عظمت رسالت و نبوت ﷺ
عظمت رسالت و نبوت ﷺ
مؤلف
مولانا فضل الرحمٰن بن محمد الازہری
ایم اے عربی گولڈ میڈلسٹ، ایم اے اسلامیات، شریعہ کورس الازہر القاہرۃ
ناشر
زرعی مشینری سٹور، 53 نشتر روڈ، لاہور فون: 59-7641358
عظمت رسالت و نبوت ﷺ
جملہ حقوق محفوظ ہیں
کتاب
عظمت رسالت و نبوت ﷺ
تالیف
مولانا فضل الرحمن بن محمد الازھری
اشاعت ................................. مارچ 2011ء طابع ..................................... زاہد بشیر پریس قیمت ..................................... 60 روپے ناشر ....................................... انیب الرحمن
ریز مشینری سٹور، 53 نشتر روڈ، لاہور فون 59-7641358
ملنے کا پتہ: ............................. مکتبہ قدوسیہ، رحمن مارکیٹ، غزنی سٹریٹ، اردو بازار، لاہور فون: 37230585 , 042-37351124 جامع مسجد محمدی اہلحدیث، سنت نگر، لاہور فون: 37152386 موبائل: 4118424-0321
کارروائی کی تفصیل عدالتی فیصلے کے خلاف ردعمل پوپ کا بیان اور اسلامی تعلیم نبوت ورسالت کی وضاحت توہین رسالت کی سزا قرآنی سزا سید الانبیاء محمد رسول اللہ ﷺ منافقوں کا گروہ رسول اللہ ﷺ کو تکلیف کعب بن الاشرف یہود ابورافع عبداللہ بن ابی الحقیق نابینے صحابی رضی اللہ عنہ کا واقعہ ایک یہودیہ کا واقعہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ قاضی ابوالفضل عیاض ر حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ عصماء بنت مروان کا قت
عظمت رسالت و نبوت ﷺ
فہرست
کارروائی کی تفصیل 6 عدالتی فیصلے کے خلاف ردعمل 7 پوپ کا بیان اور اسلامی تعلیم 12 نبوت و رسالت کی وضاحت 16 توہین رسالت کی سزا 20 قرآنی سزا 24 سید الانبیاء محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شان و عظمت 25 منافقوں کا گروہ 27 رسول اللہ ﷺ کو تکلیف پہنچانے کی اللہ کی مقرر کردہ سزا 29 کعب بن الاشرف یہودی کا واقعہ 30 ابو رافع عبداللہ بن الحقیق یہودی کا واقعہ 33 نابینے صحابی ؓ کا واقعہ 36 ایک یہودیہ کا واقعہ 38 حضرت ابوبکر الصدیق ؓ کا فرمان 38 قاضی ابوالفضل عیاض الیحصبی المتوفی 544ھ کا استدلال 39 حضرت ابوبکر الصدیق ؓ کا فتویٰ 40 عصماء بنت مروان کا قتل 41
عظمت رسالت و نبوت ﷺ
ابو عفک یہودی کا واقعہ 42 دمشق کا واقعہ 43 امام ابن حزم المتوفی 456ھ کی تحقیق 43 حافظ ابن حجر عسقلانی کی تحقیق 44 فتح مکہ کے موقع پر جن کو قتل کرنے کا حکم تھا 45 دفعہ 295 سی 48 دفعہ 295 سی پر اعتراضات 51 اعتراضات کے جوابات 52 جھوٹے الزام یا جھوٹی گواہی کی سزا 56 پنجاب کے گورنر کا انٹرویو 58 گورنر صاحب کا کردار اور اس کا انجام 63 وفاقی شرعی عدالت کا فیصلہ اور اسمبلی کی قانون سازی 70 ملک ممتاز قادری کا فیصلہ 75 روشن خیال اور آزاد طبقے کا اعتراض اور اس کا جواب 76 امریکی پادری ٹیری جونز ملعون کا بیان 77 ریمنڈ ڈیوس کا معاملہ 79 نفع دینے والی دعا 80
٭ ٭ ٭
قومی اخباروں میں شائع گاؤں اٹاں والی میں چند مسلما پھلوں والے باغ میں پھل چننے ک عورتیں بیٹھیں تو مسلمان عورتوں بی بی نے سید الانبیاء محمد رسول اللہ ﷺ عورتوں نے گھر آ کر جب عیسائی نے گاؤں کے بزرگوں تک وہ بات بی کو بلا کر وضاحت کرنے کا موق اس نے اقرار کیا۔ پنچایت نے ف اللہ ﷺ کی شان میں گستاخی ک عورت کو الگ کر کے صفائی کا مو اظہار کرنے کی بجائے گستاخی کا تحت قائم ہوا اور تقریباً ایک سال سنادی۔
عظمت رسالت و نبوت ﷺ
پیش لفظ
قومی اخباروں میں شائع ہونے والے مضامین کے مطابق ننکانہ کے ایک نواحی گاؤں اٹاں والی میں چند مسلمان عورتوں کے ساتھ ایک عیسائی عورت آسیہ بی بی بھی پھلوں والے باغ میں پھل چننے کا کام کر رہی تھی۔ دوپہر کا کھانا کھانے کے لیے جب وہ عورتیں بیٹھیں تو مسلمان عورتوں سے پانی پینے پلانے پر اس کا ان سے جھگڑا ہوا اور آسیہ بی بی نے سید الانبیاء محمد رسول اللہ ﷺ کی شان میں گستاخانہ کلمات بھی کہے۔ مسلمان عورتوں نے گھر آ کر جب عیسائی عورت کی گستاخی سے اپنے مردوں کو آگاہ کیا تو انہوں نے گاؤں کے بزرگوں تک وہ بات پہنچائی۔ جنہوں نے اپنی پنچایت قائم کر کے آسیہ بی بی کو بلا کر وضاحت کرنے کا موقع دیا۔ لیکن پنچایت کے سامنے بھی گستاخانہ کلام کرنے کا اس نے اقرار کیا۔ پنچایت نے علاقے کے DCO تک جب عیسائی عورت کے رسول اللہ ﷺ کی شان میں گستاخی کی مرتکب ہونے والی بات پہنچائی تو اس نے بھی عیسائی عورت کو الگ کر کے صفائی کا موقع دیا لیکن اس نے DCO کے سامنے بھی ندامت کا اظہار کرنے کی بجائے گستاخی کا اقرار کیا۔ جس بنا پر اس کے خلاف مقدمہ 295-C کے تحت قائم ہوا اور تقریباً ایک سال کی کارروائی کے بعد اس کو سیشن کورٹ نے موت کی سزا سنادی۔
عظمت رسالت و نبوت ﷺ
کارروائی کی تفصیل
ماہنامہ ”محدث“ شمارہ 344 فروری 2011ء کے مطابق اس مقدمہ کی سماعت ایڈیشنل سیشن جج ننکانہ صاحب، جناب محمد نوید اقبال کی عدالت میں ہوئی۔ ملزمہ کی طرف سے سات وکلاء اکبر منور درانی ایڈووکیٹ، طاہر گل صادق ایڈووکیٹ، چوہدری ناصر انجم ایڈووکیٹ، جسٹس گل ایڈووکیٹ، طاہر بشیر ایڈووکیٹ، ایرک جون ایڈووکیٹ اور منظور قادر ایڈووکیٹ سپریم کورٹ، جبکہ استغاثہ کی طرف سے صرف ایک وکیل میاں ذوالفقار علی ایڈووکیٹ پیش ہوئے۔ تقریباً ڈیڑھ سال تک اس مقدمہ کی سماعت ہوتی رہی۔ 8 نومبر 2010ء کو اس مقدمہ کا فیصلہ سناتے ہوئے ایڈیشنل سیشن جج نے جرم ثابت ہونے پر ملزمہ آسیہ مسیح کو تعزیرات پاکستان کی دفعہ 295 سی کے تحت سزائے موت کا مستحق قرار دیتے ہوئے اپنے فیصلہ میں لکھا:
”یہاں یہ کہنا بے جا نہ ہو گا کہ اس گاؤں میں عیسائی حضرات کی ایک کثیر تعداد مسلمانوں کے ساتھ کئی نسلوں سے آباد ہے، لیکن ماضی میں اس قسم کا کبھی کوئی واقعہ پیش نہیں آیا۔ مسلمان اور عیسائی دونوں ایک دوسرے کے مذہبی جذبات اور اعتقادات کے سلسلے میں برداشت اور رواداری کا مظاہرہ کرتے آ رہے ہیں۔ اگر توہین رسالت کا اس قسم کا کوئی واقعہ پہلے کبھی اس گاؤں پیش آیا ہوتا، تو یقیناً فوجداری مقدمات اور مذہبی جھگڑے اس گاؤں میں پہلے سے موجود ہوتے۔ لہٰذا اس دفعہ یقیناً توہین رسالت کا ارتکاب ہوا ہے۔ جس کے باعث مقدمہ درج ہوا اور عوامی اجتماع منعقد ہوا اور یہ معاملہ اس قصبے اور اردگرد میں موضوع بحث بن گیا۔ یہاں یہ ذکر کرنا بھی مناسب ہو گا کہ نہ تو ملزمہ خاتون نے اپنی صفائی میں کوئی شہادت پیش کی، اور نہ ہی دفعہ (2)340، ضابطہ فوجداری کی تعمیل کرتے
عظمت رسالت و نبوت ﷺ
ہوئے اپنے اوپر لگائے گئے الزامات غلط ثابت کئے۔ مندرجہ بالا بحث کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ استغاثہ نے اس مقدمہ کو کسی شک و شبہ سے بالاتر ثابت کر دیا ہے۔ تمام استغاثہ گواہان اور ملزمہ، اُن کے بزرگوں، یا ان کے خاندانوں میں کسی دشمنی کا وجود نہیں پایا جا سکا۔ لہٰذا ملزمہ خاتون کو ناجائز طور پر اس مقدمہ میں ملوث کیے جانے کا قطعاً کوئی امکان نہیں۔ ملزمہ کو اس مقدمہ میں کوئی رعایت دیے جانے کا بھی کوئی جواز موجود نہیں۔ لہٰذا ملزمہ آسیہ بی بی زوجہ عاشق کو زیر دفعہ 295 سی تعزیرات پاکستان، موت کی سزا کا مجرم ٹھہراتا ہوں۔‘‘
عدالتی فیصلے کے خلاف ردعمل
جیسے ہی یہ خبر اخباروں میں چھپی تو ساری عیسائی دنیا میں تہلکہ مچ گیا۔ ساتھ ہی اپنا بے دین اور فیشن ایبل طبقہ بھی میدان میں آگیا۔ ان میں وہ بھی ہیں جو طاغوتی طاقتوں کی سرپرستی میں ان کے لیے کام کر رہے ہیں اور وہ بھی ہیں جو مسلمان ہونے کا دعویٰ تو کرتے ہیں لیکن اسلامی تعلیم کے مطابق عمل نہیں کرتے۔ پاکستان میں رہنا ان کی مجبوری ہے کیونکہ پاکستان اور پاکستانی قوم سے ان کے مفادات وابستہ ہیں۔
جہاں تک عیسائیوں کا تعلق ہے۔ ان کی حمایت تو سمجھ میں آتی ہے۔ کیونکہ وہ دنیا میں عیسائیت کی تبلیغ کے لیے پھیلے ہوئے ہیں۔ غریب ملکوں میں غریبوں کے لیے سکول اور ہسپتال قائم کر کے ان کے ذریعہ اپنے مذہب کو پھیلاتے ہیں۔ مالی مدد کے ذریعہ غریبوں کو اپنے مذہب کی طرف راغب کرتے ہیں حالانکہ عیسائیت کے بارے میں خود ان کے اپنے محققین کا کہنا ہے: یہ ایک مسخ شدہ عقیدہ ہے۔ شاہ قسطنطین نے 325ء میں اس عقیدہ کو اپنا کر اس کو سیاسی رنگ دے دیا تھا۔
کیسی عجیب بات ہے۔ ان کی مروجہ انجیل میں مروی ہے۔ یہودیوں نے عیسیٰ ؑ
عظمتِ رسالت و نبوت ﷺ
کی نبوت کو تسلیم نہ کیا اور رومی گورنر کے ذریعہ ان کو سولی پر لٹکوا دیا۔ متی کی انجیل کے الفاظ ہیں: ایلی ایلی لِمَا شَبَقْتَنِی۔ ”اے میرے خدا، اے میرے خدا! تو نے مجھے کیوں چھوڑ دیا۔“
(باب 27، آیت نمبر 46)
یسوع نے یہ بات تیسرے پہر چلا کر کہی تھی۔ یعنی یہ ان کی فریاد تھی۔ لیکن اس المناک منظر کو یہ رنگ دے دیا گیا کہ آدم علیہ السلام سے جو گناہ ہوا تھا اس کے کفارہ میں بیٹا سولی پر چڑھ گیا۔ پھر تین دن بعد زندہ ہو کر باپ کے دائیں جانب بیٹھ گیا۔ حد تو یہ ہے کہ چاروں انجیل میں اختلاف پایا جاتا ہے۔ چونکہ عیسائی حکمرانوں کو دنیا کے لوگوں کی حمایت چاہیے اس لیے انہوں نے ایسے عقیدہ کو دنیا میں پھیلایا جس میں ادیان حق والی کوئی پابندی نہیں۔ اگر گناہ کا کفارہ ادا ہو گیا تو عیسائی دنیا میں مجرموں کو سزا اب کیوں دی جاتی ہے۔ یہودیوں نے حضرت عیسیٰ ؑ کی نبوت کو تسلیم نہ کیا اور عیسائیوں نے سیدالانبیاء محمد رسول اللہ ﷺ کی نبوت و رسالت کا انکار کر دیا۔ حالانکہ عیسائیت پر اسلام کا بہت بڑا احسان ہے کہ حضرت عیسیٰ ؑ اور ان کی والدہ ماجدہ حضرت مریم ؑ کی حقیقت کو بہت ہی خوبصورت انداز میں واضح کیا ہے۔ یہی وجہ تھی کہ شاہ حبشہ نے جب سورۃ مریم حضرت جعفر طیار ؓ سے سنی تو اس کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے اور جتنے پادری دربار میں موجود تھے وہ بھی رو رہے تھے۔
چونکہ عیسائی سید الانبیاء کے منکر ہیں لہٰذا ان میں سے کسی کا آپ کی شان میں گستاخی کرنا معیوب نہیں، دکھاوے کے طور پر جس ملک میں ہوتے ہیں وہاں کی حکومت اور عوام کے خیر خواہ بن جاتے ہیں۔ ان میں سے آج تک کسی نے مسلمانوں پر ہونے والے ظلم و ستم کے خلاف کبھی آواز نہیں اٹھائی۔ مسلمانوں کی بیٹی کو 86 سال قید کی سزا سنائی گئی مگر مسلمانوں کے ملکوں میں بسنے والے عیسائیوں نے کوئی احتجاج نہیں کیا۔
سیکولرازم اور آزادی تقریر و تحریر کے علمبردار ملکوں میں حضرت عیسیٰ ؑ کی شان
عظمت رسالت و نبوت ﷺ
میں گستاخی کرنا جرم ہے۔ ان کی تاریخ میں بے شمار ایسے واقعات مذکور ہیں کہ گستاخی کرنے والوں کو قتل کیا گیا اور بہت سے لوگوں کو زندہ جلایا گیا۔ آج امریکہ اور اس کے اتحادی اسلامی ممالک میں بسنے والے مسلمانوں کے ساتھ کیا کر رہے ۔ لاکھوں بے گناہ بچوں بوڑھوں مردوں اور عورتوں کا خون بہا چکے ہیں لیکن ابھی تک ان کا دل نہیں بھرا۔ جبکہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا فرمان ہے:
متی: باب 5، آیت 44 کے الفاظ ہیں: اپنے دشمنوں سے محبت رکھو اور اپنے ستانے والوں کے لیے دعا کرو۔
افسوس تو پڑھے لکھے ان جاہلوں پر ہے، جو قرآن وسنت کی تعلیم کو اپنانے کے بجائے ان کو خوش کرنے کی کوشش کر رہے ہیں جو مسلمانوں کے دشمن ہیں، جو مسلمانوں کو ختم کرنے اور ان کے وسائل پر قبضہ کر کے معاشی طور پر ان کو کنگال کرنے کے درپے ہیں۔ معاشی موت بہت ہی درد ناک ہوتی ہے۔ اس وقت مسلمانوں کے ملکوں میں دنیا کی دوتہائی انرجی موجود ہے۔ پاکستان میں اللہ کے فضل سے تمام وسائل پائے جاتے ہیں لیکن طاغوتی طاقتیں ہماری انرجی اور ہمارے وسائل سے ہمیں فائدہ اٹھانے نہیں دیتیں۔ امریکہ کے بنکوں میں سے مسلمانوں کے جمع شدہ ڈالر اگر نکل جائیں تو چند دنوں میں اس کا تختہ ہو سکتا ہے۔
مال اور شہرت کا بھوکا انسان بڑا ہی بیوقوف ہوتا ہے۔ اللہ کا قانون ہے سورۃ ال عمران کے الفاظ ہیں:
﴿مَنْ يُّرِدْ ثَوَابَ الدُّنْيَا نُؤْتِهِ مِنْهَا وَ مَنْ يُّرِدْ ثَوَابَ الْاٰخِرَةِ نُؤْتِهِ مِنْهَا (۱۴۵)﴾
’’جو دنیا کے ثواب کا ارادہ کرتا ہے تو ہم اس کو اُس میں سے دے دیتے ہیں اور جو آخرت کے ثواب کا ارادہ کرتا ہے تو اس میں سے ہم اس کو دے دیتے
عظمت رسالت و نبوت ﷺ
ہیں۔ یعنی وہ دینے والا ہے اس سے جو مانگا جائے، دے دیتا ہے۔“ سورۃ ہود میں اس کی بہت خوبصورت وضاحت ہوئی ہے۔ رب العالمین کا فرمان ہے:
﴿مَنْ كَانَ يُرِيدُ الْحَيٰوةَ الدُّنْيَا وَ زِيْنَتَهَا نُوَفِّ إِلَيْهِمْ أَعْمَالَهُمْ فِيْهَا وَ هُمْ فِيْهَا لَا يُبْخَسُوْنَ (۱۵/۱۱) أُولئِكَ الَّذِيْنَ لَيْسَ لَهُمْ فِي الْآخِرَةِ إِلَّا النَّارُ وَ حَبِطَ مَا صَنَعُوْا فِيْهَا وَ بَاطِلٌ مَّا كَانُوْا يَعْمَلُوْنَ (۱۶/۱۱)﴾
”جو دنیا کی زندگی اور اس کی زینت کا ارادہ کرتے ہیں تو ہم ان کو اس میں ان کے اعمال کا پورا بدلہ دیتے ہیں اور اس میں ان کے اعمال میں کوئی کمی نہیں کی جاتی۔ وہی لوگ ہیں آخرت میں جن کے لیے آگ ہو گی اور جو انھوں نے کیا وہ ضائع ہو جائے گا اور باطل تھا جو وہ کیا کرتے تھے۔“
اللہ تعالیٰ کے بیان کردہ قانون سے واضح ہو جاتا ہے کہ جو دنیا کمانے بنانے اور سنوارنے کے خواہش مند ہوتے ہیں اللہ ان کی خواہش کے مطابق خوب دیتا ہے۔ اگر دنیا سنوارنے کے ساتھ وہ اپنی آخرت کا خیال نہیں کرتے تو جہنم کا ایندھن بن جاتے ہیں اور یہ بھی یاد رکھنے کی اہم بات ہے۔ کہ انسان خالی ہاتھ دنیا میں آتا ہے اور خالی ہاتھ زمین کے پیٹ میں دفن ہو جاتا ہے۔ ہر انسان کو ملنے والی زندگی عارضی ہے۔ لہٰذا سمجھدار وہی انسان ہے جو اس عارضی زندگی میں اپنی ہمیشہ والی زندگی کو سنوارنے میں کوشاں رہے۔
دین حق سے بیزاری اور غیر مسلموں سے یاری کوئی نئی بات نہیں۔ ایسا ہوتا رہا ہے اور ہوتا رہے گا۔ خوش نصیب ہیں وہ جو اللہ کے دین کے مطابق اپنی عارضی زندگی گزار کر اپنے رب کو راضی کرتے ہیں۔ اس کے دین کی سربلندی میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
لبرل خواتین اور ان کا ساتھ دینے والوں کو معلوم نہیں کہ دین جو محمد رسول اللہﷺ لے
عظمت رسالت و نبوت ﷺ
کر آئے تھے اس میں لبرلزم کی کوئی گنجائش نہ تھی۔ وہ ایک مکمل ضابطہ تھا۔ اس ضابطہ حیات میں مرتدین نے صلوٰۃ اور زکوٰۃ میں فرق کرنے کی اجازت رسول اللہ ﷺ کے خلیفہ ابوبکر الصدیق ؓ سے جب چاہی تو انہوں نے تلوار کی نوک پر صلوٰۃ و زکوٰۃ میں فرق نہ ہونے دیا۔ انہوں نے ایک سال کے اندر سارے جزیرہ نما عرب میں رہنے والے لبرلزم کی چاہت رکھنے والوں کو سیدھا کر دیا۔ جب خلافت کا بوجھ ان کے کندھوں پر آیا تو اس وقت سید الانبیاء ﷺ کی رسالت کو چیلنج کرنے والے مسیلمہ کذاب، طلیحہ اسدی اور عیسائی عورت سجاح مسلمانوں کے خلاف صف آرا تھے اور وہ ایسا آزمائش کا وقت تھا کہ اگر مسلمان اس وقت مغلوب ہو جاتے تو اسلام کی شمع بجھ جاتی۔ لیکن ان کا ایمان اور یقین اتنا مضبوط تھا کہ ان تینوں کو انہوں نے زیر کیا۔ تاریخ طبری، الکامل اور البدایۃ والنھایۃ کی روایات کے مطابق مسیلمہ کذاب کے ساتھ چالیس سے ساٹھ ہزار کا لشکر تھا اور یمامہ کے مقام پر اس سے جو جنگ ہوئی اس میں خلیفہ ابوبکر کے بیٹے عبداللہ، عمر فاروق کے بڑے بھائی زیدؓ جیسے جلیل القدر صحابہ شہید ہوئے۔ قرآن کے حفاظ کی کثیر جماعت نے اپنی جانوں کا نذرانہ بارگاہ الٰہ میں پیش کیا۔
ابوبکر کے حکم پر خالد بن ولید نے عراق پر جب چڑھائی کی تو پہلے وہ دشمن کو اسلام قبول کر کے مسلمانوں کے بھائی بننے کی دعوت دیتے۔ جب دعوت قبول نہ کی جاتی تو جزیہ دیکر مسلمانوں کی حفاظت میں آنے کو کہتے۔ جب اس کا بھی انکار کیا جاتا تو کہتے: میں اپنے ساتھ ایسے لوگوں کو لایا ہوں جو موت سے ویسے ہی محبت کرتے ہیں جیسے تم زندگی سے محبت کرتے ہو۔
اسلام دنیا میں لبرلزم کی وجہ سے نہیں بلکہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی اطاعت کرنے کی وجہ سے پھیلا۔ محمد رسول اللہ ﷺ کی رسالت پر جو ایمان لائے انہوں نے اس کی حفاظت کا حق ادا کر دیا۔ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے آج بھی تمام تر کمزوریوں
عظمت رسالت و نبوت ﷺ
کے باوجود اہل اسلام کی اکثریت شمع رسالت کے لیے قربان ہونے کو عین سعادت سمجھتے ہیں ۔ کیونکہ لبرل خواتین و حضرات کے نزدیک دنیا کی کامیابی ہی سب کچھ ہے ۔ جبکہ رسول اللہ ﷺ کی رسالت پر ایمان رکھنے والے آخرت کی کامیابی کو ہی اصل کامیابی سمجھتے ہیں ۔ سورۃ الاحزاب میں اللہ تعالیٰ کا اعلان ہے:
﴿ وَ مَنْ يُّطِعِ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ فَقَدْ فَازَ فَوْزًا عَظِيْمًا (۷۱/۳۳) ﴾
اور جس نے اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی اطاعت کی اس نے بہت بڑی کامیابی حاصل کر لی ۔
پوپ کا بیان اور اسلامی تعلیم
پوپ بینی ڈکٹ نے 170 ممالک کے سفارت کاروں سے اپنے سالانہ خطاب میں حکومت پاکستان سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ تحفظ ناموس رسالت قانون کو ختم کرے اور آسیہ بی بی کو رہا کرے ۔ اس کا کہنا ہے کہ گورنر پنجاب کے قتل کے بعد اس جانب فوری توجہ دینے کی ضرورت ہے ۔ تحفظ ناموس رسالت قانون نا انصافی اور تشدد کا جواز فراہم کرتا ہے ۔ انہوں نے پاکستانی قیادت کو پر زور اپیل کی ہے کہ وہ یہ قانون ختم کرنے کے لیے ضروری اقدامات کرے ۔ پاکستان میں مسیحی برادری کو تحفظ فراہم کیا جائے تاکہ وہ تشدد اور امتیازی سلوک کے خوف کے بغیر اپنے مذہبی عقائد کے مطابق زندگی گزار سکیں ۔ پوپ نے کہا ۔ اس قانون کو عذر بنا کر اسے اقلیتی عیسائی برادری کے خلاف استعمال کیا جا رہا ہے ۔
(نوائے وقت: منگل: 11 جنوری 2011ء)
پوپ بینی ڈکٹ نے حکومت پاکستان سے جو مطالبہ کیا ہے۔ اس سے بالکل واضح ہو گیا ہے کہ پاکستان میں رہتے ہوئے جو فیشن ایبل طبقہ توہین رسالت قانون 295c کو ختم کرانے کے لیے کوشاں ہے۔ اس کا تعلق عیسائیوں کے روحانی پیشوا پوپ بینی ڈکٹ
عظمت رسالت و نبوت ﷺ
کے ذریعہ اسلام دشمن قوتوں سے ہے جنہوں نے پوپ کو مذہبی ڈھال بنا رکھا ہے۔ اسلام دشمن قوتیں جب اور جو بیان پوپ اور پادریوں سے دلوانا چاہتی ہیں دلوالیتی ہیں۔ اسقاط حمل اور ہم جنس پرستی کی انجیل میں کوئی گنجائش نہیں لیکن عیسائی مذہبی راہنماؤں نے اس کی بھی اجازت دے دی اور شادی کیے بغیر مرد اور عورت کے جنسی تعلقات پر ان کو اب کوئی اعتراض نہیں۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ عیسائیت کا انبیاء علیہم والے دین سے کوئی تعلق نہیں۔ بلکہ اسلام دشمن طاقتوں کا مذہب کے نام پر وہ ایک شعبہ ہے۔
چاہیے تو یہ تھا کہ پوپ اپنے ماننے والوں کو حکم دیتا کہ محمد رسول اللہ ﷺ اہل اسلام کے نبی ہیں۔ لہٰذا ان کے بارے ایسی زبان نہ استعمال کرو کہ جس سے ان کے جذبات مجروح و مشتعل ہوں۔ افسوس ہے کہ پوپ نے اپنے لوگوں کو نصیحت کرنے کی بجائے اپنی اسلام دشمنی کا مظاہرہ کر دیا۔
پوپ کو اچھی طرح معلوم ہے کہ پاکستان میں مسیحی برادری کو مکمل آزادی ہے۔ ان کو یہاں کسی قسم کا کوئی خوف و خطرہ نہیں۔ ان کے مذہبی تہوار کی کارروائیوں کو ٹی وی اور اخبارات میں نمایاں طور پر دکھایا اور شائع کیا جاتا ہے۔ انہی کے تحفظ کے لیے توہین رسالت قانون بنایا گیا ہے۔ تاکہ اللہ اور اس کے رسول اللہ ﷺ سے محبت رکھنے والے خود ہی اس قانون کو نافذ نہ کر دیں جو اللہ اور اس کے رسول ﷺ نے بنایا تھا۔ جو ہمیشہ ممکنہ حد تک نافذ ہوتا رہا ہے۔
اسلام تو ایسا دین ہے کہ اس میں غیروں کے معبودوں کو برا بھلا کہنے سے اللہ نے روک دیا ہے۔ اہل اسلام کو حکم ہے کہ تمام انبیاء علیہم پر ایمان رکھیں۔ کسی کے بارے میں زبان درازی نہ کریں۔ سورۃ البقرہ میں اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
﴿آمَنَ الرَّسُوْلُ بِمَا اُنْزِلَ اِلَيْهِ مِنْ رَّبِّهِ وَ الْمُؤْمِنُوْنَ كُلٌّ آمَنَ بِاللّٰهِ﴾
عظمت رسالت و نبوت ﷺ
وَ مَلٰٓئِكَتِهٖ وَ كُتُبِهٖ وَ رُسُلِهٖ لَا نُفَرِّقُ بَيْنَ اَحَدٍ مِّنْ رُّسُلِهٖ وَ قَالُوْا سَمِعْنَا وَ اَطَعْنَا غُفْرَانَكَ رَبَّنَا وَ اِلَيْكَ الْمَصِيْرُ (٢٨٥/٢) ﴾
ایمان لائے رسول ﷺ اس پر جو ان کے رب کی طرف سے ان پر نازل کیا گیا اور تمام مومن بھی ایمان لے آئے۔ تمام کے تمام اللہ اور اس کے فرشتوں اور اس کی کتابوں اور اس کے تمام رسولوں پر ایمان لے آئے۔ (انہوں نے کہا) ہم رسولوں میں سے کسی ایک کے درمیان فرق نہیں کرتے۔ انہوں نے کہا۔ ہم نے سنا اور ہم نے اطاعت کی۔ ہم اپنے رب کی بخشش کے طلبگار ہیں۔ اے رب! تیری ہی طرف ہمارا لوٹنا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ جب کوئی مسلمان کسی نبی کا نام لیتا ہے تو اس پر سلام ضرور بھیجتا ہے۔
صحیح بخاری: کتاب الانبیاء ص 484 میں رسول اللہ ﷺ کی واضح ہدایت ہے:
لَا تُخَيِّرُوْنِيْ عَلٰى مُوْسٰى ”مجھے موسیٰ علیہ السلام پر ترجیح نہ دیا کرو۔“
اہل اسلام جیسے عیسائیوں اور یہودیوں کے نبیوں علیہم السلام کی عزت و احترام کرتے ہیں ویسے ہی وہ بھی توقع رکھتے ہیں کہ ان کے پیارے نبی ﷺ کے بارے میں کوئی برے الفاظ استعمال نہ کرے۔ کیونکہ دنیا جہاں میں ان سے بڑھ کر ان کو کوئی محبوب اور عزیز نہیں اور ان کے لیے قربان ہونا ہی ہر مسلمان کی عین سعادت و ایمان ہے۔
صحیح بخاری: کتاب الایمان ص 7 اور صحیح مسلم: کتاب الایمان ص 49 میں انسؓ سے مروی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
لَا يُؤْمِنُ اَحَدُكُمْ حَتّٰى اَكُوْنَ اَحَبَّ اِلَيْهِ مِنْ وَّالِدِهٖ وَ وَلَدِهٖ وَالنَّاسِ اَجْمَعِيْنَ
عظمت رسالت و نبوت
تمہارا کوئی ایک اس وقت تک ایمان والا نہیں ہو سکتا جب تک میں اس کو اس کے والد اور اس کی اولاد اور تمام لوگوں سے زیادہ محبوب نہ ہو جاؤں۔
ابوھریرہؓ کی روایت میں وَالَّذِيْ نَفْسِيْ بِيَدِهِ کے الفاظ بھی منقول ہیں۔ یعنی آپ نے قسم کھائی اور اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے۔ جب آپ بڑی قسم کھایا کرتے تو یہی الفاظ استعمال کیا کرتے تھے۔
امام بخاری اور امام مسلم نے اپنی اپنی کتاب کے کتاب الایمان میں مذکورہ روایت کو نقل کر کے ثابت کیا ہے کہ اللہ کے بعد اس کے رسول ﷺ کو کل کائنات سے زیادہ محبوب رکھنا ہی ہر مسلمان کی تکمیل ایمان ہے۔ اگر اس میں کوتاہی یا کمزوری ہوگی تو ایمان کامل نہیں ہوگا۔
صحیح بخاری: کتاب الایمان والنذر ص 981 میں عبداللہ بن ہشام سے مروی ہے۔ ہم رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر تھے اور آپ عمر فاروقؓ کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں پکڑے ہوئے تھے:
عمرؓ نے آپ سے عرض کیا: اللہ کے رسول: لَاَنْتَ اَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ كُلِّ شَيْءٍ اِلَّا نَفْسِي فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم لَا وَالَّذِيْ نَفْسِيْ بِيَدِهِ حَتَّى اَكُونَ اَحَبَّ إِلَيْكَ مِنْ نَّفْسِكَ فَقَالَ عمر فَإِنَّهُ الْآنَ وَاللَّهِ لَاَنْتَ اَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ نَفْسِيْ فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم اَلْآنَ يَا عُمَر
سوائے میری اپنی جان کے آپ مجھے ہر شئے سے زیادہ محبوب ہیں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں، قسم ہے اس ذات کی کہ جس کے قبضہ میں میری جان، جب تک تجھے میں تیری جان سے بھی زیادہ محبوب نہ ہو جاؤں تب تک ایمان مکمل نہیں ہوگا۔
عظمت رسالت و نبوت ﷺ
عمر نے عرض کیا: بے شک اب اس وقت، اللہ کی قسم! آپ مجھے میری جان سے بھی زیادہ محبوب ہیں۔ نبی ﷺ نے فرمایا: عمر! اب ایمان مکمل ہوا ہے۔
نبوت ورسالت کی وضاحت
یہاں ایک سوال یہ ابھرتا ہے کہ محمد رسول ﷺ کو دنیا جہاں سے زیادہ محبوب بنائے بغیر ایمان مکمل کیوں نہیں ہوتا۔ اس بات کو سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ پہلے نبی، رسول اور رسالت کے معنی پر غور کر لیا جائے۔
عربی گرائمر کی رو سے فَعِیلٌ اور فَعُولٌ دو ایسے وزن ہیں جو فاعل اور مفعول میں مشترک ہیں۔ فَعِیلٌ کے وزن پر نبیٌ اور فَعُولٌ کے وزن پر رَسُولٌ ...... دونوں ہی اسم مفعول ہیں یعنی نبیٌ اسے کہا جاتا تھا جس کو اللہ کی طرف سے غائب کی خبریں ملتی تھیں اور وہ اپنی قوم کو دے دیتا تھا۔ رَسُولٌ بمعنی مرسل مراد وہ عظیم ہستی ہوتی تھی جس کو اللہ تعالیٰ اپنی رسالت کے لیے چن لیتا تھا اور رسالت سے مراد اللہ تعالیٰ کے پیغام و احکام تھے جن کا اپنی اپنی قوم کو پہنچانا رسولوں پر فرض تھا۔ اس سے معلوم ہوا۔ نبی اور رسول کا کام اللہ کی خبروں اور پیغام و احکام کو اس کی مخلوق تک پہنچانا ہوتا تھا۔ کسی بھی نبی یا رسول کو قطعاً یہ اختیار نہیں ہوتا تھا کہ وہ اپنی طرف سے اللہ کے پیغام و احکام میں کوئی کمی بیشی کر سکے۔ لہٰذا نبی و رسول کی اطاعت درحقیقت اللہ کی اطاعت ہوتی تھی اور نبی و رسول کی نافرمانی اللہ ہی کی نافرمانی ہوتی تھی۔
سورۃ النساء میں اللہ تعالیٰ نے خود ہی فرمایا ہے:
جس نے رسول ﷺ کی اطاعت کی اس نے یقیناً اللہ کی اطاعت کی۔
عظمت رسالت و نبوت ﷺ
جنہوں نے نبیوں اور رسولوں کی اطاعت کی اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنی نعمتوں سے نواز دیا اور جنہوں نے نافرمانی کی اللہ تعالیٰ نے دنیا میں ان کو تباہ و برباد کر کے آخرت میں جہنم کو ان کا مقدر بنا دیا۔
سورۃ الحاقہ کے آغاز ہی میں اللہ تعالیٰ نے عاد، ثمود، فرعون اور مؤتفکات پر نازل ہونے والے عذابوں کا ذکر کر کے فرمایا:
﴿فَعَصَوْا رَسُوْلَ رَبِّهِمْ فَاَخَذَهُمْ اَخْذَةً رَّابِيَةً (10/69)﴾
پس انہوں نے رب کے رسول کی نافرمانی کی تو اللہ تعالیٰ نے ان کو سخت گرفت میں پکڑ لیا۔
(یعنی بہت برے عذابوں میں مبتلا کر دیا۔
سورۃ یسٓ میں رسول اللہ ﷺ کو ایک بستی کے رہنے والوں کی مثال بیان کرنے کا حکم ملتا ہے۔ جن کے پاس بھیجے گئے رسول آئے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:
ہم نے ان کی طرف دو رسول بھیجے۔ انہوں نے دونوں کو جھٹلا دیا۔ پھر ہم نے تیسرے کے ساتھ ان کی مدد کی اور انہوں نے کہا: ہم تمہاری طرف بھیجے گئے۔ بستی والوں نے کہا: تم تو ہماری طرح انسان ہو اور رحمٰن نے کچھ بھی نازل نہیں کیا، تم جھوٹ بول رہے ہو۔ رسولوں نے کہا: ہمارا رب جانتا ہے، بے شک ہم تمہاری طرف بھیجے گئے رسول ہیں۔ ہم پر تو اللہ کا واضح پیغام پہنچانا فرض ہے۔ بستی والوں نے کہا: تمہیں ہم منحوس سمجھتے ہیں، اگر تم باز نہ ہوئے تو ہم تمہیں سنگسار کر دیں گے اور ہماری طرف سے تم کو درد ناک عذاب پہنچے گا۔ رسولوں نے کہا: تمہاری نحوست تو تمہارے ساتھ ہے، تمہیں تو نصیحت کی گئی ہے بلکہ تم تو زیادتی کرنے والی قوم ہو۔ شہر کے دور والے کنارے سے ایک آدمی دوڑتا ہوا آیا۔ اس نے کہا: اے میری قوم بھیجے گئے رسولوں کی اتباع کرو، ان کی اتباع کرو جو تم سے کسی اجر کا سوال نہیں
عظمتِ رسالت و نبوت ﷺ
کرتے اور وہ ہدایت یافتہ ہیں۔ مجھے کیا ہے کہ میں اس کی عبادت نہ کروں کہ جس نے مجھے پیدا کیا ہے اور اسی کی طرف تم لوٹائے جاؤ گے۔ کیا اس کے علاوہ میں معبود بنالوں۔ اگر رحمٰن مجھے نقصان پہنچانے کا ارادہ کر لے تو ان کی شفاعت مجھے کوئی فائدہ نہ دے اور نہ ہی وہ مجھے چھڑا سکیں۔ اگر میں ایسا کروں تو میں کھلی گمراہی میں ہوں گا۔
قوم تو رسولوں کی اطاعت کرنے اور ان کی خیر خواہی قبول کرنے پر تیار نہ تھی بلکہ ان کو مارنے کا ارادہ رکھتی تھی۔ لہٰذا اس نے ان کی پروا کئے بغیر خود ہی اپنے بارے میں اعلان کر دیا:
﴿اِنِّیْ اٰمَنْتُ بِرَبِّكُمْ فَاسْمَعُوْنِ(۲۵/۳۶) قِیْلَ ادْخُلِ الْجَنَّةَ قَالَ یٰلَیْتَ قَوْمِیْ یَعْلَمُوْنَ (۲۶/۳۶) بِمَا غَفَرَ لِیْ رَبِّیْ وَجَعَلَنِیْ مِنَ الْمُکْرَمِیْنَ(۲۷/۳۶)﴾
بے شک میں تمہارے رب پر ایمان لایا۔ یہ بات سن لو۔ اس سے کہا گیا۔ جنت میں داخل ہو جاؤ۔ اس نے کہا۔ کاش کہ میری قوم جان لیتی۔ میرے رب نے مجھے کیسے معاف کر دیا اور مجھے عزت والوں میں کر دیا۔
مفسرین نے لکھا ہے: جیسے ہی اس نے ایمان لانے کا اعلان کیا۔ تو قوم اس پر ٹوٹ پڑی۔ اس کو اتنا مارا پیٹا کہ اس کی انتڑیاں باہر نکل آئیں۔ لیکن رسولوں کی دعوت کو قبول کرتے ہوئے اپنے جس رب پر ایمان لانے کی وجہ سے اس کو مار دیا گیا۔ اس نے فوراً اس کو جزا سے نواز دیا۔ جنت میں داخل ہونا ہی سب سے بڑی کامیابی ہے۔ پھر اس کے گناہوں کی معافی اور عزت والوں میں جگہ پانا۔ اس سے بڑا انعام کیا ہو سکتا ہے۔
سورۃ آل عمران میں رب العالمین کا اعلان ہے:
﴿فَمَنْ زُحْزِحَ عَنِ النَّارِ وَ اُدْخِلَ الْجَنَّةَ فَقَدْ فَازَ وَ مَا الْحَیٰوۃُ
عظمت رسالت و نبوت ﷺ
الدُّنْيَا إِلَّا مَتَاعُ الْغُرُوْرِ (۱۸۵/۳)﴾
پس جو جہنم کی آگ سے بچایا گیا اور جنت میں داخل کر دیا گیا۔ وہ یقینی طور پر کامیاب ہوا اور دنیا کی زندگی تو دھوکے کا سامان ہے۔
رسولوں کی اتباع کرنے والا تو جنت میں چلا گیا۔ لیکن بستی والوں کو جو انجام ہوا اس کے بارے میں اللہ نے فرمایا۔ سورۃ یٰسین کے ہی الفاظ ہیں :
﴿وَمَا أَنْزَلْنَا عَلَى قَوْمِهِ مِنْ بَعْدِهِ مِنْ جُنْدٍ مِّنَ السَّمَاءِ وَمَا كُنَّا مُنْزِلِيْنَ (۲۸/۳۶) إِنْ كَانَتْ إِلَّا صَيْحَةً وَّاحِدَةً فَإِذَا هُمْ خَامِدُوْنَ (۲۹/۳۶)﴾
اور ہم نے اس کے بعد اس کی قوم پر کوئی لشکر آسمان سے نہ بھیجا اور نہ ہی نازل کرنے والے تھے بلکہ وہ صرف ایک چیخ ہی تھی جس کی وجہ سے وہ بجھ گئے۔ یعنی ان کی زندگیوں کے چراغ گل ہو گئے۔
رسولوں کی اطاعت کرنے والا جنت میں پہنچ گیا اور رسولوں کی نافرمانی کرنے والوں پر اللہ کا عذاب نازل ہوا۔ جو ایک چیخ کی صورت میں تھا۔
اللہ تعالیٰ نے اس بد بخت قوم کی تباہی کے بعد فرمایا :
﴿يٰحَسْرَةً عَلَى الْعِبَادِ ۘ مَا يَأْتِيْهِمْ مِّنْ رَّسُوْلٍ إِلَّا كَانُوْا بِهِ يَسْتَهْزِؤُنَ (۳۰/۳۶)﴾
افسوس ہے بندوں پر جو بھی رسول ان کے پاس آیا۔ وہ اس کا مذاق اڑاتے تھے۔
سورۃ الانعام کی آیت نمبر 10 میں بھی رسول اللہ ﷺ سے پہلے بھیجے گئے رسولوں کے بارے میں یہی ارشاد ہوا ہے۔ اسی بنا پر ان کو تباہ و برباد کر دیا جاتا تھا۔
جیسے اللہ کے رسول کی اطاعت اللہ کی اطاعت ہوتی ہے۔ ویسے ہی اس کی مخالفت
عظمت رسالت و نبوت ﷺ
بھی اللہ ہی کی مخالفت ہوتی ہے۔ اللہ کے قانون کے مطابق مخالفت کرنے والوں کو مہلت بھی ملتی ہے۔ اگر وہ اپنی اصلاح نہیں کرتے تو پھر اللہ تعالیٰ سزا دینے کا طریقہ کار خود وضع کرتا ہے۔ کبھی مختلف عذابوں میں مبتلا کر کے سدھرنے کا موقع دیتا ہے۔ کبھی کسی دشمن کے ہاتھوں تباہی کراتا ہے اور کبھی خود ہی ان کو کسی نہ کسی عذاب کے ذریعہ فنا کر دیتا ہے۔ مخالفت کرنے اور اس پر ڈٹ جانے والوں کو سزا ضرور ملتی ہے۔
سورۃ النساء میں اللہ تعالیٰ کا اعلان ہے: ﴿وَ مَنْ يُشَاقِقِ الرَّسُوْلَ مِنْ بَعْدِ مَا تَبَيَّنَ لَهُ الْهُدٰی وَ يَتَّبِعْ غَيْرَ سَبِيْلِ الْمُؤْمِنِيْنَ نُوَلِّهٖ مَا تَوَلّٰی وَ نُصْلِهٖ جَهَنَّمَ وَ سَاءَتْ مَصِيْرًا (۱۱۵/۴)﴾
اور جو ہدایت کے واضح ہو جانے کے بعد رسول (ﷺ) کی مخالفت کرے گا اور مومنوں کی راہ کے علاوہ کوئی اور راہ اختیار کرے گا تو جس طرف جائے گا ہم اس کو اسی طرف لگا دیں گے اور انجام کار اس کو جہنم میں ڈال دیں گے اور وہ بہت بری لوٹنے کی جگہ ہے۔
یہ بھی مسلمہ حقیقت ہے کہ رسولوں کی مخالفت کرنے والوں کی اکثریت بڑے لوگوں کی رہی ہے۔ جن کے نزدیک دین اور آخرت کے تصور کی کوئی وقعت نہ تھی۔ آج بھی ایک عیسائی عورت کی حمایت میں ایسے ہی لوگ سرگرم ہوئے ہیں۔
توہین رسالت کی سزا
قرآن حکیم کو اگر تین حصوں میں تقسیم کیا جائے تو ایک حصہ توحید کا دوسرا پہلی قوموں کے واقعات کا اور تیسرا حصہ احکام کا بنتا ہے۔ پہلی تباہ ہونے والی قوموں کو تباہی کی وجہ رسولوں اور نبیوں کی تکذیب، نافرمانی اور ان کا مذاق اڑانا تھا۔
عظمت رسالت و نبوت ﷺ
سید الانبیاء محمد رسول اللہ ﷺ کو جب شمع توحید روشن کرنے اور بھٹکنے والوں کو راہ حق دکھانے کے لیے بھیجا گیا تو آپ نے دعوت حق کا سلسلہ شروع کیا۔ آپ کو بھی پہلے نبیوں اور رسولوں والی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ مخالفت کرنے والوں نے خوب زور لگایا لیکن اللہ تعالیٰ نے ہر مشکل میں آپ کی مدد فرمائی۔ یہاں تک کہ مدینہ طیبہ میں اسلامی ریاست قائم ہو گئی۔
مکہ مکرمہ اور اس کے آس پاس نازل ہونے والی سورتوں میں زیادہ تر توحید باری تعالیٰ اور واقعات کا ذکر ہوتا تھا۔ قیامت کے بارے میں بھی بہت کچھ بیان ہوا لیکن احکام کے نزول کا سلسلہ اسلامی ریاست کے قائم ہونے کے بعد شروع ہوا۔ اگرچہ بعض احکام بھی مکی سورتوں میں ملتے ہیں مگر ان کے مطابق عمل باقاعدہ مدینہ میں ہوا۔
سید الانبیاء محمد رسول اللہ ﷺ کی مکی زندگی جس میں آپ کو نبوت ورسالت کا فریضہ سونپا گیا۔ اس میں آپ کا انداز صرف تبلیغی تھا۔ جنہوں نے آپ کا انکار کیا اور آپ کو بہت کچھ کہا۔ آپ نے ایک مبلغ کی حیثیت میں اس کو برداشت کیا۔ لیکن جب مدینہ میں اسلامی ریاست قائم ہو گئی اور آپ اس کے سربراہ اور حاکم اعلیٰ بن گئے تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے آپ کی یہ ذمہ داری بن گئی کہ معاشرے کو تمام برائیوں سے پاک کر کے اسلامی قوانین کو نافذ کیا جائے اور جو اس کی راہ میں حائل ہوں ان کو قرآن کی روشنی میں سزا دی جائے۔ چنانچہ قرآنی قوانین کے نفاذ کی برکت سے مدینہ طیبہ میں وجود میں آنے والا معاشرہ دنیا کا بہترین معاشرہ بن گیا۔ اس کا ہر فرد دنیا کی بجائے اپنی آخرت کو سنوارنے میں مصروف ہو گیا۔ اللہ کے دین کی سربلندی کو ہر شخص نے اپنی زندگی کا مقصود ومطلوب بنا لیا۔ دینی بھائیوں کی حاجات کو اپنی حاجات پر ترجیح دینے کا معمول عام ہو گیا۔ اللہ تعالیٰ نے اس معاشرے کے بارے میں خود گواہی دی۔ سورۃ الفتح کے الفاظ ہیں:
عظمت رسالت و نبوت ﷺ
﴿مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰهِ وَالَّذِيْنَ مَعَهُ اَشِدَّآءُ عَلَى الْكُفَّارِ رُحَمَآءُ بَيْنَهُمْ تَرٰىهُمْ رُكَّعًا سُجَّدًا يَّبْتَغُوْنَ فَضْلًا مِّنَ اللّٰهِ وَرِضْوَانًا سِيْمَاهُمْ فِيْ وُجُوْهِهِمْ مِّنْ اَثَرِ السُّجُوْدِ ذٰلِكَ مَثَلُهُمْ فِى التَّوْرٰةِ وَمَثَلُهُمْ فِى الْاِنْجِيْلِ (۲۹/۴۸)﴾
محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں اور ان کے جو ساتھ ہیں وہ کفار پر سختی کرنے اور آپس میں ایک دوسرے پر رحم کرنے والے ہیں۔ آپ ان کو رکوع و سجود کرتے دیکھتے ہیں۔ وہ اللہ کا فضل اور اس کی رضامندی کے متلاشی ہیں۔ ان کی نشانی سجدوں کے نشان ان کے چہروں پر ہیں۔ یہی ان کی مثال تورات میں اور یہی مثال انجیل میں ہے۔
سورۃ التوبہ میں مزید وضاحت یوں ہوتی ہے:
﴿وَ الْمُؤْمِنُوْنَ وَالْمُؤْمِنٰتُ بَعْضُهُمْ اَوْلِيَآءُ بَعْضٍ يَأْمُرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَ يَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَ يُقِيْمُوْنَ الصَّلٰوةَ وَ يُؤْتُوْنَ الزَّكٰوةَ وَ يُطِيْعُوْنَ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهُ اُولٰٓئِكَ سَيَرْحَمُهُمُ اللّٰهُ اِنَّ اللّٰهَ عَزِيْزٌ حَكِيْمٌ (۷۱/۹) وَعَدَ اللّٰهُ الْمُؤْمِنِيْنَ وَ الْمُؤْمِنٰتِ جَنّٰتٍ تَجْرِيْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِيْنَ فِيْهَا وَ مَسٰكِنَ طَيِّبَةً فِيْ جَنّٰتِ عَدْنٍ وَ رِضْوَانٌ مِّنَ اللّٰهِ اَكْبَرُ ذٰلِكَ هُوَ الْفَوْزُ الْعَظِيْمُ (۷۲/۹)﴾
مومن مرد اور مومنہ عورتیں بعض ان کے بعض کے ولی ہیں۔ اچھائی کا حکم دیتے ہیں اور برائی سے روکتے ہیں اور نماز قائم کرتے اور زکوٰۃ ادا کرتے ہیں اور اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی اطاعت کرتے ہیں۔ وہی ہیں جن پر اللہ عنقریب رحم فرمائے گا۔ بے شک اللہ غلبے اور حکمت والا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے مومن مردوں اور مومنہ عورتوں سے ان جنتی باغات کا وعدہ کیا ہے کہ جن
عظمت رسالت و نبوت ﷺ
کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی۔ جن میں وہ ہمیشہ رہیں گے اور ہمیشگی والی جنت میں پاک گھروں کا وعدہ کیا ہے اور اللہ کی طرف سے اس کی رضامندی سب سے بڑی نعمت ہو گی۔ یہ بہت بڑی کامیابی ہو گی۔
یہ وہ معاشرہ تھا جو محمد رسول اللہ ﷺ نے اسلامی ریاست میں قائم کیا تھا۔ اس معاشرے کے افراد کو اللہ تعالیٰ نے دنیا میں بھی اپنی نعمتوں سے مالا مال کر دیا۔ رسول اللہ ﷺ کے دنیا سے تشریف لے جانے کے بعد انہوں نے اس وقت کی دو عظیم سلطنتوں کو روند کر رکھ دیا۔ مصر اسلامی ریاست کا حصہ بن گیا، کیونکہ وہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی اطاعت کرتے تھے اور قرآنی احکام کے مطابق عمل کرتے تھے۔ اللہ ان پر مہربان تھا۔
اس تناظر میں اگر ہم اپنے معاشرے کا جائزہ لیں تو کیا نقشہ بنتا ہے۔ 63 سالوں میں ہم نے آدھا پاکستان گنوا دیا۔ آدھے میں فتنہ و فساد برپا ہے۔ ہر کوئی مال بنانے میں کوشاں ہے۔ امریکہ ہمارے سر پر آ کر بیٹھا ہوا ہے۔ اس کے حکم سے مسلمان اپنے بھائیوں کا خون بہا رہا ہے۔ ہماری معیشت تباہ ہو چکی ہے۔ پاکستان کی اکثریت کو مناسب روٹی میسر نہیں۔ بھارت ہمارے دریاؤں کا پانی اپنے قبضہ میں کر چکا ہے۔ اندرونی بیرونی قرضوں میں ملک ڈوبا ہوا ہے۔ بڑے لوگوں کے دل پتھر کے ہو چکے ہیں۔ غریب قوم کا کسی کو کوئی خیال نہیں، فیشن ایبل طبقہ مغربی تہذیب کے رنگ میں رنگین ہو کر لبرلزم کے نعرے لگا رہا ہے۔ اس لبرلزم کا نتیجہ ہے کہ اپنے نبی ﷺ کی توہین کے خلاف جو قانون ہے اس کو ختم کرنے کا بل اسمبلی میں جمع کرایا جا چکا ہے۔ وقتی طور پر کہا جا رہا ہے کہ اس قانون میں کوئی تبدیلی نہیں ہو گی۔ لیکن ہماری حکومت کا کوئی اعتبار نہیں کیونکہ اس پر اسلام دشمن طاقتوں کا زبردست دباؤ ہے۔ اب دیکھنے والی بات یہ ہے، آیا اسلام میں کسی نبی یا پیغمبر کی توہین کی اجازت ہے، اگر کوئی اس کا مرتکب ہو تو اس کی کیا سزا ہونی چاہیے۔
عظمت رسالت و نبوت ﷺ
قرآنی سزا
رسولوں کی رسالت کا انکار کرنے اور ان کا مذاق اڑانے اور ان کے بارے میں اہانت و استہزاء کے مرتکب ہونے والوں کو سزا دینے کی ابتداء اللہ تعالیٰ نے خود فرمائی۔ نوح علیہ السلام کی قوم سے یہ سلسلہ شروع ہوا اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی قوم تک پہنچا۔ اللہ تعالیٰ نے سورۃ الانعام میں محمد رسول اللہ سے خطاب فرمایا:
﴿وَ لَقَدِ اسْتُهْزِئَ بِرُسُلٍ مِّنْ قَبْلِكَ فَحَاقَ بِالَّذِيْنَ سَخِرُوْا مِنْهُمْ مَّا كَانُوْا بِهِ يَسْتَهْزِئُوْنَ (١٠/٦)﴾
اور آپ سے پہلے رسولوں کا مذاق اڑایا گیا ہے، پھر ان میں سے جنہوں نے مذاق اڑایا ان کو اسی چیز نے گھیر لیا جس کا وہ مذاق اڑاتے تھے۔
عجیب بات یہ ہے کہ انبیاء و رسولوں ﷺ کی رسالت و نبوت کے انکار اور اس میں خیانت کرنے والی دو عظیم الشان نبیوں کی بیویوں کو بھی معاف نہیں کیا گیا۔
سورۃ التحریم میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
﴿ضَرَبَ اللّٰهُ مَثَلًا لِّلَّذِيْنَ كَفَرُوا امْرَاَتَ نُوْحٍ وَّ امْرَاَتَ لُوْطٍ كَانَتَا تَحْتَ عَبْدَيْنِ مِنْ عِبَادِنَا صَالِحَيْنِ فَخَانَتٰهُمَا فَلَمْ يُغْنِيَا عَنْهُمَا مِنَ اللّٰهِ شَيْئًا وَّقِيْلَ ادْخُلَا النَّارَ مَعَ الدّٰخِلِيْنَ (١٠/٦٦)﴾
کافروں کے لیے اللہ نے نوحؑ اور لوطؑ کی بیویوں کی مثال بیان کی ہے۔ دونوں ہمارے صالح بندوں میں سے دو کے تحت یعنی ان کی بیویاں تھیں۔ پس ان دونوں نے ان دو نیک بندوں کی دینی خیانت کی، پھر وہ دونوں نیک بندے اللہ سے ان دونوں عورتوں کے بارے کوئی کفایت نہ کر سکے اور ان دونوں سے کہا گیا: جہنم میں داخل ہونے والوں کے ساتھ تم بھی داخل ہو
عظمت رسالت و نبوت ﷺ
جاؤ۔
اس سے واضح ہو جاتا ہے کہ نبوت و رسالت کی کسی بھی رنگ میں توہین اللہ تعالیٰ نے برداشت نہ کی۔ مہلت تو دی مگر ان کو معاف نہ کیا، تباہ ہونے والی قوموں کے واقعات بڑی تفصیل سے اللہ تعالیٰ نے قرآن حکیم میں بیان فرمائے ہیں۔
سید الانبیاء محمد رسول اللہ ﷺ کی شان و عظمت
رسول اللہ ﷺ کی نبوت و رسالت اور آپ کی شان کو اجاگر کرنے کے لیے سورۃ الاحزاب میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے:
﴿اِنَّ اللّٰهَ وَ مَلٰٓئِكَتَهٗ يُصَلُّوْنَ عَلَى النَّبِيِّ يٰۤاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا صَلُّوْا عَلَيْهِ وَ سَلِّمُوْا تَسْلِيْمًا (۵۶/۳۳)﴾
بے شک اللہ اور اس کے فرشتے نبی ﷺ پر درود بھیجتے ہیں (یعنی اللہ رحمتیں نازل فرماتا ہے اور فرشتے آپ کے لیے دعا کرتے ہیں) لہٰذا اے ایمان والو! تم بھی ان پر درود و سلام بھیجتے رہو۔
یہاں سلام کے لیے سَلِّمُوْا تَسْلِيْمًا کے الفاظ استعمال ہوئے ہیں۔ جو صرف سلام کرنے کے لیے نہیں بلکہ ان کے ذریعہ یہ بھی حکم ہے کہ آپ کی ہر بات اور ہر فیصلے کو دل و جان سے قبول کر لیا جائے۔ جیسا کہ سورۃ النساء میں ارشاد ہوتا ہے:
﴿فَلَا وَ رَبِّكَ لَا يُؤْمِنُوْنَ حَتّٰى يُحَكِّمُوْكَ فِيْمَا شَجَرَ بَيْنَهُمْ ثُمَّ لَا يَجِدُوْا فِيْۤ اَنْفُسِهِمْ حَرَجًا مِّمَّا قَضَيْتَ وَ يُسَلِّمُوْا تَسْلِيْمًا (۶۵/۴)﴾
قسم ہے آپ کے رب کی، وہ ایمان والے نہیں ہو سکتے جب تک آپ کو اس میں حکم نہ مان لیں کہ جو ان کے درمیان کوئی جھگڑا ہوا ہو۔ پھر اس بارے
عظمت رسالت و نبوت ﷺ
میں اپنے دلوں میں تنگی نہ پائیں کہ جو آپ نے فیصلہ کر دیا ہو اور اس کو دل و جان سے تسلیم کر لیں۔
اللہ اور اس کے رسول ﷺ پر ایمان رکھنے والوں پر فرض ہے کہ جو کچھ ان کو اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی طرف سے ملا ہے اس کو دل و جان سے تسلیم کر لیں۔ یہ ایمان کی کوئی صورت نہیں کہ قرآن و سنت کی تعبیر کو اپنی عقلوں کے تابع کر لیا جائے۔ جب سے عقلوں کو قرآن و سنت پر فوقیت دینے کا رواج ہوا ہے۔ تب سے اہل اسلام فتنہ و فساد اور بے یقینی کا شکار ہو گئے ہیں۔ اسلام دشمن طاقتوں کی یہی کوشش رہی ہے کہ مسلمان ملکوں میں سے ان کو ورغلا کر اسلامی تعلیم کی مخالفت کرنے کے لیے کھڑا کیا جائے جو ان میں آزاد خیالی کا رجحان رکھتے ہوں۔ چنانچہ آج پاکستان میں بہت سے ایسے لوگ ہیں جو دل و جان سے خواہشمند ہیں کہ یہاں امریکہ اور اس کے حمایتیوں کا غلبہ ہو جائے۔ مساجد و مدارس کا سلسلہ ٹھپ ہو جائے۔ بے غیرتی اور بے حیائی کو معیوب نہ سمجھا جائے۔ ناچ گانے کے کلچر کو عام کر دیا جائے۔
ایسی سوچ رکھنے والوں کو معلوم ہونا چاہیے اسلام اللہ کا دین ہے اور اللہ تعالیٰ نے اس کو ہر حال میں رواں دواں رکھنا ہے، اس کے لیے وہ اپنے بندوں سے کام لیتا رہا ہے اور لے رہا ہے اور ان شاء اللہ لیتا رہے گا۔ حقیقی مومنوں کے بارے میں سورۃ الحجرات میں اللہ تعالیٰ کا اعلان ہے:
﴿اِنَّمَا الْمُؤْمِنُوْنَ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا بِاللّٰهِ وَرَسُوْلِهٖ ثُمَّ لَمْ يَرْتَابُوْا وَجٰهَدُوْا بِاَمْوَالِهِمْ وَاَنْفُسِهِمْ فِىْ سَبِيْلِ اللّٰهِ اُولٰئِكَ هُمُ الصّٰدِقُوْنَ (۱۵/۴۹)﴾
بے شک مومن وہ ہیں جو اللہ اور اس کے رسول ﷺ پر ایمان لائے پھر انہوں نے کوئی شک نہ کیا اور اپنے مالوں اور اپنی جانوں کے ساتھ اللہ کی راہ کے ساتھ اللہ کی
عظمت رسالت حصہ اول
میں جہاد کیا۔ وہی لوگ سچے ہیں۔
منافقوں کا گروہ
دکھاوے کے مسلمانوں کو قرآن حکیم میں منافقوں کا نام دیا گیا ہے۔ اسلامی ریاست کے قائم ہوتے ہی یہ گروہ وجود میں آگیا تھا۔ یہ گروہ مشرکوں اور کافروں سے بھی زیادہ خطرناک تھا۔ مسلمانوں میں رہتے ہوئے اسلام کی جڑیں کاٹنے کے درپے رہتا تھا۔ رسول اللہ ﷺ کو تکلیف پہنچانے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتا تھا۔ اس کے باوجود آپ نے عبداللہ بن ابی کے مرنے پر اس کے مومن بیٹے کی خواہش کا احترام کرتے ہوئے اس کے باپ کو کفنانے کے لیے اپنی قمیض مبارک دے دی اور آپ نے اس کا جنازہ بھی پڑھا دیا۔ حالانکہ عمر فاروق رضی اللہ نے روکنے کی بڑی کوشش کی۔ (صحیح بخاری: کتاب التفسیر ص 673 اور صحیح مسلم: باب فضائل عمرؓ، ج 2 ص 276)
آپ نے تو جنازہ پڑھا دیا لیکن آسمانوں سے اللہ تعالیٰ کا فرمان نازل ہوا۔ جسے سورۃ توبہ کا حصہ بنا دیا گیا:
﴿اسْتَغْفِرْ لَهُمْ أَوْ لَا تَسْتَغْفِرْ لَهُمْ إِنْ تَسْتَغْفِرْ لَهُمْ سَبْعِينَ مَرَّةً فَلَنْ يَّغْفِرَ اللَّهُ لَهُمْ ذٰلِكَ بِأَنَّهُمْ كَفَرُوا بِاللَّهِ وَ رَسُولِهِ وَ اللَّهُ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الْفٰسِقِينَ (80/9)﴾
آپ ان کے لیے بخشش طلب کریں یا بخشش طلب نہ کریں۔ اگر آپ ستر بار ان کی بخشش طلب کریں تو بھی اللہ ان کو ہرگز معاف نہیں کرے گا۔ یہ اس لیے کہ انہوں نے اللہ اور اس کے رسول ﷺ کا انکار کیا اور اللہ تعالیٰ فاسق قوم کو ہدایت نہیں دیتا ہے۔
عظمت رسالت و نبوت ﷺ
عبداللہ بن ابی نہ صرف مسلمان ہوا بلکہ آپ کے پیچھے مسجد نبوی میں نمازیں پڑھا کرتا تھا، روزے رکھتا اور جہاد پر جاتا تھا۔ پھر بھی اللہ نے اس کو کافر قرار دے دیا۔ کیونکہ دل و جان سے اس نے رسول اللہ ﷺ کی رسالت ونبوت کو تسلیم نہ کیا تھا۔ پھر بات جنازہ پڑھتے پڑھانے تک محدود نہیں رہتی بلکہ اللہ تعالیٰ نے یہ حکم بھی نازل فرما دیا: ﴿وَلَا تُصَلِّ عَلَى أَحَدٍ مِّنْهُم مَّاتَ اَبَدًا وَّ لَا تَقُمْ عَلَى قَبْرِهِ (٨٤/٩)﴾ ان میں سے کوئی ایک مر جائے تو آپ نے کبھی بھی اس کی نماز جنازہ نہیں پڑھنی اور نہ ہی اس کی قبر پر کھڑے ہونا ہے۔
یہ ان کے بارے میں تھا جو ظاہری طور پر مسلمان تھے اور مسلمانوں کی عبادت میں شریک رہتے، شریعت کے منع کردہ کاموں میں سے کوئی کام نہیں کرتے تھے۔ چونکہ ان کے باطن صاف نہ تھے، لہٰذا اللہ نے ان کو کافر فاسق قرار دے دیا۔
جو لوگ شریعت کے مطابق نہ تو عمل کرتے ہیں بلکہ کھلے طور پر فاحشانہ انداز میں شریعت کی خلاف ورزی بھی کرتے ہیں اور اوپر سے اسلامی قوانین کو ختم کرانے میں کوشاں بھی ہیں ان کو بھی ذرا سورۃ توبہ کی آیات کی روشنی میں اپنا جائزہ لینا چاہیے۔
اصل میں اسلام دشمن طاقتوں نے نئی نسل کو گمراہ کرنے کا ایسا سلسلہ شروع کر رکھا ہے کہ جس میں بڑی کشش ہے۔ ستم تو یہ ہے ان کو معلوم نہیں کہ پاکستان کیسے بنا اور اس کے لیے کتنی قربانیاں دینی پڑیں۔ اس وقت گلی گلی کوچہ کوچہ یہ نعرے بلند ہوتے تھے۔ لے کے رہیں گے پاکستان، بن کے رہے گا پاکستان، پاکستان کا مطلب کیا ...... لا الہ الا اللہ، ان نعروں کو وہی سمجھتے ہیں جو یہ نعرے لگایا کرتے تھے۔
پاکستان بننے کے بعد پیدا ہونے والوں کو پاکستان کی حقیقت کے بارے معلومات مہیا کرنے کے ساتھ مسلمانوں کے ایمان ویقین کے مرکزی نقطہ سے بھی آگاہ کرنے کی ضرورت ہے۔
عظمت رسالت و نبوت ﷺ
رسول اللہ ﷺ کو تکلیف پہنچانے کی اللہ کی مقرر کردہ سزا
سورۃ الاحزاب میں ارشاد باری تعالیٰ ہے: ﴿إِنَّ الَّذِيْنَ يُؤْذُوْنَ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهُ لَعَنَهُمُ اللّٰهُ فِي الدُّنْيَا وَ الْآخِرَةِ وَ أَعَدَّ لَهُمْ عَذَابًا مُّهِيْنًا (۵۷/۳۳)﴾ بے شک جنہوں نے اللہ اور اس کے رسول کو تکلیف پہنچائی، اللہ نے ان پر دنیا اور آخرت میں لعنت فرمائی اور ان کے لیے واضح کھلا عذاب تیار کیا ہے۔
یہاں نکتے کی بات یہ ہے کہ کوئی اللہ کو تکلیف نہیں پہنچا سکتا اور نہ ہی اللہ کو تکلیف ہوتی ہے یہاں اصل بات رسول اللہ ﷺ کی ہی ہے۔ یعنی رسول کو تکلیف پہنچانے سے حقیقت میں اللہ ہی کو تکلیف ہوتی ہے۔ ظاہر ہے اس کا سد باب کرنا بھی ضروری تھا۔ چنانچہ سورۃ الاحزاب ہی میں اللہ تعالیٰ نے اعلان کر دیا: ﴿لَئِنْ لَّمْ يَنْتَهِ الْمُنٰفِقُوْنَ وَ الَّذِيْنَ فِيْ قُلُوْبِهِمْ مَّرَضٌ وَّ الْمُرْجِفُوْنَ فِي الْمَدِيْنَةِ لَنُغْرِيَنَّكَ بِهِمْ ثُمَّ لَا يُجَاوِرُوْنَكَ فِيْهَا إِلَّا قَلِيْلًا (۶۰/۳۳) مَّلْعُوْنِيْنَ أَيْنَمَا ثُقِفُوْا أُخِذُوْا وَ قُتِلُوْا تَقْتِيْلًا (۶۱/۳۳) سُنَّةَ اللّٰهِ فِي الَّذِيْنَ خَلَوْا مِنْ قَبْلُ وَ لَنْ تَجِدَ لِسُنَّةِ اللّٰهِ تَبْدِيْلًا (۶۲/۳۳)﴾
اگر منافق اور وہ کہ جن کے دلوں میں بیماری ہے اور مدینہ میں افواہیں پھیلانے والے باز نہ آئے تو ہم آپ کو ان کے پیچھے لگا دیں گے۔ پھر وہ تھوڑا ہی عرصہ آپ کے پڑوس میں رہ سکیں گے۔ ملعون ہیں، جہاں بھی پائیں گے، پکڑے جائیں اور بری طرح خوب قتل کئے جائیں۔ جو لوگ
عظمت رسالت و نبوت ﷺ
پہلے گزر چکے ہیں ان میں اللہ کا یہی طریق رہا ہے اور اللہ کا طریقہ ہرگز تبدیل نہیں ہوگا۔
قرآن کی ان آیات مبارکہ میں تین قسم کے لوگوں کو متنبہ کر دیا گیا۔ اگر وہ اپنی حرکتوں سے باز نہ آئے تو پھر وہ مدینہ میں رہ نہیں پائیں گے۔ ملعون تو وہ ہیں ہی مگر ان کے ساتھ وہ سلوک کیا جائے گا جو پہلے لوگوں کے ساتھ ہوتا رہا۔ یعنی جہاں سے وہ پکڑے گئے تو ان کو قتل کر دیا جائے گا۔
ان میں پہلی قسم تو عبداللہ بن ابی اور اس کے ساتھیوں کی تھی۔ دوسری قسم ان کی تھی کہ جن کے دلوں میں ٹیڑھا پن تھا۔ ہدایت والی کوئی بات ان پر اثر نہیں کرتی تھی۔ اسلام کی تعلیم کو اپنانے اور اس کے مطابق عمل کرنے پر تیار نہیں ہوتے تھے۔ تیسری قسم میں وہ لوگ تھے جو مسلمانوں کو خوفزدہ کرتے رہتے تھے۔ کسی نہ کسی کے حملہ آور ہونے کی افواہیں پھیلانے کا انہوں نے معمول بنا رکھا تھا۔
دیانت داری سے آج بھی ہم اپنے معاشرے کا جائزہ لیں تو مذکورہ تینوں قسمیں ہمارے ہاں بھی موجود ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ان تین اقسام کے لوگوں کو سیدھا کرنے کا طریقہ جو اپنے حبیب کو بتایا آپ نے اسی پر عمل کر کے معاشرے کو گند سے صاف کر دیا۔
کعب بن الاشرف یہودی کا واقعہ
حافظ ابن حجر عسقلانیؒ نے فتح الباری ج 7 ص 337 میں نقل کیا ہے۔ رسول اللہ ﷺ ہجرت کر کے مدینہ طیبہ تشریف لائے تو وہاں بتوں کو پوجنے والے مشرکوں کے ساتھ یہود بھی رہتے تھے۔ مسلمانوں کی آمد سے وہاں ایک مخلوط معاشرہ وجود میں آگیا۔ کعب بن اشرف ایک خوبصورت لمبا تڑنگا مضبوط جسم والا یہود کا سردار اپنے مضبوط قلعے میں رہتا تھا۔ عربی النسل شاعر بھی تھا۔ جنگ بدر میں اللہ نے اہل اسلام کو جب عظیم فتح
عظمت رسالت و نبوت ﷺ
سے نوازا تو اس نے اہل اسلام کے خلاف نہ صرف شعر کہے بلکہ کفار قریش کو مسلمانوں پر حملہ آور ہونے پر ابھارتا بھی رہا۔ چونکہ ابھی پردے کا حکم نازل نہیں ہوا تھا تو اپنے شعروں میں مسلمان عورتوں کا ذکر کیا کرتا تھا۔ پھر اس نے سید الانبیاء محمد رسول اللہ ﷺ کے بارے میں بھی زبان درازی شروع کر دی۔ جس کی وجہ سے قرآنی حکم کے مطابق آپ نے اس کو سزا دینے کا ارادہ فرمایا۔
صحیح بخاری: کتاب المغازی، باب قتل کعب بن الاشرف رقم 4037 میں جابر بن عبداللہ سے مروی ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا۔ کعب بن الاشرف کو ٹھکانے کون لگائے گا۔ اس نے اللہ اور اس کے رسول کو تکلیف پہنچائی ہے۔ محمد بن مسلمہ کھڑے ہوئے اور انہوں نے عرض کیا۔ اللہ کے رسول! کیا آپ پسند کرتے ہیں کہ میں اس کو قتل کر دوں۔ آپ نے فرمایا: ہاں۔ محمد بن مسلمہ نے عرض کیا تو پھر مجھے اجازت دے دیں کہ میں کچھ اپنے پاس سے اس کو کہہ دوں۔ آپ نے فرمایا: کہہ دینا۔ چنانچہ محمد بن مسلمہ اس کے پاس آئے اور اس سے کہا: اس آدمی یعنی رسول اللہ ﷺ نے ہمیں صدقہ کرنے کو کہا ہے اور اس نے ہمیں مشکل میں ڈال دیا ہے۔ لہٰذا میں تمہارے پاس اناج ادھار لینے آیا ہوں۔ اس نے کہا: اللہ کی قسم تم اس سے تنگ آجاؤ گے۔
محمد بن مسلمہ نے کہا: ہم نے اس کی اتباع کی ہے اور اسے چھوڑنا پسند نہیں کرتے۔ یہاں تک کہ ہم دیکھ لیں کہ ان کا معاملہ کہاں پہنچتا ہے۔ تم ہمیں ایک یا دو وسق اناج دے دو۔ اس نے کہا تو اس اناج کے بدلے میں کچھ گروی رکھو۔ محمد بن مسلمہ نے پوچھا۔ کیا گروی رکھوانا چاہتے ہو۔ اس نے کہا، اپنی عورتیں گروی رکھ دو۔
محمد بن مسلمہ نے کہا: تم تو عرب کے خوبصورت انسان ہو۔ تمہارے پاس اپنی عورتیں کیسے گروی رکھیں اس نے کہا تو اپنی اولادیں رکھ دو۔ محمد بن مسلمہ نے کہا۔ اولاد بھی کیسے گروی رکھیں۔ ان میں سے کسی ایک کو گالی دی جائے گی۔ ایک یا دو وسق کے بدلے
عظمت رسالت و نبوت ﷺ
گروی رہا ہے۔ یہ تو ہمارے لیے باعث عار ہو گا۔ مگر ہم اپنا اسلحہ گروی رکھ سکتے ہیں۔ کعب بن اشرف نے کہا: ٹھیک ہے۔ محمد بن مسلمہ اس کے پاس رات کے وقت آئے اور کعب بن اشرف کے رضاعی بھائی ابو نائلہ بھی ان کے ساتھ تھے۔ قلعے کے باہر سے انہوں نے اس کو آواز دی اور وہ ان کے پاس نیچے آگیا۔
جب وہ نیچے جانے لگا تو اس کی بیوی نے پوچھا: اس وقت کہاں جا رہے ہو۔ اس نے بیوی کو بتایا: محمد بن مسلمہ اور میرا بھائی ابو نائلہ آئے ہیں۔ بیوی نے کہا: مجھے ایسے معلوم ہوتا ہے کہ اس آواز سے خون کے قطرے ٹپک رہے ہیں۔
اس نے بیوی کو تسلی دیتے ہوئے کہا: یہ میرا بھائی محمد بن مسلمہ اور میرا رضاعی بھائی ابو نائلہ ہے۔ بلاشبہ عزت والا وہ ہوتا ہے جس کو رات کے وقت چلنے کے لیے کہا جائے تو وہ چل پڑے یعنی اس کی ضرورت پوری کرے۔
یہ بھی مروی ہے کہ محمد بن مسلمہ کے ساتھ دو ساتھی تھے۔ جن سے انہوں نے کہا۔ جب وہ آئے تو میں اس سے کہوں گا۔ میں تمہارے بالوں میں سے آنے والی خوشبو سونگھنا چاہتا ہوں۔ جب تم دیکھو میں نے اس کے سر کو اچھی طرح قابو کر لیا ہے تو تم اپنا کام کر لینا۔
جب وہ چادر لپیٹے ان کے پاس آیا تو اس سے بہت عمدہ خوشبو آ رہی تھی۔ محمد بن مسلمہ نے کہا: آج سے پہلے میں نے ایسی خوشبو کبھی نہیں دیکھی۔ یعنی یہ بہت ہی عمدہ خوشبو ہے۔ اس نے کہا: میرے پاس عرب کی معطر ترین اور کامل ترین عورتیں ہیں۔ محمد بن مسلمہ نے کہا: اگر اجازت دو تو تمہارے بالوں میں لگی خوشبو سونگھ لوں۔ اس نے کہا ہاں اور سر آگے کر دیا محمد بن مسلمہ نے خود سونگھا اور ساتھیوں سے کہا: تم بھی سونگھو۔ جب انہوں نے سونگھ لیا تو محمد بن مسلمہ نے کہا۔ ذرا ایک مرتبہ اور سونگھنے دو۔ جیسے ہی اس نے سر آگے کیا تو انہوں نے مضبوطی سے اس کو پکڑ کر ساتھیوں سے کہا: اپنا کام کرو اور انہوں
نے اس کو قتل کر دیا۔ پھر نبی ﷺ
طبقات ابن سعد: ج 2
بقیع الغرقد کے پاس پہنچے تو انہو آپ نے بھی تکبیر کہی۔ جب آپ آئے اور آپ نے فرمایا: اللہ کی آپ نماز پڑھتے رہے۔ آپ نے صبح ہوئی تو آپ نے فرم اعلان سے یہود ڈر گئے اور کوئی خوف طاری ہو گیا کہ کہیں اسی کے مطابق یہ واقعہ 14 ربیع الا اللہ ﷺ نے یہ حکم قرآنی تعلیم والوں پر عیاں ہو گیا کہ اسلام درازی کرنے والے کی سزا مو
ابو رافع عبداللہ بن ابی حافظ ابن حجر عسقلانی ا نے جب یہودی کعب بن ال جسے سلام بن ابی الحقیق بھی ک دے دی۔
امام الزہری نے عبدا رسول اللہ ﷺ پر خاص کرم
عظمت رسالت و نبوت ﷺ
نے اس کو قتل کر دیا۔ پھر نبی ﷺ کے پاس آکر خبر دے دی۔ طبقات ابن سعد: ج 2 ص 33 میں یہ بھی مروی ہے: کامیاب لوٹنے والے جب بقیع الغرقد کے پاس پہنچے تو انہوں نے نعرہ تکبیر بلند کیا۔ جب آپ نے ان کا نعرہ سنا تو آپ نے بھی تکبیر کہی۔ جب آپ نے ان کو رخصت کیا تھا تو بقیع تک آپ ان کے ساتھ آئے اور آپ نے فرمایا: اللہ کی برکت و مدد کے ساتھ جاؤ۔ جب تک وہ واپس نہ آئے آپ نماز پڑھتے رہے۔ آپ نے کعب بن الاشرف کے قتل پر اللہ کی تعریف بیان کی۔ صبح ہوئی تو آپ نے فرمایا: یہود میں سے جن پر تم قابو پاؤ، ان کو قتل کر دو۔ اس اعلان سے یہود ڈر گئے اور کوئی ان میں باہر نہ نکلا اور نہ کسی نے زبان درازی کی اور ان پر خوف طاری ہو گیا کہ کہیں اسی طرح رات کے وقت ہمیں بھی قتل نہ کر دیا جائے۔ ابن سعد کے مطابق یہ واقعہ 14 ربیع الاول ہجرت کے پچیسویں ماہ کے آغاز میں پیش آیا۔ رسول اللہ ﷺ نے یہ حکم قرآنی تعلیم کے مطابق ہی دیا تھا۔ جس سے گستاخی کے مرتکب ہونے والوں پر عیاں ہو گیا کہ اسلامی ریاست میں اللہ کے رسول ﷺ کی شان میں زبان درازی کرنے والے کی سزا موت ہو گی۔
ابو رافع عبداللہ بن ابی الحقیق یہودی کا واقعہ
حافظ ابن حجر عسقلانیؒ نے فتح الباری: ج 7 ص 342 میں نقل کیا ہے قبیلہ اوس نے جب یہودی کعب بن الاشرف کو قتل کر دیا تو خزرج نے رسول اللہ ﷺ سے ابو رافع جسے سلام بن ابی الحقیق بھی کہا جاتا تھا کو خیبر میں قتل کرنے کی اجازت چاہی جو آپ نے دے دی۔
امام الزہری نے عبداللہ بن کعب بن مالک سے روایت کی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ ﷺ پر خاص کرم یہ کیا تھا کہ اوس اور خزرج دونوں نیکی کے کاموں میں ایک
عظمت رسالت و نبوت ﷺ
دوسرے سے سبقت لے جانے کے لیے کوشاں رہتے تھے۔ لہٰذا کعب بن الاشرف کے مارے جانے کے بعد خزرج نے غور و فکر کیا کہ رسول اللہ ﷺ سے عداوت رکھنے والا اور کون ہے۔ پھر اس نتیجہ پر پہنچے کہ وہ ابو رافع ارض حجاز کی طرف خیبر میں رہتا ہے۔ چنانچہ انہوں نے اس کو گھر میں قتل کر دیا۔
صحیح بخاری: کتاب المغازی رقم 4039 اور رقم 4040 میں براء بن عازب سے مروی ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے ابو رافع یہودی کی طرف انصار کے چند آدمیوں کو بھیجا اور عبداللہ بن عتیک کو ان کا امیر بنایا۔ ابو رافع رسول اللہ ﷺ کو تکلیف پہنچایا کرتا تھا اور آپ کے خلاف لڑنے والوں کی اعانت کیا کرتا تھا۔ اس کا قلعہ ارض حجاز میں تھا۔ جب وہ اس کے قریب ہوئے تو سورج غروب ہو چکا تھا۔ لوگ اپنے جانوروں کو چرانے کے بعد واپس لا رہے تھے۔
عبداللہ بن عتیک نے اپنے ساتھیوں سے کہا: تم ادھر ہی رکے رہو، میں دروازے کے محافظ سے بچنے کی کوئی ترکیب کرتا ہوں۔ تاکہ میں قلعے میں داخل ہو جاؤں۔ چنانچہ انہوں نے دروازے کے قریب ہو کر اپنے اوپر کپڑا ڈالا اور بیٹھ گئے۔ جیسے کوئی رفع حاجت کے لیے بیٹھا ہوا ہو۔ جب لوگ قلعے میں داخل ہو گئے تو محافظ نے پکارا۔ اے اللہ کے بندے! اگر تو داخل ہونا چاہتا ہے تو داخل ہو جا۔ میں دروازہ بند کرنے لگا ہوں۔
عبداللہ بن عتیک کا کہنا ہے۔ میں دروازے کے اندر جا کر ایک جگہ چھپ گیا۔ جب سب لوگ اندر آ گئے تو اس نے دروازہ بند کر کے چابیاں ایک کھونٹی سے لٹکا دیں۔ لوگوں نے ابو رافع کے پاس کھانا کھایا اور رات کا کچھ حصہ اس کے پاس بیٹھے باتیں کرتے رہے۔ جب سب اپنے اپنے گھروں کو چلے گئے اور خاموشی چھا گئی تو میں نے چابیاں لے کر دروازہ کھولا میں نے سوچا۔ اگر ان کو میری خبر ہو گئی تو میں آرام سے باہر نکل جاؤں گا۔
عظمت رسالت و نبوت ﷺ
ابورافع اپنے غرفہ میں سوتا تھا۔ میں اس کی طرف بڑھا۔ جیسے ہی کسی دروازے میں داخل ہوتا۔ اندر سے کنڈی لگا لیتا۔ اس خیال سے کہ اگر گھر والوں کو میرے بارے میں علم ہو جائے تو ان کے پہنچنے سے پہلے میں اس کو قتل کر دوں۔ یہاں تک کہ میں اس تک پہنچ گیا۔ گھر میں اندھیرا تھا اور وہ اپنے گھر والوں کے درمیان لیٹا ہوا تھا۔ مجھے نہیں معلوم تھا کہ وہ کہاں ہے۔
لہذا میں نے آواز دی۔ ابو رافع! اس نے کہا: تم کون ہو؟ میں اس آواز کی طرف لپکا اور تلوار کے کئی وار اس پر کر دیے، وہ چلایا لیکن میں اس کو قتل نہ کر سکا۔ میں نے کمرے سے باہر نکل کر تھوڑی دیر بعد پھر اس کو آواز دی۔ ابو رافع! یہ کیسی آواز ہے۔ اس نے کہا تیری ماں کا برا ہو گھر میں کوئی آدمی ہے۔ اس نے ابھی تلوار کا مجھ پر وار کیا ہے۔
میں نے پھر اس پر تلوار کی کئی ضربیں لگائیں اور اس کو خون آلود کر دیا۔ مگر اس کو قتل نہ کر سکا۔ پھر میں نے تلوار کی نوک اس کے پیٹ پر رکھ کر اس پر زور ڈالا تو وہ اس کی کمر کی طرف نکل گئی اور معلوم ہو گیا کہ اب میں نے اس کو قتل کر دیا ہے۔
پھر میں دروازے کھولتا ہوا سیڑھی کے پاس پہنچا اور نیچے اتر رہا تھا کہ زمین تک پہنچنے سے پہلے گر گیا جس سے میری پنڈلی کی ہڈی ٹوٹ گئی۔ میں نے اپنی پگڑی کو پنڈلی پر کس کے باندھ لیا اور دروازے کے پاس آ کر بیٹھ گیا۔ میں نے اپنے آپ سے کہا: میں رات کی تاریکی میں اس وقت تک باہر نہیں نکلوں گا۔ جب تک مجھے معلوم نہ ہو جائے کہ میں نے اسے قتل کر دیا ہے۔ مرغ نے جب اذان دی تو ایک منادی کرنے والے نے دیوار کے اوپر سے منادی کی کہ اہل حجاز کا تاجر ابورافع قتل ہو گیا ہے۔ میں لنگڑاتا ہوا اپنے ساتھیوں کے پاس آیا اور کہا۔ جلدی سے چلے چلو اللہ تعالیٰ نے ابورافع کو قتل کر دیا ہے۔ میں نے نبی ﷺ کے پاس آ کر آپ کو اس کے قتل ہونے کی بشارت دی۔ آپ نے فرمایا: اپنی ٹانگ آگے کرو، میں نے آگے کر دی۔ آپ نے اس پر اپنا ہاتھ مبارک پھیرا، جس
عظمت رسالت و نبوت ﷺ
سے مجھے ایسے محسوس ہوا کہ کبھی کوئی تکلیف ہوئی نہ تھی۔
حافظ ابن حجر عسقلانیؒ کی وفات 852ھ میں ہوئی۔ انہوں نے مذکور حدیث سے جن فوائد کا ذکر کیا ہے۔ ان میں سے ایک یہ بھی ہے کہ جس نے رسول اللہ ﷺ کے خلاف اپنے ہاتھ سے یا اپنے مال سے یا اپنی زبان سے اعانت کی ہو تو اس کا قتل بھی جائز ہے۔
اس سے معلوم ہوا کہ حافظ ابن حجر عسقلانی کے زمانہ میں بھی رسول اللہ ﷺ کی کسی بھی صورت میں مخالفت اور برائی کرنے والے کو قتل کرنا جائز تھا۔
نابینے صحابیؓ کا واقعہ
امام حافظ احمد بن شعیب بن علی النسائی المتوفی 303ھ نے اپنی سنن النسائی (ج2 ص163) کی کتاب المحاربۃ میں اور امام حافظ سلیمان بن الاشعث ابو داؤد نے اپنی سنن کی کتاب الحدود ص599 میں باب باندھا ہے: اَلْحُكْمُ فِيمَنْ سَبَّ النَّبِيَّ ﷺ (جو آپ کو گالی دے اس کے بارے میں حکم) پھر ابن عباسؓ سے نقل کیا ہے: رسول اللہ ﷺ کے عہد مبارک میں ایک نابینا صحابی کی ام الولد لونڈی تھی۔ جو ان کے دو بیٹوں کی ماں تھی۔ وہ رسول اللہ ﷺ کی شان میں اکثر گستاخی کیا کرتی تھی۔ جس پر وہ اس کو ڈانٹا کرتے تھے اور منع کرتے مگر وہ منع نہ ہوتی تھی۔
صحابی کا اپنا بیان ہے۔ ایک رات اس نے ایسی زبان درازی کی کہ میں برداشت نہ کر سکا میں نے ایک چھوٹی تلوار کی نوک اس کے پیٹ پر رکھی اور اس پر اپنا بوجھ ڈال دیا یہاں تک کہ اس کو قتل کر دیا۔ صبح ہوئی تو اس کے قتل کئے جانے کے بارے میں نبی ﷺ سے ذکر کیا گیا۔ آپ نے لوگوں کو جمع کر کے فرمایا۔ جس نے یہ کام کیا ہے۔ اس کو میں اللہ کی قسم اس ناتے دیتا ہوں جو میرا اس پر حق ہے کہ وہ کھڑا ہو جائے۔
عظمت رسالت و نبوت ﷺ
نابینا صحابی کھڑے ہوئے اور ہانپتے کانپتے آپ کی خدمت میں حاضر ہو گئے اور عرض کیا: اللہ کے رسول ﷺ! میں ہی اس کا قاتل ہوں۔ یہ میرے بچوں کی ماں، میری دیکھ بھال کرنے والی رفیقہ تھی۔ ہیروں جیسے اس کے بطن سے میرے دو بیٹے ہیں لیکن یہ آپ کی شان میں گستاخی کیا کرتی اور آپ کو گالی دیا کرتی تھی۔ میں اسے جھڑکتا اور منع کیا کرتا تھا لیکن یہ منع نہیں ہوتی تھی۔ رات جب اس نے آپ کی شان میں بدزبانی کی تو میں نے چھوٹی تلوار کی نوک اس کے پیٹ پر رکھی اور اپنا بوجھ اس پر ڈال دیا۔ یہاں تک کہ اس کو قتل کر دیا۔
رسول اللہ ﷺ نے وہاں جمع ہونے والوں میں اعلان فرمایا: گواہ ہو جاؤ اس کا خون رائیگاں گیا اور اس کا کوئی بدلہ و قصاص نہیں لیا جائے گا۔
دار الکتاب العربی بیروت کی شائع کردہ سنن النسائی کے محشی علامہ حافظ جلال الدین السیوطی المتوفی 911ھ نے حاشیہ میں لکھا ہے:
فِيْهِ دَلِيْلٌ أَنَّ الذِّمِّيَّ إِذَا لَمْ يَكُفَّ لِسَانَهُ عَنِ اللَّهِ وَ رَسُوْلِهِ فَلَا ذِمَّةَ لَهُ فَيُحِلُّ قَتْلُهُ والله اعلم بالصواب۔
اس میں دلیل ہے۔ بے شک ذمی جب اللہ اور اس کے رسول اللہ ﷺ کے بارے میں اپنی زبان نہیں روکے گا تو اس کا ذمہ ختم ہو جاتا ہے اور اس کا قتل کیا جانا حلال ہو جاتا ہے۔ واللہ اعلم بالصواب!۔ یہاں یہ بات بھی سمجھ لینی چاہیے کہ ذمی اس کو کہا جاتا تھا جو مغلوب ہونے کے بعد اپنی حفاظت کے لیے اسلامی ریاست کو جزیہ دیتا تھا جبکہ پاکستان میں بسنے والے غیر مسلموں کو وہی حقوق حاصل ہیں جو عام مسلمانوں کے ہیں اور وہ پاکستان میں ذمیوں کی حیثیت سے نہیں رہ رہے ہیں اور نہ ان کی اکثریت حکومت پاکستان کو جزیہ یا ٹیکس دے رہی ہے۔ پاکستان کے مروجہ قانون ”تعزیرات پاکستان“ میں مسلمانوں اور ان کے درمیان کوئی تفریق نہیں کی گئی ہے۔ لہٰذا دفعہ 295-C کی جو بھی
عظمت رسالت و نبوت ﷺ خلاف ورزی کرے گا۔ وہ مجرم ہوگا اور اس کی مقرر کردہ سزا کا مستحق ہوگا۔
ایک یہودیہ کا واقعہ
سنن ابی داؤد: کتاب الحدود ص 600 میں علیؓ سے مروی ہے۔ ایک یہودی عورت نبی ﷺ کو برا بھلا کہا کرتی اور آپ کے بارے میں زبان درازی کیا کرتی تھی۔ ایک آدمی نے اس کا گلا دبایا۔ یہاں تک کہ اس کی موت واقع ہو گئی۔ رسول اللہ ﷺ نے اس کا خون باطل کر دیا یعنی قصاص یا بدلہ لینے کا حق اس کے لواحقین کو نہ دیا۔ کیونکہ ذمی یا معاہد سید الانبیاء محمد رسول اللہ ﷺ کے بارے میں زبان درازی کرتا ہے تو اس کا ذمہ یا معاہدہ ختم ہو جاتا ہے اور وہ اسلام اور اہل اسلام کے خلاف محارب بن جاتا ہے۔ یعنی اسلام کے خلاف کھلی جنگ کا اعلان کرتا ہے۔ جس کے نتیجہ میں اس کا خون مباح ہو جاتا ہے۔
حضرت ابوبکر الصدیق کا فرمان
سنن ابی داؤد: کتاب الحدود: باب الحكم فيمن سب النبي صلى الله عليه وسلم ص 600 اور سنن النسائی: كتاب المحاربة، الحكم فيمن سب النبي صلى الله عليه وسلم، ج 2 ص 164 میں ابو برزہ الاسلمی سے مروی ہے۔ ہم ابوبکر الصدیقؓ کے پاس تھے وہ مسلمانوں کے ایک شخص پر ناراض ہوئے اور اس نے بھی ان پر سخت غصے کا اظہار کیا۔ جب میں نے یہ دیکھا تو عرض کیا: رسول اللہ ﷺ کے خلیفہ! مجھے اجازت دیں، میں اس کی گردن اڑا دوں۔ میرے اس جملے نے ان کا غصہ ٹھنڈا کر دیا اور بعد میں مجھ سے پوچھا: اگر میں کہتا تو کیا تو اس کو مار دیتا۔ میں نے عرض کیا: جی ہاں! انہوں نے کہا: محمد رسول اللہ ﷺ کے بعد کسی ایک کے لیے یہ جائز نہیں۔
عظمت رسالت و نبوت ﷺ
ابو برزہؓ سے یہ بھی مروی ہے۔ انہوں نے میری بات پر مجھے ڈانٹا۔ سنن النسائی میں ابوعبدالرحمن کا کہنا ہے کہ احادیث میں سے یہ حدیث بہت ہی اچھی اور عمدہ ہے۔ المحلی ابن حزم ج 11 ص 410 میں یہ وضاحت بھی مروی ہے۔ ابوبکرؓ نے کہا: اس کو قتل کیا جائے گا جو رسول اللہ ﷺ کو گالی دے گا۔
قاضی ابوالفضل عیاض الیحصبی المتوفی 544 کا استدلال
قاضی عیاضؒ نے اپنی مشہور کتاب الشفاء ج 2 ص 223 میں سنن النسائی کی روایت کو نقل کر کے لکھا ہے۔ قاضی ابومحمد بن نصر کا کہنا ہے۔ اس حدیث کی کسی ایک نے مخالفت نہیں کی اور ائمہ نے اس حدیث سے استدلال کیا ہے جو کوئی نبی ﷺ پر غضبناک ہوا۔ آپ کے سامنے اپنے غصے کا اظہار کیا۔ اس کی جو بھی وجہ ہو یا اس نے آپ کو تکلیف دی یا اس نے آپ کو گالی دی تو اس کو قتل کیا جائے گا۔
قاضی عیاضؒ نے عمر بن عبدالعزیز کا واقعہ نقل کیا۔ ان سے ان کے کوفہ کے عامل نے اس شخص کے بارے میں قتل کرنے کا مشورہ چاہا کہ جس نے عمر فاروق ؓ کو گالی دی تھی۔
عمر بن عبدالعزیز نے جواب میں لکھا۔ کسی اس مسلمان کا قتل کرنا جس نے لوگوں میں سے کسی آدمی کو گالی دی۔ جائز نہیں۔ سوائے اس کے کہ جس نے رسول اللہ ﷺ کو گالی دی ہو۔ اس کو مار دینا حلال ہو جاتا ہے۔
المحلی ابن حزم ج 11 ص 410 میں ایک اور حوالے سے عمر بن عبدالعزیز کا یہی قول منقول ہے۔
قاضی عیاض نے امام مالکؒ اور خلیفہ ہارون رشید کے ایک واقعہ کا بھی ذکر کر دیا ہے۔ ہارون رشید نے امام مالکؒ سے اس شخص کے بارے میں پوچھا جس نے نبی ﷺ
عظمت رسالت و نبوت ﷺ
کو گالی دی ہو اور ہارون رشید نے یہ بھی بتا دیا کہ عراق کے فقہاء نے اس کو کوڑے مارنے کا فتویٰ دیا ہے۔ امام مالک نے غصے کی حالت میں کہا۔ امیر المومنین! اس امت کی بقا کیا ہوگی جس کے نبی ﷺ کو گالی دی جائے۔ لہٰذا جس نے انبیاء کو گالی دی اس کو قتل کیا جائے اور جس نے نبی ﷺ کے اصحابؓ کو گالی دی اس کو کوڑے مارے جائیں۔
الشفاء ج 2 ص 216 میں قاضی عیاض نے ابو مصعب اور ابو اویس کے حوالے سے امام مالکؒ سے یہ بھی نقل کیا ہے۔ جس نے رسول اللہ ﷺ کو گالی دی یا آپ کی عیب جوئی کی یا آپ کی شان میں نقص پیدا کرنے کی کوشش کی تو اس کو قتل کر دیا جائے گا۔ اگر چہ وہ مسلمان ہو یا کافر ہو۔ اس کو توبہ کرنے کے لیے نہیں کہا جائے گا۔
الشفاء: ج 2 ص 215-216 میں محمد بن سحنون سے منقول ہے:
علماء کا اس پر اجماع ہے۔ نبی کریم ﷺ کو گالی دینے والا اور آپ کی شان میں نقص واقع کرنے والا کافر ہے۔ اس پر اللہ کے عذاب کی وعید جاری ہوگی اور امت کے نزدیک اس کو قتل کرنے کا حکم ہے۔ جس نے اس کے کفر اور عذاب میں شک کیا تو وہ کافر ہوا۔
قاضی عیاضؒ نے نبی ﷺ کو گالی دینے والے کے بارے امام مالک کا جو فتویٰ نقل کیا ہے اس کے ساتھ ہی امام الیث، امام احمد، امام اسحاق اور امام شافعی رحمہم اللہ کی تائید کا بھی ذکر کیا ہے۔
حضرت ابوبکر الصدیق ؓ کا فتویٰ
تاریخ طبری ج 3 ص 277 (مطبوعہ دارالقلم بیروت) میں ضحاک بن خلیفہ سے مروی ہے۔ یمن کے عامل مہاجرؓ کے پاس دو گانے والی عورتیں لائی گئیں۔ ان میں سے ایک نے رسول اللہ ﷺ کی شان میں گستاخی کرتے ہوئے گالی دی تھی۔ امیر یمن نے
اس کا ایک ہاتھ کٹوایا اور سامنے ابوبکر الصدیق ؓ کو ج شان میں گستاخی کرنے والی عو تو میں اس کے قتل کرنے کا حک والوں کی جو سزا مقرر ہے وہ نہیں ہے۔ اگر مسلمان انبیاء معاہد ہے یعنی مسلمانوں کا اس کرنے والا ہوگا۔
ابوبکرؓ نے توہین رسال کے دعویدار کے لیے کوئی رع پاکستان میں پہلے ہی مسلمانو تفریق کی کوئی گنجائش نہیں ا تعزیرات پاکستان میں موجو سنت میں مہیا کی گئی ہے۔
عصماء بنت مروان کا
طبقات ابن سعد
روایات کے مطابق بنو خطم شعروں میں گستاخی کیا کر پر عیب جوئی میں لگی رہتی اللہ ﷺ کی ہجرت پر افسو
عظمت رسالت و نبوت ﷺ
اس کا ایک ہاتھ کٹوایا اور سامنے کے دو دانت تڑوا دیے۔
ابوبکر الصدیق ؓ کو جب خبر ملی تو انہوں نے مہاجر کو خط لکھا۔ رسول اللہ ﷺ کی شان میں گستاخی کرنے والی عورت کو تم نے جو سزا دی ہے اگر اس کی خبر مجھے پہلے مل جاتی تو میں اس کے قتل کرنے کا تمہیں حکم دیتا۔ کیونکہ انبیاء علیہم السلام کے بارے میں گستاخی کرنے والوں کی جو سزا مقرر ہے وہ عام لوگوں کو ان کے جرموں پر ملنے والی سزاؤں سے مشابہ نہیں ہے۔ اگر مسلمان انبیاء علیہم السلام کی شان میں گستاخی کرے گا تو وہ مرتد ہوگا۔ اگر کوئی معاہد ہے یعنی مسلمانوں کا اس سے کوئی معاہدہ ہو چکا ہے تو وہ عہد شکنی کرنے اور جنگ کرنے والا ہوگا۔
ابوبکرؓ نے توہین رسالت مسئلہ کو بالکل واضح کر دیا۔ اس میں جب مسلمان ہونے کے دعویدار کے لیے کوئی رعایت نہ رکھی گئی تو غیر مسلم کو کیسی رعایت دی جا سکتی ہے۔ پاکستان میں پہلے ہی مسلمانوں اور کافروں کو مساوی حقوق ملے ہوئے ہیں۔ لہٰذا یہاں تفریق کی کوئی گنجائش نہیں البتہ غیر مسلم کے قتل کیے جانے سے بچنے کی وہ صورت ہے جو تعزیرات پاکستان میں موجود نہیں وہ غیر مسلم کا اسلام قبول کر لینا ہے۔ یہ نعمت قرآن و سنت میں مہیا کی گئی ہے۔
عصماء بنت مروان کا قتل
طبقات ابن سعد ج 2 ص 27 اور سیرت ابن ہشام ج 2 ص 637-638 کی روایات کے مطابق بنو خطمہ قبیلے کے یزید بن زید کی بیوی نبی ﷺ کے بارے میں اپنے شعروں میں گستاخی کیا کرتی۔ لوگوں کو آپ کے خلاف ابھارنے میں کوشاں رہتی۔ اسلام پر عیب جوئی میں لگی رہتی اور آپ کو تکلیف پہنچانے میں کوئی کسر نہ رہنے دیتی تھی۔ رسول اللہ ﷺ کی ہجرت پر انیس ماہ گزرے تھے کہ آپ نے فرمایا: کون ہے جو مروان کی بیٹی کا
عظمت رسالت و نبوت ﷺ
بندوبست کرے۔ عمیرؓ بن عدی نے عرض کیا۔ اللہ کے رسول! میں اس کی ذمہ داری لیتا ہوں۔ چنانچہ آدھی رات کے وقت عمیرؓ نے اس کے گھر میں داخل ہو کر اس کو قتل کر دیا۔ پھر صبح رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا۔ میں نے اس کو قتل کر دیا ہے۔ آپؐ نے فرمایا: تو نے اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی یعنی اللہ کے دین کی مدد کی ہے۔ عمیرؓ بن عدی نے عرض کیا۔ میرے اس عمل کی وجہ سے مجھ پر کوئی مؤاخذہ ہوتا ہے۔ آپ نے فرمایا: لَا يَنْتَطِحُ فِيهَا عَنْزَانِ اس میں تو دو بکریاں بھی آپس میں ٹکر نہیں ماریں گی۔ یعنی تجھ پر نہ کوئی بوجھ ہو گا اور نہ ہی کوئی مؤاخذہ ہو گا اور اس عورت کا خون ضائع ہوا۔ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کو جو تکلیف دینی تھی اس کی سزا اس کو مل گئی۔
ابو عفک یہودی کا واقعہ
طبقات ابن سعد ج 2 ص 28 اور سیرت ابن ھشام ج 2 ص 635-636 میں مروی ہے: ابو عفک ایک سو بیس سالہ بوڑھا یہودی بھی لوگوں کو رسول اللہ ﷺ کے خلاف ابھارتا اور اپنے اشعار کے ذریعہ آپ کو تکلیف پہنچاتا تھا۔ ہجرت کے بیس مہینے گزر چکے تھے۔ آپ نے فرمایا: اس خبیث کو ٹھکانے کون لگائے گا۔
سالمؓ بن عمیر العمری بدری صحابی کا کہنا ہے: میں نے نذر مانی، میں ابو عفک کو قتل کروں گا یا اس کوشش میں اپنی جان کا نذرانہ اللہ کی راہ میں پیش کر دوں گا۔ جب چاندنی رات میں ابو عفک اپنے گھر کے صحن میں سو گیا اور سالمؓ کو اس کا علم ہو گیا تو انہوں نے اس کے پیٹ پر تلوار کی نوک رکھ کر اس کو دبایا تو وہ اس کے جسم میں سے گزر کر اس کے بستر میں چلی گئی۔
اس سے واضح ہو جاتا ہے کہ اسلامی ریاست کے قائم ہو جانے کے بعد رسول اللہ ﷺ کی توہین کے مرتکب ہونے والوں کا محاسبہ ہوا اور ایسا اللہ اور اس کے
عظمت رسالت و نبوت ﷺ
رسول ﷺ کے حکم سے ہوا اور یہ حکم قیامت تک جاری رہے گا۔ کیونکہ اس کو بدلنے کا کسی انسان کو حق نہیں۔ جب بھی کسی اسلامی ریاست میں کسی نے رسول اللہ ﷺ کی شان میں بدزبانی کی تو مسلمان قاضیوں نے اس کو قتل کرنے کا حکم جاری کیا۔
دمشق کا واقعہ
حافظ ابن کثیر المتوفی 774ھ نے اپنی مشہور تاریخ کی کتاب البدایۃ والنہایۃ ج 14 ص 273 میں 761 ہجری کے واقعات میں نقل کیا ہے۔ عثمان بن محمد المعروف ابن دبادب الدقاق کو لوہے کے آلہ سے قتل کیا گیا کیونکہ وہ رسول اللہ ﷺ کو گالی دیا کرتا تھا۔ اس کے جرم پر ایک جماعت نے گواہی دی اور یہ ممکن نہ تھا کہ سب جھوٹ پر جمع ہو جاتے۔ اس کا معاملہ مالکی حاکم کے پاس لے جایا گیا اور بدزبانی کا اس کے خلاف دعویٰ کیا گیا۔ اس کے بارے میں فیصلہ ہوا کہ اس کو قتل کر دیا جائے۔ چنانچہ اس کو قتل کر دیا گیا۔ یہ واقعہ 16 رمضان کا ہے۔
ایسے ہی 26 رمضان پیر کے دن محمد نامی شخص کو قتل کیا جس نے نبی کریم ﷺ کو گالی دی اور کفریہ اشیاء کا دعویٰ کیا۔ اس کے بارے میں مذکور ہے وہ کثرت سے نمازیں پڑھتا اور روزے رکھا کرتا۔ لیکن نبی ﷺ، عائشہ صدیقہؓ، ابوبکرؓ اور عمرؓ کے بارے میں برے الفاظ اس سے صادر ہوتے جس کی وجہ سے ’الخیل‘ کے بازار میں اس کی گردن مار دی گئی۔
امام ابن حزم المتوفی 456ھ کی تحقیق
امام ابن حزم نے گیارہ جلدوں میں لکھی ہوئی اپنی کتاب ”المحلّٰی“ کی ابتداء توحید سے کر کے اختتام سید الانبیاء محمد رسول اللہ ﷺ کی رسالت کی محافظت سے کیا ہے۔ انہوں نے اپنی کتاب کے آخری دس صفحات میں اللہ اور اس کے رسول ﷺ کو
عظمت رسالت و نبوت ﷺ
علانیہ گالی دینے والے کو قتل کرنے پر بحث کو سمیٹتے ہوئے لکھا ہے کہ جن کا کہنا ہے۔ یہودی رسول اللہ ﷺ کو السلام علیکم کی بجائے السام علیک یعنی موت کا لفظ استعمال کیا کرتے یا یہودیہ نے زہر آلود بکری آپ کو پیش کی یا لبید نے آپ پر جادو کیا۔ یہ سب باتیں سورۃ التوبۃ کے نزول سے پہلے کی تھیں۔ جب نو ہجری میں مشرکوں سے اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی برأت و بیزاری کا اعلان ہو گیا تو پھر پہلے والی صورت سے استدلال درست نہیں۔ ذمی جب گالی دیتا ہے تو وہ ہمیں حقیر و صغیر سمجھتا ہے۔ ہمیں ذلیل کرتا اور ہمارے دین میں طعن کرتا ہے۔ اس سے ہونے والے عہد کو توڑ دیتا ہے اور اہل اسلام کے ذمہ سے نکل جاتا ہے۔ لہٰذا اس کا خون حلال ہو جاتا ہے۔
حافظ ابن حجر عسقلانی کی تحقیق
حافظ ابن حجرؒ نے فتح الباری ج 12 ص 281 میں ابن المنذر سے اس پر اتفاق نقل کیا ہے کہ جس نے صریحاً نبی ﷺ کو گالی دی اس کو قتل کرنا واجب ہو جاتا ہے۔
شافعی ائمہ میں سے امام ابوبکر الفارسی نے ”کتاب الاجماع“ میں لکھا ہے۔ جس نے نبی ﷺ کو گالی دی تو وہ واضح بہتان کفر ہوگا۔ علماء کا اس پر اتفاق ہے، اگر وہ توبہ کرے تو اس کی توبہ سے اس کا قتل کیا جانا ساقط نہیں ہوگا۔ کیونکہ آپ پر بہتان لگانے کی سزا قتل ہے اور بہتان کی سزا توبہ سے ساقط نہیں ہوتی۔
اس کو یوں سمجھا جائے کہ ایک شخص نے قانون کی خلاف ورزی کی اور وہ قانون کی گرفت میں آ گیا۔ اس کی توبہ کرنے سے قانونی سزا معاف نہیں ہوگی۔ توبہ کا معاملہ اللہ سے ہے۔ اخروی عذاب سے بچنے میں اس کو فائدہ تو ہو سکتا ہے لیکن دنیا میں قانون اس پر نافذ ہوگا۔ اگر توبہ کرنے سے لوگ قانونی سزا سے بچتے جائیں گے تو قانون کی کوئی اہمیت نہیں رہے گی۔
عظمت رسالت و نبوت ﷺ
حافظ ابن حجرؒ نے ابن قاسم کے حوالے سے امام مالکؒ سے نقل کیا ہے کہ اہل عہد اور اہل ذمہ یہود کی طرح ہیں۔ بدزبانی اور گستاخی کرنے کی بنا پر ان کو قتل کیا جائے گا۔ اگر وہ مسلمان ہو جاتے ہیں تو قتل سے بچ جائیں گے۔ لیکن مسلمان اس جرم کے مرتکب ہوتے ہیں تو ان سے توبہ کا مطالبہ کیے بغیر ان کو قتل کر دیا جائے گا۔
حافظ ابن حجر عسقلانیؒ کا کہنا ہے: ابن المنذر نے اللیث، الشافعی، احمد اور اسحاق رحمہم اللہ سے ایسے ہی نقل کیا ہے اور یہود کے ساتھ جو برتاؤ ہوتا رہا وہ محض تالیف قلوب کے لیے تھا۔
فتح مکہ کے موقع پر جن کو قتل کرنے حکم تھا
یہود کو اپنی اصلاح کرنے اور حق کو اپنانے کا رسول اللہ ﷺ نے خوب موقع دیا۔ اس کے باوجود جنہوں نے اپنی خباثت کا کھل کر مظاہرہ کیا ان کو قتل کیا گیا۔ آپ نے جب مکہ کی طرف رخ کیا تو وہاں کے چند افراد کے بارے میں حکم فرمایا کہ ان کو ہر حال میں مار دینا ہے۔
سنن النسائی ج 2 ص 162، کتاب المحاربة رقم 4072 میں مصعب بن سعد اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں جس دن مکہ فتح ہوا۔ رسول اللہ ﷺ نے امان کا اذن عام کر دیا، لیکن چار مردوں اور دو عورتوں کے بارے میں فرمایا: ان کو جہاں بھی پاؤ قتل کر دو۔ اگرچہ بیت اللہ کے پردوں سے لٹکے ہوئے ہوں۔ وہ عکرمہ بن ابی جہل، عبداللہ بن خطل، مقیس بن صبابہ اور عبداللہ بن سعد بن السرح تھے۔ (عورتوں کے نام اگلی روایت میں آئیں گے)
عبداللہ بن خطل کے بارے میں مروی ہے۔ وہ بیت اللہ کے پردے سے چمٹا ہوا تھا۔ سعید بن حریث اور عمار بن یاسرؓ اس کی طرف لپکے۔ سعید بن حریث دونوں میں سے
عظمت رسالت و نبوت ﷺ
جوان تھا۔ لہٰذا اس نے ابن خطل کو قتل کر دیا۔
مقیس بن صبابہ کو لوگوں نے بازار میں پایا اور اس کو وہیں قتل کر دیا اور عکرمہ کشتی پر سوار ہو کر نکل گیا۔ دوران سفر طوفان نے اس کو گھیر لیا، کشتی والوں نے آپس میں کہا: اب اللہ کو ہی خلوص سے پکارو۔ تمہارے معبود یہاں کوئی فائدہ نہیں دے سکتے۔ عکرمہ نے کہا: اللہ کی قسم، اگر اخلاص کے علاوہ سمندر میں کوئی نجات کا سبب نہیں بن سکتا تو خشکی میں بھی اس کے علاوہ کون نجات دے سکتا ہے۔ عکرمہ نے اسی وقت دعا کے ذریعہ اللہ سے وعدہ کیا۔ اگر تو نے مجھے اس مصیبت سے بچایا تو میں محمد ﷺ کے پاس جا کر اپنا ہاتھ ان کے ہاتھ میں دے دوں گا۔ میں ان کو ضرور درگزر کرنے اور کرم کرنے والا پاؤں گا۔ پھر وہ آیا اور مسلمان ہو گیا۔
عبداللہ بن السرح حضرت عثمان غنیؓ کے پاس چھپ گیا، جب رسول اللہ ﷺ نے لوگوں کو بیعت کے لیے بلایا تو عثمانؓ اس کو لے آئے اور نبی ﷺ کے پاس کھڑا کر کے عرض کیا: اللہ کے رسول! عبداللہ سے بیعت لے لیں۔ آپ نے تین مرتبہ سر اٹھایا اور اس کو دیکھا اور بیعت سے انکار کیا، پھر آپ نے اس سے بیعت لے لی۔ آپ نے بعد میں صحابہؓ کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا تم میں کوئی ایک بھی ہدایت یافتہ آدمی نہ تھا کہ جب میں نے اس کی بیعت لینے سے ہاتھ روک لیا تو وہ اٹھتا اور اس کو قتل کر دیتا۔
صحابہؓ نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہمیں تو معلوم نہ تھا کہ آپ کے دل میں کیا سوچ ہے۔ آپ نے ہمیں اپنی آنکھ سے اشارہ کیوں نہ کر دیا۔ آپ نے فرمایا: نبی کے لیے مناسب نہیں کہ آنکھ ہی سے خیانت کرے۔
جن مردوں اور عورتوں کو ہر حال میں قتل کرنے کا رسول اللہ ﷺ نے حکم فرمایا تھا، اس کی وجوہات کی تفصیل سیرت ابن ہشام ج 3 القسم الثانی ص 409-411 اور تاریخ الطبری ج 2 ص 119-120 میں حسب ذیل ہے:
عظمت رسالت و نبوت ﷺ
عبداللہ بن خطل مسلمان ہوا، رسول اللہ ﷺ نے اس کو صدقات وصول کرنے کے لیے بھیجا۔ اس کے ساتھ انصار کے ایک آدمی کو بھی روانہ کیا۔ جس کے ساتھ اس کا آزاد کردہ غلام بھی تھا جو ان کی خدمت کرتا تھا اور وہ بھی مسلمان تھا۔ ایک جگہ قیام کے دوران ابن خطل نے اس کو بکری ذبح کر کے کھانا تیار کرنے کو کہا۔ وہ آزاد کردہ غلام سو گیا۔ جب بیدار ہوا تو اس نے اس کے لیے کچھ بھی نہ کیا تھا۔ جس پر وہ ناراض ہوا اور اس کو قتل کر دیا، پھر مرتد ہو گیا۔ اس کی دو لونڈیاں تھیں۔ ایک کا نام فرتنی تھا۔ دونوں کو رسول اللہ ﷺ کی ہجو میں اشعار بنا کر دیتا اور وہ انہی کو گایا کرتی تھیں۔ ایک تو قابو آ گئی اور اس کو قتل کر دیا گیا جبکہ دوسری بھاگ گئی۔ بعد میں وہ مسلمان ہو گئی۔
ابن خطل کو رسول اللہ ﷺ کے ارشاد مبارک کے مطابق بیت اللہ میں قتل کر دیا گیا۔
صحیح بخاری: کتاب الجہاد ص 427، کتاب المغازی ص 614، صحیح مسلم: کتاب الحج ج 1 ص 439، ابو داؤد کتاب الجہاد ص 365، جامع الترمذی: کتاب الجہاد ج 1 ص 239 اور سنن الدارمی: کتاب المناسک ص 248 میں بھی ابن خطل کو قتل کئے جانے کا آپ کا حکم منقول ہے۔
عبداللہ بن سعد بن ابی السرح بھی مسلمان ہونے کے بعد مرتد ہو گیا تھا۔ قرآنی آیات کے نزول پر لکھنے والوں میں وہ بھی ایک ہو گیا تھا۔ مرتد ہونے کے بعد قریش سے مل گیا تھا۔ عثمان غنیؓ کا رضاعی بھائی تھا۔ رسول اللہ ﷺ نے تین مرتبہ اس کی بیعت کو قبول نہ کیا تھا اس کے باوجود جب اس کو کسی نے قتل نہ کیا تو آپ نے اس سے بیعت لے لی تھی۔ پھر وہ مسلمان ہو گیا۔ عمر فاروقؓ اور عثمانؓ کے عمال میں سے ایک تھا۔
مقیس بن صُبابہ نے ایک انصاری صحابی کو شہید کیا اور پھر قریش کے ساتھ مل گیا تھا۔
عظمت رسالت و نبوت ﷺ
الحويرث بن نقیذ بھی مکہ مکرمہ میں رسول اللہ ﷺ کو تکلیف پہنچایا کرتا تھا اور عباس ؓ نے جب فاطمہ اور ام کلثوم کو مدینہ جانے کے لیے سواری پر سوار کرایا تھا تو اس بدبخت نے ایک نوکدار لکڑی اونٹ کے پہلو میں چبھو کر بھڑکا دیا تھا جس سے آپ کی دونوں بیٹیاں گر گئی تھیں۔ علی ؓ نے اس کو جہنم پہنچایا تھا۔
دفعہ 295 سی
پاکستانی قوم کی کتنی بدنصیبی ہے کہ آج بھی پاکستان میں وہی نظام اور وہی قوانین نافذ ہیں جو انگریزوں نے ہندوستان پر غلبہ حاصل کرنے کے بعد ہندوستان میں بسنے والوں کے لیے بنائے اور نافذ کیے۔ پاکستان کے وجود میں آنے کے بعد قوانین میں ترمیمیں تو ہوئیں لیکن نظام میں کوئی تبدیلی واقع نہ ہوئی۔ فوج، پولیس، عدلیہ اور بیوروکریسی کا وہی انداز اور طریق کار ہے جو انگریزوں نے اپنے دور حکومت میں رائج کیا تھا۔ سکولوں اور کالجوں میں پڑھنے والوں کو ایسا نصاب پڑھایا کہ جس کے ذریعے اپنے نوے سالہ دور حکومت میں ان کے مفادات اور نظریات کی حفاظت کرنے والا ایک گروہ پیدا کرنے میں وہ کامیاب ہو گئے۔ وہی گروہ تھا جو اپنے آپ کو روشن خیال کہتا اور قرآن وسنت کی مخالفت کرنے میں کھل کر اپنا کردار ادا کرتا تھا۔ پاکستان بننے کے بعد بھی اسلامی نظام اور اللہ کے قوانین کے نفاذ کی راہ میں رکاوٹ بنا رہا۔ آج بھی اس گروہ کو امریکہ اور انگلینڈ کی سرپرستی حاصل ہے جس کی وجہ سے پاکستان امریکہ کی ایک محکوم و مغلوب کالونی بن چکا ہے۔ اس کے باوجود پاکستان کی اکثریت اللہ اور اس کے رسول ﷺ پر کامل یقین و ایمان رکھتی ہے اور اسلامی نظام کے تحت زندگی گزارنے کے لیے دل و جان سے خواہشمند ہے۔ قرارداد پاکستان کو آئین کا حصہ تو بنالیا مگر اس کے مطابق عمل آج تک نہیں ہوا۔ مختلف حیلوں بہانوں سے اسلامی قوانین کی بجائے انگریزوں کے بنائے ہوئے
عظمت رسالت و نبوت ﷺ
قانون کے مطابق عمل کر کے انگریزوں سے وفاداری کا ثبوت دیا جا رہا ہے۔
دفعہ 295 بھی مجموعہ تعزیرات پاکستان جو اصل میں انگریزوں نے 1860ء میں ہندوستان میں نافذ کیا تھا۔ اسی کی ایک دفعہ ہے اور کل دفعات کی تعداد 511 ہے۔
اس دفعہ کی تفصیل یہ ہے: جو کوئی شخص کسی عبادت گاہ یا کسی شئے کو جو لوگوں کے کسی فرقے کے نزدیک متبرک سمجھی جاتی ہو۔ خراب کرے یا مضرت پہنچائے یا نجس کرے۔ اس کے ذریعہ سے لوگوں کے کسی فرقے کے مذہب کی توہین کرنے کی نیت سے یا اس امر کے احتمال کے علم سے کہ لوگوں کا کوئی فرقہ اس کو خراب کرنے یا مضرت پہنچانے یا نجس کرنے کو اپنے مذہب کی ایک طرح کی توہین سمجھے تو شخص مذکور کو دونوں قسموں میں سے کسی ایک قسم کی قید کی سزا دی جائے گی جس کی میعاد دو برس تک ہو سکتی ہے یا جرمانے کی سزا دونوں سزائیں دی جائیں گی۔
پھر دفعہ 295 (الف) کی صورت میں حسب ذیل ترمیم کی گئی۔
جو کوئی شخص عمداً اور بانیت فاسد اہل پاکستان کے باشندے کے کسی فرقہ کے مذہبی احساسات کی بے حرمتی کے منشا سے بذریعہ الفاظ، خواہ تقریری ہوں، خواہ تحریری یا بذریعہ اشارات کے اس فرقہ کے مذہب یا مذہبی عقائد کی توہین کرے یا توہین کا اقدام کرے تو دونوں قسموں میں سے کسی قسم کی سزائے قید کا جس کی میعاد تین برس تک ہو سکتی ہے۔ اس کا مستوجب ہوگا یا جرمانہ کا یا دونوں کا۔
اس سے واضح ہو جاتا ہے کہ توہین رسالت کے مرتکب ہونے والوں کے لیے اللہ اور اس کے رسول محمد ﷺ نے جو سزا مقرر کی تھی۔ انگریزوں کے نزدیک وہ قابل قبول نہ تھی۔ لہٰذا 1928ء میں رنگیلا رسول کے ناشر راج پال پر جب انگریزی قانون نے کوئی گرفت نہ کی تو غازی علم الدین نے خود ہی اسلامی قانون کا اس بدبخت ناشر پر نفاذ کر دیا اور اپنی جان کا نذرانہ بھی بارگاہ الٰہی میں پیش کر دیا۔ انگریزوں پر واضح کر دیا کہ جو بھی
عظمت رسالت و نبوت ﷺ
ہمارے نبی ﷺ کی شان میں گستاخی کرے گا ہم اس کو زندہ نہیں چھوڑیں گے۔
ایسا ہی کراچی میں عبدالقیوم نے 1934ء میں نتھورام کے ساتھ کیا۔
پاکستان بننے کے بعد بھی 295 والی دفعات میں اسلامی سزا کا اضافہ نہ ہونے دیا گیا، لیکن گستاخی کے مرتکب ہونے والوں کا حشر وہی ہوا جو راج پال کا ہوا تھا اور جو اس حشر سے بچ گئے ان کو عیسائی دنیا میں ہیرو بنا کر پاکستان سے بحفاظت باہر بھجوا دیا گیا۔ ایسا معاملہ جب بھی سامنے آیا طاغوتی طاقتوں کا ایجنٹ ٹولہ ان کی حمایت میں سامنے آ جاتا تھا۔ بلکہ اس ٹولے نے بھی اسلام سے بیزاری اور دشمنی کا مظاہرہ کرنے کا معمول بنا لیا۔ اس کا سدباب کرنے کے لیے ایک طرف وفاقی شرعی عدالت میں درخواست دی گئی اور دوسری طرف اسمبلی میں بھی توہین رسالت کرنے والوں کے خلاف اللہ اور رسول ﷺ کی مقرر کردہ سزا کے نفاذ کے لیے قانون سازی کرنے کے لیے آواز بلند کی گئی۔ جس کے نتیجہ میں دفعہ 295 سی کا اضافہ مجموعہ تعزیرات پاکستان میں کر دیا گیا۔ جس کے مطابق توہین رسالت کے مرتکب کو سزائے موت یا عمر قید یا جرمانہ یا دونوں کی سزا دی جائے گی۔ حالانکہ قرآن وسنت میں قید یا جرمانے کا کہیں بھی ذکر نہیں ہوا۔
اس کے باوجود برطانیہ اور امریکہ کی سرپرستی میں اسلام کی مخالفت کرنے والے ”توہین رسالت“ قانون کو ختم کرانے کے درپے رہتے ہیں۔ کیونکہ یہی وہ شمع توحید ہے جس کی حفاظت کے لیے ہر مسلمان قربان ہونے کو اپنی عین سعادت سمجھتا ہے۔ یہی وہ مرکز ہے جہاں تمام اہل اسلام اپنے تمام اختلافات بھول کر جمع ہو جاتے ہیں۔ یہی وہ شمع ہے جس سے اسلام کی روشنی دنیا میں پھیلی۔ ایک دوسرے کا خون بہانے اور مال لوٹنے والے آپس میں دینی بھائی بن گئے۔ ہر قسم کا افتراق وانتشار مسلمانوں کے عظیم اتحاد و اتفاق میں تبدیل ہو گیا۔
طاغوتی طاقتوں نے ہمیشہ ہی اہل اسلام کے اتحاد و اتفاق کے خلاف سازشیں
عظمت رسالت و نبوت ﷺ
کیں۔ جس کا سلسلہ آج اپنے عروج پر ہے۔ امریکہ اور برطانیہ کا پروردہ ٹولہ ان کے مفادات کی حفاظت کا حق ادا کرنے میں کوشاں ہے۔ لیکن دین اسلام کی حفاظت کا ذمہ اللہ تعالیٰ نے خود لے رکھا ہے اور جس سے جہاں جس وقت وہ جیسا کام لینا چاہتا ہے لے لیتا ہے، ان شاء اللہ تعالیٰ شمع توحید روشن رہے گی اور پھونکوں سے یہ چراغ بجھایا نہ جائے گا۔
دفعہ 295 سی پر اعتراضات
اسلام بیزار ٹولہ وہ کہتا اور کرتا ہے جس کا حکم اس کو باہر سے ملتا ہے۔ اس ٹولے اور روشن خیال خواتین و حضرات کو خوف و خطرہ ہے کہ اگر دینی ذہن والے حکمران بننے میں کامیاب ہو گئے تو ان کی آمدنیاں ختم ہو جائیں گی۔ بے حیائی و بے غیرتی کے فروغ کے لیے چلائی گئی تحریک ناکام ہو جائے گی۔ امریکہ اور برطانیہ کے حضور میں ندامت و شرمندگی کا سامنا کرنا پڑے گا۔ انگریزوں کے نزدیک اگر مسلمانوں کے نبی ﷺ کا کوئی احترام ہوتا تو وہ تعزیرات ہند میں ہی گستاخی کرنے والے کی سزا موت رکھ دیتے، مگر وہ تو چاہتے ہیں کہ مسلمانوں کے نبی ﷺ کی توہین ہو۔ اسی لیے توہین کرنے والوں کی عزت کرتے اور ان کو آنکھوں پر بٹھاتے ہیں۔ مال و دولت سے اس کو مالا مال کر دیتے ہیں۔ ان کو یہ ہرگز گوارا نہیں کہ ان کے بنائے ہوئے قانون میں کوئی ترمیم کر دی جائے۔ ایک طرف ترمیم کے خلاف احتجاج کراتے اور دوسری طرف توہین کرنے والوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔
طاغوتی طاقتوں کے ایجنٹوں میں سے جو اپنے آپ کو اہل علم میں شمار کرتے ہیں ان کا کہنا ہے۔ توہین رسالت کی سزا قرآن میں منقول نہیں اور نہ ہی اس کا حدیث صحیح میں ذکر ہے۔ اس سلسلہ میں جو احادیث مروی ہیں ان کا کوئی اعتبار نہیں۔ اللہ کے نبی ﷺ
عظمت رسالت و نبوت ﷺ
نے توہین کرنے والوں کو معاف فرمایا، اس کی سب سے بڑی مثال فتح مکہ کے موقع پر اہل مکہ پر غالب آنے کے بعد آپ نے ان کو معاف کر دیا۔ آپ کو اللہ نے رحمت بنا کر بھیجا تھا۔ لہٰذا اسی رحمت کا تقاضا ہے کہ توہین رسالت کے مرتکب کو معاف کر دیا جائے۔ اسی ٹولے کے قانونی ماہرین کا کہنا ہے۔ توہین کرنے والے کی نیت کا خیال بھی رکھا جائے۔ کیونکہ تعزیرات پاکستان میں نیت کا بھی ذکر ہے۔ چونکہ پاکستان اب اقوام متحدہ کا ممبر ہے لہٰذا اس کے منشور کو اپنایا جائے۔ پرانے زمانے کی طرف لوٹنے کی بجائے ترقی یافتہ قوموں کے ساتھ مل کر مستقبل سنوارنے کی طرف توجہ مبذول کی جائے۔
اعتراضات کے جوابات
سب سے پہلی اور اہم ترین بات یہ ہے کہ اسلام اور اسلامی تعلیم کی مخالفت کرنے والوں کے دلوں میں اللہ تعالیٰ کا کوئی خوف نہیں ہوتا۔ اسلام سے پہلے جن قوموں کے واقعات قرآن حکیم میں بیان ہوئے ہیں وہ بھی بے خوف ہی ہوا کرتے تھے اور انبیاء علیہم السلام ان کو اللہ سے ڈرنے کی تلقین کیا کرتے تھے۔ آج بھی اسلامی ممالک میں ایسے بے خوف لوگوں کی بہت بڑی تعداد نہ صرف موجود ہے بلکہ عموماً امراء اور صاحب اقتدار بھی انہی میں سے ہوتے ہیں۔ ایسے لوگوں کے نزدیک قرآن وسنت کی کوئی اہمیت نہیں۔ انہوں نے اللہ کو نہیں بلکہ اپنے دنیوی آقاؤں کو خوش کرنا اور ان کو ہی اپنا حساب دینا ہے۔
روشن خیال خواتین و حضرات کو اس کا اندیشہ ہے اگر مولوی آگئے تو عورتوں کو پردہ کرنا ہوگا اور مردوں کو مساجد میں حاضری دینی ہوگی اور داڑھی بھی رکھنی پڑے گی۔ موج میلے کے سب پروگرام ٹھپ ہو جائیں گے۔
ان حضرات و محترمات کی خدمت میں اتنی ہی گزارش ہے کہ دنیوی زندگی بڑی مختصر ہوتی ہے۔ دنیا میں آنے والے نے ایک دن مر جانا ہے۔ اس کے اپنے پیاروں ہی نے
عظمت رسالت و نبوت ﷺ
اس کو دفنا کر اس کو بھول جانا ہے۔ قبر میں اس کے نیک اعمال کے علاوہ اس کے کسی پیارے قریبی یا دنیوی جاہ و جلال یا اس کے جمع کردہ مال نے اس کے کام نہیں آنا ہے۔ لہٰذا مختصر سی زندگی کو ضائع کرنے کی بجائے اس کو ایسے استعمال کیا جائے کہ کل کو اپنے رب کے ہاں عزت کی بجائے ذلت ورسوائی مقدر نہ بن جائے۔
ان محترمات وحضرات کو تاریخ کے حوالے سے یہ بھی یاد رکھنے کی ضرورت ہے کہ سید الانبیاء محمد رسول اللہ ﷺ کی دعوت حق کو قبول کرنے والے عموماً غریب اور کمزور ہی لوگ تھے۔ لیکن سید الانبیاء ﷺ کی اطاعت ومحبت کی وجہ سے وہ عرب وعجم کے حکمران بن گئے۔ جنہوں نے اسلامی تعلیم کے مطابق عمل کیا۔ ان کے نام اور کام کا ذکر آج بھی انتہائی محبت واحترام کے ساتھ ہوتا ہے۔
پردے میں عورت کی عزت ہے، پردہ کرنے والی صحابیات وتابعیات کو اللہ نے اتنی عزت سے نوازا کہ دنیا اس کی مثال نہیں دے سکتی۔
دینداری اور پرہیز گاری میں جو لذت ہے فیشن ایبل طبقہ اس سے واقف نہیں۔ اگر اس میں لذت نہ ہوتی تو اسلامی تاریخ کی نامور شخصیتیں اس کو کیوں اپناتیں۔ اصل مستقبل وہ ہے جو اس دنیا کی زندگی کے بعد ہر انسان کے لیے آنے والا ہے۔ داڑھی مرد کی شان ہے، اگر شان نہ ہوتی تو اللہ اس کو عورتوں کی طرح صاف بالوں کے بغیر چہرے والا بنا دیتا، داڑھی فطرت ہے۔ اس کو مونڈنا اللہ کی فطرت کا انکار کرنا ہے۔
جب ماضی کی نفی کرنے کی بات کی جاتی ہے تو اس کے بغیر تو مسلمان کچھ بھی نہیں۔ اسی ماضی نے ہمیں شاندار مستقبل دیا جس کی ہم نے قدر نہ کی اور ذلت ورسوائی کو اپنا مقدر بنالیا۔
رسول اللہ ﷺ اور صحابہؓ کے عہد مبارک میں علم کے حصول کا ذوق شوق رکھنے والوں نے بہت کچھ سیکھا اور اس کو اپنے بعد آنے والوں تک پہنچایا۔ پہلے ریاست کا امیر
عظمت رسالت و نبوت ﷺ
ہی امام و خطیب ہوتا تھا۔ ابوبکر الصدیقؓ کی خلافت کا فیصلہ بھی امامت کے حوالے سے ہوا تھا۔ جب رسول اللہ ﷺ نے اپنی بیماری میں ان کو امت کا امام بنایا تھا اور انہوں نے آپ کی حیات مبارکہ میں ہی سترہ نمازوں کی امامت کی تھی۔
ایسے ہی ہر صوبے اور لشکر کا امیر ہی خطبہ دیتا اور نماز پڑھاتا تھا۔ اہل علم کا حلقہ بھی اپنی اپنی جگہ قائم ہوتا تھا۔ جیسے جیسے امراء کی دینی صلاحیت میں ضعف آتا گیا، ویسے ہی اہل علم خطباء وائمہ بنتے گئے۔ آج بھی اگر دینی اقدار کو پروان چڑھایا اور ہر گھر میں دینی تعلیم کو فرض بنایا جائے تو پھر سے وہی دور واپس آسکتا ہے۔ ہماری عزت و عافیت ہمارے دین میں ہی ہے جو اللہ نے سید الانبیاء ﷺ کے ذریعہ ہم کو دیا۔ اللہ کی یہ ضمانت ہے کہ وہ اپنے دیندار بندوں کی مدد کرتا ہے۔ جن کی وجہ سے ہمیں دنیا کا بہترین دین ملا اور اللہ نے عرب وعجم کی حکومت سے نوازا۔ ان کی عزت پر ہاتھ ڈالنے والے کے ہاتھ کو قطع نہ کرنا، بد زبانی اور گستاخی کرنے والے کو اس کے برے انجام تک نہ پہنچانا یہ سراسر بے غیرتی ہے۔ طاغوتی طاقتوں کا یہی مشن ہے کہ ہم بے غیرت ہو جائیں۔ ہمارا دین ختم یا مسخ کر دیا جائے۔ لہذا طاغوتی عزائم کو سمجھنے کی کوشش کریں اور اپنے دین کے محافظ بن جائیں۔
جو کہتے ہیں، توہین رسالت پر رکھی گئی سزا کا قرآن میں کوئی ذکر نہیں۔ امام ابن تیمیہؒ المتوفی 728ھ نے سب سے پہلے اس موضوع پر چھ سو صفحات پر مشتمل زبردست کتاب ’’الصارم المسلول علی شاتم الرسول‘‘ (رسول اللہ ﷺ کو گالی دینے والے پر ننگی تلوار) لکھی۔ حافظ ابن کثیر نے البدایہ والنھایہ ج 13 ص 336 میں اس کتاب کا ذکر 693ھ کے واقعات میں کیا ہے۔ اس میں انہوں نے بہت سی قرآنی آیات کا حوالہ دیا ہے۔ میں نے تو سورۃ الاحزاب کی اس آیت کا ذکر کیا ہے جس میں صریحاً زبردست قتل کرنے کا حکم ہے۔ پھر احادیث میں منقول ان واقعات کو نقل کیا۔ جس
عظمت رسالت و نبوت ﷺ
میں رسول اللہ ﷺ کو گالی دینے والوں کو قتل کیے جانے کا ذکر کیا گیا۔ اگر کوئی احادیث کا انکار کرتا ہے تو وہ بھی رسالت کا منکر ہے، کیونکہ قرآن حکیم رسول اللہ ﷺ پر نازل ہوتا تھا اور آپ صحابہ کو لکھواتے اور یاد کرایا کرتے تھے۔ جو احادیث کے راوی ہیں، وہی قرآن حکیم کے بھی راوی ہیں۔ رہی بات ضعیف و موضوع احادیث کی تو ائمہ حدیث نے ان تمام روایات کو اصح روایات سے الگ کر کے الضعفاء کے نام سے کتابوں میں جمع کر دیا ہے تاکہ اہل علم کو تحقیق کرنے میں آسانی ہو جائے۔
رسول اللہ ﷺ کی واضح الفاظ میں توہین کرنے پر امت کا اجماع ہے کہ اس کی سزا قتل ہے۔ اس میں شک و شبہ اور اختلاف کی کوئی بات نہیں۔
جہاں تک رسول اللہ ﷺ کے جہانوں کے لیے رحمت کے طور پر مبعوث ہونے کی بات ہے تو اس میں بھی کوئی شک و کلام نہیں۔ آپ کی رحمت کا ہی نتیجہ تھا کہ جو اہل عرب آپس میں لڑتے مارتے، ایک دوسرے کا خون بہاتے، عورتوں کو لونڈیاں اور بچوں کو غلام بنایا کرتے تھے وہ ایک دوسرے کے ایسے بھائی بن گئے کہ ان کے درمیان دینی محبت تمام خونی رشتوں پر غالب آ گئی۔ آپ کا قائم کردہ معاشرہ دنیا کا مثالی معاشرہ بن گیا جس میں مجرم کو پکڑا نہیں جاتا تھا بلکہ سزا پانے کے لیے خود ہی وہ حاضر ہو جاتا تھا۔ ماعز اور غامدیہ کے واقعات اس کی بہترین مثال ہے۔
آپ نے یقینی طور پر زیادتی کرنے والوں کو معاف بھی کیا اور جو سزا کے مستحق تھے ان کو سزا بھی دی، لیکن یہ معاملہ آپ کی زندگی مبارک کے بعد ختم ہو گیا۔ وہ آپ کا حق تھا اور امت میں سے کسی کو وہ حق نہ ملا ہے اور نہ ہی ملے گا۔ ہمارے دین کی سلامتی اسی میں ہے کہ آپ کے قائم کردہ نمونہ کے مطابق عمل کیا جائے تاکہ کسی کو سید الانبیاء ﷺ کے خلاف زبان درازی کی جرأت نہ ہو۔
یہاں ایک لطیف نکتہ یہ بھی ہے کہ پاکستان میں بسنے والے عیسائیوں کی اکثریت
عظمت رسالت و نبوت ﷺ
اُن پڑھ غریب لوگوں کی ہے۔ جن کو مختلف قسم کے لالچ دے کر عیسائی بنایا جاتا ہے۔ ان کے نزدیک دین کی کوئی اہمیت نہیں۔ آسیہ بی بی کے ہی معاملے پر غور کریں۔ کیا پوپ بینی ڈکٹ سے اس کی کبھی ملاقات ہوئی تھی۔ لیکن اپنی بدزبانی کے ذریعہ وہ پوپ کی توجہ کا مرکز بن گئی اور اس کو ہر عیسائی ملک گلے لگانے پر تیار ہو گیا۔ یہ بھی ایک بہت ہی اہم اور غور طلب نکتہ ہے۔ باہر جا کر مالدار ہونے کا آسان نسخہ ہے۔
رہی بات نیت کی تو اس کا تعلق اللہ سے ہوتا ہے۔ قانون قول و عمل پر نافذ ہوتا ہے۔ کوئی شخص قانون کی خلاف ورزی کرنے کے بعد گرفت میں آ جائے تو کہے میرا ارادہ قانون شکنی کا نہ تھا۔ ظاہر ہے قانون کی نظر میں اس کا کوئی اعتبار نہ ہوگا۔ اس کے قول و فعل سے جو نقصان ہوا ہوگا اس کے مطابق اس کو سزا دی جائے گی۔ قول و فعل پر تو گواہی قائم ہوتی ہے جبکہ نیت پر گواہی نہ قائم ہوتی ہے اور نہ ہی مقبول ہوتی ہے۔
رسول اللہ ﷺ کی شان میں گستاخی کرنے والے کو معاف کرنے کا حق چونکہ اب کسی کو نہیں ہے۔ لہٰذا اس کو اس کی سزا قانون کے مطابق دی جائے گی۔
جھوٹے الزام یا جھوٹی گواہی کی سزا
روشن خیالوں میں وہ خواتین و حضرات بھی ہیں جن کا کہنا ہے، چونکہ توہین رسالت کی سزا بڑی سخت ہے، لہٰذا جھوٹی گواہی دینے یا جھوٹا الزام لگانے والے کی سزا بھی سخت ہونی چاہیے۔ عجیب بات یہ ہے کہ امریکہ اور برطانیہ کی سرپرستی میں اسلامی قوانین اور اسلام کی مخالفت کرنے والوں کو علم تھا اور ہے کہ انگریزوں کے مجموعہ تعزیرات میں جھوٹی گواہی دینے والوں کے لیے بھی دفعات موجود ہیں۔ چونکہ ہمارے مضمون کا تعلق سزائے موت سے ہے اس لیے اس کے بارے دفعہ 197 کا ذکر مناسب ہوگا۔ جس کی عبارت حسب ذیل ہے:
عظمت رسالت و نبوت ﷺ
جو کوئی شخص جھوٹی گواہی دے یا بنائے اس نیت سے یا اس امر کے احتمال کے علم سے کہ جھوٹی گواہی کے باعث کسی شخص کو ایسے جرم کا مجرم ثابت کرائے جس کی پاداش میں قانون نافذ العمل کی رو سے سزائے موت مقرر ہے تو شخص مذکور کو قید دوام یا قید سخت کی سزا دی جائے گی۔ جس کی میعاد دس برس تک ہو سکتی ہے اور وہ جرمانے کا بھی مستوجب ہوگا۔ کوئی بے گناہ شخص اس جھوٹی گواہی کے سبب سے مجرم ثابت ہو جائے اور سزائے موت پا جائے تو اس شخص کو جس نے بھی ایسی جھوٹی گواہی دی ہو یا تو سزائے موت دی جائے گی یا وہ سزا جو اس دفعہ میں پہلے مذکور ہوئی ہے۔
یہ سزا اس قانون کا حصہ ہے جو پاکستان میں نافذ ہے اور اسی کے مطابق جرائم کے فیصلے ہوتے ہیں۔ اسلامی قوانین میں بھی قذف یعنی بہتان کی سزا اسی درے مقرر ہے اور کسی کو ناحق قتل کرنا یا کروانا، اس کا قصاص بھی قتل ہی ہے۔ مقتول کے قتل میں جتنے بھی لوگ شریک ہوں۔ سب کو قتل کیا جائے گا۔
صحیح بخاری: کتاب الدیات ص 1018 میں ابن عمرؓ سے مروی ہے۔ ایک غلام کو دھوکے سے قتل کر دیا گیا۔ عمر فاروقؓ نے فرمایا: اگر اس میں تمام اہل صنعاء شریک ہوتے تو میں ان کو قتل کر دیتا۔
فتح الباری: ج 12 ص 228 میں ابن ابی شیبہ کے حوالے سے مروی ہے۔ عمر فاروقؓ نے صنعاء میں ایک آدمی کے قتل میں شریک سات آدمیوں کو قتل کرایا۔
اسلام کا نظام عدل ایسا ہے کہ زخم کا بھی قصاص دلواتا ہے۔ انگریزوں کے بنائے ہوئے مجموعہ تعزیرات میں جو دفعہ 295 سی کا اضافہ کیا گیا ہے اس پر اٹھارہ سال گزر گئے ہیں مگر کسی کو آج تک اس کے تحت سزا نہیں ہوئی۔
”نیشنل کمیشن برائے عدل و امن“ کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں 1986ء سے 2009ء تک توہین رسالت کے سلسلہ میں 986 کیس سامنے آئے۔ جن میں سے
عظمت رسالت و نبوت ﷺ
479 کا تعلق مسلمانوں سے اور 119 کا تعلق عیسائیوں سے تھا۔ ان تمام مقدمات میں سزائے موت کسی کو نہ دی گئی۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ توہین رسالت سے متعلق قانون صرف عیسائیوں کے لیے ہی نہیں بنایا گیا بلکہ کوئی مسلمان بھی اس کا مرتکب ہوگا تو وہ بھی اسی دفعہ کے تحت سزا پائے گا۔
ویسے بھی اس قانون کے تحت درج ہونے والے مقدمہ کا طریقہ کار اتنا پیچیدہ اور مشکل ہے کہ عام آدمی کی پہنچ سے باہر ہے۔ اگر کہیں مقدمہ درج بھی ہو جائے تو مجرم کو سزا نہیں ملتی۔
پنجاب کے گورنر کا انٹرویو
اخباری رپورٹ کے مطابق جب عیسائی عورت آسیہ بی بی کو سید الانبیاء محمد رسول اللہ ﷺ کی شان میں گستاخی کرنے پر موت کی سزا سنائی گئی تو طاغوتی طاقتوں کے خدمتگاروں نے پاکستان میں قانون توہین رسالت کے خلاف شور شرابہ شروع کر دیا۔ ان طاقتوں کو راضی کرنے یا اپنی روشن خیالی کا ثبوت مہیا کرنے کے لیے صوبہ پنجاب کے افسر اعلیٰ شیخوپورہ جیل میں گئے اور آسیہ بی بی کو اپنے ساتھ بٹھا کر پریس کانفرنس کرتے ہوئے آسیہ بی بی سے صدر کے نام معافی کی درخواست لکھوا کر اس کا انگوٹھا لگوایا اور اس کو یقین دہانی کرائی کہ اس کی سزا معاف ہو جائے گی۔ گورنر صاحب کا کہنا تھا کہ انہوں نے یہ کام انسانی ہمدردی کے تحت کیا ہے۔
اس سے پہلے کہ مذکورہ عبارت کا تجزیہ کیا جائے مناسب ہے کہ گورنر صاحب بہادر کے اس انٹرویو کی بھی جھلک دکھادی جائے جو انہوں نے 23 دسمبر 2010ء کو عائشہ ٹیمی حق کو نیوز لائن کے لیے دیا۔
عائشہ نے ان سے سوال کیا: آپ نے آسیہ بی بی کے کیس کو اپنی توجہ کا مرکز کیوں
عظمت رسالت و نبوت ﷺ
بنایا۔ گورنر صاحب کا جواب تھا: آسیہ بی بی کا کیس اس حوالے سے خصوصی طور پر متعلقہ ہے کہ ایک اس عورت کو ڈیڑھ سال ایک جھوٹے الزام میں قید میں رکھا گیا جو واقعہ کے پانچ دن بعد اس پر لگایا گیا اور جنہوں نے اس کے خلاف گواہی دی وہ وہاں موجود ہی نہ تھے۔ لہٰذا یہ اقلیتی کمیونٹی کے ایک ممبر کے خلاف بیہودہ ادھم مچانا ہے۔ بہت سے صحیح سوچ رکھنے والے لوگوں کی طرح مجھے بھی یہ حرکت شرمناک محسوس ہوئی۔ میں نے تو صرف ان کا ساتھ دیا ہے۔‘‘ ان کا کہنا تھا۔
پنجاب کی تاریخ میں یہ پہلا واقعہ ہے کہ گورنر جیل کے اندر داخل ہوا اور اس نے پریس کانفرنس کی جس میں واضح طور پر اس نے کہا کہ یہ بیہودگی سے دوسروں کے کام میں حارج ہونے کے بارے میں عدل و انصاف غلط استعمال ہوا ہے اور جو سزا دی گئی ہے وہ ظالمانہ اور غیر انسانی ہے۔ میں معافی کی درخواست صدر صاحب کے پاس لے جانا چاہ رہا تھا اور انہوں نے اس سے اتفاق کرتے ہوئے کہا ہے۔ اگر واقعہ آسیہ بی بی سے نا انصافی ہوئی ہے تو وہ اس کو معاف کردیں گے۔
سوال نمبر 2: آپ کو کب توقع ہے کہ صدر صاحب اس کو معاف کرنے کا حکم جاری کردیں گے؟
جواب: کیس کی اپیل ہائی کورٹ میں سنی جائے گی اور اگر مضحکہ خیز وجوہات کی بنا پر ڈسٹرکٹ جج شیخوپورہ کے فیصلے کو قائم رکھا گیا تو آسیہ بی بی کو صدر صاحب کی طرف سے معافی مل جائے گی۔
سوال نمبر 3: غیر مناسب انداز میں عدالتی معاملے میں مداخلت کرنے پر آپ کو تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے۔
جواب: جی ہاں! خاص طور پر ٹیلیویژن کے ٹاک شو کی ایک میزبان نے تنقید کی، میں اس میزبان سے پوچھنا چاہوں گا۔ اگر کوئی مولوی اس پر توہین رسالت کا الزام لگا
عظمت رسالت و نبوت ﷺ
دے اور وہ ڈیڑھ سال قید میں گزارے پھر اس کو صدر کی طرف سے معافی مل جائے۔ کیا وہ کہے گی۔ جب تک میری اپیل سنی نہیں جاتی، تب تک انتظار کرو۔می ڈینڈی والا رویہ شاید دوسروں کے لیے اچھا ہو مگر میرا خیال نہیں کہ وہ میزبان اس کو اپنے آپ پر جاری کرے گی۔
میرا نہیں خیال کہ میں نے کوئی غلط نا مناسب کام کیا ہے۔ میں نے صرف یہی کیا ہے کہ دوسروں کی توجہ بھی اس کیس کی طرف ہو جائے اور میں نے اقلیتی کمیونٹی سے اپنی یکجہتی کا مظاہرہ کیا ہے جو اس قانون کا نشانہ بنائے جا رہے ہیں اور ایسے کرتے ہوئے میں نے دوسروں کو بھر پور پیغام دیا ہے۔
میں نے زندگی کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والوں کے پیغامات وصول کیے ہیں، نتیجہ صرف اچھا ہوگا۔ یہ وہ قانون ہے کہ جس کے بارے میں کوئی بولنے کی جرات نہیں کر سکتا تھا۔ اس پر اب بحث و تنقید ہو رہی ہے اور اس کو ختم کرنے کا مطالبہ کیا جارہا ہے۔
میں نے ٹیلیویژن کے اینکروں ، صحافیوں ، سول سوسائٹی کے ممبروں، غامدی ،عمران خان اور رانا ثناء اللہ کو کہتے سنا، اس قانون میں ترمیم کی ضرورت ہے۔ یاد رکھنے والی اہم بات یہ ہے کہ یہ قانون انسان کا بنایا ہوا ہے، اللہ کا بنایا ہوا نہیں۔ مجھے خصوصی طور پر جو بات پسند نہیں وہ یہ ہے کہ تم ترمیم کی بات کرو تو لوگ سمجھیں تم جرم کو معاف کرتے ہو۔ اگر میں سزائے موت کے خلاف ہوں، اس کا مطلب یہ نہیں کہ میں قتل سے صرف نظر کرتا ہوں۔
سوال نمبر 4: تعزیرات پاکستان میں توہین رسالت کے بارے میں جو دفعات ہیں۔ کیا ان کو ختم کرنے کی آپ وکالت کرتے ہیں؟
جواب: اگر تم میری ذاتی رائے جاننا چاہتی ہو تو وہ یہ ہے۔ میں اس قانون کو بالکل
عظمت رسالت و نبوت ﷺ
پسند نہیں کرتا۔ میں سمجھتا ہوں چونکہ ہم اتحادی حکومت میں مل کر کام کر رہے ہیں۔ اس لیے ہم اس صورت میں جو کر سکتے ہیں وہ یہ ہے کہ اس قانون میں ایسی ترمیم کر دی جائے کہ جس سے جھوٹا الزام لگانے والا بھی اسی قانون کے تحت گرفت میں آئے اور سزا پائے۔ اس سلسلہ میں چھان بین کا ایک مناسب بندوبست ہونا چاہیے۔ جس کے تحت ڈی سی او کے عہدے کے برابر والا افسر تصدیق کرے۔ یہ ایسا کیس ہے کہ جس کو سن کر فیصلہ کیا جائے۔ اس سے مولویوں اور مذہبی جوشیلے لوگوں کے دباؤ کی وجہ سے بے سہارا لوگوں کو انتقامی کارروائی سے بچانے میں مدد ملے گی۔ ان مولویوں میں سے ایک نے میرے خلاف احتجاج کرتے ہوئے کہا، انہوں نے توہین رسالت کے مقدمہ میں کسی کو چھوڑ دینے کی بنا پر جج عارف اقبال بھٹی کو مار دیا تھا۔ اس کو بھی یقینی طور پر قتل کرنے کے لیے ابھارنے پر اس پر مقدمہ قائم کیا جانا چاہیے۔
سوال نمبر 5: جی ہاں! ایسا ہی ہونا چاہیے مگر مرتکب ہونے والا بچ جاتا ہے۔
جواب: اس سلسلے میں اصل مشکل یہ ہے، حکومت مذہبی جوش کا مقابلہ کرنے کو تیار نہیں جس سے دنیا میں ہماری بدنامی ہوتی ہے۔
سوال نمبر 6: وفاقی وزیر قانون بابر اعوان نے کہا ہے۔ ان کے نزدیک قانون رسالت کو ختم کرنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ اس بارے آپ کیا کہتے ہیں؟
جواب: سیدھی سی بات یہ ہے کہ میں بابر اعوان سے متفق نہیں ہوں، پارٹی میں اکثریت کی یہ رائے نہیں۔ PPC میں ترمیم کرنے کے لیے بل اسمبلی میں جمع کرا دیا گیا ہے۔ میں پاگل دیوانوں کی بات نہیں کرتا مگر ملک کے زیادہ تر لوگ اعتدال پسند ہیں اور وہ اس قانون کو پسند نہیں کرتے اور انہوں نے اس کے خلاف احتجاج کیا ہے۔
سوال نمبر 7: پیپلز پارٹی کیا شیری رحمٰن کی کوشش کی حمایت کرے گی؟
جواب: صدر زرداری آزاد خیال اور جدت پسند آدمی ہیں۔ پیپلز پارٹی میں جن کو
عظمت رسالت و نبوت ﷺ
میں جانتا ہوں، زیادہ تر وہ آزاد خیال اور جدت پسند ہی ہیں۔ میرا خیال ہے، ایم کیو ایم، اے این پی اور مسلم لیگ کیو کے بھی زیادہ لوگوں کا یہی نقطہ نظر ہے۔ اگر تھوڑا سا دھکا آگے بڑھانے کے لیے مل جائے اور جنونی مولویوں کے پریشر کے سامنے جھکا نہ جائے تو بل آسانی سے پاس ہو جائے گا۔ میرے خیال میں تبدیلی کی خاطر نواز شریف بھی اخلاقی حوصلے کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنے حلقے کی مذہبی بنیاد پرستی سے دور ہو کر درمیان میں آجائے تو وہ بھی بہت ہی مثبت بات ہوگی۔ یہ ترمیم پارٹی کی بنیاد کی بجائے پارٹی کی لائن پر ہونی چاہیے۔ لہذا تم اپنے ضمیر کے مطابق ووٹ دو۔
سوال نمبر 8: لوگوں نے احتجاج تو آسیہ بی بی کی سزا کے لیے کیا ہے مگر فتوے آپ کے بارے جاری کیے ہیں؟
جواب: لوگوں نے تو فتوے بے نظیر اور ذوالفقار علی بھٹو کے بارے میں دیے، انہوں نے بسنت کے خلاف بھی فتوی دیا۔ یہ خود ساختہ مولویوں کا گروہ ہے، جن کی باتوں کو سنجیدگی سے کوئی نہیں لیتا۔ جو بات مجھے مضطرب کر رہی ہے، وہ یہ ہے کہ تم ان سینکڑوں آدمیوں کے مقدمات کا جائزہ لو جو اس قانون کے تحت قائم ہوئے۔ ان میں سے کتنے صاحب ثروت اور کاروباری تھے۔ یہ ایسا کیوں ہے کہ ہمیشہ ہی غریبوں اور بے سہارا کو ہی اس کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ جن میں سے پچاس فیصد عیسائی ہوتے ہیں جو ملک کی کل آبادی کا صرف دو فیصد ہیں۔ یہ نکتہ اس حقیقت کو واضح کرتا ہے کہ یہ قانون اقلیتی گروہ کو نشانہ بنانے کے لیے غلط استعمال کیا جاتا ہے۔
سوال نمبر 9: آپ کے خیال میں میڈیا نے اس معاملے کو کس طرح پیش کیا؟
جواب: میڈیا نے جس طرح اس کو پیش کیا، میں اس سے بہت ہی مطمئن اور متاثر ہوں۔ میڈیا کے نوے فیصد متعلقہ افراد اس قانون کے خلاف بولے۔ میں نے ٹاک شو دیکھے، اینکرز سے بات کی، کئی کالم اور آراء دیکھیں، خصوصی ایجنڈا رکھنے والوں کے علاوہ
عظمت رسالت و نبوت ﷺ
نہ صرف میڈیا کے ہر فرد بلکہ ٹاک شو میں مہمانوں نے توہین رسالت قانون کی مذمت کی۔ سب نے کہا اس میں ترمیم ہونی چاہیے، جو میری تحریک کا بہت ہی حوصلہ افزا نتیجہ ہے۔ میں نے ایک موقف اپنایا پھر اس پر ڈٹ گیا۔ بہت سے لوگ ساتھ مل گئے، اس سے ججوں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو ایسی قوت ملے گی کہ وہ کسی دباؤ کے سامنے جھکیں گے نہیں۔ میرا خیال ہے کہ اب کوئی پولیس والا کیس رجسٹر کرنے سے پہلے اور جج توہین رسالت کا کیس سنتے ہوئے فیصلہ دینے سے پہلے اچھی طرح تفتیش کریں گے اور دو مرتبہ ضرور سوچیں اور غور کریں گے۔
سوال نمبر 10: کمزوروں اور غیر محفوظ لوگوں پر تشدد و ظلم کرنے میں کس قسم کی بے جا اور غیر اخلاقی خوشی ہوتی ہے۔
جواب: بدقسمتی سے افسوسناک بات یہ ہے کہ یہاں کچھ لوگ ایسے ہیں جو مقابلہ کرنے کی سکت نہ رکھنے والوں کو نشانہ بنا کر اپنے آپ کو بڑا محسوس کرتے ہیں۔ اس کو غنڈہ گردی کہا جاتا ہے۔ میں اس غنڈہ گردی کا مقابلہ کرنے کے لیے شیخوپورہ جیل گیا۔ اس سے اوروں کو بھی حوصلہ ملا ہے۔ ایسے ہی اخلاقی موقف اختیار کیا جاتا ہے، دیانت داری کے ساتھ کہتے ہوئے میں خوش ہوں کہ جو حمایت مجھے عام لوگوں سے ملی ہے اس سے میرا دل بہت بڑھا ہے۔ جو لوگ بہت زیادہ مذہبی ہیں۔ وہ بھی اس ”کالے قانون“ کے خلاف بولے ہیں۔ مثال کے طور پر غامدی نے واضح طور پر کہا ہے کہ اس قانون کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں، اسلام تو کمزوروں، اقلیتوں اور غیر محفوظ لوگوں کی حفاظت کا تقاضا کرتا ہے۔
گورنر صاحب بہادر کا کردار اور اُن کا انجام
سب سے پہلی بات تو یہ ہے، ایک سزا یافتہ مجرم کی حمایت میں صوبے کے سربراہ کو
عظمت رسالت و نبوت ﷺ
جیل جا کر معافی کی یقین دہانی کرانا مناسب نہ تھا۔ اگر مجرم بے گناہ تھا اور اس پر قائم ہونے والا مقدمہ جھوٹا تھا تو اس کے کئی قانونی جائز اور مناسب طریقے تھے۔ لیکن گورنر کا یہ کردار یقینی طور پر عیسائیوں کی حمایت اور مسلمانوں کی مخالفت کا کھلا اعلان تھا، بلکہ جس عدالت نے یہ قانون بنایا اور جس اسمبلی نے اس کو منظور کیا اس کی واضح توہین تھی۔ اس کو Black Law (کالا قانون) کہنا اور اس کے بارے میں اپنی ناپسندیدگی کا اظہار کرنا، صوبے کے سربراہ کے لیے قطعی طور پر مناسب نہ تھا۔ اصل میں ان کی والدہ صاحبہ انگریز تھیں اور جس ماحول میں انہوں نے پرورش پائی، تعلیم حاصل کی اور زندگی گزاری۔ اس میں اسلامی اقدار کی کوئی جھلک دکھائی نہیں دیتی۔ انہوں نے جو کچھ اپنے انٹرویو میں کہا، اس سے ان کی سوچ اور عقائد کی وضاحت ہو جاتی ہے۔ چونکہ وہ اپنے رب کے پاس پہنچ چکے ہیں۔ لہٰذا زیادہ گہرائی میں جانے کی ضرورت نہیں۔ مگر 295-c جس کو گورنر صاحب نے مذاقاً کالا قانون کہا اور جس کے خلاف بھر پور تحریک چلائی، اپنے جیسوں کو بحث و تنقید کرنے اور اس کو ختم کرانے کے لیے ابھارا یا اس میں ترمیم کرانے کی کوشش کی واضح طور پر دینی تعلیم سے عداوت و بغاوت کا کھلا اظہار تھا اور وہی ان کی موت کا سبب بنا۔
ملک ممتاز قادری کا اپنا بیان ہے:
’’گورنر پنجاب نے قانون توہین رسالت کو ’کالا قانون‘ قرار دیا تھا، اس لیے گستاخ رسول کی سزا موت ہے، سلمان تاثیر گستاخ رسول تھا، اس نے چونکہ قانون توہین رسالت کے تحت عدالت سے سزا پانے والی ملعونہ آسیہ مسیح کو بچانے کا عندیہ دے کر خود کو گستاخ رسول ثابت کر دیا تھا، اس پر میں نے اپنا فرض پورا کر دیا۔‘‘
اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں فرماتے ہیں:
’’اور اگر اللہ لوگوں میں بعض سے بعض کو دفع نہ کرے تو ضرور زمین پر فساد پیدا ہو جائے، مگر اللہ سب جہانوں پر فضل کرنے والا ہے۔‘‘
(البقرہ:۲۵۱)
عظمت رسالت و نبوت ﷺ
ماہنامہ ”محدث“ کے مضمون نگار کا کہنا ہے: اسی روز تمام مکاتب فکر کے 500 سے زائد جید علمائے کرام نے یہ فیصلہ کیا کہ توہین رسالت کے جرم میں سزا یافتہ ملعونہ آسیہ مسیح کی حمایت کرنے اور قانون توہین رسالت کو ’کالا قانون‘ کہنے کے باعث سلمان تاثیر کی نہ نماز جنازہ پڑھی جائے اور نہ ہی اس کا افسوس کیا جائے۔ کمشنر لاہور خسرو پرویز نے رات گئے بادشاہی مسجد کے خطیب عبدالخبیر آزاد کو فون کیا اور کہا کہ آپ نے کل ایک بجے سلمان تاثیر کی نماز جنازہ پڑھانا ہے۔ مولانا عبدالخبیر آزاد کو حالات کی سنگینی کا احساس تھا۔ انہوں نے کمشنر لاہور سے معذرت کرتے ہوئے کہا کہ وہ شہر سے باہر ہیں اور کل تک واپسی ناممکن ہے۔ لہٰذا ان کے لیے نماز جنازہ پڑھانا ممکن نہیں ہے۔ بعدازاں اعلیٰ انتظامیہ نے داتا دربار مسجد کے خطیب مولانا محمد رمضان سیالوی سے رابطہ کیا تو انہوں نے اپنی بیماری کا کہہ کر جنازہ پڑھانے سے معذرت کر لی۔ اس کے بعد گورنر ہاؤس کی مسجد کے خطیب قاری محمد اسماعیل سے رابطہ کیا اور انہیں دھمکی آمیز لہجے میں سلمان تاثیر کی نماز جنازہ پڑھانے کا حکم دیا۔ جناب قاری محمد اسماعیل نے نماز جنازہ پڑھانے سے صاف انکار کرتے ہوئے کہا کہ اگر آپ مجھے ملازمت سے برخاست کرنا چاہیں تو میں اس کے لیے ذہنی طور پر تیار ہوں، مگر میں گستاخ رسول سلمان تاثیر کا جنازہ نہیں پڑھا سکتا۔ چاروں طرف سے انکار کے بعد اعلیٰ انتظامیہ کی طرف سے نماز جنازہ کے لیے محکمہ اوقاف کے متعدد سرکاری علماء کرام سے رابطے کیے گئے مگر کسی نے حامی نہ بھری بلکہ اکثریت نے اپنے موبائل فون بند کر لیے:
وہ جو کہتا تھا کہ میری سب سے شناسائی ہے!
اس صورت حال پر پیپلز پارٹی کی اعلیٰ قیادت بے حد پریشان ہوئی۔ لہٰذا انہوں نے فوری طور پر اپنی جماعت سے وابستہ ایک آزاد خیال مولوی افضل چشتی کو جنازے کے
عظمت رسالت و نبوت ﷺ
لیے بلایا۔ جنازے کے لیے ایک بجے دوپہر کا وقت مقرر کیا گیا تھا، لیکن جیالوں کی ہڑ بازی، بد نظمی اور مست قلندری کی وجہ سے صفیں ترتیب دینے میں دقت ہو رہی تھی۔ حکومت اور پیپلز پارٹی کے اعلیٰ عہدیدار وقفے وقفے سے جنازہ میں آ رہے تھے تاکہ وہ ٹی وی چینلوں پر دکھائی دے سکیں۔ وزیراعظم پاکستان سید یوسف رضا گیلانی تقریباً ڈیڑھ بجے کے قریب جنازہ میں شرکت کے لیے آئے تو جیالے اپنی موجودگی کا احساس دلانے کے لیے ان پر مکھیوں کی طرح اُمڈ پڑے جس سے وہاں شدید بد نظمی پیدا ہوئی۔ ان سب چیزوں سے بے نیاز ایک کونے میں وفاقی وزیر قانون ڈاکٹر بابر اعوان گورنر پنجاب بننے کی افواہ پر پیپلز پارٹی کے کارکنان سے بڑی گرمجوشی سے ہاتھ ملا رہے تھے۔ سپیکر پنجاب اسمبلی رانا محمد اقبال جنازے کے لیے جب گورنر ہاؤس پہنچے تو پیپلز پارٹی کے کارکنان نے نواز شریف کے خلاف شدید نعرے بازی شروع کر دی۔ اس پر وہ وزیراعلیٰ سندھ قائم علی شاہ کے کہنے پر وہاں سے واپس چلے گئے۔ وفاقی وزیر اطلاعات قمر الزمان کائرہ، سینئر صوبائی وزیر راجہ ریاض احمد، پیپلز پارٹی پنجاب کے صدر امتیاز صفدر وڑائچ ہنس ہنس کر کارکنان سے مل رہے تھے، جس سے ظاہر ہو رہا تھا کہ انہیں سلمان تاثیر کی موت کا کوئی دکھ نہیں ہوا بلکہ وہ اس کی آڑ میں مخصوص سیاسی مقاصد حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ اسی اثنا میں تقریباً ایک بج کر 52 منٹ پر سپیکر سے اچانک ”اللہ اکبر“ کی آواز سنائی، جو جہاں کھڑا تھا، جس حالت میں تھا، فوراً ناف پر ہاتھ باندھ لیے۔ پانچ سیکنڈ بعد دوسری تکبیر اللہ اکبر ہوئی، پھر چھ سیکنڈ بعد تیسری تکبیر اللہ اکبر اور پانچ سیکنڈ بعد چوتھی اللہ اکبر کے بعد السلام علیکم ورحمۃ اللہ کہہ دیا گیا۔ یعنی 15, 20 سیکنڈ میں نمازِ جنازہ پڑھا دیا گیا۔ یہ دنیا کا واحد جنازہ تھا کہ جس کے امام کا کچھ پتہ نہ تھا کہ وہ کہاں کھڑا ہے؟ دلچسپ بات یہ ہے کہ امام کے آگے بھی تین صفیں تھیں۔ اس نان سٹاپ جنازہ کے بعد افضل چشتی نے دعا مانگی اور کہا: یا اللہ ! مرحوم کو حضور نبی کریم ﷺ کی شفاعت نصیب فرما! حیرانگی ہے کہ اس کے
عظمت رسالت و نبوت ﷺ
لیے اس رسول معظم ﷺ کی شفاعت طلب کی جا رہی تھی کہ جن کی عزت و ناموس کے تحفظ کے لیے بنائے گئے قانون کو سلمان تاثیر، امتیازی قانون، غیر انسانی قانون اور کالا قانون، کہتے رہے۔ اس جنازہ کی خاص بات یہ ہے کہ ایم کیو ایم اور اے این پی اور ایسی سیکولر جماعتوں کے علاوہ کسی بھی دینی، سیاسی جماعت کے کسی معمولی سے عہدیدار نے بھی شرکت نہیں کی۔ یہاں تک کہ گورنر ہاؤس میں ملازمت کرنے والا کوئی بھی شخص جنازے میں شامل نہیں ہوا۔ عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ سلمان تاثیر کے تابوت سے اس قدر بدبو آ رہی تھی کہ اس کے قریب کھڑا ہونا محال تھا۔ لہٰذا گورنر ہاؤس کی انتظامیہ نے فوری طور پر تابوت پر خالص عرق گلاب اور مختلف قیمتی پرفیومز کا سپرے کیا، لیکن اس سے کوئی خاص فرق نہ پڑا۔
بعد ازاں ہیلی کاپٹر کے ذریعے تابوت کیولری گراؤنڈ کے فوجی قبرستان میں لایا گیا، جہاں فوج اور رینجرز کی کڑی نگرانی میں سرکاری اعزاز کے ساتھ رسیوں کی مدد سے اُسے زمین میں اتارا گیا۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر گورنر سلمان تاثیر عوامی آدمی تھے اور اُنہوں نے گورنر ہاؤس کے دروازے عام لوگوں کے لیے بھی کھول دیے تھے تو انہیں کسی عوامی قبرستان (میانی قبرستان وغیرہ) میں دفن کرنا چاہیے تھا۔ کیولری قبرستان میں جانے کا عام آدمی سوچ بھی نہیں سکتا۔ معلوم ہوتا ہے کہ عوامی ردّعمل کے پیش نظر انہیں کسی ایسے قبرستان میں دفن نہیں کیا گیا، جہاں عوام الناس کا داخلہ ہر وقت عام ہو۔ یاد رہے کہ جنرل یحییٰ خان کو بھی پورے سرکاری اعزازات کے ساتھ دفن کیا گیا تھا، جس نے پاکستان کو دو لخت کرنے میں اہم کردار ادا کیا تھا۔ باقی اس کے کردار کے بارے میں ہر شخص بخوبی جانتا ہے۔
ذرائع ابلاغ کی ایک خصوصی رپورٹ کے مطابق پاکستان بھر کی عیسائی اور قادیانی کمیونٹی نے مقتول گورنر سلمان تاثیر کو اپنا ہیرو قرار دیتے ہوئے پورے ملک کے سینکڑوں
عظمت رسالت و نبوت ﷺ
گرجا گھروں اور قادیانی عبادت گاہوں میں ان کے لیے پندرہ روز تک دعاؤں کو عبادت کا حصہ بنائے رکھا۔ گورنر کے لیے قادیانی جماعت کی طرف سے ایک بڑا ایوارڈ دینے کا اعلان متوقع ہے جسے گورنر سلمان تاثیر کے صاحبزادے شہر یار لندن میں قادیانی جماعت کے سربراہ مرزا مسرور احمد سے وصول کریں گے۔
جنازہ کے موقع پر کئی جیالے سگریٹ نوشی کر رہے تھے۔ ایک بزرگ کے منع کرنے پر ان کا کہنا تھا کہ وہ سلمان تاثیر کی موت کا غم بھلانے کے لیے ایسا کر رہے ہیں۔ اس موقع پر پیپلز پارٹی کے اکثر کارکنان سلمان تاثیر کو ’شہید‘ قرار دے کر نعرے بازی کر رہے تھے۔ افسوس! اسلامی تعلیمات سے نابلد ان کارکنوں کو ذرا سا بھی احساس نہیں کہ شہید کسے کہتے ہیں یا شہادت کے عظیم رتبے پر کون کیسے فائز ہوتا ہے؟
حال ہی میں وفاقی کابینہ کے ایک اہم اجلاس میں جب وزیر داخلہ رحمن ملک کو تلاوت قرآن مجید کے لیے کہا گیا تو انہوں نے کوٹ کی جیب سے ایک کاغذ نکالا اور سورۃ اخلاص پڑھنا شروع کی اور اُس میں عجیب وغریب الفاظ غلط ملط کر دیے۔ وزیر داخلہ کی بدحواسی پر وزیر اعظم سمیت سب وزرا نے فلک شگاف قہقہے لگائے۔ رحمن ملک نے دوبارہ تلاوت شروع کی تو وہ پھر غلط پڑھ گئے، اس پر کابینہ کے تمام ارکان نے دوبارہ قہقہے لگانا شروع کر دیے۔ یاد رہے کہ سورۃ اخلاص قرآن مجید کی چھوٹی لیکن نہایت اہم سورت ہے جو ہر چھوٹے بڑے مسلمان کو از بر ہوتی ہے۔ افسوس اس بات پر ہے کہ رحمن ملک کی اس غلطی پر چاہیے تو تھا کہ کوئی دوسرا رکن تلاوت کر دیتا مگر اس واقعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ اس حمام میں سب ننگے ہیں۔ یہ دلچسپ ویڈیو انٹرنیٹ پر موجود ہے۔ سلمان تاثیر کس قبیل کے آدمی تھے، ان کے شب و روز کس طرح گزرتے تھے؟ اس کی مکمل تفصیل بھی انٹرنیٹ پر موجود ہے۔ آپ گوگل (Google) پر سلمان تاثیر لکھ کر سرچ کروائیں، وہاں آپ کو ایسی رنگین و سنگین تصاویر اور اندرونی داستانیں ملیں گی جس کو دیکھنے سے آپ کے ہوش اُڑ
عظمت رسالت و نبوت ﷺ
جائیں گے۔
اہم بات یہ ہے کہ سلمان تاثیر کے صاحبزادے آتِش تاثیر نے اپنی کتاب (Stranger to History) میں اپنے والد پر جو سنگین الزامات عائد کیے ہیں، وہ ہر شخص کی آنکھیں کھول دینے کے لیے کافی ہیں۔ یاد رہے کہ گورنر سلمان تاثیر نے معروف بھارتی صحافی تولین سنگھ (جو سکھ مذہب سے تعلق رکھتی ہے) سے دوسری شادی کی تھی۔ جس سے ان کا بیٹا آتِش تاثیر پیدا ہوا۔ علمائے کرام نے جب اس شادی کی شرعی حیثیت پر اعتراض کیا تو سلمان تاثیر نے علمائے کرام کو جاہل، اُجڈ اور غیر تعلیم یافتہ قرار دیا۔ معروف ترقی پسند اور روشن خیال بھارتی صحافی خشونت سنگھ نے گورنر سلمان تاثیر کی نجی زندگی کے بارے میں جو انکشافات کیے ہیں، اُسے پڑھ کر آدمی حیرت کے سمندر میں گم ہو جاتا ہے۔ یہی حال شیری رحمٰن اور پرویز مشرف کے گرم مصالحوں کا ہے۔ انٹرنیٹ پر ان سب کی تصاویر کو ملاحظہ کریں اور خود سوچیں کس قماش کے لوگ ہمارے حکمران ہیں جو قانون توہین رسالت کو ختم کرنے کی مذموم کوشش میں مصروف ہیں۔
10 جنوری 2011ء کو سلمان تاثیر کی بیٹی شہر بانو تاثیر نے ناموس رسالت قانون کے مسئلہ پر اپنے والد کے موقف کی تائید کرتے ہوئے اس عزم کا اظہار کیا کہ ان کے والد نے قانون توہین رسالت کو ختم کرنے کے بارے میں جو سوچا تھا، وہ اب ضرور شرمندہ تعبیر ہوگا۔ اُس نے مزید کہا کہ ان کے والد آئین کی اس شق کے بھی زبردست مخالف تھے جس میں قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا گیا ہے۔ اس قبیل سے تعلق رکھنے والے بعض ناعاقبت اندیش نام نہاد دانشور آج کل حکومتی ایما پر مختلف ٹی وی چینلوں پر سلمان تاثیر کا دفاع کرتے نظر آ رہے ہیں۔ چند ٹکوں کی خاطر ناموس رسالت کی مخالفت کا سودا کرنے والے ہمیشہ خسارے میں رہتے ہیں:
عظمت رسالت و نبوت ﷺ
وفاقی شرعی عدالت کا فیصلہ اور اسمبلی کی قانون سازی
دین اسلام سے محبت رکھنے والے اور اس کے دفاع میں ہمیشہ کوشاں رہنے والے ایڈووکیٹ اسمعیل قریشی نے 1984ء میں وفاقی شرعی عدالت میں ایک رٹ پٹیشن دائر کی، جس میں دل آزاری والے سابقہ قوانین کو ناکافی قرار دینے اور توہین رسالت کے جرم کی سزا کے تعین کا مطالبہ کیا گیا تھا۔
17 مئی 1986ء کو اسلام آباد کے ہوٹل میں آزاد اور روشن خیالوں کے اجتماع میں اسلامی اقدار کی مخالفت میں سرگرم رہنے والی ایک وکیل خاتون نے رسول اللہ ﷺ کی شان میں توہین آمیز الفاظ اپنی تقریر میں کہے، جس کے ردعمل میں اسمبلی کی دیندار خاتون ممبر آپا نثار فاطمہ نے ایسے لوگوں کو انتہائی قبیح و شنیع گفتگو سے روکنے اور توہین رسالت کے مرتکب ہونے والوں کے سدباب کے لیے اسمبلی میں اس جرم کی سزا موت مقرر کرنے کا قانون پاس کرنے کا بل پیش کر دیا۔ جو 295 سی کی صورت میں قانون کا حصہ بن گیا۔ لیکن اس میں صرف سزائے موت رکھنے کی بجائے، قید یا جرمانہ کا بھی اضافہ کر دیا گیا۔ (فوجداری ترمیمی ایکٹ نمبر 3) چونکہ اسمبلی سے پاس ہونے والا بل کلی طور پر اسلامی قانون کے مطابق نہ تھا۔ لہٰذا وفاقی شرعی عدالت میں سزائے موت کے علاوہ قید یا جرمانے کی سزا کی استدعا باقی رہی۔ جس کے نتیجہ میں اکتوبر 1990ء میں فاضل عدالت نے حکومت پاکستان کو دفعہ 295 سی سے عمر قید اور جرمانے کو حذف کرنے کی سفارش کر دی اور ساتھ ہی یہ واضح کر دیا۔ اگر 30 اپریل 1991ء تک مجوزہ تبدیلی نہ کی گئی تو یہ الفاظ خود بخود حذف ہو جائیں گے۔
فاضل عدالت کے فیصلے کرنے والے جج صاحبان کے نام حسب ذیل تھے:
- 1- چیف جسٹس گل محمد خان سابق جج لاہور ہائی کورٹ
عظمت رسالت و نبوت ﷺ
- 2- جسٹس عبدالکریم خان کنڈی سابق جج پشاور ہائی کورٹ
- 3- جسٹس عبدالرزاق سابق جج کراچی ہائی کورٹ
- 4- جسٹس عبادت یار خان سابق جج کراچی ہائی کورٹ
- 5- جسٹس ڈاکٹر فدا محمد خان پی ایچ ڈی اسلامی قانون
قابل غور یہ بات ہے کہ ان جج حضرات میں ایک بھی Lunatic پاگل دیوانہ مولوی نہ تھا، چار جج صاحبان کا تو ہائی کورٹ سے تعلق تھا اور پانچویں جج صاحب پی ایچ ڈی تھے۔ گورنر صاحب نے اپنے انٹرویو میں غامدی صاحب کے علاوہ باقی سب توہین رسالت قانون کی حمایت کرنے والوں کے لیے یہی لفظ استعمال کیا تھا۔ آزاد اور روشن خیال خواتین و حضرات علماء کرام کو Lunatic ہی سمجھتے ہیں، چاہے وہ ان سے زیادہ پڑھے لکھے ہوں اور اسلامی و غیر اسلامی قوانین کے بارے میں ان کا مطالعہ وسیع ہو۔ چونکہ ان کے سروں پر طاغوتی طاقتوں کے پیار و محبت اور ان کی شفقت کا ہاتھ ہوتا ہے، لہٰذا ان کے اندر اپنے آپ کو دوسروں سے ارفع و اعلیٰ سمجھنے کا رجحان ہوتا ہے۔
محترم جناب محمد اسمعیل قریشی کا نوائے وقت: 22 نومبر 2010ء میں ”قانون توہین رسالت کے نئے معنی و مفہوم“ کے عنوان سے جو مضمون شائع ہوا۔ اس میں انہوں نے PLD 1991 FSC 10 کے حوالے سے لکھا ہے۔ راقم کی پٹیشن فیڈرل شریعت کورٹ نے منظور کر لی تھی اور توہین رسالت کو ناقابل معافی جرم قرار دیتے ہوئے اس کی سزا قرآن وسنت کی رو سے سزائے موت مقرر کر دی تھی۔ اس فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل داخل کر دی گئی۔ جب اس اپیل کی اس وقت کے وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف کو اطلاع ملی تو انہوں نے قوم سے خطاب کرتے ہوئے کہا: قانون توہین رسالت کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل کسی اہل کار کی شرارت معلوم ہوتی ہے۔ اگر توہین رسالت کی سزا موت سے بھی زیادہ سنگین ہوتی تو اس پر بھی عمل درآمد کیا
عظمت رسالت و نبوت ﷺ
جاتا۔ میاں صاحب نے فوری طور پر سرکاری وکیل کو حکم دیا کہ توہین رسالت کے مقدمہ کے فیصلہ سزائے موت کے خلاف اپیل واپس لی جائے۔ جس کو بوجہ دستبرداری سپریم کورٹ نے خارج کر دیا۔
جبکہ رسالہ ”محدث“ جنوری 2011ء کے مطابق 2 جون 2010ء کو قومی اسمبلی میں یہ قانون زیر بحث آیا اور اسمبلی نے عمر قید کی سزا کے خاتمے کو منظور کر دیا۔ 8 جولائی 1992ء کو پاکستان کی سینٹ نے بھی اس بل کو اتفاق رائے سے منظور کر لیا تھا۔
توہین رسالت کے قانون کو مذکورہ حقائق کی روشنی میں دیکھا جائے تو واضح ہو جاتا ہے کہ جو کچھ گورنر صاحب نے اس قانون کے متعلق کہا وہ یقیناً مناسب و معقول نہ تھا۔ بلکہ کھلی عیسائیوں کی حمایت کا جذبہ و اعلان تھا۔ ان کا یہ کہنا بھی درست نہیں تھا کہ یہ قانون کمزور اور غیر محفوظ غریب عیسائیوں کو نشانہ بنانے کے لیے بنایا گیا ہے۔ پہلے ہی عرض کیا جا چکا ہے کہ اس قانون کے تحت 2009ء تک 986 مقدمے بنے، جن میں سے صرف 119 عیسائی تھے۔ یہ الزام اس لیے بھی غلط ہے کہ تعزیرات پاکستان میں عیسائیوں اور مسلمانوں کے درمیان کوئی فرق نہیں رکھا گیا ہے۔ اس قانون کی زد میں وہ مسلمان بھی آتا ہے جو حضرت عیسیٰ اور حضرت موسیٰ علیہما السلام یا کسی اور نبی برحق کی توہین کا مرتکب ہوتا ہے۔
گورنر صاحب نے آسیہ بی بی کے خلاف مقدمہ کو Bully یعنی ڈرانے دھمکانے اور غنڈہ گردی کرنے سے تعبیر کر کے مقدمہ درج کرنے والے پولیس افسر اور فیصلہ سنانے والے جج کی بھی بے عزتی کی تھی، البتہ گورنر صاحب کی ایک بات بالکل درست ہے کہ یہ مقدمہ صاحب ثروت اور کاروباری حضرات پر نہیں بنتا کیونکہ پاکستان میں ہر قانون چھوٹے لوگوں کے لیے ہی بنا ہوا ہے۔ سپریم کورٹ سے اکثر یہ اعلان ہوتا ہے۔ بڑے لوگوں پر ہاتھ کیوں نہیں ڈالا جاتا۔ ملک کو فروخت کر دیا گیا، کرپٹ امراء کا محاسبہ نہیں ہوتا
عظمت رسالت و نبوت ﷺ
اور قوم کی بد حالی پر بڑے لوگوں کو رحم و ترس نہیں آتا۔ سوچنے اور دیکھنے والی بات ہے، آزاد اور روشن خیالوں میں کتنے کمزور اور غریب ہیں اور غریبوں کا کتنا خیال رکھتے ہیں۔ این جی او کے ناموں سے بنائے ہوئے اداروں کا حساب قوم کے سامنے کیوں نہیں رکھتے؟
گورنر صاحب تو اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں اپنا حساب دینے کے لیے پہنچ گئے۔ آزاد اور روشن خیال خواتین وحضرات کو بھی اپنی قبر یاد رکھنے کی ضرورت ہے کیونکہ ہر شخص کا آخری ٹھکانا وہی ہے۔
گورنر صاحب کو معلوم ہونا چاہیے تھا کہ توہین رسالت انسانوں کا نہیں بلکہ اللہ کا بنایا ہوا ہے۔ اس کو بنیاد بنا کر وفاقی شرعی عدالت اور اسمبلی نے فیصلہ دیا تھا۔ حکومت کا یہ فرض ہے کہ جو لوگ اس قانون کی مخالفت کرتے ہیں ان کا محاسبہ کرے، غیروں کی اطاعت کرنے کی بجائے رب العالمین کی اطاعت کر کے دنیا اور آخرت کی نعمتوں سے مالا مال ہو جائے۔
گورنر صاحب نے پریس کانفرنس کے ذریعے یورپی ممالک کو یہ پیغام بھی دیا کہ حکومت آسیہ مسیح کو سزا دینے کے حق میں نہیں ہے اور حکومت ایسے تمام قوانین کو بھی ختم کر دے گی جو اقلیتوں کی ’آزادی اظہار‘ کی راہ میں رکاوٹ ہیں۔ معتبر ذرائع کے مطابق گورنر پنجاب سلمان تاثیر نے ایڈیشنل سیشن جج جناب محمد نوید اقبال، جنہوں نے شانِ رسالت میں گستاخی کا جرم ثابت ہونے پر آسیہ مسیح کو سزائے موت سنائی تھی، کو ٹیلی فون کیا اور نہایت غلیظ زبان استعمال کی۔ اس کے بعد وہ آئے روز مختلف ٹی وی چینلز پر برملا کہتے رہے کہ قانون توہین رسالت ضیاء الحق کے دور میں انسانوں کا بنایا ہوا ’کالا قانون‘ ہے، اس کے ردعمل میں دی یونیورسٹی آف فیصل آباد سے ٹیکسٹائل انجینئرنگ میں تیسری پوزیشن حاصل کرنے والے، نیک بخت طالب علم صاحبزادہ عطاء الرسول مہاروی نے
عظمت رسالت و نبوت ﷺ
16 نومبر 2009ء کو یونیورسٹی کے سالانہ کانووکیشن میں مہمان خصوصی گورنر پنجاب سلمان تاثیر سے احتجاجاً براؤنز میڈل وصول کرنے سے انکار کیا اور حقارت سے کہا کہ آپ نہ صرف گستاخان رسول کی سرپرستی کرتے ہیں، بلکہ توہین رسالت ایکٹ 295 سی کو ظالمانہ اور ختم کرنے کے بیانات بھی جاری کرتے ہیں۔ اس طرح آپ بذات خود توہین رسالت کے مرتکب ہوئے ہیں، لہٰذا آپ سے میڈل وصول کرنا میں گناہ سمجھتا ہوں۔
30 نومبر 2010ء کو ملک کے جید علمائے کرام نے قانون توہین رسالت کو 'کالا قانون' کہنے اور ملعونہ آسیہ مسیح کی بے جا حمایت و سرپرستی کرنے پر سلمان تاثیر کو دائرہ اسلام سے خارج قرار دیا۔ اسی دن پیپلز پارٹی کی رکن قومی اسمبلی و سابق وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات شیری رحمن نے قانون توہین رسالت کو ختم کرنے کا بل اسمبلی سیکرٹریٹ میں جمع کرایا۔ اسی سے اگلے روز صدر پاکستان آصف علی زرداری نے وفاقی وزیر اقلیتی امور شہباز بھٹی مسیح کی سربراہی میں اراکین اسمبلی پر مشتمل 9 رکنی کمیٹی تشکیل دی جس نے قانون توہین رسالت کو ختم کرنے کے حوالے سے ایک ماہ کے اندر حکومت کو اپنی سفارشات پیش کرنی تھی۔
4 جنوری 2011ء کو گورنر سلمان تاثیر کو ان کے سرکاری محافظ غازی ملک ممتاز حسین قادری نے فائرنگ کر کے قتل کر دیا۔ واقعات کے مطابق گورنر پنجاب، اسلام آباد کے سیکٹر ایف سکس ٹو کی کوہسار مارکیٹ میں واقع ایک مہنگے ریسٹورنٹ میں اپنے کاروباری دوست شیخ وقاص کے ساتھ کھانا کھا کر واپس اپنی گاڑی کی طرف آ رہے تھے کہ ان کے سرکاری محافظ گن مین غازی ملک ممتاز حسین قادری نے ان پر گولیوں کی بوچھاڑ کر دی جس پر وہ شدید زخمی ہو گئے۔ انہیں فوری طور پر پولیس کی گاڑی میں ڈال کر پولی کلینک لے جایا گیا، لیکن وہ راستے ہی میں دم توڑ گئے۔ غازی ملک ممتاز حسین قادری نے موقع پر خود کو پولیس کے حوالے کر دیا۔ گرفتاری کے وقت وہ حیران کن حد تک نہایت پرسکون
عظمت رسالت و نبوت ﷺ
اور مطمئن نظر آ رہا تھا۔
ملک ممتاز قادری کا فیصلہ
غور طلب معاملہ یہ ہے کہ پولیس کے نوجوان سپاہی نے پنجاب کے گورنر کو مارنے کا فیصلہ کیا اس کے محرکات کیا تھے۔ اس نے قانون کو اپنے ہاتھ میں لیتے ہوئے جس کی محافظت پر مامور تھا اسی کو 26 گولیوں کا نشانہ بنا دیا اور ایسا کرنے کا فیصلہ اس نے تین دن پہلے کر لیا تھا، یہ فیصلہ کرتے ہوئے اس کو اس کا بھی علم تھا کہ اس میں وہ خود بھی مارا جا سکتا ہے۔ اگر موقع پر موت سے بچ گیا تو بھی موت کی آغوش ہی میں اس کا ٹھکانا ہوگا۔ 25 سالہ نوجوان گھریلو ذمہ داریوں سے بے نیاز ہو کر اتنا بڑا قدم اٹھانے پر تیار ہو گیا۔ آخر وہ کونسی قوت تھی جو اس کو ایسا کرنے پر ابھار رہی تھی اور ہر قسم کے خوف و خطرہ کو اس کے دل و دماغ کے قریب آنے میں بھی رکاوٹ بنی ہوئی تھی۔ وہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی محبت تھی۔ نبوت و رسالت کی توہین ہوتے دیکھ کر اپنے آپ کو قابو میں رکھنا اس کے لیے مشکل ہو رہا تھا۔ اس کے تصورات پر رسول اللہ ﷺ کے صحابہؓ جیسا جذبہ غلبہ پا رہا تھا۔ نابینا صحابیؓ والا واقعہ بار بار اس کے ذہن میں ابھر رہا تھا۔ جس نے اپنی اس لونڈی کی زبان ہمیشہ کے لیے بند کر دی جو اس کے دو بیٹوں کی ماں ہونے کے باوجود رسول اللہ ﷺ کی شان میں زبان درازی کرتی تھی۔ اس صحابی کو بھی معلوم تھا کہ اسلامی قانون کے مطابق ناحق قتل کی سزا قصاص میں قتل کیا جانا یا دیت کی ادائیگی ہے۔ اس کے باوجود صحابیؓ کی غیرت نے زبان درازی کرنے والی لونڈی کو قتل کرنے پر مجبور کر دیا۔ اللہ کے رسول ﷺ نے لونڈی کو قتل کیے جانے کی جب وجہ سنی تو آپ نے نبوت و رسالت کی عظمت کے لیے غیرت مند صحابی کے اٹھائے گئے قدم کو حق قرار دیتے ہوئے ان کو بری کر دیا۔
عظمت رسالت و نبوت ﷺ
ملک ممتاز قادری نے یہ بھی دیکھ لیا تھا کہ لاکھوں انسانوں کے جلسے جلوسوں اور زبردست احتجاج کے باوجود آزاد فیشن ایبل طبقہ کی صحت پر کوئی اثر نہیں ہو رہا ہے، بلکہ تکرار سے نبوت و رسالت والے قانون کے خاتمے اور عیسائیوں کے خوش کرنے کی کوشش میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ تو اس کے ذہن میں گورنر کو قتل کرنے کا منصوبہ اٹل فیصلہ کی صورت اختیار کر گیا۔ لہٰذا اس کو جیسے ہی اپنے منصوبے کو عملی جامہ پہنانے کا موقع ملا تو اس نے ایک دم 26 گولیاں گورنر صاحب پر داغ دیں۔
عجیب بات یہ ہے کہ اس نے اپنے فیصلے کو نافذ کر کے فوراً اپنی رائفل پھینک کر ہاتھ اوپر اٹھا لیے اور کسی مزاحمت کے بغیر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے اپنے آپ کو قانون کے حوالے کر دیا۔ حالانکہ موقع پر ہی اس کو مارا جا سکتا تھا لیکن اس سے بہت سے الجھاؤ پیدا ہو سکتے تھے۔ اس سے بچاتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے اس کو یہ عزت عطا فرمائی کہ اس کو اس کی زندگی ہی میں بتا دیا کہ تیرا یہ فعل عنداللہ مقبول ہے۔ جب پاکستان کی اکثریت نے خوشی کا اظہار کیا۔ ملک کے بے شمار وکلاء نے اس کا کیس لڑنے کا اعلان کر دیا۔ بہت سی دینی تنظیمیں اس کی حمایت میں میدان میں آگئیں اور علمائے حق نے گورنر صاحب بہادر کا جنازہ پڑھانے سے انکار کر دیا۔ اس نے اپنے عمل کے ذریعہ یہ اہم پیغام بھی حکمرانوں کو دے دیا۔ اگر قانون توہین رسالت کے مطابق عمل نہ ہوا تو اس پر ایمان و یقین رکھنے والے اس کو خود ہی نافذ کر دیں گے۔
روشن خیال اور آزاد طبقے کا اعتراض اور اس کا جواب
ملک ممتاز قادری کے عمل پر آزاد روشن خیال خواتین و حضرات کا اعتراض ہے کہ اس نے قانون کو اپنے ہاتھ میں کیوں لیا۔ اس کو گورنر صاحب کے قول و فعل پر اعتراض تھا تو اس کو قانون کا دروازہ کھٹکھٹانا چاہیے تھا۔ اگر ہر شخص اپنے مخالف کو یونہی قتل کرتا رہا تو پھر
عظمت رسالت و نبوت ﷺ
ملک میں فساد پھیل جائے گا۔ امن وامان کا سلسلہ تباہ و برباد ہو جائے گا۔
بات تو بڑی معقول ہے، اس میں کسی کو اختلاف نہیں ہوسکتا کہ قانون کے ہوتے ہوئے عدالتوں میں جاکر اپنا حق تسلیم کرانا چاہیے۔ قانون اسی لیے ہوتا ہے کہ مظلوم کو ظالم کے ظلم سے بچایا جائے اور حقدار کو اس کا حق دلوایا جائے۔ مگر یہاں معاملہ کچھ اور ہے۔
وہ قانون جو کروڑوں مسلمانوں کے مطالبہ پر پاکستان میں نافذ ہونے والے مجموعہ تعزیرات کا حصہ اعلیٰ عدالت، اسمبلی اور سینٹ کے حکم پر بنا، اس کی تنسیخ یا ترمیم کے لیے حکمران خود ہی متحرک ہو جائیں اور روشن خیال خواتین و حضرات کو میدان میں لے آئیں تو پھر کوئی گورنر کے خلاف عدالت میں کیسے جاسکتا ہے۔ جائے بھی تو وہاں سے کیا پائے گا، ان خواتین و حضرات کو ضرور علم ہوگا کہ گورنر صوبے میں صدر کا نمائندہ ہوتا ہے، جیسے آئین میں صدر کو استثناء ملا ہوا ہے، ویسے ہی گورنر کو بھی حاصل ہے۔ ویسے بھی ایک ملک ممتاز قادری کیا، کروڑوں کے اجتماع ہوئے اور زبردست تقاریر ہوئیں مگر گورنر صاحب اپنے موقف پر نہ صرف ڈٹے رہے بلکہ اس پر نازاں بھی تھے۔
کسی نے خوب کہا: گورنر صاحب نے ہلاکت کو خود دعوت دی، انہوں نے وہ کیا جو ان کے منصب کے لیے مناسب نہ تھا۔ یہ ملک مسلمانوں کا ہے، اسلام کے نام پر وجود میں آیا اور ان شاء اللہ تعالیٰ اسلام ہی کے نام سے قائم دائم رہے گا۔ اگر ہمارے حکمران آج بھی اللہ کا نام لے کر امریکہ اور اس کے حمایتیوں کے خلاف کھڑے ہو جائیں تو قوم اپنی جانفشانی سے ان کو حیرت زدہ کر دے گی۔
امریکی پادری ٹیری جونز ملعون کا اعلان
نوائے وقت (14 جنوری 2011ء) میں ملعون پادری ٹیری جونز کا مسلمانوں کے
عظمت رسالت و نبوت ﷺ
دلوں کو تڑپا دینے والا بیان شائع ہوا کہ وہ 20 مارچ کو اپنے چرچ میں قرآن پاک پر مقدمہ چلائے گا کیونکہ دہشت گردی کا ذمہ دار یہی ہے۔ مسلمان حکمرانوں میں سے کسی نے حکومت امریکہ کو اس ملعون کو قابو میں رکھنے کا بیان نہیں دیا اور نہ کسی نے کوئی احتجاج کیا ہے۔ اس ملعون کا کہنا ہے، جرم ثابت ہونے کی صورت میں قرآن کو پھاڑ دیا جائے گا یا جلایا جائے گا یا فائرنگ سکواڈ کے سامنے رکھ دیا جائے گا۔
رسول اللہ ﷺ کی ذات اقدس پر حملے یا قرآن حکیم کی توہین حقیقت میں مسلمانوں کے کمزور محکوم و غلام ہونے کی علامت ہے۔ ایسی جرأت کا مظاہرہ اس وقت ہوتا ہے جب مقابلے کا کوئی خطرہ نہیں ہوتا۔ اگر ایسے حملے کرنے والوں کو معلوم ہو کہ اس کا سخت جواب ملے گا تو پھر کوئی ایسی گھٹیا روش اختیار نہیں کرے گا۔ چونکہ ہمارے ہاں روشن خیال خواتین و حضرات کی تعداد خاصی زیادہ ہوگئی ہے، جس سے ملک کے اندر اور باہر سے دین اسلام پر حملے ہو رہے ہیں۔ حکومت کو اب ایک اور ٹیسٹ کیس کا سامنا ہے۔ اتفاق سے توہین رسالت والے قانون کی حفاظت کے لیے شمع توحید کے پروانے سڑکوں پر آگئے تھے جن کو بڑی مشکل سے بار بار یقین دہانی کے بعد تحریک کو آگے بڑھنے سے روکا گیا ہے اگر حکومت نے نئی پیش آمدہ صورت میں کمزوری دکھائی تو پہلے سے بھی زیادہ قوت کے ساتھ عوامی مظاہرے ہوں گے۔
شاید پوپ بینی ڈکٹ کو ٹیری جونز کی خبر نہیں ملی اور نہ ریمنڈ ڈیوس کے بارے میں اطلاع ہوئی ہے تو اب اس نے خاموشی کیوں اختیار کر لی۔ ریمنڈ کے ہاتھوں مرنے والے کیا انسان نہیں تھے۔ آسیہ کے لیے تو ابھی قانون کی راہیں ہیں، اس کے لیے واویلا مگر جن کو ظلماً مار دیا گیا ان کے لیے ہمدردی کا ایک لفظ بھی نہیں اور مارنے والے کی کوئی مذمت بھی نہیں ...... کیا انصاف کا یہی تقاضا ہے۔
عظمت رسالت و نبوت ﷺ
ریمنڈ ڈیوس کا معاملہ
25 جنوری 2011ء قرطبہ چوک میں امریکی ریمنڈ ڈیوس نے دو مسلمان نوجوانوں فیاض اور فہیم کو گولیوں کا نشانہ بنا کر موقع پر ہلاک کر دیا۔ پھر گاڑی سے اتر کر ان کی تصویریں بھی بناتا رہا۔ اس کی مدد کو آنے والوں نے عبادالرحمن کو ٹریفک کی خلاف ورزی کرتے ہوئے کچل دیا، قاتلوں میں سے صرف ریمنڈ ڈیوس گرفتار ہو سکا۔ اب اس ایک واضح قاتل کی رہائی کے لیے پوری امریکی حکومت حرکت میں آگئی ہے اور اس کو رہا نہ کرنے پر دھمکیوں کا سلسلہ شروع ہو چکا ہے۔
جاگیرداروں کی نمائندہ خاتون نے ان کی حمایت میں مضحکہ خیز یہ بیان دیا ہے کہ اگر ریمنڈ ڈیوس کو امریکہ کے حوالے نہ کیا گیا تو اس سے ملنے والی ایڈ بند ہو جائے گی۔ بھوک اور افلاس میں اضافہ ہو جائے گا۔
اس بی بی سے کوئی پوچھے ...... امریکہ سے جو ایڈ آتی ہے اس میں سے غریبوں کو کیا ملتا ہے۔ تین سال کی حکمرانی میں اس موجودہ حکومت نے تو مہنگائی کے سب ریکارڈ توڑ دیے۔ ملنے والی ساری ایڈ بڑے لوگوں کی نذر ہو جاتی ہے، غریبوں کی غریبی میں اور بڑے لوگوں کی دولت میں اضافہ ہوتا رہتا ہے۔ لعنت ہے ایسی ایڈ پر جس نے عوام الناس کو امریکہ کا غلام بنا دیا اور فیشن ایبل طبقہ کو بے حیائی اور بے غیرتی کی دلدل میں پھنسا دیا۔ جن لوگوں کے بیرون ملک بنکوں میں اربوں ڈالر پڑے ہوئے ہیں اگر ان کو پاکستان کا اتنا خیال ہے تو اپنے ڈالر پاکستان میں کیوں نہیں لاتے۔ اگر پاکستانی عوام کی پاکستان کے امراء اور امریکی ایڈ سے جان چھوٹ جائے تو پاکستان کو اپنے پاؤں پر کھڑا ہونے سے دنیا کی کوئی قوت روک نہیں سکتی۔ اصل رکاوٹ پاکستان کے بڑے لوگ ہیں۔ اللہ پاکستانی عوام پر رحم فرمائے۔
عظمت رسالت و نبوت ﷺ
آخر میں آزاد اور روشن خیال خواتین و حضرات کی خدمت میں عرض ہے۔ تین پاکستانی نوجوان مار دیے گئے۔ ایک کی حاملہ بیوی نے خود کشی کر لی۔ انہوں نے اس بہیمانہ قتل و غارت کے خلاف آواز کیوں بلند نہ کی؟ کیا مرنے والے انسان نہیں تھے۔ حقیقت تو یہی ہے کہ امریکہ اور امریکہ نواز لوگوں کے نزدیک مسلمان اب کیڑے مکوڑے سمجھے جاتے ہیں۔ اصل میں ان کو کیڑے مکوڑے بنانے والے مسلمانوں کے حکمران ہیں۔ آج بھی مسلمانوں کو اچھے قائد مل جائیں تو مسلمان پھر سے عظیم قوت کی صورت اختیار کر سکتے ہیں۔ اے اللہ! ہماری مدد فرما۔
نفع دینے والی دعا
جامع الترمذی: ابواب الدعوات، ج 2 ص 208 میں عمرانؓ بن حصینؓ سے مروی ہے: نبی ﷺ نے میرے باپ سے فرمایا: اے حصین! آج کل کتنے معبودوں کی عبادت کر رہے ہو۔ انہوں نے عرض کیا: سات کی، چھ زمین میں ہیں اور ایک آسمان میں ہے۔ آپ نے فرمایا: رغبت تمہاری کس کی طرف ہوتی ہے اور خوف تمہیں کس کا ہوتا ہے۔ میرے باپ نے عرض کیا: جو آسمان میں ہے۔ آپ نے فرمایا: حصین! اگر تم مسلمان ہوتے تو تم کو دو کلمات ایسے سکھاتا جو تجھے نفع دیتے۔ جب حصینؓ مسلمان ہو گئے، تو انہوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! مجھے وہ کلمات سکھائیے جن کا آپ نے وعدہ کیا تھا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: اَللّٰهُمَّ اَلْهِمْنِیْ رُشْدِیْ وَ اَعِذْنِیْ مِنْ شَرِّ نَفْسِیْ۔ ’’اے اللہ! میرے دل میں میری بھلائی ڈال دے، اور مجھے میرے نفس کی شرارت سے محفوظ رکھنا۔‘‘ نفس کی اصلاح کے لیے یہ بہترین دعا ہے۔ لہٰذا اس کو یاد کر کے اپنے نفس کو برائی سے بچائیں اور بھلائی کا فائدہ اٹھائیں۔
❁ ❁ ❁
عظمت رسالت و نبوت صلی اللہ علیہ وسلم
فضل الرحمن بن محمد الازہری