آبروئے ما ز نامِ مصطفیٰ است
دفاع ناموس رسالت
علیٰ صاحبہا الصلوٰۃ والسلام
ترتیب و تبویب:
مُحمد اسماعیل شُجاع آبادی
علی صاحبہا الصلوٰۃ والسلام
دفاعِ نامُوسِ رسالت
ترتیب و تبویب:
مُحمّد اسماعیل شُجاع آبادی
ناشر:
مکتبہ ختم نبوت صدیق آباد، جلال پور روڈ، شجاع آباد، ملتان فون:۔ 0300-6347103-03004385230
آئینہ
نام کتاب : ــــــــــــــــــــــــــ دفاع ناموس رسالت ﷺ ترتیب وتبویب : ــــــــــــــــــــــــــ محمد اسماعیل شجاع آبادی صفحات : ــــــــــــــــــــــــــ 368 ہدیہ : ــــــــــــــــــــــــــ 230
ناشر:
ادارہ اشاعت الخیر بیرون بوہڑ گیٹ ملتان 7301239-0300
- ☆...... دفتر ختم نبوت (قدیم) بالمقابل شاہ محمد غوث بیرون دہلی دروازہ لاہور 4789450-0300
- ☆...... مدرسہ تعلیم القرآن صدیقیہ صدیق آباد ڈاکخانہ بستی مٹھو شجاع آباد 4385230-0312
مکتبہ لدھیانوی سلام کتب مارکیٹ علامہ بنوری ٹاؤن کراچی ☆...... ادارہ تالیفات ختم نبوت اُردو بازار لاہور
- ☆...... کتب خانہ صفدریہ حق سٹریٹ اُردو بازار لاہور ☆...... کتب خانہ رشیدیہ راجہ بازار راولپنڈی
- ☆...... مکتبہ حسینیہ بالمقابل حبیب بنک شجاع آباد ☆...... مکتبہ امینیہ چوک بازار حسن ابدال ضلع اٹک
نوٹ :- عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے تمام دفاتر سے دستیاب ہے۔
قال الله عز وجل مَا كَانَ اَبَآ اَحَدٍ وَّلٰكِنْ رَّسُوْلَ اللّٰهِ محمد باپ نہیں کسی کا تمھارے مَردوں میں قال النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اَنَا خَاتَمُ النَّبِيّٖنَ میں ”خاتم النبیین“ كَتَبَهُ الفَقِيْرُ فَيْضُ الحُسَيْنِي غُفِرَلَهُ
آئینہ
دفاع ناموس رسالت ﷺ
محمد اسماعیل شجاع آبادی 368 230
ملتان 7301239-0300 بھاٹی دروازہ لاہور 4789450-0300 شجاع آباد 4385230-0312
- ٭ ...... ادارہ تالیفات ختم نبوت اردو بازار لاہور
- ٭ ...... کتب خانہ رشیدیہ راجہ بازار راولپنڈی
- ٭ ...... مکتبہ امینیہ چوک بازار حسن ابدال ضلع اٹک
ان کے تمام دفاتر سے دستیاب ہے۔
قال اللہ تعالیٰ فی القرآن المجید مَا كَانَ مُحَمَّدٌ أَبَا أَحَدٍ مِّن رِّجَالِكُمْ وَلَكِن رَّسُولَ اللَّهِ وَخَاتَمَ النَّبِيِّينَ صدق اللہ العظیم محمد باپ نہیں کسی کا تمھارے مردوں میں، لیکن رسول ہے اللہ کا اور مہر سب نبیوں پر
قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ترجمہ : شیخ الہند حضرت مولانا محمود حسن قدس سرہ اَنَا خَاتَمُ النَّبِيِّينَ لَا نَبِيَّ بَعْدِي میں ”خاتم النبیین“ ہوں، میرے بعد کوئی نبی نہیں کتبہ الفقیر بفیض الحسینی غفر لہ ذنوبہ و ستر عیوبہ دارالمعالی کراچی پاکستان
انتساب
قائد تحریک ختم نبوت شیخ الحدیث
مولانا عبدالمجید لدھیانوی صاحب دامت برکاتہم
کے نام
جن کے دور امارت میں اللہ پاک نے پہلی کامیابی عطاء فرمائی ۔
گر قبول افتد زہے عزوشرف
فہرست
فہرست
دفاع ناموس رسالت ﷺ
عنوانات صفحہ عنوانات صفحہ کلمۃ الامیر 10 یہودیوں کی طرح عیسائیوں کی گستاخیاں 40 نگاہِ اولین 14 مکہ میں گستاخان کے خلاف رسول اللہ کا اعلان جنگ 42 باب اوّل : ایک گستاخ عورت کا قتل 43 گستاخ رسول کی سزا قرآن ، حدیث، فقہ ، اور بائبل میں 17 عمیر بن عدی کے ہاتھوں گستاخ بہن کا قتل 43 گستاخ رسول کی سزا قرآن پاک کی رو سے 19 عصماء بنت مروان کا قتل 45 دلیل اوّل نبی کریم ﷺ کو گالیاں دینے والی ام ولد کا قتل 46 دلیل ثانی 28 گستاخ یہودی عورت کا قتل 48 دلیل ثالث 30 فقہاء کرام کے اقوال 49 دلیل رابع 32 فقہ حنفی 49 دلیل خامس (پانچویں دلیل) 34 فقہ شافعی 51 گستاخ رسول کی سزا احادیث کی رو سے 35 فقہ مالکی 52 کعب بن اشرف کا سر تن سے جدا 36 فقہ حنبلی 53 ابو رافع یہودی کا قتل 37 اجماع امت 54 ابو عکف یہودی کا قتل 39 منکرین اجماع کا حکم 54 انس بن زنیم الدیلمی کی گستاخی 39 انسانیت کے ناطے گستاخ سے ہمدردی کا حکم 55 ؓ
فہرست بائبل کی رو سے گستاخ رسول کا حکم
باب دوم:
زمانہ نبوی کے گستاخان رسالت کا انجام
ابولہب کا عبرتناک انجام عقبہ بن ابولہب کا عبرتناک انجام عامر بن طفیل اور اربد بن قیس کا انجام خالد بن سفیان الہذلی عقبہ بن ابی معیط کا انجام ابو جہل کا دو نو عمر لڑکوں کے ہاتھوں قتل آپ کو ابتر کہنے والوں کا عبرتناک انجام حضور پر ناانصافی کا الزام لگانے والے کا قتل شاتم رسول باپ کا اپنے بیٹے کے ہاتھوں قتل توہین رسالت کے مرتکب نو بھائیوں کا قتل توہین رسالت کا ارتکاب کرنے والے کو زمین نے قبول نہ کیا گستاخ رسول جن کا عبداللہ نامی جن کے ہاتھوں قتل آپ کا مذاق اڑانے والے پر آسمانی بجلی آگری ابو جعدہ کا عبرتناک انجام شاہ ایران خسرو پرویز کا انجام شاتم رسول الیسر یہودی کا قتل رفاعہ بن قیس اشجعی کا قتل معاویہ بن مغیرہ کا قتل
عنوانات صفحہ عیسائیوں کی گستاخیاں 40 گستاخ رسول اللہ کا اعلان جنگ 42 43 ابورافع یہودی کا قتل 43 45 کا قتل 46 48 اقوال 49 49 51 52 53 54 54 سے یہودی کا حکم 55
فہرست
بائبل کی رو سے گستاخ رسول کا حکم 59
باب دوم:
زمانہ نبوی کے گستاخانِ رسالت کا انجام 63 ابولہب کا عبرت ناک انجام 65 عتبہ بن ابولہب کا عبرت ناک انجام 67 عامر بن طفیل اور اربد بن قیس کا انجام 67 خالد بن سفیان الہذلی 68 عقبہ بن ابی معیط کا انجام 70 ابوجہل کا دو نو عمر لڑکوں کے ہاتھوں قتل 73 آپ کو ابتر کہنے والوں کا عبرت ناک انجام 74 حضور پر ناانصافی کا الزام لگانے والے کا قتل 75 شاتم رسول باپ کا اپنے بیٹے کے ہاتھوں قتل 75 توہین رسالت کے مرتکب نو بھائیوں کا قتل 76 توہین رسالت کا ارتکاب کرنے والے کو قبر 77 نے قبول نہ کیا گستاخ رسول جن کا عبداللہ نامی جن کے ہاتھوں قتل 78 آپ کا مذاق اڑانے والے پر آسمانی بجلی آگری 79 ابوجہدع کا عبرت ناک انجام 80 شاہ ایران خسرو پرویز کا انجام 81 شاتم رسول الیسر یہودی کا قتل 82 رفاعہ بن قیس اشجعی کا قتل 83 معاویہ بن مغیرہ کا قتل 84
ابوسینہ یہودی کی موت 84
باب سوم:
سچے عاشقانِ رسول کے واقعات 87 سلطان نورالدین زنگی کے ذریعہ ذات رسول کا تحفظ 89 سچے عاشق رسول کا انگریز جج کو للکارنے کا واقعہ 93 قاضی عبدالرشید تونسویؒ 94 غازی علم الدین شہید 99 مولانا سید عطاء اللہ شاہ بخاری کا ولولہ انگیز خطاب 103 غازی علم الدین کے ہاتھوں راجپال کا قتل 106 غازی عبدالقیوم تعارف و خدمات 109 عاشق رسول کو پھانسی کی سزا 116 جیل میں غازی کی غیبی مدد دیکھ کر سکھ کا قبول اسلام 121 غازی مرید حسین کے ہاتھوں سکھ ڈاکو کا قتل 122 غازی عبدالمنان 126 غازی عبدالرحمان شہید 130 غازی میاں محمد 132 میاں محمد کی بیوی اور بھائی کو آخری وصیت 136 غازی حافظ محمد صدیق 138 بابو معراج دین 140 غازی کی آخری وصیت 145 ایک عاشق رسول صوفی عبداللہ کا تذکرہ 147 غازی منظور حسین شہید 151
فہرست
غازی زاہد حسین کے ہاتھوں عیسائی گستاخ کا قتل 154 غازی امیر احمد، محمد عبداللہ کی داستان عقیدت 156 عبدالرشید عرف شیما گاڈی 163 پاکستان میں مدعی مہدویت کا قتل 166 غازی فاروق کے ہاتھوں گستاخ رسول کا عبرتناک انجام 169 عاشق رسول عامر چیمہ شہیدؒ 171 اختر شیرانی کے عشق رسول کا واقعہ 174 یوسف کذاب اور اس کا عبرتناک انجام 176 باب چھارم: قانون توہین رسالت پر اعتراضات کا جائزہ 183 قانون انسداد توہین رسالت کب سے ہے 185 295C اہانت آمیز کلمات کا استعمال 190 قانون توہین رسالت پر اشکالات اور جوابات 194 295C تین بڑے اشکالات 203 قانون ناموس رسالت حقائق اور پروپیگنڈہ 207 مسیحیوں کے اعتراضات کا جائزہ 213 گستاخ رسولؐ کے متعلق امت کا تعامل 215 مغرب کا بڑا اعتراض 217 مغربی دنیا کو شکایت 218 باب پنجم: جرم توہین رسالت کے متعلق علماء کرام اور کالم نگاروں کے تاثرات 221
جرم توہین رسالت، چند پہلو 223 توہین رسالت کے مجرم کے قتل پر اجماع امت 225 پادریوں کی اسلام دشمنی کا عیسائی مورخین کا اعتراف 226 آزادی اظہار رائے کا مفہوم 229 پاکستان میں انسداد توہین رسالت کے قانون کا پس منظر 230 ناموس رسالت کی حفاظت کیجئے (حضرت مولانا سلیم اللہ خان) 234 شاتم رسول کی سزا اور اس کی معافی؟ (سینیٹر علامہ ساجد میر) 238 نام محمدؐ کے سبب (ڈاکٹر عامر لیاقت حسین) 242 کیا پاکستان پر مسیحی اقلیت حکومت کریگی (پروفیسر شمیم اختر) 246 توہین کی حقیقت کو نہ سمجھے تو اغماض کیسا (جناب ہارون الرشید) 250 ادب رسول اور اس کے تقاضے (میاں بابر شبیر ساہیوال) 252 ظالموں کو پکڑے جانے کا احساس ہو گیا (سید ارشاد احمد عارف) 258 سیکولر انتہا پسندی کا شاخسانہ (عنایت الرحمن خلیل) 261 یہ معاملے ہیں نازک (جناب عرفان صدیقی) 265 باب ششم: تحریک ناموس رسالت، پس منظر اور مطالبات 271 آسیہ مسیح کیس کا پس منظر 273 گورنر پنجاب کی آسیہ ملعونہ سے ملاقات 274 تحفظ ناموس رسالت قانون سے متعلق پوپ کا مطالبہ 275 سلمان تاثیر کے قتل کے محرکات 277 ویٹی کن سٹی محل وقوع اور پوپ کی حیثیت 280 پاپائے اعظم اپنی حدوں میں رہیں 285 آل پارٹیز ناموس رسالت کانفرنس اسلام آباد 288
فہرست
کل جماعتی کانفرنس احوال و تاثرات مشترکہ اعلامیہ آل پارٹیز تحفظ ناموس رسالت کانفرنس کی تفصیلی رپورٹ شریک جماعتیں تحریک ناموس رسالت کا سرکلر مجلس کی طرف سے ممبران سینٹ و اسمبلی کے نام تحریک ناموس رسالت کے حقیقی مطالبات
فہرست
ناموس رسالت پر حملہ 223 رسالت کے مجرم کے قتل پر اجماع امت 225 توہین رسالت کی سزا پر عیسائی مورخین کا اعتراف 226 ناموس رسالت کا مفہوم 229 توہین رسالت کے قانون کا پس منظر 230 خطبہ صدارت (حضرت مولانا سلیم اللہ خان) 234 گستاخ رسول کی معافی؟ (سینیٹر علامہ ساجد میر) 238 مقام حبیب (ڈاکٹر عامر لیاقت حسین) 242 تحریک تحفظ ناموس رسالت کی (پروفیسر غفور احمد) 246 توہین رسالت کا ایک اور پہلو (جناب ہارون الرشید) 250 توہین رسالت کے پس پردہ صیہونی سازش (پروفیسر ساجد میر) 252 توہین رسالت کی تاریخی حقیقت (سید شاہ احمد عارف) 258 ناموس رسالت اور ہماری ذمہ داری (مولانا فضل الرحمن خلیل) 261 ناموس رسالت کی جنگ (جناب عرفان صدیقی) 265 تحریک ناموس رسالت، پس منظر اور مطالبات 271 اہم پریس کانفرنس 273 جناب پوپ کی آسیہ ملعونہ سے ملاقات 274 ناموس رسالت قانون سے متعلق پوپ کا مطالبہ 275 سلمان تاثیر کے قتل کے محرکات 277 توہین رسالت کے قانون میں ترمیم اور پوپ کی حیثیت 280 اقلیتی کمیشن اپنی حدوں میں رہیں 285 آل پارٹیز ناموس رسالت کانفرنس اسلام آباد 288
کل جماعتی کانفرنس احوال و تاثرات 292 مشترکہ اعلامیہ 296 آل پارٹیز تحفظ ناموس رسالت کانفرنس کی تفصیلی رپورٹ 300 شریک جماعتیں 304 تحریک ناموس رسالت کا سرکلر 313 مجلس کی طرف سے ممبران سینٹ و اسمبلی کے نام خط 315 تحریک ناموس رسالت کے حقیقی مطالبات 317
تاریخی ہڑتال 317 کراچی کا تاریخ ساز فقید المثال جلسہ 323 جلسہ کی کامیابی پر اظہار تشکر 328 کراچی کی ریلی سے مولانا فضل الرحمن کا خطاب 329 زندہ دلان لاہور کی عظیم الشان ریلی 333 لاہور ریلی سے مولانا فضل الرحمن کا ولولہ انگیز خطاب 337 حکومت پاکستان کی طرف سے تحفظ ناموس رسالت - قانون سے متعلق تازہ فیصلہ کا مکمل ترجمہ 341
كـــــــلـــــــمـــــــة الامـــــــيـــــــر
كلمة الامير
اللہ پاک پروردگار عالم کی تمام مخلوقات میں سے سب سے زیادہ قابل احترام حضرات انبیاء کرام ہیں۔ پھر تمام انبیاء کرام میں سے سب سے زیادہ عزت و احترام کے لائق رحمت دو عالم ﷺ کی ذات گرامی ہے۔
کسی بھی نبی کی شان میں ادنیٰ سی گستاخی ناقابل معافی جرم ہے۔ جس کی سزا صرف صرف سزائے موت ہے۔ رحمت عالم ﷺ نے اپنی مدنی زندگی میں جب آپ کو قوت حاکمہ حاصل تھی کعب بن اشرف، ابو رافع، ابو عفک، ابن خطل جیسے کئی ایک گستاخان رسول ﷺ کو قتل کرنے کا حکم فرمایا۔
عام حالات میں آپ ﷺ نے عورتوں پر ہاتھ اٹھانے سے منع فرمایا۔ لیکن وہ خواتین جنہوں نے رحمت عالم ﷺ کی شان اقدس میں دریدہ دہنی کی تھی۔ انہیں قتل کرنے کا حکم دیا۔ ایک نابینا صحابیؓ نے اپنی ام ولد جو موہن رسول تھی کو قتل کر دیا تو آپ نے اس کا خون ہدر (ضائع) قرار دے دیا۔
حضرت صدیق اکبر ؓ کے دور خلافت سے لے کر آخری مغل تاجدار جناب بہادر شاہ ظفر کے دور اقتدار تک جب تک مسلمان حکمران رہے۔ گستاخ رسول کے متعلق یہی قانون نافذ رہا۔ انگریزوں نے جہاں ہمارے تمام نظام منسوخ کر دیئے۔ وہاں مذکورہ بالا قانون کو بھی ختم کر دیا گیا۔
پاکستان فیڈرل شریعت کورٹ نے ایک فیصلہ کے ذریعہ آئین پاکستان میں دفعہ نمبر c-295 میں گستاخ رسول کی سزا صرف اور صرف سزائے موت مقرر کی۔ پاکستان قومی اسمبلی اور سینٹ نے بھی اس قانون کو منظور کیا۔ وقفہ وقفہ سے قادیانی عیسائیوں اور دوسرے لادینیوں کو اکسا کر اس قانون کو ختم کرانے کی کوشش کرتے رہتے ہیں۔
كـــــــلـــــــمـــــــة الامـــــــيـــــــر
حالیہ تحریک تحفظ ناموس تمام مکاتب فکر، دینی وسیاسی راہنما سمری پر دستخط کر کے تحریک ناموس عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت سے لے کر اب تک کے اہم واقعات اور عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کا کلیدی ک پاک موصوف کی جدوجہد کو قبول فرما ☆☆☆☆☆
کلمۃ الامیر
حالیہ تحریک تحفظ ناموس رسالت جس کا سبب آسیہ مسیح کیس بنا۔ اُمت مسلمہ کے تمام مکاتب فکر، دینی و سیاسی راہنماؤں کی مشترکہ جدوجہد سے وزیر اعظم پاکستان نے ایک سمری پر دستخط کر کے تحریک ناموس رسالت کے تمام مطالبات تسلیم کر لئے۔ الحمد للہ علیٰ ذالک۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی مبلغ محمد اسماعیل شجاع آبادی نے خیرالقرون سے لے کر اب تک کے اہم واقعات، تحریک ناموس رسالت کا قیام، اہداف، مقاصد، جدوجہد اور عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کا کلیدی کردار کے عنوانات مرتب کر کے کتابی شکل دی ہے۔ اللہ پاک موصوف کی جدوجہد کو قبول فرما کر شرف قبولیت سے سرفراز فرمائیں۔
عبدالمجید غفرلہ شیخ الحدیث جامعہ باب العلوم کہروڑ پکا امیر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت ملتان
☆☆☆☆☆☆.......☆☆☆☆☆☆
رائے گرامی: حضرت اقدس (صاحبزادہ) مولانا خلیل احمد صاحب مدظلہ
سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کندیاں شریف
حضرات انبیاء کرام کی ذواتِ مقدسہ تنقید سے بالاتر ہیں، کسی بھی نبی کی ذات گرامی پر طعن و تشنیع انتخابِ خداوندی پر عدم اعتماد ہے۔
سرورِ دوعالم صلی اللہ علیہ وسلم ایک حدیث قدسی میں ارشاد فرماتے ہیں ”من عادی لی ولیا فقد اذنتہ بالحرب“ یعنی اللہ کے نبی کی عداوت اللہ پاک سے جنگ کے مترادف ہے۔ اس حدیث میں دوسری قرأت ہے: ”من اذى لی ولیا فقد اذنتہ بالحرب“ یعنی جو میرے ولی کو ایذاء (تکلیف) پہنچاتا ہے، میرا اس کے ساتھ اعلانِ جنگ ہے۔ ولایت نبی کے قدموں سے ملتی ہے۔ جب ولی کی شان میں گستاخی اللہ تعالیٰ کے ساتھ اعلانِ جنگ ہے تو نبی کی ذات گرامی پر طعن و تشنیع اللہ پاک کیسے گوارا فرما سکتے ہیں۔
اس لئے قرآن، حدیث، اجماعِ اُمت، فقہاء کرام کے اقوال کی روشنی میں انبیاء کرام کی شان میں گستاخی کی سزا سزائے موت ہے۔
نیز پاکستان کے آئین میں بھی توہین انبیاء کی سزا سزائے موت ہے۔ اس قانون کو ختم کرانے کیلئے کچھ لابیاں ہر زمانہ میں متحرک رہی ہیں۔ چنانچہ گذشتہ سال (۲۰۱۰ء) میں سابق گورنر پنجاب سلمان تاثیر اور اس قماش کے لوگوں نے قانون انسداد توہین رسالت ختم کرانے کی کوششیں شروع کردیں۔ امتِ مسلمہ کے اتحاد نے ان کی سازشوں کو پارہ پارہ کر دیا۔ اور حکمران اُمتِ مسلمہ کے متفقہ مطالبات منظور کرنے پر مجبور ہوئے۔
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی مبلغ مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی نے قرآن، احادیثِ نبویہ، اجماعِ اُمت، فقہاء کرام کے اقوال کی رو سے انسداد توہینِ رسالت کو مبرہن کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ ان کی مساعی جمیلہ کو اپنی بارگاہ میں قبول فرما کر ہم سب کو ناموسِ رسالت کی حفاظت کی توفیق بخشیں۔
خلیل احمد خانقاہ سراجیہ کندیاں ضلع میانوالی 29-07-2011
تقریظ: مولانا عبدال
ناموس رسالت کے تحفظ کئے ہیں اور خیر القرون سے لے کر ہر قربانیاں پیش کی گئیں۔
قیامِ پاکستان سے لے کر ا نے پاکستان کی نظریاتی سرحدوں کی ا کہ ختم نبوت اور ناموس رسالت کی حفا ہے اور دینی تحریکوں کی پشت پناہی کی میں علماء کرام کی نمائندگی نہ ہونا تھی ۔ مولانا سید محمد یوسف بنوریؒ کے ہاتھ م علماء اسلام کی مضبوط جماعت نے امت
موجودہ تحریک ناموسِ رسال جمعیت علماء اسلام نے کلیدی کردار اد پلٹ دی اور وزارتِ قانون نے ا وزیر اعظم پاکستان سید یوسف رضا گیل
مجاہد ختم نبوت مولانا محمد ا بتلایا کہ انہوں نے ”دفاع ناموس ر رحمۃ دوعالم صلی اللہ علیہ وسلم کے عظیم الشان کردار اُجاگر کیا ہے۔
اللہ پاک مولانا شجاع آ نسلوں کیلئے مشعل راہ بنائیں۔
مولانا خلیل احمد صاحب مدظلہ
کندیاں شریف
سے بالاتر ہیں، کسی بھی نبی کی ذات
قدسی میں ارشاد فرماتے ہیں ”من کہ اس کی عداوت اللہ پاک سے جنگ ہے: ”من اذى لي وليا فقد اذنته لیف) پہنچاتا ہے، میرا اس کے ساتھ اعلان جب ولی کی شان میں گستاخی اللہ تعالیٰ کے ستاخ اللہ پاک کیسے گوارا فرما سکتے ہیں۔ اور فقہاء کرام کے اقوال کی روشنی میں ہے۔
کی سزا سزائے موت ہے۔ اس قانون ہیں ۔ چنانچہ گذشتہ سال (۲۰۱۰ء) میں گوں نے قانون انسداد توہین رسالت ختم کے اتحاد نے ان کی سازشوں کو پارہ پارہ کر لنے پر مجبور ہوئے۔
مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی نے اکٹھے اقوال کی رو سے انسداد توہین اللہ کی بارگاہ میں قبول فرما کر ہم سب کو
خلیل احمد خانقاہ سراجیہ کندیاں ضلع میانوالی 29-07-2011
تقریظ: مولانا عبدالغفور حیدری، قائد حزب اختلاف
سینیٹ آف پاکستان۔ اسلام آباد
ناموس رسالت کے تحفظ کیلئے امت نے ہر دور میں اپنی جانوں کے نذرانے پیش کئے ہیں اور خیرالقرون سے لے کر ہر زمانہ میں ناموس رسالت کی حفاظت کے لئے گراں قدر قربانیاں پیش کی گئیں۔
قیام پاکستان سے لے کر اب تک علماء کرام بالخصوص جمعیت علماء اسلام کے قائدین نے پاکستان کی نظریاتی سرحدوں کی ایوانہائے بالا میں حفاظت کی ہے۔ قرارداد مقاصد سے لے کر ختم نبوت اور ناموس رسالت کی حفاظت کیلئے جمعیت علماء اسلام نے ہراول دستہ کا کردار ادا کیا ہے اور دینی تحریکوں کی پشت پناہی کی ہے۔ ۱۹۵۳ء کی تحریک کی بظاہر ناکامی کی ایک وجہ اسمبلی میں علماء کرام کی نمائندگی نہ ہونا تھی۔ ۱۹۷۴ء کی تحریک کی زمام قیادت اگرچہ شیخ الاسلام حضرت مولانا سید محمد یوسف بنوریؒ کے ہاتھ میں تھی۔ لیکن اسمبلی میں مفکر اسلام مولانا مفتی محمودؒ سمیت علماء اسلام کی مضبوط جماعت نے امت مسلمہ کی نمائندگی کر کے تحریک کو کامیابی سے ہمکنار کیا۔
موجودہ تحریک ناموس رسالت میں قائد جمعیت مولانا فضل الرحمن کی قیادت میں جمعیت علماء اسلام نے کلیدی کردار ادا کیا۔ بالخصوص مولانا کی کراچی کی تقریر نے تحریک کی کایا پلٹ دی اور وزارت قانون نے ۲۶ صفحات پر مشتمل سمری تیار کر کے وزیراعظم کو پیش کی۔ وزیراعظم پاکستان سید یوسف رضا گیلانی نے دستخط کر کے اس کی کاپی مولانا فضل الرحمن کو پیش کی۔
مجاہد ختم نبوت مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی نے بندہ کی ملتان حاضری کے دوران بتلایا کہ انہوں نے ”دفاع ناموس رسالت“ کے عنوان سے کتاب مرتب کی ہے، جس میں رحمت دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کے دور اقدس سے لے کر اب تک مجاہدین ناموس رسالت کا عظیم الشان کردار اُجاگر کیا ہے۔
اللہ پاک مولانا شجاع آبادی مدظلہ کی اس کاوش کو قبول فرما کر آئندہ آنے والی نسلوں کیلئے مشعل راہ بنائیں۔
عبدالغفور حیدری ناظم اعلیٰ جمعیت علماء اسلام پاکستان۔ اسلام آباد
نگــــــاہ اولیــــن
نگاہ اوّلیں
تحفظ ناموس رسالت کا قانون ایک عرصہ سے امریکہ اور اس کے زلہ خواروں کے لئے پریشانی کا باعث بنا ہوا ہے۔ قادیانی امریکی لابی ایجنٹ اور پاکستان میں سب سے بڑے گستاخ رسول ہیں۔ مرزا غلام احمد قادیانی جہنم مکانی کی کتب توہین کی غلاظت سے اٹی ہوئی ہیں، اس کے قلم سے رحمت دو عالم ﷺ سمیت بہت سے انبیاء کرام کی توہین نکلی ہے۔
جب سے یہ قانون بنا ہے۔ قادیانی اور ان کے سر پرست، تنخواہ دار صحافی، پرائیوٹ ٹی وی چینلوں کے اینکرز کسی نہ کسی بہانے اس قانون کو زیر بحث لاتے رہتے ہیں۔ نیز قادیانی مسیحی اقلیت کو استعمال کر کے اس قسم کی حرکات کراتے رہتے ہیں۔
- ☆....... ننکانہ کی عاصیہ مسیح کی خرافات، اس کے خلاف کیس، ایس۔ پی۔ ....... کی محکمانہ تفتیش
اور عدالتی فیصلہ کے خلاف پنجاب کے سابق مقتول گورنر سلمان تاثیر کے عدالتی طریقہ کار کو بائی پاس کر کے اسے معافی دلانے کے بیانات نے دینی طبقات کو چونکا دیا۔
- ☆....... سابق وزیر اقلیتی امور شہباز بھٹی کے بیان کہ رواں سال کے آخر تک قانون توہین
رسالت میں ترمیم کر دی جائیں گی۔
- ☆....... صدر پاکستان جناب آصف علی زرداری کی طرف سے قانون ناموس رسالت میں
ترمیم کرنے کے لئے سابق وزیر اقلیتی امور شہباز بھٹی کی سرکردگی میں کمیٹی کا قیام ۔
- ☆....... پیپلز پارٹی کی ایم۔این۔اے شیریں رحمن کی طرف سے امتناع توہین رسالت قانون
میں ترمیم کرنے کے لئے پارلیمنٹ میں بل جمع کرانے کے بعد دینی طبقات میں تشویش کی لہر دوڑ گئی۔ جس کے بعد مختلف دینی جماعتوں نے آل پارٹیز تحفظ ناموس رسالت کانفرنسیں منعقد کیں۔ سب سے بڑی کانفرنس عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام اسلام آباد کے ڈریم لینڈ ہوٹل میں ۱۵؍ دسمبر ۲۰۱۰ء میں منعقد ہوئی۔ جس میں حضرت مولانا سلیم اللہ خاں ، حضرت مولانا عبدالمجید لدھیانوی ، مولانا فضل الرحمن ، مولانا سمیع الحق ، قاضی حسین احمد ، سید منور حسن ، علامہ محمد احمد لدھیانوی ، علامہ ساجد علی نقوی ، مولانا فداء الرحمن درخواستی ، مولانا ڈاکٹر عبدالرزاق
نگــــــاہ اولیــ
سکندر ، مولانا عبدالغفور حیدری، عبدالخالق آف بھرچونڈی شریف قاری محمد حنیف جالندھری ، مولانا شرکت کی۔ کانفرنس کی صدارت عالمی لدھیانوی دامت برکاتہم کے حکم پر فرائض مولانا قاری محمد حنیف جالندھر ( ) جس میں طویل غور و خوض کا فیصلہ ہوا۔ مرکزی رابطہ کمیٹی کا کنو کیا گیا۔ اور درج ذیل مطالبات پیش
- ☆....... عاصیہ مسیح کیس میں عدالتی
- ☆....... وزیر اعظم اسمبلی کے فلور
- ☆....... وزیر اقلیتی امور کی سرکردگی
- ☆....... شیریں رحمن بل اسمبلی س
مطالبات تسلیم کرانے ک میں تمام مسالک و مکاتب فکر کے ع واضح کیا کہ قانون امتناع توہین رسا
- ☆....... ۳۱؍ دسمبر ۲۰۱۰ء کو ملک گ
- ☆....... ۷؍ جنوری ۲۰۱۱ء کو صوبائی
کفایت اللہ نے قانون میں ترمیم نہ ک
- ☆....... ۴؍ جنوری کو گورنر پنجاب
- ☆....... ۹؍ جنوری ۲۰۱۱ء کو کراچ
نکالی گئی اور عظیم الشان جلسہ منعقد
سے امریکہ اور اس کے زلہ خواروں کے یف اور پاکستان میں سب سے بڑے ی مکتب توہین کی غلاظت سے اٹی ہوئی ت انبیاء کرام کی توہین نکلی ہے۔ کے سرپرست، تنخواہ دار صحافی، پرائیوٹ ان کو زیر بحث لاتے رہتے ہیں۔ نیز قادیانی تے رہتے ہیں۔
فی کیس، ایس۔ پی۔ ..... کی محکمانہ تفتیش میں سلمان تاثیر کے عدالتی طریقہ کار کو بائی اس کرنے کو کہا تھا۔
امسال کے آخر تک قانون توہین
طرف سے قانون ناموس رسالت میں کی سرکردگی میں کمیٹی کا قیام۔
کی طرف سے امتناع توہین رسالت قانون کے بعد دینی طبقات میں تشویش کی لہر تحفظ ناموس رسالت کانفرنسیں منعقد کے زیر اہتمام اسلام آباد کے یڈیم ں حضرت مولانا سلیم اللہ خاں، حضرت سمیع الحق، قاضی حسین احمد، سید منور حسن، الرحمن درخواستی، مولانا ڈاکٹر عبدالرزاق
نـــــگـــــاہ اولیـــــن
سکندر، مولانا عبدالغفور حیدری، جناب لیاقت بلوچ، جناب صاحبزادہ ابوالخیر محمد زبیر، پیر عبدالخالق آف بھرچونڈی شریف، مولانا سید عطاء المومن شاہ بخاری، مولانا پیر عتیق الرحمن، قاری محمد حنیف جالندھری، مولانا اللہ وسایا سمیت درجنوں صف اول و دوم کے رہنماؤں نے شرکت کی کانفرنس کی صدارت عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی امیر حضرت مولانا عبدالمجید لدھیانوی دامت برکاتہم کے حکم پر قائد جمعیت مولانا فضل الرحمن نے کی۔ جب کہ نقابت کے فرائض مولانا قاری محمد حنیف جالندھری نے انجام دیئے۔
جس میں طویل غور و خوض کے بعد ناموس رسالت کے تحفظ کے لئے تحریک چلانے کا فیصلہ ہوا۔ مرکزی رابطہ کمیٹی کا کنوینر صاحبزادہ ابوالخیر محمد زبیر صدر جمعیت علماء پاکستان کو مقرر کیا گیا۔ اور درج ذیل مطالبات پیش کئے گئے۔
- ☆ ...... عاصیہ مسیح کیس میں عدالتی پروسیجر میں مداخلت نہ کی جائے۔
- ☆ ...... وزیراعظم اسمبلی کے فلور پر قانون میں کسی قسم کی ترامیم نہ کرنے کا اعلان کریں۔
- ☆ ...... وزیر اقلیتی امور کی سرکردگی میں قائم کی گئی کمیٹی ختم کی جائے۔
- ☆ ...... شیریں رحمن بل اسمبلی سے واپس لیا جائے۔
مطالبات تسلیم کرانے کے لئے ۱۲/دسمبر ۲۰۱۰ء کو ملک گیر یوم احتجاج منایا گیا۔ جس میں تمام مسالک و مکاتب فکر کے علماء کرام نے یوم احتجاج میں بھر پور شرکت کی اور حکمرانوں پر واضح کیا کہ قانون امتناع توہین رسالت میں کسی قسم کی ترمیم برداشت نہیں کی جائے گی۔
- ☆ ...... ۳۱/دسمبر ۲۰۱۰ء کو ملک گیر شٹر ڈاؤن ہڑتال کی گئی۔
- ☆ ...... ۷/جنوری ۲۰۱۱ء کو صوبہ خیبر پختونخواہ کے جمعیت علماء اسلام ممبر صوبائی اسمبلی مولانا مفتی
کفایت اللہ نے قانون میں ترمیم نہ کرنے کی قرارداد پیش کی۔ جسے متفقہ طور پر منظور کر لیا گیا۔
- ☆ ...... ۴/جنوری کو گورنر پنجاب سلمان تاثیر کو اس کے محافظ ممتاز قادری نے قتل کر دیا۔
- ☆ ...... ۹/جنوری ۲۰۱۱ء کو کراچی میں تحریک ناموس رسالت کے زیر اہتمام احتجاجی ریلی
نکالی گئی اور عظیم الشان جلسہ منعقد ہوا جس میں لاکھوں مسلمانوں نے شرکت کر کے قانون کو
نگاہ اولین
برقرار رکھنے کا اعلان کیا۔
- ☆....... ٩ جنوری کے جلسہ عام کے بعد حکومت نے مبہم سا اعلان کیا۔ کہ قانون امتناع
توہین رسالت میں ترمیم کا حکومت کوئی ارادہ نہیں رکھتی۔ لیکن حکومت کے عملی اقدامات ان دعوؤں کی نفی کر رہے تھے۔
ان حالات میں تحریک ناموس رسالت نے ۳۰؍ جنوری کو لاہور میں عظیم الشان ریلی اور جلسہ کیا۔ جس میں اہالیان پنجاب نے لاکھوں کی تعداد میں شرکت کر کے حکومتی اقدامات پر عدم اعتماد کا اعلان کر دیا۔ لاہور میں قائدین نے ۲۰؍ فروری ۲۰۱۱ء کو پشاور میں اور ۲۰؍ مارچ کو کوئٹہ میں عظیم الشان ریلیوں اور جلسہ عام کا اعلان کر دیا۔
مگر حکومت نے اس سے قبل مطالبات تسلیم کرنے کا اعلان کر دیا۔ چنانچہ وزارت قانون نے چھبیس صفحات پر مشتمل ایک سمری تیار کی اور وزیر اعظم نے اپنے دستخطوں کے ساتھ اس کی ایک کاپی مولانا فضل الرحمٰن صاحب کو پیش کر دی۔ جس سے مطمئن ہو کر قائدین نے احتجاج کے خاتمہ، نیز تحریک کو برقرار رکھنے کا اعلان کر دیا۔
ضرورت محسوس ہوئی کہ ناموس رسالت کے تحفظ کے لئے رحمت دو عالم ﷺ کے دور سے لے کر آخری مغل تاجدار جناب بہادر شاہ ظفر کے دور حکومت تک ہونے والے فیصلوں کو اکٹھا کیا جائے نیز تحریک ناموس رسالت کے حوالہ سے اسلامیان پاکستان کی جدوجہد کو کتابی شکل دی جائے جو آپ کے ہاتھوں میں ہے۔
- (۱)...... گستاخ رسول کی سزا قرآن احادیث اور اجماع امت اور بائبل کی روشنی میں
- (۲)...... زمانہ نبویؐ کے گستاخان رسالت کا انجام
- (۳)...... سچے عاشقان رسولؐ کے واقعات
- (۴)...... قانون ناموس رسالت پر اعتراضات کا جائزہ
- (۵)...... توہین رسالت سے متعلق علماء کرام اور کالم نگاروں کے تاثرات
- (۶)...... تحریک ناموس رسالت، پس منظر مطالبات اور کامیابی
گستاخ رسول کی سزا
کے اقوال اجمالی
- ☆...... گستاخ رسول کی سزا قرآ
- ☆...... کعب بن اشرف یہود
- ☆...... گستاخ رسول ابورافع یـ
- ☆...... ابو عفک یہودی کا قتل
- ☆...... انس بن زنیم الدیلمی د
- ☆...... مکہ کے گستاخوں کے خـ
- ☆...... ایک گستاخ عورت کا قـ
- ☆...... مشرک گستاخ رسول کا
- ☆...... عمیر بن امیہ کے ہاتھو
- ☆...... عصماء بنت مروان کا قـ
- ☆...... نبی کریم ﷺ کو گالیاں د
- ☆...... گستاخ رسول یہودی عـ
- ☆...... فقہاء کرام کے اقوا
- ☆...... فقہ حنفی
جماعت نے مبہم سا اعلان کیا۔ کہ قانون امتناع نہیں رکھتی۔ لیکن حکومت کے عملی اقدامات ان
نے ۳۰ جنوری کو لاہور میں عظیم الشان ریلی لاکھوں کی تعداد میں شرکت کر کے حکومتی اقدامات مورخہ ۱۰ فروری ۲۰۱۱ء کو پشاور میں اور ۲۰ مارچ کو اعلان کر دیا۔ مطالبات تسلیم کرنے کا اعلان کر دیا۔ چنانچہ وزارت جاری کی اور وزیراعظم نے اپنے دستخطوں کے ساتھ پیش کر دی۔ جس سے مطمئن ہو کر قائدین نے اعلان کر دیا۔ رسالت کے تحفظ کے لئے رحمت دو عالم ﷺ کے عہد مظفر کے دور حکومت تک ہونے والے فیصلوں کے حوالہ سے اسلامیان پاکستان کی جدوجہد کو ہے:
اجماع امت اور بائبل کی روشنی میں
جائزہ رہنماؤں کے تاثرات کامیابی
باب اول :
گستاخ رسول کی سزا قرآن پاک احادیث فقہاء کرام
کے اقوال اجماع امت اور بائبل کی روشنی میں
- ☆....... گستاخ رسول کی سزا احادیث کی روشنی
- ☆....... شافعیؒ
- ☆....... فقہ مالکی
- ☆....... فقہ حنبلی
- ☆....... اجماع امت
- ☆....... منکرین اجماع کا حکم
- ☆....... محبت کے ناتے گستاخ رسول ﷺ سے ہمدردی کا حکم
- ☆....... گستاخ رسول کی سزا کا انکار، انکار سنت کی وجہ سے
- ☆....... بائبل میں توہین رسالت کی سزا
- ☆....... گستاخ رسول کی سزا قرآن پاک کی رُو سے
- ☆....... کعب بن اشرف یہودی کا سرتن سے جدا
- ☆....... گستاخ رسول ابورافع یہودی کا قتل
- ☆....... ابو عفک یہودی کا قتل
- ☆....... انس بن زنیم الدیلمی کی گستاخی
- ☆....... مکہ کے گستاخوں کے خلاف اعلان جنگ
- ☆....... ایک گستاخ عورت کا قتل
- ☆....... مشرک گستاخ رسول کا قتل
- ☆....... عمیر بن امیہ کے ہاتھوں گستاخ بہن کا قتل
- ☆....... عصماء بنت مروان کا قتل
- ☆....... نبی کریم ﷺ کو گالیاں دینے والی ام ولد کا قتل
- ☆....... گستاخ رسول یہودی عورت کا قتل
- ☆....... فقہاء کرام کے اقوال
- ☆....... فقہ حنفی
باب اول گستاخ رسـ
گستاخی رسو
- (1)...... ارشاد ربانی ہے۔
قَاتِلُوا الَّذِيْنَ لَا يُـ حَرَّمَ اللهُ وَرَسُولُهُ وَ حَتّٰى يُعْطُوا الْجِزْيَةَ عَـ (اے مسلمانو!) تم ان لـ جو نہ اللہ پر ایمان رکھتـ ہیں جنہیں اللہ اور اس کـ حق (یعنی اسلام) ا سامنے) تابع و مغلوب ہـ
اس آیت کریمہ مـ صف آراء ہیں یہاں تک کـ نہیں جب تک ان کا دم خم نکل طرح مقہور ہوگا کہ وہ ادائیگـ گے تو ہم پر ان سے تعرض نہ کـ عمل پورا ہو جائے گا، اگر وہ لـ ادائیگی سے انکار کر دیں تو جزیـ پائی گئی، اور جب اس ساری حـ علانیہ ہمارے منہ پر نبی اکرم ﷺ لوگوں کے سامنے دین اسلا کہتے ہیں جب کہ ایسے گستا
باب اول گستاخ رسول کی سزا احادیث فقہاء کرام کے اقوال ،اجماع امت اور بائبل کی روشنی میں
گستاخی رسول کی سزا قرآن پاک کی رو سے
- (1)...... ارشاد ربانی ہے۔
قَاتِلُوا الَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ وَلَا بِالْيَوْمِ الْآخِرِ وَلَا يُحَرِّمُونَ مَا حَرَّمَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ وَلَا يَدِينُونَ دِينَ الْحَقِّ مِنَ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ حَتَّى يُعْطُوا الْجِزْيَةَ عَنْ يَدٍ وَهُمْ صَاغِرُونَ. (توبه: ۲۹)
(اے مسلمانو!) تم اہل کتاب میں سے ان لوگوں کے ساتھ (بھی) جنگ کرو جو نہ اللہ پر ایمان رکھتے ہیں نہ یوم آخرت پر اور نہ ان چیزوں کو حرام جانتے ہیں جنہیں اللہ اور اس کے رسول (ﷺ) نے حرام قرار دیا ہے اور نہ ہی دین حق (یعنی اسلام) اختیار کرتے ہیں، یہاں تک کہ وہ (حکم اسلام کے سامنے) تابع و مغلوب ہو کر اپنے ہاتھ سے خراج ادا کریں۔
اس آیت کریمہ میں ہمیں حکم ہے کہ ہم خدا اور روزِ جزاء کے منکروں کے خلاف صف آراء رہیں یہاں تک کہ وہ ذلیل ہو کر جزیہ ادا کریں اور اس وقت تک جنگ بندی جائز نہیں جب تک ان کا دم خم نکل نہیں جاتا اور وہ جزیہ ادا نہیں کرتے اور ظاہر ہے کہ جزیہ دینا اس طرح متصور ہوگا کہ وہ ادائیگی اور قبضہ تک وہاں موجود رہیں اور جب دینے کا عمل شروع کریں گے تو ہم پر ان سے تعرض نہ کرنا لازم ہوگا یہاں تک کہ وہ جزیہ پر قبضہ دے دیں یوں ادائیگی کا عمل پورا ہو جائے گا، اگر وہ ادائیگی کا التزام نہ کریں یا شروع میں التزام تو کریں مگر بعد میں ادائیگی سے انکار کر دیں تو جزیہ ادا کرنے والے نہ ہوں گے، کیونکہ یہاں ادائیگی کی حقیقت نہیں پائی گئی، اور جب اس ساری مدت میں ان کا ذلیل و مطیع رہنا لازم ہے تو ظاہر ہے کہ جو شخص علانیہ ہمارے منہ پر نبی اکرم ﷺ کی توہین کرے، کھلے عام شان الوہیت میں گستاخی کرے اور لوگوں کے سامنے دینِ اسلام پر معترض ہو وہ مغلوب و مطیع نہیں، اس لئے کہ صاغر ذلیل و حقیر کو کہتے ہیں جب کہ ایسے گستاخانہ کام مغرور و متکبر لوگوں کے ہوتے ہیں بلکہ اس میں مسلمانوں کی
باب اول گستاخ رسول کی سزا احادیث فقہاء کرام کے اقوال ،اجماع امت اور بائبل کی روشنی میں
انتہائی ذلت اور توہین ہے ۔
(الصارم المسلول ص ۱۳۱ اردو مترجم ص ۴۱)
ایک ذی شعور اور صاحب تدبر شخص پر پوشیدہ نہیں کہ ایک ایسی امت کے دین کی توہین کرنا جو دنیا وآخرت کے شرف سے مشرف ہوئی کسی ایسے شخص کا فعل نہیں ہوسکتا جو مغلوب اور ذلیل ہو، اور یہ انتہائی واضح اور کھلی بات ہے۔
اللہ تعالیٰ نے انہیں دین حق پر اعتراض کرنے کی وجہ سے ”کفر کے سرغنے“ قرار دیا، کیونکہ ائمۃ الکفر ”دین کے سرغنے“ ان لوگوں کے لئے استعمال ہوا ہے جنہوں نے عہد توڑا یا جنہوں نے دین پر اعتراض کیا.......
پس ثابت ہوا کہ اس سے مراد وہ تمام لوگ ہیں جو دین اسلام پر نکتہ چینی کرتے ہیں، اس سے یہ بھی لازم آیا کہ وہ سب کفر کے سرغنے ہیں، اور کفر کا پیشوا اور سرغنہ وہ ہوتا ہے جو کفر کی طرف دعوت دیتا ہے اور لوگ اس کی بات مانتے ہیں، وہ دین اسلام پر اعتراض کرنے کی وجہ سے کفر کا امام بن گیا، کیونکہ صرف عہد شکنی اس کا باعث نہ تھی، یہی صحیح تفسیر ہے، کیونکہ دین میں طعن کی صورت یہ ہے کہ معترض اس میں کیڑے نکالے، اس کی مذمت کرے اور اس کے خلاف دعوت دے، ایک پیشوا کا یہی کام ہوتا ہے اس سے ثابت ہوا کہ دین پر تنقید کرنے والا کفر کا امام ہے اس لئے جب ذمی طعن کرے گا تو وہ بھی کفر کا سرغنہ قرار پائے گا اور اس کے ساتھ قتال ضروری ہوگا ارشاد ربانی ہے۔
(الصارم المسلول علی شاتم الرسول ص۳۶)
☆...... ارشاد ربانی ہے:
قَاتِلُوْهُمْ يُعَذِّبْهُمُ اللّٰهُ بِاَيْدِيْكُمْ وَيُخْزِهِمْ وَيَنْصُرْكُمْ عَلَيْهِمْ وَيَشْفِ صُدُوْرَ قَوْمٍ مُّؤْمِنِيْنَ ط وَيُذْهِبْ غَيْظَ قُلُوْبِهِمْ ط وَيَتُوْبُ اللّٰهُ عَلٰي مَنْ يَّشَاءُ ط وَاللّٰهُ عَلِيْمٌ حَكِيْمٌ
(توبہ: ۱۴، ۱۵)
”ان (کافروں) سے لڑو اللہ انہیں عذاب دے گا تمہارے ہاتھوں اور انہیں رسوا کرے گا اور تمہیں ان پر مدد دے گا اور ایمان والوں کا جی ٹھنڈا کرے گا اور
باب اول گستاخ رسول کی سزا احادیث، فقہاء کرام کے اقوال ، اجماع امت اور بائبل کی روشنی میں
ان کے دلوں کی گھٹن دور فرمائے گا اور اللہ جس کی چاہے توبہ قبول فرمائے اور اللہ علم و حکمت والا ہے۔“
اللہ تعالیٰ نے اس آیت کریمہ میں ہمیں عہد شکنوں اور دین کے ناقدوں کے ساتھ جنگ کا حکم دیا اور ضمانت دی کہ اگر ہم اس حکم پر عمل کریں گے تو وہ ہمارے ہاتھوں کافروں کو سزا دے کر رسوا کرے گا، ان کے خلاف ہماری مدد کرے گا اور اس عہد شکنی اور طعن کی وجہ سے تکلیف اٹھانے والے مسلمانوں کے سینوں کو ٹھنڈا کرے گا اور ان کے دلوں کی گھٹن دور کرے گا!
(الصارم المسلول ص ۳۸)
اس میں شبہ نہیں کہ جو شخص نبی اکرم ﷺ کی شان میں گستاخی کرتا ہے اور آپ ﷺ کو گالی دیتا ہے اور وہ اہل ایمان کا دل جلاتا ہے اور تکلیف دیتا ہے اور قتل وغارت سے بڑھ کر جرم کا ارتکاب کرتا ہے اس سے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کے لئے حمیت اور غضب کے جذبات بھڑکتے ہیں ، مومن کے دل میں بلکہ اس سے زیادہ کسی بات پر غیظ و غضب نہیں ہوتا، ایک سچا مومن صرف اللہ کے لئے اس قدر قہر و غضب کا اظہار کرتا ہے، جب کہ شارع اہل ایمان کے سینوں میں ٹھنڈک پیدا کرنے اور ان کی جلن دور کرنے کی خواہش رکھتے ہیں اور اس خواہش کی تکمیل فقط گستاخ کے قتل ہوتی ہے جس کی حسب ذیل کئی وجوہ ہیں۔
وجہ اوّل :
اس کی پہلی وجہ یہ ہے کہ اگر کافر کسی مسلمان کو گالی دے تو اس کے خلاف تادیبی کاروائی کرنے سے مسلمان کا غصہ فرو ہو جاتا ہے اگر وہ رسول اللہ ﷺ کو گالی دے اور مسلمان اسی قدر تادیبی اور تعزیری کاروائی سے راضی ہو جائے تو اس کا مطلب ہے کہ ایک مومن کو رسول اکرم ﷺ کی گستاخی پر اتنا ہی غصہ آیا جتنا ایک مومن کی توہین پر آیا اور یہ باطل ہے۔
وجہ ثانی:
دوسری وجہ یہ ہے کہ کافر کو مال کے غصب سے زیادہ اپنی توہین پر غصہ آتا ہے اور ان
باب اول گستاخ رسول کی سزا احادیث فقہاء کرام کے اقوال، اجماع امت اور بائبل کی روشنی میں
کے کسی فرد کو قتل کر دیا جائے تو وہ راضی نہ ہوں گے جب تک قاتل کو قتل نہ کیا جائے ، اسی طرح مسلمان کے لئے زیادہ سزاوار ہے کہ وہ اسی وقت راضی ہو جب گستاخ رسول ﷺ کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے۔
وجہ ثالث
تیسری وجہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے عہد شکن گستاخ کافروں سے قتال کو حصول شفاء کا سبب قرار دیا جب کہ کسی اور سبب سے اس شفاء کا حصول ممکن نہیں ، اس لئے ضروری ہے کہ ان سے معرکہ آرائی کی جائے تاکہ اہل ایمان کے سینوں کو اس تکلیف سے آرام ملے۔
الم يعلموا انه من يحادد الله ورسوله فان له نار.
”کیا انہیں خبر نہیں کہ جو مخالفت کرے اللہ اور اس کے رسول کی۔“
اگر وہ اس اذیت کی وجہ سے دشمنان خدا اور رسول قرار نہ پاتے تو انہیں آتش جہنم کی وعید دینا مستحسن اور مناسب نہ تھا وقت یہ کہا جاسکتا تھا کہ انہیں بخوبی علم ہے کہ اللہ سے دشمنی کرنے والے کے لئے جہنم کی سزا ہے مگر انہوں نے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کی مخالفت اور دشمنی نہیں کی ، صرف اذیت دی ہے اس لئے اس وعید کے مستحق نہیں۔“
مگر یہ بات یقینی ہے کہ فعل اذیت دشمنی اور مخالفت کے عموم میں داخل ہے تا کہ دشمن اور مخالف کے لئے جو وعید آئی اذیت رساں کے لئے بھی وعید بن سکے اور کلام مربوط ہو جائے ، اس پر وہ حدیث بھی دلالت کرتی ہے جس کو امام حاکم نے صحیح سند کے ساتھ حضرت عباسؓ سے روایت کیا ہے۔
- ☆...... حدیث کا ترجمہ یہ ہے:
نبی اکرم ﷺ اپنے ایک حجرہ کے سائے میں تشریف فرما تھے، اور مسلمانوں کا ایک گروہ بھی خدمت اقدس میں حاضر ہوا آپ نے فرمایا ابھی ایک شخص تمہارے پاس آئے گا جو شیطان کی آنکھ سے دیکھے گا، جب وہ آئے تو اس سے کلام نہ کرنا، اس اثناء میں ایک نیلی آنکھوں والا شخص آیا تو رسول اللہ ﷺ
باب اوّل گستاخ رسول کی سزا احادیث فقہاء کرام کے اقوال ،اجماع امت اور بائبل کی روشنی میں
نے اسے بلا کر پوچھا فلاں فلاں شخص اور تم مجھے گالیاں کیوں دیتے ہو؟ وہ شخص چلا گیا اس کے بعد اس کے ساتھیوں کو بلا بھیجا (اور یہی سوال کیا) تو انہوں نے قسم کھا کر انکار کیا اور عذر بہانے کرنے لگے تب یہ آیت کریمہ نازل ہوئی:
يَوْمَ يَبْعَثُهُمُ اللّٰهُ جَمِيْعًا فَيَحْلِفُوْنَ لَهٗ كَمَا يَحْلِفُوْنَ لَكُمْ وَيَحْسَبُوْنَ اَنَّهُمْ عَلٰى شَيْءٍ اَلَا اِنَّهُمْ هُمُ الْكَاذِبُوْنَ .
’’جس دن اللہ سب کو اٹھائے گا تو اس کے حضور بھی ایسے قسمیں کھائیں گے۔ جیسے تمہارے سامنے قسمیں کھاتے ہیں اور یوں خیال کریں گے کہ ہم کسی حالت میں ہیں خوب سن لو یہ لوگ بڑے ہی جھوٹے ہیں۔‘‘
پھر اس کے بعد فرمایا:۔
اِنَّ الَّذِيْنَ يُحَادُّوْنَ اللّٰهَ وَرَسُوْلَهٗ اُوْلٰٓئِكَ فِى الْاَذَلِّيْنَ.
(مجادلہ:۲۰)
’’بے شک جو لوگ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کی مخالفت اور دشمنی کرتے ہیں وہ بہت ذلیل ہیں۔‘‘
چونکہ اذیت اللہ تعالیٰ اور اسکے رسول ﷺ سے دشمنی کی آئینہ دار ہے اس لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
اِنَّ الَّذِيْنَ يُحَادُّوْنَ اللّٰهَ وَرَسُوْلَهٗ اُوْلٰٓئِكَ فِى الْاَذَلِّيْنَ. كَتَبَ اللّٰهُ لَاَغْلِبَنَّ اَنَا وَرُسُلِى اِنَّ اللّٰهَ قَوِىٌّ عَزِيْزٌ.
(مجادلہ:۲۰)
’’بے شک جو لوگ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ سے دشمنی کرتے ہیں ان کا شمار انتہائی ذلیل لوگوں میں ہے، اللہ تعالیٰ نے لکھ دیا کہ میں اور میرے رسول ضرور غالب آئیں گے بے شک اللہ تعالیٰ طاقتور غالب ہے۔‘‘
اذل ، میں ذلیل سے زیادہ مبالغہ پایا جاتا ہے اور آدمی اذل اسی وقت ہو سکتا ہے جب اسے دشمنی کے اظہار کی وجہ سے جان و مال کا خطرہ ہو ، وجہ یہ ہے کہ اگر اس کی جان اور مال معصوم ہو، مباح نہ ہو تو وہ اذل نہیں۔
اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں محادین یعنی اللہ اور اس کے رسول کے دشمنوں کو ’’اذلین‘‘
باب اوّل گستاخ رسول کی سزا احادیث فقہاء کرام کے اقوال، اجماع امت اور بائبل کی روشنی میں
میں شمار کیا اس لئے ان کا کوئی عہد نہیں کیونکہ عہد ”ذلت“ کے منافی ہے جیسا کہ آیت دلالت کرتی ہے، اور یہ ظاہر ہے، وجہ یہ ہے کہ اذل وہ ہے جس کے پاس برے ارادے کے حامل شخص کو روکنے کی قوت نہیں ہوتی ، اگر اس کا مسلمانوں کے ساتھ معاہدہ ہو تو مسلمانوں پر اس کی نصرت و حمایت لازم ہے اس صورت میں وہ ”اذل“ نہیں ہو سکتا، اس سے ثابت ہوا کہ اللہ اور رسول کا ”محاد“ یعنی دشمن ذمی عہد نہیں کہ عہد اس کا تحفظ کرے، اور نبی اکرم ﷺ کو اذیت دینے والا بھی ”محاد“ ہے اسلئے وہ ذمی عہد نہیں ہو سکتا کہ اس کے خون کا تحفظ ہو اور یہی مقصود ہے (کہ گستاخی کی وجہ سے اس کی سزا قتل ہے )
☆...... قرآن حکیم کے یہ الفاظ :
كَتَبَ اللّٰهُ لَاَغْلِبَنَّ اَنَا وَرُسُلِىْ.
(مجادله: ٢١)
”اللہ تعالیٰ نے لکھ دیا ہے کہ میں اور میرے پیغمبر ضرور غالب رہیں گے۔“
اِنَّ الَّذِيْنَ يُحَادُّوْنَ اللّٰهَ وَرَسُوْلَهُ اُولٰئِكَ فِى الْاَذَلِّيْنَ.
(مجادله: ٢٠)
”بے شک جو لوگ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کی مخالفت کرتے ہیں ، وہ ذلیل ترین ہیں۔“
کے بعد آئے ہیں ان میں بھی اسی حقیقت کا اظہار ہے، کہ محادت (مخالفت مغالبہ اور دشمنی کا نام ہے جو آخر کار ایک کے غلبہ اور دوسرے کی مغلوبیت پر منتج ہوتی ہے اور یہ برسر پیکار لوگوں کے درمیان ہوتی ہے پرامن اور صلح جو لوگوں کے درمیان نہیں ہوتی۔ اس سے معلوم ہے کہ ”محاد“ یعنی مخالف اور دشمن شخص صلح پسند نہیں ہوتا۔ (یہاں اس حقیقت کا اظہار بھی ضروری ہے کہ ) انبیاء کرام اور رسولان عظام کا غلبہ حجت اور قہر کے ساتھ ہوتا ہے ، تو ان میں سے جس کو جنگ کا حکم دیا جاتا ہے اسے اس کے دشمن پر مدد بھی دی جاتی ہے اور جسے جنگ کا حکم نہیں دیا جاتا اس کا دشمن اس پر غالب آجاتا ہے۔
جب یہ بات ثابت ہوگئی کہ محادت مشاقّت کے معنی میں ہے تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
باب اوّل گستاخ رسول کی سزا احادیث فقہاء کرام کے اقوال، اجماع امت اور بائبل کی روشنی میں
فَاضْرِبُوْا فَوْقَ الْاَعْنَاقِ وَاضْرِبُوْا مِنْهُمْ كُلَّ بَنَانٍ . ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ شَاقُّوا اللّٰهَ وَرَسُوْلَهٗ ۚ وَمَنْ يُّشَاقِقِ اللّٰهَ وَرَسُوْلَهٗ فَاِنَّ اللّٰهَ شَدِيْدُ الْعِقَابِ .
”تو ان کی گردنوں کے اوپر مارو اور ان کے ہر ہر پور پر ضرب لگاؤ اس لئے کہ انہوں نے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی مخالفت کی اور جو شخص اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی مخالفت کرے تو اللہ تعالیٰ سخت سزا دینے والا ہے۔“
اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں ان کی مخالفت کے باعث انہیں قتل کرنے کا حکم دیا، اسی طرح جو بھی اللہ تعالیٰ کے ساتھ مخالفت کرے اس کے ساتھ یہی سلوک کیا جائے کیونکہ اس کی علت موجود ہے۔
(ایضاً ص ۴۲)
- ٭...... ارشاد ربانی ہے۔
اِنَّ الَّذِيْنَ يُؤْذُوْنَ اللّٰهَ وَرَسُوْلَهٗ لَعَنَهُمُ اللّٰهُ فِي الدُّنْيَا وَالْاٰخِرَةِ وَاَعَدَّ لَهُمْ عَذَابًا مُّهِيْنًا .
(احزاب: ۵۷)
”بے شک جو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کو اذیت دیتے ہیں اللہ تعالیٰ نے دنیا و آخرت میں ان پر لعنت فرمائی ہے۔ اور ان کے لئے ذلیل کرنے والا عذاب تیار کر رکھا ہے۔“
یہ آیت کریمہ ان لوگوں کو قتل کرنا واجب قرار دے رہی ہے جو دانستہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کو اذیت دیتے ہیں، اور اس سلسلہ میں عہد بھی ان کو نہیں بچا سکتا کیونکہ ہم نے ان سے عہد اس بات پر نہیں کیا وہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کی شان میں گستاخی کر کے اذیت کے مرتکب ہوں۔
شاتم رسول ﷺ کے کفر اور سزائے قتل یا دونوں میں سے ایک پر دلالت کرنے والی آیات بہ کثرت ہیں خواہ شاتم غیر معاہد ہو یا ذمی، اس مسئلے پر اجماع امت ہے جیسا کہ قبل ازیں کئی ائمہ اسلام سے حکایت اجماع نقل کی جا چکی ہے۔
(الصارم المسلول ص ۴۷)
باب اوّل گستاخ رسول کی سزا احادیث فقہاء کرام کے اقوال، اجماع امت اور بائبل کی روشنی میں
وَمِنْهُمُ الَّذِيْنَ يُؤْذُوْنَ النَّبِيَّ وَيَقُوْلُوْنَ هُوَ اُذُنٌ ط قُلْ اُذُنُ خَيْرٍ لَّكُمْ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَيُؤْمِنُ لِلْمُؤْمِنِيْنَ وَرَحْمَةٌ لِّلَّذِيْنَ امَنُوْا مِنْكُمْ ط وَالَّذِيْنَ يُؤْذُوْنَ رَسُوْلَ اللَّهِ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِيْمٌ.
(توبہ: ۶۱)
”ان میں سے کچھ نبی ﷺ کو ایذاء دیتے ہیں اور کہتے ہیں وہ کان (کے کچے) ہیں کہہ دیجئے کان (کا کچا) ہونا (اور ہر بات سن لینا) تمہارے لئے بہتر ہے، وہ اللہ پر ایمان رکھتے ہیں اور مومنوں کی بات پر یقین کرتے ہیں اور جو تم میں اہل ایمان ہیں ان کے لئے رحمت ہیں اور جو لوگ رسول ﷺ کو ایذاء دیتے ہیں ان کے لئے درد ناک عذاب ہے۔“
ان سے معلوم ہوا کہ نبی اکرم ﷺ کو اذیت دینا اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کے ساتھ دشمنی اور مخالفت ہے کیونکہ ایذاء کا ذکر محادۃ یعنی مخالفت اور دشمنی کا مقتضیٰ ہے، اس لئے ایذاء کو داخل محادۃ کرنا ضروری ہے ورنہ کلام میں ربط نہیں رہے گا، اور یہ کہنے کی گنجائش ہوگی کہ وہ محاد یعنی اللہ اور رسول کا دشمن نہیں، یہ اس بات کی بھی دلیل ہے کہ ایذاء اور مخالفت (محادۃ) کفر ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس کے بارے میں خبر دی کہ وہ ہمیشہ دوزخ میں رہے گا، یہ نہیں فرمایا کہ یہ اس کی جزاء ہے ان دونوں باتوں کے درمیان بہت فرق ہے بلکہ محادہ عین دشمنی اور عداوت ہے اور وہ کفر بدتر ہے جو کہ مجرد کفر سے زیادہ بڑا حرام ہے اس لئے جرم اذیت کا مرتکب کافر قرار پائے گا وہ اللہ اور اس کے رسول کا دشمن ہے اور اللہ و رسول کے خلاف حالت جنگ میں ہے۔
حدیث میں ہے کہ ایک شخص نبی اکرم ﷺ کو گالی دیا کرتا تھا حضور ﷺ نے فرمایا: مَنْ يَكْفِيْنِيْ عَدُوِّيْ. ”کون میرے دشمن کے بارے میں میری کفایت کرتا ہے۔“
پس جو شخص دشمنان خدا سے محبت کرنے کی وجہ سے مومن نہیں رہتا وہ خود اس سے دشمنی کرکے کب مومن رہے گا؟ ایک روایت کے مطابق اس آیت کا شان نزول یہ ہے کہ ابوقحافہ نے (اسلام لانے سے قبل) نبی اکرم ﷺ کو گالی دی تو اس کے بیٹے حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے
باب اوّل گستاخ رسول کی سزا
اس کے قتل کا قصد کیا دوسری روایت یہ بیٹے حضرت عبداللہ نے نبی اکرم ﷺ پر ثابت ہوا کہ ”محاذ“ (دشمنِ خدا اور رسول اس آیت کریمہ سے یہ بھی کے درمیان رشتہ موالات قطع فرمادیا کنبے کے افراد ہوں۔
ھُوَ اُذُنٌ کی تفسیر:
امام مجاہد کافروں کے قول کہ منافق کہا کرتے ہم جو چاہیں گے حلف اٹھالیں گے (کہ ہم نے ایسی گے۔ کلبی حضرت ابن عباس سے کچے ہیں ہر ایک کی سن لیتے ہیں۔“
بعض اہل تفسیر کہتے ہیں اور نازیبا گفتگو کرتے تھے کسی نے پاس آئیں گے، اور عذر کریں کہ تسلیم کر لیتے ہیں، اس پر اللہ
ابن اسحاق کہتے ہیں یہ وہ شخص تھا جس کے بارے میں نے فرمایا تھا: ”جو شخص شیطان ایسی حرکت نہ کیا کر، کہنے لگا لیتے ہیں، ہم جو جی میں آیا گے۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ
باب اوّل گستاخ رسول کی سزا احادیث، فقہاء کرام کے اقوال ،اجماع امت اور بائبل کی روشنی میں
اس کے قتل کا قصد کیا دوسری روایت یہ ہے کہ ابن ابی نے شانِ رسالت میں گستاخی کی تو اس کے بیٹے حضرت عبداللہ نے نبی اکرم ﷺ سے اجازت طلب کی تاکہ اپنے باپ کو قتل کر دے، اس سے یہ ثابت ہوا کہ ”محادّ“ (دشمنِ خدا اور رسول) کافر ہے اور اس کا خون مباح ہے۔
اس آیتِ کریمہ سے یہ بھی معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے اور دشمنانِ خدا اور رسول کے درمیان رشتہ موالات قطع فرما دیا ہے خواہ وہ ان کے باپ ہوں، بیٹے ہوں بھائی ہوں یا کنبے کے افراد ہوں۔
(مجادلہ:۲۲)
ھُوَ اُذُنٌ کی تفسیر:
امام مجاہد کافروں کے قول ھو اذن کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ منافق کہا کرتے ہم جو چاہیں گے بات کریں گے پھر رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں جا کر حلف اٹھالیں گے (کہ ہم نے ایسی بات نہیں کہی ) اور رسول اللہ ﷺ ہماری قسم پر اعتبار کرلیں گے۔ عوفی حضرت ابن عباس سے اس کی تفسیر نقل کرتے ہیں ”کہ منافق کہتے کہ حضور کان کے کچے ہیں ہر ایک کی سن لیتے ہیں۔“
بعض اہل تفسیر کہتے ہیں کہ منافقین میں سے کچھ لوگ نبی اکرم ﷺ کو اذیت دیتے اور نازیبا گفتگو کرتے تھے کسی نے ان سے کہا ایسا نہ کہو، اندیشہ ہے کہ تمہاری باتیں محمد ﷺ کے پاس آئیں گی، اور آکر عذر کریں گے تو وہ ہمارا عذر قبول کرلیں گے کیونکہ وہ ہر ایک کی بات سن کر تسلیم کر لیتے ہیں، اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت کریمہ نازل فرمائی۔
ابن اسحاق کہتے ہیں کہ نبتل بن حارث نبی اکرم ﷺ کی باتیں منافقین تک پہنچاتا تھا یہ وہ شخص تھا جس کے بارے میں نبی اکرم ﷺ نے فرمایا تھا، ”جو شخص شیطان کو دیکھنا چاہے وہ نبتل بن حارث کو دیکھ لے“ اس سے کہا گیا کہ ایسی حرکت نہ کیا کر، کہنے لگا محمد کان کے کچے ہیں، جو کوئی ان سے بات کرتا ہے وہ اسی کو سچ سمجھ لیتے ہیں، ہم جو جی میں آیا کہیں گے پھر ان کے پاس آکر قسم اٹھا لیں گے تو وہ اس کو مان لیں گے، اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت کریمہ نازل فرمائی۔
گستاخ رسول کی سزا احادیث فقہاء کرام کے اقوال، اجماع امت اور بائبل کی روشنی میں باب اول
منافقین کے اذن کہنے کی وجہ یہ تھی کہ وہ سمجھتے تھے کہ ان کا کلام رسول اللہ ﷺ کے ہاں مقبول ہے، اس وجہ سے اللہ تعالیٰ نے ان کی غلط فہمی کا ازالہ کرتے ہوئے واضح کیا کہ نبی اکرم ﷺ تو صرف اہل ایمان کی باتوں کو سچا سمجھتے ہیں، اور منافقین کی سن لیتے ہیں جب وہ قسمیں اٹھاتے ہیں تو ان کی غلط بیانیوں کو نظر انداز کردیتے ہیں، اس لئے کہ ان کی ہر بات سن لینا ان کے حق میں بہتر ہے، آپ اس لئے نہیں سنتے کہ آپ انہیں راست گو بھی سمجھتے ہیں۔
سفیان بن عیینہ فرماتے ہیں۔
”مراد یہ ہے کہ اے منافقو! حضور کا تمہاری ہر بات سن لینا بہتر ہے وہ تم سے ہر بات قبول کرلیتے ہیں جو تمہاری زبان پر آتی ہے اور تمہارے دلی کھوٹ اور منافقت پر گرفت نہیں کرتے، اور پوشیدہ باتوں کو خدا پر چھوڑتے ہیں، بعض اوقات یہ کلمہ یعنی اذن کہنا ایک قسم کے استہزاء اور استخفاف کو متضمن ہوتا ہے۔“
(الصارم المسلول ص ۵۰)
دلیل ثانی:
يَحْذَرُ الْمُنَافِقُونَ أَنْ تُنَزَّلَ عَلَيْهِمْ سُورَةٌ تُنَبِّئُهُمْ بِمَا فِي قُلُوبِهِمْ، قُلِ اسْتَهْزِءُ وْا إِنَّ اللَّهَ مُخْرِجٌ مَّا تَحْذَرُوْنَ. وَلَئِنْ سَأَلْتَهُمْ لَيَقُولُنَّ إِنَّمَا كُنَّا نَخُوضُ وَنَلْعَبُ ط قُلْ أَبِاللَّهِ وَآيٰتِهِ وَرَسُوْلِهِ كُنْتُمْ تَسْتَهْزِءُ وْنَ. لَا تَعْتَذِرُوْا قَدْ كَفَرْتُمْ بَعْدَ إِيْمَانِكُمْ إِنْ نَّعْفُ عَنْ طَائِفَةٍ مِّنْكُمْ نُعَذِّبْ طَائِفَةً بِأَنَّهُمْ كَانُوْامُجْرِمِيْنَ.
(توبہ: ۶۴ تا ۶۶)
”یہ منافقین اس سے ڈرتے ہیں کہ مسلمانوں پر ایسی سورت نازل ہوجائے گی جو ان منافقوں کے دلی نفاق کی خبر دے دے گی آپ فرمائیے، ہنسی کئے جاؤ، بے شک اللہ ظاہر کرنے والا ہے جس چیز سے تم ڈر رہے ہو اور اگر آپ ان سے سوال کریں تو ضرور کہیں گے کہ ہم تو یونہی ہنسی کھیل کررہے تھے، فرمائیے کیا اللہ تعالیٰ اس کی آیتوں اور اس کے رسول سے مذاق کرتے ہو، بہانے نہ
باب اول گستاخ رسول کی
بناؤ تم اظہار ایمان کے بعد کفر سے (بوجہ توبہ) درگزر کرلیں کیونکہ وہ مجرم تھے۔“
یہ اس بات پر نص ہے کہ استہزاء کفر ہے۔ پس گالی دینا تو بطریق شخص نبی اکرم ﷺ کی توہین کرے وہ
بعض اہل علم مثلاً حضرت ایک روایت آئی ہے کہ غزوہ تبوک میں اور بزدل نہیں دیکھا، اس سے مراد رضی اللہ عنہم تھی۔ حضرت عوف بن تیری اس بکواس سے رسول اللہ ﷺ جب بارگاہ رسالت میں پہنچا تو ہے، پھر جب وہ منافق حضور ﷺ آمادہ سفر تھے، اس نے کہا یارسول طے کرنے کے لئے گپ شپ
حضرت ابن عمر ؓ سے کے پیچھے چل رہا تھا اور پتھروں اللہ ! ہم تو محض خوش طبعی اور دل آبِاللَّهِ وَآيَاتِهِ وَرَسُولِهِ ”کیا تم اللہ تعالیٰ، اس کی ہو؟“
معمر بحوالہ قتادہ
باب اول گستاخ رسول کی سزا احادیث فقہاء کرام کے اقوال، اجماع امت اور بائبل کی روشنی میں
بناؤ تم اظہار ایمان کے بعد کفر کے مرتکب ہو چکے ہو، اگر ہم تمہارے ایک گروہ سے (بوجہ توبہ) درگزر کر لیں تو بے شک ہم دوسرے گروہ کو عذاب دیں گے کیونکہ وہ مجرم تھے۔“
یہ اس بات پر نص ہے کہ اللہ تعالیٰ اور اس کی آیات اور اس کے رسول کے ساتھ استہزاء کفر ہے۔ پس گالی دینا تو بطریق اولیٰ کفر ہے یہ آیت اس امر پر دلالت کرتی ہے کہ جو شخص نبی اکرم ﷺ کی توہین کرے، خواہ سنجیدگی سے یا مذاق سے وہ کافر ہے۔
بعض اہل علم مثلاً حضرت ابن عمر، محمد بن کعب، زید بن اسلم اور قتادہ سے ایک ملتی جلتی روایت آئی ہے کہ غزوہ تبوک میں ایک منافق نے کہا میں نے اپنے علماء جیسا پیٹو، جھوٹا، اور بزدل نہیں دیکھا، اس سے مراد (معاذ اللہ ) نبی اکرم ﷺ کی ذات گرامی اور اہل علم صحابہ کرام رضی اللہ عنہم تھی۔ حضرت عوف بن مالک نے اس سے کہا تو جھوٹا ہے، بلکہ منافق ہے، میں تیری اس بکواس سے رسول اللہ ﷺ کو آگاہ کروں گا۔ پھر رسول اللہ ﷺ کو بتانے کے لئے چلے، جب بارگاہ رسالت میں پہنچے تو معلوم ہوا کہ اس بارے میں پہلے ہی قرآن کریم نازل ہو چکا ہے، پھر جب وہ منافق حضور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ اس وقت اونٹنی پر سوار ہو کر آمادہ سفر تھے، اس نے کہا یا رسول اللہ ! ہم تو یونہی مذاق کر رہے تھے، جس طرح اہل قافلہ سفر طے کرنے کے لئے گپ شپ لگاتے ہیں۔
حضرت ابن عمر ؓ فرماتے ہیں میں نے اس شخص کو دیکھا وہ رسول اللہ ﷺ کی اونٹنی کے پیچھے چل رہا تھا اور پتھروں سے اس کے پاؤں زخمی ہو رہے تھے، اور وہ کہہ رہا تھا یا رسول اللہ ! ہم تو محض خوش طبعی اور دل لگی کر رہے تھے اس وقت رسول اللہ ﷺ فرما رہے تھے۔
اَبِاللّٰهِ وَاٰيَاتِهٖ وَرَسُوْلِهٖ كُنْتُمْ تَسْتَهْزِئُوْنَ
(توبہ : ۶۵)
”کیا تم اللہ تعالیٰ، اس کی آیتوں اور اس کے رسول ﷺ کا مذاق اڑاتے ہو؟“
معمر بحوالہ قتادہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ غزوہ تبوک کے سفر پر تھے، کچھ
باب اول گستاخ رسول کی سزا احادیث، فقہاء کرام کے اقوال، اجماع امت اور بائبل کی روشنی میں
منافق آگے چل رہے تھے ان میں سے کسی نے کہا یہ شخص اس گمان میں ہے کہ شام کے محلات اور قلعے فتح کریگا؟ اللہ تعالیٰ نے نبی اکرم ﷺ کو اس بات سے مطلع فرمایا، آپ نے حکم دیا ان سواروں کو روک کر میرے پاس لے آؤ، پھر پوچھا کیا تم نے اس طرح کی بات کی ہے؟ تو انہوں نے قسم اٹھا کر کہا، ہم تو صرف ہنسی کھیل کر رہے تھے۔
معمر کلبی کا قول نقل کرتے ہیں کہ ان میں سے ایک شخص ان کی طرح گستاخانہ گفتگو میں شامل نہ تھا بلکہ انہیں برا بھلا کہہ رہا تھا تو آیت کے یہ الفاظ اس کے بارے میں نازل ہوئے۔
إِنْ نَّعْفُ عَنْ طَائِفَةٍ مِّنْكُمْ نُعَذِّبْ طَائِفَةً.
(توبہ: ۶۶)
”اگر ہم تمہارے ایک گروہ کو معاف کردیں تو دوسرے گروہ کو ضرور عذاب دیں گے۔“
اس آیت کریمہ سے معلوم ہوا کہ جب ان لوگوں نے نبی اکرم ﷺ اور آپ کے اہل بیت، صحابہ کرام ؓ کی توہین اور تنقیص شان کی اور آپ کے ارشادات کو لائق توجہ نہ سمجھا تو اللہ تعالیٰ نے اعلان فرمایا کہ ان بدبختوں نے کفر کا ارتکاب کیا ہے، حالانکہ ان کی گفتگو مذاق ہی مذاق میں تھی، پھر اس سے شدید تر اور سنجیدہ گستاخانہ رویئے کا حال کیا ہوگا؟ (الصارم المسلول ص ۵۳)
دلیل ثالث:
- ☆ ...... ارشاد باری تعالیٰ ہے:
وَمِنْهُمْ مَّنْ يَّلْمِزُكَ فِي الصَّدَقٰتِ ۚ فَاِنْ اُعْطُوْا مِنْهَا رَضُوْا وَاِنْ لَّمْ يُعْطَوْا مِنْهَآ اِذَاهُمْ يَسْخَطُوْنَ.
(توبہ: ۵۸)
”اور ان میں سے بعض وہ ہیں جو صدقات کی تقسیم میں آپ پر اعتراض کرتے ہیں اگر ان کو صدقات میں سے دے دیا جائے تو راضی ہو جائیں نہ دیا جائے تو ناراض ہونے لگتے ہیں۔“
لمز کا معنی ہے عیب وطعن، مجاہد کہتے ہیں مراد ہے کہ وہ آپ پر ناانصافی کی تہمت
باب اول گستاخ رسول
رکھتے ہیں، عطاء کہتے ہیں، وہ آپ ہے ”ان میں سے کچھ ایسے ہیں جو پر دلالت کرتی ہے کہ جو کوئی نبی اکر انہی منافقوں میں ہے۔
مَا كَانَ اللّٰهُ لِيَذَرَ الْمُ الْخَبِيْثَ مِنَ الطَّيِّبِ.
”اللہ مسلمانوں کو اسی حال کردے گا گندے کو ستھرے
اس آزمائش کی وجہ یہ سے ان میں سے کسی کا اظہار کر ظاہر ہوگی تو اس پر وہ حکم مرتب ہو کرنے والے اور اذیت دینے وا کی فرع ہیں، اور یہ بات معلوم و کا اصلی مدلول بھی حاصل ہو جائے اس کا مرتکب منافق ہوگا خواہ وہ اع پیدا ہوا ہو۔
یہ گستاخانہ کلمہ نفاق اذیت دینا کسی ایسے شخص سے ح اس کی جان سے زیادہ اس کے اور آپ ﷺ صرف اللہ کی حکم پرا فرض ہے پھر جب ایسا کلمہ بڑان پایا جائے گا۔
...امت اور بائبل کی روشنی میں ...ل ہے کہ شام کے محلات ...فرمایا: آپ نے حکم دیا ان ...طرح کی بات کی ہے؟ تو
...ن کی طرح گستاخانہ گفتگو ...ن کے بارے میں نازل
(توبہ: ۶۶)
...گروہ کو ضرور عذاب
...م اور آپ کے اہل ...ن توجہ نہ سمجھا تو اللہ ...ن کی گفتگو مذاق ہی
(الصارم المسلول ص ۵۲)
...ضُوا وَإِنْ لَّمْ
(توبہ: ۵۸)
...اعتراض کرتے ...یں نہ دیا جائے
...پ پر ناانصافی کی تہمت
باب اول گستاخ رسول کی سزا احادیث فقہاء کرام کے اقوال، اجماع امت اور بائبل کی روشنی میں
رکھتے ہیں، عطاء کہتے ہیں، وہ آپ ﷺ کی غیبت کرتے ہیں، اسی بارے میں ارشاد ربانی ہے ”ان میں سے کچھ ایسے ہیں جو نبی اکرم ﷺ کو اذیت دیتے ہیں۔“ یہ آیت کریمہ اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ جو کوئی نبی اکرم ﷺ پر نکتہ چینی کرے، اور آپ کو اذیت دے اس کا شمار بھی انہی منافقوں میں ہے۔
مَا كَانَ اللَّهُ لِيَذَرَ الْمُؤْمِنِينَ عَلَى مَا أَنْتُمْ عَلَيْهِ حَتَّى يَمِيزَ اللَّهُ الْخَبِيْثَ مِنَ الطَّيِّبِ۔
(آل عمران: ۱۷۹)
”اللہ مسلمانوں کو اسی حال پر چھوڑنے کا نہیں جس پر تم ہو، جب تک جدا نہ کر دے گا گندے کو ستھرے سے۔“
اس آزمائش کی وجہ یہ ہے کہ ایمان اور نفاق کا تعلق دل سے ہے اور جو شخص قول وفعل سے ان میں سے کسی کا اظہار کرے تو یہ اس کی فرع اور دلیل ہے پس جب کسی سے ایسی کوئی چیز ظاہر ہوگی تو اس پر وہ حکم مرتب ہوگا، پھر جب اللہ تعالیٰ نے خبر دی ہے کہ صدقات پر اعتراض کرنے والے اور اذیت دینے والے منافق ہیں تو ثابت ہوا کہ یہ باتیں نفاق کی دلیل اور اس کی فرع ہیں، اور یہ بات معلوم و مشہور ہے کہ جب شے کی فرع اور دلیل حاصل ہو جائے تو اس کا اصلی مدلول بھی حاصل ہو جائے گا، پس ثابت ہوا کہ جہاں بھی ایسا گستاخانہ طرز عمل ظاہر ہوگا اس کا مرتکب منافق ہوگا خواہ وہ اس طرز عمل سے پہلے منافق ہو یا اس کا نفاق اس طرز عمل سے پیدا ہوا ہو۔
یہ گستاخانہ کلمہ نفاق کے مناسب بھی ہے کیونکہ نبی اکرم ﷺ پر نکتہ چینی کرنا اور آپ کو اذیت دینا کسی ایسے شخص سے متصور نہیں جو آپ ﷺ کو سچا رسول مانتا ہو، اور یہ بھی جانتا ہو کہ حضور اس کی جان سے زیادہ اس کے مالک ہیں، صرف حق بات کہتے ہیں اور عادلانہ فیصلہ کرتے ہیں اور آپ ﷺ صرف اللہ کی حکم برداری کرتے ہیں، اور یہ کہ ساری مخلوق پر آپ ﷺ کی تعظیم وتوقیر فرض ہے پھر جب ایسا کلمہ بذات خود نفاق کی دلیل ہے تو جہاں ایسا کلمہ سرزد ہوگا وہاں نفاق بھی پایا جائے گا۔
(الصارم المسلول ص ۵۵ اُردو)
باب اول گستاخ رسول کی سزا احادیث فقہاء کرام کے اقوال ، اجماع امت اور بائبل کی روشنی میں
دلیل رابع:
☆....... ارشاد ربانی ہے:
فَلَا وَرَبِّكَ لَا يُؤْمِنُوْنَ حَتّٰى يُحَكِّمُوْكَ فِيْمَا شَجَرَ بَيْنَهُمْ ثُمَّ لَا يَجِدُوْا فِيْ اَنْفُسِهِمْ حَرَجًا مِّمَّا قَضَيْتَ وَيُسَلِّمُوْا تَسْلِيْمًا.
(النساء: ۶۵)
”اے محبوب ! تمہارے رب کی قسم وہ مسلمان نہ ہوں گے جب تک کہ اپنے آپس کے جھگڑے میں تمہیں حاکم نہ بنائیں پھر جو کچھ تم حکم فرما دو اپنے دلوں میں اس سے رکاوٹ نہ پائیں اور جی سے مان لیں۔“
اللہ جل شانہٗ نے اپنی ذات پاک کی قسم اٹھا کر فرمایا کہ وہ اہل ایمان نہیں ہوسکیں گے جب تک کہ اپنے جھگڑوں اور مقدموں میں رسول اللہ ﷺ کو اپنا حاکم تسلیم نہیں کرتے اور رسول اللہ ﷺ کے فیصلوں پر کھلے دل سے سر نہیں جھکاتے، کیونکہ آپ کے ہر حکم کو دل و جان سے تسلیم کرنا ضروری ہے۔
حضرت عمر ؓ نے رسول اللہ ﷺ کا فیصلہ تسلیم نہ کرنے والے شخص کو
قتل کر دیا
ابو اسحاق ابراہیم بن عبدالرحمن نے بحوالہ حبیب بن ضمرہ نقل کی ہے کہ دو آدمیوں نے مقدمہ بارگاہِ رسالت میں پیش کیا تو حضور ﷺ نے حق دار میں فیصلہ دیا جس پر دوسرے شخص نے جو کہ ناحق پر تھا، کہا، میں اس فیصلے پر راضی نہیں، پہلے نے کہا تو کیا چاہتا ہے؟ اس نے جواب دیا ہم حضرت ابو بکر صدیق ؓ کے پاس جاتے ہیں، اور ان سے فیصلہ کراتے ہیں، چنانچہ جب حضرت ابو بکر ؓ نے فرمایا، میرا بھی وہی فیصلہ ہے جو حضور ﷺ کا ہے، تم اسی فیصلہ پر عمل درآمد کرو، مگر اس شخص نے دوبارہ فیصلہ تسلیم نہ کیا، اور کہا ہم حضرت عمر بن خطاب ؓ سے فیصلہ کرائیں گے، حضرت عمر ؓ کے پاس گئے، اور مقدمہ پیش کیا، صاحب حق نے عرض کیا
باب اول گستاخ رسول کی سزا احادیث، فقہاء کرام کے اقوال، اجماع امت اور بائبل کی روشنی میں
ہم نے اپنا مقدمہ بارگاہ رسالت میں پیش کیا تو میرے حق میں فیصلہ ہوا مگر اس نے تسلیم نہ کیا پھر حضرت ابوبکر ؓ کے پاس گئے انہوں نے بھی یہی فیصلہ کیا، لیکن اس نے دوبارہ فیصلہ تسلیم کرنے سے انکار کیا یہ سن کر حضرت عمر ؓ نے اس سے پوچھا کیا اس کا بیان سچ ہے؟ تو اس نے کہا ”ہاں“ یہ سن کر حضرت عمر ؓ اندر تشریف لے گئے اور ہاتھ میں بے نیام تلوار لے کر باہر نکلے اور اس سے اس کا سر اڑا دیا، اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت کریمہ نازل فرمائی۔
فَلَا وَرَبِّكَ لَا يُؤْمِنُونَ حَتَّى يُحَكِّمُوكَ فِيمَا شَجَرَ بَيْنَهُمْ ثُمَّ لَا يَجِدُوا فِي أَنْفُسِهِمْ حَرَجًا مِّمَّا قَضَيْتَ وَيُسَلِّمُوا تَسْلِيمًا
(النساء: ۶۵)
”اے محبوب ! تمہارے رب کی قسم وہ مسلمان نہ ہوں گے جب تک کہ اپنے آپس کے جھگڑے میں تمہیں حاکم نہ بنائیں پھر جو کچھ تم حکم فرما دو اپنے دلوں میں اس سے رکاوٹ نہ پائیں اور جی سے مان لیں۔“
یہ حدیث مرسل ہے جس کی شاہد ایک اور حدیث ہے جو اعتبار کی صلاحیت رکھتی ہے، ابن دحیم، حوالہ جوز جانی وغیرہ محدثین حضرت عمرو بن زبیر سے روایت کرتے ہیں کہ دو شخص بارگاہ رسالت میں مقدمہ لے گئے تو آپ نے ان میں سے ایک کے حق میں فیصلہ کیا تو جس کے خلاف فیصلہ ہوا اس نے کہا ہمارا مقدمہ حضرت عمر ؓ کے پاس بھیج دیجئے، فرمایا ہاں عمر ؓ کے پاس چلے جاؤ پھر جب حضرت عمر ؓ کی خدمت میں آئے تو مقدمہ جیتنے والے شخص نے کہا اے ابن خطاب! رسول اللہ ﷺ نے میرے حق میں فیصلہ کیا مگر اس نے تسلیم نہیں کیا اور کہا کہ ہمارا مقدمہ حضرت عمر ؓ کے پاس بھیج دیجئے تو حضرت عمر ؓ نے فرمایا کیا واقعی حضور ﷺ نے ایسا ہی فیصلہ فرمایا؟ تو جس کے خلاف فیصلہ ہوا تھا اس نے جواب دیا ”ہاں“ فرمایا، پھر ٹھہر! میں آتا ہوں اور تمہارے درمیان فیصلہ کرتا ہوں اس کے بعد تلوار لے کر نکلے اور رسول اللہ ﷺ کا فیصلہ ٹھکرانے والے کی گردن اڑا دی، وہ یہودی لوٹ کر حضور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور بیان کیا کہ حضرت عمر (ؓ) نے میرے (مدمقابل) ساتھی کو قتل کر دیا اگر
باب اوّل گستاخ رسول کی سزا احادیث فقہاء کرام کے اقوال، اجماع امت اور بائبل کی روشنی میں
میں ان کو بہ سرعت اس فیصلے پر مجبور نہ کرتا تو وہ مجھے قتل کر دیتے یہ سن کر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا مجھے یقین نہیں کہ عمر کسی مومن کے قتل کی جرأت کریں ، تو اللہ تعالیٰ نے آیہ کریمہ فلاور بنا نازل فرمائی اور عمر کو اس قتل کے معاملہ میں بری الذمہ قرار دیا ؎
(الصارم المسلول اردو ص ۵۹)
پانچویں دلیل:
☆ ...... ارشاد ربانی ہے: إِنَّ الَّذِينَ يُؤْذُونَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ لَعَنَهُمُ اللَّهُ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ وَأَعَدَّ لَهُمْ عَذَابًا مُّهِينًا . وَالَّذِينَ يُؤْذُونَ الْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِنَاتِ بِغَيْرِ مَا اكْتَسَبُوا فَقَدِ احْتَمَلُوا بُهْتَانًا وَإِثْمًا مُّبِينًا . (الاحزاب:۵۸،۵۷) ”بے شک وہ جو اللہ اور اس کے رسول کو اذیت دیتے ہیں، اللہ نے دنیا و آخرت میں ان پر لعنت فرمائی اور ان کے لئے رسوا کن عذاب تیار کر رکھا ہے اور وہ اہل ایمان مردوں اور عورتوں کو بے کئے ستاتے ہیں انہوں نے بہتان اور صاف گناہ اپنے سر لیا۔“ اس کی دلالت کئی وجوہ سے ہے۔
جس نے رسول اللہ ﷺ کو اذیت دی اس نے اللہ تعالیٰ کو اذیت دی
اللہ تعالیٰ نے نبی اکرم ﷺ کی اذیت کو اپنی اذیت کے برابر قرار دیا جس طرح کہ رسول اللہ ﷺ کی اطاعت کو اپنی اطاعت کہا اس لئے جس نے حضور کو اذیت دی اس نے اللہ تعالیٰ کو اذیت دی، یہ مسئلہ نصِ قرآنی میں آیا ہے، اور جو شخص اللہ تعالیٰ کو اذیت دے اس کا خون مباح ہے۔
اللہ تعالیٰ کا حق اور رسول اللہ ﷺ کا حق باہم متلازم ہیں
مذکورہ بالا آیات اور دیگر آیات میں اس حقیقت کا بیان ہے کہ اللہ تعالیٰ اور رسول
باب اوّل گستاخ رسول کی سزا احا کے حقوق باہم متلازم ہیں اور اللہ تعالیٰ او جہت ایک ہی جہت ہے اس لئے جس نے دی، اور جس نے رسول اللہ ﷺ کی اطاعت اللہ تعالیٰ کے درمیان کوئی تعلق ہو ہی نہیں اس کے سوا، کوئی راستہ نہیں نہ کوئی سبب ذاتِ اقدس کو اپنا قائم مقام قرار دیا ہے کے درمیان کسی معاملے میں تفریق روا
دوسری وجہ
اللہ تعالیٰ نے اللہ تعالیٰ اور ا کی اذیت کے درمیان فرق قائم فرمایا نے جھوٹ اور صریح گناہ کا بوجھ اٹھایا ، لَعَنَهُمُ اللَّهُ فِي الدُّ مُّهِينًا (احزاب:۵۷) ”دنیا اور آخرت میں ان پر عذاب تیار کر رکھا ہے۔“ اس سے معلوم ہوا کہ ال اور گناہ اور گناہ کبیرہ سے بڑا جرم کفر ☆☆☆☆
گستاخ رسول کی سزا احادیث فقہاء کرام کے اقوال ، اجماع امت اور بائبل کی روشنی میں باب اول
کے حقوق باہم متلازم ہیں اور اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کے ادب واحترام اور حرمت کی جہت ایک ہی جہت ہے اس لئے جس نے رسول اللہ ﷺ کو اذیت دی اس نے اللہ تعالیٰ کو اذیت دی ، اور جس نے رسول اللہ ﷺ کی اطاعت کی اس نے اللہ تعالیٰ کی اطاعت کی ، کیونکہ امت اور اللہ تعالیٰ کے درمیان کوئی تعلق ہو ہی نہیں سکتا سوائے رسول اللہ ﷺ کے واسطہ کے ، کسی کے لئے اس کے سوا، کوئی راستہ نہیں نہ کوئی سبب ہے اللہ تعالیٰ نے امر ونہی اور اخبار و بیان میں حضور کی ذات اقدس کو اپنا قائم مقام قرار دیا ہے لہٰذا جائز نہیں کہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول اللہ ﷺ کے درمیان کسی معاملے میں تفریق روا رکھی جائے۔
دوسری وجہ
اللہ تعالیٰ نے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کی اذیت اور دیگر اہل ایمان مرد و زن کی اذیت کے درمیان فرق قائم فرمایا ہے۔ اہل ایمان کی اذیت پر فرمایا کہ اذیت دینے والے نے جھوٹ اور صریح گناہ کا بوجھ اٹھایا جب کہ رسول اللہ ﷺ کی اذیت پر فرمایا ۔
لَعَنَهُمُ اللّٰهُ فِى الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ وَأَعَدَّ لَهُمْ عَذَابًا مُّهِينًا
(احزاب: ۵۷)
”دنیا اور آخرت میں ان پر لعنت ہو اللہ تعالیٰ نے ان کے لئے ذلت آمیز عذاب تیار کر رکھا ہے۔“
اس سے معلوم ہوا کہ اہل ایمان کو اذیت دینا گناہ کبیرہ ہے، جس کی سزا کوڑے ہے اور گناہ اور گناہ کبیرہ سے بڑا جرم کفر ہے۔
☆☆☆☆☆☆.......☆☆☆☆☆☆
باب اوّل گستاخ رسول کی سزا احادیث فقہاء کرام کے اقوال، اجماع امت اور بائبل کی روشنی میں
گستاخ رسول کعب بن اشرف کا سر تن سے جدا:
سیدنا جابر بن عبداللہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: من لكعب بن الاشرف؟ فانه قد اذى الله ورسوله" فقام محمد بن مسلمة فقال: "يا رسول الله ﷺ اتحب ان اقتله" فقال: "نعم ...... فلما استمكن منه" قال : "دونكم فاقتلوه، ثم أتو النبي فاخبروه. 1؎
"کعب بن اشرف کا کام کون تمام کرے گا وہ اللہ اور اس کے رسول کو ایذاء دے رہا ہے، اس پر محمد بن مسلمہ انصاری کھڑے ہوئے اور عرض کیا۔ یا رسول اللہ ﷺ کیا آپ اجازت دینا پسند فرمائیں گے کہ میں اسے قتل کر دوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں مجھ کو یہ پسند ہے (لمبی حدیث ہے مختصر یہ کہ) پھر جب محمد بن مسلمہ نے اسے (کعب بن اشرف) کو اچھی طرح قابو کر لیا تو اپنے ساتھیوں کو اشارہ کیا کہ تیار ہو جاؤ، چنانچہ انہوں نے اسے قتل کر دیا اور آپ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر اس واقعہ کی اطلاع کر دی۔"
کعب بن اشرف یہودی سردار تھا، بڑا سرمایہ دار تھا اللہ اور اس کے رسول اور مسلمانوں کو ایذاء پہنچایا کرتا تھا، اور مشرکین کو قوت و تقویت پہنچاتا تھا، ساتھ ساتھ بدعہد بھی تھا مگر جب اس کی شرارتیں، خباثتیں اور بد زبانی حد سے زیادہ تجاوز کر گئیں تو آپ ﷺ نے اس کے قتل کا حکم دے دیا۔
کعب بن اشرف کا کام تمام کرنے والے خوش نصیب جماعت کے سردار سیدنا محمد
1؎ بخاری جلد دوم صفحہ ۵۷۷ حدیث ۴۰۳۷
باب اوّل گستاخ رسول کی
بن مسلمہ رضی اللہ عنہ تھے، جو رشتہ میں لیکن حرمتِ رسول ﷺ کے لئے اپنی رشتہ دار، مال و مکان اور تجارت و کارو نبی کریم ﷺ انہیں روانہ کر ہو کر فرمایا:
"انطلقوا على اسم الله" "اللہ کے نام پر روانہ ہو"
"سبحان اللہ ! کتنا عظیم کارن بن مسلمہ ؓ کر رہے ہیں، جس کی ط فرمارہے ہیں، نبی کریم ﷺ کی حر ہے، دنیا میں بھی اور آخرت میں کامراں ہے۔ اس کی تائید و نصرت
گستاخ رسول ابو رافع یہود
"عن البراء بن عازب اليهودي رجالاً من وكان ابو رافع يؤذي
"سیدنا براء بن عازب رافع یہودی کے قت کو ان کا امیر مقرر کیا ﷺ کے دشمنوں کی ت سیدنا عبداللہ بن ع
1؎ فتح الباری ۹۷/۹
باب اول گستاخ رسول کی سزا احادیث فقہاء کرام کے اقوال، اجماع امت اور بائبل کی روشنی میں
بن مسلمہ رضی اللہ عنہ تھے، جو رشتہ میں کعب بن اشرف کے بھانجے بھی تھے، وہ ان کا ماموں تھا، لیکن حرمت رسول ﷺ کے لئے اپنی جان ، ماموں ، بیوی بچے ، بہن بھائی ، ماں باپ ، برادری ، رشتہ دار ، مال و مکان اور تجارت و کاروبار سب کچھ قربان ہے۔
نبی کریم ﷺ انہیں روانہ کرتے ہوئے بقیع تک ان کے ساتھ چلے، پھر ان کو مخاطب ہو کر فرمایا:
" انطلقوا على اسم الله، اللهم اعنهم" ۱؎
" اللہ کے نام پر روانہ ہو جاؤ۔ اے اللہ! ان کی مدد فرما۔"
سبحان اللہ ! کتنا عظیم کارواں ہے یہ حرمت رسول ﷺ کا کارواں، جس کی قیادت محمد بن مسلمہ ؓ کر رہے ہیں، جس کو الوداع اور اس کی کامیابی کی دعا خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرمارہے ہیں ، نبی کریم ﷺ کی حرمت و ناموس کے لئے نکلنے والا ہر کارواں کامیاب و کامران ہے، دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی ، کیونکہ یہ کارواں عام کارواں نہیں ، حرمت رسول ﷺ کا کارواں ہے۔ اس کی تائید و نصرت کے لئے رسول اللہ ﷺ نے دعا فرمائی ہے۔
گستاخ رسول ابورافع یہودی کا قتل:
"عن البراء بن عازب قال: بعث رسول الله الى ابی رافع اليهودى رجالاً من الانصار، فأمر عليهم عبدالله بن عتيك و كان ابو رافع يؤذى رسول الله ويعين عليه ......."
"سیدنا براء بن عازب ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ابو رافع یہودی کے قتل کیلئے چند انصاری صحابہ کو حکم دیا اور عبداللہ بن عتیک کو ان کا امیر مقرر کیا ۔ ابو رافع رسول اللہ ﷺ کو ایذاء دیا کرتا تھا اور آپ ﷺ کے دشمنوں کی مدد کیا کرتا تھا (طویل حدیث ہے)
سیدنا عبداللہ بن عتیک ؓ مکمل پلان تیار کر کے اس کے قتل کے لیے
۱؎ فتح الباری ۹۷/۹
باب اول گستاخ رسول کی سزا احادیث فقہاء کرام کے اقوال، اجماع امت اور بائبل کی روشنی میں
قلعہ میں داخل ہوئے، پہلے حملہ میں وہ زخمی ہوا، دوسرے حملہ کے نتیجہ میں اس کا کام کچھ اس طرح تمام ہوا کہ سیدنا عبداللہ بن عتیک ؓ کہتے ہیں:
ثم وضعت ظبة السيف فى بطنه حتى اخذ فى ظهره فعرفت انی قتلته.
”میں نے تلوار کی نوک اس کے پیٹ پر رکھ کر دبائی جو اس کی پیٹھ تک پہنچ گئی، تب مجھے یقین ہو گیا کہ میں نے اسے قتل کر دیا ہے۔“
حدیث کے آخر میں ہے:
فانهيت الى النبى ﷺ فحدثته.
”چنانچہ میں نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور اس واقعہ کی اطلاع دی۔“
اس عظیم کاروائی میں سیدنا عبداللہ ؓ کی پنڈلی ٹوٹ گئی، کہتے ہیں کہ میں جب نبی کریم ﷺ کے پاس آیا تو آپ ﷺ نے فرمایا ”ابسط رجلك“ (اپنا پاؤں پھیلاؤ) میں نے اپنا پاؤں پھیلایا تو آپ ﷺ نے اس پر اپنا ہاتھ پھیرا وہ پاؤں اتنا اچھا ہو گیا، جیسے کبھی اس پاؤں میں مجھے تکلیف ہوئی ہی نہیں تھی ١؎
ابو رافع کا نام عبداللہ تھا اس کو سلام کے نام سے پکارا جاتا تھا، یہ خیبر کا باسی تھا حجاز میں اس کا قلعہ موجود تھا، یہ مال دار، متکبر اور فتنہ پرور انسان تھا، اس کا سب سے بڑا جرم رسول اللہ ﷺ کو ایذاء دینا اور آپ ﷺ کے خلاف مشرکین کی مدد کرنا تھا، نبی کریم ﷺ نے اس کے قتل کے لئے بھی ایک وفد تشکیل دیا اور عبداللہ بن عتیک کو ان کا امیر مقرر کیا، اس کو قتل کرنے کی سعادت بھی اسی امیر کے حصہ میں آئی ، اس گستاخ رسول کا قتل کعب بن اشرف کے بعد رمضان ٦ھ میں ہوا ہے، کعب بن اشرف کو اوس اور ابو رافع کو خزرج نے قتل کیا، گستاخی کرنے کا آغاز اور اس کی ابتداء یہودیوں نے کی ہے، کعب بن اشرف اور ابو رافع دونوں یہودی تھے، آج بھی دنیا میں گستاخان
١؎ بخاری کتاب المغازی۔ ۴۰۳۸۔ بخاری کتاب الجہاد والسیر، باب قتل النائم المشرک۔ ۳۰۲۲
گستاخ رسول کی... باب اول
رسول کی سر پرستی اور پشتی بانی یہودی... نے پوری دنیا میں خاکے پھیلائے اور...
ابو عکف یہودی کا قتل
ابن تیمیہؒ مؤرخین کے حوا... بن عوف کا ایک شیخ جسے ابو عکف کہتے... اللہ علیہ وسلم مدینہ تشریف لائے تو یہ... اور مسلمان نہیں ہوا تھا، جس وقت رسو... اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو... بغاوت اور سرکشی پر اتر آیا، رسول اللہ... میں ہجو کرتے ہوئے ایک قصیدہ کہا... رضی اللہ عنہ کی وہی حالت ہوئی جو... میں ابو عکف کو قتل کر دوں گا یا قتل کر... وسلم کی اجازت کی ضرورت تھی جو... ایک رات ابو عکف قبیلہ بنی عمرو بن... کی طرف آئے اور اس کے جگر پر... نے اس مردود کا کام تمام کر دیا ١؎
انس بن زنیم الدیلمی کی گ...
انس بن زنیم الدیلمی... ایک بچے نے سن لیا اس نے ان... لکھا ہے کہ سالم بن عمر بن خزاعی... علیہ وسلم کے پاس مدد طلب کرنے...
١؎ الصارم المسلول ،ص ۱۳۹
باب اول گستاخ رسول کی سزا احادیث فقہاء کرام کے اقوال ، اجماع امت اور بائبل کی روشنی میں رسول کی سرپرستی اور پشتی بانی یہودی کر رہے ہیں، فیس بک کے مالکان بھی یہودی ہیں ،جنہوں نے پوری دنیا میں خاکے پھیلائے اور لوگوں کو توہین رسالت کی دعوت دی ہے۔
ابوعفک یہودی کا قتل
ابن تیمیہؒ مؤرخین کے حوالے سے ابوعفک یہودی کا قصہ بیان کرتے ہیں کہ بنی عمرو بن عوف کا ایک شیخ جسے ابوعفک کہتے تھے وہ ۱۲۰ سال کا بوڑھا آدمی تھا، جس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ تشریف لائے تو یہ بوڑھا لوگوں کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی عداوت پر بھڑکاتا تھا اور مسلمان نہیں ہوا تھا، جس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بدر کی طرف نکلے اور غزوہ بدر میں اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کامیابی عطا فرمائی تو اس شخص نے حسد کرنا شروع کر دیا اور بغاوت اور سرکشی پر اتر آیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین کی مذمت میں ہجو کرتے ہوئے ایک قصیدہ کہا، اس قصیدے کو سن کر عاشقِ رسول ﷺ حضرت سالم بن عمیر رضی اللہ عنہ کی وہی حالت ہوئی جو ایک عاشقِ رسول کی ہونی چاہیے اور انہوں نے نذر مانی کہ میں ابوعفک کو قتل کر دوں گا یا قتل کرتے ہوئے خود جان دے دوں گا، پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اجازت کی ضرورت تھی جو مل گئی سالم رضی اللہ عنہ موقع کی تلاش میں تھے، موسم گرما کی ایک رات ابوعفک قبیلہ بنی عمرو بن عوف کے صحن میں سویا ہوا تھا، سالم بن عمیر رضی اللہ عنہ اس کی طرف آئے اور اس کے جگر پر تلوار رکھ دی جس سے وہ بستر پر چیخنے لگا مگر آپ رضی اللہ عنہ نے اس مردود کا کام تمام کر دیا ۔ ۱؎
انس بن زنیم الدیلمی کی گستاخی :
انس بن زنیم الدیلمی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجو کی ، اس کو قبیلہ خزاعیہ کے ایک بچے نے سن لیا اس نے انس پر حملہ کر دیا انس نے اپنا زخم اپنی قوم کو آکر دکھایا، واقدی نے لکھا ہے کہ سالم بن عمر بن خزاعی ”قبیلہ خزاعیہ“ کے چالیس سواروں کو لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس مدد طلب کرنے گیا، انہوں نے آکر اس کا تذکرہ کیا جو انہیں پیش آیا تھا، جب
۱؎ الصارم المسلول ص ۱۳۹
باب اول گستاخ رسول کی سزا احادیث، فقہاء کرام کے اقوال، اجماع امت اور بائبل کی روشنی میں
قافلے والے فارغ ہوئے تو انہوں نے کہا: یا رسول اللہ ﷺ! انس بن زنیم الدیلمی نے آپ کی ہجو کی ہے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس خون کو رائیگاں قرار دیا۔ ۱؎
یہودیوں کی طرح عیسائیوں کی گستاخیاں:
کعب بن علقمہ کہتے ہیں کہ غرفہ بن الحارث کندی کے قریب سے ایک عیسائی گزرا انہوں نے اسے اسلام کی دعوت پیش کی، اس عیسائی نے رسول اللہ ﷺ کی (اہانت) گستاخی شروع کر دی غرفہ کندی نے اپنا ہاتھ اٹھایا اور اس عیسائی کی ناک پھوڑ دی، یہ معاملہ سیدنا عمرو بن العاص ؓ کے پاس لایا گیا تو سیدنا عمرو بن العاص ؓ فرمانے لگے کہ ہم نے تو انہیں پیمان دیا ہے، غرفہ کندی کہنے لگے:
معاذالله ان نكون اعطينا هم على ان يظهروا شتم النبى ﷺ انما اعطينا هم على ان نخلى بينهم وبين كنائسهم يقولون فيما بدأ لهم وان لا نحملهم ما لا يطيقون وان ارادهم عدو قاتلناهم من ورائهم ونخلى بينهم وبين احكامهم الا ان يأتوا راضين باحكامنا فنحكم بينهم بحكم الله وحكم رسوله وان غيبوا عنا لم نعرض لهم فيما.
”اللہ کی پناہ! ہم ان کو اس بات پر عہد و پیمان دیں کہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر سب وشتم کا کھلا اظہار کریں، ہم نے ان کو اس بات کا عہد دیا ہے کہ ہم انہیں ان کے گرجا گھروں میں چھوڑ دیں، وہ اپنے گرجا گھروں میں جو کہنا چاہیں کہیں اور ان کی طاقت سے زیادہ بوجھ نہ ڈالیں اور اگر کوئی دشمن ان کا قصد کرے تو ہم ان کے پیچھے اُن سے لڑائی کریں اور انہیں ان کے احکامات پر چھوڑ دیں اور یہ کہ وہ ہمارے احکامات پر راضی ہو کر آ جائیں تو ہم ان کے درمیان اللہ اور
۱؎ الصارم المسلول، ص ۱۳۹
باب اول گستاخ رسـ
اس کے رسول کے بـ ہوں تو ہم ان کے بـ ”سیدنا عمرو بن العا یہود و نصاریٰ توہین ر ریاست میں رہتے ہوئے جب تصور ہوگا، بدعہدی اور گستاخی کی سـ ”وان نكثوا ايمانـ ائمة الكفر.“....... ”اگر وہ اپنے عہد طعن کریں تو کفر کـ گستاخوں کا علاج یـ
رسول اللہ ﷺ کی توہیـ
سیدنا ابو برزہ رضی الـ بیٹھا ہوا تھا وہ کسی آدمی پر نارا اے خلیفہ رسول! اجازت دیـ غصہ زائل کر دیا، پھر وہ وہاں سـ کہا تھا، میں نے عرض کیا کہ دوں؟“ فرمایا! ”اگر میں ا آپ نے فرمایا: لا والله! ما كا ”نہیں، اللہ کی
۱؎ السنن الکبری للبیہقی ۹/
کے اقوال، اجماع امت اور بائبل کی روشنی میں
ایاس بن زنیم الدیلمی نے آپ کی قرار دیا۔ لے
ان کے قریب سے ایک عیسائی گزرا رسول اللہ ﷺ کی (اہانت) گستاخی ناک پھوڑ دی، یہ معاملہ سیدنا عمرو کہ فرمانے لگے کہ ہم نے تو انہیں
شتم النبی ﷺ انما يقولون فيما بدأ قاتلناهم من باتوا راضين وان ضيعوا عنا
کہ وہ نبی کریم صلی ہے، ان کو اس بات کا چھوڑ دیں، وہ اپنے سے زیادہ بوجھ ان کے پیچھے اُن سے دیں اور یہ کہ وہ کے درمیان اللہ اور
باب اوّل گستاخ رسول کی سزا احادیث فقہاء کرام کے اقوال، اجماع امت اور بائبل کی روشنی میں
اس کے رسول کے حکم کے مطابق فیصلہ کریں اگر وہ ہم سے غائب ہوں تو ہم ان کے پیچھے نہ پڑیں ۔“
”سیدنا عمرو بن العاص ؓ نے فرمایا ”صدقت“ تو نے سچ کہا ۔‘ لے یہود و نصاریٰ توہین رسالت اور گستاخی رسول میں متحد تھے اور آج بھی ہیں، مسلم ریاست میں رہتے ہوئے جب کوئی ذمی رسول اللہ ﷺ کی گستاخی کا ارتکاب کرے گا تو وہ بدعہد تصور ہوگا، بدعہدی اور گستاخی کی سزا قتل ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں ارشاد فرمایا ہے:
”وان نكثوا ايمانهم من بعد عهدهم وطعنوا فى دينكم فقاتلوا ائمة الكفر. “......
(التوبة: ۱۲)
”اگر وہ اپنے عہد کے بعد اپنی قسمیں توڑ دیں اور تمہارے دین میں طعن کریں تو کفر کے سرداروں سے قتال کرو۔“ گستاخوں کا علاج قتال ہے، اور یہی اس مسئلہ کا حقیقی حل ہے۔
رسول اللہ ﷺ کی توہین کی سزا قتل ہے:
سیدنا ابو برزہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھا ہوا تھا وہ کسی آدمی پر ناراض ہو رہے تھے اور ناراض بھی بہت زیادہ ہوئے ، میں نے عرض کیا اے خلیفہ رسول ! اجازت دیجئے کہ میں اس کی گردن مار ڈالوں؟ تو میری اس بات نے ان کا غصہ زائل کر دیا، پھر وہ وہاں سے اٹھ کر چلے گئے اور مجھے اپنے پاس بلوا لیا اور کہا: تم نے ابھی کیا کہا تھا، میں نے عرض کیا کہ میں نے کہا تھا کہ ”اگر آپ اجازت دیں تو میں اس کی گردن مار دوں؟“ فرمایا! ”اگر میں تجھے ایسے کہہ دیتا تو تم واقعی کر گزرتے؟“ میں نے کہا: جی ہاں! تو آپؓ نے فرمایا:
لا والله! ما كانت لبشر بعد محمد صلى الله عليه وسلم. ”نہیں ، اللہ کی قسم ! محمد رسول اللہ ﷺ کے بعد کسی کو یہ مقام حاصل
لے السنن الکبریٰ للبیہقی ۵/۲۷۹
باب اول گستاخ رسول کی سزا احادیث فقہاء کرام کے اقوال، اجماع امت اور بائبل کی روشنی میں
نہیں ۔‘ ۱؎ مسلمانوں میں یہ بات معروف ہے کہ گستاخ رسول کی سزا قتل ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے علاوہ اگر کسی کی بے ادبی یا مخالفت وغیرہ ہو جائے تو بے ادبی کرنے والے کو سزائے موت نہیں دی جائے گی ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے علاوہ کسی کا یہ مقام اور بلند شان نہیں، خواہ کوئی بادشاہ ہو یا مفتی و عالم، خلیفہ اول سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے یہی بات ارشاد فرمائی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کسی کا یہ حق نہیں۔
لیکن آج افسوس اس بات پر ہے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا حق ادا نہیں کیا جارہا، ان کا دفاع نہیں کیا جارہا، بلکہ کوشش اس چیز کی ہورہی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا حق حکمران اپنے ہاتھ میں لے کر اس کا کھلواڑ کریں اور اس کا مذاق اڑائیں، گستاخی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہوتی ہے اور معافی کا اعلان حکومتیں اور حکمران کرتے ہیں، جب کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے گستاخوں کے خلاف خود اعلان جنگ کیا ہے۔
مکہ میں گستاخوں کے خلاف رسول اللہ ﷺ کا اعلان جنگ:
رسول اللہ ﷺ بیت اللہ کا طواف کرنے کے لیے تشریف لائے، مشرکین مکہ جن میں ابوجہل ، عتبہ اور شیبہ وغیرہ سب شامل تھے، انہوں نے آپ ﷺ کی گستاخی اور بے ادبی کی، مذاق کیا اور توہین کی، پہلے اور دوسرے چکر پر آپ ﷺ نے ان کی باتیں سنیں، تیسرے چکر پر آپ ﷺ رک گئے، آپ ﷺ نے ان سے اپنی بات کہی، جسے عبداللہ بن عمرو بن العاصؓ بیان کرتے ہیں، آپ ﷺ نے فرمایا:
اتسمعون يا معشر قريش اما والذي نفس محمد بيده لقد جئتكم بالذبح۔ ۲؎
”اے قریش کے لوگو! کیا تم سنتے نہیں، اس رب کی قسم ! جس کے ہاتھ
۱؎ ابوداؤد، باب الحکم فیمن سب النبی صلی اللہ علیہ وسلم ۔۴۳۶۳۔نسائی تحریم الدم،۴۰۸۲
۲؎ مسند احمد۔ ۲/ ۶۱۰ ، حدیث ۷۰۳۶۔ دلائل النبوۃ ۔۲۷۶/۲ تغلیق التعلیق علی صحیح البخاری، ص ۸۸، ج۴
باب اول گستاخ رسول کی
میں محمد ﷺ کی جان ہے، یہود و نصاریٰ کے ساتھ زبان اقدس سے جاری ہوا ہے اور وہ ہے، آپ ﷺ نے تو گستاخوں کو کہا کہ نے میدان بدر کا وہ منظر دیکھا ہے کر دیئے اور سیدنا عبداللہ بن مسعود ؓ علیہ وسلم کے اعلان مکہ کی عملی تصویر بد
ایک گستاخ عورت کا قتل:
ایک عورت رسول اللہ صلی نے فرمایا ”من يكفيني عدوی“ نے اس عورت کو قتل کر دیا۔ ۱؎
مشرک گستاخ رسول کا قتل
حضرت عبداللہ بن عما شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس دشمن کی خبر کون لے گا؟ تو حضر لگے، یا رسول اللہ ! میں حاضر ہوں اللہ علیہ وسلم نے اس سامانِ سفر
عمیر بن امیہ کے ہاتھوں
عمیر بن امیہ ؓ کی ایک
۱؎ الصارم المسلول، ص ۱۶۳
۲؎ الصارم المسلول ص ۱۷۷
باب اوّل گستاخ رسول کی سزا احادیث، فقہاء کرام کے اقوال، اجماع امت اور بائبل کی روشنی میں
میں محمد ﷺ کی جان ہے، میں تمہیں ذبح کرنے کے لئے آیا ہوں۔“ یہود و نصاریٰ کے ساتھ مشرک گستاخوں کے انجام کا اعلان بھی رسول اللہ ﷺ کی زبانِ اقدس سے جاری ہوا ہے اور وہ اٹل ہے، اس فیصلے کی حقانیت میں شک کی کوئی گنجائش نہیں ہے، آپ ﷺ نے تو گستاخوں کو کہا کہ میں تمہاری گردنیں اتارنے کے لئے آیا ہوں، چشمِ فلک نے میدانِ بدر کا وہ منظر دیکھا ہے جب محبانِ رسول نے گستاخانِ رسول کے سر تن سے جدا کر دیئے اور سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے ابو جہل کی گردن اتاری، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اعلانِ مکہ کی عملی تصویر مدنی زندگی میں دیکھنے کو ملی۔
ایک گستاخ عورت کا قتل:
ایک عورت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو گالیاں دیا کرتی تھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”من یکفینی عدوی“ میری دشمن کی کون خبر لے گا؟ تو خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے اس عورت کو قتل کر دیا۔ ۱؎
مشرک گستاخ رسول کا قتل:
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ مشرکین میں سے ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو گالی دی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میرے اس دشمن کی خبر کون لے گا؟ تو حضرت زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور عرض کرنے لگے، یا رسول اللہ ! میں حاضر ہوں، حضرت زبیر رضی اللہ عنہ نے اسے قتل کر دیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا سامان حضرت زبیر رضی اللہ عنہ کو دے دیا۔ ۲؎
عمیر بن امیہ کے ہاتھوں گستاخ بہن کا قتل:
عمیر بن امیہ ؓ کی ایک بہن تھی، عمیر ؓ جب نبی کریم ﷺ کے پاس جاتے تو وہ
۱۔ الصارم المسلول، ص ۱۶۳ ۲۔ الصارم المسلول ص ۱۷۷
باب اول گستاخ رسول کی سزا احادیث، فقہاء کرام کے اقوال، اجماع امت اور بائبل کی روشنی میں
انہیں رسول اللہ ﷺ کے بارے میں تکلیف دیتی اور نبی کریم ﷺ کو گالیاں نکالتی تھی اور تھی بھی یہ مشرکہ۔ ایک دن انہوں نے تلوار اٹھائی پھر اس کے پاس آئے اور اسے تلوار کا وار کر کے قتل کر دیا، اس کے بیٹے اٹھ کھڑے ہوئے انہوں نے چیخ و پکار شروع کر دی اور کہنے لگے: ہمیں معلوم ہے کہ کس نے قتل کیا ہے، کیا ہمیں امن و امان دے کر قتل کیا گیا ہے؟ اور اس قوم کے آباء واجداد اور مائیں مشرک ہیں جب عمیرؓ کو خوف پیدا ہوا کہ وہ لوگ اپنی ماں کے بدلے کسی کو ناجائز قتل کر دیں گے تو وہ (عمیرؓ) نبی کریم ﷺ کے پاس گئے اور آپ ﷺ کو خبر دی تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اقتلت اختک“ ”کیا تو نے اپنی بہن قتل کر دی ہے؟“ انہوں نے کہا: ہاں! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیوں؟ کہنے لگے: ”انها تؤذی فیک“ ”یہ مجھے آپ ﷺ کے متعلق اذیت دیتی تھی۔“ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے بیٹوں کی طرف پیغام بھیجا اور ان سے پوچھا تو انہوں نے کسی اور کو قاتل ٹھہرایا، تو: فاخبرهم النبى صلى الله عليه وسلم واهدر دمها ”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا خون رائیگاں قرار دیا تو انہوں نے (جواب میں) کہا: ہم نے سنا اور مان لیا۔“ ۱؎
سبحان اللہ! یہ ہے رسول اللہ ﷺ سے محبت کی اعلیٰ مثال اور عمدہ دلیل کہ بھائی نے گستاخ بہن کو قتل کر دیا اور بیٹوں نے بھی ایسی ماں کی پرواہ تک نہیں کی جو اللہ کے رسول کی بے ادبی کرتی تھی، رسول اللہ ﷺ کا فرمان ہے:
۱۔ مجمع الزوائد، کتاب الحدود، ج ۶ ص ۲۶۸، الرقم ۔۱۱۰۵۴، معجم الکبیر، ج ۱۷، ص ۱۶۴، ۱۶۵، الرقم:۱۲۴
باب اول گستاخ رسول کی سزا احادیث فقہاء کرام کے اقوال، اجماع امت اور بائبل کی روشنی میں
والذی نفسی بیدہ لا یومن احدکم حتی اکون احب الیہ من والدہ وولدہ والناس اجمعین ۱؎
”اس ذات کی قسم! جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! تم میں سے کوئی بھی ایمان دار نہیں ہوگا، جب تک کہ میں اس کے والد اولاد اور تمام لوگوں سے بھی زیادہ اس کا محبوب نہ بن جاؤں۔“
محبت رسول ایمان کی دلیل ہے محبت رسول ہے تو ایمان ہے، اس کے بغیر ایمان مکمل نہیں، یہاں ایمان پر محبت رسول کو مقدم رکھا گیا ہے۔ اور یہ محبت ماں، باپ، اولاد اور پوری کائنات کی تمام چیزوں سے زیادہ محمد کریم ﷺ سے ہونی لازمی ہے۔
عصماء بنت مروان کا قتل
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ خطمہ قبیلہ کی ایک عورت نے ہجو کی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس عورت سے کون نبٹے گا؟ عمیر بن عدی رضی اللہ عنہ نے جا کر اسے قتل کر دیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ دو بکریاں اس میں سینگوں سے نہ ٹکرائیں یعنی اس عورت کا خون رائیگاں ہے، اور اس میں کوئی دو آپس میں نہ ٹکرائیں۔۲
بعض مؤرخین نے اس کی تفصیل یوں بیان کی ہے کہ عصماء بنت مروان بنی عمیر بن زید کے خاندان میں سے تھی، وہ یزید بن زید بن حصن الخطمی کی بیوی تھی، وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایذا اور تکالیف دیا کرتی تھی، اسلام میں عیب نکالتی اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف لوگوں کو اکساتی تھی، عمیر بن عدی الخطمی رضی اللہ عنہ جن کی آنکھیں اس قدر کمزور تھیں کہ وہ جہاد میں نہیں جاسکتے تھے ان کو جب اس عورت کی باتوں اور اشتعال انگیزی کا علم ہوا تو کہنے لگے اے اللہ ! میں تیری بارگاہ میں نذر مانتا ہوں اگر تو نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مدینہ منورہ میں بخیر و عافیت لوٹا دیا تو میں اسے (یعنی اس عورت کو) ضرور قتل کروں گا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ
١؎ بخاری کتاب الایمان، باب حب الرسول من الایمان ۱۴
٢؎ الصارم المسلول ص ۱۲۹
باب اول گستاخ رسول کی سزا احادیث فقہاء کرام کے اقوال، اجماع امت اور بائبل کی روشنی میں
وسلم اس وقت بدر میں تھے، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم بدر سے تشریف لائے تو حضرت عمیر بن عدی رضی اللہ عنہ آدھی رات کے وقت اس عورت کے گھر میں داخل ہوئے اور اس کے ارد گرد اس کے بچے سوئے ہوئے تھے ایک بچہ اس کے سینے پر تھا جسے وہ دودھ پلا رہی تھی، عمیر رضی اللہ عنہ نے اپنے ہاتھ سے اس عورت کو ٹٹولا تو معلوم ہوا کہ یہ عورت اپنے بچے کو دودھ پلا رہی ہے، عمیر رضی اللہ عنہ نے بچے کو اس سے الگ کر دیا پھر اپنی تلوار کو اس کے سینے پر رکھ کر اس زور سے دبایا کہ وہ تلوار اس کی پشت سے پار ہو گئی، پھر نماز فجر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ادا کی، جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نماز سے فارغ ہوئے تو عمیر رضی اللہ عنہ کو دیکھ کر فرمایا: کیا تم نے بنتِ مروان کو قتل کر دیا ہے؟ کہنے لگے جی ہاں! اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں، عمیر رضی اللہ عنہ کو اس بات سے ذرا ڈر سا لگا کہ کہیں میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مرضی کے خلاف تو قتل نہیں کیا، کہنے لگے: اے اللہ کے رسول ﷺ! کیا اس معاملے کی وجہ سے مجھ پر کوئی چیز (گناہ) وغیرہ لازم تو نہیں؟ فرمایا ”لا ينتطح فيه عنزان“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان مبارک سے یہ جملہ پہلی مرتبہ سنا گیا، عمیر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب جو لوگ موجود تھے، ان کی طرف متوجہ ہوئے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر تم ایسے شخص کو دیکھنا چاہتے ہو جس نے اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی بن دیکھے مدد کی ہے تو وہ عمیر بن عدی رضی اللہ عنہ کو دیکھیے۔۱؎
نبی کریم ﷺ کو گالیاں دینے والی ام ولد کا قتل:
سیدنا عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ ایک نابینا شخص (صحابی) تھا اس کی ام ولد (ایسی لونڈی جس سے اس کی اولاد تھی) وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو گالیاں بکتی تھی اور برا بھلا کہتی تھی، وہ منع کرتا تھا، مگر وہ نہ مانتی تھی، وہ اسے ڈانٹتا تھا مگر وہ سمجھتی نہ تھی، ایک رات وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بدگوئی کرنے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو گالیاں دینے لگی تو اس نابینا (صحابی) نے ایک برچھا لیا اور اس کو اس لونڈی کے پیٹ پر رکھ کر اس پر اپنا بوجھ ڈال دیا اور اس
۱۔ ترجمۃ السیف المسلول علی من سب الرسول ص ۱۰۲ / ۱۰۳
گستاخ رس باب اول
طرح اسے قتل کر ڈالا، اس لونڈ سے لت پت کر دیا، جب صبح ہو اکٹھے ہو گئے تو آپ صلی اللہ علیہ کارروائی کی ہے اور میرا اس پر ح گردنیں پھلانگتا ہوا حاضر ہوا ا آ بیٹھا اور بولا: اے اللہ کے رسو کہتی تھی اور میں اس کو منع کرتا تھا ولی منها ابنان م ”میرے اس سے ساتھ دینے والی تھی گزشتہ رات جب ا چھرا اٹھایا، اس کے پیٹ پر رکھ کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا الا اشهدوا ان د ”خبردار ! گواہ ہو ج جو شخص نابینا تھا اس موت کے گھاٹ اتار دیا، انتقا گستاخانِ رسول نظر نہیں آتے نہیں آتیں، کچھ لوگ تو ایسے لئے نرم پہلو اور دل میں ان ک میں محبت تھی اس نے کسی چیز
۱۔ ابوداؤد، باب الحکم فیمن سب ا
باب اول گستاخ رسول کی سزا احادیث فقہاء کرام کے اقوال، اجماع امت اور بائبل کی روشنی میں
طرح اسے قتل کر ڈالا، اس لونڈی کے پاؤں میں ایک چھوٹا بچہ آ گیا اور اس نے اس جگہ کو خون سے لت پت کر دیا، جب صبح ہوئی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس قتل کا ذکر کیا گیا اور لوگ اکٹھے ہو گئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں اس آدمی کو اللہ کی قسم دیتا ہوں جس نے یہ کارروائی کی ہے اور میرا اس پر حق ہے کہ وہ کھڑا ہو جائے“ وہ نابینا صحابی کھڑا ہو گیا اور لوگوں کی گردنیں پھلانگتا ہوا حاضر ہوا اس کے قدم لرز رہے تھے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ بیٹھا اور بولا: اے اللہ کے رسول ﷺ! ”میں اس کا قاتل ہوں یہ آپ کو گالیاں دیتی اور برا بھلا کہتی تھی اور میں اس کو منع کرتا تھا مگر وہ باز نہ آتی تھی، میں ڈانٹتا تھا مگر وہ سمجھتی نہ تھی:
ولی منها ابنان مثل اللؤلؤتين وكانت لی رفيقة.
”میرے اس سے دو موتیوں جیسے بچے بھی ہیں اور وہ میرا بڑا اچھا ساتھ دینے والی تھی۔“
گزشتہ رات جب اس نے آپ ﷺ کو گالیاں دیں اور برا بھلا کہنے لگی تو میں نے چھرا اٹھایا، اس کے پیٹ پر رکھا اور اس پر اپنا بوجھ ڈال دیا حتیٰ کہ میں نے اس کو قتل کر ڈالا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
الا اشهدوا ان دمها هدر ؎١
”خبردار! گواہ ہو جاؤ، اس (لونڈی) کا خون رائیگاں ہے۔“
جو شخص نابینا تھا اس نے تو گستاخ عورت (جو کہ اس کے بچوں کی ماں بھی تھی) کو موت کے گھاٹ اتار دیا، انتقام لے لیا، افسوس تو ہم آنکھوں والوں پر ہے جن کو کچھ نظر نہیں آتا، گستاخانِ رسول نظر نہیں آتے، خاکے نظر نہیں آتے، لکھنے والے ہاتھ اور بولنے والی زبانیں نظر نہیں آتیں، کچھ لوگ تو ایسے بھی ہیں جن کی عقل اور آنکھوں پر پردہ پڑ گیا ہے وہ گستاخوں کے لئے نرم پہلو اور دل میں ان کے لئے درد رکھتے ہیں کیونکہ دل محبتِ رسول سے خالی ہیں جس دل میں محبت تھی اس نے کسی چیز کی پرواہ نہیں کی اور یہ بھی نہیں سوچا کہ میں تو نابینا ہوں، مجھے تو خود
؎١ ابو داؤد، باب الحکم فیمن سب النبیﷺ: ٤٣٦١، نسائی، باب الحکم فیمن سب النبیﷺ: ٤٠٧٥
باب اول گستاخ رسول کی سزا احادیث فقہاء کرام کے اقوال، اجماع امت اور بائبل کی روشنی میں
خدمت کی ضرورت ہے، میرے بچوں کا کیا بنے گا؟ اس نابینا کے کردار میں آنکھوں والوں کے لئے سبق اور عبرت ہے، اور اس نابینا قاتل کا یہ عمل غیرت ایمانی اور اظہار حب رسول ﷺ ہے۔
گستاخ یہودی عورت کا قتل:
عن على ان يهودية كانت تشتم النبى صلى الله عليه وسلم وتقع فيه فخنقها رجل.
سیدنا علی ؓ سے روایت ہے کہ ایک یہودی عورت نبی کریم ﷺ کو گالیاں دیا کرتی تھی اور آپ ﷺ کے بارے میں نازیبا الفاظ بولتی تھی تو ایک آدمی نے اس کا گلہ گھونٹ دیا:
حتى ماتت فابطل رسول الله ﷺ دمها. ۱
’’یہاں تک کہ وہ مرگئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا خون جائز قرار دیا۔‘‘
مذکورہ احادیث کی روشنی میں یہ بات ثابت ہوگئی ہے کہ شاتم رسول کی سزا قتل ہے، اس کے لئے کوئی معافی نہیں ہے، شاتم رسول کے قتل پر نہ کوئی قصاص ہے اور نہ ہی دیت۔ اس قانون میں مسلم ، غیر مسلم سب برابر ہیں ، یعنی جو بھی گستاخی کرے گا اس سے معافی کا مطالبہ کئے بغیر قتل کی سزا دی جائے گی، جرم ثابت ہو کر حدود اللہ میں بالخصوص حرمت رسول کے مسئلہ میں کوئی رعایت نہیں ہے۔ جو کوئی گستاخ توبہ کرلے اس کی توبہ کا ثواب اس کو آخرت میں ضرور ہوگا، لیکن دنیا میں اس کو سزا دی جائے گی۔
اس قانون کا نفاذ حکومت کرے گی تو امن وامان قائم رہے گا اور گستاخی کا دروازہ بھی بند رہے گا، اگر ایسا نہ کیا گیا تو بدامنی ہوگی اور غیرت ایمانی کی وجہ سے لوگ گستاخوں کو قتل کریں گے قانون اپنے ہاتھ میں لیں گے جس سے حکومت کے لئے پریشانیاں پیدا ہوں گی۔
۱ ابوداؤد، جلد ۲ ص ۶۰۰ حدیث۔ ۴۳۶۲ اخرجہ البیہقی ۷/ ۶۰ علامہ ناصر الدین البانی کہتے ہیں کہ اسنادہ حسن علی شرط الشیخین ۔ ارواء الغلیل ۵/ ۹۱۔ اس کی سند بخاری و مسلم کی شرط پر صحیح ہے۔
باب اول گستاخ رسول کی سزا احادیث فقہاء کرام کے اقوال، اجماع امت اور بائبل کی روشنی میں
فقہائے کرام کے اقوال
فقہ حنفی:
”البحر الرائق“ میں ہے:
فالساب بطريق اولى، ثم يقتل حداً عندنا، فلا تقبل توبته فى اسقاطه القتل.
عبارت مذکورہ کا واضح مطلب یہی ہے کہ شاتم رسول کو قتل کیا جائے گا اور یہ سزا بطور شرعی حد کے لاگو ہوگی اور اس کی توبہ سے قتل کی سزا ساقط نہیں ہوگی۔
علامہ شامی کے رسالہ ”تنبيه الولاة والحكام“ میں ہے:
اذا سب الرسول صلى الله عليه وسلم، او احداً من الانبياء عليهم السلام، فانه يقتل حداً ولا توبة له اصلاً.
”یعنی جو بھی حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں یا انبیا علیہم السلام میں سے کسی ایک کی شان میں گستاخی کرے، تو اس کو حداً قتل کیا جائے گا۔“
مسلک احناف کی مشہور فتاویٰ ”شامی“ میں ہے:
مطلب فى حكم سب الذمى النبى صلى الله عليه وسلم : قوله وسب النبى صلى الله عليه وسلم.......“ فلو اعلن بشتمه او اعتاده قتل، ولو امرأة، و به يفتى اليوم....... اذا طعن الذمى فى دين الاسلام طعنا جاز قتله، ولهذا أفتى اكثرهم بقتل من اكثر من سب النبى صلى الله عليه وسلم من اهل الذمة، وان اسلم بعد اخذه: ان سبه عليه الصلوة والسلام، او نسبه مالا ينبغى الى الله
باب اول گستاخ رسول کی سزا احادیث فقہاء کرام کے اقوال، اجماع امت اور بائبل کی روشنی میں
تعالیٰ...... يقتل به، وينقض عهده: ١؎ مذکورہ بالا عبارت کا خلاصہ یہ ہے کہ اگر ذمی کافر مسلمانوں کے ملک میں معاہدہ کے تحت رہتے ہوئے مسلمانوں کو جزیہ ادا کرتا ہو اور اس نے شعائر اسلام میں سے کسی ایک کی توہین یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شانِ اقدس میں گستاخی کا کھلے عام ارتکاب کیا تو اس کو قتل کیا جائے گا خواہ یہ قتل سیاساً ہو یا تعزیراً ہو یا قانوناً۔ ملک پاکستان کے اندر بھی اقلیت ذمی کے حکم میں آتے ہیں لہٰذا یہاں بھی اگر کسی نے ان جرائم (شعائر اسلام یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی توہین) کا ارتکاب کیا تو حکومت کی طرف سے اس کی سزا بھی قتل ہے۔
وضاحت:
اگر کوئی ذمی کافر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شانِ اقدس میں گستاخی کرے تو بعض احناف کے ہاں اس کے ساتھ کیا ہوا معاہدہ ختم نہیں ہوگا، لیکن معاہدے کے ختم ہونے سے قتل کی سزا ساقط نہیں ہوگی بلکہ اگر ذمی علانیہ لوگوں کے سامنے گستاخی کا ارتکاب کرے تو اس کو تعزیراً قتل کیا جائے گا اور اس کے حکم میں مرد و عورت سب برابر ہیں، اسی پر اکثر احناف کا فتویٰ ہے۔
فتاویٰ ”شامی“ میں ہے: لاينبغى ان يفهم من عدم الانتقاض انه لا يقتل، فان ذالك لايلزم، وليس فى مذهبنا ما ينفى قتله......ان ما بحثه فى النقض مسلم مخالفته للمذهب، واما بحثه فى القتل فلا اى لما علمته آنفا من جواز التعزير بالقتل ولما ياتى من جواز قتله اذا أعلن به...... أفتى به اكثر الحنفية اذا اكثر السب ......اذا أعلن به...... فلم تكن مخالفاً للمذهب...... بأنه يقتل ...... لكن علمت تقيده بالاعلان...... جواز قتل المرأة إذا أعلنت بالشتم. ٢؎
١؎ ج ۴ ص ۲۱۳، ۲۱۵ ٢؎ ج ۴ ص ۲۱۵، ۲۱۵ ٢
باب اول گستاخ رسول ”تنبيه الولاة والحكام“ میں ہے۔ أما الذمي إذا اصر عندنا في قتله. ١؎ یعنی ذمی جب صراحتاً اختلاف نہیں۔
فقہ شافعی:
فقہ شافعی کی مشہور کتاب من سب رسول الله صلى یعنی جو بھی گستاخی کا مرتکب ”الايصال فى المغا کہ بعض شافعی کتب میں ہے: ان كل من آذى رسول كافر...... يقتل ولا بد یعنی جو کسی بھی طرح رسو بالضرور قتل کیا جائے گا۔
”الحاوی الکبیر“ میں ہے فـامـا سـب رسـول الـ الهدنه وعقد الذمة، و یعنی اگر ذمی کافر گستاخی (اور اس کو قتل کیا جائے گا)
١؎ ص ۳۵۲....... ٣ ٢؎ ص ۷۰۶ / ۱ طبع بیروت ......۴ ٣؎ ج ۱۸ ص ۳۳۲ ......۲
باب اول گستاخ رسول کی سزا احادیث فقہاء کرام کے اقوال، اجماع امت اور بائبل کی روشنی میں
”تنبيه الولاة والحکام“ میں ہے:
أما الذمي إذا صرح بسب أو عرض أو استخف، فلا خلاف عندنا في قتله. ۱
یعنی ذمی جب صراحتاً اور استخفافاً گستاخی کا ارتکاب کرے تو اس کے قتل میں کوئی اختلاف نہیں۔
فقہ شافعی:
فقہ شافعی کی مشہور کتاب ” التہذیب “ میں ہے:
من سب رسول الله صلى الله عليه وسلم يقتل حداً. ۲
یعنی جو بھی گستاخی کا مرتکب ہوگا اس کو قتل کیا جائے گا۔
”الایصال فی المحلی بالآثار“ جو کہ ابن حزم الاندلسی کی مشہور تصنیف ہے جو کہ پہلے شافعی تھے میں ہے:
ان كل من آذى رسول الله صلى الله عليه وسلم فهو كافر ...... يقتل ولا بد. ۳
یعنی جو کسی بھی طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تکلیف دے وہ کافر ہے اس کو ضرور بالضرور قتل کیا جائے گا۔
”الحاوی الکبیر“ میں ہے:
فاما سب رسول الله صلى الله عليه وسلم فهو ما ينقض به الهدنه وعقد الذمة، وكذالك سب القرآن.
یعنی اگر ذمی کافر گستاخی رسول کا ارتکاب کرے تو اس کے ساتھ کیا ہوا معاہدہ ختم ہوگا (اور اس کو قتل کیا جائے گا)
۱ ص ۳۵۲.....۳
۲ ص ۱۷۰۶ طبع بیروت .....۴
۳ ج ۱۸ ص ۲۳۲ .....۲
باب اول گستاخ رسول کی سزا احادیث فقہاء کرام کے اقوال، اجماع امت اور بائبل کی روشنی میں
فقہ مالکی:
فقہ مالکی کی کتاب ”حاشیہ الدسوقی“ میں ہے:
(وينقض) عهده ...... وسب نبى ...... كما وقع بعض نصارى مصر لعنهم الله (يسبون محمد ...... قال مالك: حين سئل عن هذا اللعين ارى ان يضرب عنقه . ؎١
یعنی اگر ذمی توہین رسالت (صلی اللہ علیہ وسلم) کا ارتکاب کرے تو اس کے ساتھ کیا ہوا معاہدہ ختم ہوگا، جیسے کہ مصر کے بعض ملعون عیسائیوں نے یہ جرم کیا، جب امام مالک رحمۃ اللہ علیہ سے ان کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا کہ ان کی گردنیں اڑا دی جائیں۔
”شرح الزرقانی“ میں ہے:
”(وينقض) بواحد من سبعة (بقتال) وسب نبى“ ؎٢
اس سے بھی توہین رسالت کی صورت میں ذمی کے معاہدہ ختم ہونے کا تذکرہ ہے (جب کہ نقض عہد کی وجہ سے وہ مباح الدم ہو جاتا ہے)
”الذخیرۃ“ میں ہے:
وإن سب الله تعالى او رسوله عليه السلام، او غيره من الانبياء عليهم السلام قتل، حدا لا تسقطه التوبة، فان اظهار ذالك منه يدل على سوء باطنه فيكون كالزنديق لا تقبل توبته“؎٣
یعنی اگر کوئی انسان (معاذ اللہ) حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام یا انبیاء کرام علیہم السلام میں کسی ایک کی بھی توہین کرے واجب القتل ہے اور توبہ سے اس کی سزا ختم نہیں ہو سکتی۔
١۔ ج ٢ ص ۵۲۵
٢۔ ج ٣ ص ۴۶۰
٣۔ ج ٣/ ۴ ص ۴۵۹، ۴۶۰
باب اول گستاخ
فقہ حنبلی:
فقہ حنبلی کی مشہور کتا ”فصل في نقض رسول الله صلی ا نعطى الامان علی انه يقتل بكل حا یعنی عبداللہ بن ا نے (معاذ اللہ) رسول اللہ رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ ا ہے) کہ شاتم رسول کو ہر ح دلائل دیئے ہیں۔
”کتاب الفر ان ساب النبى ساب النبى صل یعنی شاتم رسو قتل کی سزا ساقط نہیں ہو
”هداية الرا او ذكر الله ت ضرر يعم الط
١۔ ج ١٠ ص ۲۲۳، ۲۲۵
٢۔ ج ٣/ ص ۴۸۱ دار الکتا
٣۔ ج ۲/ ص ۲۲۱
باب اول گستاخ رسول کی سزا احادیث فقہاء کرام کے اقوال ،اجماع امت اور بائبل کی روشنی میں
فقہ حنبلی:
فقہ حنبلی کی مشہور کتاب ” المغنی “ میں ہے:
”فصل في نقض العهد....... قيل لا بن عمر : ان راهبا يشتم رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال : لو سمعته لقتلته، أنا لم نعطى الامان على هذا ......فيمن سب النبي صلى الله عليه وسلم انه يقتل بكل حال، وذكر ان احمد نص عليه“ ۱؎
یعنی عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے کسی نے کہا کہ ایک راہب (عیسائیوں کا پیشوا) نے (معاذ اللہ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی کی ہے تو حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ اگر میں گستاخانہ کلمات سنتا تو میں اس کو قتل کرتا (پھر آگے جاکے تحریر ہے) کہ شاتم رسول کو بہرحال میں قتل کیا جائے گا، اور امام احمد بن حنبل رحمۃ اللہ علیہ نے اس پر دلائل دیئے ہیں۔
”کتاب الفروع “ میں ہے:
ان ساب النبي صلى الله عليه وسلم يقتل ولو اسلم ....... وأن ساب النبي صلى الله عليه وسلم يقتل ......فلا يسقط بتوبة. ۲؎
یعنی شاتم رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو قتل کیا جائے گا اور اس کی توبہ کرنے سے اس سے قتل کی سزا ساقط نہیں ہو سکتی۔
”هداية الراغب“ میں ہے:
أو ذكر الله او كتابه او رسوله بسوء، انتقض عهده لان هذا ضرر يعم المسلمين، وحل دمه وماله“ ۳؎
۱؎ ج ۱۰ ص ۲۲۳، ۲۲۵ ......
۲؎ ج ۳ ص ۳۸۱ دار الکتب عربی
۳؎ ج ۲ ص ۴۲۱ ......
باب اول گستاخ رسول کی سزا احادیث فقہاء کرام کے اقوال ، اجماع امت اور بائبل کی روشنی میں
یعنی جب کسی ذمی نے اللہ تعالیٰ یا قرآن کریم یا پیغمبر کی شان میں گستاخی کی تو اس کا معاہدہ ختم ہو گیا اور ان جرائم کے ارتکاب سے چونکہ اہل اسلام کے جذبات کو ٹھیس پہنچتی ہے لہٰذا ایسے گستاخ کا قتل کرنا حلال ہے۔
اجماع امت
آپ نے گستاخ رسول کی سزا کے بارے میں مفسرین ،محدثین اور فقہاء رحمہم اللہ تعالیٰ اجمعین کے اقوال ملاحظہ فرمائے اس وجہ سے شاتم رسول کی سزا کے بارے میں اجماع امت منعقد ہو چکا ہے، جیسا کہ شیخ الاسلام علامہ ابن تیمیہ رحمۃ اللہ تعالیٰ کی مایہ ناز تصنیف (جو اس موضوع پر کافی اہمیت کی حامل ہے ) ”الصارم المسلول علی شاتم الرسول“ میں ہے۔
حکایۃ الاجماع علی قتل الساب، ان من سب النبی صلی اللہ علیہ وسلم من مسلم او کافر، فانہ یجب قتلہ، ھذا مذہب علیہ عامۃ اہل العلم۔ ۱
یعنی جو بھی گستاخی رسول کا ارتکاب کرے مسلمان ہو یا کافر ، اس کو قتل کرنا واجب ہے اور اس پر اہل علم کا اجماع ہے۔
”السیف المسلول“ میں ہے:
اجمعت الامۃ علی قتل منتقصہ من المسلمین وسابہ۔ ۲
یعنی اس پر پوری امت کا اجماع ہے کہ گستاخ رسول کی سزا قتل ہے۔
منکر اجماع کا حکم
لہٰذا اگر کوئی شخص جاننے کے باوجود کہ گستاخ رسول کی شرعی سزا ماننے سے انکار کردے تو ایسا شخص بالواسطہ خود توہین رسالت کا مرتکب ہو رہا ہے اور بوجہ انکار اجماع امت ایسا شخص ایمان سے ہاتھ دھو بیٹھتا ہے۔
۱ ص ۱۱ دارالحدیث قاہرہ..... ۲ ص ۹۶
باب اول گستاخ رسول کی سزا احادیث فقہاء کرام کے اقوال، اجماع امت اور بائبل کی روشنی میں
جیسا کہ ”فتاویٰ شامی“ میں ہے:
”ان یکفر بانکار ما اجمع علیہ بعد العلم بہ...... ان مخالف الاجماع یکفر“ ؎۱۔
”تنبیہ الولاۃ والحکام“ میں ہے۔
”اجمع العلماء ان شاتمہ کافر، وحکمہ القتل، ومن شک فی عذابہ وکفرہ، کفر“ ؎۲۔
انسانیت کے ناطے گستاخ رسول سے ہمدردی کا حکم:
اگر کوئی شخص اجماع امت کا انکار نہ کرے بلکہ یہ کہے کہ گستاخ رسول کے ساتھ بوجہ انسانیت کے نرمی اور دوستی کا معاملہ رکھتا ہوں تو یہ بھی صحیح نہیں ہے، کیونکہ ایک طرف ایک بدبخت انسان یعنی شاتم رسول کا مسئلہ ہے اور دوسری طرف وہ ہستی ہے جس کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے پوری انسانیت کو وجود بخشا اور تمام جہان والوں کے لئے رحمت بنا کر بھیجا، لہٰذا یہ تاویل بھی قابل قبول نہیں، جب کہ کفار اور دین اسلام کے ساتھ مذاق کرنے والوں کے ساتھ تو دوستی شرعاً بھی ممنوع ہے۔
جیسا کہ اللہ رب العزت قرآن مجید میں فرماتے ہیں:
یا ایہا الذین آمنوا لا تتخذوا الذین اتخذوا دینکم ھزوا ولعباً من الذین اوتوا الکتاب من قبلکم والکفار اولیاء۔
(سورۃ المآئدہ ۵۷)
اس آیت میں مسلمانوں کو کفار اور دین اسلام کے ساتھ مذاق کرنے والوں کے ساتھ دوستی سے منع کیا گیا ہے اور یہ بھی معلوم ہے کہ گستاخ رسول کافر اور سب سے بڑھ کر اسلام کا تمسخر کرنے والا ہے۔
۱؎ ج۴/ص۲۲۳
۲؎ ص ۳۲۷
باب اوّل گستاخ رسول کی سزا احادیث فقہاء کرام کے اقوال، اجماع امت اور بائبل کی روشنی میں
محبت کے ناطے گستاخ رسول سے ہمدردی کا حکم:
اور اگر کسی شخص کو گستاخ رسول سے محبت ہو اور وہ اسی وجہ سے اس کے حق میں آواز بلند کرتا ہو تو یہ بھی قرآن وحدیث کی رو سے صحیح نہیں ہے، کیونکہ قرآن کریم کا اعلان ہے:
النبی اولیٰ بالمؤمنین من انفسہم.
(احزاب:۶)
کہ رسول اللہ ﷺ کا مرتبہ مومنین کے ہاں اپنی جانوں سے بھی زیادہ ہے۔
اسی طرح بخاری شریف میں ہے:
لا یؤمن احدکم حتی اکون احب الیہ من والدہ وولدہ والناس اجمعین. ۱؎
یعنی انسان جب تک اپنے والدین، اولاد اور تمام لوگوں سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو زیادہ محبوب نہ رکھے تو وہ انسان (کامل) ایمان کو حاصل نہیں کرسکتا۔
مسلم شریف میں ہے:
قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ”المرء مع من احب“ ۲؎
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان مبارک کا مطلب یہ ہے کہ ”دنیا میں جس کی محبت جس کے ساتھ ہوگی قیامت میں اسی کے ساتھ اس کا حشر ہوگا“ لہٰذا کوئی بھی مسلمان سوچ بھی نہیں سکتا کہ اس کا حشر قیامت کے دن گستاخ رسول کے ساتھ ہو۔
خلاصہ کلام:
حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت و ناموس کی حفاظت کرنا ہر مسلمان پر واجب ہے اور جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی حرمت پر حملہ آور ہونا چاہے تو ایسے گستاخ کی سزا قتل ہے، یہ سزا نہ تو کوئی معاف کرسکتا ہے اور نہ ہی اس میں کوئی ترمیم کرسکتا ہے، لیکن یہ قتل کرنا اسلامی حکومت کی ذمہ داری ہے، اب اگر کوئی مسلم حکمران قدرت کے باوجود ایسے گستاخوں کو قتل کرنے میں مخلص
۱؎ ج ۱ ص ۱۴ باب حب الرسول من الایمان ۲؎ ص ۱۰۸۸
باب اوّل گستاخ رسول کی سزا احادیث فقہاء کرام کے اقوال، اجماع امت اور بائبل کی روشنی میں
نظر نہ آئے تو اس سے بڑی بے غیرتی اور کیا ہو سکتی ہے کہ ہمارے ہوتے ہوئے گستاخ رسول زندہ ہو۔
لہٰذا اگر کسی غیرت مند مسلمان نے جذبہ ایمانی سے سرشار ہو کر کسی گستاخ رسول کو واصل جہنم کیا تو ایسا مسلمان شرعاً قابل مواخذہ نہیں، بلکہ قابلِ تعریف اور ثواب ہے۔
لن يجعل الله للكافرين على المؤمنين سبيلاً.
(النساء ۱۴۱)
الصارم المسلول علی شاتم الرسول میں ہے:
نصر الرسول صلى الله عليه وسلم وتوقيره واجب....... وقتل سابه مشروع كما تقدم، فلو جاز ترك قتله لم يكن نصراً ولا تعزيراً ولا توقيراً، بل ذالك أقل نصره لأن ساب فى الدنيا ونحن متمكنون منه، فان لم نقتله مع ان قتله جائز لكان غاية فى الخذلان وترك التعذير له والتوقير. ١؎
ان هذا وأن كان حدا فهو قتل حربى ايضاً، وصار بمنزلة قتل حربى تحتم قتله، وهذا يجوز قتله لكل احد، وعلى هذا يحمل قول ابن عمر رضى الله تعالىٰ عنهما فى الراهب الذى قيل له انه يسب النبى صلى الله عليه وسلم فقال لو سمعته لقتلته. ٢؎
فتاویٰ شامی میں ہے:
وجميع الكبائر....... يباح قتل الكل ويثاب قاتلهم“ ٣؎
”تنبيه الولاة والحكام“ میں ہے:
لاشک ان هذا الساب الشقى اللعين اقبح الكبائر. ٤؎
مذکورہ بالا عبارت کا مطلب یہ ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت و ناموس کا
١؎ ص ٢٣٠ ٢؎ ص ٢٢٠/٢١٩ ٣؎ ج ٣ ص ٦٢ ٤؎ ص ٣٣٤
باب اول گستاخ رسول کی سزا احادیث، فقہاء کرام کے اقوال، اجماع امت اور بائبل کی روشنی میں
دفاع کرنا مسلمانوں پر واجب ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی کرنے والا (معاذ اللہ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت پر حملہ آور ہو رہا ہے، لہٰذا مسلمانوں پر بالعموم اور حکمرانوں پر بالخصوص لازم ہے کہ ایسے بدبخت حملہ آور کو موت کے گھاٹ اتار دیا جائے، اگر باوجود قدرت کے بھی مسلمان خاموش رہے تو یہ انتہائی ذلت کی بات ہوگی، ایسا گستاخ تمام کبائر کے قبیح ترین جرم کا مرتکب ہوا ہے، لہٰذا وہ مباح الدم ہو چکا ہے۔ ١
☆☆☆☆☆☆.......☆☆☆☆☆☆
١ (فتاویٰ بینات ج ۱ ص ۹۸۔ ۱۰۶، کتاب العقائد میں اس موضوع پر تفصیلی بحث موجود ہے)
باب اوّل
گستاخ رسول کی سزا احادیث فقہاء کرام کے اقوال، اجماع امت اور بائبل کی روشنی میں
- ☆...... نامور دینی سکالر مولانا زاہد الراشدی مدظلہ لکھتے ہیں:
جہاں تک کہ بائبل کا تعلق ہے تو وہ نہ صرف توہین مذہب پر موت کی سزا تجویز کرتی ہے بلکہ مذہبی رہنماؤں کی توہین بھی اس کے نزدیک ایسی سزا ہے جس کی سزا صرف موت ہے ہم اس سلسلہ میں بائبل کی چند عبارات شواہد کے طور پر پیش کرنا چاہتے ہیں۔
- ☆...... بت پرستی پر قتل کی سزا کا واقعہ بائبل کی کتاب گنتی کے باب 25 میں اس طرح بیان کیا گیا
ہے کہ: ”وہ عورتیں ان لوگوں کو اپنے دیوتاؤں کی قربانیوں میں آنے کی دعوت دیتی تھیں اور یہ لوگ جا کر کھاتے اور ان کے دیوتاؤں کو سجدہ کرتے تھے، یوں اسرائیل بعل فغور کو پوجنے لگے تب خداوند کا قہر بنی اسرائیل پر بھڑکا، اور خداوند نے موسیٰ سے کہا قوم کے سب سرداروں کو پکڑ کر خداوند کے سامنے دھوپ میں ٹانگ دے تا کہ خداوند کا شدید قہر بنی اسرائیل سے ٹل جائے ، سو موسیٰ نے بنی اسرائیل کے حاکموں سے کہا کہ تمہارے جو آدمی بعل فغور کی پوجا کرنے لگے ہیں ان کو قتل کر دو۔“
خدا پر کفر بکنے کی سزا بائبل کی کتاب احبار کے باب 24 میں موت بتائی گئی ہے۔ ”اور بنی اسرائیل سے کہہ دے کہ جو کوئی اپنے خدا پر لعنت کرے اس کا گناہ اسی کے سر لگے گا اور وہ جو خداوند کے نام پر کفر بکے ضرور جان سے مارا جائے ساری جماعت اسے قطعی سنگسار کرے۔“
- ☆...... سبت کے مقدس دن کی توہین پر موت کی سزا بائبل کی کتاب گنتی کے باب 15 میں
یوں بیان کی گئی ہے۔ ”اور جب بنی اسرائیل بیابان میں رہتے تھے، ان دنوں انہیں ایک آدمی سبت کے دن لکڑیاں جمع کرتا ہوا ملا وہ اسے موسیٰ اور ہارون علیہم
باب اول گستاخ رسول کی سزا احادیث فقہاء کرام کے اقوال، اجماع امت اور بائبل کی روشنی میں
السلام کے پاس لے گئے انہوں نے اسے حوالات میں رکھا کیوں کہ ان کو نہیں بتایا گیا تھا کہ اس کے ساتھ کیا کرنا چاہیے، تب خداوند نے موسیٰ سے کہا کہ یہ شخص ضرور جان سے مارا جائے، ساری جماعت لشکر گاہ سے باہر لے جاکر اسے سنگسار کرے چنانچہ جیسا کہ خداوند نے موسیٰ کو حکم دیا تھا، اس کے مطابق ساری جماعت نے اسے لشکر گاہ سے باہر لے جاکر سنگسار کر دیا اور وہ مر گیا۔“
- ☆...... اولاد کو بت کے نام پر نذر کرنے کی سزا احبار کے باب 20 میں موت بیان کی گئی ہے۔
”پھر خداوند نے موسیٰ سے کہا کہ تو بنی اسرائیل سے یہ بھی کہہ دے کہ بنی اسرائیل میں سے ان پردیسیوں سے جو اسرائیلیوں کے درمیان بود و باش کرتے ہیں جو کوئی شخص اپنی اولاد میں سے کسی کو مولوک کی نذر کرے وہ ضرور مارا جائے اہل ملک اسے سنگسار کر دیں۔“
- ☆...... احبار کے باب 20 میں ماں باپ کی توہین کی سزا موت بتائی گئی ہے ”جو کوئی اپنے ماں
یا باپ پر لعنت کرے وہ ضرور جان سے مارا جائے۔“
- ☆...... قاضی اور کاہن کی توہین پر موت کی سزا مقرر کی گئی ہے جیسا کہ بائبل کی کتاب استثناء
کے باب 17 میں یوں درج ہے۔
”شریعت کی جو بات وہ تجھ کو سکھائیں اور جیسا فیصلہ تجھ کر بتائیں اسی کے مطابق کرنا اور وہ جو کچھ فتویٰ دیں، اس سے داہنے یا بائیں نہ مڑنا، اور اگر کوئی شخص گستاخی سے پیش آئے کہ اس کاہن کی بات جو خداوند تیرے خدا کے حضور کھڑا رہتا ہے، یا اس قاضی کا کہا نہ سنے تو وہ شخص مار ڈالا جائے اور تو اسرائیل سے ایسی برائی کو دور کر دینا اور سب لوگ ڈر جائیں گے۔ پھر گستاخی سے پیش نہیں آئیں گے۔“
- ☆...... بائبل کی کتاب احبار کے باب 25 میں احکام شریعت پر عمل کرنے کی اہمیت اور برکات
باب اول گستاخ رسول کی سزا احادیث فقہاء کرام کے اقوال، اجماع امت اور بائبل کی روشنی میں
کا یوں تذکرہ کیا گیا ہے کہ ”اور تم ایک دوسرے پر اندھیر نہ کرنا بلکہ اپنے خدا سے ڈرتے رہنا کیونکہ میں تمہارا خداوند ہوں، سو تم میری شریعت پر عمل کرنا اور میرے حکموں کو ماننا اور ان پر چلنا تو تم اس ملک میں امن کے ساتھ بسے رہو گے، اور زمین پھلے گی اور تم پیٹ بھر کر کھاؤ گے، اور وہاں امن کے ساتھ رہو گے۔“
- ☆...... جب کہ شریعت پر نہ چلنے والوں کا وبال احبار کے باب 26 میں یوں بتایا گیا ہے۔
”لیکن اگر تم سب میری نہ سنو اور ان سب حکموں پر عمل نہ کرو اور میری شریعت کو ترک کر دو اور تمہاری روحوں کو میرے فیصلوں سے نفرت ہو تو میں بھی تمہارے ساتھ اس طرح پیش آؤں گا کہ دہشت، تپ دق، بخار کو تم پر مقرر کر دوں گا جو تمہاری آنکھوں کو چوپٹ کر دیں گے اور تمہاری جان کو گھلا ڈالیں گے اور تمہارا بیج بونا فضول ہوگا اور جن کو تم سے عداوت ہے وہی تم پر حکمرانی کریں گے اور جب تم کو کوئی رگیدتا بھی نہ ہو گا تب بھی تم بھاگو گے۔“
- ☆...... یہ سارے موسوی شریعت کے احکام ہیں جن کی سیدنا عیسیٰ علیہ السلام نے توثیق کر کے
انہیں مسیحی شریعت کا حصہ بنا دیا چنانچہ انجیل متی کے باب 5 میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا ارشاد یوں روایت کیا گیا ہے کہ:
”یہ نہ سمجھو کہ میں توریت یا نبیوں کی کتابوں کو منسوخ کرنے آیا ہوں، منسوخ کرنے نہیں بلکہ پورا کرنے آیا ہوں کیونکہ میں تم سے سچ کہتا ہوں کہ جب تک آسمان اور زمین نہ ٹل جائیں ایک نقطہ یا ایک شوشہ توریت سے ہرگز نہ ٹلے گا اور جب تک سب کچھ پورا نہ ہو جائے ۔
پس جو کوئی ان چھوٹے چھوٹے حکموں میں سے بھی کسی کو توڑے گا اور یہی لوگوں کو سکھائے کہ وہ آسمان کی بادشاہت میں سب سے چھوٹا کہلائے گا لیکن جو ان پر عمل کرے گا اور ان کی تعلیم دے گا وہ آسمان کی بادشاہت میں بڑا کہلائے گا۔“ 1؎
☆☆☆☆☆☆.......☆☆☆☆☆☆
1؎ روزنامہ ”اسلام“ لاہور ۲۱ جنوری ۲۰۱۱ء
کلیات اشعر
افادات و سوانح: مولانا عبدالرحیم اشعر صفحات: 288 ترتیب و تبویب: مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی ہدیہ: 180
کتاب کو درج ذیل ابواب پر تقسیم کیا گیا ہے۔
طلباء اور تاجر حضرات کیلئے آج ہی اپنی کاپی محفوظ کرایئے!
- باب اوّل: حیات و خدمات
- باب دوم: انٹرویوز
- باب سوم: مرزائیت اور کذب مرزا
- باب چہارم: مسئلہ ختم نبوت
- باب پنجم: ختم نبوت کے خلاف قادیانی دلائل اور جوابات
- باب ششم: حیات عیسیٰ علیہ السلام
- باب ہفتم: حیات مسیح علیہ السلام کے خلاف قادیانی دلائل اور ان کے جوابات
- باب ہشتم: تصنیفات اشعر
مذکورہ بالا افادات درحقیقت مولانا مرحوم کی املائی کاپی سے ماخوذ ہیں۔ جنہیں محنت کے ساتھ تخریج، تسہیل، ترتیب و تبویب کیا گیا ہے۔ مناظرانہ ذوق رکھنے حضرات، علماء خطباء، مدرسین طلبہ کے لئے یکساں شاندار تحفہ ہے۔
ناشر ادارہ اشاعت الخیر موبائل نمبر: 6347103-0300 فون نمبر: 7301239-0300 موبائل نمبر: 4385230-0300 بیرون بوہڑ گیٹ اردو بازار ملتان فون نمبر: 4577468-061
زمانہ نبویؐ کے گستا
- ...... ابولہب کی گستاخی اور اس
- ...... عتبہ بن ابولہب کا انجام
- ...... عامر بن طفیل اور اربد بن
- ...... خالد بن سفیان الہذلی
- ...... عقبہ بن ابی معیط کا انجام
- ...... ابو جہل کا دونو عمر بچوں کے ہا
- ...... آپ کو ابتر کہنے والے مشرک
- ...... حضور پر ناانصافی کا الزام
- ...... شاتم رسول کا اپنے بیٹے ک
- ...... توہین رسالت کے مرتکب
- ...... حضرت سعد بن معاذؓ کے ہاتھ
- ...... توہین رسالت کرنے وا
- ...... گستاخ رسول جن کا قتل
- ...... آپ کی دعوت کا مذاق اڑانے
تاج
اشعر
صفحات: 288 ہدیہ: 180 کیا گیا ہے۔
طلبہ اور تاجر حضرات کیلئے جلدی اپنی کاپی محفوظ کرائیے! دلائل اور جوابات قادیانی دلائل اور ان کے جوابات
سے ماخوذ ہیں۔ ہے ۔ مناظرانہ شاندار تحفہ ہے۔
0300-6347108 0300-4385236 061-4577468
باب دوم:
زمانہ نبوی کے گستاخان رسالت کا انجام
- ☆...... ابولہب کی گستاخی اور اس کا عبرتناک انجام
- ☆...... عتبہ بن ابولہب کا انجام
- ☆...... عامر بن طفیل اور اربد بن حسنین کا انجام
- ☆...... خالد بن سفیان الہذلی
- ☆...... عقبہ بن ابی معیط کا انجام
- ☆...... ابوجہل کا دو نو عمر بچوں کے ہاتھوں کا قتل
- ☆...... آپ کو ابتر کہنے والے مشرکین کا عبرتناک انجام
- ☆...... حضور پر نا انصافی کا الزام لگانے والے کا قتل
- ☆...... شاتم رسول کا اپنے بیٹے کے ہاتھوں قتل
- ☆...... توہین رسالت کے مرتکب نو بھائیوں کا قتل
- ☆...... حضرت سعد بن معاذ کے ہاتھوں ایک شاتم رسول کی موت
- ☆...... توہین رسالت کرنے والے کو قبر نے قبول نہ کیا
- ☆...... گستاخ رسول جن کا قتل
- ☆...... آپ کی دعوت کا مذاق اڑانے والے پر آسمانی بجلی گرنا
- ☆...... ابوجہل کا عبرتناک انجام
- ☆...... خسرو پرویز کا انجام
- ☆...... الشیریہودی کا عبرتناک انجام
- ☆...... رفاعہ بن قیس جشمی کا قتل
- ☆...... معاویہ بن مغیرہ کا قتل
- ☆...... ابن سیابہ یہودی کی موت
باب دوم :
ابولہب کی گس
ابولہب کا اصل نام عب بھائی تھا یعنی دونوں کا باپ ایک نکاح بھی آپ ﷺ کی صاحبزاد سے ہوا لیکن اعلان نبوت سنتے ہ اس حد تک شرمناک ہو گیا کہ ع کا نام لے کر اللہ تبارک و تعالیٰ ن
ابولہب آپ ﷺ ک موت تک آپ ﷺ کا سخت مخا سخت دشمن تھے۔ رسول اللہ ﷺ ابولہب کے دونوں بیٹوں کے س
عناد کی انتہا یہ ہو گئی دعوت دے رہے ہوتے تو یہ کذاب ہے۔ کتب تاریخ میں سے نہ جانے دیتا تھا ابولہب ک آپ ﷺ کا گھر ان دونوں کے آپ ﷺ کبھی نماز پڑھ رہے ہنڈیا میں غلاظت پھینک دیت
جب رسول اللہ ﷺ
باب دوم : زمانہ نبویؐ کے گستاخان رسالت کا انجام
ابولہب کی گستاخی اور اس کا عبرتناک انجام
ابولہب کا اصل نام عبدالعزیٰ تھا۔ وہ رسول اکرم ﷺ کے والد جناب عبداللہ کا علاتی بھائی تھا یعنی دونوں کا باپ ایک ہی تھا اعلان نبوت سے قبل وہ اسکے دو بیٹوں عتبہ اور عتیبہ کا نکاح بھی آپ ﷺ کی صاحبزادیوں حضرت رقیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا اور حضرت ام کلثوم رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے ہوا لیکن اعلان نبوت سنتے ہی وہ بدترین دشمن بن گیا نبی کریم ﷺ کی دشمنی میں اس کا کردار اس حد تک شرمناک ہو گیا کہ عہد رسالت کے اعدائے اسلام میں ابولہب وہ واحد شخص ہے جس کا نام لے کر اللہ تبارک وتعالیٰ نے سورۃ اللھب میں اپنے غصہ کا اظہار فرمایا۔
ابولہب آپ ﷺ کے دوسرے چچاؤں کی نسبت مختلف تھا یہ شروع اسلام سے لے کر موت تک آپ ﷺ کا سخت مخالف تھا ابولہب اور اس کے بیٹے عتبہ اور عتیبہ رسول اللہ ﷺ کے سخت دشمن تھے۔ رسول اللہ ﷺ کی دو صاحبزادیاں رقیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا اور کلثوم رضی اللہ تعالیٰ عنہا ابولہب کے دونوں بیٹوں کے نکاح میں تھیں ابولہب نے اپنے بیٹوں کو ڈرا دھمکا کر طلاق دلوادی۔
عناد کی انتہا یہ ہوگئی کہ جب نبی کریم ﷺ کبھی بازار میں لوگوں کو ”لا الہ الا اللہ“ کی دعوت دے رہے ہوتے تو یہ پیچھے سے آپ ﷺ پر پتھر برساتا اور کہتا لوگو! یہ شخص (معاذ اللہ) کذاب ہے۔ کتب تاریخ میں لکھا ہے کہ یہ شخص نبی کریم ﷺ کی توہین وتذلیل کا کوئی موقع ہاتھ سے نہ جانے دیتا تھا ابولہب مکہ میں آپ ﷺ کا ہمسایہ بھی تھا دوسرا ہمسایہ عقبہ بن ابی معیط تھا۔ آپ ﷺ کا گھر ان دونوں کے درمیان تھا یہ لوگ گھر میں بھی نبی کریم ﷺ کو چین نہ لینے دیتے۔ آپ ﷺ کبھی نماز پڑھ رہے ہوتے تو یہ آپ ﷺ کے اوپر بکری کی اوجھڑی پھینک دیتے اور کبھی ہنڈیا میں غلاظت پھینک دیتے۔
جب رسول اللہ ﷺ پر قرآن کریم کی آیت مبارک (وَاَنْذِرْ عَشِیْرَتَکَ
باب دوم : زمانہ نبوی کے گستاخانِ رسالت کا انجام الاقربین) یعنی اپنے قریبی رشتے داروں کو اللہ تبارک و تعالیٰ کے عذاب سے ڈراؤ۔ نازل ہوئی تو آپ ﷺ نے تمام کفار قریش کو کوہ صفا کے دامن میں جمع کرکے اعلان فرمایا۔ اے لوگو! ايها الناس قولو لا اله الا الله تفلحو اللہ تبارک و تعالیٰ کا عذاب آنے سے پہلے میں تمہیں خبردار کرتا ہوں اگر ایمان اور توحید اختیار نہیں کرو گے تو اللہ تبارک و تعالیٰ کے سخت عذاب میں مبتلا ہو جاؤ گے۔
اس مجمع میں آپ ﷺ کا چچا ابو لہب بھی موجود تھا اس نے آپ ﷺ کی بات سن کر اپنے ہاتھ جھٹکے اور کہا (الهذا جمعتنا تبا لک) تیرے لئے ہلاکت ہو کیا تو نے اس بات کے لئے ہمیں بلایا تھا پھر گالیاں دیتا ہوا اور بُرا بھلا کہتا ہوا وہاں سے چلا گیا اللہ تبارک و تعالیٰ کو یہ بات ناپسند ہوئی۔ ابو لہب کی اس ناشائستہ حرکت کے جواب میں پوری سورۃ لہب نازل فرمائی اس میں ابو لہب کی ذہنیت کی مذمت بیان کی گئی۔
ابو لہب کی عبرتناک موت
قرآن نے تو پیشین گوئی فرمادی تھی کہ یہ بدبخت ابو لہب جن ہاتھوں سے رسول اللہ ﷺ کو پتھر مارتا ہے عنقریب تم دیکھ لو گے کہ وہ خود بھی ہلاک ہوگا اور اس کے یہ دونوں ظالم ہاتھ بھی تباہ ہوں گے اور اس کا مال و دولت اور بیٹے بھی کچھ کام نہیں آئیں گے۔ چنانچہ ابو لہب کا انجام یہ ہوا کہ خود جنگ بدر میں شریک نہ ہوا بلکہ مکہ کے دستور کے مطابق اپنی جگہ عاص بن ہشام کو بھیج دیا اور خود مکہ میں رہ کر لڑائی کے نتیجے کا انتظار کرتا رہا۔ ابھی تک لوگ بدر سے واپس نہ آئے تھے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ابو لہب کو ذلت کی موت دی کہ اسے طاعون کی بیماری لاحق ہوئی۔ چونکہ یہ موذی بیماری ہے اس لیے بیماری شروع ہوتے ہی ابو لہب کے بیٹوں میں سے کوئی قریب نہ جاتا تھا وہ اسی کربناک حالت میں پڑے پڑے مر گیا۔ مرنے کے بعد تین دن تک کوئی بھی اس کی لاش کے قریب نہ گیا۔ بالآخر حبشی غلاموں کو کرائے پر حاصل کیا گیا جو اس کی لاش کو لکڑی کے سہارے ایک گڑھے تک لے گئے اس کے بعد گڑھے میں لڑھکا کر اوپر سے پتھر ڈال دیئے۔
باب دوم :
عتبہ بن ابی لہب کا عبرتناک
عتبہ جس نے باپ (ابو ﷺ کو طلاق دی تھی اس نے بارگا آپ ﷺ کے پاس آیا اور گستاخانہ طرف تھوکا (جو آپ ﷺ پر پڑا نہی آپ ﷺ نے دعا کی ”اللهم س کتوں میں سے ایک کتے کو مسلط ایک تجارتی قافلے میں شام کی طر ایک ایسی جگہ قیام کیا جہاں اس آتے ہیں اس پر قافلے والوں نے ابو لہب کی خواہش پر عتبہ کی حفا بٹھا دیئے اور پھر سب لوگ اطمینا درمیان سے گزر کر عتبہ کو چیر پھاڑ
عامر بن طفیل اور اربد ب
عامر بن طفیل اور اربد نے اسے اسلام قبول کر لینے کا م بضد رہا اسکا کہنا تھا اللہ کی قسم ! م تعاقب سے کبھی بھی باز نہ آؤں قریش کے اس نوجوان (محمد ﷺ اللہ ﷺ کو نعوذ باللہ قتل کرنے کی سا آدمی یعنی رسول اللہ ﷺ سے ب
باب دوم : زمانہ نبوی کے گستاخان رسالت کا انجام
عتبہ بن ابی لہب کا عبرتناک انجام
عتبہ جس نے باپ (ابولہب) کے کہنے پر حضرت ام کلثوم رضی اللہ تعالیٰ عنہا بنت رسول ﷺ کو طلاق دی تھی اس نے بارگاہ رسالت میں گستاخی اور بدتمیزی کی انتہاء کر دی۔ ایک دن وہ آپ ﷺ کے پاس آیا اور گستاخانہ لہجے میں قرآن حکیم کی بعض آیتوں کا انکار کیا؟ آپ ﷺ کی طرف تھوکا ( جو آپ ﷺ پر پڑا نہیں ) یہ حرکت آپ ﷺ کے لئے سخت رنج کا باعث ہوئی اور آپ ﷺ نے دعا کی ”اللهم سلط علیٰ عتبہ کلبا من کلابک“ الہی اس پر اپنے کتوں میں سے ایک کتے کو مسلط کر دے۔ اس واقعہ کے چند دن بعد عتبہ اپنے باپ کے ساتھ ایک تجارتی قافلے میں شام کی طرف روانہ ہوا۔ راستے میں قافلے نے شب گزاری کے لئے ایک ایسی جگہ قیام کیا جہاں اس علاقے کے باشندوں نے بتایا کہ راتوں کو اکثر جنگلی درندے آتے ہیں اس پر قافلے والوں نے عمومی طور پر بھی قافلے کی حفاظت کا اچھی طرح انتظام کیا اور ابولہب کی خواہش پر عتبہ کی حفاظت کا خاص اہتمام اس طرح کیا کہ اس کے گرد اپنے اونٹ بٹھا دیئے اور پھر سب لوگ اطمینان سے سو گئے خدا کا کرنا رات کو ایک شیر آیا اور اونٹوں کے درمیان سے گزر کر عتبہ کو چیر پھاڑ کر کھا گیا۔
عامر بن طفیل اور اربد بن قیس کا انجام
عامر بن طفیل اور اربد بن قیس اپنے اپنے قبیلوں کے سردار تھے عامر کے قبیلے والوں نے اسے اسلام قبول کر لینے کا مشورہ دیا کیونکہ اور بہت سے اسلام قبول کر چکے تھے لیکن عامر بضد رہا اسکا کہنا تھا اللہ کی قسم! میں لوگوں کو مسلمان ہونے سے منع کرنے کے لئے ان کے تعاقب سے کبھی بھی باز نہ آؤں گا تا آنکہ پورا عرب میری پیروی نہ کرے اور تم ہو کہ مجھے قبیلہ قریش کے اس نوجوان (محمد ﷺ) کے نقش قدم پر چلنے کا مشورہ دیتے ہو؟ تب اس نے رسول اللہ ﷺ کو نعوذ باللہ قتل کرنے کی قسم کھائی ایک روز عامر نے اپنے دوست اربد بن قیس سے کہا اس آدمی یعنی رسول اللہ ﷺ سے نعوذ باللہ خلاصی حاصل کرنے کا وقت آگیا ہے آؤ چلیں اور یہ کام
باب دوم : زمانہ نبوی کے گستاخانِ رسالت کا انجام
کر آئیں عامر نے ایک منصوبہ بنایا اپنے دوست کو سمجھایا کہ عامر رسول اللہ ﷺ کو گفتگو میں مصروف رکھے گا جس دوران میں وہ (اربد) تلوار سے ان کے سر پر وار کرے گا۔ جب وہ رسول اللہ ﷺ سے ملاقی ہوئے تو عامر نے پوچھا کہ کیا وہ ان سے تخلیہ میں بات کر سکتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے انکار کر دیا یہ کہتے ہوئے کہ یہ صرف اسی صورت میں ممکن ہو سکتا ہے کہ عامر مسلمان ہو جائے کیونکہ یہ رعایت خاص صرف مسلمانوں کو دی جاتی ہے اس کے باوجود عامر اپنی بات منوانے کی خاطر رسول اللہ ﷺ کو گفتگو میں الجھائے رکھنے کی کوشش میں رہا تا کہ اپنے دوست کو متفقہ منصوبہ عمل میں لانے کے قابل بنا سکے لیکن اربد نے کوئی اقدام ہی نہ کیا اور منصوبہ ناکام رہا مایوسی کے عالم میں عامر نے جاتے جاتے غصے میں رسول اللہ ﷺ کو یہ کہتے ہوئے دھمکی دی قسم اللہ کی ! میں تمہارے خلاف تمام سوار اور پیادے جمع کر لاؤں گا اور تمہاری نبوت کی سب نشانیاں مٹا دوں گا راستے میں وہ اربد پر غیض و غضب کی حالت میں تھا عامر شعلے برساتے ہوئے کہہ رہا تھا لعنت ہو تم پر اربد ! تم نے متفقہ منصوبے پر عمل کیوں نہ کیا ؟ اربد نے عامر کو ٹھنڈا کرنے کی کوشش کی اور پھر جواز پیش کیا کہ جب بھی اس نے کوشش کی اسے صرف عامر کا چہرہ ہی نظر آیا بوکھلائے ہوئے اور بدحواس اربد نے عامر سے سوال کیا ! کیا مجھے تمہارے سر پر تلوار سے وار کرنا تھا ؟ لیکن رسول اللہ ﷺ عامر کے بدسلوک سے بے حد دل برداشتہ اور اللہ سے دعا کرتے تھے کہ وہ عامر کو سزا دے اور برباد کر دے پھر رسول اللہ ﷺ نے اس شریر آدمی سے اللہ کی پناہ مانگی اور اس دشمن دین سے دنیا کو خلاصی دلانے کے لئے اللہ القوی سے استدعا کی رسول اللہ ﷺ کی دعا فوری طور پر قبول ہوئی واپسی پر عامر کو طاعون نے آلیا اور وہ بدنامی میں مرا جب کہ اربد کو آسمانی بجلی نے غارت کر دیا۔
خالد بن سفیان الہذلی
خالد بن سفیان الہذلی اسلام کا بدترین دشمن تھا وہ رسول اللہ ﷺ کو گالی دیا کرتا اور لوگوں کو آپ کے خلاف اُکساتا جب وہ رسول اللہ ﷺ کے مخالف مہم چلانے کے لئے نخلہ یا بقول دوسروں کے عرنہ جانے کے لئے روانہ ہوا تو رسول اللہ ﷺ نے عبداللہ بن انیس کو خالد
باب دوم : الہذلی کا قصہ تمام کرنے کے ل رسول اللہ ﷺ نے ایک لشکر جمع کر کے حملہ کرنے ک کردوں میں نے رسول اللہ ﷺ اس کو دیکھ پاؤ گے تو وہ تمہیں شیط ایک تلوار سے لیس ہ کی نماز کا وقت ہو چکا تھا اس لی کے بعد جب میں نے اسے د اس کے ارد گرد خواتین کا ایک ہوں ؟ جس کے جواب میں ا ہوں میں نے سنا ہے کہ خالد آپ کو اللہ کا رسول ﷺ ہو ہوں اس نے جواب دیا کہ چلتا پھرتا رہا اور جیسے ہی موقع مامور مقصد کی تکمیل کے بع لاش پر بین کر رہی تھیں جب تو آپ ﷺ نے مجھے دیکھ کر ف عبداللہ جس نے میں نے رسول ا جواب میں آپ ﷺ نے فرما تم فی الواقع کا پھر رسول اللہ ﷺ
زمانہ نبویؐ کے گستاخان رسالت کا انجام
کو سمجھایا کہ عامر رسول اللہ ﷺ کو گفتگو میں الجھائے گا اور اربد ان کے سر پر وار کرے گا۔ پھر تو عامر نے پوچھا کہ کیا وہ ان سے تخلیہ میں ملیں گے؟ آپ ﷺ نے فرمایا کہ یہ صرف اسی صورت میں ممکن ہے کہ تم صرف ایک اللہ پر ایمان لاؤ اس کے بعد عامر گفتگو میں الجھائے رکھنے کی کوشش میں لگا تاکہ اربد حملے کے قابل بنا سکے لیکن اربد نے کوئی اقدام ہی نہ کیا جاتے جاتے غصے میں رسول اللہ ﷺ کو یہ دھمکی دی کہ میں آپ کے خلاف تمام سوار اور پیادے جمع کر لاؤں گا اور چونکہ وہ اربد پر غیض و غضب کی حالت میں تھا اس لئے اس نے کہا کہ اربد! تم نے متفقہ منصوبے پر عمل کیوں نہ کیا؟ اربد نے اپنی صفائی میں یہ دلیل دی کہ جب بھی اس نے کوشش کی اسے نبیؐ کی بجائے عامر ہی نظر آیا۔ تو خود اربد نے عامر سے سوال کیا! کیا مجھے اپنے دوست کو مارنا تھا؟ عامر کے بدسلوک سے بے حد دل برداشتہ ہوئے اور بددعا کی کہ اے اللہ عامر کو تباہ و برباد کر دے پھر رسول اللہ ﷺ نے نیز اربد سے دنیا کو خلاصی دلانے کے لئے اللہ القوی سے دعا کی ہوئی واپسی پر عامر کو طاعون نے آلیا اور وہ ہلاک ہو گیا۔
ایک دشمن تھا وہ رسول اللہ ﷺ کو گالی دیا کرتا اور مسلمانوں کے خلاف مہم چلانے کے لئے نخلہ میں تھا۔ رسول اللہ ﷺ نے عبداللہ بن انیس کو خالد
باب دوم : زمانہ نبویؐ کے گستاخان رسالت کا انجام
الہذلی کا قصہ تمام کرنے کے لئے مامور فرمایا عبداللہ بن انیس بیان کرتے ہیں۔ رسول اللہ ﷺ نے مجھے بلایا اور کہا کہ انہوں نے خالد بن سفیان الہذلی کے نخلہ میں ایک لشکر جمع کر کے حملہ کرنے کی خبر سنی ہے پھر رسول اللہ ﷺ نے مجھے حکم دیا کہ میں جا کر اس کو ختم کر دوں میں نے رسول اللہ ﷺ سے اس کا حلیہ بتانے کی درخواست کی۔ انہوں نے فرمایا اگر تم اس کو دیکھ پاؤ گے تو وہ تمہیں شیطان کی یاد دلائے گا مزید یہ کہ وہ ہر وقت کانپتا رہتا ہے۔
ایک تلوار سے لیس ہو کر میں اس کی تلاش میں نکلا جب میں نے اس کو دیکھا تو عصر کی نماز کا وقت ہو چکا تھا اس لئے میں نے پہلے عصر کی نماز ادا کرنے کا فیصلہ کر لیا نماز ختم کرنے کے بعد جب میں نے اسے دیکھا تو ہو بہو جیسے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تھا ویسے کانپ رہا تھا۔ اس کے ارد گرد خواتین کا ایک گروہ تھا جب اس نے مجھے دیکھا تو مجھ سے پوچھا کہ میں کون ہوں؟ جس کے جواب میں اپنی اصل شناخت چھپاتے ہوئے میں نے کہا کہ میں ایک عرب ہوں میں نے سنا ہے کہ خالد الہذلی ایک فوج جمع کر رہا ہے ایک ایسے شخص کے خلاف جو اپنے آپ کو اللہ کا رسول ﷺ ہونے کا اعلان کر چکا ہے میں ایسی فوج میں شامل ہونے کے لئے آیا ہوں اس نے جواب دیا کہ فی الواقع وہ ایک ایسی فوج جمع کر رہا ہے میں کچھ دیر اس کے ساتھ چلتا پھرتا رہا اور جیسے ہی موقع ملا میں نے تلوار سے وار کر کے اس کو موت سے ہمکنار کر دیا اپنے مامور مقصد کی تکمیل کے بعد میں نے تیزی سے راہ فرار اختیار کی جب کہ اس کی عورتیں اس کی لاش پر بین کر رہی تھیں جب میں رسول اللہ ﷺ کے حضور یعنی خدمت اقدس میں میں واپس ہوا تو آپ ﷺ نے مجھے دیکھ کر کہا۔
کامیاب ہو وہ چہرہ
میں نے رسول اللہ ﷺ کو بتایا کہ میں نے اسے موت کی نیند سلا دیا ہے اس کے جواب میں آپ ﷺ نے فرمایا۔
تم فی الواقع سچ کہہ رہے ہو۔
پھر رسول اللہ ﷺ مجھے اپنے گھر لے گئے اور مجھے ایک چھڑی عطا کی آپ ﷺ نے
باب دوم : زمانہ نبوی کے گستاخان رسالت کا انجام
مجھ سے فرمایا کہ میں ہمیشہ اپنے پاس رکھوں اور ارشاد فرمایا۔
میرے اور تمہارے درمیان روز جزا یہ ایک نشانی ہوگی۔
پس عبداللہ نے چھڑی کو تلوار کے ساتھ باندھ لیا اور یہ ان کے آخری دم تک ان کے پاس رہی وہ چھڑی ان کے ساتھ ہی قبر میں دفن کی گئی۔
عقبہ ابن ابی معیط اور اس کا انجام
ایک روز رسول اکرم ﷺ حرم مکہ میں تشریف لائے کفار نے کسی بت کے نام پر اونٹ ذبح کیا تھا۔ اس کی گوبر اور خون آلود اوجھڑی وہاں پڑی تھی ابو جہل نے اپنے ساتھیوں سے کہا کہ آج یہ اوجھڑی لاکر کون محمد ﷺ کی پیٹھ پر رکھے گا ناہنجار کمینہ صفت عقبہ بن ابی معیط شیطانی انداز میں کندھے مٹکاتے ہوئے کہنے لگا آج یہ کام میں سرانجام دوں گا وہ اٹھا گوبر اور خون میں لت پت اوجھڑی اٹھائی رسول اقدس ﷺ جب سجدے کی حالت میں تھے آپ کی پیٹھ پر رکھ دی یہ منظر دیکھ کر ابو جہل اور اس کے ساتھی کھلکھلا کر ہنسنے لگے۔ ان شیاطین کی ہنسی ضبط ہی نہیں ہورہی تھی قہقہے لگاتے ہوئے لوٹ پوٹ ہو رہے تھے جب حضرت فاطمۃ الزہراء رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو اس اندوہناک واقعے کا علم ہوا تو دوڑتی ہوئی آئیں اوجھڑی اٹھا کر دور پھینکی اور اپنے معصوم ہاتھوں سے اپنے ابا جان کے بدن کو دھویا صاف کیا جوش محبت واحترام میں ان شیاطین کو خوب سنائیں جب رسول اقدس ﷺ نماز سے فارغ ہوئے تو اللہ تبارک وتعالیٰ کے حضور یہ التجا کی۔
الٰہی! ابو جہل بن ہشام، شیبہ بن ربیعہ، عقبہ بن ابی معیط اور امیہ بن خلف کو اپنے شکنجے میں جکڑ لے۔
یہ شیاطین غزوہ بدر میں موت کے گھاٹ اتار دیئے گئے تھے لیکن عقبہ بن ابی معیط کو قیدی بنا کر شاہ امم سلطان مدینہ ﷺ کی خدمت میں پیش کیا گیا آپ ﷺ نے اسے قتل کرنے کا حکم صادر فرمایا اس نے کانپتے ہوئے پوچھا۔
میرے بچوں کا انجام کیا ہوگا۔
فرمایا جہنم۔
باب دوم : زمانہ نبوی کے گستاخان رسالت کا انجام
پوچھا کیا مجھے قریشی ہونے کے باوجود قتل کر دیا جائے گا۔ فرمایا ہاں! پھر آپ ﷺ نے صحابہ کرام کی طرف نگاہ اٹھاتے ہوئے ارشاد فرمایا کیا تمہیں معلوم ہے کہ اس ناہنجار کا جرم کیا ہے؟ اس نے ایک مرتبہ میری گردن پر پاؤں رکھ کر پورے زور سے دبایا جب کہ میں حرم کعبہ میں سجدے کی حالت میں تھا مجھے یوں محسوس ہوا کہ میری آنکھیں ابھی باہر آجائیں گی۔ دوسری مرتبہ سجدے ہی کی حالت میں اس بدبخت نے میری کمر پر خون اور گوبر سے لتھڑی ہوئی اونٹ کی اوجھڑی رکھ دی جسے فاطمہ (رضی اللہ عنہا) بیٹی نے آکر اٹھایا اور میرے جسم کو پانی سے صاف کیا۔
عقبہ بن ابی معیط کو حضرت عاصم بن ثابت نے واصل جہنم کیا رسول اللہ ﷺ نے عقبہ کی لاش کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا۔ تم کتنے قبیح اور غلیظ تھے خدا کی قسم ! میں نے تم سے زیادہ کفر گو انسان نہیں دیکھا آج میں اللہ تبارک وتعالیٰ کا شکر ادا کرتا ہوں جس نے تمہیں موت دے کر تمہاری کافرانہ کرتوتوں سے مجھے آزاد کیا۔
آپ ﷺ کی استہزاء کرنے والوں کا عبرتناک انجام
محبوب خدا فخر دو جہاں سید المرسلین رحمت للعالمین خاتم النبیین حضرت محمد مصطفیٰ احمد مجتبیٰ ﷺ بیت اللہ شریف کے طواف میں مصروف ہیں سردار کائنات کی سردار ملائکہ سے ملاقات ہوئی آپ ﷺ نے حضرت جبرائیل امین علیہ السلام سے کافر لوگوں کے استہزاء اور تمسخر کی شکایت فرمائی اتنے میں ولید سامنے سے گزرا محبوب خدا نے فرمایا یہ ولید ہے۔ حضرت جبرائیل علیہ السلام نے ولید کی شہ رگ کی طرف اشارہ کیا محبوب آقا ﷺ نے دریافت فرمایا جبرائیل تو نے کیا کیا؟
جبرائیل علیہ السلام نے عرض کی ۔ یا رسول اللہ ﷺ آپ ولید سے کفایت کئے گئے اتنے میں اسود بن مطلب وہاں سے گزرا محسن کائنات ﷺ نے ارشاد فرمایا یہ اسود بن مطلب ہے۔ حضرت جبرائیل علیہ السلام نے اس کی آنکھوں کی طرف اشارہ کیا محسن انسانیت ﷺ
باب دوم : زمانہ نبوی کے گستاخان رسالت کا انجام
نے پوچھا یہ کیا کیا؟ جبرائیل ؑ نے عرض کیا۔ اللہ کے پاک پیغمبر ﷺ آپ اسود بن مطلب سے کفایت کیے گئے اس کے بعد اسود بن عبد یغوث کا وہاں سے گزر ہوا حضرت جبرائیل ؑ نے اس کے سر کی طرف اشارہ کیا آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا جبرائیل یہ کیا کیا۔ حضرت جبرائیل ؑ نے عرض کی۔ آقائے دو عالم ﷺ آپ اس سے کفایت کئے گئے اس کے بعد حارث گزرا۔ حضرت جبرائیل ؑ نے اس کے پیٹ کی طرف اشارہ کیا خاتم النبیین ﷺ نے ارشاد فرمایا جبرائیل یہ کیا کیا؟ جبرائیل ؑ نے عرض کی۔ سرور دو عالم ﷺ آپ اس سے کفایت کئے گئے۔ اس کے بعد عاص بن وائل گزرا حضرت جبرائیل ؑ نے اس کے پیر کے تلوؤں کی طرف اشارہ کیا آپ ﷺ کے پوچھنے پر عرض کیا محبوب آقا ﷺ آپ اس سے کفایت کئے گئے۔
- ٭....... چنانچہ ولید کا قصہ یوں ہوا کہ ولید ایک مرتبہ قبیلہ خزرج کے ایک شخص کے پاس سے
گزرا جو تیر بنا رہا تھا اتفاق سے اس کے کسی تیر پر ولید کا پاؤں پڑ گیا جس سے خفیف سا زخم ہو گیا اس زخم کی طرف اشارہ کرنا تھا کہ خون جاری ہو گیا ولید زخم کو روتا پیٹتا مر گیا۔
- ٭....... اسود بن مطلب کا حال یوں ہوا کہ ایک کیکر کے درخت کے نیچے جا کر بیٹھا ہی تھا
کہ اپنے لڑکوں کو زور زور سے بلانا شروع کر دیا کہ مجھے بچاؤ....... مجھے بچاؤ....... میری آنکھوں میں کوئی شخص کانٹے چبھا رہا ہے لڑکوں نے پریشان ہو کر کہا کہ ہمیں تو کوئی نظر نہیں آتا اسود بن مطلب بچاؤ بچاؤ چلاتے چلاتے اندھا ہو گیا۔
- ٭....... اسود بن یغوث پر یہ گزری کہ حضرت جبرائیل ؑ کا اس کے سر کی طرف اشارہ
کرنا تھا کہ سر میں پھوڑے اور پھنسیاں نکل پڑیں اور اسی اذیت میں تڑپ تڑپ کر مر گیا۔
- ٭....... حارث کا انجام تو بڑا عبرتناک ہوا کہ دفعتاً پیٹ میں ایسی بیماری پیدا ہوئی کہ منہ سے
پاخانہ آنے لگا۔ جس طرح مرزا دجال کے دونوں راستوں سے نجاست نکل رہی تھی اسی حالت میں جہنم واصل ہوا۔
باب دوم : زمانہ نبویؐ کے گستاخان رسالت کا انجام
- ☆ ...... عاص بن وائل کا حشر یہ ہوا کہ وہ گدھے پر سوار ہو کر طائف جا رہا تھا راستے میں
گدھے نے کود کر کہا جا کم بخت دفع ہو مجھ پر کیوں چڑھ بیٹھا۔ گدھے نے اس کو نیچے پھینک دیا اور وہ کسی خار دار گھاس پر جا گرا جس سے اس کے پاؤں میں ایک معمولی سے کانٹے کا زخم اس قدر شدید ہوا کہ جانبر نہ ہو سکا اور یونہی ایڑیاں رگڑ رگڑ کر مر گیا۔
ابو جہل کا دو نو عمر لڑکوں کے ہاتھوں قتل
ابو جہل رسول اللہ ﷺ کا سخت جانی دشمن تھا وہ اسلام سے نفرت کرنے اور مسلمانوں کی تضحیک کرنے میں پیش پیش رہتا۔ وہ رسول اللہ ﷺ کو جسمانی اذیت شدید درد اور ذہنی رنج پہنچانے والوں کا سرخیل تھا وہ ابو جہل ہی تھا جس کو رسول اللہ ﷺ پر غلاظت پھینکنے کا ناقابل یقین امتیاز حاصل تھا اس نے رسول اللہ ﷺ کو قتل کرنے کی سازش بھی کی اس نے جنگ بدر میں بھی شرکت کی جس میں وہ ہلاک ہوا دو انصاری بھائیوں معوذ اور معاذ نے اس شریر النفس انسان کو ختم کر دینے کی قسم کھا رکھی تھی۔
- ☆ ...... ابن ہشام نے تحریر کیا ہے۔
ایک روز ابو جہل مکہ والوں کو خطاب کرتے ہوئے رسول اللہ ﷺ کے خلاف بڑے سنگین الزام لگا رہا تھا جن کے نتیجے میں وہ رسول اللہ ﷺ کو ختم کر دینے کا فیصلہ کر چکا تھا۔ اس نے کہا میں نے ایک بھاری پتھر سے کام تمام کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔
پھر وہ رسول اللہ ﷺ کا انتظار کرنے لگا کہ کل جب وہ نماز کے لئے آئیں گے تو میں اس سے ان کی کھوپڑی پاش پاش کردوں گا۔ لوگوں نے جواب دیا کہ وہ اس منصوبے کی تائید کرتے ہیں اور جو کچھ بھی ہو اول سے لے کر آخری آدمی تک اس کا ساتھ دیں گے دوسری صبح ابو جہل نے پتھر اٹھایا اور کعبے کے پاس رسول اللہ ﷺ کا انتظار کرنے لگا۔ رسول اللہ ﷺ تشریف لائے اور نماز کے لئے کھڑے ہو گئے جب کہ قریش تھوڑے فاصلے پر بیٹھ گئے۔ دکھاوا تو ان کا یہ تھا کہ وہ اپنے معمولات میں مصروف ہیں لیکن درحقیقت وہ اس فعل کو دیکھنے کے لئے انتظار کر رہے تھے کہ ابو جہل کیا کرے گا۔ جب رسول اللہ ﷺ سجدے میں گئے تو ابو جہل نے پتھر
باب دوم زمانہ نبویؐ کے گستاخان رسالت کا انجام اٹھایا اور ان کی طرف گیا لیکن جب وہ رسول اللہ ﷺ کے نزدیک پہنچا تو اچانک خوفزدہ ہو گیا جیسے کہ اس نے کوئی غیر معمولی منظر دیکھا ہو وہ خوف سے کانپتے ہوئے واپس مڑا اور اس نے پتھر پھینک دیا۔ تب ابو جہل قریش کے مجمع کی طرف بھاگا جنہوں نے طے شدہ منصوبے کی اس اچانک تبدیلی کی جستجو میں اس سے پوچھا کہ کیا ہوا۔ اس نے بتایا کہ جب وہ رسول اللہ ﷺ کے نزدیک پہنچا تو ایک سانڈھ کہیں سے نمودار ہوا اور اس کا راستہ روک لیا اس نے قسم کھائی کہ اس نے اس سے قبل کسی سانڈھ کا ایسا سر، کاندھے اور دانت دوسرے اعضاء کی طرح کوئی چیز کبھی نہیں دیکھی اور ایسا معلوم ہوتا تھا کہ وہ اسے چبا جائے گا بعد میں رسول اللہ ﷺ سے اس واقعے کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے جواب دیا کہ حضرت جبرائیل علیہ السلام سانڈھ کے روپ میں آئے تھے اور اگر ابو جہل اور نزدیک آتا تو حضرت جبریل علیہ السلام اسے پوری طرح تباہ و برباد کر دیا ہوتا۔
آپ ﷺ کو ابتر کہنے والے مشرکین کا عبرت ناک انجام
حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے بطن سے چار صاحبزادیوں کے علاوہ آپ ﷺ کے دو بیٹے قاسم ؓ اور عبداللہ ؓ بھی تھے دونوں ہی کمسنی میں فوت ہو گئے حضرت قاسم ؓ کے بعد حضرت عبداللہ ؓ نے وفات پائی تو مشرکین مکہ نے انتہائی کمینگی کا مظاہرہ کیا اور تعزیت کرنے کے بجائے خوشی منائی اور ذہنی اذیت دینے کے لئے آپ ﷺ کو ’ابتر یعنی مقطوع النسل‘ کہنا شروع کر دیا۔
مکہ کے ایک سردار عاص بن وائل سہمی نے حضرت عبداللہ ؓ کے انتقال کی خبر سن کر کہا محمد ﷺ ابتر ہو گیا ہے اس کا کوئی بیٹا نہیں جو اس کا قائم مقام بنے جب وہ مر جائے گا تو اس کا نام دنیا سے مٹ جائے گا۔ آپ ﷺ کا چچا ابولہب جو آپ ﷺ کا ہمسایہ تھا وہ تو آپ ﷺ کے صاحبزادے کے انتقال کی خبر سن کر دوڑتا ہوا مشرکین کے پاس گیا اور ان کو خوشخبری دی کہ آج رات محمد (ﷺ) ”ابتر“ ہو گیا ہے ابو جہل اور عقبہ بن ابی معیط نے بھی ایسے ہی کمینے پن کا مظاہرہ کیا۔
اس کے جواب میں اللہ تبارک وتعالیٰ نے سورۃ کوثر نازل فرمائی۔ اے نبی ہم نے تمہیں کوثر عطا کی پس تم اپنے رب کے لئے نماز پڑھو اور قربانی کرو
باب دوم : تمہارا دشمن ”ابتر“ ہے آج ڈیڑھ ارب لمحہ بھی ایسا نہیں گزرتا جب آپ ﷺ کہنے والے بے نام ونشان ہو کر رہ گئے کوئی یہ نہیں جانتا کہ وہ ابوجہل، ابولہب سے ہے اور اگر جانتا بھی ہو تو وہ یہ ثابت کر دیا کہ ابتر آپ ﷺ نہیں بلکہ
حضور ﷺ پر ناانصافی کا الزام
حضرت سعید بن یحییٰ ؓ جب مکہ فتح ہوا تو رسول اللہ ﷺ وصول کرنے کے لئے بلایا تقسیم کے میں انصاف وعدل نہ کرنے کا الزام ہوگا؟ جب وہ مجمع سے چلا گیا تو رسول آدمی کی گردن مار دیں جس نے رسول
شاتم رسول ﷺ باپ کا انجام
حضرت سفیان الثوری ؒ ﷺ کے پاس آیا اور کہا یا رسول اللہ دیتے اور آپ ﷺ کے لئے ہدف نیزہ مار کر ہلاک کر دیا۔ رسول اللہ منظوری دی۔
حضرت خالد بن ولید ؓ اور
- (۱)...... حضرت عبداللہ بن
باب دوم : زمانہ نبویؐ کے گستاخان رسالت کا انجام
تمہارا دشمن ہی ابتر ہے آج ڈیڑھ ارب انسان نبی کریم ﷺ کے نام لیوا ہیں اور کرۂ ارض پر ایک لمحہ بھی ایسا نہیں گزرتا جب آپ ﷺ پر درود و سلام نہ پڑھا جا رہا ہو اس کے برعکس آپ ﷺ کو ابتر کہنے والے بے نام و نشان ہو کر رہ گئے۔ اگر ان میں سے کسی کی اولاد دنیا میں باقی رہی بھی ہے تو کوئی یہ نہیں جانتا کہ وہ ابو جہل، ابولہب، عاص بن وائل، عقبہ بن ابی معیط وغیرہ کی اولاد میں سے ہے اور اگر جانتا بھی ہو تو وہ یہ کہنے کو تیار نہیں کہ اس کے اسلاف یہ لوگ تھے۔ تاریخ نے ثابت کر دیا کہ ابتر آپ ﷺ نہیں بلکہ آپ ﷺ کے دشمن ہی تھے اور ہیں۔
حضور ﷺ پر نا انصافی کا الزام لگانے والے کا قتل
حضرت سعید بن یحییٰ نے اپنے مغازی میں حضرت شعبی سے روایت کی ہے کہ جب مکہ فتح ہوا تو رسول اللہ ﷺ نے بنو العزیٰ کی دولت ایک جگہ جمع کی اور لوگوں کو اپنا حصہ وصول کرنے کے لئے بلایا تقسیم کے اختتام پر ایک شخص نے کھڑے ہو کر رسول اللہ ﷺ پر تقسیم میں انصاف و عدل نہ کرنے کا الزام لگایا نبی اکرم نے فرمایا اگر میں عادل نہیں ہوں تو اور کون ہو گا؟ جب وہ مجمع سے چلا گیا تو رسول اللہ ﷺ نے حضرت ابوبکر کو بلا کر حکم دیا کہ وہ جا کر اس آدمی کی گردن مار دیں۔ جس نے رسول اللہ ﷺ کو نا انصافی کا قصوروار اور ملزم ٹھہرایا تھا۔
شاتم رسول ﷺ باپ کا اپنے بیٹے صحابیؓ کے ہاتھوں قتل
حضرت سفیان الثوری نے مالک بن عمیر سے روایت کی کہ ایک شخص رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا اور کہا یا رسول اللہ ﷺ میں نے اپنے باپ کو مشرکوں کی مجلس میں آپ کو گالی دیتے اور آپ ﷺ کے لئے بد زبانی کرتے ہوئے سنا میں اپنے آپ پر قابو نہ رکھ سکا اور اس کو نیزہ مار کر ہلاک کر دیا۔ رسول اللہ ﷺ نے اس کے بے حرمتی کرنے والے باپ کی ہلاکت کی منظوری دی۔
حضرت خالد بن ولیدؓ اور زبیر بن عوامؓ کے ہاتھوں گستاخ رسول کا انجام
- (1)...... حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ بیان کرتے ہیں۔ ایک مشرک کو جو عادتاً رسول اللہ
باب دوم : زمانہ نبویؐ کے گستاخان رسالت کا انجام
کی بے عزتی کرتا اور انہیں گالیاں دیتا رہتا تھا موت کا سزاوار ٹھہرایا گیا آپ ﷺ نے ایک بار اپنے صحابہ سے پوچھا میری خاطر اس آدمی کو کون ٹھکانے لگائے گا۔ حضرت زبیر بن عوام نے کھڑے ہو کر کہا۔
اے رسول اللہ ﷺ میں یہ کام کروں گا۔ وہ تعمیل حکم کے لئے چلے گئے جب وہ کافر کتا ہلاک ہوا تو رسول اللہ ﷺ نے اس مشرک کی تمام مملوکہ اشیاء حضرت زبیر ؓ کو دے دیں۔
- (۲)...... حضرت عبدالرزاق نے بیان کیا۔ ایک شخص رسول اللہ ﷺ کو گالیاں دیا کرتا تھا ایک روز
آپ ﷺ نے اپنے صحابہ سے پوچھا تم میں سے کون میرے دشمن کو موت کے گھاٹ اتارے گا؟
حضرت خالد نے کھڑے ہو کر کہا۔ اے اللہ کے رسول ﷺ یہ کام میں کروں گا۔
پھر نبی کریم ﷺ نے انہیں اس حکم کی تعمیل کے لئے روانہ کیا اور وہ کامیاب ہوئے۔
توہین رسالت کے مرتکب نو بھائیوں کا قتل
یوم اوطاس کو حضرت ابو عامر الاشعری ؓ دس آدمیوں سے ملے جو سب کے سب بھائی تھے۔ وہ سب توہین رسالت جیسے ذمیم جرم کے لئے معروف تھے انہوں نے حضرت ابو عامر پر حملے شروع کر دیئے لیکن وہ بہادری سے لڑے اور نو کو قتل کر دیا۔ جب وہ آخری بھائی سے برسر پیکار ہوئے اور ساتھ ساتھ اللہ تبارک و تعالیٰ سے مدد کی اس طرح دعا کی۔
اے اللہ! میری اس آخری دشمن کے خلاف بھی ایسی مدد فرما جیسے باقی نو کے خلاف فرمائی۔ ابو عامر کی دعا سن کر آخری زندہ بھائی زور سے بولا۔
اے اللہ! میرے خلاف تصدیق مت کر۔ یہ سن کر ابو عامر ؓ نے اس کو جانے دیا بعد میں وہ مسلمان ہو گیا اور اس نے اسلام کی خوب خدمت کی۔ جب رسول اللہ ﷺ اسے دیکھا کرتے تو فرماتے۔
یہ ابو عامر ؓ کے خلاف کشمکش میں سے باقی ماندہ ہے تاکہ اسلام کی پاک تحریک کی خدمت گزاری کرے۔
باب دوم :
حضرت سعد بن معاذ ؓ
ایک شخص رسول اللہ کرتا اور ان کے جذبات کو مجروح رسول اللہ ﷺ نے ف تم میں سے کون ہے پہنچاتا ہے مجھے نجات دلائے حضرت سعد بن معاذ اے رسول اللہ ﷺ ا چنانچہ انہوں نے ا
توہین رسالت کرنے وا
حضرت انس ؓ سورہ بقرہ اور سورہ آل عمران پڑ میں مرتد ہو گیا اور کہنے لگا محمد (ﷺ) کہہ دیتے ہیں۔
اللہ تبارک و تعالیٰ ن تو لوگوں نے دیکھا کہ قبر نے ا ساتھیوں کا کام ہے۔ کیونکہ لاش باہر پھینکی ہے۔
اگلے روز عیسائی صبح ہوئی تو لوگوں نے دیکھا کہ یہ محمد (ﷺ) اور ان کے
باب دوم : زمانۂ نبویؐ کے گستاخان رسول کا انجام
حضرت سعد بن معاذؓ کے ہاتھوں ایک شاتم رسول کی موت
ایک شخص رسول اللہ ﷺ کے اہل بیت پر الزام دھرتا بے سروپا باتیں ان سے منسوب کرتا اور ان کے جذبات کو مجروح کرتا۔
رسول اللہ ﷺ نے مسلمانوں کو بلا کر دریافت کیا۔
تم میں سے کون ہے جو اس کفر گو سے جو میرے اہل بیت پر الزام لگا کر مجھے اذیت پہنچاتا ہے مجھے نجات دلائے۔
حضرت سعد بن معاذؓ کھڑے ہو گئے اور کہا۔
اے رسول اللہ ﷺ میں یہ کام کروں گا۔
چنانچہ انہوں نے اس آدمی کو موت کے گھاٹ اتار دیا۔
توہین رسالت کرنے والے مرتد کو قبر نے بھی قبول نہ کیا
حضرت انس ؓ روایت کرتے ہیں کہ ایک عیسائی آدمی مسلمان ہوا اور اس نے سورہ بقرہ اور سورہ آل عمران پڑھ لی اور رسول اکرم ﷺ کے لئے وحی کی کتابت کرنے لگا۔ بعد میں مرتد ہو گیا اور کہنے لگا محمد (ﷺ) کو تو کسی بات کا پتہ ہی نہیں جو کچھ میں لکھ دیتا ہوں بس وہی کہہ دیتے ہیں۔
اللہ تبارک و تعالیٰ نے جب اسے موت دی تو عیسائیوں نے اسے دفن کر دیا صبح ہوئی تو لوگوں نے دیکھا کہ قبر نے اسے باہر نکال پھینکا ہے۔ عیسائیوں نے کہا یہ محمد ﷺ اور اس کے ساتھیوں کا کام ہے۔ کیونکہ وہ انکے دین سے بھاگ کر آیا ہے لہٰذا انہوں نے اس کی قبر کھود کر لاش باہر پھینکی ہے۔
اگلے روز عیسائیوں نے نئی قبر کھود کر اسے پہلے کی نسبت زیادہ گہرا دفن کیا لیکن جب صبح ہوئی تو لوگوں نے دیکھا کہ قبر نے پھر اسے باہر نکال پھینکا ہے عیسائیوں نے پھر الزام لگایا کہ یہ محمد (ﷺ) اور ان کے اصحاب کا کام ہے چونکہ وہ ان کے دین سے بھاگ کر آیا ہے لہٰذا
باب دوم : زمانہ نبوی کے گستاخان رسالت کا انجام
انہوں نے اس کی قبر کھود کر لاش باہر پھینک دی عیسائیوں نے پھر اس کی قبر بنائی اور اسے اتنا گہرا کھودا جتنا کھود سکتے تھے اگلی صبح قبر نے پھر اسے باہر نکال پھینکا تب عیسائیوں کو یقین ہو گیا کہ یہ مسلمانوں کا فعل نہیں ، اور انہوں نے اس کی لاش ایسے ہی چھوڑ دی۔
گستاخ رسول جن کا عبداللہ نامی جن کے ہاتھوں عبرتناک انجام
فاکہی نے اخبار مکہ میں عامر بن ربیعہ سے ابو نعیم نے ابن عباس سے اور دوسرے محدثین نے عبدالرحمن بن عوف اور دیگر صحابہ سے روایت کی ہے کہ: ایک مرتبہ مکہ کے پہاڑ ابوقبیس سے بلند آواز کے ساتھ چند اشعار اسلام کی برائی میں سنے گئے یہ جن کی آواز تھی اس میں یہ مضمون بھی تھا کہ مسلمانوں کو مار ڈالو۔ شہر سے بت پرستی مت چھوڑو۔ کفار بہت خوش ہوئے اور اترا کر کہنے لگے کہ غیب سے بھی مسلمانوں کو قتل کرنے اور شہر بدر کرنے کا حکم ہوتا ہے۔ مسلمانوں کو اس سے بڑا صدمہ ہوا نبی کریم ﷺ کی خدمت میں یہ واقعہ بیان کیا تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ تم اطمینان رکھو یہ آواز ”مسعر“ نامی جن کی تھی بہت جلد اللہ اس کو سزا دے گا۔
تیسرے دن آپ ﷺ نے مسلمانوں کو خوشخبری دی کہ آج بہت بڑا جن صبیح نامی میرے پاس آکر مسلمان ہوا اور میں نے اس کا نام عبداللہ رکھا۔ اس نے مجھ سے ”مسعر“ کو قتل کرنے کی اجازت چاہی اور میں نے اجازت دے دی۔ آج ”مسعر“ مارا جائے گا مسلمان خوش ہو کر انتظار میں تھے۔
شام کے وقت اسی پہاڑ سے چند اشعار بلند آواز کے ساتھ سننے میں آئے جن کا مضمون یہ تھا۔
ہم نے ”مسعر“ کو اس وجہ سے قتل کر دیا ہے کہ اس نے سرکشی کی حق کی توہین کی اور برائیوں کا راستہ بنایا اور رسول پاک ﷺ کی شان میں بے ادبی کی۔ میں نے ایک چمکتی ہوئی تیز تلوار سے اس کا کام تمام کر دیا ہے۔
علامہ ابن تیمیہ یہ حدیث اس اضافت کے ساتھ نقل کرتے ہیں۔
باب دوم : زمانہ نبوی کے گستاخان رسالت کا انجام
حضرت علی نے فرمایا رسول اللہ ﷺ نے اللہ اس مسیح جن کو جزائے خیر دے۔
آپ ﷺ کی دعوت کا مذاق اڑانے والے پر آسمانی بجلی کا گرنا
ایک شخص جو کفار عرب کے سرداروں میں سے تھا اس کے پاس آپ ﷺ نے چند صحابہ کرام (علیہم الرضوان) کو تبلیغ اسلام کے لئے بھیجا چنانچہ ان حضرات نے اس کے پاس پہنچ کر اللہ تبارک و تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کا پیغام سنا کر اسلام کی دعوت دی تو اس گستاخ نے از راہ تمسخر کہا کہ اللہ کون ہے؟ کیسا ہے اور کہاں ہے؟ کیا وہ سونے کا ہے؟ یا چاندی کا ہے؟ یا تانبے کا۔
اس کا یہ متکبرانہ اور گستاخانہ جواب سن کر صحابہ کرام (علیہم الرضوان) کے رونگٹے کھڑے ہو گئے اور ان حضرات نے بارگاہ نبوت ﷺ میں واپس حاضر ہو کر سارا ماجرا سنایا اور عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ اس شخص سے بڑھ کر کافر اور اللہ تبارک و تعالیٰ کی شان میں گستاخی کرنے والا تو ہم لوگوں نے دیکھا ہی نہیں۔
آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ تم لوگ دوبارہ اس کے پاس جاؤ۔
چنانچہ یہ حضرات دوبارہ اس کے پاس پہنچے تو اس خبیث نے پہلے سے بھی زیادہ گستاخانہ الفاظ زبان سے نکالے۔ صحابہ کرام علیہم الرضوان اس کی گستاخیوں اور بد زبانیوں سے رنجیدہ ہو کر دربار نبوت میں واپس پلٹ آئے تو آپ ﷺ نے تیسری مرتبہ ان صحابہ کرام (علیہم الرضوان) کو اس کے پاس بھیجا۔ جہاں یہ لوگ پہنچ کر اس کو دعوت اسلام دینے لگے تو وہ گستاخ ان حضرات سے جھگڑا کرتے ہوئے بد زبانی اور گالم گلوچ پر اتر آیا۔
صحابہ کرام علیہم الرضوان ارشاد نبوی ﷺ کے مطابق صبر کرتے رہے۔ اسی دوران لوگوں نے دیکھا کہ ناگہاں ایک بدلی آئی اور اس بدلی میں اچانک گرج اور چمک پیدا ہوئی پھر ایک دم نہایت ہی مہیب گرج کے ساتھ اس کافر پر بجلی گری جس سے اس کی کھوپڑی اڑ گئی اور وہ لمحہ بھر میں جل کر راکھ ہو گیا۔
یہ منظر دیکھ کر صحابہ کرام (علیہم الرضوان) بارگاہ اقدس میں واپس آئے تو ان
باب دوم : زمانۂ نبوی کے گستاخان رسالت کا انجام
حضرات کو دیکھتے ہی رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ تم لوگ جس گستاخ کے یہاں گئے تھے وہ تو جل کر راکھ ہو گیا۔ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے انتہائی حیرت و تعجب سے عرض کیا کہ یا رسول اللہ ﷺ ! آپ کو کیسے اور کس طرح اس کی خبر ہو گئی؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ ابھی ابھی مجھ پر یہ آیت نازل ہوئی۔
وَهُوَ شَدِيْدُ الْمِحَالِ۔
(سوره الرعد: ۱۳)
اور وہ بجلیاں بھیجتا ہے پھر جس پر چاہے گرا دیتا ہے اور وہ لوگ اللہ کے بارے میں جھگڑتے ہیں حالانکہ وہ بڑا شدید القوۃ ہے۔
درسِ ہدایت باری تعالیٰ کی شان میں اس طرح کی گستاخی کرنے والوں کو بارہا عذاب الٰہی نے اپنی گرفت میں لے کر ہلاک کر ڈالا لہٰذا خبردار! اس مقدس جناب میں ہرگز ہرگز کوئی ایسا لفظ زبان سے نہ نکالنا چاہیے جو شان الوہیت میں بے ادبی قرار پائے آج کل بہت سے لوگ بیماریوں اور مصیبتوں کے وقت اللہ تبارک و تعالیٰ کی شان میں ناشکری کے الفاظ بول کر خداوند قدوس کی بے ادبی کر بیٹھتے ہیں۔ جس سے ان کا ایمان بھی جاتا رہتا ہے اور دنیا و آخرت میں عذاب کے حقدار بھی بن جاتے ہیں۔ (نعوذ باللہ)
ابو جدعہ کا عبرتناک انجام
روایات میں آتا ہے کہ ایک شخص جس کا نام ابو جدعہ تھا اہل قبا کی ایک عورت پر عاشق ہو گیا۔ مگر وہ اس کو حاصل کرنے کی طاقت نہ رکھتا تھا اس مقصد کے لئے وہ طرح طرح کے منصوبے بنانے لگا کہ کسی طرح اس عورت کو حاصل کیا جائے آخر اس کے ذہن میں ایک ترکیب آئی اور بازار گیا اور نبی کریم ﷺ کے لباس مبارک جیسے کپڑے خریدے اور ان کو پہن کر اہل قبا کی طرف چل پڑا۔
اس عورت کے گھر جا کر دروازہ کھٹکھٹایا۔ اس عورت کے لواحقین نے اس کے آنے کا مدعا پوچھا تو کہنے لگا کہ مجھے سرور کائنات ﷺ نے بھیجا ہے اور یہ کپڑے انہوں نے میرے پاس
زمانہ نبوی کے گستاخان رسالت کا انجام تم لوگ جس گستاخ کے یہاں گئے تھے وہ تو جل عین نے انتہائی حیرت و تعجب سے عرض کیا کہ کی خبر ہو گئی؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ ابھی ابھی مجھ هَا مَنْ يَشَآءُ وَهُمْ يُجَادِلُوْنَ فِي اللّٰهِ
(سورہ الرعد: ۱۳)
چاہے گرا دیتا ہے اور وہ لوگ اللہ کے بارے میں میں اس طرح کی گستاخی کرنے والوں کو بارہا ے کر ڈالا لہذا خبردار! اس مقدس جناب میں ہرگز نشان الوہیت میں بے ادبی قرار پائے آج کل اللہ تبارک وتعالیٰ کی شان میں ناشکری کے الفاظ جس سے ان کا ایمان بھی جاتا رہتا ہے اور دنیا و ہیں۔ (نعوذ باللہ)
س کا نام ابو جدعہ تھا اہل قبا کی ایک عورت پر فہ نہ رکھتا تھا اس مقصد کے لئے وہ طرح طرح لہ حاصل کیا جائے آخر اس کے ذہن میں ایک ہ مبارک جیسے کپڑے خریدے اور ان کو پہن کر ں اس عورت کے لواحقین نے اس کے آنے کا ے بھیجا ہے اور یہ کپڑے ان کے میرے پاس
باب دوم : زمانہ نبوی کے گستاخان رسالت کا انجام
بطور نشانی ہیں۔ انہوں نے مجھے اجازت مرحمت فرمائی ہے کہ میں تمہارے پاس قیام کروں اور تم لوگ میری مہمانداری کرو۔
مسلمانوں نے اس شخص کو بڑے عزت و احترام کے ساتھ پاس جگہ دی مگر اسے دیکھا کہ وہ عورتوں کو گھور گھور کر دیکھتا ہے۔ اس کی یہ حرکت اہل قبا کو بہت ناگوار گزری انہیں کچھ شک ہوا۔ چنانچہ انہوں نے اپنے دو آدمی آپ ﷺ کی خدمت اقدس میں بھیجے تا کہ صحیح صورتحال کا علم ہو سکے۔
جب وہ دونوں آدمی آپ ﷺ کی خدمت اقدس میں پہنچے تو عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ آپ نے ابو جدعہ کو ہمارے گھر بھیجا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا کون ابو جدعہ؟ انہوں نے بتایا کہ اس کے پاس آپ ﷺ کی چادر مبارک ہے اور وہ کہتا ہے اسے آپ ﷺ نے عطا فرمائی ہے۔
نبی کریم ﷺ نے یہ سنا تو بڑے غضب ناک ہوئے اور غصے سے آپ ﷺ کی چشمان مبارک سرخ ہو گئیں ارشاد فرمایا جو جان بوجھ کر مجھ پر جھوٹ باندھتا ہے اس کا ٹھکانہ دوزخ ہے۔ پھر آپ ﷺ نے ابو جدعہ گستاخ کے لئے فیصلہ فرماتے ہوئے حکم فرمایا کہ دو آدمی فوراً جائیں اور اسے قتل کر کے آگ میں پھینک دیں اور فرمایا اللہ کرے آپ لوگوں کے پہنچنے سے پہلے ہی اس کا کام تمام ہو گیا ہو۔
چنانچہ جب وہ لوگ اہل قبا کے پاس پہنچے تو معلوم ہوا کہ ابو جدعہ قضائے حاجت کے لیے باہر گیا تھا کہ اسے سانپ نے ڈس لیا اور وہ وہیں مردہ پڑا تھا۔
بادشاہ خسرو پرویز کا انجام
آپ ﷺ کے مکتوب گرامی کو ٹکڑے ٹکڑے کر کے پھینکنے والے شہنشاہ ایران خسرو پرویز کو اس کے اپنے بیٹے نے قتل کر دیا۔
پرویز ایران کا بادشاہ تھا آپ ﷺ نے اسے اسلام کی دعوت دینے کے لئے ۷ ہجری میں ایک خط لکھا جب رسول اکرم ﷺ کا مکتوب گرامی اسے ملا تو اس نے نہایت بدتمیزی کے
باب دوم : زمانہ نبویؐ کے گستاخان رسالت کا انجام
ساتھ اسے پھاڑ ڈالا اور تکبر سے بولا میرا ایک غلام مجھے ایسا خط لکھنے کی جرات کرتا ہے اور اپنا نام میرے نام سے پہلے لکھتا ہے آپ ﷺ کو خط پھاڑنے کی خبر ہوئی تو فرمایا اس نے میرے خط کو پھاڑا ہے اللہ تبارک وتعالیٰ اس کے ملک کو پارہ پارہ کرے اس بدبخت پرویز نے یمن کے ایرانی گورنر کو حکم دیا کہ مدعی نبوت (یعنی نبی کریم ﷺ) کو گرفتار کرکے میرے سامنے حاضر کرو۔ گورنر نے دو آدمیوں کو بھیجا وہ مدینہ آئے اور آپ ﷺ سے کہا کہ ہمارے ساتھ شاہ کسریٰ کے پاس چلیں اگر آپ نے ہمارے ساتھ چلنے سے انکار کیا تو کسریٰ آپ کو اور آپ کی ساری قوم کو ہلاک کر ڈالے گا اور آپ کے ملک کو بھی تباہ کردے گا۔
آپ ﷺ نے ان کی باتیں سن کر فرمایا کل میرے پاس آنا اسی رات ایران میں انقلاب آگیا خسرو پرویز کا بیٹا اسے قتل کرکے خود بادشاہ بن گیا۔ اس طرح گستاخ رسول اپنے ہی بیٹے کے ہاتھوں قتل ہوگیا اور دوسرے روز آپ ﷺ نے دونوں آدمیوں کو پرویز کے قتل کی اطلاع دی وہ گورنر کے پاس آئے اطلاع کی تصدیق ہوگئی اس کے بعد گورنر نے اسلام قبول کرلیا۔
شاتم رسول ”الیسر“ یہودی کا عبرتناک انجام
خیبر کا ایک مشہور یہودی ”الیسر“ اسلام کا سخت ترین دشمن اور شاتم رسول ﷺ تھا۔ اس نے بنو غطفان کی ایک کثیر فوج مدینہ پر حملے کے لئے جمع کر رکھی تھی جیسے ہی مدینہ اطلاع پہنچی تو رسول اللہ ﷺ نے اپنے چند صحابہؓ کو ”الیسر“ کے پاس دین کی دعوت کے لئے بھیجا ان میں عبداللہ بن رواحہ اور عبداللہ بن انیس بھی شامل تھے انہوں نے ”الیسر“ کو پیغام پہنچایا کہ اگر وہ رسول اللہ ﷺ کے پاس آجائے تو اسے عزت وتکریم کے ساتھ خوش آمدید کہا جائے گا اور اس کی خدمات اسلام کے لئے فائدہ مند ہوں گی۔
”الیسر“ اس پر رضامند ہوگیا اور اپنے ساتھ دوستوں کی ایک تعداد بھی لے آیا وہ عبداللہ بن انیس کے ساتھ اونٹ پر سوار ہوا جب وہ خیبر سے چھ میل دور مقام قرقرہ پر پہنچے تو ”الیسر“ نے نیت بدل لی جب اس نے اپنی تلوار عبداللہ بن انیس پر وار کرنے کے لئے نکالی تو باقی مسلمانوں نے اس کی اصلی نیت بھانپ لی۔ وہ ”الیسر“ پر ٹوٹ پڑے اور اسے اور اس کے
باب دوم :
سب کفار ساتھیوں کو ماسوائے ایک بـ زخمی ہوئے۔ جب وہ مدینہ واپس پـ زخموں پر ملا جو معجزانہ طور پر بھر ہی گئے
رفاعہ بن قیس اشجعی کا قتل
اپنے قبیلے کا مشہور آدمی رفـ وہ اکثر رسول اللہ ﷺ کے خلاف ہرزہ نفرت پر قابو نہ پاسکا تو بنو جشم کے کثیر اـ مزید لوگوں کو جمع کرلے اور انہیں رسوـ اس کا اصلی مقصد مدینہ پر ابن ابی حدردؓ دو اور مسلمانوں کو طلـ کے پاس پکڑ لائیں۔ ابن ابی حدرد وہاں شام کو پہنچے جب ہم نے اس قـ جب وہ مجھے اللہ اکبر کا نعرہ لگائے جـ بھی ایسا ہی کریں ہم دشمن پر دفعتاً حمـ اچانک ان کا سردار رفاعـ اکیلا نہ جانے کے لئے بہت کہا نہیـ نہ لایا جیسے ہی وہ میرے بہت قریـ گیا اور اسے ہلاک کردیا۔ میں نے کا نعرہ لگاتے ہوئے بھاگا۔ خـ لشکری اتنے خائف ہوئے کہ وہ لـ ﷺ کے پاس لایا اس کام کی وجہ سـ عطا فرمائے۔
باب دوم : زمانہ نبوی کے گستاخان رسالت کا انجام
سب کفار ساتھیوں کو ماسوائے ایک کے جو بھاگ نکلا قتل کر دیا اس مقابلے میں عبداللہ بن انیس زخمی ہوئے۔ جب وہ مدینہ واپس پہنچے تو رسول اللہ نے اپنا لعاب دہن عبداللہ بن انیس کے زخموں پر ملا جو معجزانہ طور پر بھر بھی گئے۔
(سیرت ابن ہشام جلد دوم صفحہ ۱۰۳۶)
رفاعہ بن قیس الجشمی کا قتل
اپنے قبیلے کا مشہور آدمی رفاعہ بن قیس الجشمی اسلام کے بدترین دشمنوں میں سے تھا۔ وہ اکثر رسول اللہ ﷺ کے خلاف بد زبانی کیا کرتا اس کی اس سے بھی تسلی نہیں ہوتی تھی اپنی اندھی نفرت پر قابو نہ پا سکا تو بنو جشم کے کثیر تعداد خیل لے کر وہ مقام غابہ کے پاس خیمہ زن ہوا تا کہ مزید لوگوں کو جمع کرلے اور انہیں رسول اللہ ﷺ خلاف بغاوت پر بھڑکائے۔
اس کا اصلی مقصد مدینہ پر حملہ کرنا تھا۔ یہ خبر جب رسول اللہ ﷺ نے سنی تو انہوں نے ابن ابی ہدرد نیز دو اور مسلمانوں کو طلب کیا کہ وہ جائیں اور رفاعہ کا کام تمام کر دیں یا اسے آپ کے پاس پکڑ لائیں۔ ابن ابی ہدرد نے بیان کیا ہم رفاعہ کی لشکر گاہ کی طرف روانہ ہوئے اور وہاں شام کو پہنچے جب ہم نے اس کے خیمہ کا احاطہ کرلیا تو میں نے اپنے ساتھیوں سے کہا کہ جب وہ مجھے اللہ اکبر کا نعرہ لگاتے ہوئے سنیں اور لشکر گاہ کی طرف بھاگتے ہوئے دیکھیں تو وہ بھی ایسا ہی کریں ہم دشمن پر دفعتاً حملہ کا منصوبہ بنا رہے تھے۔
اچانک ان کا سردار رفاعہ خیمے میں سے تلوار لہراتا ہوا نکلا اس کے حامیوں نے اسے اکیلا نہ جانے کے لئے بہت کہا انہیں ڈر تھا کہ اسے کوئی نقصان نہ پہنچے۔ لیکن وہ تنبیہ کو خاطر میں نہ لایا جیسے ہی وہ میرے بہت قریب سے گزرا میں نے ایک تیر چلایا جو اس کے دل کے پار نکل گیا اور اسے ہلاک کر گیا۔ میں نے لپک کر اس کا سر تن سے جدا کر دیا میں لشکر کی طرف اللہ اکبر کا نعرہ لگاتے ہوئے بھاگا۔ حسب ہدایت میرے دو ساتھیوں نے بھی ویسا ہی کیا اس سے لشکری اتنے خائف ہوئے کہ وہ اپنے بیوی بچوں سمیت فرار ہو گئے میں رفاعہ کا سر رسول اللہ ﷺ کے پاس لایا اس کام کی وجہ سے اتنے خوش ہوئے کہ آپ ﷺ نے مجھے بطور انعام ۱۳ اونٹ عطا فرمائے۔
(گستاخ رسول کا عبرتناک انجام ص ۲۶۶، ۲۶۷)
باب دوم : زمانہ نبوی کے گستاخان رسالت کا انجام
معاویہ بن مغیرہ قتل
معاویہ بن مغیرہ ایک دشمن اسلام تھا جو رسول اللہ ﷺ کو گالیاں دیا کرتا تھا اس نے معرکہ بدر میں بھی حصہ لیا جہاں وہ قیدی ہوا اور مدینہ لایا گیا جب وہاں پہنچ گیا تو اس نے حلف اٹھایا کہ وہ آج کے بعد کبھی بھی رسول اللہ ﷺ کو گالی نہیں دے گا اور نہ ہی اسلام کے خلاف دشمنانہ کاروائیوں میں حصہ لے گا۔ رسول اللہ ﷺ نے اسے آزاد کر دیا اور وہ واپس مکہ چلا گیا لیکن جیسے ہی یہ کافر جنگلی حیوان مکہ پہنچا اس نے اپنا حلف توڑ دیا اور پھر سے رسول اللہ ﷺ کے بارے میں بد زبانی کرنے لگا اور دشمنان اسلام کے ساتھ مل گیا اتفاق ایسا ہوا کہ وہ پھر قید ہوا اور رسول اللہ ﷺ کے سامنے پیش کیا گیا اس نے ایک بار اور معافی طلب کی لیکن رسول اللہ ﷺ نے یہ کہتے ہوئے اس کی بات رد کر دی۔
ایک سچا مسلمان ایک ہی سانپ سے دوبارہ کبھی نہیں ڈسا جاتا۔ اے معاویہ بن مغیرہ! تم کبھی بھی مکہ نہیں جا سکو گے کہ کہو میں نے محمد کو دوبارہ دھوکہ دیا ہے خوب غور سے سنو ایک سچا مسلمان دو بار نہیں ڈسا جاسکتا اے زید! اے عاصم اس کا سر قلم کر دو۔ اور اس حکم کی فوری تعمیل ہوئی اور اس کا سر تن سے جدا ہو گیا۔
(گستاخ رسول کا عبرتناک انجام ص ۲۶۷)
ابن سینہ یہودی کی موت
گستاخ رسول کعب بن اشرف یہودی کے قتل کے بعد رسول اللہ ﷺ نے صحابہ کو حکم دیا کہ اس قسم کے یہود کو جہاں کہیں پاؤ قتل کر ڈالو۔ چنانچہ حویصہ بن مسعود کے چھوٹے بھائی محیصہ بن مسعود نے ابن سینہ یہودی کو قتل کر ڈالا جو تجارت کرتا تھا اور خود حویصہ ، محیصہ اور دیگر اہل مدینہ سے لین دین کا معاملہ رکھتا تھا۔
حویصہ ابھی مسلمان نہ ہوئے تھے اور محیصہ پہلے سے مسلمان تھے حویصہ چونکہ عمر میں بڑے تھے تو انہوں نے محیصہ کو پکڑ کر مارنا شروع کیا اور کہا کہ اے اللہ کے دشمن! تو نے اسے قتل کر ڈالا واللہ اس کے مال سے کتنی چربی تیرے پیٹ میں ہے محیصہ نے کہا مجھ کو اس کے
باب دوم : قتل کا ایسی ذات نے حکم دیا ہے کہ اگر گردن اڑا دیتا حویصہ نے کہا پکی بات قتل کر ڈالے گا محیصہ نے کہا ہاں ! گردن اڑا دیتا یعنی رسول اللہ ﷺ کے حویصہ یہ سن کر حیران رہ گئے ! اور بہ میں اس درجہ راسخ ، مستحکم اور رگ و پے اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اس واقعہ سے یہ بھی ثاب کوئی خیال نہیں کیا جائے گا کیونکہ م
☆☆☆
زمانۂ نبویؐ کے گستاخان رسالت کا انجام باب دوم :
قتل کا ایسی ذات نے حکم دیا ہے کہ اگر وہ ذات بابرکت تیرے قتل کا بھی حکم دیتی تو واللہ تیری بھی گردن اڑا دیتا حویصہ نے کہا سچی بات ہے اگر محمد ﷺ تجھ کو میرے قتل کا حکم دیں تو واقعی تو مجھ کو قتل کر ڈالے گا محیصہ نے کہا ہاں اللہ کی قسم اگر تیری گردن مارنے کا حکم دیتے تو ضرور تیری گردن اڑا دیتا یعنی رسول اللہ ﷺ کے حکم کے بعد ذرہ برابر تیرے بھائی ہونے کا خیال نہ کرتا حویصہ یہ سن کر حیران رہ گئے! اور بے ساختہ بول اٹھے کہ خدا کی قسم یہی دین حق ہے جو دلوں میں اس درجہ راسخ مستحکم اور رگ و پے میں اس درجہ جاری و ساری ہے اس کے بعد حویصہ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور سچے دل سے اسلام قبول کیا۔
(استیعاب ۱۲۶۳)
اس واقعہ سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ شاتم رسول کی سزا میں دوستی اور بھائی بندی کا کوئی خیال نہیں کیا جائے گا کیونکہ یہ دین کا معاملہ ہے۔
☆☆☆☆☆☆☆......☆☆☆☆☆☆
ورفعنا لک ذکرک
١٣٩٧ھ
اور بلند کیا ہم نے مذکور تیرا
ان شانئک ھو الابتر
بالیقین آپ کا دشمن ہی بے نام و نشان ہے
ب
سچے عاشقان
- ☆......سلطان نورالدین زنگی کے ذریعہ
- ☆......سچے عاشق رسول انگریز جج کا
- ☆......قاضی عبدالرشید خوشنویس
- ☆......غازی علم الدین شہیدؒ
- ☆......غازی عبدالقیوم کا مختصر تعار
- ☆......غازی مرید حسینؒ کے ہاتھ
- ☆......غازی عبدالمنان
- ☆......غازی عبدالرحمٰن شہیدؒ
- ☆......غازی میاں محمد
- ☆......بابو معراج دین
- ☆......غازی حافظ محمد صدیقؒ
- ☆......غازی صوفی محمد عبداللہ کا ت
- ☆......غازی منظور حسین شہیدؒ
- ☆......غازی زاہد حسینؒ
- ☆......امیر احمد اور محمد عبداللہ کی داس
بــــــاب ســــــوم:
سچے عاشقان رسول کے واقعات
- ☆ ......سلطان نورالدین زنگی کے ذریعہ ذات رسول کا تحفظ
- ☆ ......عبدالرشید عرف شیدا گاڈی
- ☆ ......سچے عاشق رسول انگریز جج کو للکارنے کا واقعہ
- ☆ ......پاکپتن میں مدعی مہدویت کا قتل
- ☆ ......قاضی عبدالرشید خوشنویس
- ☆ ......غازی فاروق کے ہاتھوں گستاخ رسول کا عبرتناک انجام
- ☆ ......غازی علم الدین شہیدؒ
- ☆ ......عامر عبدالرحمٰن چیمہ شہید
- ☆ ......غازی عبدالقیوم کا مختصر تعارف
- ☆ ......اختر شیرانی کا واقعہ
- ☆ ......غازی مرید حسین کے ہاتھوں سکھ ڈاکٹر کا قتل
- ☆ ......غازی محمد حنیف شہیدؒ
- ☆ ......غازی عبدالمنان
- ☆ ......یوسف کذاب کا عبرتناک انجام
- ☆ ......غازی عبدالرحمٰن شہیدؒ
- ☆ ......غازی میاں محمد
- ☆ ......بابو معراج دین
- ☆ ......غازی حافظ محمد صدیقؒ
- ☆ ......غازی صوفی محمد عبداللہ کا تذکرہ
- ☆ ......غازی منظور حسین شہیدؒ
- ☆ ......غازی زاہد حسینؒ
- ☆ ......امیر احمد اور محمد عبداللہ کی داستان عقیدت
باب سوم:
سلطان نور الدین زنگی
یہ ۱۱۶۲ء کا ذکر ہے اللہ زنگی اپنے دارالحکومت دمشق شہ بستر پر دراز ہوا تو اس کی آنکھ لگ سے مخاطب ہیں اور نیلی آنکھوں ہمیں ان دونوں کے شر سے بچاؤ یہ ارشاد عالی سنتے ہ کر کے دوگانہ ادا کرتے ہیں اور پھر اٹھتے ہی نماز پڑ آتا ہے۔ اب تو سلطان نورالد وہ بے تابی کے سا اور اسے ساری صورتحال سے آ منورہ کی طرف روانہ ہو جاتا ہ والے چند لمحات میں ہی بیس ج مقدس کی طرف روانہ ہو گئے ہ مسلسل بارہ دن ا پہنچے تو سیدھے مسجد نبوی میں آ نماز ادا کی اور وہیں بیٹھے بیٹھے
سچے عاشقان رسول کے واقعات باب سوم :
سلطان نورالدین زنگی کے ذریعے ذات رسول ﷺ کا تحفظ
یہ ۱۱۶۲ء کا ذکر ہے اللہ کا ایک برگزیدہ بندہ اور اسلام کا عظیم جرنیل ”سلطان نورالدین زنگی“ اپنے دارالحکومت دمشق شہر میں تھا۔ ایک رات نماز تہجد ادا کر کے وہ کچھ دیر کے لئے اپنے بستر پر دراز ہوا تو اس کی آنکھ لگ گئی اسی دوران اس نے خواب دیکھا کہ سرکار دو عالم ﷺ اس سے مخاطب ہیں اور نیلی آنکھوں والے دو آدمیوں کی طرف اشارہ کر کے فرما رہے ہیں نورالدین ہمیں ان دونوں کے شر سے بچاؤ یہ ہمارے درپے ہیں۔
یہ ارشاد عالی سنتے ہی نورالدین زنگی کی آنکھ کھل جاتی ہے وہ اٹھ بیٹھتے ہیں اور وضو کر کے دوگانہ ادا کرتے ہیں اور پھر کچھ دیر بعد ان کی آنکھ لگ جاتی ہے پھر وہی منظر دیکھتے ہیں۔
پھر اٹھتے ہی نماز پڑھتے ہیں پھر آنکھ لگتی ہے اور تیسری مرتبہ وہی منظر خواب میں نظر آتا ہے۔ اب تو سلطان نورالدین کی نیند غارت ہوگئی۔
وہ بے تابی کے ساتھ اٹھے اور اسی وقت اپنے وزیر باتدبیر جمال الدین کو طلب کیا اور اسے ساری صورتحال سے آگاہ کیا وزیر بھی ہوشمند تھا۔ فوراً عرض کی کہ ہمیں بلا تاخیر مدینہ منورہ کی طرف روانہ ہو جانا چاہئے تاکہ اصل صورت حال سے آگاہی ہو سکے۔ چنانچہ آنے والے چند لمحات میں ہی بیس سپاہیوں کی ہمراہی میں سلطان نورالدین زنگی اور ان کے وزیر حجاز مقدس کی طرف روانہ ہو گئے۔
مسلسل بارہ دن کے تھکا دینے والے سفر کے بعد سلطان نورالدین زنگیؒ مدینہ منورہ پہنچے تو سیدھے مسجد نبویؐ میں تشریف لے گئے وہاں روضہ رسول اللہ ﷺ پر حاضری دی دو رکعت نماز ادا کی اور وہیں بیٹھے بیٹھے اعلان کروا دیا کہ سلطانِ معظم کی دربار رسالت علیٰ صاحبہا الصلوٰۃ
باب سوم: سچے عاشقان رسول کے واقعات والسلام میں حاضری کے موقع پر تمام اہل مدینہ کے لئے مسجد نبوی میں ایک پر تکلف دعوت کا اہتمام کیا جا رہا ہے شہر کے ہر بوڑھے و جوان کو تاکید کی جاتی ہے کہ وہ وقت مقررہ پر پہنچ جائے اور سلطان کی طرف سے میزبانی سے فیض یاب ہو۔
اس اعلان کے مطابق جب لوگوں کی آمد شروع ہوئی تو سلطان نورالدین زنگی ایک ایسی جگہ کھڑے ہو گئے جہاں سے ہر آنے والے کا چہرہ ان کی نظروں کے سامنے سے ہو کر گزرتا تھا۔ صبح سے شام تک لوگ آتے رہے اور شاہی ضیافت کے ساتھ ساتھ سلطانی اعزاز واکرام کے مزے بھی لوٹتے رہے جب کہ سلطان خود مستقل اسی جگہ بیٹھے رہے اور بے تابی سے ان دو چہروں کا انتظار کرتے رہے جو خواب میں انہیں دکھائے گئے تھے اسی عالم میں دن پورا گزر گیا اور شام کے سائے پھیلنے لگے مگر سلطان کو وہ دو نیل آنکھوں والے دکھائی نہیں دیئے۔
جب رات ہونے کو آئی تو سلطان نے پریشانی کے عالم میں مقامی حکام کو طلب کیا اور ان سے پوچھا کہ کیا ہماری دعوت پر مدینہ کے سب لوگ حاضر ہو گئے؟۔
تو پتہ چلا کہ واقعی سب آئے ہیں سوائے ان دو فقیروں کے جو دنیا و مافیہا سے بے غم و بے فکر ہو کر ایک چھوٹی سی جھونپڑی میں گوشہ نشینی کی زندگی گزارتے ہیں اور کاروبار و سرکار سے کوئی لین دین نہیں رکھتے ان کی جھونپڑی کا دروازہ اکثر و بیشتر بند ہی رہتا ہے اور کہا یہی جاتا ہے کہ وہ اپنے بیشتر اوقات نماز اور عبادت میں گزار دیتے ہیں ان دونوں سے توقع ہی نہیں کی جاسکتی کہ وہ سلطانی ضیافت کے بکھیڑوں میں پڑیں۔
ان حکام نے سلطان کے سامنے ان دونوں درویشوں کی صفات واخلاق کا ذکر کرتے ہوئے یہ بھی کہا کہ کچھ عرصہ قبل جب مدینہ منورہ میں قحط سالی ہوئی تھی اور لوگ فقر وفاقے کے عالم میں بھوکوں مرنے لگے تھے تو ان دونوں فقیروں نے لوگوں کی دل کھول کر مالی مدد کی تھی اور ہر شخص کو اتنا دیا تھا کہ لوگ ان کو عطاء کئے جانے والے غیبی خزانوں پر انگشت بدنداں رہ گئے تھے۔
یہ سب باتیں سن کر ان دونوں کو مشکوک قرار دینا آسان نہ تھا لیکن سلطان زنگی پھر بھی
باب سوم : اپنی کوشش پوری کرنا چاہتے تھے۔ اگر وہ آنے سے انکار کر دیں تو زبرد وہ دونوں حاضری پر آمادہ ہو گئے اور انہوں نے ان دو فقیروں اور ان د یقین ہو گیا کہ یہ وہی بدبخت و بد باط
چنانچہ ان دونوں کو فوراً والے افراد کو بلا دلیل و حجت سزا کا گدڑی پوشوں کی جھونپڑی میں چ گئی لیکن ایسا کچھ برآمد نہ ہوا جس یہ سب کچھ دیکھ کر سلطان زنگی شد طرف سے واضح اشارہ تھا اور دوسر تقدس کی گواہی۔ بالآخر سلطان نے کی تلاشی ہوئی اب کی بار کسی نے گیا۔ سلطان نے اس پتھر کو اٹھوایا کا دہانہ ہے۔ سلطان زنگی از خود آ رہے حتی کہ ایک قبر کے اندرونی آپ نبی آخر الزمان حضرت محمد ص قرار حاصل کرتے تھے۔ بعض ر اس قدر قریب پہنچ گئے کہ نبی کری سب کچھ دیکھ کر سلطان کانپ ا کہ یہ سب کچھ کیا ہے اور کیوں ان دونوں نے پہلے ٹا
باب سوم: سچے عاشقان رسول کے واقعات
اپنی کوشش پوری کرنا چاہتے تھے۔ چنانچہ حکم دیا کہ ان دونوں کو بھی ضیافت میں حاضر کیا جائے اور اگر وہ آنے سے انکار کر دیں تو زبردستی لایا جائے۔ یہ بات جب ان گوشہ نشین فقیروں تک پہنچی تو وہ دونوں حاضری پر آمادہ ہو گئے اور پھر جب وہ سلطان زنگی کی نظروں کے سامنے سے گزرے تو انہوں نے ان دو فقیروں اور ان دو چہروں کے درمیان کچھ فرق نہ پایا۔ پہلی ہی نگاہ میں انہیں یقین ہو گیا کہ یہ وہی بد بخت و بد باطن ہیں جن کی جانب آقا ﷺ نے اشارہ فرمایا تھا۔
چنانچہ ان دونوں کو فوراً گرفتار کر لینے کا حکم صادر ہوا لیکن عوام میں اتنی مقبولیت رکھنے والے افراد کو بلا دلیل و حجت سزا بھی نہیں دی جا سکتی تھی۔ لہٰذا سلطان نے فرمائش کی کہ وہ ان گدڑی پوشوں کی جھونپڑی میں جانا چاہتے ہیں وہاں پہنچ کر اندر باہر چہار اطراف کی تلاشی لی گئی لیکن ایسا کچھ برآمد نہ ہوا جس کی وجہ سے انہیں ملزم ٹھہرایا جاتا یا کم از کم مشکوک ہی سمجھا جاتا یہ سب کچھ دیکھ کر سلطان زنگی شدید اضطراب کا شکار ہو گئے کہ ایک طرف سرکار مدینہ ﷺ کی طرف سے واضح اشارہ تھا اور دوسری طرف مدینہ بھر کے لوگوں کی جانب سے ان دونوں کے تقدس کی گواہی۔ بالآخر سلطان نے اپنے رب کے حضور دست بستہ دعا کی اور از سر نو جھونپڑی کی تلاشی ہوئی اب کی بار کسی نے ان دونوں کا مصلیٰ اٹھایا تو نیچے زمین سے برابر ایک بڑا پتھر پایا گیا۔ سلطان نے اس پتھر کو اٹھوایا تو سب لوگ یہ دیکھ کر حیران رہ گئے کہ وہاں غار نما ایک سرنگ کا دہانہ ہے۔ سلطان زنگی از خود آگے بڑھے اور اس سرنگ میں داخل ہو گئے پھر وہ اس میں چلتے رہے حتیٰ کہ ایک قبر کے اندرونی حصے کے پاس جا پہنچے۔ یہ عین وہی جگہ تھی جہاں زمین کے اوپر آپ نبی آخر الزمان حضرت محمد ﷺ کا روضہ اقدس تھا اور لوگ اس کی زیارت سے اپنی آنکھوں کا قرار حاصل کرتے تھے۔ بعض روایات میں تو یہاں تک آتا ہے کہ سلطان زنگی روضہ اقدس کے اس قدر قریب پہنچ گئے کہ نبی محترم ﷺ کے اقدام مبارک آپ کو صاف دکھائی دینے لگے۔ یہ سب کچھ دیکھ کر سلطان کانپ اٹھے۔ فوراً واپس لوٹے ان دونوں بدبختوں کو طلب فرمایا اور پوچھا کہ یہ سب کچھ کیا ہے اور کیوں ہے؟۔
ان دونوں نے پہلے تو حیل و حجت کی لیکن رنگے ہاتھوں پکڑے جانے کی وجہ سے کچھ
باب سوم: سچے عاشقان رسول کے واقعات
نہ بن پڑی تو خود ہی بتایا کہ وہ دونوں عیسائی ہیں اور انہیں یورپی بادشاہوں نے بے شمار مال و دولت دے کر بھیجا ہے اور ان کے ذمے یہ کام سپرد کیا گیا ہے کہ وہ (نعوذ باللہ ) پیغمبر اسلام ﷺ کے جسد اطہر کو ان کے روضہ مبارک سے نکال لائیں تاکہ مسلمان اس مرکز سے محروم ہو جائیں جو انہیں ایک دوسرے سے وابستگی اور وحدت عطا کرتا ہے اس کے ساتھ ساتھ اگر ایسا ہو جاتا تو فتنہ پرور بدفطرت عیسائیوں کے لئے مسلمانوں کو یہ چیلنج کرنا بھی ممکن ہو جاتا کہ مسلمان جس نبی ﷺ کی زیارت کرنے کے لئے جوق در جوق چلے آتے ہیں وہ تو قبر میں ہیں ہی نہیں۔
یہ سب کچھ سن کر سلطان نورالدین زنگیؒ کی آنکھوں میں خون اتر آیا۔ ان کا دل بے چین ہو گیا، رگ حمیت پھڑک اٹھی اور اپنے محبوب آقا ﷺ کی ایسی بھیانک گستاخی کا انتقام لینے کے لئے ان کا لہو جوش مارنے لگا تب ایک لمحہ ضائع کئے بغیر ان دونوں بدبختوں کو سزائے موت کا حکم سنایا گیا۔ پھر تمام اہل مدینہ کے سامنے انہیں قتل کر دینے کے بعد ان کو اس وقت تک سکون نہ ملا جب تک ان دونوں کی لاشوں کو جلا کر راکھ نہ کر دیا گیا۔
☆☆☆☆☆☆.......☆☆☆☆☆☆
باب سوم : سچے عاشقان رسول کے واقعات
سچے عاشق رسول ﷺ کا انگریز جج کو للکارنے کا واقعہ
۱۹۲۳ء کا دور تھا ہندوستان پر انگریز کی حکومت تھی جالندھر کے ایک میدان میں محمد عربی ﷺ کے دیوانے جمع تھے اچانک اسٹیج سے اعلان ہوا کہ ایک منافق جو نام تو مدنی آقا ﷺ کا لیتا ہے لیکن کام ان کے دشمنوں کے لئے کرتا ہے اس کے خلاف نظم لکھی گئی ہے کون ایسا خوش نصیب ہے جو یہ نظم پڑھ کر مدنی آقا ﷺ سے محبت کا حق ادا کر دے؟
ایک نوجوان اٹھا اس نے بازو چڑھائے اور نظم پڑھنا شروع کر دی۔ اس نظم میں جہاں اس منافق کا پول کھولا گیا تھا وہیں انگریز کی سازشوں کو بھی بے نقاب کیا گیا تھا جلسہ کے بعد اس نوجوان کو انگریز فوج نے گرفتار کر لیا فوجی عدالت میں مقدمہ چلا جج نے تین ماہ قید کی سزا سنائی نوجوان نے گرج کر جج سے کہا:
بس اتنی سی سزا..... اتنی دیر میں تو محمد عربی ﷺ کی محبت کا نشہ نہیں اترتا۔ یہ سن کر جج نے سزا میں تین مہینے کا اضافہ کر دیا اس پر نوجوان ہنس کر کہنے لگا۔
بس ! اسی بل پر اکڑتے تھے چھ مہینے سزا بھی کوئی سزا ہوتی ہے؟۔
جج نے غصے میں آکر سزا میں مزید تین مہینے کا اضافہ کر دیا اس پر اس نے حقارت بھری نگاہ سے جج کی طرف دیکھا اور کہا میں نو ماہ کی قید کو اپنے پاؤں کی جوتی پر رکھتا ہوں۔
جج نے نو ماہ کی قید کو ایک سال کی قید میں بدل دیا اس پر نوجوان نے کہا:
ایک سال کی قید کیا چیز ہے؟ میں تو محمد عربی ﷺ کی عزت کی خاطر سر کٹوانے کے لئے بھی تیار ہوں۔
اب جج نے کہا: اس شخص کے دماغ پر اثر ہے اس کے لئے ایک سال کی سزا ہی کافی ہے۔ یہ کہہ کر اس نے عدالت برخاست کرنے کا اعلان کر دیا۔
واقعی اس نوجوان کے دماغ پر اثر تھا لیکن یہ اثر اللہ کی توحید اور مدنی آقا ﷺ کی ختم نبوت کا تھا۔ اللہ تبارک و تعالیٰ ہمارے دماغوں پر بھی ایسا اثر ڈال دے۔
یہ نوجوان حکیم سید مہر علی شاہ تھے جو سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ کے خاص دوست تھے۔
باب سوم سچے عاشقان رسول کے واقعات
قاضی عبدالرشید خوشنویس
٭ ...... جناب سردار علی صابری رقمطراز ہیں: جمعرات ۲۳ دسمبر ۱۹۲۶ء کو دلی کے ایک خوشنویس قاضی عبدالرشیدؒ نے غیرت اسلامی کے جذبے سے سرشار ہو کر فتنہ ارتداد (شدھی) کے بانی اور غلامان بارگاہ رسالت کے شاتم ”سوامی شردھانند“ کو موت کے گھاٹ اتار دیا تھا۔ اس سعادت عظمیٰ کے صلہ میں پھانسی کے تختے پر حیات ابدی حاصل کی تھی۔
شردھانند کا جو روپ میرے سامنے آیا وہ بہت ہی اشتعال انگیز تھا، گھناؤنا اور قابلِ نفرت تھا، غالباً ۱۹۲۳ء کے آغاز میں اس کو دفعہ ۱۲۴ الف کے تحت قید سخت کی سزا ہوئی تھی، لیکن وہ معافی مانگ کر جیل سے رہا ہو گیا اور اس نے انگریز حکام کو خوش کرنے اور کچھ متعصب ہندوؤں کے جذبہ اسلام دشمنی کو تسکین دینے کے لئے اسلام اور مسلمانوں کے خلاف اشتعال انگیز تحریروں اور تقریروں کا لامتناہی سلسلہ شروع کیا، شردھانند نے جیل سے رہا ہونے کے بعد روزنامہ ”تیج“ کے ایک مضمون میں اسلام پر جو پہلا حملہ کیا، اس کے نجس الفاظ مجھے اب تک یاد ہیں۔
”تحریک ترک موالات“ دم توڑ رہی تھی، گاندھی ایک دو ماہ بعد ضلع گورکھ پور کے ایک چھوٹے سے گمنام گاؤں چورا چوری کے معمولی سے واقعہ کو آڑ بنا کر تحریک ترک موالات کا گلا گھونٹنے والے تھے تاکہ مسلمانوں کے روز افزوں اثر و رسوخ سے بچ نکلیں اور ہندوستان کی سیاست کو محفوظ کیا جائے، چنانچہ بڑے بڑے ہندو لیڈروں کے عملی اشتراک، آشیر باد اور بھاری سرمائے سے مسلمانوں کے خلاف شدھی اور سنگٹھن کی تحریکیں شروع کی گئیں، شدھی کا مقصد یہ تھا کہ مسلمان جو ہندوؤں کے بیان کے مطابق ہندو نسل سے تعلق رکھتے ہیں کو اسلام سے منحرف کر کے دوبارہ ہندو بنا لیا جائے، اور سنگٹھن کا مقصد یہ تھا کہ ہندوستان سے مسلمانوں کا وجود ختم کرنے کے لئے نہ صرف مختلف مکاتب فکر کے ہندوؤں بلکہ سکھوں اور بودھوں کو بھی عظیم تر ہندو قومیت کے نام پر متحد کیا جائے اور جارحانہ حملوں کے لئے فوجی لائنوں پر مسلح دستے مرتب کئے جائیں۔
شردھانند کے قلم سے اسلام اور مسلمانوں کو گالیاں دی جاتی تھیں اور قرآن مجید کی آیتوں کا مذاق اڑایا جاتا تھا۔ ہندی اخبار ”ارجن“ میں ہندوؤں کو مشتعل کرنے کے لئے
باب سوم: سچے عاشقان رسول کے واقعات
عہد سابق کے مسلم سلاطین کے فرضی مظالم کی کہانیوں کو بہت بڑھا چڑھا کر شائع کیا جاتا تھا اور کوئی دن ایسا نہ گزرتا تھا جب ہندو عورتوں کے اغواء اور مسلمانوں کے ہاتھوں ان کے بے عزت کئے جانے کے دوچار جھوٹے قصے شائع نہ کئے جاتے ہوں۔
ایک آریہ سماجی نے قرآن مجید کا جواب لکھنا شروع کیا۔ شردھانند کی آشیر باد سے ایک اخبار ”گرو گھنٹال“ جاری کیا گیا تھا۔ جس کا مقصد مسلمانوں اور ان کے مقدس رہنماؤں کو (جن میں اولیاء کرام بھی شامل تھے) انتہائی شرمناک الفاظ میں گالیاں دینا تھا۔
شردھانند کے ایک چیلے نے ”جڑپٹ“ کے نام سے ایک کتاب لکھی جس میں نبی پاک ﷺ اور دیگر انبیائے کرام، خاص کر حضرت ابراہیم خلیل اللہ، حضرت لوط ، حضرت ایوب، حضرت اسحاق علیہم السلام کی شان میں اس قدر سخت گستاخیاں کی گئی تھیں کہ اس خباثت کا تصور بھی مشکل ہے۔ شردھانند کا کلیجہ اس قدر سخت اشتعال انگیزیوں پر بھی ٹھنڈا نہ ہوا اور اس نے خاندان مغلیہ کی بے گناہ شہزادیوں کے خلاف فحش ڈرامے لکھنے کی تحریک سارے ملک میں شروع کر دی۔ چنانچہ اس نوعیت کے کئی ڈرامے اُردو اور ہندی میں لکھے گئے۔ شہزادی ”زینت آراء بیگم“ کے متعلق ایک ڈرامہ اخبار ”ریاست“ میں لکھا جس میں اس پاک دامن شہزادی کو انتہائی بدچلن عورت کے روپ میں پیش کیا گیا تھا۔ بعد میں جب آریہ سماجیوں نے اس ناپاک ڈرامے کو اسٹیج پر پیش کرنے کی کوشش کی تو کئی شہروں میں ہنگامے بھی ہوئے۔
شدھی تحریک کے بانی اور چیلوں کے خلاف اشتعال
مسلمانوں کے سینے میں بھی دل تھا۔ وہ غلامان بارگاہ رسالت ﷺ کی شان اقدس و اعلیٰ میں شرمناک گستاخیاں، انبیائے کرام علیہم السلام پر خباثت سے پُر حملے، قرآن مجید کی آیتوں کا مذاق اور بے گناہ مغل شہزادیوں کے خلاف فحش ڈرامے، جو سب کچھ شردھانند کی قیادت میں شردھانند کے اشارے سے ہو رہا تھا، کب تک برداشت کرتے۔ قاضی عبدالرشید مرحوم پیشہ کے لحاظ سے خوش نویس تھے۔ لمبا قد، چھریرا جسم، گندمی رنگ، لمبا چہرہ، کرتہ پاجامہ، ترکی ٹوپی، یہ ان کی عام پوشاک تھی۔ شردھانند کے زمانہ قتل کے قریب اخبار ”ریاست“ میں
باب سوم : سچے عاشقان رسول کے واقعات
فرائض کتابت انجام دیتے تھے۔ دفتر کوچہ ”بلاقی بیگم“ دہلی میں تھا۔ گلی میں دروازہ اور سپلینڈر روڈ کے سامنے برآمدہ۔ دفتر میں آریہ سماجیوں کے جو اخبارات و رسائل اور دیگر پمفلٹ اور ڈرامے وغیرہ تبادلہ اور ریویو کی غرض سے دفتر میں آتے رہتے تھے، وہ بہت غور و سنجیدگی سے پڑھتے رہتے تھے۔ نماز کے بہت پابند تھے۔ دفتر کے اوقات میں ظہر و عصر کی نمازیں ہمیشہ دریبہ کی مسجد میں جماعت سے ادا کرتے تھے اور آریہ سماجیوں کی نجس و ناپاک حرکتوں سے ان کے جذبات بے انتہاء مجروح ہو چکے تھے۔ واقعہ قتل سے تین چار دن پہلے قاضی عبدالرشید مرحوم بہت گم صم رہتے تھے۔ کام میں دل نہ لگتا تھا۔ جب تک جی چاہتا کتابت کرتے اور جب چاہتے تو برآمدے میں بچھے ہوئے کھرے پلنگ پر پڑے رہتے تھے۔ ریاست کے پروپرائٹر سردار دیوان سنگھ ان دنوں نابھہ کے معزول آنجہانی مہاراجہ پردھمن سنگھ کے کسی سیاسی و ذاتی کام سے دو ہفتوں کے لئے شملہ گئے ہوئے تھے۔ دفتر کے انتظامات درست رکھنے اور اخبار کو بروقت نکالنے کی ساری ذمہ داری میری اور سردار گجن سنگھ منیجر کے ذمے تھی۔ قاضی عبدالرشید مرحوم کو میں نے ان کی بے توجہی پر ایک دو مرتبہ ٹوکا لیکن کوئی اثر نہ ہوا۔
عاشق رسول ﷺ کے ہاتھوں گستاخ رسول کا عبرتناک انجام
جمعرات (۲۳ دسمبر ۱۹۲۶ء) کو اخبار کی آخری کاپی پریس بھیجنے کے لئے جوڑی جا رہی تھی، دفتر کا وقت نو بجے مقرر تھا۔ دن کے ساڑھے گیارہ بج رہے تھے اور قاضی عبدالرشید صاحب کا پتہ نہ تھا۔ چند اشتہاروں کے چربے اور مسودے انہی کے پاس تھے۔ قاضی صاحب کے اس قدر دیر سے آنے پر ہیڈ کاتب منشی نذیر حسین میرٹھی نے اعتراض کیا تو جھلا کر جواب دیا۔ ”چولہے میں گئی تمہاری کاپی“۔ یہ کہہ کر کام کرنے کے بجائے برآمدے میں پلنگ پر لیٹ گئے۔ میں نے اعتراض کیا۔ کچھ جواب نہ دیا۔ میں نے سردار گجن سنگھ منیجر سے شکایت کی۔ ان کے اصرار پر برہم ہو گئے اور بولے۔ ”مجھے نوکری کی پرواہ نہیں۔ لکھ دو اپنے سردار کو، میں کام نہیں کرتا۔“ یہ کہہ کر پلنگ سے اٹھے، قلمدان بغل میں دبایا اور چل دیئے۔ چار پانچ بجے سہ پہر کے درمیان دریبے کے ہندو علاقے میں سنسنی اور بے چینی سی محسوس ہوئی۔ سامنے سڑک پر ایک دو
باب سوم : زخمی بھی گزرے۔ اس زمانے میں تعداد میں تھے۔ ساڑھے پانچ بجے شردھانند کے قتل کی تفصیلات کے کی حراست میں کھڑے تھے اور جس مرحوم اسی چادر میں پستول چھپا کر گ
قاضی صاحب کے اقبال
قاضی صاحب نے عد پھانسی کی سزا کا حکم سنایا گیا۔ سیف کرنے کے علاوہ لاہور ہائی کورٹ آخری ہفتے یا اگست کے اوائل میں جام شہادت نوش کیا۔
عاشق رسول ﷺ کے جنا
پھانسی کے دن سینٹرل پوش عورتوں کے علاوہ بہت سے پ نکل پڑے تھے۔ لاش کو جیل کے دفن کرنے کا ارادہ کیا تھا۔ لیکن ج پر لاش دینے کا فیصلہ کیا گیا کہ قبرستان میں نہ دفن کر دیا جائے لیکن جیل کا پھاٹک زبردست ہجوم امڈ آیا اور پولیس سے چھین لیا اور جیل کے سامنے
سچے عاشقان رسول کے واقعات
م دہلی میں تھا۔ گلی میں دروازہ اور سلینڈر و اخبارات ورسائل اور دیگر پمفلٹ اور تے رہتے تھے، وہ بہت غور وسنجیدگی سے کے اوقات میں ظہر وعصر کی نمازیں ہمیشہ سماجیوں کی نجس و ناپاک حرکتوں سے ان سے تین چار دن پہلے قاضی عبدالرشید مرحوم ب تک جی چاہتا کتابت کرتے اور جب پڑے رہتے تھے۔ ریاست کے پروپرائٹر مہاراجہ پردھمن سنگھ کے کسی سیاسی و ذاتی کام فتر کے انتظامات درست رکھنے اور اخبار کو جن سنگھ منیجر کے ذمے تھی۔ قاضی عبدالرشید لیکن کوئی اثر نہ ہوا۔
رسول کا عبرت ناک انجام
کی آخری کاپی پریس بھیجنے کے لئے چھوڑی ساڑھے گیارہ بج رہے تھے اور منشی عبدالرشید مسودے انہی کے پاس تھے۔ قاضی صاحب ہمرٹھی نے اعتراض کیا تو جھلا کر جواب دیا:” بجائے برآمدے میں پلنگ پر لیٹ گئے۔ میں نے سردار سجن سنگھ منیجر سے شکایت کی۔ تھا کی پرواہ نہیں۔ لکھ دو اپنے سردار کو، میں کام ں دبایا اور چل دیئے۔ چار پانچ بجے سہ پہر ت کی محسوس ہوئی۔ سامنے سڑک پر ایک دو
باب سوم: سچے عاشقان رسول کے واقعات
زخمی بھی گزرے۔ اس زمانے میں خبر رسانی کے ذرائع بہت محدود تھے۔ شہر میں ٹیلی فون تک کم تعداد میں تھے۔ ساڑھے پانچ بجے شام کے درمیان روزنامہ ”تیج“ کا ضمیمہ شائع ہوا۔ جس میں شردھانند کے قتل کی تفصیلات کے ساتھ قاضی عبدالرشید کی تصویر بھی تھی کہ ہتھکڑیاں پہنے پولیس کی حراست میں کھڑے تھے اور جسم پر چادر تھی۔ تفصیلات کے مطابق معلوم ہوا کہ قاضی صاحب مرحوم اسی چادر میں پستول چھپا کر شردھانند کے دفتر گئے تھے اور اسے گولی کا نشانہ بنا دیا تھا۔
قاضی صاحب کے اقبال جرم پر شہادت کا تحفہ
قاضی صاحب نے عدالت میں اقبال جرم کیا۔ ۱۵ مارچ ۱۹۲۶ء کو سیشن کورٹ میں پھانسی کی سزا کا حکم سنایا گیا۔ سیف الدین کچلو نے سیشن کورٹ میں کسی معاوضہ کے بغیر پیروی کرنے کے علاوہ لاہور ہائی کورٹ میں اپیل بھی دائر کی ، مگر مسترد ہوگئی اور جولائی ۱۹۲۷ء کے آخری ہفتے یا اگست کے اوائل میں غازی عبدالرشید نے دلی سینٹرل جیل میں پھانسی کے تختے پر جام شہادت نوش کیا۔
عاشق رسول ﷺ کے جنازے پر عوام کا بے پناہ ہجوم
پھانسی کے دن سینٹرل جیل کے سامنے مسلمانوں کا بے پناہ ہجوم تھا۔ ہزاروں برقعہ پوش عورتوں کے علاوہ بہت سے بچے بھی غیرت اسلامی کے جذبہ سے مخمور ہو کر گھروں سے باہر نکل پڑے تھے۔ لاش کو جیل کے اندر ہی غسل و کفن دیا گیا اور حکام نے جیل کے احاطے میں دفن کرنے کا ارادہ کیا تھا۔ لیکن عمائد شہر کے شدید اصرار پر شہید عبدالرشید کے وارثوں کو اس شرط پر لاش دینے کا فیصلہ کیا گیا کہ جنازہ کا جلوس نہ نکالا جائے گا اور اسے جیل کے سامنے والے قبرستان میں دفن کر دیا جائے گا۔
لیکن جیل کا پھاٹک کھلتے ہی جب عاشق رسول ﷺ کا جنازہ باہر نکلا تو مسلمانوں کا زبردست ہجوم اللہ اکبر اور یارسول اللہ کے نعرے لگاتا ہوا دیوانہ وار ٹوٹ پڑا۔ جنازے کو حکام سے چھین لیا اور جیل کے سامنے قبرستان لے جانے کے بجائے جامع مسجد روانہ ہو گیا۔
باب سوم : سچے عاشقان رسول کے واقعات
نعرہ تکبیر کی معجزہ نما اثر انگیزی کا یہ کرشمہ میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ خونی دروازے کے سامنے مسلح پولیس کے کئی سو آدمیوں نے صف بندی کر کے راستہ روک دیا تھا۔ جابجا گورا فوج کے جوان متعین تھے۔ لیکن مسلمانوں کا ہجوم عاشق رسول عبدالرشید کے جنازے کو لے کر خونی دروازے کے سامنے پہنچا اور اللہ اکبر کا نعرہ لگایا تو اللہ تبارک وتعالیٰ جاننے والا ہے کہ پولیس کے مسلح جوانوں کی صف کائی کی طرح پھٹ گئی۔ گورا فوج کے جوان سنگینیں تانے کھڑے رہے اور جنازے کا جلوس اس صفائی سے آگے بڑھا کہ جیسے صابن سے تار نکلتا ہے۔ مسلح پولیس نے کئی بار راستہ روکنے کی کوشش کی مگر ناکام رہی۔
ناموس رسالت پر جان دینے والے عبدالرشید کی نماز جنازہ جامع مسجد میں پچاس ساٹھ ہزار مسلمانوں نے پڑھی (اس وقت دلی کی پوری آبادی تین لاکھ کے قریب تھی) نماز کے بعد شہر کے ممتاز مسلمانوں کی رائے تھی کہ میت کو جیل کے سامنے والے قبرستان میں پہنچا دیا جائے جہاں قبر پہلے سے تیار تھی اور شہداء کے ورثاء متعلقہ حکام سے لاش کی واپسی کا مطالبہ کر رہے تھے۔ لیکن غازی نورالحسن مرحوم (جو پہلے کانگریسی تھے، بعد میں انہوں نے دلی میں مسلم لیگ کے ایک بااثر رہنما کی حیثیت سے شہرت حاصل کی تھی افسوس ہے کہ چند سال پیشتر ان کا انتقال لاہور میں ہوگیا) کی قیادت میں پرجوش طبقے نے جنازے کو حضرت خواجہ باقی باللہ نقشبندی کی درگاہ مبارک میں دفن کرنے کا فیصلہ کیا جو جامع مسجد سے کم وبیش تین میل دور ہے۔ دلی کے مستقل کوتوال شہر دیوی دیال نے ان دنوں رخصت لے رکھی تھی۔ شیخ نذیر الحق قائم مقام کے فرائض انجام دے رہے تھے۔ کئی گھنٹوں کی مسلسل جدوجہد کے بعد مسلح پولیس نے گورا فوج کی مدد سے جنازے پر نماز مغرب سے پیشتر قطب روڈ کے پل پر اس وقت قبضہ کر لیا جب کہ مسلمان حضور خواجہ باقی باللہ کی درگاہ مبارک کے قریب پہنچ چکے تھے۔ جنازہ قبرستان میں مرحوم کے ورثاء کے حوالے کیا گیا۔ عاشق رسول عبدالرشید کو ان کی ابدی خواب گاہ کی نذر کیا گیا۔
☆☆☆☆☆☆.......☆☆☆☆☆☆
باب سوم : سچے عاشقان رسول کے واقعات
غازی علم الدین شہید کی سوانح عمری اور ابتدائی حالات
رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے کہ مومن وہی ہے جو حضرت محمد ﷺ کو اپنی جان سے، اپنے مال سے، اپنی اولاد سے اور اپنے والدین سے عزیز سمجھتا ہو۔
مسلمانوں کے مرکز نگاہ اور محبوب و مقدس ترین شخصیت حضرت محمد ﷺ کی شان میں ادنیٰ سی بھی گستاخی کرتا ہے تو غیرت وحمیت سے سرشار ہر مسلمان کا خون کھول اٹھتا ہے اور اس کے رگ و پے میں لاوا سا دوڑنے لگتا ہے اور اسے اس وقت تک کسی پہلو قرار نہیں آتا جب تک وہ شاتم رسول کے ناپاک اور غلیظ وجود سے اس دھرتی کو پاک نہیں کر لیتا۔ ناموس رسالت کے تحفظ میں اپنے خون کا نذرانہ پیش کر کے اسلام کی عظمت کو چار چاند لگانے والوں میں ایک نام غازی علم الدین شہید کا بھی ہے۔ ہماری تاریخ کے ماتھے کا جھومر اس روشن کردار کی داستان حیات پیش خدمت ہے۔
غازی علم الدین ۴ دسمبر ۱۹۰۸ء کو متوسط طبقے کے ایک شخص ”طالع مند“ کے گھر (لاہور) میں پیدا ہوئے۔ یہ ان کے دوسرے بیٹے تھے۔ نجاری پیشہ تھا، عزت سے دن گزر رہے تھے۔ ایسے نامور نہ تھے، اپنے محلے تک ان کی شہرت محدود تھی یا پھر لاہور سے باہر جا کر کہیں کام کرتے تو محنت، شرافت اور دیانتداری کی بدولت مختصر سے حلقے میں اچھی نظر سے دیکھے جاتے۔
کوچہ ”چابک سواراں“ میں طالع مند اپنے اہل خانہ کے ساتھ امن و آشتی سے رہتے تھے۔ اس دور میں دولت سے زیادہ عزت کی قدر کی جاتی تھی۔ ان کی تو ایک ہی آرزو تھی کہ علم الدین بڑا ہو کر انہی جیسا سعادت مند، محنت کش، دیانتدار اور نیک کاریگر ہو، گھر بسائے اور اچھا نام پائے۔ خدا اسے برائی سے بچائے۔ کسے خبر تھی کہ علم الدین بڑا ہو کر گھر کی اوقات بدل دے گا۔ اسے زمین سے اٹھا کر اوج ثریا پر لے جائے گا۔ محلہ چابک سواراں کو تاریخ کا درخشاں ستارہ بنا دے گا۔ لاہور کو اس پر ناز رہے گا۔ لاہور کے ماتھے کا جھومر بن جائے گا۔
اس زمانے میں مسجد بچوں کی ابتدائی درسگاہ تھی۔ طالع مند نے اپنے بیٹے کو بھی مسجد
باب سوم: سچے عاشقان رسول کے واقعات
میں بھیجا تا کہ قرآن مجید پڑھے۔ علم الدین نے کچھ دن وہاں گزارے۔ تعلیم حاصل کی۔ لیکن وہ زیادہ تعلیم نہ پاسکے۔ قدرت کا کوئی راز تھا۔ ان سے ایسا کام لیا جانا تھا جو عمل کی دنیا میں تعلیم سے بڑھ کر تھا بلکہ تعلیم کا مقصود تھا۔ ان میں من جانب اللہ ایسا جوہر مخفی تھا جس کی اس بچے کو خبر نہ تھی۔ لیکن اس جوہر نے آگے چل کر وہ کام کر دکھایا جس سے انہیں ”تب و تاب جاودانہ“ میسر آئی۔ اس کام کا کوئی بدل نہ تھا۔ طالع مند اعلیٰ پایہ کا ہنرمند تھا۔ وہ علم الدین کو گاہے بگاہے اپنے ساتھ لاہور سے باہر بھی لے جاتے۔ بڑا بیٹا محمد دین تو پڑھ لکھ کر سرکاری نوکر ہو گیا تھا۔ لیکن علم الدین نے موروثی ہنری سیکھا۔
غازی علم الدین شہید کے والد اعلیٰ اخلاق کی ایک روشن مثال
علم الدین والد کے ساتھ رہتے، والد کا ہاتھ بٹاتے اور کام سیکھتے۔ اہل خانہ سمجھ گئے کہ علم الدین نجار بنیں گے۔ اور نجاری ہی کو ذریعہ معاش بنائیں گے۔
گھر کے شریفانہ ماحول میں ڈھل گئے۔ والد کی صحبت میں رہ کر معلوم ہوا کہ بندہ تو وہ ہے جو دوسروں کے کام آئے۔ ایثار اور احسان کو زندگی کا بنیادی عنصر قرار دے۔ خلوص سے پیش آئے، اس کا صلہ کسی نہ کسی شکل میں بندے کو مل ہی جاتا ہے۔
علم الدین نے بچپن ہی میں بعض ایسے واقعات دیکھے جن کے نقوش ان کے دماغ پر ثبت ہوئے، جو ان کی کردار سازی میں کام آئے۔
غازی علم الدین کی قسمت کی سرفرازی کا وقت آخر آ ہی گیا
زندگی امن و چین سے گزر رہی تھی۔ بڑے بھائی کی شادی ہو چکی تھی۔ اب علم دین کی باری تھی۔ چنانچہ ماموں کی بیٹی سے منگنی ہوگئی۔ شادی کی طرف یہ پہلا قدم تھا۔
علم الدین کو گھر اور کام سے سروکار تھا۔ باہر جو طوفان برپا تھا اس کی خبر نہ تھی۔ اس وقت انہیں یہ بھی علم نہ تھا کہ گندی ذہنیت کے شیطان صفت راجپال نامی بدبخت نے نبی آخر الزمان حضرت محمد ﷺ کی شان کے خلاف ایک دل آزار کتاب شائع کر کے کروڑوں
باب سوم:
مسلمانوں کے جذبات کو مجروح حکومت کو راجپال ہوا۔ اخبارات چیختے چلاتے ر نکلتے رہے۔ لیکن حکومت اور عد
مسلمان دلبرداشتہ گڑھ تھا۔ یہاں سے جو آواز ا موچی دروازہ میں ہردم جوالا مقرر زندگی کو موت سے لڑاد سے بالاتر ہوجاتے اور بے در تھا کہ دلی دروازے کے باغ م
غازی علم الدین پر عش
علم الدین حالات غروب آفتاب کے بعد گھر و
ایک جوان کو تقریر کرتے دیکھ کوئی بات نہ پڑی، قریب ج الدین کو بتایا کہ راجپال نے تقریریں ہورہی ہیں۔ پنجابی
راجپال نے ایسی کتاب چھا گستاخی کی گئی ہے اور نازیبا ا شر انگیز حرکت کی ضرور سزا ملنی
علم الدین کی زندگ تھے اور کچھ نہ سہی کلمہ تو انہیں آ
باب سوم : سچے عاشقان رسول کے واقعات
مسلمانوں کے جذبات کو مجروح کیا ہے۔
حکومت کو راجپال کے خلاف مقدمہ چلانے کو کہا گیا۔ مقدمہ چلا۔ لیکن الٹا چور سر خرو ہوا۔ اخبارات چیختے چلاتے رہے راجپال کے خلاف کاروائی کا مطالبہ کرتے رہے جلسے، جلوس نکلتے رہے۔ لیکن حکومت اور عدل وانصاف کے کان بہرے رہے۔
مسلمان دلبرداشتہ تو ہوئے لیکن سرگرم عمل رہے۔ دلی دروازہ سیاسی سرگرمیوں کا گڑھ تھا۔ یہاں سے جو آواز اٹھتی پورے ہند میں گونج جاتی۔ وہ دور ہی ایسا تھا۔ دلی دروازہ اور موچی دروازہ میں ہر دم جوالا مکھی سلگتی رہی۔ آتش نفس مقرر انہیں ہوا دیتے رہے۔ یہ باکمال مقرر زندگی کو موت سے لڑا دیتے۔ زندگی دیوانہ وار موت کے گلے پڑ جاتی۔ لوگ سودوزیاں سے بالا تر ہو جاتے اور بے دریغ جانوں پر کھیل جاتے۔ راجپال کا معاملہ اتنی اہمیت اختیار کر گیا تھا کہ دلی دروازے کے باغ میں اس کا ذکر لازم ہو گیا۔
غازی علم الدین پر عشق رسول سے لبریز تقریر کا اثر
علم الدین حالات سے بے خبر تھے ایک روز حسب معمول کام پر گئے ہوئے تھے۔ غروب آفتاب کے بعد گھر واپس جا رہے تھے تو دلی دروازے میں لوگوں کا ایک ہجوم دیکھا۔ ایک جوان کو تقریر کرتے دیکھا تو کچھ دیر رکے۔ اور کھڑے ہو کر سننے رہے۔ لیکن ان کے پلے کوئی بات نہ پڑی، قریب جا کر ایک صاحب سے انہوں نے دریافت کیا تو انہوں نے علم الدین کو بتایا کہ راجپال نے نبی کریم ﷺ کے خلاف کتاب چھاپی ہے۔ اس کے خلاف تقریریں ہو رہی ہیں۔ پنجابی تقریر اچھی طرح ان کی سمجھ میں آگئی۔ جس کا حاصل یہ تھا کہ راجپال نے ایسی کتاب چھاپی ہے جس میں ہمارے پیارے رسول پاک ﷺ کی شان میں گستاخی کی گئی ہے اور نازیبا الفاظ استعمال کئے گئے ہیں، راجپال واجب القتل ہے، اسے اس شر انگیز حرکت کی ضرور سزا ملنی چاہئے۔
علم الدین کی زندگی کے تیور ہی بدل گئے، پڑھے لکھے نہ تھے سیدھے سادے مسلمان تھے اور کچھ نہ سہی کلمہ تو انہیں آتا تھا، یہی بہت بڑا سرمایہ حیات تھا ان کے لئے، کلمے میں اللہ اور
باب سوم: سچے عاشقان رسول کے واقعات
رسول اللہ ﷺ کا نام ایک سانس میں لیتے تھے۔ یہی دو سہارے، دو محور تھے ان کی سوچ کے۔ جب جہاد باللسان اور جہاد بالقلم سے کام نہ بنے تو پھر جہاد بالسیف ہی سے قضیہ نمٹتا ہے، علم الدین بیچارے کے پاس اس سلسلے میں لسان اور قلم کہاں سے آئے؟ تقریر کر سکتے تھے نہ لکھ پڑھ سکتے تھے، انہوں نے جہاد بالسیف کا راستہ ہموار کیا، آسان کیا، ان کے پیچھے وہ شدید اور گراں قدر جذبہ تھا جو شر کو مٹانے کے لئے حرکت میں آیا۔ انہوں نے راجپال کو اس کی شرارت بلکہ شر انگیزی کی سزا دینا ضروری سمجھا۔
غازی کا گستاخ رسول کو انجام سے دوچار کرنے کے لئے معلومات اکٹھی کرنا
دہلی دروازے کے باغ سے آتش نوا مقرروں کی تقریریں سن کر دیر سے گھر آئے تو طالع مند (والد) نے پوچھا، دیر سے کیوں آئے ہو؟ تو انہوں نے جلسے کی ساری کاروائی بیان کی، راجپال کی حرکت کا ذکر کیا اور یہ بھی بتایا کہ جلسے میں اسے واجب القتل قرار دیا گیا ہے۔
طالع مند بھی سیدھے سادھے کلمہ گو تھے تمام مسلمانوں کی طرح انہیں بھی اپنے نبی ﷺ کی شان میں گستاخی گوارا نہ تھی۔ انہوں نے بھی اس بات کی تائید کی کہ رسول اکرم ﷺ کی ذات پر حملہ کرنے والے بداندیش کو واصل جہنم کرنا چاہئے۔
یوں علم الدین کو گویا گھر سے بھی اجازت مل گئی اور دشمن کا کام تمام کرنے کے خیال کو تقویت پہنچی، علم الدین کے دل میں تہلکہ مچا ہوا تھا اس کی کسی کو خبر نہ تھی۔
وہ اپنے دوست شیدے سے ملے، راجپال اور اس کی کتاب کا ذکر کیا۔ شیدا اچھا لڑکا تھا لیکن ایک بھلے آدمی نے طالع مند کے دل میں شک بٹھا دیا وہ آوارہ ہے، علم الدین کی اس سے دوستی ٹھیک نہیں، طالع مند نے بیٹے کو سمجھایا لیکن بات نہ بنی، علم الدین کا یہی ایک نوجوان مزاج آشنا تھا، اسی کے ساتھ علم الدین گھومتے پھرتے تھے، علم الدین کو پتہ نہیں چل رہا تھا کہ راجپال کون ہے؟ کہاں ہے اس کی دکان؟ کیا حلیہ ہے اس کا؟
انجام کار علم الدین کو شیدے کے ایک دوست سے معلوم ہوا کہ شاتم رسول ہسپتال روڈ پر دکان کرتا ہے، طالع مند کی سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کہ علم الدین کو کیا ہو گیا ہے؟ کام پر
باب سوم : سچے عاشقان رسول کے واقعات
با قاعدہ نہیں جاتا، کھانے کا بھی ناغہ کر لیتا ہے، کیا عجب کہ علم الدین کے روز و شب کے معمولات میں جو بے قاعدگی آئی ہے اس کا سبب شیدا ہو جس کے باپ کی نسبت خبر ملی کہ وہ جواری ہے اور اپنی دکان جوئے میں ہار چکا ہے۔
طالع مند کی طبیعت غصیلی تھی۔ علم الدین جب دیر سے گھر آئے اور طالع مند کو پتہ چلا کہ شیدے لوفر کے ساتھ پھرتے رہے ہیں تو وہ غصے سے لال پیلے ہو گئے، باپ کے سامنے جوان بیٹا خاموش سر جھکائے کھڑا رہا، باپ کا ادب بھی تھا، ڈر بھی تھا۔ باپ نے انہیں پکڑ کر دھکیلا اور کہا چلا جا اس لوفر کے پاس۔
بڑے بھائی محمد دین کو اپنے چھوٹے بھائی سے بڑا پیار تھا۔ فوراً بیچ بچاؤ کے لئے آئے اور باپ کو منالیا، بھائی کو اندر لے گئے اور ناصحانہ درس دیا، اونچ نیچ سمجھائی، بری صحبت سے بچنے کو کہا۔
علم الدین کو اپنی ذات پر یقین تھا اور جانتے تھے کہ وہ بری صحبت کا شکار نہیں، شیدے کے حوالے سے بری صحبت کا سن کر آبدیدہ بھی ہوئے اور برہم بھی۔
وہ پوری طرح واضح نہیں کر سکتے تھے، ان کے دل میں جو بھانبڑ مچا تھا اس کا وہ کیسے ذکر کرتے؟ موت اور زندگی کا سوال تھا، انہوں نے سر پر کفن باندھ لیا تھا، لیکن کسی کو نظر نہ آ رہا تھا، اپنے ارادے کا خفیف سا اشارہ بھی کسی کو نہ دے سکتے تھے مبادا کوئی مسئلہ کھڑا ہو جائے اور شک کی بھول بھلیوں میں جا پہنچیں، البتہ اب اتنا ضرور ہو گیا کہ گھر میں راجپال کے قتل کی بات عام انداز میں ہونے لگی، اس گفتگو میں طالع مند اور علم الدین شریک ہوتے، یہ کوئی اچنبھے کی بات نہ تھی، گھر گھر اس کا چرچا تھا۔
مولانا سید عطاء اللہ شاہ بخاری کا ولولہ انگیز خطاب
لوگوں کے دلوں میں آگ بھڑک اٹھی تھی، ادھر باہر بھی آگ بھڑک رہی تھی، مسلمانوں کے لیڈر، رہنما، سیاسی اور مذہبی خطیب پوری قوت سے کہہ رہے تھے کہ زبان دراز راجپال کو عبرتناک سزا دی جائے تا کہ ایسا فتنہ پھر کبھی سر نہ اٹھائے، اس موقع پر عاشق رسول
باب سوم: سچے عاشقان رسول کے واقعات
امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاری نے بڑی رقت انگیز تقریر کی، دفعہ ۱۴۴ کا نفاذ تھا جس کی رو سے کسی قسم کا جلسہ یا اجتماع نہیں ہو سکتا تھا، لیکن مسلمانوں کا ایک فقید المثال اجتماع بیرون دلی دروازہ درگاہ شاہ محمد غوثؒ کے قریب عبدالرحیم کے احاطے میں منعقد ہوا، وہاں اس عاشق رسول ﷺ نے ناموس رسالت پر جو تقریر کی وہ اتنی دل گداز کہ سامعین پر رقت طاری ہو گئی، کچھ لوگ تو دھاڑیں مار مار کر رونے لگے، شاہ جی نے مسلمانوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا:
آپ لوگ جناب فخر رسل محمد عربی ﷺ کی عزت و ناموس کو برقرار رکھنے کے لئے یہاں جمع ہوئے ہیں، آج انسانیت کو عزت بخشنے والے کی عزت خطرے میں ہے، آج اس جلیل المرتبت کا ناموس معرض خطر میں ہے، جس کی دی ہوئی عزت پر تمام موجودات کو ناز ہے، اس جلسے میں مفتی کفایت اللہ اور مولانا احمد سعید دہلوی بھی موجود تھے۔ شاہ جی نے ان سے مخاطب ہو کر کہا۔
آج مفتی کفایت اللہ اور مولانا احمد سعید کے دروازے پر ام المومنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا اور ام المومنین خدیجۃ الکبریٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کھڑی آواز دے رہی ہیں، ہم تمہاری مائیں ہیں، کیا تمہیں معلوم نہیں کہ کفار نے ہمیں گالیاں دی ہیں، ارے دیکھو! کہیں ام المومنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا دروازہ پر تو کھڑی نہیں؟
یہ الفاظ دل کی گہرائیوں سے اس جوش اور ولولے کے ساتھ ابل پڑے کہ سامعین کی نظریں معا دروازے کی طرف اٹھ گئیں اور ہر طرف سے آہ و بکا کی صدائیں بلند ہونے لگیں، پھر باقی تقریر جاری رکھتے ہوئے فرمایا۔
تمہاری محبتوں کا تو یہ عالم ہے کہ عام حالتوں میں کٹ مرتے ہو، لیکن کیا تمہیں معلوم نہیں کہ آج گنبد خضریٰ میں رسول اللہ ﷺ تڑپ رہے ہیں۔ آج خدیجۃ الکبریٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہا اور عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا پریشان ہیں، بتاؤ! تمہارے دلوں میں امہات المومنین کے لئے کوئی جگہ ہے؟ آج ام المومنین عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا تم سے اپنے حق کا مطالبہ کرتی ہیں، وہی عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا جنہیں رسول اللہ ﷺ 'حمیرا' کہہ کر پکارا کرتے تھے، جنہوں نے سید عالم ﷺ کو وصال کے وقت مسواک چبا کر دی تھی، یاد رکھو کہ اگر تم نے خدیجہ اور عائشہ رضی اللہ عنہن
باب سوم:
کے لئے جانیں دے دیں تو یہ شاہ جیؒ نے اپنی تقـ ناموس رسالت پر حملہ کرنے و کمشنر نا اہل ہے، وہ ہندو اخبار روکنا چاہتا ہے، وقت آ گیا ۔ اپنے جوتے کی نوک تلے مسل
جلا کے
گستاخ رسول کو ٹھکانے
طالع مند نے علم الـ اس کا بیاہ کر دیا جائے۔ ماں با آزماتے ہیں۔ طالع مند نے جائے۔ ادھر شیدے کو ملے اور ہی اپنے موقف پر ڈٹے تھے ہو گئے۔ دو مرتبہ قرعہ اندازی کـ شیدے نے اصـ اجنبی لڑکا حیران تھا کہ یہ دونو ہوگئے۔ اب پھر انہی کا نام نـ اب شک و شبہ کی قرعہ فال انہی کے نام نکلا، تـ دونوں وہاں سے اٹھ کر چلے
باب سوم : سچے عاشقان رسول کے واقعات
کے لئے جانیں دے دیں تو یہ کچھ کم فخر کی بات نہیں۔
شاہ جیؒ نے اپنی تقریر جاری رکھتے ہوئے کہا۔ جب تک ایک مسلمان بھی زندہ ہے ناموس رسالت پر حملہ کرنے والے چین سے نہیں رہ سکتے، پولیس جھوٹی، حکومت کوڑھی اور ڈپٹی کمشنر نااہل ہے، وہ ہندو اخبارات کی ہرزہ سرائی تو روک نہیں سکتا، لیکن علمائے کرام کی تقریریں روکنا چاہتا ہے، وقت آگیا ہے کہ دفعہ ۱۴۴ کے یہیں پر بخیے اڑا دیئے جائیں، میں دفعہ ۱۴۴ کو اپنے جوتے کی نوک تلے مسل کر بتا دوں گا۔
جلا کے راکھ نہ کر دوں تو داغ نام نہیں
گستاخ رسول کو ٹھکانے لگانے کے لئے قرعہ اندازی
طالع مند نے علم الدین کے بارے میں سوچا کہ اس اکھڑ پن کا ایک ہی علاج ہے کہ اس کا بیاہ کر دیا جائے۔ ماں باپ کو اولاد کی پریشانی کے سلسلے میں یہی نسخہ یاد ہے۔ سب اسی کو آزماتے ہیں۔ طالع مند نے فیصلہ کرلیا کہ علم الدین کو جلد ہی سلسلۂ ازدواج میں منسلک کر دیا جائے۔ ادھر شیدے کو ملے اور اپنے فیصلہ سے آگاہ کیا ان دونوں میں کوئی فیصلہ نہ ہو رہا تھا۔ دونوں ہی اپنے موقف پر ڈٹے تھے۔ آخر قرار پایا کہ قرعہ اندازی کی جائے۔ دونوں اس پر رضامند ہو گئے۔ دو مرتبہ قرعہ اندازی کی گئی۔ دونوں مرتبہ علم الدین کے نام کی پرچی نکلی۔
شیدے نے اصرار کیا کہ تیسری بار پھر قرعہ اندازی کی جائے۔ پرچی نکالنے والا اجنبی لڑکا حیران تھا کہ یہ دونوں جوان کیا کر رہے ہیں۔ آخر تیسری بار پر علم الدین رضامند ہو گئے۔ اب پھر انہی کا نام نکلا۔
اب شک و شبہ کی کوئی گنجائش نہ رہی۔ علم الدین مارے خوشی کے پھولے نہ سمائے۔ قرعۂ فال انہی کے نام نکلا۔ وہی باہمی فیصلے سے شاتم رسول کا فیصلہ کرنے پر مامور ہوئے۔ پھر دونوں وہاں سے اٹھ کر چلے گئے۔
باب سوم : سچے عاشقان رسول کے واقعات
غازی علم الدین کے ہاتھوں راجپال ملعون کا عبرتناک انجام
گھر والوں کو خبر ہی نہ ہوئی کہ علم الدین نے کیا فیصلہ کیا ہے۔ ان کے اندر کب سے طوفان انہیں بے چین کر رہا ہے اور اس کا منطقی انجام کیا ہوگا۔ ان کی زندگی میں جو بے ترتیبی آئی ہے اس کا کیا سبب ہے؟
آخری بار اپنے دوست شیدے سے ملنے گئے۔ اسے اپنی چھتری اور گھڑی یادگار کے طور پر دی، گھر آئے رات گئے تک جاگتے رہے، نیند کیسے آتی؟ وہ تو زندگی کے سب سے بڑے مشن کی تکمیل کی بابت سوچ رہے تھے، اس کے علاوہ اب کوئی دوسرا خیال پاس بھی پھٹک نہ سکتا تھا۔ اگلی صبح گھر سے نکلے۔ کسی بازار کی طرف گئے اور ”آتما رام“ نامی کباڑئیے کی دکان پر پہنچے، جہاں چھریوں اور چاقوؤں کا ڈھیر لگا تھا، وہاں سے انہوں نے اپنے مطلب کی چھری لے لی اور چل دیئے، اب ”نغمہ پیش از تار ہو گیا، روح بے قابو ہو گئی۔“
انار کلی میں اسپتال روڈ پر عشرت پبلشنگ ہاؤس کے سامنے ہی راجپال کا دفتر تھا۔ معلوم ہوا کہ راجپال ابھی نہیں آیا، آتا ہے تو پولیس اس کی حفاظت کے لئے آجاتی ہے، اتنے میں راجپال کار پر آیا، کھوکھے والے نے بتایا کہ کار سے نکلنے والا راجپال ہے، اسی نے کتاب چھاپی ہے۔
راجپال گردوارے سے واپس آیا تھا۔ دفتر میں جا کر اپنی کرسی پر بیٹھا اور پولیس کو اپنی آمد کی خبر دینے کے لئے ٹیلیفون کرنے کی سوچ ہی رہا تھا کہ علم الدین دفتر کے اندر داخل ہوئے، اس وقت راجپال کے دو ملازم وہاں موجود تھے، ”کدارناتھ“ پچھلے کمرے میں کتابیں رکھ رہا تھا جب ”بھگت رام“ راجپال کے پاس ہی کھڑا تھا، راجپال نے درمیانے قد کے گندمی رنگ والے جوان کو اندر داخل ہوتے دیکھ لیا، لیکن وہ سوچ بھی نہ سکا کہ موت اس کے اتنے قریب آچکی ہے۔...... پلک جھپکتے ہی چھری نکالی...... ہاتھ فضا میں بلند ہوا اور پھر راجپال کے سینے پر جا لگا...... چھری کا پھل سینے میں اتر چکا تھا، ایک ہی وار اتنا کارگر ثابت ہوا کہ راجپال کے منہ سے صرف ہائے کی آواز آئی اور وہ اوندھے منہ زمین پر جا پڑا۔
باب سوم : سچے عاشقان رسول کے واقعات
ملعون کے قتل پر ہندوؤں کا واویلا
علم الدین الٹے قدموں باہر دوڑے، کدار ناتھ اور بھگت رام نے باہر نکل کر شور مچایا ...... پکڑو پکڑو ...... مار گیا ...... مار گیا ...... مار گیا ......
راجپال کے قتل کی خبر آناً فاناً شہر میں پھیل گئی۔ پوسٹ مارٹم ہوا تو کئی ہزار ہندو ہسپتال پہنچ گئے اور آریہ سماجی ہندو دھرم کی جے، ویدک دھرم کی جے کے نعرے سنائی دینے لگے۔
امرت دھارا کے موجد پنڈت ٹھاکر دت شرما، رائے بہادر بدری داس اور پرمانند کا وفد ڈپٹی کمشنر سے ملا اور راجپال کی ارتھی کو ہندو محلوں میں لے جانے کی درخواست کی۔ لیکن ڈپٹی کمشنر نہ مانا۔ کیسے مانتا؟ اس کی منشاء کے عین مطابق حسب ضرورت ہندو مسلم اتحاد درہم برہم ہونے کی صورت پیدا ہوگئی تھی، وہ کسی کو اس حد کے آگے کیونکر جانے دیتا، اگلا مرحلہ تصادم کا تھا جس سے امن قائم نہ رہتا، فرنگی کو اس سے نقصان پہنچتا، چنانچہ جب لوگ زبردستی کرنے لگے اور ارتھی کا جلوس نکالنے پر تل گئے تو پولیس کو لاٹھی چارج کا حکم ملا، پنجاب پولیس امن قائم کرنے کا بڑا تجربہ رکھتی ہے، پولیس نے لٹھ برسائے اور وہ گتھم گتھا ہوئی کہ توبہ ہی بھلی۔
بانی پاکستان محمد علی جناح کی طرف سے وکالت
ہائی کورٹ میں سماعت ہوئی۔ قائد اعظم محمد علی جناح نے دفاع میں دو نکات پیش کئے۔
- (۱) راجپال نے پیغمبر اسلام ﷺ کی شان میں گستاخی کی ہے، بدزبانی کی ہے، ملزم کے
مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچائی گئی جس سے غصے میں آکر اس نے راجپال پر حملہ کیا۔ جرم اس پر ٹھونسا گیا۔
- (۲) ملزم کی عمر انیس اور بیس سال کے قریب ہے۔ وہ سزائے موت سے مستثنیٰ ہے۔
(بحوالہ مقدمہ امیر بنام کراؤن نمبر ۹۵۴ سال ۱۹۲۲ء)
لیکن فرنگی اور سر شادی لال کی موجودگی میں غازی علم الدین کو کیسے بخشا جا سکتا تھا۔ ۳۱، ۱۰، ۱۹۲۹ء کو سزائے موت دی گئی۔
باب سوم: سچے عاشقان رسول کے واقعات
غازی علم الدین کو پھانسی ہوگئی، آخر وقت وہ بالکل پرسکون رہے، وہ رسول اللہ ﷺ کی عزت اور ناموس کی خاطر تختہ دار پر چڑھ گئے۔ سید عطاء اللہ شاہ بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے ان کے پھانسی پانے پر فرمایا:۔ ”علم دین ہم سے بہت آگے نکل گیا۔“
غازی علم الدین کی جیل کی کوٹھری میں پُرنور روشنی
کچھ عرصہ بعد ختم نبوت کی تحریک کے سلسلے میں خطیب پاکستان حضرت مولانا قاضی احسان احمد شجاع آبادیؒ گرفتار ہوئے اور اتفاق سے انہیں اسی کوٹھری میں بند کیا گیا جس میں غازی علم الدین شہیدؒ رہ چکے تھے، جیل کے وارڈن نے انہیں کوٹھری میں داخل کرتے ہوئے کہا۔ مولانا آپ بہت خوش قسمت ہیں۔
مولانا احسانؒ احمد نے حیران ہوکر جیل وارڈن کی طرف دیکھا اور پوچھا وہ کیسے؟
اس نے جواب دیا یہ وہی بابرکت کوٹھری ہے جس میں علم الدین کو رکھا گیا تھا۔ ایک رات میں نے کوٹھری کو اچانک روشن ہوتے دیکھا۔ کوٹھری یکدم نور کا ٹکڑا بن گئی، میں سمجھا کوٹھری میں آگ لگ گئی ہے۔ دوڑ کر نزدیک آیا۔ کوٹھری میں تو نور ہی نور پھیلا ہوا تھا اور اندر علم الدین مزے سے سو رہے تھے۔ میں ہکا بکا کھڑا رہا۔ کافی دیر گزرنے پر کوٹھری سے وہ روشنی ختم ہوگئی۔ میں نے علم الدین کو جگایا اور انہیں بتایا کہ میں نے کوٹھری میں کیا دیکھا تھا۔ پھر میں نے ان سے بار بار پوچھا۔ اس بارے میں آپ مجھے بتائیں، آخری بار میری منت سماجت کرنے پر غازی علم الدین شہیدؒ نے بتایا۔
”خواب میں، میں نے نبی کریم ﷺ کو دیکھا، آپ ﷺ میرے پاس تشریف لائے۔ آپ ﷺ فرما رہے تھے کہ علم الدین، ڈٹ جاؤ، میں حوض کوثر پر آپ کا انتظار کر رہا ہوں۔“
کتنے خوش قسمت تھے غازی علم الدین شہیدؒ سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ صاحب نے ٹھیک کہا تھا۔ ”علم الدین ہم سے بہت آگے نکل گیا۔“
باب سوم : سچے عاشقان رسول کے واقعات
غازی عبدالقیوم کا مختصر تعارف
غازی عبدالقیوم خان کو بچپن ہی سے مذہبی تعلیم کا شوق تھا۔ چھٹی جماعت کر کے گاؤں کے علماء کرام سے پڑھنا شروع کر دیا۔ اکثر قرآن مجید کی تلاوت کرتے رہتے۔ اسکول چھوڑ کر قرآن مجید کی تعلیم کی طرف ہمہ تن متوجہ ہو گئے۔ صوم وصلوٰۃ کی آخری وقت پوری پابندی کرتے رہے۔
۱۹۳۲ء میں ان کے والد عبداللہ خان صاحب انتقال کر گئے۔ ان کی چھ بہنیں تھیں جو اچھے گھرانوں میں بیاہی گئیں۔ ایک بھائی جو ان سے بڑے ہیں ان کا نام ہمایوں خان ہے جو محکمہ امداد باہمی میں بحیثیت ہیڈ کلرک، سپرنٹنڈنٹ ملازمت کر کے ریٹائر ہو چکے ہیں۔
جب ان کی عمر ۲۱-۲۲ سال کی ہوئی تو ۱۹۳۴ء میں ان کی شادی کرادی گئی۔ شادی کے چند ماہ بعد ان کو کراچی جانے کا شوق پیدا ہوا۔ وجہ یہ تھی کہ ان کے حقیقی چچا رحمت اللہ خان وہاں پہلے سے مقیم تھے اور وکٹوریہ میں گاڑیوں کا کاروبار کرتے تھے۔ چنانچہ یہ کراچی چلے گئے اور اپنے چچا کے ہاں ٹھہرے۔ وہاں بھی ان کا زیادہ تر وقت صدر کی مسجد میں تلاوت قرآن، ذکر اللہ اور نوافل اور عبادت وغیرہ میں گزرتا تھا۔
نتھو رام کی تحریک توہین رسالت میں مسلمانوں کا ردعمل
یہ ان دنوں کی بات جب شردھا نند کی شدھی تحریک زوروں پر تھی اور بدزبان اور گستاخ ہندو ذات رسالت مآب ﷺ پر رکیک حملے کر رہے تھے۔ ۱۹۳۴ء کے اوائل میں آریہ سماج حیدر آباد (سندھ) کے سیکرٹری نتھورام نے ایک کتابچہ بعنوان ”ہسٹری آف اسلام“ شائع کیا۔ یہ پمفلٹ ”رنگیلا رسول“ اور اس جیسی دیگر کتابوں سے ماخوذ مواد پر مشتمل تھا اور اس میں ناموس رسالت ﷺ پر اسی انداز میں حملے کئے گئے تھے جیسا کہ گذشتہ گیارہ سال سے آریہ سماجی کر رہے تھے۔
اس وقت سندھ صوبہ بمبئی میں شامل تھا۔ لیکن سندھ کے تمام اضلاع میں مسلمانوں کی اکثریت تھی۔ مسلمان اکثریت میں ہونے کے باوجود ملازمت، تجارت، تعلیم اور اقتصادی
سچے عاشقان رسول کے واقعات باب سوم :
شعبوں میں ہندوؤں سے بہت پیچھے تھے۔ تاہم وہ اپنے مذہب پر کسی حملے کو برداشت کرنے کے روادار نہ تھے۔
چنانچہ جونہی نتھو رام کا ناپاک کتابچہ بازار میں آیا عبدالمجید سندھی، حاتم علوی اور دوسرے مسلمان لیڈر اٹھ کھڑے ہوئے۔ نتھو رام کے خلاف استغاثہ دائر کیا گیا۔ حیدر آباد کی عدالت نے کتابچہ ضبط کر لیا اور ملزم کو ایک سال قید سخت اور جرمانے کی سزا دی۔ یعنی وہی کھیل کھیلا گیا جو راج پال کے مقدمے میں مسلمانوں نے دیکھا تھا۔ ٭
نتھو رام نے عدالت (ان دنوں جوڈیشل کمشنری کہلاتی تھی) میں اپیل کر دی۔ ضمانت پر وہ پہلے ہی رہا ہو چکا تھا۔ مارچ ۱۹۳۳ء میں اپیل کیس کی سماعت شروع ہوئی۔ ہندو اور مسلمان بھاری تعداد میں کاروائی سننے آئے۔ جن میں، میں بھی شامل تھا۔ نتھو رام اپنے ساتھیوں کے ہمراہ خوش گپیاں کرتا ہوا آیا اور عدالت میں ڈائس کے قریب ایک بینچ پر بیٹھ گیا۔
غازی عبدالقیوم کے ہاتھوں گستاخ رسول کا عبرتناک انجام
٭...... بیرسٹر سید محمد اسلم لکھتے ہیں۔
تھوڑی سی دیر گزری تھی کہ ایک مسلم نوجوان عدالت کے کمرے میں داخل ہوا۔ معذرت کرتے ہوئے نتھو رام کو تھوڑا سا سرکایا اور پھر اس کے بالکل قریب بیٹھ گیا۔ پونے بارہ بجے کا عمل تھا اور پندرہ منٹ بعد نتھو رام کی اپیل کی سماعت شروع ہونے والی تھی۔ میں پہنچا تو بارہ بجنے میں چھ سات منٹ باقی تھے۔ عدالت کے برآمدے میں، میں ایک دوست سے باتیں کرنے لگا۔ اچانک عدالت کے کمرے سے تیز تیز آوازیں آنے لگیں۔ جیسے کوئی نعرے لگا رہا ہو۔ ساتھ ہی بہت سے آدمی باہر کو بھاگے۔
میں لپک کر کمرے میں داخل ہوا تو دیکھا کہ نتھو رام کی آنتیں باہر نکلی پڑی ہیں اور وہ زمین پر موت وحیات کی کشمکش میں مبتلا ہے۔ اس کی گدی سے خون کا فوارہ ابل رہا ہے۔ قریب ہی ایک مسلمان نوجوان ہاتھ میں بڑا سا خون آلود خنجر لئے کھڑا نظر آیا۔
انگریز ججوں میں سے ایک جج جس کا نام اوسمان تھا، ڈائس سے اترا۔ مسلم نوجوان پر
سچے عاشقان رسول کے واقعات
اپنے مذہب پر کسی حملے کو برداشت کرنے
بازار میں آیا عبدالمجید سندھی، حاتم علوی اور اس کے خلاف استغاثہ دائر کیا گیا ۔ حیدر آباد کی قید سخت اور جرمانے کی سزادی ۔ یعنی وہی کھیل جو دیکھا تھا ۔ ٭
اپیل کمشنر کی کہلاتی تھی ) میں اپیل کر دی ۔ میں اپیل کیس کی سماعت شروع ہوئی ۔ ہندو جن میں ، میں بھی شامل تھا ۔ نتھورام اپنے عدالت میں ڈائس کے قریب ایک بینچ پر بیٹھ گیا ۔
رسول کا عبرتناک انجام
نوجوان عدالت کے کمرے میں داخل ہوا ۔ مگر اس کے بالکل قریب بیٹھ گیا ۔ پونے بارہ کی سماعت شروع ہونے والی تھی ۔ میں پہنچا تو کے برآمدے میں ، میں ایک دوست سے تیز تیز آوازیں آنے لگیں ۔ جیسے کوئی نعرے
مارا کہ نتھورام کی آنتیں باہر نکلی پڑی ہیں اور وہ کی گدی سے خون کا فوارہ ابل رہا ہے ۔ قریب لیے کھڑا نظر آیا ۔ لہولہان تھا ، ڈائس سے اترا ۔ مسلم نوجوان پر
باب سوم : سچے عاشقان رسول کے واقعات
قہر آلود نگاہ ڈالی اور تحکمانہ انداز میں بولا ۔ ”تو نے اس کو مار ڈالا “؟ ”ہاں ...... اور کیا کرتا ؟ “ نوجوان نے بڑی بے باکی سے جواب دیا اور پھر کمرے میں آویزاں جارج پنجم کی تصویر کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا : ”اگر یہ تمہارے اس بادشاہ کو گالی دیتا تو تم کیا کرتے ؟ تم میں غیرت ہوتی تو کیا تم قتل نہ کر ڈالتے ۔“؟
پھر انتہائی حقارت سے نتھو رام کی لاش کی طرف انگلی اٹھاتے ہوئے بولا ۔ ”اس خنزیر کے بچے نے میرے آقا اور شہنشاہوں کے شہنشاہ رسول اللہ ﷺ کی شان میں گستاخی کی تھی اور اس کی سزا یہی تھی ۔“ پھر بڑے اطمینان کے ساتھ اپنی نشست پر بیٹھ گیا ۔
اسی اثناء میں ایک سب انسپکٹر ریوالور تانے کمرہ عدالت میں داخل ہوا ۔ آنکھیں چار ہوتے ہی غازی نے چھری پھینک دی ۔ کھڑا ہو گیا اور بڑی جوشیلی آواز میں کہا: ”ڈریئے نہیں ...... ریوالور ہولسٹر میں رکھ لیں ۔ مجھے جو کچھ کرنا تھا الحمد للہ کر چکا ہوں ۔“
سب انسپکٹر نے ریوالور والا ہاتھ نیچے کر لیا ۔ آگے بڑھ کر غازی کی کلائی پکڑ لی ۔ ساتھ والے کانسٹیبل نے فوراً ہتھکڑی پہنا دی ۔ میرا دل جو نتھو رام کی گندی کتاب سے مجروح ہو چکا تھا تو اس منظر کو دیکھ کر باغ باغ ہو گیا ۔ غازی نے اپنا فرض ادا کر دیا تھا ۔ میں نے اپنا فرض ادا کرنے کا فیصلہ کر لیا ۔
میں نے غازی کے چچا کو تلاش کیا اور انہیں پیشکش کی کہ میں اس مقدمے کی پیروی مفت کروں گا ۔ انہوں نے تشکر آمیز الفاظ کے ساتھ میری پیشکش قبول کر لی ۔ دوسرے روز میں غازی کے قانونی مشیر کی حیثیت سے ان سے ملاقات کرنے جیل میں گیا ۔
اس سے پہلے بھی میں نے جیل میں قتل کے ملزموں سے ضابطے کی ملاقاتیں کی تھیں اور ان کی صورتیں مجھے یاد تھیں ۔ مگر جو اطمینان اور سکون غازی عبدالقیوم کے چہرے سے ہویدا تھا
سچے عاشقان رسول کے واقعات باب سوم :
وہ کسی اور چہرے پر نظر نہ آیا۔ جب میں نے بتایا کہ میں آپ کا مقدمہ لڑوں گا تو مرد مجاہد پکار اٹھا۔ ”آپ جو چاہیں کریں، مگر مجھ سے انکار قتل نہ کرائیں۔ اس سے میرے جذبہ جہاد کو ٹھیس پہنچے گی۔“ میں نے نوجوان غازی کو تسلی دی اور کہا۔ بے شک آپ اقرار کریں اور میں اس اقبال کے ذریعے انشاء اللہ آپ کو پھانسی سے اتار لوں گا۔“ مگر میری اس تسلی پر انہوں نے خوشی کا اظہار نہ کیا۔ میں نے دو چار باتیں کیں اور ایک کاغذ پر دستخط کرا کے لوٹ آیا۔
محافظ ختم نبوت عدالت کے کٹہرے میں
ہندو پیروکاری کی بوکھلاہٹ ملاحظہ ہو کہ اینگلو انڈین قانون کا ضابطہ اپنی مخصوص اور روایتی چال کے بجائے اتنی تیزی سے حرکت میں آیا کہ مہینوں کا کام گھنٹوں میں طے ہونے لگا۔ پہلی رپورٹ کے بعد تفتیش چالان وغیرہ سب کچھ دو دن میں ہو گیا اور مقدمہ قتل عمد سماعت کے لئے ابتدائی عدالت میں پہنچ گیا۔
جب میں نے گواہانِ صفائی کی فہرست پیش کی تو اسے پڑھ کر مجسٹریٹ بہادر چونک اٹھے۔ میں نے دوسرے گواہوں کے علاوہ مولانا ظفر علی خانؒ ، خواجہ حسن نظامیؒ ، علامہ اقبالؒ مولانا ابوالکلام آزادؒ ، مولانا شوکت علیؒ ، مفتی کفایت اللہ دہلویؒ کے علاوہ دیوبند اور فرنگی محل کے متعدد مقتدر علماء کو طلب کیا تھا۔
عدالت نے اعتراض کیا کہ یہ گواہ مقدمے سے غیر متعلق ہیں اس لئے نہیں بلائے جاسکتے۔ میں نے جواب دیا کہ جس جذبے کے تحت استغاثہ عبدالقیوم کو قاتل قرار دیتا ہے اس جذبے کی نفسیاتی ترجمانی یہی حضرات کر سکتے ہیں۔ ظاہر ہے میری یہ دلیل جج کے فہم سے بالاتر تھی۔ چنانچہ اس نے میری درخواست خارج کر دی۔
میں نے فوراً ”جوڈیشل کمشنری“ کراچی میں اپیل دائر کر دی۔ جس کے دو جج سالون اور فیرس وقوعہ کے چشم دید گواہ تھے۔ اپیل دائر کرنے کے ساتھ ساتھ میں نے ان دو ججوں کے
❶ ماہنامہ نعت لاہور، جلد نمبر ۴، شمارہ نمبر ۲ ص ۲۱
باب سوم : سچے عاشقان رسول کے واقعات
اختیار سماعت پر قانونی اعتراض کر دیا۔ کراچی جوڈیشل میں اس وقت چار جج تھے۔ دو چھوٹے اور دو بڑے۔ ان میں سے تین اس درخواست کی سماعت کے اہل نہ تھے۔ چوتھے سیشن جج تھے۔
چنانچہ عدالت عالیہ کے ججوں نے ایک جج مسٹر لوبو (Lobo) کو طلب کر کے بینچ ترتیب دیا۔ اپیل کی سماعت شروع ہوئی اور اس نے بھی فیصلہ دیا کہ ان غیر متعلق گواہوں کو بلانے کی کوئی گنجائش نہیں۔ گویا اپیل خارج ہو گئی۔ دو تین روز بعد مقدمہ سیشن جج کراچی کی عدالت میں آگیا۔ مقدمے کی اہمیت کے پیش نظر عدالت نے اسے ”جیوری ٹرائل“ قرار دیا۔ جیوری ۹ افراد پر تھی جس میں چھ انگریز، ایک پارسی اور دو عیسائی تھے۔ یہ سب کے سب اچھی شہرت، معقول سمجھ بوجھ کے مالک اور باعزت شہری تھے۔
قتل کے عام مقدموں کے برعکس اس مقدمے کا کام بہت سیدھا سادا اور مختصر تھا۔ صفائی کا تو کوئی گواہ تھا ہی نہیں۔ سارا دارومدار قانونی بحث پر تھا۔ ثبوت میں اول تو خود عدالت عالیہ کے دو انگریز جج تھے۔ دوسرے غازی عبدالقیوم نے اپنے اقبالی بیان میں تسلیم کر لیا تھا کہ میں نے جونا مارکیٹ کی مسجد میں پیش امام کی زبانی نتھو رام کے فحش پمفلٹ کے مندرجات سنے اور یہ بھی معلوم ہوا کہ کل اس کی اپیل کی سماعت کے لئے عدالت میں پیشی ہو رہی ہے۔ چنانچہ اگلے روز میں نے اپنا کاروبار چھوڑا۔ بازار سے ایک خنجر خریدا، اسے تیز کرایا اور سماعت سے پہلے عدالت میں پہنچ گیا۔ ایک نامعلوم شخص کے ذریعے نتھو رام کو شناخت کیا اور پھر اس کے قریب ہی جا بیٹھا۔
میں نے اسے دیکھا۔ یکا یک میرے سینے میں غیظ و غضب کا طوفان امڈ آیا۔ میں آپے سے باہر ہو کر اپنی نشست گاہ سے اٹھا اور شلوار کے نیفے میں چھپا ہوا خنجر نکالا اور چشم زدن میں نتھو رام کے پیٹ میں گھونپ دیا۔ اس کی آنتیں نکل آئیں اور وہ منہ کے بل گر پڑا۔ دوسرا وار اس کی گدی پر کیا اور یہ ضرب پہلی سے زیادہ کاری ثابت ہوئی۔ خون کا فوارہ پھوٹ نکلا اور چند ہی منٹ میں اس کا قصہ تمام ہو گیا۔
اس اقبالی بیان کی تائید میں ضابطے کے بیانات ہوئے اور استغاثے کے چشم دید
باب سوم: سچے عاشقان رسول کے واقعات
گواہ (عدالت کے دو جج) پیش ہوئے۔ جہاں تک واقعاتی پہلو کا تعلق تھا، بچاؤ کی کوئی گنجائش نہ تھی۔ بس جذبے اور ارادے والی بات رہ جاتی تھی۔ مگر غازی موصوف کے اقبالی بیان سے صاف ظاہر تھا کہ اس نے یہ اقدام ٹھنڈے دل و دماغ سے سوچ کر کیا تھا۔ اس میں فوری اشتعال اور فوری ردعمل کا کوئی ہاتھ نہ تھا۔ تاہم میں نے کیس کو تقریباً انہی خطوط پر تیار کیا اور قانون سے زیادہ نفسیات انسانی اور تاریخ سے بحث کی۔ جیوری اور جج کے سامنے میں نے جو بحث کی وہ شاید برطانوی ہند میں اپنی نوعیت کی واحد اور منفرد بحث تھی۔
غازی کو بچانے کے لئے وکیل صفائی کی انوکھی بحث
جس روز بحث ہونا تھی، میں قانونی پلندوں کے بجائے قرآن کریم کا نسخہ لے کر عدالت میں پیش ہوا۔ جج اور جیوری میرے ہاتھ میں قرآن پاک کا نسخہ دیکھ کر متحیر رہ گئے۔ عام وکلاء سے ذرا پیچھے ہٹ کر میں نے بلند آواز میں بحث کا آغاز کیا اور کہا:
حضور والا و معزز صاحبان جیوری! مجھے مقدمے کے واقعے کے بارے میں کچھ نہیں کہنا، کیونکہ جہاں تک وقوعے کا تعلق ہے وہ ثابت ہو چکا ہے۔ مجھے صرف اتنا عرض کرنا ہے کہ میرا یہ اقدام اس قانون پر مبنی تھا اور یہ آئین جو آج چین کی سرحد سے لے کر مراکش تک جاری و ساری ہے جسے کئی حکومتیں اپنے پینل کوڈ کے طور پر استعمال کر رہی ہیں، ہماری تہذیب اور ہمارے کلچر کی بنیاد ہے۔
میں جانتا ہوں کہ اس کوڈ سے انکار کر کے اس کے تقدس کو ٹھیس پہنچے گی۔ لہٰذا میں اسے کھول کر نہیں دکھاؤں گا۔ لیکن مجھے جو کچھ کہنا ہے اسی کے سہارے کہوں گا۔ اس میں بار بار مذہبی پیشواؤں کو برا کہنے کی سخت ممانعت کی گئی ہے۔ مجھے یہ عرض کرنا ہے کہ یہ اپنی نوعیت کا پہلا حادثہ نہیں ہے۔ گذشتہ چند سال میں ایسی متعدد وارداتیں ہو چکی ہیں۔ خصوصاً دلی اور لاہور میں بالکل اسی نوعیت کے دو قتل ہو چکے ہیں۔
حضور والا صاحبان جیوری! ہر شخص جانتا ہے کہ فطرت انسانی دوسرے کی بدزبانی برداشت نہیں کر سکتی۔ اس سے نفسیاتی طور پر جواب اور انتقام کا جذبہ پیدا ہوتا ہے، جس کے
باب سوم: سچے عاشقان رسول کے واقعات
نتیجے میں انسان اپنی استطاعت کے مطابق زبان، قلم یا ڈنڈے سے کام لے کر اپنی انا کی تسکین کرتا ہے۔ اگر گذشتہ واقعات کے فوراً بعد اس قسم کی حرکتوں کے انسداد کے لئے قانون کوئی موثر کاروائی کرتا تو نتھو رام کی وارداتِ قتل ہرگز نہ ہو پاتی۔
مسلمان ایک عرصے سے ہندو اکثریت اور برطانوی حکومت کو سمجھا رہا ہے کہ حضرت محمد ﷺ اس کے جذبات و احساسات اور حیات کی شہ رگ ہیں۔ آپ ﷺ کے معاملے میں وہ اتنا ذکی الحس واقع ہوا ہے کہ معمولی سے معمولی گستاخی پر بھی اپنا دماغی توازن کھو بیٹھتا ہے۔ دوسرے کی جان تو ایک طرف وہ خود اپنی جان کی کوئی قیمت نہیں سمجھتا۔
لیکن نہ ہندو اکثریت نے اس طرف دھیان دیا اور نہ برطانوی حکومت کے کانوں پر جوں رینگی۔ نتیجہ ظاہر ہے۔ ماہر نفسیات ہونے کی حیثیت سے میں دعوے سے کہہ سکتا ہوں کہ اگر اس مسئلہ کی طرف توجہ نہ دی گئی تو ایسے ہولناک واقعات آئندہ بھی ہوتے رہیں گے۔ انہیں نہ ہندو اکثریت روک سکے گی اور نہ تعزیرات ہند کی کوئی دفعہ۔
ناموس نبوت پر ہر مسلم کا جذبہ قربانی
جج میری تقریر پر بہت جزبز ہوا۔ شاید یہ منطقی بحث اس کے مزاج کے لئے قابلِ قبول نہ تھی۔ مگر میرے پاس بھی اپنے دفاع کو مستحکم کرنے کے لئے کوئی اور دلیل نہ تھی۔ اس نے ”عہد کی پاسداری“ کے الفاظ دہرائے اور بڑبڑاتے ہوئے کہا:
”تم اپنے فہم و تدبر اور سطح سے نیچی بات کر رہے ہو۔ تمہارے جیسے بیرسٹر سے اس کی توقع نہ تھی۔“
مجھے وکیل کی جبلت کے برعکس تاؤ آ گیا۔ میں نے پینترا بدلا اور کہا۔
”حضور والا! یوں سمجھ لیجئے کہ کچھ اس قسم کے عہد کی پاسداری نہ کرنے پر چار اگست ۱۹۱۴ء کو ہمارے شہنشاہ جارج پنجم نے ایک چھوٹے سے ملک کے خلاف اعلانِ جنگ کر دیا تھا۔ عظیم برطانیہ کو اس جنگ میں سب سے بڑے رکن کی صورت میں شامل ہونا پڑا۔ ایک چھوٹے سے عہد کی خلاف ورزی کے
باب سوم : سچے عاشقان رسول کے واقعات
نتیجے میں وہ خونریزی ہوئی کہ لاکھوں بچے یتیم ہو گئے، لاکھوں عورتوں کے سہاگ لٹ گئے اور دنیا کا جغرافیہ کچھ کا کچھ ہو گیا۔ میں نے جس عہد کا ذکر کیا اس میں آج پچاس کروڑ مسلمان جکڑے ہوئے ہیں جو کسی قانونی دفعہ، پھانسی کے پھندے یا تلوار کے گھاؤ سے ڈر کر اس عہد سے روگردانی نہیں کر سکتے۔
لہٰذا جہاں تک ”ناموس محمد ﷺ کا سوال ہے ہر مسلمان عبدالقیوم ہے۔“
پس میری عرض صرف یہ ہے کہ ایک ایسے معصوم انسان کو جو ذہنی اور تربیتی طور پر بلائنڈ فیتھ کی رسی میں جکڑا ہوا ہے جو ایک ان پڑھ دیہاتی نوجوان ہے اور اپنی افتاد طبع کے مطابق فوری اشتعال کے تحت اس فعل کا مرتکب ہوا ہے جس کو آج بھی وہ اپنا فرض عین سمجھ رہا ہے، اسے کسی سزا کا مستوجب نہیں ہونا چاہئے اور اگر عدالت یہ سمجھتی ہے کہ وہ اپنی حد سے تجاوز کر گیا ہے تو اسے تھوڑی بہت قید بامشقت سے زیادہ کوئی سزا نہیں دی جانی چاہئے۔ آپ کی عدالت جنسی رقابت کے معاملے میں رقیب کو دن دیہاڑے قتل کرنے والے اقبالی مجرم کو بری کر سکتی ہے اور اراضی کے قبضے اور بے دخلی کے سلسلے میں مالک کو ہلاک کرنے والے مزارع کے لئے صرف چھ سال کی سزا کافی سمجھتی ہے تو عبدالقیوم کے معاملے میں کیوں نرمی سے کام نہیں لے سکتی؟
عاشق رسول ﷺ کو پھانسی کی سزا
بیرسٹر صاحب بحث کی تفصیل سناتے سانس لینے کے لئے رکے۔ چند لمحے بعد میں نے پوچھا۔ پھر کیا ہوا بیرسٹر صاحب؟
بیرسٹر صاحب نے ایک جھر جھری لی۔ چائے کا ایک گھونٹ بھرا اور بولے۔ عدالت نے بحث کے بعد اسی دن فیصلے کی تاریخ کا اعلان کر دیا۔ مقررہ تاریخ پر دفتری اوقات شروع ہونے سے پہلے ہی ہندو اور مسلمانوں کے ہجوم عدالت کے باہر جمع ہو گئے۔ کراچی کے علاوہ حیدرآباد، ٹھٹھہ، نواب شاہ، بہاولپور اور پنجاب تک سے لوگ کشاں کشاں آئے تھے۔ نظم و نسق کے لئے پولیس کی بھاری تعداد موجود تھی مشہور ہندو لیڈر، وکیل اور صحافی آئے ہوئے تھے۔
سچے عاشقان رسول کے واقعات
باب سوم:
مسلم اکابرین میں سے متعدد اصحاب تشریف لائے تھے۔ ہندو اور مسلمان امید و بیم میں تھے۔ البتہ جن اصحاب کو خفیہ ذرائع سے یہ معلوم ہو گیا تھا کہ جیوری کی اکثریت سزائے موت کے بجائے حبس دوام کے حق میں ہے۔ وہ اسی کو غنیمت جان کر قدرے مطمئن تھے۔ میں وکیلوں کی صف میں ایک کرسی پر بیٹھا یہ سب نقشہ دیکھ رہا تھا۔ اضطراب اور بے چینی کی کیفیت طاری تھی۔ اچانک ڈائس پر جج نمودار ہوا۔ میرا دل دھک دھک کرنے لگا۔
میں نے قبل ازیں قتل کے کئی مقدمات کی پیروی کی تھی جن میں سے بعض کو پھانسی ہوئی بعض رہا ہوئے۔ مگر دل کی یہ کیفیت پہلے نہ تھی۔ تقریباً دو منٹ موت کی سی خاموشی طاری رہی۔ پھر جج کے اشارے پر پیش کار نے چپڑاسی سے کہا کہ ملزم حاضر کیا جائے۔ غازی بیڑیاں پہنے سر اٹھائے سنگین بردار محافظوں کے حلقے میں عدالت کے کٹہرے میں آ کھڑا ہوا۔ پھر ایک مہیب سناٹا چھا گیا۔ جج نے اپیل فائل الٹ پلٹ کر دیکھی اور ریڈر سے کچھ سرگوشی کی۔ اس نے ایک کاغذ کی طرف اشارہ کیا۔ جج نے وہی کاغذ اٹھایا اور دھیمی آواز میں پڑھ کر سنایا۔
”عبدالقیوم خان تمہیں موت کی سزا دی جاتی ہے۔“
سزائے موت کے فیصلے پر غازی کا جرأت مندانہ اقدام
غازی عبدالقیوم کے منہ سے ذرا تھرتھرائی ہوئی آواز میں بے ساختہ الحمد للہ نکلا۔ پھر کچھ سنبھلا اور تن کر کھڑا ہو گیا۔ دیکھنے والوں کو یوں محسوس ہوا جیسے اس کا قد ایک فٹ اونچا ہو گیا ہو۔ آنکھوں میں ایک عجیب سی چمک ابھر آئی۔ جس میں بے پایاں مسرت ملی ہوئی تھی۔ اس کے لب ہلے۔ حاضرین نے سنا وہ کہہ رہا تھا۔
”جج صاحب میں اللہ کا شکر ادا کرتا ہوں کہ اس نے مجھے اس سزا کا مستحق سمجھا۔ یہ ایک جان کیا چیز ہے میرے پاس لاکھ جانیں ہوتیں تو وہ بھی ایک ایک کر کے اسی طرح نبی کریم ﷺ کے نام پر قربان کر دیتا۔“ (اللہ اکبر)
یہ نعرہ مستانہ اس زور سے گونجا کہ اس کی گونج عدالت، گیلری، برآمدے اور باہر
سچے عاشقان رسول کے واقعات باب سوم :
والوں نے بھی سنی۔ وہ سمجھے کہ عبدالقیوم بری ہو گیا۔ بیرسٹر صاحب رک گئے۔
ہاں بیرسٹر صاحب، پھر کیا ہوا؟ میں نے پوچھا۔
آگے کا المیہ بڑا ہی دردناک اور سنگین ہے۔ عبدالقیوم تو حکم سن کر اللہ کا شکر ادا کرتے ہوئے جیل چلا گیا اور مجھے حکومت نے پروفیشنل مس کنڈکٹ Professional) (Misconduct کا نوٹس دے دیا۔ جس میں حدود قانون سے متجاوز ہو کر بحث کرنے کا الزام تھا۔ میں نے دوسری عدالت میں اس الزام کو غلط اور بے بنیاد ثابت کر کے پہلی عدالت کی جہالت پر مہر ثبت کی۔
چند روز بعد میں نے اپنے تین رفیقوں حاجی عبد الخالق صاحب، مولوی ثناء اللہ صاحب اور مولانا عبدالعزیز پر مشتمل وفد اپنے استاذ علامہ اقبال کی خدمت میں بھیجا کہ سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کرانے کے لئے وائسرائے تک سفارش پہنچائیں۔
مرحوم نے پنجابی زبان میں جواب دیا کہ اسیں گلاں ای کردے رہے تے ترکھاناں دا منڈا بازی لے گیا یعنی ہم باتیں ہی کرتے رہے اور مستریوں کا لڑکا بازی لے گیا۔ میں نے ایک طرف یہ وفد علامہ کے پاس روانہ کیا۔ دوسری طرف گورنر بمبئی کے نام رحم کی عرضداشت بھیج دی۔ اس کا جواب ملا کہ درخواست زیر غور ہے۔ دو ہفتے تک آپ کو نتیجے سے آگاہ کر دیا جائے گا۔
غازی کو بزدل انگریز کا اندھیرے میں پھانسی دینا
گورنر بمبئی کا جواب ملے تیسرا روز تھا کہ صبح کے وقت میں نے اپنے دفتر میں سنا کہ رات عبدالقیوم کو پھانسی دے دی گئی ہے۔ میں مولانا عبدالعزیز کو لے کر جیل پہنچا تو پرائیوٹ ذریعہ سے پتہ چلا کہ صبح اذان کے وقت غازی کے لواحقین کو ان کی جائے قیام پر جگا کر بتایا گیا کہ عبدالقیوم کو پھانسی دے دی گئی ہے۔ لاش کو پولیس سرکاری گاڑی میں رکھ کر میوہ شاہ قبرستان میں لے گئی ہے، جنازہ تیار ہے، منہ دیکھنا ہے تو جلد چلو۔
ہم لوگ جیل سے قبرستان پہنچے تو معلوم ہوا کہ میت قبر میں اتاری جا چکی تھی کہ مسلمانوں کا جم غفیر وہاں پہنچ گیا اور اس نے مٹی ڈالنے نہ دی۔ ایک جوشیلا قومی کارکن قلندر خان
باب سوم : سچے عاشقان رسول کے واقعات
قبر میں کود گیا اور میت کو لحد سے نکالا۔ چار پائی کفن وغیرہ کا بندوبست پہلے سے ہو چکا تھا۔ فوراً لاش کو لٹایا اور جنازہ لے کر روانہ ہو گئے۔
غازی کے جنازہ پر گوروں کی اندھا دھند فائرنگ
یہ خبر آگ کی طرح پورے شہر میں پھیل گئی۔ کراچی مسلم اکثریت کا شہر تھا اور صبح کا وقت۔ دیکھتے ہی دیکھتے دفعہ ۱۴۴ کے نفاذ کے باوجود دس بارہ ہزار مسلمان جمع ہو گئے۔ ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ نے فوراً فوج طلب کر لی۔ ہم اس عرصہ میں راستہ کاٹ کر بمقام چاکیواڑہ کے قریب ایک تنگ گلی سے گزر کر جنازے کے قریب پہنچ گئے۔
بے پناہ ہجوم۔ کندھا دینے والوں میں قلندر خان خاصا نمایاں نظر آتا تھا۔ اچانک ہجوم کا ریلا آیا اور پھر برابر والی پتلی گلی سے ”تڑ تڑ.....“ کی آواز گونجی۔ نظر اٹھا کر آگے جائزہ لیا تو قلندر خان کے بدن سے خون کا فوارہ اُبلتے دیکھا۔ اس کے باوجود لڑکھڑاتے قدموں کے ساتھ جنازے کو کندھا دیئے جا رہا تھا۔ چند منٹ بعد وہ زخموں سے نڈھال ہو کر گر پڑا۔ نہتے اور پر امن جلوس پر گوروں نے اندھا دھند فائرنگ کی۔ سینکڑوں مسلمان شہید اور ہزاروں مجروح ہو گئے۔ اندھا دھند فائرنگ کا اندازہ اس سے کیا جا سکتا ہے کہ مکانوں اور جھونپڑیوں میں بیٹھے بچے، بوڑھے اور عورتیں بھی اس کا نشانہ بن گئیں۔
حالات قدرے پرسکون ہوئے تو میں مولانا عبد الخالق، مولانا عبدالعزیز اور حاتم علوی زخمیوں کی عیادت کے لئے سول اسپتال گئے۔ سول اسپتال کے ارد گرد پولیس کی بھاری تعداد اور کچھ فوج بھی موجود تھی۔
ہم کسی نہ کسی طرح شہیدوں اور زخمیوں تک پہنچنے میں کامیاب ہو گئے۔ جہاں تک میری یادداشت کا تعلق ہے میں نے ۱۰۶ لاشیں گنیں اور بعد میں ان کی تعداد ۱۲۰ ہو گئی۔ اسپتال میں کہرام مچا ہوا تھا۔ لاشیں علیحدہ کی جا رہی تھیں۔ تڑپتے، سسکتے، کراہتے اور چیختے ہوئے زخمی الگ ...... بڑی تعداد ایسے زخمیوں کی تھی جن کے ہاتھ پاؤں کی ہڈیوں کے ٹکڑے اڑ گئے تھے۔ حادثہ اتنا مہیب تھا کہ بیان کرنے کے لئے الفاظ نہیں تھے۔ پھر صبح کے وقت جب جوانوں،
باب سوم : سچے عاشقان رسول کے واقعات
عورتوں، بچوں اور بوڑھوں کے ہاتھ پاؤں کے ٹکڑوں سے بھری ہوئی ایک وین سول اسپتال سے نکلی تو بے اختیار میری چیخ نکل گئی۔ بلکہ کئی دن تک تو حواس بجا نہ ہوئے۔ کھانا پینا حرام ہو گیا، بے شمار لاشیں ان کے وارثوں نے پولیس میں رپورٹ دیئے بغیر چپکے سے دفن کردیں۔
اتفاق سے ان دنوں دہلی میں مرکزی اسمبلی کا اجلاس ہورہا تھا۔ ہم نے وائسرائے کے نام ایک تار دیا۔ کراچی میں ہم نے مسلم ریلیف کمیٹی قائم کی جس کی امداد کے لئے دہلی اور لاہور دونوں نے چندے دیئے۔ ادھر قائد اعظم نے اسمبلی میں آواز بلند کی، پھر تو ہماری آواز برٹش پارلیمنٹ کے ایوانوں میں بھی گونجی۔ ”سر ونسٹن چرچل“ تک نے اظہار تاسف کیا۔
شمع رسالت ﷺ کے پروانے کی ایمان پرور داستان ختم ہوچکی تھی۔ میں جب بیرسٹر صاحب کے ہاں سے رُخصت ہوا تو میرے ہاتھ میں ایک تاریخی دستاویز تھی جس کا نام ”عبدالقیوم“ تھا۔ یہ ایک پمفلٹ تھا جو بیرسٹر صاحب نے مجھے دیا تھا۔
☆☆☆☆☆☆.......☆☆☆☆☆☆
باب سوم : سچے عاشقان رسول کے واقعات
جیل میں غازی کی غیبی مدد دیکھ کر سکھ کا قبول اسلام
رات کا گہرا سناٹا چھایا ہوا تھا۔ صرف پہرے دار کے قدموں کی چاپ سنائی دے رہی تھی۔ ایک سیل میں گہری نیند میں سونے والا قیدی اٹھ بیٹھا۔ اسے پیاس محسوس ہو رہی تھی۔ ایک ہی مٹکا تھا جس کا پانی پینے اور حاجت کے لئے استعمال کرنا پڑتا تھا۔ قیدی نے مٹکے کی طرف ہاتھ بڑھایا تو اسے خالی پا کر پہرے دار کو آواز دی۔ سردار جی، پانی پلوا دیں۔
سکھ پہرے دار تلخ لہجے میں گرجا۔ بہت رات ہو چکی ہے، صبح پانی پینا اور بیرک کا راؤنڈ مکمل کرنے کے لئے آگے بڑھ گیا۔ جیسے ہی وہ واپس لوٹا یہ دیکھ کر دم بخود رہ گیا کہ پیاسے قیدی کے منہ سے ایک پیالہ لگا ہوا ہے اور سفید لباس میں کوئی شخص اسے تھامے پانی پلا رہا ہے۔ سکھ پہرے دار حواس باختہ ہو گیا۔ اس نے شور مچا دیا اور وسل بجانا شروع کر دی جس پر جیل کے پہرے دار اور انتظامی افسران دیکھتے ہی دیکھتے جمع ہو گئے۔ انہیں سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کہ ایمرجنسی کی کیا وجہ ہے؟
سکھ گارڈ خوف کی وجہ سے بے حال تھا اور کہہ رہا تھا کہ اس قیدی کے سیل میں کوئی اور بھی شخص آیا ہے۔ جو قیدی کو پانی پلا رہا ہے۔ باہر سے سب کو سیل میں ایک ہی نوجوان نظر آ رہا تھا۔ اس لئے کسی اور کی موجودگی کی بات سمجھ میں نہیں آ رہی تھی۔ اطمینان کے لئے سیل کے آہنی گیٹ کا تالا کھول کر اندر کا جائزہ لینے کا فیصلہ کیا گیا۔ اندر کوئی دوسرا شخص موجود نہیں تھا۔ لیکن تازہ پانی فرش پر گرا ہوا تھا۔
ہر کوئی حیران تھا کہ جب مٹکا خالی تھا اور اس میں قیدی کے پینے کے لئے بھی پانی موجود نہیں تھا تو یہ پانی کہاں سے آیا۔ کسی کی سمجھ میں کچھ نہ آیا۔ قیدی بھی اطمینان سے سب کچھ دیکھتا رہا۔ آخر سیل کا تالا بند کر کے سب چلے گئے۔ مگر سکھ گارڈ کی دنیا بدل چکی تھی بعد میں پتہ چلا کہ کچھ دنوں بعد وہ مسلمان ہو گیا۔۱؎
۱؎ گستاخ رسول کی سزا ص ۱۳۹ تا ص ۱۵۰
باب سوم : سچے عاشقان رسول کے واقعات
غازی مرید حسینؒ کے ہاتھوں سکھ ڈاکٹر کا قتل
غازی مرید حسین موضع بھلہ کریالہ (چکوال) کے رہنے والے تھے۔ پابند صوم و صلوٰۃ تھے۔ ان کے دل میں سرور کونین ﷺ کی بے پناہ محبت موجزن تھی۔ (۱۹۳۶ء کی بات ہے) اس کے نتیجے میں ایک رات خواب میں انہیں سرکار دو عالم ﷺ کی زیارت نصیب ہوئی۔ نبی پاک ﷺ نے خواب میں ان کو ایک گستاخ زمانہ کافر کا حلیہ دکھایا جسے انہوں نے اپنی ڈائری میں اچھی طرح نوٹ کر لیا۔ اس واقعہ کے بعد ان کے دل میں زبردست انقلاب آ گیا اور وہ ماہی بے آب کی طرح بے تاب رہنے لگے۔
آپ ﷺ کی شان میں سکھ ڈاکٹر کی گستاخی
آخر قدرت نے اس سچے عاشق کو امتحان کا موقع فراہم کر دیا۔ ایک دن زمیندار اخبار میں ایک خبر ”پلوال کا گدھا“ کے عنوان سے شائع ہوئی کہ ہندوستان کے ایک قصبہ پلوال ضلع گوڑگانواں کے ایک ہندو ”رام گوپال“ نے جو شفاخانہ حیوانات میں ڈاکٹر ہے ہسپتال کے ایک گدھے کا نام محسن انسانیت ﷺ کے اسم گرامی پر رکھا ہوا ہے (نعوذ باللہ) اس بدذات کی اس شرمناک جسارت کی خبر پورے ملک میں آگ کی طرح پھیل گئی اور مسلمانوں نے آگ بگولا ہو کر صدائے احتجاج بلند کی۔ جب فساد امن کا خطرہ بڑھا تو اس ڈاکٹر کا تبادلہ وہاں سے ضلع حصار کے قصبہ ”نارنوند“ میں کر دیا گیا۔
سکھ ڈاکٹر کا عبرتناک انجام
غازی مرید حسین نے اصرار کے ساتھ ماں سے اجازت لی کہ وہ ایک اہم کام پر جا رہے ہیں۔ بھیرہ پہنچ کر بھائی کو خط لکھا کہ میں ایک ضروری کام پر جا رہا ہوں اس لئے سب کچھ اللہ اور تمہارے سپرد کرتا ہوں۔ بھیرہ ہی سے ایک دودھارا خنجر خریدا اور چاچڑاں شریف میں اپنے مرشد کے ہاں گئے عرض مدعا کیا، راز و نیاز کی باتیں ہوئیں رُخصت کے وقت پیر نے مرید کو گلے لگایا اور اس کے دل بسمل کی دھڑکنوں کو سنا اور دعا کے طور پر کہا ”بسلامت روی و باز آئی۔“
باب سوم: سچے عاشقان رسول کے واقعات
غازی مرید حسین واپس گھر پہنچے وہ ایک فیصلہ کر چکے تھے۔ وہ اس مقام پر کھڑے تھے جہاں ایک طرف بیوہ ماں کی شفقت، وفا شعار بیوی کی محبت، برادری کے بندھن، دنیاوی مصلحتیں، سینکڑوں کنال زمین، لہلہاتے کھیت اور تیار فصلیں تھیں اور دوسری طرف عشق رسول کا امتحان تھا۔۔۔۔۔۔ عقل سوچتی رہ گئی مگر عشق نے امتحان کے حق میں فیصلہ دے دیا۔
غازی سیدھے چکوال گئے اور ڈاکخانہ سے اپنی جمع شدہ رقم میں سے سات سو روپے نکلوائے اور کسی کو بتائے بغیر اپنے مشن پر روانہ ہو گئے۔ چکوال سے آپ پہلے لاہور پہنچے پھر سیدھے دہلی چلے گئے وہاں سے حصار گئے وہاں جا کر معلوم ہوا کہ "ڈاکٹر رام گوپال" پشاور چلا گیا ہے۔ آپ پھرتے پھراتے واپس پشاور پہنچ گئے لیکن ڈاکٹر پشاور سے "نارنوند" جاچکا تھا۔
آپ اس کے تعاقب میں ۱۶ اگست ۱۹۳۶ء کو دوبارہ حصار پہنچ گئے پوچھتے پوچھتے آپ اس ہسپتال جا پہنچے جہاں وہ گستاخ زمانہ رام گوپال متعین تھا۔ اسے غور سے دیکھا اور مخبر صادق ﷺ کے بتائے ہوئے حلیے کو ڈائری میں دیکھا۔ اسے ہو بہو درست پا کر دل خوشی سے بلیوں اچھلنے لگا۔ ڈاکٹر کی رہائش گاہ دیکھی۔ حالات کا جائزہ لیا پھر کسی مسلمان کا گھر تلاش کیا ایک مسافر کی حیثیت سے نماز ظہر ادا کی اور دعا مانگی۔
"اے میرے اللہ تیرے اس نحیف و نزار اور ناچیز بندے کو اپنے آبائی وطن سے سینکڑوں میل دور کافروں کی بستی نارنوند میں تیرے محبوب ﷺ کی محبت جس مقصد کے لئے کھینچ لائی ہے اس میں کامیابی و کامرانی عطا فرما۔" اگست کا مہینہ تھا۔ شدید گرمی پڑ رہی تھی۔ اگست کی ۱۸ تاریخ تھی (۱۹۳۶ء) ڈاکٹر کی رہائشگاہ ہسپتال سے ملحق تھی صحن میں قدم رکھا تو سامنے درختوں کے گھنے سائے میں وہ ملعون سو رہا تھا جس نے کروڑوں مسلمانوں کی نیندیں حرام کر رکھی تھیں۔ قریب ہی دوسری چار پائی پر اس کی بیوی کشیدہ کاری میں مصروف تھی۔ بچے کچھ جاگ رہے تھے کچھ سوئے ہوئے تھے۔ ہسپتال کا عملہ سب کا سب ہندو تھا اور وہ بھی زیادہ دور نہ تھا۔
مرید حسین نے جان ہتھیلی پر رکھ کر بے خوف نعرہ لگایا "اللہ اکبر"۔۔۔۔۔۔ پھر اس ملعون ڈاکٹر کو مخاطب کرکے پکارا۔ "او گستاخ زمانہ کافر اٹھ۔۔۔۔۔۔ آج محمد ﷺ کا پروانہ آہی گیا ہے۔"
باب سوم: سچے عاشقان رسول کے واقعات
بیوی نے بھی شوہر سے کہا رام گوپال اٹھ کوئی مسئلہ آگیا ہے۔ رام گوپال آنکھیں ملتا اور دھوتی سنبھالتا اٹھا بیوی اور نوکر چاکر مرید حسین کو پکڑنے کے لئے لپکے..... مگر انہوں نے آن کی آن میں خنجر موذی کے پیٹ میں گھونپ دیا۔ وہ دھڑام سے ایسا گرا کہ پھر نہ اٹھا۔ غازی مرید حسین نے خنجر قریبی تالاب میں پھینک دیا اور خود بھی اس میں چھلانگ لگا کر تیرنے لگے۔ پولیس کی جمعیت نے تالاب کو گھیرے میں لے لیا غازی مرید حسین نے پوچھا تم میں کوئی مسلمان ہے؟
اتفاق سے مقامی تھانیدار مسٹر احمد شاہ کیوٹ تھا اس نے کہا میں مسلمان ہوں۔ مرید حسین تالاب سے باہر آئے اور خود کو گرفتاری کے لئے پیش کرتے ہوئے کہا میرا نام عاشق رسول ﷺ ہے میں نے ہی ڈاکو کو قتل کیا ہے جس نے کروڑوں مسلمانوں کے دلوں پر ڈاکہ ڈال کر ان کا امن و سکون لوٹ لیا تھا۔ مقدمے کی پیروی کے لئے غازی مرید حسین کے بھائی لاہور سے ضلع حصار کے ایک مشہور وکیل بیرسٹر جلال الدین قریشی کے نام زمیندار اخبار کے ایڈیٹر مولانا ظفر علی خان کے فرزند اختر علی خان کا ایک خط لے کر گئے تھے۔ اس کے ذکر پر غازی نے کہا مجھے وکیل کی ضرورت نہیں میرا وکیل تو اللہ تبارک و تعالیٰ ہے۔
قریشی صاحب سے وکالت کی گفتگو ہو رہی تھی جو غالباً اپنی انتخابی مصروفیات کی وجہ سے مقدمہ کی پیروی کے لئے تیار نہ تھے اتنے میں ایک بزرگ صورت مولوی صاحب تشریف لائے۔ قریشی صاحب نے تعارف کراتے ہوئے کہا مولانا یہ چکوال سے آئے ہیں اور بدقسمت ملزم کے لواحقین ہیں جس نے ڈاکٹر رام گوپال کو نارونڈ میں قتل کر دیا ہے۔
یہ سن کر مولوی صاحب سخت جلال میں آگئے اور کہا جلال الدین صاحب بدقسمت آپ ہیں، بدقسمت میں ہوں ...... بدقسمت ہمارا سارا علاقہ ہے ...... بدقسمت ہندوستان کے کروڑوں مسلمان ہیں جن کی موجودگی میں گستاخ زمانہ رام گوپال دندناتا پھرتا رہا ...... بدقسمت اور بے غیرت تو ہم ہیں ان کی خوش قسمتی میں کسے کلام ہو سکتا ہے جن کے نامور فرزند نے یہاں سے سینکڑوں میل دور علاقہ چکوال سے آ کر ناموس رسالت کی حفاظت کا حق ادا کر دیا ہے کیا یہ ہر مسلمان کا فرض نہیں کہ وہ حبیب کبریا حضرت محمد ﷺ کی شان میں گستاخی کرنے والے کو حرف
باب سوم:
غلط کی طرح صفحہ ہستی سے مٹا دیا
مولوی صاحب کی ا مقدمے کی پیروی کا ذمہ لے لیا
"پنڈت لکشمی دت" کے ہاں شر سیشن جج کے سپرد کر دیا تین دن میں تمہیں سزائے موت دیتا ہوں سزائے موت برقرار رہی اس پر کر کے سزائے موت بحال رکھی
آخری ملاقات پر ماں ڈالے کوئی بھٹکی وغیرہ نہ ڈالے
آخر خدا خدا کر کے ۲۲ صبح آ پہنچی جس کا غازی مرید حسین اللہ ﷺ کے عاشقوں کا ایک جم غف مرنے کو بے تاب ۔ جب بہادر نے کہا آپ زبان کو حرکت نہ دی
چنانچہ غازی صاحب درود و سلام خالق حقیقی سے جاملے۔
جب طائر
آخر کار بعد از نماز جمع کر دیا گیا ۱؎
۱؎ گستاخ رسول کا انجام ص ۲۸۲ ص ۲
باب سوم: سچے عاشقانِ رسول کے واقعات
غلط کی طرح صفحۂ ہستی سے مٹا ڈالے؟
مولوی صاحب کی اس سرزنش کا نتیجہ یہ نکلا کہ قریشی صاحب نے بلا معاوضہ مقدمے کی پیروی کا ذمہ لے لیا۔ حصار کی ضلعی کچہری میں مقدمے کی سماعت ایک مجسٹریٹ ”پنڈت لکشمی دت“ کے ہاں شروع ہوئی لیکن ابتدائی سماعت کے بعد اس نے جلد ہی مقدمہ سیشن جج کے سپرد کر دیا تین دن کی سماعت کے بعد چوتھے دن فیصلہ سناتے ہوئے جج نے کہا میں تمہیں سزائے موت دیتا ہوں لیکن ایک درخواست کے نتیجے میں دوبارہ سماعت کی گئی مگر سزائے موت برقرار رہی اس پر ہائی کورٹ میں اپیل کی سماعت کی گئی۔ اس نے بھی اپیل خارج کر کے سزائے موت بحال رکھی۔
آخری ملاقات پر ماں نے بیٹے سے کہا کہ پھانسی کا پھندا وہ خود اپنے گلے میں ڈالے کوئی بھنگی وغیرہ نہ ڈالے۔ غازی صاحب نے کہا ماں جی ٹھیک ہے۔
آخر خدا خدا کر کے ۲۴ ستمبر ۱۹۳۷ء بمطابق ۱۸ رجب ۱۳۵۶ھ جمعۃ المبارک کی وہ صبح آ پہنچی جس کا غازی مرید حسینؒ بڑی بے تابی سے انتظار کر رہے تھے۔ جیل سے باہر رسول اللہ ﷺ کے عاشقوں کا ایک جم غفیر جمع تھا اور جیل کے اندر پروانہ رسالت شمع رسالت پر جل مرنے کو بے تاب۔ جب شہادت کا وقت آیا تو آپ درود شریف پڑھ رہے تھے ڈیوٹی مجسٹریٹ نے کہا آپ زبان کو حرکت نہ دیں انہوں نے کہا میں اپنا کام کر رہا ہوں آپ اپنا کام کریں۔ چنانچہ غازی صاحب درود و سلام پڑھتے ہوئے دیکھتے ہی دیکھتے جام شہادت نوش کر کے اپنے خالق حقیقی سے جا ملے۔
جب طائرِ جان گلشنِ ہستی سے رواں ہو
آخر کار بعد از نماز جمعہ آپ کو بھیرہ شریف کے نزدیک ”غازی محل“ میں سپردِ خاک کر دیا گیا ۱؎
۱؎ گستاخ رسول کا انجام ص ۸۲ تا ص ۸۶
باب سوم: سچے عاشقان رسول کے واقعات
غازی چک بھلہ شریف میں ہر سال ۱۸ رجب المرجب کو آپ کا یوم شہادت بڑی عقیدت ومحبت سے منایا جاتا ہے۔
غازی عبدالمنان
رسوائے عالم ”شردھانند“ اور ”راجپال“ کے عبرتناک قتل کو چند ہی برس گزرے تھے کہ ناقابل اصلاح مہاسبھائی ذہنیت نے پھر ایک بار انگڑائی لی اور ضلع ”کیمبل پور“ جو اب ”اٹک“ کے نام سے موسوم ہے کے ایک بدباطن نے شانِ رسالت مآب ﷺ میں گستاخی کا ارتکاب کیا۔
ہوا یہ کہ حضرو تھانہ سے تین میل مشرق کی جانب ایک گاؤں ”برہ زئی“ میں آلو پیاز کی پھیری لگانے والے ادھیڑ عمر ہندو ”بھیشو“ نے کسی خاتون گاہک کو سودا بیچتے ہوئے حد ادب کو پھلانگتے ہوئے بلاوجہ شانِ رسالت ﷺ میں گستاخانہ حملہ کیا۔ وقتی طور پر بات رفت گزشت ہو گئی۔ کیونکہ آس پاس کوئی مرد اس وقت موجود نہ تھا۔ بھیشو ہانک لگاتا گاؤں سے باہر نکل گیا۔ وہ ایک نواحی قصبہ ”زتوپہ“ کا رہنے والا تھا۔ اس کا اصل نام ”بھوشن“ اور عرفیت ” بھیش“ تھی۔ وہ برسوں سے آس پاس کے دیہات میں سبزی کی پھیری لگانے آتا تھا۔ ہر چند اسے معلوم تھا کہ مسلمان دیہاتی ہی اس کے گاہک اور رزق کا وسیلہ ہیں لیکن اس کی بے لگام زبان مسلمانوں کے بارے میں زہر اُگلنے سے باز نہ رہتی تھی۔ مسلمان صبر سے کام لیتے کہ کتے کی عوعو کا کیا جواب! آخر کار اس کے دل کی خباثت اُبل کر ایک روز ہونٹوں تک آ گئی۔
یہ جولائی ۱۹۳۷ء کے پہلے ہفتے کا واقعہ ہے۔ جس کا گاؤں بھر میں چرچا ہوا۔
تیسرے چوتھے روز گاؤں کا ایک اٹھارہ سالہ نوجوان عبدالمنان دوپہر کی چلچلاتی دھوپ میں غورغشتی کے مدرسہ سے صرف ونحو کا درس لے کر گھر پہنچا تو اسکے بڑے بھائی حافظ غلام محمود نے کہا بعد دوپہر جب دھوپ ذرا ڈھل جائے تو مجھے سائیکل پر حضرو چھوڑ آنا۔ میں وہاں سے پنڈی کے لئے بس پکڑ لوں گا۔
عبدالمنان نے کہا ٹھیک ہے۔ آپ ذرا آرام کر لیں۔ میں بھی مسجد میں جا کر ستا لوں۔ وہ گھر سے باہر نکلا تو کسی نے اسے بتایا کہ بھیشو آج پھر گاؤں کی گلیوں میں ہانک
باب سوم: سچے عاشقان رسول کے واقعات
لگاتا پھرتا ہے۔ عبدالمنان مسجد کے اندر جاتے جاتے رک گیا۔ اسے کچھ خیال آیا۔ ایسا خیال کہ جس نے اس کی تقدیر بدل دی، وہ تقدیر جس پر فرشتوں کو بھی رشک آئے۔ وہ تیزی کے ساتھ اپنے ایک دوست کے یہاں پہنچا اور اس سے کمانی دار چاقو مانگا جو حال ہی میں اس نے خریدا تھا جو عبدالمنان کو بہت پسند آیا تھا۔ چاقو لے کر وہ اپنے شکار کی تلاش میں نکلا۔ بھیشو اس دوران گاؤں سے باہر کھلے کھیتوں سے ہوتا ہوا ڈیڑھ فرلانگ دور جا چکا تھا۔ عبدالمنان نے تعاقب کیا اور کھیتوں سے پرے گھنے درختوں سے متصل ایک کنویں پر جا لیا۔ جہاں بھیشو کچھ دیر ستانے رک گیا تھا۔ عبدالمنان اس کے پاس جا بیٹھا اور ادھر ادھر کی باتیں ہونے لگیں۔ بھیشو نے اس کے ہاتھ میں چاقو دیکھ کر پوچھا۔
”یہ کیوں کھول رکھا ہے۔“
عبدالمنان نے جواب دیا۔
”ابھی معلوم ہو جاتا ہے۔“
دشمن رسول کو اپنے انجام کا احساس ہو گیا اور وہ خوف سے تھر تھر کانپنے لگا۔
عبدالمنان نے پوچھا کہ:
”تو نے پچھلے روز شان رسالت ﷺ میں گستاخی کی جرأت کیونکر کی؟“
بھیشو کوئی معقول جواب نہ دے سکا تو عبدالمنان نے چاقو اس کے سینے میں پیوست کر دیا۔ وہ اٹھ کر بھاگنے لگا مگر اجل کہاں جانے دیتی ہے۔ عبدالمنان نے اسے گھٹنوں تلے دبوچ کر دو تین وار اور کئے۔ کافر کا ناپاک خون کنویں کے حوالی کی مٹی میں جذب ہونے لگا۔ بھیشو نے صرف اتنا کہا کہ مار تو چکا ہے اب تو بس کر۔ دشمن کو ابھی تک زندہ جان کر عبدالمنان نے اس کی شہ رگ کو چاقو کی دھار پر لیا اور اس کا کام تمام کر ڈالا۔ چند زمیندار جو کنویں سے چند گز ادھر اپنے کام میں مصروف تھے، شور سن کر آگئے۔
غازی عبدالمنان کا فخر سے اقبال جرم کرنا
کچھ دیر میں یہ خبر جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی۔ دیکھتے ہی دیکھتے برہ زئی اور آس
باب سوم: سچے عاشقان رسول کے واقعات
پاس کے دیہات سے مسلمان جمع ہو گئے۔ کسی نے حضرو تھانہ جا کر اطلاع کر دی اور پولیس آ گئی۔ ظہر کا وقت ہو چکا تھا۔ جب پولیس کے جھرمٹ میں عبدالمنان کو حضرو تھانہ لے جایا گیا۔ سینکڑوں آدمی تکبیر کے نعرے بلند کرتے ہوئے جلوس کی شکل میں ساتھ ساتھ گئے۔ حضرو پہنچتے پہنچتے ہزاروں کا مجمع ہو گیا۔
تھانہ کے مسلمان انچارج نے عبدالمنان سے کہا کہ تم اپنا بیان میری ہدایت کے مطابق لکھواؤ۔ عبدالمنان نے کہا میں نے اللہ کے حبیب ﷺ کی محبت میں اپنا فرض ادا کر دیا اب جھوٹ بول کر اپنے اس عمل کو ضائع نہیں کر سکتا۔
بہر کیف حضرو تھانہ میں عبدالمنان کا اقبالی بیان درج ہو گیا۔ تھانہ والوں نے کیمبل پور اطلاع کر دی کہ یہاں ہزاروں مسلمان مشتعل کھڑے ہیں۔ اندیشہ ہے کہیں ہندو مسلم تصادم نہ ہو جائے۔ کیمبل پور سے سپرنٹنڈنٹ پولیس اور دو تین چھوٹے افسر حضرو پہنچ گئے اور عبدالمنان کو کار میں کیمبل پور (اٹک) لے آئے۔ یہاں بھی سپرنٹنڈنٹ پولیس نے عبدالمنان کو ہمدردانہ مشورہ دیا مگر اس نے جھوٹ بولنے سے انکار کر دیا۔
دو تین روز میں استغاثہ مکمل ہو گیا۔ اقبالی بیان تو موجود تھا ہی سیشن کورٹ سپرد ہو گیا۔ ان دنوں مسٹر ”جی ڈی کھوسلہ“ کیمبل پور کے ڈسٹرکٹ سیشن جج تھے، فریقین نے اپنے اپنے گواہ پیش کئے۔ مقتول کی طرف سے دو تین جگادھری ہندو وکلاء نے پیروی کی۔ پیشی کے روز عدالت کے باہر ہزاروں کا مجمع تھا۔ دراز قامت اٹھارہ سالہ نوجوان عبدالمنان مجرموں کے کٹہرے میں بڑے وقار کے ساتھ کھڑا مقدمے کی کاروائی سنتا رہا۔ مقتول کی بیوی بھی گواہی کے لئے پیش ہوئی اور اس نے جرح کے دوران اس حقیقت کا اعتراف کیا کہ بھیشو اکثر مسلمانوں کے خلاف زہر افشانی کرتا اور منع کرنے کے باوجود باز نہیں آتا تھا اور آخر وہی ہوا جو غیر متوقع نہیں تھا۔ بیوی کے بیان نے مقتول شوہر کے استغاثہ کا حصار توڑ کر رکھ دیا۔ جی ڈی کھوسلہ نے قتل کو فوری اشتعال کا نتیجہ قرار دیتے ہوئے عبدالمنان کو سات سال قید سخت کی سزا سنائی اور فیصلہ میں لکھا کہ مجرم اگر جواں سال نہ ہوتا تو اسے عمر قید کی سزا دی جاتی۔
باب سوم:
جس وقت فیصلہ لگارہے تھے اور حب رسول ا عبدالمنان کو عدالت اور مجمع بہت دیر انتظار کرنے پ عاشق رسول کی جھلک نہ د مسلمانوں نے ب خیال تھا کہ اپیل ضرور کرنی چا اضافہ کا امکان ہے، اس لئے سات برس کی مد میں سے عبدالمنان نے ایک پ ☆
باب سوم: سچے عاشقان رسول کے واقعات
جس وقت فیصلہ سنایا جا رہا تھا عدالت کے باہر ان گنت مسلمان والہانہ نعرے لگا رہے تھے اور حب رسول اللہ ﷺ کی بارش اہل ایمان کے دلوں پر رم جھم برس رہی تھی۔
عبدالمنان کو عدالت کے عقبی دروازے سے نکال کر عجلت کے ساتھ جیل پہنچا دیا گیا اور مجمع بہت دیر انتظار کرنے کے بعد منتشر ہو گیا۔ انہیں افسوس ہی رہا کہ اس روز وہ اس جیالے عاشق رسول کی جھلک نہ دیکھ سکے۔
مسلمانوں نے ہائی کورٹ میں اپیل کے لئے تگ و دو کی۔ ڈاکٹر محمد عالم بیرسٹر کا خیال تھا کہ اپیل ضرور کرنی چاہیے مگر کچھ دوسرے مقتدر مسلمان وکلاء نے مشورہ دیا کہ سزا میں اضافہ کا امکان ہے، اس لئے اپیل نہ کرنا ہی قرین مصلحت ہے۔ چنانچہ اپیل نہ کی گئی۔
سات برس کی مدت قید چھوٹ کے ایام کی رعایت سے صرف پانچ برس رہ گئی۔ جن میں سے عبدالمنان نے ایک برس ملتان اور چار برس پنڈی جیل میں گزارے۔
☆☆☆☆☆......☆☆☆☆☆
باب سوم: سچے عاشقان رسول کے واقعات
غازی عبدالرحمن شہید
ایسا ہی ایک ایمان افروز واقعہ مانسہرہ میں پیش آیا۔ مانسہرہ شہر میں قیام پاکستان سے قبل ہندو کاروبار پر چھائے ہوئے تھے ایک آدھ دکان مسلمانوں کی تھی۔ اکثریت ہندوؤں کی تھی۔ آئے دن کوئی نہ کوئی واقعہ برصغیر میں ظاہر ہوتا۔ ہندو رسالت مآب ﷺ کی شان میں گستاخی کرتے اور یوں صورت حال میں خاصی گڑبڑ ہوتی۔ یہاں کشمیر روڈ پر بھی ایک سکھ تھا جو انتہائی خودسر اور گستاخ تھا۔ ۲۴ سال کا جوان تھا اکثر مسلمانوں کے ساتھ وہ بحث مباحثہ کرتا رہتا اور بڑی رعونت سے پیش آتا۔ غازی عبدالرحمن شہید نماز جمعہ پڑھنے کے لئے موضع صابر شاہ زردغہ سے پیدل چل کر مانسہرہ تشریف لائے تھے حسب معمول وہ جمعہ پڑھنے کے لئے گھر سے نکلے تو ان کے بھانجے سنگار خان اپنی زمین میں مال و مویشی چرا رہے تھے اس کو اپنے پاس بلایا اور سر پر ہاتھ پھیرا اور کہا بیٹا میرے لئے دعا کرنا کہ اللہ تبارک وتعالیٰ مجھے اپنے مقصد میں کامیاب فرمائے۔ سنگار خان کہنے لگے کہ میں اس وقت چونکہ چھوٹا سا تھا اس لئے پوچھ نہ سکا کہ آپ کا کیا مقصد ہے؟ جب غازی صاحب روانہ ہونے لگے تو میں نے کہا کہ مجھے بھی ساتھ لے جائیں لیکن انہوں نے انکار کر دیا۔ غازی عبدالرحمن صاحب کے ہاتھ میں ہمیشہ چھوٹی سی کلہاڑی ہوتی۔ جب مانسہرہ آئے تو کشمیر روڈ پر سودا لینے کے لئے گئے جہاں سکھوں کی دکانیں تھیں۔ سکھوں کی دکان پر غازی علم الدین شہید کے واقعہ کا تذکرہ ہو رہا تھا اور سکھ تنقید کر رہے تھے اس سے دو چار دن پہلے مانسہرہ میں ایک احتجاجی جلوس نکلا تھا۔ جس میں مولوی غلام سرور صاحب نے تقریر کی اور گستاخان رسول کے خلاف تقریر کرتے ہوئے کہا تھا کہ اگر حکومت سزا نہیں دے سکتی تو ایسے بدمعاش لوگوں کا قلع قمع ہم خود کریں گے۔ جب غازی عبدالرحمن صاحب سکھوں کی دکان پر پہنچے تو اس نوجوان سکھ نے جوانی کے جوش میں مسلمانوں کے خلاف کچھ باتیں کیں۔ غازی عبدالرحمن صاحب نے کہا کہ اگر تمہارے بھائی ایسے واقعات کا ارتکاب نہ کریں جس سے مسلمانوں کی دل آزاری ہوتی ہے تو ایسے حالات ہی پیدا ہوں۔ اس سکھ نے کہا جو میرے بھائی بند کرتے ہیں میں وہی کروں گا۔ غازی صاحب نے کہا پھر ہم تمہاری بھی زبان گدی سے کھینچ لیں گے اسی توتکار میں اس نے آقائے نامدار ﷺ کے بارے
باب سوم: سچے عاشقان رسول کے واقعات میں کوئی نازیبا لفظ کہہ دیا۔ بس پھر کیا تھا غازی عبدالرحمن نے اس سکھ پر لگا تار وار کئے۔ آگے آگے وہ سکھ بھاگ رہا تھا اور پیچھے پیچھے غازی صاحب تعاقب کر رہے تھے۔ پرانے جی ٹی ایس اڈے کے قریب اس سکھ کے بھائیوں کی سوڈا واٹر کی دکانیں تھیں وہ ان دکانوں میں داخل ہوا جگت سنگھ اس کا بھائی تھا اس نے بھی غازی صاحب کو للکارا۔ غازی صاحب نے مشینوں کے نیچے گھسے ہوئے سکھ پر کئی وار کئے اور واصل جہنم کر دیا۔ یہ صورت حال دیکھ کر پورا بازار بند ہو گیا اور بھگڈر مچ گئی۔ غازی عبدالرحمن خوشی سے کہہ رہے تھے کہ میں نے اپنے آقا ﷺ کا بدلہ لے لیا..... میں نے اپنے آقا کا بدلہ لے لیا..... غازی صاحب سکھ کو قتل کرنے کے بعد بھاگے نہیں اور نہ ہی کوئی ایسی بات کی بلکہ بالکل پرسکون رہے۔ جب غازی عبدالرحمن صاحب نے اپنا بیان پولیس کو دیا تو کہا میں نے ہوش و حواس میں اس سکھ کو جہنم رسید کیا ہے اگر وہ میرے آقا ومولیٰ ﷺ کی توہین کا ارتکاب نہ کرتا تو میں اسے سزا نہ دیتا۔
غازی عبدالرحمن کی شہادت کا عدالتی فیصلہ
کیس عدالت میں پہنچا تو تین چار وکیل غازی عبدالرحمن صاحب کے دفاع میں پیش ہوئے۔ وکلاء نے کہا غازی صاحب آپ کہہ دیں کہ میں اتنا مشتعل تھا کہ مجھے کوئی ہوش نہ تھا ہم آپ کو بچالیں گے لیکن غازی عبدالرحمن صاحب نے کہا میں جھوٹ بول کر اپنا ثواب ضائع نہیں کرنا چاہتا۔ چنانچہ عدالت نے غازی عبدالرحمن کو پھانسی کی سزا سنائی۔ وکلاء نے غازی عبدالرحمن سے کہا کیا ہم ہائی کورٹ میں اپیل کریں؟ غازی صاحب نے صاف کہہ دیا میں اب اپیل نہیں کروں گا۔ مجھے اس جان کی پرواہ نہیں ہے۔ چنانچہ غازی عبدالرحمن کو پھانسی کی سزا دے دی گئی جب پھانسی کے بعد اس پروانے کی لاش صابر شاہ لائی گئی تو بھر کنڈھ سے صابر شاہ تک راستہ کے دونوں کناروں پر عوام کا جم غفیر تھا اور یوں محسوس ہوتا تھا کہ برصغیر کے تمام مسلمان آج مانسہرہ کی سرزمین پر جمع ہو گئے ہیں۔ نہایت تزک واحتشام سے غازی عبدالرحمن شہید کو سپرد خاک کیا گیا آج وہ صابر شاہ کے بڑے قبرستان میں آسودہ خاک ہیں ۱؎
۱؎ گستاخ رسول کی سزا ص ۸۰ تا ص ۸۲
باب سوم : سچے عاشقان رسول کے واقعات
غازی میاں محمدؒ
میاں محمد کو بچپن ہی سے آپ ﷺ کی ذات گرامی سے والہانہ لگاؤ تھا، انہیں بہت سی نعتیں یاد تھیں جنہیں وہ اکثر تنہائی میں گنگناتے رہتے اور یار دوستوں میں بیٹھ کر پڑھتے تھے، وہ بڑے خوبصورت جوان تھے اور ہمیشہ نفیس اور عمدہ لباس زیب تن کئے رہتے۔ ان کو دیکھنے والوں نے ان کا حلیہ کچھ اس طرح بیان کیا ہے:
لمبا قد، دلکش خدوخال، سرخ و سپید رنگ، باریک ہونٹ، گھنی بھنویں، ناک معیار حسن کے عین مطابق، پیشانی چوڑی، آنکھیں چمکدار، خوبصورت سی چھوٹی داڑھی اور خاص ادا کی مونچھیں، جن سے مردانہ وجاہت ٹپکتی تھی۔ سر پر کلاہ اور خوبصورت پگڑی۔ غرض پیکر حسن تھے۔ ۱۶ مئی ۱۹۳۷ء کی شب کا ابھی آغاز ہوا تھا۔ مدراس چھاؤنی میں ڈیوٹی سے فارغ فوجی سپاہی مختلف گروپوں میں بیٹھے خوش گپیوں میں مشغول تھے۔ انہی میں ایک طرف چند مسلمان نعت رسول کریم ﷺ سننے میں محو تھے۔ اتفاق سے جو شخص نعت شریف سنا رہا تھا وہ ایک ہندو تھا، یہ بڑی خوش الحانی اور عقیدت مندی کے ساتھ نعت سنا رہا تھا۔ قریب ہی ایک ہندو ڈوگرہ سپاہی نے جب ایک ہندو کو اس طرح عقیدت مندی کے ساتھ نعت پڑھتے سنا تو وہ مارے تعصب کے جل کر کباب ہو گیا۔ اس نے با آواز بلند آپ ﷺ کی شان اقدس میں سخت گستاخی کرتے ہوئے نعت پڑھنے والے ہندو سے مخاطب ہو کر کہا:
”تو کیسا ہندو ہے؟ تو ہندو دھرم کا مجرم ہے ...... تیرا پاپ معاف نہیں کیا جاسکتا۔“ ......
مسلمان سپاہیوں نے ڈوگرہ سپاہی کی یہ بدزبانی سنی تو صبر کا گھونٹ پی کر رہ گئے۔ لیکن میاں محمد اپنے آقا ﷺ کی شان میں یہ گستاخی سن کر تڑپ اٹھے اور ڈوگرہ سپاہی سے کہا۔ تیرے ہم مذہب کو یہ سعادت نصیب ہوئی ہے کہ وہ آپ ﷺ کے نام مبارک سے اطمینان قلبی حاصل کرے، اس لئے وہ گا کر سرکار ﷺ کی نعت پڑھ رہا ہے، تجھے اپنے خبث باطن کی وجہ سے یہ بات پسند نہیں تو تو یہاں سے چلا جا ...... خبردار آئندہ ایسی بکواس نہ کرنا۔
باب سوم: سچے عاشقان رسول کے واقعات
یہ سن کر ڈوگرہ سپاہی بولا۔ میں تو بار بار ایسا ہی کہوں گا۔ تم سے جو ہو سکتا ہے کرلو۔ یہ بے ہودہ جواب سن کر میاں محمد کا خون کھول اٹھا۔ ایک ہندو ڈوگرہ نے ان کی حمیت ایمانی کو للکارا تھا۔ انہوں نے بڑی مشکل سے اپنے آپ پر قابو پاتے ہوئے کہا۔ آئندہ اپنی ناپاک زبان سے ہمارے نبی اکرم ﷺ کی شان میں گستاخی کا جملہ کہنے کی جرأت نہ کرنا، ورنہ یہ بدتمیزی تجھے بہت جلد ذلت ناک موت سے دوچار کر دے گی۔
بدقسمت ڈوگرے سپاہی نے پھر ویسا ہی تکلیف دہ جواب دیا اور کہا کہ مجھے ایسی گستاخی سے روکنے کا تمہیں کوئی حق نہیں۔
یہ سن کر میاں محمد سیدھے اپنے حوالدار کے پاس گئے۔ یہ بھی ہندو تھا۔ آپ نے اس سے تمام واقعہ بیان کیا اور کہا کہ اگر چرن داس (ہندو ڈوگرہ) نے برسرعام معافی نہ مانگی تو اپنی زندگی سے کھیلنا مجھ پر فرض ہو جاتا ہے۔ ہندو حوالدار نے اس نازک مسئلے پر کوئی خاص توجہ نہ دی اور صرف یہی کہا کہ میں چرن داس کو سمجھا دوں گا۔
غازی میاں محمد کے ہاتھوں گستاخ رسول کا عبرتناک انجام
میاں محمد حوالدار کی یہ سرد مہری دیکھ کر سیدھے اپنی بیرک میں پہنچے۔ اب وہ اپنی زندگی کا سب سے بڑا فیصلہ کر چکے تھے۔ انہوں نے نماز عشاء ادا کی اور پھر سجدے میں جا کر گڑگڑاتے ہوئے دعا کی۔
”میرے اللہ ! میں نے تہیہ کر لیا ہے کہ تیرے محبوب کی شان میں گستاخی کرنے والے کا کام تمام کر دوں۔ یا اللہ ! مجھے حوصلہ عطا فرما۔ ثابت قدم رکھ۔ مجھے بھی اپنے محبوب ﷺ کے عاشقوں میں شامل کرلے۔ میری قربانی منظور فرمالے۔“
نماز سے فارغ ہو کر میاں محمد گارڈ روم میں گئے۔ اپنی رائفل نکالی۔ میگزین لوڈ کیا اور باہر نکلتے ہی چرن داس کو للکار کر کہا۔ بدبخت اب بتاؤ، نبی اکرم ﷺ کی شان میں گستاخی کرنے پر میں باز پرس کا حق رکھتا ہوں یا نہیں؟
یہ سن کر شاتم رسول چرن داس نے بھی جو بندوق اٹھائے ڈیوٹی دے رہا تھا پوزیشن
باب سوم: سچے عاشقان رسول کے واقعات
سنبھالی اور رائفل کا رخ میاں محمد کی طرف موڑا، لیکن اگلے ہی لمحے ناموس رسالت کے شیدائی کی گولی چرن داس کو ڈھیر کر چکی تھی۔ رائفل کی دس گولیاں اس کے جسم کے پار کرنے کے بعد غازی میاں محمد نے سنگین کی نوک سے اس کے منہ پر پے در پے وار کئے۔ سنگین وار کرتے ہوئے وہ کہتے جاتے تھے کہ: ”اس ناپاک منہ سے تو نے میرے پیارے رسول ﷺ کی شان میں گستاخی کی تھی۔“......
جب غازی کو مردود چرن داس کے جہنم واصل ہونے کا یقین ہو گیا تو انہوں نے اپنے ہاتھ سے خطرے کی گھنٹی بجائی اور بگلر سے کہا کہ وہ مسلسل بگل بجائے۔ جب سب پلٹن جمع ہو گئی تو غازی نے کمانڈنگ افسر سے کہا کہ کسی مسلمان افسر کو بھجوا دو تا کہ میں رائفل پھینک کر خود کو گرفتاری کے لئے پیش کر دوں۔ آپ کی گرفتاری کے لئے آپ ہی کے علاقے کے ایک مسلمان عباس خاں کو بھیجا گیا۔ گرفتاری کے بعد انگریز کمانڈنگ افسر نے غازی موصوف سے پوچھا کہ آپ نے ایسا کیوں کیا انہوں نے جواب دیا کہ چرن داس نے ہمارے رسول اکرم ﷺ کی شان میں گستاخی اور بدکلامی کی تھی۔ میں نے اس کو روکا لیکن وہ باز نہ آیا اس لئے میں نے اس کو ہلاک کر دیا۔ اب آپ قانونی تقاضے پورے کریں۔
ہندوؤں کو خوش کرنے کے لئے میاں غازی کو ذہنی مریض قرار دینا
۱۷ مئی ۱۹۳۷ء کو غازی میاں محمد کو مقدمے کی تفتیش کے لئے پولیس کے حوالے کر دیا گیا۔ ابھی آپ دس دن پولیس کی حراست میں رہے تھے کہ کمانڈر انچیف (جی ایچ کیو دہلی) کا حکم آیا کہ میاں محمد پر فوجی قانون کے تحت مقدمہ چلایا جائے۔ غالباً حکام کو خدشہ تھا کہ شاید سول عدالت میں مقدمے کا فیصلہ حکومت کی منشاء کے خلاف ہو۔
فوجی حکام کی خواہش تھی کہ مقدمے کے فیصلے تک غازی صاحب کے والدین کو کوئی اطلاع نہ دی جائے۔ لیکن صوبیدار ملک غلام محمد کو کسی طرح فوجی حکام کی اس سازش کی اطلاع ہو گئی اور وہ فوراً مدراس پہنچ گئے۔ عدالتی چارہ جوئی اور مقدمے کی پیچیدگیوں سے نمٹنے کے لئے
باب سوم : سچے عاشقان رسول کے واقعات
مدراس کے معروف مسلمان ایڈووکیٹ سید نور حسین شاہ کی خدمات حاصل کی گئیں۔
نور حسین شاہ نے قانون کا امتحان لندن سے پاس کیا تھا اور عرصہ تک وہیں پریکٹس بھی کی تھی۔ انہوں نے بڑی دیانتداری اور فرض شناسی سے اس عظیم کام کا آغاز کیا۔ لیکن کیس ابھی ابتدائی مراحل میں تھا کہ کسی سنگدل نے محافظ کی موجودگی میں ایڈووکیٹ موصوف کو چھرا گھونپ دیا۔ زخم کاری اور مہلک تھا جس سے وہ رحلت فرما گئے۔
ان کے بعد یہ مقدمہ اصغر علی ایڈووکیٹ نے اپنے ہاتھ میں لیا۔ یہ بھی لندن کے تعلیم یافتہ تھے۔ انہوں نے بھی بڑی جانفشانی اور لگن کے ساتھ کیس کی تیاری میں حصہ لیا اور پیشیوں کے معاوضے میں کبھی کسی رقم کا مطالبہ نہ کیا۔ فوجی حکام چاہتے تھے کہ غازی صاحب کو ذہنی مریض قرار دے کر سزا دی جائے تا کہ کیس کو مذہبی رنگ بھی نہ ملے اور ہندو بھی خوش ہو جائیں۔
اس مقصد کے تحت غازی صاحب کو گورنمنٹ مینٹل ہسپتال مدراس میں داخل کر دیا گیا۔ ایک ماہ بعد ڈاکٹر نے اپنی رپورٹ میں لکھا کہ میں نے پورا مہینہ میاں محمد کو اپنی خصوصی نگرانی میں رکھا ہے۔ نفسیاتی جائزہ بھی لیا ہے، کئی بار چھپ کر بھی معائنہ کیا ہے۔ لیکن اس عرصہ میں ایک بار بھی میں نے انہیں فکرمند یا کسی سوچ میں گم نہیں پایا۔ (جیسا کہ پاگل اکثر گم صم رہتے ہیں) ایک ماہ میں ان کا وزن بھی بڑھ گیا ہے۔ اگر ان کو یہ فکر ہوتی کہ قتل کے مقدمہ میں میرا کیا حشر ہو گا تو ان کا وزن کم ہو جاتا۔ یہ کسی غم و فکر میں مبتلا نہیں۔ جب چرن داس ایک ہی گولی لگنے سے مر گیا تھا تو ساری گولیاں چلانے اور سنگین سے پے در پے زخم لگانے کی ضرورت نہ تھی۔ اور ایسی حالت میں جب کوئی دیکھنے والا بھی نہ تھا، یہ آسانی سے فرار بھی ہو سکتے تھے۔ لیکن ایسا نہیں کیا گیا۔ میرا میڈیکل تجزیہ یہی بتاتا ہے کہ میاں محمد نے قتل کا ارتکاب مذہبی جذبات سے برانگیختہ ہونے کی وجہ سے کیا ہے۔
جرات مندانہ اقبال بیان اور سزائے موت کا حکم
۱۶؍ اگست ۱۹۳۷ء کو غازی صاحب کا جنرل کورٹ مارشل شروع ہوا۔ پانچ دن کاروائی ہوتی رہی۔ کل اٹھارہ گواہوں کے بیانات قلمبند ہوئے۔ تین ڈاکٹروں کی شہادت بھی
باب سوم : سچے عاشقان رسول کے واقعات
ریکارڈ پر آئی۔ جرح کے دوران انہوں نے یہ متفقہ موقف اختیار کیا کہ غازی میاں محمد نے جو کچھ کیا ہماری رائے میں وقوعہ کے وقت وہ اپنے جذبات کو قابو نہیں رکھ سکا۔ لیکن غازی صاحب اپنے ابتدائی بیان پر ڈٹے رہے اور کہا:
”میں نے جو کچھ کیا ہے خوب سوچ سمجھ کر کیا ہے۔ یہی میرا فرض تھا۔ چرن داس نے میرے آقا و مولیٰ ﷺ کی شان اقدس میں گستاخی کی تھی۔“
کورٹ مارشل کے دوران ان کے وکیل نے رائے دی کہ وہ یہ بیان دیں کہ میں نے گولی اپنی جان بچانے کی غرض سے چلائی تھی، کیونکہ چرن داس بھی مجھ پر حملہ کرنا چاہتا تھا۔ لیکن غازی نے سختی کے ساتھ اس تجویز کو مسترد کر دیا اور کہا کہ میری ایک جان تو کیا ایسی ہزاروں جانیں بھی ہوں تو سرکار دوعالم ﷺ کی حرمت پر نچھاور کر دوں۔
۲۴ ستمبر ۱۹۳۷ء کو پلٹن میں غازی میاں محمد کو سزائے موت کا حکم سنایا گیا۔ جس کا جواب غازی نے مسکرا کر دیا۔
اسی میں ہو اگر خامی تو سب کچھ نامکمل ہے
۱۵ اکتوبر ۱۹۳۷ء کو وائسرائے ہند کے پاس اپیل کی گئی جو مسترد ہوگئی۔ پھر پریوی کونسل لندن میں اپیل دائر کی گئی جو مختصر سماعت کے بعد رد کر دی گئی۔ اپیلیں مسترد ہو جانے کے بعد فوجی حکام نے ۱۲ اپریل ۱۹۳۸ء کو سزا پر عمل درآمد کا فیصلہ کیا۔
میاں محمد شہید کی اپنے بھائی اور بیوی کو آخری وصیت
شہادت سے چار روز قبل (۸ اپریل ۱۹۳۸ء) کو غازی میاں محمد نے اپنے حقیقی بھائی ملک نور محمد کو ایک خط لکھا۔ اس میں بعض وصیتیں بھی لکھیں۔ آپ نے لکھا۔ خداوند کریم کی رضا پر راضی رہنا۔ ہر حال میں صبر کرنا۔ کسی پر تمہارا غم ظاہر نہ ہو۔ میں قسم کھا کر کہتا ہوں کہ میرا دل اس قدر خوش ہے کہ جس کا اندازہ کوئی دوسرا آدمی نہیں کر سکتا۔ میری دلی آرزو یہی تھی ، جو اللہ کریم نے پوری کر دی۔ میں گناہ کے سمندر میں غرق تھا کہ میرے مالک نے اپنی رحمت کے دروازے کھول
سچے عاشقان رسول کے واقعات
موقف اختیار کیا کہ غازی میاں محمد نے جو جذبات کو قابو میں رکھ سکا۔ لیکن غازی صاحب مجھ کو کیا ہے۔ یہی میرا فرض تھا۔ چرن ان اقدس میں گستاخی کی تھی۔" وکیل نے رائے دی کہ وہ یہ بیان دیں کہ میں تھا۔ کیونکہ چرن داس بھی مجھ پر حملہ کرنا چاہتا تھا۔ فرمایا اور کہا کہ میری ایک جان تو کیا ایسی ہزاروں قربان کر دوں۔ میاں محمد کو سزائے موت کا حکم سنایا گیا۔ جس کا
سب کچھ نامکمل ہے
کے پاس اپیل کی گئی جو مسترد ہوگئی۔ پھر پریوی کے بعد رد کر دی گئی۔ اپیلیں مسترد ہو جانے کے سزائے موت کا فیصلہ کیا۔
کو آخری وصیت
۱۹۳۸ء) کو غازی میاں محمد نے اپنے حقیقی بھائی لکھیں۔ آپ نے لکھا۔ خداوند کریم کی رضا پر ہوں۔ میں قسم کھا کر کہتا ہوں کہ میرا دل اس قدر کہ میری دلی آرزو یہی تھی، جو اللہ کریم نے پوری کہ مالک نے اپنی رحمت کے دروازے کھول
باب سوم: سچے عاشقان رسول کے واقعات
دیئے۔ اس مالک کی مہربانی کا ہزار ہزار شکریہ۔ (پھر اپنی اہلیہ کا ذکر کرتے ہوئے لکھا) بندہ کی عیال (بیوہ) کو واضح ہو کہ میں آپ سے نہایت خوش اور راضی ہوں۔ تم نے کبھی کوئی ایسی غلطی نہیں کی جس کے لئے تمہیں معافی کا خواستگار ہونا پڑے۔ میری شہادت پر بجائے رونے دھونے کے اپنے رب کو یاد کرنا۔ نماز پڑھنا۔ اپنے رب کی بندگی کرنا اور میرے لئے بخشش کی دعا کرنا۔
میاں محمد غازیؒ کی آخری خواہش
پھانسی کے انتظامات کا جائزہ لینے کے لئے ۱۰/۳ بلوچ رجمنٹ کا ایک افسر کراچی سے مدراس پہنچا۔ اس نے غازی صاحب سے پوچھا، کوئی آخری خواہش ہو تو بتاؤ؟ فرمایا۔ ساقی کوثر ﷺ کے ہاتھوں سے جام پی کر سیراب ہونا چاہتا ہوں۔ غازی صاحب کا باڈی گارڈ دستہ چھ سپاہیوں، ایک انگریز افسر اور ایک بیرے پر مشتمل تھا۔ جن لوگوں نے آخری وقت آپ کی زیارت کی ان کا کہنا ہے کہ چہرے پر سرور اور تازگی اور آنکھوں میں خمار کی چمک پہلے سے کہیں زیادہ ہو گئی تھی۔ والدین سے آخری ملاقات میں ہنس ہنس کر باتیں کرتے رہے۔ والدہ اپنے تیس سالہ جواں بیٹے کا دیوانہ وار کبھی سر چومتیں، کبھی منہ۔ والد نے بہ ہزار مشکل اپنے آپ کو سنبھالے رکھا۔
اسی رات ۱۱ اپریل ۱۹۳۸ء کو انہیں مدراس سول جیل لے جایا گیا۔ رات بھر آپ عبادت میں مشغول رہے۔ تہجد کے بعد غسل فرمایا۔ سفید لباس زیب تن کیا۔ نماز فجر ادا کی۔ پھر آپ کو تختہ دار کی طرف لے جایا گیا۔ تختہ دار پر کھڑے ہوتے ہی آپ نے نعرہ تکبیر بلند کیا۔ پھر مدینہ منورہ کی طرف رُخ کر کے فرمایا۔ سرکار مدینہ ﷺ میں حاضر ہوں۔
پھانسی کا پھندہ آپ کے گلے میں ڈال دیا گیا۔ تختہ دار کھینچ دیا گیا۔ دیکھنے والوں نے دیکھا کہ آپ کے چہرے پر برستا ہوا نور کچھ اور فزوں ہو گیا۔ فضا کی عطر بیزی کچھ اور بڑھ گئی۔ ڈاکٹر نے معائنہ کر کے کہا۔ بے قرار روح قفس عنصری سے پرواز کر گئی۔
اگلے ہی لمحے ساقی کوثر ﷺ کا دیوانہ حوض کوثر کے کنارے اپنی پیاس بجھا رہا تھا۔ یہ ۱۲ اپریل ۱۹۳۸ء کی صبح تھی۔ وقت پانچ بج کر پینتالیس منٹ۔
(از ڈاکٹر خواجہ عابد نظامی)
باب سوم : سچے عاشقان رسول کے واقعات
بابو معراج دین
آپ کا نام بابو معراج دین تھا۔ آپ ۱۹۲۱ء میں اندرون لوہاری گیٹ لاہور کے محلہ چڑی ماراں میں پیدا ہوئے۔ آپ کے والد محترم کا نام چوہدری اللہ دتہ تھا۔ اور آپ قوم کمبوہ سے تعلق رکھتے تھے۔ آپ ایک معزز گھرانے کے چشم و چراغ تھے اور بہت محنت کش لوگ تھے۔ آپ نے اپنی ابتدائی تعلیم مدرسہ الاسلامیہ لوہاری گیٹ سے حاصل کی۔ آپ کو ابتداء ہی سے اسلام سے گہرا لگاؤ تھا اور بہت حساس طبیعت کے مالک تھے۔ مذہبی لگاؤ آپ میں کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا تھا۔
۱۹۴۰ء میں آپ نے فوج میں ملازمت اختیار کر لی آپ کو لکھنؤ چھاؤنی میں تعینات کیا گیا آپ نے فوج میں رہ کر بھی مذہبی سرگرمیوں کو جاری رکھا آپ نے چند مسلمان فوجیوں کو ساتھ ملا کر چھاؤنی میں ایک مسجد قائم کی اور اس مسجد میں نماز پنجگانہ ادا ہونے لگی۔ اس کے علاوہ شام کو مسجد میں درس دیا جاتا تھا یہ سارا سلسلہ ایک تنظیم کی شکل اختیار کر گیا۔
آپ تحریک پاکستان کے بھی بڑے حامی تھے۔ آپ نے چھاؤنی میں مسلمان فوجیوں کو پاکستان کی اہمیت کا احساس دلایا اس چھاؤنی کا کمانڈر ایک سکھ میجر ہردیال سنگھ تھا یہ مسلمانوں کو بڑی نفرت کی نگاہ سے دیکھتا تھا۔ بابو معراج الدین اور ان کے ساتھیوں نے عید الاضحیٰ کے موقع پر قربانی کرنے کا ارادہ کیا۔ یہ لوگ جب قربانی میں مصروف تھے تو وہاں پر میجر ہردیال سنگھ آگیا، اس نے مسلمانوں کے اس مقدس تہوار کا مذاق اڑایا اور قربانی کے گوشت کی بے حرمتی کی۔ بابو معراج الدین کو اس کی یہ بدتمیزی برداشت نہ ہوئی آپ نے اسی چھری کے ساتھ اس گستاخ سکھ کو اس کے کیفر کردار تک پہنچا دیا۔
حکومت برطانیہ نے آپ کے خلاف کورٹ مارشل کیا اور آپ کو موت کی سزا سنائی۔ یہ ۱۹۴۱ء لکھنؤ چھاؤنی کا ایک مشہور واقعہ تھا۔ یہ خبر پورے شہر لکھنؤ اور چھاؤنی میں جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی۔ چونکہ اس واقعے سے لکھنؤ شہر اور چھاؤنی میں فرقہ وارانہ فساد کا خطرہ پیدا ہو گیا تھا چنانچہ اس صورت حال کو دیکھتے ہوئے انگریز فوجی حکومت نے آپ کی سزائے موت کو
باب سوم :
عمر قید میں تبدیل کر دیا۔ چونکہ الدین کو منٹگمری (ساہیوال) یہاں پر بھی آپ منتقل کر دیا گیا آپ صوم و صلوٰۃ کرتے تھے۔ آپ نے جیل رہنماؤں کا لٹریچر پڑھا کر کے پاکستان کی آزادی بھی وہ جرم نہیں تھا بلکہ عبادت اچھرہ منتقل ہو چکا تھا۔ آپ ۱۹۴۹ء میں آپ کی شادی ہوئی ۱۹۵۳ء۔۵۲ آپ نے اس تحریک میں بھر سید عطاء اللہ شاہ بخاری کا شع تھے۔ بابو معراج الدین کو شروع لٹریچر پڑھا کرتے تھے آپ مولانا سید عطاء اللہ شاہ بخاری ☆ ☆
سچے عاشقان رسول کے واقعات
آپ ۱۹۱۶ء میں اندرون لوہاری گیٹ لاہور کے محلہ محترم کا نام چوہدری اللہ دتہ تھا۔ اور آپ قوم کمبوہ سے کے چشم و چراغ تھے اور بہت محنت کش لوگ تھے۔
لوہاری گیٹ سے حاصل کی۔ آپ کو ابتداء ہی سے ت کے مالک تھے۔ مذہبی لگاؤ آپ میں کوٹ کوٹ لازمت اختیار کر لی آپ کو لکھنؤ چھاؤنی میں تعینات گرمیوں کو جاری رکھا آپ نے چند مسلمان فوجیوں کو اس مسجد میں نماز پنجگانہ ادا ہونے لگی۔ اس کے علاوہ لا ایک تنظیم کی شکل اختیار کر گیا۔
بڑے حامی تھے۔ آپ نے چھاؤنی میں مسلمان ا اس چھاؤنی کا کمانڈر ایک سکھ میجر ہر دیال سنگھ تھا یہ تا تھا۔ بابو معراج الدین اور ان کے ساتھیوں نے گیا۔ یہ لوگ جب قربانی میں مصروف تھے تو وہاں پر نے اس مقدس تہوار کا مذاق اڑایا اور قربانی کے گوشت کی یہ بدتمیزی برداشت نہ ہوئی آپ نے اسی چھری تک پہنچا دیا۔
خلاف کورٹ مارشل کیا اور آپ کو موت کی سزا سنائی۔ یہ خبر پورے شہر لکھنؤ اور چھاؤنی میں جنگل کی آگ لکھنؤ شہر اور چھاؤنی میں فرقہ وارانہ فساد کا خطرہ پیدا ہوئے انگریز فوجی حکومت نے آپ کی سزائے موت کو
باب سوم: سچے عاشقان رسول کے واقعات
عمر قید میں تبدیل کر دیا۔ چونکہ اس واقعہ سے لکھنؤ میں حالات ٹھیک نہیں تھے اس لئے معراج الدین کو منٹگمری (ساہیوال) جیل میں بھیج دیا گیا۔
یہاں پر بھی آپ کی سرگرمیاں جاری رہیں۔ ۱۹۳۳ء میں آپ کو لاہور سنٹرل جیل منتقل کر دیا گیا آپ صوم وصلوٰۃ کے بڑے پابند تھے اور دوسروں کو بھی اس پر عمل کرنے کی تلقین کرتے تھے۔ آپ نے جیل ہی میں قرآن، حدیث اور فقہ کی تعلیم حاصل کی اور زیادہ تر مذہبی رہنماؤں کا لٹریچر پڑھا کرتے تھے۔
پاکستان کی آزادی کے فوراً بعد آپ کو رہا کر دیا گیا کیونکہ آپ کو جس جرم کی سزا ملی بھی وہ جرم نہیں تھا بلکہ عبادت تھی۔ یہ ان کا مذہبی لگاؤ تھا اس وقت آپ کا خاندان پیر غازی روڈ اچھرہ منتقل ہو چکا تھا۔ آپ رہائی پانے کے بعد ایک مکمل اور صالح مسلمان بن چکے تھے۔ ۱۹۴۹ء میں آپ کی شادی ہو گئی۔ خدا نے آپ کو دو بیٹوں سے نوازا۔
۵۲-۱۹۵۳ء میں ختم نبوت کی تحریک زوروں پر تھی آپ ایک سچے عاشق رسول تھے آپ نے اس تحریک میں بھر پور طریقے سے حصہ لینا شروع کر دیا۔ امیر شریعت حضرت مولانا سید عطاء اللہ شاہ بخاری کا شمار اس تحریک کے بانیوں میں سے ہوتا تھا آپ ایک شعلہ بیان مقرر تھے۔ بابو معراج الدین کو شروع ہی سے شاہ جی سے بڑی عقیدت تھی اور آپ جیل میں بھی ان کا لٹریچر پڑھا کرتے تھے آپ ان کے جلسے اور جلوسوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینے لگے۔ حضرت مولانا سید عطاء اللہ شاہ بخاری صاحب بابو معراج الدین سے دلی محبت کرتے تھے۔
☆☆☆☆☆☆.......☆☆☆☆☆☆
باب سوم : سچے عاشقان رسول کے واقعات
غازی حافظ محمد صدیقؒ
پالامل سنار ایک صاحب ثروت ہندو سنار تھا اس کی دکان درگاہ حضرت بلھے شاہؒ قصور سے ذرا دور تھی اس کی پشت پر ہندو ساہوکاروں کا ہاتھ تھا۔ بنیوں کے ٹولے کی حمایت کی ابتداءً وہ مسلمانوں کی معاشی ناسازگاریوں پر بکواس کرتا تھا اس نے کئی بار برملا کہا قرضہ تو یہ واپس دیتے نہیں اور بنے پھرتے ہیں مسلمان۔
ایک مرتبہ اس نے کہا مسلمانوں کا خدا اپنے بندوں سے زکوٰۃ کی بھیک مانگتا ہے جب کہ ان بے چاروں کو دو وقت کی روٹی بھی کھانے کو نہیں ملتی۔ مسلمانوں کو چپ سادھے دیکھ کر اس کا حوصلہ روز بروز بڑھتا گیا اور اولیائے عظام (رحمہم اللہ) کے متعلق گالیاں بکنا اس کا معمول بن گیا ہندوؤں کو اکٹھا کر کے نماز کی نقلیں اتارنا اور اپنی عجیب و غریب حرکات سے انہیں ہنساتے رہنا گویا اس کا ہر روز کا مشغلہ تھا۔ بات فحش کلامی سے بہت آگے جا چکی تھی۔
روزنامہ انقلاب لاہور کی ۷ ستمبر ۱۹۳۴ء کی اشاعت کے مطابق مسمی پالامل نے بے ادبیوں کا یہ کھلم کھلا سلسلہ شروع کر رکھا ہے۔ ۱۶ مارچ کو جب لوگ نماز پڑھ رہے تھے تو مردود مذکور نے نہ صرف نماز کا مضحکہ اڑایا بلکہ سرکار مدینہ ﷺ کی ذات اقدس کے متعلق نازیبا کلمات بکے۔ شان رسالت مآب ﷺ میں صریحاً گستاخی کی اس قبیح حرکت پر پورے شہر میں غم و غصے کی لہر دوڑ گئی۔ مسلم معززین کے مشورے پر محمد کلیم پیر صاحب نے عدالت میں استغاثہ دائر کر دیا۔
مسٹر نیل مجسٹریٹ درجہ اول لاہور نے بڑی تندہی سے اس مقدمے کی موشگافیوں کو پیش نظر رکھا۔ بالآخر فریقین کے دلائل سننے کے بعد مجسٹریٹ مذکور نے اپنے فیصلے میں لکھا میں اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ ملزم نے واقعی توہین رسالت مآب ﷺ کی ہے جس سے مسلمانوں کے جذبات مشتعل ہوئے اور سخت فساد کا خطرہ پیدا ہو گیا اس لئے پالامل کو چھ ماہ قید اور دوسو روپے جرمانہ کی سزا دی جا رہی ہے۔
۱۰ ستمبر ۱۹۳۴ء کے روزنامہ سیاست لاہور میں اس کی تفصیل یوں درج ہے پالامل سنار کے خلاف توہین پیغمبر اسلام ﷺ کے الزام میں مقدمہ چلتا رہا۔ ملزم نے مجسٹریٹ کے فیصلے
باب سوم : سچے عاشقان رسول کے واقعات کے خلاف مسٹر بھنڈاری سیشن جج لاہور کی عدالت میں اپیل دائر کر دی یہاں سے اسے تافیصلہ ضمانت پر رہا کر دیا گیا۔
انہی دنوں کا ذکر ہے ایک رات حافظ غازی محمد صدیق صاحب نیند میں تھے کہ مقدر جاگ اٹھا۔ نصف شب بیت چکی تھی جب آپ کو سرور بنی آدم، روح رواں عالم، جناب احمد مجتبیٰ حضرت محمد ﷺ کی زیارت نصیب ہوئی۔ سرکار ﷺ نے فرمایا۔ قصور میں ایک بد نصیب ہندو پے در پے ہماری شان میں گستاخیاں کرتا چلا جا رہا ہے جاؤ اور اس ناپاک زبان کو لگام دو۔ قبلہ صدق و وفا صاحب فضائل و کمالات رحمۃ اللعالمین خاتم النبیین ﷺ کی حرمت و عزت کا یہ جانباز محافظ کئی روز تک شدت غم و غصہ سے پیچ و تاب کھاتا رہا ان کے سینے میں جوش غضب کی چنگاریاں چیخ رہی تھیں ان کے دل میں ایک ہی جذبہ موجزن تھا کہ وہ جلد از جلد قصور پہنچ کر اپنے آقا و مولا کے دشمن کو جہنم رسید کریں۔
۱۰ ستمبر ۱۹۳۴ء کی بات ہے انہوں نے اپنی والدہ ماجدہ سے عرض کی کہ مجھے خواب میں ایک دریدہ دہن کافر دکھلا کر بتایا گیا ہے کہ یہ ناہنجار توہین نبوی ﷺ کا مرتکب ہو رہا ہے اسے گستاخی کا مزہ چکھاؤ تا کہ آئندہ کوئی شاتم اس امر کی جرات نہ کر سکے میں قصور اپنے ماموں کے پاس جا رہا ہوں۔ گستاخ موذی وہیں کا رہنے والا ہے مجھے بتایا گیا ہے کہ اس گستاخ کی ذلت ناک موت میرے ہی ہاتھوں واقع ہوگی۔ نیز مجھے تختہ دار پر جام شہادت پلایا جائے گا۔ آپ دعا فرمائیں بارگاہ سرکار ﷺ میں میری قربانی منظور ہو اور میں اپنے اس عظیم فرض کو بطریق احسن نبھا سکوں۔ ماں نے بخوشی اجازت دے دی ایک مومنہ کے لئے اس سے بڑھ کر کیا مسرت ہو سکتی ہے کہ اس کا بیٹا دین اسلام کے کام آئے۔
۱۷ ستمبر ۱۹۳۴ء کی شام کا واقعہ ہے حضرت قبلہ غازی صاحب دربار بابا بلھے شاہؒ کے نزدیک نیم کے درخت سے ٹیک لگائے کھڑے تھے۔ عقابی نگاہیں آنے جانے والوں کا بغور جائزہ لے رہی تھیں اتنے میں ایک ایسا شخص دکھائی دیا جس نے چہرے پر کسی حد تک نقاب اوڑھ رکھا تھا۔ آپ نے جھٹ اس کی راہ روکی اور پوچھا تو کون ہے اور کہاں سے آیا ہے؟ یہاں
باب سوم: سچے عاشقان رسول کے واقعات کیا کرتا ہے؟ اسے اپنا نام بتانے میں تامل تھا۔ نوبت ہاتھا پائی تک پہنچی آپ کو تنہا دیکھ کر اسے بھی حوصلہ ہوا۔ وہ کہنے لگا مسلمانوں نے پہلے میرا کیا بگاڑ لیا ہے اور اب کون سی قیامت آجائے گی۔ الغرض غازی موصوف نے اسے پہچان لیا کہ یہی وہ گستاخ رسول ﷺ ہے جسے ٹھکانے لگانے پر اسے مامور کیا گیا ہے۔
غازی نے فرمایا کہ میں تاجدار مدینہ ﷺ کا غلام ہوں۔ کئی دنوں سے تیری تلاش میں تھا اے دہن دریدہ ملیچھ آج تو کسی طرح بھی ذلت ناک موت سے نہیں بچ سکتا۔ یہ کہہ کر آپ نے تہبند سے رمبی (چمڑا کاٹنے کا اوزار) نکالی اور للکارتے ہوئے اس پر حملہ آور ہو گئے۔ حافظ محمد صدیق متواتر وار کئے جارہے تھے اور زور زور سے نعرہ تکبیر لگا رہے تھے۔ واقعات کے مطابق پورے ساڑھے سات بجے بارگاہ رسالت میں گستاخی کرنے والا یہ خناس شخص جسے لوگ لالہ پالامل شاہ کے نام سے جانتے تھے اپنے منطقی انجام کو پہنچ گیا۔
ملعون کا جسم چاقو سے چھلنی کر دیا
مقتول مردود کے واویلا اور آپ کے نعرہ ہائے تکبیر سے بڑی تعداد میں لوگ اس جانب متوجہ ہو چکے تھے عینی شاہدوں کا کہنا ہے کہ غازی اس وقت تک ملعون ساہوکار کی چھاتی سے نہیں اترے جب تک موت کا پختہ یقین نہیں ہو گیا۔ غازی کا لباس ناپاک خون کے چھینٹوں سے آلودہ ہو چکا تھا ارد گرد بھی گندے لہو کے داغ ہی داغ تھے۔ مقتول کا چہرہ نہ صرف بری طرح مسخ ہوا بلکہ ہیبت ناک شکل اختیار کر گیا تھا یہاں تک کہ ڈر کے مارے کوئی قریب نہ پھٹکتا تھا۔ میڈیکل رپورٹ کے مطابق اس کے جسم پر چالیس زخموں کے واضح نشان تھے۔ موقع پر موجود افسروں کا بیان ہے کہ اگر غازی صاحب فرار ہونا چاہتے تو باآسانی ایسا کر سکتے تھے مگر انہوں نے اپنے فرض سے فارغ ہو جانے کے بعد دوگانہ نماز شکرانہ ادا کی اور قریبی مسجد کی سیڑھیوں پر اطمینان کے ساتھ بیٹھ گئے اور وقفے وقفے سے زیر لب مسکراتے اور گنگناتے رہے اس وقت تمام ہندوؤں کے چہرے اترے اترے تھے مگر غازی صاحب نہایت مطمئن
142
باب سوم: اور سرشار نظر آرہے تھے۔ دی اور غیرت مند فطرت کا منہ بولتا
عصمت رسول ﷺ پر جا
۲۰ ستمبر ۱۹۳۳ء کو رول قصور ضلع لاہور کے ا ہوئی کہ لالہ پالامل ساہو کار کو شہر ایک مسلمان محمد صدیق کو گرفتار چلتا رہا۔ مسٹر نیل مجسٹریٹ لاہو کے خلاف اس نے مسٹر بھنڈاری تھا۔ معلوم ہوا کہ قتل ہلے شاہ کی ہے پولیس بڑی تندہی سے تفتیش
جب حضرت غازی فرمایا۔ بلا شبہ پالامل کو میں نے دیدہ دانستہ اس جرم کا مرتکب ہ علم تھا۔ اس نے سب کچھ جا رسالت میں گستاخی پر میں س ہمارے مذہب کے مطابق وہ کر خاموش رہے اور عصمت ر برأت ہو سکتی ہے دنیوی امور م مدینہ ﷺ کے مقام و مرتبہ پر غصہ کسی حالت میں بھی کم نہیں کے سبب اپنے رسول ﷺ کی
باب سوم : سچے عاشقان رسول کے واقعات
اور سرشار نظر آ رہے تھے۔ دیکھنے والوں نے دیکھا کہ آپ کی یہ ادا مسلمانوں کی سربلندی اور غیرت مند فطرت کا منہ بولتا ثبوت تھی۔
عصمت رسول ﷺ پر جان دینا بھی اعزاز ہے
۲۰ ستمبر ۱۹۳۳ء کو روزنامہ سیاست کے پرچہ میں ایک خبر ان الفاظ میں شائع ہوئی۔ قصور ضلع لاہور ۱۷ ستمبر گذشتہ شب گیارہ بجے کے قریب قصور سے یہ اطلاع موصول ہوئی کہ لالہ پالامل ساہوکار کو شام ساڑھے سات بجے قتل کر دیا گیا ہے۔ اس قتل کے سلسلے میں ایک مسلمان محمد صدیق کو گرفتار کیا گیا ہے۔ پالامل کے خلاف توہین اسلام کے الزام میں مقدمہ چلتا رہا۔ مسٹر گل مجسٹریٹ لاہور نے پالامل کو چھ ماہ قید اور ۲۰۰ روپے جرمانہ کی سزا دی اس فیصلے کے خلاف اس نے مسٹر بھنڈاری سیشن جج لاہور میں اپیل دائر کی تھی اس کو ضمانت پر رہا کر دیا گیا تھا۔ معلوم ہوا کہ قتل بلھے شاہ کی خانقاہ میں ہوا اور قتل کے الزام میں محمد صدیق کو گرفتار کر لیا گیا ہے پولیس بڑی تندہی سے تفتیش کر رہی ہے۔
جب حضرت غازی صاحب سے پوچھا گیا آپ کچھ کہنا چاہتے ہیں تو انہوں نے فرمایا۔ بلاشبہ پالامل کو میں نے قتل کیا ہے کیونکہ اس ملعون نے رسول کریم ﷺ کی توہین کی تھی وہ دیدہ دانستہ اس جرم کا مرتکب ہوا۔ اسے راجپال اور غازی علم الدین شہید کے واقعہ کا بھی بخوبی علم تھا۔ اس نے سب کچھ جانتے بوجھتے ہوئے خود کو سزا کے لئے پیش کیا اگر اس واقعہ اور شان رسالت میں گستاخی پر بیس سال بھی گزر جاتے تب بھی اسے ضرور بالضرور واصل جہنم کرتا۔ ہمارے مذہب کے مطابق وہ ہرگز مسلمان نہیں بلکہ کوئی منافق ہے جو نبی پاک ﷺ کی توہین سن کر خاموش رہے اور عصمت رسول ﷺ پر جان قربان نہ کرے کسی اور شخص کی ذات کا مسئلہ ہو تو برأت ہو سکتی ہے دنیوی امور میں کسی بھی فرد کی شان میں بکواس پر چپ رہا جا سکتا ہے لیکن سرکار مدینہ ﷺ کے مقام و مرتبہ پر ہرزہ سرائی کرنے والوں کے خلاف غیظ و غضب، جوش و ولولہ اور غصہ کسی حالت میں بھی کم نہیں ہو سکتا۔ میں نے جو کچھ کیا خوب غور و فکر کے بعد اور غیرت دینی کے سبب اپنے رسول ﷺ کی شان کو برقرار رکھنے کے لئے کیا ہے۔ اس پر مجھے قطعاً تاسف یا
سچے عاشقان رسول کے واقعات باب سوم :
ندامت نہیں بلکہ میں اپنے اس اقدام پر بہت خوش اور نازاں ہوں عدالت زیادہ سے زیادہ جو سزا دے سکتی ہے جب چاہے دے دے مجھے قطعاً حزن وملال نہ ہوگا۔ مگر جب تک ہمیں محمد رسول اللہ ﷺ کی حرمت اور تقدس کے تحفظ کی ضمانت فراہم نہیں کی جاتی کوئی نہ کوئی سرفروش نوجوان چراغ محبت جلاتا رہے گا یہ تو ایک جان ہے اس کی بات ہی کیا ہے؟ میں تو آپ ﷺ کی خاک قدم پر پوری کائنات بھی نچھاور کر ڈالوں گا میرا عقیدہ، ایمان اور عشق اور وجدان یہی کہتا ہے کہ گویا ابھی حق غلامی ادا نہیں ہوسکا۔
سیشن کورٹ میں حافظ غازی محمد صدیق کے مقدمہ کی سماعت چھ دسمبر ۱۹۳۴ء کو سنٹرل جیل لاہور میں مسٹر ٹیل کے روبرو شروع ہوئی۔ استغاثہ کی طرف سے خان قلندر علی خان پبلک پراسیکیوٹر اور صفائی کے لئے میاں عبدالعزیز صاحب بیرسٹر اور شیخ خالد لطیف گابا ایڈوکیٹ پیروکار تھے۔
وکیل صفائی میاں عبدالعزیز صاحب بیرسٹر نے اپنے بڑے مدلل اور جامع قانونی نکات فاضل جج کے سامنے بیان کئے انہوں نے اپنی طویل بحث کے دوران کہا۔ ”میرا مسئلہ یہ ہے کہ ملزم کو مقتول سے کوئی ذاتی عداوت نہ تھی اگر اس نے یہ فعل کیا ہے تو وہ مذہبی عقیدہ کے تحت کیا۔ لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ نوجوان ملزم کا بیان کہ اسلامی روایات کے مطابق رسول کریم ﷺ کی تعظیم وتکریم خدا کے بعد دوسرے درجے پر ہے۔ پکے اور سچے مسلمان وہ ہیں جو اپنے آقا ومولیٰ ﷺ کی شان برقرار رکھنے کے لئے اپنی جانیں دیوانہ وار فدا کرتے ہیں محمد صدیق کے دل میں بھی اٹھارہ ماہ سے یہی جذبہ موجزن تھا اور اس نے جذبہ ایمان سے سرشار ہوکر محمد رسول اللہ ﷺ کی تعظیم وتکریم پر اپنا سب کچھ قربان کر دیا...... لہٰذا بہت سے گذشتہ ایسے واقعات کی مثالیں موجود ہیں جن کے حوالے سے میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ ملزم کو زیادہ سے زیادہ حبس دوام کی سزا دی جائے ۔“ ۱؎
۱؎ روزنامہ سیاست ۲۰ ستمبر ۱۹۳۴ء
باب سوم : سچے عاشقان رسول کے واقعات
غازی کی والدہ کا آپ ﷺ سے محبت کا والہانہ انداز
سیشن کورٹ میں فیصلے کے دن حضرت قبلہ حافظ صاحب کی والدہ نے اپنے جواں سال بیٹے کی پیشانی چومتے ہوئے نہایت حوصلے کے ساتھ فرمایا میں خوش ہوں جس رسول اللہ ﷺ کی شان کے تحفظ کے لئے تم قربان گاہ پر جا رہے ہو اس محبوب سرکار ﷺ کی شان قائم رکھنے کے لئے مجھے تم جیسے بیٹوں کی قربانی دینا پڑے تو رب کعبہ کی قسم کبھی دریغ نہ کروں۔
روزنامہ انقلاب لاہور اور دیگر معاصر مسلم اخبارات میں غازی صاحب کی والدہ کے اس جرأت مندانہ بیان کے علاوہ غازی موصوف کے بارے میں یہ بھی درج ہے کہ آپ نے ایمان پرور الفاظ کو سنتے ہی زور سے نعرہ تکبیر بلند کیا اور والدہ موصوفہ سے اپنے گناہوں اور غلطیوں کی معافی مانگتے ہوئے کہا کہ میں نے پالا مل کو قتل کر کے اپنے نبی ﷺ کی شان قائم رکھنے کے لئے جو قربانی پیش کی ہے اس کی خاطر اگر مجھے ہزار مرتبہ بھی جینا یا مرنا پڑے تو تب بھی ہر دفعہ ناموس رسالت پر پروانہ وار فدا ہوتا رہوں گا اور اسے صدق دل سے اپنا فرض عین سمجھتا رہوں گا۔
سیشن کورٹ میں غازی محمد صدیق کے لئے سزائے موت کا حکم سنایا گیا زندہ دلان قصور نے اس فیصلہ کے خلاف ہائی کورٹ لاہور میں اپیل کر دی۔
عدالت عالیہ میں ۳۱ جنوری ۱۹۳۵ء کو سماعت ہوئی ۔ فیصلہ صادر کرنے کے لئے ایک ڈویژنل بینچ تشکیل دیا گیا اس میں چیف جسٹس اور جسٹس عبدالرشید شامل تھے۔ فیصلہ کے طور پر سیشن کورٹ کا حکم بحال ہوا۔
غازی محمد صدیق کی آخری وصیت
غازی محمد صدیق نے اپنی آخری وصیت میں فرمایا۔ مجھے صرف قرآن اور صاحب قرآن (ﷺ) سے انس ہے۔ آپ بھی ہمیشہ انہی سے لو لگائے رکھیں میری قبر پر کبھی کوئی خلاف شرع عمل نہ کیا جائے اور نہ اس کی اجازت دینا۔ نیز قوالی بھی نہ ہو کہ سلسلہ نقشبندیہ میں اس کی ممانعت ہے۔ میری خوشی اسی میں ہے کہ خدانخواستہ اگر پھر بھی کہیں کوئی گستاخ رسول جنم لے تو
باب سوم : سچے عاشقان رسول کے واقعات
میرے متعلقین میں سے ایک نہ ایک فرد باطل علامت کو ٹھکانے لگا دے۔
قربان گاہ میں خون دل کی حدت سے مشعل وفا کو فروزاں رکھنے والے اس خوبرو مجاہد کی عمر اس وقت اکیس سال تھی۔
شہید رسالت کا عظیم منصب عطا ہونے پر غازی محمد صدیق کی والدہ صاحبہ نے دیگر خواتین کو بھی اس موقع پر چیخ و پکار سے سختی سے منع کر رکھا تھا۔ جب کوئی عورت تعزیت کی غرض سے ان کے پاس آتی تو آپ فرماتیں اس واقعہ پر غم اندوہ کا کیا جواز ہے؟ آپ پر قربان ہونا تو خوشی کا مقام ہے۔ جنازہ عید گاہ کے قریب اسلامیہ ہائی اسکول قصور (موجودہ بوائز ڈگری کالج) کے ہال میں رکھا گیا جہاں ان گنت مسلمان پرنم آنکھوں سے شہید کی زیارت سے فیض یاب ہو رہے تھے۔ لوگ ایک دروازے سے داخل ہوتے اور دوسرے دروازے سے نکل جاتے تھے۔
ٹھیک ایک بجے جنازہ اٹھایا گیا اور جلوس کی صورت میں نصف میل کا فاصلہ پورے تین گھنٹے میں طے ہوا۔ نماز جنازہ پریڈ گراؤنڈ میں ادا کی گئی۔ جس میں محتاط اندازے کے مطابق ایک لاکھ سے زائد افراد نے شرکت کی جنازے کو کندھا دینے کے لئے چار پائی کے ساتھ لمبے لمبے بانس باندھ لئے گئے تھے تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ آپ کو کندھا دے سکیں آپ کے جسد مبارک کو قبرستان میں پہنچایا گیا اور فدائی حبیب کبریا غازی محمد صدیق شہید کو پورے چھ بجے سپرد خدا جل شانہ اور رسول اللہ ﷺ کر دیا گیا۔
ہے یہ شام زندگی صبح دوام زندگی
☆☆☆☆☆☆.......☆☆☆☆☆☆
باب سوم: سچے عاشقان رسول کے واقعات
ایک عظیم عاشق رسول صوفی عبداللہ کا تذکرہ
☆ ...... جناب ڈاکٹر محمد اختر چیمہ رقمطراز ہیں۔
برصغیر میں انگریزی عملداری کے آخر زمانے میں جن عاشقان ومحبان حبیب خدا نے جان کی بازی لگا کر ناموس رسالت کا تحفظ کیا اور جریدہ عالم پر اپنی سرفروشی کے انمٹ نقوش چھوڑ گئے۔ ان میں دو غازیوں غازی علم الدین شہید اور غازی عبدالقیوم کو بڑی ہی شہرت نصیب ہوئی۔ (جن کا تفصیلی تذکرہ گذر چکا) خصوصاً غازی علم الدین کو جو شہرت دوام ملی پاک و ہند میں شاید ہی کوئی مسلمان اس سے بے خبر ہو مگر ایک نام ایسا بھی ہے جس کا ناموس رسالت ﷺ کے تحفظ کے سلسلے میں کارنامہ تو بہت بڑا ہے لیکن بہت ہی کم لوگ اس عظیم عاشق رسول ﷺ کے نام اور کام سے واقف ہیں یہ جانثار ناموس رسالت صوفی عبداللہ تھے۔
صوفی عبداللہ کو خواب میں شاتم رسول کو قتل کرنے کا حکم نبوی
غازی صوفی عبداللہ کا تعلق جولاہا قوم سے تھا اور وہ موضع پتی تحصیل وضلع قصور کے رہنے والے تھے مولانا سید امین الحق صاحب ڈویژنل خطیب اوقاف نے ایک دفعہ دوران گفتگو پروفیسر علوی صاحب کے سامنے غازی عبداللہ کا آنکھوں دیکھا حلیہ اس طرح بیان کیا کہ اس کا چہرہ خوبصورت، رنگ گورا اور بھری بھری سیاہ داڑھی تھی جو نہایت ہی بھلی لگتی تھی۔ جس وقت اسے باعث صد افتخار مہم کے لئے روانہ ماموریت ملا ، عمر تیس بتیس سال سے متجاوز نہ تھی۔ گویا ایک لحاظ سے عین عالم شباب تھا۔ جب غازی عبداللہ کو اس امر ناگزیر پر مامور فرمایا گیا۔ چک نمبر ۲۴ تھانہ خانقاہ ڈوگراں تحصیل و ضلع شیخوپورہ میں اس کا پیر خانہ تھا اور مذکورہ چک کی ملحقہ آبادی چک نمبر ۲۳ چھوٹی میں حرماں نصیب و بد بخت و بد طینت و بد باطن جٹ نور محمد کاہلوں رہتا تھا جو قریب کے ایک گاؤں موضع ہرنالہ کی ایک عورت کے دام فریب میں پھنس کر دائرہ اسلام سے خارج ہو گیا تھا اور پھر حضرت امام الانبیاء رحمۃ اللعالمین ﷺ کی شان اقدس میں گستاخی و اہانت کرتا اور مغلظات بکتا رہتا تھا۔
باب سوم: سچے عاشقان رسول کے واقعات
ہادی برحق فخر موجودات ﷺ نے خود غازی عبداللہ کو بذریعہ خواب و بوسیلہ رؤیا اپنے شاتم و گستاخ کو ختم کرنے کا امر فرمایا اس شخص کی سعادت مندی و خوش قسمتی کے کیا کہنے جسے اس عظیم کارخیر کے لئے حضرت رسول خدا سرور کائنات ﷺ نے خود منتخب فرمایا ہو۔
شاتم رسول نور محمد جٹ نے عورت کے چکر میں ایمان کا سودا کیا
۱۹۳۸ء میں رونما ہونے والا یہ واقعہ و سانحہ ضلع شیخوپورہ کے ایک گاؤں سے تعلق رکھتا ہے جو چک نمبر ۲۳ چھوٹی کے نام سے موسوم ہے وہاں کے ساکن مذکورہ مردود مسمی نور محمد جٹ کاہلوں کے ایک شادی شدہ مسلمان عورت سے ناجائز تعلقات ہو گئے جو قریب کے ایک موضع ہرنالہ کی رہنے والی تھی دونوں ایک دوسرے کو چاہنے لگے اور کوشاں رہنے لگے کہ کسی طرح ان کی آپس میں شادی ہو جائے۔
لیکن عورت چونکہ پہلے ہی شادی شدہ تھی اس لئے انہوں نے مشورہ کیا کہ اگر اسلام سے منہ موڑ لیں اور عیسائیت اختیار کر لیں تو یہ مرحلہ طے ہو سکتا ہے۔ چنانچہ انہوں نے سانگلہ ہل جا کر ایک عیسائی پادری کے ہاتھوں عیسائیت و مسیحیت اختیار کر لی۔ مگر پھر بھی ان کی خواہش کے مطابق مسئلہ حل نہ ہوا بالآخر دونوں بھاگ کر امرتسر چلے گئے اور سکھ مذہب میں داخل ہو گئے۔ بدقماش نور محمد نے اپنا نام میہل سنگھ اور بدکار عورت نے ”دلجیت کور“ رکھ لیا اور کچھ عرصہ امرتسر میں قیام کر کے مذہب کے قواعد وضوابط کی تھوڑی بہت واقفیت حاصل کر لی۔ بعد ازاں چک نمبر ۲۳ چھوٹی میں آکر آباد ہو گئے۔ جہاں بیشتر آبادی سکھوں کی تھی۔
سکھ ان کو ہمیشہ مشکوک نظروں سے دیکھتے اور باوجود ان کی یقین دہانی کے کہ وہ واقعی دل سے سکھ مذہب اختیار کر چکے ہیں۔ سکھوں نے انہیں تسلیم نہ کیا اور چند شرائط پیش کیں، جن میں سے ایک یہ تھی کہ وہ سرعام جھٹکے کا گوشت کھائیں۔ اس بدبخت و بدقسمت جوڑے نے جھٹکے کا گوشت کھا کر یہ شرط پوری کر دی۔ اس کے بعد سکھوں نے دوسری شرط یہ پیش کی کہ اب سور کا گوشت کھاؤ ان دونوں نے اعلانیہ سور کا گوشت بھی کھا لیا لیکن سکھوں کو اتنی سخت شرائط منوا لینے کے باوجود بھی ان کی طرف سے دلجمعی نہ ہوئی۔ لہٰذا یہ طے پایا کہ ایک بڑا اجتماع جسے
باب سوم: کہاں ”اکنڈ پاٹھ“ کے نام بنام پیغمبر اسلام ﷺ کی بے چنانچہ وہ دونوں مسلمانوں کی سخت دل آزاری ہیجان پھیل گیا۔ جس پر سکھوں معافی مانگی۔ مگر مسلمانوں کی نے اس گستاخی و بے حرمتی مانگی ہے اور نہ ہی ان کو کوئی اچھ
صوفی عبداللہ کا شاتم
اس موقع پر غازی کے رہائشی تھے انہوں نے مس تو اللہ پاک یا نبی کریم ﷺ گستاخی سرور کونین ﷺ کی با میں دوں گا میں بحیثیت ایک اس کے بعد صوفی اس کی دلی آرزو و تمنا پوری محنتی آدمی تھا۔ بالآخر اس راز کو سینے میں چھپائے حقیقی بھائی ”نتھو“ مل گیا صو بہر حال عبداللہ سامنے ”میہل سنگھ“ اپنے ہو گیا اور اسے دور ہی سے
باب سوم : سچے عاشقان رسول کے واقعات
جسے ”اکھنڈ پاٹھ“ کے نام سے موسوم کرتے ہیں منعقد کیا جائے اور یہ دونوں اس اجتماع میں جناب پیغمبر اسلام ﷺ کی بے حرمتی کریں۔ (نعوذ باللہ من ذالک) چنانچہ وہ دونوں یہ بھی کر گزرے مگر اس حرکت سے آس پاس کے دیہات کے مسلمانوں کی سخت دل آزاری ہوئی ان کی غیرت اسلامی جاگ اٹھی اور سارے علاقے میں ہیجان پھیل گیا جس پر سکھوں نے مسلمانوں کے مجمع عام سے اس بے ہودہ و ناپسندیدہ حرکت کی معافی مانگی۔ مگر مسلمانوں کی تسلی و تشفی نہ ہوئی۔ مسلمان بضد تھے کہ جس نابکار و ناہنجار جوڑے نے اس گستاخی و بے حرمتی کا ارتکاب کیا ہے وہ تو سامنے نہیں آیا اور نہ ہی ان لوگوں نے معافی مانگی ہے اور نہ ہی ان کو کوئی احساس ندامت ہوا ہے۔
صوفی عبداللہ کا شاتم رسول کو بیوی سمیت جہنم واصل کرنا
اس موقع پر غازی صوفی عبداللہ انصاری کی رگ حمیت پھڑکی عبداللہ پٹی تحصیل قصور کے رہائشی تھے انہوں نے مسلمانوں سے کہا کہ ان مرتدین نے جو گناہ عظیم کیا ہے اس کی معافی تو اللہ پاک یا نبی کریم ﷺ کے سوا کوئی دوسرا شخص دینے کا مجاز و حقدار نہیں لیکن انہوں نے جو گستاخی سرور کونین ﷺ کی بابت کی ہے اس کی سزا انہیں اسی دنیا میں ملنی چاہیے اور یہ سزا انہیں میں دوں گا میں بحیثیت ایک ادنیٰ غلام سرکار مدینہ ﷺ کے ان کو واصل جہنم کروں گا۔
اس کے بعد صوفی عبداللہ کو یہی فکر دامن گیر رہتی کہ کب اور کس وقت اور کس طرح اس کی دلی آرزو و تمنا پوری ہوتی ہے نماز پڑھتا اور خاموش بیٹھا یہی اسکیمیں سوچتا رہا غریب محنتی آدمی تھا۔ بالآخر اس نے کہیں سے ایک معمولی چھری حاصل کر لی اور اسے تیز کیا اور اس راز کو سینے میں چھپائے چک نمبر ۱۳۴ کی طرف چل دیا اتفاقاً اسے راستے میں ”چنچل سنگھ“ کا حقیقی بھائی ”نتھو“ مل گیا عبداللہ نہ ”چنچل سنگھ“ کو جانتا تھا اور نہ ”نتھو“ کو۔
بہر حال عبداللہ کے دریافت کرنے پر ”نتھو“ نے اشارے سے بتایا کہ وہ دیکھو سامنے ”چنچل سنگھ“ اپنے کھیت میں کام کر رہا ہے۔ غریب الوطن مرد مجاہد اس کی جانب سیدھا ہو گیا اور اسے دور ہی سے للکار کر کہا کہ تیار ہو جاؤ عاشق رسول آن پہنچا ہے۔ قوی ہیکل اور ہٹا
سچے عاشقان رسول کے واقعات باب سوم :
کتا ”چینچل سنگھ“ جو ہر وقت کرپان سے مسلح رہتا تھا کرپان سونت کر عبداللہ کی طرف بہ ارادہ پیکار بڑھا اور کرپان کا وار بھی کیا۔ مگر وار خالی گیا ادھر اللہ کے شیر نے نعرہ تکبیر بلند کرتے ہوئے قوت ایمانی کے جوش اور عشق نبی ﷺ کے زور سے چھری کے ساتھ حملہ کیا اور پہلے ہی وار میں گستاخ رسول ”چینچل سنگھ“ کا پیٹ چاک کر ڈالا وہ زمین پر گر کر تڑپنے لگا۔
قریب ہی کھیتوں میں اس کی چہیتی بیوی ”دلمیت کور“ کام کر رہی تھی عبداللہ نے اسے للکارا تو وہ بھاگ نکلی مگر عبداللہ نے اسے بھی کچھ ہی فاصلے پر جالیا اور سر کے بالوں سے پکڑ کر گھسیٹتے ہوئے ”چینچل سنگھ“ کے قریب لاکر اسے بھی جہنم واصل کر دیا۔ کثیر تعداد میں سکھ یہ جانگداز منظر اپنے کھیتوں میں کھڑے دیکھتے رہے مگر ان کے قریب آنے اور ان کو بچانے کی جرأت نہ کر سکے بلکہ اتنی ہمت بھی نہ پڑی کہ غازی عبداللہ کو پکڑ لیں۔
صوفی صاحب کا بخوشی اقبال جرم کرنا
یہ جری مجاہد اور مرد غازی اس کام سے فارغ ہو کر بڑے اطمینان کے ساتھ قریبی سیم نالہ کی طرف گیا وہاں اس نے غسل کیا کپڑے دھوئے اور نوافل شکرانہ ادا کئے کہ اللہ تبارک وتعالیٰ نے اسے اس عظیم کارنامہ سے عہدہ برآ اور کامیابی سے ہمکنار فرمایا۔ بعد ازاں غازی عبداللہ نے ہرنالہ جا کر خود ہی پولیس کے روبرو اقبال جرم کر لیا۔ چونکہ وہ تحصیل قصور کا رہنے والا تھا ضلع شیخوپورہ میں کوئی گواہ اس کی شناخت نہیں کر سکتا تھا۔ اس بات کی آڑ میں مقدمہ کے دوران بعض مسلمانوں نے اس کو مالی و قانونی امداد کی پیشکش کرنے کے علاوہ یہ مشورہ بھی دیا کہ وہ اقبال جرم نہ کرے تو بآسانی عدالت سے بری ہو سکتا ہے۔
مگر اس عشق رسول اللہ ﷺ کے متوالے اور ناموس رسالت کے دیوانے نے کسی پیشکش کو قبول نہ کیا اور کہا کہ میں اس ثواب عظیم اور ثواب دارین سے محروم نہیں رہنا چاہتا۔ چنانچہ مقدمہ سیشن کورٹ کے سپرد ہوا تو وہاں بھی مرد مجاہد نے بخوشی اقبال جرم ہی کیا پھر اس جرم کی پاداش میں لاہور جیل میں اسے پھانسی دے دی گئی اور اس شہید ملت کی میت کو گمنامی کی حالت میں موضع پٹی حال تحصیل امرتسر (بھارت) میں سپرد خاک کر دیا گیا۔
باب سوم: سچے عاشقان رسول کے واقعات
غازی منظور حسین شہید
غازی منظور حسین شہید ایک معروف علمی گھرانے میں پیدا ہوئے۔ آپ کے والد محترم مولانا ابوالفضل محمد کرم الدین دبیر کی پنجاب میں بہت شہرت تھی۔ ان کا تعلق ضلع چکوال کی ایک بستی ”بھین“ سے تھا۔ مولانا موصوف اکثر حلقوں میں ایک حاضر دماغ اور کامیاب مناظر کی حیثیت سے جانے اور پہچانے جاتے تھے۔ انہوں نے مرزا قادیانی کو ناکوں چنے چبوائے اور اسے مختلف عدالتوں میں کھسیٹا اور ذلیل و رسوا کیا۔ ان کا روحانی تعلق سیال شریف سے تھا۔ شمس العارفین حضرت خواجہ شمس الدین سے بیعت تھی یا آپ کے کسی خلیفہ سے۔ غازی منظور حسین امام اہل سنت حضرت مولانا قاضی مظہر حسین بانی تحریک خدام اہل سنت پاکستان (چکوال) کے بھائی تھے۔
آئیے پہلے آپ کو ”لکی مروت“ لے چلوں۔ یہ ضلع بنوں میں میانوالی روڈ پر ہے۔ اس جگہ ایک وسیع قبرستان ہے جس میں موجود ایک مسجد کے بالکل نزدیک مولانا قاضی منظور حسین شہید کی قبر ہے اور لوح مزار پر ان کا مختصر احوال کندہ ہے۔
۱۹۴۱ء کی بات ہے۔ تھانہ ڈوڈھن کے ڈاک بنگلہ میں ایک متعصب ہندو چوہدری کھیم چند ایس ڈی او چکوال مقیم تھا۔ یہ ریسٹ ہاؤس چکوال سے جہلم روڈ پر خانپور قصبہ کے قریب واقع ہے۔ اس بدطینت کو مہاشہ راجپال آریہ سماجی (جسے غازی علم الدین شہید نے واصل جہنم کیا تھا) کا قریبی رشتہ دار بتایا جاتا ہے۔
طرز گستاخی کیا تھی؟ اور اس نے یہ وتیرہ کب سے اختیار کر رکھا تھا؟ اس کے بارے میں کچھ معلوم نہیں ہوسکا۔ تاہم یہ خیال کیا جاسکتا ہے کہ اس کمینہ فطرت و دہن دریدہ ہندو نے شان رسالت مآب ﷺ میں بے ادبانہ الفاظ بکے ہوں گے۔ بہر حال اسے شاتمیت کا مزہ چکھانے کو قاضی صاحب اپنے ایک مخلص ساتھی ماسٹر عبدالعزیز (چکوال) کے ہمراہ رات کی تاریکی میں وہاں گئے اور اس کی پیشانی پر پستول کا فائر کیا۔
مقتول مردود کے نزدیک اس کی اہلیہ سوئی ہوئی تھی۔ انہوں نے اسے کچھ نہ کہا کہ وہ
سچے عاشقان رسول کے واقعات باب سوم:
بے گناہ تھی۔ تاہم جاتے ہوئے کہہ گئے کہ ہم نے توہین رسول کا انتقام لے لیا ہے اور یہ کہ دشمنان رسول سے نمٹنے کو ابھی غازی مرید حسین شہید کے احباب زندہ ہیں۔
ابتدائی حالات اور جسمانی طاقت کا اندازہ
حضرت مولوی منظور حسین ۱۹۰۴ء میں تولد ہوئے۔ غازی مرحوم نے بی اے تک باقاعدہ انگریزی تعلیم حاصل کی۔ کالج کی زندگی میں آپ کو جسمانی قوت بڑھانے کا بہت شوق تھا۔ اس میں آپ نے مہارت حاصل کی۔ (شہید کے بھائی) مولانا قاضی مظہر حسین صاحب ”کے بقول ”موٹر کار کو آپ سامنے سے سینہ لگا کر مضبوطی سے پکڑ لیتے تھے اور پھر خواہ کتنی اسپیڈ میں چلائی جائے ، روکے رکھتے تھے۔ لوہے کی دو نصف انچ موٹی سلاخوں کو جوڑ کر اپنے بازو پر لپیٹ لیتے تھے اور ایک انچ موٹی سلاخ گردن میں لپیٹتے تھے۔ کھڑے ہو کر ننگی چھاتی پر وزنی ہتھوڑوں کی ضربیں لگواتے تھے۔ اس قسم کی غیر معمولی قوت کے کرشموں کا آپ نے بہت دفعہ مظاہرہ کیا۔
گارڈن کالج راولپنڈی سے فارغ ہونے کے بعد بھی آپ نے پہلوانی کا سلسلہ جاری رکھا۔ لیکن بعد میں قرآن حکیم کی تلاوت اور اسلامی تاریخ کے مطالعہ نے آپ کے قلب میں زبردست انقلاب پیدا کر دیا۔ انگریز کی تہذیب سے سخت نفرت ہو گئی۔ فرنگی اقتدار کے کسی اثر کو آپ برداشت نہ کرتے تھے۔ اغیار کی غلامی میں رہنا آپ کے لئے سخت مشکل ہو گیا۔ آپ نے پہلے اپنی اصلاح کی اور شریعت کے سانچے میں ڈھل گئے۔ کالج میں چونکہ عربی پڑھی تھی اس لئے قرآن وحدیث سے استفادہ آسان تھا۔
والد مرحوم سے فقہ وحدیث کی بعض کتابیں پڑھ لیں۔ آپ نے تبلیغ دین بھی شروع کر دی۔ جہاد بالسیف کا جذبہ آپ پر غالب تھا اور اللہ کی راہ میں شہید ہونا آپ کا مقصد بن گیا تھا۔ اس کی باقاعدہ پریڈ ہوتی اور زیادہ زور اس بات پر دیا جاتا کہ معزز رکن کسی طور پر اپنے تنظیمی رازوں کا کہیں انکشاف نہ کریں۔ اس کے لئے باقاعدہ حلف وفاداری ہوا کرتا تھا۔..............
موصوف کے غازی مرید حسین شہید سے دوستانہ مراسم تھے اور ان کی شہادت نے آپ کے دل میں جوش و ولولہ کی ایک نئی آگ لگا دی۔
باب سوم: سچے عاشقان رسول کے واقعات
مولانا موصوف کی کہانی ان کے والد کی زبانی
حضرت مولوی کرم الدین صاحب آف بھین نے اس واقعہ کو مختصر الفاظ میں یوں لکھا ہے۔ گردش دہر سے مجھ پر ایسا پر آشوب وقت آگیا کہ میں طرح طرح کے مصائب وآلام میں مبتلا ہو گیا۔ میرا ایک نوجوان فرزند غازی محمد منظور حسین ایک شقی القلب کلمہ گو شخص کے دست جفا سے بمقام عباسیہ خٹک متصل لکی مروت میں شہید ہو گیا۔ جب کہ وہ اپنے دو رفقاء کے ساتھ ایک درخت کے سایہ میں میٹھی نیند سو رہا تھا۔ ظالم دشمن نے اسی حالت میں فائر کھول دیا اور وہ تینوں وجیہہ نوجوان شہید ہو گئے۔ مرحوم بڑا شیر دل بہادر تھا اور شہ زوری و شجاعت میں اپنی نظیر نہیں رکھتا تھا۔ انگریزی میں بی اے (گریجویٹ) اور عربی وفارسی علوم میں فاضل اکمل تھا۔ بڑا زاہد وعابد، متقی، بے ریا اور بے طمع صحیح معنوں میں مبلغ اسلام تھا۔
ہوا یہ کہ گستاخ رسول ”چوہدری بھیم چند“ ہندو کو ٹھکانے لگا کر دونوں رفیق وہاں سے بہ سلامت نکل آئے اور آزاد علاقہ میں چلے گئے۔ جہاں آپ حضرت بادشاہ گل صاحب خلف مجاہد اعظم حضرت حاجی ترنگزئی صاحب کے ہاں مقیم ہو گئے۔ ادھر یہ ہوا کہ آپ کے والد صاحب اور دیگر بعض اقرباء کو پولیس نے بغرض تفتیش اپنی حراست میں لے لیا اور غازی ممدوح کے اس جرات مندانہ اقدام کا سارا بوجھ آپ کے والد محترم قاضی محمد کرم الدین صاحب ڈبیر کے سر آ گیا۔
اس بارے میں شہید موصوف کے برادر عزیز کا بیان ہے کہ حالانکہ آپ کو بھائی صاحب نے کسی راز سے مطلع نہیں کیا تھا اور نہ ہی پاکستان جانے کا آپ کو علم تھا۔ مکانات، اسباب ضبط کر لئے گئے۔ ادھر مجھے تین رفقاء کے ساتھ ۲۰، ۲۰ سال عمر قید کی سزا سنائی گئی (یہ ایک اور مقدمہ قتل کے سبب تھا) اور ہم کو سینٹرل جیل لاہور میں بھیج دیا گیا۔ نیز پولیس نے مولانا محترم پر دفعہ ۱۸۲ کے تحت ایک مقدمہ دائر کر دیا۔ سب سے زیادہ آپ کو مولوی منظور حسین صاحب کی روپوشی کی فکر تھی لیکن بعد میں بہ سلامت آزاد علاقہ پہنچنے کی خبر آ گئی تو آپ کو کچھ اطمینان ہو گیا۔
(تحفظ ناموس رسالت اور گستاخ رسول کی سزا ملخصاً ص ۶۸۶ تا ص ۶۹۰)
☆☆☆☆☆☆.......☆☆☆☆☆☆
باب سوم: سچے عاشقان رسول کے واقعات
غازی زاہد حسینؒ ہاتھوں ایک عیسائی سیموئیل کی موت
سال 1961ء میں ایک عیسائی مبلغ پادری سیموئیل نے مغلپورہ ورکشاپ لاہور میں دورانِ تبلیغ آپ ﷺ کی شان میں گستاخانہ الفاظ استعمال کئے۔ زاہد حسین اور اس کے ساتھیوں نے سیموئیل کو سختی سے منع کیا کہ وہ اپنی ہرزہ سرائی بند کرے لیکن وہ شیطان اپنی شرارت سے باز نہ آیا۔ جس پر زاہد حسین نے مشتعل ہو کر اس گستاخ کا سر پھاڑ دیا جس کے نتیجہ میں وہ بدبخت ہلاک ہو گیا۔
زاہد حسین نے عدالت کے روبرو اعتراف کر لیا۔ جس پر اس کو اشتعال انگیزی کی بناء پر صرف جرمانہ کی سزا دی گئی۔ اس کے خلاف ہائی کورٹ میں عرضی دائر کی گئی جو خارج ہوئی۔ اس مقدمہ کی پیروی ڈاکٹر جاوید اقبال (ریٹائرڈ جج سپریم کورٹ) نے کی جو اس وقت پیشہ قانون سے وابستہ تھے اور ان کی معاونت برادر عزیز میاں شیر عالم (مرحوم) نے کی تھی۔
غازی زاہد حسین کا تعارف
سال 1974ء میں اس غازی زاہد حسین کو جب یہ معلوم ہوا کہ لاہور کی ایک عیسائی مشنری کی مشہور دکان پاکستان بائبل سوسائٹی انار کلی میں ایک رسوائے زمانہ کتاب ” اثمار شیریں“ فروخت ہو رہی ہے جس میں رسول کریم ﷺ کے بارے میں توہین آمیز مواد موجود ہے۔ اس پر یہ مرد غازی ایک بار پھر تڑپ اٹھا اور اپنے معتمد ساتھی الطاف حسین شاہ کے ساتھ مل کر اس نے بائبل سوسائٹی کی اس دکان میں جہاں یہ کتاب فروخت ہو رہی تھی آگ لگا دی اور اس کے مینیجر ہیکٹر گوہر مسیح پر الطاف حسین شاہ نے پستول سے قاتلانہ حملہ کر دیا لیکن وہ بال بال بچ گیا۔ عدالت کے سامنے جب یہ مقدمہ پیش ہوا تو ان دونوں نے بلا پس و پیش اقبال جرم کیا جس پر علاقہ مجسٹریٹ نے دونوں کو تین تین سال سزائے قید سنائی اور ایڈیشنل سیشن جج لاہور نے اس سزا کو بحال رکھا۔
اس فیصلے کے خلاف لاہور ہائی کورٹ میں درخواست دائر ہوئی۔ چنانچہ ملزمان کی
باب سوم: جانب سے میاں شیر عالم اور استغا ہوئے۔ مقدمہ جب جسٹس شیخ مخاطب کرتے ہوئے کہا اگر چہ ہمیشہ پیش پیش رہے ہیں۔ لیکن باتیں منسوب کی گئی ہیں وہ ان کبھی کھول رہا ہے اس لئے انہوں ہدایت کی کہ وہ اس کتاب کو فوری ☆☆
باب سوم : سچے عاشقان رسول کے واقعات
جانب سے میاں شیر عالم اور استغاثے کی جانب سے ”مسٹر جری ریٹائرڈ پبلک پراسیکیوٹر“ پیش ہوئے۔ مقدمہ جب جسٹس شیخ شوکت علی کے سامنے پیش ہوا تو فاضل جج نے مسٹر جری کو مخاطب کرتے ہوئے کہا اگرچہ وہ خود ایک گنہگار مسلمان ہیں اور مذہبی رواداری کی حمایت میں ہمیشہ پیش پیش رہے ہیں۔ لیکن اس کتاب میں پیغمبر اسلام ﷺ کے بارے جو قابل اعتراض باتیں منسوب کی گئی ہیں وہ ان کے لئے بھی ناقابل برداشت ہیں۔ جنہیں پڑھ کر ان کا خون بھی کھول رہا ہے اس لئے انہوں نے طرمان کو مزید قید میں رکھنے سے انکار کر دیا اور حکومت کو ہدایت کی کہ وہ اس کتاب کو فوری طور پر ضبط کرلے۔
☆☆☆☆☆......☆☆☆☆☆
باب سوم: سچے عاشقان رسول کے واقعات
امیر احمد اور محمد عبداللہ کی داستان عقیدت
☆...... جناب ضیاء جالوی لکھتے ہیں۔
ابھی وہ جوان تھا، اس کی آرزوئیں بھی جوان تھیں اور اُمنگیں بھی۔ دنیا کی رنگینیوں سے لطف اندوز ہونے کے مواقع بھی اسے میسر تھے اور دنیا اپنی تمام تر رعنائیوں کے ساتھ اس کے آگے ہاتھ باندھے کھڑی بھی تھی۔ لیکن وہ مرد مومن تھا اور اس کی غیرت ایمانی محبت رسول کے مقابلے میں دنیا کی ہر چیز کو پرکاہ سمجھتی تھی۔ وہ اپنے رسول ﷺ کی ایک ایک ادا پر قربان ہونا چاہتا تھا۔ رسول اللہ ﷺ کی محبت اس کے دل میں اس طرح رچ بس گئی تھی کہ اب اس سے دست کش ہونا اس کے بس سے باہر تھا۔ وہ اس محبت کو بڑی فراخ دلی کے ساتھ اپنے دل میں بسائے ہوئے تھا، اس نے اپنی زندگی کی آخری سانس تک اس محبت کی پرورش کرتے رہنے کا تہیہ کر لیا تھا۔ اس کی خواہش تھی کہ وہ اپنی زندگی کی ساری پونجی اسی محبت کی نذر کر دے۔
اس کی علمی وجاہت لاوارث میت کی طرح بے گور و کفن تھی اور اس کا خاندانی وقار ایک دھوپ تھی جو سورج کے ساتھ رخصت ہو چکی تھی۔ لیکن اس کے پاس ایک ڈگری تھی، وہ یہ کہ وہ مسلمان تھا اور اس کی تحویل میں محبت رسول ﷺ نام کی ایک دولت تھی، جس کو بڑی احتیاط سے اس نے اپنے نہاں خانہ دل میں چھپا رکھا تھا۔ اس محبت کو وہ ہر قسم کے دنیاوی صلاح و فلاح کا ضامن سمجھتا تھا، اور اسی کو اخروی نجات کا ذریعہ۔
امیر احمد کے دل میں ایمان کی جو چنگاری دبی ہوئی تھی، وہ وقت کے ساتھ ساتھ شعلہ جوالہ بنتی گئی۔ امیر احمد اپنے خون جگر سے اس شجر محبت کو سینچتا رہا۔ قلب کے انتہائی خلوص اور دل کی شدید سچائی کے ساتھ اس کی اُمیدوں کا مرکز تنہا ایک ذات رسالت مآب ﷺ تھی۔ وہ اپنے دل میں اسی ذات شریفہ کے لئے والہانہ جذبہ رکھتا تھا۔ اس کی جبین نیاز میں ہزاروں سجدے اسی ایک چوکھٹ کے لئے تڑپا کرتے تھے۔ اس کی آنکھیں اسی کے صحیفہ رخ کا نظارہ جمال کرنا چاہتی تھیں۔ اس کی بس ایک ہی خواہش تھی کہ کسی طرح وہ ایک شمع نبوت پر پروانہ وار قربان ہو جائے۔ کسی طرح اس کا نام بھی اس محبوب دلنواز کے عاشقوں کی فہرست میں مندرج
باب سوم : سچے عاشقان رسول کے واقعات
ہو جائے۔ کسی طرح وہ بھی ان کی ایک نگاہ لطف کا استحقاق حاصل کر سکے۔ جوان بہنوں کے ہاتھ پیلے کرے گا۔؟
کہ اچانک ایک عجیب تصویر اس کی آنکھوں سے گزری۔ ایک غیر متوقع منظر اس کی آنکھوں نے دیکھا۔ اس نے دیکھا کہ جس پیکر نور ﷺ کو وہ مصور فطرت کا سب سے حسین شاہکار سمجھتا تھا، کاغذ کے ایک ٹکڑے پر رقم ہے۔ گویا سمندر کوزے میں بند ہو گیا ہے اور بشریت کاغذ پر اتر آئی ہے۔ اس کی سمجھ میں یہ بات نہیں آرہی تھی کہ جس جسم لطیف کا سایہ تک نہ تھا، اس کی تصویر کاغذ پر کیسے اتر سکتی ہے؟
وہ محبوب ﷺ جو کائنات کی عظیم وجلیل شخصیت ہیں، وہ دنیا کے نجات دہندہ بھی ہیں اور فرمانروائے گیتی بھی...... جس نے انسانیت کی سب سے زیادہ خدمت کی اور جو دنیا والوں کو جینے کا سب سے اچھا سلیقہ سکھا گئے، انہی کی شان میں گستاخی کی گئی تھی، انہی کا مذاق اڑایا گیا تھا۔ امیر احمد غم سے نڈھال ہو گیا۔ وہ مرغ بسمل کی طرح تڑپ رہا تھا۔ آج اس کے دل پر ایک چوٹ لگی تھی۔ اس کے قلب کو ایک صدمہ پہنچا تھا اس کے دل کا سکون چھن گیا تھا۔ اس کے ہونٹوں کی مسکراہٹ سلب ہو گئی۔
امیر احمد کی کلکتہ روانگی
کتاب اس کے سامنے تھی۔ اس پر چھپی ہوئی تصویر اسے برابر دیکھے جا رہی تھی، وہ شدت درد سے چیخ اٹھا۔ گھاؤ گہرا تھا۔ اس لئے اس کی تکلیف بھی ناقابل برداشت تھی۔ اس کی روح زخم کی اس ناقابل برداشت اذیت سے بلبلا اٹھی۔ اس کے ہاتھ سے پیمانہ صبر چھوٹ گیا۔ اس کی ہمت جواب دے گئی۔ غم غلط کرنے کی صورت اسے نظر نہیں آرہی تھی۔ سکون کی تلاش میں وہ ادھر اُدھر بھٹکتا پھرا لیکن نہ خلوت کدہ اسے سکون بخش سکا، نہ جلوت میں اسے سکون میسر آیا۔ وہ پگڈنڈیوں پر بھی چلا، شاہراہوں پر بھی دوڑا۔ سکون وہاں بھی نہ تھا۔ وہ احباب کی بزم طرب میں بھی شامل ہوا اور اپنے شہر کی تفریح گاہوں کی بھی اس نے سیر کی۔ سکون کی تلاش وہاں بھی بے سود تھی۔ اس کی جراحت دل کا اندمال وہاں بھی نہ تھا۔ وہاں بھی اس کا غم غلط نہ
باب سوم: 158 سچے عاشقان رسول کے واقعات
ہوسکا اور اب اس نے طے کر لیا کہ وہ جلد سے جلد کلکتہ پہنچے گا جہاں سے وہ رسوائے زمانہ کتاب شائع ہوئی تھی۔ جہاں سکون اس کا انتظار کر رہا ہے۔ جہاں اسے ابدی راحت میسر آئے گی اور اس کا زخم ہمیشہ ہمیشہ کے لئے مندمل ہو جائے گا۔
تانگہ ہوا سے باتیں کرتا ہوا اسٹیشن کو جارہا تھا۔ پشاور کی گلیاں آج ہمیشہ کے لئے چھوٹ رہی تھیں۔ لیکن امیر احمد کو اس کا غم نہیں تھا۔ اس کی جبیں ہمت پر شکن بھی نہ تھی۔ اس کے پائے استقامت میں تزلزل بھی نہ تھا۔ وہ لڑکھڑایا بھی نہیں، ڈگمگایا بھی نہیں۔ وہ آگے ہی بڑھتا گیا۔ جیسے ندی دریا کی سمت دوڑتی ہے، جیسے چکور چاند کی طرف بھاگتا ہے۔
دوست عبداللہ سے مشاورت
اس کا دوست عبداللہ اس کے ساتھ ہی تانگہ پر سوار تھا، امیر احمد اس سے کہہ رہا تھا کہ ” میں نے زندگی کی آخری سانس تک تم سے دوستی نبھانے کی قسم کھائی تھی۔ میں نے تمام عمر رفاقت کا وعدہ کیا تھا اور میں نے زندگی کے ہر موڑ پر تمہارا ساتھ بھی دیا۔ میں نے تم سے بے پناہ محبت کی اور میرا سارا پیار تمہارے لئے وقف رہا۔ لیکن آج میں پہلی بار تمہارا ساتھ چھوڑ رہا ہوں۔ میں نے طے کر لیا ہے کہ اپنے آقا ﷺ پر صدقے جاؤں۔ ان کی عزت و حرمت پر کٹ مروں اور ان کی بارگاہ ناز میں نقد جان بھی نذر کر دوں۔ کلکتہ میں اسی مقصد سے جا رہا ہوں۔ شوق شہادت ہی مجھے وہاں لے جا رہا ہے۔ میرے بعد تم میری بوڑھی ماں کا خیال رکھنا اور اگر تم سے ہو سکے تو میرے یتیم بھائیوں اور بے سہارا بہنوں کی خبر گیری کرنا۔ یہ میری آخری خواہش ہے۔
سلسلہ کلام جاری تھا اور عبداللہ کے لبوں پر مسکراہٹ کھیل رہی تھی۔ جب امیر احمد اپنی گفتگو کر چکا تو عبداللہ نے کہا۔
اگر تم سمجھتے ہو کہ میں تمہیں اسٹیشن تک چھوڑنے جا رہا ہوں تو یہ تمہاری بھول ہے۔ میں زندگی کی آخری منزل تک تمہارے ساتھ ہوں۔ کلکتہ تم تنہا ہی نہیں جارہے ہو، تمہارا عبداللہ بھی تمہارا رفیق سفر ہے۔ اپنے آقا ﷺ پر قربان ہو جانے کی تمنا تمہارے دل ہی میں نہیں مچل رہی، اس میں، میں بھی تمہارا شریک کار ہوں۔ شہادت کی تڑپ میرے دل میں بھی ہے۔ میں
158
باب سوم: سچے عاشقان رسول کے واقعات
بھی اپنے آقا ﷺ پر قربان ہونے کی سعادت حاصل کرنا چاہتا ہوں۔ شمع پر جان دینا پروانوں کا پیدائشی حق ہے اور اس حق سے کوئی بھی انہیں محروم نہیں کر سکتا۔ تمہارے آقا ﷺ صرف تمہارے آقا نہیں ہیں وہ ہم سب کے آقا ہیں۔ ان کے بار احسانات سے تنہا تمہاری ہی گردن خم نہیں ہے ہم سب ان کے منت کش کرم ہیں۔
ان کا جمال دلفروز ہماری آنکھوں کو بھی فروغ بخش رہا ہے اور ان کی تجلیوں سے ہمارا خانہ دل بھی معمور ہے میدان حشر کی تیز دھوپ میں ان کے سایہ رحمت کی تلاش تنہا تمہی کو نہیں کرنی ہے۔ قبر کی منزل اور پل صراط کے سفر میں ان کے سہارے کی ہمیں بھی ضرورت ہے۔ ان کے دامن رحمت میں ہمیں بھی پناہ لینی ہے اور انہی کی کرم فرمائیوں پر ہماری نجات بھی منحصر ہے۔ پھر یہ کیسے ممکن ہے کہ جو سعادت تم تنہا حاصل کرنا چاہ رہے ہو، میں اس سے محروم ہو جاؤں، میں تمہارے ساتھ ہی کلکتہ چل رہا ہوں۔ ہم دونوں ایک ساتھ جام شہادت نوش کریں گے۔ زندگی میں بھی ہمارا تمہارا ساتھ رہا ہے، مرنے کے بعد بھی ہم تمہارے ساتھ رہنا چاہتے ہیں۔ ہم یہ چاہتے ہیں کہ ہمارا تمہارا انجام بھی ایک ہو۔ قبر سے ہم دونوں ایک ساتھ ہی اٹھیں۔ ساتھ ہی جنت کو چلیں اور ہم دونوں کے آقا ﷺ ہم دونوں کی قربانیاں قبول فرمائیں اور ایک ہی ساتھ ہم دونوں کو اپنے دامن رحمت میں پناہ دے دیں۔
پھر عبداللہ کی بات پوری نہیں ہو پائی تھی کہ امیر احمد نے اسے ٹوک دیا۔ تم بھی چلے جاؤ گے تو ہم دونوں کی بوڑھی ماؤں کا کیا ہوگا؟ کس کو ہماری بہنوں کے ہاتھ پیلے کرنے کی فکر ہوگی؟ کون ہمارے بھائیوں کی دستگیری کرے گا؟
عبداللہ ایک مرتبہ پھر گرجا۔ تمہاری عقل ماری گئی ہے تم اتنا بھی نہیں سمجھتے کہ کارساز مطلق کوئی اور ہے؟ بھلا سوچو تو جو خدا رحم مادر میں جنین کی پرورش کرتا ہے وہ جوانوں کی تربیت سے کیسے غافل ہو جائے گا! پھر جان دینے والوں کو یہ سوچنے کی کیا ضرورت ہے کہ ان کے بعد دنیا کا کیا حال ہوگا؟ جان دینے والے تو بس جان دینا جانتے ہیں۔ ان کو اس سے کیا غرض کہ وہ اپنے پیچھے کس کو چھوڑ رہے ہیں؟
باب سوم: سچے عاشقان رسول کے واقعات
پشاور کا اسٹیشن آگیا تھا۔ اس لئے گفتگو کا سلسلہ منقطع ہو گیا اور دونوں دوست پلیٹ فارم پر کھڑی ہوئی گاڑی کی طرف چل پڑے۔
گستاخ کی ہٹ دھرمی
کلکتہ دیکھنے کی آرزو ایک مدت سے ان دونوں کو تھی لیکن اب تک اس کا موقع نہیں ملا تھا، آج ان کی ٹیکسی کلکتہ کی سڑکوں پر دوڑ رہی تھی، کلکتہ میں ان کے لئے کوئی دلچسپی نہیں تھی، ان کے دل میں تو کچھ اور ہی لگن تھی، یہ اسٹیشن سے سیدھے ”لوئر چت پور“ روڈ آئے اور موتی سیٹھ کے مسافر خانہ میں قیام پذیر ہوئے۔ انہوں نے یہاں اپنا سامان اتارا اور ایک لمحہ ضائع کئے بغیر اس محلہ کی طرف چلے جہاں سکون ان کا انتظار کر رہا تھا اور طمانیت قلب ان کے لئے چشم براہ تھی۔ یہاں انہوں نے اس کتاب کے ناشر سے ملاقات کی جس نے ان کا سکون غارت کیا تھا اور وفاکشوں کے جذبہ محبت کو ٹھیس پہنچائی تھی اس کتاب کا ناشر ہی اس کا مصنف بھی تھا اور اسی کے زیر اہتمام اس کی طباعت بھی عمل میں آئی تھی۔ انہوں نے کہا۔ اپنی کتاب سے فلاں حصہ نکال دو، اس سے ہم مسلمانوں کو تکلیف پہنچتی ہے اور ایک معذرت نامہ بھی شائع کر دو تاکہ جن لوگوں کی تم نے دل آزاری کی ہے ان کی کچھ تسکین ہو جائے۔ کتاب کے ناشر نے کہا۔ کتاب میں ایک تصویر شائع ہو گئی تو کون سی قیامت آگئی؟ تمہارے رسول کے خلاف ایک آدھ جملہ لکھ دیا تو کیا ہو گیا؟ تم کہتے ہو کہ میں نے غلطی کی ہے۔ لیکن میں غلطی ماننے کے لئے تیار ہی نہیں میں نے جو کچھ لکھا ہے ٹھیک ہی لکھا ہے۔ اگر میری تحریر پر کسی کی دل آزاری ہوتی ہے تو ہو۔ میں ایسا کبھی نہیں کر سکتا کہ معافی نامہ شائع کروں۔ اگر میری غلطی تسلیم بھی کی گئی تو اس کی سزا اتنی سنگین نہیں۔ میں اپنی غلطی کا ڈھنڈورا نہیں پیٹ سکتا۔ تم جاسکتے ہو۔ تم میری دکان سے نکل جاؤ۔ میرا دماغ مت چاٹو۔
دونوں عاشقان رسول ﷺ نے ملعون کو انجام تک پہنچا دیا
امیر احمد کی آنکھیں شعلے اگلنے لگیں ..... اس کا چہرہ گلنار ہو گیا۔ اس کی رگیں تن گئیں اور وہ بے قابو ہو گیا۔ غلطی اور اس پر اصرار؟ گستاخی اور وہ بھی آقا ﷺ کی شان میں۔ اس نے
باب سوم : سچے عاشقان رسول کے واقعات
ایک جست کی۔ عبداللہ بھی اپنی جگہ سے اچھلا۔ دونوں نامراد پر ٹوٹ پڑے۔ پھر ایک بجلی تھی جو چمک گئی۔ ایک خنجر تھا جو گستاخ کلیجہ میں اتر گیا اور یہ دونوں سڑک پر کھڑی ہوئی ٹریفک پولیس سے کہہ رہے تھے کہ ہم نے خون کیا ہے ہم قاتل ہیں، ہمیں گرفتار کرلو۔ پولیس مارے خوف و دہشت کے بھاگ کھڑی ہوئی اب انہوں نے قریب کے تھانے کو فون سے اطلاع دی۔ ہم فلاں مقام پر ٹھہرے ہوئے ہیں۔ ہم نے خون کیا ہے۔ تم یہاں آجاؤ کہ ہم خود کو قانون کے حوالے کر سکیں۔ پھر دونوں گرفتار ہو گئے۔
آقا ﷺ پر قربان ہونے کی تڑپ کو دیکھ کر جج اور وکلاء بھی حیران رہ گئے
عدالت میں آج ان دونوں کی پہلی پیشی تھی۔ آج ان کا مقدمہ کھلا تھا۔ ماہر قانون وکیلوں نے انہیں قانون کی زد سے بچا لینے کے لئے اپنی اپنی خدمات پیش کیں۔ رؤساء شہر نے ان کے مقدمہ کی پیروی کرنے کا بیڑا اٹھا لیا۔ بچوں نے کئی دنوں سے مٹھائی اور چاکلیٹ کے سارے پیسے بچا کر آج ہی کے لئے رکھ چھوڑے تھے۔ خواتین نے اپنے پاس کانوں کی بالیاں آج ہی کے لئے اتار رکھی تھیں۔ سارا نگر یہ چاہتا تھا کہ یہ دونوں عدالت کی نگاہ میں مجرم ثابت نہ ہوں۔ کسی طرح یہ قانون کی زد سے بچ جائیں۔ خود حاکم کو بھی ان دونوں کی معصومیت پر ترس آ رہا تھا۔ وہ بھی یہی چاہتا تھا کہ یہ خلاصی پا جائیں۔ لیکن دشواری یہ تھی کہ خود یہ دونوں ایسا نہیں چاہتے تھے۔ شہادت کا شوق ان کے سروں میں سمایا ہوا تھا اور یہ جلد از جلد پھانسی کے تختے کی طرف بڑھنا چاہتے تھے۔ آقا ﷺ پر قربان ہو جانے کی تڑپ انہیں بے چین کئے دے رہی تھی۔ ان سے کہا گیا کہ کم از کم اپنی زبان سے اقبال جرم نہ کریں۔ صرف ایک بار کہہ دیں کہ انہوں نے خون نہیں کیا۔ لیکن دونوں یہی کہتے رہے ہم نے خون کیا ہے۔ ہم ہی قاتل ہیں۔ ہم نے ہی اس گستاخ کو اس کی گستاخی کی سزا دی ہے۔
غازیوں کی شہادت کے وقت اضطراب کی اصل وجہ
امیر احمد اور عبداللہ ایک ساتھ بول اٹھے۔ چہروں پر جو اضطراب کی لکیر آپ کو نظر آرہی
باب سوم: سچے عاشقان رسول کے واقعات
ہے وہ اس وجہ سے نہیں ہے کہ ہم لوگ جان سے جا رہے ہیں۔ ہمارے چہروں پر غم کی گھٹا اسلئے نہیں چھائی ہے کہ ہم تختہ دار پر چڑھنے والے ہیں۔ ہماری پریشانیوں کی اصل وجہ یہ ہے کہ جام شہادت پیش کرنے میں یہ لوگ دیر کیوں کر رہے ہیں؟ ہماری نگاہیں اس وقت جو کچھ دیکھ رہی ہیں اگر آپ دیکھ لیتے تو آپ بھی ہماری جگہ آنے کی کوشش کرتے۔ آپ کے اطمینان کے لئے ہم اتنا کہہ دینا کافی سمجھتے ہیں کہ ہماری منزل مل گئی ہے۔ ہمارے آقاﷺ کملی اوڑھے ہمارے سامنے کھڑے اپنے ہاتھوں کے اشارے سے اپنے پاس بلا رہے ہیں۔ لیکن ہمارے اور ان کے درمیان شرط یہ ٹھہری ہے کہ جام شہادت نوش کرنے کے بعد ہی ان تک پہنچ سکیں گے۔
پھانسی کا پھندا آہستہ آہستہ ان کی طرف بڑھ رہا تھا اور وہ ہنستے ہوئے جان دے رہے تھے۔ انہوں نے جان دے ڈالی، وہ دونوں شہید ہو گئے۔ رحمت کی گھٹائیں ان پر برس پڑیں اور وہ ان میں سر سے پاؤں تک ڈوب گئے۔
جنت کے جانے والے! جنت کا سفر مبارک ہو۔ اس کی سرمدی راحتیں مبارک ہوں۔ ابدی نعمتیں مبارک ہوں۔
ان شہیدان محبت کی آخری آرام گاہ کلکتہ کے گورا قبرستان میں ساتھ ساتھ ہیں۔ جہاں سے آج بھی نامرادوں کو مرادیں ملتی ہیں اور محروم مسرت و شادمانیوں سے ہمکنار کئے جاتے ہیں۔
☆☆☆☆☆.......☆☆☆☆☆☆
باب سوم:
عبدالرشید عرف شیدا گا
☆....... جناب سلطان احمد لک
ہندوستان میں ایک شیدا گاڈی کہہ کر پکارا کرتے معاش اس کے نام کا حصہ بن گیا
ایک دن ہم تین چار لڑکے تھے۔ ہمارے پاس ربڑ ک اسے کیچ کرتے ہوئے آگے بڑ جس میں رکھے ہوئے رنگ ب تھے۔ جب ہم مندر کے بدبودار میری طرف اچھالی، لیکن میں ا نیم عریاں پجاری کو جا لگی۔ اس تھیں۔ ان اشیاء کو پرشاد کہا جا تھے۔ گیند لگنے کی وجہ سے پ سے ”لو“ لگائے ہوئے دی پجاری کو ہم پر غصہ اٹھانے کی جرات نہ ہوئی۔ ج طرف پھینکی تھی اپنی انگلی سے نہیں آتی تم نے مجھے پلید کر یہاں آپ کو ب مسلمان تھا اور وہ اس گلی کا م
باب سوم: سچے عاشقان رسول کے واقعات
عبدالرشید عرف شیدا گاڈی
☆...... جناب سلطان احمد لکھتے ہیں:
ہندوستان میں ایک ان پڑھ شخص رہتا تھا۔ نام تو اس کا عبدالرشید تھا لیکن لوگ اسے شیدا گاڈی کہہ کر پکارا کرتے تھے۔ وہ بیل گاڑی (گڈا) چلایا کرتا تھا۔ چنانچہ اس کا ذریعہ معاش اس کے نام کا حصہ بن گیا تھا۔
ایک دن ہم تین چار دوست ایک گلی میں سے گزر رہے تھے۔ ہم سب چھوٹی عمر کے لڑکے تھے۔ ہمارے پاس ربڑ کی ایک چھوٹی سی گیند تھی جو ہم ایک دوسرے کی طرف پھینک کر اسے کیچ کرتے ہوئے آگے بڑھ رہے تھے۔ اس گلی کے عین وسط میں ایک چھوٹا سا مندر تھا جس میں رکھے ہوئے رنگ برنگے بت ہندوؤں کے ”خدا“ کا گمراہ کن پروپیگنڈہ کر رہے تھے۔ جب ہم مندر کے بدبودار دروازے کے سامنے سے گزر رہے تھے تو ایک لڑکے نے گیند میری طرف اچھالی، لیکن میں اسے کیچ نہ کر سکا اور گیند حادثاتی طور پر مندر سے باہر نکلتے ہوئے نیم عریاں پجاری کو جا لگی۔ اس کے ہاتھ میں ایک تھالی تھی جس میں کھانے پینے کی چند اشیاء تھیں۔ ان اشیاء کو پرشاد کہا جاتا ہے۔ تھالی کے بیچ میں دو تین مٹی کے دیئے بھی جل رہے تھے۔ گیند لگنے کی وجہ سے پرشاد گلی کی بیچوں بیچ بہنے والی گندی نالی کی پناہ میں چلا گیا اور بھگوان سے ”لو“ لگائے ہوئے دیپ بھی بجھ گئے۔
پجاری کو ہم پر غصہ تو بہت آیا لیکن اپنی روایتی بزدلی کے تناظر میں اسے ہم پر ہاتھ اٹھانے کی جرأت نہ ہوئی۔ تاہم اس نے بڑے تضحیک آمیز لہجے میں جس لڑکے نے گیند میری طرف پھینکی تھی اپنی انگلی سے اس کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا۔ ”اوئے محمدے! تمہیں شرم نہیں آتی تم نے مجھے پلید کر دیا اور مجھے پھر سے اشنان (غسل) کرنا پڑے گا۔“
یہاں آپ کو بتاتا چلوں کہ جس لڑکے نے گیند پھینکی تھی اس کا نام نذیر محمد جو کہ مسلمان تھا اور وہ اس گلی کا رہنے والا تھا۔ اس حوالے سے پجاری اسے جانتا تھا۔
باب سوم : سچے عاشقان رسول کے واقعات
ہندو کی نام محمد کی گستاخی پر عاشق رسول ﷺ کا ردعمل
حسن اتفاق سے اس وقت شیدا گاڈی بھی وہاں سے گزر رہا تھا اور اس نے پجاری کے منہ سے ”محمدے“ سن لیا تھا۔ شیدا گاڈی سمندر کی سرکش لہروں کی طرح پجاری کی طرف لپکا اور اس نے آؤ دیکھا نہ تاؤ، پجاری مہاراج کو اپنے تابڑ توڑ گھونسوں کے نشانے پر رکھ لیا اور ساتھ ساتھ یہ کہتا جاتا تھا ”ارے مردود! تمہیں پتہ نہیں یہ نام میرے رسول پاک ﷺ کا نام ہے۔ اسے عقیدت اور محبت سے لیا جاتا ہے۔ مردود کو اس پاک نام کو بگاڑنے کی جرأت کیسے ہوئی۔ میں تمہیں زندہ نہیں چھوڑوں گا۔“
وہ تو خیر گذری کہ پجاری اپنی ڈھیلی دھوتی سنبھالتے ہوئے مندر کے اندر گھس گیا ورنہ شیدے کے ہاتھوں اس کے بولورام کی منزل واقعی قریب آتی دکھائی دے رہی تھی۔
عشق رسول ﷺ میں عبدالرشید کا سر سے خون بہنا
پجاری جی نے اپنی ٹھکائی کا بڑھا چڑھا کر تذکرہ گلی کے جوان ہندوؤں سے کیا اور انہیں بھڑکانے کے لیے کہنے لگا مجھے اس بات کا اتنا دکھ نہیں ہے کہ شیدے نے مجھے خوب مارا پیٹا ہے بلکہ ہم سب کے مر مٹنے کا مقام یہ ہے کہ اس نے ہمارے بھگوان کو بھی گالیاں (یہ سراسر جھوٹی بات تھی) دی ہیں۔
چنانچہ یہ ہندو لونڈے اپنے بھگوان کی فرضی توہین کے قصے سے چنگاری سے شعلہ اندام بن گئے اور وہ سارا دن شیدے کو ڈھونڈتے رہے۔ جب شام ڈھلے وہ واپس آیا تو گھات میں بیٹھے ہوئے ہندو نوجوانوں نے اس پر حملہ کر دیا۔ اگرچہ شیدے نے بھی بڑی دلیری اور مردانگی سے ان کا خوب مقابلہ کیا لیکن وہ آٹھ دس ہٹے کٹے ہندو سورماؤں کا کہاں تک مقابلہ کر سکتا تھا۔ چنانچہ وہ زمین پر گر گیا اور اس کے سر کے تین چار مختلف حصوں سے خون بہنے لگا۔ چند ایک قطرے زمین پر بکھر گئے اور خون دیکھ کر مارے خوف کے ہندو حملہ آور وہاں سے بھاگ اٹھے۔ شیدے کی گالیاں کافی دیر تک ان کا تعاقب کرتی رہیں۔ شیدا اٹھا اور کپڑے جھاڑ کر
سچے عاشقان رسول کے واقعات باب سوم:
اپنے گھر کی طرف چل دیا۔
عشق رسول پر مار کھانے پر عبدالرشید کا مقام اور مرتبہ
ہندو نوجوانوں اور شیدے گاڈی کے درمیان یہ جنگ وجدل بابا فضلو کے بالکل قریب وقوع پذیر ہوئی تھی۔ باباجی اس وقت مراقبہ کی حالت میں تھے۔ جب وہ یاد الٰہی اور یاد محمد ﷺ کے جنت آفریں عمل سے فارغ ہوئے تو وہ بھاگ کر اس جگہ سجدہ ریز ہو گئے جہاں شیدے کے سر سے بہنے والے خون کے چند قطرے زمین کو سرخ گلاب کی تصویر بنائے ہوئے تھے۔ بابا فضلو جب سجدہ سے اٹھے تو وہ روحانی کیف وسرور سے پکار اٹھے۔
”اے لوگو! تم جس شیدے کو برا سمجھتے ہو، وہ تو ایک سچا عاشق رسول ﷺ ہے۔ اس نے عشق رسول ﷺ کی راہ میں اپنے مقدس خون کے چند قطروں کا نذرانہ پیش کر کے اللہ تبارک وتعالیٰ سے اپنی بخشش حاصل کرلی ہے۔ شیدا گاڈی چند لمحوں میں میدان مار کر گیا ہے۔ اے لوگو! اپنے بیمار بچوں کو آئندہ کبھی بھی مجھ سے دم مت کروانا۔ اس سے ہی اب اپنے لئے دعائیں کروایا کرو۔ شیدا سب کچھ ہے، میں تو کچھ بھی نہیں ہوں۔ رسول پاک ﷺ سے اپنی سچی محبت کے مظاہرے سے وہ اللہ کا پسندیدہ بندہ بن گیا ہے۔“
اس وعظ کے بعد بابا فضلو شیدے کے گھر گئے اور بہ اصرار شیدے کے پاؤں چومنے کی خواہش ظاہر کی۔ لیکن شیدے نے انہیں گلے لگا لیا۔ بابا فضلو نے شیدے کی خوش بختی پر عقیدت کے چند آنسو بہاتے ہوئے کہا کہ میں تو عشق رسول ﷺ میں صرف آنسو بہا سکتا ہوں۔ لیکن شیدے جیسے آدمی نے تو عشق رسول میں مار کھا کر سچا عاشق ہونے کا ثبوت دے دیا ہے۔
☆☆☆☆☆☆☆.......☆☆☆☆☆☆☆
باب سوم : سچے عاشقان رسول کے واقعات
پاکپتن میں مدعی مہدویت کا قتل
۱۹۷۲ء جون کی غالباً ۳ تاریخ تھی۔ لاہور سے روزنامہ امروز نکلا کرتا تھا اس میں خبر تھی کہ پاکپتن میں ایک صاحب نئے مہدی بنے ہیں۔ نامہ نگار کے مطابق موصوف اسکول میں ہیڈ ماسٹر ہیں اور انگریزی پڑھاتے ہیں۔ امام مہدی ہونے کا دعویٰ بقائمی ہوش و حواس کرتے ہیں اور انہیں اپنی دماغی صحت پر کوئی شبہ نہیں۔
آتش ان دنوں جوان تھا اس لئے فوراً جائے ظہور کی طرف عازم سفر ہوا۔ پاکپتن پہنچ کر مدعی مہدویت کا گھر ڈھونڈا ملاقات ہوئی۔ حال احوال معلوم کیا موصوف ۵۰۔۵۵ کے سن میں ہوں گے۔ کھچڑی داڑھی لیکن صورت سنجیدہ اور متین۔ ذہانت یا چالاکی کے کوئی آثار چہرے پر نہیں تھے۔ گفتگو ہوئی تو پتہ چلا کہ مہدی کے پردے میں نبوت کے دعویدار ہیں۔
مرزا نے جو درجات برسوں طے کئے تھے ماسٹر صاحب ان دنوں میں پھلانگ گئے۔ کہنے لگے وحی بھی آتی ہے۔
میں نے پوچھا کیسے آتی ہے؟
تو کہنے لگے کیا بتاؤں! تم کیا سمجھو گے؟ تم اس کیفیت کا ادراک ہی نہیں کر سکتے۔
میں نے پوچھا اب تک کیا کیا احکام نازل ہوچکے ہیں ۔؟
بتلایا کلمہ اور نماز جدید نازل ہوچکی ہے۔
میں نے عرض کیا! کچھ نماز کی تفصیل ارشاد فرمائیں؟ کہنے لگے، ابھی بات بتانے کی نہیں چھپانے کی ہے الگ سے نماز پڑھتا ہوں کچھ ماننے والے ہو جائیں کچھ قوت ہو جائے پھر کھل کر پڑھیں گے۔ اتنے میں کچھ اور لوگ بھی خبر پڑھ کر آگئے اب سوالات چہار اطراف سے ہونے لگے ایک بولا۔ آپ سے پہلے مرزا قادیانی بھی یہی دعوے کر چکا ہے کوئی ایک تو جھوٹا ہوگا؟
کہنے لگے مرزا بھی سچا تھا اور میں بھی سچا ہوں ..... فرق صرف اتنا ہے کہ مرزا صاحب ہندوستان کا نبی تھا اور میں ساری دنیا کے لئے آیا ہوں اب میرے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا۔ جس مہدی معہود اور مسیح موعود نے آنا تھا وہ میں ہی ہوں لیکن اب مجھ پر یہ سلسلہ ختم ہے۔ تھوڑی دیر
باب سوم :
کے بعد اسکول کے کچھ لڑکے ٹیوشن پڑ حالت سدھارنے کو ٹیوشن کا سلسلہ ر رہے طلبہ رُخصت ہوئے تو محفل پھر جم
امام مہدی کی جائے وقوع
کسی نے پوچھا کہ مہدی میں ہیں؟ تو جواب میں آیت پڑھی: ہیں تو ان کے لئے کیا مشکل ہے کہ بی نے اپنی قدرت کا اظہار کر دیا ہے۔
سوال کیا کہ احادیث میں تو عبداللہ اور ماں کا نام آمنہ ہوگا۔؟ کہنے لوگ خوب تحریف کریں۔ میری بھی کت کاہی بندہ تھا آمنہ امانت دار عورت کو ک
میں نے پوچھا کہ کوئی معجزہ
ہاں جو معجزہ عیسیٰ ؑ بچا کے رکھا ہے؟ میں بھی بتا سکتا ہوں سے بدل دیا ہے سو آخری معجزے کو لا
مہدی کا دعویٰ کرنے وا
ہم فکر ساتھیوں کے سا جائے ...... نہ رہے بانس نہ بجے با امت مسلمہ نئے فتنے احباب میں سے ایک
باب سوم: سچے عاشقان رسول کے واقعات کے بعد اسکول کے کچھ لڑکے ٹیوشن پڑھنے آگئے۔ گرمیوں کی چھٹیاں تھیں موصوف اپنی مالی حالت سدھارنے کو ٹیوشن کا سلسلہ رکھے ہوئے تھے۔ کوئی گھنٹہ بھر انگریزی کا سبق پڑھاتے رہے طلبہ رخصت ہوئے تو محفل پھر جم گئی، ٹوٹا ہوا سلسلہ سوالات پھر جڑ گیا۔
امام مہدی کی جائے وقوع
کسی نے پوچھا کہ مہدی منتظر کا اعلان تو مکہ مکرمہ میں ہوگا اور آپ پاکپتن میں ہیں؟ تو جواب میں آیت پڑھی: ”ان اللہ علی کل شئی قدیر“ جب اللہ ہر چیز پر قادر ہیں تو ان کے لئے کیا مشکل ہے کہ بجائے مکہ کے مہدی کا ظہور پاکپتن میں کر دیں تو اب قادر نے اپنی قدرت کا اظہار کر دیا ہے۔
سوال کیا کہ احادیث میں تو امام مہدی علیہ الرضوان کا نام تو محمد ﷺ ملتا ہے باپ کا نام عبداللہ اور ماں کا نام آمنہ ہوگا۔؟ کہنے لگے ان ناموں سے مفہوم مراد ہے الفاظ نہیں۔ محمد جس کی لوگ خوب تعریف کریں۔ میری بھی کریں گے عبداللہ سے مراد اللہ کا بندہ ہے اور میرا باپ بھی اللہ کا ہی بندہ تھا آمنہ امانت دار عورت کو کہتے ہیں اور میری ماں بھی بہت امانت دار تھی۔
میں نے پوچھا کہ کوئی معجزہ بھی عطا ہوا؟
ہاں جو معجزہ عیسیٰ ؑ کو دیا تھا کہ وہ بتا دیتے تھے کہ گھر سے کیا کھا کے آئے ہو اور کیا بچا کے رکھا ہے؟ میں بھی بتا سکتا ہوں علاوہ ازیں میرے جسم میں ناپاک خون کو اللہ نے دودھ سے بدل دیا ہے سو آخری معجزے کو آزمانے کا فیصلہ کر کے آتش واپس لوٹ آیا۔
مہدی کا دعویٰ کرنے والے کا عبرتناک انجام
ہم فکر ساتھیوں کے سامنے روداد سفر پیش کی۔ طے پایا کہ کاٹھیا جتنا جلدی ہو نکال دیا جائے ..... نہ رہے بانس نہ بجے بانسری۔
امت مسلمہ نئے فتنے سے محفوظ ہو جائے گی۔
احباب میں سے ایک دو نے یہ رائے بھی دی کہ مسکین غریب آدمی ہے شہرت کا
باب سوم: سچے عاشقان رسول کے واقعات بھوکا ہے دو چار روز میں لوگ بھول بھال جائیں گے۔ مگر رپورٹ لانے والے نے لوگوں کی آمد و رفت کا ذکر کیا اور بتایا کہ مرزا بھی تو مخبوط الحواس آدمی تھا مگر کتنا بڑا فتنہ بنا۔ اس لئے نمٹانے میں دیر نہ کی جائے۔ قرعہ فال تین دیوانوں کے نام نکل پڑا کسی سیانے نے مشورہ دیا کہ ایسے ہتھیار لے جاؤ جو غیر قانونی بھی نہ ہوں اور وار کاری پڑے۔ چنانچہ چارہ کاٹنے والے ٹوکے خریدے گئے اور اگلے دن یہ تینوں جانباز پاکپتن جا پہنچے۔ بھری محفل میں جھوٹے مدعی کو کاٹ ڈالا۔ گرفتار ہوئے اقرار کیا اور سارا واقعہ سنا دیا۔
اگلے دن عدالت میں پیش ہوئے تو لوگوں نے پھولوں کے ہاروں سے لاد دیا...... قتل کا کیس تھا ملزم اقراری تھے اس لئے تیسرے دن ساہیوال سینٹرل جیل جا پہنچے ملزموں کے پہنچنے سے پہلے ان کا کارنامہ جیل کے قیدیوں تک پہنچ چکا تھا۔ ہاتھوں ہاتھ لئے گئے۔ لوگ سنتے اور شاباش دیتے۔ ڈیڑھ برس مقدمہ چلا۔ سیشن جج مسلمان آدمی تھا عمر قید کی سزا سنائی...... مگر فیصلہ ایسا لکھا کہ قانون کا دامن ہاتھ سے چھوڑا نہ ایمانی تقاضوں کو پس پشت ڈالا۔ سزا بھی سنائی اور رہائی کا راستہ بھی ہموار کر دیا اس فیصلے کا خلاصہ یہ ہے۔ مقتول مدعی نبوت تھا۔ اس لئے شریعت کی رو سے مرتد اور واجب القتل ٹھہرا۔ قاتل مذہبی جذبات رکھنے والے نوجوان ہیں ان کی مقتول سے کوئی ذاتی دشمنی نہ تھی مگر کسی بھی مجرم کو سزا دینے کا اختیار ریاست کو ہے افراد کو نہیں اس لئے میں قاتلوں کو قانون اپنے ہاتھ میں لینے پر عمر قید کی سزا سناتا ہوں اور عدالت عالیہ سے سفارش کرتا ہوں کہ ملزمان سزا میں تخفیف کے مستحق ہیں۔ عدالت عالیہ نے اس نیک نفس جج کی سفارش کو سر آنکھوں پر رکھا اور تینوں ملزمان کو باعزت بری کرنے کا حکم دیتے ہوئے فیصلے میں لکھ دیا ایسا قتل جرم نہیں۔
ہائی کورٹ میں ملزموں کی مفت وکالت کرنے والا وکیل عدالت عالیہ کا جج بن گیا۔ وکیل کے بقول اس جج نے قبل اس کے کبھی قتل کے ملزم کو بری نہیں کیا تھا۔ اس نام نہاد مہدی اور مدعی نبوت کے قاتل تین سال جیل میں رہے دوران قید قادیانیوں کے خلاف تحریک چلی۔ قومی اسمبلی میں معاملہ پیش ہوا قادیانی قانونی طور پر کافر ٹھہرے۔ سیشن جج کا لکھا ہوا فیصلہ پاکستانی آئین کا حصہ بن گیا تحریکوں کے پس منظر میں کتنے گمنام لوگ ہوا کرتے ہیں؟ سبحان اللہ!
باب سوم:
غازی فاروق کے ہاتھوں
......۱۹۹۴ء فیصل آباد
سینئر عیسائی ٹیچر (معروف ترقی پ کرنے اور شعائر اسلام کا مذاق اڑا کے پے در پے وار کر کے ہلاک کر کے دوران نعمت احمر کے با کے سامنے عقائد اسلام اور اکابرین چک ۲۴۲ ر۔ب دس حکام کو نعمت احمر عیسائی ٹیچر کے ف میں اس کے نامناسب ریمارکس کاروائی کی اور نہ ہی محکمہ تعلیم ن عارضی طور پر ڈسٹرکٹ ایجوکیش لوگوں میں غم و غصہ کی لہر مزید پھی خلاف نازیبا ریمارکس دینے و اسے مزید تحفظ دیا گیا۔ علاقہ بھ فاروق جو چک نمبر ۲۴۲ ر۔ب کر دفتر کے احاطہ میں کھلی جگہ سے وہ شدید زخمی ہو کر تڑپنے خون آلود چھری کے ساتھ و ڈرنے کی ضرورت نہیں ہے جہاد کیا اور میں نے اس کے پھینک دی اور لوگوں سے کہا
باب سوم : سچے عاشقان رسول کے واقعات
غازی فاروق کے ہاتھوں گستاخ رسول عبرتناک انجام
......۱۹۹۲ء فیصل آباد کے ڈسٹرکٹ ایجوکیشن کے دفتر میں عارضی طور پر تعینات ایک سینئر عیسائی ٹیچر (معروف ترقی پسند شاعر) نعمت احمر کو مبینہ طور پر سرکار دوعالم ﷺ کی گستاخی کرنے اور شعائر اسلام کا مذاق اڑانے کی بنا پر ایک مسلمان نوجوان غازی فاروق احمد نے چھری کے پے در پے وار کر کے ہلاک کر دیا۔ میانی اور چک ۲۴۲۔رب دسوھہ کے گاؤں کے اسکول میں تعیناتی کے دوران نعمت احمر کے بارے میں شکایت پائی جاتی تھی کہ وہ گستاخ رسول ہے اور طلباء کے سامنے عقائد اسلام اور اکابرین اسلام کے بارے میں نامناسب ریمارکس دیتا ہے۔
چک ۲۴۲۔ رب دسوھہ کے متعدد لوگوں اور بالخصوص اساتذہ نے محکمہ تعلیم کے اعلیٰ حکام کو نعمت احمر عیسائی ٹیچر کے خلاف درخواستیں بھی دی تھیں۔ مقتول کے خلاف تھانہ ڈجکوٹ میں اس کے نامناسب ریمارکس کے خلاف پرچہ بھی درج ہوا تھا۔ افسوس کہ نہ تو پولیس نے کوئی کاروائی کی اور نہ ہی محکمہ تعلیم کے اعلیٰ حکام نے کوئی توجہ دی۔ البتہ حفظ ما تقدم کے طور پر اسے عارضی طور پر ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر (مردانہ) میں تعینات کر دیا گیا۔ اس طرح علاقہ کے لوگوں میں غم وغصہ کی لہر مزید تیز ہوگئی کہ شان رسالت میں گستاخی کرنے والے اور اسلام کے خلاف نازیبا ریمارکس دینے والے عیسائی ٹیچر کے خلاف انضباطی کاروائی کرنے کے بجائے اسے مزید تحفظ دیا گیا۔ علاقہ بھر میں موصوف کے خلاف سخت اشتعال پایا جاتا تھا۔ چنانچہ غازی فاروق جو چک نمبر ۲۴۲۔رب دسوھہ کا رہائشی تھا، نعمت کے دفتر آیا اور اسے اپنی برانچ سے باہر بلوا کر دفتر کے احاطہ میں کھلی جگہ پر لے آیا۔ جہاں غازی نے چھری کے تقریباً پانچ وار کئے۔ جس سے وہ شدید زخمی ہو کر تڑپنے لگا اور کسی قسم کی طبی امداد پہنچنے سے قبل ہی دم توڑ گیا۔ غازی فاروق خون آلود چھری کے ساتھ وہیں کھڑا خوفزدہ ہو کر بھاگنے والے افراد کو پکارنے لگا کہ مجھ سے ڈرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ میں نے شان رسالت ﷺ میں گستاخی کرنے والے کو قتل کر کے جہاد کیا اور میں نے اس کے بدلے اپنے لئے جنت خرید لی ہے۔ یہ کہتے ہوئے اس نے چھری پھینک دی اور لوگوں سے کہا کہ پولیس کو بلوا کر مجھے اس کے حوالے کر دیا جائے۔ چنانچہ اطلاع
باب سوم : سچے عاشقان رسول کے واقعات
ملنے پر پیپلز کالونی پولیس نے موقع پر پہنچ کر اس کو گرفتار کرلیا۔
گستاخ کو قتل کر کے جنت کا متوالا غازی
عیسائی گستاخ رسول ﷺ کا قتل قطعی ذاتی عداوت یا رنجش کا نتیجہ نہیں بلکہ ایف آئی آر میں بھی اس بات کو تسلیم کیا گیا کہ چک ۳۳۲ ر۔ب دسوھہ کے اسکول میں تعینات کے دوران جب وہ تعلیم وتدریس کرتا تھا تو رسول اکرم ﷺ کی شان مبارک میں گستاخی کی تھی تنظیم اساتذہ کے ایک وفد نے امجد حسین امجد کی سربراہی میں فیصل آباد کے علماء کے ایک اجلاس میں جو تفصیلات بیان کیں، اس سے کہیں یہ ظاہر نہیں ہوتا تھا کہ مقتول نعمت احمر اور مسلمان فاروق کے درمیان کوئی ذاتی تنازعہ تھا۔ یہی وجہ ہے کہ فاروق نے عیسائی ٹیچر کو قتل کرنے کے بعد سرعام اعلان کیا تھا۔
”میں نے رسول اللہ ﷺ کی شان میں گستاخی کرنے والے کو قتل کر کے جہاد کیا ہے اور میں نے اپنے لئے جنت خرید لی ہے۔“
عیسائی ٹیچر کے قتل کے بعد عیسائی رہنماؤں نے اس کیس کو غلط رنگ دینے کی کوشش کی۔ عیسائیوں کی طرف سے جلوس نکالا گیا۔ عیسائی رہنماء خصوصاً جے سالک سابق وفاقی وزیر مملکت برائے اقلیتی امور پیٹر جان سہوترا، جارج کلیمینٹ اور بشپ جان جوزف نے فیصل آباد میں مختلف جگہوں پر جو اشتعال انگیز تقریریں کیں اور اسے سیاسی رنگ دینے کی کوشش کی اس کے ردِعمل میں مسلمانوں نے اپنے جذبات پر قابو رکھا، ورنہ لاء اینڈ آرڈر کا مسئلہ پیدا ہو جاتا۔ اگر کوئی مسلمان حضرت عیسیٰ علیہ السلام یا حضرت مریم علیہا السلام کی توہین کرے تو وہ قابل تعزیر ہے۔ محکمہ تعلیم اور پولیس کی روایتی تساہل پسندی اور غفلت کی وجہ سے یہ واقعہ رونما ہوا۔ غازی فاروق کا اقدام اس کے مذہبی جذبات کے مجروح ہونے کا نتیجہ تھا۔ اگر محکمہ تعلیم کے اعلیٰ حکام نے بروقت کاروائی کی ہوتی تو نوبت یہاں تک نہ پہنچتی۔ ۴ جون ۱۹۹۲ء کو فیض احمد بھٹہ ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج نے گستاخ رسول نعمت احمر کے قاتل غازی فاروق احمد کو ۱۴ سال قید بامشقت کی سزا کا حکم سنایا۔ مسلمان سب کچھ برداشت کر سکتا ہے لیکن سرکار دوعالم ﷺ کی شان اقدس میں گستاخی کو برداشت نہیں کر سکتا۔ غازی فاروق نے جس جہت سے اپنے اس عمل کو دیکھا، اس میں وہ اپنے اس دعویٰ میں یقیناً حق بجانب نظر آتا ہے۔
باب سوم : سچے عاشقان رسول کے واقعات
عاشق رسول عامر چیمہ کا مختصر تعارف
کچھ عرصہ سے یورپی اخبارات مسلسل گستاخیاں کررہے ہیں جس پر پورا عالم اسلام سراپا احتجاج بنا رہا لیکن گستاخی کے مرتکب بدتہذیب لوگ ٹس سے مس نہیں ہورہے اطلاعات کے مطابق رومن کیتھولک رسالے Studi Cattolici نے اپنے سرورق پر متنازعہ خاکے شائع کئے ان حالات میں ایک پاکستانی طالب علم غازی عبدالرحمٰن عامر چیمہ نے غیرت ایمانی کا ثبوت پیش کرنے کے لئے اور آپ ﷺ کے ساتھ سچی محبت وعقیدت کے اظہار کے لئے خنجر بدست ہو کر توہین آمیز خاکے شائع کرنے والے اخبار کے بیورو چیف پر قاتلانہ حملہ کردیا جس سے وہ بدبخت زخمی ہوگیا۔ عامر چیمہ نے ناموس رسالت کے تحفظ کی خاطر اپنے کامل الایمان ہونے کا ثبوت دے کر شہدائے ناموس رسالت کی فہرست میں اپنا نام لکھوالیا جن کے بارے میں قرآن کہتا ہے انہیں مردہ نہ کہو بلکہ وہ زندہ ہیں عامر چیمہ کون؟ آئیے اس کی زندگی پر ایک نظر ڈالتے ہیں۔
اس نے ۴ دسمبر ۱۹۷۷ء کو پنجاب کے علاقے حافظ آباد میں آنکھ کھولی۔ شریف النفس اور نیک نام باپ پروفیسر محمد نذیر چیمہ نے بیٹے کا نام عامر عبدالرحمٰن رکھا۔ عامر نے گورنمنٹ ہائی اسکول راولپنڈی سے میٹرک کیا۔ ۱۹۹۴ء میں اس نے ”فیڈرل گورنمنٹ سرسید کالج“ راولپنڈی سے ”پری انجینئرنگ“ میں ایف ایس سی کا امتحان پاس کیا۔ ”نیشنل کالج آف ٹیکسٹائل انجینئرنگ“ فیصل آباد سے بی ایس سی کرنے کے بعد عامر نومبر ۲۰۰۴ء میں اعلیٰ تعلیم کے لئے جرمنی چلا گیا جہاں اس نے منچن گلیڈباخ کی ”یونیورسٹی آف اپلائیڈ سائنسز“ کے شعبہ ”ٹیکسٹائل اینڈ کلوتھنگ مینجمنٹ“ میں داخلہ لے لیا۔ چوتھا سمسٹر شروع ہونے سے قبل فروری کے وسط میں یونیورسٹی میں کوئی ایک ماہ کی چھٹیاں ہو گئیں وہ چھٹیاں گزارنے برلن چلا گیا۔
۱۱ مارچ ۲۰۰۵ء کو یونیورسٹی کھل گئی لیکن عامر واپس نہ پہنچا مارچ کے آخری ہفتے میں ۶۰ سالہ پروفیسر نذیر احمد چیمہ نے برلن میں اپنے عزیزوں سے بات کی لیکن عامر کا نام آتے ہی فون بند ہوگیا۔ ۸ مارچ ۲۰۰۵ء کو عامر نے آخری بار فون کر کے اپنے خالہ زاد بھائی کو شادی کی مبارکباد پیش کی تھی۔ ٹھیک ایک ماہ بعد ۸ اپریل کو برلن میں مقیم عزیزوں نے خبر دی کہ عامر ۲۰
باب سوم: سچے عاشقان رسول کے واقعات
مارچ کو گرفتار ہو گیا تھا اور وہ برلن پولیس کے زیر تفتیش ہے۔
عامر چیمہ کا گستاخ رسول کو عبرتناک انجام سے دو چار کرنا
ذرا ایک نکتے پر سوچئے! یورپ کے ماحول میں رہنے والے دنیاوی تعلیم یافتہ نوجوان کی وہ کون سی نفسیات ہیں کہ وہ اپنا مستقبل، جوانی کے خواب سب کچھ فنا کر کے ایک شکاری چاقو خریدتا ہے (جواب کسی طرح یہ یادگار چاقو پاکستانیوں کو نہیں مل سکتا) اخبار کے دفتر کا پتہ معلوم کرتا ہے سیکورٹی کا حصار توڑ کر ایڈیٹر کے کمرے میں جا گھستا ہے خنجر کی نوک سے بدبو کے اس بورے کو چیرتا پھاڑتا ہے عدالت میں سینہ تان کر ایسی حالت میں فخر سے اقرار جرم کرتا ہے جب اس کو چاروں طرف خونخوار بھیڑیئے نظر آرہے ہیں جن سے کسی لحاظ و مروت کی امید نہیں جن کا سفاکانہ رویہ وہ دوران تفتیش بخوبی دیکھ چکا اور جن کے خطرناک ارادے وہ اچھی طرح بھانپ چکا ہے۔ یہ فدائیانہ جذبات، یہ غیرت و شجاعت، یہ بے خوفی و جرأت ہی مسلمانوں کی وہ لافانی اور لازوال روایت ہے جو حب رسول (ﷺ) کی اعجاز آفریں برکت ہے۔ ہماری آبرو کی ضامن، ہماری پہچان اور مایہ افتخار ہے اور جو اہل مغرب کی ہزار کوششوں کے باوجود اہل اسلام کے دلوں سے کھرچی نہیں جاسکتی۔
عامر شہید کی شہادت کا واقعہ
اس دوران اس پر وہ ظلم وستم کے پہاڑ توڑے گئے کہ الامان والحفیظ ...... پھر اچانک رات کے سناٹے میں ابھرنے والی ایک چیخ ایسی تھی کہ وہ سن کر ارد گرد کے قیدی بھی چونک اٹھے۔ صبح پتہ چلا کہ ایک ایسے شخص کی شہادت ہوئی ہے جس نے آپ ﷺ کی ناموس کی خاطر اپنے ہاتھ میں خنجر اٹھا کر کسی ملعون کا قلع قمع کرنا چاہا تھا۔ ناموس رسالت کی تحریک جو کمزور پڑ گئی تھی اس کو غازی عامر شہید نے خون کی قربانی دے کر زندہ کر دیا ہے اور یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ قیامت تک ناموس رسالت کی حفاظت کرنے والے آتے ہی رہیں گے۔ دیکھنا یہ ہے کہ کون ناموس رسالت کی اس تحریک میں کتنا حصہ ڈالتا ہے؟
باب سوم:
آپ ﷺ کا ارشاد ہے وَوَلَدِهِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِيْنَ
سے اس کے ماں باپ اولاد اور با اس حدیث کا تقاضا یہ لئے ہرگز قابل برداشت نہیں ہو برداشت نہیں کر سکتا تو پھر ایک چیزوں سے زیادہ کا حکم دیا گیا ہے کیونکر برداشت کر سکتا ہے۔
اسی تقاضے کو مدنظر ر کے قدموں اور اعلیٰ علیین میں جگ سے ادنیٰ درجے کے مسلمان کی ا
غازی عامر چیمہ کی م کی میت کو ان کے چچا عصمت ا کو وزیر اعلیٰ پنجاب کے ہیلی کاپ نے شرکت کی۔ نماز جنازہ ان آبائی قبرستان ”ساروکی چیمہ“ م
مغرب کو یقین کر ہزاروں نہیں لاکھوں عامر چیمہ رسول سے اس دھرتی کو پاک کر
☆☆
باب سوم: سچے عاشقان رسول کے واقعات
آپ ﷺ کا ارشاد ہے: ”لَا يُؤْمِنُ أَحَدُكُمْ حَتَّى أَكُونَ أَحَبَّ إِلَيْهِ مِنْ وَالِدِهِ وَوَلَدِهِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ“ تم میں سے کوئی کامل ایمان والا نہیں ہو سکتا جب تک اسے میرے ساتھ ماں باپ اولاد اور باقی سب چیزوں سے بڑھ کر محبت نہ ہو جائے۔
اس حدیث کا تقاضا یہ ہے کہ آپ ﷺ کی ناموس پر ادنیٰ سا حملہ بھی کسی مسلمان کے لئے ہرگز قابل برداشت نہیں ہونا چاہیے۔ جب انسان اپنے والدین کی توہین اپنی زندگی میں برداشت نہیں کر سکتا تو پھر ایک ایسی عظیم ہستی جس سے محبت کرنے کا والدین اور دیگر تمام چیزوں سے زیادہ کا حکم دیا گیا ہے اس کی شان اقدس میں نازیبا باتیں اور الفاظ کوئی بھی مسلمان کیونکر برداشت کر سکتا ہے۔
اسی تقاضے کو مدنظر رکھتے ہوئے غازی عامر چیمہ نے اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کر آپ کے قدموں اور اعلیٰ علیین میں جگہ پائی۔ وہ اس امتحان میں سرخرو ہو گیا جس میں کامیابی پانا ادنیٰ سے ادنیٰ درجے کے مسلمان کی آخری خواہش ہوا کرتی ہے۔
غازی عامر چیمہ کی میت ۱۳ مئی ۲۰۰۶ء صبح نو بجے لاہور ائیر پورٹ پر پہنچی جہاں ان کی میت کو ان کے چچا عصمت اللہ چیمہ اور ان کے ماموں حاجی محمد اسلم نے وصول کیا۔ اور میت کو وزیر اعلیٰ پنجاب کے ہیلی کاپٹر کے ذریعے ساروکی پہنچایا گیا۔ جنازہ میں لاکھوں مسلمانوں نے شرکت کی۔ نماز جنازہ ان کے والد محترم پروفیسر نذیر احمد چیمہ نے پڑھائی اور انہیں ان کے آبائی قبرستان ”ساروکی چیمہ“ میں بڑے اعزاز واکرام کے ساتھ سپرد خاک کیا گیا۔
مغرب کو یقین کر لینا چاہئے کہ اگر اس نے یہ چھیڑ چھاڑ بند نہ کی تو اسے ایسے ہزاروں نہیں لاکھوں عامر چیمہ نظر آئیں گے جن سے ہر ایک کی خواہش ہو گی کہ میں کسی گستاخ رسول سے اس دھرتی کو پاک کروں۔
☆☆☆☆☆☆.......☆☆☆☆☆☆
باب سوم : سچے عاشقان رسول کے واقعات
اختر شیرانی کا عشق رسول ﷺ کا واقعہ
اختر شیرانی اُردو کے مشہور شاعر گزرے ہیں۔ ایک دفعہ لاہور کے ”عرب ہوٹل“ میں کمیونسٹ نوجوانوں نے جو بلا کے ذہین تھے اختر شیرانی سے مختلف موضوعات پر بحث چھیڑ دی۔ اس وقت نشہ کی وجہ سے ہوش میں نہ تھے تمام بدن پر رعشہ طاری تھا حتیٰ کہ الفاظ بھی ٹوٹ ٹوٹ کر زبان سے نکل رہے تھے۔
ادھر ان کا شروع سے یہ حال تھا کہ اپنے سوا کسی کو شاعر نہیں مانتے تھے نہ جانے کیا سوال زیر بحث تھا فرمایا مسلمانوں میں تین شخص ایسے پیدا ہوئے جو ہر اعتبار سے جینئیس بھی ہیں اور کامل فن بھی پہلے ابوالفضل دوسرے اسد اللہ خان غالب تیسرے ابوالکلام آزاد......
اختر شیرانی شاعر وہ تو شاذ و نادر ہی کسی کو مانتے تھے ہمعصر شعراء میں جو واقعی شاعر تھا اسے بھی اپنے سے کمتر خیال کرتے تھے ایک کمیونسٹ نوجوان نے فیض کے بارے میں سوال کیا طرہ دے گئے جوش کے متعلق پوچھا کہا وہ ناظم ہے، سردار جعفری کا نام لیا مسکرائے ، فرمایا مشق کرنے دو۔ ظہیر کاشمیری کے بارے میں پوچھا! کہا نام سنا ہے، احمد ندیم قاسمی کے بارے میں سوال کیا؟ فرمایا میرا شاگرد ہے......
نوجوان نے دیکھا کہ ”ترقی پسند تحریک“ ہی کے منکر ہیں تو بحث کا رُخ پھیر دیا پوچھا حضرت فلان پیغمبر کے بارے میں کیا خیال ہے؟ آنکھیں سرخ ہو رہی تھیں نشہ میں چور تھے پھر بھی جواب میں کہا زبان پر قابو رکھو شعر و شاعری کی بات کرو کسی نے فوراً ہی افلاطون کی طرف رخ موڑ دیا پوچھا ان کے مکالمات کی بابت کیا خیال ہے؟ ارسطو اور سقراط کے بارے میں سوال کیا؟ مگر اس وقت وہ اپنے موڈ میں تھے فرمایا اجی پوچھو یہ کہ ہم کون ہیں یہ ارسطو، افلاطون یا سقراط آج ہوتے تو ہمارے حلقے میں بیٹھتے ہمیں ان سے کیا کہ ان کے بارے میں رائے دیتے پھریں۔
اس ظالم کمیونسٹ نے پوچھا کہ آپ کا حضرت محمد ﷺ کے بارے میں کیا خیال ہے؟
اللہ اللہ ایک شرابی! جیسے کوئی برق تڑپی ہو، بلور کا گلاس اٹھایا اور اس کے سر پر دے مارا۔ ”بدبخت ایک عاصی سے سوال کرتا ہے، ایک سیاہ رو سے پوچھتا ہے، ایک فاسق سے کیا
باب سوم :
کہلوانا چاہتا ہے؟ تمام جسم کانپ رہا تھا ایسی حالت میں تم نے یہ
قہر و غضب کی تصویر ہو گئے اس نے با اٹھ کر چلے گئے تمام رات روتے رہے ہم سے چھین لینا چاہتے ہیں۔ گنہگار حمیت تو اختر شیرانی میں تھی ہم ہوش حفاظت بھی نہیں کر سکتے۔
☆☆☆☆
سچے عاشقان رسول کے واقعات باب سوم:
کہلوانا چاہتا ہے؟ تمام جسم کانپ رہا تھا یکا یک رونا شروع کر دیا۔ گھگھی بندھ گئی۔
ایسی حالت میں تم نے یہ نام کیوں لیا؟ تمہیں جرأت کیسے ہوئی؟ گستاخ بے ادب ”باخدا دیوانہ باش و با محمد ﷺ ہوشیار۔“ اس شریر سوال پر توبہ کرو تمہاری خبیث باطن سمجھتا ہوں خود قہر و غضب کی تصویر ہو گئے اس نے بات کو موڑنا چاہا مگر اختر کہاں سنتے تھے اسے اٹھوا دیا پھر خود اٹھ کر چلے گئے تمام رات روتے رہے کہتے تھے یہ لوگ اتنے نڈر ہو گئے ہیں کہ آخری سہارا بھی ہم سے چھین لینا چاہتے ہیں۔ گنہگار ضرور ہوں لیکن مجھے کافر بنا دینا چاہتے ہیں۔ وہ غیرت و حمیت تو اختر شیرانی میں تھی ہم ہوش و حواس میں ہوتے ہوئے بھی اپنے آخری سہارے کی حفاظت بھی نہیں کر سکتے۔
☆☆☆☆☆☆.......☆☆☆☆☆☆
باب سوم : سچے عاشقان رسول کے واقعات
یوسف کذاب
لاہور کے یوسف علی نامی شخص نے نبوت کا دعویٰ کر دیا۔ نبوت کا جھوٹا مدعی محمد یوسف ۱۹۷۰ء سے قبل آرمی میں تھا لیکن آرمی سے علیحدگی کے بعد وہ جدہ چلا گیا۔ تقریباً ۲ سال جدہ میں قیام کے بعد یوسف علی لاہور واپس آ گیا اس وقت یوسف علی نے لاہور کینٹ میں ڈیفنس میں رہائش اختیار کر لی۔ یوسف علی اکثر ملتان روڈ پر واقع بیت الرضا مسجد میں اپنے مخصوص مریدوں سے خطاب کرتا رہا۔ اس نے کراچی سمیت پاکستان کے کئی مختلف شہروں میں کئی امیر گھرانوں کو گمراہ کر کے اپنا مرید بنا لیا ہے۔
محمد یوسف علی نے نبوت کا دعویٰ کرتے ہوئے کہا ہے کہ محمد ﷺ کی پہلی شکل آدم اور موجود شکل میں ہوں ۲۸ فروری کو ملتان روڈ چوک یتیم خانہ کے قریب واقع بیت الرضا مسجد میں نبوت کے جھوٹے مدعی محمد یوسف علی کی صدارت میں ایک خفیہ اجلاس بنام ورلڈ اسمبلی منعقد ہوا۔ اطلاعات کے مطابق اس اجلاس میں پاکستان بھر سے یوسف علی کے خاص معتقدین اور مقررین کو دعوت دی گئی جن میں کراچی میں واقع ڈیفنس اور گلشن اقبال کے بھی بعض لوگ شامل ہیں۔ سپاسنامہ پڑھتے ہوئے یہ اعلان کیا کہ محمد یوسف علی ہی وہ ذات ہے جو اللہ اور محمد ﷺ ہے اس اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے یوسف علی نے حاضرین پر انکشاف کیا کہ اس محفل میں نعوذ باللہ سو سے زائد صحابہ کرام بیٹھے ہوئے ہیں یہاں تک کہ یوسف علی نے ڈیفنس کراچی سے آئے ہوئے ایک شخص کا دوران خطاب تعارف کراتے ہوئے کہا کہ یہ صحابی ہے۔
باوثوق ذرائع کے مطابق محمد یوسف نے ابتداء میں خود کو مرشد کامل مرد کامل، امام وقت اور اللہ تبارک وتعالیٰ اور خاتم النبیین حضرت محمد ﷺ کا نائب وسفیر بنا کر پیش کیا لیکن پچھلے چند برسوں سے وہ اپنے خاص مقربین میں یہ دعویٰ کرتا رہا کہ وہ خود ہی نبی ہے۔ اس کا طریقہ کار یہ تھا کہ وہ اپنے حلقے میں شامل لوگوں کو عمومی طور پر مختلف تقریبوں میں نبی ﷺ کے دیدار اور محبوب سے ملنے کی ترغیبیں دیتا۔ اس دوران وہ ہر معتقد کی انفرادی طور پر چھان پھٹک کرتا جب اچھی طرح مطمئن ہو جاتا انفرادی طور پر مخصوص افراد کو یہ خوشخبری دیتا کہ ہم فلاں دن تمہیں ایک
چے عاشقان رسول کے واقعات
دعویٰ کر دیا۔ نبوت کا جھوٹا مدعی محمد یوسف کے بعد وہ جدہ چلا گیا۔ تقریباً 2 سال جدہ ت یوسف علی نے لاہور کینٹ میں ڈیفنس واقع بیت الرضا مسجد میں اپنے مخصوص پاکستان کے کئی مختلف شہروں میں کئی امیر ہوئے کہا ہے کہ محمد ﷺ کی پہلی شکل آدم اور خانہ کے قریب واقع بیت الرضا مسجد میں میں ایک خفیہ اجلاس بنام ورلڈ اسمبلی منعقد کرے یوسف علی کے خاص معتقدین اور ین اور گلشن اقبال کے بھی بعض لوگ شامل ف علی ہی وہ ذات ہے جو اللہ اور محمد ﷺ ہے حاضرین پر انکشاف کیا کہ اس محفل میں تک کہ یوسف علی نے ڈیفنس کراچی سے ر ہوئے کہا کہ یہ صحابی ہے۔ نگاہ میں خود کو مرشد کامل مرد کامل، امام ا نائب وسفیر بنا کر پیش کیا لیکن پچھلے رہا کہ وہ خود ہی نبی ہے۔ اس کا طریقہ لف تقریروں میں نبی ﷺ کے دیدار اور انفرادی طور پر چھان پھٹک کرتا جب خوشخبری دیتا کہ ہم فلاں دن تمہیں ایک
باب سوم : سچے عاشقان رسول کے واقعات
تحفہ دیں گے اور تم بھی ہمیں کوئی تحفہ دینا۔
اس کے بعد مقررہ دن وہ اپنے خاص معتقد کے سامنے یہ انکشاف کرتا کہ دراصل وہی نبی اور رسول اللہ ہے۔ اس تحفے کو یوسف علی کے مقربین کے حلقے میں حقیقت پانا کہتے ہیں۔ اس عمل کے بعد معتقد جوابی تحفہ دینے کا پابند ہوتا لیکن معتقد کی طرف سے یہ تحفہ صرف بھاری رقم کی صورت میں وصول کیا جاتا۔
پچھلے چند برسوں میں وہ صرف کراچی میں واقع ڈیفنس سوسائٹی کے بعض مخصوص مریدوں سے کروڑوں روپے اینٹھ چکا۔ اس سلسلے میں سب سے بھیانک پہلو یہ ہے کہ نبوت کا جھوٹا مدعی یوسف علی نہایت گھناؤنی اخلاقی حرکتوں میں ملوث رہا وہ خواتین کو آزاد جنسی تعلقات کی ترغیب دینے کے علاوہ مریدوں کی بہنوں، بیٹیوں سمیت کئی نوجوان لڑکیوں سے قابل اعتراض تعلقات رکھتا رہا۔ وہ ان نوجوان لڑکیوں کو مختلف عملیات کے ذریعے قابو میں رکھتا رہا اور انہیں نہایت بھیانک اخلاقی حرکتوں پر اکساتا رہا۔
اسی حوالے سے اس کے متاثرین میں ڈیفنس اور گلشن اقبال کراچی کی کئی خواتین شامل ہیں۔ معتبر ذرائع کے مطابق لڑکیوں کے ساتھ اس جذباتی بلیک میلنگ سے اس وقت کئی گھر تباہ ہو چکے ہیں۔ یوسف کذاب کی ان گھناؤنی حرکات کا علم جب راقم الحروف (محمد اسماعیل شجاع آبادی) کو ہوا۔ اور اس کی وڈیو اور آڈیو کیسٹیں مہیا کی گئیں تو راقم الحروف نے روزنامہ خبریں لاہور کے چیف رپورٹر اس وقت دنیا نیوز لاہور کے انچارج میاں غفار احمد، علامہ محمد ممتاز اعوان، میاں اویس اور دیگر رفقاء کی معیت میں ایس ایس پی لاہور کو درخواست دی کہ جھوٹے مدعی نبوت اور گستاخ رسول کے خلاف کیس رجسٹرڈ کیا جائے۔ P.D.S.P کی تحریری رائے آنے کے بعد مذکور کے خلاف مختلف دفعات کے کیس رجسٹرڈ ہوا۔ لاہور کے سیشن جج نے کئی ماہ تک کیس کی سماعت کی ۔ علامہ ممتاز اعوان، میاں اویس احمد، میاں غفار احمد، ڈاکٹر محمد اسلم، ابوبکر محمد علی، رانا محمد اکرم ودیگر کی شہادتوں کے بعد میاں جہانگیر مرحوم نے ملعون کو سزائے موت سنائی۔ مردود سزا کاٹ رہا تھا کہ جیل میں مردار ہوا۔
باب سوم: سچے عاشقان رسول کے واقعات
گستاخ رسول یوسف کذاب کی ذلت آمیز موت
تاریخ عالم اس بات کی شاہد ہے کہ ہر مدعی نبوت اور گستاخ رسول کا آخری انجام بہت بھیانک ہوا ہے تا کہ دوسرے لوگ اس سے عبرت حاصل کریں۔ یہ حقیقت ہے کہ شان رسالت میں گستاخی ایک ایسا بھیانک، گھناؤنا اور قبیح فعل ہے جسے غیرت اسلامی اور حمیت مسلمانی نے کبھی بھی برداشت نہیں کیا اس کا شرعی حل یہی ہے کہ گستاخی کرنے والی زبان نہ رہے یا سننے والے کان نہ رہیں۔ گستاخی تحریر کرنے والے ہاتھ نہ رہیں یا پڑھنے والی زبان نہ رہے۔
گستاخ رسول یوسف کذاب ملعون جس کے بڑے بڑے دعوے تھے بڑا گروہ تھا۔ جس کی جرنیلوں تک رسائی تھی جس کے لئے وزرا بھی اپنا بھر پور کردار ادا کرتے رہے کہ کسی طرح یہ گستاخ رسول بچ جائے مگر شاید ان کو شان رسالت میں گستاخی کرنے والوں کی تاریخیں یاد نہیں تھیں۔ وہ تاریخ سے نابلد تھے یا ان کی عقل پر پردے پڑ گئے تھے مگر سابقہ گستاخوں کی طرح یوسف کذاب کا بھی آخر کار انجام بد آ پہنچا۔
۱۲ جون ۲۰۰۲ء کو اخبارات میں شہ سرخیوں کے ساتھ یہ خبر شائع ہوئی کہ توہین رسالت کے جرم میں سزائے موت کے قیدی یوسف کذاب کوٹ لکھپت جیل میں اپنے انجام کو پہنچا اور یہ ایک نئی تاریخ رقم ہوئی کہ گستاخ رسول جس طرح بیت اللہ میں محفوظ نہیں اسی طرح وہ جیل کی کال کوٹھڑی میں بھی محفوظ نہیں۔ چنانچہ جیل کے ایک سیل سے دوسرے سیل کی طرف جب اسے منتقل کیا جانے لگا تو سزائے موت کے ایک قیدی محمد طارق نے فائر مار کر اسے جہنم رسید کر دیا۔ جیل سے پہنچنے والی خبروں کے مطابق محمد طارق کو کسی طرح معلوم ہو گیا کہ کذاب کو جیل سے نکال کر بیرون ملک فرار کرانے کی سازشیں ہو رہی ہیں۔ تو اس نے اپنے ذرائع سے کسی نہ کسی طرح اسلحہ حاصل کیا اور اسے جہنم رسید کر دیا۔
اللہ تبارک و تعالیٰ نے گستاخ رسول کی موت کی حالت اور موت کی جو جگہ مقرر کی ہوئی تھی اس جگہ جب وہ گھڑی آ پہنچی تو تمام حفاظتی انتظامات مفلوج ہو گئے اس گستاخ رسول کو اس کا وہم و گمان بھی نہ تھا کہ میرا ایسا حشر ہو سکتا ہے؟ یوسف کذاب کو ذلت آمیز و عبرت ناک
سچے عاشقان رسول کے واقعات باب سوم :
موت نے آلیا اور ذلت کی موت کے بعد بھی ذلت ہی اس کا مقدر بنی۔
یوسف کذاب کی نعش دھوکہ سے مسلمانوں کی قبرستان میں دفن کرنا
اخبارات کے مطابق اسے دفن کرنے کے سلسلہ میں پہلی خبر یہ آئی کہ اس کو جڑانوالہ میں دفن کر دیا گیا۔ پھر دوسری خبر آئی کہ اسے راولپنڈی میں دفن کر دیا گیا مگر جس شخص نے ساری زندگی لوگوں کو دھوکہ دینے میں گزاری ہو اس نے موت کے بعد بھی لوگوں کو دھوکہ دیا کیونکہ یہ سب خبریں دھوکہ تھیں اس کے ملعون مریدوں نے بھی وہی کام کیا جو ملعون اپنی زندگی میں کیا کرتا تھا۔ چنانچہ ۱۷ جون ۲۰۰۲ء کو اخبارات میں یہ خبر شائع ہوئی کہ یوسف کذاب کو خاموشی کے ساتھ اسلام آباد میں دفن کر دیا گیا ہے اس کے مریدوں نے کفن دفن میں بڑی عجلت کی اور اس کی قبر بھی دھوکہ سے ایسی بنائی گئی کہ یہ معلوم ہو کہ یہ کسی عام آدمی کی قبر ہے اور قبرستان انتظامیہ کے ساتھ بھی دھوکہ کیا گیا مگر جس طرح اس کی زندگی میں اس کا کوئی دھوکہ اس کے کام نہ آسکا ایسے ہی مرنے کے بعد اس کے دھوکے بھی اس کے کام نہ آسکے۔
اس خبر کے بعد مسلمانوں میں اضطراب پھیل گیا خصوصاً عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت اسلام آباد اور راولپنڈی کے ذمہ دار حضرات اور عہدیداران نے فوراً اسلام آباد میں ایک ہنگامی اجلاس طلب کیا جس میں اس پورے واقعہ پر تفصیلی غور کیا گیا اور یہ فیصلہ کیا گیا کہ قبرستان انتظامیہ سے رابطہ قائم کر کے اس واقعہ کی پوری تحقیق کی جائے۔ چنانچہ علماء کرام کے ایک وفد نے قبرستان انتظامیہ کے افسر حافظ محمد اکرام صاحب سے ملاقات کی۔
وفد میں قاری عبدالوحید قاسمی، مولانا میاں محمد نقشبندی، شیخ الحدیث مولانا عبدالرؤف اور مولانا عبدالرزاق حیدری شامل تھے۔ تحقیقات سے یہ واضح ہو گیا کہ یہ خبر صحیح ہے کہ یوسف کذاب کو اسلام آباد کے مسلمانوں کے قبرستان میں دھوکہ اور غلط بیانی سے دفن کر دیا گیا ہے۔
مسلمانوں کے قبرستان سے یوسف کذاب کی نعش کا اخراج
اس کے بعد عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت اسلام آباد کے سیکرٹری جنرل قاری عبدالوحید
باب سوم : سچے عاشقان رسول کے واقعات
قاسمی مبلغین مولانا مفتی محمودالحسن اور مولانا مفتی خالد میر نے علمائے اسلام آباد کی طرف سے ۱۸؍ جون ۲۰۰۲ء ایک پریس کانفرنس میں اعلان کیا کہ ہم حکومت اور اسلام آباد انتظامیہ سے مطالبہ کرتے ہیں کہ یوسف کذاب کی نعش کو مسلمانوں کے قبرستان سے نکال کر غیر مسلموں کے قبرستان میں دفن کیا جائے ورنہ حالات کی ذمہ داری انتظامیہ اور یوسف کذاب کے مریدوں پر ہوگی۔
اس کے بعد قبرستان انتظامیہ نے اخبارات میں بیان دیا کہ یوسف کذاب کو مسلمانوں کے قبرستان میں دفن کرنے کی اجازت لاعلمی میں دی گئی ہے اگر اس کا پتہ چل جاتا تو کبھی بھی اس کی اجازت نہ دی جاتی اور یوسف کذاب کے ورثاء سے کہہ دیا گیا ہے کہ اس کی نعش کو لے جائیں۔ مگر یوسف کذاب کے مریدوں نے کہا کہ یوسف کذاب کو مسلمان قرار دیا گیا ہے کہ ان کے پاس مولانا عبدالستار نیازی، مفتی غلام سرور قادری اور دوسرے علماء کے فتوے ہیں یہ فتوے انہوں نے قبرستان کی انتظامیہ اور بعض اخبارات والوں کو دیئے اور اس طرح انہیں ایک مرتبہ پھر دھوکہ دینے کی کوشش کی اور ساتھ اخبارات میں بیان دیا کہ اگر یوسف کذاب کی نعش نکالی گئی تو ہم شریعت کورٹ میں جائیں گے اور اگر زبردستی نکالی گئی تو ملک میں بدامنی پھیلے گی اور پورے ملک میں آگ لگ جائے گی کیونکہ یوسف کذاب کے مرید کافی تعداد میں پورے ملک میں موجود ہیں یوسف کذاب کے مریدوں نے انتظامیہ اور اخبارات کے ذریعہ مسلمانوں کو دھمکیاں دے کر مرعوب کرنے کی کوشش کی مگر سابقہ دھوکوں کی طرح اس دھوکہ میں بھی وہ کامیاب نہیں ہوسکے ان کو معلوم نہ تھا کہ اسلام آباد میں محمد عربی ﷺ کے غلام ابھی زندہ ہیں۔
علماء کرام نے یوسف کذاب کے ان مریدوں کی طرف سے اس قسم کی دھمکیوں اور انتظامیہ کی طرف سے پیش رفت نہ ہونے پر دوبارہ ایک ہنگامی اجلاس شہید اسلام مسجد (لال مسجد) میں طلب کیا اور فیصلہ کیا اب انتظامیہ سے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی طرف سے کوئی ملاقات نہ کی جائے اور ایک درخواست لکھ کر اس کو متعلقہ حکام کو فیکس کیا جائے۔ اس درخواست پر گیارہ علماء کرام کے دستخط کروا کر اسے وزیر داخلہ، آئی جی پولیس اسلام آباد، چیف کمشنر اسلام
باب سوم :
آباد، ڈی سی اسلام آباد اور دوسرے دوسرے دن اخبارات میں مطالبات شائع کر دیئے اس لئے علماء کرام اور عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت اس مسئلہ پر اظہار خیال کریں جن اس فورم کے ذریعہ شرع اور قانونی اعتبار سے مسلمان غیر مسلم افراد کا قبرستان موجود ہے نعش کو مسلمانوں کے قبرستان سے کا بھی مسئلہ ہے۔ اس کے بعد ا کر دی۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کوشش کی۔ آخر کار انتظامیہ کی نکالنے کا فیصلہ کر لیا ہے اور علماء
بالآخر پولیس اور انت نے رات ۱۲ بج کر ۴۵ منٹ پر ی اور ایک بج کر ۲ منٹ پر نعش کو قبرستان میں اتنی بدبو اور تعفن تھا نا قابل برداشت تعفن کی وجہ سے معروف اور نام نہاد سکالر زیڈ چیلوں میں رہا ہے اور کیس کی ساتھ کورٹ میں آتا رہا ہے م
باب سوم : سچے عاشقان رسول کے واقعات
آباد، ڈی سی اسلام آباد اور دوسرے حکام بالا اور اخبارات کو فیکس کیا گیا۔
دوسرے دن اخبار اساس نے اس درخواست اور علماء کی پریس کانفرنس اور ان کے مطالبات شائع کر دیئے اس سے اگلے روز روزنامہ اساس نے راولپنڈی اسلام آباد کے جید علماء کرام اور عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت راولپنڈی و اسلام آباد کے ذمہ داروں کو دعوت دی کہ وہ اس مسئلہ پر اظہار خیال کریں جس کے لئے اساس فورم کا انتظام کیا گیا۔
اس فورم کے ذریعہ تمام علمائے کرام نے کھل کر اس مسئلہ پر اظہار خیال کیا اور کہا کہ شرع اور قانونی اعتبار سے مسلمانوں کے قبرستان میں غیر مسلم دفن نہیں کیا جاسکتا اسلام آباد میں غیر مسلم افراد کا قبرستان موجود ہے۔ لہٰذا شرعاً و قانوناً ہر صورت میں انتظامیہ یوسف کذاب کی نعش کو مسلمانوں کے قبرستان سے نکالنے کے انتظامات کرائے اور یہ اسلام آباد کے امن وامان کا بھی مسئلہ ہے۔ اس کے بعد انتظامیہ نے یوسف کذاب کی قبر پر پہرہ لگا دیا اور پولیس متعین کردی۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت اسلام آباد و راولپنڈی نے اپنا دباؤ بڑھانے کے لئے بھرپور کوشش کی۔ آخر کار انتظامیہ کی طرف سے اعلان ہوا کہ انتظامیہ نے یوسف کذاب کی نعش نکالنے کا فیصلہ کرلیا ہے اور علماء سے مشورہ ہو گیا ہے۔
پہنچی وہیں پہ خاک ، جہاں کا خمیر تھا
بالآخر پولیس اور اسلام آباد انتظامیہ کے پہرے میں یوسف کذاب کے مریدوں نے رات ۱۲ بج کر ۳۵ منٹ پر یوسف کذاب کی قبر نمبر ۱۵۴ پلاٹ نمبر ۱۰۶ کو اکھاڑنا شروع کر دیا اور ایک بج کر ۲ منٹ پر نعش کو باہر نکالا اور اسے ایمبولینس میں لے جایا گیا۔ اس وقت پورے قبرستان میں اتنی بدبو اور تعفن پھیل گیا کہ دو گورکن بے ہوش ہو گئے جب کہ انتظامیہ کے اہلکار نا قابل برداشت تعفن کی وجہ سے موقع سے دور جانے پر مجبور ہو گئے۔ اس کی بدبو دار لاش کو معروف اور نام نہاد سکالر زید حامد کے بھائی شاہد حامد نے وصول کیا۔ زید حامد کذاب کے چیلوں میں رہا ہے اور کیس کی سماعت کے دوران وہ مسلسل زید زمان کے نام سے کذاب کے ساتھ کورٹ میں آتا رہا ہے۔ کذاب نے اپنی بیت الرضاء کی تقریر میں زید زمان کو صحابی رسول
باب سوم : سچے عاشقان رسول کے واقعات
قرار دیا تھا۔ اور آج بھی اس کی ہمدردیاں کذاب کے ساتھ ہیں۔ اور وہ کذاب کو کذاب نہیں بلکہ ولی اللہ قرار دیتا رہا ہے۔ اس فتنہ کی نشاندہی شہید ختم نبوت مولانا سعید احمد جلالپوریؒ نے ”رہبر کے روپ میں رہزن“ لکھ کر کی جس پر موصوف چیں بجبیں ہوئے اور مولانا جلالپوریؒ کو قتل کی دھمکیاں دینی شروع کردیں۔ اور تا آنکہ مولانا کو فرزند اور ڈرائیور سمیت شہید کر دیا گیا۔
یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ یوسف کذاب کی نعش کو جن راستوں سے لے جا کر دوسری جگہ منتقل کیا گیا ان عام راستوں میں بدبو اور تعفن پھیلتا چلا گیا۔ آخرکار قادیانیوں کے قبرستان ایچ نائن میں جہاں پہلے ہی سے یوسف کذاب کے لئے قبر تیار تھی وہاں اسے حوالہ زمین کر دیا گیا اس نئی قبر پر بھی یوسف کذاب کے چیلوں کی درخواست پر پہرہ لگا دیا گیا۔
یوسف کذاب کی قبر میں شدید بدبو اور تعفن
مسلمانوں کے قبرستان میں جس قبر میں اس ملعون کذاب کو دفن کیا گیا تھا اور جہاں سے اس کی نعش کو نکالا گیا علماء نے قبرستان کی انتظامیہ سے کہا کہ یہ عذاب شدہ جگہ ہے اسلئے اس کو مٹی ڈال کر بھر دیا جائے اور آئندہ کسی مسلمان کو اس جگہ دفن نہ کیا جائے بعد میں قبرستان انتظامیہ کے ذمہ داروں نے بتایا کہ پہلے تو ہم نے اس قبر کو مٹی ڈال کر بند کر دیا مگر ایک لاوارث نعش کی تدفین کے لئے ہم نے چاہا کہ اس کو اسی جگہ دفن کر دیا جائے مگر جب ہم نے اس کذاب والی قبر سے مٹی ہٹائی تو اتنی بدبو اور تعفن تھا کہ آخرکار ہم نے مجبوراً اس کو واپس اسی طرح بند کر دیا اور لاوارث نعش کو دوسری جگہ دفن کر دیا۔
ظاہر ہے کہ یہ ایسی جگہ تھی جس میں گستاخ رسول پر اللہ کا عذاب نازل ہوا تھا۔ اس عذاب کے اثرات ابھی تک موجود تھے۔ اس پورے واقعہ سے جہاں اس گستاخ رسول یوسف کذاب کی موت سے ایک باب بند ہوا ہے وہاں غلامان محمد عربی ﷺ کے ایمان مضبوط ہوئے ہیں۔ اس گستاخ رسول کی ذلت آمیز موت جہاں دوسرے گستاخان رسول اور دشمنان رسالت کے لئے سامان عبرت ہے وہاں ہر مسلمان کے لئے تنبیہ ہے کہ اسے آپ ﷺ کی ختم نبوت وناموس کے لئے عملاً میدان عمل میں کود جانا چاہئے۔
باب چہارم:
قانون رسالت پر اعتراضات کا جائزہ
- ☆ ...... قانون انسداد توہین رسالت کیا اور کب سے ہے۔
- ☆ ...... قانون توہین رسالت پر اشکالات اور جوابات
- ☆ ...... 295-C تین بڑے اشکالات
- ☆ ...... قانون ناموس رسالت حقائق اور پروپیگنڈہ
- ☆ ...... مسیحیوں کے اعتراضات کا جائزہ
- ☆ ...... مغرب کے اعتراضات
- ☆ ...... باخدا دیوانہ باش و با محمد ہوشیار
- ☆ ...... شان اقدس میں گستاخی جرم عظیم
باب چهارم :
قانون
کیا
"عام طور پر ملحدین اور تاثر دینے کی کوشش کر محمد ضیاء الحق مرحوم ) ک رئیس التحریر مولانا محمد امج قرآن کریم میں ار "ان الذين يؤذون ا لهم عذابا مهينا ." ﴿جو لوگ ستاتے آخرت میں، اور تیار رکھا ہے تفسیر ابن عباس (والآخرة ) في النار اس آیت کے ذ مسئلے کا عنوان لگا کر لکھتے ہیں "رسول اللہ ﷺ صراحتاً یا کنایتاً یا اشارةً یا بغضا دونوں جہان میں اللہ کی لعنت ابن ہمام نے لکھ
باب چهارم : قانون ناموس رسالت پر اعتراضات کا جائزہ
قانون انسداد توہین رسالت ﷺ
کیا اور کب سے ھے؟
”عام طور پر ملحدین اور بین الاقوامی کفر کے ڈالروں پر پلنے والی این۔جی۔اوز یہ تاثر دینے کی کوشش کرتی ہیں۔ کہ قانون انسداد توہین رسالت ایک ڈکٹیٹر (جنرل محمد ضیاء الحق مرحوم) کا بنایا ہوا کالا قانون ہے۔ ہفت روزہ ختم نبوت کراچی کے رئیس التحریر مولانا محمد اعجاز مصطفیٰ اس قانون کا جائزہ لیتے ہوئے لکھتے ہیں ۔“
قرآن کریم میں ارشاد باری تعالیٰ ہے کہ:
”ان الذين يؤذون الله ورسوله لعنهم الله فى الدنيا والآخرة وأعد لهم عذابا مهينا.“
(الأحزاب : ۵۷)
﴿جو لوگ ستاتے ہیں اللہ کو اور اس کے رسول کو، ان کو پھٹکارا اللہ نے دنیا میں اور آخرت میں، اور تیار رکھا ہے ان کے واسطے ذلت کا عذاب۔﴾
تفسیر ابن عباسؓ میں ہے کہ: ”عذبهم الله (فى الدنيا) بالقتل ................. (والآخرة) فى النار “ یعنی گستاخ رسول کی سزا دنیا میں قتل اور آخرت میں جہنم ہے۔
اس آیت کے ذیل میں حضرت علامہ قاضی محمد ثناء اللہ پانی پتیؒ تفسیر مظہری میں مسئلے کا عنوان لگا کر لکھتے ہیں کہ:
”رسول اللہ ﷺ کی شخصیت، دین، نسب یا حضور کی کسی صفت پر طعن کرنا اور صراحتاً یا کنایتاً یا اشارتاً یا بطور تعریض آپ پر نکتہ چینی کرنا اور عیب نکالنا کفر ہے۔ ایسے شخص پر دونوں جہان میں اللہ کی لعنت، دنیوی سزا سے اس کو توبہ بھی نہیں بچا سکتی۔“
ابن ہمام نے لکھا ہے کہ: ”جو شخص رسول اللہ ﷺ سے دل میں نفرت کرے۔ وہ
باب چهارم قانون ناموس رسالت پر اعتراضات کا جائزہ
مرتد ہو جائے گا۔ برا کہنا تو بدرجہ اولیٰ مرتد بنا دیتا ہے۔ اگر اس کے بعد توبہ بھی کرلے تو قتل کی سزا ساقط نہیں ہو سکتی۔“
اہل فقہ نے لکھا ہے کہ : ”یہ قول علمائے کوفہ (امام ابو حنیفہ، صاحبین وغیرہ) اور امام مالک کا ہے۔“ ایک روایت میں ہے کہ : ”حضرت ابو بکر کا بھی یہی فتویٰ منقول ہے۔“
یہ سزا بہر حال دی جائے گی خواہ وہ اپنے قصور کا اقرار کر لے اور تائب ہو کر آئے یا منکرِ جرم ہو اور شہادت سے ثبوت ہو جائے۔ دوسرے موجبات کفر کا اگر انکار کر دے خواہ شہادت ثبوت موجود ہو تو انکار معتبر ہوگا۔ علماء نے یہاں تک کہا ہے کہ نشے کی حالت میں بھی اگر رسول اللہ ﷺ کو برا کہنے کے جرم کا ارتکاب کیا ہو۔ تب بھی اس کو معاف نہیں کیا جائے گا۔ ضرور قتل کیا جائے گا۔ ہاں نشے کی حالت کے لئے یہ شرط ضروری ہے کہ اس نے خود اپنے اختیار سے بغیر جبر واکراہ کے ممنوع طریقے سے نشہ آور چیز کھائی، پی ہو۔ اگر ارتکاب نشیات اپنے اختیار سے نہ کیا ہو تو ایسا مدہوش آدمی پاگل کے حکم میں ہے (اس کو سزا نہیں دی جائے گی)۔
خطابی نے لکھا ہے کہ : ”میں نہیں جانتا کہ ایسے شخص کے واجب القتل ہونے میں کسی نے اختلاف کیا ہو۔ ہاں! اگر اللہ کے معاملے میں کسی کا قتل واجب ہو جائے تو توبہ کرنے سے سزائے قتل ساقط ہو جاتی ہے۔ اسی طرح کوئی مست نشے میں مدہوش آدمی رسول اللہ ﷺ کی شان میں گستاخی کرنے کے علاوہ کوئی اور کلمہ کفر زبان سے نکال دے تو خواہ اس نے باختیار خود بغیر اکراہ کے ممنوع طریقے سے نشہ کیا ہو۔ پھر بھی اس کو مرتد نہیں قرار دیا جائے گا۔“
سنن ابی داؤد میں ہے:
- (۱)...... "عن على ان يهودية كانت تشتم النبى ﷺ وتقع فيه فخنقها
رجل حتى ماتت وأبطل رسول الله ﷺ دمها. (ابوداؤد ج ۲ ص ۲۵۱)
حضرت علیؓ سے روایت ہے کہ ایک یہودی عورت حضور ﷺ کو برا بھلا کہتی تھی اور آپ ﷺ کی توہین و تنقیص کیا کرتی تھی۔ اس بات پر ایک شخص نے اس عورت کا گلا گھونٹ دیا۔ یہاں تک کہ وہ مرگئی۔ حضور ﷺ نے اس عورت کا خون رائیگاں قرار دیا۔“
- (۲)...... "عن أبى برزة قال: كنت عند أبى بكر فتغيظ على رجل
۱ تفسیر مظہری اردو ج ۹، ص ۲۲۹، ۲۳۰
باب چهارم :
فاشتد عليه فقلت: أتان فأذهبت كلمتى غضب آنفاً؟ قلت: ائذن لي، أ نعم! قال: لا والله! ما كان
حضرت ابو برزہ بیٹھا ہوا تھا۔ وہ ایک شخص پر غص اللہ کے خلیفہ! آپ مجھے اجاز بات کہنے سے ان کا غصہ جاتا ر اور فرمایا : تم نے ابھی کیا بات اس شخص کی گردن اڑا دوں ۔ شخص کی گردن واقعی اڑا د
حضرت صدیق اکبر نے فرمایا امام ابو یوسف ”ک
"وأيما رجل مس تنقصه فقد كفر بـ
جس مسلمان نے ر جھٹلایا، یا آپ ﷺ میں ہو گیا اور اس کا نکاح ٹو و نکاح کی تجدید ) کرے
علامہ شامی نے ” کتاب السيف المسلو "قال الامام خـ
باب چهارم : قانون ناموس رسالت پر اعتراضات کا جائزہ
فاشتد عليه فقلت: أتأذن لى يا خليفة رسول الله! أضرب عنقه؟ قال: فأذهبت كلمتى غضبه، فقام فدخل فأرسل الى، فقال: ما الذى قلت آنفاً؟ قلت: ائذن لى، أضرب عنقه! قال: كنت فاعلاً لو أمرتك؟ قلت: نعم! قال: لا والله! ما كانت لبشر بعد محمد صلى الله عليه وسلم۔"
(ابوداؤد، ج:۲، ص:٢٥١)
حضرت ابو برزہ اسلمیؓ سے روایت ہے کہ میں حضرت ابوبکر صدیقؓ کے پاس بیٹھا ہوا تھا۔ وہ ایک شخص پر غصہ ہوئے اور سخت ترین غصہ ہوئے۔ میں نے کہا: اے رسول اللہ کے خلیفہ! آپ مجھے اجازت عنایت فرمائیں کہ میں اس شخص کی گردن اڑا دوں۔ یہ بات کہنے سے ان کا غصہ جاتا رہا اور وہ کھڑے ہو کر اندر چلے گئے۔ پھر انہوں نے مجھے بلوایا اور فرمایا: تم نے ابھی کیا بات کہی تھی؟۔ میں نے عرض کیا: ”مجھے آپ اجازت دیں تو میں اس شخص کی گردن اڑا دوں۔“ حضرت صدیق اکبرؓ نے فرمایا: تمہیں اگر میں حکم دیتا تو تم اس شخص کی گردن واقعی اڑا دیتے؟۔ میں نے عرض کیا: بلاشبہ میں اس کی گردن اڑا دیتا۔ حضرت صدیق اکبرؓ نے فرمایا: آنحضرت ﷺ کے بعد یہ مقام کسی کو حاصل نہیں ہے۔“
امام ابو یوسفؒ ”کتاب الخراج“ میں لکھتے ہیں کہ:
"وأيما رجل مسلم سب رسول الله ﷺ أو كذبه أو عابه أو تنقصه فقد كفر بالله وبانت منه زوجته، فان تاب وإلا قتل۔
(کتاب الخراج ص١٩٧، ١٩٨)
جس مسلمان نے رسول اللہ ﷺ کی توہین کی یا آپ ﷺ کی کسی بات کو جھٹلایا، یا آپ ﷺ میں کوئی عیب نکالا یا آپ ﷺ کی تنقیص کی۔ وہ کافر و مرتد ہو گیا اور اس کا نکاح ٹوٹ گیا۔ پھر اگر وہ اپنے اس کفر سے توبہ ( کر کے اسلام و نکاح کی تجدید ) کر لے تو ٹھیک ۔ ورنہ اسے قتل کر دیا جائے۔“
علامہ شامیؒ نے ”تنبيه الولاة والحكام“ میں علامہ تقی الدین سبکیؒ کی کتاب ”السيف المسلول على من سب الرسول ﷺ“ سے نقل کرتے ہیں:
”قال الامام خاتمة المجتهدين ابو الحسن على بن عبدالكافي
باب چہارم : قانون ناموس رسالت پر اعتراضات کا جائزہ
السبكى رحمه الله فى كتابه السيف المسلول على من سب الرسول ﷺ، قال القاضى عياض: أجمعت الأمة على قتل منتقصة من المسلمين وسابه، قال أبوبكر ابن المنذر: أجمع عوام أهل العلم على أن من سب النبى ﷺ القتل وممن قال ذلك مالك بن أنس والليث وأحمد وإسحاق وهو مذهب الشافعى، قال عياض: وبمثله قال أبو حنيفة وأصحابه والثورى وأهل الكوفة والأوزاعى فى المسلم، وقال محمد بن سحنون: أجمع العلماء على أن شاتم النبى ﷺ والمنتقص له كافر والوعيد جار عليه بعذاب الله تعالى ومن شك فى كفره وعذابه كفر، وقال أبو سليمان الخطابى: لا أعلم أحدًا من المسلمين اختلف فى وجوب قتله اذا كان مسلما۔"
(رسائل ابن عابدین ج ۱ ص ٣١٦)
امام خاتمۃ المجتہدین تقی الدین ابی الحسن علی بن عبد الکافی السبکی اپنی کتاب ”السیف المسلول علیٰ من سب الرسول ﷺ“ میں لکھتے ہیں کہ قاضی عیاض فرماتے ہیں کہ امت کا اجماع ہے کہ مسلمانوں میں سے جو شخص آنحضرت ﷺ کی شان میں تنقیص کرے اور سب وشتم کرے۔ وہ واجب القتل ہے۔ ابو بکر ابن المنذر فرماتے ہیں کہ تمام اہل علم کا اس پر اجماع ہے کہ جو شخص حضور ﷺ کو سب وشتم کرے۔ اس کا قتل واجب ہے۔ امام مالک بن انس، امام لیث، امام احمد اور امام اسحاق اسی کے قائل ہیں۔ اور یہی مذہب ہے امام شافعی کا۔ قاضی عیاض فرماتے ہیں کہ اس طرح کا قول امام ابو حنیفہ اور ان کے اصحاب سے اور امام ثوری سے اور امام اوزاعی سے شاتم رسول کے بارے میں منقول ہے۔ امام محمد بن سحنون فرماتے ہیں کہ علماء نے نبی کریم ﷺ کو سب وشتم کرنے والے اور آپ ﷺ کی شان میں گستاخی کرنے والے کے کفر پر اجماع کیا ہے، اور ایسے شخص پر عذاب الٰہی کی وعید ہے۔ اور جو شخص ایسے موذی کے کفر و عذاب میں شک و شبہ کرے۔ وہ بھی کافر ہے۔ امام ابو سلیمان الخطابی فرماتے ہیں کہ مجھے کوئی ایسا مسلمان معلوم نہیں جس نے ایسے شخص کے واجب القتل ہونے میں اختلاف کیا ہو۔“
باب چہارم : قانون ناموس رسالت پر اعتراضات کا جائزہ
- ☆...... اور علامہ ابن عابدین شامیؒ لکھتے ہیں:
"فنفس المؤمن لا تشتفى من هذا الساب اللعين، الطاعن فى سيد الأولين والآخرين إلّا بقتله وصلبه بعد تعذيبه وضربه فان ذلك هو اللائق بحالة الزاجر لأمثاله عن سيء أفعاله۔"
(رسائل ابن عابدین، ج:۱، ص:۳۴۷)
”جو ملعون اور موذی آنحضرت ﷺ کی شان عالی میں گستاخی کرے اور سب وشتم کرے اس کے بارے میں مسلمانوں کے دل ٹھنڈے نہیں ہوتے جب تک کہ اس خبیث کو سخت سزا کے بعد قتل نہ کیا جائے یا سولی نہ لٹکایا جائے۔ کیونکہ وہ اسی سزا کا مستحق ہے۔ اور یہ سزا دوسروں کے لئے عبرت ہے۔“
خلاصہ یہ کہ قرآن وسنت اور اجماع امت سے ثابت ہے کہ حضور ﷺ اور تمام انبیائے کرام علیہم السلام کی گستاخی اور توہین وتنقیص ارادۃً ہو، یا بلا ارادہ موجب کفر اور موجب قتل ہے۔ متحدہ ہندوستان میں مسلمان، ہندو، سکھ، مجوسی اور پارسیوں کے علاوہ بہت سے مذاہب کے پیروکار رہتے تھے۔ ہر ایک کے اپنے اپنے معتقدات اور اپنے اپنے مقتداء وراہنما تھے۔ راجپال جیسے ازلی بد بخت مسلم دشمنی میں پیغمبر اسلام کے بارے میں گستاخی اور آپ کی عزت وحرمت پر ناپاک حملے کرتے تھے۔ تو ردعمل کے طور پر غازی علم الدین شہیدؒ جیسے سچے عاشق رسول انھیں کیفر کردار تک پہنچا دیتے تھے۔ ان حالات کو دیکھتے ہوئے انگریز کو ہر ایک کے مذہبی راہنماؤں کی عزت و ناموس کے تحفظ کے لئے قانون وضع کرنا پڑا۔ چنانچہ ۱۹۲۷ء میں تعزیرات ہند میں دفعہ ۲۹۵-الف ایزاد کی گئی جو مجموعہ تعزیرات پاکستان مطبوعہ یکم جولائی ۱۹۷۲ء میں درج ذیل الفاظ میں مذکور ہے:
”دفعہ ۲۹۵-الف جو کوئی شخص ارادۃً اور اس عداوتی نیت سے کہ پاکستان کے شہریوں کی کسی جماعت کے مذہبی احساسات کو بھڑکائے بذریعہ الفاظ زبانی یا تحریری اشکال محسوسہ میں ۔ اس جماعت کے معتقدات مذہبی کی توہین کرے یا توہین کرنے کا اقدام کرے۔ اس کو دونوں قسموں میں سے کسی قسم کی قید کی سزا دی جائے گی جس کی میعاد دو برس تک ہو سکتی ہے یا جرمانے کی سزا یا دونوں سزائیں دی جائیں گی۔“
باب چهارم : قانون ناموس رسالت پر اعتراضات کا جائزہ
چوہدری محمد شفیع باجوہ اس کی شرح میں لکھتے ہیں: ”یہ دفعہ ۱۹۲۷ء میں ایزاد کی گئی تاکہ اگر کسی مذہب کے بانی پر توہین آمیز حملہ کیا جائے تو ایسا کرنے والے کو سزا دی جاسکے۔ اس سے پہلے اس قسم کے اشخاص کے خلاف دفعہ ۱۵۳-الف استعمال ہوا کرتی تھی مگر ہائی کورٹ کے ایک فیصلے کی رو سے یہ طریقہ غلط قرار پایا۔ تقریر کرنے والے یا مضمون لکھنے والے ۔“
(شرح مجموعہ تعزیرات پاکستان ص ۱۲۱، ۱۲۲)
چونکہ توہین رسالت کے جرم کی یہ سزا بالکل ناکافی تھی۔ اس لئے جنرل محمد ضیاء الحق کے دور حکومت ۱۹۸۲ء میں تعزیرات پاکستان میں دفعہ ۲۹۵-سی کا اضافہ کیا گیا اور اس کے ذریعے اس جرم کی سزا سزائے موت یا عمر قید مع جرمانہ تجویز کی گئی۔ اس دفعہ کا متن حسب ذیل ہے:
295-سی نبی کریم ﷺ کی شان میں اہانت آمیز کلمات کا استعمال
”جو شخص الفاظ کے ذریعے خواہ زبان سے ادا کئے جائیں یا تحریر میں لائے گئے ہوں، یا دکھائی دینے والی تمثیل کے ذریعے یا بلا واسطہ یا بالواسطہ تہمت یا طعن یا چوٹ کے ذریعے نبی کریم حضرت محمد ﷺ کے مقدس نام کی بے حرمتی کرتا ہے۔ اس کو موت یا عمر قید کی سزا دی جائے گی اور وہ جرمانہ کا بھی مستوجب ہوگا۔“
جیسا کہ گزرا ہے کہ توہین رسالت کے جرم کی سزا قرآن وسنت اور اجماع امت کی روشنی میں سزائے موت ہے اور تعزیرات پاکستان کی دفعہ ۲۹۵-سی میں سزائے موت یا عمر قید تجویز کی گئی۔ اب بھی یہ دفعہ اسلامی قانون کے ہم آہنگ نہیں تھی۔ (وکیل ختم نبوت جناب محمد اسماعیل قریشی سینئر ایڈووکیٹ سپریم کورٹ نے ”فیڈرل شریعت کورٹ“ میں رٹ دائر کی کہ ”عمر قید“ غیر اسلامی ہے۔ لہٰذا یہ حصہ ختم کیا جائے۔ چنانچہ) وفاقی شرعی عدالت نے اکتوبر ۱۹۹۰ء میں اپنے ایک فیصلے میں حکومت کو ہدایت کی کہ ۳۰/ اپریل ۱۹۹۱ء تک اس قانون کی اصلاح کی جائے اور اس دفعہ میں ”یا عمر قید“ کے الفاظ حذف کر کے توہین رسالت کی سزا صرف موت مقرر کر دی جائے۔ اگر اس تاریخ تک اس قانون کی اصلاح نہ کی تو اس تاریخ کے بعد یہ الفاظ خود بخود کالعدم قرار پائیں گے اور صرف سزائے موت ملک کا قانون قرار پائے گا۔ حکومت نے روایتی سستی کا مظاہرہ کیا اور وہ تاریخ گزر گئی۔ اس لئے وفاقی شرعی عدالت کے فیصلے کے مطابق دفعہ ۲۹۵-سی میں ”یا عمر قید“ کے الفاظ کالعدم
قانون ناموس رسالت پر اعتراضات کا جائزہ
رح میں لکھتے ہیں : ”یہ دفعہ ۱۹۲۷ء میں ایزاد کی گئی یا جائے تو ایسا کرنے والے کو سزا دی جاسکے۔ اس عہ ۱۵۳-الف استعمال ہوا کرتی تھی مگر ہائی کورٹ تحریر کرنے والے یا مضمون لکھنے والے ۔“
(شرح مجموعہ تعزیرات پاکستان ص ۱۲۱، ۱۲۲)
بالکل ناکافی تھی۔ اس لئے جنرل محمد ضیاء الحق کے عہ ۲۹۵-سی کا اضافہ کیا گیا اور اس کے ذریعے اس گئی۔ اس دفعہ کا متن حسب ذیل ہے:
میں اہانت آمیز کلمات کا استعمال زبان سے ادا کئے جائیں یا تحریر میں لائے گئے بلاواسطہ یا بالواسطہ تہمت یا طعن یا چوٹ کے کی بے حرمتی کرتا ہے۔ اس کو موت یا عمر قید کی ہوگا۔“
کے جرم کی سزا قرآن وسنت اور اجماع امت اکستان کی دفعہ ۲۹۵-سی میں سزائے موت یا ون کے ہم آہنگ نہیں تھی۔ (وکیل ختم نبوت ورٹ نے ” فیڈرل شریعت کورٹ“ میں رٹ ختم کیا جائے۔ چنانچہ ) وفاقی شرعی عدالت ت کو ہدایت کی کہ ۳۰ اپریل ۱۹۹۱ء تک اس ”یا عمر قید“ کے الفاظ حذف کر کے توہین گر اس تاریخ تک اس قانون کی اصلاح نہ رار پائیں گے اور صرف سزائے موت ملک ستی کا مظاہرہ کیا اور وہ تاریخ گزر گئی۔ اس دفعہ ۲۹۵-سی میں ”یا عمر قید“ کے الفاظ کالعدم
باب چہارم : قانون ناموس رسالت پر اعتراضات کا جائزہ
قرار پائے اور قانون بن گیا کہ توہین رسالت کے جرم کی سزا صرف موت ہے۔ اس کے بعد قومی اسمبلی نے ۲/ جون ۱۹۹۲ء کو متفقہ قرارداد منظور کی کہ توہین رسالت کے مرتکب کو سزائے موت دی جائے۔ خبر کا متن حسب ذیل ہے:
- ☆....... اسلام آباد (نمائندہ جنگ) قومی اسمبلی نے منگل کے دن متفقہ قرارداد
منظور کی کہ توہین رسالت کے مرتکب کو پھانسی کی سزا دی جائے اور اس ضمن میں مجموعہ تعزیرات پاکستان کی دفعہ ۲۹۵ (ج) میں ترمیم کی جائے اور عمر قید کے لفظ حذف کر کے صرف پھانسی کا لفظ رہنے دیا جائے۔ یہ قرارداد آزاد رکن سردار محمد یوسف نے پیش کی اور کہا کہ ہر مسلمان کا عقیدہ ہے کہ توہین رسالت کے مرتکب شخص کو سزائے موت دی جائے۔ جبکہ قانون میں عمر قید اور پھانسی کی سزا متعین کی گئی ہے۔ مذہبی امور کے وفاقی وزیر مولانا عبدالستار خان نیازی نے بتایا کہ وزیر اعظم کی صدارت میں ایک اجلاس ہوا تھا۔ جس میں تمام مکتبہ فکر کے علماء نے شرکت کی تھی۔ اس اجلاس میں طے پایا تھا کہ توہین رسالت کے مرتکب کو کم تر سزا نہیں دینی چاہئے۔ اس کی سزا موت ہونی چاہئے۔ وفاقی وزیر پارلیمانی امور چوہدری امیر حسین نے کہا کہ حکومت اس قرارداد کی مخالفت نہیں کرتی۔ حکومت اس ضمن میں پہلے بھی قانون سازی کی تیاری کر رہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اس ضمن میں ایک ترمیمی بل سینیٹ میں پیش ہو چکا ہے۔“ ۱؎
- ☆....... ۸/ جولائی ۱۹۹۲ء کو سینیٹ نے توہین رسالت کے مجرم کو سزائے موت
کا ترمیمی بل منظور کیا: ”اسلام آباد (نمائندہ خصوصی) سینیٹ نے بدھ کو ایک بل کی منظوری دی جس کے تحت حضور نبی کریمؐ کے اسم مبارک کی بے حرمتی کی سزا موت ہوگی۔ فوجداری قانون میں تیسری ترمیم کا بل وفاقی شرعی عدالت کے حالیہ فیصلے کی روشنی میں منظور کیا گیا ہے۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا تھا کہ تعزیرات پاکستان دفعہ ۲۹۵-سی کے تحت حضور نبی کریمؐ کے اسم مبارک کی
۱؎ ۳ / جون ۱۹۹۲ء روزنامہ جنگ کراچی
باب چہارم : قانون ناموس رسالت پر اعتراضات کا جائزہ
بے حرمتی پر عمر قید کی سزا اسلامی احکامات کے منافی ہے۔ یہ بل جو قومی اسمبلی پہلے ہی منظور کر چکی ہے۔ سینیٹ میں وزیر قانون چوہدری عبدالغفور نے پیش کیا۔ انہوں نے بل کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ قانون میں شاتم رسول اور توہین رسالت کی سزا عمر قید یا سزائے موت ہے۔ وفاقی شرعی عدالت کے فیصلے کی روشنی میں حضور اکرم ﷺ کے اسم مبارک کی توہین کی سزا عمر قید کی بجائے سزائے موت تجویز کی گئی ہے۔ کیونکہ عدالت کے خیال میں ایسے ملزم کو صرف سزائے موت ہی دی جانی چاہئے۔ سینیٹر راجہ ظفر الحق نے اس موقع پر کہا کہ قانون کے بارے میں اسٹینڈنگ کمیٹی نے تجویز کیا ہے کہ ضابطہ فوجداری کی دفعہ ۲۹۵ کے تحت آنے والے جرم کی مزید تشریح کے لئے اسلامی نظریاتی کونسل سے رہنمائی حاصل کی جائے۔ قائد ایوان محمد علی خان نے کہا کہ رسول اکرم ﷺ کی حرمت اور شان رسالت کے بارے میں دو آراء نہیں۔ اس لئے اس بل کو مؤخر کرنے کا کوئی جواز نہیں، اور اگر اس کی منظوری جلد نہ کی گئی تو یہ بھی ایک جرم ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ توہین رسالت کا ملزم صرف سزائے موت کا ہی حق دار ہے۔ سینیٹر مولانا سمیع الحق، سینیٹر حافظ حسین احمد ، میاں عالم علی لعلیکا، سید اشتیاق اظہر نے بھی بل کی فوری منظوری پر زور دیا۔ سینیٹر راجہ ظفر الحق، عبدالرحیم مندوخیل اور جام کرار الدین نے توہین رسالت کی تشریح کے لئے اسلامی نظریاتی کونسل سے رجوع کرنے کا مشورہ دیا۔ وزیر قانون نے یقین دلایا کہ اس بارے میں اسلامی نظریاتی کونسل سے تشریح طلب کی جائے گی۔ ایوان نے متفقہ طور پر بل کی منظوری دے دی۔ میاں عالم علی لعلیکا، ڈاکٹر بشارت الٰہی ، سید اقبال حیدر نے کہا کہ قانون سازی ایوان کے ذریعے ہونی چاہئے ، اور آرڈی نینس کا اجرا نہیں ہونا چاہئے۔“
گویا پاکستان میں وفاقی شرعی عدالت کی ہدایت، قومی اسمبلی کی متفقہ قرارداد، سینیٹ کا اس قانون کو من وعن پاس کرنا اور پھر قومی اسمبلی میں بحث و تمحیص کے بعد توہین
باب چہارم :
رسالت کے مجرم کو سزائے م توہین رسالت گزرا ہے۔ او کا دعوے دار مغرب، جمہور اور اوّل روز سے ہی اس قان اللہ تبارک و تعالیٰ فرمائے اور سیاسی راہنماؤں وصلی اللہ تعالیٰ ع ☆
باب چهارم : قانون ناموس رسالت پر اعتراضات کا جائزہ
رسالت کے مجرم کو سزائے موت دینے کا فیصلہ کرتا۔ یہ سب وہ مراحل تھے جن سے قانون توہین رسالت گزرا ہے۔ اور اب اس ملک کا یہ قانون بن چکا ہے۔ حیرت ہے کہ جمہوریت کا دعوے دار مغرب ، جمہوری طریقے سے بننے والے اس قانون کو آج تک ہضم نہ کر سکا۔ اور اوّل روز سے ہی اس قانون کو ختم کرانے اور معطل کرانے کی کوششوں میں ہے۔
اللہ تبارک و تعالیٰ دین دشمنوں اور ملک دشمنوں سے ہمارے ملک وقوم کی حفاظت فرمائے اور سیاسی رہنماؤں کو اغیار کے ہاتھوں کھلونا بننے سے محفوظ فرمائے۔ (آمین)
وصلی الله تعالى علىٰ خیر خلقه محمد وآله واصحابه اجمعین!
☆☆☆☆☆......☆☆☆☆☆
باب چہارم : قانون ناموس رسالت پر اعتراضات کا جائزہ
قانون توہین رسالت پر اشکالات اور جوابات
☆...... قانون توہین رسالت پر لادین عناصر غیر ملکی پیسے پر پلنے والی این ۔ جی ۔ اوز عام طور پر جو اشکالات پیش کرتے ہیں اس قسم کے سوالنامے کے جواب میں مولانا محمد ازہر مدظلہ استاذ الحدیث جامعہ خیر المدارس ایڈیٹر ماہنامہ ”الخیر“ لکھتے ہیں۔
گزشتہ ماہ ننکانہ کی ایک عورت آسیہ مسیح کو ایڈیشنل سیشن جج جناب محمد نوید اقبال نے امام الانبیاء حضور خاتم النبیین ﷺ کی شانِ اقدس میں گستاخی کا جرم ثابت ہونے پر آئین کی شق C-295 کے تحت سزائے موت کا حکم سنایا۔ اس دفعہ کے تحت توہین رسالت کے مجرم کی سزا موت ہے۔ خواہ وہ مسلمان ہو یا غیر مسلم۔ اس عموم سے دشمنانِ اسلام کی یہ دروغ گوئی بھی بے نقاب ہو جاتی ہے کہ یہ امتیازی قانون ہے اور اس کا نشانہ صرف اقلیتیں بنتی ہیں۔ بہر حال جونہی اس فیصلہ کی خبر اخبارات میں شائع ہوئی۔ دشمنانِ اسلام نے اس فیصلہ پر چیخ و پکار شروع کر دی۔ اس ضمن میں انتہائی افسوسناک بلکہ شرمناک کردار گورنر پنجاب نے ادا کیا۔ جنہوں نے جیل میں جا کر آسیہ مسیح سے ملاقات کی۔ اس سے معافی کی درخواست لی اور اسے سزائے موت نہ ہونے کی یقین دہانی کرائی۔
اسی پس منظر میں جامعہ خیر المدارس کے مہتمم حضرت مولانا محمد حنیف جالندھری زید مجدہم کو ایک سوالنامہ موصول ہوا جس میں قانون توہین رسالت کے متعلق بعض اشکالات کے جواب مطلوب تھے۔ مولانا نے وہ سوالنامہ احقر کو بھجوا دیا۔ چونکہ سوالات عمومی نوعیت کے تھے اور عام مسلمانوں کو ان کے جوابات سے آگاہی ضروری تھی۔ اس لئے درج ذیل سطور میں اختصار کے ساتھ اُن کا جائزہ حاضر ہے:
باب چہارم : قانون ناموس رسالت پر اعتراضات کا جائزہ
سوال : ...... قانون توہین رسالت کب بنا اور برصغیر پاک و ہند میں اس کی تنقید کب ہوئی؟۔
جواب : ...... قیام پاکستان سے قبل انڈین پینل کوڈ میں 295-A ایک عام دفعہ تھی جس کے تحت مسجدوں، مندروں، گردواروں کے مذہبی احترام اور مذہبی کتابوں، تقریروں اور شخصیتوں کے خلاف اشتعال انگیز تحریروں اور تقریروں سے منع کیا گیا تھا اور خلاف ورزی کی سزا دو سال قید تھی۔ قیام پاکستان کے بعد اس دفعہ میں ایک ترمیم کی گئی۔ یہ ترمیم پاکستان کے پرچم کے بارے میں تھی۔ 295-B کے تحت پاکستانی پرچم کی توہین بھی جرم قرار دی گئی۔
1980ء میں 298-A کے تحت امہات المومنین، اہل بیت، خلفاء راشدین اور اصحاب رسول ﷺ کی بے ادبی یا توہین کرنے کی سزا تین سال قید مقرر کی گئی۔ گو یہ سوال خود بخود پیدا ہوا کہ اگر اصحاب رسول اور اہل بیت کی بے ادبی پر سزا ہے تو اس مقدس ذات ﷺ کی بے ادبی پر بھی سزا ہونی چاہیے۔ جن کی نسبت سے شرف صحابیت وعترت حاصل ہوتا ہے۔ جس پر سپریم کورٹ کے ایڈووکیٹ جناب محمد اسماعیل قریشی نے شریعت کورٹ میں ایک Petition دائر کی۔ ابھی اس پٹیشن پر فیصلہ نہیں ہوا تھا کہ حال ہی میں سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کی صدر بننے والی عاصمہ جہانگیر نے شان رسالت مآب ﷺ کے بارے میں نازیبا اور گستاخانہ الفاظ استعمال کئے۔ اس نے کہا تھا کہ اس ترقی یافتہ دور میں مسلمان ایک ”اُمّی“ کی امت ہونے پر فخر کرتے ہیں اور اُمی کا مطلب اس نے (Unletterd) لیا تھا۔ نقل کفر کفر نباشد۔ جو قرآن وسنت اور تاریخی حقائق کے بالکل برعکس ہے۔ اس لئے کہ امت کے اجماعی عقیدے کے مطابق اس کا مطلب یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے دنیا میں کسی انسان وغیرہ سے کسب فیض نہیں کیا۔ بلکہ اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کو ”علم لَدُنّی“ سے سرفراز فرمایا۔
عاصمہ جہانگیر کی اس گستاخی کے خلاف مولانا معین الدین لکھوی، مولانا وصی مظہر ندوی، شاہ بلیغ الدین، جناب لیاقت بلوچ، محترمہ بیگم نثار فاطمہ و دیگر ارکان اسمبلی نے تحریک پیش کی۔ اس موقع پر محرکین اور دیگر ارکان اسمبلی نے ایسی مدلل اور ایمان افروز
باب چہارم : قانون ناموس رسالت پر اعتراضات کا جائزہ
تقاریر کیں کہ اسمبلی کے اس سیشن میں پورے ایوان نے متفقہ طور پر دفعہ 295 میں ایک خصوصی شق کے اضافے کو ضروری قرار دیا۔ اس وقت کے اقلیتوں کے پارلیمانی لیڈر کرنل ہر برٹ نے اپنی پوری جماعت کے ساتھ خصوصی ذیلی دفعہ شامل کرنے کی بھر پور تائید کی۔ یہ دفعہ C-295 کہلائی جس کا متن یہ تھا: ”جو کوئی بھی عملاً ، زبانی ، یا تحریری طور پر ، یا بطور طعنہ زنی یا بہتان تراشی بالواسطہ یا بلا واسطہ اشارۃ یا کنایۃ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی توہین یا تنقیص یا بے حرمتی کرے۔ وہ سزائے موت یا سزائے عمر قید کا مستوجب ہوگا اور اسے سزائے جرمانہ بھی دی جا سکتی ہے“۔
اسی شق میں توہین رسالت کے مجرم کے لئے عمر قید کی سزا قرآن وسنت کے منافی تھی۔ چنانچہ فیڈرل شریعت کورٹ نے 30 اکتوبر 1990ء کو C-295 میں ترمیم کر کے عمر قید کے الفاظ حذف کر دیئے۔ جو قانون ”انسداد توہین رسالت“ اس وقت پاکستان میں رائج ہے۔ وہ درحقیقت فیڈرل شریعت کورٹ کے اسی فیصلے اور ترمیم کے بعد نافذ کیا گیا ہے۔
آئین میں C-295 کا اضافہ 1980ء میں پارلیمنٹ اور سینٹ کے اجلاس نے متفقہ طور پر کیا گیا اس میں ایک ضروری ترمیم وفاقی شرعی عدالت نے تجویز کی۔ ایسے متفقہ قانون کو یہ کہہ کر مسترد کرنا کہ یہ ایک فوجی آمر کے دور میں پارلیمنٹ نے بنایا تھا۔ لہٰذا قابل قبول نہیں۔ دستور پاکستان کے ساتھ ایک مذاق کے مترادف ہے۔
سوال: ...... کیا توہین رسالت پر موت کی سزا قرآن کریم سے ثابت ہے اور کیا ہر سزا کا قرآن کریم سے ثابت ہونا ضروری ہے؟۔
جواب: ...... شریعت مطہرہ (یا اسلامی قانون) کتاب وسنت اجماع امت اور قیاس شرعی کے مجموعے کا نام ہے۔ شریعت کا کوئی حکم جب ان مآخذ میں کسی ایک سے ثابت ہو تو وہ (درجات کے تفاوت کے ساتھ ) شریعت ہی کا مسئلہ سمجھا جاتا ہے۔ اس اصول کے مطابق ہر جرم کی سزا کا قرآن کریم سے ثابت ہونا ضروری نہیں۔ تاہم توہین رسالت کی سزا کو قرآن کریم میں واضح الفاظ میں بیان کیا گیا ہے۔
انما جزآؤ الذين يحاربون الله و رسوله ويسعون فی الارض فساداً ان يقتلوا او يصلبوا او تقطع ايديهم وارجلهم من خلاف او ينفوا
باب چهارم : قانون ناموس رسالت پر اعتراضات کا جائزہ
من الارض ذلك لهم خزى فى الدنيا ولهم فى الآخرة عذاب عظيم.
(المائده، ۵ / ۳۳)
جو لوگ اللہ سے اور اس کے رسول ﷺ سے لڑتے ہیں اور زمین میں فساد پھیلانے کے لئے تگ و دو کرتے ہیں۔ ان کی سزا یہ ہے کہ قتل کئے جائیں یا سولی پر چڑھائے جائیں یا ان کے ہاتھ پاؤں مخالف سمتوں سے کاٹ ڈالے جائیں یا وہ جلاوطن کر دیئے جائیں۔ سورۃ احزاب میں فرمایا گیا :
"ان الذين يؤذون الله ورسوله لعنهم الله في الدنيا والآخرة
(۵۷:۳۳)
واعدلهم عذابا مهينا"
جو لوگ ستاتے ہیں اللہ کو اور اس کے رسول ﷺ کو ان پر لعنت کی اللہ نے دنیا میں اور آخرت میں اور تیار رکھا ہے ان کے واسطے ذلت کا عذاب ۔
اہل اسلام کا ایمان ہے کہ آنحضرت ﷺ کا کوئی فیصلہ یا عمل قرآن کریم یا حکم خداوندی سے ہٹ کر نہیں ہے۔ اس اصول کے تحت آنحضرت ﷺ کی سیرت مطہرہ کو دیکھنا ہو گا کہ آپ ﷺ نے ان آیات کی روشنی میں قرآن کریم کے منشاء کے مطابق توہین رسالت کے مرتکب کو کیا سزا دی ؟۔
اس پر بھی غور فرما لیجئے کہ آنحضرت ﷺ کو حق تعالیٰ نے تمام عالموں کے لئے رحمت بنا کر بھیجا۔ آپ ﷺ کے مزاج ، طبیعت اور شخصیت پر حلم و رحمت کا غلبہ تھا۔ آپ ﷺ خون کے پیاسوں کو دعائیں اور گالیاں دینے والوں کو دعائیں دینے کا حوصلہ رکھتے تھے۔ آپ ﷺ نے فتح مکہ کے موقع پر ان لوگوں کو بھی معاف کر دیا جو کسی دلیل سے قابل معافی نہ تھے۔ اس عظیم معافی کے باوجود وہ چار افراد جو توہین رسالت ﷺ کے مرتکب ہوئے پیش کئے گئے تو ان کے قتل کا فیصلہ خاتم النبیین ﷺ نے خود کیا اور ان تین مردوں اور ایک عورت کو موت کی سزا دی گئی۔ یہ عورت ابن خطل کی لونڈی تھی۔ مکہ کی مغنیہ تھی اور آنحضرت ﷺ کی شان میں گستاخی اور ہجو پر مبنی گیت اس کا وتیرہ تھے۔ ابن خطل بھاگ کر کعبہ شریف کے پردوں سے چمٹ گیا۔ مگر آنحضرت ﷺ نے حکم فرمایا فاقتلوہ اسی حالت میں قتل کر دو۔
(ملاحظہ ہو بخاری، باب فتح مکہ اور سیرۃ النبی، شبلی نعمانی ص ۵۲۵ ج۱)
قانون ناموس رسالت پر اعتراضات کا جائزہ باب چہارم :
یہ محض ایک واقعہ نہیں بلکہ نبی کریم ﷺ کا قانونی فیصلہ ہے جو امت کے لئے ہمیشہ کے لئے حجت ہے۔
سوال:...... کیا حضور ﷺ کے دور میں اور بعد میں توہین رسالت کے مجرموں کو سزائے موت دی گئی؟۔
جواب:...... آنحضرت ﷺ کے دور میں توہین رسالت کے مرتکب کی سزا بخاری شریف کے حوالے سے آپ ملاحظہ فرما چکے ہیں۔ علاوہ ازیں یہ ایسا مسئلہ ہے کہ ساڑھے چودہ سو سال میں اس مسئلہ میں کوئی اختلاف نہیں پایا جاتا۔ اس سلسلہ میں فقہائے امت میں علامہ ابن تیمیہؒ کی الصارم المسلول على شاتم الرسول ﷺ، علامہ تقی الدین سبکیؒ کی ”السيف المسلول على من سب الرسول ﷺ “ اور علامہ ابن عابدین شامیؒ کی ”تنبيه الولاة والحكام على احکام شاتم خیر الانام ﷺ“ چند معروف کتب ہیں جو اس اجماع امت کو محکم دلائل وشواہد کے ساتھ ثابت کرتی ہیں۔
دور نبوت ﷺ کے بعد توہین رسالت ﷺ کے جرم پر سزائے موت کی واضح نظیر اس دور میں ملتی ہے جب مسلمانوں نے اسپین کو فتح کیا تھا۔ مسلمانوں کی فتح کے بعد پوپ نے شاتمیت کے لئے ایک فدائی جتھہ ترتیب دیا تھا۔ اس کے افراد مسلم قاضیوں کی عدالت میں جا کر توہین رسالت کا ارتکاب کرتے۔ قاضی حسب شریعت ان کے قتل کا حکم دیتا۔ چنانچہ انہیں قتل کر دیا جاتا۔ پوپ کا مقصد یہ تھا کہ مسلم عدالتوں اور حکومتوں کے خلاف دوسری عیسائی یورپی قومیں بھی بھڑکیں گی اور مسلمانوں کے خلاف جنگ کریں گی۔ لیکن مسلمان قاضیوں نے ایک کو بھی معاف نہیں کیا۔ اور تھوڑے عرصے میں پانچ سو شاتمین کے قتل کے بعد پوپ نے مایوس ہو کر یہ سازش ترک کر دی۔
سوال:...... مغرب پرست دانشوروں کی رائے ہے کہ توہین رسالت پر موت کی سزا صرف مسلمانوں کے لئے ہے۔ کہاں تک صحیح ہے؟۔
جواب:...... غیر مسلموں کا تحفظ اسلامی حکومت کا دینی فریضہ ہے۔ اللہ اور رسول ﷺ نے ان کا ذمہ لیا ہے۔ اس لئے کوئی مسلمان ان کی جان، مال اور عزت کے درپے نہیں ہو سکتا۔ لیکن کسی غیر مسلم کو بھی یہ حق نہیں دیا جا سکتا کہ وہ برسر عام جب چاہے قرآن اور صاحب
باب چهارم :
قانون ناموس رسالت پر اعتراضات کا جائزہ
قرآن علیہ الصلوٰۃ والسلام کی بے حرمتی کا مرتکب ہو اور اس پر کوئی قانونی کارروائی بھی نہ کی جائے ۔ دورِ نبوت میں ہرزہ سرائی کے جرم میں قتل ہونے والوں میں مقیس بن صبابہ، حارث بن طلاطل ، ابن خطل، اس کی لونڈی، کعب بن اشرف یہودی ، ابو عکف یہودی اور اسماء بنت مروان یہودیہ ...... سب کے سب غیر مسلم تھے۔ العیاذ باللہ کوئی مسلمان گستاخی کرے تو وہ بھی مرتد ہو جائے گا۔ اسپین کی فتح کے بعد عیسائی شاتمین کو مسلمان قاضیوں کا سزا دینا بھی اس کا واضح ثبوت ہے کہ توہین رسالت کے جرم میں مسلم اور غیر مسلم کا کوئی فرق نہیں۔
(زرقانی، طبقات ابن سعد )
قال الشيخ ابن تيمية في "الصارم المسلول" يُقتل ساب النبي ﷺ ولا تقبل توبته سواء كان مسلماً أو كافراً.
(کتاب الشفاء، قاضی عیاض مالکی، ص ۳۲۳)
قاضی عیاض مالکی نے امام ابن تیمیہ کا فتویٰ نقل کیا ہے کہ آنحضرت ﷺ کی توہین کرنے والے کو قتل کر دیا جائے گا۔ اس کی توبہ قبول نہیں ۔ خواہ وہ مسلم ہو یا غیر مسلم۔ اسلام میں صرف پیغمبر آخر الزمان ﷺ کی شان رسالت کو تحفظ نہیں دیا گیا۔ بلکہ تمام انبیاء علیہم السلام کے بارے میں ایسا ہی تحفظ موجود ہے۔
دولت عثمانیہ کے شیخ الاسلام کے سامنے بشر نامی یہودی کا مقدمہ پیش ہوا کہ اس نے العیاذ باللہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے ثبوت نسب کے بارے میں شرمناک الزام لگایا ہے۔ شیخ الاسلام نے اس پر توہین رسالت کی فرد جرم عائد کرتے ہوئے سزائے موت کا فیصلہ سنایا۔ (شامیہ) اس سے معلوم ہوا کہ کسی بھی پیغمبر کی توہین کی سزا موت ہے۔ خواہ مرتکب مسلم ہو یا غیر مسلم۔
سوال:...... سیکولر این جی اوز کی رائے کہ ”قانون توہین رسالت کا استعمال غلط طور پر کیا جاتا ہے اس لئے اسے منسوخ کیا جائے“ کہاں تک صحیح ہے؟۔
جواب: ...... ناموس رسالت کے تحفظ کا قانون ایک غیر متنازع اور متفق علیہ معاملہ ہے۔ اسے اختلافی مسئلہ بنا کر پیش کرنا یا اس کے غلط استعمال کا واویلا کر کے اسے منسوخ کرنے کا مطالبہ کرنا اہل ایمان کے جذبات مجروح کرنے کی ناپاک سازش ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ
باب چہارم :
قانون ناموس رسالت پر اعتراضات کا جائزہ
قانون ملزم کو عوام کے رحم و کرم سے نکال کر قانون کے دائرے میں لاتا ہے اور عدلیہ کے فاضل ججوں کو بے لاگ اور عادلانہ فیصلے کا موقع فراہم کرتا ہے۔ عوام کے جذبات اور دخل اندازی کی گنجائش ختم ہو جاتی ہے۔ ملزم کو صفائی کا پورا موقع دیا جاتا ہے۔ کسی کے شاتم ہونے کا فیصلہ کوئی فرد یا عوام کا گروہ نہیں کرتا۔ اس لحاظ سے یہ قانون سب سے زیادہ تحفظ ملزم ہی کو فراہم کرتا ہے اور یہی اس کے نفاذ کا سب سے اہم پہلو ہے۔ مبینہ بدعنوانیوں کے نام پر ایک مبنی بر حق قانون کی تنسیخ کا مطالبہ اسلام دشمنوں کی گہری سازش ہے۔ جو مسلمانوں کے ایمان اور جذبات سے کھیلنے پر تلے ہوئے ہیں۔ اس ملک کے تھانوں میں روزانہ ہزاروں جھوٹی ایف آئی آرز درج ہوتی ہیں۔ بے گناہوں کو قتل کے الزام میں ملوث کیا جاتا ہے۔ جھوٹے گواہ بنائے جاتے ہیں۔ مہنگے ترین وکیل کئے جاتے ہیں۔ ججوں کو خریدنے کی کوشش کی جاتی ہے اور بے گناہوں کی گردنوں میں پھانسی کے پھندے ڈال دیئے جاتے ہیں۔ ظلم و بربریت ہر کسی کے علم میں ہے۔ لیکن آج تک کسی این جی او نے، انسانی حقوق کے کسی علمبردار نے، سپریم کورٹ، ہائی کورٹ یا ڈسٹرکٹ بار کے کسی صدر نے یہ مطالبہ نہیں کیا کہ تعزیرات پاکستان کی دفعہ ۳۰۲ کو ختم کیا جائے۔ یہ ظلم ہے۔ اس سے بے گناہوں کو پھانسیاں ہوتی ہیں۔ اس کے مقابلہ میں 295-C کا غلط استعمال نہ ہونے کے برابر ہے۔ تاہم قانون کا غلط استعمال جہاں کہیں بھی ہو۔ قانون اور عدل و انصاف کے معروف ضابطوں کے مطابق روکا جائے۔ نہ یہ کہ قانون ہی کو ختم کر دیا جائے۔
سوال : ..... اس قانون کی منسوخی کی جدوجہد کرنے والی NGOs کن Lobbies کے اشاروں پر کام کرتی ہیں اور ان کا پس پردہ کیا ایجنڈا ہے؟۔
جواب : ..... پاکستان میں قانون ناموس رسالت مآب ﷺ کی منسوخی کا مطالبہ بیرونی امداد کے سہارے چلنے والی این جی اوز اور انسانی حقوق کے نام پر کام کرنے والے بعض ادارے کر رہے ہیں۔ ان کے پس پشت عیسائی اور قادیانی لابی اور سیکولر ذہنیت کے حامل سیاستدان ہیں۔ پیپلز پارٹی کے گورنر اور ترجمانوں کے شور و غل کا پس منظر یہی ہے۔ عالمی استعمار اور یہود و نصاریٰ بھی اس قانون کو ختم کرانا چاہتے ہیں۔ تاکہ کلمہ گو مسلمانوں کے قلوب سے محبت رسول کو کم یا ختم کیا جائے۔ ان کے ایجنٹ پاکستان میں اس قانون کی تنسیخ کا مطالبہ کر کے حرمت
باب چہارم :
رسول کے عقیدے اور اساس ڈٹ کر مقابلہ کرنے کی ضرو کے آگے ہتھیار ڈالنے کے ط سوال : ..... کیا توہین رسال جواب : ..... قرآن و سنت نہیں ہے۔ اس پر امت مسل غیر مسلم کرے تو بناء پر تعزیر نا قابل معافی ہے۔ جیسا ک فرمایا تھا۔ جب خود آنحضر اختیار کیسے مل سکتا ہے؟۔
واضح رہے کہ ا قانون کو ہاتھ میں نہ لیں۔ رویہ اختیار کرے جس سے کر رہی اور نہ ہی مجرم کو سزا شکل اختیار کر سکتا ہے۔
بد قسمتی سے آج میں جا کر مجرمہ سے ملنا، ا لکھوانا اور یہ اعلان کرنا ک جن سے چشم پوشی ممکن نہیں کہہ دینا کافی تھا کہ ”ملزم پھر سپریم کورٹ میں اپی پاکستانی عدلیہ پر اعتماد ہ
سوال : ..... اسلام میں تو کیا سلوک کیا جائے؟۔
باب چہارم :
قانون ناموس رسالت پر اعتراضات کا جائزہ
رسول کے عقیدے اور اساس ایمان کو ختم کرنا چاہتے ہیں۔ ایسے افراد، گروہوں اور جماعتوں کا ڈٹ کر مقابلہ کرنے کی ضرورت ہے۔ معذرت خواہانہ رویہ کفر کی یلغار اور دشمنوں کی سازشوں کے آگے ہتھیار ڈالنے کے مترادف ہوگا۔
سوال : ...... کیا توہین رسالت کے مجرم کی سزا حکومتی سربراہ یا کوئی اور معاف کر سکتا ہے؟۔ جواب : ...... قرآن وسنت کی واضح نصوص کے مطابق شاتم رسول کی سزا قتل کے سوا کچھ اور نہیں ہے۔ اس پر امت مسلمہ کا اجماع ہے۔ اگر کوئی مسلمان یہ جرم کرے تو بناء بر ارتداد اور غیر مسلم کرے تو بناء پر تعزیر اس کا قتل فرض ہے۔ ایسا شخص بیت اللہ کے ساتھ چمٹا ہوا ہو تو بھی نا قابل معافی ہے۔ جیسا کہ آنحضرت ﷺ نے ابن خطل کو اسی حالت میں قتل کرنے کا حکم فرمایا تھا۔ جب خود آنحضرت ﷺ نے موذی رسول کو معاف نہیں فرمایا تو کسی اور کو معافی کا اختیار کیسے مل سکتا ہے؟۔
واضح رہے کہ اسلامی سزاؤں کو جاری کرنا حکومت کے ذمے ہے۔ عوام از خود قانون کو ہاتھ میں نہ لیں۔ تاہم جب حکومت توہین رسالت جیسے جذباتی نوعیت کے جرم پر ایسا رویہ اختیار کرے جس سے عوام یہ سمجھنے پر مجبور ہوں کہ حکومت اس سنگین جرم کو جرم تصور نہیں کر رہی اور نہ ہی مجرم کو سزا دینے کا ارادہ رکھتی ہے۔ تو اس سے عوام کا اشتعال سخت حادثے کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔
بد قسمتی سے آسیہ مسیح کے مقدمہ میں یہی صورت پیش آئی کہ گورنر پنجاب کا جیل میں جا کر مجرمہ سے ملنا، اس کی حوصلہ افزائی کرنا، اس سے صدر کے نام معافی کی درخواست لکھوانا اور یہ اعلان کرنا کہ میں یہ درخواست خود صدر کو پیش کروں گا۔ ایسے اقدامات ہیں جن سے چشم پوشی ممکن نہیں۔ اگر گورنر یا صدر زرداری فراست سے کام لیتے تو اس کیس پر اتنا کہہ دینا کافی تھا کہ ”ملزمہ کو ماتحت عدالت نے سزا سنائی ہے۔ قانون اسے ہائی کورٹ اور پھر سپریم کورٹ میں اپیل کا حق دیتا ہے۔ وہ اپنا مقدمہ ان عدالتوں میں لڑے۔ ہمیں پاکستانی عدلیہ پر اعتماد ہے۔“ مگر شاید یہی وہ بات ہے جو پیپلز پارٹی والے کہنا نہیں چاہتے۔
سوال : ...... اسلام میں توہین رسالت کے مجرم کی حمایت اور وکالت کرنے والے کے ساتھ کیا سلوک کیا جائے؟۔
باب چہارم : قانون ناموس رسالت پر اعتراضات کا جائزہ
جواب : ...... توہین رسالت کے مجرم کی حمایت و وکالت بالواسطہ جرم کی حمایت و وکالت کے مترادف ہے۔ محبت رسول ﷺ ، ناموس رسالت اور ایمان کا تقاضا یہ ہے کہ جب تک توہین رسالت کے مجرم پر آئینی و شرعی سزا جاری نہیں ہو جاتی۔ کوئی مسلمان خود کو بری الذمہ نہ سمجھے۔ اللہ کے رسولوں اور انسانیت کے محسنوں اور رہنماؤں کی عزت و ناموس کی حفاظت عقیدۂ توحید کی طرح لازمی ہے جس کے بغیر مؤمن ہونے کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا۔
سوال : ...... کیا وجہ ہے کہ امریکہ اور یورپی ممالک ایسے مجرموں کو اپنے ہاں پناہ دیتے ہیں؟۔
جواب : ...... قرآن کریم نے یہود و نصاریٰ کو مسلمانوں کا دشمن قرار دیا ہے۔ ان کی عداوتوں اور سازشوں کا سلسلہ ۱۵ سو سال سے جاری ہے۔ یہ بد بخت قرآن اور صاحب قرآن ﷺ کی شان اقدس میں ہرزہ سرائی کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے۔ یورپ کے بعض ممالک مثلاً ڈنمارک، اسپین، فن لینڈ، جرمنی، یونان، اٹلی، آئرلینڈ، ناروے، نیدرلینڈ، سوئزرلینڈ، آسٹریا وغیرہ میں آج تک مذہبی جذبات مجروح کرنے پر قانون پایا جاتا ہے۔ برطانیہ میں ملکہ کی توہین مذہبی جذبات مجروح کرنے کی تعریف میں آتی ہے۔ (جس کی تفصیلات آخری باب میں ملاحظہ کی جاسکتی ہیں ۔ ) لیکن دوسری طرف جب کوئی کارٹونسٹ یا نام نہاد ادیب یا ادیبہ اسلام یا سرکار دو عالم ﷺ کی شان اقدس میں گستاخی و ہرزہ سرائی کا ارتکاب کرتا ہے تو اسے ”آزادی رائے“ کے نام پر جائز قرار دیا جاتا ہے۔
یہود و نصاریٰ اور مغربی اقوام کے اسی منافقانہ رویئے اور اسلام دشمنی نے پوری دنیا کے مسلمانوں کے دلوں میں ان کے خلاف نفرت و عداوت کے بیج بو دیئے ہیں۔ اسلامی ممالک کے سربراہان کو حریت بیان اور آزادی رائے کے نام نہاد علمبرداروں پر یہ حقیقت جرأت کے ساتھ واضح کرنی چاہیے کہ کوئی شخص مسلمان ہو یا غیر مسلم اسے یہ حق نہیں دیا جا سکتا کہ وہ جب چاہے قرآن اور صاحب قرآن کی بے حرمتی کا مرتکب ہو اور اس پر کوئی قانونی کارروائی محض اس لئے نہ کی جائے کہ ایسا کرنے سے بعض ممالک ناراض ہو جائیں گے۔
(بشکریہ ماہنامہ الخیر ملتان صفر المظفر ۱۴۳۲ھ)
☆☆☆☆☆☆☆.......☆☆☆☆☆☆☆
باب چہارم :
295-C
- ☆ ...... گزشتہ کالم میں مخ
اور ان کا جواب دیا گیا تھ پیش خدمت ہیں جو مولانا
...... انسان کو حیوان ناطق صلاحیت دی گئی ہے، نہ صرف ی یہ سوچنے کی صلاحیت زیادہ رکھت سطحیات کے تابع کر دیتا ہے اور ہے، اس کی مسخ شدہ اور نفس کی کو دیوتا مان لے اور اگر انکار کر کے وجود سے انکار کر دے اور اس قدم قدم پر بکھرے ہوئے ہیں۔
”اور تم اپنے نفسوں میں غور و فکر کی
تحفظ ناموس رسالت
بحث و مباحثہ اور غور و فکر کے بعد جسے یاران تیز گام اجتہاد کا اخ بریلویوں، دیوبندیوں، غیر مقل زندگی کے تیس سالوں سے زیاد کے بعد یکا یک خیال آیا کہ یہ قا
قانون ناموس رسالت پر اعتراضات کا جائزہ باب چهارم :
295-C ...... تین بڑے اشکالات
٭...... گزشتہ کالم میں تحفظ ناموس رسالت کے قانون سے متعلق چند اشکالات اور ان کا جواب دیا گیا تھا۔ ذیل میں تین بڑے اشکالات اور ان کے جوابات پیش خدمت ہیں جو مولانا محمد اسلم شیخوپوری مدظلہ نے تحریر فرمایا۔
انسان کو حیوان ناطق کہا جاتا ہے، یعنی انسان ایسا حیوان ہے جسے بولنے کی صلاحیت دی گئی ہے، نہ صرف بولنے کی بلکہ سوچنے کی بھی، سوچتے تو دوسرے حیوان بھی ہیں مگر یہ سوچنے کی صلاحیت زیادہ رکھتا ہے لیکن بعض اوقات عقل کو خواہشات، شہوات، ہفوات اور سطحیات کے تابع کر دیتا ہے اور پھر اس کی عقل ایسے عجوبے دکھاتی اور خود عقل کو حیران کر دیتی ہے، اس کی مسخ شدہ اور نفس کی غلام عقل سامنے آئے تو اپنے ہی ہاتھوں سے تراشی ہوئی مورتیوں کو دیوتا مان لے اور اگر انکار کرنے پر آئے تو کائنات کی سب سے بدیہی حقیقت یعنی اللہ ہی کے وجود سے انکار کر دے اور اس کے وجود سے ان تمام دلائل کی بیک جنبش زبان نفی کر دے جو قدم قدم پر بکھرے ہوئے ہیں، بلکہ خود انسان کے اندر بھی بے شمار شواہد ہیں، اسی لئے تو کہا گیا ”اور تم اپنے نفسوں میں غور و فکر کیوں نہیں کرتے؟“
تحفظ ناموس رسالت قانون کو ہی لے لیجئے، آج سے بیس سال پہلے کئی ہفتوں کے بحث و مباحثہ اور غور و فکر کے بعد اسے پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں نے منظور کیا، وہی پارلیمنٹ جسے یاران تیز گام اجتہاد کا اختیار دینے کا بھی مشورہ دیتے ہیں، یہ ایسا قانون تھا جس پر بریلویوں، دیوبندیوں، غیر مقلد، حیاتی مماتی اور اہل تشیع سب کا اتفاق تھا اور ہے، اپنی قومی زندگی کے تیس سالوں سے زیادہ ڈکٹیٹروں کے زیر سایہ بسر کرنے والوں کو 20 سال گزرنے کے بعد یکا یک خیال آیا کہ یہ قانون تو ایک ڈکٹیٹر کے دور میں نافذ ہوا تھا لہٰذا اسے مسترد کر دینا
قانون ناموس رسالت پر اعتراضات کا جائزہ
چاہیے، حیرت یہ ہے کہ یہ خیال ان دانشوروں کو زیادہ پریشان کر رہا ہے جنہوں نے اس ڈکٹیٹر کی مجلس شوریٰ اور کابینہ کے متعدد ارکان کو نہ صرف سینٹ اور قومی اسمبلی میں براجمان کر رکھا ہے بلکہ ان میں سے ایک وزارت عظمیٰ اور دوسرے کو وزارت خارجہ جیسے حساس عہدے پر بٹھا رکھا ہے۔
قانون تحفظ رسالت کے حوالے سے دوسرا سوال جسے ہمارے ٹی وی اینکر پرسن بار بار اٹھا رہے ہیں وہ یہ ہے کہ قرآن میں کہاں آیا ہے ”توہین رسالت کے مجرم کی سزا قتل ہے ۔“ ان میں سے بعض کا انداز انتہائی جارحانہ بلکہ گستاخانہ ہوتا ہے اور وہ اپنے مہمان سے اس سوال کا جواب ہاں یا ناں میں چاہتے ہیں اور اس سے زیادہ اسے بولنے کی اجازت نہیں دیتے ، ہمیں یہ خدشہ پریشان کر رہا ہے اور یہ خدشہ اتنا بے بنیاد بھی نہیں ہے کہ کل کلاں اگر یہ سوال اٹھا دیا گیا کہ صرف نفی یا اثبات میں جواب دیجئے کہ قرآن میں یکجا پانچ نمازوں، ان کی رکعات ، فرائض اور واجبات کا ذکر ہے یا نہیں؟ یا یہ کہ نصاب زکوٰۃ اور مقدار زکوٰۃ کا کہیں ذکر آیا ہے؟ اگر جواب اثبات میں دیا گیا تو اس مضمون کی آیت پیش کرنا مشکل ہو گا اور اگر نفی میں دیا گیا تو سننے اور دیکھنے والے کو سطحیت پسند سمجھیں گے کہ جو چیز قرآن میں نہیں وہ شریعت کا حصہ نہیں، یوں شریعت بازیچہ اطفال بن کر رہ جائے گی۔
اہانت کی سزا قرآن پاک سے
قرآن کریم میں اگرچہ صراحتاً توہین کے مجرم کی سزا کا ذکر نہیں لیکن بعض آیات کے ضمن میں ہر دور کے مفسرین لکھتے آ رہے ہیں کہ ان کے قتل کی سزا ثابت ہوتی ہے، مثال کے طور پر سورۃ الاحزاب کی آیت 57 میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :
إِنَّ الَّذِينَ يُؤْذُونَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ لَعَنَهُمُ اللَّهُ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ وَأَعَدَّ لَهُمْ عَذَابًا مُّهِينًا.
(الاحزاب: ۵۷)
”بے شک وہ لوگ جو اللہ اور اس کے رسول کو اذیت دیتے ہیں اللہ ان پر دنیا و آخرت میں لعنت کرتا ہے اور ان کے لئے اس نے ذلیل
باب چهارم : کرنے والا عذاب میں ہے۔“ مَلْعُونِيْنَ اَيْنَمَا ثُقِفُ ”یہ لوگ ملعون ہیں قتل کر دیا جائے ۔“ اس آیت کی تفسیر میں ثابت ہوتا ہے توہین کے مجرم ہے: ”اور اگر یہ عہد کرنے کے بعد کفر کے سرداروں سے قتال کرو کیو ابن کثیر رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں:” جو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو گال تیسرا اشکال کو 295-C کیا جاتا ہے، بلکہ بعض تو یہ کہنے لئے گیا ہے، لہٰذا اسے منسوخ کیا جا انتہائی بودا ثابت ہوتا ہے، گزشتہ سے زائد مقدمات درج ہوئے ہیں جس سے اس الزام کی خود بخود نفی ہ گیا ہے جہاں تک اس کے غلط است 307 جیسی دفعات کا غلط استعمال واحد سہارے یا چند پیاروں کو قتل کر اقتدار اور سفارش کی زرہ پہن کر سر میں پورا قانون مکڑی کے جالے کی
باب چهارم : قانون ناموس رسالت پر اعتراضات کا جائزہ
کرنے والا عذاب تیار کر رکھا ہے“ اس آیت کے بعد آیت نمبر 61 میں ہے:۔ مَلْعُوْنِيْنَ اَيْنَمَا ثُقِفُوْا اُخِذُوْا وَقُتِّلُوْا تَقْتِيْلًا. ”یہ لوگ ملعون ہیں، یہ جہاں بھی پائے جائیں انہیں پکڑا جائے اور قتل کر دیا جائے ۔“
اس آیت کی تفسیر میں قاضی عیاض رحمہ اللہ جیسے حضرات نے لکھا ہے: ”اس سے ثابت ہوتا ہے توہین کے مجرم کی سزا قتل ہے۔“ اس طرح سورۃ توبہ کی آیت 12 کا مفہوم ہے: ”اور اگر یہ عہد کرنے کے بعد اپنی قسموں کو توڑ ڈالیں اور تمہارے دین پر طعن و تشنیع کریں تو کفر کے سرداروں سے قتال کرو کیونکہ یہ باز آنے والے نہیں ہیں ۔“ اس آیت کی تفسیر میں امام ابن کثیر رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں : ”اس آیت سے ایسے شخص کے لئے قتل کی سزا ثابت کی گئی ہے جو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو گالیاں دیتا ہے ۔“
تیسرا اشکال جو C-295 پر وارد کیا جاتا ہے یہ ہے کہ چونکہ اس قانون کا غلط استعمال کیا جاتا ہے، بلکہ بعض تو یہ کہنے سے بھی باز نہیں آتے کہ یہ قانون تو بنایا ہی اقلیتوں کو کچلنے کے لئے گیا ہے، لہٰذا اسے منسوخ کیا جائے اس اشکال کا حقائق کے تناظر میں جائزہ لیا جائے تو یہ انتہائی بودا ثابت ہوتا ہے، گزشتہ بیس سال کے عرصے میں توہین رسالت و قرآن کے 700 سے زائد مقدمات درج ہوئے ہیں جن میں سے نصف سے زیادہ خود مسلمانوں کے خلاف تھے جس سے اس الزام کی خود بخود نفی ہو جاتی ہے کہ C-295 کا قانون اقلیتوں کو کچلنے کے لئے بنایا گیا ہے جہاں تک اس کے غلط استعمال کا تعلق ہے تو C-295 سے کہیں زیادہ 302، 604 اور 307 جیسی دفعات کا غلط استعمال ہوتا رہا ہے، ایسی مثالیں بھی موجود ہیں کہ کسی خاندان کے واحد سہارے یا چند پیاروں کو قتل کر دیا گیا اور مقدمہ بھی ورثاء پر بنا دیا گیا، قاتل رشوت، طاقت، اقتدار اور سفارش کی زرہ پہن کر سر عام دندناتے رہے، معاملہ صرف دفعات کا نہیں، ملک عزیز میں پورا قانون مکڑی کے جالے کی حیثیت رکھتا ہے جسے طاقتور پھونکوں سے اڑا دیتا ہے جن کی
باب چہارم :
قانون ناموس رسالت پر اعتراضات کا جائزہ
حالت کمزور ہو اس کے شکنجے میں زندگی بھر تلملاتا رہتا ہے۔ مختلف قانونی دفعات کے غلط استعمال کے باوجود آج تک یہ آواز نہیں اٹھائی گئی کہ ان دفعات کو یا پورے قانون کو منسوخ کر دیا جائے ، مگر توہین رسالت کا کوئی واقعہ پیش آتا ہے تو اندرون اور بیرون ملک سے ایک ہی آواز اٹھتی ہے کہ 295-C کو منسوخ کر دیا جائے، ایسا لگتا ہے کہ احتجاج کرنے والوں کا مقصد کسی ملزم یا ملزمہ کی داد رسی نہیں بلکہ اس کا اصل ٹارگٹ ناموس رسالت قانون کی منسوخی ہے، تاکہ سرور دوعالم صلی اللہ علیہ وسلم کو عام انسان کی حیثیت دے دی جائے تا کہ جس کا دل چاہے ان کے خاکے بنائے، ان پر کیچڑ اچھالے، ازواج مطہرات کی بے ادبی کرے، ان کے کردار کو مجروح کر کے عوام کے سامنے پیش کرے، تا کہ غیر مسلم دائرۂ اسلام سے خارج نہ ہوں، مسلمانوں کے دل ان کے بارے میں شکوک وشبہات کا شکار ہو جائیں۔
آپ توہین کے ملزموں کی حوصلہ افزائی کرنے والوں کی جرأت دیکھیں کہ وہ پاکستان کے کسی مظلوم ترین انسان کو بھی گرین کارڈ اور مغربی شہریت کی پیش کش نہیں کرتے، مگر توہین رسالت کے مجرموں بلکہ ان کے پورے خاندان کے لئے سارے مغربی ممالک اپنے دروازے چوپٹ کھول دیتے ہیں اور اسے چشم زدن میں زیرو سے ہیرو بنادیتے ہیں۔ 295-C کے بارے میں اشکالات تو اور بھی ہوں گے مگر بڑے اشکالات یہی تین ہیں، جن کے جوابات اختصار سے عرض کر دیئے گئے ہیں ان اعتراضات میں انصاف کا جتنا عنصر تھا وہ تو آپ نے ملاحظہ فرمالیا، اب رہ جاتی ہے بات غلط نیت اور ضد وعناد کی تو یاد رکھنا چاہیے ایسا کرنے والوں کے خلاف خود رب ذوالجلال نے یہ کہہ کر اعلان جنگ فرمادیا ہے: ”یقیناً ہم جانتے ہیں جو یہ باتیں بناتے ہیں، ان سے تمہارا دل تنگ ہوتا ہے“۔
(سورۂ حجر آیت: 97)
سو ایسے لوگوں کو خالق کائنات کے انتقام کا نشانہ بننے کے لئے تیار رہنا چاہیے۔
(ہفت روزہ ضرب مومن 7 تا 13 جنوری 2011ء)
باب چہارم : قانون ناموس رسالت پر اعتراضات کا جائزہ
قانون ناموس رسالت ﷺ...... حقائق اور پروپیگنڈہ
- ☆ ...... ملک میں انسدادِ توہین رسالت کا نفاذ کس طرح ہوا انصار عباسی لکھتے ہیں ۔
کہا جاتا ہے کہ ناموسِ رسالت کا قانون جنرل ضیاء الحق نے بنایا ، یہ بھی پروپیگنڈہ کیا جارہا ہے کہ قانون اقلیتوں کو نشانہ بنانے کے لئے بنایا گیا تھا، اس قانون کے متعلق اور کئی شکوک و شبہات بھی پیدا کئے جارہے ہیں اس تناظر میں اس حوالے سے محترم محمد اسماعیل قریشی جنہوں نے ایک طویل جدوجہد اور قانونی جنگ کے بعد اس قانون کو موجودہ شکل دینے میں ایک اہم کردار ادا کیا، کتاب ناموس رسالت صلی اللہ علیہ وسلم اور قانون توہین رسالت صلی اللہ علیہ وسلم سے کچھ اقتباسات پیش کئے جاتے ہیں جو اس سلسلے میں پیدا ہونے والے شکوک کو دور کرنے میں مدد کریں گے۔
موجودہ قانون کیسے بنا ؟
"اسلام دشمن قوتوں نے پاکستان کی اسلامی ریاست کو ختم کرنے کے لئے سازشوں کا جال سارے ملک میں بچھا دیا، زرخرید ایجنٹوں کے ذریعہ یہاں کے نوجوانوں کو دین سے برگشتہ کرنے کے لئے لادینی لٹریچر بھی پھیلانا شروع کر دیا گیا، اس سلسلے میں ایک کمیونسٹ ، ایم (مشتاق) راج کا ذکر ضروری ہے جس کی اشتعال انگیزی اس قانون توہین رسالت اور اس کتاب کی تصنیف کا باعث بنی ، اس کی خدمات روس کی حکومت نے حاصل کی ہوئی تھیں ۔
ایم راج نامی ایک کٹر کمیونسٹ ایڈووکیٹ نے 1983ء میں Heavenly Communism (آفاقی اشتمالیت ) ایک کتاب لکھی جو ملک کے تعلیم یافتہ طبقے میں مفت تقسیم کی گئی ...... میں نے کتاب پڑھنا شروع کی، جیسے جیسے کتاب پڑھتا گیا میری قوتِ برداشت جواب دیتی چلی گئی ، مجھ پر جو غم و غصہ کی کیفیت طاری ہوئی وہ ناقابلِ بیان ہے، اس
باب چهارم : قانون ناموس رسالت پر اعتراضات کا جائزہ
کتاب میں نہ صرف اللہ سبحانہ و تعالیٰ کے ساتھ تمسخر کیا گیا بلکہ مذاہب اور ادیان کا بھی مذاق اڑایا گیا، دینی پیشواؤں کو ”مذہبی شیطان“ کہا گیا، انبیاء کرام علیہم السلام پر نہایت گھٹیا اور سوقیانہ حملے کئے گئے اور انتہا یہ کہ حضور ختمی مرتبت صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں بھی گستاخی کی جسارت کی گئی، میں نے نہایت صبر وضبط سے کام لیتے ہوئے ”ورلڈ ایسوسی ایشن آف مسلم جیورسٹس“ کا اجلاس طلب کیا ...... سب علماء کا متفقہ فیصلہ تھا کہ شاتم رسول واجب القتل ہے، لہٰذا حکومت سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ اس ناپاک کتاب کو فوری طور پر ضبط کر لے اور بغیر کسی تاخیر کے توہین رسالت کا قانون بنا کر اسے نافذ العمل کیا جائے تاکہ آئندہ کسی بھی بد بخت کو اہانتِ رسول کی جرأت نہ ہو سکے ...... پاکستان کے قومی اخبارات نے بھی اس کی تائید کی اور اس کی حمایت میں اداریئے لکھے، بالآخر ”اسلامی نظریاتی کونسل“ نے اسلامیان پاکستان کے اس مطالبہ کا نوٹس لیا اور جناب شیخ غیاث محمد، سابق اٹارنی جنرل کی تحریک پر حکومت سے سفارش کی کہ توہین رسالت اور ارتداد کی سزا، سزائے موت مقرر کی جائے، اس کے باوجود حکومت وقت (ضیاء حکومت) نے اس نازک مسئلہ کو مستحق توجہ نہ سمجھا، لہٰذا راقم الحروف نے فیڈرل شریعت کورٹ میں اس وقت کے صدر پاکستان جنرل محمد ضیاء الحق اور تمام صوبوں کے گورنرز کے خلاف اسلامی جمہوریہ پاکستان کے آئین کی دفعہ 203 کے تحت 1984ء میں اپنے ساتھ تمام مکاتب فکر کے علمائے کرام سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ کے سابق جج صاحبان، سابق وزرائے قانون، سابق اٹارنی جنرل، ایڈووکیٹ جنرل، صدر لاہور ہائی کورٹ بار اور دیگر بار کونسلوں کے صدر صاحبان اور نمائندہ شہریوں کو شامل کر کے شریعت پٹیشن نمبر 1/1984 دائر کی، مقدمہ کی سماعت کا آغاز راقم الحروف کے بیان سے شروع ہوا، عدالت نے عوام الناس کے نام نوٹس جاری کر دیئے، کمرہ عدالت اور اس کے باہر ہر روز عوام کا ہجوم اس مقدمہ کی کارروائی کی سماعت کے لئے موجود ہوتا، اس مقدمہ کی سماعت کے دوران عجیب و غریب واقعات پیش آئے، جن میں دو بڑے دلچسپ اور قابلِ ذکر ہیں۔
دو دلچسپ واقعات
اس پٹیشن میں سابق جج لاہور ہائی کورٹ جناب جسٹس چوہدری محمد صدیق بحیثیت
قانون ناموس رسالت پر اعتراضات کا جائزہ ساتھ تمسخر کیا گیا بلکہ مذاہب اور ادیان کا بھی مذاق اڑایا انبیاء کرام علیہم السلام پر نہایت گھٹیا اور سوقیانہ حملے کئے وسلم کی شان میں بھی گستاخی کی جسارت کی گئی، میں لڈ ایسوسی ایشن آف مسلم جیورسٹس“ کا اجلاس طلب رسول واجب القتل ہے، لہذا حکومت سے مطالبہ کیا گیا ے اور بغیر کسی تاخیر کے توہین رسالت کا قانون بنا کر کی بھی بد بخت کو اہانت رسول کی جرأت نہ ہو اس کی تائید کی اور اس کی حمایت میں اداریے لکھے، ہ پاکستان کے اس مطالبہ کا نوٹس لیا اور جناب شیخ ست سے سفارش کی کہ توہین رسالت اور ارتداد کی سزا، حکومت وقت (ضیاء حکومت) نے اس نازک مسئلہ کو ل شریعت کورٹ میں اس وقت کے صدر پاکستان ے خلاف اسلامی جمہوریہ پاکستان کے آئین کی دفعہ تب فکر کے علمائے کرام سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ سابق اٹارنی جنرل، ایڈووکیٹ جنرل، صدر لاہور ن اور نمائندہ شہریوں کو شامل کر کے شریعت پٹیشن از راقم الحروف کے بیان سے شروع ہوا، عدالت رہ عدالت اور اس کے باہر ہر روز عوام کا ہجوم اس اس مقدمہ کی سماعت کے دوران عجیب و غریب جلی ذکر ہیں۔
ت جناب جسٹس چوہدری محمد صدیق بحیثیت
باب چہارم : قانون ناموس رسالت پر اعتراضات کا جائزہ مدعی ہمارے ساتھ شامل تھے، جبکہ حکومت کی طرف سے ان کے صاحبزادے جناب جسٹس خلیل الرحمن رمدے، جو اس وقت ایڈووکیٹ جنرل تھے پیش ہوئے، میں نے عدالت کی توجہ اس طرف مبذول کرائی کہ اس تاریخی مقدمہ میں باپ، بیٹا ایک دوسرے کے مقابل ہیں، لیکن حقیقت یہ ہے کہ لائق بیٹے نے شریعت پٹیشن کی مکمل طور پر حمایت کی اور تمام صوبوں کے ایڈووکیٹ جنرلز نے بھی اس پٹیشن کی تائید میں دلائل پیش کئے اور عدالت سے درخواست کی کہ اس درخواست کو منظور کر لیا جائے، ڈاکٹر سید ریاض الحسن گیلانی ڈپٹی اٹارنی جنرل نے، جو حکومت پاکستان کی جانب سے پیش ہوئے تھے نے ہمارے اس موقف سے اتفاق کیا کہ شاتم رسول واجب القتل ہے، لیکن یہ قانونی اعتراض اٹھایا کہ فیڈرل شریعت کورٹ کو اس کی سماعت کا اختیار نہیں۔ ...... بہر حال فریقین کے دلائل کی سماعت کے بعد وفاقی شرعی عدالت نے اپنا فیصلہ محفوظ کر لیا، اسی اثناء میں ایک اور سنگین واقعہ رونما ہوا، جولائی 1988 میں ایک خاتون ایڈووکیٹ (عاصمہ جہانگیر) جن کے شوہر ایک بڑے صنعت کار اور سرمایہ دار قادیانی ہیں انہوں نے اسلام آباد میں ایک منعقدہ سیمینار میں تقریر کرتے ہوئے معلم انسانیت حضور ختمی المرتبت صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں کچھ ایسے نازیبا الفاظ استعمال کئے جو سامعین اور امت مسلمہ کی دل آزاری کا باعث تھے جس پر سیمینار میں ہنگامہ برپا ہو گیا، جب یہ خبر اخبارات میں شائع ہوئی تو ”ورلڈ ایسوسی ایشن آف مسلم جیورسٹس“ نے اپنے خصوصی اجلاس میں پاکستان کے تمام سر بر آوردہ علماء اور وکلاء کی جانب سے اس کی پُر زور مذمت کرتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا کہ فوری طور پر شاتم رسول کے بارے میں سزائے موت کا قانون منظور کرے اور فیڈرل شریعت کورٹ سے بھی درخواست کی گئی وہ شریعت پٹیشن پر اپنا فیصلہ صادر کرے، اسلامی جذبے سے سرشار خاتون مرحومہ آپا نثار فاطمہ نے اس قابلِ اعتراض تقریر کا قومی اسمبلی میں سختی سے نوٹس لیا اور راقم الحروف کے مشورے سے قومی اسمبلی میں تعزیرات پاکستان میں ایک مزید دفعہ C-295 کا بل پیش کیا، جس کی رو سے شاتم رسول کی سزا سزائے موت تجویز کی گئی، مسلمانوں کے متفقہ مطالبہ کے پیش نظر کسی کو اس کی مخالفت کی جرأت نہ ہو سکی، البتہ وزیر
باب چهارم : قانون ناموس رسالت پر اعتراضات کا جائزہ
قانون اقبال احمد خان کی طرف سے اس بل میں ترمیم کی درخواست دی گئی کہ شاتم رسول کی سزا، سزائے موت یا عمر قید ہوگی ، اس طرح دفعہ C-295 کا تعزیرات پاکستان میں اضافہ کر دیا گیا، لیکن اس سے راقم الحروف اور مرحومہ آپا نثار فاطمہ، علمائے کرام، وکلا اور مسلمان عوام مطمئن نہیں تھے، اس لئے دوبارہ فیڈرل شریعت کورٹ میں راقم الحروف نے مسلم ماہرین قانون کی تنظیم کی جانب سے اس بناء پر چیلنج کر دیا کہ توہین رسالت کی سزا بطور حد سزائے موت مقرر ہے اور حد کی سزا میں کمی یا اضافہ کرنے کا کسی کو بھی اختیار نہیں اور یہ ناقابل معافی جرم ہے اس مقدمہ کی باقاعدہ سماعت یکم اپریل 1987ء کو شروع ہوئی، جس میں تمام مکاتب فکر کے علمائے کرام کو بھی معاونت کی دعوت دی گئی۔
علماء کرام اور وکلاء کی عدالت کی معاونت
جناب خلیل الرحمٰن رمدے ایڈووکیٹ جنرل پنجاب (جو اب سپریم کورٹ کے آنر ایبل جج ہیں) حکومت سرحد کی جانب سے جناب جسٹس محمد اجمل میاں (جو اس وقت سپریم کورٹ کے فاضل جج ہیں) سندھ اور بلوچستان کی طرف سے وہاں کے ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل صاحبان نے بھی ہمارے موقف کی تائید و حمایت کی، ملک کے ممتاز سکالر مولانا سید محمد متین ہاشمی اور جناب ریاض الحسن نوری مشیر وفاقی شرعی عدالت نے عمر قید کی سزا کے اسلامی احکام سے منافی ہونے کے بارے میں مؤثر دلائل پیش کئے، سندھ کی حکومت نے بھی شاتم رسول کی سزا، سزائے موت کو تسلیم کر لیا، ڈاکٹر طاہر القادری کا موقف تھا کہ سزا کے لئے نیت کی ضرورت نہیں ہے اسے فی الفور قتل کیا جائے۔
بالآخر وہ ساعتِ سعید بھی آگئی جب فیڈرل شریعت کورٹ نے متفقہ طور پر، اس گدائے شہ عرب و عجم کی پٹیشن منظور کرتے ہوئے توہین رسالت کی متبادل سزا عمر قید کو غیر اسلامی اور قرآن و سنت کے خلاف قرار دیا اور حکومت پاکستان کے نام حکم جاری کیا کہ عمر قید کی سزا کو دفعہ C-295 سے حذف کیا جائے، جس کے لئے حکومت کو 30 اپریل 1991ء تک مہلت دی گئی اس فیصلہ کے بعد پھر ایک عجب مرحلہ پیش آیا کہ فیڈرل شریعت کورٹ کے اس
باب چہارم : قانون ناموس رسالت پر اعتراضات کا جائزہ
فیصلے کے خلاف اسلامی جمہوری اتحاد کی حکومت نے جو کہ نفاذ اسلام اور قرآن وسنت کی بالا دستی کا منشور لے کر برسر اقتدار آئی تھی سپریم کورٹ میں اپیل دائر کر دی، جس پر راقم نے اس وقت کے وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف کو پیغام بھجوایا کہ حکومت اس اپیل کو فوراً واپس لے لے ورنہ اس انتہائی حساس مسئلہ پر مسلمانوں کے جذبات اس حکومت کے خلاف مشتعل ہو جائیں گے، خدا کا شکر ہے کہ وزیر اعظم پاکستان میاں محمد نواز شریف نے توجہ مبذول کرانے پر فوری اور بر وقت نوٹس لیا اور برسر عام اعلان کیا کہ اس اپیل کا انہیں قطعی علم نہ تھا اور نہ ایسی غلطی کبھی سرزد نہ ہو سکتی تھی، اگر اس جرم کی سزا سزائے موت سے بھی سنگین تر ہوتی تو ہم اسے بہر صورت نافذ کرتے، چنانچہ ان کے حکم سے توہین رسالت کی سزا موت کے خلاف سپریم کورٹ سے یہ اپیل واپس لے لی گئی جو بوجہ دستبرداری خارج ہو گئی، جس کے بعد یہ قانون مکمل طور پر پورے ملک میں نافذ کر دیا گیا، اس طرح نہ صرف عاجز، مرحومہ آپا نثار فاطمہ اور مولانا سید محمد متین ہاشمی مرحوم کی بلکہ پوری امت مسلمہ کی دلی آرزو پوری ہوئی اس فیصلہ کی بدولت حضور رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک ایسی سنت تازہ ہوئی جس پر تمام مسلمانوں کے ایمان کا دارومدار ہے، جس کے لئے فیڈرل شریعت کورٹ کے فاضل جج جسٹس جناب گل محمد خان مرحوم اور ان کے تمام رفقاء جج حضرات بھی پوری امت مسلمہ کی جانب سے مستحق مبارکباد ہیں۔
اسلامی قانون تعزیر میں کسی جرم کی جتنی سنگین سزا مقرر ہے اس قدر کڑی شرائط بھی اس کے ثبوت کے لئے درکار ہیں، چنانچہ حد کی سزا میں شہادت کا معیار عام شہادت کے معیار سے بہت زیادہ سخت اور غیر معمولی ہے، حدود کی سزا کے لئے ایسے گواہوں کی شہادت قابلِ قبول ہوتی ہے جو گناہِ کبیرہ سے اجتناب کرتے ہوں...... حد کی سزا کا ایک بنیادی رکن ملزم کی ”نیت“ اور ”قصد“ ہے، ایسی تحریر یا تقریر جو انبیا کرام علیہم السلام یا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی کی نیت سے قصداً ہو تو اسے قابلِ مواخذہ جرم قرار دیا جائے گا۔
اس کے علاوہ ”شک“ کا فائدہ بھی اسلامی قانون کی رو سے ملزم کو پہنچتا ہے، اس کا ماخذ بھی وہ حدیث مبارکہ ہے جس میں حکم دیا گیا ہے کہ ”ادرءو الحدود بالشبهات“ حدود کی
باب چہارم : قانون ناموس رسالت پر اعتراضات کا جائزہ
سزاؤں کو شبہات کی بناء پر ختم کیا جائے۔ سال 1991ء سے اس قانون کے نافذ ہونے کے بعد سے آج تک کسی ایک شخص کو پاکستانی عدلیہ نے قانون توہین رسالت کے جرم میں سزائے موت نہیں دی اصل حقیقت یہ ہے کہ ان تمام لوگوں کی زندگی کے تحفظ کی ضمانت ہے جن کے خلاف فرد جرم ثابت نہ ہو، ورنہ سلطنت مغلیہ کے سقوط کے بعد 1860ء میں جب برطانوی حکومت نے ہندوستان میں قانون توہین رسالت منسوخ کیا تو اس کے بعد مسلمان سرفروشوں نے اس قانون کو اپنے ہاتھ میں لے لیا اور گستاخان رسول کو قتل کر کے کیفر کردار تک پہنچاتے رہے۔۔۔۔۔ قانون توہین رسالت کے پاکستان میں نافذ ہو جانے کے بعد اب اس کی سزا کا معاملہ افراد کے ہاتھوں کی بجائے عدالتوں کے دائرۂ اختیار میں آگیا، جو تمام حقائق و شہادتوں کا بغور جائزہ لے کر جرم ثابت ہونے کے بعد ہی کسی ملزم کو مستوجب سزا قرار دے گی۔
مسیحی برادری کو تو قانون توہین رسالت کا خوش دلی سے خیر مقدم کرنا چاہیے تھا کیونکہ اس قانون کی رو سے جناب مسیح ؑ اور دیگر انبیا علیہم السلام جنہیں عیسائی اور مسلمان اپنا پیغمبر برحق مانتے ہیں ان کی شان میں گستاخی قابل تعزیر جرم بن گیا ہے اور ان کی اہانت اور توہین کی وہی سزا مقرر ہے جو خاتم الانبیا محمد مصطفیٰ ﷺ کی جناب میں گستاخی کی سزا ہے، مسلمان ان تمام پیغمبروں کا اسی طرح احترام کرتے ہیں جیسا کہ یہودی اور عیسائی اپنے پیغمبروں کا احترام کرتے ہیں، اسی لئے وہ ان کے بارے میں کسی قسم کی گستاخی کا تصور بھی نہیں کر سکتے۔
(روزنامہ ”جنگ“ 12 جنوری 2011ء)
قانون ناموس رسالت پر اعتراضات کا جائزہ سال 1991ء سے اس قانون کے نافذ ہونے کے بعد لیہ نے قانون توہین رسالت کے جرم میں سزائے تمام لوگوں کی زندگی کے تحفظ کی ضمانت ہے جن کے مغلیہ کے سقوط کے بعد 1860ء میں جب برطانوی رسالت منسوخ کیا تو اس کے بعد مسلمان سرفروشوں گستاخان رسول کو قتل کر کے کیفر کردار تک پہنچاتے پاکستان میں نافذ ہو جانے کے بعد اب اس کی سزا کا کے دائرہ اختیار میں آگیا، جو تمام حقائق و شہادتوں کا کوئی بھی ملزم کو مستوجب سزا قرار دے گی۔ کی رسالت کا خوش دلی سے خیر مقدم کرنا چاہیے تھا یں اور دیگر انبیاء علیہم السلام جنہیں عیسائی اور مسلمان بھی قابل تعزیر جرم بن گیا ہے اور ان کی اہانت اور محمد مصطفیٰ ﷺ کی جناب میں گستاخی کی سزا ہے، احترام کرتے ہیں جیسا کہ یہودی اور عیسائی اپنے ن کے بارے میں کسی قسم کی گستاخی کا تصور بھی نہیں
(روزنامہ ”جنگ“ 12 جنوری 2011ء)
باب چهارم : قانون ناموس رسالت پر اعتراضات کا جائزہ
مسیحیوں کے اعتراضات کا جائزہ
☆.......ناموس رسالت کے قانون پر اعتراضات کے حوالہ سے مولانا زاہد الراشدی مدظلہ لکھتے ہیں:-
گزشتہ دنوں مولانا قاری محمد حنیف صاحب جالندھری نے جامعہ الخیر لاہور میں مسیحی علماء اور مسلمانوں کے تمام مکاتب فکر کے اکابر علمائے کرام کے درمیان ایک مسئلہ پر مکالمہ کا اہتمام کیا جس میں بشپ الیگزینڈر جان ملک اور بشپ منور سمیت نصف درجن کے لگ بھگ مسیحی علماء نے شرکت کی اور دوسری طرف مولانا مفتی محمد خان قادری، مولانا عبدالمالک خان، رانا شفیق پسروری، مولانا یسین ظفر، مولانا رشید احمد لدھیانوی، مولانا قاری روح اللہ، جناب لیاقت بلوچ، مولانا محمد امجد خان، علامہ حسین اکبر نجفی، مولانا قاری محمد حنیف جالندھری اور راقم الحروف سمیت دیگر علمائے کرام اس میں شریک ہوئے۔
اس موقع پر اس مسئلہ پر تفصیلی بحث ہوئی جس پر دونوں فریق اس بات پر متفق تھے کہ توہین رسالت جرم ہے اور اس کی سنگین سزا پر کسی کو کوئی اعتراض نہیں ہے البتہ دونوں فریقوں کے اپنے اپنے تحفظات تھے جن کا ذکر کیا گیا اور باہمی وعدہ ہوا کہ دونوں فریقین ان پر سنجیدگی کے ساتھ غور کر کے اگلی کسی ملاقات پر ان تحفظات کا حل تلاش کرنے کی کوشش کریں گے۔
ہماری طرف سے اس تحفظ کا اظہار کیا گیا کہ وہ سیکولر لابی جو پاکستان میں اسلامی تشخص ختم کرنے کے درپے ہے اور ناموس رسالت کے تحفظ کے قانون سمیت ہر اس قانون کو ختم کرانے کے لئے کوشاں ہے جس میں دینی تعلیمات کا کوئی حوالہ موجود ہے اور مسیحی مذہبی رہنماؤں کی طرف سے تحفظ ناموس رسالت کے قانون کو ختم کرنے کا مسلسل مطالبہ اس سیکولر لابی کی تقویت کا باعث بن رہا ہے جب کہ یہ بات خود مسیحی تعلیمات اور بائبل کی تصریحات کے بھی منافی ہے۔
مسیحی رہنماؤں نے اس تحفظ کا اظہار کیا کہ ان کے بقول اس قانون کا سب سے زیادہ استعمال ”مسیحی کمیونٹی“ کے خلاف ہورہا ہے اور ان کے خیال میں اسے مسیحی لوگوں کو مختلف
باب چهارم : قانون ناموس رسالت پر اعتراضات کا جائزہ
حوالوں سے انتقام اور تذلیل کا نشانہ بنانے کے لئے بطور خاص استعمال کیا جاتا ہے، پھر جب کسی واقعہ پر عوامی اشتعال کے اظہار کے موقع پر مسیحی آبادی اور بستیاں عمومی سطح پر قتل و غارت اور آتش زنی کا نشانہ بنتی ہیں تو مسلمان علماء مظلوموں کو بچانے کی بجائے خاموش تماشائی بن جاتے ہیں، کچھ علماء اس عوامی اشتعال کو بڑھانے کا ذریعہ بھی بنتے ہیں، ایک مسیحی راہنما نے اس موقع پر کہا کہ ہم توہین رسالت پر موت کی سزا کے خلاف نہیں ہیں لیکن جب ہم عوامی اشتعال کی زد میں ہوتے ہیں اور اس وقت ہماری داد رسی نہیں ہوتی اور کوئی بھی ہماری بات سننے کو تیار نہیں ہوتا تو پھر ہمارے پاس اس کے علاوہ اور کوئی چارہ کار نہیں رہتا کہ ہم سرے سے اس قانون کو ختم کرنے کا مطالبہ کریں جو اس صورت حال کا ذریعہ بن رہا ہے۔
اس پر ہماری طرف سے عرض کیا گیا ہے کہ قانون کے مبینہ طور پر غلط استعمال کو روکنا الگ مسئلہ ہے اور نفس قانون کو ختم کرنا اس سے قطعی مختلف بات ہے جس کو مسیحی راہنماؤں کے بیانات میں ملحوظ نہیں رکھا جا رہا اور ان کے مطالبات اور سرگرمیاں سیکولر عناصر کی تائید سمجھی جارہی ہیں، جہاں تک قانون کے مبینہ طور پر غلط استعمال کو روکنے کی بات ہے کوئی بھی ذی شعور شخص اس سے انکار نہیں کر سکتا اور نہ ہی مسلمانوں کی مذہبی قیادت نے اس سے کبھی اختلاف کیا ہے لیکن نفس قانون اور توہین رسالت پر موت کی شرعی سزا کی مخالفت، اسے ختم کرانے کی کوشش اور اسے ”نعوذ باللہ، کالا قانون“ یا ”ظالمانہ قانون“ یا ”انسانی حقوق کے منافی“ قرار دینا بہر حال توہین کے زمرے میں شمار ہوتا ہے اور اس پر پاکستانی رائے عامہ کے جذباتی رد عمل پر اعتراض کرنے والوں کو اس عمل کا بھی جائزہ لینا چاہیے کہ جس کے رد عمل میں یہ سب کچھ ہوا ہے اور ہو رہا ہے، یہ بات درست ہے کہ قانون کو ہاتھ میں لینے کی حمایت نہیں کی جاسکتی لیکن ایسا کہنے والوں کو اس بات پر غور کرنا چاہیے کہ جب گورنر نے قانون کو ہاتھ میں لیا تھا اور پورے عدالتی پراسس کو کراس کرتے ہوئے کھلے بندوں اعلان کیا تھا تو قانون کے احترام کا دعویٰ کرنے والوں نے اس ہاتھ کو روکنے کیا کوشش کی تھی؟ ہمارے خیال میں اگر گورنر کو قانون ہاتھ میں لینے پر ٹوک دیا جاتا اور قانون اور عدالتی پراسس کا احترام باقی رکھنے کا اہتمام کیا جاتا تو
باب چهارم : ممتاز قادری کے قانون کو ہاتھ میں لینے کی قا قانون کو ہاتھ میں لینے کی بات ج لیا ہے تو مقتول نے بھی قانون کو ہاتھ میں لیا ہ آغاز ہے، اس لئے ہماری گذارش ہے کہ قانون توازن کو بھی قائم رکھا جائے اس لئے کہ توازن ب
گستاخ رسول سے متعلق امت
حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے اپنے خلافتی دور م جائے ، ایک مسلمان نبی کریم صلی اللہ علیہ و مسئلے پر جان کی بازی لگانے سے بھی دری ہے، اس کی وجہ یہ ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ و اَلنَّبِيُّ أَوْلَى بِالْمُؤْمِنِينَ مِنْ أَنْفُسِه ”نبی کریم مومنوں کیلئے اپنی جانوں س اگر تاریخ پر نظر دوڑائی جا 295.296.297.298 کو پورے برصغیر میں م نظریات کے بارے میں زبانی یا عملی تکلیف د یہودی قانون میں بھی توہین م
(Leviticus 24.11.16)
اور میثاق جدید بائبل میں م دیتی ہے۔ قتل کا حکم محمد صلی اللہ علیہ وسلم ک علیہ وسلم کے بارے میں حضرت عائشہ ر سے انتقام نہیں لیا، بلکہ اس کی وجہ شاتم ر
باب چہارم : قانون ناموس رسالت پر اعتراضات کا جائزہ
ممتاز قادری کے قانون کو ہاتھ میں لینے کی نوبت ہی نہ آتی۔ قانون کو ہاتھ میں لینے کی بات دونوں طرف سے ہوئی ہے اگر قاتل نے قانون کو ہاتھ میں لیا ہے تو مقتول نے بھی قانون کو ہاتھ میں لیا تھا اور قانون کو ہاتھ میں لینے کا یہ عمل اس سارے قصے کا آغاز ہے، اس لئے ہماری گذارش ہے کہ قانون کے احترام کی بات ضرور کی جائے لیکن اس سلسلے میں توازن کو بھی قائم رکھا جائے اس لئے کہ توازن بگڑنے سے ہی معاملات میں بگاڑ کا آغاز ہوتا ہے۔
گستاخ رسول سے متعلق امت کا تعامل
حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کی تلوار گستاخ رسول کے لئے اٹھی ، حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے اپنے خلافتی دور میں تمام گورنروں کو خط لکھے کہ گستاخ رسول کو قتل کر دیا جائے، ایک مسلمان نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی گستاخی کسی صورت برداشت نہیں کر سکتا ، وہ اس مسئلے پر جان کی بازی لگانے سے بھی دریغ نہیں کرتا بلکہ جان کی بازی لگانے کو سعادت سمجھتا ہے، اس کی وجہ یہ ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت، ایمان کا لازمی تقاضا ہے۔
النَّبِیُّ اَوْلٰی بِالْمُؤْمِنِیْنَ مِنْ اَنْفُسِهِمْ (الاحزاب:۶)
”نبی کریم مومنوں کیلئے اپنی جانوں سے بڑھ کر عزیز ہیں“۔
اگر تاریخ پر نظر دوڑائی جائے تو 1860ء میں برطانوی سامراج نے دفعہ 295.296.297.298 کو پورے برصغیر میں نافذ کیا تھا ان دفعات کا تعلق کسی بھی مذہب کے عقائد و نظریات کے بارے میں زبانی یا عملی تکلیف پہنچانے کو قانون کی خلاف ورزی قرار دیا گیا۔
یہودی قانون میں بھی توہین رسالت کی سزا موجود ہے (Leviticus 24.11.16) اور میثاقِ جدید بائبل میں موجود ہے، مسیحیت توہین رسالت کو ناقابل معافی جرم قرار دیتی ہے۔ قتل کا حکم محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی ذاتی انتقام پسندی کی وجہ سے نہ تھا بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں حضرت عائشہؓ اور صحابہ کرامؓ گواہ ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی سے انتقام نہیں لیا، بلکہ اس کی وجہ شاتم رسول دوسروں کے دلوں سے عظمت و توقیر گھٹانے کی
باب چهارم : قانون ناموس رسالت پر اعتراضات کا جائزہ
کوشش کرتا اور ان میں کفر ونفاق کے بیج بوتا ہے، جو قلم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی گستاخی کے لئے اٹھتا ہے اگر اسے توڑا نہ جائے تو اسلامی معاشرہ فساد علمی و اعتقادی کا شکار ہو کر رہ جائے گا۔
اب ضرورت اس امر کی ہے، مغربی ممالک پر زور دیا جائے کہ وہ شاتم رسول کو سیاسی پناہ دینا بند کریں ، امریکہ اور مغربی ممالک سلمان رشدی ملعون ، تسلیمہ نسرین ملعونہ کو اپنے ہاں پناہ دیتے ہوئے اب آسیہ ملعونہ کو پیشکش کر چکے ہیں، یاد رہے مغربی ممالک انہیں سیاسی پناہ دینے کی پیشکش کرتے ہیں جو گناہ گار ہوتا ہے، تعصبانہ رویہ یہاں سے معلوم ہوتا ہے کہ گستاخ رسول سلمان رشدی ملعون کو سر کا لقب بھی دیا گیا، مجرم ممالک سے سفارتی تعلقات ، تجارتی روابط اور دیگر معاہدات اس وقت تک منقطع کئے جائیں جب تک وہ توہین رسالت کے مجرمین کو قرار واقعی سزا نہ دیں ، اقوام متحدہ کے مسلم ممالک جنرل اسمبلی میں توہین انبیاء کی روک تھام اور مجرمین کو احتساب کے شکنجے میں لانے کے لئے قانون سازی کا بل پاس کرائیں ، یہ مسئلہ امت مسلمہ کے عقیدے کا ہے اس میں کوئی مسلکی اختلاف نہیں۔
باب چهارم :
مغرب کا بڑا اعتر
مغرب کا مس
غصے والی قوم ہے جو ہر با اللہ علیہ وسلم کی ذات گرا چاہوں گا کہ جو بات مغر اور کمال کی ہے اس لئے کے دل و دماغ میں محبت چیز بھی بے مقصد نہیں ورنہ نہیں فرمایا، غصہ اور نفر میں غصہ نہیں آنا چاہیے طرح غصہ، نفرت، غیر واظہار جائز ہے اور کہاں حدود شریعت نے متعین کے دین فطرت میں ان اگر کوئی شخص شخص ہے، اسے اپنا علاج اپنے علاج کے لئے کسی کے مسلمان کو خواہ وہ کتنا
باب چہارم : قانون ناموس رسالت پر اعتراضات کا جائزہ
مغرب کے اعتراضات
(مولانا زاہد الراشدی)
مغرب کا بڑا اعتراض
مغرب کا مسلمانوں پر سب سے بڑا اعتراض یہی ہے کہ مسلمان بہت جذباتی اور غصے والی قوم ہے جو ہر بات پر طیش میں آجاتی ہے اور خاص طور پر قرآن کریم اور حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات گرامی کے حوالے سے بہت زیادہ جذباتی ہو جاتی ہے، میں یہ عرض کرنا چاہوں گا کہ جو بات مغرب کے نزدیک اعتراض و طعن کی ہے وہی بات ہمارے نزدیک خوبی اور کمال کی ہے اس لئے کہ غصہ انسان کی فطرت ہے، اللہ تعالیٰ نے انسان کے جسم میں اور اس کے دل و دماغ میں محبت، نفرت، غصہ اور نرم دلی کے جو اوصاف رکھے ہیں، ان میں سے کوئی چیز بھی بے مقصد نہیں ہے اور اللہ تعالیٰ نے انسان کو بے مقصد اور بے مصرف چیزوں سے بہرہ ور نہیں فرمایا، غصہ اور نفرت بھی ایک با مقصد صلاحیت ہے اور یہ کہنا کہ کسی انسان کو کسی حالت میں غصہ نہیں آنا چاہیے بالکل خلاف فطرت بات ہے، البتہ دوسری صلاحیتوں اور قوتوں کی طرح غصہ، نفرت، غیرت اور حمیت کے اظہار کی بھی حد بندی کی گئی ہے کہ کس جگہ ان کا استعمال واظہار جائز ہے اور کہاں ناجائز ہے، جس طرح محبت ایک فطری امر ہے اور اس کے اظہار کی حدود شریعت نے متعین کی ہیں، اسی طرح نفرت اور غصہ بھی ایک فطری چیز ہے اور اللہ تعالیٰ کے دینِ فطرت میں ان کے اظہار واستعمال کی حدود متعین کی گئی ہیں۔
اگر کوئی شخص آکر یہ کہتا ہے کہ اسے غصہ نہیں آتا تو وہ نفسیاتی مریض ہے اور ”ایبنارمل“ شخص ہے، اسے اپنا علاج کرانا چاہیے، بالکل اسی طرح کسی شخص کو بار بار غصہ آتا ہے تو اسے بھی اپنے علاج کے لئے کسی ماہر نفسیات سے رجوع کرنا چاہیے، اسی لئے میں عرض کرتا ہوں کہ آج کے مسلمان کو خواہ وہ کتنا ہی بے عمل اور بدعمل ہو قرآن کریم کی بے حرمتی اور جناب محمد رسول اللہ
باب چہارم : قانون ناموس رسالت پر اعتراضات کا جائزہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شان اقدس میں گستاخی پر غصہ آتا ہے اور اس کے خون میں جوش پیدا ہوتا ہے، بلکہ ہمارے پاس آج کے دور میں یہی اصل سرمایہ اور اثاثہ ہے کہ ہمیں قرآن کریم کے حوالے سے غصہ آتا ہے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں غیرت آتی ہے، ہم آج کے مسلمان بھی بے عمل یا بد عمل ہیں مگر یہ بات تمام خرابیوں کے بعد آج بھی قائم ہے کہ دنیا کے کسی بھی حصے میں کوئی مسلمان قرآن کریم کی توہین برداشت نہیں کرے گا، اس نے قرآن کریم پڑھا ہے یا نہیں، قرآن کریم پر اس کا عمل ہے یا نہیں مگر اس سے توہین برداشت نہیں ہوگی وہ قرآن کریم کی حرمت پر کٹ مرنے کے لئے تیار ہو جائے گا، اسی طرح دنیا کے کسی بھی مسلمان شخص سے کوئی یہ بات کہے کہ قرآن کریم نے فلاں بات کہی ہے اور نعوذ باللہ وہ درست نہیں ہے، کوئی بھی مسلمان یہ جملہ سننے کے لئے تیار نہیں ہوگا کہ قرآن کریم نے خدانخواستہ کوئی بات غلط کہی ہے، یہی صورت حال جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات گرامی کے حوالے سے بھی ہے دنیا کے کسی بھی خطے کا کوئی مسلمان اُس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت پڑھی ہے یا نہیں، وہ کسی سنت پر عمل کرتا ہے یا نہیں، اس سب سے قطع نظر وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی شان اقدس میں گستاخی برداشت نہیں کرے گا اور نہ ہی کسی شخص سے یہ بات سننے کا روادار ہوگا کہ جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کوئی بات فرمائی ہے اور وہ خدانخواستہ غلط ہے، دنیا کے کسی بھی حصے اور کسی بھی سطح کا کوئی مسلمان نہ تو قرآن کریم اور جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی توہین گوارا کرے گا اور نہ ہی ان کی کسی بات کی تغلیط برداشت کرے گا اسے ہماری زبان میں ایمان کہا جاتا ہے اور دنیا اسے کمٹمنٹ کہتی ہے۔
مغربی دنیا کو شکایت
اسی طرح مغربی دنیا کو ہم سے یہ بھی شکایت ہے کہ مسلمان اپنے معاملات میں خدا، رسول اور قرآن کریم کی کوئی بات درمیان میں لے آئیں گے، حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی کسی بات کا حوالہ دے دیں گے، یہ بات بھی غلط اور خلاف واقعہ نہیں ہے اور میں عرض کیا کرتا ہوں کہ بحمد اللہ قرآن کریم اور جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا حوالہ نہ صرف ہمارے ہاں
باب چہارم : موجود ہے بلکہ اس قدر محکم اور کرنا پڑتی ہے تو قرآن کریم کی آ وسلم کا کوئی نا کوئی ارشاد تلاش کر بحمد اللہ قرآن کریم ا ہمارا نہ صرف تعلق اور ایمان قا سنت نبویؐ ہے، اس تعلق وابسـ اسے توڑنے اور کمزور کرنے کی کو و بیش دو صدیوں سے اس کے اور قرآن کریم اور جناب نبی کر سے محروم کر دیا جائے لیکن اسے مغربی دنیا وقتی طو رہتی ہے، کبھی قرآن کریم کے حو کے حوالے سے کوئی نا کوئی ڈرا جذبات، عقیدت و محبت کا لیا ہے یا نہیں، مگر یہ قرآن کریم کا کرشمہ ہے کہ مسلم امہ نے اس مسئلے پر پوری طرح متحد و متفق جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم
☆☆
❶ روزنامہ اسلام 26 دسمبر 10
باب چهارم : قانون ناموس رسالت پر اعتراضات کا جائزہ
موجود ہے بلکہ اس قدر مستحکم اور مضبوط ہے کہ بش اوباما اور ٹونی بلیئر کو بھی کسی مسلمان سے بات کرنا پڑتی ہے تو قرآن کریم کی کوئی نا کوئی آیت یاد کرنا پڑتی ہے اور جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا کوئی نا کوئی ارشاد تلاش کرنا پڑتا ہے۔
بحمد اللہ قرآن کریم اور جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات گرامی کے ساتھ ہمارا نہ صرف تعلق اور ایمان قائم ہے بلکہ ہمارا آج کا سب سے بڑا حوالہ بھی قرآن کریم اور سنت نبوی ہے، اس تعلق و ایمان و کمٹمنٹ سے آج مغربی دنیا پریشان ہے اور صدیوں سے اسے توڑنے اور کمزور کرنے کی کوشش ہو رہی ہے، مغرب اس بات پر ادھار کھائے بیٹھا ہے کہ کم و بیش دو صدیوں سے اس کے لئے سو جتن کر رہا ہے کہ مسلمان کو اس کے ایمان و عقیدے سے اور قرآن کریم اور جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اس کی محبت و عقیدت کے وصف سے محروم کر دیا جائے لیکن اسے کامیابی نہیں ہو رہی اور نہ ہی انشاء اللہ آئندہ کبھی ہوگی۔
مغربی دنیا وقفے وقفے سے اس قسم کی حرکات کر کے مسلمانوں کے جذبات کو آزماتی رہتی ہے، کبھی قرآن کریم کے عنوان سے اور کبھی جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات گرامی کے حوالے سے کوئی نا کوئی ڈرامہ کھڑا کیا جاتا ہے جس کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ مسلمانوں کے جذبات، عقیدت و محبت کا لیول چیک کیا جائے اور ٹمپریچر دیکھا جائے کہ اس میں کوئی کمی آئی ہے یا نہیں، مگر یہ قرآن کریم کا اعجاز ہے اور جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت اور عقیدت کا کرشمہ ہے کہ مسلم امہ نے اس چیلنج کا جواب ہمیشہ متحد ہو کر دیا ہے اور آج بھی امت مسلمہ اس مسئلے پر پوری طرح متحد و متفق ہے جو اسلام کے زندہ مذہب، قرآن کریم کے زندہ کتاب اور جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زندہ نبی ہونے کا ثبوت ہے۔ 1
☆☆☆☆☆☆.......☆☆☆☆☆☆
❶ روزنامہ اسلام 26 دسمبر 2010ء
۷۸۶
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
واعف عنا واغفر لنا وارحمنا
(اے ہمارے ربّ!)
ہمیں معاف فرما اور ہماری مغفرت فرما اور ہمارے اوپر رحم فرما
توہین رسالت
:: ...... ::
- ٭ جرم توہین رسالت ...
- ٭ توہین رسالت کے مجرم کے قت
- ٭ پادریوں کی اسلام دشمنی کا عیس
- ٭ آزادی اظہار رائے کا مفہوم
- ٭ پاکستان میں توہین رسالت ک
- ٭ ناموس رسالت ﷺ کی حفاظت
- ٭ شاتم رسول کی سزا اور اسکی مع
- ٭ نام محمد ﷺ کے سبب !
- ٭ کیا پاکستان پر مسیحی اقلیت حک
- ٭ جو شے کی حقیقت کو نہ سمجھے وہ
- ٭ ادب رسول ﷺ اور اس کے
- ٭ ظالمو! کلمہ پڑھانے کا احسا
- ٭ سیکولر انتہا پسندی کا شاخسانہ
- ٭ یہ معاملے ہیں نازک.......
باب پنجم
توہین رسالت سے متعلق علمائے کرام اور کالم نگاروں
کے تاثرات
:::::: :::::: ::::::
- ٭ جرم توہین رسالت ...... چند پہلو!
- ٭ توہین رسالت کے مجرم کے قتل پر اجماع ائمہ
- ٭ پادریوں کی اسلام دشمنی کا عیسائی مورخین کا اعتراف
- ٭ آزادی اظہار رائے کا مفہوم
- ٭ پاکستان میں توہین رسالت کے قانون کا پس منظر
- ٭ ناموس رسالت ﷺ کی حفاظت کیجئے
- ٭ شاتم رسول کی سزا اور اسکی معافی؟ ...... (سینیٹر پروفیسر ساجد میر)
- ٭ نام محمد ﷺ کے سبب !
- ٭ کیا پاکستان پر مسیحی اقلیت حکومت کرے گی؟ ...... (پروفیسر شمیم اختر)
- ٭ جو شے کی حقیقت کو نہ سمجھے وہ نظر کیا؟ ...... (ہارون الرشید)
- ٭ ادب رسول ﷺ اور اس کے تقاضے
- ٭ ظالمو! کلمہ پڑھانے کا احسان بھی گیا ...... (ارشاد احمد عارف)
- ٭ سیکولر انتہا پسندی کا شاخسانہ ...... (عنایت الرحمٰن شمس)
- ٭ یہ معاملے ہیں نازک ...... (عرفان صدیقی)
الرحمن ہمارے اوپر رحم فرما
باب پنجم :.......
جرم توہین
- ☆ ....... وفاق المدارس العر
صاحب دامت برکاتہم فرماتے ہ قرآن کریم نے جگہ ب دیجیے کہ اگر تمہارے باپ اور تمہا کنبہ اور وہ مال جو تم نے کمائے ہ گھر جن کو تم پسند کرتے ہو۔ اگر ت جہاد کرنے سے زیادہ پیارے ہ لیے) اپنا حکم بھیج دے اور اللہ فاس
ایک اور آیت میں حضر وما آتكم الرسول ف ”اور رسول ﷺ ج وہ تمہیں روک دیں، رک ج بڑا سخت ہے۔“
ایک دوسری آیت م ہوئے، سر تسلیم خم کرنے کو مومنی تو یہ ہے کہ جب وہ بلائے جائے ان کے درمیان فیصلہ کر دیں تو وہ
ایک اور جگہ وضاحت ک
باب پنجم: ....... توہین رسالت کے متعلق علماء کرام اور کالم نگاروں کے ارشادات
جرم توہین رسالت ...... چند پہلو !
- ☆ ...... وفاق المدارس العربیہ پاکستان کے صدر محترم حضرت مولانا سلیم اللہ خان
صاحب دامت برکاتہم فرماتے ہیں۔
قرآن کریم نے جگہ جگہ اس حقیقت کو بیان فرمایا ہے۔ ارشاد ہے کہ: ”آپ کہہ دیجیے کہ اگر تمہارے باپ اور تمہارے بیٹے اور تمہارے بھائی اور تمہاری بیویاں اور تمہارا کنبہ اور وہ مال جو تم نے کمائے ہیں اور وہ تجارت جس کے بیٹھ جانے کا تم کو اندیشہ ہو اور وہ گھر جن کو تم پسند کرتے ہو۔ اگر تم کو اللہ سے اور اس کے رسول ﷺ سے اور اس کی راہ میں جہاد کرنے سے زیادہ پیارے ہیں تو تم منتظر رہو یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ (سزا دینے کے لیے) اپنا حکم بھیج دے اور اللہ فاسقوں کو ہدایت نہیں دیتا۔“
(التوبہ: 24)
ایک اور آیت میں حضور ﷺ کی اتباع کا حکم دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ:
وما آتکم الرسول فخذوہ وما نہاکم عنہ فانتهو۔
(الحشر: 7)
”اور رسول ﷺ جو کچھ تمہیں دے دیا کریں وہ لے لیا کرو اور جس سے وہ تمہیں روک دیں، رک جایا کرو۔ اللہ سے ڈرو، بے شک اللہ سزا دینے میں بڑا سخت ہے۔“
ایک دوسری آیت میں اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے حکم پر لبیک کہتے ہوئے، سر تسلیم خم کرنے کو مومنین کا شیوہ بتلاتے ہوئے کہا گیا ہے کہ: ”ایمان والوں کا قول تو یہ ہے کہ جب وہ بلائے جاتے ہیں اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی طرف کہ (رسول ﷺ) ان کے درمیان فیصلہ کر دیں تو وہ (ایمان والے) کہیں کہ ہم نے سن لیا اور مان لیا۔“
(النور: 51)
ایک اور جگہ وضاحت کر دی ہے کہ اللہ اور رسول ﷺ کے فیصلے اور حکم آنے کے
باب پنجم:......... توہین رسالت کے متعلق علماء کرام اور کالم نگاروں کے ارشادات
یہ کسی مؤمن مرد، عورت کے شایان شان نہیں کہ وہ اس کے برعکس من مانی کریں۔ ایسی صورت میں سوائے تعمیل حکم کے اس کے لیے کسی اور راہ کو اختیار کرنے کی گنجائش نہیں۔ ارشاد ہے: ”اور کسی مومن مرد یا مومن عورت کے لیے یہ درست نہیں کہ جب اللہ اور اس کا رسول ﷺ کسی امر کا حکم دے دیں تو پھر ان کو اپنے (اس) امر میں کوئی اختیار باقی رہ جائے اور جو کوئی اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی نافرمانی کرے گا۔ وہ صریح گمراہی میں جا پڑے گا۔“
(الاحزاب: 63)
حضرت انس ؓ کی حدیث امام بخاری اور امام مسلم نے نقل فرمائی ہے کہ حضور اکرم ﷺ نے فرمایا:
لا یؤمن احدکم حتی اکون احب الیه من والده وولده والناس اجمعین.
(صحیح بخاری، کتاب الایمان 14، صحیح مسلم، کتاب الایمان 177)
”تم میں سے کوئی مومن نہیں بن سکتا جب تک اس کو مجھ سے اپنے ماں، باپ، اولاد اور باقی سب لوگوں سے بڑھ کر محبت نہ ہو۔“
حضور اکرم ﷺ کی شان اقدس میں بعض بدبختوں کی طرف سے گستاخی کا سلسلہ کوئی نیا نہیں۔ خود عہد نبوی میں دربار نبوت کی بے حرمتی کے واقعات پیش آئے اور آپ ﷺ کی ناموس پر کٹ مرنے والی پاکیزہ ہستیوں نے ان دریدہ دہن بدبختوں کو اپنے انجام تک پہنچایا۔ ایک نابینا صحابی کی باندی حضور ﷺ کی شان میں گستاخی کرتی تھی۔ وہ ایک رات اٹھے اور تلوار سے اس باندی کا پیٹ چاک کر کے اس کو قتل کر دیا۔ حضور ﷺ کو خبر ملی تو فرمایا کہ اس کا خون ہدر اور رائیگاں ہے۔ (بلوغ المرام فی احادیث الاحکام، ص: 123)
کعب بن اشرف مشہور یہودی رئیس تھا۔ حضور ﷺ کی شان میں گستاخی کرتا اور ہجویہ اشعار کہتا۔ حضرت محمد بن مسلمہ ؓ نے حضور ﷺ کی خواہش پر جا کر اس کا کام تمام کیا۔
(صحیح بخاری، کتاب المغازی 4037)
مدینہ منورہ میں ابو عفک نامی ایک شخص نے بارگاہ رسالت کے خلاف ہجویہ نظم لکھی۔ حضرت سالم بن عمیر ؓ نے حضور ﷺ کے ارشاد پر جا کر اسے قتل کیا۔
(سیرۃ ابن ہشام 4 / 282)
باب پنجم: ........ توہین رسالت کے متعلق علماء کرام اور کالم نگاروں کے ارشادات
فتح مکہ کے موقع پر عام معافی کا اعلان کر دیا گیا تھا۔ لیکن شاتم رسول ابن خطل کو معافی نہیں دی گئی۔ اس نے خانہ کعبہ کا پردہ پکڑا تھا اور اسی حالت میں اسے قتل کیا گیا۔ ابن خطل کی دو لونڈیوں کا خون بھی حضور ﷺ نے رائیگاں قرار دیا تھا۔ کیونکہ وہ بھی حضور ﷺ کی شان میں ہجویہ اشعار گایا کرتی تھیں۔
(الکامل لابن اثیر: 169/2، صحیح بخاری، کتاب المغازی 4035)
توہین رسالت کے مجرم کے قتل پر اجماع ائمہ
عہد نبوی کے ان واقعات سے ایک بات بالکل بے غبار ہو کر سامنے آ جاتی ہے کہ ”توہین رسالت“ کا جرم ایسا نہیں جس سے چشم پوشی کی جائے یا اس سے درگزر کیا جائے۔ چنانچہ چاروں ائمہ کا اس پر اجماع ہے کہ توہین رسالت کا مجرم واجب القتل ہے۔
علامہ شامی ؒ لکھتے ہیں: ”حاصل یہ ہے کہ شاتم رسول کے کفر اور اس کے قتل کے درست ہونے میں کوئی شک و شبہ نہیں اور یہی ائمہ اربعہ سے منقول ہے۔“
فقہ حنفی کی مشہور شخصیت امام سرخسیؒ شاتم رسول کے قتل پر اجماع نقل کرتے ہوئے لکھتے ہیں: ”جس شخص نے رسول ﷺ پر شتم کیا، آپ کی توہین کی، دینی یا شخصی اعتبار سے آپ پر عیب لگایا، آپ کی صفات میں کسی صفت پر نکتہ چینی کی تو چاہے یہ شاتم رسول مسلمان ہو یا غیر مسلم، یہودی ہو یا عیسائی یا غیر اہل کتاب، ذمی ہو یا حربی، خواہ یہ شتم و اہانت عمداً ہو یا سہواً، سنجیدگی سے ہو یا بطور مذاق، وہ دائمی طور پر کافر ہوا، اس طرح پر کہ اگر وہ توبہ بھی کر لے تو اس کی توبہ نہ عنداللہ قبول ہوگی نہ عندالناس اور شریعت مطہرہ میں متاخر و متقدم تمام مجتہدین کے نزدیک اس کی سزا اجماعاً قتل ہے۔“
(خلاصۃ الفتاویٰ: 286/3)
بعض مغرب زدہ مسلمان دانشوروں نے ”تنقید اور توہین“ کا شوشہ چھوڑ کر اس بات پر زور دیا ہے کہ مسلمان کو تنقید اور توہین کا فرق ملحوظ رکھنا چاہیے۔ منصب نبوت ہر قسم کی تنقید سے بلند ہے۔ انبیاء معصوم ہوتے ہیں اور حضور ﷺ سید الانبیاء ہیں۔ منصب نبوت کی طرف کسی قسم کی انگشت نمائی یا تنقید ”توہین رسالت“ ہی کے زمرے میں آتی ہے۔ امت کے جلیل القدر علماء نے اس موضوع پر مستقل کتابیں لکھی ہیں۔ یہ دانشور اگر ان کتابوں کا بغور مطالعہ کرلیں تو انہیں مستشرقین کے دائرہ اثر سے نکلنے کا موقع مل جائے گا۔
باب پنجم :...... توہین رسالت کے متعلق علماء کرام اور کالم نگاروں کے ارشادات
علامہ تقی الدین سبکی کی کتاب ”السيف المسلول علٰی من سب الرسول“، مشہور حنفی عالم علامہ زین العابدین شامی کی ”تنبيه الولاة والحكام علٰی أحكام شاتم خير الأنام“ اور علامہ ابن تیمیہ کی شہرۂ آفاق تصنیف ”الصارم المسلول علٰی شاتم الرسول“ اس موضوع پر ایسی کتابیں ہیں جنہوں نے کوئی پہلو تشنہ نہیں چھوڑا اور سب اس پر متفق ہیں کہ بارگاہ رسالت میں کسی بھی قسم کی تنقید کی سزا موت اور قتل ہے۔
چنانچہ جب اسلام اور مسلمانوں کا غلبہ تھا اور مسلمانوں کی عدالتیں دشمنوں کے دباؤ سے آزاد تھیں۔ تب کوئی ایسا واقعہ پیش آتا تو مجرم موت کی سزا پا کر کیفر کردار تک پہنچ جاتا۔ بلکہ نویں صدی کے وسط میں اندلس کے اندر ”شاتمین رسول“ نے ایک جماعت کی شکل اختیار کر لی تھی۔ لیکن مسلمان قاضیوں نے کوئی نرمی نہیں برتی اور اس کیس کے ہر مجرم کو سزائے موت دی۔ یولوجیس نامی عیسائی اس گروہ کا سربراہ تھا اور اس کی سزائے موت کے ساتھ ہی مسلم ہسپانیہ میں اس بدبخت جماعت کا خاتمہ ہوا۔ 1
پادریوں کی اسلام دشمنی کا عیسائی مورخین کو اعتراف
عیسائی دنیا کے ساتھ عالم اسلام کے تصادم کی بڑی طویل تاریخ ہے اور باہمی دشمنی کی جڑیں صدیوں پر محیط ہیں۔ عیسائی پادریوں کی اسلام دشمنی اور مسلمانوں کے خلاف ان کے پروپیگنڈے کا خود عیسائی مؤرخین نے اعتراف کیا ہے۔
مشہور مورخ ڈوزی اپنی کتاب میں لکھتا ہے: ”سب سے بڑھ کر پادری تھے جو شدید پیچ و تاب کھاتے تھے۔ جبلی طور پر وہ محمد (ﷺ) کے پیروکاروں سے نفرت کرتے تھے اور اس سے بھی بڑھ کر یہ کہ اسلام اور پیغمبر اسلام اور ان کی تعلیمات کے بارے میں وہ انتہائی باطل نظریات رکھتے تھے یا جس طرح وہ عربوں کے درمیان رہتے تھے تو ان کے لیے اس سے زیادہ کوئی چیز آسان نہ تھی کہ وہ ان معاملات میں سچائی سے آگاہی حاصل کرتے۔ لیکن انہوں نے اڑیل انداز سے، سرچشمے کے اس قدر قریب ہونے کے باوجود اس حصولِ آگاہی سے انکار کرتے ہوئے مکے کے پیغمبر سے متعلق ہر قسم کے مضحکہ خیز افسانے پر اعتبار
1 تفصیل کے لیے دیکھئے: تاریخ ہسپانیہ: 1 / 200
باب پنجم: ....... توہین رسالت کے متعلق علماء کرام اور کالم نگاروں کے ارشادات
کرنے اور اس کی تشہیر کرنے کو ترجیح دی۔ خواہ ایسے افسانے کا ماخذ کچھ بھی نہ ہو۔ 1
اور جے جے سانڈرس لکھتا ہے کہ: ”اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ پیغمبر عربی ﷺ کو عیسائیوں نے کبھی بھی ہمدردی اور التفات کی نظر سے نہیں دیکھا۔ جن کے لیے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی شفیق اور معصوم ہستی ہی آئیڈیل رہی ہے۔ عیسائیت کو اسلام سے پہنچنے والے نقصانات اور پروپیگنڈا جو صلیبی جنگوں کے دور میں پھیلایا گیا۔ غیر جانبدارانہ رائے کے لیے ممد و معاون نہ تھے اور اس وقت سے لے کر تقریباً آج تک محمد (ﷺ) کو متنازعہ لٹریچر میں پیش کیا گیا ہے۔ بے ہودہ کہانیاں پھیلائی گئیں اور طویل عرصے تک ان پر یقین کیا جاتا رہا ہے۔“
(عہد وسطی کے اسلام کی تاریخ صفحہ: 34-35)
ڈبلیو منٹگمری واٹ اپنی کتاب ”اسلام کیا ہے؟“ میں رقمطراز ہے کہ: ”مشکل یہ ہے کہ ہم اس گہرے تعصب کے وارث ہیں جس کی جڑیں قرون وسطیٰ کے جنگی پروپیگنڈے میں پیوست ہیں۔ اب اس کا وسیع پیمانے پر اعتراف کیا جانا چاہیے۔ تقریباً آٹھویں صدی عیسوی سے عیسائی یورپ نے اسلام کو اپنا عظیم دشمن سمجھنا شروع کیا جو عسکری اور روحانی حلقہ اثر میں اس کے لیے خطرہ تھا۔ اسی مہلک خوف کے زیر اثر عیسائی دنیا نے اپنے اعتقاد کو سہارا دینے کے لیے اپنے دشمن کو ممکنہ حد تک انتہائی ناپسندیدہ نظر سے پیش کیا۔ حتیٰ کہ بیسویں صدی کے دوسرے نصف میں بھی ان کے کچھ اثرات باقی ہیں۔“ 2
اور ایک جگہ ڈاکٹر واٹ اس بات کا اعتراف کرتا ہے: ”اسلام کے بارے میں ہمارا رویہ مجموعی طور پر غیر جانبدارانہ نہیں ہے۔ کسی حد تک اب بھی ہم عہد وسطیٰ کے جنگی پروپیگنڈے کے زیر اثر ہیں۔“
ان اقتباسات کے پیش کرنے کا مقصد یہ ہے کہ اسلام کے ساتھ عیسائی دنیا کی دشمنی اسے توہین رسالت کے جرم پر وقتاً فوقتاً آمادہ کرتی رہی ہے اور گزشتہ دو تین صدیوں سے ”آزادی اظہار رائے“ کی جو مسموم ہوا یورپ میں چل پڑی ہے۔ اس ناقابل معافی جرم کو بھی وہ اس کی بھینٹ چڑھانے کی سعی کر رہی ہے۔ پاکستان میں قابل فہم طور پر ایک مسلم ریاست ہونے کے ناطے ”توہین رسالت“ کی سزا موت ہے۔ مغربی ممالک نے اس
1 ہسپانوی اسلام، صفحہ: 268 2 اسلام کیا ہے، صفحہ: 201
باب پنجم: ....... توہین رسالت کے متعلق علماء کرام اور کالم نگاروں کے ارشادات
قانون کے خلاف بڑا واویلا مچایا اور اسے ”آزادی“ کے خلاف قرار دے کر مختلف حکومتوں پر یہ قوتیں دباؤ ڈالتی رہیں۔ لیکن الحمد للہ! یہاں کی عوامی قوت کے خوف سے کوئی حکومت اب تک اس میں تبدیلی نہیں کر سکی ہے۔
ایک مشہور بیوروکریٹ اور ادیب قدرت اللہ شہاب نے اس سلسلے میں مسلمانوں کے جذبات کا تجزیہ کرتے ہوئے کافی حد تک صحیح لکھا ہے: ”رسول خدا ﷺ کے متعلق اگر کوئی بد زبانی کرے تو لوگ آپے سے باہر ہو جاتے ہیں اور کچھ لوگ تو مرنے کی بازی لگا بیٹھتے ہیں۔ اس میں اچھے، نیم اچھے، برے مسلمان کی بالکل کوئی تخصیص نہیں۔ بلکہ تجزیہ تو اسی کا شاہد ہے کہ جن لوگوں نے ناموس رسالت پر اپنی جان عزیز کو قربان کر دیا۔ ظاہری طور پر نہ تو وہ علم وفضل میں نمایاں تھے اور نہ زہد وتقویٰ میں ممتاز تھے۔ ایک عام مسلمان کا شعور اور لاشعور جس شدت اور دیوانگی کے ساتھ شانِ رسالت کے حق میں مضطرب ہوتا ہے۔ اس کی بنیاد عقیدہ سے زیادہ عقیدت پر مبنی ہے۔ خواص میں یہ عقیدت ایک جذبہ اور عوام میں ایک جنون کی صورت میں نمودار ہوتی ہے۔“
ایک عام مسلمان کا حضور اکرم ﷺ کے ساتھ عقیدت ومحبت کا یہ عالم ہے کہ وہ ناموس رسالت پر کٹ مرنے کو اپنے لیے مایہ فخر سمجھتا ہے اور مولانا محمد علی جوہر کی ایمانی غیرت وحمیت کے یہ الفاظ تقریباً ہر مسلمان کے جذبات کی ترجمانی کرتے ہیں: ”جہاں تک خود میرا تعلق ہے۔ مجھے نہ قانون کی ضرورت ہے نہ عدالتوں کی حاجت۔ اگر کوئی ہندوستانی اس قدر شقی القلب ہے کہ انسان جو اشرف المخلوقات ہے۔ ان میں سب سے اشرف نبی سرور کونین ﷺ اور باعث تکوین دو عالم کا جو تقدس میرے دل میں کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا ہے۔ اس کا اتنا پاس بھی نہیں کرتا کہ اس برگزیدہ ہستی کی توہین کر کے میرے قلب کو چور چور کرنے سے احتراز کرے۔۔۔۔ تو مجھ سے جہاں تک صبر ہو سکے گا صبر کروں گا۔ جب صبر کا جام لبریز ہو جائے گا تو اٹھوں گا اور یا تو اس گندہ دل، گندہ دماغ، گندہ دہن کافر کی جان لے لوں گا یا اپنی جان اس کی کوشش میں کھو دوں گا۔“ ۱؎
جب کہیں مسلمان خود اقلیت میں ہو گئے یا مسلمانوں کی عدالتیں غیروں کے دباؤ
۱؎ مولانا محمد علی جوہر، آپ بیتی اور فکری مقالات، صفحہ ۲۳۲
باب پنجم: ....... میں آئیں اور وہاں توہین کے راستوں میں رکاوٹیں عدالت کی پروا نہیں کی بلکہ پر کٹ مرنے والے سعادت
آزادی اظہار رائے
جہاں تک آزادی ”آزادی مطلق“ کا حق دستوروں کے حوالے دیے نے حضور اکرم ﷺ کی شا رائے“ کا اپنا حق قرار دیا لہٰذا اس کے آرٹیکل سب کو مساوی حقوق ملنے جائے گا ۔“ اور آرٹیکل نمبر تک کہ اس سے کسی دوسرے ذریعہ کیا جائے گا۔“
جرمنی کے آئین خیال کی آزادی کا حق مل کہ : ”یہ حقوق شخصی عزت و
امریکی دستور فیصلے کے مطابق دستور میں عامہ میں خلل اندازی کا ب سلب کرنے کا اختیار دی ممنوع قرار دیا گیا ہے۔
باب پنجم: ....... توہین رسالت کے متعلق علماء کرام اور کالم نگاروں کے ارشادات
میں آ گئیں اور وہاں توہین رسالت کے مجرموں کو کیفر کردار تک پہنچانے کے لئے انصاف کے راستوں میں رکاوٹیں پیش آنے لگیں۔ تب سے عام مسلمانوں نے کسی قانون اور عدالت کی پروا نہیں کی۔ غازی علم دین شہید سے لے کر عامر چیمہ شہید تک ناموس رسالت پر کٹ مرنے والے سعادت مندوں نے خود کو فنا کر کے دوام حاصل کیا۔
~ آزادی اظہار رائے کا مفہوم
جہاں تک آزادی یا آزادی اظہار رائے کا تعلق ہے تو دنیا کے کسی بھی دستور میں ”آزادی مطلق“ کا حق نہیں دیا گیا۔ یہاں سیکولر ہونے کے دعویٰ دار اور چند معروف دستوروں کے حوالے دیئے جاتے ہیں۔ سب سے پہلے فرانس کو لے لیں جہاں کے اخبارات نے حضور اکرم ﷺ کی شان میں اہانت آمیز خاکے شائع کئے ہیں اور اسے ”آزادی اظہار رائے“ کا اپنا حق قرار دیا ہے۔
اس کے آرٹیکل نمبر 1 میں کہا گیا ہے: ”انسان آزاد پیدا ہوا ہے اور آزاد رہے گا اور سب کو مساوی حقوق حاصل ہوں گے۔ لیکن سماجی حیثیت کا تعلق مفاد عامہ کے پیش نظر کیا جائے گا۔“ اور آرٹیکل نمبر 4 میں کہا گیا ہے: ”آزادی کا حق اس حد تک تسلیم کیا جائے گا جب تک کہ اس سے کسی دوسرے شخص کا حق متاثر یا مجروح نہ ہو اور ان حقوق کا تعین بھی قانون کے ذریعہ کیا جائے گا۔“
جرمنی کے آئین کے آرٹیکل نمبر 5 میں کہا گیا ہے: ”ہر شخص کو تحریر، تقریر اور اظہار خیال کی آزادی کا حق حاصل ہے۔“ مگر اس کے ذیلی آرٹیکل نمبر 2 میں واضح کر دیا گیا ہے کہ: ”یہ حقوق شخصی عزت و تکریم کے دائروں میں رہتے ہوئے استعمال کئے جاسکیں گے۔“
امریکی دستور میں بھی مطلق آزادی کا کوئی تصور نہیں۔ امریکن سپریم کورٹ کے فیصلے کے مطابق دستور میں ایسی تحریر اور تقریر کی اجازت نہیں جو عوام میں اشتعال انگیزی یا امن عامہ میں خلل اندازی کا سبب بنے یا اس سے اخلاقی بگاڑ پیدا ہو۔ ریاست کو ایسی آزادی سلب کرنے کا اختیار دیا گیا۔ اسی طرح آزادی مذہب کے نام پر توہین مسیح کے ارتکاب کو ممنوع قرار دیا گیا ہے۔ (امریکن سپریم کورٹ کے اس فیصلے کی تفصیل محمد اسماعیل قریشی
باب پنجم: ...... توہین رسالت کے متعلق علماء کرام اور کالم نگاروں کے ارشادات ایڈووکیٹ نے اپنی کتاب ”ناموس رسالت اور توہین رسالت“ کے باب پنجم میں لکھی ہے) یہی حال برطانیہ کا ہے۔ وہاں بھی حضرت عیسیٰ ؑ یا برطانیہ کی ملکہ کی شان میں کسی قسم کی گستاخی کی اجازت نہیں۔ وہاں ہائیڈ پارک میں ’سپیکر کارنر‘ کے نام سے ایک گوشہ مختص ہے۔ جہاں مخصوص اوقات میں ہر شخص کو جو جی میں آئے کہنے یا بکنے کی چھوٹ دی گئی ہے۔ لیکن یہاں بھی کسی کو یہ اجازت نہیں کہ وہ حضرت عیسیٰ ؑ کی توہین کرے یا ملکہ کی شان میں گستاخی کرے۔ جب خود ان قوموں کے دساتیر میں ”آزادی اظہار رائے“ کو مشروط کیا گیا کہ اس کی اسی وقت اجازت ہے جب وہ کسی کے حق اور جذبات کو مجروح کرنے کا ذریعہ نہ بنے۔ ایسے میں قانونی حوالے سے اس کا جواز کیونکر ہوسکتا ہے کہ کائنات کی سب سے بزرگ ہستی کی توہین کی جائے۔ جو دنیا کے مختلف خطوں میں رہنے والے اربوں مسلمانوں کے جذبات مجروح کرنے کا ذریعہ بنتی ہے۔......!!
حقیقت یہ ہے کہ ناموس رسالت پر حملوں کے اس طرح کے افسوس ناک واقعات، عیسائی دنیا کی اس پرانی اسلام دشمنی کا نتیجہ ہیں جو صدیوں سے قائم ہے اور قرب قیامت تک قائم رہے گی۔ پیغمبر اسلام ﷺ اور اسلام کے خلاف پروپیگنڈہ۔ اس کے متعصبانہ خمیر میں شامل ہے اور اس کے لیے انہوں نے بڑے بڑے ادارے قائم کیے جن کے تحت ہزاروں افراد کام کررہے ہیں۔ یہ لوگ صدیوں سے اسلام کے قلعے پر علمی، عملی اور سائنسی محاذوں سے حملہ آور ہیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ اس قلعے میں شگاف پڑے۔ انہیں معلوم ہے کہ دین اسلام ہی ان کی ظاہری چمک دمک والی لیکن اندر سے کھوکھلی اور فرسودہ تہذیب کو کارزار حیات میں شکست وریخت سے دوچار کرکے مٹا سکتا ہے کہ وہی ایک زندہ و جاوید اور قیامت تک رہنے والا دین برحق ہے۔......!
” يُرِيدُونَ لِيُطْفِؤُا نُورَ اللّٰهِ بِأَفْوَاهِهِمْ وَاللّٰهُ مُتِمُّ نُورِهِ وَلَوْ كَرِهَ الْكٰفِرُوْنَ “
پاکستان میں توہین رسالت کا قانون اور پس منظر
پاکستان، اسلام کے نام پر بننے والا ملک ہے۔ جس کی پہچان اور دنیا کے نقشے پر
باب پنجم :....... توہین رسالت کے متعلق علماء کرام اور کالم نگاروں کے ارشادات
جس کے وجود میں آنے کا جواز اسلام اور اس کی تعلیمات کا عملی نفاذ تھا۔ برصغیر میں ناموس رسالت کے تحفظ کے لیے بڑی ایمان افروز تحریکیں چلی ہیں اور خواجہ بطحا ﷺ کے تقدس پر جانیں قربان کرنے کی لہو رنگ تاریخ مرتب ہوئی ہے۔ عام مسلمانوں نے جب بھی دیکھا کہ توہین رسالت کے مجرم کو قانون گنجائش فراہم کر رہا ہے اور انصاف پر قانون کی گرفت ڈھیلی پڑ رہی ہے۔ تب مسلمانوں نے انصاف خود اپنے ہاتھوں میں لیا ہے۔ انہوں نے کسی قانون، کسی کالے ضابطے کی پرواہ نہیں کی۔
(خاکم بدہن)
انیسویں صدی کے دوسرے عشرے میں راجپال نامی بدبخت نے حضور اکرم ﷺ کی شان میں گستاخی پر مشتمل ایک کتاب ”رنگیلا رسول“ کے نام سے لکھی تھی۔ انگریز کا قانون نافذ تھا۔ مسلمان بجا طور پر مشتعل تھے۔ دفعہ 144 نافذ کر دیا گیا تھا اور کسی قسم کے جلسے اور اجتماع کی اجازت نہیں تھی۔ اس موقع پر خطیب الہند حضرت سید عطاء اللہ شاہ بخاری رحمہ اللہ نے جو تقریر کی۔ اس سے مسلمانوں کے جذبات کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ انہوں نے فرمایا:
”جب تک ایک مسلمان بھی زندہ ہے۔ ناموس رسالت پر حملہ کرنے والے چین سے نہیں رہ سکتے۔ پولیس جھوٹی، حکومت کوڑھی اور ڈپٹی کمشنر نا اہل ہے۔ ہندو اخبارات کی ہرزہ سرائی تو روک نہیں سکتا۔ لیکن علمائے کرام کی تقریریں روکنا چاہتا ہے۔ وقت آ گیا ہے کہ دفعہ 144 کے یہیں پر بخیے ادھیڑ دیے جائیں۔ میں دفعہ 144 کو اپنے جوتے کی نوک تلے مسل کر بتا دوں گا:
جلا کے راکھ نہ کر دوں تو داغ نام نہیں
راجپال کو غازی علم دین نے حملہ کر کے ٹھکانے لگایا اور یوں جس انصاف کو فراہم کرنے میں عدالت پس و پیش سے کام لیتی رہی۔ ایک عام مسلمان نے بڑھ کر قانون اپنے ہاتھ میں لیا اور مجرم کو کیفر کردار تک پہنچایا۔
انگریز دور حکومت میں مجموعہ تعزیرات ہند نافذ تھا۔ جس کے دفعہ 295-C کا اضافہ کیا گیا جس میں پیغمبر اسلام ﷺ کی شان میں گستاخی کے مجرم کو عمر قید یا موت کی سزا مقرر کی گئی۔ 30 اکتوبر 1990ء میں وفاقی شرعی عدالت نے ”عمر قید“ کی سزا کو غیر شرعی
باب پنجم:........ توہین رسالت کے متعلق علماء کرام اور کالم نگاروں کے ارشادات
قرار دے کر منسوخ کر دیا اور صرف موت کی سزا کو برقرار رکھا جس کے الفاظ یہ ہیں: ”جو شخص بذریعہ الفاظ زبانی ، تحریری یا اعلانیہ اشارتاً کنایتاً بہتان تراشی کرے ، یا رسول کریم ﷺ کے پاک نام کی بے حرمتی کرے۔ اسے سزائے موت دی جائے گی اور وہ جرمانہ کا بھی مستوجب ہوگا ۔“
مغرب اور حقوق انسانی کی نام نہاد تنظیموں نے اس قانون کے خلاف زبردست پروپیگنڈہ کیا اور مختلف حکومتوں پر اس میں ترمیم اور تخفیف کرنے کے لیے دباؤ ڈالا جاتا رہا۔ بعض حکمران اس میں ترمیم کے لیے آمادہ بھی ہوئے ۔ لیکن عوامی طاقت کے خوف سے وہ اس میں تبدیلی نہیں کر سکے۔...... اس سلسلے میں ختم نبوت (عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت ) سے وابستہ علماء اور مخلص کارکنوں کا کردار قابل رشک رہا۔ انہوں نے جہاں کہیں اس طرح کی سازش کی بو محسوس کی۔ عوام میں بیداری کے لیے ”ہشیار باش“ کی صدا لگائی اور لوگوں کو بر وقت جگانے کا فریضہ انجام دیتے رہے اور ایک مؤمن کے لیے اس سے بڑھ کر اور سعادت کیا ہو سکتی ہے کہ اس کے وقت ، اس کے مال ، اس کی فکر اور اس کی مساعی کا محور آقائے نامدار ﷺ کی ناموس کا تحفظ ہو۔ مبارک ہیں ایسے لوگ ....... ! اور قابل رشک ہیں ان کی زندگی کے لمحات ...... !
آخری بات
جہاں تک مغرب اور کفریہ طاقتوں سے دلائل کی روشنی میں مکالمے کا تعلق ہے۔ یہ بات اپنی جگہ بے غبار ہے کہ ان کا رویہ عناد اور دشمنی پر مبنی ہے اور ایک عناد اور کینہ رکھنے والا دشمن ، دلائل سے بھی متاثر نہیں ہوتا۔ اس کے پاس اگر طاقت ہوتی ہے تو دلائل کا ٹکسال بھی اس کا اپنا ہوتا ہے اور خیر و شر کے پیمانے بھی وہ خود بناتا اور بگاڑتا ہے ....... ہاں ! اہل اسلام کا یہ فریضہ ضرور ہے کہ وہ انسانیت کی ابدی صداقتوں کی روشنی میں حق اور حقیقت کو اجاگر کریں۔ خیر و شر اور نیکی اور بدی کے صحیح پیمانوں کا تعارف کرائیں اور داعیانہ اسلوب میں واضح کریں کہ کائنات کی مقدس ترین ہستی ﷺ کی شان میں گستاخی صرف مسلمانوں کے جذبات مجروح ہونے کا سبب نہیں ۔ بلکہ یہ اہانت آمیز رویہ اختیار کرنے والی ان قوموں کے لیے دنیا اور آخرت کی بربادی اور تباہی کا ذریعہ بھی ہے۔
باب پنجم : ....... توہین رسالت کے متعلق علماء کرام اور کالم نگاروں کے ارشادات
قرآن کریم نے اپنے بلیغ اسلوب بیان میں جگہ جگہ اس کا ذکر کیا ہے۔ ارشاد ہے: ”اور بلاشبہ آپ سے پہلے رسولوں سے بھی ہنسی کرتے رہے۔ پھر گھیر لیا ان ہنسی کرنے والوں کو اس چیز نے جس پر ہنسا کرتے تھے۔“ یعنی انبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام کے ساتھ استہزاء کرتے تو انبیاء ان کو عذاب سے ڈراتے۔ لیکن وہ اس عذاب کا بھی تمسخر اڑاتے تو اللہ تعالیٰ نے ان کو اسی عذاب میں مبتلا کیا جس کا وہ مذاق اڑاتے تھے۔
اس آیت مبارکہ میں رسول اکرم ﷺ کو دو طرح سے تسلی دی گئی ہے۔ ایک تو انبیاء سابقین کے ساتھ بھی کفار کے استہزاء کا ذکر کیا گیا اور بتایا گیا کہ یہ کوئی نئی بات نہیں۔ بلکہ آپ سے پہلے بھی انبیاء کو ان حالات سے دوچار ہونا پڑا ہے۔ لہٰذا آپ کفار کی تمسخر آمیز فرمائشوں سے دلگیر نہ ہوں۔ برابر اپنے دعوتی پروگرام کو آگے بڑھاتے رہئے اور آیت کے دوسرے حصے میں بتایا کہ ایسے بدبخت اور موذی لوگوں سے متعلق سنت اللہ بھی یہ رہی ہے کہ ان کو کچھ مہلت دینے کے بعد بالآخر دنیا ہی میں عذاب الٰہی سے دوچار ہونا پڑا ہے اور اپنے انجام بد کو وہ پہنچے ہیں۔
مفسرین نے لکھا ہے کہ کفار میں سے جو لوگ آپ کا زیادہ مذاق اڑایا کرتے تھے۔ ان میں ولید بن مغیرہ، عاص بن وائل، اسود بن عبدالمطلب، اسود بن عبد یغوث اور حارث بن قیس پیش پیش تھے۔ ایک مرتبہ آپ ﷺ حرم میں تشریف فرما تھے کہ جبرئیل امین تشریف لائے اور ان پانچوں میں سے ہر ایک کے مختلف اعضاء کی طرف اشارہ کیا جو ان کی ہلاکت کا سبب بنا۔
ایک دوسری آیت کریمہ میں ارشاد ہے: ”اور بہت سے پیغمبر آپ سے پہلے گزر چکے ہیں۔ بلاشبہ ان کا مذاق اڑایا گیا۔ میں نے ان کو مہلت دی۔ پھر ان کو پکڑ لیا۔ سو ان کا عذاب کس قدر دردناک تھا......!“ اس لیے فخر موجودات حضرت پیغمبر اسلام ﷺ کی شان میں گستاخی کرنے والے، انسانیت کے مجرموں پر اس حقیقت کو بار بار واضح کرنے کی ضرورت ہے کہ ان کی بے احترامی ان کی دنیوی اور اخروی تباہی اور بربادی کا ذریعہ ہے۔ اللہ کے ہاں دیر ہے اندھیر نہیں۔ اس کی پکڑ آئے گی اور ضرور آئے گی۔ پس اقوام و ملل کی تباہی کی تاریخ سے ہے کوئی عبرت حاصل کرنے والا......!!
باب پنجم: ....... توہین رسالت کے متعلق علماء کرام اور کالم نگاروں کے ارشادات
ناموس رسالت ﷺ کی حفاظت کیجئے
- ☆....... اہل مغرب دلائل و براہین کے میدان میں خالی ہونے کی وجہ سے
اوچھے ہتھکنڈوں پر اتر آئے ہیں۔ کبھی رحمت دو عالم ﷺ کے خاکے بنائے جاتے ہیں۔ اور کبھی قرآن پاک کو جلانے کی غلیظ حرکات کر کے اسلامیان عالم کو مشتعل کر کے دنیا بھر میں لاء اینڈ آرڈر کا مسئلہ پیدا کرنے کی کوشش کرتے ہیں ان کے علاج کی ایک صورت ان کی مصنوعات کا مکمل بائیکاٹ کر کے انہیں معاشی طور پر پریشان کرنا ہے۔ اس سلسلہ میں شیخ الاسلام حضرت مولانا تقی عثمانی دامت برکاتہم فرماتے ہیں۔
جب آدمی دلیل کے میدان میں شکست کھا جاتا ہے لیکن ہٹ دھرم ہوتا ہے، تو اس وقت ہٹ دھرمی پر اتر آتا ہے، جیسے ہمارے یہاں کی مثال مشہور ہے ”کھسیانی بلی کھمبا نوچے“ جب اس کو کہنے کے لئے کوئی بات نہیں ملتی تو وہ گالم گلوچ پر اتر آتا ہے اور سب و شتم کرنے لگتا ہے، جب اللہ تعالیٰ نے اسلام کو حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں اور بعد کے زمانے میں قوت اور شوکت عطا فرمائی، تو جو لوگ اسلام کے آگے ہر طرح سے مغلوب ہو گئے، دلیل سے بھی مغلوب اور قوت سے بھی مغلوب تو اس وقت وہ لوگ اوچھی حرکتوں اور اوچھے ہتھکنڈوں پر اتر آئے تھے اور برا بھلا کہنا شروع کر دیتے تھے۔
آج بھی جدید تہذیب اور جدید ثقافت کے دعویدار جنہوں نے اپنی تہذیب و تمدن کا ڈھنڈورا پیٹا ہوا ہے، جنہوں نے یہ ڈھنڈورا پیٹا ہوا ہے کہ ہم انسانوں کے حقوق کے علمبردار ہیں، ان میں اور ان بد باطن کافروں میں آج بھی ذرا برابر فرق نہیں آیا، آج ان کے پاس بھی اسلام کے خلاف کوئی دلیل نہیں دلیل کے میدان میں یہ شکست کھا چکے ہیں، اللہ تعالیٰ کے فضل وکرم سے اسلام کی حقانیت ساری دنیا میں اپنا لوہا منوا رہی ہے، ان دشمنان اسلام کے پاس
باب پنجم: ......
سوائے اس کے کوئی چارہ نہیں کہ تھوکنے کی کوشش کریں، یہی وطیر یہ در حقیقت ان کی ع پاس دلیل کے میدان میں پیش کر اور اپنی جلن کا مظاہرہ ان اوچھے ﷺ کی شان میں گستاخیاں کر بنانے شروع کر دیے۔
یہ ساری باتیں در ح کے پاس دلیل ہوتی ہے وہ کبھی بات کرتا ہے اور دلیل کے ذری باتوں کی تردید کرتا ہے لیکن جن ہے۔ دراصل یہ تو خود ان کی طر جواب نہیں رکھتے سوائے اس کے کی کوشش کریں چنانچہ یہ کر ر
دوسری طرف مسلم کے نام لیوا ہیں اور جو حضور اقدس کے جواب میں کیا کرتے ہیں کے ساتھ اس چیلنج کو قبول کرنا جناب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ حضور اقدس صلی اللہ ”لا يؤمن احدكم ح اجمعين.“
باب پنجم: ....... توہین رسالت کے متعلق علماء کرام اور کالم نگاروں کے ارشادات
سوائے اس کے کوئی چارہ نہیں کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی کر کے چاند پر تھوکنے کی کوشش کریں، یہی وطیرہ آج انہوں نے اپنایا ہوا ہے۔
یہ درحقیقت ان کی پستی، ان کی شکست، ان کی مغلوبیت کی دلیل ہے کہ ان کے پاس دلیل کے میدان میں پیش کرنے کے لئے کچھ بھی نہیں ہے، اسی وجہ سے اپنا غصہ، اپنا حسد اور اپنی جلن کا مظاہرہ ان اوچھے ہتھکنڈوں کے ذریعہ کر رہے ہیں کہ کبھی معاذ اللہ حضور اقدس ﷺ کی شان میں گستاخیاں کرنا شروع کر دیں اور کبھی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے معاذ اللہ کارٹون بنانے شروع کر دیئے۔
یہ ساری باتیں درحقیقت دلیل کے میدان میں شکست خوردگی کی علامت ہیں، جس کے پاس دلیل ہوتی ہے وہ کبھی گالی نہیں دیتا، وہ کبھی دوسروں کو طعنے نہیں دیتا، وہ دلیل سے بات کرتا ہے اور دلیل کے ذریعے اپنی بات دوسروں کو سمجھاتا ہے، دلیل کے ذریعے دوسروں کی باتوں کی تردید کرتا ہے لیکن جس کے پاس دلیل نہیں ہوتی وہ ان اوچھے ہتھکنڈوں پر اتر آتا ہے۔ دراصل یہ تو خود ان کی طرف سے اعتراف ہے کہ ہم حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی دلیل کا کوئی جواب نہیں رکھتے سوائے اس کے کہ اپنے غصہ کی آگ کو ان اوچھے ہتھکنڈوں سے ٹھنڈا کرنے کی کوشش کریں چنانچہ یہ کر رہے ہیں، حقیقت میں یہ شکست خوردگی کا اعتراف ہے۔
دوسری طرف مسلمانوں کی غیرت کو بھی چیلنج ہے کہ جو لوگ محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم کے نام لیوا ہیں اور جو حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت کے دعویدار ہیں وہ ان اوچھے ہتھکنڈوں کے جواب میں کیا کرتے ہیں یہ ایک چیلنج ہے، میں سمجھتا ہوں کہ پوری امت مسلمہ کو غیرت ایمانی کے ساتھ اس چیلنج کو قبول کرنا چاہئے کہ پوری امت مسلمہ اس بات کا مظاہرہ کرے کہ وہ اپنے نبی جناب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حرمت پر اپنی جان قربان کرنے کے لئے تیار ہے۔
حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
”لا یؤمن احدکم حتی اکون احب الیه من نفسه وولده والناس اجمعین.“
توہین رسالت کے متعلق علماء کرام اور کالم نگاروں کے ارشادات باب پنجم : ......
”کہ تم میں سے کوئی شخص اس وقت تک مومن نہیں ہو سکتا جب تک میں اس کو اپنی جان سے، اپنے والدین سے، اپنی اولاد، اور ساری دنیا کے انسانوں سے زیادہ محبوب نہ بن جاؤں۔“
سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ عنہ نے یہ ارشاد سن کر عرض کیا کہ یا رسول اللہ ! الحمد للہ آپ مجھے میرے والدین سے بھی زیادہ محبوب ہیں، ساری دنیا کے انسانوں سے بھی زیادہ محبوب ہیں، لیکن مجھے شک ہے کہ کہیں ایسا تو نہیں کہ مجھے اپنی جان زیادہ پیاری لگتی ہو؟ رسول اللہ ﷺ نے حضرت فاروق اعظم ؓ کے سینہ پر ہاتھ رکھ کر فرمایا جب تک اپنی جان سے بھی زیادہ محبوب نہیں سمجھ لو گے اس وقت تک مومن نہیں ہو سکتے، اس کے فوراً بعد یک دم سے سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ عنہ میں انقلاب آگیا اور عرض کیا ، یا رسول اللہ ﷺ! ”الآن“ اب مجھے یقین ہے کہ اب آپ مجھے اپنی جان سے بھی زیادہ محبوب ہیں۔
صحابہ کرام ؓ نے اپنے قول وفعل سے اپنے عمل سے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت و عشق کی وہ مثالیں پیش کی ہیں دنیا کی کوئی قوم، کوئی ملت، اپنے مقتداء، اپنے پیغمبر اور اپنے رہنما سے محبت کی ایسی مثالیں پیش نہیں کر سکتی ، حضرت ابو محذورہ ؓ ایک صحابی ہیں بچپن میں حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے سر پر اپنا دست مبارک رکھا تھا، اس کے نتیجے میں اللہ تعالیٰ نے ان کو ایمان کی توفیق عطاء فرمادی ، تو جس جگہ پر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا دست مبارک رکھا تھا ساری زندگی انہوں نے اس جگہ سے بال نہیں کٹوائے کہ وہ یہ بال ہیں جن سے حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کا ہاتھ مبارک چھوا ہے، صحابہ کرام ؓ کے عشق و محبت کا یہ حال ہے۔
آج ایک چھوٹی سی آزمائش ہے کہ تم ربیع الاول کے مہینے میں عید میلاد النبی بھی مناتے ہو اور حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کا دعویٰ بھی کرتے ہو، آج تمہارا یہ چھوٹا سا امتحان ہے کہ جو لوگ یہ دریدہ دہنی کے ساتھ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کی حرمت پر ہاتھ ڈالنے کی کوشش کر رہے ہیں ان کے بارے میں تمہارا کیا رویہ ہے؟ کیا پھر بھی تم ان کے ساتھ دوستی کا تعلق رکھو گے؟ کیا پھر بھی تم ان کو معاشی فوائد پہنچانے کی کوشش کرو گے؟؟؟
باب پنجم : ....... حضور اقدس صلی اللہ کے بارے میں خود اللہ جل شانہ کے تذکرے کو بلند مقام عطا فر کہ دنیا میں کہیں نہ کہیں ”اشہد لمحہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کے ذکر کو اتنا بلند فرما قوتیں حضور اقدس صلی اللہ علیہ اللہ جل شانہ ان پر رحمت بھیج تمہاری تعریف کی حاجت ہے بلند ہے ان کو پیدائش کے وقت جس کی تعریف زمین و آسمان کائنات میں ہے، اس ذات ک مسلمان کی خوش بختی ہوگی کہ وہ کی عظمت اور آپ کی تقدیس سے ان بدباطنوں کو نقصان پ پتہ چلے کہ الحمدللہ مسلمانوں ک علیہ وسلم سے محبت کرنے وال ☆☆
باب پنجم: ....... توہین رسالت کے متعلق علماء کرام اور کالم نگاروں کے ارشادات
حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم ہماری تعریف اور ہماری تقدیس سے بے نیاز ہیں، ان کے بارے میں خود اللہ جل شانہ نے فرما دیا کہ ”ورفعنا لک ذکرک“ کہ ہم نے آپ کے تذکرے کو بلند مقام عطا فرمایا ہے، ایسا بلند مقام کہ چوبیس گھنٹے میں کوئی ایسا لمحہ نہیں گزرتا کہ دنیا میں کہیں نہ کہیں ”اشهد ان محمداً رسول الله“ کی صدا بلند نہ ہوتی ہو، ہر وقت، ہر لمحہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت کی گواہی بلند بانگ سے دی جارہی ہے، اللہ تعالیٰ نے آپ کے ذکر کو اتنا بلند فرمایا کہ، یہ لوگ ہزار ہرزہ بانیاں کیا کریں، لیکن کائنات کی ساری قوتیں حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کے گیت گاتی ہیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجتی ہیں، اللہ جل شانہ ان پر رحمت بھیجتے ہیں، ان کو نہ تمہارے درود کی حاجت ہے ان کو نہ ہماری اور تمہاری تعریف کی حاجت ہے، وہ ذات تو اس سے بلند و برتر و بالا ہے، ان تمام تعریفات سے بلند ہے ان کو پیدائش کے وقت اللہ تعالیٰ نے ”محمد“ قرار دیا ہے، یعنی جس کی تعریف کی گئی ہے جس کی تعریف زمین و آسمان میں ہے، جس کی تعریف فرشتوں میں ہے، جس کی تعریف کائنات میں ہے، اس ذات کو آپ کی اور ہماری تعریف کی حاجت نہیں ہے، لیکن یہ ایک مسلمان کی خوش بختی ہو گی کہ وہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت اور آپ کی تعریف کو اور آپ کی عظمت اور آپ کی تقدیس کو، آپ کی حرمت کو برقرار رکھنے کے لئے وہ ایسا اقدام کرے جس سے ان بد باطنوں کو نقصان پہنچے، کم سے کم اتنا تو ہو کہ ان کو پیسے کی چوٹ لگے، ایک مرتبہ ان کو پتہ چلے کہ الحمدللہ مسلمانوں کی غیرت ابھی سوئی نہیں ہے، انشاء اللہ کم از کم حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کرنے والوں میں تمہارا نام لکھا جائے گا۔
(روزنامہ اسلام 29 دسمبر 2010ء)
☆☆☆☆☆☆.......☆☆☆☆☆☆
باب پنجم: ...... توہین رسالت کے متعلق علماء کرام اور کالم نگاروں کے ارشادات
شاتم رسول کی سزا اور اسکی معافی؟
(سینیٹر پروفیسر ساجد میر)
نبی کریم ﷺ کی عظمت و توقیر مسلمان کے ایمان کا بنیادی جزو ہے اور علمائے اسلام دور صحابہؓ سے لے کر آج تک اس بات پر متفق رہے ہیں کہ آپ ﷺ کی شان اقدس میں گستاخی کرنے والا آخرت میں سخت عذاب کا سامنا کرنے کے علاوہ اس دنیا میں بھی گردن زدنی ہے۔ خود نبی رحمت ﷺ نے اپنے اور اسلام کے بے شمار دشمنوں کو (خصوصاً فتح مکہ کے موقع پر) معاف فرما دینے کے ساتھ ساتھ ان چند بدبختوں کے بارے میں جو قلم و ہنر میں آپ ﷺ کی ہجو اور گستاخی کیا کرتے تھے۔ فرمایا تھا کہ: ”اگر وہ کعبہ کے پردوں سے چمٹے ہوئے بھی ملیں تو انہیں واصل جہنم کیا جائے۔“
یہ حکم (نعوذ باللہ) آپ ﷺ کی ذاتی انتقام پسندی کی وجہ سے نہ تھا کہ آپ ﷺ کے بارے میں تو حضرت عائشہؓ اور صحابہ کرامؓ کی شہادت موجود ہے کہ آپ ﷺ نے کبھی بھی کسی سے ذاتی انتقام نہیں لیا۔ بلکہ اس وجہ سے تھا کہ شاتم رسول ﷺ دوسروں کے دلوں سے عظمت و توقیر رسول ﷺ گھٹانے کی کوشش کرتا اور اس میں کفر و نفاق کے بیج بوتا ہے۔ اس لئے توہین رسول ﷺ کو ”تہذیب و شرافت“ سے برداشت کر لینا اپنے ایمان سے ہاتھ دھونا اور دوسروں کے ایمان چھن جانے کا راستہ ہموار کرنے کے مترادف ہے۔ نیز ذات رسالت مآب ﷺ چونکہ ہر زمانے کے مسلمان معاشرہ کا مرکز و محور ہیں۔ اس لئے جو زبان آپ ﷺ پر طعن کے لئے کھلتی ہے۔ اگر اسے کاٹا نہ جائے اور جو قلم آپ ﷺ کی گستاخی کے لئے اٹھتا ہے۔ اگر اسے توڑا نہ جائے تو اسلامی معاشرہ فساد اعتقادی و عملی کا شکار ہو کر رہ جائے گا۔
نبی کریم ﷺ کو (نعوذ باللہ) نازیبا الفاظ کہنے والا امام ابن تیمیہؒ کے الفاظ میں ساری امت کو گالی دینے والا ہے اور وہ ہمارے ایمان کی جڑ کو کاٹنے کی کوشش کرتا ہے۔ نبی اکرم ﷺ نے اپنے لئے نہیں بلکہ مسلمانوں کا ایمان اور غیرت بچانے کے لئے ہجو نگاروں کی
باب پنجم: ......
گستاخیوں کی پاداش میں ان کا جب حضرت عمرؓ نے کہا۔ دیکھو اس نابینا نے کتنا (نابینا) نہ کہو، بصیر و بینا کہو کہ اس اور گستاخ ملعونہ اسماء بنت مروان آپ ﷺ نے فرمایا لوگو! اگر تم رسول ﷺ کی نصرت و امداد کرے عمیر بن عدیؓ جب اس ملعونہ کے نے ان سے پوچھا تھا کہ تم نے گستاخی کا وہ جرم کرو جو اس نے کیا
عہد نبوی میں شاتمان پیش نظر ہر دور کے مسلمان علماء کا والے کی سزا قتل ہے۔ موجودہ عرب کے مفتی اعظم کے علاوہ رسول ﷺ کے قتل کا فتویٰ دیا ہے اپنی گندگی پھیلا چکے تو قتل کے ب کی سزا سے بچ سکتا ہے۔ مگر دنیا م نبی اکرم ﷺ کی شان ان کے دل زخمی ہوتے ہیں۔ ان وہ کم ہے۔ مسلمان جس کے اقلیتوں کے محافظ اور انسانیت کے آج امریکہ جو دنیا کا کے گستاخ کو پناہ دینے کے لئے اور تقریر کے باوجود ملک اور اس
باب پنجم: ...... توہین رسالت کے متعلق علماء کرام اور کالم نگاروں کے ارشادات
گستاخیوں کی پاداش میں ان کا قتل روا رکھا۔
جب حضرت عمرؓ نے گستاخ رسول ﷺ کے نابینا قاتل کے بارے میں پیار سے کہا۔ دیکھو اس نابینا نے کتنا بڑا کارنامہ انجام دیا ہے تو آپ ﷺ نے فرمایا، اسے اعمیٰ (نابینا) نہ کہو، بصیر و بینا کہو کہ اس کی بصیرت و غیرت ایمانی زندہ و تابندہ ہے اور جب ایک اور گستاخ ملعونہ اسماء بنت مروان کو اس کے ایک اپنے رشتہ دار غیرت مند صحابی نے قتل کیا تو آپ ﷺ نے فرمایا لوگو! اگر تم کسی ایسے شخص کی زیارت کرنا چاہتے ہو جو اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی نصرت وامداد کرنے والا ہے تو میرے اس جانثار کو دیکھ لو۔ یہ غیرت مند صحابی عمیر بن عدیؓ جب اس ملعونہ کے قتل سے فارغ ہوئے تو ان کے قبیلہ کے بعض سرکردہ افراد نے ان سے پوچھا تھا کہ تم نے یہ قتل کیا ہے؟ انہوں نے بلا تامل کہا، ہاں اور اگر تم سب گستاخی کا وہ جرم کرو جو اس نے کیا تھا تو تم سب کو بھی قتل کردوں گا۔
(الصارم المسلول)
عہد نبوی میں شاتمانِ رسول ﷺ کے بھیانک انجام کی ان متعدد مثالوں کے پیشِ نظر ہر دور کے مسلمان علماء کا فتویٰ یہی رہا ہے کہ نبی اکرم ﷺ کی شان میں گستاخی کرنے والے کی سزا قتل ہے۔ موجودہ حالات میں بھی عالم اسلام کے عالمی و روحانی مرکز سعودی عرب کے مفتی اعظم کے علاوہ متعدد مسلمان ملکوں کے عالی مرتبت علماء نے بھی شاتم رسول ﷺ کے قتل کا فتویٰ دیا ہے۔ حالانکہ صحیح یہ ہے کہ شاتم رسول ﷺ جب معاشرے میں اپنی گندگی پھیلا چکے تو قتل کے سوا اس کا کوئی علاج نہیں ہے۔ سچی توبہ کرنے سے وہ آخرت کی سزا سے بچ سکتا ہے۔ مگر دنیا میں بہر حال اسے اپنی جان سے ہاتھ دھونا ہی پڑیں گے۔
نبی اکرم ﷺ کی شانِ اقدس میں گستاخی سے مسلم امہ کی دل آزاری ہوتی ہے اور ان کے دل زخمی ہوتے ہیں۔ اس گستاخانہ اور ناپاک جسارت کی جتنی بھی مذمت کی جائے وہ کم ہے۔ مسلمان جس کے پیروکار ہیں۔ وہ امن کے داعی، عدل وانصاف کے پیامبر، اقلیتوں کے محافظ اور انسانیت کے محسن ہیں۔
آج امریکہ جو دنیا کا تھانیدار بنا ہوا ہے۔ اس کا حال یہ ہے کہ وہ رسول اکرم ﷺ کے گستاخ کو پناہ دینے کے لئے پیش کش کر رہا ہے۔ اگر برطانیہ اور امریکہ میں آزادی تحریر اور تقریر کے باوجود ملک اور اس کے آئین میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور ملکہ کی توہین جرم
باب پنجم: ...... توہین رسالت کے متعلق علماء کرام اور کالم نگاروں کے ارشادات
ہے۔ روس میں لینن کو گالی دینا قابل تعزیر ہے تو ہمیں اپنے آقا ﷺ کی توہین کے جرم کی سزا کے بانگ دہل اعلان سے کون روک سکتا ہے۔ ہماری متاع ایمان کی بقاء کی ضمانت ہی نبی کریم ﷺ کی ذات والا سے محبت اور آپ کی عظمت وتوقیر ہے۔
سچی بات یہ ہے کہ ہر مسلمان ناموس رسالت کے تحفظ کے لئے مر مٹنے کا جذبہ رکھتا ہے۔ بعض لوگوں کے لئے شاید یہ امر باعث حیرت ہو کہ اسلام نے بڑے بڑے گناہگار کے لئے توبہ کا دروازہ بند نہیں کیا۔ پھر شاتم رسول توبہ کے باوجود کم از کم دنیاوی سزا سے کیوں نہیں بچ سکتا؟ ۔ امام ابن تیمیہؒ نے اس موضوع پر اپنی کتاب ’’الصارم المسلول علی شاتم الرسول‘‘ میں خوب روشنی ڈالی ہے۔ وہ فرماتے ہیں کہ امام حدیث امام احمد اور امام مالک کے نزدیک شاتم رسول ﷺ کی توبہ اسے قتل کی سزا سے نہیں بچاسکتی۔ جب کہ امام شافعیؒ سے اس سلسلہ میں توبہ کے قبول و عدم قبول کے دونوں قول منقول ہیں۔ خود امام ابن تیمیہ اکثر محدثین وفقہاء کی طرح اس بات کے قائل ہیں کہ شاتم رسول ﷺ توبہ کے باوجود قتل کی سزا کا مستحق ہے۔ انہوں نے اس سلسلہ میں اپنی کتاب کے مختلف مقامات پر جو زور دار دلائل دیئے ہیں۔ ان کا خلاصہ اور وضاحت حسب ذیل ہے۔
- (۱)...... شاتم رسول ﷺ فساد فی الارض کا مرتکب ہوتا ہے اور اس کی توبہ سے اس بگاڑ اور
فساد کی تلافی اور ازالہ نہیں ہوتا۔ جو اس نے لوگوں کے دلوں میں پیدا کیا ہے۔
- (۲)...... اگر توبہ کی وجہ سے سزا نہ دی جائے تو اسے اور دوسرے بدبختوں کو جرات ہوگی کہ وہ
جب چاہیں توہین رسول ﷺ کا ارتکاب کریں اور جب چاہیں توبہ کر کے اس کی سزا سے بچ جائیں۔ اس طرح غیروں کو موقع ملے گا کہ وہ مسلمانوں کی غیرت ایمان کو بازیچہ اطفال بنالیں۔
- (۳)...... نبی کریم ﷺ کی گستاخی کے جرم کا تعلق حقوق اللہ سے بھی ہے اور حقوق العباد سے
بھی۔ حقوق اللہ کو اللہ چاہے تو خود معاف کر دیتا ہے۔ مگر حقوق العباد میں زیادتی اس وقت تک معاف نہیں ہوتی جب تک متعلقہ مظلوم اسے معاف نہ کرے۔ نبی اکرم ﷺ اپنی حیات مبارکہ میں اگر کسی کا یہ جرم معاف کرنا چاہتے تو کر سکتے تھے۔ مگر اب اس کی کوئی صورت نہیں۔ امت مسلمہ یا مسلمان حاکم آپ ﷺ کی طرف سے اس جرم کو معاف کرنے کا حق نہیں رکھتے۔
- (۴)...... قتل، زنا، سرقہ جیسے جرائم کے بارے میں بھی اصول یہی ہے کہ ان کا مجرم سچی
توبہ کرنے سے آخرت کی سزا سے بچ سکتا ہے۔ مگر دنیاوی سزا سے نہیں۔ یہ ممکن نہیں کہ
باب پنجم: ...... قاتل، زانی یا چور گرفتار ہو اسے چھوڑ دیا جائے۔ اسی طر دنیاوی سزا سے نہیں بچ سکتا ان دلائل کے یا جھوٹی توبہ اسے اس سزا سے نہاد تہذیبی اقدار سے مرعوب چاہئے۔
باب پنجم : ....... توہین رسالت کے متعلق علماء کرام اور کالم نگاروں کے ارشادات
قاتل، زانی یا چور گرفتار ہو جائے اور کہے کہ میں نے جرم تو کیا تھا۔ مگر اب توبہ کر لی ہے تو اسے چھوڑ دیا جائے۔ اسی طرح شاتم رسول بھی ارتکاب جرم کے بعد توبہ کا اظہار کرے تو دنیاوی سزا سے نہیں بچ سکتا اور اس کا جرم مذکورہ جرائم سے بدتر اور زیادہ سنگین ہے۔
ان دلائل کے پیش نظر درست یہی ہے کہ شاتم رسول کی سزا قتل ہے اور اس کی سچی یا جھوٹی توبہ اسے اس سزا سے نہیں بچا سکتی۔ اس سلسلہ میں مسلمانوں کو مغرب اور اس کی نام نہاد تہذیبی اقدار سے مرعوب ہو کر اپنے موقف میں کسی طرح کی لچک پیدا نہیں کرنی چاہئے۔
(لولاک جنوری ۲۰۱۱ء ص ۴۸ تا ص ۱۵)
☆☆☆☆☆.......☆☆☆☆☆
باب پنجم: ...... توہین رسالت کے متعلق علماء کرام اور کالم نگاروں کے ارشادات
نام محمد ﷺ کے سبب!
پنجاب کے گورنر سلمان تاثیر کے قتل پر سول سوسائٹی نے آسمان سر پر اٹھا لیا اور اس کی یاد میں موم بتیاں جلائیں گرجا گھروں میں دعائیں کی گئیں اور غازی ممتاز حسین قادری کو انتہا پسند کے القاب سے یاد کیا گیا۔ ملک کے نامور صحافی جناب ڈاکٹر عامر لیاقت حسین سول سوسائٹی کے متضاد پیمانوں پر اظہار خیال کرتے ہوئے لکھتے ہیں:۔
اے میرے وطن کے روشن خیالو! صرف یہ کہہ کر ہاتھ کھڑے کر دینے سے مسئلہ حل نہیں ہوگا کہ ”یہ سب کیا ہو رہا ہے، ہم کدھر جا رہے ہیں اور آج کے معاشرے میں عدم برداشت کے رجحان نے قوم کو کس طرح سے ہزار پا کی طرح جکڑ لیا ہے“ وغیرہ وغیرہ ...... بلکہ اس حقیقت کو تسلیم اور شفاف منظر کو قبول کرنا ہوگا کہ جہاں جلاد کو پھولوں کے ہار پہنانے والے بھی اپنے ہیں اور ”قاتل“ کا ماتھا چومنے والے بھی ”مستند پاکستانی“ ..... کیا یہ ہمارے لئے عجیب نہیں کہ ”پُر اسرار سول سوسائٹی“ جو غیر ملکی پرفیومز میں نہا کر ”انگریزی پلے کارڈ“ اور جلتی ہوئی شمعوں کے جلو میں مقتول گورنر کے لئے انصاف مانگتی ”مخصوص گذرگاہوں“ پر نظر آ رہی ہے وہ کبھی عافیہ کی رہائی، علماء کے قتل، حدود اللہ کی (معاذ اللہ ) پامالی، معاشرے میں امربیل کی طرح پروان چڑھتی ہوئی بے حیائی اور خواتین کی میراتھن ریس کے خلاف اپنی کچھار سے باہر نہیں نکلی! بیش قیمت سن گلاسز کے پیچھے صرف اپنی مرضی کے نظارے دیکھنے کی خواہش مند یہ ”سول سوسائٹی“ مجھے تو اس وقت محدب عدسہ لے کر تلاش کرنے سے بھی دکھائی نہیں دی جب کراچی میں تواتر سے ڈاکٹروں کے قتل، علمائے کرام کی شہادت اور ٹارگٹ کلنگ کے روح فرسا سانحات نے بچے کچھوں کو سانس بھی سہم سہم کر لینا سکھا دیا تھا ..... میں منتظر رہا کہ
باب پنجم : ...... توہین رسالت کے متعلق علماء کرام اور کالم نگاروں کے ارشادات
پارہ چنار میں آگ وخون کی ہولی پر یہ ضرور تڑپے گی میری سماعتیں مجھے حوصلہ دیتی رہیں کہ پیر سمیع کی لاش قبر سے نکال کر اس کی بے حرمتی کرنے والوں کے خلاف ان کی آواز یقیناً سنائی دے گی ...... پھر یقیناً عافیہ کو برہنہ کر کے تلاشی لی گئی اس کے پیروں میں (معاذ اللہ ) قرآن پاک پھینکا گیا اور اس کا اسکارف پھاڑ دیا گیا تب بھی مجھے نہ جانے کیوں مگر ایک اطمینان تھا کہ اغیار سے تعلقات کا دم بھرنے والی یہ سول سوسائٹی تہذیب واخلاق کے ان جھوٹے معبودوں کو سجدہ کرنے سے انکار کر دے گی جنہوں نے انسانیت پرستی کے کھوکھلے معبد خانے بنا رکھے ہیں، اور جہاں وہ صرف اپنی عبادت کروا کے تسکین حاصل کرتے ہیں، میرا بھرم اس وقت بھی نہ ٹوٹا جب علامہ سرفراز نعیمی، مولانا حسن جان، عباس قادری، مفتی نظام الدین شامزئی، مولانا سعید احمد جلالپوری اور راہِ حق کے دیگر شہداء کے سفرِ آخرت کے دوران میں پلٹ پلٹ کر اس سول سوسائٹی کی راہ دیکھتا رہا اور وہ نہ آئی، میں نے امید کا دامن اس وقت بھی نہیں چھوڑا، جب مساجد، امام بارگاہوں اور عاشورہ وچہلم کے جلوسوں سے آخری لرزہ خیز چیخیں سنائی دیں اور میرے وہم وگمان نے مجھے یہ کہہ کر مطمئن کر دیا کہ سول سوسائٹی اس لہو کو رائیگاں نہیں جانے دے گی اور مجھے ایک موہوم سی آس اس ستم گر ساعت کے دوران بھی بھروسے کی تھپکی دیتی رہی جب درود وسلام کی صدائیں بلند کرنے والے عشاق رسول صلی اللہ علیہ وسلم عین نماز کی حالت میں خاک وخون میں اس طرح مل گئے کہ لبوں سے مس ذرے آج بھی نشتر پارک میں ”سبحان ربی الاعلیٰ“ کا ورد کرتے ہیں۔
آخر یہ پُر ناز و پُر جفا سول سوسائٹی کہاں سے آتی ہے اور کہاں چلی جاتی ہے؟ اس کے درد کا پیمانہ متعین حادثوں اور عطا کئے گئے تحریر شدہ قواعد کے کیوں محتاج ہے؟ یہ سسکیوں کی لا محدودیت پر چسکیوں کی گنتی کو کیوں ترجیح دیتی ہے؟ وہ ایسے ہی بے شمار سوالات ہیں جو ہر بار اسی وقت ابھرتے ہیں جب میں انہیں ”اقتضائے مطلب“ میں سڑکوں پر اچھلتے کودتے دیکھتا ہوں ...... مقتول گورنر کے لئے ملک بھر کے گرجا گھروں میں دعائیہ اجتماعات منعقد کئے جارہے ہیں“۔ جو اسے عزیمت کی انتہا سمجھتے ہیں، میں ان کی فراست کو الزام نہیں دوں گا ورنہ تاک میں
توہین رسالت کے متعلق علماء کرام اور کالم نگاروں کے ارشادات باب پنجم:.......
بیٹھے ہوں“ کی جانب سے ”روشن خیال فتویٰ“ جاری کر دیا جائے گا کہ ”دیکھ لیا نا، اس انتہا کو ذرا بھی برداشت نہیں ہے“ معاملات میں بہت حساس اور احتیاط کے متقاضی ہیں، آگ ابھی سرد نہیں ہوئی، چنگاریاں سلگ رہی ہیں اور مکالمے کے دشمن موقع کی تلاش میں ہیں۔
میں تاریخ کے طالب علم کی حیثیت سے یہ پوچھتا ہوں کہ قبطی عیسائیوں کے خلاف متعصبانہ فکر رکھنے اور جنسی جرائم میں ملوث مقدس گرجے کے مذموم راہبوں کو بچانے والے ”پوپ بینی ڈکٹ“ کو کس نے اختیار دیا ہے کہ وہ کسی بھی مذہب کے آنگن میں اپنی سمجھ کے غلاظتوں کی الٹیاں کرتے پھریں؟ اگر آپ کو قانون توہین رسالت پسند نہیں تو عالمِ اسلام بھی نظریہ تثلیث اور شرک سے بیزاری کا اعلان کرتا ہے، اگر آپ ہماری مقدس کتاب کے قوانین پر انگلی اٹھانے پر مصر ہیں تو یاد رکھیے کہ ”آیت مباہلہ“ کی روشنی اس قدر تیز ہے کہ صرف عیون ہی نظر نہیں آئیں گے بلکہ روح بھی چیخ چیخ کر با غیرت وجود سے برأت کا اظہار کر دے گی۔
اسلام میں کیا ہونا چاہئے اور کیا نہیں اس کا فیصلہ اللہ اور اس کے رسول اللہ ﷺ نے کر دیا ہے اور اقرار کرنے والوں نے بھی تسلیم کر لیا ہے، اور بالفرض اگر فروعاتِ دین پر مسلمانوں میں کوئی اختلاف بھی ہے تو کم از کم مشرکوں کو تو اس بات کی قطعی اجازت نہیں دی جا سکتی کہ وہ اللہ کی ذات وصفات میں کسی کو شریک نہ کرنے والوں کی اصلاح فرمائیں، کیا پوپ اور ان کے حمایتی چاہتے ہیں کہ تہذیبوں کا تصادم شروع ہو جائے؟ نظریات ایک دوسرے سے گتھم گتھا ہو جائیں؟ اور نفرت کی اس فضا میں ایک دوسرے کے لئے جو تھوڑی سی برداشت بچی ہے اسے بھی اظہارِ رائے کی چھری سے ذبح کر دیا جائے جب آپ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے گستاخانہ خاکے بنانے والوں کی مذمت نہیں کی، فیس بک پر ” Day Draw a Muhammad“ (معاذ اللہ ) آپ کو نہیں کھٹکا، قرآن پاک کے خلاف ”فتنہ“ فلم کے خالق ملعون گیرٹ ولڈر سے جب آپ نے لا تعلقی کا اظہار نہیں کیا اور Juland Posten میں بار بار گستاخانہ خاکوں کی اشاعت سے آپ کو تکلیف نہیں پہنچی تو پھر کس منہ سے عالمِ اسلام سے مطالبات کرنے چلے ہیں؟ پہلے اپنی صفوں میں موجود رجعت پسندوں یعنی Orthodox کو
باب پنجم:....... مطمئن کیجئے، مشرقی اور یونانی کے حلیے پر شدید اعتراض ہے کیجئے پھر کہیں جا کر آپ کی Protestnat کرۂ ارض پر امتیازی سلوک کو تسلیم کرنے مارٹن لوتھر نے آواز اور عمل دونوں باقی بچے وہ دونوں طالبان مخالف بریلوی علماء ”رگِ تشکیک“ کی نذر اس طرح جس طر آج ظ ☆
باب پنجم : ....... توہین رسالت کے متعلق علماء کرام اور کالم نگاروں کے ارشادات
مطمئن کیجئے ، مشرقی اور یونانی مسیحیت سے فرق روا رکھنے کی متکبرانہ روش مٹائیے جنہیں آپ کے حلیے پر شدید اعتراض ہے اور پروٹیسٹنٹزم Protestntism کو وسعت قلبی کے ساتھ قبول کیجئے پھر کہیں جا کر آپ کی آواز دنیا بھر کے مسیحیوں کی پکار قرار پائے گی ۔ جن تک ایک بھی Protestnat کرہ ارض پر موجود ہے وہ کیتھولک چرچ کے خلاف احتجاج کرتا رہے گا اور اس امتیازی سلوک کو تسلیم کرنے سے ہمیشہ انکار کرے گا جسے سب سے پہلے سولہویں صدی میں مارٹن لوتھر نے آواز اور عمل دونوں کے ساتھ رد کیا تھا۔
باقی بچے وہ دور کی کوڑی لانے والے تجزیہ نگار اور دانشور جنہیں بڑی تکلیف ہے کہ طالبان مخالف بریلوی علماء نے مقتول گورنر کے خلاف سخت مؤقف اختیار کیوں کیا؟ تو ان کی ”رگ تشکیک“ کی نذر اس شعر سے بہتر کوئی اور سوغات نہیں کہ
آج مل چکے ہیں سب نام محمد ﷺ کے سبب
(روزنامہ ایکسپریس 9 جنوری 2011ء)
☆☆☆☆☆☆.......☆☆☆☆☆☆
باب پنجم: ....... توہین رسالت کے متعلق علماء کرام اور کالم نگاروں کے ارشادات
کیا پاکستان پر مسیحی اقلیت حکومت کرے گی؟
(پروفیسر شمیم اختر)
ہمیں تو اس بات پر حیرت ہے کہ وزیر اعظم پاکستان نے ملک کی اکثریتی آبادی کے مطالبے کا احترام کرتے ہوئے یہ اعلان کر دیا کہ حکومت انسداد توہین رسالت سے متعلق دستور پاکستان کی شق میں ترمیم کا کوئی ارادہ نہیں رکھتی تو اس کا عیسائی وزیر اقلیتی امور کیوں اپنی برادری کو اس قانون پر نظر ثانی کے لئے اکسا رہا ہے؟ اس سے عوام میں حکومت کی ساکھ مشکوک ہو جاتی ہے اور لوگ سمجھتے ہیں کہ اس کی نیت میں کچھ کھوٹ ہے، اس نے عوامی دباؤ میں آکر اس قانون من وعن باقی رکھنے کا وعدہ تو کر لیا مگر جونہی معاملہ ٹھنڈا پڑا وہ شیریں رحمن کی جانب سے پیش کردہ بل کو پارلیمان سے منظور کرالے گی لیکن یہ پی پی اور اس کے روشن خیال حلیفوں کی بھول ہوگی ، اگر وہ 31 دسمبر کی ملک گیر ہڑتال اور 9 جنوری کو کراچی شہر میں ہونے والے عظیم الشان جلسے میں شامل عوام کے تیور دیکھنے کے باوجود ویٹی کن اور امریکہ کی خوشنودی کے لئے مذکورہ قانون میں ترمیم و تنسیخ کر ڈالتی ہے، اگر وہ کوئی ایسی ترمیم کرتی ہے تو وہ کالا قانون ہوگا، جسے ملک کی ہمہ گیر اکثریت تا قیامت ماننے کو تیار نہیں ہوگی اور آئندہ انتخاب میں جو دو سال بعد آنے والا ہے، پیپلز پارٹی اور دیگر تمام نام نہاد روشن خیال پارٹیاں پاکستان کے سیاسی منظر نامے سے غائب ہو جائیں گے۔
قائد اعظم نے فرمایا تھا کہ اسلامی ریاست میں اقلیتوں کے ساتھ منصفانہ، بلکہ فیاضانہ سلوک کیا جائے گا، تاہم انہیں مشورہ دیا کہ وہ اپنی ریاست کے وفادار رہیں، کیونکہ کوئی ریاست غیر وفادار اقلیت DISLOYAL MINORITY کو برداشت نہیں کر سکتی قائد اعظم کا یہ مدبرانہ مشورہ بھارت کے مسلمانوں اور پاکستان کے غیر مسلموں دونوں کے لئے تھا۔
اور سچ تو یہ ہے کہ اقلیت کو اکثریت کی رائے اور جذبات کا احترام کرنا چاہیے کہ
باب پنجم: ....... توہین رسالت کے متعلق علماء کرام اور کالم نگاروں کے ارشادات
پاپائے روم اور اس کے زیر انتظام کیتھولک گرجا گھر اور دیگر عبادت گاہیں ذرا ذرا سی بات پر مسیحی برادری پر مسلم اکثریت کی زیادتیوں کا پروپیگنڈہ کر کے دونوں کے درمیان کشیدگی پیدا کرتی ہیں اور اگر کوئی ناخوشگوار واردات ہو جاتی ہے تو ویٹی کن، واشنگٹن، نیویارک، اقوام متحدہ کے ہیڈ کوارٹر، لندن اور پیرس سے احتجاج کا تانتا بندھ جاتا ہے، پھر ان کے غیر سرکاری ذرائع ابلاغ تان میں سر ملا کر نفرت کا راگ الاپنے لگتے ہیں، اسی طرح صلیبی ٹولے نے انڈونیشیا سے آٹھ لاکھ عیسائی آبادی والے حصے کو ریاست سے الگ کر کے ایک علیحدہ مسیحی ریاست بنا دی اور ان یہی عمل افریقہ کے سب سے بڑے ملک سوڈان میں 8 جنوری کو شروع ہونے والی رائے شماری کے ذریعے دہرایا جا رہا ہے، جب کہ کچھ عناصر پاکستان کا حصہ بخرے کرنے کا نہ صرف منصوبہ بنا چکے ہیں، بلکہ بڑی ڈھٹائی سے اس کا نقشہ بھی شائع کر چکے ہیں، تو منظر نامہ کچھ ایسا بن رہا ہے کہ مسیحی برادری اور مسلم اکثریت میں فرقہ وارانہ فسادات برپا کروا دیئے جائیں اور خون خرابے کو بہانہ بنا کر امریکی فوج جو پہلے ہی دراندازی کرتی رہی ہے پاکستان کے اندر گھس کر شہری آبادی کو طالبان کا حامی قرار دے کر اس کے خلاف کارروائی شروع کر دے۔ اس سے مسیحی آبادی کو کوئی فائدہ نہیں ہو گا بلکہ الٹا وہ مقامی آبادی کی کارروائی کا نشانہ بنے گی جیسے آج عراق میں ہو رہا ہے کیا امریکی فوج انہیں بچا سکی؟ اس لئے یہ اقلیت کے مفاد میں ہے کہ وہ کسی غیر ملکی طاقت کے اکسانے پر اکثریت سے محاذ آرائی نہ کرے کیونکہ استعمار تو انہیں اپنے مہرے کے طور پر استعمال کرتا ہے۔
سوال یہ ہے مسیحی برادری توہین رسالت کے قانون کو کیوں منسوخ کروانے پر تلی ہوئی ہے جب کہ وہ آئین کا حصہ ہے؟ ان کا اور ان کے ہم مشرب روشن خیال لابی کا اعتراض یہ ہے کہ .......(۱) یہ ایک آمر کا بنایا ہوا قانون ہے اور .......(۲) اس کا غلط استعمال ہو رہا ہے، جس کا نشانہ مسیحی برادری اور دیگر اقلیتیں ہیں۔
اول تو یہ قانون قرآن وسنت پر مبنی ہے جس کا نفاذ ہر مسلم حکمران چاہے وہ آمر ہو یا جمہوری کا فرض ہے۔ دوم یہ کہ جب منتخب اسمبلی کے دو تہائی اکثریت نے اسے آئین کا حصہ
باب پنجم : ....... توہین رسالت کے متعلق علماء کرام اور کالم نگاروں کے ارشادات
بنادیا تو یہ آمر کا قانون کیسے ہوا؟ اگر موجودہ اسمبلی پاکستان کے عوام کی نمائندگی کا دعویٰ کرتی ہے تو یہ بڑا کھوکھلا دعویٰ ہوگا، کیونکہ 2008ء کے انتخابات میں رجسٹر شدہ رائے دہندگان کی نصف سے بھی کم تعداد نے حصہ لیا تھا اور انہوں نے مختلف جماعتوں کو ووٹ دیئے تھے، جن میں دو پارٹیاں ایسی بھی تھیں جو اس قانون کے حق میں ہیں علاوہ ازیں اس قانون کی تنسیخ انتخاب میں حصہ لینے والی جماعتوں کے منشور میں شامل نہیں تھی، البتہ مسیحی برادری روزِ اوّل سے ہی اپنے کلیسا کی ہدایت پر اس قانون کی مخالفت کرتی رہی ہے، کیونکہ وہ ہمارے نبی ﷺ کو اللہ کا رسول نہیں مانتی، نیز کلیسا کی تعلیم بھی یہی ہے، سلطنت برطانیہ کے زمانے سے غیر ملکی مسیحی تبلیغی اداروں نے سرکاری سرپرستی میں کلیسا اور تعلیمی اداروں کے لئے وسیع و عریض اراضی حاصل کر لی تھی، جب کہ ملک کی مسلمان اکثریت آپس میں چندہ کر کے مساجد و مدارس بنایا کرتی تھی اس کے پاس اتنے مالی وسائل نہیں تھے، کہ وہ عیسائی ممالک میں تبلیغی ادارے قائم کرتی، ان دنوں جو کچھ مغربی ممالک میں دینِ اسلام کی تبلیغ کا کام شروع ہوا ہے وہ ماضی قریب کی بات ہے۔
ہاں تو ذکر ہورہا تھا پاکستان میں مسیحیت کی تبلیغ کا۔ عیسائی پادری جب مسلمانوں کو اپنے مذہب کی دعوت دیتے تھے اور دیتے ہیں تو کیا وہ انہیں یہ باور کراتے ہیں کہ حضور اکرم ﷺ اللہ کے سچے نبی ہیں؟ ہرگز نہیں کیونکہ وہ تو ان کے عقیدے کے خلاف ہے، جیسے یہودی تا قیامت حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو اللہ کا نبی نہیں مانتے، لیکن ہم جیسے ”تنگ نظر“ اور ”انتہا پسند“ (ان کی نظر میں) مسلمان تو حضرت عیسیٰ اور حضرت موسیٰ علیہم السلام دونوں کو اللہ کا سچا نبی مانتے ہیں اور ان کی شان میں گستاخی کرنے والے کو دین سے خارج تصور کرتے ہیں یہ مانتے ہوئے بھی کہ یہود و نصاریٰ ہمارے نبی ﷺ کو نہیں مانتے، لیکن ستم ظریفی ملاحظہ ہو کہ یہود و نصاریٰ تو ”وسیع النظر“ کہلاتے ہیں جو ہمارے نبی ﷺ کی رسالت کے منکر ہیں اور مسلمان غیر ذمہ دار، متعصب اور کوتاہ نظر اور تنگ دل ٹھہرائے گئے، ایسے میں ہم صرف یہی کہہ سکتے ہیں۔۔
جو چاہے آپ کا حسنِ کرشمہ ساز کرے
باب پنجم: ........ توہین رسالت کے متعلق علماء کرام اور کالم نگاروں کے ارشادات
پیغمبر اسلام ﷺ کی رسالت کا انکار مسیحی مبلغوں کی ضرورت ہے اور جوش تبلیغ میں وہ اہانت رسول کے مرتکب ہو جاتے ہیں یہی وجہ ہے کہ مسیحی برادری کے افراد اپنے پادریوں کے بتائے ہوئے عقیدے کے مطابق رسول اللہ ﷺ کی شان میں گستاخی کرتے ہیں، اس کی بین مثال یورپ کے اخبارات میں پیغمبر اسلام ﷺ کے نعوذ باللہ اہانت آمیز خاکوں اور کارٹونوں کی تکرار کے ساتھ اشاعت ہے، جسے ان کی حکومتوں کی سرپرستی حاصل ہے، ان دنوں ناٹو کا موجودہ سیکرٹری جنرل ”اینڈرس فاگ راسموسن“ اپنے ملک کا وزیر اعظم ہوا کرتا تھا، چنانچہ اسلامی ممالک کی کانفرنس کے سفراء نے اس ضمن میں اس سے ملاقات کرنا چاہی تو اس نے بڑی رعونت سے انہیں ملنے سے انکار کر دیا، کیا یہ مذہبی رواداری اور آداب سفارت کا مظاہرہ تھا؟ جب موجودہ پاپائے روم بینی ڈکٹ نے ہمارے نبی کریم ﷺ کو جنگجو اور دہشت گرد کہا تو پاکستان کی کیتھولک برادری نے اس سے کیا کہا؟ کیا کوئی کیتھولک پاپائے روم کے کسی قول کو جھوٹ یا غلط سمجھ سکتا ہے؟ بلکہ اس کی زبان سے نکلا ہوا ایک ایک حرف اس کے لئے حرف آخر ہوتا ہے، نتیجہ ظاہر ہے کہ جب ان کا مذہبی پیشوا حضور ﷺ کی اہانت کرتا ہے تو اس کے پیروکار بھلا اس کی تقلید سے کیسے باز رہ سکتے ہیں؟ اگر یہ توہین رسالت کے مرتکب نہیں ہیں تو اس قانون کی گرفت میں نہیں آ سکتے، لیکن جو اس کے مرتکب ہوں گے وہ اس سے کیسے اور کیونکر بچ سکیں گے؟ اگر ان کا دل صاف ہے تو انہیں اس کا خوف نہیں ہونا چاہیے لیکن اس کے احتجاج سے تو یہ ظاہر ہوتا ہے کہ وہ مجرمانہ ضمیر کے حامل ہیں اس لئے قبل از مرگ واویلا کر رہے ہیں۔
(روزنامہ اسلام ۱۲ جنوری ۲۰۱۱ء)
☆☆☆☆☆☆.......☆☆☆☆☆☆
باب پنجم :...... توہین رسالت کے متعلق علماء کرام اور کالم نگاروں کے ارشادات
جو شے کی حقیقت کو نہ سمجھے وہ نظر کیا؟
(ہارون الرشید)
حکیم الامت کا حوالہ سبھی نے دیا ”ترکھانوں کا لڑکا بازی لے گیا اور ہم دیکھتے ہی رہ گئے“ راجپال ہندو تھا صاف صاف وہ دریدہ دہنی کا مرتکب تھا، سلمان تاثیر نے غلطی کی اور بڑی غلطی مگر وہ مسلمان تھے۔ اصول کیا ہے؟ قرآن کریم سے ہم پوچھیں گے جو کامل صداقت ہے، حرف حرف روشنی ہے ”کسی گروہ کی دشمنی تمہیں نا انصافی پر آمادہ نہ کرے“ ظلم کا سدّباب ہونا چاہئے مگر کس طرح؟ کوئی بھی شخص قانون ہاتھ میں لے لے یا عدالت کے ذریعے؟ دکھ ہے مگر سنہری موقع بھی کہ رحمۃ اللعالمین ﷺ کا مقام واضح کر دیا جائے، ایمان کی زندگی میں اور وہی زندگی ہے اسلام میں اور وہی ایک دین ہے، عالی مرتبت صلی اللہ علیہ وسلم کے لافانی اور بے مثال کردار کو واضح کر دیا جائے، سیکولر نہیں جانتا مغرب کی تعلیم کے زیر اثر وہ سرکار صلی اللہ علیہ وسلم کے مقام سے بے خبر ہے، یہ تبلیغ کا موقع ہے اور تبلیغ کس طرح کی جاتی ہے؟ جلسے جلوس سے؟ بیانات اور دھمکیوں سے؟ بینر اور نعرے سے؟ جی نہیں قرآن کریم قرار دیتا ہے کہ حکمت اور حسنِ کلام سے، انس اور الفت سے، خیر خواہی اور دلیل سے۔
سنیے اور حیرت کیجئے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے طائف کے اوباشوں کو معاف فرما دیا تھا، کوڑا پھینکنے والی کی عیادت کی تھی، فتح مکہ کے دن کہہ دیا تھا تم سے کوئی باز پرس نہیں، بجا کہا معاف کر دینا افضل ہے اور آپ ﷺ سب سے زیادہ معاف کر دینے والے تھے ”رؤف اور رحیم“ ان کے دو نام ہیں، اگر وہ رحم نہ کرتے تو اور کون کرتا؟ مگر یہ قانون کیسے ہو گیا؟ قانون تو قصاص ہے، قانون تو انصاف ہے، آخری حد تک مسخ ہو جانے والے اس ذہن کے بارے میں سوچیے جو تاریخ کی سب سے مہربان اور مشفق ترین ہستی کی توہین کرے کیوں آخر کس لئے؟ صرف وہی
باب پنجم: ...... توہین رسالت کے متعلق علماء کرام اور کالم نگاروں کے ارشادات
کرے گا جسے سچائی، انصاف اور امن سے نفرت ہو، جسے فساد کی آرزو ہو، جو سماج کا تانا بانا بکھیرنا چاہے، قرآن کریم نے انہیں ”روشن چراغ“ کہا فرمایا اللہ اور اس کے فرشتے نبی ﷺ پر درود بھیجتے ہیں، فساد سے گریزاں ہو، ہوشمند تو کسی عام سے بھلے آدمی کو گالی نہ دے، تاریخ آدمیت کی سب سے عظیم ہستی کو کس لئے؟
اور فرمایا، اگر کسی نے کانٹا رکھ دیا اور جواب میں تم نے بھی کانٹا رکھ دیا تو یہ دنیا کانٹوں سے بھر جائے گی، لیڈروں کو چھوڑیئے دانشوروں کو کیا ہوا؟ دلیل نہیں، طعنہ زنی ہے اور تعصب فروشی، فریاد اور خود رحمی، افسوس ان پر صد ہزار بار افسوس۔
جو شے کی حقیقت کو نہ سمجھے وہ نظر کیا
(جنگ لاہور ۱۲ جنوری ۲۰۱۱ء)
☆☆☆☆☆☆.......☆☆☆☆☆☆
باب پنجم: ....... توہین رسالت کے متعلق علماء کرام اور کالم نگاروں کے ارشادات
ادب رسول ﷺ اور اس کے تقاضے
- ☆....... رحمت دو عالم ﷺ اللہ تعالیٰ کی ساری مخلوقات میں سے سب سے زیادہ
قابل احترام شخصیت کے حامل ہیں آپ کے مقابلہ میں کسی اور شخصیت کو لانا ادب رسول سے منافی ہے۔ چنانچہ میاں بابر صغیر ساہیوال فرماتے ہیں ۔
ایسے ہی جو لفظ امت میں سے کسی کے ساتھ خاص ہو، اگر وہ نبی ﷺ کے لئے استعمال کرو گے تب بھی بے ادبی ہوگی، مثلاً صدیق اکبر ؓ ، صدیق کا معنی تصدیق کرنے والا، ابوبکر صدیق ہیں سچے کو صادق کہتے ہیں اور تصدیق کرنے والے کو صدیق کہتے ہیں، حضور ﷺ صادق ہیں اور ابوبکر ؓ صدیق ہیں۔
لیکن ابوبکر ؓ نے تو تصدیق کی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی، اللہ کی تصدیق کس نے کی؟ (حضور ﷺ) نے رب کی تصدیق کی ہے لیکن یہ لفظ امت میں ابوبکر ؓ کے لئے استعمال ہوا ہے، لیکن اگر کوئی حضور ﷺ کے لئے کہے صدیق اکبر ؓ ، تو وہ کافر ہو جائے گا، یہ توہین رسالت ہے اس لئے کہ اس نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو نبوت کے درجہ سے نیچے لاکر صدیق ؓ کے درجہ پر کھڑا کر کے پھر اس پر درود پڑھا ہے ”ﷺ“ یہ نبوت کا خاصہ تھا، صدیق کیلئے یہ الفاظ نہیں اس نے نبوت کی توہین کی ہے۔ ایسے ہی ایک لفظ ہے فاروق اعظم ؓ ، فاروق کا معنی ہے جو حق و باطل اور سچ و جھوٹ میں فرق کرے، ایمانداری سے بتائیں پہلا فرق کس نے کیا؟ (حضور ﷺ نے) تو یہ اس سے یہ معلوم ہوا کہ پہلے فاروق حضور ﷺ بنے، لیکن یہ لفظ امت میں خاص ہے حضرت عمر ؓ کے لئے ، اگر کوئی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو فاروق اعظم ؓ کہے گا تو یہ توہین رسالت ہے۔
باب پنجم :....... توہین رسالت کے متعلق علماء کرام اور کالم نگاروں کے ارشادات
القابات کیسے کیسے خدا نے بنائے
نبی ﷺ کی عظمت کے تقاضے بڑے عجیب ہیں، ایسا لفظ بھی استعمال نہ کرو، چھوٹا بڑے کے ادب کا پابند ہے، بڑا چھوٹے کے ادب کا پابند نہیں ہوتا، شاگرد کے ذمہ ہے کہ اپنے استاد کا ادب کرے، مرید کے ذمہ ہے کہ اپنے پیر کا ادب کرے پابند بڑا ہے یا چھوٹا ؟
سب سے بڑا کون ؟ ”اللہ“
اللہ اکبر، جو سب سے بڑا ہے وہ کسی کا پابند نہیں جو کسی کا پابند نہیں اگر وہ میرے محبوب ﷺ کا ایسا ادب کرے، جیسے کسی چھوٹے کو اپنے بڑے کا ادب کرنا چاہیے تو جن کو رب نے پابند کیا ہے ان کو پیغمبر کا کتنا ادب کرنا چاہیے، اس لئے علیؓ نے لکھا ہے کہ قرآن کو پڑھ کر دیکھو کہ اللہ نے جب بھی کسی نبی سے بات کی ہے تو اس نبی کا نام لیا ہے لیکن جب محبوب ﷺ کی باری آئی تو نام نہیں القابات کے ساتھ۔
”یا ایہا النبی، یا ایہا المزمل، یا ایہا الرسول، یا ایہا المدثر“
حضرت رسول پاک کو قرآن میں جا بجا
طٰہٰ کہیں پکارا، یٰسین کہیں کہا
حٰم کہیں والشمس والضُّحٰی
صلوٰۃ اللہ کلام اللہ
جہاں دیکھا تو یہ دیکھا
اگر کہیں لکھا خدا دیکھا
تو لکھا محمد (ﷺ) بھی دیکھا
ایک لاکھ چوبیس ہزار انبیاء حضور ﷺ کے ادب کے پابند ہیں
میں مسئلہ آپ کو سمجھا رہا ہوں کہ جب اللہ محبوب ﷺ کا اتنا ادب کرے، تو جو پابند ہیں ان کو کتنا ادب کرنا چاہیے؟ ایک لاکھ چوبیس ہزار انبیا کو اللہ تعالیٰ نے پابند کر کے فرمایا !
باب پنجم : ...... توہین رسالت کے متعلق علماء کرام اور کالم نگاروں کے ارشادات
لتؤمنن به ولتنصرنه.
(آل عمران: ۸۱)
میرے محبوب ﷺ پر ایمان لانا، اس کے دین کی بھی مدد کرنا اور فرمایا یاد رکھو! اگر وعدہ میثاق کے بعد جو تم نے میرے ساتھ کیا ہے:
فمن تولى بعد ذلك فاولئك هم الفاسقون.
تم میں سے کوئی بھی پیچھے ہٹا، میرے نبی ﷺ کا ادب نہ کیا، پیچھے ہٹا میرے نبی کا کہا نہ مانا، میرے نبی پر ایمان نہ لایا پیچھے ہٹا، جو میرے نبی کا ادب نہیں کرے گا، فرمایا تاج نبوت چھین لوں گا، فرمایا نبوت کا تاج چھین لوں گا اور فاسقوں کی فہرست میں ڈال دوں گا۔
تمام امتیں بھی حضور ﷺ کے ادب کے پابند ہیں
نبی حضور ﷺ کے ادب کے پابند ہیں، امتیں بھی حضور ﷺ کے ادب کے پابند ہیں، ہر جرم کی سزا مرنے کے بعد قبر میں ملے گی، نبی کے گستاخ کی سزا اس دنیا میں ہوگی۔
ابولہب نے گستاخی کی ”تبت یدا“ اتری ابولہب برباد ہوا۔
اس کے بیٹے نے حضور ﷺ کی توہین کی، تو درندے نے اسے چیر پھاڑ کر رکھ دیا، اور وہ بھی برباد ہوا۔
عاص بن وائل نے حضور ﷺ کو کہا ”ابتر“ اللہ نے سورۃ کوثر اتار کر اس کو تباہ و برباد کیا۔
ولید بن مغیرہ نے حضور ﷺ کو اتنا کہا ”انک مجنون“ معاذ اللہ محمد تم دیوانے ہو، ...... اللہ نے پہلے محبوب کو تسلیاں دیں پھر فرمایا۔
”ما انت بنعمت ربک بمجنون“ آپ مجنون نہیں ہیں، آپ کے پاس نبوت کی نعمت ہے، آپ کے پاس رسالت کی نعمت ہے، آپ کے پاس ہدایت کی نعمت ہے، آپ کے پاس ختم نبوت کی نعمت ہے۔
جس کے پاس اتنی نعمتیں ہوں وہ مجنون و دیوانہ نہیں ہوتا۔
”وان لک لاجرا غیر ممنون“ آپ کے پاس ایسا اجر ہے جو ختم ہونے والا نہیں۔
باب پنجم: ......
ہر نیک عمل جس کی بنیاد کا بدلہ حضور ﷺ کے حصہ میں جائے
بچہ روتا ہوا باپ کو کہے کہ کے آنسو پونچھے گا، پھر شفقت کا ہاتھ اچھا ہے، تو بہترین ہے، تجھے کچھ نہ اب ادھر چلو! اس دشمن سے پوچھتے ہ
علی نے لکھا ہے کہ جو ایک کی طرف سے اس پر عذاب آتا ہے، ا
اللہ نے فرمایا:
ولا تطع كل حلاف مهين اثیم، عتل بعد ذلك زنیم
دس مرتبہ اللہ نے اس کی م نے دس گالیاں اس بدمعاش کو دیں، ج
- ☆ ..... ”حلاف“
- ☆ ..... ”مہین“
- ☆ ..... ”ھماز“
- ☆ ..... ”بنمیم“
- ☆ ..... ”مناع للخیر“
- ☆ ..... ”معتد“
- ☆ ..... ”اثیم“
- ☆ ..... ”عتل بعد ذلک زنیم“
ساری باتوں کے بعد بوٹی
باب پنجم: ...... توہین رسالت کے متعلق علماء کرام اور کالم نگاروں کے ارشادات
ہر نیک عمل جس کی بنیاد حضور ﷺ نے رکھی ہے، یہ نبوت کا صدقہ جاری ہے، ہر عمل کا بدلہ حضور ﷺ کے حصہ میں جائے گا۔
بچہ روتا ہوا باپ کو کہے کہ مجھے فلاں نے مارا ہے، تو وہ پہلے اس کو تسلیاں دیتا ہے، اس کے آنسو پونچھے گا، پھر شفقت کا ہاتھ رکھے گا، کہ ٹھیک ہے ہم ابھی اس کا پتہ کرلیتے ہیں، تو تو اچھا ہے، تو بہترین ہے، تجھے کچھ نہیں ہوا، تو ایسے پریشان ہو گیا ہے اس کو تسلی دینے کے بعد اب ادھر چلو! اس دشمن سے پوچھو تو نے ایسا کیوں کیا؟
علماء نے لکھا ہے کہ جو ایک مرتبہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی گستاخی کرے دس مرتبہ اللہ کی طرف سے اس پر عذاب آتا ہے۔
اللہ نے فرمایا:
ولا تطع کل حلاف مهین، هماز مشاء بنمیم، مناع للخیر معتد اثیم، عتل بعد ذلک زنیم.
دس مرتبہ اللہ نے اس کی خباثتوں کو بیان کیا، بلکہ میں یہ کہہ دوں تو بے جا نہیں قرآن نے دس گالیاں اس بدمعاش کو دیں، جس نے میرے نبی کی توہین کی ہے۔
- ☆ ...... "حلاف" جھوٹی قسمیں کھانے والا
- ☆ ...... "مہین" معاشرے میں ذلیل
- ☆ ...... "ہماز" عیب جوئی کرنے والا
- ☆ ...... "بنمیم" چغل خوری کرنے والا
- ☆ ...... "مناع للخیر" نیکی سے روکنے والا
- ☆ ...... "معتد" حد سے بڑھنے والا
- ☆ ...... "اثیم" گناہ کرنے والا
- ☆ ...... "عتل" بعد ذلک زنیم" منہ چڑھانے والا
ساری باتوں کے بعد بڑی بات یہ ہے کہ نبی کا گستاخ حرامی ہے، زنیم کا معنی ہے
باب پنجم :....... توہین رسالت کے متعلق علماء کرام اور کالم نگاروں کے ارشادات
کہ نبی کا گستاخ حرامی ہے۔
حضور ﷺ کے گستاخ کو قرآن نے حرامی کہا ہے
اس پر ایک مسئلہ بتاتا ہوں آپ حیران ہوں گے، اگر کوئی واقعتاً حرامی ہو، پتہ بھی ہو کہ اس کی ماں غلط تھی، یہ اس کا نطفہ ہے، تو شریعت کہتی ہے اس پر پردہ ڈالو، ظاہر نہ کرو، کیونکہ یہ حرامی ہے، اس لئے قرآن نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے گستاخ کو حرامی کہا ہے۔
جو اگلی بات ہے وہ بڑی عجیب ہے۔
جب یہ آیت اتری، ولید بن مغیرہ اٹھا اس نے تلوار اٹھائی تلوار لے کر سیدھا ماں کے پاس چلا گیا، اس نے کہا سن میری ماں! میرا اختلاف محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے ہے، میں اس کے خلاف باتیں کرتا ہوں اور وہ میرے خلاف باتیں کرتا ہے، لیکن وہ دیانت دار اتنا ہے کہ کبھی اس نے غلط بات نہیں کہی، اس نے آج مجھے اتنی گالیاں دی ہیں، ہر بات میرے اندر موجود ہے۔
میں جھوٹی قسمیں کھاتا ہوں ☆ چغل خور بھی ہوں ☆ منہ چڑھانے والا بھی ہوں۔
لیکن محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے کہا ہے کہ وہ حرامی ہے، یہ بات بڑی عجیب ہے کہ اس نے مجھے حرامی کہا ہے نبی کی بات غلط نہیں ہوسکتی، اب تو مجھے بتا تلوار میرے ہاتھ میں ہے، ورنہ میں تیری گردن قلم کردوں گا، تو بتا میں حرامی ہوں؟
اس کی ماں نے کہا کہ تیرے باپ کی جائیداد بہت زیادہ تھی اور تیرے چچا کے بیٹے وارث بن رہے تھے، تیرا باپ بے کار آدمی تھا، اس نے مجھے اجازت دی تھی، میں نے فلاں نوکر سے حرام کاری کی تھی اس سے تو حرامی پیدا ہوا ہے۔
عمیر الاعمیٰ ؓ نے وہ کام کر دکھایا جو آنکھوں والے نہ کرسکے
☆ ....... میرے قابل قدر دوستو!
یہ اللہ کا غصہ ہے، پیغمبر نے اپنی موجودگی میں فتح مکہ کے موقع پر سات آدمیوں کو قتل کرایا ہے، جو حضور ﷺ کی توہین کرتے تھے، عصماء نامی ایک خاتون تھی، جو حضور ﷺ کی شان
باب پنجم: ...... توہین رسالت کے متعلق علماء کرام اور کالم نگاروں کے ارشادات
میں گستاخی کرتی تھی حضور ﷺ نے فرمایا کوئی ہے جو اس کو قتل کر آئے وہ جنت لے؟
ایک نابینا صحابی تھے عمیر ؓ عمیر الاعمیٰ ؓ کے نام سے مشہور تھے، یہ عمیر بڑے تیز ہوتے ہیں، عمیر اٹھے رمضان المبارک کی ستائیس یا پچیس کی رات تھی، اللہ کے نبی کی اس بشارت کو حاصل کرنے کے لئے چلا، اس عورت کے گھر میں گھسا، گرا اور ٹانگ ٹوٹ گئی، زخمی ہوا، جا کر اس عورت کو قتل کیا واپس آیا صبح کی نماز کا وقت تھا، حضور ﷺ کو مل کر کہا حضور ﷺ آپ کو مبارک ہو، آپ کی اس دشمن خاتون کو میں جہنم رسید کر آیا ہوں، حضور ﷺ نے سینے سے لگایا اور کہا آج کے بعد کوئی اسے عمیر الاعمیٰ ؓ نہ کہے، بلکہ عمیر البصیر ؓ کہے، یہ آنکھوں والا ہے، اس نے وہ کام کیا ہے جو آنکھوں والے نہ کر سکے، جو عمیر نے کر کے دکھایا ہے۔
☆☆☆☆☆☆......☆☆☆☆☆☆
باب پنجم :....... توہین رسالت کے متعلق علماء کرام اور کالم نگاروں کے ارشادات
ظالمو! کلمہ پڑھانے کا احسان بھی گیا
(ارشاد احمد عارف)
اقلیتی امور کے وزیر شہباز بھٹی کو احساس ہے گورنر پنجاب سلمان تاثیر کو شائد ادراک نہیں ورنہ وہ امتناع توہین رسالت کے قانون کو کالا قانون قرار نہ دیتے، پاکستان میں کون سا ایسا قانون ہے جسے طاقتور اپنے حق میں دوسروں کے خلاف بلا جواز استعمال نہیں کرتے، جھوٹے مقدمات صرف دیہاتی علاقوں میں درج نہیں ہوتے اعلیٰ ترین حکومتی سطح پر اپنے مخالفین کے خلاف بھی درج کرائے جاتے ہیں، ذوالفقار علی بھٹو مرحوم کے جمہوری دور میں چوہدری ظہور الٰہی مرحوم اور حبیب جالب مرحوم کے خلاف جو مقدمات درج ہوئے اور جن کی بنیاد پر انہیں گرفتار کیا گیا آج ان کا ذکر ہو تو پیپلز پارٹی کے جیالے تک عرق انفعال میں ڈوب جاتے ہیں، ذوالفقار علی بھٹو مرحوم اور میاں نواز شریف کو ملکی قوانین کے تحت سزائے موت اور عمر قید کا سامنا پڑا لیکن کسی نے آج تک یہ مطالبہ نہیں کیا کہ تعزیرات پاکستان کی دفعات 304,302 اور 307 کالا قانون ہے اسے فی الفور ختم کیا جائے اور ملک بھر میں ان دفعات کے تحت سزا یافتہ افراد کو صدر آصف علی زرداری معاف قرار دے کر امریکہ، ناروے یا جرمنی بھجوا دیں۔
شہباز بھٹی اقلیتی حقوق کے چیمپئن ہیں اور اپنی کمیونٹی کا بھر پور دفاع کرتے ہیں مگر امتناع توہین رسالت کے قانون کے بارے میں ان کی رائے ہے کہ ”اس میں ترمیم کی جائے تا کہ غلط استعمال کو روکا جا سکے مکمل خاتمے کی کوشش جلتی پر تیل کا کام کرے گی“ اور اس سے شہباز بھٹی کے بقول ”امریکہ نواز سول حکومت کے خاتمے کی خواہش مند مذہبی قوتیں مشتعل ہوں گی“۔
توہین رسالت کے حوالے سے مسلمانوں کی حساسیت کا مخصوص پس منظر ہے، سپین اور متحدہ ہندوستان میں توہین رسالت کے واقعات انفرادی فعل نہیں تھے، قیام پاکستان کے بعد یہ اس وقت ہوئے جب دنیا بھر میں احیاء اسلام کی تحریکیں اٹھیں اور مسلمانوں نے عظمت
باب پنجم :....... توہین رسالت کے متعلق علماء کرام اور کالم نگاروں کے ارشادات
گم گشتہ کے حصول کے لئے اجتماعی سعی شروع کی ، سلمان رشدی ، تسلیمہ نسرین کی امریکہ و یورپ میں پذیرائی اور پاکستان میں توہین رسالت کے مرتکب ہر شخص کو عزت و احترام کے ساتھ امریکہ و یورپ اور سکینڈے نیوین کے ممالک میں لے جا کر موج میلے کی سہولتیں فراہم کرنا محض اتفاق نہیں ”مسلمانوں کے بدن سے روح محمدؐ نکال کر متاع دین و ایمان سے محروم کرنے کا سوچا سمجھا منصوبہ ہے جس کا احساس ہمارے حکمرانوں اور اشرافیہ کو ہو نہ ہو عام مسلمانوں کو ہے اس لیے وہ پریشان ہیں۔
موضع اتانوالی کی آسیہ ملعونہ کی سزا طویل سماعت کے بعد عدالت نے سنائی ہے، یہ کسی مولوی کے فتویٰ اور مذہبی تنظیم کی احتجاجی تحریک کی وجہ سے توہین رسالت کی مجرم قرار نہیں پائی اگر یہ واقعی بے گناہ ہے اسے کسی شخص یا گروہ نے ذاتی دشمنی اور انتقام کا نشانہ بنایا ہے، غربت اور کمزور اقلیت سے تعلق اس کا اصل قصور ہے تو اعلیٰ عدالتوں میں اپیل کا حق استعمال کر سکتی ہے، گورنر سلمان تاثیر اور اس کے ہمنواؤں کے علاوہ مسیحی اقلیت کے نمائندے، فارن فنڈز، این جی اوز، اور ان کے سرپرست امریکہ و یورپ کے سفارتکار اپنے وسائل بروئے کار لا کر قانونی امداد فراہم کر سکتے ہیں، بیرسٹر اعتزاز حسن، عاصمہ جہانگیر، بیرسٹر اقبال حیدر اور عابد حسن منٹو ایسے قابل اور نامور اور انسانی حقوق کے لئے جدوجہد کرنے والے وکلاء کی دفاعی ٹیم کا حصہ بن سکتے ہیں، آزاد عدلیہ وجود میں آچکی ہے، ماتحت عدالت کے فیصلے میں اگر کوئی قانونی سقم ہے، تعزیرات پاکستان کی دفعہ C-295 کا غلط استعمال ہوا یا عدالت کسی بیرونی دباؤ کا شکار ہوئی ہے تو اعلیٰ عدلیہ یقیناً اس کا نوٹس لے کر ملزمہ کو ریلیف دے گی، صرف آسیہ ملعونہ کیا، کسی بھی پاکستانی کے ساتھ ناانصافی نہیں ہونی چاہیے، لیکن عدالتی چارہ جوئی کا راستہ اختیار کرنے کی بجائے عدالتی فیصلے کی تذلیل، عامۃ المسلمین کے جذبات کی توہین اور امتناع اہانت رسول قانون کو کالا قانون قرار دے کر ختم کرنے کے اعلانات ملک میں فتنہ و فساد کی آگ بھڑکانے کے مترادف ہیں۔
اسلام سے الرجی اور مسلمانوں کے جذبہ عشق رسول کی گہرائی سے لاعلم بعض
باب پنجم: ........ توہین رسالت کے متعلق علماء کرام اور کالم نگاروں کے ارشادات
عناصر آئین اور قانون کی ہر شق کو ختم کرنے کے درپے ہیں، جس سے اس ملک کا اسلامی تشخص ابھرتا اور مذہب سے وابستگی کا اظہار ہوتا ہے۔ مانا کہ فارن فنڈز این جی اوز ایسے واقعات کو غیر ملکی گرانٹس کے حصول کا ذریعہ سمجھتی ہیں اور ہمارا مائی باپ امریکہ صرف توہین رسالت قانون نہیں اسلامی جمہوریہ پاکستان کے آئین کی تمام اسلامی دفعات اور قادیانیوں کے بارے میں متفقہ ترمیم کا خاتمہ چاہتا ہے، لیکن پاکستان کے 95 فیصد مسلمان عوام ایسی حقیر شے نہیں کہ ان کے ایمان اور عقیدے، جذبات واحساسات اور فہم وفکر پر تازیانے برسائے جائیں، توہین رسالت کے مجرموں کو سات خون معاف کر کے بیرون ملک بھیجنے اور 295C کے خاتمے کے لئے پروپیگنڈہ مہم شروع کی جائے اور صدر کو حاصل معافی کا اختیار مخصوص نوعیت کے مجرموں کے لئے استعمال ہوتا رہے اور عاشقان رسول خاموش تماشائی بنے رہیں۔
ملک مختلف النوع بحرانوں کا شکار ہے، مہنگائی اور بے روزگاری کے علاوہ دہشت گردی کا شکار عوام مشتعل ہیں اور مزارات پر حملوں کے خلاف عوام اہلسنت سراپا احتجاج، آسیہ کیس میں کسی قسم کی حکومتی غیر ذمہ داری وسیع تر عوامی بے چینی کو ہوا دینے اور اللہ ورسول کی ناراضگی کو دعوت دینے کے مترادف ہے، حکومت کا فرض قوم کی اکثریت کے جذبات و احساسات کی پاسداری، ان کے ایمان وعقیدے کے مطابق قانون سازی، عدل وانصاف کے تقاضوں کی تکمیل اور ملکی قوانین کا دفاع ہے، ملک کو ہیجان واضطراب کی لہروں کے سپرد کرنا نہیں اس کا احساس شہباز بھٹی کو ہے کاش سلمان تاثیر اور صدر آصف علی زرداری بھی کریں۔
ظالمو! کلمہ پڑھانے کا احسان بھی گیا
(روزنامہ جنگ 25 نومبر 2010ء)
☆☆☆☆☆☆.......☆☆☆☆☆☆
باب پنجم : ....... توہین رسالت کے متعلق علماء کرام اور کالم نگاروں کے ارشادات
سیکولر انتہا پسندی کا شاخسانہ
(عنایت الرحمن شمی)
☆....... سیکولر سیاست دان، مغربی پیسے پر پلنے والی این۔جی۔اوز اور مغرب زدہ طبقہ، دینی درد دل رکھنے والوں کو انتہاء پسند کہتا ہے۔ جب کہ سیکولر انتہا پسندی اس سے زیادہ خطرناک ہے۔ جناب عنایت الرحمن شمی اور معروف کالم نگار جناب عرفان صدیقی لکھتے ہیں:۔
گورنر پنجاب سلمان تاثیر بالآخر ایسے انجام سے دوچار ہو گئے جو موجودہ ملکی حالات اور معاشرے میں فروغ پانے والے تصادم انگیز فکری رجحانات کے پس منظر میں قطعی غیر متوقع نہ تھا، سلمان تاثیر ”مذہبی انتہا پسندی“ کی بھر پور مخالفت کے عنوان سے جس قسم کی مخالفانہ سرگرمی اور مہم جاری رکھی تھی، اس کی زد میں بہت سی ایسی چیزیں بھی آئیں جن کے حوالے سے انہیں بہر حال احتیاط کا دامن تھامے رکھنا چاہیے تھا، ان کے اس غیر محتاط رویے کا نتیجہ یہ نکلا کہ وہ اپنی جس بے باکی کو ”جرأت رندانہ“ سمجھ کر تادم آخر برتتے رہے، وہ معاشرے کی غالب اکثریت کے نزدیک گستاخی اور بے ادبی سمجھی گئی اور یوں وہ ایک بڑے طبقے میں ناپسند کئے جانے لگے، اس بابت کوئی دوسری رائے نہیں کہ انہوں نے جس طرز عمل کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنائے رکھا وہ کسی طرح اعتدال پسندی اور رواداری پر مبنی نہیں تھا، وہ اپنی مزعومہ انتہا پسندی میں اتنے آگے چلے گئے کہ دوسری انتہا پر پہنچ گئے اور دین ومذہب سمیت ان کے جملہ متعلقات کو نہ صرف ہدف تنقید بنائے رکھا بلکہ ان پر اپنے طنز و تشنیع کے تیر برسانا بھی اپنا فرض خیال کیا، اس رویے کا مطلب یہی ہے کہ وہ کسی طرح معتدل، مصالحت پسند اور بردبار شخصیت نہیں تھے اور انہیں ان کی یہی انتہا پسندی لے ڈوبی۔
انتہا پسندی ایک منفی رویہ
انتہا پسندی ایک منفی رویہ ہے، معاملہ چاہے کوئی بھی ہو، ایسے رویّے کی کسی طرح بھی
باب پنجم: ...... توہین رسالت کے متعلق علماء کرام اور کالم نگاروں کے ارشادات
تحسین نہیں کی جاسکتی، اسلام جادۂ اعتدال ہے اور ہر معاملے میں معتدل رویہ اپنانے کی تلقین کرتا ہے، آج بدقسمتی سے دنیا بھر کے مسلمان اسلام کی بتائی گئی راہ اعتدال سے ہٹ کر دو قسم کی انتہاؤں کے متضاد راستوں پر چل پڑے ہیں، جو مسلمان باہمی آویزش، افتراق و انتشار کا سبب بنے ہوئے ہیں، یقیناً دونوں انتہاؤں کے بیچ جادۂ اعتدال ہے اور اس پر چلنے والوں کی بھی کمی نہیں، تاہم دونوں انتہاؤں کی لڑائی میں امت کا معتدل طبقہ بھی گیہوں کے ساتھ گھن کی طرح پس رہا ہے اور ایک ”مہربان“ کے بقول ”جو دونوں میں کسی کے ساتھ نہیں وہ دونوں کا شکار ہو جاتا ہے“ کی صورت حال سے بری طرح دو چار ہے۔
وہ دو انتہائیں جن کے سبب امت مسلمہ باہمی جھگڑوں کا شکار ہے ایک کا نام ”مذہبی انتہا پسندی“ رکھا گیا ہے اور دوسری کو ہم ”سیکولر انتہا پسندی“ کہہ سکتے ہیں، اس وقت عالم یہ ہے کہ سیکولر انتہا پسندوں کو عالمی طاغوتی طاقتوں کا مضبوط سہارا حاصل ہے اور وہ پوری مسلم دنیا میں اقتدار اور ذرائع ابلاغ سمیت ہر شعبے کی قوت کو اپنی دسترس میں رکھے ہوئے ہیں اور اسی قوت کے بل پر ”مذہبی انتہا پسندوں“ کا سر کچلنے میں مصروف ہیں، کیونکہ معاشرے میں قوت نافذہ سیکولرسٹوں کے ہاتھ میں ہے، اسی لئے وہ پوری جارحیت کے ساتھ اپنا ”جہاد“ جاری رکھے ہوئے ہیں۔ اور معاشرے کا وہ معتدل طبقہ جو انہیں ذرا تحمل سے کام لینے کی فہمائش کرتا ہے اسے بھی مخالف انتہا پسند کیمپ میں شمار کیا جاتا ہے اور یہی حال دوسری طرف کا بھی ہے۔
سیکولر انتہا پسندوں کا کمال فن کاری
دوسری طرف سیکولر انتہا پسندوں نے کمال فنکاری سے خود کو اعتدال پسند، روشن خیال اور نہ جانے کیا کیا خوش نما ناموں سے، جبکہ انتہا پسندی کو محض مذہبی انتہا پسند Propagate کر رکھا ہے یہی وجہ ہے کہ دین و مذہب کے نام پر انتہا پسندی کی طرف جانے والوں کو گالی دینا تو ایک معمول بن گیا ہے، مگر دوسری انتہا کی طرف دیکھنے کو کوئی تیار نہیں، حقیقت یہ ہے کہ دوسری طرف کی انتہا پسندی جسے ”سیکولر انتہا پسندی“ یا ”لبرل انتہا پسندی“ کہا جاتا ہے ہی دراصل مطعون انتہا پسندی (مذہبی) کا واحد سبب ہے، یہ تو کہا جا رہا ہے مذہبی انتہا پسند اپنا ایجنڈا لوگوں
باب پنجم: ...... توہین رسالت کے متعلق علماء کرام اور کالم نگاروں کے ارشادات
پر مسلط کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، لیکن یہ کہنے والے بھول جاتے ہیں یا ”تساہل عارفانہ“ سے کام لیتے ہیں کہ سیکولر انتہا پسند بھی نہ صرف اپنا ایجنڈا رکھتے ہیں بلکہ انہوں نے تو معاشرے، ملک اور قوم کو روزِ اوّل سے ہی یرغمال بنا رکھا ہے اور اقتدار کے بل بوتے پر باستثنائے چند گزشتہ 63 سالوں سے اپنا ایجنڈا مسلط کر رکھا ہے۔
سلمان تاثیر سیکولر انتہا پسند
سلمان تاثیر کے واقعہ قتل کے ضمن میں انتہا پسندی کی بحث اس لئے چھڑ گئی کہ موصوف کا تعلق بھی دوسری طرف کی انتہا سے تھا، وہ نہ صرف سیکولر انتہا پسند تھے بلکہ اپنے قافلے کے سالار تھے، ان کا تذکرہ جب بھی ہوگا انتہا پسندی کی بحث سے صرف نظر نہیں ہوگا، بلکہ ان کے تذکرے کے ضمن میں اس بحث کو نظر انداز کرنے والا اپنے موضوع سے انصاف نہیں کر سکے گا۔
جیسا کہ ابتدا میں کہا گیا سلمان تاثیر صاحب جس صورتِ حال سے دوچار ہو کر موت کے منہ میں چلے گئے وہ غیر متوقع نہ تھی، تاہم اس کی زیادہ سے زیادہ تعبیر کسی بم دھماکے یا کسی اور واقعے کی شکل میں کی جا سکتی تھی، وہ اپنے ہی گارڈ کے ہاتھوں موت کا سامنا کریں گے یہ تو کسی کے حاشیۂ خیال میں بھی نہ تھا، متوقع ناخوشگوار صورت حال والی رائے کی تصدیق قاتل ملک ممتاز قادری کے اس اعترافی بیان سے ہو ہی گئی جس میں انہوں نے کہا ہے کہ ”گورنر کو میں نے اس لئے قتل کیا کہ انہوں نے ناموس رسالت قانون کو کالا قانون کہا تھا“ یہ بیان ظاہر کرتا ہے کہ سلمان تاثیر صاحب اظہارِ خیالات میں جس قسم کی بے احتیاطی برتتے تھے وہ لوگوں کے لئے کس حد تک اشتعال انگیز تھا، کاش کہ سلمان تاثیر صاحب معاشرے کے اکثریت کے جذبات پر نشتر چلانا اپنا وطیرہ نہ بنائے رکھتے، افسوس کہ سلمان تاثیر اپنے والد محترم پروفیسر محمد دین (ایم ڈی) تاثیر کے طرزِ فکر کے بھی باغی نکلے، ان کے والد ایک سچے عاشقِ رسول تھے۔ اعلیٰ تعلیم اور انگریز خاتون سے شادی کے باعث انگریزوں سے قریبی مراسم کے باوجود انہوں نے رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنے تعلق کو کبھی ڈھیلا نہیں ہونے دیا۔ بلکہ انہوں نے اس تعلق کو بھی ناموس رسالت پر جان وار دینے والے غازی علم
باب پنجم : ....... توہین رسالت کے متعلق علماء کرام اور کالم نگاروں کے ارشادات
الدین شہید کی وکالت (معروف معنوں میں نہیں) کے لئے بروئے کار لائے، غازی علم الدین شہید کی شہادت کے بعد ان کی نعش کو انگریز سرکار نے جیل سے انہیں کی کوششوں سے نکالنے کی اجازت دی تھی۔
اجازت ملنے کے بعد پروفیسر ایم ڈی تاثیر نے غازی علم الدین شہید کے جسد خاکی کو بگھی کے ذریعے ان کے گھر تک پہنچایا اور تدفین میں بھی کافی سرگرمی دکھائی، جبکہ قبل ازیں ملعون راجپال کی گستاخانہ حرکت پر وہ اتنے ملول تھے کہ علامہ اقبال کے سامنے روتے ہوئے انہوں نے اس واقعے کا ذکر کیا تھا۔ خیر یہ قدرت کے فیصلے ہیں اور مقدر کی بات ہے۔ باپ ایک گستاخ رسول کو قتل کرنے کی پاداش میں پھانسی کی سزا پانے والے کی میت کے استقبال کے لئے جیل کے دروازے تک گیا تو بیٹا ایک گستاخ رسول ملعونہ (خبیثہ، رذیلہ) عورت کو رہائی دلانے کے لئے جیل کے دروازے کے اندر چلا گیا اور توہین رسالت پر سزائے موت کے قانون کو ختم کرنے کی کوشش کے دوران قتل ہوا۔
ناموس رسالت کے سلسلے میں آج کل ملک میں ہر طرف جو بے چینی پھیلی ہوئی ہے، وہ جناب سلمان تاثیر کی اس انتہا پسندی کا شاخسانہ ہے جس کا مظاہرہ انہوں نے ”قانون انسداد توہین رسالت“ کو کالا قانون قرار دے کر کیا، اب جبکہ سلمان تاثیر کا معاملہ اللہ تعالیٰ کے سپرد ہو چکا ہے، امید ہے کہ حکمرانوں کو ناموسِ رسالت کے مسئلے پر امت مسلمہ کی بے چینی کا احساس ہو گیا ہوگا اور امید ہے کہ اب کوئی بھی توہین رسالت کی مجرمہ کو کیفر کردار تک پہنچنے میں رکاوٹ نہیں بنے گا، یہ موقع پھر اس بحث کو دھرانے کا ہے کہ ملک میں جاری نظریاتی جنگ وجدل کے بنیادی محرکات میں سیکولر انتہا پسندوں کے طرز عمل کو نظر انداز کرنا کسی طرح قرین قیاس نہیں اور وقت آگیا ہے کہ لبرل فاشسٹوں کو بھی درسِ اعتدال دیا جائے۔
(روزنامہ ”اسلام“ 6 جنوری 2011ء)
☆☆☆☆☆☆.......☆☆☆☆☆☆
باب پنجم: ....... توہین رسالت کے متعلق علماء کرام اور کالم نگاروں کے ارشادات
یہ معاملے ہیں نازک
(عرفان صدیقی)
حیف اس پر جو انسانی زندگی کے بارے میں قرآن کی تعلیمات اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات کو پس پشت ڈال کر ریاست کے قانون کو اپنے ہاتھ میں لیتا ہے، اور صد حیف اس پر جو نام نہاد روشن خیالی کے زعم میں ناموس رسالت جیسے معاملے کی حساسیت اور نزاکت کو نہیں سمجھتا اور احتیاط کے تقاضوں کو پامال کرتا ہے۔
گورنر سلمان تاثیر کا قتل ایک افسوسناک واردات ہے، سینے میں دل اور دل میں جذبہ و احساس کی ادنیٰ سی رمق رکھنے والا کوئی بھی شخص نہ اس کی ستائش کرے گا نہ مسرت و آسودگی پائے گا، ہم اس دین کے پیروکار ہیں جس نے ایک انسان کے قتل کو پوری انسانیت کا قتل قرار دیا ہے، گناہ میں لت پت ہو جانے والا شخص بھی بہرحال انسان ہی رہتا ہے اور اسے زندگی سے محروم کر دینے کا استحقاق کسی کو حاصل نہیں، معاشرے قانون کی پاسداری سے وقار پاتے اور ریاستیں انصاف کی کارفرمائی سے سر بلند ہوتی ہیں، جہاں کسی کو مجرم قرار دینے کا اختیار طبقہ یا گروہ اپنے ہاتھ میں لے لے، وہی فیصلے صادر کرنے لگے اور کچھ لوگ ان فیصلوں کو جزو ایمان خیال کرتے ہوئے خود انہیں عملی جامہ پہنانے میں کمر بستہ ہو جائیں تو وہاں تہذیب کے قرینے دم توڑ دیتے ہیں، قانون مذاق اور انصاف تمسخر بن کر رہ جاتا ہے، انارکی سرخ آندھی کی طرح اٹھتی اور سب کچھ اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہے، اسے فتنہ و فساد، افراتفری اور شورش کا نام دیا جاتا ہے اور اسلام سے شناسائی رکھنے والا ہر مسلمان جانتا ہے کہ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فتنہ و فساد کے بارے میں کیا کہا ہے؟
پاکستان تمام تر کمزوریوں کے باوجود ایک منظم ریاست
پاکستان تمام تر کوتاہیوں اور کمزوریوں کے باوجود ایک منظم ریاست ہے، ایک
باب پنجم: ...... توہین رسالت کے متعلق علماء کرام اور کالم نگاروں کے ارشادات
آئین، ایک ضابطہ قانون اور ایک نظام انصاف رکھنے والی ریاست، جرم کی نوعیت سے قطع نظر، کسی بھی جواز پر کسی بھی شخص کو یہ اجازت نہیں دی جاسکتی کہ وہ اپنی صوابدید کے مطابق کسی شخص کی جان لے لے، اگر کوئی ایسا کرتا ہے تو اسے نظام قانون و انصاف کا سامنا کرنا ہوگا ورنہ ریاست اپنا بھرم کھو دے گی، سلمان تاثیر کے قاتل پر بھی اس کا اطلاق ہونا چاہیے اور اس اصول کو پوری قوت کے ساتھ نافذ کیا جانا چاہیے کہ کسی کی جان لینے کی اجازت نہ قرآن و سنت کے قانون میں ہے نہ پاکستان کے ضابطہ تعزیرات میں۔
یہ معاملے کا ایک اور غالباً سب سے توانا پہلو ہے، لیکن اس پہلو کی نوعیت اور اہمیت کو معاملے کے دوسرے پہلو کی حساسیت اور نزاکت سے الگ نہیں کیا جاسکتا، جس طرح جان کی حرمت کا اصول غیر متنازعہ ہے اسی طرح اس امر کو بھی ایک لمحے کے لئے نظروں سے اوجھل نہیں ہونے دینا چاہیے کہ محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم کی ناموس کے معاملے کو عمومی تصورات کی عینک سے نہیں دیکھا جاسکتا، یہ وہ رشتہ ہے جسے کوئی نام نہیں دیا جاسکتا، یہ کسی کے عقیدے یا مسلک پر نشتر زنی کر کے دل آزاری سے بھی بہت آگے کی بات ہے، وہ جو آپ کے روضہ مبارک کے بارے میں کہا گیا ہے کہ:
نفس گم کردہ می آید جنید و بایزید ایں جا
تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی عظمت و رفعت کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے، جس کی بارگاہ ناز کی حضوری میں جنید بغدادی یا بایزید بسطامی جیسے جید بزرگان بھی حواس گنوا بیٹھیں، اس کے ناموس کو این جی اوز سٹائل میں بازاروں اور چوراہوں کا موضوع نہیں بنایا جاسکتا، شاعر کہتا ہے:
ہنوز نام تو گفتن کمال بے ادبیست
اپنے دہن اور زبان کو ہزار بار مشک و گلاب سے دھونے کے باوجود آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا نام مبارک ادا کرنا، کمال درجے کی بے ادبی لگتا ہے، کائنات میں ایسا کون ہے جس کے ذکر کی رفعت و بلندی کی ضمانت اللہ تعالیٰ نے دی ہو؟ کون ہے جس کے بارے میں رب
باب پنجم: ......
ذوالجلال کا حکم آیا ہو کہ ”اے ایمان سے اونچی نہ کرو مبادا تمہارے اعما رسول صلی اللہ علیہ وسلم اجزائے ایما کمزوری انسان کے سارے اعمال
سلمان تاثیر نے صرف ایک
جس طرح سلمان تاثیر غیر محتاط اور گستاخی کی حدوں کو چھونے جاسکتا، پاکستان کی مختلف جیلوں میں ہیں لا تعداد ہیں جن پر ابھی کوئی جرم بند ہیں، ان میں سینکڑوں غریب او سے صرف ایک خاتون کا انتخاب کیو کورٹ سے سزا پاچکی تھی ابھی اس پ تھی اور سلمان تاثیر کو صرف وہی خا رسالت کا الزام تھا؟ صوبے کا آئی صرف معاملے کی حساسیت بلکہ اپنی جیل میں پہنچیں، اولین مرحلے میں کہیں جو کچھ انہوں نے کہا؟ کیا آئی اعلیٰ، کسی صدر مملکت اور کسی گورنر نے کوئی نظیر ملتی ہے؟ اور پھر انہوں نے الفاظ استعمال کرتے ہوئے اسے آئ درخواست وصول کی اور اعلان کیا کہ باقاعدہ ٹی وی کیمرے سجا کر کہا کہ
باب پنجم: ...... توہین رسالت کے متعلق علماء کرام اور کالم نگاروں کے ارشادات
ذوالجلال کا حکم آیا ہو کہ ”اے اہل ایمان! اپنی آوازیں اس (نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم) کی آواز سے اونچی نہ کرو مبادا تمہارے سارے اعمال ضائع ہو جائیں اور تمہیں پتہ ہی نہ چلے“ حب رسول صلی اللہ علیہ وسلم اجزائے ایمانی میں سے ہے اور چیز بھی ایسی کہ جس میں بال برابر بھی کمزوری انسان کے سارے اعمال حسنہ پر پانی پھیر دیتی ہے۔
سلمان تاثیر نے صرف آسیہ کا انتخاب کیوں کیا؟
جس طرح سلمان تاثیر کے قتل کی تائید و ستائش ممکن نہیں اسی طرح ان کے انتہائی غیر محتاط اور گستاخی کی حدوں کو چھوتے ہوئے طرز عمل کو بھی کسی تاویل کے پردے میں نہیں لپیٹا جا سکتا، پاکستان کی مختلف جیلوں میں ہزاروں افراد چھوٹے بڑے جرائم کی سزا بھگت رہے ہیں، لا تعداد ایسے ہیں جن پر ابھی کوئی جرم ثابت نہیں ہوا، لیکن وہ سال ہا سال سے کال کوٹھڑیوں میں بند ہیں، ان میں سینکڑوں غریب اور بے بس و لاچار خواتین بھی ہیں، سلمان تاثیر نے ان میں سے صرف ایک خاتون کا انتخاب کیوں کیا جو قانون و انصاف کے پہلے مرحلے سے گزر کر سیشن کورٹ سے سزا پا چکی تھی ابھی اس کے پاس ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ جانے کی گنجائش موجود تھی اور سلمان تاثیر کو صرف وہی خاتون کیوں مظلوم اور ستم رسیدہ دکھائی دی جس پر توہین رسالت کا الزام تھا؟ صوبے کا آئینی سربراہ ہونے کے ناطے انہیں یہ اختیار کیسے مل گیا کہ وہ نہ صرف معاملے کی حساسیت بلکہ اپنی منصبی ذمہ داریوں سے بھی انحراف کرتے ہوئے شیخوپورہ جیل میں پہنچیں، اولین مرحلے میں مجرم ثابت ہونے والی خاتون کو ساتھ بٹھائیں اور وہ کچھ کہیں جو کچھ انہوں نے کہا؟ کیا آج تک پاکستان کی پوری تاریخ میں کسی وزیر اعظم، کسی وزیر اعلیٰ، کسی صدر مملکت اور کسی گورنر نے ایسا کیا ہے؟ کیا کسی دوسرے ملک میں بھی اس طرح کی کوئی نظیر ملتی ہے؟ اور پھر انہوں نے قانون توہین رسالت کے بارے میں انتہائی ناتراشیدہ الفاظ استعمال کرتے ہوئے اسے ”کالا قانون“ قرار دیا، انہوں نے خود آسیہ ملعونہ سے ایک درخواست وصول کی اور اعلان کیا کہ وہ صدر زرداری سے اس کی سزا معاف کرائیں گے، باقاعدہ ٹی وی کیمرے سجا کر کہا کہ چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ سوموٹو نوٹس لے کر آسیہ ملعونہ
باب پنجم:......... توہین رسالت کے متعلق علماء کرام اور کالم نگاروں کے ارشادات
کی سزا ختم کریں، اس کے بعد بھی انہوں نے درجنوں بار یہی کچھ دھرایا، لبرل فاشسٹوں کی ستائشی تالیوں میں انہیں اندازہ ہی نہ ہو پایا کہ وہ کس راہ پر چل نکلے ہیں اور ان کا بے ڈھب رویہ پاکستانیوں کے دلوں پر کیسے چرکے لگا رہا ہے۔
پاکستان میں مقتدر طبقہ کی ناموس کے قوانین
پاکستان میں ناموس رسالت کا قانون ہی نہیں، یہاں تو صدر کے ناموس، گورنر کے ناموس، پاکستانی پرچم کے ناموس، عدلیہ کے ناموس، فوج کے ناموس اور نہ جانے کس کس ناموس کے قوانین موجود بھی ہیں صدر اور گورنر کے ناموس کو اتنا کڑا تحفظ دیا گیا ہے کہ وہ کچھ بھی کہہ لیں یا کرلیں انہیں عدالت میں نہیں لایا جاسکتا، فوج کے ناموس کی بے حرمتی کے جرم میں ہی جاوید ہاشمی برسوں جیل میں سڑتا رہا، عدلیہ اپنے ناموس پر خراش آنے کا محاسبہ خود کرنے کی طاقت رکھتی ہے، کیا یہ ”کالا قانون“ نہیں کہ صدر اور گورنر کسی بھی جرم کا ارتکاب کرتے رہیں انہیں کٹہرے میں نہ لایا جاسکے؟ کیا اسلامی ملک میں ایسا قانون ہونا چاہیے؟ جہاں بھانت بھانت کے ”کالے قوانین“ کی کارفرمائی ہو اور بڑے بڑے منصب داران ان قوانین کو اپنے کرتوتوں کی پناہ گاہ میں بٹھائے ہوئے ہوں، وہاں نہ جانے کیوں سلمان تاثیر کی نظر میں ناموس رسالت ہی کا قانون کیوں کانٹے کی طرح کھٹکا اور انہوں نے پاکستانی قوم کے جذبہ و احساس کی پروا کئے بغیر ایک ایسی مہم اٹھائی جو کروڑوں دلوں میں گھاؤ ڈال گئی؟
اس پہلو کو بھی پیش نظر رکھنا ہوگا کہ مغرب نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی حرمت و عظمت سے کھیلنے کو ایک مشغلہ بنالیا ہے آئے دن کوئی نہ کوئی مکروہ واردات ہوتی رہتی ہے، سلمان رشدی اور تسلیمہ نسرین جیسے مکروہات کو انہوں نے ہیرو قرار دے کر تکریم و تعظیم کی مسندوں پر بٹھا رکھا ہے، ان کے سینوں پر انہوں نے تمغہائے فضیلت سجا رکھے ہیں، مسلمان اس رویے پر انگاروں پر لوٹتے ہیں اور کچھ نہیں کر سکتے، اندرون ملک کسی غیر محتاط شخصیت کی طرف سے کسی ناروا عمل کا ردعمل اس لیے شدید ہوتا ہے کہ آتشکدہ پہلے سے ہی دھک رہا ہوتا ہے اس ساری صورت حال کو مجموعی تناظر میں دیکھنا ہوگا اگر یہاں انتہا پسندی اور جنون کی
باب پنجم: ...... توہین رسالت کے متعلق علماء کرام اور کالم نگاروں کے ارشادات
کارفرمائی ہے تو صرف داڑھیوں اور پگڑیوں تک محدود نہیں، وہ لبرل فاشسٹ بھی ذمہ دار ہیں جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے مقام بلند کا شعور ہی نہیں رکھتے، اور گز گز بھر لمبی زبانیں نکال کر انگارے اگلتے رہتے ہیں، بلاشبہ کسی جرم کو کسی دوسرے جرم کا جواز نہیں بنایا جا سکتا لیکن تانگے میں جتے گھوڑوں کی طرح آنکھوں پہ کھوپے چڑھا کر صرف ایک ہی رخ پر دیکھنا تو قرین انصاف نہیں۔
(روزنامہ ”جنگ“ لاہور، 7 جنوری 2011ء)
☆☆☆☆☆☆......☆☆☆☆☆☆
بسم اللہ الرحمن الرحیم
صَلُّوْا عَلَيْهِ وَآلِهِ
کہ ہو سگانِ مدینہ میں میرا نام شمار
مَروں تو کھائیں مدینے کے مجھ کو مور و مار
کرے حُضور کے روضے کے آس پاس نثار
اقتباس قصیدہ بہاریہ حجة الاسلام نانوتویؒ
کتبہ فقیر نفیس الحسینی ۱۴۰۴ھ
تحریک ناموس رسا
- ☆ ...... آسیہ مسیح کیس کا پس منظر
- ☆ ...... سلمان تاثیر کے قتل کے محرکات
- ☆ ...... پاپائے اعظم اپنی حدوں میں
- ☆ ...... آل پارٹیز ناموس رسالت کانفرنس اِسلام
- ☆ ...... کل جماعتی تحفظ ناموس رسالت کانفرنس اور احوال
- ☆ ...... آل پارٹیز کانفرنس کی تفصیلی ر
- ☆ ...... تحریک ناموس رسالت کا مرکز
- ☆ ...... مجلس کی طرف سے ممبران پار
- ☆ ...... تحریک ناموس رسالت کے قیا
- ☆ ...... تاریخی ہڑتال
- ☆ ...... کراچی کا تاریخ ساز فقید المثال
- ☆ ...... ریلی نے مولانا فضل الرحمن کے
- ☆ ...... ناموسِ رسالت کے تحفظ کے
- ☆ ...... حکومت پاکستان کی طرف سے ”تحفظ نا
باب ششم :
تحریک ناموس رسالت، پس منظر، مطالبات
- ٭...... آسیہ مسیح کیس کا پس منظر
- ٭...... ناموس رسالت قوانین کا مختلف حوالوں سے ایک مکمل جائزہ
(انبیاء علیہم السلام کے متعلق قوانین کا جائزہ)
- ٭...... سلمان تاثیر کے قتل کے محرکات
- ٭...... پاکستان میں قوانین رسالت کے متعلق سوالات کا تفصیلی جائزہ
- ٭...... پاپائے اعظم اپنی حدوں میں رہیں
- ٭...... شریعت کورٹ کے آئینی حدود و اختیارات
- ٭...... آل پارٹیز ناموس رسالت کانفرنس اسلام آباد
- ٭...... سیکشن ۲۹۵۔سی
- ٭...... ۲۹۵۔سی قانون کی تشریح
- ٭...... کل جماعتی تحفظ ناموس رسالت کانفرنس اور احوال و تاثرات
- ٭...... گستاخانہ الفاظ کا استعمال (نبی کریم ﷺ یا انبیاء علیہم السلام کے متعلق)
- ٭...... توہین رسالت کے مرتکب مجرم پر قانونی عدالتی چارج
- ٭...... آل پارٹیز کانفرنس کی تفصیلی رپورٹ
- ٭...... پرائم منسٹر آف پاکستان
- ٭...... تحریک ناموس رسالت کا سرکلر
- ٭...... مجلس کی طرف سے ممبران پارلیمنٹ اور سینٹ کے نام خط
- ٭...... تحریک ناموس رسالت کے حقیقی مطالبات
- ٭...... تاریخی ہڑتال
- ٭...... کراچی کا تاریخ ساز فقید المثال جلسہ
- ٭...... ریلی میں مولانا فضل الرحمن کے خطاب کی تفصیلی رپورٹ
- ٭...... ناموس رسالت کے تحفظ کے لئے زندہ دلان لاہور کی عظیم الشان ریلی
- ٭...... حکومت پاکستان کی طرف سے ”تحفظ ناموس رسالت“ قانون سے متعلق تازہ فیصلہ کا مکمل ترجمہ!
باب ششم: تحریک
آسیہ مسیح
آسیہ مسیح پاکستان کی عدالتی ثابت ہو جانے پر عدالت کی طرف س ملعونہ زوجہ عاشق مسیح ساکن چک نمبر آپ مسلمانوں کے (العیاذ باللہ) نبی ک سے ایک ماہ قبل چارپائی پر پڑے ر کیڑے پڑ گئے تھے اور تمہارے نبی خاطر شادی کی اور مال لوٹنے کے بع اللہ تعالیٰ کا کلام نہیں ہے بلکہ خود بنای توڑ رہی تھی گاؤں کی عورتوں نے سا کو گاؤں کے افراد نے ملزمہ آسیہ ملعو کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور قرآن پا کے خلاف مقدمہ نمبر 09-326 پولیس نے آسیہ ملعونہ کو گرفتار کر لی نے کی جس میں ملزمہ آسیہ ملعونہ ک جیل بھجوایا گیا، تقریباً ڈیڑھ سال تک اپنے تمام گواہ عدالت میں پیش لیکن ملزمہ اپنی صفائی میں کوئی ثب 8 نومبر 2009 کو ملزمہ آسیہ ملعو سات دن کے اندر اندر اپیل دا
باب ششم: تحریک ناموس رسالت، پس منظر، اہداف، مطالبات اور کامیابی
آسیہ مسیح کیس کا پس منظر
آسیہ مسیح پاکستان کی عدالتی تاریخ میں پہلی مسیحی خاتون ہے جسے توہین رسالت کا جرم ثابت ہو جانے پر عدالت کی طرف سے سزائے موت ہوئی 14 جون 2009 بروز اتوار کو آسیہ ملعونہ زوجہ عاشق مسیح ساکن چک نمبر 3 اٹانوالی ضلع ننکانہ صاحب نے عورتوں کے روبرو کہا کہ آپ مسلمانوں کے (العیاذ باللہ) نبی صلی اللہ علیہ وسلم کیا ہیں؟ نقل کفر، کفر نہ باشد معاذ اللہ وفات سے ایک ماہ قبل چارپائی پر پڑے رہے اور تمہارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے منہ اور کانوں میں کیڑے پڑ گئے تھے اور تمہارے نبی (صلی اللہ علیہ وسلم) نے حضرت خدیجہؓ سے محض مال کی خاطر شادی کی اور مال لوٹنے کے بعد انہیں گھر سے نکال دیا، مزید قرآن پاک سے متعلق کہا وہ اللہ تعالیٰ کا کلام نہیں ہے بلکہ خود بنائی گئی کتاب ہے، ملزمہ آسیہ ملعونہ دیگر عورتوں کے ساتھ فالسے توڑ رہی تھی گاؤں کی عورتوں نے ساری باتیں گاؤں کے لوگوں کو بتائیں مورخہ 19 جون 2009 کو گاؤں کے افراد نے ملزمہ آسیہ ملعونہ سے پوچھا تو اس نے اس بات کا اقرار کیا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور قرآن پاک کی توہین کی ہے۔ اسی دن 19 جون 2009 کو آسیہ ملعونہ کے خلاف مقدمہ نمبر 326-09 زیر دفعہ 295-C ت پ تھانہ ننکانہ صاحب درج ہوا، اسی روز پولیس نے آسیہ ملعونہ کو گرفتار کر لیا اسی مقدمہ کی تفتیش ایس پی انوسٹی گیشن شیخوپورہ محمد امین بخاری نے کی جس میں ملزمہ آسیہ ملعونہ کو گنہگار قرار دیا گیا مقدمہ کا چالان بعدالت محمد نوید اقبال ایڈیشنل جج بھجوایا گیا، تقریباً ڈیڑھ سال تک مقدمہ عدالت مذکورہ میں زیر سماعت رہا، مستغیث مقدمہ نے اپنے تمام گواہ عدالت میں پیش کئے استغاثہ کی شہادت کے بعد آسیہ ملعونہ کو صفائی کا موقع دیا گیا لیکن ملزمہ اپنی صفائی میں کوئی شہادت پیش نہ کر سکی، جرم ثابت ہونے پر عدالت مذکورہ نے بتاریخ 8 نومبر 2010 کو ملزمہ آسیہ ملعونہ کو سزائے موت اور ایک لاکھ روپیہ جرمانہ کی سزا سنائی اور ملزمہ کو سات دن کے اندر اندر اپیل عدالت عالیہ میں دائر کرنے کا حق دیا ہے۔
باب ششم: تحریک ناموس رسالت، پس منظر، اہداف، مطالبات اور کامیابی
گورنر پنجاب کی آسیہ ملعونہ سے ملاقات
گورنر پنجاب سلمان تاثیر نے مورخہ 20 نومبر 2010ء کو مجرمہ آسیہ ملعونہ کے ساتھ باقاعدہ ڈسٹرکٹ جیل شیخوپورہ میں پریس کانفرنس کی اور مجرمہ کو یقین دلایا کہ وہ صدر پاکستان آصف علی زرداری سے مل کر ان کی سزا معاف کروائیں گے۔
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی حرمت کا تحفظ ہر مسلمان کے ایمان کا لازمی جزو ہے قانون توہین رسالت میں کسی ترمیم یا اس کا خاتمہ کسی صورت میں برداشت نہیں کیا جائے گا، چونکہ ملزمہ خود ہی اپنے گناہ کا اعتراف کر چکی ہے اور اس کے خلاف ایف آئی آر بھی درج ہے اور فرد جرم عائد ہو کر اس کو سزا بھی ہو چکی ہے، آسیہ مسیح نامی گستاخ رسول عیسائی خاتون کو عدالت نے بعد از تحقیق سزا سنا کر قانونی تقاضے پورے کئے ہیں اس لئے عدالتی فیصلہ پر اس گستاخ کو جلد سزا دی جائے تاکہ آئندہ کوئی بھی بد بخت شاتم رسول جناب رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کی شانِ اقدس میں گستاخی نہ کر سکے۔
وفاقی وزیر برائے اقلیتی امور شہباز بھٹی نے صدر پاکستان آصف علی زرداری کو آسیہ ملعونہ کے متعلق رپورٹ پیش کر دی ہے جس میں اس نے مجرمہ عاصیہ ملعونہ کو بے گناہ قرار دیا ہے بلکہ یہ بھی کہا ہے کہ آسیہ کو ذاتی رنجش کی بناء پر توہین رسالت کے مقدمے میں پھنسایا گیا ہے، ایف آئی آر میں جو کہانی پیش کی گئی ہے وہ بد نیتی پر مبنی ہے، بلکہ اس رپورٹ میں عاصیہ ملعونہ کو تحفظ اور اس کے خاندان کو سکیورٹی فراہم کرنے کی درخواست کی گئی ہے اس سارے معاملے میں اب یہ دیکھیں کہ اس کے پس پردہ حقائق کیا ہیں لادین اور دشمن قوتیں کیا کرنا چاہتی ہیں، گورنر پنجاب سلمان تاثیر نے یہ بھی کہا ہے کہ صدر زرداری سے میں اس کی سزا معاف کروا دوں گا ایک مسیحی عورت جس کے لئے اتنا کچھ گورنر کر رہے ہیں، جو کہ سراسر ظلم و زیادتی ہے، جو کہ توہین رسالت کے قانون کو ختم کرنے کے لئے مختلف ادوار میں بھی یہود و نصاریٰ کوششیں کرتے رہے ہیں، مگر ان کی کبھی بھی کوئی سازش کامیاب نہیں ہونے دی گئی اور اب بھی انشاء اللہ شمع رسالت کے پروانے قانونِ امتناع توہین رسالت ﷺ میں کسی قسم کی ترمیم یا اس کا خاتمہ کسی صورت میں برداشت نہیں
باب ششم:
کریں گے۔
تحفظ ناموس رسالت قانو
”ویٹی کن سٹی (اے ایف نے مطالبہ کیا ہے کہ پاکستان ناموس آباد مسیحی برادری کو تحفظ فراہم کیا جا مذہبی عقائد کے مطابق زندگی گزار سکیں تفصیلات کے مطابق ا دوران پوپ بینی ڈکٹ نے پاکستا کرنے کے لئے ملک میں رائج نامو بنا کر اقلیتی عیسائی برادری کے خلاف مسیحی برادری کو تحفظ فراہم کیا جا مذہبی عقائد کے مطابق زندگی گزار سکیں کو رہا کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ میں فوری پیش رفت کی ضرورت ۔ ممالک سے شہریوں کی مذہبی آزاد انسان کا پہلا حق ہے۔ انہوں نے ر
کسی آزاد ملک کے آ جائے، یہ اس ملک میں کھلی مداخلت تصادم پر ابھارنے کے علاوہ تمام تر اسی طرح پوپ بینی ڈک بات کی غمازی کرتا ہے کہ درحقیق
باب ششم: تحریک ناموس رسالت، پس منظر، اہداف، مطالبات اور کامیابی کریں گے۔
تحفظ ناموس رسالت قانون سے متعلق پوپ کا مطالبہ
”ویٹی کن سٹی (اے ایف پی/رائٹرز) عیسائیوں کے روحانی پیشوا پوپ بینی ڈکٹ نے مطالبہ کیا ہے کہ پاکستان ناموس رسالت قانون ختم اور آسیہ بی بی کو رہا کرے۔ ملک میں آباد مسیحی برادری کو تحفظ فراہم کیا جائے تاکہ وہ تشدد اور امتیازی سلوک کے خوف کے بغیر اپنے مذہبی عقائد کے مطابق زندگی گزار سکیں۔
تفصیلات کے مطابق ۱۷۹ ممالک کے سفارت کاروں سے سالانہ خطاب کے دوران پوپ بینی ڈکٹ نے پاکستان سے مطالبہ کیا کہ پاکستان توہین رسالت کی حوصلہ شکنی کرنے کے لئے ملک میں رائج ناموس رسالت ایکٹ کو منسوخ کرے، کیونکہ اس قانون کو عذر بنا کر اقلیتی عیسائی برادری کے خلاف استعمال کیا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں آباد مسیحی برادری کو تحفظ فراہم کیا جائے تاکہ وہ تشدد اور امتیازی سلوک کے خوف کے بغیر اپنے مذہبی عقائد کے مطابق زندگی گزار سکیں اور توہین رسالت کے جرم میں سزا پانے والی آسیہ بی بی کو رہا کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ گورنر پنجاب کے المناک قتل سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس سمت میں فوری پیش رفت کی ضرورت ہے۔ انہوں نے پاکستان، چین، مصر اور مشرق وسطیٰ کے ممالک سے شہریوں کی مذہبی آزادی کو یقینی بنانے کی اپیل کی۔ انہوں نے کہا کہ مذہبی آزادی انسان کا پہلا حق ہے۔ انہوں نے رواں سال کو مذہبی آزادی کا سال قرار دیا۔“
(روزنامہ جنگ کراچی، ۱۱/جنوری ۲۰۱۱ء)
کسی آزاد ملک کے آئین اور قانون کے بارہ میں یہ مطالبہ کرنا کہ یہ قانون ختم کیا جائے، یہ اس ملک میں کھلی مداخلت، اس ملک میں بسنے والے مختلف مذاہب کے پیروکاروں کو تصادم پر ابھارنے کے علاوہ تمام تر سفارتی آداب کے بھی خلاف ہے۔
اسی طرح پوپ بینی ڈکٹ کا گورنر پنجاب سلمان تاثیر کے قتل کو بڑا المیہ قرار دینا اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ درحقیقت سلمان تاثیر انہیں قوتوں کی خوشنودی کے لئے توہین
باب ششم:
تحریک ناموس رسالت، پس منظر، اہداف، مطالبات اور کامیابی
رسالت کے قانون کو کالا قانون کہہ کر اس کی تبدیلی و ترمیم کے لئے کوشاں تھے۔ جس کی پاداش میں انہیں اپنے ہی محافظ کے ہاتھوں اپنی جان سے ہاتھ دھونے پڑے۔ (جس کی تفصیلات آئندہ صفحات میں ملاحظہ فرمائیں گے)
پوپ بینی ڈکٹ کو پاکستان میں بسنے والے عیسائیوں کی سلامتی کے بارے میں مگرمچھ کے آنسو بہانے کی قطعا ضرورت نہیں، اس لئے کہ وہ پاکستان میں محفوظ و مامون ہیں، ان کی جان، مال، عزت و آبرو کو آئینی طور پر تحفظ حاصل ہے۔
بہر حال مسلمان ہو یا عیسائی، ہندو ہو یا قادیانی، کسی بھی مذہب و مسلک کا فرد ہو، جب تک پاکستان کی سلامتی، آئین پاکستان اور اسلام کے خلاف ہرزہ سرائی نہیں کرے گا، اسے ہر اعتبار سے تحفظ حاصل ہے اور رہے گا، لیکن اگر کوئی اس کی پابندی نہیں کرے گا، خواہ وہ مسلمان ہی کیوں نہ ہو، اس کے خلاف بھی قانون حرکت میں آئے گا۔
حکمرانوں کو معلوم ہونا چاہیے کہ عیسائیت اور یہودیت اسلام کی دشمن ہے، وہ مسلمانوں کے مذہبی جذبات کی پامالی اور شعائر اسلام کی توہین و تنقیص کرنا اپنا فرض سمجھتی ہے بلکہ حقائق و واقعات سے یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ اسلام، قرآن، پیغمبر اسلام اور مسلمانوں کی دشمنی، ازل سے ان کے رگ و ریشہ میں رچی بسی ہوئی ہے، تاریخ شاہد ہے کہ کبھی کوئی عیسائی اور یہودی اسلام اور مسلمانوں کی ترقی تو کجا، ان کا وجود برداشت کرنے کا روادار نہیں رہا، مگر افسوس کہ مسلم حکمران ہمیشہ اپنے دشمن کو پہچاننے میں ٹھوکر کھاتے آئے ہیں اور انہوں نے ہمیشہ اپنے مفادات کی خاطر مسلمانوں کو ذبح اور مسلم حکومتوں کو ٹکڑے ٹکڑے کرایا ہے۔ (فاعتبروا یا اولی الابصار)
1 روزنامہ جنگ 5 جنوری 2011ء
باب ششم: تحریک ناموس رسالت، پس منظر، اہداف، مطالبات اور کامیابی
سلمان تاثیر کے قتل کے محرکات
سلمان تاثیر اچانک قتل نہیں ہوئے بلکہ ان کے لادینیت پر مشتمل خیالات ان کے قتل کا سبب بنے۔ انہوں نے صرف ناموس رسالت قانون کو ہی کالا قانون نہیں کہا بلکہ اس سے قبل بھی ان کی ایسی نازیبا گفتگو ان کی ناپسندیدگی کا سبب بنتی رہی کئی ایک عصری تعلیمی اداروں کے طلبہ نے ان سے میڈل لینے سے انکار کر دیا۔ چنانچہ مولانا شعیب فردوس لکھتے ہیں:
سمجھ نہیں آتا ”ممتاز قادری“ کو غازی علم دین شہید سے ملایا جائے یا غازی عبدالقیوم شہید سے تشبیہ دی جائے۔ اگر چہ ایک طرف مٹھی بھر روشن خیال اور لبرل ازم کا حامی طبقہ اسے ”مذہبی جنونی“، ”انتہا پسند“ اور نہ جانے کیا کیا کہہ رہا ہے، جب کہ ایک سینیٹر اور مشیر صدر مملکت نے اسے ”ایلیٹ فورس کا جانور“ بھی کہا ہے۔ دوسری جانب عشق رسول (ﷺ) سے لبریز نظر آتے ہوئے ”ممتاز قادری“ پُر اعتماد لہجے میں کہتا ہے کہ: ”چاہتا ہوں کہ سرکار اپنی غلامی میں قبول کر لیں، گورنر نے توہین رسالت کے قانون کو ”کالا قانون“ کہا تھا اس لئے مار دیا۔“
بعض لوگ افسوس کے عالم میں انگشت بدنداں ہیں اور کہیں یہ شور مچایا جارہا ہے کہ ”ممتاز حسین فائرنگ کرتا رہا اور دیگر پولیس اہلکار کھڑے دیکھتے رہے ۔“ یہ بھی تو ہو سکتا ہے کہ اس کے ساتھی اہلکار حیرت و استعجاب کے عالم میں کھڑے ”دیکھتے کے دیکھتے رہ گئے“ ہوں۔
کچھ ناعاقبت اندیش ایسے بھی ہیں جو ہمیشہ کی طرح اس واقعے کی آڑ میں بھی بیچارے ”مولویوں“ پر کیچڑ اچھالنے میں مصروف ہیں۔ تحقیقاتی ادارے اپنی سی کوششوں میں مصروف ہیں۔ ہو سکتا ہے گہری تحقیقات سے شاید یہ بات بھی سامنے آجائے کہ ”ممتاز حسین“ کا تعلق ”طالبان“ سے ہے۔
باب ششم:
تحریک ناموس رسالت، پس منظر، اہداف، مطالبات اور کامیابی
سلمان تاثیر کے قتل کا واقعہ آج سے تقریباً ۲۶ سال پہلے قتل ہونے والی بھارتی وزیر اعظم ”اندرا گاندھی“ کے واقعہ قتل سے بھی مماثلت رکھتا ہے، جب پاکستان کی بدترین دشمن بھارتی وزیر اعظم کو خود اسی کے سکھ محافظوں نے قتل کر کے ”سکھ“ کا سانس لیا تھا۔ اسی طرح ”سابق“ گورنر پنجاب سلمان تاثیر بھی اپنے ہی محافظ کے ہاتھوں قتل ہو کر ”ایں جہانی“ سے ”آں جہانی“ ہو گئے۔
کیا ہی اچھا ہوتا اگر سلمان تاثیر اپنی زندگی میں ملعونہ آسیہ کی جگہ مظلومہ عافیہ کی رہائی کے لئے آواز بلند کرتے ناموس رسالت ایکٹ کے خلاف بیان پر بیان دینے سے گریز کرتے، اس قانون کو ”کالا قانون“ کہہ کر کروڑوں مسلمانوں کی دل آزاری کرنے کی بجائے ”کرپشن بڑھاؤ ملک بگاڑو“ کی پالیسی پر عمل پیرا حکومت کے ظالمانہ اقدامات کی مذمت و حوصلہ شکنی کر کے، ملک کے ستم رسیدہ عوام کے دل جیتنے کی کوشش کرتے۔ بہ حیثیت گورنر اپنی تمام تر ذمے داریوں کو یکسر فراموش کر کے سلمان تاثیر صرف اور صرف تحفظ ناموس رسالت کے قانون کے خلاف ہاتھ دھو کر ہی نہیں بلکہ نہا دھو کر پیچھے پڑ گئے تھے۔ نومبر ۲۰۰۹ء میں فیصل آباد کی ایک نجی یونیورسٹی کے شعبہ ٹیکسٹائل انجینئرنگ کے ”عطا رسول“ نامی ایک طالب علم نے یونیورسٹی کی ایک تقریب کے دوران سلمان تاثیر صاحب کے ہاتھ سے میڈل لینے سے یہ کہہ کر انکار کر دیا تھا۔ ”گورنر صاحب توہین رسالت ایکٹ کے خاتمے کی بات کرتے ہیں جو مجھے برداشت نہیں۔“ اسی طرح ایک واقعہ مذکورہ واقعے سے قبل انہی دنوں پنجاب یونیورسٹی کے کانووکیشن میں بھی پیش آیا تھا۔
سلمان تاثیر توہین رسالت کے قانون کو ختم کرنے کے بارے میں اپنے مقصد بے فیض میں اس قدر پکے تھے کہ ویب سائٹ ٹوئیٹر پر ان کے آخری پیغام سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ توہین رسالت کے قانون کے بارے میں اپنے موقف پر وہ مرنے کے لئے بھی تیار تھے۔ ایک جگہ وہ لکھتے ہیں کہ ”مجھ پر توہین رسالت کے قانون کے سلسلے میں دائیں بازو کی قوتوں کے سامنے جھکنے کے لئے شدید دباؤ ہے، تاہم اگر میں اس موقف پر آخری شخص بھی رہ گیا تب بھی
باب ششم: تحری
ایسا میں کروں گا۔“
شنید ہے کہ وی آئی پی اسکریننگ کی جائے گی اور یہ معلوم کیا رکھتا ہے، اگر تحقیقات سے معلوم ہو اسے وی آئی پی شخصیات کی حفاظت ملک میں فوج اور پولیس میں بھرتی م ”مذہبی رجحان“ نہ رکھتا ہو۔ کیا سیکول آلہ ہے جو ان کے دلوں میں چھپی ہوئ
یہاں یہ بات بھی قابل پیپلز پارٹی ہی کے دور حکومت میں بھائی ”میر مرتضیٰ بھٹو“ کو کراچی میں تھا تو ان کی موت پر تو اتنا شور و غوغا ہے۔ آخر اتنا فرق کیوں؟ وجہ صاف سلمان تاثیر کے قتل کے پیچھے بہ مناسب ہے کہ اس ملک میں توا گیا لیکن انہوں نے کبھی عالم ربا اس موضوع پر گفتگو کرنے والے قانون پر کوئی پاکستانی سمجھوتہ نہی کسی جہادی گروپ سے اس کا ب اپنا فیصلہ سنا دیا۔ ذرا غور کیجئے ا رائے کو ذرا بھر اہمیت دینا گوارا نہ
باب ششم: تحریک ناموس رسالت، پس منظر، اہداف، مطالبات اور کامیابی
ایسا میں کروں گا۔“
شنید ہے کہ وی آئی پی شخصیات کی حفاظت پر مامور سیکورٹی اہلکاروں کی مکمل اسکریننگ کی جائے گی اور یہ معلوم کیا جائے گا کہ ان میں سے کون کون کس قدر مذہبی رُجحان رکھتا ہے، اگر تحقیقات سے معلوم ہوا کہ ان میں سے کسی اہلکار کا رُجحان دین کی طرف ہے تو اسے وی آئی پی شخصیات کی حفاظت پر مامور نہیں کیا جائے گا۔ کیا اسلام کے نام پر حاصل کردہ ملک میں فوج اور پولیس میں بھرتی ہونے کے لئے اب یہ شرط بھی رکھی جائے گی کہ امیدوار ”مذہبی رجحان“ نہ رکھتا ہو۔ کیا سیکورٹی اہلکاروں کی اسکریننگ کرنے والوں کے پاس ایسا کوئی آلہ ہے جو ان کے دلوں میں چھپی سرکار دوعالم ﷺ کی محبت کی بھی پیمائش کر سکے؟
یہاں یہ بات بھی قابل غور ہے کہ آج سے تقریباً ۱۳ سال قبل ۱۹۹۷ء میں پیپلز پارٹی ہی کے دور حکومت میں جب کہ بے نظیر صاحبہ کا ”بے نظیر“ دور تھا، خود ان ہی کے بھائی ”میر مرتضیٰ بھٹو“ کو کراچی میں، ۷۰ کلفٹن کے باہر پولیس اہلکاروں نے گولیوں کا نشانہ بنایا تھا تو ان کی موت پر تو اتنا شور وغوغا نہیں کیا گیا تھا جس قدر آج سلمان تاثیر کے قتل پر کیا جا رہا ہے۔ آخر اتنا فرق کیوں؟ وجہ صاف ظاہر ہے کہ میر مرتضیٰ بھٹو کا قتل سیاسی رسہ کشی کا نتیجہ تھا اور سلمان تاثیر کے قتل کے پیچھے بہ ظاہر مذہبی ردعمل کارفرما ہے۔ اس موقع پر ملکی میڈیا کا ذکر بھی مناسب ہے کہ اس ملک میں تواتر کے ساتھ بڑے بڑے علماء کو انتہائی بہیمانہ طریقے پر شہید کیا گیا لیکن انہوں نے کبھی عالم ربانی کی مظلومانہ شہادت پر اتنا واویلا تو کجا دو آنسو تک نہ بہائے۔ اس موضوع پر گفتگو کرنے والے تمام حلقوں کو یہ بات مدنظر رکھنی چاہئے کہ توہین رسالت کے قانون پر کوئی پاکستانی سمجھوتہ نہیں کر سکتا۔ ممتاز قادری نہ کسی مذہبی تنظیم کا باقاعدہ رکن تھا نہ ہی کسی جہادی گروپ سے اس کا رابطہ تھا، اس کے جذبات واحساسات مجروح ہوئے تو اس نے اپنا فیصلہ سنا دیا۔ ذرا غور کیجئے ہمارے حکمران جو عوامی حمایت لے کر اقتدار کے نشے میں عوامی رائے کو ذرا بھر اہمیت دینا گوارا نہیں کرتے؟؟!!
باب ششم: تحریک ناموس رسالت، پس منظر، اہداف، مطالبات اور کامیابی
ویٹی کن سٹی محل وقوع، پوپ کی حیثیت
ویٹی کن سٹی اٹلی کے دارالحکومت روم میں قائم کیتھولک عیسائی فرقہ کی ریاست ہے۔ جس کے سربراہ پوپ ہیں۔ پوپ کے بیان پر جہاں دینی سیاسی راہنماؤں نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے پاکستان کے دینی معاملات میں مداخلت قرار دیا وہاں ملک کے اخبارات کے کالم نویسوں نے بھی اسے آڑے ہاتھوں لیا۔ چنانچہ روزنامہ اسلام میں ”گردش دوران“ کے عنوان سے لکھنے والے معروف کالم نگار پروفیسر خباب احمد خان نے اس بیان کے خوب لتے لئے۔ چنانچہ موصوف لکھتے ہیں:
ویٹی کن ریاست (Vatican State) اٹلی کے دارالحکومت روم کے درمیانی علاقے میں ایک چھوٹی سی آزاد ریاست ہے، جس کا رقبہ .۴۴ مربع کلو میٹر آبادی ہے، دارالحکومت ویٹی کن، سکہ ویٹی کن لیرا، جس کا تبادلہ اطالوی لیرا سے ہوسکتا ہے، مذہب رومن کیتھولک، زبان اطالوی ہے۔ ۱۹۲۹ء میں معاہدہ لیٹرن (Lateran Treaty) کے تحت یہ ریاست وجود میں آئی، جس کا حاکم اعلیٰ پوپ کو تسلیم کیا گیا۔ اس کے انتظام کے لئے پوپ ایک گورنر مقرر کرتا ہے، وہ گورنر ایک مجلس مشاورت تشکیل دیتا ہے، جو انتظام میں اس کی اعانت کرتی ہے۔ ۱۱ فروری ۱۹۲۹ء سے پہلے ۱۸۷۰ء تک متعدد پاپائی ریاستیں اس علاقے میں تھیں، جو نیپلز سے دریائے پو تک پھیلا ہوا تھا اور پاپائے اعظم کے ”روحانی“ اقتدار کے ماتحت تھا۔ ۱۸۷۰ء میں ان پاپائی ریاستوں کا الحاق اٹلی کی متحدہ ریاست سے کر دیا گیا۔ ویٹی کن کا اپنا براڈ کاسٹنگ اور ریلوے ہے۔ ویٹی کن نے اپنا ڈاک ٹکٹ بھی جاری کیا ہے۔ ۱۹۸۴ء میں امریکا نے ویٹی کن ریاست کے ساتھ تعلقات قائم کئے۔ ۳۰ دسمبر ۱۹۹۳ء کو ویٹی کن نے
باب ششم : تحریک ناموس رسالت، پس منظر، اہداف، مطالبات اور کامیابی
اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کئے اور ساتھ ہی مشرقی یورپ میں کمیونزم کے خاتمے کی وجہ سے ویٹی کن نے متعدد ممالک کے ساتھ اپنے تعلقات کی تجدید کی۔ ۱۹۹۴ء میں اردن کے ساتھ تعلقات قائم ہوئے۔ پوپ جان پال کی موت کے بعد ۱۹ اپریل ۲۰۰۵ء کو موجودہ پوپ بینی ڈکٹ کا انتخاب عمل میں آیا۔ ان کا تعلق جرمنی سے ہے۔
شروع میں پوپ عیسائیوں کا نہ صرف مذہبی رہنما، بلکہ سیاسی حاکم اعلیٰ بھی ہوتا تھا۔ پندرھویں صدی عیسوی تک رومن بادشاہ پوپ کے فتوے کو قانون کا درجہ دیتے تھے۔ جب پوپ نے لوگوں پر اپنا اقتدار قائم کرنے کے لئے مظالم، دغا بازی، مکاری، جاسوسی، اذیت اور قتل وغارت کے طریقے اختیار کئے تو پوپ اور حکومت میں کشمکش شروع ہو گئی اور دھڑے بندی شروع ہو گئی۔ دو یا تین پوپ الگ الگ مقرر ہونے لگے، چنانچہ کلیسا کا معتدبہ حصہ الگ ہو کر یونانی کلیسا میں تبدیل ہو گیا۔ بادشاہوں نے پوپ کی مداخلت کے خلاف بغاوت شروع کر دی۔ انگلستان کے شاہ ہنری ہشتم نے پوپ کی غلامی کا چولا اتار پھینکا اور خود چرچ آف انگلینڈ کا سربراہ بن گیا اور برطانیہ میں پروٹسٹنٹ فرقے کو فروغ دیا۔
پاپائی عقائد کے خلاف بہت سے لوگ اٹھ کھڑے ہوئے۔ تاہم ان میں سے لوتھر مارٹن اور جان فاکس کے نام خصوصی طور پر لئے جاتے ہیں۔ لوتھر جس نے کیتھولک پوپ سے روم میں ملاقات کے بعد بغاوت کردی، اس کا تعلق بھی جرمنی سے تھا۔ یہ بغاوت پوپ کے اقتدار اعلیٰ کے تابوت میں آخری کیل ثابت ہوئی۔ رومن کیتھولک فرقے سے وابستہ عیسائیوں کی تعداد ایک ارب ۵ کروڑ سے زیادہ خیال کی جاتی ہے، لیکن پوپ کا اقتدار صرف ویٹی کن تک محدود ہے۔ حدود و قیود سے آزادی کے باعث پاپائیت کا اقتدار ویٹی کن کی حدود میں مقید ہو گیا۔ عیسائیت پر صہیونیت کے اثرات کے غلبے نے فکری اور عسکری دونوں محاذوں پر مسلمانوں کے خلاف جارحیت کا جو دروازہ کھولا، نائن الیون کے بعد اس میں خاصی شدت آتی چلی گئی۔ حکمرانوں نے عسکری محاذ پر کاروائیاں کیں تو پادریوں اور لکھاریوں نے تقریری اور تحریری محاذ پر جارحیت کا مسلسل ارتکاب کیا۔ امریکہ اور نیٹو افواج کی عراق اور افغانستان میں
باب ششم: تحریک ناموس رسالت، پس منظر، اہداف، مطالبات اور کامیابی کاروائیاں ٹیری جونز اور پوپ بینی ڈکٹ کی ہرزہ سرائیاں اس کی مثالیں ہیں۔
پوپ بینی ڈکٹ نے جب سے اپنا منصب سنبھالا ہے وہ اس کے تقاضوں کو نبھانے سے قاصر نظر آتے ہیں۔ انہیں جب موقع ملتا ہے وہ مسلمانوں کی دل آزاری کرنے سے باز نہیں آتے۔ نائن الیون کے بعد بش نے جس ”کروسیڈ“ کا آغاز کیا، موجودہ پوپ نے اسے تاریخی غذا فراہم کی۔ اس کے لئے انہوں نے ستمبر کے مہینے کا ہی انتخاب کیا۔ فرق صرف تاریخ اور سن کا تھا۔ اسے 12/11 کہہ سکتے ہیں۔ 12 ستمبر 2006ء کو پوپ بینی ڈکٹ نے ایک یونیورسٹی میں خطاب کرتے ہوئے ایک بازنطینی بادشاہ کا قول دہرا کر اسلام اور پیغمبر اسلام کے خلاف اپنے خبیث باطن کا اظہار کیا کہ اسلام جبر و جور کا دین ہے اور پیغمبر اسلام (ﷺ) نے اسلام تلوار کے زور سے پھیلایا۔ اس خطاب میں حضور اکرم ﷺ کی شان اقدس کے بارے میں نہایت بازاری زبان استعمال کی گئی۔ مسلم امہ کی طرف سے شدید ردعمل کے بعد 17 ستمبر 2006ء کو معذرت ضرور کی مگر ان کے الفاظ کہ ”میں نے صرف ایک قول نقل کیا تھا وہ میرے اپنے الفاظ نہ تھے“ چغلی کھا رہے تھے کہ وہ اپنے کہے پر قائم ہیں۔ انہوں نے جو کچھ کہا وہ انتہائی سوچ سمجھ کر کہا۔ ان کی زبان ان کے احساسات کی ترجمانی کر رہی تھی۔ وہ معرکہ ہلال و صلیب میں صلیبی سپاہ کو فکری ہتھیار فراہم کر رہے ہیں۔ یہ حقیقت ہے کہ تہذیبی ترقی کے باوجود مغرب صلیبی جنگوں کے حصار سے نہیں نکل سکا۔ پوپ اربن دوم کی پکار کی بازگشت پوپ بینی ڈکٹ کے الفاظ میں جھلک رہی ہے۔ وقت ضرور بدلا ہے ذہنیت نہیں بدلی۔ ظاہری چمک اپنی جگہ مگر باطنی تاریکی میں سرمو فرق نہیں آیا۔
پاکستان میں ”آسیہ“ کا کیس سامنے آیا تو نہ صرف مغربی میڈیا نے اسے ہائی لائٹ کیا، بلکہ قانون انسداد توہین رسالت کو امتیازی قانون قرار دیا۔ پوپ نے آسیہ کی رہائی کا مطالبہ کر دیا۔ مغرب کا آموختہ دہرانے والے سلمان تاثیر نے اپنی دریدہ دہنی کا خمیازہ بھگتا تو پوپ نے سارے لبادے اتار پھینکے۔ 10 جنوری 2011ء کو آسیہ کی رہائی کا مطالبہ دہرانے کے ساتھ ساتھ قانون انسداد توہین رسالت کے خاتمے کا مطالبہ بھی کر دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ قانون تشدد اور ناانصافی کو جواز فراہم کرتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ پوپ کو مسلم ممالک میں سے کسی نے
باب ششم: مغرب کے قانون پر اعتراض کیا ہ ایسی حرکات سے باز آئیں، جس ”الٹا چور کوتوال کو ڈانٹے“ کے مص دباؤ ڈالتے ہوئے نظر آتے ہیں کسی انسان کے خلاف یہ تو اس با اور دوسرے انبیاء جن میں عیسیٰ عل تشدد اور ناانصافی کو ج پیروکاروں کی طرف بھی دیکھا ج ان کے ممالک میں اپنی عبادت گ گنبد اور میناروں سے ”دہشت گ قانون سازی“ کی جاتی ہے۔ حق خطرہ قرار دے کر اس پر پابندی ل داڑھی اور پگڑی تشدد کی علامت ق ہوتا اسے مجرموں کے کٹہرے میں جیسے نام رکھ کر یورپ میں رہنے پر جاتا ہے۔ کیا سب انصاف ہے؟ تشدد کا طعنہ دینے و ”امن و آشتی“ کے لئے ہیں صومالیہ، برما، تھائی لینڈ، سوڈان م میں ڈرون حملوں کے ذریعے مس وحشت اور درندگی کا مظاہرہ کر انصاف سے کون محروم کئے ہو
باب ششم : تحریک ناموس رسالت ، پس منظر ، اہداف ، مطالبات اور کامیابی
مغرب کے قانون پر اعتراض کیا؟ پوپ کے منصب کا تقاضا تھا کہ وہ اپنی قوم کو سمجھاتے کہ وہ ایسی حرکات سے باز آئیں، جس سے دوسروں کے جذبات و احساسات مجروح ہوتے ہیں مگر ”اُلٹا چور کوتوال کو ڈانٹے“ کے مصداق انسداد توہین رسالت کے قانون کو ختم کرنے کے لئے دباؤ ڈالتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ انسداد توہین رسالت کا قانون کسی مذہب کے خلاف ہے، نہ کسی انسان کے خلاف یہ تو اس جانور نما انسان کے خلاف ہے جو محسن انسانیت حضرت محمد ﷺ اور دوسرے انبیاء جن میں عیسیٰ ؑ بھی شامل ہیں، کی شان میں گستاخی کا ارتکاب کرتا ہے۔
تشدد اور ناانصافی کو جواز فراہم کرنے کی بات کرنے والے پوپ نے کبھی اپنے پیروکاروں کی طرف بھی دیکھا جنہوں نے مسلمانوں کے لئے عرصہ حیات تنگ کر رکھا ہے؟ وہ ان کے ممالک میں اپنی عبادت کے لئے مختص جگہ کو مسجد نہیں کہہ سکتے۔ مسجد بن جائے تو ان کے گنبد اور میناروں سے ”دہشت گردی“ کی بو آنے لگتی ہے۔ اسکے خلاف ریفرنڈم کرا کے ”قانون سازی“ کی جاتی ہے۔ حقوق نسواں کا رونا رونے والے حجاب کو اپنی تہذیب کے خلاف خطرہ قرار دے کر اس پر پابندی لگا دیتے ہیں، بچیوں تک اسکارف لے کر اسکول نہیں جاسکتیں۔ داڑھی اور پگڑی تشدد کی علامت قرار پاتی ہے اور تو اور محمد نام کا کسی مسلمان کے نام میں شامل ہونا اسے مجرموں کے کٹہرے میں کھڑا کر دیتا ہے۔ مسلمان کو اتنا خوفزدہ کیا جاتا ہے کہ الیگزینڈر جیسے نام رکھ کر یورپ میں رہنے پر مجبور ہے، اہانت رسول کے لئے بار بار دریدہ دہنی کا مظاہرہ کیا جاتا ہے۔ کیا سب انصاف ہے؟
تشدد کا طعنہ دینے والے پوپ نے اپنے ماننے والوں کی طرف بھی کبھی دیکھا جو ”امن و آشتی“ کے لئے دس لاکھ انسانوں کی بھینٹ لے چکے ہیں؟ عراق، افغانستان، صومالیہ، برما، تھائی لینڈ، سوڈان، لبنان اور فلسطین میں خون کی ہولی کھیل رہے ہیں۔ پاکستان میں ڈرون حملوں کے ذریعے معصوموں کا خون کر رہے ہیں۔ ابوغریب اور گوانتاناموبے میں وحشت اور درندگی کا مظاہرہ کرنے والے کون ہیں؟ ان عقوبت خانوں میں مقید بے گناہوں کو انصاف سے کون محروم کئے ہوئے ہے؟ انہی حراست گاہوں میں قرآن اور انسان کی بے حرمتی
باب ششم: تحریک ناموس رسالت، پس منظر، اہداف، مطالبات اور کامیابی
کرنے والے کہاں کے باسی ہیں؟ آسیہ کی رہائی کا مطالبہ کرنے والے پوپ نے عافیہ کے لئے کیوں نہ لب کشائی کی؟ اسرائیل کی چیرہ دستیوں کے شکار غزہ کے باسی کیا انسان نہیں؟ اسرائیل کی درندگی کا پشت پناہ کون ہے؟ کیا ہندوستان میں بسنے والے عیسائی آپ کے پیروکار نہیں، وہاں عیسائیوں پر حملے ہوئے، گرجے جلے، مگر آپ کو سانپ سونگھ گیا، سکوت کی مہر نہ ٹوٹ سکی، آخر یہ دوہرا معیار کیوں؟ پوپ قانون توہین رسالت پر تنقید کرنے سے پہلے ذرا اپنی ”ذریت“ کے کارناموں پر بھی نظر ڈال لیتے تو انہیں مسلمانوں کا ”تنکا“ ہی نظر نہ آتا، اپنے ”شہتیر“ بھی نظر آجائے۔
دیکھ اے غافل اپنی آنکھ کا شہتیر بھی
(روزنامہ ”اسلام“ ۱۸ جنوری ۲۰۱۱ء)
☆☆☆☆☆☆.......☆☆☆☆☆☆
س مظہر، اہداف، مطالبات اور کامیابی ہ کرنے والے پوپ نے عافیہ کے شکار غزہ کے باسی کیا انسان نہیں؟ بولنے والے عیسائی آپ کے پیروکار ب کو سانپ سونگھ گیا، سکوت کی مہر نہ لت پر تنقید کرنے سے پہلے ذرا اپنی مانوں کا ”تنکا“ ہی نظر نہ آتا، اپنے
آتا ہے نظر کا شہتیر بھی
(روزنامہ ”اسلام“ ۱۸ جنوری ۲۰۱۱ء)
☆☆☆
باب ششم: تحریک ناموس رسالت، پس مظہر، اہداف، مطالبات اور کامیابی
پاپائے اعظم اپنی حدوں میں رہیں
پاپائے روم پوپ بینیڈکٹ نے حکومت پاکستان سے تحفظ ناموس رسالت قانون ختم کرنے اور ملعونہ آسیہ مسیح کو رہا کرنے کا مطالبہ کیا۔ پوپ کا یہ مطالبہ پاکستان کے مذہبی اور دینی معاملات میں مداخلت کے مترادف ہے۔ چنانچہ روزنامہ ”جنگ“ کے معروف کالم نگار جناب عرفان صدیقی نقش خیال میں لکھتے ہیں۔
عیسائیوں کے روحانی پیشوا، پاپائے اعظم پوپ بینیڈکٹ نے فرمان جاری کیا ہے کہ ”پاکستان کے حکمران حوصلہ کریں، آگے بڑھیں اور ناموس رسالت کے قانون کو ختم کر کے آسیہ بی بی کو فوراً رہا کریں۔“ سال نو کی روایتی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے موصوف نے کہا کہ ناموس رسالت قانون کے ذریعے مذہبی آزادی کا حق چھینا جا رہا ہے اور اقلیتوں کے خلاف جبر کا ایک ہتھیار بن گیا ہے۔ دنیا بھر کے ایک سو ستر ملکوں سے آئے ہوئے سفارتکاروں کے سامنے اپنا مقدمہ پیش کرتے ہوئے پوپ نے مصر، عراق، نائیجیریا، سعودی عرب اور چین میں مذہبی آزادی خصوصاً عیسائیوں کے جان و مال کے حوالے سے اپنی تشویش کا اظہار کیا۔
عزت مآب پوپ بینیڈکٹ ایک بڑے مذہب کے مبلغ اعظم ہیں لیکن اسے المیہ ہی کہنا چاہئے کہ اسلام اور پیغمبر اسلام ﷺ کے حوالے سے ان کے دماغ میں کدورت کے جالے تنے ہوئے ہیں اور ان کے دل پر میل کی تہیں جمی ہیں۔
پوپ بینیڈکٹ نے اپنے منصبی تقاضوں کو نظر انداز کرتے ہوئے قانون ناموس رسالت پر ناروا تبصرہ کیا ہے۔ وہ یہ بنیادی بات بھی بھول گئے کہ ہر مذہب اپنے عقائد و نظریات اور برگزیدہ مذہبی ہستیوں کے حوالے سے تقدس و حرمت کا مخصوص دائرہ رکھتا ہے۔ یہ دائرہ اس مذہب کے پیروکاروں کو اپنی جان سے بھی زیادہ عزیز ہوتا ہے۔ یہ اصول دنیا کے ہر مذہب پر لاگو
باب ششم: تحریک ناموس رسالت، پس منظر، اہداف، مطالبات اور کامیابی ہوتا ہے۔ اللہ کی آخری کتاب اور اللہ کا آخری رسول ﷺ ، اسلامی عقائد و تعلیمات کے دو بنیادی ماخذ ہیں۔ قرآن وحدیث کی روشنی میں عمومی زندگی کے ضابطے، قاعدے اور قوانین وضع کرنا ہمارے مفسرین، محدثین، فقہاء علماء اور اہل حکمت و دانش کا کام ہے، جس طرح عیسائیت کے بارے میں مسلم علماء کی کوئی رائے، کسی عیسائی کے لئے قابل قبول نہیں اور نہ ہی کسی مسلم عالم دین کو عیسائیوں کی دلآزاری کا حق حاصل ہے، اسی طرح کسی عیسائی پیشوا کو بھی یہ اجازت نہیں دی جاسکتی کہ وہ اسلام یا پیغمبر اسلام ﷺ کے بارے میں غیر محتاط زبان استعمال کرے اور یہ بھی کہ اگر اس جمہوری اصول کو سند کا درجہ حاصل ہے کہ قانون سازی کا اختیار عوام کے منتخب نمائندوں پر مشتمل پارلیمانوں کو ہے تو پاکستان کے بارے میں یہ استثنیٰ کیوں؟
عیسائیت کے پیشوائے اعظم کو اگر تہذیبوں کے مابین ہم آہنگی، انسانوں کے درمیان خیر سگالی اور امن عالم سے دلچسپی ہے اور وہ خلوص دل سے تحمل، برداشت اور رواداری کے جذبوں کا فروغ چاہتے ہیں تو انہیں ایک نظر ان ممالک پر بھی ڈال لینی چاہئے جہاں ان کے پیروکاروں کی حکمرانی ہے اور جہاں ان کے کروڑوں عقیدت مند بستے ہیں۔ کیا پوپ بینیڈ کٹ کو خبر ہے کہ تہذیبوں کے تصادم کا نظریہ کہاں سے پھوٹا؟ کس نے اسے ایک باضابطہ فلاسفی کے طور پر پیش کیا اور تقسیم کی لکیر ابھاری؟ کیا وہ جانتے ہیں کہ کون ہیں جنہوں نے برس ہا برس سے مسلم بیزاری اور اسلام دشمنی کو اپنی پالیسیوں کا جزو اعظم بنا رکھا ہے؟ کیا پاپائے اعظم کو خبر ہے کہ بیسیوں ممالک پر محیط ان کی مذہبی سلطنت میں مسلمانوں کے ساتھ کیا رویہ اپنایا جارہا ہے؟ کہیں وہ اپنی مساجد کو مساجد نہیں کہہ سکتے۔ کہیں وہ مینار اور گنبد نہیں بنا سکتے۔ کہیں نقاب اور حجاب کو نشانہ عتاب بنایا جارہا ہے۔ کہیں مسلم خواتین سکارف نہیں لے سکتیں۔ کہیں داڑھی کا ناتا دہشت گردی سے جوڑ دیا گیا ہے۔ کسی کے نام میں اسم محمد کا شامل ہونا، اس کے لئے جرم بنا دیا ہے۔ امریکہ میں قانوناً مکمل مذہبی آزادی سہی لیکن مسلمان گراؤنڈ زیرو کے نواح میں ایسا کمیونٹی سینٹر نہیں بنا سکتے جس کے ایک کمرے میں نماز کی سہولت رکھی گئی ہو۔ پوپ بینیڈکٹ کے مقلدین کھلے بندوں کہہ رہے ہیں کہ ”یہاں دہشت گردوں کو عبادت گاہ بنانے کی
باب ششم: اجازت نہیں دی جاسکتی۔“
جناب پاپائے اعظم ! ٹائم فرعونی مزاج حکمران نے مسلمانوں کا مظاہرہ کیا تھا جو غالباً آپ کے دل افغانستان میں اترنے والے آپ انسان دوستی، مذہبی رواداری اور امن کوفہ و بغداد کے گھروں اور گلی کوچوں بچے یاد ہیں جن کے سینے گولیوں سے باغیچوں میں دفن کر دیا؟ آپ کو علم ہے کو کسی نے بتایا کہ آپ کے ہاتھ پر ہی انسان قتل کر چکے ہیں؟ کیا آپ جان ڈالر ماہانہ خرچ کر رہا ہے؟ آسیہ بی بی انصاف کے مروجہ نظام کے تحت اس عافیہ کے بارے میں کچھ نہیں بتایا جاتا میں پڑی ہے؟ آپ کو، ابو غریب کی امریکی حراست گاہوں میں قرآن کریم سے بے خبر ہیں جس کا نشانہ فلسطین اسرائیل کا سب سے بڑا سرپرست
ہم ایک ایسی بے ضمیر معاملات ”ہیں ہی نہیں۔ نہ کوئی دہا ٹوک جواب نہیں دے سکتا۔“
باب ششم: تحریک ناموس رسالت، پس منظر، اہداف، مطالبات اور کامیابی
اجازت نہیں دی جاسکتی۔“
جناب پاپائے اعظم! نائن الیون کے فوراً بعد آپ ہی کی پیشوائی کا دم بھرنے والے فرعونی مزاج حکمران نے مسلمانوں کے خلاف یلغار کو ”کروسیڈ“ کا نام دے کر اس بغض اور عناد کا مظاہرہ کیا تھا جو غالباً آپ کے دل و دماغ میں بھی رس گھول رہا ہے۔ کبھی آپ نے سوچا کہ افغانستان میں اترنے والے آپ کے پیروکاروں نے تورا بورا ، قلعہ جنگی اور دشت لیلیٰ میں انسان دوستی، مذہبی رواداری اور امن و آشتی کے کیسے کیسے لالہ و گل کھلائے؟ آپ کے شیدائی کوفہ و بغداد کے گھروں اور گلی کوچوں میں کیا کھیل کھیلتے رہے ہیں؟ آپ کو فلوجہ کے وہ معصوم بچے یاد ہیں جن کے سینے گولیوں سے چھلنی کر دیئے گئے اور ان کی ماؤں نے انہیں گھروں کے باغیچوں میں دفن کر دیا؟ آپ کو علم ہے کہ دجلہ وفرات کا پانی کیوں خوں رنگ ہو گیا تھا؟ کیا آپ کو کسی نے بتایا کہ آپ کے ہاتھ پر بیعت کرنے والے گذشتہ دس سالوں میں کم و بیش بیس لاکھ انسان قتل کر چکے ہیں؟ کیا آپ جانتے ہیں کہ وہ غارت گری کے اس مکروہ کھیل پر بیس ارب ڈالر ماہانہ خرچ کر رہا ہے؟ آسیہ بی بی پاکستانی شہری ہے۔ پاکستانی آئین کے تحت قانون و انصاف کے مروجہ نظام کے تحت اس کا فیصلہ ہوگا لیکن آسیہ کی اطلاع دینے والے مخبر نے آپ کو عافیہ کے بارے میں کچھ نہیں بتایا جو صرف مسلمان بیٹی ہونے کے سبب امریکی عقوبت خانوں میں پڑی ہے؟ آپ کو، ابو غریب کی فاطمہ کے بارے میں کچھ علم نہیں؟ آپ نہیں جانتے کہ امریکی حراست گاہوں میں قرآن کریم کی کیسی کیسی بے حرمتی ہوئی؟ کیا آپ اس وحشت و درندگی سے بے خبر ہیں جس کا نشانہ فلسطین کے مسلمان بنے ہوئے ہیں اور کیا آپ نہیں جانتے کہ اسرائیل کا سب سے بڑا سرپرست ،سب سے بڑا پشتیبان آپ ہی کا پیروکار ہے؟
ہم ایک ایسی بے در و دیوار سی ریاست بن چکے ہیں جس کے کوئی ” اندرونی معاملات“ ہیں ہی نہیں۔ نہ کوئی دیوار انا، نہ کوئی فصیل خودی۔ کیا ہمارا دفتر خارجہ پاپائے اعظم کو دو ٹوک جواب نہیں دے سکتا۔“
(روزنامہ ”جنگ“ لاہور ۱۳ جنوری ۲۰۱۱ء)
باب ششم: تحریک ناموس رسالت، پس منظر، اہداف، مطالبات اور کامیابی
آل پارٹیز تحفظ ناموس رسالت کانفرنس اسلام آباد!
☆....... عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام ۱۵/ دسمبر ۲۰۱۱ء کو ڈریم لینڈ ہوٹل اسلام آباد میں عظیم الشان تحفظ ناموس رسالت کانفرنس منعقد ہوئی۔ جس میں تمام دینی جماعتوں اور بعض سیاسی جماعتوں کے قائدین نے شرکت کی اور متفقہ لائحہ عمل کا اعلان کیا۔ مشہور دینی سکالر مختلف اخبارات کے کالم نگار شیخ الحدیث مولانا زاہد الراشدی مدظلہ لکھتے ہیں ۔
گزشتہ روز عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی راہنما مولانا اللہ وسایا نے جمعیت علمائے اسلام (ف) پنجاب کے امیر مولانا رشید احمد لدھیانوی اور عالمی مجلس کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات مولانا عزیز الرحمن ثانی کے ہمراہ غریب خانے پر قدم رنجہ فرمایا۔ وہ ان دنوں ۱۵/دسمبر کو اسلام آباد میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام منعقد ہونے والی ’’آل پارٹیز تحفظ ناموس رسالت کانفرنس‘‘ کے سلسلے میں رابطہ مہم پر ہیں اور مختلف دینی جماعتوں کے رہنماؤں کے ساتھ ملاقاتیں کر رہے ہیں۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کو تحفظ عقیدۂ ختم نبوت اور تحفظ ناموس رسالت کے محاذ پر قومی سطح پر متحرک دیکھنے کی ایک عرصے سے خواہش تھی۔ جس کا اظہار اس کالم میں بھی وقتاً فوقتاً ہوتا رہا ہے۔ اسے پورا ہوتے دیکھ کر اللہ تعالیٰ کا شکر اور مولانا اللہ وسایا کا شکریہ ادا کیا کہ اس وقت وہی ایک متحرک اور بیدار مغز شخصیت ہیں جو اس محاذ کے علمی تقاضوں سے عہدہ برآ ہو سکتے ہیں اور ضعف و علالت کے باوجود اس سلسلے میں سرگرم عمل رہتے ہیں۔
عقیدۂ ختم نبوت کے تحفظ اور منکرین ختم نبوت بالخصوص قادیانیوں کے تعاقب اور ان کی اسلام دشمن سرگرمیوں کے سدباب کے لئے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی ایک
باب ششم: تحریک ناموس رسالت ، پس منظر ، اہداف ، مطالبات اور کامیابی
مستقل تاریخ ہے اور پاکستان میں تحریک ختم نبوت کے سرگرم ادوار میں اپنے قیام کے بعد سے اس کا کردار ہمیشہ قائدانہ رہا ہے۔
امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ، حضرت مولانا قاضی احسان احمد شجاع آبادیؒ، حضرت مولانا محمد حیاتؒ، حضرت مولانا لال حسین اخترؒ، حضرت مولانا محمد علی جالندھریؒ، حضرت مولانا سید محمد یوسف بنوریؒ اور حضرت مولانا خواجہ خان محمدؒ کی امارت میں کام کرنے والی یہ جماعت اب ہمارے مخدوم و محترم حضرت مولانا عبدالمجید لدھیانوی دامت برکاتہم کی زیر امارت اپنی منزل کی طرف رواں دواں ہے۔ جب کہ اس جماعت اور مشن کے لئے حضرت مولانا تاج محمودؒ، حضرت مولانا عبدالرحیم اشعرؒ، حضرت مولانا محمد شریف جالندھریؒ اور ان کے بعد مولانا عزیز الرحمن جالندھری اور مولانا اللہ وسایا کی جدوجہد اور کاوشیں عالمی مجلس کی تاریخ کا ایک اہم حصہ ہیں۔
راقم الحروف کا عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے ساتھ ایک غیر رسمی کارکن کے طور پر بچپن سے تعلق چلا آ رہا ہے۔ فاتح قادیان حضرت مولانا محمد حیاتؒ میرے استاد محترم ہیں۔ جن سے میں نے طالب علمی کے دور میں رد قادیانیت کا کورس پڑھا تھا۔ حضرت مولانا محمد علی جالندھریؒ اور حضرت مولانا محمد شریف جالندھریؒ کی شخصیات ایک کارکن کی حیثیت سے میرے لئے آئیڈیل شخصیات رہی ہیں۔ جن سے میں نے بہت کچھ سیکھا ہے اور جماعتی تحریکی زندگی میں ایک کارکن کا کردار کیا ہوتا ہے اس کا عملی سبق میں نے حضرت مولانا غلام غوث ہزارویؒ، حضرت مولانا محمد علی جالندھریؒ اور حضرت مولانا محمد شریف جالندھریؒ سے بھی حاصل کیا ہے۔
۱۹۵۳ء کی تحریک ختم نبوت میں امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ کا کردار ایک داعی اور راہنماء کا ایسا کردار تھا کہ عوامی حلقوں میں وہ تحریک انہی سے منسوب ہوتی ہے۔ ۱۹۷۴ء کی تحریک ختم نبوت جس کے نتیجے میں قادیانیوں کو دستوری طور پر غیر مسلم اقلیت قرار دیا گیا۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے امیر حضرت مولانا محمد یوسف بنوریؒ کی قیادت میں چلی اور ۱۹۸۴ء کی تحریک ختم نبوت جس کے ثمرے میں ” امتناع قادیانیت کا صدارتی آرڈیننس “ نافذ ہوا۔ وہ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے امیر حضرت مولانا خواجہ خان محمدؒ کی سربراہی میں
باب ششم: تحریک ناموس رسالت، پس منظر، اہداف، مطالبات اور کامیابی
تکمیل تک پہنچی۔ مجھے دونوں تحریکوں میں ایک کارکن کی حیثیت سے خدمات سرانجام دینے کی سعادت حاصل ہوئی۔ ۱۹۷۴ء کی تحریک کے دوران میں گوجرانوالہ کی ”کل جماعتی مجلس عمل تحفظ ختم نبوت“ کا سیکرٹری تھا اور ۱۹۸۴ء میں مجھے ”کل جماعتی مجلس عمل“ کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات کے طور پر کام کرنے کا شرف ملا۔
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کا نہ صرف پاکستان بھر میں، بلکہ برطانیہ، بنگلہ دیش اور دیگر ممالک میں بھی ایک وسیع نیٹ ورک ہے۔ جس کے تحت سینکڑوں مبلغین اور ہزاروں کارکن شب و روز تحفظ عقیدۂ ختم نبوت کی جدوجہد میں مصروف ہیں اور باقاعدہ ایک منظم پروگرام کے مطابق کام کر رہے ہیں۔ اشاعتی محاذ پر بھی عالمی مجلس کا وسیع کام ہے اور میرے نزدیک اس ضمن میں سب سے بڑا کام یہ ہے کہ مرزا غلام احمد قادیانی کے دعوائے نبوت کے بعد سے اس سلسلے میں مختلف مکاتب فکر کے اکابر علمائے کرام نے جو کچھ بھی لکھا ہے اسے ”احتساب قادیانیت“ کے نام سے جمع و مرتب کر کے شائع کیا جا رہا ہے اور مولانا اللہ وسایا ان کتابوں اور رسائل کو جمع کر کے ان کی ترتیب و طباعت کے لئے اچھی خاصی محنت کر رہے ہیں۔ اس کی اب تک تینتیس جلدیں شائع ہو چکی ہیں۔ تینتیسویں جلد ابھی اسی سفر میں مولانا اللہ وسایا نے عنایت فرمائی ہے۔ جس میں اس موضوع پر والد محترم حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدر قدس اللہ سرہ العزیز کے چار رسائل بھی شامل ہیں۔ مولانا اللہ وسایا کا کہنا ہے کہ ابھی اس کا سلسلہ جاری ہے اور مزید کئی جلدیں شائع ہو سکتی ہیں۔
جہاں تک ۱۵؍ دسمبر ۲۰۱۰ء کو اسلام آباد میں منعقد ہونے والی ”آل پارٹیز تحفظ ناموس رسالت کانفرنس“ کا تعلق ہے، یہ وقت کی اہم ضرورت ہے۔ میں نے حالیہ ملاقات میں مولانا اللہ وسایا سے عرض کیا ہے کہ اس وقت نظریاتی طور پر ملک کی جو صورتحال ہے، اس کے پیش نظر ایک مضبوط و متحرک دینی فورم کی قومی سطح پر ضرورت ہے۔ جو تمام مکاتب فکر کی نمائندگی کرتا ہو اور متحرک و بیدار مغز قیادت رکھتا ہو۔ اس لئے کہ پاکستان کی وحدت و سالمیت کے تحفظ کے ساتھ ملک کی نظریاتی حیثیت و تشخص اور دستور کی اسلامی دفعات کی بقاء کے لئے فیصلہ کن معرکہ کا وقت آ گیا ہے۔ ”تحفظ ناموس رسالت“ اور ”تحفظ عقیدۂ ختم نبوت“ کے قوانین ایک علامت
باب ششم: تحریک ناموس رسالت، پس منظر، اہداف، مطالبات اور کامیابی
ہیں ۔ جن کے خاتمے یا انہیں غیر موثر بنانے کے لئے عالمی استعماری قوتیں اور پاکستان کے اندر ان کے نظریاتی وثقافتی حلیف آخری راؤنڈ کی تیاریاں کر رہے ہیں۔
پاکستان، اسلام اور ملک کے دینی حلقے ان کا ٹارگٹ ہیں۔ لابنگ، میڈیا اور فنڈنگ کے تمام عالمی وسائل ان کی پشت پناہی کر رہے ہیں۔ ملک کی داخلی اسٹیبلشمنٹ کی ہمدردیاں اور در پردہ تعاون بھی انہیں حاصل ہے اور وہ اس وقت کو اس کام کے لئے موزوں ترین سمجھتے ہوئے بہر حال اس کام کو کر گزرنا چاہتے ہیں اس لئے ملک کی تمام دینی جماعتوں کو خواہ وہ کسی مسلک اور سیاسی حد بندیوں کو بالائے طاق رکھتے ہوئے نہ صرف متحد ہونا ہوگا۔ بلکہ اس جدوجہد اور محاذ آرائی کے عصری تقاضوں کا پوری طرح ادراک کرتے ہوئے متحرک کردار ادا کرنا ہوگا۔
تحفظ ناموس رسالت کا قانون ایک ”ٹیسٹ کیس“ کی حیثیت رکھتا ہے۔ جس کے نتائج دونوں کیمپوں کی آئندہ ترجیحات کی بنیاد بنیں گے اور اگلی معرکہ آرائی اسی دائرے میں ہوگی۔ ملک کے سیکولر حلقوں کو حدود شرعیہ کے قانون کے حوالے سے اپنی پیش رفت سے خاصا حوصلہ ملا ہے اور وہ یہ سمجھ رہے ہیں کہ اسی طرح وہ اگلے مراحل سے بھی بآسانی گزر سکتے ہیں۔ جہاں تک ہمارا تعلق ہے۔ راقم الحروف اور پاکستان شریعت کونسل کے علماء و کارکن اس جدوجہد میں پیش رفت کرنے والی ہر جماعت کے خادم ہیں۔ خواہ اس کا تعلق کسی بھی مکتب فکر سے ہو۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت تو ہمارے بزرگوں کی جماعت ہے۔ اس کی خدمت سے زیادہ ہمیں کس بات پر خوشی ہو سکتی ہے۔
(لولاک ملتان فروری ۲۰۱۱ء)
☆☆☆☆☆☆......☆☆☆☆☆☆
باب ششم: تحریک ناموس رسالت، پس منظر، اہداف، مطالبات اور کامیابی
کل جماعتی تحفظ ناموس رسالت کانفرنس
احوال و تاثرات! ......
- ☆ ....... عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام ۱۵ دسمبر ۲۰۱۰ء کو اسلام آباد کے ڈریم لینڈ
ہوٹل میں عظیم الشان تحفظ ناموس رسالت کانفرنس منعقد ہوئی جس میں تمام مکاتب فکر کے علماء کرام، مشائخ عظام، دینی و سیاسی جماعتوں کے قائدین نے شرکت کی اور اپنے خیالات کا اظہار فرمایا۔ چنانچہ جامعہ خیر المدارس ملتان کے مہتمم اور وفاق المدارس العربیہ کے ناظم اعلیٰ مولانا قاری محمد حنیف جالندھری مدظلہ احوال و تاثرات کے عنوان سے لکھتے ہیں:۔
۱۵ دسمبر ۲۰۱۰ء عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام اسلام آباد میں منعقد ہونے والی آل پارٹیز تحفظ ناموس رسالت کانفرنس اپنی نوعیت کی ایک منفرد، یادگار اور تاریخ ساز کانفرنس تھی۔ اس قسم کی کانفرنس اور ایسے امید افزاء مناظر برسوں بعد دیکھنے نصیب ہوتے ہیں۔ یہ کل جماعتی کانفرنس جہاں حضور ﷺ سے اہل ایمان کی بے پناہ محبت کا مظہر تھیں۔ وہیں امت کے بکھرے ہوئے موتیوں کو ایک لڑی میں پرونے کا ذریعہ بھی تھی۔ اس کانفرنس کی وجہ سے جس طرح اہل ایمان کے دل باغ باغ ہوئے۔ اسی طرح سیکولر قوتوں اور منفی مقاصد کے حامل لوگوں کے مذموم عزائم پر اوس بھی پڑی۔ اس کانفرنس کو ”تحفظ ناموس رسالت“ کے ایک نئے سفر کا سنگ میل بھی کہا جا سکتا ہے اور مستقبل میں حاصل ہونے والی بہت سی خیروں اور کامیابیوں کا پیش خیمہ بھی قرار دیا جا سکتا ہے۔
اس کانفرنس میں ملک بھر کے تمام مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والے حضرات بشمول قابل ذکر دینی، سیاسی اور قومی جماعتوں کے قائدین اور ملک بھر کی اہم شخصیات نے شرکت کی ۔ وفاق المدارس العربیہ پاکستان کے سربراہ شیخ الحدیث مولانا سلیم اللہ خان، عالمی مجلس تحفظ ختم
باب ششم: تحریک ناموس رسالت، پس منظر، اہداف، مطالبات اور کامیابی
نبوت کے امیر مرکزیہ شیخ الحدیث مولانا عبدالمجید لدھیانوی، وفاق المدارس کے نائب صدر مولانا ڈاکٹر عبدالرزاق اسکندر جیسی اہم شخصیات نے کانفرنس میں شرکت کی۔ کانفرنس کی تیاریوں، دعوتوں، رابطوں اور انتظام وانصرام کے سلسلے میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے رہنماء مولانا اللہ وسایا کی قیادت میں منتظمہ کمیٹی نے بہت فعال کردار ادا کر کے اس کانفرنس کو کامیابی سے ہمکنار کیا۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے امیر مرکزیہ مولانا عبدالمجید لدھیانوی دامت برکاتہم العالیہ کے حکم پر مولانا فضل الرحمن کو کانفرنس کی صدارت کا اعزاز حاصل ہوا۔ جبکہ کانفرنس کی نظامت ونقابت کی ذمہ داریاں راقم الحروف کے حصے میں آئیں۔
کانفرنس کے اختتام پر مولانا فضل الرحمن نے کانفرنس کے فیصلوں کا اعلان کیا... جبکہ اعلامیہ پیش کرنے کا شرف مجھے حاصل ہوا۔ مولانا فضل الرحمن نے کانفرنس کے فیصلوں کا اعلان کرتے ہوئے پہلے تو اس عزم کا اظہار کیا کہ ناموس رسالت کے قانون میں کسی کو ترمیم کی ہرگز ہرگز اجازت نہیں دیں گے۔ ناموس رسالت کے تحفظ کے لیے کسی قربانی سے گریز نہیں کریں گے۔ ہر میدان اور ہر فورم پر ”انسداد توہین رسالت قانون“ کا تحفظ کیا جائے گا۔ ناموس رسالت کے تحفظ کے باہمی اتحاد و یکجہتی کو ہر قیمت پر برقرار رکھا جائے گا۔ بیرونی ایجنڈے کی تکمیل کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
- ☆ ...... انہوں نے اس بات کا بھی اعلان کیا کہ تحریک ناموس رسالت کے سلسلے
میں ۲۴ دسمبر کو ملک بھر میں مساجد کی سطح پر احتجاجی مظاہرے ہوں گے۔
- ☆ ...... ۳۱ دسمبر کو شٹر ڈاؤن ہڑتال ہوگی۔
- ☆ ...... جبکہ ۹ جنوری کو کراچی میں بڑا احتجاجی مظاہرہ ہوگا جس میں آئندہ کے لائحہ عمل کا
اعلان کیا جائے گا۔
اس موقع پر مولانا ڈاکٹر ابوالخیر محمد زبیر کی سربراہی میں تشکیل دی جانے والی تحریک ناموس رسالت کو منظم ومتحرک کرنے والی کمیٹی کی بھی تائید وتوثیق کی گئی اور اس کمیٹی سے کہا گیا کہ وہ نچلی سطح پر بھی کمیٹیاں قائم کرے اور تحفظ ناموس رسالت کی تحریک کو مزید تیز سے تیز تر کرے۔
مولانا فضل الرحمن نے کانفرنس کے آغاز میں اس کانفرنس کے اہداف ومقاصد،
باب ششم: تحریک ناموس رسالت، پس منظر، اہداف، مطالبات اور کامیابی
ضرورت واہمیت اور پس منظر کے حوالے سے اپنے مخصوص مدلل اور نپے تلے انداز میں بہت ہی جامع خطاب فرمایا۔ مولانا نے اپنی گفتگو میں عالمی حالات، استعماری قوتوں کی سازشوں، ناموس رسالت اور دیگر اسلامی قوانین کو نشانہ بنانے والی قوتوں کے مذموم عزائم کے بارے میں بہت چشم کشا گفتگو کی۔
انہوں نے کہا کہ حضور ﷺ کا دشمن ہمیں منقسم کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ جبکہ آج بھی حضور ﷺ کی ذات بابرکات اور آپ ﷺ کا اسم مبارک ایک ایسا مرکز اتحاد اور نکتہ وحدت ہے جو ہم سب کو جمع کر رہا ہے۔ مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ کوئی مائی کا لعل انسداد توہین رسالت کے قانون میں تبدیلی کی جسارت نہیں کرسکتا۔
کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے چودھری شجاعت حسین نے ناموس رسالت کے تحفظ کے لیے چودھری ظہور الٰہی شہید کی روایات برقرار رکھنے کے عزم کا اظہار کیا اور کہا کہ وہ پارلیمنٹ اور سینٹ میں ناموس رسالت کی بھر پور وکالت کریں گے۔ انہوں نے تجویز پیش کی کہ میڈیا اور پارلیمنٹ و سینٹ میں ناموس رسالت کے حوالے سے شعور اجاگر کرنے کے لیے پینل بنائے جائیں۔ چودھری شجاعت نے اپنے خطاب میں ناموس رسالت کے قانون کو ختم کرنے کی کوشش میں پیش پیش روشن خیالوں کو آڑے ہاتھوں لیا اور ایسے لوگوں کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا۔
جماعت اسلامی پاکستان کے امیر سید منور حسن نے تحریک کی بھر پور حمایت کرتے ہوئے اسے پرامن رکھنے کی ضرورت پر زور دیا اور میڈیا کی مانیٹرنگ اور میڈیا کے ساتھ مؤثر رابطوں میں اضافے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے اعداد و شمار کی روشنی میں بتایا کہ انسداد توہین رسالت کے قانون سے اقلیتیں متاثر نہیں ہوتیں۔
- ☆ جماعت اسلامی کے سابق امیر قاضی حسین احمد نے کہا کہ عرصہ دراز کے بعد
حضرت امیر شریعت مولانا سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ کی عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت نے یاد تازہ کردی ہے۔ انہوں نے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی امیر مولانا عبدالمجید لدھیانوی مدظلہ کو مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی نیز انہوں نے کہا) اس تحریک کا دائرہ وسیع کر کے اسے نفاذ اسلام کی تحریک میں تبدیل کر دینا چاہیے۔
باب ششم: تحریک ناموس رسالت، پس منظر، اہداف، مطالبات اور کامیابی
- ☆ جمعیت علماء اسلام (س) کے سربراہ مولانا سمیع الحق نے کہا کہ گستاخ رسول کو نہ
کوئی پارلیمنٹ معاف کر سکتی ہے نہ کوئی عدالت اور نہ ہی کوئی شخصیت۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ جب تک ہم استعماری قوتوں کی غلامی سے چھٹکارا حاصل نہیں کر لیتے اس وقت تک مسائل حل نہیں ہوں گے۔
- ☆ وفاق المدارس العربیہ پاکستان کے نائب صدر مولانا انوار الحق حقانی نے اپنے
بیان میں وفاق المدارس کی طرف سے ناموس رسالت تحریک میں ہراول دستے کے طور پر کردار ادا کرنے کے عزم کا اظہار کیا۔
عالم اسلام کی معروف علمی شخصیت اور عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے نائب امیر مولانا ڈاکٹر عبدالرزاق اسکندر نے حکمرانوں سے مکمل خیر خواہی سے اپیل کی کہ وہ اقتدار کے نشے میں ناموس رسالت کے قانون سے چھیڑ چھاڑ سے گریز کریں۔ انہوں نے میڈیا کے ذمہ داران سے بھی اپیل کی کہ وہ غلط فہمیاں پیدا کرنے والے عناصر کو لوگوں کو گمراہ کرنے کا موقع نہ دیں۔
آل پاکستان اخبار فروش فیڈریشن کے رہنما ٹکا خان نے ناموس رسالت کے تحفظ کے لیے لانگ مارچ کی تجویز دی۔ جسے تمام شرکاء نے بہت سراہا۔ ٹکا خان کی ایمانی جذبات سے لبریز تقریر کے دوران حاضرین میں غیر معمولی جوش وخروش دیکھنے میں آیا۔ اے پی این ایس کے رہنماء مہتاب خان چیف ایڈیٹر روز نامہ اوصاف نے صحافتی برادری اور اپنے ادارے کی طرف سے ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی کروائی۔
مولانا محمد احمد لدھیانوی نے کہا کہ آج کی کانفرنس میں جن بعض جماعتوں کے قائدین شریک نہیں ہو سکے۔ ان سے فرداً فرداً ملاقاتیں کی جانی چاہیں۔ انہوں نے ٹکا خان کی لانگ مارچ کی تجویز کی بھی تائید کی۔
مجلس احرار اسلام کے رہنما مولانا عطاء المؤمن شاہ بخاری سمیت کئی لوگوں نے مسلم لیگ (ن) کے سربراہ میاں نواز شریف کی پراسرار خاموشی کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا۔
مسلم لیگ (ن) کی طرف سے ڈاکٹر طارق فضل چودھری نے نمائندگی کی اور بتایا کہ راجہ ظفر الحق اپنے آبائی گاؤں میں اچانک فوتگی کی وجہ سے کانفرنس میں شریک نہ ہو
باب ششم: تحریک ناموس رسالت، پس منظر، اہداف، مطالبات اور کامیابی
سکے جس پر میں نے ان سے کہا کہ آپ میاں نواز شریف اور اپنی پارٹی کے دیگر رہنماؤں کی اس معاملے پر پراسرار خاموشی کا خاتمہ کروا کر ان کی پوزیشن واضح کروائیں اور ان کی طرف سے فوری طور پر بیان جاری کروائیں۔
بہر حال بحیثیت مجموعی یہ کانفرنس بہت ہی کامیاب اور یادگار رہی۔ ملک بھر کے تمام قائدین نے اس میں شرکت کر کے ناموس رسالت کے قانون کے تحفظ کے لیے بیک آواز ہو کر اپنے عزائم کا اظہار کیا۔ ایک دوسرے کے شانہ بشانہ چلنے کا عزم مصمم کیا اور ایک مشترکہ لائحہ عمل قوم کے سامنے رکھا۔ اب تمام غلامان مصطفیٰ ﷺ کی ذمہ داری ہے کہ وہ جس شعبے سے بھی وابستہ ہوں۔ غیرت ایمانی کا ثبوت دیتے ہوئے اس پیغام کو مزید مؤثر بنانے کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔ بالخصوص تاجر برادری ۳۱؍ دسمبر کی ہڑتال کو کامیاب کروانے کے لیے اپنا مؤثر کردار ادا کرے اور جس طرح اس کانفرنس میں اتحاد و یکجہتی کا مظاہرہ کیا گیا۔ نچلی سطح تک تمام لوگ حضور ﷺ کی ذات بابرکات کی عزت و ناموس کے تحفظ کے لیے جمع ہو جائیں اور انسداد توہین رسالت کے قانون میں ترمیم کے خواب دیکھنے والوں اور پاکستان کا اسلامی تشخص مٹانے کے منصوبے بنانے والوں کے مذموم عزائم کو خاک میں ملا دیں۔
مشترکہ اعلامیہ
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام اسلام آباد میں منعقد ہونے والی کل جماعتی کانفرنس کا اعلامیہ ملاحظہ فرمائیے:
ملک کی دینی جماعتوں اور تمام مکاتب فکر کے اکابر علمائے کرام کا یہ بھر پور نمائندہ اجتماع تحفظ ناموس رسالت کے قانون کے حوالے سے کنفیوژن اور بے اعتمادی کی فضا پیدا کرنے کی اس مہم کو شدید نفرت کی نگاہ سے دیکھتا ہے اور اسے اسلامی جمہوریہ پاکستان کے نظریاتی اور اسلامی تشخص کو ختم کرنے کی عالمی استعماری مہم کا ایک حصہ سمجھتے ہوئے اس میں منفی کردار ادا کرنے والے تمام افراد کی مذمت کرتا ہے۔
ملک کے محب وطن دینی سیاسی حلقے اور عامۃ الناس اس بات پر مکمل یقین رکھتے ہیں کہ اسلامی جمہوریہ پاکستان کا مقصد، قیام اور اس کے استحکام و بقاء کی بنیاد صرف اور
باب ششم: تحریک ناموس رسالت، پس منظر، اہداف، مطالبات اور کامیابی
صرف اسلام اور اسلام کے عادلانہ نظام کے مکمل اور عملی نفاذ کے ذریعہ ہی قومی وحدت، ملکی استحکام اور ملی امنگوں کی تکمیل کی جاسکتی ہے۔ لیکن برسر اقتدار طبقات نے عالمی آقاؤں کے اشاروں پر اس میں ہمیشہ روڑے اٹکائے ہیں اور پاکستان کے تشخص کو مجروح کرنے کی سازش کی ہے جس کے نتیجے میں وطن عزیز بین الاقوامی مداخلت اور سازشوں کی آماجگاہ بن گیا ہے اور قوم باہم خلفشار، لوٹ کھسوٹ، کرپشن، خانہ جنگی، دہشت گردی، ہوشربا مہنگائی، فحاشی اور عریانی کی دلدل میں مسلسل دھنستی چلی جارہی ہے۔
قرارداد مقاصد سمیت دستور پاکستان کی اسلامی دفعات بالخصوص تحفظ ختم نبوت کے دستوری فیصلے اور تحفظ ناموس رسالت کے قانون کے خلاف سیکولر عناصر کا واویلا، حکومتی حلقوں میں گھسے ہوئے دین دشمن افراد کی سازشیں اور میڈیا کے بعض حلقوں کی سرگرمیاں شرمناک حد تک بڑھ چکی ہیں اور ضروری ہوگیا ہے کہ ملک کے دینی حلقے اور دیگر محب وطن عناصر قومی سطح پر متحد ہو کر تحریک پاکستان، تحریک تحفظ ختم نبوت و ناموس رسالت اور تحریک نظام مصطفیٰ کی فضا کو دوبارہ بحال کریں اور مکمل اتحاد اور یک جہتی کے ساتھ اسلام اور پاکستان کے خلاف اندرونی اور بیرونی سازشوں کو ناکام بنادیں۔
ہم یہ سمجھتے ہیں کہ عقیدہ ختم نبوت اور ناموس رسالت کی بنیاد پر ملک کے نظریاتی تشخص کے تحفظ اور بیرونی مداخلت کے سد باب کے لئے قومی خود مختاری کی بحالی ہی اس وقت کی اولین ترجیح ہو سکتی ہے اور ملک کے غریب عوام کو اسلام کے سادہ اور فطری نظام کے ذریعے ہی کرپشن، مہنگائی، بڑھتی ہوئی غربت اور لاقانونیت سے نجات دلائی جاسکتی ہے۔ اس لئے اس اجتماع میں شریک جماعتیں اور راہ نما یہ فیصلہ کرتے ہیں کہ تمام مکاتب فکر نئے عزم سے ۱۹۵۳ء، ۱۹۷۴ء، ۱۹۸۴ء کی طرح ایک بار پھر پوری قوم کو ایک متفقہ دینی محاذ پر مجتمع کر کے اسلام، عقیدہ ختم نبوت اور ناموس رسالت کے خلاف ہر قسم کی سازشوں کا مقابلہ کرتے ہوئے پاکستان کو صحیح معنوں میں ایک اسلامی جمہوری ریاست بنانے کی طرف پیش رفت کی جائے۔
اس مقصد کے لئے جناب ڈاکٹر ابوالخیر محمد زبیر کی سربراہی میں ایک مرکزی کونسل کا اعلان کیا جاتا ہے۔ اس اجتماع میں شریک تمام جماعتیں اس کی ممبر ہوں گی اور جماعتوں
باب ششم: تحریک ناموس رسالت، پس منظر، اہداف، مطالبات اور کامیابی
کے نمائندے مل بیٹھ کر اپنے تنظیمی ڈھانچے اور لائحہ عمل کا فیصلہ کریں گے۔ اس موقع پر اس عظیم اجتماع میں شریک تمام جماعتیں اور راہ نما اس امر کا اعلان ضروری سمجھتے ہیں کہ تحفظ ناموس رسالت کے قانون میں کسی نوعیت کی ترمیم برداشت نہیں کی جائے گی اور تحفظ ناموس رسالت اور تحفظ ختم نبوت سمیت دستور و قانون کے کسی حصے کو ختم کرنے، کمزور و بے اثر بنانے کی ہر کوشش کی پوری قوت کے ساتھ مزاحمت کی جائے گی۔
یہ اجتماع ملک کی تمام سیاسی جماعتوں، ارکان پارلیمنٹ اور میڈیا کے ذمہ دار حضرات سے اپیل کرتا ہے کہ وہ بھی سیاسی مصلحتوں اور فروعی مفادات سے بالاتر ہو کر اپنے عقیدہ، ایمان، قومی خود مختاری اور ملکی نظریاتی حیثیت کے تحفظ کی فکر کریں اور حضور نبی کریم ﷺ کی ذات گرامی کے ساتھ اپنی عقیدت ومحبت کا عملی مظاہرہ کرتے ہوئے اس قومی جدوجہد میں کردار ادا کریں۔
یہ اجتماع قوم کے تمام طبقات سے اپیل کرتا ہے کہ وہ بھر پور اتحاد اور روایتی جوش و خروش کا اظہار کرتے ہوئے اس جدوجہد میں شریک ہوں۔ ہم انہیں یقین دلاتے ہیں کہ اگر بیرونی مداخلت کے خاتمے کے ساتھ قومی خود مختاری کی بحالی کا کوئی راستہ نکل آئے اور استعماری قوتوں کے معاشی چنگل سے نجات حاصل کر لی جائے تو کرپشن، مہنگائی، لوڈ شیڈنگ اور لاقانونیت کے عفریت سے بھی نجات حاصل کی جا سکتی ہے اور پاکستان کو اسلام کے سنہری اصولوں کی بنیاد پر ایک مثالی فلاحی ریاست بنانے کا مقصد بھی پورا ہو سکتا ہے۔ ہم دعا گو ہیں کہ اللہ رب العزت ہمیں ان عزائم پر استقامت عطاء فرمائیں اور دین ملک اور قوم کے بہتر مستقبل کے لئے مخلصانہ اور نتیجہ خیز جدوجہد کی توفیق سے نوازیں۔
(آمین یا رب العالمین!)
اس اعلامیہ کے ساتھ ساتھ کانفرنس کی چند چیدہ چیدہ قراردادیں بھی ملاحظہ فرمالیجئے: ملک کے تمام مکاتب فکر کے راہ نماؤں اور دینی جماعتوں کے ذمہ دار نمائندوں کا یہ نمائندہ اجتماع حکومت سے مطالبہ کرتا ہے کہ:
- امریکی مداخلت اور عالمی استعماری قوتوں کی مسلسل سازشوں کے خلاف جرأت
مندانہ مؤقف اختیار کیا جائے اور ڈرون حملوں کو بند کرانے کے ساتھ ساتھ دہشت گردی
باب ششم:
کے خلاف جنگ کے حوالے سے جائے۔ کیونکہ ڈرون حملوں نے بغیر خود مختاری اور ملکی امن وامان
- ناموس رسالت اور
اسلامی دفعات کے بارے میں حکومت اس سلسلے میں اپنی اسلامی نظریاتی تشخص کے مطا
- قبائلی علاقوں میں
اعلان کیا جائے اور مسلح گر کے امن کی بحالی کے لئے
- حکومت افغانستا
آہنگی اور یک جہتی کا اظہار مختاری اور آزادی کے حصو کرے۔
اللہ تعالیٰ اس ام رسالت اور اتحاد امت کے
☆☆
باب ششم: تحریک ناموس رسالت، پس منظر، اہداف، مطالبات اور کامیابی
کے خلاف جنگ کے حوالے سے پارلیمنٹ کی متفقہ قرارداد پر فوری عمل درآمد کا اہتمام کیا جائے۔ کیونکہ ڈرون حملوں کے خاتمے اور پارلیمنٹ کی متفقہ قرارداد پر مکمل طور پر عمل کئے بغیر خود مختاری اور ملکی امن وامان کے حوالے سے کسی پیش رفت کا امکان نہیں۔
- ...... ناموس رسالت اور عقیدہ ختم نبوت کے تحفظ سمیت دستور وقانون کی مختلف
اسلامی دفعات کے بارے میں حکومتی حلقوں کے پیدا کردہ کنفیوژن کے خاتمے کے لئے حکومت اس سلسلے میں اپنی پوزیشن کی وضاحت کرے اور اسلامی جمہوریہ پاکستان کے اسلامی نظریاتی تشخص کے ساتھ اپنی وابستگی اور وفاداری کا دوٹوک اعلان کرے۔
- ...... قبائلی علاقوں میں فوجی آپریشن کی صورتحال فوری طور پر ختم کر کے مذاکرات کا
اعلان کیا جائے اور مسلح گروپوں کو گفتگو اور مذاکرات کے ذریعے ہتھیار ڈالنے پر آمادہ کر کے امن کی بحالی کے لئے حقیقت پسندانہ طرز عمل اختیار کیا جائے۔
- ...... حکومت افغانستان، عراق، فلسطین اور کشمیر کے مجاہدین آزادی کے ساتھ ہم
آہنگی اور یک جہتی کا اظہار کرے اور مسلمہ اسلامی اور عالمی اصولوں کے مطابق قومی خود مختاری اور آزادی کے حصول کے لئے جدوجہد کرنے والی تحریکات کی حمایت کا اعلان کرے۔
اللہ تعالیٰ اس اہم اور تاریخی کانفرنس کو شرف قبولیت بخشیں اور تحفظ ناموس رسالت اور اتحاد امت کے لئے اسے اہم سنگ میل بنائیں۔ (آمین!)
☆☆☆☆☆☆☆.......☆☆☆☆☆☆☆
باب ششم: تحریک ناموس رسالت، پس منظر، اہداف، مطالبات اور کامیابی
آل پارٹیز تحفظ ناموس رسالت
کانفرنس کی تفصیلی رپورٹ!
٭...... آل پاکستان تحفظ ناموس رسالت کانفرنس میں دینی وسیاسی رہنماؤں نے آئندہ کا لائحہ عمل پیش کیا اور مطالبات پیش کئے۔ چنانچہ مولانا اللہ وسایا صاحب مدظلہ کانفرنس کا پس منظر، دعوت نامے، شرکاء، کانفرنس، قائدین ملت کے ارشادات پر تفصیلی رپورٹ پیش فرماتے ہوئے لکھتے ہیں۔
ایک دن اخبار میں خبر پڑھی کہ ملعونہ آسیہ نامی مسیحی خاتون کو ڈسٹرکٹ جیل شیخوپورہ میں گورنر پنجاب سلمان تاثیر ملنے گئے۔ گورنر کی بیٹی بھی ساتھ تھی۔ خیال ہوا کہ گورنر صاحب کی ایک اہلیہ سکھ تھیں۔ سکھوں سے ان کی رشتہ داری ہے تو شاید مسیحیوں سے بھی ہو۔ تبھی تو اپنی بیٹی کو ساتھ لے کر گئے۔ لیکن تفصیل میں گئے تو خبر میں ذکر تھا کہ ملعونہ آسیہ نے اہانت رسول کا ارتکاب کیا۔ اس پر کیس چلا۔ سیشن عدالت سے اسے سزا ہوئی۔ تو گورنر اہانت رسول کرنے والی مسیحی عورت سے اظہار ہمدردی کے لئے گئے۔ اگلے دن اخبارات میں نیا موضوع ہی یہی خبر تھی۔
اسی شام حضرت مولانا قاری محمد حنیف صاحب جالندھری کا ملتان سے فون آیا کہ آپ نے خبر پڑھ لی۔ عرض کیا پڑھ لی۔ فرمایا کیا کرنا ہے۔ فقیر نے عرض کیا کہ تمام جماعتوں کو اکٹھا کریں جو فیصلہ ہو جائے اس پر عمل کریں۔ حضرت قاری صاحب نے فرمایا کہ تمام جماعتوں کا مشترکہ اجلاس عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت طلب کرے۔ فقیر نے عرض کیا کہ جمعیت علمائے اسلام، وفاق المدارس تعاون کریں تو یہ ڈیوٹی عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت سرانجام دینے کے لئے تیار ہے۔ ورنہ جمعیت علمائے اسلام اجلاس بلائے۔ وفاق اور عالمی مجلس تعاون کریں۔ قاری صاحب نے فرمایا کہ ملاقات ضروری۔ عرض کیا کہ دو تین دن
باب ششم: تحریک ناموس رسالت، پس منظر، اہداف، مطالبات اور کامیابی تک ملتان ملاقات کے لئے حاضر ہوں گا۔
۲؍دسمبر (۲۰۱۱ء) کو قبلہ حضرت قاری محمد حنیف جالندھری سے مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی، مولانا عزیز الرحمن ثانی کی معیت میں ملاقات ہوئی۔ وہاں سے حضرت مولانا عبدالغفور حیدری کو فون کیا۔ وہ مولانا ابوالخیر محمد زبیر صاحب کی دعوت پر کراچی تھے۔ مخدوم محترم مولانا صاحبزادہ عزیز احمد صاحب نائب امیر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کراچی میں تھے۔ حضرت مولانا عبدالغفور حیدری دفتر ختم نبوت کراچی تشریف لائے۔ معلوم ہوا کہ صاحبزادہ ابوالخیر محمد زبیر کی سربراہی میں تحفظ ناموس رسالت محاذ بن گیا ہے۔ اور یہ کہ اب عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی میزبانی میں اسلام آباد آل پارٹیز تحفظ ناموس رسالت رکھی جائے۔
چنانچہ تفصیلی رپورٹ حضرت مولانا عزیز الرحمن جالندھری دامت برکاتہم سے عرض کی۔ حضرت مولانا عزیز الرحمن جالندھری نے قبلہ امیر مرکزیہ حضرت مولانا عبدالمجید لدھیانوی دامت برکاتہم سے رپورٹ عرض کرنے اور دعاؤں کی درخواست کا حکم فرمایا۔ مولانا مفتی ظفر اقبال صاحب سے یہ صورت حال عرض کی۔ اجازت ملنے پر اسی دن ۵؍دسمبر کو جمعیت علمائے اسلام پنجاب کے امیر حضرت مولانا رشید احمد لدھیانوی ملتان دفتر تشریف لائے۔ طے ہوا کہ حضرت مولانا رشید احمد لدھیانوی صاحب کانفرنس کے اختتام تک کا پورا وقت کانفرنس کی کامیابی کے لئے دیں گے۔ اس دوران میں مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی، مولانا عزیز الرحمن ثانی نے مدعوین کی فہرست تیار کر لی جو حضرت قاری محمد حنیف جالندھری صاحب کو دکھا دی گئی۔ انہوں نے حسب صوابدید ترمیم و اضافہ فرمایا۔
(چنانچہ طے شدہ فہرست کے مطابق ملک بھر میں ذاتی طور، ڈاک، اور مبلغین عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے ذریعہ دعوت نامے جاری کر دیئے گئے۔)
حضرت مولانا فضل الرحمن سے ملاقات
چنانچہ ۹؍ دسمبر ایوان پارلیمنٹ میں مولانا عبدالغفور صاحب حیدری کے دفتر حاضر ہوئے۔ تھوڑی دیر بعد قائد محترم حضرت مولانا فضل الرحمن سمیت حضرت حیدری صاحب تشریف لائے۔ حضرت مولانا کے سامنے پورے سفر کی روئیداد عرض کی۔ آپ نے دعوت نامہ ملاحظہ کیا۔ مدعوین کی اجمالی فہرست عرض کی۔ آپ نے ہدایات سے نوازا۔
باب ششم: تحریک ناموس رسالت، پس منظر، اہداف، مطالبات اور کامیابی
چنانچہ طے ہوا کہ تمام حضرات کو دعوت نامے مل جائیں تو فہرست حضرت حیدری صاحب کو بمع فون نمبرز کے پہنچادی جائے۔ وہ سب سے رابطہ کریں گے۔ طے ہوا کہ ۱۲؍ دسمبر کو مرکزی جماعت اہل سنت نے ”پرل انٹرکانٹی ہوٹل راولپنڈی“ میں اجلاس طلب کر رکھا ہے۔ اس اجلاس میں شریک ہوں گے اور اس اجلاس کے فیصلوں کا اعلان بھی ۱۵؍ دسمبر کی اے پی سی میں کیا جائے گا۔
جماعت اہل سنت کی کانفرنس
۱۱ بجے پرل کانٹی نینٹل میں مرکزی جماعت اہل سنت پاکستان کے زیراہتمام آل پارٹیز تحفظ ناموس رسالت کانفرنس منعقد ہوئی۔ حضرت مولانا پیر عبدالخالق بھرچونڈھی شریف، حضرت مولانا فضل الرحمٰن، حضرت مولانا محمد خان شیرانی، مولانا ابوالخیر محمد زبیر، جناب سید منور حسن، جناب قاضی حسین احمد، جناب مفتی منیب الرحمٰن، مولانا عزیز الرحمٰن ثانی، مولانا ہارون الرشید، پروفیسر ساجد میر، جناب سید علامہ ساجد حسین نقوی، جناب حضرت مولانا قاری محمد حنیف جالندھری، مولانا عبدالمالک خان، مولانا محمد یاسین ظفر جامعہ سلفیہ تشریف لائے ہوئے تھے۔ مولانا پیر عتیق الرحمٰن میزبان تھے۔ بھر پور اجلاس ہوا۔ اس میں طے ہوا کہ ناموس رسالت کی اس تازہ جدوجہد کے لئے پلیٹ فارم کا نام ”تحریک ناموس رسالت“ ہوگا۔ اس کے کنوینر حضرت صاحبزادہ ابوالخیر محمد زبیر صاحب (صدر جمعیت علماء پاکستان نورانی گروپ) ہوں گے۔ ۷ حضرات پر مشتمل ایک کمیٹی قائم کی گئی:
(۱)...... مولانا عبدالغفور حیدری (۲)...... مولانا عبدالرؤف فاروقی صاحب (۳)...... جناب لیاقت بلوچ (۴)...... مولانا عزیز الرحمٰن ثانی (۵)...... جناب رانا محمد شفیق پسروی (۶)...... جناب سکندر عباس (۷)...... مولانا محمد شریف صاحب سرکی۔
اس کمیٹی نے آئندہ کا لائحہ عمل طے کر کے ۱۵؍ دسمبر کی آل پارٹیز تحفظ ناموس رسالت کانفرنس میں پیش کرنا ہے۔
باب ششم
جمعیت علمائے اسلام
۱۳ دسمبر ۲۰۱۰ء علمائے اسلام (س) کے مر پارٹیز تحفظ ناموس رسالت کا کے صدر کی بجائے سیکرٹری مرکزی ناظم اعلیٰ یادگار اسلاف ثانی اور فقیر کو حکم فرمایا کہ مجلس آبادی تشریف لائے ہوئے کی۔ بھر پور اجلاس تھا۔ اجلاس اور پالیسی خطاب فرمایا۔ یہاں ناموس رسالت کانفرنس میں ۱۲ دسمبر کی اے پی سی راولپنڈی تمام فیصلوں کا اعلان ۱۵ دسمبر میزبانی میں ہونے والی کانفر ۱۴ دسمبر کی شام کو نے اجلاس طلب کر رکھا تھا۔ جالندھری اور راقم کو خصوصی طور اجلاس جاری رہا۔ فیصلوں کو آخری
آل پارٹیز تحفظ ناموس
۱۵ دسمبر کو تقریباً زاہد وسیم ، مولانا عزیز الرحمٰن جنہوں نے ڈیوٹی دینا تھی الرحمٰن، جناب محمد افضل صا
باب ششم تحریک ناموس رسالت، پس منظر، اہداف، مطالبات اور کامیابی
جمعیت علمائے اسلام کی کانفرنس
۱۳؍ دسمبر ۲۰۱۰ء دن گیارہ بجے عامر ہوٹل لاہور نزد سیشن کورٹ میں جمعیت علمائے اسلام (س) کے مرکزی جنرل سیکرٹری حضرت مولانا عبدالرؤف فاروقی نے آل پارٹیز تحفظ ناموس رسالت کانفرنس طلب کر رکھی تھی۔ اس اجلاس میں انہوں نے جماعتوں کے صدور کی بجائے سیکرٹری جنرل حضرات کو دعوت دی تھی۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی ناظم اعلیٰ یادگار اسلاف حضرت مولانا عزیز الرحمن جالندھری نے مولانا عزیز الرحمن ثانی اور فقیر کو حکم فرمایا کہ مجلس کی نمائندگی کریں۔ لاہور پہنچے تو حضرت مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی تشریف لائے ہوئے تھے۔ تو مجلس کی نمائندگی راقم الحروف اور مولانا شجاع آبادی نے کی۔ بھرپور اجلاس تھا۔ اجلاس کے آخر پر حضرت مولانا سمیع الحق صاحب بھی تشریف لائے اور پالیسی خطاب فرمایا۔ یہاں بھی یہی فیصلہ ہوا کہ تمام فیصلوں کا ۱۵؍ دسمبر کی آل پارٹیز تحفظ ناموس رسالت کانفرنس میں اعلان کیا جائے گا۔ یوں اللہ رب العزت نے کرم فرمایا کہ ۱۲؍ دسمبر کی اے پی سی راولپنڈی اور ۱۳؍ دسمبر کی اے پی سی لاہور میں یہی اعلانات ہوئے کہ تمام فیصلوں کا اعلان ۱۵؍ دسمبر کی کانفرنس میں ہوگا۔ اس سے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی میزبانی میں ہونے والی کانفرنس اسلام آباد بہت اہمیت اختیار کرگئی۔
۱۴؍ دسمبر کی شام کو ۷ رکنی کمیٹی کا اسلام آباد میں حضرت صاحبزادہ ابوالخیر محمد زبیر صاحب نے اجلاس طلب کر رکھا تھا۔ رات ۹ بجے وہاں حاضری ہوئی۔ حضرت مولانا قاری محمد حنیف جالندھری اور راقم کو خصوصی طور پر مولانا صاحبزادہ محمد زبیر نے حکم فرمایا۔ رات ساڑھے ۱۱ بجے تک اجلاس جاری رہا۔ فیصلوں کو آخری شکل دی گئی۔ جس پر اگلے روز قائدین نے غور کرنا تھا۔
آل پارٹیز تحفظ ناموس رسالت کانفرنس
۱۵؍ دسمبر کو تقریباً ۹ بجے مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی، مولانا محمد طیب، مولانا زاہد وسیم، مولانا عزیز الرحمن ثانی، مولانا محمد اویس (بمع اپنے مدرسہ کے اساتذہ و طلباء کے جنہوں نے ڈیوٹی دینا تھی) مولانا ہارون الرشید، مولانا رشید احمد لدھیانوی، ڈاکٹر عتیق الرحمن، جناب محمد افضل سالار جمعیت علمائے اسلام بمع اپنے رضا کاروں کے تشریف
باب ششم: تحریک ناموس رسالت، پس منظر، اہداف، مطالبات اور کامیابی
لائے۔ مولانا قاضی عبدالرشید، مولانا ظہور احمد علوی، مولانا قاری احسان اللہ ہزاروی، مولانا تاج محمد، مولانا عبدالمجید ہزاروی اور دیگر معاونین و منتظمین نے مل کر نشستوں کی ترتیب اور ان پر کارڈ رکھنے کا عمل مکمل کیا۔ اتنے میں حضرت مولانا قاری محمد حنیف جالندھری، حضرت مولانا عبدالغفور حیدری تشریف لائے۔ انہوں نے نظم سنبھالا۔ جوں ہی مہمانانِ گرامی تشریف لاتے گئے اپنی سیٹوں پر تشریف رکھتے گئے۔ ساڑھے دس بجے سے قبل مہمانوں کی آمد شروع ہو گئی۔ کوئی پونے گیارہ بجے کے قریب حضرت مولانا قاری محمد حنیف صاحب جالندھری نے نقابت کے فرائض سرانجام دیتے ہوئے اپنی تلاوت سے کانفرنس کا آغاز کیا۔ صاحبزادہ ابوالخیر محمد زبیر صاحب نے قصیدہ بردہ شریف کے چند اشعار پڑھے۔ صدر اجلاس مولانا فضل الرحمن صاحب نے اجلاس کی غرض و غایت بیان فرمائی۔
شرکاء کے اسمائے گرامی جماعتوں کے حوالہ سے پیش خدمت ہیں:
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت: شیخ الحدیث حضرت مولانا عبدالمجید لدھیانوی، حضرت مولانا ڈاکٹر عبدالرزاق سکندر، مولانا صاحبزادہ خلیل احمد، صاحبزادہ نجیب احمد، صاحبزادہ سعید احمد، مولانا سید عبدالمجید ندیم شاہ، مولانا قاری محمد یٰسین۔ مولانا اللہ وسایا، مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی۔
جمعیت علمائے اسلام: صدر اجلاس مولانا فضل الرحمن، مولانا عبدالغفور حیدری، مولانا محمد امجد خان، مولانا رشید احمد لدھیانوی، مولانا عتیق الرحمن۔
جمعیت علمائے پاکستان: مولانا صاحبزادہ ابوالخیر محمد زبیر، مولانا نقشبندی، جناب حامد رضا بھٹی اور دیگر۔
جمعیت علماء اسلام: مولانا سمیع الحق، مولانا حامد الحق، مولانا عبدالرؤف فاروقی، مولانا سید محمد یوسف شاہ
جماعت اسلامی: جناب قاضی حسین احمد، جناب سید منور حسن، جناب لیاقت بلوچ، جناب میاں محمد اسلم
مرکزی جمعیت اہل حدیث: حضرت مولانا عبدالعزیز حنیف، جمعیت اہلحدیث حضرت مولانا سید ضیاء اللہ شاہ بخاری۔
جمعیت علمائے اسلام سینئر: مولانا پیر عبدالرحیم نقشبندی، مولانا عبدالشکور نقشبندی
باب ششم: تحری
تحریک اسلامی: جناب علامہ سید س
اہل سنت والجماعت: جناب مولا
مجلس احرار اسلام: جناب مولانا ثالث، حاجی عبداللطیف چیمہ، جناب
مرکزی جماعت اہل سنت: حضر محبوب الرسول ودیگر
وفاق المدارس العربیہ پاکستا جالندھری، مولانا قاضی عبدالرشید، مولا
مشائخ: مولانا صاحبزادہ امین الحس
جامعہ اشرفیہ لاہور: صاحبزادہ مول
پاکستان شریعت کونسل: حضر
اتحاد اہل سنت: حضرت مولانا مح
اقراء روضۃ الاطفال: حضر جناب مولانا شبیر احمد صاحب و د
جماعت الدعوۃ: حضرت حافظ مح
شخصیات: مولانا حبیب الرحم عبدالغفار لال مسجد، مولانا قا قاسمی، مولانا مفتی ظفر اقبال ک
اتحادالعلماء: حضرت مولا
تنظیم اسلامی: حافظ عاکف
منہاج القرآن: جناب
مسلم لیگ (ق): جناب سندھ و بلوچستان کے دو سا
مسلم لیگ (ن): ڈاکٹر چ
باب ششم: تحریک ناموس رسالت، پس منظر، اہداف، مطالبات اور کامیابی
تحریک اسلامی: جناب علامہ سید ساجد حسین نقوی و دیگر
اہل سنت والجماعت: جناب مولانا محمد احمد لدھیانوی، ڈاکٹر خادم حسین ڈھلوں و دیگر
مجلس احرار اسلام: جناب مولانا سید عطاء المومن بخاری، مولانا سید عطاء اللہ شاہ بخاری ثالث، حاجی عبداللطیف چیمہ، جناب حافظ محمد یوسف احرار
مرکزی جماعت اہل سنت: حضرت پیر عبدالخالق سجادہ نشین بھرچونڈی شریف، صاحبزادہ محبوب الرسول و دیگر
وفاق المدارس العربیہ پاکستان: حضرت مولانا سلیم اللہ خان، حضرت مولانا قاری محمد حنیف جالندھری، مولانا قاضی عبدالرشید، مولانا مفتی محمد طیب فیصل آباد، مولانا انوار الحق حقانی اکوڑہ خٹک۔
مشائخ: مولانا صاحبزادہ امین الحسنات بھیرہ شریف، مولانا قاضی ارشد الحسینی۔
جامعہ اشرفیہ لاہور: صاحبزادہ مولانا محمد اسعد عبید۔
پاکستان شریعت کونسل: حضرت مولانا فداء الرحمن درخواستی، حضرت مولانا زاہد الراشدی۔
اتحاد اہل سنت: حضرت مولانا محمد الیاس گھمن۔
اقراء روضۃ الاطفال: حضرت مولانا مفتی خالد محمود، مولانا مفتی محمد بن مفتی محمد جمیل خان، جناب مولانا شبیر احمد صاحب و دیگر حضرات۔
جماعت الدعوۃ: حضرت حافظ محمد سعید، جناب مولانا امیر حمزہ، قاری محمد یعقوب و دیگر حضرات۔
شخصیات: مولانا حبیب الرحمن لدھیانوی، فیصل آباد مولانا صاحبزادہ عبد الخبیر آزاد، مولانا عبدالغفار لال مسجد، مولانا قاری احسان اللہ ہزاروی، مولانا ظہور احمد علوی، مولانا عبدالوحید قاسمی، مولانا مفتی ظفر اقبال کہروڑ پکا۔
اتحاد العلماء: حضرت مولانا عبدالمالک خان۔
تنظیم اسلامی: حافظ عاکف سعید صاحب و دیگر حضرات۔
منہاج القرآن: جناب سید فرحت حسین شاہ، جناب مولانا علی غضنفر کراروی۔
مسلم لیگ (ق): جناب چوہدری شجاعت حسین صاحب سابق وزیراعظم پاکستان، سندھ و بلوچستان کے دو سابق وزرائے اعلیٰ و دیگر مرکزی قائدین
مسلم لیگ (ن): ڈاکٹر چوہدری طارق فضل ایم این اے۔
باب ششم: تحریک ناموس رسالت، پس منظر، اہداف، مطالبات اور کامیابی
مسلم لیگ (ضیاء الحق): جناب اعجاز الحق سابق وفاقی مذہبی امور۔ اشاعت التوحید: حضرت مولانا عبدالسلام حضرو۔ صاحبزادہ مولانا امان اللہ صاحب جامعہ تعلیم القرآن راجہ بازار۔
ان کے علاوہ اتنی اہم شخصیات تھیں کہ سبحان اللہ۔ کسی کا نام رہ گیا ہو تو اللہ رب العزت معاف فرمائیں۔ عمداً کسی مدعو کا نام ترک نہیں کیا۔ جو غلطی سے رہ گیا ہو احباب معاف فرمادیں کیا کیا خطابات ہوئے۔ وہ موقعہ پر جستہ جستہ حضرت مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی قلمبند کرتے گئے۔ جو یہ ہیں۔ ان میں بھی جو نام رہ گیا ہو اس کی معذرت۔ مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی کی جگہ فقیر لکھ دیتا ہے۔ امید ہے کہ کوئی نام نہیں رہا ہوگا۔
کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے جمعیت علماء اسلام پاکستان کے امیر، صدر اجلاس، مولانا فضل الرحمن نے فرمایا۔ ہم عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے شکر گزار ہیں کہ اس نے امت کو مجتمع کرنے اور امت کی صفوں کو درست کرنے کی دعوت دی۔ میں مجلس کی طرف سے تمام شرکاء کا خیر مقدم کرتا ہوں۔ چاہئے تو یہ تھا کہ مجلس کے مرکزی امیر صدارت فرماتے۔ لیکن ان کے حکم سے مجھے یہ اعزاز بخشا گیا۔ میں مولانا ابوالخیر محمد زبیر کا بھی شکر گزار ہوں کہ انہوں نے کراچی میں اس کام کا آغاز کیا۔ مولانا نے فرمایا کہ حکومت تحفظ ناموس رسالت کے قانون کو تبدیل یا ختم یا غیر مؤثر کرنا چاہتی ہے۔ اس سے قبل پیر عبدالخالق بھرچونڈی شریف نے بھی کانفرنس رکھی۔ جس میں تجاویز مرتب کرنے کے لئے کمیٹی قائم کی گئی۔ کمیٹی نے تجاویز پیش کیں۔ انہیں حتمی شکل دی گئی اور ایک مکمل پروگرام ترتیب دیا گیا اور دنیا کو پیغام دیا جائے گا کہ اسلامیان پاکستان ان کے ایجنڈے کے سامنے بند باندھیں گے۔ مغرب کا ایجنڈا یہ ہے کہ دینی و مذہبی تبلیغ و ترویج اور تعلیمات دینے والے اداروں کا کردار ختم کر دیا جائے۔ مغرب نے جہاد کو دہشت گردی کا نام دے دیا ہے۔ دینی مدارس کا وجود اور کردار کا خاتمہ یا غیر مؤثر بنانا ان کا ایجنڈا ہے۔
اسلامی تہذیب کا خاتمہ اور مغربی تہذیب کا رواج اس کا حصہ ہے اور سوسائٹی کو مغرب کے معیار پر لانا اس کا اہم حصہ ہے۔ جب دین کی اساس محفوظ نہیں رہے گی تو دین بھی محفوظ نہیں رہ سکے گا۔ حضرت جبریل کا کردار مشکوک بنانے کی کوشش، معجزات سے انکار،
باب ششم: تحریک ناموس رسالت، پس منظر، اہداف، مطالبات اور کامیابی
چونکہ وہ پیغام کو نہیں جھٹلا سکے۔ لہٰذا پیغام رساں (ﷺ) کی ذات پر طعن و تشنیع کرتے ہیں۔ رسول اللہ ﷺ ہیں تو آپ کے آداب بھی ہیں۔ مغربی دنیا امت کو تقسیم کرنا چاہتی ہے۔ امت میں دیوبندی، بریلوی، مقلد وغیر مقلد، سنی و شیعہ کے عنوان سے افتراق و انتشار اور تقسیم کیا جا رہا ہے۔ جب کہ رسول اللہ ﷺ کی ذات ہمیں اکٹھا کر رہی ہے۔ ہمیں رسالت کی ضرورت پر لبیک کہنا چاہئے۔ کیونکہ وحدت کا وہی نقطہ ہے۔ آج اللہ پاک نے موقع دیا ہے کہ اس موضوع کی اہمیت سمجھیں اور دنیا کو پیغام دیں کہ رسول اللہ ﷺ کی ذات کے خلاف کوئی طعن برداشت نہیں کیا جائے گا۔
جمعیت علماء پاکستان کے صدر ڈاکٹر ابوالخیر محمد زبیر نے کمیٹی کی تجاویز پیش کیں۔ انہوں نے کہا کہ حکمرانوں کے عزائم سامنے آچکے ہیں۔ ضرورت اس بات کی تھی کہ پوری امت متحد ہو کر ناموس رسالت کا تحفظ کرے۔ چنانچہ تمام مکاتب فکر کے رہنماؤں نے مل بیٹھ کر درج ذیل تجاویز پاس کیں۔
- ۲۴ نومبر کو ملک بھر میں احتجاجی مظاہرے ہوں گے۔
- ۳۱ دسمبر کو مکمل ہڑتال کی جائے گی۔
- ۹ جنوری کو کراچی میں مرکزی احتجاجی جلسہ ہوگا۔ جس میں مرکزی قائدین شرکت
کریں گے۔
- ۹ جنوری کو اگلا پروگرام طے کیا جائے گا۔
پاکستان مسلم لیگ (ق) کے سربراہ چوہدری شجاعت حسین نے کہا کہ میری خوش نصیبی ہے کہ اس عظیم کانفرنس میں شرکت کی سعادت حاصل ہو رہی ہے۔ اس ملک میں حضور ﷺ کی عزت و ناموس پر حرف نہیں آنے دیا جائے گا۔ میں، میرا خاندان، میری پارٹی اس محاذ پر آپ کے ساتھ ہیں۔ میرے والد محترم (چوہدری ظہور الٰہی مرحوم) نے ۱۹۷۴ء کی تحریک ختم نبوت میں قائدانہ کردار ادا کیا۔ انہوں نے کہا نہ تو اس قانون کو ختم کیا جا سکتا ہے اور نہ ترمیم قبول کی جائے گی۔ قانون کو ختم کرنے کی ناپاک سازش کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔ ہم پارلیمنٹ میں اس قانون کا مکمل تحفظ کریں گے۔ میں تمام تجاویز کی تائید کرتا ہوں اور پروگراموں میں شرکت کریں گے۔
باب ششم: تحریک ناموس رسالت، پس منظر، اہداف، مطالبات اور کامیابی
جماعت الدعوہ کے سربراہ حافظ محمد سعید نے کہا کہ یہ اجلاس قابل مبارک باد ہے۔ ختم نبوت کی تحریک سے آئین میں ترمیم ہوئی۔ ناموس رسالت کا قانون علماء کی کاوشوں کا نتیجہ ہے۔ کفر واسلام کی جنگ جو مغرب نے چھیڑی ہے۔ جہاد کو ختم کرنے کے لئے پروپیگنڈہ کیا گیا۔ مغرب کے دباؤ کی وجہ سے یہ قانون تبدیل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ ہم متحد ہو کر اس مسئلہ پر کھڑے ہوئے ہیں تو باقی تمام مسائل بھی حل ہوں گے۔ اگر آج ہم کوتاہی کریں گے تو اگلا مسئلہ ختم نبوت کا ہوگا۔ حقیقی اتحاد قائم کیا جائے۔
پاکستان مسلم لیگ (ض) کے سربراہ جناب اعجاز الحق نے کہا میں تجاویز کی بھی تائید کرتا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ سوچی سمجھی سازش کے تحت طے شدہ مسائل کو متنازعہ بنایا جا رہا ہے۔ تحفظ ناموس رسالت سمیت تمام اسلامی قوانین کے خلاف باقاعدہ مہم چلائی جا رہی ہے اور پیسہ بھی خرچ کیا جا رہا ہے۔ اس کا مقابلہ کرنے کے لئے بھر پور طریقہ کار وضع کیا جائے۔ باقی معاملات پر پابندی ہے۔ لیکن حضور ﷺ کے خلاف بات کو آزادی رائے کا اظہار کہا جاتا ہے۔ انہوں نے تجاویز کے ساتھ مکمل اتفاق کا اعلان کیا۔
تنظیم اسلامی کے سربراہ جناب حافظ عاکف سعید نے کہا کہ ۷۵ سال تک شریعت سے بغاوت کا ارتکاب کیا گیا۔ اگر آئین میں کچھ اسلامی شقیں موجود ہیں تو مغرب ان کو بھی ختم کرانا چاہتا ہے انہوں نے کہا کہ ہماری تنظیم اس سلسلہ میں آپ کے ساتھ ہے۔ ان تمام پروگراموں میں شرکت کریں گے۔
مرکزی جماعت اہل سنت کے سربراہ پیر عبد الخالق آف بھرچونڈی شریف نے کہا کہ میں تجاویز کی تائید کرتا ہوں۔
مسلم لیگ (ن) کے ڈاکٹر طارق فضل چوہدری (M.N.A) نے کہا کہ میں منتظمین کانفرنس کا شکر گزار ہوں۔ ملک میں قائم ہونے والی فضا ایک چیلنج ہے۔ لیکن ناموس رسالت کا مسئلہ امت میں نقطہ اتحاد ہے۔ پاکستانی قوم ایک غیرت مند قوم ہے۔ اس سلسلہ میں مسلم لیگ (ن) آپ کے ساتھ ہے۔
وفاق المدارس العربیہ پاکستان کے نائب صدر مولانا انوار الحق نے کہا کہ وفاق المدارس سے متعلق پندرہ ہزار سے زائد مدارس اس سلسلہ میں آپ کے ساتھ ہیں۔
باب ششم: تحریک ناموس رسالت، پس منظر، اہداف، مطالبات اور کامیابی
رابطہ المدارس العربیہ پاکستان کے صدر مولانا عبد المالک خاں نے کہا کہ اس پروگرام کے انعقاد پر مبارک باد پیش کرتا ہوں۔ رابطہ کے تمام مدارس آپ کے ساتھ ہیں۔
اخبار فروش یونین کے صدر ٹکا خاں نے کہا کہ والی دو جہاں ﷺ کی ذات گرامی کے لئے ضرورت پڑی تو میں پہلی گولی کھانے کے لئے تیار ہوں۔ اٹھارہ کروڑ عوام اس سلسلہ میں آپ کے ساتھ ہیں۔
جناب مہتاب عباسی ایڈیٹر روزنامہ اوصاف نے کہا کہ میں سب سے پہلے آپ لوگوں کو مبارک باد پیش کرتا ہوں۔ آج کل میڈیا پر این جی اوز کے افراد ایسے دلائل پیش کرتے ہیں۔ ان کا مقابلہ ہر محاذ پر کرنا چاہئے۔ میں اور میرا ادارہ فرنٹ لائن پر ہوں گے۔
منہاج القرآن علماء کونسل کے سید فرحت حسین شاہ نے کہا کہ ٹی وی چینلز کا بھر پور جواب دینا چاہئے۔ ادارہ منہاج القرآن اس تحریک میں آپ کے شانہ بشانہ ہے۔
مجلس احرار اسلام کے راہنما مولانا سید عطاء المومن شاہ بخاری نے فرمایا۔ عظیم تر مقصد کے لئے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام مؤقر اجلاس انعقاد پذیر ہے۔ اس اعلیٰ ترین مقصد کے لئے جو تجاویز پیش فرمائی گئیں۔ اس کی تائید کرتے ہیں جب اسلام دشمن طاقتیں کسی وقت اپنے موقف سے باز نہیں آسکتیں تو ہم اپنے موقف سے پیچھے کیوں ہٹیں۔ انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) کو کھل کر میدان میں آنا چاہئے۔ بے شمار اختلافات کے باوجود امت مسلمہ کے لئے حضور ﷺ کی ذات گرامی باعث اتحاد ہے۔
میڈیا کی غلط فہمی دور کرنے کے لئے ہم حاضر ہیں۔ اس سلسلہ میں قرآن وحدیث اور فقہ اسلامی میں بے شمار دلائل موجود ہیں۔ گستاخ رسول کی سزا چودہ سو سال سے سزائے موت چلی آرہی ہے۔ جس میں کسی صورت میں تغیر وتبدیلی کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔
مولانا محمد احمد لدھیانوی صدر اہل سنت والجماعت نے فرمایا کہ جو تجاویز اور پروگرام دیئے گئے ہیں۔ اس اہم عنوان پر کسی کو اختلاف نہیں ہو سکتا۔ انہوں نے کہا کہ لانگ مارچ کی کال اور پارلیمنٹ کا محاصرہ کرنے کی کال بھی دی جائے۔ وزیر اعظم جو خیر سے سید ہیں اس عنوان پر وہ پیغمبر ﷺ کے ساتھ ہیں یا امریکہ کے ساتھ ہیں۔ انہیں
باب ششم : تحریک ناموس رسالت، پس منظر، اہداف، مطالبات اور کامیابی
وضاحت کرنی ہوگی۔ گورنر پنجاب کو وقت دیا جائے۔ بعد میں معزولی کے احتجاج کا اعلان بھی کرنا چاہئے۔ یہ اتحاد اتنا مضبوط ہونا چاہئے جو حکومت کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر دے۔
جناب قاضی حسین احمد نے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کا شکریہ ادا کیا کہ اس نے امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ کی یاد تازہ کر دی۔ جو تمام مکاتب فکر کو ساتھ لے کر چلتے تھے۔ انہوں نے شیخ الحدیث مولانا عبدالمجید لدھیانوی مدظلہ کو مبارک باد دی۔ انہوں نے کہا کہ دین اور سیاست سے علیحدگی اختیار نہیں کی جا سکتی۔
انہوں نے کہا کہ تحفظ ناموس رسالت کا تقاضا پورے نظام کو آپ ﷺ کے فرامین مبارکہ کے تابع کرنا چاہئے۔ کافرانہ نظام کے خلاف جدوجہد اور اتحاد کی ضرورت ہے۔ یہی ختم نبوت اور ناموس رسالت کے تحفظ کا تقاضا ہے۔ اسی طرح نظام مصطفیٰ کے نفاذ کی کوشش کرنی چاہئے۔
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی نائب امیر ڈاکٹر مولانا عبدالرزاق سکندر نے فرمایا کہ آج کا یہ اجتماع اس بات کا ثبوت ہے کہ ہم ایک امت ہیں۔ علماء کرام امت میں اتحاد و اتفاق پیدا کریں۔ قادیانیت کے مسئلہ میں امت کے اتحاد نے حکمرانوں کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر دیا۔ آج بھی انشاء اللہ العزیز امت کا اتحاد انہیں مجبور کر دے گا۔ حکمرانوں سے کہتا ہوں کہ وہ بھی مسلمان ہیں اور حضور ﷺ کی شفاعت کے متمنی ہیں۔ تو واضح اعلان کر دیجئے کہ اس قانون کو نہیں چھیڑا جائے گا۔ میڈیا والوں کو معلوم ہونا چاہئے کہ برائی کا تعاون کرنا برائی ہے۔ لہٰذا وہ توہین رسالت کرنے کو ہلہ شیری نہ کریں۔ میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی طرف سے تمام نمائندین و شرکاء اجلاس کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔
تحریک اسلامی کے قائد علامہ ساجد نقوی نے کہا کہ ناموس رسالت کے تحفظ کے لئے مجلس تحفظ ختم نبوت نے مثبت سوچ رکھنے والوں کو اکٹھا کیا ہے۔ لائق تبریک ہے۔ سیکولر طبقہ ایک منصوبہ بندی کے ساتھ کھڑا ہوا ہے۔ ہم ان کا راستہ روکیں گے۔ کچھ واقعات کو بہانہ بنا کر قانون ختم کرنے کے لئے نیا آغاز کیا جا رہا ہے۔ ہمیں مذاکرات کے لئے دروازہ کھلا رکھنا چاہئے۔ اگر حکمران وعدہ کریں کہ قانون میں ترمیم و تنسیخ نہیں کریں گے تو تحریک کی ضرورت نہ رہے گی۔ انہوں نے کہا کہ ہم تمام تجاویز کی حمایت کرتے ہیں۔
باب ششم تحریک ناموس رسالت، پس منظر، اہداف، مطالبات اور کامیابی
مولانا عبدالعزیز حنیف سینیئر نائب صدر مرکزی جمعیت اہل حدیث نے مجلس کو ہدیہ تبریک پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ اس احتجاج کا یقیناً کوئی نہ کوئی نتیجہ ضرور نکلے گا۔ ان تمام پروگراموں میں مرکزی جمعیت اہل حدیث (ساجد میر) ہراول دستہ کا کردار ادا کرے گی۔
مولانا سمیع الحق نے فرمایا کہ پوری امت کا اتحاد لائق تبریک ہے اور مجلس تحفظ ختم نبوت کی کوشش یہ حضور ﷺ کا اعجاز ہے۔ پوری کوشش کی جارہی تھی کہ امت ٹکڑیوں میں بٹ جائے۔ لیکن حضور ﷺ نے ہمیں اکٹھا کر دیا۔ پارلیمنٹ، عدالت عالیہ اور عدالت عظمیٰ کو کوئی حق حاصل نہیں کہ ناموس رسالت کے خلاف کوئی فیصلہ دے۔ اصل مسئلہ اسلامی تشخص کو مٹانا ہے۔ ہماری پالیسیاں ہماری نہیں ہم استعمار کے غلام ہیں۔ مغربی ایجنڈا نا کام ہوگا۔ حکومت ناکامی کے کنارے پر پہنچ چکی ہے۔ اگر حکمرانوں نے کوئی ایسا فیصلہ کیا تو حکومت کا آخری دن ہوگا۔ پوری امت کا مغز جمع ہے۔ استعماری قوتوں کی سازشوں کا توڑ پیدا کیا جائے۔
جماعت اسلامی کے امیر سید منور حسن نے کہا کہ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت نے اس بزم کو آراستہ و پیراستہ کیا ہے۔ ہمیں اپنی کوتاہیوں اور غفلتوں کا جائزہ لینا چاہئے۔ میڈیا کی بحثوں اور مکالموں میں مدلل گفتگو ضروری ہے۔ پروپیگنڈہ کے حوالہ سے اعداد و شمار جمع کئے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ ۱۹۸۶ء سے لے کر اب تک ۹۶۴ مقدمات درج ہوئے ہیں۔ جن میں سے ۴۷۹ مسلمانوں کے خلاف درج ہوئے۔ ۳۴۰ کا تعلق قادیانیوں سے ہے۔ ۱۱۹ کا تعلق عیسائیوں سے ہے۔ ۱۴ کا ہندوؤں سے ہے۔ ۱۰ دیگر مذاہب سے تھا۔ کسی بھی کیس میں آج تک سزا پر عملدرآمد نہیں ہوا۔ تجاویز کو ری وزٹ کرنے کی ضرورت ہے۔ حکمت عملی کے بارہ میں سوچنا چاہئے۔ میدان عمل میں اترنے کا یہی وقت ہے اور تحریک پر امن، دیرپا اور دور تک چلنی چاہئے۔
حضرت مولانا سلیم اللہ خان مدظلہ نے دعا کے ذریعہ پہلی نشست کا اختتام کیا۔
دوسری نشست بعد نماز ظہر منعقد ہوئی۔ جس میں مولانا قاری محمد حنیف جالندھری نے اعلامیہ پیش کیا۔ (جو قاری صاحب کے مضمون میں شامل اور شریک اشاعت ہے) آخر میں مولانا فضل الرحمٰن نے پریس بریفنگ میں کانفرنس کے فیصلوں کا اعلان کیا۔ انہوں نے کہا کہ:
ناموس رسالت کے تحفظ کی جنگ ہر فورم پر لڑی جائے گی۔ حکمران اپنے موقف کا واضح اعلان کریں۔ ورنہ ذلت آمیز انجام کے لئے تیار ہو جائیں۔ تحریک ناموس رسالت
باب ششم: تحریک ناموس رسالت ، پس منظر ، اہداف ، مطالبات اور کامیابی
کے مرکزی کنونر ڈاکٹر محمد زبیر ہوں گے۔ مرکزی کمیٹی، صوبائی، ضلعی اور مقامی سطح پر کمیٹیاں قائم کرے گی۔
پورے ملک میں ۲۴ دسمبر کو احتجاج ہوگا اور مظاہرے کئے جائیں گے۔
۳۱ دسمبر کو ملک بھر میں عام ہڑتال کی جائے گی۔
۹ جنوری کو کراچی میں فقید المثال مظاہرہ ہوگا اور آئندہ کا لائحہ عمل طے کیا جائے گا۔ ناموس رسالت کے قانون میں تبدیلی کی کسی کو اجازت نہیں دیں گے۔ پارلیمنٹ کے فلور پر ان کا بھر پور تعاقب کیا جائے۔ تمام تاجر برادری سے اپیل ہے کہ وہ آج کے اس نمائندہ اجتماع کی اپیل پر لبیک کہیں اور ۳۱ دسمبر کو شٹر ڈاؤن کریں۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے امیر مرکزیہ حضرت مولانا عبدالمجید لدھیانوی دامت برکاتہم نے اختتامی دعاء فرمائی۔
۱۵ دسمبر ۲۰۱۰ء کی کامیاب آل پارٹیز ناموس رسالت کانفرنس کی عظیم الشان کامیابی کے بعد تحریک کے کنونیئر صاحبزادہ ابوالخیر محمد زبیر حفظہ اللہ نے آئندہ لائحہ عمل کا اعلان ایک سرکلر کی صورت میں جاری فرمایا۔ جو کہ پیش خدمت ہے۔
باب ششم: تحریک ناموس رسالت، پس منظر، اہداف، مطالبات اور کامیابی
تحریک ناموس رسالت کا سرکلر!
محترمی ومکرمی جناب ................................................ صاحب السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
حکومت تحفظ ناموس رسالت کے قانون کو ختم کرنے یا اس میں ترمیم کر کے اسے غیر مؤثر کرنے کی جو مذموم کوشش کر رہی ہے۔ اس کے خلاف مشترکہ لائحہ عمل ترتیب دینے کے لئے سب سے پہلے جمعیت علمائے پاکستان نے ۳۰؍نومبر ۲۰۱۰ء بروز منگل کراچی میں میں ”آل پارٹیز تحفظ ناموس رسالت کانفرنس“ منعقد کی۔ جس میں ملک کی مختلف اہم دینی و سیاسی جماعتوں کے مرکزی رہنماؤں نے شرکت کی اور اس مذموم سازش کے خلاف مشترکہ جدوجہد کرنے کا اعلان کیا اور طے پایا کہ آئندہ اجلاس اسلام آباد میں رکھا جائے گا جس میں مزید پارٹیوں کو بھی دعوت دی جائے اور پانچوں مدارس کے جو وفاق ہیں ان کے سربراہوں کو بھی دعوت دی جائے۔
چنانچہ ۱۲؍دسمبر ۲۰۱۰ء بروز اتوار مرکزی جماعت اہل سنت کی سپریم کونسل کے چیئر مین حضرت پیر محمد عتیق الرحمٰن مجددی صاحب کی طرف سے ”آل پارٹیز تحفظ ناموس رسالت کانفرنس“ راولپنڈی میں بلوائی گئی جس میں ملک کی تمام دینی جماعتوں کے علاوہ پانچوں مدارس کے وفاقوں کے سربراہوں نے بھی شرکت کی اور حکومت توہین رسالت قانون کو منسوخ کرنے یا اس کی سزا کو منسوخ کرنے یا اس میں ترمیم کرنے کا جو مذموم ارادہ کر رہی ہے اس کے خلاف تحریک چلانے کے لئے ”تحریک ناموس رسالت“ کے نام سے بالاتفاق ایک متفقہ پلیٹ فارم تشکیل دیا گیا اور یہ بھی طے کیا کہ اس کے کنوینر صاحبزادہ محمد زبیر ہوں گے اور ایک مرکزی کمیٹی بھی تشکیل دی گئی جس میں ”تحریک ناموس رسالت“ میں شامل جماعتوں نے اپنی اپنی پارٹیوں کی طرف سے مندرجہ ذیل نمائندوں کے نام دیئے۔ مولانا عبدالغفور حیدری جمعیت علمائے اسلام ف، جناب لیاقت بلوچ جماعت اسلامی، مولانا عبدالرؤف فاروقی جمعیت علمائے اسلام س، جناب رانا محمد شفیق پسروری جمعیت اہلحدیث، جناب سکندر عباس گیلانی تحریک اسلامی، مولانا عزیز الرحمٰن ثانی عالمی
باب ششم : تحریک ناموس رسالت ، پس منظر ، اہداف ، مطالبات اور کامیابی
مجلس تحفظ ختم نبوت ، مولانا محمد شریف سرکی صاحب مرکزی جماعت اہل سنت۔
اس کے بعد عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی طرف سے ”آل پارٹیز تحفظ ناموس رسالت کانفرنس“ ۱۵؍ دسمبر ۲۰۱۰ء بروز بدھ اسلام آباد میں منعقد ہوئی۔ اس میں صدر مجلس، جمعیت علمائے اسلام (ف) کے امیر مولانا فضل الرحمن صاحب نے اپنے صدارتی خطاب میں جن متفقہ فیصلوں کا اعلان فرمایا۔ وہ یہ ہیں:
- (۱)...... ناموس رسالت کے تحفظ کے لئے کسی قربانی سے دریغ نہیں کیا جائے گا۔ پیغمبر
اسلام ﷺ اور تمام انبیائے کرام علیہم السلام کی ناموس کی جنگ ہر فورم پر لڑی جائے گی۔ حکمران اپنی پوزیشن واضح کریں۔ ورنہ ذلت آمیز انجام کے لئے تیار ہو جائیں۔
- (۲)...... تحریک ناموس رسالت کی مرکزی کمیٹی کے سربراہ صاحبزادہ محمد زبیر صاحب ہوں گے۔
- (۳)...... کمیٹی اس بات کا انتظام کرے گی کہ صوبائی اور ضلعی سطح تک تحریک کو لے جانے
کے لئے ذیلی کمیٹیاں تشکیل دی جائیں۔
- (۴)...... ۲۴؍ دسمبر ۲۰۱۰ء بروز جمعتہ المبارک کو پورے ملک میں مساجد کی سطح پر مظاہرے
ہوں گے۔
- (۵)...... ۳۱؍ دسمبر ۲۰۱۰ء بروز جمعتہ المبارک کو پورے ملک میں ہڑتال ہوگی۔
- (۶)...... ۹؍ جنوری ۲۰۱۱ء بروز اتوار کو کراچی میں عظیم الشان احتجاجی جلسہ عام ہوگا۔ جس
میں تحریک ناموس رسالت کے مرکزی قائدین خطاب فرمائیں گے۔ اس اعلان کی روشنی میں تحریک میں شامل تمام جماعتوں سے گزارش ہے کہ وہ اپنی صوبائی اور ضلعی تنظیموں کو ہدایات جاری فرما دیں کہ تحریک ناموس رسالت میں شامل تمام جماعتوں کے اجلاس منعقد کرکے احتجاجی پروگراموں کو ترتیب دیں اور علماء و مشائخ ، آئمہ و خطباء، تاجر اور دیگر مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والی معزز شخصیات اور اہم تنظیموں سے رابطے کرکے مندرجہ بالا احتجاجی پروگراموں کو کامیاب کرنے کی کوشش کریں۔
(صاحبزادہ محمد زبیر سربراہ تحریک ناموس رسالت)
☆☆☆☆☆☆......☆☆☆☆☆☆
باب ششم :
عالمی مج
ممبر
☆ ...... عالمی مجلس تح کلیدی کردار ادا کیا۔ مجل اسلام آباد تحریک کی منعقد کیں ریلیاں کے قائدین کی طرف سے ارسال کیا گیا جو پیش خدمت محترمی و مکرمی جناب آپ سے بہتر کو کے تحفظ کا مسئلہ مسلمانوں گستاخی انسان کو دارین کی قرآن و احادیث کے واض کا مرتکب سزائے موت کا متفق ہیں۔ پاکستان میں سزا مقرر کی گئی ہے۔ حال ہی میں آسی خاتون نے آنحضرت ﷺ کی ملزم ثابت کیا، پرچہ درج ہوا، چالان اور خود ملزمہ کے اعتراف
باب ششم: تحریک ناموس رسالت، پس منظر، اہداف، مطالبات اور کامیابی
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی طرف سے
ممبران سینٹ و اسمبلی کے نام خط
☆...... عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی طرف سے ناموس رسالت کے تحفظ کی اس تحریک میں کلیدی کردار ادا کیا۔ مجلس کے زیر اہتمام منعقد ہونے والی آل پارٹیز ناموس رسالت کانفرنس اسلام آباد تحریک کی بنیاد بنی۔ مجلس کے مبلغین نے ملک بھر میں سیمینار، جلسے جلوس، کانفرنسیں منعقد کیں ریلیاں نکالیں لاکھوں کی تعداد میں ہینڈ بل تقسیم کئے۔ نیز عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے قائدین کی طرف سے چاروں صوبائی اسمبلیوں قومی اسمبلی اور سینٹ کے ممبران کے نام خط ارسال کیا گیا جو پیش خدمت ہے۔
محترمی و مکرمی جناب........................................................ السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
آپ سے بہتر کون اس بات کو جانتا ہے کہ آنحضرت ﷺ کی عزت و ناموس کے تحفظ کا مسئلہ مسلمانوں کے ایمان کا حصہ ہے۔ آنحضرت ﷺ کی شان میں ادنیٰ سی گستاخی انسان کو دارین کی فلاح سے محروم اور ابدی عذاب و شقاوت کا مستحق بنا دیتی ہے۔ قرآن و احادیث کے واضح احکام اور صحابہؓ و تابعینؒ کے فیصلوں کی روشنی میں توہین رسالت کا مرتکب سزائے موت کا مستحق ہے۔ یعنی اس مسئلہ پر تمام صحابہؓ و تابعینؒ اور فقہائے امت متفق ہیں۔ پاکستان میں سینیٹ اور ممبران قومی اسمبلی کی متفقہ منظوری سے گستاخ رسول کی سزا مقرر کی گئی ہے۔
حال ہی میں آسیہ مسیح نامی خاتون کا کیس بہت شہرت حاصل کر گیا ہے۔ اس خاتون نے آنحضرت ﷺ کی اہانت کا ارتکاب کیا۔ پنچایت، پولیس کی انکوائری نے اسے ملزم ثابت کیا، پرچہ درج ہوا، سیشن جج نے کیس کی سماعت کی، گواہان کے بیانات، مقدمہ کا چالان اور خود ملزمہ کے اعتراف کے بعد عدالت نے اسے مجرم قرار دے کر سزا سنائی۔ ہائی
باب ششم: تحریک ناموس رسالت، پس منظر، اہداف، مطالبات اور کامیابی
کورٹ میں اس فیصلہ کے خلاف مجرمہ نے اپیل دائر کر رکھی ہے۔ اس کی سماعت ابھی شروع نہیں ہوئی، اگر ہائی کورٹ کا فیصلہ مجرمہ کے خلاف ہوا تو سپریم کورٹ میں اس فیصلہ کے خلاف اپیل کا مرحلہ باقی ہے۔ سپریم کورٹ کا فیصلہ اگر خلاف ہو جائے تو بھی مجرمہ سپریم کورٹ کے فیصلہ کے خلاف نظر ثانی کی درخواست کا حق رکھتی ہے۔ ابھی تمام تر یہ عدالتی طریق کار باقی ہیں۔ ان سب کو نظر انداز کر کے ملعونہ آسیہ کے ہاں جیل میں گورنر پنجاب گئے اور اس گستاخ رسول کو بچانے اور صدر سے معافی دلوانے کی جدوجہد شروع کردی۔ اس کیس کی آڑ میں ایک رکن قومی اسمبلی نے اس قانون کو ختم کرنے یا تبدیل کرنے کا بل قومی اسمبلی میں جمع کرا دیا ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ صدر پاکستان نے توہین رسالت کا قانون ختم کرنے کی یقین دہانی کرا دی ہے۔ وفاقی وزیر برائے اقلیتی امور شہباز بھٹی بھی اعلان کر چکے ہیں کہ اگلے سال یہ قانون ختم کر دیا جائے گا۔ غیر ملکی دباؤ اور این جی اوز کی پشت پناہی کے تناظر میں شدید اندیشہ پیدا ہو گیا ہے کہ کسی وقت بھی قانون تحفظ ناموس رسالت کو ختم کرنے کی سازش تکمیل کو پہنچ سکتی ہے۔ ملکی اخبارات و رسائل میں مذہبی و سیاسی جماعتوں کے راہنماؤں اور عوام الناس کا ردعمل بھی آپ ملاحظہ فرما رہے ہیں۔ اس قانون کی اہمیت و افادیت اور مسلمانوں کے ہاں اس بارے میں حساسیت سے بھی آپ یقیناً آگاہ ہوں گے۔
ان حالات میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی طرف سے آپ کی خدمت میں گزارش ہے کہ محمد عربی ﷺ کی عزت و ناموس کی حفاظت کے لئے اپنا بھر پور کردار ادا کیجئے، اسلام دشمن اور گستاخان رسول کی سازشوں کو ناکام بنا دیجئے، امت مسلمہ کی نگاہیں آپ کی طرف اٹھی ہوئی ہیں، محبوب رب کائنات ﷺ کی عزت و عظمت کے دفاع کے لئے آگے بڑھئے۔ امید ہے کہ آپ اپنی خداداد صلاحیتوں کو پیغمبر ﷺ کی عزت و ناموس کے تحفظ کے لئے صرف کر کے آخرت میں شفاعت محمدی کے حق دار بنیں گے۔
والسلام
(شیخ الحدیث مولانا) عبدالمجید لدھیانوی (مولانا ڈاکٹر) عبدالرزاق اسکندر (مولانا) صاحبزادہ عزیز احمد امیر مرکزیہ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت نائب امیر مرکزیہ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت نائب امیر مرکزیہ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت
☆☆☆☆☆☆☆.......☆☆☆☆☆☆☆
خیبر پختونخوا اسمبلی میں توہین رسالت
مانسہرہ سے جمعیت علماء اسلام اسمبلی میں ۷ جنوری بروز جمعہ تحفظ ایک قرارداد صوبائی اسمبلی میں پیش کی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا تاریخ میں ایک تاریخی اور مبارک قرارداد منظور کرنے کا اعزاز حاصل شکریہ ادا کرتا ہوں کہ انہوں نے ا اس سے بڑھ کر اعزاز کوئی نہیں کہ قرارداد میں کہا گیا ہے ہے کہ مرکزی حکومت سے سفارش موجودہ قانون میں ممکنہ اور مجوزہ تر ہمیشہ کے لئے مسلمانوں کے لئے کے مسلمانوں نے بے حد اضطراب ناہمواری، بیروزگاری اور مہنگائی کی ہے تا کہ عوام کے ان مسائل پر قابو تبدیلی نہ کی جائے اور یہ صوبائی اس کمیٹی کا سربراہ غیر مسلم نہیں ہونا چا قرارداد پیش ہونے پر ایوان سے رائے لی۔ تمام ارا خیبر پختونخواہ کی صوبائی اسمبلی نے
رہم، اہداف، مطالبات اور کامیابی ہے۔ اس کی سماعت ابھی شروع پریم کورٹ میں اس فیصلہ کے یف ہو جائے تو بھی مجرمہ سپریم تی ہے۔ ابھی تمام تر یہ عدالتی کے ہاں جیل میں گورنر پنجاب کی جدوجہد شروع کر دی۔ اس نے یا تبدیل کرنے کا بل قومی نے توہین رسالت کا قانون ختم ور شہباز بھٹی بھی اعلان کر چکے ین جی اوز کی پشت پناہی کے تحفظ ناموس رسالت کو ختم کرنے مذہبی و سیاسی جماعتوں کے ہیں۔ اس قانون کی اہمیت و کی آپ یقیناً آگاہ ہوں گے۔ ف سے آپ کی خدمت میں کے لئے اپنا بھر پور کردار ادا کیجئے، امت مسلمہ کی نگاہیں عظمت کے دفاع کے لئے کی عزت و ناموس کے روئیں گے۔
(مولانا) صاحبزادہ عزیز احمد ب امیر مرکزیہ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت
☆☆☆
خیبر پختونخواہ اسمبلی میں توہین رسالت کے قانون میں ترمیم نہ کرنے کی پیش کردہ قرارداد متفقہ منظور مانسہرہ سے جمعیتہ علماء اسلام کے رکن صوبائی اسمبلی مفتی کفایت اللہ نے خیبر پختونخواہ اسمبلی میں ۷ جنوری بروز جمعہ تحفظ ناموس رسالت قانون میں ترمیم و تنسیخ نہ کرنے کے سلسلے میں ایک قرارداد صوبائی اسمبلی میں پیش کی۔ مفتی کفایت اللہ نے قرارداد پیش کرنے سے قبل اسمبلی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آج ۷ جنوری جمعۃ المبارک کا مبارک دن صوبائی اسمبلی کی تاریخ میں ایک تاریخی اور مبارک دن ہے کہ ہماری اسمبلی ناموس رسالت میں تبدیلی نہ کرنے کی قرارداد منظور کرنے کا اعزاز حاصل کر رہی ہے۔ میں اسمبلی میں موجود تمام پارلیمانی لیڈروں کا شکریہ ادا کرتا ہوں کہ انہوں نے اس قرارداد کو متفقہ حیثیت دلانے میں تعاون کیا اور میرے لئے اس سے بڑھ کر اعزاز کوئی نہیں کہ میں اس قرارداد کا محرک اور پیش کرنے والا ہوں۔
قرارداد میں کہا گیا ہے کہ یہ ایوان اس امر کا اعزاز حاصل کرنے کا شرف حاصل کر رہا ہے کہ مرکزی حکومت سے سفارش کرتا ہے کہ تحفظ ناموس رسالت جیسے حساس اور نازک مسئلے پر موجودہ قانون میں ممکنہ اور مجوزہ ترمیم یا تنسیخ سے مکمل اجتناب کرے اور چونکہ ناموس رسالت ہمیشہ کے لئے مسلمانوں کے لئے حساس اور نازک مسئلہ رہا ہے اور موجودہ صورتحال میں پاکستان کے مسلمانوں نے بے حد اضطراب بھی پایا جاتا ہے کیونکہ اس وقت دہشت گردی، معاشرتی ، ناہمواری، بے روزگاری اور مہنگائی کی وجہ سے تمام سیاسی اور مذہبی جماعتوں کے اتحاد کی سخت ضرورت ہے تا کہ عوام کے ان مسائل پر قابو پایا جا سکے۔ اس لئے ناموس رسالت کے قانون میں کسی قسم کی تبدیلی نہ کی جائے اور یہ صوبائی اسمبلی مرکزی حکومت سے مطالبہ کرتی ہے کہ اس قانون سے متعلق کمیٹی کا سربراہ غیر مسلم نہیں ہونا چاہیے تا کہ اس کے حقیقی روح کے مطابق اس پر عمل ہو سکے۔
قرارداد پیش ہونے کے بعد سپیکر پختونخواہ اسمبلی کرامت اللہ خان ...... نے قرارداد پر ایوان سے رائے لی۔ تمام اراکین نے ہاتھ کھڑا کر کے اس قرارداد کی حمایت کی اور اس طرح خیبر پختونخواہ کی صوبائی اسمبلی سے ناموس رسالت سے متعلق قرارداد متفقہ طور پر منظور ہوئی۔
ماہنامہ ”الجمعیة“ فروری ۲۰۱۱ء ص ۳۵
باب ششم: تحریک ناموس رسالت، پس منظر، اہداف، مطالبات اور کامیابی
تحریک ناموس رسالت ﷺ کے حقیقی مطالبات
- ☆....... تحریک تحفظ ناموس رسالت کی اپیل پر پوری قوم نے لبیک کہتے ہوئے 31 دسمبر
2010ء کو ملک بھر میں شٹر ڈاؤن ہڑتال کی اور اس عزم کا اظہار کیا کہ تمام مطالبات تسلیم ہونے تک تحریک جاری رہے گی۔ جناب سجاد وسیم رانا مطالبات کی تائید میں لکھتے ہیں۔
31 دسمبر کو ہونے والی ہڑتال سے پہلے وفاقی وزراء خورشید شاہ، صمصام علی بخاری، اور بابر اعوان نے یہ اعلان کیا کہ حکومت توہین رسالت کے قانون میں تبدیلی نہیں چاہتی، جس کے جواب میں تحریک ناموس رسالت کی قیادت نے اس وضاحت کو مسترد کر کے مندرجہ بالا چار مطالبات کئے ہیں، تاکہ حکومت کا اخلاص واضح ہو۔
تحریک ناموس رسالت کی قیادت کے حکومت کے متعلق تحفظات کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ ہڑتال کے موقع پر وفاقی وزراء میں سے بابر اعوان وغیرہ ہی نے اسے ایک متحدہ مجلس عمل کی بحالی اور دوسرا اس کے سیاسی استعمال کی باتیں کیں، لیکن حکومت کے نفس ناطقہ وزیر اطلاعات قمر الزمان کائرہ تبدیلی نہ چاہنے کی بات کے ساتھ ساتھ آسیہ ملعونہ کی معافی کا آپشن بھی موجود ہونے کا اعلان کیا، جس سے معلوم ہوتا ہے کہ حکومت صرف ہڑتال ناکام بنانا چاہتی تھی ورنہ وہ مغربی ایجنڈے ہی کو آگے بڑھانا چاہتی ہے، جس کا ثبوت یہ ہے کہ آج تک صدر یا وزیر اعظم کی طرف سے اس سلسلے میں کوئی بیان سامنے نہیں آیا ہو سکتا ہے 9 جنوری کے اقدام کے نزدیک یا اس کے بعد اس کا اعلان کر دیا جائے، خدا کرے ایسا ہی ہو مگر حالات و واقعات بتاتے ہیں کہ آقاؤں کے دباؤ کے تحت وہ ایسا نہیں کریں گے۔
شیریں رحمان کا بل واپس لینے، گورنر پنجاب کے خلاف کارروائی کرنے اور وزیر اقلیتی امور کی قیادت میں قائم کمیٹی کے خاتمے میں کون سے امور مانع ہیں؟ ہر ذی شعور کے علم میں ہیں، حکومتی بزرجمہرو! یہ سیاسی نہیں، ایمان کا معاملہ ہے، اس لیے ناموس رسالت کے ایشو پر پوری قوم متحد
باب ششم: تحریک ناموس رسالت، پس منظر، اہداف، مطالبات اور کامیابی
نظر آئی، ہڑتال کی کامیابی نے اس بات کا ثبوت دے دیا ہے، یہ قوم کی طرف سے ان حلقوں اور ان کے آقاؤں کو واضح پیغام ہے کہ وہ سب کچھ برداشت کر سکتے ہیں لیکن ناموس رسالت کے حوالے سے کوئی اشارہ اور کنایہ بھی ان کے لئے قابل برداشت نہیں، ہڑتال میں قوم نے جس یکسوئی کا مظاہرہ کیا وہ اس کی مثال ہے، مغربی ایجنڈے پر عمل پیرا وہ قوتیں جو پچھلے کچھ عرصہ سے فرقہ واریت کو ہوا دینے میں مصروف تھیں انہیں بادل نخواستہ اپنا طرز عمل بدلنے ہی بنی۔
چاروں صوبوں میں بے مثال اتحاد و اتفاق کا مظاہرہ
توہین رسالت کے قانون میں ترمیم کے خلاف قوم نے یہ ثابت کر دیا کہ وہ ناموس رسالت میں دیوبندی، بریلوی، اہل حدیث سب ایک ہیں اگر کوئی ان میں اختلافات کو ہوا دینے کی کوشش کرے گا وہ قوم کے اعتماد سے محروم ہو جائے گا، چاروں صوبوں بشمول گلگت، بلتستان اور آزاد کشمیر میں پوری قوم نے اس مسئلے پر رنگ و زبان، قومی و گروہی، سیاسی اور مسلکی تعصبات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے بے مثال اتحاد و اتفاق کا مظاہرہ کیا، پاکستان کی دو بڑی سیاسی پارٹیوں مسلم لیگ ن اور پاکستان پیپلز پارٹی کی قیادت کی طرف سے مشکوک طرز عمل کے باوجود نچلی سطح پر نہ صرف ان دو جماعتوں کی مقامی قیادت، کارکنان، اور اراکین قومی اسمبلی نے تحریک ناموس رسالت کے پلیٹ فارم پر آ کر قوم کا ساتھ دیا، بلکہ دوسری جماعتوں کی بھی یہی صورت حال رہی، عوام کے موڈ کو دیکھتے ہوئے حکمران پارٹی اور اپوزیشن دونوں کے اراکین اسمبلی اور جماعتی عہدیداران نے احتجاجی مظاہروں میں نہ صرف بھر پور شرکت کی بلکہ قوم کو یہ یقین دلایا کہ ان کی قیادت نے ناموس رسالت کے قوانین کے خلاف کوئی اقدام کیا تو وہ اپنی قیادت کی بجائے نہ صرف عوام کے ساتھ کھڑے ہوں گے بلکہ ضرورت پڑی تو وہ پارٹی رکنیت سے بھی الگ ہونے میں دیر نہیں لگائیں گے۔
پاکستان میں ایسی کئی مثالیں موجود ہیں کہ ایسے مواقع پر کسی بھی شخص نے قربانیوں سے دریغ نہیں کیا۔ 1953ء اور 1974ء میں تحفظ ختم نبوت کی تحریکیں اس کی نظیر ہیں، 1977ء میں تحریک نظام مصطفیٰ ﷺ کے نام پر بھی پوری قوم سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن گئی تھی مگر قیادت
باب ششم: تحریک ناموس رسالت، پس منظر، اہداف، مطالبات اور کامیابی نے قومی امنگوں کو پس پشت ڈالتے ہوئے انتشار و افتراق کے ذریعے سب کچھ ضائع کر دیا، پاکستانی قوم کی یہی ادا شاید اللہ کو پسند ہے، اس لئے وہ ڈوبتے ڈوبتے ابھرنے لگتی ہے، سقوط مشرقی پاکستان کے بعد کون سوچ سکتا تھا کہ پاکستان ایک بار پھر سر اٹھا کر کھڑا ہو گا مگر اللہ نے اسے ایٹمی قوت سے نواز کر اس کے دشمنوں کو پسپائی پر مجبور کر دیا، روسی استعمار کے خلاف افغان جنگ میں اسلامیان پاکستان نے مدینہ کے انصار کی نہ صرف سنت زندہ کی بلکہ مہاجرین کے ساتھ مل کر فتح مکہ کی یاد فتح افغانستان کی صورت میں تازہ کی اور روسی استعمار کو بھاگتے ہی بنی، نائن الیون کے ڈرامے کے بعد دہشت گردی کے خلاف نام نہاد جنگ میں بے گھر ہونے والوں، زلزلے اور سیلاب کی افتادوں کے باعث دربدر ہونے والوں کے لئے پاکستان کی پوری قوم نے یکجہتی کا مظاہرہ کرتے ہوئے دامے درمے سخنے لوگوں کی مدد کی، اشیاء ضرورت اور لباس سمیت جن اشیاء کی اپنے گھر میں بے گھر ہونے والوں کی جو ضرورتیں تھیں، وہ اپنی بساط کے مطابق پوری کیں۔
پوری قوم ناموس رسالت کے ایشو پر یکسو
یہ منظر نامہ بتانے کے لئے کافی ہے یہ قوم ناموس رسالت کے ایشو پر مکمل یکسو ہے، وہ آج بھی نظریاتی محاذ پر وہیں کھڑی ہے جہاں وہ قیام پاکستان کے وقت تھی، ”پاکستان کا مطلب کیا؟ لا الہ الا اللہ“ کے نعرے میں وہ کشش تھی کہ برطانوی استعمار نہ چاہتے ہوئے بھی برصغیر کی تقسیم پر مجبور ہو گیا، نظریاتی محاذ پر پاکستانی قوم نے ہمیشہ استقامت کا مظاہرہ کیا، مہنگائی کے عفریت اور دوسری عفریتوں میں ڈسی ہوئی قوم نے عشق مصطفیٰ ﷺ کے لئے اپنی عزیز ترین چیز جان بھی قربان کرنے سے دریغ نہیں کی، غازی علم الدین اور دوسرے غازیوں کی شہادتوں کی فہرست اس کی گواہ ہے، برطانوی استعمار کو بھی اس جذبہ ایمانی کے آگے سرنڈر کرتے ہوئے توہین رسالت کرنے والوں کے لئے بھی مواخذے کا قانون بنانا پڑا، امریکن جیوش کانگریس کا وظیفہ خوار پرویز مشرف بھی اس کے لئے وقتاً فوقتاً دوسرے مغربی وظیفہ خواروں کے ہمراہ ناموس رسالت قوانین کے خاتمہ کے لئے کوشاں رہا لیکن اسے بھی ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا تو
باب ششم: جمہوری دور میں ایسا بھی ممکن نہیں ہیں تو وہ اس کے لئے کیسے ہاتھ جذبات کا اظہار کر کے اس بات کا یہ ایشو اسمبلی کے فلور پر لایا گیا تو ہونے کے باوجود پیپلز پارٹی، مسلم دار جماعتوں کے بیسوں ارکان اس ان جماعتوں کی قیا گردی کے خلاف نام نہاد جنگ سوال پر تالو سے کیوں چپکی ہوئی ٹرم کے لئے اقتدار میں آنے کے آل پارٹیز کانفرنس میں شریک گیا ہے، پیپلز پارٹی کے بانی ذوا کی بلکہ پارلیمنٹ میں متفقہ قانون کی پارٹی کا گورنر ناموس رسالت ہے اور اس کی پارٹی خاموش ہے
سلمان تاثیر کی طرف سے
گورنر پنجاب نے آ دے کر نہ صرف عدلیہ کا مذاق اڑا پارٹی پالیسی کے خلاف بیان دے خان اور دوسرے لوگوں کے خلاف یقین دہانیاں کرانے کے باوجود چاہتی اس کے خلاف بل پیش کیا
باب ششم: تحریک ناموس رسالت، پس منظر، اہداف، مطالبات اور کامیابی
جمہوری دور میں ایسا بھی ممکن نہیں، کیونکہ پارلیمنٹ میں بیٹھنے والے اگر عوام کے نمائندے کہلاتے ہیں تو وہ اس کے لئے کیسے ہاتھ اٹھا سکتے ہیں، انہوں نے نچلی سطح پر ہڑتال کے موقع پر اپنے جذبات کا اظہار کر کے اس بات کا ثبوت دے دیا ہے جس کا تذکرہ سطور بالا میں مختصراً کیا گیا ہے، یہ ایشو اسمبلی کے فلور پر لایا گیا تو ایوان میں بیٹھی جماعتوں کی قیادتوں کی طرف سے واضح پالیسی نہ ہونے کے باوجود پیپلز پارٹی، مسلم لیگ ن، مسلم لیگ ق، اور اے این پی جیسی سیکولر ازم کی دعوے دار جماعتوں کے بیسوں ارکان اسمبلی میں اس ایشو پر عوام کے ساتھ کھڑے ہوں گے۔
ان جماعتوں کی قیادتوں کا یہ رویہ المناک ہی نہیں بلکہ شرمناک بھی ہے، دہشت گردی کے خلاف نام نہاد جنگ میں ان کی دس دس گز لمبی زبانیں قانون ناموس رسالت کے سوال پر تالو سے کیوں چپکی ہوئی ہیں؟ امریکی خوف سے وہ کانپنے لگتے ہیں، مسلم لیگ جو آئندہ ٹرم کے لئے اقتدار میں آنے کے لئے خواب دیکھ رہی ہے، وہ بھی دعوت کے باوجود 15 دسمبر کی آل پارٹیز کانفرنس میں شریک نہ ہوئی، جہاں تک حکمرانوں کا تعلق ہے انہیں بھی اپنا ماضی بھول گیا ہے، پیپلز پارٹی کے بانی ذوالفقار علی بھٹو نے تحفظ ختم نبوت کے لئے نہ صرف قوم کی ترجمانی کی بلکہ پارلیمنٹ میں متفقہ قانون سازی کر کے سازشوں کے تابوت میں آخری کیل ٹھونکی، اس کی پارٹی کا گورنر ناموس رسالت کے تحفظ کے قانون کو (نعوذ باللہ) کالا قانون قرار دے رہا ہے اور اس کی پارٹی خاموش ہے۔
سلمان تاثیر کی طرف سے عدلیہ کا مذاق
گورنر پنجاب نے آسیہ ملعونہ سے جیل میں ملاقات کر کے اور اسے بے گناہ قرار دے کر نہ صرف عدلیہ کا مذاق اڑایا بلکہ آئین پاکستان کی بھی توہین کی اور اس پر فخر کا اظہار کیا، پارٹی پالیسی کے خلاف بیان دینے پر ایوان صدر حرکت میں آتا ہے اور پارٹی صفدر عباسی، ناہید خان اور دوسرے لوگوں کے خلاف ایکشن لے کر پارٹی کی رکنیت معطل کر دیتی ہے، وزراء کی یقین دہانیاں کرانے کے باوجود ”کہ حکومت قانون توہین رسالت میں کوئی تبدیلی کرنا نہیں چاہتی اس کے خلاف بل پیش کیا جا رہا ہے تو اس کے خلاف کوئی کارروائی کیوں نہیں کی جارہی؟
باب ششم: تحریک ناموس رسالت، پس منظر، اہداف، مطالبات اور کامیابی
ایسے میں وضاحتی بیان جاری کرنے سے بات نہیں بن سکتی، قوم کے مذہبی اور سیاسی قائدین کو قوم کے مزاج کے مطابق خود کو ہم آہنگ کرنا ہوگا، ورنہ انہیں نوشتۂ دیوار پڑھ لینا چاہیے کہ مستقبل میں ایسی قیادتیں نہیں رہیں گی، حکمرانوں اور دوسرے لیڈروں کو پالیسی سازی میں عوامی امنگوں کو ملحوظ رکھنا چاہیے، نظریاتی بنیادوں پر قائم ہونے والے اس ملک میں نظام مصطفیٰ ﷺ کے سوا کوئی نظام نہیں جو اس ملک کو سنوار سکے۔
توہین رسالت کے قانون میں مجوزہ ترمیم کے خلاف ملک گیر کامیاب ہڑتال کے بعد ناموس رسالت کے تحفظ کے لئے 9 جنوری 2011ء کو کراچی میں احتجاجی جلسہ کرنے اور اس میں آئندہ کا لائحہ عمل تیار کرنے کا اعلان کر رکھا ہے، اس کے لئے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت، تحریک حرمت رسول، ختم نبوت رابطہ کمیٹی کی سطح پر عوامی مہم شروع ہو چکی ہے۔
تحریک ناموس رسالت کا پلیٹ فارم
تحریک ناموس رسالت کا پلیٹ فارم تمام دینی اور سیاسی قوتوں کے لئے مہیا ہو چکا ہے، ناموس رسالت کے قومی ایجنڈے کو آگے بڑھانے کے لئے متفقہ کوششوں کی ضرورت ہے، حکومتی ارکان کی وضاحت کو مسترد کر کے تحریک ناموس رسالت نے جو چار مطالبات کیے ہیں وہ قوم کی آواز ہیں، تحریک کے مطالبات پورے نہ ہوں تو نہ صرف یہ تحریک جاری رہنی چاہیے بلکہ آئندہ کے لیے سخت اقدامات دھرنا، پارلیمنٹ کا گھیراؤ اور لانگ مارچ کئے جائیں (الحمد للہ تحریک کے تمام مطالبات تسلیم کر لئے گئے) وہ حلقے جو اسے سیاسی مسئلہ قرار دے رہے ہیں انہیں معلوم ہو کہ یہ سیاسی مسئلہ نہیں ہے مسلمانوں کے ایمان کا مسئلہ ہے جس پر کسی قسم کا کمپرومائز نہیں کیا جائے گا، عوام میں جو اس وقت جذبہ عشق رسول نظر آرہا ہے اس کے تقاضے پورے کرنا تحریک ناموس رسالت کی ذمہ داری ہے، مغربی پروپیگنڈے کا توڑ ضروری ہے، امریکی آئین میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی توہین اور ملکہ برطانیہ کی توہین کی سزا موجود ہے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی توہین کرنے والے کو سزا کیوں نہ ہو؟
(ہفت روزہ ”ضرب مومن“ کراچی 7 تا 13 جنوری 2011ء)
باب ششم: تحریک ناموس رسالت، پس منظر، اہداف، مطالبات اور کامیابی
تحفظ ناموس رسالت قانون کو نہیں چھیڑا جائے گا
(سید یوسف رضا گیلانی)
وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے ڈیرہ غازی خان میں ایک تقریب میں پاپائے روم بینی ڈکٹ کی جانب سے ”قانون انسداد توہین رسالت“ کے خاتمے اور اہانت رسول کی مرتکب مسیحی عورت آسیہ کی رہائی کے مطالبے سے متعلق صحافیوں کے سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ پہلے ہی واضح بیان دے چکا ہوں کہ تحفظ ناموس رسالت کے قانون میں کوئی ترمیم نہیں کی جائے گی اور نہ اسے تبدیل کیا جارہا ہے، اب یہ تنازع ختم ہونا چاہئے، میڈیا بھی ذمہ داری کا مظاہرہ کرے۔ انہوں نے کہا آسیہ مسیح کے ساتھ قانون کے مطابق سلوک ہوگا۔
دوسری طرف ملک بھر کے علمائے کرام اور دینی و مذہبی رہنماؤں نے رومن کیتھولک عیسائیوں کے مذہبی پیشوا بینی ڈکٹ کے مطالبے کو مسترد کرتے ہوئے اسے پاکستان کی خود مختاری اور عدالتی آزادی پر حملہ اور مسلمانوں کے دینی معاملات میں کھلی مداخلت قرار دے دیا ہے۔
تحریک تحفظ ناموس رسالت کی جانب سے انسداد توہین رسالت قانون میں ترمیم یا اسے غیر موثر کرنے کی مبینہ کوششوں کے خلاف بھر پور احتجاج ، ہڑتال اور جلسے جلوسوں کا سلسلہ شروع کئے جانے کے بعد یہ دوسرا موقع ہے جب وزیراعظم گیلانی نے یہ اعلان کردیا ہے کہ اس قانون میں کوئی ترمیم زیر غور نہیں ہے، جب کہ عیسائی پیشوا کے بیان کے ردعمل میں انہوں نے واضح کردیا ہے کہ آسیہ کے خلاف قانون کے مطابق سلوک ہوگا۔
یہ صحیح ہے کہ وزیراعظم کے بیان سے قانون توہین رسالت کے حوالے سے پائے جانے والے خدشات اور تحفظات کا کافی حد تک ازالہ ہوگیا ہے، تاہم دینی و مذہبی قائدین کا کہنا ہے کہ وزیراعظم جب تک پارلیمنٹ کے فلور پر یا قوم سے خطاب کر کے اس حوالے سے کوئی وضاحت جاری نہیں کرتے ، خدشات اور تحفظات جوں کے توں رہیں گے اور تب تک وہ
باب ششم: تحریک ناموس رسالت، پس منظر، اہداف، مطالبات اور کامیابی احتجاج اور مظاہروں کا سلسلہ بھی جاری رکھیں گے۔ وزیر اعظم کا بیان یقیناً خوش آئند ہے، تاہم ناموس رسالت کا معاملہ جس قدر حساس اور نازک ہے، اس کے پیش نظر ان کا یہ بیان یقیناً نا کافی ہے اور جب تک دینی قیادت کے مطالبے کے مطابق وزیر اعظم اسمبلی کے فلور پر پالیسی بیان نہیں دیں گے، اس سلسلے میں مسلمانوں کا اضطراب برقرار رہے گا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ احتجاج، ہڑتال، جلسے جلوسوں سے جہاں معمولات زندگی درہم برہم ہو جاتے ہیں، وہاں یہ ملکی حالات پر اثر انداز ہو کر نت نئے بحران پیدا کرنے کا سبب بھی بن جاتے ہیں وطن عزیز پہلے ہی داخلی اور خارجی سطح پر گونا گوں مسائل اور بحرانوں کا شکار ہے۔ ان حالات کا تقاضا ہے کہ ملک کو مسائل کے گرداب سے نکالنے کی فکر کی جائے اور جو جو مسائل گفت و شنید سے حل ہو سکتے ہیں، بلا تامل اس کی طرف توجہ دی جائے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ناموس رسالت کے معاملے پر پچھلے دو ماہ سے جو عوامی اضطراب احتجاجوں کی شکل میں سڑکوں پر نظر آرہا ہے، اسے معمولی مگر سنجیدہ و پر خلوص کوشش کے ذریعے آسانی سے ختم کیا جا سکتا ہے۔.......
مذہبی قیادت کی جانب سے ان وضاحتوں پر عدم اطمینان کی جو وجوہ بیان کی جارہی ہیں، انہیں بھی نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ مذہبی حلقوں کا کہنا ہے کہ اگر حکومت واقعی اس قانون سے چھیڑ چھاڑ کا ارادہ نہیں رکھتی تو صدر کی جانب سے اس قانون کے جائزے کے لئے وفاقی وزیر اقلیتی امور شہباز بھٹی کی سربراہی میں بنائی گئی کمیٹی کو تحلیل کیوں نہیں کر دیا جاتا اور وزیر اعظم کو یہی بیان جو وہ میڈیا پر دے رہے ہیں، اسمبلی کے فلور پر دینے میں کیا امر مانع ہے؟
یہاں پوپ بینی ڈکٹ کو انہیں اپنے مذہب میں جو مقام حاصل ہے، اس کے مکمل احترام کے ساتھ یہ یاد دلانا بھی مناسب ہے کہ وہ پاکستان میں موجود اقلیتی کے حقوق کی پامالی کا واویلا کرنے سے پہلے دنیا بھر کی عیسائی مملکتوں میں مسلم اقلیتوں کے ساتھ روا رکھے جانے والے سلوک پر بھی توجہ دیں جہاں مسلمانوں کے ساتھ امتیازی اور غیر منصفانہ رویہ ایک عام بات ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ جس قانون کو اقلیتوں کے سروں پر لٹکتی تلوار کہا جارہا ہے، دراصل
باب ششم: تحریک ناموس رسالت، پس منظر، اہداف، مطالبات اور کامیابی
وہی اقلیتوں کا نگہبان ہے۔ اس قانون کے مخالفین بڑے شدومد سے اس بات کا پروپیگنڈا کر رہے ہیں کہ لوگ c-295 کو اپنی ذاتی دشمنیاں چکانے کے لئے استعمال کرتے ہیں اور بے گناہ لوگوں کے خلاف اس قانون کے تحت مقدمے قائم کرتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ اگر یہ قانون نہ رہا تب لوگ کیا کریں گے؟ ظاہر ہے پھر لاقانونیت کا راج ہوگا۔ توہین رسالت کا الزام اس قدر سنگین ہے کہ پھر ایسے ملزمان کا ہمارے معاشرے کے اندر جینا محال ہو جائے گا۔ آج اگر اس قانون کے تحت بے گناہ افراد مقدمے میں گرفتار ہو جاتے ہیں تو ملزم کو صفائی اور اپنے دفاع کا موقع بھی مل رہا ہے، خدانخواستہ یہ قانون نہ رہا تو پھر صورت حال خونی رُخ اختیار کر لے گی۔ بہتر یہ ہے کہ پوپ بینی ڈکٹ اور پاکستان میں موجود ان کے فکری حلیف اس قانون کے خلاف منفی پروپیگنڈا بند کر دیں اور جمہوریت پر اپنے یقین کے ناطے پاکستانی عوام کی اکثریتی رائے کا احترام کرتے ہوئے خاموشی اختیار کریں، ورنہ مخالفانہ بیان بازی سے پاکستان میں مذہبی ہم آہنگی اور رواداری کے عمومی ماحول کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت کھل کر اس معاملے میں سامنے آئے اور سرکاری طور پر قانون انسداد توہین رسالت میں ترمیم نہ کرنے کا اعلان کر کے عوام میں پائے جانے والے اضطراب کا خاتمہ کرے اور پاکستان کے اندرونی معاملات میں مداخلت پر بینی ڈکٹ پوپ کے بیان کا نوٹس لے، کیونکہ پوپ بینی ڈکٹ کی عالمی پوزیشن کے باعث ان کے بیان سے پاکستان کی عالمی سطح پر بدنامی کے ساتھ پاکستان میں اقلیتوں کے حقوق کی پامالی کے جھوٹے پروپیگنڈے کو تقویت مل رہی ہے۔
(روزنامہ ”اسلام“ لاہور ۱۳؍جنوری ۲۰۱۱ء)
☆☆☆☆☆☆☆.......☆☆☆☆☆☆☆
باب ششم : تحریک ناموس رسالت، پس منظر، اہداف، مطالبات اور کامیابی
تاریخی ہڑتال
☆ ...... آل پاکستان سربراہی تحفظ ناموس رسالت کانفرنس اسلام آباد میں دیگر فیصلوں کے علاوہ ۳۱؍ دسمبر ۲۰۱۰ء کو ملک بھر میں شٹر ڈاؤن ہڑتال کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ الحمد للہ ملک بھر تاجروں نے جذبہ عشق رسول کے تحت شٹر ڈاؤن ہڑتال کر کے حکمرانوں اور امریکہ اور اس کے زلہ خواروں کے عزائم خاک میں ملا دیئے اور حکمرانوں کو سوچنے پر مجبور کر دیا۔ الحمد للہ ہڑتال (اور ۹ جنوری کراچی اور ۳۰ جنوری کی لاہور کی ریلیوں) کے بعد وزارت قانون کی سمری پر وزیر اعظم نے دستخط کر کے وزیر اعظم نے دستخط کر کے اور اسمبلی کے فلور پر اعلان کیا کہ قانون ناموس رسالت میں کسی قسم کی ترمیم نہیں۔ اس سلسلہ میں روزنامہ اسلام ملتان کے سینئر صحافی جناب عرفان احمد عمرانی لکھتے۔
۲۰۱۰ء کے آخری دن تحریک تحفظ ناموس رسالت کی اپیل پر پوری قوم نے متحد ہو کر توہین رسالت کے انسدادی قوانین میں ترمیم کی سازش کو ناکام بنانے کے لئے مکمل شٹر ڈاؤن ہڑتال اور احتجاجی مظاہرے کئے۔ کامیاب ہڑتال کر کے اسلامیان پاکستان نے آقائے دو جہاں ﷺ کی عزت و حرمت کے تحفظ کی جدوجہد میں حکمرانوں کو پسپائی پر مجبور کر دیا، تاریخی ہڑتال نے حکومت کے ساتھ ساتھ بیرونی قوتوں کی بھی آنکھیں کھول دیں، کراچی سے خیبر تک ہر شہر میں بھر پور احتجاج ہوا۔ اب حکومت کو ایسی تمام غلیظ حرکتوں اور ناپاک سازشوں سے توبہ کر لینی اور گورنر پنجاب سلمان تاثیر و شیری رحمٰن کے خلاف کاروائی بھی کرنا چاہیے۔ علماء کرام نے حکومت آگاہ کر دیا ہے کہ اگر اس نے قانون میں کسی قسم کی ترمیم کی کوشش کی تو پھر قوم لانگ مارچ پر مجبور ہو جائے گی اور پارلیمنٹ سمیت ایوان صدر، وزیر اعظم ہاؤس کا گھیراؤ کر کے حکومت کا دھڑن تختہ کر کے چھوڑے گی اور اس کے لئے اسلامیان پاکستان جان بھی قربان کرنے کو تیار ہیں۔
روزنامہ ”اسلام“
(اتوار ۲۶ محرم ۱۴۳۲ھ مطابق ۲ جنوری ۲۰۱۱ء)
تحریک ناموس رسالت، پس منظر، اہداف، مطالبات اور کامیابی باب ششم:
کراچی کا تاریخ ساز فقید المثال جلسہ
۱۵/ دسمبر ۲۰۱۰ء کو اسلام آباد میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام منعقدہ آل پارٹیز تحفظ ناموس رسالت کانفرنس میں قانون تحفظ ناموس رسالت میں مجوزہ ترمیم و تنسیخ کے خلاف بھر پور مزاحمت کے لئے مشترکہ فورم ”تحریک ناموس رسالت“ سے چند اہم فیصلے کئے گئے۔ ان فیصلوں کے مطابق پہلے مرحلہ میں ۲۴/ دسمبر بروز جمعہ ملک بھر میں نماز جمعہ کے اجتماعات میں توہین رسالت ایکٹ میں ترمیم یا اسے غیر موثر بنانے کے خلاف مذمتی قراردادیں منظور کرائی گئیں اور احتجاجی مظاہروں اور ریلیوں کا انعقاد کیا گیا۔
دوسرے مرحلہ میں ۳۱/ دسمبر ۲۰۱۰ء بروز جمعہ کو پورے ملک میں شٹر ڈاؤن ہڑتال کی کال دی گئی۔ الحمدللہ! یہ ہڑتال بہت پر امن اور کامیاب رہی۔ وطن عزیز کے عاشقانِ مصطفیٰ ﷺ نے پیغمبر رحمت ﷺ کی عزت و ناموس کے قانون کے تحفظ کے لئے بے مثال کردار ادا کیا۔ پاکستان کے عوام نے اندرون اور بیرون ملک کے اسلام دشمنوں کو واضح پیغام دیا کہ مسلمان بے شک گناہ گار سہی مگر محمد عربی ﷺ کی توہین و اہانت ہرگز برداشت نہیں کر سکتے۔ قانون ناموس رسالت کی حفاظت کے لئے تمام مسلمان باہمی اختلافات پس پشت ڈال کر اس حساس مسئلہ کے لئے سیسہ پلائی ہوئی دیوار ثابت ہوں گے۔
تیسرا مرحلہ ۹/ جنوری ۲۰۱۱ء بروز اتوار تبت سینٹر کراچی میں تاریخی مارچ اور فقید المثال جلسہ عام طے ہوا تھا۔ چنانچہ ہفت روزہ ختم نبوت کراچی کے مرتب حاجی عبداللطیف لکھتے ہیں۔ اس عظیم الشان جلسہ کے لئے تحریک ناموس رسالت کے رہنماؤں نے اپنے اپنے حلقوں میں زبردست محنت کی۔ باہمی مشاورت کے کئی اجلاس ہوئے۔ اتحاد و یکجہتی کا مظاہرہ کرتے ہوئے مختلف امور کے لئے کمیٹیاں تشکیل دی گئیں۔ شہر بھر میں اہم اہم مقامات پر اس تاریخی مارچ اور جلسہ کی تشہیر کے لئے خوبصورت بینرز لگائے گئے۔ جن میں نعرے درج تھے۔ اخبارات و رسائل اور ٹی وی چینلز نے دفتر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت نمائش اور جماعت اسلامی کے دفتر ادارہ نور حق میں منعقدہ پریس کانفرنسوں کی بھر پور کوریج کی۔
باب ششم: تحریک ناموس رسالت، پس منظر، اہداف، مطالبات اور کامیابی
۸؍ جنوری کو قائد جمعیت مولانا فضل الرحمن کی سربراہی میں مقامی ہوٹل میں تمام دینی و سیاسی جماعتوں کے سربراہوں کی مشترکہ پریس کانفرنس رکھی گئی، جس میں اس فقید المثال جلسہ کی تیاریوں کا جائزہ لیا گیا اور قانون ناموس رسالت کے سلسلہ میں اپنے ٹھوس موقف کا اعادہ کیا گیا۔
۹؍ جنوری ۲۰۱۱ء کو عظیم الشان جلسہ عام میں شرکت کے لئے کراچی کے غیور مسلمانوں کے قافلے بعد دوپہر جلسہ گاہ کی جانب آنا شروع ہوگئے۔ بسوں، ٹرکوں، گاڑیوں، موٹر سائیکلوں پر مشتمل مختلف مذہبی جماعتوں کے دستے مزار قائد پہنچنے لگے۔ نمائش چورنگی پر شرکائے جلسہ کے بھرپور استقبال کے لئے مختلف تنظیموں نے کیمپ لگائے ہوئے تھے۔ لاکھوں عاشقان رسول ہاتھوں میں جھنڈے اٹھائے نعرے لگاتے ہوئے جوش و جذبہ کے ساتھ آگے بڑھ رہے تھے۔ عوام کا نظم و ضبط مثالی تھا۔ تبت سینٹر پہنچ کر یہ تاریخی مارچ عظیم الشان جلسہ میں تبدیل ہو گیا اور ہیڈ برج پر اسٹیج مختلف تنظیموں کے جھنڈوں اور خوبصورت بینرز سے مزین کیا گیا تھا۔ جہاں ملکی و غیر ملکی میڈیا موجود تھا۔ رینجرز، پولیس اور دیگر سیکورٹی اداروں کے اہلکار اور افسران بڑی تعداد میں تعینات تھے۔ لاکھوں کے اس اجتماع سے مولانا فضل الرحمن، سید منور حسن، صاحبزادہ ابوالخیر محمد زبیر، مولانا عبدالغفور حیدری، حافظ حسین احمد، مولانا یوسف قصوری، مولانا اللہ وسایا، قاری محمد حنیف جالندھری، علامہ جعفر سبحانی، حافظ عاکف سعید، امیر حمزہ، مولانا اسعد تھانوی اور دیگر رہنماؤں نے خطاب کیا۔
قائد جمعیت مولانا فضل الرحمن نے خطاب کرتے ہوئے اعلان کیا کہ حکومت کی جانب سے ناموس رسالت کے قانون میں ترمیم نہ کرنے کے واضح اعلان تک تحریک ناموس رسالت جاری رہے گی۔ اگر حکمرانوں نے ویٹی کن سٹی میں پوپ کے سامنے وعدہ کیا ہے کہ وہ ناموس رسالت کے قانون میں ترمیم کریں گے تو ہم نے بھی روضہ رسول کے سامنے یہ عہد کیا ہے کہ ناموس رسالت کا بہرصورت تحفظ کریں گے۔ اہل کراچی نے آج ثابت کر دیا ہے کہ کوئی مائی کا لال قانون ناموس رسالت میں ترمیم، تنسیخ، تبدیلی یا اس کو غیر مؤثر کرنے کی جرات نہیں کر سکے گا۔ انہوں نے مغرب نواز این جی اوز کو چیلنج کرتے ہوئے کہا کہ کچھ مغرب نواز خواتین
باب ششم: تحریک ناموس رسالت، پس منظر، اہداف، مطالبات اور کامیابی
سڑکوں پر آ کر علماء اور دینی طبقے کو گالیاں دیتی ہیں، میں انہیں چیلنج کرتا ہوں اور دعوت دیتا ہوں کہ وہ بھی اپنے عمل کے حوالے سے قوم کو دعوت دیں اور ہم بھی قوم کو اپنے مشن کے لئے لے آتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر حکمران اور سول سوسائٹی سلمان تاثیر کا عدالتی مقدمہ لڑ سکتے ہیں تو پھر پاکستانی قوم اور شمع رسالت کے پروانے ممتاز حسین قادری کا ہر محاذ، موقع اور ہر جگہ دفاع کریں گے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ ممتاز حسین قادری کے اہل خانہ کو فوری طور پر رہا کیا جائے تاکہ وہ آزادانہ طریقے سے ممتاز قادری کے کیس کا دفاع کرسکیں۔ انہوں نے کہا کہ آج اہل کراچی نے لاکھوں کی تعداد میں ناموس رسالت کے لئے سڑکوں پر آ کر یہ ثابت کر دیا ہے کہ ناموس رسالت اور اسلامی شعائر کے خلاف کوئی اقدام برداشت نہیں کیا جائے گا۔ کراچی کے عوام پورے پاکستان کے عوام کی نمائندگی کر رہے ہیں۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ جس طرح آر جی ایس ٹی اور پیٹرول کے معاملے پر حکومت نے اپنے اقدام کو واپس لیا ہے، ناموس رسالت کے حوالے سے بھی وہ واضح اعلان کرے۔ ۲۹ جنوری کو لاہور میں آل پارٹیز کانفرنس ہو گی اور ۳۰ جنوری کو جلسہ ہوگا جس میں آئندہ کے لائحہ عمل کا اعلان کیا جائے گا۔ ہماری تحریک، ناموس رسالت کے قانون کے حوالے سے حکومتی واضح موقف تک جاری رہے گی۔ (مولانا کا تفصیلی خطاب آئندہ صفحات میں ملاحظہ فرمائیں)
جماعت اسلامی کے امیر سید منور حسن نے کہا کہ اہل کراچی نے تحریک ناموس رسالت کی کال پر لبیک کہہ کر یہ ثابت کر دیا ہے کہ یہ شہر عاشقان رسول کا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ سیاسی معاملہ نہیں، یہ ہمارے ایمان، عقیدے اور نجات کا معاملہ ہے۔ انہوں نے مسلم لیگ (ن) کے سربراہ میاں محمد نواز شریف، متحدہ قومی موومنٹ کے قائد الطاف حسین اور دیگر تمام سیاسی قوتوں کو دعوت دی کہ وہ بھی اس تحریک میں شامل ہو جائیں اور اعلان کریں کہ ناموس رسالت کے قانون میں کوئی بھی ترمیم، تنسیخ یا تبدیلی، برداشت نہیں کی جائے گی۔ منور حسن نے کہا کہ حکمرانوں نے بیرونی اشارے پر قانون رسالت میں تبدیلی کرنے کی کوشش کی ہے اور ہم نے ان کے چہروں سے یہ اندازہ لگایا کہ وہ ایسا کرنا چاہتے ہیں، اس لئے اس تحریک کو لے کر ہم
تحریک ناموس رسالت، پس منظر، اہداف، مطالبات اور کامیابی باب ششم:
آگے بڑھیں گے، انہوں نے کہا کہ گورنر پنجاب کے ساتھ جو کچھ ہوا وہ درست ہوا۔ اگر پارلیمنٹ میں بیٹھے ہوئے نام نہاد دانشور، حکمران اور قانون دان، عوام کی آواز سن لیتے تو ممتاز قادری کو قانون ہاتھ میں لینے کی ضرورت نہ پڑتی۔ انہوں نے کہا کہ حکمرانوں نے خود آئین اور قانون کو توڑا ہے۔ پنجاب کے گورنر نے عدالت، عوام اور قانون تحفظ ناموس رسالت کی توہین کی۔
جمعیت علماء پاکستان کے سربراہ صاحبزادہ ابوالخیر محمد زبیر نے کہا کہ ہم امن کے علمبردار ہیں اور ناموس رسالت کے پروانوں نے آج یہ ثابت کردیا کہ وہ عشق مصطفیٰ میں ہر حد تک آگے بڑھ سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پوری قوم ممتاز قادری کی پشت پر کھڑی ہے۔ آئندہ ہمارا احتجاج لاہور، پشاور اور ملک کے دیگر حصوں میں ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ سلمان تاثیر نے سلمان رشدی بننے کی کوشش کی اور اس کا یہی نتیجہ ہو سکتا تھا۔ ہم اپنی جانوں پر کھیل کر ناموس رسالت کا تحفظ کریں گے۔
جمعیت علماء اسلام کے مرکزی رہنما حافظ حسین احمد نے مطالبہ کیا کہ صدر کو ناموس رسالت کے سزا یافتہ مجرموں کی سزا معاف کرنے کا اختیار فوری طور پر ختم کیا جائے۔ گستاخ رسول کی سزا موت ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیر داخلہ نے گستاخ رسول کے حوالے سے بات کی ہے جب کہ ممتاز قادری نے ان کے خیالات کو عملی جامہ پہنایا۔ اگر ممتاز قادری کا عملی اقدام جرم ہے تو پھر ان کی طرح وفاقی وزیر داخلہ عبدالرحمن ملک پر بھی ایک مقدمہ درج ہونا چاہیے۔
جمعیت علماء اسلام کے جنرل سیکرٹری مولانا عبدالغفور حیدری نے کہا کہ پاکستان اسلام کے نام پر بنا تھا لیکن اس ملک کی بدقسمتی یہ ہے کہ پہلی کابینہ کا وزیر قانون ہندو کو بنایا گیا اور وزیر خارجہ قادیانی تھا۔ انہوں نے کہا کہ سلمان تاثیر کے قتل کی ذمہ دار پیپلز پارٹی ہے۔ انہوں نے کہا کہ دینی قوتیں اور پاکستانی عوام کسی صورت میں قانون میں ترمیم برداشت نہیں کریں گے۔ شیری رحمن اور سلمان تاثیر نے غیروں کے ایجنڈے پر عمل کرتے ہوئے قانون رسالت کو تبدیل کرنے کی کوشش کی، لیکن کوئی مائی کا لال پاکستان کو سیکولر ریاست نہیں بنا سکتا۔ پاکستان اسلامی ریاست ہے اور رہے گی۔ انہوں نے اعلان کیا کہ ضرورت پڑی تو ناموس رسالت کے قانون کے لئے اسلام آباد کی طرف مارچ بھی کریں گے۔
باب ششم:
وفاق المدارس
۳۱؍ دسمبر کی ہڑتال اور اس ملک میں صرف شہید کے مقدمے کی پ آج ممتاز قادری کے سا اس حقیقی اظہار کو منظر ع جان دینا اور لینا دونوں م
جماعت اسلا
صدر، وزیراعظم اور پارل رسالت کے حوالے سے اور منظم ہے۔ انہوں نے ضرورت پڑی تو اسلام راستہ اختیار کریں گے ت وکلا اور مخیر حضرات قا
جماعۃ الدعو
اور صرف قتل ہے۔ آج انہوں نے کہا کہ جو بھی پنجاب بنانے کی کوش رسول کو گورنر بناؤ۔ انہو نے نبی کی حرمت کے ب
عالمی مجلس تح
کر دیا ہے کہ کسی صور
باب ششم: تحریک ناموس رسالت، پس منظر، اہداف، مطالبات اور کامیابی
وفاق المدارس العربیہ پاکستان کے ناظم اعلیٰ قاری محمد حنیف جالندھری نے کہا کہ ۳۱/ دسمبر کی ہڑتال اور آج کا یہ جلسہ عوامی ریفرنڈم ہے اور یہ ثابت ہو گیا ہے کہ پاکستانی عوام اس ملک میں صرف اور صرف اسلامی قانون چاہتے ہیں۔ قائد اعظم نے غازی علم الدین شہید کے مقدمے کی پیروی اور علامہ اقبال نے ان کی میت کی چارپائی کو کندھا دیا اور ہم بھی آج ممتاز قادری کے ساتھ کھڑے ہیں۔ انہوں نے میڈیا سے اپیل کی کہ وہ عوامی جذبات کے اس حقیقی اظہار کو منظر عام پر لائیں۔ قاری محمد حنیف جالندھری نے کہا کہ ناموس رسالت پر جان دینا اور لینا دونوں عبادت ہے۔
جماعت اسلامی کے سیکرٹری جنرل لیاقت بلوچ نے کہا کہ آج کے اجتماع نے ایوان صدر، وزیراعظم اور پارلیمنٹ میں بیٹھے ہوئے نام نہاد دانشوروں کو یہ پیغام دیا ہے کہ وہ ناموس رسالت کے حوالے سے اپنی سوچ تبدیل کریں۔ انہوں نے کہا کہ اس معاملے پر تمام قوم متحد اور منظم ہے۔ انہوں نے کہا کہ آئندہ بھی لاہور، کوئٹہ میں اسی طرح کے مظاہرے ہوں گے اور ضرورت پڑی تو اسلام آباد کی طرف مارچ کریں گے۔ حکمران راجپال اور گستاخان رسول کا راستہ اختیار کریں گے تو پھر لوگ غازی ممتاز کا راستہ اختیار کریں گے۔ آج پاکستان کے علماء، وکلا اور مخیر حضرات غازی ممتاز حسین قادری کی پشت پر کھڑے ہیں۔
جماعۃ الدعوۃ کے مرکزی رہنما مولانا امیر حمزہ نے کہا کہ گستاخ رسول کی سزا صرف اور صرف قتل ہے۔ آج ہم سب متحد ہیں اور سارے مسلمان اس معاملے پر منظم بھی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جو بھی گستاخی کرے گا وہ قتل ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ عاصمہ جہانگیر کو گورنر پنجاب بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے ہم حکومت سے یہ کہتے ہیں کہ گورنر بنانا ہے تو کسی محب رسول کو گورنر بناؤ۔ انہوں نے کہا کہ ممتاز قادری کے عمل کے بعد معاملہ ختم نہیں ہوا بلکہ ہم سب نے نبی کی حرمت کے لئے ڈنمارک اور امریکہ سے جہاد کے ذریعے بدلہ لینا ہے۔
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مولانا اللہ وسایا نے کہا کہ آج کے اجتماع نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ کسی صورت حضور ﷺ کی ناموس پر کوئی سودا نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ یہ
باب ششم : تحریک ناموس رسالت، پس منظر، اہداف ، مطالبات اور کامیابی
سیاسی نہیں بلکہ ہمارے ایمان کا مسئلہ ہے۔ حکومت کی جانب سے جب تک مطالبات کو تسلیم نہیں کیا جاتا اس وقت تک جدوجہد جاری رہے گی۔
- ☆...... جمعیت علماء اسلام (س) کے رہنما مولانا اسعد تھانوی نے کہا کہ ناموس رسالت پر
لوگ کٹ مرنے کے لیے تیار ہیں اور گستاخی برداشت نہیں کریں گے۔ یہ علماء کا نہیں بلکہ پوری امت کا مسئلہ ہے۔
- ☆...... اسلامی تحریک کے مرکزی رہنما علامہ جعفر سبحانی نے کہا کہ سلمان تاثیر کا قتل ان کے
بیانات کا نتیجہ ہے، اگر ان کے بیانات کا نوٹس لیا جاتا تو ایسا نہ ہوتا۔
- ☆...... مسلم لیگ (ق) سندھ کے جنرل سیکرٹری حلیم عادل شیخ نے کہا کہ ہم اقلیتی امور کے وزیر
شہباز بھٹی کی سربراہی میں قائم کمیٹی کو کسی صورت قبول نہیں کرتے، اسے فوری طور پر ختم کیا جائے۔
- ☆...... ”تنظیم اسلامی کے حافظ عاکف سعید نے کہا کہ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت نے جو
کردار ادا کیا ہے وہ قابل تحسین ہے۔ انہوں نے کہا کہ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے ساتھ ہر ممکن تعاون کرنا چاہئے۔
- ☆...... مرکزی جمعیت اہلحدیث کے مولانا یوسف قصوری نے کہا کہ حضور کی شان میں
گستاخی اللہ تعالیٰ، امت اور انسانیت کی دل آزاری ہے، گستاخی کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی۔ امت متحد ہے وہ اپنا خون دے کر اس کا تحفظ کرنا جانتی ہے۔
اظہار تشکر
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے امیر مرکزیہ شیخ الحدیث حضرت مولانا عبدالمجید لدھیانوی، نائب امیر مرکزیہ مولانا ڈاکٹر عبدالرزاق اسکندر، مولانا اللہ وسایا، وفاق المدارس العربیہ پاکستان کے صدر مولانا سلیم اللہ خان، ناظم اعلیٰ قاری محمد حنیف جالندھری، جمعیت علماء اسلام (ف) کے مرکزی رہنما مولانا عبدالغفور حیدری، حافظ حسین احمد ، نیز عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے دیگر راہنماؤں مولانا عزیز الرحمن جالندھری، مولانا محمد اکرم طوفانی، مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی نے 9 جنوری کے عظیم جلسہ اور ریلی کی کامیابی پر اللہ تعالیٰ کے حضور شکر اور قوم کا شکریہ ادا کیا۔
ن رسالت، پس منظر، اہداف، مطالبات اور کامیابی
ومت کی جانب سے جب تک مطالبات کو تسلیم نہ ہوگی۔ ا مولانا اسعد تھانوی نے کہا کہ ناموس رسالت پر رداشت نہیں کریں گے۔ یہ علماء کا نہیں بلکہ پوری
جعفر سبحانی نے کہا کہ سلمان تاثیر کا قتل ان کے لیا جاتا تو ایسا نہ ہوتا۔ ی حلیم عادل شیخ نے کہا کہ ہم اقلیتی امور کے وزیر قبول نہیں کرتے، اسے فوری طور پر ختم کیا جائے۔ سید نے کہا کہ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت نے جو انے کہا کہ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے ساتھ
ا یوسف قصوری نے کہا کہ حضور کی شان میں لازمی ہے، گستاخی کسی صورت برداشت نہیں کی ی کا تحفظ کرنا جانتی ہے۔
تشکر
ر شیخ الحدیث حضرت مولانا عبدالمجید لدھیانوی، مولانا اللہ وسایا، وفاق المدارس العربیہ پاکستان یف جالندھری، جمعیت علماء اسلام (ف) کے ق احمد ، نیز عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے دیگر اکرم طوفانی، مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی نے ل کے حضور شکر اور قوم کا شکر ادا کیا۔
باب ششم: تحریک ناموس رسالت، پس منظر، اہداف، مطالبات اور کامیابی
9 جنوری کو کراچی کی عظیم الشان
ریلی سے مولانا فضل الرحمن کا خطاب کی تفصیلی رپورٹ
- ☆......9 جنوری کراچی کے تاریخ ساز جلسہ اور احتجاجی ریلی سے قائد جمعیت
مولانا فضل الرحمن مدظلہ کے خطاب کی اگرچہ مختصر رپورٹ گزشتہ صفحات میں آچکی ہے۔ لیکن تفصیلی خطاب پیش خدمت ہے۔
(خطبہ مسنونہ کے بعد) اکابرین قوم، زعمائے ملت، میرے بزرگو دوستو اور بھائیو! آج کراچی شہر کے سرفروشان اسلام نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ کوئی مائی کا لعل ناموس رسالت کے قانون میں تبدیلی کی جرات نہیں کر سکے گا۔
میرے محترم دوستو! ہمارے ملک میں ناموس رسالت کے قانون میں تبدیلی صرف ہمارے حکمرانوں کا ایجنڈا نہیں، یہ امریکہ اور مغربی دنیا کا ایجنڈا ہے اور ان کی پوری کوشش یہ ہے کہ پاکستان میں اسلامی اقدار اور اسلامی قوانین کا خاتمہ کردے۔ لیکن آج پوری قوم کی وحدت نے پوری دنیا کو یہ پیغام دیا ہے کہ پاکستان میں پاکستان کے کروڑوں مسلمانوں کی چلے گی، یہاں پر امریکہ اور مغرب کی بات نہیں چلنے دی جائے گی۔
میرے محترم دوستو! ایک طرف شیطانی قوتیں ہیں جو امت کو تقسیم کرنا چاہتی ہیں، جو مسلمانوں کو فرقہ واریت کی بنیاد پر لڑانا چاہتی ہیں، جو مذہب کے نام لیواؤں کو باہمی اختلافات کی بنیاد پر ایک دوسرے سے دست وگریباں کرنا چاہتی ہیں۔ لیکن قربان جاؤں اپنے آقا پر کہ رحمت اللعالمین جناب رسول اللہ ﷺ آج بھی اس امت کو اپنے دامن میں یکجا کر رہے ہیں، متحد کر رہے ہیں اور جب تک امت کو جناب رسول اللہ ﷺ کی رہنمائی حاصل ہے، یہ
باب ششم: تحریک ناموس رسالت، پس منظر، اہداف، مطالبات اور کامیابی
امت متحد ہے اور امریکہ اور مغربی دنیا کی سازشیں صرف ناکام ہی نہیں ہوں گی بلکہ وہ اپنی بنی ہوئی جال میں خود پھنستے چلے جائیں گے اور ان کی سازشیں ناکام ہوتی رہیں گی۔
میرے محترم دوستو! ہمیں کہا جاتا ہے کہ مذہبی لوگوں میں برداشت نہیں ہے، میں اس سیکولر دنیا کو اور ان نام نہاد روشن خیالوں بلکہ ان تاریک خیالوں کو کہنا چاہتا ہوں کہ اگر تمہیں ناموس رسالت برداشت نہیں تو پھر ہمیں گستاخی رسالت کیوں برداشت ہو سکتی ہے؟ اور اگر تم ناموس رسالت کی توہین میں انتہا پسندی کا مظاہرہ کرو گے تو ہمیں بھی حق پہنچے گا کہ ہم ناموس رسالت کے تحفظ کے لئے تم سے بڑھ کر انتہا پسندی کا مظاہرہ کریں میں حکمرانوں کو یہ بھی کہہ دینا چاہتا ہوں کہ اگر تم ویٹی کن سٹی میں پوپ کے سامنے عہد کر سکتے ہو کہ ہم پاکستان میں ناموس رسالت کے قانون کا خاتمہ کریں گے تو ہم بھی روضہ رسولؐ کے سامنے عہد کر کے آئے ہیں کہ ہم ناموس رسالت کے لئے جانوں کی قربانیاں دے سکتے ہیں۔ یہ مسئلہ صرف مذہبی جماعتوں کا نہیں یہ پوری امت مسلمہ کا مسئلہ ہے اور ہمارے وزیر داخلہ نے پہلے ایک بیان دیا کہ ناموس رسالت کے قانون کو کالا قانون کہنے پر سلمان تاثیر کو قتل کیا گیا، دوسرا بیان دیا وزیر داخلہ نے، اور میں اس کی دینی معلومات کو جانتا ہوں، جو وہ مسلمان ملک کا وزیر داخلہ ہے، کابینہ کے اجلاس میں قل ھو اللہ احد کی سورت نہیں پڑھ سکتا تین مرتبہ پڑھ کر بھی صحیح نہیں پڑھ سکا۔ اس نے بھی بیان دیا کہ اگر میرے سامنے بھی کوئی گستاخی رسول کرے تو میں بھی اسے گولی ماردوں گا۔ آپ اندازہ لگائیں کہ ناموس رسالت کا معاملہ کتنا نازک اور حساس ہے امت مسلمہ کی نظر میں۔ اور ہم دیکھ رہے ہیں کہ مغرب کے پیسوں پر پلنے والی یہ مغرب زدہ کچھ این جی اوز کی خواتین روڈوں پر آ کر مذہبی قوتوں کو گالیاں دیتی ہیں، میں ان کو چیلنج کرتا ہوں کہ تم اپنے موقف پر قوم کو دعوت دو۔ جس سڑک پر آپ ان کو دعوت دیں ہم اپنے نظریہ کے لوگوں کو اس میدان میں آنے کی دعوت دیں گے، جس میدان میں چاہو مذہبی دنیا کا مقابلہ کرو، ہڑتال میں پوری قوم نے ایک صف ہو کر مظاہرہ کیا کہ ناموس رسالت کے لئے پاکستانی قوم ایک ہے، ایک صف ہے، اور ایک قوم ہے۔
باب ششم: تحریک ناموس رسالت، پس منظر، اہداف، مطالبات اور کامیابی
میرے محترم دوستو! سلمان تاثیر کے قتل کی بات ہوتی ہے۔ سلمان تاثیر نمبر ایک اپنے قتل کا خود ذمہ دار ہے، نمبر دو اس کے قتل کی ذمہ دار خود حکومت ہے۔ جس شخص نے اس قانون کو کالا قانون کہا، وہ توہین رسالت کا مرتکب ہوا، اس کے خلاف مقدمہ درج ہونا چاہئے تھا، اس کو عدالت کے کٹہرے میں کھڑا ہونا چاہئے تھا اور اس کو گورنر کے منصب سے ہٹانا چاہیے تھا مگر نہیں ہٹایا گیا تو جب ایک طرف آپ انتہا پسندانہ گفتگو کریں، آپ نے آج تک نیب کے قوانین کو کالا قانون نہیں کہا آپ نے آج تک ۳۰۲ کے قانون کو کالا قانون نہیں کہا، آپ نے آج تک دفعہ ۱۴۴ تک کو کالا قانون نہیں کہا اور تمہیں اتنی جرأت ہوگئی کہ تم ناموس رسالت کے تحفظ کے حوالے سے پاکستان کے ایک قانون کو کالا قانون کہتے ہو؟ جب تم انتہا پسندی کرو گے، انتہا پسندی کو دعوت تم دو گے تو پھر یہ واقعات ہوں گے جو آپ کے ساتھ ہوا۔ میں واضح طور پر کہنا چاہتا ہوں کہ اگر حکومت سلمان تاثیر کے قتل کی بنیاد پر کاروائی کر رہی ہے، کہیں مدارس کے خلاف کر رہی ہے، مساجد کے ائمہ کے خلاف کر رہی ہے، آج کے اس اجلاس عام میں آپ کی تائید سے میں حکمرانوں کو تنبیہ کرنا چاہتا ہوں کہ اپنے ہاتھ روک دو۔ اگر علماء، مدارس، مساجد، ائمہ اور علماء کے خلاف تم نے یہ اپنے اوچھے ہتھکنڈے استعمال کئے تو گلی گلی کوچے کوچے ہم تمہیں گریبان سے پکڑ کر گھسیٹیں گے اور تم کسی قیمت پر بھی اپنے ناپاک منصوبوں میں کامیاب نہیں ہوسکو گے۔ حکمرانو! اگر تم سلمان تاثیر کا مقدمہ عدالت میں لڑ سکتے ہو تو پھر ممتاز قادری کے دفاع کا حق ہمیں بھی حاصل ہے۔ ان کے خاندان کو ہراساں نہ کیا جائے، ان کو فوراً رہا کیا جائے تاکہ آزادی کے ساتھ وہ اپنا دفاع کر سکیں اور ہم بھی ان کا دفاع کرنے کے لئے تیار ہیں۔
میرے محترم دوستو! یہ صرف کراچی کے عوام کا نہیں، پورے پاکستان کے عوام کا فیصلہ ہے اور اس فیصلہ کے سامنے حکمرانوں کو سر تسلیم خم کرنا چاہئے۔ اگر حکومت ایک جی ایس ٹی کے بل کو واپس لے سکتی ہے، اگر پٹرولیم کے قیمتوں کے اضافہ کے فیصلہ کو واپس لے سکتی ہے تو ناموس رسالت کے حوالے سے بھی اپنے عزائم سے پیچھے ہٹنا پڑے گا ورنہ یہ سیل رواں حکمرانوں کو خس و خاشاک کی طرح بہا کر لے جائے گا۔ اب ہم نے سفر کا آغاز کر دیا، یہ ایک
باب ششم: تحریک ناموس رسالت، پس منظر، اہداف، مطالبات اور کامیابی
سلسلہ ہے اور پھر اس سلسلے کو مسجد مسجد، محلے محلے، اور شہر شہر اس ناموس رسالت کے قانون کے تحفظ کے لئے مظاہرے ہوں گے، اس کے بعد بڑا جلسہ ۳۰ جنوری کو لاہور میں ہوگا اور انشاء اللہ پوری قوم ناموس رسالت سے اپنی وابستگی اور عقیدت کا مظاہرہ کرتے ہوئے اسی جوش و جذبے کے ساتھ میدان میں آئے گی اور اس وقت تک تحریک چلتی رہے گی جب تک حکمران ناموس رسالت کے سامنے اپنا سر نہیں جھکا لیتے۔
("الجمعیۃ" راولپنڈی فروری ۲۰۰۲ء)
(وآخر دعوانا ان الحمد لله رب العالمين)
☆☆☆☆☆☆☆......☆☆☆☆☆☆☆
باب ششم: تحریک ناموس رسالت، پس منظر، اہداف، مطالبات اور کامیابی
ناموس رسالت کے تحفظ کیلئے
زندہ دلان لاہور کی عظیم الشان ریلی
تحریک ناموس رسالت تدریجی مراحل طے کرتے ہوئے جانب منزل رواں دواں ہے۔ ۳۰؍ جنوری ۲۰۱۱ء لاہور کی ریلی اور جلسہ سے پہلے پاکستان بھر میں احتجاجی مظاہرے، ریلیاں اور پاکستان کی تاریخ میں ۳۱؍ دسمبر ۲۰۱۰ء کی بے مثال، اتحاد و یکجہتی کا مظہر، پُر امن تاریخی ہڑتال کے علاوہ کراچی شہر میں ۹؍ جنوری ۲۰۱۱ء کا لاکھوں کی تعداد پر مشتمل تاریخی جلسہ اس تحریک ناموس رسالت کے تحت قیام پذیر ہوئے، جس سے قوم میں ایمانی بیداری اور حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت و وابستگی کے مظاہر دنیا کے سامنے آئے۔ اب لاہور کی ریلی اور کامیاب جلسہ کی روئیداد ملاحظہ فرمائیں:-
”لاہور (این این آئی+اے پی پی) تحریک ناموس رسالت نے ۴؍ فروری سے ہر جمعہ کو یوم احتجاج منانے اور ۲۰؍ فروری کو پشاور میں ناموس رسالت ریلی اور ناموس رسالت قانون میں ترمیم کی صورت میں لانگ مارچ کا اعلان کرتے ہوئے کہا۔ ہم ناموس رسالت کے معاملے پر حکومت کی یک طرفہ وضاحت کو تسلیم نہیں کریں گے۔ وہ پارلیمنٹ میں باقاعدہ اعلان کرے کہ ناموس رسالت کے قانون میں ترمیم نہیں کی جائے گی۔ ناموس رسالت کے تحفظ سے بڑا کوئی قومی ایجنڈا نہیں۔ ناموس رسالت کا قانون کسی ڈکٹیٹر نے نہیں بنایا، یہ اسلام کا قانون ہے۔ ہم جانیں دے کر بھی تحفظ کریں گے، ناموس رسالت پر ہماری جان، مال اور اولاد قربان ہے۔ اس عزم کا اظہار تحریک ناموس رسالت کی نامور
باب ششم : تحریک ناموس رسالت ، پس منظر ، اہداف ، مطالبات اور کامیابی
باغ سے پنجاب اسمبلی تک نکالی جانے والی ریلی کے اختتام پر مختلف مذہبی و سیاسی جماعتوں کے قائدین اور رہنماؤں نے کیا۔ ریلی سے مولانا فضل الرحمن، سید منور حسن، حافظ محمد سعید، مولانا پروفیسر ساجد میر، صاحبزادہ ابوالخیر زبیر، قاری محمد حنیف جالندھری، مولانا سمیع الحق، اعجاز الحق، حافظ حسین احمد، حافظ عاکف سعید، عبدالغفور حیدری، خواجہ سعد رفیق، نائب صدر تحریک انصاف اعجاز احمد چوہدری سمیت دیگر مذہبی و سیاسی جماعتوں کے قائدین نے خطاب کیا۔ مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ اہل پنجاب نے لاہور کے دل میں لاکھوں کا اجتماع کر کے پوری دنیا اور پاکستانی حکمرانوں کو یہ پیغام دے دیا ہے کہ ہم اپنے خون اور جانوں کا نذرانہ تو دے سکتے ہیں لیکن ناموس رسالت کے قانون میں ترمیم کو برداشت نہیں کیا جائے گا، اور نہ ہی اس پر کوئی آنچ آنے دیں گے۔ ہم امریکہ اور یورپی دنیا پر واضح کرنا چاہتے ہیں کہ پاکستان میں اس کا نہیں، بلکہ اسلام کا پرچم لہرائے گا۔ دنیا میں کہیں بھی امریکی ایجنٹ اپنا اقتدار نہیں بچا سکے اور پاکستان کے حکمران بھی اپنا اقتدار نہیں بچا سکیں گے۔ کوئی مائی کا لال ناموس رسالت کے قانون میں ترمیم کی جرأت نہیں کر سکتا اور نہ ہی ہم کسی کو ایسا کرنے دیں گے۔ ہم اس تحریک کو مزید آگے بڑھائیں گے اور ۲۰ فروری کو پشاور میں عظیم الشان جلسہ اور ریلی نکالی جائے گی جب کہ ۲۰ فروری تک ہر جمعہ کو احتجاجی مظاہرے ہوں گے۔
- ☆.......سید منور حسن نے کہا کہ تحریک ناموس رسالت نے دنیا بھر میں یہ پیغام
پہنچا دیا ہے کہ ہم ناموس رسالت کے قانون میں ترمیم کو کسی بھی صورت قبول نہیں کریں گے۔ امریکہ ہمارے گھروں میں داخل ہو چکا ہے اور لاہور میں امریکی اہلکار کے ہاتھوں تین افراد کی ہلاکت اس کا ثبوت ہے، وزیر اعلیٰ پنجاب بتائیں کہ چند ماہ پہلے لاہور میں جن امریکیوں سے اسلحہ برآمد کیا گیا تھا وہ امریکی کہاں گئے؟ ناموس رسالت کے تحفظ کے لئے پوری قوم جانوں کے نذرانے دینے
باب ششم :
کے لئے تیار ہے
- ☆.......جماعۃ الدعو
سیاسی جماعتوں کو د مل کر آواز بلند کریں آئے ہیں اور کسی بھ
- ☆.......علامہ ساجد
سے مسائل ہیں لیک کے تحفظ کے لئے سب سے بڑا مسئلہ سے روکا جائے ۔ ح
- ☆.......صاحبزاد
ناموس رسالت کی لے اور جب تک
- ☆.......قاری محمد
کو بھی ترمیم کی اجا فوری طور پر سفیر کہ حکومت نامو
- ☆.......اعجاز ا
نذرانے کی ضر تیار ہوں۔ حکمران
- ☆.......حافظ
میں ترمیم امریکی
باب ششم: تحریک ناموس رسالت، پس منظر، اہداف، مطالبات اور کامیابی
کے لئے تیار ہے لیکن کسی کو بھی اس میں ترمیم کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
- ☆....... جماعۃ الدعوہ کے امیر حافظ محمد سعید نے کہا کہ پارلیمنٹ میں موجود تمام
سیاسی جماعتوں کو چاہئے کہ وہ ناموس رسالت کے تحفظ کے لئے ہمارے ساتھ مل کر آواز بلند کریں، ہم ناموس رسالت کے قانون کے تحفظ کے لئے سڑکوں پر آئے ہیں اور کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے۔
- ☆....... علامہ ساجد میر نے کہا کہ پاکستان میں مہنگائی، بیروزگاری سمیت بہت
سے مسائل ہیں لیکن قوم نے ان کے خلاف آواز بلند نہیں کی مگر ناموس رسالت کے تحفظ کے لئے سڑکوں پر آچکی ہے جو اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستان کا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ حکمرانوں کو ناموس رسالت کے قانون میں ترمیم سے روکا جائے۔
- ☆....... صاحبزادہ ابوالخیر زبیر نے کہا کہ ہمارا مطالبہ ہے کہ حکومت فوری طور پر
ناموس رسالت کے قانون میں ترمیم کے حوالے سے شیری رحمٰن کا بل واپس لے اور جب تک ایسا نہیں کیا جائے گا ہم سڑکوں پر احتجاج کرتے رہیں گے۔
- ☆....... قاری محمد حنیف جالندھری نے کہا کہ ناموس رسالت کے قانون میں کسی
کو بھی ترمیم کی اجازت نہیں دی جائے گی اور اگر حکومت امن و سکون چاہتی ہے تو فوری طور پر شیری رحمٰن کا بل واپس لے کر پارلیمنٹ میں وزیراعظم اعلان کریں کہ حکومت ناموس رسالت کے قانون میں ترمیم نہیں کرے گی۔
- ☆....... اعجاز الحق نے کہا کہ ناموس رسالت کے تحفظ کے لئے اگر جانوں کے
نذرانے کی ضرورت ہوئی تو میں سب سے پہلے اپنے سینے پر گولی کھانے کے لئے تیار ہوں۔ حکمران باز نہ آئے تو ہم اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ کریں گے۔
- ☆....... حافظ حسین احمد نے کہا کہ موجودہ حکمران ناموس رسالت کے قانون
میں ترمیم امریکہ اور یورپ کو خوش کرنے کے لئے کرنا چاہتے ہیں لیکن ہم ان کو
باب ششم: تحریک ناموس رسالت، پس منظر، اہداف، مطالبات اور کامیابی
ایسا نہیں کرنے دیں گے۔ تحریک جعفریہ کے سربراہ علامہ ساجد نقوی نے کہا کہ ناموس رسالت کا قانون ہماری جانوں سے زیادہ عزیز ہے اور ہم اس کا ہر صورت تحفظ کریں گے۔
- ☆...... مولانا عبدالغفور حیدری نے کہا کہ توہین رسالت کرنے والے مجرم کی سزا
صرف سزائے موت ہے اور دنیا کی کوئی طاقت اس کو ختم نہیں کر سکتی۔
- ☆...... مولانا سمیع الحق نے کہا کہ ہمیں حکمرانوں پر اعتبار نہیں اور جب تک یہ
پارلیمنٹ میں اعلان نہیں کرتے کہ ناموس رسالت کے قانون میں ترمیم نہیں ہوگی اس وقت تک ہم احتجاج جاری رکھیں گے۔
- ☆...... مسلم لیگ (ن) کے رکن قومی اسمبلی خواجہ سعد رفیق نے کہا کہ مسلم لیگ
(ن) کے کارکن ناموس رسالت کے قانون کے تحفظ کے لئے تحریک ناموس رسالت کے ساتھ ہیں۔
- ☆...... تحریک انصاف کے مرکزی نائب صدر اعجاز احمد چوہدری نے کہا کہ ہم
ناموس رسالت کے اس قانون میں ترمیم یا اس کو ختم کرنے کے سخت خلاف ہیں اور اس کے لئے ہر طرح کی قربانی دیں گے۔۱
جیسا کہ آپ نے ملاحظہ کیا کہ اس تحریک حرمت رسول میں پہلے سے موجود مذہبی و سیاسی جماعتوں کے علاوہ مزید سیاسی جماعتیں بھی اس تحریک کا حصہ بن کر اپنی قومی و ملی ذمہ داری کا ثبوت دے رہی ہیں۔
ہمیں اُمید ہے کہ قوم اسی طرح متحد و متفق رہی اور اس نے حمیّت و بیداری کا ثبوت دیا تو اسلامی نظام کا نفاذ انشاء اللہ پاکستان کا ضرور مقدر ہوگا۔
(وما ذلک علی اللہ بعزیز)
(وصلی اللہ تعالیٰ علیٰ خیر خلقہ محمد وآلہ واصحابہ اجمعین)
۱ روزنامہ جنگ ۳۱؍جنوری ۲۰۱۱ء
باب ششم: تحریک ناموس رسالت، پس منظر، اہداف، مطالبات اور کامیابی
لاہور میں مولانا فضل الرحمٰن کا ولولہ انگیز خطاب
☆....... لاہور کے جلسہ سے مولانا فضل الرحمٰن مدظلہ کے خطاب کی اگرچہ مختصر رپورٹ گزشتہ صفحات میں آ چکی ہے۔ لیکن تفصیلی خطاب ماہنامہ ”الجمعیۃ“ سے پیش خدمت ہے۔
جناب صدر محترم، اکابرین قوم، زعمائے ملت، میرے بزرگو، دوستو اور بھائیو! اہل پنجاب نے آج پاکستان کے دل لاہور میں لاکھوں انسانوں کا یہ عظیم الشان اجتماع منعقد کر کے پوری دنیا پر واضح کر دیا ہے، یورپ پر واضح کر دیا ہے، مغرب کے یورپ پر واضح کر دیا، پاکستان کے حکمرانوں پر واضح کر دیا، لادین اور بے دین قوتوں پر واضح کر دیا کہ ہم اپنے خون کا نذرانہ پیش کر سکتے ہیں، اپنے سروں کی قربانی دے سکتے ہیں لیکن ناموس رسالت پر آنچ نہیں آنے دیں گے۔
میرے محترم دوستو! آج پاکستان کے مسلمانو! آپ کی وساطت سے میں قوم کو پیغام دینا چاہتا ہوں، آج پاکستان کے کروڑوں مسلمانوں کا پیغام آج کے اس اجتماع کی وساطت سے امریکہ اور یورپی پارلیمنٹ کو دینا چاہتا ہوں کہ پاکستان کی سرزمین پر پاکستان کے غیور عوام اور یہاں کے کروڑوں مسلمان تمہارا ایجنڈا نہیں چلنے دیں گے، یہاں پر پرچم لہرائے گا تو اسلام کا پرچم لہرائے گا، یہاں پر پرچم لہرائے گا تو حضرت محمد ﷺ کا پرچم لہرائے گا، یہ لوگ ہمیں برداشت کا سبق سکھاتے ہیں، میں ان سے پوچھتا ہوں کہ تمہاری اپنی سرزمین پر امتیازی قوانین موجود ہیں، وہ مسلمان خواتین جو نقاب رکھنا چاہتی ہیں تم نے اپنے ملکوں میں ان کے اسلامی عقیدے پر پابندیاں لگائی ہیں، مسلمان جو اپنی مسجدوں کی علامت مینار کے طور پر رکھتے ہیں تمہارے ملکوں میں مساجد کے میناروں پر پابندی لگائی گئی اور اسلام کے شعائر کو
باب ششم: تحریک ناموس رسالت، پس منظر، اہداف، مطالبات اور کامیابی
گرانے کی کوشش کی گئی۔ ہم جانتے ہیں کہ تم لوگوں نے اپنی سرزمین پر جناب رسول اللہ ﷺ کے خاکے چھاپے ہیں۔ ہم جانتے ہیں تم نے گوانتاناموبے کی قید میں مسلمان قیدیوں کے ساتھ جو اذیت ناک اور وحشیانہ سلوک کیا ہے، انسانی حقوق تمہارے ان مظالم کے سامنے دم بخودرہ جاتے ہیں۔ تم کس بنیاد پر انسانی حقوق کی بات کرتے ہو؟ ہاں ہم کہہ سکتے ہیں کہ جو ناموس رسالت کی توہین کرتا ہے، اس کا تعین اللہ خود کرتا ہے۔
ولا تطع کل حلاف مہین ہماز مشاء بنمیم مناع للخیر معتد اثیم عتل بعد ذلک زنیم
” حضور ﷺ کی توہین وہی کر سکتا ہے جو نائٹ کلبوں کی اولاد ہو، کوئی حلالی انسان کبھی ناموس رسالت کی توہین نہیں کر سکتا۔“
یاد رکھو! ہمارے اقدار پر، ہمارے عقائد پر، ہماری آماجگاہ محبت وعقیدت پر اگر تم انتہا پسندانہ حملے کرو گے تو ہمیں بھی تمہاری انتہا پسندی کے مقابلے میں انتہا پسندانہ اقدامات کا حق حاصل ہوگا۔ ہم بھی آپ کے مقابلے میں صف آراء ہو سکتے ہیں۔ اگر آج عرب کی سرزمین پر تمہارے ایجنٹ ، حکمران اپنے اقتدار کو نہیں بچا پارہے، خدا کی قسم انشاء اللہ پاکستان کے تمہارے ایجنٹ حکمران بھی اپنے اقتدار کو نہیں بچاسکیں گے۔
میرے محترم دوستو! میں یہ بھی کہہ دینا چاہتا ہوں کہ حکمرانوں سے اختلاف ہوتے ہیں، ملکی مسائل پر جھگڑے ہوتے ہیں، ہمارے ملک میں مسائل ہیں، بیروزگاری ہے، مہنگائی ہے، لوڈ شیڈنگ ہے، غریب کے مسائل اپنی جگہ، لیکن غریب آدمی نے، عام پاکستانی نے اپنی مشکلات پر اس قدر اضطراب کا مظاہرہ نہیں کیا، جس اضطراب کا مظاہرہ ناموس رسالت کے حوالے سے پاکستان کے کروڑوں مسلمانوں نے کیا ہے، اسلئے کوئی ایجنڈا نہیں، آج پوری قوم کا ایک ہی ایجنڈا ہے اور وہ ایجنڈا ناموس رسالت کے قانون کے تحفظ کا ایجنڈا ہے، اس کے علاوہ کوئی قومی ایجنڈا پاکستان میں موجود نہیں۔......
میرے محترم دوستو! حکمرانوں کی طرف سے طفل تسلیاں آرہی ہیں، بیان پہ بیان
باب ششم:
دے رہے ہیں قیادت کہے گی کہ سنجیدگی سے ہمارے یکطرفہ طور پر حکمران کرنے کے لئے تیار اللہ ۲۰ فروری کو پشاور الشان مظاہرہ منعقد کیا مظاہرے جاری رہیں رسالت کی تحریک سے آئے گا عوام کا یہ سمندر نہیں روک سکتے۔ یہ پہلے اب ہم نے رکنا ایجنٹوں کو حکومت کرنے کو قبول کرنے کے لئے میں اسلام اور اسلامی ا یا انگریزوں کے جانشینوں افغانستان سے نکلے، رو نکلنے کی راہیں تلاش کر رب العالمین کا اعلان ہے ان الذین یح غلبن انا ورسلی اور میں آپ
باب ششم: تحریک ناموس رسالت، پس منظر، اہداف، مطالبات اور کامیابی
دے رہے ہیں۔ میں آپ کو بتانا چاہتا ہوں کہ حکومت کے بیانات پر اعتماد مت کرو، جب قیادت کہے گی کہ معاملہ طے ہوگیا ہے، سنجیدگی سے ہمارے مطالبات کو تسلیم کرلیا گیا ہے، سنجیدگی سے ہمارے مطالبات کا نوٹس لیا گیا۔ قیادت فیصلہ کرے گی کہ معاملہ طے ہوگیا یکطرفہ طور پر حکمرانوں کو حق نہیں پہنچتا اور نہ ہی ہم یکطرفہ طور پر حکمرانوں کی وضاحتوں کو تسلیم کرنے کے لئے تیار ہیں۔ چنانچہ ہم نے اس تحریک کو آگے بڑھانے کا فیصلہ کیا ہے اور انشاء اللہ ۲۰ فروری کو پشاور میں اہل اسلام اور شمع رسالت کے پروانوں کا اسی طرح ایک انتہائی عظیم الشان مظاہرہ منعقد کیا جائے گا۔ جب تک یہ مظاہرہ منعقد نہیں ہوتا، ہر شہر میں ہر جمعہ کو ہمارے مظاہرے جاری رہیں گے اور ہر طبقہ زندگی کو ہم بتانا چاہتے ہیں کہ اپنے کردار کو اس ناموس رسالت کی تحریک سے وابستہ کرو اور ایسا ہر کردار جو اس تحریک کو سبوتاژ کرنے کے لئے سامنے آئے گا عوام کا یہ سمندر اسے خس و خاشاک کی طرح بہا کر لے جائے گا۔ اب آپ اس تحریک کو نہیں روک سکتے۔ یہ سیلاب چلتا رہے گا اور انشاء اللہ العزیز منزل کو حاصل کرے گا، منزل سے پہلے اب ہم نے رکنا نہیں ہے۔ ہم نے واضح طور پر دنیا کو بتانا ہے کہ پاکستان پر امریکی ایجنٹوں کو حکومت کرنے کا کوئی حق حاصل نہیں ہے۔ پنجاب کی سرزمین اب کسی امریکی ایجنٹ کو قبول کرنے کے لئے تیار نہیں ہوسکتی، اب ہمیں واضح طور پر تقسیم کرنی ہوگی کہ اب اس ملک میں اسلام اور اسلامی اقدار اور حضور ﷺ کے دین متین کی سربلندی اور حاکمیت چاہتے ہیں یا انگریزوں کے جانشینوں کی حاکمیت چاہتے ہیں۔ ہم نے انگریز کو اس سرزمین سے نکالا، افغانستان سے نکلے، روس وہاں سے نکلا۔ آج امریکہ ذلت و رسوائی کے ساتھ افغانستان سے نکلنے کی راہیں تلاش کر رہا ہے۔ لیکن اللہ رب العالمین کا اعلان ہے، یہ میرا اعلان نہیں ہے، بلکہ رب العالمین کا اعلان ہے۔
ان الذین یحادون اللہ ورسولہ اولئک فی الاذلین کتب اللہ لا غلبن انا ورسلی ان اللہ قوی عزیز.
اور میں آپ کے گورنر صاحب سے بھی گذارش کرنا چاہتا ہوں کہ سلمان تاثیر تو جیل
باب ششم: تحریک ناموس رسالت، پس منظر، اہداف، مطالبات اور کامیابی میں گیا آسیہ مسیح کو پوچھنے کے لئے۔ آج کے گورنر کو چاہیے وہ ممتاز قادری کو پوچھنے کے لئے چلا جائے اور شکریہ ادا کرے کہ اس کی گورنری تو اسی کے دم قدم سے ہے۔
میرے دوستو! میں ایک بات اس تحریک کے کارکنوں سے کہنا چاہتا ہوں کہ جب آپ اس اجتماع میں آئیں تو اس عقیدے کے ساتھ آئیں کہ دنیا ہمیں تقسیم کرنا چاہتی ہے، مغرب ہمیں تقسیم کر رہا ہے۔ ہمیں فرقوں میں بانٹ رہا ہے، ہمیں فرقہ واریت کی بنیاد پر لڑا رہا ہے لیکن آج بھی اس گئے گزرے دور میں بھی، اس گئی گزری امت کو رحمت اللعالمین ﷺ پھر اکٹھا کر لیتے ہیں۔ اس پر ہمیں شکر گزار ہونا چاہیے اللہ کا اور رحمت کی تصویر بن کر ہمیں ایک دوسرے کو برداشت کرنا ہوگا۔ اس سٹیج پر بلائے گئے تمام مہمان اور جماعتیں اور قائدین یہ ایک صف بن جاتے ہیں اور اگر ہمارے اندر کوئی برداشت نہیں رکھتا تو پھر وہ رسول اللہ ﷺ کا نمائندہ نہیں ہے، پھر پتہ نہیں کس کا نمائندہ ہے۔ کہاں سے وہ منفعتیں لے کر اس صف واحد کو سبوتاژ کرنا چاہتا ہے، وحدت کا مظاہرہ کیجئے۔ میں پھر کارکنوں سے کہتا ہوں کہ اپنی پارٹی کے لیڈر سے دوسری پارٹی کے لیڈر کا زیادہ احترام کرو، اس کو زیادہ خوش آمدید کہو۔ اور دنیا کو پیغام دو کہ ہم پاکستان کے عوام متحد ہیں ہم اکٹھے ہو رہے وہ قوتیں ہمیں پھر لڑانا چاہتی ہیں۔ ان کے لئے ہمیں اپنی توانائیاں استعمال نہیں کرنی چاہئیں بلکہ بھر پور طور پر اس تحریک کو سنجیدگی سے لینا ہوگا اور اس کو آگے بڑھانا ہوگا۔ اللہ پر توکل کرو، میڈیا پر توکل نہ کرو۔ خدا کے توکل پر آگے بڑھو، انشاء اللہ دنیا کی کوئی طاقت آپ کا راستہ نہیں روک سکتی۔
(”الجمعیۃ“ راولپنڈی فروری ۲۰۱۱ء)
☆☆☆☆☆☆☆.......☆☆☆☆☆☆☆☆
باب ششم: ....... تحریک ناموس رسالت، پس منظر، اہداف، مطالبات اور کامیابی
حکومت پاکستان کی طرف سے ”تحفظ ناموس رسالت“
قانون سے متعلق تازہ فیصلہ کا مکمل ترجمہ!
نیشنل اسمبلی، وفاقی وزارت داخلہ، وفاقی وزارت خارجہ، وفاقی وزارت اقلیتی امور اور دیگر ملکی و غیر ملکی اداروں و شخصیات نے وزیر اعظم پاکستان کو اپنی اپنی طرف سے خطوط لکھے اور یاداشتیں بھجوائیں۔ وزیر اعظم پاکستان نے وفاقی وزارت قانون و پارلیمانی امور کو وہ تمام مواد بھجوا کر ان کی رائے مانگی۔ وفاقی وزارت قانون نے ان تمام امور پر تفصیل سے غور کرنے کے بعد ایک تفصیلی سمری تیار کر کے وزیر اعظم پاکستان کو بھجوائی۔ وزیر اعظم نے سمری پر دستخط کر کے اسے قانونی حیثیت دے دی۔ ذیل میں اس سمری کا مکمل ترجمہ پیش خدمت ہے۔ یہ ترجمہ پروفیسر ڈاکٹر عتیق الرحمن فیصل نے لکھا ہے۔ ماہنامہ لولاک ملتان نے اپنے اپریل ۲۰۱۱ء کے شمارہ میں شائع کیا۔ ماہنامہ ”لولاک“ کے شکریہ کے ساتھ اشاعت کی سعادت حاصل کر رہے ہیں۔
ناموس رسالت قوانین کا مختلف حوالوں سے ایک مکمل
جائزہ
(انبیاء علیہم السلام کے متعلق قوانین کا جائزہ)
وزیر اعظم پاکستان، وزارت قانون، انصاف و پارلیمانی امور کی طرف سے پیش کی گئی تجاویز کو (ناموس رسالت قانون کے حق میں) بخوشی منظور کرتے ہیں اور اس سلسلے میں متعلقہ وزارتوں کو قابل عمل تجاویز کے متعلق ہدایات جاری کی جارہی ہیں۔
دستخط: خوشنود اختر لاشاری پرنسپل سیکرٹری وزیر اعظم پاکستان ۸ فروری ۲۰۱۱ء
باب ششم: ...... تحریک ناموس رسالت، پس منظر، اہداف، مطالبات اور کامیابی
پاکستان میں قوانین رسالت کے متعلق سوالات کا تفصیلی جائزہ
حال میں طرح طرح کے مختلف خطوط، مختلف افراد، تنظیموں اور غیر ملکیوں کی طرف سے محترم وزیراعظم پاکستان کو لکھے گئے۔ (حوالہ 30) PM.SECRETARIAT (U.O.NO.5 FS/2010)، (بتاریخ ۳۰ نومبر ۲۰۱۰ء آسیہ بی بی کیس) اور مختلف حوالہ جات جو کہ وزارت داخلہ کی طرف سے (بحوالہ لیٹر نمبر U.O/7/32/2010 Ptns 8/12/2010 dated) وزارت عظمیٰ کو بھجوائے گئے۔ یہ سب خطوط سزا یافتہ آسیہ نورین کے متعلق لکھے گئے ہیں۔ جسے ایک معروف ترین عدالت نے سزا سنائی۔ اب ایک اور ریفرنس قانون رسالت میں ترمیم کے حوالے سے اقلیتی امور کی وزارت کی طرف سے بھیجا گیا ہے۔
- (۲)....... وزارت خارجہ کی طرف سے وزارت عظمیٰ کو اسی ایشو پر ایک ریفرنس (بتاریخ
۲۳ نومبر ۲۰۱۰ء (DG(Americas-2010 ) بھجوایا گیا۔
- (۳)....... شیریں رحمن (MNA) کی طرف سے پیش کئے گئے ترمیمی بل قانون رسالت
(Amendment Law 2010) کو سیکرٹریٹ نیشنل اسمبلی نے وزارت عظمیٰ کو بحث اور تبصرے کے لئے بھجوایا۔ موصوفہ پینل کوڈ اور کریمنل لاء برائے قانون رسالت ۱۸۶۰ء (جو کہ پاکستانی قانون کا حصہ ہے) اور اس کے ساتھ ساتھ ۱۸۹۸ء کے کوڈ آف کریمنل لاء میں ترمیم چاہتی تھی۔
زیر دستخطی (محترم وزیراعظم صاحب) کو آگاہ کیا گیا کہ MNA شیری رحمن نے اس ارادے سے نوٹس دیا ہے کہ قانون رسالت کے بل میں ترمیم کر کے ترمیمی قانون رسالت متعارف کروایا جائے۔ (2010 Amendment Law) یہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ (شیریں رحمن کی طرف سے) پیش کئے گئے بل کی موزونیت کے حوالے سے فیڈرل شریعت کورٹ کے فیصلے (PLD1991 فیڈرل شریعت کورٹ 10) کی روشنی میں وزارت قانون، انصاف و پارلیمانی امور کی مفصل رائے لی جائے۔
- (۴)....... اس معاملے کی حساسیت اور اہمیت کو مدنظر رکھتے ہوئے وزارت قانون،
انصاف اور پارلیمانی امور نے اس معاملے کا جائزہ قرآن وحدیث (ارشادات نبوی) اور پاکستان میں نافذ العمل قانون رسالت (پینل کوڈ 1860-C-295) اور اسی طرح
باب ششم :....... تحریک ناموس رسالت، پس منظر، اہداف، مطالبات اور کامیابی
اس قانون کا دوسرے ملکوں میں نافذ العمل ہونے کے حوالے سے تفصیلی جائزہ لیا ہے۔
- (۵)...... پرائیویٹ ممبر بل (جو کہ شیری رحمن MNA کی طرف سے نیشنل اسمبلی میں
پیش کیا گیا ہے) پر حالیہ بحث کے حوالے سے جو کہ قانون رسالت سے متعلق ہے۔ قومی اسمبلی سیکرٹریٹ نے پہلی دفعہ اس سوال کا جواب فیڈرل شریعت کورٹ (PLD 1991.FSC P-10) کے فیصلے کی مسلمہ حیثیت کو برقرار رکھتے ہوئے پہلے ہی اس کو بلند ترین حیثیت میں منظور کیا ہوا ہے اور اس کو انہی اسلامی تصریحات (قرآن و حدیث کے مطابق) لاگو کیا ہوا ہے۔
آج بھی یہ قانون اور فیصلہ اسی طرح رائج ہے۔ آئین پاکستان کے تحت یہ قانون پہلے ہی سے بالوضاحت موجود تھا کہ قانون کے کسی بھی حصے یا شق کے متعلق کوئی فورم تشکیل دیا جائے کہ آیا یہ اسلامی تصریحات سے مطابقت رکھتا ہے یا نہیں۔ یہ اختیارات فیڈرل شریعت کورٹ کو (203-D) اسلامک ریپبلک آف پاکستان کے قانون کے مطابق دیئے گئے ہیں اور اس آرٹیکل کا متن نیچے دیا گیا ہے اور اس معاملے میں کسی بھی قسم کے شک و شبہ کی گنجائش نہیں۔
شریعت کورٹ کے آئینی حدود و اختیارات
"شریعت کورٹ از خود نوٹس لے کر یا پاکستان کے کسی شہری یا وفاقی یا صوبائی حکومت کی رٹ پر اس سوال کا جائزہ لے سکتی ہے اور فیصلہ دے سکتی ہے کہ آیا کہ وہ قرآن و سنت اور اسلامی تصریحات کے مطابق ہے یا نہیں ۔"
- (۶)....... بلاشبہ پاکستان کی پارلیمنٹ کو قوانین کی تشریح، ترمیم اور تنسیخ کے وسیع
تر اختیارات ہیں۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ پارلیمانی روایات اور ٹھوس آئینی روایات کے مطابق یہ قانون جو کہ پارلیمنٹ نے رائج کیا ہے اور کئی عشروں سے موجود رہا ہے اور عدلیہ کی انتہائی گہرے جائزے اور جانچ پڑتال میں رہا ہے اور اس سلسلے میں انتہائی آئینی تجزیے میں رہا ہے۔ رہا پیش کردہ ترمیمی بل جس کو زبانی طور پر متعلقہ ممبر نے واپس لے لیا ہے اور اس بل کی واپسی کے سلسلے میں ممبر نے کہیں بھی انکار نہیں کیا ہے۔ قانون رسالت جو کہ دیئے گئے پیراگرافس میں بحث کیا گیا ہے۔ جسے پہلے ہی وفاقی
باب ششم: ....... تحریک ناموس رسالت، پس منظر، اہداف، مطالبات اور کامیابی
شرعی عدالت نے (شق 2 آرٹیکل 203-D) میں جائزہ لیا ہے اور پہلے ہی اس کا فیصلہ کیا ہے کہ یہ قانون (قانون رسالت) عین اسلامی تصریحات کے مطابق ہے اور اعلان کر دیا ہے کہ اس کی سزا اسلامی تصریحات (احکامات) کے عین مطابق ہے۔ اس لئے متذکرہ بالا قانون رسالت کا نظر ثانی شدہ سزا کا ترمیمی بل ۲۰۱۰ء جسے شیریں رحمن نے اسمبلی میں پیش کیا تھا۔ اسے مسترد کیا جاتا ہے۔
- (۷)...... قرآن پاک سے اس سلسلے میں چند آیات کا نیچے حوالہ دیا گیا ہے۔
آیت نمبر: (۱)
”اور بعض ان میں بدگوئی کرتے ہیں۔ نبی کی اور کہتے ہیں کہ یہ شخص سننے والا ہے تو کہہ سننے والا ہے تمہارے بھلے کے واسطے یقین رکھتا ہے اللہ پر، اور یقین کرتا ہے مسلمانوں کا اور رحمت ہے ایمان والوں کے لئے تم میں سے اور جو لوگ بدگوئی کرتے ہیں اللہ کے رسول کی ان کے لئے عذاب ہے دردناک۔“
(توبہ :۶۱)
آیت نمبر: (۲)
”وہ لوگ جو اللہ اور اس کے رسول کو ایذا دیتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کی ان پر لعنت ہے اس دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی اور ان کے لئے اللہ تعالیٰ نے درد ناک عذاب تیار کر رکھا ہے۔“
(الاحزاب:۵۷)
آیت نمبر: (۳)
”اے ایمان والو! اپنی آوازیں اپنے نبی کی آواز سے بلند نہ کرو اور بات کرتے ہوئے تم نہ چیخو۔ ان کے پاس جیسے بعضے تم میں سے آپس میں چیختے ہیں۔ ایسا نہ ہو کہ تمہارے اعمال ضائع کر دیئے جائیں اور تمہیں خبر (شعور) بھی نہ ہو۔“
(الحجرات:۲)
باب ششم :....... تحریک ناموس رسالت، پس منظر، اہداف، مطالبات اور کامیابی
آیت نمبر: (۴)
”تم پیغمبر کی دعا کو اپنے بعض لوگوں کی دعا کی طرح نہ سمجھو۔ اللہ تم میں سے ان لوگوں کو جانتا ہے۔ جو نظریں چرا کر اپنے آپ کو چھپاتے ہیں اور اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو جو کہ احکامات کو نظر انداز کرنے کی سازش کرتے ہیں جانتا ہے۔ خبردار ہو کہ ان کو غم اور درد ناک عذاب پہنچے ۔“
(النور: ۶۳)
آیت نمبر: (۵)
”تا کہ تم اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لاؤ اور اس کی عزت کرو اور اس کی قدر کرو اور اس کی تعریف کرو۔ صبح و شام ۔“
(الفتح: ۹)
آیت نمبر: (۶)
”اے ایمان والو! تم پیغمبر کے گھروں میں طعام کے لئے بلا اجازت داخل نہ ہو۔ لیکن اگر تمہیں دعوت دی جائے تو داخل ہونا اور جب کھانا ختم ہو جائے۔ تب چلے جاؤ اور گفتگو کے سلسلہ میں زیادہ دیر وہاں مت ٹھہرو۔ یہ بات نبی کریم ﷺ کے لئے باعث تکلیف ہوتی ہے اور وہ تمہارے وہاں جانے پر عار محسوس کرتے ہیں۔ لیکن اللہ اس حق کے کہنے میں عار محسوس نہیں کرتا اور جب تم کوئی چیز حضور ﷺ کی ازواج مطہرات سے پوچھنا چاہو تو اسے پردے کے پیچھے سے پوچھو۔ یہ تمہارے اور ان کے دلوں کے لئے اطہر ہے۔ نبی کریم ﷺ کو تکلیف (ایذا) پہنچانا نامناسب ہے (اس بات کی اجازت نہیں) انہیں نبی کریم ﷺ کی ازواج مطہرات میں سے (کسی سے بھی) ان کی زندگی کے بعد بھی نکاح کی اجازت نہیں۔ یہ اللہ کے نزدیک بہت گناہ کی بات ہے۔“
(الاحزاب: ۵۳)
باب ششم: ...... تحریک ناموس رسالت، پس منظر، اہداف، مطالبات اور کامیابی
آیت نمبر: (۷)
”وہ لوگ جو اللہ اور اس کے پیغمبر کی مخالفت کرتے ہیں۔ وہ بہت ہی ذلیل لوگوں میں سے ہوں گے۔“
(المجادلہ : ۲۰)
آیت نمبر: (۸)
”بے شک اے نبی تمہارا دشمن دم کٹا ہے۔“
(الکوثر : ۳)
آیت نمبر: (۹)
”وہ لوگ جو اللہ اور اس کے رسول سے جنگ کرتے ہیں اور زمین میں فساد پھیلانے کی کوشش کرتے ہیں۔ ان کو قتل کر دیا جائے گا یا ان کو پھانسی (صلیب چڑھانا ) دے دی جائے گی اور ان کے ہاتھ اور پاؤں (متبادل سمتوں سے ) کاٹ دیئے جائیں گے۔ یا انہیں وہاں سے (اس جگہ سے ) نکال دیا جائے گا۔ پس دنیا میں بھی ان کے لئے ذلت ہے اور آخرت میں درد ناک عذاب ہے۔“
(المائدہ : ۳۳)
آیت نمبر: (۱۰)
”اگر وہ عہد کے بعد اپنے عہد سے پھر جائیں اور تمہارے دین پر طعن و تشنیع کریں تو کفار کے سرداروں سے قتال کرو۔ کیونکہ ان کا کوئی ایمان نہیں۔ کیونکہ وہ (اپنے عہد سے) پھرنے والے ہیں۔“
(التوبہ : ۱۲)
(اب کچھ حوالہ جات احادیث سے درج ذیل ہیں)
حدیث نمبر: (۱)
”حضرت انس بن مالکؓ نے بیان کیا کہ فتح مکہ کے دن حضور ﷺ مکہ میں
باب ششم: ...... داخل ہوئے اور اتارا۔ ایک آدمی ہے۔ نبی کریم ﷺ حضور ﷺ حرم کی
حدیث نمبر: (۲)
”نبی کریم ﷺ نے فر کو مارنے کے لئے کہ فرمائیں گے کہ میں کہی) تو مجھے یہ کہن کریم ﷺ نے اجاز
حدیث نمبر: (۳)
”حضرت براء بن کچھ لوگوں کو ابو راف کا امیر بنایا۔ ابو راف دشمنوں کی مدد کر سورج غروب اپنے گھروں میں سے کہا کہ تم اپنی ہونے کے لئے کہ جب دروازے پ
باب ششم: ....... تحریک ناموس رسالت، پس منظر، اہداف، مطالبات اور کامیابی
داخل ہوئے اور وہ اپنے سر پر خود پہنے ہوئے تھے جب انہوں نے اسے اتارا۔ ایک آدمی آیا اور اس نے کہا کہ ابن خطل غلاف کعبہ سے چمٹ رہا ہے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا اس کو قتل کر دو اور مالکؒ نے بیان کیا کہ اس دن حضور ﷺ احرام کی حالت میں نہیں تھے اور اللہ بہتر جانتا ہے۔“
(صحیح بخاری ج ۵ باب ۵۸۲ ص ۴۰۵، ۴۰۶)
حدیث نمبر: (۲)
”نبی کریم ﷺ نے فرمایا (جابر بن عبداللہؓ سے) کہ کعب بن اشرف (یہودی) کو مارنے کے لئے کون تیار ہے؟ محمد بن مسلمہؓ نے عرض کیا۔ ”کیا آپؐ پسند فرمائیں گے کہ میں اسے مار ڈالوں۔“ تو نبی کریم ﷺ نے اجازت دی۔ (ہاں کہی) تو مجھے یہ کہنے کی اجازت دیں کہ میں جو چاہوں کہہ دوں۔ نبی کریم ﷺ نے اجازت عطا فرمائی۔“
(صحیح بخاری ج ۴ باب ۱۵۷ ص ۱۰۸)
حدیث نمبر: (۳)
”حضرت براء بن عازبؓ سے روایت ہے کہ اللہ کے نبیؐ نے انصار میں سے کچھ لوگوں کو ابو رافع (یہودی) کے قتل کے لئے بھیجا اور عبداللہ بن عتیقؓ کو ان کا امیر بنایا۔ ابو رافع نبی کریم ﷺ کی شان میں گستاخی کرتا تھا اور آپ ﷺ کے دشمنوں کی مدد کرتا تھا۔ وہ حجاز کی سرزمین میں ایک قلعے میں رہتا تھا۔ جب سورج غروب ہونے کے بعد اس کے قلعے تک پہنچے اور تب لوگ اپنا سامان اپنے گھروں میں (واپس) لا چکے تھے ۔ تو عبداللہ بن عتیقؓ نے اپنے ساتھیوں سے کہا کہ تم اپنی جگہ پر بیٹھ جاؤ اور میں گیٹ کے دربان سے گیٹ میں داخل ہونے کے لئے کوئی حیلہ کروں گا تو عبداللہؓ قلعے کی طرف روانہ ہوئے اور جب دروازے پر پہنچے تو انہوں نے اپنے آپ کو قصداً کپڑوں میں ڈھانپ
تحریک ناموس رسالت، پس منظر، اہداف، مطالبات اور کامیابی
لیا۔ تا کہ دربان انہیں (وہیں کا سمجھتے ہوئے) اندر بلا لے۔ لوگ اندر جا چکے تھے اور دربان نے عبداللہؓ کو (قلعے کے خدام) میں سے سمجھتے ہوئے کہا۔ او اللہ کے بندے۔ اگر آپ چاہتے ہیں تو اندر داخل ہو جاؤ۔ کیونکہ میں گیٹ بند کرنا چاہتا ہوں۔ عبداللہؓ نے اپنی کہانی میں اضافہ کرتے ہوئے کہا کہ میں قلعے میں داخل ہو گیا اور اپنے آپ کو چھپالیا۔ جب لوگ اندر داخل ہو گئے تو دربان نے دروازہ بند کر لیا اور چابیاں لکڑی کی ایک کھونٹی سے لٹکا دیں۔ میں اٹھا اور چابیاں لے کر میں نے دروازہ کھول دیا۔ کچھ لوگ رات کے وقت ابو رافع کے ساتھ خوشگوار رات گزارنے کے لئے اس کے کمرے میں ٹھہرے ہوئے تھے۔ جب اس کے ساتھی رات کی تفریح کے بعد چلے گئے تو میں اس کی طرف چڑھا اور جب میں نے ایک دروازہ کھولا تو اسے اندر سے بند کر دیا۔ میں نے اپنے آپ سے کہا۔ کیا ان لوگوں کو میری موجودگی کا پتہ چلنا چاہئے۔ وہ مجھے اس کو قتل کرنے تک نہیں پکڑ سکیں گے۔ تب میں اس تک پہنچ گیا اور اسے اپنے خاندان کے درمیان تاریک کمرے میں سوئے ہوئے پایا۔ لیکن میں اس کی موجودگی کی صحیح جگہ کو نہ پاسکا۔ اس لئے میں زور سے چلایا۔ ”اے ابو رافع“ ابو رافع نے کہا کون ہے۔ میں اس آواز کی سمت چل پڑا اور تلوار سے اس پر وار کیا۔ لیکن میں اس پریشانی کے سبب اسے قتل نہ کر سکا وہ زبردست چلایا اور میں مکان سے باہر آ گیا اور چند لمحے اس کا انتظار کیا اور تب دوبارہ اس کی طرف گیا۔ اے ابو رافع یہ کیسی آواز (شور) ہے؟ ابو رافع نے کہا۔ تمہاری ماں (خوار) ہو۔ ایک آدمی میرے کمرے میں داخل ہوا اور تلوار سے مجھ پر وار کیا۔ میں نے اسے اور شدت سے تلوار ماری۔ لیکن اسے قتل نہ کر پایا۔ پھر میں نے تلوار کو اس کے پیٹ میں اتنا دبایا کہ اس کی کمر تک جا پہنچی۔ پھر مجھے احساس ہوا کہ اب میں نے اسے مار ڈالا ہے۔ میں نے ایک ایک کر کے دروازے
باب ششم:......
کھولے اور پھر میں با سمجھا میں آخری سیڑھی چاندنی رات میں می باندھ لیا اور آگے روا باہر جاؤں گا۔ جب کے اذان کے وقت کہ میں ابو رافع جو کہ میں اپنے ساتھیوں اللہ نے ابو رافع کو مار ہوا اور پاک پیغمبر ﷺ ”اپنی ٹوٹی ہوئی ٹانگ ملا تو یہ ایسے ٹھیک ہو نہیں)“۔
حدیث نمبر: (۲)
”حضرت عمیرؓ می کیا کرتی تھی۔ گالیاں دیتی تھ اس کے بیٹے کو قتل کیا ہے سوچا کہ اس عو پاس آئے اور پ بہن کو کیوں قت
باب ششم:......... تحریک ناموس رسالت، پس منظر، اہداف، مطالبات اور کامیابی
کھولے اور پھر میں سیڑھیوں تک پہنچ گیا۔ (آخری سیڑھی تک) اور میں نے سمجھا میں آخری سیڑھی تک پہنچ گیا ہوں۔ میں نے باہر قدم رکھا۔ گر پڑا اور چاندنی رات میں میری ٹانگ ٹوٹ گئی۔ میں نے ٹانگ کو اپنی پگڑی سے باندھ لیا اور آگے روانہ ہوا اور دروازے پر جا بیٹھا اور کہا کہ آج رات میں نہیں باہر جاؤں گا۔ جب تک یہ نہ جان لوں کہ وہ مر چکا ہے۔ اگلے دن صبح (مرغ کے اذان کے وقت) موت کا اعلان کرنے والا دیوار پر کھڑا اعلان کر رہا تھا کہ میں ابو رافع جو کہ حجاز کا سوداگر ہے۔ اس کی موت کا اعلان کرتا ہوں۔ پھر میں اپنے ساتھیوں کے پاس گیا اور کہا اب ہم اپنے آپ کو بچائیں۔ کیونکہ اللہ نے ابو رافع کو مار دیا ہے۔ اس کے بعد میں اپنے ساتھیوں کے ہمراہ روانہ ہوا اور پاک پیغمبر ﷺ کے پاس پہنچ کر پورا قصہ عرض کیا۔ آپ ﷺ نے فرمایا۔ ’’اپنی ٹوٹی ہوئی ٹانگ کو باہر نکالو۔‘‘ میں نے اسے باہر نکالا آپ ﷺ نے اسے ملا تو یہ ایسے ٹھیک ہوگئی۔ جیسے اسے کچھ ہوا ہی نہیں تھا۔ (یعنی کوئی تکلیف تھی ہی نہیں)‘‘۔
(صحیح بخاری ج ۵ باب نمبر ۷۱ ص ۲۵۱، تا ۲۵۳)
حدیث نمبر: (۴)
’’حضرت عمیرؓ بن امیہ سے مصدقہ روایت ہے کہ اس کی مشرکہ بہن اسے تنگ کیا کرتی تھی۔ جب وہ حضور ﷺ سے ملتا تو وہ (ان کے سامنے) حضور ﷺ کو گالیاں دیتی تھی۔ آخر کار ایک دن اس (حضرت عمیرؓ) نے اسے قتل کر دیا۔ اس کے بیٹے چلائے اور کہا ہم ان قاتلوں کو جانتے ہیں جنہوں نے ہماری ماں کو قتل کیا ہے اور ان لوگوں کے والدین مشرک (کافر) ہیں۔ حضرت عمیرؓ نے سوچا کہ اس عورت کے بیٹے غلط آدمیوں کو قتل نہ کر دیں۔ وہ نبی کریم ﷺ کے پاس آئے اور تمام صورتحال عرض کی۔ رسول اللہ ﷺ نے کہا، کیا تم نے اپنی بہن کو کیوں قتل کر دیا ہے؟ حضرت عمیرؓ نے عرض کی وہ مجھے آپ کے متعلق
باب ششم: ...... تحریک ناموس رسالت، پس منظر، اہداف، مطالبات اور کامیابی
تکلیف پہنچاتی تھی۔ نبی کریم ﷺ نے اس عورت کے بیٹوں کو بلوایا اور قاتلوں کے متعلق پوچھا۔ انہوں نے قاتلوں کے بارے میں کچھ اور لوگوں کے نام لئے۔ نبی کریم ﷺ نے انہیں اطلاع دی اور اعلان کیا کہ اس (عورت) کا قتل ٹھیک ہوا ہے۔"
(مجمع الزوائد ومنبع الفوائد ج ۵ ص ۲۶۰)
(جیسا کہ یہ PLD 1991-FSC10 میں رپورٹ شدہ ہے)
حدیث نمبر :(۵)
"حضرت عکرمہؓ سے مستند روایت ہے کہ ایک شخص نے حضور ﷺ کو گالی دی تو پاک پیغمبر ﷺ نے فرمایا مجھے اس دشمن کے خلاف کون مدد دے گا۔ حضرت زبیرؓ نے فرمایا میں۔ تب حضرت زبیرؓ اس سے لڑے اور اسے مار ڈالا۔ نبی کریم ﷺ نے اسے یہ نیکی عطاء فرمائی۔" (PLD 1991 FSC10/25 میں رپورٹ کی گئی )"
حدیث نمبر :(۶)
"عبداللہ بن محمدؓ سے سفیان بن عیینہ سے اور عمروؓ سے (ان تمام حوالوں سے ) حضرت جابرؓ نے روایت کی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ کون کعب بن اشرف کو قتل کرے گا۔ کیونکہ پیغمبر ﷺ کو بہت ستایا ہے۔ محمد بن مسلمہ نے دریافت کیا۔ اے اللہ کے پیغمبر ﷺ کیا آپ پسند فرمائیں گے کہ میں اسے قتل کروں؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا ہاں اور انہوں نے اسے مار ڈالا۔"
(صحیح مسلم کتاب الجہاد ۲۱۵۸)
حدیث نمبر :(۷)
"یہ بیان کیا گیا ہے۔ فتح مکہ کے بعد حضور ﷺ عام معافی کا اعلان کر چکے تو آپ ﷺ نے ابن خطل اور اس کی کنیزوں کو جو کہ نبی کریم ﷺ کے متعلق
باب ششم: ......
گستاخانہ شاتمانہ SC10)
سیکشن ۲۹۵۔سی
پاکستان کے ہے۔ اس لئے یہ ضروری نظر ڈال لی جائے۔ جو کہ
گستاخانہ الفا
"جو شخص ب ذریعے یا کسی بہتان کے بلاواسطہ ہو پاک پیغمبر ﷺ یا عمر قید دی جائے گی اور کورٹ آف سیشن و ف
توہین رسالت
"یہ کہ تم ظاہری نقوش یا بہتان محمد ﷺ کے مقدس طرح تم اس جرم کے م مطابق سزا (سزائے مو اور میری تذکر
باب ششم :....... تحریک ناموس رسالت، پس منظر، اہداف، مطالبات اور کامیابی
گستاخانہ شاعری کرتی تھیں۔ ان کے قتل کا حکم فرمایا۔‘‘
(الشفاء از قاضی عیاضؒ ج ۲ ص ۵۸۴)
(PLD 1991 FSC10 میں رپورٹ کیا گیا ہے)
سیکشن ۲۹۵۔سی
پاکستان کے پینل کوڈ (تعزیرات پاکستان) اسی قانون سے متعلق ہے جو کہ زیر بحث ہے۔ اس لئے یہ ضروری ہے کہ سیکشن ۲۹۵۔سی ۱۸۶۰ء پر اور کورٹ کے مجوزہ چارج پر بھی طائرانہ نظر ڈال لی جائے۔ جو کہ درج ذیل ہیں۔
۲۹۵۔سی قانون کی تشریح
گستاخانہ الفاظ کا استعمال (نبی کریم یا انبیاء علیہم السلام کے متعلق)
”جو شخص الفاظ کے ذریعے جو بولے گئے یا تحریر کئے گئے یا ظاہری نقوش کے ذریعے یا کسی بہتان کے ذریعے یا طعن آمیزی کے ذریعے یا خوشامد کے ذریعے بالواسطہ یا بلاواسطہ ہو پاک پیغمبر کے مقدس نام کی بے حرمتی کرتا ہے۔ اسے سزائے موت دی جائے گی۔ یا عمر قید دی جائے گی اور جرمانے کا بھی مستوجب ہوگا۔“ توہین رسالت پر مندرجہ ذیل چارج کورٹ آف سیشن وغیرہ کی طرف سے (اس نیچے دی گئی شکل کے مطابق چارج لگایا جائے گا)
توہین رسالت کے مرتکب مجرم پر قانونی عدالتی چارج
”یہ کہ تم نے فلاں مہینے کی فلاں تاریخ کو لکھ کر یا خطاب کرتے ہوئے ان الفاظ کا یا ظاہری نقوش یا بہتان کا ذکر کیا جو کہ اس نے جان بوجھ کر اور بدنیتی کے ارادے سے پاک پیغمبر محمد ﷺ کے مقدس نام کی بے حرمتی کی ہے۔ ایسے نازیبا تاثرات (الفاظ) استعمال کئے۔ اس طرح تم اس جرم کے مرتکب ہوئے اور اس طرح پاکستان پینل کوڈ ۱۸۶۰ء کی شق ۲۹۵۔سی کے مطابق سزا (سزائے موت اور عمر قید اور جرمانہ) کے مستحق ہوئے۔“
اور میری (جج) کی ہدایت پر اس الزام کی ٹرائل عدالت کے ذریعے کی گئی۔ متذکرہ بالا قرآنی آیات اور پاک پیغمبر ﷺ کی روایات سے عیاں ہے کہ قرآن
باب ششم ....... تحریک ناموس رسالت، پس منظر، اہداف، مطالبات اور کامیابی
وسنت اور پاکستان کے آئین کے مطابق ناموس رسالت کی بے حرمتی پر سزائے موت مقرر کی گئی ہے اور دستور پاکستان میں ایسے الفاظ کو استعمال کرنے سے جو کہ عملاً اور بدنیتی پر مبنی ہوں (اس خاص الزام میں) ایسے معاملے میں جو سزا رکھی گئی ہے۔ پاکستان کی اور کوئی بھی عدالت اس سے ہٹ کر کوئی اور سزا نہیں دے سکتی۔ یہ قانون کورٹ پر اس کے غلط استعمال پر دو ضمانتیں قدغن کے طور پر فراہم کرتا ہے۔ پہلی بات یہ دیکھنے کی ضرورت ہے کہ جج اس جرم کے تعین کے وقت بنظر غائر دیکھے اور دوسرا یہ کہ توہین رسالت کے جرم کے اصل ارتکاب کو دیکھے۔ جرم کے معاملے میں انصاف کی رو سے یہ دونوں اصول بین الاقوامی طور پر مسلمہ ہیں اور بین الاقوامی معیاروں کے تمام عملی مقاصد پر پورا اترتے ہیں۔ توہین رسالت کا جرم تقریباً تمام الہامی مذاہب میں قابل سزا جرم ہے۔ اس کی ایک زندہ مثال ”یہودیت“ سے لی جاسکتی ہے۔ (تورات بک تین سے) (تورات: ۲۴:۱۶، Livities) میں یہ بیان کیا جاتا ہے کہ: ”وہ جو اہانت رسول کرتے ہیں۔ ان کو یقیناً سزائے موت دی جائے گی۔“
اس غلط پروپیگنڈے کو ختم کرنے کے لئے کہ توہین رسالت کا قانون صرف پاکستان ہی میں رائج ہے اور اس طریقے سے صرف ایک مخصوص طبقے کو ٹارگٹ کرنے کے لئے (یہ قانون) بنایا گیا ہے۔ (یہ تاثر بالکل غلط ہے) اس سلسلے میں ہم توہین رسالت کے قانون کو مختلف ممالک میں رائج قوانین کے حوالے سے دیکھتے ہیں۔
- ☆ ...... (تقابلی جائزہ درج ذیل ہے۔)
افغانستان: افغانستان جو کہ ایک اسلامی ریاست ہے۔ توہین رسالت کے قانون کو شریعت کی روشنی میں قتل یا پھانسی کی سزا دیتی ہے۔
آسٹریلیا: قانون ناموس رسالت کے معاملے میں کچھ ریاستوں اور علاقوں میں جرم ہے اور کچھ میں نہیں ہے۔ ناموس رسالت کے سلسلے میں توہین رسالت کے مجرم کو آخری دفعہ ۱۹۱۹ء میں وکٹوریہ میں پھانسی دی گئی۔
آسٹریا: آسٹریا میں توہین رسالت کے سلسلہ میں دو شقیں موجود ہیں۔ (۱) ۱۸۸ر
باب ششم .......
مذہبی تعلیمات میں تبدیلی
بنگلہ دیش: مذہبی جذبات کو مجروح قوانین اور پالیسیوں کو
برازیل : آ مذہبی تعلیمات میں تبدیلی سے ایک سال تک ہو
کینیڈا: کینیڈ کینیڈین حکومت ان مق ۱۹۳۵ء میں کینیڈا میں
ڈنمارک: لیکن ۱۹۳۸ء کے بعد جو تھی۔ اس واقعے کے ب سے ۲۶۶ بی کے قانون خلاف ۲۰۰۳ء میں تجا
مصر : مصر اقلیتوں خاص طور پر استعمال کرتی ہے۔
اردن: ار جذبات کو مجروح کر ان حدود کی خلاف ور
کویت: کو مطابق قانون کے ذ کویت میں عام طور پ
باب ششم: ....... تحریک ناموس رسالت، پس منظر، اہداف، مطالبات اور کامیابی
مذہبی تعلیمات میں تبدیلی لانا۔ (۲)۲۹۸ مذہبی تعلیمات کو (ڈسٹرب) گڑبڑ پیدا کرنا۔
بنگلہ دیش: بنگلہ دیشی قانون رسالت کی بے حرمتی کو قانوناً روکتا ہے اور مذہبی جذبات کو مجروح کرنے سے بھی روکتا ہے اور گفتگو کی آزادی کے سلسلے میں دیگر قوانین اور پالیسیوں کو بھی روکتا ہے۔
برازیل: آرٹیکل ۲۰۸ پینل کوڈ کے مطابق عوامی طور پر ایسا کوئی بھی عمل جو مذہبی تعلیمات میں تبدیلی کا باعث بنے ایک قابل سزا جرم ہے۔ جس کی سزا ایک مہینے سے ایک سال تک ہو سکتی ہے۔ یا جرمانہ بھی ہو سکتا ہے۔
کینیڈا: کینیڈا کے کریمنل کوڈ کے مطابق اہانت رسول ایک جرم ہے۔ لیکن کینیڈین حکومت ان شقوں کو چارٹر آف رائٹس اینڈ فریڈم کے حوالے سے دیکھتی ہے۔ ۱۹۳۵ء میں کینیڈا میں قانون رسالت کے مجرم کو پھانسی دے دی گئی۔
ڈنمارک: ڈنمارک میں پینل کوڈ نمبر ۱۴۰ توہین رسالت کے متعلق ہے۔ لیکن ۱۹۳۸ء کے بعد جبکہ ایک نازی گروپ کو غیر مذہبی پروپیگنڈے کی بنا پر سزا دی گئی تھی۔ اس واقعے کے بعد اس شق کا استعمال نہیں کیا گیا۔ نفرت پر مبنی تقاریر کے حوالے سے ۲۶۶ بی کے قانون کا آزادانہ استعمال کیا جاتا ہے۔ توہین رسالت کے قانون کے خلاف ۲۰۰۲ء میں تجاویز دی گئیں۔ لیکن اکثریت نہ ہونے کی وجہ سے یہ ناکام ہو گئیں۔
مصر: مصریوں کی اکثریت سنی العقیدہ ہے۔ اکثریت قانون رسالت کو مصر کی اقلیتوں خاص طور پر شیعہ، صوفی، عیسائیوں، بہائی اور دہریوں کو تنگ کرنے کے لئے استعمال کرتی ہے۔
اردن: اردن کا قانون توہین رسالت سے روکتا ہے اور مسلمانوں کے جذبات کو مجروح کرنے سے روکتا ہے یا نبی کریم ﷺ کی شان میں گستاخی سے روکتا ہے۔ ان حدود کی خلاف ورزی کرنے والے کو تین سال تک کی سزا اور جرمانہ کیا جا سکتا ہے۔
کویت: کویت ایک اسلامی ملک ہے۔ یہ اہانت رسول کو سنی اسلام کے مطابق قانون کے ذریعے روکتا ہے۔ نہ کہ شریعت کے ذریعے۔ اہانت رسول کے ملزم کویت میں عام طور پر شیعہ، تعلیمی اداروں اور صحافیوں کو ٹارگٹ کرتے ہیں۔
باب ششم: ....... تحریک ناموس رسالت، پس منظر، اہداف، مطالبات اور کامیابی
ملائشیا: ملائشیا مذہب کی توہین سے روکتا ہے اور مذہبی معاملات کی توہین کو تعلیم کے ذریعے سے روکتا ہے اور اس سلسلے میں الیکٹرانک میڈیا اور اخباری میڈیا پر قانونی پابندی عائد کرتا ہے۔ ملائشیا میں کچھ ریاستیں شرعی کورٹس کے ذریعے سے اسلام کی حفاظت کرتی ہیں۔ لیکن جہاں شریعت لاگو نہ ہوتی ہو وہاں ملائیشین پینل کوڈ مجرموں کو سزائیں دیتا ہے۔
مالٹا: توہین رسالت کے خلاف قوانین کی بجائے حکومت مالٹا نے مذہب میں تبدیلی اور غیر اخلاقی جرائم کے خلاف قوانین بنائے ہیں۔ ۱۹۳۳ء کے قانون شق نمبر ۱۶۳ (کریمنل کوڈ) رومن کیتھولک مذہب کی خلاف ورزی سے روکتا ہے۔ یہ مالٹا کا مذہب ہے۔ مالٹا کے مذہب میں ردوبدل یا ترمیم کرنے والے کو ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے ایک سے چھ ماہ کی قید دی جاتی ہے۔ آرٹیکل نمبر ۱۶۴ کی رو سے مالٹا کی تہذیب میں کسی قسم کی تحریف یا ردو بدل کرنے والے کو ایک سے تین ماہ کی قید کی سزا دی جاتی ہے۔ آرٹیکل ۳۳۸ بی بی کے مطابق اگر کوئی شخص پبلک نشہ کی حالت میں ہو کوئی ایسے غیر موزوں یا غلط الفاظ استعمال کرتا ہے یا غیر اخلاقی حرکات کرتا ہے تو وہ آرٹیکل نمبر ۳۳۲ کے مطابق بھی عوامی جذبات کو مجروح کرنے یا ناشائستگی پھیلانے پر سزا کا مستوجب ہوگا۔ ۳۳۸ بی بی میں اہانت رسالت کے مرتکب شخص کو گیارہ یورو اور ۶۵ سینٹ جرمانہ کیا جائے گا اور زیادہ سے زیادہ تین ماہ تک قید کی سزا دی جائے گی۔ ۲۰۰۸ء میں ۶۲۱ افراد کے خلاف مالٹا میں توہین رسالت کے سلسلے میں کاروائی کی گئی۔
نیدر لینڈ : نیدرلینڈ کی ریاست میں توہین رسالت پر آرٹیکل نمبر ۱۴۷ کی رو سے تین مہینے کی جیل ہے یا ۳۸۰۰ یورو کا جرمانہ ہے۔
نیوزی لینڈ : نیوزی لینڈ میں سیکشن ۱۲۳ کرائمز ایکٹ ۱۹۶۱ء کے مطابق اگر کوئی شخص توہین رسالت پر مبنی کوئی مواد شائع کرتا ہے تو اس کو ایک سال کی سزا ہے۔ اس سلسلے میں The maari land کے پبلشر جان گلور کو ۱۹۲۲ء میں سزا دی گئی۔
نائیجیریا : نائیجیریا میں سیکشن ۲۰۴ کے مطابق توہین رسالت ایک جرم ہے اور شریعت کورٹس کو کچھ ریاستوں میں شریعت کے مطابق کام کرنے کی اجازت ہے۔
باب ششم ........ تحریک ناموس رسالت، پس منظر، اہداف، مطالبات اور کامیابی
آزاد خیالی کے عنصر کے سبب نائیجیریا میں کورٹس کی آئینی حیثیت کو اکثر غصب کیا گیا ہے۔
سعودی عرب: سعودی عرب کا ریاستی مذہب اسلام ہے۔ ملک میں سنی اور وہابی فرقے موجود ہیں۔ ملک کے قوانین ایک خوبصورت آمیزہ ہیں۔ شریعت کے اور اعلیٰ مذہبی سکالرز کے فتویٰ کی روشنی میں فیصلے کئے جاتے ہیں جو مختلف سزاؤں کی شکل یا موت کی شکل میں ہو سکتے ہیں۔
سوڈان: سوڈان میں ریاستی مذہب سنی اسلام ہے۔ ملک کی تقریباً ۷۰ فیصد آبادی مسلمانوں پر مشتمل ہے۔ باقی ایک بڑا گروپ جو تقریباً ۲۵ فیصد ہے انیمسٹ (Animist) مذہب پر مشتمل ہے۔ سیکشن ۱۲۵ سوڈانی کریمنل ایکٹ کے مطابق مذہب کی تذلیل، نفرت یا توہین کی سختی سے ممانعت ہے اور اس سیکشن کے مطابق جرمانے اور مختلف سزائیں دی جاسکتی ہیں۔ (جرمانہ زیادہ سے زیادہ ۳۰ لاکھ روپے ہے) نومبر ۲۰۰۷ء میں ایک سوڈانی ٹیڈی بیئر بلاس فیمی کیس ( Sudanese taddy bear balesphemy case) بہت مشہور ہوا۔ دسمبر ۲۰۰۷ء میں یہ سیکشن دو مصری بک سیلرز کے خلاف استعمال ہوا۔ کیونکہ انہوں نے کورٹ کے حکم کی خلاف ورزی کرتے ہوئے نبی کریم ﷺ کی زوجہ مطہرہ حضرت عائشہؓ کے متعلق نازیبا الفاظ استعمال کئے تھے۔ ان دو بک سیلرز کو چھ ماہ کی سزا دی گئی۔
متحدہ عرب امارات: یو اے ای توہین رسالت کی حوصلہ شکنی کرتا ہے۔ وہ شریعت کے قوانین کے عین مطابق اور غیر مسلموں کے خلاف جج حضرات کی سماعت کے بعد مختلف سزائیں دی جاتی ہیں۔
برطانیہ: برطانیہ میں توہین رسالت کے قوانین صرف عیسائیت کے متعلق تھے۔ آخری توہین رسالت کا معاملہ ۲۰۰۷ء میں ایک گروپ کرسچین وائس کے خلاف ہوا۔ جس میں حضرت عیسٰی علیہ السلام کو ایک (gay) کے طور پر سٹیج پر پیش کیا گیا۔ اس گروپ پر الزامات لگائے گئے۔ لیکن ویسٹ منسٹر کے مجسٹریٹ نے پھر ہائیکورٹ نے یہ الزامات یہ کہہ کر مسترد کر دیئے کہ سٹیج یا تھیٹر پر یہ قوانین لاگو نہیں ہوتے۔ آخری کامیاب کیس برطانیہ میں ۱۹۷۷ء میں ڈینس لیمن کے خلاف دائر ہوا جو ”گے نیوز“ کا ایڈیٹر
باب ششم:....... تحریک ناموس رسالت ، پس منظر ، اہداف ، مطالبات اور کامیابی
تھا۔ اس کی ایک لکھی گئی نظم (The love that dares to speak its name) جس میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے متعلق غلط کردار پیش کیا گیا۔ لیمن کو پانچ سو پونڈ کا جرمانہ کیا گیا اور نو ماہ کی قید ہوئی ۔ اسی نظم نے ۲۰۰۲ء میں (Trafalgar square) سٹیج میں اسی طرح لوگوں کے مذہبی جذبات کو مجروح کیا۔ لیکن کوئی آئینی کاروائی یا سزا نہیں ہوئی ۔ ۹ دسمبر ۱۹۲۱ء آخری شخص برطانیہ میں جسے توہین رسالت پر سزا ہوئی ۔ اس کا نام ”جان ولیم گوٹ“ تھا۔ اس نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے یروشلم (بیت المقدس) میں داخلے کے متعلق من گھڑت کہانی پیش کی تھی اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا موازنہ ایک سرکس کے مسخرے سے کیا تھا۔ اسے نو مہینے کی سخت قید با مشقت کی سزا دی گئی ۔ سکاٹ لینڈ میں توہین رسالت کا آخری کیس ۱۸۴۳ء میں ہوا ۔ جبکہ ۱۶۹۷ء میں ایک سکاٹش باشندے ”تھامس ایکن ہیڈ“ کو توہین رسالت پر پھانسی دے دی گئی ۔ ۵ مارچ ۲۰۰۸ء کو کریمنل جسٹس اور امیگریشن ایکٹ ۲۰۰۸ء میں توہین رسالت کی قانونی دفعات کے حوالے سے انگلینڈ اور ویلز میں کچھ تبدیلیاں کی گئیں اور عام قانون توہین رسالت ختم کر دیا گیا ۔ ۸ جولائی ۲۰۰۸ء کو شاہی منظوری سے یہ نیا تبدیل شدہ قانون لاگو ہو گیا ۔
یمن : یمن میں بھی دوسری اسلامی ریاستوں کی طرح توہین رسالت پہ قوانین اور سزائیں موجود ہیں۔ مذہبی اقلیتوں ، لادین لوگوں ، فنکاروں ، رپورٹرز اور ہیومن رائٹس کی تنظیموں کو نشانہ بنانے پر سزائیں ہیں ۔ اگر کوئی شخص واقعتاً توہین رسالت کا مرتکب ہوتا ہے تو یمن کی شرعی کورٹس اسے سزائے موت دیتی ہے ۔
امریکہ : امریکہ کے ابتدائی ایام میں توہین رسالت پر موت کی سزا تھی ۔ لیکن اس میں لچک یا تبدیلی کے بعد مشگن ، اوکلا ہوما ، ساؤتھ کیرولینا ، میساچوسٹس اور پنسلوانیا میں ریاستی سطح پر توہین رسالت کے متعلق قوانین موجود ہیں ۔ امریکہ کی کچھ ریاستوں میں ابتدائی دنوں کی طرح توہین رسالت سے متعلق قوانین موجود ہیں ۔ مثلاً باب ۲۷۲ میساچوسٹس میں عام قوانین میں ایک شق موجود ہے جو ۱۹۷۲ء کی ریاستی قوانین میں اسی سے متعلق ہے ۔ سیکشن ۳۶ جو کوئی بھی ارادتاً اللہ پاک کے مقدس نام کی بے حرمتی کرے گا۔ انکار کی صورت میں ، کوسنے کی صورت میں ، یا ملحدانہ انداز میں خدا کی عبادت کرے گا یا
باب ششم: ...... تحریک ناموس رسالت، پس منظر، اہداف، مطالبات اور کامیابی
اس کی مخلوق کو برا بھلا کہے گا یا گورنمنٹ کو اور دنیا کو برا بھلا کہے گا یا عیسیٰ علیہ السلام کے متعلق کوئی غلط الفاظ کہے گا یا توہین آمیز یا مضحکہ خیز انداز اختیار کرے گا تو اسے ایک سال یا تین سو ڈالر سے زیادہ سزا دی جائے گی اور اسے آئندہ کے لئے اچھے رویئے کا پابند کیا جاسکتا ہے۔ قانون کے سیکشن ۴۱۷ اور نمبر ۴۱۱ اے کے مطابق اس سلسلے میں ہائی کورٹ کے فیصلے یا کسی اور عدالت سے بریت کے بعد وہ اعلیٰ عدالتوں میں سزا کے خلاف اپیل کر سکتا ہے۔ کوئی بھی کیس جو کہ ۳۷۴ سیکشن کے تحت اور ۳۷۶ کے تحت اور کریمنل کوڈ ۱۸۹۸ء کے تحت سزا کی توثیق کی جاسکتی ہے۔ یا کوئی اور سزا قانون کے تحت نئی فرد جرم عائد کرسکتی ہے اور کسی بھی دفعہ کے ملزم کو جسے سیشن کورٹ نے سزا دی ہو یا نئے ٹرائل کا حکم دیا جاسکتا ہے۔ اسی مقدمے کی دوبارہ یا ترمیم شدہ قانون کے تحت بری بھی کیا جاسکتا ہے۔
پرائم منسٹر آف پاکستان
اس موقع پر میں آپ کی توجہ اس معاملے کے ایک اور پہلو کی طرف مبذول کرانا چاہتا ہوں کہ کچھ پروپیگنڈا سے بھرے ہوئے ذہن اور اسی طرح کے ایجنڈا سے بھرے ہوئے افراد ایک غلط تاثر دیتے ہیں کہ پاکستان میں اس سلسلے کے جو قوانین ہیں وہ حقوق انسانی کے بین الاقوامی معیاروں پر پورا نہیں اترتے یا یہ قوانین عالمی سطح پر قابلِ قبول نہیں ہیں۔ یہ تاثر کلی طور پر بے بنیاد اور من گھڑت ہے۔ اس کی قریب ترین مثال یہ پیش کی جاسکتی ہے کہ انڈیا میں ۱۸۹۸ء کے کریمنل کوڈ (ایکٹ ۲۵۔۱۹۲۷ء) کے باب نمبر xxvii میں اسی طرح کی شق کے مطابق توہین رسالت کے متعلق سیشن کورٹ کے ذریعہ اسی طرح کی سزا سنائی گئی۔ شق ۳۷۴ سزائے موت سیشن کورٹ کی طرف سے ہائی کورٹ کی طرف بھجوانا۔ جب سیشن کورٹ سزائے موت سناتی ہے تو کیس ہائی کورٹ میں داخل کیا جائے گا اور سزا پر اس وقت تک عمل درآمد نہیں کیا جائے گا جب تک ہائی کورٹ اس کی توثیق نہ کردے۔ تقابلی مطالعہ کے فائدے کے حوالے سے ایک اسی طرح کی گنجائش جو پاکستان کے کریمنل کوڈ ۱۸۹۸ء سیکشن ۳۷۴ میں موجود ہے میں اس کا ذکر کروں گا۔ شق ۳۷۴ سزائے موت کا سیشن کورٹ کی طرف سے ہائی کورٹ میں داخل کیا جانا۔ جب سیشن کورٹ سزائے موت سناتی ہے تو کیس ہائی کورٹ میں داخل کیا
باب ششم: ........ تحریک ناموس رسالت، پس منظر، اہداف، مطالبات اور کامیابی
جائے گا اور سزا پر اس وقت تک عمل درآمد نہیں کیا جائے گا جب تک ہائی کورٹ اس سزا کی توثیق نہ کر دے۔ اس تقابلی مطالعے سے بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ ”پاکستان کریمنل کوڈ ۱۸۹۸ء‘ اور ’انڈین کریمنل کوڈ ۱۹۲۷ء‘ میں توہین رسالت کے سلسلے میں موجود قانون کے الفاظ تک یکساں ہیں۔ اس ثابت شدہ تجزیئے کے تناظر میں یہ بات کہی جاسکتی ہے کہ اس سلسلے میں پاکستان میں حالیہ قوانین اس طرح کے مقدمات کے ٹرائل اور قانونی اطلاق کے سلسلے میں بین الاقوامی معیار اور ضرورتوں کے عین مطابق ہیں۔ مجھے یہاں افسوس سے کہنا پڑے گا کہ پاکستان میں اس سلسلے میں موجودہ ’کریمنل کوڈ ۱۹۲۷ء‘ کی آزادی کے بعد نہیں بنایا گیا۔ بلکہ اس سلسلے میں برطانوی عہد کا قانون ہی رائج رہا ہے۔ پاکستانی عوام دیگر اقوام کے اندر باوقار مقام بنا سکتے ہیں اور بین الاقوامی خوشی اور انسانیت میں اپنا پورا حصہ ڈال سکتے ہیں۔ اس حکم کا سوسائٹی میں ادراک اس وقت تک نہیں حاصل ہو سکتا ہے جب تک اس کی باقاعدہ قانون سازی نہ ہو اور اداروں میں رائج نہ ہو۔ اس ریاست کا مذہب اسلام ہے۔ جہاں پر قرآن وسنت قانون کے بڑے ماخذ مانے جاتے ہیں۔ اب سیکشن ۲۹۵ سی کا ٹھوس حیثیت کی بات ہوگی جو کہ پاکستان پینل کوڈ ۱۸۶۰ء ایکٹ نمبر ۳۔۱۹۸۶ء پر لایا گیا (اسی قانون میں یہ شامل ہے) اس موقع پر پہلے سے وضاحت شدہ اور مکمل شکل میں قانون موجود ہے۔ جو کہ درج ذیل ہے:
۲۹۵ سی نبی کریم ﷺ کی شان میں گستاخانہ الفاظ تبصرے یا آراء۔ جو کوئی بھی اپنے الفاظ کے ذریعے چاہے وہ بولے گئے ہوں یا لکھے گئے ہو یا مرئی نقوش کے ذریعے یا بہتان کے ذریعے یا طعن آمیز کنایہ کے ذریعے یا غلط دکشی کے ذریعے (غلط طریقے سے گھیرنا) بالواسطہ یا بلا واسطہ نبی کریم ﷺ کے پاک نام کی بے حرمتی کرتا ہے۔ اسے سزائے موت دی جائے گی یا عمر بھر کی قید اور جرمانے کا مستوجب ہوگا۔ قانون کے اس ٹکڑے پر پارلیمنٹ، پارلیمانی فورم، فورمز کے اندر اور باہر بہت زیادہ بحث ہوئی اور ایک آئینی عدالت کے سامنے بھی بحث ہو چکی ہے۔ فیڈرل شریعت کورٹ نے اس قانون کا قرآن وسنت کی روشنی میں بہت گہرا جائزہ لیا ۔ بعنوان مقدمہ
باب ششم: .......
محمد اسماعیل قریشی بنام پاکس
(FSC P.10) اس فیصلہ م
علاوہ کوئی بھی اور سزا ن
پیش کئے جارہے ہیں
الفاظ (شتم، سب اور اہا
میں استعمال ہوتے ہیں
کرنا، توہین کرنا، دشنام
بہتان طرازی کرنا، مص
44)
لفظ شتم کا مطلب
کرنا، شہرت کو گرانا۔
(پیرا نمبر ۶۶)...... عملاً ق
کا ناموس ایک مقدس تر
سزا صرف موت ہے۔
(پیرا نمبر ۶۷)...... اوپر
کوڈ سیکشن ۲۹۵ سی میں م
خلاف ہے۔ اس لئے ی
1991 fsc page-10
پاکستان میں
عدالتوں میں موجود نہ
سیشن کورٹ کی طرف
شہادت آرڈر ۱۹۸۴ء کی
علاوہ اسلامی جمہوریہ پاکس
طور پر ہر ملزم کے خلاف
باب ششم : ....... تحریک ناموس رسالت، پس منظر، اہداف، مطالبات اور کامیابی
محمد اسماعیل قریشی پاکستان بذریعہ سیکرٹری قانون و پارلیمانی امور ( 1991 PLD FSC P.10) اس نتیجہ پر پہنچے کہ توہین رسالت کے معاملے میں سزائے موت کے علاوہ کوئی بھی اور سزا اسلامی احکامات کے خلاف ہے۔ کچھ پیرے فیصلے میں سے نیچے پیش کئے جارہے ہیں۔ (کافرہ آسیہ) کے خلاف درج ذیل ۔ پیرا نمبر ۳۳۔ الفاظ (شتم، سب اور ایذاء) نبی کریم ﷺ کی توہین کے لئے (معاذ اللہ ) قرآن وسنت میں استعمال ہوتے ہیں۔ جن کا مطلب، ابتلا میں ہونا، نقصان پہنچانا، گرانا، اہانت کرنا، توہین کرنا، دشمنی کرنا، اشتعال دلانا، مجروح کرنا، مشکل یا مصیبت میں ڈالنا، بہتان طرازی کرنا، منصب سے گرانا، حقارت کرنا وغیرہ۔
(Arabic English Lexicon Book-1 Part-1 P.44)
لفظ شتم کا مطلب تذلیل کرنا، گالی دینا، انتقام لینا، ڈانٹ ڈپٹ کرنا، ملامت کرنا، شہرت کو گرانا۔
(PLD 1991 FSC 10 P.26)
(پیرا نمبر ۶۶)....... عملاً تمام ماہرین قانون اور سکالرز اس بات پر متفق ہیں کہ تمام انبیاء کا ناموس ایک مقدس ترین امر ہے اور کسی بھی نبی یا رسول کی شان میں گستاخانہ الفاظ کی سزا صرف موت ہے۔
(پیرا نمبر ۶۷)....... اوپر کی گئی بحث کے تناظر میں یہ رائے قائم کرتے ہیں کہ پاکستان پینل کوڈ سیکشن ۲۹۵ سی میں جو عمر قید کی سزا ہے وہ اسلامی احکامات قرآن پاک اور سنت کے خلاف ہے۔ اس لئے یہ الفاظ (عمر قید) اس میں سے حذف کئے جاتے ہیں۔ ( 35.p (اس عظیم ترین فتح پر پوری امت مسلمہ کو مبارک باد) pld 1991 fsc page-10)
پاکستان میں عدلیہ کے مروجہ روایات کے مطابق مضبوط آئینی قانون عدالتوں میں موجود ہے۔ اس واضح نظام کے تحت ہر وہ جرم جس پہ موت کی سزا ہے سیشن کورٹ کی طرف سے ٹرائل کیا جاتا ہے۔ پاکستان پینل کوڈ ۱۸۹۸ء اور قانون شہادت آرڈر ۱۹۸۴ء کی شقیں ایک شفاف ٹرائل کی ضمانت مہیا کرتی ہیں۔ اس کے علاوہ اسلامی جمہوریہ پاکستان ۱۹۷۳ء اٹھارویں ترمیم ایکٹ ۲۰۱۰ء کے مطابق قانونی طور پہ ہر ملزم کے شفاف ٹرائل کو یقینی بناتی ہے اور اس کو پورے آئینی وعدالتی پراسس
باب ششم: ........ تحریک ناموس رسالت، پس منظر، اہداف، مطالبات اور کامیابی
میں سے گزارا جائے گا۔ پاکستان میں اس قانون کے تحت ہر ملزم کو ایک قانونی ماہر کی خدمات مہیا کی جاتی ہیں اور اسے اپنے دفاع کا مکمل حق دیا جاتا ہے اور کسی بھی ملزم کو اپنے پسندیدہ وکیل کی خدمات لینے سے نہیں روکا جاتا اور یہ آئین پاکستان کے آرٹیکل نمبر ۱۰ شق نمبر ۱ بنیادی انسانی حقوق کے عین مطابق ہے۔ ایک مرتبہ ہائی کورٹ کی جانب سے سزائے موت سنائے جانے کے بعد پاکستان کریمنل کوڈ ۱۸۹۸ء سیکشن ۳۷۴ کے تحت پھر یہ سزا منسوخ نہیں کی جاسکتی۔ ۳۷۴ ش۔ جب سیشن کورٹ سزائے موت سناتی ہے تو کیس ہائی کورٹ میں بھیج دیا جاتا ہے اور سزا پر عمل درآمد نہیں ہوتا۔ جب تک ہائی کورٹ اس کی توثیق نہ کر دے۔
- (۱۸)....... ایک ملزم جو کہ سیشن جج یا ایڈیشنل سیشن جج کی طرف سے سزا یافتہ ہو وہ ہائی
کورٹ میں کریمنل کوڈ ۱۸۹۸ء سیکشن ۴۱۰ کے تحت اپیل کر سکتا ہے۔ بریت کی صورت میں صوبائی حکومت پبلک پراسیکیوٹر کو ہدایت کر سکتی ہے کہ وہ کریمنل کوڈ ۱۸۹۸ء سیکشن ۴۱۷ کے تحت ہائی کورٹ میں اپیل کرے۔
- (۲۰)....... پھر ایک اور حل ملزم یا سزا یافتہ کے لئے مہیا کیا گیا ہے کہ وہ سیکشن اے
کریمنل کوڈ ۱۸۹۸ء کے تحت اپیل کرے۔ مزید یہ کہ ایک اور حل بھی مہیا کیا گیا ہے کہ ملزم اور سزا یافتہ شخص اور دکھی شخص کو پاکستان کی ایک اور اعلیٰ عدالت اسلامی جمہوریہ پاکستان کے آئین ۱۹۷۳ء آرٹیکل ۱۸۵ء شق نمبر ۲ کے تحت سپریم کورٹ میں سابقہ (سزائے موت) سزا کے متعلق سماعت کرانے کا حق ہوگا۔ ۲-۱۸۵ ہائی کورٹ کی طرف سے سزائے موت کے آخری فیصلے کے خلاف اپیل کرنے کا حق ہوگا۔
- (اے)....... اگر ہائی کورٹ کسی ملزم کے رہائی کی اپیل واپس کرتی ہے اور
اسے سزائے موت دیتی ہے یا زندگی بھر کے لئے ملک بدری یا عمر قید کی سزا دیتی ہے یا نظر ثانی پر سزا پر سزا بڑھا دیتی ہے
- (بی)....... اگر ہائی کورٹ نے خود ہی اپنی مرضی سے ماتحت عدالت سے کوئی
مقدمہ لے لیا ہے اور اس طرح کے ٹرائل میں ملزم کو سزا (یعنی سزائے موت) سناتی ہے جیسا کہ اوپر ذکر کیا گیا ہے۔
باب ششم: ........
- (سی)......
- (۲۱)....... سپریم کورٹ
کے بعد بھی اسلامی جمہوریہ اختیار حاصل ہے کہ وہ سزائے موت کو سزا کر دے۔ کوئی بھی ہو صدر پاکستان کے کے کیس میں 365 پاکستان کو بطور ایڈوائزر کے ) اس بنچ کی سر اور یہ بنچ جسٹس رانا جسٹس تصدق حسین جیلانی آرٹیکل نمبر وی۔۴۰۲ ایس دیئے جانے کے متعلق صدر پاکستا رعایت دے سکتے کر سکتی۔ صدر کے اپن یہ صدر کے اختیارات ملتوی کرنے۔ گھٹا اور یہ اختیارات ۴۰۲ حصہ ہیں۔ اوپر کی گئی ط متعلق ہے اور جس کا جو کہ قرآن پاک اور
باب ششم: ....... تحریک ناموس رسالت، پس منظر، اہداف، مطالبات اور کامیابی
- (سی)...... اگر ہائی کورٹ نے ہائی کورٹ کی توہین پر کسی پر سزا مسلط کی ہے۔
- (۲۱)...... سپریم کورٹ کی فائنل ججمنٹ کے بعد بھی یا کسی اور کورٹ اور ٹربیونل کی ججمنٹ
کے بعد بھی اسلامیہ جمہوریہ پاکستان کے صدر کو آئین کے آرٹیکل نمبر ۴۵ کے تحت یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ اپنے اختیارات کو استعمال کرتے ہوئے معافی دے دے۔ سزائے موت کو سزائے قید میں بدل دے یا سزا معاف کردے۔ معطل کردے یا تبدیل کردے۔ کوئی بھی سزا جو کسی بھی عدالت ۔ ٹربیونل یا کسی دوسری مجاز عدالت نے دی ہو صدر پاکستان کے ان اختیارات کی عدالتی جانچ پڑتال، ”عبدالمالک دی سٹیٹ“ کے کیس میں PLD 2006 SC کی گئی۔ اس کیس میں مجھے معزز سپریم کورٹ آف پاکستان کو بطور ایڈووکیٹ مدد دینے کا شرف حاصل ہوا۔ (بسلسلہ پٹیشن اور اپیلوں کے) اس بینچ کی سربراہی چیف جسٹس آف پاکستان مسٹر جسٹس افتخار محمد چوہدری نے کی اور یہ بینچ جسٹس رانا بھگوان داس، مسٹر جسٹس فقیر محمد کھوکھر، مسٹر جسٹس محمد جاوید بٹر، مسٹر جسٹس تصدق حسین جیلانی پر مشتمل تھا۔ فوری حوالہ کے لئے متعلقہ پیرا نیچے دیا گیا ہے۔
آرٹیکل نمبر ۴۵، ۴۸ (۲) اور اے۔۲ کریمنل پروسیجر کوڈ ۱۸۹۸ء آف وی۔۴۰۲اے..... صدر پاکستان کے اختیارات آئین کے آرٹیکل نمبر ۴۵ کے تحت رعایت دیئے جانے کے متعلق۔ اس آرٹیکل کی ساخت اور گنجائش۔
صدر پاکستان کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ بلا مداخلت کسی بھی جرم میں کسی کو بھی رعایت دے سکتے ہیں اور کوئی بھی ماتحت عدالت صدر کے اختیارات کو مسترد نہیں کرسکتی۔ صدر کے ایسے اختیارات آئین کے آرٹیکل اے۲ کی رو سے متجاوز نہیں ہیں اور یہ صدر کے اختیارات سزا کو معاف کرنے۔ سزائے موت کو عمر قید میں بدلنے۔ سزا کو ملتوی کرنے۔ گھٹانے یا معطل کرنے یا کسی بھی سزا کو تبدیل کرنے کے حوالے سے ہیں اور یہ اختیارات ۴۰۲ سیکشن کے خلاف نہیں ہیں جو کہ پاکستان کے کریمنل کوڈ ۱۸۹۸ء کا حصہ ہیں۔ اوپر کی گئی طویل بحث جو کہ توہین رسالت کے سلسلہ میں سزائے موت کے متعلق ہے اور جس کا ذکر پینل کوڈ ۱۸۶۰ء سیکشن ۲۹۵سی میں ہے۔ یہ اسلامی احکامات جو کہ قرآن پاک اور نبی کریم ﷺ کی سنت میں بیان کئے گئے ہیں کے عین مطابق ہیں اور
باب ششم :...... تحریک ناموس رسالت، پس منظر، اہداف، مطالبات اور کامیابی
ان میں کسی بھی قسم کی تبدیلی یا ترمیم کی ضرورت نہیں۔ اس لئے وہ تمام حوالہ جات جن کا ذکر پیراگراف نمبر ۱ میں کیا گیا ہے۔ ان کا بے بنیاد ہونے اور غلط لئے جانے کی بنا پر قانون کے تحت منفی جواب دیا گیا ہے۔ اسلامی جمہوریہ پاکستان کے آئین ۱۹۷۳ء آرٹیکل ۱۹۰۹ کے تحت کوئی بھی شخص قانون کے دائروں کے اندر رہتے ہوئے زندگی یا آزادی سے محروم نہیں کیا جائے گا اور تمام شہری قانون کی نگاہ میں برابر ہیں اور تمام کو آئین کے آرٹیکل نمبر ۲۵ شق نمبر ۱ کے تحت مساوی تحفظ حاصل ہے۔ یہ واضح وجہ تھی کہ پاکستان پینل کوڈ ۱۸۶۰ سیکشن ۲۹۵۔سی سیشن کورٹس میں ٹرائل کئے جاسکتے ہیں اور عام وجوہات کی بناء پر اس کو کسی سپیشل کورٹ میں ٹرائل نہیں کیا جا سکتا۔ یہ سب کچھ ٹرائل کے عمل کو شفاف، کھلا، صاف اور معتبر بناتا ہے۔
- (۲۳)...... ایک اور پہلو جو اس معاملے میں مختصر طور پر بتایا جا رہا ہے کہ پاکستان میں
مذہبی آزادی ہے۔ ہمارے آئینی دائرہ کار میں مذہب اور مذہبی اداروں کی آزادی کی بنیادی حقوق کی بنیاد پر یہ وضاحت کر دی ہے جو کہ اسلامی جمہوریہ پاکستان کے ۱۹۷۳ء کے آئین آرٹیکل نمبر ۲۰ پیرا گراف A کے تحت کورٹس کے سامنے انصاف کا حق رکھتے ہیں۔ یہ ضمانت دی جاتی ہے کہ ہر شہری کو اس کے مذہب کی پریکٹس، اس کی اشاعت اور اس کی وضاحت کی آزادی ہے اور پیرا گراف B کے تحت ہر مذہبی گروہ ہر مذہبی لیبل اور ہر فرقے کو اپنے آپ کو قائم کرنے، برقرار رکھنے اور اپنے مذہبی اداروں کو چلانے کا حق ہوگا۔ اس آرٹیکل میں یہ بھی واضح ہے جو کہ انصاف قانون اور آئین کے بین الاقوامی اصولوں سے مطابقت رکھتا ہے۔ جس میں ہر فرقے کو اپنے مذہب کی پریکٹس، اشاعت اور اس کی وضاحت اور اسے آگے بڑھانے کی مکمل آزادی ہے اور ان کو اپنے مذہبی اداروں کو چلانے کی مکمل آزادی ہے۔ مگر بیشک یہ سب کچھ قانون پبلک آرڈر اور اخلاقیات کے دائروں میں رہ کر کرنا ہے۔
- (۲۴)...... پاکستان ایک ذمہ دار ریاست کے محور پہ (مقدمات کے سلسلے میں)
اپیلوں، آئینی اور دیگر عملی حل کے متعلق ایک بھر پور آئینی ڈھانچہ مہیا کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ۱۹۸۶ء سے لے کر آج تک اس قانون کے تحت کوئی سزا نہیں کی گئی۔ یہ
باب ششم :...... حقیقت ایک واضح ثبو کے ساتھ قانون پر عمل
- (۲۵)...... وزارت داخلہ کو
جدوجہد میں سے گزرنے نہیں ہے۔ جیسا کہ آسیہ نور تحت ہائی کورٹ کے سزائے
- (۲۶)...... اس لئے اپیل
درخواست جو کہ وزارت آئین کو مدنظر رکھتے ہوے درخواست میں کوئی حقیقت
- (۲۷)...... جب سے وزارت
دیکھنا شروع کیا ہے تو یہ مناس خارجہ کو بھیجی جائے۔ اس چیز متعلقہ اداروں کو وزارت قا عوامی تبصروں سے آئین او گورنمنٹ آف پاکستان کے
برائے پرائم منسٹر آف
- (۱)...... سپیکر قومی
- (۲)...... وزیر امور
- (۳)...... وزیر داخلہ
باب ششم : ...... تحریک ناموس رسالت، پس منظر، اہداف، مطالبات اور کامیابی
حقیقت ایک واضح ثبوت ہے کہ ہمارے ملک میں عدالتی کارروائیاں انتہائی مضبوطی کے ساتھ قانون پر عمل پیرا ہیں۔
- (۲۵)...... وزارت داخلہ کو یہ ہدایت دی گئی ہے کہ وہ اس معاملے میں ملزمان کو پوری آئینی
جدوجہد میں سے گزرنے دیں۔ کسی قسم کا عمل آسیہ نورین سے متعلق انتظامیہ سے مطلوب نہیں ہے۔ جیسا کہ آسیہ نورین پہلے ہی تمام قانونی امداد سیکشن ۴۱۰ کریمنل کوڈ ۱۸۹۸ کے تحت ہائی کورٹ کے سزائے موت کے فیصلے کے خلاف لے چکی ہے۔
- (۲۶)...... اس لئے اقلیتوں کی وزارت کی طرف سے وزیر اعظم پاکستان کو کی گئی
درخواست جو کہ وزارت قانون، انصاف اور پارلیمانی امور نے توہین رسالت کے آئین کو مدنظر رکھتے ہوئے بہت غور سے دیکھی ہے۔ اقلیتوں کی طرف سے دی گئی درخواست میں کوئی حقیقت نہیں ہے۔ اس لئے اس سلسلے میں کوئی قدم نہیں اٹھایا جاسکتا۔
- (۲۷)...... جب سے وزارت خارجہ نے وزارت داخلہ کی طرف سے بھیجے گئے مواد کو
دیکھنا شروع کیا ہے تو یہ مناسب لگتا ہے کہ حالیہ نظر ثانی شدہ فیصلے کی ایک نقل وزارت خارجہ کو بھیجی جائے۔ اس چیز کی بھی سفارش کی گئی ہے کہ وزیر اعظم تمام ڈویژن اور دیگر متعلقہ اداروں کو وزارت قانون انصاف و پارلیمانی امور کی رائے کے بغیر کسی قسم کے عوامی تبصروں سے آئین اور آئینی نتائج کے حوالے سے احتراز کریں۔ کیونکہ یہ گورنمنٹ آف پاکستان کے بزنس رولز ۱۹۷۳ء کی ضرورت ہے۔
ڈاکٹر ظہیر الدین بابر اعوان وفاقی وزیر قانون انصاف اور پارلیمانی امور ڈائری نمبر Dy No: 611/M/PSP/2011 مورخہ ۸ فروری ۲۰۱۱ء
برائے پرائم منسٹر آف اسلامی جمہوریہ پاکستان کی طرف سے نقل ارسال کی گئی۔
- (۱)...... سپیکر قومی اسمبلی پاکستان اسلام آباد
- (۲)...... وزیر امور خارجہ، اسلام آباد
- (۳)...... وزیر داخلہ، اسلام آباد