدعی ہو اور ایسا نبی ہو سکتا ہے جو آنحضرت ﷺ ہی کا غلام ہو۔“

(پیغام صلح مورخہ ١٦؍ ستمبر

١٩١٣ء)

شہید“ کے زیر عنوان مندرجہ ذیل اعلان کیا گیا تھا۔ ”خدائے واحد کو حاضر ناظر جان کر ہم اعلان کرتے ہیں...... ہم حضرت مسیح موعود کے خادمین الاولین میں سے ہیں۔ ہمارے ہاتھوں میں حضرت اقدس ہم سے رخصت ہوئے۔ ہمارا ایمان ہے کہ حضرت مسیح موعود و مہدی معہود اللہ تعالیٰ کے سچے رسول تھے اور اس زمانہ کی ہدایت کے لئے دنیا میں نازل ہوئے اور آج آپ کی متابعت میں ہی دنیا کی نجات ہے اور ہم اس امر کا اظہار ہر میدان میں کرتے ہیں اور کسی کی خاطر ان عقائد کو بفضلہ تعالیٰ نہیں چھوڑ سکتے۔“

(پیغام صلح مورخہ ٧؍ ستمبر

١٩١٣ء، ص ٣)

مندرجہ ذیل حلفیہ اعلان شائع ہوا تھا: ”معلوم ہوا ہے کہ بعض احباب کو کسی نے غلط فہمی میں ڈال دیا ہے کہ اخبار ہٰذا کے ساتھ تعلق رکھنے والے احباب یا ان میں سے کوئی ایک سیدنا و ہادینا حضرت

٢٩

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٥٨

مرزا غلام احمد مسیح موعود و مہدی معہود کے مدارج عالیہ کو اصلیت سے کم یا استخفاف کی نظر سے دیکھتا ہے۔ ہم تمام احمدی جن کا کسی نہ کسی صورت سے اخبار پیغام صلح کے ساتھ تعلق ہے۔ خدا تعالیٰ کو جو دلوں کے بھید جاننے والا ہے۔ حاضر و ناظر جان کر علیٰ الاعلان کہتے ہیں کہ ہماری نسبت اس قسم کی غلط فہمی پھیلانا محض بہتان ہے۔ ہم حضرت مسیح موعود و مہدی معہود کو اس زمانہ کا نبی، رسول اور نجات دہندہ مانتے ہیں اور جو درجہ حضرت مسیح موعود نے اپنا بیان فرمایا ہے۔ اس سے کم و بیش کرنا موجب سلب ایمان سمجھتے ہیں۔ ہمارا ایمان ہے کہ دنیا کی نجات حضرت نبی کریم ﷺ اور آپؐ کے غلام حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) پر ایمان لائے بغیر نہیں ہو سکتی۔ اس کے بعد ہم اس کے خلیفہ برحق سیدنا و مرشدنا و مولانا حضرت مولوی نور الدین صاحب خلیفۃ المسیح کو بھی سچا پیشوا سمجھتے ہیں۔ اس اعلان کے بعد اگر کوئی ہماری نسبت بدظنی پھیلانے سے باز نہ آئے تو ہم اپنا معاملہ خدا پر چھوڑتے ہیں۔ وافوض امری الی اللّٰہ ان اللّٰہ بصیر بالعباد‘‘

(پیغام صلح مورخہ ١٦؍اکتوبر)

الفرقان: ان سولہ اقتباسات کو پڑھنے کے بعد ہر شخص کو معلوم ہو جائے گا۔ کہ سب غیر مبایعین (مرزا غلام احمد قادیانی کے وہ امتی جنہوں نے حکیم نور الدین کی وفات کے بعد مرزا محمود کی بیعت نہیں کی) ان کے چھوٹے اور بڑے ١٩١٤ء تک یہی عقیدہ رکھتے تھے اور اسی کا اعلان کرتے تھے کہ حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) فی الواقع اللہ تعالیٰ کے برحق نبی ہیں۔ ١٩٠٨ء سے لے کر ١٩١٤ء تک وہ یہ بھی مانتے تھے کہ نور الدین واقعی طور پر خلیفۃ المسیح الاوّل ہیں۔ ان لوگوں میں جو تغیر آیا۔ انہوں نے اپنا جو مسلک بدلا عقائد میں جو تبدیلی کی وہ سب بعد کی پیداوار ہے۔ اس کا سبب اور باعث کیا ہے۔ اس کا جواب اگلے مضمون میں ملاحظہ فرمائیں۔‘‘

(الفرقان مئی، جون ١٩٦٥ء)

الفرقان ربوہ کی ان پیش کردہ تفصیلات کے سامنے آنے کے بعد کوئی بھی دیانتدار شخص حسب ذیل حقائق سے انکار کی جرأت نہیں کر سکتا۔

کام لیا اور کہہ مکرنی کی متعدد مکروہ مثالیں بھی پیش کیں۔ تاہم ان کا دعویٰ نبوت غیر مبہم، واضح دو ٹوک اور اپنے تمام تقاضوں سمیت تھا اور ان تقاضوں میں سے اولین دو اہم تقاضے یعنی ماننے

٣٠

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٥٩

والے مرزا غلام احمد کے امتی اور نہ ماننے والے کافر و دائرہ اسلام سے خارج کی وضاحت بھی انہوں نے خود ہی کی۔

دوسرے تمام افراد شامل تھے۔ سب کے سب مرزا غلام احمد قادیانی کو نبی مانتے تھے۔

و مؤیدین ١٩١٤ء تک کھلم کھلا اسی عقیدے کے مبلغ و داعی تھے۔ لیکن جب مرزا غلام احمد قادیانی کے فرزند مرزا محمود کے ہاتھوں انہوں نے سیاسی شکست کھائی تو انہوں نے مرزا غلام احمد قادیانی کی نبوت اور مسلمانوں کی تکفیر سے بریت کا اعلان کیا۔ جس کا مقصد صرف یہ تھا کہ وہ قادیانیوں سے الگ ہو کر مسلمانوں کی ہمدردیاں حاصل کریں۔ مگر چونکہ وہ مرزا غلام احمد قادیانی کی مہدویت، مسیحیت اور مجددیت کے پردے میں ان کے تمام دعاوی کو مانتے ، ان کی تحریروں کو شائع کرتے اور ان پر ایمان کی دعوت دیتے تھے۔ اس لئے وہ نہ تو مسلمانوں کو دھوکہ دینے میں کامیاب ہوئے اور نہ ہی وہ قادیانی جماعت میں کوئی اہم قسم کی افراتفری مچا سکے۔

مرزا غلام احمد قادیانی کا فتویٰ کفر

عبرت و موعظت کے لئے ایک حرف کافی ہونا چاہئے۔ بشرطیکہ سننے اور سوچنے والے میں عدل و انصاف اور حق شناسی کا جوہر کلیۃً ختم نہ ہو چکا ہو۔ قادیانی حضرات! غور فرمائیں کہ مرزا غلام احمد قادیانی کے دعویٰ نبوت کے سلسلہ میں وہ تمام تاویلات جو لاہوری جماعت کی جانب سے ١٩١٤ء کے بعد کی جانے لگیں ہیں۔ کیا مذکورہ حوالہ جات اور ان حلفیہ بیانات کے بعد ان کی کوئی گنجائش باقی رہتی ہے۔ ہر صاحب انصاف کا جواب ہوگا، ہرگز نہیں۔

لیکن اگر اس کے باوجود قادیانی امت کے لاہوری فرقہ کے ہوش مند افراد ظلی اور بروزی امتی نبی اور مستقل نبی اور اس قسم کی دوسری تاویلات کے سہارے اپنی ڈانواں ڈول مذہبیت کی تسکین کے دھوکے میں مبتلا رہنے پر اصرار کریں تو ہم ان پر حجت کے اتمام کی خاطر ان سے عرض کریں گے کہ وہ ہر قسم کے دعویٰ نبوت کے بارے میں خود مرزا غلام احمد قادیانی کا وہ فتویٰ ملاحظہ فرمائیں جو موصوف اپنے مسلمان ہونے کے زمانے سے مہدویت، مسیحیت اور ملہم و مامور ہونے کے دور تک دیتے رہے۔ انہوں نے کہا:

٣١

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٦٠

میرے لئے یہ کیسے ممکن ہے کہ میں دعویٰ نبوت کر کے اسلام کے دائرے سے خارج ہو کر کفار کی قوم میں شامل ہو جاؤں۔

(حمامتہ البشریٰ ص٧٩، خزائن ج٧

ص ٢٩٧)

(مجموعہ اشتہارات ج٢ ص ٢٩٧)

مرزا غلام احمد قادیانی نے اس مقام پر امت محمدیہ علیٰ صاحبہا الصلوٰۃ والسلام کے متفقہ موقف کی واضح انداز میں تائید کی کہ حضور خاتم النبیین ﷺ کے بعد ہر مدعی نبوت، کافر اور دائرہ اسلام سے خارج ہے۔

بطور اتمام حجت مرزا غلام احمد قادیانی اور ان کے صاحبزادے کے دو تین مزید حوالے ہم یہاں پیش کیئے دیتے ہیں۔ ممکن ہے ان کے ماننے والوں کو ان کے پیشوا اور ان کے سلسلے کو سمجھنے کی توفیق میسر ہو اور وہ اس ضلالت بعیدہ سے نجات حاصل کر کے اپنے اور اپنے خاندان کو اس دردناک عذاب سے بچا لیں۔ جو مفتری علی اللہ کے ماننے والوں کے لئے رب قہار کے ہاں قطعی اور فیصلہ شدہ ہے۔ مرزا غلام احمد قادیانی کہتے ہیں: ”سیدنا ومولانا حضرت محمد مصطفی ﷺ ختم المرسلین کے بعد کسی دوسرے مدعی نبوت اور رسالت کو کاذب وکافر جانتا ہوں۔“

(مجموعہ اشتہارات ج١ ص ٢٣٠)

لیکن مرزا غلام احمد قادیانی نے اپنے بارے میں کہا: ”میں خدا کی قسم کھا کر کہتا ہوں۔ جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ اس نے مجھے بھیجا ہے اور اس نے میرا نام نبی رکھا ہے۔“

(حقیقت الوحی ص٣٨٧، خزائن ج٢٢ ص ٥٠٣)

حضرت محمد خاتم النبیین ﷺ کے بعد ہر مدعی نبوت ورسالت کو کافر وکاذب کہا اور اپنے بارے میں بلا ابہام یہ کہنا کہ میرا نام نبی رکھا گیا ہے۔ کیا اس کے بعد بھی مرزا غلام احمد قادیانی اور ان کی امت کو کافر قرار دیے جانے کے لئے کسی اور دلیل کی ضرورت باقی رہتی ہے؟

کافر بلکہ بڑا کافر

قرآن مجید نے اس موضوع پر دوٹوک انداز میں فرمایا ہے: ”ومن اظلم ممن افتریٰ علی اللہ کذباً او قال اوحی الیّ ولم یوحیٰ الیہ شئ (الانعام: ٩٣)“ {اور اس

٣٢

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٦١

سے بڑا ظالم کون ہو سکتا ہے جو اللہ پر جھوٹ باندھتا ہے یا وہ یہ کہتا ہے کہ مجھ پر وحی نازل ہوئی ہے۔ دراں حالیکہ اس پر ایک کلمہ بھی وحی کا نازل نہ کیا گیا ہو۔ }

”انما یفتری الکذب الذین لا یؤمنون بآیات اللہ واولئک ھم الکاذبون (النحل : ١٠٥)“ {اللہ پر جھوٹ وہی باندھتا ہے جو اللہ کی آیتوں پر ایمان نہیں رکھتا اور ایسے تمام لوگ اپنے دعوؤں میں جھوٹے ہیں۔ }

قرآن مجید کی یہ تصریحات ہر مؤمن بالقرآن کے لئے کافی ہیں۔ قادیانیوں کو حقیقت سے آگاہ کرنے اور ان میں ایسے حضرات کو جو سب کچھ سے آگاہ ہونے کے باوجود مختلف اسباب سے متاثر ہو کر اس گمراہی پر مصر ہیں۔ بلکہ دوسروں کو اس کفر صریح کی دعوت دینے میں مصروف ہیں۔ ان پر مزید اتمام حجت کے لئے مرزا غلام احمد قادیانی کے فرزند، مرزا بشیر احمد ایم۔ اے (جنہیں قادیانی قمر الانبیاء کہتے ہیں) کا ایک قول اس فصل کے اختتامیہ کے طور پر پیش خدمت ہے۔

انہوں نے کہا: ”مسیح موعود کا یہ دعویٰ کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک مامور ہے اور یہ کہ اللہ تعالیٰ اس کے ساتھ ہم کلام ہوتا ہے۔ دو حالتوں سے خالی نہیں یا تو وہ نعوذ باللہ اپنے دعویٰ میں جھوٹا ہے اور محض افتریٰ علیٰ اللہ کے طور پر دعویٰ کرتا ہے تو ایسی صورت میں نہ صرف کافر بلکہ بڑا کافر ہے۔“ (کلمتہ

الفصل ص ١٢٣)

ان شواہد کے بعد اس امر میں تردد کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہتی کہ قادیانی امت ایک مفتری علیٰ اللہ کو صادق ماننے کے باعث دائرہ اسلام سے خارج ہے۔ بلکہ مزید یہ کہ انہیں کافر قرار نہ دینا قرآن عزیز کے مؤقف کی تردید ہے۔ جس کے ارتکاب کے بعد کوئی شخص مسلمان نہیں کہلا سکتا۔ بنا بریں اگر امت مسلمہ کو خود مسلمان رہنا ہے تو اس کے لئے اس کے سوا کوئی چارہ نہیں تھا کہ وہ مرزا غلام احمد قادیانی اور ان کے ماننے والوں کو کافر اور دائرہ اسلام سے خارج قرار دے۔

شاتم رسول a متنبی

ختم نبوت، لغو اور باطل عقیدہ اور دین اسلام شیطانی دین

٣٣

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٦٢

مرزا غلام احمد قادیانی اور ان کے ماننے والوں کو کافر قرار دیئے جانے کی دوسری اہم وجہ یہ ہے کہ انہوں نے عقیدہ ختم نبوت سے انکار کے بعد اس اساسی عقیدے کو (نعوذ باللہ من ذلک) لعنتی عقیدہ کہا اور جس دین میں سلسلۂ نبوت ووحی کے انقطاع کا عقیدہ موجود ہو، اسے شیطانی مذہب قرار دیا۔ تفصیل اس اجمال کی بڑی عبرت انگیز ہے۔ اس کا خلاصہ یہ ہے کہ مرزا غلام احمد قادیانی جب تک کھل کر کفر کے مرتکب نہیں ہوئے تھے اور ان کے کفریہ الفاظ پر علماء دین ان پر کفر کا فتویٰ عائد کرتے تھے تو وہ ان کفریہ کلمات کی وضاحت کے لئے اپنے بارے میں کہا کرتے تھے کہ میں ختم نبوت پر ایمان رکھتا ہوں اور ہر قسم کے دعویٰ نبوت کو کفر سمجھتا ہوں اور میں قرآن کریم اور احادیث نبویہ کے اس واضح مفہوم ختم نبوت پر ایمان رکھتا ہوں کہ حضور ﷺ کے بعد وحی نبوت ہمیشہ کے لئے منقطع ہو چکی اور جو شخص حضور ﷺ کے بعد وحی نبوت کے جاری رہنے کا عقیدہ رکھے وہ کافر اور قرآن وحدیث کا منکر ہے۔ انہوں نے کہا:

پرانا ہو۔ کیونکہ رسول کو علم بتوسط جبریل ملتا ہے اور باب نزول جبریل بہ پیرایہ وحی رسالت مسدود ہے اور یہ بات خود ممتنع ہے کہ دنیا میں رسول تو آئے۔ مگر سلسلۂ وحی رسالت نہ ہو ۔“

(ازالہ اوہام ص ٧١١، خزائن ج ٣ ص ٥١١)

کرے اور ابھی ثابت ہو چکا کہ اب وحی رسالت تاقیامت منقطع ہے۔“

(ازالہ اوہام ص ٦١٢، خزائن ج ٣ ص ٤٣٢)

اپنی ایک دوسری تصنیف میں مرزا غلام احمد قادیانی کہتے ہیں: ”وكيف يجئ نبی بعد رسولنا ﷺ وقد انقطع الوحی بعد وفاته وختم الله به النبیین“ ہمارے رسول اللہ ﷺ کے بعد نبی کیسے آ سکتا ہے۔ دراں حالیکہ حضور ﷺ کی وفات کے بعد وحی منقطع ہو چکی اور اللہ نے آپؐ پر انبیاء کا سلسلہ ختم کر دیا۔ (حمامۃ البشریٰ ص ٢٠، خزائن ج ٧ ص ٢٠٠)

ہر قسم کی تاویل وتحریف کے دروازے بند کرتے ہوئے مرزا غلام احمد قادیانی کہتے ہیں: ”ظاہر ہے کہ اگرچہ ایک ہی دفعہ وحی کا نزول فرض کیا جائے اور صرف ایک فقرہ حضرت

٣٤

صفحہ ٦٣

جبرئیل لائیں اور پھر چپ ہو جائیں یہ امر بھی ختم نبوت کے منافی ہے۔ کیونکہ جب ختمیت کی مہر ہی ٹوٹ گئی اور وحی رسالت پھر نازل ہونی شروع ہو گئی تو پھر تھوڑا یا بہت نازل ہونا برابر ہے۔ ہر ایک دانا سمجھ سکتا ہے کہ اگر خدا تعالیٰ صادق الوعد ہے اور جو آیت خاتم النبیین میں وعدہ کیا گیا ہے اور جو حدیثوں میں بتصریح بیان کیا گیا ہے کہ اب جبریل بعد وفات رسول اللہ ﷺ ہمیشہ کے لئے وحی نبوت کے لانے سے منع کیا گیا ہے۔ یہ تمام باتیں سچی اور صحیح ہیں تو پھر کوئی شخص بحیثیت رسالت ہمارے نبی ﷺ کے بعد ہرگز نہیں آسکتا۔‘‘

(ازالہ اوہام ص٥٧٧، خزائن ج٣

ص٤١١، ٤١٢)

یہ ہے ختم نبوت کا وہ مفہوم جس پر امت محمدیہ علیٰ صاحبہا الف الف صلوٰۃ کے عہد مبارک سے اب تک متفق ہے اور جیسا کہ مرزا غلام احمد قادیانی کی کتب کے ان حوالہ جات میں قطعیت کے ساتھ کہا گیا ہے کہ اگر ایک مرتبہ اور صرف ایک ہی فقرہ بصورت وحی نازل ہو تو ختم نبوت کا وہ مفہوم ختم ہوجائے گا۔ جو قرآن مجید اور احادیث نبویہ میں بیان کیا گیا ہے اور جو شخص وحی کی آمد کے عقیدہ کے باوجود ختم نبوت پر ایمان کا دعویٰ کرے گا وہ کاذب و کافر ہوگا۔ اس لئے کہ حضورؐ کے بعد وحی کے جاری رہنے کے عقیدہ سے ختم نبوت کے عقیدہ کی نفی ہوجاتی ہے۔

ان تصریحات و قطعیات پر امت مسلمہ تو اب تک ایمان رکھتی ہے اور تاقیامت یہ ایمان مضبوط اور دائم رہے گا۔ لیکن مرزا غلام احمد قادیانی نے جب تاویل، انحراف اور آخر کار ارتداد کی منزلیں طے کرلیں اور وہ امت مسلمہ کے ایک دشمن اور دین حق کے محرف اور خلق خدا کو گمراہ کرنے والے کی حیثیت سے نمودار ہوئے تو انہوں نے کہا: ’’یہ کس قدر لغو اور باطل عقیدہ ہے کہ ایسا خیال کیا جائے کہ بعد آنحضرت ﷺ کے وحی الٰہی کا دروازہ ہمیشہ کے لئے بند ہوگیا ہے اور آئندہ کو قیامت تک اس کی کوئی امید بھی نہیں۔ صرف قصوں کی پوجا کرو۔ میں خدا تعالیٰ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ اس زمانہ میں مجھ سے زیادہ بیزار ایسے مذہب سے اور کوئی نہ ہوگا اور میں ایسے مذہب کا نام شیطانی مذہب رکھتا ہوں۔ نہ کہ رحمانی اور میں یقین رکھتا ہوں کہ ایسا مذہب جہنم کی طرف لے جاتا اور اندھا رکھتا ہے اور اندھا ہی مارتا ہے اور اندھا ہی قبر میں لے جاتا ہے۔‘‘

(ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم ص١٨٣، خزائن ج٢١ ص٣٥٤)

جو شخص اسلام کے اس بنیادی عقیدے کو جسے حضور خاتم النبیین ﷺ اور خود اللہ رب العزت نے اس قدر اہمیت دی کہ اس عقیدے کے اعلان کو تکمیل دین کی دلیل کے طور پر

٣٥

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٦٤

پیش فرمایا۔ امت محمدیہ کی تاسیس کے تمام مواقع معراج، حجۃ الوداع اور حضور ﷺ کی مرض الوفاۃ میں امت کو وصیت کرنے ایسے ہر اہم مرحلہ میں اس عقیدے کی صراحت فرمائی اور اعلان فرمایا کہ تم امتوں میں سے میرا حصہ ہو اور میں انبیاء میں سے تمہارے لئے مخصوص کیا گیا ہوں...... اس بنیادی عقیدے کو جو شخص ان الفاظ سے یاد کرتا ہے اور پورے دین کو شیطانی مذہب کہتا ہے۔ اسے اور اس کے ماننے والوں کو اگر اس دین کے منکر شمار نہ کیا جائے تو اس دین کے منجانب اللہ اور امت کے غیور ہونے کا تصور ہی ختم ہو جائے گا۔

نوٹ : جو حضرات اس موضوع پر مزید تحقیق وتفصیل کے متمنی ہوں وہ ہمارے ہاں سے شائع شدہ کتابچہ ”ختم نبوت اور اس کے انکار کا قطعی مفہوم“ ملاحظہ فرمائیں۔

خیر الامت نہیں شر الامم

تیسری دلیل قادیانیوں کے کافر ہونے کی یہ ہے کہ قرآن مجید نے جس امت کو ”خیر امت فرمایا۔ مرزا غلام احمد قادیانی، عقیدہ ختم نبوت کے باعث اس امت کو شر الامم“ کہتے ہیں۔ ان کے الفاظ یہ ہیں : ”اگر نبوت کا دروازہ بند سمجھا جائے تو نعوذ باللہ اس سے تو انقطاع فیض لازم آتا ہے اور اس میں تو نحوست ہے اور نبی کی ہتک شان ہوتی ہے۔ گویا اللہ تعالیٰ نے اس امت کو یہ جو کہا کہ ”کنتم خیر امۃ“ یہ جھوٹ تھا۔ اگر یہ معنی کئے جائیں کہ آئندہ کے واسطے نبوت کا دروازہ ہر طرح بند ہے تو پھر ”خیر الامم“ کی بجائے ”شر الامم“ ہوئی۔“

(الحکم قادیان مورخہ ١٧؍اپریل ١٩٠٣ء)

مرزا غلام احمد قادیانی کے فرزند اور خلیفہ ثانی مرزا بشیر الدین محمود کہتے ہیں: ”اور یہی محبت تو ہے جو مجھے اس بات پر مجبور کرتی ہے کہ باب نبوت کے بکلی بند ہونے کے عقیدے کو جہاں تک ہوسکے باطل کروں کہ اس میں آنحضرت ﷺ کی ہتک ہے...... کہ یہ مان لیا جائے کہ آپ کے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا۔“

(حقیقت النبوۃ ص ١٨٦)

امام الانبیاء فداہ ارواحنا وانفسنا ﷺ نے جس امت کو جان سوز محنتوں سے تیار فرمایا اور جس امت کو قرآن مجید نے خیر الامم کی خلعت فاخرہ سے نوازا۔ اسے ختم نبوت کے عقیدے کی بناء پر شر الامم کہنا نص صریح کی تکذیب بھی ہے اور بلا استثناء پوری امت کی مع صحابہ کبار رضوان اللہ علیہم اجمعین توہین بھی قابل غور ہے کہ اگر کسی گروہ کو آیت قرآنیہ کی صریح تکذیب کی بناء پر بھی دائرہ اسلام سے خارج قرار نہیں دیا جا سکتا تو سرے سے کفر کے لفظ ہی کو کیوں نہ لغت اور قرآن

٣٦

صفحہ ٦٥

مجید سے خارج قرار دیا جائے اور اس کے استعمال کو ممنوع قرار دیا جائے۔

قرآن عزیز کی کسی نص صریح کا ابطال اور اس کے بالمقابل اس نص کے برعکس تصور کو ایمانی عقیدہ قرار دینے پر بھی اگر ایسے گروہ کو دائرہ اسلام سے خارج قرار نہیں دیا جا سکتا تو ابو جہل اور ابولہب کو کافر کیسے قرار دیا جا سکتا ہے۔

رحمتہ اللعالمین یا عذ......

مرزا قادیانی اور ان کے اتباع کے دائرہ اسلام سے خارج ہونے کی چوتھی وجہ بیان کرتے وقت دماغ ماؤف ہوتا محسوس ہو رہا ہے۔ قلم رکتا اور دل لرزتا ہے۔ مگر اس کے سوا چارہ نہیں کہ مرزا غلام احمد قادیانی اور ان کی امت کے ان اعتقادات کو ان کے اپنے الفاظ میں پیش کیا جائے۔ جن میں مذکور ہر عقیدہ بجائے خود اس طائفے کے خارج از اسلام قرار دیئے جانے کے لئے تنہا ہی کافی ہے۔

مرزا غلام احمد قادیانی نے ختم نبوت کے عقیدہ کو لغو اور باطل عقیدہ ختم نبوت کے علمبردار دین کو شیطانی دین اور امت محمدیہ کو حضور خاتم النبیین ﷺ پر سلسلۂ نبوت کے منقطع ہونے کے تسلیم کرنے کی بناء پر شرالام کہا تھا۔ مرزا غلام احمد قادیانی کے فرزند اور خلیفہ دوم جسے قادیانی مرزا غلام احمد قادیانی کے الہام کے مطابق مصلح موعود بھی مانتے ہیں اور ایسا خلیفہ برحق کہ اگر اس پر کوئی صحیح اعتراض بھی کرے تو وہ بھی عذاب الہی کا مستحق بن جائے۔ انہوں نے خود حضور ﷺ ہی کی شان میں ایسی گستاخی کی جس کی جرات ابو جہل سے عبداللہ بن ابی تک کسی دشمن و شاتم رسول اللہ ﷺ کو نہ ہوئی تھی۔

مرزا محمود نے کہا: ”آنحضرت ﷺ کے بعد بعثت انبیاء کو بالکل مسدود قرار دینے کا یہ مطلب ہے کہ آنحضرت ﷺ نے دنیا کو فیض نبوت سے روک دیا اور آپ کی بعثت کے بعد اللہ تعالیٰ نے اس انعام کو بند کر دیا۔ اب بتاؤ کہ اس عقیدے سے آنحضرت ﷺ رحمتہ اللعالمین ثابت ہوتے ہیں یا اس کے خلاف (نعوذ باللہ من ذلک) اگر اس عقیدے کو تسلیم کر لیا جائے تو اس کے یہ معنی ہوں گے کہ آپ (ﷺ) نعوذ باللہ دنیا کے لئے ایک عذاب کے طور پر آئے تھے اور جو شخص ایسا خیال کرتا ہے وہ لعنتی مردود ہے۔“

(حقیقت النبوۃ

ص١٨٦، ١٨٧)

ختم نبوت کا یہ متفق علیہ اور قطعی مفہوم کہ حضور ﷺ کے بعد کوئی شخص بحیثیت نبی

٣٧

صفحہ ٦٦

مبعوث نہیں ہوگا۔ اس عقیدے کو یہ معنی پہنانا کہ نعوذ باللہ من ذلک حضور رحمت نہیں بلکہ عذاب کے طور پر آئے تھے۔ اگر اس گستاخی اور بدگوئی کو کفر نہیں کہا جاسکتا تو کفر کا لفظ کہاں بولا جائے گا؟ مرزا محمود کی اس جسارت پر ہمارے اور عام مسلمانوں کے جذبات کیا ہیں؟ اس سوال کا جواب پانے کے لئے مرزا غلام احمد قادیانی کے ایک امتی اور لاہوری جماعت کے مؤسس وبانی مولوی محمد علی ایم۔اے کا یہ تبصرہ ملاحظہ کیجئے۔ انہوں نے مرزا محمود کی مذکورہ تحریر کے بارے میں کہا: ”ہم کہتے ہیں کہ ساری امت صحابہ سے لے کر مسیح موعود تک (یا بقول میاں صاحب کے مرزا قادیانی کو الگ کر کے پھر باقی تیرہ صدیوں کے) کل صلحاء مع صحابہ کبار، کل محدثین یہ سب آنحضرت ﷺ کو دنیا کے لئے لعنت خیال کرتے تھے اور کیا واقعی یہ لوگ نعوذ باللہ من ذلک لعنتی مردود تھے۔ وہ صحابی جن کو کہا گیا۔ ”انت منی بمنزلۃ ہارون من موسی الا انہ لا نبی بعدی (بخاری ج ٢ ص ٦٣٣)“ وہ جس کو کہا گیا ”لو کان بعدی نبی لکان عمر (ترمذی ج ١ ص ٢٠٩)“ وہ اپنے دلوں میں کیا یہ نہ سمجھتے تھے کہ آنحضرت ﷺ کے بعد نبی نہیں ہو سکتا۔ اگر سمجھتے تھے کہ آنحضرت ﷺ کے بعد نبی نہیں ہو سکتا؟ تو میاں صاحب کی کسوٹی پر وہ کیا ہوئے اور پھر جس نے یہ لفظ کہے وہ میاں صاحب کے نزدیک کیا ہوا؟ افسوس کہ دین کو بچوں کا کھیل بنالیا گیا۔ ختم نبوت کا مسئلہ وہ ہے جس پر امت کا اجماع ہے۔ آنحضرت ﷺ کے بعد نبی کا آنا کسی نے نہیں مانا اور پھر میں پوچھتا ہوں کہ جس صورت میں میاں صاحب یہ بھی مانتے ہیں کہ اس امت میں نبی کا نام پانے کے لئے صرف مسیح موعود ہی مخصوص ہوئے تو اب ظاہر ہے کہ مسیح موعود کے بعد اگر کوئی نبی ہو تو یہ خصوصیت بھی جاتی رہی۔ اگر ایک رسول آپ کے بعد آ گیا جو اس زمانے میں قیامت تک ممتد ہے نہ آنے کے برابر ہے اور پھر وہ قرآن جس کے بعد کوئی کتاب نہیں وہ اسی اعتراض کے ماتحت نہیں۔ جس کے ماتحت آنحضرت ﷺ آخری نبی ہونے کی وجہ سے ہیں۔ کیا قرآن دنیا کے لئے عذاب ہے۔ جو اس کے بعد کوئی کتاب نہیں۔“

(النبوۃ فی الاسلام حاشیہ ص ١٠٥ تا ١٠٧)

لاہوری قادیانیوں کے لئے ایک لمحہ فکریہ

محمد علی ایم۔اے نے جو کچھ کہا درست ہے اور یہ ادنیٰ سا اظہار تاثر ہے جو مرزا محمود کی ایمان سوز جسارت پر ناگزیر تھا۔ لیکن مولوی محمد علی اور ان کے پیروکاروں کے سوچنے کی بات یہ بھی

٣٨

صفحہ ٦٧

تھی کہ مرزا محمود نے ”سید ولد آدم بآبائنا ھو و امہاتنا ﷺ “ کی شان اقدس میں جو گستاخی کی۔ اس کی اصل محرک اور بنیاد تو مرزا غلام احمد قادیانی کے وہ کافرانہ تصورات ہیں۔ جن کے باعث اس نے ختم نبوت کے عقیدہ کو ”لغو اور باطل عقیدہ“ اور اسلام کو ”شیطانی دین“ کہا۔ اگر کوئی شخص اسلام اور ختم نبوت کے بارے میں یہ تک کہنے کی جرأت کر سکتا ہے تو حضور ﷺ کا ناموس کب تک اس کی دست درازی سے محفوظ رہے گا؟ مرزا محمود نے جو کچھ کہا یہ تو اس شجرہ خبیثہ کا زہریلا پھل تھا۔ جو مرزا غلام احمد قادیانی نے اپنے اور امت کے قلوب کی زمین میں گاڑا۔ اس شجر کی آبیاری اور اس کے زہریلے اور کڑوے پھل سے اظہار بیزاری، یہ تضاد بجائے خود اس حقیقت کا مظہر ہے کہ مرزا غلام احمد قادیانی کو پیشوا ماننے کی کم از کم سزا یہ ہے کہ اس کا ذہن الٹا ہو جائے اور وہ تضادات کا خوگر ہو جائے۔ ”نعوذ باللہ من غضبہ وعقابہ وشر عبادہ“

بہر نوع مرزا غلام احمد قادیانی اور مرزا محمود احمد قادیانی نے حضور امام الانبیائ ﷺ کی شان اقدس میں جو سوقیانہ اور اسلام سوز گستاخی ان تحریروں میں کی ہے اور اس کے بعد بھی ان کا اسلام محفوظ و مقبول ہے تو کہنا چاہئے کہ اسلام میں عظمت رسالت اور عصمت نبوت دونوں کا یا تو کوئی تصور ہی موجود نہیں اور اگر ہے تو ان کی حفاظت کا اہتمام نہیں۔ جو بد باطن جس طرح چاہے شان رسالت میں گستاخی کا مرتکب ہو اور جس انداز سے اس کا جی کرے ناموس رسالت سے کھیلے۔ اس پر کوئی قدغن نہیں اور اگر (خدانخواستہ) یہ بات تسلیم کر لی جائے تو اسلام کو دین حق ماننے کا نظریہ ہی سرے سے باطل ہے۔

ناموس رسول اللہ ﷺ پر دھاوا

مرزا غلام احمد قادیانی اور قادیانی امت کے کفر کی پانچویں وجہ مرزا غلام احمد قادیانی کا یہ عقیدہ ہے کہ وہ تمام خصوصیات و امتیازات اور مقامات و درجات جو حضور سید ولد آدم امام الانبیاء محمد مصطفیٰ ﷺ کی ذات اقدس سے مخصوص تھے۔ میں بھی ان تمام کا اہل ہوں اور بقول مرزا غلام احمد قادیانی وحی الٰہی نے یہ مقام اسے دیا ہے۔ ملاحظہ ہو:

مرزا قادیانی کا دعویٰ ہے کہ بارگاہ قدس سے اسے مخاطب کر کے کہا گیا:

بھیجا ہے۔“

(حقیقت الوحی ص ٨٦، خزائن ج ٢٢ ص ٨٥)

٣٩

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٦٨

بولتا یہ جو کچھ کہتا ہے وہ اس کی جانب وحی ہوتی ہے۔“

(اربعین نمبر ٣ ص ٣٦، خزائن ج ١٧ ص ٤٢٦)

(براہین احمدیہ حصہ سوم ص ٢٤٢ حاشیہ، خزائن ج ١ ص ٢٦٨)

حضور ﷺ کے خصوصی اعزاز معراج کو یہ اپنی جانب منسوب کرتے ہوئے کہتا ہے کہ میرے بارے میں کہا گیا:

موصوف ہے۔ وہ اللہ جس نے اپنے بندے کو رات کے وقت سیر کرائی۔“

(حقیقت الوحی ص ٧٨، خزائن ج ٢٢ ص ٨١)

مرزا غلام احمد قادیانی اس آیت کو اپنے اوپر نازل شدہ قرار دے کر غیر مبہم الفاظ میں اپنے بارے میں کہتے ہیں کہ مجھے مسجد حرام سے مسجد اقصیٰ تک سیر کرائی گئی۔ سید الکونین ﷺ عرش الٰہی کے قرب سے نوازے گئے مرزا اسی قرب کو اپنی جانب منسوب کر کے کہتا ہے۔ مجھے الہام ہوا:

ہو گیا۔ دو کمان یا اس سے بھی قریب تر فاصلے پر۔“

(حقیقت الوحی ص ٧٦، خزائن ج ٢٢

ص ٧٩)

چاہتے ہو تو میری (مرزا قادیانی کی) پیروی کرو۔ تمہیں اللہ محبوب بنا لے گا۔“

(حقیقت الوحی ص ٧٩، خزائن ج ٢٢ ص ٨٢)

حدیبیہ کے مقام پر حضور اکرم ﷺ نے اللہ کی راہ میں موت کی بیعت لی۔ قرآن کی جو آیت اس وقت نازل ہوئی مرزا قادیانی کہتا ہے کہ مجھ پر نازل ہوئی۔

سے بیعت کرتے ہیں وہ اللہ سے بیعت کرتے ہیں۔ اللہ کا ہاتھ ان کے ہاتھوں پر ہے۔“

(حقیقت الوحی ص ٨٠، خزائن ج ٢٢ ص ٨٣)

مرزا قادیانی اس الہام کو بھی اپنی جانب منسوب کرتا ہے کہ مجھے کہا گیا:

٤٠

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٦٩

نے تمہیں (مرزا قادیانی کو) فتح مبین عطا کی تاکہ اللہ تعالیٰ تمہارے پہلے اور پچھلے گناہ معاف کر دے۔“

(حقیقت الوحی ص ٩٤، خزائن ج ٢٢ ص ٩٧)

مرزا غلام احمد قادیانی کا ادعا ہے کہ حوض کوثر مجھے عطا کیا گیا۔ وہ کہتا ہے کہ مجھے الہام ہوا:

(حقیقت الوحی ص ١٠٢، خزائن ج ٢٢ ص ١٠٥)

قرآن مجید نے مقام محمود حضور ﷺ کے لئے متعین اور مخصوص فرمایا۔ پوری امت اذان کے بعد حضور ﷺ کے لئے مقام محمود کی دعا میں چودہ سو برس سے مصروف ہے۔ مرزا غلام احمد قادیانی کہتا ہے کہ مجھے الہام ہوا:

کو) مقام محمود تک پہنچا دے۔“

(حقیقت الوحی ص ١٠٢، خزائن ج ٢٢

ص ١٠٥)

حضور سرور کونین ﷺ کے امتیازات اپنی ذات کی جانب منسوب کرنا، حضور کی کھلی توہین اور آپؐ کے مقام اور انفرادیت کو چیلنج بھی ہے اور اللہ تعالیٰ نے آپؐ کو ساری مخلوق پر جو شرف ومجد عطا فرمایا ہے۔ اسے چھیننے کے مترادف بھی ہے اور ظاہر ہے کہ ان میں سے ہر جسارت کفر کی حیثیت بھی رکھتی ہے اور اس کا مرتکب دامن رسالت سے اسی طرح الجھتا ہے۔ جس طرح شرار بولہبی اور ایسے شخص کا وہی مقام ہے جو ابولہب کا تھا۔ ”تبت یدا ابی لھب و تب“

محمد رسول اللہ اور احمد آخر زماں ہونے کا دعویٰ

مرزا غلام احمد قادیانی اور ان کے ماننے والوں کے کافر اور خارج از اسلام قرار دیئے جانے کی چھٹی وجہ یہ ہے کہ مرزا غلام احمد قادیانی نے محمد رسول اللہ اور احمد آخر زماں ہونے کا دعویٰ کیا اور قادیانیوں نے اس دعوے کو قبول کر لیا اور وہ ایمان لائے کہ فی الواقع مرزا غلام احمد، محمد رسول اللہ بھی ہیں اور احمد آخر الزماں بھی۔

چونکہ مرزا غلام احمد قادیانی مدعی نبوت کاذبہ ہونے کے باعث حضور خاتم النبیین ﷺ کے ارشاد کے مطابق صفت دجالیت بھی اپنے اندر رکھتے تھے۔ اس لئے انہوں

٤١

صفحہ ٧٠

نے اولاً تو اپنے ناقابل برداشت اور اشتعال انگیز عقائد پر اشتعال میں آنے سے روکنے اور دھوکہ دینے کے لئے ایک ”غیر اسلامی“ نظریہ بروز وظل جو از قسم آوا گون وتناسخ تھا۔ اس کا سہارا لیا اور اپنے دعوے کو ظل (سائے) اور بروز کے پردے میں چھپایا۔ لیکن آخر کار وہ اس مقام پر پہنچے جو فی الحقیقت ان کے پیش نظر تھا۔ یعنی یہ کہ وہ محمد بھی ہیں اور احمد بھی اور مزید یہ کہ حضور ﷺ کے بارے میں چونکہ امت مسلمہ یہ عقیدہ رکھتی تھی اور ہے کہ حضور خاتم النبیین ﷺ ہونے کی حیثیت سے پیغمبر آخرالزمان بھی ہیں۔ اس لئے مرزا غلام احمد قادیانی نے صراحۃً دعویٰ کر دیا کہ میں احمد آخر زمان ہوں۔ وہ کہتے ہیں ؎

احمد آخر زماں نام من است
آخریں جامے ہمیں جام من است

(سراج منیر ص ٩٩، خزائن ج ١٢ ص ١٠١)

احمد آخر زمان میرا نام ہے اور (ایمان ومعرفت کا) آخری جام میرا ہی جام ہے۔ مرزا غلام احمد قادیانی کہتے ہیں: ”محمد رسول اللہ والذین معہ اشداء علی الکفار رحماء بینہم اس وحی الٰہی میں میرا نام محمد رکھا گیا اور رسول بھی۔“

(ایک غلطی کا ازالہ ص ٣، خزائن ج ١٨ ص ٢٠٧)

جو لوگ مرزا غلام احمد قادیانی اور ان کی امت کے کسی بظاہر اچھے یا دینی کام سے متاثر ہو کر یا محض انسانی جذبے کی بناء پر انہیں کافر، امت محمدیہ سے خارج اور دین حق سے مرتد قرار دینے میں پس و پیش کرتے ہیں۔ ہم ان کی توجہ اس جسارت کی جانب مبذول کراتے ہیں جو اس شخص نے محولہ بالا شعر اور قرآن مجید کی آیت ”محمد رسول اللہ والذین معہ“ کو اپنے اوپر چسپاں کرنے کی صورت میں کی۔ اعلانیہ یہ کہنا کہ آخری جام معرفت و ایمان میرا ہی جام ہے اور میں احمد آخر الزمان بھی ہوں اور یہ میری ہی شان ہے کہ قرآن نازل فرمانے والے غیور رب ذوالجلال کے ہاں میں محمد بھی ہوں اور رسول اللہ بھی۔

کیا اس عظیم ادعا کے بعد اس شخص کے بارے میں ایمانی غیرت انگڑائی نہیں لے گی اور اسے محض کافر قرار دیئے جانے میں بھی لیت ولعل کا رویہ اختیار کیا جائے گا اور جو لوگ مرزا غلام احمد قادیانی کے اس ناقابل برداشت ادعا کو درست تسلیم کرتے ہیں۔ انہیں مسلمان بھی تسلیم کیا جائے گا اور مرزا قادیانی اور ان کے ماننے والوں کو دنیا کے مجہول تصور اقلیت کی

٤٢

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٧١

بناء پر یہ حق دینا گوارا کر لیا جائے گا کہ وہ محمد ﷺ (فداہ روحی ونفسی وابی وامی) کی امت میں اپنے اس کفر کو پھیلا سکیں؟

رب غیور کی قسم! نہ اس کا کوئی جواز ہے اور نہ اسے غیرت ایمانی کبھی گوارا کر سکتی ہے۔ خواہ اس پر بین الاقوامی سطح کی بیسیوں کانفرنسوں کا دباؤ اور ہزاروں کافرانہ تصورات و معتقدات کی چھاپ ہی کیوں نہ لگی ہو۔ حضور کی امت کے ایک پستہ قد، کم عقل اور محروم وسائل فرد کے ایمان کی حفاظت کفار عالم کے تصرف میں ہزاروں بین الاقوامی اداروں کے فیصلوں سے زیادہ اہم ہے اور ایک مسلمان فرد اور مسلمان حکومت ایسے بے حیثیت مسلمان کے ایمان کی حفاظت سے غفلت کے ارتکاب کے بعد حضور ﷺ کی شفاعت کی امید نہیں کر سکتی۔

دشمن انبیاء جماعت

توہین مسیح ابن مریم علیہ السلام

مرزا غلام احمد قادیانی اور ان کے ماننے والوں کو کافر اور خارج از اسلام قرار دیئے جانے کی ساتویں وجہ یہ ہے کہ مرزا غلام احمد قادیانی نے متعدد انبیاء بالخصوص سیدنا مسیح ابن مریم علیہ السلام کو ایسے افعال کا مرتکب بتایا اور ایسے فواحش ان کی جانب منسوب کئے۔ جنہیں اوباش و بدقماش انسان بھی اپنی جانب منسوب کرنا گوارا نہیں کرتے اور اس سے مقصود مرزا غلام احمد قادیانی کا اس کے سوا کچھ نہیں تھا کہ وہ چونکہ مسیح موعود بننا چاہتے تھے اور اس کا راستہ انہوں نے یہ منتخب کیا تھا کہ اولاً اپنے آپ کو صرف مثیل مسیح کہا اور یہ بھی کہا کہ لوگو! میرے اس دعویٰ سے گھبراؤ مت، مثیل مسیح کی کچھ ایسی اہمیت نہیں ہے۔ مثیل مسیح تو ”میرے نزدیک ممکن ہے کہ آئندہ زمانوں میں میرے جیسے اور دس ہزار بھی مثیل مسیح آ جائیں۔ ہاں اس زمانہ کے لئے میں مثیل مسیح ہوں۔“

(ازالہ اوہام ص ١٩٩، خزائن ج ٣ ص ١٩٧)

اس سے مرزا غلام احمد قادیانی کا مقصد تو یہ تھا کہ جب مثیل مسیح کا منصب اتنا عام ہے کہ دس ہزار افراد بھی اس عہدے پر فائز ہو سکتے ہیں تو مرزا غلام احمد قادیانی پر کچھ زیادہ لے دے نہ کی جائے اور اس منصب کو اہمیت نہ دیتے ہوئے مرزا غلام احمد قادیانی کے بعض شدید نفسیاتی معائب کے باوجود انہیں مثیل مسیح مان لیا جائے۔ لیکن باوجود بہت سی کمزوریوں کے مسلمانوں میں ہنوز دینی روح زندہ تھی اور وہ منصب نبوت کی عظمت و پاکیزگی کے اس حد تک معتقد تھے کہ

٤٣

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٧٢

اگر کوئی پست اخلاق شخص اپنے آپ کو اس بلند مرتبے کی جانب منسوب کرے تو وہ اس کی پستی کو اس کے دعوؤں کی تردید کے لئے بطور دلیل پیش کریں۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا اور مرزا غلام احمد قادیانی کے دعویٰ مثیل مسیح کو باطل ثابت کرنے کے لئے اس دور کے مسلمانوں نے منجملہ دوسرے قوی دلائل کے ایک دلیل یہ بھی پیش کی کہ تم جیسا پست اخلاق شخص ایسے پاک نبی کا مثیل کیسے ہوسکتا ہے۔ جسے قرآن عزیز ایسی مہیمن ومحافظ کتاب نے ”وجیها فی الدنیا والآخرة ومن المقربین (آل عمران: ٤٥)“ ، ”آیة للناس ورحمة (مریم: ٢١)“ ، ”عبد انعمنا علیه (زخرف: ٥٩)“ کے اعزازات سے نوازا ہے اور پھر اسی کے ساتھ ان مسلمانوں نے مرزا غلام احمد قادیانی سے یہ بھی کہا کہ مسیح ابن مریم علیہ السلام کے معجزات اور ان کی صداقت کے بہت سے دوسرے دلائل وشواہد ایسے ہیں جن سے آپ کو کوئی بھی تعلق نہیں۔ اس لئے کیوں نہ آپ کو جھوٹا مدعی تسلیم کیا جائے۔

مرزا غلام احمد نے اس سوال کا جواب دینے کے لئے یوں تو ساری عمر کھپادی۔ لیکن بعض مستقل تصانیف بھی اسی سوال کے جواب کے لئے وقف کیں۔ بطور مثال ”ازالہ اوہام“ جس کے آغاز ہی میں وہ اس کتاب کا مدعاء تصنیف بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں: ”اس سوال کا جواب کہ حضرت مسیح ابن مریم نے مردوں کو زندہ کیا اور اندھوں کو آنکھیں بخشیں۔ بہروں کے کان کھولے۔ ان تمام معجزات میں مثیل مسیح (مرزا غلام احمد قادیانی) نے کیا دکھایا۔“

(ازالہ اوہام ص ١، خزائن ج ٣ ص ١٠٣)

اس کتاب (ازالہ اوہام) میں مرزا غلام احمد قادیانی نے مسلمانوں کے اس سوال کے اس دوسرے پہلو کو کہ مسیح ابن مریم علیہ السلام کے اخلاق فاضلہ اور ان کے سراپا رحمت ہونے پر تو قرآن مجید شاہد ہے۔ مگر تمہارے اخلاق کیسے ہیں؟ اور یہ جو تمہارے بارے میں اخلاقی پستی کی متعدد روایات مشہور ہیں۔ ان کی حقیقت کیا ہے؟ اور اگر یہ روایات درست ہیں تو آپ کس طرح مثیل مسیح ہو سکتے ہیں؟ اس کا جواب براہ راست بھی اگرچہ انہوں نے دیا تاہم اپنے افتاد ومزاج کے مطابق اس پہلو کو سب سے زیادہ اہمیت دی کہ انبیاء صادقین بالخصوص حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی جانب انتہائی نازیبا اعمال واخلاق منسوب کئے اور ان کی اس طرح توہین کی کہ یہودیوں کے علاوہ اس کی کوئی مثال اور کسی کے ہاں نہیں ملتی۔

مرزا غلام احمد قادیانی نے یوں تو بے شمار مقامات اور بیسیوں کتابوں میں سیدنا مسیح ابن

٤٤

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٧٣

مریم علیہ السلام کی توہین کی ہے۔ مگر ہم صرف چند ایسے حوالوں پر اکتفا کریں گے جن میں مرزا غلام احمد قادیانی نے صراحتاً اپنا عقیدہ بیان کیا ہے۔ یا پھر قرآن مجید پر بھی یہ افتراء کیا ہے کہ وہ ان گندے اور بیہودہ اعمال کی نسبت مسیح ابن مریم علیہ السلام کی جانب درست قرار دیتا ہے اور یہ اس لئے کہ ہم قادیانیوں کے اس عذر لنگ کو ابتدا ہی میں ختم کر دینا چاہتے ہیں کہ مرزا غلام احمد قادیانی نے مسیح ابن مریم اور عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں تو کوئی توہین آمیز بات نہیں کہی۔ وہ تو ایک موہوم شخصیت یسوع کے بارے میں ایسی باتیں کہتے ہیں جسے بائبل میں مدعی الوہیت دکھایا گیا ہے اور یا پھر یہ کہ مرزا غلام احمد قادیانی نے مسیح ابن مریم علیہ السلام کے بارے میں اگر بدزبانی کی بھی ہے تو صرف عیسائیوں کی اس بدزبانی کے جواب میں جو انہوں نے حضور، رحمت ہر دوعالم، خاتم النبیین، محمد مصطفیٰ ﷺ کی شان میں کی تھی۔

ہر چند کہ یہ دونوں عذر اس بات کی شہادت ہیں کہ قادیانی امت بشمول مرزا غلام احمد قادیانی اسلام کے تصورات و معتقدات سے یکسر محروم بلکہ نابلد ہیں اور یہ اس لئے کہ نہ تو یسوع کی کوئی فرضی شخصیت ہے جو یہودیوں نے اپنے ذہن اور اپنی کتب میں بٹھا رکھی ہے اور وہ اس کا جواز مہیا کرتی ہے کہ اب کوئی ناہنجار جو چاہے حضرت مسیح علیہ السلام کے بارے میں کہے اور نہ ہی حضرت سید العالمین ﷺ کی شان اقدس میں عیسائیوں کی گستاخی و بدزبانی سے کسی مسلمان کہلانے والے کے لئے یہ جواز مہیا ہو جاتا ہے کہ وہ سیدنا مسیح علیہ السلام کے بارے میں بدزبانی کرے۔

اس مثبت تردید کے باوجود ہم اتمام حجت کے لئے اس موضوع کے اختتام پر بعنوان ”قطع شہ رگ دجالیت“ پر مختصر بحث کریں گے۔ اس مقام پر ہمیں قارئین محترم اور بالخصوص قادیانی حضرات کی توجہ اس جانب مبذول کرانا ہے کہ اسلام یہودیوں کی بدزبانی اور عیسائیوں کی جانب سے حضور خاتم النبیین ﷺ کی مسلسل توہین کے سلسلہ اور انتہائی اذیت رسانی کے باوجود برملا اہل ایمان کا موقف ان الفاظ میں پیش کرتا ہے: ”لا نفرق بین احد من رسله (بقرہ: ٢٨٥)“ {ہم اللہ کے رسولوں کے مابین تفریق نہیں کرتے۔}

قرآن مجید، رسالت اور دوسرے اساسی معتقدات کے بارے میں اپنا اور عام مسلمانوں ہی کا نہیں خود خاتم النبیین ﷺ کا موقف بھی اس انداز سے بیان فرماتا ہے: ”اٰمن الرسول بما انزل الیه من ربه والمؤمنون کل اٰمن بالله وملائكته وكتبه ورسله لا

٤٥

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٧٤

نفرق بین احد من رسلہ (بقرہ:٢٨٥) ”{”الرسول“ (آنحضور ﷺ) ایمان لائے اس وحی پر جو ان کی جانب نازل ہوئی اور تمام اہل ایمان بھی یہ سب کے سب ایمان لائے اللہ پر اس کے ملائکہ پر اس کی کتابوں پر، اس کے رسولوں پر اور (وہ کہتے ہیں کہ) ہم اللہ کے رسولوں میں تفریق نہیں کرتے۔}

رسالت کا تقدس ایمانیات کا وہ جوہری عنصر ہے۔ جسے صدمہ پہنچنے سے تمام ایمانی عمارت چھتوں اور دیواروں سمیت دھڑام سے نیچے آ رہتی ہے۔ اسی باعث قرآن مجید نے ان انبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام کے تقدس، پاکیزگی اور عظمت کا بیان بطور خاص کیا۔ جن کے بارے میں راویان کذب شعار، محرفین کتب سماویہ اور دین حق کو بگاڑنے والوں کی ریشہ دوانیوں اور سازشوں کے باعث لغو قسم کی باتیں بعض کتب سابقہ میں پائی جاتی تھیں۔

علاوہ بریں امام الانبیاء ﷺ نے جب کبھی یہ محسوس فرمایا کہ کسی بھی نبی برحق کے بارے میں کوئی ناروا تاثر کسی فرد کے ذہن پر اثر انداز ہو سکتا ہے تو حضور ﷺ نے ان کی عظمت کی حفاظت یا بحالی کے لئے ایسا اسلوب اختیار فرمایا جو حضور ﷺ کی عظمت کا بھی عکاس تھا اور مقام نبوت کا جو تقدس حضور ﷺ کے ہاں دین کی بنیادی ضرورت کے طور پر ہر مسلمان کے ذہن میں راسخ ہونا ضروری تھا۔ اس کے استحکام کے لئے بھی ناگزیر تھا۔

مثلاً سیدنا یوسف علیہ الصلوٰۃ والسلام کے بارے میں کسی غلط تاثر کا شائبہ تھا تو حضور ﷺ نے ایک جانب الکریم ابن الکریم ابن الکریم ابن الکریم، یوسف ابن یعقوب ابن اسحاق ابن ابراہیم کے انداز سے ذکر فرمایا۔

ایک دوسرے موقع پر سیدنا یوسف علیہ السلام کے اس واقعہ کا تذکرہ تھا کہ نو برس کی طویل قید کے بعد جب بادشاہ کے ہاں سے رہائی کا حکم آیا تو حضرت یوسف علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فوری طور پر رہائی کے بجائے اس پیامبر سے کہا کہ جاؤ بادشاہ سے دریافت کرو کہ جن عورتوں نے (زلیخا کی ایک تدبیر کے تحت) مجھے دیکھ کر اپنے ہاتھ کاٹ لئے تھے۔ ان کے قصے کا کیا ہوا؟ یعنی آپ نے طویل قید کے بعد بھی جیل سے اپنی آزادی کے پیغام پر اس الزام کی بریت کو اہمیت دی جو ان عورتوں کے قصے سے متعلق تھا۔ اس واقعہ کے تذکرے میں امام الانبیاء ﷺ نے فرمایا اگر یوسف علیہ السلام کی جگہ میں ہوتا تو اس پیامبر کے پروانہ آزادی کو اسی وقت قبول کر لیتا۔ (لاجبت الداعی) گویا حضور اکرم ﷺ نے اس عدیم النظیر ایثار کا مظاہرہ فرمایا کہ سیدنا یوسف علیہ السلام کے اس طرز عمل کی عظمت و اہمیت کو اپنے عظیم تر کردار سے بھی برتر صورت میں

٤٦

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٧٥

پیش فرمایا۔

مقصد حضور ﷺ کا ایسے تمام مواقع پر یہ تھا کہ اللہ ذوالجلال والاکرام کے ہر نبی کی عظمت اور اس کے تقدس کو کماحقہ اجاگر کیا جائے۔ بالخصوص جہاں کسی نبی کے بارے میں کسی ایسے تاثر کا امکان ہو جس سے اس کی عظمت پر حرف آتا ہو۔

اس کے برعکس مرزا غلام احمد قادیانی کا معمول یہ رہا کہ ہر نبی کے بالمقابل اپنی برتری کا اظہار کریں اور اللہ کے نبی کی تنقیص۔ چنانچہ انہی کریم ابن الکریم ابن الکریم ابن الکریم یوسف ابن یعقوب ابن اسحاق ابن ابراہیم علیہم الصلوٰۃ والسلام کا ذکر آیا تو مرزا غلام احمد نے کہا: ”پس میں اس امت کا یوسف ہوں۔ یعنی یہ عاجز اسرائیلی یوسف سے بڑھ کر ہے۔ کیونکہ یہ عاجز قید کی دعا کر کے بھی قید سے بچایا گیا۔ مگر یوسف بن یعقوب قید میں ڈالا گیا اور اس امت کے یوسف (مرزا قادیانی) کی بریت کے لئے پچیس برس پہلے ہی خدا نے آپ گواہی دے دی اور، اور بھی نشان دکھلائے۔ مگر یوسف بن یعقوب اپنی بریت کے لئے انسانی گواہی کا محتاج ہوا۔“

(براہین احمدیہ ص ٧٦، خزائن ج ٢١ ص ٩٩)

بلاشبہ اصحاب ذوق اسے مرزا غلام احمد قادیانی کے ذہنی مریض ہونے پر محمول کریں گے کہ احساس کمتری نے اسے اس حد تک مجبور و بے بس کر دیا کہ وہ کسی بھی معقول وجہ کے بغیر اپنے آپ کو سیدنا یوسف علیہ السلام کے بالمقابل لاکر خانہ ساز، نشان بازی کی بنیاد پر اظہار برتری کر رہے ہیں اور یہ اس امر کی دلیل ہے کہ مرزا غلام احمد قادیانی احساس کمتری کے مریض تھے اور ان کی ایسی حرکتیں، نفسیاتی بیماریاں شمار کی جانی چاہئیں۔ مگر آسمانی ادیان کے ماننے والوں کا موقف یہ ہے کہ اگرچہ نفسیاتی بیماری بھی قابل نفرت ہے۔ لیکن اس سے زیادہ یہ امر مستحق توجہ ہے کہ مرزا غلام احمد قادیانی کا یہ رویہ نبوت کی عظمت اور تقدس کے پہلو سے خصوصی اہمیت کا حامل ہے اور دوسرے یہ کہ متعدد انبیاء کرام علیہم الصلوٰۃ والسلام کے بارے میں بھی ان کی روش ایسی ہی تھی اور یہ روش ایمان بالرسالت کے اس مفہوم کی نفی کے مترادف ہے۔ جس کا حوالہ ہم نے اوپر آیات قرآنیہ سے دیا ہے۔

اللہ رب العزت کے رسول اور چور

ایمانی جذبات پر پتھر رکھ کر ایک حوالہ پڑھ لیجئے اور اپنے ہی دل سے پوچھئے کہ جو شخص اللہ رب العزت کے محبوب و منتخب انبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام کے بارے میں یہ زبان استعمال کرتا

٤٧

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٧٦

ہے وہ نبوت کو کیا سمجھتا ہے اور انبیاء کا مقام اس کے ہاں کیا ہے اور دین کی رو سے اس کا مقام کیا ہے؟ مرزا غلام احمد قادیانی لکھتے ہیں: ”یہودیوں اور عیسائیوں اور مسلمانوں پر باعث ان کے پوشیدہ گناہ کے یہ ابتلاء آیا جن راہوں سے وہ اپنے موعود نبیوں کا انتظار کرتے رہے۔ ان راہوں سے وہ نبی نہیں آئے۔ بلکہ چور کی طرح کسی اور راہ سے آگئے۔“

(نزول المسیح ص ٣٦، خزائن ج ١٨ ص ٤١٣)

اگر توہین انبیاء کے بارے میں صرف یہی حوالہ پیش کر کے مرزا غلام احمد قادیانی پر کفر کا فتویٰ صادر کر دیا جاتا تو تنہا یہی حوالہ کافی تھا۔ مگر یہاں تو یہودیت اپنی تمام تر قباحتوں اور رذالتوں کے ساتھ عنفوان شباب پر ہے۔ لیکن جیسا کہ ہم نے اس عنوان کے شروع میں عرض کیا ہم توہین انبیاء کے موضوع کو سیدنا مسیح ابن مریم کی ذات تک محدود رکھتے ہیں کہ یہاں تو وہ (مرزا قادیانی) سراپا یہودیت کے ترجمان اور عکاس تھے۔ مگر سابقہ وضاحت کے مطابق ہم اس عنوان کے تحت بھی ان کی صرف انہی چند تحریروں پر اکتفا کریں گے۔ جن میں مرزا غلام احمد قادیانی نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام یا حضرت مسیح ابن مریم کی جانب انتہائی فحش اور رذیل اعمال کی نسبت کی ہے یا پھر ان تحریروں میں سے چند ایک جن میں مرزا قادیانی نے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ ان میں جو الزامات حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر لگائے گئے ہیں۔ قرآن مجید بھی ان الزامات کی تصدیق کرتا ہے۔ نعوذ باللہ من ذالک!

سیدنا مسیح ابن مریم علیہ السلام کے بارے میں مرزا غلام احمد قادیانی کہتے ہیں: ”تعجب ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے خود اخلاقی تعلیم پر عمل نہیں کیا..... انجیر کے درخت کو بغیر پھل کے دیکھ کر اس پر بددعا کی اور دوسروں کو دعا کرنا سکھلایا اور دوسروں کو یہ بھی حکم دیا کہ تم کسی کو احمق مت کہو۔ مگر خود اس قدر بدزبانی میں بڑھ گئے کہ یہودی بزرگوں کو ولد الحرام تک کہہ دیا اور ہر ایک وعظ میں یہودی علماء کو سخت سخت گالیاں دیں اور برے برے ان کے نام رکھے۔ اخلاقی معلم کا فرض یہ ہے کہ پہلے اخلاق کریمہ دکھلا دے۔ پس کیا ایسی ناقص تعلیم جس پر انہوں نے آپ بھی عمل نہ کیا۔ خدا تعالیٰ کی طرف سے ہو سکتی ہے۔“

(چشمہ مسیحی ص ١١، خزائن ج ٢٠

ص ٣٤٦)

خدا تعالیٰ کے ایک اولوالعزم نبی پر یہ تہمت کہ انہوں نے بنی اسرائیل کی اصلاح کے لئے جو اخلاقی تعلیم پیش کی تھی۔ خود انہوں نے اس پر عمل نہیں کیا اور کہ وہ قدم قدم پر بدزبانی کے

٤٨

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٧٧

مرتکب ہوتے تھے اور انہوں نے ایسا رویہ اختیار کیا جو ایک اخلاقی معلم کے منصب ومقام سے گرا ہوا تھا۔ اس بات کا ثبوت ہے کہ یا تو مرزا غلام احمد قادیانی نبوت کے ابتدائی تصور ہی سے تہی دامن تھے یا وہ حضرت مسیح ابن مریم علیہ السلام کو نبی تو کجا ایک عام اچھا با اصول اور با اخلاق انسان بھی نہیں مانتے تھے اور پھر یا یہ کہ وہ مسیح دشمنی اور اپنے فروتر و پست مقام سے اس حد تک متاثر و منفعل تھے کہ وہ اس مقام کو قابل قبول بنانے کے لئے خدا کے ایک عظیم پیغمبر کو اپنے جیسا ثابت کرنے پر تلے ہوئے تھے۔

وجہ کوئی بھی ہو۔ مرزا غلام احمد قادیانی نے کھلے بندوں کسی ”یسوع“ کا نہیں، عیسیٰ علیہ السلام کا نام لے کر ان کی شدید ترین توہین کا ارتکاب کیا ہے۔

معجزات مسیح اور گوسالہ سامری

قرآن مجید سیدنا مسیح علیہ السلام کے بارے میں فرماتا ہے: ”انی قد جئتکم بآیۃ من ربکم انی اخلق لکم من الطین کہیئۃ الطیر فانفخ فیہ فیکون طیراً باذن اللہ وابرئ الاکمہ والابرص واحی الموتیٰ باذن اللہ وانبئکم بما تاکلون وما تدخرون فی بیوتکم ان فی ذلک لآیۃ لکم ان کنتم مؤمنین (آل عمران: ٤٩)“ {میں تمہارے پاس تمہارے رب کی جانب سے نشانی لایا ہوں۔ میں تمہارے لئے مٹی سے پرندے کی صورت بناتا ہوں۔ پھر اس میں روح پھونکتا ہوں تو وہ اللہ کے حکم سے اڑتا ہوا جانور ہو جاتا ہے۔ میں مادر زاد اندھے اور مجذوم اور مبروص کو اللہ کے اذن سے ان بیماریوں سے نجات دلاتا ہوں اور تم جو کچھ اپنے گھروں میں کھاتے اور ذخیرہ کرتے ہو۔ اس کی تمہیں اطلاع دیتا ہوں۔ اگر تم مؤمن ہو تو ان امور میں تمہارے لئے نشانیاں موجود ہیں (کہ میں اس اللہ کی جانب سے آیا ہوں۔ جس کے اذن وحکم سے یہ تمام کام انجام دیتا ہوں)}

یہ تو تھی قرآن عزیز کی صراحت، سیدنا مسیح ابن مریم علیہ السلام کے معجزات کے سلسلے میں، مگر آئیے۔ دیکھئے مرزا غلام احمد قادیانی ان اعجازی کاموں کے بارے میں کیا کہتے ہیں: ”یہ اعتقاد بالکل غلط اور فاسد اور مشرکانہ ہے کہ مسیح مٹی کے پرندے بنا کر اور ان میں پھونک مار کر انہیں سچ مچ کے جانور بنا دیتا تھا۔ بلکہ صرف عمل الترب تھا جو روح کی قوت سے ترقی پذیر ہو گیا تھا۔ یہ بھی ممکن ہے کہ مسیح ایسے کام کے لئے اس تالاب کی مٹی لاتا تھا۔ جس میں روح القدس کی تاثیر رکھی گئی تھی۔ بہر حال یہ معجزہ صرف ایک کھیل کی قسم میں سے تھا اور وہ مٹی در حقیقت ایک مٹی

٤٩

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٧٨

ہی رہتی تھی۔ جیسے سامری کا گوسالہ: فتدبر فانہ نکتة جليلة وما يلقاها الا ذو حظ عظيم“

(ازالہ اوہام ص ٣٢٢ حاشیہ، خزائن ج ٣ ص ٢٦٣)

جسارت ملاحظہ ہو۔ قرآن مجید ان واقعات کو ”آیۃ من ربکم“ ”تمہارے رب کی طرف سے نشانی“ کہتا ہے اور مرزا غلام احمد قادیانی کے نزدیک یہ سب کچھ صرف ایک کھیل کی قسم میں سے تھا۔ مزید برآں مرزا غلام احمد قادیانی کے ذہن کی عکاسی کا صحیح مظہر یہ کہ ان کے نزدیک سیدنا مسیح علیہ السلام کے یہ معجزات اور آیات الہیہ وہی حیثیت رکھتی ہیں جو مردود بارگاہ قدس ملعون سامری کے گوسالہ کی تھی۔ جس طرح سامری نے گوسالہ کے ذریعہ، اپنی قوم کو گمراہ کیا اور وہ اللہ عزوجل کے عذاب کا مستحق ٹھہرا۔ مرزا غلام احمد قادیانی کے مذہب کے مطابق یہی حیثیت سیدنا مسیح علیہ السلام کے ان معجزات کی ہے۔

تیسرا پہلو مرزا غلام احمد قادیانی کے ایمان کی حقیقت کا یہ کہ وہ مسیح علیہ السلام کے اس معجزہ کو عمل الترب کہتے ہیں اور سلسلۂ گفتگو کے آخر میں انہوں نے کہا ہے کہ: ”فتدبر فانہ نكتة جليلة وما يلقها الا ذوحظ عظیم کہ تم غور وتدبر سے کام لو۔ یہ اہم اور جلیل الشان نکتہ ہے جو صرف انہیں ہی عطا ہوتا ہے۔ جو عظیم سعادت سے نوازے گئے ہوں۔“

(ازالہ اوہام ص ٣٢٢ حاشیہ، خزائن ج ٣ ص ٢٦٣)

مرزا غلام احمد قادیانی نے یہ جملہ لکھ کر نہ صرف اس امر کا اعتراف کیا کہ میں نے مسیح علیہ السلام کے معجزات کو لہو ولعب اور عمل الترب قرار دیا ہے۔ بلکہ انہوں نے یہ اظہار بھی کیا کہ مسیح ابن مریم کے معجزات کی یہ حقیقت جو میں نے بیان کی ہے۔ یہ بڑے معرکے اور معرفت کی بات تھی۔ جو مجھے سوجھی یا سمجھائی گئی ہے اور ایسے اہم اور جلیل الشان نکتے انہی لوگوں کو سمجھائے جاتے ہیں جو بارگاہ رب العزت میں مقبول، معزز اور صاحب سعادت ہوں۔ اب دیکھنا ہے کہ یہ عمل الترب ہے کیا؟ مرزا غلام احمد قادیانی ہی کی زبانی سنئے۔ کہتے ہیں: ”یہ بھی قرین قیاس ہے کہ ایسے ایسے اعجاز (واضح رہے مرزا غلام احمد قادیانی ان کاموں کو اعجاز تسلیم کر کے انہیں عمل الترب کہتے ہیں) عمل الترب یعنی مسمریزی طریق سے بطور لہو ولعب نہ بطور حقیقت ظہور میں آسکیں۔ کیونکہ عمل الترب میں جس کو زمانہ حال میں مسمریزم کہتے ہیں۔ ایسے ایسے عجائبات ہیں کہ اس میں پوری پوری مشق کرنے والے اپنے روح کی گرمی دوسری چیزوں پر ڈال کر ان چیزوں کو زندہ کے موافق کر دکھاتے ہیں۔۔۔۔۔ اولیاء اور اہل سلوک کی تواریخ اور سوانح پر نظر ڈالنے سے معلوم ہوتا ہے

٥٠

صفحہ ٧٩

کہ کاملین ایسے عملوں سے پرہیز کرتے رہے ہیں۔ مگر بعض لوگ اپنی ولایت کا ثبوت بنانے کی غرض سے یا کسی اور نیت سے ان مشغلوں میں مبتلا ہو گئے تھے اور اب یہ بات قطعی اور یقینی طور پر ثابت ہوچکی ہے کہ حضرت مسیح ابن مریم باذن وحکم الہی الیسع نبی کی طرح اس عمل الترب میں کمال رکھتے تھے۔ گو الیسع کے درجہ کاملہ سے کم رہے ہوئے تھے...... اگر یہ عاجز اس عمل کو مکروہ اور قابل نفرت نہ سمجھتا تو خدا تعالیٰ کے فضل و توفیق سے امید قوی رکھتا تھا کہ ان عجوبہ نمائیوں میں حضرت مسیح ابن مریم سے کم نہ رہتا...... حضرت مسیح نے بھی اس عمل جسمانی کو یہودیوں کے جسمانی اور پست خیالات کی وجہ سے جو ان کی فطرت میں مرکوز تھے۔ باذن وحکم الہی اختیار کیا تھا۔ ورنہ دراصل مسیح کو بھی یہ عمل پسند نہ تھا۔ واضح ہو کہ اس عمل جسمانی کا ایک نہایت برا خاصہ یہ ہے کہ جو شخص اپنے تئیں اس مشغولی میں ڈالے اور جسمانی مرضوں کے رفع دفع کرنے کے لئے اپنی دلی و دماغی طاقتوں کو خرچ کرتا ہے۔ وہ اپنی روحانی تاثیروں میں جو روح پر اثر ڈال کر روحانی بیماریوں کو دور کرتی ہیں۔ بہت ضعیف اور نکما ہو جاتا ہے اور امر تنویر باطن اور تزکیہ نفوس کا جو اصل مقصد ہے اس کے ہاتھ سے بہت کم انجام پذیر ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ گو حضرت مسیح جسمانی بیماریوں کو اس عمل کے ذریعے اچھا کرتے رہے۔ مگر ہدایت اور توحید اور دینی استقامتوں کے کامل طور پر دلوں میں قائم کرنے کے بارے میں ان کی کاروائیوں کا نمبر ایسا کم درجہ کا رہا کہ قریب قریب ناکام رہے۔“

(ازالہ اوہام ص ٣٠٥ تا ٣١١ حاشیہ، خزائن ج ٣ ص ٢٥٥ تا ٢٥٨)

کیا کہا مرزا غلام احمد قادیانی نے؟ یہی نا کہ:

میں سے کامل حضرات اس مسمریزم سے پرہیز کرتے رہے ہیں۔

مترادف لفظ پر غور کیجئے) یا کسی اور نیت سے اس میں مبتلا ہو گئے ہیں وہ اس مسمریزم سے اجتناب نہیں کرتے۔

ہوچکی ہے کہ حضرت مسیح ابن مریم نے اللہ عزوجل کے اذن وحکم سے اس عمل کو شروع کیا۔

٥١

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٨٠

سے بھی زیادہ کامل درجے کے عامل تھے۔

اس عمل کو شروع کرنے کے باوجود اس عمل کو مکروہ اور قابل نفرت سمجھتا ہوں۔

روحانی بیماریوں کو دور کرنے کے بارے میں بہت ضعیف اور نکما ہو جاتا ہے اور مرزا غلام احمد قادیانی کے نزدیک یہی وجہ ہے کہ گو حضرت مسیح جسمانی بیماریوں کو اس عمل سے دور کرتے رہے۔ مگر ہدایت اور توحید اور دینی استقامت کو مؤثر بنانے میں قریباً قریباً ناکام رہے۔

ان تصریحات میں مرزا غلام احمد قادیانی نے توہین مسیح کے علاوہ حسب ذیل مزید وجوہ کفر کا ارتکاب کیا ہے۔

اللہ عزوجل پر شعبدہ بازی اور دھوکہ دہی کے حکم صادر کرنے کا افتراء، مرزا غلام احمد قادیانی نے اوّلاً مسیح علیہ السلام کو عمل الترب یعنی مسمریزم کا عامل قرار دیا۔ ثانیاً یہ صراحت کی کہ یہ عمل دراصل اسی قسم کا کھیل اور شعبدہ تھا۔ جس طرح سامری نے بچھڑا بنا کر بنی اسرائیل کے سامنے پیش کیا تھا اور مزید یہ کہ یہ عمل دھوکہ اور کھیل تھا۔

ان تصریحات کے بعد وہ کہتے ہیں کہ اللہ ذوالجلال نے اپنے دو انبیاء سیدنا مسیح ابن مریم اور سیدنا الیسع علیہما السلام کو صریح طور پر یہ حکم دیا کہ وہ اس عمل کو اختیار کریں۔ چنانچہ حضرت الیسع اس عمل میں اوّل نمبر پر کامیاب رہے اور دوسرے درجے میں حضرت مسیح۔

اسی پر بس نہیں، مرزا غلام احمد قادیانی کی تحقیق یا ان کے ایمانی و اعتقادی تصور کے مطابق اس عمل سے ان انبیاء بالخصوص مسیح ابن مریم علیہ السلام کی روحانی تاثیر، قریب قریب ختم ہو کر رہ گئی اور وہ اگرچہ بعض جسمانی بیماریوں کو شعبدہ بازی کی حد تک دور کرنے میں تو کامیاب ہو گئے۔ مگر لوگوں کی روحانی اصلاح میں وہ تقریباً ناکام ثابت ہوئے۔

دینیات سے ادنیٰ قسم کا تعلق رکھنے والا شخص بھی جانتا ہے کہ جو لوگ کسی دین پر اعتماد رکھتے اور کسی سلسلہ نبوت سے متعلق ہیں۔ وہ خواہ کتنے بڑے کفریات کے مرتکب ہوں۔ انہیں یہ جرأت نہ ہوگی کہ وہ بلا ابہام یہ کہہ دیں کہ اللہ رب العزت نے اپنے کسی منتخب پیغمبر کو دھوکے بازی،

٥٢

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٨١

شعبدہ اور کھیل تماشے کو معجزات کی صورت میں پیش کرنے کا حکم دیا اور حد یہ کہ پیغمبران عظام تک کو ایسے لغو اعمال کا حکم دیا۔ جو ان کے منصب رسالت ...... تزکیہ نفوس...... ہی کی نفی کے مترادف تھے اور یہ پیغمبر اس دھوکے بازی کو معمولی بنانے کے باعث روحانی تاثیر ہی سے محروم ہو گئے۔

اللہ رب العزت پر اس قسم کے افتراء اور ان کی شان اقدس میں اس انداز کی گستاخی کی جسارت شاید کسی بڑے سے بڑے کافر کو بھی نہ ہوئی ہوگی ۔ بنا بریں مرزا غلام احمد قادیانی اور قادیانیوں کو کافر قرار دیئے جانے کی نویں وجہ اللہ رب العزت جل وعلاء کی جانب ایک ایسے عمل کا حکم صادر کرنے کی نسبت ہے جو خود مرزا غلام احمد قادیانی کے نزدیک دھوکہ اور کھیل تھا اور جس سے پیغمبر تک کی روحانیت شل ہو کر رہ گئی ۔ ”ومن اظلم ممن افتریٰ علی اللہ کذباً وتعالیٰ اللہ عن ذلک علواً کبیراً “

اللہ عزوجل کے حکم پر نفرت و بیزاری کا اظہار

دسویں وجہ، مرزا غلام احمد قادیانی اور ان کی امت کو کافر قرار دیے جانے کی یہ ہے کہ انہوں نے یہ افتراء بھی کیا کہ اللہ تعالیٰ نے سیدنا مسیح ابن مریم اور سیدنا الیسع علیہما السلام کو مسمریزم کا حکم دیا اور اسی کے ساتھ ہی مرزا غلام احمد قادیانی نے یہ بھی کہا کہ میرے نزدیک مسمریزم قابل نفرت ہے اور میں اگر اس سے نفرت نہ کرتا تو مسیح ابن مریم سے کہیں زیادہ کامیاب ہوتا۔

مرزا غلام احمد قادیانی لکھتے ہیں: ”اگر یہ عاجز اس عمل کو مکروہ اور قابل نفرت نہ سمجھتا تو خدا تعالیٰ کے فضل و توفیق سے امید قوی رکھتا تھا کہ ان عجوبہ نمائیوں میں حضرت مسیح ابن مریم سے کم نہ رہتا۔“

(ازالہ اوہام ص ٣٠٩ حاشیہ، خزائن ج ٣

ص ٢٥٨)

اور یہ اظہار نفرت و کراہت اس انکشاف کے بعد ہوا کہ: ” یہ بات قطعی اور یقینی طور پر ثابت ہو چکی ہے کہ حضرت مسیح ابن مریم باذن و حکم الٰہی الیسع نبی کی طرح اس ”عمل الترب“ میں کمال رکھتے تھے۔“

(ازالہ اوہام ص ٣٠٨ حاشیہ، خزائن ج ٣

ص ٢٥٧)

اللہ عزوجل جس کام کا حکم دے اس سے نفرت کا اظہار اور اسے مکروہ قرار دینا بارگاہ رب العزت میں کتنی کھلی گستاخی ہے؟ اس کا فیصلہ عام مسلمان ہی نہیں کفار بھی کر سکتے ہیں۔ شاید دنیا میں خدائے ذوالجلال کے ماننے والے کفار میں سے ایک شخص بھی ایسا نہیں ہوگا کہ جو یہ جرأت

٥٣

صفحہ ٨٢

کر سکے کہ ایک بات کو حکم الہی بھی مانے اور اس سے نفرت کا اظہار بھی کرے اور اسے مکروہ بھی کہے....... اللہ تعالیٰ کے حکم کو مکروہ کہنے اور اسے قابل نفرت قرار دینے کے بعد بھی اگر کوئی شخص مسلمان رہ سکتا ہے تو پھر کسی بڑے سے بڑے کافر کو بھی کافر قرار دیے جانے کا کوئی جواز نہیں۔

نبی اللہ کے معجزہ کو لہو ولعب اور دھوکہ قرار دینا

گیارہویں وجہ کفر یہ ہے کہ مرزا غلام احمد قادیانی نے سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کے ان معجزات کو لہو ولعب قرار دیا۔ جنہیں قرآن مجید، سیدنا مسیح ابن مریم علیہ السلام کی صداقت کے دلائل اور آیات الہیہ کی حیثیت دیتا ہے۔ سورہ آل عمران کی آیت ٤٩ معجزات مسیح اور گوسالہ سامری کے زیر عنوان پیش کی جا چکی ہے۔ اس آیت شریفہ اور دوسری متعدد آیات میں ان معجزات کو نہ صرف آیت من ربکم کے زیر عنوان پیش کیا گیا ہے۔ بلکہ ان میں سے ہر معجزے کو باذن اللہ سے مقید پیش کیا گیا ہے۔

”فیکون طیراً باذن اللہ وابری الاکمہ والابرص واحی الموتی باذن اللہ (آل عمران: ٤٩)“ {تو وہ جانور بن جاتے اور اڑتے بھی اللہ کے اذن سے اور میں مادر زاد اندھے کو بینا کرتا ہوں۔ جذامی اور برص زدہ کو تندرست اور مردہ کو زندہ کرتا ہوں۔ اللہ کے اذن سے۔}

لیکن مرزا غلام احمد قادیانی کا کہنا یہ ہے کہ: ”ممکن ہے کہ آپ (یسوع مسیح) نے معمولی تدبیر کے ساتھ کسی شب کور وغیرہ کو اچھا کیا ہو یا کسی اور ایسی بیماری کا علاج کیا ہو۔ مگر آپ کی بدقسمتی سے اسی زمانہ میں ایک تالاب بھی موجود تھا۔ جس سے بڑے بڑے نشان ظاہر ہوتے تھے۔ خیال ہو سکتا ہے کہ اس تالاب کی مٹی آپ بھی استعمال کرتے ہوں گے۔ اسی تالاب سے آپ کے معجزات کی پوری پوری حقیقت کھلتی ہے اور اسی تالاب نے فیصلہ کر دیا ہے کہ اگر آپ سے کوئی معجزہ ظاہر ہوا ہو تو وہ آپ کا نہیں اس تالاب کا معجزہ تھا اور آپ کے ہاتھ میں سوا مکر وفریب کے اور کچھ نہ تھا۔“

(ضمیمہ انجام آتھم ص ٧ حاشیہ، خزائن ج ١١ ص ٢٩١)

اگر کسی کے دل میں دین کا ابتدائی تصور بھی موجود ہو اور اسے اللہ عالم الغیب والشہادۃ کے سامنے پیش ہونے کا ذرہ برابر بھی احساس ہو اور وہ کم از کم نبوت کے اس پہلو ہی سے آگاہ ہو کہ یہ عظیم منصب تقویٰ، سچائی، اخلاص نیت اور پاکیزگی کردار کا حقیقی منبع ہے اور وہ جانتا ہو کہ نبی تو ہوتا ہی ان صفات کا مظہر اتم ہے۔ اس کی صحبت سے بہرہ ور افراد بھی ان صفات میں ضرب

٥٤

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٨٣

المثل اور قابل اسوہ ہوتے ہیں تو وہ اس بات پر حیران وششدر رہ جائے گا کہ مرزا غلام احمد قادیانی مدعی تو ہیں۔ اس کے کہ سیدنا محمد مصطفیٰ ﷺ کی مکہ معظمہ میں بعثت اولیٰ روحانیت کے پہلو سے پہلی رات کے چاند (ہلال) کی صورت میں تھی۔ لیکن (بزعم خویش) قادیان میں حضور کی دوسری بعثت جو میری (مرزا غلام احمد قادیانی کی) شکل میں ہوئی یہ روحانیت کی رو سے اتم اشد اور اکمل ہے۔

اس جسارت و ادّعا کے ساتھ ان کے اخلاق کا یہ حال کہ اوّلاً تو وہ کہتے ہیں کہ: ”مگر آپ کی بدقسمتی سے اسی زمانہ میں ایک تالاب بھی موجود تھا۔...... خیال ہو سکتا ہے کہ اس تالاب کی مٹی آپ بھی استعمال کرتے ہوں گے۔“

(ضمیمہ انجام آتھم ص ٧ حاشیہ، خزائن ج ١١ ص ٢٩١)

یہاں بات ”صرف خیال ہو سکتا“ کی حد تک تھی۔ لیکن اس شخص کی ذہنی اور قلبی کیفیت کا اندازہ اس سے ہو سکتا ہے کہ پہلے تو ”خیال ہو سکتا ہے“ کا نرم جملہ استعمال کیا۔ اگرچہ یہ خیال بجائے خود ایک نبی کے بارے میں ”کفر“ کے مترادف ہے کہ وہ ایک معجزے کے لئے اس قسم کی دھوکہ بازی کرے کہ استعمال تو کرے ایک تالاب کی مٹی، جس میں مذکورہ قسم کی صلاحیت موجود ہو اور پھر جب چوری چھپے یہ مٹی لے آئے تو اس سے ظاہر ہونے والے کرشمے کو معجزہ کا نام دے۔

لیکن اس سے بھی زیادہ مرزا غلام احمد قادیانی کے اندرون کا یہ ابتر حال کہ ایک لمحہ پہلے تو انہوں نے ”خیال ہو سکتا ہے“ کے موہوم اور ”استعمال کرتے ہوں گے“ کے امکانی تصور بلکہ تخیل کو ظاہر کیا۔ لیکن دوسرے لمحے میں ہی اسے ایک یقینی اور حتمی حقیقت اور واقعہ کی صورت دے دی اور برملا کہا کہ : ”اسی تالاب سے آپ کے معجزات کی ”پوری پوری حقیقت“ کھلتی ہے اور اس تالاب نے فیصلہ کر دیا...... (کہ) آپ کے ہاتھ میں سوا ”مکر و فریب“ کے کچھ نہ تھا۔“

(ضمیمہ انجام آتھم ص ٧ حاشیہ، خزائن ج ١١ ص ٢٩١)

”ہو سکتا ہے“ ، ”ہو گیا“ میں بدل گیا۔ ”استعمال کرتے ہوں گے“ ، ”یقینا استعمال کرتے تھے“ میں تبدیل ہوا اور اس نے پوری حقیقت کھول دی اور آخر اس نے ”فیصلہ“ صادر کر دیا کہ مسیح یسوع کے ہاتھ میں ”مکر و فریب“ کے سوا کچھ نہ تھا۔

جو لوگ مرزا غلام احمد قادیانی کو اس مقام پر فائز مانتے ہیں۔ جس کا حوالہ اوپر دیا جا چکا ہے کہ نعوذ باللہ من ذالک، سید الکونین محمد مصطفیٰ ﷺ کی بعثت ثانیہ مرزا غلام احمد قادیانی کی صورت میں قادیان میں ہوئی اور وہ حضور ﷺ کی مکہ مکرمہ میں پہلی بعثت سے کہیں زیادہ قوی اور روحانی پہلو سے شدید تھی۔ کیا یہی ایک مثال جو ہزاروں میں سے ایک ہے۔ اس بات کے

٥٥

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٨٤

لئے کافی نہیں کہ وہ اس شخص کی صحیح پوزیشن کو سمجھیں اور اس کے اس انداز گفتگو اور اس معیار اخلاق کے پوری وضاحت کے ساتھ سامنے آنے کے بعد تو پہچان جائیں کہ انہیں ان کے بارے میں دھوکہ لگا اور انہوں نے ایک کاذب کو صادق مان کر ہولناک غلطی کا ارتکاب کیا۔

اور اگر وہ ان کھلے حقائق کے مشاہدے کے بعد بھی مرزا غلام احمد قادیانی کے ”تقدس“ کے قائل ہیں تو اس کے سوا کیا کہا جاسکتا ہے کہ ان کے ہاں نبوت کا تصور بعینہ وہی رائج ہے جو یہود کے ہاں ہے اور اللہ تعالیٰ نے ان پر ان کے اسی کردار کی وجہ سے ہدایت کا دروازہ بند کر دیا ہے اور وہ ”من یضلل اللہ فلا ھادی لہ“ کی عبرتناک مثال بن کر رہ گئے ہیں۔ ”ربنا لا تزغ قلوبنا بعد اذ ھدیتنا وھب لنا من لدنک رحمۃ انک انت الوھاب“

قطع شہ رگ دجالیت ...... یسوع مسیح اور عیسیٰ علیہ السلام

بطور اتمام حجت مزید یہ کہ ممکن ہے کہ کوئی قادیانی یہاں پھر ناروا تاویل کا چکر چلانے کی کوشش کرے کہ یہ انجام آتھم کی بات اسی ”فرضی یسوع“ کے بارے میں ہے۔ جسے عیسائی خدا یا ابن اللہ کہتے تھے۔ ہرچند کہ یہ تاویل رب ذوالجلال کے خوف سے محرومی کی علامت ہے۔ قرآن عزیز بصراحت فرماتا ہے کہ عیسائیوں نے کسی فرضی یسوع کو نہیں بلکہ عیسیٰ ابن مریم یا مسیح ابن مریم علیہ السلام ہی کو خدا کا بیٹا مانا تھا۔ ارشاد ہوتا ہے: ”وقالت النصاریٰ المسیح ابن اللہ (التوبہ: ٣٠)“ {اور نصاریٰ کہتے ہیں کہ مسیح اللہ کے بیٹے ہیں ۔}

قرآن مجید کی اس قطعی وضاحت کے علاوہ خود مرزا غلام احمد قادیانی بھی یسوع، مسیح اور عیسیٰ تینوں نام حضرت عیسیٰ ابن مریم ہی کے مانتے ہیں۔ ان کے اپنے الفاظ ہیں:

رسول اللہ کی شریعت کی پیروی کر کے خدا کا مقرب بنا اور نبوت پائی۔“

(چشمہ مسیحی ص ٦٧ حاشیہ، خزائن ج ٢٠ ص ٣٨١)

(راز حقیقت ص ١٩، خزائن ج ١٤ ص ١٧١)

ہے۔“

(تحفہ قیصریہ ص ٢٣، خزائن ج ١٢

ص ٢٧٥)

٥٦

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٨٥

ہے ۔ یہودیوں نے تو اپنی شرارت اور بے ایمانی سے لعنت کے برے سے برے مفہوم کو جائز رکھا ۔“

(تحفہ قیصریہ ص ٢٢، خزائن ج ١٢

ص ٢٧٤)

ہے ۔ جب سے کہ حضرت مسیح علیہ السلام کو خدا کی جگہ دی گئی ہے ۔“

(حجۃ الاسلام ص ١٦، خزائن ج ٦ ص ٥٦)

(ایام الصلح ص ١١٦، خزائن ج ١٤ ص ٣٥٣)

میں ایک عاجز بندہ اور نبی مانتا ہوں ۔“

(ریویو آف ریلیجنز ص ٤٤٢، بابت ماہ ستمبر

١٩٠٢ء)

ایک یوحنا جس کا نام ایلیا اور ادریس بھی ہے ۔ دوسرے مسیح ابن مریم، جن کو عیسیٰ اور یسوع بھی کہتے ہیں ۔“

(توضیح المرام ص ٣، خزائن ج ٣ ص ٥٢)

اسی طرح مرزا غلام احمد قادیانی نے بیسیوں مقامات پر اس کا اظہار کیا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام مسیح ابن مریم اور یسوع یا یوز آسف یہ چاروں نام ایک ہی شخصیت کے ہیں ۔ جو اللہ کے نبی تھے اور انہیں ہی عیسائیوں نے خدا یا خدا کا بیٹا مانا اور اس نبی اللہ کو یہود نے نسب کے پہلو سے بھی گستاخی اور کافرانہ الفاظ سے یاد کیا اور انہی پر لعنت بھی بھیجی ۔ نعوذ باللہ من ذالک!

ان تصریحات کے بعد بھی اگر کوئی قادیانی مناظر یہ کہتا یا لکھتا ہے کہ مرزا غلام احمد قادیانی نے جس شخص کی توہین کی ہے ۔ یہ ایک فرضی شخصیت یسوع کے نام سے موسوم ہے ۔ جسے عیسائیوں نے خدا یا خدا کا بیٹا کہا تھا اور مرزا غلام احمد قادیانی عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام کا احترام کرتے ہیں تو ایسے مبلغ و مناظر کو دہریہ قرار دیئے بغیر چارہ نہیں ۔ جو اتنا صریح دھوکہ دین کے نام پر دے اور اتنا بڑا جھوٹ ایک نئے متنبی کے کفر پر پردہ ڈالنے کی خاطر بولے ۔ اس کے دل میں رب ذوالجلال کا تصور کس طرح باقی رہ سکتا ہے؟

٥٧

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٨٦

بایں ہمہ ہم نے جو التزام کیا ہے کہ ہم انہی حوالہ جات کو دلائل کفر کی حیثیت میں پیش کریں گے۔ جن میں صراحۃً عیسیٰ علیہ السلام یا مسیح ابن مریم کا نام لے کر ان کی توہین کی گئی۔ ان کے معجزات کا انکار کیا گیا۔ ان کے معجزات کو دھوکہ اور فریب قرار دیا گیا۔ ہم اس کے مطابق چشمۂ مسیحی اور انجام آتھم کی پیش کردہ ان عبارتوں کے علاوہ اس ازالہ اوہام کی عبارتیں بھی پیش کئے دیتے ہیں۔ جن میں سیدنا مسیح یا عیسیٰ بن مریم علیہ السلام ہی کا نام لیا گیا ہے اور وہی باتیں کہی گئی ہیں جو چشمہ مسیحی اور انجام آتھم کی عبارتوں میں کہی گئی تھیں۔ مرزا غلام احمد قادیانی کہتے ہیں: ”مسیح کے معجزات تو اس تالاب کی وجہ سے بے رونق اور بے قدر تھے جو مسیح کی ولادت سے بھی پہلے مظہر عجائب تھا۔ جس میں ہر قسم کے بیمار اور تمام مجذوم، مفلوج، مبروص وغیرہ ایک ہی غوطہ لگا کر اچھے ہو جاتے تھے۔“

(ازالہ اوہام ص ٣٢١ حاشیہ، خزائن ج ٣ ص ٢٦٣)

وہ مزید کہتے ہیں: ”اب جاننا چاہئے کہ بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ یہ حضرت مسیح کا معجزہ حضرت سلیمان کے معجزہ کی طرح صرف عقلی تھا۔ تاریخ سے ثابت ہے کہ ان دنوں میں ایسے امور کی طرف لوگوں کے خیالات جھکے ہوئے تھے کہ جو شعبدہ بازی کی قسم میں سے ہیں اور دراصل بے سود اور عوام کو فریفتہ کرنے والے تھے۔“

(ازالہ اوہام ص ٣٠٢ حاشیہ، خزائن ج ٣

ص ٢٥٤)

ان ہر دو مقامات پر سیدنا عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام کے ان معجزات کو لہو و لعب، شعبدہ بازی بھی قرار دیا گیا اور ایک موہوم تالاب کی مٹی کے استعمال سے بطور دھوکہ ان امور کو پیش کرنے کا الزام بھی نبی اللہ پر لگایا گیا۔ جن کو قرآن مجید حقیقت اور منجانب اللہ معجزے کی حیثیت سے پیش کرتا ہے اور یہ وہ کفر صریح ہے جس کے بعد مرزا غلام احمد قادیانی اور ان کے ماننے والوں کو کافر قرار دینے کے لئے کسی دوسری وجہ کی ضرورت باقی نہیں رہتی۔

علاوہ بریں جیسا کہ اس سے پہلے عرض کیا گیا کہ مرزا غلام احمد قادیانی نے مسیح ابن مریم علیہ السلام کے علاوہ متعدد دوسرے انبیاء علیہم السلام کی توہین بھی کی ہے۔ مگر چونکہ اس وقت مقصود قادیانیت پر جامع تبصرہ اور تفصیلی تعارف نہیں بلکہ پیش نظر صرف یہی ہے کہ ان وجوہ و دلائل کو صاف اور واضح الفاظ میں پیش کر دیا جائے۔ جو قادیانی امت اور ان کے پیشوا کو ”کافر“ قرار دیئے جانے کے حقیقی دلائل ہیں۔ اس لئے ہم یہاں اسی پر اکتفا کرتے ہیں اور اس موضوع پر قدرے وضاحت سے اپنی زیر تالیف کتاب ”القادیانیۃ اخت الیہودیۃ“ میں بحث کریں

٥٨

صفحہ ٨٧

گے ۔ ”وبید اللہ التوفیق“

صاحب الشریعہ ...... نبی ہونے کا ادعا

مرزا غلام احمد قادیانی کے الہامات الکتاب المبین کی حیثیت سے

مرزا غلام احمد قادیانی اور ان کے امتیوں کو کافر اور ملت اسلامیہ سے خارج قرار دیئے جانے کی تیرھویں وجہ یہ ہے کہ مرزا غلام احمد قادیانی نے اپنے اوپر نازل شدہ وحی بفحوائے ”ان الشیاطین لیوحون الیٰ اولیائھم“ کو قرآن مجید کی ہم پایہ ثابت کرنے کو دینی حیثیت دی اور ان کی امت نے اس عقیدے کو قبول کرلیا۔ مرزا غلام احمد قادیانی کہتے ہیں: ”اور خدا کا کلام مجھ پر اس قدر نازل ہوا ہے کہ اگر وہ تمام لکھا جائے تو بیس جزو سے کم نہیں ہوگا۔“

(حقیقت الوحی ص ٣٩١، خزائن ج ٢٢ ص ٤٠٧)

قرآن مجید کے تو تیس جزو (تیس پارے) تھے۔ مرزا غلام احمد قادیانی نے اپنے کلام کو بیس جزو تک محدود رکھا ہے۔

اس کی ایک دل پسند توضیح مرزا غلام احمد قادیانی کے ایک معروف امتی قادیانی جماعت کے مشہور شاعر اور ایک اہم ذیلی جماعت کے امیر قاضی محمد یوسف اس عقیدے کی وضاحت یوں کرتے ہیں: ”خدا تعالیٰ نے حضرت احمد علیہ السلام (مرزا قادیانی) کے مجموعی الہامات کو ”الکتاب المبین“ فرمایا ہے اور جدا جدا الہامات کو ”آیات“ سے موسوم کیا ہے۔ حضرت (مرزا قادیانی) کو یہ الہام متعدد دفعہ ہوا ہے۔ پس آپ کی وحی بھی جدا جدا آیت کہلا سکتی ہے۔ جب کہ خدا تعالیٰ نے ان کو ایسا نام دیا ہے اور مجموعہ الہامات کو ”الکتاب المبین“ کہہ سکتے ہیں۔ پس جس شخص یا اشخاص کے نزدیک نبی کے واسطے کتاب لانا ضروری شرط ہے۔ خواہ وہ کتاب شریعت کاملہ ہو یا کتاب المبشرات والمنذرات ہو تو ان کو واضح ہو کہ ان کی اس شرط کو بھی خدا نے پورا کر دیا ہے اور حضرت (مرزا قادیانی) کے مجموعہ الہامات کو الکتاب المبین کے نام سے موسوم کیا ہے۔ پس آپ اس پہلو سے بھی نبی ثابت ہیں۔ ولو کرہ الکافرون !“

(رسالہ احمدی نمبر ٥، ٦،

موسومہ النبوۃ فی الالہام)

مرزا غلام احمد قادیانی کے فرزند اور قادیانیوں کے نزدیک مرزا قادیانی کی پیش گوئی کے مطابق مصلح موعود جسے مرزا غلام احمد قادیانی نے فخر الانبیاء کہا اور انہیں قادیانی امت، فضل عمر

٥٩

صفحہ ٨٨

اور اللہ کا نامزد خلیفہ تسلیم کرتی ہے اور موجودہ خلیفہ ربوہ (چناب نگر) کے والد مرزا محمود احمد اپنے ایک خطبہ عید میں انہوں نے ایک قدم اور آگے بڑھایا اور اپنے باپ کے منشاء کی تکمیل کی۔ انہوں نے مرزا غلام احمد قادیانی کے الہامات کو پڑھنے، ان پر غور کرنے اور انہیں پڑھ کر نہ بھلانے پر زور دیا۔ ان کے الفاظ یہ تھے: ”حقیقی عید ہمارے لئے ہی ہے۔ مگر ضرورت اس بات کی ہے کہ اس الٰہی کلام کو پڑھا جائے اور سمجھا جائے جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر اترا بہت کم لوگ ہیں جو اس کلام کو پڑھتے اور اس کا دودھ پیتے ہیں۔ دوسری کتابیں خواہ کتنی پڑھی جائیں جو سرور اور یقین قرآن شریف سے پیدا ہوتا ہے وہ کسی اور سے نہیں ہو سکتا۔ اسی طرح وہ سرور اور لذت جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے الہاموں کو پڑھنے سے حاصل ہوتی ہے اور کسی کتاب کو پڑھنے سے نہیں ہو سکتی جو ان الہاموں کو پڑھے وہ کبھی مایوسی اور نا امیدی میں نہ گرے گا۔ مگر جو پڑھتا نہیں یا پڑھ کر بھول جاتا ہے۔ خطرہ ہے کہ اس کا یقین اور امید جاتی رہے۔ وہ مصیبتوں اور تکلیفوں سے گھبرا جائے گا۔ کیونکہ وہ سر چشمہ امید سے دور ہو گیا۔ اگر وہ خدا تعالیٰ کا کلام پڑھتا رہتا اور دیکھتا کہ خدا تعالیٰ نے کیا کیا وعدے دیے ہیں اور پھر ان پر دل سے یقین رکھتا تو ایسا مضبوط ہو جاتا کہ کوئی مصیبت اسے ڈرا نہ سکتی۔ پس حقیقی عید سے فائدہ اٹھانے کے لئے ضروری ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے الہامات پڑھے۔“

ان تصریحات سے یہ حقیقت کھل کر سامنے آ گئی کہ مرزا غلام احمد قادیانی جو یہ چاہتے تھے کہ مجھ پر نازل ہونے والی وحی اور الہامات قرآن ہی کی طرح مانے جائیں۔ قادیانی امت نے ٹھیک ٹھیک اسی طرح مانا اور جس طرح قادیانی مرزا غلام احمد قادیانی کے لٹریچر کو اس حد تک مقدس سمجھتے ہیں کہ مرزا غلام احمد قادیانی کے قلم سے قرآنی آیات میں جو غلطیاں سرزد ہوئیں اور خود مرزا قادیانی کے سامنے یہ غلطیاں شائع ہوئیں اور ان کی جہالت اور قرآن کے بارے میں بد ذوقی کہ ان غلطیوں کا کوئی نوٹس نہیں لیا اور قادیانیوں نے آج تک ان غلطیوں کو قادیانی کتب میں باقی رکھ کر قرآن مجید کی حفاظت، تقدس اور اہمیت پر مرزا غلام احمد قادیانی کی جہالت یا کم از کم غلط نویسی کو اہمیت دی۔ لیکن دوسری جانب انہوں نے مرزا غلام احمد قادیانی کے مجموعہ الہامات کو الکتاب المبین اور ان کے دعوٰی کے مطابق ان پر نازل شدہ الہام کے ہر جملہ کو آیت کی حیثیت دی۔

مرزا غلام احمد قادیانی کے اس عقیدے اور قادیانی جماعت کے اس پر ایمان و عمل نے

٦٠

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٨٩

انہیں اس امت سے خارج کر دیا۔ جو قرآن مجید کو اس ارضی کائنات میں واحد محفوظ آسمانی وحی یقین کرتی ہے اور وہ جس طرح اللہ رب العزت کی الوہیت اور حضور خاتم النبیین کی ختم نبوت میں کسی دوسرے کو شریک کرنے کو شرک فی الالوہیۃ سے تعبیر کرتی ہے۔ اسی طرح یہ امت قرآن مجید کی آیت اور اس کے واحد محفوظ منزل من اللہ کتاب ہونے کی صفت میں کسی دوسری کتاب کو شریک کرنے کو بھی شرک فی الرسالۃ قرار دیتی ہے۔

قادیانی متنبی، احادیث نبویہ کے ردو قبول میں حکم ہیں

قادیانی وحی کو قرآن مجید کے بالمقابل مساویانہ حیثیت دینے کے بعد مرزا غلام احمد قادیانی نے اپنی امت کو جس دوسرے عقیدے پر ایمان لانے کا حکم دیا ہے۔ وہ یہ ہے کہ سید الثقلین، خاتم النبیین ، حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی حدیث کے رد اور قبول کرنے میں مرزا غلام احمد قادیانی کو حکم مانیں ۔ وہ جن احادیث کو رد کر دیں ۔ انہیں یکسر چھوڑ دیں اور جن کو قبول کریں انہیں تسلیم کریں۔

انہوں نے مزید کہا: ’’اور جو شخص (مرزا غلام احمد قادیانی) حکم ہو کر آیا ہے۔ اس کا اختیار ہے کہ حدیثوں کے ذخیرہ میں سے جس انبار کو چاہے خدا سے علم پا کر قبول کرے اور جس ڈھیر کو چاہے خدا سے علم پا کر رد کر دے۔‘‘

(ضمیمہ تحفہ گولڑویہ ص ١٠ حاشیہ، خزائن ج١٧ ص ٥١)

مرزا غلام احمد قادیانی کے بوئے ہوئے بیج اب تناور درخت بننے لگے اور مرزا محمود نے قرآن، حدیث اور انبیاء سب کو مرزا غلام احمد قادیانی کی وحی اور ان کی نبوت کے سپرد کر دیا۔ وہ ایک خطبہ جمعہ میں کہتے ہیں: ’’جن پر خدا کا کلام نازل ہوتا ہے۔ وہ معمولی انسان نہیں ہوتے ۔ بلکہ ان کی ہستیاں دنیا سے جدا ہوتی ہیں اور ان کے لئے خدا تعالیٰ یہاں تک کہتا ہے کہ اگر کوئی میرا قرب حاصل کرنا چاہتا ہے تو اس کے لئے ایک ہی ذریعہ ہے اور وہ یہ کہ ان کے ذریعہ حاصل کرو اور ایسے نبی شرعی ہوں یا غیر شرعی ایک ہی مقام پر ہوتے ہیں۔ اگر کسی کو غیر شرعی کہتے ہیں تو اس کا صرف مطلب یہ ہے کہ وہ کوئی نیا حکم نہیں لایا ہے ۔ ورنہ کوئی نبی ہو ہی نہیں سکتا جو شریعت نہ لائے۔ ہاں بعض نئی شریعت لاتے ہیں اور بعض پہلی شریعت ہی دوبارہ لاتے ہیں۔ پس شرعی نبی کا مطلب یہ ہے کہ وہ پہلے کلام لائے۔ رسول کریم ﷺ تشریعی نبی ہیں۔ جس کے یہ معنی ہیں کہ آپ قرآن پہلے لائے اور حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) غیر تشریعی نبی ہیں۔ تو اس کے یہ معنی ہیں کہ آپ پہلے قرآن نہیں لائے ۔ ورنہ قرآن آپ بھی لائے ۔ اگر نہ لائے تھے تو خدا تعالیٰ نے

٦١ www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٩٠

کیوں کہا کہ اسے قرآن دے کر کھڑا کیا گیا۔ چنانچہ حضرت مسیح موعود بڑی وضاحت سے فرماتے ہیں۔ مولوی لوگ حدیثیں لئے پھرتے ہیں۔ مگر حدیثوں کا یہ کام نہیں کہ میرے متعلق فیصلہ کریں۔ بلکہ میرا کام ہے کہ میں بتاؤں کہ فلاں حدیث درست ہے اور فلاں غلط..... پھر یہ بھی یاد رکھنا چاہئے کہ جب کوئی نبی آجائے تو پہلے نبی کا علم بھی اسی کے ذریعہ ملتا ہے۔ یوں اپنے طور پر نہیں مل سکتا اور ہر بعد میں آنے والا نبی پہلے نبی کے لئے بمنزلہ سوراخ کے ہوتا ہے۔ پہلے نبی کے آگے دیوار کھینچ دی جاتی ہے اور کچھ نظر نہیں آتا۔ سوائے آنے والے نبی کے ذریعہ دیکھنے کے۔ یہی وجہ ہے کہ اب قرآن نہیں سوائے اس قرآن کے جو حضرت مسیح موعود نے پیش کیا اور کوئی حدیث نہیں سوائے اس حدیث کے جو حضرت مسیح موعود کی روشنی میں نظر آئے اور کوئی نبی نہیں سوائے اس کے جو حضرت مسیح موعود کی روشنی میں دکھائی دے۔ اسی طرح رسول کریم ﷺ کا وجود اسی ذریعہ سے نظر آئے گا کہ حضرت مسیح موعود کی روشنی میں دیکھا جائے۔ اگر کوئی چاہے کہ آپ سے علیحدہ ہو کر کچھ دیکھ سکے تو اسے کچھ نظر نہ آئے گا۔ ایسی صورت میں اگر کوئی قرآن کو بھی دیکھے گا تو وہ اس کے لئے یہدی من یشاء والا قرآن نہ ہوگا۔ بلکہ یضل من یشاء والا قرآن ہوگا۔ اسی طرح اگر حدیثوں کو اپنے طور پر پڑھیں گے تو مداری کے پٹارے سے زیادہ وقعت نہ رکھیں گی۔ حضرت مسیح موعود فرمایا کرتے تھے۔ حدیثوں کی کتابوں کی مثال تو مداری کے پٹارے کی ہے۔ جس طرح مداری جو چاہتا ہے اس میں سے نکال لیتا ہے۔ اسی طرح ان سے جو چاہو نکال لو۔‘‘

(الفضل قادیان مورخہ ١٥؍ جولائی ١٩٢٢ء)

یہ تفصیلی اظہار عقیدہ صراحۃً قرآن مجید اور احادیث نبویہ دونوں سے کھلا انکار بھی ہے اور دونوں پر مرزا غلام احمد قادیانی کی فوقیت اور حاکمیت کا بلا ابہام ادّعا بھی یہ صریح کفر ہے اور ہماری اس ترتیب کے مطابق چودھویں وجہ کفر۔

مرزا غلام احمد کی اتباع ہی ذریعہ نجات ہے

مرزا غلام احمد قادیانی اور ان کی امت کو کافر قرار دینے کی وجہ کی تفصیل یوں ہے: مرزا غلام احمد قادیانی نے اس دعویٰ کی جسارت بھی کر ہی لی کہ اب دین بھی میرا اور نجات بھی میری ہی اطاعت سے ہوگی۔ وہ کہتے ہیں۔ اللہ عزّوجل نے میرے بارے میں فرمایا: ”ہو الذی ارسل رسولہ بالہدی ودین الحق لیظہرہ علی الدین کلہ اللہ وہی تو ہے جس نے اپنے

٦٢

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٩١

رسول کو ہدایت اور دین حق کے ساتھ بھیجا۔ تاکہ اسے تمام ادیان پر غالب کرے۔“

(حقیقت الوحی ص ٧١، خزائن ج ٢٢ ص ٧٤)

اور یہ بھی خود میرے متعلق ہی الہام ہوا: ”قل ان کنتم تحبون الله فاتبعونی ویحببکم الله انہیں کہہ دیجئے کہ اگر تم اللہ سے محبت کرنا چاہتے ہو تو میری پیروی کرو۔ وہ تم سے محبت کرے گا۔“

(حقیقت الوحی ص ٧٩، خزائن ج ٢٢ ص ٨٢)

مرزا غلام احمد قادیانی کا دعویٰ یہ بھی ہے: ”انا ارسلنا الیکم رسولاً شاهداً علیکم کما ارسلنا الی فرعون رسولاً ہم نے تمہاری جانب رسول بھیجا۔ جو تم پر شاہد ہے۔ جیسا کہ ہم نے فرعون کی طرف رسول بھیجا تھا۔“

(حقیقت الوحی ص ١٠١، خزائن ج ٢٢ ص ١٠٥)

ان تفصیلات سے یہ سلسلہ پایۂ تکمیل تک پہنچ گیا ہے۔ قرآن مجید اور احادیث اور خود حضور امام الانبیاء ﷺ کی نبوت پر ایمان براہ راست ناقابل قبول، صرف مرزا غلام احمد قادیانی اور وہ بھی اس طرح کہ قرآن مجید ہی کی طرح مرزا غلام احمد قادیانی کی وحی اور الہامات جن کا پڑھنا (تلاوت) سمجھنا (تدبر) اور یاد رکھنا (حفظ) لازمی اور زندگی و ایمان کا ذریعہ ...... اور اس کے بعد اللہ کی محبت کا واحد وسیلہ مرزا غلام احمد قادیانی کی اتباع اور مرزا غلام احمد قادیانی کو وہ نظام ہدایت (الہدیٰ) اور دین دے کر بھیجا گیا جو آخر کار تمام ادیان پر غالب آکر رہے گا۔ یہ ہے وہ دین جو مرزا غلام احمد قادیانی لے کر آئے ہیں اور یہ ہیں اس دین کے وہ بنیادی عقائد۔ جن کے بارے میں مرزا غلام احمد قادیانی کا دعویٰ ہے کہ وہ انہیں منجانب اللہ بتائے گئے اور حکم دیا گیا کہ ان کی تبلیغ کرو۔ یہ ہے مرزا غلام احمد قادیانی اور ان کی امت کو خارج از اسلام قرار دیئے جانے کی پندرھویں وجہ۔

”صاحب الشریعۃ“ نبی ہونے کا دعویٰ

مرزا غلام احمد قادیانی اور ان کی امت کے ارتداد و کفر کی پندرھویں دلیل یہ ہے کہ مرزا غلام احمد قادیانی نے صاحب شریعت نبی ہونے کا دعویٰ کیا اور بعض ایسے احکام بھی صادر کئے اور ان پر اپنی امت کو عمل کا حکم دیا۔ جن کی بنیاد بحیثیت نبی مرزا غلام احمد قادیانی کا اپنا قول یا ان کے الفاظ میں وہ وحی الٰہی تھی جو ان پر نازل ہوئی۔

شریعت کسے کہتے ہیں اور صاحب شریعت کون ہے

٦٣ www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٩٢

مرزا غلام احمد قادیانی کے صاحب الشریعۃ مدعی نبوت ہونے کے عنوان سے قبل یہ معلوم کر لینا ضروری ہے کہ شریعت ہے کیا؟ اور کس مدعی کو صاحب شریعت مدعی نبوت قرار دیا جائے گا۔ اس سوال کا جواب ہم اپنی جانب سے پیش کرنے کی بجائے خود مرزا غلام احمد قادیانی ہی کے الفاظ سے پیش کرتے ہیں۔ وہ لکھتے ہیں: ”یہ بھی تو سمجھو کہ شریعت کیا چیز ہے؟ جس نے اپنی وحی کے ذریعہ سے چند امر و نہی بیان کئے اور اپنی امت کے لئے ایک قانون مقرر کیا۔ وہی صاحب شریعت ہو گیا۔ پس اس تعریف کی رو سے بھی ہمارے مخالف ملزم ہیں۔ کیونکہ میری وحی میں امر بھی ہے اور نہی بھی۔ مثلاً یہ الہام قل للمؤمنین یغضوا من ابصارھم ویحفظوا فروجھم ذالک ازکیٰ لھم! یہ براہین احمدیہ میں درج ہے اور اس میں امر بھی ہے اور نہی بھی اور اس پر تئیس برس کی مدت بھی گزر گئی اور ایسا ہی اب تک میری وحی میں امر بھی ہوتے ہیں اور نہی بھی۔“

(اربعین نمبر ٤ ص ٦، خزائن ج١٧

ص ٤٣٥، ٤٣٦)

شریعت کا معنی ہے امر اور نہی یا قانون اور یہ وضاحت کہ جس شخص نے اپنی امت کے لئے ایک قانون مقرر کیا وہی صاحب الشریعۃ ہو گیا اور اس کے بعد یہ عملی ثبوت کہ میری وحی میں امر بھی ہے اور نہی بھی اور شریعت کی اس تعریف بیان کرنے سے ٢٣ برس پہلے براہین احمدیہ میں یہ وحی الٰہی درج ہے۔ جسے مرزا غلام احمد قادیانی نے واضح الفاظ میں میری وحی الٰہی سے تعبیر کیا اور آخری بات یہ کہ اس میری وحی میں امر بھی ہے اور نہی بھی اور اہم تو بات یہ کہ ایسا ہی اب تک میری وحی میں امر بھی ہوتے ہیں اور نہی بھی اور مزید یہ کہ اس سے کسی شخص کے مدعی صاحب الشریعۃ ہونے میں اس سے کوئی فرق واقع نہیں ہوتا کہ وہ جن احکام اور نواہی کو بیان کر رہا ہے۔ وہ پہلی مرتبہ اس پر نازل ہوئے ہیں یا اس پر نازل ہونے والی وحی سے پہلے کسی دوسرے نبی کی وحی میں وہی احکام اس سے قبل صادر ہو چکے ہیں۔

اور خود مرزا غلام احمد قادیانی کے اپنے الفاظ سے یہ اتمام حجت بھی ہوا کہ اگر کوئی مدعی نبوت و الہام بعینہ وہی الفاظ بطور وحی یا الہام دہرا دے جو اس سے پہلے کی وحی کے الفاظ ہوں۔ تب بھی یہ وحی شریعت والی وحی ہوگی اور جس پر دوبارہ یہ الفاظ نازل ہوئے وہ صاحب الشریعۃ مدعی ہوگا۔ جیسا کہ انہوں نے ”قل للمؤمنین یغضوا من ابصارھم“ کی وحی سے استدلال کیا کہ یہ آیت بعینہ قرآن مجید میں ہے اور حضور خاتم النبیین ﷺ پر نازل ہوئی۔ مگر چونکہ

٦٤

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٩٣

مرزا غلام احمد قادیانی کے ادّعا کے مطابق یہ الفاظ دوبارہ مرزا غلام احمد قادیانی پر نازل ہوئے۔ لہٰذا وہ صاحب شریعت قرار پائے۔ ان تصریحات اور واضح اقرار واعتراف بلکہ اعلان واظہار کے بعد دنیا کی ہر عدالت اور ہر شریف انسان یہ فیصلہ صادر کرنے پر مجبور ہوگا کہ مرزا غلام احمد قادیانی نے صاحب الشریعت نبی ہونے کا دعویٰ کیا۔

لیکن ایک تو اس لئے کہ ہم اس کتاب کے ذریعے ایسے قادیانی حضرات کو مرزا غلام احمد قادیانی کے چنگل سے آزاد کرانے کی اپنی ایمانی آرزو کو بھر پور اور مدلل انداز میں عملی صورت دینے کے متمنی ہیں جو ہنوز اللہ رب العزت کے حضور پیش ہونے کے انتہائی ہولناک لمحات کا خوف اپنے دلوں میں رکھتے ہیں اور وہ اس بات کی بھی صلاحیت رکھتے ہیں کہ کھلے دل ودماغ سے کسی دلیل پر غور کر سکیں اور حق کو حق ہونے کی بناء پر قبول کر سکیں اور باطل کو باطل سمجھ کر چھوڑ سکیں۔ وہ ہماری ان معروضات پر غور کر سکیں اور اپنے دوسرے مقصد کے پیش نظر بھی کہ معاند قادیانیوں پر من کل الوجوہ اتمام حجت کریں اور اس کے بعد اللہ رب العزت اپنا فیصلہ صادر فرمائے۔ ان ہر دو وجوہ کی بناء پر مزید وضاحت کی غرض سے عرض کرتے ہیں کہ مرزا غلام احمد قادیانی نے اسی کتاب میں کہا: ”چونکہ میری تعلیم میں امر بھی ہے اور نہی بھی اور شریعت کے ضروری احکام کی تجدید بھی اس لئے خدا تعالیٰ نے میری تعلیم کو اور اس وحی کو جو میرے پر ہوئی۔ فلک یعنی کشتی کے نام سے موسوم کیا ہے۔ جیسا کہ ایک الہام الٰہی کی یہ عبارت ہے: ” واصنع الفلک باعیننا ووحینا ان الذین یبایعونک انما یبایعون اللہ ید اللہ فوق ایدیھم “ یعنی اس تعلیم اور تجدید کی کشتی کو ہماری آنکھوں کے سامنے اور ہماری وحی سے بنا۔ جو لوگ تجھ سے بیعت کرتے ہیں۔ وہ خدا سے بیعت کرتے ہیں۔ یہ خدا کا ہاتھ ہے جو ان کے ہاتھوں پر ہے۔ اب دیکھو خدا نے میری وحی اور میری تعلیم اور میری بیعت کو نوح کی کشتی قرار دیا اور تمام انسانوں کے لئے مدار نجات ٹھہرایا۔ جس کی آنکھیں ہوں وہ دیکھے اور جس کے کان ہوں وہ سنے۔“

(اربعین نمبر ٤ ص ٦ حاشیہ، خزائن ج ١٧ ص ٤٣٥)

مرزا غلام احمد قادیانی کی اس دوہری، تہری وضاحت اور صاحب الشریعت ہونے کی توثیق کے بعد ہم اس کی ضرورت محسوس نہیں کرتے کہ ان احکام اور ممنوع اشیاء واحکام کی تفصیلات پیش کریں۔ جو مرزا غلام احمد قادیانی نے بحیثیت نبی اپنی امت کو دیئے۔ تنہا یہ اعلان واعتراف کہ میری وحی میں شریعت کے احکام موجود ہیں۔ اس دعویٰ کے ثبوت کے لئے کافی ہیں

٦٥

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٩٤

کہ مرزا غلام احمد قادیانی نے صاحب شریعت ہونے کا دعویٰ کیا اور یہ دعویٰ خود قادیانیوں کے ہاں بھی کافر ہونے کا بیّن ثبوت ہے۔ البتہ ہم چند احکام کی فہرست پیش کئے دیتے ہیں۔ جو قادیانی شریعت کے واضح احکام ہیں۔ تاکہ ناواقف حضرات موضوع زیر بحث کو کما حقہ سمجھ سکیں اور جو بندگان خدا بوجہ مرزا غلام احمد قادیانی کے چنگل میں پھنسے ہوئے ہیں اور وہ ظلی، بروزی، امتی نبی، لغوی طور پر نبوت کا لفظ استعمال کیا گیا وغیرہ کے مغالطوں کا شکار ہیں۔ وہ صحیح صورتحال کو سمجھ کر اس چند روزہ زندگی کی بقیہ فرصت سے فائدہ اٹھائیں اور اس صریح کفر و ارتداد سے تائب ہو کر پھر سے دامن رحمۃ للعالمین ﷺ میں پناہ حاصل کرسکیں۔ ”وبید اللہ التوفیق“

قادیانی شریعت کے جدید احکام

مرزا غلام احمد قادیانی نے بڑی حد تک ایک جعلی شریعت اختراع کی اس کے چند احکام بلا تفصیل درج ذیل ہیں۔

اسلام سے خارج ہیں۔

جائے گا۔

معصوم مسلمان بچے کا جنازہ بھی حرام ہے۔

ربوہ کے حکم سے بہشتی مقبرہ میں دفن ہوں گے وہ سب کے سب جنتی ہوں گے۔

کیا جائے گا۔ اس مقبرے میں مرزا غلام احمد قادیانی کے خاندان نبوت کے جو افراد دفن ہوں گے وہ اس وصیت اور دوسری شرائط...... جن میں تقویٰ کی شرط بھی شامل ہے...... سے مستثنیٰ ہوں گے۔

٦٦

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٩٥

خاتم النبیین ﷺ سے مرزا غلام احمد قادیانی پر ایمان لانے کا عہد

قادیانی امت کے کفر کی سولہویں دلیل یہ ہے کہ قادیانیوں نے جب اپنے نبی مرزا غلام احمد قادیانی کے اس دعویٰ کو تسلیم کرلیا کہ وہ احمد آخرالزمان بھی ہیں اور وہی محمد رسول اللہ اور خاتم النبیین ہیں تو اسے عملی جامہ پہنانے اور اس عقیدے کو مدلل ثابت کرنے کے لئے یہ نظریہ گھڑا کہ قرآن مجید نے جس میثاق النبیین کا ذکر فرمایا ہے۔ وہ محمد رسول اللہ فداہ ارواحنا وانفسنا ﷺ کے بارے میں نہیں تھا۔ بلکہ خود محمد رسول اللہ ﷺ سے یہ عہد لیا گیا تھا کہ اگر آپؐ کے زمانہ میں مرزا غلام احمد قادیانی مبعوث ہو تو اس پر ایمان لانا ہوگا۔

قادیانی امت کا آرگن الفضل لکھتا ہے: ’’واذ اخذ اللہ میثاق النبیین (آل عمران: ٨١)‘‘ {جب اللہ تعالیٰ نے سب نبیوں سے عہد لیا۔}

(النبیین میں سب انبیاء علیہم السلام شریک ہیں۔ کوئی نبی بھی مستثنیٰ نہیں۔ آنحضرت ﷺ بھی اس النبیین کے لفظ میں داخل ہیں) کہ جب کبھی تم کو کتاب اور حکمت دوں (یعنی کتاب سے مراد توریت وقرآن کریم ہے اور حکمت سے مراد سنت ومنہاج نبوت وحدیث شریف ہے) پھر تمہارے پاس ایک رسول آئے، مصدق ہو تمام چیزوں کا، جو تمہارے پاس کتاب وحکمت سے ہیں۔ (یعنی وہ رسول مسیح موعود ہے جو قرآن وحدیث کی تصدیق کرنے والا ہے اور وہ صاحب شریعت جدیدہ نہیں ہے.......اے نبیو! تم سب ضرور اس پر ایمان لانا اور ہر طرح سے اس کی مدد فرض سمجھنا) جب تمام انبیاء علیہم السلام کو مجملاً حضرت مسیح موعود پر ایمان لانا اور اس کی نصرت کرنا فرض ہوا تو ہم کون ہیں جو نہ مانیں۔

(الفضل قادیان مورخہ ١٩، ٢١؍ ستمبر

١٩١٥ء)

لیا تھا جو میثاق سب انبیاء سے
وہی عہد حق نے لیا مصطفیٰؐ سے

اس قادیانی آرگن ’’الفضل‘‘ نے میثاق النبیین کے سلسلے میں ’’عہد منظوم‘‘ کے زیر عنوان یہ اشعار شائع کئے۔

خدا نے لیا عہد سب انبیاء سے کہ جب تم کو دوں میں کتاب اور حکمت
پھر آئے تمہارا مصدق پیغمبر تم ایمان لاؤ کرو اس کی نصرت
کہا کیا یہ اقرار کرتے ہو محکم وہ بولے مقر ہے ہماری جماعت

٦٧

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٩٦
کہا حق تعالیٰ نے شاہد رہو تم یہی میں بھی دیتا رہوں گا شہادت
جو اس عہد کے بعد کوئی پھرے گا بنے گا وہ فاسق اٹھائے گا ذلت
لیا تھا جو میثاق سب انبیاء سے وہی عہد حق نے لیا مصطفیٰ سے
وہ نوح و خلیل و کلیم و مسیحا سبھی سے یہ پیمان محکم لیا تھا
مبارک وہ امت کا موعود آیا وہ میثاق ملت کا مقصود آیا
کریں اہل اسلام اب عہد پورا بنے آج ہر ایک عبداً شکورا

(الفضل قادیان مورخہ ٢٦ فروری ١٩٢٤ء)

قادیانیوں کے اس عقیدہ کے دینی نتائج کیا ہو سکتے ہیں؟ اس سوال کا جواب قادیانی امت کے لاہوری فرقہ کے ترجمان پیغام صلح نے ان الفاظ میں دیا: ”چنانچہ الفضل قادیان مورخہ ١٩، ٢١ ستمبر ١٩١٥ء میں اس پر دھڑلے سے مضمون نکلا اور پھر اس کے بعد طرح طرح سے اس کا اعادہ کیا گیا اور کھلم کھلا ڈنکے کی چوٹ پر اس کا اعلان کیا جاتا رہا کہ اس پیش گوئی میں جس رسول کا وعدہ ہے اور جس کے متعلق اقرار کر لیا گیا ہے کہ ہر ایک نبی اس پر ایمان لائے اور اس کی نصرت کرے۔ وہ مسیح موعود ہے اور یہ نہ سمجھا کہ اس طرح تو پھر لازم آئے گا کہ: ’لوکان محمد حیا لما وسعه الا اتباع المسیح الموعود“ کہ اگر محمد رسول اللہ زندہ ہوتے تو انہیں چارہ نہ تھا سوائے اس کے کہ وہ مسیح موعود کی اتباع کرتے۔ یعنی مسیح موعود متبوع اور آقا ہوتے اور محمد رسول اللہ ﷺ نعوذ باللہ متبع اور غلام ہوتے۔ یہ نتیجہ ایسا دقیق تو نہیں کہ انسان سمجھ نہ سکے۔ مگر جب ایک قوم اپنے نبی کو سب نبیوں سے بڑھانا چاہتی ہو تو پھر سب کچھ حلال ہو جاتا ہے۔ محمد رسول اللہ ﷺ کو ان نبیوں کی ذیل میں شامل کر دیا۔ جن سے ایمان لانے اور نصرت کرنے کا اقرار لیا گیا تھا۔ گویا محمد رسول اللہ آج زندہ ہوتے تو مسیح موعود پر ایمان لاتے اور آپ کے ہاتھ پر بیعت کرتے اور ہر ایک قسم کی اتباع اور نصرت کے لئے آپ کے احکام کی پیروی کو ذریعہ نجات سمجھتے۔ کیا اس سے بڑھ کر محمد رسول اللہ ﷺ کی ہتک متصور ہو سکتی ہے۔ کیا اس سے صاف نظر نہیں آتا کہ محمد رسول اللہ ﷺ کے مقابلہ میں حضرت مسیح موعود کی پوزیشن کو بدرجہا بلند کرنے اور ان کو ایک آقا کی حیثیت دینے میں نہایت جرأت سے کام لیا گیا ہے۔“ (پیغام

صلح مورخہ ٧؍ جون ١٩٣٤ء)

غور فرمائیے! مسیلمہ کذاب سے مرزا غلام احمد قادیانی کے دعویٰ سے قبل تک جتنے

٦٨ www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٩٧

بدبختوں نے دعویٰ نبوت کیا۔ ان میں سب سے بڑا گستاخ بہاء اللہ ایرانی ہوا۔ جس نے یہ دعویٰ کیا یہ عہد میرا عہد ہے۔ لیکن اس نے بھی اس اظہار جسارت کے لئے یہ راستہ اختیار کیا کہ نبوت محمدیہ علی صاحبہا الصلوٰۃ والتحیات کا عہد ختم ہو چکا اور جس طرح حضور اپنے عہد کے نبی تھے۔ اسی طرح میں ان کے بعد کے زمانہ کا نبی ہوں۔

ہر چند کہ یہ جسارت بھی بڑی اشتعال انگیز اور کفر صریح کی حیثیت رکھتی تھی۔ مگر مرزا غلام احمد قادیانی نے جو جرات کی وہ اپنی نوعیت کے اعتبار سے اپنی مثال آپ ہے۔ اس مفتری علی اللہ نے کھلم کھلا یہ دعویٰ کیا کہ میں وہی محمد رسول اللہ ہوں۔ جس کا ذکر قرآن مجید کی آیات میں ہے اور میں ہی خاتم النبیین ہوں۔

جب خود عہد حاضر کے بدتر مسیلمہ کذاب نے یہ دعویٰ کیا تو اس کے محروم حیا، امتیوں نے ایک قدم اور آگے بڑھایا اور جو خفی مفہوم مرزا غلام احمد قادیانی کے اس دعویٰ کا تھا۔ اسے برملا بیان کر دیا اور یہ کہہ دیا کہ محمد رسول اللہ ﷺ سے مرزا غلام احمد قادیانی پر ایمان لانے اور اس کی اطاعت و نصرت کرنے کا عہد لیا گیا تھا۔ ”ختم الله على قلوبهم وعلى سمعهم وعلى ابصارهم غشاوة“

اس ناقابل برداشت جسارت کے بعد بھی اگر کسی کو قادیانیوں کے مسلمان ہونے پر اصرار ہے تو اسے اپنے دل کے بے حمیت و بے غیرت ہونے کا ماتم کرنا چاہئے۔

بشارت اسمہ احمد کا مصداق محمد ﷺ نہیں مرزا غلام احمد ہیں

مرزا غلام احمد قادیانی اور ان کی امت نے سید الکونین امام الانبیاء محمد مصطفیٰ ﷺ کی شان اقدس کے خلاف جو سلسلہ گستاخی و محاذ آرائی شروع کیا۔ اس کا ایک اہم عنوان یہ ہے کہ سیدنا مسیح ابن مریم علیہ الصلوٰۃ والسلام نے اپنے بارے میں جو یہ کہا تھا کہ میں اس لئے آیا ہوں کہ انسان دنیا کو یہ بشارت دوں کہ میرے بعد ایک عظیم رسول آئیں گے جو سراپا حمد ہوں گے اور ان کا نام ہی احمد ہوگا۔ قرآن مجید کے الفاظ ہیں: ”ومبشرا برسول یأتی من بعدی اسمه احمد (الصف:٦)“ {اور میں بشارت دینے والا ہوں اس رسول اعظم کی جو میرے بعد آئے گا۔ اس کا نام احمد ہوگا۔}

حضور سید العالمین ﷺ نے فرمایا: ”انا دعوة ابی ابراهیم وبشارة عیسی ابن مریم (مشکوٰة ص ٥١٣) {میں اپنے باپ ابراہیم کی دعا اور عیسیٰ بن مریم کی بشارت کا

٦٩

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٩٨

مظہر ومصداق ہوں۔}

چنانچہ حضور ﷺ کی بعثت سے اب تک پوری امت اسی عقیدے کی حامل ہے کہ ”اسمہ احمد“ کا مصداق حضور ہی ہیں۔ لیکن مرزا غلام احمد قادیانی نے جو شب خون عظمت رسالت خاتم النبیین ﷺ پر مارا۔ اس کا ہدف یہ بشارت بھی بنی اور مرزا غلام احمد قادیانی نے یہ اعلان کیا کہ: ”اور جیسا کہ آیت ”مبشراً برسول یأتی من بعدی اسمہ احمد“ میں یہ اشارہ ہے کہ آنحضرت ﷺ کا آخر زمانہ میں ایک مظہر ظاہر ہوگا...... جس کا نام آسمان پر احمد ہوگا اور وہ حضرت مسیح کے رنگ میں جمالی طور پر دین کو پھیلائے گا۔“

(اربعین نمبر ٣ ص ٣١، خزائن ج ١٧ ص ٤٢١)

انہوں نے مزید کہا: ”خوب توجہ کر کے سن لو، اب اسم محمدؐ کی تجلی ظاہر کرنے کا وقت نہیں۔ یعنی اب جلالی رنگ کی کوئی خدمت باقی نہیں۔ کیونکہ مناسب حد تک وہ جلال ظاہر ہو چکا۔ سورج کی کرنوں کی اب برداشت نہیں۔ اب چاند کی ٹھنڈی روشنی کی ضرورت ہے۔“

(اربعین نمبر ٤ ص ١٤، خزائن ج ١٧ ص ٤٤٥)

مرزا غلام احمد قادیانی کے اس اعلان کو قادیانیوں نے خوب خوب اچھالا اور حتمی ویقینی طور پر اس بشارت مسیح ابن مریم کو مرزا قادیانی پر چسپاں کیا۔ قادیانیوں کے اس عقیدے کی توضیح وتائید کے سلسلے میں قادیانی جماعت کے ایک بڑے عہدہ دار اور متنبی قادیان کے خاندان کے ایک ممتاز رکن سید زین العابدین ولی اللہ شاہ، ناظر دعوت وتبلیغ قادیان نے قادیانیوں کے ظلی حج (جلسہ سالانہ) ١٩٣٤ء کے اجلاس میں ایک تقریر اسمہ احمد کے عنوان پر کی جو بعد ازاں اسمہ احمد اور حجۃ اللہ البالغہ کے دوہرے نام سے ٨٠ صفحات پر مشتمل کتاب کی صورت میں شائع ہوئی۔ زین العابدین ولی اللہ شاہ کہتے ہیں: ”اس سورہ (صف) میں ”یا ایھا الذین آمنوا“ کہہ کر مسلمانوں کو تین مرتبہ مخاطب کیا گیا ہے اور ان سے یہ کہا گیا ہے کہ تم اس بات کو بھولنا نہیں کہ جب موسیٰ کی قوم ٹیڑھی چالیں چلی تو خدا تعالیٰ نے ان کے دلوں کو ملعون کر دیا اور بجائے محبت کے ان سے نفرت کی اور مسلمانوں کو بھی مخاطب کر کے ان سے یہ کہا گیا کہ مسلمانو! تم نے یہ بات بھی نہیں بھولنی کہ حضرت مسیح نے اپنے بعد ایک رسول کی بشارت دی تھی۔ جس کا نام احمد ہے۔ چونکہ روئے سخن مسلمانوں کی طرف ہے اور انہی کی بدعہدی اور دوبارہ اصلاح کا سوال ہے۔ اس لئے یہاں جس احمد کی بشارت یاد رکھنے کے لئے مسلمانوں کو تلقین کی گئی ہے۔ اس سے مراد یقیناً وہ احمد ہے

٧٠

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٩٩

جو مسلمانوں کی خستہ حالی کے وقت اور ان کی اصلاح کی خاطر مبعوث ہونا تھا۔ نہ کوئی اور احمد (اس ’’نہ کوئی اور احمد‘‘ کے ایمان سوز اسلوب پر توجہ دیجئے۔ آہ! مادر نہ زادے)...... تو پھر یہ کہنا کہ اس آیت میں جس احمد کی بشارت دی گئی ہے۔ وہ محمد رسول اللہ ﷺ ہیں۔ قطعاً معقول نہیں ۔‘‘

(اسمہ احمد حصہ اوّل ص ٢٣،٢٤)

انہوں نے مزید کہا: ’’یہ ایسی جرح ہے کہ اس کے سامنے کوئی دلیل نہیں ٹھہر سکتی۔ جو اسمہ احمد کی پیش گوئی ...... میں محمد رسول اللہ کا نام نہیں۔ بلکہ اس موعود کا نام ہے جو مسیح کی آمد ثانی کو پورا کرنے والا ہے۔‘‘

(اسمہ احمد حصہ اوّل ص ٤٧)

زین العابدین مکرر کہتے ہیں: ’’آپ (حضور نبی کریم ﷺ) کی امت میں سے وہ انسان جو کامل طور پر آپ کے نام احمد کا ہر رنگ میں وارث اور اسم با مسمّٰی ہونا تھا وہ مسیح موعود ہے۔ جو اپنی اس جمالی صفت میں مسیح ناصری کا مثیل اور اس کی پیش گوئی ’’مبشراً برسول یأتی من بعدی اسمہ احمد‘‘ کا مصداق اتم ہے۔‘‘

چنانچہ آپ (مرزا غلام احمد قادیانی) ازالہ اوہام طبع اوّل کے ص ٦٧٣ پر قرآن مجید میں مسیح موعود کی پیش گوئی پر بحث کرتے ہوئے فرماتے ہیں: ’’اور اس آنے والے کا نام جو احمد رکھا گیا ہے۔ وہ اس کے مثیل مسیح ہونے کی طرف اشارہ ہے ...... اسی کی طرف اشارہ ہے۔ ’’ومبشراً برسول یأتی من بعدی اسمہ احمد‘‘ مگر ہمارے نبی ﷺ فقط احمد ہی نہیں بلکہ محمد بھی ہیں۔ یعنی جامع جلال و جمال۔ لیکن آخری زمانہ میں بر طبق پیش گوئی مذکورہ بالا مجرد احمد جو اپنے اندر حقیقت عیسویت رکھتا ہے بھیجا گیا۔‘‘

اس حوالہ سے صاف ظاہر ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصّلوٰۃ والسلام اسمہ احمد کے مصداق اپنے آپ کو ٹھہراتے ہیں۔‘‘

(اسمہ احمد حصہ اوّل ص ٤٧، ٤٨)

انہوں نے مزید صراحت سے کہا: ’’مسیح موعود کو یہ امتیاز بھی حاصل ہے کہ آپ اپنے ذاتی نام کے اعتبار سے حضرت مسیح کی مخصوص پیش گوئی ’’اسمہ احمد‘‘ کے حقیقی مصداق ہیں۔ مسیح موعود کے سوائے اور کوئی شخص نہیں جو آیت ’’مبشراً برسول یأتی من بعدی اسمہ احمد‘‘ کا ذاتی نام اور مقررہ خصوصیات کے لحاظ سے بھی مصداق ہو۔‘‘

(اسمہ احمد حصہ اوّل ص ٥٠)

بلا ادنیٰ تردّد یہ صاحب لکھتے ہیں: ’’اسمہ احمد کی اس مخصوص پیش گوئی کے مصداق آنحضرت (ﷺ) نہیں بلکہ حضرت مسیح موعود ہیں ...... اور یہی وہ بات ہے جو حضرت مسیح موعود

٧١

صفحہ ١٠٠

بالتکرار فرماتے ہیں۔۔۔۔۔۔ حضرت مسیح کی پیش گوئی اسمہ احمد کا مصداق وہ مسیح موعود ہے۔ جس کی بعثت ایسے زمانے کے لئے مخصوص ہے۔ جب مسلمان اسلام سے برگشتہ ہو چکے ہوں گے اور ان کی برگشتگی کی وجہ سے شان محمدیت کے سورج کو گرہن لگا ہوا ہوگا۔“

(اسمہ احمد حصہ اوّل ص ٥٠)

سید زین العابدین اس کتاب کے آخری پیراگراف میں کہتے ہیں: ”خلاصہ یہ کہ کیا باعتبار اپنے نام کے اور کیا باعتبار اس عظیم الشان کام کے۔۔۔۔۔۔صرف ایک آپ ہی درحقیقت سورۂ صف کی پیش گوئیوں کے مصداق ہیں۔ دوسرا کوئی نہیں۔“

(اسمہ احمد حصہ اوّل ص ٧٤)

ان توضیحات کے بعد کسی قسم کا شائبہ اس حقیقت میں باقی نہیں رہتا کہ قادیانی امت ”مبشراً برسول یأتی من بعدی اسمہ احمد“ کا مصداق صرف اور صرف مرزا غلام احمد قادیانی کو قرار دیتی ہے۔ امام الانبیاء کو نہیں۔

ایک اور عبرت انگیز پہلو اس مسئلے کا اور وہ یہ کہ انہوں نے اس اعتراض کا جواب بھی دیا کہ مرزا قادیانی کا نام تو غلام احمد ہے۔ انہیں ”احمد“ کیسے کہا جاسکتا ہے۔

زین العابدین صاحب فرماتے ہیں: ”یہ اعتراض کہ اگر اسمہ احمد سے مراد مسیح کا نام ہے تو یہ درست نہیں۔ کیونکہ آپ کا نام ”غلام احمد“ ہے۔ (اس کا جواب وہ یہ دیتے ہیں) غلام کا لفظ قرآن مجید میں نہیں۔۔۔۔۔۔ پیش گوئی میں اصل اعتبار درحقیقت معانی کو ہوا کرتا ہے اور حقیقت یہ ہے کہ آنے والے ابن مریم یا مہدی موعود کا نام آنحضرت ﷺ نے احمد بتایا ہے۔ حضرت مسیح نے بھی جو کام اپنی آمد ثانی کا بتلایا۔ اس کے اعتبار سے بھی وہ احمد ہے۔ قرآن مجید نے بھی اس کا نام احمد بتلایا۔ اللہ تعالیٰ نے بھی اپنی وحی میں حضرت مرزا صاحب کو احمد ہی کر کے اکثر پکارا۔ اس پر اتفاق یہ کہ والدین نے بھی آپ کا جو نام تجویز کیا۔ اس میں بھی اصل احمد ہے۔“

(اسمہ احمد حصہ اوّل ص ٥٠، ٥١ حاشیہ)

یہ تو تھا ناظر دعوت وتبلیغ کا عقیدہ۔

قرآن مجید کی خوشخبری میں حضورؐ کا نہیں مرزا غلام احمد کا ہی ذکر ہے

اور اس کی تصدیق مرزا غلام احمد قادیانی کے الہامی فرزند مصلح موعود مرزا محمود ان الفاظ سے کرتے ہیں: ”پہلا مسئلہ یہ ہے کہ آیا حضرت مسیح موعود کا نام احمد تھا یا آنحضرت ﷺ کا اور کیا سورہ صف کی آیت جس میں ایک رسول کی جس کا نام احمد ہوگا۔ بشارت دی گئی ہے۔

٧٢

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ١٠١

آنحضرت ﷺ کے متعلق ہے یا حضرت مسیح موعود کے متعلق۔ میرا یہ عقیدہ ہے کہ یہ آیت (اسمہ احمد) مسیح موعود کے متعلق ہے اور احمد آپ ہی ہیں۔ لیکن ان کے خلاف کہا جاتا ہے کہ احمد نام رسول کریم ﷺ کا ہے اور آپ کے سوا کسی اور شخص کو احمد کہنا آپ کی ہتک ہے۔ لیکن میں جہاں تک غور کرتا ہوں میرا یقین بڑھا جاتا ہے اور میں ایمان رکھتا ہوں کہ جو لفظ قرآن کریم میں آیا ہے۔ وہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے متعلق ہی ہے۔“

(انوار خلافت ص ١١)

حضورؐ اپنی پہلی بعثت میں احمد تھے ہی نہیں

رہی سہی کسر مرزا محمود کے چھوٹے بھائی مرزا بشیر احمد نے یوں پوری کی۔ انہوں نے کہا: ”ان تمام الہامات میں اللہ تعالیٰ نے مسیح موعود (یعنی مرزا غلام احمد قادیانی) کو احمد کے نام سے پکارا ہے۔ دوسری طرف ہم دیکھتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) بیعت لیتے وقت یہ اقرار لیا کرتے تھے کہ آج میں احمد کے ہاتھ پر اپنے تمام گناہوں سے توبہ کرتا ہوں۔ پھر اسی پر بس نہیں بلکہ آپ نے اپنی جماعت کا نام بھی احمدی جماعت رکھا۔ پس یہ بات یقینی ہے کہ آپ احمد تھے...... اس جگہ کسی کو یہ وہہم نہ گزرے کہ ہم نعوذ باللہ نبی کریم ﷺ کو احمد نہیں مانتے۔ ہمارا ایمان ہے کہ آپ احمد تھے۔ بلکہ ہمارا تو یہاں تک خیال ہے کہ آپ کے سوائے کوئی احمد نہیں اور نہ کوئی احمد ہو سکتا ہے۔ مگر سوال تو یہ ہے کہ کیا آپ اپنی پہلی بعثت میں بھی احمد تھے؟ نہیں بلکہ آپ اپنی پہلی بعثت میں محمدیت کی جلالی صفت میں ظاہر ہوئے تھے۔ لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ سورہ صف میں کسی ایسے رسول کی پیش گوئی کی گئی ہے جو احمد ہے۔ پس ثابت ہوا کہ یہ پیش گوئی نبی کریم کی پہلی بعثت کے متعلق نہیں۔ بلکہ آپ کی دوسری بعثت یعنی مسیح موعود (مرزا غلام احمد قادیانی) کے متعلق ہے۔ کیونکہ مسیح موعود جمالی صفت کا مظہر یعنی احمد ہے...... اس حقیقت کو خود حضرت مسیح موعود نے اپنی کتاب اعجاز المسیح میں بڑی وضاحت کے ساتھ بیان کیا ہے اور کھول کھول کر بتایا ہے کہ نبی کریم ﷺ کے دو بعثت ہیں۔ بعثت اوّل میں اسم محمد کی تجلی تھی۔ مگر بعثت دوم اسم احمد کی تجلی کے لئے ہے...... ان تمام حوالہ جات سے بات یقینی اور قطعی طور پر ثابت ہے کہ سورۂ صف میں جس احمد رسول کے متعلق عیسیٰ علیہ السلام نے پیش گوئی کی ہے۔ وہ احمد مسیح موعود (یعنی مرزا غلام احمد قادیانی) ہی ہے۔ جس کی بعثت حسب وعدہ الٰہی و آخرین منہم خود نبی کریم کی بعثت ہے۔

(کلمۃ الفصل ص ١٣٩ تا ١٤١)

اللہ اکبر! جسارت و رذالت کی حد واقعی کسی کو معلوم نہیں۔ غلام احمد قادیانی کے بارے

٧٤

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ١٠٢

میں تو یہ کہ احمد آپ ہی ہیں اور سید العالمین کے متعلق یہ کہ آپ جب مبعوث ہوئے تو آپ احمد تھے ہی نہیں۔ صرف محمد ہی تھے۔ لیکن سیدالرسل ﷺ فرماتے ہیں۔ انا محمد وانا احمد (بخاری ج ٢ ص ٧٢٧)!

حضرت علیؓ فرماتے ہیں کہ حضورؐ سے میں نے سنا۔ آپؐ فرماتے تھے۔ ”سمیت احمد (مسلم ج ٢ ص ٢٦١)“ میرا نام احمد رکھا گیا۔ امام باقرؒ حضرت علیؓ کی شہادت پیش کرتے ہیں کہ حضرت آمنہ کو حضورؐ کی ولادت سے پہلے دوران حمل حکم دیا گیا کہ ”ان تسمیہ احمد“ آپ کا نام احمد رکھیں۔ یمن کے اسقف اعظم جارود، مدینہ طیبہ آئے اور حضور ﷺ کو دیکھ کر مشرف باسلام ہوئے اور فرمایا: ”والذی بعثک بالحق لقد وجدت وصفک فی الانجیل ولقد بشر بک ابن البتول (خصائص کبریٰ بیھقی ج ١ ص ٣٠)“ {اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کا علمبردار بنا کر مبعوث فرمایا۔ میں نے آپ کی صفات انجیل میں پڑھی ہیں اور آپ ہی کی بشارت ابن بتول مریم نے دی تھی۔}

لیکن قزاقان روائے محمدیہ کی یہ جسارت کہ حضور تو محمد کے جلالی نام سے موسوم ہونے کے باعث اس بشارت کے مصداق نہیں ہو سکتے اور غلام احمد بن غلام مرتضیٰ ”احمد“ بھی بن گئے

میں تو یہ کہ احمد آپ ہی ہیں اور سید العالمین کے متعلق یہ کہ آپ جب مبعوث ہوئے تو آپ احمد تھے ہی نہیں۔ صرف محمد ہی تھے۔ لیکن سیدالرسل ﷺ فرماتے ہیں۔ انا محمد وانا احمد (بخاری ج ٢ ص ٧٢٧)!

حضرت علیؓ فرماتے ہیں کہ حضورؐ سے میں نے سنا۔ آپؐ فرماتے تھے۔ ”سمیت احمد (مسلم ج ٢ ص ٢٦١)“ میرا نام احمد رکھا گیا۔ امام باقرؒ حضرت علیؓ کی شہادت پیش کرتے ہیں کہ حضرت آمنہ کو حضورؐ کی ولادت سے پہلے دوران حمل حکم دیا گیا کہ ”ان تسمیہ احمد“ آپ کا نام احمد رکھیں۔ یمن کے اسقف اعظم جارود، مدینہ طیبہ آئے اور حضور ﷺ کو دیکھ کر مشرف باسلام ہوئے اور فرمایا: ”والذی بعثک بالحق لقد وجدت وصفک فی الانجیل ولقد بشر بک ابن البتول (خصائص کبریٰ بیھقی ج ١ ص ٣٠)“ {اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کا علمبردار بنا کر مبعوث فرمایا۔ میں نے آپ کی صفات انجیل میں پڑھی ہیں اور آپ ہی کی بشارت ابن بتول مریم نے دی تھی۔}

لیکن قزاقان روائے محمدیہ کی یہ جسارت کہ حضور تو محمد کے جلالی نام سے موسوم ہونے کے باعث اس بشارت کے مصداق نہیں ہو سکتے اور غلام احمد بن غلام مرتضیٰ ”احمد“ بھی بن گئے اور اس بشارت کا مصداق صرف وہی ہیں۔ سچ ہے ”اذا لم تستحی فاصنع ماشئت“ پردۂ حیا اٹھے تو جو چاہو کرو۔ ”ان فی ذالک لعبرۃ لاولی الابصار“

مرزا غلام احمد قادیانی اور ان کے ماننے والوں کی تیرھویں وجہ کفریہ عنوان ہوا۔

شان محمدیت کو گرہن اور مرزا کا عظیم الشان کام

اگر کسی کے قلب میں ایمان کی ادنیٰ سی رمق موجود ہو تو اس کے لئے یہ پہلو بھی انتہائی توجہ کا مستحق ہونا چاہئے کہ اسمہ احمد کے مؤلف زین العابدین نے اسمہ احمد کا مصداق مرزا غلام احمد قادیانی کو ثابت کرنے کے لئے یہ جسارت بھی کی کہ حضور اکرم ﷺ اور مرزا غلام احمد قادیانی کے مابین ایک مقابلہ بازی اور رحمت ہر دو عالم ﷺ کے خلاف محاذ آرائی کا انداز بیان اختیار کیا اور حضور کے بالمقابل مرزا غلام احمد قادیانی کے کام کو عظیم الشان قرار دیا۔ انہوں نے کہا: ”مسیح موعود کو یہ امتیاز بھی حاصل ہے کہ ...... مسیح موعود کے ماسوائے اور کوئی شخص نہیں جو آیت مبشراً......کا ذاتی نام اور مقررہ خصوصیات کے لحاظ سے بھی مصداق ہو۔“

(اسمہ احمد حصہ اوّل

ص ٥٠،٤٩)

٧٤

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ١٠٣

مزید کہا: ”بااعتبار نام کے اور کیا اعتبار اپنے اس عظیم الشان کام کے جس کی بنیاد چودھویں صدی امام حضرت احمد مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے مبارک ہاتھوں سے رکھائی گئی۔ صرف ایک آپ (مرزا غلام احمد قادیانی) ہی درحقیقت سورہ صف کی پیش گوئیوں کے مصداق ہیں۔ دوسرا کوئی نہیں۔“

(اسمہ احمد حصہ اوّل ص ٧٤)

نار بدہنش ان صاحب کے نزدیک محمد رسول اللہ فداہ ابائنا و امہاتنا ﷺ پر مرزا کو یہ امتیاز بھی حاصل ہے کہ نام کے علاوہ وہ خصوصیات جو اسمہ احمد کی پیشین گوئی میں عنداللہ مطلوب تھیں۔ وہ حضور میں تو موجود نہیں تھیں۔ لیکن مرزا غلام احمد قادیانی ان خصوصیات کے حامل تھے اور مزید یہ کہ مرزا غلام احمد قادیانی اس لئے پیشین گوئی کے واحد مستحق ہیں کہ انہوں نے جو کام کیا وہ اتنا عظیم الشان ہے کہ محمد رسول اللہ ﷺ کما یحب و یرضی کے کام سے زیادہ عظیم الشان ہے۔ لہٰذا محمد رسول اللہ ﷺ نہیں بلکہ مرزا غلام احمد قادیانی ہی اس پیشین گوئی کے مستحق ہیں۔ مزید برآں یہ سوقیانہ طرز کلام کہ آپ (مرزا غلام احمد قادیانی) ہی در حقیقت ...... مصداق ہیں دوسرا اور کوئی نہیں۔ دوسرا اور کوئی نہیں کا ملعون جملہ کس انداز سے حضور ﷺ کی تحقیر کا باعث ہے۔ زبان و انداز تکلم سے ذرا سی آگہی رکھنے والے اس سے بے خبر نہیں۔ تیسرا قابل صد ہزار لعنت یہ جملہ کہ: ”حضرت مسیح کی پیشین گوئی اسمہ احمد کا مصداق ...... وہ مسیح موعود ہے جس کی بعثت ایسے زمانے کے لئے مخصوص ہے۔ جس میں مسلمان اسلام سے برگشتہ ہو چکے ہوں گے اور ان کی برگشتگی کی وجہ سے شان محمدیت کے سورج کو گرہن لگا ہوا ہوگا۔“

(اسمہ احمد

حصہ اوّل ص ٥٠)

ہم نہیں کہہ سکتے کہ یہ ایمان سوز جملہ کہ ”مسلمانوں کی اسلام سے برگشتگی کی وجہ سے شان محمدیت کو گرہن لگا ہوا ہوگا“ مسلمانوں کے لئے کس حد تک قابل برداشت ہے؟ لیکن اس کا یہ پہلو کہ یہ دونوں بدترین عقیدے ایک تو یہ کہ اسمہ احمد کا مصداق حضور کو قرار دیا جائے یا مرزا غلام احمد قادیانی کو؟ اس کا فیصلہ مرزا غلام احمد قادیانی کے حق میں اس لئے کہ اسے یہ امتیاز حاصل تھا کہ اس نے جو عظیم الشان کام انجام دیا وہ نار بدہنش، حضور ﷺ سے انجام نہیں پا سکا اور دوسرا یہ کہ مرزا قادیانی کی آمد کے وقت شان محمدی کا سورج گرہن زدہ تھا۔

یہ دونوں واضح طور پر الگ الگ کلمات کفر ہیں اور علاوہ توہین رسالت کے مستقل طور پر تیرہویں اور چودھویں وجوہ کفر ہیں۔

٧٥

صفحہ ١٠٤

مبادا یہ کہا جائے کہ ایک زین العابدین کی اس ملعون جسارت سے سارے قادیانیوں کو کافر قرار دینے کا جواز کیسے ہو۔ بلاشبہ ایک فرد کے کلمہ کفر کی بناء پر کسی بھی جماعت کو کافر قرار دینا جائز نہیں۔ لیکن صرف اسی وقت جب یہ جماعت اس کلمہ کفر سے بے خبر ہو یا علم و اطلاع کے بعد اس کلمہ کفر کی تردید کی ہو۔ مگر یہاں صورتحال اس سے یکسر مختلف ہے۔

ہوا یہ کہ زین العابدین ولی اللہ شاہ بجائے خود قادیانی تنظیم کے اہم رکن تھے۔ وہ مرکزی دعوت و تبلیغ کے ناظر تھے۔ ثانیاً انہوں نے یہ تقریر ١٩٣٤ء کے جلسہ سالانہ قادیان میں کی۔ جسے اس جلسہ میں شریک تمام قادیانیوں نے سنا اور تیسری یہ بات کہ اس جلسہ کی صدارت آنجہانی مرزا بشیر الدین محمود کر رہے تھے۔ جو قادیانیوں کے امیر المؤمنین بھی تھے اور خلیفہ الرسول بھی۔ رابعاً یہ کہ ازاں بعد یہ تقریر کتابی صورت میں شائع ہوئی۔ اسی کتاب کے ٹائٹل پر درج ہے۔ ”تقریر دل پذیر جناب سید زین العابدین ولی اللہ شاہ صاحب ناظر دعوت و تبلیغ بر موقعہ جلسہ سالانہ ١٩٣٤ء۔“

(اسمہ احمد ٹائٹل پیج)

یہ جلسہ جیسا کہ ابھی عرض کیا گیا۔ اس وقت کے قادیانی خلیفہ مرزا محمود کے زیر اہتمام اور انہی کی صدارت میں ہوا۔ اس تقریر کا محرک ایک یہ بھی تھا کہ مرزا محمود اسمہ احمد کی پیشین گوئی کا مصداق مرزا غلام احمد کو ثابت کر رہے تھے اور لاہوری جماعت کے اکابر اس پر تنقید کر رہے تھے۔ زین العابدین صاحب نے یہ تقریر اس لئے بھی کی کہ مرزا محمود کی تائید بھی ہو اور مخالفین کا جواب بھی دیا جائے۔ چنانچہ اس کتاب کے دیباچہ میں مؤلف نے اس کا ذکر بھی کیا کہ وہ کہتے ہیں۔ ”حضرت خلیفۃ المسیح (مرزا محمود) ایدہ اللہ بنصرہ العزیز کی اس رائے پر کہ اسمہ احمد کی پیشین گوئی سے مراد حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام ہیں۔ جرح کرتے ہوئے (مولوی محمد علی اور ان کے رفقاء نے استہزاء سے بہت کام لیا ہے۔..... اگر) مولوی (محمد علی) میری اس تقریر کو بغور پڑھیں گے جو میں نے اپنے بیان میں ملحوظ رکھی ہے تو میں امید کرتا ہوں کہ وہ اپنے چیلنج کا صحیح جواب اس میں پالیں گے۔“

(اسمہ احمد اندرونی

صفحہ ٹائٹل)

اس اہمیت کی کتاب شائع ہوئی اور آج تک کسی بھی قادیانی نے ان کفریہ کلمات سے بریت کا اعلان نہیں کیا اور مزید یہ کہ قادیانی نبوت و خلافت کی پوری تاریخ اس قسم کے کافرانہ

٧٦

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ١٠٥

عقائد سے بھری پڑی ہے اور حضور ﷺ کی شان میں گستاخیاں، مرزا قادیانی کے عمومی الہامات سے خطبہ الہامیہ تک مسلسل جاری ہیں۔ بنا بریں یہ کفر پوری قادیانی امت کا عقیدہ ہے اور اس کی بناء پر اسے کافر قرار دیے بغیر چارہ نہیں۔ یہ ہے قادیانی متنبی اور ان پر ایمان لانے والے کے کافر ہونے کی چودھویں دلیل قاطع ہے۔

قرآنی شریعت کو منسوخ قرار دیں تو بھی مجھے انکار نہ ہو

مرزا غلام احمد قادیانی نے جو امت تیار کی۔ اللہ غیور نے اس کے اہم افراد کے دل مسخ کر دیئے اور وہ تمام گمراہ امتوں اور دین سے منحرف سرکشوں کی طرح ہمیشہ کے لئے ہدایت الٰہیہ سے محروم ہو گئے اور ان کے ایمان واسلام کی بنیاد نہ قرآن مجید رہا نہ امام الانبیاء ﷺ کی احادیث، انہوں نے مرزا قادیانی کو مانا اور وہی ان کے حقیقی مرکز ومحور بنے اور ایسا ہونا باعث تعجب نہیں۔ اوّلاً تو نبوت کا دعویٰ اور اسے قبول کر لینا۔ اسی کا منطقی تقاضا یہ ہے کہ حق وباطل کا معیار اس نئے نبی کی وحی یا الہام ہی ہو۔ ثانیاً مرزا غلام احمد قادیانی نے ہوس جاہ وعزت میں مبتلا ہو کر قادیانیوں کی تربیت ہی اس انداز سے کی کہ وہ اب مرزا قادیانی کے سوا کسی کی بات کو اہمیت نہ دیں۔ چنانچہ یہ جو بعض اہم اور ممتاز قادیانیوں نے کہا کہ وہ اگر قرآن مجید کو مانتے ہیں تو صرف اس لئے کہ قرآن مجید سے مرزا غلام احمد قادیانی کی نبوت کا ثبوت ملتا ہے۔ بالفاظ دیگر اگر یہ نہ ہوتا تو انہیں قرآن مجید سے کوئی دلچسپی نہ تھی۔ ان ہر دو اسباب سے پیدا ہونے والے ذہن کی ایک عبرت انگیز مثال قادیانی امت کے خلیفہ اوّل، حکیم نور الدین ہیں۔ حکیم صاحب لکھے پڑھے ہی نہیں ذی علم انسان تھے۔ لیکن جب مرزا غلام احمد قادیانی کے چنگل میں پھنسے تو ہر اس منزل کو طے کیا جو ضلال بعید کا شکار ہونے والوں کے لئے مقرر ہے۔

حکیم نور الدین کے بارے میں مرزا غلام احمد قادیانی کے فرزند، مرزا بشیر احمد لکھتے ہیں: ”مولوی صاحب (حکیم نور الدین) فرمایا کرتے تھے ...... کہ یہ تو صرف نبوت کی بات ہے۔ میرا ایمان تو یہ ہے کہ اگر حضرت مسیح (مرزا غلام احمد قادیانی) صاحب شریعت نبی ہونے کا دعویٰ کریں اور قرآنی شریعت کو منسوخ قرار دیں تو بھی مجھے انکار نہ ہو۔ کیونکہ جب ہم نے آپ کو واقعی صادق اور منجانب اللہ پایا ہے تو اب جو بھی آپ فرمائیں گے وہ ہی حق ہوگا۔ خاکسار (مرزا بشیر احمد) عرض کرتا ہے کہ واقعی جب ایک شخص کا اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہونا یقینی دلائل کے ساتھ ثابت ہو جائے تو پھر اس کے کسی دعویٰ میں چوں چراں کرنا باری تعالیٰ کا مقابلہ کرنا ٹھہرنا

٧٧

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ١٠٦

ہے۔“

(سیرت المہدی حصہ اوّل ص٩٩، روایت نمبر ١٠٩)

اس نوع کی مثالوں نے مرزا غلام احمد قادیانی کو یہ جرأت دلائی کہ وہ کھلم کھلا اسلامی شریعت کو منسوخ کرنے کے سلسلے کا آغاز کریں اور انہوں نے جہاد ایسے عظیم مسئلہ کو سب سے پہلا ہدف بنایا۔ فاعتبروا یا اولی الابصار!

ناسخ شریعت محمدیہ ہونے کی جسارت

جہاد قرآنی تصریحات کی روشنی میں

مرزا غلام احمد قادیانی نے مسلمانوں کو ورغلانے اور دھوکے میں مبتلا کر کے اپنے دامن میں پھنسانے کا جو طریق کار مسلسل اختیار کئے رکھا۔ بلاشبہ اس کا یہ فائدہ تو انہیں ضرور پہنچا کہ مسلمانوں میں سے ایک تعداد، ان کا شکار ہوگئی اور انہوں نے اسلام کے نام پر کفر، تجدید دین کے نام پر، تخریب دین اور حضور خاتم النبیین ﷺ کے احترام واکرام کے دھوکے میں مبتلا ہوکر سید الکونین ﷺ پر ایمان لانے سے محرومی اور آپؐ کی شان اقدس میں گستاخی مول لی اور دنیا وآخرت کا خسارہ برداشت کیا۔

لیکن اہل حق کی محنتوں اور کاوشوں سے دھوکہ دہی کے اس کاروبار کی حیثیت بے نقاب ہوگئی اور انہوں نے ایسے حقائق پیش کئے جو پکار پکار کر کہہ رہے تھے کہ یہ شخص اپنے تمام دعاوی میں کاذب ہے اور اس کا وجود، امام المرسلین ﷺ کے اس انتباہ کی عملی صورت ہے۔ جس سے حضورؐ نے ان الفاظ میں امت کو آگاہ فرمایا تھا۔

”سیکون فی امتی کذابون ثلاثون (فی روایۃ عن ابی ہریرۃ حتی یبعث دجالون، کذابون قریباً من ثلاثین) کلہم یزعم انہ نبی اللہ وانا خاتم النبیین لا نبی بعدی (ترمذی ج ٢ ص ٤٥، باب لا تقوم الساعۃ حتی یخرج کذابون)“

لامحالہ ٣٠ کے قریب ایسے افراد میری امت میں ظاہر ہوں گے جو سب سے بڑے دھوکہ باز اور سچ و جھوٹ، حق اور باطل کو ملا جلا کر پیش کرنے کے ماہر (دجال) ہوں گے اور سب سے زیادہ جھوٹے بھی، ان میں سے ہرشخص اس زعم وخبط میں مبتلا ہوگا کہ وہ اللہ تعالیٰ کا نبی ہے۔ درآنحالیکہ میں خاتم النبیین ہوں۔ میرے بعد کوئی نبی نہیں ہوگا۔

٧٨

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ١٠٧

صادق القول، نبی برحق ﷺ کے اس عظیم اور واضح انتباہ کی روشنی میں، زیر بحث متنبی اور ان کی امت کے کردار کا ایک گوشہ اس عنوان کے تحت مرزا غلام احمد قادیانی نے بارہا مسلمانوں کو دھوکہ دیا کہ: ”میں نہ نبوت کا مدعی ہوں اور نہ معجزات اور ملائکہ اور لیلۃ القدر وغیرہ کا منکر۔ بلکہ میں ان تمام امور کا قائل ہوں جو اسلامی عقائد میں داخل ہیں اور جیسا کہ سنت جماعت کا عقیدہ ہے۔ ان سب باتوں کو مانتا ہوں۔ حضرت محمد مصطفی ﷺ ختم المرسلین کے بعد کسی دوسرے مدعی نبوت کو کافر اور کاذب جانتا ہوں ۔“

(مجموعہ اشتہارات ج ١ ص ٢٣٠)

”میں نے نبوت کا دعویٰ نہیں کیا اور نہ میں نے انہیں کہا ہے کہ میں نبی ہوں۔ لیکن ان لوگوں نے جلدی کی اور میرے قول کے سمجھنے میں غلطی کی۔“

(حمامتہ البشریٰ ص ٧٩، خزائن ج ٧ ص ٢٩٦)

مرزا غلام احمد قادیانی نے مزید کہا اور اپنی مظلومیت اور اپنے مخالفین کے ظلم پر احتجاج کرتے ہوئے۔ قیامت کے یوم الفصل میں بارگاہ رب العزت میں دعویٰ دائر کرنے کی دھمکی دی۔

”یہی ہمارا مذہب ہے اور جو شخص مخالف اس مذہب کے کوئی اور الزام ہم پر لگاتا ہے۔ وہ تقویٰ اور دیانت کو چھوڑ کر ہم پر افتراء کرتا ہے اور قیامت میں ہمارا اس پر دعویٰ یہ ہے کہ کب اس نے ہمارا سینہ چاک کر کے دیکھا کہ ہم باوجود ہمارے اس قول کے دل سے ان اقوال کے مخالف ہیں۔ الا ان لعنۃ اللہ علی الکاذبین المفترین“

(ایام الصلح ص ٨٧، خزائن ج ١٣ ص ٣٢٣)

اس پاکدامنی اور اپنے خلاف عائد الزامات کی صفائی ہی کے سلسلے میں انہوں نے اسلامی شریعت کے احکام کے سلسلے میں کہا۔

ایک جانب ان کے یہ اعلانات، احتجاجات اور یقین دہانیاں لیکن دوسری طرف ان کی یہ جرات و جسارت کہ وہ برملا اسلامی شریعت کے بعض اہم اور اساسی قسم کے احکام کو سرے سے منسوخ قرار دینے کا دعویٰ ببانگ دہل کرتے ہیں۔ اس کی ایک فیصلہ کن مثال، مسئلہ جہاد ہے۔

جہاد جسے قرآن مجید:

٧٩

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ١٠٨

فرماتا ہے۔

گریز کو، عذاب الہی کے نزول کا سبب بھی۔

فرمایا گیا:

من دون الله ولا رسوله ولا المؤمنين وليجة والله خبير بما تعملون (التوبہ: ١٦)“ {کیا تم اس خام خیالی میں مبتلا ہو کہ تم یونہی چھوڑ دیئے جاؤ گے۔ درآنحالیکہ اللہ نے تم میں سے ان لوگوں کو چھانٹا ہی نہیں جنہوں نے جہاد کیا اور انہوں نے اللہ، اس کے رسول اور اصحاب پر ایمان کے علاوہ کسی کو اپنا ولی سر پرست محرم راز اور معتمد نہیں بنایا اور اللہ تمہارے اعمال سے بخوبی آگاہ ہے۔}

من حرج ملة ابيكم ابراهيم (الحج: ٧٨)“ {اور جہاد کرو اللہ کے دین اور اس کے لئے خالص ہونے اور اس کی رضا حاصل کرنے کے لئے جیسا کہ جہاد کا حق ہے۔ اس نے تمہیں اس کام کے لئے چن لیا اور دین میں تمہارے لئے کوئی حرج نہیں۔}

ن اقترفتموها وتجارة تخشون كسادها ومساكن ترضونها احب اليكم من الله ورسوله وجهاد فى سبيله فتربصوا حتى يأتى الله بامره والله لا يهدى القوم الفاسقين (التوبہ: ٢٤)“ {ان سے کہہ دیجئے کہ اگر تمہارے باپ، بھائی، بیٹے، بیویاں، تمہارے خاندان اور وہ مال جو تم نے کمایا۔ وہ تجارت جس کی کساد بازاری کا اندیشہ تمہیں لگا رہتا ہے اور وہ محلات و مکانات جو تمہیں پسند ہیں۔ اگر یہ سب کچھ تمہیں اللہ اس کے رسول اور اس کی راہ میں جہاد سے زیادہ عزیز ہیں تو انتظار کرو۔ یہاں تک کہ اللہ اپنا فیصلہ صادر فرمادے اور اللہ بدعہدوں کو نعمت ہدایت سے سرفراز نہیں فرماتے۔}

تنسیخ جہاد کا پس منظر مرزا غلام احمد قادیانی کے الفاظ میں

عظمت جہاد کے بارے میں اس قرآنی بیان کو ذہن میں رکھتے ہوئے مرزا غلام

٨٠

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ١٠٩

احمد قادیانی کے فکر وعمل کا جائزہ لیجئے۔ مناسب ہوگا کہ تنسیخ جہاد کی وضاحت سے قبل، مسئلہ جہاد کے سلسلے میں مرزاغلام احمد قادیانی کے اخلاقی کردار اور اخلاص نیت کے بارے میں مثلاً انہی کے قلم سے صادر حقائق کی ایک جھلک دیکھ لی جائے۔ انہوں نے کہا: ”میں بذات خود سترہ برس سے سرکار انگریزی کی ایک ایسی خدمت میں مشغول ہوں کہ درحقیقت وہ ایک ایسی خیر خواہی گورنمنٹ عالیہ کی مجھ سے ظہور میں آئی ہے کہ میرے بزرگوں سے زیادہ ہے اور وہ یہ کہ میں نے بیسیوں کتابیں عربی اور فارسی اور اردو میں اس غرض سے تالیف کی ہیں کہ اس گورنمنٹ محسنہ (برطانیہ) سے ہرگز جہاد درست نہیں۔ بلکہ سچے دل سے اطاعت کرنا ہر ایک مسلمان کا فرض ہے۔“

(مجموعہ اشتہارات ج٢ ص٣٦٦)

”چنانچہ میں نے یہ کتابیں بصرف زر کثیر چھاپ کر بلاد اسلام میں پہنچائی ہیں اور میں جانتا ہوں کہ ان کتابوں کا بہت سا اثر اس ملک پر بھی پڑا ہے اور جو لوگ میرے ساتھ مریدی کا تعلق رکھتے ہیں وہ ایک جماعت تیار ہوتی جاتی ہے کہ جن کے دل اس گورنمنٹ کی سچی خیر خواہی سے لبالب ہیں۔“

(مجموعہ اشتہارات ج٢ ص٣٦٧)

وہ تنسیخ جہاد میں اتنے پر جوش تھے کہ انہوں نے برملا کہا: ”میں نے ممانعت جہاد اور انگریزی اطاعت کے بارے میں اس قدر کتابیں لکھی ہیں کہ اگر وہ اکٹھی کی جائیں تو پچاس الماریاں ان سے بھر سکتی ہیں۔ میں نے ان کتابوں کو تمام ممالک عرب اور مصر اور شام اور کابل اور روم تک پہنچایا ہے۔ میری ہمیشہ یہ کوشش رہی ہے کہ مسلمان اس ریاست کے سچے خیر خواہ ہو جائیں اور مہدی خونی اور مسیح خونی کی بے اصل روایتیں اور جہاد کے جوش دلانے والے مسائل جو احمقوں کے دلوں کو خراب کرتے ہیں۔ ان کے دلوں سے معدوم ہو جائیں۔“

(تریاق القلوب ص١٥، خزائن ج١٥ ص١٥٥)

مرزاغلام احمد قادیانی نے بیسیوں مرتبہ تنسیخ جہاد کی اس مہم کے حوالہ سے گورنمنٹ برطانیہ کی توجہ اپنی جانب مبذول کرائی اور برطانوی استعمار کی خوشنودی حاصل کرنے کی ذلت آفریں کوشش میں انتہائی خوشامدانہ الفاظ استعمال کئے۔ آخر کار ان کی یہ تمنا برآئی اور ان کی ان خدمات جلیلہ کا وہ شیریں ثمر ہاتھ لگا جو ان کی زندگی کی سب سے بڑی آرزو تھی۔ مرزاغلام احمد قادیانی کے فرزند صاحبزادہ بشیر احمد اپنی مشہور تصنیف ”سیرۃ المہدی“ میں اس تکمیل کی آرزو کا ذکر ان الفاظ میں کرتے ہیں۔

”خاکسار عرض کرتا ہے کہ کتاب پنجاب چیفس‘ یعنی تذکرہ رؤسا پنجاب...... (میں)

٨١

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ١١٠

ہمارے خاندان کے متعلق مندرجہ ذیل نوٹ درج ہے۔ اس جگہ بیان کرنا ضروری ہے کہ مرزا غلام احمد قادیانی جو غلام مرتضیٰ کا چھوٹا بیٹا تھا۔ مسلمانوں کے ایک بڑے مشہور مذہبی سلسلہ کا بانی ہوا جو احمدیہ سلسلہ کے نام سے مشہور ہے۔ اس نے بموجب مذہب اسلام مہدی یا مسیح موعود ہونے کا دعویٰ کیا۔ مرزا عربی، فارسی اور اردو کی بہت سی کتابوں کا مصنف تھا۔ جن میں اس نے مسئلہ جہاد کی تردید کی تھی اور یقین کیا جاتا ہے کہ ان کتابوں نے مسلمانوں پر معتدبہ اثر کیا ہے۔“

(سیرۃ المہدی حصہ اوّل ص ١٣٧، روایت نمبر ١٤٤)

اس سلسلہ میں مرزا غلام احمد قادیانی نے کن کن رذالتوں کو اختیار کیا۔ کس طرح جہاد میں مصروف مسلمانوں کی مخبری کی، کس لجاجت اور ہر شریف و حریت پسند انسان کے نزدیک قابل نفرت الفاظ سے حرمت جہاد کے تصور کو عام کرنے کی تفصیلات انگریزوں کے سامنے بار بار پیش کیں اور ملکہ وکٹوریہ کے نام خوشامد، فدویت، اظہار محبت، وفاداری کی یقین دہانی اور اپنی حالت زار پر توجہ ہمایونی مبذول فرمانے کی درخواستیں کس لب ولہجہ سے پیش کیں اور آخر کار عالمی سطح پر قادیانیوں نے مصروف جہاد مسلمانوں کے خلاف کیسی کیسی سازشیں کیں اور ان پر کفار عالم کے بعض سرکردہ افراد نے جو اظہار خیال کیا۔ یہ ساری داستان، قادیانیت کی طبیعت کے خصوصی خدوخال ابھارنے میں بڑی اہمیت کی حامل ہے۔ مگر اس کتاب سے چونکہ براہ راست ان عناوین کا تعلق نہیں۔ اس لئے اس پر مفصل بحث کی تو یہاں گنجائش نہیں۔ البتہ زیر بحث عنوان کی مناسبت سے دو تین حوالے مرزا غلام احمد قادیانی کے ملاحظہ فرمائیے۔ انہوں نے کہا:

گورنمنٹ کی اطاعت اور خدمت گزاری کی نیت سے

”بارہا بے اختیار دل میں یہ بھی خیال گزرتا ہے کہ جس گورنمنٹ کی اطاعت اور خدمت گزاری کی نیت سے ہم نے کئی کتابیں مخالفت جہاد اور گورنمنٹ کی اطاعت میں لکھ کر دنیا میں شائع کیں اور کافر وغیرہ اپنے نام رکھوائے۔ اس گورنمنٹ کو اب تک معلوم نہیں کہ ہم دن رات کیا خدمت کر رہے ہیں۔ ہم نے قبول کیا کہ ہماری اردو کی کتابیں جو ہندوستان میں شائع ہوئیں۔ ان کے دیکھنے سے گورنمنٹ عالیہ کو یہ خیال گزرا ہوگا کہ ہماری خوشامد کے لئے ایسی تحریریں لکھی گئی ہیں۔ لیکن یہ دانش مند گورنمنٹ ادنیٰ توجہ سے سمجھ سکتی ہے کہ عرب کے ملکوں میں جو ہم نے ایسی کتابیں بھیجیں جن میں بڑے بڑے مضمون اس گورنمنٹ کی شکر گزاری اور جہاد کی ممانعت کے بارے میں تھے۔ ان میں گورنمنٹ کی خوشامد کا کون سا موقع تھا۔ کیا گورنمنٹ نے

٨٢

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ١١١

مجھ کو مجبور کیا تھا کہ میں ایسی کتابیں تالیف کر کے ان ملکوں میں روانہ کروں اور ان سے گالیاں سنوں۔ میں یقین رکھتا ہوں کہ ایک دن گورنمنٹ عالیہ ضرور میری ان خدمات کی قدر کرے گی۔“

(مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ٤٢٥)

اعلیٰ درجہ کا اخلاص و محبت اور جوش اطاعت بحضور ملکہ معظمہ

وہ بے چین ہو کر پھر کہتے ہیں : ”اس عاجز (مرزا قادیانی) کہ وہ اعلیٰ درجہ کا اخلاص اور محبت اور جوش اطاعت حضور ملکہ معظمہ اور اس کے معزز افسروں کی نسبت حاصل ہے۔ جو میں ایسے الفاظ نہیں پاتا۔ جن میں اس اخلاص کا اندازہ بیان کر سکوں۔ اس سچی محبت اور اخلاص کی تحریک سے جشن شصت سالہ جوبلی کی تقریب پر میں نے ایک رسالہ حضرت قیصرہ ہند دام اقبالہا کے نام سے تالیف کر کے اور اس کا نام تحفہ قیصریہ رکھ کر جناب ممدوحہ کی خدمت میں بطور درویشانہ تحفہ کے ارسال کیا تھا اور مجھے قوی یقین تھا کہ اس کے جواب سے مجھے عزت دی جائے گی اور امید سے بڑھ کر میری سرفرازی کا موجب ہوگی ...... مگر یہ نہایت تعجب ہے کہ ایک کلمۂ شاہانہ سے بھی ممنون نہیں کیا گیا اور میرا کانشنس ہرگز اس بات کو قبول نہیں کرتا کہ وہ ہدیہ عاجزانہ یعنی رسالہ تحفہ قیصریہ حضور ملکہ معظمہ میں پیش ہوا ہو اور پھر میں اس کے جواب سے ممنون نہ کیا جاؤں۔ یقیناً کوئی اور باعث ہے جس میں جناب ملکہ معظمہ قیصرہ ہند دام اقبالہا کے ارادہ اور مرضی اور علم کو کچھ دخل نہیں۔ لہٰذا حسن ظن نے جو میں حضور ملکہ معظمہ دام اقبالہا کی خدمت میں رکھتا ہوں۔ دوبارہ مجھے مجبور کیا کہ میں اس تحفہ قیصریہ کی طرف جناب ممدوحہ کو توجہ دلاؤں اور شاہانہ منظوری کے چند الفاظ سے خوشی حاصل کروں۔ اسی غرض سے یہ عریضہ روانہ کرتا ہوں۔“

(ستارہ قیصریہ ص ٢، خزائن

ج ١٥ ص ١١٢)

اس پر بھی اطمینان نہ ہوا اور دل کے ہاتھوں مجبور ہو کر برطانوی حکمران ملکہ سے کہتے ہیں:

وسیع اخلاق ملکہ معظمہ سے ہر روز جواب کا منتظر

جناب ملکہ معظمہ کے اخلاق وسیعہ پر نظر رکھ کر ہر روز جواب کا منتظر: ”میں نے (مرزا قادیانی نے) تحفہ قیصریہ میں جو حضور قیصرہ ہند کی خدمت میں بھیجا گیا یہی حالات اور خدمات اور دعوات گذارش کئے تھے اور میں اپنی جناب ملکہ معظمہ کے اخلاق وسیعہ پر نظر رکھ کر ہر روز جواب کا منتظر تھا اور اب بھی ہوں۔ میرے خیال میں یہ غیر ممکن ہے کہ میرے جیسے دعا گو کا وہ عاجزانہ تحفہ جو بوجہ کمال اخلاص خون دل سے لکھا گیا تھا۔ اگر وہ حضور ملکہ معظمہ قیصرہ ہند دام

٨٣

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ١١٢

اقبالہا کی خدمت میں پیش ہوتا تو اس کا جواب نہ آتا۔ بلکہ ضرور آتا، ضرور آتا۔ اس لئے مجھے بوجہ اس یقین کے کہ جناب قیصرۂ ہند کے پررحمت اخلاق پر کمال وثوق سے حاصل ہے۔ اس یاد دہانی کے عریضہ کو لکھنا پڑا اور اس عریضہ کو نہ صرف میرے ہاتھوں نے لکھا ہے۔ بلکہ میرے دل نے یقین کا بھر ہوا زور ڈال کر ہاتھوں کو اس پر ارادت خط کے لکھنے کے لئے چلایا ہے۔ میں دعا کرتا ہوں کہ خیر وعافیت اور خوشی کے وقت میں خدا تعالیٰ اس خط کو حضور قیصرہ ہند دام اقبالہا کی خدمت میں پہنچادے اور پھر جناب ممدوحہ کے دل میں الہام کرے کہ وہ اس سچی محبت اور سچے اخلاص کو جو حضرت موصوفہ کی نسبت میرے دل میں ہے۔ اپنی پاک فراست سے شناخت کرلیں اور رعیت پروری کی رو سے مجھے پررحمت جواب سے ممنون فرمائیں۔“

(ستارہ قیصریہ ص ٤، خزائن ج ١٥ ص ١١٥)

مرزا غلام احمد قادیانی نے ان تحریروں میں برملا اظہار کیا کہ: ”جہاد کی مسلسل مخالفت جہاد کو منسوخ قرار دینے اور آگے چل کر جہاد کو بیہودہ رسم کہنے، جہاد کے قطعی حرام ثابت کرنے کے ساتھ ساتھ یہاں تک شدت کہ جو شخص جہاد کا قائل اور مفتی ہو وہ منکر رسول اور دشمن خدا بھی ہے۔ یہ ساری گرم جوشی اور سراسیمگی کس مقصد کے لئے؟ صرف اس ایک مقصد عظیم کے لئے کہ اس عاجز (مرزا قادیانی) کو وہ اعلیٰ درجہ کا اخلاص اور محبت اور جوش اطاعت جو حضور ملکہ معظمہ اور اس کے معزز افسروں کی حیثیت حاصل ہے۔ اس کے تقاضے پورے ہوں اور انہی صفات ایمانیہ کا حوالہ دے کر ان کی توجہ اپنی جانب مبذول کرائی جائے اور ان سے اس عرضداشت کو قبول کرنے کی التجا کی جائے کہ وہ میری (مرزا غلام احمد قادیانی کی) خدمات کا اعتراف کریں اور اس عرضداشت اور التجاء کے جواب سے مجھے عزت دی جائے۔ ایسا ہو جائے تو یہ امید سے بڑھ کر میری سرفرازی ہوگی۔ مگر آہ! کہ یہ امید بر نہ آئی اور ملکہ برطانیہ کے ہاں سے نہ صرف یہ کہ خوشنودی کا کوئی پروانہ صادر نہیں ہوا۔ بلکہ یہ بھی نہ ہوسکا کہ مرزا غلام احمد قادیانی کے بے نظیر خدمات کی رسید بھی نہ دی گئی۔ مگر قربان جائیے خلوص اور العمل لوجه الانكليز ولا بتغاء مرضات ملکہ برطانیہ کا جذبہ صادقہ کہ حرف شکایت اگر زبان پر آیا بھی تو اس سے شان عبودیت میں مزید جلا پیدا ہوا اور شکوے نے ازدیاد اخلاص کی صورت اختیار کر لی اور انہوں نے حضور ملکہ قیصرہ ہند کی خدمت عالیہ میں بصد عجز والحاح عرض کیا ۔“

”میں اپنی جناب ملکہ معظمہ کے اخلاق وسیعہ پر نظر رکھ کر ہر روز جواب کا امیدوار تھا

٨٤

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ١١٣

اور اب بھی ہوں۔ (مگر یہ سیلاب ایمان واعتماد تھمنے میں نہیں آتا۔ وہ مزید عرض گزار ہوتے ہیں) میرے خیال میں یہ غیر ممکن ہے کہ میرے جیسے دعا گو کا وہ عاجزانہ تحفہ جو بوجہ کمال اخلاص، خون دل سے لکھا گیا تھا۔ اگر وہ حضور ملکہ معظمہ قیصرہ ہند دام اقبالہا کی خدمت میں پیش ہوتا تو اس کا جواب نہ آتا بلکہ ضرور آتا، ضرور آتا۔“

(ستارہ قیصرہ ص٥، خزائن

ج١٥ ص ١١٥)

دل کی دنیا کا حال بھی عجیب ہے۔ مگر مرزا غلام احمد قادیانی اس معاملے میں عجیب وغریب کیفیات کے حامل ہیں۔ جہاں کہیں ان کا دل اٹکا وہ آخری حدود کو پھاندے۔ یہاں بھی ان کا یہی حال ہے۔ حضور قیصرہ ہند سے سرگوشی کا موقعہ ملا ہے تو کیوں دل بلیوں نہ اچھلے۔ چنانچہ یہ بے قابو........... اچھلا اور خون کے چھینٹے یوں بکھرے۔

ضرور آتا ضرور آتا کے بعد فرماتے ہیں: ”مجھے بوجہ اس یقین کے پررحمت اخلاق پر کمال وثوق سے حاصل ہے۔ اس یاددہانی کے عریضہ کو لکھنا پڑا اور اس عریضہ کو نہ صرف میرے ہاتھوں نے لکھا ہے بلکہ میرے دل نے یقین کا بھرا ہوا زور ڈال کر ہاتھوں کو اس پر ارادت خط لکھنے کے لئے چلایا ہے۔“

(ستارہ قیصرہ ص٥، خزائن

ج١٥ ص ١١٥)

حضور ملکہ قیصرہ ہند کے اس ”مومن قانتاً اشد حباً لاستعمار برطانیہ“ کے مظہر اتم کی آخری دل نوازی یا دل سپردگی کا اظہار اس جملہ سے ہوا۔

وہ کہتے ہیں: ”میں دعا کرتا ہوں کہ خیر وعافیت اور خوشی کے وقت میں خدا تعالیٰ ...... خط کو حضور قیصرہ ہند دام اقبالہا کی خدمت میں پہنچا دے اور پھر جناب ممدوحہ کے دل میں الہام کرے کہ وہ اس سچی محبت اور سچے اخلاص کو جو حضرت موصوفہ کی نسبت میرے دل میں ہے۔ اپنی پاک فراست سے شناخت کر لیں اور رعیت پروری کی رو سے مجھے پررحمت جواب سے ممنون فرمائیں۔“

(ستارہ قیصرہ ص٥، خزائن ج١٥ ص ١١٥)

ہم ان اقتباسات پر تبصرے کے بجائے صرف ان کے دوہرا دینے پر ہی اکتفا کرتے ہیں۔ تاکہ اصحاب ذوق سلیم، بار محسوس نہ کریں۔

جہاد قطعاً موقوف ہو گیا

مرزا غلام احمد قادیانی نے جہاد کی تنسیخ کے لئے وہی طریق بیان اختیار کیا جو تمام

٨٥

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ١١٤

دوسرے اہم مسائل میں ان کی دجالیت کا مظہر تھا اور قادیانی چونکہ اس ذہن و کردار کا عکس ثانی ہیں ۔ اس لئے انہوں نے بھی تاویل و تحریف اور انکار واقرار کے حربوں سے اپنے آپ کو خلق خدا کو دھوکہ دینے کی روش بحال رکھی ۔

لیکن تمام دوسرے مواقع کی طرح یہاں بھی اللہ رب العزت کا تصرف ظہور پذیر ہوا اور خود مرزا غلام احمد قادیانی اور اہم قادیانی قائدین کے اپنے قلم ہی سے حقائق بیان ہو گئے اور قرآن کا نوشتہ صادق ہوا ۔

”قد بدت البغضاء من افواههم وما تخفي صدورهم اكبر (آل عمران:١١٨) “ { بغض و بد باطنی ان کے منہ سے صادر کلمات سے کھل کر سامنے آگئی اور جو ان کے سینوں میں پوشیدہ ہے ۔ وہ اس سے کہیں زیادہ بھیانک ہے ۔ }

مرزا غلام احمد قادیانی نے جہاد کے موقوف ہونے کے لئے جو تفصیل بیان کی وہ عظمت اسلام کی ایک شہادت ہے کہ مجرم خود اپنے لئے تعزیرات کے نفاذ کے محرکات پیش کرتا ہے۔ ان کے الفاظ یہ ہیں: ”جہاد یعنی دینی لڑائیوں کی شدت کو خدا تعالیٰ آہستہ آہستہ کم کرتا گیا ہے۔ حضرت موسیٰ کے وقت میں اس قدر شدت تھی کہ ایمان لانا بھی قتل سے بچا نہیں سکتا تھا اور شیر خوار بچے بھی قتل کئے جاتے تھے۔ پھر ہمارے نبی ﷺ کے وقت میں بچوں اور بوڑھوں اور عورتوں کو قتل کرنا حرام کیا گیا اور پھر بعض قوموں کے لئے بجائے ایمان کے صرف جزیہ دے کر مواخذہ سے نجات پانا قبول کیا گیا اور مسیح کے وقت قطعاً جہاد کا حکم موقوف کر دیا گیا ۔ “

(اربعین نمبر ٤ ص ١٤، خزائن ج ١٧ ص ٤٤٣ حاشیہ )

عبرتناک پہلو اس عبارت کا ملاحظہ ہو کہ فرعون کا یہ ظلم کہ اس نے بنی اسرائیل کے متعلق یہ حکم جاری کر رکھا تھا کہ ان کے بچوں کو قتل کر دیا جائے اور بچیوں کو زندہ چھوڑ دیا جائے ۔ مرزا غلام احمد قادیانی اس فرعونی حکم کو موسیٰ علیہ السلام کی وحی اور شریعت بتلاتے ہیں۔ یہ جہالت ہے یا فرعونیت کی حمایت؟ دونوں صورتوں میں انتہائی عبرت انگیز ہے۔

نصرت الٰہی ملاحظہ ہو کہ مرزا غلام احمد قادیانی نے اس موقع پر جہاد ایسے عظیم اسلامی رکن کی تنسیخ کے بارے میں جو موقف اختیار کیا۔ اس سے وہ تمام تاویلات و تحریفات حرف باطل ہو گئیں جو قادیانی انگریزی حکومت کے خاتمے کے بعد آج تک کرتے چلے آرہے ہیں۔ مرزا غلام احمد قادیانی جہاد کے بتدریج منسوخ ہونے کو تین ادوار اور تین نبوتوں کے عہد میں تقسیم کرتے ہیں۔ عہد نبوت موسیٰ علیہ السلام، عہد خاتم النبیین ﷺ اور عہد مسیح موعود یعنی مرزا غلام احمد

٨٦

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ١١٥

قادیانی پہلے شدت پھر تخفیف اور آخر کار تنسیخ جہاد اور اس تفصیل سے جہاں مرزا غلام احمد قادیانی کا مقام یہ متعین ہوا کہ انہوں نے شریعت محمدیہ کے بعض اہم احکام منسوخ کئے ہیں۔ وہاں یہ حقیقت بھی واضح کر دی کہ درحقیقت مرزا غلام احمد قادیانی بہاء اللہ ایرانی کی طرح حضور خاتم النبیین ﷺ کی نبوت کا عہد تیرہ سو سال تک محدود سمجھتے تھے۔ اگر ان کے دل میں یہ بات پوشیدہ نہ ہوتی تو وہ تنسیخ جہاد کو تین مستقل بالذات نبوتوں کے زمانوں میں منقسم نہ کرتے۔

مرزا غلام احمد قادیانی بصراحت کہتے ہیں کہ آج سے جہاد بند کر دیا گیا ہے۔ ملاحظہ ہو: ”آج سے انسانی جہاد جو تلوار سے کیا جاتا تھا۔ خدا کے حکم کے ساتھ بند کیا گیا۔ اب اس کے بعد جو شخص کافر پر تلوار اٹھاتا اور اپنا نام غازی رکھتا ہے وہ اس رسول کریم ﷺ کی نافرمانی کرتا ہے جس نے آج سے تیرہ سو برس پہلے فرمایا ہے کہ مسیح موعود کے آنے پر تمام تلوار کے جہاد ختم ہو جائیں گے۔ سو اب میرے ظہور کے بعد تلوار کا کوئی جہاد نہیں۔ ہماری طرف سے امان اور صلح کاری کا سفید جھنڈا بلند کیا گیا۔“

(مجموعہ اشتہارات

ج ٣ ص ٢٩٥)

جہاد کا قائل اور مفتی، دشمن خدا

مرزا غلام احمد قادیانی کہتے ہیں:

اب چھوڑ دو اے دوستو جہاد کا خیال دین کے لئے حرام ہے اب جنگ اور قتال
اب آ گیا مسیح جو دین کا امام ہے دین کی تمام جنگوں کا اب اختتام ہے
اب آسمان سے نور خدا کا نزول ہے اب جنگ اور جہاد کا فتویٰ فضول ہے
دشمن ہے وہ خدا کا جو کرتا ہے اب جہاد منکر نبی کا ہے جو یہ رکھتا ہے اعتقاد

(مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ٢٩٧)

جہاد حرام قطعاً حرام

قادیانی امت کے لاہوری فرقہ کے مؤسس و امیر مولوی محمد علی لکھتے ہیں: ”گورنمنٹ

٨٧

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ١١٦

کا یہ اپنا فرض ہے کہ اس فرقہ احمدیہ کی نسبت تدبیر سے زمین کے اندرونی حالات دریافت کرے۔ بعض نادان کہتے ہیں کہ یہ باتیں محض گورنمنٹ کی خوشامد کے لئے ہیں۔ مگر میں ان کو کس سے مشابہت دوں۔ وہ اس اندھے سے مشابہ ہیں جو سورج کی گرمی محسوس کرتا ہے اور ہزارہا شہادتیں سنتا ہے اور پھر سورج کے وجود سے انکار کرتا ہے۔ ظاہر ہے کہ جس حالت میں ہمارے امام (مرزا غلام احمد قادیانی) نے ایک بڑا حصہ عمر کا جو ٢٢ برس ہیں۔ اس تعلیم میں گزارا ہے کہ جہاد حرام اور قطعاً حرام ہے۔ یہاں تک کہ بہت سی عربی کتابیں بھی مضمون ممانعت جہاد لکھ کر ان کو بلاد اسلام عرب، شام، کابل وغیرہ میں تقسیم کیا ہے۔ جن سے گورنمنٹ بے خبر نہیں ہے تو کیا گمان ہو سکتا ہے کہ اتنا لمبا حصہ زندگی کا جس نے پیرانہ سالی تک پہنچا دیا وہ نفاق میں بسر کیا ہے۔“

جہاد کی تنسیخ اس اصول کے مطابق، جسے مرزا غلام احمد قادیانی نے نبوت کے سلسلے میں پیش کیا کہ اگر اب جبریل امیں ایک حرف بھی وحی کا لے آئیں تو ختم نبوت کی مہر ٹوٹ جائے گی۔ شریعت محمدیہ کے ایک حکم کی تنسیخ، شریعت کے دوام اور اس کی حفاظت کے تصور کے خلاف اعلان ہے۔ مرزا غلام احمد قادیانی کا شریعت اسلامیہ کے ایک (اہم) جزو کو منسوخ قرار دینا اس ایک حکم ہی کا مسئلہ نہیں پوری شریعت کی تنسیخ کے مترادف ہے اور اس سے دراصل مراد مرزا غلام احمد قادیانی کے فرزند اور خلیفہ مرزا محمود کے اس عقیدے کی بنیاد فراہم ہوتی ہے۔ جسے انہوں نے ان الفاظ میں واضح کیا: ”پھر یہ بھی یاد رکھنا چاہئے کہ جب کوئی نبی آجائے تو پہلے نبی کا علم بھی اسی کے ذریعہ ملتا ہے۔ یوں اپنے طور پر نہیں مل سکتا اور ہر بعد میں آنے والا نبی پہلے نبی کے لئے بمنزلہ سوراخ کے ہوتا ہے۔ پہلے نبی کے آگے دیوار کھینچ دی جاتی ہے اور کچھ نظر نہیں آتا سوائے آنے والے نبی کے ذریعہ دیکھنے کے۔ یہی وجہ ہے کہ اب کوئی قرآن نہیں سوائے اس قرآن کے جو حضرت مسیح موعود نے پیش کیا اور کوئی حدیث نہیں سوائے اس حدیث کے جو حضرت مسیح موعود کی روشنی میں دکھائی دے۔ اسی طرح رسول کریم ﷺ کا وجود اسی ذریعہ سے نظر آئے گا کہ حضرت مسیح موعود کی روشنی میں دیکھا جائے۔ اگر کوئی چاہے کہ آپ سے آپ علیحدہ ہو کر کچھ دیکھ سکے تو اسے کچھ نظر نہ آئے گا۔ ایسی صورت میں اگر کوئی قرآن کو بھی دیکھے گا تو وہ اس کے لئے ”یہدی من یشاء“ والا قرآن نہ ہوگا بلکہ ”یضل من یشاء“ والا قرآن ہوگا۔“

(الفضل مورخہ ١٥؍ جولائی ١٩٢٠ء)

اس ذہن کو سامنے رکھنے سے اسلام کے کسی ادنیٰ سے ادنیٰ حکم کی تنسیخ کی اہمیت

٨٨

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ١١٧

کما حقہ واضح ہو جاتی ہے۔ چہ جائیکہ جہاد ایسا عظیم فریضہ جس کی ادائیگی میں کوتاہی بھی موجب عتاب الٰہی ہو اور عمداً اس سے ٹھٹکنے والا ہو۔ اسلام کے ہاں منافق قرار پاتا ہے اور منکر فرضیت قطعی کافر، لیکن جو جہاد کو منسوخ کہے۔ اسے لغو اور بیہودہ فعل ثابت کرے۔ اسے بغیر کسی اشارے اور کنائے کے حرام قرار دے۔ دین کے لئے جہاد کرنے اور اس کا فتویٰ دینے والوں کو دشمن خدا اور منکر نبی کہے۔ کیا اس کے اور اسے ماننے والوں کے خارج از اسلام ہونے میں ذرہ برابر شک و شبہ کی گنجائش ممکن ہے؟

اسلام اور خاتم النبیین سے براہ راست تصادم

قرآن مجید کی کھلی تکذیب

مرزا غلام احمد قادیانی اور ان کی امت کے دائرہ اسلام سے خارج ہونے کی بیسویں دلیل یہ ہے کہ یہ بعض اہم مسائل بلکہ عقائد تک میں قرآن مجید کی نصوص قطعیہ کی تکذیب کے لئے مرتکب ہوئے ہیں۔ مرزا قادیانی اور ان کی امت کا رویہ بحیثیت مجموعی قرآن مجید کے بارے میں یہ رہا ہے کہ وہ صرف یہی نہیں کہ ان کے ہاں مرزا غلام احمد قادیانی کے الہامات اور آیات قرآنیہ کو ایک ہی حیثیت دی جاتی رہی ہے۔ بلکہ انہوں نے برملا اعلان کیا کہ وہ قرآن مجید کو مانتے ہی صرف اس لئے ہیں کہ قرآن مجید سے مرزا غلام احمد قادیانی کی نبوت ثابت ہوتی ہے۔

مرزا غلام احمد قادیانی کہتے ہیں:

(اربعین نمبر ٤ ص ١٩، خزائن ج ١٧ ص ٤٥٤)

ہوں۔ جیسا کہ قرآن شریف پر اور خدا کی دوسری کتابوں پر اور جس طرح میں قرآن شریف کو یقینی اور قطعی طور پر خدا کا کلام جانتا ہوں۔ اسی طرح اس کلام کو بھی جو میرے پر نازل ہوتا ہے خدا کا کلام یقین کرتا ہوں۔“ (حقیقت الوحی ص ٢١١، خزائن ج ٢٢ ص ٢٢٠)

قادیانی آرگن ”الفضل“ لکھتا ہے: ”ان حوالہ جات سے صاف ظاہر ہے کہ حضرت مسیح موعود اپنے الہامات کو کلام الٰہی قرار دیتے تھے اور ان کا مرتبہ بلحاظ کلام الٰہی ہونے کے ایسا ہی ہے جیسا کہ قرآن مجید، تورات اور انجیل کا۔“

(الفضل قادیان مورخہ ١٣؍ جنوری)

٨٩

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ١١٨

مرزا قادیانی کے فرزند اور قادیانی امت کے دوسرے خلیفہ مرزا محمود احمد قادیانی کہتے ہیں: ”اگر سچ پوچھو تو ہمیں قرآن کریم پر، رسول کریم ﷺ پر بھی اسی کے ذریعہ ایمان حاصل ہوا۔ ہم قرآن کریم کو خدا کا کلام اس لئے یقین کرتے ہیں کہ اس کے ذریعہ آپ کی (یعنی مرزا قادیانی کی) نبوت ثابت ہوتی ہے۔ ہم محمد ﷺ کی نبوت پر اس لئے ایمان لاتے ہیں کہ اس سے آپ کی نبوت کا ثبوت ملتا ہے۔ نادان ہم پر اعتراض کرتا ہے کہ ہم کیوں حضرت مسیح موعود کو نبی مانتے ہیں اور کیوں اس کے کلام کو خدا کا کلام یقین کرتے ہیں۔ وہ نہیں جانتا کہ قرآن کریم پر یقین ہمیں اس کے کلام کی وجہ سے ہوا ہے اور محمد ﷺ کی نبوت پر یقین اس کی نبوت کی وجہ سے ہوا ہے۔“

(الفضل قادیان مورخہ ١١؍جولائی ١٩٢٥ء)

یہ حقائق اتنے واضح تھے جن کے سامنے آنے کے بعد قادیانی امت کے دعویٰ ایمان واسلام کے بارے میں کسی شک وشبہ کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہتی اور یہ حقیقت کھل کر سامنے آجاتی ہے کہ ان کا حقیقی ایمان تو مرزا غلام احمد قادیانی اور ان پر نازل شدہ کلام الٰہی پر ہے اور قرآن مجید کو وہ صرف اس لئے مانتے ہیں کہ اس سے مرزا غلام احمد قادیانی کی نبوت کا ثبوت ملتا ہے۔ اگر وہ قرآنی آیات سے ایسا استدلال نہ کر پاتے تو یہود ونصاریٰ کی طرح وہ منکر قرآن ہوتے۔

یہ تو قرآن مجید اور مرزا غلام احمد قادیانی کے ادّعا کے مطابق ان پر نازل شدہ وحی کے بارے میں قادیانیوں کا عمومی طرز فکر وعمل تھا۔ اس سے آگے بڑھ کر انہوں نے یہ روش اختیار کی کہ جن عقائد وتصورات کو مرزا غلام احمد قادیانی اپنی بداعتقادی اور بالخصوص یہود و ہنود سے طبعی قرب اور ان کی کتب کے مطالعہ سے متأثر ہوکر بطور عقیدہ قبول کر چکے تھے۔ انہوں نے ان عقائد کے خلاف قرآن مجید کے موقف کو مسترد کر دیا اور ان آیات سے انکار کے مرتکب ہوئے جو ان کے باطل تصورات وعقائد کو رد کرتی اور صحیح افکار وعقائد کو قبول کرنے کی دعوت دیتی تھیں۔

مرزا غلام احمد قادیانی اور ان کی امت پر اس سنگین الزام کا ثبوت یہ ہے۔

قرآن مجید نبوت مسیح کا مصدق اور مرزا غلام احمد قادیانی مکذّب

مرزا غلام احمد قادیانی تسلیم کرتے ہیں کہ سیدنا مسیح ابن مریم علیہ الصلوۃ والسلام، اللہ ذو الجلال کے نبی اور رسول تھے اور یہ بھی مانتے ہیں کہ قرآن شریف انہیں سچا قرار دیتا ہے۔ لیکن اس کے باوجود وہ کہتے ہیں کہ یہود ان کی پیش گوئیوں پر ایسے سخت اعتراض کرتے ہیں جن کو ہم کسی

٩٠

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ١١٩

طرح رفع نہیں کرسکتے۔

یہی نہیں وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ صرف قرآن کے سہارے ہم نے سچے دل سے قبول کر لیا۔ مگر وہ دوسرے سانس یہ بھی کہتے ہیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی تین پیش گوئیاں صاف طور پر جھوٹی نکلیں۔ ان کے یہ اعترافات اور انکار دونوں ایک ہی پیراگراف میں ملاحظہ فرمائیے۔ ”غرض قرآن شریف نے حضرت عیسیٰ کو سچا قرار دیا ہے۔ لیکن افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ ان کی پیش گوئیوں پر یہود کے سخت اعتراض ہیں۔ جو ہم کسی طرح ان کو رفع نہیں کرسکتے۔ صرف قرآن کے سہارے سے ہم نے مان لیا ہے اور سچے دل سے قبول کیا ہے اور بجز اس کے ان کی نبوت پر ہمارے پاس کوئی بھی دلیل نہیں۔ عیسائی تو ان کی خدائی کو روتے ہیں۔ مگر یہاں نبوت بھی ان کی ثابت نہیں ہوسکتی۔ ہائے کس کے آگے یہ ماتم لے جائیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی تین پیش گوئیاں صاف طور پر جھوٹی نکلیں۔“

(اعجاز احمدی ص ١٣، خزائن ج ١٩

ص ١٢١)

انہی سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں وہ کہتے ہیں: ”آپ کا خاندان بھی نہایت پاک اور مطہر ہے۔ تین دادیاں اور نانیاں آپ کی زنا کار اور کسبی عورتیں تھیں۔ جن کے خون سے آپ کا وجود ظہور پذیر ہوا۔ مگر شاید یہ بھی خدائی کے لئے ایک شرط ہوگی۔ آپ کا کنجریوں سے میلان اور صحبت بھی شاید اسی وجہ سے ہو کہ جدی مناسبت درمیان ہے۔ ورنہ کوئی پرہیز گار انسان ایک جوان کنجری کو یہ موقع نہیں دے سکتا کہ وہ اس کے سر پر اپنے ناپاک ہاتھ لگاوے اور زنا کاری کی کمائی کا پلید عطر اس کے سر پر ملے اور اپنے بالوں کو اس کے پیروں پر ملے۔ سمجھنے والے سمجھ لیں کہ ایسا انسان کس چلن کا آدمی ہوسکتا ہے۔ بالآخر ہم لکھتے ہیں کہ ہمیں پادریوں کے یسوع اور اس کے چال چلن سے کوئی غرض نہ تھی۔ انہوں نے ناحق ہمارے نبی اکرم ﷺ کو گالیاں دے کر ہمیں آمادہ کیا کہ ان کے یسوع کا تھوڑا سا حال ان پر ظاہر کریں۔“

(ضمیمہ انجام آتھم ص ٧، ٨، خزائن ج ١١ ص ٢٩١، ٢٩٢)

یہ غلیظ کلمات و مفتریات ہم نے بحالت اضطرار نقل کئے۔ لیکن قادیانیوں کی دینی حس چونکہ مرچکی ہے۔ اس لئے ہم شدید ناگواری کے باوجود مجبور ہیں کہ مرزا غلام احمد قادیانی کے اس صریح کافرانہ اظہار کے اس گوشے پر تبصرہ کریں کہ یہاں مرزا غلام احمد قادیانی نے اپنے کفر کو اس جملے کی اوٹ میں چھپانے کی کوشش کی ہے کہ ہمیں پادریوں کے یسوع اور اس کے چال چلن سے

٩١

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ١٢٠

کوئی غرض نہ تھی۔ انہوں نے ناحق ہمارے نبی اکرم ﷺ کو گالیاں دے کر ہمیں آمادہ کیا کہ ان کے یسوع کا کچھ تھوڑا سا حال ان پر ظاہر کریں۔ اس طویل جملے میں انہوں نے دو باتیں کہیں۔

کے دفاع کی خاطر اس حرکت پر مجبور ہوئے۔

جہاں تک پہلے موضوع کا تعلق ہے۔ اس پر ہم تفصیلاً قطع شہ رگ دجالیت اور یسوع مسیح اور عیسیٰ کے زیر عنوان ضروری تفصیل سے اس کتاب میں بحث کر چکے۔ تاہم یہاں عرض کر دینا ضروری محسوس ہوتا ہے کہ مرزا غلام احمد قادیانی نے یہ کہہ کر جو کچھ کہا گیا۔ عیسائیوں کے یسوع کے بارے میں کہا گیا۔ اپنی دیانت وصداقت کو خیانت وکذب کے سنڈاس میں دفن کر دیا۔ انہوں نے متعدد بار یہی تہمتیں سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کا نام لے کر بھی ان پر لگائی ہیں۔ ایک ایسا حوالہ ملاحظہ فرمائیے۔ جس میں جہاں یہ وضاحت موجود ہے کہ وہ بعینہ یہی تہمتیں عیسیٰ علیہ السلام کا نام لے کر ان پر لگاتے ہیں۔ وہاں وہ یہ مرتدانہ طرز عمل بھی اختیار کرتے ہیں کہ اس کافرانہ افتراء پردازی کو قرآن مجید کی جانب منسوب کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں: ”حضرت عیسیٰ علیہ السلام اپنے زمانہ کے بہت لوگوں کی نسبت اچھے تھے۔ یہ ہمارا بیان محض نیک ظنی کے طور پر ہے۔ ورنہ ممکن ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے وقت میں خدا تعالیٰ کی زمین پر بعض راست باز اپنی راست بازی اور تعلق باللہ میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے بھی افضل اور اعلیٰ ہوں...... حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی نسبت جو موسیٰ علیہ السلام سے کمتر اور اس کی شریعت کے پیرو تھے اور خود کوئی کامل شریعت نہ لائے تھے۔ کیونکر کہہ سکتے ہیں کہ وہ بالاطلاق اپنے وقت کے تمام راست بازوں سے بڑھ کر تھے۔ جن لوگوں نے ان کو خدا بنایا ہے۔ جیسے عیسائی یا وہ جنہوں نے خواہ نخواہ خدائی صفات انہیں دی ہیں۔ جیسا کہ ہمارے اور خدا کے مخالف نام نہاد مسلمان وہ اگر ان کو اوپر اٹھاتے اٹھاتے آسمان پر چڑھا دیں یا خدا کی طرح پرندوں کا پیدا کرنے والا قرار دیں تو ان کو اختیار ہے۔ انسان جب حیا اور انصاف کو چھوڑ دے تو جو چاہے کرے۔ لیکن مسیح کی راست بازی اپنے زمانہ میں دوسرے راست بازوں سے بڑھ کر ثابت نہیں ہوتی۔ بلکہ یحییٰ نبی کو اس پر ایک فضیلت ہے۔ کیونکہ وہ شراب نہیں پیتا تھا اور کبھی نہیں سنا گیا کہ کسی فاحشہ عورت نے آ کر اپنی کمائی کے مال سے اس کے سر پر عطر ملا تھا یا ہاتھوں اور سر کے بالوں سے اس کے بدن کو چھوا تھا۔ یا کوئی بے تعلق جوان عورت اس کی خدمت کرتی تھی۔ اسی وجہ سے خدا نے قرآن میں یحییٰ کا نام حصور رکھا۔ مگر مسیح کا یہ

٩٢

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ١٢١

نام نہ رکھا۔ کیونکہ ایسے قصے اس نام کے رکھنے سے مانع تھے۔“

(دافع البلاء ص ٣، ٤،

خزائن ج ١٨ ص ٢١٩، ٢٢٠ حاشیہ)

ملاحظہ فرمایا آپ نے، وہی باتیں جو اعجاز احمدی میں مرزا غلام احمد قادیانی نے عیسائیوں کے یسوع کے بارے میں کہیں دافع البلاء میں وہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی جانب منسوب کر رہے ہیں۔

مزید برآں یہ قاطع شہ رگ دجالیت بات بھی وہ کہہ رہے ہیں کہ عیسائیوں نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام ہی کو خدا بنایا تھا اور انہی کا نام مسیح بھی تھا۔ یہاں ہم نے ضمنی طور پر اس دجالانہ چال کی حقیقت بار دگر واضح کی کہ عیسائیوں کے یسوع کہہ کر جو فریب مسلمانوں کو دیا جا رہا ہے۔ اس کا پردہ چاک کریں۔ اصل موضوع اس زیر بحث عنوان کا یہ ہے کہ مرزا غلام احمد قادیانی نے قرآن مجید سے سیدنا عیسیٰ علیٰ نبینا وعلیہ الصلوٰۃ والسلام کی نبوت ثابت کرنے کے باوجود ان کی جانب وہ اعمال منسوب کئے جو نبی اللہ تو کجا ایک عام شریف انسان کی جانب بھی منسوب کئے جائیں تو اس کی شرافت مشتبہ ہو جائے۔

مریم صدیقہ اور مرزا غلام احمد

مرزا غلام احمد قادیانی کے فرزند (سیرۃ المہدی حصہ سوم ص ٢٢٠، روایت نمبر ٨٠١) میں کہتے ہیں کہ: ”مولوی محمد ابراہیم صاحب بقاپوری نے مجھ سے بذریعہ تحریر بیان کیا۔ ایک دفعہ میں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام (مرزا غلام احمد قادیانی) کی خدمت میں عرض کیا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی والدہ کی اللہ تعالیٰ نے صدیقہ کے لفظ سے تعریف فرمائی ہے۔ اس پر حضور علیہ السلام (مرزا غلام احمد قادیانی) نے فرمایا کہ خدا تعالیٰ نے اس جگہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی الوہیت توڑنے کے لئے ماں کا ذکر کیا ہے اور صدیقہ کا لفظ اس جگہ اس طرح آیا ہے۔ جس طرح ہماری زبان میں کہتے ہیں۔ بھرجائی کائیے اسلام آکھناں واں! جس سے مقصود گانا ثابت کرنا ہوتا ہے نہ کہ اسلام کہنا۔ اس طرح اس آیت میں اصل مقصود مسیح کی والدہ ثابت کرنا ہے جو منافی الوہیت ہے۔ نہ کہ مریم کی صدیقیت کا اظہار۔ خاکسار عرض کرتا ہے کہ پنجابی کا معروف محاورہ ”بھابی کائیں سلام“ ہے۔ اس لئے کہ مولوی صاحب کو الفاظ کے متعلق کچھ سہو ہو گیا ہے۔ مرزا غلام احمد قادیانی کے فرزند مرزا بشیر احمد ایم اے (مؤلف سیرۃ المہدی) نے اس روایت کی تاویل اس طرح کی ہے۔ حضرت صاحب کا منشاء یہ نہیں تھا کہ نعوذ باللہ حضرت مریم صدیقہ نہیں تھیں۔ بلکہ غرض یہ ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو انسان ثابت کرے۔

مگر یہ تاویل سراسر باطل ہے۔ مرزا غلام احمد حضرت مریم کے بارے میں جو رویہ

٩٣

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ١٢٢

اختیار کئے رہے۔ صرف یہی نہیں کہ اس سے ابراہیم بقاپوری کی اس روایت کی تصدیق ہوتی ہے۔ بلکہ اس سے روز روشن کی طرح واضح ہو جاتا ہے کہ مرزا قادیانی سیدہ مریم کے بارے میں قرآن مجید کے مؤقف کے خلاف محاذ آرا تھے اور انہوں نے ان پر وہ تمام تہمتیں خالص یہودیانہ جسارت کے انداز میں لگائیں جو یہود کا شیوہ تھا۔ وہ کہتے ہیں: ”پانچواں قرینہ ان کے یعنی افغانیوں کے وہ رسوم ہیں۔ جو یہودیوں سے بہت ملتے ہیں۔ مثلاً ان کے بعض قبائل ناتہ اور نکاح میں کچھ چنداں فرق نہیں سمجھتے اور عورتیں اپنے منسوب سے بلا تکلف ملتی ہیں اور باتیں کرتی ہیں۔ حضرت مریم صدیقہ کا اپنے منسوب یوسف کے ساتھ قبل نکاح کے پھرنا اس اسرائیلی رسم پر پختہ شہادت ہے۔“

(ایام الصلح ص ٦٦، خزائن ج ١٤ ص ٣٠٠ حاشیہ)

یہ تو تھا مرحلہ آغاز کہ حضرت مریم صدیقہ اپنے منسوب سے بلا تکلف ملاقات کرتیں۔ ان کے ساتھ پھرتیں اور باتیں کرتی تھیں۔ دوسرے مرحلہ کا ذکر ان شرمناک الفاظ سے شروع ہوتا ہے۔ ”بزرگوں نے جب اصرار کر کے بسرعت تام مریم کا اس (یوسف نجار) سے نکاح کرادیا اور مریم کو ہیکل سے رخصت کرا دیا تاکہ خدا کے مقدس گھر پر نکتہ چینیاں نہ ہوں۔ کچھ تھوڑے دنوں کے بعد ہی وہ لڑکا پیدا ہو گیا۔ جس کا نام یسوع رکھا گیا۔“

(الحکم مورخہ

٢٤/ جولائی ١٩٠٢ء)

”مفسد مفتری ہے وہ شخص جو مجھے کہتا ہے کہ میں مسیح ابن مریم کی عزت نہیں کرتا۔ بلکہ مسیح تو مسیح میں تو اس کے چاروں بھائیوں کی بھی عزت کرتا ہوں۔ کیونکہ پانچوں ایک ماں کے بیٹے ہیں۔ نہ صرف اس قدر بلکہ میں تو حضرت مسیح کی دونوں حقیقی ہمشیروں کو بھی مقدس سمجھتا ہوں۔ کیونکہ یہ سب بزرگ مریم بتول کے پیٹ سے ہیں اور مریم کی وہ شان ہے۔ جس نے ایک مدت تک اپنے تئیں نکاح سے روکا پھر بزرگانِ قوم نے نہایت اصرار سے بوجہ حمل کے نکاح کر لیا۔ گو لوگ اعتراض کرتے ہیں کہ برخلاف تعلیم تورات عین حمل میں کیونکر نکاح کیا گیا اور بتول ہونے کے عہد کو کیوں ناحق توڑا گیا اور تعدد ازدواج کی کیوں بنیاد ڈالی گئی۔ یعنی باوجود یوسف نجار کی پہلی بیوی ہونے کے پھر مریم کیوں راضی ہوئی کہ یوسف نجار کے نکاح میں آوے۔ مگر میں کہتا ہوں کہ یہ سب مجبوریاں تھیں جو پیش آگئیں۔ اس صورت میں وہ لوگ قابل رحم تھے۔ نہ قابل اعتراض۔“

(کشتی نوح ص ١٦، خزائن ج ١٩ ص ١٨)

٩٤

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ١٢٣

تیسرے مرحلے کے بارے میں وہ کہتے ہیں: ’’یسوع مسیح کے چاروں بھائی اور دو بہنیں تھیں۔ یہ سب یسوع کے حقیقی بھائی اور حقیقی بہنیں تھیں۔ یعنی سب یوسف اور مریم کی اولاد تھی۔‘‘

(کشتی نوح ص ١٦، خزائن ج ١٩ ص ١٨ حاشیہ)

لیکن وہ اپنی عادت سے مجبور اور بداعتقادی کے ہاتھوں بے بس ہیں۔ انہوں نے اپنے مزاج کی عکاسی ان الفاظ سے کی۔

ایمانی جذبات اور شرافت انسانی دونوں کی نوحہ خوانی سے متاثر ہوکر یقیناً ہر سلیم الفطرت انسان گندگی کی اس پوٹ سے متنفر ہوگا اور اس سنڈاس سے ہر نجیب انسان کا دماغ ماؤف ہوتا محسوس ہورہا ہوگا۔ مگر ہماری مجبوری یہ ہے کہ اس دنیا میں ایسے ان گنت انسان موجود ہیں جو اس قسم کی رذالتوں کو صرف گوارا ہی نہیں کرتے۔ انہیں قبول بھی کرلیتے ہیں اور حد یہ ہے کہ ایسی ناپاک اور انسانیت کش باتوں کو سن پڑھ کر بھی ان کی انسانی حس بیدار نہیں ہوتی اور گندگی کی اس پوٹ کو اپنی پیٹھ پر لادنے والوں کو مقدس انسان مجدد، مسیح، مہدی اور نبی اللہ تک بھی مان لیتے ہیں۔ سچ ہے: ’’ولقد خلقنا الانسان فی احسن تقویم ٭ ثم رددناہ اسفل سافلین‘‘

ہم نے انسان کو بہترین سانچے اور حسین ترین توازن سے پیدا کیا اور ازاں بعد (اس کے انحراف وارتداد کی وجہ سے) اسے تمام پستیوں سے پست تر مقام پر اوندھے منہ گرادیا۔

’’ربنا لا تزغ قلوبنا بعد اذ ھدیتنا وھب لنا من لدنک رحمۃ انک انت الوھاب‘‘

نگاہ بازگشت

مسئلہ بے حد نازک ہے۔ ایک شخص اگر مسلمان ہونے کے باوجود ایسے عقیدے کو قبول کرلیتا ہے جو شریعت اسلامیہ کی رو سے وجہ ارتداد بنتا ہے۔ تو یہ شخص ابدی نجات سے یکسر محروم ہو جاتا ہے۔ اس کی تمام دینی مساعی رائیگاں جاتی ہیں۔ مسلمان عورت کے ساتھ اس کا نکاح فسخ ہو جاتا ہے۔ وہ اپنے والدین کی وراثت سے محروم قرار پاتا ہے۔ اس کی نماز جنازہ میں کوئی مسلمان شریک نہیں ہوسکتا۔ اسے حرمین کی زیارت اور حدود حرمین میں داخلہ کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔ اس کے ہاتھ سے ذبح کئے ہوئے جانور کا گوشت حرام ہوگا۔ وہ اپنی مسلمان بچی کا شرعاً ولی نہیں رہ سکتا۔ کسی مسلمان عورت کا اس سے نکاح نہیں ہوسکتا اور مختصراً یہ کہ وہ کافرانہ عقیدے کو قبول کرنے کے جرم کی پاداش میں خاتم النبیین ﷺ کی امت سے خارج ہوجائے گا اور اس سے بھی زیادہ اہم کہ اسے شرعی اصطلاح میں مرتد قرار دیا جائے گا اور اگر وہ کسی ایسی مملکت کا باشندہ ہوا۔ جس کے سربراہ اور اعضاء حکومت کے سچے مسلمان حریت کی نعمت سے مالامال اور ایمانی جرأت سے

٩٥

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ١٢٤

بہرہ ور ہوئے تو وہ اس سے وہی معاملہ کریں گے جو شریعت اسلامی کی رو سے مرتد کے ساتھ ناگزیر ہے اور صحیح بات یہ ہے کہ ایسے مرتدین کی تعداد زیادہ ہو جائے تو جس ملک یا جن ممالک میں یہ لوگ بستے ہوں گے۔ وہاں بے شمار معاشرتی، اجتماعی، سیاسی اور قبائلی الجھنیں پیدا ہو جائیں گی۔ یہ تو ہوا مسئلے کا ایک رخ، دوسرا پہلو اس کا یہ ہے کہ اگر یہ فیصلہ غلط ہوا اور جس عقیدے یا سلسلہ ہائے عقائد کے قبول کرنے کے جرم میں اس شخص کو مرتد اور دائرہ امت سے خارج کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ اگر یہ عقائد اسلامی شریعت کی رو سے ایسے نہیں ہیں۔ جنہیں کافرانہ عقائد کہا جا سکے تو یہ فیصلہ ہی غلط نہیں ہوگا۔ بلکہ اس کی تمام تر ذمہ داری فیصلہ صادر کرنے والوں پر عائد ہو گی کہ ایک مسلمان کو کافر قرار دے دیا اور یہ جرم بجائے خود بے حد سنگین ہے۔

ان ہر دو پہلوؤں اور اس فیصلے کے سنگین نتائج ہی کے شدید احساس کا تاثر متقاضی ہے کہ اس کتاب میں بیان کی گئی وجوہ کو یکجا واجمالی تکرار سے اس طرح پیش کر دی جائیں کہ زیر بحث مسئلے کو اس کی حقیقی صورت چند منٹ صرف کر دینے سے سامنے آجائے اور ہر صاحب نظر منصف مزاج اور دین کی اہلیت کا شعور رکھنے والا مسلمان اپنی حقیقی اور عند اللہ مسؤلیت اور ذمہ داری کو سمجھ لے اور قطعی رائے قائم کرنے کی فضا میسر آئے۔ یہ آخری سطور اسی تصور سے پیش کی جا رہی ہیں۔ صورت واقعہ یہ ہے کہ مرزا غلام احمد قادیانی نے جس دین کی بنیاد ڈالی اور اپنی نبوت کو جس انداز سے پیش کیا۔ اس کی رو سے قادیانی دین کے اہم اور بنیادی عقائد وافکار حسب ذیل ہیں۔ مرزا غلام احمد قادیانی کے بقول:

میں ہی وہ رسول ہوں اور اس امت میں نبی کا نام پانے کے لئے میں ہی مخصوص کیا گیا ہوں اور کہ میں محمد واحمد بھی ہوں۔

کی رسالت ہی سے انکار کر دے اور دوسرا یہ کہ مجھے نہ مانے۔ یہ دونوں قسم کے کفر درحقیقت ایک ہی قسم میں داخل ہیں۔

جو شخص مجھے نہیں مانتا وہ خدا اور رسول کو بھی نہیں مانتا اور اس سے اس کا ایمان سلب ہو جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کو وہ جھوٹا مانتا ہے اور مجھے چھوڑ کر اسے پورا قرآن چھوڑنا پڑے گا اور میری تکذیب کر کے گویا اس نے سارے قرآن کی تکذیب کر دی اور وہ مسلمان نہیں رہا۔

٩٦

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ١٢٥

مرزا قادیانی مسلمانوں کی صف سے نکل کر مسیلمہ کذاب سے اب تک کے مدعیان نبوت کے زمرے میں داخل ہو گئے اور ان کے بارے میں شرعاً وہی حکم تھا جو صدیق اکبرؓ نے خلافت کی ذمہ داریاں سنبھالتے ہی نافذ فرمایا اور ایک ہزار صحابہ کرام رضوان اللہ عنہم اجمعین کا خون دے کر امام الانبیاء، خاتم النبیین فداہ آبائنا و امہاتنا ﷺ کی اس امت کو فتنہ ارتداد سے پاک کر لیا گیا۔ جس امت کے بارے میں سید الکونین ﷺ نے فرمایا تھا: ”انا آخر الانبیاء وانتم آخر الامم“ میں انبیاء میں سے آخری نبی ہوں اور تم امتوں میں آخری امت۔ حضور ﷺ نے صراحۃً فرمایا اور الحمد للہ امت کے غیور قائدین اور عامۃ المسلمین نے اس اعزاز کو بحال رکھا۔ شافع روز محشر ﷺ کے الفاظ یہ تھے۔ ”انا حظکم من الانبیاء وانتم حظی من الامم“ میں انبیاء میں سے تمہارا حصہ ہوں اور تم امتوں میں سے میرا حصہ ہو۔

اللہ اکبر! یہ شرف یہ اعزاز اور یہ رفعت و سر بلندی کی رحمت ہر دو عالم ﷺ اس امت کی عظمت وانفرادیت دو طرفہ سعادت سے اجاگر فرماتے ہیں کہ تم میرا حصہ ہو اور مجھے تمہارا نصیب بنا دیا گیا ہے۔

اگر مرزا غلام احمد قادیانی نے صرف اسی دعوٰی نبوت پر ہی اکتفا کیا ہوتا تو انہیں اور ان کے ماننے والوں کو بلا تامل مرتد قرار دیا جاسکتا ہے۔ لیکن انہوں نے تو مدعیان نبوت کی بدعقیدگی کی تاریخ میں کفریات اور وجوہ ارتداد کا ایسا اضافہ کیا۔ جس کی کوئی مثال تاریخ عالم میں نہیں ملتی۔ انہوں نے یہ تک کہا کہ ختم نبوت کے عقیدہ کا یہ مفہوم کہ:

موجود ہو سب سے زیادہ بیزار ہوں اور ایسے مذہب کا نام ”شیطانی مذہب“ رکھتا ہوں نہ کہ رحمانی اور ایسا مذہب جہنم کی طرف لے جاتا ہے۔

موعود“ اور ان کے دوسرے خلیفہ مرزا محمود نے باپ کے سلسلۂ ارتداد کو اس کے منطقی نتائج تک پہنچا دیا اور اس نے وضاحت کر دی کہ حضور ﷺ کے بعد بعثت انبیاء کو بالکل مسدود قرار دیئے جانے کا یہ مطلب ہے کہ حضور رحمۃ اللعالمین کے بجائے دنیا کے لئے ایک عذاب کے طور پر آئے تھے۔

موت تک جاری رہا ہے کہ تمام امتیازات محمدیہ علی صاحبہا الصلوٰۃ والسلام کو اپنے لئے ثابت کیا اور

٩٧

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٩٨

رحمۃ اللعالمین اور دوسری اہم خصوصیات جن سے سرور کونین ﷺ کو بارگاہ قدس سے امتیاز عطاء فرمایا گیا۔ ان سب کو مرزا غلام احمد قادیانی نے اپنی خصوصیات کے طور پر پیش کیا۔

احمد آخر زمان ہوں اور یہ بھی کہ محمد رسول اللہ ﷺ کی وحی الہی میں میرا نام محمد رکھا گیا ہے اور رسول بھی۔

اللہ ﷺ دو مرتبہ مبعوث ہوئے۔ پہلی بار تو مکہ معظمہ میں اور دوسری بعثت حضور کی قادیان میں میری (مرزا غلام احمد قادیانی کی) شکل میں ہوئی۔

چاند کی سی تھی اور قادیان میں میری صورت میں حضور ﷺ کی جو بعثت ہوئی اس کی شان یہ ہے کہ یہ چودھویں رات کے چاند جیسی تھی اور اس کی روحانیت مکہ مکرمہ والی بعثت سے کہیں زیادہ مضبوط و مستحکم اور قوی تھی۔

برسول یأتی من بعدی اسمہ احمد آیت مبارکہ میں بیان فرمائی گئی۔ اس کا واحد مصداق مرزا غلام احمد قادیانی تھے۔ حضور ﷺ اس کے اس لئے مستحق نہ تھے۔

صفات، جو بشارت اسمہ احمد کے مصداق بننے والی شخصیت کے لئے ضروری ہیں۔ چونکہ امام الانبیاء ﷺ میں نہیں پائی جاتی۔ لہٰذا آپؐ اس پیش گوئی کے مصداق نہیں ہو سکتے۔

احمد قادیانی کے ہاتھوں ایک عظیم الشان کام کی بنیاد رکھی گئی تھی۔ اس لئے بھی خاتم النبیین محمد مصطفیٰ ﷺ اس بشارت کے حق دار نہیں ہو سکتے اور مرزا غلام احمد قادیانی ہی اس کے مصداق ہوں گے۔

قادیانیوں نے یہ لرزہ خیز ادّعا بھی کیا کہ سیدالکونین ﷺ سے یہ عہد لیا گیا کہ اگر ان کی موجودگی میں مرزا غلام احمد قادیانی مبعوث ہوں تو حضور ﷺ ان پر ایمان لائیں گے اور حضور ﷺ، غلام احمد قادیانی کی نصرت و حمایت کریں گے۔ بالفاظ دیگر حضور ﷺ،

www.besturdubooks.wordpress.com

PDF 131

خاتم النبيين لا نبي بعدي

ارشاد نبوی ہے ۔ میرے بعد کوئی نبی نہیں

مرزا غلام احمد

کے پمفلٹ

”ایک غلطی کا ازالہ“

کی ضبطی

حضرت مولانا عبدالرحیم اشرفؒ

صفحہ ١٢٨

بسم اللہ الرحمن الرحیم!

زیر نظر پمفلٹ ، مدیر المنبر مولانا عبدالرحیم اشرف کا مقالہ ہے جو اس پمفلٹ کی صورت کے ساتھ ساتھ ہفت روزہ المنبر کے اولین شمارے میں بھی شائع ہو رہا ہے۔ جو گورنمنٹ کی جانب سے چھ ماہ کی بندش کے بعد شائع ہو رہا ہے۔ جیسا کہ آپ ملاحظہ فرمائیں گے۔ اس مقالے میں انہوں نے حکومت مغربی پاکستان کے اس اقدام پر سیر حاصل بحث کی ہے۔ جو اس نے قادیانی نبی کے ایک پمفلٹ ”ایک غلطی کا ازالہ“ کو ضبط کر کے کیا ہے۔

حکومت کا یہ اقدام عدل وانصاف اور اسلامی حمیت وغیرت کی رو سے ہر اعتبار سے مستحق تائید ہے۔ لیکن قادیانی امت اپنے نبی کے اس رسالے کی ضبطی پر سرتا قدم اشتعال پذیر ہے اور حکومت پر دباؤ ڈال رہی ہے کہ وہ اپنے درست فیصلے کو منسوخ کرے۔ ان حالات میں ہر صحیح العقیدہ مسلمان کا فرض ہے کہ وہ قادیانی امت کے غلط تاثر اور ناجائز مطالبے کے اثر کو زائل کرے اور حکومت مغربی پاکستان کی اس انداز سے تائید کرے کہ وہ اپنے فیصلے پر قائم رہ سکے۔

صحیح فیصلہ تو آپ حضرات مطالعہ کے بعد ہی کریں گے۔ لیکن کارکنان جمعیۃ الامر بالمعروف والنہی عن المنکر اس یقین کی بناء پر اس پمفلٹ کو پیش کر رہے ہیں کہ مذکورہ مقصد کے لئے یہ تحریر مطلوب حد تک اطمینان بخش اور نتیجہ خیز ثابت ہوگی۔

اللہ رب العزت سے دعا ہے کہ وہ ہمیں اخلاص کے ساتھ اپنے دین کی خدمت اور حفاظت کی توفیق عطاء فرمائیں اور ہماری ناچیز مساعی کو شرف قبول عطاء فرمائیں۔

”ربنا تقبل منا انک انت السمیع العلیم وتب علینا انک انت التواب الرحیم“ کارکنان ادارۃ الامر بالمعروف والنہی عن المنکر ٤٢٨۔ جناح کالونی لائل پور (فیصل آباد)

٢٣؍ جون ١٩٦٤ء کے اخبارات میں حسب ذیل خبر شائع ہوئی: ”گورنر مغربی پاکستان (نواب امیر محمد خان آف کالا باغ) نے ایک اردو پمفلٹ ”ایک غلطی کا ازالہ“ کی تمام جلدیں بحق سرکار ضبط کر لی ہیں۔ یہ پمفلٹ مرزا غلام احمد قادیانی نے ٥؍ نومبر ١٩٠١ء کو لکھا تھا اور الشرکت الاسلامیہ لمیٹڈ ربوہ نے اسے شائع کیا تھا۔ اس پمفلٹ میں ایسا مواد موجود تھا جس سے مختلف فرقوں کے مابین دشمنی اور منافرت کے جذبات پیدا ہونے کا امکان تھا۔“

(نوائے وقت مورخہ ٢٣؍ جون ١٩٦٤ء)

٢

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ١٢٩

اس خبر کی اشاعت سے قدرتی طور پر ذہن آج سے ١٤ ماہ قبل کے اس واقعہ کی جانب منعطف ہوا کہ اسی حکومت مغربی پاکستان نے ١٣؍اپریل ١٩٦٣ء کو مرزا غلام احمد قادیانی کا ایک کتابچہ بعنوان ’’سراج الدین عیسائی کے چار سوالوں کا جواب‘‘ ضبط کیا تھا تو اس پر:

حاصل کرنے کی کامیاب کوشش کی تھی۔

دباؤ ڈالا تھا۔

تیز سے تیز تر کر دیا تھا۔ (ب) اپنی صفوں میں پیدا شدہ انتشار کو اتحاد سے بدلنے کی بھرپور کوشش کی تھی۔ مزید برآں (ج) اس ضبط شدہ کتابچے کی اشاعت اس کثرت سے کی تھی کہ شائد پچھلے ساٹھ سال میں اس کی اتنی اشاعت نہ ہوسکی ہو۔

مذکورہ خبر کو پڑھنے کے بعد یہی خدشات سطح ذہن پر ابھرے اور خیالات و جذبات میں یہ کشمکش پیدا ہوئی کہ ایک جانب تو حکومت مغربی پاکستان کو مبارک باد دینا ضروری محسوس ہوا کہ اس نے سترہ سال کے بعد ایک کام تو ایسا کیا ہے کہ اس حکومت کے ذمہ داران داور محشر کے حضور یہ عرض کر سکتے ہیں کہ: ’’جو اختیارات ہمیں سونپے گئے تھے۔ ٹھیک ہے بتقاضائے بشریت اور نفس کی کمزوریوں کے باعث ان کے استعمال میں بہت سی غلطیاں بھی ہم سے سرزد ہوئی ہیں۔ لیکن ایک کام تو ہم نے یہ بھی کیا کہ ایک ایسا ناپاک پمفلٹ ہم نے ضبط کر لیا تھا۔ جس میں سرور کونین فداہ ارواحنا وانفسنا ﷺ کی ذات اقدس کی صریح توہین کی گئی تھی اور جسے غلامی کے عہد میں مسلمانوں نے اپنی بے بسی کے باعث برداشت کیا تھا اور حصول آزادی کے بعد جان نثاران رسالت اس نوع کی تحریروں کے احتساب کا مطالبہ مسلسل و پیہم کر رہے تھے۔‘‘

مالک یوم الدین! ہم گنہگاروں کے اس عمل کو قبول فرما اور اس کے ذریعہ ہماری مغفرت فرمائیے۔

٣

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ١٣٠

عجیب بات نہ ہوگی کہ جن لوگوں نے اخلاص سے اس ناپاک پمفلٹ کی ضبطی کا بیڑا اٹھایا ہے۔ یہ اقدام ان کی مغفرت کا ذریعہ بن جائے۔ خیر یہ بات تو حضرات کے فکر وعقیدہ اور اخلاص سے متعلق ہے۔ جہاں تک ان کے اس فیصلے کا تعلق ہے۔ ہمارے نزدیک اس پمفلٹ کی ضبطی بلاشک وریب ایک بہت بڑی سعادت ہے اور حکومت مغربی پاکستان مستحق تبریک ہے۔

لیکن صورت واقعہ کا دوسرا پہلو بدستور تشویشناک ہے۔ قادیانی اخبارات و رسائل اور قادیانی تنظیموں نے حسب سابق احتجاج ، اشتعال اور دھمکیوں کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے اور ممکن ہے جس وقت یہ سطور قارئین محترم اور ذمہ داران حکومت تک پہنچیں۔ قادیانی اخبارات کے ذریعہ اور براہ راست قراردادوں، خطوط اور ملکی و غیر ملکی قادیانی جماعتوں کی جانب سے تاروں کے پلندے حکومت کے سیکرٹریوں کے توسط سے صدر مملکت اور گورنر مغربی پاکستان کی میزوں تک رسائی حاصل کر چکے ہوں اور لاہوری انجمن اشاعت اسلام سے سرظفر اللہ تک کے اجتماعات ان حضرات کی توجہ اپنی طرف مبذول کرالیں اور عین ممکن ہے کہ صدر مملکت کے دورہ لندن کے د وران بھی اس موضوع پر ان سے کچھ کہا جائے اور ان کی رائے کو متاثر کرنے کی وہ ساری صورتیں اختیار کی جائیں جو سیاسی پارٹیاں ایسے مواقع پر اختیار کیا کرتی ہیں۔

اس کے بعد کیا ہوگا؟ صحیح علم تو علیم و خبیر خدا ہی کو ہے۔ لیکن ہمیں یہ خطرہ ضرور لاحق ہے کہ کہیں حکومت مغربی پاکستان ”سراج الدین عیسائی کے چار سوالوں کے جواب“ نامی پمفلٹ کی ضبطی کے احکام واپس لینے کی طرح خدانخواستہ اس حکم کو بھی واپس نہ لے لے۔ (ہماری دعا اور خواہش ہے کہ ایسا نہ ہو) (لیکن ایسا ہوا۔ فقیر مرتب!)

قادیانیوں کا ردعمل

حکومت مغربی پاکستان کے اس اقدام پر حسب معمول اور حسب توقع قادیانیوں نے التجاء، احتجاج، اشتعال اور دھمکیوں، سبھی حربوں سے کام لینا شروع کر رکھا ہے۔ ”الفرقان ربوہ“ لکھتا ہے: ”گزشتہ سال ١٣؍اپریل ١٩٦٣ء کو حکومت مغربی پاکستان نے سیدنا مسیح موعود (مرزا قادیانی) کی کتاب ”سراج الدین عیسائی کے چار سوالوں کا جواب“ پر پابندی عائد کر دی تھی۔ مگر الحمد للہ کہ غور وفکر کے بعد حکومت نے ڈیڑھ ماہ کے بعد ہی اس پابندی کو واپس لے لیا۔“

اس سال جون ١٩٦٤ء کے آخر میں گورنر صاحب مغربی پاکستان نے سیدنا کے رسالہ

٤

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ١٣١

”ایک غلطی کا ازالہ“ کو ضبط قرار دیا ہے۔ جو نہایت ہی قابل افسوس امر ہے۔

(الفرقان جولائی ١٩٦٤ء ص ٣)

”جماعت احمدیہ ایک آئین پسند اور وفادار جماعت ہے۔ حکومت سے تعاون کرنا اس کا بنیادی نظریہ ہے۔ اس وفاشعار اور امن پسند جماعت کے دلوں کو بلا وجہ مجروح کرنا اور لاکھوں احمدیوں کو جو دنیا کے مختلف ممالک میں آباد ہیں ۔ قلبی اذیت پہنچانا ہرگز دانشمندی نہیں ۔ معلوم ہوتا ہے کہ یہ صورتحال محض غلط فہمی سے پیدا ہوئی ہے۔ اس لئے ہم حکومت سے مؤدبانہ درخواست کرتے ہیں کہ وہ جلد تر اس پابندی کے حکم کو منسوخ فرمائے ۔“

(الفرقان

جولائی ١٩٦٤ء)

اسی طرح پیغام صلح لکھتا ہے :

پر نظر ثانی فرمائیں اور جس قدر جلد ممکن ہو اس حکم کو واپس لے کر جماعت احمدیہ کے دونوں فریقوں کو شکریہ کا موقعہ دیں ۔“

(پیغام صلح مورخہ ٢٤/ جون

١٩٦٤ء)

لیکن اس انداز کے خلاف دوسرے ہی سانس دھمکیوں اور اشتعال انگیزیوں کا سلسلہ بھی شروع کر رکھا ہے۔

الفضل لکھتا ہے: ”احمدیوں کا ایمان ہے کہ اس کتابچہ کا حرف بحرف مقدس ہے اور ان کے ایمان کا جزو ہے۔ اس لحاظ سے اس کی ضبطی کو ہم حکومت کی طرف سے براہ راست مداخلت فی الدین تصور کرتے ہیں ...... جماعت احمدیہ کے افراد کے لئے ایک ایسا صدمہ ہے جس کو وہ قطعاً برداشت نہیں کر سکتے۔ حکومت نے رسالہ کو ضبط کر کے نہ صرف ہمارے دستوری حقوق کو ضرب پہنچائی ہے۔ بلکہ اپنی کمزوری اور بے احتیاطی کا بھی اظہار کیا ہے ...... ان کو ایسی آزمائش میں ڈال رہی ہے۔ جس کو وہ طبعاً پسند نہیں کرتا ...... پاکستان میں شاید ہمارے دین کی حفاظت کی کوئی ضمانت نہیں ہے۔“

(الفضل مورخہ

٢٨/ جون ١٩٦٤ء)

پیغام صلح نے پہلے تو عرض معروض کا انداز اختیار کیا۔ اس کے بعد اس نے بھی دھمکیوں

٥

www.besturdubooks.wordpress.com ooks.wordpress.com

صفحہ ١٣٢

اور اشتعال دلانے کا راستہ منتخب کر لیا۔ وہ لکھتا ہے: ”کتابوں کی ضبطی کا سلسلہ ملک میں امن پیدا کرنے کے بجائے منافرت اور دشمنی کا بیج بونے کا موجب ہوتا ہے۔“

(یکم جولائی ١٩٦٢ء)

”کسی قوم یا مذہب کے عقائد کو دشمنی یا منافرت کا موجب قرار دینا صریح حماقت ہے...... خدا کے لئے ہماری امن پسندی اور وفاشعاری کا ایسا امتحان نہ لیجئے۔ جو ہمارے دلوں کو زخمی کرنے اور ہمارے عقائد پر زد مارنے کا موجب ہو۔ اس کے تو یہ معنی ہیں کہ آپ ہمارے دین میں مداخلت کرتے اور ہمیں اپنے عقائد کے اظہار سے منع کرتے ہیں۔“

(٨؍ جولائی ١٩٦٢ء)

خطرناک دھمکی

الفضل نے ایک خطرناک دھمکی بھی حکومت اور باشندگان ملک کو دی ہے۔ اس نے ٢٧؍ جون ١٩٦٢ء کے شمارے میں ”الٰہی جماعتوں پر ابتلاء رحمت کا درجہ رکھتے ہیں“ کے عنوان سے مقالہ افتتاحیہ میں مرزا غلام احمد قادیانی کے طویل اقتباسات پیش کئے ہیں۔ ان کا آخری اقتباس اس واقعہ پر مشتمل ہے۔ جو مرزا غلام احمد قادیانی کی زندگی میں کابل میں پیش آیا۔ اس واقعہ کا اجمالی تعارف یہ ہے کہ مرزا غلام احمد قادیانی کے دو امتی کابل گئے۔ وہاں انہوں نے مرزا غلام احمد قادیانی کی نبوت اور جہاد کے منسوخ ہونے کی تبلیغ کی۔ حکومت نے علماء سے استصواب کیا۔ علماء نے فتویٰ دیا کہ مرزا غلام احمد قادیانی کی نبوت کو تسلیم کرنا ارتداد ہے اور اسلامی شریعت کے ایک حکم کو منسوخ قرار دینا خاتم النبیین ﷺ کے خلاف بغاوت ہے۔ مزید برآں ان دونوں قادیانیوں کے بارے میں یہ شبہ بھی پایا جاتا تھا کہ یہ انگریز کے جاسوس ہیں۔ بہرنوع ان کے بارے میں فیصلہ ہوا کہ اگر یہ ان عقائد فاسدہ سے توبہ کر لیں تو ان کو اصلاح کا موقع دیا جائے۔ وگرنہ قتل کر دیا جائے۔ قادیانیوں نے اپنے ارتداد اور اسلامی شریعت کے ایک صریح حکم، جہاد کو منسوخ کہنے پر اصرار کیا۔ اس بناء پر وہ سنگسار کر دیئے گئے۔

مرزا غلام احمد قادیانی کی جو عبارت الفضل نے پیش کی ہے۔ اس کے حسب ذیل الفاظ حکومت پاکستان اور اسلامیان ملک کے لئے خصوصیت سے قابل غور ہیں۔

”ہماری (قادیانی) جماعت کو یاد رکھنا چاہئے کہ جب تک وہ بزدلی کو نہ چھوڑے گی اور استقلال اور ہمت کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی ہر ایک راہ میں مصیبت و مشکل کے اٹھانے

٦

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ١٣٣

کے لئے تیار نہ رہے گی وہ صالحین میں داخل نہیں ہوسکتی۔ صاحبزادہ عبداللطیف شہید (جسے کابل میں سنگسار کیا گیا تھا) کی شہادت کا واقعہ تمہارے لئے اسوہ حسنہ ہے۔ اس نے جان دینی گوارا کی۔ مگر ایمان کو ضائع نہیں کیا۔ عبداللطیف کہنے کو مارا گیا یا مرگیا۔ مگر یقیناً سمجھو کہ وہ زندہ ہے اور کبھی نہیں مرے گا۔“

الفضل اس اشتعال انگیزی پر مزید تیل چھڑکتا ہے: ”ان حوالوں سے آپ کو معلوم ہوگیا کہ آج ایک احمدی کو کیا کرنا ہے۔ اس کو یہی کرنا ہے کہ وہ صحابہ کرام کا نمونہ دنیا کے سامنے پیش کرے۔ (صحابہ کرام سے مراد مرزا غلام احمد قادیانی کے صحابہ ہیں، جیسا کہ الفضل خود ہی وضاحت کرتا ہے) جس طرح حضرت صاحبزادہ عبداللطیف (اس نام پر الفضل نے حسب معمول ”رضی اللہ“ لکھا ہے) نے پیش کیا اور حقیقت یہ ہے کہ صاحبزادہ صاحب نے جو نمونہ پیش کیا یہ ایک مثال سہی تاہم فی الحقیقت ہزاروں احمدیوں نے یہ نمونہ پیش کیا ہے اور کون احمدی ہے جو خود یہ نمونہ پیش کرنے کے لئے تیار نہیں۔“

(الفضل قادیان مورخہ ٢٧ جون ١٩٦٤ء،

ص ١، ٨)

قادیانی اخبارات کی یہ کھلی دھمکی حکومت اور اسلامیان پاکستان دونوں کے لئے یکساں غور کی مستحق ہے اور انہیں یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ ایک ایسی قوم جو دینی اساسات میں اس ملک کی حکومت اور باشندوں سے یکسر مختلف ہے۔ جس قوم کے نزدیک اس ملک ہی کے نہیں پوری دنیا کے مسلمان، اس لئے کافر ہیں کہ وہ مرزا غلام احمد قادیانی کو نبی وقت تسلیم نہیں کرتے۔ ان مسلمانوں کی نماز جنازہ اس کے نزدیک اسی طرح حرام ہے۔ جس طرح وہ سکھوں، ہندوؤں، عیسائیوں اور یہودیوں کا جنازہ حرام سمجھتے ہیں۔ اگر اس کے کسی اشتعال انگیز رسالے کو باشندگان ملک کی اکثریت کے جذبات کا احترام کرتے ہوئے ضبط کرلیا جائے تو یہ قوم کھلم کھلا اپنے افراد کو موت پر ابھارے۔ اس کے اخبارات حکومت کے فیصلے کو احمقانہ قرار دینے کے بعد اس کے خلاف اپنے افراد کو زندگی ہار کر جنت خریدنے کی علانیہ تلقین کرے تو کیا اس کے احتجاج کے سامنے گھٹنے ٹیکنے مناسب ہوں گے یا اس کی اشتعال انگیزیوں کا سد باب ضروری ہوگا۔

ایک غلطی کا ازالہ ...... انتہائی اشتعال انگیز پمفلٹ

یہاں تک ہم نے جو گفتگو کی ہے۔ وہ حکومت کے اقدام اور قادیانیوں کے ردعمل کے

٧

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ١٣٤

موضوع پر کی ہے اور ہم نے عمداً اس بحث میں ان محرکات اور جذبات کا حوالہ نہیں دیا جو دینی نقطہ نظر سے اساسی اہمیت رکھتے ہیں۔ لیکن بحث کا یہ حصہ چونکہ مسئلے کی حقیقی بنیاد ہے۔ اس لئے ضروری ہے کہ اجمالاً ہی سہی اس پر بھی گفتگو کی جائے۔

اگرچہ قادیانی اخبارات نے وضاحت کے ساتھ ضبط شدہ پمفلٹ کے اقتباسات دیئے ہیں۔ مگر ہمارا خیال ہے کہ ایسا کرنا صریح طور پر قانون شکنی ہے۔ اس لئے ہم اس سے اجتناب کرتے ہیں کہ اس پمفلٹ کی عبارتیں پیش کریں۔ البتہ اس کے سوا چارہ نہیں کہ مدعا اور مضمون کو بیان کیا جائے اور جس پس منظر و پیش منظر کے تحت یہ پمفلٹ لکھا گیا تھا اسے واضح کریں۔

پس منظر

تاریخی طور پر صورت واقعہ یہ ہے کہ مرزا غلام احمد قادیانی اپنی ابتدائی تصانیف میں اگرچہ یہ اظہار کرتے رہے کہ وہ:

کسی قسم (ظلی، بروزی، امتی) نبی ہونے کا دعویٰ کرے وہ اسے کافر، ملت اسلامیہ سے خارج اور دجال و کذاب جانتے ہیں۔“

(مجموعہ اشتہارات ج ١ ص ٣٥٥)

ایسا دعویٰ کروں تو میں کافر ہوں گا۔“

(مجموعہ اشتہارات ج ١ ص ٢٣٠)

وہ سیدنا مسیح ابن مریم علیہ السلام کے زندہ ہونے اور انہی کے نزول فرمانے پر عقیدہ رکھتے تھے۔“

(براہین احمدیہ ص ٤٩٩، خزائن ج ١ ص ٥٩٣)

لیکن وہ ابتداء ہی سے ایک عجیب و غریب قسم کی ذہنی کشمکش میں مبتلا تھے۔ وہ بعض اوقات اپنے کشوف پیش کرتے، بعض اوقات الہامات کا دعویٰ کرتے، کبھی کبھی پیش گوئیاں کرتے اور بعض اوقات ایسے جملے بھی ان کے قلم سے نکل جاتے جن سے یہ ٹپکتا کہ وہ اپنے آپ کو نبی بھی سمجھتے ہیں۔ ان کے ان اعلانات سے علماء اسلام چوکنا ہوتے، وہ ان سے وضاحت طلب کرتے تو یہ بالعموم مکر جاتے اور جیسا کہ اوپر ذکر کیا گیا۔ مدعی نبوت کو کافر قرار دیتے۔ یہ صورتحال ١٨٩٥ء تک جاری رہی۔

٨

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ١٣٥

١٨٩١ء میں مرزا غلام احمد قادیانی نے اپنی بعض تصانیف بالخصوص (توضیح المرام ص١٦، خزائن ج٣ ص٥٩، فتح اسلام ص١٥، خزائن ج٣ ص١٠) میں یہ اعلان کر دیا کہ: ”سیدنا مسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام فوت ہو چکے ہیں اور خود مرزا غلام احمد قادیانی مسیح موعود ہیں۔“

ان کے اس اعلان کے بعد علماء کا حسن ظن ختم ہو گیا اور جو ”کہہ مکرنی“ مرزا غلام احمد قادیانی کا معمول تھی۔ انہوں نے اس پر اعتماد ترک کر کے جون ١٨٩١ء میں دہلی میں جمع ہو کر متفقہ طور پر مرزا غلام احمد قادیانی کو کافر قرار دیا۔

ہندوستان کے علماء کے اس اجتماعی فتویٰ کفر سے مرزا غلام احمد قادیانی اور ان کے چند سو معتقدین کے لئے شدید مشکلات پیش آئیں۔ تقریباً ہر جگہ مسلمانوں نے انہیں اپنے سے الگ ایک امت سوچنا شروع کر دیا تو مرزا غلام احمد قادیانی نے دہلی کے ایک مسلم اجتماع (منعقدہ ٢٨؍ستمبر ١٨٩١ء) میں اپنی صفائی پیش کرنے کی کوشش کی۔ لیکن چونکہ اہل علم طبقہ کے اکثر افراد اور عام مسلمان ایک عرصے سے مرزا غلام احمد قادیانی کے ایسے اعلانات کی قدر و قیمت معلوم کر چکے تھے اور وہ دیکھ رہے تھے کہ یہ حضرت ایک قدم دعویٰ نبوت کی جانب آگے بڑھا لیتے ہیں تو اس پر گرفت ہوتی ہے۔ یہ فوراً ایک قدم پیچھے ہٹ جاتے ہیں۔ مگر جونہی دیکھتے ہیں کہ مسلمانوں کا اضطراب کم ہوا تو یہ پہلے قدم سے ایک قدم اور آگے بڑھا لیتے ہیں اور حریم نبوت کی جانب تانک جھانک شروع کر دیتے ہیں۔ اس تاثر کی بناء پر جامع مسجد دہلی میں جمع شدہ اہل علم اور عوام کی جمعیت نے مرزا غلام احمد قادیانی کا بیان سننے سے انکار کر دیا اور جونہی مرزا غلام احمد قادیانی جامع مسجد میں پہنچے شدید ہنگامہ شروع ہو گیا۔

اگر اس وقت انگریزی عہد کے ایک سپرنٹنڈنٹ پولیس اور اس کے ماتحت ١٠٠ کانسٹیبلوں (اس تعداد کا تصور آج کے حالات میں نہ کیجئے، ١٨٩١ء کے انتہائی مستبدانہ دور کو سامنے رکھ کر اس عظیم جمعیت کا اندازہ کیجئے) کی سرپرستی اور حفاظت ”مرزا غلام احمد قادیانی کو حاصل نہ ہوتی تو بظاہر اس ہنگامے سے ان کے زندہ بچ نکلنے کی کوئی صورت دکھائی نہ دیتی تھی۔“

اس موقعہ پر علی گڑھ کے ایک پلیڈر خواجہ محمد یوسف نے ان سے ایک بیان صفائی لکھوایا۔ یہ بیان اس مجمع میں تو نہ پڑھا جا سکا۔ لیکن ٢؍اکتوبر کو یہ بیان صفائی بصورت اشتہار شائع ہوا۔ جس میں مرزا غلام احمد قادیانی نے لکھا تھا کہ: ”میں نہ نبوت کا مدعی ہوں اور نہ معجزات

٩

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ١٣٦

اور ملائک اور لیلۃ القدر وغیرہ سے منکر، بلکہ میں ان تمام امور کا قائل ہوں جو اسلامی عقائد میں داخل ہیں اور جیسا کہ سنت جماعت کا عقیدہ ہے۔ ان سب باتوں کو مانتا ہوں جو قرآن وحدیث کی رو سے مسلم الثبوت ہیں اور سیدنا و مولانا حضرت محمد ﷺ ختم المرسلین کے بعد کسی دوسرے مدعی نبوت اور رسالت کو کاذب اور کافر جانتا ہوں۔ میرا یقین ہے کہ وحی رسالت حضرت آدم صفی اللہ سے شروع ہوئی اور جناب رسول اللہ محمد مصطفیٰ ﷺ پر ختم ہو گئی۔"

(مجموعہ اشتہارات ج ١

ص ٢٣٠)

١٨٩١ء سے ١٨٩٧ء تک مرزا غلام احمد قادیانی اپنے اونچے دعوؤں میں تو قدرے محتاط رہے۔ لیکن وہ اس کوشش میں لگے رہے کہ ان کا جتھہ مضبوط ہو اور مریدین کا حلقہ بڑھتا رہے۔ ١٨٩٨ء میں انہوں نے اپنی جماعت کو مسلمانوں سے الگ کرنے کی داغ بیل ڈالی اور اپنے مریدوں کو حکم دیا کہ وہ اپنی لڑکیاں غیر احمدیوں کو نہ دیں۔

١٩٠١ء قادیانی تحریک میں اہم ترین سال ہے۔ اس سال کے آخر میں ایک جانب تو مرزا غلام احمد قادیانی نے اپنے مریدوں کو حکم دیا کہ مردم شماری میں وہ اپنے آپ کو احمدی مسلمان لکھوائیں۔ بالفاظ مصنف ”سیرت مسیح موعود“ ”گویا اس سال آپ نے اپنی جماعت کو احمدی کے نام سے مخصوص کر کے دوسرے مسلمانوں سے ممتاز کر دیا۔“

(سیرت مسیح

موعود ص ٥٣)

دوسرا اقدام انہوں نے ”ایک غلطی کا ازالہ“ کی تصنیف کی صورت میں کیا۔ اس کے بارے میں خلیفہ ربوہ لکھتے ہیں: ”ایک غلطی کا ازالہ ١٩٠١ء میں شائع ہوا ہے۔ جس میں آپ نے اپنی نبوت کا اعلان بڑے زور سے کیا ہے۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ ١٩٠١ء میں آپ نے عقیدے میں تبدیلی کی ہے۔“

(حقیقت النبوۃ ص ١٢١)

ایک غلطی کا ازالہ کا پیش منظر

یہ تو تھا ایک غلطی کا ازالہ کا پس منظر اور ہر وہ شخص جس کے دل میں ذرہ برابر بھی دیانت ہے۔ وہ یہ نہیں کہہ سکتا کہ یہ پمفلٹ کسی اہم اختلافی مسئلہ سے متعلق نہیں ہے اور اس کا تعلق امت مسلمہ سے نہیں ہے۔ بقول مرزا محمود احمد، مرزا غلام احمد قادیانی نے پہلی مرتبہ کھل کر دعویٰ نبوت اسی

١٠

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ١٣٧

پمفلٹ ایک غلطی کا ازالہ میں ہی کیا اور انہی کے قول کے مطابق ”ایک غلطی کا ازالہ سے پہلی کی جن تحریروں میں مرزا غلام احمد قادیانی نے اپنے نبی ہونے سے انکار کیا ہے۔ وہ سب کی سب منسوخ ہیں ۔“

(حقیقت النبوۃ ص ١٢١)

اب ہم یہ عرض کرنا چاہتے ہیں کہ ایک غلطی کا ازالہ ایک انتہائی اشتعال انگیز نا قابل برداشت اور امت محمدیہ علی صاحبہا الصلوٰۃ والسلام کی غیرت ایمانی اور وجود ملی کے خطرناک چیلنج کے پیش منظر کا بھی حامل ہے۔

تفصیل اس اجمال کی یہ ہے کہ مرزا غلام احمد قادیانی نے اس پمفلٹ میں کھلم کھلا دعوٰی نبوت کرنے کے بعد یہ جسارت بھی کی کہ: ”میرا نام ظلی طور پر محمد اور احمد ہے۔ میں محمد ثانی ہوں جو محمد اوّل (ﷺ) کی تصویر اور انہی کا نام ہے ۔“

(ایک غلطی کا ازالہ ص ٥، خزائن

ج ١٨ ص ٢٠٩)

” میں محمد مصطفٰی ﷺ کے نام محمد اور احمد سے مسمّی ہو کر رسول بھی ہوں اور نبی بھی۔“

(ایک غلطی کا ازالہ ص ٧، خزائن ج ١٨ ص ٢١١)

”میں بروزی طور پر خاتم الانبیاء ہوں ۔ میرا وجود آنحضرت ﷺ ہی کا وجود ہے ۔“

(ایک غلطی کا ازالہ ص ٨، خزائن ج ١٨ ص ٢١٢)

”کمالات محمدی مع نبوت محمدیہ کے میرے آئینہ ظلیت میں منعکس ہیں ۔ میں محمد ﷺ ہی کا وجود ہوں۔ آپ کے وجود سے الگ میرا کوئی وجود نہیں ۔ جو بروز جمیع کمالات محمدیہ کے ساتھ آخری زمانہ کے لئے مقدر تھا ۔ وہ میں ہی ہوں ۔ اب جس نے فیض محمدی حاصل کرنا ہو وہ میری کھڑکی نبوت کے چشمہ سے پانی لینے کے سوا کہیں سے بھی محمد ﷺ کے فیوض حاصل نہیں کر سکتا۔“

”خدا نے میرا نام محمد اور احمد رکھا ہے۔ میری نبوت محمد ﷺ کی نبوت سے الگ کوئی چیز نہیں مجھے نبی بنایا جانا ایسے ہی ہے جیسے محمد ﷺ کو نبی بنایا گیا ۔ گویا محمد کی چیز محمد ہی کے پاس رہی۔“

(ایک غلطی کا ازالہ ص ١٢، خزائن ج ١٨ ص ٢١٦)

اور یہ وہی ناپاک اور ناقابل برداشت پمفلٹ ہے جس میں مرزا غلام احمد قادیانی نے

١١

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ١٣٨

لکھا ہے کہ: ”(نعوذ باللہ من ذالک ثم نعوذ باللہ من ذالک) سید العالمین، سرور کونین، خاتم النبیین، محمد مصطفیٰ ﷺ کی لخت جگر، سیدنا علی ابن ابی طالب کرم اللہ وجہ کی زوجہ مکرمہ اور سید الشباب اہل الجنۃ کی والدہ ماجدہ سیدہ فاطمۃ الزہراؓ نے اپنی ران پر میرا سر رکھا اور مجھے دکھایا کہ میں اس میں سے ہوں ۔“

(ایک غلطی کا ازالہ ص٩، خزائن ج ١٨

ص ٢١٣ حاشیہ)

ہم قادیانیوں سے خطاب غیر ضروری سمجھتے ہیں۔ مسلمانوں کے ایمانی جذبات سے پوچھتے ہیں کہ خدا کے لئے بتلائیے اس کرۂ ارضی پر وہ کون سا بے حمیت بے غیرت اور ایمان، محبت اور عظمت سرور کونین ﷺ سے محروم مسلمان ہے جو ایک ایسے شخص کو جس نے :

سورج نیا حملہ کرنے والی اور مسلمانوں کے خون سے صدیوں ہولی کھیلنے والی انگریزی حکومت کو ٹھیک اس وقت جب اس کے ہاتھ ہندوستان کے ہزاروں علماء اور مجاہدین حریت کے خون سے رنگین تھے اور اس لمحے جب یہ حکومت اسلام کو صفحہ ہستی سے نابود اور ملت اسلامیہ کے وجود کو ختم کرنے کے لئے پوری مسلم دنیا پر حملہ آور تھی یہ یقین دلاتا ہے۔

”میں ایسے خاندان میں سے ہوں جس کی نسبت گورنمنٹ نے ایک مدت دراز سے قبول کیا ہوا ہے کہ وہ خاندان اوّل درجہ پر سرکار دولتمدار کا خیر خواہ ہے۔“

(مجموعہ اشتہارات ج٣ ص٩)

حمایت میں گزرا ہے اور میں نے ممانعت جہاد اور انگریزی اطاعت کے بارہ میں اس قدر کتابیں لکھی ہیں کہ اگر وہ اکٹھی کی جائیں تو پچاس الماریاں ان سے بھر سکتی ہیں...... میری ہمیشہ یہ کوشش رہی ہے کہ مسلمان اس سلطنت کے سچے خیر خواہ ہو جائیں۔“ (تریاق القلوب ص١٥،

خزائن ج ١٥ ص ١٥٥)

ہے کہ جن کے دل اس گورنمنٹ کی سچی خیر خواہی سے لبالب ہیں۔“

(مجموعہ اشتہارات ج٢ ص٣٦٧)

١٢

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ١٣٩

میرا مذہب جس کو میں بار بار ظاہر کرتا ہوں یہی ہے کہ اسلام کے دو حصے ہیں۔ ایک یہ کہ خدا تعالیٰ کی اطاعت کرے۔ دوسرے اس سلطنت کی جس نے امن قائم کیا ہو۔ جس نے ظالموں کے ہاتھ سے اپنے سایہ میں ہمیں پناہ دی ہو۔ سو وہ سلطنت حکومت برطانیہ کی ہے...... سو اگر ہم گورنمنٹ برطانیہ سے سرکشی کریں تو گویا اسلام اور خدا اور رسول سے سرکشی کرتے ہیں۔“

(گورنمنٹ کی توجہ کے لائق ملحقہ شہادت القرآن ص ٨٢، خزائن ج ٦ ص ٣٨٠، ٣٨١)

میں داخل کریں اور دل کی سچائی سے ان کے مطیع رہیں۔“

(ضرورت الامام ص ٢٣، خزائن ج ١٣ ص ٤٩٣)

دیگر متفرق مقامات میں پھیلا ہوا ہے۔ یہی وہ فرقہ ہے جو دن رات کوشش کر رہا ہے کہ مسلمانوں کے خیالات میں سے جہاد کی بیہودہ رسم کو اٹھا دے۔“

(ریویو آف ریلیجنز ج ١ نمبر ١٢ ص ٤٩٥، بابت ماہ دسمبر ١٩٠٢ء)

احسان ہیں کہ اگر ہم یہاں سے نکل جائیں تو نہ ہمارا مکہ میں گزارا ہو سکتا ہے اور نہ قسطنطنیہ میں، تو پھر کس طرح سے ہو سکتا ہے کہ ہم اس کے برخلاف کوئی خیال اپنے دل میں رکھیں۔“

(ملفوظات احمدیہ ج ١ ص ١٤٦)

ایران میں نہ کابل میں۔ مگر اس گورنمنٹ میں جس کے اقبال کے لئے دعا کرتا ہوں۔ لہٰذا وہ اس الہام میں اشارہ فرماتا ہے کہ اس گورنمنٹ کے اقبال اور شوکت میں تیرے وجود اور تیری دعا کا اثر ہے اور اس کی فتوحات تیرے سبب سے ہیں۔ کیونکہ جدھر تیرا منہ ہے ادھر خدا کا منہ ہے۔“

(مجموعہ اشتہارات ج ٢ ص ٣٧٠)

ہاں وہی شخص جو ملکہ وکٹوریہ کو اس کے جشن تاجپوشی کے موقعہ پر ”عریضہ مبارکبادی“ لکھتا ہے اور اس میں ان خوشامدانہ ہی نہیں کسی بھی حریت فکر و ضمیر رکھنے والے انسان کے لئے

١٣

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ١٤٠

ناقابل برداشت الفاظ سے خطاب کرتا ہے۔

عالیجناب قیصرہ ہند ملکہ معظمہ والی انگلستان و ہند دام اقبالہا بالقابہا کے حضور بتقریب جلسہ جوبلی شصت سالہ بطور مبارک باد پیش کرتا ہے۔

مبارک! مبارک!! مبارک!!!

اس خدا کا شکر ہے جس نے آج ہمیں یہ عظیم الشان خوشی کا دن دکھلایا کہ ہم نے اپنی ملکہ معظمہ قیصرہ ہند وانگلستان کی شصت سالہ جوبلی کو دیکھا۔ جس قدر اس دن کے آنے سے مسرت ہوئی کون اس کا اندازہ کر سکتا ہے؟ ہماری محسنہ قیصرہ مبارکہ کو میری طرف سے خوشی اور شکر سے بھری ہوئی مبارک باد پہنچے۔ خدا ملکہ کو ہمیشہ خوشی سے رکھے۔“

(تحفہ قیصریہ ص ٢، خزائن ج ١٢ ص ٢٥٤)

”اگرچہ اس محسن گورنمنٹ (برطانیہ) کا ہر ایک پر، رعایا میں سے شکر واجب ہے۔ مگر میں خیال کرتا ہوں کہ مجھ پر سب سے زیادہ واجب ہے۔ کیونکہ یہ میرے اعلیٰ مقاصد جو جناب قیصرہ ہند کی حکومت کے سایہ کے نیچے انجام پذیر ہورہے ہیں۔ ہرگز ممکن نہ تھا کہ وہ کسی اور گورنمنٹ کے زیر سایہ انجام پذیر ہو سکتے۔ اگرچہ وہ کوئی اسلامی گورنمنٹ ہی ہوتی۔“

(تحفہ قیصریہ ص ٣١، ٣٢، خزائن ج ١٣ ص ٢٨٣)

اور پھر یہ شخص اپنے ان جذبات اور خدمات کے لئے ایک نگاہ التفات کے لئے یوں بے تاب ہے:

خدمات اور دعوات گذارش کئے تھے اور میں اپنی جناب ملکہ معظمہ کے اخلاص وسیعہ پر نظر رکھ کر ہر روز جواب کا امیدوار تھا اور اب بھی ہوں۔ میرے خیال میں یہ غیر ممکن ہے کہ میرے جیسے دعا گو کا وہ عاجزانہ تحفہ جو بوجہ کمال اخلاص خون دل سے لکھا گیا تھا۔ اگر وہ حضور ملکہ معظمہ قیصرہ ہند دام اقبالہا کی خدمت میں پیش ہوتا تو اس کا جواب نہ آتا۔ بلکہ ضرور آتا ضرور آتا۔ اس لئے مجھے بوجہ اس یقین کے جناب قیصرہ ہند کے پر رحمت اخلاق پر کمال وثوق سے حاصل ہے۔ اس یاددہانی کے عریضہ کو لکھنا پڑا اور عریضہ کو نہ صرف میرے ہاتھوں نے لکھا ہے۔ بلکہ میرے دل نے یقین کا

١٤

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ١٤١

بھرا ہوا زور ڈال کر ہاتھوں کو اس پر ارادت خط کے لکھنے کے لئے چلایا ہے۔ میں دعا کرتا ہوں کہ خیر وعافیت اور خوشی کے وقت میں خدا تعالیٰ اس خط کو حضور قیصرہ ہند دام اقبالہا کی خدمت میں پہنچاوے اور پھر جناب ممدوحہ کے دل میں الہام کرے کہ وہ اس سچی محبت اور سچے اخلاص کو جو حضرت موصوفہ کی نسبت میرے دل میں ہے۔ اپنی پاک فراست سے شناخت کر لیں اور رعیت پروری کی رو سے مجھے پر رحمت جواب سے ممنون فرماویں۔‘‘ (ستارہ قیصریہ ص ٤، خزائن ج ١٥ ص ١١٥)

خدارا اندازہ فرمائیے کہ جب یہی شخص یہ دعویٰ کرتا ہے کہ میں محمد مصطفیٰ ﷺ ہی ہوں...... تو کیا یہ کسی ادنیٰ سے ادنیٰ مسلمان کے لئے قابل برداشت ہے؟

مزید سوچئے! مرزا غلام احمد قادیانی کے کردار کا ایک پہلو یہ ہے کہ انہوں نے ایک لڑکی سے شادی کی خواہش ظاہر کی۔ لڑکی کے والد نے رشتہ دینے سے انکار کر دیا۔ مرزا غلام احمد قادیانی نے اس سلسلہ میں اس سے خط و کتابت کی۔ ان کے لب ولہجہ ذہنی مقام اور سیرت وکردار کی ایک جھلک ملاحظہ ہو۔

’’اگر آپ نے میرا قول اور بیان مان لیا تو مجھ پر مہربانی اور احسان اور میرے ساتھ نیکی ہوگی۔ میں آپ کا شکر گزار ہوں اور آپ کی درازی عمر کے لئے ارحم الراحمین کے جناب میں دعا کروں گا اور آپ سے وعدہ کرتا ہوں کہ آپ کی لڑکی کو اپنی زمین اور مملوکات کا ایک تہائی حصہ دوں گا اور میں سچ کہتا ہوں کہ اس میں سے جو کچھ مانگیں گے میں آپ کو دوں گا۔ صلہ رحم عزیزوں محبت اور رشتہ کے حقوق کے بارے میں آپ کو مجھ جیسا کوئی شخص نہیں ملے گا۔ آپ مجھے مصیبتوں میں اپنا دستگیر اور بار اٹھانے والا پائیں گے۔ اس لئے انکار میں اپنا وقت ضائع نہ کیجئے اور شک وشبہ میں نہ پڑیئے۔‘‘

(آئینہ کمالات اسلام ص ٥٧٣، خزائن ج ٥

ص ٥٧٤)

’’اور میں اپنی طرف سے تو صرف یہی عرض کرتا ہوں کہ میں آپ کا ہمیشہ ادب ولحاظ ہی ملحوظ رکھتا ہوں اور آپ کو ایک دیندار اور ایماندار بزرگ تصور کرتا ہوں اور آپ کے حکم کو اپنے لئے فخر سمجھتا ہوں اور ہبہ نامہ پر جب لکھو، حاضر ہو کر دستخط کر جاؤں اور اس کے علاوہ میری املاک خدا کی اور آپ کی ہے۔ عزیز محمد بیگ کے لئے پولیس میں بھرتی کرنے کی اور عہدہ دلانے کی خاص کوشش وسفارش کر لی ہے۔ تاکہ وہ کام میں لگ جاوے اور اس کا رشتہ میں نے ایک بہت امیر آدمی جو میرے عقیدت مندوں میں ہے تقریباً کر دیا ہے اور اللہ کا فضل آپ کو شامل ہو۔

١٥

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ١٤٢

(خاکسار مرزا غلام احمد قادیانی مورخہ ٢٠؍فروری ١٨٨٨ء، منقول از رسالہ کلمہ فضل فقط!“ رحمانی)

اس کے بعد تصور کیجئے کہ یہی شخص یہ کہتا ہے کہ مجھ میں اور محمد ﷺ میں کوئی فرق و امتیاز نہیں میرا وجود اسی رحمت عالم ﷺ کا وجود ہے۔ جن کی عظمت پر افلاک کے باشندے بھی شاہد ہیں اور اس سرور عالم ﷺ فداہ انفسنا وارواحنا کے بارے میں اعداء نے بھی شہادت دی ہے کہ عزت نفس، مکارم اخلاق، پاکیزگی نفس میں آپ یکتا تھے۔

ایک پہلو اور ......؟

مرزا غلام احمد قادیانی نے اعلان کیا کہ وہ ایک کتاب (براہین احمدیہ) کے پچاس حصے شائع کریں گے۔ لوگوں نے ان پچاس حصوں والی کتاب کی پیشگی قیمت مرزا غلام احمد قادیانی کو بھیج دی۔ وہ پچیس سال کے عرصے میں کتاب کے صرف پانچ حصے شائع کرسکے۔ ان سے لوگوں نے مطالبہ کیا کہ آپ نے قیمت تو لی ہے پچاس حصوں کی، اور دیئے ہیں پانچ حصے۔ اصول تجارت اور دیانت وامانت کے نقطہ نظر سے یہ صورتحال کیسی ہے؟

سنئے مرزا غلام احمد قادیانی کیا جواب دیتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں: ’’پہلے پچاس حصے لکھنے کا ارادہ تھا۔ مگر پچاس سے پانچ پر اکتفا کیا گیا اور چونکہ پچاس اور پانچ میں صرف ایک نقطہ کا فرق ہے۔ اس لئے پانچ حصوں سے وہ وعدہ پورا ہو گیا۔‘‘

(دیباچہ براہین احمدیہ حصہ پنجم ص ٧، خزائن ج ٢١ ص ٩)

خدا کے لئے غور کیجئے یہ شخص جو لین دین اور تجارت میں ٥ اور ٥٠ میں کوئی فرق محسوس نہیں کرتا اور اس جسارت کا بھی مظاہرہ کرتا ہے کہ ٥٠ کے نقطہ کو صفر کہہ کر مطالبے کو ٹال دے۔ جب اس سیرت و کردار کا حامل شخص یہ دعویٰ کرتا ہے کہ محمد ﷺ بعثت ثانیہ میں میرے وجود میں ظاہر ہوئے ہیں تو اس صادق امین کا کوئی امتی اسے کس طرح برداشت کرسکتا ہے۔ جس صادق وامین (ہمارے ماں باپ اور ہماری جانیں، حضور پر قربان ﷺ) کی صداقت وامانت کی گواہی ابو جہل نے بھی دی تھی؟

اس شخص کی یہ جسارت اور سب پہلو چھوڑیئے، کیا اس قابل ہے کہ اسے مسلمان ٹھنڈے دل سے برداشت کریں؟ اور اگر کوئی مسلمان حاکم، اپنے جذبات پر ہر پہلو سے قابو پا کر نہ تو اس بات کے کہنے اور شائع کرنے والے کو سزا دے اور نہ ہی اس پر کی جانے والی کسی قسم کی مراعات میں کمی کرے بلکہ صرف اتنے پر اکتفاء کرے کہ اس ناپاک پمفلٹ کو ضبط کر دے۔ جس

١٦

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ١٤٣

میں اس نوع کی ناقابل برداشت اشتعال انگیزی پائی جاتی ہو تو کیا اس حاکم کا یہ اقدام ایسا ہے کہ اس کے خلاف محاذ قائم کر دیا جائے اور اندرون و بیرون ملک اس کے خلاف نفرت، اشتعال اور اظہار غیض و غضب کا اظہار کیا جائے اور اپنے حلقے کے لوگوں کو اسی طرح پھانسیوں پر چڑھنے اور جانی قربانی پیش کرنے کی تلقین کی جائے۔ جس طرح کابل میں دو قادیانیوں نے، وہاں کی مسلمان حکومت کے خلاف سازش کا ارتکاب کیا اور جہاد ایسے اساسی و اہم ترین اسلامی حکم کو منسوخ کہنے کی جسارت کی اور حکومت نے مجبوراً ان کو قتل کی سزا دی۔

ایک غلطی کا ازالہ سے بھی زیادہ اشتعال انگیز

بجا طور پر ہم سے یہ سوال کیا جا سکتا ہے کہ کیا قادیانی لٹریچر میں ”ایک غلطی کا ازالہ“ وہ واحد پمفلٹ ہے جس میں رحمت دو عالم، سرور کونین، سید الرسل، خاتم النبیین ﷺ فداہ ارواحنا وانفسنا کی (خاکم بدہن) توہین کی گئی ہے۔ ہم بلا تامل اعتراف کرتے ہیں کہ ایسا نہیں ہے۔ قادیانی لٹریچر میں کھلم کھلا یہ کہا گیا ہے کہ:

محمد پھر اتر آئے ہیں ہم میں
اور آگے سے ہیں بڑھ کر اپنی شان میں
محمد دیکھنے ہوں جس نے اکمل
غلام احمد کو دیکھے قادیاں میں

(پیغام صلح مورخہ ١٤؍مارچ ١٩١٤ء، بدر نمبر ٤٣ ج ٢ مورخہ ٢٥؍اکتوبر ١٩٠٦ء ص ١٤)

”اور جان کہ ہمارے نبی کریم ﷺ جیسا کہ پانچویں ہزار میں مبعوث ہوئے۔ ایسا ہی مسیح موعود کی بروزی صورت اختیار کر کے چھٹے ہزار کے آخر میں مبعوث ہوئے اور یہ قرآن سے ثابت ہے۔ اس میں انکار کی گنجائش نہیں اور بجز اندھوں کے کوئی اس معنی سے منہ نہیں پھیرتا۔ کیا آخرین منہم کی آیت میں فکر نہیں کرتے اور کس طرح منہم کے لفظ کا مفہوم محقق ہو۔ اگر رسول کریم آخر میں موجود نہ ہوں۔ جیسا کہ پہلوں میں موجود تھے ...... اور جس نے اس بات سے انکار کیا کہ نبی علیہ السلام کی بعثت چھٹے ہزار سے تعلق رکھتی ہے۔ جیسا کہ پانچویں ہزار سے رکھتی تھی۔ پس اس نے حق کا اور نص قرآن کا انکار کیا۔ بلکہ حق یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ کی روحانیت چھٹے کے آخر میں یعنی ان دنوں میں بہ نسبت ان سالوں کے اقویٰ اور اکمل اور اشد ہے۔ بلکہ چودھویں رات کے چاند کی طرح۔“

(خطبہ الہامیہ ص ١٨٠، ١٨١، خزائن ج ١٦

١٧

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ١٤٤

ص ٢٧٠،٢٦٩)

”اسلام ہلال کی طرح شروع ہوا اور مقدر تھا کہ انجام کار زمانہ میں بدر ہو جائے خدا تعالیٰ کے حکم سے۔ پس خدا تعالیٰ کی حکمت نے چاہا کہ اسلام اس صدی میں بدر کی شکل اختیار کرے جو شمار کی رو سے بدر کی طرح مشابہ ہو (یعنی چودھویں صدی) پس ان ہی معنوں کی طرف اشارہ ہے۔ خدا تعالیٰ کے اس قول میں کہ لقد نصرکم اللہ ببدر وانتم اذلۃ!

(خطبہ الہامیہ ص ١٨٣، خزائن ج ١٦ ص ٢٧٣)

ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ مرزا غلام احمد قادیانی نے اپنے بارے میں یہ بھی کہا ہے کہ وہ (نعوذ باللہ من ذالک، نقل کفر کفر نہ باشد) رحمۃ اللعالمین تھے اور انہیں الہام ہوا ہے۔ وما ارسلنک الا رحمۃ للعالمین!

(حقیقۃ الوحی ص ٨٢، خزائن ج ٢٢

ص ٨٥)

بلاشبہ یہ سب باتیں ایک ادنیٰ سے ادنیٰ بلکہ فاسق و فاجر مسلمان کے لئے بھی قابل برداشت نہیں ہیں اور کوئی بے حمیت مسلمان اس کرہ ارضی پر ایسا نہیں جو کسی کم مایہ انسان سے یہ سننا گوارا کرے کہ اس کی حیثیت وہی ہے جو آقائے ہر دو عالم محمد ﷺ کی حیثیت ہے۔ چہ جائیکہ وہ ایک ایسے شخص سے جسے وہ خلق کو گمراہ کرنے والا اور خدائے ذوالجلال پر صریح افتراء کرنے والا یقین کرتا ہے۔ اس کے بارے میں یہ سنے کہ اس کی آمد محمد ﷺ ہی کی آمد ہے۔ اس کی ذات محمد ﷺ ہی کی ذات نہیں بلکہ یہ کہ محمد ﷺ کی پہلی آمد تو گویا پہلی رات کے چاند ایسی تھی، اور اب جو (نعوذ باللہ من ذالک) محمد ﷺ غلام احمد قادیانی کی صورت میں آئے ہیں۔ تو یہ آمد چودھویں کے چاند ایسی کامل و مکمل اور پہلی سے اشد واقوی ہے...... بلاشبہ یہ سب کچھ انتہائی اشتعال انگیز اور ناقابل برداشت ہے۔

لیکن ہم اس وقت اس موضوع پر گفتگو نہیں کر رہے کہ قادیانی لٹریچر میں کیا کچھ ہے اور کیا کچھ نہیں۔ ہم تو صرف اس عنوان پر بحث کر رہے ہیں کہ نواب امیر محمد خاں گورنر مغربی پاکستان نے ایک رسالہ ضبط کر کے نہ تو قادیانیوں پر کسی قسم کی زیادتی کی ہے نہ ہی انہوں نے کسی ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کی ہے اور نہ ہی ان کا یہ اقدام مغربی جمہوریت کے اس اصول کے خلاف ہے کہ ہر کسی کو اظہار عقیدہ و خیال کی آزادی حاصل ہے۔ ہر چند کہ یہ اصول بعض پہلوؤں سے محل نظر ہے۔ لیکن اتنی بات تو سبھی کو تسلیم ہے کہ کسی بھی شخص کو خواہ وہ اقلیت کا فرد ہو یا اکثریت کا رکن۔ یہ حق حاصل نہیں کہ وہ اپنا کوئی ایسا عقیدہ یا دعویٰ شائع کرے جو

١٨

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ١٤٥

کروڑوں انسانوں کے جذبات کو مجروح کرنے والا، ان کی ایمانی غیرت کو کھلا چیلنج اور ان کے جذبات ملی کے لئے الٹی میٹم کی حیثیت رکھتا ہو۔

بنا بریں ہم حکومت مغربی پاکستان کے اس اقدام کی پرزور تائید کرتے ہیں۔ اس پر ہدیہ تبریک پیش کرتے ہیں اور یہ درخواست کرتے ہیں کہ وہ قادیانیوں کے احتجاج اور ان کی دھمکیوں سے متاثر ہو کر اس حکم کی واپسی پر ہرگز ہرگز غور نہ کرے۔ مزید برآں ہم یہ بات بھی عرض کرنا ضروری سمجھتے ہیں کہ پچھلے سال مرزا غلام احمد قادیانی کے کتابچہ سراج الدین عیسائی کے چار سوالوں کا جواب کی ضبطی کا حکم واپس لینے کا اقدام اگرچہ درست نہ تھا۔ تاہم ایک غلطی کا ازالہ کا مسئلہ یکسر دوسری نوعیت کا مسئلہ ہے۔ اگر خدانخواستہ اس پمفلٹ کی ضبطی کا حکم واپس لے لیا گیا تو مسلمانان پاکستان یہ سمجھنے پر مجبور ہوں گے کہ (خاکم بدہن) ہم اس لائق نہیں رہے کہ جس ذات اقدس کے نام کے طفیل ہمیں یہ خطہ زمین حاصل ہوا ہے۔ ہم ان کی عظمت کے تحفظ کا ایک ادنیٰ ترین حق ادا کر سکیں اور ظاہر ہے نو کروڑ مسلمانوں کا یہ تاثر بے حد شدید اور حد درجہ نتیجہ خیز ہو سکتا ہے۔

قادیانیوں سے

بطور حرف آخر ہم قادیانیوں سے یہ کہنا چاہتے ہیں کہ آپ حضرات صرف اسی نقطۂ نظر سے سوچنے پر اکتفاء نہ کیجئے کہ مرزا غلام احمد قادیانی آپ کے نبی ہیں۔ اس لئے ان کا لکھا ہوا ایک ایک حرف مقدس ہے اور اس کی حفاظت میں جان دے دینا شہادت ہے۔

اولاً...... تو آپ کو محسوس ہونا چاہئے کہ آپ ایک ایسے ملک کے باشندے ہیں۔ جس کے اصلی مالکوں (ملت اسلامیہ کے نو کروڑ مسلمانوں) کے عقائد آپ سے یکسر مختلف ہیں۔ وہ بقول مفکر پاکستان علامہ اقبال کے، آپ کے وجود کو اپنی ملی اجتماعیت کے لئے ایک چیلنج خیال کرتے ہیں۔ اس لئے ضروری ہے کہ آپ ان حدود تک محدود رہیں۔ جو بین الاقوامی حیثیت سے متعین ہیں کہ کسی بھی اقلیت کو اکثریت کی اجتماعی حیثیت کے لئے چیلنج نہیں بننا چاہئے اور اس کے اساسی معتقدات کے خلاف توہین آمیز جسارت نہیں کرنا چاہئے۔

ثانیاً...... آپ کے اپنے جذبات بھی یہی ہیں کہ آپ اپنے مقدسین کے خلاف کسی ایسی بات کو گوارا نہیں کرتے جو آپ کے نزدیک ان کی توہین کا باعث ہو۔ چنانچہ آپ نے ماضی قریب میں ایک ایسی کتاب ”تاریخ محمودیت کے چند پوشیدہ اوراق“ کو اسی مغربی پاکستان کی حکومت سے

١٩

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ١٤٦

ضبط کروایا ہے۔ جس میں خود قادیانیوں کے بہت سے افراد نے مؤکد بعذاب حلف اٹھا کر آپ کے خلیفہ کے بارے میں بعض ناقابل ذکر باتیں کہی تھیں۔ اگر آپ اپنے خلیفہ کی شان کے خلاف کسی کتاب کو برداشت نہیں کر سکتے اور اسے ضبط کروائے بغیر آپ چین کی زندگی بسر نہیں کر سکتے تو مسلمانوں کے بارے میں آپ کیوں یہ رائے قائم رکھے ہوئے ہیں کہ وہ اپنی جانوں اور اولادوں سے ارب ہا گنا (بلکہ ان گنت گنا زیادہ) محبوب و محترم ذات بابرکات کے خلاف کسی ناپاک جسارت کو برداشت کر سکتے ہیں۔

ہماری مخلصانہ گذارش قادیانی اصحاب سے یہ ہے کہ وہ پاکستان میں رہتے ہوئے کم از کم اتنا تو کریں کہ مسلمانوں کی غیرت کو چیلنج نہ دیں اور ایسے حالات از خود پیدا نہ کریں کہ ان کے خلاف نفرت انگیزی عام ہو۔ ہم دیانۃً قادیانیوں کی جان و مال کی حفاظت کو ضروری سمجھتے ہیں۔ (اس لئے کہ ہم بحیثیت قوم ان سے اس حفاظت کا عہد کر چکے ہیں) اور کسی بھی ایسی تحریک یا کوشش کو جائز نہیں خیال کرتے جو قانون شکنی پر منتج ہو۔ لیکن اس میں ہماری (بحیثیت اکثریت کے) ذمہ داری کے ساتھ ساتھ قادیانیوں پر بھی کچھ پابندیاں اور ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں اور انہیں ان سے غافل نہیں ہونا چاہئے۔ وماعلینا الا البلاغ!

اسلامیان پاکستان سے

نامناسب نہ ہوگا اگر ہم سید الرسل، رحمت ہر دو عالم، خاتم النبیین، محمد مصطفیٰ ﷺ کی امت کے عام افراد اور اس امت کے علماء کرام سے بھی یہ گذارش کریں کہ اس ضمن میں ان کے بھی کچھ فرائض ہیں اور ان سے عہدہ برآ ہوئے بغیر نہ وہ اس دنیا میں ہمکنار کامیابی ہو سکتے ہیں اور نہ وہ آخرت میں اور محشر کے حضور سرخرو ہو سکیں گے۔

بالخصوص ہم علماء کرام کو ان کے اس منصب کی جانب توجہ دلانا ضروری سمجھتے ہیں کہ جس ذات بابرکات کے طفیل ہم آپ اس دنیا میں اس لائق تصور کئے جاتے ہیں کہ تمام تر کوتاہیوں کے باوجود کوئی ہمارا نام لے اور ہم کسی نہ کسی درجے میں لائق التفات متصور ہوں۔ اس خاتم الرسل فداہ آبائنا و امہاتنا ﷺ نے اپنی رحلت سے کچھ عرصہ قبل ہی یہ فرمایا تھا کہ میرے دین کی تبلیغ و دعوت جو موجود نہیں ہیں۔ ان تک اس دین کو پہنچانا یہ اس امت کا فریضہ ہے۔

دعوت الی اللہ، تبلیغ دین اور اظہار حق کے اس فریضہ کی ادائیگی ہی اہل علم کا مقصد وجود ہے اور اس سے عہدہ برآ ہونے کے لئے ضروری ہے کہ یہ کام خالصۃً اللہ تعالیٰ کی رضا کو نصب

٢٠

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ١٤٧

العین قرار دے کر کیا جائے۔ اس کو اس نہج پر انجام دیا جائے جو نہج اسوۂ رسول ﷺ سے قریب تر ہو اور اس کی انجام دہی میں کسی ملامت کے خوف اور کسی لالچ کے حصول کو دخیل نہ ہونے دیا جائے۔ مزید برآں یہ بھی ضروری ہے کہ دین کے جن مسائل کے لئے ہماری تبلیغی مساعی وقف ہوں۔ ان کی ترتیب میں الاہم، فالاہم کا اصول کارفرما ہو۔ جو چیز دین میں زیادہ اہمیت رکھتی ہے وہ بہت زیادہ مقدم ہو جو دوسرے درجے کی ہے۔ وہ دوسرے مقام پر اہم قرار دی جائے اور جو تیسرے مقام کی ہے اسے اسی مقام پر ملحوظ رکھا جائے۔

بطور مثال، ہر دور، ہر حالت اور ہر زمانہ میں دعوت الی اللہ، دعوت الی التوحید، دعوت الی الرسالۃ، ایمان بالقرآن اور ایمان بالآخرۃ کو اولین حیثیت دینا دین کا قطعی تقاضا ہے۔ اس کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ ارباباً من دون اللہ افراد و اصنام، ماسوی اللہ کی عبادت کے شرک، سرور کونین، خاتم النبیین روحی فداہ ﷺ کے بعد کسی نئے نبی کی جانب دعوت پر مشتمل تحریک، آخرت سے منحرف کرنے والی تعلیمات اور بحیثیت مجموعی دین میں ترمیم و تنسیخ اور الحاد کے سد باب کو دوسرے تمام فتنوں اور دوسری تمام گمراہیوں پر مقدم رکھنا فرض عین ہوگا۔

ان اساسی عقائد کے بعد اساسی اعمال کی اہمیت مسلم ہے اور اس باب میں اقامت صلوٰۃ، ایتاء زکوٰۃ، ادائیگی حج اور رمضان کے روزے اولین توجہ کے مستحق ہونے چاہئیں۔ تاکہ قصر اسلام جن پانچ بنیادوں پر استوار ہے۔ وہ قائم و موجود رہے اور اس کا حلیہ بگاڑنے کی جسارت کوئی نہ کر سکے۔

آج ہم جس صورتحال سے دوچار ہیں۔ اس کا ایک تاریک گوشہ یہ ہے کہ ہم ایسے مسائل میں الجھ کر رہ گئے ہیں جو یا تو اساسی اہمیت نہیں رکھتے اور یا پھر ان مسائل کو بے وجہ اہمیت دی گئی ہے۔ درانحالیکہ ہم اپنے سر کی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں کہ جو تحریک اور جو فلسفہ اسلام کے خلاف نبرد آزما ہوتا ہے۔ وہ سب سے پہلے یا تو ہمارے تصور توحید، تصور رسالت، تصور آخرت، اور ایمان بالقرآن پر حملہ آور ہوتا ہے اور ہمیں خدا کے ساتھ دوسرے معبودان باطلہ اور دنیوی جاہ و منزلت سے والہانہ محبت کی دعوت دیتا ہے۔ تاکہ ہم ”ومن الناس من يتخذ من دون الله اندادًا يحبونهم كحب الله“ اور کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو اللہ کے سوا دوسرے اشخاص یا اشیاء کو معبود بناتے ہیں۔ (جس کی صورت یہ ہے کہ وہ ان) سے ایسی محبت کرنے لگتے ہیں جیسی محبت اللہ تعالیٰ سے کرنی چاہئے کے مصداق نجاست شرک سے آلودہ ہو جائیں یا ہمیں شرک فی الرسالۃ کی جانب دھکیلا جاتا ہے کہ ہم حضور ﷺ کے بعد کسی دوسرے شخص کو لفظاً یا

٢١ www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٢٢

معناً رسول مان لیں۔ لفظاً تو یوں کہ اسے نبی تسلیم کرلیں اور معناً اس طرح ہم اس کی باتوں اور اس کے فیصلوں کو خاتم النبیین علیہ التحیۃ والتسلیم کے ارشادات اور آپ کے فیصلوں پر (خاکم بدہن) ترجیح دینے لگیں۔

اسی طرح عہد حاضر کی بعض گمراہیاں، دین کے اہم ترین ستون نماز (صلوٰۃ) کے خلاف نبرد آزما ہیں اور بعض زکوٰۃ، حج اور روزے کی حیثیت کو نگاہوں سے اوجھل کرنے میں مصروف ہیں۔

ان حالات میں دین کے خدام کا اولین فرض یہ ہے کہ وہ خاتم الرسل ﷺ کے اسوہ مبارکہ کی اطاعت میں ان ایمانیات اور ان ایمانی اعمال کی جانب دعوت کو مقدم رکھیں اور ان کی حفاظت کے لئے ہمہ تن متوجہ رہیں۔ ان ایمانیات کی حفاظت کے سلسلے میں یہ ملحوظ رکھنا ضروری ہوگا کہ منفی نقطہ نظر سے :

کرنا، قادیانیت کی دعوت یہی ہے۔ امتی نبی، بروزی نبی، جمال محمدی کا مظہر ہونے اور مرزا غلام احمد قادیانی کی صورت میں (نعوذ باللہ من ذالک) محمد ﷺ کی بعثت ثانیہ کا ظہور یہ تمام اصطلاحات صراحۃً شرک فی الرسالۃ کی تعریف میں آتی ہیں)

نبوت کو تسلیم کرنا، جیسے بہائیت جس کا اساسی عقیدہ یہ ہے کہ محمد ﷺ فداہ ارواحنا وانفسنا کی نبوت کا عہد ختم ہو چکا اور اب بہاء اللہ ایرانی اور باب کا عہد رسالت شروع ہوتا ہے۔ قرآن مجید منسوخ ہو چکا اور بہائی شریعت کی کتاب اقدس پر ایمان لانا ضروری ہے۔

کے مطابق نظام زندگی استوار کرنے کی دعوت۔

نمائی حاصل کر کے جو شریعت نافذ فرمائی تھی وہ تو اس وقت کے لئے مخصوص تھی اور آج ہر بوالہوس کو یہ حق حاصل ہے کہ قرآن کے نام پر جو کچھ کہے اسے قرآن کی تفسیر اور اسلامی شریعت تسلیم کر لیا جائے۔

www.besturdubooks.wordpress.com

PDF 153

انا خاتم النبیین لا نبی بعدی

میں آخری نبی ہوں، میرے بعد کوئی نبی نہیں

قادیانیوں سے

پہلا خطاب

حضرت مولانا عبدالرحیم اشرفؒ

صفحہ ١٥٠

بسم اللہ الرحمن الرحیم !

راقم الحروف نے قادیانیت کے عنوان پر چند تقریریں پچھلے دنوں چنیوٹ، ملتان اور گوجرانوالہ میں کیں۔ ان کا وہ حصہ جو قادیانیوں سے متعلق ہے۔ آئندہ صفحات میں پیش کیا جارہا ہے اور یہ ایک طویل سلسلے کی پہلی کڑی ہے جس کا مقصد اس فرض کی ادائیگی ہے جو بحیثیت مسلمان ہم پر عائد ہوتا ہے اور وہ یہ کہ قادیانی حضرات نے مرزا غلام احمد قادیانی کو نبی اللہ مسیح موعود اور مہدی مان کر جو غلط فیصلہ کیا ہے۔ ان کی غلطی ان پر کسی جوش اور اشتعال کے بغیر واضح کی جائے اور اس غلطی کو ان دلائل سے ثابت کیا جائے جو کسی صورت رد نہ کئے جاسکیں۔ الاّ کہ کسی شخص کا دل خوف خدا سے یکسر خالی اور اپنی نجات کی اہمیت سے محروم ہو چکا ہو۔

اللہ رب العزت ان کج مج الفاظ کو قبول فرمائیں اور وہ تاثیر ڈالیں جو قلوب کو حق کی جانب متوجہ کرنے کا ذریعہ بنے۔ ’’اللھم ارنا الحق حقا وارزقنا اتباعہ وارنا الباطل باطلاً وارزقنا اجتنابہ ٠ آمین یا الٰہ الحق آمین‘‘

عبدالرحیم اشرف

١٣ / رمضان المبارک ١٣٨٦ھ

طبع ثانی کے وقت

’’اللھم اھدنا فیمن ھدیت‘‘

ان تمام حضرات کے نام، ایک پیغام، جو اپنی نجات کی خاطر مرزا غلام احمد قادیانی سے وابستہ ہیں۔ نجات کا واحد ذریعہ اس سچائی پر ایمان ہے جو اللہ ذوالجلال کی کتاب اور ان کے آخری رسول، سیدالاولین والآخرین محمد مصطفیٰ ﷺ کی جانب سے پورے عالم انسانی کی نجات کے لئے لازمی شرط قرار دیا گیا۔ یہ وسیلہ نجات، اپنے زعم و آرزو کے مطابق نہیں۔ اس معیار پر پورا اترنا ضروری ہے جو کتاب اللہ اور احادیث رسول اللہ ﷺ میں بصراحت بیان کر دیا گیا۔

اس پیغام میں جو آج سے چند برس قبل، آپ حضرات کے نام قول و تحریر دونوں صورتوں میں پیش کیا گیا۔ پھر سے ایک مربوط سلسلہ کی کڑی کی حیثیت سے پیش خدمت ہے۔ اپنی ذات کو عذاب الٰہی سے بچانے اور رحمت الٰہیہ کے حاصل کرنے کے جذبہ سے اس پر غور فرمائیے۔

عبدالرحیم اشرف

٢

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ١٥١

٢٦ / ذیقعدہ ١٣٩٣ھ، بمطابق ٢٢ / دسمبر ١٩٧٣ء

بسم اللہ الرحمن الرحیم!

قادیانیوں سے خطاب

”الحمد للہ وحدہ والصلوٰۃ والسلام علیٰ من لا نبی بعدہ“

قادیانی دوستو! سب سے پہلے تو اس صورت واقعہ سے آگاہ ہو جائیے کہ آپ ہماری ان تقریروں، تحریروں اور گفتگوؤں سے جو ہم اپنے مسلمان بھائیوں سے قادیانیت کے عنوان پر کرتے ہیں۔ اگر آپ کبھی یہ محسوس کرتے ہیں کہ ہم آپ کے مخالف ہیں اور آپ کے بارے میں ہمارے جذبات میں تلخی ہے تو آپ ہمیں اس میں معذور خیال کیجئے۔ جب ہم دیانتداری سے یہ سمجھتے ہیں کہ مرزا غلام احمد قادیانی اپنے دعویٰ نبوت میں سچے نہیں ہیں اور آپ مسلمانوں کو اس کی دعوت دیتے ہیں۔ یا آپ مسلمانوں میں سے بعض افراد کو اپنے اندر جذب کر کے اپنی جماعت کو منظم و مضبوط بناتے چلے جاتے ہیں اور پھر براہ راست اس امر کی کوشش کرتے ہیں کہ ملک کو احمدی سٹیٹ بنائیں۔ تو آپ کو اپنے مقاصد میں مخلص ماننے کے باوجود ہمارے اندر حفاظت ذات، حفاظت ملت اور حفاظت مملکت کا جذبہ ابھرنا نہ صرف یہ کہ ایک فطری جذبہ ہے۔ بلکہ سچ یہ ہے کہ اگر یہ جذبات ہمارے دلوں میں موجزن نہ ہوں تو ہماری اسلامیت ہماری ملی غیرت اور ہمارے جذبہ حب وطن کا دیوالیہ ہو جائے اور ہم بے حمیت و بے غیرت ہو کر رہ جائیں۔ اس لئے یہ جذبات فطری ہیں اور اگر ان کے اظہار میں کچھ شدت محسوس ہو تو آپ اسے گوارا کریں۔ اس لئے کہ ہمارے نزدیک آپ ہمارے قصر ایمانی، ہمارے جسد ملی اور ہمارے محبوب ملک پر حملہ آور کی حیثیت رکھتے ہیں اور ہم جو کچھ کر رہے ہیں مدافعانہ کر رہے ہیں۔

مگر یہ پہلو آپ پر واضح رہے کہ ہماری یہ مدافعت، صرف اس لئے ہے کہ ہم اس امت کے افراد کو قادیانی ہونے سے بچانا اور اس مملکت کو قادیانی مملکت بنانے کے منصوبوں کو ناکام بنانا، اپنا دینی، ملی اور ملکی فرض سمجھتے ہیں اور یہ جو ہم آپ کو ایمان، اپنے افراد اور اپنی مملکت پر حملہ آور خیال کرتے ہیں تو آپ کی اجتماعی حیثیت کے بارے میں ہم ایسا سمجھتے ہیں۔ وگرنہ جہاں تک آپ کے بحیثیت انسان اور بحیثیت ایک فرد ہونے کا تعلق ہے۔ خدائے علیم وخبیر گواہ ہے کہ میرے دل میں اسی شدت کے ساتھ جس شدت کے ساتھ یہ پہلا جذبہ موجود ہے۔ دوسرا

٣

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ١٥٢

جذبہ یہ بھی موجزن ہے کہ آپ میں سے ایک ایک شخص کو اس غلط فہمی سے نکالا جائے۔ جس میں مبتلا ہونے کے باعث میرے نزدیک آپ اپنی دنیا اور آخرت دونوں کو تباہ کر رہے ہیں۔

آپ کی مشکلات

مزید برآں میرے دل میں آپ کے لئے ہمدردی کا جذبہ اس لئے بھی ہے کہ یہ بات میرے علم میں ہے کہ آپ میں سے جو اصحاب اخلاص آج سے تیس چالیس برس قبل قادیان میں اور اب ربوہ (چناب نگر) میں اس مقصد کے لئے ہجرت کر کے آئے کہ وہ اپنے سلسلے کے نبی یا خلیفہ کے جوار میں رہائش اختیار کریں۔ انہوں نے انتہائی خوش اعتقادی کے تحت پہلے قادیان میں اور اب ربوہ میں قطعات اراضی خریدے اور اس کے بعد انہوں نے ہزاروں روپے صرف کر کے وہاں مکانات بنوائے۔ مگر ان کی قانونی پوزیشن قادیان میں بھی یہی تھی اور ربوہ میں بھی یہی ہے کہ وہ اپنے مکانات کی اراضی کے مالک نہیں ہیں۔ اراضی کی مالکہ صدر انجمن احمدیہ ہے۔ اس نے ربوہ کی اراضی چند پیسے فی مرلہ کے حساب سے سابق پنجاب کے ایک انگریز گورنر کے عہد میں خریدی اور سینکڑوں روپے مرلہ کے حساب سے اپنے معتقدین کے ہاتھوں فروخت کیں۔ مگر اس فروختگی کا نرالا دستور یہ تھا کہ صدر انجمن احمدیہ قیمت وصول کرنے کے بعد بھی ان اراضی کی حسب سابق مالک رہی اور قطعات اراضی پر لاکھوں روپے صرف کرنے والے صرف ملبے کے مالک ہیں۔

اسی طرح بعض معاشی الجھنیں بھی ہیں اور ان سے زیادہ معاشرتی الجھنیں آپ حضرات پر حاوی ہیں۔ قادیانی ہونے کے بعد رشتے ناتے قادیانیوں ہی سے ہوئے۔ انہی رشتوں سے اولادیں ہوئیں۔ ترکے اور میراث کے مسائل پیدا ہوئے اور علیٰ ہذا القیاس دوسرے بیشمار مسائل، اور یہ بات کسی بھی ہوش مند سے مخفی نہیں کہ ہر شخص اپنے اندر یہ قوت نہیں رکھتا کہ حق ہی کی خاطر تمام مشکلات و مصائب کو برداشت کرے۔ ایسے ایثار پیشہ اور عملاً آخرت کو دنیا پر ترجیح دینے والے افراد بہت کم ہوتے ہیں۔

حضرات! یہ سب مجبوریاں میرے سامنے ہیں اور انہی کی وجہ سے وہ فطری جذبہ جو میرے دل میں آپ حضرات کی بہی خواہی کا موجود ہے۔ ان مجبوریوں کے باعث اس میں کئی گناہ اضافہ ہو جاتا ہے اور میں علیم و خبیر خدا کو گواہ بنا کر یہ بتانا چاہتا ہوں کہ آپ کو قادیانیت کے

٤

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ١٥٣

دائرے سے نکال کر ازسرنو اسلام کے حلقے میں لانے اور مرزا غلام احمد قادیانی کی امت کے بجائے سید المرسلین خاتم النبیین محمد ﷺ کا امتی بنانے کے لئے سراپا اضطراب ہوں۔

بچھڑے ہوئے دوستو! ہر شخص ہر معاملے میں غلط فیصلہ کرسکتا ہے۔ یہ فیصلہ اخلاص کے ساتھ بھی ہوسکتا ہے اور بددیانتی کے ساتھ بھی۔ ہم مسلمانوں نے فیصلہ کیا کہ مرزا غلام احمد قادیانی اپنے دعوائے مہدویت، مسیحیت، ماموریت اور نبوت میں کاذب ہیں اور میں آپ حضرات کو گواہ بنا کر کہتا ہوں کہ رب ذوالجلال کی قسم، میں مرزا غلام احمد قادیانی کو کاذب یقین کرتا ہوں۔ ان کے تمام دعاوی کو غلط یقین کرتا ہوں اور یہ یقین رکھتا ہوں کہ ان کو نبی ماننا امت محمدیہ سے خارج ہوجانے کے مترادف ہے۔

مرزا غلام احمد قادیانی کے سچے نہ ہونے کے دو اہم دلائل

میرا یہ فیصلہ ان دلائل اور حقائق پر مبنی ہے۔ اس کی تفصیلات کا یہ موقع نہیں البتہ آپ حضرات کے سامنے میں سینکڑوں میں سے صرف دو باتیں پیش کرنا چاہتا ہوں اور آپ حضرات کو متوجہ کرتا ہوں کہ یوم محشر کی جواب دہی اور ابدی نجات کی اہمیت اور ابدی عذاب کے خوف کا تصور کر کے ان باتوں پر غور کریں۔

پانچ اور پچاس کی بات

قادیانی حضرات! سب سے پہلے تو میں ایک انتہائی سادہ لیکن اہم اور واضح بات پیش کرتا ہوں۔ آپ میں سے ہر شخص بغیر کسی فلسفے اور منطق کی مدد سے یہ جانتا ہے کہ کوئی انجان نہیں۔ اگر کوئی نوجوان اپنے بزرگ باپ کو پانسو روپے دے اور اس کا محترم باپ یہ کہے کہ یہ پانسو روپے میں تمہیں واپس لوٹا دوں گا۔ سعادت مند بیٹا روپے کی واپسی کا مطالبہ تو شدت سے نہ کرے۔ لیکن جب کبھی باہمی حساب کتاب کا مرحلہ پیش آئے تو وہ عرض کرے کہ ابا جان! وہ پانچسو روپے بھی تھے۔ والد بزرگوار ہر موقعہ پر بات کا رخ بدل دیں اور بیٹے کو ٹال دیں۔ آخر ایک دن وہ غصے میں آئیں۔ پہلے تو اپنے بیٹے کو سخت سست کہیں۔ اس کے بعد فرمائیں۔ ابے نالائق یہ لو اپنی رقم جس کا مطالبہ تم کئی سال سے کر رہے ہو تم نے مدت سے پریشان کر رکھا ہے اور یہ فرمانے کے بعد وہ مبلغ پانچ روپے اپنے بیٹے کے ہاتھ میں تھما دیں۔

٥

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ١٥٢

بیٹا عرض کرے۔ حضرت ابا جان! یہ کیا؟ میں نے تو آپ کے حسب ارشاد ٥٠٠ روپے دیئے تھے اور آپ صرف پانچ روپے عطا فرما رہے ہیں؟

پدر بزرگوار غصے سے لال پیلے ہوکر فرمائیں۔

نالائق کہیں کا، کیا تجھے اتنا بھی شعور نہیں کہ پانچ اور پانچ صد میں سوائے دو نقطوں کے فرق کیا ہے؟ ہم نے پانچ صد لئے تو پانچ ادا کر دینے سے پانچ سو کا حساب صاف ہوا۔ کیا تم نہیں جانتے کہ نقطے کی تو کوئی حیثیت نہیں ہوتی۔

حضرات! ایمان داری سے بتائیے کہ اس وقت اس سعادت مند بیٹے پر کیا گزرے گی؟ مانا کہ باپ کے بارے میں جذبات یہی ہونے چاہئیں کہ ان سے حساب کتاب کا تقاضا نہ ہی کیا جائے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ اگر حساب ہوا ہے اور لین دین طے پایا ہے تو یہ فلسفہ کہ پانچ روپے ادا کر دینے سے پانصد ادا ہو گئے اور وہ بھی اس بناء پر کہ پانچ اور پانچ صد میں صرف دو نقطوں کا فرق ہے اور نقطے بے حقیقت محض صفر ہوتے ہیں۔ کیا اسے کوئی شخص باور کر سکتا ہے؟

اور اگر معاملہ باپ بیٹے کے مابین نہیں۔ گاہک اور دوکاندار، قرض خواہ اور قرض لینے والے اور بینک کے مابین ہو، اور وہاں کوئی شخص یہ فلسفہ بگھارے کہ میں نے لیا تو پانچ ہزار روپیہ قرض تھا۔ مگر ٥ اور ٥٠٠٠ میں بجز دو تین نقطوں کے فرق کیا ہے؟ تو خدارا غور کیجئے۔ ایسے شخص کی دیانت کے بارے میں کیا فیصلہ کیا جائے گا اور چاہے وہ ہزار بار دوسرے کو قرض ٹھیک ٹھیک ادا کر چکا ہو اور بہت سے معاملات میں شرافت و صداقت کا مظاہرہ بھی کر چکا ہو۔ تنہا یہ ایک واقعہ کہ اس نے پانصد یا پچاس روپے لے کر پانچ روپے ادا کر دینے سے حساب بے باق ہونے کا اعلان کر دیا اور اس پر اصرار کہ وہ جو کچھ کر رہا ہے اور کہہ رہا ہے اسے درست مانا جائے۔ تو کیا کوئی ہوش مند انسان اسے دیانتدار تسلیم کرے گا؟ اور اگر یہ شخص امام مسجد ہو، کہیں درس قرآن دے رہا ہو۔ کہیں وعظ کر رہا ہو تو کون دین دار ہوگا جو خود گناہ گار ہونے کے باوجود اس کے پیچھے نماز ادا کرنا پسند کرے گا اور اس کے وعظ اور اس کی دینی خدمات اور اس کے دینی جذبے سے متاثر ہوگا؟

حضرات! اس سادہ سی حقیقت کو سامنے رکھئے اور پھر سنئے کہ مرزا غلام احمد قادیانی نے جب تبلیغی میدان میں قدم رکھا تو انہوں نے اعلان کیا کہ وہ صداقت اسلام پر ایک کتاب لکھنا اور چھاپنا چاہتے ہیں۔ جس کے پچاس جزو ہوں گے اور ان پچاس اجزاء کے حساب سے انہوں نے

٦

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ١٥٥

لوگوں سے اس کتاب کی قیمت پیشگی وصول کی۔ مرزا غلام احمد قادیانی نے کتاب کا پہلا جزو براہین احمدیہ حصہ اول کی صورت میں شائع کیا۔ ایک طویل مدت تقریباً بیس سال کے عرصے میں انہوں نے تین جزو کتاب کے اور چھاپے۔ جو پیشگی قیمت ادا کرنے والوں کو بھیجے۔ اس دوران لوگوں نے ان سے بارہا مطالبہ کیا کہ وہ حسب وعدہ پچاس جزو اس کتاب کے پورے کریں گے۔ مگر ایسا نہ کر سکے۔ بالآخر انہوں نے آخری ایام میں براہین احمدیہ کا پانچواں جزو شائع کیا۔ جن لوگوں نے ان سے بار بار تقاضا کیا تھا۔ ان سے سخت سست گفتگو کے بعد مرزا غلام احمد قادیانی نے فرمایا: ”پہلے پچاس حصے لکھنے کا ارادہ تھا۔ مگر پچاس سے پانچ پر اکتفا کیا گیا اور چونکہ پچاس اور پانچ کے عدد میں صرف ایک نقطہ کا فرق ہے۔ اس لئے پانچ حصوں سے وہ وعدہ پورا ہو گیا“

(دیباچہ براہین احمدیہ ص ٧، خزائن ج ٢١ ص ٩)

مرزا غلام احمد قادیانی کو نبی اور پیشوا تسلیم کرنے والے دوستو! خدا کے لئے اپنی آخرت کو سامنے رکھ کر نجات اور ابدی عذاب کے مسئلے کی اہمیت کا کما حقہ لحاظ کرتے ہوئے سوچئے کہ مرزا غلام احمد قادیانی کا یہ کہنا کہ پانچ اور پچاس میں صرف ایک نقطے کا ہی فرق ہے۔ دیانت وامانت اور صداقت وحق شناسی کے اعتبار سے کیا حیثیت رکھتا ہے اور اس عملی کردار کے بعد اگر وہ یہ دعویٰ بھی کرتے ہیں کہ انہیں خلق خدا کی اصلاح کے لئے نبی بنا کر بھیجا گیا ہے تو ان کے اس دعویٰ کی حیثیت کیا ہے؟ کیا نبی اس سیرت اور کردار کے ہوا کرتے ہیں اور اگر نبی معاملات میں اس قسم کے انسان ثابت ہوں کہ پانچ صد لے کر پانچ ادا کریں اور بقیہ کو نقطے کہہ کر معاملہ صاف کر دیں۔ تو اس دنیا میں صداقت وامانت کا معیار کیا باقی رہے گا؟

ایک لطیفہ

یہاں ایک لطیفہ بھی سن لیجئے۔ ایک تقریر کے دوران شریک خطاب چند قادیانیوں کے سامنے اسی پانچ اور پچاس والے فلسفے کو بیان کیا تو ایک قادیانی کی چٹ آئی کہ اس حدیث کی وضاحت کیجئے۔ جس میں فرمایا گیا ہے کہ جو شخص پانچ نمازیں ادا کرے گا اسے پچاس نمازوں کا اجر وثواب عطاء کیا جائے گا۔

رقعہ لکھنے والے کا مدعا یہ تھا کہ اگر اللہ تعالیٰ پانچ نمازوں کو پچاس میں شمار کر سکتے ہیں تو مرزا غلام احمد قادیانی کے لئے کیوں جائز نہیں کہ وہ پانچ کو پچاس قرار دے کر حساب چکتا کریں۔

٧

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ١٥٦

رقعہ لکھنے والے قادیانی نے بظاہر تو ذہین اور مناظر ہونے کا ثبوت پیش کیا۔ لیکن کیا حقیقت یہی ہے؟ ان صاحب کا جواب تو یہ ہے کہ اگر کوئی شخص ان سے پچاس روپے لے کر پانچ ان کے ہاتھ میں تھما دے اور پانچ و پچاس میں سے صرف نقطے کا فرق کہہ کر ان کی دوکان سے چلتا بنے اور یہ بھی بڑبڑاتا جائے کہ جب خدا نے پانچ نمازوں پر پچاس کے ثواب کا وعدہ کیا ہے تو کیا وجہ ہے کہ میرے پانچ روپے پچاس شمار نہیں کئے جا سکتے؟ مجھے یقین ہے کہ ان قادیانی کو اس رقعہ کی صحیح تعبیر سمجھ میں آجائے گی۔

لیکن تفنن برطرف پانچ لے کر پچاس ادا کرنا تو دینے والے کی سخاوت اور اس کی عظمت و برتری کا ثبوت ہے۔ مگر پچاس وصول کر کے جو شخص پانچ پر ٹرخا دے کیا اس کے بارے میں بھی یہی رائے قائم کی جائے گی؟ یا یہ کہ وہ دھوکے سے کام لے رہا ہے اور امانت و دیانت سے محروم ہے؟

علاوہ بریں یہ واضح رہے کہ حدیث نبوی کا مدعا یہ ہے کہ ٥ نمازوں کا اجر ٥٠ نمازوں کے اجر کے برابر ہوگا۔ مسئلہ زیر بحث اجر کا ہے۔ ریاضی کا نہیں؟

منصب نبوت کی سطح؟

مرزا غلام احمد قادیانی ..... کو نبی اور مصلح ماننے والے حضرات کی خدمت میں مجھے دوسری بات یہ پیش کرنا ہے کہ وہ عنداللہ مسئولیت کے تصور کو مستحضر کر کے سوچیں کہ مرزا غلام احمد قادیانی نبوت ایسے آخری منصب کو کس پست سطح پر لے آئے؟ یہ بات تو آپ سبھی تسلیم کرتے ہیں کہ متقی اور پرہیزگار انسان عام مسلمانوں سے سیرت و کردار اور اخلاق و معاملات میں بلند ہوتے اور جنہیں اللہ تعالیٰ اپنے قرب، اپنی محبت اور اپنی ولایت سے سرفراز فرماتا ہے وہ سب سے زیادہ سر بلند ہوتے ہیں اور اس معیار سے ان کی زندگیاں، پاکیزگیاں، تزکیہ نفس اور اعلیٰ اخلاق کا بہت اونچا نمونہ ہوتی ہیں۔

حضرات! جب تقویٰ، پرہیزگاری، محبت الہیہ اور ولایت کا یہ مقام ہے کہ جسے ان نعمتوں سے نوازا جائے وہ رذیل اخلاق سے پاک ہوتا ہے اور اعلیٰ اخلاقی قدروں کا قابل اتباع نمونہ ہوتا ہے۔ تو نبوت جو اللہ تعالیٰ کا سب سے بڑا عطیہ ہے۔ وہ جن اشخاص کو اس سے سرفراز فرماتا ہے۔ ان کی بلندی اور تقویٰ کا تصور کون کر سکتا ہے۔ لیکن آئیے دیکھیں مرزا غلام احمد قادیانی کا تصور نبوت کیا ہے اور وہ اس آخری منصب الہیہ کے بارے میں کیا رائے رکھتے ہیں؟

٨

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ١٥٧

یہ میرے ہاتھ میں مرزا غلام احمد قادیانی کی تصنیف دافع البلاء ہے۔ اس کتابچہ پر تنبیہ کے عنوان سے ایک ابتدائیہ ہے۔ اس کے حاشیہ پر مرزا غلام احمد قادیانی لکھتے ہیں: ”حضرت عیسیٰ علیہ السلام اپنے زمانہ کے، بہت لوگوں کی نسبت اچھے تھے۔ یہ ہمارا بیان محض نیک ظنی کے طور پر ہے۔ ورنہ ممکن ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے وقت میں خدا تعالیٰ کی زمین پر بعض راست باز اپنی راست بازی اور تعلق باللہ میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے بھی افضل اور اعلیٰ ہوں...... حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی نسبت جو موسیٰ سے کمتر اور اس کی شریعت کے پیرو تھے اور خود کوئی کامل شریعت نہ لائے تھے...... کیونکر کہہ سکتے ہیں کہ وہ بالاطلاق اپنے وقت کے تمام راست بازوں سے بڑھ کر تھے۔ جن لوگوں نے ان کو خدا بنایا ہے۔ جیسے عیسائی یا وہ جنہوں نے خواہ نخواہ خدائی صفات انہیں دی ہیں۔ جیسا کہ ہمارے مخالف اور خدا کے مخالف نام کے مسلمان وہ اگر ان کو اوپر اٹھاتے اٹھاتے آسمان پر چڑھا دیں یا خدا کی طرح پرندوں کا پیدا کرنے والا قرار دیں تو ان کو اختیار ہے انسان جب حیا اور انصاف کو چھوڑ دے تو جو چاہے کہے اور جو چاہے کرے۔ لیکن مسیح کی راست بازی اپنے زمانہ میں دوسرے راست بازوں سے بڑھ کر ثابت نہیں ہوتی۔ بلکہ یحییٰ نبی کو اس پر ایک فضیلت ہے۔ کیونکہ وہ شراب نہیں پیتا تھا اور کبھی نہیں سنا گیا کہ کسی فاحشہ عورت نے آ کر اپنی کمائی کے مال سے اس کے سر پر عطر ملا تھا یا ہاتھوں اور سر کے بالوں سے اس کے بدن کو چھوا تھا۔ یا کوئی بے تعلق جوان عورت اس کی خدمت کرتی تھی۔ اسی وجہ سے خدا نے قرآن میں یحییٰ کا نام حصور رکھا۔ مگر مسیح کا یہ نام نہ رکھا۔ کیونکہ ایسے قصے اس نام کے رکھنے سے مانع تھے۔“

(دافع البلاء ص ٣، ٤ حاشیہ، خزائن ج ١٨ ص ٢١٩، ٢٢٠)

حضرات! اس عبارت پر کسی قسم کے تبصرے سے پہلے دو باتیں ایسی ہیں۔ جن پر آپ کی توجہ مبذول کرانا از بس ضروری ہے۔ ایک تو یہ کہ مرزا غلام احمد قادیانی جس شخصیت کے بارے میں دافع البلاء میں گفتگو کر رہے ہیں۔ وہ خدا کے سچے نبی سیدنا عیسیٰ علیہ السلام ہیں۔ کوئی اور حقیقی یا فرضی شخصیت زیر بحث نہیں۔

اس وضاحت کی ضرورت اس لئے پیش آئی کہ جب مرزا غلام احمد قادیانی پر یہ اعتراض کیا گیا کہ انہوں نے خدا کے پاک نبی حضرت مسیح ابن مریم علیہ السلام کی توہین کی ہے اور ان پر وہی الزام عائد کئے ہیں جو یہودی ان پر لگاتے تھے تو قادیانی مناظرین نے یہ عجیب عذر

٩

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ١٥٨

تراشا کہ مرزا غلام احمد قادیانی نے جتنے الزامات لگائے ہیں اور جس قدر توہین کی ہے یہ اس یسوع کی ہے جس کے بارے میں عیسائیوں کا یہ دعویٰ ہے کہ وہ ابن اللہ ہونے کا مدعی تھا اور خود عیسائی اپنی کتابوں میں لکھتے ہیں کہ وہ ایک کھاؤ پیو آدمی تھا۔ زانیہ عورتوں سے اس کے تعلقات تھے اور وہ شرابی بھی تھا اور بدکار عورتیں اپنی زنا کی کمائی سے خریدا ہوا عطر اس کے سر پر ملا کرتی تھیں۔

ہر چند کہ یہ عذر، عذر لنگ کی حیثیت رکھتا ہے اور یہ بات کسی معقول انسان کے لئے قابل قبول نہیں کہ عیسائیوں نے ایک فرضی یسوع کے بارے میں یہ باتیں کہی ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ عیسائیوں نے ابن اللہ اسی مسیح ابن مریم کو کہا تھا۔ جو اللہ کے نبی تھے۔ جن کا نام قرآن مجید میں عیسیٰ بھی آیا ہے اور مسیح بھی۔ خود قرآن مجید کی شہادت یہ ہے کہ: ”وقالت النصارىٰ المسیح ابن اللہ (س ٩:٣١)“ {اور نصاریٰ نے کہا کہ مسیح اللہ کے بیٹے ہیں۔} اور عجیب بات یہ ہے کہ مرزا غلام احمد قادیانی بھی تسلیم کرتے ہیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام ہی کو عیسائی ابن اللہ یا اللہ کہتے تھے۔ ابھی جو عبارت دافع البلاء کی آپ نے سنی اس کے الفاظ کی تعبیر کسی تشریح کے بغیر واضح ہے کہ یہاں جو شخصیت زیر بحث ہے وہ کسی فرضی مسیح اور یسوع کی نہیں۔ وہی حقیقی مسیح علیہ السلام زیر بحث ہیں جو خدا کے نبی تھے۔ موسیٰ علیہ السلام کے بعد تشریف لائے اور جنہیں مسلمان خدا کا سچا نبی تسلیم کرتے ہیں۔

مرزا غلام احمد قادیانی کہتے ہیں: ”حضرت عیسیٰ علیہ السلام جو موسیٰ سے کمتر اور اس کی شریعت کے پیرو تھے۔۔۔۔۔۔ جن لوگوں نے ان کو خدا بنایا ہے۔ جیسے عیسائی یا وہ جنہوں نے خواہ نخواہ خدا کی صفات انہیں دی ہیں۔ جیسا کہ ہمارے مخالف اور خدا کے مخالف نام کے مسلمان وہ اگر ان کو اوپر اٹھاتے اٹھاتے آسمان پر چڑھا دیں یا عرش پر بٹھا دیں یا خدا کی طرح پرندوں کا پیدا کرنے والا قرار دیں تو ان کو اختیار ہے۔ انسان جب حیا اور انصاف کو چھوڑ دے تو جو چاہے کہے اور جو چاہے کرے۔“

(دافع البلاء ص ٤ حاشیہ، خزائن ج ١٨ ص ٢١٩)

یہی نہیں مرزا غلام احمد قادیانی نے (توضیح المرام ص ٣، خزائن ج ٣ ص ٥٢) میں صراحت سے کہا کہ سیدنا مسیح علیہ السلام ہی کا نام عیسیٰ اور یسوع ہے اور انہی کے بارے میں احادیث میں وارد ہوا ہے کہ وہ آسمانوں پر اٹھائے گئے ہیں۔ اسی طرح انہوں نے بعض تحریروں میں عیسائیوں کو مخاطب ہوتے ہوئے یہ بھی کہا ہے کہ یسوع کو نبی اللہ مانو۔

ان تصریحات سے قادیانی مبلغین کے اس مغالطے کی اصل حقیقت بے نقاب ہو جاتی

١٠

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ١٥٩

ہے کہ جن مقامات پر مرزا غلام احمد قادیانی نے سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں برے خیالات کا اظہار کیا ہے۔ وہاں مراد عیسیٰ علیہ السلام نہیں۔ ایک فرضی شخص یسوع ہے۔ جس کے بارے میں عیسائیوں کا عقیدہ یہ تھا کہ وہ ابن اللہ ہونے کا دعویدار تھا اور کردار کے اعتبار سے وہ شرابی بھی تھا اور بدکار عورتوں سے میل جول بھی رکھتا تھا۔

لیکن دافع البلاء کی جو عبارت ابھی آپ کی خدمت میں پیش کی گئی اس میں تو کوئی مغالطہ سعی بسیار کے باوجود پیدا نہیں کیا جاسکتا۔ اس عبارت میں چار باتیں ہر اعتبار سے واضح ہیں۔

کے متعلق نہیں بلکہ وہ ان حضرت مسیح ابن مریم علیہ السلام کے متعلق گفتگو کر رہے ہیں۔ جن کا ذکر قرآن مجید میں موجود ہے اور جن کے بارے میں مسلمان عقیدہ رکھتے ہیں کہ وہ زندہ آسمان پر اٹھائے گئے تھے۔

متعلق جو کچھ کہتے ہیں وہ کسی الزامی انداز میں نہیں کہتے بلکہ یہ ان کا اپنا عقیدہ ہے جسے وہ بیان کر رہے ہیں۔

مسیح ابن مریم علیہ السلام کے متعلق مرزا غلام احمد قادیانی نے جو باتیں بیان کی ہیں۔ وہ نہ صرف یہ کہ ان کا اپنا عقیدہ ہے۔ بلکہ ان کے نزدیک یہ باتیں قرآن مجید سے ثابت ہیں۔ چنانچہ وہ لکھتے ہیں: ”اسی وجہ سے خدا نے قرآن میں یحییٰ کا نام حصور رکھا، مگر مسیح کا یہ نام نہ رکھا۔ کیونکہ ایسے قصے اس نام کے رکھنے سے مانع تھے۔“

(دافع البلاء ص ٤ حاشیہ، خزائن ج ١٨ ص ٢٢٠)

السلام اور سیدنا یحییٰ علیہ السلام میں جو فرق پایا جاتا ہے اور جس فرق کو ملحوظ رکھ کر قرآن مجید نے یحییٰ علیہ السلام کو تو حصور کہا۔ مگر حضرت مسیح کو ایسا نہیں کہا وہ یہ ہے۔

١١

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ١٢

و...... حضرت مسیح ابن مریم نے حضرت یحییٰ علیہ السلام کے ہاتھ پر اپنے گناہوں سے توبہ کی تھی اور ان کے خاص مریدوں میں داخل ہوئے تھے۔

قادیانی دوستو! خدارا غور کرو! مرزا غلام احمد قادیانی ایک شخص کو شرابی کہتے ہیں۔ بدکار عورتوں سے ان کا میل جول ثابت کرتے ہیں۔ فاحشہ عورتوں کے بارے میں کہتے ہیں کہ وہ اس شخص کے بدن کو چھوا کرتی تھیں۔ لیکن وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ یہ شخص ایسا ہونے کے باوجود اور خود قرآن کی اس تصدیق کے باوجود کہ وہ ان جرائم کا مرتکب تھا۔ مگر وہ شخص راست باز بھی تھا اور خدا کا نبی بھی۔

کیا اس سے زیادہ نبوت کے مقام کی تذلیل ممکن ہے؟ اور منصب نبوت کا معیار جو مرزا غلام احمد قادیانی نے مقرر کیا۔ اس پر کوئی شریف آدمی غور کرنے کے لئے تیار ہوگا؟ اور اگر خاکم بدہن نبی ہی حرام کمائی کا مال استعمال کرے۔ بدکار عورتوں سے تعلق رکھے۔ عصمت فروش نوجوان عورتوں سے خلا ملا کا مرتکب ہو اور اس کے ساتھ ساتھ وہ شرابی بھی ہو تو خدا کے لئے غور کرو۔ قیامت کے دن کی ہولناکیوں کو سامنے رکھ کر سوچو کہ فاجروں اور بدکاروں کے بارے میں کیا رائے قائم کی جائے گی؟ اور نبوت کے جلیل روحانی منصب کو بے حیائی اور حرام خوری سے کس طرح الگ کیا جائے گا؟

”كبرت كلمة تخرج من افواههم ان يقولون الا كذبا وتعالى الله عن ذالك علواً كبيراً (کہف:٥)“

قادیانی اور لاہوری حضرات

میں ایک بار آپ کو آپ کی اپنی نجات کا واسطہ دے کر اس جانب متوجہ کروں گا کہ آپ نے خاتم النبیین ﷺ کے بعد جس نبوت کو تسلیم کیا ہے اور جس نبوت کی تشہیر و تبلیغ کے لئے آپ قربانیاں دیتے ہیں اور وقت، مال اور بعض حالات میں عزت و شہرت تک کو قربان کر دیتے ہیں۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ آپ کسی ہولناک غلط فہمی کا شکار ہو چکے ہوں۔ آپ سراب کو حقیقت سمجھ رہے ہوں اور جب آپ داور محشر کے حضور کھڑے کئے جائیں تو وہاں یہ حقیقت منکشف ہو کہ آپ نے ایک غلط شخص کو غلط تصورات کے ساتھ خدا کا نبی تسلیم کر لیا تھا اور اس نے نبوت کے منصب و معیار کو اتنا پست کر دیا تھا کہ وہ پانچ اور پچاس کے مابین صرف ایک نقطے کا فرق کہہ کر دیانت کا محیر العقول معیار پیش کیا کرتا تھا اور ایک شخص کو نبی ماننے کے باوجود شراب نوشی، فاحشہ عورتوں سے تعلق رکھنے اور حرام کمائی کے مال سے فائدہ اٹھانے کا مرتکب بھی قرار دیتا تھا۔

www.besturdubooks.wordpress.com

PDF 165

انا خاتم النبیین لا نبی بعدی

ارشاد گرامی نبی آخر الزماں صلی اللہ علیہ وسلم

میرے بعد کوئی نبی نہیں

قادیانی

اور

مسلمان

حضرت مولانا عبدالرحیم اشرفؒ

صفحہ ١٦٦

بسم الله الرحمن الرحيم!

”الحمد لله وحده والصلوٰة والسلام علیٰ من لا نبی بعدہ“

سرور عالم محمد ﷺ سلسلۂ نبوت کی وہ آخری کڑی ہیں جن کے بعد نبوت کا دروازہ قیامت تک کے لئے بند کر دیا گیا۔ اب جو بھی پیدا ہوگا۔ وہ امتی ہی ہوگا۔ نبی کی خلعت آپ کے بعد کسی کو عطاء نہیں کی جائے گی۔

خاتم النبیین ﷺ اس امت کے نبی ہیں اور یہ امت حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام ہی کے لئے مخصوص کی گئی ہے۔ خود رحمت عالم ﷺ نے فرمایا: ”وانا آخر الانبیاء وانتم آخر الامم (ابن ماجہ ص ٣٠٧، باب فتنۃ الدجال) “ {اور میں آخری نبی ہوں اور تم آخری امت ہو۔}

سرور عالم ﷺ نے حجۃ الوداع میں دوران خطبہ ارشاد فرمایا: ”ایھا الناس! انه لا نبی بعدی ولا امة بعدکم (الحدیث، منتخب الکنز علی ھامش مسند احمد ص ٢٩١) “ {لوگو! میرے بعد کوئی نبی نہیں اور تمہارے بعد کوئی امت نہیں۔}

امام بیہقی شعب الایمان میں ایک مرفوع حدیث لائے ہیں۔ رسول خدا ﷺ نے فرمایا: ”انا حظکم من النبیین وانتم حظی من الامم“ {انبیاء میں سے میں تمہارا حصہ ہوں اور تم میرا حصہ ہو امتوں میں سے۔}

حضور ﷺ کی ختم نبوت اس امت کے اتحاد کی اساس و بنیاد ہے۔ اس کی حفاظت ہر اس شخص پر فرض ہے جو اپنے آپ کو حضور ﷺ کا امتی شمار کرتا ہے اور حق یہ ہے کہ عہد رسالت سے آج تک امت نے اس فرض کو کماحقہ ادا کیا ہے اور جب بھی ضرورت محسوس ہوئی حضور ﷺ کی ختم نبوت کی وضاحت میں گرم جوشی کا مظاہرہ کیا گیا ہے۔

ہمارے اس زمانے میں بھارت کے قصبہ قادیان کے مرزا غلام احمد قادیانی اور ایران کی بستی کے باشندے بہاء اللہ نے انواع و اقسام کے دعوے کئے جن میں ان دونوں حضرات کا یہ دعویٰ مشترک تھا کہ وہ خدا کی جانب سے نبی بنا کر بھیجے گئے ہیں اور جب تک ان کے اس دعویٰ پر ایمان نہیں لایا جائے گا۔ سابقہ انبیاء اور حضور خاتم النبیین ﷺ پر ایمان لانا نجات کے لئے کافی نہیں ہوگا۔

٢

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ١٦٣

ان دونوں دعووں کی تائید و تردید میں بہت کچھ لکھا اور کہا جا چکا ہے اور آئندہ بھی یہ سلسلہ جاری رہے گا۔ اسی سلسلے کی ایک کڑی ہفت روزہ المنبر کے مدیر کا ایک مقالہ ہے۔ جو انہوں نے ایک قادیانی ہفت روزے کی ایک اشتعال انگیز تحریر کے جواب میں لکھا تھا۔

یہ مقالہ مختصر بھی ہے اور جامع بھی اور ان چند مقالات میں سے ایک ہے جو اس دور میں المنبر کی دینی خدمات اور اظہار حق کا قابل رشک نمونہ ہیں۔ یہ مقالہ المنبر کی اشاعت مورخہ ١٧؍ ربیع الثانی (٢٨ ستمبر ١٩٦١ء) میں شائع ہوا۔ ایک مخلص نوجوان کی فرمائش پر مدیر المنبر نے اس پر نظر ثانی کی اور اب اسے پمفلٹ کی صورت میں شائع کیا جا رہا ہے۔ یہ پمفلٹ اس تبلیغی پروگرام کا آغاز ہے۔ جو مکتبہ المنبر کا خصوصی ہدف ہے۔ اس کی قیمت تو صرف یہ ہے کہ آپ خود پڑھیں اور دوسروں تک پہنچائیں۔ لیکن اس سلسلے کو جاری رکھنے کے لئے صرف ایک آنہ فی کاپی برائے اشاعت فنڈ وصول کی جاتی ہے۔ جو آئندہ شائع ہونے والے ایسے ہی تبلیغی پمفلٹوں میں صرف ہوگی۔ یہ سلسلہ دعوت نہ کسی کا ذریعہ کفالت ہے اور نہ اس سے کوئی دنیوی مفاد مطلوب ہے۔ آپ اس میں جتنا حصہ بھی لیں گے۔ وہ بتمامہ اس مقصد کے لئے ہوگا۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ اس تحریر کو مسلمانوں اور قادیانیوں دونوں کے لئے نفع بخش بنائے۔ آمین!

ناظم مکتبہ المنبر لائل پور ٧؍ جمادی الاوّل ١٣٨١ھ، بمطابق ١٧ اکتوبر ١٩٦١ء

جب سے سر ظفر اللہ خان کا تقرر ہوا ہے قادیانی اخبارات و جرائد کی جارحیت نے بعینہ وہی صورت اختیار کر لی ہے جو قیام پاکستان کے بعد سر ظفر اللہ خاں کی وزارت خارجہ کے زمانے میں انہوں نے اختیار کی تھی۔

حال ہی میں ایک قادیانی ہفت روزہ اخبار نے ایک اشتعال انگیز ادارتی نوٹ لکھا ہے۔ جسے ہم من وعن درج ذیل کرتے ہیں۔

”سیرت النبیؐ“ اور ”میلاد النبیؐ“ کی آڑ میں بعض علماء سوء آج کل لاہور کی پرامن زندگی میں تشتت وافتراق کا جو زہر پھیلا رہے ہیں۔ ہمارے خیال میں اس کی بھنک ارباب اقتدار کے کانوں میں ضرور پڑ چکی ہوگی۔ مصیبت یہ ہے کہ ہمارے یہاں بعض لوگوں کا پیشہ ہی یہی ہے کہ خدا اور رسولؐ کے مقدس ناموں کی تجارت کریں اور اپنی حرص و آز کو اسلامی لبادوں میں لپیٹ

٣

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ١٦٤

کہ خطابت کی اسٹیجوں پر اسے اس انداز سے پیش کریں کہ دیوبندی، بریلوی، شیعہ وسنی، سنی ووہابی اور احمدی وغیر احمدی کے اعتقادی اختلافات کو ہلاکت آفریں شہ ملتی رہے اور انسان انسانوں سے جدا اور دور ہوتے چلے جائیں ۔ یہ بدبخت اپنے پیٹ کا جہنم بھرنے کے لئے اکثر انہی مقدس ناموں کی آڑ لے کر تنفر وکدورت کے آتشکدے بھڑکاتے ہیں اور پھر جب یہ آگ خوب کھول اٹھتی ہے۔ یہ لاوا کھول کر، رس کر، بہہ کر بلکہ ابل کر امن وانسانیت کی بالیدگیاں بھسم کرنے لگتا ہے اور عافیت پسند گروہ مظلوم انسانیت کی سرپرستی اور بدعنوانوں کی سرکوبی کے لئے آگے بڑھتے ہیں۔ تو یہ گیدڑ سرشت خودراتوں رات ڈاڑھی مونچھ صاف کر کے غنڈوں کے سے کپڑے پہن، کسی اور ماحول کو آگ دکھانے کے لئے بھاگ کھڑے ہوتے ہیں۔

ضرورت ہے کہ امن کش سیاست کے ان بدباطن پرچارکوں کو امن عامہ پر تبر چلانے کی کھلی چھٹی نہ دی جائے اور ان کی زبانوں پر مضبوط تالے لگا دیئے جائیں ۔ پیشتر اس کے کہ یہ اس مامن امن کے سکوں وعافیت میں کوئی خطرناک چنگاری پھینک دیں ۔ انہیں وہی خطرناک سزائیں دی جائیں جو ملک کے غداروں اور اس کی سالمیت کو سبوتاژ کرنے والوں کے لئے مقرر ہیں ۔ کیوں کہ ہمارے نزدیک ہر وہ شخص جو وطن عزیز کے دو باشندوں کے مابین ذہنی تنفر وافتراق کی خلیج پیدا کرتا ہے۔ وہ براہ راست ملک کے اتحاد اور سالمیت کو سبوتاژ کرنے کا مرتکب ہوتا ہے۔“

اس نوٹ کو ایک مرتبہ پھر پڑھئے اور دیکھئے کہ اس قادیانی ہفت روزہ کو لوگوں سے اسے اختلاف ہے۔ وہ انہیں گالیاں دینے میں ان کے خلاف اشتعال انگیزی میں اور حکومت کو ان حضرات کے خلاف اکسانے میں انسانیت وشرافت کی حدود کو کس طرح پامال کر رہا ہے۔ بات ظاہر ہے۔ سیرت النبیؐ کے جلسوں میں دیوبندی وبریلوی، شیعہ وسنی کے اختلافات کا ذکر تو برائے وزن بیت ہے اس کا مطمح نظر تو ہے۔ صرف احمدی وغیر احمدی کا اعتقادی اختلاف اور وہ ان لوگوں کو جو اس عنوان پر کوئی بات کہتے ہیں۔ تشتت وافتراق پیدا کرنے والے، خدا اور رسول کے مقدس ناموں کے تاجر، بدبخت، اپنے پیٹ کا جہنم بھرنے کے لئے خدا اوررسول کے مقدس ناموں کی آڑ لے کر تنفر وکدورت کے آتش کدے بھڑکانے والے، گیدڑ سرشت، راتوں رات ڈاڑھی مونچھ صاف کر کے غنڈوں کے سے کپڑے پہننے والے، امن کش، سیاست کے بدباطن پرچارک، امن عامہ پر تبر چلانے والے کہتا ہے۔ ان الہامی اور مقدس گالیوں کے بعد قادیانی ہفت روزہ مطالبہ

٤

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ١٦٥

کرتا ہے کہ انہیں وہی خطرناک سزائیں دی جائیں جو ملک کے غداروں اور اس کی سالمیت کو سبوتاژ کرنے والوں کے لئے مقرر ہیں۔ اس کا جواب اسی لب ولہجہ میں بھی ہو سکتا ہے۔ جو اس قادیانی ہفت روزے نے اختیار کیا ہے۔ مگر ہم اسے درست نہیں سمجھتے۔ بالخصوص اس لئے بھی کہ ہمارے نزدیک غصے اور اشتعال سے مسائل سلجھتے نہیں مزید بگڑتے ہیں۔ اس لئے ہم استدلال کا راستہ اختیار کرتے ہوئے اس موضوع سے دلچسپی اور تعلق رکھنے والے حضرات سے عرض کرتے ہیں کہ وہ سوچیں کہ اصل مسئلہ کیا ہے اور اس کا حل کیا ہے؟

قادیانی مسلم نزاع کی تاریخ

ہر وہ شخص جسے قادیانی اور مسلم نزاع کی تاریخ اور اس کے اسباب کا علم ہے وہ اس حقیقت سے باخبر ہے کہ مرزا غلام احمد قادیانی نے جب یہ دعویٰ کیا کہ وہ خدا تعالیٰ کی طرف سے الہام اور وحی کی خلعت عطاء کئے گئے ہیں اور کہ جب تک انہیں نبی اور رسول کی حیثیت سے تسلیم نہ کیا جائے ۔ محمد ﷺ اور آپؐ سے پہلے انبیاء پر ایمان نجات کے لئے کافی نہیں ہے تو اہل اسلام میں اضطراب کی لہر پیدا ہوئی۔ ان کے اس دعوے کو غلط کہا گیا اور اسے ختم نبوت کے منافی قرار دیا گیا۔

اس سے مرزا غلام احمد قادیانی پر اشتعال کی حالت طاری ہوئی۔ انہوں نے ایک چومکھی لڑائی لڑی، علماء کو ”فرقہ بدذات مولویان“ (انجام آتھم ص ٢١، خزائن ج ١١ ص ١٢١) کہہ کر خطاب فرمایا۔ اپنی خاص تصانیف میں یہ اعلان فرمایا کہ کل مسلم یقبلنی ویصدقنی الا ذریۃ البغایا (ہر مسلمان میرے دعاوی کی تصدیق کرے گا اور مجھے برحق مانے گا۔ بجز ان کے جو بدکار عورتوں کی اولاد ہیں)

(آئینہ کمالات اسلام ص ٥٤٨، خزائن ج ٥

ص ٥٤٨)

انہوں نے برملا فرمایا: ”دشمن ہمارے بیابانوں کے خنزیر ہو گئے ہیں اور ان کی عورتیں کتیوں سے بڑھ کر ہیں ۔“

(نجم الہدیٰ ص ٥٣، خزائن ج ١٤

ص ٥٣)

مرزا قادیانی نے حالت غیض و غضب میں ان تمام اکابر علماء، شیوخ اور اہل اللہ کو جو ہندوستانی مسلمانوں ہی کے نہیں پوری اسلامی دنیا کے سرخیل اور بزرگ تسلیم کئے جاتے ہیں۔ انہیں ذئاب وکلاب (بھیڑیئے اور کتے) شقی و ملعون، شیطان لعین، شیطان اعمیٰ وغیرہ گالیوں سے

٥

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ١٦٦

نوازا اور جن بزرگوں کا نام لے کر یہ مقدس گالیاں دی گئی ہیں۔ ان میں شیخ الکل مولانا سید نذیر حسین دہلویؒ، مولانا احمد علی سہارنپوریؒ، مولانا عبدالحق حقانیؒ، مفتی عبداللہ ٹونکیؒ، مولانا محمد حسین بٹالویؒ، مولانا رشید احمد گنگوہیؒ، مولانا احمد حسن امروہی (نور اللہ مرقدہم) ایسے اکابر دہر شامل ہیں۔

(انجام آتھم ص٢٥١، ٢٥٢، خزائن ج١١

ص٢٥٢،٢٥١)

مرزا قادیانی اپنے دعاوی کے انکار سے اس قدر برافروختہ تھے کہ انہوں نے ایک مقام پر فرمایا: ”دنیا میں سب جانداروں سے زیادہ پلید اور کراہت کے لائق خنزیر ہے۔ مگر خنزیر سے زیادہ پلید وہ لوگ ہیں جو اپنے نفسانی جوش کے لئے حق اور دیانت کی گواہی کو چھپاتے ہیں۔ اے مردار خور مولویو! اور گندگی خور روحو! تم پر افسوس کہ تم نے میری عداوت کے لئے اسلام کی سچی گواہی کو چھپایا۔ اے اندھیرے کے کیڑو! تم سچائی کی تیز شعاعوں کو کیوں کر چھپا سکتے ہو۔“

(ضمیمہ انجام آتھم ص٢١ حاشیہ، خزائن ج١١ ص٣٠٥ حاشیہ)

مرزا قادیانی کے دعاوی

مرزا قادیانی کے دعاوی کو برحق نہ ماننے پر اس قدر غصے اور گالم گلوچ کا اظہار فرمایا ہے۔ ان کی اہمیت کا صحیح اندازہ تو ان دعوؤں کی تفصیل سے ہی ہو سکتا ہے۔ تاہم بطور مشتے نمونہ از خروارے ان کے چند دعوے حسب ذیل تھے۔

(ایک غلطی کا ازالہ ص٨، خزائن ج١٨

ص٢١٢)

(ایک غلطی کا ازالہ ص١٢، خزائن ج١٨ ص٢١٢)

علیحدہ شخص نبوت کا دعویٰ کرنے والا ہوتا تو خدا تعالیٰ میرا نام محمد اور احمد اور مصطفیٰ اور مجتبیٰ نہ رکھتا۔“

(نزول المسیح ص٣ حاشیہ، خزائن ج١٨ ص٣٨١)

انبیاء گرچہ بودند بسے
من بعرفاں نہ کمترم ز کسے
آنچہ دادست ہر نبی را جام

٦

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ١٦٧
داد آں جام را مرا بہ تمام
کم نیم زاں ہمہ بروئے یقین
ہر کہ گوید دروغ ہست لعین

(نزول المسیح ص ٩٩، خزائن ج ١٨ ص ٤٧٧)

رحمۃ للعالمین“ (اربعین نمبر ٣ ص ٢٣، خزائن ج ١٧ ص ٤١٠)

(اربعین نمبر ٢ ص ٣٦، خزائن ج ١٧ ص ٣٨٥)

خدا تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ میں آدم ہوں۔ میں نوح ہوں، میں ابراہیم ہوں، میں اسحاق ہوں، میں یعقوب ہوں، میں اسماعیل ہوں، میں موسیٰ ہوں، میں داؤد ہوں، میں عیسیٰ ابن مریم ہوں، میں محمد ﷺ ہوں۔ یعنی بروزی طور پر جیسا کہ خدا نے اسی کتاب میں یہ سب نام مجھے دیئے اور میری نسبت جری اللہ فی حلل الانبیاء فرمایا۔ یعنی خدا کا رسول نبیوں کے پیرایوں میں۔ سو ضرور ہے کہ ہر ایک نبی کی شان مجھ میں پائی جائے ۔“ (تتمہ حقیقۃ الوحی ص ٧٤، ٧٥، خزائن ج ٢٢ ص ٥٢١)

زنده شد ہر نبی بہ آمدنم
ہر رسولے نہاں بہ پیرہنم
منم مسیح زماں منم کلیم خدا
منم محمد واحمد کہ مجتبیٰ باشد

(تریاق القلوب ص ٦ ، خزائن ج ١٥ ص ١٣٤)

مرزا قادیانی اپنی اس تصنیف میں جس کے متعلق ان کا ارشاد ہے کہ وہ الہامی تصنیف ہے اور اس کا نام بھی انہوں نے ”خطبہ الہامیہ“ ہی رکھا ہے۔

٧

صفحہ ١٦٨

اس میں فرماتے ہیں: ”واعلم نبیناﷺ کما بعث فی الالف الخامس کذالک بعث فی آخر الالف السادس باتخاذہ بروز المسیح الموعود“ اور جان کہ ہمارے نبی ﷺ جیسا کہ پانچویں ہزار میں مبعوث ہوئے۔ ایسا ہی مسیح موعود کی بروزی صفت اختیار کر کے چھٹے ہزار کے آخر میں مبعوث ہوئے۔

(خطبہ الہامیہ ص ١٨٠، خزائن ج ١٦ ص ٢٧٠)

مرزا غلام احمد قادیانی اس دوسری بعثت کو پہلی مرتبہ کی تشریف آوری سے کہیں زیادہ کامل اکمل بیان کرتے ہوئے اس خطبہ الہامیہ میں فرماتے ہیں۔

”بل الحق ان روحانیہ علیہ السلام کان فی آخر الالف سادس اعنی فی ھذہ الایام اشد واقویٰ واکمل من تلک الایام بل کالبدر التام“ بلکہ حق یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ کی روحانیت چھٹے ہزار کے آخر میں یعنی ان دنوں میں بہ نسبت ان سالوں کے اقویٰ واکمل اور اشد ہے۔ بلکہ چودھویں رات کے چاند کی طرح ہے۔

مرزا غلام احمد قادیانی کے انواع واقسام کے دعاوی کا یہ ایک پہلو ہے۔ مگر غور کیجئے ان تمام لوگوں کے لئے اس میں اشتعال کا کتنا خوفناک مواد ہے۔ جو سید الرسل (ان پر ہمارے ماں باپ اور ہم سب قربان ہوں) ﷺ کی ذات اقدس سے ایمان ویقین ہی کا نہیں، آخری درجہ کی محبت وشیفتگی کا تعلق بھی رکھتے ہیں اور سرور عالم ﷺ کی خلعت ختم نبوت کو کسی بھی انسان کے ہاتھوں بے آبرو ہوتا دیکھنا ان کے لئے ممکن نہیں اور یہ بات ان کے لئے کسی طرح بھی قابل برداشت نہیں ہے کہ کوئی اٹھے اور اپنے آپ کو محمد (ﷺ) کہہ کر دعوت دینا شروع کر دے کہ مجھے تسلیم کرو۔ میں ہی وہ نبی ہوں۔ جو آج سے چودہ سو سال پہلے آنے والے محمد ﷺ ہی کا مظہر ہوں۔ بلکہ بعینہ وہی ہوں۔ نہیں وہ ایک قدم اور آگے بڑھے اور یہ ادّعا بھی کر دے کہ محمد ﷺ کی بعثت مکہ مکرمہ میں ہوئی تھی۔ وہ اس بعثت سے کمزور اور ناقص تھے جو قادیان میں ہوئی۔

مگر مسلمانوں کی بے چارگی کا یہ پہلو کس قدر عبرت انگیز ہے کہ اگر وہ مرزا قادیانی کا یہ دعویٰ تسلیم نہیں کرتے کہ محمد ﷺ (حضور پر ہمارے ماں باپ قربان ہوں) کی جو بعثت مرزا غلام احمد قادیانی کی صورت میں قادیان میں (خاک بدہن) ہوئی وہ حضور ﷺ کی مکہ مکرمہ والی بعثت سے زیادہ اکمل، اشد اور اقوی ہے۔ (خطبہ الہامیہ ص ١٨١، خزائن ج ١٦ ص ٢٧٢) تو

٨

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ١٦٩

مرزا قادیانی انہیں ذریۃ البغایا قرار دیں ان کے مردوں کو سور اور ان کی عورتوں کو کتیاں کہیں اور اگر وہ اس پر احتجاج کریں کہ مرزا قادیانی کے یہ دعاوی بدستور شائع ہورہے ہیں اور ہم پر شرعاً یہ فرض عائد ہوتا ہے کہ ہم اعلان کریں کہ محمد ﷺ کی شان اقدس کے ہم پایہ یا اس سے بلند و بالا ہونے کا دعویٰ جو شخص بھی کرے گا۔ اس کا کوئی بھی تعلق امت مسلمہ سے نہیں ہے تو قادیانی اخبارات انہیں غنڈے قرار دیں اور مطالبہ کریں کہ انہیں وہی سزادی جائے۔ جو ملک وملت کے دشمنوں، غداروں اور مملکت کی سالمیت کو سبوتاژ کرنے والوں کے لئے مقرر ہے۔ یہ حالت کس قدر قابل رحم ہے؟

اگر بالفرض محال ہم ایک لمحے کے لئے اس بے چارگی کے مسئلے پر غور نہ بھی کریں۔ تب بھی یہ حقیقت تو بجائے خود بنیادی اہمیت رکھتی ہے کہ مرزا قادیانی نے جو اونچے دعوے کئے تھے۔ ان کی وجہ سے مرزا قادیانی اور ان کے ماننے والے ایک الگ امت ہیں اور محمد ﷺ کو آخری نبی تسلیم کرنے والے علیحدہ امت! یہ اختلاف دو امتوں کا باہمی اختلاف ہے۔ ایک امت کے فرقوں کا اختلاف نہیں۔

ایک عدالتی رائے

یہ بات صرف ان اہم حوالہ جات کی بناء پر ہم ہی نہیں کہہ رہے۔ پاکستان کی جن عدالتوں میں قادیانی مسلم نزاع نے باقاعدہ مقدمے کی صورت اختیار کی ان کی رائے بھی اس ضمن میں یہی ہے کہ مرزا قادیانی کے دعاوی نے فیصلہ کن صورت اختیار کر لی تھی اور ان دعوؤں کی بناء پر ان کے اور مسلمانوں کے مابین بعینہ ایسی قسم کا اختلاف پیدا ہوگیا تھا۔ جس قسم کا اختلاف یہودیوں اور عیسائیوں اور مسلمانوں میں ہے۔

راولپنڈی کے سیشن جج شیخ محمد اکبر اپنے ایک فیصلے میں لکھتے ہیں:

پیغمبر ہیں۔“

کے صحیح معنوں میں نبی ہیں اور شریعت کے مطابق وہ مجازی نہیں بلکہ حقیقی نبی ہیں۔“

نبوت کے ایسے اعلان کا ایک لازمی نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ جو بھی مدعی کی حیثیت کو ماننے

٩

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ١٧٠

سے انکار کرے کافر ہو جاتا ہے۔ چنانچہ قادیانی تمام ایسے مسلمانوں کو کافر سمجھتے ہیں جو مرزا غلام احمد قادیانی کی حقیقی نبوت پر ایمان نہیں رکھتے۔ اس ضمن میں حسب ذیل مثالیں دی جاتی ہیں۔

کا نام بھی نہ سنا ہو کافر ہے اور اسلام کے دائرے سے خارج ہے۔“

(آئینہ صداقت ص ٣٥)

یا عیسیٰ علیہ السلام پر ایمان رکھتا ہے۔ لیکن پیغمبر اسلام ﷺ پر ایمان نہیں رکھتا یا پیغمبر اسلام ﷺ پر ایمان رکھتا ہے لیکن مرزا غلام احمد قادیانی پر ایمان نہیں رکھتا پکا کافر ہے اور دائرہ اسلام سے خارج ہے۔“

(ریویو آف ریلیجنز ص ١١٠)

(الفضل مورخہ ٢٦،٢٩؍ جون ١٩٢٣ء) میں شائع ہوا۔ ”مرزا قادیانی پر ہمارا ایمان ہے۔ غیر احمدیوں کا ان پر ایمان نہیں ہے۔ قرآن کریم کی تعلیم کے مطابق کسی نبی کو ماننے سے انکار کرنا کفر ہے اور تمام غیر احمدی کافر ہیں۔ انہوں نے حسب ذیل اشعار کہے ہیں۔

منم مسیح زماں منم کلیم خدا
منم محمد احمد کہ مجتبیٰ باشد

(تریاق القلوب ص ٦، خزائن ج ١٥ ص ١٣٤)

میں کبھی موسیٰ کبھی عیسیٰ کبھی یعقوب ہوں۔ نیز ابراہیم ہوں نسلیں ہیں میری بے شمار۔

(براہین احمدیہ حصہ پنجم ص ١٠٣، خزائن ج ٢١ ص ١٣٣)

وہ اپنے لئے اس حیثیت کا دعویٰ کرتے ہیں اور ہر اس شخص کو کافر قرار دیتے ہیں جو اس کی اس حیثیت کو تسلیم نہیں کرتا۔

اس عدالتی فیصلے کی رو سے بھی قادیانی اور مسلمان دو الگ الگ امتیں ہیں اور ہم بلا تعصب کہتے ہیں کہ فی الواقعہ اگر مرزا قادیانی نبی برحق تھے تو ہم سب جو ان کو جھوٹا سمجھتے ہیں۔ کافر ہیں۔ لیکن اگر وہ اپنے دعوؤں میں کاذب تھے تو قرآن کی رو سے وہ ان تمام لوگوں سے بڑے ظالم ہیں۔ جنہیں مذہب کی زبان ظالم یا کافر مشرک کہتی ہے۔ قرآن کی نص قطعی ہے۔

١٠

صفحہ ١٧١

”ومن اظلم ممن افتری علی اللہ کذباً أو قال اوحی الی ولم یوحی الیہ شی (الانعام: ٩٣)“ {اور کون بڑا ظالم ہے اس شخص سے جو اللہ پر جھوٹ باندھتا ہے یا وہ یہ دعویٰ کرتا ہے کہ اس کی جانب وحی کی گئی ہے۔ درانحالیکہ اس کی طرف کوئی وحی نہیں کی گئی۔}

بہر حال یہ بات ہرگز باعث نزاع نہیں ہے کہ مسلمان اور قادیانی دو الگ الگ امتیں ہیں۔

احمدی اور غیر احمدی

اس پر غور کیجئے کہ آپ برملا اپنے آپ کو احمدی اور تمام امت مسلمہ کو غیر احمدی کہتے ہیں ۔ اگر آپ کا مدعا یہ ہے کہ آپ احمد مدنی علیہ الصلوٰۃ والسلام کے امتی ہیں تو یہ حق آپ کو کس نے دیا کہ اس پوری امت کو جو حضور ﷺ کے خاتم النبیین ہونے پر ایمان رکھتی ہے۔ اس کا رشتہ آپ حضور ﷺ سے کاٹ دیں۔ کیا یہ بات اشتعال انگیز نہیں؟ اور اگر آپ احمد سے مراد مرزا غلام احمد لیتے ہیں اور آپ کا تصور یہی ہے کہ مرزا غلام احمد قادیانی عین محمد واحمد تھے تو یہ توہین کس حد تک قابل برداشت ہے؟ لیکن ہمارا موضوع سخن صرف یہ ہے کہ آپ کے اور پوری امت کے مابین جو خلیج ہے وہ مرزا قادیانی کا دعویٰ نبوت ہے ان کو نبی مان کر آپ ایک الگ امت ہیں۔ ہمیں آپ سے نہ دشمنی ہے نہ دوستی ، آپ مختار ہیں جو عقیدہ چاہیں رکھیں جس شخص کو پسند کریں۔ نبی مانیں یا خدا تسلیم کریں۔ ہم نہ آپ کے خلاف اشتعال انگیزی کے مرتکب نہ آپ کے مسلک و مشرب سے ہمیں کوئی تعلق ۔ لیکن جب آپ ایک قدم آگے بڑھتے ہیں۔ آپ مرزا غلام احمد قادیانی کو عین محمد واحمد ، محمد مصطفی اور احمد مجتبیٰ کہتے ہیں۔ جب آپ ان کو رحمۃ للعالمین بتاتے ہیں جب آپ یہ کہتے ہیں کہ ان کو نبی رسول اور محمد واحمد مانے بغیر نجات ممکن نہیں اور آپ اس کی تبلیغ کھلے بندوں کرتے ہیں۔ آپ کے ہاں سے وہ کتابیں بکثرت شائع ہوتی ہیں۔ جن میں آئے دن بدذات مولویوں سے لوگوں کو خطاب کیا جاتا ہے۔ جن میں اعلان ہے کہ ان العدیٰ صاروا خنازیر الفلیٰ ونسائہم من دونہم الاکلب میرے ( مرزا غلام احمد قادیانی ) دشمن جنگلوں کے سور ہیں اور ان کی عورتیں کتیاں۔ (نجم الہدیٰ ص ٥٣، خزائن ج ١٤ ص ٥٣) تو اس کے جواب میں لوگ نہ آپ کو گالی دیتے ہیں۔ نہ آپ کے خلاف اشتعال انگیزی کرتے ہیں۔ بلکہ تذکار رسالت کے ضمن میں وہ ختم نبوت کی توضیح و تشریح کرتے ہیں اور حضور کے بعد ہر مدعی نبوت کے بارے میں یہ کہتے ہیں کہ وہ مفتری و کاذب ہے اور اعلان کرتے ہیں کہ ختم نبوت ہماری ملت کی اساس و بنیاد ہے۔ ہم اس پر کسی حملے کو برداشت نہیں کر سکتے۔ تو آپ غصے سے کانپتے ہوئے انہیں غنڈوں کا لباس پہنے

١١

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ١٢

والے غدار عبرت انگیز اور خوفناک سزاؤں کے مستحق اور نہ معلوم کیا کچھ کہہ گزرتے ہیں۔ سوچئے۔ مارشل لاء کے ضوابط کو کون توڑ رہا ہے؟ اشتعال سے بھرپور کتابیں کون شائع کر رہا ہے؟ سارے جہاں کے مسلمانوں کو غیر احمدی کون کہہ رہا ہے؟ اور کون ہے جو اس بنیاد و اساس کو ڈھا رہا ہے۔ جو ہمارے دین ہماری ملی زندگی اور ہمارے محبوب ملک پاکستان کی اساس و بنیاد ہے؟

حقیقت پسندی کا ایک اہم تقاضا

ہم بلا ابہام عرض کریں گے اور امت مسلمہ کے عام افراد ان کے مبلغین اور مناظرین کو اس حقیقت کی جانب توجہ دلائیں گے کہ قادیانی امت کا وجود ایک امر واقعہ ہے۔ ہم ان کے خلاف کسی بھی زبان درازی، اشتعال اور نفرت انگیزی کے ارتکاب کو نہ ضروری سمجھتے ہیں۔ نہ مناسب اور نہ ہی ہم اس بات کے قائل ہیں کہ اشتعال انگیزی سے اس مسئلے کو حل کیا جاسکتا ہے۔ لیکن ہم بلا تامل گذارش کرتے ہیں کہ مرزا غلام احمد قادیانی کی اس پوزیشن کو گوارا کرنا ہمارے لئے ممکن نہیں کہ وہ برملا اعلان کریں کہ وہ عین محمد واحمد ہیں اور جو شخص انہیں اس حیثیت سے تسلیم نہ کریں۔ وہ بدکار عورتوں کی اولاد ہے اور پھر اس اعلان کی تشہیر و تبلیغ قادیانی حضرات کتابوں، پمفلٹوں اخبارات و جرائد اور تقریروں و تحریروں میں ہر لمحہ کرتے ہیں اور ہمیں اتنی بھی اجازت نہ ہو کہ ہم حضور ﷺ کی ختم نبوت کی وضاحت کرسکیں۔

ہم نے قادیانی ہفت روزے کے اس سوقیانہ شذرے کو اپنے اور دوسرے صحیح العقیدہ مسلمانوں کی جانب روئے سخن اس لئے قرار دے لیا ہے کہ نفس مسئلہ سب کے درمیان مشترک ہے اور اس اخبار نے جس ایک گروہ کو مخصوص نشانہ بنایا تھا۔ ہم اس حملے کو صرف اسی تک محدود نہیں سمجھ رہے۔ اس لئے کہ اصل مسئلہ یہ نہیں بلکہ صورتحال کی صحیح نوعیت یہی ہے کہ سارا بگاڑ مرزا غلام احمد قادیانی کے بلند بانگ دعاوی سے پیدا ہوا اور جب تک ان کے دعاوی کی تبلیغ تشہیر اور اعلان ہو رہا ہے۔ اس کا رد عمل فطری ہے اور جو لوگ اس مسئلے کو حل کرنے کے متمنی ہیں۔ ان کے لئے اس کے سوا چارہ نہیں کہ وہ اس صورتحال کو جیسی کہ وہ ہے سمجھیں۔ اشتعال انگیزی کسی بھی جانب سے نہیں ہونی چاہئے۔ اس سے مسائل بگڑتے اور الجھتے ہیں، سلجھتے نہیں۔ حقائق کو تسلیم کرنا سب سے بڑی معقولیت ہے اور معقولیت سے ہی الجھنیں دور کی جاسکتی ہیں۔ قادیانیوں سے کچھ کہنے کا حق تو ہمیں حاصل نہیں اور اس سے حاصل بھی کچھ نہ ہوگا۔ البتہ مسلمانوں سے ہم یہ ضرور عرض کریں گے کہ وہ اظہار خیال میں سنجیدگی، متانت، اور ثقاہت کو ملحوظ رکھیں اور ہر قسم کی اشتعال انگیزی سے

www.besturdubooks.wordpress.com

PDF 177

انا خاتم النبیین لا نبی بعدی

میں آخری نبی ہوں، میرے بعد کوئی نبی نہیں

آئینہ

مرزائیت

جناب سید برکت علی شاہ گوشہ نشینؒ

صفحہ ١٧٤

برگ سبز

”الحمدللہ رب العلمین والصلوٰۃ والسلام علیٰ سید المرسلین والہ الطیبین ولعنة الله علی اعدائھم اجمعین من یومنا ھذا الی یوم الدین“

اور میں اس قابل ہوا کہ محض خوشنودی خدا کی خاطر آپ کی خدمت میں یہ ناچیز تحفہ پیش کروں اور آپ سے درخواست کروں کہ آپ اس ہدیہ کو قبول فرمائیں اور میرے حق میں دعائے خیر کریں۔

لیکن جس ڈھنگ سے اس نے دشمنی کا حق (مرزا غلام احمد قادیانی نے) ادا کیا ہے اور اس کے فدائی جا بجا کر رہے ہیں۔ اپنی نوعیت میں نرالا اور علیحدہ ہے۔

اور بعض سادہ لوح اور کم علم اشخاص ان کے مکر میں آ کر تذبذب میں پڑ جاتے ہیں اور اگر کوئی عالم دلائل و براہین سے ان کی تسلی نہ کرے تو مرزائیوں کے دام تزویر میں پھنس کر ایمان کو خیر باد کہہ دیتے ہیں۔

کی ریا کارانہ روش آخرت میں اس کے حق میں نہایت خطرناک ثابت ہوگی۔ تاہم اپنی ریا کاری کو قائم رکھنے کے لئے وہ اتنا دور اندیش ضرور تھا کہ اس کی تقریر اور تحریر ذومعنی ہوں اور اپنی منشاء کے مطابق ان کی تاویل کر سکے۔

انبار لوگوں کی نگاہوں سے پوشیدہ رہے تو بیکس اور مجبور انسان کیا کر سکتا ہے اور یہی عین انصاف اور رحم ہے۔ رحم تو کم علم اشخاص کی حالت پر ہے۔ جن کے خارج از ایمان ہو جانے کا قوی اندیشہ ہو اور انصاف اس کاذب مدعی کے بارہ میں ہے۔ جس کی سیاہ کاریوں اور دھوکوں کا زیادہ دیر تک عوام الناس کی نظروں سے پوشیدہ رہنا نظام عالم میں خلل انداز ہو۔

٢

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ١٧٥

کی ہے اور اگر میں ان تصانیف کو ہزلیات کا دفتر کہوں تو بیجا نہ ہوگا۔ بیچارے مرزا نے اپنے لئے عیش وعشرت کا سامان بہم پہنچانے اور جہلاء کو سبز باغ دکھانے میں بہت ہاتھ پاؤں مارے ہیں۔ لیکن قدرت اس کے خلاف کام کر رہی تھی اور اس قسمت کے مارے کو نہ تو حسب منشاء تمول ہی ملا اور نہ ہی ذی فہم لوگوں نے اس کی بزرگی کو تسلیم کیا۔

حاصل کی کہ شاہ وقت کا مقابلہ کیا اور اپنے فاسد خیالات کو تقریروں اور تحریروں سے حتی المقدور پھیلایا۔ مال ومنال کو قارون سے اور جاہ وحشم کو شداد سے بڑھایا۔ چال بازیوں اور ریشہ دوانیوں میں ابلیس کی ناک کاٹ دی۔ یہ سب کچھ ہوا اور ہماری بہتری کے لئے ہوا اور ہمارے مؤمن بھائی امتحان میں پڑ کر کامیاب ہوئے۔ اب ان مدعیوں کا کھوج صرف کتابوں سے ملتا ہے اور ان کے مرید صفحہء عالم سے اس طرح نیست و نابود ہو چکے ہیں۔ جس طرح گدھے کے سر سے سینگ۔

تمام ان کی مقدس ارواح کو کبھی کبھی ذکر خیر کا ثواب نہیں پہنچاتے رہتے۔ دنیا ایک کھیتی کی مانند ہے۔ یہاں جو شخص جیسا بیج بوئے گا۔ ویسا ہی ثمر حاصل کرے گا۔

وقت کالعدم ہو جائے گی اور تاریخیں مرزا کے اسم گرامی کو بھی مسیلمہ کذاب وغیرہ کے ناموں کے ساتھ لکھ دیں گی۔ یہ ایسا معمہ ہے جس کا حل آسان نہیں۔ بہر حال نتیجہ خواہ کچھ ہی ہو۔ کم از کم موجودہ زمانہ کی آب وہوا اس ناپاک تعلیم کے تعفن سے متأثر ہے اور میں نے اس کتاب کے ذریعہ سے اس تعفن اور بد بو کو دور کرنے میں سعی بلیغ کی ہے۔

(گوشہ نشین ١٩٢٦ء)

ق ق ق ق ق

٣

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ١٧٦

بسم اللہ الرحمن الرحیم!

حالات مرزا غلام احمد قادیانی

مرزا غلام احمد بن غلام مرتضیٰ قصبہ قادیان ضلع گورداسپور میں ١٨٤٠ء میں پیدا ہوا۔ اس کی ماں کا نام چراغ بی بی تھا۔ غلام مرتضیٰ کے افلاس کی یہ حالت تھی کہ مرزا غلام احمد قادیانی غریبی سے تنگ آ کر دھرم کوٹ واقع کشمیر میں تلاش معاش کو گیا۔ وہاں جمعدار محمد بخش مکہ زئی کے ہاں اس کے دولڑکوں پیر بخش اور امیر بخش کو پرائیویٹ تعلیم دینے پر نوکر ہوگیا۔ تنخواہ مبلغ پانچ روپیہ معہ خوراک مقرر ہوئی۔ لیکن شومئے قسمت سے یہ روزینہ بھی قائم نہ رہا اور بیچارہ بیک بینی ودوگوش وہاں سے واپس قادیان آیا جہاں اس نے ایک معمولی سی طبابت کی دوکان کھولی۔ اس قدر بے بضاعتی کی وجہ سے مرزا ( قادیانی ) علم سے محروم رہا اور سیالکوٹ کی کچہری میں پیٹ پالنے کے لئے پندرہ روپے ماہوار پر محرر مقرر ہوا۔ موجود معاش کو ناکافی سمجھ کر مختاری کے امتحان میں داخل ہوا۔ لیکن ناکامیاب ہوا۔ چونکہ سرسید احمد نیچری کی تفسیر اور سابقہ کاذب مہدیوں کے حالات اس کے پیش نظر تھے۔ اس کے دماغ میں بھی وہی سمایا جو ان کے دماغ میں سمایا تھا۔

کہا جاتا ہے کہ مرزا قادیانی کے کثرت الہامات کا باعث اس کی دماغی بیماری تھی اور یہی وجہ ہے کہ اس کے الہامات پڑھ کر بے اختیار ہنسی آ جاتی ہے۔ صحیح دماغ شخص ایسی بے تکی باتیں نہیں کہہ سکتا۔ یوں تو کاذب مدعیان نبوت بہت ہو چکے ہیں اور ابھی ہوتے رہیں گے۔ لیکن مرزا قادیانی نے خارجیت اور دہریت کو نرالے ڈھنگ میں زندہ کیا ہے اور یہ بات کہ مرزا قادیانی نے کاذب مہدیوں اور دیگر مذاہب کا مطالعہ کیا۔ وہ خود اپنی تصنیف (براہین احمدیہ کے ص ٩٥، خزائن ج ١ ص ٨٥) پر اس طرح رقم طراز ہے۔

بہر مذہبے غور کردم بسے شنیدم بدل حجت ہر کسے
بخواندم زہر ملتے دفترے بدیدم زہر قوم دانشورے
ہم از کود کے سوئے ایں تاختم دریں شغل خودرا بیندا ختم
جوانی ہمہ اندریں باختم دل از غیر ایں کار پردا ختم

مرزا قادیانی نے جہاں اپنی عظمت کا سکہ بٹھانا چاہا ہے۔ وہاں اس کا نصب العین اہل بیت محمدؐ کے فضائل کو لوگوں کے دلوں سے محو کرنا تھا۔ تاہم مرزا قادیانی نے اس پوشیدہ حالت کو ظاہری اور عملی جامہ پہنا دیا ہے۔

٤

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ١٧٧

مرزا قادیانی کا قد لمبا اور جسم فربہ اور رنگ سفیدی مائل تھا۔ ڈاڑھی لمبی اور گھنی اور بے ترتیب تھی۔ خط و خال بھدے اور آنکھیں کشادہ تھیں اور دائم المریض ہونے کی وجہ سے رنگت شکستہ تھی۔

مرزا قادیانی بائیس تیس سال تک دریائے دنیا طلبی میں ہاتھ پاؤں مار کر ١٩٠٨ء میں اڑسٹھ سال کی عمر میں فوت ہو گیا اور حکیم نورالدین کے استقرار خلافت کو اس کی تجہیز و تکفین پر مقدم رکھا گیا۔

(اخبار در نجف سیالکوٹ مورخہ ١٥؍ مئی ١٩٤٢ء جلد ٤ ش ٢٣ ص ٥، کالم ٣) پر ایک نظم درج ہے۔ جس کے اکثر اشعار یہاں لکھتا ہوں۔

نظم

تحصیل میں جس وقت کہ مرزا تھا محرر دس بیس لیا کرتا تھا تنخواہ بچارا
تنخواہ سے اوقات بسر ہوتی تھی مشکل اس تھوڑی سی پونجی میں نہ ہوتا تھا گزارا
بے چین تھا ہر وقت ترقی کی ہوس میں چلتا نہ تھا کچھ شوئے تقدیر سے چارا
پھر پھر کے ہوا اس طرح مرزا بھی جو مایوس مختاری نے پھر دل کی امنگوں کو ابھارا
مختاری کے پڑھنے کا شب و روز رہا شغل اس شوق میں ہر ایک مصیبت تھی گوارا
لیکن وہی بدقسمتی یاں بن گئی ہمدم نکلا جو نتیجہ تو ہوا فیل بچارا
بیٹھا ہوا اس غم میں جو دلگیر تھا اک دن آ پہنچے وہاں حضرت ابلیس قضاء را
دی آ کے تسلی تشفی کہ نہ غم کر انسان پہ واجب ہے رکھے صبر کا یارا
دنیا کے کمانے کا تجھے ڈھنگ بتاؤں پہنچیں نہ تری گرد کو اسکندر و دارا
پنجاب میں اس وقت نبی کی ہے ضرورت کر دعویٰ نبوت کا بہت جلد خدارا
یہ سن کے محرر کی وہیں کھل گئی باچھیں بس ڈوبنے کو مل گیا تنکے کا سہارا
جھٹ قادیان کے قصبہ کا مرزا نے کیا رخ شیطان کی جانب سے یہ پاتے ہی اشارا
بن بیٹھا وہاں جاتے ہی مامور من اللہ بنوایا پھر اپنے لئے اونچا سا منارا
کہنے لگا عیسیٰ ہوں میں مہدی ہوں نبی ہوں جو میرا ہے منکر وہ ہے کافر بڑا بھارا
القصہ نبی بن کے بہت لوٹا جہاں کو بگڑی ہوئی حالت جو تھی خوب اس کو سنوارا
جمشید و فریدوں کی طرح قصر بنائے ہے قادیان میں دید کے قابل یہ نظارا

٥

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ١٧٨
ایران سے یاقوتی کے آنے لگے پیکٹ کشتیوں کے لئے لکھا بہ قندھار و بخارا
کی اس نے خراب عاقبت اپنی تو ولیکن
صد لعنت وافسوس چنیں ذہن رسارا

جب مرزا قادیانی کی اردو دانی اور عربی دانی پر اعتراضات کی بارش ہونے لگی کہ عبارت بے ربط اور محاورات کا استعمال غلط اور قوائد کے رو سے گنجینہ اغلاط ہے تو مرزا قادیانی نے جھٹ کہہ دیا کہ میں صرف نحو نہیں جانتا ہوں۔ مگر با ایں ہمہ مرزا نے (انجام آتھم ص ١٥٦، خزائن ج ١١ ص ١٥٦) پر لکھا ہے کہ : ”میں علم عربی کا دریا ہوں۔“

دروغ گویم بر روئے تو

(اخبار بدر قادیانی مورخہ ٢٦/ اکتوبر نمبر ٥٠) پر مرزا قادیانی کا خلیفہ نورالدین اپنی جہالت اور کم علمی کا اقرار ان الفاظ سے کرتا ہے کہ : ”مجھے تو اب تک واقعات جمل و صفین و آیہ کریمہ ”اشداء علی الکفار رحماء بینھم“ کی تطبیق عمدہ طور پر معلوم نہیں ہوسکی۔“

(توضیح المرام ص ٢٢، خزائن ج ٣ ص ٦٢) پر ہے کہ : ”خدا تعالیٰ نے محبت سے بھری ہوئی روح اس انسانی روح کو جو بہ ارادہ الٰہی اب محبت سے بھر گئی ہے۔ ایک نیا تولد بخشتی ہے۔ اس وجہ سے اس محبت سے بھری ہوئی روح کو خدا کی روح سے نافخ المحبت ہے۔ استعارہ کے طور پر ابنیت کا علاقہ ہوتا ہے اور چونکہ روح القدس ان دونوں کے ملنے سے انسان کے دل میں پیدا ہوتی ہے۔ اس لئے کہہ سکتے ہیں کہ وہ ان دونوں کے لئے بطور ابن کے ہے اور یہی پاک تثلیث ہے۔“

(توضیح المرام ص ٢١، خزائن ج ٣ ص ٦١ ملخص) پر ہے کہ : ”خداوند عالم نر اور مادہ اور روح القدس ہے۔“

مرزا قادیانی نے (اخبار البدر ج ٢ نمبر ٢٩ ص ٤، مورخہ ١٩/ جولائی ١٩٠٦ء) میں لکھا ہے کہ : ”میرا کام جس کے لئے میں اس میدان میں کھڑا ہوا ہوں۔ یہ ہے کہ میں عیسیٰ پرستی کے ستون کو توڑ دوں اور بجائے تثلیث کے توحید کو پھیلا دوں اور آنحضرت ﷺ کی جلالت وعظمت دنیا پر ظاہر کردوں۔ پس اگر مجھ سے کروڑ نشان بھی ظاہر ہوں اور یہ علت غائی ظہور میں نہ آوے تو میں جھوٹا ہوں۔ پس دنیا مجھ سے کیوں دشمنی کرتی ہے وہ میرے انجام کو کیوں نہیں دیکھتے۔ اگر اسلام کی حمایت میں وہ کام کر دکھایا جو مسیح موعود و مہدی موعود کو کرنا چاہئے تھا تو پھر سچا ہوں۔ ورنہ اگر کچھ نہ ہوا اور مرگیا۔ تو پھر سب لوگ گواہ رہیں کہ میں جھوٹا ہوں۔“

٦

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ١٧٩

درثمین میں مرزا لکھتا ہے ۔

آنچہ من بشنوم زوحی خدا بخدا پاک دانمش زخطا
ہمچو قرآن منزہ اش دانم زخطاہا ہمین است ایمانم

(نزول المسیح ص ٩٩، خزائن ج ١٨ ص ٤٧٧)

ترجمہ: جو کچھ مجھ پر خدا کی طرف سے وحی ہوتی ہے۔ خدا کی قسم خطا سے پاک ہوتی ہے۔ میرا ایمان ہے کہ یہ وحی قرآن کی طرح خطاؤں سے منزہ ہے۔

(حقیقت الوحی ص ٢١١، خزائن ج ٢٢ ص ٢٢٠) پر ہے کہ: ”خدا کی قسم میں اپنے الہامات پر قرآن اور دیگر کتب سماوی کی طرح یقین رکھتا ہوں۔“

(اربعین نمبر ٤ ص ١٩، خزائن ج ١٧ ص ٤٥٤) پر ہے کہ: ”مجھے اپنی وحی پر ایسا ہی ایمان ہے جیسا کہ توریت اور انجیل اور قرآن پر۔“

(الحکم ج ٩ نمبر ٣١، مورخہ ٣١ اگست ١٩٠٥ء ص ٩) پر ہے کہ: ”جب مولوی عبدالکریم پر عمل جراحی کیا گیا تو مرزا قادیانی کے لئے رات کا سونا قریباً حرام ہو گیا۔ مرزا قادیانی ساری رات مولوی مذکور کے لئے دعا مانگتا رہا۔“

(ضمیمہ تریاق القلوب ص ٤، خزائن ج ١٥ ص ٥١٤) پر ہے کہ: ”مجھے بار ہا خدا تعالیٰ مخاطب کر کے فرما چکا ہے کہ جب تو دعا کرے تو میں تیری سنوں گا۔“

(حقیقت الوحی ص ٣٢٦، خزائن ج ٢٢ ص ٣٣٩) پر ہے کہ: ”١١؍اکتوبر ١٩٠٥ء کو ہمارے ایک مخلص دوست یعنی مولوی عبدالکریم صاحب مرض سرطان سے فوت ہوگئے۔“

(ریویو بابت مئی ١٩٠٧ء) پر ہے کہ: ”میرا یہ دعویٰ ہے کہ میرا بڑا معجزہ قبولیت دعا ہے۔“

(تریاق القلوب ص ٢٣، خزائن ج ١٥ ص ١٧١) پر ہے کہ: ”دعا کا قبول ہونا اوّل علامت اولیاء اللہ میں سے ہے۔“

(الحکم مورخہ ٢٤؍ اگست) میں مرزا قادیانی لکھتا ہے کہ: ”مولوی نور الدین کے واسطے دعا کرتے کرتے مجھ پر یہاں تک اثر ہوا کہ مجھے خود بھی دست لگ گئے۔“

(مکتوب عربی معہ ترجمہ فارسی ص ٢٧٥، انجام آتھم ص ٢٧٥، خزائن ج ١١ ص ایضاً) پر مرزا قادیانی لکھتا ہے کہ: ”میرے پاس ایسی دعا ہے جو بجلی کی طرح کوندتی ہے۔“

(اعجاز احمدی ص ١، خزائن ج ١٩ ص ١٠٧) پر ہے کہ: ”اگر میری ان پیشین گوئیوں کے پورا

٧

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ١٨٠

ہونے کے تمام گواہ ایک جگہ اکٹھے کئے جائیں تو میں خیال کرتا ہوں کہ وہ ساٹھ لاکھ سے زیادہ ہوں گے۔“

(ملحقہ تحفہ قیصریہ ص ٦، خزائن ج ١٢ ص ٢٩٠) میں مرزا قادیانی نے ملکہ معظمہ برطانیہ کے حق میں یوں دعا کی (جو نامقبول رہی ) ”اے قادر توانا۔ ہم تیری بے انتہاء قدرت پر نظر کر کے ایک اور دعا کے لئے جرأت کرتے ہیں کہ ہماری محسنہ قیصرہ ہند کو مخلوق پرستی کی تاریکی سے چھڑا کر اس کا خاتمہ لا الہ الا اللہ پر کر۔“

مرزا قادیانی کے خواب و خیال

(کتاب البریہ ص ٨٥، خزائن ج ١٣ ص ١٠٣، آئینہ کمالات اسلام ٥٦٤، خزائن ج ٥ ص ایضاً) پر ہے کہ: ”میں نے کشف میں دیکھا کہ میں خود خدا ہوں اور یقین کیا کہ وہی ہوں ۔“

(پیغام صلح ١٩١٢ء) پر ہے کہ: ”میں نے اپنے رب کو اپنے باپ غلام مرتضیٰ کی صورت پر دیکھا۔“

(اخبار بدر مورخہ ٢٣؍ فروری ١٩٠٥ء) میں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اے غلام احمد اب تیرا مرتبہ یہ ہے کہ جس چیز کا تو ارادہ کرے اور صرف کہہ دے کہ ہو جا وہ چیز اسی وقت ہو جاتی ہے۔“

(انجام آتھم ص ٥٢، خزائن ج ١١ ص ایضاً) پر ہے کہ: ”اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔ اے غلام احمد تیرا نام پورا ہو جائے گا۔ پیشتر اس کے کہ میرا نام پورا ہو۔“

(کتاب البریہ ص ٨٥، ٨٦، خزائن ج ١٣ ص ١٠٤، ١٠٥) پر ہے کہ: ”خدا میرے وجود میں داخل ہو گیا اور میرا غضب اور رحم اور تلخی اور شیرینی اور حرکت اور سکون سب اس کا ہو گیا۔ اس حالت میں میری زبان پر جاری تھا کہ ہم ایک نیا نظام اور نیا آسمان اور نئی زمین چاہتے ہیں۔ سو میں نے پہلے تو آسمان اور زمین کو اجمالی صورت میں پیدا کیا۔ جس میں کوئی ترتیب اور تفریق نہ تھی۔ پھر میں نے منشائے حق کے مطابق ترتیب اور تفریق کی اور میں دیکھتا ہوں کہ میں اس کی خلق پر قادر ہوں۔ پھر میں نے آسمان اور دنیا کو پیدا کیا اور کہا ”انا زینا السماء الدنیا بمصابیح“ پھر میں نے کہا کہ اب ہم انسان کو مٹی کے خلاصہ سے پیدا کریں گے۔ پھر میری حالت کشف سے الہام کی طرف منتقل ہو گئی اور میری زبان پر جاری ہو گیا۔ اردت ان استخلف فخلقت آدم انا خلقنا الانسان فی احسن تقویم“

٨

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ١٨١

(حقیقت الوحی ص ٨٦، خزائن ج ٢٢ ص ٨٩) پر ہے کہ: ”خدا نے مجھے کہا کہ تو مجھے میرے فرزند کی مانند ہے۔“

(ضمیمہ تریاق القلوب ص ٦٣، نشان ٤٨) پر ہے کہ: ”خدا نے میرا نام متوکل رکھا۔ خدا میری حمد کرتا ہے اور مجھ پر رحمت بھیجتا ہے۔“

(رسالہ دافع البلاء ص ٦، خزائن ج ١٨ ص ٢٢٧) میں ہے کہ: ”خدا مجھ سے ہے اور میں خدا سے ہوں۔“

(دافع البلاء ص ٦، خزائن ج ١٨ ص ٢٢٦) پر ہے کہ: ”خداوند عالم نے مرزا قادیانی کو کہا کہ جو لوگ تجھ سے بیعت کرتے ہیں۔ وہ مجھ سے بیعت کرتے ہیں۔ یہ تیرا ہاتھ نہیں بلکہ میرا ہاتھ ہے جو ان کے ہاتھوں پر رکھا جاتا ہے۔“

(براہین احمدیہ ص ٥٥٦، خزائن ج ١ ص ٦٦٣) پر ہے کہ: ”ہمارا خدا عاجی ہے۔“ (ہاتھی دانت یا گوبر کا بنا ہوتا ہے)

(حقیقت الوحی ص ١٦، خزائن ج ٢٢ ص ١٨) پر ہے کہ: ”خدا نے فرمایا کہ جو کچھ مرزا قادیانی کی زبان سے جاری ہو وہ میری زبان سے ہے۔“

(نزول المسیح ص ٢٢٦، ٢٢٧، خزائن ج ١٨ ص ٦٠٤، ٦٠٥) پر پیشین گوئی نمبر ١٠٦ کے ذیل میں لکھا ہے کہ: ”اوّل مجھے کشفی طور پر دکھایا گیا کہ میں نے بہت سے احکام قضا و قدر کے اہل دنیا کی نیکی اور بدی کے متعلق اپنے لئے اور نیز اپنے دوستوں کے لئے لکھے ہیں اور چاہتا ہوں کہ ایسا ہی ہو جاوے۔ پھر تمثل کے طور پر خدائے تعالیٰ بے مثل اور بے مانند کو دیکھا اور وہ کاغذ حضرت جل شانہ کے آگے رکھ دیا۔ تاکہ اس پر دستخط کر دے اور وہ سب باتیں جن کے لئے درخواست کی گئی ہے ہو جائیں۔ خدا تعالیٰ نے اس پر سرخی سے دستخط کر دیئے اور قلم کی نوک پر جو سرخی زیادہ تھی اس کو جھاڑ دیا اور جھاڑنے کے ساتھ اس سرخی کے قطرے میرے اور میاں عبداللہ کے کپڑوں پر پڑے...... ان میں سے بعض کپڑے ابھی تک میاں عبداللہ سنوری کے پاس موجود ہیں۔“

(الوصیۃ ص ٦، خزائن ج ٢٠ ص ٣٠٦) میں مرزا قادیانی لکھتا ہے کہ: ”میں خدا کی طرف سے ایک قدرت کے رنگ میں ظاہر ہوا ہوں اور میں خدا کی ایک مجسم قدرت ہوں۔“

(انجام آتھم ص ٥٩، خزائن ج ١١ ص ٥١، ٥٢) پر ہے کہ: ”خدا نے فرمایا اے مرزا قادیانی میں نے تجھے اپنے نفس کے لئے پسند کیا۔ زمین اور آسمان تیرے ساتھ ہیں۔ جیسے میرے ساتھ تو میرے پاس بمنزلہ توحید اور تفرید کے ہے۔ (یعنی تو بھی وحدہ لاشریک ہے)“

٩

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ١٨٢

(کتاب ضمیمہ انجام آتھم ص ١٧، خزائن ج ١١ ص ٣٠١) پر ہے کہ: ”خدا نے فرمایا کہ اے مرزا خدا تیرے ساتھ ہے اور خدا وہیں کھڑا ہوتا ہے۔ جہاں تو کھڑا ہوتا ہے۔“

(انجام آتھم ص ٥٥، خزائن ج ١١ ص ایضاً) پر ہے کہ: ”خدا مرزا قادیانی کی حمد کرتا ہے اور اس کی طرف چلا آتا ہے۔“

(کتاب البریہ ص ٧٩، خزائن ج ١٣ ص ١٩٣، نزول المسیح ص ١١٦، خزائن ج ١٨ ص ٤٩٤) پر ہے کہ: ”خدا نے مرزا قادیانی کے باپ غلام مرتضیٰ کی موت پر مرزا قادیانی سے ماتم پرسی کی۔“

(اربعین نمبر ٣ ص ٢٤، خزائن ج ١٧ ص ٤١١) پر ہے کہ: ”خداوند عالم عرش پر میری حمد کرتا ہے۔“

(حقیقت الوحی ص ٩٩، خزائن ج ٢٢ ص ١٠٢) پر ہے کہ: ”خدا نے مجھ کو کہا کہ اگر تو نہ ہوتا تو میں آسمان کو پیدا ہی نہ کرتا۔“

(کتاب البریہ ص ٨٥، ٨٦، خزائن ج ١٣ ص ١٠٣، ١٠٤، آئینہ کمالات اسلام ص ٥٦٤، خزائن ج ٥ ص ایضاً) پر ہے کہ: ”میں نے کشف میں دیکھا کہ میں خود خدا ہوں اور یقین کیا کہ وہی ہوں (جب یقین ہو گیا تو کشف جاتا رہا۔ اس لئے مرزا قادیانی واقعی الوہیت کا مدعی ہوا۔ پس یہ حکم شرع میں واجب القتل تھا) اور میرا اپنا ارادہ اور کوئی خیال اور کوئی عمل نہیں رہا اور میں ایک سوراخ دار برتن کی طرح ہو گیا ہوں۔ یا اس شئے کی طرح جسے دوسری شئے نے اپنی بغل میں دبا لیا ہو اور اسے اپنے اندر بالکل مخفی کر لیا ہو۔ یہاں تک کہ اس کا کوئی نام ونشان باقی نہ رہ گیا ہو کہ مجھ پر مستولی ہو کر اپنے وجود میں مجھے پنہاں کر لیا ہے۔ یہاں تک کہ میرا کوئی ذرہ باقی نہیں رہا اور میں نے اپنے جسم کو کہا تو میرے اعضاء اس کے اعضاء اور میری آنکھ اس کی آنکھ اور میرے کان اس کے کان اور میری زبان اس کی زبان بن گئی ہے۔ میرے رب نے مجھے پکڑا اور ایسا پکڑا کہ میں بالکل اس میں محو ہو گیا اور میں نے دیکھا کہ اس کی قدرت اور قوت مجھ میں جوش مارتی اور اس کی الوہیت مجھ میں موجزن ہے۔“ (یعنی میں خدا ہوں، قادر اور عزیز ہوں اور اللہ ہوں)

(کتاب البشریٰ ج ١ ص ٤٩) پر ہے کہ: ”خدا نے مرزا قادیانی کو اس طرح کہا: ”اسمع ولدی“ یعنی اے میرے بیٹے سن۔“

(توضیح المرام ص ٥٠، خزائن ج ٣ ص ٧٦) پر ہے کہ: ”جب کوئی شخص زمانہ میں اعتدال روحانی حاصل کر لیتا ہے تو خدا کی روح اس کے اندر آباد ہوتی ہے۔“

١٠

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ١٨٣

نیز اسی کتاب کے ص ٢٥ پر ہے کہ : ”روحانی طور پر انسان کے لئے اس سے بڑھ کر کوئی کمال نہیں کہ وہ اس قدر صفائی حاصل کرے کہ خدا تعالیٰ کی تصویر اس میں کھنچ جائے ۔“

ناظرین ! اسی کا نام حلول ہے۔ اس رنگ آمیز عبارت سے مرزا قادیانی کا مقصود یہ ہے کہ میں اب مثیل خدا ہوں۔

(توضیح المرام ص ٧٥، خزائن ج ٣ ص ٩٠) پر ہے کہ: ”اس وجود اعظم یعنی خدا کے بے شمار ہاتھ اور بے شمار پیر ...... عرض اور طول بھی رکھتا ہے اور تندوا کی طرح اس وجود اعظم کی تاریں بھی ہیں۔“

(تتمہ حقیقت الوحی ص ١٤٣، خزائن ج ٢٢ ص ٥٨١) پر ہے کہ: ”بابو الٰہی بخش چاہتا ہے کہ تیرا حیض دیکھے یا کسی پلیدی اور ناپاکی پر اطلاع پائے۔ لیکن خدا تعالیٰ تجھے اپنے انعامات دکھلائے گا جو متواتر ہوں گے اور تجھ میں حیض نہیں بلکہ وہ بچہ ہو گیا ہے۔ بمنزلہ اطفال اللہ کی۔“ (پس ظاہر ہوا کہ مرزا قادیانی خدا کی زوجہ ہے)

(کشتی نوح ص ٤٧، خزائن ج ١٩ ص ٥٠) پر ہے کہ: ”مریم کی طرح عیسیٰ علیہ السلام کی روح مجھ میں نفخ کی گئی اور استعارہ کے رنگ میں مجھے حاملہ ٹھہرایا گیا اور کئی ماہ بعد جو دس ماہ سے زیادہ نہیں۔ بذریعہ الہام مجھے مریم سے عیسیٰ بنایا ۔“

(اربعین نمبر ٣ ص ٣٤، خزائن ج ١٧ ص ٤٢٣، انجام آتھم ص ٥٥، خزائن ج ١١ ص ایضاً) پر ہے کہ : ”خدا نے مجھ کو فرمایا کہ تو ہمارے پانی سے ہے اور لوگ خشکی سے ہیں۔“

(اربعین نمبر ٣ ص ٣٤، خزائن ج ١٧ ص ٤٢٣) پر ہے کہ : ”خدا نے فرمایا کہ اے غلام احمد تو میرا سب سے بڑا نام ہے۔“

(حقیقت الوحی ص ٦٧، خزائن ج ٢٢ ص ٧٠) پر ہے کہ: ”مجھے بعض خصائص شکم مادر ہی میں عطاء ہوئے ۔“

مرزا اپنے (خطبہ الہامیہ) میں لکھتا ہے کہ : ”میں نور ہوں۔ مجدد مامور ہوں۔ عبدالمنصور ہوں۔ مہدی اور مسیح موعود ہوں۔ ...... مجھے کسی کے ساتھ قیاس مت کرو اور نہ کسی دوسرے کو میرے ساتھ ...... میں مغز ہوں۔ جس کے ساتھ چھلکا نہیں۔ روح ہوں جس کے ساتھ جسم نہیں۔ سورج ہوں جس کو دشمنی اور کینہ کا دھواں نہیں چھپا سکتا۔ کوئی ایسا شخص تلاش کرو۔ جو میری مانند ہو۔ ہرگز نہ پاؤ گے۔“

(خطبہ الہامیہ ص ١٨ تا ٢٠، خزائن ج ١٦

١١

صفحہ ١٨٤

(ص٥١،٥٢) ”میرے بعد کوئی ولی نہیں مگر وہ جو مجھ سے ہو اور میرے عہد پر ہو میں اپنے خدا کی طرف سے تمام قوت اور برکت اور عزت کے ساتھ بھیجا گیا ہوں۔ میرا قدم ایک مینارہ پر ہے۔ جس پر ہر ایک بلندی ختم کی گئی ہے۔ پس خدا سے ڈرو اور مجھے پہچانو۔ میری نافرمانی مت کرو۔“

(خطبہ الہامیہ ص ٣٥، خزائن ج ١٦ ص ٧٠)

”میرے سوائے دوسرے مسیح کے لئے میرے زمانے کے بعد قدم رکھنے کی جگہ نہیں۔“

(خطبہ الہامیہ ص ١٥٨، خزائن ج ١٦ ص ٢٣٣)

(حقیقت الوحی ص ٣٩١، خزائن ج ٢٢ ص ٤٠٦) پر ہے کہ: ”مجھ پر وحی آنے کی وجہ سے میں تمام سابقہ اولیاء وابدال واقطاب سے برگزیدہ ہوں۔“

(اعجاز احمدی ص ٦٩، خزائن ج ١٩ ص ١٨١) پر ہے کہ: ”مجھے ہر وقت خدا کی تائید اور مدد ملتی رہتی ہے۔“

(ازالہ ص ٦٣٢، خزائن ج ٣ ص ٤٧٢) پر ہے کہ: ”میں تجھے زمین کے کناروں تک عزت کے ساتھ شہرت دوں گا اور دلوں میں تیری محبت ڈالوں گا۔“

(ازالہ اوہام ص ١٣٨، خزائن ج ٣ ص ١٧٠) پر ہے کہ: ”میرا ایمان ہے کہ آنحضرت ﷺ کے سچے اصحاب کے کمالات مجھے کبھی حاصل نہیں ہو سکتے ۔“

(تریاق القلوب ص ١٥٦، خزائن ج ١٥ ص ٤٧٧) پر ہے کہ: ”یہ زمانہ جو آخر الزمان ہے۔ اس زمانہ میں خدا تعالیٰ نے ایک شخص کو حضرت آدم علیہ السلام کے قدم پر پیدا کیا۔ جو یہی راقم ہے۔“

پھر (تریاق القلوب ص ١٥٦، خزائن ج ١٥ ص ٤٧٩) میں لکھتا ہے کہ: ”میں توام پیدا ہوا تھا اور میرے ساتھ ایک لڑکی تھی۔ جس کا نام جنت تھا۔“

پھر (تریاق القلوب ص ١٥٧، خزائن ج ١٥ ص ٤٧٩) میں لکھتا ہے کہ: ”حضرت آدم کی پیدائش زوج کے طور پر تھی۔ یعنی ایک مرد اور ایک عورت اسی طرح پر میری پیدائش ہوئی۔ پہلے لڑکی پیٹ سے نکلی پھر میں نکلا۔ میرے بعد میرے والدین کے گھر میں اور کوئی لڑکا یا لڑکی نہیں ہوئی۔ میں ان کے لئے خاتم الاولاد تھا۔“

١٢

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ١٨٥

پھر (تریاق القلوب ص١٥٧،خزائن ج١٥ ص٤٨١) میں لکھتا ہے کہ: ”خدا نے آخری آدم مجھ کو پیدا کیا اور پہلے آدموں پر ایک وجہ سے اس کو فضیلت دی۔“

مرزا قادیانی نے اپنے اشتہار (مینارۃ المسیح ،مجموعہ اشتہارات ج٣ ص٢٨٩ حاشیہ) میں لکھا ہے کہ: ”قرآن پارہ پندرہ آیہ ”سبحان الذی اسریٰ بعبدہ لیلاً“ کے اصلی اور معنوی طور پر مصداق وہ مسجد ہے جو قادیان میں ہے۔“

(ازالہ اوہام حصہ اوّل ص٧٧ حاشیہ،خزائن ج٣ ص١٤٠) پر ہے کہ: ”قرآن شریف میں تین شہروں یعنی مکہ و مدینہ و قادیان کے نام اعزاز کے ساتھ درج ہیں اور یہ کشف تھا۔“

(ازالہ اوہام ص٧٣،خزائن ج٣ ص١٣٨) پر ہے کہ: ”قرآن شریف میں ”انا انزلناہ قریباً من القادیان“ ہے۔“

مرزا قادیانی کا گدی نشین محمود ذیل کے الفاظ میں شیخی بگھارتا ہے ۔

مظہر حق دیدہ ام گویا فرود آمد خدا
در شمار مکہ چوں ناید شمار قادیاں

مرزا قادیانی نے سیالکوٹ میں مجمع اسلام کے سامنے ٢ نومبر ١٩٠٤ء میں تقریر کی۔

(لیکچر سیالکوٹ ص٣٣،خزائن ج٢٠ ص٢٢٨)

اور کہا کہ میں مسئلہ اوتار تناسخ کو مانتا ہوں اور میں خود کرشن کا اوتار ہوں۔ تقریر کے اصلی الفاظ یہ تھے۔ ”ایسا ہی میں راجہ کرشن کے رنگ میں بھی ہوں۔ جو ہندو مذہب کے تمام اوتاروں میں بڑا اوتار تھا۔ یا یوں کہنا چاہئے کہ روحانی حقیقت کے رو سے میں وہی ہوں۔ (کرشن کے روح نے میرے جسم میں حلول بذریعہ تناسخ کیا ہے۔ مگر ناظرین کرشن کے باپ کا نام باسدیو اور ماں کا نام دیوکی تھا) یہ میرے قیاس سے نہیں بلکہ وہ خدا جو زمین و آسمان کا خدا ہے۔ اس نے یہ بات مجھ پر ظاہر کی ہے اور ایک دفعہ ظاہر نہیں کی بلکہ کئی دفعہ ظاہر کی ہے۔ خدا کا وعدہ تھا کہ آخر زمانہ میں کرشن کا بروز پیدا کرے۔ پس یہ وعدہ میرے ظہور سے پورا کیا اور میرے بارہ میں فرمایا کہ تیری مہما (تعریف) گیتا میں کی گئی ہے۔ (الہام یہ تھا۔ ہے رودر گوپال تیری مہما گیتا میں لکھی گئی)

خواجہ کمال الدین بی اے وکیل مرزائی نے اپنی کتاب (کرشن اوتار ص٣٠، ٣٦) پر لکھا ہے کہ: ”یہ بات سچ ہے کہ جس قادر مطلق نے کرشن کو ایک وقت ظاہر کیا وہ طاقت رکھتا ہے کہ اگر

١٣

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ١٨٦

ضرورت پڑے تو کرشن جیسے لاکھوں انسان دنیا میں اپنا مظہر کر کے پیدا کرے۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا۔ پہلے تو حضرت رسول اللہ ﷺ کے ذریعہ کرشن نے عرب میں اوتار لیا۔ (نعوذ باللہ، ثم نعوذ باللہ ) اور پھر آج کل مرزا غلام احمد قادیانی مسیح موعود علیہ السلام اوتار ہو کر آئے۔“

کرشن خود بھگوت گیتا اشلوک ١٣ ادہائے ٢ میں کہتا ہے کہ ہم سب گذشتہ جنموں میں بھی پیدا ہوں گے۔ جس طرح انسانی زندگی میں لڑکپن، جوانی اور بڑھاپا ہوا کرتا ہے۔ اسی طرح انسان بھی مختلف قالب قبول کرتا ہے اور پھر اس قالب کو چھوڑ دیتا ہے (اور مکتی حاصل کر لیتا ہے ) پھر اشلوک ٢٢ ادھائے میں کہتا ہے کہ جس طرح انسان پوشاک بدلتا ہے۔ اس طرح آتما (روح) بھی ایک قالب سے دوسرے قالب کو قبول کر لیتی ہے۔ نیز اشلوک ٥ ادھائے ٤ میں کہتا ہے کہ ہمارے تمہارے آتما نامعلوم یعنی بے شمار قالب بدل چکے ہیں۔ سب سے زیادہ مفید مطلب کرشن کا وہ مقولہ ہے۔ جس کو ملک الشعرا فیضی نے مترجم گیتا ص ١٢٦ پر نظم کیا ہے۔

بقید تناسخ کنند اورش
بانواع قالب دروں آردش
بہ تن ہائے معہود در میروند
بجسم سگ وخوک در میروند

ترجمہ: خداوند عالم (سزا کے طور پر) روحوں کو مختلف اجسام میں بدلتا اور چکر دیتا رہتا ہے اور یہ سلسلہ تناسخ اجسام کی معین تعداد تک جاری رہتا ہے۔ یہاں تک کہ کتے اور سور کا جسم بھی اختیار کرتے ہیں۔

لالہ لاجپت رائے بی۔ اے وکیل لاہور نے (سوانح عمری کرشن فصل ٤٣ ص ٢٢٧) پر لکھا ہے کہ: ”خدا کو ماننے والے خدا کو حاضر و ناظر قادر مطلق، پیدائش سے بری نا قابل فناء۔ ہمیشہ قائم رہنے والا۔ لا انتہاء وغیرہ صفات سے موصوف مانتے ہیں۔ پس دریں صورت یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ ایسا خدا لوگوں کی ہدایت کے لئے جسم اختیار کرنے پر مجبور ہو۔ انسانی جسم اختیار کرنے سے وہ محدود ہو گیا اور حاضر و ناظر نہ رہا۔“

ناظرین ! یہ اسلامی توحید کی فتح ہے کہ ایک ہندو اور پھر متعصب ہندو اپنے آبائی عقیدہ کو خیر باد کہہ کر عقیدۂ توحید کی ایک جز میں اسلام کا ہم نوا ہوتا ہے۔ مگر مرزا اسلام کو چھوڑ کر اس غرض سے تناسخ کی حمایت میں کھڑا ہوتا ہے کہ شاید اس متمول قوم میں سے کسی مقتدر شخص کو دام تزویر میں

١٤

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ١٨٧

لاسکے اور کچھ مدت اس کی کاسہ لیسی کر سکے۔ اسلام کی دیگر اغراض میں سے تین عظیم اغراض یہ تھیں کہ خدا کے سوائے کسی اور خدا کو نہ مانا جائے۔ خدا کو بیٹوں اور بیٹیوں سے پاک مانا جائے۔ تناسخ کو چھوڑ کر قیامت پر یقین رکھا جائے۔ پہلی غرض تو مرزا قادیانی نے خود خدا بن کر تباہ کر دی۔ دوسری غرض خدا کا بیٹا بن کر برباد کر دی اور تیسری غرض پر کرشن کا اوتار بن کر پانی پھیر دیا۔ نیز ازالہ اوہام میں مرزا قادیانی کہتا ہے کہ روح عیسیٰ در مہدی بروز کند یعنی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی روح مہدی کے جسم میں بذریعہ تناسخ داخل ہو گئی ہے اور یہ بھی لکھتا ہے کہ لا مھدی الا عیسیٰ!

شیخ محی الدین ابن عربی نے فتوحات باب ٣٧٢ میں لکھا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام اصالتاً (خود اپنے جسم و روح کے ساتھ نہ بروزی طور پر اور نہ مہدی کے جسم و روح میں داخل ہو کر) آسمان سے اتریں گے۔

(توضیح المرام ص ٣٦ تا ٤٠، خزائن ج ٣ ص ٦٩، ٧٠) پر ہے کہ فرشتے کوئی نہیں ہیں اور جو کچھ اس عالم میں ہو رہا ہے وہ سیاروں کی تاثیر سے ہو رہا ہے۔

(ازالہ اوہام ص ٢، خزائن ج ٣ ص ١٠٢) ٹائٹل پر ہے کہ قیامت نہیں ہوگی اور تقدیر کوئی چیز نہیں ہے۔

(ازالہ اوہام ص ٤١٥، خزائن ج ٣ ص ٣١٦) پر ہے کہ قبر کا عذاب کوئی چیز نہیں۔ کسی قبر میں سانپ اور بچھو دکھاؤ۔

(ازالہ اوہام ص ٥١٣، خزائن ج ٣ ص ٣٧٥) پر ہے کہ دخان کوئی چیز نہیں۔ اس سے مراد قحط عظیم ہے۔

(ازالہ اوہام ص ٥١٥، خزائن ج ٣ ص ٣٧٦) پر ہے کہ آفتاب مغرب سے نہیں نکلے گا۔

پیغام صلح مورخہ ١١ جولائی میں مولوی محمد اعظم لاہوری مرزائی نے ایک تحریر شائع کی ہے۔ جس کے متعلق وہ لکھتا ہے کہ مرزا محمود خلیفہ دوئم کا یہ عقیدہ ہے کہ ایسی چیز پر جو غائب کے مرتبہ میں پوشیدہ ہو۔ یقین رکھنا لازمی نہیں۔ (قیامت اور عذاب قبر دوئم یہ کہ یوم قیامت کے متعلق بغیر مشاہدہ اور تجربہ کے کیونکر یقین ہو سکتا ہے۔ حالانکہ بار بار اس کے متعلق فرمایا گیا ہے۔ انما العلم عند الله)

(تریاق القلوب ص ١٣٠، خزائن ج ١٥ ص ٤٣٢) پر ہے کہ: ”ابتداء سے میرا یہی مذہب ہے کہ میرے دعوے کے انکار کی وجہ سے کوئی شخص کافر نہیں ہو سکتا۔“

١٥

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ١٨٨

(حقیقت الوحی ص ١٦٥، خزائن ج ٢٢ ص ١٦٩ حاشیہ) پر ہے کہ: ”پس میں اب بھی اہل قبلہ کو کافر نہیں کہتا۔“

(حقیقت الوحی ص ١٦٣، خزائن ج ٢٢ ص ١٦٨) پر ہے کہ: ”جو مجھے نہیں مانتا وہ خدا اور رسول کو نہیں مانتا۔ کیونکہ میری نسبت خدا اور رسول کی پیش گوئیاں موجود ہیں۔ یعنی رسول اللہ نے خبر دی تھی کہ آخری زمانہ میں میری امت میں سے مسیح موعود آئے گا..... اور خدا نے میری سچائی کی گواہی میں تین لاکھ سے زیادہ آسمانی نشان ظاہر کئے۔ اب جو شخص خدا اور رسول کے بیان کو نہیں مانتا اور ان کی تکذیب کرتا ہے اور عہدِ خدا کی نشانیوں کو رد کرتا ہے وہ مؤمن کیونکر رہ سکتا ہے۔“

(حقیقت الوحی ص ١٦٣، ١٦٤، خزائن ج ٢٢ ص ١٦٨) پر ہے کہ: ”جو شخص مجھے نہیں مانتا وہ خدا اور رسول کو نہیں مانتا..... اور مجھے باوجود صدہا نشانیوں کے مفتری ٹھہراتا ہے۔ وہ مؤمن کیونکر ہو سکتا ہے۔“

(براہین احمدیہ ص ٥٩١) پر ہے کہ: ”خدا کی طرف سے نور نازل ہوا ہے تم اگر مؤمن ہو تو انکار مت کرو۔“

(توضیح المرام ص ١٨، خزائن ج ٣ ص ٦٠) پر ہے کہ: ”میں نبی ہوں۔ میرا انکار کرنے والا مستوجب سزا (جہنم) ہے۔“

(اخبار بدر قادیان مورخہ ١٩؍ جنوری س ١٩٠٦ء) میں ہے کہ: ”اس قوم کی جڑ کاٹ ڈالی گئی۔ جو مرزا پر ایمان نہ لائی۔“

(انجام آتھم ص ٦٢، خزائن ج ١١ ص ایضاً) پر ہے کہ: ”خدا کا فرستادہ اور خدا کا مامور اور خدا کا امین خدا کی طرف سے آیا جو کچھ یہ کہتا ہے۔ اس پر ایمان لاؤ۔ اس کا دشمن جہنمی ہے۔“

(اشتہار ایک غلطی کا ازالہ ص ٢، خزائن ج ١٨ ص ٢٠٦) میں ہے کہ: ”میں نبی اور رسول ہوں۔ اس کا انکار کرنا نادانگی ہے۔“

(معیار الاخیار ص ٨، مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ٢٧٥) پر ہے کہ: ”جو شخص تیری پیروی نہیں کرے گا اور تیری بیعت میں داخل نہیں ہوگا اور تیرا مخالف رہے گا وہ خدا اور رسول کی نافرمانی کرنے والا اور جہنمی ہے۔“

(حقیقت الوحی ص ١٦٣، خزائن ج ٢٢ ص ١٦٧) پر ہے کہ: ”مجھے کافر کہنے والا اور نہ ماننے والا دونوں کافر ہیں۔“

١٦

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ١٨٩

تردید نبوت قادیانی

(دین الحق باب اول ص ٢٨، مجموعہ اشتہارات ج ١ ص ٢٣٠) پر ہے کہ: ”اس عاجز یعنی مرزا غلام احمد قادیانی نے سنا ہے کہ دہلی کے علماء مجھ پر الزام لگاتے ہیں کہ یہ شخص نبوت کا مدعی، ملائکہ کا منکر اور بہشت و دوزخ و جبرائیل علیہ السلام ولیلة القدر و معجزات و معراج کا منکر ہے۔ میں اظہار حق کے لئے عرض کرتا ہوں کہ میں نہ تو نبوت کا مدعی ہوں اور نہ میں ملائکہ و معجزات و معراج وغیرہ کا منکر ہوں۔ میں ان تمام اسلامی رموز کا معتقد ہوں۔ جو اہل سنت والجماعت کا عقیدہ ہے اور ان تمام امور کو مانتا ہوں۔ جو حدیث اور قرآن سے مسلم الثبوت ہیں اور سیدنا و مولانا حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کو خاتم المرسلین مان کر کسی دوسرے مدعی نبوت ورسالت کو کاذب وکافر جانتا ہوں۔ میرا یقین ہے کہ وحی رسالت حضرت آدم صفی اللہ سے شروع ہوئی اور جناب رسول اللہ محمد مصطفیٰ ﷺ پر ختم ہوگئی۔“

(توضیح المرام ص ٢٠، خزائن ج ٣ ص ٦١) پر ہے کہ: ”وہ نبوت تامہ کاملہ جو تمام کمالات وحی کی جامع ہے۔ تحقیق ہم اس کے منقطع ہونے پر ایمان لا چکے ہیں۔ اس روز سے جب یہ آیت نازل ہوئی۔ ”ماکان محمد ابا احد من رجالکم ولکن رسول اللہ وخاتم النبیین“ نیز متعدد کتب مثلاً انجام آتھم، اربعین، آئینہ کمالات اسلام وغیرہ مرزا نے آنحضرت ﷺ کو خاتم الانبیاء مانا ہے۔“

ہست او خیر الرسل خیر الانام
ہر نبوت را برو شد اختتام

(سراج منیر ص ٩٣، خزائن ج ١٢ ص ٩٥)

ختم شد بر نفس پاکش ہر کمال
لا جرم شد ختم بر پیغمبرے

(براہین احمدیہ ج ١ ص ١٠، خزائن ج ١ ص ١٩)

(ازالہ اوہام ص ١٧٧، خزائن ج ٣ ص ١٧٠) پر ہے کہ: ”حضرت سیدنا و مولانا محمد مصطفیٰ ﷺ خاتم النبیین اور خیر المرسلین ہیں۔ جن کے ہاتھوں اکمال ہو چکا ہے اور وہ نعمت بمرتبہ اتمام پہنچ چکی ہے۔ جس کے ذریعہ سے انسان راہ راست اختیار کر کے خدا تک پہنچ سکتا

١٧

صفحہ ١٩٠

ہے۔“

(دین الحق ص٣٩ باب اوّل) میں ہے کہ: ”ہمارا یہ اعتقاد ہے کہ ہمارے رسول محمد ﷺ تمام رسولوں سے بہتر اور افضل اور خاتم الانبیاء ہیں۔“

(اتمام الحجت ص٢٨، خزائن ج٨ ص٣٠٨) پر ہے کہ: ”وہ مبارک نبی حضرت خاتم الانبیاء اور امام الاصفیاء اور خاتم المرسلین اور فخر النبیین جناب محمد مصطفیٰ ﷺ ہیں۔“

قصیدہ الہامی میں ہے ۔

من نیستم رسول و نیاوردہ ام کتاب

(ازالہ اوہام ص١٧٣، خزائن ج٣ ص١٨٥)

(تقریر نمبر اوّل ص١٧، سطر ١٦، دین الحق ص٦٧ مصنفہ قاسم علی) پر ہے کہ: ”یہ امر مسلمہ ہے کہ کسی چیز کا خاتمہ اس کی علت نمائی کے اختتام پر ہوتا ہے۔ جیسے کتاب کے جب کل مطالب بیان ہو جاتے ہیں تو اس کا خاتمہ ہو جاتا ہے۔ اسی طرح پر رسالت اور نبوت کی علت نمائی رسول اللہ ﷺ پر ختم ہوئی اور یہی ختم نبوت کے معنی ہیں۔ کیونکہ یہ سلسلہ جو چلا آیا ہے کامل انسان پر آکر اس کا خاتمہ ہو گیا۔“

(تقریر نمبر اوّل، دین الحق ص٦٧ مصنفہ قاسم علی) پر ہے کہ: ”اللہ تعالیٰ نے جو کمالات سلسلہ نبوت میں رکھے ہیں۔ مجموعہ طور پر ہادی کامل پر ختم ہو چکے۔ اب ظلی طور پر ہمیشہ کے لئے مجدد دین کے ذریعہ سے دنیا پر اپنے پرتو ڈالتے رہیں گے۔ اللہ تعالیٰ اس سلسلہ کو قیامت تک رکھے گا۔“

(مجموعہ اشتہارات ج١ ص٢٥٥) پر ہے کہ: ”جو شخص خاتم الانبیاء کی ختم نبوت کا منکر ہو۔ میں اس کو بے دین اور دائرہ اسلام سے خارج سمجھتا ہوں۔“

(تقریر لاہور مطبوعہ حجۃ اللہ ٹریکٹ حکیم محمد حسین قریشی مقبولہ پیغام جون ١٩١٥ء) میں ہے کہ: ”خدائے تعالیٰ کی طرف سے ایک کلام پایا جو غیب پر مشتمل زبردست پیشین گوئیاں ہوں مخلوق کو پہنچانے والا اسلامی اصطلاح کی رو سے نبی کہلاتا ہے۔“

(تشحیذ الاذہان نمبر٧ ج دہم مورخہ ماہ جولائی ١٩١٥ء) میں ہے کہ: ”نبوت کے بارہ میں جو مذہب آپ کا یعنی مرزا غلام احمد قادیانی کا ١٩٠١ء سے پہلے تھا۔ وہ ١٩٠١ء کے بعد نہیں رہا۔“

(مورخہ ٢٠ شعبان ١٣١٤ھ، مطبوعہ قادیان، مجموعہ اشتہارات ج٢ ص٢٧٩) میں ہے کہ:

١٨

صفحہ ١٩١

”ہم بھی نبوت کے مدعی پر لعنت بھیجتے ہیں۔“

(حمامتہ البشریٰ ص ٧٩، خزائن ج ٧ ص ٢٩٧) پر ہے کہ یہ جائز نہیں کہ میں نبوت کا دعویٰ کر کے اسلام سے خارج ہو جاؤں اور کافروں سے جاملوں۔

نہایت العقول امام رازی میں ہے کہ جس نے نبوت محمدؐ سے انکار کیا یا قرآن کے معجزات سے انکار کیا وہ کافر ہے۔ شرح مواقف مقصد ثالث بیان کفر میں ہے کہ رسول ﷺ کی تصدیق نہ کرنا اور اس کے یقینی شرعی حکم نہ ماننا کفر ہے۔

(ازالۃ اوہام ص ١٣٨، خزائن ج ٣ ص ١٧٠) پر ہے کہ: ”ہمارا اس بات پر بھی ایمان ہے کہ ادنیٰ درجہ صراط مستقیم کا بھی بغیر اتباع ہمارے نبی ﷺ کے ہرگز انسان کو حاصل نہیں ہو سکتا۔ چہ جائیکہ راہ راست کے اعلیٰ مدارج بجز اقتداء اس امام الرسل کے حاصل ہو سکیں۔“

رسالہ تکمیل (تبلیغ ص ٢) پر ہے کہ: ”قال اللہ وقال الرسول کو اپنے ہر ایک راہ میں دستور العمل قرار دے گا۔“

(نور القرآن ص ٣٢، خزائن ج ٩ ص ٤٠٧، مطبوعہ ١٨٩٦ء) پر ہے کہ: ”ہمیں قرآن اور احادیث صحیحہ کی پیروی کرنا ضروری ہے۔“

(توضیح المرام ص ١٨، خزائن ج ٣ ص ٦٠) پر ہے کہ: ”رسول اللہ ﷺ خاتم النبیین نہیں ہیں۔“

مرزا قادیانی نے ١٩٠١ء میں (ایک غلطی کا ازالہ ص ٦، خزائن ج ١٨ ص ٢١٠) میں لکھا کہ: ”جس جس جگہ میں نے نبوت یا رسالت سے انکار کیا۔ صرف ان معنوں سے کیا کہ میں مستقل طور پر کوئی شریعت لانے والا نہیں ہوں اور نہ میں مستقل نبی ہوں۔ پھر مرزا نے (ملفوظات ج ١٠ ص ١٢٧) میں لکھ دیا کہ میں خدا کے حکم کے موافق نبی ہوں اور اگر میں اس سے انکار کروں تو میرا گناہ ہوگا اور جس حالت میں خدا میرا نام نبی رکھتا ہے تو میں کیونکر انکار کر سکتا ہوں۔“

ناظرین! آنحضرت ﷺ کے عہد مبارک میں بھی مسیلمہ کذاب اور اسود عنسی اور سجاح بنت منذر اور طلیحہ بن خویلد مدعی نبوت ہوئے تھے۔ جو اب عنقا کا حکم رکھتے ہیں۔ پس یہ فتنہ مرزائیت بھی چار دن کی کھیل ہے۔

(کتاب الوصیۃ ص ٨ حاشیہ، خزائن ج ٢٠ ص ٣٠٦) میں مرزا قادیانی لکھتا ہے کہ: ”خدا نے مجھے خبر دی ہے کہ تیری جماعت کے لئے تیری ذریت سے ایک شخص کو قائم کروں گا اور اس کو

١٩

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ١٩٦

اپنے قرب اور وحی سے مخصوص کروں گا اور اس کے ذریعہ سے حق ترقی کرے گا اور بہت لوگ سچائی کو قبول کریں گے۔ پس ان دونوں کے منتظر رہو۔‘‘

مولوی قاسم علی مرزائی نے اپنے اخبار فاروق کے نمبر اوّل میں ایک قصیدہ مرزا کے بیٹے محمود احمد خلیفہ دوم کی تعریف میں لکھا تھا۔ جس کا آغاز اس طرح ہے۔

تم فخر رسل ہو سیدنا
تم فضل عمر ہو سیدنا
تم مصلح کل ہو سیدنا
تم شمس و قمر ہو سیدنا

اس (اعجاز احمدی ص ٧١، خزائن ج ١٩ ص ١٨٣) میں مرزا قادیانی نے لکھا ہے۔ (محمدؐ) کے لئے چاند کے گہن کا نشان ظاہر ہوا۔ مگر میرے لئے چاند اور سورج دونوں گہنا گئے۔

(کتاب البریہ ص ٨٥، خزائن ج ١٣ ص ١٠٣) پر ہے کہ: ’’اے مرزا تجھ کو تمام دنیا پر فضیلت حاصل ہے۔‘‘

(حقیقت الوحی ص ٨٩، خزائن ج ٢٢ ص ٩٢) پر ہے کہ: ’’دنیا میں کئی تخت اترے۔ مگر تیرا تخت سب سے اوپر بچھایا گیا ہے۔‘‘

(استفتاء ص ٨٧، خزائن ج ٢٢ ص ٧١٥) پر ہے کہ: ’’مجھے وہ ملا جو تمام دنیا میں کسی کو نہیں دیا گیا۔‘‘

(ازالہ اوہام ص ٥٣٣، خزائن ج ٣ ص ٣٨٦) پر ہے کہ: ’’خدا نے اس عاجز کا نام نبی بھی رکھا۔‘‘

(دافع البلاء ص ٥، خزائن ج ١٨ ص ٢٢٥) پر ہے کہ: ’’خدا نے ارادہ کیا اس بلائے طاعون کو ہرگز دور نہیں کرے گا۔ جب تک لوگ ان خیالات کو دور نہ کریں۔ جو ان کے دلوں میں ہیں۔ یعنی جب تک وہ خدا کے مامور اور رسول کو نہ مان لیں۔‘‘

(دافع البلاء ص ١١، خزائن ج ١٨ ص ٢٣١) پر ہے کہ: ’’سچا خدا وہی خدا ہے جس نے اپنا رسول قادیان میں بھیجا۔‘‘

(اربعین نمبر ٣ ص ٣٦، خزائن ج ١٧ ص ٤٢٦) پر ہے کہ: ’’خدا وہ خدا ہے جس نے اپنے رسول کو یعنی اس عاجز کو ہدایت اور دین حق اور تہذیب و اخلاق کے ساتھ بھیجا۔‘‘

٢٠

صفحہ ١٩٣

(اخبار بدر مورخہ ٥؍مارچ ١٩٠٨ء) میں ہے کہ: ’’ہمارا دعویٰ ہے کہ ہم بغیر نئی شریعت کے رسول اور نبی ہیں۔ بنی اسرائیل میں کئی ایسے نبی ہوئے۔ جن پر کتاب نازل نہیں ہوئی۔‘‘

(اخبار البدر قادیان مورخہ ٢٢؍نومبر ١٩٠٤ء ج ٣) پر ہے کہ: ’’چونکہ اس مبارک زمانہ میں خدا کا ایک برگزیدہ نبی اور رسول موجود ہے۔ اس لئے عذاب بھی اس قسم کے نازل ہورہے ہیں۔ جو انبیاء کے وقتوں میں ہوتے تھے۔‘‘

(حقیقۃ الوحی ص ٧٩، خزائن ج ٢٢ ص ٨٢) پر ہے کہ: ’’یہ شخص (میں) نبیوں کے پیرایہ میں رسول خدا ہے۔‘‘

(اشتہار مورخہ ٥؍نومبر ١٩٠١ء مطبوعہ ضیاء الاسلام قادیان) میں ہے کہ: ’’جب کہ میں اس مدت تک ڈیڑھ سو پیشین گوئی کے قریب خدا کی طرف سے پا کر چشم خود دیکھ چکا ہوں کہ صاف طور پر پوری ہوگئیں تو میں اپنی نسبت نبی یا رسول ہونے کے نام سے کیونکر انکار کروں اور جب کہ خدا تعالیٰ نے یہ نام میرے رکھے ہیں تو کیونکر انکار کروں اور میں جیسا قرآن شریف کی آیات پر ایمان رکھتا ہوں ویسا ہی بغیر فرق ایک ذرہ کے خدا کی اس کھلی کھلی وحی پر ایمان رکھتا ہوں۔ جو مجھے ہوئی۔‘‘

(مجموعہ اشتہارات ج ٣

ص ٤٣٥)

(اربعین نمبر ٢ ص ٥، خزائن ج ١٧ ص ٣٥١) پر ہے کہ: ’’یہ دو نام اور دو خطاب خاص آنحضرت ﷺ کو قرآن شریف میں دیئے گئے ہیں۔ (یعنی سید الانبیاء اور رحمت اللعالمین) پھر وہی دو خطاب الہام میں مجھے دیئے گئے۔‘‘

(اربعین نمبر ٣ ص ٢٢، خزائن ج ١٧ ص ٤٠٩) پر ہے کہ: ’’اس امت میں وہ ایک شخص میں ہی ہوں۔ جس کو اپنے نبی کریم کے نمونہ پر وحی اللہ پانے میں ٢٣ برس کی مدت دی گئی اور ٢٣ برس تک برابر سلسلہ وحی کا جاری رکھا گیا۔‘‘

(اربعین نمبر ٣ ص ٢٣، خزائن ج ١٧ ص ٤١٠) پر ہے کہ: ’’ہم نے تجھے دنیا کی رحمت کے لئے بھیجا ہے۔‘‘

(نور الدین ص ١٢٠) پر ہے کہ: ’’جس قدر معجزات اور خوارق انبیاء علیہم السلام کے اور ہمارے نبی کریم ﷺ کے قرآن کریم میں مذکور ہیں۔ ان سب کے صدق اور حقیقت کے ثابت کرنے کے لئے آج اس زمانہ میں ایک شخص موجود ہے۔ جس کا یہ دعویٰ ہے کہ اسے وہ تمام

٢١

صفحہ ١٩٤

طاقتیں کامل طور پر خدا تعالیٰ کی طرف سے عطاء ہوئی ہیں۔ جو انبیاء علیہم السلام کو ملی تھیں۔“

(اربعین نمبر ٣ ص ٣٦، خزائن ج ١٧ ص ٤٢٦) پر ہے کہ: ”(خدا فرماتا ہے) یہ (مرزا غلام احمد قادیانی) اپنی طرف سے نہیں بولتا بلکہ جو کچھ تم سنتے ہو یہ خدا کی وحی ہے۔ یہ خدا کے قریب ہوا یعنی اوپر کی طرف گیا اور پھر نیچے کی طرف تبلیغ حق کے لئے جھکا۔ اس لئے یہ دو قوسین کے وسط میں آ گیا۔ اوپر خدا نیچے مخلوق۔ (بیچ میں مرزا قادیانی)“

(حقیقت الوحی ص ١٠٢، خزائن ج ٢٢ ص ١٠٥، انجام آتھم ص ٥٨، خزائن ج ١١ ص ٥٨) پر ہے کہ: ”(خدا نے مرزا قادیانی کو فرمایا) انا اعطیناک الکوثر فصل لربک وانحر“

(اربعین نمبر ٣ ص ٣٣، خزائن ج ١٧ ص ٤٢٣) پر ہے کہ: ”اس دن (بروز قیامت) ظالم اپنے ہاتھ کاٹے گا کہ کاش میں اسے خدا کے بھیجے ہوئے (مرزا قادیانی) سے مخالفت نہ کرتا اور اس کے ساتھ رہتا۔“

(حقیقت الوحی ص ٧٨، خزائن ج ٢٢ ص ٨١) پر ہے کہ: ”وہ پاک ذات وہی خدا ہے جس نے تجھے (مرزا قادیانی کو) رات میں سیر کرایا۔“

(حقیقت الوحی ص ٩٤، خزائن ج ٢٢ ص ٩٧) پر ہے کہ: ”میں تجھ کو ایک عظیم فتح عطاء کروں گا جو کھلی کھلی فتح ہوگی۔ تا کہ تیرا خدا تیرے تمام گناہ بخش دے جو پہلے اور پچھلے ہیں۔“

(حقیقت الوحی ص ١٠٧، خزائن ج ٢٢ ص ١١٠) پر ہے کہ: ”اے سردار (مرزا قادیانی) تو خدا کی طرف سے راہ راست پر خدا کا مرسل ہے۔ جو غالب اور رحم کرنے والا ہے۔“

(اخبار الحکم مورخہ ١٠؍ جنوری ١٩٢٥ء ص ٤) پر ہے کہ: ”سلسلۂ عالیہ احمدیہ ایک ایسا سلسلہ ہے جو منہاج نبوت پر واقع ہوا ہے اور اس سلسلہ کے اندر روح نبوت کام کر رہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ احمدیت (مرزائیت) ایک تبلیغی سلسلہ ہے کہ حضرت حجت اللہ مسیح موعود علیہ السلام اپنے سید ومولا ومتبوع وامام الرسل حضرت خاتم النبیین ﷺ کی طرح کل دنیا کے لئے مبعوث ہوئے ہیں اور خدا تعالیٰ نے ان کے ذریعہ اظہار الدین مقدر کر رکھا ہے۔ اور ”ھو الذی ارسل رسولہ بالھدی ودین الحق لیظہرہ علی الدین کلہ“ کی وحی آپ کو (مرزا قادیانی کو) ہوچکی ہے۔ پس جب کہ مسیح موعود کی اشاعت کل اقوام عالم اور افراد کے لئے اس رنگ میں ہے۔ جس طرح سید الرسل حضرت احمدؐ مکی ﷺ کو خطاب ہوا تھا کہ: ”قل انی رسول اللہ جمیعاً“ اور حضرت مسیح موعود نے مہدی مسعود اور کرشن مہاراج کے دعوے میں اس امر کو واضح کر

٢٢

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ١٩٥

کے دکھا دیا۔“

(اخبار الحکم ج ٤ مورخہ ١٧ مئی ١٩٠٠ء) میں عبدالکریم امام مسجد قادیان لکھتا ہے کہ: ”یہ مزکی اور مطہر انسان (مرزا قادیانی) حضرت سید عالم ﷺ کی خو بو اور قوت اور نشان کے ساتھ آیا۔ بلکہ بعینہ وہی آیا۔ کیونکہ اس میں (مرزا قادیانی میں) احیاء اور اماتت کی وہی قدرت ہے۔ یہ ویسا ہی بشیر اور نذیر ہے اور حجۃ اللہ اور آیۃ اللہ ہے۔“

(اخبار بدر قادیان نمبر ٤٣ ص ١٤، مورخہ ٢٥؍اکتوبر ١٩٠٦ء، ج٢ کالم اوّل) میں ذیل کے دو شعر درج ہیں ؎

محمد پھر اتر آئے ہیں ہم میں
اور آگے سے بڑھ کر اپنی شان میں
محمد دیکھنا ہو جس نے اکمل
غلام احمد کو دیکھے قادیاں میں

(اخبار الفضل قادیان ج ٣ نمبر ١ ص ٤، مورخہ ١٥؍جولائی ١٩١٥ء) پر ہے کہ: ”آنحضرت ﷺ ہلال کی مانند (پہلی رات کا چاند) ہیں اور غلام احمد بدر (چودھویں رات کا چاند) کی طرح ہے۔“

(ازالہ اوہام ص ٤٧، خزائن ج ٣ ص ١٢٦) پر ہے کہ: ”معراج اس جسم کثیف سے نہیں ہوا بلکہ وہ ایک اعلیٰ کشف تھا۔“

(رسالہ تشحیذ الاذہان ص ٤٣١ نمبر ٦ ج ٦) میں ہے کہ: ”احمدی حضرات معراج کو نہ خواب کا واقعہ جانتے ہیں اور نہ وحی مانتے ہیں۔ جسم صرف خاکی نہیں ہوتا بلکہ مثالی بھی ہوتا ہے اور روح جب مثال سے متعلق ہو تو اس وقت براق پر سوار ہو سکتا ہے۔ اس لئے براق کی سواری سے معراج کا یہ جسد عنصری ہونا لازم نہیں ہوتا۔“

(حقیقت الوحی ص ٣٩٠، خزائن ج ٢٢ ص ٤٠٥) پر ہے کہ: ”کیا سفر حدیبیہ (رسول اللہ کی) اجتہادی غلطی نہ تھی کیا یمامہ یا ہجر کو اپنی ہجرت کا مقام خیال کرنا (رسول اللہ کی) اجتہادی غلطی نہ تھی اور کیا (آنحضرت ﷺ کی) کئی اور غلطیاں اجتہادی نہ تھیں۔ جن کا لکھنا موجب تطویل ہے۔“

(ازالہ اوہام حصہ اوّل ص ٦٨٨، خزائن ج ٣ ص ٤٧١) پر ہے کہ: ”انبیاء کے اجتہاد میں سہو اور خطاء کا امکان ہے۔ مثلاً آنحضرت ﷺ کا مکہ میں نہ پہنچنا اور کفار کا طواف خانہ کعبہ

٢٣

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ١٩٦

سے روک لینا۔“

(ازالہ اوہام ص ٦٩١، خزائن ج ٣ ص ٤٧٣) پر ہے کہ: ”آنحضرت ﷺ پر ابن مریم اور دجال کی حقیقت پوری پوری ظاہر نہ ہوسکی۔“

پھر (ص ٤٢٢) پر ہے کہ: ”انبیاء لوازم بشریت سے بالکل الگ نہیں ہو سکتے۔“

(القول الفصل ص ٤٩) پر ہے کہ: ”رسول اللہ ﷺ بھی غلطی سے محفوظ نہ تھے۔“

(بخاری کتاب الاعتصام بالکتاب والسنۃ ج ٢ ص ١٠٨) پر ہے کہ: ”آنحضرت ﷺ اپنے اجتہاد سے کبھی کچھ نہ فرماتے۔“

(سنن ابوداؤد کتاب العلم ج ٢ ص ١٥٨) میں ہے کہ: ”فرمایا آنحضرت ﷺ نے کہ خدا کی قسم میرے منہ سے کچھ نہیں نکلتا سوائے کلمہ حق کے۔“

مرزائیوں کے ایک قلیل التعداد گروہ کا یہ کلمہ ہے۔ ”لا الہ الا اللہ احمد جری اللہ “

ان کا اعتقاد ہے کہ مرزا دین محمد کا ناسخ ہے اور خود صاحب شریعت ہے۔

(تحفہ گولڑویہ ص ٧٦، خزائن ج ١٧ ص ٢١٧) پر ہے کہ: ”ھوالذی ارسل رسولہ بالھدیٰ سے مراد آنحضرت اور مرزا دونوں ہیں۔“

(حقیقت الوحی ص ٧١، خزائن ج ٢٢ ص ٧٤) میں ہے کہ: ”ھوالذی ارسل رسولہ بالھدیٰ مرزا قادیانی کے حق میں ہے۔“

(حقیقت الوحی ص ١٦١، خزائن ج ٢٢ ص ١٦٥) میں ہے کہ: ”ماکنّا معذبین حتیٰ نبعث رسولاً مرزا قادیانی کے حق میں ہے۔“

(حقیقت الوحی ص ٣٩٠، خزائن ج ٢٢ ص ٤٠٦) میں ہے کہ: ”فلا یظھر علیٰ غیبہ احداً الا من ارتضیٰ من رسولہ سے مرزا قادیانی خصوصاً مراد ہے۔“

(حقیقت الوحی ص ٧٢، خزائن ج ٢٢ ص ٧٦) میں ہے کہ: ”کتب اللہ لا غلبن انا ورسلی مرزا قادیانی کے حق میں ہے۔“

(چشمہ معرفت ص ٣٢٩، خزائن ج ٢٣ ص ٣٤٢) میں ہے کہ: ”یاحسرۃ علی العباد ما یاتیہم من الرسول الا کانو بہ یستھزؤن کا مصداق مرزا ہے۔“

(خطبہ الہامیہ ص ١٢٥، خزائن ج ١٦ ص ١٩٧) میں ہے کہ: ” میں سورہ الحمد کے رو سے منعم علیہم کے گروہ میں سے فرد اکمل کیا گیا ہوں ۔“

٢٤

صفحہ ١٩٧

(تحفہ گولڑویہ ص٩٦، خزائن ج١٧ ص٢٥٣) میں ہے کہ: ”و مبشراً برسول یاتی من

بعدی اسمہ احمد مرزا قادیانی کے حق میں ہے۔ جن سے انکار کرنا کفر کی حد تک جا پہنچتا ہے۔“

(شہادۃ القرآن ص٢٣، خزائن ج٦ ص٣١٩) میں ہے کہ: ”واذ الرسل اقتت میں

مرزا قادیانی کی طرف اشارہ ہے۔“

(چشمہ معرفت ص٨٧، خزائن ج٢٣ ص٨٦) میں ہے کہ: ”خدا آسمان سے قرنا میں اپنی

آواز پھونکے گا۔ اس قرنا سے مراد مرزا ہے۔“

(تحفہ گولڑویہ ص٢٥ حاشیہ، خزائن ج١٧ ص٤١٣) میں ہے کہ: ”بخاری و مسلم و انجیل

و دانیل و دیگر صحائف میں مجھے نبی کہا گیا ہے۔“

(نزول المسیح ص٩٩، ١٠٠، خزائن ج١٨ ص٤٧٧، ٤٧٨) میں ہے کہ ؎

آدمم نیز احمد مختار
در برم جامہ ہمہ ابرار
آنچہ داد است ہر نبی را جام
داد آں جام را مرا بہ تمام
انبیاء گرچہ بودہ اند بسے
من بعرفاں نہ کمترم از کسے
کم نیم زاں ہمہ بروے یقین
ہر کہ گوید دروغ است او لعین

ترجمہ: میں آدم بھی ہوں اور احمد مختار بھی ہوں۔ میں تمام نیک لوگوں کے لباس سے ملبوس ہوں۔ جو جو معجزات تمام انبیاء کو منفردہ حالت میں عطاء ہوئے تھے۔ مجھ میں وہ تمام معجزات مجموعی طور پر موجود ہیں۔

(تتمہ حقیقت الوحی ص٦٨، خزائن ج٢٢ ص٥٠٣) میں ہے کہ: ”میں اس خدا کی قسم کھا کر

کہتا ہوں۔ جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ اس نے مجھے بھیجا ہے اور اسی نے میرا نام نبی رکھا ہے اور اسی نے مجھے مسیح موعود کے نام سے پکارا ہے اور اس نے میری تصدیق کے لئے بڑے بڑے نشانات ظاہر کئے جو تین لاکھ تک پہنچے ہیں۔“

ناظرین مرزا قادیانی ٢٣ سال نبی بنا رہا۔ ٨٣٩٥ = ٣٦٥ × ٢٣ دن ہوئے۔

٢٥

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ١٩٨

٨٣٩٥ /٣٦ = ٣٠٠٠٠٠ تقریباً۔ پس مرزا قادیانی کی نبوت کی تصدیق میں ہر روز ٣٦ خدائی نشانات معرض ظہور میں آتے رہے۔ اس بات سے جعفر زٹلی کی روح کفن میں پھولے نہ سماتی ہوگی۔

(براہین احمدیہ ص ٥١٢، خزائن ج ١ ص ٦١١) میں ہے کہ: ”قل انما انا بشر مثلکم الا یوحی الیٰ سے مرزا مراد ہے۔“

(حقیقت الوحی ص ٧٢، خزائن ج ٢٢ ص ٧٨) میں ہے کہ: ”واتل علیہم ما اوحی الیک من ربک کا مرزا کو حکم دیا گیا ہے۔“

(تذکرہ ص ٨١) میں ہے کہ: ”وما ارسلنک الا رحمۃ للعالمین مرزا قادیانی کے حق میں ہے۔“

(تذکرہ ص ٤٤) میں ہے کہ: ”قل انی امرت وانا اوّل المؤمنین مرزا کے حق میں ہے۔“

(تذکرہ ص ٤٦) میں ہے کہ: ”قل ان کنتم تحبون اللہ فاتبعونی یحببکم اللہ مرزا کے حق میں ہے۔“

(تذکرہ ص ١٨٦) میں ہے کہ: ”قل یا ایہا الکافرون انی من الصادقین میں مرزا قادیانی کو صادق اور تمام مسلمان عالم کو کافر قرار دیا گیا ہے۔“

(حقیقت الوحی ص ٧١، خزائن ج ٢٢ ص ٧٤) میں ہے کہ: ”ہو الذی ارسل رسولہ بالہدیٰ ودین الحق لیظہرہ علی الدین کلہ مرزا قادیانی کے حق میں ہے۔“

مرزا قادیانی نے (ایک غلطی کا ازالہ ص ٣، خزائن ج ١٨ ص ٢٠٧) میں لکھا ہے کہ: ”محمد رسول اللہ والذین معہ اشداء علی الکفار رحماء بینہم سے مراد مرزا ہے۔“

(دافع البلاء ص ١١، خزائن ج ١٨ ص ٢٣١) میں ہے کہ: ”سچا خدا وہ ہے جس نے قادیان میں اپنا رسول بھیجا۔“

اور (دافع البلاء ص ٩، خزائن ج ١٨ ص ٢٢٩) پر ہے کہ: ”طاعون اس حالت میں فرو ہوگی۔ جب کہ لوگ خدا کے فرستادہ کو قبول کرلیں۔“

مرزا قادیانی نے (ایک غلطی کا ازالہ ص ١٢، خزائن ج ١٨ ص ٢١٦، مورخہ ٥ نومبر ١٩٠١ء) میں کہا ہے کہ: ”میرا نام محمد اور احمد ہے۔ پس نبوت و رسالت کسی دوسرے کے پاس نہیں گئی۔ محمد

٢٦

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ١٩٩

کی چیز محمد کے پاس رہی۔“

(اخبار البدر قادیان مورخہ ٥/مارچ ١٩٠٨ء ص ٢ کالم اوّل) میں مرزا قادیانی لکھتا ہے کہ: ”میرا دعویٰ ہے کہ ہم نبی اور رسول ہیں۔ خدا تعالیٰ کے ساتھ ایسا مکالمہ و مخاطبہ کرے جو بلحاظ کمیت و کیفیت دوسروں سے بڑھ کر ہو اور ان میں پیشین گوئیاں بھی کثرت سے ہوں۔ اسے نبی کہتے ہیں اور یہ تعریف ہم کو صادق آتی ہے۔ پس ہم نبی ہیں۔ ہم پر کئی سالوں سے وحی نازل ہو رہی ہے اور اللہ کے کئی نشان اس کے صدق کی گواہی دے چکے ہیں۔ اس لئے ہم نبی (اور رسول) ہیں۔“

(فتاویٰ ابن حجر مکی) میں ہے کہ: ”رسول اللہ کے بعد جس شخص نے وحی کا دعویٰ کیا۔ وہ اجماع مسلمین سے کافر ہے۔“

(توضیح المرام ص ٦٨، خزائن ج ٣ ص ٨٦) پر ہے کہ: ”حضرت جبرائیل علیہ السلام کسی نبی کے پاس زمین پر نہیں آئے۔“

(ازالہ اوہام ص ١١، خزائن ج ٣ ص ١٠١) میں ہے کہ: ”مرسل یزدانی و مامور رحمانی حضرت جناب غلام احمد قادیانی۔“

(ازالہ اوہام ص ٢٥٣، خزائن ج ٣ ص ٢٢٧) میں ہے کہ: ”خدا نے مجھے آدم صفی اللہ، مثیل نوح، مثیل یوسف، مثیل داؤد، مثیل موسیٰ، مثیل ابراہیم کیا اور احمد کے نام سے بار بار پکارا۔“

اور (ازالہ اوہام ص ٦٩٥، خزائن ج ٣ ص ٤٧٥) میں ہے کہ: ”آدم اور ابن مریم یہی عاجز ہے۔ کیونکہ اوّل تو ایسا دعویٰ اس عاجز سے پہلے کبھی کسی نے نہیں کیا اور اس عاجز کا یہ دعویٰ دس برس سے شائع ہو رہا ہے۔“

(انجام آتھم ص ٥٣، خزائن ج ١١ ص ٥٣) میں ہے کہ: ”کہ پاک ہے کہ وہ جس نے اپنے بندہ (مرزا قادیانی) کو رات میں سیر کرائی۔ (معراج)“

(انجام آتھم ص ٥٨، خزائن ج ١١ ص ٥٨) میں ہے کہ: ”مرزا تمام انبیاء کا چاند ہے۔“

(ازالہ ص ٤٧، خزائن ج ٣ ص ١٢٦) میں ہے کہ: ”نیا اور پرانا فلسفہ بالاتفاق اس بات کو ثابت کر رہا ہے کہ کوئی انسان اپنے خاکی جسم کے ساتھ کرۂ زمہریر پر بھی نہیں پہنچ سکتا۔ پس اس جسم کا کرۂ آفتاب و مہتاب تک پہنچنا کس قدر لغویات ہے۔“

(ازالہ ص ٦٩١، خزائن ج ٣ ص ٤٧٣) میں ہے کہ: ”آنحضرت ﷺ پر ابن مریم اور دجال کی حقیقت کاملہ بوجہ نہ موجود ہونے کسی نمونہ کے موبہ مو منکشف نہیں ہوئی۔ (یعنی

٢٧

صفحہ ٢٠٠

آنحضرت ﷺ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور دجال کے بارہ میں جو کچھ فرمایا ہے۔ نعوذ باللہ جھوٹ ہے۔ جس کی وجہ آنحضرت ﷺ کی جہالت علمی ہے)‘‘

(تریاق القلوب ص ٣، خزائن ج ١٥ ص ١٣٢) میں ہے ۔

منم مسیح زمان و منم کلیم خدا
منم محمد احمد کہ مجتبیٰ باشد

(رسالہ الاستفتاء ص ٨١، خزائن ج ٢٢ ص ٧٧) میں ہے کہ: ”تجھے خوشخبری ہو اے میرے احمد تو میری مراد ہے اور میرے ساتھ ہے۔ میں تجھے لوگوں کا امام بناؤں گا۔‘‘

(حقیقت الوحی ص ٨١، خزائن ج ٢٢ ص ٨٢) میں ہے کہ: ”کہہ دو میں ایک آدمی تم جیسا ہوں۔ مجھے خدا سے الہام ہوتا ہے۔‘‘

(تتمہ حقیقت الوحی ص ١٢، خزائن ج ٢٢ ص ٤٣٣) میں ہے کہ: ”تیرا بد گو بے خیر ہے۔ یعنی ان شانئک ھو الابتر‘‘

(حقیقت الوحی ص ٤٣٠، خزائن ج ٢٢ ص ٤٣٣) میں ہے کہ: ”ان کو کہہ دے آؤ ہم اور تم اپنے بیٹوں اور عورتوں اور عزیزوں سمیت ایک جگہ اکٹھے ہوں۔ پھر مباہلہ کریں اور جھوٹوں پر لعنت بھیجیں۔‘‘

نیز دوسری جگہ (حقیقت الوحی ص ٣٠٠، خزائن ج ٢٢ ص ٣١٣) میں ہے کہ: ”ابراہیم پر یعنی اس عاجز پر سلام ہو۔‘‘

(انجام آتھم ص ٦١، خزائن ج ١١ ص ایضاً) میں ہے کہ: ”اے نوح اپنی خواب کو پوشیدہ رکھا۔‘‘

(مکتوب عربی معہ ترجمہ فارسی ص ٧٦، خزائن ج ١١ ص ایضاً) میں ہے کہ: ”مجھ کو علم الغیب ازلی سے آگاہ کیا گیا۔‘‘

(مکتوب عربی معہ ترجمہ فارسی ص ١١١، خزائن ج ١١ ص ایضاً) میں ہے کہ: ”عیسیٰ علیہ السلام کی موت پر مجھ کو رسول خدا ﷺ نے خبر دی ہے۔‘‘

(مکتوب عربی معہ ترجمہ فارسی ص ١١٣، خزائن ج ١١ ص ایضاً) میں ہے کہ: ”مجھ کو خدا نے قائم کیا۔ مبعوث کیا اور خدا میرے ساتھ ہم کلام ہوا۔‘‘

(مکتوب عربی معہ ترجمہ فارسی ص ١٥٥، خزائن ج ١١ ص ایضاً) میں ہے کہ: ”میرے برابر کوئی

٢٨

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٢٠١

کلام فصیح نہیں لکھ سکتا۔‘‘

(مکتوب عربی معہ ترجمہ فارسی ص ١٧٦، خزائن ج ١١ ص ایضاً) میں ہے کہ: ”خدا کا روح میرے میں باتیں کرتا ہے۔“

(حقیقۃ الوحی ص ٧١) میں ہے کہ: ”میرے وجود میں سوائے نور محمدؐ کے کچھ نہیں۔“

اور (حقیقۃ الوحی ص ٨٥، خزائن ج ٢٢ ص ٥٢٢) میں ہے کہ: ”تو ہے آریوں کا بادشاہ۔“

اور (حقیقۃ الوحی ص ٩٧، خزائن ج ٢٢ ص ١٠١) میں ہے کہ: ”برہمن اوتار سے مقابلہ اچھا نہیں۔“

(براہین احمدیہ حصہ پنجم ص ٩٠، خزائن ج ٢١ ص ١١٧) میں ہے کہ: ”اس زمانہ میں خدا نے چاہا کہ جس قدر نیک اور راست باز مقدس نبی گزر چکے ہیں۔ ایک ہی شخص کے وجود میں ان کے نمونے ظاہر کئے جائیں۔ سو وہ میں ہوں۔“

ہفوات مرزا

(رسالہ دافع البلاء ص ١٣، خزائن ج ١٨ ص ٢٣٣) پر ہے کہ: ”اے قوم شیعہ، ناز مت کرو کہ حسین تمہارا نجات دہندہ ہے۔ میں سچ سچ کہتا ہوں کہ آج تم میں ایک (مرزا) ہے جو تمہارے حسین سے بڑھ کر ہے اور اگر میں اپنی طرف سے کہتا ہوں تو میں جھوٹا ہوں۔“

(کتاب نزول مسیح ص ٤٥، خزائن ج ١٨ ص ٤٢٣) پر ہے کہ: ”افسوس یہ لوگ شیعہ نہیں سمجھتے کہ قرآن نے تو حسین کو اہلبیت کا رتبہ بھی نہیں دیا۔ بلکہ نام تک مذکور نہیں۔ حسین سے تو زید ہی اچھا رہا۔ جس کا نام قرآن میں موجود ہے۔“ ناظرین زیدؓ آنحضرت ﷺ کے متبنّے بیٹا تھا۔ جس کی عورت کا نام زینب تھا۔ زینب اور زید میں ان بن ہو گئی اور زید نے زینب کو طلاق دے دی۔ جب زینب کچھ مدت کے بعد بہت مفلوک الحال اور پریشان ہو گئی تو آنحضرتؐ نے بنظر ترحم اس سے نکاح کر لیا۔

(نزول المسیح ص ٩٩، خزائن ج ١٨ ص ٤٧٧) پر ہے کہ؎

صد حسین است در گریبانم

یعنی میں ہزارہا حسینؓ سے بہتر ہوں۔

٢٩

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٢٠٢

(قصیدہ الاعجازیہ ص ٥٢، خزائن ج ١٩ ص ١٦٤) پر عربی اشعار ہیں۔ جن کا صحیح ترجمہ ذیل میں ہے۔ ”انہوں (شیعوں) نے کہا کہ اس شخص (میں نے) حسنؓ اور حسینؓ سے اپنے تئیں بہتر سمجھا۔ میں کہتا ہوں ہاں (واقعی امام حسنؓ اور حسینؓ سے بہتر ہوں) اور میرا رب عنقریب ظاہر کر دے گا۔“

کیا تو حسین کو انبیاء سے زیادہ پرہیز گار سمجھتا ہے۔ یہ تو بتا کہ اس (امام حسینؓ) سے تم کو کیا دینی فائدہ حاصل ہوا۔ ایسے مبالغہ کرنے والے میں محمدؐ کے مال کا وارث بنایا گیا ہوں۔ پس میں اس کی آل برگزیدہ ہوں۔

(قصیدہ اعجازیہ ص ٧٠، خزائن ج ١٩

ص ١٨٢)

اور مجھ کو ورثہ مل گئی۔ تم نے اس کشتہ (امام حسینؓ) سے نجات چاہی جو نا امیدی سے مر گیا۔ پس تم کو خدا نے جو غیرت والا ہے اور ہلاک کرنے والا ہے ہر ایک مراد سے ناامید کیا۔ خدا کی قسم اس (امام حسینؓ) کو مجھ پر کوئی بزرگی نہیں ہے۔ میرے پاس اس بات کی گواہیاں موجود ہیں۔ پس تم دیکھ لو میں خدا کا کشتہ ہوں اور تمہارا حسینؓ دشمنوں کا کشتہ ہے۔ پس فرق کھلا اور ظاہر ہے۔

(قصیدہ اعجازیہ ص ٨١، خزائن ج ١٩ ص ١٩٣)

(اخبار بدر قادیان مورخہ ٧؍ستمبر ١٩٠٨ء نمبر ٣٥ ج ٧) میں مولوی نور الدین نے مرزا غلام احمد قادیانی کا اعتقاد لکھا ہے کہ: ”تمام خاندان نبوت یعنی حضرت علیؓ و حسنؓ و حسینؓ و فاطمہؓ کو ہم دل سے برگزیدہ مانتے ہیں اور ان کی اولاد امجاد از حسین تا عسکری کو علمائے باعمل اور آئمہ دین تسلیم کرتے ہیں۔ صلوٰت الله علیهم اجمعین!“

(نزول المسیح ص ٩٩، خزائن ج ١٨ ص ٤٧٧) پر ذیل کے اشعار ملاحظہ ہوں ؎

کربلا است سیر ہر آنم صد حسین است گریبانم
آدم نیز احمد مختار در برم جامۂ ہمہ ابرار
آنچہ داد است ہر نبی را جام داد آں جام را مرا بہ تمام
آنچہ من بشنوم زوحی خدا بخدا پاک دانمش زخطا
ہمچو قرآن منزہ اش دانم از خطاہا ہمین است ایمانم
انبیاء گرچہ بودہ اند بسے
من بعرفان نہ کمترم زکسے

٣٠

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٢٠٣

(اعجاز احمدی ص ٦٩، خزائن ج ١٩ ص ١٨١) پر ہے کہ: ”مجھ میں اور تمہارے حسینؓ میں بہت فرق ہے۔ کیونکہ مجھے تو ہر وقت خدا کی تائید اور مدد مل رہی ہے۔ نعوذ باللہ!“

(الفضل نمبر ٣٤ ج ٢ مورخہ ٦ محرم) میں یہ شعر درج ہے ؎

مبارک صد حسین اندر گریباں رکھنے والوں کو
محرم میں یہ ماہِ عید دکھلانا مبارک ہو

(تریاق القلوب ص ٩٩ حاشیہ، خزائن ج ١٥ ص ٣٦٣) پر ہے کہ: ”آل محمدؐ سے کوئی دنیاوی رشتہ مراد نہیں ہے۔ بلکہ آل سے مراد وہ لوگ ہیں جو فرزندوں کی طرح آنحضرت ﷺ کے روحانی مال کے وارث ہیں۔“ مسلم میں ہے کہ آل محمدؐ سے مراد علیؓ و فاطمہؓ و حسنؓ و حسینؓ ہیں۔

قرآن کریم اور مرزا

(ازالہ اوہام حصہ اوّل ص ٢٥، خزائن ج ٣ ص ١١٥ حاشیہ) پر ہے کہ: ”قرآن جس بلند آوازی سے سخت زبانی کے طریقے کو استعمال کر رہا ہے۔ ایک غائت درجہ کا غبی اور نادان بھی اس سے بے خبر نہیں رہ سکتا۔ مثلاً موجودہ زمانے کے مہذب اشخاص کے نزدیک کسی پر لعنت بھیجنا ایک گالی ہے۔ لیکن قرآن کریم کافروں کو سنا سنا کر ان پر لعنت بھیجتا ہے۔ نیز قرآن نے ولید بن مغیرہ کی نسبت نہایت درجہ کے سخت الفاظ استعمال کئے ہیں جو بصورت ظاہر گندی گالیاں معلوم ہوتی ہیں۔“

(ضمیمہ تریاق القلوب ص ٦١، خزائن ج ١٥ ص ٤٦٥، نشان ٧٤) پر ہے کہ: ”قرآن شریف خدا کی کتاب اور میرے منہ کی باتیں ہیں۔“ یعنی مرزا قادیانی کی تصنیفات قرآن شریف سے بہتر ہیں۔ اس لئے مرزا قادیانی خدا سے بہتر ہے۔

(ازالہ اوہام ص ٢٧١ تا ٢٧٥) پر لمبی چوڑی عبارت ہے۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ قرآن زمین سے اٹھایا گیا تھا۔ اب میں اس کو زمین پر آسمان پر سے لایا ہوں۔

مسیح ابن مریم اور مرزا

(سنن ابن ماجہ ص ٢٩٩، طبع نور محمد اصح المطابع) میں ہے کہ: ”شب معراج آنحضرت ﷺ نے ابراہیم وموسیٰ وعیسیٰ علیہم السلام سے ملاقات کی اور آپس میں یہ ذکر کیا کہ قیامت کی بھی کسی کو خبر بتلائی گئی ہے۔ سب نے کہا نہیں۔ پھر دجال کا ذکر آیا تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے کہا کہ میں اس وقت آسمان سے اتروں گا اور دجال کو قتل کروں گا۔“

٣١

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٢٠٤

(بخاری ج ١ ص ٢٩٦، ٣٣٦، ٤٩٠) میں ہے کہ: ”آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ مجھے قسم ہے اس کی جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے کہ وہ زمانہ قریب ہے۔ جب ابن مریم تم میں نازل ہو، اور عادل حاکم بن کر پہلے صلیب کو گرائے اور پھر قتل خنزیر کرے۔“

(تفسیر کبیر امام رازی ج ١٦ ص ٤٠) پر ہے کہ: ”ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ یہ خدا کا وعدہ ہے کہ اسلام کو تمام ادیان پر غالب کرے گا اور یہ اس وقت ہو گا کہ جب حضرت عیسیٰ علیہ السلام خروج کریں گے اور سدی کہتا ہے کہ جس وقت حضرت مہدی علیہ الرضوان ظہور فرمائیں گے تو اس وقت کوئی ایسا نہ ہو گا جو اسلام میں داخل نہ ہو یا خراج نہ دے۔“

(تفسیر در منثور ج سوئم ص ٢٣١) پر ہے کہ: ”سعید بن منصور اور ابن المنذر اور بیہقی نے جابر سے روایت کی ہے کہ نزول عیسیٰ علیہ السلام کے وقت نہ کوئی یہودی ہو گا نہ کوئی نصرانی اور نہ کوئی صاحب ملت، سوائے اسلام کے۔ صلیب توڑ دی جائے گی اور خنزیر قتل کیا جائے گا۔ پھر عبد بن حمید اور ابن المنذر نے قتادہ سے روایت کی ہے کہ ادیان چھ ہیں۔ اسلام و یہودیت و نصرانیت و مجوسیت صابئیت و شرک۔ یہ کل ادیان اسلام میں داخل ہوں گے اور یہ اس وقت ہو گا جب کہ عیسیٰ علیہ السلام خروج فرمائیں گے۔“

(تفسیر طبری ص ٨٨ ج ١١ طبع مصر) پر ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ: ”لیظہرہ علی الدین کلہ اس وقت پورا ہو گا جب حضرت عیسیٰ ابن مریم ظہور فرمائیں گے۔“

(تفسیر معالم التنزیل ج ٢ ص ٧٨) پر ہے کہ: ”ظہور دین اسلام سے یہ مراد ہے کہ بجز اسلام کوئی دین نہ رہے گا۔ ابو ہریرہؓ اور ضحاک کہتے ہیں کہ یہ اس وقت ہو گا جب عیسیٰ علیہ السلام کا ظہور ہوگا۔“

(فرائد السمطین) میں ہے کہ: ”آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ جو شخص ظہور مہدی کا منکر ہو وہ کافر ہے اور جو شخص نزول عیسیٰ کا منکر ہو وہ کافر ہے اور جو شخص خروج دجال کا منکر ہو وہ کافر ہے۔“

(الہدیٰ ص ١٠٩، خزائن ج ١٨ ص ٣٦١) پر ہے کہ: ”حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی قبر سری نگر کشمیر میں ہے۔“

(ازالۃ اوہام ص ٤٧٣، خزائن ج ٣ ص ٣٥٣) پر ہے کہ: ”حضرت عیسیٰ علیہ السلام شہر گلیل ملک شام میں فوت ہوئے۔“

٣٢

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٢٠٥

ناظرین! گلیل اور سری نگر کا فاصلہ اور ایام قدیم کے ذرائع آمدورفت پر غور کریں اور مرزا قادیانی کی ہمت کی داد دیں۔

(براہین احمدیہ ص ٤٩٨ ج ٤، خزائن ج ٣ ص ٥٩٣) پر ہے کہ: ”حضرت عیسیٰ علیہ السلام دوبارہ اس دنیا میں تشریف لائیں گے اور ان کے ہاتھ سے اسلام اطراف عالم میں پھیل جائے گا۔“

(ازالۃ اوہام ص ٤٧٣، خزائن ج ٣ ص ٣٥٣) پر ہے کہ: ”حضرت عیسیٰ علیہ السلام فوت ہو چکے ہیں۔ دوبارہ دنیا میں نہیں آئیں گے۔“

(ازالۃ اوہام ص ٤٢، خزائن ج ٣ ص ١٠٤) پر ہے کہ: ”میں سچ سچ کہتا ہوں کہ مسیح کے ہاتھ سے زندہ ہونے والے مر گئے۔ جو شخص میرے ہاتھ سے جام پیئے گا وہ ہرگز نہ مرے گا۔“

(ازالۃ اوہام ص ٤٧، خزائن ج ٣ ص ١٠٦) پر ہے کہ: ”جس قدر مسیح کی پیشین گوئیاں غلط نکلیں صحیح نہیں نکلیں۔“

(ازالۃ اوہام ص ٤٧، خزائن ج ٣ ص ١٠٦) پر ہے کہ: ”عیسیٰ علیہ السلام کی بھی پیشین گوئیاں غلط نکلیں۔“

(حقیقت النبوۃ ج ١ ص ١٤٢) پر ہے کہ: ”حیات مسیح پر اعتقاد رکھنا شرک ہے۔“

(ازالۃ اوہام ص ٤٣٩، خزائن ج ٣ ص ١٢٢) پر مرزا کہتا ہے کہ: ”وہ مسیح موعود میں ہوں اور دوسری جگہ کوئی ابن مریم آسمان سے نازل نہیں ہوگا۔“

(انجام آتھم ص ٤١، خزائن ج ١١ ص ٤١) پر ہے کہ: ”مریم کا بیٹا کشلیا کے بیٹے سے کچھ زیادتی (فوقیت، سبقت، بڑائی) نہیں رکھتا۔“

ناظرین! رام چندر کی ماں کا نام کشلیا تھا۔

(اعجاز احمدی ص ١٣، خزائن ج ١٩ ص ١٢٠) پر ہے کہ: ”یہود عیسیٰ علیہ السلام کے بارہ میں ایسے قوی اعتراض رکھتے ہیں کہ ہم بھی جواب دینے سے حیران ہیں۔ بغیر اس کے کہ یہ کہہ دیں کہ ضرور عیسیٰ علیہ السلام نبی تھے۔ کیونکہ قرآن اس کو نبی قرار دیتا ہے اور کوئی دلیل اس کی نبوت پر قائم نہیں رہ سکتی۔ بلکہ ابطال نبوت پر کئی دلیلیں قائم ہیں۔“

(ازالۃ اوہام ص ٣١٠، ٣١١ حاشیہ، خزائن ج ٣ ص ٢٥٨) پر ہے کہ: ”حضرت عیسیٰ علیہ السلام توحید اور دینی استقامت میں (مجھ سے) کم درجہ بلکہ قریب ناکام رہے۔“

٣٣

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٢٠٦

نیز مرزا قادیانی کہتا ہے کہ ۔

اینک منم کہ حسب بشارات آمدم
عیسیٰ کجا است تا بنہد پا بہ ممبرم

(ازالہ اوہام ص ١٥٨، خزائن ج ٣ ص ١٨٠)

(ازالہ اوہام ص ٣٠٣، خزائن ج ٣ ص ٢٥٤) پر ہے کہ: ”حضرت ابن مریم اپنے باپ (نعوذ باللہ ) یوسف کے ساتھ بائیس برس کی مدت تک نجاری کا کام کرتے رہے۔“

(ازالہ اوہام ص ٣٠٩، خزائن ج ٣ ص ٢٧٥) پر ہے کہ: ”حضرت مسیح ابن مریم باذن و حکم الٰہی الیسع نبی کی طرح عمل الترب (یعنی مسمریزم) میں کمال رکھتے تھے۔ اگر یہ عاجز اس امر کو مکروہ اور قابل نفرت نہ سمجھتا تو خدا تعالیٰ کے فضل اور توفیق سے قوی امید رکھتا ہے۔ عجوبہ نمائیوں میں حضرت ابن مریم سے کم نہ رہتا۔“

(چشمہ مسیحی ص ٢٧، خزائن ج ٢٠ ص ٣٥٦) پر ہے کہ: ”مسیح کا بے باپ پیدا ہونا میری نگاہوں میں کوئی عجوبہ بات نہیں ہے۔ حضرت آدم علیہ السلام ماں اور باپ دونوں نہیں رکھتے تھے۔ اب قریب برسات آئی ہے۔ باہر جا کر دیکھئے کہ کتنے کیڑے مکوڑے بغیر ماں باپ پیدا ہو جاتے ہیں۔“

(کشتی نوح ص ٦٦، خزائن ج ١٩ ص ٧١ حاشیہ) پر ہے کہ: ”یورپ کے لوگوں کو جس قدر شراب نے نقصان پہنچایا اس کا سبب یہ تھا کہ عیسیٰ علیہ السلام شراب پیا کرتے تھے۔ شاید کسی بیماری کی وجہ سے یا پرانی عادت کی وجہ سے۔“

(ضمیمہ انجام آتھم ص ٥ تا ٧، خزائن ج ١١ ص ٢٨٩ تا ٢٩١) پر ہے کہ: ”حضرت یسوع مسیح شریر، مکار، موٹی عقل والا، بدزبان، غصیلا، گالیاں دینے والا، جھوٹا، علمی اور عملی قویٰ میں کچا، چور، شیطان کے پیچھے چلنے والا اور شیطان کا ملہم تھا۔ اس کے دماغ میں خلل تھا۔ اس کی تین دادیاں اور نانیاں زنا کار اور کسبی عورتیں تھیں۔ جن کے خون سے آپ کا وجود ظہور پذیر ہوا تھا۔ آپ کا کنجریوں سے میلان جدی مناسبت سے تھا اور آپ نے زنا کاری کا عطر ایک کنجری سے اپنے سر پر ملوایا۔“

(ضمیمہ انجام آتھم ص ٩، خزائن ج ١١ ص ٢٩٣) پر ہے کہ: ”مسلمانوں کو واضح رہے کہ خدا تعالیٰ نے قرآن میں یسوع کی خبر نہیں دی کہ وہ کون تھا۔“

(توضیح المرام ص ٣، خزائن ج ٣ ص ٥٢) پر ہے کہ: ”بائبل اور ہماری احادیث اور اخبار کی

٣٤

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٢٠٧

کتابوں کے رو سے جن انبیاء کا اسی وجود عنصری کے ساتھ آسمانوں پر جانا تصور کیا گیا ہے۔ وہ دو نبی ہیں۔ ایک یوحنا جس کا نام ایلیا اور ادریس بھی ہے اور دوسرے مسیح ابن مریم جس کو عیسیٰ اور یسوع بھی کہتے ہیں۔“

(ضمیمہ انجام آتھم ص ٥ حاشیہ، خزائن ج ١١ ص ٢٨٩) پر ہے کہ: ”یہ تو وہی بات ہوئی جیسا کہ کسی شریر مکار نے جس میں سراسر یسوع کی روح تھی۔“

(مکتوب عربی معہ ترجمہ فارسی ص ١٤٩، خزائن ج ١١ ص ایضاً) پر ہے کہ: ”ایسا کبھی نہیں ہوا کہ کوئی انسان آسمان پر گیا ہو اور پھر واپس آیا ہو۔“

(الحکم مورخہ ٢١؍ فروری ١٩٠٢ء) پر ہے کہ: ”مسیح کے حالات پڑھو تو یہ شخص اس لائق نہیں ہو سکتا کہ نبی بھی ہو۔“

(ضمیمہ انجام آتھم ص ٦ حاشیہ، خزائن ج ١١ ص ٢٩٠) پر ہے کہ: ”آپ (حضرت عیسیٰ علیہ السلام) کو تین مرتبہ شیطانی الہام ہوا۔ جس کی وجہ سے خدا سے منکر ہونے کے لئے تیار ہو گئے۔“

پھر (ضمیمہ انجام آتھم ص ٦ خزائن ج ١١ ص ٢٩٠) میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بارہ میں لکھا ہے کہ: ”نہایت شرم کی بات ہے کہ آپ نے پہاڑی تعلیم کو جو انجیل کا مغز ہے یہودیوں کی کتاب طالمود سے چرا کر لکھا اور پھر ایسا ظاہر کیا کہ یہ میری تعلیم ہے۔“

(کشتی نوح ص ١٦، خزائن ج ١٩ ص ١٧) پر ہے کہ: ”گو خدا نے مجھے خبر دی ہے کہ مسیح محمدی، مسیح موسوی سے افضل ہے۔ لیکن تاہم میں مسیح ابن مریم کی بہت عزت کرتا ہوں۔“

(تحفہ قیصریہ ص ٢٠، ٢١، خزائن ج ١٢ ص ٢٧٣) پر ہے کہ: ”اس (خدا) نے مجھے اس بات پر بھی اطلاع دی ہے کہ درحقیقت یسوع مسیح خدا کے نہایت پیارے اور نیک بندوں میں سے ہے اور ان میں سے ہے جو خدا کے برگزیدہ لوگ ہیں اور ان میں سے ہے جن کو خدا اپنے ہاتھ سے صاف کرتا ہے اور اپنے نور کے سایہ کے نیچے رکھتا ہے۔ خدا نہیں مگر خدا سے واصل ہے اور ان کاملوں میں سے ہے جو تھوڑے ہیں۔“

ایسا ہی ص ٢٢، ٢٣ وغیرہ پر یسوع مسیح کا خدا کا پیارا اور کامل انسان لکھا ہے۔

(ضمیمہ انجام آتھم ص ٧، خزائن ج ١١ ص ٢٩١) پر ہے کہ: ”آپ (حضرت مسیح علیہ السلام) کے ہاتھ میں سوائے مکر و فریب اور کچھ نہیں تھا۔ پھر افسوس کہ نالائق عیسائی ایسے شخص کو خدا بنارہے ہیں۔ آپ کا خاندان بھی نہایت پاک اور مطہر ہے۔ تین دادیاں اور نانیاں آپ کی زنا کار اور کسبی

٣٥

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٢٠٨

عورتیں تھیں۔ جن کے وجود سے آپ کا وجود ظہور پذیر ہوا۔ آپ کا کنجریوں سے میلان اور صحبت بھی شاید اسی وجہ سے ہو کہ جدی مناسبت درمیان ہے۔ ورنہ کوئی پرہیز گار انسان ایک جوان کنجری کو یہ موقع نہیں دے سکتا کہ وہ اس کے سر پر ناپاک ہاتھ لگائے اور زنا کاری کا پلید عطر اس کے سر پر ملے۔ سمجھنے والے سمجھ لیں کہ ایسا انسان کس چلن کا آدمی ہوسکتا ہے۔“

پھر (ضمیمہ انجام آتھم ص٩، خزائن ج١١ ص٢٩٣) پر ہے کہ: ”مسلمان کو واضح رہے کہ خدا تعالیٰ نے یسوع کی قرآن شریف میں کچھ خبر نہیں دی کہ وہ کون تھا۔“

(لوقا باب٧، آیات ابتداء٣٧، لغایت٤٨) میں ہے کہ: ”اس شہر میں ایک عورت گنہگار تھی۔ جب جانا کہ وہ فریسی کے گھر کھانے بیٹھا ہے۔ سنگ مرمر کے عطردان میں عطر لائی اور وہ نیچے پاؤں کے کھڑی تھی اور رو رو کے آنسوؤں سے اس کے پاؤں دھونے لگی اور اپنے سر کے بالوں سے پونچھ کے اس کے پاؤں کو شوق سے چوما اور عطر ملا اور اس فریسی نے جس نے اس کی دعوت کی تھی۔ یہ دیکھ کر دل میں کہا کہ اگر یہ نبی ہوتا تو جانتا کہ یہ عورت جو اس کو چھوتی ہے کون ہے اور کیسی ہے۔ کیونکہ گنہگار ہے۔ یسوع نے اسے جواب میں کہا کہ اے شمعون میں تجھے کچھ کہنا چاہتا ہوں۔ اس نے کہا کہ اے استاد کہہ، ایک شخص کے دو قرض دار تھے۔ ایک پانچ سو دینار کا، دوسرا پچاس کا۔ پھر جب ان کو ادا کرنے کا مقدور نہ تھا۔ دونوں کو بخش دیا۔ سوچو کہ ان میں سے کون اس کو زیادہ پیار کرے گا۔ شمعون نے جواب میں کہا میری دانست میں وہ جسے اس نے زیادہ بخشا تب اس نے اسے کہا کہ تو نے ٹھیک فیصلہ کیا اور اس عورت کی طرف متوجہ ہو کر شمعون سے کہا کہ تو اس عورت کو دیکھتا ہے۔ میں تیرے گھر آیا تو نے مجھے پاؤں دھونے کو پانی نہ دیا۔ پھر اس نے میرے پاؤں آنسوؤں سے دھوئے اور اپنے سر کے بالوں سے پونچھے تو نے مجھ کو نہ چوما۔ پھر اس نے جب سے میں آیا میرے پاؤں کو شوق سے چومنا نہ چھوڑا۔ تو نے میرے سر پر تیل نہ ملا۔ پر اس نے میرے پاؤں پر عطر ملا۔ تب اس عورت سے کہا تیرے گناہ معاف ہوئے۔“

ناظرین! یہ عورت گنہگار تھی۔ جیسے کہ عام لوگ گنہگار ہوا کرتے ہیں اور اس عورت نے حضرت مسیح کے پاؤں پر عطر ملا۔ مگر مرزا قادیانی کی دیانت ملاحظہ ہو کہ وہ اس عورت کو کنجری قرار دیتا ہے اور کہتا ہے کہ اس نے حضرت کے سر پر تیل ملا۔ اگر گنہگار ہونا ہی زنا اور فواحشات کا مترادف ہے تو مرزا بھی اس سے مستثنیٰ نہیں ہوسکتا۔

چنانچہ (براہین احمدیہ ص٥٦٠ حاشیہ در حاشیہ، خزائن ج١ ص٦٦٨) پر ہے کہ: ”مرزا قادیانی

٣٦

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٢٠٩

کو خدا نے کہا کہ ہم نے تم کو بخش چھوڑا ہے جو چاہے سو کر۔"

اور (ضمیمہ انجام آتھم ص ٥٧، خزائن ج ١١ ص ١٤١) پر ہے کہ: "ہم نے تجھے کھلی کھلی فتح دی ہے۔ تاکہ تیرا خدا تیرے اگلے پچھلے گناہ بخش دے۔"

(ازالہ اوہام ص ٣٠٢ حاشیہ، خزائن ج ٣ ص ٢٥٢) پر ہے کہ: "حضرت مسیح کا معجزہ (پرندے بنا کر ان میں پھونک مار کر اڑانا) حضرت سلیمان کے معجزہ کی طرح عقلی تھا۔ تاریخ سے ثابت ہے کہ ان دنوں ایسے امور کی طرف لوگوں کے خیالات جھکے ہوئے تھے۔ جو شعبدہ بازی کی قسم میں سے دراصل بے سود اور عوام کو فریفتہ کرنے والے تھے۔ تعجب کی جگہ نہیں کہ خدا تعالیٰ نے حضرت مسیح کو عقلی طور پر ایسے طریق پر اطلاع دے دی ہو کہ مٹی کا ایک کھلونا کسی کل کے دبانے یا کسی پھونک مارنے کے طور پر ایسا پرواز کرتا ہو۔ جیسے پرند پرواز کرتا ہے۔ اگر پرواز نہیں تو پیروں سے چلتا ہو۔ کیونکہ حضرت مسیح ابن مریم اپنے باپ یوسف کے ساتھ بائیس برس کی مدت تک نجاری کا کام بھی کرتے رہے ہیں اور ظاہر ہے کہ بڑھئی کا کام درحقیقت ایسا کام ہے کہ جس میں کلوں کے ایجاد کرنے اور طرح طرح کی صنعتوں کے بنانے میں عقل تیز ہو جاتی ہے۔"

پھر (ازالہ اوہام ص ٣٠٢ حاشیہ، خزائن ج ٣ ص ٢٥٥) پر لکھتا ہے کہ: "اس سے کچھ تعجب نہیں کرنا چاہئے کہ حضرت مسیح نے اپنے دادا سلیمان کی طرح اس وقت کے مخالفین کو یہ عقلی معجزہ دکھلایا ہو۔ کیونکہ حال کے زمانہ میں بھی دیکھا جاتا ہے کہ اکثر صناع ایسی ایسی چڑیاں بنا لیتے ہیں کہ وہ بولتی بھی ہیں اور ہلتی بھی ہیں اور دم بھی ہلاتی ہیں۔ بمبئی اور کلکتہ میں ایسے کھلونے بہت بکتے ہیں اور یورپ اور امریکہ کے ملکوں سے بکثرت آتے ہیں۔"

(تذکرہ ص ٢٧٣) پر ہے کہ: "اے وہ عیسیٰ جس کا وقت ضائع نہیں کیا جائے گا۔"

اور (تذکرہ ص ٥٢) پر ہے کہ: "کہ میں تجھے اپنی طرف اٹھانے والا ہوں اور تیری شان عجیب ہے اور تو میری جناب میں وجیہہ ہے اور میں نے تجھے اپنے لئے چن لیا ہے۔"

(کتاب ست بچن ص ٨، خزائن ج ١٠ ص ١٢٠) پر مرزا قادیانی لکھتا ہے کہ: "جاہلوں کا ہمیشہ سے یہی اصول ہوتا ہے کہ اپنی بزرگی کی جڑیں جمنا اسی میں دیکھتے ہیں کہ بزرگوں کی خواہ نخواہ تحقیر کریں۔"

(براہین احمدیہ ص ٢١٢ حاشیہ نمبر ١١، خزائن ج ١ ص ٢٣٧) پر ہے کہ: "ہمارے اندر سے وہی خیالات بھلے یا برے جوش مارتے ہیں جو ہمارے اندازہ فطرت کے مطابق ہمارے اندر سمائے ہوئے ہیں۔"

٣٧

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٢١٠

ناظرین! پھر اس پر طرہ یہ ہے کہ (نشان آسمانی ص٢٠، خزائن ج٤ ص٣٨٠) پر مرزا قادیانی لکھتا ہے کہ : ”مجھے سخت تعجب ہے کہ ہمارے علماء عیسیٰ کے لفظ پر کیوں چڑتے ہیں۔ اسلام کی کتابوں میں تو ایسی چیزوں کا بھی عیسیٰ نام ہے۔ جو سخت مکروہ ہیں۔ چنانچہ برہان قاطع میں حرف عین میں لکھا ہے کہ عیسیٰ دہقان کنایہ شراب انگوری سے ہے۔ عیسیٰ نوماہ اس خوشہ انگور کا نام ہے جس سے شراب بنایا جاتا ہے اور شراب انگوری کو بھی عیسیٰ نوماہ کہا جاتا ہے۔“

(انجام آتھم ص٦٩، خزائن ج١١ ص٦٨) پر ہے کہ : ”میں کسی خونی مسیح کے آنے کا قائل نہیں ہوں اور نہ ہی خونی مہدی کا منتظر ہوں۔“

فکر ہر کس بقدر ہمت اوست

(اعجاز احمدی ص٣٠، خزائن ج١٩ ص١٤٠) پر ہے کہ: ”جو حدیث ہمارے الہام کے خلاف ہو۔ ہم اسے ردی میں پھینک دیتے ہیں۔“

(دافع الوسواس ص٢٨٨، خزائن ج٥ ص ایضاً) پر ہے کہ : ”ہمارا صدق یا کذب جانچنے کے لئے ہماری پیشین گوئی سے بڑھ کر کوئی امتحان نہیں ہو سکتا۔“

(حمامتہ البشریٰ ص١٣، خزائن ج٧ ص١٩١) پر ہے کہ : ”مسیح کی وفات اور عدم نزول اور اپنی مسیحیت کے الہامات کو میں نے دس سال تک ملتوی رکھا بلکہ رد کر دیا۔“

(توضیح المرام ص٣٠) پر ہے کہ: ”جبرائیل علیہ السلام جس کا سورج سے تعلق ہے۔ وہ بذات خود اور حقیقتاً زمین پر نہیں اترتا ہے۔ اس کا نزول جو شروع میں وارد ہے۔ اس سے اس کی تاثیر کا نزول مراد ہے اور جو صورت جبرائیل علیہ السلام وغیرہ فرشتوں کی انبیاء علیہم السلام دیکھتے تھے۔ وہ جبرائیل وغیرہ کی عکسی تصویر تھی۔ جو انسان کے خیال میں ممثل ہو جاتی تھی۔“

(ازالہ اوہام ص٨، خزائن ج٣ ص١٠٦) پر ہے کہ : ”موسیٰ علیہ السلام کی پیشین گوئیاں بھی اس صورت میں ظہور پذیر نہیں ہوئیں جس صورت پر موسیٰ علیہ السلام نے اپنے دل میں امید باندھی تھی۔“

(آئینہ کمالات اسلام ص٣٥٣، ضمیمہ نبوت فی الاسلام ص٤٧، عسل مصفیٰ ج١ ص١٨٧) پر ہے کہ: ”انبیاء کی وحی اور تمنا میں شیطان دخل دے دیتا ہے۔“

(ازالہ اوہام حصہ اوّل ص١٤١، خزائن ج٣ ص١٧٢) پر ہے کہ : ”انبیاء پیشین گوئی کی تاویل اور تعبیر میں غلطی کھاتے ہیں۔“

٣٨

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٢١١

مولوی محمد علی ایم۔اے مرزائی نے (ازالہ اوہام ص ٦٢٩، خزائن ج ٣ ص ٤٣٩) میں لکھا ہے کہ: ”چار سو انبیاء کی پیشین گوئی غلط نکلی۔“

(حقیقت الوحی ص ١٦١ حاشیہ، خزائن ج ٢٢ ص ١٨٣) پر ہے کہ: ”یہود کے علماء اور انبیاء نے غلط پیشین گوئی کی۔“

(حقیقت الوحی ص ١٧٧ حاشیہ، خزائن ج ٢٢ ص ١٨٣) پر ہے کہ: ”موسیٰ علیہ السلام کی پیشین گوئی غلط نکلی۔“

(عسل مصفی ج ١ ص ١٣٣) پر ہے کہ: ”حضرت ابراہیم علیہ السلام حقیقت خواب دربارہ اسماعیل علیہ السلام نہ سمجھ سکے۔“

(عسل مصفی ج اول ص ١٤٩) پر ہے کہ: ”انبیاء نے اجتہادی خطائیں کیں۔“

(حقیقت الوحی ص ١٣٤، خزائن ج ٢٢ ص ٥٧٢) پر ہے کہ: ”حضرت نوح علیہ السلام خدا کے وعدہ کو نہ سمجھ سکا۔“

(دافع البلاء ص ١٦، خزائن ج ١٨ ص ٢٣٦) پر ہے کہ: ”داؤد علیہ السلام نے ایک فیصلہ میں غلطی کی۔“

(ازالہ اوہام ص ٦٢٩، خزائن ج ٣ ص ٤٣٩) پر ہے کہ: ”ایک بادشاہ کے وقت میں چار سو نبی نے اس کی فتح کے بارے میں پیشین گوئی کی اور وہ جھوٹے نکلے اور بادشاہ کو شکست آئی۔ بلکہ وہ اسی میدان میں مر گیا۔“

(ازالہ اوہام ص ٣٠٢، خزائن ج ٣ ص ٢٥٢) پر ہے کہ: ”حضرت سلیمان علیہ السلام کے معجزات عقلی اور از قسم شعبدہ بازی تھے۔“

(ازالہ اوہام ص ٧٤٩، خزائن ج ٣ ص ٥٠٤) پر ہے کہ: ”حضرت موسیٰ علیہ السلام نے قاتل کا پتہ لگانے کے لئے گائے ذبح کی تھی اور بوٹی ماری تھی۔ جس سے مردہ زندہ ہوگیا تھا۔ وہ صرف دھمکی اور مسمریزم تھا۔“

(ازالہ اوہام ص ٧٥٣، خزائن ج ٣ ص ٥٠٦) پر ہے کہ: ”حضرت ابراہیم علیہ السلام کا چار پرندوں کو زندہ کرنا مسمریزم تھا۔“

(اخبار الحکم نمبر ١ مورخہ ١٧؍ مارچ ١٩١٠ء) پر ہے کہ: ”سب نبیوں سے اجتہادی غلطیاں ہوئیں۔ اس میں سب ہمارے شریک ہیں۔“

٣٩

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٢١٢

مدعیان کاذب

(مسلم ج٢ ص٣٩٧) پر ہے کہ: ”آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ قیامت سے پہلے تقریباً تیس دجال کذاب ہوں گے۔ جن میں سے ہر ایک مدعی ہوگا کہ میں رسول اللہ ہوں۔“

(ازالۃ اوہام ص٤٩٥، خزائن ج٣ ص٣٦٥) پر ہے کہ: ”دجال پادری ہیں اور کوئی دجال نہیں ہوگا۔“

(ازالۃ اوہام ص٦٨٥، خزائن ج٣ ص٤٧٠) پر ہے کہ: ”دجال کا گدھا یہی ریل ہے اور کوئی نہیں۔“

(ازالۃ اوہام ص٥٠٢، خزائن ج٣ ص٣٦٩) پر ہے کہ: ”یاجوج ماجوج کوئی نہیں۔ ان سے مراد دو قومیں ہیں۔ یعنی انگریز اور روسی۔“

(ابن ماجہ) میں ہے کہ: ”عیسیٰ علیہ السلام کی موت کے بعد یاجوج ماجوج پیدا ہوں گے۔“

(کنز العمال حدیث نمبر ٣٨٣٨٠ ج١٤ ص٢٠٠) پر ہے کہ: ”فرمایا آنحضرت ﷺ نے کہ قیامت سے پہلے دجال ہوگا اور دجال سے پہلے تیس یا زیادہ کذاب مہدی ہوں گے۔ جو میرے طریقہ کے خلاف ہوں گے اور میرے دین کو بدل ڈالیں گے۔ جب تم ایسا دیکھو تو ان سے پرہیز کرو اور عداوت کرو۔“

(صواعق محرقہ اور تحفہ اثنا عشرہ اور بہجۃ العالم مہابت خاں اصفہانی اور تاریخ ابن خلدون ج٣ ص٢١٤، تاریخ طبری ج٤ ص٥٦٦، نگارستان اور تاریخ ابن خلکان اور تاریخ کامل ابن اثیر) میں ہے کہ: ”ایک شخص نامی مقنع نے الوہیت کا دعویٰ ١٩١ھ میں کیا۔ یہ شخص بھی (مرزا قادیانی کی طرح) تناسخ کا قائل تھا اور کہتا تھا کہ خدا نے مجھ میں حلول کیا ہے۔ اس لئے اس کے پیرو اس کو سجدہ کرتے تھے۔ اس نے خراسان میں ظہور کیا اور بخارا اور سرحد کے ایک گروہ کی امداد سے مسلمانوں کو تاخت و تاراج کیا۔ مگر خلیفہ مہدی عباس بن منصور کی افواج شاہی نے اس کو قلعہ میام میں محصور کرلیا۔ جہاں مقنع نے اپنے تمام خاندان کو زہر سے ہلاک کر دیا اور خود تیزاب کے برتن میں ڈوب کر مر گیا۔“

نزہت المجالس بیان ٢٩٣ ھ میں لکھا ہے کہ: ”جعفر بن سباء الاصغر کی اولاد میں سے

٤٠

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٢١٣

ایک شخص مسمیٰ علی بن فضل نے دعوے نبوت کیا۔ یہ صنعا کا باشندہ تھا۔ اس وقت مکتفی باللہ بن معتضد باللہ عباسی کی حکومت تھی۔ اس جعلی نبی کا نقیب پکارا کرتا تھا۔ ”اشہد ان علی بن فضل رسول الله“ بظاہر مدعی نبوت تھا۔ مگر در پردہ مدعی الوہیت (بعینہ مرزا کی طرح) بھی تھا۔ چنانچہ اس کے خطوط میں یہ لکھا ہوتا۔ زمین کے پھیلانے والے اور ہانکنے والے اور پہاڑوں کو ہلانے والے اور ٹھہرانے والے علی بن فضل کی طرف سے فلاں فلاں بندہ کی طرف یہ مذہب سے خارجی تھا۔“

(جیسا کہ مرزا اور مرزائی ہیں)

(الاستقصاء اخبار دول المغرب الاقصیٰ ج١ ص٥١، ١٠٣) پر ہے کہ: ”صالح بن طریف کاذب جو مدعی نبوت ومہدویت ہوا۔ سنتالیس برس بادشاہ اور نبی بنا رہا۔ وحی کا مدعی ہوا اور ایک قرآن بھی بنایا اور ایک نئی نماز بھی بنائی اور کہا کہ یہ کلام خدا ہے۔ جو بذریعہ وحی مجھ پر نازل ہوا ہے۔ حسن بن صباح پینتیس سال نبی رہا۔ (الکامل فی التاریخ ج٩ ص٢١٥، ٢١٦) جس کے مریدوں کی تعداد کئی لاکھ تھی۔ مسیلمہ کذاب بھی آنحضرت ﷺ کے بعد بھی زندہ رہا اور دعوئی نبوت پر قائم رہا۔“

(تاریخ ابن خلدون ج ٢ ص ٢٠٩)

بحوالہ (ملل ونحل ج١ ص ١٨١) لکھا گیا ہے کہ: ”ایک شخص مسمیٰ احمد کیال نبوت کا مدعی ہوا۔“

(سنین اسلام ج٢ ص١٠١، ١٠٢) میں ہے کہ: ”حاکم بامراللہ نے مصر میں دعوئی نبوت کیا اور پینسٹھ سال زندہ رہا اور اپنی موت سے مرا۔“

(تذکرۃ المذاہب) میں ہے کہ: ”ایک شخص مسمیٰ بہبود زنگی مدعی نبوت ہوا اور اس کے مریدوں کی تعداد پانچ کروڑ پانچ لاکھ تھی اور اس نے دس سال تک خلیفہ وقت کے خلاف جنگ کیا۔“

(الفرق بین الفرق ص١٨٦) میں ابو منصور کا حال درج ہے کہ: ”جو فرقہ منصوریہ کا بانی ہے۔ اس کا قول تھا کہ نبوت کبھی منقطع نہیں ہوتی۔ جنت اور نار دو اشخاص کے نام ہیں۔ میتہ، دم لحم خنزیر وغیرہ۔ چند اشخاص ہیں۔ جن کی محبت حرام کی گئی ہے۔ صوم وصلوٰۃ وحج وزکوٰۃ چند اشخاص ہیں۔ جن کی محبت واجب ہے۔ یہ شخص ستائیس سال تک سلطنت اور نبوت کا مدعی رہ کر ٣٦٨ھ میں ہلاک ہوا۔“

فتوحات اسلامیہ میں بحوالہ (تاریخ کامل ج٩ ص١٩٥) لکھا ہے کہ: ”پانچویں صدی کے

٤١

صفحہ ٢١٤

آغاز میں محمد بن تومرت ساکن جبل سوس نے دعویٰ کیا کہ میں سادات حسینی ہوں اور مہدی موعود ہوں۔ یہ شخص علم رمل و نجوم میں بھی ماہر تھا۔ مریدوں کا لشکر تیار کر کے بادشاہ وقت پر ظفریاب ہوا۔ اس کی ترقی کا راز یہ تھا کہ اس نے ایک مرید عبداللہ کو جو عالم و فاضل تھا۔ مصنوعی دیوانہ بنادیا۔ کچھ عرصہ کے بعد یہ بناوٹی دیوانہ مکلف لباس پہن کر مسجد کے محراب میں کھڑا ہو کر یوں گویا ہوا۔

حاضرین مسجد! فرشتہ نے میرا سینہ شق کر کے اور صاف کر کے قرآن و احادیث و کتب سماوی سے بھر دیا ہے۔ یہ سن کر محمد بن تومرت رونے لگا کہ سبحان اللہ میرے ایک ادنیٰ مرید کو رسول اللہ کا سا شرف عطا ہوا ہے۔ جب عوام الناس میں عبداللہ کی صداقت قول کے بارہ میں اختلاف پیدا ہوا تو عبداللہ نے کہا کہ خدا نے مجھے اہل دوزخ کی شناخت بھی عطاء کی ہے۔ جس کی تصدیق تین فرشتے اپنی زبان سے کریں گے۔ جو فلاں کنوئیں میں موجود ہیں۔ (خفیہ طور پر پہلے ہی سے محمد بن تومرت نے تین مریدوں کو سکھا پڑھا کر اس کنوئیں میں اتار دیا تھا) جب لوگوں کا اژدحام کنوئیں پر موجود ہو گیا تو محمد بن تومرت نے دو رکعت نماز پڑھی اور آواز دی کہ عبداللہ کہتا ہے کہ خدا نے اس کو اہل دوزخ کی پہچان عطا کی ہے۔ کیا یہ سچ ہے کنوئیں میں سے تین آوازیں بلند ہوئیں۔ سچ ہے، سچ ہے، سچ ہے۔ بعد ازاں محمد بن تومرت نے کہا کہ چونکہ اب یہ کنواں نزول ملائکہ کی وجہ سے مقدس ہو چکا ہے اور اس میں نجاست وغیرہ کے گرنے کا اندیشہ باقی رہے گا۔ اس لئے اس کنوئیں کو مٹی سے پر کر دو۔ پس بیچارے تین مریدوں کو بخوف افشائے راز زندہ دفن کر دیا گیا۔

محمد بن تومرت کے بعد عبدالمؤمن اس کا جانشین ہوا اور امیر المؤمنین کے لقب سے ملقب ہو کر ٣٣ سال تک جانشین رہ کر ٥٥٨ھ میں فوت ہوا۔ اس نے اپنی خلافت میں اندلس اور عرب کو فتح کیا۔

ابن خلدون میں ہے کہ طریف ابو صبیح نے دوسری صدی کے آغاز میں سلطنت کی بنیاد ڈالی اور نبوت کا مدعی ہوا۔ پانچویں صدی کے آخر تک اس کی اولاد سلطنت کرتی رہی۔ اس کا ولی عہد صالح بن طریف ١٢٧ھ میں قرار دیا گیا۔ یہ بھی باپ کی طرح نبوت کا مدعی رہا۔ اس کا قول تھا کہ میں نبی ہوں۔ مہدی اکبر ہوں، عیسیٰ بن مریم میرے وقت میں نازل ہوں گے اور میرے پیچھے نماز پڑھیں گے۔ میں خاتم الانبیاء ہوں۔ مجھے ایک نیا قرآن عطا کیا گیا ہے۔ یہ شخص ٤٧ سال تک حکمران رہ کر فوت ہوا۔

٤٢

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٢١٥

خسوفین

مرزا قادیانی نے (قصیدہ اعجازیہ ص ٧١، خزائن ج ١٩ ص ١٨٣) پر لکھا ہے ۔

له خسف القمر المنيران لی
خسا القمران المشرقان اتنکر

یعنی رسول اللہ کی نبوت کی گواہی شق القمر نے دی اور میری نبوت کی شہادت میں چاند اور سورج دونوں کو گہن لگا۔ احادیث یہ ہیں:

السمٰوت والارض ينكسف القمر لاول ليلة من رمضان وينكسف الشمس فى النصف منه“

(دارقطنی ج ٢ ص ٦٥)

مرتين“

پہلی حدیث کا مطلب یہ ہے کہ امام محمد باقر فرماتے ہیں کہ امام آخرالزمان کے ظہور کے نشانات میں سے ایک نشان یہ بھی ہوگا کہ ماہ رمضان کی پہلی تاریخ کو چاند گرہن اور ماہ رمضان کی چودہ یا پندرہ کو سورج گرہن ہوگا اور ایک ہی ماہ کی مذکورہ تاریخوں پر دونوں گرہن کا لگنا خلاف قوانین قدرت ہے اور جب سے زمین اور آسمان پیدا ہوئے ہیں۔ یہ امر کبھی وقوع پذیر نہیں ہوا۔

دوسری حدیث شریف کا مطلب یہ ہے کہ امام آخرالزمان علیہ السلام کے ظہور فرمانے سے پہلے (ظہور فرمانے کے بعد نہیں) چاند کو ماہ رمضان میں دو دفعہ گرہن لگے گا۔ مؤلف عرض کرتا ہے۔

٢٨؍رمضان کو ہوا۔ جو نصف رمضان نہیں کہلا سکتا۔ کچہریوں میں عام تحریریں ہوتی رہتی ہیں اور خود مرزا قادیانی بھی کسی ایسے ہی اردو کے صیغہ میں منشی رہا تھا اور خوب جانتا تھا کہ نصف سے مراد آدھا ہوا کرتی ہے۔ منکہ مرزا غلام احمد قادیانی نے ایک صد روپیہ قرضہ لیا نصف جس کا پچاس روپیہ ہوتے ہیں۔ یہ کبھی نہیں لکھا گیا کہ نصف جس کا چورانوے روپیہ ہوتے ہیں۔

سے لے کر اب تک وقوع پذیر نہیں ہوا۔ منجمین اور قوانین قدرت کے برخلاف ہے۔ لیکن ان

٤٣

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٢١٦

دونوں تاریخوں کے مخالف ماہ رمضان میں جو خسوف وکسوف ہوئے۔ نقشہ ذیل ظاہر کرتا ہے کہ ماہ رمضان میں خسوف اور کسوف اس طرح آج تک صدہا دفعہ ہو چکے ہیں۔ کیونکہ یہ تمام قوانین قدرت کے مطابق ہیں۔ سوائے اس کے جو حدیث میں مذکور ہوا۔

نام کتاب سن قمری جن میں ماہ رمضان میں خسوف وکسوف ہوا غایت المقصود ٦٢ھ، ٦٣ھ، ٨٥ھ، ١٠٧ھ، ١٠٨ھ ابن خلکان ١٥٢ھ، ٢٤١ھ، ٢٤٢ھ، ٥٠٨ھ، ٥٠٩ھ عسل مصفیٰ ٢٨٥ھ، ٢٨٦ھ، ٣٠٨ھ، ١٢٦٧ھ، ١٣١١ھ، ١٣١٢ھ، ٧٧٦ھ، ٧٧٧ھ، ١٣١٠ھ، ١٢٢٢ھ، ١٢٢٣ھ، ١٠٨٨ھ، ١٠٨٩ھ، ١١٣٣ھ، ١١٣٤ھ، ٥٠٨ھ، ٥٠٩ھ، ٥٣١ھ، ٥٥٣ھ، ٥٥٤ھ ہدیہ مہدی ٩١٠ھ، ٩١١ھ، ٩٥٢ھ، ٩٥٥ھ، حدیث الغاشیہ ٣١ھ، ٣٢ھ، ٧ھ مہدی نامہ ٦٨٧ھ، ٦٨٨ھ تواریخ احمدی ١٢٠٠ھ، ١٢٢٢ھ، ١٢٢٣ھ

(منقول از کتاب الذکر الحکیم ص ١٣٢)

ج...... (عسل مصفیٰ ص ٥١٩) پر ہے کہ: ”مرزا قادیانی نے دعویٰ نبوت جمادی الثانی ١٣٠٨ھ میں کیا۔ مگر یہ خسوف وکسوف ماہ رمضان ١٣١١ھ میں واقع ہوئے۔ حالانکہ بروئے احادیث خسوف وکسوف قبل از ظہور مہدی ہوں گے۔“

پیشین گوئیاں

(اخبار اہل حدیث مورخہ ١٢؍جون ١٩٠٨ء نمبر ٣٤، جلد پنجم ص ٦) پر ڈاکٹر عبدالحکیم پٹیالہ کا مرزا کے نام چیلنج چھپا تھا۔ جس کا ماحصل یہ تھا کہ مرزا قادیانی نے دعویٰ کیا کہ عبدالحکیم اس تاریخ سے چودہ ماہ کے اندر ہلاک ہو جائے گا اور اس کا نشان اصحاب فیل کی طرح مٹ جائے گا اور خدا میری عمر بڑھائے گا اور اگر وہ میعاد مقررہ کے اندر ہلاک نہ ہوا تو میں کذاب مفتری، دجال، بدمعاش، ملعون بلکہ تمام بدمعاشوں سے بدتر ٹھہروں گا۔ ڈاکٹر صاحب موصوف نے بھی اسی طرح مرزا قادیانی کی ہلاکت کی پیش گوئی کی۔ چنانچہ اس کے متعلق ڈاکٹر صاحب کے یہ الفاظ ہیں کہ: ”الحمد للہ! یہ کالا ناگ، شیطان، لومڑ، دجال، کذاب، عیار، ملعون ٢٦؍مئی ١٩٠٨ء کو بہ سزائے موت داخل جہنم ہوا۔“

٤٤

صفحہ ٢١٧

ناظرین! اسی طرح مرزا قادیانی نے آخری فیصلہ مورخہ ١٥؍اپریل، (مجموعہ اشتہار ج٣ ص٥٧٨) میں لکھا ہے کہ اگر وہ سزا جو انسانی ہاتھوں سے نہیں بلکہ محض خدا کے ہاتھ سے ہے۔ جیسے طاعون ہیضہ وغیرہ مہلک بیماریاں وغیرہ مولوی ثناء اللہ امرتسری پر میری زندگی میں وارد نہ ہوں گی تو میں خدا کی طرف سے نہیں ہوں۔ مرزا مر گیا۔ لیکن ثناء اللہ ابھی تک زندہ ہے۔

(الحکم مورخہ ١٠؍نومبر ١٩٠٧ء) میں مرزا قادیانی نے کہا کہ: ”میرے ہاں پانچواں لڑکا پیدا ہوگا۔“ (لیکن نہ ہوا اور مرزا مر گیا) ناظرین! جب مرزا قادیانی کے بیٹے محمود احمد کے ہاں بیٹا پیدا ہوا تو الحکم نے لکھا کہ یہی وہ مرزا کا لڑکا پانچواں بیٹا ہے۔ جس کے بارہ میں مرزا قادیانی کا الہام تھا۔

(اعجاز احمدی ص٥١، خزائن ج١٩ ص١٦٣) پر ہے کہ: ”مولوی محمد حسین بٹالوی مجھ پر ایمان لائے گا۔“ (لیکن وہ ایمان نہ لایا)

مرزا قادیانی نے (الہامی اشتہار ٢١؍نومبر ١٨٩٨ء) میں مولوی محمد حسین بٹالوی کے بارے میں کہا کہ ہم خدا پر فیصلہ چھوڑتے ہیں اور مبارک ہے وہ جو خدا کے فیصلہ کو عزت کی نگاہ سے دیکھے۔

ناظرین! مرزا قادیانی اور محمد حسین موصوف کے متعلق یہ فیصلہ عدالت میں ہوا کہ مرزا قادیانی سے حلفی مچلکہ لیا گیا کہ آئندہ کسی کی توہین نہ کروں گا اور محمد حسین کو کافر اور دجال نہیں کہوں گا اور نہ دعوت مباہلہ کروں گا اور محمد حسین کو بری کر دیا گیا۔

(کتاب الحق الصریح فی اثبات حیوٰۃ المسیح) میں ہے کہ: ”مرزا قادیانی نے کہا (جب مولوی محمد بشیر سہوانی نے مرزا قادیانی کی تاویلات کو صرف نحو کے قواعد سے غلط ثابت کیا) کہ میں صرف نحو کو نہیں مانتا۔“ نیز یہ بات سب لوگ جانتے ہیں کہ پیر مہر علی شاہ گولڑوی کو مرزا قادیانی نے دعوت مقابلہ دی اور وہ اس غرض سے لاہور بھی چلا آیا۔ اس پر مرزائیوں نے مرزا قادیانی کے نام خطوط اور تار بھیجے۔ مگر مرزا قادیانی میدان میں نہ آیا۔

(اخبار وفادار دہلی مورخہ ١٥؍ستمبر ١٨٩٤ء) میں مرزا قادیانی کے متعلق یہ الفاظ درج ہیں۔

اومرزا، اوقادیانی، اوجھوٹے مسیح موعود، اوغلام، اوعبدالدرہم، اوولدالدنانیر، خداوند تجھے تیری بدنیتی اور تیری جھوٹی پیشین گوئی کے صلہ میں اور تو خیر مگر کم سے کم تیری جھوٹی پیشین گوئی

٤٥

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٢١٨

کے نتیجہ کے تمام فقرات کا تجھ پر ہی خاتمہ کر کے تمام دنیا میں تجھے عبرت مجسم بنا کر اسلام کی صداقت کی زیادہ تر صریح نظیر قائم کرے۔ ١٨٩٣ء میں مرزا قادیانی کا مناظرہ عبداللہ آتھم سے دربارہ الوہیت عیسیٰ علیہ السلام امرتسر میں ہوا۔ پندرہ روز تک بازار مباحثہ گرم رہا۔ پچاس پچاس آدمی فریقین سے بذریعہ ٹکٹ سامعین مناظرہ تھے۔ پھر یہی مناظرہ جنگ مقدس کی صورت میں شائع ہوا ہے۔

(جنگ مقدس ص ٢٠٩، خزائن ج ٦ ص ٢٩١) پر ہے کہ: ”آج رات جو مجھ پر کھلا ہے وہ یہ ہے کہ جب میں نے بہت تضرع اور ابتہال سے جناب الہی میں دعا کی کہ تو اس امر میں فیصلہ کر اور ہم عاجز بندے ہیں۔ تیرے فیصلہ کے سوا کچھ نہیں کر سکتے۔ تو اس نے مجھے یہ نشان بشارت کے طور پر دیا ہے کہ اس بحث میں دونوں فریقوں میں سے جو فریق عمداً جھوٹ کو اختیار کر رہا ہے اور عاجز انسان کو خدا بنا رہا ہے اور انہی دنوں مباحثہ کے لحاظ سے یعنی فی دن ایک مہینہ لے کر یعنی پندرہ ماہ تک ہاویہ میں گرایا جائے گا اور اس کو سخت ذلت پہنچے گی۔ بشرطیکہ حق کی طرف رجوع نہ کرے اور جو شخص سچ پر ہے اور سچے خدا کو مانتا ہے۔ اس کی اس سے عزت ظاہر ہوگی اور اس وقت جب پیشین گوئی ظہور میں آئے گی۔ بعض اندھے سوجاکھے کئے جائیں گے اور بعض لنگڑے چلنے لگیں گے اور بعض بہرے سننے لگیں گے۔“

(رسالہ کرامات الصادقین اخیر صفحہ، خزائن ج ٧ ص ١٦٣) پر ہے کہ: ”خدا نے آتھم کے مرنے کی مجھے بشارت دی ہے۔“

(تریاق القلوب ص ١١، خزائن ج ١٥ ص ١٤٨) پر ہے کہ: ”آتھم کی موت کی پیشین گوئی کی گئی تھی۔ جس میں یہ شرط تھی کہ اگر آتھم پندرہ مہینے کی میعاد میں حق کی طرف رجوع کر لیں گے تو موت سے بچ جائیں گے۔“

(جنگ مقدس ص اخیر ٢١١، خزائن ج ٦ ص ٢٩٣) پر ہے کہ: ”اگر یہ پیشین گوئی جھوٹی نکلے یعنی وہ فریق جو خدا تعالیٰ کے نزدیک جھوٹ پر ہے۔ وہ پندرہ ماہ کے عرصہ میں آج کی تاریخ سے بسزائے موت ہاویہ میں نہ پڑے تو میں ہر ایک قسم کی سزا اٹھانے کو تیار ہوں۔ مجھ کو ذلیل کیا جاوے، روسیاہ کیا جاوے۔ میرے گلے میں رسا ڈالا جاوے۔“

(اشتہار ہزاری دو ہزاری سہ ہزاری چہار ہزاری، انوار الاسلام ص ٤، خزائن ج ٩ ص ٤) پر ہے کہ: ”کہ آتھم کی موت اس لئے نہیں ہوئی کہ اس نے حق کی طرف رجوع کیا تھا اور حق کی طرف

٤٦

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٢١٩

رجوع کرنے کا مطلب یہ ہے کہ آتھم کے دل پر پیشین گوئی نے اثر کیا اور وہ اس پیشین گوئی کی عظمت کی وجہ سے دل میں موت کے غم سے شہر بہ شہر مارا مارا پھرتا رہا۔‘‘

(اشتہار انعامی تین ہزار حاشیہ، مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ٢٩، اشتہار نمبر ٩) پر ہے کہ: ”بعض مخالف مولوی اور نام کے مسلمان اور ان کے چیلے کہتے ہیں کہ جب کہ ایک مرتبہ عیسائیوں کی فتح ہو چکی تو پھر بار بار آتھم صاحب کے مقابلہ پر آنا انصافاً واجب نہیں تو اس کا جواب یہ ہے کہ اے بے ایمانو! نیم عیسائیو، دجال کے ہمراہیو! اسلام کے دشمنو! کیا پیشین گوئی کے دو پہلو نہیں تھے۔ پھر کیا آتھم صاحب نے رجوع الی الحق کے احتمال کو اپنے اقوال اور افعال سے آپ قوی نہیں کیا۔ کیا وہ ڈرتے نہیں رہے کیا انہوں نے اپنی زبان سے نکلنے کا اقرار نہیں کیا۔

جب مرزا قادیانی نے آتھم کو قسم کھانے پر مجبور کیا کہ آیا تم دل میں مجھ پر ایمان نہیں لائے ہو تو آتھم نے یہ جواب دیا جو نور افشاں ١٥؍اکتوبر ١٨٩٤ء میں درج ہے کہ اگر مجھے بھی تم حلف کرانا چاہو تو عدالت میں طلب کرو۔ عدالت کے جبر سے میں بھی قسم کھالوں گا۔‘‘

(انوار الاسلام ص ٥، خزائن ج ٩ ص ٥) پر ہے کہ: ”توجہ سے یاد رکھنا چاہئے کہ ہاویہ میں گرائے جانے کو جو اصل الفاظ الہام ہیں عبداللہ آتھم نے اپنے ہاتھ سے پورا کر دیا اور جن مصائب میں اس نے اپنے تئیں ڈال لیا اور جس طرز سے مسلسل گھبراہٹوں کا سلسلہ ان کے دامن گیر ہو گیا اور ہول اور خوف نے اس کے دل کو پکڑ لیا۔ یہی اصل ہاویہ تھا اور سزائے موت اس کے کمال کے لئے ہے۔ جس کا ذکر الہامی عبارت میں موجود بھی نہیں۔ بیشک یہ مصیبت ایک ہاویہ تھا۔ جس کو عبداللہ آتھم نے اپنی حالت کے موافق بھگت لیا۔‘‘

عالی جناب محمد علی خان صاحب رئیس مالیر کوٹلہ نے جو مرزا قادیانی کے معتقد ہیں۔ قادیان ایک خط بھیجا تھا۔ جس کا خلاصہ یہ ہے۔

بسم اللہ الرحمن الرحیم مولانا مکرم سلمکم اللہ تعالیٰ

السلام علیکم! پیشین گوئی کی میعاد مقررہ ٥؍ستمبر ١٨٩٤ء تھی۔ گو پیشین گوئی کے الفاظ کچھ ہی ہوں۔ لیکن آپ نے جو الہام کی تشریح کی ہے وہ یہ ہے۔ یعنی اس وقت اقرار کرتا ہوں کہ اگر یہ پیشین گوئی جھوٹی نکلی۔ یعنی وہ فریق جو خدا کے نزدیک جھوٹ پر ہے۔ ١٥؍ماہ کے عرصہ میں آج کی تاریخ سے سزائے موت ہاویہ میں نہ پڑے تو میں ہر ایک سزا کے اٹھانے کے لئے تیار ہوں۔ مجھ کو ذلیل کیا جائے۔ روسیاہ کیا جائے۔ میرے گلے میں رسا ڈالا جائے مجھ کو

٤٧

صفحہ ٢٢٠

پھانسی دیا جائے۔ ہر ایک بات کے لئے تیار ہوں۔ میں اللہ جل شانہ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ وہ ضرور ایسا ہی کرے گا۔ ضرور کرے گا۔ ضرور کرے گا۔ زمین اور آسمان ٹل جائیں پر اس کی باتیں نہ ٹلیں گی۔ اب کیا یہ پیشین گوئی آپ کی تشریح کے موافق پوری ہو گئی۔ نہیں ہر گز پوری نہیں ہوئی۔ عبداللہ آتھم اب تک صحیح و سالم موجود ہے اور اس کی بسزائے موت ہاویہ میں نہیں گرایا گیا۔ بیشک ہماری جماعت ذلت اور رسوائی کے ہاویہ میں گر گئی۔ جو خوشی اس وقت عیسائیوں کو ہے وہ مسلمان کو کہاں، لڑکے کی پیشین گوئی میں تفاول کے طور پر ایک لڑکے کا نام بشیر رکھا گیا۔ لیکن وہ مر گیا۔ اس وقت بھی غلطی ہوئی۔ اب اس معرکہ کی پیشین گوئی کے اصلی مفہوم کے نہ سمجھنے نے غضب ڈھایا۔ مجھ کو تو اب اسلام پر شبہے پڑنے شروع ہو گئے۔ اس زخم کے لئے کوئی مرہم عنایت فرمائیں۔ ورنہ آپ نے مجھے ہلاک کر دیا۔ ہم لوگوں کو کیا منہ دکھائیں۔

ناظرین ! ہمیں معلوم نہیں اس خط کا جواب حکیم نور الدین نے کیا دیا ہوگا۔ لیکن حکیم صاحب نے کسی اور دوست کو خط میں لکھا تھا کہ میرے نزدیک یہ پیشین گوئی پوری نہیں ہوئی۔

(چشمہ معرفت ص ٢٢٢، خزائن ج ٢٣ ص ١٣١) پر مرزا قادیانی لکھتا ہے کہ: ”جب ایک بات میں کوئی شخص جھوٹا ثابت ہو جائے تو پھر دوسری باتوں میں بھی اس پر اعتبار نہیں رہتا۔“

(کشتی نوح ص ٦، خزائن ج ١٩ ص ٦) پر ہے کہ: ”پیشین گوئی میں یہ بیان تھا کہ فریقین میں سے جو شخص اپنے عقیدے کی رو سے جھوٹا ہے وہ پہلے مرے گا۔ سو آتھم مجھ سے پہلے مر گیا۔“

(حقیقت الوحی ص ١٨٥ حاشیہ، خزائن ج ٢٢ ص ١٩٣) پر ہے کہ : ”اگر کسی کی نسبت یہ پیشین گوئی ہو کہ وہ ١٥ مہینے تک مجذوم ہو جائے گا۔ پس اگر وہ ١٥ کے بجائے ٢٠ مہینے میں مجذوم ہو جائے اور اس کی ناک اور تمام اجزاء گر جائیں تو کیا وہ مجاز ہو گا کہ یہ کہے کہ پیشین گوئی پوری نہیں ہوئی۔ نفس واقعہ پر نظر چاہئے۔“

ناظرین ! عبداللہ کی موت ٢٧ جولائی ١٨٩٦ء کو پیشین گوئی سے قریباً سال بعد واقعہ ہوئی۔

(سراج منیر ص ١٢، خزائن ج ١٢ ص ١٥) پر مرزا قادیانی کہتا ہے کہ : ”کسی انسان کا اپنی پیشین گوئی میں جھوٹا نکلنا خود تمام رسوائیوں سے بڑھ کر رسوائی ہے۔“

(انجام آتھم ص ٢٧، خزائن ج ١١ ص ٢٧) پر ہے کہ : ”خدا کی لعنت اس شخص پر کہ اس رسالہ کے پہنچنے کے بعد نہ مباہلہ میں حاضر ہو اور نہ تکفیر اور توہین کو چھوڑے۔“

٤٨

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٢٢١

(ضمیمہ انجام آتھم ص ١٩، خزائن ج ١١ ص ٣٠٣) پر ہے کہ: ”میں نے یہ اشتہار دے دیا ہے کہ جو شخص اس کے بعد اس سیدھے طریق سے میرے ساتھ مباہلہ نہ کرے اور نہ تکذیب سے باز آئے۔ وہ خدا کی لعنت اور فرشتوں کی لعنت اور تمام صلحا کی لعنت کے نیچے ہے۔“

(مسیح ص ٣٢٩) پر اشعار درج ہیں جو اس وقت لوگوں نے گائے جب عبداللہ آتھم عیسائی کو عیسائیوں نے ہاتھی پر بٹھا کر اس کا جلوس سر بازار نکالا۔ ان اشعار میں سے چند درج ذیل کرتا ہوں۔

ترا چھوٹا سا منہ اتنی بڑی بات نہ ہو کیونکر ذلیل و خوار مرزا
مسیح کاذب و مہدی کذاب سراپا جھوٹ کے آثار مرزا
تجھے روتے ہی گزرے پندرہ ماہ ہوئی حالت یہ تیری زار مرزا
رگ جاں کاٹنے آیا تھا میری ستمبر کی چھٹی کا تار مرزا
ولے پھر بھی نہ مرنے پایا آتھم کہ وہ پہلے سے تھا تیار مرزا
کہاں ہیں تیرے نور الدین و احسن
فصیح و جابر و طرار مرزا

ناظرین! اخبار وفادار نے یہ انعام مرزا قادیانی کو اس وقت دیا جب کہ آتھم کی موت کی پیشین گوئی کی گئی تھی۔ اب میں عبداللہ آتھم کا وہ خط بطور خلاصہ لکھتا ہوں جو عبداللہ آتھم نے اخبار وفادار کو بھیجا۔ جب کہ پیشین گوئی کی میعاد ختم ہو چکی تھی۔ ”میں خدا کے فضل سے تندرست ہوں۔ مرزا کہتا ہے کہ آتھم نے دل میں اسلام قبول کر لیا ہے۔ اس لئے نہیں مرا۔ میں دل سے اور ظاہراً پہلے بھی عیسائی تھا اور اب بھی عیسائی ہوں اور اس بات پر خدا کا شکر گزار ہوں۔ اس وقت میری عمر ٦٨ سال سے زیادہ ہے۔“

(سراج منیر ص ١٢، خزائن ج ١٢ ص ١٥) پر مرزا لیکھ رام آریہ پشاوری کے متعلق پیشین گوئی کرتا ہے۔ جس کا خلاصہ یہ ہے: ”مجھ کو اللہ جل شانہ کی طرف سے یہ الہام ہوا کہ لیکھ رام ایک بے جان گوسالہ ہے۔ جس کے اندر سے مکروہ آواز نکل رہی ہے اور اس کے لئے اس کی گستاخیوں اور بدزبانیوں کے عوض میں سزا اور رنج اور عذاب مقدر ہے۔ جو ضرور اس کو ملے گا اور آج مورخہ ٢٠ فروری ١٨٩٣ء سے چھ سال کے عرصہ تک یہ شخص عذاب شدید میں مبتلا ہوگا۔ اگر اس پر عذاب نازل نہ ہوا جو معمولی تکلیفوں سے نرالا اور خارق عادت اور اپنے اندر الٰہی ہیبت رکھتا ہو تو

٤٩

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٢٢٢

سمجھو کہ میں خدا کی طرف سے نہیں ہوں۔“

ناظرین! تمام الہام میں لیکھ رام کی موت کا کہیں ذکر نہیں ہے۔ صرف عذاب شدید کا تذکرہ ہے اور نہ ہی موت کو خرق عادت کہا جاسکتا ہے۔ جو ہر انسان کے لئے ضروری ہے۔ عام افواہ یہ ہے کہ لیکھ رام کو ١٨٩٧ء میں قتل کرایا گیا۔

ناظرین! مرزا احمد بیگ کی لڑکی سے مرزا غلام احمد قادیانی کے دعویٰ نکاح کے متعلق چند پرلطف سطور حوالہ قلم کرتا ہوں۔

(ضمیمہ انجام آتھم ص ٥٤، خزائن ج ١١ ص ٣٣٨) پر مرزا قادیانی لکھتا ہے کہ: ”یاد رکھو کہ اس پیشین گوئی کی دوسری جز یعنی نکاح پوری نہ ہوئی تو میں ہر ایک بد سے بدتر ٹھہروں گا۔“

یہ اسی کتاب کے حاشیہ (ص ٥٣، خزائن ج ١١ ص ٣٣٧) پر لکھا ہے کہ: ”اس پیشین گوئی کی تصدیق کے لئے رسول اللہ ﷺ نے بھی پہلے سے ایک پیشین گوئی فرمائی ہے کہ مسیح موعود بیوی کرلے گا اور صاحب اولاد ہوگا۔ اب ظاہر ہے کہ بیوی کرنا اور اولاد ہونا عام طور پر مقصود نہیں۔ کیونکہ عام طور پر ہر ایک مرد شادی کرتا ہے اور اولاد بھی ہوتی ہے۔ اس میں کچھ خوبی نہیں بلکہ بیوی کرنے سے مراد وہ خاص نکاح ہے جو بطور نشان ہوگا اور اولاد سے وہ خاص اولاد مراد ہے جس کی نسبت اس عاجز کی پیشین گوئی موجود ہے۔ گویا اس جگہ رسول اللہ ﷺ ان سیاہ دل منکروں کو اس کے شبہات کا جواب دے رہے ہیں اور فرما رہے ہیں کہ یہ باتیں ضرور پوری ہوں گی۔“

لیکن ناظرین! محمدی بیگم کا نکاح ایک شخص مسمّی سلطان محمد سے کر دیا گیا اور مرزا منہ دیکھتا رہ گیا۔

(شہادت قرآن ص ٨٠، خزائن ج ٦ ص ٣٧٦) پر ہے کہ: ”ان تمام میں وہ پیشین گوئی جو مسلمان قوم سے تعلق رکھتی ہے۔ بہت ہی عظیم الشان ہے اور وہ یہ ہے کہ مرزا احمد بیگ ہوشیار پوری تین سال کی میعاد کے اندر فوت ہو جاوے گا۔ اس کا داماد سلطان محمد اڑھائی سال کے اندر فوت ہو جاوے گا۔ مرزا احمد بیگ تا روز شادی دختر کلاں فوت نہ ہوگا۔ وہ دختر بھی تا نکاح اور تا ایام بیوہ ہونے اور نکاح ثانی فوت نہ ہوگی اور یہ عاجز بھی ان تمام واقعات کے پورا ہونے تک فوت نہ ہوگا۔ حتیٰ کہ اس کا نکاح اس عاجز سے ہو جاوے گا۔“

(حقیقۃ الوحی ص ١٨٧، خزائن ج ٢٢ ص ١٩٥) پر ہے کہ: ”احمد بیگ کے مرنے سے بڑا

٥٠

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٢٢٣

خوف اس کے اقارب پر غالب آ گیا۔ یہاں تک کہ بعض نے ان میں سے میری طرف عجز و نیاز کے خط بھی لکھے کہ دعا کرو۔ پس خدا نے ان کے اس خوف اور اس قدر عجز و نیاز کی وجہ سے پیشین گوئی کے وقوع میں تاخیر ڈال دی۔“

نیز (ص ١٣٣، خزائن ج ٢٢ ص ٥٧٠) پر ہے کہ: ”یہ امر کہ الہام میں یہ بھی تھا کہ اس عورت کا آسمان پر میرے ساتھ نکاح پڑھایا گیا ہے۔ یہ درست ہے مگر جیسا کہ ہم بیان کر چکے ہیں۔ اس نکاح کے ظہور کے لئے جو آسمان پر پڑھایا گیا ہے۔ خدا کی طرف سے ایک شرط بھی تھی جو اس وقت شائع کی گئی تھی۔ وہ یہ تھی۔“

”ایتہا المرأۃ توبی توبی فان البلاء علی عقبک“ پس جب ان لوگوں نے شرط کو پورا کر دیا تو نکاح فسخ ہو گیا تاخیر میں پڑ گیا۔

(تشحیذ الاذہان بابت مئی ١٩١٣ء ص ٢٢٤) پر مسٹر اکمل لکھتا ہے کہ: ”مرزا قادیانی نے اس الہام کے سمجھنے میں غلطی کھائی ہے۔“

حکیم نور الدین نے (ریویو ج ٧ ص ٢٧٩) پر عبارت لکھی ہے کہ: ”جس کا یہ مطلب ہے کہ اگر مرزا غلام احمد قادیانی کی نسل میں سے کوئی لڑکا مرزا احمد بیگ کی نسل میں سے کسی لڑکی کے ساتھ تاقیامت بیاہا گیا تو مرزا قادیانی کی یہ پیشین گوئی سچی سمجھی جاوے گی۔“ چہ خوب!

(الحکم مورخہ ٣٠؍ جون ١٩٠٥ء ص ٢، کالم ٢) پر عبارت درج ہے جس کا خلاصہ مطلب یہ ہے کہ: ”اگر محمدی بیگم بنت مرزا احمد بیگ کا نکاح مرزا سلطان محمد سے ہو گیا تو مضائقہ نہیں۔ بالآخر محمدی بیگم کا نکاح مرزا غلام احمد قادیانی سے ضرور ہوگا۔“

ذوالفقار علی مرزائی نے (الحکم مورخہ ١٧؍ اکتوبر ١٩٠٥ء ص ٥ کالم ٢، ٣) میں لکھا کہ: ”نکاح میں ناکامیابی کہنا تو جب روا ہے کہ فریقین میں سے کوئی ایک مرجائے۔“

(حقیقت الوحی) میں ہے کہ: ”خدا نے اس نکاح کو اب منسوخ کر دیا ہے۔“

(الحکم مورخہ ١٠؍ اگست ١٩٠١ء ص ١٤ کالم ٣) میں طولانی عبارت درج ہے جس کا ماحصل یہ ہے کہ: ”سچ ہے کہ محمدی بیگم کا نکاح سلطان محمد کے ساتھ ہو گیا ہے۔ لیکن محمدی بیگم میرے نکاح میں ضرور آئے گی اور خدا کی باتیں ٹلتی نہیں ہیں۔ ہو کر رہیں گی۔“

(ازالۃ اوہام ص ٣٩٦، خزائن ج ٣ ص ٣٠٥) پر خوب زور و شور سے لکھا ہے کہ: ”خدا نے پیشین گوئی کے طور پر اس عاجز پر ظاہر فرمایا کہ مرزا احمد بیگ ولد مرزا گاماں بیگ ہوشیار پوری کی

٥١

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٢٢٤

دختر کلاں انجام کار تمہارے نکاح میں آئے گی اور وہ لوگ بہت عداوت کریں گے اور بہت مانع آئیں گے اور کوشش کریں گے کہ ایسا نہ ہو۔ لیکن آخر کار ایسا ہی ہوگا اور وہ ہر طرح سے تمہاری طرف لائی جائے گی۔ باکرہ ہونے کی حالت میں یا بیوہ کر کے اور ہر ایک روک کو درمیان سے اٹھا دیا جائے گا اور اس کام کو ضرور پورا کیا جائے گا۔ کوئی نہیں جو اس کو روک سکے۔‘‘

ناظرین! جب مرزا قادیانی نے دیکھا کہ اس نکاح کے دعاوی خاک میں مل رہے ہیں اور چارہ کار بھی ہاتھوں سے باہر جارہا ہے۔ تو محمدی بیگم کے اقرباء کو چند خطوط لکھے جن میں خوشامد اور طمع کے انبار لگا دیئے ہیں اور دانت پیس پیس کر نکاح کا طالب ہوا ہے۔ مگر طمع را سہ حرف است و ہر سہ تہی خطوط کا ضروری خلاصہ درج ذیل کرتا ہوں۔

پہلا خط: از طرف خاکسار غلام احمد از لدھیانہ اقبال گنج مورخہ ٢؍ مئی ١٨٩١ء بنام مشفقی مرزا علی شیر بیگ صاحب سلمہ تعالیٰ ۔ السلام علیکم ورحمۃ اللہ !

مجھ کو آپ سے کسی طرح سے فرق نہ تھا۔ میں آپ کو غریب الطبع اور نیک خیال اور اسلام پر قائم سمجھتا ہوں۔ سنا ہے کہ عید کی دوسری کو محمدی بیگم کا نکاح سلطان محمد سے ہونے والا ہے۔ اس نکاح کے شریک مجھ پر لوگوں کو ہنسانا اور مجھے خوار اور ذلیل اور روسیاہ کرنا چاہتے ہیں۔ اگر آپ کے گھر کے لوگ مرزا محمد بیگ کو سمجھاتے تو وہ کیوں نہ سمجھتا،۔ کیا میں چوہڑا یا چمار تھا۔ جو مجھ کو لڑکی دینا عار تھی۔ میری خواہش تھی کہ محمدی بیگم کی اولاد میری وارث ہو۔ اگر آپ نے میرا کام نہ کرایا تو میرا بیٹا فضل احمد آپ کی لڑکی کو طلاق دے دے گا اور اگر فضل احمد نے میرے حکم پر طلاق نہ دی تو میں اس کو اپنی جائیداد سے عاق کردوں گا۔ اگر آپ نے احمد بیگ کو راضی کر لیا تو میں بہ دل و جان حاضر ہوں اور فضل احمد بھی آپ کی لڑکی کو طلاق نہیں دے گا اور میرا مال ان دونوں کا مال ہوگا۔ فقط!

دوسرا خط: از طرف مرزا غلام احمد از لدھیانہ اقبال گنج مورخہ ٤؍ مئی ١٨٩١ء بنام زوجہ مرزا علی شیر بیگ ۔ عزت بی بی کی والدہ کو واضح ہو کہ وہ اپنے بھائی مرزا احمد بیگ کو سمجھائے کہ وہ محمدی بیگم کا نکاح سلطان محمد سے نہ کرے۔ ورنہ میرا بیٹا فضل احمد تمہاری لڑکی عزت بی بی کو طلاق دے دے گا اور بصورت عدول حکمی میری جائیداد سے عاق کیا جاوے گا۔

تیسرا خط: از طرف عزت بی بی بنام والدہ عزت بی بی ۔ اس وقت میری بربادی اور تباہی کا خیال کرو۔ مرزا قادیانی کسی طرح مجھ سے فرق نہیں کرتے۔ اپنے بھائی احمد بیگ کو سمجھاؤ۔

٥٢

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٢٢٥

ورنہ مجھے طلاق دے دی جاوے گی اور اگر تم نے یہ نہ کیا تو جلدی مجھ کو اس جگہ سے لے جاؤ۔ میرا یہاں ٹھہرنا مناسب نہیں۔

چوتھا خط: از طرف خاکسار احقر عباد اللہ غلام احمد عفی عنہ مورخہ ١٧؍ جولائی ١٨٩٢ء بروز جمعہ از محلہ فضل رحمانی بنام مشفقی مکرمی اخویم مرزا احمد بیگ صاحب سلمہ تعالیٰ۔ السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ! میں نہیں جانتا کہ میں کس طریق اور کن لفظوں میں بیان کروں۔ تا کہ میرے دل کی محبت اور خلوص اور ہمدردی جو مجھ کو آپ کی نسبت ہے آپ پر ظاہر ہو جائے۔ مسلمانوں کے ہر ایک نزاع کا اخیری فیصلہ قسم پر ہوتا ہے۔ جب ایک مسلمان خدا تعالیٰ کی قسم کھا جاتا ہے تو دوسرا مسلمان اس کی نسبت فی الفور دل صاف کر لیتا ہے۔ سو میں خدا کی قسم کھاتا ہوں کہ میں اس بات میں بالکل سچا ہوں کہ مجھے خدا کی طرف سے الہام ہوا تھا کہ آپ کی دختر کلاں کا رشتہ اس عاجز سے ہوگا اور اگر دوسری جگہ ہوا تو سزا کا باعث ہوگا اور آخر کار وہ نکاح مجھ سے ہوگا۔ میں اب بھی عاجزی اور ادب سے آپ کی خدمت میں درخواست کرتا ہوں کہ یہ رشتہ مجھ سے کر دیں۔ جس میں بہت برکات شامل ہیں۔ میرے خیال میں شاید دس لاکھ سے زیادہ آدمی ہوں گے۔ جس کی نظر اس پیشین گوئی پر لگی ہوئی ہے۔ یہ عاجز جس طرح ”لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ“ پر ایمان لایا ہے۔ اسی طرح خدا کے ان الہامات پر جو متواتر اس عاجز پر ہوئے۔ ایمان رکھتا ہے۔ آپ سے التماس ہے کہ آپ اس پیشین گوئی کے پورا کرنے میں میرے معاون بنیں۔ کوئی بندہ خدا سے لڑائی نہیں کر سکتا۔ جو امر آسمان پر مقدر ہو چکا ہے۔ وہ زمین پر ہرگز بدل نہیں سکتا۔ خدا آپ کو دین اور دنیا کی برکتیں عطا کرے اور اب آپ کے دل میں وہ بات ڈالے جس کا اس نے آسمان پر سے مجھے الہام کیا ہے۔ آپ کے سب غم دور ہوں اور خدا آپ کو دین اور دنیا عطاء فرمائے۔ اگر میرے اس خط میں کوئی ناملائم لفظ ہو تو معاف فرمائیں۔ والسلام!

ناظرین! محمدی بیگم کا نکاح سلطان محمد کے ساتھ مورخہ ٧؍ اپریل ١٨٩٢ء کو ہوا تھا اور مرزا قادیانی کی موت ٢٦؍ مئی ١٩٠٨ء کو ہوئی۔ حسرت و ندامت کے ایام آپ شمار کر لیں۔

(انجام آتھم ص ٣١ حاشیہ، خزائن ج ١١ ص ٣١) پر ہے کہ: ”میں بار بار کہتا ہوں کہ پیشین گوئی داماد احمد بیگ یعنی سلطان محمد کی تقدیر مبرم یعنی قطعی ہے۔ اس کی انتظار کرو۔ اگر میں جھوٹا ہوں تو یہ پیشین گوئی پوری نہ ہوگی اور میری موت آ جاوے گی۔“

(ضمیمہ انجام آتھم ص ٥٤، خزائن ج ١١ ص ٣٣٨) پر ہے کہ: ”اے احمقو! یہ انسان کا افتراء

٥٣

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٢٢٦

نہیں اور نہ یہ کسی خبیث مفتری کا کاروبار ہے۔ یقینا سمجھ کہ یہ خدا کا سچا وعدہ ہے۔ وہی خدا جس کی باتیں نہیں ٹلتیں۔“

(نیز ضمیمہ انجام آتھم ص ٥٣، خزائن ج ١١ ص ٣٣٧) پر مرزا قادیانی نے تمام لوگوں کو فحش گالیاں اس طرح دی ہیں۔ چاہئے تھا کہ ہمارے نادان مخالف اس پیشین گوئی کے انجام کے منتظر رہتے اور پہلے ہی سے اپنی بدگوہری ظاہر نہ کرتے۔ بھلا جس وقت یہ سب باتیں پوری ہو جاویں گی تو کیا اس دن یہ احمق مخالف جیتے ہی رہیں گے اور کیا اس دن یہ تمام لڑنے والے سچائی کی تلوار سے ٹکڑے ٹکڑے نہیں ہو جاویں گے۔ ان بیوقوفوں کو کوئی بھاگنے کی جگہ نہ رہے گی اور نہایت صفائی سے ان کی ناک کٹ جاوے گی اور ذلت کے سیاہ داغ ان کے منحوس چہروں کو بندروں اور سوروں کی طرح کردیں گے۔

ناظرین! مرزا قادیانی نے تمام مسلمانوں بلکہ علماء اسلام کے حق میں نادان، بدگوہر، احمق، بیوقوف، ذلیل، منحوس، بندروں اور سوروں کے الفاظ استعمال کئے ہیں۔

مرزا قادیانی کا الہام تھا: ”وشاتان تذبحان“ یعنی دو بکریاں ذبح ہوں گی۔ اس الہام کو رسالہ (ضمیمہ انجام آتھم ص ٥٧، خزائن ج ١١ ص ٣٤١) میں درج کیا اور کہا کہ: ”ان دو بکریوں سے مراد احمد بیگ اور اس کا داماد سلطان محمد ہیں۔“

لیکن (تذکرۃ الشہادتین ص ٧١، خزائن ج ٢٠ ص ٧٢) پر لکھتا ہے کہ: ”ان دو بکریوں سے مراد وہ دو مرزائی تھے جو کابل میں بوجہ مرزائیت قتل کر دیئے گئے۔“

(ضمیمہ انجام آتھم ص ٢٢٣، خزائن ج ١١ ص ٣٢٣) پر ہے کہ: ”میں تم سے یہ نہیں کہتا کہ یہ کام یعنی نکاح ختم ہو گیا۔ بلکہ یہ کام ابھی باقی ہے۔ اس کو کوئی بھی کسی حیلہ سے رد نہیں کرسکتا اور یہ تقدیر مبرم یعنی قطعی ہے۔ اس کا وقت آوے گا۔ قسم خدا کی جس نے حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کو بھیجا ہے یہ بالکل سچ ہے تم دیکھ لوگے اور میں اس خبر کو اپنے سچ یا جھوٹ کا معیار بناتا ہوں اور میں نے جو کچھ کہا ہے خدا سے خبر پا کر کہا ہے۔“

(نیز الحکم مورخہ ١٠؍ اگست ١٩٠١ء) میں ہے کہ: ”عدالت گورداسپور میں ایک دیوانی مقدمہ کے دوران میں مرزا قادیانی نے تسلیم کیا کہ محمدی بیگم بالآخر میرے نکاح میں ضرور لائی جائے گی۔“

(رسالہ اعجاز احمدی) میں مرزا قادیانی لکھتا ہے کہ: ”اگر اے خدا تو تین برس کے اندر

٥٤

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٢٢٧

جو جنوری ١٩٠٠ء سے شروع ہو کر دسمبر ١٩٠٢ء تک پورے ہو جائیں گے۔ میری تائید میں اور میری تصدیق میں کوئی نشان نہ دکھلائے اور اپنے بندے کو ان لوگوں کی طرح رد کرے جو تیری نظر میں شریر اور پلید اور بے دین اور کذاب اور دجال اور خائن اور مفسد ہیں تو میں تجھے گواہ کرتا ہوں کہ میں اپنے تئیں صادق نہیں سمجھوں گا اور ان تمام تہمتوں اور الزاموں اور بہتانوں کا اپنے تئیں مصداق سمجھوں گا۔ جو میرے پر لگائے جاتے ہیں۔ میں نے اپنے لئے یہ قطعی فیصلہ کر لیا ہے کہ اگر میری یہ دعا قبول نہ ہو تو میں ایسا ہی مردود اور ملعون اور کافر اور بے دین اور خائن ہوں ۔ جیسا کہ مجھے سمجھا گیا ہے۔‘‘

ناظرین افسوس یہ تینوں سال بے نیل مرام ہی گذر گئے۔

(اخبار الحکم مورخہ ١٠؍ اپریل ١٩٠٢ء) میں ہے کہ : ”عجب موقع ہے کہ خدا کی قدرت نمائی کے جلی اور صاف صاف پڑھے جانے والے نشان دیکھ لیں۔ ایک طرف حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) نے اپنی راستی اور شفاعت گیری کا یہ ثبوت پیش کیا ہے کہ قادیان کی نسبت تحدی کردی ہے کہ وہ طاعون سے بچا رہے گا اور اپنی جماعت کے علاوہ اس جگہ کے ان تمام لوگوں کو جو اکثر دہریہ طبع، کفار مشرک اور دین حق سے ہنسی کرنے والے ہیں۔ خدا کے مصالح اور حکمتوں کی وجہ سے اپنے سایہ شفاعت میں لے لیا ہے۔ بولو اور سوچ کر بولو کہ کیا ہمارے نزدیک مسیح موعود کے اس دعوٰی اور پیشین گوئی میں خدا کی ہستی پر مرزا قادیانی کے منجانب اللہ ہونے پر چمکتی ہوئی دلیل نہیں۔‘‘

(ایام الصلح ص ١٥٦، خزائن ج ١٤ ص ٤٠٣) پر ہے کہ: ”خدا نے فرمایا کہ جس گاؤں میں مرزا قادیانی ہے اس کو طاعون اور آفات سے بچا رکھوں گا۔‘‘

(دافع البلاء ص ٥، خزائن ج ١٨ ص ٢٢٦) پر ہے کہ: ”خدا ایسا نہیں کہ اہل قادیان کو عذاب دے۔ جب کہ تو ان میں رہتا ہے۔‘‘

(حقیقت الوحی ص ٩٢، خزائن ج ٢٢ ص ٩٧) پر ہے کہ: ”اگر مجھے تیری عزت کا پاس نہ ہوتا تو اس مقام کو ہلاک کر دیتا۔‘‘

(ریویو بابت ماہ اکتوبر ١٩٠٧ء ص ٣٨) پر ہے کہ: ”قادیان میں طاعون نمودار ہوا۔‘‘

(اخبار البدر قادیان مورخہ ١٩؍ دسمبر ١٩٠٢ء) میں ہے کہ: ”چونکہ آج کل ہر جگہ مرض طاعون زور پر ہے۔ اس لئے اگر چہ قادیان میں نسبتاً آرام ہے۔ لیکن مناسب معلوم ہوتا ہے کہ

٥٥

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٢٢٨

برعایت اسباب بڑا مجمع جمع ہونے سے پرہیز کیا جائے۔ اس لئے یہ قرین مصلحت ہوا کہ دسمبر کی تعطیلوں میں جیسا کہ پہلے اکثر اصحاب قادیان میں جمع ہو جایا کرتے تھے۔ اب کی دفعہ اس اجتماع کو بلحاظ مذکورہ بالا ضرورت کے موقوف رکھیں اور اپنی اپنی جگہ خدا سے دعا کرتے رہیں کہ وہ اس خطرناک ابتلاء سے ان کو اور ان کے اہل وعیال کو بچاوے۔“

(حقیقت الوحی ص ٨٤، ٢٣٢، ٢٥٣) پر ہے کہ: ”طاعون کے دنوں میں جب کہ قادیان میں طاعون کا زور تھا۔ میرا لڑکا بیمار ہو گیا۔“

(البدر ٢٤/ اپریل ١٩٠٢ء) پر ہے کہ: ”قادیان میں جو طاعون کی چند وارداتیں ہوئی ہیں۔ ہم افسوس سے بیان کرتے ہیں کہ بجائے اس کے کہ اس نشان سے ہمارے منکر اور مکذب کوئی فائدہ اٹھاتے اور خدا کے کلام کی قدر اور عظمت اور جلال ان پر کھلتے۔ انہوں نے پھر سخت ٹھوکر کھائی۔“

پھر (١٦؍ مئی) کے پرچہ میں لکھا ہے کہ: ”قادیان میں طاعون حضرت مسیح علیہ السلام کے الہام کے ماتحت اپنا کام برابر کر رہی ہے۔“

ناظرین! مرزا قادیانی کے الہامات بھی گرگٹ کی طرح رنگ بدلتے رہتے ہیں۔ کبھی تو یہ دعویٰ کہ قادیان طاعون سے پاک رہے گا اور کبھی یہ دعویٰ کہ قادیان میں طاعون اس لئے ہے کہ لوگ مرزا قادیانی کی تکذیب کرتے ہیں۔ (سبحان اللہ) عام افواہ کے مطابق قادیان میں طاعونی اموات تین سو سے زیادہ ہوئی ہیں۔

(اخبار البدر مورخہ ١٦/ اپریل ١٩٠٢ء) میں ہے کہ: ”قادیان میں طاعون نے صفائی شروع کر دی۔“

پھر اسی اخبار کے (مورخہ ٤/ مئی ١٩٠٥ء) کے پرچہ میں لکھا ہے کہ: ”اس وقت تمام جماعت کو نصیحت کی جاتی ہے کہ اپنی اپنی جماعت کے اندر طاعون کے بیماروں اور شہیدوں کے ساتھ پوری ہمدردی اور سلوک اخوت کریں۔“

ناظرین! جب لارڈ کرزن وائسرائے ہند نے بنگالہ کو مصالح ملکی کی بناء پر دو حصص میں تقسیم کر دیا اور اہل بنگال کے شور و شر نے قتل و غارت کی شکل اختیار کر لی تو مرزا قادیانی نے فوراً پیشین گوئی کر دی کہ اگرچہ تقسیم بنگالہ تو ہرگز منسوخ نہیں ہو گی۔ تاہم کسی اور صورت میں اہل بنگال کی دل جوئی ضرور کی جائے گی۔ لیکن افسوس مرزا قادیانی کی یہ اٹکل بھی پوری نہ اتری۔

٥٦

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٢٢٩
سیاہ بختانِ قسمت راچہ سود از راہبر کامل
کہ خضر از آبِ حیواں تشنہ مے آرد سکندر را

(ریویو بابت ماہ ستمبر ١٩٠٦ء ص ٣٧٢) پر ہے کہ: ”جو خیال لوگوں کے دلوں میں ہیں ۔ وہ دونوں پورے نہیں ہوں گے ۔ بلکہ ایک ایسا طریق اختیار کیا جاوے گا جس سے تقسیم بھی منسوخ نہ ہو اور اہل بنگال کی دل جوئی بھی ہو جائے ۔“

(روزانہ اخبار پیسہ ١٦؍ دسمبر ١٩١١ء کی، ص ١١) پر ہے کہ : ”دہلی میں جب بنگالیوں نے منسوخی تقسیم کا اعلان سنا تو اس قدر خوشی ہوئی کہ جب حضور شاہنشاہ معظم تشریف لے گئے تو انہوں نے نہایت ادب سے تخت کو جھک جھک کر سلام کئے اور بوسے دیئے ۔ مگر ناظرین مرزا قادیانی کے دو مرید خواجہ کمال الدین اور مولوی محمد علی کی حق پوشی اور چالاکی ملاحظہ ہو ۔“

(رسالہ مسیح موعود مصنفہ مولوی محمد علی ایم۔ اے منقول از خواجہ کمال دین ص ٢٨١، ٢٨٦) پر طویل بے معنی عبارت ہے جس کا مفہوم یہ ہے کہ : ”جب تک یعنی قریباً چھ سال تک تقسیم بنگالہ منسوخ نہیں ہوئی تو مرزا قادیانی اپنے دعویٰ میں صادق ٹھہرا اور جب منسوخ ہو گئی تو بھی مرزا صادق ہے۔“

مرزا قادیانی نے مورخہ ٢٠؍ فروری ١٨٨٦ء کو ایک پیشین گوئی بڑے دم خم سے شائع کی ۔ جس کا ضروری خلاصہ یہ ہے کہ میرے ہاں ایک لڑکا پیدا ہو گا جو زکی وجیہ ، پاک ، رجس سے منزہ ، نور اللہ ، مقدس ، صاحب فضل وشکوہ وعظمت ودولت ، مسیحا نفس ، کلمۃ اللہ ، حلیم اور مالک علوم ظاہر و باطن ہوگا ۔

پھر مرزا قادیانی نے لکھا کہ ٨؍ اپریل ١٨٨٦ء کو خدا کی طرف سے اس عاجز پر کھل گیا کہ ایک لڑکا بہت ہی قریب ہونے والا ہے ۔ جو مدت حمل سے تجاوز نہیں کر سکتا ۔ اس سے ظاہر ہے کہ غالباً ایک لڑکا ابھی ہونے والا ہے یا بالضرور اس کے قریب حمل میں ۔ لیکن یہ ظاہر نہیں کیا گیا کہ جو اب پیدا ہوگا یہ وہی لڑکا ہے یا وہ کسی اور وقت میں نو برس کے عرصہ میں پیدا ہوگا اور پھر بعد اس کے یہ بھی الہام ہوا کہ انہوں نے کہا کہ آنے والا یہی ہے یا ہم دوسرے کی راہ تکیں ۔ چونکہ ایک بندہ ضعیف مولیٰ کریم جل شانہ کا ہے ۔ اس لئے اس قدر ظاہر کرنا ہے جو منجانب اللہ ظاہر کیا گیا ۔ آئندہ جو اس سے زیادہ منکشف ہو گا ۔ وہ بھی شائع کیا جاوے گا ۔

مورخہ ٧؍ اگست ١٨٨٧ء کو مرزا قادیانی یوں رقم طراز ہے کہ اے ناظرین ! میں

٥٧

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٢٣٠

آپ کو بشارت دیتا ہوں کہ وہ لڑکا جس کے تولد کے لئے میں نے اشتہار مورخہ ٨ اپریل ١٨٨٦ء میں پیشین گوئی کی تھی اور خدا تعالیٰ سے اطلاع پا کر اپنے کھلے کھلے بیان میں لکھا تھا کہ اگر وہ حمل موجودہ میں پیدا نہ ہوا تو دوسرے حمل میں جو اس کے قریب ہے۔ ضرور پیدا ہو جائے گا۔ آج ١٦؍ ذیقعدہ ١٣٠٤ھ مطابق ٧ اگست ١٨٨٧ء میں بارہ بجے رات کے بعد ڈیڑھ بجے کے قریب وہ مولود مسعود پیدا ہو گیا۔ فالحمدلله على ذالك !

ناظرین ! مگر قدرت خدا سے یا مرزا قادیانی کی شامت اعمال کی وجہ سے یہ مولود مورخہ ٤ نومبر ١٨٨٨ء کو ١٦ مہینے کی عمر پا کر فوت ہو گیا۔

یکم دسمبر ١٨٨٨ء کو مرزا قادیانی یوں لکھتا ہے کہ کوئی شخص ایک ایسا حرف بھی پیش نہیں کر سکتا جس میں یہ دعویٰ کیا گیا ہو کہ موعود اور عمر پانے والا یہی لڑکا تھا جو فوت ہو گیا۔ بلکہ ٨ اپریل ١٨٨٦ء کا اشتہار اور نیز ٧ اگست ١٨٨٧ء کا اشتہار کہ جو ٨ اپریل ١٨٨٦ء کی بناء پر اور اس کے حوالے سے بروز تولد بشیر شائع کیا گیا تھا۔ صاف بتلا رہا ہے کہ ہنوز الہامی طور پر یہ تصفیہ نہیں ہوا کہ آیا یہ لڑکا مصلح موعود اور عمر پانے والا ہے یا کوئی اور ہے۔ پھر چند سطور کے بعد مرزا قادیانی یہ لکھتا ہے کہ اس لڑکے کی پیدائش کے بعد صدہا خطوط اطراف مختلفہ سے بدیں استفسار پہنچے تھے۔ کہ کیا یہ وہی مصلح موعود ہے جس کے ذریعہ سے لوگ ہدایت پائیں گے تو سب کی طرف یہی جواب لکھا گیا تھا کہ اس بارہ میں صفائی سے اب تک کوئی الہام نہیں ہوا۔ ہاں اجتہادی طور پر گمان کیا جاتا تھا کہ کیا تعجب کہ مصلح موعود یہی لڑکا ہو۔

حق یہ ہے کہ مرزا قادیانی کی مثال اس سادھو کی سی ہے جس کے ہاتھ میں ایک چڑیا تھا۔ سادھو کسی آشنا سے کہتا ہے۔ دوست بتاؤ۔ یہ چڑیا مردہ ہے یا زندہ۔ اس شخص نے سوچا اگر زندہ کہوں تو سادھو چڑیا کو گھٹ کر مار ڈالے گا اور اگر مردہ کہوں تو زندہ اڑا دے گا۔ پس وہ خاموش رہا۔

مولوی عبدالحق غزنوی اور مرزا قادیانی میں امرتسر کی عید گاہ میں ماہ جون ١٨٩١ء میں مباہلہ ہوا۔ مولوی عبدالحق نے تین بار با آواز بلند یہ کہا۔ یا اللہ میں مرزا قادیانی ضال ، مضل ، ملحد ، دجال ، کذاب ، مفتری ، قرآن واحادیث کا منحرف جانتا ہوں ۔ اگر میں اس بات میں جھوٹا ہوں تو مجھ پر وہ لعنت کر جو کسی کافر پر آج تک تو نے نہ کی ہو۔ مرزا قادیانی نے تین بار با آواز بلند یہ کہا۔ یا اللہ ! اگر میں ضال ، مضل ، ملحد ، دجال ، کذاب ، مفتری اور قرآن وحدیث کا منحرف ہوں تو مجھ پر وہ لعنت کر جو کسی کافر پر تو نے آج تک نہ کی ہو۔

٥٨

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٢٣١

نتیجہ یہ ہوا کہ مرزا قادیانی ٢٦ مئی ١٩٠٨ء کو مر گیا اور مولوی عبدالحق اس تاریخ سے نو سال بعد ١٦ مئی ١٩١٧ء کو فوت ہوا۔

مولوی محمد بشیر صاحب سکنہ بھوپال اور مرزا قادیانی کے درمیان ١٨٩١ء میں مقام دہلی میں حیات و ممات مسیح کے متعلق بحث ہوئی۔ لیکن مرزا گھبرا کر فرار کر گیا۔ اس مناظرہ کی تفصیل رسالہ الحق الصریح فی اثبات حیات المسیح ص ٢ پر دیکھ لیں۔

پیر مہر علی شاہ سجادہ نشین گولڑہ ضلع راولپنڈی اور مرزا قادیانی کے درمیان مقابلہ قرار پایا۔ پیر صاحب تو ماہ اگست ١٩٠٠ء کو لاہور میں وارد ہو گئے۔ مگر مرزا قادیانی نے قادیان سے باہر پاؤں تک نہ رکھا۔ بہ امر مجبوری پیر صاحب گولڑہ واپس چلے گئے۔ اس مقابلہ کی نوعیت یہ تھی کہ فریقین سات گھنٹے تک زانو بہ زانو بیٹھ کر چالیس آیات قرآنی کی تفسیر عربی میں لکھیں جو بہ تقطیع کلان بیس ورق سے کم نہ ہو۔ جس کی تفسیر عمدہ ہوگی وہ مؤید من اللہ سمجھا جائے گا۔

امریکہ کے مشہور ڈاکٹر ڈوئی نے بھی مرزا قادیانی کی طرح دعویٰ نبوت کیا۔ لیکن مرزا قادیانی کو یہ امر کب گوارا تھا۔ چنانچہ مرزا قادیانی نے امریکہ کی اخبارات میں دو تین مضامین چھپوائے کہ ڈاکٹر ڈوئی مجھ کو اپنے ذہن میں رکھ کر یہ دعا کرے کہ ہم دونوں میں سے جو جھوٹا ہے وہ پہلے مر جائے۔ لیکن ڈاکٹر صاحب نے نہ کوئی مضمون جواب میں اخبارات میں طبع کرایا اور نہ کوئی جواب بصورت کتاب دیا۔ لیکن جب قضا الٰہی سے وہ مر گیا تو مرزا قادیانی نے یہ بڑ ہانک دی کہ وہ میری بددعا سے ہلاک کر دیا گیا ہے۔

الحکم مورخہ ١٧ مارچ ١٩٠٧ء میں ہے کہ حضرت مسیح (مرزا قادیانی) کا صدق کھل گیا اور کذاب اور مفتری ڈوئی مر گیا۔

مرزا قادیانی نے رسالہ ریویو بابت ماہ ستمبر ١٩٠٢ء ص ١٤٤ اپنی عادت مستمرہ کے مطابق بہت طول طویل مضمون لکھا ہے۔ جس کا اختصار یہ ہے کہ ڈوئی صاحب بار بار تمام مسلمانوں کو موت کی پیشین گوئی نہ سنائیں ۔ بلکہ ان میں سے صرف مجھے اپنے ذہن کے آگے رکھ کر یہ بددعا کر دیں کہ ہم دونوں میں سے جو جھوٹا ہے وہ پہلے مر جائے۔

پھر رسالہ ریویو بابت اپریل ١٩٠٧ء ص ١٤٢ پر لکھتا ہے کہ باوجود کثرت اشاعت پیشین گوئی کے ڈوئی نے اس چیلنج کا کوئی جواب نہ دیا اور نہ ہی اپنے اخبار نیوز آف ہیلنگ میں اس کا کچھ ذکر کیا۔

٥٩

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٢٣٢

(براہین احمدیہ ص ٥٥٦، خزائن ج ١ ص ٦٦٤) پر ہے کہ: ”مرزا قادیانی نے انگریزی اور عبرانی اور عربی زبان میں الہامات درج کئے ہیں اور کہتا ہے کہ ان میں سے بعض کے معنی مجھے معلوم نہیں ہوئے۔“

ناظرین! اب تک تمام انبیاء پر الہامات ان کی اپنی زبان میں نازل ہوتے رہے۔ تاکہ وہ ان کو کماحقہ سمجھ کر تبلیغ کا حق ادا کرسکیں۔ چنانچہ حضرت موسیٰ علیہ السلام پر توریت عبرانی میں اور حضرت داؤد علیہ السلام پر زبور سریانی میں اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر انجیل یونانی میں اور آنحضرت ﷺ پر قرآن عربی زبان میں نازل ہوا۔ مگر مرزا قادیانی پر بے معنی الہامات کا نزول ہوتا رہا۔ اس بات کے صرف دو پہلو ہوسکتے ہیں۔ اوّل یہ کہ خدا نے فعل عبث کیا۔ دوئم یہ کہ مرزا قادیانی کے دماغ میں فتور تھا۔ چونکہ امر اوّل یقیناً نہیں ہوسکتا۔ اس لئے امر دوئم لامحالہ درست ہے۔

نمبر ٣ سن لو کہ میں ہر ایک تیر کا مقابلہ ثابت قدمی سے کروں گا اور تیروں سے چھپنے کا تو میں دشمن ہوں۔

ناظرین! مرزا قادیانی مندرجہ ذیل اشعار میں یوں رجز خوانی کرتا ہے۔

وان ناضلتنی فتری سهامی ومثلی لا یفز من النضال
فان قاتلتنی فاریک انی مقیم فی ميادين القتال
الا انی اقادم كل سهم وافلی الا کتان عن النبال

ترجمہ: اگر میرے مقابلہ پر آؤ گے تو میرے تیر دیکھ لو گے اور میرے جیسے آدمی مقابلہ سے بھاگا نہیں کرتے۔

سوتم اگر مجھ سے مقابلہ کرو گے تو میں تمہیں دکھا دوں گا کہ میں لڑائی کے میدان میں ڈیرا جمانے والا ہوں۔

مرزا قادیانی کی تہذیب ومتانت

(ازالہ اوہام ص ٥١٠، خزائن ج ٣ ص ٣٧٣) پر ہے کہ: ”دابتہ الارض وہ علماء اور واعظین ہیں جو اپنے میں کوئی آسمانی قوت نہیں رکھتے۔ آخری زمانہ میں ان کی کثرت ہوگی۔“

(کتاب نزول المسیح ص ٣٨، ٣٩، خزائن ج ١٨ ص ٤١٦) پر ہے کہ: ”دابتہ الارض سے مراد طاعون کا کیڑا ہے۔“

٦٠

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٢٣٣

اور (ص ٢٣، خزائن ج ١٨ ص ٤٢١) پر ہے کہ دابتہ الارض سے مراد اس زمانہ کے مولوی اور سجادہ نشین ہیں جو متقی نہیں ہیں اور زمین کی طرف جھکے ہوئے ہیں۔

(ضمیمہ انجام آتھم ص ٢١، ٢٣، خزائن ج ١١ ص ٣٠٥ تا ٣٠٧) پر ہے کہ: ”اے مردار خوار مولویو! اور گندی روحو! انصاف اور ایمان سے دور بھاگنے والو! تم جھوٹ مت بولو اور نجاست نہ کھاؤ جو عیسائیوں نے کھائی ہے۔“

(براہین احمدیہ ص ١٥، خزائن ج ١ ص ٢٣) پر ذیل کے تین شعر درج ہیں۔

نور شاں یک عالمے را در گرفت
تو ہنوز اے کور در شورو شرے
لعل تاباں را اگر گوئی کثیف
زیں چہ کاہد قدر روشن جوہری
طعنہ بر پاکاں نہ بر پاکاں بود
خود کنی ثابت کہ ہستی فاجری

(ضمیمہ انجام آتھم ص ٣، خزائن ج ١١ ص ٢٨٧) پر ہے کہ: ”یہودی صفت مولوی ان کے (عیسائیوں) کے ساتھ ہو گئے۔“

اور (ضمیمہ انجام آتھم ص ٦، خزائن ج ١١ ص ) پر ہے کہ شاید بدذات مولوی منہ سے اقرار نہ کرے۔“

(مکتوبات عربی معہ ترجمہ فارسی ص ٢٣٦، لغائت ص ٢٥٢) پر ہے کہ: ”نوکس شریر اس ملک میں ہیں۔ جنہوں نے زمین پر فساد مچا رکھا ہے۔“

ناظرین! مولویوں کی تعداد دس ہے۔ مگر مرزا قادیانی نو کس لکھتا ہے اور یہی امر اس کے اختلال دماغ کا ثبوت ہے۔ اگر کوئی کہے کہ یہ بشری فروگزاشت ہے تو غلط ہے۔ کیونکہ

٦١

صفحہ ٢٣٤

مرزا قادیانی اتنا وہمی تھا کہ کتابت کی کاپیوں کو بار بار پڑھا کرتا اور پروف کی بہت احتیاط سے دیکھ بھال رکھتا۔ بلکہ پتھروں پر سے خود نوشتہ الفاظ اور فقرات کو چھیل چھیل کر نئے الفاظ اور فقرات لکھواتا۔

مرزا قادیانی نے مولوی رشید احمد گنگوہی اور محمد احسن امروہی کے متعلق جو الفاظ درج کئے ہیں۔ اس کی خاص متانت اور شرافت کا ثبوت ہیں۔ جو مذکورہ کتاب کے (ص ٢٥٢، خزائن ج ١١ ص ایضاً) پر ہیں۔

”آخر هم شیطان الاعمی والغول الاغوی یقال له رشید احمد ن الجنجوہی وهو شقی کالامروہی ومن الملعونین“ یعنی ان کا سب سے پچھلا اندھا شیطان اور گمراہ دیو ہے۔ جس کو رشید احمد گنگوہی کہتے ہیں اور وہ کمبخت امروہی کی طرح ہے اور ملعونوں میں سے ہے۔

(انجام آتھم ص ٥٥، خزائن ج ١١ ص ایضاً) پر ہے کہ: ”مجھ کو خدا نے الہام کیا ہے۔

”تلطف بالناس وترحم علیہم“ یعنی لوگوں کے ساتھ لطف اور رحم کے ساتھ پیش آؤ۔“

پھر (ص ٦٥) پر ہے کہ: ”مجھے الہام ہوا ہے۔ ”یا داؤد عامل بالناس رفقا واحسانا“ یعنی اے داؤد لوگوں کے ساتھ نرمی اور احسان سے پیش آؤ۔“

(براہین احمدیہ ص ٨٣) پر ہے کہ: ”بخدمت جملہ صاحبان یہ بھی عرض ہے کہ یہ کتاب کی تہذیب اور رعایت آداب سے تصنیف کی گئی ہے۔ (گویا مرزا قادیانی کی پہلی تصانیف بدتہذیبی سے لبریز ہیں) اور اس میں کوئی ایسا لفظ نہیں جس میں کسی فرقہ کے بزرگ یا پیشواء کی کسر شان ہو اور خود ہم ایسے الفاظ کو صریحاً یا کنایتاً اختیار کرنا خبث عظیم سمجھتے ہیں اور ایسے امر کے مرتکب کو پرلے درجے کا شریر النفس خیال کرتے ہیں۔“

پھر (براہین احمدیہ ص ٨٣، خزائن ج ١ ص ٧١) پر ہے کہ: ”ہمارا ہرگز یہ مطلب اور مدعا نہیں ہے کہ کسی کے دل کو رنجیدہ کیا جائے۔“

(آئینہ کمالات اسلام ص ٢٢٥، خزائن ج ٥ ص ایضاً) پر ذیل کا شعر درج ہے ۔

گالیاں سن کے دعا دیتا ہوں ان لوگوں کو
رحم ہے جوش میں اور غیظ گھٹایا ہم نے

(خط بنام پیر مہر علی شاہ مورخہ ٢٠/جولائی ١٩٠٦ء) میں مرزا قادیانی لکھتا ہے کہ: ”خدا کی

٦٢

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٢٣٥

لعنت ہو اس پر جو ہمارا خلاف یا انکار کرے۔‘‘

(الحکم مورخہ ٢٤؍اکتوبر ١٨٨٩ء) میں ہے کہ: ’’مرزا قادیانی کا الہام نص صریح ہے اور نص صریح کا منکر کافر ہے۔‘‘

مرزا قادیانی کا (خط مندرجہ الذکر الحکم نمبر ٤ ص ٢٣، تذکرہ ص ٦٠٧، منقول الفضل مورخہ ١٥؍جنوری ١٩٣٥ء) میں ہے کہ: ’’بہر حال خدا نے مجھ پر ظاہر کیا ہے کہ ہر ایک شخص جس کو میری دعوت پہنچتی ہے اور اس نے مجھے قبول نہیں کیا وہ مسلمان نہیں۔‘‘

خلیفہ اوّل مولوی نور الدین نے (الحکم مورخہ ١٧؍اگست ١٩٠٨ء) میں لکھا ہے کہ؎

اسم او اسم مبارک ابن مریم مے نہد
آں غلام احمد است و میرزائے قادیاں
گر کسے آرد شکے در شان او کافر است
جائے او باشد جہنم بے شک و ریب و گماں

ناظرین! ایک فارسی دان اور سخن شناس سمجھ سکتا ہے کہ خلیفہ صاحب کی فارسی دانی اور شعر گوئی کا مرتبہ کیسا واضح ہے۔ غالباً حافظ شیراز کی روح فرط طرب میں جھوم رہی ہوگی۔

ذیل میں مرزا قادیانی کی مختلف کتابوں اور تحریروں سے چند اشعار کتاب عصائے موسیٰ سے لکھتا ہوں۔ جو مرزا قادیانی کی تہذیب اور متانت کا نمونہ ہیں۔

مولوی سعد اللہ لدھیانی کی نسبت:

ایک سگ دیوانہ لدھانہ میں ہے آج کل وہ خر شتر خانہ میں ہے
بدزباں بدگو ہے وہ بدذات ہے اس کی نظم و نثر واہیات ہے
حق تعالیٰ کا وہ نافرمان ہے آدمی کاہے کو ہے شیطان ہے
چیختا ہے بیہودہ مثل حمار بھونکتا ہے مثل سگ وہ بار بار
جہل میں بوجہل کا سردار ہے بولہب کے گھر کا برخوردار ہے
سخت دل نمرود یا شداد ہے جانور ہے یا کہ آدم زاد ہے
ہائے صد افسوس اس کے حال پر لاکھ لعنت اس کی قیل و قال پر

تمام علمائے اسلام کی نسبت:

ہو اگر غیرت تو وہ مر جائیں سب ورنہ ہو گا لعنتی ان کا لقب
آویں اب لدھیانہ کے سارے شریر اور وزیر آباد کا آوے خنزیر

٦٣

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٢٣٦
اب مقابل ہووے بھوپالی بشیر ہو گیا مردود جس کا خاص پیر
جو نہ آوے اس پہ لعنت بار بار جو کہ بھاگے اس پہ لعنت صد ہزار
خوک اور بندر سبھی بن جاؤ گے اپنی کرتوتوں کا بدلہ پاؤ گے
جس قدر یہ مولوی ہیں نابکار یا ہدایت دے انہیں یا ان کو مار
ہر عدوے دیں کا کر خانہ خراب آسمانی بھیج توں ان پر عذاب

کتاب (اشاعۃ السنۃ نمبر ١٢ ج ١٤) میں مرزا قادیانی کے بارہ میں اس کا اپنا خسر میر ناصر نواب دہلوی کیا لکھتا ہے ۔

بدمعاش اب نیک از حد بن گئے بو مسیلم آج احمد بن گئے
عیسیٰ دوران بنے دجال ہیں ہر طرف مارے انہوں نے جال ہیں
ہر طرح سے مال ہیں وہ نوچتے ہیں نئی تدبیر ہر دم سوچتے
جس طرح ہو مال کچھ کھا جائے کچھ نیا اب شعبدہ دکھلائے
اپنی تعریفوں سے بھرتے ہیں کتاب
آیت قرآن ہیں گویا ان کے خواب

فتاویٰ متعلق مرزا

فتاویٰ ذیل کا یک رسالہ مطبوعہ مطبع دارالسلام بغداد اور جریدہ الیقین عراق میں طبع ہو چکے ہیں۔ جو ہم بھی یہاں درج کرتے ہیں۔

استفتاء علمائے دین اسلام مرزا غلام احمد قادیانی کے حق میں کیا فرماتے ہیں۔ جو اپنے یوم وفات تک حسب ذیل امور کا مدعی رہا ہے۔

وہ مسیح موعود ہے وہ مہدی موعود ہے۔ وہ نبی ہے۔ وہ رسول اللہ ہے۔ وہ مجسم ربانی ہے۔ وہ بعض انبیاء سے افضل ہے۔ جن میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام بھی شامل ہیں۔ اس نے امام حسینؓ اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی توہین کی ہے۔ اس نے مسلمانوں کی تکفیر کی ہے۔ اس نے علمائے اسلام کی بھی تکفیر اور اہانت کی ہے۔ نیز اس کا دعویٰ ہے کہ خدا عرش پر اس کی تعریف کرتا ہے اور اس کی طرف چلا آتا ہے۔ خدا اس کے حق میں بقول مرزا کہتا ہے کہ وہ میرے پانی سے ہے۔ وہ بمنزلہ میری اولاد کے ہے۔ وہ میرے بیٹے کی مانند ہے۔ وہ مجھ سے ہے اور میں اس سے ہوں۔ اگر وہ نہ ہوتا تو میں آسمان کو پیدا نہ کرتا۔ جب وہ کسی امر کا ارادہ کرتا ہے اور کہتا ہے کہ ہو

٦٤

صفحہ ٢٣٧

جا۔ وہ امر اسی وقت ہو جاتا ہے۔ وہ دونوں جہاں کے لئے رحمت ہے۔ میں نے اس کو اپنے نفس کے لئے اختیار کر لیا ہے اور زمین و آسمان اس کے ساتھ ایسے ہیں جیسے کہ میرے ساتھ ہیں۔ اس کا بھید میرا بھید ہے۔ وہ بمنزلہ میری توحید اور تفرید کے ہے۔ وہ خدا کا بیٹا ہے۔ وہ سب کی طرف رسول ہے۔ میں نے اس کو کوثر عطاء کر دیا ہے۔

ان دعاوی کی موجودگی میں یہ مدعی مسلمانوں میں سے ہے یا کہ دجالوں اور کافروں اور مرتدوں میں سے۔ مرزا غلام احمد قادیانی کی پیروی اور اتباع کرنے والے اشخاص کے بارہ میں کیا ہے۔ مرزا قادیانی کے خلیفہ کے مقلدین اور ان سے معاشرت رکھنے والوں کے بارہ میں کیا حکم ہے۔ کیا وہ شخص جو مرزا قادیانی کی پیروی کرے دین اسلام سے خارج ہے یا کہ نہیں۔ فتویٰ صادر فرماویں۔ خدا آپ کو اجر عطاء فرمائے گا۔

جوابات استفتاء ۔

بسم اللہ الرحمن الرحیم!

ہاں مرزا قادیانی اور اس کی جماعت اور تابعین گمراہ ہیں۔ جو دین اسلام سے خارج ہو گئے ہیں۔

دستخط: الراجی محمد مہدی الکاظمی الخالصی عفی عنہ شیعہ مجتہد کاظمین عراق۔

بسم اللہ الرحمن الرحیم!

ایسا دعویٰ کرنے والے کے کفر میں کوئی شک نہیں ہے۔ حررہ خادم الشرع المبین السید حسن صدر الدین شیعہ مجتہد کاظمین عراق۔

خدا تعالیٰ شریک اور نظیر اور وزیر سے برتر اور منزہ ہے۔ جس کی مثل کوئی چیز نہیں اور وہ لطیف و خبیر ہے۔ ہمارے سردار محمد بشیر و نذیر پر سلام ہو۔ جو خاتم النبیین اور امام المرسلین ہیں اور تمام مخلوقات کے سردار ہیں۔ جن پر نازل کیا گیا ہے کہ ہم نے نہیں بھیجا ہے تم کو مگر سب لوگوں کے لئے بشارت دینے والا اور ڈرانے والا اور جن پر نازل کیا گیا ہے کہ نہیں ہے محمد باپ کسی کا لیکن وہ رسول ہے خدا کا اور نبیوں کا خاتم ہے اور اس کی آل اور اصحاب پر درود و سلام ہو جو پاک و پاکیزہ ہیں اور اہل زیغ وضلالت و الحاد کا قلع قمع کرنے والے ہیں۔

پس بتحقیق یہ مرزا قادیانی اور اس کے تابعین جو اس کی کتابوں کے نشر کرنے والے ہیں۔ جن میں کفر اور گمراہی بھری ہوئی ہے۔ بلاشک و شبہ دین سے خارج ہو گئے ہیں۔ پس جو

٦٥

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٦٦

شخص کہ کسی نبی کی تحقیر کرے یا وحی نبوت کا دعویٰ کرے۔ پس وہ یقیناً کافر ہے۔ خدا فرماتا ہے: ”انما جزاء الذین یحاربون اللہ ورسولہ ویسعون فی الارض فساداً“ قادیانی کے اس محاربہ خدا اور رسول سے کون سا محاربہ عظیم ہو سکتا ہے اور اس کے اس فساد سے کون سا فساد عظیم ہو سکتا ہے اور مخفی نہیں کہ خدا فرماتا ہے کہ جو شخص اسلام کے سوائے کسی دین کی پیروی کرتا ہے وہ اس سے قبول نہیں ہوتی اور قول خدا میں وعید شدید ہے کہ جو شخص دعویٰ کرے کہ میری طرف وحی آتی ہے۔ حالانکہ اس کی طرف کوئی بھی وحی نہ آئی ہو اور جو شخص یہ کہے کہ میں بھی قرآن نازل کر سکتا ہوں۔ جس طرح کہ خدا نے کیا ہے۔ خدا ہم کو اور سب مسلمانوں کو رشد وسداد کی توفیق و ہدایت فرمائے۔ جس میں بندوں کے لئے صلاح ہو اور خدا کی رحمت ہو۔ ہمارے سردار محمد اور اس کی آل اور اصحاب (اخیار) پر

دستخط: نائب الشرع شریف عبدالوہاب حسینی سنی مفتی بغداد۔

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم!

درود و سلام ہو اس پر جس کے بعد کوئی نبی نہیں اور اس کی آل واصحاب پر۔ پس جو شخص کہ نبوت یا وحی بہ احکام ہونے کا دعویٰ کرے۔ یا انبیاء کی تحقیر کرے یا خدا کے لئے جسم قرار دے۔ پس اس کے کافر ہونے میں کوئی شک نہیں اور اس کو جو شخص کافر نہ سمجھے بھی کافر ہے۔

پوسٹ نشین، درگاہ سلطان علی سید ابراہیم افندی الرفاعی سنی مفتی عراق۔ حررہ الفقیر الیہ المدرس السید یوسف عطائی مفتی عراق۔ مدرس الرواس السید محمد رشید البغدادی سنی مفتی۔

مرزائیوں کی باہمی تکفیر

(اخبار الفضل قادیان نمبر ١١٢، مورخہ ٩ مئی ١٩١٦ء) میں یہ الفاظ درج ہیں: ”جناب مولوی محمد علی صاحب (لاہوری پارٹی جو مرزا قادیانی کو صرف مجدد مانتے ہیں۔ رسول اللہ نہیں مانتے اور نہ مرزا قادیانی کے دعوے الوہیت کو سچا مانتے ہیں اور دوسرے اسلامی فرقوں کو بخلاف قادیانی پارٹی مسلمان جانتے ہیں) کا فتویٰ کفر حضرت مرزا محمود احمد اور جماعت احمدیہ پر۔“

مرزا کی موت

(ازالہ اوہام ص ٣١٨ طبع ثانی) پر ہے کہ: ”خدا کہتا ہے کہ ہم تجھ کو اسی سال کی عمر دیں گے یا اس کے قریب۔“

www.besturdubooks.wordpress.com

PDF 243

انا خاتم النبیین لا نبی بعدی

میں آخری نبی ہوں، میرے بعد کوئی نبی نہیں

مناظرہ

مندراں والا میں

مرزائی شکست

مولانا محمد اسماعیل گوجروی

صفحہ ٢٤٠

وجہ تالیف مناظرہ ہذا

حضرات! اس مناظرہ کو تحریری صورت میں لانے کی ضرورت بوجوہات ذیل پیش آئیں:

دلائل معقول اور منقول کے اتنے بے شمار موتی اور جواہر برسائے کہ ان کا ضائع ہو جانا اور مؤمنین اور مسلمین مخلصین تک نہ پہنچنا بڑا نقصان تھا۔

شکست کو چھپانے کے لئے کیا کیا حربے استعمال کرتے ہوں گے۔ کہاں کہاں پھرتے ہوں گے۔ کیا کیا پروپیگنڈے کئے ہوں گے اور اس کج مج گفتگو، غلط سلط باتوں کو اپنی کارکردگی بتایا ہوگا۔

اس رسالہ میں ہم وہ دلائل پیش کر رہے ہیں جو حضرت مبلغ اعظم صاحب قبلہ نے مرزائی مبلغ احمد علی کو مختلف موضوعات پر دیئے۔

مجادلہ حقہ اور مجادلہ باطلہ

مناظرہ حقہ وہ ہے جس کے دلائل علم سے پیش کئے جائیں اور مناظرہ باطلہ وہ ہے جس کے دلائل مطابق علم مناظرہ نہ ہوں۔ جیسا کہ خداوند تعالیٰ فرماتا ہے۔ ”ماضربوہ لک الا جدلا“ اور مناظرہ حقہ وہ ہے جس کی نسبت فرمایا: ”وجادلہم

بالتی ھی احسن“ (تفسیر کبیر ج٢٠ ص١٣٨)

تحقیق مقام

”جادلہم بالتی ھی احسن“ حضرات! مناظرہ حکمت اور موعظہ حسنہ نہیں۔ کیونکہ حکمت علماء محققین کا حصہ ہے۔ جس کے دلائل قطعیہ اور یقینیہ ہوتے ہیں۔ موعظہ حسنہ عوام کے لئے ہوتا ہے۔ جن کی فطرت سلامت ہے۔ وہاں دلائل ظنیہ اور اقناعیہ بھی مفید ہوتے ہیں۔ طنز، امثال، قصے، کہانیاں سن کر بھی وہ اثر لیتے ہیں۔ کیونکہ فطرت سلیمہ میں مادہ انکار نہیں ہوتا۔ مگر جدل مخالفین اور منکرین کے لئے ہوتا ہے۔ لیکن اس کے لئے بھی احسن ہونا شرط ہے اور احسن کے لئے علم ہدایت کتاب روشن کی شرط ہے۔

٢

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٢٤١

مگر مرزائی حضرات ان ہر سہ امور سے کورے ہوتے ہیں۔ اپنا دعویٰ نہ بیان حکمت سے ثابت کر سکتے ہیں۔ کیونکہ مبنی بر حقائق نہیں۔ اختراع اور کذب ہے۔ مکر اور فریب ہے۔ دجل اور جدل ہے۔ اسی لئے ان سے علماء ختم ہوتے جارہے ہیں۔ صرف کالج اور تعلیم دنیاوی پر گزارہ ہے۔ مرزائیت کی ترقی اور استقامت کا دارو مدار صرف اچھی ملازمت دلانے اور اچھے خاندان میں شادی کرنے پر منحصر ہو کر رہ گیا ہے۔ علم القرآن پڑھانے سکھلانے کا ربوہ (چناب نگر) میں کوئی اچھا انتظام نہیں۔ ابوالعطاء اللہ دتا جالندھری کے سوا اب کوئی پرانی قسم کا آدمی نہیں رہ گیا اور قاضی نذیر وغیرہ کی نسبت مبلغ اعظم نے فرمایا۔ وہ تو عربی کی عبارت بھی مناظرہ عالم گڑھ میں غلط پڑھتے دیکھے گئے ہیں۔ وہاں فیصلہ ان کے خلاف ہوگیا۔ وہ لڑکا جس کے لئے مناظرہ ہوا، مرزائی نہیں رہا۔ چنانچہ تحریری فیصلہ ان کے خلاف موجود ہے۔

یہ وجہ ہے علم الحقائق میں رہ کر بات نہ کرنے کی۔

حقائق وحکمت موعظہ حسنہ سے کام لے نہیں سکتے۔ کیونکہ قصص انبیاء اور آل انبیاء ان کی تصدیق نہیں کرتے۔ اقتداء بانبیاء نہیں کر سکتے۔ ملت ابراہیم آل ابراہیم مثال موسوی تشبیہ ہارونی سب ان کے خلاف ہی رہا۔ جدل تو وہ بھی غیر احسن یعنی بغیر علم ہدایت اور کتاب روشن کرتے ہیں۔ ورنہ ایک مرزائی کا مناظرہ ایک شیعہ عالم سے یہ ہوتا ہے کہ نہ اپنی نبوت کا دعویٰ مبنی بر صداقت ثابت کر سکے۔ بنات الرسول کی تعداد کا مسئلہ جس کا نہ مرزائی اصول سے تعلق نہ شیعہ اصول سے اور اس میں بھی جناب فاطمہ کی شہرت تواتر عصمت طہارت میں غیر کو شریک نہ کر سکے اور تعدد میں آیت محکم اور حدیث متواتر و مشہور نہ پیش کر سکے۔ صرف رطب و یابس قیاس مع الفارق...... حالانکہ جدل احسن کی تعریف یہ ہے۔ "ان يكون دليلاً مركباً من مقدمات مشهورة عند الجمهور او من مقدمات مسلمة عند الخصم ذالك القائل وهذا الجدل هو الجدل الواقع على الوجه الاحسن" کہ مجادلہ احسن وہ ہوتا ہے کہ دلیل ایسے مقدمات سے مرکب ہو کہ مشہور عندالجمہور اور مسلم ہوں یا کم از کم ایسے مقدمات سے دلیل مرکب ہو جو عند الخصم مسلم ہوں۔ ورنہ مجادلہ احسن نہ ہوگا۔ بلکہ غیر احسن ہوگا اور دلیل مقدمات باطلہ سے مرکب ہوگی۔ ایسے مناظر کا کام صرف جھوٹے اور باطل مقدمات کی ترویج ہوتا ہے۔ سامعین کو بے وقوف بنانا، حیلے بہانے سے کام لینا دوران مناظرہ میں طرق فاسدہ یعنی فاسد راہیں اختیار کرنا غلط روش

٣

صفحہ ٢٤٢

اختیار کرنا۔

(کما فی تفسیر کبیر ج ٢٠ ص ١٣٨)

جیسا کہ یہ مرزائی اور ان کے اکثر جاہل ملاں کرتے ہیں۔ کبھی ایسی دلیل نہ پیش کریں گے۔ جو عندالجمہور مشہور مسلم یا کم از کم عندالخصم مسلم اور مشہور ہو۔ صرف نوادرات ظنیات غیر مشہور اور غیر مسلم دلائل پیش کریں گے۔ ایسے جوڑ توڑ تو بے نماز اور بے عمل بلکہ بے ایمان بھی قرآن سے کر سکتے ہیں۔ مثلاً ”لا تقربوا الصلوٰۃ“ کہ نماز کے قریب نہ جاؤ۔ قرآن میں موجود ہے۔

جدل احسن اور مرزائیوں کی بے اصولیاں

حضرات ناظرین! جب مرزائی جماعت کا وفد آیا تو انہوں نے چالاکیاں، بے اصولیاں شروع کیں تو مبلغ اعظم نے اس پر اچھا خاصہ تبصرہ فرمایا۔ حضرات! اصولی بات کرنی چاہئے۔ مناظرہ کے اصولوں میں وہ بات کرنی چاہئے ورنہ جدل غیر احسن قرآن مجید اور حدیث کی رو سے منع ہے۔ حرام ہے۔ دینی حیات کی موت کا باعث ہے۔ باعث نقصان ایمان ہے۔ چنانچہ قرآن کریم میں ہے۔ ”ومن الناس من يجادل فى الله بغير علم ويتبع كل شيطان مريد كتب عليه انه من تولاه فانه يضله ويهديه الى عذاب السعير (الحج: ٣)“

کہ بعض لوگ دین خدا میں بغیر علم کے جھگڑتے ہیں اور ہر شیطانی سرکش کے پیچھے ہو لیتے ہیں اور شیطان پر یہ لکھا جا چکا ہے کہ جو شخص اس کے پیچھے چلے گا اوّل تو وہ اس کو گمراہ کرے گا۔ دوم اس کو وہ عذاب جہنم کی طرف رہنمائی کرے گا کہ بغیر علم اور بغیر اصول مناظرہ کرنا شیطانی فعل ہے۔

”ومن الناس من يجادل فى الله بغير علم ولا هدى ولا كتاب منير ثانى عطفه ليضل عن سبيل الله ٠ له فى الدنيا خزى ونذيقه يوم القيمة عذاب الحريق (الحج: ٩)“

کہ بعض لوگ وہ ہیں جو دین خدا میں جھگڑا کرتے ہیں۔ بغیر علم کے اور ان کے پاس نہ مناظرہ کرنے کی ہدایت ہے اور نہ ہی کتاب روشن کا ثبوت رکھتے ہیں۔ معلوم ہوا کہ دین خدا میں مناظرہ کرنے کے لئے :

٤

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٢٤٣

سوم...... کتاب روشن کا ثبوت یعنی صرف اشارے کنائے جوڑ توڑ نہ ہوں۔ کوئی روشن ثبوت چاہئے۔ مگر مرزائیوں کی نبوت صداقت اس کی متحمل کہاں کہ علم سے مناظر ہو اور اصول کی پابندی ہو اور کتاب منیر کا ثبوت ہو۔ جس میں شک وشبہات نہ ہوں۔

”ولا تجادلوا اهل الكتاب الا بالتى هى احسن الا الذين ظلموا منهم (العنکبوت)“

کہ اہل کتاب سے سوائے مہذب طریقہ کے بحث مت کرو۔ سوائے ان لوگوں کے جو ان میں ظالم ہیں۔

یعنی اصول مناظرہ کی حدیں پھاند جاتے ہیں اور بے محل گفتگو کرتے ہیں۔ یہ مرزائی مبلغ ”الا الذين ظلموا منهم“ کے مصداق ہوتے ہیں۔ بے اصول بے محل بات کرتے ہیں۔ ان کو ترکی بہ ترکی جواب دینے کا کوئی مضائقہ نہیں ہے۔ چنانچہ آپ کو یہ مناظرہ پڑھ کر معلوم ہو جائے گا کہ مرزائی مبلغ نے جمہور کی راہ کو کیسے چھوڑا۔ متواترات سے منہ کیسے موڑا اور قواعد مسلمہ کو کیسے توڑا۔ ان چیزوں کے ظاہر کرنے سے ہمارا مطلب مرزائیوں کا کذب وافتراء جھوٹ طوفان غلط بیان، غلط دلائل وہمی اور ظنیات کو ظاہر کرنا ہے۔ تا کہ عوام سادہ لوح کامل چیزوں پر ایمان رکھیں۔ ظنیات وہمیات مغالطات سے بچ جائیں۔ سچ ہے: ”تمت كلمة ربك صدقاً وعدلا“ کہ اللہ کے کلمے پورے ہوتے ہیں۔ ناقص نہیں ہوتے۔ سچے ہوتے ہیں۔ مطابق واقعات ہوتے ہیں جھوٹ افتراء نہیں ہوتا۔ مبنی بر عدل ہوتے ہیں۔ پر از انصاف ہوتے ہیں بے محل نہیں ہوتے۔

جیسے مرزائیوں کے دلائل اور دعوے نہ پورے، نہ سچے، نہ عدل، نہ انصاف، صرف لاف وگزاف چستی چالاکی اللہ سے بے باکی، نہ خوف، نہ ڈر، نہ در نہ گھر، نہ علم نہ اصول، جو چاہا مان لیا۔ جو چاہا چھوڑ دیا۔ اکثر دیکھا گیا ہے کہ اپنے نبی مرزا قادیانی کے اقوال بھی چھوڑ جاتے ہیں۔ جب وہ معصوم ثابت نہیں ہوتے تو دوسرے انبیاء کی عظمت سے بھی انکار کر جاتے ہیں۔

فن مناظرہ اور مرزائی مبلغ کی بے علمی

حضرات! مرزائی اصول مناظرہ سے واقف نہیں ہوتے۔ لہٰذا کسی علم کے قواعد وضوابط بھی مدنظر نہیں رکھتے۔ نہ تفسیر کے، تفسیر بالرائے کرتے ہیں۔ نہ علم حدیث کے، لہٰذا صحیح وضعیف

٥

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٢٤٤

میں فرق نہیں کرتے۔ نہ تاریخ کے، لہذا غلط روایات بے سند کا سہارا لیتے ہیں۔ نہ اصول مناظرہ کے قواعد وضوابط کی پرواہ کرتے ہیں۔ شتر بے مہار کی طرح چلتے ہیں۔

مناظرہ مشتق من النظیر ہے

مرزائی مبلغ، مبلغ اعظم کی علم ومہارت میں نظیر ہی نہ تھا۔ لہذا گھٹیا دلائل دیتا رہا۔ ان کو اظہار صواب مطلوب ہی نہیں ہوتا۔ لہذا مناظرہ نہیں۔ بلکہ مکابرہ کرتے ہیں اور مجادلہ میں اتر آتے ہیں۔ یعنی اپنا بڑا پن ظاہر کرنے کی کوشش کرتے ہیں تا کہ خفت نہ ہو۔ لہذا ان کو تکلف تصنع بناوٹ اور چستی چالاکی مکر و فریب سے کام لینے کی از حد ضرورت ہوتی ہے۔ خواہ پتہ چلے، نقل میں صحت کا خیال نہیں کرتے۔ غلط حوالے، غلط تراجم، غلط تشریح فرماتے ہیں۔ یہی ان کا معمول ہوتا ہے۔ نہ ان کو پتہ ہوتا ہے کہ مدعی کون ہوتا ہے اور اس کا وظیفہ کیا اور سائل کون اور ہمارا دعویٰ کیا۔ اس پر ہم دلیل دے رہے ہیں یا شبہ وارد کر رہے ہیں۔ مصطلحات میں تعریف کا پتہ، نہ حقیقی کا، نہ اسمی کا، نہ رسمی کا۔ دلیل میں اس کے مقدمات کی صحت وسقم کا خیال ہی نہیں رکھتے۔ منع نقض معارضہ کی تعریف تک سے واقف نہیں ہوتے۔

یہ مولوی احمد علی مرزائی، مبلغ اعظم کی کسی دلیل پر نہ نقض وارد کر سکا نہ معارضہ میں دلیل پیش کر سکا۔ نہ مبلغ اعظم کی کسی دلیل پر کوئی شاہد بین پیش کر سکا۔ نہ مبلغ اعظم کی کسی دلیل کے خلاصۂ معارضۂ کوئی دلیل صحیح قائم نہ کر سکا۔ مناظرہ اور بحث کے اجزاء ثلاثہ مبادی اوساط مقاطع کا جاننا اس کی بلا سے، طریق بحث اور اس کی ترتیب طبعی کا کوئی خیال نہ رکھا۔ یہ ہوتے ہیں مرزائی مناظر۔

مسئلہ بنات کا موضوع نباہ نہ سکنے کی وجہ سے اہل البیت کی تعین سے عاجز آ گیا۔ اس سے گھبرا کر ختم نبوت مگر دلائل وہی ظنیات ضعیف اور کمزور نہ اصول نہ ضوابط صرف خیال اور بے معنی قال مقال۔

ہم اس مناظرہ میں مذہب حقہ شیعہ خیر البریہ کی صداقت حقانیت اور اس کے مقابلہ میں مرزائیوں کی کمزوریاں جو ظاہر ہوئیں دکھلائیں گے۔

ختم نبوت اس کے ترجمہ وتشریح میں جتنی آیات، احادیث شیعہ کے پاس ہوں گے ان کا مقابلہ کرنا حقائق کا منہ چڑانا ہے۔ ضروریات دین کا انکار ہے کفر ہے۔ حقیقت کو مجاز، مجاز کو

٦

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٢٤٥

حقیقت صحیح کو ضعیف متواتر کو خبر واحد بنانا ہے۔ یہ تمام حقائق آپ کو اس مناظرہ میں نظر آئیں گے۔ آئندہ آپ خود سمجھ لینا کہ یہ مرزائی کن ہتھکنڈوں سے کام لیتے پھرتے ہیں اور کیا کیا حیلے بہانے اور غلط پروپیگنڈے کر رہے ہیں۔ مگر ختم نبوت کی مہر توڑنا ان کے بس کا روگ نہیں۔

مسئلہ ختم نبوت کے خلاف

مرزائی مبلغ نے چار چیزوں سے استدلال کیا۔

اوّل ...... استدلال اس وقت کیا جب مبلغ اعظم نے خطاب الواحد بلفظ الجمع پر ”یا ایھا الرسل کلوا من الطیبت واعملوا صالحاً“ کی آیت پڑھی پ ١٨ المومنون آیت نمبر ٥٢ کہ صرف صیغہ جمع سے استدلال نہیں ہو سکتا۔ کیونکہ ”یا ایھا الرسل کلوا من الطیبت“ میں رسل جمع ہے کلوا جمع ہے۔ ”واعملوا“ جمع حالانکہ حضور کے وقت میں آپ کے ساتھ کوئی رسول نہیں اور قیامت تک کسی نئے رسول کے آنے کا امکان نہیں اور انتظار نہیں اور پرانا کوئی آئے تو اس میں شمار نہیں۔ لہذا جمع سے استدلال غلط۔

دوسرا استدلال۔ ”ام یحسدون الناس علی ما اتاھم اللّٰہ من فضلہ فقد آتینا آل ابراھیم الکتاب والحکمة واتیناھم ملکاً عظیماً“ کی تفسیر میں اصول کافی کی ایک حدیث سے کیا۔

اور تیسرا ”انعم اللّٰہ علیھم من النبیین والصدیقین والشھداء والصالحین“ سے کیا۔

چوتھا حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول سے کیا۔ ان شبہات کے جو جواب مبلغ اعظم نے ترکی بترکی دیئے۔ انشاء اللہ ہم دلائل ختم نبوت جو مبلغ اعظم نے اس وقت دریا کی روانی کی طرح برسائے۔ ان کو نقل کرنے کے بعد نقل کریں گے۔

مسئلہ ختم نبوت اور مرزائی مغالطے

حضرات! ہم لوگ درس آل محمدؐ کے طالب علم ہیں۔ مبلغ اعظم کے شاگرد ہیں۔ تعلیم کے ساتھ ساتھ فن تقریر اور مناظرہ کے اصول بھی سیکھتے رہتے ہیں۔ سفر اور حضر میں بیان حکمت موعظہ حسنہ، جدل احسن کے اصول سنتے رہتے ہیں۔

قبل اس کے کہ وہ دلائل اور حقائق پیش کروں جو مبلغ اعظم نے اس مرزائی مبلغ کے

٧

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٢٤٦

سامنے پیش کئے۔ جن کا وہ کیا کوئی مرزائی بھی جواب نہیں دے سکتے۔ ختم نبوت کی مہر توڑنا، طلوع شمس نبوت کے بعد مصنوعی نبوت کی شمع جلانا کوئی آسان بات نہیں ہے۔ حضور پر نبوت ختم، نعمت تام، دین کامل، شریعت پوری۔ قرآن کی حفاظت کا ذمہ خدا نے لے لیا۔ قرآن مجید کے اندر وہ تمام علوم واصول رکھ دیئے ہیں۔ جو قیامت تک کے لئے پیش آئیں گے۔ حدیث نبوی میں قرآن مجید کے اجمال کی تفصیل ہوچکی ہے۔ آئمہ طاہرین اس کی الہامی تفسیر فرما چکے ہیں۔ علم الساعۃ کے طور پر آخری امام کے ظہور اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے رجعی نزول کی تخصیص اور تعیین ہو چکی ہے۔

لہٰذا اجراء نبوت کیا، وحی جدید کیسی قرآن کے بعد اللہ کی اور کلام کیسا۔ آل محمد کے سوا امام کیسا۔ مرزا قادیانی کا کلام اور بہاء اللہ کا بیان کیسا؟ اللہ کا قرآن، آل محمد کا امام، تاحوض کوثر ساتھ و قرین رہیں گے۔ ”لن يتفرقا حتى يرد على الحوض“

(ترمذی شریف ص ١٢٦، مشکوٰۃ شریف ص ٥٦٩)

مبلغ اعظم نے فرمایا کہ ختم نبوت کا عقیدہ ضروریات دین سے ہے۔ اس کے دلائل محکم اور متواتر ہیں۔ برہان اور استقراء سب اس پر شاہد ہیں۔ ختم نبوت حضور پرنور کا خاصہ ہے۔ دیگر کسی نبی کے لئے خاتم النبیین کا لفظ قرآن مجید اور حدیث شریف میں نہیں آیا۔ ”من ادعی فعلیہ البیان ولہ الانعام ہاتوا برہانکم ان کنتم صادقین“

تیس دجال مدعیان نبوت کاذبہ

مبلغ اعظم نے فرمایا کہ ختم نبوت کی مہر کیسے ٹوٹ سکتی ہے۔ بقول سرکار دو عالم ﷺ مدعیان نبوت کاذب اور دجال ہوں گے۔

”عن ثوبان فی حدیث قال قال رسول اللہ وانہ سیکون فی امتی کذابون ثلاثون کلہم یزعم انہ نبی اللہ وانا خاتم النبیین لا نبی بعدی ولا تزال طائفۃ من امتی علی الحق ظاہرین لا یضرہم من خالفہم حتی یأتی امر اللہ

(رواہ ابوداؤد ج ٢ ص ١٢٧، ترمذی ج ٢ ص ٤٥، نقل از مشکوٰۃ شریف ص ٤٦٥، کتاب الفتن)

حضرت ثوبانؓ سے روایت ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا۔ تحقیق میری امت میں تیس جھوٹے مدعی ہوں گے۔ سب دعویٰ کریں گے کہ وہ اللہ کے نبی ہیں۔ حالانکہ میں خاتم النبیین

٨

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٢٤٧

ہوں۔ میرے بعد کوئی نبی نہیں۔ میری امت کا ایک گروہ حق پر غالب رہے گا۔ جو لوگ ان کی مخالفت کریں گے ان کا نقصان نہ کر سکیں گے۔ حتیٰ کہ اللہ تعالیٰ کا امر آ جائے گا۔

فوائد حدیث ہذا

پس معلوم ہوا کہ مدعیان نبوت تیس کے قریب ہوں گے۔ جھوٹے ہوں گے۔ ان کے جھوٹے ہونے کی دلیل حضور ﷺ کا خاتم النبیین ہونا ہے اور خاتم النبیین کا معنی بقول سرکار دوعالم لا نبی بعدی ہے کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں اور امت میں سے ایک گروہ حق پر قائم رہے گا۔ لوگ اس کی ہزار مخالفت کر کے بھی ان کو حق سے نہ ہٹا سکیں گے۔

اس حدیث میں کاذب مدعیان نبوت کی پیشین گوئی خاتم النبیین کے معنی اور مذہب شیعہ کی ( قادیانیوں کے مقابلہ میں ) حقانیت سب ثابت ہوگئی۔ الحمد للہ علیٰ ذالک!

تفصیل مغالطہ وتناقض

مبلغ اعظم نے فرمایا۔ حضرات! مسئلہ ختم نبوت تو اپنی جگہ پر ایک مسلمہ حقیقت ہے اور اس کے دلائل وہ پہاڑ اور حصار ہیں۔ جن کو کوئی بڑے سے بڑا دجال بھی نہ توڑ سکے گا اور مرزائی صاحبان جتنے دلائل اس باب میں دیا کرتے ہیں ۔ وہ سب باب مغالطہ کا اظہار اور امثال ہوتے ہیں۔ اس میں پھنسنے والے مغالطہ کا شکار ہوتے ہیں۔

اسباب مغالطہ

اگرچہ بہت ہیں مگر خلاصہ ان کا صرف دو امر ہیں۔ ”سوء فہم اور اشتباہ الکواذب بالصوادق“ لہٰذا یہ مرزائی لوگ ان لوگوں کو دھوکا دیتے ہیں۔ جو سوء فہم کا شکار ہوتے ہیں۔ دینیات کا فہم وادراک نہیں رکھتے۔ قرآن وحدیث سے واقف نہیں ہوتے۔ سچ اور جھوٹ میں فرق نہیں کر سکتے۔ سچ کو جھوٹ، جھوٹ کو سچ سمجھ کر دھوکا کھا جاتے ہیں۔

دوم...... حدیث صحیح کے مقابلہ میں ضعیف اور متواتر کے مقابلہ میں نوادر پیش کر کے سچ اور جھوٹ کو ملا دیتے ہیں اور لوگ دھوکا کھا جاتے ہیں۔ کبھی صحیح دلائل نہ پیش کر سکیں گے۔ ”عدم التمیز بین الشیء وشبھہ“ سے دھوکا دیتے ہیں۔ یعنی شبہات پیدا کرنے سے کام لیتے ہیں۔ لفظی اور معنوی غلطیوں سے فریب دیتے ہیں۔ گاہے لفظ مشترک المعنی سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔

٩

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٢٤٨

گا ہے حقیقت کو مجاز، مجاز کو حقیقت بنانے میں تصریح کی بجائے استعارہ کنایہ سے کام لیتے ہیں۔ بعض اوقات ترکیب عبارت کا خیال نہیں رکھتے کہ غلام احمد کون ہے اور احمد کون۔ غلام کو حذف کر کے احمد کے مدعی ہو جاتے ہیں۔ ادلہ معنویہ میں قید اور حیثیت کا خیال نہیں کرتے۔ دعویٰ کو دلیل بنانے سے دریغ نہیں کرتے۔ اکثر دلائل مصادرہ علی المطلوب پر مبنی ہوتے ہیں۔

تناقض اور تعارض

میں ہشت وحدت در تناقض شرطواں کو نظر انداز کر کے سائل کو فریب دیتے ہیں۔ ”وحدات ثمانية وحدة الموضوع، وحدة المحمول وحدة المكان وحدة الزمان وحدة القوة والفعل وحدة الشرط وحدة الجزء والكل وحدة الاضافية“

در تناقض ہشت وحدت شرط دان
وحدت موضوع محمول ومکان
وحدت شرط واضافت جزو کل
قوت وفعل است در آخر زماں

یعنی ان شرائط کا خیال کئے بغیر تناقض اور تعارض در ادلہ پیدا کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

یہ تفصیل ہم نے اس لئے لکھی ہے تاکہ ناظرین مناظرہ ہذا کو مرزائیوں کے دلائل کی حقیقت معلوم ہو جائے کہ وہ دلائل نہیں ہوتے۔ بلکہ شبہات ہوتے ہیں اور مغالطے ہوتے ہیں۔

دلائل ختم نبوت

مبلغ اعظم نے مرزائی مبلغ کے خارج از موضوع ہٹ کر ختم نبوت کے شبہات شروع کرنے پر مندرجہ ذیل دلائل قرآن اور حدیث سے پیش کئے اور شبہات کے جوابات دیئے۔ جن کا ذکر بعد میں آجائے گا۔

”ماکان محمد ابا احد من رجالکم ولکن رسول الله وخاتم النبيين (احزاب)“ {نہیں ہے محمدؐ باپ کسی کا مردوں تمہارے میں سے۔ لیکن پیغمبر خدا کا ہے اور ختم کرنے والا ہے تمام نبیوں کا۔}

محمد تمہارے مردوں میں سے کسی کے باپ نہیں ہیں۔ لیکن اللہ کے رسول ہیں اور سب

١٠

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٢٤٩

نبیوں کے ختم پر ہیں۔ ترجمہ اشرفیہ ص ٤٨٣ مطبوعہ تاج کمپنی۔ ترجمہ آیت ہذا از مرزا غلام احمد قادیانی آنجہانی بھی انقطاع نبوت کا ہے۔

لفظ ختم اور قرآن مجید

مبلغ اعظم نے فرمایا کہ حضور قرآن کریم میں لفظ ختم بند کرنے کے معنی میں آیا ہے۔ جیسے ”ختم الله على قلوبهم وعلى سمعهم وعلى ابصارهم غشاوة ولهم عذاب عظیم“

یہاں ختم اللہ ہدایت بند کرنے کے معنی میں ہے۔ اسی لئے اللہ نے اس کا ترجمہ ”هم لا يؤمنون“ فرمایا کہ یہ لوگ ایمان نہیں لائیں گے۔ خود خدا نے فرمایا اور قرآن مجید میں آیا۔ اب اگر وہ ایمان لے آئیں تو کذب لازم آئے گا اور وہ نقص ہے۔ ”وهو محال على الله“ جب ختم کے بعد وہ ایمان نہیں لا سکتے تو خاتم النبیین کے بعد نبی کیسے آ سکتے ہیں۔ اسی لئے حدیث میں حضور ﷺ نے فرمایا۔ ”لا نبی بعدی“ میرے بعد کوئی نبی نہیں۔

دوسری دلیل: آپ نے معنی ختم پر ”الیوم نختم علی افواہھم“ کہ ہم ان کے منہ پر قیامت کے دن مہر کر دیں گے۔ وہ منہ سے بول نہ سکیں گے۔ اس پر مرزائی مبلغ نے کہا کہ ہاں ایک موضوع پر کلام ختم ہو گیا۔ دوسرا شروع ہو گیا۔ ”تكلمنا ایدیہم“ کہ ان کے ہاتھ پاؤں ہم سے کلام کریں گے۔ کلام جاری ذریعہ ختم ہو گیا۔ دوسرا شروع ہو گیا۔

مبلغ اعظم نے فوراً جواب دیا کہ ہاں حضور دنیا سے کلام خدا کرنے کا جو ذریعہ ختم ہوا۔ وہ ختم نبوت ہے۔ کیونکہ خاتم النبیین ہے۔ لہٰذا یہ ذریعہ کلام اب دنیا میں نہ ہوگا۔ دوسرے ذریعہ خلافت جاری ہیں۔ مگر ان کا نام نبوت نہیں نبوت ختم کلام کا اصل ذریعہ صرف منہ ہے۔ ہاتھ پاؤں کا یہ وظیفہ نہیں۔ ان کی کلام قالی نہیں حالی ہے۔ دائمی نہیں وقتی ہے۔ اصلی نہیں عارضی ہے۔ لہٰذا ہاتھ پاؤں کی کلام منہ کی کلام نہیں۔ لہٰذا خلفاء اور اوصیاء کی کلام، کلام نبوت نہیں لہٰذا دلیل آپ کی ختم۔ ختامه مسک اس کی مہر کستوری کی ہے۔ مہر اگر ٹوٹ گئی تو شراب خالص نہ رہے گی اور پاک نہ رہے گی۔

مرزائیوں نے نبوت کی مہر توڑی۔ اب ان کا دین اور مذہب خالص محمدی نہیں بلکہ اس میں مرزائی الہامات پیغامات اور دیگر کی ملاوٹ ہے۔ لہٰذا خالص اسلامی محمدی قرآنی نہیں کہلا

١١

صفحہ ٢٥٠

سکتے۔

اور نیز خالص کا لینا کیا مسلمانوں کو چاہئے کہ وہ دین اور مذہب اختیار کریں۔ جس پر خاتم النبیین کی مہر سلامت ہو۔

معنی ختم نبوت بانقطاع نبوت از مرزا قادیانی۔

مبلغ اعظم نے فرمایا۔ خاتم النبیین کا ترجمہ خود مرزا قادیانی نے انقطاع نبوت کا فرمایا ہے۔ جیسا کہ فرماتے ہیں۔ ’’واما النبوة التى تامة كاملة جامعة لجميع كمالات الوحى فقد آمنا بانقطاعها من يوم نزل فيه وماكان محمد ابا احد من رجالكم ولكن رسول الله وخاتم النبيين‘‘ کہ نبوت تامہ کاملہ اسی دن منقطع ہو گئی۔ جس دن خاتم النبیین کی آیت اتری تو ختم بمعنی قطع ثابت ہو گیا۔

(توضیح المرام ص ١٣، خزائن ج ٣ ص ٦١)

’’اللهم صل على محمد وال محمد‘‘ الغرض! مرزائی مبلغ قرآن کریم سے کوئی لفظ ختم نہ دکھلا سکا۔ جس کے معنی بند کرنے کے نہ ہوں۔

خاتم المحدثین یا خاتم الشعراء وغیرہ کے الفاظ سے جو مرزائی دھوکا دیا کرتے ہیں۔ اوّل تو وہ لفظ کسی آیت یا حدیث کے نہیں۔ دوم بطور مبالغہ مجاز ہیں حقیقت نہیں اور مرزائی مغالطہ کی یہ مثال مشہور ہے کہ مجاز کو حقیقت بنا دیا کرتے ہیں۔

خاتم کے دو معنی ہیں۔ ’’من ختمت عليه الكمالات يا من لا يكون بعده نبي‘‘ حضور پر دونوں صادق آتے ہیں۔ اگر کمالات ختم ہیں تو دوسرا نبی کیسا اور ’’من لا يكون بعده نبى‘‘ کے بعد نبوت کیسی اور حضور نے یہ ترجمہ ’’لايكون بعدى نبى‘‘ خود فرمایا ہے۔ لیت ولعل کیسی جو حضور ﷺ کا خود کردہ ترجمہ نہ مانے مسلمان کیسا۔

حدیث رسول کریم اور لفظ خاتم النبیین

’’عن ابي هريره ان ... الانبياء من قبلى كمثل رجل بنى بنيانا فاحسنه واجمله الا موضع لبنة من زاوية من زواياه فجعل الناس يطوفون به يتعجبون ويقولون هلا وضعت هذه اللبنة قال فانا اللبنة وانا خاتم النبيين

١٢

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٢٥١

(بخاری شریف ج ١ ص ٥٠١، باب خاتم النبیین، مسلم شریف ج ٢ ص ٢٤٨، ترمذی شریف ج ٢ ص ١٠٩، مشکوۃ شریف ص ٥١١)“

حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ حضورؐ نے فرمایا میری مثال اور دوسرے انبیاء علیہم السلام کی جو مجھ سے پہلے گزرے ہیں اس مرد کی سی ہے جس نے ایک گھر بنایا اور اس کو ہزار زیب وزینت سے آراستہ پیراستہ کر دیا۔ احسن اور اجمل بنایا۔ مگر ایک کونے میں ایک اینٹ نہ تھی لوگ آتے تھے اور اس مکان کے گرد گھومتے اور دیکھ کر تعجب کرتے تھے کہ یہ اینٹ کیوں نہیں لگائی گئی۔

حضورؐ نے فرمایا وہ اینٹ میں ہوں اور خاتم النبیین میں ہوں اور مسلم شریف کی ایک روایت میں ہے: ”قال رسول اللّٰہﷺ فانا موضع اللبنة جئت فختمت الانبیاء (ج ٢ ص ٢٤٨)“ کہ حضورؐ نے فرمایا۔ اس اینٹ کا مقام میں ہوں میں آ گیا۔ پس میں نے انبیاء کو ختم کر دیا اور مسلم شریف کی ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں۔

”کمثل رجل ابتنی بیوتا فاحسنها واجملها واکملها الا موضع اللبنة من زاوية من زوايات“ کہ حضورؐ فرماتے ہیں۔ میری مثال اور سابق انبیاء کی مثال یہ ہے کہ ایک شخص نے کئی مکان بنائے۔ احسن بنائے، اجمل بنائے، اکمل بنائے ۔ مگر ایک زاویہ کی اینٹ نہ لگی تھی اور لوگ کہتے تھے یہ اینٹ کیوں نہ لگائی۔

”فيتم بنيانك فقال محمد فكنت انا اللبنة“ تا کہ عمارت پوری ہو جاتی۔ حضورؐ فرماتے ہیں وہ میں ہوں۔ تو جمال کمال حسن تمام سب کچھ آ گیا۔ مرزائی عذر بہانے کافور حقیقت سے دور نظر آتے ہیں۔

ختم نبوت از کلام مرزا قادیانی آنجہانی

حضرات! مسئلہ ختم نبوت ایسا متواتر اور ضروریات دین کا مسئلہ ہے کہ مرزائی نہ انکار کر سکتے ہیں نہ اقرار۔ اگر انکار کریں تو خطرۂ کفر ہے۔ اگر اقرار کریں تو مرزا قادیانی کی نبوت کا کچھ نہیں رہتا۔ چنانچہ مرزا قادیانی کے ایسے تصریحات موجود ہیں۔ جن سے معنی ختم نبوت ثابت ہے۔ چنانچہ (خطبہ الہامیہ ص ٢٥٥، خزائن ج ١٦ ص ایضاً) پر ”ويشابه الخاتمة بالفاتحة“ تا کہ خاتمہ فاتحہ کے مشابہ ہو جائے۔ معلوم ہوا کہ لفظ ختم فتح کی ضد ہے۔ ختم کے معنی بند، فتح کے معنی کشادن۔ (تریاق القلوب ص ١٥٧، خزائن ج ١٥ ص ٤٧٩) پر آخری خاتم الاولاد ہوگا۔ چنانچہ

١٣

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ١٤

مرزا قادیانی کے بعد کوئی بچہ پیدا نہیں ہوا۔ لہٰذا محمد ﷺ کے بعد کوئی نبی پیدا نہ ہوگا اور (خطبہ الہامیہ ص ٧٩، خزائن ج ١٦ ص ایضاً) پر حضرت عیسیٰ علیہ السلام خاتم انبیاء بنی اسرائیل فرمایا ہے۔ ”وجعلہ خاتم انبیاءھم“ اور یہ ظاہر ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بعد بنی اسرائیل میں کوئی نبی نہیں۔ چنانچہ مرزا قادیانی نے ”اتمھا بعیسیٰ“ کے ساتھ ترجمہ فرمایا ہے اور یہ بھی کہا ہے کہ میں خاتم النبیین کا بروز ہوں۔ دیکھو (خطبہ الہامیہ ص ٢٥٣، خزائن ج ١٦ ص ایضاً) جب بروز کے بعد کچھ نہیں تو اصل کے بعد نبی کیسا۔ چنانچہ فرماتے ہیں خاتم الخلفاء ہوں۔ (خطبہ الہامیہ ص ١٠٤، خزائن ج ١٦ ص ایضاً) دونوں سلسلے ختم۔ مسیح آخری اینٹ۔ آخر الخلفاء (خطبہ الہامیہ ص ١٢٢، خزائن ج ١٦ ص ایضاً) مسیح پر سلسلہ بنی اسرائیل ختم۔ مرزا قادیانی کے بعد قدم کی گنجائش نہیں۔ مرزا قادیانی کا وقت وقت عصر ہے۔ عصر کے بعد کوئی نماز نہیں۔ (خطبہ الہامیہ ص ٢٤٨، خزائن ج ١٦ ص ایضاً) خاتم دنیا و منتہی الایام (خطبہ الہامیہ ص ٢٥٩، خزائن ج ١٦ ص ایضاً) تین زمانے مسیح موعود کے بھی فنا۔ (تریاق القلوب ص ١٥٦) زمانہ آخر و خلیفہ آخر۔

(خطبہ الہامیہ ص ١٨٢)

الغرض! مبلغ اعظم نے مرزا قادیانی کی کلام سے ہی ثابت کر دیا کہ ختم کے معنی آخری اور اتمام اور بند کے ہیں۔ الف سادس آخری اینٹ۔ نماز عصر سب خاتمہ کی معقول محسوس مثالیں ہیں۔ ”وقالوا ان ھذا الرجل یدعی النبوۃ واللہ یعلم ان قولہم ھذا کذب بحت لا یمازجہ شی من الصدق ولا اصل لہ اصلا وما نحتوہ الا لیہجوا الناس علی التکفیر والسب واللعن والطعن ویبہتوہم ...... ذوالفساد ویفرقوا بین المؤمنین وانی واللہ امن باللہ ورسولہ وآمن بانہ خاتم النبیین“ (سلسلہ تصنیفات جلد ششم ص حمامة البشریٰ) کہ میرا دعویٰ نبوت نہیں میں خاتم النبیین پر ایمان رکھتا ہوں اور ختم کے معنی انسداد نبوت مانتا ہوں۔ البتہ یہ کہتا ہوں کہ بالقوۃ محدث میں اجزاء نبوت ہوتے ہیں۔ مگر بالفعل نہیں۔ کیونکہ باب نبوت ختم ہوچکا ہے۔ لہٰذا خاتم النبیین کے بعد جو میری طرف دعوت بالفعل منسوب کرتے ہیں۔ وہ جھوٹے ہیں۔ فتنہ و فساد تفریق بین المؤمنین کے بانی ہیں۔ مجھے کافر بنانا یا مشہور کرنا چاہتے ہیں۔

معاملہ صاف ہوا!

(دیگر مسائل بنات، خلافت پر مناظرہ قادیانیوں و شیعوں میں ہوا۔ مگر اس کا ہمارے

PDF 257

انا خاتم النبیین لا نبی بعدی

میں آخری نبی ہوں، میرے بعد کوئی نبی نہیں۔

فرقہ احمدیہ کے

چار سوالوں کے جوابات

حق و باطل

جناب ڈاکٹر سید فدا حسین شاہؒ

صفحہ ٢٥٤
حق پہ باطل کو نہیں کوئی بھی غلبہ کی سبیل
سنت اللہ کبھی ہو نہیں سکتی تبدیل

انتساب!

میں اپنی اس حقیر کاوش کو اپنے پیرو مرشد واجب الاحترام محترم المقام جناب صاحب حق صاحب قدس سرہ الاڈھنڈ ڈھیری ملاکنڈ ایجنسی کے نام نامی سے منسوب کرنے کا شرف حاصل کرتا ہوں۔ جن کے روحانی فیض کی برکت سے یہ حقیر اس قابل ہوسکا کہ حق کے لئے ہر باطل سے ٹکرانے کی جرأت کرسکتا ہے۔

احقر العباد! فدا حسین

چار سوالات

فرقہ قادیانیہ کے ایک رکن میاں محمد یوسف ککے زئی ممبر مجلس انصار اللہ قادیانی عبادت گاہ کوچہ گل بادشاہ جی پشاور شہر کے چار سوالات درج ذیل ہیں۔ جو انہوں نے ایک رسالہ اظہار حقیقت نمبر اَوّل! کے ذریعے جمیع فرقہ ہائے اسلامیہ سے پوچھے ہیں اور حاتم طائی کی قبر پر لات مار کر چار صد روپیہ انعام کا بھی اعلان فرما دیا ہے۔ اس سے زیادہ رقم کے انعام کا اعلان اس خوف سے نہ کرسکے کہ انہیں اپنے سوالات کی حقیقت خود معلوم تھی۔

سوال نمبر:١...... حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی یہ حدیث ”ان اللہ یبعث لھذہ الامۃ علی رأس کل مائۃ سنۃ من یجدد لھا دینھا“ (اللہ تعالیٰ اس امت کے لئے ہر صدی کے آغاز میں ایک شخص کو پیدا کرے گا۔ جو دین کی اصلاح کرے گا) بیان کرنے اور نواب مولوی صدیق حسن خان بھوپالوی کی ترتیب دادہ فہرست مجددین گذشتہ تیرہ صدی نقل کرنے اور اس حدیث کی اپنی مرضی کے مطابق تشریح کرنے کے بعد پوچھا ہے کہ اگر چودھویں صدی کا مجدد مرزا غلام احمد قادیانی نہ تھا تو اور کون تھا؟

سوال نمبر:٢...... حضور علیہ السلام کی حدیث کا یہ حصہ ”علماء ھم شر من تحت ادیم السماء“ یعنی (ایک ایسا زمانہ میری امت پر آئے گا کہ اس وقت عالم بے عمل آسمان کے نیچے شر پھیلانے والے ہوں گے) بیان کرنے کے بعد پوچھا ہے کہ اگر یہ مسلمانوں کے وہ علماء نہیں جنہوں نے مرزا قادیانی پر کفر کا فتویٰ لگایا ہے تو اور کون سے علماء ہیں؟

٢

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٢٥٥

سوال نمبر:٣...... حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی یہ حدیث ”من مات ولم يعرف امام زمانه فقد مات ميتة الجاهلية“ (جو اس حال میں مرا کہ اس نے اپنے زمانے کے امام کو نہ پہچانا، پس وہ جاہل کی موت مر گیا) بیان کرنے کے بعد پوچھا ہے کہ قادیانی فرقہ کے سوا اگر باقی لوگ اس زمرہ میں شامل نہیں تو پھر وہ جاہل لوگ کون ہیں؟

سوال نمبر:٤...... حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی حدیث جس میں آپؐ نے فرمایا ہے کہ آخر زمانہ میں میری امت ٧٣ فرقوں میں تقسیم ہو جاوے گی۔ سب دوزخ میں جاویں گے۔ بغیر ایک کے، جو جنت میں داخل ہوگی۔ بیان کرنے کے بعد پوچھا ہے کہ اگر وہ ناجی فرقہ قادیانی فرقہ نہیں تو اور کون سا ہے؟

(اظہار حقیقت مورخہ ١٥؍ دسمبر

١٩٦٤ء)

نحمده ونصلی علیٰ رسوله الکریم! بسم الله الرحمٰن الرحیم ٭ رب اشرح لی صدری ٭ ويسر لی امری ٭ واحلل عقدة من لسانی ٭ یفقهوا قولی!

جہاں تک مجھے معلوم ہے فرقہ قادیانیہ دو مختلف عقیدہ رکھنے والے دو فرقوں میں بٹا ہوا ہے۔ ایک فرقہ مرزا غلام احمد قادیانی کو مجدد مانتا ہے۔ دوسرا فرقہ اسے نبی مانتا ہے۔ جس فرقہ کے رکن نے یہ چار سوالات پیش کئے ہیں۔ وہ اوّل الذکر فرقہ سے تعلق رکھتا ہے۔ چنانچہ انہوں نے حدیث شریف مذکور در سوال نمبر:١ کی تشریح یوں فرمائی ہے کہ:

اعلان کرو کہ میں اس صدی کا مجدد ہوں۔

چکے ہیں۔

فرمائی؟ کہ مجدد سے خدا خود ہم کلام ہوگا اور اس پر وحی کرے گا۔ آپ نے اپنے رسالہ گذشتہ تیرہ صدیوں کے مجددین کی فہرست لکھی ہے۔ آپ کی یہ تاویل اگر درست ہے تو پھر مہربانی فرما کر یہ

٣

صفحہ ٢٥٦

بھی بتلائیے کہ ان تیرہ صدیوں کے مجددین نے بھی کبھی یہ دعویٰ کیا تھا کہ ان سے خدا ہم کلام ہوا ہے یا ان پر وحی کا نزول ہوا ہے۔ ظاہر ہے کسی نے ایسا دعویٰ نہیں کیا ہے۔ اس لئے چودھویں صدی کے مجدد میں ایسی کیا بات افضل تر ہے کہ وہ مجددین سابقہ کے طریق کو چھوڑ کر ایسا نرالا دعویٰ کرے۔ اگر اس کا طریق جدا ہے تو ظاہر ہے کہ وہ مجددین میں سے نہیں ہو سکتا۔ اس لئے اپنے مرزا قادیانی کو مجدد ثابت کرنے کے لئے کوئی اور پینترا بدلئے۔ یہ داؤ تو ظاہر ہے ناکام رہا جناب!

کے لئے نہیں ہوتا تو پھر جناب آپ ایک الگ فرقہ قادیانیہ بنائے کیوں بیٹھے ہیں؟ بلکہ ایک فرقہ میں دو جماعت؟ کیا آپ کے مجدد مرزا قادیانی نے آپ کو امت محمدیہ سے کاٹ کر الگ نہیں کر دیا ہے؟ کیا گذشتہ تیرہ صدیوں میں مجددین نے ایسا تفرقہ پیدا کیا تھا۔ اگر نہیں تو آپ کا مجدد ان جیسا نہیں گذشتہ تیرہ صدیوں کے مجددین کے مقابلے میں ایک نرالے مجدد کو امام اور رہنما مان کر باقی تمام مجددین کے طریق سے الگ راستہ اختیار کرنا کیا آپ کے نزدیک باعث فلاح اور نجات ہو سکتا ہے؟ پھر تو حضور گذشتہ تیرہ صدیوں کے مسلمان مجدد کے ہوتے ہوئے بھی بڑے بدقسمت تھے کہ ان کو مرزا قادیانی کی امامت اور راہنمائی نصیب نہ ہوئی۔ آج کے مسلمان جو آپ کی جماعت میں داخل نہیں۔ آپ کے نزدیک مسلمان نہیں۔ لیکن جناب گذشتہ تیرہ صدیوں کے مسلمانوں کے متعلق کیا فتویٰ صادر فرماتے ہیں؟

جناب سے مجدد کے صفات و تعریف پوچھ سکتا ہوں۔ نہیں آپ کو تکلیف نہیں دیتا۔ اس رسالہ میں میں آپ کی اطلاع کے لئے مجدد کی صفتیں اور آپ کے مجدد میں ان کا فقدان مدلل بیان کر رہا ہوں۔ تاکہ بوقت ضرورت بطور سند کام آئے۔

مانتے نہیں ہیں۔ ذرا غور فرمائیے۔ مرزا قادیانی نے دین محمد ﷺ کو زندہ کیا ہے یا اسے رد کر کے نئی سنت نئے طریق نئے اسلام اور نئی جماعت کی بنیاد رکھی ہے جو اسلام تیرہ سو سال سے چلا آ رہا تھا۔ اس اسلام کو چھوڑ کر نئی جماعت کی داغ بیل ڈالنا، اسلام کی تیرہ سو سالہ زندگی میں جو شریعت رائج رہی۔ جس کے لئے گذشتہ تیرہ صدیوں کے مجددین نے کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کیا۔ اس اسلام میں نرالی تبدیلیاں پیدا کر کے اسلام کو فرقہ پرستی کی نظر کر دینا۔ تیرہ سو سالہ شریعت محمدیہ کے

٤

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٢٥٧

پیروکاروں کو بے دین اور کافر کہہ دینا۔ کیا یہ آپ کے مجدد کی شان ہے۔ یہی تازگی ہے جو شریعت محمدیہ کو آپ کے مجدد نے دی۔

حیرت ہے آپ نے اپنے مجدد کے ارشادات اور افعال کا جائزہ تک نہیں لیا اور چلے نماز بخشوانے۔ میں مرزا قادیانی کے قول وفعل کی ایک جھلک آپ کو دکھاتا ہوں۔ ذرا ہمہ تن گوش بلکہ ہمہ تن چشم ہو جائیے۔

مجدد کی شناخت

مجدد کا اصطلاحی مفہوم

مجدد کے لفظی معنی تجدید کرنے والے کے ہیں۔ لیکن اصطلاح میں مجدد اس شخص کو کہتے ہیں جو بدعات اور دین کی خرابیوں کو دور کر سکے۔ جن کی وجہ سے اسلام کے حقائق ومعارف دوبارہ اپنی اصلی شان میں نظر آسکیں۔ نبی اور مجدد میں یہ نمایاں فرق ہوتا ہے کہ نبی اللہ کی طرف سے اللہ کی شریعت اور کتاب اللہ کی تبلیغ کرتا ہے اور خدا کا پیغام لوگوں کو سناتا ہے۔ اس شریعت ، کتاب اور پیغام کی بناء پر لوگوں کو ایک نئے آئین اور نئے طریق کی طرف بلاتا ہے۔ وہ انبیاء ماسبق کا مطیع و تابع نہیں ہوتا۔ یعنی وہ پرانے دین کو پیش نہیں کرتا۔ بلکہ اپنا دین اور اپنی شریعت جاری کرتا ہے۔ لیکن مجدد نہ کوئی کتاب لاتا ہے، نہ نیا دستور العمل پیش کرتا ہے۔ نہ دعویٰ کرتا ہے، نہ منکرین ومؤمنین میں امتیاز روا رکھتا ہے۔ نہ اپنے منکرین پر کفر کا فتویٰ لگاتا ہے۔ کیونکہ از روئے شریعت مجدد کی مجددیت پر ایمان لانا۔ فرض یا واجب نہیں۔ نہ اس سے انکار ایمان میں نقص پیدا کرتا ہے۔ کسی زمانہ میں ابتدائے اسلام سے اب تک کسی مفسر، محدث یا امام نے مجددین پر ایمان لانے کو شرط اسلام یا شرط ایمان قرار نہیں دیا۔ مسلمان کے لئے صرف خدا کا یہ حکم ہے کہ: ”يَا اَيُهَا الذين آمنوا آمنوا باالله ورسوله والكتاب الذى نزل على رسوله والكتب الذى انزل من قبل“ اور کافر کے لئے فرمایا ہے کہ:”وَمَن یكفر باالله وملئكته وكتبه ورسله واليوم الآخر فقد ضل ضللاً بعيدا (النساء:١٣٦)“ اس لئے حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے بعد کسی فرد کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ لوگوں سے اپنی اطاعت کا طالب ہو۔ الا بطریق امارت المؤمنين!

مجدد کی تجدید کی نوعیت شرح ابوداؤد عون المعبود میں اس طرح درج ہے۔ ”تجدید سے مراد یہ ہے کہ کتاب اور سنت کے عمل میں سے جو باتیں مٹ چکی ہوں۔ ان کو ازسرنو زندہ کیا جائے

٥

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٢٥٨

اور لوگوں کو ان دونوں پر عامل ہونے کا حکم دیا جائے اور جو بدعات اور محدثات اور امور غیر شرعی دین میں داخل ہو گئے ہوں۔ ان کو بالکل نیست و نابود کر دیا جائے۔‘‘

صاحب مجلس ابرار نے لکھا ہے کہ امت کے لئے تجدید دین سے مراد یہ ہے کہ عمل بالکتاب والسنۃ میں سے جو باتیں مٹ چکی ہوں۔ ان کو ازسر نو زندہ کیا جائے اور ان کے اقتضاء کے مطابق حکم کیا جاوے اور انہوں نے یہ بھی لکھا ہے کہ کسی شخص کو یقینی طور پر مجدد نہیں کہا جاسکتا۔ ہاں اس کی طرف گمان کیا جاسکتا ہے۔ علمائے امت میں جو لوگ اس کے ہم عصر ہوتے ہیں۔ وہ ان کے احوال کے قرائن اور اس کے علم سے استفادہ کرنے کی بدولت یہ قیاس کرتے ہیں کہ شاید وہ مجدد ہے۔ جو شخص مجدد ہو اس کے لئے یہ لازمی اور ضروری ہے کہ وہ دین کے علوم ظاہری و باطنی دونوں میں وحید العصر اور فرید الدہر ہو۔ سنت کا حامی ہو۔ بدعت کا قلع قمع کرنے والا ہو اور دنیا کے لوگ اس کے علم سے بیش از بیش بہرہ اندوز ہوں۔ نیز ملاعلی قاری نے شرح مشکوٰۃ شریف مرقات میں لکھا ہے کہ مجدد وہ ہوتا ہے جو سنت اور بدعت میں امتیاز کر کے دکھائے اور علوم کے دریا بہائے اور علماء کی عزت کرے۔ بدعات کا قلع قمع کر دے اور اہل بدعت کو ذلیل و رسوا کر دے۔

عون المعبود شرح ابوداؤد

(باب ما یذکر فی قرن المائۃ ج ٤ ص ١٨)

گذشتہ تیرہ صدی کے مجددین

فہرست مجددین گذشتہ تیرہ صدی مذکورہ بر صفحہ ١٨١ شرح ابوداؤد۔ پہلی صدی: حضرت عمر ابن عبدالعزیزؒ، دوسری صدی: امام شافعیؒ۔ تیسری صدی: ابن سریج۔ چوتھی صدی: امام باقلانیؒ یا امام الاسفرائنی یا حضرت سہلؒ۔ پانچویں صدی: امام حجۃ الاسلام محمد المدعو الغزالیؒ۔ چھٹی صدی: امام رازیؒ۔ ساتویں صدی: ابن دقیق العیدؒ۔ آٹھویں صدی: امام بلقینیؒ یا حافظ زین الدینؒ۔ نویں صدی: امام جلال الدین السیوطیؒ۔ دسویں صدی: امام شمس الدین ابن شہاب الدینؒ۔ گیارھویں صدی: حضرت مجدد الف ثانیؒ یا امام ابراہیمؒ بن حسن کردی۔ بارھویں صدی: حضرت شاہ ولی اللہؒ یا شیخ صالح بن محمد بن نوح الفلانی یا السید المرتضیٰ الحسینی۔ تیرھویں صدی: مولانا محمد قاسم صاحب دیوبندی یا سید نذیر حسین محدث دہلوی یا قاضی حسین بن محسن انصاری۔

مجدد کے صفات اور مرزا غلام احمد قادیانی

جس طرح مجدد کی شخصیت عام لوگوں سے برتر ہوتی ہے۔ اسی طرح اس کے اوصاف

٦

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٢٥٩

بھی نہایت بلند ہوتے ہیں۔ ظاہر ہے مجدد وہی ہو سکتا ہے جو صدرا اور بازغہ کے علاوہ مکتب محمدیہ میں بھی برسوں زانوئے ادب تہہ کر چکا ہو۔

نہ ہر کہ مو بتراشد قلندری داند

حکماء کے نزدیک مجددین میں مندرجہ ذیل صفات کا ہونا نہایت ضروری ہے۔

١...... علوم ظاہری و باطنی

مجدد اپنے زمانے میں قرآن مجید کا سب سے بڑا عالم ہو تاکہ اس کے حقائق و معارف سن کر عوام و خواص اس کے گرویدہ ہو جائیں۔ ایک طرف اگر مجدد منطق و فلسفہ کا ماہر ہو تو دوسری طرف تصوف و سلوک کے مقامات بھی طے کر چکا ہو۔ حضرت امام غزالیؒ فرماتے ہیں: ”جو شخص تصوف میں بلند مرتبہ نہیں رکھتا۔ وہ نبوت و رسالت وحی و الہام وغیرہ کی حقیقت نہیں سمجھ سکتا۔ سوائے اس کے کہ ان الفاظ کو زبان سے ادا کرے۔“

مرزا قادیانی کے علوم ظاہری و باطنی کے متعلق اندازہ ان کی تصانیف سے لگایا جاسکتا ہے۔ مرزا قادیانی کے متبعین کہتے ہیں کہ حضرت نے بیاسی کتب تصنیف کیں۔ ممکن ہے زیادہ ہوں۔ لیکن ان تصانیف میں لکھا کیا ہے۔ دراصل دقت نظر، اجتہاد فکر، تبحر علم اور بیان، وسعت معلومات اور ندرت خیال کے اظہار کے لئے ڈھیروں کتابیں لکھنا ضروری نہیں۔ علمیت تو ایک کتاب ہی سے ظاہر ہو سکتی ہے۔

مرزا قادیانی نے سرمہ چشم آریہ، نسیم دعوت، آئینہ کمالات اسلام اور نورالقرآن وغیرہ میں جو کچھ لکھا ہے وہ سب کا سب حکماء اور صوفیائے اسلام کی تصانیف سے ماخوذ ہے۔

حقیقت الوحی، تریاق القلوب، ازالہ اوہام اور توضیح المرام میں جو کچھ خامہ فرسائی کی ہے۔ وہ اپنی نبوت کی تشریح یا وفات مسیح کے اثبات کی کوشش ہے۔

جنگ مقدس، چشمہ مسیحی، آریہ دھرم، ست بچن، انجام آتھم، تحفہ گولڑویہ وغیرہ۔ مجادلہ کی کتابیں ہیں۔ ان کے مقابلے میں مولوی رحمت اللہ صاحب اور مولانا محمد قاسم صاحب کی کتب ازالہ اوہام، ازالۃ الشکوک، اظہار حق، تقریر دلپذیر، میلہ خدا شناسی، قبلہ نما، انتصار الاسلام، جواب ترکی بترکی، مرزا قادیانی کی تصانیف سے بدرجہا بہتر ہیں۔ مرزا قادیانی تو صحیح اردو بھی نہیں لکھ سکتے تھے۔ ذرا ان کی الہامی شاعری کا ایک مصرعہ ملاحظہ فرمائیے۔ فرماتے ہیں ؎

ایک برہنہ سے نہ یہ ہوگا کہ تا باندھے ازار

٧

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٢٦٠

سبحان اللہ! کیا اردو کی ٹانگ توڑ شاعری ہے۔ مصرعہ میں ”کہ تا“ اردو شاعری میں لاجواب ہے۔ جو باقی تصانیف ہیں تو ان میں مخالفین کے حق میں دشنام طرازیاں، فرومعنی پیش گوئیاں، ذاتی تعلیاں، سرکار کی مدح سرائی۔ اپنی وفاداری، چندہ کی طلب اور نبوت ورسالت کی تشریحات لایعنی پائی جاتی ہیں۔

ان تصانیف سے انہوں نے اسلام کی کتنی خدمت کی۔ مسلمانوں کے ایمان کو کس قدر تازہ کیا۔ اس کا اندازہ آپ ان کی تحریروں کے اقتباسات سے جو رسالہ میں شامل ہیں لگا سکیں گے۔

مرزا قادیانی نے ممکن ہے کسی زمانہ میں مجددیت کا دعویٰ کیا ہو۔ لیکن ١٩٠١ء سے ٢٣؍ مئی ١٩٠٨ء یعنی وفات سے تین دن پہلے تک انہوں نے کسی کتاب، کسی تقریر، کسی اشتہار یا کسی شخص سے یہ نہیں کہا کہ میں مجدد ہوں۔ ہر جگہ نبوت ہی کا دعویٰ کیا اور اپنے منکروں اور مخالفین کو جنگلی سوروں سے بدتر قرار دیا۔ یہ مسئلہ خود لاہوری جماعت اور قادیانی فرقہ کے درمیان ایک پیچیدہ مسئلہ بن گیا ہے اور مرزا قادیانی کے متعلق قادیانی پارٹی اعتراف کرتی ہے کہ مرزا قادیانی کو ١٩٠١ء تک اپنے دعویٰ کی سمجھ نہیں آئی۔ لیکن درحقیقت مرزا قادیانی کو ١٩٠٨ء تک اپنے دعویٰ کی سمجھ نہیں آئی۔ ١٩٠٤ء میں مرزا قادیانی نے لکھا: ”سميت نبياً لا على وجه الحقيقة بل على طريق المجاز“ میرا نام حقیقی طور پر نبی نہیں رکھا گیا۔ بلکہ محض مجازی طور پر۔ حقیقی نبی اپنے آپ کو مجازی نبی نہیں کہہ سکتا۔

مرزا قادیانی نے اکثر مولوی چراغ علی صاحب کو ایسے خطوط لکھے۔ جن میں بعض مباحثوں پر ان کی تحقیقات کا نتیجہ اور بعض مضامین ان سے اس غرض کے لئے طلب کئے تا کہ مرزا قادیانی اپنی کتاب میں شامل کر سکیں۔ (سیر المصنفین مولوی سید محمد یحییٰ تنہا، بی۔اے)

کیا یہ مقام تعجب نہیں کہ سلطان القلم، مجدد زمان جس کا دعویٰ یہ ہو کہ جب وہ لکھتا ہے تو معلوم ہوتا ہے کہ کوئی اسے اندر سے تعلیم دے رہا ہو۔ (ریویو مئی ١٩٢٩ء، ڈاکٹر شاہنواز) اور وہ علمائے وقت کے آگے ہاتھ پھیلائے کہ انہیں علمی مضامین کی امداد دی جائے۔

مرزا قادیانی کے متبعین میں سے کوئی ایسا شخص نظر نہیں آتا۔ جو مرزا قادیانی کے علوم ظاہری وباطنی کے فیض کی برکت سے مرتبہ ولایت حاصل کر سکا ہو۔ البتہ ایسے افراد ضرور نظر آتے ہیں جو ان پر ایمان لا کر ان کی طرح نبوت کا درجہ حاصل کر گئے۔ مگر افسوس نہ مرزا قادیانی نے نہ

٨

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٢٦١

فرقہ مرزائیہ نے ان کی کوئی قدر کی۔ ذرا ان کا ذکر بھی لگے ہاتھوں سن لیجئے۔

مولوی یار محمد کو جنون ہو گیا اور انہوں نے نبوت کا دعویٰ کر دیا۔“ (اخبار الفضل قادیان مورخہ یکم جنوری

١٩٣٥ء)

اب آسمان کے نیچے میری تابعداری اللہ کا دین ہے۔ میں رحمۃ للعالمین ہوں اور تمام انبیاء کا مظہر ہوں۔“ (لکل امۃ اجل احمد نور کابلی ص ١، ٢، الفضل قادیان مورخہ ١١؍ نومبر

١٩٣٤ء)

(مورخہ ٢٣؍ اپریل ١٩٠٢ء، دافع البلاء ص ٢٢، خزائن ج ١٨ ص ٢٤٢)

(رسالہ نمبر ہشتم از شیخ غلام محمد بشیر الدولہ روحانی فرزند ارجمند مسیح موعود سابق ممبر مجلس معتمدین احمدیہ)

(ام العرفان ص ٩، از عبداللہ تیماپوری قادیانی)

(خادم خاتم النبیین ص ٩، ١٧)

پس دیکھ لیا آپ نے مرزا قادیانی کا روحانی فیض۔ کیا مجدد کے علوم ظاہری اور باطنی سے ایسا ہی فیض حاصل ہو سکتا ہے۔ اب ذرا خدا کے لئے یہ بتائیے کہ مندرجہ بالا اصحاب اگر نبوت کا دعویٰ کریں تو آپ کے نزدیک مخبوط الحواس مجنون ٹھہریں۔ حالانکہ یہ سب آپ کے اصولوں کے پابند تھے اور مرزا قادیانی دعویٰ نبوت کریں تو سر تسلیم خم، جناب یہ کیا راز ہے؟

......٢ اصلاح عقائد و رسوم و خیالات باطلہ

مجدد میں دوسری صفت جس کا پایا جانا لازمی امر ہے۔ اس کے اندر اصلاح احوال کی زبردست قوت وصلاحیت ہونی چاہئے۔ تا کہ وہ عملاً مسلمانوں کے خیالات ورسوم وعقائد کی اصلاح کر سکے۔ مثال کے طور پر حضرت مجدد الف ثانیؒ جس زمانہ میں مبعوث ہوئے تو ایک طرف

٩

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٢٦٢

ہندوستان میں تشیع کا زور تھا۔ دوسری طرف اکبر نے الحاد کا دروازہ کھول دیا تھا۔ حضرت نے ایسے حالات میں وعظ و تقریر اور روحانیت کے زور سے لوگوں کو اسلام کی طرف بلایا۔ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی سنت کو تازہ کیا۔ جب گوالیار میں قید کر دیئے گئے تو تمام قیدیوں کو شب بیدار اور تہجد گزار بنا دیا۔ آپ کی قوت قدسی کے سامنے شہنشاہ ہندوستان جہانگیر نے سر جھکا کر شرمندگی کا اظہار کیا۔ آپ نے بے بنیاد دعویٰ نہیں کئے۔ غلط پیش گوئیاں نہ کیں۔ چندے جمع نہیں کئے۔ اسلام میں فرقہ پرستی کی بنیاد نہیں ڈالی۔ علمائے وقت کو دین کے مسائل سمجھائے۔ ان کے قلمی استفسارات کے جوابات دیئے۔ جو آج بھی طالبان علم کے لئے چشمہ فیض رساں سے کم نہیں۔

آپ کے بعد بارھویں صدی میں حضرت شاہ ولی اللہ صاحبؒ دین کی اصلاح فرماتے رہے۔ ان کی کتاب ”حجۃ اللہ البالغہ“ ان کی علمیت کی گواہ ہے۔ بقول شبلیؒ اس کے آگے رازیؒ اور غزالیؒ کے کارنامے ماند پڑ گئے۔ تمام عمر اشاعت توحید و سنت میں بسر کی۔ آج بھی ان کے جاری کردہ علوم دینیہ کے چشموں سے ایک عالم سیراب ہو رہا ہے۔ انہوں نے نبوت کا دعویٰ نہیں کیا۔ دین میں فتنے پیدا نہیں کئے۔

حضرت سید احمد بریلویؒ نے عین اس وقت جب پنجاب میں شعائر اسلام کی بے حرمتی ہو رہی تھی اور طاغوتی قوتیں اسلام کے مٹانے پر تلی ہوئی تھیں۔ پنجاب کی مساجد بارود خانوں اور اصطبلوں کی شکل میں تبدیل ہو رہی تھیں۔ قرآن مجید کی سیڑھیاں بنائی جا رہی تھیں۔ خدا کا نام لینا۔ آذان دینا جرم تھا۔ آپ نے سنت رسول اللہ ﷺ اور طریق خلفائے راشدین پر عمل پیرا ہو کر علم جہاد بلند کیا اور اسلام کو زندہ کر کے خود جام شہادت نوش فرمایا۔

جنگ آزادی ١٨٥٧ء کے بعد مولانا محمد قاسم صاحبؒ دیوبندی نے ایمان افروز تقریروں اور تحریروں سے اسلام کو زندگی بخشی۔ ان کی تصانیف آج بھی مسلمانوں کے لئے موجب ہدایت ہیں۔ غیر مسلموں کے مقابلے میں اسلام کی حقانیت اس شان سے ثابت فرمائی کہ آج تک اس کا جواب نہ مل سکا۔ اس شاندار خدمت اسلامی کے باوجود آپ نے کوئی دعویٰ نہیں کیا۔ نہ مسلمانوں میں تفریق کی بنیاد ڈالی۔

اب مرزا قادیانی کے کارناموں پر نظر ڈالئے۔ دوسرے مجددین امت نے دعویٰ نہیں کیا، کام کر کے دکھایا۔ مرزا قادیانی نے مخالفوں کو بددعائیں دیں۔ غیروں کو مسلمان کم بنایا۔ مسلمانوں کو کافر زیادہ بنایا۔ دوسرے مجددین نے اسلام کی حقانیت آشکارا کی۔ مرزا قادیانی نے

١٠

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٢٦٣

اسلام کی حقانیت ثابت کرنے کے لئے اشتہارات پر اکتفا کیا۔ چنانچہ براہین احمدیہ حصہ اوّل میں ١٨٨٤ء میں دعویٰ فرمایا کہ اسلام کی حقانیت پر تین سو دلائل سپرد قلم کروں گا۔ مگر تادم آخر ١٩٠٨ء تک ایک دلیل بھی منظر عام پر پیش نہ کر سکے۔

تیرہ سو سال سے مسلمانوں کی تمام جماعتیں ختم نبوت کو نص صریح مانتی رہیں۔ مرزا قادیانی نے اصلاح کی بجائے عقیدہ فاسد پیدا کر دیا کہ نبوت کا دروازہ کھلا ہے۔ تیرہ سو سال سے مسلمانوں کی تمام جماعتیں نیک اعمال کے ذریعے جنت کے حصول کے لئے کوشاں تھیں۔ مرزا قادیانی نے بہشتی مقبرہ کی بنیاد ڈال کر ایمان اور عمل کو کمزور کر دیا۔ چنانچہ فرماتے ہیں: ”صبح کو نماز کے لئے اٹھنے سے ٢٠ ، ٢٥ منٹ قبل میں نے خواب میں دیکھا کہ گویا ایک زمین اس مطلب کے لئے خریدی جارہی ہے کہ اپنی جماعت کی میتیں وہاں دفن کی جائیں تو کہا گیا کہ اس کا نام بہشتی مقبرہ ہے۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ جو اس میں دفن ہو گا۔ وہ بہشتی ہو گا۔“

(ملفوظات احمدیہ حصہ ہفتم ص ٤٩٦ ، ٤٩٧، مرتبہ منظور الٰہی)

کیا حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے، کیا کسی گذشتہ مجدد نے کوئی بہشتی مقبرہ تعمیر کرایا تھا۔ اس کے لئے چندہ طلب کیا تھا۔ یہ کیسی اصلاح ہے جو مرزا قادیانی کر گئے؟ کوئی شخص کسی خاص جگہ دفن ہونے سے بہشتی نہیں ہو سکتا۔ حضرت ابو ذر غفاریؓ نے حضرت فاطمۃ الزہراؓ کے دفن کے وقت قبر کو خطاب کر کے کہا تھا۔ اے قبر! تجھے معلوم ہے کہ آج کون آیا ہے۔ یہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی پیاری بیٹی ہے۔ یہ حضرت علیؓ کرم اللہ وجہ کی زوجہ ہے۔ یہ ام الحسنینؓ ہے۔ یہ فاطمۃ الزہراؓ ہے۔ خیال رہے بے ادبی نہ ہو۔ قبر نے جواب دیا تھا۔

”یا اباذر! ما انا موضع حسب ولا نسب وانا موضع عمل صالح فلا ینجوا منی الا من کثر خیرہ وسلم قلبہ وخلص عملہ“ (اے اباذر! میں مقام حسب ونسب کی نہیں بلکہ میں نیک اعمال کی جگہ ہوں۔ مجھ سے کوئی نجات نہیں پاسکتا۔ سوائے اس کے جس نے کثرت سے نیکیاں کی ہوں۔ ایمان سالم لے کر میرے پاس آیا ہو اور جس نے نیک اعمال صرف خدا کے لئے کئے ہوں۔ اب بتائیے کہ بہشتی مقبرہ کیوں کر باعث نجات ہو سکتا ہے)

اسی طرح طاعون کے زمانے مرزا قادیانی نے آثار پرستی کا بیج بو دیا اور ایک اشتہار اس مضمون کا شائع کیا کہ اللہ جل شانہ نے وعدہ فرمایا تھا اور بذریعہ وحی مرزا قادیانی کو اطلاع دی گئی تھی کہ جو ان کے گھر کی چار دیواری کے اندر ہوں گے۔ وہ محفوظ رہیں گے۔ اس لئے غلام حیدر

١١

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٢٦٤

متوفی کا گھر جس میں ایک حصہ مرزا قادیانی کا بھی تھا۔ مرزا قادیانی کی حویلی کا جز بنا دیا جائے۔ اس وقت ان کے خیال میں اس کام پر دو ہزار روپیہ صرف ہونا تھا۔ چنانچہ اس طرح اپنے مریدوں سے کام نکالنے کے لئے اصلاح عقائد کی بجائے تخریب سے کام لیا گیا۔

(کشتی نوح ص ٢٧، خزائن ج ١٩ ص ٨٦)

کیا مجدد ضعف اعتقاد پیدا کرنے اور اسلامی تعلیمات کے خلاف عقائد پھیلانے کے لئے مبعوث ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں ایک ایسی ہی قوم کے حق میں جو موت سے بھاگنے یا بچ رہنے کی کوشش کر رہے تھے۔ فرمایا کہ موت سے تم بچ نہیں سکتے ۔ ”لو کنتم فی بروج مشیدہ“ اگرچہ تم مضبوط قلعوں میں اپنے آپ کو چھپا لو اور مرزا قادیانی اپنے مکان کو موت سے بچ رہنے کے لئے وسیع تر بنانا چاہتے تھے۔ یہ مجدد کے صفات کے خلاف ہے کہ وہ اسلام کی تعلیمات کے خلاف ایسے اعتقادات کے بیج امت میں بوئے۔

مجھے حیرت ہے لاہوری احمدیوں پر جن بیچاروں کی جماعت کا کوئی فرد بھی اب تک بہشتی مقبرہ میں دفن نہیں ہو سکا۔ نہ جانے کیوں؟

٣...... تقویٰ

تیسری اہم شرط جس کا مجدد میں پایا جانا ضروری ہے وہ ہے تقویٰ۔ یعنی خوف خدا۔ قرآن کے مطابق انسان کی بزرگی اور مکرمت کے لئے بنیاد تقویٰ ہی ہے۔ ”کما قال اللہ تعالیٰ ان اکرمکم عند اللہ اتقکم“ متقی کہلانے کا حق اس کو ہے جو ہر اس چیز سے پرہیز کرے جو تعلق باللہ میں خلل انداز ہو۔ اسلام میں جتنے اولیاء اللہ، آئمہ اور مجددین گزرے ہیں ان میں یہ صفت نمایاں طور پر پائی جاتی تھی۔ اتقاء کی ادنیٰ سی مثال یہ ہے کہ انسان کے قول، فعل یا اشارہ سے کوئی ایسی بات سرزد نہ ہو۔ جو دوسرے کی دل آزاری کا باعث ہو یا جس سے متقی کے تقویٰ پر حرف آتا ہو۔

آئیے! بقول قادیانی فرقہ اور لاہوری فرقہ اس زمانہ کے سب سے بڑے انسان مرزا غلام احمد قادیانی کے اس پہلو کو بغور دیکھیں۔ تاکہ یہ معلوم ہو سکے کہ آیا مسلمانوں کو ان کا اتباع کرنے کی دعوت دینا کس حد تک جائز ہے۔

(ازالہ اوہام ص ٣٩٦، خزائن ج ٣ ص ٣٠٥) پر مرزا قادیانی نے یہ پیش گوئی فرمائی ہے کہ:

”خدا تعالیٰ نے پیش گوئی کے طور پر اس عاجز پر ظاہر فرمایا ہے کہ مرزا احمد بیگ ہوشیار پوری کی دختر

١٢

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٢٦٥

کلاں (محمدی بیگم) انجام کار تمہارے نکاح میں آئے گی۔ وہ لوگ بہت عداوت کریں گے اور بہت مانع آئیں گے اور کوشش کریں گے کہ ایسا نہ ہو۔ لیکن آخر کار ایسا ہی ہوگا اور خدا تعالیٰ تمہاری (مرزا قادیانی) کی طرف لائے گا۔ باکرہ ہونے کی حالت میں یا بیوہ کر کے اور ہر ایک روک درمیان سے اٹھادے گا اور اس کام کو ضرور پورا کرے گا اور کسی میں طاقت نہیں جو اس کام کو روک سکے۔“

مورخہ ١٠؍جولائی ١٨٨٨ء کو مرزا قادیانی نے ایک پوسٹر شائع کیا جو (تبلیغ رسالت ج ١ ص ١١٥، مجموعہ اشتہارات ج ١ ص ١٥٧، ١٥٨) پر بھی درج ہے۔ اشتہار کا مضمون یہ تھا۔

”خدائے قادر مطلق نے مجھے فرمایا کہ اس شخص (مرزا احمد بیگ) کی دختر کلاں (محمدی بیگم) کے نکاح کے لئے سلسلہ جنبانی کر اور ان کو کہہ دے کہ تمام مروت اور سلوک تم سے اسی شرط پر کیا جائے گا اور یہ نکاح تمہارے لئے موجب برکت اور ایک رحمت کا نشان ہوگا اور تم تمام برکتوں اور رحمتوں سے حصہ پاؤ گے۔ جو مورخہ ٢٠؍فروری ١٨٨٦ء کے اشتہار میں درج ہیں۔ لیکن اگر نکاح سے انحراف کیا تو اس کی لڑکی کا انجام نہایت ہی برا ہوگا اور جس کسی شخص سے بیاہی جائے گی وہ روز نکاح سے اڑھائی سال اور والد اس دختر کا تین سال تک فوت ہو جائے گا اور ان کے گھر پر تفرقہ اور تنگی اور مصیبت پڑے گی اور درمیانی زمانہ میں بھی اس لڑکی کے لئے رنج اور کراہیت کے امور پیش آئیں گے۔“

اس کے بعد مرزا قادیانی نے مرزا علی شیر بیگ کو خط لکھا۔ یہ خط مرزا قادیانی نے اقبال گنج لدھیانہ سے مورخہ ٢؍مئی ١٨٩١ء کو لکھا۔ خط کافی طویل ہے۔ چند اقتباس یہاں درج کرتا ہوں۔

”اب میں نے سنا ہے کہ عید کی دوسری یا تیسری تاریخ اس لڑکی کا نکاح ہونے والا ہے اور آپ کے گھر کے لوگ اس مشورہ میں شریک ہیں۔ آپ سمجھ سکتے ہیں کہ اس نکاح کے شریک میرے سخت دشمن ہیں۔ اپنی طرف سے میری نسبت ان لوگوں نے جو پختہ ارادہ کر لیا ہے کہ اس کو ذلیل وخوار کیا جاوے۔ روسیاہ کیا جاوے۔ مگر اب تو وہ مجھے آگ میں ڈالنا چاہتے تھے۔ میں نے خط لکھے کہ پرانا رشتہ مت توڑو۔ خدا سے خوف کرو۔ کسی نے جواب نہ دیا۔ بلکہ میں نے سنا ہے کہ آپ کی بیوی نے جوش میں آ کر کہا کہ ہمارا کیا رشتہ صرف عزت بی بی کے نام کے لئے فضل احمد کے گھر میں ہے۔ بیشک وہ طلاق دے دے۔ ہم راضی ہیں۔ ہم نہیں جانتے یہ شخص کیا بلا ہے۔ اب جب میں ایسا ذلیل ہوں تو میرے بیٹے کے تعلق رکھنے کی کیا حاجت ہے۔ اگر اپنے بھائی کو

١٣

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٢٦٦

اس نکاح سے روک نہ دیں۔ پھر جیسا کہ خود آپ کی منشاء ہے۔ میرا بیٹا فضل احمد بھی آپ کی لڑکی کو طلاق دے دے گا۔ اگر نہیں دے گا تو میں اسے عاق اور لاوارث کر دوں گا۔ اگر میرے لئے احمد بیگ سے مقابلہ کرو گے اور یہ ارادہ اس کا بند کرا دو گے تو بدل و جان حاضر ہوں اور فضل احمد کو جو اب میرے قبضہ میں ہے ہر طرح سے درست کر کے آپ کی لڑکی کی آبادی کے لئے کوشش کروں گا اور میرا مال ان کا مال ہوگا۔ اگر فضل احمد میرا فرزند اور وارث بننا چاہتا ہے تو اسی حالت میں آپ کی لڑکی کو اپنے گھر میں رکھے گا۔ جب آپ کی بیوی کی خویشی ثابت ہو۔ ورنہ جہاں میں رخصت ہوا ایسے ہی سب رشتے ناطے ٹوٹ جائیں گے۔“ کیا یہ سب تقویٰ کے بل بوتے پر ہوا؟

اس کے بعد مرزا قادیانی نے والدہ عزت بی بی یعنی اپنے بیٹے فضل احمد کی ساس کو ٤ مئی ١٨٩١ء کو ایک خط لکھا۔ لیجئے اس خط کی چند سطور ملاحظہ فرمائیے۔

”والدہ عزت بی بی کو معلوم ہو کہ مجھے خبر پہنچی ہے کہ چند روز میں محمدی بیگم (دختر احمد بیگ) کا نکاح ہونے والا ہے۔ میں خدائے تعالیٰ کی قسم کھا چکا ہوں کہ اس نکاح سے رشتے ناطے توڑ دوں گا اور کوئی تعلق نہیں رہے گا۔ آج میں نے مولوی نورالدین صاحب اور فضل احمد کو لکھ دیا ہے کہ اگر تم اس ارادہ سے باز نہ آؤ تو فضل احمد عزت بی بی کے لئے طلاق نامہ لکھ کر بھیج دے اور اگر وہ طلاق نامہ لکھنے میں عذر کرے تو اس کو عاق کیا جاوے اور اپنے بعد اس کو وارث نہ سمجھا جاوے اور ایک پیسہ اس کو وراثت کا نہ ملے۔ سو امید رکھتا ہوں کہ شرطی طور پر اس کی طرف سے طلاق نامہ لکھا جائے گا۔ جس کا مضمون یہ ہوگا کہ اگر مرزا احمد بیگ محمدی بیگم کا نکاح غیر کے ساتھ کرنے سے باز نہ آوے تو پھر اسی روز سے جو محمدی بیگم کا کسی دوسرے سے نکاح ہو گا اور اس طرف عزت بی بی پر فضل احمد کی طلاق ہو جائے گی۔ جس دن محمدی بیگم کا نکاح ہو گا اسی دن عزت بی بی کا نکاح باقی نہ رہے گا۔“

اس پر بس نہیں اس کے بعد مرزا قادیانی نے مرزا احمد بیگ کو خط لکھا یہ خط مرزا قادیانی نے مورخہ ١٧ جولائی ١٨٩٢ء کو لکھا۔ فرماتے ہیں: ”ہمیں خدا تعالیٰ قادر مطلق کی قسم ہے۔ میں اس بات میں بالکل سچا ہوں کہ مجھے الہام ہوا تھا کہ آپ کی دختر کلاں کا رشتہ اس عاجز سے ہوگا۔ اگر دوسری جگہ ہو گا تو خدا کی تنبیہیں وارد ہوں گی اور آخر اسی جگہ ہوگا۔ چونکہ آپ میرے عزیز اور پیارے تھے۔ اس لئے میں نے عین خیر خواہی سے آپ کو بتلا دیا کہ دوسری جگہ رشتہ کا کرنا ہرگز مبارک نہ ہوگا۔ آپ کو شاید معلوم ہو گا یا نہیں کہ یہ پیش گوئی اس عاجز کی ہزار ہا لوگوں میں مشہور

١٤

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٢٦٧

ہوچکی ہے اور میرے خیال میں شاید دس لاکھ سے زائد آدمی ہوگا۔ جو اس پیش گوئی پر اطلاع رکھتا ہے۔ اور اک جہاں کی نظر اس پر لگی ہوئی ہے اور ہزاروں پادری شرارت سے نہیں بلکہ حماقت سے منتظر ہیں کہ یہ پیش گوئی جھوٹی نکلے تو ہمارا پلہ بھاری ہو۔ عاجز جیسے ”لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ“ پر ایمان لایا ہے۔ ویسے ہی خدا تعالیٰ کے ان الہامات پر جو تواتر سے اس عاجز پر ہوئے۔ ایمان لاتا ہے اور آپ سے ملتمس ہے کہ آپ اپنے ہاتھ سے اس پیش گوئی کے پورا ہونے کے لئے معاون بنیں۔ تاکہ خدا تعالیٰ کی برکات آپ پر نازل ہوں۔ خدا تعالیٰ سے کوئی بندہ لڑائی نہیں کر سکتا اور جو امر آسمان پر قرار پاچکا ہے۔ وہ زمین پر ہرگز نہیں بدل سکتا۔ خدا تعالیٰ آپ کو دین ودنیا کے برکات عطاء کرے اور اب آپ کے دل میں وہ بات ڈال دے جس کا اس نے آسمان پر سے مجھے الہام کیا ہے۔ آپ کے سب غم دور ہوں۔ اگر میرے اس خط میں کوئی ناملائم لفظ ہو تو معاف فرمادیں۔ والسلام! خاکسار احقر عباداللہ غلام احمد عفی عنہ ١٨٩٢ء“

(منقول از رسالہ کلمہ فضل رحمانی)

اس پیش گوئی کی تکمیل کے لئے مرزا قادیانی نے بعض اشخاص سے انعام کا وعدہ بھی کیا تھا۔ اس سلسلے میں ذیل کی تحریر پیش کی جاتی ہے۔

”بیان کیا مجھ سے عبداللہ صاحب سنوری نے کہ ایک دفعہ حضرت صاحب جالندھر جاکر قریباً ایک ماہ ٹھہرے تھے اور ان دنوں میں محمدی بیگم کے ایک حقیقی ماموں نے محمدی بیگم کا حضرت صاحب سے رشتہ کرا دینے کی کوشش کی تھی۔ مگر کامیاب نہیں ہوا۔ یہ ان دنوں کی بات ہے جب محمدی بیگم کا والد مرزا احمد بیگ ہوشیار پوری زندہ تھا اور ابھی محمدی بیگم کا رشتہ مرزا سلطان محمد سے نہیں ہوا تھا۔ محمدی بیگم کا یہ ماموں جالندھر اور ہوشیار پور کے درمیان یکہ میں آیا جایا کرتا تھا اور وہ حضرت صاحب سے کچھ انعام کا بھی خواہاں تھا اور چونکہ محمدی بیگم کے نکاح کا عقدہ زیادہ تر اسی شخص کے ہاتھ میں تھا۔ اس لئے حضرت صاحب نے اس سے کچھ انعام کا وعدہ بھی کر لیا تھا۔

خاکسار (مرزا بشیر احمد) عرض کرتا ہے کہ یہ شخص اس معاملہ میں بد نیت تھا اور حضرت صاحب سے فقط کچھ روپیہ اڑانا چاہتا تھا۔ کیونکہ بعد میں یہی شخص اور دوسرے ساتھی اس لڑکی کے دوسری جگہ بیاہے جانے کے موجب ہوئے۔ مگر مجھے والدہ صاحبہ سے معلوم ہوا ہے کہ حضرت صاحب نے بھی اس شخص کو روپیہ دینے کے متعلق حکیمانہ مصلحتیں اور احتیاطیں ملحوظ رکھی ہوئی تھیں۔“

(سیرت المہدی حصہ اوّل ص١٩٢، ١٩٣،

١٥

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٢٦٨

(روایت ١٧٩)

مورخہ ٢؍ مئی ١٨٩١ء کو مرزا قادیانی نے علی شیر بیگ کو خط لکھا تھا۔ اسی دن مندرجہ ذیل اشتہار شائع کیا تھا: ’’میرا بیٹا سلطان احمد نام جو لاہور میں نائب تحصیلدار ہے اور اس کی تائی صاحبہ جنہوں نے اس کو بیٹا بنایا ہوا ہے۔ اس مخالفت پر آمادہ ہو گئے ہیں اور یہ سارا کام اپنے ہاتھ میں لے کر اس تجویز میں ہیں کہ عید کے دن یا اس کے بعد اس لڑکی کا کسی سے نکاح کیا جائے۔ اگر یہ اوروں کی طرف سے مخالفانہ کارروائی ہوتی تو ہمیں درمیان میں دخل دینے کی کیا ضرورت تھی۔ امر ربی تھا اور وہی اس کو اپنے فضل و کرم سے ظہور میں لاتا۔ مگر اس کام کے مدار المہام وہ ہو گئے جن پر اس عاجز کی اطاعت فرض تھی۔ ہر چند سلطان احمد کو سمجھایا اور بہت تاکیدی خط لکھے کہ تو اور تیری والدہ اس کام سے الگ ہو جائیں۔ ورنہ میں تم سے جدا ہو جاؤں گا اور تمہارا کوئی حق نہیں رہے گا۔ مگر انہوں نے میرے اس خط کا جواب تک نہ دیا اور بکلی مجھ سے بیزاری ظاہر کی۔ سلطان احمد ان دو بڑے گناہوں کا مرتکب ہوا۔ اوّلاً اس نے رسول اللہ ﷺ کے دین کی مخالفت کرنی چاہی اور چاہا کہ دین اسلام پر تمام مخالفوں کا حملہ ہو اور یہ اس نے اپنی طرف سے ایک بنیاد رکھی۔ دوم سلطان احمد نے مجھے جو میں اس کا باپ ہوں۔ سخت ناچیز قرار دیا اور میری مخالفت پر کمر باندھی اور قولی اور فعلی طور پر اس مخالفت کو کمال تک پہنچا دیا اور میرے دینی مخالفوں کو مدد دی۔ لہٰذا آج کی تاریخ مورخہ ٢؍ مئی ١٨٩١ء عوام و خواص پر بذریعہ اشتہار ہذا ظاہر کرتا ہوں کہ یہ لوگ اس ارادہ سے باز نہ آئے اور وہ تجویز جو اس لڑکی کے ناطے اور رشتہ کرنے کی اپنے ہاتھ سے یہ لوگ کر رہے ہیں۔ اس کو موقوف نہ کر دیا۔ تو اس نکاح کے دن سے سلطان احمد عاق اور محروم الارث ہو گا اور اسی روز سے اس کی والدہ پر طلاق ہے اور اس کا بھائی فضل احمد جس کے گھر میں مرزا احمد بیگ کی بھانجی ہے۔ اپنی اس بیوی کو اسی دن طلاق نہ دے۔ جس دن اس کو نکاح کی خبر ہو تو پھر وہ بھی عاق اور محروم الارث ہوگا۔‘‘

(مندرجہ تبلیغ رسالت ج ٢ ص ٩، مجموعہ اشتہارات ج ١

ص ٢٢١،٢١٩)

’’مرزا سلطان احمد نے جواب دیا مجھ پر تائی صاحبہ کے احسانات ہیں۔ میں کسی حال میں ان سے قطع تعلق نہیں کر سکتا۔ مگر مرزا فضل احمد نے لکھا۔ میرا آپ ہی کے ساتھ تعلق ہے۔ اس پر حضرت صاحب نے جواب دیا اگر یہ بات ہے تو اپنی بیوی (بنت مرزا علی شیر بیگ) کو طلاق دو۔ مرزا فضل احمد نے فوراً طلاق نامہ لکھ کر حضرت صاحب کے پاس روانہ کر دیا۔‘‘

١٦

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٢٦٩

(سیرۃ المہدی حصہ اوّل ص ٢٩، روایت نمبر ٧٣)

ضلع کچہری گورداسپور میں مرزا قادیانی نے یہ حلفیہ بیان دیا تھا۔ ”احمد بیگ کی دختر محمدی بیگم کی نسبت جو پیش گوئی ہے جو اشتہار میں درج ہے اور ایک مشہور امر ہے وہ مرزا امام الدین کی ہمشیرہ زادی ہے اور جو خط بنام مرزا احمد بیگ کلمہ فضل رحمانی میں ہے وہ میرا تحریر کردہ ہے اور سچ ہے وہ عورت (محمدی بیگم) میرے ساتھ نہیں بیاہی گئی۔ مگر میرے ساتھ اس کا بیاہ ضرور ہوگا۔ جیسا کہ پیش گوئی میں درج تھا۔ میں سچ کہتا ہوں کہ اسی عدالت میں جہاں ان باتوں پر جو میری طرف سے نہیں بلکہ خدا کی طرف سے ہیں۔ ہنسی کی گئی ہے۔ ایک وقت آتا ہے کہ عجب اثر پڑے گا اور سب کے ندامت سے سر نیچے ہوں گے۔ وہ عورت اب تک زندہ ہے اور میرے نکاح میں وہ عورت ضرور آئے گی۔ یہ خدا کی باتیں ہیں ٹلتی نہیں۔“

(اخبار الحکم قادیان ج ٥ نمبر ٢٩ ص ١٤، ١٥، مورخہ ١٠ اگست ١٩٠١ء)

محمدی بیگم کا مرزا سلطان محمد سے نکاح ہو گیا۔ مگر پھر بھی مرزا قادیانی مصر تھے کہ معاملہ ختم نہیں ہوا اور یہ کہ محمدی بیگم کا نکاح ضرور مرزا قادیانی سے ہو کر رہے گا۔ چنانچہ فرماتے ہیں۔ ”قسم خدا کی جس نے حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کو بھیجا اور خیر الرسل اور خیر الوریٰ بنایا کہ یہ بالکل سچ ہے کہ تم جلد ہی دیکھ لوگے اور میں اس خبر کو اپنے سچ یا جھوٹ کا معیار بناتا ہوں اور میں نے جو کچھ کہا ہے یہ خدا سے علم پا کر کہا ہے۔“

(انجام آتھم ص ٢٢٣، خزائن

ج ١١ ص ٢٢٣)

مرزا قادیانی اپنا الہام اس طرح بیان کرتے ہیں کہ: ”ہاں مجھے اپنے رب کی قسم ہے کہ یہ سچ ہے اور تم اس بات کو وقوع میں آنے سے نہیں روک سکتے۔ ہم نے خود اس عورت (محمدی بیگم) سے تیرا عقد نکاح باندھ دیا ہے۔ میری باتوں کو کوئی بدل نہیں سکتا۔“

(تبلیغ رسالت ج ٢ ص ٨٥، مجموعہ اشتہارات ج ١ ص ٣٠١)

اور اپنی صداقت کا معیار یوں بیان فرماتے ہیں: ”میں بار بار کہتا ہوں کہ نفس پیش گوئی داماد احمد بیگ کی تقدیر مبرم ہے۔ اس کی انتظار کرو اور اگر میں جھوٹا ہوں تو یہ پیشگوئی پوری نہیں ہوگی اور میری موت آجائے گی۔“

(انجام آتھم ص ٣١، خزائن

ج ١١ ص ٣١)

چنانچہ محمدی بیگم کا شوہر سلطان محمد پیش گوئی کے مطابق جب ڈھائی سال تک نہ مرا اور

١٧

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٢٧٠

یہ میعاد گذر گئی تو مرزا قادیانی نے یہ اعلان فرمایا۔ ”لیکن بہتیرے جاہل اس میعاد گزرنے کے بعد ہنسی کریں گے اور اپنی بد نصیبی سے صادق (مرزا قادیانی) کا نام کاذب رکھیں گے۔ لیکن وہ دن جلد آتے ہیں کہ جب یہ لوگ شرمندہ ہوں گے اور حق ظاہر ہوگا...... اور خدا کے غیر متبدل وعدے پورے ہوں گے۔ کوئی زمین پر ہے جو ان کو روک سکے۔...... اے بد فطرت لوگو! اپنی فطرتیں دکھاؤ۔ لعنتیں بھیجو، ٹھٹھے کرو۔ صادق کا نام کاذب اور دروغ گو رکھو۔ لیکن عنقریب دیکھو گے کہ کیا ہوتا ہے...... عذاب کی میعاد ایک تقدیر معلق ہوتی ہے۔ لیکن نفس پیش گوئی یعنی اس عورت کا اس عاجز کے نکاح میں آنا یہ تو تقدیر مبرم ہے جو کسی طرح ٹل نہیں سکتی۔ کیونکہ اس کے لئے الہام الہی میں یہ فقرہ موجود ہے کہ: ”لا تبدیل لکلمات اللہ“ خدا کی بات ٹل نہیں سکتی۔ اگر ٹل جائے تو اس کا کلام باطل ہو جائے گا۔“

(مرزا قادیانی کا اعلان مورخہ ٦؍ستمبر ١٨٩٦ء، مندرجہ تبلیغ ج ٣ ص ١١٥، مجموعہ اشتہارات ج ٢ ص ٤٣، ٤٤)

اب جو لوگوں نے اس پیش گوئی کے پورا نہ ہونے پر اعتراضات کئے تو مرزا قادیانی نے یوں کروٹ بدلی۔ ”چاہئے تھا کہ ہمارے نادان مخالف اس پیش گوئی کے انجام کے منتظر رہتے اور پہلے ہی سے اپنی بد گوئی ظاہر نہ کرتے۔ بھلا جس دن یہ سب باتیں پوری ہو جائیں گی تو کیا اس دن یہ تمام لڑنے والے سچائی کی تلوار سے ٹکڑے ٹکڑے نہیں ہو جائیں گے۔ ان بیوقوفوں کو کہیں بھاگنے کی جگہ نہ ملے گی اور نہایت صفائی سے ناک کٹ جائے گی اور ذلت کے سیاہ داغ ان کے منحوس چہروں کو بندروں اور سؤروں کی طرح کر دیں گے۔“

(ضمیمہ انجام آتھم ص ٥٣، خزائن ج ١١ ص ٣٣٧)

لیکن جب اعتراضات بڑھنے لگے تو مرزا قادیانی نے یہ دعا کی: ”بالآخر میں دعا کرتا ہوں کہ اے خدائے علیم وقدیر اگر آتھم کے عذاب مہلک میں گرفتار ہونا اور احمد بیگ کی دختر کلاں محمدی بیگم کا اس عاجز کے نکاح میں آنا یہ پیش گوئیاں تیری طرف سے ہیں تو ان کو ایسے طور سے ظاہر فرما جو خلق اللہ پر حجت ہو اور کور باطن حاسدوں کا منہ بند ہو جائے اور اگر خداوندا یہ پیش گوئیاں تیری طرف سے نہیں ہیں تو مجھے نامرادی اور ذلت کے ساتھ ہلاک کر۔ اگر میں تیری نظر میں مردود، ملعون اور دجال ہی ہوں جیسا کہ مخالفین نے سمجھ رکھا ہے۔“ (اشتہار انعامی چار ہزار مورخہ

٢٧؍اکتوبر ١٨٩٤ء، مندرجہ تبلیغ رسالت ج ٣ ص ١٨٦، مجموعہ اشتہارات ج ٢ ص ١١٥، ١١٦)

حاصل داستان یہ نہ محمدی بیگم مرزا قادیانی کے نکاح میں آئی اور نہ مرزا قادیانی کی

١٨

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٢٧١

زندگی میں مرزا سلطان محمد شوہر محمدی بیگم کی موت واقع ہوئی اور مرزا قادیانی نامراد اس دار فانی سے کوچ فرما گئے۔

آیئے تقویٰ کی کسوٹی پر مرزا قادیانی کے قول وفعل کو جانچیں اور دیکھیں کہ اگر مجدد تو درکنار کوئی عام انسان ان کا مرتکب ہوتا تو سوسائٹی، مذہب اور قانون کی نظروں میں اس کو کن کن الزامات سے نوازا جاتا۔ خلاصہ اس داستان کا یہ ہے:

مگر زمین پر پوری نہ ہوئی۔

سلطان محمد اور احمد بیگ کی دل آزاری ہوئی۔

شادماں ہوئے۔

٤...... اخلاق حسنہ

مجدد کی چوتھی صفت یہ ہے کہ اس کی تمام زندگی حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے خلق عظیم کا نمونہ ہوتی ہے اور مجدد جناب رسول اللہ ﷺ کے نقش قدم پر چل کر لوگوں کے دلوں میں گھر کر لیتا ہے اور اس کے اخلاق ہی کی بدولت لوگ مجدد کی طرف مائل ہوتے ہیں اور اصلاح عمل واخلاق کا درس حاصل کرتے ہیں۔

آیئے! مرزا قادیانی کی مجددیت کو ان کے اخلاق وعادات کے آئینہ میں دیکھیں۔ مرزا قادیانی کے پیروؤں کا خیال ہے کہ جس بلند پایہ اخلاق کا ان سے ظہور ہوا ہے۔ اس کی مثال

١٩

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٢٧٢

سوائے حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی ذات بابرکات کے دنیا کے کسی انسان کی زندگی میں نہیں ملتی۔

(مندرجہ اخبار الحکم مورخہ ٢١مئی ١٩٣٤ء)

لیکن مرزا قادیانی کی تصانیف سے کیا ثابت ہوتا ہے۔ ملاحظہ فرمائیے۔

اٹھاتے ہیں۔ مجھے قبول کرتے ہیں اور میرے دعوٰی کی تصدیق کرتے ہیں۔ مگر جو کنجریوں کی اولاد ہیں وہ مجھے نہیں مانتے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں پر مہر کر دی ہے۔“

(آئینہ کمالات اسلام ص ٥٤٧، ٥٤٨، خزائن ج ٥ ص ایضاً)

بھی خود فرماتے ہیں۔ ”رقصت کرقص بغیۃ فی المجالس“ ”تو نے بدکار عورت کی طرح رقص کیا۔

(حجۃ اللہ ص ٧٨، خزائن ج ١٢

ص ٢٣٥)

(لجۃ النور ص ٨٦، خزائن ج ١٦ ص ٤٢٨)

ما را خراب کردند۔

(لجۃ النور ص ٨٧، خزائن ج ١٦

ص ٤٢٩)

(لجۃ النور ص ٩٧، خزائن ج ١٦ ص ٤٣١)

زنان آں فاحشہ باشند پس مرداں آں خانہ دیوث و دجال می باشند۔

(لجۃ النور ص ٩٠، خزائن ج ١٦ ص ٤٣٢)

بار بار کہے گا کہ عیسائیوں کی فتح ہوئی اور ہماری فتح کا قائل نہ ہوگا تو صاف سمجھا جائے گا کہ اسے ولد الحرام (حرام زادہ) بننے کا شوق ہے اور وہ حلال زادہ نہیں ہے۔..... حرامزادہ کی یہی نشانی ہے۔ کہ سیدھی راہ اختیار نہ کرے اور ظلم اور ناانصافی کی راہوں کو پیار کرے۔“

٢٠

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٢٧٣

(انوارالاسلام ص٣٠، خزائن ج٩ ص٣١، ٣٢)

گی اور ذلت کے سیاہ داغ ان کے منحوس چہروں کو بندروں اور سوروں کی طرح کر دیں گے۔“

(ضمیمہ انجام آتھم ص٥٣، خزائن ج١١ ص٣٣٧)

(ضمیمہ انجام آتھم ص٢٥، خزائن ج١١ ص٢٠٩)

(نجم الہدیٰ ص١٠، خزائن ج١٤ ص٥٣)

مرزا قادیانی کے ان غیر معمولی کلمات سے شاید آپ یہ اندازہ لگائیں کہ ان گالیوں کا استعمال مخالفین اور دشمنوں کے لئے جائز ہوگا۔ تو اس کا جواب مرزا قادیانی کی زبانی سنئے۔ فرماتے ہیں: ”چونکہ اماموں کو طرح طرح کے اوباشوں سفلوں اور بدزبان لوگوں سے واسطہ پڑتا ہے۔ اس لئے ان میں اعلیٰ درجہ کی اخلاقی قوت کا ہونا ضروری ہے۔ تاکہ ان میں طیش نفس اور مجنونہ جوش پیدا نہ ہو اور لوگ ان کے فیض سے محروم نہ رہیں۔ یہ نہایت قابل شرم بات ہے کہ ایک شخص خدا کا دوست کہلا کر بھی اخلاق رذیلہ میں گرفتار ہو اور درشت باتوں کا ذرہ بھی متحمل نہ ہو سکے اور جو امام زمان کہلا کر ایسی کچی طبیعت کا آدمی ہو کہ ادنیٰ ادنیٰ سی بات میں منہ میں جھاگ آ جائے۔ آنکھیں نیلی پیلی ہو جائیں۔ وہ کسی طرح امام الزمان نہیں ہوسکتا۔“

(ضرورت الامام ص٨، خزائن ج١٣ ص٤٧٨)

”تجربہ بھی شہادت دیتا ہے کہ بدزبان لوگوں کا انجام اچھا نہیں ہوتا۔ خدا کی غیرت اس کے ان پیاروں کے لئے آخر کوئی کام دکھلا دیتی ہے۔ پس اپنی زبان کی چھری سے کوئی اور بدتر چھری نہیں ہے۔“

(خاتمہ چشمہ معرفت ص١٥، خزائن ج٢٣ ص٣٨٦، ٣٨٧)

جب مرزا قادیانی کی یہ حالت تھی کہ اپنے مخالفین کو ذریۃ البغایا، ولد الحرام، جنگلی سور کے القاب سے یاد کرتے تھے تو وہ اوروں کی کیا اصلاح کر سکے ہوں گے۔ او خویشتن گم است کہ را رہبری کند۔

٥...... اعلائے کلمۃ الحق

مجدد کی پانچویں صفت یہ ہے کہ اس میں اتنی اخلاقی جرأت ہو کہ جس بات کو وہ حق سمجھتا

٢١

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٢٧٤

ہو یا جس امر کے اظہار کا اسے حکم دیا گیا ہو۔ اس کے اعلان، اظہار، اشتہار میں وہ کسی طاقت سے خوف نہ کھائے۔ اگر وہ اس صفت سے عاری ہے تو نیابت رسول اللہ ﷺ کا حق ادا نہیں کر سکتا ہے۔ نہ امت کی اصلاح کر سکتا ہے۔ تمام اولیائے، صلحائے، آئمہ ہدیٰ اور بزرگان دین اس صفت سے متصف تھے۔ امام ابوحنیفہؒ، امام احمد حنبلؒ، امام شافعیؒ، امام تیمیہؒ، مجدد الف ثانیؒ، سید احمد بریلویؒ، ان خاصان خدا کے سوانح حیات ہمارے سامنے موجود ہیں۔ اعلائے کلمۃ الحق میں انہوں نے حکومت کی دھمکیوں، سختیوں، کوڑوں کی مار، ذلت و رسوائی، سب کچھ برداشت کیا۔ مگر پائے ثبات میں لغزش نہ آئی۔ آئیے مرزا قادیانی کی اس صفت کو ان کے صفات میں تلاش کریں۔

گورداسپور میں ایک فوجداری مقدمہ پیش آیا تو مرزا قادیانی نے مجدد کی یہ صفت جو کھرے کھوٹے میں امتیاز ظاہر کرتا ہے۔ بالائے طاق رکھ دیا اور اعلائے کلمۃ الحق سے باز رہنے کا اقرار کرتے ہوئے مندرجہ ذیل اقرار نامہ تحریر فرما کر داخل عدالت کر دیا۔

اقرار نامہ

اقرار نامہ مرزا غلام احمد قادیانی بمقدمہ فوجداری اجلاس مسٹر جے۔ ایم ڈوئی صاحب بہادر ڈپٹی کمشنر ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ ضلع گورداسپور مرجوعہ مورخہ ٥؍ جنوری ١٨٩٩ء فیصلہ ٢٥؍ فروری ١٨٩٩ء نمبر بستہ قادیان نمبر مقدمہ ٣/١ سرکار دولت مدار بنام مرزا غلام احمد ساکن قادیان تحصیل بٹالہ ضلع گورداسپور ملزم الزام زیر دفعہ ١٠٧ ضابطہ فوجداری۔ میں مرزا غلام احمد قادیانی بحضور خداوند تعالیٰ باقرار صالح اقرار کرتا ہوں کہ آئندہ:

کئے جاسکیں کہ کسی شخص کو یعنی مسلمان ہو یا ہندو یا عیسائی وغیرہ۔ ذلت پہنچے گی یا وہ مورد عتاب ہوگا۔

کسی شخص کو یعنی مسلمان ہو یا ہندو یا عیسائی ذلیل کرنے سے یا ایسے نشان ظاہر کرنے سے کہ وہ مورد عتاب الٰہی ہے۔ یہ ظاہر کرے کہ مذہبی مناظرہ میں کون سچا اور کون جھوٹا ہے۔

٢٢

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٢٧٥

ایسا منشاء رکھنے کی معقول وجہ رکھتا ہو کہ فلاں شخص یعنی مسلمان ہو یا ہندو یا عیسائی وغیرہ ذلت اٹھائے گا یا مورد عتاب الہی ہوگا۔

العبد گواہ شد مرزا غلام احمد قادیانی بقلم خود خواجہ کمال الدین بی۔اے، ایل۔ایل۔بی

آپ نے دیکھا مرزا قادیانی نے کس طرح ڈھال و تلوار رکھ دیئے اور کان پکڑ لئے کہ میری توبہ۔ حالانکہ اعلائے کلمۃ الحق کی خاطر جان تک دے دینا مجدد کی شان ہوتی ہے۔ تاریخ اٹھائیے۔ مجدد تو درکنار خدا کے نیک بندوں نے ہمیشہ خدا کی راہ میں جان دی اور اسے باعث فخر سمجھا اور یہ نرالے مجدد ہیں جو دفعہ ١٠٧ کی پابندی سے گھبرا کر حق کی اشاعت اور اظہار سے توبہ کر بیٹھے۔

٦...... حریت آموزی

مجدد کی ایک صفت یہ بھی ہے کہ وہ جس قوم کی اصلاح کے لئے مبعوث ہوتا ہے۔ اس قوم کو حریت کا پیغام دیتا ہے۔ اسلام اور غلامی دو متضاد چیزیں ہیں اور مؤمن وہ ہے جس میں حریت، اخوت اور مساوات یہ اوصاف ثلاثہ کامل طور پر پائے جائیں۔

مرزا قادیانی کا دعویٰ یہ تھا کہ وہ مسلمان کو مؤمنین قا ⇧ بنانے کے لئے مبعوث ہوا ہے۔ لہٰذا ایک طالب حق بجا طور پر ان سے درس حریت کی توقع کر سکتا ہے۔ مرزا قادیانی کی تعلیم میں حریت کا پیغام شامل ہے یا نہیں۔ آئیے معلوم کریں۔

سرکار انگریزی کی اطاعت اور ہمدردی کے لئے لوگوں کو ترغیب دی اور جہاد کی ممانعت کے بارے میں نہایت مؤثر تقریریں لکھیں اور پھر میں نے قرین مصلحت سمجھ کر اسی امر ممانعت جہاد کو عام ملکوں میں پھیلانے کے لئے اردو فارسی میں کتابیں تالیف کیں۔ جن کی طباعت اور اشاعت پر ہزارہا روپے خرچ ہوئے اور وہ تمام کتابیں عرب اور بلاد شام اور روم اور مصر اور بغداد (عراق) اور افغانستان میں شائع کی گئیں۔ اگر میں نے یہ اشاعت گورنمنٹ برطانیہ کی سچی خیر خواہی سے نہیں کی تو مجھے ایسی کتابیں بلاد اسلامیہ میں شائع کرنے سے کس انعام کی توقع تھی۔‘‘

(کتاب البریہ ص ٧، ٨ ، خزائن ج ١٣ ص ایضاً)

٢٣

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٢٧٦

تجربہ سے ایک وفادار جان نثار خاندان ثابت کر چکی ہے۔ اس ”خود کاشتہ پودے“ کی نسبت نہایت حزم اور احتیاط اور تحقیق اور توجہ سے کام لے اور اپنے ماتحت حکام کو اشارہ فرمائے کہ وہ بھی اس خاندان کی ثابت شدہ وفاداری اور اخلاص کا لحاظ رکھ کر مجھے اور میری جماعت کو ایک خاص عنایت اور مہربانی کی نظر سے دیکھیں۔ ہمارے خاندان نے سرکار انگریزی کی راہ میں اپنے خون بہائے اور جان دینے سے دریغ نہیں کیا اور نہ اب دریغ ہے۔“

(مندرجہ تبلیغ رسالت ج٧ ص٢٠، مجموعہ اشتہارات ج٣ ص٢١)

معتقد کم ہوتے جائیں گے۔ کیونکہ مجھے مسیح اور مہدی مان لینا ہی مسئلہ جہاد کا انکار ہے۔“

(مندرجہ تبلیغ رسالت ج٧ ص١٧، مجموعہ اشتہارات ج٣ ص١٩)

ممانعت جہاد اور انگریزی اطاعت کے بارے میں اس قدر کتابیں لکھی ہیں اور اس قدر اشتہار شائع کئے ہیں کہ اگر وہ رسائل اور کتابیں اکٹھی کی جائیں تو پچاس الماریاں ان سے بھر سکتی ہیں اور میں نے ایسی کتابوں کو تمام عرب ممالک، عراق، مصر اور شام تک پہنچا دیا ہے۔“

(تریاق القلوب ص١٥، خزائن ج١٥ ص١٥٥)

خیالات کو روکنے کے لئے برابر سترہ سال تک پورے جوش اور استقامت سے کام لیا اس کام کی اور اس خدمت نمایاں کی اور اس مدت دراز کی دوسرے مسلمانوں میں جو میرے مخالف ہیں کوئی نظیر ہے؟“

(کتاب البریہ ص٨، خزائن ج١٣ ص ایضاً)

ہے۔ سو میرا مذہب جس کو میں بار بار ظاہر کر چکا ہوں یہی ہے کہ اسلام کے دو حصے ہیں۔ ایک یہ کہ خدا کی اطاعت کرے۔ دوسرے اس سلطنت کی جس نے امن قائم کیا ہو۔ سو وہ سلطنت حکومت برطانیہ ہے۔“

(شہادت القرآن ص٨٤، خزائن

ج٦ ص٣٨٠)

٢٤

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٢٧٧

طرف مشغول ہوا اور مجھ سے سرکار انگریزی کے حق میں جو خدمت ہوئی وہ یہ تھی کہ میں نے پچاس ہزار کے قریب کتابیں اور اشتہارات اور رسائل چھپوا کر اس ملک اور نیز دوسرے بلاد اسلامیہ میں اس مضمون کے شائع کئے کہ ہر مسلمان کا فرض ہے کہ گورنمنٹ انگریزی کی سچی اطاعت کرے۔"

(ستارۂ قیصریہ ص ٣، خزائن ج ١٥ ص ١١٣، ١١٤)

مخالفت ہو اسلامی ممالک میں ضرور بھیج دیا کرتا ہوں۔"

(تحریر مرزا قادیانی مورخہ ١٨ نومبر ١٩٠١ء، مندرجہ تبلیغ رسالت ج ١٠ ص ٢٦، مجموعہ اشتہارات ج ٣

ص ٤٤٣)

میں، نہ ایران میں نہ کابل میں۔ مگر اس گورنمنٹ میں جس کے اقبال کے لئے دعا کرتا ہوں۔"

(تحریر مرزا قادیانی مورخہ ١٨ نومبر ١٩٠١ء مندرجہ تبلیغ رسالت ج ١٠ ص ٢٦)

خدمت گزاری کی نیت سے ہم نے کئی کتابیں مخالفت جہاد اور گورنمنٹ کی اطاعت میں لکھ کر دنیا میں شائع کیں اور کافر وغیرہ اپنے نام رکھوائے۔ اس گورنمنٹ کو اب تک یہ بھی معلوم نہیں کہ ہم دن رات کیا خدمات انجام دے رہے ہیں۔"

(اشتہار مرزا قادیانی مورخہ ١٨ نومبر ١٩٠١ء، مندرجہ تبلیغ رسالت ج ١٠ ص ٢٨، مجموعہ اشتہارات ج ٢

ص ٣٧٠)

مسلمانوں کے نام بھی نقشہ جات میں درج کئے جائیں جو درپردہ اپنے دل میں برٹش انڈیا کو دارالحرب قرار دیتے ہیں۔ ہم امید رکھتے ہیں کہ ہماری حکیم مزاج گورنمنٹ بھی ان نقشوں کو ایک ملکی راز کی طرح اپنے کسی دفتر میں محفوظ رکھے گی۔ ایسے لوگوں کے نام مع پتہ اور نشان یہ ہیں۔"

(تحریر مرزا قادیانی مندرجہ تبلیغ رسالت ج ٥ ص ١١، مجموعہ اشتہارات ج ٢ ص ٢٢٧)

کیا شان مجددیت ہے۔ کیا تعلیم حریت ہے۔ مسلمانوں کو جہاد کے مخالف بنایا جا رہا ہے۔ غیر مسلم اور مسلمانوں کی آزادی چھیننے والی حکومت کو امن پسند بتلایا جا رہا ہے۔ اس کی اطاعت پر ابھارا جا رہا ہے۔

٢٥

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٢٧٨
گر وزیر از خدا بترسیدے
ہمچناں کز ملک مالک بودے

٧...... قبولیت دعا

مجدد کی یہ صفت اس کے پرکھنے کی ایک آسان صورت ہے۔ اس سے اس کی روحانیت کا اظہار ہوتا ہے اور اس کے بلند مرتبہ کا اظہار ہوتا ہے۔

مرزا قادیانی نے جتنی پیش گوئیاں کیں۔ ان میں سے اکثر و بیشتر اور خاص طور پر وہ جس کو انہوں نے اپنے صدق یا کذب کا معیار قرار دیا غلط ثابت ہوئیں۔

اگر میں جھوٹا ہوں تو میری موت آجائے گی اور یہ پیش گوئی پوری نہ ہوگی۔ مقام عبرت ہے کہ پیش گوئی پوری نہ ہوئی اور مرزا قادیانی ١٩٠٨ء میں بعارضہ اسہال فوت ہو گئے۔

(مجموعہ اشتہارات ج ١ ص ١٠١ ملخص) شائع کیا تھا کہ: ”خدا نے مجھے مطلع کیا ہے کہ ایک وجیہ اور پاک لڑکا تجھے دیا جائے گا...... اس کا نام عمانوائیل اور بشیر بھی ہے۔ وہ نور اللہ ہے۔ کلمۃ اللہ ہے۔ بہتوں کو بیماریوں سے صاف کرے گا۔ وہ تین کو چار کرنے والا ہوگا۔ فرزند دلبند گرامی ارجمند مظہر الحق والعلاء کان اللہ نزل من السماء (یعنی اس فرزند کا نزول گویا خود خدا تعالیٰ کا نزول ہوگا) اس میں ہم اپنی روح ڈالیں گے۔ وہ زمین کے کناروں تک شہرت پائے گا۔“

(براہین احمدیہ مورخہ ٢٠؍فروری ١٨٨٦ء)

پیدا ہونے والا ہے جو ایک مدت حمل سے تجاوز نہیں کر سکتا۔ اس سے ظاہر ہے کہ غالباً ایک لڑکا ابھی ہونے والا ہے۔“

(اشتہار صداقت آثار مورخہ ٨؍ اپریل ١٨٨٦ء، تبلیغ رسالت ج ١ ص ٧٥، مجموعہ اشتہارات ج ١ ص ١١٧)

لڑکے کی بجائے لڑکی پیدا ہوئی۔ جس کا نام عصمت بی بی رکھا گیا۔ اس پر جو لوگوں نے اعتراض کیا

٢٦

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٢٧٩

تو مرزا قادیانی نے بذریعہ اشتہار اعلان فرمایا کہ: ”وحی الہی میں یہ نہیں بتایا گیا تھا کہ اس وقت جو بچہ کی امیدواری ہے یہی وہ پسر موعود ہوگا۔“

(مجموعہ اشتہارات ج١ ص١١٦، ١١٧

ملخص)

دیا۔ چنانچہ اس کی ولادت کے وقت یہ اشتہار شائع کیا۔ ”اے ناظرین! میں آپ کو بشارت دیتا ہوں کہ وہ لڑکا جس کے تولد کے لئے میں نے مورخہ ٨؍اپریل ١٨٨٦ء والے اشتہار میں پیش گوئی کی تھی۔ آج ٧؍اگست ١٨٨٧ء کو وہ مولود مسعود پیدا ہو گیا۔“

(مندرجہ تبلیغ رسالت ج١ ص٩٩، مجموعہ اشتہارات ج١ ص١٤١)

خدا کی قدرت دیکھئے کہ مولود مسعود پسر موعود ایک سال بعد والدین کو داغ مفارقت اور مسلمانوں کو درس عبرت دے کر بتاریخ ٤؍نومبر ١٨٨٨ء اپنے خالق سے جاملا۔ پھر کیا ہوا۔ لیجئے! سنئے۔ بس پھر کیا تھا ملک میں ایک طوفان عظیم برپا ہو گیا اور یہ یقینی بات ہے کہ کئی خوش اعتقادوں کو ایسا دھکا لگا کہ پھر نہ سنبھل سکے۔

اگرچہ مرزا قادیانی نے اپنی ساکھ قائم رکھنے کے لئے اشتہاروں اور خطوط کی بھر مار کر دی اور لوگوں کو سمجھایا کہ میں نے کبھی یقین ظاہر نہیں کیا تھا کہ یہی وہ لڑکا ہے لیکن اکثروں پر مایوسی کا عالم طاری تھا اور مخالفین میں تو پرلے درجے کا جوش تھا۔

(مجموعہ اشتہارات ج١ ص١٤١)

نوٹ: قارئین کرام ! ”اشتہار خوشخبری“ دوبارہ پڑھ کر مرزا قادیانی کے قول کا موازنہ کریں۔ پسر موعود کا آخر کیا ہوا۔ اس کے متعلق نہ تو اس کے بعد مرزا قادیانی ہی پھر کچھ کہہ سکے نہ مرزا قادیانی کے معتقدین ہی نے اس کی آمد کے انتظار کا شوق ظاہر کیا۔ اب ذرا لاہوری احمدی اور قادیانی فرقہ ہمیں بتائیں کہ ہم مرزا قادیانی کی پیش گوئی کے احترام میں پسر موعود جس کے نزول کو خدا کا نزول بتایا گیا تھا۔ انتظار کریں یا چپ رہیں؟

ہے کہ تیری عمر ٨٠ سال کی ہوگی۔ چند سال کم یا چند سال زیادہ ۔“ (سراج منیر ص٧٩، خزائن ج١٢ ص٨١) مرزا قادیانی کا خیال ہوگا کہ چند سال کی کمی زیادتی اس پیش گوئی کو صحیح ثابت کردے گی۔ مگر مرزا قادیانی ٦٨ یا ٦٩ سال کی عمر میں فوت ہوئے۔ (پیدائش ١٨٣٩ء یا ١٨٤٠ء فرماتے ہیں کہ: ”١٨٥٧ء میں میں سولہ برس یا سترہویں برس میں تھا۔“ وفات ٢٦ مئی ١٩٠٨ء)

٢٧

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٢٨٠

(کتاب البریہ ص ١٥٩، خزائن ج ١٣ ص ١٧٧ حاشیہ)

دسمبر ١٨٩٣ء تک ہاویہ (جہنم) میں گرایا جائے گا۔ یہ غلط ثابت ہوا۔ کیونکہ آتھم کی وفات مورخہ ٢٧؍ جولائی ١٨٩٦ء کو ہوئی۔

صداقت کے لئے خدا تعالیٰ کوئی نہ کوئی نشان ضرور ظاہر کرے گا۔ اگر ایسا نہ ہوا تو میں اپنے دعویٰ میں سچا نہیں ہوں۔ افسوس ایسا کوئی نشان ظاہر نہیں ہوا۔

طاعون عذاب الٰہی ہے اور عذاب الٰہی منکرین کے لئے ہوتا ہے۔ مگر ہوا یہ کہ قادیان میں بیشمار لوگ اس مرض میں مبتلا ہوئے اور ایڈیٹر اخبار بدر اسی مرض سے فوت ہوئے۔

اس کے متعلق مرزا قادیانی نے پیش گوئی فرمائی۔ ”سب سے آخری دشمن ڈاکٹر عبدالحکیم خان پٹیالوی ہے۔ جس نے میرے متعلق پیش گوئی کی ہے کہ میں مورخہ ٤؍اگست ١٩٠٨ء میں مر جاؤں گا۔ میں اس کے مقابلہ میں پیش گوئی کرتا ہوں کہ وہ میری زندگی میں مر جائے گا اور میں زندہ رہوں گا۔“

(چشمہ معرفت ص ٣٢٢، خزائن ج ٢٣ ص ٣٣٧)

مقام عبرت ہے کہ مرزا قادیانی اپنے سابق مرید کی پیش گوئی کے مطابق ١٩٠٨ء میں فوت ہو گئے اور ڈاکٹر صاحب ١٩٢١ء تک زندہ رہے۔

صاحب کے ساتھ آخری فیصلہ“ (مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ٥٧٩) مرزا قادیانی نے لکھا کہ: ”یا اللہ مجھ میں اور مولوی ثناء اللہ میں سچا فیصلہ فرما اور جو شخص تیری نظر میں (مفتری) اس کو صادق کی زندگی ہی میں دنیا سے اٹھا لے۔ اے اللہ اگر میں ایسا ہی مفتری اور کذاب ہوں۔ جیسا کہ مولوی ثناء اللہ میرے متعلق اپنے اخبار میں لکھتے رہتے ہیں تو مجھ کو ان کی زندگی ہی میں ہلاک کر دے اور میری موت سے ان کو اور ان کی جماعت کو خوش کر دے۔“

٢؍مئی ١٩٠٨ء تقریباً ایک سال بعد اس اشتہار کے صادق اور کاذب کا ہمیشہ کے لئے

٢٨

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٢٨١

فیصلہ ہو گیا۔ دنیا نے دیکھ لیا کہ مولوی ثناء اللہ کی زندگی میں ہی مرزا قادیانی چل بسے اور مولوی ثناء اللہ اور ان کی جماعت کو سکون نصیب ہوا۔ ان واقعات کی روشنی میں مرزا قادیانی کی مجددیت میں قبولیت دعا کی صفت کا اندازہ لگا ئیں اور مجدد کہنے والوں کی ہدایت کے لئے دعا کریں۔

٨...... ترک خواہشات ولوازمات دنیا

مجدد کی زندگی جناب رسول اللہ ﷺ کی زندگی کا نمونہ ہوتی ہے۔ مجدد عیش پرستی، دنیا طلبی، تن آسانی اور خود بینی جیسے صفات سے پاک ہوتا ہے۔ اس کی تمام زندگی، اللہ اور رسول کی اطاعت اور امت کی اصلاح میں گزرتی ہے۔ گذشتہ تیرہ صدی کے مجددین کی زندگیاں اس کا بہترین نمونہ ہیں۔ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام فرماتے ہیں ۔ ”الدنیا جیفۃ وطالبھا کلاب“ دنیا ایک مردار بد بودار کی طرح ہے اور اس کے چاہنے والے کتے ہیں اور فرماتے ہیں: ”الدنیا زور لا یحصل الا بالزور “ دنیا مکر و فریب ہے اور بغیر مکر و فریب کے حاصل نہیں ہو سکتی۔

آئیے! مرزا قادیانی کی مجددیت کو دنیا کی محبت اور نفرت، عیش وعشرت اور زہد وتقویٰ، تن آسانی و آسائش اور ترک لوازمات و خواہشات دنیا کے آئینہ میں جانچیں۔

تھا۔ کباب، پلاؤ ، انڈے، فیرینی اس وقت کہہ کر پکواتے تھے۔ جب ضعف معلوم ہوتا تھا۔ میوہ جات بھی آپ کو پسند تھے۔ موجودہ زمانہ کی ایجادات برف، سوڈا ، لیمن بھی پیا کرتے تھے۔ بلکہ موسم گرما میں برف امرتسر یا لاہور سے منگوالیا کرتے تھے۔“ (سیرت المہدی حصہ دوم

ص ١٣٢ تا ١٣٥)

بعد انہوں نے لاہور میں جو تقریر کی اس میں اپنے تائب ہونے کی وجہ بیان فرمائی۔ فرماتے ہیں کہ: ”ان کے ذمہ مرزا قادیانی نے ایک خاص خدمت کر رکھی تھی۔ ہر مہینے وہ مرزا قادیانی کے لئے ایک تولہ خالص مشک مہیا کرتے تھے۔ جو ساٹھ ستر روپیہ تولہ ملتی تھی۔ حکیم نور الدین کے مشورے سے ایک یاقوتی تیار کرتے تھے۔ جو مرزا قادیانی استعمال کرتے تھے۔ بٹالہ سے روزانہ سوڈے کی بوتلیں اور برف مرزا قادیانی کے لئے جاتی تھی۔ خوردونوش میں بھی بہت سے تکلفات کو دخل تھا۔ ان چیزوں پر مریدوں کا روپیہ بے دریغ صرف ہوتا تھا۔ ایک دن جب وہ یاقوتی تیار کر رہے تھے۔ ان کے دل میں یہ خیال آیا کہ جناب رسول اللہ ﷺ تو ایسی سادہ زندگی بسر

٢٩

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٢٨٢

کرتے تھے کہ ایک روایت کے مطابق نبوت کے گھر میں تین دن متواتر ایک وقت جو کی روٹی سے کسی کا پیٹ کبھی نہ بھرا تھا اور مرزا قادیانی دعویٰ تو فنافی الرسول ہونے کا کرتے تھے۔ لیکن تنعم دوستی کا یہ عالم ہے جب ڈاکٹر صاحب نے اپنا یہ شبہ مرزا قادیانی پر ظاہر کیا تو ان سے کوئی جواب سوائے ہیر پھیر کے نہ بن پڑا۔ چنانچہ ڈاکٹر صاحب مرزائیت ترک کر کے مسلمان ہو گئے۔‘‘

اگر مرزائی حضرات کو ڈاکٹر صاحب کے بیان پر اعتبار نہیں۔ کیونکہ وہ ڈاکٹر صاحب کو مرزا قادیانی کا دشمن مانتے ہیں۔ تو اس ضمن میں مندرجہ ذیل تحریریں پیش کرتا ہوں۔

میں ارسال ہیں۔ دو تولہ مشک خالص دوشیشیوں میں ارسال فرماویں۔ آپ بے شک ایک تولہ مشک بہ قیمت خرید کر کے بذریعہ وی۔ پی بھیج دیں۔“

(خطوط امام بنام غلام ص ٢، ٣)

گیا۔ آپ میری طرف سے ان مہربان دوست کی خدمت میں شکریہ ادا کر دیں۔“

(مکتوب نمبر ٦٧، مکتوبات احمدیہ ج ٥ حصہ اوّل ص ٢٦، ٢٧)

کہ حضور (مرزا قادیانی) بھی اس ناچیز کی تیار کردہ مفرح عنبری کا استعمال فرماتے ہیں۔“

(خطوط امام بنام غلام ص ٨)

اب بتائیے کیا ڈاکٹر صاحب کا بیان غلط ہے۔ کیا ایسی قیمتی مقویات جو شہوت کو ابھارنے کے لئے دنیا میں مشہور ہیں۔ ایک مجدد کے شان کے شایان ہیں؟ کیا ایسی دواؤں کے استعمال کے بعد انسان کما حقہ، عبادت الٰہی کر سکتا ہے؟ کیا ایک زاہد و عابد اور جس کا دعویٰ فنافی الرسول ہونے کا ہو۔ ایسے مقویات اور مفرحات کا محتاج ہو کر رہ جاتا ہے؟ مجدد اپنے مریدوں سے ریاضت اور اطاعت کا کام لیتے ہیں۔ مرزا قادیانی مقویات کٹواتے اور بنواتے ہیں۔

تاریخ شاہد ہے کہ اللہ والوں نے حرص دنیا کو ہمیشہ برا سمجھا اور ہمیشہ اپنی حاجت صرف اللہ کے سامنے پیش کی۔ مال و دولت کی کوئی وقعت نہ سمجھی۔ جیسے ایک مرتبہ بادشاہ سنجر نے محبوب سبحانی عبدالقادر جیلانیؒ کو لکھا کہ آپ کے لنگر خانے کا خرچ بہت زیادہ ہے اور میں جانتا ہوں کہ آپ کے پاس کوئی مستقل ذریعہ اس کو چلانے کا بھی نہیں ہے۔ اس لئے میں اپنی سلطنت میں واقع ایک حصہ نیمروز کی حکومت آپ کو پیش کرتا ہوں۔ اسے قبول فرمائیے۔ حضور غوث اعظمؒ

٣٠

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٢٨٣

نے بادشاہ کو یہ جواب دیا ۔

چوں چتر سنجری رخ بختم سیاہ باد
در دل اگر بود ہوس ملک سنجرم
زانگہ کہ یافتم خبر از ملک نیم شب
ما ملک نیمروز بہ یک جو نہ می خرم

ایسے اللہ والے امت کی اصلاح کر سکتے تھے۔ جو نیمروز کی حکومت کو ایک جو کے بدلے بھی خریدنے کو تیار نہ تھے اور مرزا قادیانی تمام عمر چندے جمع کرتے رہے۔ مکان بناتے رہے۔ ان پر روپیہ پیسہ کے آنے کے لئے بھی وحی اور الہام آیا کرتا تھا۔

بہت دقت واقع ہوئی۔ اس کے لئے دعا کی گئی۔ ٥؍ مارچ کو میں نے خواب میں دیکھا کہ ایک فرشتہ میرے سامنے آیا اور بہت سا روپیہ میرے دامن میں ڈال دیا۔ میں نے اس کا نام پوچھا۔ اس نے کہا میرا نام ہے ٹیچی ٹیچی۔ پنجابی زبان میں وقت مقررہ کو کہتے ہیں۔ یعنی عین ضرورت کے وقت آنے والا۔“ سبحان اللہ کیسا پنجابی دان فرشتہ تھا اور کیا ٹھیٹ پنجابی نام رکھتا تھا۔

(حقیقت الوحی ص ٣٣٢، خزائن ج ٢٢ ص ٣٤٥، ٣٤٦)

اسماعیل خان اور تفہیم ہوئی کہ اس نام کا ایک شخص روپیہ بھیجے گا۔ چنانچہ درحقیقت عبداللہ خان E.A.C ڈیرہ اسماعیل خان نے کچھ روپیہ بھیجا۔“ (حقیقت الوحی ص ٢٦٢، خزائن ج ٢٢

ص ٢٧٦)

٦؍ ستمبر ١٨٨٣ء کو پہنچا۔ پس اس مبارک دن کی یادداشت کے لئے ایک روپیہ کی شیرینی تقسیم کی گئی۔“ (حقیقت الوحی ص ٣٠٥، خزائن ج ٢٢ ص ٣١٨)

معقول رقم دے دی۔ بعض لوگوں نے اس پر اعتراض کیا تو فرمایا یہ شخص جہاں کہیں بھی جائے گا۔ ہمارا ذکر کرے گا خواہ دوسروں سے زیادہ وصول کرنے ہی کے لئے کرے۔ مگر دور دراز مقامات پر ہمارا نام پہنچا دے گا۔“ (اخبار الفضل قادیان مورخہ

٣١

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٢٨٤

(٢٦؍ فروری ١٩٣٥ء)

واہ رے شوق شہرت۔ کیا عجب طرز خودنمائی اور خود بینی ہے۔ کیا اہل اللہ میں ایسی ریا کاری پائی جاسکتی ہے؟ حضور ﷺ فرماتے ہیں کہ دایاں ہاتھ دے اور بائیں ہاتھ کو پتہ نہ چلے ......اور مرزا قادیانی فرماتے ہیں کہ وہ دیں اور تمام دنیا میں اس کا ذکر ہو۔ کیا شان ہے۔ فنا فی الرسول ہونے کی۔

تحائف کے طور پر ہوں۔ ان کی خبر قبل از وقت بذریعہ الہام یا خواب مجھ کو دے دیتا ہے اور اس قسم کے نشان پچاس ہزار سے کچھ زیادہ ہوں گے۔‘‘

(حقیقت الوحی ص ٣٣٣، خزائن

ج ٢٢ ص ٣٤٦)

قارئین کرام ! نوٹ فرماویں کہ نشانات کا سلسلہ ٢٥ سال میں پچاس ہزار تک پہنچ گیا۔ گویا ایک سال میں دو ہزار نشانات یعنی ایک دن میں چھ نشانات ...... اس سے آپ اندازہ لگائیے کہ اثبات نبوت کے لئے خدا نے تین لاکھ نشانات دکھائے۔ گویا تیس نشان روزانہ۔ الامان (مرزا قادیانی کی عملی زندگی کا آغاز ١٨٨٣ء وفات ١٩٠٨ء) ۔ چنانچہ ٢٥ سال تفاوت کے ہوئے)

توسیع مکان کی سخت ضرورت تھی۔ مجھے کشفی طور پر دکھایا گیا کہ اس زمین کے مشرقی حصہ نے ہماری عمارت بننے کے لئے دعا کی اور مغربی حصہ نے آمین کہی ہے۔ چنانچہ دونوں مکان بذریعہ خریداری اور وراثت ہمارے حصہ میں آگئے۔ حالانکہ ان دونوں کا قبضہ میں آنا محال تھا۔‘‘

(حقیقت الوحی ص ٣٧٩، خزائن ج ٢٢ ص ٣٩٣)

ہوتی تھیں تو ان کو دیگر مستورات کے ساتھ تھرڈ کلاس میں بٹھا دیا کرتے تھے۔ لیکن آخری سالوں میں حضور ایک سالم سیکنڈ کلاس کمرہ اپنے لئے ریزرو کرالیا کرتے تھے اور اسی میں حضرت بیوی صاحبہ اور بچوں کے ساتھ سفر کرتے تھے اور حضور کے اصحاب دوسری گاڑی میں بیٹھتے تھے۔‘‘

(سیرت المہدی حصہ دوم ص ١٠١، روایت نمبر ٤٢٧)

٣٢

صفحہ ٢٨٥

دل سے میرے پر ایمان لائے ہیں اور اعمال صالحہ بجالاتے ہیں اور باتیں سننے کے وقت اس قدر روتے ہیں کہ ان کے گریبان تر ہوجاتے ہیں۔“ (سیرت المہدی حصہ اوّل ص ١٦٥، روایت نمبر ١٥٧)

کیا غضب کا حلف اٹھایا ہے مرزا قادیانی نے! قارئین کرام نوٹ فرمادیں کہ ١٩٣٠ء کی مردم شماری کی رو سے احمدیوں کی تعداد صرف چھپن ہزار تھی۔ خدا جانے اس حلفیہ بیان کے وقت مرزا قادیانی نے چوالیس ہزار کا اضافہ کس طرح فرمادیا اور نہ جانے اپنے بیانات، اعلانات، الہامات، ارشادات، اشتہارات اور ملفوظات میں کتنی فیصدی اضافہ فرماتے رہے ہوں گے۔

آخری فیصلہ کرتا ہوں۔ وہی لوگ خدا کے دفتر میں مرید ہیں۔ جو اعانت اور نصرت میں مشغول ہیں۔ سو ہر شخص کو چاہئے کہ اس نئے انتظام کے نئے سرے سے عہد کر کے اپنی خاص تحریر سے اطلاع دے کہ وہ ایک فرض حتمی کے طور پر اس قدر چندہ ماہواری بھیج سکتا ہے۔ اس اشتہار کے شائع ہونے سے تین ماہ تک ہر ایک مبایع کے جواب کا انتظار کیا جائے گا۔ اس کے بعد سلسلہ بیعت سے اس کا نام کاٹ دیا جائے گا۔ والسلام علیٰ من اتبع الھدیٰ‘ (مجموعہ اشتہارات ج ٣

ص ٤٦٨، ٤٦٩)

محترم حضرات! مال ودولت سے اس طرح کا لگاؤ جو آپ اوپر پڑھ چکے ہیں اور زندگی بھر اس کے اکٹھا کرتے رہنے کے لئے اس طرح جدوجہد کرنا۔ اپنی شہرت اور نام ونمود کے لئے یوں کوشاں رہنا، سوتے جاگتے روپیہ پیسے کے خواب دیکھتے رہنا۔ زمین ومکان کو اپنے قبضے میں لانے کے لئے پریشان رہنا۔ رئیسوں کی طرح اونچے درجوں میں سفر کرتے رہنا۔ بے بنیاد حلفیہ بیانات جاری کرتے رہنا۔ کیا ایک مجدد کے شایان شان ہے؟ مجدد تو درکنار کیا کسی اہل اللہ کے شان کے لائق بھی ہے؟ گزشتہ تیرہ صدیوں میں جتنے مجدد گزرے ہیں۔ ان کی پاک زندگی میں کوئی شائبہ بھی ریا کاری، دنیا پرستی۔ خلاف شرع بیان اور خود بینی وخود نمائی کا نظر نہیں آتا ہے اور ایک مرزا قادیانی ہیں کہ ان کی زندگی ایسے واقعات سے بھری پڑی ہے۔ جن کو شرع کے مطابق کہنا عقلمندی سے بعید ہے۔

٩...... عجز وانکساری

مجدد کی ایک نمایاں صفت خاکساری، عجز وانکساری ہے۔ اہل اللہ نخوت، تکبر، خود بینی

٣٣

صفحہ ٢٨٦

اور غرور سے کلی طور پر پاک ہوتے ہیں ۔

تواضع کند ہوشمند گزین
نہد شاخ پر میوہ سر بر زمین

اپنی تعریف و توصیف میں دفتر کے دفتر سیاہ نہیں کر ڈالتے۔ لوگ خود بخود ان کے کارنامے دیکھ کر انہیں مخدوم اور مطاع تسلیم کر لیتے ہیں، اور بڑے بڑوں کا سر ان کے آگے جھک جاتا ہے۔

مرزا قادیانی کی عجز وانکساری ان ہی کی تحریروں میں ڈھونڈیئے، ملے گی نہیں۔ البتہ اس کے برعکس خود ستائی ، تکبر، مبالغہ اور تعلی مرتبہ کمال کو پہنچی ہوئی ملیں گی۔ اگر عمل بھی ایسا ہی ہوتا تو آج تنقید کی مجال کس کو تھی۔ مگر افسوس ”طبل بلند بانگ بباطن ہیچ“ والا معاملہ ہے۔ دیکھئے مرزا قادیانی کیا فرماتے ہیں؟

ہوں۔ اس قدر نشان دکھائے ہیں کہ اگر وہ ہزار نبیوں پر تقسیم کئے جائیں تو ان سے ان کی بھی نبوت ثابت ہو سکتی ہیں۔ لیکن پھر بھی جو لوگ انسانوں میں سے شیطان ہیں۔ وہ نہیں مانتے۔“

(چشمہ معرفت ص ٣١٧، خزائن ج ٢٣ ص ٣٣٢)

ہیں ۔ جن کی یہ تائید کی گئی ہو۔ لیکن جن دلوں پر مہریں ہیں۔ وہ خدا کے نشانوں سے فائدہ بھی نہیں اٹھاتے۔“

(تتمہ حقیقت الوحی ص ١٣٨، خزائن ج ٢٢

ص ٥٨٧)

ہیں۔“

(تتمہ حقیقت الوحی ص ٦٨، خزائن ج ٢٢

ص ٥٠٣)

(١٨٨٣ء سے ١٩٠٨ء تک گویا ہر روز چھ نشان ظاہر ہوتے رہے کیا خودستائی ہے)

سچا کہہ سکتے ہیں۔ وہی دلائل میرے صادق ہونے کے ہیں۔ میں بھی منہاج نبوت پر آیا ہوں۔“

(اخبار الحکم قادیان مورخہ ١٦؍ اپریل ١٩٠٨ء)

٣٤

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٢٨٧

کیا فرماتے ہیں۔ لاہوری احمدی حضرات بیچ اس دعویٰ کے؟ لاہوری احمدی حضرات تو ان کو مجدد ثابت کرنے چلے ہیں اور مرزا قادیانی دعویٰ نبوت کر رہے ہیں۔ ”کار طفلاں تمام خواہد شد۔“

دی اور اپنا ظل بنایا۔ اس لئے مبارک ہے وہ جس نے تعلیم دی اور وہ جس نے تعلیم حاصل کی۔ پس بلاشبہ حقیقی ختمیت مقدر تھی۔ چھٹے ہزار میں جو رحمن کے دنوں میں سے چھٹا دن ہے۔“

(خطبہ الہامیہ ص ب، خزائن ج ١٦ ص ٣١٠)

قارئین کرام! مندرجہ بالا اقتباس میں تعلّی، تناقض، تصوف، تفسیر اور اجتہاد سب کچھ ملاحظہ فرمائیے۔ پچھلے تیرہ سو سال سے کسی مجدد نے مجددیت کے ساتھ خاتم النبیین ہونے کا دعویٰ کیا ہے؟ ”لا حول ولا قوۃ“ دیکھئے مرزا قادیانی خود فرماتے ہیں کہ جو شخص ایسا کلمہ منہ سے نکالے جس کی کوئی اصل صحیح شرع میں نہ ہو۔ خواہ وہ ملہم ہو یا مجتہد تو اس کے ساتھ شیطان کھیل رہا ہے۔

(آئینہ کمالات اسلام ص ٢١، خزائن ج ٥ ص ٢١)

تو حضرات غور فرمائیے کہ مرزا قادیانی کے اس قول پر کہ ختمیت ازل سے محمد ﷺ کو دی گئی۔ پھر: ”(١) اس کو دی گئی۔ (٢) جسے آپ کی روح نے تعلیم دی۔ (٣) اور اپنا ظل بنایا۔“

اس فقرہ میں قول ١، ٢، ٣ پر کون کون سی نصوص قرآنی شاہد ہیں۔ یعنی مرزا قادیانی نے کن عقائد قرآنی یا شرع شریف کی کون سی نص سے مستنبط کئے ہیں۔ پھر مرزا قادیانی کا یہ قول کہ نبوت کا خاتمہ حقیقی طور پر مجدد وقت مرزا قادیانی کی ذات پر چھٹے ہزار میں ہوا۔ اس پر کون سی نص دلالت کرتی ہے؟ اور سنئے صاحب تاکہ شبہ نہ رہے۔ مرزا قادیانی فرماتے ہیں۔ ”میں وہ آئینہ ہوں جس میں نبوت محمدی اور شکل محمدی کا کامل انعکاس ہے۔ میں کوئی علیحدہ شخص نبوت کا دعویٰ کرنے والا ہوتا تو خدا میرا نام محمد، احمد، مصطفیٰ، مجتبیٰ نہ رکھتا۔“ (نزول المسیح ص ٣، خزائن ج ١٨ ص ٣٨١)

کیا میں فرقہ احمدیہ لاہوری اور قادیانی دونوں سے پوچھ سکتا ہوں کہ جناب یہ بروز، حلول، عینیت اور اتحاد کی تعلیم قرآن مجید کی کون سی نص سے ماخوذ ہے۔ کیا کبھی اسلام نے بھی حلول کے عقیدے کی تعلیم دی ہے؟

لاہوری فرقہ احمدی جو مرزا قادیانی کو مجدد ثابت کرنے کے لئے ہر وقت کوشاں ہیں۔

٣٥

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٢٨٨

مہربانی فرما کر یہ تو بتائیں کہ کیا مجدد زمان ایسے ہی دعویٰ کیا کرتا ہے؟ قرآن مجید کی کون سی آیت سے یہ ثابت ہے کہ چھٹے ہزار میں حضرت محمد ﷺ مرزا غلام احمد قادیانی کی شکل میں ظاہر ہوں گے؟

تو پھر مرزا قادیانی کا قول مندرجہ ”آئینہ کمالات اسلام“ مذکور بالا کس شخص پر صادق آتا ہے؟ میاں آپ تو مرزا قادیانی کی مجددیت ثابت کرنے چلے ہیں۔ مرزا قادیانی کی بھی سنو۔ وہ کیا فرماتے ہیں:

دوسری کتابوں پر اور جس طرح قرآن شریف کو یقینی اور قطعی طور پر خدا کا کلام جانتا ہوں۔ اسی طرح اس کلام کو بھی جو مجھ پر نازل ہوتا ہے خدا کا کلام یقین کرتا ہوں۔“

(حقیقت الوحی ص ٢١١، خزائن ج ٢٢ ص ٢٢٠)

(اربعین نمبر ٤ ص ١٩، خزائن ج ١٧ ص ٤٥٤)

ہیں اور میری وحی کے معارض نہیں اور دوسری حدیثوں کو ہم ردی کی طرح پھینک دیتے ہیں۔“

(اعجاز احمدی ص ٣٠، خزائن ج ١٩ ص ١٤٠)

وقت میں اس قدر شدت تھی کہ ایمان لانا بھی قتل سے نہیں بچا سکتا تھا۔ پھر ہمارے نبی کے وقت میں بچوں، بوڑھوں اور عورتوں کو قتل کرنا حرام کیا گیا...... پھر مسیح موعود کے وقت میں جہاد کا حکم موقوف کر دیا گیا۔“

(اربعین نمبر ٤ ص ١٣، خزائن ج ١٧ ص ٤٤٣

حاشیہ)

کیا صاحب شریعت مجدد تھے۔ مرزا قادیانی نص قرآن کے خلاف تعلیم دے رہے تھے۔ نعوذ باللہ!

(حقیقت الوحی ص ١٦٣، خزائن ج ٢٢ ص ١٦٨)

٣٦

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٢٨٩

قبول نہیں کیا۔ وہ مسلمان نہیں ہے۔“

(رسالہ الذکر الحکیم نمبر ٤ ص ٢٤، حقیقت الوحی ص ١٦٣، خزائن ج ٢٢ ص ١٦٧)

یہاں تک تو صرف نبوت کے دعویٰ سے متعلق اقوال تھے۔ اب سنئے مرزا قادیانی کی فضیلت صحابہ پر، شہداء پر، پیغمبروں پر اور جناب رسول اللہ ﷺ پر جس طرح انہوں نے خود فرمایا ہے۔ نعوذ باللہ من ذالک!

”میں وہی مہدی ہوں جس کی نسبت ابن سیرینؒ سے سوال کیا گیا کہ بتاؤ! وہ ابوبکرؓ کے درجہ پر ہے؟ تو انہوں نے جواب دیا کہ ابوبکرؓ کیا وہ تو بعض انبیاء سے بہتر ہے۔“

(تبلیغ رسالت ص ٣٠، مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ٢٧٨)

پھر فرماتے ہیں: ”مجھ کو وہ چیز دی گئی ہے جو دنیا اور آخرت میں کسی شخص کو بھی نہیں دی گئی۔“

(استفتاء ضمیمہ حقیقت الوحی ص ٨٧، خزائن ج ٢٢ ص ٧١٥)

”میں خدا کا کشتہ ہوں اور تمہارا حسین دشمنوں کا کشتہ ہے۔ پس فرق ظاہر ہے۔“

(نزول المسیح ص ٨١، خزائن ج ١٩ ص ١٩٣)

”اور خدا تعالیٰ میرے لئے اس کثرت سے نشان دکھا رہا ہے کہ اگر نوح علیہ السلام کے زمانے میں دکھائے جاتے تو وہ لوگ غرق نہ ہوتے۔“

(تتمہ حقیقت الوحی ص ١٣٧، خزائن ج ٢٢ ص ٥٧٥)

اینک منم کہ حسب بشارت آمدم
عیسیٰ کجا است تا بنہد پا بہ منبرم

(ازالہ اوہام ص ١٥٧، خزائن ج ٣ ص ١٨٠)

”ہمارے نبی کریم ﷺ کی روحانیت نے پانچویں ہزار میں اجمالی صفات کے ساتھ ظہور فرمایا اور وہ زمانہ اس روحانیت کی ترقیات کی انتہاء نہ تھی۔ بلکہ اس کے کمالات کے

٣٧

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٢٩٠

معراج کے لئے پہلا قدم تھا۔ پھر اس روحانیت نے چھٹے ہزار کے آخر میں یعنی اس وقت پوری طرح تجلی فرمائی۔“

(خطبہ الہامیہ ص ١٧٧، خزائن

ج ١٦ ص ٢٦٦)

حقیقت کاملہ بوجہ موجود نہ ہونے کسی نمونہ کے موبمو منکشف نہ ہوئی اور نہ دجال کے ستر باع کے گدھے کی اصلی کیفیت کھلی ہو اور نہ یاجوج وماجوج کی عمیق تہہ تک وحی الہی نے اطلاع دی ہو اور نہ ”دابۃ الارض“ کی ماہیت کما ہی ظاہر فرمائی گئی۔“

(ازالہ اوہام ص ٦٩١، خزائن ج ٣

ص ٤٧٣)

شخص کے وجود میں ان کے نمونے ظاہر کئے جائیں۔ سو وہ میں ہوں۔“

(براہین احمدیہ حصہ پنجم ص ٩٠، خزائن ج ٢١ ص ١١٧)

(تحفہ گولڑویہ ص ٤٠، خزائن ج ١٧ ص ١٥٣)

”میری تائید میں خدا نے جس قدر نشان ظاہر کئے ہیں۔ ان کو فرداً فرداً شمار کروں تو تین لاکھ سے بھی زیادہ ہیں اور میں یہ بات خدا کی قسم کھا کر کہتا ہوں۔“

(حقیقت الوحی ص ٦٧، خزائن ج ٢٢ ص ٧٠)

نے بھی خواہش کی تھی۔ اس لئے اب اپنے ایمانوں کو خوب مضبوط کرو۔“

(اربعین نمبر ٣ ص ١٣، خزائن ج ١٧ ص ٤٤٢)

معزز قارئین! خدا لگتی کہئے۔ مندرجہ بالا اقتباسات جو مرزا قادیانی کے زور قلم کا نتیجہ ہیں۔ مرزا قادیانی کی خاکساری، عجز وانکساری ظاہر کرتے ہیں یا مرزا قادیانی نے ان تحریروں سے اپنے آپ کو عالی مرتبت اور صاحب فضیلت اور بہت بڑا آدمی ثابت کرنے کی کوشش کی ہے۔ ان تحریروں سے کیا یہ ثابت نہیں ہوتا کہ انہوں نے اپنے آپ کو جناب رسول اللہ ﷺ کے در کا گدا ظاہر کرنے کی بجائے ان کی ذات اقدس پر اپنی فضیلت جتائی ہے۔ ان کے اصحاب

٣٨

صفحہ ٢٩١

عالی مقام پر اور پیغمبروں پر اپنے آپ کو افضل بیان کیا ہے۔ اس سے بڑھ کر کبر و غرور کیا ہے اور عجز و انکساری و خاکساری کا فقدان اور کیا ہو سکتا ہے۔ نعوذ باللہ! کیا ایسا شخص مجدد کہلائے جانے کا مستحق ہے۔ کیا اس طرح بے بنیاد دعوے کر کے امت کی اصلاح کی جا سکتی ہے۔ ”هيهات لمن ضيع عمراً بہولائ“

کیا میں لاہوری احمدی حضرات سے پوچھ سکتا ہوں کہ حضرات آپ تو مرزا قادیانی کو مجدد ثابت کرنا چاہتے ہیں اور وہ خود کو نبیوں سے افضل کہتے ہیں اور دعویٰ نبوت کا کرتے ہیں۔ پھر آپ حضرات ان کا مرتبہ کیوں گھٹا رہے ہیں۔ اتنا ظلم مرزا قادیانی پر نہ کیجئے۔ صاحب سوچ لیجئے اب بھی وقت ہے۔

١٠...... اصلاح امت

تمام صفات جو ایک مجدد میں ہونی چاہئیں ان میں سے ایک واضح اور نمایاں صفت مجدد کی یہ ہوتی ہے کہ ان کے اجتہاد سے امت کی اصلاح ہو جاتی ہے۔ اسلام کی تجدید ہو جاتی ہے۔ بدعات کا قلع قمع ہو جاتا ہے اور اسلام کی روح مردہ دلوں میں دوبارہ زندہ ہو جاتی ہے اور مجدد اپنے بعد کوئی ایسا علمی کارنامہ چھوڑ جاتا ہے جس کے مطالعے سے اخلاف کے ایمان، ایقان میں اضافہ ہوتا رہتا ہے۔ اس کی تصنیف کے سامنے تمام علماء سر تسلیم خم کر دیتے ہیں۔ مجدد کی زندگی مسلمانوں کے لئے شمع ہدایت بن جاتی ہے۔

گزشتہ مجددین کی اصلاحی خدمات اظہر من الشمس ہیں۔ حضرت عمر بن عبدالعزیزؒ کے دینی کارنامے، امام شافعیؒ کی دینی خدمات، امام غزالیؒ کی تحریر احیاء العلوم، امام رازیؒ کی تفسیر کبیر، مجدد الف ثانیؒ کے مکتوبات، شاہ ولی اللہؒ کی حجۃ اللہ البالغہ، امام ابن تیمیہؒ اور امام احمد بن حنبلؒ کی علمی اور مذہبی خدمات اور اعلائے کلمۃ الحق کے معاملے میں ان کا بے نظیر استقلال سید احمد صاحبؒ رائے بریلوی کے اصلاحی کارنامے، مولانا محمد قاسم صاحب دیوبندیؒ کی علمی تصانیف اور دارالعلوم دیوبند کے لئے ان کی خدمات دنیا جب تک قائم ہے۔ مسلمانوں کے لئے ان مجددین کی علمی اور مذہبی خدمات ہمیشہ شمع ہدایت کا کام دیتی رہیں گی۔

لیکن مرزا قادیانی نے امت کی اصلاح کے لئے کیا کیا ہے؟ ٢٣ سال نبوت کا اعلان کیا اور اپنے آپ کو عالم، مناظر، امام، مجدد، محدث، مسیح، مہدی، نبی، کرشن، رودر گوپال، بروز محمد

٣٩

صفحہ ٢٩٢

اور ابن اللہ بھی کچھ کہتے رہے۔ لیکن مسلمانوں کے لئے کیا کیا؟ مرزا قادیانی سے کسی اعلیٰ پایہ کی تصنیف کی امید تو اس بناء پر نہیں کی جاسکتی ہے کہ ان کی دماغی حالت صحیح نہ تھی۔ کیونکہ ”حجۃ اللہ البالغہ“ جیسی اعلیٰ پایہ کی کتاب لکھنے کے لئے علوم باطنی وظاہری کے علاوہ صحت دماغی بھی ضروری ہے۔ تاہم مراق اور ہسٹریا کے دوروں کے باوجود جن کا مرزا قادیانی اور ان کے مریدوں کو بھی اعتراف ہے۔ جو کچھ خدمت اصلاح امت کے لئے مرزا قادیانی کرسکے اس کا مختصر حال درج ذیل ہے۔ لیکن پہلے ان کی دماغی اور جسمانی حالت کے متعلق چند شواہد پیش کرتا ہوں۔ تاکہ کوئی یہ خیال نہ کرے کہ یہ باتیں میں نے ویسے ہی ان سے منسوب کردی ہیں۔

مرزا قادیانی کی دماغی اور جسمانی حالت اور ان کی بیماریاں

وقت میرا دل اور دماغ اور جسم نہایت کمزور تھا اور ذیابیطس، دوران سر، اور تشنج قلب کے علاوہ دق کی بیماری کا اثر ابھی بکلی دور نہ ہوا تھا۔ اس نہایت درجہ کے ضعف میں جب نکاح ہوا تو لوگوں نے افسوس کیا۔ کیونکہ میری حالت ”مردی کالعدم“ تھی اور پیرانہ سالی کے رنگ میں میری زندگی تھی۔“

(نزول المسیح ص ٢٠٩، خزائن ج ١٨ ص ٥٨٧)

جاتا رہتا تھا۔ شاید قلت حرارت غریزی اس کا موجب تھی۔ وہ عارضہ بالکل جاتا رہا ہے معلوم ہوتا ہے کہ دواء حرارت غریزی کو بھی مفید ہے اور منی کو بھی غلیظ کرتی ہے۔ غرضیکہ میں نے تو اس میں آثار نمایاں پائے ہیں۔“

(مکتوبات احمدیہ جلد پنجم نمبر ٢

ص ١٤)

ہسٹریا کا دورہ بشیر اوّل کی وفات کے چند دن بعد ہوا تھا۔ کچھ عرصہ بعد آپ ایک دفعہ نماز کے لئے مسجد میں تشریف لے گئے...... میں پردہ کرا کر مسجد میں چلی گئی تو آپ نے فرمایا۔ اب افاقہ ہے۔ میں نماز پڑھ رہا تھا کہ میں نے دیکھا کہ کوئی کالی کالی چیز میرے سامنے سے اٹھی اور آسمان تک چلی گئی۔ پھر میں چیخ مار کر زمین پر گر گیا اور غشی کی سی حالت ہوگئی۔ والدہ صاحبہ فرماتی ہیں کہ اس

٤٠

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٢٩٣

کے بعد آپ کو باقاعدہ (ہسٹریا) کے دورے پڑنے شروع ہو گئے۔ خاکسار نے پوچھا دوروں میں کیا ہوتا تھا۔ والدہ صاحبہ نے کہا ہاتھ پاؤں ٹھنڈے ہوجاتے تھے اور بدن کے پٹھے کھنچ جاتے تھے۔ خصوصاً گردن کے پٹھے اور سر میں چکر ہوتا تھا۔“ (سیرت المہدی حصہ اول ص ١٦، روایت نمبر ١٩)

تھا اور اس کا باعث دماغی محنت، تفکرات، غم اور سوء ہضم تھا۔ جس کا نتیجہ دماغی ضعف تھا اور جس کا اظہار مراق اور دیگر ضعف کی علامات مثلاً دوران سر کے ذریعہ سے ہوتا تھا۔“

(رسالہ ریویو آف ریلیجنز قادیان ص ١٠، ماہ اگست ١٩٢٦ء)

موعود سے سنا ہے کہ مجھے ہسٹریا ہے۔ بعض اوقات آپ مراق بھی فرماتے تھے۔“

(سیرت المہدی حصہ دوم ص ٥٥، روایت ص ٣٦٩)

فرمایا تھا کہ مسیح آسمان سے دو زرد چادریں لپیٹے ہوئے اترے گا۔ مجھ کو دو بیماریاں ہیں۔ ایک اوپر کے دھڑ کی۔ ایک نیچے کے دھڑ کی۔ یعنی مراق اور کثرت بول۔“

(تشحیذ الاذہان ماہ

جون ١٩٠٦ء)

ہوجایا کرتا تھا۔ دوسری ذیابیطس جو تخمیناً بیس برس سے لاحق ہے۔“

(حقیقت الوحی ص ٣٦٣، خزائن ج ٢٢ ص ٣٧٦)

اس کے متعلق مرزا قادیانی (ضمیمہ اربعین نمبر ٣، ٤ ص ٤، خزائن ج ١٧ ص ٤٧٠) میں بھی شکایت فرماتے ہیں۔

اسہال، کثرت بول اور مراق وغیرہ کا ایک باعث تھا۔ یعنی عصبی کمزوری۔“

(ریویو قادیان ماہ مئی ١٩٢٧ء)

یا فکر کروں تو خطرناک دوران سر شروع ہوجاتا ہے اور دل ڈوبنے لگتا ہے۔ ایسا ہی میری بیوی بھی

٤١

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٢٩٤

دائم المریض ہے۔ امراض رحم و جگر دامنگیر ہیں۔“

(مندرجہ اخبار بدر قادیان مورخہ ٢١ مئی

١٩٠٦ء)

قارئین کرام! جس شخص کی دماغی حالت ایسی ہو۔ وہ ”احیاء العلوم“ یا ”حجتہ اللہ البالغہ“ کے پایہ کی کوئی کتاب کیونکر لکھ سکتا ہے۔ لیکن مرزا قادیانی نے اصلاح امت کے لئے جو کچھ کیا وہ مختصر طور پر درج ذیل ہے۔

گویا یہ کلمہ اب کسی کو مسلمان نہیں بنا سکتا۔ جب تک مرزا قادیانی کی نبوت کا اقرار ساتھ نہ ہو۔

دیا۔

(٣) مساوات کو مٹا ڈالا۔

پچاس الماریاں کتابیں لکھ کر مسلمانوں کو انگریزی حکومت کی اطاعت اور غلامی کے فوائد سکھائے۔ اپنے مریدوں کو مسلمانوں کے ساتھ نماز پڑھنے سے روکا۔ مسلمان کا جنازہ پڑھنے سے منع کیا۔ اپنی لڑکی مسلمان سے بیاہنے سے منع کر دیا اور برادرانہ تعلقات مسلمان کے ساتھ قائم رکھنے سے منع فرما دیا۔ نبوت کا دعویٰ کر کے مسلمانوں کو اپنی اطاعت کے لئے مجبور کیا اور مساوات کی صفت کو زائل کر دیا۔

کروادیا۔ تاکہ جو اس میں دفن ہو بہشتی ہو جائے۔

دروازہ کھول دیا۔

کردیں۔

٤٢

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٢٩٥

مثلاً قرآن میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ”لم یلد ولم یولد“ لیکن مرزا قادیانی کو الہام ہوتا ہے۔ ”اسمع ولدی“ اے میرے بیٹے سن۔ (البشریٰ جلد اول ص ٤٩) ”انت منی وانا منک“ تو مجھ سے ہے میں تجھ سے ہوں۔ (حقیقت الوحی ص ٧٤، خزائن ج ٢٢ ص ٧٧) ”انت من ماء نا وھم من فشل“ اے مرزا تو ہمارے پانی سے ہے اور وہ بزدلی سے ہیں۔ (انجام آتھم ص ٥٥، خزائن ج ١١ ص ٥٥) ”انت منی بمنزلۃ ولدی“ اے مرزا تو ہمارے نزدیک مثل ہماری اولاد کے ہے۔

(حقیقت الوحی ص ٨٦، خزائن

ج ٢٢ ص ٨٩)

بددل کر دیا۔

ایسی راہ نکال دی جس پر مرزا قادیانی کے بعد ان کے مریدوں نے بھی عمل کیا اور انہوں نے بھی نبوت کا دعویٰ کر کے یہ ثابت کرنا چاہا کہ دعویٰ نبوت بچوں کا کھیل ہے۔

تناقض کی دو مثالیں ہدیہ ناظرین کی جاتی ہیں۔ فرماتے ہیں:

میں کس طرح نبوت کا دعویٰ کروں۔ جب کہ میں مسلمانوں میں سے ہوں۔“

(حمامتہ البشریٰ ص ٧٩، خزائن ج ٧ ص ٢٩٧)

(ملفوظات ج ١٠

ص ١٢٧)

جس سے ان کی ایمانی قوت میں بہت اضافہ ہوا۔

٤٣

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٢٩٦

توہین کر کے دشمنان اسلام کو موقع دیا کہ وہ آنحضرت ﷺ اور ان کی ازواج مطہرات پر اعتراض کریں۔

بزرگان قوم کے اصرار پر بوجہ حمل کے نکاح کر لیا۔ گولوگ اعتراض کرتے ہیں کہ برخلاف تعلیم توریت کے عین حمل میں کیوں نکاح کیا گیا اور بتول ہونے کے عہد کو کیوں توڑا گیا۔ مگر میں یہ کہتا ہوں کہ یہ سب مجبوریاں تھیں جو پیش آ گئیں اور اس صورت میں لوگ قابل رحم تھے نہ قابل اعتراض۔“

(کشتی نوح ص ١٦، خزائن ج ١٩ ص ١٨)

روک نہیں سکتے تھے۔ مگر میرے نزدیک آپ کی یہ حرکات جائے افسوس نہیں۔ کیونکہ آپ تو گالیاں دیتے تھے۔ یہودی ہاتھ سے کسر نکال لیا کرتے تھے۔ یہ بھی یاد رہے کہ آپ کو کسی قدر جھوٹ بولنے کی عادت تھی۔“

(ضمیمہ انجام آتھم ص ٥ حاشیہ، خزائن ج ١١ ص ٢٨٩)

ان بیانات کی بناء پر عیسائیوں نے آنحضرت ﷺ اور ازواج مطہرات کی شان میں گستاخیاں کیں۔

کیا۔ فرماتے ہیں ۔ ”میں بار بار کہتا ہوں کہ اگر تمام مخالف مشرق اور مغرب کے جمع ہو جائیں تو میرے اوپر ایسا اعتراض نہیں کر سکتے۔ جس اعتراض میں گذشتہ نبیوں میں سے کوئی نبی شریک نہ ہو۔“

(تتمہ حقیقت الوحی ص ١٣٧، خزائن ج ٢٢

ص ٥٧٥)

قارئین کرام! ملاحظہ فرمایا آپ نے کہ مرزا قادیانی نے کتنی خدمت کی ہے اسلام کی

٤٤

صفحہ ٢٩٧

اور کس طرح اصلاح فرمائی ہے امت محمدیہ کی۔ کیا اب احمدی حضرات مرزا قادیانی کو نبی مانتے ہیں یا مجدد؟ لاہوری احمدی جو ان کو مجدد مانتے ہیں۔ مرزا قادیانی کے اپنے دعویٰ کو نہیں مانتے۔ پس جو ان کے دعویٰ کو نہیں مانتے مرزا قادیانی کے نزدیک وہ لوگ مسلمان ہی نہیں۔ پھر لاہوری احمدی فرقہ کے یہ حضرات کس حیثیت سے اس کو مجدد ثابت کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔

حضرات! اس لمبی تمہید اور تفصیل کے لئے معافی چاہتا ہوں۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ اس تمام تفصیل کے بعد ہی اب میں اس قابل ہوسکا ہوں کہ ”فرقہ احمدیہ“ کے ان چار سوالوں کا جواب مدلل اور بلاخوف تردید دے سکوں۔ چنانچہ میں آپ کی توجہ مذکورہ سوالات کی طرف مبذول کرتا ہوں اور جوابات عرض کرتا ہوں۔ اس سے پہلے کہ میں جوابات عرض کروں۔ آئیے میرے ساتھ دعا کے لئے ہاتھ اٹھائیے کہ رب العالمین اپنے حبیب ﷺ کے صدقہ میں راہ سے بھٹکے ہوئے ان لوگوں کو صراط مستقیم پانے کی توفیق عطا فرمادے اور میری یہ حقیر کاوش ان کے لئے باعث ہدایت اور باعث نجات ثابت کرے۔ آمین ثم آمین!

پوچھے گئے ہیں۔ ذیل میں ان سوالات کے جوابات اللہ تعالیٰ کے فضل وکرم سے عرض کرتا ہوں۔ جناب میاں محمد یوسف قوم ککے زئی قادیانی عبادت گاہ کوچہ ”گل بادشاہ جی پشاور شہر“ خاص طور پر اور ”فرقہ قادیانی“ کے لاہوری اور قادیانی حضرات عام طور پر ان جوابات پر غور فرماویں۔ لیکن ایک شرط پر وہ یہ کہ تمام تعصب، نفرت اور بغض وحسد کے جذبات کو بالائے طاق رکھ کر صرف جذبۂ اسلامی رضائے الٰہی اور تلاش حق کے جذبہ کے ساتھ اس کا مطالعہ کریں۔

لئے عرض کر رہا ہوں۔

یوسف سلیم چشتی“ کی تحریروں سے استفادہ کیا ہے۔ جن کا میں مشکور ہوں۔

”حق وباطل“ کو زیادہ سے زیادہ چھپوا کر دنیا کے کونے کونے میں پہنچادیں۔ تاکہ حق کا اظہار اور باطل کا رد ہوسکے۔ جو لوگ اس فتنہ کی حقیقت سے آگاہ نہیں وہ آگاہ ہوسکیں اور جو غلط راہ پر پڑ چکے ہیں۔ ان کے لئے باعث ہدایت ہو۔ جو لوگ شرپسند ہیں اور اسلام اور بزرگان اسلام کا مذاق

٤٥

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٢٩٨

اڑانا چاہتے ہیں۔ ان کی اصلاح ہو سکے۔ یہ کار ثواب ہے اور نفع ہے دنیا اور آخرت کا۔ مسلمان بڑھ چڑھ کر اس کار خیر میں حصہ لیں۔ آخر میں دعا ہے کہ رب العالمین میری یہ سعی اپنی بارگاہ عالی میں قبول فرمائے اور حق کو سر بلند اور باطل کو ذلیل و رسوا کرے۔ آمین!

سوال نمبر : ١...... اگر چودھویں صدی کا مجدد حضرت غلام احمد قادیانی نہیں تو دوسرا کون ہے؟

جواب ...... مرزا قادیانی تو دعویٰ نبوت کا کرتے ہیں۔ اپنے آپ کو انبیاء علیہم السلام سے افضل بتاتے ہیں۔ یہاں تک کہ سید المرسلین حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ سے بھی اپنے آپ کو بہتر اور افضل کہتے ہیں اور آپ ان کا درجہ گھٹا کر انہیں صرف مجدد ثابت کرنے چلے ہیں۔ مرزا قادیانی کے نزدیک ایسا شخص مسلمان نہیں جو ان کے دعویٰ کو تسلیم نہیں کرتا۔ تو پھر حضرت ...... آپ کا کیا مقام ہے؟

آپ نے غور فرمایا کہ مرزا قادیانی میں مجدد کی کوئی صفت موجود نہ تھی۔ انہوں نے اسلام کی کوئی خدمت نہیں کی۔ انہوں نے اصلاح امت کی بجائے امت کو غیر اسلامی عقیدوں کے جال میں پھنسایا۔ انہوں نے کوئی تحریر امت کی اصلاح اور فائدہ کے لئے پیچھے نہیں چھوڑی۔ انہوں نے عملاً اخلاق رسول ﷺ کا مظاہرہ نہیں کیا۔ انہوں نے بدعت کا قلع قمع کرنے کی بجائے اسے فروغ دیا اور سب سے زیادہ یہ کہ نبوت کا دعویٰ کر ڈالا۔ ان کا یہ دعویٰ نبوت ان کی مجددیت کے حق کو زائل کر دیتا ہے اور یہ سب سے بڑی دلیل ہے۔ ان کے مجدد نہ ہونے کی۔ اس لئے مرزا قادیانی چودھویں صدی کے مجدد نہیں تھے۔ بلکہ علماء اسلام اس پر متفق ہیں کہ اس صدی کے مجدد ”حکیم الامت مولانا اشرف علی تھانوی قدس سرہ“ تھے۔ جن میں مجدد کے تمام صفات بدرجہ اتم موجود تھے۔

سوال نمبر : ٢...... وہ کون سے علماء ہیں جن کے حق میں حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا ہے کہ وہ آسمان کے نیچے شر پھیلانے والے ہیں؟

جواب ...... یہ وہ علماء ہیں جو مسلمانوں کو راہ راست سے ہٹا کر گمراہ کرنے کی سعی کرتے رہتے ہیں۔ جو قرآن کے واضح احکامات کو رد کر کے خلاف شرع تبلیغ کرتے رہتے ہیں۔ جو جہاد جیسے بہترین عمل کو امت محمدیہ میں مفقود کرنے کے درپے ہیں اور تمام عمر اس کے خلاف مسلمانوں کو ابھارتے رہتے ہیں۔ جو اسلام میں غیر اسلامی عقائد مثلاً حلول اور تناسخ کو رواج دیتے ہیں۔ جو پیغمبروں اور بزرگان اسلام اور پیغمبر اسلام پر کسی انسان کو فضیلت دیتے ہیں جو

٤٦

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٢٩٩

مسلمان کو مسلمان سے جدا کر کے اسلام میں تفرقہ پیدا کرتے ہیں۔ جو غیر اسلامی عقائد کو مسلمان پر ٹھونس دیتے ہیں اور نہ ماننے والے کو کافر کہتے ہیں۔ جو مسلمان کا جنازہ نہیں پڑھتے۔ جو مسلمان سے رشتہ نہیں کرتے ، اور جو بیت اللہ کی نسبت زمین کے کسی اور خطہ کو افضل سمجھتے ہیں، اور جو ایمان اور عمل صالح کے ذریعے جنت حاصل کرنے کی بجائے صرف ’’بہشتی مقبرہ‘‘ میں دفن ہونے کو جنت میں داخل ہونے کا ذریعہ بتاتے ہیں۔ اگر ایسے علماء آسمان کے نیچے شر پھیلانے والے نہیں تو اور کون ہو سکتے ہیں۔ وہ جو قرآن اور سنت کے مطابق خود بھی عمل کرتے ہیں اور دوسروں کو بھی ایسا کرنے کی تلقین کرتے ہیں۔ جو مخالفین قرآن اور حدیث کو کافر کہتے ہیں۔ انہیں کی برکت سے دین آج کئی فتنوں سے محفوظ ہے۔ اگر یہ نہ ہوتے تو ظاہر ہے کتنے ہی نبی اور خود ساختہ مجدد پیدا ہو جاتے۔

سوال نمبر:٣...... حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے فرمان کے مطابق اگر کوئی شخص مرنے سے پہلے اپنے امام زمان کو نہ پہچانے تو وہ جاہل کی موت مرتا ہے۔ بتاؤ وہ کون لوگ ہیں؟

جواب...... حضرت آپ تو مرزا قادیانی کو امام زمان مانتے ہیں نا؟ یہ بھی ارشاد فرمائیے۔ آپ کے مرزا قادیانی کس کو امام زمان مانتے تھے؟ میاں وہ تو خود ایسی مثال چھوڑ گئے ہیں کہ آپ کو یہ سوال پوچھنا ہی نہ چاہئے تھا۔ ہاں! تو جہاں تک مسلمانوں کا تعلق ہے۔ الحمد للہ! ہر مسلمان اپنے امام کو جانتا ہے اور اسی کے مذہب کی پابندی کرتا ہے۔ حنفی مسلمان امام ابو حنیفہؒ کے اور شافعی مسلمان امام شافعیؒ کے پیرو ہیں اور اسی طرح امام مالکؒ اور امام احمد بن حنبلؒ کے پیرو بھی ہیں۔ مگر آپ یقین کریں کہ کوئی صحیح العقیدہ مسلمان ایسے شخص کی پیروی نہیں کر سکتا۔ جو جناب رسول اللہ ﷺ کی احادیث کو محض اس لئے ردی میں پھینک دیتا ہے کہ یہ احادیث ان کی وحی کے معارض ہیں۔ میاں پہلے امام کو پہچاننے کی صلاحیت ہونی چاہئے۔ پھر امام کو پہچانا جا سکتا ہے اور اس کے بعد اس کی پیروی کا سوال آتا ہے۔ چنانچہ یہ واضح طور پر ثابت ہو چکا ہے کہ مرزا قادیانی امام تو کجا۔ ایک صحیح العقیدہ مسلمان بھی نہ تھا۔ اب ان کے پیرو اگر اس حدیث کے مطابق گمراہ نہیں تو اور کون ہیں؟

سوال نمبر:٤...... حضرت نبی کریم ﷺ نے فرمایا ہے کہ میری امت آخری زمانہ میں ٧٣ فرقوں میں تقسیم ہو جائے گی۔ ان میں سے ایک فرقہ جنتی ہوگا۔ ٧٢ فرقے دوزخی ہوں گے۔ اگر احمدی مسلمان وہ ناجی فرقہ نہیں تو بتا دو۔ ناجی فرقہ کون ہے؟

٤٧

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٤٨

جواب...... حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا تھا کہ میں تم میں دو چیزیں چھوڑ کر جارہا ہوں۔ جس نے ان دونوں کو مضبوطی سے پکڑا وہ گمراہ نہیں ہوسکتا۔ ایک قرآن مجید اور دوسرا میرا طریقہ۔ اب ظاہر ہے جو لوگ حضور ﷺ کی احادیث کو ردی میں پھینک دیتے ہیں۔ وہ جنت کی راہ کیسے پاسکتے ہیں۔ جب کہ حضور ﷺ نے ایسے لوگوں کے حق میں فرمادیا ہے کہ وہ گمراہ ہیں۔ یعنی جنت کی راہ سے بھٹک گئے ہیں۔ اگر پھر بھی قادیانی اپنے آپ کو فرقہ ناجیہ سمجھتے ہیں تو عرض ہے کہ کس بنیاد پر؟ سب سے پہلا قصور تو ان کا یہ ہے کہ امت محمدیہ میں تفریق ڈال کر ان کے فرقہ کو مسلمانوں سے الگ تخلیق کیا گیا اور اس طرح اسلام میں تفرقہ ڈال کر خدا اور اس کے رسول کی خوشنودی حاصل کرنا محال ہے اور بغیر خوشنودی اللہ ورسول ﷺ جنت کہاں؟

حضرت! ناجی فرقہ وہ ہے جس نے قرآن اور سنت کی متابعت کی اور باقی سب دوزخی ہیں۔ کیا آپ قرآن اور سنت کے پابند ہیں؟ آپ کے امام، مجدد اور نبی نے تو ان کی پیروی نہیں کی۔ ظاہر ہے آپ کیوں کرنے لگے اور اگر ایسا ہی ہے تو پھر آپ کا احمدی فرقہ ناجی فرقہ نہیں ہے۔ میری دعا ہے کہ رب العالمین آپ کو اور دیگر احمدیوں کو ناجی فرقہ میں شامل ہونے کی توفیق عطاء فرمادے۔ آمین! آخر میں میں کلام پاک کی اس آیت کو دوبارہ بیان کرتا ہوں۔ جس کو آپ نے سرورق پر پڑھا ہے اور آپ کو خلوص نیت کے ساتھ اس کے معنی سمجھنے کی دعوت دیتا ہوں اور مرزا قادیانی کی زندگی اور اس کی تحریروں کی روشنی میں فرقہ احمدیہ کے حق میں اس آیت کا اطلاق کس حد تک ہوتا ہے؟ اس کے معلوم کرنے کی سعی فرمانے کی التجا کرتا ہوں تو لیجئے آیت کریمہ یہ ہے: ”اعوذ بالله من الشیطن الرجیم · كیف یهدی الله قوما كفروا بعد ایمانهم وشهدوا ان الرسول حق وجاءهم البینٰت · والله لا یهدی القوم الظالمین“ {کیونکر ہدایت کرے اللہ اس قوم کو جس نے کفر کیا۔ (انکار کیا) بعد ایمان لانے کے اور شہادت دی کہ رسول برحق ہے اور ان کے پاس نشانیاں آئیں اور اللہ ہدایت نہیں دیتا۔ اس قوم کو جو ظالم ہے۔}

کیا قادیانی فرقہ اللہ پر ایمان لائے اور انہوں نے گواہی دی کہ محمد ﷺ خدا کے رسول ہیں اور ان کے پاس خداوند کریم کی واضح نشانی قرآن مجید موجود ہے۔ لیکن انہوں نے انکار کر دیا۔ ملت اسلامیہ اور امت محمدیہ میں سے ان کو کافر کہہ دیا۔ جو ملت اسلامیہ اور امت محمدیہ میں سے ہیں اور ایسے شخص کی متابعت کو افضل گردانا۔ جس کا کردار خود اس کو مسلمان ثابت نہیں کرتا۔

www.besturdubooks.wordpress.com

PDF 305

انا خاتم النبیین لا نبی بعدی

میں آخری نبی ہوں، میرے بعد کوئی نبی نہیں

سیف الجبار

المعروف بہ

سیف اللہ

حضرت مولانا سید عبدالجبار قادریؒ

صفحہ ٣٠٢

بسم اللہ الرحمن الرحیم! الحمدللہ رب العلمین والصلوٰۃ والسلام علی سید المرسلین وعلی الہ واصحابہ الطیبین الطاہرین ٠ اما بعد!

بندہ امیدوار رحمت غفار، سید محمد عبدالجبار کان اللہ لہ بخدمت اہل اسلام مدعا نگار ہے کہ ان دنوں ایک پرچہ موسوم ”حجۃ اللہ“ شائع ہوا ہے۔ وہ ہرگز اس قابل نہیں ہے کہ اس کے جواب کی طرف کوئی اہل علم متوجہ ہو۔ اگر کوئی اہل انصاف ”حجۃ الجبار“ کو بغور ملاحظہ فرمائے اور من بعد حجۃ اللہ کو دیکھے تو صاف صاف کہہ دے گا کہ ”سوال از آسمان و جواب از ریسمان“ پھر اس پر طرہ یہ کہ محض بیہودگیوں اور فضول باتوں کا طومار ہے۔ ان قادیانیوں نے ایک چمکتی ہوئی روشنی پر خاک ڈالی ہے اور ہدایت کے ایک منور آفتاب پر دھول اڑائی ہے۔ مگر وہ یاد رکھیں کہ ان چالاکیوں اور فضول باتوں سے کیا وہ حق کی روشنی کہیں بجھ سکتی ہے۔ نہیں ہرگز نہیں۔ وہ خاک انہی کے منہ پر لوٹ پڑے گی اور وہ حق کا آفتاب قیامت تک چمکتا رہے گا۔ ”والله متم نوره ولو کره الکافرون“ لہٰذا اکثر احباب کی یہ رائے تھی کہ اس کا جواب لکھنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ مگر راقم الحروف و دیگر بعض اصحاب کی یہ رائے ہوئی کہ ایک مرتبہ اور اصل امر کی اطلاع عوام کو کر دینی چاہئے اور ان قادیانیوں کی ابلہ فریبیوں اور چالاکیوں سے اہل اسلام کو آگاہ کرنا چاہئے۔ تا کہ کوئی مسلمان ان کے دام تزویر میں نہ آئے اور اس فتنہ آخرالزمان سے بچے۔ اس کے بعد پھر اگر وہ لوگ یاوہ گوئی کریں گے اور اپنے نامہ اعمال کی طرح کاغذات کو بھی سیاہ کیا کریں گے تو ہمیں ان سے کوئی سروکار نہیں ہے۔

ناظرین! بغور ملاحظہ فرمائیں کہ مرزا غلام احمد قادیانی نے نہ صرف ایک اشتہار بلکہ کئی اشتہاروں اور متعدد کتابوں میں یہ تحریر کی ہے کہ میں ”مثیل مسیح موعود“ ہوں اور مہدی بھی ہوں اور علماء و مشائخین سے جو صاحب مجھ سے مباہلہ کرنا چاہیں میں تیار ہوں۔ اسی بناء پر اس فقیر سراپا تقصیر نے حسب الحکم حضرات علماء حیدرآباد دکن صانہا اللہ عن الشر والفتن۔ ایک رجسٹری خط

مندرجه

٢

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٣٠٣

١؎ دیکھو (آئینہ کمالات اسلام ص ٣٣١، خزائن ج ٥ ص ایضاً) جس کی یہ عبارت ہے۔ "مباہلہ کی نسبت خود بخود اللہ جل شانہ نے اجازت دے دی۔ اوّل حال میں مباہلہ ناجائز تھا۔" سبحان اللہ! مرزا قادیانی جائز کو ناجائز اور ناجائز کو جائز بھی کرتے ہیں۔ تحلیل و تحریم پر بھی ان کا قبضہ ہے۔

رسالہ "حجۃ الجبار" بنام معتمد مجلس قادیانی۔ خاص قادیان ہی کو روانہ کیا تھا کہ بعونہ تعالیٰ ہم سب اہل سنت بنظر احقاق حق مباہلہ کے لئے تیار ہیں اور اس کے جواب کا انتظار فلاں تاریخ تک رہے گا۔ پھر کیا تھا۔ رجسٹری کیا پہنچی کہ ایک آفت پہنچی۔ صدائے برخاست کا مضمون پورا ہو گیا۔

بہت شور سنتے تھے پہلو میں دل کا
جو چیرا تو اک قطرۂ خون نہ نکلا

بہر حال ان کے اس سکوت سے یہ نتیجہ تو ضرور برآمد ہوا کہ مرزا قادیانی اپنے دعوے میں سراسر کاذب ہے۔ پہلے تو خود ہی نے مباہلہ کا دعویٰ کیا۔ پھر جب مقابل تیار ہوا تو گریز کر کے سکوت اختیار کیا۔ ماشاء اللہ چشم بد دور۔ حکم، مؤید من اللہ، مسیح موعود، مہدی، امام الزمان کی یہی شان ہے۔ ادھر تو سرگروہ نے سکوت اختیار کر کے دبکی ماری۔ ادھر حیدرآباد کے قادیانیوں کو پانچ سال کے بعد غیرت دامنگیر حال ہوئی۔ لکھنے لگے کہ وہ رجسٹری خط چھپواؤ۔ ہم بھی تو دیکھیں کہ اس میں کیا لکھا ہے۔ پس اس احقر نے اظہار حق کے لئے اس خط کو چھپوا دیا۔ جس کا نام "حجۃ الجبار" ہے۔ تا کہ علیٰ العموم مرزا قادیانی کی پہلو تہی اور مباہلہ سے پسپائی واضح ہو جائے۔ کیا دلیری اسی کا نام ہے اور کیا مؤید من اللہ کا یہی کام ہے کہ پہلے تو خود ہی مباہلہ کی خواہش کریں اور پھر بوقت مقابلہ منہ چھپائیں۔ واہ صاحب اسی برتے پر مباہلہ کا دعویٰ، پھر منہ اور یہ گرم مصالحہ۔ لا حول ولا قوۃ الا باللہ!

اگر سچے ہو تو جو کہے وہ کر دکھائے۔ خدا کے لئے مرد میدان بنئے۔ ورنہ ایسی فضول باتوں اور جھوٹے دعوؤں سے توبہ کیجئے کہ ابھی باب توبہ باز ہے۔ اب آپ ہی سچ فرمائے کہ مقابلہ سے صریح پہلو تہی اور خاموشی اختیار کرنے والا کیوں نہ اپنے دعوے میں کاذب و مفتری سمجھا جائے۔ کون ذی فہم ہوگا کہ ایسے شخص کو سچا مسیح و مہدی تصور کرے۔ مرزا قادیانی کے جھوٹے دعوؤں کے متعلق "ازالہ اوہام"، "آئینہ کمالات اسلام" وغیرہ کتب میں جو کچھ تحریری دلائل لکھے

٣

صفحہ ٣٠٤

تھے ان تمام ڈھکوسلوں اور فضول باتوں کا جواب تو وقت بوقت علماء اہل سنت نے دے دیا اور مثل ہباء منثوراً کے اڑا دیا ہے۔ جیسا کہ ان تمام کتابوں سے جو ان کے رد میں لکھی گئیں اور شائع ہوچکی ہیں ظاہر و باہر ہے۔ رہا سہا دعوئے مباہلہ جس کو آخر معاملہ کہنا چاہئے۔ اس میں بھی ان کی ترقی تمام ہوگئی اور بعونہٖ تعالیٰ ان کی اس خاموشی سے ایسی زک نصیب ہوئی۔ جو ایک دنیا پر کَالشَّمْسِ فِیْ نِصْفِ النَّہَارِ روشن ہے۔ اب ان کے حیدرآبادی حوارین نے اس ذلت وخواری کے مٹانے اور اپنے سرگروہ (مرزا قادیانی) کی بلا ٹالنے کے واسطے مردان علی کو مرد میدان بنا کے ایک چوورقہ پرچہ ”حجۃ اللہ“ کے نام سے موسوم کرکے یہ مضمون طبع کرایا کہ ہم سے مباہلہ کرو۔ ہم تیار ہیں اور فلاں تاریخ مقرر کی جائے۔ ماشاء اللہ چشم بد دور۔ کیا کہنا ہے مدعی سست گواہ چست۔ سچ فرمائیے کہ یہ دخل در معقول ہے یا نہیں۔ دعوئے پیغمبری تو مرزا قادیانی کریں اور مباہلہ کے لئے ان کے حوارین کودیں۔ سبحان اللہ۔ مثل مشہور ہے۔ ”بیل نہ کودا کودے گون“ ان لوگوں کو یہ بھی نہ سوجھا کہ مباہلہ کا مخاطب کون ہے اور بیچ میں ٹانگ اڑانے والے کون ہیں۔

اہل انصاف! انصاف فرمائیں کہ ہم اہل سنت کو ان لوگوں سے کیا سروکار ہے۔ ان نادان قادیانیوں کو اتنا بھی خیال نہ آیا کہ بلدہ حیدرآباد میں اہل سنت و جماعت کی حکومت ہے اور یہاں بفضلہٖ تعالیٰ صاحب علم واہل بصیرت بکثرت ہیں۔ ہماری اس بیجا دخل اندازی کو دیکھ کر سب قہقہہ اڑائیں گے اور کہیں گے کہ یہ لوگ کیسے بے تکے ہیں۔ ذرا غور بھی نہیں کرتے کہ جب ہمارے پیشوا (مرزا قادیانی) نے مقابلہ سے سکوت اختیار کرلیا۔ جس سے ان کا عجز ثابت ہوگیا ہے تو بھلا ہم کیوں نہ ایسے شخص کی اتباع سے باز آئیں۔ نہ کہ اس کے بالعکس بَفحوایٰ۔ ”ہم بھی ہیں پانچویں سواروں میں“ خود ہی کود کر اپنی جہالت وضلالت کا آپ ہی ثبوت دیں۔ جہالت ہو تو ایسی ہو، بلادت ہو تو ایسی ہو۔ افسوس صد افسوس یہ لوگ باوجودے کہ حق ظاہر ہوچکا۔ تب بھی اس سے چشم پوشی کرتے ہیں اور اپنے جھوٹے پیشرو کے پیچھے آپ بھی خراب ہوئے جاتے ہیں۔ کیا یہی ایمانداری کا نتیجہ ہے۔ نہیں بلکہ فرضی پیغمبر پر ایمان لانے کا ثمرہ ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ کبھی امر حق پوشیدہ نہیں رہ سکتا۔ کسی کے چھپائے نہیں چھپتا۔ الحاصل جب کہ خود مرزا قادیانی نے با وجود ہم اہل سنت کے آمادہ ہونے کے مباہلہ سے سکوت اور مقابلہ سے پہلو تہی کرچکی ہے، تو اب اس وقت ہم کو کوئی ضرورت باقی نہیں رہی ہے کہ ہم پھر ان کے کسی پیرو کی تحریر کا جواب دیں یا اس کے مقابلہ

٤

صفحہ ٣٠٥

کی طرف توجہ کریں۔ تاہم اور بھی لیجئے۔ ہم سب شرکاء مجلس اہل سنت اس وقت اس بات کے لئے آمادہ ہیں کہ اگر مرزا قادیانی خود یہاں آ جائیں تو ہم ان کے ساتھ مباہلہ مسنونہ برابر کریں گے۔ بغیر ان کے آنے کے کسی اور کو ان کی جائے نہ سمجھیں گے اور یہ بالکل ظاہر ہے کہ جو شخص دین محمدی ﷺ میں خلل ڈالے اور برخلاف اقوال مسلمات علماء سلف۔ نئی نئی باتیں تراش کر اہل اسلام میں تفرقہ پیدا کرے، اور فساد برپا کرے اور اپنا ایک نیا فرقہ بنائے۔ اسی سے ہم کو مقابلہ ومباہلہ کرنا چاہئے۔ تاکہ احقاق حق اسی شخص مدعی کے مقابل میں ہو اور اس مدعی باطل پر اس کے باطل دعوؤں کا اثر علیٰ رؤس الاشہاد نمودار ہو کر اس کے مٹنے سے ایک جہاں کا شر و فساد مٹ جائے، اور اہل اسلام اس فساد وتفرقہ سے بچے رہیں اور اپنے دین وایمان کو ہر طرح کی نئی باتوں سے مامون رکھیں۔ مرزا قادیانی کے حوارین (حیدرآباد کے قادیانیوں) کو چاہئے کہ اگر ان کو دعا کرنے اور میدان میں آنے کا شوق ہے تو بسم اللہ۔ کیا دیر ہے۔ اپنے مصنوعی پیغمبر، اپنے فرضی امام، اپنے پیشرو (مرزا قادیانی) کو بلا کر آگے کھڑا کریں، اور یہ سب اتباع ان کے امتی پیچھے کھڑے ہو کر آمین آمین پکاریں، اور جہاں تک ہو سکے دعاؤں کا زور لگائیں، اور بہ آہ و زاری خوب گڑگڑا کر پورے ارمان مٹائیں، اور اس میں کسی طرح کا دقیقہ باقی نہ رکھیں۔ تاکہ اس طرف سے بھی ہم اہل سنت محمد رسول اللہ ﷺ روحی فداہ ﷺ کی امت اپنے یہاں کے مقتداء سادات وعلماء کرام کثرہم اللہ تعالیٰ ونصرہم کے ساتھ ساتھ بالحاح تمام وبہ آہ وزاری اس رب العزت ذوالقہر والجلال کی بارگاہ میں عرض کریں کہ الٰہی، اس جھوٹے پیغمبر، جھوٹے مسیح، مصنوعی مہدی پر پھٹکار اور اپنا غضب نازل فرما! اور احقاق حق و ابطال باطل سے اپنے پاک حبیب محمد رسول اللہ ﷺ کے دین متین اور ان کی امت خیر الامم کی حفاظت فرما، اور جھوٹے کو سچے سے ظاہر کر۔ پھر دیکھئے کہ مرزا قادیانی اور ان کو مثیل مسیح ماننے والے اور ان کو ”امام برحق ومہدی موعود“ جاننے والے اور شب و روز ان پر درود پڑھنے والے، ان کی تصویر کی پرستش کرنے والے، دین اسلام میں فساد و تفرق ڈالنے والے نئی نئی باتوں سے قرآن وحدیث کی تاویل کرنے والے، اسلامی علماء سلف وخلف کے مخالف طریقے نکالنے والے۔ مسلمانوں کو کافر جاننے والے ان کے پیچھے نماز پڑھنے کو حرام ماننے والے غالب آتے ہیں؟ یا نبی برحق حبیب مطلق محمد رسول اللہ ﷺ اور ان کی ذریت و امت اور اس کے علماء ومقتدا بازی لے جاتے ہیں۔ ہم خدائے ٥

صفحہ ٣٠٦

تعالیٰ سے جس نے اپنے حبیب پاک ﷺ کے دین متین کی حفاظت کا ذمہ لیا ہے۔ ضرور یہ امید قوی رکھتے ہیں کہ اس صورت میں فوراً حق کو حق اور باطل کو باطل کر دکھلائے گا اور علی العموم دنیا کے پردے سے یہ فساد یہ تفرق مٹ جائے گا۔

بہر حال ہم اس مسنون مباہلہ کے لئے بشرطیکہ مرزا قادیانی بذات خود آئیں۔ اب بھی موجود ہیں رہا یہ کہ ترک غذا کی قید جو ہمارے پہلے خط میں لگائی گئی تھی۔ اس سے صرف یہی مقصود تھا کہ اس سے دعا میں جلد اثر ہو اور فیصلہ میں دیر نہ ہو اور اس مقدس جناب (جس کی شان انی ابیت یطعمنی ربی ویسقینی ہے۔ بخاری ج ٢ ص ١٠١٢، باب کم التعزیر والادب ) کی متابعت سے ایک خاص اثر پیدا ہو اور مرزا قادیانی کی روحی قوت کا حال اور ان کا مؤید من اللہ ہونا ظاہر ہو۔ اس کو اصل مباہلہ کی قید لازمہ سمجھنا قادیانیوں کی جہالت کی نشانی ہے۔ اچھا صاحب ترک غذا یا قلت غذا جانے دیجئے۔ خوب پلاؤ قورمے کھائیے مرغ پلاؤ اڑائیے۔ مگر پہلے اپنے مصنوعی پیغمبر کو تو بلائیے۔ بغیر ان کے بلائے صرف زبانی جمع خرچ اور فضول باتوں سے کوئی فائدہ نہ ہوگا۔ چند مہملات وخرافات کو جمع کر کے کسی کا نام انوار اللہ کسی کا نام حجۃ اللہ، کسی کا نام نظر سرسری رکھنا کیا فائدہ ہے۔ خوب یاد رکھو کہ اس سے کوئی نتیجہ برآمد نہ ہوگا۔ ہزار زبان درازیاں کرو۔ ہمارا کچھ نہ بگڑے گا۔ ان امور واہیہ سے عند العقلاء بجز حماقت و جہالت کے کوئی عمدہ ثمرہ مرتب نہ ہوگا۔

عجب

٦

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٣٠٧

ا۔ الحمدللہ! حق بات صاف طور سے ظاہر ہوگئی۔ مرزائی چلا اٹھے کہ ترک غذا بدعت ہے اور انوار اللہ کے ص ٣٢٥ پر لکھا کہ: ”یونس نبی دو چار دن کے بھوکے رہنے کے سبب سے ان کی کیا حالت ہوگئی تھی۔ قریب مرگ ہو گئے تھے۔“ افسوس کہ جب اس خرق عادت کی خود میں قوت نہ پائی تو انبیاء کرام علیہم السلام کو بھی اپنا ہم رنگ بنایا۔ کاش مقابلہ کر کے غلامان انبیاء علیہم السلام کی قوت کو دیکھ لیا ہوتا اور خود خس کم جہاں پاک کے مصداق ہوجاتے۔ قوت القلوب اور ”احیاء العلوم“ وغیرہ میں موجود ہے کہ صمدانی چالیس دن میں ایک مرتبہ کھاتا ہے۔ مرزا قادیانی اگر خود ترک غذا سے خوف جان کرتے ہیں تو اچھا ہمارے ہی حضرات سے یہ خرق عادت دیکھ کر اپنے عقائد سے توبہ کریں اور سمجھ جائیں کہ میری قرآن فہمی میں پرلے درجہ کا نقصان ہے اور انبیاء کرام علیہم السلام پر اس طرح کا عیب لگا کر اپنا ایمان برباد کرنا مجھے ہرگز ہرگز زیبا نہیں۔

کار پاکان را قیاس از خود مگیر
گرچہ باشد در نوشتن شیر و شیر

لیکن مرزا قادیانی اور ان کے حوارین کو صرف زبانی جمع خرچ سے کام لینا خوب یاد ہے۔ خود مرزا قادیانی حضرت پیر مہر علی شاہ صاحب گولڑوی کے مقابلہ کے لئے تاریخ مقرر کر کے لاہور میں نہ آئے اور بے محل آیت ”ولا تلقوا بایدیکم الی التہلکۃ“ پڑھ کر جان بچائی۔ اسی طرح یہاں کے حواریوں نے بھی اس مقابلہ میں یہ آیت پڑھ دی۔

نہیں کہ مرزا قادیانی کا سکوت کرنا اس بناء پر ہو کہ ان کے حوارین مباہلہ کے لئے آمادہ ہوں اور خود بدولت قادیان میں گلچھرے اڑائیں۔

یہ بیچارے پریشان ہوں اور وہ مزے لوٹیں اور خوشی سے بغلیں بجائیں۔ واہ واہ خوب ٹھہری کہ یار سستے چھوٹے۔ اپنی بلا مریدوں نے مول لی۔ لیکن یہ نہ سمجھے کہ حیدرآبادی حوارین نے تو ایک نرالی سج دھج نکالی ہے۔ مرزا قادیانی کو ان کی آن بان کے قربان جانا چاہئے کہ ان کی جان کے بدلے اپنی جانوں کو کھپانے اور قربان کرنے کے لئے بظاہر موجود نظر آتے ہیں۔ مگر حقیقت میں انہوں نے وہ چال چلی ہے کہ اپنی بلا مرزا قادیانی ہی کے سر ڈالی ہے۔

چنانچہ (حجۃ اللہ ص ٣، ٤) میں مباہلہ کا یہ طریقہ بتایا ہے کہ اگر مرزا قادیانی کاذب ہوں

٧

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٣٠٨

تو ہلاک ہو جائیں، اور بصورت صادق ہونے کے شخص مقابل فنا ہو جائے۔ غرض یہ کہ حواریین دونوں صورتوں میں ہر آفت سے بچے رہیں۔ سبحان اللہ! امتی ہوں تو ایسے ہوں۔ چیلے ہوں تو ایسے ہوں۔ دیکھئے ہم پھر کہے دیتے ہیں کہ مرزا قادیانی کا بذات خود آنا مباہلہ کے لئے ضرور ١؎ ہے۔ اس کے بغیر ہم کسی کی نہ سنیں گے۔ اب اور لیجئے اگر مرزا قادیانی مباہلہ سے بالکل منہ چھپاتے ہیں تو اس سے زیادہ آسان کام ہم ان کو اور بتلاتے اور ان کو ایک دوستانہ مشورہ دیتے ہیں۔ جس کے کرنے سے احقاق حق اور ابطال باطل بخوبی ہو جائے اور مرزا قادیانی کے طریقہ کی شہرت علی وجہ الکمال تمام دنیا میں مچ جائے۔ وہ یہ کہ اب آپ ماشاء اللہ مالدار بھی ہو گئے ہیں۔ حج بیت اللہ آپ پر فرض ہوگیا ہے۔ ذرا مہربانی فرما کر اپنے عنان کو مکہ معظمہ ومدینہ منورہ زادہما اللہ شرفا وکرامتہ کی جانب پھرائیے اور وہاں جا کر حج وزیارت بھی کیجئے اور اپنی دعوت بھی پھیلائیے

؎

چہ خوش بود کہ برآید بیک کرشمہ سہ کار

صرف قادیان میں شور کرنے اور کلہیا میں گڑ پھوڑنے سے کیا ہوتا ہے۔ ان مقامات

١؎ کیونکہ مباہلہ مفاعلہ ہے۔ جو اشتراک کے لئے ہے اور قرآن وحدیث سے بھی یہی ثابت ہوتا ہے کہ فریقین کو ایک دوسرے کی حضوری میں دعا کرنا چاہئے نہ کہ ایک حاضر ہو اور دوسرا غائب۔

متبرکہ میں جن کے فضائل نصوص قرآنیہ واحادیث نبویہ واقوال مصطفویہ ﷺ سے ظاہر وباہر ہیں۔ پہنچ کر اپنی مہدویت اور عیسائیت کا اظہار کیجئے اور چونکہ آپ اور آپ کے حواریین بقول آپ کے مستجاب الدعوات واہل حق ہیں۔ لہٰذا دعاؤں کی بوچھاڑ لگائیے۔ پھر دیکھئے کیا گل کھلتا ہے۔ اگر وہاں کے علماء ودیگر حضرات آپ کے مطیع فرمان ہو گئے تو البتہ یہ آپ کی سچائی کی بڑی علامت ہے۔ پھر بکثرت علماء واہل اسلام آپ کے مطیع ہو جائیں گے۔ اگر وہاں آپ کا جھنڈا گڑ گیا تو کل جہاں آپ کا تابع فرمان ہو جاتا ہے۔ کیونکہ دین محمدی ﷺ وہیں سے نکلا ہے اور آخر وہیں سمٹ کر جائے گا۔

٨

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٣٠٩

ناظرین! خوب یاد رکھیں کہ مرزا قادیانی جانتے ہیں کہ حرمین شریفین میں ان کی خوب آؤ بھگت ہوگی اور وہاں اچھی طرح تواضع ہوگی۔ وہاں تو دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو جائے گا۔ اتنی مدت کی کی کرائی محنت اکارت جائے گی۔ وہ ہرگز نہ جائیں گے۔ بھولے سے بھی اس طرف رخ نہ کریں گے اور ان کو یہ بھی معلوم ہے کہ دجال مکہ معظمہ ومدینہ طیبہ میں نہیں جاسکتا۔ جیسا کہ احادیث نبویہ سے بھی ظاہر ہے۔

الابل یطلبون العلم فلا یجدون احدًا اعلم من عالم المدینۃ (رواہ الترمذی ج ٢ ص ٩٧ ، باب ماجاء فی عالم المدینۃ) “ یعنی عنقریب لوگ سفر کر کے طلب علم کریں گے۔ پس کسی کو عالم مدینہ سے بڑھ کر زیادہ عالم نہ پائیں گے۔

” وعن ابی ھریرۃ رضی اللہ مرفوعاً ان الایمان لیأرز الی المدینۃ کما تارز الحیۃ الی جحرھا (رواہ البخاری ج ١ ص ٢٥٢ ، باب الایمان یارز الی المدینۃ) “ یعنی ضرور ہے کہ ایمان مدینہ کے جانب سمٹ کر جائے گا۔ جیسا کہ سمٹتا ہے سانپ اپنی بل کی طرف۔

” وعن انس رضی اللہ مرفوعاً لیس من بلد الا سیطأہ الدجال الا مکۃ والمدینۃ لیس نقب من انقابھا الا علیہ الملائکۃ صافین یحرسونھا (رواہ الشیخان، مسلم ج ٢ ص ٤٠٥ ، باب فی بقیۃ من احادیث الدجال) “ یعنی کوئی ایسا شہر نہیں کہ جس میں دجال نہ جائے۔ مگر مکہ و مدینہ کہ ان کے راستوں پر فرشتے صف بستہ ہوں گے اور ان کی حفاظت کریں گے۔

اور لیجئے ! اگر آپ اس سفر سے بھی ڈرتے ہیں تو ہم آپ کو اس سے بھی زیادہ تر آسان سے آسان طریقہ بقول آپ ہی کے بتلاتے ہیں ۔ جو فقط ایک ہی بات میں احقاق حق و ابطال باطل ہو جاتا اور مسلمانوں کا باہمی اختلاف مٹ جاتا ہے۔ وہ یہ ہے کہ (ضرورۃ الامام ص ١٢، خزائن ج ١٣ ص ٤٨٣) میں خود آپ لکھتے ہیں کہ : ” غرض جو لوگ امام الزمان ہوں گے ان کے کشوف اور الہام صرف ذاتیات تک محدود نہیں ہوتے ۔ بلکہ نصرت دین اور تقویت ایمان کے لئے نہایت مفید اور مبارک ہوتے ہیں اور خدائے تعالیٰ ان سے نہایت صفائی سے مکالمہ کرتا ہے اور ان کے

٩

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ١٠

دعا کا جواب دیتا ہے اور بسا اوقات سوال اور جواب کا ایک سلسلہ منعقد ہو کر ایک ہی وقت میں سوال کے بعد جواب اور پھر سوال کے بعد جواب اور پھر سوال کے بعد جواب۔ ایسے صاف اور لذیذ اور فصیح الہام کے پیرایہ میں شروع ہوتا ہے کہ صاحب الہام خیال کرتا ہے کہ گویا وہ خدا تعالیٰ کو دیکھ رہا ہے اور امام الزمان کا ایسا الہام نہیں ہوتا کہ جیسے ایک کلوخ انداز در پردہ ایک کلوخ پھینک جائے اور بھاگ جائے اور معلوم نہ ہو کہ وہ کون تھا اور کہاں گیا۔ بلکہ خدا تعالیٰ ان سے بہت قریب ہو جاتا ہے اور کسی قدر پردہ اپنے پاک اور روشن چہرہ پر سے جو نور محض ہے اتار دیتا ہے اور یہ کیفیت دوسروں کو میسر نہیں آتی ۔ بلکہ وہ تو بسا اوقات اپنے تئیں ایسا پاتے ہیں کہ گویا ان سے کوئی ٹھٹھا کر رہا ہے اور امام الزمان کی الہامی پیش گوئیاں اظہار علی الغیب کا مرتبہ رکھتے ہیں۔ یعنی غیب کو ہر ایک پہلو سے قبضے میں کر لیتے ہیں۔ جیسا کہ چابک سوار گھوڑے کو قبضہ میں کرتا ہے اور یہ قوت اور انکشاف اس لئے ان کے الہام کو دیا جاتا ہے کہ ان کے پاک الہام شیطانی الہامات سے مشتبہ نہ ہوں اور تا دوسروں پر حجت ہو سکیں ۔‘‘

اس کے بعد (ضرورت الامام ص ٢٤، خزائن ج ١٣ ص ٤٩٥) میں لکھتے ہیں: ”بالآخر یہ سوال باقی رہا کہ اس زمانہ میں امام الزمان کون ہے۔ جس کی پیروی تمام عام مسلمانوں اور زاہدوں اور خواب بینوں اور ملہموں کو کرنی خدائے تعالیٰ کی طرف سے فرض قرار دیا گیا ہے۔ سو میں اس وقت بے دھڑک کہتا ہوں کہ خدا تعالیٰ کے فضل اور عنایت سے وہ امام الزمان میں ہوں۔‘‘

اپنا الہام (تذکرہ ص ٥١٧ طبع ٣) میں لکھتے ہیں کہ: ”انما امرک اذا اردت شیئاً ان تقول لہ کن فیکون“ یعنی خدا نے ان سے (مرزا قادیانی سے ) کہا کہ : ” تو جس چیز کو کرنا چاہے تو کن کہہ دے وہ فوراً موجود ہو جائے گی ۔‘‘ اس سے یہ ظاہر ہے کہ مرزا قادیانی کو ان کے خدا سے ایسا تقرب ہے کہ بے پردہ ہو کر ان سے گفتگو کرتا اور ان کی ہر بات کو سنتا بلکہ ان سے ٹھٹھا کرتا ہے۔ طرہ یہ کہ ان کو صفت تکوین بھی دے رکھی ہے۔ اس لئے مرزا قادیانی کو چاہئے کہ ایک تاریخ مقرر کر کے اعلان دیں کہ فلاں تاریخ فلاں مقام میں سب مخالفین جمع ہوں۔ اس مجمع میں ہم ان

www.besturdubooks.wordpress.com

PDF 315

انا خاتم النبيين لا نبي بعدي

سیدنا محمد رسول اللہ صلعم کے بعد کوئی نبی نہیں

حجۃ الجبار

بجواب

فرقہ محدثہ قادیانیہ

حضرت مولانا سید عبدالجبار قادریؒ

صفحہ ٣١٢

بسم الله الرحمن الرحیم!

جاء الحق وزھق الباطل ان الباطل کان زھوقا!

قادیانی گروہ کی ایک کتاب (جس کا نام بمضمون ”برعکس نہند نام زنگی کافور“، ”انوار اللہ“ رکھا گیا ہے اور وہ حال ہی میں بمطبع عزیز دکن واقع حیدرآباد دکن طبع ہوکر شائع ہوئی ہے ) دیکھی گئی۔ افسوس کہ اس کے بے باک مؤلف نے عالی جناب مولانا المولوی الحاج الحافظ محمد انوار اللہ خاں صاحب بہادر عم فیضہ استاد حضرت بندگان عالی متعالی کی نسبت بہت کچھ گستاخانہ کلمات لکھے ہیں۔ مگر ظاہر ہے کہ آفتاب پر خاک اڑانا گویا خود ہی کو خاک میں ملانا ہے۔ اسی کتاب کے ضمیمہ میں مؤلف نے حضرت مولانا المولوی الحافظ الحاج الواعظ القاری سید شاہ محمد عمر صاحب قادری کو مخاطب کر کے یہ بھی لکھا ہے کہ (جس طرح اربعین میں آپ کو حضرت اقدس نے مباہلہ کے لئے بلایا ہے۔ کیا آپ نے اس کو منظور کر لیا ہے۔ بائیں شائیں ادھر ادھر کی گپوں میں اس بلا کو اپنے سر سے ٹالا ہوگا۔ آپ نے خط رجسٹری میں کیا لکھا تھا۔ ذرہ چھپوائیے اور سنائیے ہم بھی تو سنیں )اس عبارت کے دیکھنے سے بہت سخت تعجب ہوا۔ کیونکہ چند ہی سال ہوئے کہ قادیانیوں کی درخواست مطبوعہ ٢٧؍جون ١٩٠٠ء جو منجانب مولوی محمد علی صاحب ایم۔اے، ایل۔ایل۔بی سیکرٹری مجلس قادیان اور نیز ان کے شرکاء ڈیڑھ سو اشخاص کے نام سے شائع ہوئی تھی اور اس میں انہوں نے جمیع علماء ومشائخین، ہند و دکن کو مخاطب کر کے ایک خاص امر (ازالہ مرض ) کو تائید آسمانی قرار دے کر اس کے مقابلہ کے لئے بلایا تھا۔ اس کا کافی جواب منجانب اہل سنت حیدر آباد دکن صانھا الله عن الشر والفتن بتاریخ مورخہ ١٣؍اگست ١٩٠٠ء مطابق ١٦؍ربیع الثانی ١٣١٨ھ دیا گیا اور بذریعہ رجسٹری انگریزی نمبر (٧٥٥) جس کی رسید ہمارے یہاں موجود ہے۔ سیکرٹری مذکور کی خدمت میں بھیجا گیا تھا اور اس میں خود ان کے پیشرو مرزا غلام احمد قادیانی کو مباہلہ مسنونہ کی دعوت دی گئی تھی اور اس کے آخر میں صاف طور پر یہ بھی لکھا گیا تھا کہ ( اس کے جواب کا انتظار سلخ جمادی الثانی ١٣١٨ھ تک کیا جائے گا۔ درصورت سکوت آپ کا اور آپ کے پیشرو کا مقابلہ سے عاجز اور اپنے دعوے میں کاذب ہونا مسلم ہوگا ) باوجود اس کے اس وقت تک جو پانچ

٢

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٣١٣

ایک میعاد یعنی لغایت ١٥؍اگست ١٩٠٠ء لکھی تھی۔

سال کا زمانہ ہوتا ہے۔ مرزا قادیانی یا ان کے سیکرٹری مذکور الصدر کی جانب سے جھوٹے منہ بھی کچھ جواب نہ آنا، اور صدائے برخاست کا پورا ظہور پانا، ایک ایسا امر ہے کہ اس نے ہم سب اہل سنت وجماعت کی جانب سے مرزا قادیانی اور ان کے اتباع پر پوری حجت قائم کر دی ہے۔ باایں ہمہ گروہ قادیانی کی یہ ہرزہ سرائی جو رسالہ مذکور یا اس کے ضمیمہ میں کی گئی ہے۔ محض لغو اور ناقابل التفات ہے۔ مگر چونکہ ان لوگوں نے ہمارے خط رجسٹرڈ مذکور الصدر کے طبع کرانے کی خود خواہش کی ہے۔ اس لئے وہ اس کے ساتھ شائع اور ہدیۂ ناظرین کیا جاتا ہے۔

قادیانیوں کو چاہئے کہ عبرت کے ساتھ آنکھ نیچی کریں اور اپنا گریبان جھانکیں۔ ورنہ وہی بات ہے جو کلامِ نبوت کا مفہوم ہے اور وہ کسی شاعر کے کلام میں یوں منظوم ہے۔

اذا لم تخش عاقبة اللیالی ولم تستحی فاصنع ما تشاء
فلا واللہ ما فی العیش خیر ولا الدنیا اذا ذهب الحیاء

جب تو انجامِ کار سے نہ ڈرے اور نہ شرمائے سو جو چاہے کر۔ خدا کی قسم جب کہ حیاء نہ ہو تو پھر زندگی میں کوئی خوبی نہیں ہے۔

حضرات ناظرین! اس کو انصافانہ ملاحظہ فرمانے کے بعد ضرور نتیجہ پیدا کر سکتے ہیں کہ جس گروہ کا متبوع جواب ومباہلہ سے عاجز رہا ہو، اس کے اتباع اگر کچھ لکھیں یا شائع کریں تو کب اس قابل ہیں کہ ان کا پھر کچھ جواب لکھا جائے یا اس طرف توجہ کی جائے۔ مسلمانوں کو چاہئے کہ قادیانیوں کی تحریرات پر ہرگز توجہ نہ کریں، اور اپنے دین وایمان کی حفاظت فرمائیں۔ جس کے لئے یہی چاہئے کہ طریقہ مسنونہ کی پیروی سلف صالحین کی اقتداء سے اختیار کریں اور علماء اہل سنت کی صحبت اور انہی کے مؤلفہ ومصنفہ کتب سے فائدہ لیں۔ ان کے سوا دوسرے فرق محدثہ ضالہ کی صحبت سے پرہیز رکھیں۔ قیامت کے پہلے ایسے اشخاص کا ظہور جو دین اسلام میں فساد برپا کرنے والے اور نئی نئی باتیں کہنے والے ہوں گے۔ احادیث نبویہ ﷺ سے بخوبی ثابت

٣

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٣١٤

ا۔ جیسا کہ روایت کی امام بخاری نے عبداللہ بن مسعودؓ سے کہ فرمایا حضور ﷺ نے ’’ان مما ادرک الناس من کلام النبوۃ الاولی اذالم یستحی فاصنع ما شئت (بخاری)‘‘ یعنی جو بات کہ لوگوں نے قدیم نبوت کے کلام سے حاصل کی ہے،۔ وہ یہ ہے کہ جب تو شرم نہ رکھے سو جو چاہے کر۔ یہ اور وہ وہی لوگ ہیں جو نصوص قرآنیہ وحدیثیہ کی ایسی تاویلات کرتے ہیں جو مخالف اقوال علماء کرام اور ائمہ عظام ہیں۔ ’’اللهم اهدنا سواء الطريق واجعل لنا التوفيق خير رفيق امين بحرمة النبى الامين صلی الله تعالى عليه وعلى اله وصحبه اجمعين‘‘ خاکسار: سید عبدالجبار قادری کان اللہ لہ!

حامداً ومصلیا ومسلما

الجواب

خدمت مولوی محمد علی صاحب ایم اے، ایل ایل بی سیکرٹری مجلس و جملہ شرکاء مجلس معتقدین مسیح قادیانی

فردا کہ پیش گاہ حقیقت شود پدید
شرمندہ رہ رویکہ عمل بر مجاز کرد

ہم نے آپ لوگوں کی درخواست مورخہ ٢٧؍جون ١٩٠٠ء دیکھی جو بوجوہ ذیل بالکل مخدوش اور غیر قابل الالتفات ہے۔

خدا داد عقل، تائید آسمانی) میں جو منحصر کئے گئے ہیں۔ یہ انحصار غیر مسلم ہے۔ کیا وجہ ہے کہ احادیث نبویہ ﷺ اور اجماع امت جو منجملہ ارکان علوم دین ہیں۔ حق جوئی کے اصول سے علیحدہ سمجھ جائیں۔

بن سکتی ہے۔ کیونکہ پہلے تو آپ نے اس کو احقاق حق کا ذریعہ ٹھہرایا اور پھر اپنے ثبوت دعوی کے لئے غیر ضروری سمجھا۔ دیکھو صفحہ ١ ؂ درخواست (٥،٣)

٤

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٣١٥

کے تین ذریعے ہیں۔ خدا کی کتابیں اور خداداد عقل اور خدا کی آسمانی تائیدیں) اور ص ٥ میں بعد ذکر طریق اوّل کے یوں لکھا ہے۔ ”پھر اس کے بعد دوسرا طریق احقاق حق اور ابطال باطل کا عقلی استدلال ہے۔ سو اس کے ذکر کی کچھ بھی ضرورت نہیں۔“

آسمانی) کو اختیار کیا ہے۔ جس کی وجہ ایسی بتائی گئی ہے کہ اوّل تو اس سے صریح مصادرۃ علی المطلوب لازم آتا ہے۔ بھلا جو لوگ کہ قادیانی صاحب کے مسیح ہونے کے ہی سرے سے منکر ہوں۔ ان کے روبرو آپ کا یہ کہنا کہ وہ مسیح حکم ہیں بالکل ہمون آش در کاسہ کا مضمون ہے۔ جس کو کوئی ادنیٰ سمجھ والا بھی تسلیم نہیں کر سکتا اور پھر حکم کے ایسے معنے کئے گئے کہ قرآن وحدیث سے بالکل چھٹی مل گئی۔ کیونکہ آپ کے روبرو قرآن وحدیث کی جو دلیل پیش کی جائے اس کو لا محالہ آپ لوگ یا اپنے پیشرو کی بے اصل تاویل سے ماوّل ٹھہرائیں گے۔ یا حدیث موضوع قرار دیں گے۔ جیسا کہ درخواست کے ص ٤، ٥ سے ہویدا ہے۔ پس ص ٦ میں آپ کا یہ قول کہ (نقلی طور پر آپ لوگ مغلوب ہو چکے ہیں) محض لغو ہے۔

٥

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٣١٦

نصوص قرآنیہ و حدیثیہ کے رو سے جس قدر ہمارے امام کا دوسرے علماء سے اختلاف ہے۔ اس اختلاف میں اوّل تو تمام قرآن اور کافی حصہ احادیث کا ہمارے امام کے ساتھ ہے۔ پھر اگر بعض احادیث جو دراصل قرآن کے مضمون سے بھی مخالف ہیں۔ کوئی اور باتیں بیان کرتے ہوں تو ان کی ہمیں بالکل پروا نہیں کرنی چاہیے۔ کیونکہ اس حکم کا یہ حق ہے کہ اس علم کے ساتھ جو خدا سے اس نے پایا ہے ایسی حدیثوں کو رد کرے۔ اگرچہ وہ دس لاکھ یا اس سے بھی زیادہ ہوں۔“

اور صفحہ مذکور کے حاشیہ میں یہ نوٹ دی گئی ہے: ”ہمارے امام کو مہدی ہونے کا بھی دعویٰ ہے۔ جیسا کہ مسیح ہونے کا دعویٰ ہے۔ مگر ان کا یہ دعویٰ نہیں کہ میں فاطمی مہدی ہوں جو جہاد کرنے والا ہے۔ بلکہ وہ ان تمام حدیثوں کو مجروح اور موضوع سمجھتے ہیں۔ جو حکومت طلب لوگوں کے لئے عباسیوں کے عہد اور دوسرے زمانوں میں بنائی گئیں ہاں ان کو اس عظیم الشان مہدی ہونے کا دعویٰ ہے جو مسیح موعود بھی ہے۔ ذرہ بھی ہمارے مسلمات میں دخل نہ دے۔“ اور پھر یہ لکھا ہے کہ: ”سو نصوص قرآنیہ اور حدیثیہ کے رو سے اب علماء مخالف کو ہاتھ ڈالنے کی جگہ نہیں۔“ اور پھر یہ لکھا: ”اب جس شخص کا حکم ہونے کا دعویٰ ہے اور خدا سے مؤید ہے اور مدلل جواب دیتا ہے اس کے مقابل یہ رکیک عذر پیش کرنا کہ فلاں کو کیوں قبول نہیں کرتے۔ سخت درجہ کا حمق ہے۔“

کرنا جیسا کہ صفحہ ٦ میں مرقوم ہے کہ (چند بیمار مصیبت زدہ باتفاق فریقین منتخب ہو کر بطور قرعہ اندازی ان کو اس طرح پر تقسیم کرلیں، کہ نصف ان میں سے ہمارے امام الوقت کے حصے میں آویں، اور نصف ان میں سے آپ لوگوں کے حصے میں آویں، اور اسی جلسہ میں فریقین دعا کریں کہ یا الٰہی ان دونوں گروہوں میں سے جو سچا گروہ ہے اس کی دعا کی قبولیت ظاہر فرما اور اس کو غالب کر۔ اس کے بعد اگر کسی فریق کے حصہ کے مصیبت زدہ جلد یا دیر سے سب کے سب ان مصیبتوں سے رہائی پا جائیں یا اکثر رہائی پائیں تو وہی فریق صادق سمجھا جائے گا) اوّل تو یہ ایک بے دلیل بات ہے اور پھر علیٰ فرض التسلیم جو صورت کہ خاص کی گئی ہے۔ وہ بقول آپ ہی کے پیشرو کے تائید آسمانی نہیں بن سکتی۔ بلکہ ایک مسمریزم کا عمل ہے۔ جس کو خود آپ کے پیشرو مکروہ

٦

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٣١٧

وقابل نفرت سمجھتے ہیں۔ گو اس فعل کو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی طرف منسوب بھی کیا ہے۔ لیکن اپنے کو روحانی طریق پسند ہونے سے ایسے اعمال کا رد لکھا ہے۔

چنانچہ (ازالہ اوہام حاشیہ ص ٣٠٦،٣٠٥، خزائن ج ٣ ص ٣٥٦) میں مرقوم ہے ۔ ”عمل الترب میں جس کو زمانہ حال میں مسمریزم کہتے ہیں۔ ایسے ایسے عجائبات ہیں کہ اس میں پوری پوری مشق کرنے والے اپنی روح کی گرمی دوسری چیزوں پر ڈال کر ان چیزوں کو زندہ کے موافق کر دکھاتے ہیں۔ انسان کی روح میں کچھ ایسی خاصیت ہے کہ وہ اپنی زندگی کی گرمی ایک جماد پر جو بالکل بے جان ہے ڈال سکتی ہے۔ تب جماد سے وہ بعض حرکات صادر ہوتے ہیں۔ جو زندوں سے صادر ہوا کرتے ہیں۔ راقم رسالہ ہٰذا نے اس علم کے بعض مشق کرنے والوں کو دیکھا جو انہوں نے ایک لکڑی کی تپائی پر ہاتھ رکھ کر ایسا اپنی حیوانی روح سے اسے گرم کیا کہ اس نے چار پائیوں کی طرح حرکت کرنا شروع کر دیا اور کتنے آدمی گھوڑے کی طرح اس پر سوار ہوئے اور اس کی تیزی اور حرکت میں کچھ کمی نہ ہوئی۔ سو یقینی طور پر خیال کیا جاتا ہے کہ اگر ایک شخص اس فن میں کامل مشق رکھنے والا مٹی کا ایک پرند بنا کر اس کو پرواز کرتا ہوا بھی دکھا دے تو کچھ بعید نہیں۔ کیونکہ کچھ اندازہ نہیں کیا گیا کہ اس فن کے کمال کی کہاں تک انتہاء ہے اور جب کہ ہم بچشم خود دیکھتے ہیں کہ اس فن کے ذریعے سے ایک جماد میں حرکت پیدا ہو جاتی ہے اور وہ جانوروں کی طرح چلنے لگتا ہے۔ تو پھر اگر اس میں پرواز بھی ہو تو بعید کیا ہے۔“

اور (ازالہ اوہام ص ٣٠٧، خزائن ج ٣ ص ٢٧٥ حاشیہ) میں ہے: ”اس جگہ یہ بھی جاننا چاہئے کہ سلب امراض کرنا یا اپنی روح کی گرمی جماد میں ڈال دینا درحقیقت یہ سب عمل الترب کی شاخیں ہیں۔ ہر ایک زمانے میں ایسے لوگ ہوتے رہے ہیں اور اب بھی ہیں جو اس روحانی عمل کے ذریعے سے سلب امراض کرتے رہے ہیں اور مفلوج، مبروص، مدقوق وغیرہ ان کی توجہ سے اچھے ہوتے رہے ہیں۔ جن لوگوں کی معلومات وسیع ہیں وہ میرے اس بیان پر شہادت دے سکتے ہیں کہ بعض فقراء نقشبندی و سہروردی وغیرہ نے بھی ان مشقوں کی طرف بہت توجہ کی تھی اور بعض ان میں یہاں تک مشاق گزرے ہیں کہ صدہا بیماروں کو اپنے یمین و یسار میں بٹھا کر صرف نظر سے اچھا کر دیتے تھے اور محی الدین بن عربی صاحبؒ کو بھی اس میں خاص درجہ کی مشق تھی۔ اولیاء اور

٧

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٣١٨

اہل سلوک کی تواریخ اور سوانح پر نظر ڈالنے سے معلوم ہوتا ہے کہ کاملین ایسے عملوں سے پرہیز کرتے رہے ہیں۔ مگر بعض لوگ اپنی ولایت کا ایک ثبوت بنانے کی غرض سے یا کسی اور نیت سے ان مشغلوں میں مبتلا ہو گئے تھے اور اب یہ بات قطعی اور یقینی طور پر ثابت ہو چکی ہے کہ حضرت مسیح بن مریم علیہا السلام باذن وحکم الٰہی الیسع نبی علیہ السلام کی طرح اس عمل الترب میں کمال رکھتے تھے۔ گو الیسع کے درجہ کاملہ سے کم رہے ہوئے تھے۔“

(ازالۃ اوہام ص ٣٠٩، خزائن ج ٣ ص ٢٥٧) میں ہے: ”مگر یاد رکھنا چاہئے کہ یہ عمل ایسا قدر کے لائق نہیں جیسا کہ عوام الناس اس کو خیال کرتے ہیں۔ اگر یہ عاجز اس عمل کو مکروہ اور قابل نفرت نہ سمجھتا تو خدا تعالیٰ کے فضل و توفیق سے امید قوی رکھتا تھا کہ ان اعجوبہ نمائیوں میں حضرت ابن مریم علیہا السلام سے کم نہ رہتا“۔

(ازالۃ اوہام ص ٣١٠، خزائن ج ٣ ص ٢٥٨) میں ہے: ”واضح ہو کہ اس عمل جسمانی کا ایک نہایت برا خاصہ یہ ہے کہ جو شخص اپنے تئیں اس مشغولی میں ڈالے اور جسمانی مرضوں کے رفع دفع کرنے کے لئے اپنے دلی و دماغی طاقتوں کو خرچ کرتا رہے وہ اپنے ان روحانی تاثیروں میں جو

اے ناظرین ان اقوال سے بدیہۃً معلوم کر سکتے ہیں کہ کس قدر بیباکانہ اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام جیسے اولوالعزم پیغمبر کی شان میں گستاخانہ کلمات ہیں جو حد کفر تک پہنچاتے ہیں۔ نعوذ بالله من هذه الشقاوة!

روح پر اثر ڈال کر روحانی بیماریوں کو دور کرتی ہیں۔ بہت ضعیف اور نکما ہو جاتا ہے اور امر تنویر باطن اور تزکیہ نفوس کا جو اصل مقصد ہے اس کے ہاتھ سے بہت کم انجام پذیر ہوتا ہے۔“

(ازالۃ اوہام ص ٣٢٢، خزائن ج ٣ ص ٢٦٣) میں ہے: ”غرض یہ اعتقاد بالکل غلط اور فاسد اور مشرکانہ خیال ہے کہ مسیح مٹی کے پرندے بنا کر اور ان میں پھونک مار کر انہیں سچ مچ کے جانور بنا دیتا تھا۔ نہیں بلکہ صرف عمل الترب تھا جو روح کی قوت سے ترقی پذیر ہو گیا تھا۔“

غرض یہ کہ ازالہ مرض جب کہ خود تمہارے پیشرو کے قول سے لائق اعتبار نہ رہا۔ بلکہ ایک مسمریزی عمل قرار پایا۔ جس کے عامل صدہا اس زمانہ میں بھی موجود ہیں اور جس میں اس قدر اثر ہے کہ جمادات تک بھی متحرک ہوتے ہیں تو پھر کس طرح تائید آسمانی قرار پا سکتا، اور تمہارے

٨

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٣١٩

ثبوت مدعی کا مدار بن سکتا۔ سخت حیرت کا مقام ہے کہ جس چیز سے آپ کے پیشرو متنفر ہوں اسی کو آپ لوگ تائید آسمانی قرار دیویں۔ مزید براں اس مقابلہ تائید آسمانی میں آپ نے شرط اوّل یعنی ص ٦ کی یہ عبارت (رہائی پانے والا کا نام بذریعہ الہام پہلے سے ظاہر کیا جائے) جو لگائی ہے وہ بھی آپ کے پیشرو کے قول سے لائق اعتبار نہیں ہے۔

دیکھو (ازالہ اوہام ص ٢١١، ٢١٢، خزائن ج ٣ ص ٢٠٤، ٢٠٥) جس کی یہ عبارت ہے۔ ’’اس جگہ پیغمبر خدا ﷺ کے بیان سے بخوبی ثابت ہو گیا جو وحیٔ کشف یا خواب کے ذریعہ سے کسی نبی کو ہووے۔ اس کی تعبیر کرنے میں غلطی بھی ہوسکتی ہے‘‘

اور یہ عبارت: ’’اس حدیث میں بھی آنحضرت ﷺ نے صاف طور پر فرمادیا کہ کشفی امور کی تعبیر میں انبیاء سے بھی غلطی ہوسکتی ہے۔‘‘

اور (ازالہ اوہام ص ٦٣، خزائن ج ٣ ص ١٣٣، ١٣٤) میں ہے: ’’اور حقیقت مقصودہ سے بے نصیب رہنے والے وہی لوگ ہوتے ہیں کہ جو یہ چاہتے ہیں کہ حرف حرف پیش گوئی کا ظاہری طور پر جیسا کہ سمجھا گیا ہو پورا ہو جائے۔ حالانکہ ایسا ہرگز نہیں ہوتا۔‘‘

اور (ازالہ اوہام ص ٦٩، خزائن ج ٢ ص ١٣٦) میں ہے: ’’جس قدر دنیا میں ایسے نبی یا ایسے

١؎ یہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے اس معجزہ کا انکار ہے جو بنص قرآنی ثابت اور علماء اسلام کا مسلم امر ہے۔

رسول آئے۔ جن کی نسبت پہلی کتابوں میں پیش گوئیاں موجود تھیں ان کے سخت منکر اور اشد دشمن وہی لوگ ہوئے ہیں کہ جو پیش گوئیوں کے الفاظ کو ان کی ظاہری صورت پر دیکھنا چاہتے تھے۔‘‘

اور (ازالہ اوہام ص ٦٣، خزائن ج ٣ ص ١٣٤ حاشیہ) میں لکھا ہے۔ جس کا ملخص یہ ہے: ’’اب یہ جاننا چاہئے کہ دمشق کا لفظ جو مسلم کی حدیث میں وارد ہے۔ یعنی صحیح مسلم میں یہ جو لکھا ہے کہ حضرت مسیح دمشق کے منارہ سفید مشرقی کے پاس اتریں گے۔‘‘

(ازالہ اوہام ص ٦٥، خزائن ج ٣ ص ١٣٥ حاشیہ) ’’پس واضح ہو کہ دمشق کے لفظ کی تعبیر میں میرے پر منجانب اللہ یہ ظاہر کیا گیا ہے کہ اس جگہ ایسے قصبہ کا نام دمشق رکھا گیا ہے۔ جس میں

٩

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٣٢٠

ایسے لوگ رہتے ہیں جو یزیدی الطبع اور یزید پلید کی عادات اور خیالات کے پیرو ہیں۔ جن کے دلوں میں اللہ ورسول کی کچھ محبت نہیں اور احکام الہی کی کچھ عظمت نہیں۔ جنہوں نے اپنی نفسانی خواہشوں کو اپنا معبود بنا رکھا ہے اور اپنے نفس امارہ کے حکموں کے ایسے مطیع ہیں کہ مقدسوں اور پاکوں کا خون بھی ان کی نظر میں سہل اور آسان امر ہے اور آخرت پر ایمان نہیں رکھتے اور خدا تعالیٰ کا موجود ہونا ان کی نگاہ میں ایک پیچیدہ مسئلہ ہے۔ جو انہیں سمجھ میں نہیں آتا۔‘‘ الی ان قال!

(ازالۃ اوہام ص ٧١، خزائن ج ٣ ص ١٢٨) ”اب پہلے ہم یہ بیان کرنا چاہتے ہیں کہ خدا تعالیٰ نے مجھ پر یہ ظاہر فرما دیا ہے کہ یہ قصبہ قادیان ہے۔۔۔۔۔۔ خدا تعالیٰ خوب جانتا ہے اور وہ اس بات کا شاہد حال ہے کہ اس نے قادیان کو دمشق سے مشابہت دی ہے۔“

(ازالۃ اوہام ص ٧٣، خزائن ج ٣ ص ١٣٨) ”یہ بھی مدت سے الہام ہو چکا ہے کہ انا انزلناہ قریباً من القادیان وبالحق انزلناہ وبالحق نزل وكان وعد اللہ مفعولا یعنی ہم نے اس کو قادیان کے قریب اتارا ہے اور سچائی کے ساتھ اتارا اور سچائی کے ساتھ اترا اور ایک دن وعدہ اللہ کا پورا ہونا تھا۔“

(ازالۃ اوہام ص ٧٥، خزائن ج ٣ ص ١٣٩) ”گویا یہ فقرہ اللہ جل شانہ نے الہام کے طور پر اس عاجز کے دل پر القا کیا ہے کہ انا انزلنا قریباً من القادیان اس کی تفسیر یہ ہے کہ انا انزلناہ قریباً من دمشق بطرف شرقی عند المنارۃ البیضاء کیونکہ اس عاجز کی سکونتی جگہ قادیان کے مشرقی کنارہ پر ہے۔ منارہ کے پاس۔“

اور (ازالۃ ص ٧٦، خزائن ج ٣ ص ١٤٠ حاشیہ) میں ہے: ”پھر اس کے بعد الہام کیا گیا کہ ان علماء نے میرے گھر کو بدل ڈالا۔ میری عبادت گاہ میں ان کے چولہے ہیں۔ میری پرستش کی جگہ میں ان کے پیالے اور ٹھوٹھیاں رکھی ہوئی ہیں اور چوہوں کی طرح میرے نبی کی حدیثوں کو کتر رہے ہیں۔ ٹھوٹھیاں وہ چھوٹی پیالیاں ہیں۔ جن کو ہندوستان میں سکوریاں کہتے ہیں۔ عبادت گاہ سے مراد اس الہام میں زمانہ حال کے اکثر مولویوں کے دل ہیں جو دنیا سے بھرے ہوئے ہیں۔“

الغرض جب کہ بقول تمہارے پیشرو کے خود انبیاء علیہم السلام کے پیش گوئیاں لائق تاویل ٹھہریں۔ چنانچہ دمشق قادیان قرار پایا وغیرہ وغیرہ اور ان پیش گوئیوں میں غلطی بھی ممکن

١٠

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٣٢١

ہوئی۔ بالخصوص خود تمہارے پیشرو کے الہامات تاویلات سے پر ہیں۔ جن میں سے مشتے نمونہ ہم نے تھوڑے سے الہامات اوپر نقل کئے تو پھر الہام یا اخبار بالغیب کا کیونکر اعتبار کیا جائے اور ایسی بے اعتبار چیز پر کس طرح اتنے بڑے دعوے کا ثبوت موقوف رکھا جائے اور بصورت تسلیم ہر وقت مقابلہ ہر شخص اپنے الہام سے رہائی پانے والے مریضوں کی تعیین نام بنام جو کرے گا تو بقول تمہارے پیشرو کے اس میں تاویل کی گنجائش رہے گی۔ پس ممکن ہے کہ بعد اچھے ہونے مریضوں کے اگر کچھ اس تعیین میں غلطی ظاہر ہو تو وہ شخص تاویل سے اس کی توفیق تطبیق کردے۔ جس میں بڑی وسعت ہے۔ مثلاً رہائی پانے والے مریض کا نام جو بذریعہ الہام عبدالحکیم بتلایا جائے اور بجائے اس کے عبدالحلیم اچھا ہو۔ یا یہ کہ غلام احمد بتلایا جائے اور وہ ہلاک ہو کر بجائے اس کے غلام محمد اچھا ہووے تو اس میں حسب قاعدہ آپ کے پیشرو کے تاویل کی بڑی گنجائش یعنی بلحاظ ترکیب اضافی وغیرہ تطبیق کا عمدہ موقع ہے۔ بخلاف دمشق وقادیان وغیرہ وغیرہ کے کہ بالکل مناسبت معدوم ہے۔ طرفہ یہ کہ (ازالۃ اوہام ص٧، خزائن ج٣ ص١٠٦) میں آپ کے پیشرو یہ کہتے ہیں۔ ”اس سے زیادہ تر قابل افسوس یہ امر ہے کہ جس قدر حضرت مسیح علیہ السلام کی پیش گوئیاں غلط نکلیں۔ اس قدر صحیح نکل نہ سکیں۔“ پس ضرور ہوا کہ مثیل مسیح کی پیش گوئیاں بھی اکثر غلط نکلیں کہ مماثلت اسی کے مقتضی ہے۔

لگانا کہ: ”سب مل کر مقابلہ کریں۔ متفرق طور پر ہر ایک سے مقابلہ نہیں ہوگا۔“

اور ص٨ میں یہ شرط لگانا کہ: ”اور آپ لوگوں کی طرف سے میاں نذیر حسین دہلویؒ اور مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی اور مولوی عبدالجبار صاحب غزنویؒ اور مولوی رشید احمد صاحب گنگوہی اور دوسرے وہ تمام نامی علماء بھی حاضر ہوں جنہوں نے فتویٰ تکفیر پر مہریں لگائیں یا اب مکفر یا مکذب ہیں۔“

اس سے آپ کے پیشرو کے اس اشتہار کی تکذیب ہوئی جاتی ہے۔ جس کو انہوں نے (ازالۃ اوہام حصہ اوّل ص١، خزائن ج٣ ص١٠٢) کے ساتھ چسپاں کیا ہے۔ جس کی عبارت یہ ہے: ”اگر آپ لوگ مل جل کر یا ایک ایک آپ میں سے ان آسمانی نشانیوں میں میرا مقابلہ کرنا چاہیں جو اولیاء الرحمن کے لازم حال ہوا کرتے ہیں تو خدا تعالیٰ تمہیں شرمندہ کرے گا اور تمہارے پردوں کو

١١

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٣٢٢

پچھاڑ دے گا۔‘‘ اب نہ معلوم کہ آپ کا کلام سچا ہے یا آپ کے پیشرو کا۔ کیا عجب ہے کہ جس طرح آپ کے پیشرو قرآن وحدیث کے نصوص کو تغییر وتبدل کر سکتے ہیں۔ اسی طرح آپ لوگ جو ان کے اتباع ہیں خود ان کے اقوال کو ردو بدل کر سکتے ہوں۔ پھر تو بحث کی ضرورت ہی کیا ہے کہ ہر چیز کے محو و اثبات پر اپنا ہی قبضہ ہے۔ معاذ اللہ منہا!

علاوہ یہ کہ یہ قیود صاف کہہ رہی ہیں کہ آپ لوگوں کو حقیقت ظاہر کرنا منظور نہیں ہے۔ کیونکہ آپ جیسے چند صاحبوں کے سوا جتنے ہیں وہ سب مکذب ہیں۔ پھر اتنے لوگوں کی ایک جائے فراہمی خصوص مختلف المذاہب فرقے مثلاً مقلد و غیر مقلد وغیر ہم کا اتفاق محض دشوار ہے۔ داعی خیر وطالب حق کے لئے تو ان قیود کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ ہر شخص کی تسکین کر دینا گو منفرداً ہی آوے۔ اس کے ذمہ واجب ولازم ہے۔

الحاصل

آپ نے جس صورت کو تائید آسمانی قرار دیا تھا۔ وہ تو بشرطہا خود آپ کے پیشرو کے اقوال سے غیر معتبر نکلی و غلط ٹھہری۔ جس پر آپ کی درخواست بلکہ دعویٰ کی ترکی تمام ہوگئی۔ کیونکہ آپ نے ثبوت دعویٰ میں صرف تائید آسمانی ہی کو اپنا مدار بنایا تھا اور اس کے لئے ایک صورت خاص پیش کی تھی۔ ”جاء الحق وزھق الباطل ان الباطل کان زھوقا“ اب لیجئے! ہماری بھی سنئے اور اظہار حق کے لئے اگر تائید آسمانی اور یہ کہ خدا کس کے ساتھ ہے، اور اس کا مقدس ہاتھ کس کے سر پر ہے۔ دیکھنا منظور ہو تو طریق ماثور کو اختیار کیجئے۔ یعنی وہ امر آسمانی جس کے لئے ہمارے نبی پاک صاحب لولاک روحی فداہ ﷺ بمقابلہ منکرین دین حق مامور تھے۔ یعنی مباہلہ جو بفحوائے آیہ کریمہ: ”فمن حاجک فیہ من بعد ما جاء ک من العلم فقل تعالوا ندع ابناءنا وابناءکم ونساءنا ونساءکم وانفسنا وانفسکم ثم نبتھل فنجعل لعنۃ اللہ علی الکاذبین“ {پھر جو کوئی جھگڑے تم سے اس بات میں بعد اس کے کہ پہنچ چکا تم کو علم تو کہو آؤ بلادیں ہم اپنے بیٹے اور تمہارے بیٹے اور اپنی عورتیں اور تمہاری عورتیں اور اپنی جان اور تمہاری جان پھر دعا کریں اور اللہ کی لعنت ڈالیں جھوٹوں پر۔} قرآن پاک سے مستفاد ہے۔ اس کو تائید آسمانی قرار دینا اور اپنے نبی پاک کی اتباع

١٢

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٣٢٣

کرنا چاہئے۔ تاکہ احقاق حق اور ابطال باطل بطریق کامل ہو جائے اور جو عقوبت آجلہ کہ فریق باطل کے لئے مقرر ہے۔ عاجلاً اسی دار دنیا میں اس کو پہنچ جائے۔ ہم یقیناً خداوند کریم جل شانہ کو گواہ رکھ کے آپ کے پیشرو کو مخاطب کرتے اور یہ کہتے ہیں کہ ادھر ہمارے بعض حضرات مد فیوضہم اس مباہلہ کے لئے اس بلدۂ حیدرآباد میں آمادہ ہیں۔ پھر کیا دیر ہے۔ بسم اللہ مرد میدان بنئے اور مباہلہ کے لئے آیئے اور خدا پاک جلت عظمتہ سے رفع اختلاف چاہئے۔ مگر ضرور ہے کہ جب تک کسی فریق کو غلبہ نہ ہولے اور دوسرا ہلاک نہ ہووے۔ تب تک دونوں فریق کے سرگروہ اسی ایک جائے پر رہیں اور اپنی اپنی دعاؤں اور روحی اثروں سے ایک دوسرے پر اثر ڈالیں اور چاہئے کہ دعا کی قبولیت اور روحی اثر کے پورا ہونے کے لئے دونوں جانب کے پیشوا ترک غذا کریں۔ تاکہ فیصلہ کو دیر نہ ہو اور جھوٹے سچے کا بہت جلد ظہور ہو۔ آپ کے پیشرو کو تو مثیل خاتم النبیین ﷺ جن کی شان (انی ابیت عند ربی یطعمنی ویسقینی ضرور میں اپنے پروردگار کے پاس رات رہتا ہوں کہ وہ مجھ کو کھلاتا اور پلاتا ہے) نبی ہونے کا دعویٰ ہے۔ معاذ اللہ منھا!

لیکن ہمارے حضرات کو تو غلامی کی نسبت ہے۔ پھر دیکھیں کہ غذا روحی و نوری سے کون اپنے جسم کی پرورش کرتا ہے اور کون پسپا ہو جاتا ہے۔ یہ ہے امر ربانی، یہ ہے تائید آسمانی کہ پھر چون و چرا کا موقع ہی باقی نہ رہے۔ ”اللهم ارنا الحق حقا وارزقنا اتباعه وارنا الباطل باطلا وارزقنا اجتنابه امین والسلام علیٰ من اتبع الدین وصلیٰ اللہ تعالیٰ علیٰ سیدنا محمد والہ وصحبہ اجمعین“ اس کے جواب کا انتظار سلخ جمادی الثانی ١٣١٨ھ تک کیا جائے گا۔ درصورت سکوت آپ کا اور آپ کے پیشرو کا مقابلہ سے عاجز اور اپنے دعوے میں کاذب ہونا مسلم ہوگا۔

الراقم

سید عبدالجبار قادری معتمد مجلس اہل سنت و جماعت حیدرآباد دکن ساکن محلہ قاضی پورہ قریب ڈیوڑہی عبداللہ بن علی جمعدار مرحوم بمکان جناب مولانا و مرشدنا مولوی حافظ حاجی واعظ قاری سید شاہ محمد عمر صاحب قادری مدفیضہ ۔

١٣

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٣٢٤

شرکاء مجلس کے اسماء گرامی جن کی طرف سے میں معتمد ہوں مفصلاً بوقت طبع درج ہوں گے۔

مرقوم ١٦ ربیع الثانی ١٣١٨ھ مطابق ١٣ اگست ١٩٠٠ء روز

دوشنبہ

دستخط: سید عبدالجبار قادری

نمبر شمار اسماء گرامی سکونت نمبر شمار اسماء گرامی سکونت ١ مولوی حافظ سید شاہ محمد عمر قادری قاضی پورہ ٢ مولوی سید محمد حنیف قادری لال دروازہ ٣ مولوی شاہ الہی بخش نقشبندی مسجد چوک ٤ مولوی سید شاہ صلاح الدین دبیر پورہ ٥ مولوی حافظ سید شاہ غلام غوث دبیر پورہ ٦ مولوی حافظ سید شاہ محمد دبیر پورہ ٧ مولوی سید شاہ محمد عثمان قادری قاضی پورہ ٨ مولوی سید شاہ یحییٰ قادری قاضی پورہ ٩ مولوی سید شاہ محمد باقر قادری قاضی پورہ ١٠ مولوی حافظ سید شاہ اسد اللہ بازار نورالامر ١١ مولوی سید غلام غوث نقشبندی سکندر آباد ١٢ مولوی سید شاہ امجد علی قادری لال دروازہ ١٣ مولوی حکیم رکن الدین قادری علی آباد ١٤ مولوی محمد رشید الدین قادری لال دروازہ ١٥ مولوی میر احمد علی قادری موسیٰ باؤلی ١٦ مولوی سید عبدالباقی قادری بازار کہانسی ١٧ مولوی ظاہر الدین قادری جوہری گلی ١٨ مولوی غلام محی الدین قادری سلطان شاہی ١٩ مولوی محمد عبدالعزیز دارالشفاء ٢٠ مولوی ڈاکٹر محمد عبدالرحمن دارالشفاء ٢١ مولوی علی حسین قادری دارالشفاء ٢٢ مولوی شیخ احمد قادری مغل پورہ ٢٣ مولوی سید حسن وکیل نظام آباد ٢٤ مولوی سید شاہ ندیم اللہ حسینی دبیر پورہ ٢٥ مولوی سید شاہ بہار الدین دبیر پورہ ٢٦ مولوی سید شاہ علاؤالدین دبیر پورہ ٢٧ مولوی حافظ محمد امین قادری چادر گھاٹ ٢٨ مولوی محمد صدر الدین چھاؤنی مرتضیٰ ٢٩ مولوی عبدالحفیظ لال دروازہ ٣٠ مولوی محمد عبدالصمد مستعد پورہ ٣١ مولوی زین العابدین سلطان شاہی ٣٢ مولوی غلام دستگیر لال دروازہ ٣٣ مولوی محمد یٰسین ٣٤ مولوی عبدالقدیر خان یاقوت پورہ

١٤

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٣٢٥

٣٥ مولوی حافظ احمد شریف علی آباد ٣٦ مولوی سید محمد بن نعمت اللہ بی بی بازار ٣٧ مولوی ہاشم عرب علی آباد ٣٨ مولوی جعفر علی گولی گوڑہ ٣٩ سید محی الدین قادری شکر گنج ٤٠ حاجی عباس علی میر منشی حویلی کہنہ ٤١ حاجی حکیم خواجہ علی ٤٢ قاری محمد عبدالقادر خان یاقوت پورہ ٤٣ حاجی محمد مدنی قادری یاقوت پورہ ٤٤ حاجی غلام محبوب یاقوت پورہ ٤٥ حاجی غلام حسین یاقوت پورہ ٤٦ محمد غوث یاقوت پورہ ٤٧ منشی عبدالقادر مغل پورہ ٤٨ منشی عبدالرحمٰن مغل پورہ ٤٩ سید محمد ابوالبقا ملک پیٹہ ٥٠ حاجی بشیر چاؤس قاضی پورہ ٥١ میر عسکر علی مستعد پورہ ٥٢ سید محبوب علی مستعد پورہ ٥٣ عبداللہ مستعد پورہ ٥٤ خواجہ محمود مستعد پورہ ٥٥ حافظ محبوب خان شکارے ٥٦ سید احمد علی قاضی پورہ ٥٧ کریم الدین پرانی حویلی ٥٨ منشی عباس علی قادری چمن ٥٩ محمد علی قادری چمن ٦٠ فقیر محمد شاہ علی بنڈہ ٦١ سید امام شکر گنج ٦٢ حاجی شیخ فرید سلطان شاہی ٦٣ احمد علی سلطان شاہی ٦٤ عبدالوہاب ٦٥ سید عبداللہ گوشہ محل ٦٦ حبیب عید روس فرڈمل ٦٧ سید غوث سلطان شاہی ٦٨ فیروز علی گھانسی بازار ٦٩ محمد غوث ٧٠ غلام نبی چوڑی بازار ٧١ حسن علی فتح دروازہ ٧٢ حسام الدین سلطان شاہی ٧٣ حبیب عمر مغل پورہ ٧٤ عمرو مغل پورہ ٧٥ مہتاب علی قادری قاضی پورہ ٧٦ غلام محی الدین بیگم بازار ٧٧ غلام دستگیر گولی پورہ ٧٨ ولی محمد لال دروازہ ٧٩ محمد یوسف دبیر پورہ ٨٠ رحمان خان چنچل گوڑہ

١٥

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ١٦

٨١ برہان الدین یاقوت پورہ ٨٢ محمد حنیف پتھر گٹی ٨٣ عبدالرحمن سوداگر سکندرآباد ٨٤ عبدالغنی سوداگر سکندرآباد ٨٥ محمد سرور گولی گوڑہ ٨٦ غوث الدین داروغہ تحویلات سلطان شاہی ٨٧ شیخ ابوبکر مسجد کلیانی ٨٨ حاجی علی دستی فتح دروازہ ٨٩ مبارک شاہ سکندرآباد ٩٠ عبدالرؤف سکندرآباد ٩١ احمد حسین سکندرآباد ٩٢ محمد سلار شیر گل ٩٣ حاجی علی بازار گھانسی ٩٤ شیخ محبوب شیر گل ٩٥ فقیر عبداللہ علی آباد ٩٦ حاجی محمد یعقوب سلطان شاہی ٩٧ محمد فیض الدین بیدر ٩٨ شمس الدین منصبدار مغل پورہ ٩٩ سید شاہ حیدر علی پلکل ١٠٠ بہادر علی خان پلکل ١٠١ محمد یوسف بیگم بازار ١٠٢ صاحب حسین لال دروازہ ١٠٣ شیخ حسین دفعہ دار کوتوالی لال دروازہ ١٠٤ محمد حسین دفعہ دار ١٠٥ نصیر الدین نظام آباد ١٠٦ محمد حسین صدیقی مدرا ١٠٧ کمال محمد جمعدار پلٹن گوشہ محل ١٠٨ غلام محی الدین ٹگی باؤلی ١٠٩ محمد علی شاہ علی بنڈہ ١١٠ عبدالرحمن رسالہ حبوش ١١١ سید غوث دفعہ دار شاہ علی بنڈہ ١١٢ شہاب الدین جمعدار شاہ علی بنڈہ ١١٣ سید عباس علی آباد ١١٤ محبوب علی جمعدار چنچل گوڑہ ١١٥ مدار خان پرانہ پل ١١٦ عبدالغفور چار مینار ١١٧ شیخ مہتاب پل کہنہ ١١٨ سردار خان سوار اسٹیشن شاہ آباد شیخ فرید الدین میزان پور ١١٩ احمد علی میزان پور ١٢٠ عبدالقادر پتلی باؤلی ١٢١ میر فضل علی ١٢٢ علی صاحب قاضی پورہ ١٢٣ غلام نبی فتح دروازہ ١٢٤ علی بن ناصر بازار گھانسی

١٦

www.besturdubooks.wordpress.com

PDF 331

انا خاتم النبيين لا نبي بعدي

میں آخری نبی ہوں، میرے بعد کوئی نبی نہیں۔

خلیفۂ قادیان (ربوہ)

کے

ناپاک سیاسی منصوبے

جناب چوہدری غلام رسول چیمہ

صفحہ ٣٢٨

تعارف

چناب کے اس پار

ربوہ (چناب نگر) کی سرزمین میں سوشل بائیکاٹ، حبس بے جا، اور قتل وغارت وغیرہ وغیرہ غیر معمولی افعال ہیں۔ اپنے مخالفین کے ساتھ انسانیت سوز سلوک روا رکھنا، ضرورت زندگی کے تمام راستے مسدود کرنا ، اس سرزمین میں مہذب فعل اور کارثواب ہے۔ یہاں مذہب کے نام پر انسانیت سوز اور ناروا سکیمیں مرتب کی جاتی ہیں اور مذہب کی آڑ میں ان کو عملی جامہ پہنایا جاتا ہے۔

ربوہ کی سرزمین میں حکومت کا قانون بے بس، بے کس ہی نہیں بلکہ یوں معلوم ہوتا ہے لاوارث اور یتیم ہے۔ یہاں کے حالات سے صاف ظاہر ہے۔ سانپ اپنی کینچلی بدل سکتا ہے۔ لیکن خلیفہ ربوہ اپنا رویہ بدلنے کو تیار نہیں۔ انگریز کے راج میں جو کچھ قادیان میں ہوتا تھا وہی اسلامی جمہوریہ پاکستان کے اندر حکومت در حکومت کی صورت میں ربوہ کے اندر ہو رہا ہے۔ غریبوں کی پسلیاں اور پنڈلیاں ٹوٹتی رہیں گی۔ سوشل بائیکاٹ ہوتے رہیں گے۔ روز روشن میں قتل وغارت، آتشزدگی اور خوفناک قتل ہوتے رہیں گے۔ آخر کب تک؟

جب تک حکومت کو اپنے قانون کی عظمت کا احساس نہ ہوگا اور حکومت پاکستان کے دیانتدار افسر وقتی مصلحتوں کو نظر انداز نہیں کریں گے۔ اگر حکومت نے اسی طرح غفلت برتی ۔ تو وہ دن دور نہیں حکومت کو خود پریشانی کا سامنا کرنا ہوگا۔ یہ کتابچہ ”چوہدری غلام رسول“ پیش کر رہے ہیں۔ معلومات کا ایک اچھا خاصا موقع ہے۔ جس میں حکومت کو آسانی کے لئے وہ تمام مواد جو مختلف ابواب کی صورت میں علی الترتیب پیش کیا گیا ہے۔ گو چوہدری صاحب موصوف ”خلیفہ ربوہ“ کے ناپاک سیاسی منصوبے کا ایک مکمل ”انسائیکلو پیڈیا“ مرتب کر رہے ہیں۔ لیکن وقتی ضرورت اور فوری تقاضا کی وجہ سے کچھ حقائق اس کتابچہ کی صورت میں منظر عام پر لائے گئے ہیں۔ آئندہ انشاء اللہ تعالیٰ اسی صورت میں جلد سے جلد پیش کرنے کی سعی کی جائے گی۔

چوہدری صاحب موصوف نے اس دور کے سب سے بڑے ابن الوقت ”خلیفہ قادیان“ کی اپنی تحریروں سے ثابت کیا ہے کہ خلیفہ قادیان کے عزائم اور نیتیں کیا ہیں۔ مثلاً ربوہ کی فوجی تنظیم اور ”ربوہ کا سٹیٹ بینک“ اور حکومت کے خواب اور ربوہ کا نظام حکومت۔ ان تمام

٢

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٣٢٩

واقعات اور حالات سے ثابت شدہ امر ہے کہ خلیفہ صاحب مذہب کے پردے میں حکومت پر قبضہ کرنے کے خواہش مند ہیں اور ”ربوہ کا سٹیٹ بینک“ ان تمام اداروں کے چلانے کے لئے خرچ اخراجات کا ذمہ دار ہے۔ حکومت کے لئے غور وفکر کی ضرورت ہے۔ امر واقعہ یہ ہے کہ وقتی مصلحتیں کارفرما نہ ہوتیں تو یقیناً اس بربریت کا مظاہرہ کبھی نہ ہوتا۔ اس وقت سفید فام آقاؤں نے ان کو آلہ کار بنا کر کام لیتا رہا۔ اس کام کی طفیل رو رعایت ملحوظ تھی۔ جس کو چاہا روز روشن میں قتل کردیا۔ جس کا مکان چاہا نذر آتش کردیا۔ جس کو چاہا شہر بدر کردیا۔ اب وہ سفید فام آقا تو چلے گئے۔ لیکن جب ایک منہ کو خون کی چاٹ لگ جائے تو وہ عادت چھوڑنی مشکل ہو جاتی ہے۔

خلیفہ ربوہ نے اپنے نظریات کو نہ بدلا اور بدستور الہامی اور کشوف رویہ کا سہارا لے کر رنگین اور سنگین جرائم کے مرتکب ہوتے رہے۔ اگر حکومت مصلحتوں سے پہلو تہی نہ کرتی، نہ یہ جرائم ہوتے۔ نہ حکومتی خواب کے لئے الہام و کشوف کا سہارا لیتے۔ اگر حکومت اپنے قانون کی برتری اور عظمت چاہتی ہے تو ربوہ کے سنگین جرائم کا علم ہونا۔ کوئی مشکل امر نہیں۔ خلیفہ صاحب کو پولیس پوسٹ میں بلانا مانع ہوتو گھر پر دریافت کرنے سے پراسرار راز کھلنے مشکل ہیں۔ پھر عام طور پر چور ڈاکو بھی اخلاقی طور سے نہیں بتایا کرتے۔ اس لئے میں حکومت سے درخواست کروں گا۔ ان پراسرار راز معلوم کرنے کے لئے ان کو اپر کلاس (Upper Class) دی جاوے۔ یعنی C.I.A سٹاف کے حوالہ کیا جائے۔ صحیح قاعدہ کے مطابق اگر کام کیا گیا تو برسوں کے پراسرار راز منظر عام پر آجائیں گے اور تمام سربستہ راز افشاء ہو کر عوام الناس اور حکومت کے لئے بہتر نتائج برآمد ہوں گے۔ بہر حال اس کتابچہ میں تمام حقائق سامنے لائے گئے ہیں۔ اب حکومت کا فرض ہے صم بکم رہے۔ یا نظر انداز کرے۔

نکوکاری کے پردے میں سیہ کاری کا حیلہ ہے۔ گو اس کتابچہ کا تمام موضوع حکومتی خوابوں سے تعلق رکھتا ہے۔ مگر اختصار کے ساتھ جماعت سے کچھ کہنا ضروری خیال کرتا ہوں۔

جیسا کہ آپ کو علم ہے کہ مقدس پاکباز مصلح دوراں خلیفہ پر متواتر اور مسلسل بدکرداری، بد چلنی کے الزام لگتے آئے ہیں۔ لیکن وہ اپنے تقدس کے جعلی اقتدار کے ذریعہ اپنے مخالفین کو مختلف طریق سے مرتد، منافق، دشنام طرازی کر کے جماعت کے ذہنوں کو کسی دوسری طرف منتقل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اخلاق سوز گالیاں دینا اور بات کو گول مول کر کے ٹالنا خلیفہ صاحب کا طرۂ امتیاز ہے۔ اگر یہاں تک ہی بات ہوتی تو معاملہ صاف ہو سکتا تھا۔ مگر آپ نے تقدس کے

٣

صفحہ ٣٣٠

جعلی اقتدار میں اپنے مخالفین کو ہر قسم کی اذیت اور خوفناک قتل سے بھی دریغ نہیں کیا جاتا۔ الہاموں اور کشوفوں کا سہارا صرف ایک عیاری اور مکاری ہے۔ پھر ناواجب طور پر اندھا دھند ریزولیوشن پاس کروا کر مقدس پاکباز بننے کی ناپاک کوشش ان کا پرانا وطیرہ ہے۔

جماعت کے ذی ہوش طبقہ کو چاہئے تو یہ تھا کہ وہی اس ناواجب طریق کو علیٰ الاعلان ناپسندیدگی کا اظہار کرتی۔ لیکن یہاں بھی معاملہ برعکس ہوا۔ گندم کے ساتھ جو بھی پس گیا۔ اس سیلابی ریزولیوشن کا خلیفہ صاحب کو یہ فائدہ ضرور ہو گیا کہ مریدوں نے یہ کہنا شروع کر دیا کہ اگر ہم اپنی آنکھوں سے خلیفہ کو زنا کرتے دیکھ لیں تو ہم یہ کہیں گے کہ ہماری آنکھوں کا قصور ہے۔

جب مریدوں کی طرف سے خلیفہ صاحب کو چھٹی مل گئی تو پھر خلیفہ صاحب بڑی جرأت سے یوں کہتے ہیں۔ ”اگر مجھ پر سچے اعتراض بھی کرو گے تو جہنم کی آگ میں جاؤ گے ۔“ پھر بعض لوگوں نے بذریعہ اشتہار و خط مطالبہ کیا کہ آپ بدکرداری کے متعلق جس طریق پر چاہیں فیصلہ کر لیں۔ اس مطالبہ پر فوراً ایک خط کے جواب میں خلیفہ صاحب بڑی دریدہ دہنی سے فرماتے ہیں۔ ”مجھے ایک شخص نے خط لکھا ہے وہ لکھتا ہے کہ میرے خلاف لڑکے اور لڑ کیوں کے علاوہ میری بیوی گواہی گزار دیں گے ۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ میری گواہی سے مراد میری کوئی تحریر پیش کرنا چاہتے ہیں۔ اگر ایسا ہو بھی تو خلفاء سابقین سے میری ایک اور مماثلت ثابت ہوگی ۔“ نعوذ باللہ! (الفضل) اس وقت اس پر تبصرہ کرنے کی ضرورت نہیں۔ صرف یہی کہہ دینا کافی ہو گا کہ مسلمان کی غیرت کو ایک کھلا چیلنج خلیفہ صاحب نے دیا ہے۔

علاوہ ازیں کبھی ”الفضل“ میں یوں گہر افشانی ہوتی ہے۔ ”زنا کرنا جرم نہیں۔ اس کی تشہیر جرم ہے۔“ (العیاذ باللہ ) اس سے یہ ثابت شدہ امر ہے کہ خلیفہ صاحب ان افعال شنیعہ کے مرتکب تو ہیں۔ مگر اپنی صبر آزما گندگیوں کو ٹالنے کے لئے ناپاک کوشش کرتے ہیں۔ آپ نے خلیفہ صاحب کی سیلابی تقریروں سے متاثر ہو کر سب کچھ کیا۔ مالی قربانیاں کیں۔ بکرے چھترے ہضم ہوئے۔ جماعت کے مخلص دوستوں سے تعلقات منقطع کئے۔ کمہاروں اور جلاہوں اور مقرر کردہ تنخواہ داروں نے اپنی پیٹ پوجا کے لئے نمک حلالی کی۔ خلیفہ صاحب کے عیبوں کو نہ بکرے چھترے بچا سکے۔ نہ ان کا اپنا الہام اور رؤیا آڑے آیا۔ بلکہ ان پر زنا کا الزام اب بھی بدستور ہے۔ اس کے فیصلے کے تین ہی طریق ہو سکتے ہیں۔

٤

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٣٣١

عدالت، کمیشن، مباہلہ

خلیفہ صاحب ! اس وقت زندہ ہیں۔ ان کی موجودگی میں یہ فیصلہ ہونا نہایت ضروری ہے تاکہ خدا کے زندہ نشان آپ بھی اور وہ بھی اپنی آنکھوں سے دیکھ سکیں۔ اس وقت بھی خلیفہ صاحب کے کردار کا محاسبہ نہ کیا گیا اور اس طرح غفلت برتی گئی تو ہم یہ کہنے میں حق بجانب ہوں گے۔ مقدس پاکباز نہیں بلکہ اس زمانہ کا مذہبی ڈاکو تھا۔ جو ”شکل مومناں اور کرتوت کافراں“ کا صحیح مصداق تھا۔ چوہدری غلام رسول نے اس کتابچہ میں خلیفہ صاحب کا نقشہ یوں بیان کیا ہے کہ: ”اگر خلیفہ صاحب کی ایک منٹ کی محفل کو چودہ سو صدی پر پھیلایا جائے تو تمام نور کافور ہو جائے گا۔“ ان دو لفظوں میں چوہدری صاحب موصوف نے خلیفہ صاحب کے کردار کا محاسبہ کر دیا ہے۔

خلیفہ صاحب پر جب کسی نے زنا کا الزام لگایا تو آپ بڑی جسارت اور فخر کے ساتھ مقدس اصطلاحوں سے اپنے آپ کو بریکٹ کر جاتے ہیں۔ کبھی سرور کائنات سردار دو جہاں ﷺ سے اپنے آپ کو تشبیہ دیتے ہیں۔ ایسے لوگوں کا انجام یقیناً ایسا ہوگا جو ان کے اور ان کی اولادوں کے لئے شرمناک صورت اختیار کر جائے گا اور اس دنیا میں اس خلیفہ کا انجام بھی دیکھ لیں گے۔ اس کو ایسی عبرتناک سزا ملے گی جس سے اس کی زبان گنگ (گونگ) جائے گی، اور اس کا دماغ ماؤف ہو جائے گا اور فالج کا شکار ہو کر ڈاکٹر ڈوئی کی موت مرے گا۔ اس دنیا میں اور آخرت میں لعنتی کے لفظوں سے یاد کیا جاوے گا۔

لیکن یاد رکھیں۔ حالات کیسے بھی ہوں۔ مشکلات پوری طاقت کے ساتھ آئیں۔ تا فیصلہ ہم اس معاملہ کو پر امن طریق سے حل کروانے کی پوری پوری کوشش کریں گے۔ چوہدری صاحب موصوف کی عدیم الفرصتی کی وجہ سے میرے جیسے کمزور اور امی انسان کو اس کے پروفوں کی تصحیح اور طباعت وغیرہ و دیگر اہم ضرورت کی خدمت وغیرہ میرے حصہ میں آئی اور میں نے خدمت گزاری کے طور پر اس کام کو سرانجام دیا۔ اگر اس میں کسی وجہ سے لفظی لغزشیں نظر آئیں تو اس کا میں آپ سے معذرت خواہ ہوں۔

سب طاقت اور توفیق اس قادر مقتدر خدا کے ہاتھ میں ہے۔ اس ایک ہی سہارے کا امیدوار ہوں۔ میری دلی دعا ہے کہ اس کتابچہ کو جس مقصد کے لئے پیش کیا گیا ہے۔ اس کے مفید نتائج برآمد ہو کر ظلم و ستم کا دروازہ بند ہو۔

گر قبول افتد زہے عز و شرف

نیاز مند مظہر ملتانی

٥

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٣٣٢

فہرست مضامین اختصار کے ساتھ درج ذیل ہیں۔

"ابن الوقت" کے ناپاک سیاسی منصوبے

محمد امین کا قتل حکومت احمدیوں کو ملے گی اکھنڈ ہندوستان حکومتیں اور قومیں مجھ سے ڈرتی ہیں مرزا محمود کی سی۔ آئی۔ ڈی جزوی بائیکاٹ کی عملی تفسیر موت کی دھمکی مریدوں کو ابھارنا

ربوہ کا نظام حکومت

حاکم اعلیٰ مجلس شوریٰ پر کلی اختیار انتظامیہ آخری سپریم کورٹ ربوہ سٹیٹ کا اجمالی نقشہ ڈگریوں کا اجراء سمن جاری کرنا

خلیفہ ربوہ کی فوجی تنظیم

خلیفہ کی خاص محفل کمانڈر انچیف اور وزراء ہلالی پرچم انڈین یونین ڈائنامیٹ سے مخالفت کا قلعہ اڑادو چناب کے اس پار آہنی پردہ مسلم لیگی ورکرز ربوہ کی خانہ ساز پولیس اللہ یار بلوچ ربوہ کو کھلا شہر قرار دو

ربوہ سٹیٹ بینک

صیغہ امانت رقم خرد برد مخفی اخراجات مد سے خاطر مدارت مخالفین کو مکان سے بے دخل کرنے کا طریق

آزادی رائے پر پابندی

اخبار فروش کا واقعہ تھانہ پولیس ربوہ کا روسی نظام رشتہ داروں سے بھی ملنا ممنوع

٦

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٣٣٣

حکومت کے خواب

خفیہ دستاویزات حکومت وقت سے بغاوت ملک پر قبضہ کرنا بیرونی حکومتوں سے گٹھ جوڑ خلیفہ کی اندرونی تصاویر حکومت کی مخفی پالیسی کا راز گشتی مراسلہ

”ابن الوقت“ کے ناپاک سیاسی منصوبے

کسی جماعت کے لئے زیبا نہیں کہ وہ مذہب کی رداء اوڑھ کر سیاسی اقتدار حاصل کرنے کی سعی نامسعود کرے۔ کسی مذہبی جماعت کو حکومت کی طرف سے جو حمایت حاصل ہوتی ہے۔ وہ اسی حد تک ہوتی ہے۔ جس حد تک وہ اپنے مشن کو چلا سکے۔ وہ سیاسی امور سے کوسوں دور رہتی ہے۔ اس کا مطمح نظر صرف اور صرف یہی ہوتا ہے کہ وہ لوگوں کے اندر مذہبی روح پھونکیں۔ لیکن یہ ایک اندوہناک اور تکلیف دہ امر ہے کہ خلیفہ صاحب ربوہ نے مذہبی لبادہ اوڑھ کر حکومت کے خواب دیکھنے شروع کئے اور وہ پاکیزہ مقدس نظام جو اشاعت اسلام کے لئے قائم کیا گیا تھا۔ جس کی غرض وغایت معاشرے کی اصلاح اور مردہ دلوں میں خدا اور اس کے رسول کی محبت کی آگ کو سلگانا مقصود تھا۔ اس نظام کو اپنے ناپاک سیاسی عزائم کے نذر کر دیا اور جماعت کے دلوں سے یہ عہد دین کو دنیا پر مقدم رکھوں گا۔ نسیاً منسیاً ہو گیا۔ اس نظام میں دفعتاً تبدیلی سفید فام آقاؤں کے عین منشاء کے مطابق تھا کہ خلیفہ صاحب اور جماعت کے عقول وقلوب کو اصل محور سے ہٹا کر غیر مذہبی امور میں الجھائے رکھے۔ ایک عرصہ سے یہی کیفیت رہی۔ لیکن رفتہ رفتہ قادیان میں خلیفہ صاحب ربوہ بے لگام ہو گئے اور ایسی صورت پیدا ہو گئی کہ وہاں بھی برطانوی قانون کالعدم سمجھا جانے لگا۔ دن دھاڑے روز روشن میں قتل ہوتے۔ لیکن پولیس تحقیقات میں ناکام رہتی۔ اس سے انگریز حکومت کی غیرت پر ضرب کاری لگی۔ اس نے قادیان کی متوازی حکومت کے خلاف اقدام شروع کر دیا۔ اس کا پہلا سراغ مسٹر جی۔ ڈی کھوسلہ کے فیصلہ سے ملتا ہے۔ فاضل جج نے اپنے فاضلانہ فیصلہ میں خلیفہ صاحب کی ان متشددانہ اور جارحانہ کاروائیوں کا ذکر کیا ہے۔ جو انہوں نے مولوی عبدالکریم کے خلاف کی تھیں۔ کس طرح ان کے اشتعال انگیزانہ خطبہ کے نتیجے میں مولوی صاحب پر قاتلانہ حملہ ہوا اور ان کا مکان تک جلا دیا گیا۔ لیکن ان کا ایک مددگار محمد حسین قتل ہو گیا۔ جب عدالت کے فیصلہ کے مطابق قاتل پھانسی پا گیا تو اس کی لاش کو

٧

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٣٣٤

بڑے تزک و احتشام کے ساتھ قادیان کے بہشتی مقبرہ میں دفن کیا گیا۔ اس کا فوٹو شائع کیا گیا۔ اس کی موت کو شہادت کا درجہ دیا گیا۔ اس کو ولی اللہ ملہم بنایا گیا۔ اس کا چہرہ ہر احمدی کو دکھایا گیا اور اس کے مقدمہ میں جماعت کا ہزار ہا روپیہ بھی صرف کیا گیا۔

(١٩٣٠ء الفضل)

محمد امین پٹھان کا قتل

اس فیصلہ میں ”محمد امین پٹھان“ کے قتل کا بھی ذکر ہے۔ جو ”فتح محمد سیال“ کے ہاتھوں قتل ہوا۔ لیکن پولیس کاروائی کرنے سے قاصر رہی۔ فیصلہ مذکور میں تحریر ہے۔

”مرزائی طاقت اتنی بڑھ گئی کہ کوئی سامنے آ کر سچ بولنے کے لئے تیار نہ تھا۔ ہمارے سامنے عبد الکریم کے مکان کا واقعہ بھی ہے۔ عبد الکریم کو قادیان سے نکالنے کے بعد اس کا مکان جلا دیا گیا۔ اسے قادیان کی سمال ٹاؤن کمیٹی سے حکم حاصل کر کے نیم قانونی طریقے سے گرانے کی کوشش بھی کی گئی۔ یہ افسوس ناک واقعات ظاہر کرتے ہیں کہ قادیان میں طوائف الملوکی تھی۔ جس میں آتش زنی اور قتل تک ہوتے تھے۔“

”ایسا معلوم ہوتا ہے کہ حکام ایک غیر معمولی درجہ کے فالج کے شکار ہو چکے تھے اور دنیاوی اور دینی معاملات میں مرزا محمود احمد کے حکم کے خلاف کبھی آواز نہ اٹھائی گئی۔ مقامی افسروں کے پاس کئی مرتبہ شکایات کی گئیں۔ لیکن کوئی انسداد نہ ہوا۔ مسل پر ایک دو ایسی شکایات ہیں لیکن ان کے مضمون کا حوالہ دینا غیر ضروری ہے اور اس مقدمہ کے لئے یہ بیان کر دینا کافی ہے کہ قادیان میں ظلم و جور جاری ہونے کے متعلق غیر مشتبہ الزام عائد کئے گئے۔ لیکن معلوم ہوتا ہے کہ ان کی طرف مطلقاً توجہ نہ کی گئی۔“

مزید فیصلہ میں یہ بھی لکھا ہے کہ: ”مرزا (یعنی محمود احمد ) نے مسلمانوں کو کافر، سور اور ان کی عورتوں کو کتیوں کا خطاب دے کر ان کے جذبات کو مشتعل کر دیا تھا۔“

(فیصلہ مسٹر جی۔ ڈی کھوسلہ سیشن جج گورداسپور )

(مندرجہ احتساب قادیانیت ج ٣٦ ص ٥٦٥ تا ٥٧٥)

قتل کے نتائج سے بچ نکلنا

عدالت کا یہ فیصلہ خلیفہ صاحب کی سیاسی عزائم کی عکاسی کرتا ہے کہ قادیان میں خلیفہ صاحب کے لئے قتل کرنا اور قتل کے نتائج سے بچ نکلنا ایک بالکل معمولی امر تھا۔ یہی معاملہ ربوہ میں بدرجہ اتم رونما ہو رہا ہے۔ کیونکہ یہ خالص احمدیوں کی بستی ہے۔ یہاں ملک کا قانون بھی بے بس

٨

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٣٣٥

اور بے کس ہے اور حکومت دور بینی سے کام لیتی اور صدر انجمن احمدیہ کو یہ زمین اونے پونے نہ دیتی۔ بلکہ اس کی جماعت کو دوسری بستیوں اور شہروں میں آباد کرتی تو خلیفہ صاحب ایک خطہ میں اپنی من مانی نہ کر سکتے۔ بلکہ ایسا نہ ہوا۔ ان کو ایک ایسا وسیع رقبہ الگ تھلگ دے دیا۔ جہاں خلیفہ صاحب کا سکہ رواں ہے۔ کسی کی کیا مجال ان کے حکم کے سامنے دم مار سکے۔ اس مطلق العنانی کی کیفیت کو ملحوظ رکھتے ہوئے پاکستان کی منیر ٹربیونل رپورٹ میں مرقوم ہے۔

”١٩٢٥ء سے لے کر ١٩٤٧ء کے آغاز تک احمدیوں کی بعض تحریرات منکشف ہیں کہ وہ برطانیہ کا جانشین بننے کے خواب دیکھ رہے تھے۔ وہ نہ تو ایک ہندو دنیاوی حکومت یعنی ہندوستان کو اپنے لئے پسند کرتے تھے اور نہ پاکستان کو منتخب کر سکتے تھے۔“

(رپورٹ منیر انکوائری کمیٹی ص٢٠٩، ١٩٥٣ء)

سیاست کاری

اب ہم شاطر سیاست خلیفہ صاحب کی سیاست کاری، اور سیاسی عزائم اور حکومت پر غلبہ حاصل کرنے کے بارہ میں خلیفہ صاحب کے خطبات وتقاریر سے اقتباسات ہدیۂ قارئین کرتے ہیں۔

”پس اسلام کی ترقی احمدی سلسلہ سے وابستہ ہے اور چونکہ یہ سلسلہ مسلمان کہلانے والی حکومتوں میں پھیل نہیں سکتا۔ اس لئے خدا نے چاہا ہے کہ ان کی جگہ اور حکومتوں کو لے آئے۔ پس مسلمانوں کی بداعمالیوں کی وجہ سے خدا تعالیٰ نے تمہاری ترقی کا راستہ کھول دیا ہے۔“

(١٢؍نومبر ١٩١٤ء الفضل)

”اصل تو یہ ہے کہ ہم نہ انگریز کی حکومت چاہتے ہیں۔ نہ ہندوؤں کی ہم تو احمدیت کی حکومت قائم کرنا چاہتے ہیں۔“

(مورخہ ١٤؍فروری ١٩٢٢ء

الفضل)

”اس وقت حکومت احمدیت کی ہوگی۔ آمدنی زیادہ ہوگی۔ مال واموال کی کثرت ہوگی۔ جب تجارت اور حکومت ہمارے قبضہ میں ہوگی۔ اس وقت اس قسم کی تکلیف نہ ہوگی۔“

(مورخہ ٨؍جون ١٩٣٦ء الفضل)

”اس وقت تک تمہاری بادشاہت قائم نہ ہو جائے۔ تمہارے راستے سے یہ کانٹے ہرگز دور نہیں ہو سکتے۔“

(مورخہ ٨؍جولائی ١٩٣٠ء الفضل)

٩

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٣٣٦

”غرض سیاست میں مداخلت کوئی غیر دینی فعل نہیں۔ بلکہ یہ ان مقاصد میں شامل ہے۔ جس کی طرف توجہ کرنا وقتی ضروریات اور حالات کے مطابق لیڈران قوم کا فرض ہے۔۔۔۔ پس قوم کے پیش آمدہ حالات کو مدنظر رکھنا اور اس کی تکالیف کو دور کرنے کی تدبیر کرنا اور ملکی سیاست میں رہنمائی کرنا خلیفہ وقت سے بہتر اور کوئی نہیں کر سکتا۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کی نصرت اور تائید اس کے شامل حال ہوتی ہے اور اس زمانہ میں گزشتہ پندرہ سال کے تاریخی واقعات ہمارے اس بیان کی صداقت پر مہر لگا رہے ہیں۔“

(مورخہ ٢٥ ؍ دسمبر

١٩٣٢ء الفضل)

”ہم میں سے ہر ایک شخص یہ یقین رکھتا ہے کہ تھوڑے عرصہ کے اندر ہی (خواہ ہم اس وقت تک زندہ رہیں یا نہ رہیں۔ لیکن بہر حال وہ عرصہ غیر معمولی طور پر لمبا نہیں ہو سکتا) ہمیں تمام دنیا پر نہ صرف عملی برتری حاصل ہوگی۔ بلکہ سیاسی اور مذہبی برتری بھی حاصل ہو جائے گی۔ اب یہ خیال ایک منٹ کے لئے بھی کسی سچے احمدی کے دل میں غلامی کی روح پیدا نہیں کر سکتا۔ جب ہمارے سامنے بعض حکام آتے ہیں تو ہم اس یقین اور وثوق کے ساتھ ان کی ملاقات کرتے ہیں کہ کل یہ نہایت ہی عجز اور انکسار کے ساتھ ہم سے استمداد کر رہے ہوں گے۔“

(مورخہ ٢٢ ؍ اپریل ١٩٣٨ء الفضل)

”میں تو اس بات کا قائل ہوں کہ انگریزی حکومت چھوڑو دنیا میں سوائے احمدیوں کے اور کسی کی حکومت نہیں رہے گی۔ پس جب کہ میں اس بات کا قائل ہوں۔ بلکہ اس بات کا خواہشمند ہوں کہ دنیا کی ساری حکومتیں مٹ جائیں اور ان کی جگہ احمدی حکومتیں قائم ہو جائیں تو میرے متعلق یہ خیال کرنا کہ میں اپنی جماعت کے لوگوں کو انگریزوں کی دائمی غلامی کی تعلیم دیتا ہوں۔ کہاں تک درست ہو سکتا ہے۔“

(مورخہ ٢١ ؍ نومبر

١٩٣٩ء الفضل)

”ہمیں نہیں معلوم ہمیں کب خدا کی طرف سے دنیا کا چارج سپرد کیا جاتا ہے۔ ہمیں اپنی طرف سے تیار رہنا چاہئے کہ دنیا کو سنبھال سکیں۔“

(مورخہ ٤ ؍ جون ١٩٤٠ء

الفضل)

”انگریز اور فرانسیسی وہ دیواریں ہیں جن کے نیچے احمدیت کی حکومت کا خزانہ مدفون ہے اور خدا تعالیٰ چاہتا ہے کہ یہ دیوار اس وقت تک قائم رہے جب تک کہ خزانہ کے مالک جوان نہیں ہو جاتے۔ ابھی احمدیت چونکہ بالغ نہیں ہوئی اور بالغ نہ ہونے کی وجہ سے وہ اس خزانے پر

١٠

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٣٣٧

قبضہ نہیں کر سکتی۔ اس لئے اگر اس وقت یہ دیوار گر جائے تو نتیجہ یہ ہوگا کہ دوسرے لوگ اس پر قبضہ جمالیں گے۔“

(مورخہ ٢٧؍فروری ١٩٢٢ء

الفضل)

حکومت احمدیوں کو ملے گی

ان حوالہ جات سے یہ امر ظاہر ہوتا ہے کہ خلیفہ صاحب ربوہ حصولِ حکومت کی تمنائیں کس قدر وثوق کے ساتھ لگائے بیٹھے ہیں۔ ان کے عزائم اور راہیں حصولِ حکومت دوسرے مسلمانوں سے کس قدر مختلف ہیں۔ یہ اعلان واضح طور سے کیا جارہا ہے کہ مسلمانوں کی بداعمالیوں کی وجہ سے حکومت ان کو نہیں بلکہ صرف اور صرف احمدیوں کو ملے گی۔

”اور مسلمان جنہوں نے احمدیت سے تعلق نہیں جوڑا وہ گرتے ہی جائیں گے اور گرتے گرتے یہودیوں کی طرح ہو جائیں گے۔ یہودی موسیٰ علیہ السلام کے نائب کا انکار کرنے کی وجہ سے ذلیل ہوئے تھے۔۔۔۔ اور محمد رسول اللہ (ﷺ) کی شان سے بہت بلند ہے۔ اس لئے آپ کے نائب کا انکار کرنے والوں کی ذلت یہودیوں سے بڑھ کر ہوگی۔“

(مورخہ ١٢؍نومبر ١٩١٣ء الفضل)

ظاہر ہے کہ مسلمانوں سے پہلے ان کے پروگرام کے مطابق حکومت ان کو میسر نہیں آسکی اور انگریزی حکومت کی عمارت پیوست خاک ہو چکی ہے۔ جس کے نیچے خلیفہ صاحب کی آرزوؤں اور تمناؤں کا خزانہ مدفون ہو چکا ہے۔ اب پاکستان معرضِ وجود میں آچکا ہے۔ اس کا قیام واستحکام اور اس کی سالمیت وحفاظت انہیں کس طرح گوارہ ہوسکتی ہے۔ خصوصاً جب کہ حکومت ان مسلمانوں کو مل گئی ہے۔ جن کو خلیفہ صاحب یہودی قرار دے چکے ہیں۔ (نعوذ باللہ) اور جن کے متعلق خلیفہ صاحب یوں فرماتے ہیں۔

”اسلام کی ترقی احمدی سلسلہ سے وابستہ ہے اور چونکہ یہ سلسلہ مسلمان کہلانے والی حکومتوں میں نہیں پھیل سکتا۔ اس لئے خدا نے چاہا ہے کہ ان کی جگہ اور حکومتوں کو لے آئے۔ تاکہ اس سلسلہ حقہ کے پھیلنے کے لئے دروازے کھولے جائیں۔“

(مورخہ ١٢؍نومبر ١٩١٣ء

الفضل)

خلیفہ صاحب اور اکھنڈ ہندوستان

خلیفہ صاحب تقسیم ہند پر گریہ وزاری کرتے ہوئے اپنی ناپسندیدگی کا اظہار یوں

١١

صفحہ ٣٣٨

فرماتے ہیں: ”ہندوستان کی تقسیم پر اگر ہم رضامند ہوتے ہیں تو خوشی سے نہیں بلکہ مجبوری سے اور پھر یہ کوشش کریں گے کہ یہ کسی نہ کسی طرح پھر متحد ہو جائے۔“

(مورخہ ١٦؍ مئی ١٩٤٧ء الفضل)

پھر فرمایا: ”بہر حال ہم چاہتے ہیں کہ اکھنڈ ہندوستان بنے اور ساری قومیں باہم شیر و شکر ہو کر رہیں۔“

(مورخہ ١٥ اگست ١٩٤٧ء الفضل)

ان حوالہ جات سے ”خلیفہ صاحب ربوہ“ کے جذبات کی تصویر اور ان کی نیت کی عکاسی ہوتی ہے اور وہ اکھنڈ ہندوستان کے حامی ہیں۔ اب جب کہ اپنی تمناؤں اور امیدوں کو پاش پاش ہوتے دیکھا تو پھر شاطر سیاست نے ایک سیاسی پینترا بدلا وہ یہ کہ مسلمانوں میں تشتت وافتراق واختلاف وانتشار کی آگ بھڑکانے کے لئے سیاسی ہتھکنڈے استعمال کئے۔ پس میں حکومت کو اس بات سے آگاہ کر دینا فرض اولین سمجھتا ہوں کہ وہ ”خلیفہ صاحب ربوہ“ کے سیاسی عزائم کا محاسبہ کرے اور اس کے نظام کو سمجھنے کی پوری پوری کوشش کرے۔ خلیفہ صاحب نے اپنی جماعت کو دنیا کا چارج سنبھالنے اور حکومت پر قبضہ کرنے اور اپنے ذاتی اغراض پورے کرنے کے لئے جماعت کی باقاعدہ تربیت کی اور اس کو شعوری اور غیر شعوری طور پر ابھارتے رہے۔ چنانچہ خلیفہ صاحب فرماتے ہیں۔

”اس وقت اسلام کی ترقی خدا تعالیٰ نے میرے ساتھ وابستہ کر دی ہے۔ یاد رکھو کہ سیاسیات اور اقتصادیات اور تمدنی امور حکومت کے ساتھ وابستہ ہیں۔ پس جب تک ہم اپنے نظام کو مضبوط نہ کریں اور تبلیغ اور تعلیم کے ذریعہ سے حکومتوں پر قبضہ کرنے کی کوشش نہ کریں۔ ہم اسلام کی ساری تعلیموں کو جاری نہیں کر سکتے ۔“

(مورخہ ٥ جنوری ١٩٤٧ء الفضل)

”یہ مت خیال کرو کہ ہمارے لئے حکومتوں اور ملکوں کا فتح کرنا بند کر دیا گیا ہے۔ بلکہ ہمارے لئے بھی حکومتوں اور ملکوں کا فتح کرنا ایسا ہی ضروری ہے۔“

(مورخہ ٨ جنوری ١٩٤٧ء الفضل)

خلیفہ فیلڈ مارشل کے روپ میں

اسی طرح خلیفہ صاحب ربوہ کے ہاں جو بھی تنظیم مختلف ناموں سے معرض وجود میں

١٢

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٣٤٩

آئی۔ خلیفہ صاحب خود ہی اس کے سپہ سالار ہوتے ہیں، اور آپ ہی کے زیر ہدایت وہ تنظیم پنپتی ہے۔ خود خلیفہ صاحب فرماتے ہیں۔

”مجلس شوریٰ ہو یا صدر انجمن احمدیہ، انتظامیہ ہو یا عدلیہ، فوج ہو یا غیر فوج، خلیفہ کا مقام بہر حال سرداری کا ہے۔“

(یکم ستمبر ١٩٣٢ء الفضل)

”انتظامی لحاظ سے وہ صدر انجمن کے لئے بھی رہنما ہے اور آئین سازی و بحث کی تعین کے لحاظ سے وہ مجلس شوریٰ کے نمائندوں کے لئے بھی صدر اور رہنما کی حیثیت رکھتا ہے۔ جماعت کی فوج کے اگر دو حصے تسلیم کر لئے تو وہ اس کا بھی سردار ہے اور اس کا بھی کمانڈر ہے اور دونوں کے نقائص کا وہ ذمہ دار ہے اور دونوں کی اصلاح اس کے ذمہ واجب ہے۔“

(مورخہ ٢٧ اپریل ١٩٣٨ء الفضل)

حکومتیں اور قومیں مجھ سے ڈرتی ہیں

الغرض ”خلیفہ صاحب ربوہ“ ایک مطلق العنان بادشاہ کی حیثیت رکھتا ہے۔ ان کا ہر حکم جماعت کے ممبروں کے نزدیک آخری حرف کی حیثیت رکھتا ہے۔ خلیفہ صاحب کے ادنیٰ اشارہ پر اپنی جان و مال عزت آبرو قربان کر دینا عین سعادت سمجھتے ہیں اور ان کی کمائی کا اکثر حصہ خلیفہ صاحب کی آتش حرص کو بجھانے کے کام آتا ہے۔ خلیفہ صاحب نے دنیا کے مختلف ممالک میں مبلغ بھیجے ہوئے ہیں۔ وہ خلیفہ صاحب کے بطور سفیر کے ہیں۔ یعنی:

مرزا محمود کی C.I.D

خلیفہ صاحب لاکھوں روپے گورنمنٹ کی کرنسی سے حاصل کر کے بیرونی ممالک میں اپنی من مانی کاروائیوں کے لئے خرچ کرتے ہیں۔ کبھی مبلغوں کی تنخواہوں کا عذر تراشتے ہیں۔ کبھی معبد خانہ کی تعمیر کا ڈھنڈورا پیٹ کر لاکھوں روپیہ فارن کرنسی سے لئے جاتے ہیں اور خرچ اپنی مرضی سے کیا جاتا ہے۔ بالآخر یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ جن لوگوں کے لئے وہ معابد تیار ہوتی ہیں۔ ان کا چندہ کہاں جاتا ہے۔

خلیفہ صاحب خود کہتے ہیں کہ حکومتیں ملک اور قومیں مجھ سے ڈرتی ہیں۔ خلیفہ صاحب اپنے کار خاص یعنی (C.I.D) کے ذریعہ مخفی راز معلوم کرتے ہیں۔ ان کی اپنی عدلیہ، مقننہ، انتظامیہ، فوج اور بینک ہیں۔ پس حکومت پاکستان کا ریاست ربوہ سے سہل انگاری برتنا، ملک

١٣

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٣٤٠

وملت سے غداری کے مترادف ہے۔ ربوہ میں کسی احمدی کو اجازت حاصل کئے بغیر داخل ہونے کی اجازت نہیں۔ اب جو بھی احمدی ربوہ میں آتا ہے۔ وہ اپنے حلقہ کے پریذیڈنٹ یا امیر کی تصدیق لاتا ہے۔ یہ بات صرف ربوہ سے مخصوص نہیں ہے۔ بلکہ تقسیم ہند سے پہلے یہی حکم قادیان کے متعلق تھا کہ جو مضافات قادیان میں سکونت اختیار کرنا چاہیں وہ نظارت امور عامہ سے اجازت حاصل کرے۔ چنانچہ خلیفہ صاحب فرماتے ہیں۔

”مضافات قادیان ننگل، باغباناں، بھینی بانگر خوردوکلاں، کھارا، نواں پنڈ، قادر آباد اور احمد آباد وغیرہ میں سکونت اختیار کرنے کے لئے باہر سے آنے والے احمدی دوستوں کے لئے ضروری ہوگا کہ وہ پہلے نظارت ہذا سے اجازت حاصل کریں۔“

(مورخہ ٢٥؍ جنوری ١٩٣٩ء

الفضل)

پھر ربوہ میں آکر ١٩٤٩ء میں خلیفہ صاحب اعلان فرماتے ہیں: ”سب تحصیل لالیاں میں کوئی احمدی بلا اجازت انجمن، زمین نہیں خرید سکتا۔“

ربوہ میں داخل ہونے کے بارہ میں خلیفہ صاحب کا حکم امتناعی یوں جاری ہوتا ہے۔

”ہم یہ اعلان کرتے ہیں کہ آئندہ ایسے لوگوں کو جن کو یا تو ہم نے جماعت سے نکال دیا ہے۔ یا جنہوں نے خود اعلان کر دیا ہوا ہے کہ وہ ہماری جماعت میں شامل نہیں۔ آئندہ انہیں ہماری مملوکہ زمینوں میں آکر ہمارے جلسوں میں شامل ہونے کی اجازت نہیں۔“

(مورخہ ٤؍ فروری ١٩٥٦ء الفضل)

مملکت در مملکت

اس اعلان کا ہر لفظ یہ ظاہر کرتا ہے کہ معتوبین میں سے جنہوں نے انجمن سے زمین خریدی ہوئی ہے۔ ان کو ربوہ میں جاکر سکونت اختیار کرنے کی اجازت نہیں۔ کیونکہ جب وہ ربوہ جائیں گے۔ مقامی پولیس کی امداد سے نقص امن کی آڑ لے کر کوئی مقدمہ کھڑا کر دیا جائے گا۔ گویا ان کی زمین ضبط کر لی گئی ہے۔ یہی مملکت در مملکت کا بیّن ثبوت ہے اور ریاست ربوہ میں کاروبار کرنے کے لئے ہر شخص کو حسب ذیل معاہدہ کرنا پڑتا ہے۔

”میں اقرار کرتا ہوں کہ ضروریات جماعت قادیان کا خیال رکھوں گا اور مدیر تجارت جو حکم کسی چیز کے بہم پہنچانے کا دیں گے۔ اس کی تعمیل کروں گا اور جو حکم ناظر امور عامہ دیں گے اس کی بلا چون و چرا تعمیل کروں گا۔ نیز جو ہدایات وقتاً فوقتاً جاری ہوں گی۔ ان کی پابندی کروں گا اور

١٤

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٣٤١

اگر کسی حکم کی خلاف ورزی کروں گا تو جو جرمانہ تجویز ہوگا ادا کروں گا۔“

”میں عہد کرتا ہوں کہ جو میرا جھگڑا احمدیوں سے ہوگا اس کے لئے امام جماعت احمدیہ کا فیصلہ میرے لئے حجت ہوگا اور ہر قسم کا سودا احمدیوں سے خرید کروں گا۔ نیز میں عہد کرتا ہوں کہ احمدیوں کی مخالف مجالس میں بھی شریک نہ ہوں گا۔“

اس حوالہ سے یہ امر واضح ہے کہ خلیفہ صاحب ربوہ کی ریاست میں ہر اس شخص سے یہ معاہدہ لکھایا جاتا ہے۔ جو وہاں رہے۔ خلیفہ صاحب کا تصرف اور تسلط نہ صرف لین دین پر بلکہ ہر شخص کی جائیداد پر تھا۔ اس ضمن میں ذیل کا اعلان ملاحظہ ہو۔

اعلان

”قبل ازیں میاں فضل حق موچی سکنہ محلہ دارالعلوم کے مکان کی نسبت اعلان کیا تھا کہ کوئی دوست نہ خریدیں۔ اب اس میں اس قدر ترمیم کی جاتی ہے کہ اس کے مکان کا سودا رہن و بیع نظارت ہذا کے توسط سے ہو سکتا ہے۔“

(مورخہ ٨؍ اگست ١٩٣٧ء

الفضل)

قادیان میں جس شخص کا سوشل بائیکاٹ کیا جاتا تھا۔ اس کے ساتھ لین دین، سلام وکلام کے تعلقات بھی منقطع کر دیئے جاتے ہیں۔ چنانچہ اس بارہ میں خلیفہ صاحب کا بتوسط ناظر امور عامہ حکم سنئے:

”شیخ عبدالرحمن صاحب مصری، منشی فخرالدین صاحب ملتانی اور حکیم عبدالعزیز صاحب جو جماعت سے علیحدہ ہیں۔ ان کے ساتھ تعلقات رکھنے ممنوع ہیں۔ جن دوستوں کا ان کے ساتھ لین دین ہو۔ وہ نظارت ہذا کے توسط سے طے کروائیں۔“

(مورخہ ١٤؍ جولائی ١٩٣٧ء الفضل)

”مولوی محمد منیر صاحب انصاری سکنہ محلہ دارالبرکات کو ان کی موجودہ فتنہ میں شرکت پائے جانے کی وجہ سے کچھ عرصہ ہوا۔ جماعت احمدیہ سے خارج کیا جاچکا ہے۔ اب مزید فیصلہ ان کی نسبت یہ کیا گیا ہے کہ ان کے ساتھ مقاطعہ رکھا جائے۔ لہذا احباب ان کے ساتھ کسی قسم کے تعلقات لین دین و سلام و کلام نہ رکھیں۔“

(مورخہ ١٠؍ اگست ١٩٣٧ء

الفضل)

١٥

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٣٤٢

مرزا بشیر احمد کا دجل اور جزوی بائیکاٹ کی عملی تفسیر

بعض اوقات میاں بشیر احمد جیسے فہمیدہ انسان بھی جو خلیفہ صاحب کے منجھلے بھائی ہیں۔ یہ عذر لنگ تراشنا شروع کر دیتے ہیں کہ سوشل بائیکاٹ سے مراد جزوی بائیکاٹ مراد ہے۔ یہ سراسر فریب، جھوٹ، دجل، کذب وافتراء عیاری اور مکاری ہے۔ سوشل بائیکاٹ میں صرف لین دین ہی منع نہیں۔ بلکہ معتوب سے کسی قسم کا تعلق رکھنا ناجائز ہے۔ اس بارہ میں خلیفہ صاحب کا یہ اعلان ملاحظہ کریں۔

”جناب کی اطلاع کے لئے اعلان کیا جاتا ہے کہ چونکہ فضل ترس بیوہ عبداللہ صاحب درزی مرحوم کے متعلق ثابت ہے کہ اس کے تعلقات شیخ مصری وغیرہ کے ساتھ ہیں۔ اس لئے حضرت امیر المومنین ایدہ اللہ بنصرہ العزیز کی منظوری سے مورخہ ١٥ اگست ١٩٣٧ء کو جماعت سے خارج کر دیا گیا ہے۔ اس کے ساتھ کسی کو باستثناء اس کے والدین نظام الدین ٹیلر ماسٹر کے کسی قسم کا تعلق رکھنے کی اجازت نہیں۔“

(مورخہ ٢١؍اگست

١٩٣٧ء الفضل)

”عبدالرب پسر عبداللہ خان کلرک نظارت بیت المال اور محمد صادق صاحب شبنم دونوں نے حضرت امیر المومنین خلیفۃ المسیح ایدہ اللہ بنصرہ العزیز سے اپنا عہد بیعت فسخ کر دیا ہے۔ اس لئے اعلان کیا جاتا ہے کہ احباب ان دونوں کے ساتھ کسی قسم کا تعلق نہ رکھیں۔ ان کے ساتھ ملنا جلنا اور بات کرنا اس طرح منع ہے جس طرح مصری عبدالرحمن صاحب وغیرہ مخرجین کے ساتھ۔“

(مورخہ ٦؍اگست ١٩٣٧ء الفضل)

”چونکہ مستری جمال دین صاحب سکنہ سرگودھا نے ایسے شخص کے ساتھ اپنی لڑکی کی شادی باوجود ممانعت کے کر دی ہے۔ جو سلسلہ احمدیہ سے تعلقات منقطع کر چکا ہے۔ لہٰذا احباب جماعت کی اطلاع کے لئے اعلان کیا جاتا ہے کہ انہیں حضرت امیر المومنین ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی منظوری سے جماعت احمدیہ سے خارج کر دیا گیا ہے۔ جماعت کے دوست کلی مقاطعہ رکھیں۔“

(مورخہ ١١؍دسمبر ١٩٣٠ء

الفضل)

”میں چوہدری عبداللطیف کو اس شرط پر معاف کرنے کے لئے تیار ہوں کہ آئندہ اس

١٦

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٣٤٣

کے مکان واقع نسبت روڈ پر وہ افراد نہ آئیں۔ جن کا نام اخبار میں چھپ چکا ہے۔۔۔۔۔ چوہدری عبداللطیف نے یقین دلایا کہ میں ذمہ لیتا ہوں کہ وہ آئندہ اس جگہ پر نہیں آئیں گے اور میں نے اس کو کہہ دیا ہے کہ جماعت لاہور اس کی نگرانی کرے گی اور اگر اس نے پھر ان لوگوں سے تعلق رکھا یا اپنے مکان پر آنے دیا تو پھر اس کی معافی کو منسوخ کر دیا جائے گا۔‘‘

(مورخہ ٢٢؍نومبر ١٩٥٦ء الفضل)

بہن کا بہن سے تعلق نہ رکھنا

اس کے بعد خلیفہ صاحب نے امۃالسلام اہلیہ ڈاکٹر علی اسلم صاحب کا سوشل بائیکاٹ کرتے ہوئے اپنی بہو کو یہ دھمکی دی۔ ’’اب اگر تنویر بیگم جو میری بہو ہے۔ ’’الفضل‘‘ میں اعلان نہ کرے کہ میرا اپنی بہن سے کوئی تعلق نہیں تو میں اس کے متعلق ’’الفضل‘‘ میں اعلان کرنے پر مجبور ہوں گا کہ لجنہ (قادیانی عورتوں کی انجمن) اس کو کوئی کام سپرد نہ کرے اور میرے خاندان کے وہ افراد جو مجھ سے تعلق رکھنا چاہتے ہیں۔ اس سے تعلق نہ رکھیں۔‘‘

(مورخہ ٢١؍جون ١٩٥٧ء الفضل)

بعدازاں تنویر السلام نے خلیفہ صاحب کی دھمکی سے خائف ہو کر اپنی بہن کے خلاف یہ اعلان ’’الفضل‘‘ میں شائع کرا دیا۔

’’ڈاکٹر سید علی اسلم صاحب (حال ساکن نیروبی) اور سیدہ امۃالسلام، بیگم ڈاکٹر علی اسلم نے جماعت کے نظام کو توڑنے کی وجہ سے میرے رشتہ کو بھی توڑ دیا ہے۔ لہٰذا آئندہ ان سے میرا کسی قسم کا کوئی تعلق نہ ہوگا۔‘‘

(مورخہ ٢٥؍جون ١٩٥٧ء الفضل)

بیعت فسخ کا اعلان

آغازِ فتنہ میں جب محمد یونس خان صاحب ملتانی نے خلیفہ صاحب ربوہ کی خلافت سے بکمال انشراح صدر بیعت فسخ کا اعلان کیا تو خلیفہ صاحب نے اپنے خاص ایجنٹ کو صاحب موصوف کے گھر بھیج کر ان کے والدین اور خسر سے مکمل سوشل بائیکاٹ کا اعلان کرا دیا۔ جس پر ملک کے مشہور و معروف جریدہ نوائے وقت نے مملکت در مملکت کے عنوان سے ادارتی نوٹ لکھا تھا۔

١٧

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٣٤٤

موت کی دھمکی

میں نے بحوالہ اخبار ”الفضل“ سوشل بائیکاٹ کے متعلق چند ایک مثالیں ہدیہ قارئین کی ہیں۔ جن کی بناء پر ملک کے تمام اخبار اور جرائد نے ادارتی نوٹ لکھے۔ مگر افسوس صد افسوس ان اخبار اور جرائد کی آواز صدا بصحرا ثابت ہوئی۔ کیونکہ ابھی تک گورنمنٹ نے اس ریاست کے خلاف کوئی واضح اور ٹھوس قدم نہیں اٹھایا۔ جس سے یہ کھیل ختم ہو سکے۔ خلیفہ صاحب ربوہ صرف سوشل بائیکاٹ کا حربہ ہی اپنی ریاست میں استعمال نہیں کرتے۔ بلکہ ملک کے قانون کو ہاتھ میں لے کر کسی کی جان کو لینے سے دریغ نہیں کرتے۔ چنانچہ ملک اللہ یار خان بلوچ پر قاتلانہ حملہ اس بات پر بین ثبوت ہے کہ جو بھی سوشل بائیکاٹ کی خلاف ورزی کرتا ہے۔ اس کو اپنی جان سے ہاتھ دھونا پڑتا ہے۔

خلیفہ صاحب کا یہ دستور ہے کہ وہ اپنے ناقدین کے خلاف اپنے مریدوں کو ابھارتے اور ان کو موت کی دھمکی سے خوفزدہ کرتے ہیں۔ چنانچہ خلیفہ صاحب فرماتے ہیں۔

”اب زمانہ بدل گیا ہے۔ دیکھو پہلے جو مسیح آیا تھا۔ اسے دشمنوں نے صلیب پر چڑھایا۔ مگر اب مسیح اس لئے آیا کہ اپنے مخالفین کو موت کے گھاٹ اتارے۔“

(مورخہ ٦؍اگست ١٩٣٧ء الفضل)

اس طرح مولانا فخر الدین ملتانی (مالک احمدیہ کتاب گھر قادیان) شیخ عبدالرحمن مصری (ہیڈ ماسٹر مدرسہ احمدیہ) حکیم عبدالعزیز (دواخانہ رفیق زندگی) محمد صادق شبنم بی۔اے پریزیڈنٹ نیشنل لیگ (ورکر و محتسب جماعت احمدیہ) مرزا منیر احمد عبدالرب خان برہم (کلرک نظارت بیت المال) خلیفہ صاحب کے مشتبہ چال چلن سے الگ ہوئے تو انہوں نے ایک مجلس احمدیہ قائم کی۔ خلیفہ صاحب کی طرف سے مکمل سوشل بائیکاٹ کیا گیا۔ ہر ممبر کے گھر پہرے لگائے گئے۔ ضروریات زندگی سے محروم کرنے کی پوری پوری کوشش کی گئی۔ فخر الدین ملتانی کے تمام مکان کرایہ داروں سے خالی کروائے گئے۔ حتیٰ کہ شیر خوار بچے کا دودھ تک بند کیا گیا۔ خلیفہ قادیان نے فرمایا: ”کہ ہم ان سزاؤں سے بڑھ کر سزا اور ایذا دے سکتے ہیں جو بااختیار حکومت دے سکتی ہے۔“

(الفضل ١٩٣٧ء)

١٨

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٣٤٥

پھر فرماتے ہیں: ”ان دنوں ان کی زندگیوں کی ایک ایک گھڑی میرے احسان کے نیچے ہے۔“

(٢٩؍جولائی ١٩٣٧ء الفضل)

خلیفہ قادیان کا مریدوں کو ابھارنا اور اس کے نتائج

خلیفہ صاحب نے پھر ایک آخری خطبہ مورخہ ٦؍ اگست ١٩٣٧ء جمعہ کے دن دیا۔ جس میں مذکورہ بالا شخصیتوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اپنے مریدوں اور جانبازوں کو ابھارا گیا۔ اس کے دوسرے ہی دن پھر بروز ہفتہ مورخہ ٧؍ اگست تقریباً ساڑھے چار بجے عصر کے وقت مولانا فخر الدین ملتانی، حکیم عبدالعزیز و حافظ بشیر احمد (پسر شیخ عبدالرحمن) تینوں پولیس پوسٹ کی طرف جارہے تھے۔ پولیس پوسٹ سے کم و بیش سو گز کے فاصلہ پر ایک تیز دھار آلے سے حملہ کر دیا گیا۔ تیز دھار آلہ فخر الدین ملتانی کی پسلی کو چیرتا ہوا پھیپھڑے میں جا نکلا۔ بعدازاں حکیم عبدالعزیز کو بھی اسی تیز دھار آلہ سے منہ اور گالوں پر شدید ضربات آئیں۔ گورداسپور ہسپتال میں فخر الدین ملتانی مورخہ ١٣؍ اگست ١٩٣٧ء پانچ بجے وفات پاگئے۔ انا للہ وانا الیہ راجعون! آپ کی لاش قادیان میں لائی گئی۔ حکیم صاحب موصوف بدستور زیر علاج رہے۔

خلیفہ صاحب کا آخری خطبہ جو جمعہ مورخہ ١٦؍ اگست ١٩٣٧ء کو دیا گیا تھا۔ وہ اس قدر اشتعال انگیز تھا کہ ڈی۔سی گورداسپور نے حکماً روک دیا تھا۔ جو آج تک شائع نہیں ہوا۔ اپنے مخالفین کے خلاف اپنے مریدوں کو کس طرح ابھارتے ہیں۔ ان کے مزید اقتباس ملاحظہ ہوں:۔

”تم میں سے بعض تقریر کے لئے کھڑے ہوتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہم مرجائیں گے۔ مگر سلسلہ کی ہتک برداشت نہیں کریں گے۔ لیکن جب کوئی ان پر ہاتھ اٹھاتا ہے تو ادھر ادھر دیکھنے لگتے ہیں اور کہتے ہیں۔ بھائیو! کچھ روپے ہیں کہ جن سے مقدمہ لڑا جائے۔ کوئی وکیل ہے جو وکالت کرے۔ بھلا ایسے ...... نے بھی کسی قوم کو فائدہ پہنچایا ہے۔ بہادر وہ ہے جو اگر مارنے کا فیصلہ کرتا ہے تو مار کر پیچھے ہٹتا ہے اور پکڑا جاتا ہے تو دلیری سے سچ بولتا ہے۔ شریفانہ اور عقلمندانہ طریق دو ہی ہوتے ہیں۔“

(مورخہ ٥؍ جون ١٩٣٧ء

الفضل)

”اگر تم میں رائی کے دانہ کے برابر بھی حیا ہے اور تمہارا سچ مچ یہی عقیدہ ہے کہ دشمن کو سزا دینی چاہئے تو پھر یا تم دنیا سے مٹ جاؤ گے یا گالیاں دینے والوں کو مٹا دو۔ اگر کوئی انسان

١٩

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٣٤٦

سمجھتا ہے کہ اس میں مارنے کی طاقت ہے تو میں اسے کہوں گا اے بے شرم! تو آگے کیوں نہیں جاتا اور اس منہ کو کیوں نہیں توڑتا۔“

(مورخہ ٥/جون ١٩٣٧ء

الفضل)

”جسمانی ذرائع دعاؤں کے ساتھ وہ تمام تدابیر اور تمام ذرائع کو خواہ وہ روحانی ہوں...... استعمال کریں۔“

(مورخہ ٩/جولائی ١٩٣٧ء الفضل)

اسی پر بس نہیں...... پھر یوں فرماتے ہیں: ”تو احمدیوں کا خون اس کی (حکومت) گردن پر ہوگا۔..... ہم دنیا میں نابود ہونا...... منظور کرلیں گے...... احمدی جماعت زندہ جماعت ہے۔..... وہ ہر قربانی پیش کرے گی۔“

”مظلومیت (قانونی نقطہ ملاحظہ ہو) کے رنگ میں عمر قید چھوڑ پھانسی پر بھی لٹکایا جائے تو ہم اسے باعث عزت سمجھیں گے۔“

(مورخہ ١١/جولائی ١٩٣٧ء

الفضل)

اس کے بعد میں بعض ان امور کی طرف گورنمنٹ کو توجہ دلانا چاہتا ہوں۔ جو ریاستوں میں پائے جاتے ہیں۔ لیکن وہ ریاست ربوہ میں بدرجہا اتم موجود ہیں۔ تفصیل کے ساتھ ان امور کے بارے میں آئندہ علیحدہ روشنی ڈالی جائے گی۔

ربوہ کا نظام حکومت

اب میں خلیفہ صاحب کی تقاریر اور خطبات کے اقتباسات کی روشنی میں خلافتی حکومت کا تفصیلی خاکہ بیان کرتا ہوں۔

حاکم اعلیٰ

”ریاست میں حکومت اس نیابتی فرد کا نام ہے۔ جس کو لوگ اپنے مشترکہ حقوق کی نگرانی سپرد کرتے ہیں۔“

(مورخہ ١٥/اکتوبر ١٩٣٦ء الفضل)

خلیفہ صاحب کا یہ مذہب ہے کہ کوئی آدمی بھی خواہ وہ حق پر ہو خلیفہ وقت پر سچا اعتراض بھی نہیں کر سکتا۔ اگر وہ اعتراض کرے تو وہ دوزخی اور ناری ہے۔ آپ فرماتے ہیں: ”جس مقام پر ان کو کھڑا کیا جاتا ہے۔ اس کی عزت کی وجہ سے ان پر اعتراض کرنے والے ٹھوکر سے بچ نہیں سکتے۔“

(مورخہ ٨/جون ١٩٣٦ء الفضل)

٢٠

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٣٧٢

”وہ مجھ پر سچا اعتراض کرنے والا خدا کی لعنت سے نہیں بچ سکتا اور خدا تعالیٰ اسے تباہ و برباد کر دے گا۔“

(مورخہ ٢٩؍ مئی ١٩٢٨ء

الفضل)

مقننہ یعنی مجلس شوریٰ

مقننہ کو خلیفہ ربوہ کے نظام میں مجلس مشاورت کہا جاتا ہے۔ یہ بھی دیگر محکموں کی طرح کلیۃً خلیفہ کے ماتحت ہوتی ہے۔ اس مجلس کے فیصلہ جات اس وقت تک جاری نہیں ہوتے جب تک خلیفہ منظوری نہ دے دے اور وہ ”صدر انجمن احمدیہ“ کے لئے واجب التعمیل نہیں ہوتے۔ اس کے علاوہ اپنی ریاست کے ہر محکمہ پر خلیفہ صاحب خود نگرانی کرتے ہیں۔ اس ضمن میں ان کا قول ملاحظہ فرماویں۔

”تمام محکموں پر خلیفہ صاحب کی نگرانی ہے۔“

(مورخہ ١٥؍ نومبر ١٩٣٠ء

الفضل)

”اسے یہ حق ہے (یعنی خلیفہ کو) کہ جب چاہے جس امر میں چاہے مشورہ طلب کرے۔ لیکن اسے یہ بھی حق حاصل ہے کہ مشورہ لے کر رد کر دے۔“

(مورخہ ٢٤؍ اپریل ١٩٣٢ء الفضل)

خلیفہ کا مجلس شوریٰ پر کلی اختیار

مجلس مشاورت کے ممبروں کی کوئی تعداد مقرر نہیں۔ اس میں دو قسم کے نمائندہ ہوتے ہیں۔ ایک وہ نمائندے جن کو جماعتیں منتخب کرتی ہیں۔ لیکن ان کی منظوری بھی خلیفہ صاحب ہی دیتے ہیں۔ خلیفہ صاحب کو یہ پورا حق حاصل ہے کہ وہ جماعتوں کے چنے ہوئے نمائندے میں جن کو خلیفہ صاحب مجلس مشاورت کا ممبر بنا سکتا ہے اور کسی کو یہ حق حاصل نہیں کہ اس نمائندہ پر کوئی اعتراض کر سکے۔ مجلس مشاورت کے اجلاس میں کوئی شخص بھی خلیفہ کی اجازت کے بغیر تقریر نہیں کر سکتا اور نہ وہ بغیر منظوری حاصل کئے مجلس سے باہر جا سکتا ہے۔ اس ضمن میں خلیفہ قادیان کا ارشاد گرامی ملاحظہ ہو۔

”پارلیمنٹوں میں تو وزراء کو وہ جھاڑیں پڑتی ہیں۔ جن کی حد نہیں ...... یہاں تو میں روکنے والا ہوں ...... گالی گلوچ کو سپیکر روکتا ہے۔ سخت تنقید کو نہیں۔“

(مورخہ ٢٤؍ اپریل ١٩٣٨ء الفضل)

٢١

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٣٤٨

خلیفہ صاحب کو یہ کلی اختیار ہے کہ جماعتوں کے منتخب شدہ ممبروں کو جسے چاہیں، بولنے کا موقع دیں اور جسے چاہیں ان کے حق سے بالکل محروم کردیں۔ اس مجلس کا انعقاد سال میں ایک دفعہ ہوتا ہے۔ تمام آمدہ سال کی پالیسی کو زیر غور لایا جاتا ہے اور بجٹ کی منظوری کو خاص اہمیت حاصل ہے۔ بعض اوقات ایسا ہوتا ہے کہ بجٹ منظور کئے بغیر ہی خلیفہ صاحب یہ فرما دیا کرتے ہیں کہ میں خود ہی بجٹ پر غور کر کے منظوری دے دوں گا۔ ان امور سے یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ مجلس شوریٰ کو کوئی اختیار حاصل نہیں۔ یہ صرف دکھاوے کے لئے ڈھانچہ ہے۔

انتظامیہ

اس کے بعد میں خلیفہ قادیان کی انتظامیہ کے متعلق کچھ عرض کروں گا اور بہتر یہی ہے کہ خلیفہ قادیان کے حوالہ ہی من وعن نقل کر دیئے جائیں۔ جس میں انتظامیہ کی ضرورت، کیفیت اور ماہیت کا تفصیلی نقشہ موجود ہے۔

خلیفہ صاحب فرماتے ہیں: ”تیسری بات اس تنظیم کے لئے یہ ضروری ہوگی کہ اس کے مرکزی کام کو مختلف ڈیپارٹمنٹوں میں اس طرح تقسیم کیا جائے۔ جس طرح کہ گورنمنٹوں کے محکمے ہوتے ہیں۔ سیکرٹری شپ کا طریق نہ ہو۔ بلکہ وزراء کا طریق ہو۔ ہر ایک صیغہ کا ایک انچارج ہو۔“

(مورخہ ١٨؍جولائی ١٩٢٥ء الفضل)

اس انتظامیہ کو نظارت کہا جاتا ہے اور ہر وزیر کو ناظر اور ان کی نامزدگی خلیفہ صاحب کے اپنے ہاتھ میں ہے۔ خلیفہ صاحب فرماتے ہیں: ”ناظر ہمیشہ میں نامزد کرتا ہوں۔“

(مورخہ ٢٤؍اگست ١٩٣٧ء الفضل)

خلیفہ صاحب آخری سپریم کورٹ

یہ نظارت اپنے سارے کام خلیفہ کی نیابت میں سرانجام دیتی ہے۔ ہر فیصلہ کی اپیل خلیفہ صاحب سنتے ہیں اور انہیں کا آخری فیصلہ ہوتا ہے۔ یہ اپنے قواعد وضوابط خلیفہ کی منظوری کے بغیر تبدیل نہیں کر سکتے اور اس کے فیصلوں کی تمام ذمہ داری خلیفہ پر ہوتی ہے۔ کیونکہ وہ ”نظارت“ خلیفہ کی نمائندہ ہوتی ہے۔ خلیفہ صاحب خود ہی فرماتے ہیں: ”صدر انجمن جو کچھ کرتی ہے چونکہ وہ خلیفہ کے ماتحت ہے۔ اس لئے خلیفہ بھی اس کا ذمہ دار ہے۔“

(مورخہ ٢٣؍اپریل ١٩٣٨ء

٢٢

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٣٤٩

(الفضل) اس نظارت کو بھی خلیفہ کی برائے نام نمائندگی کا حق ہے۔ عملاً خلیفہ کی حیثیت ایک آمر مطلق کی ہے۔ خلیفہ صاحب خود ہی فرماتے ہیں۔ ”ناظر یعنی (وزرائ) بعض دفعہ چلاّ اٹھتے ہیں کہ ہمارے کام میں رکاوٹیں پیدا کی جارہی ہیں۔“

(مورخہ ٢٧؍ اپریل

١٩٣٨ء الفضل)

صدر انجمن احمدیہ

ہر صوبہ میں ایک انجمن ہوتی ہے۔ یہ انجمن اضلاعی انجمنوں پر مشتمل ہوتی ہے اور ہر ضلع کی انجمن تحصیلوں کی انجمنوں پر مشتمل ہوتی ہے۔ ان کی حد بندی صدر انجمن متعلقہ انجمنوں کے مشورہ کے بعد کرتی ہے۔

(مورخہ ٢؍ اگست ١٩٢٩ء الفضل)

اغراض

اس انجمن کے اغراض و مقاصد میں وہ سب کام شامل ہیں جو خلفاء سلسلہ کی طرف سے سپرد کئے جاتے ہیں۔ یا آئندہ کئے جاویں۔

اراکین

تمام صیغہ جات سلسلہ کے ناظر اور تمام اصحاب جنہیں خلیفہ وقت کی طرف سے صدر انجمن احمدیہ کا زائد ممبر مقرر کیا جائے۔ ناظر سے مراد سلسلہ کے ہر مرکزی صیغہ کا وہ افسر اعلیٰ ہے۔ جسے خلیفہ وقت نے ناظر کے نام سے مقرر کیا ہے۔

تقرر، علیحدگی ممبران صدر انجمن احمدیہ

خلیفہ وقت کے حکم ماتحت ممبران صدر انجمن احمدیہ یہ تقرر اور علیحدگی عمل میں آتی ہے۔

ربوہ سٹیٹ کا اجمالی نقشہ

اس وقت ربوہ میں صدر انجمن احمدیہ کی جو نظارتیں قائم ہیں۔ ان کا اجمالی خاکہ درج ذیل ہے۔

ناظر اعلیٰ سے مراد وہ ناظر ہے جس کے سپرد تمام محکمہ جات کے کاموں کی نگرانی ہو۔ وہ خلیفہ اور دیگر ناظروں کے درمیان واسطہ ہوتا ہے۔ عموماً ناظر اعلیٰ اس شخص کو خلیفہ صاحب مقرر

٢٣

صفحہ ٣٥٠

کرتے ہیں۔ جس میں ذاتی رائے کا مادہ مفقود ہو اور خلیفہ صاحب کے ہر جائز و ناجائز حکم پر سر تسلیم خم کرے۔ جو قابلیت اور علمیت کے لحاظ سے بہت ہی کم ہو۔

٢...... ناظر امور عامہ

(وزیر) داخلہ ان کے سپرد مقدمات فوج داری کی سماعت، سزاؤں کی تنفیذ، پولیس اور حکومت سے روابط قائم کرنے کا کام ہے۔

٣...... ناظر امور خارجہ

(وزیر خارجہ) کے ماتحت سیاسی گٹھ جوڑ کرنا اور اندرون ملک اور بیرون ملک کی کاروائیوں پر کڑی نگاہ رکھنا ہے۔

٤...... ناظر ضیافت

وزیر خوراک۔

٥...... ناظر تجارت

وزیر تجارت۔

٦...... ناظر حفاظت مرکز

وزیر دفاع (پولیس و فوج کا کنٹرول اور ربوہ) وقادیان انڈیا کی حفاظت کا بندوبست۔

٧...... ناظر صنعت

وزیر صنعت۔

٨...... ناظر تعلیم

وزیر تعلیم۔

٩...... ناظر اصلاح و ارشاد

وزیر پراپیگنڈہ و مواصلات۔

١٠...... ناظر بیت المال

وزیر مال۔

١١...... نظارت قانون

وزیر قانون۔

٢٤

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٣٥١

١٢...... ناظر زراعت

وزیر زراعت ۔

ہر فیصلہ پر خلیفہ کی منظوری

اختیارات وفرائض ناظران

ناظران کے اختیارات وفرائض خلیفہ صاحب کی طرف سے تفویض ہوتے ہیں اور ان کی تعداد بھی خلیفہ صاحب مقرر کرتے ہیں اور صدر انجمن احمدیہ کے تمام فرائض وہی ہیں جو خلیفہ صاحب کی طرف سے تفویض ہیں۔ جنہیں وہ خلیفہ صاحب کی قائم مقامی کے طور پر ادا کرتی ہے۔ بجٹ خلیفہ صاحب کی منظوری سے طے اور ان کی منظوری سے ہی جاری ہوتا ہے اور صدر انجمن احمدیہ کے تمام فیصلہ جات خلیفہ صاحب کے دستخطوں کے بغیر نافذ نہیں ہو سکتے اور قواعد اساسی اور ان کے متعلق نوٹوں میں تغیر و تبدل صرف خلیفہ صاحب کی منظوری سے ہو سکتا ہے اور خلیفہ صاحب کے تجویز کردہ قواعد وضوابط میں صدر انجمن احمدیہ تبدیلی نہیں کر سکتی۔ ”صدر انجمن احمدیہ“ کو یہ اختیار حاصل نہیں کہ وہ ایسا قاعدہ یا حکم جاری کرے۔ جو خلیفہ صاحب کے کسی حکم کے خلاف ہو یا خلیفہ کی مقرر کردہ پالیسی میں کوئی تبدیلی آتی ہو۔ ناظروں کی تقرری و برطرفی خلیفہ صاحب کے اختیار میں ہے۔ ”صدر انجمن احمدیہ“ کو سلسلہ کی جائیداد وغیر منقولہ کی فروخت ، ہبہ، رہن، تبدیل کرنے کا بغیر منظوری خلیفہ ربوہ اختیار نہیں اور خلیفہ ہی ناظر اعلیٰ کا قائم مقام مقرر کرتا ہے اور وہ تمام صیغوں کے کام کی ہفتہ واری رپورٹ خلیفہ صاحب کو پیش کرتا ہے۔ اسی طرح ناظر اعلیٰ کا فرض ہے کہ خلیفہ کی تحریری و تقریری ہدایات کے علاوہ ان کے تمام خطبات وتقاریر وغیرہ میں جو احکام صادر ہوں۔ ان کی تعمیل کروائے۔ اسی طریقے سے یہ خلیفہ صاحب کی طرف سے بیرونی جماعتوں کو یہ ہدایت ہے کہ جب کوئی ناظر کسی جماعت میں جائے تو یہ جماعت کا فرض ہے کہ اس کا استقبال کرے اور اس کا مناسب اعزاز کرے۔ مذکورہ بالا تمام کوائف وقواعد صدر انجمن احمدیہ طبع شدہ سے لئے گئے ہیں۔

تقرر قاضیاں اور فیصلہ جات کی نقول

عدلیہ

٢٥

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٣٥٢

انتظامیہ کے علاوہ ریاست ربوہ میں عدلیہ بھی قائم ہے۔ خلیفہ صاحب خود آخری عدالت ہیں۔ وہی ناظم قضا مقرر کرتے ہیں۔ جب چاہیں اس کو معزول کر سکتے ہیں قضاء کے جج خلیفہ صاحب مقرر کرتے ہیں۔

خلیفہ صاحب کا اپنا اعلان ملاحظہ ہو

”احباب کی اطلاع کے لئے اعلان کیا جاتا ہے کہ حضرت امیر المؤمنین ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے مولوی ظفر محمد کی جگہ مولوی ظہور حسن کو، شیخ عبدالرحمن مصری کی جگہ صوفی غلام محمد سابق مبلغ ماریشس کو اور مزید ابو اکبر علی کو ”مرکزی دارالقضاء“ کا قاضی مقرر فرمایا ہے۔“

(مورخہ ٤؍جون ١٩٣٧ء الفضل)

جب چاہیں مقدمہ کی مسل اپنے ملاحظہ کے لئے طلب کر سکتے ہیں۔ جس قاضی کو چاہیں مقدمہ سننے کا نااہل قرار دے کر برطرف کر سکتے ہیں۔ مقدمات میں جو وکیل پیش ہوتے ہیں۔ انہیں ناظم قضا باقاعدہ اجازت نامہ دیتا ہے۔ اس کے بغیر وہ قاضیوں کے سامنے مقدمہ کی وکالت کے لئے پیش نہیں ہو سکتے۔ فیصلوں کی نقول دی جاتی ہیں اور نقول کی اجرت لی جاتی ہے۔ جس کی آمدنی بیت المال میں جمع کی جاتی ہے۔ ناظم قضا کا ایک خط بغرض حصول نقول مقدمہ ملاحظہ ہو۔

مکرمی بابو عبدالرزاق ٹیلیفون آپریٹر

السلام علیکم! آپ کو اطلاع دی جاتی ہے کہ: ”مقدمہ مقبول بیگم صاحبہ بنام بابو عبدالرزاق صاحب ٹیلیفون آپریٹر“ کا فیصلہ ہو چکا ہے۔ آپ نقل فیصلہ منگوا لیں۔ نقول کے لئے موازی آٹھ آنے کے ٹکٹ ارسال کریں۔

(دستخط) ناظم قضا سلسلہ

احمدیہ قادیان

نوٹس اور ڈگریوں کا اجراء

نوٹس بھی دیتا ہے۔ ڈگریوں کا اجراء بھی باقاعدہ کیا جاتا ہے۔ ہاں یہ بات یاد رکھنے کے قابل ہے کہ خلیفہ صاحب اور خلیفہ صاحب کا خاندان قضا کے تمام فیصلوں سے بالاتر ہے۔ قضا کو یہ حق حاصل نہیں کہ ان کے خلاف کوئی ڈگری دے کر اس کا اجراء بھی کروا سکیں۔ اگر کوئی بدنصیب احمدی قضا میں اس ”شاہی خاندان“ کے خلاف مقدمہ دائر بھی کر دے تو مدعی کے تمام ثبوت بدرجہ اتم واکمل باہم پہنچانے کے باوجود قاضی کو یہ جرأت نہیں کہ ان کے خلاف کسی قسم کا فیصلہ کر سکے۔ اگر فیصلہ کر بھی دے۔ تو قضا کا قانون فیصلہ کے اجراء کے لئے بے بس ہو جاتا ہے اور قاضی کو مدعی کے دل کو تشفی دینے کے لئے یہ کہنا پڑتا ہے کہ صاحبزادگان کی مالی حالت بہت

٢٦

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٣٥٣

خراب ہے۔ اگر آپ پسند کریں تو یہ فیصلہ غیر معین عرصہ کے لئے التوا میں رکھ دیا جاوے۔ اگر مدعی زیادہ اصرار کرے تو قاضی صاحب یہ فیصلہ صادر فرمادیتے ہیں کہ مدعا علیہ ”صاحبزادہ کی مالی حالت دگر گوں ہے۔ اس وجہ سے وہ ایک روپیہ ماہوار مدعی کو دیں گے۔ خواہ وہ مدعی نے ہزاروں روپیہ لینے ہوں۔“

سمن جاری کرنا زیر آرڈر نمبر ٦٢

ریاست ربوہ کے ناظم قضاء سمن جاری کرنے کا مجاز ہے اور جو سمن جاری کئے جاتے ہیں اور غیر حاضری کی صورت میں زیر آرڈر نمبر ٦٢ یک طرفہ سماعت کی جاسکتی ہے۔ حسب ذیل سمن جاری کردہ ملاحظہ ہو۔

بسم اللہ الرحمن الرحیم ! نحمدہ ونصلی علی رسولہ الکریم ٭ وعلی عبدہ المسیح الموعود ! از دفتر ناظم دارالقضاء سلسلہ عالیہ احمدیہ مکرمی السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ،

نقل عرضی دعوای منجانب ...... دعوای بابت ...... آپ کو برائے جواب ......... بذریعہ رجسٹری، رجسٹر ڈاک ارسال ہے۔ آپ اس دعویٰ کا جواب دفتر ہذا میں ...... تک ارسال کریں۔ مقررہ تاریخ تک آپ کی طرف سے تحریری جواب موصول ......... ضروری امر ہے اور ٢٩۔٨۔١٦ بوقت دس بجے صبح ربوہ براستہ چنیوٹ، جھنگ تشریف لاویں۔ غیر حاضری کی صورت میں زیر آرڈر نمبر ٦٢ یک طرفہ کاروائی کی جاسکتی ہے۔ ناظم دارالقضاء ٣٩۔٦۔٢٣، دستخط ناظم دارالقضاء سلسلہ عالیہ احمدیہ

محکمہ عدلیہ یک طرفہ اور ضابطہ کی کاروائیاں کرنے کا مجاز ہے۔ مثال ملاحظہ ہو: نوٹس بنام شیخ منظور احمد مدعی مستری بدرالدین معمار ساکن قادیان بنام شیخ منظور احمد ولد شیخ محمد حسین مرحوم ۔ دعویٰ اجرا ڈگری مبلغ پینسٹھ روپے دو آنے مقدمہ مندرجہ عنوان میں لوکل قضا نے ٤؍اگست ١٩٣٣ء کو آپ کے برخلاف یک طرف ڈگری پینسٹھ روپے دو آنے کی دی ہے۔ ...... نے امور عامہ میں اجرائے ڈگری کی درخواست ١٤؍اگست ١٩٣٣ء کو دی ۔ لہٰذا آپ کو بذریعہ اخبار نوٹس دیا جاتا ہے کہ مندرجہ بالا ١٢؍دسمبر ١٩٣٣ء تک دفتر امور عامہ میں جمع کرا دیں تو بہتر ورنہ آپ کے خلاف ضابطہ کاروائی عمل میں لائی جاوے گی۔

(١٩؍دسمبر ١٩٣٣ء الفضل)

٢٧

صفحہ ٣٥٤

اب مزید سمن کے بارہ میں سنئے ۔ ”ملک عبدالحمید ولد غلام حسین محلہ دارالرحمت قادیان‘‘ کے خلاف چند مقدمات برائے ڈگری دائر ہیں۔ کئی دفعہ ان کے نام علیحدہ علیحدہ مقدمات میں سمن جاری کئے گئے ہیں۔ مگر وہ تعمیل سے پہلو تہی کرتے ہیں۔ چنانچہ یکم دسمبر ١٩٣٣ء کو ایک سمن اگلے روز کی حاضری کے لئے جاری کیا گیا۔ اس پر ملک عبدالحمید نے عذر کیا کہ میں ١٥ یوم کے لئے باہر جا رہا ہوں ۔ لہٰذا مجبور ہوں ۔ اس پر اسی وقت ان کو اطلاع بھیجی گئی کہ آپ کو اس سمن کی اطلاع یابی کے بعد باہر جانے کی اجازت نہیں ۔ بلکہ اس سمن کی تعمیل واجب ہے۔ اگر واقعی آپ کو کوئی اتنا اشد ضروری کام ہے جو رک نہیں سکتا تو آپ کو لازم ہے کہ درخواست پیش کر کے عدم حاضری کی اجازت حاصل کریں ..... لہٰذا ان کو بذریعہ اخبار اطلاع دی جاتی ہے کہ اگر وہ اس اعلان کی تاریخ سے دس روز کے اندر اندر دفتر امور عامہ میں حاضر نہ ہوئے تو سخت نوٹس لیا جائے گا۔ (ناظر امور عامہ)

(مورخہ ٩؍ دسمبر

١٩٣٣ء الفضل)

خلیفہ ربوہ کی فوجی تنظیم

خلیفہ صاحب نے اپنی ریاست کے دفاع کے کام کو تکمیل دینے کے لئے فوجی نظام کو بھی نظر انداز نہیں کیا۔ ایک جھوٹی رؤیا کا سہارا لے کر جماعت کو یہ حکم دیا کہ: ”ٹیری ٹوریل فورس (Terri Torial Force) میں احمدیوں کو بھرتی ہونا چاہئے اور مجھے اللہ تعالیٰ نے یہ بتایا ہے کہ یہ کام ”فوجی نظام‘‘ آئندہ جماعت کے لئے بہت برکتوں کا موجب ہوگا۔‘‘

(الفضل مورخہ ٦؍ اکتوبر ١٩٣٩ء)

جماعت کے نوجوان طبقہ کو بار بار یہ تحریک کی جاتی ہے۔ ”احمدی نوجوانوں کو چاہئے کہ ان سے جو بھی شہری ٹیری ٹوریل فورس میں شامل ہو سکتے ہیں۔ شامل ہو کر فوجی تربیت حاصل کریں۔‘‘

(الفضل مورخہ ٨؍ مارچ

١٩٣٩ء)

اس کے بعد اپنی مستقل فوجی تنظیم ضروری قرار دی گئی۔ ”جیسا کہ پہلے ہی اعلان کیا جاچکا ہے۔ یکم ستمبر ١٩٣٤ء سے قادیان میں فوجی سکھلائی کے لئے ایک کلاس کھولی جائے گی۔ جس میں بیرونی جماعتوں کے جوانوں کی شمولیت نہایت ضروری ہے۔ ہندوستان میں حالات جس سرعت کے ساتھ تغییر پذیر ہورہے ہیں۔ ان کا تقاضا ہے کہ مسلمان جلد سے جلد اپنی فوجی تنظیم کی طرف متوجہ ہوں اور خاص کر جماعت احمدیہ ایک لمحہ کے لئے بھی اس میں توقف نہ کرے اور یہ

٢٨

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٣٥٥

اسی طرح ممکن ہے کہ ہر مقام کے نوجوان پہلے خود فوجی سکھلائی کریں اور پھر اپنے اپنے مقام پر دوسرے نوجوانوں کو سکھلائیں اور ان کی ایسی تنظیم کریں کہ ضرورت کے وقت مفید ثابت ہو سکیں ۔“

(الفضل مورخہ ٧؍ اگست

١٩٣٢ء)

”صدر انجمن نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ انجمن کے تمام کارکن والنٹیئر کور کے ممبر ہوں گے اور مہینہ میں کم سے کم ایک دن اپنے فرائض منصبی کور کی وردی میں ادا کریں گے ۔ نیز بیرونی جماعتوں کے امراء پریذیڈنٹ بحیثیت عہدہ مقامی کور کے افسر اعلیٰ ہوں گے ۔ ہر مقام کی احمدی جماعتوں کو اپنے ہاں کور کی بھی بھرتی لازمی ہو گی ۔“ جہاں کور کے ایک سے تین دستے ہوں گے ۔ جن میں سے ہر ایک سات آدمیوں پر مشتمل ہو گا ۔ وہاں ہر دستہ کا ایک افسر دستہ مقرر ہو گا اور جہاں چار دستے ہوں گے وہاں ایک پلٹون سمجھی جائے گی۔ جس پر ایک افسر دستہ کے علاوہ ایک افسر پلٹون بھی ہوگا اور ایک نائب افسر پلٹون مقرر کیا جائے گا ۔ جہاں چار پلٹونیں ہوں گی۔ وہاں ہر پلٹون کے مذکورہ بالا افسروں کے علاوہ ایک افسر کمپنی اور ایک نائب افسر کمپنی بنادیا جائے گا ۔ حضرت امیر المؤمنین نے احمدیہ کور کو اپنی سرپرستی کے فخر سے بھی سرفراز کرنا بھی منظور فرما لیا ہے۔“

(الفضل مورخہ ٧؍ اگست

١٩٣٢ء)

”حضور کا منشاء وارشاد اس تحریک کو نہایت باقاعدگی اور عمدگی کے ساتھ چلانے کا تھا۔“

(الفضل یکم ستمبر ١٩٣٢ء)

”یکم ستمبر صبح سات بجے تعلیم الاسلام ہائی سکول کی گراؤنڈ میں احمدیہ کور ٹریننگ کلاس کا آغاز زیر نگرانی حضرت صاحب زادہ کیپٹن مرزا شریف احمد صاحب ہوا ۔“ (الفضل ٤ ستمبر

١٩٣٢ء)

یہ فوج علاوہ دوسرے کاموں کے اپنے سربراہ کی سلامی بھی اتارا کرتی تھی ۔ چنانچہ ایک دفعہ مرزا شریف احمد ناظم احمدیہ کور کو بذریعہ تار خبر موصول ہوئی کہ خلیفہ کا یکم اکتوبر ١٩٣٢ء صبح ١٠ بجے یا تین بجے بعد دوپہر تشریف فرما دارالامان ہوں گے ۔ احمدیہ کور کارکنان صدر انجمن احمدیہ اور بہت سے دیگر افراد حسب الحکم حضرت میاں شریف احمد کور کی وردی میں ملبوس ہو کر ہائی سکول کے گراؤنڈ میں جمع ہو گئے ۔ جہاں سے مارچ کرا کر بٹالہ والی سڑک پر کھڑے کر دیئے گئے ۔ خلیفہ

٢٩

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٣٥٦

صاحب تشریف لائے۔ فوج نے فوجی طریقہ پر سلامی اتاری۔ ”حضور نے ہاتھ کے اشارے سے فوجی سلام کا جواب دیا۔“

(الفضل مورخہ ١٧؍ستمبر ١٩٣٣ء)

”اس فوج کا اپنا خاص پرچم تھا۔ جو سبز رنگ کے کپڑے کا تھا۔ اس پر منارۃ المسیح بنا کر ایک طرف اللہ اکبر، دوسری طرف عباداللہ لکھا ہوا تھا۔ جو اس فوج کا اصلی نام تھا۔ یہی وہ فوج ہے جو کیمپنگ (Camping) کے لئے دریائے بیاس کے کنارے بھیجی گئی تھی۔“

(الفضل قادیان مورخہ ١٤؍ستمبر ١٩٣٣ء)

خلیفہ صاحب کی خاص محفل

دریائے بیاس کے کنارے ذکر آنے کے ساتھ ہی خلیفہ قادیان کی وہ تمام رنگینی محفلوں کی یاد دل میں چٹکیاں لینا شروع کر دیتی ہیں۔ جہاں نامحرم لڑکیوں کے جھرمٹ میں خلیفہ قادیان عیش و طرب کی آغوش میں جھولے جھولا کرتے تھے۔ اگر دریائے بیاس کے کنارے پر خلیفہ قادیان کی ایک منٹ کی خاص محفل کی ظلمت و تاریکی کو تیرہ سو صدی کے نور پر پھیلایا جائے تو تمام نور کافور ہو جائے گا۔

جبری بھرتی

خلیفہ قادیان نے اس فوج کے لئے جبری بھرتی کا اصول اختیار کیا تھا۔ ”میں ایک دفعہ امور عامہ کو توجہ دلاتا ہوں ...... کہ میرا فیصلہ یہ ہے کہ پندرہ سال کی عمر سے لے کر پینتیس سال کی عمر تک کے تمام نوجوانوں کو اس میں جبری طور پر بھرتی کیا جاوے۔“

(الفضل قادیان مورخہ ٥؍اکتوبر ١٩٣٣ء)

کمانڈر انچیف اور وزارت

”یہی وہ فوج ہے جس کے نوجوانوں نے سر ڈگلس ینگ کو جو اس وقت پنجاب ہائی کورٹ کے چیف جسٹس تھے۔ قادیان میں با وردی والنٹیرز کور نے سلامی دی تھی۔“

(الفضل مورخہ ١٦؍اپریل ١٩٣٩ء)

اور اسی طرح لاہور جا کر ”پنڈت جواہر لال نہرو“ کو بھی سلامی دی گئی۔ شروع میں ناظر صاحب امور عامہ اس فوج کے کمانڈر انچیف تھے۔ لیکن جلد ہی خلیفہ قادیان نے ان کو برطرف کرتے ہوئے یہ کہا: ”کمانڈر انچیف اور وزارت کا عہدہ کبھی بھی اکٹھا نہیں ہوا۔“

٣٠

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٣٥٧

(الفضل قادیان مورخہ ٥؍اپریل ١٩٣٣ء)

خلیفہ قادیان کو اپنی اس فوجی تنظیم پر اتنا ناز اور فخر تھا کہ ایک دفعہ ”الفضل“ نے یہ لکھا کہ: ”حضور نے احمدیہ کور کی جو سکیم آج سے تقریباً پانچ سال پہلے تجویز فرمائی تھی۔ اس کی اہمیت اور افادیت کا اندازہ اس سے ہوسکتا ہے کہ عام اقوام تو الگ رہیں۔ اس وقت بعض بڑی بڑی حکومتیں بھی اپنی قوت مدافعت میں اضافہ کرنے کے لئے بعض ایسے احکام نافذ کر رہی ہیں کہ جو اس تحریک کے اجزاء ہیں۔“

(الفضل مورخہ ١٢؍اگست

١٩٣٩ء)

مطلق العنان بادشاہ کا ہلالی پرچم

اگر خلیفہ صاحب کا مطمح نظر اور مدعا محض اشاعت اسلام تھا تو اس مقدس و مطہر مقصد کے لئے اشاعتی ادارے قائم ہوتے نہ کہ عسکری تربیت پر روپیہ خرچ کیا جاتا۔ حقیقت یہ ہے کہ خلیفہ صاحب کے ذہن میں مطلق العنان بادشاہ کی آرزوئیں انگڑائیاں لے رہی تھیں۔ اشاعت اسلام کا نعرہ محض ایک فریب اور دھوکہ تھا۔ یہ تو صرف عوام کالانعام سے روپیہ وصول کرنے کا طریق تھا۔ اسلام کے مقدس اور پیارے نام پر حاصل کیا ہوا روپیہ آتش ہوس کو بجھانے کے لئے صرف کیا جاتا ہے۔ یہ عسکری نظام خلیفہ صاحب کے سیاسی عزائم کی ہی عکاسی نہیں کرتا۔ بلکہ ان کی نیت اور ناپاک ارادوں کو بھی طشت از بام کرتا ہے۔ اپنے فوجی مقاصد کے حصول کے لئے ”خدام الاحمدیہ“ کی بنیاد رکھی۔ اس کا باقاعدہ ایک ہلالی پرچم بنایا گیا۔ اس کے متعلق خلیفہ صاحب فرماتے ہیں: ”خدام احمدیہ میں داخل ہونا اور اس کے مقررہ قواعد کے ماتحت کام کرنا ایک اسلامی فوج تیار کرنا ہے۔“

(الفضل قادیان مورخہ ١٧؍اپریل

١٩٣٩ء)

یہ تنظیم مع پرچم اب بھی موجود ہے۔ پھر خلیفہ صاحب فرماتے ہیں: ”میں نے انہی مقاصد کے لئے جو خدام الاحمدیہ کے ہیں۔ نیشنل لیگ کو تیار کرنے کی اجازت دی تھی۔ پھر جس قدر احمدی برادران کسی فوج میں ملازم ہیں۔ خواہ وہ کسی حیثیت سے ہوں۔ ان کی فہرستیں تیار کروائی جائیں۔“

(الفضل قادیان مورخہ ١٠؍اپریل ١٩٣٨ء)

اسی طرح جماعت کو یہ حکم دیا کہ جو احباب بندوق کا لائسنس حاصل کر سکتے ہیں وہ لائسنس حاصل کریں اور جہاں جہاں تلوار رکھنے کی اجازت ہے وہ تلوار رکھیں۔

٣١

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٣٥٨

(الفضل قادیان مورخہ ٢٢؍ جولائی ١٩٣٠ء)

انڈین یونین اور ہمارا مرکز

وہ اشاعت اسلام کی دعویدار جماعت جس نے قادیان میں بھی احمدیہ کور کی بنیاد ڈالی۔ جس کا ممبر پندرہ سال سے چالیس سال تک کا ہر احمدی ممبر تھا۔ ٹری ٹوریل فورس میں انگریزی حکومت کی طرف سے فوجی تربیت سیکھے۔ پھر ١٥ / ٨ پنجاب رجمنٹ میں خالص احمدی کمپنی کا ہونا۔ یہ اس بات کا بیّن ثبوت ہے کہ خلیفہ قادیان کے عقل و قلوب میں بادشاہت کی آرزوئیں لہریں مار رہی تھیں۔ پھر تقسیم ملک کے بعد سیالکوٹ، جموں سرحد پر انہیں احمدیہ کمپنی کے ریلیز شدہ سپاہی منظم طور پر خلیفہ قادیان کے حکم کے مطابق پہنچ گئے۔ ان کو دھڑا دھڑ اسلحہ میسر ہونے لگا۔ پھر فرقان فورس جو خالص احمدیوں کی فوج تھی۔ کشمیر میں کھڑی کر دی گئی اور خلیفہ قادیان نے از خود محاذ جنگ پر جا کر اس فوجی تنظیم کا جائزہ لیا اور سلامی لی۔ اس فوج کو استعمال کرنے کے لئے خلیفہ قادیان فرماتے ہیں: ’’انڈین یونین کا مقابلہ کوئی آسان بات نہیں۔ مگر انڈین یونین چاہے صلح سے ہمارا مرکز ہمیں دے چاہے جنگ سے دے۔ ہم نے وہ مقام لینا ہے اور ضرور لینا ہے۔ اگر جنگ کے ساتھ ہمارے مرکز کی واپسی مقدر ہے تب بھی ضروری ہے کہ آج ہی سے ہر احمدی اپنی جان قربان کرنے کے لئے تیار رہے۔‘‘

(الفضل قادیان مورخہ ٣٠؍ اپریل ١٩٤٨ء)

تقسیم ہند کے بعد دوبارہ اکھڑی ہوئی فوجی تنظیم فرقان فورس کی شکل میں جمع ہو گئی تو خلیفہ صاحب کو یہ خیال پیدا ہوا کہ ایک مرکز ہونا چاہئے۔ جہاں اپنے نوجوانوں کو مزید فوجی تربیت دی جاسکے۔ اس کے ساتھ ہی اپنی بے اعتدالیوں، عفونتوں، گندگیوں، ناپاکیوں اور برائیوں پر پردہ ڈالا جاسکے۔ خلیفہ صاحب نے اپنے ایک خطبہ میں فرمایا۔

’’یاد رکھو تبلیغ اس وقت تک کامیاب نہیں ہو سکتی۔ جب تک ہماری بیس (Base) مضبوط نہ ہو۔ پہلے (Base) مضبوط ہو تو تبلیغ مضبوط ہو سکتی ہے۔...... بلوچستان کو احمدی بنایا جائے تاکہ ہم کم از کم ایک صوبہ تو اپنا کہہ سکیں۔ میں جانتا ہوں کہ اب یہ صوبہ ہمارے ہاتھوں میں سے نکل نہیں سکتا۔ یہ ہمارا ہی شکار ہوگا۔ دنیا کی ساری قومیں مل کر بھی ہم سے یہ علاقہ چھین نہیں سکتیں۔‘‘

(الفضل قادیان مورخہ ١٣؍ اگست ١٩٤٨ء)

٣٢

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٣٥٩

ڈائنامیٹ سے مخالفت کا قلعہ اڑا دو

یہ واقعہ اخبارات میں آچکا ہے۔ یہ بات یاد رکھنی چاہئے۔ خلیفہ قادیان کی فوجی نظام کی تجویز بہت پرانی ہے۔ ان کی ہمیشہ سے یہ خواہش چلی آرہی ہے کہ ایک خاص علاقہ احمدیوں سے معمور ہو۔ تاکہ خلیفہ قادیان کا حکم آسانی سے چل سکے۔ تقسیم ہند سے پہلے آپ کی نظر ضلع گورداسپور پر تھی۔ خلیفہ قادیان فرماتے ہیں: ”گورداسپور کے متعلق میں نے غور کیا ہے۔ اگر ہم پورے زور سے کام کریں تو ایک سال میں ہی فتح کر سکتے ہیں۔...... اس وقت ڈائنامیٹ رکھا جا چکا ہے اور قریب ہے کہ مخالفت کا قلعہ اڑا دیا جائے۔ اب صرف دیا سلائی دکھانے کی دیر ہے۔ جب دیا سلائی دکھائی گئی قلعہ کی دیوار پھٹ جائے گی اور ہم داخل ہو جائیں گے۔“

(الفضل قادیان مورخہ ١٢؍مارچ ١٩٣١ء)

اور پھر ارشاد فرماتے ہیں: ”مردم شماری کے دنوں میں گورنمنٹ بھی جبراً لوگوں کو اس کام پر لگا سکتی ہے۔ اگر کوئی انکار کرے تو سزا کا مستوجب ہوتا ہے۔ پس میں بھی ناظروں کو حکم دیتا ہوں کہ جسے چاہیں مدد کے لئے پکڑ لیں۔ مگر کسی کو انکار کا حق نہ ہوگا اور اگر کوئی انکار کرے تو میرے پاس اس کی رپورٹ کریں۔“

(الفضل قادیان مورخہ ١٢؍جون

١٩٢٢ء)

انہی مقاصد کے پیش نظر قادیان اور ماحول قادیان کا نقشہ بھی تیار کروایا گیا۔ ”ایک تو جماعت کو اس طرف توجہ دلاتا ہوں کہ اور نہیں تو اس ضلع (گورداسپور) کو تو اپنا ہم خیال بنالیں۔ احمدیوں کے پاس کوئی ایسی جگہ نہیں جہاں وہی ہوں اور دوسروں کا کچھ اثر نہ ہو...... احمدیوں کے پاس ایک چھوٹے سے چھوٹا ٹکڑہ بھی نہیں ہے۔ جہاں احمدی ہی احمدی ہوں۔ کم از کم ایک علاقہ کو مرکز بنالو اور جب تک اپنا مرکز نہ ہو۔ جس میں کوئی غیر نہ ہو۔ اس وقت تک تم مطلب کے مطابق امور جاری نہیں کر سکتے۔ ایسا علاقہ اس وقت تک ہمیں نصیب نہیں ہوا...... جو خواہ چھوٹے سے چھوٹا ہو مگر اس میں غیر نہ ہوں۔ جب تک یہ نہ ہو اس وقت تک ہمارا کام بہت مشکل ہے۔“

(الفضل قادیان مورخہ ١٢؍جون

١٩٢٢ء)

چناب کے اس پار آہنی پردہ

یہ وہ سیاسی عزم ہے کہ جو خلیفہ قادیان کے عقل و قلوب پر بری طرح مسلط ہے۔ کیا

٣٣ www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٣٦٠

دینی جماعتوں کو اشاعت اسلام کے لئے ایسے علاقے مطلوب ہیں جو کلیتہ ان کی ہی ملکیت ہوں اور وہاں اور کوئی نہ بستا ہو۔ کیا سید الکونین سردار دو جہاں حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ نے کسی ایسے صدر مقام کی تلاش کی تھی۔ جس میں کوئی غیر نہ ہو۔ جہاں سے وہ تبلیغ اسلام کا کام جاری رکھ سکیں۔ بس ان کی یہ دیرینہ آرزو ربوہ میں پوری ہو گئی۔ یہ وہ ریاست ہے جو اپنی پوری شان و شوکت کے ساتھ چناب کے کنارے پر قائم ہو چکی ہے۔ وہاں سوائے محمودیوں کے اور کوئی آباد نہیں۔ پاکستان میں صرف ایک ہی حصہ ہے جس میں ایک ہی فرقہ کے لوگ بستے ہیں۔ یہ وہ آہنی پردہ ہے جہاں ملک کا قانون بے بس اور درماندہ ہے۔ اگر وہاں دن دھاڑے قتل بھی کر دیا جائے تو پولیس قاتلوں کے سراغ لگانے میں ناکام ہو جاتی ہے۔

مسلم لیگی ورکرز

چنانچہ ایک دو سال ہوئے کہ دو مسلمانوں کو سحری کے وقت پکڑ کر اتنا زدوکوب کیا گیا کہ ان میں سے ایک مشہور مسلم لیگی ورکرز مولوی غلام رسول لائل پور کا لڑکا جاں بحق ہو گیا۔ لیکن واقعہ یوں بتایا گیا۔ یہ لوگ مقابلہ کرتے ہوئے مارے گئے۔

ربوہ کی خانہ ساز پولیس

اسی طریقے سے نعمت اللہ خان ولد محمد عبداللہ خان صاحب جلد ساز کو جب کہ دو اڑھائی بجے رات کی گاڑی سے اترا تو ربوہ کی خانہ ساز پولیس نے اتنا مارا کہ اس غریب بیچارے کی پنڈلیاں توڑ دی گئیں اور تمام زندگی کے لئے ناکارہ کر دیا اور بعد ازاں مقامی پولیس میں پرچہ چوری کا دے دیا۔

حبس بے جا

اس کے بعد ”چوہدری صدرالدین آف گجرات“ کے ساتھ ایک المناک واقعہ گزرا۔ چوہدری صاحب موصوف کی شہادت کے مطابق ان کو عبدالعزیز بھامڑی بمع اپنی خانہ ساز پولیس کے دفتر بہشتی مقبرہ میں لے گئے۔ وہاں ان کی چھاتی پر پستول رکھ کر بعض تحریریں لکھوائیں۔ یہ کیس تادم تحریر پولیس جھنگ زیر تفتیش ہے۔

اللہ یار بلوچ

ان اندوہناک واقعات سے ملک اللہ یار بلوچ کا واقعہ کوئی کم المناک اور تکلیف دہ

٣٤

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٣٦١

نہیں ۔ جب کہ ملک صاحب موصوف کو اس شک و شبہ کی بنا پر پکڑ لیا گیا کہ وہ خلیفہ صاحب ربوہ کے واضح اور غیر مبہم حکم کے مطابق سوشل بائیکاٹ کی خلاف ورزی کرتے ہوئے مولوی عبد المنان صاحب عمر ۔ ایم ۔ اے خلف حضرت مولوی نور الدین صاحب خلیفہ اوّل کے گھر اشیاء خوردنی پہنچاتا ہے۔ ان کو اس قدر زد و کوب کیا گیا کہ ابتدائی ڈاکٹری رپورٹ کے مطابق پسلیاں ٹوٹی ہوئی ثابت ہوئیں ۔ ان کا کیس بھی عدالت میں پیش ہے۔

ربوہ کو کھلا شہر قرار دیا جائے

سب سے اہم بات یہ ہے کہ اللہ یار بلوچ کو دن دھاڑے مارا گیا ۔ لیکن ”الفضل“ میں حلفیہ شہادتیں درج ہوئیں کہ یہاں کوئی واقعہ رونما ہی نہیں ہوا۔ یہی وہ بات ہے جس کی طرف ملک کے اخبارات اور جرائد حکومت کو متواتر آگاہ کر رہے ہیں کہ ربوہ ایک ایسی بستی ہے اگر وہاں سورج کی روشنی میں کوئی آدمی قتل بھی کر دیا جائے تو شہادتیں میسر ہونی ناممکن ہیں ۔ اس وجہ سے پریس ایک عرصہ سے یہ مطالبہ کر رہا ہے کہ ربوہ کو کھلا شہر قرار دیا جائے ۔ یعنی اس میں دوسرے کو ایک عمرانی منصوبے کے ماتحت بسائے جائیں ۔ لیکن ابھی تک یہ مطالبہ صدائے بہ صحراء ثابت ہو رہا ہے۔

ربوہ کا سٹیٹ بینک

ربوہ میں ایک غیر منظور شدہ بینک خلیفہ قادیان کی زیر نگرانی چل رہا ہے۔ جسے امانت فنڈ کے نام سے موسوم کیا جاتا ہے۔ اس صیغہ کی طرف سے باقاعدہ، چیک بک اور پاس بک جاری کی جاتی ہے ۔ جن کا ڈیزائن منظور شدہ بینکوں کی چیک بکوں اور پاس بکوں سے ملتا جلتا ہے۔ ان کو دیکھ کر کوئی شخص یہ گمان نہیں کر سکتا کہ آیا یہ چیک بک یا پاس بک کسی منظور شدہ بینک کی ہے یا کسی جعلی غیر منظور شدہ بینک کی ۔ اس بینک کے متعلق بعض اعلانات ملاحظہ ہوں۔

”چالیس سال سے قائم شدہ صیغہ امانت صدر انجمن احمدیہ اس صیغہ کو حضرت امیر المؤمنین خلیفۃ المسیح ایدہ اللہ کی بابرکت سر پرستی کے علاوہ بفضلہ تعالیٰ اس وقت مشہور انگلش بینک سے تربیت یافتہ ٹرینڈ اور مخلص نوجوانوں کی خدمات حاصل ہیں ۔ آپ کا یہ قومی امانت فنڈ اس وقت خدا کے فضل و رحم سے ملکی بینکوں کے دوش بدوش اپنے حساب داران امانت کی خدمت پورے اخلاص اور محنت سے سرانجام دے رہا ہے۔ تقسیم ملک کے بعد اس صیغہ نے جو شاندار خدمات سر انجام دی ہیں۔ وہ بھی آپ سے پوشیدہ نہیں۔ اس لئے اب آپ کو اپنا فالتو روپیہ ہمیشہ

٣٥

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٣٦٢

صیغہ امانت صدر انجمن احمدیہ میں ہی جمع کروانا چاہئے۔“

(الفضل مورخہ ١٩/ مارچ

١٩٥٧ء)

”کیا آپ کو علم ہے کہ صدر انجمن احمدیہ پاکستان کے خزانہ میں احباب اپنی امانت ذاتی کا حساب کھول سکتے ہیں اور جو روپیہ اس طرح پر جمع ہو وہ حسب ضرورت جس وقت بھی حساب دار چاہے واپس لے سکتا ہے۔ جو روپیہ احباب کے پاس بیاہ، شادی، تعمیر مکان، بچوں کی تعلیم یا کسی اور ایسی ہی غرض کے لئے جمع ہو اس کو بجائے ڈاک خانہ یا دوسرے بینکوں میں رکھنے کے خزانہ صدر انجمن احمدیہ میں جمع کرانا چاہئے۔“

(الفضل مورخہ ١٠/ فروری

١٩٣٨ء)

مذکورہ بالا حوالہ واضح طور پر اس بات کو عیاں کرتا ہے کہ احمدی لوگ ڈاکخانوں اور بینکوں میں اپنا روپیہ جمع نہ کروائیں۔ میرے خیال میں ملک کے کسی بڑے سے بڑے بینک نے یہ جرأت نہیں کی کہ لوگوں کو یہ تلقین کرے کہ ڈاکخانہ میں اپنا روپیہ جمع نہ کروائیں۔ یہ بینک ریاست ربوہ کو بوقت ضرورت روپیہ مہیا کرتا ہے۔ اسی طرح خلیفہ صاحب خود اور ان کے عزیز واقارب اس بینک سے بھاری رقوم نکال کر اپنی تجارتیں چلا رہے ہیں۔ خلیفہ صاحب نے جلسہ سالانہ کے موقع پر اس بات کا غیر مبہم الفاظ میں یہ اقرار کیا تھا کہ وہ بیت المال سے اور ڈرافٹ کے ذریعہ روپیہ حاصل کیا تھا۔ اس وقت تک خلیفہ صاحب اور ان کا خاندان اس بینک سے تقریباً سات لاکھ روپیہ کی ایک خطیر رقم لے چکے ہیں۔ یہ اس بینک کے روپے سے سیاسی افادیت حاصل کی جاتی ہے۔ خلیفہ صاحب خود فرماتے ہیں: ”اگر دس بارہ سال تک ہماری جماعت کے دوست اپنے نفسوں پر زور ڈال کر امانت فنڈ میں روپیہ جمع کراتے رہیں۔۔۔۔۔ تو خدا تعالیٰ کے فضل سے قادیان اور اس کے گردونواح میں ہماری جماعت کی مخالفت پچانوے فی صدی کم ہو جائے۔“

(الفضل قادیان مورخہ ١٣/ جنوری ١٩٣٧ء)

پس کس طرح قادیان اور اس کے گردونواح میں مخالفت کے طوفان کو کم کرنے کے لئے اس بینک کے ذریعہ سکیمیں مرتب کی گئیں۔ پھر کس طرح احرار کے امڈتے ہوئے سیلاب کی طاقت کو کم کیا گیا اور بقول خلیفہ صاحب احرار کو شکستیں دی گئیں۔ کیا خلیفہ قادیان کے سیاسی عزائم کو ملحوظ رکھتے ہوئے یہ ممکن نہیں کہ اس بینک کی طاقت سے کسی اور کو بھی شکست دی جائے۔ کیونکہ خلیفہ صاحب خود فرماتے ہیں: ”ہم اس روپیہ سے تمام وہ کام کر سکتے ہیں جو حکومتیں کیا کرتی ہیں۔“

٣٦

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٣٦٣

(الفضل قادیان مورخہ ١٠؍ فروری ١٩٣٨ء)

اور پھر بالفاظ خلیفہ صاحب فرماتے ہیں: ”میں اس مد (امانت تحریک) کی تفصیلات کو بیان نہیں کر سکتا۔“

(الفضل قادیان مورخہ ١٣؍ جنوری

١٩٣٧ء)

خلیفہ صاحب کی الہامی تحریک بھی سنئے: ”اور یہ بھی یاد رکھئے کہ امانت فنڈ کی تحریک الہامی تحریک ہے۔“

(الفضل قادیان مورخہ ١٨؍ فروری

١٩٣٧ء)

صیغۂ امانت

حکومت کے ’سٹیٹ بینک‘ کی حیثیت رکھتا ہے۔ لیکن بینک کی سی کوئی ذمہ داری اس پر عائد نہیں ہوتی۔ اس بینک کا نام خلیفہ صاحب نے ”امانت فنڈ“ اس وجہ سے رکھا ہے تاکہ ملک کے قانون کی گرفت سے بچ سکیں۔ حالانکہ یہ بینک (امانت فنڈ) وہی کام سرانجام دیتا ہے۔ جیسا کہ منظور شدہ بینک۔

امانت کی شرائط ملاحظہ فرمائیں:

روپیہ بطور ذاتی امانت جمع کرا سکتا ہے۔

ہوں گی۔ ان کے بدلوانے پر جو اخراجات صیغہ کے ہوں گے وہ حساب دار سے لئے جائیں گے اور رقم بینک سے وصول ہونے پر جمع کی جائے گی۔

جائیں گے۔

قدر رقم امانت سے وصول کی ہے۔ یا افسر امانت کے نام رقعہ تحریر کرنا ہوگا کہ اس قدر رقم امانت سے فلاں شخص کو ادا کر دی جائے۔ یا فلاں مد میں ادا کر دی جائے یا بذریعہ ڈاک مجھے ارسال کر دی جائے جو حساب دار اپنے حساب سے کوئی رقم بذریعہ ڈاک باہر منگوائے یا کسی دوسری جگہ روانہ کرنے کی ہدایت کرے تو یہ خدمت صیغۂ امانت حساب دار کی پوری ذمہ داری پر انجام دے گا اور

٣٧

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٣٦٤

اگر روپیہ ادا کرنے کے بعد راستہ میں کوئی نقصان ہو گا تو صیغہ امانت ذمہ دار نہ ہو گا۔

رقعہ پر عائد نہیں ہوگی۔ جس کے ذریعہ حساب بند ہو رہا ہو۔

ہندوستان سے باہر رہنے والے امانت داروں کے لئے یہ میعاد ١٥٠ دن ہوگی۔

حساب داروں کے لئے دفتر متعلقہ کو جلد سے جلد آگاہ کرنا ضروری ہے۔ ورنہ اس کی ذمہ داری حساب دار پر ہوگی۔

ساتھ داخل کرنا ہوگا۔ جو دفتر میں محفوظ رہے گا۔

تاریخ رقم معہ نام حساب دار وغیرہ فوراً افسر صیغہ امانت کو بھیجی جائے ورنہ ادائیگی کی ذمہ داری صیغہ امانت پر نہ ہوگی۔

اپنی تسلی کر لیا کریں۔

اعلان ثانی صیغہ امانت ادا کرے گا۔

دار اپنا اپنا حساب ہر وقت دیکھ سکتے ہیں۔

اجرت ٤؍ فی سال کے حساب سے دفتر صیغہ امانت وصول کرے گا۔ زیادہ پرانے حساب کے لئے زیادہ اجرت لی جائے گی۔

سکے گا اور واپس مل سکے گا۔

٣٨

صفحہ ٣٦٥

دار اس کی واپسی کا ذمہ دار ہوگا۔

ہو جائے تو اس پر اپنے تصدیقی دستخط کرے۔ کیونکہ کوئی مشکوک رسید یا رقعہ دفتر امانت سے ادا نہ کیا جائے گا۔

ہوں۔ پھر بھی کسی وجہ سے خدانخواستہ کوئی نقصان ہو جائے تو حسب احکام شریعت اسلامی اس نقصان کا حصہ امانت دار کو بھی اٹھانا ہوگا۔

افسر امانت: صدر انجمن احمدیہ پاکستان ربوہ

اس بینک میں سرکاری ملازمین کے کھاتے کھلے ہیں۔ محکمہ انکم ٹیکس والوں کو توجہ دلاتا ہوں کہ وہ بنظر عمیق اور سنجیدگی کے ساتھ اس امر کی چھان بین کرے۔ انہیں بڑی بڑی مفید معلومات حاصل ہوں گی۔ وہ تمام لوگ جو محض ٹیکس سے بچنے کے لئے منظور شدہ بینکوں کی بجائے صیغہ امانت میں روپیہ جمع کرواتے ہیں۔ منظر عام پر آ جائیں گے۔ بینکاری کا معاملہ بڑا سنگین معاملہ ہے۔ اگر کوئی بینک بعض غیر متوقع حالات کی بنا پر دیوالیہ ہو جائے تو بہت سے لوگ تباہ و برباد ہو جاتے ہیں۔ پیپل بینک جب دیوالیہ ہوا تھا تو ملک میں ایک شور برپا ہو گیا تھا۔ بینک تو بند ہو گیا۔ لیکن ملک کی فضاء میں بیواؤں، یتیموں اور بے بسوں کے رونے کی چیخ و پکار گونج اٹھی۔ ہزاروں لکھ پتی، غربت اور بے بسی کے اژدھا کا لقمہ بن گئے۔ جن لوگوں کا ربوہ کے جعلی بینک میں روپیہ پڑا ہوا ہے۔ گورنمنٹ میں اس کی حفاظت کا کیا سامان کیا ہے۔ گورنمنٹ کا اولین فرض ہوتا ہے کہ وہ ملک کے شہریوں کی اموال کی حفاظت کا بندوبست کرے۔

رقم خورد برد

ربوہ کے بینک کی مالی حالت اس قدر دگرگوں اور مخدوش ہے کہ یہ بینک عملاً دیوالیہ ہو چکا ہے۔ کل سرمایہ میں سے جو تقریباً بتیس لاکھ روپیہ ہے۔ اٹھارہ لاکھ کی رقم خورد برد کی جاچکی ہے۔ خلیفہ صاحب اور جماعت کے بڑھتے ہوئے غیر ضروری اخراجات اس بات کے ضامن ہیں کہ یہ بینک بالکل دیوالیہ ہو جائے گا تو پھر امانت والوں کا کیا حال ہوگا۔ ان حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے حکومت پاکستان کا فرض ہے کہ یا تو اس جعلی بینک کو ختم کر دے یا خلیفہ صاحب کو مجبور کرے۔ اس بینک کو چلانے کے لئے حکومت سے منظوری حاصل کرے۔

٣٩

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٣٦٦

مخفی اخراجات

جس طرح حکومت کو بعض اوقات مخفی طور پر اخراجات برداشت کرنے پڑتے ہیں۔ اس طرح یہاں بھی مخفی اخراجات کے لئے مد موجود ہے۔ خلیفہ صاحب خود فرماتے ہیں۔ صرف ایک مد خاص ایسی ہے جس کے اخراجات مخفی ہوتے ہیں۔ مگر میں ان کے متعلق بھی بتا دینا چاہتا ہوں کہ ان مخفی اخراجات کی مد میں سے جو بعض دفعہ جزر رسانیوں اور ایسے ہی اور اخراجات پر جو ہر شخص کو بتائے نہیں جاسکتے خرچ ہوئے ہیں۔ (الفضل قادیان مورخہ ٢؍ جولائی ١٩٣٧ء)

مد سے خاطر مدارات

میں یہ مناسب سمجھتا ہوں کہ مخفی اخراجات کی حقیقت کو معزز قارئین کے سامنے ظاہر کر دوں۔ مخفی اخراجات وہ اخراجات ہیں جو الیکشنوں، رشوتوں اور سیاسی گٹھ جوڑ پر خرچ کئے جاتے ہیں۔ قادیان میں اسی خاص مد سے چوہدری فتح محمد سیال کا الیکشن لڑا گیا۔ تقریباً ایک لاکھ روپیہ سے زائد خرچ کیا گیا۔ گردونواح کے بدمعاشوں کو شراب اور روپیہ دے کر اپنے ساتھ ملایا گیا اور ان کی ہر طریق سے خاطر مدارات کر کے ان کی حمایت اور تائید حاصل کی گئی۔ باوجود اس قدر خرچ کرنے کے بعد پہلا الیکشن ہار گئے۔

اسی طرح خلیفہ ربوہ اپنے مخالف حریف کو قتل کرنے کے لئے اسی مد سے بے دریغ روپیہ خرچ کرتے ہیں۔ پھر بعد ازاں اس قاتل کو بچانے کے لئے پانی کی طرح روپیہ بہا دیتے ہیں۔

ریاست ربوہ سے دربدر کرنے کی سکیمیں

اسی طرح اس مد سے جس سے مخفی اخراجات چلائے جاتے ہیں۔ کسی ہنگامی وقت میں اپنے مخالفین کو نیچا دکھانے کے لئے لوگوں سے جائیدادیں خریدی جاتی ہیں۔ چنانچہ خلیفہ صاحب ربوہ نے خاندان خلیفہ اوّل حضرت مولوی نورالدین پر منافقت کا جھوٹا الزام لگایا، اور انہیں ریزولیشن کی بھر مار کی وجہ سے خلیفہ اوّل کے خاندان کو ریاست ربوہ سے نکالنے کے لئے مختلف سکیمیں مرتب ہونے لگیں۔ ریزولیشن کے فوراً بعد ان کے اردگرد سایہ کی طرح ان کی تمام نقل وحرکت پر کڑی نگرانی رہی اور اسی طرح ان کے گھروں پر بھی ٢٤ گھنٹے پہرہ دار کھڑے کئے گئے۔ تاکہ دہشت پیدا کی جائے اور خوفزدہ ہو کر یہاں سے بھاگ جائیں اور ساتھ ہی ساتھ

٤٠

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٣٦٧

ضرورت زندگی کے راستے مسدود کئے گئے اور پھر ہر لمحہ تنگ کرنے کی تدبیریں سوچی گئیں۔ مولوی عبدالمنان صاحب عمر کی عدم موجودگی میں ان کی اہلیہ امتہ الرحمٰن بنت مولوی شیر علی کو اپنا ذاتی مکان نمبر ٦٠٢ کے اردگرد کڑا پہرہ لگا کر (کرفیو) چھوڑنے پر مجبور کیا گیا۔ آخر لاچار ہو کر وہ ستم زدہ عورت عبدالمجید کے مکان پر منتقل ہو گئی۔ جو پہلے سے کرایہ پر لیا گیا تھا۔ مکان کی ذاتی ملکیت ملاحظہ ہو۔

Certified that Mr. Abdul Manan Umer is the Owner of the House No:602 (Sd.) Honrary secartery. M.C Rabwah

انگریزی کا اردو ترجمہ حسب ذیل ہے: ”تصدیق کی جاتی ہے کہ مسٹر عبدالمنان عمر مکان نمبر ٦٠٢ کے مالک ہیں۔“ دستخط: آنریری سیکرٹری میونسپل کمیٹی ربوہ

مخالفین کو مکان سے بے دخل کرنے کا طریق

عبدالمجید صاحب کے مکان پر منتقل ہونے کے بعد خلیفہ صاحب کی ایماء پر یہ عمارت کم و بیش ساڑھے بارہ ہزار روپے پر خرید لی گئی۔ جس کی ادائیگی اسی مد سے ہوئی۔ خادم حسین صاحب کپتان جو اس وقت ناظر امور عامہ تھے۔ ان کی چٹھی ملاحظہ ہو۔

ربوہ مکرمی و محترمی عبدالمجید صاحب السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ، ١٨۔١٠۔١٩٥٧ء

آپ کی جو گفتگو مولوی عبدالعزیز آف بھامڑی سے ہوئی ہے۔ اس کے مطابق آپ کے مکان واقعہ ”محلہ دارالرحمت غربی“ کا سودا مبلغ ساڑھے بارہ ہزار روپیہ پر خاکسار کو منظور ہے۔ لیکن شرط یہ ہے کہ آپ فوری طور پر اس کو خالی کرا کر ہمارے حوالہ کریں اور خالی کرانے میں جتنی مدت لگے اس کا کرایہ ہمیں ادا ہو۔ اس خط کی رسیدگی سے مطلع فرماویں۔

والسلام! خاکسار خادم حسین کپتان

اس مکان کی خریداری کے بعد ذاتی ضرورت کا بہانہ بنا کر نوٹس دیا گیا اور ان کو جبراً ربوہ رہائش اس طرح چھوڑنے پر مجبور کیا گیا۔

٤١

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٣٦٨

آزادی رائے پر پابندی

ریاست ربوہ کا گھناؤنا پہلو یہ ہے کہ وہاں کسی کو آزادیٔ ضمیر حاصل نہیں۔ ہر کس وناکس کو یہ مجبور کیا جاتا ہے کہ اس نہج پر سوچے جو خلیفہ صاحب نے تجویز کیا ہے۔ یہ آمرانہ نظام بعینہ ہی روسی نظام کے مشابہ ہے۔ جہاں تمام لوگوں کو ایک ہی راستہ پر سوچنے کے لئے مجبور کیا جاتا ہے اور ایک ہی قسم کا لٹریچر پیدا کیا جاتا ہے اور ایسے ذرائع اختیار کئے جاتے ہیں کہ بیرونی دنیا کے خیالات کے اثرات اندر نہ آسکیں۔ ریاست ربوہ میں تمام قسم کے اخبارات نہیں آسکتے۔ ایک سنسر بورڈ قائم کیا ہوا ہے جو پہلے کتب اور اخبارات کا مطالعہ کرتا ہے۔ جس اخبار اور کتاب کو اپنی پالیسی کے خلاف نہ پائیں۔ ان کے پڑھنے کی اجازت دی جاتی ہے اور جو اخبارات اور کتب ان کی پالیسی کے خلاف ہوتی ہیں۔ ان کا داخلہ ربوہ میں کلیۃً ممنوع ہے۔

اخبار فروش کا واقعہ

چنانچہ حال ہی میں ایک واقعہ ربوہ میں رونما ہوا کہ چنیوٹ کا ایک اخبار فروش ”مبارک علی“ نامی ربوہ میں اخبار بیچنے گیا۔ تو وہاں کی خانہ ساز پولیس نے اس کو گھیر لیا اور دفتر ناظر امور عامہ یعنی (ہوم سیکرٹری) کے پاس لے گیا۔ بدقسمتی سے اس کے پاس نوائے پاکستان کے پرچے بھی تھے۔ وہ اس سے جبراً چھین لئے گئے اور اس کے سامنے ہی ان پرچوں کو پھاڑ کر جلا دیئے گئے اور اس اخبار فروش کو مار کوٹ کر ربوہ سے باہر نکال دیا گیا۔

اسی طرح ”اخبار الفضل“ میں بارہا دفعہ ناظر امور عامہ کی طرف سے یہ اعلان ہوچکا ہے کہ مخالفین یعنی گھر کے بھیدی کو جو لٹریچر بھی احمدیوں کے پاس پہنچے۔ اس کو مت پڑھیں۔ بلکہ وہ مرکز میں بھیج دیں۔

(الفضل قادیان مورخہ ٧؍ اپریل

١٩٥٧ء)

ہاتھی کے دانت کھانے کے اور دکھانے کے اور

مذکورہ بالا اعلان میں آپ کلی طور پر منع فرماتے ہیں کہ گھر کے بھیدی کا لٹریچر خواہ وہ ”مسیح موعود“ کا ہی لٹریچر پیش کریں۔ قطعاً نہ پڑھیں اور ستیارتھ پرکاش جیسی گندی کتاب اپنے خلف الرشید کو پڑھنے کی تاکید کرتے ہیں۔ چنانچہ خلیفہ صاحب فرماتے ہیں: ”میرے بچے جو جوان ہوگئے ہیں۔ میں ہمیشہ انہیں کہا کرتا ہوں کہ قرآن کریم کے علاوہ ستیارتھ پرکاش اور انجیل

٤٢

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٣٦٩

وغیرہ بھی پڑھا کرو۔“

(الفضل قادیان مورخہ ٢؍اگست

١٩٣٩ء)

خوف و ہراس

ربوہ میں ایک ایسا محکمہ ہے جو لوگوں کے افکار ونظریات کا جائزہ لیتا رہتا ہے۔ اگر کسی احمدی کا نظریہ اور رائے خلیفہ صاحب کے نظریہ سے مختلف ہو تو اس کو مجبور کیا جاتا ہے کہ وہ اپنے نظریات و افکار کو خلیفہ کے نظریات وافکار کے مطابق ڈھالے۔ اگر ایسا نہیں کرتا تو اس کو مختلف طریق سے گزند پہنچانے کی پوری پوری سرتوڑ کوشش کی جاتی ہے۔ تا کہ وہ مجبور ہو کر مرکز کو چھوڑ جائے۔ ان تکالیف کے باوجود اگر ریاست ربوہ نہ چھوڑنے پر بضد ہو تو محکمہ امور عامہ مقامی پولیس سے مل کر اس پر جھوٹا مقدمہ بنا کر خوف و ہراس میں مبتلا کیا جاتا ہے۔ چنانچہ چند سال ہوئے (خاکسار) موسم گرما کی تعطیلات گزارنے ربوہ ریاست میں گیا تو ربوہ کی ”تھاٹ پولیس“ (Thought Police) نے مجھے اپنے ڈھب کا نہ پایا تو مجھ پر ایک چوری کا مقدمہ بنا دیا۔ تھانیدار اور سپاہی نے مجھے واشگاف الفاظ میں یہ کہا کہ نظارت امور عامہ آپ کے خلاف ہے۔ اس وجہ سے بہتر صورت یہی ہے کہ آپ ربوہ کو چھوڑ دیں۔

تھاٹ پولیس (Thought Police)

جاپان میں بھی دوسری عالمگیر جنگ سے پہلے شاہی کاڈو (Shahi Kadoo) کی حکومت میں پولیس کا ایک حصہ تھا۔ جس کو تھاٹ پولیس کہتے ہیں۔ اس پولیس کا یہ فرض ہوتا تھا کہ ملک میں لوگوں کی گفتار اور افکار کا جائزہ لیتی رہے۔ یہی حال ربوی میکاڈو کا ہے۔ جو اپنی ریاست میں کسی کو نہ سوچنے دیتا ہے۔ نہ کسی کو آزادی سے تالیف وتصنیف کرنے دیتا ہے۔ چنانچہ خلیفہ قادیان فرماتے ہیں: ”قاعدہ یہ ہے کہ تمام وہ لٹریچر جو احمدی احباب تصنیف فرماویں۔ (گو وہ کسی موضوع پر ہو) تو محکمہ تالیف واشاعت میں روانہ فرماویں اور محکمہ مذکور بعد ملاحظہ و تصحیح ضرور یہ اسے اشاعت کے لئے منظور کرے اور کوئی کتاب یا رسالہ بغیر محکمہ مذکور کے پاس کرنے کے احمدی لٹریچر میں شائع نہیں ہو سکتا۔“

(الفضل قادیان مورخہ ١٨؍مئی

١٩٢٢ء)

”اسی طرح مجلس معتمدین صدر انجمن احمدیہ نے بمنظوری حضرت خلیفۃ المسیح بذریعہ ٤٣

صفحہ ٣٧٠

ریزولیوشن نمبر ١، ١٩٢٨ء یہ فیصلہ کیا گیا تھا کہ سلسلہ کی طرف سے کوئی کتاب ٹریکٹ وغیرہ بغیر منظوری نظارت تالیف و اشاعت چھپنے اور شائع ہونے نہ پائے۔ اگر اس کی خلاف ورزی ہوئی تو اس کتاب کی اشاعت بند کر دی جائے گی۔“

(الفضل قادیان مورخہ ٢٩؍ جنوری

١٩٣٣ء)

اجازت نہیں

چنانچہ ان تجاویز کو عملی جامہ پہنایا گیا اور ”المبشر“ نام سے قادیان سے ایک رسالہ نکلتا ہے۔ جس کے ایڈیٹر ایک مشہور قادیانی صحافی تھے۔ خلیفہ قادیان کے نزدیک بعض نقائص اور عیوب ایسے تھے کہ ان کے ہوتے ہوئے ”المبشر“ کو مرکز سلسلہ سے شائع کرنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی تھی۔

(الفضل قادیان مورخہ ٢٨؍ اگست

١٩٣٧ء)

”اسی طرح اعلان کیا گیا کہ کتاب ”بیان المجاہد“ (جو مولوی غلام احمد سابق پروفیسر جامعہ احمدیہ و تعلیم الاسلام کالج) نے شائع کی ہے۔ کوئی صاحب اس وقت تک نہ خریدیں جب تک نظارت دعوۃ تبلیغ کی طرف سے اس کی خریداری کا اعلان نہ ہو۔“

(الفضل قادیان مورخہ ١٠؍ ستمبر ١٩٣٣ء)

ایک ٹریکٹ کے متعلق اعلان کیا گیا کہ: ”اس ٹریکٹ کو ضبط کیا جاتا ہے اور اعلان کیا جاتا ہے کہ جس صاحب کے پاس یہ ٹریکٹ موجود ہو وہ اسے فوراً تلف کر دیں اور شائع کرنے والے صاحب سے جواب طلب کیا گیا ہے اور انہیں ہدایت کی گئی ہے کہ جس قدر کاپیاں اس ٹریکٹ کی ان کے پاس ہوں۔ وہ سب تلف کر دی جائیں۔“

(الفضل قادیان مورخہ ٧؍ دسمبر

١٩٣٣ء)

جب نظارت تالیف و تصنیف کو اس ٹریکٹ کی اشاعت کا علم ہوا تو اس نے اس کی اشاعت ممنوع قرار دے دی اور اسے بحق جماعت ضبط کر کے تلف کر دینے کا حکم دے دیا۔ نیز ٹریکٹ شائع کرنے والے سے جواب طلب کیا۔

(الفضل قادیان مورخہ ٤؍ دسمبر

١٩٣٤ء)

غور کیجئے کہ اب ریاست کے مکمل ہونے میں کوئی شک باقی رہ جاتا ہے۔ خلیفہ قادیان فرماتے ہیں: ”اب تک تین رسالوں کو میں اس جرم میں ضبط کر چکا ہوں۔“

٤٤

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٣٧١

(الفضل قادیان مورخہ ٤؍ مارچ ١٩٣٦ء)

ربوہ کا روسی نظام

ریاست ربوہ میں کوئی ایسا لٹریچر داخل نہیں ہو سکتا جو اس ریاست کی پالیسی کے خلاف ہو۔ اسی طرح اس ریاست میں روسی نظام کی طرح کوئی آدمی بھی جو ان کے خیال کا ہمنوا نہ ہو۔ اس کو آزادی سے کسی سے ملنے کی اجازت نہیں۔ اسی طرح دوسرے لوگوں کو بھی یہ اجازت نہیں کہ وہ وارد شدہ آدمی سے کسی قسم کی گفتگو کر سکے۔ چنانچہ غلام محمد جو خلیفہ قادیان کے نظریات اور عقائد کے خلاف ہیں۔ ایک نجی کام کے لئے ربوہ میں گئے۔ ربوہ کی تھاٹ پولیس نے ربوہ سے نکال دیا۔ تاکہ وہ لوگوں میں اپنے خیالات، افکار کا اثر نہ چھوڑ سکے۔

رشتہ داروں سے ملنا ممنوع

اسی طرح محمد یوسف ناز (خلیفہ قادیان کا محرم راز) اور ان کے ہمراہ عبدالمجید اکبر جو ان کے ماموں ہیں۔ اپنے ایک قریبی رشتہ دار کو ملنے کے لئے ربوہ گئے تو ان کی خانہ ساز پولیس نے اپنی کڑی نگرانی میں گھیر کر ناظر امور عامہ کے سامنے پیش کر دیا تو ان کو اپنے رشتہ دار سے ملنے کی اجازت نہ دی گئی۔ بلکہ ان کو حکم دیا کہ وہ ریاست ربوہ کو فوراً سے پیشتر چھوڑ دیں۔ ورنہ ان کی زندگی کے ہم ذمہ دار نہیں ہوں گے۔

ان واقعات سے یہ نتیجہ اخذ ہوتا ہے کہ خلیفہ قادیان ربوہ کی طرف سے ایک ایسا آہنی نظام قائم ہے کہ ریاست ربوہ کے لوگ نہ تو مخالفین کے خیالات سن سکتے ہیں اور نہ وہ دوسروں کا لٹریچر پڑھ سکتے ہیں۔ میں حکومت پاکستان سے استدعا کرتا ہوں کہ ایک مذہبی، دینی اور تبلیغی جماعت جنہوں نے دوسروں تک اپنی بات پہنچانی ہوتی ہے۔ ان کی طرف سے لا امتناعی اور تعزیری اقدام ان کے لئے باعث فخر ہو سکتے ہیں۔ پس گورنمنٹ کا اولین فرض ہے کہ ریاست ربوہ کے لوگوں کو آزادیٔ ضمیر دینے کے لئے مناسب اقدام کرے۔ تاکہ وہ اس مطلق العنان آمر کے آہنی چنگل سے نجات پا سکے۔

حکومت کے خواب

خلیفہ صاحب کے رگ و ریشہ میں سیاست رچی ہوئی ہے۔ اگر ان کے اعلانات کا نفسیاتی تجزیہ کیا جائے تو صاف معلوم ہوتا ہے کہ وہ مذہب کے پردہ میں سیاست کا کھیل کھیلتے ہیں اور سیاست کی برکتوں سے بہرہ مند ہونا چاہتے ہیں۔ لیکن اس کی ابتلاء انگیزیوں کا مقابلہ نہیں کر

٤٥

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٣٧٢

سکتے۔ چنانچہ خلیفہ قادیان اکثر کہا کرتے ہیں۔

”ہم قانون کے اندر رہتے ہوئے اس کی روح کو کچل دیں گے۔ ایسے ہی مقاصد کے لئے یہ دفتر امور عامہ ایسے احمدی افسران جو گورنمنٹ یا ڈسٹرکٹ بورڈوں یا فوج یا پولیس، سول، بجلی، جنگلات، تعلیم وغیرہ کے محکموں میں کام کرتے ہیں۔ ان کے مکمل پتے مہیا رکھتا ہے۔“

(الفضل قادیان مورخہ ٨؍نومبر

١٩٣٢ء)

کبھی وہ واشگاف الفاظ میں کہہ دیتے ہیں: ”پس جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ ہم میں سیاست نہیں وہ نادان ہیں۔ وہ سیاست کو سمجھتے ہی نہیں۔ جو شخص یہ نہیں مانتا کہ خلیفہ کی بھی سیاست ہے۔ وہ خلیفہ کی بیعت ہی کیا کرتا ہے۔ اس کی کوئی بیعت نہیں۔ دراصل بات تو یہ ہے کہ ہماری سیاست گورنمنٹ کی سیاست سے بھی زیادہ ہے۔۔۔۔۔۔ پس اس سیاست کے مسئلہ کو اگر میں نے بار بار بیان نہیں کیا تو اس کی وجہ صرف یہی ہے کہ میں نے اس سے جان بوجھ کر اجتناب کیا۔ آپ لوگوں کو یہ بات خوب سمجھ لینی چاہئے کہ خلافت کے ساتھ ساتھ سیاست بھی ہے اور جو شخص یہ نہیں مانتا وہ جھوٹی بیعت کرتا ہے۔“

(الفضل قادیان مورخہ ٣؍اگست

١٩٢٦ء)

اسی زعم میں برملا کہہ جاتے ہیں: ”میرا خیال یہ ہے کہ ہم حکومت سے صحیح تعاون کر کے جس قدر جلد حکومت پر قابض ہو سکتے ہیں۔ عدم تعاون سے نہیں۔۔۔۔۔۔ اگر ہم کالجوں اور سکولوں کے طلباء کے اندر یہ روح پیدا کر دیں تو جو ان میں سے ملازمت کو ترجیح دیں۔ وہ اس غرض سے ملازمت کریں کہ اپنی قوم اور اپنے ملک کو فائدہ پہنچائیں گے، تو یہ لوگ چند ماہ میں ہی حکومت کو اپنی آزاد رائے اور بے دھڑک مشورے سے مجبور کر سکتے ہیں کہ وہ ہندوستانی نقطہ نگاہ کی طرف مائل ہو۔ بیشک ایسے لوگوں کی ملازمت خطرہ میں ہو گی۔ مگر جب کہ یہ لوگ ملازم ہی اس خطرہ کو مدنظر رکھ کر ہوئے ہوں گے۔ ان کے دل اس بات سے ڈریں گے نہیں۔ دوسرے کوئی گورنمنٹ ایک وقت میں ہزاروں لاکھوں ملازموں کو اس جرم میں الگ نہیں کر سکتی کہ تم کیوں سچائی سے اصل واقعات پیش کرتے ہو۔ اگر پولیس کے محکمہ پر ہی ایسے حب الوطنی سے سرشار لوگ قبضہ کر لیں تو حکومت ہند میں بہت کچھ اصلاح ہو سکتی ہے۔“

(الفضل قادیان مورخہ ١٨؍جولائی

١٩٢٥ء)

مستورات کی چھاتیوں پر خفیہ دستاویزات

٤٦

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٣٧٣

جب کبھی بھی خلیفہ ربوہ کے خفیہ اڈوں پر حکومت نے چھاپا مارا تو اسلحہ اور کاغذات کمال ہوشیاری سے زمین میں دفن کر دیئے گئے۔ قادیان میں ایک موقع پر یک دم ”قصر خلافت“ پر چھاپا پڑا۔ جس کی اطلاع قبل از وقت خلیفہ کو نہ ہوسکی۔ لیکن خلیفہ کی اپنی فراست ان کے کام آئی تو فوراً خفیہ دستاویز اپنی مستورات کی چھاتیوں پر باندھ کر اپنی کوٹھی دارالسلام قادیان بھجوادیں اور تمام اسلحہ فوراً زیر زمین کر دیا۔ ١٩٥٣ء کے فسادات اور پھر مارشل لاء کے اختتام پر جو گورنمنٹ پاکستان نے ربوہ کے دفاتر اور ”قصر خلافت“ پر چھاپا مارنے کا فیصلہ کیا تو یہ خبر دو دن پہلے ہی ربوہ پہنچ گئی۔ کچھ ریکارڈ نظر آتش کر دیا اور کچھ حصہ چناب ایکسپریس پر سندھ روانہ کر دیا۔ چنانچہ اس اسلحہ کے نشان اب قادیانی اسٹیٹوں میں ظاہر ہورہے ہیں۔ کچھ عرصہ ہوا بشیر آباد اسٹیٹ کے ملازم سے ایک تھری ناٹ تھری کی رائفل اور ایک گرنیڈ برآمد ہوا تھا تو وہ تعزیرات پاکستان کی دفعہ کے ماتحت سزا پا گیا۔

حکومت وقت سے بغاوت

اسی طرح حال ہی میں اسی اسٹیٹ میں ایک قادیانی ملازم سے تھری ناٹ تھری کی رائفل پولیس نے برآمد کی ہے۔ اگر حکومت ربوہ اور قادیان اسٹیٹوں کی اچھی طرح دیکھ بھال کرے تو بیشمار اور راز بھی ظاہر ہو سکتے ہیں۔ خلیفہ قادیان ہر اس فرد کو بغاوت کا حق دیتے ہیں۔ جس نے دل سے اور عمل سے حکومت وقت کی اطاعت نہ کی ہو۔ ایک دفعہ کسی نے خلیفہ قادیان سے دریافت کیا کہ جس ملک کے لوگوں نے کسی حکومت کی اطاعت نہ کی ہو تو کیا انہیں حق ہے کہ وہ اس حکومت کا مقابلہ کرتے رہیں تو ارشاد ہوا۔

”اگر کسی قوم کا ایک فرد بھی ایسا باقی رہتا ہے جس نے اطاعت نہیں کی نہ عمل سے نہ زبان سے تو وہ آزاد ہے اور دوسرے لوگوں کو اپنے ساتھ شامل کر کے مقابلہ کر سکتا ہے۔“

(الفضل قادیان مورخہ ١٩ ستمبر ١٩٣٤ء)

پھر فرماتے ہیں: ”اگر تبلیغ کے لئے کسی قسم کی رکاوٹ پیدا کی جائے تو ہم یا تو اس ملک سے نکل جائیں گے۔ یا پھر اگر اللہ تعالیٰ اجازت دے تو پھر ایسی حکومت سے لڑیں گے۔“

(الفضل قادیان مورخہ ١٣ نومبر ١٩٥٣ء)

پھر فرمایا: ”شاید کابل کے لئے کسی وقت جہاد کرنا پڑ جائے۔“

(الفضل قادیان مورخہ ٢٧ فروری ١٩٢٢ء)

٤٧

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٣٧٤

”جماعت ایک ایسے مقام پر پہنچ چکی ہے کہ بعض حکومتیں بھی اس ڈر کی نگاہ سے دیکھنے لگی ہیں اور قومیں بھی اسے ڈر کی نگاہ سے دیکھنے لگی ہیں۔“ (الفضل قادیان مورخہ ٢٠؍ اپریل

١٩٣٨ء)

انتشار پیدا کر کے ملک پر قبضہ کرنا

ان اقتباسات اور حوالہ جات سے یہ بالکل واضح ہوتا ہے کہ خلیفۂ ربوہ اپنی جماعت کے ذہنوں میں اسی سیاسی جنون کی پرورش کر رہے ہیں۔ جو ان کے اپنے ذہن میں سمایا ہوا ہے اور اس تاک میں بیٹھے ہوئے ہیں کہ کب پاکستان میں افتراق و انتشار کی آگ بھڑکے اور اس سے فائدہ اٹھا کر ملک کے حکمران بن جائیں۔

خلیفہ قادیان فرماتے ہیں: ”قبولیت کی رو چلانے کے لئے طاقت کی ضرورت ہوتی ہے۔“

(الفضل قادیان مورخہ ١١؍ جولائی ١٩٣٦ء)

ان کا اپنا ارشاد ہے کہ: ”پنجاب جنگی صوبہ کہلاتا ہے۔ شاید اس کے اتنے یہ معنی نہیں کہ ہمارے صوبے کے لوگ فوج میں زیادہ داخل ہوتے ہیں۔ جس کے یہ معنی ہیں کہ ہمارے صوبہ کے لوگ دلیل کے محتاج نہیں بلکہ سوٹے کے محتاج ہیں۔“ (الفضل قادیان مورخہ ٢٧؍ جولائی

١٩٣٦ء)

بیرونی حکومتوں سے گٹھ جوڑ

خلیفہ قادیان غلامی کی حالت میں بھی بیرونی حکومتوں سے بھی گٹھ جوڑ کرنے کے متمنی ہیں اور اس کی تلقین بھی کرتے ہیں۔

چنانچہ خلیفہ قادیان فرماتے ہیں : ”کوئی قوم دنیا میں بغیر دوستوں کے زندہ نہیں رہ سکتی۔ اس لئے زیادہ مجرم اور کوئی قوم نہیں ہو سکتی جو اپنے لئے دشمن تو بناتی ہے۔ مگر دوست نہیں۔ کیونکہ یہ سیاسی خودکشی ہے۔“

(الفضل قادیان مورخہ ١٨؍ جون

١٩٢٦ء)

خلیفہ قادیان کی اندرونی تصویر

اس حوالہ سے خلیفہ قادیان کی اندرونی تصویر ظاہر ہوتی ہے کہ وہ پاکستان میں رہتے ہوئے کسی وقت بھی اس کے دشمنوں کے حلیف بن سکتے ہیں۔ چاہے اس کی کوئی بھی صورت پیدا

٢٨

صفحہ ٣٧٥

ہوجائے۔ مثلاً وہ راز افشاء کر کے پاکستان کے دشمنوں کے دلوں میں جگہ پیدا کرنے کی کوشش کریں گے۔ ایک موقعہ پر خطبہ دیتے ہوئے ایک کرنل کی طرف یہ بات منسوب کرتے ہوئے کہا کہ کرنل صاحب نے کہا ہے: ”حالات پھر خراب ہورہے ہیں۔ لیکن اس دفعہ فوج آپ کی مدد نہیں کرے گی۔“

(الفضل قادیان مورخہ ٨؍ مارچ

١٩٥٧ء)

حکومت کی مخفی پالیسی کا راز

اس حوالہ سے کئی امور منکشف ہوتے ہیں کہ فوج میں بعض ایسے افسر بھی ہیں۔ جو حکومت کی پالیسی خلیفہ صاحب کو بتا دیتے ہیں۔ مثلاً کرنل کا یہ کہنا کہ حالات پھر خراب ہورہے ہیں۔ لیکن اس دفعہ فوج آپ کی مدد نہیں کرے گی۔ ان الفاظ سے یہ ظاہر ہے کہ حالات محمودیوں کے لئے خراب ہو جائیں گے۔ لیکن فوج امداد نہیں کرے گی۔ اگر واقعی کرنل صاحب کا کہنا درست ہے تو یہ الفاظ حکومت کی کسی مخفی پالیسی کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔

اگر خلیفہ قادیان نے یہ بات کرنل صاحب کی طرف غلط طور پر منسوب کی ہے اور پاک آرمی کی (ساکھ) پر کاری ضرب ہے۔ کیونکہ خلیفہ قادیان کرنل صاحب کی زبانی یہ بتا رہے ہیں کہ حالات خراب ہونے پر بھی فوج آپ کی مدد نہیں کرے گی۔ یعنی اگر گورنمنٹ فوج کو حالات سدھارنے پر متعین کرے تو وہ انکار کرے گی۔ لیکن تعجب والی بات یہ ہے کہ جب خلیفہ قادیان نے خطبہ دیا تو اس وقت ”نوائے پاکستان“ کی وساطت سے حکومت کی خدمت میں یہ عرض کی تھی کہ وہ خلیفہ قادیان کو گرفتار کر کے اس سے دریافت کیا جائے کہ وہ کون کرنل صاحب ہیں جس نے خلیفہ قادیان کو پاک فوج کے متعلق یہ کہا تھا۔ اگر خلیفہ قادیان کرنل صاحب کا نام بتانے سے قاصر ہوں تو ان کو سزا دی جائے۔ لیکن افسوس گورنمنٹ نے نامعلوم وجوہات کی بناء پر خلیفہ قادیان سے باز پرس نہ کی۔ دراصل یہی وہ امور ہیں۔ جب خلیفہ قادیان اس قسم کے غیر ذمہ دارانہ خطبات دیتے ہیں تو حکومت ان پر گرفت نہیں کرتی۔ جس سے وہ بے لگام ہو کر جرأت اور جسارت میں بڑھ جاتے ہیں۔ خلیفہ قادیان کی یہ عادت قدیمہ ہے کہ جب کبھی ان کی تقریر پر کوئی قانونی اعتراض پڑے تو اپنا کام نکل جانے کے بعد تو وہ کچھ عرصہ کے بعد دوبارہ اصلاح کے ساتھ شائع کر دیتے ہیں۔ اس دوبارہ شائع کرنے کا صرف مقصد یہ ہوتا ہے کہ جب کبھی حکومت کی طرف سے گرفت ہو تو وہ دجل و فریب سے حقیقت پر پردہ ڈال کر دوسری اشاعت

٤٩

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٣٧٦

کو پیش کرسکیں اور قانون کی گرفت سے بچ جائیں۔ یہاں بھی اسی قسم کے مکر و فریب اور عیاری سے کام لیا گیا ہے۔ جب کہ خطبہ پہلی دفعہ شائع ہوا تو اس کے الفاظ اور تھے۔ جب وہی خطبہ دوسری بار شائع کیا گیا تو قابل اعتراض الفاظ کو حذف کر دیا گیا۔

گشتی مراسلہ

AHMADIS COLLECTING OFFICIAL INFORMATION

Govt asks Departmental Heads to be Vigilant

The west Pakistan Government has circulated a letter to all the Secretaries, Heads of Departments and Commissioners of Divisions, bringing to their notice the activities of Ahmadia, Rabwah, It is reliably learnt.

The letter which was circulated some time ago directs the officials concerned to take suitable measures to prevent official information from falling in to the hands of the Ahmadia intelligence staff in an unauthorised manner.

The letter points out that the Government has reliable information to the effect that the Jamaat-e- Ahmadia, Rabwa has employed special intelligence staff to collect information which may

٥٠

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٣٧٧

be of interest to the Ahmadia sect. The Government has also learnt that Government servants belonging to the Ahmadia community are being used for securing official information. An other source through which the Ahmadia intelligence staff collects information are the tetired Ahmadia Governments servants who still have influence with their erstwhile colleagues of subordinates.

It has also come to the notice of the Government that come Ahmadis have apparently renounced their faith in order to allaysus picion and to mix freely with the general body of Muslims with the object of collecting information.

The main topics on which the Ahmadia intelligence staff ----athers information are: the activities of the dissidend Ahmadi group called the "Haqiqat Pasand Party." activities of the organisation like the majlis Tahaffuz -e- Khatm -e- Nubuwwat and Jamaat -e- Islami, matters arising in Governmnet Departments which effect the interests of the Ahmadis activities of the various political parties, any change in Governmnet policy regarding the Ahmadi community and the Shia, Sunni relation.

The circular letter also points out that the Ahmadia intelligence staff is stationed at Rabwa and Lahore. The Jamaat -e- Ahmadia proposes to set up

٥١

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٥٢

branches of the intelligence staff at Rawalpindi and Karachi as well. The operation of the intelligence staff are derected and supervised by Mirza Nasir Ahmad, son of the Head of the Ahmadia community. Pakistan Times Dec.6th 1957

گشتی مراسلہ

حال ہی میں گورنمنٹ پاکستان نے سیکرٹریوں اور حکومت کے سربراہوں کو ایک گشتی مراسلہ بھیجا ہے۔ جس میں گورنمنٹ کے ذمہ دار افسران کو خلیفہ ربوہ کی خلافت سے ہوشیار رہنے کے لئے ہدایت دی ہے۔ اس مراسلہ کا تذکرہ اخبار آزاد، امروز، پاکستان ٹائمز میں آچکا ہے۔

مرکزی حکومت نے اعلیٰ حکام کو خبردار رہنے کی ہدایت کر دی

یہ مراسلہ کچھ عرصہ ہوا، ان افسران کو بھیجا گیا ہے۔ اس میں متعلقہ افسران کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ ایسے انتظامات کریں کہ سرکاری اطلاعات ناجائز طور پر احمدیہ خبر رساں عملے کے ہاتھوں نہ پڑنے پائیں۔ اس مراسلہ میں یہ واضح کیا گیا ہے کہ حکومت کے پاس اس کی معتبر اطلاع ہے کہ ربوہ کی "احمدیہ جماعت" نے خبر رسانی کا ایک خصوصی عملہ ملازم رکھا ہے جو ایسی سرکاری اور غیر سرکاری اطلاعات فراہم کرے گا جو احمدیہ فرقہ کے مفاد میں ہوں گی۔ حکومت کو یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ وہ سرکاری ملازم جو احمدیہ فرقہ کے متعلق ہیں ان کے ذریعہ سرکاری اطلاعات مہیا کی جارہی ہیں۔ ایک اور ذریعہ سے کام لے کر احمدیہ جماعت کا خبر رسانی کا عملہ سرکاری اطلاعات جمع کرتا ہے۔ وہ حکومت کے پنشن یافتہ احمدیہ ملازم ہیں۔ جن کا ابھی تک اپنے دور کے ساتھیوں اور ماتحتوں پر اثر ہے۔ حکومت کے علم میں یہ بھی آیا ہے کہ بعض احمدیوں نے غیر احمدی ہونے کا اعلان کر دیا ہے۔ تاکہ ان کی طرف سے شک وشبہ جاتا رہے اور وہ آزادی سے تمام مسلمانوں میں خلط ملط ہو سکیں اور معلومات حاصل کر سکیں۔ حکومت نے بتایا ہے کہ احمدی جماعت کا یہ عملہ عام طور پر جو معلومات حاصل کرنا چاہتا ہے۔ ان میں ربوہ کی "احمدیہ جماعت" کے باغیوں کی جن کا نام "حقیقت پسند پارٹی" ہے۔ سرگرمیاں مجلس تحفظ ختم نبوت اور جماعت اسلامی کی سرگرمیوں کا پتہ چلانا شامل ہے۔ نیز اس میں احمدیہ فرقہ اور شیعہ سنی تعلقات سے متعلق حکومت کی پالیسی میں تبدیلی کی خبر رکھنا بھی شامل ہے۔ حکومت کے اس گشتی مراسلہ میں بتایا گیا ہے کہ ربوہ کی احمدیہ جماعت کا یہ خبر رسانی کا عملہ فی الحال ربوہ اور لاہور میں تعینات ہے اور

www.besturdubooks.wordpress.com

PDF 383

انا خاتم النبیین لا نبی بعدی

میں آخری نبی ہوں، میرے بعد کوئی نبی نہیں

راست بیانی

بر شکست قادیانی

حضرت مولانا امام الدین گجراتیؒ

صفحہ ٣٨٠

دیباچہ

اس حکیم قادر علی الاطلاق کے بیشمار احسانوں میں سے جس نے ہم مسلمانوں کو قرآن مجید جیسی پاک کتاب ، اور حضرت محمد رسول اللہ ﷺ جیسا پیغمبر عطا فرما کر خیر امت کا شرف بخشا۔ ہر ایک فرقہ ، جماعت کو مذہبی آزادی دے رکھی ہے ، اور ہر ایک شخص نہ صرف اپنے خیالات کا اظہار ہی کر سکتا ہے ، بلکہ نہایت آزادی سے ان خیالات کو خواہ سچے ہوں یا جھوٹے ، تقریروں اور لیکچروں کے ذریعہ عام جلسوں اور پبلک کے سامنے پیش کر سکتا ہے۔

مرزا غلام احمد قادیانی نے ابھی تھوڑا عرصہ گزارا کہ اپنے دعاوی کی ابتداء مجددیت سے شروع کی اور لوگوں کے سامنے اپنے دعاوی کے دلائل و براہین پیش کئے ۔ اس لئے اس بھاری فرض اسلام کے مدعی ہونے پر مرزا غلام احمد قادیانی کو لازم تھا کہ وہی طریق اور طرز عمل اختیار کرتے جو ایک مجدد الوقت کو اختیار کرنے ضروری ہیں ۔ یعنی نہایت متانت اور تہذیب سے اسلام کی حقانیت اور فیوض و برکات مخالفین اسلام پر ظاہر فرماتے اور جیسا کہ مذہب اسلام کا دعویٰ ہے دلائل قاطعہ اور براہین ساطعہ پیش کرتے وقت ایسا نرم اور دل آویز طریقہ اختیار کرتے کہ اگر مخالفین اسلام دائرہ اسلام میں داخل نہ ہو کر برکات اسلام سے مستفیض نہ بھی ہوتے تو اس طرز بیان سے حقیقت مذہب کا اثر ضرور ان کے دلوں پر ہوتا اور کبھی مخالفت و تضحیک پر آمادہ نہ ہوتے ۔ کیونکہ قرآن کریم نے وعظ وتذکیر کا یہی طریقہ تعلیم کیا ہے اور فرمایا ہے : ”ادع الیٰ سبیل ربک بالحکمة والموعظة الحسنة وجادلهم بالتی ھی احسن (النحل:١٢٥)“

اور پھر اگر اس مرنجاں مرنج روش سے بھی اسلام کی بدولت مخالفین کی طرف سے تکالیف پیش آتیں تو ان پر بھی صبر کرنا لازم تھا۔ چنانچہ ” واصبر وما صبرک الا بالله (النحل:١٢٧)“ کی سی بیشمار آیتیں اس کے متعلق آچکی ہیں ۔ کیونکہ مجدد وقت کو ہمیشہ ابتداء دعویٰ میں نہ صرف مخالفین مذہب بلکہ اپنے ہم مذہبوں سے بھی طرح طرح کی تکالیف دی جاتی ہیں ۔ توہین کی جاتی ہے ۔ مگر جو شخص اس اہم فرض کو لے کر کھڑا ہو جاتا ہے ۔ وہ کبھی ان پریشانیوں سے نہیں گھبراتا اور ہمیشہ صبر وتحمل سے کام لے کر اپنے دعویٰ اور فرض پر ثابت قدم رہتا ہے۔

مگر افسوس سے ہمیں کہنا پڑتا ہے کہ مرزا قادیانی نے اپنے مشن میں ایک بے ڈھب سا طریقہ اختیار کیا ، اور مخالفین کو ایسے درشت الفاظ سے مخاطب کیا ، کہ جس سے انہوں نے اشتعال اور غضب میں آ کر مقدس مذہب اسلام پر حملے شروع کئے اور دشمن اسلام ہو کر توہین پر

٢

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٣٨١

آمادہ ہو گئے۔ ہمارے معصوم نبیوں کی شان میں ناپاک و دل آزار کلمات کہہ کر اپنے جوش غصہ کا انتقام لیا۔ کچھ عرصہ کے بعد مرزا قادیانی نے مسیح موعود ہونے کا دعویٰ کیا۔ اس سے تو ہم کو کچھ بحث نہیں ہے کہ ان کا یہ دعویٰ کہاں تک صحیح ہے۔ مگر نہایت افسوس و حسرت کا مقام ہے کہ اس وقت انہوں نے عام طور پر مسلمانوں کے سامنے اپنے دعویٰ مسیح موعود پیش کرتے وقت ان لوگوں کو جو ان کی پیروی نہیں کرتے تھے۔ سخت ناملائم الفاظ سے مخاطب کیا۔ بلکہ یہ کہ ڈنڈا سے اپنے دعویٰ کی تصدیق کرانی چاہی، کہ جو لوگ میری پیروی نہیں کریں گے وہ ذلیل و خوار ہوں گے۔ ان کی گردنیں کاٹی جائیں گی۔ ان پر ذلت کی ماریں ہوں گی۔ غرضیکہ اسی قسم کے لعن طعن سے مخاطب کر کے عام مسلمانوں کو ناراض کیا۔

پھر اس پر بھی صبر نہ کیا اور علماء اسلام کو جو محافظ دین اسلام و وارث انبیاء علیہم السلام بلکہ ستون مذہب ہیں۔ اسی روش پر مخاطب کر کے ان کی توہین شروع کی اور نہایت عامیانہ و ناسزا کلمات سے ان کو یاد کیا۔ کیا یہ افسوس کا مقام نہیں ہے؟ جب کہ اسلام، مشرکین اور کفار کے حق میں بھی ایسے کلمات کہنے کی اجازت نہیں دیتا۔ چہ جائیکہ اس گروہ کے حق میں جو از روئے مذہب واجب العزت و تعظیم ہے۔ ایسے کلمات کہے جائیں اور ایسے بزرگ کی زبان مبارک سے نکلیں جس کو مسیح موعود و مہدی مسعود ہونے کا فخر اور مجدد وقت ہونے کا دعویٰ ہے۔ یہ طریقہ نہ صرف اخلاق سے بعید بلکہ اصول اسلام کے برخلاف ہے اور ہرگز ہرگز ایسے عظیم الشان بزرگ (جیسے کہ مرزا قادیانی ہیں) کی شان کے شایاں نہیں تھا۔

ان سب سے بڑھ کر مرزا قادیانی نے جو غضب ڈھایا، اور جس سے کافۃ المسلمین کو سخت صدمہ پہنچا، اور ان کے دلوں پر ہولناک چوٹ لگی۔ وہ یہ ہے کہ حضرات صوفیاء کرام اہل اسلام جو نہایت ہی بے آزار دنیا اور اس کے دھندوں سے آزاد اپنے دشمنوں پر بھی رحم کرنے والے ہوا کرتے ہیں۔ بلکہ وہ کسی کو اپنا دشمن اور مخالف گردانتے ہی نہیں اور جن کا یہ مقولہ ہوا کرتا ہے۔

از خدا دان خلاف دشمن و دوست
دل ہر دو در تصرف اوست

کے حق میں تو نہایت ظالمانہ کارروائی کی۔ ان کو کوسنا شروع کیا اور ایسے ایسے ناپاک کلمات سے ان کو مخاطب کیا کہ فی الواقع وہ وقت آ گیا۔ جب کہ خداوند تعالیٰ کا حلم غضب سے بدل جاوے، اور اس بے آزار گروہ کی دل آزاری رسوائی اور ذلت کا باعث ہو جاوے۔ کیا ہی سچ کہا ہے۔ لسان صدق مولانا رومؒ نے:

٣

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٣٨٢
تا دلے مردے نمی آید بدرد
ہیچ قومے را خدا رسوا نکرد
حلم حق با تو مواسا ہا کند
چونکہ از حد بگذرد رسوا کند

چنانچہ مرزا قادیانی نے اپنی اس کتاب میں جو عبداللہ آتھم والی پیشین گوئی کے غلط ہونے پر لکھی تھی اور جس کا نام مرزا قادیانی نے ”انجام آتھم“ رکھا تھا۔ اس میں ہر ایک مولوی سجادہ نشین بزرگ کو ہر درجہ کی مغلظ سب و شتم سے یاد کیا تو حضرت پیر مہر علی شاہ صاحب گولڑویؒ بھی جو ایک کامل اور ولی اللہ اکمل ہیں اور موضع گولڑہ شریف کے رہنے والے ہیں۔ مرزا قادیانی کے ہاتھ سے نہ بچ سکے۔

مگر پیر صاحب موصوف کو جس طرح پر کہ خداوند تعالیٰ نے اپنے برگزیدگان میں رکھ کر علوم باطنیہ اور رموز حقہ سے نہال کیا ہے۔ ایسا ہی اس واہب العطایا نے ظاہری علوم شریعت غرّاء نبوی ﷺ سے بھی ان کو اپنے فضل و کرم سے مالا مال کیا ہے۔ جیسے کہ فی زماننا وہ تاج العرفاء ہیں ویسے ہی افضل العلماء ہیں۔

القصہ پیر صاحب موصوف سے مرزا قادیانی کی ایسی ایسی حرکات مذمومہ دیکھ کر نہ رہا گیا اور انہوں نے قصد مصمم کر لیا کہ اس سحر قادیانی کو جو اکثر مسلمانوں کی دل آزاری کا باعث ہو رہا ہے۔ توڑنا ہی مناسب ہے۔ چنانچہ گذشتہ سال پہلے انہوں نے مرزا قادیانی کے خیالات کی تردید میں ایک زبردست کتاب لکھ کر شائع کی۔ جو مسلمانوں میں مقبول عام ہوئی۔ جس کے بعد مرزا قادیانی نے پیر صاحب سے مباحثہ کرنے کا اشتہار دیا اور کئی ایک شرائط مباحثہ قرار دیں۔ جس کے جواب میں حضرت پیر صاحب نے جملہ شرائط پیش کردہ مرزا قادیانی کو منظور کر کے مطبوعہ اعلان دیا کہ آپ دارالسلطنت لاہور میں تشریف لاویں اور بالمقابل احقاق حق اور ابطال باطل کا تحریر و تقریر و تفسیر سے فیصلہ کرلیں۔

حضرت پیر صاحب مقررہ تاریخ و وقت پر لاہور تشریف لے گئے۔ مگر مرزا قادیانی نے ہرگز ہرگز موضع قادیان اپنے گاؤں سے قدم باہر نہیں نکالا۔ ناچار ایک ہفتہ کے قریب انتظار کے بعد پیر صاحب موصوف واپس تشریف لائے اور کافۃ المسلمین کو اس کلبی خدمت سے ہمیشہ کے لئے اپنا ممنون احسان اور مرہون منت فرما گئے۔ مرزا قادیانی نے شاید صرف چکمہ دیا تھا۔ مگر پیر صاحب نے اس طلسم کو توڑ دیا۔ حضرت پیر صاحب کی واپسی کے بعد مرزا قادیانی کے بعض

٤

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٣٨٣

مریدوں نے اس شکست سے برافروختہ ہو کر ان کے برخلاف ناشائستہ اور گالیوں سے بھرے ہوئے اشتہارات شائع کئے۔ بلکہ ایک مرید خاص نے بڑی بددلی و ناانصافی سے پیر صاحب کی ذات مبارک پر نازیبا حملے کئے اور اپنی بدزبانی کا ایک سلسلہ شروع کردیا۔ گو پیر صاحب نے ان ہرزہ سرائیوں کی ذرہ بھر پرواہ نہ کی۔ کیونکہ ان کی ذات ان کمینہ حملوں سے متبرا تھی۔ مگر عام مسلمانوں کے دل اس بدزبانی سے جل گئے۔ کیونکہ حضرت پیر صاحب کو جو بزرگی و شان اللہ نے عطاء کی ہے اور جو عزت و توقیر ان کی عام مسلمانوں کے دلوں میں ہے۔ وہ مرزا قادیانی کو نصیب نہیں ہوسکتی۔ نہ صرف وہ سید القوم و آل رسول ہیں۔ بلکہ عارف باللہ و فخر العلماء ہیں۔ بلکہ حق یہ ہے کہ وہ ہماری قوم کے روحانی طبیب ہیں۔ جن کے فیوض باطنی و برکات سے ہزارہا مسلمان مستفیض ہورہے ہیں۔ پھر باوجود اس کشف و کرامات کے انہوں نے نہ کبھی خدائی کونسل کی ممبری کا دعویٰ کیا نہ کسی کلمہ گو کے حق میں ناشائستہ الفاظ لکھے۔

مرزا قادیانی کے مرید مذکور نے اس سلسلہ میں مرحوم و مغفور سرسید کو بھی کوسا۔ جس پر ہمارے مخدوم مولوی امام الدین صاحب نے اس بیہودہ گوئی کے جواب میں قلم اٹھایا۔

یہ خط و کتابت جو مولوی امام الدین صاحب اور مریدان مرزا قادیانی کے درمیان ہوئی۔ اتفاقیہ طور پر اس کا سلسلہ ہمارے اخبار میں شروع ہوگیا اور ہم نے فریقین کی تحریروں کو (اخبار) ”چودھویں صدی“ میں جگہ دی۔ لیکن یہ سلسلہ غیر متناہی مجبوراً روکنا پڑا۔ تا کہ اخبار کو مذہبی دنگل نہ بنایا جائے۔ اس پر طرہ یہ ہوا کہ ناظرین اخبار کو اس ساری خط و کتابت سے عموماً اور مولوی امام الدین صاحب کے آخری جواب سے خصوصاً کچھ ایسی دلچسپی ہوئی کہ بہت سے خطوط دوستوں اور بزرگوں کی طرف سے ہمارے پاس موصول ہوئے کہ اوّل تو آپ اس سلسلہ خط و کتابت کو جاری رکھیں۔ ورنہ جس قدر مضامین نکل چکے ہیں۔ ان کو اخبار سے نکال کر الگ چھاپ دیں۔ چنانچہ مجبوراً ہم کو ان بزرگوں کے ارشاد کی تعمیل کرنی پڑی۔

فریقین کی تحریروں پر ہم نے اپنی طرف سے کوئی ریمارک یا فٹ نوٹ نہیں دیا۔ ہمارے خیال میں مولوی عبدالکریم (قادیانی) اگر آنریبل ڈاکٹر سرسید احمد خان کی شان میں ایسے برے الفاظ نہ لکھتے اور سب و شتم سے یاد نہ کرتے تو مولوی امام الدین کو اس قدر طول طویل جواب لکھنے کی ضرورت نہ پڑتی۔

مولوی امام الدین پر جو مرزا قادیانی کے مریدوں نے یہ الزام لگایا ہے کہ وہ حضرت پیر مہر علی شاہ صاحبؒ کے معتقد اور مرید ہیں۔ یہ بات ٹھیک نہیں ہے۔ بلکہ جہاں تک ہمارا علم

٥

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٣٨٤

یقین ہے۔ مولوی صاحب کا کسی فریق سے تعلق نہیں ہے۔ جیسا کہ ایک مضمون میں خود انہوں نے لکھا ہے۔ اس میں شبہ نہیں کہ ان کی تحریر کو غالب ہونے کا درجہ حاصل ہے۔ حالانکہ مرزا قادیانی کے مریدوں کی تحریریں ان کے حسن اعتقاد پر لکھی گئی ہیں اور مولوی صاحب نے لاہور کے واقعات کو اپنی آنکھ سے دیکھا اور کانوں سے سنا اور ان پر انصاف کا خون ہوتے دیکھ کر قلم اٹھائی۔ کیونکہ ابتداء زمانہ بحث سے لے کر آج تک جیسا کہ صوفیاء کرام اور اولیاء عظام کا قاعدہ ہے۔ حضرت پیر صاحب ممدوح کی زبان سے کوئی لفظ سخت صریحاً تو کیا اشارتاً و کنایتاً بھی بحق مرزا قادیانی نہیں نکلا۔ جو بناوٹی کاروائیاں اور گالیاں وغیرہ مرزا قادیانی اور ان کے مریدوں کی زبانوں اور قلموں سے نکلیں وہ ان کے مشن پر ایک سخت بد نما دھبہ ہے اور یہ واقعہ جس کو ایک عظیم الشان پیشین گوئی کا پورا ہونا کہا جاتا ہے۔ مرزائیوں کے حق میں ایسی بھاری شکست ہے کہ قیامت تک ان کے دامن سے نہیں مٹ سکتی۔ اب ہم اس خط و کتابت کو شروع کرتے ہیں اور فیصلہ ناظرین کے انصاف پر چھوڑتے ہیں۔

مرزا قادیانی و حضرت پیر مہر علی شاہ صاحبؒ

(١٥؍اکتوبر ١٩٠٠ء ،اخبار چودھویں صدی لاہور)

بہت شور پہلو میں سنتے تھے دل کا
جو چیرا تو اک قطرہ خون نہ نکلا

ان دنوں مندرجہ بالا عنوان دونوں بزرگوں کی بابت بہت سے اشتہارات قسما قسم کے نکلتے ہیں اور نامہ نگاران اہل الرائے نے ملکی اخبارات میں بہت کچھ اس بارہ میں رقم کیا ہے۔ ہم نے بھی چپکے سے سب کچھ دیکھا اور سنا۔ کہئے دونوں مذکورہ بالا بزرگوں میں سے نہ ہم کسی کے مرید ہیں نہ کسی کے طرفدار ، کہ ہم اس بارہ میں کچھ لکھنے کی کوشش کرتے۔ اب دوستوں کے مجبور کرنے پر چند کلمات جو ہمارے نزدیک راست راست ہیں۔ بطور رائے پبلک کے سامنے پیش کرتے ہیں۔

مرزا قادیانی کی ابتدائی مالی حالت جو سنی جاتی تھی اور جس افلاس میں وہ جکڑے جارہے تھے وہ اکثر احباب اہل علم پر پوشیدہ نہیں ہے۔ انہوں نے اس حالت میں جو پولیٹکل چال اپنی بہتری و بہبودی کی سوچی تھی اور جس قسم کی پٹڑیاں جمائی تھیں اہل دل بزرگان اہل اسلام تو اسی زمانہ میں رائے لگا چکے تھے ۔

٦

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٣٨٥
اب تو فتنہ ہے کسی دن کو قیامت ہوگا

اور خدا بہشت بریں نصیب کرے۔ مولانا مولوی غلام دستگیر قصوری کو جنہوں نے مرزا قادیانی کی ابتدائی تصانیف دیکھ کر کہہ دیا تھا کہ ایک نہ ایک دن یہ شخص (مرزا قادیانی) پیغمبری کا دعویٰ کرے گا۔ مگر افسوس ہے کہ عوام نے جن کی ذات میں بھیڑ کی چال پائی جاتی ہے۔ عموماً اور مسلمانان اہل حدیث نے جن میں سے اکثر بھولے بھالے ہوتے ہیں۔ خصوصاً اس رائے مرحوم و مغفور مولوی صاحب پر توجہ نہ کی اور اگر کی تو بہت کم۔ بلکہ اس جماعت کا شاید ہی کوئی ممبر باقی رہ گیا ہو۔ جو ایک یا دو بار مرزا قادیانی کو قادیان میں جا کر دیکھ نہ آیا ہو۔ اس پر مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی نے فریب میں آکر جو غضب ڈھایا۔ یعنی چار متواتر آرٹیکل اپنے رسالہ ”اشاعۃ السنہ“ میں لکھے۔ جو نہایت ہی طول طویل تھے اور جن میں انہوں نے ناخنوں تک زور لگایا کہ یہ شخص ولی اللہ ہے، غوث ہے، قطب ہے، وغیرہ وغیرہ۔ جن کا نتیجہ یہ ہوا کہ مرزا قادیانی جو فرش زمین پر جوتیاں رگڑ رہے تھے۔ عرش بریں کی سیر کرنے لگے اور ان خوشامدی اور فرمائشی آرٹیکلوں نے ان کو اس طرح کا جوش دلایا کہ وہ اپنی اضغاث احلام کا نام الہام رکھنے لگے اور آخر الامر اس امر کا دعویٰ کیا کہ میں مسیح موعود ہوں اور میری سب پیش گوئیاں راست اور درست پڑتی ہیں اور پڑیں گی۔ انہیں ایام میں چند ایک پردار مچھلیاں اور سونے کے انڈے دینے والی مرغیاں بھی ان کے دام میں آچکی تھیں۔ اب اہل الرائے جان سکتے ہیں کہ زردار اور پردار کے سامنے بے زر اور بے پر کی کیا حقیقت ہے۔ پس بیچارے مولوی محمد حسین کی ان کے سامنے کب دال گل سکتی تھی۔ اسے دھتا بتایا گیا۔ بیچارے مولوی نے جس کی یہ حالت تھی کہ خود کردہ را چہ علاج۔ ایسے فرعونی دعوے دیکھ کر بامر مجبوری و ناچاری مرزا قادیانی کے عقائد باطلہ کی ایک فہرست مرزا قادیانی کی تصانیف سے نکال کر تیار کی اور علماء وقت اہل اسلام سے اس پر فتاوے طلب کئے۔ جنہوں نے صاف صاف بے رو رعایت لکھ دیا کہ اس طرح کے دعاوی کرنے والا اور عقائد باطلہ رکھنے والا شخص جیسے کہ مرزا قادیانی کے ہیں۔ مسلمانوں میں سے نہیں ہے۔ بلکہ ایک اسلامی دنیا کو ضلالت اور کفر میں ڈالنے والا ہے۔

غرض مرزا مذکور نے لوگوں کو اپنی طرف سے بیزار ہوتے اور جماعت حقہ کو ساتھ چھوڑتے دیکھ کر جا بجا اشتہارات دینے شروع کئے کہ جس کا جی چاہے مباحثہ کر لے۔ مگر تجربہ اور مشاہدہ سے ثابت ہوا کہ مرزا قادیانی پہلے تو لوگوں کو بڑے زور و شور سے مباحثہ اور مباہلہ کے لئے بلاتے ہیں۔ مگر جب ان کے حریف مقابل اور مبازر کیل کانٹے سے لیس ہوکر میدان میں مقابلہ کے

٧

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٣٨٦

لئے آتے ہیں تو مرزا قادیانی کے اوسان خطا ہو جایا کرتے ہیں اور مثل موش (چوہا) اپنے گھر کی بل میں جگہ لیتے ہیں۔ سو آج تک اللہ تعالیٰ نے ان کو کامیاب نہیں کیا اور زک پر زک ان کے نصیب ہوتی ہے اور پیشگوئیوں کی جو گت بنی کہ سب کی سب غلط بود۔ اس کے بیان کرنے کی چنداں ضرورت نہیں۔ مگر مولوی محمد حسین والی پیش گوئی اور گورداسپور کے مقدمہ نے تو سب الہامات ضبط کر دیئے اور بقول شخصے ان کی نبوت ہی قرق ہو گئی۔ اس پر بھی واہ رے حوصلہ مرزا قادیانی کا اس شرم وحیا کے عالم میں ان کے استقلال مزاج میں ایک ذرہ بھر بھی تو فرق نہ آیا اور اس مقدمہ کے بعد اگر چہ مرزا قادیانی کو کوئی بھی نہ پوچھتا تھا کہ آپ کے منہ میں کتنے دانت ہیں اور دوکانداری کی سخت کساد بازاری ہو گئی تھی۔ مگر آپ نے ہمت نہ ہاری کہ اس نازک حالت میں بھی ان کو خیال تھا کہ کوئی ایسی تدبیر سوچی جاوے جس سے میری پاک جماعت کے دلوں میں فرق نہ آوے اور ہینگ پھٹکڑی بھی نہ لگے اور کیا عجب ہے کہ کوئی موٹی مچھلی بھی کانٹے میں لگ جاوے۔

چنانچہ ١٩٠٠ء کے وسط میں پھر چھیڑ چھاڑ شروع کی، اور بڑے زور وشور کا اشتہار مشروط چند شرائط نکالا، کہ اگر کوئی مسلمانوں میں ہے تو میرے مقابلہ میں قرآن شریف کی کسی سورۃ کی تفسیر لکھے۔ گو آپ کو یقین کامل تھا کہ مسلمان میری حقیقت کو سمجھ چکے ہیں اور کسی کو کیا پڑی ہے۔ جو خواہ مخواہ میرے ساتھ الجھ پڑے گا اور جب کہ ایسا نہیں ہوگا تو میری ایک بات رہ جاوے گی کہ قرآن شریف کی تفسیر لکھنے میں میرے ساتھ کسی نے مقابلہ نہیں کیا۔

مگر بقول شخصے ”ہر فرعونے را موسیٰ“ پیر مہر علی شاہ صاحبؒ جو موضع گولڑہ (ضلع راولپنڈی) کے رہنے والے ہیں اور روحانی برکات اور فیوض اپنے ساتھ رکھنے کے علاوہ ایک مسلم الثبوت مستند فاضل اجل اور عالم بے بدل ہیں اور جن کا دل مرزا قادیانی کے کفریات اور سب وشتم بحق علماء عظام اور صوفیاء ومشائخ کرام سنتے سنتے چور ہو گیا تھا۔ قصد مصمم کر لیا کہ ”دروغگوئے را تا بخانہ باید رسانند“ پس مرزا قادیانی کے سب شرائط پیش کردہ کو منظور کر کے صرف اس قدر ایزادی کی کہ تفسیر تو ایک دوسرے کے مقابلہ میں ضرور لکھیں گے۔ مگر تفسیر لکھنے کے پیشتر کچھ تقریری گفتگو بھی ایک عام جلسہ میں ہونی چاہئے۔ تاکہ دونوں طرفوں کے اصول اور عقائد پبلک پر ظاہر ہو جاویں اور اگر انصاف کی نگاہ سے دیکھا جاوے تو جناب پیر صاحب موصوف کی یہ ایزادی عین اپنے موقعہ اور محل پر تھی۔ کیونکہ تفسیر لکھنے والے حریف مقابل کے اصول اور اعتقادات سے جس پر علماء اسلام کے کفر کے فتوے لگ چکے ہوں اور یہ ثابت نہ ہو جاوے کہ اس نے اپنے پہلے کفریات اور الحاد سے سچی توبہ کر لی ہے اور واقعی یہ شخص مسلمان ہے۔ اس کے ساتھ

٨

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٣٨٧

کیا اور کیونکر تفسیر القرآن لکھی جاوے اور یہ بات تو نہایت ہی حیرت انگیز ہے کہ ایک شخص کے اصول اور اعتقادات تو مذہب اسلام سے منافی ہوں۔ بلکہ خود اس کو نبوت کا دعویٰ ہو اور کل اہل اسلام کو سوا اپنی جماعت کے کافر سمجھتا ہو اور اپنی ذات کو مسیح موعود جانتا ہو۔ ”یعنی مان نہ مان میں تیرا مہمان“ اس کو اندھا دھندی سے مسلمان سمجھا جاوے۔

اب مرزا قادیانی گو کہ اپنے ”بیت الفکر“ میں بیٹھ کر اپنی جماعت کو تحریروں اور تقریروں سے خوش کیا کریں۔ مگر ان میں اس قدر طاقت کہاں تھی کہ ایک بزرگ برگزیدہ فاضل کے بالمقابل اور پھر عام جلسہ میں تقریر کرسکیں۔ غرض کہ پیر صاحب موصوف کی طرف سے رجسٹری شدہ خطوط اور اشتہارات بنام مرزا قادیانی و دیگر کافۃ المسلمین نکلنے شروع ہوئے کہ ہم کو سب شرطیں منظور ہیں۔ ٢٥؍اگست ١٩٠٠ء کو بمقام دارالسلطنت لاہور فریقین حاضر ہوں اور ایک معقول عرصہ میں آپس میں فیصلہ کیا جاوے۔ مگر مرزا قادیانی اور ان کی جماعت سے وہی لنگڑے عذرات اور معمول سب وشتم وغیرہ وغیرہ۔ آخر کو مقررہ تاریخ بھی آپہنچی۔ جس میں صدق کا چراغ شوخ اور دروغ کو بے فروغ ہونا تھا اور مرزا قادیانی کی تمناؤں کی بربادی اور رسوائی ایک جہان میں مشتہر ہونی تھی۔

چنانچہ پیر صاحبؒ موصوف مرزا قادیانی کو اپنے مقابلہ میں بلاتے ہوئے ٢٥؍اگست ١٩٠٠ء کو لاہور ریلوے اسٹیشن پر جلوہ نما ہوئے۔ لاہور کے مسلمانوں نے جن کی تعداد کوئی چھ ہزار سے کم نہ تھی۔ شاہ صاحبؒ موصوف کا ریلوے اسٹیشن پر استقبال کیا اور باعزت واکرام ان کو شہر میں لائے اور چھ سات روز تک مرزا قادیانی کی انتظاری کی۔ اثنائے قیام لاہور میں ایک بڑا بھاری جلسہ بادشاہی مسجد میں ہوا۔ جس میں بڑے بڑے علمائے اسلام دور دراز سے آکر شامل ہوئے۔ مگر مرزا قادیانی کی طرف سے صدائے برخاست کا معاملہ رہا۔ گویا وہ معہ اپنی پاک جماعت کے شہر خموشاں میں جابسے ہیں۔ جب کافۃ المسلمین لاہور وغیرہ حضرت پیر صاحبؒ کو ریل پر (واپس) چڑھا آئے اور مرزا قادیانی بمعہ اپنی جماعت کے اس بیہوشی کی حالت اور غشی کی نوبت سے ہوش میں آئے، اور انہوں نے سمجھ لیا کہ اب تو پیر صاحب اپنے گھر میں پہنچ گئے ہوں گے، تو پھر پھکڑ بازی کے اشتہارات لاہور کے درو دیوار پر لگانے لگے، کہ پیر صاحب ہار گئے۔ اگر نہیں ہارے تو اب ہمارے مقابلہ میں آویں۔ اتنی تعداد پولیس کی ہو۔ اس قدر حکام جلسہ میں شامل ہوں، وغیرہ وغیرہ۔

سو یہ ہیں اصل حالات اور سچے واقعات، اور یہ ہیں اسباب جن سے مرزا قادیانی کی تازہ سرد بازاری ہورہی ہے اور کئی ایک ان کے مرید بھی اصلی حالات سے واقف ہوکر ان سے

٩

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٣٨٨

بھاگے جاتے ہیں۔ یقین کامل ہے جوں جوں مرزا قادیانی کی پولیٹکل چالوں سے مریدان باصفا مرزا قادیانی واقف ہوتے جاویں گے۔ اس کساد بازاری کی زیادہ تر حقیقت کھلتی جاوے گی۔ پیر صاحبؒ کے لاہور سے تشریف لے جانے سے ایک ہفتہ بعد چند اہل علم ایک پیر مرد لاہوری ریشم فروش کی دوکان پر بیٹھے ہوئے تھے اور مرزا قادیانی کے خسر ”نواب ناصر“ بھی وہاں موجود تھے اور مذکورہ بالا مباحثہ کی نسبت ذکر ہورہا تھا۔ اس پیر مرد مذکور نے کہا کہ میں نے جو نتیجہ نکالا ہے۔ بدو حرف بیان کرتا ہوں۔ یعنی پیر مہر علی شاہ صاحبؒ نے یک طرفہ ڈگری اس مباحثہ میں حاصل کی ہے۔ مگر ایک بزرگ نے اس کا یہ جواب دیا کہ مدعا علیہم یا ملزموں نے کیوں فرار اختیار کیا؟ اور کیا فراری ملزموں یا مدعا علیہم کو سزا نہیں دی جاتی؟ اور ان سے ڈگری کا روپیہ وصول نہیں کیا جاتا اور کیا کسی نے فراری ملزموں کی طرف سے اپیل بھی کی ہے کہ یہ لوگ دراصل مفتری اور کاذب نہیں ہیں اور انہوں نے شرم وحیا سے فارغ خطی حاصل کی ہوئی نہیں ہے؟

یہ مرزا قادیانی کے شایان شان والا ہی ہے کہ سب کے سب الہامات جھوٹے ہو جاویں۔ ہر ایک مباحثہ میں شکست پر شکست ان کے نصیب ہو۔ مگر واہ رے حوصلہ جلیل کہ اپنے بزرگ سے سر کو کبھی نیچا نہ کریں۔

آخر کو ہم جناب پیر مہر علی شاہ صاحبؒ کی خدمت میں اتنا عرض کئے بغیر نہیں رہ سکتے کہ آپ نے یہ ایک نہایت بڑا کار ثواب مسلمانوں کی حمایت میں کیا ہے کہ آپ دروغ گو کو اس کے گھر پہنچا آئے۔

ایں کار ثواب از تو آید ومرداں چنیں کنند

اور آئندہ بھی جناب اس جماعت کی خدمت کرنے میں دریغ نہ فرماویں گے۔ بقول سعدیؒ ؎

ہاں تا سپر نیفگنی از حملہ فصیح
کورا جز ایں مبالغہ مستعار نیست

(راقم امام الدین از گجرات پنجاب)

خدا کے لئے مبصر صاحب ذرا توجہ سے پڑھیں

گذشتہ تحریر کا جواب

ایڈیٹر صاحب تسلیم والتکریم!

١٠

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٣٨٩

مجھے اس امر کا ایک عرصہ سے اعتراف ہے کہ آپ کے اخبار میں مذہبی مباحثات کے اندراج کا ہمیشہ سے احتراز کیا گیا ہے۔ تجربتاً کہتا ہوں۔ کیونکہ جب میں خود ایسے مضامین جن کا تعلق مذہبی مباحثات کے ساتھ تھا آپ کے ہاں تلف کرا چکا ہوں۔ آپ یقیناً مان لیں گے کہ یہ فقرہ شکایتاً معرض تحریر میں نہیں لایا گیا۔ بلکہ آپ کا یہ رول میری بہت سے غلطیوں کی اصلاح کا باعث ہوا۔ جس کا میں اپنے آپ کو زیر بار احسان سمجھتا ہوں۔ فی الواقعہ دائرۂ اسلام کے اندر فریقی مناظرات کا کثرت سے رواج پاجانا اسلام کی ترقی معاش و معاد میں بہت کچھ حارج ہوا ہے۔ لیکن انسان اپنی فطرت میں ایسا کمزور اور بے بس مخلوق کیا گیا ہے کہ وہ کسی طرح بھی اپنے طبعی جذبات یا مذہبی توہمات کے روکنے میں جس میں وہ مقید کیا گیا ہے۔ کامیاب نہیں ہوسکتا۔ بالخصوص اہل اسلام کو تو مذہبی وہم نے اس حد تک دیوانہ اور از خود رفتہ بنا دیا ہے کہ ذرا ذرا سے فروعی اختلاف پر قومیت یا اپنے مذہبی رشتہ کو خیر باد کہنے کے واسطے تیار ہوجاتے ہیں۔ مزید برآں مقلدانہ قیود نے تو مسلمانوں کا یہ حال کر دیا ہے کہ جب کوئی محقق کسی ایسے اہم اور پیچیدہ مسائل کے حل کرنے کی طرف توجہ کرتا ہے تو ہمیں اپنے باپ دادوں کا مذہب اس کے سوچنے اور غور کرنے میں فوری مانع آجاتا ہے۔ لیکن شہادت کی کثرت اس طرف دیکھی گئی ہے کہ ایک زمانہ گذر جانے کے بعد جس کے اجتہاد ملحدانہ نظر سے دیکھ کر اجتناب کیا گیا تھا۔ وہ لیڈر یا ریفارمر کے نام سے پکارا جاتا ہے۔ اب میں آپ کو جنت آشیاں سرسید احمد خان کی بے بہا زندگی پیش کرتا ہوں۔ کیا کافۃ المسلمین نے اس کی زندگی کی کچھ قدر کی؟ کبھی نہیں! دنیا کے صاحب اسلام تو بجائے خود انڈیا آبادی کے معتدبہ حصہ نے جس میں علماء صلحاء بھی شامل تھے۔ مرحوم کو صریحاً کافر، دجال، اور ضال، مضل کہا۔ حالانکہ دیگر مذاہب کے لیڈر نے انصافاً مجبور ہوکر مرحوم کے مذہبی اجتہاد کو ٹھیٹ اسلام بتایا۔ حاجی محمد اسماعیل صاحب شہید فی سبیل اللہ کا حال کسی اہل اسلام سے پوشیدہ نہیں۔ آج تک ایک کثیر حصہ مسلمانوں کا اس کی پاک روح پر لعن طعن کرنے کو عزت اور افتخار کا موجب سمجھتا ہے۔ محدث الوقت سید نذیر حسین صاحب کے حق میں ایک ایسا خطاب اہل تقلید کی طرف سے تجویز کیا گیا ہے۔ جس کے سننے سے ایک غیور اور سلیم الفطرت مسلمان کا دل کانپ جاتا ہے۔

اب رہا معاملہ مرزا قادیانی کا اس کے متعلق اگر کچھ لکھوں گا تو مجبوراً کیونکہ آپ کے واجب التعظیم اور میرے واجب العزت حضرت مبصر صاحب نے گندم نمائی اور جو فروشی کے بازار کو سخت گرم کر کے دکھایا ہے۔ اے میرے واجب العزت اس وقت آپ میرے مخاطب

١١

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٣٩٠

ہیں ۔ میں نے آپ کے آرٹیکل کو بہت غور سے دیکھا ہے۔ جیسا کہ اپنے آرٹیکل کے مقدمہ لکھنے کے وقت ہر دو حضرات سے قطع ارادت ظاہر کرتے ہوئے راست راست واقعات پبلک پر ظاہر کرنے کا ارادہ کیا تھا۔ اگر واقعی آپ اپنے تسلیم شدہ خیال پر قائم رہتے تو اس عاجز کی طرف سے بھی اتنا طویل مضمون لکھنے تک کی نوبت نہ آتی اور آپ کا مضمون بھی جو ایک ضروری اور اہم معاملات کی نسبت تحریر کیا گیا تھا۔ اخباری دنیا میں بڑی عزت کی نگاہ سے دیکھا جاتا۔ لیکن جس قدر ہم نے اس کو پڑھ کر نتیجہ پیدا کیا ہے۔ تو نرا یکطرفہ ہے اور انصاف کو زہر آلود چھری سے قتل کیا گیا ہے۔ حضرت پیر مہر علی شاہ صاحبؒ کے مقابلہ میں مرزا قادیانی کے کسی قول یا فعل کو بھی چشم انصاف سے نہیں دیکھا گیا۔ اب میں منصف مزاج ناظرین اخبار کے آگے آپ کا آرٹیکل جس میں بے رو رعایت واقعات لکھنے کا دعویٰ قائم کیا گیا ہے۔ معہ اس کے ہیڈنگ کے پیش کرتا ہوں اور بحیثیت ایک اپیلانٹ کے سچا فیصلہ چاہتا ہوں۔

سب سے اوّل آپ نے ہر دو صاحبان سے قطع ارادت کا اظہار کر کے سچے واقعات کے معرض قلم میں لانے کا مجبوراً منشاء ظاہر فرمایا ہے۔ حالانکہ آپ کی جملہ تحریر سے بوضاحت معلوم ہورہا ہے کہ اگر آپ کو پیر مہر علی شاہ صاحبؒ کے ساتھ شرف صحبت حاصل نہ بھی ہو تو تسلیم۔ لیکن آپ کا حسن ظن پیر صاحبؒ کے حق میں حد سے بڑھ جانے کے علاوہ باہمی اصول مذہبی میں سرمو تناقض معلوم نہیں ہوتا۔ آپ کو کوئی حق بھی حاصل نہ تھا کہ آپ دو مسلمانوں کے مذہبی خیالات پر محاکمانہ فیصلہ لکھتے۔ اوّل تو ممکن بھی نہیں کہ آپ ایک نہ ایک کے ہم خیال نہ ہوں۔ جیسا کہ آپ کے آرٹیکل کی تحریر سے مترشح ہورہا ہے اور دوسرا تعصب اور بیجا ضدیت نے مسلمانوں کے مذہبی خیالات پر بہت کچھ اثر ڈالا ہوا ہے۔ البتہ یہ حق اغیار کو حاصل تھا۔ جن کا کتاب اللہ وکتاب الرسول سے تعلق نہیں ہے۔ اگر وہ بھی ان ہر دو حضرات کے مشن کے متعلق بے لوث رائے قائم کرنے کی آمادگی ظاہر کریں۔ تاہم بڑے تامل کے بعد منظوری کی جاوے گی۔ بایں وجہ کہ تعصب ہی ایک ایسی خطرناک مرض ہے۔ جس نے رسولوں کو جھٹلایا اور صدیقوں پر لعن طعن کرایا۔ کیا آپ کہہ سکتے ہیں کہ جب دنیا کو روحانی پیشوا کی ضرورت محسوس ہوئی ہو۔ مبعوث ہونے کے وقت جب کہ اس نے دین الٰہی کی منادی شروع کی۔ کافۃ الناس نے آمنا کہا میں امید کرتا ہوں کہ آپ اس کا جواب نفی میں دیں گے۔ کیونکہ تواریخی واقعات اس پر بڑے زور کے ساتھ شہادت دے رہے ہیں کہ اولوالعزم نبی کاہن اور جادوگر ٹھہرائے گئے اور ان کی دعوت الٰہی کو سخت نفرت کی نگاہ سے دیکھا گیا تو یہ کیا مرض تھی۔ جس نے حق کو سننے نہ دیا۔ یہی تعصب جس

١٢

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٣٩١

نے چشم بینا کو بے نور کر دیا تھا۔ اب میں آپ کو وضاحتاً سناتا ہوں۔ چونکہ ابتداء سے سلسلہ اضداد قائم ہو چکا ہے۔ نبوت میں آدم علیہ السلام اور شیطان کے قصہ پر نظر ڈالو۔ حضرت نوح علیہ السلام ایک زمانہ چلاّتا اور حق کی تلقین کرتا رہا۔ مگر قوم نے اس کی ایک نہ سنی۔ اگرچہ عذاب الٰہی سے معذب کئے گئے۔ یہاں قیاس باور کرتا ہے کہ تعصب نے اس مقہور قوم کو یہ یقین نہ دلانے دیا کہ یہ عذاب مرسل من اللہ کی دعا کا نتیجہ ہے۔ بلکہ انہوں نے طوفان کا واقعہ ایک اتفاقیہ واقعہ سمجھا اور اپنے عادات واطوار کو حق حضرت موسیٰ علیہ السلام کے مقابلہ میں فرعون نے مرتے دم تک موسیٰ علیہ السلام کی نبوت کو تسلیم نہ کیا۔ نہ سرِ مو جھکا۔ اسی تعصب اور ہمہ دانی نے اس کو جہنم میں داخل کر دیا۔ یہودیوں کے نزدیک ”کتاب مقدس“ کے استدلال سے مسیح ابن مریم جھوٹا نبی ہے۔ جو مصلوب ہوا۔ آسمان سے آنے والے نبی کا انتظار کیا۔ کیا یہ تعصب نہیں عرب کا نبی عیسائیوں کے زعم میں نعوذ باللہ گنہگار ہے۔ کیا وہ کہتے ہیں کہ ہم جھوٹا اتہام تمہارے رسول پر قائم کرتے ہیں۔ نہیں وہ فخریہ کہتے ہیں اور بالکل سچ کہنے کے مدعی ہیں۔

حضرت اصل میں یہ بات ہے کہ تقلید اور تعصب کی بیجا قید نے ہماری فطرتوں کو ایسا ناپاک اور نابینا کر دیا ہے کہ ہم کبھی بھی صراطِ مستقیم کو نہ پائیں گے۔ جب تک اپنے سلیم عقل سے کام نہ لیں گے۔ مسلمانوں کے گھر پیدا ہونے سے مسلمان کہلائے۔ سچ یوں ہے کہ اگر ہم جیسی طبیعتیں نبی عربی ﷺ کا زمانہ پاتیں تو شاید ہی نبوت کا اقرار ہوتا۔ سو یہی بات ہے کہ ربانی قوانین اور اس کے استعارات کی عدم فہم سے بہتوں نے دھوکہ کھایا اور اب بھی کھا رہے ہیں۔ غرضیکہ دنیا کی عموم طبیعتوں کا اقتضاء حق تعالیٰ نے کسی خاص مصلحت پر جس کو وہ خود اچھا جانتا ہے۔ مختلف تجویز کیا ہے۔ ناراض نہ ہوں۔ آپ کو بہت مناسب تھا کہ سہم سہم کر لکھتے اور بڑے تفکر کے ساتھ سوچتے تو ضرور نتیجہ پر پہنچ جاتے۔ مولوی محمد حسین صاحب پر آپ نے بے وقت ناراضگی کا اظہار کیا۔ مولوی صاحب کے اس ریویو کے مقابلہ میں جس کو وہ بڑے انصاف کے ساتھ یا بے احتیاطی سے اپنے ”اشاعت السنۃ“ میں درج کر چکے ہیں۔ آج کے استفتاء بالکل بے وقعت ہیں اور ناقابل اعتبار ہیں۔ کیونکہ براہین احمدیہ طبع ہو جانے کے وقت مولوی محمد حسین صاحب کی سچی کانشنس نے اسے مجبور کیا تھا کہ کتاب مذکور کی توصیف و تعریف پر جس کی وہ مستحق تھی زور کے ساتھ ریویو کر دیا جاوے۔ آج اگر مولوی صاحب اپنی رائے کو واپس لینا چاہتے ہیں تو یہ عام مخالفت کا نتیجہ ہے۔ (پھر آپ لکھتے ہیں کہ مرزا مفلس و نادار تھا فریب کیا) بھلا یہ بھی آپ کے آرٹیکل کا موضوع تھا یا یہ فقرہ بے ساختہ قلم سے نکل گیا۔ افلاس کا بار قرب الٰہی کا مانع ہوتا ہے۔ کیا

١٣

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٣٩٢

آپ کوئی ایسی تمثیل پیش کر سکتے ہیں؟ نہیں اخلاقاً ایسی طرز کا جملہ سخت معیوب ہے۔ آپ جیسے انسان کو شایان نہ تھا۔ اگر مالی حالت کی کمی یا مفلسی ہی ولایت یا نبوت کی منافی ہے تو انبیاء علیہم السلام کا حال بالخصوص حضرت فخر الانبیاء ﷺ کا فقر دنیا سے پوشیدہ نہیں۔ پیر صاحبؒ کی مالی طاقت کا حال تو مجھے مطلقاً معلوم نہیں۔ نہ ان کی ذات والصفات سے میرا تعارف ہے۔ لیکن حضرت خواجہ مولوی شمس الدین علیہ الرحمۃ کو جن کی وساطت سے پیر صاحبؒ روحانی عزت سے بازیاب ہوئے ہیں۔ میں نے تو یہ خود دیکھا ہوا تھا کہ مولوی صاحب موصوف کی مالی حالت بالکل کمزور تھی۔ حضرت خواجہ سلیمان صاحب تونسویؒ کا ملفوظ ملاحظہ ہو۔ درویشوں کا خرچہ بڑی تنگی سے چلا کرتا تھا۔ آج کل سونا اور قیمتی پتھر وہاں نظر آتے ہیں اور روپیہ دریا کی طرح موجیں مارتا ہے۔ بڑے متمولوں کا دام فریب میں آجانا شاید آپ اسے زریں مرغیوں کے ساتھ تشبیہ دیتے ہیں۔ یہ سراسر حسد اور کینہ ہے۔ یہ کوئی نرالی بات نہیں۔ بڑے بڑے اغنیاء جسے اللہ اپنے رحم سے ہدایت کرتا ہے۔ صراطِ مستقیم میں داخل ہوئے ہیں۔ حضرت فخر الموجودات ﷺ کی فقر و فاقہ کشی اہل علم سے مخفی نہیں۔ اصحابی جو فوراً نور ہدایت سے بہرہ ور ہوئے بڑے مالدار تھے۔ اب رہا یہ کہ پیر صاحب کی طرف سے جس قدر شرائط میں ترمیم کی گئی ہے۔ وہ عین موقعہ اور محل پر تھی اور قادیانی کا یہ عذر کہ کثرت اجتماع میں فساد کا ہو جانا ممکن ہے۔ کچھ تھوڑا بہت انتظام امن قائم رکھنے کے واسطے ضروری ہونا چاہئے تو صرف اتنا کہنے سے بزعم حضرت مبصر صاحب وہ تمام بازی ہار گئے۔ خیر ہمارا اس میں کیا ہار گئے یا جیت گئے۔ جس کا فیصلہ ناظرین اخبار پر ہے۔ صرف اتنا لکھنے کے بغیر میں رک نہیں سکتا اور زیادہ لکھنے کو اخلاقی جرم کا ارتکاب سمجھتا ہوں۔ جو لکھتا ہوں اور اپنے مضمون کو ختم کرتا ہوں۔ وہ کیا یہ کہ ”انا الحق“ کہنے والوں نے قرب الٰہی کے اعلیٰ مدارج کو پالیا اور ”انا المسیح“ یا مماثلت کے مدعی نے دجالی اعزاز حاصل کیا۔ اے تعصب تیرا ستیاناس جائے۔ تو نے ہماری طبیعتوں کو پریشان اور دلوں کو نور ایمان سے خالی کر دیا ہے۔ والسلام علی من اتبع الھدیٰ! میں ہوں آپ کا تابعدار عاصی احمد یار عاجز عفی عنہ (قادیانی) از لیہ

عاجز صاحب کا شکریہ

بندہ نے ١٥؍اکتوبر ١٩٠٠ء کی اشاعت میں دوستوں کی مجبوری پر اپنے چند خیالات راست راست اور بے کم و کاست بہ عنوان مرزا قادیانی اور پیر مہر علی شاہ صاحبؒ ظاہر کئے تھے۔ جس پر مندرجہ عنوان بزرگ کسی قدر آشفتہ اور کشیدہ خاطر ہو گئے ہیں اور براہ غائبانہ شفقت ہم کو

١٤

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٣٩٣

چند نصائح فرماتے ہیں۔ ہم سب سے اول اپنے اس غائبانہ دوست اور ناصح شفیق کا تہ دل سے شکریہ ادا کرتے ہیں۔ گو کہ ہم ان کی قیمتی اور ارجمند نصائح کی تعمیل سے بوجوہات چند در چند قاصر ہیں۔

رائے دینے کا آپ کو حق نہ تھا۔ الیٰ آخرہ!

پس جواب میں عرض ہے کہ میری اس قدر حسن عقیدت مذکورہ بالا دونوں بزرگوں میں سے کسی ایک پر بھی نہیں ہے کہ اگر ایک کو غوث یا قطب وقت قرار دوں تو دوسرے کو نبی یا رسول تسلیم کر کے ہر وقت ان کے سامنے مراقبہ میں پڑا رہوں۔ بلکہ اگر ایک کو جید عالم، قاضی زمانہ، عارف باللہ اور نیک بخت مسلمان مانتا ہوں تو دوسرے (قادیانی) کو ایک منشی، پنجابی، اردو نویس جانتا ہوں اور دنیا کا یہ ایک عام قاعدہ ہے کہ جب دو پہلوان ایک دوسرے کے بالمقابل میدان جنگ میں آنا چاہتے ہیں تو ان کی فتح و شکست کا فیصلہ پبلک پر ہوتا ہے۔ کوئی نیا رسالہ یا کتاب عام اس سے کہ دینی ہو یا دنیوی۔ کوئی نیا خیال، کوئی تازہ ایجاد، اگر کسی چھاپہ خانہ، کسی دل و دماغ و کارخانہ وغیرہ سے نکلتی ہے تو گویا وہ ایک طرح سے اپنے تئیں پبلک کے حوالہ کر دیتی ہے کہ اہل الرائے میرے حسن و قبح پر رائے زنی کریں اور اس کی صحت وسقم پر لکھیں۔

سو جب مرزا قادیانی نے اپنے تئیں نہ صرف پبلک کے سامنے پیش ہی کیا۔ بلکہ ہر ایک فرقہ اور جماعت کو عام اس سے کہ وہ مسلمان ہوں یا ہندو، عیسائی ہوں کہ برہموں، سکھ ہوں یا آریہ، نہایت سختی اور شدت سے کوسا اور ہر ایک کو بلایا کہ میری ادعائی نبوت پر اگر ایمان نہ لاؤ گے تو تم دوزخ کا ایندھن ہو! اور اپنے مسیح موعود ہونے کے ثبوت میں ناخنوں تک زور لگایا تو احباب اہل الرائے نے بذریعہ اخبارات، اشتہارات، رسالہ جات اور وعظ وتذکیر اس کے دعاوی کے بطلان میں رائے زنیاں کیں۔ جن کی کوئی حد ونہایت نہیں ہے۔ پھر اگر بندہ نے بھی اس قسم کے بے غرضانہ رائے پبلک کے سامنے الحاد اور ارتداد کے فرزندوں (فرزند کا لفظ میں نے ”ایڈیٹر الحکم“ سے سیکھا ہے) کے فریب کی قلعی کھولنے اور راست باز صالح کی حقانیت ظاہر کرنے کے لئے پیش کی تو معلوم نہیں کہ بعض احباب کو کیوں مرچیں لگی ہیں اور کون سا قبلہ ٹیڑھا ہو گیا ہے۔ اگر کسی کو اپنی ذات، اپنی تصانیف، اپنی ایجاد کی ہوئی چیز یا اپنی ادعائی اور جھوٹی

١٥

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٣٩٤

پیغمبری کی شاہ زوری دکھلانا منظور نہیں ہے تو اس کو آپ ہدایت کریں کہ جہاں تک اس سے ممکن ہو۔ پبلک سے اس کو پوشیدہ رکھے۔

خیر باد کہتے ہیں۔ الیٰ آخرہ!

یہ واقعی سچ ہے وہ بالکل خطا اور نادانی پر ہیں اور اگر ان کو مفسدین فی الارض کہا جاوے تو عین زیبا ہے۔ مگر بھائی صاحب کیا مرزائی قادیانی کو بھی آپ عام لوگوں میں شمار کرتے ہیں۔ جس نے پہلے تو اپنے تئیں مجدد کا خطاب دیا۔ پھر الفاظ ”علیہ الصلوٰۃ والسلام“ اپنے پر کہلوانے شروع کئے۔ جو خاص رسولوں کے واسطے مخصوص ہوتے چلے آئے ہیں۔ پھر مسیح موعود اور مہدی موعود کا دعویٰ کیا۔ پھر اپنی کتابوں کے سرورقوں پر صاف صاف مرسل یزدانی لکھنے لکھانے لگے اور بالآخر سب انبیاء علیہم السلام کا لب لباب اپنے تئیں مشہور کر دیا اور لکھ دیا کہ جو شخص میری جماعت سے الگ رہے گا۔ کاٹا جاوے گا۔ یعنی جہنم کی آگ میں ڈالا جاوے گا اور جس کی شان میں ان کے ایک حواری یا چیلے کا یہ مقولہ ہے کہ جب خادم (مرزا قادیانی) اور مخدوم (حضرت محمد الرسول اللہ ﷺ) ایک سے حربے اور ہتھیار لے آئے ہیں تو کیا وجہ ہے کہ ایک کو دوسرے پر ترجیح دی جائے۔

(اخبار الحکم)

جس کا صاف مطلب یہ ہے کہ معاذ اللہ مرزا قادیانی اور رسول کریم ﷺ میں مابہ الامتیاز کچھ بھی نہیں ہے۔

کیا اس قسم کے اصول فروعی اختلافات ہیں؟ آپ کے خیال میں بندہ اگر ان چند سطور کے لکھنے پر کشتنی، سوختنی اور گردن زدنی ہے تو حالا انصافم بر رائے روشن شما است بیت ۔

آج اٹھیں گے فیصلہ کر کے
یا خفا ہو کے یا خفا کر کے

کی طرف توجہ کرتا ہے تو لوگ اس کے پیچھے پڑ جاتے ہیں۔ الخ!“

صاحب من! اگر اس قسم کی تحقیقات سے آپ کی مراد زمانہ حال میں سرسید احمد خان مرحوم یا مولانا شہیدؒ وغیرہ ہم سے ہے۔ تو امنا وصدقنا، دل ما شاد چشم ما روشن۔ انہوں نے ایسی

١٦

صفحہ ٣٩٥

تحقیقاتیں کیں کہ بس قلم کو توڑ دیا۔ مگر مرزا قادیانی کو خواہ آپ ملہم مانیں یا رسول جانیں۔ آپ کا اختیار ہے۔ مگر محقق آج تک اس کو نہ کسی نے کہا ہے۔ نہ آئندہ کہے گا۔

کہ ایں شیوہ ختم است بر دیگراں

کیونکہ ان کا واسطہ بقول ان کے براہ راست خدا کے ساتھ ہے اور بقول کافۃ المسلمین ...... کے ساتھ، کیا آپ ان کی تصانیف میں سے کوئی ایسی کتاب دکھا سکتے ہیں۔ جس پر تحقیق کا لفظ صادق آسکے؟ بلکہ سب کی سب بقول سرسید مرحوم نہ دین کے کام کی ہیں نہ دنیا کے کام کی۔

اور ان میں بزرگان اسلام زمانہ سلف وخلف کی شان میں سب وشتم بھری پڑی ہیں۔ پھر ان بزرگان کے اسماء گرامی جن کو آپ نے اپنے مضمون کے پہلے کالم میں گنوایا ہے۔ یعنی سرسید مرحوم، مولانا شہید مرحوم، حافظ مولانا نذیر حسین، اگر عوام نے ان کے شان میں برا بھلا بکا تو اس نادانی پر چنداں افسوس نہیں ہے۔ کیونکہ سطحی خیالات کے لوگوں کا ایسا ہی حال ہوا کرتا ہے۔ مگر جب ایک شخص جو اتنے بڑے دعویٰ کرتا ہے۔ جن کو پڑھ سن کر ایک سلیم العقل انسان کے بدن پر رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔ صاف صاف الفاظ میں اوّل الذکر کو دہریہ، ملحد، نجاست خوروں کے لئے نجاست تیار کرنے والا وغیرہ الفاظ کہہ اٹھے۔ (دیکھو مرزا قادیانی کی کتاب آئینہ کمالات کا خط بنام سید احمد خان) اور ثانی الذکر (مولانا شہیدؒ) کو معاذ اللہ کور باطن، نبی سے بغض رکھنے والا۔

(آئینہ کمالات اسلام ص ٦٢٢، خزائن ج ٥ ص

ایضاً)

اور ثالث الذکر کو ہامان اور جہنم کا خطاب تجویز کرے۔

(اشتہار مرزا قادیانی قتل

لیکھرام)

تو خدارا آپ سچ بتا دیں کہ اس کو کیا کہو گے؟ کیا قرآن شریف کی آیت ”ولا تسبو الذين يدعون من دون الله فيسبوا الله عدوا بغير علم (الانعام:١٠٨)“ کی تعمیل یہی ہے۔ جس کا اوپر ذکر ہوا۔ اس کا انصاف بھی میں اس وقت آپ ہی پر چھوڑتا ہوں۔

ہوں۔ مگر مجھے حیرت آتی ہے کہ ایسے شائستہ الفاظ کس تجربہ اور مشاہدہ نے آپ کی پاک زبان سے نکلوائے۔ ”کبرت كلمة تخرج من افواههم ان يقولون الا كذبا“

حضرات! نہ میں نے کبھی کذب ودروغ گوئی، افتراء پردازی، اور مکر وفریب کی دوکان نکالی اور نہ کسی قسم کا گنڈوں اپنے گلے میں ڈال کر دنیا کو دغا بازی سے لوٹنے کی کوشش کی۔

١٧

صفحہ ٣٩٦

نہ بجز انسان گنہگار ہونے کے کسی قسم کا جھوٹا دعویٰ کیا۔ میں تو اپنے آباؤ اجداد سے ایک ملازمت پیشہ شخص ہوں۔ مجھے ایسی دنیا اور دین سے آدمی کو برباد کرنے والی تجارت سے کیا سروکار؟ یہ سوداگری انہیں لوگوں کو مبارک رہے۔ جو اس طرح کے حلال پیشہ سے زر وصول کر کے یاقوتیاں وغیرہ استعمال میں لاتے ہیں اور بادام روغن، دم کئے ہوئے پلاؤ چٹ کرتے ہیں۔

کیا یہ دنیا بھر میں دیکھا نہیں جاتا کہ جس قسم کا تجربہ اور مشاہدہ کسی کو ہو۔ ایمانداری سے راست راست بیان کیا جائے۔ کیا کوئی حاکم ہے کہ فریقین کے مقدمہ کا فیصلہ کرتے وقت ایک فریق کو ڈگری بھی دے اور ڈسمس بھی کرے۔ بلکہ جو فریق اس کے نزدیک راستی پر ہو۔ اس کی حمایت کرنا اس کا اصول اور عین فرض ہونا چاہئے۔

فرماتے ہیں۔ لیکن صاف صاف عرض کر چکا ہوں کہ نہ ان کا مرید ہوں، نہ ہم خیال، نہ اپنے عقائد ان کے سامنے پیش کئے۔ نہ ان کے سنے۔ ہاں البتہ ان بزرگان دین کے ساتھ جو خدا تعالیٰ کو ایک مانتے ہیں۔ رسول اللہ ﷺ کو رسول برحق، قرآن مجید کو کلام الٰہی مانتے ہیں۔ بلاشبہ میری حسن عقیدت ہے اور جناب پیر صاحبؒ پر بالخصوص اس لئے کہ انہوں نے کسی قسم کا جھوٹا دعویٰ نبوت وغیرہ نہیں کیا۔ وہ مرنجاں مرنج ہیں۔ لوگوں کو نیک ہدایت کی تلقین کرتے ہیں۔ جنگی سپاہی تیار نہیں کرتے کہ ان کی صحبت سے علیحدہ ہوتے ہی ہر ایک کے ساتھ برسر پرخاش آویں۔ مسلمانوں میں وہ (پیر صاحبؒ) مسلمہ بزرگ قوم اور ایک بڑی جماعت کے پیشرو ہیں۔ ان کی زبان مبارک سے کبھی بزرگان اسلام سلف وخلف کے حق میں سب وشتم نہیں سنی گئیں۔ جیسے کہ آج کل کے مصنوعی پیغمبروں ان کے صلاح کاروں اور فدائیوں کا شیوہ ہے۔

السلام اور حضرت محمد ﷺ کی تکالیف کا ذکر کر کے مرزا قادیانی کو بھی اسی سانچا میں ڈھالنا چاہا ہے۔ سو جناب عاجز صاحب اگر آپ بھی فی الحقیقت مرزا قادیانی کی نبوت کا لوہا مان چکے ہیں تو سب حرف سرائی فضول ہے۔ ورنہ ایک معمولی شخص کو انبیاء علیہم السلام کی جماعت میں شامل کر کے ”خاسر الدنیا والآخرۃ“ بننا کون سی عقلمندی کی بات ہے۔ کیا ایسا شیوہ اختیار کرنا شرک فی النبوت کے مصداق بننے میں داخل نہیں ہے۔

عقل سلیم سے کام نہ لینے پر کافۃ المسلمین پر افسوس کیا ہے۔ سو جناب عالی ہمارا بھی اس پر اتفاق

١٨

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٣٩٧

ہے۔ بشرطیکہ آپ ”لم تقولون مالا تفعلون“ پر بھی عملدرآمد رکھیں۔ واقعی کسی ادعائی شخص کے کہنے سننے پر بلا سوچے سمجھے مذہب اسلام سے فارغ خطی حاصل کرنا کس عقل سلیم کا نتیجہ ہے اور حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کے بعد جن کی شان میں ہے۔ ”ماکان محمد ابا احد من رجالكم ولكن رسول الله وخاتم النبيين (الاحزاب:٤٠)“

کسی دوسرے نبی یا رسول کی آرزو میں غلطاں اور پیچاں رہنا کس لب کا عندیہ ہے۔ انبیاء علیہم السلام کے سواء دینی امورات میں کس کو حق ہے جو یہ کہے کہ جو میں کہتا ہوں (دین کے بارہ میں) وہ کرو اور ایسا کرنا تقلید کے دام سے نکلنا ہے۔ یا الٹے اس کی آہنی زنجیروں میں جکڑا جانا۔ بیت

من نگوئم کہ ایں مکن آں کن
مصلحت بیں وکار آسان کن

٨ ...... آپ کی تحریر کا لب لباب یہ ہے کہ جس وقت کتاب ”براہین احمدیہ“ لکھی جارہی تھی۔ اس وقت مولوی محمد حسین بٹالوی نے اپنی کانشنس کے مطابق مرزا قادیانی کی حمایت میں لکھا اور اس کے بعد کی تحریریں ان کے قلم سے نکلی ہوئی ضد وحسد پر مبنی ہیں۔

حضرت عاجز صاحب مجھے آخر یہی کہنا پڑا ؎

چو بشنوی سخن اہل دل مگو کہ خطا است
سخن شناس نہ ئی دلبرا خطا اینجا است

کیا آپ نے حضرت سعدیؒ کا یہ قطعہ نہیں پڑھا۔

تواں شناخت بیک روز از شمائل مرد
کہ تا کجاش رسیدہ است پایگا ہے علوم
ولے زباطنش ایمن مباش وغرہ مشو
کہ خبث نفس نگردد بسالہا معلوم

کیا رائے لگانے میں جلدی کرنے والا خطا میں نہیں پھنستا؟ کیا آپ نے نہیں سنا؟

Judge nothing before the time.

اوائل میں ایک شخص کا کسی کی ظاہری شکل وشباہت دیکھ کر اس پر فریفتہ ہو جانا، ناتجربہ کاری کی دلیل ہوتا ہے۔ مگر اصلی اور حتمی رائے وہی ہوتی ہے جو بمرور عرصۂ دراز اور تجارب ومشاہدات بیشمار کے ساتھ ہو۔ کس کو اس بات کا علم تھا کہ جو پٹڑیاں براہین احمدیہ میں جمائی گئی

19

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٣٩٨

تھیں ان کے آج کل اپنی نبوت کے ثبوت میں حوالے دیئے جائیں گے۔ بقول شخصے

وہی چور اور وہی چور کا گھر

جناب مرزا قادیانی مسیح موعود بن کر ایک اسلامی دنیا کو جہنمی بتائیں گے۔

مدارج کو پالیا اور ”انا المسیح“ نے دجالی اعزاز حاصل کیا۔ اس کا صرف اسی قدر جواب ہے کہ عقل سلیم سے دونوں شقیں بعید ہیں۔ ہم نہ جماعت اوّل کے حامی کار ہیں۔ نہ دوسرے کے مددگار۔

امید ہے کہ اگر ہم سے کسی قسم کی گستاخی اس تحریر میں ہو گئی ہو تو ہمارے رفیق غائبانہ جناب عاجز صاحب معاف فرماویں گے۔

(امام الدین گجراتی)

مرزا غلام احمد قادیانی اور پیر مہر علی شاہ صاحب گولڑویؒ

ڈئیر ایڈیٹر صاحب چودھویں صدی سلمہ، السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ، آپ کے اخبار مورخہ ١٥؍ اکتوبر میں کسی مبصر واجب التعظیم بزرگ کی مراسلت مندرجہ عنوان درج ہوئی ہے۔ جس سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ نے مذہبی مباحثات کے درج اخبار کرنے کے احتراز کو کچھ عرصہ کے لئے توڑ ڈالا ہے۔ اس لئے امید ہے کہ اس مراسلت کا مفصلہ ذیل معقول جواب درج اخبار کر کے نیاز مند کو مشکور فرمائیں گے۔ اگرچہ مضمون کی ابتداء میں مبصر صاحب نے یہ ظاہر کیا ہے کہ ہم کسی کے طرفدار نہیں ہیں۔ اپنی رائے راست راست پیش کرتے ہیں۔ لیکن بہتانوں اور بیجا الزاموں کی بھر مار غصہ اور اشتعال سے بھرے ہوئے الفاظ کی بوچھاڑ جو ان کے مضمون میں پائی جاتی ہے۔ ان کے ابتدائی بیان کی تکذیب اور اس مخالفانہ جوش اور بخارات عناد کی تصدیق کے لئے کافی ہے۔ جن کا انبار مرزا قادیانی کے برخلاف ان کے دلوں میں پوشیدہ ہے۔ ان کا اس بات پر فخر کرنا کہ مرزا قادیانی پر علماء نے فتوے لگا دیئے ہیں۔ کچھ حقیقت نہیں رکھتا۔ چنانچہ رسائل ”مدارالحق“ اور ”جامع الشواہد“ اور مختلف دیگر کتب کے پڑھنے والوں سے یہ مخفی نہیں ہے کہ اہل حدیث اور مقلدوں میں سے ہر ایک نے ایک دوسرے کے الحاد، زندقہ، کفریات اور لامذہبی ثابت کرنے کے لئے علماء حرمین الشریفین وغیرہ تک کی مہریں کس کس شدومد سے ثبت کرا کے ایک دوسرے کو قطعی جہنمی اور کافر بنا کر باہمی مخالطت اور مجالست کرنے اور مساجد میں آنے دینے سے ممانعت پر زور دیا ہے۔ اگر کسی کے کفر اور الحاد کا مدار ان مشاہیر اور ان علماء کی رائے پر ہی موقوف ہے تو یہ فرقے تو پہلے ہی کافر ہو چکے ہیں۔ ان کا کسی کے کفر پر مہر کرنا کیا حیثیت اور

٢٠

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٣٩٩

حقیقت رکھتا ہے۔ اب رہا پیر صاحب کا معاملہ سو اس معاملہ میں خلاف واقعہ باتوں کو لکھ کر مضمون نگار صاحب نے ایمانداری اور دیانت داری کا خون کیا ہے۔ پیر صاحب کو یہ لکھا گیا تھا۔ آپ کی تحریرات سے جو تفرقہ پیدا ہوا ہے اس کے دور کرنے کے لئے ہم دونوں جلسہ عام میں کسی قرآن سورۃ کی تفسیر لکھیں اور پھر تین کس مولوی صاحبان یعنی مولوی محمد حسین اور دو اور قسم کھا کر ان دونوں میں سے ایک کو ترجیح دے دیں۔ پس اگر پیر صاحب کی تفسیر کو ترجیح دی گئی تو ان کا غلبہ اور اپنا کاذب ہونا مان کر توبہ کر لی جاوے گی اور اس طرح سے وہ شور جو پیر صاحب کی تحریرات سے پیدا ہوا ہے۔ دور ہو جاوے گا۔ اب ناظرین سوچ سکتے ہیں کہ اس طرح سے کس آسانی سے فیصلہ ہو سکتا تھا اور پیر صاحب کے لئے کس قدر مفید تھا۔ کیونکہ قسم کھانے والا جس کے فیصلہ پر حصر رکھا گیا تھا۔ وہ مولوی محمد حسین صاحب اور ان کے رفیق ہی تھے۔ لیکن چونکہ پیر صاحب کے دل میں چور تھا اور ان کی ہمہ دانی کی بنیاد صرف لفاظیوں کی زبانی جمع خرچ تک ہی محدود تھی اور وہ بالمقابل تفسیر لکھنے کا مادہ نہ رکھتے تھے۔ انہوں نے اس دعوت کو قبول نہ کیا اور اس کے جواب میں مباحثہ کی درخواست کی۔ جس میں یہ چال آمیز شرط تھی کہ اس مباحثہ کے حکم وہی محمد حسین ہوں۔ یعنی اگر وہ کہہ دیں کہ پیر صاحب غالب رہے تو اسی وقت لازم ہو گا کہ مرزا قادیانی توبہ کر کے پیر صاحب کی بیعت میں داخل ہو جاویں۔ پھر بالمقابل تفسیر بھی لکھیں۔ اب ظاہر ہے کہ اس طرح کے جواب میں کیسی چال بازی سے کام لیا ہے۔ کہا تو یہ جاتا ہے کہ شرائط منظور کر لیں مگر تفسیر لکھنے کے امر کو ایک مکر سے ٹال کر مباحثہ پر حصر رکھا ہے اور ساتھ ہی بیعت اور توبہ کی شرط جڑ دی ہے۔ افسوس ہے کہ پیر صاحب کی اس چال بازی پر پردہ ڈال ڈال کر ارادتاً پوشیدہ کیا جاتا ہے۔ جب کہ مباحثہ میں مغلوب ہونے کی حالت میں جو صرف محمد حسین صاحب کے کہنے سے سمجھی جائے گی۔ مرزا قادیانی کو بیعت کرنے کا قطعی حکم ہے۔ جس کے بعد ان کا کوئی عذر سنا نہ جائے گا تو پھر تفسیر لکھنے کے لئے کون سا موقعہ باقی رکھا گیا ہے اور کس طرح سے یہ کہا جا سکتا ہے کہ شرائط منظور کر لیں۔ گویا اس معاملہ میں پیر صاحب خود ہی فریق مقدمہ اور آپ ہی منصف بن گئے ہیں۔ کیونکہ جب کہ مولوی محمد حسین صاحب کے عقائد متنازعہ فیہ بالکل پیر صاحب کے مطابق ہیں اور دونوں ایک ہی سانچے کے ڈھلے ہوئے ہیں تو اس صورت میں ظاہر ہے کہ مولوی محمد حسین اور پیر صاحب گویا ایک ہی شخص ہیں۔ دو نہیں تو پھر فیصلہ ہی کیا ہوا۔

انہیں فریبوں سے علیحدگی حاصل کرنے کے لئے تفسیر لکھنے کا طریقہ پیش کیا گیا تھا۔ جو چالبازی سے ٹال دیا گیا ہے۔ جس پر میاں مبصر صاحب کھڑپینچ بن کر منصفانہ رائے دیتے ہیں کہ

٢١

صفحہ ٤٠٠

پیر صاحب کا ایسا کرنا عین موقعہ اور محل پر تھا۔ کیا یہی انصاف ہے اور یہی اس کا موقع اور محل ہے۔ بقول میاں مبصر صاحب جو شخص مثل موش (چوہا) اپنے گھر میں جگہ لیتا ہے۔ اس کی طرف سے پیر صاحب کے دل پر ایسا دھڑکہ کیوں شروع ہو گیا ہے کہ ایک دم کے لئے نہیں ٹھہر سکتے ہیں اور اس چڑیا کی طرح سے جو باز کے ڈر سے چوہے کے سوراخ میں گھس جاتی ہے۔ کیوں دل پر ہیبت طاری ہو گئی ہے کہ ادھر ادھر بھاگتے پھرتے ہیں اور حیلے بہانے تراشتے ہیں۔ وہ خوب طرح سے سمجھتے ہیں کہ جس وقت میں تفسیر لکھنے کے لئے مقابلہ میں آیا۔ سارے روحانی فیوض و برکات کے بخئے ادھڑ جائیں گے اور مسلم الثبوت ڈگری اور فاضل اجل اور عالم بے بدل بننا اس طرح اڑ جائے گا۔ جس طرح آگ لگ جانے سے سارا بارود خانہ اڑ جاتا ہے۔ کلام الٰہی کی تفسیر لکھنے اور مواج دریا کے مقابلہ میں آنے کے لئے کچھ تو تمیز علمی اور بصارت چاہئے۔ میاں مبصر صاحب کو اگر پیر گولڑویؒ کی ایمانداری اور ان کے بزرگ برگزیدہ فاضل مسلمان ہونے پر یقین ہے تو اسے چاہئے کہ پیر صاحبؒ کو بیجا عذر وحیلہ تراشی سے باز رکھ کر مقابلہ میں لاوے۔ ”تاسیاہ روئے شود ہر کہ درغش باشد“ اور جیسا کہ ہماری لاہوری جماعت کا وعدہ ہے کہ اگر پیر گولڑویؒ غالب آ گئے تو ہم ایک ہزار روپیہ انہیں دیں گے۔ علاوہ توبہ وغیرہ کے مبلغ سو روپیہ میں بھی اس پر اپنی طرف سے اضافہ کرتا ہوں اور میاں مبصر صاحب کو ہدایت کرتا ہوں کہ پیر صاحب گولڑوی کو بپابندی شرائط اشتہار مرزا قادیانی مورخہ ٢٨ اگست ١٩٠٠ء مقابلہ میں لاویں اور بیجا عذر و حیلہ سازی سے باز رکھیں۔ ہمارے دل گالیاں اور بدزبانیاں سنتے سنتے چھلنی ہو گئے ہیں۔ اس لئے اگر اب بھی اس صاف اور سیدھی طرز پر میاں مبصر صاحب اپنے موکل کو مقابلہ پر نہ لائے اور اپنی گندہ دہنی سے بھی جو اس مضمون میں استعمال کی ہے۔ باز نہ رہے تو ان کے لئے مفصلہ ذیل انعام جو ظالم منشی کی حالت ہے۔ اسی کے لائق ہیں دیا جاتا ہے تا کہ اب ہم دیکھیں کہ وہ یا ان کے دوسرے ہم مشرب جن کا یہی خیال ہے کہ مرزا قادیانی نے تفسیر لکھنے سے گریز کیا ہے۔ مقابلہ کے لئے نکل کر باہر آتے ہیں یا نہیں؟

(عبدالعزیز (قادیانی) از دہلی)

مرزا قادیانی و حضرت پیر مہر علی شاہ گولڑویؒ ...... گذشتہ تحریر کا جواب

مکرم بندہ جناب ایڈیٹر صاحب۔ السلام علیکم ! جو کچھ بندہ نے ١٥ اکتوبر ١٩٠٠ء کی اشاعت میں راست راست اور بے کم وکاست حالات مندرجہ عنوان بزرگوں کے بارے میں بعض دوستوں کی فرمائش سے ہدیہ ناظرین کئے تھے۔ میرا ہرگز ہرگز ارادہ نہ تھا کہ کسی قسم کی ان

٢٢ www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٤٠١

پر ایزادی کروں اور چودھویں صدی جیسے معزز اخبار کو مذہبی اکھاڑا سمجھوں۔ مگر ٨؍نومبر ١٩٠٠ء کے مذکور بالا اخبار کے کالموں میں ایک اور تحریر کسی مرزا قادیانی کے چیلے کی دیکھنے میں آئی۔ گوکہ وہ بزرگ ان سچے واقعات کو پڑھ کر غصہ کی آگ کے نائرہ کو روک نہیں سکے اور بے تابانہ بارود کی طرح چمک اٹھے ہیں۔ مگر بندہ ان کو معذور سمجھتا ہے۔ کیونکہ سچ کو کانٹے ہوتے ہیں۔ ’’الحق مرّ‘‘ مشہور مقولہ ہے۔ نظامی ؎

گرسخن تلخ بود جملہ در
تلخ بود تلخ کہ الحق مر

مجھے اندیشہ ہے کہ اگر ان کی اس تحریر کی بھی داد نہ دی جاوے، تو خدا جانے کس قدر آپے سے باہر ہو جاویں، اور اس سے بھی زیادہ غصہ کھا کر بھڑک نہ اٹھیں۔ لہٰذا چند کلمات مختصراً جواباً ان کی خدمت میں عرض کئے جاتے ہیں۔ افسوس ہے کہ نہ میرے پاس اتنا وقت ہے اور نہ چودھویں صدی کے کالم اس قدر وافی کافی ہیں۔ ورنہ مفصل جواب دیتا۔ میں جوں جوں اس تحریر کو پڑھتا گیا اور ہر طرح کے سب وشتم اور لنگڑے عذرات (جن پر ان لوگوں کی فطرت کا دارومدار ہے) اپنے حق میں اور حضرت پیر مہر علی شاہ صاحبؒ کی شان میں سنتا گیا۔ میرا سینہ سرور کے نور سے منور ہوتا گیا اور جو کچھ میں نے مرزا قادیانی اور ان کے اکثر مریدوں کے قلموں اور زبانوں سے زمانہ ماضی وحال کے علماء کے حق میں سنی تھیں۔ نہ صرف ان کی تصدیق ہی ہوئی۔ بلکہ اس تحریر کو ان پر سوا پایا۔ مرحبا جزاک اللہ! کیونکہ جب مرزا قادیانی کافۃ المسلمین کو سوا اپنی جماعت کے جہنمی وغیرہ بتلائیں۔ تو ان کی خدارسیدہ جماعت کا ہر ایک فرد اپنے پیر طریقت کا اتباع کیونکر نہ کرے اور اگر ایسا نہ ہو تو پھر ان کی مقدس تعلیم کا نیک اثر پبلک پر کیونکر کھلے۔ پس آفرین ہے اس جماعت کے ممبروں پر کہ اونٹ چالیس اور بوتا چوالیس کا حق ادا کر رہے ہیں۔

١۔…… یہ بزرگ اس اپنی تحریر کو معقولی تحریر کے نام سے نامزد فرماتے ہیں۔ شاید ہو کیونکہ ممکن ہے کہ اس جدید تصوف کی فلاسفی میں جو مرزا قادیانی نے چھانٹی ہے۔ ضرور ہی دشنام دہی کو بھی معقولات کے صیغہ میں جگہ دی ہوگی۔ اس لئے کہ اس کا ثبوت مرزا موصوف کی تصانیف میں بوضاحت پایا جاتا ہے۔ بلکہ ان کی کوئی کتاب یا رسالہ یا اشتہار وغیرہ ایسا نہ پاؤگے۔ جس کے ہر ایک صفحے میں اشارۃً کنایۃً یا صریحاً مذکورہ بالا درفشانیاں پائی نہ جاتی ہوں۔ اس کا باعث اکثر احباب اسلام اس جماعت کے اعلیٰ مشیروں اور صلاح کار ممبروں سے پوچھ چکے ہیں۔ جن کو نہایت صفائی سے جواب ملتا ہے کہ (معاذ اللہ) قرآن شریف میں بھی گالیاں موجود ہیں۔ کیوں

٢٣

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٤٠٢

نہ ہو۔ قرآن شریف کے حقائق و معارف جو مرزا قادیانی نے کھولے ہوئے ہیں۔ مگر کافۃ المسلمین کی رائے میں تو اس فدائی بزرگ کی تحریر کا اس سے بڑھ کر درجہ یقیناً نہیں ہوگا کہ یہ وہی پرانے اور لنگڑے عذرات ہیں جو آئے دن اس جماعت کو پیش کرنے پڑتے ہیں۔

جائے غور ہے کہ ایک شخص نے فریقین کے سب اشتہاروں کو پڑھا۔ یہ پیر مہر علی شاہ صاحبؒ کو بمعہ ان کے ہمراہی مولوی صاحبان اور دیگر بزرگان اسلام و صوفیاء کرام کے ساتھ جو دور دراز سفر طے کر کے صرف اسی مطلب کے لئے تشریف لائے تھے۔ مرزا قادیانی کے انتظار میں بمقام لاہور بادشاہی مسجد میں مقیم پایا اور باوجود خاص رجسٹری شدہ خطوں کے جو مرزا قادیانی کو قادیان میں جاتے رہے۔ ان کی طرف سے صدا برنخاست کا معاملہ پیش آیا۔ یہ واقعات ایسے صاف صاف ہیں کہ ہزاروں مسلمانوں نے ان کو اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے۔ کوئی ہزار جتن کرے اور سورج کو خس و خاشاک سے دبانا چاہے۔ مگر اس کی روشنی میں سرمو فرق نہ آسکے گا اور پھر وہ شخص یعنی عاجز راقم بجز ”انما المؤمنون اخوۃ“ کے کسی قسم کا تعلق بھی کسی امر میں کسی ایک سے نہیں رکھتا۔ حالانکہ دوسرا شخص ایسا ہے جو لاہور سے دور دراز فاصلہ کے شہر (دہلی) میں مقیم ہے۔ وہ ایک فریق کا خاص مرید ہے۔ بلکہ فدائی ہے۔ اس نے سوا اپنی جماعت یا پارٹی کے سنی سنائی باتوں کے نہ کچھ ان واقعات میں تجربہ کیا ہے۔ نہ مشاہدہ، نہ اصلی حالات سے واقف ہے تو پبلک سمجھ سکتی ہے کہ اس دوسرے شخص کو پہلے کے حق میں فریبی بے ایمان اور کٹھ حجتی وغیرہ کہنے کا کیونکر حق پیدا ہو گیا ہے۔ عقلمند اور ارباب انصاف صاف کہیں گے کہ محض فدائیت کے فوری جوش سے۔

حضرت فدائی صاحب! اس درفشانی سے جو اخبار مذکور میں آپ نے محض اپنے پیر طریقت یا پیغمبر کے خوش کرنے کے لئے کی ہے۔ شاید بزعم آپ کے وہ خوش بھی کسی حد تک ہو گیا ہو۔ مگر ہنوز دلی دور است!

نہیں رکھتا۔“

میں ان کی خدمت میں عرض کرتا ہوں کہ حضرت آپ نے میری عبارت کا یا تو مطلب نہیں سمجھا یا عمداً فخر کا لفظ مجھ ناچیز پر ایزاد کیا ہے۔ یہ فخر تعلی، شیخی، اور طنطنے آپ کے مرشد صاحب کو ہی مبارک رہیں۔ جنہوں نے اپنے بزرگوں کے سرٹیفکیٹ ہر وقت اپنی ہتھیلی پر رکھے ہوئے ہیں۔ کبھی گورنمنٹ کو دکھاتے ہیں اور کبھی ان سے اپنی جماعت پر سکہ بٹھاتے ہیں۔ خدارا

٢٤

صفحہ ٤٠٣

آپ ہی سوچیں کہ جو بدبخت ایسے مذہب میں ہو جس کے ظالموں کے ظلموں سے پہلے ہی بیشمار ٹکڑے ہو گئے ہوں اور اس پر بھی ایک شخص (مرزا قادیانی) زبردستی سے ایک اور ٹکڑا کاٹ کر اس کو ناجی اور باقی کو جہنمی بتادے تو ایسے آدمی کی کارستانی اور عمیق پالیسی پر اس بد نصیب کو رونا چاہئے یا اس پر کفر کے فتوے لگنے سے الٹا فخر۔ اگر کفر کے فتوؤں سے کچھ بن نہیں سکتا جیسا کہ آپ نے فرمایا ہے اور میں کہتا ہوں کہ واقعی کچھ بن نہیں سکتا تو آپ کے مرشد بزرگوار نے مکر و فریب کی چال چل کر دھوکے سے مولوی محمد حسین پر مولوی صاحبان سے کیوں فتوے لئے۔ کیا خدا تعالیٰ جو عالم الغیب ہے۔ اس وقت نہیں دیکھتا تھا۔ جب کہ مرزا قادیانی نے کاغذ تیار کر کے اپنے ایک فدائی اسماعیل کو دیا اور وہ مولوی صاحبان کے روبروئے صریح جھوٹ بولتا رہا کہ میں نے مرزا قادیانی پر فتویٰ حاصل کرنا ہے اور اس کی یہ دھوکہ دہی مرزا قادیانی کے نزدیک نہایت ہی قابل عزت اور وقعت گنی گئی۔ افسوس ہے مرزائی مشن کے حال پر۔

اگر مذہب اسلام میں تفرقہ اندازی اور اس کو ٹکڑے ٹکڑے کرنا آپ کے دادا پیر پسند نہیں فرماتے تو کیوں مسلمانوں کا ساتھ چھوڑ گئے ہو اور پھر یہی نہیں کہ دیگر مسلمانوں کے ساتھ نماز پڑھنا ترک کر کے اپنی ڈیڑھ اینٹ کی مسجد یا منارہ الگ بنانا چاہتے ہو۔ بلکہ کوئی برا لفظ نہیں ہے کوئی سخت سے سخت گالی نہیں ہے۔ جس کے ساتھ اپنی جماعت کے سوا دیگر بزرگان اسلام کو یاد نہ کرتے ہو تو آپ ہی بتاؤ اس دین سے جو تمہارے مرشد جی نے قائم کیا ہے تمہارے ہاتھ سوا جھگڑے اور فساد کے کیا آگیا ہے۔

کیا اس کی بدولت قیامت کے دن (بشرطیکہ اس کو مانتے ہو) پوچھے نہ جاؤ گے۔ پس جب کہ آپ لوگوں کے ایسے ہی کرتوت ہیں تو حق بات کہنے سے اس قدر آپے سے باہر کیوں ہوتے ہو۔

کی چال بازی کر کے تفسیر لکھنے سے گریز کی اور ان کے دل میں دھڑکہ شروع ہو گیا ہے کہ ادھر ادھر بھاگتے پھرتے ہیں۔ وغیرہ وغیرہ!“

بندہ صرف اتنا ہی عرض کرتا ہے کہ حضرت اپنے گھر میں بیٹھ کر باتیں بنانا اور بات ہے اور میدان میں آنا دوسری بات۔ اگر اس موقعہ پر آپ لاہور تشریف لاتے تو اور ہی سماں آپ کو نظر آتا۔ اس وقت آپ لوگوں سے اتنا بھی تو نہ ہو سکا کہ آخر حریف مقابل کو اپنی شکل ہی تو دکھاتے اور جس کو آپ مواج سمندر سے تشبیہ دیتے ہیں۔ وہ تو بجائے اس کے کہ ایک لنگڑے اور سست رفتار نالے کی طرح متحرک ہوتا۔ مثل ایک چھپڑی کے اپنی جگہ پر سڑا کیا اور جس کو حقارت

٢٥

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٤٠٤

سے چڑیا کا لقب عطا کرتے ہیں۔ اس کی مردانہ ہمت کے سامنے تمہارے باز کے چھکے چھوٹ گئے۔ اب آپ کی خوش عقیدگی اور فدائیت نہیں تو اور کیا ہے، کہ پیر مہر علی شاہ صاحبؒ تو لاہور میں بیٹھے ہوئے ہوں جو تقریر کرنے اور تفسیر لکھنے کا میدان تھا اور مرزا قادیانی قادیان کے باغ کی سیر میں مصروف ہوں اور پھر اس پر بھی وہی بے وقت کی راگنی ہانکے جاؤ۔ کیا اس سے کوئی اور بھی زیادہ زور آور آواز ہو سکتی ہے۔ جس سے مرزا قادیانی کو بلایا جاتا۔

بیار آنچہ داری ز مردی نشاں
ز تقریر و تفسیر گردد عیاں

کیا احقاق حق اور پیغام الٰہی کا کافۃ الناس کو پہنچانا یہی معنی رکھتا ہے کہ پبلک اسلامی تو بآواز بلند مرزا قادیانی کو بلا رہی ہو کہ اگر سچے ہو تو آؤ اور اپنا دعویٰ مسیحیت اور تفسیر لکھنے کے جوہر میدان میں دکھا کر جس نے آپ کو بھیجا ہے۔ اس سے سرخروئی حاصل کرو اور حضرت موصوف نے اس خوف و ہراس سے اپنے گھر سے قدم باہر نہ نکالا کہ شاید کسی مرد میدان کا نشانہ نہ بن جاؤں۔ کیا جو لوگ خدا کی طرف سے پیغام لایا کرتے ہیں۔ (معاذ اللہ) وہ ایسے ہی ڈرپوک اور دل کے بودے ہوا کرتے ہیں کہ پبلک کے سامنے آنا ان کے لئے گویا موت کا مقابلہ ہو؟ کیا موسیٰ اور ہارون علیہم السلام نے بھی بمقابلہ ساحراں ایسے ہی جوہر دکھائے تھے۔ کیا پیغمبر ﷺ نے یہی مثال قائم کی تھی۔ کیا نجاشی ایرانیوں، رومیوں، مصریوں وغیرہ کے دربار میں صحابہ کرامؓ نے معاذ اللہ ایسی ہی بزدلی اور کمزوری دکھائی تھی؟ ہرگز نہیں۔ بلکہ ایسی ایسی بے دھڑک تقریریں کیں کہ مخالفین کے تخت کانپ جاتے رہے۔ حالانکہ ایسے مواقعات پر سواء خداوند تعالیٰ کے کوئی ان کا مددگار نہ تھا اور انہوں نے اپنی جانیں ہتھیلیوں پر رکھی ہوئی تھیں۔ ہم نہیں خیال کر سکتے کہ مرزا قادیانی کو تبلیغ اور اپنی رسالت ظاہر کرنے کا اور اس پر دلائل دینے کا کوئی اس سے عمدہ موقعہ ہو سکتا تھا۔ جس کو انہوں نے اپنے ہاتھ سے جانے دیا۔ حالانکہ اس موقعہ سے چند دن پہلے ان کو الہام ہو چکا تھا۔ جس کو انہوں نے اپنی جماعت کے لیڈنگ ممبران کو سنا بھی دیا تھا۔ یعنی ”واللہ یعصمک من الناس“ اصل بات یہ ہے کہ مرزا قادیانی اپنے مریدان اہل الجنتہ کے سامنے کوئی قرآن شریف کی آیت پڑھ دیا کرتے ہیں۔ جس کا نام وہ اپنا الہام رکھتے ہیں اور اہل الجنتہ لوگ اس پر ویسا ہی یقین کر لیا کرتے ہیں جو ایک سچے رسول کی بات پر کرنا چاہئے۔ ورنہ الہام کی فلاسفی کھل چکی اور یار لوگ اصل حقیقت کو پا چکے ہیں۔ اگر شرم و حیا ہوتا تو چلو بھر پانی میں آپ لوگ ڈوب مرتے۔

٢٦

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٤٠٥

آ کر فرماتے ہیں: ”پیر مہر علی شاہ اب میدان میں آویں اور تا سیاہ روئے شود ہر کہ دروغش باشد۔“

فدائی صاحب! ہر ایک گرا ہوا پہلوان یہی کہتا ہے کہ اب آؤ اور بندہ کہتا ہے کہ جنہوں نے میدان سے گریز اختیار کی تھی کب کے ان کے منہ کالے ہو چکے۔ اگر اس روسیاہی (کالک) کے اتارنے کی فکر ہے تو کسی کچے تالاب یا چھپڑ کا راستہ لیں۔ بزرگانِ اسلام نکمے نہیں بیٹھے ہیں کہ مطلبی دیوانوں کے خرخشوں میں پڑ کر اپنے قیمتی وقت کو مفت ہاتھ سے دیں اور آپ کے مرشد جی کے ہفوات اور خرافات سے اپنے گوش حق نیوش شنوا کریں۔

اس پر اپنی طرف سے ایک سو روپیہ اضافہ کی ایزادی کا شوق دلاتے ہیں۔ پس ان کی خدمت میں صرف اسی قدر التماس ہے کہ حضرت یہ بھڑکے کسی اور کو دیجئے گا اور ان چکموں سے مخاطب کسی اور کو کیجئے گا۔ ہم تو آپ کے مرشد جی کے رگ و ریشہ سے واقف ہیں۔ ایسے اشتہارات اپنی پہلی رسوائی اور فضیحت کے مٹانے کے لئے آپ کی جماعت کی طرف سے نکلتے ہیں۔ بھلا کوئی بتا سکتا ہے کہ اس قسم کے اشتہاری مبالغات کو کسی نے پہلے بھی جیتا ہو۔ راقم خوب جانتا ہے کہ ”براہین احمدیہ“ کی تحریر کے وقت میں لوگوں کو دس ہزار روپیہ کی جائیداد کے انعام کا وعدہ دے کر اپنی طرف مائل کیا گیا تھا اور کتاب مذکور ابھی مصنف کے بطن میں ہی تھی کہ پیشگی قیمت اسلامی دنیا سے وصول کر کے شیر مادر کی طرح اپنے حلق میں اتار گئے اور ہمارے دوست اہل کتاب مذکورہ کے اشتیاق میں چیختے چلاتے ہی رہے۔ نہ ان کو کامل کتاب ملی، نہ داخل شدہ زر نقد واپس ہاتھ لگی۔ ایسے ہی عبداللہ آتھم والی پیش گوئی کی جب نہایت صفائی سے پورے طور پر صفائی ہوئی تو پیر طریقت یا مسیح موعود نے ایک ہزار سے لے کر چار ہزار روپیہ تک کے اشتہارات اپنے فدایوں یا حواریوں اور ”جے پرانند“ والے جنگی سپاہیوں کی اشک شوئی کے لئے نکالے تھے کہ کسی نہ کسی طرح پر پھر بات بن جاوے۔ مگر ؎

مرغے کہ رمید گردد از دام
من بعد بدانہ کے شود رام

حضرت من! خدا کے لوگوں کو نہ تو اپنی ذات کے لئے اس قسم کی قمار بازی کے روپیہ کا لالچ ہوتا ہے کہ ہاتھ روپیہ آوے، تو اس کے جڑاؤ زیورات تیار کریں اور یاقوتیاں اور بادام روغن میں دم کئے ہوئے پلاؤ اور کستوری کے مزے اڑائیں اور نہ وہ اور لوگوں کو یہ لالچ دیا کرتے

٢٧

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٤٠٦

ہیں۔ احقاق حق اور پھر اس پر شرط بازی یعنی چہ؟ آپ کی ان باتوں سے صاف ثابت ہوتا ہے کہ آپ کے نزدیک روپے کے ہارنے جیتنے کا نام مذہب ہے۔

٦...... فدائی صاحب! میں پہلے عرض کر چکا ہوں کہ مجھے فریقین میں سے کسی کی بیجا طرفداری کا تعلق نہیں ہے اور میں اپنی آزادانہ رائے راست بازی سے دے چکا ہوں۔ جس کو آپ اور آپ کے ہم مشرب ناپاک اور گندے الفاظ سے تعبیر کرتے ہیں۔ بھلا پھر میں طے شدہ معاملہ کی انگیخت میں حضرت پیر مہر علی شاہ صاحبؒ کا کیونکر وکیل بن سکتا ہوں۔ حالانکہ آج تک نہ انہوں نے مجھے دیکھا ہے نہ وہ میرے واقف ہیں اور نہ کسی قسم کی فیما بین خط و کتابت ہے اور فرض کرو کہ اگر پیر صاحب موصوف مثل پہلی دفعہ کے اپنا اور اپنے ہمراہیوں کا ہرج گوارا کر کے دوبارہ لاہور میں تشریف لاویں اور دیگر علمائے عظام اور صوفیائے کرام بھی وہاں جمع ہوں اور عین ایسے موقع پر مرزا قادیانی کو الہام دبوچ لے کہ مثل پہلی دفعہ کے اپنے ”بیت الفکر“ سے قدم باہر نہ نکالنا۔ ورنہ مارے جاؤ گے۔ جیسے کہ مقام ”علی گڑھ اور دہلی“ وغیرہ میں یہ معاملہ ان کے ساتھ گزر چکا ہے تو پھر اس ہرج اور نقصان کا ذمہ دار کون ہوگا؟ اور جب کہ اس طرح کی آزمائش ایک بار چھوڑ کئی بار ہو چکی ہے تو کیا یہ مثال صادق نہ آوے گی کہ ”آزمودہ را آزمودن جہل است“ پس براہ عنایت آپ پبلک کو تشویش میں نہ ڈالیں اور کسی دیگر شغل میں مشغول ہوں یا اگر اپنے غیظ و غضب کا کچھ حصہ آپ کے دل میں باقی ہے۔ جس کی بدولت آپ کا کھانا ہضم نہیں ہو سکتا تو براہ راست پیر صاحبؒ موصوف سے خط و کتابت کر کر اپنا بخار نکال لیں۔

٧...... بالمقابل تفسیر قرآنی لکھنے کے لئے ابھی تک کسی کو حال معلوم نہیں ہے کہ اگر اکھاڑہ راست پڑتا تو یہ پیر مہر علی شاہ صاحبؒ کس انداز سے لکھتے اور غالباً وہ سلف صالحین کے آداب کو ہی پسند فرماتے اور ہم نہیں خیال کر سکتے کہ وہ دیگر نامی گرامی اور معقولی تفسیروں یعنی کبیر، کشاف وغیرہ سے بڑھ کر لکھتے۔ یا کوئی صوفیانہ طرز تحریر اختیار کرتے۔ مگر مرزا قادیانی کی تفسیر دانی کا نمونہ تو اکثر اہل علم دیکھ چکے ہیں۔ مرزا قادیانی نے عرصہ دراز میں بایں دعویٰ مسیحیت چند آیات سورۃ تکویر، فاتحہ وغیرہ کی تفسیر لکھی ہے اور لکھتے وقت نہ ان کو وقت کی شکایت تھی۔ نہ جناب پیر مہر علی شاہ صاحبؒ جیسے حریف مقابل کا سامنا تھا کہ ان کے اوسان خطا ہو جاتے۔ نہ کسی جانب سے بندوق یا پستول کے سر ہونے کا خوف دامن گیر تھا۔ بلکہ ایک قسم کی آزادی اور اطمینان قلبی سے انہوں نے لکھی۔ (دیکھو رسالہ شہادت القرآن سورۂ فاتحہ اور خسارے والا اشتہار) چنانچہ چند آیات کی تفسیر

٢٨

صفحہ ٤٠٧

کا خلاصہ مطلب اس مقام پر ہدیہ ناظرین ہے۔ علماء عظام وصوفیاء کرام اہل اسلام انہیں سے قیاس کر سکتے ہیں کہ ان ڈھکوسلوں کا نام فی الحقیقت تفسیر القرآن ہے یا کلام الہی سے بغض وعدوان اور پرلے درجہ کی استہزاء اور گستاخی کی گئی ہے؟ اور ایسے ایسے گپوڑے ہانکے گئے ہیں۔ جن کا نہ زمین میں سراغ ہے نہ آسمان میں نشان۔ مرزا قادیانی کا زعم باطل ہے کہ نفخ اولیٰ کا زمانہ گزر چکا ہے اور اب نفخ ثانی کا دور جاری ہے۔ جس میں مرزا قادیانی موعود مسیح (کاذب) نے آنا تھا اور آثار قیامت جو قرآن شریف میں دیئے گئے تھے۔ ان کا ظہور ہو چکا ہے۔ ہم ابھی اس تفسیر پر نظر ثانی نہیں کرتے۔ صرف تفسیر کا لب لباب پیش کیا جاتا ہے۔

آیات قرآن خلاصہ تفسیر مرزا قادیانی (١) ”اذا النجوم انکدرت“ عالم فاضل مر گئے۔ (٢) ”اذا الجبال سیرت“ پہاڑ وغیرہ اڑائے جا کر جو عمارات بنائی جاتی ہے۔ (٣) ”اذا العشار عطلت“ ریل کے جاری ہونے سے اونٹ وغیرہ بیکار ہو گئے ہیں۔ (٤) ”اذا الوحوش حشرت“ وحشی اقوام کا سویلایزڈ لوگوں کے ساتھ میل ملاقات ہورہی ہے۔ (٥) ”اذا الصحف نشرت“ اخباریں اور رسالے جو ہر ایک مطبع سے نکل کر ہدیہ ناظرین ہوتے اور ان کے مطالعہ میں آتے ہیں۔ (٦) ”یأتی من بعدی اسمہ احمد مرزا قادیانی کی آمد کی قرآن شریف نے پیش (الصف)“ گوئی کی ہے۔ (٧) ”سبحان الذی اسریٰ بعبدہ (بنی مسجد اقصیٰ سے مسجد قادیان اور بیت المقدس اسرائیل)“ سے موضع قادیان مراد ہے۔ (٨) ”اذا البحار فجرت“ دریاؤں سے نہریں کاٹ کر لائی جاتی ہیں۔ (٩) ”اذا الشمس کورت“ یعنی جہالت چھا گئی ہے۔

٢٩ www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٤٠٨

پس اگر قیامت کے آثار ایسے ہی ہیں۔ جیسے مرزا قادیانی نے اپنی تفسیر میں لکھے ہیں تو کسی کو ایک ذرا بھی قیامت کا خوف و ہراس اپنی طبیعت میں نہ رکھنا چاہئے۔ واعظین زمانہ سلف وخلف جو ہول قیامت سے ڈرایا کرتے ہیں۔ تاکہ لوگ راہ راست پر آجاویں۔ مرزا قادیانی کے نزدیک سب ایسے ہی ہیں۔ جیسے انہوں نے بیان کئے۔ افسوس ہے کہ ایک مسیح موعود بننے کے لئے کن کن ڈھنگوں سے کام لیا گیا ہے۔ مثل مشہور ہے کہ جب کسی چیز کی ایک جھوٹ پر بناء رکھی جاوے تو سینکڑوں جھوٹ اس کی تصدیق کے لئے گھڑنے پڑتے ہیں۔ سو اس نئے پنتھ میں بھی بعینہ ایسا ہی عمل درآمد ہو رہا ہے۔ بشرطیکہ کوئی امعان نظر سے دیکھے۔ اب فدائی صاحب جان لیں گے کہ ظالم منشی بندہ ہے یا ان کے مرشد صاحب۔

ہاتھ لا استاد کیوں کیسے کہی

(امام الدین گجراتی)

قل الله اعبد مخلصاً له دینی فاعبدوا ما شئتم من دونه

مولوی عبدالکریم جو زمانہ حال میں مرزا قادیانی کے وزیر اعظم اور جناب حضرت ابوبکر صدیقؓ کے ہم پلہ اپنے تئیں ظاہر فرماتے ہیں اور مرزائی مشن کے زیب و زینت اور روح رواں ہیں۔ اس مذہب میں داخل ہونے سے پہلے سرسید مرحوم کے خیالات کو پسند فرماتے تھے۔ جب انہوں نے اپنی پرانی روح کو خیر باد کہہ کر نئی روح اختیار کی تو جیسا کہ عام معمول ہے۔ بندہ کو بھی مخاطب کرنا چاہا۔ مگر ہمارے نزدیک حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کا دامن مبارک چھوڑ کر کسی اور کے پاس اپنی ذات کو فروخت کرنا سخت ناگوار تھا۔ پھر ایک مرید مخلص مرزا قادیانی نے جس کو ایک عرصہ دراز سے بندہ کے ساتھ دینی محبت تھی۔ بار بار فرمایا کہ تم مرزائی ہوجاؤ۔ مگر ہم یہی جواب دیتے رہے کہ ”لا اکراہ فی الدین“

جب انہوں نے ہم کو تنگ و ترش ہوکر کہا تو ہم نے ناچار ایک پوسٹ کارڈ میں ان کو لکھ دیا کہ ورع اور پرہیزگاری تو جناب سید احمد صاحب بریلویؒ پر ختم ہوگئی اور قومی ہمدردی اور ایمانداری اور تحقیقات مذہبی میں سرسید احمد مرحوم دہلویؒ میدان لے گئے۔ اب معلوم نہیں کہ آپ کس بات پر زور دیئے جاتے ہیں۔ ”عیسیٰ بدین خود وموسیٰ بدین خود۔“

یہ پوسٹ کارڈ کہیں مولوی صاحب کے ہاتھ آ گیا اور خدا جانے سرسید مرحوم سے ان کو

٣٠

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٤٠٩

کیا بغض تھا کہ وہ پہلے سے ہی ایسے تلے بیٹھے تھے۔ اگلا پچھلا سب غبار بذریعہ ایک لیکچر کے نکالنا شروع کیا۔ گویا کہ یہ کاروائی مولوی صاحب کی طرف سے سراسر چھیڑنے اور محض ہماری دل آزاری کے لئے تھی۔ تو بھی ہم نے اس کی طرف کچھ بھی التفات نہ کی۔ پھر ایک دوسرے مرزا قادیانی کے مرید مخلص کی طرف سے ایک پوسٹ کارڈ پراز سب وشتم ہمارے پاس آیا۔ جس کو قاضی مولوی سراج الدین احمد نے ”چودھویں صدی اخبار“ میں شائع کر دیا اور اس پر اپنا ریمارک کیا۔ اب پھر عرصہ دو تین سال سے جناب مولانا ممدوح (عبدالکریم قادیانی) کی طبیعت میں تھوڑا تھوڑا مواد جمع ہوتے ہوتے بہت سا ثقل بیٹھ گیا تھا کہ مجبوری دوستان ہم سے ایک آرٹیکل موسوم بہ مرزا قادیانی و پیر مہر علی شاہ صاحب لکھا گیا۔ گویا یہ آرٹیکل ان کے لئے ایک مسہل تھا کہ ٢٤؍ اکتوبر ١٩٠٠ء کے ”اخبار الحکم“ میں جو ان کے گھر اجالا پرچہ ہے۔ ہماری تنبیہ اور تادیب کے لئے ایک طول طویل تحریر شائع کی ہے اور ہم کو خوب پیٹ بھر کے گالیاں دی ہیں اور بقول شخصے ”مرتے کو مارے شاہ مدار“ جناب ایڈیٹر صاحب نے بھی ہم کو تاریکی کا فرزند وغیرہ لکھ کر اپنا جوش نکال لیا۔ مگر پھر بھی ہم اس تحریر کی ایسی ہی عزت وتکریم کریں گے۔ جس عزت وتکریم کے وہ قابل ہے اور ہم تو جناب مولوی صاحب کا شکریہ ادا کرنے اور اس کی داد دینے کو موجود ہیں۔ مگر افسوس ہے کہ سرسید مرحوم عالم جاودانی کو رحلت فرما گئے ہیں۔ ورنہ ہمیں امید تھی کہ وہ بھی جناب مولوی صاحب کے کمال درجہ کے شکر گذار ہوتے۔ خیر یہ معاملہ مولوی صاحب اور سرسید مرحوم کا آپس میں تھا۔ جس کو خداوند تعالیٰ خوب جانتا ہے اور جب کہ سرسید مرحوم کو ان کی زندگی میں ہزاروں نے گالیاں دیں۔ لاکھوں نے برا بھلا کہا۔ حتیٰ کہ مرزا قادیانی نے بھی باوجود اس اہانت اور دعویٰ نبوت کے جو کچھ مولوی صاحب کے بھڑکانے یا اپنی خوشی سے منہ پر آیا۔ لکھ کر حق اخوت اسلامی بوجوہ احسن ادا کیا۔ مگر وہ ایک ہی کوہ وقار تھے اور ان کا یہ شیوہ نہیں تھا کہ ایسے لاطائل جھگڑوں میں پڑ کر اپنے اصلی مدعا یعنی قومی ہمدردی میں تساہل کرتے۔ اس لئے کسی کو جواب دینا وہ ایک فضول اور عبث کام سمجھتے۔ وہ سب کا شکریہ ادا کرتے تھے نہ کسی کو اپنا مخالف سمجھتے نہ کسی کی خلا وملا میں شکایت کرتے تھے۔ پس جب کہ ان کا اپنا یہ شیوہ تھا تو پھر ان کے رفقاء کو کیا ضرورت پڑی تھی کہ ان کی جگہ ایسے لوگوں سے مخاطب ہوتے اور تضیع اوقات کرتے۔

جب وہ اسلامی بہی خواہی اور قومی ہمدردی میں سرمایہ حیات صرف کر کے رحلت فرمائے عالم جاودانی ہوئے تو مسلمانوں کی آہ وبکا کا کوئی حدوٹھکانہ نہ تھا اور نہ ایک دن کے لئے یا ایک سال کے لئے۔ بلکہ تب تک جب تک کوئی ان کا نعم البدل، ایسا مضبوط دل ایسا قوی دماغ، ایسا صبرو

٣١

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٤١٠

استقلال، اور ایسی ہمدردی قوم سے بھری ہوئی فطرتاً اپنے ساتھ لے کر دنیا کے سامنے جلوہ گر نہ ہو۔ مسلمانوں کا یہ رنج و درد کبھی کم نہیں ہوگا۔ کسی مسلمان سے تو یہ نہیں ہو سکے گا کہ اب اس غریق رحمت کو سب وشتم سے یاد کرے اور آل رسولؐ پر درود بھیجنے کی بجائے گالیاں نکالے۔ مگر مرزا قادیانی کی جماعت کو جو ہم جیسے مسلمان نہیں ہیں۔ کیونکہ ہم کو وہ اپنے جیسا مسلمان نہیں سمجھتے۔ غالباً یہ حق ہے کہ سید مرحوم کو ملحد، دہریہ، مٹیرلیٹ، جاہل انسان، بدعقیدہ، معتزلہ وغیرہ کہہ کر یاد کریں۔

ہماری دانست میں قصور تو سرسید مرحوم کا صرف اتنا ہی تھا کہ وہ قادیان میں آ کر مرزا قادیانی کے دست بیع کیوں نہ ہوئے۔ مگر بندہ کی یاد خطا نہیں کرتی تو انہوں نے جواب دے دیا تھا کہ : ”مرزا قادیانی تو بجائے خود میں آپ کی بیعت کو بھی تیار ہوں۔ اگر کالج کی تکمیل کرا دو۔“ مولوی صاحب جان چکے ہوں گے ان کے عقیدہ کو کیا انبیاء علیہم السلام کے سوا کسی کو یہ حق حاصل نہیں ہے جو یہ کہے کہ اے فلاں میرے راہ پر چل اور بالآخر یہ سلسلہ حضرت محمد الرسول اللہ ﷺ پر ختم ہو چکا ہے۔ اگر وہ اس قسم کی بیعت اور کورانہ تقلید کو حق سمجھتے تو چونکہ خود بذات رسول اللہ ﷺ کی اولاد تھے اور اہل تقویٰ و ورع اور ایمان داری اور امانت گزاری میں فرد کامل، آج لاکھوں شخص ان کے مرید ہوتے اور وہ اس حیلہ سے لاکھوں روپے کما لیتے۔ مگر ان کا تو یہ مقولہ تھا کہ خواہ کوئی شخص کیسا ہی میرا دوست اور عزیز ہو۔ میں نہیں چاہتا کہ وہ میرے خیالات کی پیروی کرے۔ (دیکھو لیکچر اسلام جو بمقام لاہور دیا تھا) اب تو وہ اس دار ناپائیدار سے علاقہ قطع کر کے خداوند تعالیٰ کے جوار رحمت میں جگہ پاچکے ہیں۔ اگر کوئی ان کو برا بھلا کہے تو سرسید مرحوم کے لئے نہیں ہے۔ بلکہ خاص اس کہنے والے کی ذات کے لئے۔ سعدیؒ

ببیں جان من درخزاں کشتہ جو
کہ گندم ستانی بوقت درو

پس ہم کو سرسید کو ڈیفنڈ کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ ہاں البتہ چند اور باتوں کا جواب مولوی صاحب کی خدمت میں عرض کیا جاتا ہے اور سہولت کے واسطے مولوی کو ہم نے حرف میم سے تعبیر کیا ہے اور اپنے تئیں لفظ بندہ سے۔

م...... یہی حال اس گجراتی مدرس معترض کا ہے۔ جو انقلاب قسمت یا شقاوت اوّل کے دباؤ سے گجرات کو تار جک کی شکل میں مقلوب کر کے اپنے بہروپ کا پردہ فاش کرنا نہیں چاہتا۔ میں خوش ہوتا اگر اس کے اعتراضوں سے بوخدا ترسی کی آتی۔

بندہ...... آپ نے بڑی حقارت سے مدرس کے نام کو جتایا ہے۔ یہی تو باعث ہے کہ مثل دیگر

٣٢

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٤١١

نامہ نگاران کے بندہ بھی اپنے نام کو ظاہر نہیں کرتا۔ آپ نے نہیں سنا ؎

خوشتر آں باشد کہ سرّ دلبراں
گفتہ آید در حدیث دیگراں

کیونکہ جب کسی کا اصلی نام اور حیثیت ظاہر ہو جاوے تو پھر اس کی ذاتیات کی طرف ناظرین کا خیال ہو جاتا ہے۔ ”انظر الی ماقال ولا تنظر الی من قال“ کے برخلاف ہے اور اس میں ایک یہ بھید بھی ہے کہ اپنی شیخی اور غرور اور دوسروں کی تحسین و آفرین سے بھی بچا رہتا ہے۔ تیسرا بقول آپ کے پردہ بھی فاش نہیں ہوتا اور ایک طرح سے شرم وحیا بھی طبیعت میں رہتا ہے۔ مگر جب کہ اپنی پرانی شفقت اور دلی عنایت سے کسی کا پردہ فاش کرنا چاہا۔ ”ولا تجسسوا“ کو پس پشت پھینک کر سعدیؒ کے اس بیت کی طرف خیال نہ کیا کہ ؎

مدر پردۂ کس بہنگام جنگ
کہ باشد ترانیز در پردہ ننگ

تو بمجبوری جناب سے مخاطب ہونا پڑا۔

اس کو ظاہر فرماویں۔ آپ کی ذات والاصفات کو بھی تو سب سے اوّل مشن سکول کی لوئر مدرسی ہی نصیب ہوئی تھی اور جب کہ آپ کی حسن کارکردگی پر پادریوں نے غور کر کے بڑے اعزاز و اکرام کے ساتھ آپ کو علیحدہ کیا تو پھر بہزار خرابی بورڈ سکول میں ایک ادنیٰ سی آسامی ملی۔ مگر نمایاں ترقی دکھانے کے بعد جب وہاں سے بھی آپ کو فرنچ لیو (فرانسیسی رخصت) مل گئی تو جناب نے حکیم مولوی نورالدین کا امین بن کر حق امانت ادا کیا اور جب کہ اور کوئی ذریعہ نظر نہ آیا تو یہ بہروپ بھرا جس میں جناب کو دیکھ رہے ہیں۔ مگر بندہ کو خداوند تعالیٰ نے اسی گورنمنٹ سکول کی ادنیٰ سی مدرسی سے اعلیٰ مدرسی نصیب کی۔ وللہ الحمد! معلوم نہیں کہ انقلاب قسمت اس کو کیونکر کہا جاسکتا ہے۔ انقلاب قسمت تو (خدانخواستہ) تب ہوتا کہ میرا کوئی عضو رئیس بیکار ہوتا اور تقدیر سے حیران زدہ رہ جاتا۔ مثلاً آنکھ پھوٹ جاتی۔ ٹانگ ٹوٹ جاتی یا ضعف دماغی سے ہر وقت سر میں خارش رہتی وغیرہ اور پھر ناقابل مزدوری ہو کر لوگوں کی مفت کی روٹیاں توڑ کر ان کی مداحی میں رطب اللسان رہتا۔ اب ان باتوں سے جو خدا تعالیٰ نے مجھے عاجز کو اپنے فضل و کرم سے بچا رکھا ہے اور اس قابل بنا دیا ہے کہ اپنی محنت مزدوری سے روزی کماتا ہوں اور کسی کا دست نگر نہیں۔ میں ہر وقت ”واما بنعمت ربک فحدث (الضحی: ١١)“ کا مصداق بن کر رکوع و سجود اس پروردگار حقیقی

٣٣

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٤١٢

کا کرنے کے قابل ہوں۔ اس لئے آپ سوچیں کہ یہ مجھ ناچیز پر انعام الٰہی ہے۔ یا بقول آپ کے انقلاب قسمت۔

ایک درایت تھا، نہ کہ روایت، معلوم نہیں کہ پھر آپ نے اس لفظ کو بندہ کی طرف کیوں منسوب کیا۔

کہ ایسے عمدہ لفظ کا بندہ کس طرح محل ہو سکتا ہے اور آپ کے پاس کون سی وجوہ اس لفظ سے میری طرف نسبت کرنے کی ہیں۔ حضرت کسی کو خبر ہے سوائے اس عالم الغیب خبیر و بصیر خداوند تعالیٰ کے کہ کون شقی ہے اور کون سعید، ادنیٰ مخلوق سے لے کر انبیاء علیہم السلام تک سب مخلوقات خداوند تعالیٰ کی درگاہ میں گڑگڑا کر نہایت عجز وزاری سے دعائیں مانگتے ہیں۔ ”ربنا ظلمنا انفسنا وان لم تغفر لنا وترحمنا لنكونن من الخاسرين“

شاید یہ لفظ آپ نے بندہ کی طرف اس لئے منسوب کیا ہو کہ بندہ مسلمان کے گھر میں پیدا ہوا۔ قرآن شریف سے انس کی، احکام اسلام سیکھے۔ حتی المقدور فرائض کے ادا کرنے میں کوشش کی۔ حامیان دین اسلام سے للہ فی اللہ محبت کی۔ مخربان دین پاک کو دل و جان سے برا جانا۔

شاید اس لئے کہ اس ہادئ برحق رسول کریم ﷺ کا کلمہ پڑھتا ہوں۔ اہل قبلہ ہوں اور شرک فی الرسالۃ کو کفر سمجھتا ہوں اور حکم قرآنی ”قل ان کنتم تحبون اللہ فاتبعونی يحببكم اللہ“ پر اپنا مدار زندگی سمجھتا ہوں۔ شاید اس لئے کہ بندہ کا اعتقاد ہے کہ زمین و آسمان ٹل جاویں۔ مگر خداوند تعالیٰ کے کلام قرآن مجید کی ایک آیت ٹل نہیں سکتی۔

شاید بزرگان دین اور بالخصوص سرسید مرحوم کو نیک مسلمان جاننے کے لئے اور اس کے قومی ہمدردی کے کاموں کو اچھا ماننے کے لئے مگر اس میں تو ماشاء اللہ ایک مدت مدید آپ بھی ان کے ہم زبان اور ہم خیال رہے ہیں اور جس انداز سے آپ نے سرسید مرحوم کے ہاتھوں سے قرآن شریف لیا تھا۔ وہ آپ کو بھول نہیں گیا ہوگا۔ گو آپ کی مصلحت اس وقت اس کا اقرار کرنے کی آپ کو اجازت نہیں دیتی۔ سو اس بارے میں بندہ اور آپ بلکہ جناب حکیم مولوی نور الدین صاحب بھی ایک ہی سطح پر ہیں تو میں نہایت ناانصاف اور پرلے درجے کا ظالم ہوں گا۔ اگر یہ انعام (شقاوت ازلی) سب کا سب اڑا لوں اور آپ منہ دیکھتے رہ جائیں۔ نہیں صاحب میں تو ”ويؤثرون على انفسهم“ اور ”خیر الناس من اثر“ پر عمل کروں گا اور اس انعام کا ایثار کروں گا۔

٣٤

صفحہ ٤١٣

شاید اس لئے کہ سرسید مرحوم نے آپ لوگوں کے لئے راستہ صاف کیا اور ایک آسامی خالی کی ۔ جس کو آپ کے مرشد بزرگوار نے غصب کرنا چاہا ہے۔ شاید اس لئے کہ مرزا قادیانی کو پیغمبر بنانے اور مسیح موعود ٹھہرانے میں بندہ نے آپ سے اتفاق رائے نہیں کیا۔ مگر یہ خیال بھی درست نہیں ہے۔ اگر بندہ آپ کا ہم خیال نہیں ہے تو سوائے معدودے چند کل دنیا کا آپس میں اتفاق رائے نہیں ہے۔ پھر اگر کل دنیا آپ کے نزدیک ازلی شقی اور جہنمی ہے تو میں اپنی قسمت کو ان سے علیحدہ نہیں کرسکتا اور آپ لوگوں کا ہمیں ایسا سمجھنا آپ کی خوبی اعتقاد اور اثر صحبت ہے اور آپ اس میں مجبور ہیں۔

ایک وجہ مولوی صاحب کے ازلی شقی وغیرہ ارشاد فرمانے کی یہ بھی ہوسکتی ہے اور غالباً یہی درست بھی ہو۔ یعنی دنیا کا مشاہدہ اور روزمرہ کی آزمائی ہوئی مثال ہے کہ جیسا شیشہ ہو ویسی ہی روشنی اس سے نظر آتی ہے۔ اگر وہ صاف و مجلا ہے تو اعلیٰ درجہ کی۔ اگر میلا اور دھندلا ہے تو ڈم لائٹ اور مبدأ فیاض کی طرف سے بھی بمصداق آیۂ کریمہ ”قل كل يعمل على شاكلته“ حسب استعداد مادہ والقاء اثر صورت ہوتا ہے۔ پس شاید جناب مولوی صاحب کے دل کا شیشہ اس طرح پر دھندلا ہو گیا ہو اور اس شیشہ سے جو ہر وقت حتیٰ کہ تصویر کشی کے موقعہ پر بھی آنکھوں سے نہیں اتارتے۔ اس سے ان کو ہر ایک شقی ازلی نظر آتا ہو اور بظاہر اوصاف ثلثہ بھی تو اس کے بڑے معاون اور مددگار ہیں۔ جو حضرت مولانا کی ذات بابرکات میں پائے جاتے ہیں اور یہ ایسی بدیہات ہیں کہ ”کتاب اخلاق ناصری و اخلاق جلالی“ و دیگر کتب اخلاق کے جاننے والے ان مذکورہ بالا اوصاف کے نتائج سے خوب واقف ہیں۔ عیاں را چہ بیاں!

حضرت مولانا انصاف تو جب معلوم ہو کہ انصاف کی آنکھ سے کسی معاملہ کو دیکھا جاوے اور جس بیچارے کی مصداق آیۂ کریمہ ”ختم الله على قلوبهم وعلى سمعهم وعلى ابصارهم (البقرہ:٧)“ حق بینی کی آنکھ ہی ماری جاوے۔ وہ عینک کہاں لگاوے۔

سعدیؒ

نہ بیند مدعی جز خویشتن را
کہ دارد پردۂ پندار درپیش
گرت چشمے خدا بینی ببخشد
نہ بینی ہیچکس عاجز تراز خویش

اگر بندہ یہ لکھ دیتا کہ مرزا قادیانی قادیان سے روانہ ہو کر سیدھے لاہور نہضت فرما

٣٥

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٤١٨

ہوئے اور پھر حضرت پیر مہر علی شاہ صاحبؒ نے ڈر کر گولڑہ سے قدم باہر نہیں نکالا۔ تب تو آپ ضرور ہی خوش ہو جاتے اور اس کو نہایت انصاف سمجھتے۔ مگر اس پر سوائے اس کے کہ میری کانشنس مجھے سخت نادم کرتی۔ کیا ہزاروں مسلمان جو مرزا قادیانی کے دیدار کو لاہور ترستے رہے اور جنہوں نے پیر صاحب موصوف کو مسجد بادشاہی میں دیکھا اور بالخصوص فریق مخالف وہ مجھ کو کیا کہتے؟ علاوہ اس کے روایت کاذبہ ہو جاتی۔ درایت صحیحہ کا لطف جاتا رہتا۔ پھر میں آپ کے راضی کرنے کے لئے اپنے خدا و رسول ﷺ اور سچے لوگوں کے گروہ سے کیونکر پھر جاتا۔

بحق باش گو خواجہ راضی مباش

قسمیں دینا دلانا کہ میں ایسا ہوں یا ویسا ہوں، اور اپنے مناقب بیان کرنا ایک فعل عبث ہے۔ ’’مشک آنست کہ خود ببوید۔‘‘ نہ کہ عطار بگوید۔ صرف اپنے ہی مسلمات سے مخالف کو خطاب کرنا ایک طرح سے اپنی ہنسی آپ اڑانا ہوتا ہے۔ اپنے مشاہدات، مقالات، متفوہات، خصم کے سامنے پیش کرنا مناظرہ نہیں ہوتا۔ بلکہ عین مکابرہ ومجادلہ ہے۔ دیکھو عالم مناظرہ جو دستور کلام کا معیار ہے۔ محض اپنی مسلمات اور متفوہات کو بیان کر کے نتیجہ حسب مراد نکالنا عین جنون نہیں تو اور کیا ہے۔ ’’وکلام المجانین لا یعتبر ٭ كبرت كلمة تخرج من افواههم ٭ ان يقولون الا كذبا‘‘

خدا ترسی ایک اندرونی عمل ہے کہ اس کا سیدھا راستہ خداوند تعالیٰ کے ساتھ ہے۔ ایک شخص کا ایمان ہے کہ نبوت حضرت رسول کریم ﷺ پر ختم ہو گئی۔ اب اگر کوئی دوسرا شخص اس میں شرک کرے اور کوئی نئی راہ نکالنا چاہے تو بتاؤ پہلے شخص کی خدا ترسی کا یہ نمونہ ہونا چاہئے کہ اس دوسرے کی ہر ایک آواز پر اندھا دھندی سے ’’آمنا صدقنا‘‘ اور بات بات میں حضور حضور کرتا جاوے۔ یا خدا سے ڈر کر اس سے منہ پھیر لے اور متنفر ہو یا ان ہفوات اور مزخرفات اور کلمات لا طائل اور باطل کو نعوذ باللہ خدا کی کلام پاک سے تشبیہ وتطبیق دے کر بر خلاف حکم ’’قل لئن اجتمعت الجن والانس على ان يأتوا بمثل هذا القرآن لا يأتون بمثله ولو كان بعضهم لبعض ظهيراً (بنی اسرائیل: ٨٨)‘‘ کے ’’خاسر الدنیا والآخر‘‘ بن جاوے۔

پیغمبر ﷺ کے کسی عالی وقار اصحاب یا کسی قطب الاقطاب ومجدد دین نے کبھی ایسا بیہودہ دعویٰ کر کے خلقت کو گمراہ نہیں کیا کہ :’’میرے منہ کی نکلی ہوئی باتیں عین قرآن ہیں۔‘‘ یا اپنی من گھڑت کتاب لکھی ہوئی قرآن کی مثل منوائے۔ پس دوستو دنیا و آخرت کا فکر کر کے ذرہ ہوش سے کام کرو اور ’’اذا جاء اجلهم لا يستاخرون ساعة ولا يستقدمون‘‘ کے حکم کو پیش

٣٦

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٤١٥

نظر کر کے خدا کے عذابوں سے ہر وقت ڈرو۔ ”قال اللہ تعالیٰ فی کتابہ المبین وھو اصدق الصادقین ”فلیحذر الذین یخالفون عن امرہ ان تصیبھم فتنۃ او یصیبھم عذاب الیم (نور: ٦٣)“ ہے۔

م...... میں عرصہ دس برس سے مرزا قادیانی کی خدمت میں ہوں اور مجھے بیت اللہ میں ایک عظیم الشان مجمع کے روبرو کھڑا کر کے قسم دلائے تو میں دس برس کے رات ودن کے تجربہ اور مشاہدہ اور اندرونی اور بیرونی شہادت سے کہہ دوں گا کہ میں نے مرزا قادیانی کو صادق پایا ہے۔ جس طرح حضرت ابو بکر صدیقؓ نے پیغمبر ﷺ کو صادق پایا تھا۔

بندہ...... میں پہلے عرض کر چکا ہوں کہ آپ آداب مناظرہ سے پورے پورے نابلد ہیں۔ بھلا آپ کا تجربہ اور مشاہدہ ہمارے لئے کیونکر سند ہو سکتا ہے؟ جب کہ ہم سرے سے آپ کے دعویٰ کو لا طائل سمجھتے ہیں۔ بلکہ ہمارے لئے تو ایک خبر ہے۔ جس میں صدق وکذب کا احتمال ہے۔ اگر اس سے بڑھ کر ہو تو ایک ظن ”وان الظن لا یغنی من الحق شیئاً“ فرمائیے اگر آپ مرزا قادیانی کی خدمت میں نہ رہتے تو جاتے کہاں؟ مشن اسکول والوں نے بایں اعزاز اور اکرام آپ کو گھر واپس کیا۔ بورڈ سکول والوں سے آپ کی طبع مبارک ناساز ہو گئی۔ کاغذات زر صرف ہو گئے اور پھر ایک عیال دار آدمی کا اس زمانہ میں دس بارہ روپیہ ماہوار میں بن ہی کیا سکتا ہے؟ مرغ، پلاؤ، بالائی دار چائے اور الائچی وغیرہ کا استعمال کرنے کے لئے اور عمدہ پوشاک زیب تن کرنے کے لئے اس قدر اقل رقم کس طرح کفایت کر سکے اور پھر وہ بھی ہاتھ سے جاتی رہے۔ معذوری، اس کے علاوہ سوا ایسا شخص جو مرزا قادیانی کے ہاں سے اس طرح آسائش پاوے۔ جو اپنے گھر میں کبھی خواب میں بھی دیکھی نہ ہو۔ بیت اللہ شریف میں ایک عام مجمع کے سامنے کیا عرش عظیم پر بھی اگر چڑھایا جاوے تو وہاں بھی قسم کھا جاوے کہ (معاذ اللہ) مرزا قادیانی ہی خدا ہیں تو کیا عجب ہے۔ جس شخص کو پہلے بھی کئی ایک دفعہ بہروپ بھرتے۔ مشاہدہ کیا گیا ہو۔ یہ قسم تو بجائے خود، کل کو ایک اور قسم کھا جانے کو تیار ہو جائے کہ میں ہی رسول ہوں تو کیا عجب ہے۔ مگر یہ قسم اس کے حسب قواعد علم مناظرہ خصم پر کچھ بھی حجت نہ ہوگی۔ محض ”لا یضر و لا ینفع“ کے مصداق ہوگی۔ میں مکرر آپ کو جتاتا ہوں کہ آپ کا قسم کھانا اور آپ کا تجربہ اور مشاہدہ ہم پر کچھ حجت نہیں اور خس وخاشاک جتنی بھی قدر نہیں رکھتا۔ ایسے مقولہ کے قائل اور مشاورین کے جوہر استعداد کی قلعی اصحاب بصیرت اور ارباب فضیلت پر بخوبی کھل جاتی ہے۔ ”بحکم الانسان لا یزکی بشھادۃ اتباعہ“

٣٧

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٤١٦

ہاں البتہ عاجز راقم ایک بات سے حیران ہے کہ مرزا قادیانی کا دعویٰ خواہ حق ہو یا باطل یہ ہے کہ میں مسیح موعود ہوں۔ پھر مولوی صاحب کیسے ابوبکر صدیقؓ بن سکتے ہیں؟ مسیح موعود اور ابوبکر صدیقؓ کا آپس میں کیا جوڑ؟ اگر آپ اپنے تئیں یوحنا، متی، لوقا، مرقس وغیرہ ناموں میں سے کسی ایک سے مسمی کرتے یا یہودہ اسکریوتی کا لقب اختیار کرتے تو مسیح کے ساتھ موزوں ہوتا اور آپ کی عبارت کو بھی ایسے ناموں سے ایک قسم کی مناسبت یا لگاوٹ ہوتی ہے۔ جس میں ٹھوس ٹھوس کر موجودہ مروجہ اناجیل کے الفاظ آپ بھرتی کرتے ہیں۔

م...... پس خدا ترس اور تقویٰ شعار لوگوں کو توجہ دلاتا ہوں کہ براہین احمدیہ کو ضرور غور سے پڑھیں اور اسی تدبر و روشنی میں پڑھیں۔ جس طرح فرقان حمید کی مکی سورتوں کو پڑھتے ہیں۔

بندہ...... معلوم نہیں؟ کہ یہ خطاب مولوی صاحب کا کن لوگوں کو ہے؟ اگر اپنی جماعت کو ہے تو ایک قسم کا توارد ہے۔ کیونکہ وہ لوگ تو ”براہین احمدیہ“ کی تلاوت مثل قرآن شریف کے کرتے ہی ہیں اور نئی روحیں لینے کے باعث اس کتاب کے سامنے قرآن شریف کی ایسی ہی عزت کرتے ہیں۔ جیسے اہل قرآن تورات وانجیل کی۔ بلکہ بندہ نے تو یہاں تک معتبر ذریعوں سے سنا ہے کہ بے وضو قرآن شریف کو ہاتھ لگا لیتے ہیں۔ مگر مرزا قادیانی کی تصویر کو اگر کوئی شخص بے وضو چھوئے یا مس کرے تو اس پر خفا ہو جاتے ہیں۔ غرض کہ ان کا عملدرآمد ”براہین احمدیہ“ پر ہی ہے۔ اگر قرآن شریف پر ہوتا تو یہ آیت بھی تو ان کے مطالعہ میں آتی۔ ”ما ہذہ التماثیل التی انتم لہا عاکفون (انبیاء: ٥٢)“

اور ان کو اصلی اور حقیقی اسلام چھوڑ کر ایک نیا گروہ یا ٹکڑا کاٹنے کی کیا ضرورت تھی؟ اگر سواء اپنی جماعت کے دوسرے لوگوں کی طرف مولوی جی کا خطاب ہے۔ تو بھی اپنے نئے اور نرالے مشن کی رو سے مولوی جی کی زیادتی ہے۔ کیونکہ ان کے مرشد (مرزا قادیانی) جن لوگوں کو جہنمی، ہامان اور فرعون وغیرہ کے خطاب دیتے ہیں اور مولوی حکیم نور الدین صاحب بر ملا شیطان اخرس اور خود بذاتہ مولوی صاحب ازلی شقی وغیرہ کے، تو پھر ان کے نزدیک کوئی شخص کس طرح سے خدا ترس اور تقویٰ شعار ہو سکتا ہے اور پھر ہم کہتے ہیں کہ اگر کوئی شخص خدا ترس اور اہل تقویٰ ہو تو اس کو براہین احمدیہ سے ایک فضول، لغو اور بیہودہ کتاب کو جس کا نہ کوئی سر ہو نہ پاؤں، نہ کہیں تقریر ختم ہوتی ہے نہ کوئی فل سٹاپ، حاشیہ در حاشیہ اور حاشیہ نمبر ١١ پڑھتے پڑھتے انسان حیران پریشان ہو جاتا ہے کہ کیسی شیطان کی آنت ہے کہ کہیں ختم ہونے میں ہی نہیں آتی۔ کیوں اس پاک اور بے عیب کتاب کے ساتھ ایک ترازو میں تولنے لگا۔ جس کی شان میں ہے۔ ”وانہ لکتاب عزیز

٣٨ www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٤١٧

لا ياتيه الباطل من بين يديه ولا من خلفه تنزيل من حكيم حميد (حم سجده: ٤٢)“ اور جس کی مثل نہ کوئی دنیا میں بنا سکا۔ نہ کسی پر آئندہ کو بنانے کی امید ہے۔ اصل بات یہ ہے۔ جو بندہ نے اوپر بیان کی۔ مولوی صاحب معذور ہیں۔ ورنہ یہ کیسا مشرکانہ خیال ہے جو مولوی صاحب کی قلم سے نکلا ہے۔ کس خدا ترس اور تقویٰ شعار مسلمان کا زہرہ ہے کہ ایسے لغو اور بیہودہ کلمات کو پڑھ کر برداشت کر سکے۔ کیا یہی براہین احمدیہ ناقص اور ادھوری کتاب تو نہیں ہے۔ جس کے اتنے لمبے چوڑے مگر جھوٹے اشتہارات دے کر لوگوں سے زر وصول کی جاتی رہی۔

مولوی صاحب! افسوس ہے آپ کے اس اعتقاد پر۔ اگر آپ کے دل میں ذرا بھی خوف خدا ہوتا اور کچھ بھی قرآن شریف کی وقعت ہوتی تو ایسے گندے اور مشرکانہ خیالات آپ ظاہر نہ فرماتے۔ مگر پیٹ ظالم ہے۔ تف ہے ایسی روٹی کمائی پر۔ حیف ہے ایسی قرآن دانی پر۔ شاید مرزا قادیانی مسیح موعود ہونے پر ہی قناعت کرتے۔ مگر آپ ان کو زمین پر دم نہیں لینے دیتے اور سب انبیاء علیہم السلام کا لب لباب اور روح الامین اور کیا کیا بنا کر عرش بریں پر چڑھا رہے ہو۔

خیر جہاں تک آپ سے ہو سکتا ہے سیدھے سادھے اور جاہل لوگوں کو دھوکہ دیا کرو اور راہ راست سے ہٹایا کرو۔ مگر ایک دن آنے والا ہے کہ تمہارے سب منصوبے خاک میں مل جاویں گے۔ اس وقت توبہ بھی قبول نہ ہوگی۔ بلکہ رونا اور دانت پیسنا ہوگا۔

ذرا بتاؤ تو سہی ایک مدید اور عرصہ بعید (میر عباس لدھیانوی، حافظ حامد علی، منشی غلام قادر فصیح، منشی مہتاب الدین سپر وائزر، مولوی ابوسعید محمد حسین بٹالوی، فتح محمد خاں، شیخ عبدالحق، حافظ محمد یوسف ضلعدار نہر، منشی الٰہی بخش اسسٹنٹ لاہوری، منشی عبدالعزیز خان) یہ احباب اور ان کے سوا دیگر کئی ایک بزرگوار ”براہین احمدیہ“ کو تدبر اور روشنی میں پڑھتے رہے ہیں یا نہیں۔ جن کی تعریف میں آپ کے مرشد بزرگوار کئی ایک دفعہ اپنی تصانیف میں ذکر کر چکے ہیں۔ کیا یہ احباب آپ کی جماعت کے لیڈنگ ممبران سے نہیں ہیں؟

بتاؤ ان بزرگواروں نے اتنے بڑے بھاری نشانات جن کو نہ کسی پیغمبر نے دکھایا نہ کسی ولی وغوث وقطب نے دیکھ کر کس طرح آپ کی جماعت سے بیزاری اور علیحدگی اختیار کی۔ پس ہمارا گمان ہی نہیں۔ بلکہ یقین ہے کہ اگر آپ لوگوں کا مشن کچھ بھی راستی پر ہوتا اور فخر اور تعلی وغیرہ نہ ہوتی تو ایسے فرشتہ خصال لوگ اس مشن سے اپنی بیزاری نہ ظاہر کرتے۔

مولوی صاحب! آپ ہزار طرح سے پردہ پوشی اور ملمع سازی میں سرگرمی دکھلاویں۔ مگر ”عصائے موسیٰ“ نے تو آپ کی رسیوں اور سوٹیوں کو نگل لیا۔ اگر اب بھی اپنے فرعونی خیالات

٣٩

صفحہ ٤١٨

کو دور نہ کریں تو آپ ہی کو زیبا ہیں۔ م....... اور کچھ صدوقیوں کی طرح ایک غلط کار، مضل، مقلد یورپ، مصنوعی ریفارمر کی پیروی کے سبب سے خدا تعالیٰ کی شرائع وحی، الہام، مکاشفہ، رؤیا دعاوی و ان تمام امور حقہ سے منکر ہو گئے ہیں جو اسلام کا یگانہ اور مایہ ناز ہیں۔ بندہ....... معلوم نہیں کہ اس کو سننے سے قادیانی مولوی کو سواء اپنا نامہ اعمال سیاہ کرنے کے اور کیا فائدہ متصور ہے۔ بھلا اس سے بھی کوئی زیادہ غلط کاری ہوسکتی ہے کہ قادیان کو بیت المقدس قرار دیا جاوے اور مسجد اقصیٰ کو مسجد قادیان سمجھا جاوے۔ اس سے زیادہ گمراہی کیا ہوسکتی ہے کہ ایک مضل ختم رسالت کے بعد بھی اپنے تئیں (معاذ اللہ) حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کا ہم پلہ جانے۔ کیا اگر کوئی یورپین دو اور دو چار کہا کرے تو بھلا مولوی صاحب موصوف بھی چار ہی کہیں گے؟ نہیں ہرگز نہیں۔ بلکہ مولوی صاحب کو پانچ یا چھ کہنا چاہئے۔ تاکہ یورپ کی تقلید سے بچ جاویں۔ اگر مصنوعی ریفارمر کی لفظ کا سرسید مرحوم کی طرف مولوی صاحب اشارہ کریں تو ہو نہیں سکتا۔ کیونکہ ان کی ریفارمیشن کو تو ایک جہان اصلی اور حقیقی ریفارم یقین کرچکا ہے۔ ہاں البتہ مرزا قادیانی مصنوعی یا جعلی نبی یقین کئے گئے ہیں۔ جنہوں نے دعویٰ کیا اور اس پر دلیل ایک بھی نہ دی اور اپنی ادعائی نبوت کا سارا دارو مدار ”کریم بخش“ ایک ناخواندہ شخص کے اظہارات پر رکھا۔

افسوس ہے کہ قادیانی مولوی صاحب اپنی عادت سے لاچار ہیں۔ اسی واسطے خواہ مخواہ نیش زنی کرتے ہیں۔ ایک بچھو جو دریا کی طغیانی کے باعث موجوں میں بہہ رہا تھا۔ اس نے ایک کچھوے کو واسطہ ڈالا کہ ایک دم بھر کے لئے مجھے سہارا دو۔ چنانچہ کچھوے نے منظور کیا۔ جب بچھو اس کی پشت پر بیٹھ کر ہوش میں آیا تو وہیں نیش زنی کرنے لگا۔ کچھوے نے ہنس کر کہا کہ میری پشت تو نہایت سخت ہے۔ وہاں نیش زنی کام نہیں کر سکتی۔ مگر بھلے مانس نیکی کا عوض یہی ہے؟ بچھو نے جواب دیا کہ فی الواقعہ یہی بات ہے۔ مگر افسوس ہے کہ میں اپنی عادت سے لاچار ہوں۔ پس قادیانی مولوی جیسا کہ بندہ نے پہلے عرض کیا معذور ہیں۔

حق تو یہ تھا کہ وحی الہام مکاشفہ رؤیا اور دعا کی جو (بقول مولوی صاحب) مصنوعی ریفارمر نے تفسیر کی ہے۔ اس کے برخلاف ایسی تشریح فرماتے کہ جن کو وہ مقلد یورپ کے نام سے پکارتے ہیں۔ دل سے مان جاتے۔ مگر جب کہ مرزا قادیانی اور ان کی جماعت اسی پٹڑی پر عملدرآمد رکھتی ہے۔ جو اس مصنوعی ریفارمر کا ہے تو لوگوں کو دکھانے اور حمقاء کو قابو میں لانے کے لئے ہزار دشنام دہی سے کام لیں۔ کچھ بھی نہ بن پڑے گا اور دنیا جان جاوے گی بلکہ جان گئی ہے

٤٠

صفحہ ٤١٩

کہ سوا بدزبانی اور گندہ دہنی کے مولوی صاحب اور ان کے دادا پیر کے پاس کچھ بھی نہیں ہے۔ اس سے آگے حضرت مولوی صاحب نے سخت حقارت سے جناب مولانا ابوسعید محمد حسین بٹالوی کا اپنی انجیلی عبارت میں ذکر کیا ہے۔ مگر بمصداق آیہ کریمہ ”ولا تزر وازرۃ وزر اخریٰ وان لیس للانسان الا ماسعی (النجم :٣٩،٣٨)“ اس کے خود مولوی صاحب ذمہ دار ہیں۔ ہمیں اس سے کچھ سروکار نہیں۔ البتہ مرزا قادیانی اور مولوی صاحب ابوسعید محمد حسین بٹالوی کے مقدمات کا نتیجہ یہ نکلا کہ پیش گوئیاں قرق، الہامات مدعی ضبط، اور قصہ کوتاہ حضرت کو نبوت سے ہی فارغ خطی حاصل کرنی پڑی۔

پھر حضرت مولوی صاحب (عبدالکریم قادیانی) لنگڑاتے ہوئے دو چار قدم آگے بڑھے ہیں اور نیچرلسٹوں، میٹریلسٹوں، مادہ پرستوں وغیرہ کو دو چار سنائی ہیں اور اپنی انگریزی دانی کی ٹانگ بھی توڑی ہے۔ پھر اہل تشیع پر حملہ کیا ہے۔ پھر پھرا کر سرسید مرحوم و مغفور کو صلواتیں سنانا شروع کیا ہے۔ جو ایک مدت مدید سے مولوی صاحب کے ہر رگ و ریشہ میں سمائی ہوئی ہیں اور فرماتے ہیں۔

م...... علی گڑھ کالج کے بانی نے اس بدعقیدہ سے متاثر ہو کر اور پرانے حال کے میٹریلسٹوں دہریوں کی چال پکڑ کر اپنی تفسیر میں صاف لکھ دیا کہ قوموں کی تباہی قدرتی اسباب سے گناہوں کی سزا اور ان کا نتیجہ نہ تھی۔ پہاڑ کو زلزلہ آیا اور وہ قوم اتفاقاً اس کے نیچے دب گئی۔ الیٰ آخرہ!

بندہ...... مثل مشہور ہے۔ ”گوسالہ چو سہ سالہ شود گاؤ شود، گوسالہ ما پیر شد گاؤ ایں شد“ کیا کہنا۔ مولوی صاحب کی سخن فہمی عالم بالا پر مولوی صاحب کے دل و دماغ کی سرسبزی پر اگر مکالی بھی عش عش کرے تو عین زیبا ہے۔ ہم تو قادیانی مولوی صاحب کی اس عبارت کو پڑھ کر حیران رہ گئے ہیں کہ ایسی خوش فہمی کیونکر ان میں پیدا ہو گئی۔ مگر سچ ہے کہ زمانہ قابل آدمیوں سے کبھی خالی نہیں رہتا۔ ناظرین غور کرو۔ قادیانی مولوی صاحب کی یہ سمجھ ہے کہ سرسید مرحوم قوانین قدرت کے مخالف تھے اور نیچر میں امور اتفاقیہ کے قائل تھے۔ حالانکہ یہ ایسا سفید جھوٹ ہے۔ جیسا کہ کانے کو دیکھ کر کہا جاوے کہ اس کی دونوں آنکھیں بالکل درست ہیں۔ یا لنگڑے کو لاٹھی کے سہارے چلتا دیکھ کر کہا جاوے کہ یہ تو مثل صحیح و تندرست آدمیوں کے ریل گاڑی کی طرح دوڑ رہا ہے۔ یا سورج کو عین اپنے سر پر دیکھ کر کہہ دے کہ آدھی رات ہے۔ سرسید مرحوم نے دس جگہ نہیں بیس جگہ نہیں بلکہ سینکڑوں جگہ بڑی وضاحت کے ساتھ بیان کر دیا ہے کہ جو کچھ دنیا میں واقعہ ہوتا ہے عین قوانین قدرت کے مطابق اور اتفاق کا نام دوسرے الفاظ میں کسی چیز کے علم نہ

٤١

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٤٢٠

ہونے کا نام ہے۔ یا جہالت۔ اگر قادیانی مولوی صاحب اپنے اس دعویٰ کے ثبوت میں سرسید مرحوم کی تصانیف کا کوئی مقام شہادۃً پیش کرتے۔ جہاں پر سرسید مرحوم نے یہ لکھا ہو کہ فلاں واقعہ اتفاقاً ہوا تو مرزا قادیانی کے کیا ہم مولوی صاحب کے مرید بننے کو تیار تھے اور اگر نہ نکال سکے اور پھر میں یقیناً کہتا ہوں کہ ہرگز نہ نکال سکیں گے۔ خواہ مولوی صاحب نور الدین اور مرزا قادیانی کو بھی اپنا مددگار بنالیں تو ہمارا تو دونوں طرح سے سیدھا ہے۔ اگر مولوی صاحب نے اپنے غصہ کے جوش سے بے ساختہ ایسا لکھ دیا ہے تو خود مولوی صاحب کی طرف اتفاقیہ یا جہالت کا لفظ عائد ہوگا اور اگر عمداً ایک مرحوم پر ایسی بہتان بندی کی ہے تو مولوی صاحب کی خیانت اور پبلک کو مغالطہ دہی روز روشن کی طرح آشکارا ہے۔

میرا فرض ہے کہ اس موقعہ پر ناظرین کی خدمت میں عرض کروں کہ وہ سرسید مرحوم کی تصانیف کو مطالعہ کر کے مولوی صاحب کی راست بیانی اور سرخ روئی کی داد دیں۔

م...... یہ وہی مچھلیاں اور سونے کے انڈے دینے والی مرغیاں ہیں کہ جو ایک زمانہ میں حضرت خدیجہؓ اور حضرت ابوبکر صدیقؓ کی شکل میں پہلے داعی ﷺ کے دام میں آئی تھیں۔

بندہ...... ہمارا مطلب جو اپنے ١٥؍ اکتوبر ١٩٠٠ء والے مضمون میں تھا۔ اس کو عقلمند لوگ خوب سمجھ گئے تھے کہ جب مرزا قادیانی کو مولوی نورالدین جیسے لوگ مل گئے تو مولوی محمد حسین جیسوں کی کچھ پرواہ نہ رہی۔ حالانکہ مولوی محمد حسین صاحب علم وفضل وزہد وتقویٰ میں مولوی نورالدین سے کئی گنا بڑھ کر تھے۔ مگر جب روپیہ آنے لگا تو مرزا قادیانی نے اسے دھتا بتایا۔ اب مولوی عبدالکریم اس معاملہ کو کھینچ تان کر پیغمبر ﷺ تک لے گئے ہیں اور یہ ان کا حق بھی ہے۔ جس کا کھائیے اس کا گیت گائیے۔ ہر پہلو سے انبیاء علیہم السلام اور بالخصوص حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کے برابر جو مرزا قادیانی کو ثابت کرنا ہوا۔ مگر اس مثال میں بوجوہات چند در چند غلطی اور زبردستی پر ہیں۔

قادیانی مولوی نے خود بذاتہ جن کو دعویٰ بھی ہے؟ مگر یہ تو ہو نہیں سکتا۔ کیونکہ مولوی صاحب کی مالی حالت کا فوٹو پہلے کھینچ آیا ہوں اور اب ہر ایک طرف سے مایوس ہو کر الٹے مرزا قادیانی کے در دولت پر دھونی مارے بیٹھے ہیں اور انہیں کے دست نگر ہیں۔ ناچار کسی اور شخص کو اس مثل کا مصداق ماننا پڑے گا۔ مگر مشکل یہ ہوگی کہ صدیقی مولوی صاحب کے ہاتھ سے نکل جاوے گی۔

٤٢

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٤٢١

نہیں سکتیں اور مرزا قادیانی نے جو نیک سلوک اس بیگناہ عفیفہ کے ساتھ کیا۔ یعنی آخری عمر میں ناحق بے وجہ ان کو اپنے سے علیحدہ کر دیا۔ کیا یہی سلوک معاذ اللہ! رسول کریم ﷺ نے بھی اپنی ازواج مطہرات کے ساتھ کیا تھا؟ افسوس ہے۔ مولوی صاحب کی ہمہ دانی پر۔

مرزا قادیانی کی دوسری بی بی کو بھی حضرت خدیجہؓ کے ساتھ تشبیہ نہیں دی جاسکتی۔ گو آخر الذکر دولت مند ہے اور مالدار۔ مگر دولتمند اور مالدار اس کو کس نے بنایا؟ مرزا قادیانی نے حالانکہ جب مرزا قادیانی کو ایک بات بنانے کے واسطے پانچ ہزار کی ضرورت آپڑی تو آخر الذکر نے اپنے زیور کے عوض مرزا قادیانی کا باغ (فردوس بریں) رہن رکھ لیا۔

حا شا للہ ایں گہر دار آں گہر بار آمدہ

اب رہی تیسری فرضی بی بی جس کی نسبت ”وزوجناکھا“ مرزا قادیانی کو الہام ہوا تھا اور جس کی زبان درازی پر آپ لوگ کہتے ہیں کہ مرزا قادیانی نے بڑا بھاری معجزہ دکھایا۔ یعنی گالیاں کھائیں اور صبر ایوب کیا۔ وہ بھی نہیں ہو سکتی۔ کیونکہ ابھی تک معنی در بطن شاعر کی مثال ہے اور اگر وہ بالفرض کسی آئندہ زمانہ میں مرزا قادیانی کے حبالہ نکاح میں آ بھی جاوے تو وہ واقعات گزر چکے۔ ایسی مثال دینا عبث اور ناروا ہو گی۔ پس یقین ہے کہ مولوی صاحب اس عقدہ کو نہایت عمدگی سے حل فرما دیں گے۔

م ...... نہایت فخر و تعلی کے ساتھ بڑے بڑے موٹے اور بھدے الفاظ میں مرزا قادیانی کے مشن کی ترقی کا ذکر فرماتے ہیں کہ ملکہ معظمہ قیصرہ ہند مرحومہ کو تبلیغ کا خط لکھا۔ امیر کابل کو دعوت دی۔ کئی آدمیوں نے مرزا قادیانی کا مذہب قبول کیا۔ وغیرہ وغیرہ !

بندہ ...... حضرت ! اس زمانہ میں جب کہ برٹش گورنمنٹ نے رعایا پروری میں کوئی دقیقہ باقی نہیں چھوڑا اور ہر ایک قوم کو آزادی دے کر کمال احسان مندی سے انگریزی زبان رعایا کو سکھا دی ہے۔ ہر ایک مذہب والا اپنے عقائد و خیالات آزادی سے ظاہر کر سکتا ہے۔ جس سٹیج پر ایک عیسائی وعظ کر جاوے۔ اسی پر یہودی، پارسی، ہندو، مسلمان، سکھ وغیرہ حتیٰ کہ ایک دھریہ کو بھی اپنا مدعا پیش کرنے کا موقعہ مل سکتا ہے۔ حضور ممدوحہ قیصرہ ہند کی خدمت میں ایک عرضی لکھنا یا امیر عبدالرحمن ظل اللہ کو مراسلہ بھیجنا کون سی مشکل بات ہے۔ ہزاروں آدمیوں نے ملکہ کو عرائض لکھی ہیں۔ مگر دیکھنا چاہئے کہ مرزا قادیانی کی تبلیغ کا کیا اثر ہوا۔ کس قدر یورپین ودیسی عیسائی اپنا مذہب چھوڑ کر مرزائی ہو گئے۔ کس قدر اہل کابل نے مرزا قادیانی سے بیعت کی۔ امیر صاحب موصوف نے کیا جواب دیا؟ یہ کہ ہمیں (ادعائی) موعود مسیح کی ضرورت نہیں ہے۔ ہم عمرؓ کو چاہتے ہیں۔

٤٣

صفحہ ٤٢٢

ممالک دور دراز کو جانے دو۔ خاص ہندوستان میں ہی کوئی جماعت اہل ہنود، آریہ، برہمو، سکھوں وغیرہ کی بتاؤ۔ جو آپ کے جھنڈا کے نیچے آگئی ہو۔ پھر اگر دس یا پچاس سادہ لوح مزاج مسلمان دھوکہ کھا کر مرزا قادیانی کے پنجہ میں آ گئے ہیں تو ان پر اس قدر اترانا کیا معنی رکھتا ہے۔ اگر قادیان سے کئی ایک آدمی ہو آئے ہیں تو ہر ایک فرقہ مسلمان میں ہم لاکھوں آدمی بتا سکتے ہیں۔ اگر اور سب کو چھوڑ کر صرف کبیر شاہی یا دنا شاہی، لب شاہی وغیرہ کا حساب کیا جاوے تو آپ اس کے دسویں یا سویں حصہ کی بھی برابری نہ کر سکیں گے اور جان جاویں گے کہ ابھی تک آپ لوگ خلق خدا کے ورغلانے میں کسی مراد کو نہیں پہنچے۔ پھر اس سے کیا نتیجہ نکلا کہ آپ سچے ہیں اور باقی اسلامی دنیا حق پر نہیں ہے۔

م...... افسوس ظلم اور اعتساف میں اس معترض کو اس کے بزرگوں سے جو اس نادر فن میں زندہ یادگار چھوڑ گئے ہیں۔ بہت بڑھ کر میں نے پایا ہے۔

بندہ...... چھلنیوں کو بھی شاید یہ حق حاصل ہو گیا ہے کہ کورے کو چھید کا طعنہ دیں۔ کیا آپ لوگوں سے بھی بڑھ کر کوئی شخص اس نادر فن میں زندہ یادگار ہو سکتا ہے اور جناب کے مرشد بزرگوار سے بھی اس میں زیادہ طاق اور شہرہ آفاق ہو سکتا ہے۔ ہم نے ان الفاظ سب وشتم کی جس کا ایک بیش بہا اور بھاری خزانہ مرزا قادیانی کی تصانیف میں بھرا پڑا ہے۔ تین چار سو کے قریب چھانٹا تھا۔ مگر ہماری کانشنس اس امر کو تسلیم نہ کرتی تھی کہ ایک دفعہ وہ مرزا قادیانی کی زبان وقلم سے نکلی ہیں تو دوسری دفعہ ہم اپنی زبان وقلم کو ان سے آلودہ کریں۔ مگر ہم پر کیا موقوف ہے۔ بہت سے خدا کے بندے ان مزخرفات کو دیکھ رہے ہیں۔ چنانچہ حال ہی میں جناب منشی محمد الٰہی بخش اکاونٹنٹ لاہوری نے جو ایک مدت مدید اور عرصہ بعید مرزا قادیانی کی جماعت میں رہ چکے ہیں۔ الفاظ مذکورہ بالا کو مرزا قادیانی کی صرف چند کتابوں سے چن کر حروف تہجی کی ردیف سے بطور ڈکشنری اپنی کتاب میں لکھ دیا ہے۔ (دیکھو عصائے موسیٰ ص ١٤٣، ١٤٤) اور آئندہ کو اگر کسی نے سب وشتم کی سند لینی ہوگی تو مرزا قادیانی اور ان کے حواریوں بالخصوص مولوی عبد الکریم وزیر اعظم سے لیا کرے گا۔ اب کہاں ہیں وہ لوگ جو مرزا قادیانی کی تعریف اور ان کے اخلاق پر ادھار کھائے بیٹھے ہیں۔ کیا ان کا فرض نہیں ہے کہ ان دو آیات قرآنی پر غور فرماویں۔

حولک (آل عمران:١٥٩)“ اور پھر حضرت موسیٰ وہارون علیہما السلام کو ارشاد ہوتا ہے۔ ”فقولا

٤٤

صفحہ ٤٢٣

له قولا لينا (طه:٤٤)“

کیا ایسی بے دھڑکی سے علماء اسلام وصوفیاء عظام کو دشنام دینا جیسا کہ مرزا قادیانی کی عادت شریف میں داخل ہے۔ انبیاء علیہم السلام کا اتباع ہے۔ یا صریح قرآن مجید کی مخالفت جو غیر اللہ پوجنے والوں کے ساتھ بھی بدزبانی سے روکتا ہے۔ ہم نہایت وثوق سے کہتے ہیں کہ مرزا قادیانی کا یہ نامقبول طریق کوئی با ایمان مسلمان بھی پسند نہ کرے گا اور وہ ذات برتر جو ہمارے دلوں کی چھپی ہوئی باتوں کو بھی جانتا ہے۔ اس فعل شنیع کا ضرور ہی ظالموں کو مزہ چکھاوے گا۔ کیونکہ اس کا حتمی وعدہ ہے۔

م...... اور حق تھا کہ کچھ عرصہ تو ایسے شخص (مرزا قادیانی) کی صحبت میں رہ کر حسن ظن اور صبر سے اس کے حالات کو دیکھتے اور اس کے مختلف متعلقات سے اندازہ لگاتے۔ اتنا بڑا دعویٰ یعنی زمانہ کا منجی مصلح ہونا، خدا تعالیٰ کا مرسل و مامور ہونا، حضرت سید عالم ﷺ کے دونوں بروز محمد واحمد کا جامع ومتحمل ہونا۔ آدم کہلانا، نوح کہلانا، ابراہیم کہلانا، موسیٰ کہلانا، عیسیٰ کہلانا (علیہم السلام) اور بالآخر محمد واحمد (ﷺ) کہلانا۔ غرض اتنا بڑا دعویٰ ایک اہل دل خدا ترس کے کانوں میں پڑ کر کم سے کم توقف کر جاتے۔ ماننا نہ سہی مگر غور کرنے پر آمادہ بھی نہیں کرتا۔

بندہ...... ناظرین! مولوی صاحب کی عبارت کو غور سے پڑھو۔ کیا اب بھی کسی کو اس بات کا شک ہے کہ مرزا قادیانی کھلم کھلا نبوت کا دعویٰ نہیں کرتے؟ سو ہم اتنا ہی کہتے ہیں کہ جو لوگ خدا کو نہیں مانتے اور حضرت رسول کریم ﷺ سے ناحق ناراض ہیں اور جن کے ایمان ”الیوم اکملت لکم دینکم واتممت علیکم نعمتی ورضیت لکم الاسلام دینا (مائدہ) “ پر نہیں ہیں۔ ان کو کون روکتا ہے۔ آزادی کا زمانہ ہے۔ بڑی خوشی سے قادیان جاویں اور مرزا قادیانی کی صحبت میں بسر کریں اور کچھ عرصہ تو کیا ہم تو ابتداء اس زمانہ سے جب کہ مرزا قادیانی نے دس ہزار روپیہ کی فرضی جائیداد کے اشتہارات نکالے تھے اور ابھی ادعائی ابوبکر (معاذ اللہ) کی مداحی کا زمانہ بھی نہیں آیا تھا۔ ان کی حرکات و سکنات کو انصاف کی نظر سے دیکھ رہے ہیں۔ معلوم نہیں کہ آپ کی اصطلاح میں حسن ظن کس جانور کا نام ہے اور ٣٠ برس سے اور کس قدر زیادہ عرصہ اس باب میں غور کرنے کے لئے درکار ہونا چاہئے۔ کیا حسن ظنی سے مبطل شے کو مثبت شے سے فرض کر لیا جاوے اور پھر آپ کی اس پر یہ ملمع سازی اور ستم ظریفی کہ نہ ایک نبی یا رسول بلکہ کل انبیاء علیہم

٤٥

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٤٢٤

اس الہام کا (معاذ اللہ نقل کفر کفر نباشد) مرزا قادیانی خلاصہ اور لب لباب ہیں۔ بتاؤ جس شخص کو خداوند تعالیٰ نے صریح الفاظ میں بتا دیا ہو۔

”ماكان محمد ابا احد من رجالكم ولكن رسول الله وخاتم النبيين

(احزاب:٤٠)“

وہ ایسے دعاوی باطلہ کرنے والوں کی تحریروں پر کیوں اپنا قیمتی وقت خرچ کرنے لگا۔ چہ جائے کہ وہ ان کے بطلان کا تجربہ اور مشاہدہ بھی کر چکا ہو۔ اس کی آنکھوں کے سامنے مرزا قادیانی کے سب الہامات غلط نکل چکے ہوں۔ اس کی پیش گوئیاں جن پر اس کی نبوت کا سارا دارومدار تھا۔ حرف غلط کی طرح مٹ چکی ہوں۔ دنیا طلبی، ابلہ فریبی اور کافتہ المسلمین کو گالیاں دینا اس کا اصل اصول ہو۔ افسوس ہے ان نفس پرستوں اور اپاہجوں پر جو مفت خوری کے عوض ایمان فروشی پر مر مٹے ہیں۔ بصارت تو پہلے ہی جا چکی تھی۔ بصیرت بھی جواب دے بیٹھی اور

من كان فى هذه اعمى
فهو فى الآخرة اعمى واضل سبيلا

کے مصداق بن گئے۔ فاعتبروا یا اولی الابصار!

م...... پھر دس برس سے پوری استقامت کے ساتھ جس میں زمانہ کے اقسام کے انقلابات اور طرح طرح کی ترہیب و ترغیب سے ذرہ بھی جنبش نہیں آئی۔ رسول اللہ ﷺ کی طرح آفتاب اور ماہتاب کا دائیں بائیں اس کے رکھا جانا اس پرزور آواز کو ذرہ بھر بھی پست نہ کر سکا۔

بندہ...... صرف اتنا ہی کہنا کافی ہے ؎

اپنی غزل پہ آپ ہی گاتے ہیں شیخ جی

جس کا کھائیے اس کا گیت گائیے۔ ورنہ مسیح موعود کے دعوٰی کی بنا تو فقط ایک کریم بخش کے اظہارات پر ہی موقوف ہے۔ جو سائیں گلاب شاہ مجذوب فقیر کا چیلا تھا۔ سبحان اللہ ! سب انبیاء کا لب لباب اور اصلی مغز ہونا اور اس پر گواہی صرف کریم بخش کی اب آپ کا اختیار ہے کہ اس ضد و ہٹ کا نام استقامت رکھو۔ یا کسی اس سے بھی موٹے اور بھدے لفظ سے تعبیر کرو۔ کیونکہ جھوٹ کسی کی ملکیت تو نہیں ہے۔ حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کے برابر یا ان سے بھی آگے بڑھانا (مرزا قادیانی) کو تو آپ کے بائیں ہاتھ کا کرتب ہے۔ یہ تو آپ نے بیان کیا کہ آفتاب اور ماہتاب مرزا قادیانی کے دائیں بائیں رکھا گیا۔ مگر اس کی تشریح نہ کی کہ کس نے رکھا؟ کب رکھا؟ اور کیوں کر رکھا؟ اگر اس پر بھی اپنی ہی گواہی دو گے جیسے کہ اپنے دیگر مسلمات حریف مقابل

٤٦

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٤٢٥

کے سامنے بے فائدہ پیش کرنے کی آپ کو عادت ہے تو سماعت میں نہ آویں گے۔ اس کے آگے آپ نے انجیلی الفاظ سے عبارت آرائی اور قرآنی آیات کے غلط استدلال سے کام لیا ہے اور کچھ اپنے اور کچھ مرزا قادیانی کے مناقب بیان کرنے میں الحکم اخبار کے کالم کالے کئے ہیں اور نہایت سختی سے حکم دیا ہے کہ لوگ مرزا قادیانی کی خدمت میں کیوں نہیں رہتے۔ پس یہ سچ ہے کہ درخت اپنے پھل سے شناخت کیا جاتا ہے۔ آپ کو جو مرزا قادیانی کی خدمت میں رہتے آج گیارھواں سال ہے تو باوجود اس اخلاص اور خاطر داری کے اپنا جسمی روگ آپ نے کیوں ان (مرزا قادیانی) کے سامنے پیش نہ کیا اور اس پر سخت تعجب تو یہ ہے کہ حضرت موصوف کو بھی آپ کی جانگداز اور سرتوڑ خدمت دس سالہ پر کبھی خیال تک نہ آیا۔ حالانکہ ہر وقت آپ ان کی نظر کیمیا اثر کے نیچے رہتے ہیں۔ اگر آپ کو اس معذوری سے صحت ہو جاتی تو سواء اس کے کہ آپ دینی اور دنیوی کاموں کے قابل ہو جاتے اور مسیح موعود اور سب انبیاء کے لب لباب کو بھی آپ جیسے سرگرم حواری سے بیشمار فائدے حاصل ہوتے۔ کس قدر عمدہ بات تھی کہ عوام اس نشان کو دیکھ کر مسیحیت کو مان جاتے اور اب لوگوں کو چیخ چیخ کر اور غل مچا کر اپنی طرف مائل کرنے کی آپ کو ضرورت ہی نہ رہتی اور خود بخود وہ اس مشن کی طرف دوڑتے چلے آتے۔

م ...... معترض نے جس ظلم سے اپنا نام مبصر رکھا ہے۔ تمہید میں ایمان اور ضمیر کے خلاف یہ ظاہر کیا ہے کہ ہم دونوں میں سے نہ کسی کے مرید ہیں نہ کسی کے طرفدار۔

بندہ ...... اس کا جواب ١٥، ٢٣؍نومبر ١٩٠٠ء کی اشاعت چودھویں صدی اخبار میں ہو چکا ہے۔ اگر کچھ کسر رہ گئی ہے تو اب اس کو پورا کیا جاتا ہے۔ قادیانی مولوی صاحب! آپ کے مرشد بزرگوار کے پاس جو آپ کے مرید بھائیوں کا رجسٹر ہے۔ آپ اس سے دیکھ لیں کہ بندہ کا نام بھی کہیں اس میں درج ہے یا نہیں۔ ایسا ہی بذریعہ پوسٹ کارڈ یا خط جناب پیر مہر علی شاہ صاحبؒ سے بھی دریافت کرلیں کہ ان سے بھی بجز ”انما المؤمنون اخوة“ بندہ کا کچھ تعلق ہے یا نہیں؟ ہرطرح سے آپ تسلی اور اطمینان کرلیں۔ پھر سچی بات سے اس قدر کیوں ناراض ہوتے ہیں۔

اس سے آگے جو آپ نے طلاقت لسانی اور اپنی نرالی فصاحت کی داد دی ہے۔ اس کی بندہ کو پہلے ہی سے امید تھی۔ حالی!

من ازاں حسن روز افزوں کہ یوسف داشت دانستم
کہ عشق از پردہ عصمت بروں آرد زلیخا را

٤٧

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٤٢٦

عناد، بغض، حسد، کڑھنا، سردھنا، ڈاہ، مہلک روگ وغیرہ الفاظ آپ نے بندہ کی طرف منسوب کئے ہیں۔ یہ تو ظاہری باتیں ہیں۔ خدا جانے اس کے سواء اور کتنی اندرونی بیماریاں ہم میں ہیں۔ جو اگر خدا کے سوا کسی اور کو معلوم ہوں تو شاید پاس تک بھی پھٹکنے دے یا نہیں۔ مگر شک ہے کہ آپ تو فطرتاً ہی معصوم ہیں۔ فرد!

خطرے ہست کہ از پردہ بروں افتد راز
ورنہ در محفل یاراں خبرے نیست کہ نیست

م...... مرزا قادیانی ابتداء میں اسی طرح مال وزر سے ناتواں اور مسکین تھے جس طرح عبداللہ کا جایا اور آمنہ کا بیٹا۔

بندہ...... آپ کو یوں نہیں کہنا چاہئے تھا بلکہ اس کے برخلاف شاید اس بارے میں آپ نے مرزا قادیانی سے مشورہ نہیں کیا۔ ورنہ وہ صاف صاف فرما دیتے کہ میں ابتداء میں مالدار تھا اور میں نے اپنی جائیداد سے مبلغ دس ہزار روپیہ کا اشتہار انعامی دیا تھا کہ جو شخص میری کتاب کا جواب پورا پورا لکھے اس کا حق ہوگا اور اب نادار اور مفلس ہو گیا ہوں۔ جب کہ میں نے اپنی ملکیت میں سے باغ وغیرہ اپنی بی بی صاحبہ کے ہاں رکھ کر پانچ ہزار روپیہ قرض لیا ہے۔ (دیکھو عصائے موسیٰ کا باب چہارم) یہ افلاس کی نرالی فلاسفی ہے کہ دس ہزار روپیہ بھی پاس ہو اور پھر غربت بھی سوار ہو۔ آپ تو خواہ مخواہ ہر ایک بات میں مرزا قادیانی کو حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کا بالمقابل رسول بلکہ اس سے بھی آگے بڑھا رہے ہو۔ بندۂ خدا سوچو تو سہی اگر جناب رسول اکرم ﷺ کو عام مسلمانوں سے چندہ ملا تو وہ کوئی (معاذ اللہ) حظوظ نفسانی، مثلاً قورمے، مرغ بریانی، برفاب، قیمتی چائے اور قیمتی کپڑوں کے لئے تھا یا ہیرے، زمرد، مروارید اور یاقوتیاں سے قسم قسم کے نسخے تیار کرنے کے لئے یا یہ کہ جڑاؤ زیورات بنوا کر ازواج مطہرات کو دینے کے لئے ہرگز نہیں بلکہ قرآن مجید کی اس آیت کو دیکھ کر ”یا ایها النبی قل لازواجک ان کنتن تردن الحیوة الدنیا وزینتها فتعالین امتعکن واسرحکن سراحاً جمیلاً“ {اے نبی ﷺ اپنی بیبیوں کو کہہ دے کہ اگر تم دنیا کی زندگی اور اس کے بناؤ سنگھار کا ارادہ کرتی ہو تو آؤ میں تمہیں اس کا فائدہ دوں اور اچھے طریق سے تم کو رخصت کر دوں۔}

اگر اوائل زمانہ اسلام میں اصحاب صفہ وغیرہ نے آنحضرت ﷺ کے شکم مبارک پر دو پتھر بندھے ہوئے دیکھے تھے تو بوقت رحلت آپ کی زرہ ایک یہودی کے پاس رہن تھی۔ حضرت ابوبکر صدیقؓ جس کی ہمسری کا آپ دعویٰ کرتے ہو اور مرزا قادیانی نے حکیم مولانا

٤٨ www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٤٢٧

نورالدین کو نامی نیٹ کر دیا ہوا ہے۔ حضرت ابوبکرؓ ابتداء میں جس قدر دولت و مال ان کے پاس تھا۔ سب کا سب للہ فی اللہ راہ اسلام میں صرف کر دیا۔ حضرت عمرؓ کی گدڑی پوشی کا حال بایں خطاب امیرالمؤمنین کس کو معلوم نہیں۔ جس میں کپڑوں کے پیوند کے ساتھ ہی ایک پیوند چمڑے کا بھی تھا۔ حضرت علیؓ کی ورع اور تقویٰ اور دنیا کے مال و دولت کو حقیر جاننا اور ان کے پیراہن مبارک میں بیشمار پیوندوں کا لگا ہونا اور خیاط (درزی) کا عرض کرنا کہ یا حضرت اب تو اس جامہ کو چھوڑو اور حضرت ممدوح کا یہ جوابدینا ”مالعلی ودنیاہ آہ من قلت الزاد وطول السفر“ اور مقولہ ”یا صفراء یا بیضاء غری غیری انی طلقتک ثلاثۃ لا رجعۃ لی فیک“ علی کو دنیا سے کیا سروکار ہے؟ افسوس توشہ کم وسفر دراز۔ اے زرد (سونا) اور سفید (چاندی) میرے غیر کو تو غرور میں ڈالے۔ بیشک میں نے تم کو تین طلاقیں دی ہیں۔ مجھ کو تیری طرف رجوع نہیں ہے۔ حضرت خالد سیف اللہؓ کی وفات کے وقت سوا سواری کے ہتھیاروں کے ان کے گھر سے کیا نکلا؟ یہی حال صحابہؓ کا تھا۔ اصل یہ ہے کہ وہ خوش خوری اور خوش پوشی اور عیش و تنعم پر ہی نہیں مر مٹے تھے۔ بلکہ ”دنیا ہیچ است و کار دنیا ہمہ ہیچ“ پر ان کا عملدرآمد تھا۔ اس مقولہ پر نہیں تھا۔

الدنیا زور لا تحصل الا بالزور
بہ بیں تفاوت رہ از کجا است تا بکجا

ہاں اگر دوسرا پہلو اختیار کیا جاوے یعنی روزگار محنت مزدوری وغیرہ کے حلال کا روپیہ کمایا جاوے اور اس سے حق اللہ وحق العباد ادا کر کے ضروریات پر خرچ کیا جاوے تو بھی ایک بات ہے۔ مگر افسوس تو ان عقل کے اندھوں گانٹھ کے پوروں پر ہے۔ جو طرح طرح کی چالبازیوں سے خلق اللہ کی کمائی سے ہاتھ رنگتے ہیں اور نہایت ظلم سے اس کو تباہ کرکے ”انہ لا یحب المسرفین“ اور ”ان المسرفین ھم اصحاب النار“ کے مصداق بنتے ہیں۔ خیر وہ لوٹیں اور تن آسانی کے لوازمات میں کوشش کریں۔ مگر یہ کون سی عدالت ہے کہ خواہ مخواہ قرآنی آیات پر غلط استدلال اور بیہودہ تاویلات کر کے ہر پہلو میں حضرت رسول مقبول ﷺ کی برابری کا دعویٰ کریں۔

م...... خدا کے برگزیدہ مرزا غلام احمد قادیانی ایک زمانہ میں اپنے پہلے نمونوں کی طرز پر مالی حالت میں سخت کمزور اور کسمپرس تھے۔ اسی عرصہ میں خدا کی طرف سے الہام ہوا۔ ”الیس اللہ بکاف عبدہ“ یہ الہام آج سے ٣٠ سال کی مدت کا ہے۔

بندہ...... ہاں یہ سچ ہے۔ مگر بقول ہمارے یعنی جس طرح پر ہم نے اپنے مورخہ ١٥؍ اکتوبر ١٩٠٠ء والے مضمون میں دکھایا تھا۔ نہ بقول آپ کے کیونکہ اگر وہ سخت کمزور اور کسمپرس تھے تو

٤٩

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٤٢٨

ابتداء نبوت میں انہوں نے دس ہزار روپیہ کا اشتہار اپنی جائیداد کا کیسے دیا۔ کیا جس کی جائیداد منقولہ وغیر منقولہ اس قدر مالیت کی ہو۔ وہ پرلے درجہ کا مفلس کہلا سکتا ہے۔ اس سے عقلمند لوگ بآسانی نتیجہ نکال سکتے ہیں کہ پیر مرید میں سے ایک ہی شخص سچا ہو سکتا ہے۔ یعنی دس ہزار روپیہ اپنی حقیت یا ملکیت کا اشتہار دینے والا۔ اس کو مفلس یا قلاش بیان کرنے والا اور ”الیس اللہ بکاف عبدہ“ کو بھی ہر ایک مسلمان آج سے ١٤٠٠ برس کا الہام یقین کرتا ہے۔ دیکھو سورۂ زمر آیت نمبر ٣٥ نہ آپ کی طرح ٣٠ برس کا۔ کیونکہ جب کافۃ المسلمین کو آپ کے مرشد کے دعوے سے ہی انکار ہے تو آپ کے پاس کیا وجہ ثبوت ہے کہ یہ الہام مرزا قادیانی کا ہے۔

اور پھر رسول کریم ﷺ نے تو صحابہ کرامؓ کا مال قومی ہمدردی میں خرچ کر دیا تھا۔ آپ لوگوں نے ان کے کلمہ پڑھنے والوں کے ساتھ کیا ہمدردی کی؟ جن کے خطاب اور سینکڑوں طرح کی دشنام دہی کے سوا ہم نے تو کوئی نیک کام آپ لوگوں کی طرف سے وقوع میں آتا نہیں دیکھا۔ بلکہ آپ کی جماعت کے کئی ایک ممبران جو مرزا قادیانی کی بیعت کرنے سے پہلے مسلمانوں کو بہتری میں اپنی آمدنی کا قدرے قلیل حصہ للہ خرچ کرتے تھے۔ جب سے اس نئے مذہب میں آئے۔ اس سے بھی گئے گزرے ہوئے۔ بتاؤ۔ لغو کتابوں بیہودہ اشتہاروں کے سوا کون سا عمدہ کام آپ لوگوں سے سرانجام پذیر ہوا ہے۔ بڑے سے بڑا کام موضع قادیان میں ایک مدرسہ بنایا ہے۔ جس کے چلنے کی شکایات الحکم اخبار میں پڑھی جاتی ہے۔ حالانکہ اسباب ووسائل اس زمانہ میں یہاں تک آسانی کو پہنچ گئے ہیں کہ ایسا مدرسہ ایک معمولی درجہ کا آدمی بھی بنا کر چلا سکتا ہے۔ پس جب کوئی صنعت وحرفت کا مدرسہ، لاوارث بچوں کا یتیم خانہ، کوئی رفاہ عام کے لئے کارخانہ وغیرہ کھولو گے یا ہندوستان میں کوئی کالج نیا چلاؤ گے تو دنیا دیکھ لے گی۔ یہ منارہ جس کے اشتہارات معہ تصاویر شائع کرتے ہو۔ محض اپنی تعلّی اور منہ کی نکالی باتوں کے پورا کرنے کے لئے سبز باغ ہے۔ یاد رکھو کہ یہ منارہ ایک فانی خوشی آپ کے لئے ہوگی۔ کیونکہ نیمروز عرصہ اس کی اینٹ سے اینٹ بج جائے گی۔ چونہ الگ ہو جاوے گا۔ مٹی علیحدہ، حیف کہ آپ لوگ کوئی ہمیشہ زندہ رہنے والی نیکی کرتے۔ نہ الٹے گالیوں کے محاورات کے خزانے۔

م…… اس قسم کے بہت سے الہامات جو براہین احمدیہ میں ہیں۔ ایک دراز عرصہ کے بعد خدا تعالیٰ کی قوتوں اور قوت نمائیوں سے اس زمانہ میں آ کر پورے ہوئے۔ اسی طرح جس طرح مکی آیات کی پیش گوئیاں ایک دراز عرصہ کے بعد پوری ہوئیں۔ کوئی وجہ نہیں کہ قرآن کریم کی مکی اور مدنی آیات یا رسول کریم ﷺ کی مکی اور مدنی زندگی کی تقسیم کے اسرار جاننے والے کیوں

٥٠

صفحہ ٤٢٩

براہین احمدیہ کے لگاتار الہاموں میں اسی طرح غور و تدبر نہ کریں۔

بندہ ...... یہ مولوی صاحب کا خاصہ ہے کہ اپنے مرشد کی طرح خواہ مطلب کچھ بھی نہ ہو۔ عبارت آرائی سے اس کو پہاڑ بنا دکھاتے ہیں۔ اس کا خلاصہ تو یہ ہے کہ مرزا قادیانی کے الہاموں اور پیش گوئیوں اور قرآن شریف میں ما بہ الامتیاز کچھ بھی نہیں ہے۔ سوا الہامات کی قلعی تو ”عصائے موسیٰ“ کتاب میں کھل چکی اور پیش گوئیوں کے پورا ہونے کو ایک دنیا نے دیکھ لیا ہے۔

مرزائی شرم نہیں کرتے

اخبار الحکم میں مرزا قادیانی کے وہی حواری ”ایک پیش گوئی کا پورا ہونا اور مرزا قادیانی کی فتح کا عظیم الشان نشان“ کے عنوان سے ایک مضمون لکھتے ہیں کہ مرزا قادیانی کی پیش گوئی پوری ہو گئی کہ پیر مہر علی شاہ صاحبؒ ان کے مقابلہ میں کامیاب نہ ہوں گے۔

ایسا معلوم ہوتا ہے کہ جب آپ لوگوں نے اس نئے مذہب کی بنیاد رکھی تھی تو شرم وحیاء، راستی، ایمانداری وغیرہ کا لباس اتار کر اپنا کام شروع کیا تھا۔ ورنہ سوا مرزا قادیانی اور ان کی جماعت کے کسی اور شخص کی ایسی رسوائی اس قدر ذلت اور اس درجہ کی جگت ہنسائی ہوئی جو جناب پیر مہر علی شاہ صاحبؒ کی آمد ورفت لاہور کے موقعہ پر آپ لوگوں کے مشن کے عائد حال ہوئی۔ جس کو ایک دنیا نے اپنی آنکھوں سے دیکھا تو وہ شخص چلو بھر پانی میں ڈوب مرتا۔ کیا ایسی روسیاہی کو ہی پیش گوئی کا پورا ہونا قرار دیا جاسکتا ہے کہ حریف مقابل تو میدان میں بلاوے اور آپ کے پیرو مرشد گھر میں بیٹھ کر عیش مناویں۔

اگر اپنے گھر کی کوٹھری میں گھسے رہنا اور اپنے حریف مقابل سے انجر پنجر تڑوا بیٹھنا اسی کا نام عظیم الشان فتح ہے تو معلوم نہیں شکست فاش کس جانور کا نام ہے۔ ہمارا ارادہ ہے کہ مرزا قادیانی کی تمام چھوٹی بڑی پیش گوئیوں پر ایک کتاب لکھیں۔ مگر اس وقت ہم ان کی وہ تین عظیم الشان پیش گوئیاں یہاں درج کرتے ہیں۔ جن پر ان کو فخر و ناز اور ان کی نبوت کا دارومدار ہے۔ گو کہ نبوت کے ثبوت میں پیش گوئیاں کچھ چیز نہیں ہیں۔

پیش گوئی اوّل

مرزا قادیانی (شہادۃ القرآن ص ٧٩، ٨٠، خزائن ج ٦ ص ٣٧٥، ٣٧٦) پر لکھتے ہیں: ”منشی عبداللہ آتھم کی نسبت پیشین گوئی یعنی موت جس کی میعاد مورخہ ٥؍جون ١٨٩٣ء سے شروع ہوتی ہے۔ پندرہ مہینے تک اور پنڈت لیکھ رام پشاوری کی موت کی نسبت پیش گوئی جس کی

٥١

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٤٣٠

میعاد ١٨٩٣ء سے ٦ سال ہے اور پھر مرزا احمد بیگ ہوشیار پوری کے داماد کی موت کی نسبت پیش گوئی جو پٹی ضلع لاہور کا باشندہ ہے۔ جس کی میعاد کے آج کی تاریخ سے ٢١ ستمبر ١٨٩٣ء تقریباً گیارہ ماہ باقی رہ گئے ہیں۔ تمام پیش گوئیاں جو انسانی طاقتوں سے بالا تر ہیں۔ ایک صادق یا کاذب کی شناخت کے لئے کافی ہیں۔ کیونکہ احیاء واماتت دونوں خدا تعالیٰ کے اختیار میں ہیں اور جب تک کوئی شخص نہایت درجہ کا مقبول نہ ہو۔ خدا تعالیٰ اس کی خاطر سے اس کے دشمن کو اس کی دعا سے ہلاک نہیں کر سکتا۔ خصوصاً ایسے موقعہ پر کہ وہ شخص اپنے تئیں منجانب اللہ قرار دیوے اور اپنی اس کرامت کو اپنے صادق ہونے کی دلیل ٹھہراوے۔ سو پیش گوئیاں کوئی معمولی بات نہیں جو انسان کے اختیار میں ہو۔ بلکہ محض اللہ جل شانہ کے اختیار میں ہیں۔ سو اگر کوئی طالب حق ہے تو ان پیش گوئیوں کے وقتوں کا انتظار کرے۔“

١...... پہلی پیش گوئی کا مرجع و محل ایک عیسائی شخص تھا۔ جو پنشنر تھا اور ٦٨ یا ٦٩ برس یعنی ارذل العمر کی حالت میں پہنچ کر بخار، نزلہ، کھانسی وغیرہ بیماریوں کا ہدف بن کر آج مرے کل، دوسرا دن کا مصداق تھا۔ ١٥ ماہ کے اندر مر جانا گو عقلمند لوگ خوب جانتے ہیں کہ یہ تخمینہ مرزا قادیانی کے زعم سے اگر چند یوم نہیں تو چند ماہ سے بڑھ کر نہیں تھا۔ چنانچہ اثناء بحث مباحثہ میں جس کو مرزا قادیانی ”جنگ مقدس“ کے نام سے موسوم کرتے ہیں۔ عیسائی مذکور ایک دو دن بیماری کے باعث حاضر بھی نہیں ہوا تھا۔ مگر دور بینی اور عاقبت اندیشی کے طور پر مرزا قادیانی نے اس کو ١٥ ماہ کی مہلت دے دی۔ اگر چہ کوئی شخص جسے اپنی زندگی کے دن پورے کرنے ہیں۔ بغیر پورے کئے مر نہیں سکتا۔ بقول سعدیؒ ؎

گراز زندگانی نوشت است بہر
نہ مارت گزاید نہ شمشیر زہر

اور خیال کیا جاوے کہ اگر ایک اسلام کا مخالف اس طرح پر مر بھی جاوے تو کون سی عجب بات ہے۔ پہلے بھی تو اسلام کے دشمنوں ، گمراہوں، اور فاسقوں وغیرہ نے جو ازلی طور پر اندھے بہرے اور گونگے تھے۔ اسلام کے مقابلہ میں کتابیں لکھیں اور درشت الفاظ لکھنے میں اپنے نامجات اعمال سیاہ کئے ہیں۔ مگر ان میں سے کوئی بھی وقت آنے سے پہلے نہیں مرا۔ ہاں اگر عبداللہ آتھم مذکور اس پندرہ ماہ کی میعاد مقررہ مرزا قادیانی کے اندر مر جاتا تو مرزا قادیانی کی چاندی ہی چاندی کیا بلکہ سونا ہی سونا تھا۔ جاہل خلقت کا جو پیر پرستی پر مٹتی ہے۔ اس قدر مرزا قادیانی کے ہاں ہجوم اور انبوہ ہو جاتا کہ موضع قادیان کی سڑک ٹوٹ جاتی اور اس وقت خدا

٥٢

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٤٤١

جانے کیسے کیسے فرعونی کام پیش آتے۔

اثناء میعاد میں جب ہم مرزا قادیانی کے فدائیوں سے پوچھتے کہ بھائی اگر آپ کو اس موت کی آخر کار کوئی تاویل کرنی ہو مثلاً اس کی روح مر گئی یا اس نے اسلام کے حق میں چونکہ برے الفاظ بکے تھے۔ اس لئے وہ مردہ ہو گیا ہے وغیرہ۔ تو ہمیں پہلے بتاؤ تو وہ ہماری باتوں سے لہولہان ہوکر اور نیلی پیلی آنکھیں نکال کر ہم سے یوں مخاطب ہوتے۔ استغفر اللہ! اگر وہ اسی ظاہری موت سے ١٥ ماہ کے اندر اندر نہ مرا تو امام وقت اور مسیح موعود کی پیش گوئی کا راست آنا کیسے؟

چنانچہ اس آخری مہلک دن میں جو درحقیقت مرزا قادیانی کی ہوسوں اور منصوبوں کے تباہ کرنے والا دن تھا۔ ہم چند آدمی مرزا قادیانی کے ایک مخلص مرید کے پاس ٤ بجے شام کے گئے اور اس طرح آپس میں مکالمہ ہوا۔

میرا پہلا ساتھی: فرمائیے میاں صاحب! آپ کس شغل میں ہیں؟

مرید: یوں ہی بیٹھے ہیں۔

میرا دوسرا ہمراہی: کچھ حیران معلوم ہوتے ہو۔ کیا عبداللہ آتھم کے مرنے کا کوئی تار خبر ابھی تک آیا یا نہیں؟

مرید: (اپنی گھڑی دیکھ کر) چار تو بج چکے ہیں۔ مگر کچھ مضائقہ نہیں۔ مرزا قادیانی کا یہی الہام ہے کہ آج کے دن کو خداوند تعالیٰ لمبا کر دے گا۔ جب تک آتھم مر نہ جاوے۔ زمین و آسمان ٹل جاویں۔ مگر امام وقت کا فرمودہ ٹل نہیں سکتا۔ میں نے مساکین اور فقراء کے کھلانے کے لئے کھانے وغیرہ کا سب سامان تیار کر رکھا ہے۔ تار خبر آتے ہی دیگ چولہے پر رکھوا دوں گا۔

میرا تیسرا ہمراہی: میاں صاحب اگر وہ نہ بھی مرا تب بھی دیگ ضرور پکوانا اور للہ مساکین اور فقراء کو بانٹنا۔

مرید: (جھلا کر) یہ کیسے؟

راقم: خدا کے اس احسان کے شکریہ میں کہ مرزا قادیانی امام وقت نہیں ہیں۔ جن کا کہنا ٹل گیا اور آپ کو حافظ حقیقی نے ایسے شخص سے نجات دی جو مفت کے دھوکے دیتا تھا۔

راوی: مسیح علیہ السلام کا جو مرزا قادیانی کے گھر میں اس شدومد میں اتنا طول طویل عرصہ تک ماتم رہا۔ تو ان کی فاتحہ خوانی کب کرائی گئی ہے۔ جو اب دیگ پکوانے کی فکر ہو؟

اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ وہ عیسائی ١٥ ماہ کے اندر مر گیا تھا یا نہیں؟ شاید تازہ مردہ تھا

٥٣

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٤٣٢

کہ بعد ہلاکت کے بھی ڈیڑھ سال بولتا رہا۔ کہا جاتا ہے کہ اس نے رجوع بحق کر لیا۔ یہ رجوع بحق کی ایک ہی کہی مولوی صاحب ہی بتاویں گے کہ کس شخص کے روبرو اس نے کلمہ طیب پڑھ کر اپنے تثلیثی عقیدہ سے توبہ کی۔ کون سی اس کی دستخطی تحریر آپ کے پاس ہے۔ کس اخبار یا اشتہار میں اس کا رجوع نامہ شائع ہوا۔ سو نہ آپ نے اب تک کچھ بتایا اور نہ سوائے لنگڑے عذرات کے آئندہ کو آپ سے کچھ توقع ہو سکتی ہے۔ مگر ہم بتائے دیتے ہیں تاکہ ناظرین اخبار کو اس کا انتظار نہ رہے۔

(نقل خط محررہ عبداللہ آتھم جو اخبار وفادار لاہور کے پرچہ ستمبر ١٨٩٦ء میں شائع ہوا تھا)

”میں خدا کے فضل سے تندرست ہوں اور آپ کی توجہ ص ٨١، ٨٢ مرزا قادیانی کی بنائی ہوئی کتاب ”نزول مسیح“ کی طرف دلاتا ہوں۔ جو میری نسبت اور دیگر صاحبان کی موت کی نسبت پیش گوئی ہے۔ اس سے شروع کر کے جو کچھ گزرا ہے۔ ان کو معلوم ہے۔ اب مرزا قادیانی کہتے ہیں کہ آتھم نے اپنے دل میں چونکہ اسلام قبول کر لیا ہے۔ اس لئے نہیں مرا۔ خیر ان کو اختیار ہے جو چاہیں سو تاویل کریں۔ کون کسی کو روک سکتا ہے۔ میں دل سے اور ظاہراً پہلے بھی عیسائی تھا۔ اب بھی عیسائی ہوں اور خدا کا شکر کرتا ہوں۔ جب میں امرتسر میں جلسہ عیسائی بھائیوں میں شامل ہونے کے لئے آیا تھا۔ وہاں پہلے تو بعض اشخاص نے ظاہر کر دیا تھا کہ آتھم مر گیا ہے۔ نہیں آوے گا۔ جب مجھے ریلوے پلیٹ فارم پر دیکھا گیا تو یہ کہنے لگے کہ یہ آتھم کی شکل کا ربڑ بنا ہوا ہے۔ انگریز حکمت والے ہیں۔ ربڑ کے آدمی میں کل لگا دی ہے۔ ایسی ایسی باتوں کا جواب خامشی ہے۔ میں راضی خوشی اور تندرست ہوں اور ویسے مرنا تو ایک دن ضروری ہے۔ زندگی اور موت صرف رب العالمین کے ہاتھ میں ہے۔ اب میری عمر ٦٨ سال سے زیادہ ہے اور جو کوئی چاہے پیش گوئی کر سکتا ہے۔“

(ایک اور خط و کتابت کی کاپی)

جب کہ قادیانی کی پیش گوئی ”عبداللہ آتھم“ کے بارے میں غلط نکلی تو قادیانی نے اپنی بات بنانے کے لئے ایک گپ اڑائی کہ مجھ کو الہام ہوا کہ وہ باطن میں مسلمان ہو گیا اور اس کی امت نے بھی اس بے شرم بات کو چھاپ کر تشہیر کی۔ تو خاکسار نے اسی عبداللہ کو ایک خط لکھا۔ جس کا یہ جواب ہے۔ اس سے صاف ظاہر ہے کہ قادیانی کا دعویٰ جھوٹ اور سراسر پوچ ہے۔ جھوٹے مدعیان نبوت کو خدا تعالیٰ یوں ہی خوار و ذلیل کرتا ہے۔

”پادری عبداللہ آتھم صاحب! السلام علی من اتبع الھدیٰ! کیا یہ بات سچ ہے کہ

٥٤

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٤٣٣

آپ بموجب پیش گوئی مرزا غلام احمد قادیانی مذہب عیسوی کو ترک کر کے دین اسلام خفیہ طور سے قبول کر چکے ہیں۔ لیکن حسب شرائط مذہب عیسوی جو مشنری پادریوں نے اختیار کر رکھا ہے۔ آپ اس کے افشاء کرنے سے مجبور ہیں وہ شرائط یہ ہیں کہ در صورت ترک کرنے مذہب عیسوی کے جتنی مدت وہ عیسائی رہ چکا ہے۔ اتنی مدت تک نان ونفقہ جو اس کے تصرف میں آچکا ہے۔ بطور تاوان کے واپس دے۔ اگر درحقیقت آپ کو اس بات سے مجبوری ہے تو ہم آپ سے برادرانہ سلوک کرنے کو تیار ہیں اور آپ کو یقین دلاتے ہیں کہ حتی المقدور آپ کے اخراجات ادا کرنے کی سعی کی جاوے گی۔ بشرطیکہ آپ اس کی تعداد ٹھیک ٹھیک لکھیں کہ کس قدر رقم ادا کرنی ہوگی اور میرے ساتھ ایک جم غفیر آپ کی ہمدردی اور تائید کے لئے آمادہ ہے۔ اگر اس بات کی کچھ اصل نہیں یعنی آپ کا دین اسلام قبول کرنا واقعی ایک بہتان ہے تو بھی امید کرتا ہوں کہ آپ بذریعہ خط مجھ کو اطلاع دیں گے تاکہ حقیقت حال سے آگاہی ہو جاوے اور ان مفتریوں کی واقعی طور سے تکذیب کی جاوے۔ کیونکہ مجھ کو جس قدر اسلام سے محبت ہے۔ اسی قدر مرزا قادیانی کے عقائد سے نفرت ہے۔ پس میں مکرر آپ کی خدمت میں ملتمس ہوں کہ آپ جواب عریضہ سے تشفی بخشیں۔ منت ہے زیادہ نیاز محمد اسماعیل مورخہ ١٧؍ستمبر ١٨٩٤ء۔

بخدمت والا درجت جناب محمد اسماعیل صاحب، سلامت!

تسلیم! آپ کا نوازش نامہ پہنچا۔ مشکور ہوا۔ یہ بات بالکل لغو اور غلط ہے کہ میں عیسائی مذہب کو چھوڑ کر باطن میں محمدی ہو گیا ہوں۔ کیونکہ سوائے دین عیسوی کے اور کسی دین کو برحق نہیں مانتا۔ سوائے اس کے میں پادری بھی نہیں ہوں۔ تاکہ کسی طرح خوف یا نقصان زر منجانب پادری صاحب کے ہووے۔ کیونکہ میں تو سرکار کا پنشن خوار ہوں۔ عہدہ اکسٹرا اسسٹنٹ کمشنری سے پنشن لے کر گھر میں آزادی سے بیٹھا ہوں۔ یہ مرزا قادیانی کی بے بنیاد کلام ہے۔ اب چونکہ میں زندہ اور تندرست موجود ہوں اور ان کی فضول پیشین گوئی سراسر نادرست ہے۔ تو اب یہ بات نکالی ہے سوائے اس کے اب میں ضعیف العمر آدمی ہوں۔ قریب ٦٨ یا ٦٩ برس کی عمر ہے اور فرض کرو کہ میں اس پندرہ ماہ کی مدت میں مر بھی جاتا تو کیا عجب تھا۔ لیکن تو بھی خدا تعالیٰ جل شانہ نے مجھے باقی اور تندرست رکھا ہے۔ آپ بہت مناسب کرتے ہیں۔ مرزا قادیانی جیسے آدمی کے عقائد سے نفرت رکھتے ہیں۔ خدا تعالیٰ اس پر رحم کرے اور اس دماغ کی بیماری سے اس کو بچاوے۔ آپ کا خیر خواہ عبداللہ آتھم فیروز پور مورخہ ٢١؍ستمبر ١٨٩٤ء

٥٥

صفحہ ٤٣٤

آمدم بر سر مطلب

پس ایسا رجوع بحق وہی شخص مان سکتا ہے اور اس سے اسی شخص کی اشک شوئی ہو سکتی ہے جو آنکھ کا کانا اور گانٹھ کا پورا ہو۔ ورنہ جو واقعات اس پیش گوئی کے متعلق اس دنیا نے مشاہدہ کئے ہیں۔ وہ روز روشن کی طرح سب کے سب آشکارا ہیں۔ اے وائے ایسے لنگڑے عذرات پر آخر اس بات کا بھی کوئی جواب دیا ہوتا؟ کہ مزعومہ مدت کے ختم ہوتے ہی عیسائیوں نے ٹوٹی ہوئی جوتیوں کے ہار پرو کر بنام نامی حضرت مقدس مرزا قادیانی ایک سائیں کے زیب گلو کر کے اور اس کا منہ کالا کر کے گدھے پر سوار اور گجرانوالہ کی گلیوں میں اس کی تشہیر کی؟ شاید اپنی شکست مٹانے کے لئے ایسی ناشائستہ حرکات عمل میں لائی گئی ہوں گی۔

یاد رہے کہ اسلام کے چند آدمیوں کے اس میں سے نکل جانے پر صداقت اور حقانیت نہیں ہے۔ وہ ایک نور ہے وہ ایک در یتیم بے مثل ہے۔ وہ فی نفسہ پاک اور بے عیب ہے۔ اگر موجودہ مسلمانوں میں سے خدانخواستہ بہت سے اسے ترک بھی کر دیں تب بھی وہ ویسا ہی ہے۔ جیسا کہ ہے ۔

اسلام بذات خود ندارد عیبے
ہر عیب کہ ہست در مسلمانی ماست

پھر اپنے حظوظ نفسانی کو مذہب کے پیرایہ میں ظاہر کر کے اشتہار دینا اور اس کا نام فتح اسلام رکھنا ہم نہیں جان سکتے کہ کیا معنی رکھتا ہے۔ ہمارے مخاطب مولوی صاحب جو مرزا قادیانی کی مداحی پر مٹے ہیں۔ اپنے خرافات میں ایک مقام پر جاہ و جلال میں آکر کہتے ہیں۔ ”کہاں ہے اب عبداللہ آتھم۔“ ہم کہتے ہیں کہاں ہیں مولوی صاحب کے بزرگ؟ ایک نہایت عجیب واقعہ اس موقعہ پر بندہ کو یاد آیا ہے۔

حکایت: ضلع ہزارہ کے صدر مقام ایبٹ آباد کے جیل خانہ میں سے ایک قیدی بھاگ گیا۔ جس دربان اور سنتری کی غفلت سے وہ قیدی بھاگا تھا۔ ان دونوں کا سرکاری عدالت میں چالان ہوا۔ اسی اثناء میں قیدی مذکور پھر پکڑا آیا۔ حاکم مجوز نے اخیر حکم یہ سنایا کہ دربان موقوف کیا جاوے۔ اس نے عرض کی کہ حضور انور میں ایک غریب آدمی ہوں۔ بال بچے دار اور پرانا نوکر ہوں اور اب تو قیدی مذکور بھی پکڑا آیا ہے۔ میرا قصور معاف کیا جاوے۔ حاکم مجوز نے جواب دیا کہ بھلے مانس اب جو قیدی پکڑا آیا ہے تو برٹش گورنمنٹ کے اقبال سے مگر تمہاری حراست سے تو

٥٦

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٤٣٥

بھاگ ہی گیا تھا۔ پھر تم معافی کے مستحق کیونکر ہو سکتے ہو؟

ہم بھی کہتے ہیں کہ خداوند تعالیٰ نے ہر ایک انسان کے جس قدر سانس لکھے ہیں۔ پورے کرے گا۔ ”اذا جاء اجلہم لا یستاخرون ساعة ولا یستقدمون“ آتھم مرگیا ہے۔ بہت سے اور لوگ بھی سدھار گئے ہیں۔ ہر ایک صدی کے بعد نئی دنیا بدلتی ہے۔ پرانی صفیں لپیٹی جاتی ہیں۔ نئے قالیچے بچھائے جاتے ہیں۔ اتنی دنیا مرچکی ہے کہ ہمارے گمان اور وہم میں بھی نہیں آتی اور ہم تو جس دن پیدا ہوئے تھے۔ اسی روز ہم کو ازلی حکم سنایا گیا تھا کہ تم ضرور ہی مرو گے۔ مرزا قادیانی نے ہی کچھ آخرت کے بوریئے نہیں سمیٹے۔ ”کل شئ ھالک الا وجہہ، کل نفس ذائقة الموت، یدرککم الموت ولو کنتم فی بروج مشیدہ“ ہر روز ایک جہاں کے تجربے اور مشاہدے میں آرہے ہیں ۔

ہر آنکہ زاد بہ ناچار بایدش نوشید
زجام دھر مئے کل من علیہا فان

اگر ایک کانٹا جل جاوے ایک سانپ مر جاوے۔ ایک دشمن خدا ہلاک ہو جاوے تو اس سے کیا نتیجہ نکل سکتا ہے؟ کیا کانٹوں کو جلنا ہے تو خوشنما اور خوبصورت پھولوں کا کملانا بہتر ہے؟ اگر دشمنان خدا کو جہنم کی آگ میں پڑنا ہے تو پرستندگان مخلص کو بہشت برین کی سیر کرنا ضرور ہے۔

جوانی و پیری بہ نزد اجل
یکے دان چو در دین نخواہی خلل

ہاں اس سے زیادہ کوئی سچی بات نہیں ہو سکتی کہ جس تاریخ کو مرزا قادیانی کے الہام کی بموجب آتھم کی موت واقعہ ہوئی تھی اور جس کو مرزا قادیانی نے اپنے صدق و کذب کا معیار ٹھہرایا تھا وہ سراسر غلط نکلی۔ بلکہ میعاد مذکورہ بالا کے پہلے جس سوز و گداز اور خلوص دل سے خاص قادیان میں بعد نماز دعائے قنوت پڑھی جاتی تھی اور عبداللہ آتھم کی موت کے لئے الحاح وزاری کی جاتی تھی۔ وہ مرزا قادیانی کی جماعت کو عموماً اور بالخصوص جناب مولوی عبدالکریم کو ہمیشہ کے لئے تازہ رہیں گے۔ اب مولوی صاحب موصوف ہی غور فرماویں کہ جو شخص مرزا قادیانی کے ارشاد کے بموجب جس کا اوپر ذکر ہوا۔ ان کو کاذب کہے تو ان کا فرمان پذیر ہے یا آپ جو اس کو باوجود ان کے ارشاد کے پھر بھی صادق بتا رہے ہیں۔

رجوع بحق والی فلاسفی کے ضمن میں جو اس پیش گوئی کے منکرین کو بدذات ، بے

٥٧

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٤٣٦

ایمان، خبیث النفس وغیرہ الفاظ سے یاد کیا گیا ہے۔ (ضیاء الحق ص ١١، خزائن ج ٩ ص ٢٥٩) اس فلاسفی پر آپ تب بھی ناز کر سکتے تھے کہ اگر مقررہ میعاد کے ایک دن پہلے بھی آپ ارشاد فرما دیتے کہ اس منکر اسلام نے اپنے تثلیثی عقیدہ سے توبہ کر لی ہے۔ اب پیچھے جو اپنے اور بیگانے اس طرح پر کوسے جا رہے ہیں کہ رجوع بحق کو کیوں نہیں مانتے۔ تو یہ نکات بعد الوقوع ہیں۔ جب کہ وہ خود کہتا رہا کہ میں جیسا پہلے عیسائی تھا ویسے ہی اب ہوں۔ تو کیا مرزا قادیانی نے اس کا دل پھاڑ کر معلوم کر لیا تھا کہ رجوع بحق کر لیا ہے۔ ہرگز نہیں بلکہ ناچار ہو کر آخر کار مرزا قادیانی کو ایک بات بنانی پڑی اور ایک ہزار سے لے کر چار ہزار روپیہ تک کے مریدان مخلصی کی اشک شوئی کے لئے اشتہارات دیئے گئے۔ مگر مخالفین کو سچی پیش گوئی کا دیکھنا تھا۔ یا ایسے اشتہاری روپیہ کا لالچ۔ علاوہ بریں یورپ کے فنڈوں میں خیرات کا اس قدر روپیہ جمع رہتا ہے کہ وہ ایک قادیان تو کیا سینکڑوں ایسی قادیان خرید سکتا ہے۔ مسلمانوں اور اہل ہنود وغیرہ اقوام میں سے جو عیسائی ہوتے ہیں۔ محض روپیہ کی بدولت ایک دو برس کا عرصہ ابھی نہیں گزرا کہ ہمارے چھوٹے سے قصبہ میں (٦٠٠٠٠) ساٹھ ہزار روپیہ کی لاگت کا عورتوں کا شفاخانہ تیار ہوا ہے۔ جو کسی عورت عیسائیہ نے مرتے وقت اپنی دو بیٹیوں کو وصیت کی تھی۔ اب فرمائیے جو ایسے دولت مند لوگ ہیں وہ آپ کے فرضی چار ہزار روپیہ کی کیا پروا کر سکتے ہیں۔ اس میں شک نہیں کہ سب مسلمان عیسائیوں کی مذہبی موجودہ صورت کو (جو اوائل اسلام سے لے کر اب تک ہے ) باطل یقین کرتے ہیں۔ مگر اسلام کی صداقت روحانی برکتوں اور براہین قاطعہ کے زور سے ہے۔ نا کہ بودے اور نکمے ہتھیاروں سے جس طرح پر مرزا قادیانی کا انداز ہے۔

دوسری پیشین گوئی

اس شخص کے لئے تھی جو مرزا احمد بیگ کی لڑکی سے عقد کرنے والا تھا۔ کیونکہ مرزا قادیانی کا الہام ”زوجناکہا“ اسی لڑکی کے حق میں تھا۔ یعنی جو شخص اس لڑکی سے نکاح کرے گا۔ تاریخ عقد سے لے کر اڑھائی سال کے اندر مر جاوے گا۔ اوائل میں (دیگر پیشین گوئیوں کی طرح) اس پیشین گوئی کے پورا کرانے کے لئے بھی مرزا قادیانی نے حد سے زیادہ قلم و زبان کا زور لگایا اور جان توڑ کوششیں کیں۔ کسی بزرگ نے جو مرزا قادیانی کے حالات و تصانیف سے کامل واقف ہے۔ ایک مفصل کتاب موسوم بہ ”کلمہ فضل رحمانی“ (یہ کتاب بھی احتساب قادیانیت جلد بتیس میں چھپ چکی ہے) لکھی ہے اور اس میں ظاہر ہے کہ مرزا قادیانی نے اس پیشین گوئی کے پورا کرانے میں ناخنوں تک کا زور لگایا اور آخر میں مرزا قادیانی کے قلم کے لکھے

٥٨ www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٤٤٧

ہوئے خطوط اس میں درج کئے جو مذکورہ بالا لڑکی کے رشتہ داروں کے نام ہیں۔ وہ ہیں تو قابل دید مگر افسوس ہے کہ اس جگہ گنجائش نہیں۔

مرزا قادیانی کے الہام کے حساب سے اس جوان کی (فرضی) موت کے صرف چھ ماہ باقی رہے تھے کہ ایک بارات میں دوستوں کی مجبوری سے ہم کو گوجرانوالہ جانے کا اتفاق ہوا۔ ہمارے میزبانوں نے مہمانوں کی خاطر داری کے لئے جو احباب منتخب کئے تھے۔ ان میں اڑھائی سال کے اندر فرضی موت سے مرنے والا نوجوان (مرزا سلطان بیگ) بھی موجود تھا اور بوساطت ایک دوست کے نوجوان مذکور سے راقم کی ملاقات ہوئی۔ مجھے خیال تھا کہ وہ بیچارہ حیران و پریشان ہوگا۔ کیونکہ قانون قدرت کا یہ عام قاعدہ ہے کہ کسی شخص کو جان جانے کا خوف دلایا جاوے تو خواہ وہ کیسا ہی دلیر اور من چلا ہو۔ مگر فکر اور حیرانی ضرور لاحق ہو جاتی ہے اور اپنی جان کی حفاظت کے لئے طرح طرح کے اندیشوں اور خدشوں میں سرگرداں رہتا ہے۔ ہزاروں مخلوق نے ایسے فکروں میں پڑ کر حفظ امن کی ضمانتیں اور مچلکے سرکاری عدالتوں میں کرائے ہیں۔ مگر نہیں؟ وہ نوجوان کچھ متفکر نہ تھا۔ بلکہ زیادہ ہشاش بشاش تھا۔ اس سے حسب ذیل مکالمہ ہوا۔

راقم: سلام علیک! نوجوان: وعلیکم السلام! راقم: مزاج شریف۔ نوجوان: الحمدللہ! راقم: مجھے آپ کے دیکھنے سے بہت خوشی ہوئی۔ فرمائیے آپ ان دنوں حیران تو نہیں رہتے۔ نوجوان: کیوں جناب یہ کیسے میں تو خدا کی عنایت سے اچھا ہوں۔ راقم: خدا تعالیٰ آپ کو حوادث دوران و آسیب اخوان الزمان سے برکنار رکھے۔ میں نے جناب غلام احمد کی کتابوں میں ایک پیش گوئی پڑھی۔ جو غالباً آپ کے بارے میں ہے۔ نوجوان: ہوں! بھلا یہ بھی کوئی حیرانی کی بات ہے۔؟ کیا کوئی شخص کسی کے کہنے سننے سے مر جاتا ہے۔ جب تک اس کی قسمت میں جینا لکھا ہے۔

اگر درحیاتت نوشت است بہر
نہ مارت گزاید نہ شمشیر وزہر

راقم: مرزا قادیانی نے تو اپنے الہاموں میں پرلے درجہ کا زور دیا ہے کہ اگر اس لڑکی کے ساتھ نکاح کرنے والا تاریخ عقد سے اڑھائی برس کے اندر اندر مر نہ جاوے تو پھر میری کسی بات پر

٥٩

صفحہ ٤٤٨

اعتبار نہ کرو اور مجھ سے زیادہ کذاب و مفتری کسی کو نہ جانو وغیرہ۔ نوجوان: سنو صاحب! اگر اس لڑکی سے عقد کرنے والا کوئی غیر قوم کا آدمی ہوتا تو کیا مجال تھی کہ عقد کے پاس بھی پھٹکتا۔ بلکہ مرزا قادیانی سے خائف ہو کر عقد کا نام بھی زبان پر نہ لاتا۔ مگر ہم ٹھہرے ذات بھائی جو ایک دوسرے کی تہ سے بخوبی واقف ہیں اور آپس کی حکمت عملیوں کا خوب اندازہ کرنے والے ہیں۔ مرزا قادیانی واقعی ایک اچھے منشی ہیں اور پولیٹکل معاملات میں ان کے ذہن خداداد کو اس حد تک رسائی ہے کہ باید و شاید۔ مگر الہام کیا؟ مرزا قادیانی نے پہلے ہمارے بزرگ ”مرزا احمد بیگ“ کو خوب دھمکایا۔ پھر اپنے بڑے بیٹے اور ان کی والدہ کو اس کام پر آمادہ کیا۔ پھر چھوٹے بیٹے ”مرزا فضل احمد“ کے سسرال میں اپنی قلم کے لکھے ہوئے خطوط بھیجے کہ اگر اس لڑکی کے عقد میں میری مدد نہ کرو گے تو مرزا فضل احمد تمہاری لڑکی کو چھوڑ دے گا اور اس میں تمہاری جگ ہنسائی ہوگی اور اگر فضل احمد اس کو طلاق نہ دے گا تو میں اس کو فرزندی سے عاق کر دوں گا۔ مگر ان دھمکیوں کی کسی نے ذرہ بھر بھی پرواہ نہ کی اور مرزا قادیانی کو ہر طرف سے ناکامی ہوئی۔

راقم: ہم نے سنا تھا کہ اس کے علاوہ اور بھی قسما قسمی کوششیں ہوئی تھیں۔ نوجوان: یہ سچ ہے۔ میرے پاس مرزا قادیانی کے مریدوں کے جتھے بطور سفارت آئے اور کہا کہ تم نیک آدمی اور شریف زادے ہو اور مرزا غلام احمد قادیانی ایک ولی اللہ اور کامل فقیر ہیں اور فقیر کے لنگ میں ہاتھ ڈالنا خوب نہیں۔ اس لڑکی کو علیحدہ کر دو اور ہم سے عہد لے لو کہ ہر طرح آپ کی مدد کریں گے اور کوئی اس سے بھی عمدہ ناتہ آپ کے لئے تجویز کر دیں گے۔ ورنہ یقین ہے کہ آپ سا حسین نوجوان مسلمان بھائی مسیح موعود و امام وقت کی بددعا سے مر جاوے گا۔

راقم: اس سفارت کا نتیجہ کیا ہوا؟ نوجوان: ہیچ! کیا کوئی بے موجب اور خلاف حکم خدا اور رسول اپنی بیبیوں کو علیحدہ کر سکتا ہے؟ کون احمق ایسی دلفریب باتوں میں آتا ہے؟

اس پیش گوئی کی میعاد میں جب صرف ڈیڑھ ماہ یا اس سے بھی کم رہ گیا اور نوجوان معہ اپنی اہلیہ راولپنڈی میں مقیم تھا۔ تو حکیم مولوی نورالدین کے ایک شاگرد نے جو مرزا قادیانی سے بیعت کر کے منسلک ہو گیا تھا۔ ایک احد العین حواری کو اس مضمون کا خط لکھا۔

”مجھے سخت اندیشہ ہے کہ مثل دیگر پیش گوئیوں کے یہ پیش گوئی بھی وقوع میں نہ آوے۔ کیونکہ عقد کرنے والا نوجوان تو بھلا چنگا ہے۔ بال بھر بھی ہراس نہیں۔ تو حواری کیا جواب

٦٠

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٤٣٩

دیتا ہے کہ اے عزیز اس نوجوان نے رجوع بحق کرلیا ہے۔ (کیا پہلے کافر تھا) اور بذریعہ خطوط اس لڑکے کے خویش واقارب مرزا قادیانی کے حضور روتے اور گڑگڑاتے ہیں۔ (سفید جھوٹ) پس عجب نہیں کہ پیش گوئی کی میعاد بڑھ جاوے۔ چونکہ آپ نے دریافت کیا ہے۔ اس لئے یہ کانفیڈنشل خط آپ کو لکھا گیا۔“

یہ خط جب راولپنڈی پہنچا تو مکتوب الیہ نے ان دشنام اور سخت الفاظ کی فہرست تیار کی جو نوجوان کی زبان سے مرزا قادیانی اور ان کی جماعت کے حق میں نکلی تھیں اور جن معتبر اشخاص کی حاضری میں یہ سخت کلمات ایک دردمند دل سے نکلے تھے۔ ان کے نام بھی فہرست میں درج کئے اور ”واحد العین“ کو جتایا کہ نوجوان کا تو یہ حال ہے اور آپ فرماتے ہیں۔ اس کی طرف سے رجوع بحق کے خطوط آ رہے ہیں۔ رجوع بحق کس جانور کا نام ہے اور یہ اس کی کیسی نرالی فلاسفی ہے۔ جو آپ نے چھانٹی ہے۔ آپ راولپنڈی تشریف لاویں اور جو کچھ میں نے اپنے خط میں لکھا ہے۔ اس کی تصدیق کرلیں اس کا جواب حواری مذکور نے کچھ نہ دیا اور دے ہی کیا سکتا تھا۔ اس مقام پر چند باتیں غور طلب ہیں۔

کی طرف سے لب جنبانی ہوتی تو مرزا قادیانی جو رائی کو پہاڑ اور قطرہ کو سمندر بنا کر دکھانے والے ہیں۔ کتابوں پر کتابیں اور اشتہاروں پر اشتہارات لکھ مارتے۔ مگر خاموش رہنا پڑا۔

نوجوان کے پاس اور اسی کی اولاد۔

نازل ہوا تھا۔

لئے کیوں دعائیں مانگ رہی ہے؟

(سیرت المسیح موعود

ص ٣٢)

کہا جاتا ہے کہ کیا مرزا قادیانی وفات پا گئے ہیں یا وہ عورت مر گئی ہے۔ جس پر اب تک بھی امید کی جاتی ہے کہ مرزا قادیانی کے عقد میں آوے گی۔ یہ مرزا قادیانی کی جماعت کے اکثر ممبروں کے مقولے ہیں۔ مگر بادنیٰ تامل صاف ظاہر ہے کہ اڑھائی برس تو گزر چکے اور آئندہ کسی زمانہ میں مرزا قادیانی اس سے نکاح کر بھی لیں تو کیا فائدہ۔ جب کہ وہ بوڑھے ہوتے جاتے

٦١

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٦٢

ہیں اور چڑیل املی کے پتوں پر ڈنڈ پیل رہی ہے۔

تیسری پیشین گوئی

آریوں کے مشہور سرغنہ پنڈت لیکھرام سابق ملازم پولیس کے بارہ میں تھی۔ جو نوکری سے علیحدہ ہو کر آریہ اپدیشک ہو گیا تھا۔ فی الحقیقت مندرجہ عنوان مقتول اس میعاد کے اندر مرا ہے۔ مگر یہ ہو سکتا ہے کہ وہ مرزا قادیانی کی پیشین گوئی سے مرا۔ معاذ اللہ! ہرگز نہیں بھلا یہ بھی کوئی بات ہے کہ فلاں شخص چھ سال کے اندر اندر کسی دن مر جائے گا؟

اس مشہور و معروف مقتول کے سلوک جو اہل ہنود بالخصوص سناتن دھرم والے لوگوں اور سکھوں، عیسائیوں اور مسلمانوں کے ساتھ تھے۔ یعنی ہر ایک مذہب کی (اپنے زعم میں) کھنڈن کرنا، بھری مجلسوں میں برملا ان مذاہب کی سخت تضحیک اور پرلے درجہ کی حقارت کرنا ہر ایک دین و مذہب کے پیشواؤں کے حق میں جگر خراش الفاظ بکنا، کتب سماوی اور انبیاء علیہم السلام کی سخت بے تعظیمی کرنا دیکھ کر ایک موٹے عقل کا آدمی بھی رائے لگاتا تھا کہ مقتول مذکور کا انجام اچھا نہیں ہوگا۔ مثل مشہور ہے کہ سپیرے اور تیراک کی موت سانپ اور پانی سے ہوا کرتی ہے۔

............. مردم سوئے شرر رو
چو کژدم کہ در خانہ کفشگر رود

جیسا کہ باوا رام چند مشہور و معروف آریہ کا قتل ہونا شہر گجرات پنجاب میں واقعہ ہوا۔ یہ شخص بھی اپنے خصائل واوصاف میں لیکھرام کا ہر ایک پہلو میں ہم پلہ تھا اور اس کی نسبت کسی قسم کی پیشین گوئی بھی نہیں ہوئی تھی اور آخر کار عدم ثبوت کے باعث دونوں سکھ ملزمان پر کسی قسم کا جرم عائد نہ ہوا۔ ایک ڈویژنل کورٹ سے اور دوسرا چیف کورٹ سے بری ہوئے۔

غرض لاکھوں خلق خدا کے دل ”پنڈت لیکھرام“ کی بدزبانی سنتے سنتے کباب ہو گئے تھے۔ مگر جتنے سانس کسی کے نصیب میں لکھے ہوں۔ لئے بغیر کہاں مرسکتا ہے۔ سو یہ ایک قدرتی بات ہے کہ کسی عیار دل جلے نے مقتول مذکور کا کام تمام کیا اور بفرض محال مان بھی لیا جاوے کہ مرزا قادیانی کی یہ پیشین گوئی پوری بھی ہوئی تو دوسری پیشین گوئیوں کو کس طرح سچا کر سکتی ہے؟ جن کا ایک خلق اللہ کے سامنے خون ہوا اور جن کا مرزا قادیانی کی جماعت کے لیڈنگ ممبروں کو بھی اعتراف ہے کہ وہ جھوٹی ہوئیں۔

اور نجومی و رمال بڑی بڑی گپیں ہانکا کرتے ہیں اور بعض اوقات ان کی کوئی گپ ٹھیک

www.besturdubooks.wordpress.com

PDF 445

انا خاتم النبیین لا نبی بعدی

میں آخری نبی ہوں، میرے بعد کوئی نبی نہیں

فتح اسلام

جلسہ اسلامیہ قادیان کی روئیداد

جناب منشی مولا بخش کشتہؔ

صفحہ ٤٤٢

روئیداد جلسہ اسلامیہ قادیان

مرتبہ: منشی مولا بخش کشتہ، ایڈیٹر ”اتحاد“ امرتسر

اخبارات واشتہارات کے ذریعہ سے یہ خبر پہلے مشتہر کر دی گئی تھی کہ پنجابی نبی کے مسکن وملجا قادیان ضلع گورداسپور (پنجاب) میں خاص اسلامی جلسہ منعقد کیا جاوے گا۔ جس میں اسلامی مسائل بیان کرنے کے ساتھ مرزا غلام احمد قادیانی مدعی نبوت کے دعاوی والہامات پر روشنی ڈالی جاوے گی۔ چنانچہ اس جلسہ کی شرکت کے لئے علماء کرام کی ایک جماعت ١٨؍مارچ ١٩٢١ء مطابق ٧؍رجب ١٣٣٩ھ بروز جمعۃ المبارک صبح ١٠؍بجے امرتسر سے گاڑی پر سوار ہو کر پونے بارہ بجے کے قریب بٹالہ سٹیشن پر پہنچی۔ جہاں اہالی بٹالہ ایک کثیر تعداد میں بغرض استقبال موجود تھے۔ رضا کاران استقبالیہ کمیٹی مسلم لیگ ایسوسی ایشن اور دیگر باشندگان بٹالہ نے جس خلوص واشتیاق اور انتظام سے معزز مہمانوں کا خیر مقدم کیا۔ وہ قابل تعریف تھا۔ علماء کرام کی جماعت گاڑیوں میں سوار ہو کر نعروں کے ساتھ بڑی مسجد میں پہنچی۔ فریضۂ نماز ادا کرنے کے بعد کھانا کھلایا گیا۔ ٣؍بجے کے قریب قلعہ ہمالہ کے متصل جلسہ وعظ منعقد ہوا۔ جس میں مولانا ابوالوفا ثناء اللہ امرتسری ایڈیٹر ”اہل حدیث امرتسر“ نے علماء کرام کے آنے اور قادیان میں جانے کی ضرورت بیان کرتے ہوئے مرزائی مشن کے عقائد سے پبلک کو آگاہ کیا۔ ان کے بعد دیگر علماء کی تقاریر ہوئیں۔ جن میں بعض خلافت کے موضوع پر دلنشین طریق سے کی گئیں۔

١٩؍مارچ ١٩٢١ء ہفتہ صبح کو علماء کرام کی جماعت تانگے اور یکوں پر سوار ہو کر ١٠؍بجے کے قریب قادیان پہنچی۔ شیر پنجاب مولانا ابوالوفا ؒ، مولانا ثناء اللہ امرتسریؒ، حضرت مولانا سید محمد انور شاہ کشمیریؒ معلم اوّل دیوبند مولانا حبیب الرحمٰن نائب ناظم دارالعلوم دیوبند آگے آگے تھے اور دیگر علماء کرام وہمدردان اسلام پیچھے پیچھے ایک جم غفیر کے آغوشِ محبت واخوت میں ”اللہ اکبر“ کے گونجتے ہوئے نعروں میں قادیانی عبادت گاہ اقصیٰ کے ساتھ ساتھ گزرے۔ قادیانی مرزائی اپنے ”منارۃ المسیح“ پر چڑھ کر اس جلوس کا نظارہ کر رہے تھے۔ مولانا ابوالوفاء نے جلسہ گاہ میں پہنچ کر حاضرین کو مخاطب کر کے اعلان کیا کہ علماء کرام تمہارے قصبہ میں آگئے ہیں اور کھانا کھانے اور نماز پڑھنے کے بعد آئیں گے اور اپنی تقاریر سے آپ کو مستفیض کریں گے۔

٢

صفحہ ٤٤٣

اجلاس اوّل دو بجے دوپہر کو علماء کرام جلسہ گاہ میں تشریف لائے۔ ہزاروں مسلمانوں کے علاوہ ہندو اور سکھ اصحاب بھی بکثرت جلسہ میں شریک ہوئے۔ چونکہ عورتوں کی نشست کے لئے بھی الگ انتظام کیا گیا تھا۔ اس لئے وہ بھی شامل جلسہ ہوئیں۔ سب سے پہلے قاری عبد الکریم امرتسری نے قرآن مجید کے ایک رکوع کی تلاوت کی۔ اس کے بعد مولوی ظفر الحق مدرس بٹالہ کی تحریک اور حاضرین کی تائید پر مولانا حبیب الرحمٰن نائب ناظم دارالعلوم دیوبند صدر قرار پائے۔ مولانا کے کرسی صدارت پر متمکن ہونے کے بعد مولوی محمد طاہر دیوبندی نے خوش الحانی کے ساتھ آیات مبارک ”واذقال اللہ یعیسٰی ابن مریم“ کی تلاوت کی۔

صاحب صدر کی افتتاحی تقریر

صاحب صدر نے حمد وصلوٰۃ کے بعد جلسہ کے انعقاد کی غرض اور ضرورت اور اپنی انکساری کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا کہ میں ناچیز حقیر ہوں۔ مگر چونکہ اس سرزمین اور اس سرچشمہ سے وابستہ ہوں۔ جس نے ہدایت کی روشنی دنیا میں پہنچائی اور جس نے تشنگانِ علم کو سیراب کیا اور جو دنیا بھر کا مرکز علم تسلیم کیا گیا ہے۔ پس اس منبع فیض کا ادنیٰ خادم ہونے کی حیثیت سے جو اعزاز آپ نے مجھے بخشا ہے۔ اس کا شکریہ ادا کرتا ہوں اور آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ ان تین دنوں میں آپ خدا کے فضل سے بہت کچھ مفید و پراثر مواعظ سے بہرہ اندوز ہوں گے اور میں یہ بھی کہنا مناسب سمجھتا ہوں کہ ہمارے کسی مبلغ کی غرض کسی کی دشمنی یا کسی کو رنج دینا نہیں ہے۔ بلکہ حق وصداقت کا اظہار مقصود ہے۔

تقریر مولانا ابوالوفاء ثناء اللہ ایڈیٹر اہلحدیث امرتسر

حمد وصلوٰۃ کے بعد مولانا نے فرمایا کہ میرے بھائیو اور میرے دوستو! میری تقریر کا عنوان ہے۔ ”مرزا قادیانی اور ہم“ میں اس میں وہی عرض کروں گا۔ جیسا حق مجھے شرعی طور پر اور قانونی طور پر حاصل ہے۔ علماء کرام کا مرزا قادیانی سے ایک رشتہ ہے۔ مگر خیالات وعقائد میں

٣

صفحہ ٤٤٤

١۔ مرزائیوں کی طرف سے یہ پیہم کوشش کی گئی تھی کہ قادیان میں غیر احمدی مسلمانوں کا جلسہ نہ ہو۔ چنانچہ اس اسلامی جلسہ کو روکنے کے لئے قادیانی تخت گاہ کی طرف سے ایڑی چوٹی کا زور لگایا گیا۔ حکام کے دل میں مختلف وسوسے اور شبہات ڈالے گئے۔ لیکن جب صاحب ڈپٹی کمشنر گورداسپور نے اجازت دے دی تو مرزا محمود قادیانی نے اپنی عبادت گاہوں پر قفل لگوا دیئے اور مرزا (پنجابی نبی) کومیٹ نے لکڑی کے شہتیر ڈال کر ایک گول گنبد سے بند کر دیا۔ (بقیہ حاشیہ اگلے صفحہ پر)

اختلاف ہے۔ مرزا قادیانی ہمارے سامنے ایسے خیالات پیش کرتے ہیں جو پہلے نہ تھے اور کہتے ہیں کہ ان کو مانو۔

جب ہم ادھیلے پیسے کا مٹی کا پیالہ خریدتے ہیں تو اچھی طرح اس کی دیکھ بھال کرتے ہیں۔ اگر چہ دوکاندار اپنے پیالہ کی تعریف وتصدیق کرتا ہوا خریدار کو اپنی طرف جھکاتا ہے۔ مگر خریدار حتی الوسع اپنی تسلی کر لیتا ہے۔ پس ایک شخص جو ہمارے ان خیالات کو جو قرن بعد قرن ہم تک پہنچے ہیں۔ الٹتا ہے تو ہمارا حق ہے کہ ہم بھی اس کو جانچیں۔

مرزا قادیانی لکھتے ہیں کہ: ”میرے جیسا کسی کو نہ سمجھو اور نہ کسی کو میرے جیسا۔“ میں وہ سورج ہوں جس کے سامنے دھواں نہیں آتا۔ فرماتے ہیں میرے آنے سے سب سورج ڈوب گئے۔ میرا پاؤں اس منارہ پر ہے۔ جہاں سب اونچائیاں ختم ہوگئیں۔ فرماتے ہیں ؎

آنچہ داد است ہر نبی را جام
داد آں جام را مرا بہ تمام

(نزول المسیح ص٩٩، خزائن ج١٨ ص٤٧٧)

یعنی جو خدا نے سب نبیوں کو جام پلایا وہ بڑا کر کے مجھے دیا۔ لکھتے ہیں ؎

صد حسین است در گریبانم

(حوالہ بالا)

فرماتے ہیں ؎

کبھی آدم کبھی موسیٰ کبھی یعقوب ہوں
نیز ابراہیم ہوں نسلیں ہیں میری بے شمار

(براہین احمدیہ حصہ پنجم ص١٠٣، خزائن ج٢١ ص١٣٣)

٤

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٤٤٥

(بقیہ حاشیہ گزشتہ صفحہ) اپنے چوکوں پر ناکہ بندیاں کر دیں۔ جابجا پہرے لگوادئیے۔ ٹین کے پیپے کثیر التعداد میں پانی سے بھروا کر رکھ لئے کہ اگر آگ لگ جائے تو ان سے بجھا سکیں۔ اسلامی جلال وسطوت کا ان پر ایسا غلبہ ہوا کہ وہ اپنے سایہ سے دوڑتے رہے اور ان علماء حضرات سے اپنے مریدوں کو ڈراتے رہے۔ تھانہ دار صاحب نے ان خطرات کی بناء پر انجمن اسلامیہ قادیان سے ایک اقرار اس مضمون کا لکھوایا کہ ہم مرزا قادیانی کی ذات پر کوئی رحم نہ کریں گے۔ ان کی کتابوں کے حوالہ جات سے ہمیں ان پر نکتہ چینی کا حق حاصل ہوگا۔ اس کی طرف مولانا نے اشارہ کیا ہے۔

(تریاق القلوب ص ٣، خزائن ج ١٥ ص ١٣٤) پر لکھتے ہیں ؎

منم مسیح زمان و منم کلیم خدا
منم محمد واحمد کہ مجتبیٰ باشد

(تریاق القلوب ص ٣٣، خزائن ج ١٥ ص ١٩٧ حاشیہ) پر لکھتے ہیں کہ: ”خواب اور کشف میں میں نے دیکھا کہ میں نے ایک مسل مرتب کی ہے۔ جس میں تمام حالات آئندہ کے لکھے ہیں۔ میں نے مرتب کر کے خدا سے دستخط کرانے کے لئے پیش کر دی۔ تو خدا نے قلم جو چھڑکا اس کی سیاہی کے چھینٹے میرے کرتے پر پڑ گئے ۔“

(ازالۃ اوہام ص ١٥٨، خزائن ج ٣ ص ١٨٠) میں لکھتے ہیں ؎

یک منم کہ حسب بشارت آمدم
عیسیٰ کجاست تابنہد پابمنبرم

(دافع البلاء ص ٢٠، خزائن ج ١٨ ص ٢٤٠) میں لکھتے ہیں کہ ؎

ابن مریم کے ذکر کو چھوڑو
اس سے بہتر غلام احمد ہے

اس پر اکتفاء نہیں کی۔ (دافع الوساوس ص ٥٦٤، خزائن ج ٥ ص ایضاً) پر لکھتے ہیں کہ: ”میں نے خواب میں دیکھا کہ ہو بہو میں خدا بن گیا ہوں ۔“

اس کے بعد لکھتے ہیں کہ: ”میں نے ایک آسمان بنایا۔ ایک زمین بنادی ۔“ (ص ٥٦٥، خزائن ج ٥ ص ایضاً)

میرے دوستو! علماء کے سر پر سینگ نہیں جو ناحق کسی سے لڑتے پھریں۔ مگر ایسا شخص

٥

صفحہ ٤٤٦

جس کے یہ دعوے ہوں اور کہے کہ آؤ اور مجھے مانو۔ ”حضرت محمد ﷺ کا منکر اور میرا منکر دونوں برابر کافر ہیں۔“ تو ہمیں حق ہے کہ ہم اس کی باتوں کو جانچیں۔ اگر وہ خود مخاطب کرتا تو بھی ہمیں شرع اسلام اور گورنمنٹ کے موجودہ قانون تعزیرات ہند کی دفعہ ٢٩٩، ٥٠٠ کی رو سے کہ ہم اس کو کسوٹی پر رکھیں۔

صاحبان! قرآن شریف جو ایک کتاب حکیم ہے۔ اس نے الہام اور غیر الہام کی تعریف مختصراً مگر جامع بتائی ہے۔ وہ کہتا ہے: ”لوکان من عند غیر الله لوجدوا فیہ اختلافا کثیرا (نسائ: ٨٢)“ {اگر قرآن خدا کے سوا کسی اور کا ہوتا تو بہت اختلاف ہوتے۔} خدا کی طرف سے ہونے کی یہی دلیل ہے کہ اس میں اختلاف نہیں ہے۔ مطلب یہ کہ جس میں کہیں کچھ کہیں کچھ ہو وہ اختلافی ہے۔ خدائی نہیں ہے۔ مرزا قادیانی کے دعویٰ تو میں آپ کو سنا چکا ہوں۔ اب میں ان کے اقوال ان کی عمر کے متعلق پیش کرتا ہوں۔

مرزا قادیانی لکھتے ہیں کہ: ”خدا تعالیٰ نے مجھے صریح لفظوں میں اطلاع دی تھی کہ تیری عمر ٨٠ برس کی ہوگی۔ پانچ چھ سال زیادہ یا پانچ چھ سال کم۔“ مجھے اس سے غرض نہیں کہ وہ خدا کیا ہوا جس کو خبر نہیں۔ قرآن تو کہتا ہے کہ: ”عالم الغیب والشہادۃ“ {خدا ظاہر و باطن کی سب باتیں جانتا ہے۔} اس کی نسبت یا، یا کہنا کیا اور سنو مرزا قادیانی لکھتے ہیں کہ: ”مجھے خدا نے کہا تیری عمر ٨٠ سال کی ہوگی۔ ٥، ٦ سال کم یا زیادہ۔“ آگے چل کر لکھتے ہیں۔ ”جو ظاہر الفاظ وحی کے وعدہ کے متعلق ہیں۔ وہ ٧٤ اور ٨٦ سال کے درمیان ظاہر کرتے ہیں۔“

(تریاق القلوب ص ٦٨، خزائن ج ١٥ ص ٢٨٣) پر لکھتے ہیں کہ: ”عجب اتفاق ہوا کہ میری عمر کے ٤٠ سال پورے ہونے پر نئی صدی شروع ہوگئی۔“ اس سے ثابت ہوا کہ مرزا قادیانی ١٢٦١ھ میں پیدا ہوئے۔

(ریویو آف ریلیجنز ص ١١٩، ١٩٠٦ء) دیکھو۔ مرزا قادیانی فرماتے ہیں کہ میری ذاتی سوانح عمری یہ ہے کہ میری پیدائش ١٨٣٩ء یا ١٨٤٠ء میں ہوئی۔ میں ١٨٥٧ء میں ١٦ یا ١٧ سال کا بے ریش و بے مونچھ تھا۔ اس حساب سے ان کی پیدائش ١٨٤٠ء قرار پاتی ہے اور وہ مئی ١٩٠٨ء میں فوت ہونے پر ٦٨ سال کے ہوئے۔ حالانکہ مرزا قادیانی نے اپنی عمر کم سے کم ٧٤ سال کی بتائی تھی۔

قمری مہینے کے حساب سے دیکھو فرماتے ہیں۔ میری عمر صدی کے آغاز پر ٤٠ سال کی

٦

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٤٤٧

تھی۔ ١٣٢٦ھ میں آپ فوت ہوئے۔ اس حساب سے آپ ٦٥ سال کے ہوئے۔ اب ایک گواہی معتبر پیش کرتا ہوں۔ دیکھئے کتاب نور الدین جو مولوی نور الدین جیسے ذی علم اور مرزا قادیانی کے دست و بازو نے لکھی ہے۔ اس میں وہ مرزا قادیانی کو ذوالقرنین (دو صدیاں پائے ہوئے) بتاتے ہیں۔ ١٩٠٨ء میں ان کی زندگی میں لکھتے ہیں کہ: ”مرزا قادیانی کی عمر ٦٩ سال کی ہوگی۔“ یہ فقرہ گویا خدا کے ہاتھ سے لکھا گیا ہے۔ تا کہ دنیا دیکھے کہ مرزا قادیانی کا الہام غلط ہو گیا۔ مرزا قادیانی اگر ساڑھے تہتر سال کی عمر بھی پاتے تو ان کا الہام درست نہیں ہو سکتا تھا۔ چہ جائیکہ اس قدر تفاوت ہو۔ خدا اپنی کتاب (قرآن مجید) کی بابت کہتا ہے کہ وحی خداوندی یا اس کے کلام کو کوئی جھٹلا نہیں سکتے۔ دیکھو غلبت الروم۔ رومی مغلوب ہو کر ٩ سال کے اندر غالب ہوں گے۔ ایسا ہی ہوا۔ جنگ بدر کی بابت جو حضور ﷺ نے فرمایا کہ فلاں شخص یہاں گرے گا اور فلاں شخص وہاں مرے گا۔ صحابہؓ کہتے ہیں کہ خدا کی قسم ایسا ہی ہوا۔ جس کی نسبت حضور ﷺ نے فرمایا تھا۔ وہ اسی جگہ پر ہی گرے اور مرے ایک بالشت بھر بھی فرق نہ ہوا۔ کیوں نہ ہو ؎

گفته او گفته اللہ بود
گرچہ از حلقوم عبداللہ بود

حضور ﷺ نے اپنا خواب بیان فرمایا کہ میں نے نماز پڑھی اور اپنے ماتھے پر کیچڑ لگا دیکھا ہے۔ صحابیؓ کہتا ہے کہ لیلۃ القدر کی ستائیسویں رات آئی۔ بارش ہوئی۔ چھت کے ٹپکنے سے عین اسی جگہ بارش کے قطرے گرے۔ جہاں حضور ﷺ کا سر سجدہ میں جانا تھا۔ صبح ہوئی تو حضور ﷺ کے ماتھے پر کیچڑ کا نشان موجود تھا اور سنو۔ حضور ﷺ نے جب دنیا کے چھوڑنے اور خدا سے رشتہ جوڑنے کی تبلیغ کی تو مکہ والے بگڑ گئے اور انہوں نے مسلمانوں کو مارنے کی ٹھان لی اور ٣ سال تک آپؐ نے مع اپنے چچا ابوطالب کے پہاڑوں میں رہے۔ آپؐ نے پیش گوئی کی کہ اے چچا وہ معاہدہ والا چمڑا جو کفار نے لکھا ہوا تھا۔ اس کو کیڑا کھا گیا ہے۔ صرف وہ جگہ بچ رہی ہے جہاں بسم اللہ اور اللہ کا نام درج ہے۔ کفار مکہ نے آزمائش کے لئے پتھر ہٹا کر اس ٹکڑے (عہد نامہ) کو نکالا تو حضور ﷺ کا ارشاد حرف بحرف صحیح تھا۔ یہ ہے سچائی۔ یاد رکھو کہ مرزا قادیانی کی عمر کا الہام بموجب ان کی تحریرات اور الہامات کے غلط ہوا۔ کیونکہ ان کی آخر عمر ان کے حساب اور ان کی تحریرات کے رو سے ٦٩ برس تک پہنچتی ہے۔ مگر پھر بھی قادیان سے آواز آتی ہے کہ

٧ www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٤٤٨

مرزا قادیانی کو مانو۔ افسوس!

آخیر میں کہا کہ میں یہ کہہ کر بیٹھتا ہوں کہ میں نے مرزا قادیانی کی تحریرات اور ان کی کتابوں کے حوالہ جات آپ کے سامنے پیش کر دیئے ہیں۔ جو ایک دوسرے کے متناقض و متخالف ہیں اور اس کے ساتھ ہی نبی صادق علیہ التحیۃ والسلام۔ حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کے ارشادات مشتے نمونہ از خروارے پیش کر دیئے ہیں کہ وہ کس طرح بتمامہ درست و مکمل ہیں۔ اب آپ جانچ لیں کہ مرزا قادیانی اس قابل ہیں کہ ہم ان کو مانیں؟ کسی نے خوب کہا ہے کہ ؎

علموں بس کریں او یار
اکو حرف تیرے درکار

مولانا عبدالسمیع صاحب کی تقریر

مولانا عبدالسمیع صاحب مدرس دارالعلوم دیوبند نے ’’لقد جاء کم رسول من انفسکم (توبہ: ١٢٨)‘‘ آیت تلاوت فرما کر تقریر شروع کی۔ کہا کہ:

جب اس جلسہ کے منتظمین کی طرف سے مجھے شرکت کی دعوت پہنچی تو ’’الفضل‘‘ کے ایڈیٹر نے بھی یاد کیا تھا کہ ضرور آئیے۔ بحمد اللہ میں آ گیا ہوں۔ اس کے بعد آپ نے آیت مبارکہ کا ترجمہ کرتے ہوئے فرمایا کہ یہ آیت شریف اس آسمانی کتاب کا ٹکڑا ہے۔ جو مسلمانوں کی مذہبی کتاب ہی نہیں۔ بلکہ دنیوی دستورالعمل بھی ہے۔ اس کا اندازہ اس سے ہو سکتا ہے کہ حدیث پاک میں وارد ہے کہ نزول قرآن سے پہلے فرشتے کہتے تھے کہ خوشحالی ہو ان سینوں پر جس میں اس کا انضباط ہو گا اور مبارک ہو ان زبانوں پر جو اس کی تلاوت کریں گی۔

صاحبان! آپ جانتے ہیں کہ جب آنحضرت ﷺ مبعوث ہوئے تو اس وقت مکہ میں بت پجتے تھے۔ اس وقت آپ نے لا الہ الا اللّٰہ (یعنی ایک خدا کی پرستش کرو) کی تعلیم دی۔ جس پر کفار مخالف ہو گئے اور انہوں نے آپ کو بے حد اذیتیں پہنچائیں۔ مگر آپ نے جو کچھ کہا۔ کر کے دکھا دیا۔ جو بات کی سچی کی، یہ نہیں کہ کہیں عیسیٰ بن گئے۔ کہیں موسیٰ۔ کہیں ابراہیم بن بیٹھے کہیں یوسف۔ کہیں یعقوب علیہم السلام کہیں کرشن۔ کہیں خدا وغیرہ۔ آنحضرت ﷺ کیسے تھے؟ نبی کے اخلاق کیسے ہونے چاہئیں؟ اس کا مختصر ذکر کر کے فیصلہ آپ پر چھوڑوں گا۔

آپ ’’بالمؤمنین روف رحیم‘‘، مومنوں کے ساتھ نہایت رحیم تھے ان کی حرص تھی کہ لوگ بھلائی کے راستہ پر آ جائیں اور گمراہ کن طریقہ کو چھوڑ دیں۔ جو انہیں جہنم میں لے

٨

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٤٤٩

جانے والا ہے۔ پس جو شخص ہمیں قرآن وحدیث کے خلاف لے جائے سمجھو وہ ہمیں کہاں پھینکے گا۔ یاد رکھو جنت میں لے جانے والا رسول کا طریقہ ہے۔ رسول کی تعلیم کے ہوتے ہوئے کسی دوسرے کی تعلیم کی ضرورت نہیں۔ نبوت حضرت ﷺ پر ختم ہو چکی ہے۔ آپ خاتم النبیین ہیں۔

صحیح بخاری میں اس آیت کی دوسری قرأت یوں ہے کہ : ”مِنْ اَنفَسِکُم“ (یعنی ف کی زبر کے ساتھ) ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ تمہارے پاس ایسا رسول آیا۔ جو سب سے ارفع واعلیٰ ہے۔ حضور ﷺ فرماتے ہیں۔ خدا نے دنیا سے مکہ والوں کو منتخب فرمایا، اور مکہ والوں سے خاندان ہاشم کو اور بنی ہاشم سے مجھ کو منتخب کیا ہے، اور یہی وجہ ہے کہ آپ اشرف وسید اور اخلاق وفضائل کا مخزن ومنبع تھے۔ اب اگر کوئی کہے کہ میں ان جیسا ہوں یا ان سے اعلیٰ ہوں تو ناظرین خود فیصلہ کر لیں۔ میں کچھ نہیں کہتا۔

اس کے بعد آپ نے چند مثالیں بیان کیں۔ یعنی یہ کہا کہ بجلی کی بتیاں جلتی ہیں۔ ان سب کا تعلق مرکزی کارخانہ سے ہوتا ہے۔ مگر کارخانہ کی کل میں کچھ نقص آئے تو بجلی کی روشنی کسی گھر میں بھی نہیں پہنچتی۔ اسی طرح نہر (١) اور چشموں کے پانی سے باغ و باغیچے اور کھیتیاں سیراب ہوتی ہیں۔ آفتاب کی مثال بیان کی کہ اس کے نور سے سیارے و ستارے روشنی حاصل کرتے ہیں۔ حضرات انبیاء علیہم السلام، عیسیٰ وموسیٰ اور دیگر مثل ستاروں کے ہیں اور محمد رسول اللہ ﷺ مثل آفتاب کے، روشن سب ہیں۔ مگر آفتاب سید الانبیاء ﷺ ہیں اور ان کے نور نے سب پر روشنی ڈالی ہے۔ اب آپ سمجھ لیں کہ کسی دوسرے شخص میں یہ قابلیتیں اور خصوصیتیں کہاں؟ جو جملہ انبیاء علیہم السلام کے لئے فیضان نعمت کا مرکز قرار دیا جاسکے۔

نماز کی تاکید

بیان کرتے ہوئے کہا کہ حدیث میں ہے۔ حضور ﷺ نے فرمایا جو شخص مسجد میں نماز باجماعت ادا نہیں کرتا۔ میرا جی چاہتا ہے کہ اس کے گھر جلا دوں اور جو نماز ہی نہ پڑھے وہ مسلمان کیا۔ وہ قیامت کے دن شداد، فرعون، نمرود وغیرہ کے ساتھ ہوگا۔ اس لئے بھائیو! نماز پڑھا کرو اور باجماعت ادا کیا کرو۔ یہ حکم اس رسول پاک ﷺ کا ہے جس کی جدائی میں ستون تک رویا کرتے تھے۔ آپ نے سنا ہوگا کہ جب منبر نہ تھا تو حضور ﷺ ایک ستون کے ساتھ کھڑے ہو کر خطبہ سنایا کرتے تھے۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا تو یہ معجزہ تھا کہ وہ مردوں کو بحکم خدا زندہ کیا کرتے تھے۔ لیکن آنحضرت ﷺ کا معجزہ دیکھئے کہ جب منبر بن گیا تو وہ ستون لکڑی کا

٩

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٤٥٠

جس کے ساتھ کھڑے ہو کر آپ ﷺ خطبہ پڑھا کرتے تھے۔ دیکھا کہ رو رہا ہے۔ جس پر مولانا روم فرماتے ہیں ؎

مسندت من بودم از من تاختی
برسر منبر تو مسند ساختی

اخلاق کا ذکر

ایک شخص ثمامہ نامی حضور ﷺ کے ماننے والوں کو گالیاں اور تکلیفیں دیا کرتا تھا۔ وہ قابو میں آگیا۔ حضور ﷺ نے اس کو ستون سے باندھ دیا اور فرمایا کہ کہو اب تجھ سے کیا سلوک کیا جاوے۔ ثمامہ نے کہا کہ اے محمد ﷺ اگر مجھ کو قتل کرو گے تو بے شک ایک سزاوار قتل کو قتل کرو گے اور اگر چھوڑ دو گے تو آپ کا احسان ہوگا۔ حضور ﷺ نے اس کو چھوڑ دیا اور وہ حضور ﷺ کا اس حسن سلوک کے باعث مشکور ہونے کے علاوہ مسلمان ہو گیا۔

ایک لڑائی میں آنحضرت ﷺ کا دانت مبارک شہید ہو گیا۔ فرشتوں نے آ کر عرض کیا۔ اے محمد ﷺ! اگر کہو تو ان کفار کو نیست و نابود کر دیا جاوے۔ حضور ﷺ نے فرمایا۔ خداوند کریم سے بعد سلام عرض کرو کہ نہیں۔ کیونکہ ممکن ہے کہ ان کی اولاد سے کوئی مسلمان ہو۔ (اللہ اکبر یہ تھے اخلاق عالیہ رسول پاک کے) وہ رسول جس کی شان ہے۔ ”ماکان محمد ابا احد من رجالكم ولكن رسول الله وخاتم النبیین“ خاتم کے معنی انگوٹھی، مہر اور قوم کے آخر آنے والے کے ہیں۔ ”خاتم النبیین“ جمع قلت ہے۔ مگر الف لام سے جمع کثرت ہوگئی۔ گویا تمام قسم کی نبوت (بروزی ہو یا ظلی یا کوئی اور قسم) سب ختم ہوگئیں۔ اب آپ لوگ سمجھ لیں کہ جو لوگ ظلی و بروزی بن بیٹھے ہیں وہ کہاں تک راستی پر ہیں؟

صاحب! جس نبی کے اخلاق کا ذکر میں نے کیا۔ اب اس کے پاس بیٹھنے والوں کا ہی حال سن لو۔ حضرت عمرؓ کو کیا کندن بنا دیا تھا۔ جس پر نظر ڈالتا اس کو بھی کندن بنا دیتا۔ غیر مسلم بادشاہ کا قاصد آتا ہے اور پوچھتا ہے امیر المؤمنینؓ کہاں ہیں۔ تلاش کرنے پر معلوم ہوتا ہے کہ گھوڑے کو خرخرہ کر رہے ہیں۔ قاصد کہتا ہے کہ کیا امیر المؤمنینؓ ہے۔ اس کی کیا حکومت ہوگی۔ مسلمان جواب دیتے ہیں کہ اس کا قبضہ دلوں پر ہے۔ یہ امیر المؤمنین ہے۔ یہ وہ عمرؓ ہے جس کی نسبت ارشاد نبویؐ ہے کہ: ”اگر میرے بعد کوئی نبی ہوتا تو وہ عمرؓ ہوتا۔“

ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہؓ عرض کرتی ہیں کہ یا رسول اللہ ﷺ کوئی ایسا شخص

١٠

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٤٥١

بھی ہے جس کی نیکیاں ستاروں کے برابر ہوں۔ حضور ﷺ نے فرمایا ”عمرؓ“ ہے۔ حضرت عمرؓ بہ نفس نفیس خود رعایا کا حال دریافت کرتے تھے۔ چنانچہ ایک دن آپ کو گشت کرتے ہوئے ایک عورت کے رونے کی آواز آئی۔ جو آپ ہی کو برا بھلا کہہ رہی تھی۔ آپ نے سنا اور اس سے جا کر پوچھا۔ بڑی بی کیوں کیا ہوا؟ بولی میرے خاوند کو فوت ہوئے سات سال ہوئے۔ گھر میں کچھ نہیں۔ بچے بھوک کے مارے بلبلا رہے ہیں۔ حضرت عمرؓ نے کہا کہ امیر کو اس کی اطلاع بھی دی ہے؟ عورت نے جواب دیا کہ بکری کی خبر گیری چرواہے پر واجب ہے نہ کہ بکری اس کو اطلاع دے۔ امیر المؤمنینؓ یہ سن کر بیت المال میں گئے اور چاول وغیرہ خوراک اپنی پیٹھ پر لاد کر خود لائے اور اس سے معذرت کی۔ یہ تھے وہ لوگ جنہوں نے فیضان نبوت سے اقتباس کیا تھا اور یہ تھے وہ امیر و حکمران جو آئندہ نسلوں کے لئے اخلاق و عدل کے نمونے قائم کر گئے۔

اجلاس دوم (١٩/ مارچ ١٩٢١ء) بعد نماز عصر

تقریر مولانا محمد ابراہیم سیالکوٹیؒ

پہلے مولوی قاری محمد طیب دیوبندیؒ نے خوش الحانی سے ایک رکوع تلاوت فرمایا۔

اس کے بعد مولانا نے حمد وصلوٰۃ کے ساتھ اپنی تقریر ان آیات سے شروع کی۔ ”فبما نقضهم ميثاقهم وكفرهم بأيت الله وقتلهم الانبياء بغير حق وقولهم قلوبنا غلف بل طبع الله عليها بكفرهم فلا يؤمنون الا قليلا وبكفرهم وقولهم على مريم بهتانا عظيما، وقولهم انا قتلنا المسيح عيسىٰ ابن مريم رسول الله وما قتلوه وما صلبوه ولكن شبه لهم وان الذين اختلفوا فيه لفى شك منه ما لهم به من علم الا اتباع الظن وما قتلوه يقينا بل رفعه الله اليه وكان الله عزيزاً حكيما، وان من اهل الكتاب الا ليؤمنن به قبل موته ويوم القيامة يكون عليهم شهيدا (نسائ: ١٥٥ تا ١٥٩)“ کہا کہ خدا کا شکر ہے کہ اس نے مجھے شرکت جلسہ کی توفیق بخشی۔ سابقہ جلسہ میں اس لئے حاضر نہ ہو سکا کہ بمبئی میں تھا۔ اس دفعہ بھی بنگال جانے والا تھا کہ اطلاع پہنچی، حاضر ہو گیا ہوں۔ در حقیقت جو خدا چاہتا ہے وہی ہوتا ہے۔

صاحبان! حیات مسیح علیہ السلام قبل نزول کا مضمون میرے متعلق کیا گیا ہے۔ یہ یاد

١١

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٤٥٢

رکھنا چاہئے کہ جو بات قرآن وحدیث سے ثابت ہو جائے وہ ماننی چاہئے۔ میرا مضمون دو جزووں پر مشتمل ہے۔ مسئلہ صلب اور مسئلہ رفع سماوی۔ یعنی آیا عیسیٰ صلیب پر چڑھائے گئے یا نہ، اور آیا آپ کی ہجرت کشمیر میں کرائی گئی یا آسمان پر۔ قلت وقت کے باعث آج صرف صلیب پر تقریر کروں گا اور رفع کی بابت کل پھر کروں گا۔ صلیب کا واقعہ یوں بیان کیا جاتا ہے کہ یہودیوں نے حضرت مسیح علیہ السلام کو پکڑوایا اور سولی پر چڑھا دیا اور آپ کے بدن پر میخیں لگائیں۔ یہودی ایسا کہتے ہیں اور مسیح علیہ السلام کا مرجانا تسلیم کرتے ہیں۔ مگر مرزا قادیانی کا قول ہے کہ مسیح صلیب پر مرا نہیں بلکہ اس کے بعد کشمیر محلہ خانیار میں جا کر مرے اور میں ثابت کروں گا کہ نہ وہ قتل ہوئے نہ وہ سولی پر چڑھے نہ ہجرت کر کے کشمیر کو گئے۔ بلکہ یہودیوں کی دستبرد سے پہلے ہی آپ صحیح وسلامت آسمان پر اٹھالئے گئے۔ میں اپنے دلائل قرآن سے دوں گا اور مخالف کا دارومدار اناجیل پر ہے۔

اناجیل بالاتفاق شہادت دیتی ہیں کہ مسیح کو جب پکڑنے آئے تو آپ کے سب شاگرد بھاگ گئے۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ تواتر قومی اس کی دلیل ہے۔ حالانکہ تواتر کے لئے شرط ہے کہ آخری درجہ اس کا شہادت عینی ہو۔ عام لوگ تواتر اور افواہ میں فرق نہیں کرتے۔ کوئی حواری مسیح کے صلیب پر چڑھانے کی چشم دید شہادت نہیں دیتا۔ (دیکھو انجیل مرقس، باب ١٤ آیت ٥٠، متی باب ٢٦ آیت ٥٦) سب کے سب حواری آپ کو چھوڑ کر بھاگ گئے۔

مرقس تابعین میں سے ہے۔ متی حواری ہے۔ مگر اس نے یہ کتاب نہیں دیکھی۔ اس واقعہ کا انجیلوں میں سخت اختلاف ہے۔

اس کے بعد مسیح کے یہودا اسکریوطی کے تیس روپے رشوت لے کر پکڑوانے کا ذکر کیا اس میں بھی اختلاف موجود ہے۔ انجیل برنباس میں لکھا ہے کہ۔ یہودا نے پیسے لے کر حضرت مسیح کو شناخت کرایا۔ لیکن اسی کتاب کے برخلاف یوحنا کی انجیل میں لکھا ہے کہ جب مسیح کو پکڑنے گئے تو خود مسیح نے کہا میں ہوں یہاں نہ حواری کا ذکر ہے۔ نہ اور کچھ۔ اس کے بعد مولانا صاحب نے انجیلوں میں بے شمار اختلاف دکھاتے ہوئے کہا۔ کہ جب ہر ایک انجیل میں اس قدر تناقض موجود ہو کہ ایک روایت دوسری روایت کے منافی ہو تو اہل علم کے نزدیک کیونکر قابل قبول ہو سکتی ہے۔

اب قرآن کریم کو لیجئے کہ یہود کا عیسیٰ علیہ السلام تک ہاتھ بھی نہیں پہنچا۔ ”فبما

١٢

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٤٥٣

نقضهم ميثاقهم ”یہ ہیں ان پر لعنت کے اسباب۔ ان میں بعض یہود کے اقوال ہیں۔ بعض افعال، عہد توڑنا، آیات سے انکار کرنا۔ بہتان لگانا۔ عمل سے عقیدہ سے خداوند کریم نے مجرد قول کو لعنت قرار دیا۔ جو انہوں نے کہا ”انا قتلنا المسيح “ اور اس کو زیادہ واضح کرنے کے لئے فرمایا کہ: ”وما قتلوه وما صلبوه“ کہ فعل قتل اور صلیب دونوں کی نفی کر دی۔ قرآن کریم کی یہ ترتیب اور بندش الفاظ بلا فائدہ نہیں۔ صرف قتلوہ پر بس نہیں کہا۔ مگر اللہ کو علم تھا کہ ١٣ سو سال کے بعد کوئی شخص ایسا پیدا ہوگا جو یہ کہے گا کہ قتل نہیں ہوئے صلیب دیئے گئے۔ لہٰذا اس کی بھی اس میں تردید کر دی۔ ہاں تو پھر وہ کون تھا؟ جب کہ عیسیٰ مقتول و مصلوب نہیں ہوئے۔ وہ لکن شبه لهم میں مذکور ہے جسے عیسیٰ جیسا بنایا گیا۔

عیسائی مذہب کو چونکہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے مدد ملتی ہے اور وہ اس کو کفارہ بیان کرتے ہیں۔ اس لئے وہ کہتے ہیں کہ عیسیٰ سولی پر چڑھ گئے۔ انگلستان کا فاضل ”جارج سیل“ اس کے متعلق کہتا ہے کہ بعض لوگ کہتے ہیں کہ حضرت محمد ﷺ نے یہ بات بتائی ہے۔ مگر یہ غلطی پر ہیں۔ کیونکہ حضرت محمد ﷺ سے پہلے عیسائیوں کے بہت سے فرقے یہی عقیدہ رکھتے تھے کہ عیسیٰ علیہ السلام سولی پر نہیں چڑھے بلکہ ان کی بجائے کوئی اور سولی پر چڑھا۔ اس وقت آپ نے بہت سے فرقوں کے نام گنوائے جو اس کے قائل ہیں کہ کوئی اور ہم شکل سولی پر چڑھا۔ چونکہ اس بارہ میں خود ابتداء سے عیسائیوں میں اختلاف ہے۔ پس ان کا تواتر قومی نہ ہوا۔ یہی قرآن کہتا ہے اور یہی حق ہے کہ نہ وہ قتل ہوئے نہ سولی چڑھے۔ بلکہ ”بل رفعه الله اليه“ اس کی تفسیر کل کروں گا۔ انشاء اللہ!

اجلاس اوّل (٢٠؍مارچ ١٩٢١ء) اتوار صبح ٨ بجے

جناب حافظ محمد طاہر دیوبندی نے تلاوت قرآن مجید فرمائی۔ بابو پیر بخش پنشنر پوسٹ ماسٹر و سیکرٹری انجمن تائید الاسلام لاہور نے اپنی مطبوعہ تقریر ”اثبات حیات مسیح“ پڑھی اور بہت سی کاپیاں جلسہ میں تقسیم کیں۔ تقریر دلچسپی سے سنی گئی اور پڑھی گئی۔ ان کے بعد:

مولانا ثناء اللہ صاحبؒ مولوی فاضل ”ایڈیٹر اخبار اہل حدیث امرتسر“

”قادیان اور ہم“ قادیانی کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ ایک پرانا شعر ہے کہ ؎

١٣

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٤٥٤
چہ گویم باتو گر چہ در قادیاں بینی
دوابینی، شفاء بینی، غرض دارالاماں بینی

اس وقت قادیان پرائمری کے درجہ پر تھا۔ آج کل چونکہ بی۔اے کے درجہ پر پہنچ چکا ہے۔ اس لئے اس شعر کا مصداق قرار پایا ہے۔

مظہر حق دیدہ ام گویا فرود آمد خدا
در شمار مکہ چوں ن آید شمار قادیاں

لاہوری پارٹی کے اخبار ”پیغام صلح“ نے قادیان کو مکہ بنانے پر اعتراض کیا ہے۔ لیکن میں کہتا ہوں کہ ایک مرزائی اخبار کا ایسا کہنا غلط ہے۔ کیونکہ مرزا قادیانی تو لکھتے ہیں۔ خدا قادیان میں نازل ہوا۔ (ازالہ اوہام ص ١٥٦، خزائن ج ٣ ص ١٨٠) پس شاعر کو بجائے گویا کے کہنا چاہئے تھا۔ ”حقا فرود آمد خدا“ قادیان کیا ہے؟ القادیان، ما القادیان، وما ادراک ما القادیان؟

مرزا قادیانی (ازالہ اوہام ص ٧٦، خزائن ج ٣ ص ١٤٠) پر لکھتے ہیں کہ: ”میں نے کشف میں دیکھا کہ میں قران مجید پڑھ رہا ہوں۔ کشفی طور پر میں نے دیکھا کہ میرے بھائی غلام قادر میرے پاس بیٹھ کر قرآن پڑھ رہے ہیں۔ ’انا انزلنہ قریبا من القادیان‘ میں نے دیکھا قرآن کے نصف پر دائیں طرف یہ عبارت لکھی ہے اور سمجھا کہ قرآن میں درج ہے اور کہا کہ مکہ اور مدینہ اور قادیان کا اعزاز سے ذکر کیا گیا ہے۔“

مرزا قادیانی فرماتے ہیں۔ (دافع البلاء ص ١٠، خزائن ج ١٨ ص ٢٣٠) ”گو ٧٠ برس تک طاعون دنیا میں رہے قادیان کو خدا بچا رکھے گا۔ کیونکہ وہ اس کے رسول کی تخت گاہ ہے۔“

اس کے بعد مولانا نے قادیان میں دو چار دفعہ آنے کا مختصر ذکر کیا اور ”الحکم قادیان“ ١٠؍ اپریل ١٩٠٢ء کے حوالہ سے بتایا کہ اس میں مرزا قادیانی کی منظوری سے اور مولوی عبدالکریم کی قلم سے چھپتا ہے کہ قادیان طاعون سے بچا رہے گا۔ ”پیسہ اخبار“ نے اس کی تضحیک کی تھی کہ یہ بچوں کی باتیں ہیں۔ اس کے جواب میں فرماتے ہیں کہ یہ یقینی بات ہے کہ خدا نے اس گاؤں کو طاعون سے بچا لیا۔ ”انه اوی القریه • علی ھٰذا“ مرزا قادیانی نے لمبی چوڑی عبارت میں یہ ثابت کرنے کی کوشش کی کہ قادیان میں طاعون نہیں آئے گی۔ یہ بات ایک رسول خدا کی طرف سے ہے۔

١٤

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٤٥٥

یہ وحی بھی سچی ہے۔ جیسی قرآن کریم کی وحی ۔ مرزا قادیانی کا دعویٰ ہے کہ تیری وجہ سے قادیان کے دوسرے لوگوں کو بھی خدا نے اپنے سایۂ شفاعت میں لے لیا ہے۔ یہ شان رسول ہے کہ جب تو مکہ میں ہے تو عذاب نازل نہ کریں گے۔

بار بار فرماتے ہیں کہ جہاں ایک بھی راست باز ہوگا خدا اس مقام کو بچائے گا۔ اب فیصلہ سن لو ؎

ہوا ہے مدعی کا فیصلہ اچھا میرے حق میں
زلیخا نے کیا خود پاک دامن ماہ کنعاں کا

قادیان کے باشندو! تم خود گواہی دے سکتے ہو کہ تمہارے قصبہ میں طاعون آیا یا نہ۔ مجھے تو معلوم ہے کہ ٢٥ سو کی آبادی میں سے ٣، ٤ سو سے زیادہ قادیان میں طاعون سے مر گئے۔ میں نے تو انتظام کر رکھا تھا کہ ان دنوں اموات و پیدائش کا پرچہ منگوایا کرتا تھا اور دیکھ لیا کرتا تھا۔

حاضرین نے آواز دی کہ ٥ سو تک روزانہ یہاں اموات ہو چکی ہیں۔

اور سنئے جب یہاں کمیشن آئی تو ”اخبار بدر“ نے چھاپا کہ طاعون چوہڑوں میں ہے اوروں میں نہیں ؎

عالم بمنت یکطرف خسرو بیچارہ یک طرف
وہ خدا تو اپنی حکمتیں خوب جانتا ہے

سنو! مرزا قادیانی کا چچا زاد بھائی مرزا نظام الدین مجھے امرتسر میں ملا۔ میرے پوچھنے پر اس نے کہا کہ: ”جب مرزا قادیانی نے کہا کہ قادیان میں طاعون نہیں پڑے گا تو ہم نے اسی وقت سمجھ لیا کہ ضرور آئے گا۔“ اس کو بھی چھوڑیئے ۔ ملاحظہ فرمائیے مرزا قادیانی (حقیقت الوحی ص ٨٤، خزائن ج ٢٢ ص ) پر لکھتے ہیں ۔ ”پھر طاعون کے دنوں میں جب کہ قادیان میں طاعون زور پر تھا۔ میرا شریف احمد لڑکا بیمار ہوا ۔“

اس وقت مدرسہ بند کر دیا گیا۔ آپ چھت پر مسافر سے ملاقات کرتے اور ملاقات سے پہلے دریافت کر لیتے کہ وہ طاعونی مقام سے تو نہیں آیا۔ اگر طاعونی مقام کا ہوتا تو ملاقات نہ کرتے ۔

١٥

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٤٥٦

ایک بزرگ نے شہادت دی کہ میں ایک طاعون زدہ مقام سے قادیان کو دارالامان سمجھ کر بچاؤ کی خاطر آیا۔ مگر یہاں آکر سارا کنبہ لقمہ اجل کرا بیٹھا۔ فقط ایک بچہ رہا۔ مولانا صاحب نے سلسلۂ تقریر جاری رکھتے ہوئے کہا۔ مرزا قادیانی کا قول ہے۔ ایک دفعہ کسی قدر شدت کے ساتھ طاعون پڑا۔ ایک دفعہ طاعون کے زور کے دنوں میں جب کہ قادیان میں زور تھا؟ اللہ اکبر! کسی قدر شدت، اور قادیان میں طاعون کے زور کا اقرار یاد رکھنا۔ مرزا قادیانی بڑے دور اندیش تھے۔ فرماتے ہیں الہام میں قادیان کا نام نہیں۔ ”انہ اوی القریہ“ ہے۔ قریہ قرا سے نکلا ہے۔ اس کے معنی ہیں دستر خوان پر مل کر کھانے والے لیکن پہلے میں بتا آیا ہوں کہ ”الحکم“ میں فرماتے ہیں کہ خدا نے سب کو اپنے سایۂ شفاعت میں لے لیا۔ اب اس کا کیا جواب ہے؟ مرزا قادیانی کی اور وحی ملاحظہ ہو کہ میں گھر کے رہنے والوں کی محافظت کروں گا۔ گھر سے مراد کوئی چار دیواری نہیں۔ بلکہ میری مریدی میں داخل ہونے والے ہیں۔ خواہ وہ کہیں ہوں۔

احمدی دوستو! بتاؤ بدر کا ایڈیٹر محمد افضل، محمد یاسین سہارنپوری، قاضی میر حسین بھیروی کا لڑکا کس مرض سے مرے؟ کہو طاعون سے مرے۔ واقعات صحیحہ موجود ہیں۔ سنو! طاعون ہوا۔ قادیان میں ہوا۔ (حاضرین نے شہادت دی کہ بے شک) نتیجہ کیا ہوا۔ مرزائی کیا جواب دیتے ہیں۔ مرزا قادیانی بار بار فرماتے ہیں کہ جہاں ایک بھی راست باز ہو گا خدا اس کو بچالے گا۔ اب بتاؤ کہ جب اس کی موجودگی میں طاعون قادیان میں آیا تو وہ کیا ہوا اور کہا کہ لوگوں کو کیا ہوا کہ وہ ان کو مسیح موعود لکھتے ہیں کہ مجھ کو مسیح موعود کہنا بے وقوفوں کا کام ہے۔

(ازالہ اوہام ص ١٩٠، خزائن ج ٣ ص ١٩٢)

اور سنو! خود مرزا قادیانی نے ایک اشتہار بعنوان ”مولوی ثناء اللہ کے ساتھ آخری فیصلہ“ شائع کیا۔ جس میں لکھا کہ جھوٹا سچے کی زندگی میں مرجاوے گا۔ سب نے دیکھ لیا کہ کون مر گیا اور خدا نے کس کو زندہ رکھا ہے۔ مگر اس وقت ایک اور بات بتانے والی یہ ہے کہ اس اشتہار کے نیچے آپ اپنا نام اس طرح لکھتے ہیں کہ : ”عبداللہ الصمد غلام احمد مسیح موعود“ لوگ مرزا قادیانی کو مسیح موعود سمجھیں تو وہ ان کی تحریر کے مطابق بے وقوف ٹھہریں گے۔ لیکن اگر مرزا قادیانی خود اپنے آپ کو مسیح موعود لکھیں تو اپنی تحریر کے مطابق وہ کیا ہوئے؟ ناظرین سب باتوں کا خود فیصلہ کرلیں۔

١٦

صفحہ ٤٥٧

تقریر مولوی قاری محمد طیب دیوبندیؒ

حمد وصلوٰۃ کے بعد فرمایا: حضرات! میں آپ کے سامنے ایک معمار کی حیثیت سے کھڑا ہوا ہوں اور ایمان کا قلعہ بنانا چاہتا ہوں۔ اسلام نے ایمانی قلعہ کی بنیاد ”لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ“ سے شروع کی ہے۔ جب اسلام دنیا میں آیا۔ اس وقت ظلمت کفر کا اندھیرا چھایا ہوا تھا۔ اس وقت فاران کی چوٹیوں پر سے ایک آفتاب نبوت روشن ہوا اور کہا: ”تعالوا الی کلمۃ سواء بیننا و بینکم“ جب حضور ﷺ کی ذات مبعوث ہوئی تو خدا کو تو لوگ خالق مانتے ہی تھے۔ مگر شرک فی العبادت کیا کرتے تھے۔ کیونکہ جب ان سے کہا جاتا کہ زمین و آسمان کے پیدا کرنے والا کون ہے؟ تو کہتے۔ خدا۔ لہٰذا آپ نے سب سے پہلے شرک فی العبادت کو دور کرنے کی کوشش کی۔ ایمان کی دیواریں مضبوط بنائیں۔ نماز کو اس کے ستون بنایا اور ”ایاک نعبد و ایاک نستعین“ کی تعلیم دی۔ اسی طرح ہم کو پہلے ایمان کی بنیاد مضبوط کرنی چاہئے۔ پھر نماز کے ستون قائم کریں۔ پھر زکوٰۃ کی دیواریں بنا کر حج کی چھت ڈالیں اور اس قلعہ میں رہیں۔ یہ وہ قلعہ ہے جس کو کوئی آندھی، کوئی زلزلہ، کوئی طوفان گرا نہیں سکتا۔ اس پر آپ نے ایک مبسوط اور عمدہ تقریر کی۔

تقریر مولانا محمد ابراہیم میر سیالکوٹیؒ

تحمید و تشہد کے بعد مولانا نے فرمایا کہ صاحبان میرے مضمون کا عنوان ہے۔ ”رفع عیسیٰ علیہ السلام الی السماء“ یعنی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا اسی جسم کے ساتھ آسمان پر اٹھایا جانا اور یہ ثابت کرنا ہے کہ بعینہ وہی عیسیٰ علیہ السلام جو پہلے بنی اسرائیل میں رہ کر وعظ کر چکے ہیں۔ وہی پھر نازل ہوں گے۔ ان کا نزول عین ہے۔ بروزی یا ظلی نہیں۔ مرزائی کہتے ہیں کہ تم لوگ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو زندہ سمجھ کر عیسویت کو مدد دیتے ہو۔ ہم ان کو مار کر عیسائیوں کو ان کا نقصان دکھاتے ہیں۔ مگر یہ ایک مغالطہ ہے۔ عیسائی ماننے والے کہتے ہیں کہ وہ سولی پر چڑھ کر ہمارے گناہ کے لئے کفارہ ہو گئے۔ مگر ہم کہتے ہیں کہ مسیح سولی پر چڑھے ہی نہیں تو پھر کفارہ کیسا؟

مرزا قادیانی (چشمہ معرفت ص ٢٥٥، خزائن ج ٢٣ ص ٢٦٦) میں لکھتے ہیں کہ: ”عیسائیوں کی کتابیں قابل استناد نہیں۔“ پھر وہ اثبات مصلوبیت کے لئے اناجیل سے کیوں دلیل پکڑتے ہیں۔ قرآن شریف میں مذکور ہے۔ ”واذ کففت بنی اسرائیل“ یاد کر عیسیٰ وہ وقت جب دور

١٧

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٤٥٨

رکھا میں نے تجھ سے بنی اسرائیل کو وہ کون سا وقت ہے۔ مگر واقعہ صلیب درست ہوتا تو اس طرح آیت نازل نہ ہوتی۔ یاد رکھو قرآن کی بندش بھی ایک معجزہ ہے۔ ”کففت“ سے ثابت ہے کہ یہود کے ہاتھ بھی مسیح تک نہیں پہنچے۔

وفات مرزا کے ایک دن پہلے میں نے ”احمدیہ بلڈنگ لاہور“ کے سامنے اسی موضوع پر وعظ کیا تو مولوی نورالدین و محمد احسن صاحب نے مشورہ کیا۔ اس وقت کا حال لوگوں کو معلوم ہے۔

اس کے بعد عبداللہ بن عمرؓ کی روایت سے ایک حدیث مشکوٰۃ کی پڑھی۔ جس میں مذکور ہے کہ عیسیٰ ابن مریم علیہما السلام زمین پر صرف ٤٥ سال رہیں گے۔ نکاح کریں گے۔ ان کی اولاد ہوگی۔ پھر فوت ہو کر میرے پاس میرے مقبرے میں دفن ہوں گے۔ اس حدیث کو مرزا قادیانی نے بھی مانا ہے۔ چنانچہ کہتا ہے: ”یتزوج“ سے مراد محمدی بیگم کا نکاح ہے اور اس کی اولاد مراد ہے۔

(انجام آتھم ص،

خزائن ج١١ ص)

آپ نے دیکھا ہے کہ آنحضرت ﷺ تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا اپنے پاس دفن ہونا فرماتے ہیں اور مرزا قادیانی مرتے ہیں لاہور میں اور دفن ہوتے ہیں قادیان میں۔ ان حوالہ جات سے ثابت ہے کہ مرزا قادیانی حضرت مسیح نہ تھے۔ ورنہ قادیان دفن نہ ہوتے۔ نیز یہ کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام ابھی زندہ ہیں۔ حضرت ﷺ مدینہ میں مدفون ہیں۔ حضور کا ارشاد ہے کہ میرے ساتھ مکان میں چار قبریں ہوں گی۔ جو لوگ حج کو گئے ہیں روضہ اطہر کی جالیوں سے انہوں نے دیکھا ہوگا کہ مقبرہ مبارک میں ٣ قبریں موجود ہیں اور حضور ﷺ کے ارشاد کے مطا بق حضرت ابوبکرؓ اور حضرت عمرؓ کے درمیان ایک قبر کی جگہ ہنوز خالی ہے۔

قتل مسیح کے متعلق کہا کہ فعل قتل کا تعلق جسم سے ہے نہ کہ روح سے اور خدا کہتا ہے۔ ”ماقتلوہ وما صلبوہ“ یہود ان کو قتل نہیں کر سکے اور صلب بھی نہیں کر سکے۔ بلکہ اپنی طرف اٹھا لیا۔ مرزا قادیانی بل رفع اللہ کی تقریر کرتے ہوئے (ازالہ اوہام ص٢٧٦، خزائن ج٣ ص٢٣٥) میں ان کی روح کا اٹھایا جانا مانتے ہیں اور ہم روح مع الجسم، اس کا آسان فیصلہ اس پر غور کرنے سے ہوسکتا ہے کہ یہود کا دعویٰ کیا تھا۔ روح کو قتل کرنے کا یا جسم کو؟

امام بیہقی کی ”کتاب الاسماء“ میں ہے۔ ”کیف انتم اذا نزل ابن مریم من

١٨

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٤٥٩

السماء“ اے میری امت کے لوگو۔ اس وقت تمہارا کیا حال ہو گا جب تم میں عیسیٰ بن مریم علیہما السلام اترے گا۔ گویا نازل ہونے سے آسمان پر چڑھنا خود ثابت ہے۔

باریک نکتہ

”بل رفعہ اللہ“ پر تقریر کرتے ہوئے آپ نے علمی نکتے بیان کئے۔ کہا کہ اس میں بل نفی کرتا ہے اس فعل کی جو اس کے ماقبل ہے۔ مثلاً کوئی کہے زید نے بکر کو مارا نہیں۔ بلکہ روٹی کھلائی۔ روٹی کھلائی اور مارنا دو امر ہیں۔ اس کا مذہب یہ ہے کہ بل مارنے کی نفی کرتا ہے اور روٹی کھلانے کی تصدیق کرتا ہے۔ جیسا ”قالوا اتخذ الرحمن ولدا۔ بل عباد مکرمون نیز ام یقولون بہ جنۃ بل جاء بالحق“ نبی کی نسبت لوگ کہتے ہیں کہ اس کو سودا ہو گیا۔ خدا فرماتا ہے ہرگز نہیں بلکہ وہ حق لے کر آیا ہے۔ جو حق لے کر آئے مجنون نہیں ہو سکتا۔ ”بل“ نے جنون کی نفی کر کے بالحق کو ثابت کیا ہے۔ اب اچھی طرح سمجھو کہ بل رفعہ اللہ بعد میں ہے اور ماقتلوہ وما صلبوہ پہلے ہے۔

مرزا قادیانی نے ازالہ میں جمع کے صیغے عزت کی موت کے کئے ہیں۔ دوسری جگہ (ص٢٧، خزائن ج٣ ص٢٣٥) روح کا اٹھانا لکھا ہے۔ دونوں جمع نہیں ہو سکتیں۔ ہاں یہ اعتراض بھی ہوا کرتا ہے کہ دوسرے نبیوں کو خدا نے زمین پر بچایا تو ان کو آسمان پر کیوں اٹھایا۔

جواب خدا کے فیوض ہر انسان پر بمطابق اس کے مادہ فطری کے ہوتے ہیں۔ مثلاً حضرت موسیٰ علیہ السلام پر آگ کی صورت میں خدا کی تجلی ظاہر ہوئی۔ اسی طرح حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی پیدائش چونکہ نادر ہے۔ اس لئے ان میں ایسی خصوصیات بھی ہیں جو نادر ہیں۔ یعنی عیسیٰ علیہ السلام نفخ جبرائیل سے پیدا ہوئے۔ اس لئے جہاں ان کا وطن ہوگا وہیں ہی ہجرت کریں گے۔

اگر کہا جاوے گا کہ آدم کی طرح پیدائش کی کوئی اور مثال دکھاؤ تو کیا بتاؤ گے یا محض مرد سے کوئی پیدا ہوا ہو تو حضرت حوا کا پیدا ہونا کس تو سمجھاؤ گے؟ تو جواب یہ ہے کہ اس کا حدوث خود شہادت ہے۔ خدا قادر ہے۔ ہر طرح کرنے پر مگر وہ سب کچھ اپنے اختیار سے کرتا ہے۔ کیونکہ فرمایا کہ اگر میں چاہوں تو تمہاری جگہ فرشتے پیدا کر دوں۔ جیسا کہ مریم کے بطن سے ایک بن باپ پیدا کیا۔ اس کے بعد اس اعتراض کا کہ عیسیٰ آسمان پر کھاتا پیتا کہاں سے ہے۔ جواب دیتے ہوئے کہا کہ معلوم سے مجہول کی طرف جایا جاتا ہے۔ جس نے آسمان پر اٹھایا ان باتوں کا انتظام

١٩

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٤٦٠

اس پر شاق نہیں۔

مولانا نے ہر بات کو عالمانہ طریق پر مفصل بیان کیا۔ آپ کی تقریر ختم ہونے پر مولانا ثناء اللہ نے اٹھ کر اس پر اس شعر میں ریویو کیا ۔

اثر بھلانے کا پیارے تیری زبان میں ہے
کسی کے ہاتھ میں جادو تیری زبان میں ہے

مرزائیت سے توبہ

اس وقت جناب بابو فقیر محمد خان سب پوسٹ ماسٹر ساکن قصبہ شہباد ضلع کرنال نے مرزائیت سے توبہ کی اور کہا کہ میں نے مرزا قادیانی کی کتابوں کا بکثرت مطالعہ کیا۔ مگر جس قدر دیکھا اسی قدر زیادہ عقائد فاسدہ سے انہیں ملوث پایا۔ ان کے ساتھ اور بھی بعض تائب ہوئے۔

مولوی ظفر الحق عربک ٹیچر بٹالہ

نے کہا کہ کل مولانا ابراہیم صاحبؒ نے احمدی دوستوں کو مناظرہ کے لئے چیلنج دیا تھا۔ انجمن اسلامیہ قادیان کو مناظرہ کی ضرورت نہیں۔ کیونکہ ان کی اصلاح کافی ہو چکی ہے۔ ہاں اس کو ضرورت ہے تو یہ کہ احمدی دوست آ کر سن جاویں اور اگر وہ مناظرہ کرنا چاہیں تو بمقام بٹالہ دوسرے احباب کے مشورے سے حکام سے اجازت حاصل کر لی جاوے گی۔ اس میں مولانا ثناء اللہ، مولانا محمد ابراہیمؒ کے علاوہ ٢٠ آدمی اور احمدی جماعت کے ٢٠ آدمی جملہ ٤٠ آدمیوں کا خرچ ہم لوگ ایک ہفتہ کے لئے اپنے ذمہ لیں گے۔ اگر ایک ہفتہ میں تصفیہ نہ ہوا تو پھر دوسرے اور تیسرے ہفتہ کے لئے انتظام کیا جا سکے گا۔

مولانا ابوالوفا ثناء اللہ

نے فرمایا کہ رام پور ریاست میں نواب صاحب کے سامنے حیات مسیح علیہ السلام کو میں نے ثابت کرایا تھا۔ اس پر نواب صاحب ریاست موصوف کی سند ہائے شہادت موجود ہے۔ میں نے بمقام لدھیانہ، رام پور اور دہلی میں مناظرے ان سے کئے اور بفضلہ ان کو زک دی اب اگر یہ چاہیں تو مرزا محمود کو لائیں۔ یا کسی ایسے کو جو قادیانیوں کو مفید ہو۔ جس کی ہار جیت مرزا قادیانی کی ہار جیت سمجھی جاوے۔

حاجی عبدالغنیؒ

سیکرٹری لیگ نیز مسلم ایسوسی ایشن بٹالہ نے کہا کہ ایک قادیانی عزیز کا خط آیا۔ میں

٢٠

صفحہ ٤٦١

ان کو چیلنج دیتا ہوں کہ وہ تیار ہو جاویں۔ میں انتظام بٹالہ میں کر سکتا ہوں۔

اجلاس دوم (٢٠/ مارچ ١٩٢١ء) اتوار بعد نماز ظہر

اس وقت مولانا حبیب الرحمٰن صدر کے تشریف نہ رکھنے کی وجہ سے مولانا نور احمد امام مسجد جامع شیخ بڈھا صدر قرار پائے اور جناب حکیم ابوتراب محمد عبدالحق نے اپنا نوشتہ مضمون پڑھا۔ جس میں بتایا کہ مرزا قادیانی کا دعویٰ تھا کہ میں (مرزا قادیانی) اور مولوی ثناء اللہ میں سے جو جھوٹا ہوگا۔ وہ سچے کی زندگی میں مر جاوے گا۔ ہم دیکھتے ہیں کہ قادیان میں مرزا قادیانی مدفون ہیں اور مولوی ثناء اللہ زندہ۔ تقریر فرما رہے ہیں۔ وغیرہ ان کے بعد

منشی حبیب اللہ

صاحب ملازم نہر نے بھی مرزا قادیانی کے الہامات میں عمدہ طریق سے تناقض وتخالف دکھایا اور یہ ثابت کیا کہ جس کی ایک بات دوسری بات کا رد کرتی ہو اس کی کون سی بات مانی جاسکتی ہے۔ وغیرہ ان کے بعد

مولانا مرتضیٰ حسن مراد آبادی (چاند پوری)

نے تقریر کی۔ حمد وصلوٰۃ کے بعد فرمایا صاحبان آپ نے مولوی ثناء اللہ اور دیگر علماء کرام کے وعظ اور تقریریں سنیں۔ مولوی ابراہیم صاحب نے رفع عیسیٰ پر جو تقریر کی عمدہ اور عالمانہ تھی۔ میں ایک چھوٹی بات عرض کرتا ہوں۔ سنئے!

مرزا قادیانی کا دعویٰ ہے کہ ہندو مسلمان سب ان کو تسلیم کریں۔ ورنہ کوئی کتنا ہی نیک وعابد کیوں نہ ہو۔ قابل مؤاخذہ ہے۔ میری تقریر سے آپ کو معلوم ہو جائے گا کہ مرزا قادیانی کا یہ کہنا کہاں تک درست ہے۔

تھوڑی دیر کے لئے ہم مرزا قادیانی کی خاطر مان لیتے ہیں کہ عیسیٰ علیہ السلام مر گئے۔ پھر بتائیں گے مگر ان کو اس میں کیا نفع۔ سنو گورنمنٹ کا حکم ہے کہ فلاں شخص ولایت سے آوے گا تو گورداسپور کے ضلع کا کلکٹر ہوگا۔ مگر وہ بفرض محال مر گیا۔ تو کوئی کہہ دے کہ وہ چونکہ نہیں آیا۔ اس کا نہ آنا مرنے کی علامت ہے۔ لہٰذا میں کلکٹر ہوں، تو کیا یہی حال مرزا قادیانی کا نہیں؟ اجی حضرت عیسیٰ علیہ السلام اگر مر بھی گئے تو آپ عیسیٰ کیسے بن گئے۔ ہاں اگر عیسیٰ علیہ السلام کی علامتیں مرزا قادیانی میں پائی جاویں تو ہمیں مرزا قادیانی سے دشمنی تھوڑی ہے۔ خوشی سے عیسیٰ (علیہ

٢١

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٤٦٢

السلام) بن جاویں۔

حدیث شریف میں ہے۔ جب عیسیٰ علیہ السلام آئیں گے تو تمام دنیا میں مسلمان ہی مسلمان ہوں گے۔ مگر واقعات مخالف ہیں۔ بلکہ جو ٤٠ کروڑ مسلمان تیرہ سو سال میں بنے تھے۔ وہ بھی مرزائی عقائد کے موافق کافر ہو گئے۔ (نعوذ باللہ) بقول مرزائیاں صرف ٢، ٣ لاکھ احمدی مسلمان ہیں۔ اچھا وہی جنت میں جا کر کبڈی کھیلا کریں۔

حضور ﷺ کا ارشاد ہے کہ ٣٠ دجال میرے بعد دعوے کریں گے۔ جو جھوٹے ہوں گے مثلاً بیان کیا کہ ایک شخص نے مسیحیت کا دعویٰ کیا۔ ایک یک چشم نے کہا کہ اگر نبی ہے تو میری دوسری آنکھ درست کر دے۔ مسیح صاحبان نے ایسا بے ڈھب ہاتھ رکھا کہ اچھی آنکھ بھی پھوٹ گئی۔ کانے سے اندھا ہو گیا۔ چنانچہ مرزا قادیانی مسیح بنے تو جو مسلمان تھے وہ بھی کافر بنا دیئے۔ افسوس!

مرزا قادیانی سے سوال ہوا کہ اگر کوئی امام آپ کی مسیحیت سے واقف نہ ہو تو ایسے کے پیچھے نماز پڑھیں یا نہ پڑھیں۔ فرمایا اسے پہلے واقف کرو۔ اگر تصدیق کر لے تو بہتر۔ ورنہ نماز ضائع نہ کرو۔ بحالیکہ قادیانی کہتے ہیں۔ میں کسی کو کافر نہیں کہتا اور فرماتے ہیں کہ اگر کوئی نہ تصدیق کرے نہ تکذیب اس کے پیچھے بھی نہ پڑھو۔ اس پر الہام یہ ہے کہ : ”وما ارسلنک الا رحمۃ للعالمین“ واہ کیا اچھی رحمت ہے۔ اگر ”رحمۃ للعالمین“ نہ ہوتے تو خدا جانے کیا اندھیر برپا کرتے۔

اس کے بعد ”منارۃ المسیح“ کا ذکر کر کے فرمایا کہ ہم سمجھتے تھے کہ نہ جانے کتنا بڑا مینار ہوگا۔ جس پر مسیح قادیانی نے اترنا ہے۔ مگر یہ تو ہماری مسجد جامع دیوبند کے مینار سے بھی چھوٹا ہے۔ جب کسی نے کہا کہ مسیح مینار پر اتریں گے تو اس کی تکمیل کے لئے منارہ بنوا دیا۔ لیکن تعجب ہے کہ خود پہلے نازل ہو گئے اور مینار بعد میں بنا، وہی مثل ہوئی کہ استنجا کر لو پہلے، پاخانہ کرنا بعد میں۔

مرزائیت سے توبہ

اس وقت ایک نمبر دار سلطان علی عمر تخمیناً ٩٠ سال ساکن بہرد چچی ضلع گورداسپور نے مرزائیت سے توبہ کی۔ اس کے بعد ایک اور نوجوان چوہدری برکت علی، ڈیری والا مرزائی عقائد سے تائب ہوا۔

٢٢

صفحہ ٤٦٣

تقریر جاری رکھتے ہوئے مقرر نے کہا۔ خدا کا ارشاد ہے ۔

باز آ، باز آ ہر آنچہ ہستی باز آ

اگر کوئی گناہ کرے اور توبہ کرے تو خدا کہتا ہے کہ میں اسے بخش دوں گا۔ اس پر آپ نے ایک دو روایتیں بیان کیں۔ حاضرین بڑی توجہ سے سنتے رہے۔ فرمایا کہ مرزا قادیانی کے بعد امیر المؤمنین محمد علی اور مرزا محمود قادیانی ۔ ایک تیسرے ظہیر الدین یوسف بھی ہیں۔ جو ان دونوں کو نوٹس دے رہے ہیں کہ میری پیشین گوئی ایسی پوری ہوئی کہ خود مرزا قادیانی کی بھی کوئی پیش گوئی ایسی پوری نہیں ہوئی۔ اس کے بعد فاضل مقرر نے مرزا قادیانی کی کتاب نزول المسیح سے بعض مقام پڑھ کر سنائے۔ جن میں ان کے الہامات کا ذکر تھا اور کہا کہ مرزا قادیانی کی پیش گوئیوں کے گواہ ٦٠ لاکھ ہوں گے۔ اس پر ایک دلچسپ قصہ بیان کیا کہ ایک لڑکا گھبرایا ہوا آیا اور ماں سے کہا کہ مجھے آج ١٤ بھیڑیے ملے ۔ ماں نے کہا جا باولا کہیں کا، کیا کہتا ہے؟ لڑکا بولا۔ اچھا اگر یقین نہیں کرتی تو وہ سات ضرور تھے۔ ماں نے کہا جنونی ہو گیا ہے۔ اس نے کہا اچھا ٤ تو تھے۔ پھر ماں کے کہنے پر بولا۔ نہیں دو ہوں گے۔ پھر بولا ایک تھا۔ آخر بولا کہ پتا کھڑکا تھا۔ پس ماننے والے تو ایک آدھ لاکھ ہوں گے یا ٣ لاکھ سمجھو۔ یہ ٦٠ لاکھ گواہی دینے والے کہاں سے آگئے؟

اور سنئے ! فرماتے ہیں کہ آسمان نے بھی میرے لئے گواہی دی۔ مگر لوگوں نے مجھے قبول نہ کیا۔ میں وہی ہوں جس کے عہد میں اونٹ بیکار ہو جاویں گے۔ پیش گوئی پوری ہو گئی۔ عرب و عجم کے اخبارات اس کی تائید کرتے ہیں۔ مگر قادیان کے رہنے والو! اور دوسرے لوگو! تم ہی بتاؤ۔ ایسا ہوا کیا اونٹ کی قیمت پہلے سے تگنی چوگنی نہیں ہو گئی ۔ (سب نے کہا ہو گئی اور اونٹوں کا کام بڑھ گیا ہے)

اور سنو فرماتے ہیں۔ حجاز میں ریلوے کا بننا میری پیش گوئی ہے۔ مگر خدا کی شان وہ ریلوے بنی ہی نہیں۔ خبر نہیں اللہ میاں کو محبت تو مرزا قادیانی سے ہے۔ مگر کرتا ہے اس کے خلاف ہے۔ مرزا قادیانی کہتے رہے کہ قادیان میں طاعون نہیں آئے گا۔ مگر خدا نے بھیج دیا ۔

بنے کیونکر کہ ہے سب کار الٹا
ہم الٹے بات الٹی یار الٹا”

تقریر مولانا محمد ابراہیم سیالکوٹیؒ

٢٣

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٤٦٤

آپ نے فرمایا کہ نماز عصر کا وقت قریب ہے۔ لہٰذا ختم نبوت پر مختصراً کچھ بیان کروں گا۔ صاحبان! اگر چہ لاہوری جماعت تو نہیں ۔ مگر قادیانی جماعت مرزا قادیانی کو نبی مانتی ہے۔ وہ کہتی ہے۔ ختم کے معنی ہیں مہر لگا دینا۔ جس پر رسول اللہ ﷺ اپنی پابندی کی مہر لگائیں۔ وہ نبی ہو جاتا ہے۔ چنانچہ ان کا قول ہے کہ ”اهدنا الصراط المستقیم “ جو نماز میں پڑھا جاتا ہے۔ اس کا مطلب انعام والے لوگ نبی، صدیق، شہید صالح ہیں۔ اگر نبی نہیں ہو سکتا تو دعا کیوں مانگتے ہو۔ جو کامل تابعداری کرے نبی ہو سکتا ہے۔ مرزا قادیانی بھی فنا فی الرسول ہو کر نبی ہو گئے۔ یہ مغالطہ ہے۔

”اهدنا الصراط المستقیم “ کا مطلب و منشاء ہے کہ انبیاء علیہم السلام کے راستے پر قائم رکھ۔ نہ کہ نبوت کا منصب عطاء کر۔

سب جانتے ہیں کہ حضرت علیؓ حضور ﷺ کے کامل تابعدار تھے۔ غزوہ تبوک میں جب حضرت محمد ﷺ تشریف لے چلے تو حضرت علیؓ کو گھر کے انتظام کے لئے رکھا۔ حضرت علیؓ نے کہا۔ میں کوئی عورت ہوں ۔ جو مجھے جنگ میں جانے سے روکا جاتا ہے۔ حضور ﷺ نے فرمایا۔ ”اما ترضی یاعلی (ط) ان تکون منی بمنزلة هارون من موسٰی “ {یعنی اے علیؓ تو راضی نہیں کہ تیری میری نسبت ہارون وموسیٰ علیہم السلام کی ہو۔ } وہ نسبت کہ جب موسیٰ علیہ السلام کوہ طور پر چلے ہیں تو حضرت ہارون علیہ السلام کو خلیفہ مقرر کر گئے تھے۔ اسی طرح تبوک میں جاتے ہوئے حضور ﷺ نے حضرت علیؓ کو خلیفہ بنایا۔ چونکہ خدا کو معلوم تھا کہ ایک زمانہ میں کوئی کہنے والا ہوگا کہ کامل تابعداری سے نبی بن سکتا ہے۔ اس لئے کہہ دیا کہ ”الا انہ لا نبی بعدی “ کہ اے علیؓ تم خلیفہ ہو اور جان لو کہ نبی میرے بعد کوئی نہیں ہوگا۔

مرزائیوں کی طرف سے یہ بھی کہا جاتا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نبوت سے معزول ہو کر آئیں گے۔ یا نبی ہو کر؟ اگر کہو معزول ہو کر تو نبی معزول نہیں ہوتا۔ اس کا جواب یہ ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی نبوت پہلے کی ہے نہ کہ آنحضرت ﷺ کے بعد کی عربی زبان کے قاعدہ کے مطابق معنی یہ ہیں کہ کوئی نبی میرے بعد نہیں ہوگا۔ آنحضرت ﷺ کے بعد نبی نہیں بنیں گے۔ عیسیٰ علیہ السلام پہلے سے نبی ہیں۔

ایک اور شبہ وارد کرتے ہیں کہ جب پہلے نبی آتے رہے تو اب کیوں نبوت بند ہو گئی ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ باران رحمت ضرورت کے وقت ہوا کرتی ہے۔ چنانچہ نبی کبھی یکے بعد

٢٤

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٤٦٥

دیگرے آئے اور کبھی ایک ہی زمانہ میں کئی کئی آئے۔ چونکہ تکمیل شریعت ان کے زمانہ میں نہیں ہوئی۔ اس لئے ضرورت رہی۔ لیکن حضرت محمد ﷺ کے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا۔ اس لئے کہ ارشاد خداوندی ہے۔ ”الیوم اکملت لکم دینکم واتممت علیکم نعمتی“ {آج کے دن دین کامل کر دیا۔ اس لئے کسی نبی کی ضرورت نہیں۔}

ہمارے نبی چودھویں رات کے چاند ہیں۔ جو کامل ہیں۔ اس کے بعد یوحنا، انجیل کا حوالہ دیا کہ: ”ابھی میری بہت سی باتیں باقی ہیں۔ وہ آئے گا اور پوری کرے گا۔ سو تکمیل شریعت کے لئے حضرت آئے۔ دوسری وجہ یہ کہ رسول اللہ ﷺ کی دعوت عام ہے۔ قل یا ایھا الناس انی رسول اللہ الیکم جمیعا (اعراف:١٥٨) ”اے لوگو! میں تم سب کے لئے رسول بن کر آیا ہوں۔ جیسا تمام دنیا کے لئے آپ مبعوث ہوئے۔ تو پھر کسی جدید نبی کی ضرورت نہ رہی۔ پہلے پیغمبر خاص علاقہ اور خاص خاص قوم کے لئے آیا کرتے تھے۔ لیکن رسول اللہ ﷺ ساری دنیا کے لئے آئے۔

تیسری ضرورت یہ کہ پہلے نبیوں کے بعد ان کی کتابوں میں تحریف ہوجاتی تھی۔ اس لئے اصل دین کو واضح کرنے کے لئے خدا اور نبی بھیج دیتا۔ مگر قرآن میں ذرا بھی تحریف نہیں ہوئی اور نہ ہوگی۔ کیونکہ اس کی حفاظت کا وعدہ خود خدا نے کیا ہوا ہے۔ جس کو آج تیرہ سو سال سے اوپر عرصہ گذر جانے کے بعد بھی ہم ویسا ہی صحیح اور مکمل دیکھ رہے ہیں۔ اس لئے نئے نبی کی ضرورت نہیں۔

اس کے بعد (ازالہ اوہام ص ٧٣، ٧٤، ٧٧، خزائن ج ٣ ص ١٣٨، ١٣٩، ١٤٠) کا حوالہ سے ایک عربی عبارت آپ نے پڑھی۔ جس کو مرزا قادیانی نے قرآن کی آیت بتلاتے ہوئے لکھا ہے۔ حالانکہ قرآن میں کہیں نہیں ہے۔ خدا کے فضل سے میں بھی قرآن مجید کا حافظ ہوں اور بھی حافظ یہاں بیٹھے ہیں۔ بتلائیں کیا آپ نے قرآن پاک میں کہیں دیکھا ہے؟ (سب نے کہا قرآن میں کہیں نہیں) ”انا انزلناہ قریباً من القادیان“ وہاں مرزا قادیانی بولے قرآن میں ہو تو ہو۔

مولانا ثناء اللہ کی تقریر

نماز عصر کے بعد بہت سے سکھ اصحاب نے یہ خواہش ظاہر کی کہ ہم دور دراز سے آئے ہیں اور مولوی ثناء اللہ کے منہ سے کچھ سننا چاہتے ہیں۔ ان کے اصرار پر مولوی صاحب کھڑے

٢٥

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٤٦٦

ہوئے اور انہوں نے خدا پر ماتما، ست سری اکال کی پرستش کرنا اس کے حکم ماننا، اس کی رضا پر چلنا اور چلتے پھرتے اٹھتے بیٹھتے اس کا نام جپنا (ذکر کرنا) برائیوں سے بچنا اور سب کے حقوق ادا کرنا پر ایک مختصر مگر مؤثر پنجابی زبان میں تقریر کی۔ سکھ بھائی سن کر بہت خوش ہوئے۔

تقریر مولانا سید انور شاہ کشمیریؒ

اوّل مدرس دارالعلوم دیوبند نے ساڑھے پانچ بجے شام کو تقریر فرمائی۔ تقریر عالمانہ اور مدلل تھی۔ اس لئے رپورٹروں نے جناب شاہ صاحبؒ سے عرض کیا کہ آپ خود قلمبند فرما کر بھیجوا دیں۔ مختصر بلکہ نہایت اقل خلاصہ یہ ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام زندہ ہیں اور آیت میں ”توفی“ لفظ ماضی نہیں بلکہ مضارع ہے اور توفی کے معنی جو مارنے کے کئے جاتے ہیں۔ قرآن مجید میں بھی ایک جگہ ایسا نہیں۔ لغت والے اس کے معنی شے کو پورا لے لینا یا پوری مدت پر لے لینا لکھتے ہیں۔ وغیرہ!

اس کے بعد مولانا ثناء اللہؒ نے کہا کہ مولوی ابراہیم سیالکوٹیؒ نے کل مرزائی جماعت کو چیلنج دیا تھا۔ مگر ڈپٹی صاحب (منتظم افسر) نے یہاں (قادیان میں) اجازت نہیں دی۔ اگر مرزائی صاحبان اگر خواہش رکھتے ہیں تو مولوی ظفر الحق بٹالہ میں انتظام کر دیں گے۔ وہ مباحثہ کر لیں۔ اس کے بعد اجلاس ختم۔

اجلاس اوّل (٢١؍ مارچ ١٩٢١ء) سوموار بوقت صبح ٨ بجے

اوّل قاری محمد طیبؒ پھر مولوی محمد طاہر دیوبندی نے خوش الحانی سے تلاوت قرآن مجید فرمائی۔ اس کے بعد کاروائی شروع ہوئی۔

تقریر مولوی بدر عالم میرٹھیؒ

مولوی صاحب نے ”بل نقذف بالحق علی الباطل فید مغه فاذا ھوزاهق ولکم الویل مماتصفون (انبیاء:١٨)“ سے تقریر شروع کی اور کہا کہ اس کا مجھے افسوس ہے کہ میری زبان اور ہے اور آپ کی اور۔ لیکن بہر حال میں آپ کا مدعا آپ کے ذہن نشین کرنے کی کوشش کروں گا۔ کتاب ”انجام آتھم“ سے میں آپ کو کچھ سناتا۔ مگر مصلحت انجمن کے خلاف سمجھ کر چھوڑتا ہوں۔

حضرات! آج ایک شخص مسیحیت کا دعویٰ کرتا ہے۔ مگر جناب محمد رسول اللہ ﷺ کی حدیث موجود ہے۔ دیکھ لو اور سمجھ لو۔ سپاہی اپنے نشان وردی وغیرہ سے پہچانا جاتا ہے۔ پس وہ

٢٦

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٤٦٧

علامات جو نبی کریم ﷺ نے فرمائی ہیں۔ جس میں پائی جائیں ہم اس کو ماننے کے لئے تیار ہیں۔ ارشاد نبوی ہے ۔” فتنہ کے زمانہ میں مسیح نازل ہوں گے۔ اس وقت مال کی اس قدر بہتات ہوگی کہ کوئی قبول نہ کرے گا۔ صلیب توڑ دیں گے۔ دجال ملعون کو قتل کریں گے۔ مسلمانوں سے جزیہ اٹھائیں گے ۔ (بخاری) مسند ابوداؤد میں ہے کہ دنیا پر ایک سکہ اسلامی ہوگا اور بس۔

مگر مرزا قادیانی اپنی کتاب (ازالہ اوہام ص ٦٨) پر اس کی تاویل یوں کرتے ہیں کہ: ”مال پڑے گا“ اس کے معنی ہیں کہ قرآن ایک بیش قیمت مال ہے یہی وہ مال ہے جس کی نسبت پیش گوئی ہے کہ مسیح اس کو پھیلائے گا۔ لوگ لیتے لیتے تھک جائیں گے ۔ صاحبان اگر یہی قرآن مال ہے جو مرزا قادیانی نے فرمایا ہے تو کیا دنیا میں اس کو قبول کرنے والا کوئی نہیں۔ افسوس!

لطیفہ : ایک شہزادہ نے نجوم کا علم سیکھا۔ کسی نے مٹھی میں انگشتری لے کر اس سے پوچھا کہ میرے ہاتھ میں کیا ہے۔ نجومی شہزادہ نے کئی کاغذ کالے کر کے بتایا کہ چکی کا پاٹ ہے۔ آدمی ہنس پڑا اور دکھا کر کہنے لگا کہ یہ تو انگشتری ہے۔ بھلا چکی کا پاٹ مٹھی میں آ سکتا ہے۔ نجومی میاں جھٹ بول اٹھے۔ کچھ ہی ہو گول تو ہے۔

سو مرزا قادیانی کو تو گول ہی سے غرض ہے۔ معنی مطلب خواہ کچھ ہی ہوں۔

دجال کی شناخت

صحیح حدیثوں میں وارد ہے کہ دجال بڑی قوت سے آئے گا اور دنیا کو اپنی ڈھب پر مٹائے گا اور دجال کانا ہوگا۔ اگر میرے وقت میں آیا تو میں اس سے نمٹ لوں گا۔ اگر بعد میں آیا تو خدا اسلام کی حفاظت کرے گا۔

اس پر مرزا قادیانی (ازالہ اوہام ص ٦٩١، خزائن ج ٣ ص ٤٧٤) پر لکھتے ہیں کہ دجال کی حقیقت نبی کریم ﷺ پر نہیں کھلی۔ اب خود فیصلہ کر لو کہ مرزا قادیانی صحیح جانتے ہیں یا آنحضرت ﷺ ۔ اور سنو! مرزا قادیانی نصاریٰ اور انگریزوں کو دجال مانتے ہیں۔ مگر یاد رکھو دجال خدائی کا دعویٰ کرے گا۔ انگریزوں نے خدائی کا دعویٰ نہیں کیا لیکن اگر ہم مرزا قادیانی کی خاطر مان بھی لیں کہ نصاریٰ ہی دجال ہیں تو مرزا قادیانی ہی کی تحریرات دیکھئے۔ جس پر گورنمنٹ انگریزی کی تعریف کی گئی ہے۔ تعجب ہے کہ جس کو دجال بتاتے ہیں۔ اسی کی تعریف کرتے ہیں اور ان سے امداد کے طالب ہوتے ہیں۔ مسیح نے تو دجال کو مارنا تھا۔ مگر دیکھ لو مرزا قادیانی (مسیح)

٢٧

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٤٦٨

مرگیا ہے اور دجال مرزا قادیانی کے مرنے کے بعد انگریز زندہ ہیں۔ اور سنو! جب مرزا قادیانی نے سنا کہ جملہ اقوام کا ایک ہو جانا بھی مسیح کے آمد کی علامت ہے تو آپ نے مختلف دعوے کئے۔ کبھی مسیح بنے۔ کبھی موسیٰ، کبھی کرشن یعنی ہندو مسلم عیسائی سب ان کو مان لیں۔ مگر یاد رکھو مسیح جب آئے گا تو اس کو مختلف بہروپ بدلنے کی ضرورت نہ ہوگی۔ جانتے ہو رسول عربی ﷺ نے سب کو ایک ہی کلمہ کی دعوت دی اور سب کو ایک ہی جھنڈے کے نیچے لا کر کھڑا کر دیا۔

وہ بجلی کا کڑکا تھا یا صوت ہادی

پھر فرمایا: مرزا قادیانی نے سنا ہوا تھا کہ دجال آئے گا۔ اس کا گدھا بھی ہوگا۔ اس کے کانوں میں ستر گز کا فاصلہ ہوگا۔ مرزا قادیانی نے انگریز قوم کو دجال بنایا، اور ریل گاڑی کو گدھا، اور انجن سے آخری گاڑی تک ستر گز کا فاصلہ۔ لیکن یہ نہ بتایا کہ ریل گاڑی کون سی گدھا ہے۔ ڈاک گاڑی، پسنجر یا مال گاڑی اور پھر باوجود گدھا ہونے کے مرزا قادیانی اس پر خود بھی چڑھتے رہے اور اب بھی ان کی اولاد اور مرید سوار ہوتے ہیں۔

تقریر مولانا مرتضیٰ حسن (چاند پوریؒ)

فاضل مقرر نے اخلاص پر تقریر کرتے ہوئے کہا کہ میں جب بچپن میں پڑھتا تھا تو اس وقت مرزا قادیانی کی براہین کا پہلا حصہ چھپا تھا۔ اس میں مرزا قادیانی نے استخارہ کا جو طریق لکھا تھا۔ مجھے پسند آیا۔ میرے ساتھی کہتے تھے کہ کہیں مرزائی نہ ہو جانا۔ میں مرزا قادیانی کا خیر خواہ تھا یا نہ۔ مگر ایک بات نے مجھے ان سے بدگمان کر دیا۔ یہ کہ میں نے استخارہ کیا۔ دربار نبوی ﷺ سے حکم ملا کہ اس سے علیحدہ ہو جاؤ۔ اس کے متعلق ہم نے کوئی پیش گوئی نہیں کی۔ ہاں ٣٠ مسیح کاذب آنے کی ہم نے ضرور خبر دی ہے۔ اس شخص نے علماء کرام کے فتوے کو دیکھا تو وہ بھی ان کے مخالف تھے۔ مرزا قادیانی سے دریافت کیا تو انہوں نے بھی بلحاظ واقعات و بیانات سے اپنی تکذیب کی۔ لکھا کہ ”محمدی بیگم“ کا نکاح مجھ سے ہو تو میں (مرزا قادیانی) سچا۔ ورنہ بد سے بدتر ٹھہروں گا اور اپنے متعلق صدق و کذب کا جو معیار مرزا قادیانی نے خود مقرر کیا۔ اس کے رو سے بھی مرزا قادیانی خود جھوٹے ثابت ہوئے۔ مولوی ثناء اللہ اور ڈاکٹر عبدالحکیم خان سے آخری فیصلہ کا اشتہار دیکھا ہوگا۔ مولوی صاحب زندہ سامنے بیٹھے ہیں اور بھی دیکھ رہے ہیں۔ مگر مرزا قادیانی کہاں ہیں۔ اس موقعہ پر مرزائی حاضرین میں سے ایک صاحب نے ڈپٹی صاحب کے کان میں کچھ کہا۔ جس کے طرز گفتگو سے معلوم ہوا کہ شکایت کر رہا ہے۔ اس پر فاضل مقرر نے

٢٨

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٤٦٩

یہ شعر پڑھا۔

وہ قتل بھی کرتے ہیں تو چرچا نہیں ہوتا
ہم بات بھی کرتے ہیں تو ہو جاتے ہیں بدنام

فاضل مقرر نے کہا کہ یہ ہم نہیں کہتے ۔ بلکہ خود مرزا قادیانی کہتے ہیں کہ اگر ”محمدی بیگم“ سے میرا نکاح نہ ہو تو میں بد سے بدتر ہوں۔ نکاح کا آسمان پر ہونا بھی بیان کیا گیا۔ مگر نتیجہ سب کو معلوم ہے کہ اس پیشین گوئی کا کیا حشر ہوا۔

لطیفہ : ایک شخص نے بیان کیا کہ بادشاہ کی لڑکی سے میرا نکاح ہو گیا۔ جب کیفیت دریافت کی گئی تو بولا کہ بی بی اور میاں کی رضامندی سے دونوں کا نکاح ہوا کرتا ہے اور چونکہ میں راضی ہوں۔ لہٰذا آدھا نکاح ہو گیا اور آدھا نکاح شہزادی کے راضی ہونے پر ہو گا۔

یہی مثال مرزا قادیانی کی ہوئی۔ مگر یہاں تو معاملہ ہی بگڑا ہوا ہے۔ ادھر مرزا قادیانی نے محمدی بیگم سے اپنا نکاح ہونا بتایا۔ ادھر اس کے والد نے اس کی شادی دوسری جگہ کر دی۔ افسوس کہ مرزا قادیانی کی کوئی بات بھی پوری نہ ہوئی۔

اور سنئے ! مرزا قادیانی کہتے ہیں کہ عیسیٰ علیہ السلام یہود کو گالیاں دیا کرتے تھے اور یہودی ہاتھ سے کسر نکال لیا کرتے تھے۔ آپ (عیسیٰ) کو کسی قدر جھوٹ بولنے کی بھی عادت تھی۔ معلوم ہوا کہ آپ بھی تو ان کے بروز ہیں۔ اس لئے ان عادتوں کا ہونا آپ کے لئے بھی ضروری ہو گا اور سنئے کہتے ہیں کہ آپ (عیسیٰ) نے یہودیوں کی کتاب سے چرا کر انجیل لکھی۔ زیرکی سے آپ کو کچھ حصہ نہ دیا تھا۔ حق بات یہ ہے کہ آپ سے کوئی معجزہ بھی ظاہر نہیں ہوا۔ سوائے اس کے کہ آپ (عیسیٰ) معجزہ مانگنے والوں کو گندی گالیاں دیں اور شریفوں نے آپ کا ساتھ چھوڑ دیا۔

(ضمیمہ انجام آتھم ص ٥، ٦، خزائن ج ١١ ص ٢٩٠)

ممکن ہے کسی اپنی معمولی تدبیر سے شکوہ کا علاج کیا ہو۔ مگر آپ کی بدقسمتی ایک تالاب موجود تھا۔ کوئی معجزہ تھا تو اس کا تھا۔ مگر مرزا قادیانی نہیں بتاتے کہ آپ نے کیا کیا؟ پھر مرزا قادیانی فرماتے ہیں کہ آپ (عیسیٰ) کے ہاتھ میں سوائے مکر و فریب کے اور کچھ نہ تھا۔ (نعوذ باللہ ) پھر افسوس نادان عیسائی ایسے شخص کو خدا بتا رہے ہیں۔ اس کے بعد (ضمیمہ انجام آتھم ص ٧، خزائن ج ١١ ص ٢٩١) سے دکھایا کہ مرزا قادیانی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے خاندان کی نسبت درافشانی کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ ان کی ٣ دادیاں اور نانیاں زنا کار اور کسبی عورتیں تھیں۔ وغیرہ وغیرہ! (نعوذ باللہ )

٢٩

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٤٧٠

حضرت حسین علیہ السلام کی نسبت لکھتے ہیں کہ ”شتان ما بینی و بین حسینکم“ کہ حسین علیہ السلام اور ان کے کنبہ کو پانی تک نہ ملا اور ہم کو یہ خوش حالی نصیب ہے۔ اور سنو! لکھتے ہیں کہ آپ (عیسٰی علیہ السلام) کا کنجریوں سے بہت میلان تھا۔ (نعوذ باللہ) ہم کہتے ہیں کہ معاذ اللہ اگر ان باتوں کو مان بھی لیا جاوے تو آپ ان کے بروز کیسے بن گئے؟ اور جب ہم ان گندی تحریروں پر نفرین کرتے ہیں تو پھر کہا جاتا ہے کہ یہ تو پادریوں کو جواب دینے کے لئے ہے۔ کیا پادریوں کو حوالہ دینے کے لئے ایک پیغمبر کی دادی اور نانی پر ایسا لکھنا ہی ضروری ہوتا ہے۔ افسوس!

اس کے بعد بہت سے حوالے دے کر مرزا قادیانی کو غلط انداز ثابت کیا۔ اس وقت حکیم غلام محمد نے اپنے تائب ہونے کا اعلان کیا۔ جو عرصہ دراز تک مرزائی رہا اور مرزائیوں سے رشتہ ناطہ بھی کیا۔ الحمد اللہ علیٰ ذالک!

مولوی نواب الدینؒ کی تقریر

مولانا سید مرتضیٰ حسنؒ کی تقریر کے بعد مولوی نواب الدین نے مرزا قادیانی کے الہامات پر تنقید کی اور ان کی کتابوں کے حوالہ جات سے ان کا متناقض و مخالف ہونا ثابت کیا۔

ان کے بعد منشی حبیب اللہ امرتسریؒ نے نسبت اختلاف عمر مرزا لکھا ہوا اپنا مضمون پڑھا۔ جو مدلل و پر معلومات ہونے کی وجہ سے بڑی دلچسپی سے سنا گیا۔

مولانا ابوالوفا ثناء اللہ مولوی فاضل امرتسریؒ

نے حمد وصلوٰۃ کے بعد تقریر شروع کی کہ حضرات مرزا قادیانی کے ساتھ میرا تعلق ٤٠، ٤٥ سال سے ہے۔ میں ان کی پہلی حالت سے اخیر تک ان کی تحریرات کا مطالعہ کرتا رہا ہوں۔ کل میں نے کہا تھا کہ جناب شاہ صاحب کے ملفوظات پر مرزا قادیانی کے دستخط کروں گا۔ جناب شاہ صاحب نے آیت ”ء انت قلت للناس اتخذونی و امی الہین من دون اللہ“ پیش کی تھی۔ جس کا لب لباب یہ ہے کہ خداوند کریم قیامت کو فرمائے گا۔ حضرت عیسٰی علیہ السلام کو مرزائی کہتے ہیں کہ خدا فرما چکا اور توفی کے معنی بقول شاہ صاحبؒ پورا لینے کے ہیں۔

قبل اس کے کہ حضرت شاہ صاحبؒ کے بیان پر مرزا قادیانی کی مہر تصدیق ثبت کراؤں۔ پہلے کچھ کہنا چاہتا ہوں سنئے!

آنحضرت ﷺ حضرت زینبؓ سے نکاح کرنے کے بعد اپنا ولیمہ کرتے ہیں اور

٣٠

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٤٧١

صحابہؓ کو فرماتے ہیں کہ اپنے اپنے گھروں سے کچھ لاؤ۔ وہ لے آئے اور اس کو یکجا کر کے حضور ﷺ نے سب کو کھلا دیا۔ اس وقت جو مولوی صاحبان نے اپنی عالمانہ تقریر پر سے ایک قسم کی کھانے کی لذیذ مٹھائی بنائی ہے۔ اس میں میں بھی میٹھا ڈالتا ہوں۔ سنئے!

مرزائی ”اخبار الحکم“ نے لکھا ہے کہ مرزا قادیانی سے عدالت میں سوال ہوا کہ محمدی بیگم سے تم نے نکاح کے لئے طلب کی تھی۔ مرزا قادیانی نے جواب میں کہا اور ان کا اقبال دعویٰ ہے کہ وہ میرے ساتھ بیاہی نہیں گئی۔ مگر میرے ساتھ اس کا نکاح ضرور ہوگا۔

قادیان والو سنو اور غور سے سنو! ڈسٹرکٹ جج کی عدالت کیا ہے۔ جب اس شہنشاہ کے دربار میں حاضر ہوگئے تو وہ کہے گا کہ ہم نے مرزا قادیانی کے منہ سے کہلوا دیا تھا کہ نکاح ضرور ہوگا۔ تم بتاؤ کیا ہوگیا؟ آہ! مرزا قادیانی جب عدالت کے کمرے سے باہر آتے ہیں تو فرماتے ہیں۔ معلوم ہوتا ہے۔ اس پیش گوئی کے پورا ہونے کا وقت آگیا ہے۔ خدا کا کام ہے اور اب عدالت کے کاغذات سے کون مٹائے گا۔

مولوی نور الدین ریویو آف ریلیجنز بابت جون و جولائی ص ٨ پر لکھتے ہیں کہ نکاح ٹوٹا نہیں۔ میں بارہا میاں محمود کو کہا کرتا تھا کہ اگر نکاح نہ بھی ہو تو میرے اعتقاد میں خلل نہ آئے گا۔ (خوب) بلکہ اس کی تاویل مولوی صاحب نے اس طرح کی کہ مرزا قادیانی کا لڑکا در لڑکا در لڑکا در لڑکا۔ محمدی بیگم کی لڑکی در لڑکی در لڑکی۔

غرض کسی پشت میں بھی جا کر اگر کوئی رشتہ بھی ہو گیا تو سمجھو مرزا قادیانی کی پیش گوئی پوری ہوگئی۔ قیامت تک کہیں نہ کہیں تو کوئی نہ کوئی رشتہ ہو ہی جائے گا۔ خدا فرماتا ہے۔ ”فلا تحسبن اللہ مخلف وعدہ رسلہ ومن اصدق من اللہ قیلا“ (خدا رسولوں کے وعدہ کو خلاف نہیں کرتا۔) مگر یہاں معاملہ برعکس ہے اور لڑکی در لڑکی کی تاویل کی جاتی ہے۔ فاضل مقرر نے فرمایا کہ میرے مکرم مولانا مرتضیٰ حسنؒ نے مرزا قادیانی کے الہامات گنے ہیں۔ مگر میرے حساب میں مرزا قادیانی کو فی گھنٹہ ٣، ١٣ الہام ہوتے تھے۔ چنانچہ مرزا قادیانی کی (تذکرۃ الشہادتین ص ٤١، خزائن ج ٢٠ ص ٤٣) پر ہے کہ میرے دس لاکھ معجزے ہیں۔

یہاں یہ بتانا ضروری ہے کہ مرزائیوں نے جلسہ اسلامی کے اثر کو کم کرنے کے لئے اور عوام میں ڈینگ مارنے کے لئے مرزا قادیانی کی سنت کے موافق دو تین اشتہار انعامی مباہلہ اور قسمیہ شائع کر دیئے۔ ان اشتہارات کو ہاتھ میں لے کر مولانا نے کہا۔ اب میں ان کے جوابات

٣١

صفحہ ٤٧٢

دیتا ہوں۔ مشتہرین سننے کے لئے تیار ہو جائیں۔ پہلا اشتہار: قاسم علی مرزا کا انعامی یک صد روپے کا ہے۔ (واضح رہے کہ یہ وہی صاحب ہیں جن سے مولانا صاحب نے بمقام لدھیانہ تین سو روپے انعام حاصل کئے تھے اور مرزائی گروہ پر بین فتح حاصل کی تھی) جو لفظ توفی کے متعلق ہے۔ منشی قاسم ڈپٹی صاحب (افسر منتظم) کے پاس بطور امانت رکھ لیجئے اور منصف مقرر کر کے جواب لیجئے۔ جس کے حق میں فیصلہ ہوگا۔ یہ روپیہ اس کا ہوگا۔ (یہ اشتہار عام علماء کے لئے تھا)

دوسرا اشتہار: انعامی دوصد روپیہ خاص میرے لئے ہے۔ میں پوچھتا ہوں کہ میرے لئے زیادہ رقم کیوں ہے۔ مرزائیوں نے کہا آپ مخالفت میں بڑے ہیں۔ اس لئے رقم بھی بڑی مقرر کی گئی ہے۔ لہٰذا منشی صاحب جناب ڈپٹی صاحب (افسر منتظم) کے پاس روپیہ رکھ دیں میں قسم کھانے کے لئے تیار ہوں کہ: ”میں مسیح کو آسمان پر زندہ جانتا ہوں اور مرزا قادیانی مسیح موعود کے دعوے کو غلط جانتا ہوں۔ یہی میرا ایمان ہے اور یہی عقیدہ اور یقین ہے۔ مجھ پر یہ الزام لگایا گیا ہے کہ میں نے جو قسم کے الفاظ بیان کئے ہیں۔ میں ان کا دل سے معترف نہیں ہوں۔ چہ خوش! اس وقت آپ نے ھل شققت قلبہ کا واقعہ بیان کیا۔ اگر میری نسبت یہ کہا جاوے گا کہ یہ دل سے مسیح کو زندہ نہیں مانتا اور مرزا قادیانی کو سچا مانتا ہے تو مجھے بھی یہ کہنے کا حق ہے کہ ایک بیکار منڈلی روٹی کمانے کے لئے اکٹھی ہوئی ہوئی ہے۔ وغیرہ۔“

جوں توں کر کے ”منشی قاسم علی“ نے کانپتے ہوئے ہاتھوں سے دو صد روپیہ ڈپٹی صاحب کے پاس تو رکھ دیا۔ مگر چہرے کا رنگ اڑ گیا۔ کیونکہ وہ جانتے تھے کہ شیر ببر کی جھپٹ سخت ہے۔ مولوی صاحبؒ نے ڈپٹی صاحب کو مخاطب کر کے فرمایا کہ جناب روپیہ اپنے قبضہ میں کیجئے اور تا فیصلہ واپس نہ کیجئے۔ اب میں منشی قاسم علی صاحب کو کہتا ہوں کہ وہ اور سب حاضرین سنیں میں ان الفاظ میں قسم کھانے کو تیار ہوں کہ حضرت مسیح علیہ السلام زندہ ہیں اور مرزا قادیانی کا دعویٰ غلط ہے۔

کہو اس جگہ میں قسم کھاؤں یا کسی اور جگہ چل کر۔ یہ تمہارا اختیار ہے کہ جہاں چاہو قسم لے لو۔ مندر میں، گرجا میں، گوردوارے میں، مسلمانوں کی مسجد میں یا اپنی عبادت گاہ میں۔ جہاں تمہارا اطمینان ہو میں حاضر ہوں۔

٣٢

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٤٧٣

منشی قاسم علی نے کہا کہ آپ اپنی قسم میں اپنی بیوی اور بچے بھی شامل کریں۔ مولوی صاحب نے فرمایا کہ وہ تو یہاں موجود نہیں ہیں۔ جواب ملا کہ ہوں یا نہ ہوں قسم میں آپ کے اہل وعیال کی شراکت ضروری ہے۔

مولوی صاحب نے کہا اچھا ہم تمہاری خاطر یہ بھی مان لیتے ہیں۔ مگر وہاں قسم معین کرو! کل اگر کسی کو زکام یا مروڑ ہو تو تم کہو گے کہ قسم کا اثر ہے اور سر درد، زکام وغیرہ۔ یہ تو عام امراض شب و روز ہوتی ہی رہتی ہیں۔ کسی بچے نے پتلا ہگ دیا تو تم نے کہا قسم کا اثر ہے۔

مدت تعیین کرو۔ کیونکہ آخر مدت موت بھی ہے۔ جب کبھی میں یا میرا کوئی قریبی فوت ہو تو تم نہ کہہ سکو کہ جھوٹی قسم کا وبال آیا ہے۔ منشی قاسم علی نے کسی بات کو نہ مانا اور روپیہ واپس لے لیا۔ اس وقت کا نظارہ دیکھنے کے قابل تھا کہ تمام حاضرین نے دیکھ لیا سچا کون ہے اور جھوٹا کون؟

اب حضرت مولانا انور شاہ صاحبؒ کو مخاطب کر کے کہا کہ آپ نے بھی فرمایا تھا: ”انت قلت للناس“ استقبالیہ ہے؟ شاہ صاحب نے فرمایا ہاں سنیے! اب میں مرزا قادیانی کے دستخط کراتا ہوں۔ مرزا قادیانی (ضمیمہ براہین احمدیہ ج٥ ص٦، خزائن ج٢١ ص١٥٩) پر لکھتے ہیں کہ ماضی مضارع کے معنی میں آ جایا کرتی ہے۔ مثلاً ”ونفخ فی الصور... واذ قال اللہ یعیسٰی ابن مریم“

خدا قیامت کو کہے گا کہ اے عیسٰی تو نے ایسا کہا تھا۔ پس وہ زمانہ آنے والا ہے اس حوالہ کا بہت اچھا اثر مجمع پر ہوا۔ دیکھا مرزا قادیانی بھی آپ کے دعوے کی تصدیق کرتے ہیں

؎

من برائے وصل کردن آمدم
نے برائے فصل کردن آمدم

دوسرا دعویٰ شاہ صاحب کا توفی کے لئے پورا کرنا تھا۔ لطف یہ ہے کہ وہی آیت جب مرزا قادیانی پر الہام ہوتی ہے تو وہی معنی کئے جاتے ہیں۔ جو شاہ صاحب نے فرمایا۔ ملاحظہ ہو (براہین احمدیہ ص٥٢٠، خزائن ج١ ص٦٢٠ حاشیہ نمبر٣) مرزا قادیانی خود معنی کرتے ہیں۔ ”میں تجھ کو پوری نعمت دوں گا۔“

زیادہ وضاحت کے لئے ایک عربی شعر پڑھا۔ ترجمہ: تو ٹھیکیدار ہے کہ سب کو پورا دے۔ کہا براہین میں مرزا قادیانی لکھتے ہیں کہ جو خدا نے لکھایا ہم نے لکھا۔ بس اس میں جو

٣٣

صفحہ ٤٧٤

مسئلہ ہوا احمدیوں کو ماننا چاہئے۔ اگر وہ مان لیں تو ان کی ہماری صلح ہے۔ پھر (براہین احمدیہ ص ٤٩٩، خزائن ج١ ص ٥٩٣) کا حوالہ دے کر پڑھو۔ ”ھوالذی ارسل رسولہ بالھدیٰ ودین الحق لیظہرہ علی الدین کلہ“ یعنی جب مسیح دنیا میں آویں گے تو اسلام دنیا کے آفاق واقطار میں پھیل جاوے گا۔ اس سے دو باتیں ثابت ہیں۔ (١) مسیح کا دوبارہ دنیا میں آنا۔ (٢) ان کا آ کر حکومت کرنا اور تمام دنیا پر اسلام کو رائج کرنا۔ ہاں صاحب حکومت اس کا نام نہیں کہ قلم پکڑا اور سیدھا الٹا گھسیٹتے چلے گئے۔ یادرہے کہ ؎

چار کتاباں عرشوں آیاں پنجواں آیا ڈنڈا
ڈنڈے باجھوں بھجدا ناہیں بے دینی دا کنڈا

یہ ترجمہ ہے گویا ”انزلنا الحدید فیہ باس شدید“ کا اجی صاحب پنڈت لیکھرام قتل ہوئے۔ کسی جگہ اور تلاشی ہوئی قادیان میں مرزا قادیانی کی، مرزا قادیانی نے کسی غلط ملط خط سے متاثر ہو کر گورنمنٹ سے درخواست کی کہ دو تین سپاہی مجھے حفاظت کے لئے دیئے جاویں۔ مگر جواب انکار میں ملا۔ یہ تھی مرزا قادیانی کی حکومت اور ان کی طاقت۔ ساری عمر گورنمنٹ سے خطاب مانگتے رہے۔ مگر کچھ وصول نہ ہوا۔

چشمہ معرفت میں مرزا قادیانی لکھتے ہیں کہ میرے آنے کے وقت سب قومیں مٹ کر ایک قوم رہ جاوے گی۔ مگر اخبارات اور مشاہدات اس کے خلاف ہیں۔ ازالہ اوہام میں مرزا قادیانی لکھتے ہیں کہ عنقریب دیکھو گے کہ کوئی پڑھا لکھا ہندو تم کو نہ ملے گا۔ اب کسی محکمہ میں جا کر دیکھو کہ کوئی ہندو ہے یا نہیں؟ دور کیوں جاتے ہو۔ قادیان میں دیکھو کسی ہندو کی دکان، سکول، رہائش ہے یا نہیں۔ سب نے کہا ہے، اور اچھی حالت میں ہے۔

اور سنو! کتاب (مسیح ہندوستان میں ص ٨٣ ،خزائن ج ١٥ ص ایضاً) پر لکھتے ہیں کہ عیسیٰ کا رنگ شامی ہونے کی وجہ سے سرخ تھا۔ پھر کہا حضرت مسیح شام کے رہنے والے تھے۔ اس لئے سفید رنگ تھے۔ ان دو تحریروں میں سچی کس کو کہیں؟ اور مزے کی سنو۔ (راز حقیقت ص ٤٦، خزائن ج ١٤ ص ٢٧٧) پر لکھتے ہیں۔ حدیث صحیح سے ثابت ہے کہ حضرت مسیح کی عمر ١٢٠ برس کی تھی اور یہود نصاریٰ کا اس پر اتفاق ہے کہ ٣٣ برس کی عمر میں صلیب کا واقعہ ہوا۔ گویا اس وقت ٨٧ برس کے تھے اور کتاب (مسیح ہندوستان میں ص ٥٥، خزائن ج ١٥ ص ٥٥) پر ١١٥ برس ظاہر کرتے ہیں اور اس بات کو اسلام کے تمام فرقے مانتے ہیں کہ ٨٧ برس حضرت عیسیٰ علیہ السلام جیتے رہے۔ آخر ان کی یہ دعا قبول ہوئی۔ ”الی ربوہ ذات قرار ومعین“ احادیث میں آیا ہے کہ اس واقعہ کے بعد

٣٤

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٤٧٥

١٢٠ برس کی عمر پائی۔ اب دیکھ لیا مرزا قادیانی کی تحریرات میں کس قدر اختلاف موجود ہے۔ کوئی مانے تو کیا مانے وغیرہ۔

تقریر مولانا ابراہیم سیالکوٹیؒ

صاحبان! مرزائیوں کی طرف سے قسموں کے متعلق جو انعامی اشتہارات شائع کئے گئے ہیں۔ یہ سب دکھاوا ہے۔ کیونکہ جب ہم مولوی ثناء اللہ اور ابراہیمؒ وغیرہ علماء یہاں قادیان میں موجود ہیں اور باوجود اس کے کہ مرزا قادیانی اور مولوی ثناء اللہ کے درمیان آخری فیصلہ ہو چکا ہوا ہے۔ اس کے ہوتے ہوئے کسی مزید تصفیہ کی ضرورت نہیں۔ لیکن اگر ان کی اب بھی تسلی نہیں ہوئی تو ہم تیار ہیں جہاں چاہیں اور جس سے چاہیں مناظرہ کرلیں۔

صاحبان! قسم کے الفاظ میں جو یہ بیوی بچوں کو ساتھ شامل رکھنا چاہتے ہیں۔ ان کو واضح ہونا چاہئے کہ یہ ان کے پیشوا کے اصول کی خلاف ورزی ہے۔ آپ کو یاد ہوگا کہ جب مرزا قادیانی نے مولوی ثناء اللہ کے ساتھ آخری فیصلہ کے عنوان سے اشتہار دیا اور اس میں لکھا تھا کہ جھوٹا سچے کی زندگی میں مرے گا۔ اس وقت مرزا قادیانی کا لڑکا مبارک احمد کم سنی کی حالت میں مر گیا تھا۔ اس پر مرزا قادیانی نے کہا کہ بعض لوگ جو اس کو نشان قرار دیتے ہیں ان کی غلطی ہے۔ میرا لڑکا دعا کے الفاظ میں شامل نہ تھا۔ جس پر مرزا قادیانی کے نزدیک بیوی بچوں کی شمولیت ضروری نہیں تو پھر یہ کیوں شرط لگائی جاتی ہے کہ مولوی صاحب اپنے اہل وعیال کو بھی شامل کریں۔ اس کے بعد حضور ﷺ کے دندان مبارک کے جنگ احد میں شہید ہونے کا ذکر کیا اور پھر کہا کہ خدا فرماتا ہے کہ نبی ضلعوں میں ہوتا ہے۔ چنانچہ آنحضرت ﷺ مکہ میں پیدا ہوئے اور وہیں نبی ہوئے۔ جو ضلع تھا۔ بخلاف اس کے قادیانی ہی ایک گاؤں میں ہوا ہے جو اس وقت تک ضلع نہیں ہے۔

مولانا صاحب نے فرمایا کہ بٹالہ سے قادیان کو جب ہم آرہے تھے۔ تو ہمارے ہمراہ ایک دوسری ٹم ٹم آرہی تھی۔ جس میں مرزائی سوار تھے۔ سڑک کی ناہمواری کے ذکر پر اس نے کہا کہ قادیان کو مکہ سے یہ بھی ایک گونہ مناسبت ہے کہ اس کی سڑک بھی کچی ہے اور اس کی بھی۔ اس وقت میں نے کہا کہ مناسبت کے لئے نہیں۔ بلکہ مرزا قادیانی کے الہام کو خاک میں ملانے کے لئے اب تک مکہ میں ریل نہیں بنی اور نہ سڑک پختہ ہوئی۔ کیونکہ مرزا قادیانی کا قول تھا کہ مسیح کے وقت میں بموجب (واذا العشار عطلت) اونٹ بیکار ہو جاویں گے۔ اس تاویل کو خدا نے غلط کرنا تھا۔ اس لئے نہ وہاں ریل بننے دی نہ سڑک۔

فاضل مقرر نے اس مؤثر و مدلل تقریر کو جاری رکھتے ہوئے کہا کہ اگر نوعیت عذاب اور

٣٥

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٣٦

مدت نزول عذاب مقرر کی جاوے تو میں قسم کھانے کو تیار ہوں۔ مگر اس تقریر سے قادیانیوں کی یہ حالت تھی کہ: ”چناں خفتہ اند کہ گوئی مردہ اند۔“ جب صدائے برخاست کا معاملہ نظر آیا تو مولانا ابوالوفاء ثناء اللہ اٹھے اور فرمایا احمدی دوستوں کے روپے کے لئے نہیں بلکہ رفع شک کے لئے اور اتمام حجت کے لئے میں قسم کھا کر کہتا ہوں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام (جیسا کہ قرآن وحدیث سے ثابت ہے) زندہ ہیں اور مرزا قادیانی کا دعویٰ غلط ہے۔ ان کے بعد مولانا محمد ابراہیم سیالکوٹیؒ نے بھی ایسے ہی الفاظ میں قسم کھائی کہ جن ٣٠ دجالوں کی خبر حدیث میں ہے۔ ان میں سے ایک ہم مرزا قادیانی کو مانتے ہیں کہ وہ بھی انہی کی طرح جھوٹا ہے۔

مولانا عبدالشکور لکھنویؒ ایڈیٹر النجم لکھنؤ کی تقریر

مولانا محمد ابراہیمؒ کے بعد مولانا موصوف نے مختصر مگر مؤثر تقریر کی۔ چنانچہ مرزا قادیانی کی غلط بیانیوں، توہین انبیاء اور مرزا قادیانی کی اپنے منہ سے اپنی برتری کا ظاہر کرنا دکھایا۔ اس کے مقابلہ میں حضور ﷺ کے اخلاق و ایثار کا تذکرہ کرتے ہوئے مسلمانوں کو پابندیٔ صوم وصلوٰۃ کی تاکید کی۔

صدر جلسہ کی اختتامی تقریر

صاحب صدر نے فرمایا کہ خدا کا شکر ہے کہ یہ جلسہ اسلامیہ نہایت کامیابی اور امن سے ہوا۔ بھائیو! آپ نے علماء کی تقریریں اور وعظیں سنیں۔ جو حق وصداقت پر مبنی ہیں۔ مجھے امید ہے کہ ان کے اثرات ہمیشہ ظاہر ہوتے رہیں گے اور ہدایت کے لئے یہ بہت مفید ومؤثر ثابت ہوں گے۔ میں چاہتا ہوں کہ بقدرے امکان ان کا خلاصہ آپ کے سامنے دہراؤں۔

آنحضرت ﷺ فرماتے ہیں کہ خدا نے جو ہدایت مجھ کو دی اس کی مثال بارش کی سی ہے۔ بارش رحمت ہے۔ مگر اس کا اثر ہر جگہ ایک جیسا ہی نہیں ہوتا۔ ایک خطہ اچھا ہے۔ وہ عمدہ چیزیں اگاتا ہے۔ ایک وہ ہے کہ وہ خود تو کچھ نہیں اگاتا مگر بارش کا پانی اپنے اندر جمع کر کے دوسروں کو نفع پہنچاتا ہے اور ایک قسم ایسی ہے نہ خود کچھ پیدا کرتی ہے نہ دوسروں کو نفع پہنچاتی ہے۔ ایسا ہی انسانوں کے مدارج میں تفاوت ہے حضرات علماء کی تقاریر سے ختم نبوت ثابت ہو چکی اور مرزا قادیانی کے دعوے کی تغلیط بھی کافی ہوگئی۔ اب میں آپ کو رسول اللہ ﷺ کا راستہ بتاتا ہوں۔ جس کی نسبت ارشاد ہے کہ اس کا دن اور رات برابر ہیں۔ حضور ﷺ فرماتے ہیں کہ اگر کوئی قرآن کو مانے اور حدیث سے انکار کرے تو وہ بھٹکا ہوا ہے۔

www.besturdubooks.wordpress.com

PDF 481

اَنَا خَاتَمُ النَّبِيّيْنَ لَا نَبِيَّ بَعْدِيْ

میں آخری نبی ہوں، میرے بعد کوئی نبی نہیں۔

حق نما

حضرت مولانا سید عبدالرحمنؒ

صفحہ ٤٧٨

بسم الله الرحمن الرحیم!

نحمدالله العلى العظيم ونصلی علیٰ رسوله الكريم!

برادران اسلام! یہ عاجز آپ کو ایک مہتم بالشان دینی امر کی طرف متوجہ کرنا چاہتا ہے اور امید رکھتا ہے کہ آپ اخوت اسلامی کے خیال سے اور دعوت دینی کی نظر سے پوری توجہ فرمائیں گے۔ خیر خواہوں کی باتوں کی طرف توجہ نہ کرنا اور ایک طرفہ ڈگری کر دینا عقل وانصاف سے نہایت بعید ہے۔ کچھ عرصہ سے مرزا غلام احمد قادیانی کے دعویٰ کا ذکر ان کے رسالوں میں بہت کچھ دیکھا گیا اور ان کے اخباروں اور اشتہاروں میں بہت زور دیکھا جاتا ہے۔ مگر اللہ تعالیٰ نے جنہیں کچھ علم کے ساتھ فہم سلیم اور انصاف پسندی عنایت کی ہے۔ وہ بالیقین انہیں کی کتابیں اور رسائل دیکھ کر ان کی واقعی حالت سے واقف ہو سکتے ہیں۔ اس میں شبہ نہیں کہ ایسے حضرات انہیں کے مختلف رسائل دیکھ کر یقینی طور سے انہیں کا ذب کہہ دیں گے۔ کیونکہ باوجود دعویٰ نبوت کے ان کی تحریروں میں نہایت تناقص اور اختلاف ہے اور سچے نبی کی ایسی تحریریں نہیں ہوسکتیں۔ ارشاد خداوندی ہے: ”لوكان من عند غير الله لو جدوا فيه اختلافاً كثيراً“ اور صرف اختلاف ہی نہیں ہے۔ بلکہ ان میں جھوٹی باتوں کا انبار ہے۔ ان کی تحریر کی روش اور مخالفوں سے ان کی سختیاں اہل دانش واقِف کار کو صاف بتا رہی ہیں کہ وہ سچے نہ تھے۔ اہل اللہ اور صادقوں کا طرز ان کی تحریر میں ہرگز نہیں ہے۔ اس کے علاوہ جو دلیلیں انہوں نے اپنی صداقت میں پیش کی ہیں۔ اگر ان کا بیان سچ مان لیا جائے تب بھی وہ صادق نہیں ٹھہر سکتے۔ ان کی صداقت کی دلیلوں میں امور ذیل پیش کئے جاتے ہیں۔ مثلاً:

یہ دعوے اگر صحیح مان لئے جائیں تو بھی ان کی مسیحیت ہرگز ثابت نہیں ہوسکتی۔ کیونکہ دعا کا قبول ہونا نبی یا مہدی موعود سے مخصوص نہیں ہے۔ بعض اولیاء اللہ اس صفت کے ساتھ مخصوص ہوئے ہیں۔ حضرت معاذؓ کے حال میں لکھا ہے کہ جس بات کے لئے آپ قسم کھا لیتے تھے۔ وہ ضرور پوری ہوتی تھی۔ پھر یہ کہ دنیا میں قبولیت دعا تو مسلمان سے بھی مخصوص نہیں ہے۔ کافر کی بھی

٢

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٤٧٩

دعا قبول ہوتی ہے۔ دیکھا جائے کہ پادری، گرجاؤں میں دعا کرتے ہیں۔ پھر ان کی کیسی ترقی ہورہی ہے۔ اگر عقل وانصاف ہے تو نظر اٹھا کر دیکھنا چاہئے اور یہاں سے آیت ”وما دعاء الكافرين الا فى ضلال“ کے معنی کو سمجھنا چاہئے۔ مرزا قادیانی کی دعائیں اگر قبول ہوئی ہوں گی تو ان کا ثمرہ اور نتیجہ پادریوں کی دعاؤں کے برابر بھی نہیں ظاہر ہوا۔ پھر دعاؤں سے نبوت اور مہدویت ثابت کرنا کسی صاحب عقل کا کام نہیں ہے۔ قرآن مجید کے حقائق کی نسبت میں کیا کہوں۔ مگر بغیر کہے رہ بھی نہیں سکتا۔ سچ یہ ہے کہ مرزا قادیانی کو حقائق قرآنی سے کیا واسطہ؟ البتہ عوام اور کم علموں کے سامنے دل خوش کن باتیں بنانا اور سبز باغ دکھانا اور بڑے زور وشور سے دعویٰ کرنا خوب آتا ہے۔ اس کا ہمیں بھی اقرار ہے۔ افسوس ہے کہ محض غلط باتیں جن کا نشان قرآن مجید میں نہیں ہے۔ مرزا قادیانی اسے قرآن سے ثابت بتاتے ہیں اور کہیں کہہ دیتے ہیں کہ نصوص قطعیہ سے ثابت ہے۔ فیصلہ آسمانی کے دوسرے حصہ میں ایسی بعض باتوں کا حوالہ دیا گیا ہے۔ اب کوئی احمدی انہیں قرآن مجید سے ثابت کر کے دکھائے۔ مگر ہم نہایت زور سے کہتے ہیں کہ ہرگز ثابت نہیں کر سکتے۔ بعض باتیں بطور مثال یہاں بھی ملاحظہ ہوں۔

(انجام آتھم ص ٤٧، خزائن ج ١١ ص ایضاً) میں لکھتے ہیں: ”یہ بات کسی پہلو سے درست نہیں ٹھہر سکتی کہ حال کے پادریوں کے سوا کوئی اور بھی دجال ہے۔ جو ان سے بڑا ہے۔ کیونکہ جب کہ خدا نے اپنے پاک کلام میں سب سے بڑا یہی دجال بیان فرمایا ہے۔ پھر اسی صفحہ میں لکھتے ہیں۔ قرآن نے تو اپنے صریح لفظوں میں دجال اکبر پادریوں کو ٹھہرایا۔“

مرزا قادیانی نے یہ دعویٰ مختلف عنوان سے متعدد مقامات پر کلام خدا کے طرف منسوب کیا ہے۔ مگر تمام اہل علم واقف قرآن وحدیث خوب جانتے ہیں کہ یہ دعویٰ محض غلط ہے۔ اگر کہو کہ مرزا قادیانی کو صداقت کا دعویٰ ہے تو قرآن مجید کی صریح لفظوں سے ثابت کرے۔ جیسا کہ مرزا قادیانی لکھ رہے ہیں۔ مگر یہ امر یقینی ہے کہ ثابت نہیں کر سکتا۔ اسی بیان میں مرزا قادیانی لکھتے ہیں۔ اس نے ابتداء سے اپنے نبی مقبول ﷺ کے ذریعہ سے خبر دی تھی کہ جس شخص کی ہمت اور دعا اور قوت بیان اور تاثیر کلام اور انفاس کی برکت سے یہ (صلیبی) فتنہ فرو ہوگا۔ اسی کا نام اس وقت عیسیٰ اور مسیح موعود ہوگا۔

مرزا قادیانی نے اپنے قلم سے مسیح موعود کی جو علامتیں بیان کیں ہیں۔ ہم اسی قول پر

٣

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٤٨٠

فیصلہ کو منحصر کرتے ہیں۔ یہ امر ایسا آسان ہے کہ کسی حق پسند پر پوشیدہ نہیں رہ سکتا۔ اب اگر جماعت مرزائی میں کچھ حق طلبی ہے تو خدا کے لئے صاف طور سے کہے کہ مرزا قادیانی نے مسیح موعود بننے کا دعویٰ کیا۔ مگر یہ بتائیے کہ جو علامتیں مسیح موعود ہونے کی بیان کی تھیں۔ ان میں سے کسی کا بھی ظہور ان سے ہوا؟ خوب غور کر کے جواب دیجئے۔ فرمائیے کہ بیس پچیس برس تک مرزا قادیانی نے صلیبی فتنہ کے فرو کرنے میں ہمت اور دعا کی یا نہیں؟ اگر کی تو بتائیے کہ اس کا کیا اثر ہوا؟ فتنہ کا فرو ہونا تو نہایت عظیم الشان بات تھی۔ اس کے فرو ہونے کی کوئی علامت کوئی نشانی پائی گئی۔ حاشا وکلا یہ فرمائیے کہ انہوں نے (٨٠، ٩٠) اسی، نوے رسالے کتابیں لکھ ڈالیں۔ مگر یہ تو بتائیے کہ اتنے انبار میں کے رسالے اس فتنہ کے فرو کرنے میں لکھے اور جس قدر اور علماء کی تحریروں سے فائدہ ہوا تھا اس سے زیادہ کیا فائدہ ہوا؟ آنکھیں کھول کر اور نظر کو وسیع کر کے جواب دینا چاہئے۔ پھر یہ کہئے کہ ان کے قوت بیانی اور تاثیر کلام نے کیا نتیجہ دکھایا؟ کتنے صلیب پرست دشمن اسلام ان کے بیان سے مشرف با اسلام ہوئے۔ ان کے تاثیر کلام سے صلیب پرستوں کی حالت پر کیا اثر ہوا۔ کیا ان کے اعتقاد میں کچھ کمی ہو گئی؟ کیا وہ اسلام کی دشمنی سے دست بردار ہو گئے؟ ہزاروں افسوس کے ساتھ یہ سوال کیا جاتا ہے کہ صلیب پرستوں نے اسلام کے مٹنے اور اس کے ذلیل کرنے میں کون سا دقیقہ اٹھا رکھا؟ اس سوال کا جواب بجز اس کے اور کچھ نہیں کہا جا سکتا کہ ہرگز نہیں۔ ان کی سلطان القلمی اور قوت بیانی کا دعویٰ ہو رہا ہے۔ مگر اس کا اثر تو کچھ بھی ظاہر نہ ہوا۔ البتہ اگر ہوا تو الٹا اثر ہوا۔ یعنی صلیبی فتنہ کی قوت بہت زیادہ ہو گئی اور ان کے خلیفہ کے وقت اسے ترقی ہو رہی ہے اور مسلمانوں کو اور اسلام کو ہر طرح کا تنزل ہے۔ مرزا قادیانی کا آخری جملہ یہ ہے کہ انفاس کافر کش سے یہ فتنہ فرو ہوگا۔

جماعت مرزائی ذرا سر جھکا کر غور کرے کہ مرزا قادیانی کے بیس پچیس برس کے انفاس نے کس قدر کافر کشی کی۔ کتنے کافروں کو مسلمان بنایا؟ ذرا کچھ تو شرمانا چاہئے۔ باتیں بنانے سے دعویٰ ثابت نہیں ہو گا ان باتوں کو دکھائیے۔ جن میں خود مرزا قادیانی مسیح موعود کی علامت بتا رہے ہیں۔ ورنہ ایسے جھوٹے مدعی سے علیحدہ ہو جائیے۔ کیا اس میں شک ہو سکتا ہے کہ اس وقت کے مسیح نے تو کافر کشی ہرگز نہیں کی۔ بلکہ یہ کہنا نہایت صحیح ہے کہ مسلمان کشی بلکہ اسلام کشی کی۔ کیونکہ دنیا میں جو تقریباً ٢٣ کروڑ مسلمان ان کے اور نہ ماننے والے تھے انہیں کافر بنا دیا اور مستحق کشتن

٤

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٤٨١

انہیں ٹھہرا دیا اور تیغ زبان سے انہیں گویا قتل ہی کر دیا اور اسلام کو گویا نا پید کر دیا۔ الغرض مرزا قادیانی کے انفاس متبرکہ کافر کش کسی طرح نہیں ہو سکتے ۔ بلکہ مسلم کش بے شک ہیں۔ جنہوں نے کروڑوں مسلمانوں پر ہاتھ صاف کیا۔ ہزاروں بلکہ لاکھ طرح سے افسوس ہے کہ ایسے شخص کو مجدد اور مہدی اور مسیح مانا جاتا ہے اور دوسروں سے منوانے کی تدبیریں ہو رہی ہیں۔ سو اس کے اور کیا کہا جائے کہ صفت اضلال کا دورہ ہے۔ اس لئے اضلال کے مظہر بہت پیدا ہو گئے ۔

(انجام آتھم حاشیہ ص ٣١، خزائن ج ١١ ص ایضاً) میں لکھتے ہیں : ” جس حالت میں خدا اور رسول اور پہلی کتابوں کی شہادتوں کی نظیریں موجود ہیں ۔ وعید کی پیشین گوئی میں گو بظاہر کوئی شرط نہ ہو تب بھی بوجہ خوف تاخیر میں ڈال دی جاتی ہے تو پھر اس اجماعی عقیدے سے محض میری عداوت کے لئے منہ پھیرنا بد ذاتی نہیں تو اور کیا ہے۔“

اس قول میں مرزا قادیانی نے چار دعوے کئے ہیں۔ پہلا! یہ کہ خدا تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ وعید کی پیشین گوئی میں خوف کی وجہ سے تاخیر ڈال دی جاتی ہے۔ دوسرا! یہ کہ رسول خدا کا بھی یہی ارشاد ہے۔ تیسرا ! یہ کہ متعدد کتب سابقہ میں اس کی شہادت اور اس کا ثبوت ہے کہ خوف کی وجہ سے وعید کی پیشین گوئی میں تاخیر ڈال دی جاتی ہے۔ چوتھا! یہ کہ یہ اجماعی عقیدہ ہے۔ مگر اہل علم یقینی طور سے جانتے ہیں کہ چاروں کے چاروں دعوے جھوٹ اور محض غلط ہیں۔ کسی کتاب آسمانی میں خدا تعالیٰ کا یہ ارشاد نہیں کہ وعید کی معینہ پیشین گوئی خوف سے ٹل جاتی ہے یا اس میں تاخیر ڈال دی جاتی ہے اور نہ اس کے کسی سچے رسول کا یہ ارشاد ہے نہ خدا کی کسی کتاب میں ایسا لکھا ہے اور نہ یہ کسی کا عقیدہ ہے۔ خلیفۃ المسیح یا اور کوئی صاحب علم اسے ثابت کریں ۔ مگر ہم یقینی طور سے کہتے ہیں کہ نہیں کر سکتے ۔ کیونکہ نصوص صریحہ قطعیہ سے ثابت ہے کہ وعید اپنے معینہ وقت سے ہرگز نہیں ٹلتی اور ( صحیح بخاری ج ٢ ص ١ ) کی روایت سے یقیناً ثابت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے امیہ بن خلف کے وعید کی پیشین گوئی کی تھی اور اس کی وجہ سے وہ نہایت خائف تھا مگر وہ پیشین گوئی پوری ہو کر رہی۔ اس کا خوف کچھ کام نہیں آیا۔

تنبیہ

مرزا قادیانی نے یہ چار جھوٹے دعوے اس لئے کئے تھے کہ احمد بیگ کے داماد کے لئے وعید کی پیشین گوئی کی تھی کہ ڈھائی برس کے اندر مر جائے گا۔ مگر وہ نہ مرا اور ان کی پیشین گوئی

٥

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٤٨٢

جھوٹی ہوئی۔ اب مرزا قادیانی کو اس جھوٹ کا چھپانا ضرور ہوا۔ اس لئے متعدد جگہ اس کے بناوٹی اظہار پر زور لگایا کہ احمد بیگ کے مرجانے سے اس کا داماد نہایت خائف ہوگیا تھا۔ اس لئے اس کی وعید میں تاخیر ہو گئی۔ پھر اس جھوٹے دعویٰ کو خدا اور رسول اور آسمانی کتابوں کی طرف منسوب کر دیا اور دوسری پیشین گوئی اس کی موت کی کر دی اور وہ بھی جھوٹی ١؎ ہوئی۔ اس جھوٹ کے چھپانے کے لئے مرزا قادیانی اور ان کے خلیفہ نے بہت باتیں بنائیں۔ مگر وہ ایسی مہمل اور بے سروپا تھیں کہ ان کے معتقدین اور ان کے صاحبزادے کو بھی شرم ٢؎ آئی ہوگی۔ اس لئے ایک نیا جواب مشتہر کیا ہے اور احمد بیگ کے داماد کا مصنوعی خط پیش کیا ہے۔ جس کا مضمون مرزا قادیانی کے اقوال کے خلاف ہے۔ قدرت خدا کہئے یا مرزا قادیانی کی تحریر کا کمال کہا جائے کہ انہیں کے اقوال سے ان کا رد ہو جاتا ہے۔ دوسرے رسالہ میں اس کی تفصیل کی جائے گی۔ فانتظروا!

مرزا قادیانی کی لن ترانیوں کا ایک نمونہ اور بھی ملاحظہ کیا جائے۔ (حقیقت الوحی ص ١٥٥، خزائن ج ٢٢ ص ١٥٩) میں تحریر فرماتے ہیں: ”جب کہ خدا نے اور اس کے رسول نے اور تمام نبیوں نے آخر زمانہ کے مسیح کو اس کے کارناموں کی وجہ سے افضل قرار دیا ہے تو پھر یہ شیطانی وسوسہ کہ یہ کہا جائے کہ کیوں تم مسیح بن مریم سے اپنے تئیں افضل قرار دیتے ہو۔“

یہاں مرزا قادیانی کہتے ہیں کہ حضرت مسیح ابن مریم علیہ السلام سے افضل ہوں اور میرا افضل ہونا خدا اور اس کے رسول (محمد ﷺ) اور تمام انبیاء نے بیان کیا ہے۔ اب قرآن مجید اور احادیث رسول اللہ ﷺ کی کتابیں موجود ہیں۔ کوئی دکھائے کہ کہاں لکھا ہے کہ آخر زمانے کا مسیح (یعنی مرزا غلام احمد قادیانی) حضرت مسیح ابن مریم علیہما السلام سے افضل ہوگا۔ یہ محض جھوٹ ہے۔ کسی آسمانی کتاب اور کسی حدیث رسول اللہ ﷺ میں اس کا نشان نہیں ہے۔ بلکہ خدا اور رسول پر یہ نہایت صریح افتراء ہے۔ اگر اس میں شک ہو تو خلیفہ صاحب کسی مقام کا حوالہ دیں اور بتائیں کہ

٦

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٤٨٣

صداقت میں نہایت وضاحت سے ثابت کیا ہے۔

ہو کر اب ایک نئی چال یا الہامی جعل کی طرف پناہ پکڑنا چاہا ہے اور احمد بیگ کا مصنوعی یا سازشی خط پیش کیا ہے۔ جس کا محاکمہ تفصیلی طور پر کیا جائے گا۔

یہاں سے ثابت ہے۔ مگر ثابت نہیں کر سکتے۔ ”ولو کان بعضھم لبعض ظھیرا“ غرضیکہ یہاں اوّل خدا پر افتراء ہے۔ پھر اس کے خاص رسول پر اور پھر اس کے تمام انبیاء پر اس لئے یہاں عظیم الشان تین جھوٹ بولے اور اسے اجماعی عقیدہ بتایا۔ چوتھا جھوٹ ہوا اور پہلے پانچ جھوٹے مل کر نو ہو گئے۔ جن صاحب کو مرزا قادیانی کا جھوٹ اور زیادہ دیکھنا ہو وہ رسالہ ”شہاب ثاقب“ ملاحظہ کریں اور قدرت خدا دیکھیں کہ ایسے علانیہ جھوٹ مرزا قادیانی کے حضرات مرزائیوں کے روبرو پیش کئے جاتے ہیں۔ مگر وہ توجہ بھی نہیں کرتے۔ یہ کیا بات؟ بھائیو! اس میں کچھ تو غور کرو کیا راست باز طالب حق ایسے ہو سکتے ہیں؟ تیسری دلیل پیشین گوئی کا پورا ہونا ہے۔ مگر مکرر کہہ دیا گیا اور ثابت کر دیا گیا کہ پیشین گوئی کا پورا ہو جانا نبوت یا صداقت کی دلیل ہرگز نہیں ہے۔ فیصلہ آسمانی کے حصہ دوم میں کسی قدر اس کا ثبوت ہے اور حصہ سوم میں نہایت متین دلائل سے ثابت کیا گیا ہے۔ اب اگر اس سے بھی چشم پوشی کی جائے تو لطف یہ ہے کہ جو پیشین گوئی صاف اور معرکہ کی تھیں۔ وہی پوری نہ ہوئیں۔ مولوی ثناء اللہ صاحبؒ مرزا قادیانی کی زندگی میں نہایت زور سے چیلنج دیتے رہے کہ پیشین گوئیوں کے پڑتال کے لئے جلسہ کر لیا جائے۔ مگر مرزا قادیانی باوجود اس شور و غل کے (کہ گویا مناظرہ اور مباہلہ کے لئے پیدا کئے گئے ہیں) مولوی ثناء اللہ صاحب کے سامنے نہ آئے اور اب بھی ان کا چیلنج ہے۔ مگر کوئی احمدی سامنے نہیں آتا۔ بایں ہمہ پھر بھی وہی غلط اور مجمل گول مول الفاظ کی پیشین گوئیاں پیش کر کے ان کی صداقت ثابت کی جاتی ہے۔

بھائیو! اگر ان کی صداقت پر تمہیں اصرار ہے اور طلب حق ہے تو ان کی پڑتال کے لئے مولوی صاحب سے مناظرہ کر لو۔ کیونکہ وہ قریب رہتے ہیں اور ان کے حالات کی طرف انہیں کامل توجہ رہی ہے اور بغیر اس کے پیشین گوئیوں کو صداقت میں پیش کرنا زبردستی اور ناحق

٧

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٤٨٤

کوشی ہے۔ طلب حق ہرگز نہیں ہے۔ راستی کے طالبوں نے فیصلہ آسمانی کا پہلا اور دوسرا حصہ دیکھا ہوگا اور معلوم کیا ہوگا کہ یہ رسالہ مرزا قادیانی کے باب میں واقعی آسمانی فیصلہ ہے۔ اس حقانی فیصلہ کو حق طلبی کی نظر سے نہ دیکھنا حق سے روگردانی کرنا ہے۔ اس رسالہ میں مرزا قادیانی کی اس پیشین گوئی کا غلط ہونا نہایت خوبی سے دکھایا ہے۔ جس کے پورا ہونے کو انہوں نے اپنی صداقت کا نہایت ہی عظیم الشان نشان ٹھہرایا تھا۔ جس کے وقوع میں نہ آنے سے اپنے آپ کو کاذب قرار دیا تھا۔ جس کے ظہور میں آنے کو تقدیر مبرم بنایا تھا۔ وہ نشان ظہور میں نہ آیا۔ پھر دوسری پیشین گوئیوں کی طرف توجہ کرنے کی کیا ضرورت ہے۔ اب تو مرزا قادیانی اپنے مقرر کردہ معیار کے بموجب کاذب ٹھہرے۔

اے بھائیو! اگر تمہیں قیامت پر ایمان اور دربار الٰہی سے جزا اور سزا پانے پر یقین ہے تو اب آپ کو مرزا قادیانی کے کاذب ماننے میں کیا عذر ہے۔ خدا سے ڈر کر جواب دو اور زبان درازی کر کے اپنی ناحق کوشی کو طشت از بام نہ کرو۔

شہادت آسمانی اگر آپ نے ملاحظہ کی ہے تو معلوم کیا ہوگا کہ جن گہنوں کے اجتماع کو مرزا قادیانی نے اپنی سچائی کے واسطے آسمانی شہادت ٹھہرایا تھا۔ جس کے بیان میں ملمع کاری کا خوب زور دکھایا تھا اور بار بار اپنے اکثر رسالوں میں اپنی صداقت کے ثبوت میں پیش کیا تھا۔ اس کی ملمع کاری اس رسالے سے ایسی ہی کھل گئی جیسے آفتاب نصف النہار کے وقت چمکتا ہے۔ البتہ آفتاب کو دیکھنا اور اس کی روشنی سے فائدہ اٹھانا انہیں کا کام ہے۔ جن کی آنکھوں میں اللہ تعالیٰ نے بینائی دی ہے اور اس نعمت خداوندی سے فائدہ اٹھانا چاہتے ہیں۔ طالبین حق اس رسالہ کو ملاحظہ کر کے غور کریں کہ کوئی صادق باوجود عقل اور علم کے ایسا غلط دعویٰ کر سکتا ہے اور معمولی دعویٰ ہی نہیں بلکہ اس پر اس قدر زور اور اصرار ہے کہ خدا کی پناہ۔ اے بھائیو! ذرا غور کرو کہ خدا کے رسول ایسے غلط دعویٰ کیا کرتے ہیں اور محض جھوٹی باتیں اپنی صداقت میں پیش کرتے ہیں؟ (نعوذ باللہ) حقیقت المسیح (احتساب کی گذشتہ جلدوں میں شائع ہو چکی ہے۔ مرتب!) اگر آپ کے مطالعہ میں آئی ہوگی تو یقین کیا ہوگا کہ حضرت سرور انبیاء علیہ الصلوٰۃ والسلام نے جو علامتیں نزول مسیح اور وجود مہدی کی بیان کی ہیں ان میں سے کوئی علامت مرزا قادیانی کے وجود شریف کے وقت نہیں پائی گئی۔ بلکہ ان علامتوں کے برعکس ظہور میں آیا اور آ رہا ہے۔ اس کے علاوہ بڑے

٨

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٤٨٥

بڑے دعوؤں کی غلطی دکھا کر مرزا قادیانی کا کذب اظہر من الشمس کیا ہے۔ یہاں تک کہ انہیں کے صاف وصریح اقرار سے ان کا کاذب ہونا ثابت کیا ہے۔ مگر حیرت ہے کہ ان کے متبعین کی قلبی حالت کیا ہو گئی ہے جو ایسے بدیہی ثبوت کو نہیں دیکھتے اور جس حالت میں مرزا قادیانی تو اپنے آپ کو کاذب بتارہے ہیں اور دوسروں کو اپنے کذب پر گواہ بنا رہے ہیں۔ مگر ان کے پیرو یہاں انہیں بھی نہیں مانتے۔ بلکہ ان کے قول کے برخلاف کچھ بیہودہ باتیں بنا کر انہیں سچا مان رہے ہیں۔ ان ھذا لشئ عجاب!

اس نازک اور فتنہ کے وقت میں انہوں نے اصلاح اور مجدد ہونے کا دعویٰ کیا اور اس دعویٰ کے بعد عرصہ دراز تک زندہ رہے۔ مگر کوئی صاحب فرمائیں کہ انہوں نے کیا اصلاح کی، کس گروہ کو انہوں نے صداقت شعار صاحب صلاح وتقویٰ بنادیا۔ اسلام کو ان کی ذات سے کیا فائدہ پہنچا۔ نہایت ظاہر بلکہ اظہر من الشمس ہے کہ اسلام کا خاتمہ ان کے وجود نے گویا کر دیا۔ جس کو تمام دنیا دیکھ رہی ہے۔ ان کی زبان وقلم نے دنیا کے تقریباً ٢٣ کروڑ مسلمانوں کو کافر بنا دیا اور دنیا کو مقدس مذہب اسلام سے گویا خالی کر دیا۔ (حقیقت الوحی ص ١٦٣، ١٦٤، خزائن ج ٢٢ ص ١٦٧، ١٦٨ اور رسالہ تشحیذ الاذہان بابت ماہ اپریل ١٩١٣ء دیکھا جائے) جس گروہ کو انہوں نے پیدا کیا ان کی صداقت اور صلاح اور تہذیب کو دنیا دیکھ رہی ہے اور نہایت حیرت اور عبرت سے کہہ رہی ہے کہ یا الٰہی مصلح وقت اور نبی کی صحبت یافتہ اور برسوں ان کے پاس کے رہنے والے ایسے ہوتے ہیں۔ (نعوذ باللہ) جیسے مرزا قادیانی کے صحابی اور تابعی ہیں؟ جنہیں علانیہ جھوٹ بولنے میں ذرا شرم نہیں آتی۔ جنہیں جھوٹوں کو سچا اور سچوں کو جھوٹا کہنے میں ذرا تامل نہیں۔ فاعتبروا یا اولی الابصار!

الغرض مذکورہ رسالے اور مرزا قادیانی کی حالت جو ان کی تحریروں سے ظاہر ہورہی ہے اور ان کے متبعین کی روش مرزا قادیانی کے کذب کو آفتاب کی طرح روشن کر رہی ہے۔ مگر یہ عاجز اس پر بھی بس نہیں کرتا۔ اس رسالے میں ان کی ایک خاص حالت پر روشنی ڈالنا چاہتا ہے تا ان کے زور وشور کے دعوؤں کی حالت اہل حق پر ظاہر ہو جائے اور یہ بھی دکھانا مدنظر ہے کہ ہندوستان کے سیکڑوں علمائے کرام نے ان کے بڑے زور شور کے دعوؤں کی طرف کیوں توجہ نہ کی اور ان کی بے توجہی ایک فتنہ عظیم کا باعث ہوئی۔ مرزا قادیانی نے اپنی شہرت اور اپنے دعوؤں

٩

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٤٨٦

کے اعلان میں کوئی دقیقہ اٹھا نہیں رکھا اور کسی ذی علم مشہور اور ممتاز کو نہیں چھوڑا۔ جسے انہوں نے اپنا مخاطب بنانا چاہا ہو۔ مگر ان کے دعویٰ کی غلطی ایسی اظہر من الشمس تھی کہ کسی راست باز طالب حق پر پوشیدہ نہیں رہ سکتی۔ اس لئے علمائے کرام نے اس کے اظہار کی ضرورت نہیں خیال کی۔ اس کے علاوہ ان کی سخت گوئی اور غیر مہذب تحریروں نے اہل کمال کی زبان قلم کو روکا اور ان کی طرف متوجہ ہونے نہ دیا۔ اہل بصیرت روشن ضمیر بزرگوں نے اپنی فراست اور نور قلبی سے ان کی حالت معلوم کر کے ان سے نفرت کی اور اپنے خدام سے علانیہ ان کی بطالت کا اظہار کر دیا۔ چونکہ اہل اللہ صاحب دل حضرات کی عادت سکوت اور جھگڑوں سے علیحدہ رہنے کی ہوتی ہے۔ اس لئے مرزا قادیانی کی طرح شور و غل نہیں کیا اور اگر کسی بزرگ نے ضرورت سمجھ کر مقابلہ کا ارادہ کیا اس وقت مرزا قادیانی سامنے نہ آئے۔ اس تجربہ نے آئندہ انہیں بھی خاموش کر دیا۔ اس لئے مرزا قادیانی نے خالی میدان پا کر لاجوابی کے دعوے بڑے زور و شور سے کئے۔ یہاں تک کہ اپنی بعض تحریروں کو اعجاز بھی سمجھ گئے۔ اس حالت کا ثبوت اس روئداد سے بخوبی ہوتا ہے۔ جو ١٩٠٠ء میں مطبع لاہور قاضی حبیب اللہ تاجر کتب کے اہتمام سے چھپی ہے۔ اس کا حاصل یہ ہے کہ پنجاب کے مشہور مشائخ میں مولانا پیر مہر علی شاہ صاحبؒ ہیں مرزا قادیانی نے ان کے پاس مطبوعہ چٹھی بھیجی۔ جس میں اپنے دعوے کا اظہار کر کے یہ لکھا تھا کہ اگر اس کے ماننے میں آپ کو عذر ہے تو لاہور میں جلسہ کرو۔ اس میں قرآن مجید کی چالیس آیتوں کی تفسیر عربی زبان میں، میں بھی کروں اور تم بھی کرو۔ جس کی تفسیر بلحاظ فصاحت و بلاغت عبارت اور باعتبار حقائق و معارف قرآنیہ کے عمدہ ہو۔ وہ حق پر سمجھا جائے۔ یہ مضمون اشتہاروں میں نہایت تعلیوں کے ساتھ مرزا قادیانی نے مشتہر کیا اور یہ بھی لکھایا کہ اگر میں اس جلسہ میں نہ آؤں تو مردود، جھوٹا، ملعون ہوں۔ جلسہ کی تاریخ معین ہو گئی اور پیر صاحب بہت سے علماء اور معززین اسلام کے ساتھ تاریخ معینہ پر تشریف لائے اور کئی روز مرزا قادیانی کے انتظار میں ٹھہرے۔ مگر مرزا قادیانی گھر سے باہر نہ نکلے۔ یہ حالت دیکھ کر علماء نے اتفاق کیا کہ مرزا لائق خطاب نہیں ہے۔ اس کی اس حرکت سے اس کی قابلیت اور اس کی صداقت کا راز طشت از بام ہو گیا اور معلوم ہوا کہ خواہ مخواہ علماء کو مخاطب بنانے اور دعوت مناظرہ وغیرہ کرنے سے اس کا مقصود صرف اپنی شہرت ہے۔ بوجوہ مذکورہ بالا اسے یقین تھا کہ میرے مقابلہ پر کوئی اہل کمال نہ آمادہ ہوگا اور اگر اتفاقیہ کسی اہل کمال کو اظہار حق کا جوش آ گیا تو سکوت کر جانا اور کوئی بات بنا دینا مشکل نہیں ہے۔

١٠

صفحہ ٤٨٧

اسی بنیاد پر مرزا قادیانی کا یہ شور و غل ہے۔ اس لئے کوئی ذی علم اس سے خطاب نہ کرے اور اس کی بیہودہ باتوں کے جواب میں اپنی اوقات ضائع نہ کرے۔ ہمارے علماء کی یہ بے توجہی اور انجام پر نظر نہ کی۔ اس کی شہرت نے مرزا قادیانی کو عمدہ موقع دیا اور معتقدین کے خوش کرنے اور اس عظیم الشان خجالت مٹانے کے لئے یہ تدبیر نکالی کہ ایک رسالہ لکھا۔ جس کا نام ”اعجاز المسیح“ رکھا اور اس کا جواب مولانا پیر مہر علی شاہؒ سے خصوصاً اور بعض علماء سے عموماً طلب کیا۔ مگر چونکہ علماء کے مجمع میں ہزاروں اہل اسلام کے روبرو یہ بات قرار پا چکی تھی کہ اب کوئی ذی علم مرزا قادیانی سے خطاب نہ کرے۔ اس لئے تمام علماء نے اور بالخصوص پیر صاحبؒ نے اس کے جواب کی طرف توجہ نہ کی اور اپنے قول و قرار پر قائم رہے۔ مرزا قادیانی علماء کی اس حالت سے واقف ہو چکے تھے کہ علماء اپنے قول میں پختہ اور سچے ہیں۔ اب وہ میری بات کی طرف توجہ نہ کریں گے۔ اس لئے اپنے مریدین کی عقیدت بڑھانے کو الہام منعہ مانع من السماء اتارا اور مریدین نے اس پر آمنا کہہ کر اخبار میں شائع کیا اور پیر صاحبؒ کی علمی واقفیت کو طشت از بام بتایا۔ مگر یہ شرم نہ آئی کہ مرزا قادیانی نے خود ہی پیر صاحبؒ کو مناظرہ پر آمادہ کیا اور بڑے زور وشور سے مناظرہ میں جانے کا وعدہ مشتہر کیا اور پھر نہ گئے۔ یہاں مرزا قادیانی کی علمی لیاقت کا راز طشت از بام نہ ہوا اور ان کے اقرار صریح کے بموجب خود جھوٹے اور ملعون نہ ٹھہرے۔ (شرم، شرم) بھائیو! کہیں تو سچی بات کا اقرار کرو اور اگر کچھ تردد ہو تو اس اجمال کی تفصیل بھی دیکھ لو اور روئیداد بعینہ آپ کے سامنے پیش کی جاتی ہے۔

روئیداد جلسہ اسلامیہ لاہور

متعلقہ مناظرہ عالی جناب پیر مہر علی شاہؒ سجادہ نشین گولڑہ شریف ودیگر علمائے عظام وصوفیائے کرام پنجاب، منجانب اہل اسلام۔ بمقابلہ مرزا غلام احمد قادیانی!

منعقدہ جامع مسجد شاہی لاہور بتاریخ ٢٧؍ اگست ١٩٠٠ء ”الحمد الله رب العالمین والعاقبۃ للمتقین والصلوۃ والسلام علیٰ رسولہ محمد وآلہ واصحابہ اجمعین برحمتک یا ارحم الراحمین“ ناظرین! ١٥؍ جنوری ١٨٩٩ء کو مرزا غلام احمد قادیانی پر ایک مقدمہ فوجداری میں زیر دفعہ ١٠٧، ضابطہ فوجداری بعدالت صاحب ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ بہادر ضلع گورداسپور بحیثیت ملزم تھا۔ اخیر تاریخ فیصلہ پر اس کو ایک مفصل اقرار نامہ بوجہ بریت لکھنا پڑا جس کی پہلی تین شرطیں حسب ذیل تھیں۔

١١

صفحہ ٤٨٨

کہ کسی شخص کو (مسلمان، ہندو، عیسائی وغیرہ) ذلت پہنچے گی یا وہ مورد عتاب الٰہی ہوگا۔

کرنے سے یا ایسے نشان ظاہر کرنے سے کہ وہ مورد عتاب الٰہی ہے یا یہ ظاہر کرے کہ مذہبی مباحثہ میں کون سچا اور کون جھوٹا ہے۔

رکھنے کی معقول وجہ رکھتا ہو کہ فلاں شخص ذلت اٹھائے گا یا مورد عتاب الٰہی ہوگا۔ اس اقرار نامہ کے تحریر کر دینے کے بعد چند روز تک بہ تبعیت اقرار نامہ مذکور مرزا قادیانی خاموش رہا۔ مگر اس کے پیروں میں اور بربنا اس کی خاموشی اختیار کرنے میں جب آمدنی اور چندہ پر ایک معتد بہ اثر پڑا اور الہامی یاقوتیوں کی تیاری میں فرق آیا اور پرانے رفیق منشی الٰہی بخش ملہم، منشی عبدالحق اکاؤنٹنٹ، حافظ محمد یوسف ضلع دار نہر، ڈپٹی فتح علی شاہ اور دیگر اچھے اچھے پیرو پھر گئے تو مرزا قادیانی کو ضرورت نفس نے مجبور کیا کہ پھر وہی پرانی طرز اختیار کر لی نیز اشتہار، منارۃ المسیح، معراج یوسفی، معیار الاخیار، نکالے۔ مگر اس سے بھی مطلب برآری نہ ہوئی تو سوچ کر حضرت پیر مہر علی شاہؒ سجادہ نشین گولڑہ شریف اور دیگر ٨٦ معزز علماء کرام وصوفیائے عظام کو بالخصوص اور باقی تمام علماء وصوفیاء پنجاب ہند کو بالعموم مباحثہ کے لئے مقام لاہور بمقابلہ خود دعوت دی اور ان الہامات سے کام لیا۔ جن کے عدم شیوع کی نسبت وہ اقرار نامہ مذکور الصدر میں اقرار کر چکا تھا اور یہ چاہا کہ پیر صاحبؒ موصوف میرے مقابلہ میں مباحثہ بہ تقریری وتحریری (تفسیر القرآن) کریں اور اپنے الہام ہائے متعددہ سے جتایا کہ پیر صاحبؒ ایسے مباحثہ کرنے میں بالکل ناکام رہیں گے۔ بلکہ یہاں تک لکھا کہ وہ اس مباحثہ کے واسطے لاہور تک بھی نہیں آئیں گے اور اگر ایسا کریں گے تو میرا غالب ہونا متصور نہ ہوگا۔ چنانچہ ایک جگہ لکھا ہے کہ: ”میں مکرر لکھتا ہوں کہ میرا غالب رہنا اس صورت میں متصور ہوگا کہ جب کہ پیر مہر علی شاہ صاحبؒ بجز ایک ذلیل اور قابل شرم اور رکیک عبارت اور لغو تحریر کے کچھ بھی لکھ نہ سکیں اور ایسی تحریر کریں جس پر اہل علم تھوکیں اور نفرین کریں۔ کیونکہ میں نے خدا سے یہی دعا کی ہے کہ وہ ایسا ہی کرے اور میں جانتا ہوں کہ وہ ایسا ہی کرے گا اور اگر پیر مہر علی شاہ صاحبؒ بھی اپنے تئیں مومن مستجاب الدعوات جانتے ہیں تو وہ بھی ایسی ہی دعا کریں اور یاد رہے کہ خدا تعالیٰ ان کی دعا ہرگز قبول نہیں کرے گا۔ کیونکہ وہ خدا تعالیٰ

١٢

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٤٨٩

کے امور مرسل کے دشمن ہیں۔ اس لئے آسمان پر ان کی عزت نہیں۔“

گو یہ اشتہار سخت بے ادبانہ اور نا قابل خطاب اور صریحاً خلاف شرائط اقرار نامہ محررہ و مذکورہ کے تھا۔ جو کہ مرزا قادیانی نے اس خیال پر شائع کیا تھا کہ علماء ہندوستان وغیرہ تو مجھے فتویٰ کفر دے چکے ہیں اور پیر صاحبؒ کبھی میرے مقابلہ میں آنے کی پرواہ نہیں کریں گے۔ کیونکہ (صوفیا بحث مباحثہ سے کنارہ کش رہتے ہیں اور اپنا وقت ایسے جھگڑوں میں ضائع نہیں کرنا چاہتے ہیں) پس نہ تو مقابلہ ہوگا اور نہ بحث بلکہ یونہی مفت کی شہرت سے میرا کام بن جائے گا۔ مگر دقت یہ واقع ہوئی کہ پیر صاحبؒ موصوف بنظر اس کے کہ مرزا قادیانی کو عوام الناس میں جھوٹی شیخی بگھارنے کا موقع نہ ملے بالمقابل اشتہار کے ذریعہ سے بوجہ ہمدردی اسلام مباحثہ کے لئے آمادہ ہو گئے اور حسب درخواست اس کے ٢٥؍ اگست ١٩٠٠ء تاریخ مباحثہ مقرر کی۔ چنانچہ تاریخ مذکور پر پیر صاحبؒ موصوف لاہور تشریف لے آئے۔ مرزا قادیانی کا اصلی منشاء تو صرف اپنی شہرت اور تشہیر کا تھا۔ بقول شاعر ؎

ہم طالب شہرت ہیں ہمیں ننگ سے کیا کام
بد نام بھی ہوں گے تو کیا نام نہ ہوگا

یہ مقصد تو اس ہتھکنڈے سے اچھی طرح حاصل ہو چکا تھا۔ باقی رہا واقعی مقابلہ سو ان کا جانگداز خیال مرزا قادیانی کو لاہور، دہلی، لدھیانہ وغیرہ مقامات کا وہ برا اور پردرد نظارہ کا سماں (جس میں اس کی خفت اور بے عزتی میں کوئی دقیقہ باقی نہیں رہا تھا) دکھلاتا تھا۔ اس لئے مرزا قادیانی نے لاہور تک آنا گوارا نہ کیا۔

پیر مہر علی شاہ صاحبؒ مورخہ ٢٤ تاریخ سے ٢٩؍ اگست ١٩٠٠ء برابر لاہور میں مقیم رہ کر مرزا قادیانی کی آمد کے منتظر رہے اور ہر دو وقت صبح ٧؍ بجے سے بارہ بجے دوپہر تک ونیز ٥؍ بجے سے ٧؍ بجے شام تک مجلس عامہ میں جس میں عموماً معززین اسلام و علماء کرام صدہا موجود ہوتے تھے۔ مرزا قادیانی کے عقائد کی تردید فرماتے رہے۔ مگر مرزا قادیانی لاہور نہ آئے۔ مورخہ ٢٤؍ اگست سے ٢٦؍ اگست کی شام تک انتظار کر کے جملہ سرکردگان اہل اسلام کی رائے سے تجویز ہوا کہ صبح مورخہ ٢٧؍ اگست ١٩٠٠ء کو مسجد شاہی واقع لاہور میں ایک عام جلسہ منعقد کیا جائے اور اس میں جو کارروائی من اولہ الیٰ آخرہ دربارہ مباحثہ و مناظرہ مولانا المکرم حضرت پیر مہر علی شاہ صاحبؒ و دیگر علماء عظام وصوفیائے کرام اور مرزا قادیانی کے مابین ہوئی ہے۔ ضبط تحریر میں

١٣

صفحہ ٤٩٠

لاکر پڑھی اور عوام الناس کو سنائی جائے اور آئندہ کے واسطے مرزائی حرکات کے متعلق مناسب تدابیر سوچی جاویں اور نیز جو صاحبان دور دراز مقامات سے تشریف لائے ہیں۔ ان کا شکریہ بھی ادا کیا جائے۔ باوجودیکہ یہ تدبیر نہایت تنگ وقت پر سوچی گئی تھی اور رات کے آٹھ نو بجے ایک معمولی منادی کے ذریعہ سے شہر میں اطلاع دی گئی تھی تاہم تقریباً آٹھ دس ہزار آدمی مسجد مذکور الصدر میں جمع ہو گئے۔ جناب پیر مہر علی شاہ صاحبؒ ودیگر مشائخ کرام وعلمائے عظام ساڑھے چھ بجے صبح کو تشریف لائے اور کارروائی جلسہ شروع ہوئی۔ وھو ھذا!

کے عقائد ہیں جو صریحاً مخالف قرآن کریم وسنت واجماع امت ہیں۔

نے وعظ فرمایا۔ جس کا ماحصل یہ تھا کہ رسول اکرم ﷺ اور صحابہ کرامؓ کے افعال واقوال یہ تھے۔ پس جو شخص ان کے مطابق چلنے والا ہے وہ ان کا پیرو ہے اور جو شخص اس کا مخالف ہے وہ مرتد اور کافر ہے۔ چنانچہ مرزا قادیانی کے افعال واقوال قطعاً مخالف سنت نبویہ وروش صحابہ کرامؓ ہیں۔ اس لئے اہل اسلام کو اس سے بچنا چاہئے۔

وکاروائی مباحثہ ایک تحریر پڑھی جس کا مضمون حسب ذیل ہے۔

حضرات ناظرین! مرزا غلام احمد قادیانی نے ایک مطبوعہ چٹھی بصورت اشتہار مطبوعہ مورخہ ٢٠/جولائی ١٩٠٠ء مشتہرہ مورخہ ٢٢/جولائی مرسلہ الیہ بذریعہ رجسٹری مخدومنا المعظم ومطاعنا المکرم عالی جناب حضرت خواجہ سید مہر علی شاہ صاحبؒ چشتی سجادہ نشین گولڑہ شریف ضلع راولپنڈی کے نام نامی پر بشمولیت دیگر علمائے کرام ومشائخ عظام ایدہم اللہ تعالیٰ وکثرہم کے بھیجی۔ جس کے پہلے دو صفحوں پر مرزا قادیانی نے اپنی عادت کے مطابق اپنے مرسل، مأمور من اللہ اور پھر مجدد، مہدی، مسیح ہونے کے ثبوت میں بخیال مخبوط خود دلائل پیش کئے اور عالی جناب حضرت پیر صاحبؒ موصوف اور دیگر علماء وفضلاء اسلام کو لکھا کہ میرے دعویٰ کی تردید میں کوئی دلیل اگر آپ کے پاس ہے تو کیوں پیش نہیں کرتے ہو۔ اس وقت میں مفاسد بڑھ کر ہیں۔

اس لئے مجھے مصلح کے عہدہ میں بھیجا گیا ہے۔ اخیر پر آپ تحریر فرماتے ہیں کہ اگر پیر صاحب ضد سے باز نہیں آتے یعنی نہ دوسرے دعاوی کی تردید میں کوئی دلیل پیش کرتے ہیں اور

١٤

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٤٩١

نہ مجھے مسیح وغیرہ مانتے ہیں تو اس ضدیت کے رفع کرنے کے واسطے ایک طریق فیصلہ کی طرف دعوت کرتا ہوں اور وہ طریقہ یہ ہے کہ پیر صاحب میرے مقابلہ پر دارالسلطنت پنجاب لاہور میں چالیس آیات قرآنی کی عربی تفسیر لکھیں اور ان چالیس آیات قرآنی کا انتخاب بذریعہ قرعہ اندازی کر لیا جاوے۔ یہ تفسیر فصیح عربی میں سات گھنٹوں کے اندر بیس ورق پر لکھی جاوے اور میں (مرزا قادیانی) بھی ان ہی شرائط سے چالیس آیات کی تفسیر لکھوں گا۔ ہر دو تفسیریں تین ایسے علماء کی خدمت میں فیصلہ کے لئے پیش کی جاویں کہ جو فریقین سے ارادت اور عقیدت کا ربط و تعلق نہ رکھتے ہوں۔ اگر علماء سے فیصلہ سنانے سے پہلے وہ مغلظ حلف لیا جاوے جو قذف محصنات کے بارہ میں مذکور ہے۔ اس حلف کے بعد جو فیصلہ یہ ہر سہ علماء فریقین تفسیروں کی بابت صادر فرماویں۔ وہ فریقین کو منظور ہوگا۔ ان ہر سہ علماء کو جو حکم تجویز ہوں گے فریقین کی تفسیروں کے متعلق یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ قرآن کریم کے معارف اور نکات کس کی تفسیر میں صحیح اور زیادہ ہیں اور عربی عبارت کس کی بامحاورہ اور فصیح ہے۔ اگر پیر صاحب خود یہ مقابلہ نہ کریں تو اور چالیس علماء مل کر میرے مقابلہ پر شرائط مذکور سے تفسیر لکھیں تو ان کی چالیس تفسیریں اور میری ایک تفسیر اسی طرح تین علماء کو فیصلہ کے لئے دی جاوے گی۔

مرزا قادیانی کی یہ چٹھی تو ١٢ صفحہ کی ہے۔ مگر اس کی دلخراش گالیاں ناجائز نامشروع اور بیہودہ بدظنیوں کو حذف کر دیا جاوے تو اس کا تمام ماحصل اور خلاصہ صرف یہی ہے جو اوپر کی چند سطروں میں لکھا گیا ہے۔ ہمیں نہ الہام کا دعویٰ ہے نہ وحی کا۔ مگر بقیاس غالب مرزا قادیانی کا اس خط میں حضرت پیر صاحب کو علی الخصوص مخاطب کرنا دو وجہ سے لگا۔

اوّل ...... یہ کہ صوفیائے کرام کا طریق و مشرب مرنج و مرنجاں کا ہوتا ہے۔ یہ لوگ گوشہ تنہائی میں عمر کا بسر کرنا غنیمت سمجھتے ہیں۔ کسی کی دل شکنی انہیں منظور نہیں ہوتی۔ پھر حضرت ممدوح کے دینی مشاغل اور مصروفیت سے بھی یہی قیاس ہو سکتا تھا کہ آپ عزلت نشینی اور لمبی مصروفیت کو ہر طرح سے ترجیح دیں گے اور اس طریق فیصلہ کو جو حقیقتاً مرزا قادیانی کے دعاوی کی تصدیق کا فیصلہ نہیں تھا۔ پسند نہیں فرماویں گے۔ جو ظاہر بینوں کی نظروں میں مرزا قادیانی کی کامیابی کا نشان ہوگا۔ نیز دوسرے علماء کرام کے ساتھ تحریری معارضہ کو چالیس والی شرط کے ساتھ گانٹھنا یہی راز رکھتا تھا۔ کوئی بتا سکتا ہے کہ مرزا چالیس سے کم علماء کے ساتھ کیوں ایسا تحریری مباحثہ نہیں کرتا۔ اس کی وجہ صرف یہی ہے کہ اس کو جھوٹی شیخی اور بیہودہ تعلی دکھانی مطلوب تھی۔ ورنہ اگر صرف تصدیق

١٥

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٤٩٢

دعویٰ اور ہدایت علماء مقصود ہوتی تو اس خاکسار نے جو ١٣؍ اگست ١٩٠٠ء کو ”سراج الاخبار جہلم“ میں بہ تسلیم جملہ شرائط مرزا قادیانی کو میدان مباحثہ میں بلایا تھا اور بعد ازاں خط بھی ارسال کیا تھا اور صاف لکھا تھا کہ مجھے بلاکم وکاست آپ کے جملہ شرائط منظور ہیں۔ آئیے جس صورت پر چاہئے مقابلہ کر لیجئے۔ اس کے جواب میں مرزا قادیانی ایسے بے خود ہوئے کہ اب تک کروٹ تک نہیں بدلی۔ وہ مضمون ہی اڑا دیا اور وہ خط ہی غائب کر دیا۔

دوم...... یہ کہ مرزا قادیانی حسب عادت مستمرہ خود اس لئے کہ فقط اس کو اپنی شہرت ہی مطلوب ہے۔ ہمیشہ نامی اشخاص کے مقابلہ میں مباحثہ کا اشتہار دے دیا کرتا ہے، اور اس طور پر دوسرے اشخاص کے مصارف سے اپنی شہرت کروا لیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس چٹھی میں بھی حضرت صاحب موصوف سے استدعا کرتا ہے کہ وہ جوابی چٹھی کی پانچ ہزار کاپی چھپوا کر اس مباحثہ کی شہرت دور دراز ملکوں میں کرا دیں اور یہ کاپیاں مختلف اطراف میں بھجوا دیں۔ لیکن فخر الاصفیاء والعلماء حضرت پیر صاحبؒ نے ایسے نازک وقت میں کہ اسلام کو ایک خطرناک مصیبت کا سامنا تھا۔ مرزا قادیانی کے مقابلہ میں آنے کو عزلت نشینی پر ترجیح دی اور حسب درخواست مرزا قادیانی قبولیت دعوت بصورت اشتہار مورخہ ٢٥؍ جولائی ١٩٠٠ء کو طبع کرا کر بذریعہ رجسٹری بتاریخ مورخہ ٤؍ اگست ١٩٠٠ء کو ارسال فرما دیا اور لکھ دیا کہ وہ خود مورخہ ٢٥؍ اگست ١٩٠٠ء کو (اس لئے کہ مرزا قادیانی نے تقرر تاریخ کا اختیار حضرت پیر صاحبؒ کو دیا تھا) لاہور آ جاویں گے۔ آپ بھی تاریخ مقررہ پر تشریف لے آویں۔ چونکہ مرزا قادیانی نے ٢٠؍ جولائی ١٩٠٠ء کی چٹھی میں طریق فیصلہ کی طرف دعوت کرنے سے پہلے اپنے دعاوی پر کئی استدلال پیش کئے تھے۔ چنانچہ آپ نے لکھا ہے کہ کسی حدیث سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ کبھی اور کسی زمانہ میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام جسم عنصری کے ساتھ آسمان پر چڑھ گئے تھے یا کسی آخری زمانہ میں جسم عنصری کے ساتھ نازل ہوں گے۔ اگر لکھا ہے تو کیوں ایسی حدیث پیش نہیں کرتے۔ ناحق نزول کے لفظ کی الٹے معنی کرتے ہیں۔

”انا انزلناہ فی لیلۃ القدر“ اور ذکرا رسولا کا راز نہیں سمجھتے۔ میری مسیحیت اور مہدویت کا نشان لرمضان میں کسوف وخسوف کا ہونا دیکھ چکے ہیں۔ پھر نہیں مانتے۔ صدی سے سترہ سال گزر گئے ہیں۔ پھر مجھے مجدد نہیں مانتے۔

یہ تمام استدلالات مرزا قادیانی نے اس طریق فیصلہ کی طرف دعوت کرنے سے پہلے

١٦

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٤٩٣

اسی چٹھی میں تحریر کئے ہیں اور صرف یہی ایک طریق فیصلہ پر اکتفا نہیں کیا۔ بلکہ ہر دو باتیں علی الترتیب پیش کی ہیں۔ اس لئے حضرت ممدوح نے بھی ہر دو طریق فیصلہ کو علی الترتیب ہی تسلیم کیا اور پسند فرمایا: کہ مرزا قادیانی سے اس کے اپنے استدلالات جو اسے اپنی چٹھی میں تحریری فیصلہ سے پیش کئے ہیں سن لئے جاویں اور مسیح علیہ السلام کا جسم عصری کے ساتھ آسمان پر جانے کی بابت حدیث بلکہ قرآن کریم کی قطعی الدلالت نص پیش کی جاوے، اور یہ بھی دریافت کر لیا جاوے کہ اگر مسیح کا بجسدہ العنصری آسمان پر جانا قرآن کریم کی نص صریح سے ثابت نہ ہو تو کیا کرنا چاہئے؟

کا نشان بھی نہیں رہا۔ حضرات مرزائی حواس درست کر کے اسے دیکھیں۔ اوّل تو موضوع حدیث پیش کی پھر اس کے معنی ایسے غلط بیان کئے کہ کوئی ادنیٰ ذی علم بھی اس کی غلطی میں تامل نہیں کر سکتا۔ حدیث ہی کی جستجو کی جاوے یا کیا؟ نیز سمجھ میں نہیں آتا کہ نزول کے وہ معنی جو اب تک تیرہ سو سال سے مجتہدین اور محدثین بلکہ صحابہ کرامؓ اور اہل بیت عظام نے نہیں سمجھا وہ کیا ہوں گے؟ اور یہ بھی سمجھ میں نہیں آتا کہ رمضان میں کسوف وخسوف جن تاریخوں پر ہوا ہے وہ کیونکر آپ کی مسیحیت کا نشان ہے۔ یہ سب امور احقاق حق کی غرض سے حضرت الممدوح (یعنی پیر صاحبؒ) مرزا قادیانی کی اپنی زبانی سننا ضروری خیال کرتے تھے اور بعد ازاں یہ قرار داد تھی کہ تحریری فیصلہ کی طرف رجوع کر لیا جاوے اور مرزا قادیانی کی قرار دادہ شرائط کے موافق تفسیر لکھی جاوے۔

اس عرصہ میں آج تک مرزا قادیانی کی طرف سے کوئی جواب نہ نکلا۔ البتہ ان کے بعض حواریوں کی طرف سے اشتہارات نکلے اور شائع ہوئے کہ تقریری مباحثہ کوئی شرط نہیں تھی۔ لیکن ان تحریرات کو اس لئے بے معنی خیال کیا گیا تھا کہ خود مرزا قادیانی کے اپنے اشتہار مشتہرہ مورخہ ٢٠؍جولائی ١٩٠٠ء میں جیسا کہ اوپر ذکر ہوا ہے۔ ہر دو امور فیصلہ علی الترتیب مطلوب تھے۔ اور پہلے ایک اشتہار میں مولوی محمد غازی صاحبؒ نے صاف طور پر مرزائی جماعت کو مطلع کر دیا تھا کہ پیر صاحبؒ صرف اس صورت میں قلم اٹھاویں گے یا کوئی مباحثہ کریں گے۔ جب کہ بالمقابل مرزا قادیانی خود میدان میں آوے یا کچھ تحریر کرے۔ ورنہ نہیں۔ پس حضرت پیر صاحبؒ کی جوابی چٹھی مطبوعہ مورخہ ٢٥؍جولائی ١٩٠٠ء خاص مرزا قادیانی کے نام پر تھی۔

١٧

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٤٩٤

بصورت ان کا مرزا قادیانی کو بذات خود جواب دینا چاہئے تھا۔ لیکن اس نے باوجود انقضائے عرصہ مزید ایک ماہ کے کوئی انکار شائع نہیں کرایا۔ بلکہ اپنے طریق عمل سے یہ تسلیم کرلیا کہ وہ اس امر پر راضی ہے کہ ہر دو طرح سے مباحثہ ہو جاوے۔

اس کے بعد ”حافظ محمد الدین صاحب تاجر کتب مالک و مہتمم کارخانہ مصطفائی پریس لاہور“ نے ایک ضروری چٹھی رجسٹری شدہ مرزا قادیانی کے سکوت پر چھاپ کر خاص مرزا قادیانی کے نام بھیجی اور عام مشتہر بھی کی۔ اس کی بھی کچھ جواب نہ آنے پر پھر انہوں نے رجسٹری شدہ چٹھی نمبر ٢ چھاپ کر مرزا قادیانی کو روانہ کی اور عام تقسیم کردی۔ مگر مرزا قادیانی کو کہاں ہوش و تاب کہ کچھ جواب دیتا۔

تاہم اس کا رہا سہا عذر رفع کرنے کے لئے ”حکیم سلطان محمود صاحب ساکن حال پنڈی“ نے (جس کی طرف سے پہلے بھی متعلق مباحثہ کئی ایک اشتہارات شائع ہوئے تھے) ایک مطبوعہ اشتہار بذریعہ جوابی رجسٹری مرزا قادیانی کے پاس ارسال کیا۔ جس کا آخری مضمون یہ تھا کہ اگر مرزا قادیانی کی علمی عملی کمزوریاں اس کو اپنی من گھڑت شرائط کے احاطہ سے باہر نہیں نکلنے دیتیں اور اسے ضد ہے کہ ان ہمارے بھی پیش کردہ شرائط کو تسلیم کرو تو ہم بحث کریں گے۔ ورنہ نہیں۔ تو خیر! لو یہ بھی سہی!

پیر صاحب تمہاری پیش کردہ شرطیں بعینہ جس طرح سے تم نے پیش کی ہیں۔ منظور کر کے تمہیں چیلنج کرتے ہیں کہ تم مقررہ تاریخ یعنی ٢٥؍ اگست ١٩٠٠ء کو لاہور آجاؤ۔

یہ اعلان عام طور پر مشتہر کیا گیا تھا۔ علاوہ اس اعلان کے جناب پیر صاحب بنظر تاکید مزید حافظ محمد الدین مالک مطبع مصطفائی لاہور کو بھی ایماء فرمادیا کہ ہماری طرف سے مرزا قادیانی کی تمام شرائط کی منظوری کا اعلان کردو۔ چنانچہ حافظ صاحب موصوف نے بذریعہ اشتہار مطبوعہ مورخہ ٢٤؍ اگست ١٩٠٠ء مشتہر کر دیا کہ آج بروز جمعہ ٤ بجے شام کو ٹرین میں بوجہ ہمدردی اسلام پیر صاحبؒ مرزا قادیانی کی تمام شرائط منظور کرکے لاہور تشریف فرما ہوں گے اور محمدن ہال انجمن اسلامیہ واقع موچی دروازہ لاہور میں بغرض انتظار مرزا قیام فرماویں گے۔ چنانچہ وہ اسی شام کی گاڑی میں مع دو تین سو علماء و مشائخ وغیرہ ہمراہیاں تشریف فرمائے لاہور ہوئے۔

حضرت ممدوح کی زیارت و استقبال کے لئے اس شوق اور ولولہ سے لوگ گئے کہ اسٹیشن لاہور اور بادامی باغ پر شانہ سے شانہ چھلتا تھا۔ شوق دیدار سے لوگ دوڑتے اور ایک

١٨ www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٤٩٥

دوسرے پر گرتے چلے جاتے تھے۔ حضرت ممدوح اسٹیشن سے باہر ایک باغ میں چند منٹ تک استراحت کر کے محمدن ہال موچی دروازہ میں مقیم ہوئے۔ لاہور کے علماء کرام جو آپ کی تشریف آوری کے منتظر تھے۔ آپ کے ساتھ شامل ہو گئے۔ نیز اور بھی علماء و مشائخ و معززین اسلام اضلاع، پشاور، پنڈی، جہلم، سیالکوٹ، ملتان، ڈیرہ جات، شاہ پور، گجرات، گوجرانوالہ، امرتسر وغیرہ وغیرہ مقامات سے بغرض شمولیت مجلس مناظرہ مصارف کثیرہ کے متحمل ہو کر آ پہنچے۔

کر دیکھے۔ اب دیکھئے کس طرف نکلتے ہیں۔ ”بے حیا باش آنچہ خواہی کن“ کو پڑھئے اور بھاگئے۔

کیوں نہ لکھا کہ ہم صرف تفسیر لکھنے کے واسطے لاہور آنے کو تیار ہیں۔ کیونکہ مرزا قادیانی خاموش اگر خود جواب کا خواہاں ہوتا تو پیر صاحب اس صورت میں اس کو فوراً جواب تحریر فرماتے۔ مگر اس وقت تو وہ ایسا دم بخود تھا کہ پناہ خدا!

مرزا قادیانی کے لاہوری پیروؤں نے مرزا قادیانی کے نام خطوط ٹیلی گرام اور ضروری قاصد روانہ کئے۔ بلکہ بعض گرم جوش چیلے نہایت مضطرب حالت میں قادیان پہنچے اور ہر چند اپنے پیر و مرشد مرزا قادیانی کو لاہور لانے کے لئے منت و سماجت کی، پاؤں پڑے۔ مگر مرزا قادیانی کی دلی کمزوری نے ان کو اپنے فدائی پیروؤں کی درخواست منظور کرنے کی طرف مائل نہ کیا اور وہ اپنے بیت الفکر ہی میں داخل دفتر رہا۔

حضرت پیر صاحبؒ مورخہ ٢٤؍ اگست ١٩٠٠ء سے آج تک لاہور میں رونق افروز ہیں اور مرزا قادیانی کا ہر ایک ٹرین میں بڑے شوق سے اس وقت تک انتظار ہو رہا ہے۔ مگر ادھر سے صدائے برنخواست کا معاملہ ہوا۔ یہ حقیقت میں خود مرزا قادیانی کے اپنے قول کے مطابق ایک ایسی عظمت و جلال کا کھلا نشان تھا۔ جس نے مرزا قادیانی کی جھوٹی اور بیجا شیخی کو کچل ڈالا اور آپ کے حواس کی وہ گت ہوئی کہ مقابلہ و مباحثہ لاہور تو درکنار آپ کو سوائے اپنے ”بیت الفکر“ کے تمام دنیا و مافیہا کی خبر نہ رہی اور ”وقذف فی قلوبہم الرعب بما کفروا“ کا مضمون دوبارہ دنیا کے صفحہ پر معرض ظہور میں آیا۔ برخلاف اس کے حضور پرنور حضرت پیر صاحب ممدوح کے دست مبارک پر خداوند نے وہ نشان ظاہر کر دیا جس کا ”وکان حقاً علینا نصر

١٩

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٤٩٦

المؤمنین“ میں وعدہ دیا گیا تھا۔ خداوند عالم نے حضرت سیدنا محمد رسول اللہ ﷺ کی مقدس اور بابرکت ذات پر نبوۃ اور رسالت کے تمام مدارج ختم کر دیئے ہیں۔ جس طرح پہلے سینکڑوں جھوٹے رسولوں کو غیرت الہی اور خود ان کے اپنے کفر و غرور نے انہیں ذلیل و خوار کر دیا تھا۔ ایسا ہی اس نے مرزا قادیانی کی جھوٹی مہدویت و رسالت، مسیحیت کا خاتمہ کر دیا اور آج دنیا پر بخوبی روشن ہو گیا، کہ سیدنا ومولانا محمد رسول اللہ ﷺ کے مخصوصہ مناصب اور مفوضہ مراتب کے اندر بیجا مداخلت کرنے والا اسی طرح سے علی رؤس الاشہاد روسیاہ ہوتا ہے، اور اپنے ہاتھوں خود ذبح ہو جاتا ہے۔ کیا غور وعبرت کا مقام نہیں ہے؟ خوب دیکھنا چاہئے کہ مرزا قادیانی نے بلا کسی تحریک کے خود بخود حضرت پیر صاحبؒ اور نیز ہند و پنجاب کے تمام مسلم الثبوت مشائخ وعلماء کو تحریری و تقریری مباحثہ کی دعوت کا وہ اعلان کیا۔ جس کی ہزارہا کاپیاں ہند و پنجاب کے تمام اضلاع واطراف میں مرزا قادیانی نے خود تقسیم کیں، اور اپنی عربی اور قرآن دانی میں وہ لاف زنی کی، کہ جس کا وہ خواب میں بھی خیال کرنے کا مستحق نہیں تھا۔ اس نے اپنے ہاتھوں سے لکھا: کہ اگر میں پیر صاحب اور علماء کے مقابلہ پر لاہور نہ جاؤں تو پھر میں (یعنی مرزا قادیانی) مردود، جھوٹا اور ملعون ہوں۔ اس شدومد کے اشتہار کے بعد جب اس کو پیر صاحب نے مع دیگر علمائے کرام بہ منظوری شرائط لاہور میں طلب کیا تو مرزا قادیانی کی طرف سے سوائے بزدلانہ گریز کے اور کوئی کارروائی نہ ظہور میں آئی۔ سخت افسوس کا موقعہ ہے کہ مرزا قادیانی کے مریدین مرزا قادیانی کے اس علانیہ جھوٹ کو ملاحظہ کریں۔ انہیں دنوں میں جب کہ پیر صاحبؒ خاص لاہور میں سینکڑوں علماء و فقراء اور ہزاروں مریدوں کے ساتھ تشریف رکھتے ہیں۔ اس مضمون کے اشتہارات شائع کر رہے ہیں کہ پیر صاحب مباحثہ سے بھاگ گئے اور شرائط سے انکار کر گئے۔

سبحان اللہ! ڈھٹائی اور بے شرمی ہو تو ایسی کہ ”دروغ گو را حافظہ نباشد۔“ اس موقع پر مرزا قادیانی کی مسیحی تعلیم پر سخت افسوس آتا ہے کہ کیا امام زمان کے تعلیم کا یہی اثر ہونا چاہئے کہ ایسا سفید جھوٹ لکھ کر مشتہر کیا جاوے، اور زیادہ افسوس اس پر ہے کہ ہندو اخبارات بھی مرزائیوں کی اس ناشائستہ حرکت پر نفرین کر رہے اور ہنسی اڑا رہے ہیں۔ میں از جانب اہالیان جلسہ جن کی تعداد کئی ہزار ہے اور پنجاب کے مختلف اضلاع کے رہنے والے ہیں۔ اس امر کا صدق دل سے اعتراف کرتا ہوں کہ پیر صاحبؒ نے مع ان علمائے کرام ومشائخ عظام کے جو آپ کے ساتھ

٢٠

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٤٩٧

شامل ہیں۔ اسلام کی ایک بے بہا خدمت کی ہے اور مسلمانوں کو بے انتہا مشکور فرمایا ہے اور ہزار ہزار شکر ہے کہ آئندہ کو بہت سے مسلمان بھائی مرزا قادیانی کے اس سلسلہ حرکات سے ان کے دام تزویر میں گرفتار ہونے سے بچ گئے۔ (الیٰ آخرہ) آخر میں مولانا صاحب نے ایک پرزور تقریر میں بالتفصیل یہ بھی بیان کیا، جو بوجہ

میں شریک تھے۔ کیونکہ اہل علم مرزائیوں کے متعدد مناظروں میں شریک رہے ہیں اور کہتے ہیں کہ جس قدر ناکامی اور ذلت مرزائیوں کو مونگیر کے مناظرہ میں ہوئی۔ کہیں نہیں ہوئی۔ مگر مرزائیوں نے اس کی کیفیت چھاپی ہے۔ اس کے ٹائٹل پر ”فتح عظیم“ لکھا ہے۔ اسی طرح جب لدھیانہ میں قاسم علی مرزائی کو شکست فاش ہوئی اور موافق شرط کے حکم سے تین سو روپیہ مولوی ثناء اللہ کو دلوایا۔ مگر اس کے بعد ایک مرزائی کا اشتہار نکلا۔ جس کے عنوان پر موٹے قلم سے لکھا تھا۔ ”فتح روحانی“ اس کذابی اور بے شرمی کا کیا ٹھکانا ہے؟

طوالت بیان درج نہیں ہوسکا۔ جس کا ماحصل یہ ہے کہ اس سے پہلے بھی دنیا میں مرزا قادیانی جیسے بلکہ اس سے بڑھ کر بہت سے جھوٹے نبی، مسیح، مہدی، بننے کا دعویٰ کرنے والے ہیں۔ پیدا ہو کر اور اپنے کیفر کردار کو پہنچ کر حرف غلط کی طرح صفحہ ہستی سے مٹ چکے ہیں۔

اس کے بعد مولوی تاج الدین احمد جوہر مختار چیف کورٹ پنجاب وسیکرٹری انجمن نعمانیہ نے مولانا مولوی محمد حسن صاحب کی تائید کی اور مرزا قادیانی کے چند اشتہارات اور ان کی اس قسم کی کاروائیوں پر نہایت تہذیب اور شائستگی سے نکتہ چینی کی۔ بعد ازاں جناب حضرت مولانا ابوسعد محمد عبدالخالق سجادہ نشین جہاں خیلان شریف نے مرزا قادیانی اور اس کی بیہودہ کاروائیوں کی نسبت چند ریمارک کئے۔

ظریفانہ نظم پڑھی۔ جس کی نسبت حضرت ابوسعید محمد عبدالخالق موصوف نے فوراً کھڑے ہو کر فرمایا یہ ظریفانہ نظمیں پڑھنے کا موقع نہیں ہے۔ بلکہ یہاں تو اقوال فیصل اہل الرائے علمائے

٢١

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٤٩٨

کرام کے بکار ہیں۔

میدان، فاتح قادیان) مرزا قادیانی کی تمام پیش گوئیوں کے غلط ثابت ہونے کی نسبت زبردست دلائل بیان فرمائے اور یہ بھی فرمایا کہ ایسے شخص کو مخاطب کرنا یا اس کی کسی تحریر کا جواب دینا بھی گویا علمائے کرام کی ہتک اور ان کی شان سے بعید ہے۔ ’’اعجاز المسیح‘‘ وغیرہ کے جواب نہ لکھے جانے کی وجہ آنکھیں کھول کر ملاحظہ کی جائے۔

متعلق تردید اور کچھ جناب پیر مہر علی شاہ صاحبؒ کی تشریف آوری کی نسبت تائیداً نہایت عمدگی سے بیان فرمایا۔

اے مثل ’’مسیلمۃ الکذاب وسجاح وعنسی ومحمد بن تومرت وغیرہم‘‘ سرزمین عرب میں اور ’’سید محمد جونپوری‘‘ ہندوستان میں پون صدی کے اخیر میں جس کے قدم بقدم مرزا قادیانی نے نبوت کے دعوےٰ میں شاگردی کی ہے۔ یہاں تک کہ اپنے بیٹے کا نام بھی اس کے بیٹے کے نام پر محمود رکھا۔

انجمن حمایت اسلام لاہور‘‘ نے چند آیات قرآن کریم واحادیث نبویہ اور نیز دلائل عقلیہ سے مرزا قادیانی کے عقائد باطلہ کی سخت تردید فرمائی۔

اس کے بعد ’’مولوی احمد الدین صاحب ساکن موضع بادشاہان ضلع جہلم‘‘ نے مرزائی خیالات کی تردید میں ایک مؤثر وعظ فرمایا اور آخر میں حضرت پیر صاحبؒ نے دعاء خیر کی اور تمام حاضرین جلسہ نے آمین کے نعرے بلند کئے۔

نتیجہ یا فیصلہ جلسہ ہذا

بلحاظ جملہ حالات مرزا قادیانی وحسب روئداد مندرجہ بالا جملہ علمائے کرام ومشائخ عالی مقام وروسائے عظام وحاضرین جلسہ اہل اسلام کی اتفاق رائے سے یہ قرار پایا کہ:

شہرت کے واسطے مخاطب کر کے دیگر اشخاص کے مصارف سے اپنی شہرت و مشہوری کرانا چاہتا ہے

٢٢

صفحہ ٤٩٩

اور یہی اس کا مقصود ہے۔

کر تکلیف دی، اور وقت پر مقابلہ میں آنے سے عمداً گریز کر کے اپنی لاف زنی سے ناحق صدہا بزرگان دین و معززین اہل اسلام کا وقت ضائع کیا۔ بلکہ کئی ایک طرح کے ہرج و ہزاروں روپیہ کے مالی نقصان کا انہیں متحمل کیا۔

ہیں۔

اپنے اشتہار (معیار الاخبار) میں یوں لکھتا ہے کہ: ”قل یا ایھا الناس انی رسول اللہ الیکم جمیعا یعنی اے غلام احمد تو تمام لوگوں کو کہہ دے کہ میں تمہارے لئے رسول اللہ ہوں۔“

قادیان کو بیت اللہ سے نسبت دیتا ہے اور عبادت گاہ قادیان کو مسجد اقصیٰ کہتا ہے اور معراج آنحضرت ﷺ سے منکر ہے۔

تحریریں شائع کر کے مسلمانوں کی دل شکنی کرتا ہے۔

کو دھوکے دے رہا ہے۔

ناجائز الفاظ سے لبریز ہوتی ہیں۔

ہندوستان وغیرہ فتویٰ کفر کا دے چکے ہیں۔

پس بلحاظ وجوہات مذکورہ بالا جملہ حاضرین جلسہ کے اتفاق رائے سے یہ قرار پایا کہ یہ شخص (یعنی مرزا غلام احمد قادیانی) مخاطب ہونے کی حیثیت نہیں رکھتا ہے اور شرمناک دروغگوئی

٢٣

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٥٠٠

ا؎ جیسا کہ اپنے قصیدہ میں حضرت امامنا وساداتنا نور عینین مصطفیٰ ﷺ وجگر گوشہ حضرت مرتضیٰ روحنا فداہم کی نسبت توہین صریح کی ہے جو آج تک کسی کافر، اکفر کی زبان سے بھی نہ نکلا ہوگا۔ قولہ وشتان مابینی وبین حسینکم، کے معنی پر اہل اسلام غور کریں۔ کسی مسلمان کی زبان سے یہ لفظ نہیں نکل سکتا ہے۔ البتہ کوئی یہودی یا متعصب نصرانی جس کو آنحضرت ﷺ سے عناد دلی ہو یہ لفظ نکال سکتا ہے۔

فانی اوید کل آن وانصر
واما حسین فاذکروا دشت کربلا
ولئ هذه الایام تبکوا وتنصروا

مجھ میں اور حسین میں فرق دیکھو کہ مجھ کو ہر وقت تائید اور نصرت ہے اور حسین کو یاد کرو مصائب کربلا جس کے لئے تم لوگ اب تک رو رہے ہو۔

می نهد فضل خودش برنور عین مصطفیٰ
میباید زبانش بیحیا خواهد شدن
قصهٔ دیرینه ظلم یزید پر جفا
حالیا تازه زدست مرزا خواهد شدن
آنکه نامور بصدیق صد نفرین بود
چون محمد زینت صل علی خواهد شدن

سے اپنی دکانداری چلانا چاہتا ہے۔ اس نے ہمیشہ بے اصول بحث اور متناقض دعاوی سے چال بازی اور حیلہ جوئی کو اپنا شعار کر لیا ہے اور شرفاء کی پگڑیاں اتارنے اور بازاری و عامیانہ حرکات سے اپنی روزی کمانے کا پاکھنڈ اس نے بنا رکھا ہے، اور مذہبی مباحثات میں جو آزادی ہماری عادل گورنمنٹ نے دے رکھی ہے۔ اس کو بے جا طور پر استعمال کر کے ہندوستان کے مختلف فرقوں میں فساد و عناد بڑھانا چاہتا ہے۔ اس لئے آئندہ کوئی اہل اسلام مرزا قادیانی یا اس کے حواریوں کی کسی تحریر کی پرواہ نہ کریں اور نہ ان سے مخاطب ہوں اور نہ انہیں کچھ جواب دیں۔ کیونکہ اس کے عقائد وغیرہ بالکل خلاف اسلام ہیں۔ جس قدر وقت نے گنجائش دی اور دستخط کرانے والے کی واقفیت نے تقاضا رکھا۔ مندرجہ ذیل علماء کرام ومشائخ عظام کے دستخط (بطور فتوٰی یا سند میں روئیداد ہٰذا کے) حاصل کرلئے گئے۔

٢٤

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٥٠١

حضرت خواجہ قادر بخش صاحب شمس عرفانی۔

غزنویؒ۔

گورنمنٹ کالج لاہور۔

٢٥

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٥٠٢

اسلام لاہور ۔

٢٦

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٥٠٣

سیکرٹری۔

تنبیہ: مرزا غلام احمد قادیانی اور اس کے حواریوں پر واجب ہے کہ وہ خواہ مخواہ گھر بیٹھے بیٹھے بزرگان دین و معززین اسلام کے نام نامی اپنی تحریروں میں شائع کر کے انہیں مخاطب کرنے سے باز رہیں۔ کیونکہ ایسی تحریروں سے بجز عامہ خلائق میں بدامنی پھیلنے کے اور کچھ حاصل نہیں۔ ہم ان فضول اور لچر تحریروں کے جواب دینے سے حسب ہدایت جلسہ اہل اسلام لاہور مجبور ہیں اور انہیں اب اختیار ہے کہ وہ ناحق بے گناہ کاغذوں کو اپنے نامہ اعمال کی طرح سیاہ کر کے جس قدر چاہیں زمانہ میں رسوائی اور ذلت حاصل کریں۔

بعد اختتام جلسہ دفتر دارالعلوم نعمانیہ مسجد شاہی لاہور میں صاحبان ذیل کی رائے سے

یہ تجویز ہوا۔

کہ جلسہ ہذا کی تمام کارروائی طبع کرا کے عموماً پبلک اور خصوصاً اہل اسلام کے اطلاع کے لئے شائع کر دی جائے۔ چنانچہ بوجہ طوالت سب بزرگوں کا نام نامی تو درج کرنے سے متعذر رہا۔ صرف ٢١ حضرات معززین و سر بر آوردہ رؤسائے عظام حاضرین جلسہ کے نام حسب ذیل درج کئے جاتے ہیں۔ جو جملہ تعداد ان بزرگان دین علمائے کرام و مشائخ عظام سابقاً نام بنام ٥٩ صفحہ گذشتہ میں درج ہو چکے ہیں اور اب یہ ٢١ رؤسائے اولوالعزم کا نام شامل کرنے سے

٢٧

صفحہ ٥٠٤

پورے ٨٠ حضرات کا نام زیب روئیداد ہوتا ہے۔ جس میں علمائے کرام نمبر ٢،٣، ص٢٦، روئیداد ہذا خود مرزا قادیانی خاموش (یعنی مرزا غلام احمد قادیانی) کے تجویز کردہ حکم بحمدہ تعالیٰ شانہ موجود ہیں۔ اب مرزا قادیانی کے فرار ورزی اور بزدلانہ کمزوری کا فیصلہ اس روئیداد سے بڑھ کر برادران اسلام کو خصوصاً اور پبلک کو عموماً نہیں مل سکتا اور نہ ایسی معتبر شہادت مرزا قادیانی کی سفیہانہ ذلت اور رسوائی پر خفت ہاتھ آسکتی ہے۔

آنریری مجسٹریٹ اوّل رئیس اعظم وزیر آباد و پریسیڈنٹ انجمن نعمانیہ لاہور۔

وکیل ہائی کورٹ پنجاب)

١؎ اس غرض سے کہ عموماً پبلک مرزائی دجل اور بدعہدی اور فریبانہ چال سے واقف ہو جائے اور خود مرزائیوں کو بھی ان کے ملہم ومسیح قادیانی کی کامیابی اور کرشمے معلوم ہو جائیں کہ اس قسم کا جھوٹا مسیح اگر دنیا میں مان لیا جائے تو اس کے پیروی کرنے والے کو راستی اور صداقت سے کس قدر بعد ہو جائے گا۔

گر ہمیں مکتب بود ہمیں ابن مرزا
کار طفلاں خراب خواہد شد

٢٨

صفحہ ٥٠٥

صاحب)

لاہور۔

ہزارہ۔

ان رؤسائے عظام کے علاوہ تمام حاضرین جلسہ جن کی تعداد ٨ ہزار سے کم نہیں اور دس ہزار سے زائد نہ ہوگی۔ کل اشخاص ان تجویز میں شریک رائے اور مرزا قادیانی کے بزدلانہ فرار ورزی اور شرمناک ذلت و رسوائی کے شاہد ہیں اور میں حلفاً یقین دلاتا ہوں اور باور کراتا ہوں کہ روئیداد کا ایک حرف بھی راستی اور صداقت سے باہر نہیں ہے اور نہ مرزائی کی طرح کوئی جھوٹ کی اس میں آمیزش ہے۔ بلکہ نہایت احتیاط سے مبالغہ آمیز تحریر سے بھی پاک وصاف ہے۔ وکفی باللہ شہیدا!

التماس!

بخدمت جمیع صاحبان دیگر مذاہب خصوصاً آریہ سماج

چونکہ مرزا غلام احمد قادیانی کے عقائد وغیرہ بالکل خلاف اسلام ہیں۔ اس لئے آپ صاحبان کو اطلاع دی جاتی ہے کہ آئندہ مرزا قادیانی کی کسی تحریر یا تقریر یا الہام وغیرہ کو اس کی بدزبانی کو مدنظر رکھ کر اہل اسلام کو مخاطب نہ فرماویں۔ بلکہ مرزا قادیانی کی جماعت کو مخاطب کریں۔ کیونکہ مرزا قادیانی مذکور جیسا اہل اسلام کا مخالف ہے۔ دیگر مذاہب کا مخالف نہیں ہے۔ اس لئے کسی جملہ سے آپ مسلمانوں پر کوئی اعتراض نہ فرماویں۔ بلکہ اور کسی کو اپنا نشانہ بنائیں۔

٢٩

صفحہ ٣٠

صاحبان ایڈیٹران اخبارات و رسالہ جات

جن کی خدمت میں یہ روئیداد پہنچی وہ ضرور اسے اپنے قیمتی پرچوں میں جگہ دے کر ہم خادمان اسلام کو مشکور فرمائیں۔ نیز شائقین سے بھی امید ہے کہ وہ بعد ملاحظہ خود اس روئیداد کے مشتہر کرنے میں حتی الوسع دریغ نہ فرمائیں۔ بلکہ ضروریات دین سمجھ کر اس کی اشاعت اور شہرت میں عملاً حصہ لے کر شریک حسنات ہوں۔ حضرت خلیفہ نبینا محمد مصطفیٰ ﷺ و حضرت شیر خدا علیؓ مرتضیٰ و حضرات امامین الہمامین سیدنا الحسن والحسین علیہم الصلوٰۃ والسلام کے روح پر فتوح کو خوشنود فرمائیں۔

صاحب شمس عرفانی۔

بہادر۔

حمایت اسلام لاہور۔

ضروری گذارش

حق پسند حضرات نے روئیداد ملاحظہ کر کے مرزا قادیانی کے دعوؤں کی حالت اجمالی طور پر معلوم کی ہوگی۔ میں نہایت سچائی اور مسلمانوں کی خیر خواہی سے کہتا ہوں کہ مرزا قادیانی کے تمام دعوؤں کی یہی حالت ہے۔ جس بات کا دعویٰ ان کے خیال میں آگیا اسے بڑے زور کرتے ہیں اور اس کے ساتھ لاجوابی کا دعویٰ بھی نہایت ہی زور و شور سے کر بیٹھتے ہیں کہ ضعیف القلب حضرات تو خواہ مخواہ کم وبیش خوف زدہ ہو جاتے ہیں اور قوی القلب اور متین بزرگ بیہودہ سمجھ کر خاموش رہتے ہیں۔ مرزا قادیانی کے دعوے جو بڑے زور و شور سے ہوتے ہیں۔ اس کی کئی وجہ معلوم ہوتی ہیں۔

PDF 511

انا خاتم النبیین لا نبی بعدی

سیدنا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ میرے بعد کوئی نبی نہیں۔

حقیقت مرزائیت

اور

تحقیق ناقد

جناب عبدالکریم ناقدؒ

صفحہ ٥٠٨

بسم الله الرحمن الرحيم! نحمدہ ونصلی علیٰ رسولہ الکریم!

دیباچہ

عرصہ کم و بیش پندرہ برس کا ہوا کہ میں بعد از تحصیل بعض علوم مروجہ وغیر مروجہ، علماء وفقراء اور احباب اصفیاء کے ذوق مصاحبت سے متاثر ہو کر مجاہدات کی سرشاری اور تنہائی طلبی کی خماری رکھتے ہوئے دریاؤں کی ساحلی چٹانوں اور جنگل کی پرخار وادیوں میں شب و روز کی خلوت گزینیوں اور چلے کشیوں میں مشغول تھا، کہ یکا یک آسمان نحوست پر اختر بدبختی نے طلوع کیا، اور محرکات شیطانیت نے تحریک قادیانیت کا فریضہ ادا کرتے ہوئے میرے دامان ایمان میں لغزش کی وجہ پیدا کر دی اور سادگی کے عالم میں کشاں کشاں مجھے قادیان لے جایا گیا۔

انسان کو قبل از وقت خدا تعالیٰ کے باریک در باریک اور نہاں در نہاں اسرار و تصرفات کا علم کیا ہو سکتا۔ کون کہہ سکتا تھا کہ میرے جیسے دور افتادہ کو کن کن تنگ اور پر خار راہوں سے حکیم مطلق نے گزار کر مقصود مطلوب تک پہنچانے کی عجیب غریب مشیت فرمائی ہے۔ الحمد لله علی ذالک!

المختصر قادیانیت کا طوق لعنت جو میرے لئے قسام ازل نے مقدر کر رکھا تھا۔ مجھے قبول کر کے جن جن حالات سے گزرنا پڑا وہ تصور کے منتہیٰ سے متجاوز ہو کر بھی بیان نہیں کیا جا سکتا۔ جماعت قادیان کی طرف سے آنریری مبلغ ہونے کے علاوہ دیگر کئی ذمہ دارانہ امور کا مجھے کارکن بنا رکھا گیا۔ ایمان و راستی کی بناء پر اخراجات زر و مال سے گریز اور قربانی جان و عزت سے پرہیز نہیں کیا گیا۔ جیلوں کی صعوبتوں اور دیگر کئی قسم کے مصائب کی عقوبتوں کی پرواہ نہیں کی گئی تھی۔ عزیزوں کے مقاطعوں اور پیارے دوستوں کی جدائیوں کے تلخ ترین کاسۂ صبر و برداشت سے پی پی کر بجاء الطاف محبت کے درد فراق احباب کو سلگتی ہوئی آگ کی طرح عشق و محبت کے بھرے دل میں دبا رکھا گیا۔ جس کی حقیقت و کیفیت کو اصحاب دل اور ارباب عشق ہی اندازہ کر سکتے ہیں۔ جنہوں نے کبھی اپنے پیارے احباء کی جدائی دیکھنے کا موقع پایا ہو۔ لیکن بایں ہمہ دل میں اپنے فرض منصبی کی ادائیگی کا وہ جوش تھا کہ حال سے یہی بیان ہوتا تھا ؎

جس زخم میں ہو ممکن تدبیر رفو کی

٢

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٥٠٩
لکھ دیجئے یا رب اسے قسمت میں عدو کی

میں نے اپنے وقت کو مندرجہ ذیل حصوں پر تقسیم کر رکھا تھا۔ بعد از نماز صبح و فراغت حاجات ضروریہ کے دوکان پر محنت کشی کے لئے عصر کی نماز تک رہتا ، اور پھر اس کے بعد مغرب تک کسی ایک شخص کو خود جا کر تبلیغ کرتا۔ بعد نماز مغرب بعض دوستوں سے ملاقات کرتا اور اس کے بعد پھر نماز عشاء ڈاک نویسی کا فریضہ ادا کرتا۔

اسی طرح خرچ کو بھی تقسیم کر رکھا تھا کہ ہر آمد کے تین حصے ہوتے تھے۔ ایک گھر کے اخراجات پر اور دوسرے دو تبلیغ ڈاک چندہ عام خاص اور مہمانوں وغیرہ کے اخراجات پر۔ اس امر کی باریک کیفیتوں کو بھی بیان کرنا دل ہلا دینے والی حرکت ہوگی۔

سفر کی حالت اس سے مستثناء ہے۔ میرے ساتھ میرے چھوٹے بھائی محمد عبدالرحیم طبیب حاذق بھی اس تیر اندازی زہد خشک کے شکار ہوتے رہے، اور گھر کے باقی تمام افراد بھی اسی طرح۔ میں اس بات کے ظاہر کر لینے میں بھی خدا کے فضل سے فخر کناں ہوں کہ مجھے اس رحمن و رحیم خدا نے رؤیا صالحہ اور کشوف والہامات کی چاشنی سے محروم نہیں رکھا ہوا تھا۔ مگر اس جماعت میں داخل ہونے سے میری قلبی کیفیت کبھی منتشر ہوئے بغیر نہیں رہتی تھی۔ وہ لذت جو جنگل کی خاردار جھاڑیوں کی صحبت میں روح کو نصیب ہوتی تھی۔ اس جماعت کے مقتدر کارکن اور خلیفہ قوم کے مقرب ہو کر بھی نہ دیکھی۔ آخر بعض رؤیا کی بناء پر پھر وہی بادیہ پیمائی کا رویہ اختیار کر لیا۔ میری بعض خوابوں پر ہمارے اس وقت کے پیر مغاں جناب خلیفہ صاحب قادیان بھر میں فخر کیا کرتے تھے، اور خدا کا فضل تھا کہ میرا رؤیا سچ ہوتا تھا۔ لیکن مجھے نہایت افسوس کے ساتھ ذکر کرنا ہے کہ ہمارے ہادی پوپ کی آج تک کوئی خواب پوری نہیں ہوئی۔ سوائے ایک خواب کے جس میں آپ نے دیکھا تھا کہ بخاری آپ کا ازار بند کھول رہا ہے۔ دو تین دفعہ بخاری نے ازار بند کھولا۔ مگر حضرت والا نے پاجامہ نہ اترنے دیا۔ ”الفضل“ میں یہ رؤیا شائع ہو چکا جو اس وقت بھی میرے سامنے موجود ہے۔ چنانچہ حضور والا کا یہ رؤیا سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ کے مقدمہ گورداسپور میں پیش ہونے سے کچھ پورا ہوا تھا اور میں نے اس وقت بھی آنجناب کو گورداسپور میں عرض کیا تھا کہ حضور آپ نے اس ازار بند بخاری کے کھولنے والے رؤیا کی جو تعبیر اخبار الفضل میں لکھوائی تھی کہ وہ میرا پردہ پھاڑے گا۔ وہ تقریباً پوری ہو چکی ہے اور یہ حضور کی پہلی ہی خواب ہے۔ جو میں نے پوری ہوتی دیکھی ہے۔ خیر بہر حال خدا قادر و قیوم اور رحیم و کریم نے اپنی صفت رحمانیت کے

٣

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٥١٠

ماتحت ہماری دستگیری کرتے ہوئے خود بخود ایسے سامان پیدا کر دیئے اور خلیفہ قادیان نے ایسی سکیمیں بنائیں جن میں ہمیں بھی شامل کیا گیا۔ لیکن جب اس کی تہ کو ہم نے دیکھا تو وہ سراسر تعلیم اسلام کے مخالف اور سیاسی چال پائی۔ اس بارہ میں حضور والا سے زبانی گفتگو ہونے پر کچھ مجھ پر عتاب ہونے لگا۔ مگر اب چونکہ مجھے حضور والا کی رندانہ پالیسی سے واقفیت ہو چکی تھی۔ اب عتاب کی پرواہ نہ کی گئی اور اس بات کا افسوس ہونے لگا کہ الٰہی ہم نے اپنی زندگی کا عزیز حصہ ایک ایسے شخص کے دام فریب میں پھنس کر گزار دیا ہے۔ جس کو صرف ؎

زن نوکن اے خواجہ ہر نو بہار
کہ تقویم پاریں نہ آئند بکار

کے سوائے اور کچھ ایمان کی فکر ہی نہیں۔ اب مجھے دل کھول کر خلیفہ کے حالات کا مطالعہ کرنے کی دھن لگ گئی اور خلیفہ اور ان کے رفقاء نے در پردہ میرے سوالات کے جواب دینے کی بجاء مجھ پر قانونی کاروائیاں کرانے کے لئے خطوط امور عامہ سے لکھوائے۔ مگر وہ خدا جس کے لئے ہم نے اپنی جان عزت کو وقف کر رکھا ہے۔ اس نے اس کی دسیسہ کاریوں کا پردہ چاک کر دیا۔ جس کو آج تک ہیر پھیر کے پردہ میں چھپا رہے ہیں۔ مگر خدا قادر اور غیور ان کے پردہ کو ضرور چاک کرے گا۔

ایک عرصہ تو میں نے ان کے عتاب برداشت کئے اور دیوانہ وار حالات دریافت کرنے میں قدم آگے ہی بڑھایا اور یہی خیال تھا کہ ؎

کر مجھے جوش جنوں اور ذرا خوار و ذلیل
مجھ پہ ایسا ہو کہ ناصح کو بھی عار آجائے

اب بجا طور پر مجھے یہ خیال پیدا ہوا کہ مرزا قادیانی کو ہم نے اپنی آنکھوں سے نہیں دیکھا۔ اس کی زندگی کا ہم نے مشاہدہ نہیں کیا اور اس کے ہاتھ پر ہم نے اپنے آپ کو قربان کر دیا ہے۔ اب اس کے حالات اور اقوال تجاویز سے اس کی دنیا داری بہ پیرایۂ مذہب کی ہمیں اطلاع ہو گئی ہے۔

کیا ناممکن ہے کہ مرزا قادیانی کی زندگی اور صداقت بھی جو اسی شخص نے ہمارے سامنے بیان کی ہے۔ دھوکا اور کذب سے کام لیا ہو۔ لہٰذا ہم نے اپنے خدا کی مرضی سے اس مرزائیت کے طوق لعنت کو گلے سے اتار پھینکا اور اپنے طور پر مرزا قادیانی کی زندگی کا مطالعہ اور تحقیق شروع کر دی اور اپنے احباب اور اکابر قوم کے ارشاد سے اصلاح خلق کے لئے اس تحقیق کو

٤

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٥١١

قلم بند کر دینا مناسب خیال کیا۔ پہلے اس کتاب کا حجم بہت زیادہ ہو چکا تھا اور شائقین تحقیق چاہتے ہیں کہ جلد طبع ہو کر ان سے یہ تحقیق خراج تحسین حاصل کرے۔ لہٰذا ان کی خواہش پر اس کے کئی حصص کر دیئے گئے ہیں اور حصہ اوّل آئندہ صفحات پر آپ ملاحظہ فرمائیں گے۔

اس تالیف میں، میں نے پورا اہتمام اس بات کا کیا ہے کہ کسی کی دل آزاری نہ ہو۔ پھر اس بات کا بھی پورا خیال رکھا گیا ہے کہ حوالہ جات عربیہ کا اردو ترجمہ کر کے لکھا جاوے۔ تاکہ ہر شخص اس سے فائدہ اٹھا سکے۔ جو عبارت مشکل الفاظ میں ملی اس کو اپنے سادہ اور عام فہم الفاظ میں لکھ دیا گیا۔

اس بات کا پورا التزام کیا کہ یہ کتاب مختصر ہو اور اس کی سب عبارتیں بطور تمہید ہی کے ہوں اور اس کے بعد اگر خدا چاہے تو دوسرے حصص میں تفصیل بیان کی جاوے۔

اس کتاب کی چار فصلیں ہیں۔ فصل اوّل حیات و ممات مسیح کے اختلافات میں، فصل دوم نبوت کے اختلافات میں۔ فصل سوم عبارتی اختلافات صریحہ میں۔ فصل چہارم متفرق امور میں اور اس کتاب کا نام ”تحقیق ناقد“ رکھا۔

احباب اگر کوئی غلطی یا سہو دیکھیں تو عفو سے کام لیں اور مطلع فرما کر عند اللہ ماجور ہوں۔ باقی پھر۔

خاکسار: عبدالکریم ناقد، پٹھانکوٹی سابق کارکن و مبلغ جماعت مرزائیہ قادیان مورخہ ٢٥؍اپریل ١٩٣٦ء

بسم اللہ الرحمن الرحیم! نحمدہ ونصلی علیٰ رسولہ الکریم! رب اشرح لی صدری ویسر لی امری واحلل عقدۃ من لسانی یفقھوا قولی!

فصل اوّل

در بیان مرزا قادیانی کی اختلاف بیانی کے

اصحاب علم و فطنت پر یہ بات مخفی نہیں ہے کہ مرزا غلام احمد قادیانی کے ابطال دعاوی کے لئے علماء ربانیہ نے بڑی بڑی ضخیم کتب اور دیگر ہر قسم کی معقولات و منقولات سے اپنی خدمات کو اسلام کے لئے نہایت قابل قدر طریقوں سے پیش کرنے میں کوئی دقیقہ اٹھا نہیں رکھا اور

٥

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٥١٢

مرزا قادیانی کی کوئی بات ایسی نہیں جس پر علماء نے مبسوط بحث نہ کر دی ہو۔ ہمیں اس صورت کے پیش نظر کچھ تحریر کرنے کا اہتمام مدنظر نہیں ہے۔

بلکہ مخلوق خدا کی اولیٰ ترین خدمت کا فریضہ ادا کرتے ہوئے ہمیں قادیانی جماعت کی ان رنگا رنگ اور بوقلموں اور سیاہ کاریوں کا جس قدر ذکر کرنا ہے جس کو انہوں نے سادہ مزاج بھولے بھالے مسلمانوں سے جلب زر اور حصول منفعت کا ذریعہ محض بنا رکھا ہے۔

مرزا قادیانی کی دعاوی خواہ کچھ بھی ہوں۔ ہمیں ان پر بجز اس صورت کے بحث کرنے کی قطعاً ضرورت نہیں کہ ان کے دعاوی کو من مانے رنگ دے کر موجودہ گدی نشینان قادیاں کس طرح دنیا لوٹ رہے ہیں۔ تاریخ اسلام اور اصول مذہب کی واقفیت رکھنے والے احباب سے یہ بات پوشیدہ نہیں کہ انبیاء علیہم السلام کے بعد ان کی جماعتیں اور ان کے خلفاء محض ان کے مقاصد کی پیروی کرانے کے لئے قائم ہوتے ہیں۔ لیکن ہم ثابت کریں گے کہ مرزا قادیانی کے پس ماندگان نے مرزا قادیانی کے بیان کردہ مقاصد کو بھی (خواہ نیک تھے یا بد) چھوڑ کر اور کم و بیش کر کے بھی جو مقصد نکل سکا جرات سے نکال لیا۔ جس سے حصول منفعت میں کسر نہ آنے دینا انہیں مدنظر رہا۔ ان کے حالات کو مفصل ایک جلد میں لکھ دینا حیطہ امکان سے باہر ہے۔ لیکن مختصراً مناسب مقامات پر ہم اپنے مدعاء اہتمام کو ثابت کرنے کی حتی الوسع کوشش کئے بغیر نہیں رہیں گے۔ سچ ہے کہ ؎

خشت اوّل چوں نہد معمار کج
تا ثریا می رود دیوار کج

اگر مرزا قادیانی کا کوئی مقصد خدا ترسی اور راست بازی کے ماتحت مخلوق خدا کی بہبودی کے سامان مہیا کرتا ہوتا تو خدا تعالیٰ ان کی نیکی کو پس ماندہ لوگوں کے ہاتھوں ضائع نہ ہونے دیتا۔ مگر واقعات اور نتائج سے ثابت ہوا ہے کہ مرزا قادیانی نے جس نیت سے یہ بیج بویا تھا۔ وہ نیت بارآور ہونے والی نہ تھی اور نہ ہوگی۔

ہم آئندہ صفحات پر اپنے ناظرین کی ضیافت طبع کے لئے مرزا قادیانی کے دعاوی کی نیرنگیاں پیش کریں گے۔ جس سے ہمارے بیان کردہ دعوٰی کی پوری تصدیق ہو جاوے گی۔ بااللہ التوفیق!

چنانچہ مرزا قادیانی نے اپنی سب سے پہلی کتاب ”براہین احمدیہ“ جو ١٨٨٤ء میں طبع ہوئی۔ اس میں مرزا قادیانی نے اگرچہ علماء زمانہ کی مومنانہ سادگی سے فائدہ اٹھاتے ہوئے چالاکی

٦

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٥١٣

آمیز باتیں کر کے اپنے لئے آئندہ دعاوی کا پینترا بنانے کی بنیاد تو رکھ دی تھی۔ مگر بعض ایسی باتیں بھی اس تالیف میں تکلف کے ساتھ لکھ دی تھیں۔ جنہوں نے علماء زمانہ کی توجہ کو مرزا قادیانی کی ان باریک چالاکیوں کی طرف بجا طور پر نہ جانے دیا۔

اس کتاب میں مرزا قادیانی نے حضرت مسیح ناصری علیہ السلام کو اسی طرح زندہ آسمان پر تصور کیا اور اس کا اظہار کر دیا جس طرح کہ دوسرے مسلمانوں کا عقیدہ تھا۔ اس پر حضرت مولوی محمد حسین صاحب مرحوم بٹالوی پاک طینت عالم نے ایمانداری سے ”ریویو“ لکھا۔ کیونکہ خدا کسی انسان کی نیکی کو ضائع نہیں کرتا اور انسان بھی اگر انسان کی نیکی کا اعتراف نہ کرے تو ”من لم یشکر الناس لم یشکر اللہ“ کی وعید سے گنہگار ٹھہرے۔ آج کل مرزائی حضرات مولانا موصوف مرحوم کے ریویو کو بطور سند پیش کر کے مرزا قادیانی کی سچائی ثابت کرنے کی بے سود کوشش کیا کرتے ہیں۔

حالانکہ جو چیز اس وقت اچھی تھی اس کو اچھی اور جو چیز بعد میں بری تھی اس کو بری مولانا موصوف مرحوم نے قرار دے کر ایمانداری کا ثبوت دیا تھا۔ لیکن مرزائی لوگ دوسری چیز کو جو مولانا نے ظاہر فرمائی پیش نہیں کرتے۔ ہم مرزا قادیانی کے دل آزار طریق عمل کو پیش کر کے اپنے ناظرین کی اور حساس طبائع کو منقبض کرنا نہیں چاہتے۔

صرف ”براہین احمدیہ“ کی تالیف کے زمانہ میں جو مرزا قادیانی کے عقائد تھے ان کو بعد کی تحریرات سے مقابلہ کر کے دکھلائیں گے۔ تاکہ معلوم ہو سکے کہ علماء وقت کی خاموشی سے فائدہ اٹھاتے ہوئے مرزا قادیانی نے بعد میں کیا کیا اقدام کئے۔

اور پھر ان کے بعد ان کی پسماندہ جماعت اور موجودہ خلیفہ صاحب نے کیا کیا حاشیہ آرائیاں کر کے جلب زر کے طرق کو مضبوط کیا ہے۔ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ: ”لو کان من عند غیر اللہ لوجدوا فیه اختلافا کثیرا“ {اگر یہ قرآن خدا کی طرف سے نہ ہوتا تو اس میں رنگا رنگ کی باتیں ایک دوسری کے برخلاف پائی جاتیں۔}

اور مرزا قادیانی بھی لکھتے ہیں کہ: ”جھوٹے کی کلام میں تناقض ضرور ہوتا ہے۔“ پس ہم مرزا قادیانی کے دعاوی کو اس معیار پر پرکھنے کے لئے مجبور ہیں کہ درست ہیں یا نہیں۔ براہین احمدیہ میں مرزا قادیانی نے ایک آیت قرآنیہ لکھ کر حیات مسیح ناصری کو ثابت کیا ہے۔ چنانچہ وہ لکھتے ہیں: ”هو الذی ارسل رسوله بالهدى ودین الحق ليظهره علی الدین کله“ اس آیت میں جسمانی اور سیاست ملکی کے طور پر حضرت مسیح کے حق میں پیش گوئی ہے اور جس غلبۂ دین

٧

صفحہ ٥١٢

کاملہ اسلام کا وعدہ دیا گیا ہے۔ وہ غلبہ مسیح کے ذریعہ ظہور میں آئے گا اور جب حضرت مسیح علیہ السلام دوبارہ اس دنیا میں تشریف لائیں گے تو ان کے ہاتھ سے دین اسلام جمیع آفاق واقطار میں پھیل جائے گا۔

(براہین احمدیہ ص ٤٩٨، خزائن ج١ ص ٥٩٣)

تاحال آنجناب کی توجہ اس بوقلموں طرق کی طرف کماحقہ مبذول نہیں ہوئی تھی کہ یہ مختلف رنگ مسیح کی وفات ثابت کرنے سے پیدا ہوں گے ورنہ حضرت مسیح کی حیات کا ذکر تک نہ کرتے۔ اس کے بعد جب کتاب براہین احمدیہ چھپ کر علماء سے ریویو حاصل کرچکی تو مرزا قادیانی کو خیال پیدا ہوا کہ علماء ملت بالکل بھولے مسلمان ہیں اور انہوں نے اس کتاب کو نظر تحسین سے قبول فرمالیا ہے۔ اگر میں کوئی اور اقدام کر کے آگے بڑھوں تو بھی علماء زمانہ برداشت کر لیں گے اور خوب مزے کی گذرے گی۔

اس خیال نفسانی نے مرزا قادیانی کو آئندہ دعاوی کی جرأت پر آمادہ کر دیا اور انہوں نے جدت طرازی کی شان میں دعوے گھڑنے شروع کر دیئے اور پھر کیا تھا شب و روز بے چینی میں گذرنے لگے اور زبان دل سے ہر وقت یہ جاری ہوا کہ ؎

پھیر دے میری طرف اے سارباں جگ کی
مہار

اور روپیہ اکٹھا کرنے کی دھن سوار سر بن گئی۔ جیسا کہ ہم اصل موقع پر درج کریں گے۔ بااللہ التوفیق!

اس کے بعد مرزا قادیانی ١٨٩١ء تک تین کتابیں یعنی ”توضیح المرام، فتح اسلام اور ازالہ اوہام“ تالیف کیں۔ اس وقت مرزا قادیانی رسالہ ”فتح اسلام“ میں لکھتے ہیں ؎

کیا شک ہے ماننے میں تمہیں اس مسیح کے
جس کی مماثلت کو خدا نے بنا دیا
حاذق طبیب پاتے ہیں تم سے یہی خطاب
خوباں کو بھی تو تم نے مسیحا بنا دیا

(فتح اسلام ٹائٹل ، خزائن ج ٣ ص ١)

یعنی مجھے مسیح ماننے میں اے لوگو تمہیں کیا شک ہے۔ جب کہ تم حکیم اجمل خاں صاحب کو مسیح الملک اور معشوقوں کو بھی مسیحا کے الفاظ سے پکار لیتے ہو۔ غرض کسی طرح مجھے مسیحا مان لو۔ اس پر اعتراض ہونے لگے کہ مسیح تو آسمان پر ہے۔ مرزا قادیانی مسیح کس طرح ہو سکتے

٨

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٥١٥

ہیں؟ تو اس کے بعد مرزا قادیانی نے حضرت مسیح ناصری کو وفات یافتہ قرار دینا شروع کر دیا۔

چنانچہ وہ لکھتے ہیں کہ ؎

ابن مریم مر گیا حق کی قسم داخل جنت ہوا وہ محترم
مارتا ہے اس کو فرقاں سر بسر اس کے مرجانے کی دیتا ہے خبر
وہ نہیں باہر رہا اموات سے ہو گیا ثابت یہ تیس آیات سے
کوئی مردوں سے کبھی آیا نہیں یہ تو فرقاں نے بھی بتلایا نہیں
عہد شد از کرد گار بے چگوں غور کن درانہم لا یرجعون
اے عزیزو سوچ کر دیکھو ذرا موت سے بچتا کوئی دیکھا بھلا
یہ تو رہنے کا نہیں پیارو مکاں چل بسے سب انبیاء و راستاں
ہاں نہیں پاتا کوئی اس سے نجات یونہی باتیں ہیں بنائی واہیات
کیوں تمہیں انکار ہے اصرار ہے یہ ہے دیں یا سیرت کفار ہے
برخلاف نص یہ کیا جوش ہے سوچ کر دیکھو اگر کچھ ہوش ہے
کیوں بنایا ابن مریم کو خدا سنت اللہ سے وہ کیوں باہر رہا
مر گئے سب پر وہ مرنے سے بچا اب تلک آئی نہیں اس پر فنا
مولوی صاحب یہی توحید ہے سچ کہو کس دیو کی تقلید ہے

(ازالہ اوہام ص ٦٥٧، خزائن ج ٣ ص ٥١٣)

لکھتے ہیں کہ: ”منجملہ افادات امام بخاریؒ کے جن پر ہمیں شکر کرنا چاہئے ایک یہ ہے کہ انہوں نے صرف اس قدر ثابت نہیں کیا کہ حضرت مسیح علیہ السلام فوت ہو چکے ہیں۔ بلکہ احادیث نبویہ کی رو سے یہ بھی ثابت کر دیا ہے کہ جو شخص فوت ہو جاوے پھر اس دنیا میں نہیں آ سکتا۔“

(ازالہ اوہام ص ٧٦١، خزائن ج ٣ ص ٥١١)

ان اشعار اور عبارات کو لکھ کر مرزا قادیانی نے جو کچھ ثابت کرنا چاہا ہے۔ وہ یہ کہ جس مسیح نے آنا تھا وہ میں ہوں اور مسیح موسوی فوت ہو چکا ہے۔ لیکن عبارات مندرجۃ الصدر سے جو نتائج نکلتے ہیں وہ مجملاً درج ذیل ہیں۔

٩

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٥١٦

بات قرآن نے کہیں نہیں بتائی کہ کوئی شخص مر کر زندہ ہوتا ہے۔

کا کام ہے۔

کو زندہ ماننے والا شیطان کا چیلہ ہوتا ہے۔

احسان کیا ہے کہ وہ پھر زندہ ہو کر نہیں آ سکتا۔

ناظرین کرام! اب ہم چاہتے ہیں کہ مرزا قادیانی کی ایک اور دور از کار عبارت کو درج ذیل کر کے پھر ان عبارات کے اثرات کا ذکر تفصیل سے کریں۔ چنانچہ مرزا قادیانی لکھتے ہیں کہ: ”مسیح کی وفات اس کے عدم نزول اور اپنے مسیح ہونے کے الہام کو میں نے دس سال تک ملتوی رکھا۔ بلکہ اس کو رد کر دیا۔“

(حمامۃ البشریٰ ص ١٣، خزائن ج ٧ ص ١٩١)

قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ: ”یا ایھا الرسول بلغ ما انزل الیک من ربک“

پھر فرماتے ہیں: ”اتامرون الناس بالبر وتنسون انفسکم“ {کہ اے نبی جو کچھ تجھے خدا کی طرف سے پہنچے تو فوراً لوگوں کو پہنچا دے، اور لوگوں کو ایسی باتیں نہ بتا جس پر تو خود عامل نہیں۔}

اب ہم اپنے ناظرین کو مرزا قادیانی کی عبارات مندرجہ الصدر سے ہی مرزا قادیانی کا تاریک ایمان روشن کرتے ہیں۔ وہ یہ کہ اگر مرزا قادیانی کو کوئی الہام ہو چکا تھا کہ حضرت مسیح فوت ہو چکے ہیں، تو انہوں نے براہین کے زمانہ میں اس کو ظاہر کیوں نہیں کیا؟ اور ان کا کیا حق تھا کہ خدا کے الہام کو رد کر کے لوگوں کو خوش کرتے؟ اور اگر مسیح کے مرجانے کی قرآن کریم خبر دیتا تھا تو مرزا قادیانی نے نص قرآنی کو کیوں بے جا طور پر چھپا رکھا؟ پھر کہتے ہیں کہ یہ تیس آیات قرآنیہ سے ثابت ہے کہ مسیح فوت ہو چکا۔ اگر کوئی ایک آیت ہوتی تو مرزا قادیانی کو شک بھی ہوتا۔ تیس

١٠

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٥١٧

آیات کو رد کرنا کون سی مسلمانی ہے ۔

کچھ تو ہے جس کی پردہ داری ہے

اگر کوئی یہ سوال کرے کہ اس وقت مرزا قادیانی کو کوئی صریح الہام وفات مسیح کے متعلق نہیں ہوا تھا۔ جسے وہ اس کا اظہار کرتے؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ اگر صریح الہام اس وقت نہیں ہوا تھا، تو کوئی مبہم الہام ہی جو اس وقت ہوا ہو ظاہر کیا جاوے۔ جس کی بناء پر مرزا قادیانی نے (حمامتہ البشریٰ ص ١٣، خزائن ج ٧ ص ١٩١) پر لکھا کہ : ”میں نے عدم نزول مسیح کے الہام کو دس سال تک ملتوی رکھا۔ بلکہ رد کر دیا ۔“ وہ آخر الہام کون سا ہے اور اگر ہے تو اس کو رد کرنا مرزا قادیانی کو مسلمان ثابت کرنا ہے۔

ہمارا دعویٰ ہے کہ الہام اس وقت نہیں تھا۔ یہ ایک چال تھی جس کو ”براہین احمدیہ“ کے طرف منسوب کیا گیا۔ تا کہ جو لوگ براہین احمدیہ کے مداح ہیں۔ وہ اس بات کو فوراً تسلیم کر جائیں۔ ورنہ مرزائی صاحبان یہ بتائیں کہ وہ الہام کیا تھا؟ جس کو مرزا قادیانی نے دس سال تک رد اور ملتوی کئے رکھا؟

اور پھر جب مرزا قادیانی نے خدا کی قسم اٹھا کر وفات مسیح کا اظہار کیا تو یہ کون سے صریح الہام کی بناء پر کیا ۔

نہ خنجر اٹھے گا نہ تلوار ان سے
یہ بازو میرے آزمائے ہوئے ہیں

پس جب یہ ثابت ہو چکا کہ مرزا قادیانی کو کوئی اس کے متعلق نہ پہلے اور نہ بعد غرض کسی قسم کا الہام نہیں ہوا، اور مرزا قادیانی نے تاویلات سے اپنے اقدام بڑھائے۔ جیسا وہ خود لکھتے ہیں کہ قرآن کی تیس آیات سے یہ بات تحقیقاً ثابت ہوئی ہے کہ مسیح فوت ہو چکا اور امام بخاریؒ نے ہم پر مہربانی کی جو اس کا ذکر کیا۔ یعنی قرآن اور حدیث کے مطالعہ اور تاویلات سے یہ باتیں ثابت ہوتی ہیں تو سوال ہوتا ہے کہ براہین احمدیہ کے دس سال بعد امام بخاریؒ نے اس تشریح کو بیان کیا تھا اور اگر پہلے یہ باتیں قرآن اور حدیث میں موجود تھیں تو مرزا قادیانی بھی اگر بیان کرتے تو کون سا گناہ تھا؟

اگر قادیانی حضرات یہ کہیں کہ مرزا قادیانی نے اس وقت بخاری شریف کا مطالعہ نہیں کیا تھا اور اگر اس وقت بخاری شریف کا مطالعہ مرزا قادیانی نے کیا بھی ہوتا تو وہی گل کھلاتے جو

١١

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٥١٨

بعد میں مطالعہ کے ”ہٰذا خلیفۃ اللہ المہدی“ کی حدیث کو بخاری کی طرف منسوب کرنے میں، مگر ہم اس بات کو بھی ظاہر کر دیتے ہیں کہ مرزا قادیانی کا بیان ہے کہ انہوں نے براہین احمدیہ لکھنے سے پہلے سب مذاہب کی کتب کا مطالعہ کر لیا تھا۔ چنانچہ وہ لکھتے ہیں ۔

بہر مذہب غور کردم بسے
شنیدم بدل حجت ہر کسے
بخواندم زہر ملتے دفترے
بدیدم زہر قوم دانشورے
ہم از کود کی سوئے ایں تاختم
دریں شغل خود رابیندا ختم
جوانی ہمہ اندریں با ختم
دل از غیر ایں کار پر دا ختم

(براہین احمدیہ ص ٩٥، خزائن ج ١ ص ٨٥)

ان اشعار سے صاف ثابت ہے کہ مرزا قادیانی نے براہین احمدیہ کی تالیف سے پہلے تمام مذاہب کی کتب کو پڑھ لیا تھا۔ جس میں بخاری، قرآن کریم وغیرہ سب شامل ہیں، اور اس وقت بھی مرزا قادیانی اس عقیدہ کو لکھ دیتے مگر مصلحت آسمانیہ کہ جس کو جھوٹا ثابت کرنا ہے۔ اس کی بنیاد ہی غلط رکھی جاتی ہے۔

پھر بقول مرزا قادیانی اگر قرآن کریم سے مردوں کو زندہ ہونا ثابت نہیں ہوتا تو علماء اسلام نے کب یہ کہا ہے کہ مسیح علیہ السلام مردہ ہیں، اور دوبارہ زندہ ہو کر دنیا پر تشریف لائیں گے۔ یہ تو عجیب چالاکی ہے کہ پہلے خود ایک بات گھڑتے ہیں اور اس پر رونا رو کر علماء کی طرف منسوب کرتے ہیں۔ علماء کا تو عقیدہ ہے کہ مسیح آسمان پر زندہ ہیں اور وہ دوبارہ تشریف لائیں گے۔

مرزا قادیانی کو تو چاہئے تھا کہ وہ علماء کرام کے اس عقیدہ پر کہ مسیح آسمان پر زندہ ہیں اور دوبارہ تشریف لائیں گے پر بحث کرتے۔ مگر بر خلاف اس کے وہ لکھتے ہیں کہ مردہ دوبارہ زندہ نہیں ہوا کرتا۔ پھر مسیح کس طرح آ سکتا ہے۔

چہ دلاور است دزدے کہ بکف چراغ دارد

اور پھر مرزا قادیانی لکھتے ہیں کہ قرآن نے تو کہیں نہیں کہا کہ مردہ زندہ ہو کر واپس آتا

١٢

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٥١٩

ہے۔ مرزا قادیانی کی قرآن دانی کے قربان۔ ان کو اتنا بھی پتہ نہیں کہ قرآن کریم میں ”اوکالذی مر علی قریة وھی خاویة علی عروشھا (بقرہ:٢٥٩)“ سے حضرت عزیر نبی کا قصہ شروع ہوتا ہے کہ وہ بھی سو سال تک مرا رہا۔ پھر خدا نے اس کو زندہ کیا۔ اب مرزا قادیانی کو قرآن سے اگر کچھ سوجھی تو وفات مسیح کی تیس آیات سوجھیں۔ لیکن دوسرے حصے اب بھی مرزا قادیانی سے بیگانہ ہیں یا مرزا قادیانی ان سے روٹھے ہوئے ہیں۔

اب بتائیں پسماندگان یا گدی نشینان قادیان اس مسئلہ میں؟ کہ مردہ دوبارہ زندہ ہوا یا نہیں؟ اس سے ہمارا مطلب مسیح کی حیات کو یا موت کو ثابت کرنا نہیں۔ صرف مرزا قادیانی کی دو رنگیوں پر روشنی ڈالنا ہے کہ کس کس رنگ سے مرزا قادیانی نے لوگوں کی توجہ کو دوسری طرف پھیرانا چاہا ہے اور علماء کی سادگی سے فائدہ اٹھایا ہے۔

پھر مرزا قادیانی کا یہ لکھنا کہ حضرت مسیح کو زندہ ماننا کفار کی سیرت ہے اور کافروں کا کام ہے۔ کس قدر دیدہ دلیری ہے۔

ہم قادیانی حضرات سے پوچھتے ہیں کہ جب تک مرزا قادیانی نے حضرت مسیح علیہ السلام کو زندہ قرار دیا اور یہی عقیدہ رکھا، کہ وہ آسمان پر زندہ ہیں اور اسلام کی بہت سی ترقیات کو ان کے دوبارہ دنیا میں آنے کے ساتھ وابستہ کیا تو اس وقت مرزا قادیانی کفار کی سیرت رکھتے تھے؟ یا یہ حکم اس نے بعد میں گھڑا ہے اور ١٨٩١ء تک مرزا قادیانی شرک اعظم میں مبتلا رہے اور ان کی سابقہ زندگی کفر اور شرک میں گزری۔ ثابت ہوتی ہے یا نہیں؟

اب کیا فرماتے ہیں حیلہ جویان قادیان اس مسئلہ میں کہ مرزا قادیانی اور ان کے رفقاء تحدی کے ساتھ ساتھ۔

”قد لبثت فیکم عمراً من قبلہ افلا تعقلون“ کے ماتحت مرزا قادیانی کی سابقہ زندگی کو پاکیزہ اور معصوم قرار دیتے ہیں۔ آپ لوگ حق بجانب ہیں یا صریح دھوکا سے کام لیتے ہیں۔ کیا ایسا شخص جس نے پچاس برس عمر تک کفر اور شرک عظیم کیا ہو وہ اپنے دعاوی کو خدا کی طرف منسوب کرنے میں صادق ٹھہر سکتا ہے؟

قاصد کے آتے آتے خط اک اور لکھ رکھوں
میں جانتا ہوں وہ جو لکھیں گے جواب میں

آگے مرزا قادیانی کا یہ لکھنا کہ: ”بقائمی ہوش و حواس ہوں تو علماء زمانہ کا یہ بھی یعنی

١٣

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٥٢٠

حضرت مسیح کو زندہ ماننے کا جوش بالکل نص صریحہ قرآنیہ کے برخلاف ہے۔“ عجیب شان رکھتا ہے۔

ناظرین کرام! ہم مرزا قادیانی کی کیا کیا نیرنگیاں بیان کریں۔ خود ہی مرزا قادیانی نے مسیح کو زندہ قرار دے کر اس مسئلہ حیات ووفات مسیح کو رائج کر دیا۔ باوجود اس کے مرزا قادیانی کو اپنے حواس پر شبہ نہیں کہ علماء کو نفس پرستی کی دھن بدحواسی کا الزام دیتے جا رہے ہیں۔ حالانکہ علماء کا تو قرآن وحدیث کی رو سے عقیدہ ہی یہی ہے کہ حضرت مسیح زندہ ہیں مگر مرزا قادیانی باوجود الہام ہونے کے الہام کو ملتوی اور رد کر دیتے ہیں۔ پر مسیح کو زندہ قرار دیتے

ہوا تھا کبھی سر قلم قاصدوں کا
یہ تیرے زمانہ میں دستور نکلا

پھر مرزا قادیانی لکھتے ہیں کہ: ”مسیح کا زندہ ہونا سنت اللہ کے بھی خلاف ہے۔“ اس عبارت کو پڑھ کر اور بھی مرزا قادیانی کی دیانت کا پردہ چاک ہوتا ہے کہ فرض کرلو کہ براہین احمدیہ کے لکھتے وقت مرزا قادیانی نے کتب احادیث اور قرآن کریم کا مطالعہ نہ بھی کیا ہو اور مسیح علیہ السلام کا عقیدہ سنت اللہ کے خلاف تھا تو مرزا قادیانی کو اس استقراء تام اور مشہور عام کا علم کیوں نہ ہوا کہ انہوں نے حضرت مسیح علیہ السلام کا آسمان پر زندہ ہونا لکھ دیا۔

قادیانی دوستو! کیا اسی خدا ترسی اور تقویٰ پر گھمنڈ کیا کرتے ہو؟ آگے چل کر مرزا قادیانی لکھتے ہیں کہ: ”بڑا تعجب ہے کہ اب مسیح کو موت نہیں آئی اور وہ فوت نہ ہوئے۔“ مرزا قادیانی کا یہ تعجب بھی نرالی ہی قسم کا ہے۔ معلوم ہوتا ہے کہ مرزا قادیانی کو کسی اضغاث احلام کی بناء پر یہ خیال پیدا ہوا کہ مسیح مر گیا۔ مگر جب اس کے خلاف دیکھا تو حیران ہو گئے کہ میرے خیال کے بعد بھی مسیح زندہ رہا۔ ١٨٨٤ء میں تو بقول مرزا قادیانی مسیح زندہ تھے اور دو ہزار برس سے زندہ چلے آرہے تھے۔ لیکن جب مرزا قادیانی نے دعوے شروع کئے تو ١٨٩١ء میں بھی اس عقیدہ کے بعد گھبرا گئے کہ کیا ہوا۔ حضرت مسیح ابھی تک فوت نہیں ہوئے۔ یعنی مرزا قادیانی کی دوکان داری میں حرج ہورہا ہے۔

حضرت مسیح کو فوراً فوت ہو کر مرزا قادیانی کے لئے میدان صاف کر دینا چاہئے۔ آگے مرزا قادیانی لکھتے ہیں۔ ”اے مولویو کیا یہی توحید ہے کہ مسیح کو زندہ مان رہے ہو یہ توحید نہیں بلکہ شیطان کی تقلید ہے۔“

الجھا ہے پاؤں یار کا زلف دراز میں
لو آپ اپنے دام میں صیاد آگیا

١٤

صفحہ ٥٢١

قادیانی دوستو! کیا مرزا قادیانی کا ١٨٩١ء تک مسیح کو آسمان پر زندہ ماننا توحید کے برخلاف نہیں؟ اور اسی چیز کا نام مرزا قادیانی نے شیطان کی تقلید نہیں رکھا ہے۔ پھر مرزا قادیانی امام بخاریؒ کا اس وجہ سے شکریہ ادا کرتے ہیں کہ انہوں نے حضرت مسیح کے دوبارہ تشریف لانے کے متعلق سب کچھ لکھ دیا ہے۔ حالانکہ امام بخاریؒ کا یہ لکھنا تو مرزا قادیانی کے عقیدہ مندرجہ براہین احمدیہ دربارہ حیات مسیح علیہ السلام کے سخت برخلاف ہے۔ پھر مرزا قادیانی ان کا شکریہ ادا کرنے میں مؤمنانہ شان کی مخالفت نہیں کر رہے ہیں۔ ثابت ہوتا ہے کہ جس وقت مرزا قادیانی نے براہین لکھی ہوگی اس وقت تو امام بخاریؒ کا لکھنا مرزا قادیانی کے عقیدہ کے برخلاف تھا۔ اس وقت یقینا مرزا قادیانی حضرت امام بخاریؒ کو برے الفاظ سے جو شکر کے منافی ہوں یاد کرتے ہوں گے اور اگر اس وقت بھی شکریہ ادا کرتے تھے تو پھر عقیدہ ان کے برخلاف کیوں ظاہر کیا تھا؟ پس ایسی باتوں سے ثابت ہوتا ہے کہ مرزا قادیانی نے ابتداء سے آخیر تک کبھی ایمانداری اور امتیاز ہی سے کام نہیں لیا۔ موجودہ قادیانی لوگ تو اب صاف کہہ دیں گے ۔

دوش از مسجد سوئے میخانہ آمد پیر ما
چیست یاران طریقت بعد ازیں تدبیر ما

ہاں اگر قادیانی لوگ یہ کہیں کہ بے شک پہلے تو مرزا قادیانی کفر و شرک کا ارتکاب کرتے رہے۔ مگر بعد میں مرزا قادیانی کو کوئی صریح الہام نہ ہو گیا تھا۔ جس کی بناء پر مرزا قادیانی نے رجوع کیا تو پھر سوال پیدا ہوتا ہے کہ مرزا قادیانی کو تو الہام اس عقیدہ سے پھیرا۔ اس لئے ”آنچہ برسر داشتم بگذاشتم“ کے مصداق بن گئے۔ مگر علماء اسلام کو پھر یہود کی تقلید کرنے والے کیوں قرار دیا۔ جب کہ ان کو کوئی الہام بھی نہیں ہوا تھا کہ مسیح فوت ہو چکا اور نہ کوئی دیگر وجہ رجعت ان کے لئے پیدا ہوئی۔ بایں ہمہ اگر وہ اس اسلامی عقیدہ پر ایمانداری سے قائم رہے تو شیطان کے مقلد کیوں کر ہوئے؟ اور اگر کہیں کہ مرزا قادیانی کے الہام کو ماننا ضروری تھا تو پھر ہمارا حق ہے کہ پہلے مرزا قادیانی کی شخصیت پر بحث کریں کہ ان کو الہام ہو سکتا ہے یا نہیں اور وہ اس اعزاز کے قابل بھی تھے یا نہیں ۔

بت کریں آرزو خدائی کی
شان ہے تیری کبریائی کی

بہر حال اس جگہ ہماری غرض حیات مسیح علیہ السلام کے دلائل پیش کرنا نہیں اور نہ مرزا قادیانی کے عقیدہ وفات مسیح کو دلائل اسلامیہ سے رد کرنا ہے۔ بلکہ اس بحث سے ہماری غرض

١٥

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٥٢٢

یہ ہے کہ مرزا قادیانی نے کیا کیا چالیں اور ڈھالیں کی ہیں اور نہ مرزا قادیانی کا یہ مطلب ہے کہ وہ صرف وفات مسیح پر ہی قائم رہیں۔ بلکہ ان کا مطلب تو یہ ہے کہ مسیح کو کوئی زندہ مانے یا مردہ۔ بہر حال مرزا قادیانی کے دعاوی پر ایمان لے آوے تا کہ ان کی آمدن میں دن بدن اضافہ ہوتا رہے اور ان کے پسماندگان تعیش اور تمول کی زندگی بسر کریں۔ چنانچہ ہم یہ بھی ثابت کر دیتے ہیں کہ مرزا قادیانی نے براہین میں ہی حیات مسیح کے عقیدہ کا اظہار نہیں کیا۔ بلکہ اپنی کتاب ”ازالہ اوہام“ میں جس میں کہ تیس آیات قرآنیہ سے وفات مسیح ثابت کرنے کی بے فائدہ کوشش کی گئی ہے۔ کسی کے اعتراض پر مرزا قادیانی نے پھر مسیح کو زندہ تسلیم کر لیا ہے۔ جس سے صاف ثابت ہوتا ہے کہ مرزا قادیانی کا مطلب مسیح کو مارنا ہی نہیں بلکہ اپنا دعویٰ منوانا ہے۔ اگر کوئی مرزا قادیانی کو نہ مانے تو پھر خواہ وہ مسیح کو زندہ مانے یا مردہ مرزا قادیانی کے نزدیک یکساں ہے۔

وہ لکھتے ہیں کہ: ”میرا یہ دعویٰ نہیں کہ دمشق میں کوئی مثیل مسیح پیدا نہیں ہوگا۔ ممکن ہے کہ کسی آئندہ زمانہ میں خاص کر دمشق میں بھی کوئی مثیل مسیح پیدا ہو جاوے۔ میں نے صرف مثیل ہونے کا دعویٰ کیا ہے۔ میرا یہ بھی دعویٰ نہیں کہ صرف مثیل ہونا میرے پر ہی ختم ہو گیا ہے۔ بلکہ ممکن ہے کہ آئندہ زمانوں میں میرے جیسے اور دس ہزار مثیل مسیح آ جائیں۔“

(ازالہ اوہام ص ١٩٩، خزائن ج ٣ ص ١٩٧)

ناظرین کرام پر ہمارے خیالات کی صداقت ظاہر ہو چکی ہوگی۔ لیکن شائقین تحقیق کے لئے ہم اور ایک عبارت جو حیات مسیح میں اس سے بھی زیادہ صریح لکھ کر اس فصل کو ختم کر دیتے ہیں۔ اگر ضرورت ہو تو مرزا قادیانی کی تردید میں ہم آئندہ مبسوط لٹریچر لکھنے کا اہتمام کر رہے ہیں۔ اس کی انتظار کریں۔

مرزا قادیانی لکھتے ہیں کہ: ”ممکن اور بالکل ممکن ہے کہ کسی زمانہ میں کوئی ایسا مسیح بھی آجائے جس پر حدیثوں کے بعض ظاہری الفاظ بھی صادق آسکیں۔ کیونکہ یہ عاجز اس دنیا کی حکومت اور بادشاہت کے ساتھ نہیں آیا درویشی اور غربت کے لباس میں آیا ہے اور جب کہ یہ حال ہے تو علماء کے لئے اشکال ہی کیا ہے۔ ممکن ہے کہ کسی وقت ان کی یہ مراد بھی پوری ہو جائے۔

(ازالہ اوہام ص ١٩٩، ٢٠٠، خزائن ج ٣ ص ١٩٧، ١٩٨)

ناظرین کرام! آپ نے ملاحظہ فرما لیا ہے کہ مرزا قادیانی نے ہر موقع پر اس موقع کی بات اور عقیدہ ظاہر کیا ہے۔ ان کو اس بات کا کوئی خیال نہیں کہ دنیا کی نجات کس طرح ہوگی۔ ان کو تو جلب زر اور حصول منفعت کی دھن لگی ہوئی ہے۔ لکھتے ہیں ۔

١٦

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٥٢٣
اے میرے پیارے فدا ہو تجھ پہ ہر ذرہ میرا
پھیر دے میری طرف اے سار باں جگ کی
مہار

(براہین احمدیہ حصہ پنجم ص٩٩، خزائن ج٢١ ص ١٢٩)

اس شعر کے مضمون سے ثابت ہوتا ہے کہ مرزا قادیانی اپنے آپ کو خود ماسوا من اللہ خیال نہیں کرتے تھے۔ ورنہ کیا ضرورت کہ خدا کو کہتے۔

پھیر دے میری طرف اے سار باں جگ کی
مہار

جب کہ خدا نے ان کو ہدایت خلق کے لئے مامور کیا تھا کیا وہ خود دنیا کی توجہ اس طرف نہیں کر سکتا تھا۔ پس اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ مرزا قادیانی اپنے تئیں مامور خیال نہیں کرتے۔ اسی واسطے ان کو پیری مریدی کا ذاتی طور پر فکر دامن گیر رہتا تھا۔

لہٰذا چونکہ مرزا قادیانی کو خود دنیا کی ہدایت کا خیال نہیں۔ بلکہ نفسانیت پرستی کا خیال تھا۔ اس لئے ہم اپنے بھائیوں کی آگاہی کے لئے صرف مرزا قادیانی کے اقوال پر ہی اکتفا کرتے ہیں۔ اصولی بحث ان مسائل پر کسی اور مفصل تصنیف میں کریں گے۔ انشاء اللہ تعالیٰ!

الفصل الثانی

مرزا قادیانی کا اقدام ثانی، دوبارہ دعویٰ نبوت وانکار نبوت کسی نے خوب کہا ہے ۔

مجھ کو محروم نہ کر وصل سے اے شوخ مزاج
بات وہ کر کہ نکلتے رہیں پہلو دونوں

پیارے ناظرین! فصل اوّل میں مرزا قادیانی کے حضرت مسیح ناصری علیہ السلام کے متعلق مختلف اقوال وعقائد کا ملاحظہ فرما چکے ہیں۔ اب خیال پیدا ہوتا ہے کہ اس قدر نقل وحرکت سے مرزا قادیانی کی کیا مراد تھی اور اس تصور کی تصدیق ہم سطور ذیل میں مشتے نمونہ از خروارے اس راز کا بھی افشاء کر دینا چاہتے ہیں اور مندرجہ فصل اوّل میں حضرت مسیح کی موت ثابت کرنے سے مرزا قادیانی کی بخیال خود بات بنتی تھی۔ مگر چونکہ وہ حضرت مسیح کے یا مثیل مسیح کے ہر زمانہ میں آنے کے قائل معلوم ہوتے تھے۔ اس پر علماء کرام نے یہ اعتراضات کئے کہ اگر حضرت مسیح فوت ہو گئے ہیں تو پھر اب ان کی جگہ اور کون آئے گا۔ اس کے جواب میں مرزا قادیانی نے فرمایا

١٧

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٥٢٢

اور غور فرمائیں کہ کیا فرمایا۔ کسی نے سچ کہا ہے ؎

بت کریں آرزو خدائی کی
شان ہے تیری کبریائی کی

جائیکہ از مسیح ونزولش سخن رود مسیح کے نزول کی جگہ کے متعلق سوال ہوتا ہے۔ گویم سخن اگرچہ نہ دارند باورم میں لکھتا ہوں جواباً اگرچہ میرا اعتبار تو نہیں ہوگا کاندر دلم دمید خداوند کردگار میرے دل میں خدا نے ڈالا ہے کہ میں اس مسیح کاں برگزیدہ راز رہ صدق مظہرم کا مظہر ہوں۔ موعود مسیح میں ہوں اور حدیث کے موعودم وبحلیہ ماثور آمدم بیان کردہ حلیہ میں آیا ہوں۔ افسوس ان پر جو مجھے حیف است گر بدیدہ نہ بینند منظرم پہچانتے نہیں ہیں۔ میرا رنگ گندمی اور بال گنم چو گندم است بمو فرق بیشن است گھنگرالے ہیں۔ جیسا کہ رسول کریم ﷺ نے زانساں کہ آمد است در اخبار سروم فرمایا تھا۔ منارۂ شرقی پر اترنے کا خیال نہ کرو۔ از کلمۂ منارۂ شرقی عجب مدار کیونکہ میں بھی مشرق سے ہی ظاہر ہوا ہوں۔ چو خود ز مشرق است تجلی نیرم میں وہ ہوں جو کہ رسول پاک کی شہادت کے اینک منم کہ حسب بشارات آمدم مطابق آیا ہوں۔ عیسیٰ کون ہے جو میرے مقام عیسیٰ کجاست تابہ نہد پاببرم پر کھڑا ہو۔ من نیستم رسول نہ آوردہ ام کتاب میں رسول نہیں نہ کوئی کتاب لایا ہوں۔ ہاں خدا ہا ملہم استم وز خدا وند منذرم ڈرانے والے سے الہام پاتا ہوں۔

(ازالہ اوہام ص ٧٨ا، خزائن ج ٣ ص ١٨٥)

پھر اور ایک جگہ لکھتے ہیں کہ:

منم مسیح ببانگ بلندے گویم
منم خلیفہ شاہیکہ برسماء باشد

کہ میں مسیح ہوں۔

پھر لکھتے ہیں کہ: ”پس واضح ہو کہ وہ مسیح موعود جس کا آنا اناجیل اور احادیث صحیحہ کی رو

١٨

صفحہ ٥٢٥

سے ضروری طور پر قرار پا چکا تھا۔ وہ تو اپنے وقت پر اپنے نشانوں کے ساتھ آ گیا۔“

(ازالہ اوہام ص ٤١٤، خزائن ج ٣ ص ٣١٥)

اس دعویٰ کے بعد لوگوں میں ہیجان پیدا ہوا کہ آنے والا مسیح ابن مریم ہے۔ وہ نبی اللہ ہے مگر دوبارہ وہی بحیثیت امتی کے دنیا میں اس کا نزول ہوگا اور مرزا قادیانی نے پہلے اپنی کتاب فتح اسلام میں نبوت کا دعویٰ بھی کیا ہے اور مسیح بھی بنتے ہیں۔ اس پر سوالات ہونے شروع ہوئے۔ چنانچہ ایک سوال یہ ہے کہ: ”کیا آپ نے رسالہ فتح اسلام میں نبوت کا دعویٰ کیا ہے؟“

(ازالہ اوہام ص ٤٢١، خزائن ج ٣ ص ٣٢٠)

مرزا قادیانی اس کا جواب دیتے ہیں کہ: ”نبوت کا دعویٰ نہیں۔ بلکہ محدثیت کا دعویٰ کیا ہے۔ جو خدا کے حکم سے کیا گیا ہے۔“

(ازالہ اوہام ص ٤٢٢، خزائن ج ٣

ص ٣٢٠)

پھر کسی صاحب نے سوال کیا کہ جس مسیح نے آنا ہے وہ تو مسیح ابن مریم ہے۔ آپ کس طرح اس کے مقام کو لے سکتے ہیں۔

اس کے جواب میں مرزا قادیانی لکھتے ہیں کہ: ”مثیل مسیح کا نام ہی ابن مریم رکھا گیا ہے۔ مثلاً تم سوچو کہ جو لوگ اپنی اولاد کے نام موسیٰ، داؤد، عیسیٰ وغیرہ رکھتے ہیں۔ اگر چہ ان کی غرض تو یہی ہوتی ہے کہ وہ نیکی میں اور خیر و برکت میں ان نبیوں کے مثیل ہو جائیں۔ مگر پھر وہ اپنی اولاد کو اس طرح کر کے تو نہیں پکارتے کہ اے مثیل موسیٰ اے مثیل داؤد وغیرہ۔“

بلکہ اصل نام ہی بطور تفاول پکارا جاتا ہے۔ پس کیا جو امر انسان محض تفاول کی راہ سے کر سکتا ہے۔ وہ قادر مطلق نہیں کر سکتا۔

”کیا اس کو طاقت نہیں کہ ایک آدمی کی روحانی حالت دوسرے آدمی کے مشابہ کر کے وہی نام اس کا رکھ دے۔“

(ازالہ اوہام ص ٤١١، خزائن ج ٣

ص ٣١٣)

ناظرین کرام! اب غور سے پڑھیں کہ مرزا قادیانی اب اپنے دعویٰ میں آہستہ آہستہ کس طرح آگے بڑھتے ہیں۔ مگر یہ خیال نہ کیا جاوے کہ اسی بات میں ان کو کوئی تقویٰ یا خدا ترسی مدنظر ہے۔ بلکہ ہم آگے چل کر بتلائیں گے کہ جب ضرورت پڑی تو ان دعاوی سے انکار کر دیا اور مندرجہ بالا عبارت میں بھی مرزا قادیانی نے ڈوبتے کو تنکے کے سہارا کی مثل قائم کی ہے۔ ورنہ دنیا

١٩

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٥٢٦

جانتا ہے کہ والدین جو اپنی اولاد کے نام عیسیٰ موسیٰ رکھتے ہیں تو یہ کسی خوبی یا عیسیٰ وموسیٰ جیسی حرکت کی بناء پر نہیں رکھتے۔ بلکہ بزرگانہ رکھتے ہیں۔ پھر مرزا قادیانی کا یہ کہنا کہ جس میں کوئی ان جیسی خوبی دیکھی ان کا نام ان کے نام پر رکھ دیا۔ مماثلت حقیقی ظاہر نہیں کرتا بلکہ معلوم ہوتا ہے کہ مرزا قادیانی کو اس ڈھکوسلے کی کوئی مثال نہیں ملی۔ پھر مرزا قادیانی کا یہ لکھنا کہ کیا خدا کو طاقت نہیں کہ میرا نام مسیح کے نام پر رکھ دے۔ ہم پوچھتے ہیں کہ کیا خدا میں یہ طاقت نہیں کہ مسیح کو آسمان پر لے جاوے۔ پھر کہتے ہیں کہ اس وقت کے بزرگ بھی مجھے لکھتے ہیں کہ ؎

ہم مریضوں کی ہے تمہیں پہ نظر
تم مسیحا بنو خدا کے لئے

حالانکہ اس کا کوئی ثبوت نہیں کہ شعر کسی اور نے مرزا قادیانی کو لکھا تھا۔ اب مرزا قادیانی نے دعویٰ نبوت کرنا شروع کر دیا۔ مگر لوگوں نے شور کیا تو مرزا قادیانی لکھتے ہیں۔

”ہم نے جو رسالہ فتح اسلام اور توضیح المرام میں اس اپنے کشفی الہام کو شائع کیا ہے کہ مسیح موعود سے مراد یہی عاجز ہے۔ میں نے سنا ہے کہ بعض ہمارے علماء اس پر بہت افروختہ ہوئے ہیں اور انہوں نے اس بیان کو ایسی بدعات سے سمجھ لیا ہے۔ جو خارج اجماع اور برخلاف عقیدہ متفق علیہ کے ہوتی ہے۔ حالانکہ ایسا کرنے میں ان کی بڑی غلطی ہے۔“

(ازالہ اوہام ص ١٣٩، ١٤٠، خزائن ج ٣ ص ١٧١)

اس کے بعد لکھتے ہیں کہ: ”اس عاجز نے سنا ہے کہ اس شہر دہلی کے بعض اکابر علماء میری نیت پر یہ الزام مشہور کرتے ہیں کہ یہ شخص نبوت کا مدعی ملائکہ کا منکر اور بہشت دوزخ کا انکاری ہے۔ لہٰذا میں اظہاراً للحق عام وخاص تمام بزرگوں کی خدمت میں گذارش کرتا ہوں کہ یہ الزام سراسر افتراء ہے۔ میں نہ نبوت کا مدعی ہوں نہ معجزات کا منکر وغیرہ وغیرہ۔“

(اشتہار مورخہ ٢٠؍اکتوبر ١٨٩١ء)

پھر اسی اشتہار میں لکھتے ہیں کہ: ”محمد مصطفیٰ ﷺ ختم المرسلین کے بعد کسی دوسرے مدعی نبوت ورسالت کو کافر جانتا ہوں۔ میرا یقین ہے کہ وحی رسالت حضرت آدم صفی اللہ سے شروع ہوئی اور جناب رسول اللہ محمد مصطفیٰ ﷺ پر ختم ہوگئی۔“

ناظرین! اس عبارت کے ہوتے ہوئے قادیانی لوگ مرزا قادیانی کی نبوت کا شور کریں تو ڈوبتے کو تنکے کا سہارا ہے اور اگر وہ کہیں کہ تشریعی نبوت کے یہاں ہونے کا ذکر ہے تو یہ

٢٠

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٥٢٧

بھی غلط ہے۔ کیونکہ وہ لکھتے ہیں کہ آدم صفی اللہ سے رسالت شروع ہوئی اور آنحضرت ﷺ پر ختم ہو گئی۔ پس حضرت آدم تشریعی نبی نہیں تھے۔ جب ان کی رسالت کے ختم ہونے کا اقرار ہے تو ہر قسم کی نبوت مراد ہو گی۔ تشریعی نبوت کی یہاں تخصیص نہیں ہے۔

پھر مرزا قادیانی لکھتے ہیں کہ میں نے جو فتح اسلام، توضیح المرام، ازالہ اوہام میں نبی کے الفاظ اپنے متعلق لکھے ہیں۔ ورنہ ...... ”حاشا وکلا“ مجھے نبوت حقیقی کا ہرگز دعویٰ نہیں۔ جیسا کہ میں کتاب (ازالہ اوہام ص ١٣٧، خزائن ج ٣ ص ١٦٩) میں لکھ چکا ہوں۔ ”میرا اس بات پر ایمان ہے کہ ہمارے سید ومولیٰ محمد مصطفیٰ ﷺ خاتم الانبیاء ہیں۔ سو میں تمام مسلمان بھائیوں کی خدمت میں واضح کرنا چاہتا ہوں کہ وہ ان لفظوں سے ناراض ہیں اور ان کے دلوں پر یہ الفاظ گراں ہیں تو ان لفظوں کو ترمیم شدہ تصور فرمائیں۔ کیونکہ کسی طرح مجھے مسلمانوں میں تفرقہ اور نفاق ڈالنا منظور نہیں۔ (مجموعہ اشتہارات جلد اوّل ص ٣١٣، القول الجید ص ٨٢، مؤلفہ مولوی محمد احسن امروہی)

اور اس اشتہار میں لکھتے ہیں کہ اگر مسلمان میرے دعویٰ نبوت کی وجہ سے میرے ساتھ ناراض ہیں تو میری طرف سے لفظ نبی کو کاٹا ہوا تصور کر لیں۔ ناظرین کرام یہ عجیب قسم کی نبوت ہے کہ اگر مسلمان خوش ہوں تو نبوت جاری رہے اور اگر مسلمان ناراض ہو جاویں تو نبی صاحب نبوت کو بھی چھوڑ دیں۔ حالانکہ قرآن کریم میں ارشاد ہے کہ نبی ہمیشہ اس چیز کو لے کر آتے ہیں۔ جس کو دنیا کبھی پسند نہیں کرتی۔ پھر کیا نبی خدا کے حکم کی نافرمانی کر دے اور لوگوں کو خوش رکھے۔ پس آخر کہنا پڑتا ہے ؎

چہ نسبت است برندے صلاح وتقویٰ را
سماع وعظ کجا نغمۂ رباب کجا

پھر لکھتے ہیں کہ: ”میری جماعت کی معمولی بول چال اور دن بدن کے محاورات میں یہ نبی کے لفظ نہیں آنے چاہئیں اور دلی ایمان سے سمجھنا چاہئے کہ نبوت آنحضرت ﷺ پر ختم ہو گئی ہے۔ جیسا کہ اللہ فرماتا ہے۔ ”ولکن رسول الله وخاتم النبیین“ اس آیت کا انکار یا استخفاف کی نظر سے دیکھنا در حقیقت اسلام سے علیحدہ ہونا ہے۔“ کچھ آگے چل کر لکھتے ہیں۔ ”جاننا چاہئے کہ خدا تعالیٰ نے اپنی تمام نبوتوں اور رسالتوں کو قرآن اور آنحضرت ﷺ پر ختم کر دیا اور ہم محض دین اسلام کے خادم بن کر دنیا میں آئے ہیں۔“

(اخبار الحکم نمبر ٢٩ ج ٣، مورخہ ١٧ اگست ١٨٩٩ء)

٢١

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٥٢٨

پیارے ناظرین! مرزا قادیانی عبارت بالا میں خادم دین ہونے کے مدعی ہیں۔ مگر موجودہ قادیانی لوگ مرزا قادیانی کو نبی قرار دے کر لوگوں میں تفرقہ ڈالنے سے پرہیز نہیں کرتے اور کریں بھی کس طرح۔ جب کہ ان کی تجارت ہی اسی سے چلتی ہے اور مرزا قادیانی اس عبارت بالا کے اخیر میں لکھتے ہیں کہ: ”نبی کریم کو خاتم النبیین نہ ماننا یعنی آنحضرت ﷺ پر ہر قسم کی نبوت کو ختم نہ سمجھنا گویا ایک نیا دین بنانا ہے اور اسلام کو چھوڑ کر شیطان کا راستہ تلاش کرنا ہے۔“

ایسی صاف اور واضح عبارت کے باوجود جب مرزا قادیانی اور مطلب بنانا چاہتے ہیں تو صاف لفظوں میں دعویٰ نبوت بھی کر لیتے ہیں۔ جیسا کہ ہم آئندہ کسی قدر لکھیں گے۔ مزید برآں کہ مرزا قادیانی اپنی کتاب نشان آسمان میں لکھتے ہیں کہ: ”میرا اس بات پر محکم ایمان ہے کہ آنحضرت ﷺ کے بعد کوئی نبی نہیں آ سکتا ہے۔ نہ نیا نہ پرانا۔“ پھر لکھتے ہیں کہ: ”اس بات پر محکم ایمان رکھتا ہوں کہ ہمارے نبی ﷺ خاتم الانبیاء ہیں اور آں جناب کے بعد اس امت کے لئے کوئی نبی نہیں آئے گا۔ نیا ہو یا پرانا اور قرآن کریم کا ایک شوشہ یا نقطہ منسوخ نہیں ہوگا۔“

ناظرین کرام! آپ ذرا خلیفہ قادیان سے دریافت فرمائیں کہ نہ کوئی نبی آسکتا ہے اور نہ پرانا سے کیا مراد ہے۔ اب ١٩٠١ء کے بعد جو نیا نبی آیا اس کا محکم ایمان کہاں گیا اور خاتم النبیین ﷺ کے بعد نبی کا آنا کفریات میں سے جو تھا۔ اب وہ کفر کس شخص میں ثابت ہوا۔ آپ ہی ذرہ اپنے جوروستم کو دیکھیں۔

ہم اگر عرض کریں گے تو شکایت ہوگی

مرزا قادیانی تو مدعی نبوت کو کافر و کاذب کہتے تھے اور اس پر لعنت بھیجتے تھے اور اب ١٩٠١ء کے بعد لعنت کے کچھ اور معنی ہو گئے ہیں۔ یا کس پر پڑتی نظر آتی ہے؟

پھر مرزا قادیانی لکھتے ہیں کہ: ”وہ نبوت جو تامہ ہے اور سارے کمالات وحی کو اپنے اندر جمع رکھتی ہے۔ ہم ایمان لاتے ہیں۔ اس کے منقطع ہو جانے پر اس دن سے جب سے یہ اترا۔ ”ما کان محمد ابا احد من رجالکم ولکن رسول اللہ وخاتم النبیین“

(توضیح المرام ص ٢٠، خزائن ج ٣ ص ٦١)

پھر لکھتے ہیں کہ: ”حضرت سیدنا و مولانا محمد مصطفیٰ ﷺ خاتم النبیین و خیر المرسلین ہیں جن کے ہاتھ سے اکمال دین ہو چکا اور وہ نعمت بمرتبہ تمام پہنچ چکی۔ جس کے ذریعہ سے انسان راہ راست کو اختیار کر کے خدا تعالیٰ تک پہنچ سکتا ہے۔“

(ازالہ اوہام ص ١٣٧، خزائن ج ٣ ص ١٦٩،

١٧٠)

٢٢ www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٥٢٩

پھر لکھتے ہیں کہ: ”بجز جناب خاتم المرسلین احمد عربی ﷺ کے کوئی ہمارے لئے ہادی اور مقتداء نہیں۔ جس کی پیروی کریں۔ یا دوسروں سے کرانا چاہیں۔“

(ازالہ اوہام ص ١٨٣، خزائن ج ٣ ص ١٨٨)

پھر لکھتے ہیں کہ: ”اگر میرا یہ کشف اور الہام غلط ہے اور جو کچھ مجھے حکم ہورہا ہے۔ اس کے سمجھنے میں میں نے دھوکا کھایا ہے تو ماننے والے کا اس میں جرم ہی کیا ہے۔ کیا اس نے کوئی ایسی بات مان لی ہے۔ جس کی وجہ سے اس کے ذہن میں کوئی رخنہ پیدا ہوسکتا ہے۔ اگر ہماری زندگی میں سچ مچ حضرت مسیح ابن مریم ہی آسمان سے اتر آئے تو دل ما شاد چشم ما روشن ہم اور ہمارا گروہ سب سے پہلے ان کو قبول کرے گا۔“

(ازالہ اوہام ص ١٨٣، خزائن ج ٣ ص ١٨٨)

قادیانی دوستو! کچھ تو خدائی خوف کرو اور دیکھو کہ مرزا قادیانی صاف لکھ رہے ہیں کہ میرا دعوٰی کشف کی بناء پر تھا اور اس کے سمجھنے میں غلطی بھی کر سکتا ہوں اور یہ بھی نبی کریم ﷺ کے سوا کوئی نہیں۔ جس کی پیروی درست ہو۔ مگر باوجود اس کے تمہارا خلیفہ لکھتا ہے۔

”مرزا قادیانی کو جس مسلمان نے نہیں مانا۔ خواہ تمام انبیاء پر ایمان ہی رکھتا اور مرزا قادیانی کی دعوت بھی اس کو نہیں پہنچی۔ پھر بھی وہ شخص کافر اور دائرہ اسلام سے خارج ہے۔“

(کلمۃ الفصل ملخص ص ١١٠)

پیراں نمے پرند مریداں مے پرانند

جب کشف تعبیر ہوتا ہے اور مرزا قادیانی اس میں بہ بیان غلطی بھی کر سکتے ہیں تو پھر مرزا قادیانی کے کشفی دعوٰی کو ایمان محکم کے مقابلہ میں پیش کرے۔ سوائے پیٹ پروری کے اور کیا حقیقت رکھتا ہے۔ پھر ہم مؤدبانہ یہ بات دریافت کرتے ہیں کہ مرزا قادیانی کی نبوت تھی یا کشکول گدائی اور بازیچہ اطفال تھا۔

اے فلک ہم ترا شکوہ بھی نہ کرتے ہرگز
پر تجھے ڈھب ہی نہیں آیا جفا کرنے کا

پھر مرزا قادیانی لکھتے ہیں کہ: ”قرآن کریم بعد خاتم النبیین ﷺ کسی رسول کا آنا جائز نہیں رکھتا۔ خواہ وہ نیا رسول ہو یا پرانا۔ کیونکہ رسول کو علم دین بتوسط جبرائیل ملتا ہے اور باب نزول جبرائیل بہ پیرایہ وحی ورسالت مسدود ہے اور یہ بات خود ممتنع ہے کہ دنیا میں رسول تو آوے۔ مگر سلسلۂ وحی ورسالت نہ ہو۔“

(ازالہ اوہام ص ٧٦١، خزائن

ج ٣ ص ٥١١)

٢٣

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٥٣٠

مرزا قادیانی کی ایک عبارت یہ ہے کہ: ”میرا دعویٰ نبوت کا نہیں۔ محدثیت کا ہے۔ جو خدا نے ہی کرایا ہے۔“ آگے لکھتے ہیں کہ محدثیت بھی ایک شعبہ قویہ نبوت کا ہے۔ مگر آگے دیکھئے کیا لکھتے ہیں۔ محدثیت کو اگر مجازی نبوت قرار دیا جائے یا ایک شعبہ قویہ نبوت کا ٹھہرائیے تو کیا اس سے دعویٰ نبوت لازم آگیا۔ مرزا قادیانی نے مندرجہ بالا عبارت کی تشریح کردی ہے کہ کوئی شخص رسول پاک ﷺ کے بعد نبی نہیں ہوسکتا۔ پھر وہ لکھتے ہیں کہ: ”کیا ایسا بدبخت مفتری جو خود رسالت اور نبوت کا دعویٰ کرتا ہے۔ قرآن شریف پر ایمان رکھ سکتا ہے۔“

(انجام آتھم ص ٢٧ حاشیہ، خزائن ج ١١ ص ٢٧)

مکرم ناظرین! مرزا قادیانی کے کسی نئے یا پرانے نبی کے نہ آنے کا اظہار کرنے کی ایمانداری اور واقعی ایمان محکم کے طور پر نہ خیال فرمائیں۔ ان عبارات میں کسی نبی کے آنے کا انکار کرنا نیا ہو یا پرانا محض اس لئے ہے کہ حضرت مسیح ناصری علیہ السلام کے دوبارہ تشریف لانے کا خیال مسلمانوں کے دلوں سے دور، دماغوں سے محو کر دیا جاوے۔

ہم صفحات ذیل میں بتائیں گے کہ جب مرزا قادیانی کی ان رنگین بیانیوں اور بوقلموں، کلامیوں کے بعد بھی لوگ حضرت مسیح ناصری کی وفات کے قائل نہ ہوئے تو مرزا قادیانی نے نبی کریم ﷺ کے بعد بتدریج انبیاء کا آنا ضروری قرار دیا اور اپنے آپ کو نبی کامل بھی کہنے سے پرہیز نہ کیا۔ ہم چند ایک مرزا قادیانی کے انکار نبوت درج کر کے پھر اس سلسلہ کو شروع کریں گے۔ مرزا قادیانی پھر لکھتے ہیں کہ: ”آنحضرت ﷺ نے بار بار فرمایا تھا کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا۔“

اور حدیث ”لا نبی بعدی“ ایسی مشہور تھی کسی کو اس کی صحت میں کلام نہ تھا اور قرآن شریف جس کا لفظ لفظ قطعی ہے۔ اپنی آیت کریمہ ”ولکن رسول اللہ وخاتم النبیین“ میں بھی اس بات کی تصدیق کرتا ہے کہ فی الحقیقت ہمارے نبی کریم ﷺ پر نبوت ختم ہوچکی ہے۔

(کتاب البریہ ص ١٩٩، ٢٠٠، خزائن ج ١٣ ص ٢١٧)

غرض قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ آنحضرت ﷺ کا نام خاتم النبیین رکھ کر اور حدیث میں خود آنحضرت ﷺ نے ”لا نبی بعدی“ سے فرما کر اس امر کا فیصلہ کر دیا تھا کہ کوئی نبی نبوت کے حقیقی معنوں کی رو سے آنحضرت ﷺ کے بعد نہیں آسکتا۔

(کتاب البریہ ص ٢٠٠، خزائن ج ١٣ ص ٢١٨)

”میں بار بار کہتا ہوں کہ یہ الفاظ رسول اور مرسل کے اور نبی کے میرے الہام میں

٢٤

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٥٣١

میری نسبت خدا تعالیٰ کی طرف سے بے شک نہیں۔ لیکن اپنے حقیقی معنوں پر محمول نہیں اور جیسے یہ محمول نہیں ایسے ہی وہ نبی کر کے پکارنا جو حدیثوں میں مسیح موعود کے لئے آیا ہے۔ وہ بھی اپنے حقیقی معنوں پر اطلاق نہیں پاتا۔ یہ وہ علم ہے جو خدا نے مجھے دیا ہے۔ جس نے سمجھنا ہو وہ سمجھ لے۔ میرے پر یہ کھولا گیا ہے کہ حقیقی نبوت کے دروازے خاتم النبیین ﷺ کے بعد بکلی بند ہیں۔ اب کوئی جدید نبی حقیقی معنوں کی رو سے آسکتا ہے اور نہ کوئی قدیم نبی۔“

(سراج المنیر ص ٣ خزائن ج ١٢ ص ٥)

ناظرین! مرزا قادیانی نے صاف لکھ دیا ہے کہ اہل سنت والجماعت کا عقیدہ کہ رسول پاک کے بعد کوئی نبی نہیں آسکتا۔ درست ہے اور وہ کہتے ہیں کہ مجھے خدا نے علم دیا ہے کہ جن حدیثوں میں مسیح موعود کے لئے نبی کے الفاظ ہیں۔ وہ بھی حقیقی معنوں پر محمول نہیں۔ اب تو شاید قادیانی لوگ مسلم کی نبی اللہ والی حدیثوں کے معنے سمجھ گئے ہوں گے۔ پھر مرزا قادیانی نے لکھا ہے کہ: ”سیدنا ومولانا حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ ختم المرسلین کے بعد کسی دوسرے مدعی نبوت و رسالت کو میں کاذب اور کافر جانتا ہوں۔“

(اشتہار مورخہ ٢؍اکتوبر ١٨٩١ء، مجموعہ اشتہارات

ج ١ ص ٢٣٠، ٢٣١)

”اب میں مندرجہ ذیل امور کا مسلمانوں کے سامنے صاف صاف اقرار اس خانۂ خدا مسجد میں کرتا ہوں کہ میں جناب خاتم الانبیاء ﷺ کی ختم نبوت کا قائل ہوں اور جو شخص ختم نبوت کا منکر ہو اس کو دین اور دائرۂ اسلام سے خارج سمجھتا ہوں۔“

(تقریر واجب الاعلان مورخہ ٢٣؍اکتوبر ١٨٩١ء، مجموعہ اشتہارات ج ١ ص ٢٥٥)

کیا قادیانی دوست ان صریح عبارات کی بھی کوئی تاویل کرنے کی جرأت کریں گے؟ ”کیا ایسا بدبخت مفتری جو خود نبوت اور رسالت کا دعویٰ کرتا ہے۔ قرآن شریف پر ایمان رکھ سکتا ہے اور جو قرآن شریف پر ایمان رکھ سکتا ہے اور آیت ”ولکن رسول اللہ وخاتم النبیین“ کو خدا کا کلام یقین رکھتا ہے۔ وہ یہ کہہ سکتا ہے کہ میں آنحضرت ﷺ کے بعد نبی اور رسول ہوں۔“

(انجام آتھم ص ٢٧ خزائن

ج ١١ ص ٢٧)

مرزائی دوستو! زور تو لگاؤ کہ کسی طرف نکل سکیں۔ بقول کسے ؎

تڑپ کر جوش وحشت سے نکل جاتا ترا وحشی
مگر زنداں کی تھی دیوار بے در پتھر کی

٢٥

صفحہ ٥٣٢

قادیانی دوستو! بھلا بتاؤ تو قرآن کریم میں وہ کون سی بات ہے جس پر دعویٰ نبوت کرنے کے بعد ایمان نہیں رہ سکتا اور انسان کافر ہو جاتا ہے۔ جس کی نسبت مرزا قادیانی لکھ چکے ہیں اور یہ بھی بتاؤ کہ ١٩٠١ء کے بعد آپ لوگوں کا ایمان قرآن پر رہا ہے یا بقول کسے ؎

برزباں تسبیح و در دل گاؤ خر
ایں چنیں تسبیح کے دارد اثر

پھر مرزا قادیانی لکھتے ہیں کہ: ”علاوہ ان باتوں کے مسیح ابن مریم کے دوبارہ آنے کو یہ آیت بھی روکتی ہے۔ ”ولکن رسول الله وخاتم النبیین“ اور ایسا ہی یہ حدیث بھی ”لا نبی بعدی“ پھر یہ کیوں کر جائز ہو سکتا کہ باوجودیکہ ہمارے نبی ﷺ خاتم الانبیاء ہیں پھر کسی وقت دوسرا نبی آجانے سے وحی نبوت شروع ہو جاوے۔ کیا یہ سب امور حکم نہیں کرتے کہ اس حدیث کے معنی کرتے وقت ضرورت ہے کہ ان الفاظ کو ظاہر سے پھیرا جاوے۔“

(ایام صلح ص ١٤٧، خزائن ج ١٤ ص ٤٢٩)

میں اپنے سابقہ دوستوں سے درخواست کروں گا کہ وہ حوصلہ کریں اور مرزا قادیانی کی روح کو خوش کرنے کی غرض سے ذرہ آیت ”خاتم النبیین“ اور حدیث ”لا نبی بعدی“ کے معنوں کو اصل اور ظاہر سے پھیر کر کریں۔ جس طرح کہ مرزا قادیانی کا بھی منشاء تھا۔ پھر دیکھیں کہ: ”کوہ کندن و کاہ برآوردن“ کی مثال صادق آتی ہے یا نہیں اور قادیانی کا ایک حرکت میں خاتمہ ہو جاتا ہے۔

کیا خوب پیراں نمے پرند مریداں می پرانند

”لیکن خدا تعالیٰ ایسی ذلت اور رسوائی اس امت کے لئے اور ایسی ہتک اور کسرشان اپنے نبی مقبول خاتم الانبیاء کے لئے ہرگز روا نہیں رکھے گا کہ ایک رسول کو بھیج کر جس کے آنے کے ساتھ جبرائیل کا آنا ایک ضروری امر ہے۔ اسلام کا تختہ ہی الٹ دیوے۔ حالانکہ وہ وعدہ کر چکا ہے کہ بعد آنحضرت ﷺ کے کوئی رسول نہیں بھیجے گا۔“

(ازالہ اوہام ص ٥٨٦، خزائن

ج ٣ ص ٤١٦)

پھر لکھتے ہیں کہ: ”جو شخص ختم نبوت کا منکر ہو اس کو بے دین اور دائرہ اسلام سے خارج سمجھتا ہوں۔“

(مجموعہ اشتہارات ج ١ ص ٢٥٥)

پھر لکھتے ہیں کہ: ”ہم بھی مدعی نبوت پر لعنت بھیجتے ہیں۔“

(مجموعہ اشتہارات ج ٢ ص ٢٩٧)

٢٦

صفحہ ٥٣٣

”ایسا ہی آپ نے ”لا نبی بعدی“ کہہ کر کسی نئے نبی یا دوبارہ آنے والے نبی کا قطعاً دروازہ بند کر دیا ہے۔“

(ایام صلح ص ١٥٢، خزائن ج ١٤

ص ٤٠٠)

مرزائی دوستو! کیا جس وقت آپ کے منارہ کا دروازہ بند ہو جاوے تو حقیقی انسان بھی اس پر چڑھنے بند ہوتے ہیں۔ یا مجازی، ظلی، بروزی، جزوی، لغوی انسان بھی چڑھنے بند ہو جاتے۔ یا بعض پھر بھی چڑھ جایا کرتے ہیں۔

پھر لکھتے ہیں: ”اور اسلام کا اعتقاد ہے کہ ہمارے نبی ﷺ کے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا۔“

(کشف الغطاء ص ٣٦، خزائن ج ١٤

ص ٢١٢)

کوئی ہمارے پرانے دوستوں سے پوچھے کہ اسلام کا اعتقاد اب کہاں گیا؟ اب بھی ویسا ہی ہے تو اب ختم نبوت کے بعد نبی کیوں آیا؟ ختم نبوت کے بعد کوئی نبی نہیں آسکتا۔ کتاب راز حقیقت ص ١٦ کا نوٹ۔ کیا خلیفہ قادیانی اپنی کتاب حقیقت النبوۃ پر مصنفانہ نظر ڈالیں گے۔

پھر لکھتے ہیں کہ: ”مسیح کیوں کر آسکتا ہے۔ وہ رسول تھا اور خاتم النبیین کی دیواریں اس کو آنے سے روکتی ہیں۔“

(ازالہ اوہام ص ٥٢٢، خزائن ج ٣

ص ٣٨٠)

قادیانی دوستو! دیواریں پھاندنے سے تو شریعت نے منع کر دیا تھا۔ اب تو دیواریں نہ پھاندو اور مرزا قادیانی کی نبوت کے خیال پر لاحول پڑھ لیا کرو اور خدا کا خوف کیا کرو۔

”قرآن کریم بعد خاتم النبیین ﷺ کے کسی اور رسول کا آنا جائز نہیں رکھتا۔ خواہ وہ نیا رسول ہو یا پرانا ہو۔“

(ازالہ اوہام ص ٧٦١، خزائن ج ٣ ص ٥١١)

”اللہ تعالیٰ کی یہ شایان نہیں کہ خاتم النبیین ﷺ کے بعد نبی بھیجے اور نہیں شایان اس کو کہ سلسلہ نبوت کو دوبارہ از سر نو شروع کر دے۔ بعد اس کے کہ اسے قطع کر چکا۔“

(آئینہ کمالات اسلام ص ٣٧٧، خزائن ج ٥ ص ٣٧٧)

پھر افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ جس چیز کا خدا کو بھی بقول مرزا قادیانی حق حاصل نہیں۔ اس چیز پر ان کی جماعت قبضہ مخالفانہ کر رہی ہے اور کوئی خوف خدا نہیں کرتی۔ جب خدا کو بھی نبوت جاری کرنے کا حق نہیں اور اس کو شایان نہیں تو قادیانیوں کو کیا حق ہے کہ نبوت کو جاری قرار دیں اور وہ مظہر الحق والعلیٰ جس کو نعوذ باللہ مرزا قادیانی ظلی خدا مظہر خدا کہتے ہیں۔ وہ مرزا قادیانی کے

٢٧

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٥٣٤

بھی کان کاٹ رہا ہے اور اسلام کے عقائد کی پرواہ نہیں کرتا۔

چہ دلاور است دزدے کہ بکف چراغ دارد

ناظرین مرزا قادیانی کے متعدد حوالہ جات دربارہ انکار نبوت ہم درج کر چکے ہیں۔ باوجود اس کے مرزا قادیانی کا موجودہ خلیفہ زور سے اپنی کتابوں میں لکھتا ہے کہ مرزا قادیانی نبی تھے اور رسول پاک کے بعد نبی آ سکتے ہیں۔ ہم حیران ہیں کہ ؎

سر خدا کہ عارف سالک بکس نہ گفت
در حیرتم کہ بادہ فروش از کجا شنید

پھر مرزا قادیانی کہتے ہیں کہ: ”نبوت کے حقیقی معنوں سے نہ کوئی نیا نبی آ سکتا ہے اور نہ پرانا۔ قرآن کریم ایسے نبیوں کے آنے سے مانع ہے۔ مگر مجازی معنوں کی رو سے خدا کا اختیار ہے کہ کسی کو نبی کے لفظ سے یا مرسل کے لفظ سے یاد کرے۔ عرب کے لوگ تو اب تک انسان کے فرستادہ کو بھی رسول کہتے ہیں۔ پھر خدا کو کیوں حرام ہو گیا کہ مرسل کا لفظ مجازی معنوں پر استعمال کرے۔ کیا قرآن میں سے ”فقالوا انا الیکم مرسلون“ بھی یاد نہیں رہا۔“

(سراج المنیر ص ٥، خزائن ج ١٢ ص ٥)

اب مرزا قادیانی نے نبی بننا شروع کر دیا ہے۔ ایسے ہی وہ نبی کر کے پکارنا جو حدیثوں میں مسیح موعود کے لئے آیا ہے۔ وہ بھی اپنے حقیقی معنوں پر اطلاق نہیں پاتا۔

(سراج المنیر ص ٥، خزائن ج ١٢ ص ٥)

”میری نسبت کلام الٰہی میں نبی اور رسول کا لفظ اختیار کیا گیا ہے۔ یہ اطلاق مجازاً اور استعارہ کے طور پر ہے۔“

(تحفہ گولڑویہ ص ٢١، خزائن ج ١٧ ص ٦١ حاشیہ)

اس عبارت میں اگرچہ مرزا قادیانی اپنی نبوت سے انکار تو کرتے ہیں۔ مگر دعویٰ نبوت کا باریک انداز سے شروع کر دیا گیا ہے اور یہ باتیں مرزا قادیانی تصنع اور بناوٹ کی بناء پر لکھ رہے ہیں۔ صاف باطنی سے نہیں۔

مرزا قادیانی نے اپنی عربی تصانیف میں بھی بہت سی ایسی عبارات لکھی ہیں۔ مگر ہم اپنے ناظرین کی سہولت کے لئے ان عبارات کا ترجمہ لکھیں گے۔ کیونکہ ہمارا مطلب اس جگہ علمیت آزمائی نہیں بلکہ سلیس اور سادہ الفاظ میں مرزا قادیانی اور ان کی جماعت کی دیانت وامانت کا بھانڈا پھوڑنا مراد ہے۔

اور اسلامی دلائل ان عقائد کے بارہ میں کسی اور مستقل تصنیف میں لکھیں گے۔

٢٨

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٥٣٥

وباللہ التوفیق!

پیچیدہ عبارات میں قادیانیوں کو خلط بحث کرنے کا عام طور پر موقع مل جایا کرتا ہے۔ لہٰذا ہم اس روش پیچیدہ بیانی سے عمداً محترز ہیں۔ تاکہ ہر شخص خواہ وہ تھوڑا ہی پڑھا ہوا ہو۔ ہماری اس ناچیز خدمت کا پورا فائدہ اٹھا سکے۔

مرزا قادیانی کی ایک اور عبارت ملاحظہ

”مسیح موعود کا نام جو صحیح مسلم وغیرہ میں زبان مقدس حضرت نبوی ﷺ سے نبی اللہ نکلا ہے۔ وہ الٰہی مجازی معنوں کی رو سے ہے۔ جو صوفیا کرام کی کتابوں میں مسلم اور ایک معمولی محاورہ مکالمات الٰہیہ کا ہے۔ ورنہ خاتم الانبیاء کے بعد نبی کیسا۔“ (انجام آتھم ص ٢٨ حاشیہ، خزائن ج ١١ ص ٢٨)

”یہ الفاظ (نبی کے) بطور استعارہ ہیں۔ جیسا کہ حدیث میں بھی مسیح موعود کے لئے نبی کا لفظ آیا ہے۔“

(اربعین نمبر ٢ ص ١٩ حاشیہ، خزائن ج ١٧

ص ٤٢٧)

”بیہودہ اعتراضوں کو چھوڑ دو اور ناحق کی نکتہ چینیوں سے پرہیز کرو اور فاسقانہ خیالات سے اپنے تئیں بچاؤ اور جھوٹے الزام مجھ پر مت لگاؤ کہ حقیقی طور پر نبوت کا دعویٰ کیا۔

(سراج المنیر ص ٢، خزائن ج ١٢ ص ٤)

ناظرین کرام! اس حوالہ کو پڑھ کر متعجب ہوئے ہوں گے کہ مرزا قادیانی کے یہ الفاظ کہ مجھ پر الزام نہ دو کہ میں نے حقیقی نبوت کا دعویٰ کیا ہے سے کیا مراد لی ہے؟ کیا کوئی مجازی نبوت بھی ہوتی ہے؟

یہ عجیب بات ہے کہ کوئی حقیقی بادشاہ اور کوئی مجازی بادشاہ بھی ہوتا ہے۔ سو یہ تو کوئی بات ہی کام کی نہیں۔ مرزا قادیانی کا یہ کہنا کہ میں نے ایسا دعویٰ نہیں کیا۔ خاکسار راقم الحروف کے دعویٰ کی دلیل ہے کہ مرزا قادیانی کچھ بھی حقیقی طور پر نہیں کیا کرتے۔ بلکہ جو کچھ کہتے ہیں۔ اس میں بالکل حقیقت کا نام تک نہیں ہوتا۔ مرزا قادیانی اپنی مندرجۃ الصدر عبارت میں یہ بیان کر چکے ہیں کہ کسی قسم کا نبی رسول پاک ﷺ کے بعد نہیں آسکتا اور ہر قسم کی نبوت کے مدعی کو میں لعنتی اور دائرۂ اسلام سے خارج سمجھتا ہوں۔ خاکسار راقم الحروف!

باوجود اس بات کو محسوس کرنے کے کہ ایک ہی مضمون کی بہت سی عبارتیں لکھنا ناظرین کو بدمزگی میں ڈالنا ہے۔ اکثر عبارتیں اوپر نقل کی ہیں۔ جن میں ہر طرح سے مرزا قادیانی نے رسول

٢٩

صفحہ ٥٣٦

پاک کے بعد ہر قسم کی نبوت کو منقطع اور مسدود قرار دیا ہے اور مسجد میں قسمیں کھائی ہیں۔ محکم ایمان کی بناء پر یہ بات ظاہر کی ہے کہ آنحضرت ﷺ خاتم النبیین ہیں۔ ان کے بعد کسی قسم کی نبوت کا دعویٰ کرنے والا بھی مسلمان نہیں رہ سکتا۔ بلکہ کافر و کاذب ہوتا ہے۔ جس جگہ کچھ شبہ پڑتے تھے ان کو بھی خدا کے علم پانے کے الفاظ سے مرزا قادیانی نے دور کر دیا۔ اب یہ بات دوسری ہے کہ جو کچھ انہوں نے کہا وہ ایمانداری تھی یا نہیں۔ اس کا ذکر ہم اپنے موقع پر کریں گے۔ لیکن یہ ضروری ہے کہ انہوں نے عین وہی عقیدہ ظاہر کر دیا ہے جو اس وقت علماء اسلام کا عقیدہ ہے۔

اب اگرچہ ان عبارات کو بطور تمہید کے ہی ناظرین خیال کیوں نہ فرمائیں۔ بہر حال ان تمام عبارتوں کو نقل کرنا مرزا قادیانی اور ان کی جماعت کے پول کھولنے کے لئے ضروری تھا اور اس کے متعلق مفصل بحث ہم کتاب ہذا کے حصہ دوم میں کریں گے کہ ان دعاوی کے بعد موجودہ جماعت قادیانی کا کیا عقیدہ ہے۔ اندرونی حالات کا طور وطرز کس قسم کا ہے اور ان کا منشاء خدمت اسلام کے نام سے دنیا حاصل کرنا ہے۔ وغیرہ!

چنانچہ مرزا قادیانی لکھتے ہیں کہ: ”مجھ پر کھولا گیا ہے کہ حقیقی نبوت کے دروازے خاتم النبیین ﷺ کے بعد بکلی بند ہیں اور ......... ہمارے ظالم مخالف ختم نبوت کو پورے طور پر بند نہیں سمجھتے۔“

(سراج المنیر ص ٣،

خزائن ج ١٢ ص ٥)

اس عبارت میں مرزا قادیانی کہتے ہیں کہ میں تو نبوت کو بالکل آئندہ بند اور مسدود سمجھتا ہوں۔ مگر میرے مخالف مسلمان رسول کریم ﷺ کے بعد نبوت کو جاری سمجھتے ہیں۔ اس عبارت میں مرزا قادیانی ایک باریک چال چل کر اب نبوت کا دعویٰ کرنا یا دعویٰ کا اظہار کرنا چاہتے ہیں۔ مگر اس طور سے کہ اگر مجھ پر کوئی اعتراض ہوا تو کہہ دوں گا کہ میں تو نہیں کہتا۔ تمہاری کتابیں اور تم ہی کہتے ہو کہ نبوت رسول کریم ﷺ کے بعد بھی ہو سکتی ہے۔ ورنہ جب مسیح ناصری آئے گا تو وہ آخر نبی ہی ہوگا۔ حالانکہ ”حاشا و کلا“ مسلمانوں کو بالکل یہ عقیدہ نہیں کہ حضرت مسیح ناصری بحیثیت نبی کے تشریف لائیں گے۔ بلکہ مسلمان تو مانتے ہیں کہ وہ امتی کی حیثیت سے تشریف لائیں گے۔

مریدوں نے اسی وقت سے مرزا قادیانی کو نبی کہنا شروع کر دیا تھا۔

ناظرین! ذرہ غور کرتے جائیں کہ اب مرزا قادیانی وحی کے بھی قائل ہو رہے ہیں اور صرف فرق اتنا ہے کہ ابھی تامہ کاملہ کے قائل نہیں بظاہر معلوم ہوتے۔ پھر جب مرزا قادیانی کے اقدام سے لوگ واقف ہو کر اعتراض کرنے لگے تو مرزا قادیانی لکھتے ہیں۔

٣٠

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٥٣٧

”اے بھائی! معلوم رہے کہ میں نے نبوت کا دعویٰ نہیں کیا اور نہ میں نے ان کو کہا ہے کہ میں نبی ہوں۔ لیکن ان لوگوں نے جلدی کی اور میرے قول کے سمجھنے میں غلطی کی۔ میں ان لوگوں سے سوائے اس کے جو میں نے اپنی کتابوں میں لکھا ہے اور کچھ نہیں کہا اور مجھے کہاں حق پہنچا ہے کہ میں نبوت کا دعویٰ کروں اور اسلام سے خارج ہو جاؤں اور قوم کافرین سے جا کر مل جاؤں۔“

(حمامتہ البشریٰ ص ٧٩، خزائن ج ٧

ص ٢٩٧)

ہمارے ناظرین کو حوالہ جات مندرجۃ الصدر کو پڑھ کر عجیب قدرت کا تماشہ نظر آتا ہوگا کہ مرزا قادیانی کیا سے کیا اور کہاں سے کہاں بے پر کی اڑا رہے ہیں اور مندرجہ بالا آخری حوالہ کو لکھتے ہوئے مجھے ابھی حیرت ہو رہی ہے کہ ایسی باتیں وہ شخص کر رہا ہے جس کا ایک دعویٰ نہیں بلکہ عام رنگوں میں بندہ سے لے کر آدم، نوح، ابراہیم، داؤد، نبی موسیٰ، عیسیٰ، محمدؐ، محدث، مجدد، خدا کی بیوی، خدا کا بچہ، خود خدا، خدا کا باپ (نعوذ باللہ) وغیرہ وغیرہ ہونے کا دعویٰ ہے۔ جس کی تشریح کتاب ہذا کی جلد دوم میں ملاحظہ فرمائیں گے ؎

سنا تھا کبھی سر قلم قاصدوں کا
یہ ترے زمانہ میں دستور نکلا

مگر اس تالیف کا حق ادا نہ ہوگا۔ اگر مرزا قادیانی کی مندرجہ صفحات بالا نیرنگ خیالیوں کا راز فاش نہ کیا جاوے۔ لہٰذا چند ایک حوالے اس غرض سے درج ذیل کر کے اپنے ناظرین پر اپنے دعویٰ کی سچائی بیان کرنا چاہتے ہیں کہ مرزا قادیانی دفع الوقتی کا علم جانتے تھے۔ جیسا موقع ہوتا تھا ویسی باتیں اور عقائد گھڑتے تھے ان کو خدا کا خوف نہ دنیا کی رسوائی کا اندیشہ تھا۔

باقی بڑے میاں سو بڑے میاں چھوٹے میاں سبحان اللہ!

مطابق ان کے پس ماندگان دین ایمان کے خیال میں نہیں۔ بلکہ کفر کفران کے خیال میں بسر کرتے ہیں۔

مرزا قادیانی نے عبارت محولہ بالا میں لکھا ہے کہ میں نے اپنی کتاب میں نہیں لکھا کہ میں نبی ہوں۔ ورنہ میں اسلام سے فارغ ہو جاتا۔ اب ہم اپنے ناظرین پر اس حقیقت کا انکشاف کئے دیتے ہیں کہ مرزا قادیانی نے صاف الفاظ میں دعویٰ نبوت کیا ہے اور بوقت ضرورت حق پوشی کرتے ہوئے انکار بھی کر دیا ہے۔

قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ: ”لو کان من عند غیر اللّٰہ لوجدوا فیہ

٣١

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٥٣٨

اختلافاً کثیراً

اور مرزا قادیانی خود بھی لکھتے ہیں کہ : ”جھوٹے کے کلام میں تناقض ضرور ہوتا ہے۔ اسی لئے مولوی صاحب موصوف کا بیان بھی تناقض سے بھرا ہوا ہے۔“

(ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم ص ١١١، خزائن ج ٢١ ص ٢٧٥)

مرزا قادیانی نے حمامۃ البشریٰ میں دعویٰ نبوت سے صاف انکار کیا ہے۔ جیسا کہ عبارت محولہ الصدر سے ظاہر ہے اور یہ کتاب مورخہ ٢٧؍جولائی ١٩٠٣ء کو طبع ہوئی تھی اور موجودہ جماعت قادیان کا دعویٰ ہے کہ مرزا قادیانی نے ١٩٠١ء کے بعد دعویٰ نبوت کیا ہے۔ پہلے نہیں تھا۔ ہم ان سب حضرات کا بطلان مندرجہ ذیل صفحات پر کر کے دکھلاتے ہیں۔ ملاحظہ ہو:

یہ ضرور یاد رکھیں کہ اس امت کے لئے وعدہ ہے کہ وہ ہر ایک ایسے انعام پائے گی جو پہلے نبی اور صدیق پاچکے ہیں۔ پس منجملہ ان انعامات کے وہ نبوتیں اور پیشین گوئیاں ہیں۔ جن کے رو سے انبیاء علیہم السلام نبی کہلاتے رہے۔ لیکن قرآن شریف بجز نبی رسول ہونے کے دوسروں پر علوم غیب کا دروازہ بند کرتا ہے۔ جیسا کہ آیت ”لا یظہر علی غیبہ احد الا من ارتضی من رسول“ سے ظاہر ہے کہ مصفی غیب پانے کے لئے نبی ہونا ضرور ہوا اور آیت ”انعمت علیہم“ گواہی دیتی ہے کہ اس مصفی غیب سے یہ امت محروم نہیں اور مصفی غیب حسب منطوق آیت نبوت و رسالت کو چاہتا ہے۔

اشتہار ایک غلطی کا ازالہ

”خدا تعالیٰ کی طرف سے ایک کلام پاک جو غیب پر مشتمل زبردست پیشین گوئیاں ہوں۔ مخلوق کو پہنچانے والا اسلام کی اصطلاح میں نبی کہلاتا ہے۔“

(ملفوظات ج ١٠ ص ٤٢٧)

ناظرین ! غور فرمائیں کہ موجودہ قادیانی لوگ کہتے ہیں کہ مرزا قادیانی نے ١٩٠١ء سے پہلے دعویٰ نبوت نہیں کیا۔

”اگر خدا تعالیٰ سے غیب کی خبریں پانے والا نبی کا نام نہیں رکھتا۔ تو پھر بتاؤ کس نام سے اس کو پکارا جاوے۔ اگر کہو کہ اس کا نام محدث رکھنا چاہئے تو میں کہتا ہوں کہ تحدیث کے معنی کسی لغت کی کتاب میں اظہار غیب نہیں ہے۔“

(ایک غلطی کا ازالہ ص ٥، خزائن ج ١٨ ص ٢٠٩)

سوال ہوا کہ اگر آپ نبی ہیں تو کتاب لائے ہیں؟ تو جواباً لکھتے ہیں کہ بعد توریت کے

٣٢

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٥٣٩

صدہا ایسے نبی بنی اسرائیل میں سے آئے کہ کوئی نئی کتاب ان کے ساتھ نہیں تھی۔ بلکہ ان انبیاء کے ظہور کے مطالب یہ ہوتے تھے کہ تا ان کے موجودہ زمانہ میں جو لوگ تعلیم توریت سے دور ہو گئے ہوں۔ پھر ان کو توریت کے اصلی منشاء کی طرف کھینچیں۔

(شہادت القرآن مطبوعہ مورخہ ٢٢؍ستمبر ١٨٩٣ء، خزائن ج٦ ص٣٤٠)

”نبی کے لئے شارح ہونا شرط نہیں ہے۔ یہ صرف موہبت ہے۔ جس کے ذریعے امور غیبیہ کھلتے ہیں۔“

(ایک غلطی کا ازالہ ص٦، خزائن ج١٨ ص٢١٠)

”میں مسیح موعود ہوں اور وہی ہوں جس کا نام سرور انبیاء نے نبی اللہ رکھا ہے۔“

(نزول المسیح ص٣٨، خزائن ج١٨ ص٤٧٧)

”ایک صاحب پر ایک مخالف کی طرف سے یہ اعتراض پیش ہوا کہ جس سے تم نے بیعت کی ہے۔ وہ نبی اور رسول ہونے کا دعویٰ کرتا ہے اور اس کا جواب محض انکار کے الفاظ میں دیا گیا۔ حالانکہ ایسا جواب صحیح نہیں ہے۔“

(ایک غلطی کا ازالہ ص٢، خزائن ج١٨

ص٢٠٦)

ناظرین! مرزا قادیانی کی ہم ایک عبارت اوپر درج کر چکے ہیں۔ جس میں مرزا قادیانی نے اپنے مریدوں کی نسبت یہ اظہار کیا ہے کہ یہ لوگ میرا نام نبی ظاہر کرتے ہیں۔ میں نے ان کو بالکل نہیں کہا اور جو کچھ کہا ہے اس کو انہوں نے سمجھا نہیں۔ میں کہتا ہوں کہ تفرقہ کے خوف سے عام بول چال میں لفظ نبی استعمال نہ کیا کرو۔ وغیرہ! مگر اب مرزا قادیانی نے جدید کسی کے اس اعتراض پر کہ جس کے ہاتھ پر تم نے بیعت کی ہے۔ وہ نبوت کا مدعی کے جواب میں اگر وہ مرزا قادیانی کی ہدایت کے مطابق مرزا قادیانی کی نبوت کا انکار کر دیتے ہیں تو پھر مرزا قادیانی ان کی نسبت یوں اظہار نفرت کرتے ہیں کہ محض انکار درست نہیں۔ ہیر پھیر کر کے وقت کٹی ہو جاتی تو اس کو مرزا قادیانی پسند فرماتے اور یہی شکوہ آج کل قادیانی خلیفہ وغیرہ کا ہے۔ جس کا میں سولہ سالہ تجربہ کار ہوں۔ اب بتاؤ کہ مرزا قادیانی کے مرید جائیں تو کدھر جائیں۔ بیچارے حیرانی کے مارے نہ ادھر کے ہیں نہ ادھر کے ہیں۔ اگر کوئی سپوت ہوتا ہے گالیاں پیٹ بھر کے دے دیتا ہے۔ جیسا کہ میر قاسم علی ایڈیٹر فاروق کے حالات سے بیّن ثبوت ملتا ہے۔

یا پھر ایڈیٹر ”الفضل“ جیسے خلاف واقعہ جھوٹ اور حیلہ ساز باتوں سے کام لے کر کچھ مرزا قادیانی کی روح کو خوش رکھتے ہوں گے۔ خیر یار زندہ صحبت باقی اور ملاحظہ ہو:

٣٣

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٥٤٠

مرزا قادیانی لکھتے ہیں: ”قل یا ایھا الناس انی رسول اللہ الیکم جمیعا“ الہام : ”کہہ دے اے مرزا کہ اے لوگو! میں تم تمام لوگوں کی طرف رسول ہو کر آیا ہوں۔“

(البشریٰ ج ٢ ص ٥٦، تذکرہ ص ٣٥٢، مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ٢٧٠)

”میرے نزدیک نبی اس کو کہتے ہیں جس پر خدا کا کلام یقینی قطعی بکثرت نازل ہو۔ جو غیب پر مشتمل ہو۔ اس لئے خدا نے میرا نام نبی رکھا۔ مگر بغیر شریعت کے۔“

(تجلیات الٰہیہ ص ٢٠، خزائن ج ٢٠ ص ٤١٢)

ناظرین کرام! مرزا قادیانی کے انکار نبوت اور دعویٰ نبوت کو آپ نے نمونہ کے طور پر ملاحظہ فرمالیا ہے۔ یہ ہے مرزا قادیانی کی صداقت اور امانت۔ جس کو آج قادیانی لوگ لئے پھرتے ہیں۔ اس بات کو ہم مفصل طور پر واضح کرنا چاہتے ہیں کہ قادیانی لوگ مذہب کی آڑ میں کس چیز کو حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ حق پوشی کی ان کو کس وجہ سے خاص مہارت حاصل ہے۔ محض میں نے بخوف طوالت بعض ان امور کو جلد دوم کے لئے رہنے دیا ہے۔ ”وما توفیقی الا باللہ علیہ توکلت والیہ انیب“

شاید عبارت مذکورہ میں جو مرزا قادیانی نے لکھا ہے کہ میں بغیر شریعت کے نبی ہوں۔ شریعت والا نبی نہیں ہوں۔ اس بات سے کسی سادہ مزاج مسلمان کو مرزائی لوگ دھوکا میں نہ ڈال دیں۔ لہٰذا ہم اظہاراً للحق اس کی حقیقت کو بھی واضح کردینا چاہتے ہیں تاکہ دشمن کو اپنی عادت کے مطابق دھوکا دینے کا موقع نصیب نہ ہو۔

مرزا قادیانی لکھے اور کیا ہی خوب لکھے۔ ”ماسوا اس کے یہ بھی تو سمجھو کہ شریعت کیا چیز ہے۔ جس نے اپنی وحی کے ذریعہ سے چند امر اور نہی بیان کئے اور اپنی امت کے لئے ایک قانون مقرر کیا۔ وہی صاحب شریعت ہو گیا۔ پس اس تعریف کی رو سے بھی ہمارے مخالف ملزم ہیں۔ کیونکہ میری وحی میں امر بھی ہیں اور نہی بھی۔“

(اربعین نمبر ٤ ص ٦، خزائن

ج ١٧ ص ٤٣٥)

حضرات! دیکھئے مرزا قادیانی نے کس طرح اپنے تمام سابقہ بیانات کے خلاف صاحب شریعت نبی ہونے کا دعویٰ کر دیا ہے اور اس سے پہلے ہم تجلیات الٰہیہ کا حوالہ اس کے بالکل برخلاف دکھا چکے ہیں۔ پس مرزا قادیانی کی تعلیم کیا ہے۔ پنساری کی دکان یا گداگر کی کشکول ہے کہ جس وقت جو چیز چاہی اس میں سے نکال لی۔ کسی نے خوب کہا ہے ؎

میرے ساقی کے ہاں سب کی بقدر ظرف ملتی ہے

٣٤

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٥٤١
خط تقدیر لکھتے ہیں جسے ہے خط پیمانہ

تصویر کا دوسرا رخ

ناظرین کرام! اس کتاب کے علم ولطف سے محظوظ نہیں ہوسکیں گے۔ اگر ہم مرزا قادیانی کی ہی صرف دورنگیوں پر اس مضمون کو ختم کر دیں بلکہ بڑے میاں سو بڑے میاں اور چھوٹے میاں سبحان اللہ! کی کیفیت کے مطابق مرزا قادیانی کے پسر میاں بشیر الدین محمود احمد خلیفہ قادیان کی رنگ رلیاں کسی قدر بیان کر دیں تو بہتر ہوگا۔ لہٰذا بمدنظر طوالت ہم خلیفہ صاحب کے عقائد پر مفصل بحث نہیں کریں گے اور ہمارا ارادہ خاص یہی ہے کہ اس کتاب کے حصہ اوّل کو جو اس وقت آپ کے ہاتھ میں ہے۔ مرزا قادیانی کے دعاوی کی تمہید پر ہی ختم کریں۔ اصل حالات جو قسما قسم کے ہیں۔ وہ حصہ دوئم میں حسب گنجائش درج کریں گے۔ واللہ اعلم بالصواب!

صرف بطور نمونہ چند باتیں درج کر کے ان کی حقیقت کا پردہ چاک کیا جاتا ہے۔ خلیفہ صاحب لکھتے ہیں کہ:

آنحضرت ﷺ کی شہادت کو کس طرح چھوڑ دیویں۔“

(حقیقت النبوۃ ص ١٨٩، ١٩٠ حصہ اوّل)

آخرین نہیں قرار دیا گیا۔ معلوم ہوا کہ رسول بھی صرف مسیح موعود ہی ہیں اور چونکہ محدثین تو پہلے بہت گذر چکے ہیں۔ اس لئے یہ بھی ثابت ہوا کہ مسیح موعود کی رسالت محدثیت والی نہیں۔“

(حقیقت النبوۃ ص ٢٣١ حصہ اوّل)

تو آپ حقیقی معنوں میں ہی نبی ہیں۔“

(حقیقت النبوۃ ص ١٨٠ حصہ اوّل)

ثابت ہوا کہ اسلام کی اصطلاح کی رو سے ہرگز مجازی نبی نہیں ہیں۔“ (بلکہ حقیقی نبی ہیں)

(حقیقت النبوۃ حصہ اوّل ص ١٧٧)

٣٥

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٥٤٢

کثرت سے اطلاع پانا غیر نبی میں پایا ہی نہیں جاتا۔“

(حقیقت النبوۃ حصہ اول ص ٧٩، ٨٠)

یعنی مطلب ہے کہ مرزا قادیانی میں یہ شرط پائی جاتی ہے۔ لہٰذا وہ حقیقی نبی ہیں۔

ہوتا۔ بلکہ حقیقتاً ہوتا ہے۔“

(حقیقت النبوۃ حصہ اوّل ص ١٨١)

پائے جانے ضروری ہیں تو میں کہوں گا کہ ان معنوں کی رو سے حضرت مسیح موعود حقیقی نبی تھے۔“

(القول الفصل ص ١٢)

ہے...... ”پس جس میں وہ خصوصیت پائی جائے گی۔ اسے ہم مجازی نبی نہیں کہہ سکتے۔ بلکہ وہ شریعت اسلام کی رو سے حقیقی نبی ہوگا۔“

(حقیقت النبوۃ حصہ اوّل ص ١٧٦، ١٧٧)

مجازی نبی نہیں۔ بلکہ حقیقی نبی ہیں۔“

(حقیقت النبوۃ حصہ اوّل

ص ١٧٤)

شریعت اسلام کی اصطلاح کی رو سے آپ حقیقی نبی تھے۔“

(حقیقت النبوۃ حصہ اوّل ص ١٧٧)

کہا۔ پس ہم خدا کے ہیں اور خدا کے حکم کو مقدم کریں گے اور آپ کی تحریر میں جو انکساری فروتنی کا غلبہ ہے اور جو نبیوں کی شان ہے۔ اس کو الہامات کے ماتحت کریں گے۔“

(الحکم مورخہ ٢١؍اپریل ١٩١٤ء)

ناظرین! مرزا قادیانی کی عبارت کا بھی ملاحظہ کر چکے ہیں کہ انہوں نے صاف کہا ہے کہ: ”میں مدعی نبوت کو کاذب اور کافر جانتا ہوں۔ مدعی نبوت پر لعنت بھیجتا ہوں۔ مدعی نبوت کو دائرہ اسلام سے خارج سمجھتا ہوں۔“

(مجموعہ اشتہارات ج ١ ص ٢٥٥،

٢٣٠)

لیکن ان کے پسر جس کو مرزا قادیانی نے اس قدر تعریف سے بڑھانا چاہا کہ خدا کا مظہر قرار دے دیا وہ پسر اپنی نفس پروری کی خاطر اپنے باپ کی روح کو لعنت، کذب، کفر وغیرہ کا مورد

٣٦

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٥٢٣

بنانے سے ذرہ بھر خدا کا خوف نہیں کرتا۔ چونکہ ہم وعدہ کر چکے ہیں کہ اس حصہ میں گنجائش نہیں۔ ورنہ اس اصلیت کو کھولتے کہ مرزا قادیانی نے دعویٰ نبوت سے انکار کیوں کیا اور اقرار کیوں کیا۔ ان کے بیٹے نے حقیقی حقیقی کے الفاظ میں بار بار کیوں کہا۔ یہ ایک لمبی بات ہے۔ جس کا علماء کرام کو تو پورا علم ہے۔ مگر چونکہ عوام کو نہیں اور ہمیں اس جماعت میں سولہ برس رہ کر تجربۃً مشاہدۃً سماعۃً وغیرہ طرق سے پورا علم ہے۔ جس کو اپنے وقت پر بیان کریں گے۔ اس جگہ صرف اتنا ہی کافی ہے کہ اگر باپ ایک چیز کو کفر کہتا ہے تو بیٹا اس کو باپ کی طرف منسوب کر کے کفر کا ارتکاب کرتا ہے اور ایک جگہ وہ کفر ہوتا ہے تو دوسری جگہ وہی ایمان بن جاتا ہے۔ کچھ پتہ نہیں چلتا کہ آج سچا کون ہے اور جھوٹا کون ہے۔ ان دونوں میں سے مؤمن کون ہے اور کافر کون ہے۔ اس کا تو ہمیں علم ہے کہ مقبرہ بہشتی کے فنڈ کو بڑھانے کے لئے کفر اور اسلام کا جھگڑا بنانا قادیانی خلیفہ کے نزدیک بالکل معمولی بات ہے۔ لیکن ناظرین جب تک ہماری اس کتاب کا دوسرا حصہ ملاحظہ نہ فرمائیں گے انہیں ہر بحث کا پورا علم نہ ہوگا۔ خیر دیدہ باید...... وہ لکھتے ہیں:

(حقیقت النبوۃ حصہ اول ص ٢٣٥)

نبوت کا سلسلہ بھی جاری۔“

(حقیقت النبوۃ حصہ اول ص ٢٢٨)

میرے مقام تک نہیں پہنچے اور میں محدث نہیں بلکہ نبی ہوں۔“

(حقیقت النبوۃ حصہ

اول ص ١٣١)

موعود نبی ہوئے نہ کہ محدث۔“

(حقیقت النبوۃ حصہ اول ص ٢٣٠)

آنحضرت ﷺ کی غلامی اختیار نہ کرے۔ ورنہ نبوت کا دروازہ مسدود نہیں اور جب کہ باب نبوت کھلا ہو تو مسیح موعود بھی ضرور نبی ہیں۔“

(حقیقت النبوۃ حصہ اول ص ٢٣٢)

دروازہ کھلا ہے۔“

(حقیقت النبوۃ حصہ

اول ص ٢٢٨)

٣٧

صفحہ ٥٤٤

ناظرین کرام! آپ نے ان چند حوالوں کو بھی ملاحظہ فرمالیا ہے۔ دیدہ دلیری سے خلیفہ صاحب نے اپنے والد کی روح کو خارج از اسلام اور مورد وغیرہ وغیرہ بنانے کی کوشش کی ہے۔ بیٹے ہوں تو ایسے اور باپ ہو تو ایسا اور یہ اس کی کوشش نیکی یا تقویٰ کی بناء پر نہیں۔ بلکہ محض پیٹ پروری کی غرض سے ہے۔ جس طرح مرزا قادیانی کو مسئلہ حیات وممات مسیح سے حقیقتاً کوئی غرض نہیں تھی۔ اپنا الو سیدھا کرنا تھا۔ اسی طرح ان کے پسر اور خلیفہ مرزا قادیانی کی اعتقادی حیثیت سے یا صدق کذب سے کوئی غرض نہیں بلکہ اپنا الو سیدھا کرنا مدنظر ہے۔ جیسا ہم ثابت کریں گے۔ انشاء اللہ!

مرزا قادیانی کی مندرجہ صفحات بالا عبارت سے تو صاف ثابت ہوتا ہے کہ وہ دعویٰ نبوت کے اظہار سے کتراتے ہیں۔ مگر بوقت ضرورت اس پیالہ کو انہوں نے پیا ہی ہے۔ مگر میاں محمود احمد کو اندر ہی اندر یہ بات کرنے کی مرزا قادیانی نے کب اور کس طرح جرأت دلائی۔ خدا جانتا ہے کہ مرزا قادیانی باوجود مدعی نبوت پر لعنت بھیجنے اور ختم نبوت پر محکم ایمان رکھنے کے پھر نبی بن گئے۔ اس خیال کے جواب میں خلیفہ صاحب حسب ذیل حیلہ سازی سے کام لیتے ہیں ۔

سر خدا کہ عارف سالک بکس نہ گفت
در حیرتم کہ بادہ فروش از کجا شنید

خلیفہ صاحب لکھتے ہیں کہ: غرضیکہ مذکورہ بالا حوالہ سے صاف ثابت ہے کہ تریاق القلوب کی اشاعت تک جو کہ اگست ١٨٩٩ء سے شروع ہوئی اور ٢٥؍اکتوبر ١٩٠٢ء میں ختم ہوئی۔ آپ کا (مرزا قادیانی) کا عقیدہ یہی تھا کہ آپ کو حضرت مسیح پر جزوی فضیلت ہے اور آپ کو نبی کہا جاتا ہے تو یہ ایک قسم کی جزوی نبوت ہے اور ناقص نبوت ہے۔ لیکن بعد میں جیسا کہ نقل کردہ عبارت فقرہ ٢، ٣ ثابت ہے۔ آپ کو خدا کی طرف سے معلوم ہوا کہ آپ ہر شان میں مسیح سے افضل ہیں اور کسی جزوی نبوت کے پانے والے نہیں بلکہ حقیقی نبی ہیں۔ پھر ١٩٠٢ء سے پہلے کی تحریر سے حجت پکڑنا بالکل جائز نہیں ہو سکتا ہے۔ (القول

الفصل ص ٢٤)

ناظرین کرام! اس آخری حوالہ میں خلیفہ صاحب نے اپنی کتاب میں یہ ظاہر کیا ہے کہ مرزا قادیانی پہلے تو نبی نہ تھے۔ لیکن ١٩٠٢ء میں انہوں نے اپنے دعاوی تبدیل کر لئے تھے اور اس کے بعد مکمل نبی بن گئے تھے۔ لیکن مرزا قادیانی کا ایک قول ہم اوپر نقل کر چکے ہیں کہ: ”جھوٹے کے کلام میں تناقض ضرور ہوتا ہے۔“ خلیفہ صاحب کی اس تاویل پر کہ مرزا قادیانی نے

٣٨

صفحہ ٥٤٥

نبوت کا دعویٰ ١٩٠٢ء میں کیا۔ جب اعتراض ہوئے تو خلیفہ صاحب نے حیلہ سازی کی کروٹ بدلی اور لکھ دیا کہ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ ١٩٠١ء میں آپ نے عقیدہ میں تبدیلی کی ہے۔ ١٩٠١ء درمیانی عرصہ ہے۔ جو دونوں خیالات کے درمیان برزخ کے طور پر حد فاصل ہے۔ ”یہ بات ثابت ہے کہ ١٩٠١ء سے پہلے کے وہ حوالے جن میں آپ نے نبی ہونے سے انکار کیا ہے۔ اب منسوخ ہیں اور ان سے حجت پکڑنی غلط ہے۔“

(حقیقت النبوۃ حصہ اول ص ١٢١)

مجھ کو محروم نہ کر وصل سے او شوخ مزاج
بات وہ کہہ کہ نکلتے ہیں پہلو دونوں

ناظرین! خاندان نبوت قادیانیہ میں جو شخص رنگا رنگ کی باتیں نہ کرے غالباً اسے دیدار خدا اور شفاعت نبی ﷺ کا پورا یقین نہیں ہوتا۔ کیا عجیب معاملہ ہے کہ معمولی سی بات تھی۔ ١٩٠٢ء میں اعتراض ہوا تھا تو صاف لکھ دیتے کہ غلطی سے لکھا گیا ہے۔ حقیقت میں ١٩٠١ء سے مراد تھی۔

اس ”انا انا وانت انت“ کی کیا ضرورت تھی۔ وہی حافظہ نہ باشد والی بات معلوم ہوتی ہے۔

خیر مرزا قادیانی کے الفاظ میں جو آج کل خلیفہ صاحب کے نفخ روح کرنے کے بعد قادیانی لوگ مرزا قادیانی کا دعویٰ پیش کرتے ہیں۔ ہم اس کو نمونۃً کسی قدر ذکر کر دیتے ہیں۔

(مرزا قادیانی کا دعویٰ ان کی زبانی)

(اخبار بدر مورخہ ٥؍مارچ ١٩٠٨ء، ملفوظات ج ١٠ ص ١٢٧)

تھا۔“

(براہین احمدیہ حصہ پنجم حاشیہ ص ٥٤، خزائن ج ٢١ ص ٦٨)

حالانکہ نمبر (٢) کی عبارت سے معلوم ہوتا ہے کہ مرزا قادیانی ١٩٠١ء سے پہلے کا اپنا حال لکھ رہے ہیں۔ جس میں وحی اور رسالت کی مشکلات کا ذکر کرتے ہیں۔ مگر پیش آنے والے حضرات اسے ١٩٠١ء کے بعد مرزا قادیانی کے دعویٰ نبوت میں تبدیلی کرنے کے ثبوت میں پیش کر رہے ہیں۔ کیا ہی نادر شاہی لوٹ ہے ۔

چہ نسبت است برندے صلاح و تقویٰ را

٣٩

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٥٤٦
سماع واعظ کجا نغمۂ رباب کجا

(حقیقت الوحی ص٣٩١، خزائن ج٢٢ ص٤٠٦، ٤٠٧)

(تجلیات الٰہیہ ص ٢٦)

نبی ہے اور خدا کے بزرگ مقربین میں سے ہے۔ اگر کوئی امر میری فضیلت کی نسبت ظاہر ہوتا تو میں اس کو جزئی فضیلت قرار دیتا تھا۔ مگر بعد میں جو خدا تعالیٰ کی وحی بارش کی طرح میرے اوپر نازل ہوئی۔ اس نے مجھے اس عقیدہ پر قائم نہ رہنے دیا اور صریح طور پر نبی کا خطاب مجھے دیا گیا۔“

(حقیقت الوحی ص ١٤٩، ١٥٠، خزائن ج ٢٢ ص ١٥٣)

قدر نشان دکھلائے ہیں کہ اگر وہ ہزار نبی پر بھی تقسیم کئے جائیں تو ان کی بھی ان سے نبوت ثابت ہو سکتی ہے۔“

(چشمہ معرفت ص ٣١٧، خزائن

ج ٢٣ ص ٣٣٢)

اب ناظرین غور فرمائیں کہ مرزا قادیانی کا یہ لکھنا کہ مجھے خدا نے اتنے نشان دیئے ہیں کہ اگر ان کو ہزار نبی پر تقسیم کیا جاوے تو ان کی نبوت ثابت ہو سکتی ہے۔ بھلا ان سے کوئی پوچھے جو پہلے ہی نبی ہوں ان کو پھر نبی ثابت ہونے کے لئے نشانات پر قرعہ ڈال کر تقسیم کرنے کی کیا ضرورت۔ یہ تو آزمودہ را۔ آزمودن اور تحصیل حاصل کا مضمون ہے۔ غالباً مرزا قادیانی کا یہ مطلب ہوگا کہ میرے اندر جھوٹے ہونے کے ایسے صاف نشان ہیں کہ اگر وہ دس ہزار صادق نبیوں پر تقسیم کر دیئے جائیں۔ باوجودیکہ وہ مسلم، نیکو کار اور معصوم ہوں۔ پھر بھی سچے ثابت نہیں ہو سکتے۔ نعوذ باللہ!

جس طرح کہا جاوے کہ میرے سر پر اتنا بوجھ ہے۔ اگر اسے دس نوجوانوں پر تقسیم کر دیا جاوے تو بھی اٹھا کر چل نہ سکیں۔ ورنہ اس کی کیا ضرورت ہے کہ کوئی شخص کہے کہ ”ازالۃ اوہام“ کسی بی۔اے کو پڑھا دیا جاوے تو وہ بی۔اے ثابت ہو سکتا ہے۔ ہاں یہ تو کہا جا سکتا ہے کہ ایک مسلمان کو ازالہ اوہام پر عمل کرا دیا جائے تو وہ مسلمان نہیں رہ سکتا۔ کاش کہ مرزا قادیانی پر یہ اعتراض ان کی زندگی میں ہوا ہوتا۔ پھر دیکھتے کہ اگر یہی میرے والی تاویل وہ نہ کر دکھاتے تو تأسف تھا۔ الغرض خلیفہ صاحب کا دعویٰ کہ مرزا قادیانی نبی ہیں اور انہوں نے اپنی نبوت کو سمجھا

٤٠ www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٥٤٧

نہیں تھا۔ ١٩٠١ء اور پھر ١٩٠٢ء میں انہوں نے تبدیل کر کے اصل نبوت کا دعویٰ کیا اور اس کے بعد پھر نبی ہی رہے۔ پھر کبھی انہوں نے حقیقی نبوت کی تاویل اپنے لئے نہیں کی اور رسول کریم کو آخری نبی نہیں کہا اور ختم نبوت سے انکار کر دیا۔ وغیرہ!

ہم اپنے ناظرین کو اس دعویٰ کا ابطال بھی دکھانا چاہتے ہیں۔ تاکہ جو جھوٹا ہے وہ سچا نہ ہو جائے۔ ورنہ پھر سچے اور جھوٹے میں فرق کیا ہو گا۔ جس نے زیادہ ہیر پھیر کئے وہی نبی اور خلیفہ بن گیا۔ لہٰذا ہم خلیفہ صاحب کے اس دعویٰ کو ایک دو حوالوں کو نقل کر کے باطل ثابت کرتے ہیں۔

کتاب (ضمیمہ حقیقت الوحی ص ٦٤، خزائن ج ٢٢ ص ٦٨٨) میں لکھتے ہیں کہ: ”والنبوۃ قد انقطعت بعد نبینا صلی اللہ علیہ وسلم کہ رسول کریم کے بعد نبوت ختم ہو چکی ہے۔“

شاید قادیانی دوست اس عبارت کی بھی تاویل کر کے یہ کہیں کہ ختم ہونے کے معنی یہ نہیں کہ آئندہ کوئی نبی نہ آئے تو اس کا جواب یہ ہے کہ عبارت عربیہ میں انقطعت کا لفظ ہے۔ جس کے معنی ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد نبوت منقطع ہو چکی اور کوئی نبی اس کے بعد نہیں آئے گا۔

پس قادیانی دوست تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو نبی گر قرار دیا کرتے ہیں۔ مگر مرزا قادیانی نے عبارت مذکورہ میں رسول پاک کو قاطع النبوۃ قرار دیا ہے۔

اور حمامۃ البشریٰ جو مرزا قادیانی کی کتاب ہے اور وہ ٢٧ جولائی ١٩٠٣ء میں طبع ہوئی۔ اس کتاب میں آپ لکھتے ہیں کہ: ”میں نے اپنی بعض کتابوں میں لکھا ہے کہ تحدیث کا مقام مقام نبوت سے شدید مشابہت رکھتا اور سوائے قوت و فعل کے ان میں کوئی فرق نہیں ہے۔ لیکن ان لوگوں نے میرے قول کو نہیں سمجھا اور یہی کہا کہ یہ شخص نبوت کا مدعی ہے اور اللہ جانتا ہے کہ ان کا یہ قول صریح کذب ہے اور اس میں ذرہ بھر سچائی کی چاشنی نہیں اور نہ اس کا کوئی اصل ہے اور اس کو انہوں نے صرف اس لئے تراشا ہے کہ لوگوں کو تکفیر اور گالی اور لعنت طعن پر اکسائیں اور انہیں فساد اور عناد کے لئے اٹھائیں اور مومنوں میں تفریق کریں۔“

(حمامۃ البشریٰ ص ٨١، ٨٢، خزائن ج ٧ ص ٣٠٠)

پھر مرزا قادیانی کی سب سے آخری کتاب الوصیت جس میں وصیت کا مضمون ہے اور وصیت ہمیشہ آخری وقت ہی میں ہوتی ہے۔ چنانچہ خلیفہ صاحب قادیانی اس کتاب الوصیت کے متعلق میری تائید میں لکھتے ہیں۔ ”چنانچہ آپ نے دسمبر ١٩٠٥ء رسالہ الوصیت شائع کیا اور اس میں بوضاحت اس امر کو لکھ دیا کہ اب میں بہت جلد وفات پانے والا ہوں اور اپنے پیدا کرنے والے کی طرف جانا میرے لئے مقدر ہو چکا ہے۔ اس لئے میں اپنی وصیت کو شائع کرتا ہوں۔“

٤١

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٥٤٨

(صادقوں کی روشنی ص ٢)

اس آخری کتاب میں دیکھئے۔ مرزا قادیانی کیا لکھتے ہیں: ”اس لئے اس نبوت پر تمام نبوتوں کا خاتمہ ہے اور ہونا چاہئے تھا۔ کیونکہ جس چیز کے لئے ایک آغاز ہے۔ اس کے لئے ایک انجام بھی ہے۔“

(الوصیت ص ١١، خزائن ج ٢٠ ص ٣١١)

مرزا قادیانی کا عقیدہ ہم اوپر نقل کر آئے ہیں کہ نبوت آدم صفی اللہ سے شروع ہوئی اور آنحضرت ﷺ پر ختم ہوگئی۔ اب غور کا مقام ہے کہ آدم صفی اللہ تشریعی نبی نہ تھے۔ جب مرزا قادیانی نے یہ لکھا کہ آدم کی نبوت اور محمد رسول اللہ کی نبوت ہر دو منقطع ہو گئی تو اس کا صاف مطلب ہے کہ نبوت تشریعی وغیر تشریعی ہر دو قسم کی نبوت ختم ہے۔ اب کوئی نبی نہیں آسکتا۔ جو شخص اب نبوت کا دعویٰ کرے وہ بقول مرزا قادیانی کافر ہے۔ کاذب لعنتی ہے۔ دائرہ اسلام سے خارج ہے۔ قرآن پر اس کا ایمان نہیں اور فساد کی غرض سے مفسدانہ چالیں چلتا ہے۔ الیٰ اخرہ!

اب اس کے بعد شاید قادیانی دوست مرزا قادیانی یا خلیفہ قادیانی کا کوئی عقیدہ یا تشریح دوبارہ ثبوت پیش کر کے کج بحثی کا میدان نہ بنا سکیں گے۔

ناظرین کرام! ہمارا مدعا اس جگہ مرزا قادیانی پر اپنی طرف سے اسلامی دلائل پیش کر کے ان کو ملزم گرداننا نہیں۔ بلکہ ان کی ہی تحریرات کا ان کی دوسری تحریرات سے مقابلہ کر کے ”لوکان من عند غیر اللہ لوجدوا فیہ اختلافا کثیراً“ کی صداقت کو ظاہر کرنا ہے اور نیز اس بات کو کہ ان کے جانشین جو آج کل نجات کے واحد اجارا دار بنے ہوئے ہیں۔ مرزا قادیانی کے مقصد اور عقائد میں بھی خیانت سے ردو بدل کر رہے ہیں۔ تاکہ ضرورت وقتی کے لحاظ سے جلب اور حصول کا بازار گرم رہے اور ”یحرفون الکلم عن مواضع“ کے مصداق بن رہے ہیں۔

ہم اپنی طرف سے یہ بھی نہیں لکھیں گے کہ مرزا قادیانی کے دعاوی اصول و تعلیم اسلام کی رو سے کیا حیثیت رکھتے ہیں۔ بلکہ یہ مطلب کہ جو شخص کسی کا جانشین ہو اس کی ایمانداری اس میں ہوتی ہے کہ جس کا وہ جانشین ہے اس کے مقصد کی پیروی کرے۔ خواہ وہ کفر تھا یا کذب مگر معلوم ہوا ہے کہ مرزا قادیانی کا مقصد ہی خدا ترسی اور خدمت دین نہ تھا۔ ورنہ خدا اس مقصد کو ضائع نہ ہونے دیتا۔ اگرچہ مرزا قادیانی کے اخراجات خانگی کتنے ہی کیوں نہ بڑھ جاتے۔ بالآخر میں خدا کو حاضر و ناظر جان کر اپنے ١٥، ١٦ سالہ تجربہ کی بناء پر لکھ سکتا ہوں کہ خلیفہ قادیان کا مقصد صرف روپیہ اکٹھا کرنا ہے۔ روحانیت اور مذہب ان میں صرف دکھاوا ہی دکھاوا ہے۔

٤٢

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٥٤٩

جیسا کہ میں، مرزا قادیانی اور خلیفہ قادیان کی کثیر التعداد اختلاف بیانیوں سے کسی قدر اس کا ثبوت پیش کر چکا ہوں۔ مگر یہ اختلاف اگرچہ عبارت میں مخل تھے۔ لیکن بالخصوص عقائد میں صاف اختلاف تھے اور اب ہم چاہتے ہیں کہ آئندہ فصل میں کچھ ایسے بیان کریں جو اگرچہ عقائد میں بھی ہوں۔ لیکن عبارات میں بالخصوص اختلاف ثابت ہوں اور اس مضمون کو بھی ہم بالاستیعاب نہیں لکھ سکتے۔ صرف عاقل را اشارہ کافی است والی بات ہے۔

والسلام!

الفصل الثالث

در بارہ اختلافات صریحہ

”وما ینطق عن الھویٰ ان ھو الا وحی یوحٰی“ {نبی اپنی خواہش سے کچھ نہیں بولتا سوائے وحی کے۔}

”لوکان من عند غیر الله لوجدوا فیہ اختلافاً کثیراً“ {جو چیز اللہ کی طرف سے نہیں ہوتی۔ اس میں اختلاف بڑے ہوتے ہیں۔ (مرزا قادیانی کے اختلافات کثیراً)}

تناقض

حدیث میں آنے والے مہدی کو حارث، حراث لکھا ہے اور اس حدیث کو مرزا قادیانی نے اپنی تائید میں پیش کر کے کئی جگہ صحیح قرار دیا ہے۔

لیکن دوسری جگہ مولوی ثناء اللہ امرتسری کے اعتراض در بارہ مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی کو زمین ملنے کا جواب دیتے ہوئے لکھتے ہیں۔

”اب دیکھو کہ ان احادیث سے صریح ثابت ہے کہ جہاں کاشت کاری کا آلہ ہوگا وہیں ذلت ہوگی۔ اب ہم میاں ثناء اللہ کی بات مانیں یا رسول اللہ ﷺ کی ۔“

(تریاق القلوب ص ١٤٠، خزائن ج ١٥ ص ٤٤٩)

اب دیکھئے ایک طرف تو مرزا قادیانی کاشتکار و حارث بنتے ہیں اور دوسری طرف کاشتکاری کو ذلت اور لعنت قرار دیتے ہیں۔ ببیں تفاوت راہ از کجاست تا بکجا۔

اختلاف نمبر: ٢

بہشتی مقبرہ کے متعلق ”الوصیت“ میں ہدایت لکھتے ہوئے کہتے ہیں کہ: ”اور کوئی یہ

٤٣

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٥٥٠

خیال نہ کرے کہ صرف اس قبرستان میں داخل ہونے سے بہشتی کیونکر ہوسکتا ہے۔ کیونکہ یہ مطلب نہیں کہ یہ زمین کسی کو بہشتی کر دے گی۔ بلکہ خدا کے کلام کا یہ مطلب ہے کہ صرف بہشتی ہی اس میں دفن کیا جائے گا۔“

(ضمیمہ الوصیت ص ٢٣، خزائن ج ٢٠

ص ٣٢١)

دوسری جگہ لکھتے ہیں کہ: ”اس قبرستان میں بجز کسی خاص صورت کے جو انجمن تجویز کرے نابالغ بچے نہیں دفن ہوں گے۔ کیونکہ وہ بہشتی ہیں اور نہ اس قبرستان میں اس میت کا کوئی دوسرا عزیز دفن ہوگا۔ جب تک وہ اپنے طور پر کل شرائط رسالہ الوصیت کو پورا نہ کرے۔“

(ضمیمہ الوصیت ص ٢٦، خزائن ج ٢٠ ص ٣٢٤)

ناظرین کرام! کیا ہی مزے کی کہی اور ایک ہی کہی کہ ایک جگہ تو خود ہی کہتے ہیں کہ یہ زمین کسی کو بہشتی نہیں بناتی۔ جو پہلے ہی بہشتی ہے وہ اس میں دفن ہوگا اور نابالغ بچے کو پہلے ہی بہشتی قرار دیتے ہیں۔ باوجود اس کے حکم دیتے ہیں کہ وہ اس میں دفن نہیں ہوگا۔ بتائیں کہ جب وہ پہلے ہی بہشتی ہے اور پہلے ہی بہشتی ہو وہ اس قبرستان میں دفن ہوسکتا ہے؟ تو پھر بچوں کے دفن کی ممانعت کیوں ہوئی اور پھر اگر واقعہ ہی اس میں بچے دفن نہیں ہو سکتے تو مرزا قادیانی کا لڑکا مبارک احمد جو نابالغ فوت ہوا تھا اس قبرستان میں کیوں دفن کیا گیا؟

پھر مرزا قادیانی نے آخری عبارت میں یہ فرمایا ہے کہ میت کا کوئی عزیز بجز شرائط پوری کرنے کے جو کتاب الوصیت میں لکھی گئی ہیں۔ اس میں دفن نہیں ہو سکتا۔ ہم قادیانی دوستوں سے پوچھتے ہیں کہ میت کا کوئی عزیز خواہ وہ کتنا ہی نیک پاک اور پہلے ہی سے بہشتی ہو اس قبرستان میں دفن کیوں نہیں ہوسکتا۔ شرط تو یہ ہے کہ نابالغ نہ ہو اور اس میں یہ شرط لگانا کہ وہ خود الوصیت کے قوانین پر عمل کرے تو دفن ہو سکتا ہے۔ کیا یہ ظاہر کرتا ہے کہ مرزا قادیانی اور ان کے پسماندگان کا مطلب صرف زر طلبی ہے اور کچھ نہیں۔ کسی کے بہشتی غیر بہشتی ہونے کا ان کو کوئی دریغ نہیں ہے۔ غالب کی روح بھی اس بیان سے تڑپ کر کہتی ہے ۔

خوب ہم سمجھتے ہیں جنت کی حقیقت لیکن
دل کے بہلانے کو غالب یہ خیال اچھا ہے

پھر لکھتے ہیں کہ: ”میری اور میرے اہل وعیال کی نسبت خدا نے استثناء رکھا ہے۔“

(ضمیمہ الوصیت ص ٢٩، خزائن ج ٢٠ ص ٣٢٧)

ہم حیران ہیں کہ وہ کون سا الہام ہے۔ جس کی مرزا قادیانی تشریح فرماتے ہیں۔ ہمیں

٤٤

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٥٥١

وہ الہام تو کسی کتاب میں دکھایا جاوے۔ پھر اگر وہ دکھا دیں تو ہمارا اعتراض ہے کہ مرزا قادیانی کے اہل وعیال اگر مستثنیٰ ہیں تو پھر بعض نے ان میں سے وصیت کر بھی دی ہوئی ہے۔ کیا وہ خدا کے حکم کی خلاف ورزی کے مرتکب نہیں ٹھہرتے۔

ہم خلیفہ صاحب اور ان کی ذریت روحانیہ سے پوچھتے ہیں کہ جب آپ لوگ سفر اور تقاریر وغیرہ میں روزہ نہیں رکھتے تو اس پر اگر اعتراض ہو تو کہہ دیتے ہو کہ اگر ہم سفر میں روزہ رکھیں تو خدا کے حکم کی نافرمانی ہوتی ہے۔ حالانکہ وہ روزہ رکھنا نہ رکھنا ایک رخصتی معاملہ ہے اور یہاں استثناء یقینی ہے تو یہاں خود خلیفہ صاحب نے جو دکھاوے کی وصیت کر رکھی ہے۔ اس میں خدا کے حکم کی نافرمانی لازم نہیں آتی۔ مگر اس کا جواب یوں دیا کرتے ہیں کہ چونکہ خدا تعالیٰ نے ہمیں شرائط وصیت سے مستثنیٰ رکھا ہے۔ اس لئے اس کے شکریہ کے طور پر وصیت کر دیتے ہیں۔ ہمیں ان کے اس جواب پر دو اعتراض ہیں۔ ایک یہ کہ روپیہ ان کی کمائی سے نہیں آتا۔ بلکہ مریدوں کے نذرانوں سے اور بیت المال کے خزانہ سے جتنا چاہیں خرچ کر لیں۔ ایسے شکریہ تو سارے ادا کر سکتے ہیں۔ یہ کوئی خوبی کی بات نہیں یہ تو ایک لائن بنانے کے لئے فرض وصیت کر رکھی ہے۔ دوسرا اعتراض یہ ہے کہ اگر شکریہ کے طور پر وصیت کی ہے تو روزہ شکریہ کے طور پر کیوں نہیں رکھ لیا کرتے۔ ”میٹھا میٹھا ہڑپ اور کڑوا کڑوا تھو“

اختلاف نمبر: ٣

مرزا قادیانی یہ لکھتے ہیں کہ: ”چونکہ شرعاً یہ امر ممنوع ہے کہ طاعون زدہ لوگ ایسے دیہات کو چھوڑ کر ایسی جگہ جائیں۔ اس لئے میں اپنی جماعت کے تمام لوگوں کو جو طاعون زدہ علاقوں میں ہیں۔ منع کرتا ہوں کہ وہ اپنے علاقوں سے قادیان یا کسی دوسری جگہ جانے کا ہرگز قصد نہ کریں۔ اشتہار لنگر خانہ کا انتظام۔“

(مجموعہ اشتہارات ج٣ ص ٤٦٧

حاشیہ)

پھر کہتے ہیں کہ: ”مجھے معلوم ہوا ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا ہے کہ جب کسی شہر میں وباء نازل ہو تو اس شہر کے لوگوں کو چاہئے کہ بلا توقف اس شہر کو چھوڑ دیں۔“

(ریویو قادیان ج٦ ص٣٦٥)

اختلاف نمبر: ٤

”جیسا کہ کئی جگہ قرآن شریف میں فرمایا گیا ہے کہ وہ کتابیں محرف ومبدل ہیں اور

٤٥

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٥٥٢

اپنی اصلیت پر قائم نہیں۔“

(چشمہ معرفت ص ٢٥٥، خزائن ج ٢٣

ص ٢٦٦)

پھر لکھتے ہیں کہ یہ کہنا کہ وہ کتابیں محرف ومبدل ہیں۔ ان کا بیان قابل اعتبار نہیں۔ ایسی بات وہ کہے گا جو خود قرآن سے بے خبر ہے۔“

(چشمہ معرفت ص ٧٥ حاشیہ، خزائن ج ٢٣

ص ٨٣)

اختلاف نمبر: ٥

”کہ حضرت مسیح کی چڑیاں باوجودیکہ معجزے کے طور پر ان کا پرواز کرنا قرآن کریم سے ثابت ہے اور پھر بھی مٹی کی مٹی ہی ہے۔“

(آئینہ کمالات اسلام ص ٦٨، خزائن ج ٥ ص ٦٨)

پھر کہتے ہیں کہ: ”اور یہ بھی یاد رکھنا چاہئے کہ پرندوں کا پرواز کرنا قرآن شریف میں ہرگز ثابت نہیں ہوتا۔“

(ازالہ اوہام ص ٣٠٧ حاشیہ، خزائن ج ٣

ص ٢٥٦)

اختلاف نمبر: ٦

”مجھے یسوع مسیح کے رنگ میں پیدا کیا اور توارد طبع کے لحاظ سے یسوع کی روح میرے اندر رکھی گئی تھی۔ اس لئے ضرور تھا کہ گم شدہ ریاست میں مجھے یسوع مسیح کے ساتھ مشابہت ہوتی۔“

(تحفہ قیصریہ ص ٢٠، خزائن ج ١٢

ص ٢٧٢)

پھر لکھتے ہیں: ”ایک شریر مکار نے جس میں سراسر یسوع کی روح تھی۔ لوگوں میں مشہور کیا۔“

(ضمیمہ انجام آتھم ص ٥ حاشیہ، خزائن ج ١١ ص ٢٨٩)

ناظرین! غور فرمائیں کہ مرزا قادیانی ایک طرف تو یسوع کی روح کو شریر اور مکار کی روح بتاتے ہیں۔ دوسری طرف اپنے اندر یسوع کی روح فخر سے بیان کرتے ہیں۔ صغریٰ اور کبریٰ بنا کر حد اوسط گرا دیں۔ پھر نتیجہ دیکھیں کیا صاف ہے۔

اختلاف نمبر: ٧

پھر لکھتے ہیں کہ: ”حضرت مسیح نے اپنی نسبت کوئی ایسا دعویٰ نہیں کیا۔ جس سے وہ خدائی کے مدعی ثابت ہوں۔“

(لیکچر سیالکوٹ ص ٤٣، خزائن

٤٦

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٥٥٣

(ج ٢٠ ص ٢٣٦)

پھر دیکھئے: ”مسیح کا چال چلن کیا تھا۔ ایک کھاؤ پیو شرابی، نہ زاہد، نہ عابد، ناحق کا پرستار، خود بیں، خدائی کا دعویٰ کرنے والا۔“

(رسالہ فتح مسیح ص ١٢، خزائن ج ٩

ص ٣٨٧)

اختلاف نمبر: ٨

مرزا قادیانی لکھتے ہیں کہ: اسی وجہ سے خدا نے یسوع کی پیدائش کی مثال بیان کرنے کے وقت آدم کو ہی پیش کیا۔ جیسا کہ وہ فرماتا ہے کہ: ”ان مثل عیسیٰ عند اللہ کمثل ادم خلقہ من تراب ثم قالہ کن فیکون یعنی عیسیٰ کی مثال خدا کے نزدیک آدم کی ہے۔ کیونکہ خدا نے آدم کو مٹی سے بنا کر پھر کہا کہ تو زندہ ہوجا۔ پس وہ زندہ ہوگیا۔“

(چشمہ معرفت ص ٢١٨، خزائن ج ٢٣ ص ٢٢٧)

پھر لکھتے ہیں: ”یسوع مسیح کی قرآن شریف میں خدا نے کوئی خبر نہیں دی کہ وہ کون تھا۔“

(ضمیمہ انجام آتھم ص ٩، خزائن ج ١١ ص ٢٩٣)

پھر لکھتے ہیں: ”ایک شریر مکار نے جس میں سراسر یسوع کی روح تھی۔ لوگوں میں مشہور کردیا۔ وغیرہ وغیرہ۔ یعنی حضرت مسیح کو مکار کہا ہے۔“

(ضمیمہ انجام آتھم ص ٥، خزائن ج ١١ ص ٢٨٩)

پھر لکھتے ہیں: ”حضرت مسیح تو ایسے خدا کے متواضع اور حلیم اور عاجز اور بے نفس بندے تھے جو انہوں نے یہ بھی روانہ رکھا جو کوئی ان کو نیک آدمی کہے۔“

(مقدمہ براہین احمدیہ ص ١٠٢ حاشیہ، خزائن ج ١ ص ٩٤)

مرزا قادیانی نے لکھا ہے: ”اور جس غلبہ دین کاملہ اسلام کا وعدہ کیا گیا ہے۔ وہ غلبہ مسیح کے ذریعہ ظہور میں آئے گا۔ جب حضرت مسیح علیہ السلام دوبارہ اس دنیا میں تشریف لائیں گے تو ان کے ہاتھ سے دین اسلام جمیع آفاق و اقطار میں پھیل جائے گا۔“

(براہین احمدیہ ص ٤٩٩ حاشیہ، خزائن ج ١ ص ٥٩٣)

چاہئے تو تھا کہ مرزا قادیانی اس ص ٤٩٨ پر محمدی بیگم کا ذکر کر دیتے۔ تاکہ ٤٩٩ کا مفہوم بھی لوگوں کی سمجھ میں آجاتا۔ مگر یہاں بھی کچھ کم نہیں۔

پھر لکھتے ہیں: ”مسیح کوئی نہیں آئے گا۔“

(ازالہ اوہام ص ٦٧٣، خزائن ج ٣

ص ٥١٣)

٤٧

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٥٥٢
ابن مریم مرگیا حق کی قسم
داخل جنت ہوا وہ محترم

اختلاف نمبر:١١

لکھا ہے کہ: ”ہمارے نبی کریم ﷺ روحانیت قائم کرنے کے لحاظ سے آدم ثانی تھے۔ بلکہ حقیقی آدم وہی تھے۔“

(لیکچر سیالکوٹ ص ٦، خزائن ج ٢٠

ص ٢٠٧)

پھر لکھتے ہیں کہ: ”یہ محقق امر ہے کہ ہمارے سید ومولیٰ نبی کریم ﷺ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی خو اور طینت پر آئے تھے۔“

(تریاق القلوب ص ١٥٦، خزائن ج ١٥

ص ٤٧٦)

اس زمانہ میں خدا تعالیٰ نے ایک شخص کو حضرت آدم علیہ السلام کے قدم پر پیدا کیا اور جو یہی راقم ہے اور اس کا نام بھی آدم رکھا۔“

(تریاق القلوب ص ١٥٦، خزائن ج ١٥ ص ٤٧٧)

ناظرین! دیکھئے پہلے آپ حضرت محمد عربی ﷺ کو آدم قرار دیتے۔ پھر ان کو ابراہیم بنایا اور آپ آدم بن گئے۔ اس شعبدہ بازی کا پتہ نہیں چلتا کہ زمانہ کی طرح رنگ بدلنے کے لئے اپنے میں کوئی مسیحیت کا یقین ہو گیا تھا۔ کوئی بات مرزا قادیانی نے ایسی نہیں کی جن کی نقیض ان کی کتابوں میں موجود نہ ہو۔

اختلاف نمبر:١٢

مرزا قادیانی لکھتے ہیں کہ: ”جھوٹے الزام مجھ پر مت لگاؤ کہ حقیقی طور پر نبوت کا دعویٰ کیا ہے۔“

پھر لکھتے ہیں کہ: ”میں مدعی نبوت اور رسالت پر لعنت بھیجتا ہوں۔“

(مجموعہ اشتہارات ج ١ ص ٢٣١)

ایضاً لکھتے ہیں کہ: ”رسول کریم ﷺ کے بعد نبوت کا دعویٰ کرنے والا بے دین کافر و کاذب ہوتا ہے اور دائرہ اسلام سے خارج ہوتا ہے۔ قرآن پر اس کا ایمان نہیں رہتا۔ وہ ایک نیا دین گھڑنے والا ہوتا ہے اور دین اسلام کو چھوڑ دیتا ہے۔“

(مجموعہ اشتہارات ج ١ ص ٢٣١

ملخص)

جیسا کہ ہم فصل ثانی نبوت کی بحث میں درج کر چکے ہیں۔ پھر لکھتے ہیں: ”ہمارا دعویٰ ہے کہ ہم نبی اور رسول ہیں۔“

٤٨

صفحہ ٥٥٥

(اخبار مورخہ ٥؍ مارچ ١٩٠٨ء، ملفوظات ج ١٠ ص ١٢٧)

ایضاً لکھتے ہیں: ’’ماسوائے اس کے یہ بھی تو سمجھو کہ شریعت کیا چیز ہے۔ جس نے اپنی وحی کے ذریعہ سے چند امر و نہی بیان کئے اور اپنی امت کے لئے ایک قانون مقرر کیا۔ وہی صاحب شریعت ہو گیا۔ پس اس تعریف کے رو سے بھی ہمارے مخالف ملزم ہیں۔ کیونکہ میری وحی میں امر بھی ہیں اور نہی بھی۔‘‘

(اربعین نمبر ٤ ص ٦، خزائن ج ١٧

ص ٤٣٥)

اختلاف نمبر: ١٣

پھر لکھتے ہیں: ’’اگر مجھے گالیاں دی جاتی ہیں تو کیا یہ نئی بات ہے۔ کیا اس سے پہلے خدا کے پاک نبیوں کو ایسا نہیں کہا گیا۔ اگر مجھ پر بہتان لگائے جاتے ہیں تو کیا اس سے پہلے خدا کے رسولوں، راست بازوں پر الزام نہیں لگائے گئے۔ غرض مخالفوں کا کوئی بھی میرے پر ایسا اعتراض نہیں جو مجھ سے پہلے خدا کے پاک نبیوں پر نہیں کیا گیا۔‘‘

(تریاق القلوب ص ٣٨٧، خزائن ج ١٥ ص ٥١٤)

پھر لکھتے ہیں کہ: ’’ماسوائے اس کے جو شخص ایک نبی متبوع علیہ السلام کا متبع ہے اور اس کے نبیوں پر اور کتاب اللہ پر ایمان لاتا ہے۔ اس کی آزمائش انبیاء کی آزمائش کی طرح کرنا ایک قسم کی ناسمجھی ہے۔ کیونکہ انبیاء اس لئے آتے ہیں کہ تا ایک دین سے دوسرے دین میں داخل کریں اور ایک قبلہ سے دوسرا قبلہ مقرر کر دیں اور بعض احکام کو منسوخ کریں اور بعض نئے احکام لاویں۔ لیکن اس جگہ تو ایسے انقلاب کا دعویٰ ہی نہیں۔‘‘

(آئینہ کمالات اسلام ص ٣٣٩، خزائن ج ٥

ص ٣٣٩)

ناظرین کرام! دیکھئے ایک جگہ تو مرزا قادیانی اپنی سچائی کو انبیاء کی سچائی پر آزمانا بتلاتے ہیں اور دوسری عبارت میں اس کے بالکل برخلاف لکھتے ہیں۔ مرزا قادیانی کی اختلاف بیانیوں کی کوئی حد نہیں۔ ہم انشاء اللہ اس مضمون پر کسی دوسری جگہ مفصل بحث کریں گے۔

عبارت مندرجہ بالا میں مرزا قادیانی لکھتے ہیں کہ میں نے تو کوئی حکم شریعت کا منسوخ نہیں کیا۔ حالانکہ جہاد کا حکم مرزا قادیانی نے منسوخ کیا۔ بالکل ردی قرار دے دیا ہے۔ اسی وجہ سے کابل میں مرزائی سنگسار کئے گئے تھے کہ یہ فتنہ وہ کابل میں بھی پیدا کرنا چاہتے تھے کہ جہاد چھوڑ دو۔ مگر کابلی دنیا میں جہاد چھوڑنا سلطنت کو ہاتھ سے دینا ہے اور مرزائی لوگوں کا مطلب بھی یہی تھا کہ چونکہ مسیح اور خلیفہ صاحب نے انگریز حکومت وہاں قائم کرانے کے لئے اپنے

٤٩ www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٥٥٦

آدمیوں کے ذریعہ وہاں تحریک شروع کرائی۔ تاکہ حکومت برطانیہ کو یہ کارنامہ دکھلا کر خراج تحسین حاصل کریں۔ لیکن اس جگہ یہ بات قابل ذکر ہے کہ تحریک حکومت برطانیہ کی منشاء سے نہیں ہوئی تھی۔ کیونکہ انگریز حکومت نے اپنے انصاف کے لحاظ سے اس وقت اپنے ساتھ کسی کو نہیں چلنے دیتی تھی۔ یہ مرزا قادیانی کا اپنا فرض تھا۔ جس کو ادا کرنے کے لئے انہوں نے یہ کام شروع کرایا تھا۔ گورنمنٹ برطانیہ اب ایسے فتنوں سے پاک ہے اور قادیانیوں کی اس پالیسی کو سمجھ چکی ہے کہ وہ کسی کے یار نہیں۔ بوقت ضرورت اس حکومت پر بھی چھاپہ مارنے سے باز نہیں رہیں گے۔ چنانچہ آج کل نیشنل لیگیں بنانا۔ صاف ظاہر کرتا ہے کہ اب عنقریب یہ اپنا سیاسی ہونا ظاہر کر دیں گے۔ چنانچہ مرزا قادیانی لکھتے ہیں: ”ہم پر اور ہماری ذریت پر یہ فرض ہو گیا کہ اس مبارک گورنمنٹ برطانیہ کے ہمیشہ شکر گزار رہیں۔ انگریزی سلطنت میں تین گاؤں تعلق داری اور ملکیت قادیان کا حصہ جدی والد صاحب مرحوم کو ملے۔ جو اب تک ہے اور حرث کے لفظ کے مصداق کے لئے کافی ہے۔“

(ازالہ اوہام حصہ اول ص ١٣٣، خزائن

ج ٣ ص ١٦٦)

اب ہم موجودہ خلیفہ صاحب کی نیشنل لیگیں بنانے پر ان کو پوچھتے ہیں کہ آپ کو تو آپ کے ابا جان حکومت کی شکر گزاری کی وصیت کر گئے تھے۔ اب یہ سیاسی انجمن بنا کر گورنمنٹ کی مخالفت پر کمر بستہ ہونا اور جگہ جگہ پریس قائم کر کے حکومت کے خلاف پروپیگنڈا کی ٹھاننا اور اس کے لئے ایک مستقل فنڈ جس فنڈ کا نام پروپیگنڈا فنڈ ہے۔ ہمارے فہم کی تصدیق نہیں کرتا۔ جس وقت جس چیز کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس کے لئے نیا عقیدہ گھڑ لیا جاتا ہے۔ پھر مرزا قادیانی اس لئے گورنمنٹ کے شکر گزار ہوتے ہیں کہ گورنمنٹ نے ان کے والد صاحب کو تین گاؤں اور قادیان کی ملکیت کا حصہ عطاء فرمایا تھا۔ اب کہاں ہیں وہ خلیفہ صاحب جو کہا کرتے ہیں کہ گورنمنٹ کا بال بال ہمارے احسانوں کے نیچے دبا ہوا ہے اور ہم نے آج تک ایک کوڑی اس کے بدلے میں نہیں لی۔

اور کہاں ہے وہ مرزا قادیانی جو کہتے تھے کہ مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی کو گورنمنٹ نے زمین دی ہے تو خوشی کی بات نہیں۔ زمین تو ذلت اور لعنت ہوتی ہے۔

یہاں انہوں نے کبھی غور نہیں کیا کہ وہ لعنت اور ذلت پہلے مرزا قادیانی اور مرزا قادیانی کے والد کو گورنمنٹ کی طرف سے حاصل ہوئی۔ کاش کہ مرزا قادیانی اس کو واپس کر دیتے یا اپنی اولاد کو کہہ جاتے کہ جائیداد واپس کر دو۔ یہ تو لعنت ہے اور یونہی گورنمنٹ کے

٥٠

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٥٥٧

شکر گزار رہتے۔ مزا تو جب تھا۔ الغرض مرزا قادیانی کی نیرنگیاں کیا کیا بیان کریں ۔

گاہ زاہد، گاہ صوفی، گاہ قلندری شود
رنگہائے مختلف دارد بت عیار ما

اختلاف نمبر: ١٤

مرزا قادیانی لکھتے ہیں کہ: ”ڈاکٹر عبدالحکیم نے جو تفسیر لکھی ہے۔ نہایت عمدہ ہے۔ شیریں بیان ہے۔ نکات قرآنی خوب بیان کئے ہیں۔ دل سے نکلی اور دلوں پر اثر کرنے والی ہے۔“ یہ تعریف مرزا قادیانی نے اس وقت کی تھی۔ جس وقت ڈاکٹر صاحب موصوف مرزا قادیانی کے مرید تھے اور پھر مرزا قادیانی کی چال سے واقف ہو کر علیحدہ ہوگئے تو پھر مرزا قادیانی نے اس تفسیر کے متعلق مندرجہ ذیل کروٹ بدلی۔ لکھتے ہیں کہ: ”ڈاکٹر عبدالحکیم کا تقویٰ صحیح ہوتا تو وہ کبھی تفسیر لکھنے کا نام نہ لیتا۔ کیونکہ وہ اس کا اہل نہیں ہے۔ اس کی تفسیر میں ایک ذرہ روحانیت نہیں اور نہ ظاہری علم کا کچھ حصہ۔“

(اخبار بدر قادیان مورخہ ٧؍جون ١٩٠٦ء، ملفوظات احمدیہ ج ٨ ص ٤٣٥، ٤٣٧) اسی اخبار کے ص ٣ پر لکھتے ہیں کہ: ”میں نے اس کی تفسیر کو کبھی نہیں پڑھا۔“

(ملفوظات

ج ٨ ص ٤٣٥)

ناظرین! غور فرمائیں کہ اس تفسیر کو مرزا قادیانی نے پڑھا ہی نہیں تو پہلے اس کی تعریف کرنا اور پھر جب وہ علیحدہ ہو جاوے اور مرزا قادیانی کے عقیدہ وفات مسیح پر تف کرے تو اس وقت یہ لکھ دینا کہ وہ اس کا اہل ہی نہیں۔ یہ عجیب وغریب باتیں ہیں۔ میں بھی اپنے تجربہ کی بناء پر کہے بغیر نہیں رہ سکتا کہ آج کل بھی قادیانیوں کی یہی حالت ہے کہ جب وہ ہاں میں ہاں ملاتے رہیں تو پھر وہ جو کچھ چاہیں کریں۔ وہ سب روحانی کارگزاری قرار دی جاتی ہے اور اگر کوئی خلیفہ صاحب کے حالات پر اعتراض کر دے تو پھر وہی روحانی کارگزاری عیب سے تعبیر ہونے لگتی ہے۔ چنانچہ میرے متعلق ”ایڈیٹر الفضل“ مورخہ ٢٠؍مارچ ١٩٣٦ء کو اکسا کر بعض ایسی جھوٹی باتیں لکھوائی گئی ہیں۔ جن کا ان کے پاس بالکل کوئی ثبوت نہیں اور میرے اس اعتراض پر آج تک قادیانیوں کے متعدد خطوط مجھے مل چکے ہیں۔ جن میں وہ صاف لکھتے ہیں کہ ہم بھی ایسی باتوں کو نفرت کی نظر سے دیکھتے ہیں۔ مگر آپ قادیان تشریف لے آویں تو آپ جو کچھ کہیں تردیداً لکھوا دیں گے اور یہ بھی لکھتے ہیں کہ ہم نے ایڈیٹر الفضل کو روکا۔ مگر دفتر میں جانے سے پہلے مضمون نکل چکا تھا۔ اب بھی آپ قادیان تشریف لے آویں۔ وغیرہ!

٥١

صفحہ ٥٥٨

مگر اخبار میں تردید نہیں کرتے۔ جس سے صاف ثابت ہے کہ باوجود ایک چیز کو وہ ناجائز اور جھوٹی خیال کرنے کے بھی اپنے مطلب کی وجہ سے ظاہر نہیں کرتے۔ پس یہی حال ڈاکٹر عبدالحکیم صاحب کے متعلق مرزا قادیانی کا تھا۔ جو ہم اوپر درج کر چکے ہیں۔

انعامی کھلا چیلنج

ہم تمام مرزائی افراد اور بالخصوص خلیفہ قادیان اور ان کے دفتری صلاح کاران کو کھلا چیلنج کرتے ہیں کہ ”اخبار الفضل“ مورخہ ٢٠/مارچ ١٩٢٦ء میں میرے متعلق مندرجہ عبارت کا ایک لفظ بھی صحیح ثابت کردیں۔ جس کا یہ مطلب ہو کہ اس وجہ سے میں نے جماعت قادیانیہ کو ترک کیا اور اگر وہ ایسا ثابت نہ کر سکیں کہ واقعی کوئی بات تھی۔ جس کی وجہ سے مجھ پر کوئی بوجھ پڑتا تھا اور اگر میں علیحدہ نہ ہوتا تو میں اس بوجھ اور تکلیف سے نہ بچ سکتا۔ تو پھر یاد رکھیں کہ مرزا قادیانی کا فتویٰ ان کے لئے موجود ہے۔ وہ ہم درج ذیل کئے دیتے ہیں۔

مرزا قادیانی لکھتے ہیں:

(تحفہ گولڑویہ ص ٢٠ حاشیہ، خزائن ج ١٧

ص ٥٦)

(تتمہ حقیقت الوحی ص ٢٦، خزائن ج ٢٢ ص ٤٥٩)

(ضمیمہ انجام آتھم ص ٥٨، خزائن ج ١١

ص ٣٤٣)

کام ہے۔“

(آریہ دھرم ص ١٣، خزائن ج ١٠

ص ١٣)

اور ”لعنت اللہ علی الکاذبین“ ہماری طرف سے تحفہ ہے۔

اختلاف نمبر:١٥

مرزا قادیانی (حمامۃ البشریٰ ص ١٣، خزائن ج ٧ ص ١٩١) پر لکھتے ہیں کہ: ”مسیح کی وفات عدم نزول اور اپنی مسیحیت کے الہامات کو میں نے دس سال تک ملتوی رکھا۔ بلکہ رد کردیا۔“ پھر لکھتے ہیں کہ: ”یہ مکالمہ الہیہ جو مجھ سے ہوتا ہے یقینی ہے۔ اگر میں ایک یوم کے لئے بھی اس میں شک کروں تو کافر ہو جاؤں اور میری آخرت تباہ ہو جاوے۔ وہ کلام جو میرے پر

٥٢

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٥٥٩

نازل ہوا۔ قطعی اور یقینی ہے اور جیسا کہ آفتاب اور اس کی روشنی کو دیکھ کر کوئی شک نہیں کرسکتا۔“

(تجلیات الٰہیہ ص٢٠، خزائن ج٢٠ ص٤١٢)

ناظرین! یہ ہے حقیقت مرزا قادیانی کے ایمان اور یقین کی۔ ایک جگہ لکھتے ہیں کہ: ”اگر میں شک کروں تو کافر ہو جاؤں۔“ اور دوسری جگہ لکھتے ہیں کہ: ”میں نے وفات مسیح کے عقیدہ کو ملتوی کر رکھا اور بلکہ رد کر دیا۔“ اب صغریٰ کبریٰ بنا کر نتیجہ نکالئے۔ ہمیں تو آج منطق پڑھنی پڑ گئی ہے۔

اختلاف نمبر: ١٦

مرزا قادیانی لکھتے ہیں کہ: ”چونکہ میرے متعلق لفظ نبی بولنے سے مسلمانوں میں تفرقہ پڑتا ہے۔ اس واسطے مجھے نبی نہ کہا کریں۔“

(مجموعہ اشتہارات

ج١ ص٣١٣)

”اول تو یہ جاننا چاہئے کہ مسیح کے نزول کا عقیدہ کوئی ایسا عقیدہ نہیں ہے جو ہماری ایمانیات کی کوئی جزو ہو یا ہمارے دین کے رکنوں میں سے کوئی رکن ہو۔“

(ازالہ اوہام ص١٤٠، خزائن ج٣ ص١٧١)

پھر لکھتے ہیں کہ: ”ہمارا اصولی جھگڑا مسلمانوں اور تمام دنیا سے صرف مسیح کی حیات و وفات کے عقیدہ پر ہے۔ باقی ہمارے جتنے جھگڑے ہیں وہ سب فرعی ہیں۔“

اس مضمون سے مرزا قادیانی نے تمام اپنی کتابیں بھر رکھی ہیں۔

ہم اپنے ناظرین کی توجہ کو اس طرف مبذول کرانا چاہتے ہیں کہ باوجودیکہ حیات و وفات مسیح کا جھگڑا بقول مرزا قادیانی نہ جزو ایمان ہے نہ دین کا رکن ہے۔

پھر مرزا قادیانی نے اپنی ساری کتابوں کو اسی سلسلہ سے بھر کر مسلمانوں میں تفرقہ ڈالا ہے اور جب نبوت جیسی ضروری چیز جس کے انکار سے کفر لازم آتا ہے۔ اس کو کاٹ دینے کے متعلق مرزا قادیانی لوگوں کو تاکید کرتے ہیں کہ میں تفرقہ نہیں ڈالنا چاہتا۔ اس وجہ سے آپ میرے نام سے نبی کا لفظ کاٹ دیں تو اگر حیات و وفات مسیح کی بحث کو وہ چھوڑ کر مسلمانوں کے احساسات کا خیال کر لیتے تو کون سی بات تھی۔ جس کا چھوڑنا ایمانیات کو بھی مانع نہ تھا۔ مگر اصل بات وہی ہے جو میں بار بار عرض کر آیا ہوں کہ ان قادیانیوں کا مطلب یہ نہیں کہ کوئی عقیدہ رکھنا ہے یا نہیں۔ ان کا تو جس طرح کام چلے اسی طرح چلا لیتے ہیں۔ علی ھذا القیاس!

حضرت مسیح کی قبر کے متعلق اور دیگر کئی قسم کے اختلافات مرزا قادیانی اور ان کے

٥٣

صفحہ ٥٦٠

پسماندگان کی زندگی میں ملتے ہیں۔ جن کی تعداد تو ہو نہیں سکتی۔ اگر ان کے انواع کی تعداد بھی شمار کی جاوے تو ممکن ہے کہ معرض تحریر میں آسکے۔ بہر حال ہمارا ارادہ ہے کہ ایک مستقل تالیف میں مرزا قادیانی اور ان کے خلیفہ کی رنگین بیانیاں ذکر کی جاویں۔ مگر اس سے عمداً بخوف طوالت احتراز ہے۔ اس جگہ مجھے ایک لطیفہ یاد پڑا جو اگر اپنے مناسب الفاظ میں لکھا جاتا تو خلاف تہذیب ہوگا اور تہذیب سے مراد ہماری اسلامی تہذیب ہے۔ مرزا قادیانی اور ان کے رفقاء کی تہذیب ہماری بحیثیت نہیں۔ وہ تو گالیاں دینا بھی قرآن سے ثابت کر دیتے ہیں۔ بلکہ یہاں تک کہ قرآن گالیوں سے بھرا ہوا ہے، قرار دیتے ہیں۔ نعوذ باللہ من ھذا الھفوات!

لطیفہ یہ ہے

کوئی مہاراجہ صاحب فوت ہو گئے اور ان کے ٹکہ صاحب ان کے جانشین ہوئے۔ ایک چالاک میراسی نے موقع غنیمت پا کر ٹکہ صاحب سے عرض کی کہ سرکار مہاراجہ صاحب متوفی آج رات میرے خواب میں آئے اور کہتے تھے کہ میری طرف سے ایک سو روپیہ دان میرے ٹکہ صاحب سے لے لینا۔ لہٰذا وہ دان آپ دے دیں۔ ٹکہ صاحب تھے ہوشیار۔ وہ کہنے لگے کہ اچھا بھئی میں بھی رات کو توجہ کروں گا۔ اگر مہاراجہ صاحب نے خواب میں مجھے بھی کہا تو صبح ایک سو روپیہ تم کو دان دے دوں گا۔ اس پر میراسی چلا گیا۔ دوسری صبح آیا تو ٹکہ صاحب کہنے لگے بھئی مہاراجہ صاحب خواب میں آئے تو تھے۔ مگر وہ کہہ گئے ہیں کہ اگر میراسی دان مانگے تو جوتا لگا دینا اور روپیہ کو نہ دینا۔ اس پر میراسی مسمسی شکل بنا کر کہنے لگا کہ حضور وہ بڑا ایسا ویسا ہے۔ (گالی گندی نکال کر) کہ مجھے کچھ کہہ گیا اور آپ کو کچھ کہہ گیا۔ تو الغرض اختلافات کی بھی کوئی حد ہوتی ہے۔

قیامت خیز ہے افسانہ درد الم میرا
نہ کھلواؤ زباں میری نہ اٹھواؤ قلم میرا

کسی نے سچ کہا ہے ؎

ہم بھی قائل تیری نیرنگی کے ہیں یاد رہے
او زمانے کی طرح رنگ بدلنے والے

الفصل الرابع

فی مسائل المتفرقہ

٥٤

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٥٦١

ناظرین کرام! رسالہ ہذا کی ہر سہ فصول گذشتہ کو ملاحظہ گرامی کا شرف عطاء فرما چکے ہیں ۔ جو صرف مرزا قادیانی کی اور ان کے خلیفہ کی دورنگیوں پر کسی قدر روشنی ڈالی گئی ہے۔ اب فصل ہذا میں مرزا قادیانی اور ان کے چیلوں کی پیچیدہ بیانیوں اور ژولیدہ کلامیوں کا کسی قدر ذکر کرنا مقصود ہے تاکہ قادیانیوں کی باریک چالوں اور فریب انداز اقوال سے ہمارے بھائی ہوشیار ہو جائیں۔ لہٰذا نمونۃً صرف چند ایک عبارات ذیل میں درج کی جاتی ہیں۔ مرزائی لوگ مرزا قادیانی کی نبوت کے باب میں کہ مرزا قادیانی نبی ہیں۔ اس واسطے کہ وہ خود لکھتے ہیں کہ میری نبوت کو پہلے انبیاء کی نبوت پر قیاس کرو۔ پس اگر وہ نبی نہ ہوتے تو یہ کیوں لکھتے کہ مجھے انبیاء سابقین کے ساتھ آزمالو۔

حالانکہ مسلمان تو مرزا قادیانی کو سچا مسلمان بھی نہیں مانتے۔ پھر ان کی اس تاویل پر پرکھ کر ان کو نبی بنانے کی کیونکر کوشش کر سکتے ۔ خیر اگر بفرض محال مرزا قادیانی کی اس تاویل کو درست بھی مان لیں اور مرزائی لوگوں کے نزدیک یہ بات بالکل مسلم ہے کہ مرزا قادیانی کو جس کے ساتھ پرکھا جاوے ۔ یعنی جس کے ساتھ مرزا قادیانی نے پرکھنے کا حکم دیا ہے ۔ اسی جیسے مرزا قادیانی ثابت ہو سکتے ہیں تو پھر:

ایک قسم کی ایک ناسمجھی ہے۔“

(آئینہ کمالات اسلام ص ٣٣٩، خزائن ج ٥ ص ٣٣٩)

ہے کوئی کاذب جہاں میں لاؤ لوگو کچھ نظیر
میرے جیسی جس کی تائیدیں ہوئی ہوں بیشمار

(درثمین اردو)

اتعلم مفتريا کمثلی موید
ویقطع ربی کلما لا یثمر

(ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم ص ١٣٨، خزائن ج ٢١ ص ٣١٢)

ترجمہ: کہ کوئی جھوٹا دنیا میں تلاش کر کے میرے ساتھ مقابلہ کرالو ۔ اگر میرے جیسی کسی کی تائید ہوئی تو کہو ۔ وغیرہ وغیرہ!

جس کا صاف مطلب یہ ہے کہ جھوٹے لوگ اور مفتری علی اللہ کبھی کامیاب نہیں

٥٥

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٥٦٢

ہوتے۔ مگر ایک میں ہی ہوں جو ان میں سے بقول خود کامیاب ہوا ہو۔ پس ایسی صاف صورت میں قادیانی دوست مرزا قادیانی کو سچا کس طرح قرار دے سکتے ہیں۔ جبکہ مرزا قادیانی مفتری اور کاذب لوگوں کے ساتھ آزمانا بھی صاف بیان فرماتے ہیں کہ مجھے مفتری لوگوں سے آزمالو۔ پس اگر انبیاء علیہم السلام کے ساتھ آزمانے سے مرزا قادیانی نبی ثابت ہو سکتے تھے تو اس کا تو مرزا قادیانی نے خود بھی ”آئینہ کمالات اسلام“ میں انکار کر دیا۔ اب وہی صورت ہے کہ وہ مفتری لوگوں کے ساتھ آزمانے کا ارشاد فرماتے۔ جس سے صاف نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ مرزا قادیانی ویسے ہی تھے۔ بقول قادیانیاں:

اگر مرزا قادیانی نبی ہوتے تو انبیاء علیہم السلام کے ساتھ اپنے آپ کو آزمانے سے ”آئینہ کمالات اسلام“ میں انکار نہ کرتے اور اگر سچے ہوتے تو مفتری لوگوں سے اپنا مقابلہ تائید نہ کرتے۔ پس نتیجہ صاف ہے۔ ”هل فيكم من عبد رشيد“ چلو ہم اپنے سابقہ دوستوں کو خوش رکھنے کی غرض سے ان کی خواہش کے مطابق مرزا قادیانی کو قضیہ فرضیہ کے طور پر انبیاء سابقین علیہم السلام کی صداقت پر آزماتے ہیں۔ تاکہ مرزائی دوستوں کی تمنا باقی نہ رہ جاوے۔ امید ہے کہ وہ ہمارے سوالات کے جواب دے کر ممنون فرماویں گے۔

سوال نمبر: ١

انبیاء سابقین علیہم السلام نے کبھی اختلاف بیانی نہیں کی۔ جو الہامی ہو یا اجتہادی۔ مرزا قادیانی نے اختلاف بیانی کی۔ جس کا نمونہ ہم پیش کر چکے ہیں۔

سوال نمبر: ٢

انبیاء سابقین علیہم السلام نے کبھی دوسرے متعدد انبیاء کے نام سے اپنے آپ کو ظاہر نہیں کیا۔ مرزا قادیانی نے آدم، موسیٰ، داؤد، عیسیٰ، محمد، یعقوب، ابراہیم وغیرہ نام اپنے رکھے جو مشہور ہے۔

سوال نمبر: ٣

انبیاء سابقین علیہم السلام نے کبھی اپنی بے گناہ بیوی کو صرف بوجہ اس کے بوڑھی ہو جانے کے بے رخی سے اسے متروک نہیں بنایا تھا۔ مگر جو نو عروس سے شادی کرنے کی غرض سے ہو۔ مگر مرزا قادیانی کا معاملہ اس کے برعکس ہے۔

٥٦

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٥٦٣

سوال نمبر: ٤

انبیاء سابقین علیہم السلام نے کسی فرض کی ادائیگی یا کسی قربانی سے اپنی اولاد کو مستثناء نہیں کیا۔ مگر مرزا قادیانی نے جہاں گھر کی طرف فائدہ آتا تھا وہاں اپنی اولاد کو قربانی سے روکا اور نیکی کے کاموں سے جسے لوگوں کے لئے نیکی کہا اپنی اولاد کو مستثناء کر دیا۔

سوال نمبر: ٥

انبیاء سابقین علیہم السلام نے گالیاں نہیں دیں۔ مگر مرزا قادیانی نے گالیاں دیں اور پیٹ بھر کر دیں اور اپنے پسماندگان میں بھی اسی رسم کو چھوڑا۔ القصہ کیا کچھ بیان کیا جاوے۔

کبھی فرصت میں سن لینا بڑی ہے داستاں میری

حالات مذکورہ کو مدنظر رکھ کر لکھنا پڑتا ہے کہ ؎

چہ نسبت خاک را با عالم پاک

میرے پیش کردہ عربی شعر کے متعلق ایک قابل ذکر بات باقی ہے۔ مرزائی لوگ کہا کرتے ہیں کہ شعر مذکورہ میں آخری ٹکڑہ یہ ہے کہ: ”یقطع ربی جذعاً لا یثمر“ سے ثابت ہے کہ جو شخص جھوٹا ہو وہ کامیاب نہیں ہوتا۔ مگر مرزا قادیانی تو کامیاب ہوئے۔ لہٰذا وہ جھوٹے نہیں ہیں۔

ہم اس کے مفصل جواب کی اس جگہ گنجائش نہیں پاتے۔ صرف اتنی عرض کرتے ہیں کہ مرزا قادیانی نے بحیثیت مسیح موعود جس منارہ پر اترنا تھا۔ اس کو تو مرزا قادیانی اپنی زندگی میں مکمل کر نہ سکے تو اور کون سی کامیابی تھی۔ جو مرزا قادیانی کو نصیب ہوئی اور اگر ”محمدی بیگم“ سے نکاح کرنے میں کامیابی ہو گئی ہو تو ہم کہہ نہیں سکتے مرزائی بہتر جانتے ہیں۔

اس کے جواب میں شاید قادیانی دوست یہ کہہ دیں کہ نبی ہمیشہ بیج ہی ڈال کر رخصت ہو جایا کرتے ہیں اور فصل بعد میں ہی ہوا کرتی ہے۔ اس لئے ضروری نہیں تھا کہ منارہ کو مرزا قادیانی ہی مکمل کر جاتے۔ اس تاویل پر اس جگہ یہ اعتراض ہے کہ:

پھر مرزائیوں کے پاس مرزا قادیانی کی کامیابی کی کون سی دلیل ہے؟ جس سے مرزا قادیانی کی کامیابی اور دوسروں کی ناکامی ثابت کر سکتے ہوں؟

پہلے سب جھوٹے مدعیان کا بھی یہی حال ہوتا رہا ہے۔ کیا ان امور کا کوئی جواب قادیانی دوست دیں گے۔ مرزا قادیانی نے باوجود تمام شرائط حج اپنے پاس پورا ہوتے ہوئے اور زر و مال کافی رکھتے ہوئے حج نہ کیا۔ اس بات پر علماء اسلام نے بجا طور پر اعتراضات کئے۔

٥٧

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٥٦٤

چنانچہ آج کل مرزائی دوست اس کے کئی جواب دے کر مرزا قادیانی کی پوزیشن کو صاف کرنے کی بے سود کوشش کیا کرتے ہیں۔ پس کہتے ہیں کہ:

حالانکہ مرزا قادیانی کی پہلے یہ پیشین گوئی تھی کہ: ”ہم مکہ میں مریں گے یا مدینہ میں“ لیکن مسلمانوں کے معمولی سے رعب نے مرزا قادیانی کو پیش گوئی بھلا دی اور اب وہ طرح طرح کے مصالح گھڑتے پھرتے ہیں۔ ہمیں مرزائی صاحبان کے ان جوابات پر کچھ اعتراضات ہیں۔ امید ہے کہ وہ ٹھنڈے دل سے جواب دیں گے۔

اعتراض نمبر: ١

اگر مرزا قادیانی بیمار تھے تو یہ بھی ان کو حج کرنے کو مانع نہیں تھا۔ کیونکہ مرزا قادیانی ایک جگہ لکھتے ہیں کہ: ”میری حالت ایسی ہوگئی کہ میں بیوی کے قابل نہ رہا۔ حتیٰ کہ نامرد ہو گیا۔ میں نے اس خیال سے کہ میں نے شادی کرنی ہے اور حالت خراب ہے۔ کیا کیا جاوے۔ توجہ کی تو فرشتہ نے آ کر میرے منہ میں دوائی ڈالی۔ جس سے میری حالت اچھی ہوگئی اور آگے چل کر لکھتے ہیں۔ مجھ میں اس دوائی سے پچاس جوانوں کی طاقت آگئی۔“

(تریاق القلوب ص ٣٦، خزائن ج ١٥ ص ٢٠٤)

اب کیا اگر مرزا قادیانی حج کے لئے بھی ارادہ کرتے اور توجہ سے خدا کی توفیق چاہتے تو مذکورہ بالا طاقت کے مطابق جو بڑے ڈاکٹر سے بھی زیادہ تھی۔ خدا تعالیٰ مرزا قادیانی کو حج کرنے کے لئے صحت نہ دیتا؟ اگر پچاس آدمیوں کی طاقت نہ بھی دیتا تو ایک ہی سہی مگر توفیق ضرور ملتی۔ اس بات سے تو صاف ثابت ہے کہ مرزا قادیانی نے حج کا کبھی اتنا بھی ارادہ نہیں کیا۔ جتنا کہ نو عروس کے حاصل کرنے کا تھا۔ ورنہ ایسے کام کے لئے تو قادیانی خدا کے حامل العرش فرشتے ہوائی جہاز لے کر حاضر ہو جاتے اور مسٹر چاولہ کی طرح سارے اہل قادیان کو حج کرا لاتے۔ پھر تو بدامنی کا خطرہ بھی نہ تھا اور روپیہ کی بھی ضرورت نہ تھی۔ پس مرزا قادیانی نے ارادہ ہی نہیں کیا۔ ورنہ کوئی اعتراض نہ تھا۔

جواب نمبر: ٢

٥٨

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٥٦٥

پھر یہ کہنا کہ مرزا قادیانی کو امن راہ حاصل نہ تھا۔ یہ بھی غلط ہے۔ دہلی، ہوشیار پور، جہلم، گورداسپور وغیرہ مقامات میں مرزا قادیانی کو امن کس طرح حاصل تھا۔ جو بیت الحرام میں حاصل نہ ہوتا۔

جواب نمبر: ٣

پھر کہتے ہیں۔ مرزا قادیانی کے پاس روپیہ نہ تھا اور ساتھ ہی یہ بھی کہہ دیتے ہیں کہ انہوں نے حج بدل کرا دیا تھا۔ سو اس پر یہ اعتراض ہے کہ اگر مرزا قادیانی کے پاس روپیہ نہیں تھا تو حج بدل جو کرایا تو اس پر کہاں سے روپیہ خرچ کیا۔ پس یہ سب فضول اور گھناؤنے جوابات تھے۔ جن کے ہم معقول پہلو بیان کر چکے ہیں۔ دیکھیں قادیانی فلاسفر کیا جواب دیتے ہیں۔ مزید برآں کہ مرزا قادیانی نے (تریاق القلوب ص ١٣٢، خزائن ج ١٥ ص ٤٥٤ حاشیہ ملخص) پر لکھا ہے کہ: ”خدا نے میرے ساتھ وعدہ کیا ہے کہ وہ مجھے ہر شر سے اور دشمن کے منصوبوں سے بچا رکھے گا۔“

پھر مرزا قادیانی کو راہ کی بدامنی کا خیال کیوں رہا۔

تصور میں چلے آتے تمہارا کیا بگڑ جاتا
تمہارا پردہ رہ جاتا ہمیں دیدار ہو جاتا

کہ مولوی محمد حسین بٹالوی پر عذاب آئے گا اور برخلاف اس کے خدا نے اس کی عزت کو بڑھایا اور اس کو بہت سی زمین گورنمنٹ سے انعام ملی۔ اس بات کے جواب میں مرزا قادیانی حدیث ”لا تدخل سکة الحرث علی قوم الا اذلہم اللہ“ لکھ کر جواب دیا کہ: ”رسول کریم تو کھیتی کرنے کو ذلت اور لعنت قرار دیتے ہیں اور فرماتے ہیں کہ کھیتی کے آلات جس گھر میں ہوں۔ اس گھر اور قوم کو ذلت ہوا کرتی ہے۔ مگر مولوی ثناء اللہ امرتسری، محمد حسین بٹالوی کو زمین ملنے پر ان کی عزت بتاتے ہیں۔“

(تریاق القلوب ص ١٣٩، ١٤٠، خزائن ج ١٥ ص ٦٦٩)

اس عبارت سے صاف ظاہر ہے کہ مرزا قادیانی کے نزدیک کھیتی کرنا یا زمیندار بننا ذلت اور لعنت ہے۔ مگر ملاحظہ ہو دوسری جگہ اسی کتاب میں آپ نے لکھا ”ان زمینداری تعلقات سے جو زمینداری زندگی سے میرے ساتھ ہے۔ کوئی تعجب نہ کرے۔ کیونکہ احادیث نبویہ پر غور کرنے سے بصراحت معلوم ہوگا کہ وہ مسیح موعود حارث کہلائے گا۔ یعنی زمینداروں کے خاندان سے ہوگا۔“

(تریاق القلوب ص ١٥، خزائن ج ١٥

ص ٢٠٨)

٥٩

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٥٦٦

قادیانی دوستو! ذلت ایک ہی قسم کی ہوتی ہے یا کئی قسم اور وہ جو ذلت مولوی محمد حسین صاحب کے متعلق حدیث پڑھ کر بیان کی تھی کیا مرزا قادیانی اس سے بچتے ہیں یا نہیں؟ پس یہ تو وہ بات ہوئی ؎

ہم تو ڈوبے ہیں صنم تم کو بھی لے ڈوبیں گے

کیا کوئی قادیانی فاضل اس کی تفصیل سے ہمیں جواباً مطلع کرے گا۔ ہم اپنے ناظرین کو مرزائی ہیر پھیر سے اس بارہ میں کسی قدر واقف کرنا چاہتے ہیں تاکہ بوقت ضرورت مرزائیوں کو ان کے حالات سے جھوٹا ثابت کر کے خوف خدا کی طرف توجہ دلا سکیں۔

مرزائی اس اعتراض کے جواب میں کہا کرتے ہیں کہ حدیث میں مسیح موعود کو حارث حراث کہا گیا ہے۔ جس کے معنی ہیں کہ وہ خود کھیتی باڑی نہیں کرے گا۔ بلکہ دوسروں سے کرائے گا۔ اس لئے مرزا قادیانی کی ذلت باقی نہیں رہی۔

اس ہیرا پھیری کا جواب ہمارے ناظرین یوں دیا کریں کہ اگر مرزا قادیانی خود کھیتی باڑی نہیں کرتے تھے تو مولوی محمد حسین بٹالوی بھی تو خود کھیتی باڑی نہیں کرتے۔ بلکہ دوسروں سے کھیتی کراتے۔ پھر ان کی ذلت کیونکر باقی رہی؟ پھر دیکھیں اگر مرزائی شیطان کی طرف نہ بھاگ جائیں تو کہنا اور تا قیامت قادیانیوں کے پاس جواب نہ ہو گا۔

السلام کا یہی مسلک رہا ہے کہ خدا کے سوائے کسی کی قسم نہیں اٹھاتے تھے۔ لیکن مرزا قادیانی کی نبوت خدا جانے کون سے راستے سے آئی تھی۔ ان کی تو جو بات دیکھو عجیب اور نرالی ہی ہوتی ہے۔

آپ فرماتے ہیں ؎

تیرے ہی منہ کی قسم اے میرے پیارے احمد
تری خاطر سے یہ سب بار اٹھایا ہم نے

جس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ قادیانی شریعت میں غیر اللہ کی قسم اٹھانا بھی درست ہے اور قسم وہ شخص کھا رہا ہے جس کے لئے کوئی دعویٰ نہیں جو نہ کیا ہو۔

مرزائی لوگ اس اعتراض کے جواب میں جو باریک دھوکا دیا کرتے ہیں۔ میں چاہتا ہوں کہ اپنے بھائیوں کو اس سے آگاہ کردوں۔ تاکہ سند رہے اور وقت ضرورت کام آوے۔

وہ کہا کرتے ہیں کہ اس قسم کے معنے یہ ہیں کہ اے احمد میں تیرے منہ کو بطور شہادت کے پیش کرتا ہوں کہ تیرے کہنے کی وجہ سے میں نے یہ سب تکالیف اٹھائی ہیں۔ یعنی قسم کے معنی

٦٠

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٥٦٧

شہادت کے طور پر پیش کرنا بتاتے ہیں۔ اس کا جواب آپ یوں دیا کریں کہ اگر قسم کے معنی شہادت کے طور پر پیش کرنے کے ہیں تو جب شریعت نے غیر اللہ کی قسم کھانے سے روکا تو اس کے بھی یہی معنے ہوئے کہ خدا کو شہادت کے طور پر پیش کیا کرو۔ پھر مرزا قادیانی نے غیر اللہ کو شہادت کے طور پر پیش کیا۔ جس سے احکام شریعت کی خلاف ورزی لازم آئی۔ یہ ایک مسلمان کی شان کے بھی خلاف ہے۔ چہ جائیکہ ایک مدعی نبوت ایسا کرے۔ حاشا وکلا!

پھر مرزا قادیانی نے اس عبارت کی تائید میں اپنی کتاب (تریاق القلوب) میں صاف لکھا ہے کہ دشمن کو اولاد کی قسم اٹھانے پر آمادہ کیا کریں۔ جس سے صاف ثابت ہے کہ مرزا قادیانی قسم کے معنی شہادت کے طور پر پیش کرنا نہیں کرتے تھے۔ ورنہ یہاں کیا معنی ہوں گے؟

جتنی حدیثیں ہیں۔ سب غلط اور بے اصل ہیں۔ چالیس حدیثیں اس مضمون کی ملتی ہیں۔ مگر سب ڈھکوسلے ہیں۔ خدا جانے مرزا قادیانی بارہ بجے بیٹھ کر لکھا کرتے تھے کہ ان کو سیاق سباق کلام بھی یاد نہیں رہتا تھا۔

ایک طرف تو مسیح اور مہدی کے متعلق سب حدیثوں کو وضعی بے اصل قرار دیتے ہیں اور دوسری طرف اپنا مسیح موعود ہونے کا دعویٰ بھی حدیث کی رو سے ہی بیان کرتے ہیں اور پھر سینکڑوں بار وہ مختلف حدیثیں اپنی تائید میں پیش کرتے ہیں۔ جن کو بے اصل کہہ چکے ہیں۔ حارث حراث والی حدیث تو ہم اوپر درج بھی کر چکے۔ وغیرہ وغیرہ! تو اب ہم حیران ہیں کہ مرزا قادیانی ہر بات کا اقرار بھی کرتے ہیں انکار بھی ؎

زاہداں کہ جلوہ بر محراب و منبر مے کنند
چوں بخلوت مے روند آں کار دیگر مے کنند

افلا تعقلون“ پیش کیا کرتے ہیں۔

(تریاق القلوب ص١٥٢، خزائن ج١٥

ص٢٨٢)

اور لکھتے ہیں کہ: ”دیکھو میں ایک طویل عمر تمہارے سامنے رہا ہوں۔ میں نے کبھی کسی پر افتراء کیا ہے۔ جو اب خدا پر بھی کرتا۔“

٦١ www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٥٦٨

اس آیت کے شروع میں مرزائی مبلغ یہ بات مانا کرتے ہیں کہ نبی کی سابقہ زندگی پاکیزہ ہو اور نبی پہلی زندگی میں گمنام نہ ہو۔ بلکہ مشہور ہو۔ کیونکہ اگر کوئی شخص چالیس برس گوشۂ گمنامی میں رہے تو لوگوں کو کیا علم ہے کہ اس کی زندگی کیسی گزری ہے۔ اس لئے ضروری ہے کہ وہ شخص مشہور عام ہو۔

آؤ ہم اس معیار پر مرزا قادیانی کے دعویٰ نبوت کو دیکھیں۔ مرزا قادیانی خود لکھتے ہیں کہ ؎

میں تھا غریب بے کس و گمنام بے ہنر
کوئی نہ جانتا تھا ہے قادیاں کدھر
لوگوں کی اس طرف کو ذرہ بھی نظر نہ تھی
میرے وجود کی بھی کسی کو خبر نہ تھی

(درثمین اردو)

ان اشعار سے ثابت ہے کہ مرزا قادیانی کا وجود گمنام تھا اور اس کی کسی کو خبر نہ تھی۔ پس مرزا قادیانی کی سابقہ چالیس سالہ زندگی کا کوئی علم کسی کو نہیں کہ کیسی تھی یا کیسی نہیں تھی۔ مگر ہاں ان کے خیالات بڑھاپے میں جو تھے ان کی کوئی تمثیل ان کی کتب میں ملتی ہے۔ منجملہ ان کے ایک ”محمدی بیگم“ کے متعلق مرزا قادیانی کا خواہش نکاح وغیرہ رکھنا اور بوقت مرگ بھی اس حسرت کو دل سے نہ نکالنا۔ اگر اس وقت بھی کوئی خیال دِیں پیدا ہوتا تو نہ دین کا نہ خدا کو خوش کرنے کا بلکہ محمدی بیگم کا ہی خیال پیدا ہونا صاف ظاہر کرتا ہے کہ مرزا قادیانی کی سابقہ جوانی کی عمر کا کیا حال تھا۔ ان کی سابقہ زندگی پر اس سے زیادہ اور کیا دلیل ہو سکتی ہے۔

کھنڈر بتا رہا ہے کہ بلڈنگ نفیس تھی

کیا قادیانی فلاسفر ہمارے اعتراض کا کوئی جواب دیں گے؟ اور مرزا قادیانی کے حالات روحانیہ زندگی سابقہ کا پتہ ہماری اس بحث سے کسی قدر چل سکتا ہے۔ جو ہم فصل اوّل کتاب ہٰذا میں درج کر چکے ہیں۔

پھر مرزا قادیانی کی نبوت کی تائید کے لئے ”لو تقول علينا بعض الاقاويل لا خذنا منه باليمين ثم لقطعنا منه الوتين فما منكم من احد عنه حاجزين (الحاقہ: ٤٤ تا ٤٧)“ اس آیت سے استدلال کرتے ہیں کہ جھوٹا نبی بعد از دعویٰ نبوت ٢٣ سال

٦٢

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٥٦٩

زندہ نہیں رہتا۔

آنحضرت ﷺ سچے نبی تھے۔ اس لئے بعد نبوت وہ ٢٣ سال زندہ رہے۔ مگر جھوٹا دعویٰ کرنے والا نبوت کے دعویٰ کرنے کے بعد ٢٣ سال زندہ نہیں رہ سکتا اور وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ مرزا قادیانی بھی دعویٰ نبوت کے بعد ٢٣ سال زندہ رہے۔ لہٰذا وہ سچے نبی ہیں۔ ناظرین!

سن لیں ذرا بڑے ہی مزے کا فسانہ ہے

اور ہمارا مندرجہ ذیل جواب آپ کو مرزائیوں کی بحث میں لاحول کا کام دے گا۔ ہم مرزا قادیانی کی زندگی کو ان کے پیش کردہ معیار پر پرکھتے ہیں اور اپنی رائے یا اپنے الفاظ یا تاویلات سے نہیں بلکہ ان کے خلیفہ میاں بشیر الدین محمود احمد قادیانی کی تشریحات سے جو مرزائیوں کے لئے واجب الاتباع ہیں۔ غور کرتے ہیں۔ اگر مرزا قادیانی کی زندگی بعد دعویٰ نبوت کے ٢٣ سال مزید ثابت ہو جاوے ان کو سچے نہ ماننے میں حق بجانب نہ خیال کریں۔ مگر دیکھئے اب مرزائی حضرات کو مشکل پڑی۔

موجودہ خلیفہ صاحب نے لکھا ہے کہ: ”مرزا قادیانی پہلے نبی نہیں تھے۔ ١٩٠٢ء میں آپ نے نبوت کا دعویٰ کیا ہے۔“ چنانچہ وہ لکھتے ہیں کہ خدا تعالیٰ کی طرف سے معلوم ہوا کہ آپ ہر ایک شان میں مسیح سے افضل ہیں اور کسی جزوی نبوت کے پانے والے نہیں۔ بلکہ حقیقی نبی ہیں۔ پس ١٩٠٢ء سے پہلے کی تحریر سے حجت پکڑنا بالکل جائز نہیں۔ (القول

الفصل ص ٦٤)

پھر لکھتے ہیں کہ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ ١٩٠١ء آپ نے (مرزا قادیانی) اپنے عقیدہ میں تبدیلی کی ہے اور ١٩٠٢ء ایک درمیانی عرصہ ہے۔ جو دونوں خیالات کے درمیان برزخ کے طور پر حد فاصل ہے۔ یہ بات ثابت ہے کہ ١٩٠١ء سے پہلے وہ حوالے جن میں آپ نے نبی ہونے سے انکار کیا ہے۔ اب منسوخ ہیں اور ان سے حجت پکڑنی غلط ہے۔ (حقیقت

النبوت ص ١٢١)

ناظرین کرام! مرزا قادیانی کے خلیفہ ثانی کی دو کتابوں سے ہم مرزا قادیانی کے دعویٰ نبوت کا زمانہ ان کے الفاظ میں پیش کر چکے ہیں۔ اب آگے آگے دیکھئے ہوتا ہے کیا۔

پس جب مرزا قادیانی کا بقول ان کے خلیفہ کے دعویٰ نبوت ١٩٠٢ء کا ثابت ہوا تو اب دیکھئے مرزا قادیانی ١٩٠٨ء میں فوت ہو گئے۔ دعوت نبوت سے سات سال بنتے ہیں۔ یعنی

٦٣

صفحہ ٥٧٠

١٩٠٢ء میں دعویٰ کیا اور ١٩٠٨ء میں فوت ہوگئے۔ لہٰذا ثابت ہوا کہ مرزا قادیانی اپنے دعویٰ کے بعد سات سال تک زندہ رہے ہیں۔ کیونکہ ١٩٠٢ء سے ١٩٠٨ء تک ٧ سال بنتے ہیں۔ پس مرزائیوں کے پیش کردہ معیار پر بھی مرزا قادیانی سچے معلوم نہیں ہوتے۔ کیونکہ وہ دعویٰ کے بعد ٢٣ سال نہیں بلکہ سات سال زندہ رہے ہیں۔ قادیانی دوستو! کیا کوئی تم میں ہے جو سچائی کو قبول کرے اور خلیفہ صاحب کی من گھڑت روز کی باتوں کی اب انتظاری نہ کرے۔

ویاتون من کل فج عمیق“ کہ تیرے پاس قادیان میں دور دراز ملکوں سے دنیا آئے گی اور جن راہوں سے وہ آئے گی وہ راستے ٹوٹ جائیں گے۔ گویا یہ مرزا قادیانی کی سچائی کا نشان ہوگا۔

پھر لکھتے ہیں۔ زمین قادیان اب محترم ہے، ہجوم خلق سے ارض پس آپ کا (مرزا قادیانی) حرم ہے۔ پھر لکھتے ہیں۔ آؤ لوگو کہ یہیں نور خدا پاؤ گے۔ لو تمہیں طور تجلی کا بتایا ہم نے وغیرہ، وغیرہ! جس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ مرزا قادیانی لوگوں کا قادیان میں آنا اپنی صداقت کا نشان بتاتے ہیں۔

لیکن افسوس ہے کہ احرار کانفرنس میں شمولیت کے لئے دور دور سے لوگ آئے اور قادیان میں اس پیش گوئی کے مطابق پہنچ گئے۔ مگر ان کے پانی بند کئے گئے۔ ان پر مقدمات چلائے۔ ان سے مقابلہ اور لڑائی جھگڑا کرنے کے لئے خفیہ آدمی بھیج کر باہر سے لوگوں کو بلایا جاتا رہا۔

ہم قادیانی دوستوں سے پوچھتے ہیں کہ ان افعال سے آپ نے مرزا قادیانی کے نشان کی تذلیل و تحقیر کا ارتکاب کیوں کیا؟ اس ہجوم خلق سے تو قادیان کا ارض حرم ہونا ثابت ہونا تھا۔ قرآن کریم نے ارض حرم کی تعریف فرمائی ہے کہ ”من دخلہ کان آمناً“ جو کہ مکہ معظمہ وغیرہ حرم میں داخل ہوگا وہ امن میں آ جاوے گا۔ مگر تحصیل بٹالہ کے ارض حرم کی یہ حالت ہے کہ مسلمان وہاں تبلیغی جلسہ کرتے ہیں اور مولوی ثناء اللہ امرتسری وغیرہ حضرات پر لٹھوں سے حملہ کیا جاتا ہے اور ان کو سخت ترین خطرہ میں ڈالنے کی ٹھانی جاتی ہے۔ مباہلہ بلڈنگ کو دن دیہاڑے جلایا جاتا ہے۔ عبد الکریم آف مباہلہ وغیرہ وغیرہ کے لئے قاتل مقرر ہوتے ہیں۔ محمد امین مجاہد بخارا کی موت بھی اسی نوع کی ہے۔ لوگوں کو جلاوطن کیا جاتا ہے۔

قاضی محمد علی مرزائی، عبد الکریم آف مباہلہ کو قتل کرنے کے لئے مقرر ہوتا ہے اور بٹالہ میں وہ مستری محمد حسین صاحب بٹالوی کو شہید کر کے پکڑا جاتا ہے اور اس کو سزا موت عدالت دیتی ہے۔ تو ولایت تک اس کو چھڑانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ محض اس لئے کہ اس نے خلیفہ کو جائز طور

٦٤

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٥٧١

پر مباہلہ کا چیلنج دیا تھا۔ جس کی وجہ سے دوسری موت بھی ہوئی اور پھر محمد علی مطلوب کا جنازہ خود خلیفہ صاحب پڑھاتے ہیں۔ کیونکہ وہ خلیفہ صاحب کے لئے ہی مرا تھا۔

اس کے بعد شعرا قادیان محمد علی یوم منا کر اس پر ایک مشاعرہ کرنے کی تجویز کرتے ہیں اور خلیفہ صاحب سے اس مشاعرہ کی اجازت مانگتے ہیں کہ محمد علی کے متعلق اس میں نظمیں ہوں گی۔ خلیفہ قادیان اس کا جواب ”اخبار الفضل“ میں لکھواتے ہیں کہ محمد علی کے متعلق نظمیں پڑھنے کی اجازت ہے۔ لیکن نظمیں مرثیہ کے رنگ میں نہ ہوں۔ کیونکہ مرثیہ خوانی سے قوم کے نوجوانوں کی سپرٹ ماری جاتی ہے۔

ناظرین کرام! کیا اس سے صاف ظاہر نہیں کہ خلیفہ صاحب محمد علی کی سی سپرٹ جس سے ناحق دوسروں کو محض خلیفہ پر اعتراض کرنے کی وجہ سے قتل کیا جاتا ہے۔ قوم کے نوجوانوں میں باقی رکھنا اس بات پر دلالت نہیں کرتا کہ خلیفہ صاحب کا دوسرے لفظوں میں یہ منشاء ہے کہ جو مجھ پر اعتراض کرے اس کو قتل کر دینا چاہئے۔

یاوری کی تو دوسرے حصہ میں درج کروں گا

غم دنیا فراوانست ومن یک غنچہ دل دارم
چساں درشیشہ ساعت کنم خاک بیاباں را

ہے جس کی زبان، ہاتھ، کان، آنکھ چلنے پھرنے وغیرہ سے کسی بنی نوع انسان کو کسی قسم کی تکلیف نہ پہنچے۔ لیکن قادیان کے پسماندگان کی حالت کا کسی قدر نمونہ ہم پیش خدمت کر چکے ہیں۔

پھر خلیفہ صاحب نے ظاہر کیا کہ لوگ اعتراض کرتے ہیں کہ قاضی محمد علی کا جنازہ پڑھا ہے۔ سو جواباً وہ کہتے ہیں کہ میں نے اس لئے نہیں پڑھا کہ وہ میرے لئے مرا ہے۔ بلکہ اس لئے پڑھا ہے کہ اس نے جھوٹ نہیں بولا اور مقدمہ میں سچ بولتا رہا۔ ان سے کوئی پوچھے کہ اگر کوئی فاسق، فاجر، زانی، راہزن، غیر احمدی مقدمہ میں سچ بول دے تو اس کا بھی جنازہ جائز ہے اور خلیفہ صاحب پڑھ دیں گے۔ محمد امین مجاہد بخاری کا جنازہ خلیفہ صاحب نے کیوں نہیں پڑھا تھا۔ مولوی سرور شاہ کو کیوں بھیج دیا تھا۔ ہم یقینا لکھتے ہیں کہ اس کا جنازہ خلیفہ صاحب کے نزدیک جائز نہیں تھا۔ مولوی سرور شاہ کو بھی اس لئے بھیج دیا تھا کہ مخفی راز ظاہر نہ ہو جاوے اور بات جو اصل تھی وہ دبی رہے۔ اگر کہیں کہ دوسرے تو غیر احمدی ہیں۔ محمد علی بہر حال احمدی تھا۔ اس کے سچ بولنے سے

٦٥

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٥٧٢

یہ بات بنتی تھی۔ غیر احمدی کے ایسا کرنے سے نہیں بنتی۔ تو پھر یہ عرض ہے کہ بموجب تعلیم کشتی نوح خاص محمد علی نے جس وقت قتل کیا تو اسی وقت احمدیت سے تو نکل چکا تھا۔ باقی سوال وہی رہ جاتا ہے؟ پھر اگر سچ بولنے سے جنازہ جائز ہو جاتا تو مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی نے جب براہین احمدیہ پر ریویو لکھا تھا تو کیا انہوں نے سچ نہیں لکھا تھا۔ اگر سچ لکھا تھا تو پھر وہ کیوں کافر ٹھہرے؟ ان کا جنازہ ناجائز ٹھہرا اور اگر سچ بولنے سے ہی جنازہ جائز ہوتا ہے تو خلیفہ قادیان کا جنازہ تو بالکل جائز نہیں ہوگا۔ کیونکہ انہوں نے کسی ذاتی مقدمہ میں نہیں بلکہ ایک معمولی شہادت میں جو سید عطاء اللہ شاہ بخاری امیر شریعتؒ کے مقدمہ گورداسپور میں ہوئی تھی۔ خلیفہ صاحب نے کئی ٹھوس جھوٹ کہے تھے۔ جن کو میں نے بحیثیت ان کا مخلص مرید ہونے کے اسی وقت ان پر ظاہر کیا تھا۔ مثلاً اسٹامپ فارم وغیرہ کا علم نہ ہونا۔ مگر جی خلیفہ صاحب کو سچ جھوٹ کی کیا پرواہ ہے۔ ان کو تو ؎

زن نوکن اے خواجہ ہر نوبہار
کہ تقویم پاریں نہ آید بکار

کے ایک حدیث بھی اسی قسم کی بیان کیا کرتے ہیں۔ جس کا ترجمہ یہ ہے کہ قیامت کے دن رسول کریم ﷺ کے بعض صحابہؓ کو دوزخ کی طرف لے جایا جائے گا۔ تو رسول کریم ﷺ کہیں گے کہ یہ تو میرے صحابہؓ ہیں تو ان کو جواب میں کہا جائے گا کہ تجھے معلوم ہے کہ تیرے بعد انہوں نے کیا کیا بدعات کی تھیں۔ تو رسول کریم ﷺ نے فرمایا میں بھی اسی طرح کچھ کہوں گا جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کہہ چکے ہوں گے اور وہاں عربی الفاظ یہ ”اقول کما قال عبد الصالح فلما توفیتنی وغیرہ“

پس رسول کریم ﷺ فرماتے ہیں کہ: ”اقول کما قال عبد الصالح فلما توفیتنی وغیرہ“ اب غور کرنا چاہئے کہ مرزا قادیانی کے مرید ”فلما توفیتنی“ کو اقول کا مقولہ قرار دے کر اپنا مطلب نکالنا چاہتے ہیں۔ مگر حقیقتاً کما کے لفظ سے معلوم ہوتا ہے کہ توفیتنی اقول کا نہیں بلکہ قال کا مقولہ ہے۔ جس کے معنی ہوں گے کہ میں بھی کچھ اسی طرح کہوں گا۔ جس طرح حضرت عیسیٰ علیہ السلام کہہ چکے ہوں گے کہ جب سے تو نے مجھے علیحدہ کر لیا پھر مجھے ان کی حالت کا پتہ نہیں۔ اس علمی بحث کو بھی ہم تفصیل کی غرض سے کسی اور موقع کے لئے مؤخر کرتے ہیں۔

٦٦

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٥٧٣

”انا سید الاولين والآخرين من النبيين“ کہ میں ہی پہلے اور پچھلے نبیوں کا سردار ہوں۔ پس اس سے ثابت ہے کہ پہلے بھی نبی تھے اور بعد بھی آئیں گے۔

جواب

ناظرین یہ سراسر دھوکا ہے۔ اس کے معنی یہ نہیں بلکہ یہ ہیں کہ نبیوں میں سے میں ہی ایک ہوں جو پہلے اور پچھلے تمام لوگوں کا سردار ہوں۔ مرزائی دھوکا بازی کا خیال رہے۔

پھر قادیانی لوگ

ہونا مقام مدح میں ہے تو پھر ان کے بعد نبوت بند نہیں ہونی چاہئے۔ ورنہ وہ مقام مدح میں نہیں۔ بلکہ مقام ذم میں خاتم النبیین ٹھہریں گے۔ یعنی پھر خاتم النبیین ہونا رسول کریم ﷺ کی تعریف نہیں بلکہ توہین ہے اور وہ رحمت نہیں ٹھہریں گے۔ بلکہ نعوذ باللہ زحمت بن جائیں گے۔

ہم اس آیت کی تفسیر نہیں کریں گے۔ صرف فصل دوم کتاب ہذا میں مرزا قادیانی کی بیان کردہ تفسیر ہی پیش کریں گے۔ مگر عقلی اور عملی طور پر ہمارا حق ہے کہ اپنے دوستوں سے عرض کریں۔ ہم پوچھتے ہیں کہ چلو اگر رسول کریم ﷺ خاتم النبیین مقام ذم میں ہیں تو بھی ان کے بعد نبوت بند ہو تو ہم کمزور عقیدہ سہی۔ مگر جب کہ رسول کریم خاتم النبیین ﷺ مقام مدح میں ہوں یعنی ان کے بعد وہ دروازہ نبوت کا جو پہلے بند تھا کھل گیا ہے تو پھر آپ ہی بتائیں کہ آنحضرت ﷺ کے بعد کتنے نبی دنیا میں آئے؟

جس وقت بقول آپ کے یہ دروازہ بند تھا اور کوئی نبی نکل نہیں سکتا تھا۔ اس وقت تو بارش کے قطروں کی طرح نبی ٹپکے اور مسلمانوں کا عقیدہ کہ ایک لاکھ چوبیس ہزار نبی دنیا میں آئے اور مرزا قادیانی لکھتے ہیں کہ رسول پاک ﷺ حضرت آدم علیہ السلام سے چھ ہزار برس بعد تشریف لائے۔ ان چھ ہزار برسوں میں ایک لاکھ چوبیس ہزار نبی دنیا میں آئے۔ جو اوسط حساب سے دو ہفتہ کے بعد ایک نبی کا آنا ثابت ہوتا ہے۔ یہ حالت اس وقت کی ہے جس وقت نبیوں کے نکلنے کے لئے دروازہ ہی نہ تھا۔ مگر رسول کریم ﷺ نے آکر وہ دروازہ کھول دیا تو اب تو ایک دن میں بیس بیس نبی بھی پیدا ہونا ممکن ہے۔ پھر کیا غضب ہوا کہ چودہ سو برس میں ایک بھی نبی نہ آیا اور اگر آیا ہی تو اس کی حالت وہ ہے، جو میں صفحات بالا پر نمونتاً درج کر چکا، اور اس کو ماننے والے بھی کوئی نبی کہتا ہے اور کوئی لکھا ہے کہ ہم نبوت کے مدعی پر لعنت بھیجتے ہیں۔

کیا قادیانی دوست اس کا کچھ جواب دیں گے؟

٦٧

صفحہ ٥٧٤

نبی کا ہمیشہ آنا کیوں بند ہے۔ اس کے جواب میں مرزا قادیانی کا ایک قول نقل کر دینا چاہتا ہوں۔ لکھتے ہیں کہ: ”کیونکہ آدم نوع انسان میں سے پہلا مولود تھا۔ سو ضرور ہوا کہ وہ شخص (مرزا قادیانی) جس پر کمال و تمام دورہ حقیقت آدمیہ ختم ہو وہ خاتم الاولاد ہو۔ یعنی اس کی موت کے بعد کوئی کامل انسان کسی عورت کے پیٹ سے پیدا نہ نکلے۔“

(تریاق القلوب ص ١٥٦، خزائن ج ١٥ ص ٤٧٨، ٤٧٩)

پس اب ہم قادیانی دوستوں سے پوچھتے ہیں کہ مرزا قادیانی کی مندرجہ بالا عبارت کے بموجب اب کوئی کامل انسان مرزا قادیانی کے بعد کسی عورت کے پیٹ سے پیدا نہیں ہوگا؟ اور بقول مرزا قادیانی مسیح نے آسمان سے آنا نہیں ہے؟ تو مرزا قادیانی کے بعد جو انسان دنیا میں رہیں گے اور شیطان بھی ہوگا تو ان کی ہدایت کس کے ذریعہ سے ہوگی؟ پس جو جواب مرزائی دیں گے وہی ہماری طرف سے خیال کر لیں۔

اگر وہ کہیں کہ مرزا قادیانی کی تعلیم موجود ہے۔ اس سے لوگ رہنمائی پائیں گے تو ہم کہتے ہیں کہ رسول پاک ﷺ کی تعلیم موجود ہے۔ اب کسی جدید نبی کی ضرورت نہیں۔

افراد آل یا اصحاب وغیرہ تھے۔ مگر مرزا قادیانی پنجتن پاک کے معنی کیا لیتے ہیں۔ ملاحظہ ہو ؎

میری اولاد سب تری عطا ہے
ہر اک تیری بشارت سے ہوا ہے
یہ پانچوں جو کہ نسل سیدہ ہے
یہی ہیں پنجتن جن پر بنا ہے

(درثمین اردو ص ٤٥)

ناظرین کرام! کیا ہی دیدہ دلیری سے مرزا قادیانی نے مسلمانوں کے جذبات کو نظر انداز کیا ہے۔ اپنی اولاد کو پنجتن قرار دے کر تفرقہ عظیمہ کی بنیاد رکھی اور بزرگان دین کی ہتک کی ہے۔

اس پر اگر علماء کرام مرزا قادیانی کو فتویٰ کفر لگائیں تو یہ کہہ دیتے ہیں کہ تکفیر پہلے علماء اسلام نے کی ہے۔ حالانکہ جس شخص کی تحریک سے کوئی جرم پیدا ہوتا ہے۔ اصل مجرم وہ ہوتا ہے۔ بہر حال یہ دورنگی مذہب کے پردہ میں سیاست طلبی ہے اور کچھ نہیں۔

٦٨

صفحہ ٥٧٥

ہے۔ ان کا تو کوئی ایک لفظ ایسا نہیں جو دوسری جگہ نقیض نہ بن پڑے۔ چنانچہ قادیانیوں کا مشہور عقیدہ ہے کہ مرزا قادیانی نے اپنے دعویٰ نبوت میں ١٩٠١ء میں تبدیلی کی۔ اس پر جب اعتراض ہوتا ہے تو کہہ دیا کرتے ہیں کہ حضرت رسول کریم ﷺ نے بھی تبدیلی دعویٰ کی۔ جیسا کہ انہوں نے پہلے ایک حدیث میں فرمایا کہ: ”لا تفضلونی علیٰ یونس ابن متیٰ“ کہ مجھے یونس ابن متیٰ پر فضیلت نہ دو! اور جب وہ سب سے افضل ہو گئے تو فرمایا کہ: ”انا سید ولد ادم“ کہ میں تمام بنی آدم سے افضل ہوں۔

یہ جواب جو ہم ذیل میں درج کریں گے۔ قادیانی خلیفہ کی پوزیشن کے پیش نظر نہیں بلکہ رسول پاک ﷺ پر جب بہتان طرازی ہوتی ہے تو ہم برداشت نہیں کر سکتے۔ مختصراً اس کی تشریح کر دیتے ہیں۔

اس حدیث کا مطلب یہ نہیں کہ رسول پاک ﷺ پہلے افضل نہ تھے۔ بلکہ وہ تو قدیم ہی سے افضل تھے اس موقع پر اس حدیث کے بیان کرنے کا یہ مدعا تھا کہ حضرت یونس علیہ السلام نے ایک غلطی اپنے زمانہ میں کی تھی۔ جس کو قرآن کریم غلطی قرار دیتا ہے اور جب رسول کریم کے زمانہ میں حضرت یونس علیہ السلام کا ذکر ہوتا تو لوگ رسول پاک ﷺ کو کہتے کہ حضور ﷺ آپ بالکل معصوم ہیں اور حضرت یونس علیہ السلام نے فلاں غلطی کی تھی۔ اس لئے آپ ان سے افضل ہیں۔ رسول پاک ﷺ نے مصلحت پائی کہ جب یونس علیہ السلام کے مقابلہ میں مجھے افضل کہا جاتا ہے تو حضرت یونس علیہ السلام کا گناہ لوگوں کے سامنے آ جاتا ہے۔ ایک نبی کے متعلق لوگوں میں بدظنی پیدا ہوتی ہے۔ اس لئے رسول پاک ﷺ نے فرمایا کہ یونس علیہ السلام کے مقابلہ میں مجھے افضل نہ کہا کرو۔

یعنی تا کہ یونس علیہ السلام کی غلطی مشہور نہ ہوتی رہے اور نبی کے متعلق کسی کے دل میں ذرہ بھر بھی نفرت نہ ہو۔ تا کہ لوگوں کی روحانی زندگی خراب نہ ہو۔ پس یہ مطلب ہے اس حدیث کا ورنہ رسول پاکؐ نے کوئی تبدیلی نہیں کی۔ بلکہ وہ پہلے ہی سے افضل تھے۔

نبی اللہ کہا کرتے تھے۔ مگر مرزا قادیانی اپنے آپ کو نبی نہیں مانتے تھے۔ یہ عجیب قسم کی توجیہ ہے کہ اگر مرزا قادیانی نبی نہیں تھے تو مولوی محمد علی صاحب نے ان کو کس طرح نبی مان لیا اور اگر وہ تھے تو ١٩٠١ء میں تبدیلی دعویٰ کا کیا مطلب ہوا۔

٦٩

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٧٠

یا پھر یہ بات ہے کہ مرزا قادیانی نبی تو تھے۔ مگر وہ خود اپنی نبوت پر ایمان نہیں رکھتے تھے اور مولوی محمد علی وغیرہ لوگ نبوت مرزا قادیانی پر ایمان رکھتے تھے۔ تو اس پر یہ اعتراض ہے کہ نبی تو اپنے دعویٰ اور وحی پر اوّل المؤمنین ہوتا ہے۔ مگر مرزا قادیانی اوّل الکافرین ثابت ہوئے اور مولوی محمد علی وغیرہ ہی مؤمن رہ سکتے ہیں۔ مرزا قادیانی کا تو پھر کوئی ٹھکانہ ہی نہیں۔ کیا اس کا جواب ملے گا؟

اعتراضات کئے کہ اگر آپ سچے ہوتے تو آپ کی پیش گوئیاں کیوں نہ پوری ہوتیں۔ اس کے جواب میں مرزا قادیانی لکھتے ہیں کہ: ”بائبل میں لکھا ہے کہ ایک مرتبہ چار سو نبی کو شیطانی الہام ہوا تھا اور انہوں نے الہام کے ذریعہ سے جو ایک سفید جن کا کرتب تھا ایک بادشاہ کی فتح کی پیش گوئی کی۔ آخر وہ بادشاہ بڑی ذلت سے اسی لڑائی میں مارا گیا اور بڑی شکست ہوئی۔“

(ضرورت الامام ص ١٧، خزائن ج ١٣ ص ٤٨٨)

اب ناظرین خود انصاف کریں کہ مرزا قادیانی پر جائز اعتراض کرنا بھی اتنا مشکل ہے کہ وہ فوراً جواب میں ایک اعتراض کے بدلے چار سو نبی کو جھوٹا شیطانی الہام پانے والے قرار دے کر مسلمانوں کے احساس کو سخت مجروح کر دیتے ہیں۔ اچھا اگر اب بھی نہ وہ سمجھے تو اس بت سے خدا سمجھے۔

اسی کتاب کے (ص ١٦، خزائن ج ١٣ ص ٤٨٦) پر لکھتے ہیں کہ: ”ظاہر ہے کہ شیطان ایسی طرز سے آیا ہوگا۔ جیسا کہ جبرائیل پیغمبروں کے پاس آتا ہے۔“ کیا ہی کہنا مرزا قادیانی کی روحانیت کا کہ حضرت جبرائیل کو شیطان سے تشبیہ دیتے ہیں۔ مگر اپنا مطلب فوت نہیں ہونے دیتے۔

پھر ہمیں کہنا پڑتا ہے کہ

ہوا تھا کبھی سر قلم قاصدوں کا
یہ تیرے زمانے میں دستور نکلا

اس جگہ میں گنجائش نہیں پاتے۔ صرف اتنا کہ مرزا قادیانی نے زور دیا ہے کہ یہ میری پیش گوئی ضرور پوری ہوگی اور اگر یہ پیش گوئی پوری نہ ہوئی تو سمجھو کہ میں جھوٹا ہوں۔

اس کے متعلق وہ یہ بھی لکھ چکے ہیں کہ شاید مجھے اس الہام کے سمجھنے میں غلطی ہوگئی ہو۔ مگر پھر انہوں نے اس کو غلطی نہ رہنے دیا۔ بلکہ اس سے پہلے تو وہ کہتے تھے کہ ”محمدی بیگم“ کنواری سے میرا نکاح ہوگا۔ پھر یہ کہ بیوہ ہو کر میرے نکاح میں آئے گی اور اس کے متعلق قادیانی لوگ

www.besturdubooks.wordpress.com