معلومات ختم نبوت — سوالاً جواباً
Maloomat
PDF 1

نئے اضافوں کے ساتھ

عقیدہ ختم نبوت کے تحفظ اور فتنہ قادیانیت کی سرکوبی کے موضوع پر سکولوں، کالجوں، اکیڈمیز اور دینی مدارس میں منعقدہ انعام گھر اور دیگر کوئز مقابلوں میں پوچھے جانے والے اہم سوالات اور جوابات کا مختصر مگر جامع معلوماتی انسائیکلوپیڈیا جس کے عمیق مطالعہ سے آپ بے شمار کتابوں سے بے نیاز ہو جائیں گے۔

معلومات

ختم نبوت

سوالاً ...... جواباً

اپنی نوعیت کی

منفرد کتاب

اور اہم کتابوں کا نچوڑ ہے۔

شعور اور اس کی پاسبانی کا جذبہ پیدا کرتی ہے۔

ترتیب وتحقیق

محمد متین خالد

PDF 2

عقیدہ ختم نبوت کے تحفظ اور فتنہ قادیانیت کی سرکوبی کے موضوع پر سکولوں، کالجوں، اکیڈمیز اور دینی مدارس میں منعقدہ انعام گھر اور دیگر کوئز مقابلوں میں پوچھے جانے والے اہم سوالات اور جوابات کا مختصر مگر جامع معلوماتی انسائیکلوپیڈیا جس کے عمیق مطالعہ سے آپ بے شمار کتابوں سے بے نیاز ہو جائیں گے۔

معلومات

ختم نبوّت

سوالاً...... جواباً

ترتیب وتحقیق

محمّد متین خالد

تحفظ ختم نبوّت کونسل ننکانہ صاحب

0300-4887477, 0300-4839384

صفحہ ٢

فہرست

توجہ فرمائیں:

خط لکھ کر اس کا اصل عکس منگوا سکتے ہیں۔

دل آزار عبارات پڑھتے وقت کثرت سے استغفار کریں۔ شکریہ!

صفحہ ٣

کتابوں کی کتاب

عقیدہ ختم نبوت کو اسلام میں وہی حیثیت حاصل ہے جو ریڑھ کی ہڈی کو انسانی جسم میں۔ ہر مسلمان کا بنیادی عقیدہ ہے کہ حضور خاتم النبیین حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ، اللہ تعالیٰ کے آخری نبی اور رسول ہیں۔ آپ ﷺ کی نبوت ورسالت قیامت تک کے لیے ہے۔ اب جس نے بھی دنیا و آخرت میں کامیابی و کامرانی حاصل کرنی ہو، اُسے نبی رحمت ﷺ کی غلامی اختیار کرنا ہوگی۔ عقیدہ ختم نبوت اس قدر حساس اور اہم ہے کہ فقہاء نے اپنی کتابوں میں لکھا ہے کہ اگر کوئی شخص تمام ضروریات دین (نماز، روزہ، حج، زکوٰۃ اور دیگر اہم عبادات و معاملات وغیرہ) میں اول درجے کا مسلمان ہو لیکن بدقسمتی سے اُسے یہ معلوم نہ ہو کہ حضور نبی کریم ﷺ اللہ کے آخری نبی ہیں، تو وہ بدستور کافر ہے۔ غرضیکہ ایمان کے لیے کلمہ طیبہ کی طرح ختم نبوت کا اقرار اور یقین بھی ضروری ہے۔ جس طرح توحید کے اقرار کے بغیر کوئی شخص مسلمان نہیں ہوسکتا، اسی طرح ختم نبوت کا اقرار کیے بغیر بھی کوئی شخص مسلمان نہیں رہ سکتا۔ حضرت امام اعظم نعمان بن ثابت (ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ) کے زمانے میں ایک شخص نے نبوت کا دعویٰ کیا اور ایک دوسرے شخص نے کہا کہ میں جا کر اس سے کوئی نشانی اور معجزہ طلب کرتا ہوں تاکہ اس کا صدق وکذب عیاں ہو۔ اس پر حضرت امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا: مَنْ طَلَبَ مِنْهُ عَلَامَةً فَقَدْ كَفَرَ لِقَوْلِ النَّبِيِّ ﷺ لَا نَبِيَّ بَعْدِيْ. یعنی ”جو شخص اس سے علامت طلب کرے گا، وہ بھی کافر ہو جائے گا کیونکہ حضرت محمد ﷺ کا فرمان ہے کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں۔ الغرض ختم نبوت کا عقیدہ اس طرح واضح اور بے غبار ہے کہ اس میں کسی قدر تامل کرنا بھی کفر ہے۔

قرآن مجید اور احادیث مبارکہ کی روشنی میں امت کا اجماعی واتفاقی عقیدہ ہے کہ حضور سرور کائنات ﷺ کے بعد نبوت کا دعویٰ کرنا تو درکنار، نبوت کی تمنا یا خواہش کرنا بھی کفر ہے۔ خواہ یہ تمنا زبان سے ہو یا صرف دل میں۔ جب ایک شخص نبی ہونے کی تمنا کرنے پر کافر ہو جاتا ہے تو اندازہ لگائیں کہ نبوت کا دعویٰ کرنا کس درجہ کا کفر ہوگا۔ آپ ﷺ کے

صفحہ ٤

بعد کسی بھی قسم کا دعویٰ نبوت کرنے والا بالاتفاق مرتد اور زندیق ہے۔ اس بارے میں شک کرنے والا بھی اسلام سے خارج ہو جاتا ہے۔

عقیدہ ختم نبوت کی اہمیت اور منکرین ختم نبوت قادیانیوں کی شرانگیزیوں کے پیش نظر ضرورت اس بات کی ہے کہ مسلمانوں کو زیادہ سے زیادہ اس عقیدہ سے آگہی اور شعور فراہم کیا جائے۔ اس اہم موضوع پر بے شمار کتابیں شائع ہو چکی ہیں۔ لیکن ”معلومات ختم نبوت“ اس لحاظ سے اپنی نوعیت کی منفرد کتاب ہے کہ یہ تحفظ ختم نبوت کے موضوع پر لکھی جانے والی خاص اور اہم کتابوں کا نچوڑ ہے۔ اس کتاب میں موجود قیمتی معلومات جس قدر دلچسپ ہیں، اس سے کہیں زیادہ حیرت انگیز اور انکشافاتی ہیں۔ ان میں جتنا تنوع ہے، اسی قدر ان میں کشش بھی ہے۔ سیرت النبی ﷺ اور ختم نبوت سے متعلقہ معلومات پڑھنے سے قلب و ذہن کو ایک نئی ایمانی و ایقانی جلاء نصیب ہوتی ہے جبکہ قادیانیت سے متعلقہ معلومات عبرت و نصیحت کا سامان پیدا کرتی ہیں۔ ”معلومات ختم نبوت“ عام فہم مختصر سوالات اور بھرپور علمی جوابات پر مشتمل ہے۔ سوال و جواب کے ذریعے ختم نبوت سے متعلقہ نہایت اہم موضوعات کے بارے میں مستند اور جامع معلومات کا بہترین انتخاب ایک جگہ پر اکٹھا کر دیا گیا ہے جو ہر قاری کے ذہن پر دوررس اثرات رقم کرے گا۔ اس کتاب سے جہاں نئی نسل کے اندر ختم نبوت سے محبت و عقیدت اور اس کی اہمیت کا شعور آئے گا، وہاں سب کو معلومات کا ایک گرانقدر ذخیرہ بھی ملے گا۔ ان شاء اللہ تعالیٰ یہ کتاب تمام مسلمانوں بالخصوص سکولوں، کالجوں، اکیڈمیز اور دینی مدارس کے طلبہ کے لیے بے حد مفید ثابت ہوگی اور اس کے مطالعہ سے وہ اپنی معلومات میں بیش بہا اضافہ کر سکیں گے۔

اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ پیارے آقا و مولا حضور خاتم النبیین علیہ الصلوٰۃ والسلام کے وسیلہ جلیلہ سے اس کتاب کو اپنی بارگاہ اقدس میں قبول فرمائے اور آخرت میں میری اور اس کتاب کے معاونین کی بخشش و مغفرت کا ذریعہ بنائے۔ آمین!

خاکپائے مجاہدین ختم نبوت محمد متین خالد mateenkh@gmail.com

صفحہ ٥

عقیدہ ختم نبوت

سوال: عقیدہ ختم نبوت سے کیا مراد ہے؟ جواب: حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ اللہ تعالیٰ کے آخری نبی اور رسول ہیں۔ آپ ﷺ کے بعد کسی قسم کا کوئی تشریعی، غیر تشریعی، ظلی، بروزی یا نیا نبی مبعوث نہیں ہو گا۔ آپ ﷺ کے بعد جو شخص بھی نبوت کا دعویٰ کرے، وہ مرتد اور دائرہ اسلام سے خارج ہے۔ قرآن مجید کی ایک سو سے زائد آیات مبارکہ اور حضور نبی کریم ﷺ کی تقریباً دو سو دس احادیث مبارکہ اس بات پر دلالت کرتی ہیں کہ حضور خاتم النبیین ﷺ اللہ تعالیٰ کے آخری نبی اور رسول ہیں۔ اس بات پر ایمان ”عقیدہ ختم نبوت“ کہلاتا ہے۔ ختم نبوت اسلام کا متفقہ، اساسی اور اہم ترین بنیادی عقیدہ ہے۔ دین اسلام کی پوری عمارت اس عقیدہ پر کھڑی ہے۔ یہ ایک ایسا حساس عقیدہ ہے کہ اگر اس میں شکوک وشبہات کا ذرا سا بھی رخنہ پیدا ہو جائے تو ایک مسلمان نہ صرف اپنی متاع ایمان کھو بیٹھتا ہے بلکہ وہ حضرت محمد ﷺ کی امت سے بھی خارج ہو جاتا ہے۔ پوری امت مسلمہ کا اس امر پر اجماع ہے کہ سب سے اوّل نبی حضرت آدم علیہ السلام اور سب سے آخری (نبی ورسول) حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ ہیں۔

سوال: قرآن کریم کی کم از کم ایسی دو آیات بتائیں جو عقیدہ ختم نبوت پر دلالت کرتی ہوں؟ جواب: (1) مَا كَانَ مُحَمَّدٌ اَبَا اَحَدٍ مِّنْ رِّجَالِكُمْ وَلَكِنْ رَّسُوْلَ اللّٰهِ وَخَاتَمَ النَّبِيّٖنَ وَكَانَ اللّٰهُ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيْمًا. (الاحزاب: 40) (ترجمہ) نہیں ہیں محمد (ﷺ) کسی کے باپ تمھارے مردوں میں سے بلکہ وہ اللہ کے رسول اور خاتم النبیین (آخری نبی) ہیں۔ (2) قُلْ يٰاَيُّهَا النَّاسُ اِنِّیْ رَسُوْلُ اللّٰهِ اِلَيْكُمْ جَمِيْعًا. (الاعراف: 158)

صفحہ ٦

(ترجمہ) آپ فرمائیے اے لوگو! بے شک میں اللہ کا رسول ہوں تم سب کی طرف۔

يُوْقِنُوْنَ.

(البقرہ:4)

(ترجمہ) اور وہ لوگ جو ایمان لائے ہیں اس پر کہ جو کچھ نازل ہوا آپ پر اور اس پر (ایمان لائے) کہ جو کچھ نازل ہوا آپ سے پہلے اور آخرت پر بھی وہ یقین رکھتے ہیں۔

سوال: ختم نبوت سے متعلقہ قرآن پاک کی وہ آیت بتائیے جس میں دین اسلام کے مکمل ہونے کی خوشخبری سنائی گئی ہے؟

جواب: اَلْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِيْنَكُمْ وَاَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِى وَرَضِيْتُ لَكُمُ الْإِسْلَامَ دِيْنًا.

(المائدہ:3)

(ترجمہ) آج میں نے مکمل کر دیا ہے تمھارے لیے تمہارا دین اور پوری کر دی ہے تم پر اپنی نعمت اور میں نے پسند کر لیا ہے تمھارے لیے اسلام کو بطور دین۔

سوال: ختم نبوت کے سلسلہ میں کوئی سی دو احادیث بتائیے؟

جواب: (1) أَنَا خَاتَمُ الْأَنْبِيَاءِ وَمَسْجِدِى خَاتِمُ مَسَاجِدِ الْأَنْبِيَاءِ

(کنز الاعمال)

(ترجمہ) میں خاتم الانبیاء ہوں اور میری مسجد نبیوں کی مساجد کی آخری مسجد ہے۔

(ترمذی)

(ترجمہ) بے شک رسالت اور نبوت کا سلسلہ منقطع ہو گیا، پس میرے بعد نہ کوئی رسول ہوگا اور نہ نبی۔

(ابو داؤد)

(ترجمہ) ”میں خاتم النبیین (یعنی اللہ کا آخری نبی) ہوں، میرے بعد کوئی نبی نہیں ۔“

(ترمذی)

(ترجمہ) اگر میرے بعد کوئی نبی ہوتا تو وہ عمر بن خطابؓ ہوتا۔

مِنْ مُّوسٰى إِلَّا أَنَّهُ لَا نَبِيَّ بَعْدِى.

(صحیح بخاری ومسلم)

(ترجمہ) اللہ کے رسول ﷺ نے حضرت علی کرم اللہ وجہہ سے فرمایا ”تم میرے

صفحہ ٧

لیے ایسے ہو جیسے ہارونؑ ، موسیٰ ؑ کے لیے تھے البتہ میرے بعد کوئی نبی نہیں ہے۔

سوال: ختم نبوت کے بارے میں وہ حدیث رسول ﷺ بتائیے جس میں حضور نبی اکرم ﷺ نے آنے والے جھوٹے نبیوں کے بارے میں بتایا ہے؟

جواب: اِنَّهُ سَيَكُونُ فِى أُمَّتِى كَذَّابُوْنَ ثَلَاثُونَ كُلُّهُمْ يَزْعَمُ اَنَّهُ نَبِىٌّ وَاَنَا خَاتَمَ النَّبِيّيْنَ لَا نَبِىَّ بَعْدِى. (ابوداؤد)

(ترجمہ) (حضرت ثوبانؓ روایت کرتے ہیں کہ) حضور نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ قریب ہے کہ میری امت میں تیس جھوٹے پیدا ہوں گے، جن میں سے ہر ایک یہی کہے گا کہ وہ نبی ہے، حالانکہ میں خاتم النبیین ہوں، میرے بعد کوئی نبی نہیں۔

سوال: آپ ﷺ نے خطبہ حجۃ الوداع میں ختم نبوت کا تذکرہ کن الفاظ میں فرمایا؟

جواب: آپ ﷺ نے خطبہ حجۃ الوداع کا تذکرہ یوں فرمایا۔ عن ابی امامة رضی الله تعالیٰ عنه قال قال رسول الله ﷺ فی خطبته یوم حجة الوداع ایها الناس انه لا نبی بعدی ولا امة بعدکم.

(مسند احمد ج 2 ص 391)

حضرت ابو امامہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے حجۃ الوداع کے دن خطبہ ارشاد فرمایا کہ اے لوگو! بیشک میرے بعد کوئی نبی نہیں اور تمہارے بعد کوئی امت نہیں۔

سوال: حضرت امام ابو حنیفہؒ کے ختم نبوت سے متعلق مشہور قول کی وضاحت کریں۔

جواب: امام ابو حنیفہؒ نے فرمایا: من طلب منه علامة فقد كفر لقول نبی ﷺ لا نبی بعدی (جو شخص جھوٹے مدعی نبوت سے علامت طلب کرے گا، وہ کافر ہے کیونکہ آپ ﷺ کا فرمان ہے کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں۔)

سوال: جس شخص کو عقیدہ ختم نبوت کا علم نہیں، اس کا کیا حکم ہے؟

جواب: جس شخص کو ختم نبوت کا علم نہیں، وہ مسلمان نہیں ہے چنانچہ الاشباہ والنظائر میں ہے: ”اذا لم یعرف ان محمدا ﷺ فهو اخر الانبیاء وهو کافر لانه من ضروریات الدین“

”جو شخص یہ نہیں جانتا کہ حضرت محمد ﷺ اللہ تعالیٰ کے آخری نبی ہیں، وہ کافر ہے

صفحہ ٨

کیونکہ یہ بات ضروریات دین میں سے ہے‘‘۔

سوال: نبی اور رسول کسے کہتے ہیں اور ان میں کیا فرق ہے؟

جواب: اللہ تعالیٰ نے اپنی مخلوق کو ہدایت اور رہنمائی دینے کے لیے جن برگزیدہ بندوں کے ذریعے اپنا پیغام حق مخلوق تک پہنچایا، انہیں نبی اور رسول کہتے ہیں۔ عام طور پر نبی اور رسول ایک ہی معنی میں بولے اور سمجھے جاتے ہیں، البتہ نبی اس ہستی کو کہتے ہیں جسے اللہ تعالیٰ نے اپنی مخلوق کی ہدایت کے لئے وحی دے کر بھیجا ہو اور رسول اس ہستی کو کہتے ہیں جسے اللہ تعالیٰ نئی شریعت دے کر مخلوق میں مبعوث کرتا رہا تاکہ وہ لوگوں کو اس کی طرف بلائے۔ وحی رسول اور نبی دونوں کے پاس آتی ہے۔ رسول کا درجہ نبی سے بڑھا ہوا ہوتا ہے۔ ہر رسول نبی بھی ہوتا ہے، مگر ہر نبی کا رسول ہونا ضروری نہیں۔ رسول اسے کہتے ہیں جسے علیحدہ کتاب اور شریعت دی گئی ہو، جیسے حضرت ابراہیمؑ، موسیٰؑ، عیسیٰ علیہم السلام جبکہ نبی کو مستقل شریعت یا کتاب نہیں دی جاتی بلکہ وہ کسی سابق رسول کی لائی ہوئی شریعت اور کتاب پر عمل پیرا ہونے کی ترغیب لوگوں کو دیتے ہیں۔ رسول اور نبی دونوں اہم مناصب ہیں جن کے لیے اللہ تعالیٰ مخصوص بندوں کو منتخب کرتے ہیں، پس کسی کو صرف منصب نبوت دیا جاتا ہے اور کسی کو منصب نبوت کے ساتھ منصب رسالت بھی دیا جاتا ہے، حضرت محمد ﷺ کو اللہ تعالیٰ نے رسول اور نبی دونوں مناصب سے سرفراز فرمایا ہے۔

سوال: آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا سلسلۂ نسب / شجرہ مبارک کیا ہے؟

جواب: حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کا شجرہ مبارک مندرجہ ذیل ہے:

محمد بن عبداللہ بن عبدالمطلبؓ (شیبہ) بن ہاشمؓ (عمرو) بن عبد منافؓ (مغیرہ) بن قُصی (زید) بن کلاب بن مرّۃ بن کعب بن لوی بن غالب بن فہر (انہی کا لقب قریش تھا اور ان ہی کی طرف قبیلۂ قریش منسوب ہے) بن مالک بن نضر (قیس) بن کنانہ بن خزیمہ بن مدرکہ (عامر) بن الیاس بن مضر بن نزار بن مَعَد بن عدنان بن اُدّ بن ھمیسع بن سلامان بن عوص بن بوز بن قوال بن ابی بن عوام بن ناشد بن حزا بن بلداس بن یدلاف بن طابخ بن جاحم بن ناحش بن ماخی بن عیض بن عبقر

صفحہ ٩

بن عبید بن الدعا بن حمدان بن سنبر بن یثربی بن یحزن بن یلجن بن ارعوی بن عیض بن دیشان بن عیصر بن افناد بن ایہام بن مقصر بن ناحث بن زارح بن سمی بن مزی بن عوضہ بن عرام بن قیدار بن اسماعیل علیہ السلام بن ابراہیم علیہ السلام بن تارخ (آزر) بن ناحور بن ساروغ بن راعو بن فالج بن عابر بن شالخ بن ارفخشد بن سام بن نوح علیہ السلام بن لامک بن متوشلخ بن اخنوخ (کہا جاتا ہے کہ یہ حضرت ادریس علیہ السلام کا نام ہے) بن یرد بن مہلائیل بن قینان بن انوشہ بن شیث بن آدم علیہ السلام۔

سوال: والدہ محترمہ کی طرف سے پانچویں پشت تک آپ ﷺ کا سلسلۂ نسب کیا ہے؟

جواب: حضرت محمد (ﷺ) بن آمنہؓ بنت وہب بن عبد مناف بن زہرہ۔

سوال: قرآن حکیم میں نبی اکرم ﷺ کے نام محمد ﷺ اور احمد ﷺ کتنی بار آئے ہیں؟

جواب: محمد ﷺ 4 مرتبہ اور احمد ﷺ ایک مرتبہ۔

سوال: حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے حضور نبی کریم ﷺ کی نبوت کی جو بشارت دی تھی، اس کا ذکر قرآن مجید کی کس سورۃ میں ہے؟

جواب: سورۃ الصّف کی آیت نمبر 6۔ ”ومبشرا برسول یاتی من بعدی اسمہ احمد“

سوال: نبی کریم ﷺ کی چند پیغمبرانہ خصوصیات بیان فرمائیں۔

جواب: حضور نبی کریم ﷺ کی پیغمبرانہ خصوصیات میں سب سے اہم اور نمایاں خصائص آپ ﷺ کا امام الانبیاء، سید المرسلین اور خاتم النبیین ہونا ہے، آپ ﷺ کی دعوت، آپ ﷺ کی شریعت، آپ ﷺ کا پیغام اور دین اسلام آفاقی اور عالمگیر حیثیت کا حامل ہے۔ آپ ﷺ قیامت تک کے لیے بنی نوع آدم اور پورے عالم انس و جن کے لیے دائمی نمونۂ عمل اور آخری نبی بنا کر مبعوث فرمائے گئے ہیں۔

سوال: مسلمان کی تعریف کیا ہے؟

جواب: دین اسلام کے پیروکار کو مسلمان کہتے ہیں۔ جو لوگ کلمہ طیبہ پڑھ کر اسلام میں داخل ہونے کا عہد کرتے ہیں، ان کو دین اسلام کی ان تمام باتوں کا ماننا لازم ہو جاتا ہے جن کی حضرت محمد رسول اللہ ﷺ نے تعلیم دی ہے اور جن کا ثبوت قطعی

صفحہ ١٠

تواتر سے ہوا ہے۔ ایسے امور کو ضروریات دین کہا جاتا ہے، ان تمام ضروریات دین کو ماننا شرط اسلام ہے۔ ان ضروریات دین میں سے کسی ایک کا انکار یا تاویل کرنے والا دائرہ اسلام سے خارج ہو جاتا ہے۔

سوال: امت مسلمہ میں سب سے پہلا جھوٹا مدعی نبوت کون ہے؟ جواب: اسود عنسی۔

سوال: جھوٹے مدعی نبوت اسود عنسی کو کس صحابی رسول ﷺ نے قتل کیا؟ جواب: حضرت فیروز دیلمیؓ نے۔

سوال: اسود عنسی کے قتل ہونے پر آپ ﷺ نے کیا ارشاد فرمایا؟ جواب: آپ ﷺ نے فرمایا: فاز فیروز (فیروز دیلمی کامیاب ہو گیا)

سوال: سب سے پہلے اسیر ختم نبوت کا نام بتائیں؟ جواب: صحابی رسولؐ حضرت عبداللہ بن وہب الاسلمیؓ۔

سوال: جھوٹے مدعی نبوت اسود عنسی نے ایک بزرگ تابعی کو اپنی جھوٹی نبوت کا اقرار نہ کرنے پر آگ میں پھینک دیا تھا۔ مگر وہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی طرح آگ میں محفوظ رہے۔ اس بزرگ تابعی کا نام بتائیں؟ جواب: حضرت عبداللہ بن ثوب ابو مسلم خولانیؒ۔

سوال: جھوٹے مدعی نبوت مسیلمہ کذاب کو کس صحابیؓ رسول نے قتل کیا؟ جواب: حضرت ابودسمہ بن حرب وحشیؓ نے۔

سوال: حضور اکرم ﷺ کے زمانے میں توحید کو پھیلانے اور کفر و شرک کو مٹانے کے لیے جتنی جنگیں لڑی گئیں، ان میں کُل کتنے صحابہ کرامؓ شہید ہوئے؟ جواب: نبی پاک ﷺ کے 23 سالہ دور نبوت میں جام شہادت نوش کرنے والے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی کل تعداد 259 ہے۔

سوال: سیّدنا حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے زمانہ خلافت میں جھوٹے مدعی نبوت مسیلمہ کذاب اور اس کے ہم خیال منکرین ختم نبوت کی سرکوبی اور عقیدۂ ختم نبوت کے تحفظ کے لیے جو جنگ لڑی گئی، اس میں کتنے صحابہ کرامؓ شہید ہوئے؟

صفحہ ١١

جواب: تقریباً 1200، صحابہ کرام اور تابعینؒ شہید ہوئے، جن میں تقریباً 700 حافظ قرآن اور 70 بدری صحابہؓ تھے۔ سوال: 23 سالہ دور نبوت میں کتنے کافروں کو واصل جہنم کیا گیا؟ جواب: نبی پاک ﷺ کے مبارک زمانے میں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے ہاتھوں واصل جہنم ہونے والے کافروں کی کل تعداد 759 ہے۔ سوال: جھوٹے مدعی نبوت مسیلمہ کذاب کے خلاف جنگ میں کتنے کافر جہنم واصل ہوئے؟ جواب: جھوٹے مدعی نبوت مسیلمہ کذاب کے خلاف جنگ یمامہ میں صحابہ کرامؓ کے ہاتھوں تقریباً 28 ہزار کفار جہنم واصل ہوئے۔ سوال: جنگ یمامہ میں حضرت عمر فاروقؓ کے شہید ہونے والے بھائی کا نام بتائیے؟ جواب: حضرت زیدؓ بن خطاب۔ سوال: تحریک تحفظ ختم نبوت کا سب سے پہلا فاتح جرنیل کون ہے؟ جواب: سیف اللہ حضرت خالدؓ بن ولید۔ سوال: حضرت حبیبؓ بن زید انصاری کی والدہ محترمہ کا نام بتائیے، جن کا ایک ہاتھ یمامہ کے میدان میں مسیلمہ کذاب کے خلاف لڑتے ہوئے بازو سے کٹ گیا تھا؟ جواب: حضرت ام عمارہؓ۔ سوال: پہلے شہید ختم نبوت کا نام بتائیے جن سے مسیلمہ کذاب نے اپنی جھوٹی نبوت کا اقرار کروانا چاہا مگر ہر دفعہ ان کے انکار کرنے پر ان کے جسم کا ایک ایک حصہ تلوار سے کاٹتا رہا، حتیٰ کہ آپ شہید ہوگئے؟ جواب: حضرت حبیبؓ بن زید انصاری۔ سوال: مشہور جھوٹے نبیوں میں سے کوئی سے تین کے نام بتا دیں؟ جواب: اسود عنسی۔ طلیحہ اسدی۔ مسیلمہ کذاب۔ سجاح بنت حارث۔ اسحاق اخرس مغربی۔ محمد علی باب۔ بہاء اللہ۔ آنجہانی مرزا قادیانی۔ سوال: مسیلمہ کذاب کو کذاب کیوں کہا جاتا ہے، جبکہ اس کا نام ”مسیلمہ بن کبیر“ تھا؟ جواب: مسیلمہ کذاب نے حضور نبی کریم ﷺ کے نام اپنے ایک خط میں خود کو ”مسیلمہ

صفحہ ١٢

رسول اللہ‘‘ لکھا تھا، جس کے جواب میں حضور ﷺ نے اسے ’’مسیلمہ کذاب‘‘ کا خطاب دیا، اس وقت سے اس کا نام مسیلمہ کذاب (جھوٹا) مشہور ہوگیا۔

سوال: مسیلمہ کذاب کون تھا؟

جواب: جھوٹے مدعی نبوت کا پورا نام مسیلمہ بن کبیر بن حبیب تھا۔ مسیلمہ کا تعلق یمامہ کے ایک بہت بڑے قبیلے بنو حنیفہ سے تھا اور عام طور پر یہ قبیلے میں ’’رحمان یمامہ‘‘ کے نام سے مشہور تھا۔ نبی کریم ﷺ نے مسیلمہ کو ’’مسیلمہ کذاب‘‘ (جھوٹا) کے الفاظ سے مخاطب کیا، چنانچہ اس کے بعد وہ ’’مسیلمہ کذاب‘‘ کے نام سے معروف ہوگیا۔

سوال: مسیلمہ کذاب نے نبوت کی جھوٹی دعویدار عورت سے نکاح کیا، اس کا کیا نام تھا؟

جواب: سجاح بنت الحارث بن عقفاں۔

سوال: نبوت کی جھوٹی دعویدار عورت سجاح بنت الحارث سے متعلق آپ کیا جانتے ہیں؟

جواب: نبوت کی جھوٹی دعویدار عورت سجاح بنت الحارث کا خاندانی تعلق بنی تغلب سے تھا اور یہ مذہباً عیسائی تھی۔ سجاح انتہائی حسین و جمیل اور باتیں بنانے کے فن میں ماہر تھی۔ اسی ہوشیاری کے سبب وہ بہت جلد لوگوں کو اپنا گرویدہ بنالیتی تھی۔ سجاح جب مسیلمہ سے جنگ کرنے کے لیے یمامہ کی طرف روانہ ہوئی تو مسیلمہ کو اس کا علم ہوگیا۔ مسیلمہ نے ہوشیاری سے کام لیتے ہوئے اسے تحائف اور خیر سگالی کا پیغام بھیجتے ہوئے ملاقات کی خواہش ظاہر کی۔ اس ملاقات میں مسیلمہ نے سجاح کے دل و دماغ پر قابو پالیا اور انہوں نے آپس میں شادی کرتے ہوئے خود ساختہ نبوت کو آپس میں بانٹ لیا۔ مسیلمہ نے اس شادی کی خوشی میں حق مہر کے طور پر اپنے اور سجاح کے پیروکاروں کو فجر اور عشاء کی نمازیں معاف کردیں۔

سوال: غزوہ کسے کہتے ہیں؟

جواب وہ جنگ جس میں حضور نبی کریم ﷺ نے خود بنفس نفیس شرکت فرمائی ہو۔

سوال: سریہ کسے کہتے ہیں؟

جواب: وہ جنگ جس میں آپ ﷺ نے اپنے کسی صحابی کو امیر بنا کر روانہ کیا ہو۔

سوال: غزوات اور سرایا کی تعداد کتنی ہے؟

صفحہ ١٣

جواب: غزوات 27 اور سرایا 47

سوال: امت مسلمہ کا سب سے پہلا اور دوسرا اجماع کس مسئلہ پر ہوا تھا؟

جواب: پہلا اجماع رومی فوج کے خلاف لشکر اسامہؓ پر اور دوسرا عقیدۂ ختم نبوت کی حفاظت کے لیے جھوٹے نبیوں کے خلاف لشکر کشی پر۔

سوال: جنگ یمامہ سے متعلق آپ کیا جانتے ہیں؟

جواب: جنگ یمامہ تحفظ ختم نبوت کی پہلی جنگ ہے جو جھوٹے مدعی نبوت مسیلمہ کذاب کے خلاف یمامہ کے میدان میں لڑی گئی۔ حضور نبی کریم ﷺ کی ظاہری حیات طیبہ کے آخری دنوں میں مسیلمہ کذاب نامی ایک شخص نے نبوت کا دعویٰ کر دیا۔ بہت سارے لوگ اس کے پیروکار بن گئے۔ آقائے نامدار ﷺ کے دنیا سے پردہ فرمانے کے بعد حضرت ابوبکر صدیقؓ نے جھوٹے مدعیانِ نبوت کے خلاف جہاد کے لیے جید صحابہ کرامؓ پر مشتمل ایک لشکر بھیجا۔ یہ تحفظ ختم نبوت اور اس کے منکرین کے مرتد اور واجب القتل ہونے پر صحابہ کرامؓ و تابعین کا اجماع تھا۔ مسیلمہ کذاب اور اس کی جماعت کے خلاف وہی معاملہ کیا گیا جو کفار کے ساتھ کیا جاتا ہے حالانکہ مسیلمہ کذاب (قادیانیوں کی طرح) نماز، روزہ پر ایمان رکھتا تھا۔ وہ آپ ﷺ کی نبوت پر ایمان لانے کے ساتھ ساتھ اپنی نبوت کا بھی مدعی تھا۔ یہاں تک کہ اس کی اذان میں برابر ”اَشْهَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُولُ اللّٰهِ“ پکارا جاتا تھا اور وہ خود بھی اس کی تصدیق کرتا تھا۔ اس کے باوجود صحابہ کرامؓ نے بغیر مطالبہ معجزات، متفقہ طور پر مسیلمہ کذاب کے خلاف جہاد کا اعلان کیا کیونکہ اس نے حضور خاتم النبیین ﷺ کے بعد نبوت کا اعلان کیا تھا جو صحابہ کرامؓ کے لیے قطعی طور پر ناقابل برداشت تھا۔ صحابہ کرامؓ میں سے کسی ایک نے بھی مسیلمہ کذاب کے خلاف جہاد سے انکار نہ کیا اور نہ کسی نے یہ کہا کہ یہ لوگ اہلِ قبلہ ہیں، نماز پڑھتے ہیں، روزہ رکھتے ہیں، قرآن پڑھتے ہیں، حج اور زکوٰۃ ادا کرتے ہیں، ان کو کیسے کافر سمجھ لیا جائے (جیسا کہ آج کل ہمارے ہاں قادیانیوں کے بارے میں بہت سے خود ساختہ روشن خیال اور ترقی پسند سوچتے ہیں)۔ بلکہ صحابہ کرامؓ نے بہ اجماع

صفحہ ١٤

مسیلمہ کذاب اور اس کے پیروکاروں کو دعویٰ نبوت کی وجہ سے مرتد اور دائرہ اسلام سے خارج سمجھا۔ خلیفہ اوّل حضرت ابوبکر صدیقؓ نے تقریباً دس ہزار صحابہؓ کرامؓ پر مشتمل ایک عظیم الشان لشکر حضرت خالدؓ بن ولید کی قیادت میں مسیلمہ کذاب اور اس کے پیروکاروں کے خلاف جہاد کے لیے یمامہ روانہ فرمایا۔ اس لشکر میں بعض بدری صحابہؓ کرامؓ بھی شریک ہوئے حالانکہ وہ بہت ضعیف ہو چکے تھے مگر تحفظِ ختمِ نبوت کی خاطر وہ اس عظیم جہاد میں شریک ہوئے۔ مسیلمہ کذاب کے خلاف اس جہاد میں تقریباً بارہ سو صحابہؓ کرامؓ شہید ہوئے جن میں تقریباً 7 سو کے قریب حفاظ قرآن تھے۔ مسیلمہ کذاب کے لشکر کی تعداد چالیس ہزار مسلح جنگجوؤں پر مشتمل تھی۔ ان میں سے 28 ہزار کے قریب ہلاک ہوئے۔ مسیلمہ کذاب کو حضرت ابودجانہ بن حرب وحشیؓ نے اپنے نیزے سے واصل جہنم کیا۔ مسیلمہ کی فوج کے باقی لوگوں نے ہتھیار ڈال دیئے۔

سوال: کیا کوئی شخص حضور نبی کریم ﷺ کی اطاعت یا پیروی کر کے نبی بن سکتا ہے؟ جواب: حضور خاتم النبیین حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کے بعد کوئی شخص نبی نہیں ہو سکتا خواہ وہ اللہ تعالیٰ کی کتنی ہی اطاعت یا پیروی کیوں نہ کر لے۔ اگر اطاعت یا پیروی کرنے سے نبوت مل سکتی تو اس کے سب سے زیادہ مستحق صحابہ کرامؓ تھے، عشرہ مبشرہؓ تھے، خلفائے راشدینؓ تھے۔ مگر ان میں سے کسی نے نبوت کا دعویٰ نہیں کیا، حالانکہ وہ عبادت اور اطاعت کی انتہا پر تھے۔

سوال: کیا کوئی انسان اپنی محنت و کوشش، ریاضت و مجاہدات سے نبی بن سکتا ہے؟ جواب: نبوت کسبی نہیں ہے۔ کوئی انسان اپنی محنت و کوشش، ریاضت و مجاہدات سے نبی نہیں بن سکتا۔ بعض فقہاء نے نبوت کو کسبی کہنے والوں کو کافر کہا ہے۔ نبوت ہر لحاظ سے وہبی ہے۔ یعنی یہ محض اللہ تعالیٰ کی عطا ہے اور خالصتاً اللہ تعالیٰ کا انتخاب ہے۔

سوال: ظلی اور بروزی نبوت سے کیا مراد ہے؟ جواب: ظلی اور بروزی نبوت کا اسلام میں کوئی تصور نہیں۔ یہ قادیانی اصطلاحات ہیں جو ہندو نظریات و عقائد سے لی گئی ہیں۔ ایسی اصطلاحات، اسلام کی توہین کے مترادف ہیں۔

صفحہ ١٥

سوال: کیا قادیانی بھی ختم نبوت کا اقرار کرتے ہیں؟

جواب: قادیانیوں کے نزدیک حضور نبی کریم ﷺ آخری نبی نہیں بلکہ دجال قادیان مرزا قادیانی آخری نبی ہے۔ غور فرمائیں کہ قادیانی، حضور نبی کریم ﷺ کے ظاہری پردہ فرما جانے کے 1400 سال بعد تک کسی کو نبی نہیں مانتے پھر 1400 سال بعد مرزا قادیانی کو نبی کے طور پر پیش کرتے ہیں۔ اس وقت 116 سال گزرنے کے بعد بھی قادیانی، آنجہانی مرزا قادیانی کی نبوت پر تو اصرار کرتے ہیں لیکن اس کے بعد کسی اور نبی کے قائل اور دعوے دار نہیں۔ اس سے لامحالہ یہ ثابت ہوتا ہے کہ مرزائیوں کے نزدیک خاتم النبیین یعنی آخری نبی حضور نبی کریم ﷺ نہیں بلکہ قادیان کا کذاب و دجال ہے۔ قادیانی، مرزائی جہاں خاتم النبیین کے اقرار کا ڈھنڈورا پیٹتے ہیں، وہاں خاتم النبیین (آخری نبی) سے مراد مسیلمہ پنجاب مرزا غلام قادیانی کو لیتے ہیں۔

سوال: مرزا قادیانی اور اس کے پیروکاروں کو کافر کیوں کہا جاتا ہے؟

جواب: مرزا قادیانی کے کفر کی بے شمار وجوہات ہیں، ان میں سے چند ایک مندرجہ ذیل ہیں:

سوال: کافر کی کتنی اقسام ہیں اور ان میں کیا فرق ہے؟

جواب: کافر کی چار اقسام ہیں: عام کافر، منافق، مرتد، زندیق۔

عام کافر: جو اسلام، اللہ کے رسول ﷺ اور اللہ کی آخری کتاب قرآن مجید کا

صفحہ ١٦

کھلم کھلا انکار کرے اور ان کی مخالفت کرے۔

منافق: جو دل سے دین اسلام کا مخالف و دشمن ہو، مگر زبان سے اسلام کا اقرار کر کے مسلمانوں کو دھوکا دے۔

مرتد: ایسا شخص جو دین اسلام میں داخل ہو کر پھر اسے چھوڑ دے اور کفر اختیار کر لے یا کسی اور مذہب (کتابی یا غیر کتابی) میں داخل ہو جائے، اُسے مرتد کہتے ہیں۔

زندیق: دین اسلام کا منکر جو اسلام کو قبول نہ کرے اور اپنے کفریہ اعمال و اعتقادات کو درست اور اسلامی ثابت کرنے کی کوشش کرے اور اپنے کفر کو اسلام اور اسلام کو کفر کہے، اُسے زندیق کہتے ہیں جیسے کہ قادیانی۔

سوال: کیا نبی شاعر ہوتا ہے؟

جواب: سچا نبی شاعر نہیں ہوتا۔ جھوٹا مدعی نبوت آنجہانی مرزا قادیانی با قاعدہ شاعری کی ٹانگ توڑا کرتا تھا۔ شاعر ہونا نبوت کے منافی ہے۔

سوال: شعر مکمل کریں۔

لکھتا ہوں خون دل سے یہ الفاظ احمریں
جواب: بعد از رسول ہاشمی ﷺ کوئی نبی نہیں

سوال: تحفظ ختم نبوت کا کام زیادہ سے زیادہ کیسے ممکن ہے؟

جواب: ہر قسم کے فروعی اختلافات چھوڑ کر اتحاد بین المسلمین کے داعی بن کر عقیدہ ختم نبوت کے تحفظ اور فتنہ قادیانیت کی سرکوبی کے محاذ پر بھر پور کام کریں۔ علماء کرام اور خطیب حضرات اپنی خطابت سے مجاہدانہ کردار ادا کریں۔ مشائخ عظام اپنے تمام عقیدت مندوں کو حکم دیں کہ وہ تحفظ ختم نبوت کا کام کریں اور قادیانیوں کا مکمل سماجی و معاشی بائیکاٹ کریں۔ اگر قادیانی شعائر اسلامی کی توہین کریں تو فوری طور پر تھانہ جا کر ان کے خلاف تعزیرات پاکستان کی دفعہ 298/C کے تحت مقدمہ درج کروائیں۔ ہر علاقے میں ختم نبوت کانفرنس منعقد کروائی جائے۔ تحفظ ختم نبوت پر مبنی لٹریچر زیادہ سے زیادہ تقسیم کیا جائے۔ صحافی حضرات اپنی ذمہ داریاں پوری کرتے ہوئے اخبارات و رسائل میں اس اہم موضوع پر مضامین

صفحہ ١٧

لکھیں۔ سیاست دان اور دیگر بااثر حضرات قادیانیوں کے خلاف حکومت کے آئینی، قانونی اور عدالتی اقدامات پر عملدرآمد یقینی بنائیں۔

تحفظ ناموس رسالت ﷺ

سوال: تحفظ ناموس رسالت ﷺ کیا ہے؟

جواب: تحفظ ناموس رسالت ﷺ سے مراد ہے کہ حضور خاتم النبیین حضرت محمد ﷺ کی عزت وتکریم و تقدس کا پورا پورا لحاظ رکھا جائے اور آپ ﷺ کی شان اقدس میں (معاذ اللہ) ادنیٰ سے ادنیٰ معمولی سی بات کہنا یا لکھنا تو بہت دور، اس کا تصور بھی نہ کیا جائے۔

سوال: کیا تحفظ ناموس رسالت ﷺ سے مراد صرف حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کی ناموس کا تحفظ ہے؟

جواب: اس سے صرف رسول اللہ ﷺ ہی نہیں بلکہ حضرت آدم علیہ السلام سے حضور نبی کریم ﷺ تک تمام انبیاء ورسل علیہم الصلوٰۃ والسلام کی عزت و ناموس مراد ہے۔ لیکن عام طور پر نبی کریم ﷺ کا ذکر کر کے تمام انبیاء کرام اور رسل عظام بشمول حضرت عیسیٰ و حضرت موسیٰ علیہم السلام مراد لیے جاتے ہیں۔ اسلامی عقائد میں یہ بات واضح طور پر شامل ہے کہ کسی بھی ایک نبی کی توہین یا گستاخی کرنے والا اسلام سے خارج ہو جاتا ہے۔

سوال: توہین رسالت کرنے والے کی شرعی سزا کیا ہے؟

جواب: اسلام میں جمہور علماء کے نزدیک گستاخ رسول کی شرعی سزا ”موت“ ہے۔

سوال: حضور نبی کریم ﷺ کے آداب کے بارے میں قرآن مجید کی کوئی ایک آیت بیان کریں؟

جواب: قرآن مجید میں ہے۔ ”یایھا الذین امنوا لا ترفعوا اصواتکم فوق صوت النبی ولا تجھروا لہ بالقول کجھر بعضکم لبعض ان تحبط اعمالکم وانتم لا تشعرون.“ (الحجرات: 2) (ترجمہ) اے ایمان والو، اپنی آوازوں کو نبی ﷺ کی آواز سے اونچا نہ ہونے دو، اور نہ ان سے اونچی آواز میں بات کرو

صفحہ ١٨

جیسا کہ تم آپس میں بات کرتے وقت کرتے ہو، ایسا نہ ہو کہ تمھارے اب تک کے اعمال اس طرح ضائع ہو جائیں کہ تمھیں احساس تک نہ ہو۔

سوال: یہ اشعار کس شاعر کے ہیں؟

و احسن منک لم تر قط عینی و اجمل منک لم تلد النساء
خلقت مبراً من کل عیب کانک قد خلقت کما تشاء

ترجمہ : ”آپ ﷺ سے بڑھ کر حسین آدمی آج تک میری آنکھ نے نہیں دیکھا، اور عورتوں نے آپ ﷺ سے بڑھ کر کسی خوبصورت بچے کو جنم ہی نہیں دیا ، آپ ﷺ تمام عیبوں اور برائیوں سے اس طرح پاک صاف پیدا کیے گئے ہیں، کہ ایسا لگتا ہے کہ آپ ﷺ اس طرح پیدا ہوئے ، جس طرح آپ ﷺ خود چاہتے تھے۔“

جواب : شاعرِ دربارِ رسالت حضرت حسان بن ثابتؓ کے۔

سوال : اللہ تعالیٰ نے کس آیت کے ذریعے حضور ﷺ پر انسانوں کو درود بھیجنے کا حکم صادر فرمایا؟

جواب : اِنَّ اللّٰهَ وَمَلَائِکَتَهُ يُصَلُّوْنَ عَلَی النَّبِيِّ يَأَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا صَلُّوْا عَلَيْهِ وَسَلِّمُوْا تَسْلِيْمًا (سورۃ الاحزاب :56)

سوال : بتائیے کہ الہامی کتاب تورات میں حضور خاتم النبیین ﷺ کا نام نامی کیا ہے؟

جواب : ماذ ماذ۔

سوال : الہامی کتاب انجیل میں آپ ﷺ کا اسم مبارک کیا ہے؟

جواب : طاب طاب۔

سوال : بتائیے! حضرت امام بوصیریؒ کے مشہور نعتیہ قصیدے بردہ شریف (مولا یا صلّ وسلم) میں کل کتنے اشعار ہیں؟

جواب : تقریباً 160، ایک سو ساٹھ اشعار ہیں۔

سوال : اس عظیم مجاہد خاتون کا نام بتائیے کہ غزوۂ احد میں جس کا باپ، بھائی اور خاوند شہید ہوگئے اور ان افراد کی شہادت کی اطلاع ایک ایک کرکے ان کو دی گئی مگر وہ خاتون ہر مرتبہ یہی پوچھتی رہی: ”پہلے مجھے یہ بتاؤ! کیا حضور ﷺ خیریت سے ہیں؟

صفحہ ١٩

جواب: اس خاتون کا نام حضرت ہند بنت حزام رضی اللہ عنہا ہے۔ جنہوں نے آپ ﷺ کو خیریت سے دیکھتے ہوئے کہا: یارسول اللہ ﷺ! آپ ﷺ کے ہوتے ہوئے ہر غم و پریشانی ہیچ ہے۔

سوال: گستاخ رسول ﷺ کعب بن اشرف یہودی کو کس صحابیؓ نے جہنم واصل کیا تھا؟ جواب: حضرت محمد بن مسلمہؓ نے۔

سوال: بدنام زمانہ گستاخ رسول ولید بن مغیرہ کے عیوب بیان کرتے ہوئے قرآن مجید اسے ”زنیم“ یعنی حرام زادہ قرار دیتا ہے؟ یہ کس سورہ کی کون سی آیات ہیں؟ جواب: سورہ القلم کی آیات نمبر 10 تا 13۔

سوال: اگر کوئی شخص اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی شان میں گستاخی کرے، اس سے متعلق اللہ تعالیٰ کیا فرماتے ہیں؟ جواب: ان الذين يوذون الله و رسوله،لعنهم الله فى الدنيا و الاخرة واعد لهم عذاباً مهينا. (الاحزاب: 57) ترجمہ: بے شک وہ لوگ جو اللہ اور اس کے رسول ﷺ کو ایذا پہنچاتے ہیں، اللہ تعالیٰ نے ان پر لعنت فرمائی دنیا اور آخرت میں اور ان کے لیے تیار کر رکھا ہے ذلت والا عذاب

سوال: جس منافق نے آپ ﷺ کا فیصلہ ماننے سے انکار کیا تو حضرت عمر بن خطابؓ نے اس کا کیا فیصلہ فرمایا؟ جواب: حضرت عمر بن خطابؓ نے اپنی تلوار سے اس منافق کا سر قلم کر کے فرمایا، جو میرے نبی ﷺ کا فیصلہ نہ مانے، عمرؓ کے پاس اس کا یہی فیصلہ ہے۔

سوال: حضرت عمر فاروقؓ کے اس فیصلے پر قرآن کی کون سی آیت نازل ہوئی؟ جواب: فلا وربک لا یومنون حتی یحکموک فیما شجر بینھم ثم لا یجدوا فی انفسہم حرجا مما قضیت ویسلموا تسلیما. (النساء: 65)

صفحہ ٢٠

کے آگے مکمل سر تسلیم خم کردیں۔

سوال: ابن خطل کون تھا؟

جواب: ابن خطل مکہ کا معروف گستاخ رسول تھا، خود بھی شان رسالت مآب ﷺ میں گستاخیاں کرتا تھا اور اپنی دو لونڈیوں سے بھی گستاخی کرواتا تھا۔

سوال: ابن خطل کے بارے میں رسول ﷺ نے کیا فرمایا تھا؟

جواب: حضور ﷺ نے فرمایا کہ اگر ابن خطل کعبہ کے پردوں میں لپٹا ہوا پایا جائے، تب بھی اسے قتل کر دیا جائے۔

سوال: قرآن کریم کی کس سورۂ مبارکہ میں گستاخ رسول کا نام لے کر اس کے لیے عذاب کی وعید سنائی گئی ہے؟

جواب: سورۃ لہب میں ابولہب کا نام لے کر عذاب کی وعید سنائی گئی ہے۔

سوال: گستاخ رسول ابولہب کی موت کس طرح واقع ہوئی؟

جواب: وہ طاعون جیسے زہرناک اور سوزش والے عبرتناک مرض میں مبتلا ہو کر تڑپ تڑپ کر جہنم واصل ہوا، دورانِ بیماری اور موت کے بعد کوئی عزیز حتیٰ کہ اولاد بھی اس کے قریب نہ آئی تھی، یہاں تک کہ مرنے کے بعد لاش سے جب تعفن اٹھنا شروع ہوا تو لوگوں کے شور مچانے پر اس کے بیٹوں نے حبشی مزدوروں سے لکڑیوں کے ذریعے لاش گڑھے میں ڈلوائی اور اوپر سے پتھر ڈال کر مٹی پھینک دی۔

سوال: قرآن کریم کی کس سورۃ میں مسلمانوں کی عبادت گاہ کو مسجد کہا گیا ہے؟

جواب: سورۃ حج، آیت 40، پارہ 17۔

سوال: کیا حضور رسالت مآب ﷺ نے کبھی منافقوں کی بنائی ہوئی مسجد مسمار کی؟

جواب: جی ہاں! حضور نبی کریم ﷺ ایک دفعہ غزوۂ تبوک پر گئے تو آپ ﷺ کی عدم موجودگی میں منافقین مدینہ نے ایک عبادت گاہ بنائی، جس کا نام مسجد رکھا۔ حضور ﷺ نے اس کو آگ لگوا کر مسمار کروا دیا۔ قرآن مجید میں اسے ”مسجد ضرار“ کہا گیا ہے۔ اس کا ذکر قرآن مجید کی سورۂ توبہ کی آیات 107 تا 110 میں موجود ہے۔

سوال: مشہور گستاخ رسول ابوجہل کو کن عاشقان رسول نے واصل جہنم کیا؟

صفحہ ٢١

جواب: حضرت معاذؓ اور حضرت معوذؓ نے۔ دونوں نوعمر انصاری بھائیوں نے ابوجہل پر حملہ کر کے نیچے گرایا اور حضرت عبداللہ بن مسعودؓ نے اس کا سر کاٹا تھا۔

سوال: حضور نبی کریم ﷺ سے محبت کرنا تقاضائے ایمان ہے۔ حضور ﷺ سے لامحدود اور غیر مشروط محبت کرنا ایمان کی بنیادی شرط ہے۔ کیا آپ عربی میں وہ حدیث بتا سکتے ہیں جس میں یہ تقاضا بیان ہوا ہے؟

جواب: حضور سرور کائنات ﷺ کا ارشاد گرامی ہے: لَا یُؤْمِنُ اَحَدُکُمْ حَتّٰی اَکُوْنَ اَحَبَّ اِلَیْہِ مِنْ وَّالِدِہٖ وَوَلَدِہٖ وَالنَّاسِ اَجْمَعِیْنَ. (بخاری شریف)

(ترجمہ) تم میں کوئی شخص اس وقت تک ایمان والا نہیں ہوسکتا جب تک کہ وہ اپنے ماں، باپ، اولاد اور تمام انسانوں سے زیادہ مجھ (حضور نبی کریم ﷺ) سے محبت نہ کرے۔

سوال: معروف دشمن اسلام ابوجہل کا اصل نام کیا تھا؟

جواب: اس کا اصل نام عمرو بن ہشام جبکہ لقب ابوالحکم (عقل کا باپ) تھا۔ مگر حضور نبی کریم ﷺ نے اسے ”ابوجہل“ کا لقب دیا کیونکہ وہ حق دیکھ کر بھی جہالت کا شکار رہا۔

سوال: آپ ﷺ نے مشہور منافق عبداللہ بن ابی کو کون سا لقب دیا؟

جواب: رئیس المنافقین کا۔

سوال: نبی کریم ﷺ ایسے مخاطب کو جو کافر ہوتا، اسے شروع میں سلام کے طور پر کیا لکھتے؟

جواب: السلام علی من اتبع الھدیٰ

سوال: حضور نبی کریم ﷺ نے کس صحابیؓ سے کہا تھا کہ ”میرے ماں باپ تجھ پر قربان ہوں؟“

جواب: حضور نبی کریم ﷺ نے یہ جملہ خوش ہو کر حضرت سعد بن ابی وقاصؓ کو کہا تھا جو غزوہ احد کے موقع پر آپ ﷺ کا تحفظ کرتے ہوئے کفار پر تیر برسا رہے تھے۔ ایک اور موقع پر آپ ﷺ نے یہ جملہ حضرت زبیرؓ سے بھی کہا تھا جو کفار سے جنگ کے دنوں میں دشمنوں کے حالات وعزائم کے بارے میں خفیہ معلومات حاصل کر کے آپ ﷺ کی خدمت میں پیش کرتے تھے۔

سوال: مباہلہ کسے کہتے ہیں؟

صفحہ ٢٢

جواب: اگر کسی امر کے حق و باطل میں فریقین کے درمیان نزاع ہو جائے تو اسے حل کرنے کا صحیح طریقہ عقل و استدلال ہے اور اگر باطل محض اپنی ہٹ دھرمی سے اپنی بات پر اڑا رہے تو پھر یہ طریقہ اختیار کرنا چاہیے کہ سب مل کر اللہ تعالیٰ سے دعا کریں کہ جو فریق اس امر میں باطل پر ہو، اس پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے وبال، لعنت اور ہلاکت پڑے۔ سو جو شخص جھوٹا ہوگا، وہ اس کا خمیازہ بھگتے گا۔ اس طریقہ پر دعا کرنے کو ”مباہلہ“ کہتے ہیں۔ اگر اس دعا میں اپنے عزیز واقارب کو بھی شامل کر لیا جائے تو اس سے مزید اہتمام بڑھ جاتا ہے۔

سوال: شان رسالت مآب ﷺ میں گستاخی کے سلسلہ میں خلیفہ ہارون الرشید اور حضرت امام مالکؒ کے بارے میں کیا تاریخی مکالمہ ہوا؟

جواب: خلیفہ ہارون الرشید نے حضرت امام مالکؒ سے پوچھا کہ اگر دنیا میں کسی جگہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی شان اقدس میں گستاخی ہو جائے تو اس پر حضور نبی کریم ﷺ کی امت کی کیا ذمہ داری ہے؟ جواب میں حضرت امام مالکؒ نے فرمایا: امت مسلمہ اس توہین کا بدلہ لے۔ خلیفہ ہارون الرشید نے پوچھا: اگر وہ (امت مسلمہ) ایسا نہ کرے تو پھر؟ جواب میں امام مالکؒ نے فرمایا: پھر حضور نبی کریم ﷺ کی ساری امت کو مر جانا چاہیے، اس کو زندہ رہنے کا کوئی حق حاصل نہیں۔

سوال: شہیدان ناموس رسالت ﷺ میں چند ایک کے نام بتائیں؟

جواب: غازی عبدالقیوم شہید، غازی مرید حسین شہید، غازی عبدالرحمٰن شہید، غازی محمد صدیق شہید، غازی عامر عبدالرحمٰن چیمہ شہید، غازی عبداللہ شہید، غازی عبدالرشید شہید، غازی میاں محمد شہید، غازی علم الدین شہید، غازی ملک محمد ممتاز قادری شہید۔

سوال: غازی علم الدین شہیدؒ کے بارے میں آپ کیا جانتے ہیں؟

جواب: غازی علم الدین شہیدؒ نے گستاخ رسول راجپال کو 6 اپریل 1929ء کو قتل کیا۔ پھر 22 مئی 1929ء کو انھیں سزائے موت سنائی گئی۔ 31 اکتوبر 1929ء کو انھیں پھانسی دے دی گئی۔ 14 نومبر 1929ء کو ان کی نمازِ جنازہ لاہور میں ادا کی گئی۔ تقریباً 6 لاکھ مسلمانوں نے ان کی نمازِ جنازہ ادا کی۔

صفحہ ٢٣

سوال: علامہ اقبالؒ نے غازی علم الدین شہیدؒ کو اس کے عظیم کارنامے پر کن الفاظ میں خراج تحسین پیش کیا؟ جواب: اسیں گلاں ای کردے رہ گئے تے ترکھاناں دا منڈا بازی لے گیا۔ یعنی: ”ہم باتیں ہی کرتے رہ گئے اور بڑھئی کا لڑکا بازی لے گیا۔“

سوال: ناموس رسالت ﷺ بل کس نے اور کب قومی اسمبلی میں پیش کیا؟ جواب: محترمہ آپا نثار فاطمہ صاحبہ مرحومہ رکن قومی اسمبلی نے 1986ء میں تحفظ ناموس رسالت ﷺ کا بل قومی اسمبلی میں پیش کیا۔

سوال: گستاخان رسول سے متعلقہ تعزیرات پاکستان کی دفعہ 295 سی (قانون توہین رسالت ﷺ) کیا ہے؟ جواب: جو شخص بذریعہ الفاظ زبانی، تحریری یا اعلانیہ اشارتاً یا کنایتاً بہتان تراشی کرے یا رسول کریم حضرت محمد ﷺ کے پاک نام کی بے حرمتی کرے اسے سزائے موت دی جائے گی اور وہ جرمانہ کا بھی مستوجب ہوگا۔

سوال: آج تک کتنے گستاخان رسول کو قانون توہین رسالت کے تحت سزائے موت ہوئی؟ جواب: امریکہ اور مغربی ممالک کے دباؤ پر آج تک کسی بھی مجرم کو سزائے موت نہیں دی گئی۔

سوال: قرآن مجید کی توہین کے مرتکب پر تعزیرات پاکستان کی کون سی دفعہ لاگو ہوتی ہے؟ جواب: 295-بی۔

سوال: علامہ اقبالؒ کی مشہور زمانہ نظم ”شکوہ، جواب شکوہ“ کا آخری شعر کون سا ہے؟ جواب: کی محمدﷺ سے وفا تو نے تو ہم تیرے ہیں

یہ جہاں چیز ہے کیا لوح و قلم تیرے ہیں

سوال: حیات النبی ﷺ کا عقیدہ کیا ہے؟ جواب: حیات النبی ﷺ کا عقیدہ یہ ہے کہ حضور نبی کریم ﷺ اپنی قبر مبارک میں اپنی ظاہری زندگی کی طرح زندہ و جاوید ہیں۔ آپ ﷺ کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے رزق عطا ہوتا ہے۔ آپ ﷺ اذان و اقامت سے نماز پڑھتے ہیں۔ حضور نبی کریم ﷺ اپنے روضہ مبارک پر حاضری کے لیے آنے والے اپنے ہر امتی کو

صفحہ ٢٤

جانتے اور پہچانتے ہیں۔ آپ ﷺ بغیر کسی واسطہ کے صلوٰۃ والسلام براہ راست اور بنفس نفیس خود سماعت فرماتے اور اس کا جواب دیتے ہیں۔ یہ اہل سنت الجماعت کا اجماعی عقیدہ ہے۔ اس عقیدہ کا منکر گمراہ ہے۔ ایسے گروہ سے کسی بھی قسم کے معاملات رکھنا حرام ہے۔

سوال: زکوٰۃ اچھی، حج اچھا، روزہ اچھا، نماز اچھی

مگر میں باوجود ان کے مسلماں ہو نہیں سکتا
نہ جب تک کٹ مروں میں خواجہ بطحا ﷺ کی عزت پر
خدا شاہد ہے کامل میرا ایماں ہو نہیں سکتا

یہ اشعار کس عظیم شاعر کے ہیں؟

جواب: مولانا ظفر علی خانؒ کے۔ (روزنامہ زمیندار لاہور 26 مئی 1929ء)

عظمت صحابہ کرامؓ و اہل بیت عظامؓ

سوال: عشرہ مبشرہ سے کیا مراد ہے؟

جواب: وہ دس صحابی جنھیں رسول اللہ ﷺ نے دنیا میں ہی جنت کی بشارت دی۔ ان کے نام یہ ہیں۔ حضرت ابوبکر صدیقؓ ۔ حضرت عمر فاروقؓ ۔ حضرت عثمان غنیؓ ۔ حضرت علی المرتضیٰؓ ۔ حضرت عبدالرحمٰنؓ بن عوف۔ حضرت طلحہؓ بن عبید اللہ۔ حضرت زبیرؓ بن العوام۔ حضرت ابو عبیدہؓ بن الجراح۔ حضرت سعیدؓ بن زید۔ حضرت سعدؓ بن ابی وقاص۔

سوال: اسلام میں سب سے پہلے حضور نبی کریم ﷺ کی حفاظت کے لیے تلوار کس نے لہرائی؟

جواب: حضرت زبیر بن عوامؓ نے مکہ میں۔

سوال: وہ جنگیں جن میں حضور نبی کریم ﷺ نے بہ نفس نفیس حصہ لیا ہو، غزوات کہلاتی ہیں۔ ان جنگوں کی تعداد بتائیں؟

جواب: (27) ستائیس۔

سوال: حضور ﷺ کے کن چچا کا لقب سید الشہداء ہے؟

صفحہ ٢٥

جواب: حضرت حمزہؓ۔

سوال: مسلمانوں نے کس صحابی کے مسلمان ہونے پر پہلی مرتبہ نعرہ تکبیر بلند کیا؟ جواب: حضرت عمر فاروقؓ کے۔

سوال: کسی ایسے جلیل القدر صحابی رسول کا نام بتائیں جن کی چار پشتیں صحابی ہیں؟ جواب: حضرت ابو بکر صدیقؓ ان کا واحد خاندان ہے جس کی چار پشتیں صحابی ہیں۔ یعنی والد حضرت ابو قحافہؓ، خود حضرت ابو بکر صدیقؓ، بیٹا حضرت عبد الرحمٰنؓ اور پوتا حضرت ابو عتیقؓ۔

سوال: نبی کریم ﷺ کی صاحبزادیوں کے نام بتائیں؟ جواب: حضرت سیدہ زینب رضی اللہ تعالیٰ عنہا، حضرت سیدہ رقیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا، حضرت سیدہ اُم کلثوم رضی اللہ تعالیٰ عنہا، حضرت سیدہ فاطمۃ الزہراء رضی اللہ تعالیٰ عنہا۔

سوال: حضرت امام حسنؓ اور حضرت امام حسینؓ کی فضیلت سے متعلق کوئی سی دو احادیث بتائیں؟ جواب: 1۔ آپ ﷺ نے فرمایا ”حضرت حسنؓ و حسینؓ جنت کے نوجوانوں کے سردار ہیں“۔ 2۔ آپ ﷺ نے فرمایا حضرت حسنؓ و حسینؓ دونوں میرے دنیا کے پھول ہیں“۔

سوال: شہزادیٔ کونین حضرت فاطمۃ الزہراؓ کی فضیلت میں کوئی حدیث بیان فرمائیں؟ جواب: حضور نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا ”حضرت فاطمہؓ میرے جگر کا ٹکڑا ہے جس نے فاطمہؓ کو ناراض کیا اس نے مجھ کو ناراض کیا“۔

فتنہ قادیانیت

سوال: فتنہ قادیانیت کیا ہے؟ جواب: قادیانیت حضور نبی کریم ﷺ سے بغاوت و عداوت کا دوسرا نام ہے۔ قادیانی ایسے شخص کو نبی اور رسول مانتے ہیں جو اپنے کفریہ عقائد کے ساتھ ساتھ گستاخ رسول، گستاخ صحابہ اور گستاخ قرآن وغیرہ تھا۔ وہ شخص ختم نبوت کا منکر اور دین اسلام کا باغی تھا۔ قادیانی، مرزا قادیانی کے تمام دعوٰی جات کی تصدیق اور اُن پر ایمان رکھتے ہیں۔

سوال: مرزائی، قادیانی کون ہیں؟

صفحہ ٢٦

جواب: انگریز ساختہ نبی آنجہانی مرزا غلام قادیانی کو ماننے والے مرزائی، قادیانی کہلاتے ہیں۔ مرزائی، قادیانی ایک ہی کھوٹے سکے کے دو رخ ہیں۔ مرزا ملعون کی قوم مغل برلاس تھی، اس نسبت سے وہ اپنے نام کے شروع میں ”مرزا“ کا اضافہ کرتا تھا اور اسی وجہ سے اس کے چیلے ”مرزائی“ کہلاتے ہیں۔ مرزا قادیانی بھارتی صوبہ پنجاب کے ضلع گورداسپور کے قصبہ قادیان کا رہنے والا تھا، اس نسبت سے وہ اپنے نام کے آخر میں قادیانی کا اضافہ کرتا تھا اور اسی وجہ سے اس کے چیلے ”قادیانی“ بھی کہلاتے ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ مرزا قادیانی کے چیلوں کو جب مرزائی یا قادیانی کہا جائے تو وہ سیخ پا ہو جاتے ہیں بلکہ بعض نازک الطبع اسے گالی تصور کرتے ہیں۔ اب ان عقل کے اندھوں کو کون سمجھائے کہ اس میں ہماری کیا غلطی ہے؟ یہ تو تمہارے خود ساختہ نبی ہی کی سوغاتیں ہیں۔ لہٰذا انہیں گالی سمجھنے کی بجائے اسے قبول کریں۔

سوال: قادیانی، مرزائی خود کو احمدی کیوں کہتے ہیں؟

جواب: قادیانیوں کی دلی تمنا و خواہش ہوتی ہے کہ انہیں مرزائی یا قادیانی کہنے کی بجائے ”احمدی“ کہا جائے۔ قادیانیوں میں ”احمدی“ کہلوانے کا شوق یوں پروان چڑھا کہ آیت قرآنی ”ومبشرا برسول یاتی من بعدی اسمه احمد“

(الصف:6)

میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے جس ”احمد“ کی تشریف آوری کی بشارت دی ہے، اس سے مراد مرزا غلام احمد قادیانی ہے۔ جبکہ صحابہ کرامؓ ، تابعینؒ تبع تابعینؒ اور 1400 سال کے آئمہ تفسیر کا اجماع ہے کہ آیت مذکورہ میں بیان کردہ ”احمد“ سے مراد حضور نبی کریم ﷺ کی ذات بابرکات ہی ہے۔ اب ایک طرف 1400 سال کے آئمہ تفسیر اور دوسری طرف 100 سالہ تاویلات و تلبیسات کے گروہ کا موقف ہے۔ فیصلہ آپ نے کرنا ہے کہ حق پر کون ہے؟ 1400 سال کے آئمہ تفسیر یا 100 سالہ آئمہ تاویل و تلبیس۔ مرزا قادیانی کا نام ”غلام احمد“ تھا اور غلام احمد سے ”احمد“ کی نسبت عقل و فہم اور قاعدہ و قانون سے بالا ہے۔ ہاں! حضور ﷺ کے اسم گرامی ”احمد“ کی نسبت سے ہم مسلمان احمدی ہیں بلکہ محمدی بھی ہم ہیں۔ قادیانی

صفحہ ٢٧

حضرات احمدی کی نسبت کو استعمال کرتے ہوئے جہاں امت محمدیہ واحمدیہ کے جذبات مجروح کرتے ہیں، وہاں غیر محسوس طریقے سے مسلمانوں میں داخل ہونے کی سعی لاحاصل کرتے ہیں۔

سوال: قادیانی اپنے مذہب کے لیے کون سے شعائر اسلامی استعمال کرتے ہیں؟ جواب: قادیانی غیر مسلم ہونے کے باوجود اپنی عبادت گاہ کو مسجد، مرزا قادیانی کو نبی اور رسول، مرزا قادیانی کی بیوی کو ام المومنین، مرزا قادیانی کی بیٹی کو سیدۃ النساء، مرزا قادیانی کے خاندان کو اہل بیت، مرزا قادیانی کے ساتھیوں کو صحابہ کرام، قادیان کو مکہ مکرمہ، ربوہ کو مدینہ، مرزا قادیانی کی باتوں کو احادیث مبارکہ، مرزا قادیانی پر اترنے والی نام نہاد وحی کو قرآن مجید اور محمد رسول اللہ سے مراد مرزا قادیانی لیتے ہیں۔ (نعوذ باللہ من ذلک)

سوال: قادیانیوں کے نزدیک الہامی کتاب کا درجہ کس کتاب کو حاصل ہے؟ جواب: اس کتاب کا نام ”تذکرہ“ ہے، جس میں مرزا قادیانی کے شیطانی خواب، کشف، نام نہاد وحیاں اور الہامات وغیرہ درج ہیں۔

سوال: بتائیے! قادیانیوں کی مشہور کتاب ”تذکرہ“ سے کیا مراد ہے اور قادیانیوں کے نزدیک اس کا کیا مقام ہے؟ جواب: مرزا قادیانی کی نام نہاد وحیوں اور الہامات پر مشتمل کتاب کا نام تذکرہ ہے۔ قادیانیوں کے نزدیک تذکرہ ”قرآن مجید“ کی طرح مقدس اور اللہ تعالیٰ کی کتاب ہے۔ کیونکہ مرزا قادیانی کا کہنا ہے کہ میں اپنی وحی اور الہامات پر اسی طرح ایمان لاتا ہوں جس طرح قرآن مجید پر۔ (حقیقة الوحی ص 220 مندرجہ روحانی خزائن ج 22 ص 220 از مرزا قادیانی)

سوال: قادیانی، قرآن اور قادیان کا کیا تعلق بتاتے ہیں؟ جواب: قادیانیوں کا عقیدہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید کو قادیان کے قریب نازل کیا ہے، (نعوذ باللہ) مرزا قادیانی کا کہنا ہے کہ اس پر وحی نازل ہوئی ہے۔ انا انزلناہ قریباً من القادیان یعنی اے مرزا، ہم نے قرآن مجید کو قادیان کے قریب

صفحہ ٢٨

نازل کیا۔ (تذکرہ مجموعہ وحی والہامات ص 59 طبع چہارم از مرزا قادیانی)

سوال: قادیانیوں کا مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کے بارے میں کیا عقیدہ ہے؟

جواب: قادیانیوں کا عقیدہ ہے کہ مکہ اور مدینہ سے روحانیت، فیوضات اور برکات حاصل کرنے کا سلسلہ ختم ہو چکا ہے، اب جو شخص بھی روحانیت اور برکات حاصل کرنا چاہتا ہے، وہ قادیان کا رخ کرے۔

سوال: مرزا قادیانی نے شہید کربلا سید الشہد حضرت امام حسینؓ سے متعلق کیا بکواس کی؟

جواب: مرزا قادیانی نے حضرت امام حسینؓ کے بارے میں بکواس کرتے ہوئے کہا کہ 100 حسین میرے گریبان میں ہیں۔ میں ہر روز کربلا کی سیر کرتا ہوں۔ میں کستوری ہوں جبکہ حسین گوہ کا ڈھیر ہے۔ (نعوذ باللہ) (نزول المسیح ص 99 روحانی خزائن جلد 18، ص 477، اعجاز احمدی ص 82، روحانی خزائن جلد 19 ص 194)

سوال: قادیانی عقیدہ کے مطابق جو مسلمان مرزا قادیانی کو نبی نہ مانے، وہ کون ہے؟

جواب: قادیانیوں کے نزدیک ایسا مسلمان سور، حرام زادہ اور بدکار عورت کا بیٹا ہے۔

سوال: قادیانیوں کے عقیدہ کے مطابق کن کن شہروں کا نام قرآن پاک میں آیا ہے؟

جواب: مکہ، مدینہ اور قادیان (نعوذ باللہ)

سوال: قادیانی بہشتی مقبرے میں دفن ہونے کے لیے سب سے ضروری شرط کیا ہے؟

جواب: قادیانی بہشتی مقبرے میں دفن ہونے کے لیے ضروری ہے کہ وہاں دفن ہونے والا اپنی کل منقولہ و غیر منقولہ آمدن کا دسواں حصہ قادیانی جماعت کو دے، لیکن مرزا قادیانی اور اس کی آنے والی تمام اولاد کے لیے کوئی شرط نہیں۔

سوال: قادیان کہاں واقع ہے؟

جواب: قادیان، بھارت کے صوبے مشرقی پنجاب کے ضلع گورداسپور کی تحصیل بٹالہ کا ایک گاؤں ہے۔

سوال: وہ کون سا قادیانی خلیفہ تھا، جس کی بیوی بڑھاپے میں اسے بیماری کی حالت میں چھوڑ کر اپنے آشنا کے ساتھ فرار ہو گئی تھی؟

جواب: قادیانی جماعت کا پہلا خلیفہ حکیم نورالدین۔

صفحہ ٢٩

سوال: قادیانی وزیر خارجہ سر ظفر اللہ خاں نے قائد اعظم محمد علی جناحؒ کی نماز جنازہ کیوں نہ پڑھی؟

جواب: کیونکہ وہ بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناحؒ کو کافر سمجھتا تھا۔

سوال: کس مسلمان حکمران کی شہادت پر قادیانیوں نے مٹھائی تقسیم کی اور خوشی سے بھنگڑا ڈالا؟

جواب: خادم حرمین شریفین شاہ فیصل شہیدؒ کی شہادت پر۔

سوال: کس انگریز گورنر نے قادیانیوں کو ربوہ میں 1033 ایکڑ، 7 کنال 8 مرلے اراضی ایک آنہ فی مرلہ کے حساب سے دی تھی؟

جواب: سر فرانسس موڈی نے۔

سوال: کیا کسی قادیانی مردے کو مسلمانوں کے قبرستان میں دفن کیا جا سکتا ہے؟

جواب: قادیانی مرتد اور دائرہ اسلام سے خارج ہیں، لہٰذا ان کا مسلمانوں اور ان کے قبرستان سے کیا تعلق۔

سوال: دنیا کے اس ملک کا نام بتائیں جہاں یہودیت کے علاوہ کسی اور مذہب کی تبلیغ کی قانونی اجازت نہیں، لیکن قادیانی مشن وہاں بھی قائم ہے؟

جواب: اسرائیل میں۔

سوال: قادیانیوں نے مسلمانوں کے بالمقابل اپنا سال بھی ترتیب دیا۔ کیا آپ قادیانی سال کے مہینوں کے نام بتا سکتے ہیں؟

جواب: 1- صلح، 2- تبلیغ، 3- امان، 4- شہادت، 5 ہجرت، 6- احسان، 7- وفا، 8- ظہور، 9- تبوک، 10- اخاء، 11- نبوت، 12- فتح

سوال: جملہ مکمل کریں؟ تین چیزوں سے ہمیشہ بچیں۔

جواب: شیطان۔ شیزان۔ قادیان۔

سوال: انگریزوں نے مرزا قادیانی کو نبی کیوں بنایا؟

جواب: مسلمانوں کے دلوں سے حضور نبی کریم ﷺ کی عقیدت و محبت اور جذبہ جہاد ختم کرنے کے لیے، قرآن و سنت کی تعلیمات کو مسخ کرنے کے لیے اور ملت اسلامیہ کی وحدت کو پارہ پارہ کرنے کے لیے انگریزوں نے مرزا قادیانی کو نبی بنایا۔

سوال: مسلمانوں اور قادیانیوں کے کلمہ میں بنیادی فرق کیا ہے؟

صفحہ ٣٠

جواب : قادیانی عقیدہ کے مطابق مرزا قادیانی ”محمد رسول اللہ“ ہے۔ لہٰذا قادیانی، کلمہ طیبہ میں محمد سے مراد مرزا قادیانی کو لیتے ہیں۔ جیسا کہ مرزا قادیانی کا بیٹا مرزا بشیر احمد ایم اے لکھتا ہے: ”پس مسیح موعود (مرزا قادیانی) خود محمد رسول اللہ ﷺ ہے جو اشاعت اسلام کے لیے دوبارہ دنیا میں تشریف لائے، اس لیے ہم کو کسی نئے کلمہ کی ضرورت نہیں، ہاں اگر محمد رسول اللہ ﷺ کی جگہ کوئی اور آتا تو ضرورت پیش آتی۔“

(کلمۃ الفصل صفحہ 158 از مرزا بشیر احمد ایم اے ابن مرزا قادیانی)

سوال : مرزا بشیر الدین محمود نے اپنی ایک بیٹی سے منہ کالا کیا۔ اس کا نام بتائیں؟

جواب : امۃ الرشید (بحوالہ شہر سدوم از شفیق مرزا)

سوال : مرزا قادیانی کا دوست حکیم نور الدین جب اُسے ملنے اس کے گھر آتا تھا تو مرزا قادیانی کی بیوی نصرت جہاں بیگم اُسے کس نام سے پکارتی تھی؟

جواب : نصرت جہاں بیگم پیار اور دل لگی سے حکیم نور الدین کو ”چٹا ککڑ“ (سفید مرغا) کہہ کر بلاتی تھی۔

سوال : قادیانیوں اور دیگر کافروں میں کیا فرق ہے؟

جواب : قادیانی زندیق ہیں جو اسلام کو کفر جبکہ اپنے کفریہ عقائد کو اسلام کے طور پر پیش کرتے ہیں اور خود کو مسلمان کہتے ہیں۔ دنیا کے تمام کافر اپنے کفر پر اسلام کا لیبل نہیں لگاتے۔ وہ لوگوں کے سامنے اپنے کفر کو اسلام کے نام سے پیش نہیں کرتے، بلکہ ان کے مذاہب کی اپنی الگ الگ پہچان ہے اور ان کے شعائر اور عقائد بھی علیحدہ علیحدہ ہیں۔ دیگر کافروں کے نبی سچے لیکن خود جھوٹے، قادیانی خود جھوٹے ان کا نبی بھی جھوٹا۔ یہودی، عیسائی، ہندو وغیرہ یہ عام کافر ہیں، جو اپنے مذہب کی تشہیر یہودیت، عیسائیت اور ہندومت سے کرتے ہیں، جبکہ قادیانی اپنے کفر پر اسلام کا لیبل لگا کر قادیانیت کو اسلام اور اسلام کو کفر کہتے ہیں، لہٰذا قادیانی عام کافر نہیں بلکہ زندیق ہیں۔ سپریم کورٹ آف پاکستان کے فیصلہ کی روشنی میں یہ بات بھی یاد رکھنے کے لائق ہے کہ قادیانیوں اور دیگر غیر مسلموں (عیسائیوں، یہودیوں، ہندوؤں، سکھوں وغیرہ) میں زمین و آسمان کا فرق ہے۔ دیگر غیر مسلم، کافر ہونے کی

صفحہ ٣١

وجہ سے اپنے آپ کو مسلمان نہیں کہتے، نہ اپنے مذہب کو اسلام کہتے ہیں اور نہ ہی وہ شعائر اسلامی استعمال کرتے ہیں۔ اس کے برعکس قادیانی غیر مسلم ہونے کے باوجود اپنے آپ کو مسلمان کہتے ہیں، اپنے کفریہ عقائد کو اسلام کہتے ہیں، مسلمانوں کو کافر سمجھتے ہیں اور اپنے مذہب کو اسلام کہہ کر تبلیغ و تشہیر کرتے اور تمام شعائر اسلامی استعمال کرتے ہیں۔ اسلام سچے نبی کے جھوٹے پیروکاروں کے وجود کو تسلیم کرتا ہے لیکن اسلام نہ جھوٹے نبی کو قبول کرتا ہے اور نہ ہی اس کے پیروکاروں کو۔ چنانچہ زندیق ہونے کی حیثیت سے قادیانیوں کے احکامات عام کافروں سے علیحدہ ہیں۔

سوال: 1857ء کی جنگ آزادی میں مرزا قادیانی کے باپ نے انگریزوں کی کیا مدد کی تھی؟ جواب: انگریزی فوج کو اپنے پاس سے پچاس سوار اور پچاس گھوڑے دیے۔

سوال: مرزا قادیانی نے دوران ملازمت مختاری کا امتحان دیا تھا، اس کا کیا بنا؟ جواب: فیل ہو گیا تھا۔

سوال: قادیانی، مسلمانوں کو کیا سمجھتے ہیں؟ جواب: خدا کے نافرمان، جہنمی، رنڈیوں کی اولاد، مرد سور، عورتیں کتیاں، حرام زادے، ابو جہل کی پارٹی، کافر، دائرہ اسلام سے خارج۔ کیونکہ مسلمان مرزا قادیانی کو نبی نہیں مانتے۔

سوال: مرزائیوں کے شہر ربوہ کا نیا نام بتائیں اور یہ کہاں واقع ہے؟ جواب: چناب نگر۔ یہ دریائے چناب کے مغربی کنارے فیصل آباد، سرگودھا روڈ پر ضلع چنیوٹ کی حدود میں واقع ہے۔

سوال: مرزا قادیانی نے اپنی ایک کتاب میں اپنے حاملہ ہونے کا ذکر کیا ہے۔ اس کی تفصیل بتائیں؟

جواب: ایک دفعہ مجھے ایسے محسوس ہوا کہ میں عورت ہوں۔ اللہ تعالیٰ نے میرے ساتھ رجولیت کا اظہار کیا جس سے میں حاملہ ہو گیا۔ ............. مریم کی روح عیسیٰ کی طرح مجھ میں نفخ کی گئی۔ میں دس ماہ تک حاملہ رہا۔ پھر مجھے درد زہ ہوئی۔ پھر مجھے مریم سے عیسیٰ بنایا گیا (یعنی میرے میں سے میں نکلا)۔ لہٰذا میں ابن مریم ہوں۔

(اسلامی قربانی از قاضی یار محمد قادیانی، کشتی نوح ص نمبر 47 شیطانی خزائن جلد 19 ص 50، 51)

صفحہ ٣٢

سوال: کس قادیانی خلیفہ کے بارے میں مشہور ہے کہ جب وہ مرض الموت میں مبتلا تھا تو اپنا پاخانہ کھاتا تھا؟

جواب: مرزا بشیر الدین محمود قادیانی کے بارے میں۔

سوال: مرزا قادیانی نے اپنے حقیقی بیٹے کو جائیداد سے عاق کر دیا، اس کا جنازہ بھی نہ پڑھا کیونکہ اس نے مرزا کو نبی ماننے سے انکار کر دیا تھا، مرزا کے اس بیٹے کا نام بتائیے؟

جواب: مرزا فضل احمد۔

سوال: مرزا قادیانی نے اپنی کتاب نجم الہدیٰ میں مسلمان مردوں اور عورتوں کو کن الفاظ سے گالیاں دی ہیں؟

جواب: مرزا قادیانی نے لکھا: ”دشمن ہمارے بیابانوں کے خنزیر ہو گئے اور ان کی عورتیں کتیوں سے بڑھ گئی ہیں۔“ (روحانی خزائن، ج14، ص53)

سوال: مرزا قادیانی نے سیّدنا عیسیٰ روح اللہ کی شان میں جو گستاخیاں کی ہیں، ان میں سے کوئی دو بیان کریں؟

جواب: 1- آپ (حضرت عیسیٰ علیہ السلام) کا خاندان بھی نہایت پاک اور مطہر ہے تین دادیاں، نانیاں آپ کی زنا کار اور کسبی عورتیں تھیں۔ (نعوذ باللہ)

(ضمیمہ انجام آتھم ص 7، مندرجہ روحانی خزائن، ج11، ص291)

2- ”آپ (حضرت عیسیٰ علیہ السلام) کو گالیاں دینے اور بدزبانی کی اکثر عادت تھی، ادنیٰ ادنیٰ بات میں غصہ آ جاتا تھا۔“ (ضمیمہ انجام آتھم حاشیہ ص 5، مندرجہ روحانی خزائن، ج11، ص289)

3- ایک دفعہ مرزا قادیانی کو افیون استعمال کرنے کا مشورہ دیا گیا، اس کے جواب میں مرزا قادیانی نے کہا: ”میں ڈرتا ہوں کہ لوگ ٹھٹھا کر کے یہ نہ کہیں کہ پہلا مسیح (حضرت عیسیٰ علیہ السلام) تو شرابی تھا اور دوسرا افیونی۔“

(نسیم دعوت، ص69، مندرجہ روحانی خزائن، ج19، ص435)

سوال: مرزا قادیانی کی اللہ تعالیٰ کے بارے میں چار گستاخیاں بتائیں

جواب: (1) سچا خدا وہی ہے جس نے قادیان میں اپنا رسول بھیجا۔ (نعوذ باللہ من ذلک)

صفحہ ٣٣

کر لیا کہ میں وہی ہوں۔ (نعوذ باللہ من ذلک)

سوال : قادیانیوں کے کفریہ عقائد میں سے کوئی سے تین عقائد بیان کریں؟

مطابق کلمہ طیبہ میں رسول اللہ سے مراد مرزا قادیانی ہے۔ (العیاذ باللہ)

(کلمۃ الفصل ص 158 از مرزا بشیر احمد قادیانی ابن مرزا قادیانی)

ہے حتیٰ کہ محمد رسول اللہ ﷺ سے بھی بڑھ سکتا ہے۔“

(مرزا بشیر الدین محمود کی ڈائری، اخبار الفضل قادیان نمبر 5، جلد 10، 17 جولائی 1922ء)

نازل ہوئیں۔ (تذکرہ مجموعہ وحی و الہامات طبع چہارم از مرزا قادیانی)

(حقیقت الوحی ص 73 روحانی خزائن ج 22 ص 76)

اور نانیاں کنجریاں ، زنا کار اور کسبی عورتیں تھیں۔ آپ کا کوئی معجزہ نہ تھا۔ (نعوذ باللہ)

(انجام آتھم روحانی خزائن جلد 11 صفحہ 291 ، خزائن جلد 19 ص 71 از مرزا قادیانی)

(تذکرہ مجموعہ وحی و الہامات ص 59 طبع چہارم از مرزا قادیانی)

(کلمۃ الفصل 173 از مرزا بشیر احمد ایم اے ابن مرزا قادیانی)

(حقیقۃ الرؤیاء ص 46 از مرزا بشیر الدین)

صفحہ ٣٤

کی اولاد ہیں۔ (آئینہ کمالات اسلام ص 547 از مرزا قادیانی)

سوال: وہ کون سی قرآنی آیات ہیں جو قادیانی عقیدہ کے مطابق مرزا قادیانی پر نازل ہوئیں؟ (نعوذباللہ)

جواب: قادیانی عقیدہ کے مطابق مرزا قادیانی پر نازل ہونے والی قرآنی آیات مندرجہ ذیل ہیں۔ (نعوذباللہ)

(تذکرہ مجموعہ وحی والہامات صفحہ 73، طبع چہارم از مرزا قادیانی)

(تذکرہ مجموعہ وحی والہامات صفحہ 194 طبع چہارم از مرزا قادیانی)

(تذکرہ مجموعہ وحی والہامات صفحہ 541 طبع چہارم از مرزا قادیانی)

(تذکرہ مجموعہ وحی والہامات صفحہ 198 طبع چہارم از مرزا قادیانی)

(تذکرہ مجموعہ وحی والہامات صفحہ 73 طبع چہارم از مرزا قادیانی)

(تذکرہ مجموعہ وحی والہامات صفحہ 398 طبع چہارم از مرزا قادیانی)

(تذکرہ مجموعہ وحی والہامات صفحہ 37 طبع چہارم از مرزا قادیانی)

(تذکرہ مجموعہ وحی والہامات صفحہ 64 طبع چہارم از مرزا قادیانی)

سوال: غار ثور کی توہین کرتے ہوئے مرزا قادیانی نے کیا کہا؟

صفحہ ٣٥

جواب: نہایت متعفن اور تنگ و تاریک اور حشرات الارض کی نجاست کی جگہ تھی۔ (نعوذ باللہ من ذلک) (تحفہ گولڑویہ مندرجہ روحانی خزائن ج 17 حاشیہ ص 205 از مرزا قادیانی)

سوال: قادیانی اپنے عقیدہ کے مطابق مسلمانوں کو کیا سمجھتے ہیں؟

جواب: ”اور (جو) ہماری فتح کا قائل نہیں ہوگا تو صاف سمجھا جاوے گا کہ اس کو ولد الحرام بننے کا شوق ہے اور حلال زادہ نہیں۔“

(انوار اسلام صفحہ 30 مندرجہ روحانی خزائن جلد 9 صفحہ 31 از مرزا قادیانی)

”جو میرے مخالف تھے، ان کا نام عیسائی اور یہودی اور مشرک رکھا گیا۔“

(نزول المسیح (حاشیہ) صفحہ 4 مندرجہ روحانی خزائن جلد 18 صفحہ 382 از مرزا قادیانی)

”تلک کتب ینظر الیھا کل مسلم بعین المحبۃ والمودۃ وینفع من معارفھا ویقبلنی و یصدق دعوتی۔ الا ذریۃ البغایا۔“

ترجمہ ”میری ان کتابوں کو ہر مسلمان محبت کی نظر سے دیکھتا ہے اور اس کے معارف سے فائدہ اٹھاتا ہے اور میری دعوت کی تصدیق کرتا ہے اور اسے قبول کرتا ہے مگر کنجریوں (بدکار عورتوں) کی اولاد نے میری تصدیق نہیں کی۔“

(آئینہ کمالات اسلام صفحہ 547، 548 مندرجہ روحانی خزائن جلد 5 صفحہ 547، 548 از مرزا قادیانی)

”دشمن ہمارے بیابانوں کے خنزیر ہوگئے۔ اور ان کی عورتیں کتیوں سے بڑھ گئی ہیں۔“

(نجم الہدیٰ صفحہ 53 مندرجہ روحانی خزائن جلد 14 صفحہ 53 از مرزا قادیانی)

سوال: قادیانی عقیدہ کے مطابق جو شخص مرزا قادیانی کو نبی یا رسول نہ مانے، قادیانی اسے کیا سمجھتے ہیں؟

جواب: ”ہر ایک ایسا شخص جو موسیٰؑ کو تو مانتا ہے مگر عیسیٰؑ کو نہیں مانتا یا عیسیٰؑ کو مانتا ہے مگر محمدؐ کو نہیں مانتا اور یا محمدؐ کو مانتا ہے پر مسیح موعودؑ کو نہیں مانتا وہ نہ صرف کافر بلکہ پکا کافر اور دائرہ اسلام سے خارج ہے۔“ (کلمۃ الفصل صفحہ 110 از مرزا بشیر احمد ابن مرزا قادیانی)

”خدا تعالیٰ نے میرے پر ظاہر کیا ہے کہ ہر ایک شخص جس کو میری دعوت پہنچی ہے اور اس نے مجھے قبول نہیں کیا، وہ مسلمان نہیں ہے۔“

(تذکرہ مجموعہ وحی و الہامات صفحہ 519 طبع چہارم از مرزا قادیانی)

صفحہ ٣٦

”کل مسلمان جو حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) کی بیعت میں شامل نہیں ہوئے، خواہ انہوں نے حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) کا نام بھی نہیں سنا، وہ کافر اور دائرہ اسلام سے خارج ہے۔“ (آئینہ صداقت صفحہ 35 مندرجہ انوار العلوم ج 6 ص 110 از مرزا بشیر الدین محمود ابن مرزا قادیانی)

مخالف رہے گا۔ وہ خدا اور رسول کی نافرمانی کرنے والا اور جہنمی ہے۔“

(تذکرہ مجموعہ وحی والہامات صفحہ 280 طبع چہارم از مرزا قادیانی)

سوال: جھوٹے مدعی نبوت آنجہانی مرزا قادیانی کے بعد اس کے کئی چیلوں نے نبوت کا دعویٰ کیا۔ ان میں سے چند ایک کے نام بتائیں؟

جواب: یار محمد قادیانی، احمد نور کابلی، عبد اللطیف گناچوری، الٰہی بخش ملتانی، چراغ دین جمونی، عبد اللہ تیماپوری

سوال: جہاد سے متعلق قادیانی کیا عقیدہ رکھتے ہیں؟

جواب: مرزا قادیانی لکھتا ہے ”ہر وہ شخص جو میری بیعت کرتا ہے اور مجھے مسیح موعود مانتا ہے اور اسی روز سے اسے یہ عقیدہ رکھنا پڑتا ہے کہ اس زمانے میں جہاد قطعاً حرام ہے۔“

(مجموعہ اشتہارات ج 3 ص 247 از مرزا قادیانی)

اور دوسری جگہ لکھتا ہے کہ ’میں یقین رکھتا ہوں کہ جیسے جیسے میرے مرید بڑھیں گے ویسے ویسے مسئلہ جہاد کو ماننے والے کم ہوتے جائیں گے کیونکہ مجھے مسیح اور مہدی مان لینا بھی جہاد کا انکار کرنا ہے۔‘ (مجموعہ اشتہارات ص 3، ص 19، از مرزا قادیانی)

سوال: آنجہانی مرزا قادیانی نے اپنی کتاب میں لکھا ہے کہ میں نے ممانعت جہاد اور انگریزی اطاعت کے بارے میں اس قدر کتابیں لکھی ہیں کہ اگر وہ اکٹھی کی جائیں تو اس سے کئی الماریاں بھر سکتی ہیں۔ بتائیے اس نے کتنی الماریوں کا ذکر کیا؟

جواب: 50 الماریوں کا۔ حالانکہ مرزا قادیانی نے 83 کے قریب کتابیں لکھیں۔ اس سے تو آدھی الماری نہیں بھر سکتی۔ (تریاق القلوب ص 27، 28، روحانی خزائن جلد 15 ص 155، 156)

سوال: مرزا قادیانی نے کہا تھا کہ اسلام کے دو حصے ہیں، بتائیے کون کون سے؟

صفحہ ٣٧

جواب: مرزا قادیانی نے کہا کہ اسلام کے دو حصے ہیں۔ ایک اللہ تعالیٰ کی اطاعت اور دوسرا حکومت برطانیہ کی اطاعت۔ (مندرجہ روحانی خزائن ج 6 ص 380 از مرزا قادیانی)

سوال: ڈاکٹر نے کس قادیانی خلیفہ کی عبرتناک حالت دیکھ کر کہا تھا: ’’میں بیماری کا علاج تو کر سکتا ہوں لیکن خدائی پکڑ کا علاج نہیں کر سکتا؟‘‘

جواب: خلیفہ ثانی مرزا بشیر الدین محمود۔

سوال: اسرائیل کی فوج میں کتنے قادیانی ہیں؟

جواب: 1970ء میں اسرائیل کی فوج میں 600 قادیانی شامل تھے۔ اب ان کی تعداد ہزاروں میں ہے۔

سوال: پاکستان کے بارے میں قادیانیوں کا کیا عقیدہ ہے؟

جواب: یاد رہے کہ قادیانیوں کا عقیدہ ہے کہ پاکستان اکھنڈ بھارت بنے گا۔ قادیانی جماعت کے دوسرے خلیفہ مرزا بشیر الدین محمود نے کہا تھا:

ہو کر رہیں تاکہ ملک کے حصے بخرے نہ ہوں بے شک یہ کام بہت مشکل ہے۔ مگر اس کے نتائج بھی بہت شاندار ہیں اور اللہ تعالیٰ چاہتا ہے کہ ساری قومیں متحد ہوں تا احمدیت اس وسیع بیس پر ترقی کرے چنانچہ اس رویا میں اسی طرف اشارہ ہے، ممکن ہے عارضی طور پر افتراق پیدا ہو، اور کچھ وقت کے لیے دونوں قومیں جدا جدا رہیں مگر یہ حالت عارضی ہوگی اور ہمیں کوشش کرنی چاہیے کہ جلد دور ہو جائے۔‘‘

(قادیانی خلیفہ مرزا بشیر الدین محمود کی تقریر، روزنامہ الفضل قادیان 5 اپریل 1947ء صفحہ 3)

لیکن اگر قوموں کی غیر معمولی منافرت کی وجہ سے عارضی طور پر الگ بھی کرنا پڑے تو یہ اور بات ہے۔ اس طرح ہندوستان کی تقسیم پر اگر ہم رضا مند ہوئے ہیں تو خوشی سے نہیں بلکہ مجبوری سے، اور پھر یہ کوشش کریں گے کہ کسی نہ کسی طرح جلد متحد ہو جائے۔‘‘

(قادیانی خلیفہ مرزا بشیر الدین محمود کی تقریر، روزنامہ الفضل قادیان 16 مئی 1947ء صفحہ 2)

اسی طرح قادیانی خلیفہ مرزا طاہر نے لندن کے ایک اجتماع میں خطاب کرتے ہوئے کہا تھا:

صفحہ ٣٨

آپ بے فکر رہیں۔ چند دنوں میں آپ خوشخبری سنیں گے کہ یہ ملک صفحہ ہستی سے نیست و نابود ہوگیا ہے۔“ (ہفت روزہ چٹان 16اگست 1984ء، جلد 39 شمارہ 31)

سوال: زندیق کسے کہتے ہیں؟ کیا قادیانی زندیق ہیں؟ جواب: جو کافر اپنے کفر کو اسلام کہہ کر پیش کرے، اُسے زندیق کہتے ہیں۔ یہودی، عیسائی، سکھ اور ہندو وغیرہ اپنے کفر کو کفر کے طور پر پیش کرتے ہیں لیکن قادیانی اپنے کفر کو اسلام کہہ کر پیش کرتے ہیں۔ لہٰذا اس بات میں کوئی شک و شبہ نہیں کہ قادیانی زندیق ہیں کیونکہ یہ لوگ بظاہر مسلمان ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کے لیے قرآن مجید، احادیث رسول ﷺ، صحابہ کرامؓ، کلمہ، نماز، روزہ سے ظاہری وابستگی ظاہر کرتے نظر آتے ہیں۔

سوال: قادیانیوں کے کون کون سے مشہور فرقے ہیں؟ جواب: عیسائیوں کی طرح قادیانیوں کے بھی کئی فرقے ہیں جن میں ربوی فرقہ، لاہوری فرقہ، دین دار انجمن فرقہ، اروپی فرقہ، حقیقت پسند فرقہ، سرسبز فرقہ، فرقہ المسلمین، اصلاح پسند فرقہ، فرقہ القادیانیت اور صحیح اسلام فرقہ مشہور ہیں۔

سوال: قادیانیوں کے دوسرے فرقہ لاہوری جماعت کے بارے میں آپ کیا جانتے ہیں؟ جواب: جھوٹا مدعی نبوت آنجہانی مرزا قادیانی 1908ء میں جہنم واصل ہوا۔ اس کے بعد حکیم نور الدین گدی نشین ہوا۔ حکیم نور الدین 1914ء میں جہنم واصل ہوا تو دوسرا جانشین بننے پر قادیانی جماعت میں اختلاف ہوگیا۔ مرزا قادیانی کی دوسری بیوی نصرت بائی چاہتی تھی کہ اس کا بیٹا مرزا بشیر الدین محمود جانشین بنے جبکہ مرزا قادیانی کے دیرینہ ساتھی محمد علی کی خواہش تھی کہ وہ جانشین بنے۔ چنانچہ اس پر زبردست جھگڑا ہوا اور مرزا بشیر الدین محمود طاقت کے بل بوتے پر قادیانی جماعت کا دوسرا خلیفہ بن گیا جبکہ محمد علی قادیانی اپنے چند ساتھیوں کے ہمراہ قادیان سے لاہور آ گیا اور یہاں اپنی علیحدہ ”لاہوری جماعت“ بنالی اور کہا ہم مرزا قادیانی کو نبی یا رسول نہیں مانتے بلکہ مجدد مانتے ہیں۔ حالانکہ محمد علی قادیانی 1914ء تک مرزا قادیانی کو نبی اور

صفحہ ٣٩

رسول مانتا رہا اور اس کے تمام کفریہ عقائد کا پرجوش پرچارک رہا۔ آئین پاکستان کی رُو سے دونوں جماعتیں قادیانی جماعت اور لاہوری جماعت غیر مسلم ہیں جو شعائر اسلامی استعمال نہیں کر سکتیں۔

سوال: قادیانیوں سے مناظرہ میں سب سے پہلے کس موضوع پر بات کرنی چاہئے؟ جواب: قادیانیوں سے مناظرہ کرتے وقت آنجہانی مرزا قادیانی کے مضحکہ خیز کردار اور شخصیت پر بات کرنی چاہیے۔ قادیانی اس موضوع پر بات کرنے سے گھبراتے ہیں کیونکہ قادیانی کتب سے ثابت ہے کہ مرزا قادیانی شرابی اور زانی تھا۔ وہ جھوٹ بولتا اور حرام کھاتا تھا۔ اس کی ساری زندگی انگریز کی اطاعت میں گزری۔ اس نے کبھی نماز، روزہ، حج، زکوٰۃ ادا نہ کی۔ اس کی کتابیں جھوٹ اور تضاد بیانیوں سے بھری ہوئی ہیں۔ وہ ایک مخبوط الحواس شخص تھا۔ سوچنا چاہیے کہ قادیانی جس شخص کو اپنا نبی اور رسول مانتے ہیں، اس کے کردار پر بحث کرنے سے کیوں احتراز کرتے ہیں؟

سوال: قادیانی فتنہ کا خاتمہ کس طرح ممکن ہے؟ جواب: 1- مرتد کی شرعی سزا نافذ کی جائے۔

عملدرآمد کروایا جائے۔

آنجہانی مرزا غلام احمد قادیانی

سوال: کیا کسی نبی کا نام مرکب (ایک سے زیادہ) ہوتا ہے؟ مثال دے کر واضح کریں۔ جواب: نہیں، کسی نبی کا نام مرکب (ایک سے زیادہ الفاظ پر مشتمل) نہیں ہوتا بلکہ ہر نبی کا نام مفرد (اکیلا) ہوتا ہے۔ مثلاً آدمؑ، نوحؑ، ہارونؑ، موسیٰؑ، عیسیٰؑ لیکن جھوٹے مدعی نبوت مرزا قادیانی کا نام مرکب ہے، یعنی مرزا غلام احمد قادیانی۔

صفحہ ٤٠

سوال: مرزا قادیانی کی تاریخ پیدائش (سن پیدائش) کیا ہے؟

جواب: مرزا قادیانی 1839ء یا 1840ء میں موضع قادیان ضلع گورداسپور بھارت میں پیدا ہوا تھا۔ یہ مرزا قادیانی کی اپنی تحریروں کے مطابق ہے، لیکن بعد میں اس کے خاندان کے افراد میں اس کی تاریخ پیدائش کے بارے میں اختلاف پیدا ہو گیا۔ اس کے بیٹے مرزا بشیر احمد ایم اے جو اس کا سوانح نگار اور سیرت المہدی کا مصنف ہے کہ پہلے نظریے کے مطابق سال ولادت 1836ء یا 1837ء اور نظر ثانی کے بعد اس نے تاریخ ولادت 13 فروری 1835ء مقرر کی۔ (سیرۃ المہدی، ج3، ص72) ایک تخمینے کے مطابق سال 1831ء ہو سکتا ہے (حوالہ ایضاً) معراج دین نے تاریخ ولادت 7 فروری 1832ء مقرر کی ہے، جبکہ دیگر 1833ء یا 1834ء کو سال ولادت قرار دیتے ہیں۔ مرزائی کتب کے حوالہ جات سے معلوم ہوتا ہے کہ مرزا قادیانی کی تاریخ پیدائش دریافت کرنا آسان نہیں، یہ ایک گورکھ دھندہ معلوم ہوتا ہے۔

سوال: مرزا قادیانی کیسے پیدا ہوا؟

جواب: مرزا قادیانی کہتا ہے کہ میں جڑواں پیدا ہوا، میرے ساتھ میری ایک بہن پیدا ہوئی، پہلے وہ نکلی، پھر میں نکلا اور میرا سر اس کے پاؤں میں پھنسا ہوا تھا۔

(تریاق القلوب ص 351 مندرجہ روحانی خزائن ج 15 ص 479 از مرزا قادیانی)

سوال: اسلامی مہینوں میں صفر کون سا مہینہ ہے؟ یہ بھی بتائیے کہ مرزا قادیانی نے اسے کون سا مہینہ بتایا ہے؟

جواب: اسلامی مہینوں میں صفر دوسرا مہینہ ہے۔ لیکن مرزا قادیانی اسے چوتھا کہتا ہے۔

(تریاق القلوب ص 41 مندرجہ روحانی خزائن ج 15 ص 218 از مرزا قادیانی)

سوال: مرزا قادیانی کو اس کے باپ نے اپنی پنشن لینے بھیجا لیکن مرزا قادیانی پنشن کی رقم لے کر گھر سے بھاگ گیا، بتائیے وہ رقم کتنی تھی؟

جواب: سات سو روپیہ۔ اس دور میں ایک آنہ کا 16 کلو گوشت ملتا تھا۔ آج کل گوشت 300 روپے کلو ہے۔ اس طرح یہ رقم لاکھوں روپے بنتی ہے۔

سوال: مرزا قادیانی کو دن میں کتنی دفعہ پیشاب آتا تھا؟

صفحہ ٤١

جواب: 100 مرتبہ۔ (نسیم دعوت خزائن جلد 19 صفحہ 434، 435 از مرزا قادیانی)

سوال: مرزا قادیانی کے گھر والوں کو اس کی آمد کا دور سے ہی پتہ چل جاتا تھا، کیسے؟

جواب: کیونکہ مرزا قادیانی سارے گھر کی چابیاں اکٹھی کر کے ازار بند کے ساتھ باندھ لیتا تھا اور جب وہ چلتا تھا تو چابیوں کے آپس میں ٹکرانے سے چھن چھن کا میوزک پیدا ہوتا تھا اور یہ میوزک بتاتا تھا کہ مرزا قادیانی آ رہا ہے۔

سوال: مرزا قادیانی اپنا جوتا کیسے پہنتا تھا؟

جواب: دایاں پاؤں، بائیں جوتے میں اور بایاں پاؤں، دائیں جوتے میں۔

(سیرت المہدی جلد اول طبع جدید ص 60 از مرزا بشیر احمد ایم اے)

سوال: مرزا قادیانی قمیض کے بٹن کیسے لگاتا تھا؟

جواب: اوپر والا بٹن نیچے والے کاج میں اور نیچے والا بٹن اوپر والے کاج میں۔

(سیرت المہدی جلد اول طبع جدید ص 344، 417 از مرزا بشیر احمد ایم اے)

سوال: مرزا قادیانی کا گڑ اور مٹی کے ڈھیلوں سے متعلقہ واقعہ بیان کیجئے؟

جواب: مرزا قادیانی کو پیشاب بہت آتا تھا، اس لیے ایک جیب میں مٹی کے ڈھیلے رکھا کرتا تھا۔ اس کے علاوہ اسے میٹھا کھانے کا بھی بہت شوق تھا، اس لیے دوسری جیب میں گڑ کے ڈھیلے رکھا کرتا تھا۔ وہ اکثر گڑ کے ڈھیلوں کے ساتھ استنجا کر لیتا تھا اور مٹی کے ڈھیلے منہ میں ڈال لیتا تھا۔

سوال: مرزا قادیانی کے سب سے تیز رفتار فرشتے کا نام بتائیے؟

جواب: ٹیچی ٹیچی۔ (حقیقت الوحی ص 332 مندرجہ روحانی خزائن جلد 22 ص 346 از مرزا قادیانی)

سوال: وہ کون سی بیماری تھی جو مرزا قادیانی کو اکثر ڈانس کراتی رہتی تھی؟

جواب: خارش۔ (سیرت المہدی ج اول طبع جدید ص 550 از مرزا بشیر احمد ایم اے)

سوال: اس عورت کا نام بتائیے جو رات کو مرزا قادیانی کی ٹانگیں دبایا کرتی تھی؟

جواب: بھانو۔ (سیرت المہدی ج اول طبع جدید ص 722 از مرزا بشیر احمد ایم اے)

سوال: مرزا قادیانی کیسے نماز پڑھتا تھا؟

صفحہ ٤٢

جواب: مرزا قادیانی نماز پڑھتے وقت منہ میں پان رکھتا تھا اور فارسی نظمیں پڑھتا تھا۔

(سیرت المہدی ج اول طبع جدید ص 605، 644 از مرزا بشیر احمد ایم اے)

سوال: مرزا قادیانی کی موت کس بیماری سے ہوئی؟ جواب: ہیضہ سے۔

سوال: مرزا قادیانی کی عبرتناک موت پر کہا گیا، اردو زبان کا کوئی مشہور شعر بتائیں؟ جواب: اگر مرزا ہوتا خدا کا نبی

تو ٹٹی میں گر کر نہ مرتا کبھی

سوال: مرزا قادیانی کی کوئی انگریزی وحی بتائیے؟ جواب: I Love You I am with you I shall help you

سوال: مرزا قادیانی نے کل کتنے حج کیے اور کب؟ جواب: مرزا قادیانی نے صاحب حیثیت ہونے کے باوجود اپنی پوری زندگی میں کوئی حج یا عمرہ ادا نہیں کیا۔ چونکہ وہ گستاخ رسول اور دجال تھا، اس لیے مکہ مکرمہ اور مدینہ طیبہ میں داخل نہ ہوسکا۔

سوال: مرزا قادیانی نے اپنی کس کتاب میں لکھا ہے کہ: ”قادیان کی سیر، نفلی حج سے زیادہ ثواب کا کام ہے؟“ جواب: آئینہ کمالات اسلام ص:352 مندرجہ روحانی خزائن ج 5، ص 352 پر۔

سوال: قادیانیوں کے نزدیک مکہ اور مدینہ والی برکت کس شہر کو حاصل ہے؟ جواب: قادیانیوں کے نزدیک قادیان شہر کو مکہ اور مدینہ والی برکت حاصل ہے۔

سوال: مرزا قادیانی نے شادی کے موقعہ پر اپنی بیوی نصرت جہاں بیگم کو کتنا زیور پہنایا؟ جواب: تقریباً 175 تولے۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ پندرہ روپے ماہوار بطور منشی سیالکوٹ کچہری میں ملازمت کرنے والے کے پاس اتنا زیور اور پیسہ کہاں سے آیا؟

سوال: مرزا قادیانی کتنی زکوٰۃ دیتا تھا؟

صفحہ ٤٣

جواب: مرزا قادیانی نے بہت زیادہ مالدار ہونے کے باوجود ساری زندگی کبھی زکوۃ ادا نہیں کی۔ وہ زکوۃ کیوں دیتا، اس نے تو دولت کے حصول کے لیے انگریز کے ہاتھوں اپنا ایمان بیچ دیا تھا۔

سوال: مرزا قادیانی ساری زندگی جھوٹ بولتا رہا، اس کے کوئی دو تین جھوٹ بیان کریں؟

جواب: مرزا قادیانی نے کہا:

مرزا قادیانی) لیکن وہ 26 مئی 1908ء کو برانڈرتھ روڈ لاہور پر واقع احمدیہ بلڈنگ کی لیٹرین میں عبرتناک موت مرا۔

استاد نہیں۔ حالانکہ اس کا خود اعتراف موجود ہے کہ اس نے فضل الہی، فضل احمد اور گل علی شاہ نامی استادوں سے تعلیم حاصل کی۔ (کتاب البریہ روحانی خزائن ج 13 ص 180، 181 از مرزا قادیانی)

میں آئیں گی۔ ”ایک کنواری ہو گی اور دوسری بیوہ۔“ (تریاق القلوب مندرجہ روحانی خزائن ج 15 ص 201) لیکن مرزا قادیانی کا تا دم مرگ کسی بیوہ سے نکاح نہیں ہوا۔ لہٰذا اس نے جھوٹ بولا۔

سوال: مرزا قادیانی نے ایک مسلمان لڑکی محمدی بیگم کے بارے میں دعویٰ کیا کہ اللہ تعالیٰ نے آسمانوں پر اس سے میرا نکاح کر دیا ہے۔ عنقریب شادی ہوگی، لیکن یہ شادی نہ ہو سکی۔ بتائیے مرزا قادیانی کی آسمانی منکوحہ کی شادی کس مسلمان نوجوان سے ہوئی؟

جواب: سلطان محمد سے۔

سوال: مرزا قادیانی نے کس پیشگوئی کے پورا نہ ہونے کی صورت میں خود کو ہر ایک بد سے بدتر مانا ہے، نیز کیا یہ پیشگوئی پوری ہوئی؟

جواب: محمدی بیگم کے ساتھ نکاح کی پیشگوئی کے پورا نہ ہونے کی صورت میں کہا تھا اور یہ پیشینگوئی پوری بھی نہ ہوسکی۔

صفحہ ٤٤

سوال: وہ کون سی مسلمان خاتون ہے جس کا نام لیتے ہی قادیانی دم دبا کر بھاگ جاتے ہیں؟ جواب: محمدی بیگم

سوال: مرزا قادیانی نے اپنی کس کتاب میں اعتراف کیا ہے کہ وہ انگریز کا خودکاشتہ پودا ہے؟ جواب: ”کتاب البریہ مندرجہ روحانی خزائن جلد 13 ص 350“

سوال: مرزا قادیانی ایک چلتا پھرتا ہسپتال تھا۔ کیا آپ اسے لاحق تین بیماریوں کے نام بتا سکتے ہیں؟ جواب: (1) ہسٹیریا (2) مراق (3) کثرت بول (پیشاب) (4) حافظہ کی کمزوری (5) نامردی (6) دق اور سل (7) مرگی کے دورے (8) ذیابیطس (9) کثرت اسہال

سوال: مرزا قادیانی ایک خاص قسم کی شراب پیا کرتا تھا۔ کیا آپ اس کا نام جانتے ہیں؟ جواب: ای پلومر کی ٹانک وائن (Tonic Wine)

سوال: مرزا قادیانی رات کو سوتے وقت کون سا لباس پہنتا تھا؟ جواب: غرارہ (عورتوں کا لباس)

سوال: مرزا قادیانی کی شاعری سے کوئی دو اشعار سنائیں؟

جواب: چپکے چپکے حرام کروانا آریوں کا اصول بھاری ہے
دس سے کروا چکی ہے زنا لیکن پاک دامن ابھی بے چاری ہے
کرم خاکی ہوں میرے پیارے نہ آدم زاد ہوں
ہوں بشر کی جائے نفرت اور انسانوں کی عار
عشق کا روگ ہے کیا پوچھتے ہو اس کی دوا
ایسے بیمار کا مرنا ہی دوا ہوتا ہے

سوال: مرزا قادیانی کی ماں کس نام سے پکاری جاتی تھی؟ جواب: چراغ بی بی عرف گھسیٹی۔

سوال: مرزا قادیانی کس تاریخ کو جہنم واصل ہوا۔ جگہ کا نام بھی بتائیں؟ جواب: 26 مئی 1908ء بروز منگل صبح 10 بجے لیٹرین میں بمقام احمدیہ بلڈنگ، برانڈرتھ

صفحہ ٤٥

روڈ، لاہور۔

سوال : آنجہانی مرزا قادیانی کس دن کو منحوس کہا کرتا تھا۔ نیز یہ بھی بتائیے کہ وہ خود کس دن مرا؟

جواب : مرزا قادیانی منگل کے دن کو منحوس کہتا تھا اور خود منگل کے دن ہی مرا۔

سوال : مرزا قادیانی کی لاش کس چیز پر لاد کر لاہور سے قادیان پہنچائی گئی؟

جواب : مال گاڑی پر۔

سوال : مرزا قادیانی کے بقول اسے کس کس زبان میں الہامات ہوتے تھے؟

جواب : عربی، عبرانی، فارسی، اردو، ہندی، پنجابی، انگریزی میں۔

سوال : مرزا قادیانی اور قادیانیت کو انگریز کا خود کاشتہ پودا کیوں کہا جاتا ہے؟

جواب : اس لیے کہ مرزا قادیانی نے برٹش حکومت کی ہدایت پر نبوت کا جھوٹا دعویٰ کیا اور فتنۂ قادیانیت کی بنیاد رکھی، جہاد کو حرام قرار دیا، مجاہدین کو حرامی کہا۔

سوال : مرزا قادیانی شراب کے علاوہ کون سا نشہ کرتا تھا؟

جواب : افیون کا۔

سوال : مرنے کے وقت مرزا قادیانی کی کیا حالت تھی؟

جواب : منہ اور مقعد سے پاخانہ بہہ رہا تھا۔

سوال : مرزا قادیانی نے ہندوؤں کے بھگوان پرمیشر سے متعلق کیا کہا؟

جواب : پرمیشر ناف سے دس انگلی نیچے ہے (سمجھنے والے سمجھ لیں) (چشمہ معرفت ص 106 روحانی خزائن جلد 23 ص 114)

سوال : کیا آپ مرزا قادیانی کے خود ساختہ فرشتوں کے نام بتا سکتے ہیں؟

جواب : ٹیچی ٹیچی، درشنی، خیراتی، مٹھن لال، حفیظ، ہمدرد فرشتہ، رانی، انگریزی فرشتہ، میٹھی روٹیوں والے فرشتے۔

سوال : جھوٹے مدعی نبوت آنجہانی مرزا قادیانی نے کون کون سے دعوے کیے؟

جواب : مرزا قادیانی نے تقریباً 200 کے قریب مضحکہ خیز اور کفریہ دعوے کیے۔ جن میں مندرجہ ذیل دعوے شامل ہیں۔ مرزا قادیانی نے کہا: میں کرشن ہوں، میں سورما ہوں۔ میں امین الملک جے سنگھ بہادر ہوں۔ میں آریوں کا بادشاہ ہوں۔ میں

صفحہ ٤٦

کرشن جی رودر گوپال ہوں۔ میں محدث ہوں۔ میں آدم ہوں۔ میں مریم ہوں۔ میں معجون مرکب ہوں۔ میں حجر اسود ہوں۔ میں بیت اللہ ہوں۔ میں میکائیل ہوں۔ میں تمام انبیاء کا مجموعہ ہوں۔ میں رحمۃ للعالمین ہوں۔ میں محمد رسول اللہ ہوں، میں مالک کن فیکون ہوں۔ میں نطفہ خدا ہوں۔ میں خدا کی بیوی ہوں۔ میں خود خدا ہوں۔ (نعوذ باللہ)

حضرت امام مہدی علیہ الرضوان

سوال: حضرت امام مہدی سے متعلق اسلامی عقیدہ کیا ہے، مختصر بیان کریں؟

جواب: حضور نبی کریم ﷺ نے قیامت سے پہلے ایک ایسی شخصیت کے ظہور کی خبر دی ہے کہ جب دنیا میں ظلم وستم بڑھ جائے گا اور دین پر عمل کرنا انتہائی دشوار ہوگا تو اللہ تعالیٰ اس مرد حق کے ذریعے دین اسلام کو استحکام عطا فرمائیں گے۔ اس شخص کو حدیث میں مہدی کا لقب دیا گیا ہے۔

سوال: حضرت امام مہدیؑ کا نام کیا ہوگا؟

جواب: حضرت امام مہدیؑ کا نام حضور اکرم ﷺ کے نام پر یعنی محمد ہوگا۔

سوال: حضرت امام مہدیؑ کے والد محترم اور والدہ محترمہ کا کیا نام ہوگا؟

جواب: حضور نبی کریم ﷺ کے والدین کے نام پر۔ حضرت مہدیؑ کے والد محترم کا نام عبداللہ اور والدہ محترمہ کا نام آمنہ ہوگا اور آپ حضرت فاطمۃ الزہرا رضی اللہ عنہا کی اولاد میں سے ہوں گے۔

سوال: کیا مہدی اور مسیح ایک ہی شخصیت کے دو نام ہیں؟ نیز مرزا قادیانی کا عقیدہ بھی بتائیں؟

جواب: یہ دو مختلف شخصیتیں ہیں، حضرت مہدی علیہ الرضوان حضور ﷺ کی آل میں سے ظاہر ہونے والے ایک مرد حق کا نام ہے، جنھیں عرف عام میں امام مہدی علیہ الرضوان بھی کہا جاتا ہے اور مسیح حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو کہتے ہیں جو ایک دفعہ نبی بن کر آئے اور پھر زندہ آسمان پر اٹھا لیے گئے اور دوبارہ قیامت کے قریب نزول فرمائیں گے، مرزا قادیانی خود کو مسیح بھی کہتا ہے اور مہدی بھی، اس طرح وہ ایک

صفحہ ٤٧

میں دو اور دو میں ایک (یعنی ٹو ان ون) کا قائل ہے۔

سوال: حدیث نبوی ﷺ کی رو سے مہدی و مسیح میں سے کون پہلے ہوگا؟

جواب: حضرت مہدی علیہ الرضوان پہلے ظاہر ہوں گے، ان کے بعد سیّدنا حضرت عیسیٰ علیہ السلام نزول فرمائیں گے۔

سوال: حضرت مہدی علیہ الرضوان کی حدیث نبوی سے چند نشانیاں بتائیں؟

ہو جائے گا۔

خلیفہ نہ بنایا جا سکے)

”مہدی“ ہوگا۔

اللہ عنہا تک پہنچے گا۔

کو پہچان لیں گے اور بیعت کی درخواست کریں گے۔

شریف میں مقامِ ابراہیم اور حجرِ اسود کے درمیان لوگوں سے بیعت لیں گے۔

آپ کی بیعت کرنے چلے آئیں گے۔

جائیں گے۔ کوئی زکوٰۃ لینے والا نہ مل سکے گا۔

صفحہ ٤٨

سوال: حدیث نبوی کے مطابق جب حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا نزول ہوگا تو حضرت مہدی ایک مسجد میں نماز کی امامت کے لیے کھڑے ہو چکے ہوں گے، بتائیے کس مسجد میں؟

جواب: دمشق کی مرکزی جامع مسجد میں، اسی مسجد کے مشرقی مینارہ پر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا نزول ہوگا۔

سوال: بتائیے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کے بعد حضرت مہدی اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام میں سے کون نماز فجر یا عصر کی امامت کروائے گا؟

جواب: حضرت مہدی پہلے ہی امامت کے لیے کھڑے ہو چکے ہوں گے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام زمین پر تشریف لائیں گے اور نماز میں شامل ہونے لگیں گے، حضرت مہدی امامت کے لیے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو جگہ دینے کے لیے پیچھے ہٹیں گے، مگر حضرت عیسیٰ علیہ السلام حضرت مہدی کی اقتداء میں ہی نماز فجر یا عصر ادا کریں گے اور اس سے لوگوں کو معلوم ہو جائے گا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نبی بن کر نہیں بلکہ حضور نبی کریم ﷺ کے امتی بن کر تشریف لائے ہیں۔

حیات ونزول حضرت عیسیٰ علیہ السلام

سوال: حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے متعلق مسلمانوں کا کیا عقیدہ ہے؟

جواب: قرآن وحدیث کی روشنی میں مسلمانوں کا عقیدہ ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو نہ تو قتل کیا گیا اور نہ ہی صلیب پر لٹکایا گیا بلکہ اللہ تعالیٰ نے انھیں آسمانوں پر زندہ اٹھا لیا اور قیامت سے پہلے آپ دنیا میں دوبارہ تشریف لائیں گے۔

سوال: حضرت عیسیٰ علیہ السلام بحیثیت نبی کے تشریف لائیں گے یا بحیثیت امتی کے؟

جواب: حضرت عیسیٰ علیہ السلام قرب قیامت جب تشریف لائیں گے تو بدستور نبی ہوں گے لیکن ان کی شریعت منسوخ ہوگی۔ حضور نبی کریم ﷺ کے بعد نبوت کا دور ختم ہو چکا ہے۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام بحیثیت ایک امتی کے تشریف لائیں گے۔ فیصلے قرآن وسنت کے مطابق فرمائیں گے اور دین اسلام پھیلائیں گے۔

صفحہ ٤٩

سوال : قرآن کی رو سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی چند امتیازی خصوصیات بیان کریں؟ جواب : 1- بن باپ پیدائش 2- زندہ آسمان پر اٹھایا جانا 3- قرب قیامت میں دوبارہ آسمان سے دنیا میں تشریف آوری 4- دجال کو قتل کرنا

سوال : حضرت عیسیٰ علیہ السلام اپنے نزول کے کتنے سال بعد تک زندہ رہیں گے؟ جواب : چالیس سال۔

سوال : حضرت عیسیٰ علیہ السلام جب دنیا میں دوبارہ تشریف لائیں گے تو وفات کے بعد ان کی تدفین کہاں ہو گی؟ جواب : حدیث کی رو سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی تدفین حضور اکرم ﷺ کے روضۂ اطہر میں ہو گی۔ یعنی چوتھی قبر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی ہو گی۔

سوال : سیّدنا عیسیٰ علیہ السلام سے متعلق اسلام کا نقطۂ نظر کیا ہے، اس کی وضاحت فرمائیں؟ جواب : حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے متعلق اسلامی عقیدہ یہ ہے کہ وہ حضرت مریم کے بطن مبارک سے محض نفخہ جبرائیل سے پیدا ہوئے پھر بنی اسرائیل کے آخری نبی بن کر مبعوث ہوئے، یہود نے ان سے بغض و عداوت کا معاملہ کیا، آخر کار جب ایک موقع پر ان کے قتل کی مذموم کوشش کی تو بحکم خداوندی، فرشتے ان کو اٹھا کر زندہ سلامت آسمان پر لے گئے اور اللہ تعالیٰ نے ان کو طویل عمر عطا فرما دی اور قرب قیامت میں جب دجال کا ظہور ہوگا اور وہ دنیا میں فتنہ و فساد پھیلائے گا تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام دوبارہ قیامت کی ایک بڑی علامت کے طور پر نازل ہوں گے اور دجال کو مقام لد پر قتل کریں گے، دنیا میں آپ کا نزول ایک امام عادل کی حیثیت سے ہوگا اور اس امت میں آپ حضرت محمد ﷺ کے خلیفہ ہوں گے اور قرآن و حدیث (اسلامی شریعت) پر خود بھی عمل کریں گے اور لوگوں کو بھی اس پر چلائیں گے ان کے زمانہ میں (جو اس امت کا آخری دور ہوگا) اسلام کے سوا دنیا کے تمام مذاہب مٹ جائیں گے اور دنیا میں کوئی کافر نہیں رہے گا، اس لیے جہاد کا حکم موقوف ہو جائے گا، نہ خراج وصول کیا جائے گا اور نہ جزیہ، مال و زر اتنا عام ہوگا کہ کوئی دوسرے سے قبول نہیں کرے گا، نزول کے بعد حضرت عیسیٰ علیہ السلام

صفحہ ٥٠

نکاح بھی فرمائیں گے اور ان کی اولاد بھی ہوگی، پھر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی وفات ہو جائے گی اور مسلمان آپ کی نماز جنازہ پڑھ کر حضور اقدس ﷺ کے روضہ اقدس میں دفن کریں گے۔ یہ تمام امور احادیث صحیحہ متواترہ میں پوری وضاحت کے ساتھ بیان کیے گئے ہیں، جن کی تعداد ایک سو بیس سے متجاوز ہے۔

سوال: حیات عیسیٰ علیہ السلام سے متعلق کوئی سی دو آیات بیان کریں؟ جواب: (1) اذ قال اللہ یٰعیسٰی انی متوفیک و رافعک الی.

(ال عمران: 55)

ترجمہ: یاد کیجیے اس وقت کو جب اللہ تعالیٰ نے فرمایا تھا، اے عیسیٰ میں لے لوں گا تجھ کو پورا پورا اور اٹھالوں گا اپنی طرف۔ (2) وما قتلوہ یقیناً o بل رفعہ اللہ الیہ و کان اللہ عزیزاً حکیما.

(النساء: 157، 158)

ترجمہ: اور یقیناً انہوں نے اس کو (حضرت عیسیٰؑ) کو قتل نہیں کیا بلکہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو اپنی طرف اٹھالیا اور اللہ تعالیٰ غالب حکمت والا ہے۔

سوال: حضرت عیسیٰ علیہ السلام کہاں تشریف لائیں گے، یعنی ان کا نزول کہاں ہوگا؟ جواب: ملک شام کی مرکزی جامع مسجد دمشق کے شرقی مینارہ کی طرف سے آسمان سے آپ کا زمین پر نزول ہوگا۔

سوال: حضرت عیسیٰ علیہ السلام دوبارہ دنیا میں کس حیثیت سے تشریف لائیں گے؟ جواب: حضور نبی کریم ﷺ کے امتی کی حیثیت سے۔

سوال: قرآن مجید کی وہ کون سی واحد سورت ہے، جس کا نام ایک پاکیزہ خاتون کے نام پر ہے؟ جواب: سورۃ مریم (19)

سوال: قادیانیوں کا حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں کیا عقیدہ ہے؟ جواب: مرزائیوں کا عقیدہ ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام فوت ہو چکے ہیں اور اُن کی قبر سری نگر کشمیر کے محلہ خانیار میں ہے۔

سوال: دجال کے بارے میں آپ کیا جانتے ہیں؟ جواب: قرب قیامت حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے آسمان سے زمین پر نزول سے پہلے فتنۂ

صفحہ ٥١

دجال کا ظہور ہوگا۔ دجال شام و عراق کے درمیان نکلے گا۔ اس کی پیشانی پر کافر لکھا ہوگا۔ وہ بائیں آنکھ سے کانا ہوگا۔ وہ تمام دنیا میں جائے گا مگر مکہ معظمہ اور مدینہ طیبہ اس کے شر سے محفوظ رہیں گے۔ اس کے ساتھ ظاہری طور پر جنت و دوزخ ہوگی مگر حقیقت میں اس کی جنت، دوزخ اور دوزخ، جنت ہوگی۔ وہ ایک گدھے پر سوار ہوگا جس کے دونوں کانوں کا درمیانی فاصلہ چالیس ہاتھ ہوگا۔ اس کے ساتھ شیاطین ہوں گے جو لوگوں سے کلام کریں گے اور خلاف عقل واقعات رونما ہوں گے۔ اُس کے ساتھ 70 ہزار یہودی ہوں گے۔ دجال جب حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو دیکھے گا تو اس طرح پگھلنے لگے گا جیسے نمک پانی میں پگھلتا ہے۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام دجال اور اس کے ساتھیوں سے جہاد کریں گے۔ اس وقت تمام یہودیوں کو شکست ہوگی۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام دجال کو قتل کریں گے۔ دجال کا قتل ارضِ فلسطین میں باب لد کے پاس واقع ہوگا۔ اس کے بعد تمام دنیا مسلمان ہو جائے گی۔ اس وقت اسلام کے سوا تمام مذاہب مٹ جائیں گے اور جہاد موقوف ہو جائے گا کیونکہ دنیا میں کوئی کافر باقی نہ رہے گا۔ دجال کی کئی نشانیاں جھوٹے مدعی نبوت آنجہانی مرزا قادیانی میں بھی پائی جاتی تھیں۔

سوال: مرزا قادیانی نے مقام ”لد“ سے کون سا شہر مراد لیا ہے؟

جواب: لدھیانہ۔

قادیانیت: آئین و قانون کی نظر میں

سوال: قادیانیت سے متعلق تاریخی مقدمہ بہاولپور کی کیا تفصیلات ہیں؟

جواب: اس مقدمہ کی مختصر تفصیلات یہ ہیں کہ اس کیس کی مدعیہ دختر اسلام، مجاہدہ ختم نبوت عفت مآب محترمہ غلام عائشہ مرحومہ مغفورہ ہیں جن کا نکاح چھوٹی عمر میں ان کے والد حضرت مولانا الٰہی بخشؒ نے اپنے ایک رشتہ دار عبدالرزاق سے کر دیا تھا مگر رخصتی عمل میں نہ آئی۔ عبدالرزاق خفیہ طور پر قادیانی بن چکا تھا۔ وہ چاہتا تھا کہ میرے کفر و ارتداد کا انکشاف ہونے اور قادیانیت قبول کرنے کا پردہ چاک ہونے سے پہلے ہی

صفحہ ٥٢

رخصتی عمل میں آجائے۔ چنانچہ اس نے رخصتی کا مطالبہ کردیا۔ اسی دوران اتفاق سے مدعیہ کے والد مولانا الٰہی بخش اور ان کے اہل خانہ کو علم ہوگیا کہ ہمارا ہونے والا داماد قادیانی ہوگیا ہے تو انہوں نے اپنی بیٹی کی رخصتی سے انکار کردیا کہ شرعی طور پر اس کے کفر و ارتداد کی بنا پر نکاح فسخ ہوگیا ہے۔ معاملہ کی قانونی نزاکت کے پیش نظر 24 جولائی 1926ء کو مسماۃ غلام عائشہؓ کی مدعیت میں احمد پور شرقیہ ضلع بہاولپور کی عدالت میں تنسیخ نکاح کا مقدمہ دائر کردیا گیا۔ مقدمہ کی کارروائی شروع ہوئی۔ یہ سلسلہ سماعت 1926ء سے لے کر 1935ء تک جاری رہا۔ فریقین کے وکلا اور علما نے اپنے اپنے دلائل پیش کیے۔ بالآخر جناب محمد اکبر خاں ڈسٹرکٹ جج بہاولپور نے مورخہ 7 فروری 1935ء بمطابق 3 ذوالقعدہ 1353ھ کو فیصلہ سنایا: ”قادیانی مرتد اور دائرہ اسلام سے خارج ہیں۔ مرزا قادیانی کاذب مدعی نبوت ہے۔ کسی بھی مسلمان عورت کا نکاح کسی مرزائی سے طے پانے کی کارروائی باطل اور حرام ہے۔ لہٰذا اس کے ساتھ مدعیہ کا نکاح تاریخ ارتداد سے مدعا علیہ سے فسخ ہوچکا ہے۔“

بلاشبہ قرآن و حدیث اور اجماع امت کی روشنی میں عدالت کا یہ فقید المثال فیصلہ مسلمانوں کی بہت بڑی کامیابی تھی جو بعد ازاں پاکستان میں قادیانیوں کو آئینی طور پر غیر مسلم اقلیت قرار دینے کے لیے خشت اوّل ثابت ہوا۔

سوال: قادیانی پاکستان میں کب غیر مسلم اقلیت قرار پائے؟ جواب: سابق وزیراعظم جناب ذوالفقار علی بھٹو مرحوم کے دور حکومت میں 7 ستمبر 1974ء کو ملک کی منتخب پارلیمنٹ نے قادیانیوں کے دونوں گروپوں قادیانی گروپ اور لاہوری گروپ کو متفقہ طور پر کافر اور غیر مسلم اقلیت قرار دیا۔

سوال: قادیانیوں کو آئین پاکستان کی کس شق کے تحت غیر مسلم قرار دیا گیا ہے؟ جواب: آئین پاکستان کے آرٹیکل نمبر 106 کی شق نمبر 3 اور آرٹیکل نمبر 260 کی شق نمبر 3 کے تحت۔

سوال: قانون امتناع قادیانیت کب نافذ ہوا؟ جواب: 26 اپریل 1984ء کو۔

صفحہ ٥٣

سوال : 3 جولائی 1993ء کو سپریم کورٹ آف پاکستان کے ایک فل بینچ نے قادیانیوں کی تمام ”اپیلیں“ خارج کرتے ہوئے فیصلہ دیا کہ قادیانیوں کے خلاف بنائے گئے تمام پاکستانی قوانین قانونی و آئینی طور پر درست اور قرآن وسنت کے عین مطابق ہیں اور اس سے قادیانیوں کے کوئی بنیادی حقوق متاثر نہیں ہوتے۔ مزید کہا کہ ہر قادیانی اپنے کفریہ عقائد کی رو سے بد نام زمانہ گستاخ رسول ملعون سلمان رشدی کی طرح ہے۔ یہ تاریخی فیصلہ کرنے والے معزز جج صاحبان کے نام بتائیں؟

جواب : 1۔ جناب جسٹس عبدالقدیر چوہدری 2۔ جناب جسٹس محمد افضل لون 3۔ جناب جسٹس ولی محمد خان 4۔ جناب جسٹس سلیم اختر ۔

سوال : آزاد کشمیر اسمبلی میں مرزائیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے کی قرار داد کس نے اور کب پیش کی؟

جواب : میجر ریٹائرڈ محمد ایوب نے 22 مارچ 1973ء کو پیش کی۔

سوال : قادیانیوں کو آزاد و جموں کشمیر کے آئین کی کس شق کے تحت کب غیر مسلم اقلیت قرار دیا گیا ہے؟

جواب : آزاد و جموں کشمیر کے آئین 1974ء کے آرٹیکل نمبر 2 کی شق نمبر (1) کے تحت 6 فروری 2018ء کو آئین کی بارہویں ترمیم کے ذریعے قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا گیا۔

سوال : وہ کون سی پاکستانی عدالت ہے جس نے فیصلہ دیا کہ مرزا قادیانی جھوٹا، جعلساز اور دھوکہ باز شخص تھا؟

جواب : وفاقی شرعی عدالت پاکستان نے (1984ء میں)

سوال : بتائیے لاہور ہائی کورٹ کے کس جسٹس نے فیصلہ دیا کہ کوئی مرزائی کسی مسلمان گاؤں کا نمبردار نہیں ہو سکتا؟

جواب : جناب جسٹس میاں محبوب احمد صاحب سابق چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ نے ۔

سوال : قادیانیوں سے متعلق تعزیرات پاکستان کی دفعہ 298 بی کیا ہے؟

جواب : قادیانی گروپ یا لاہوری گروپ کا کوئی شخص جو الفاظ کے ذریعے خواہ زبانی ہوں یا

صفحہ ٥٤

تحریری یا مرئی نقوش کے ذریعے۔

خلیفۃ المسلمین، صحابی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے طور پر منسوب کرے یا مخاطب کرے۔

منسوب کرے یا مخاطب کرے۔

کسی ایک قسم کی سزائے قید اتنی مدت کے لیے دی جائے گی جو تین سال تک ہو سکتی ہے اور وہ جرمانے کا بھی مستوجب ہوگا۔

تحریری یا مرئی نقوش کے ذریعے اپنے مذہب میں عبادت کے لیے بلانے کے طریقے یا صورت کو اذان کے طور پر منسوب کرے یا اس طرح اذان دے جس طرح مسلمان دیتے ہیں تو اسے کسی ایک قسم کی سزائے قید اتنی مدت کے لیے دی جائے گی جو تین سال ہو سکتی ہے اور وہ جرمانے کا مستوجب بھی ہوگا۔

سوال: قادیانیوں سے متعلق تعزیرات پاکستان کی دفعہ 298 سی کیا ہے؟

جواب: قادیانی گروپ یا لاہوری گروپ کا کوئی شخص جو بلا واسطہ یا بالواسطہ خود کو مسلمان ظاہر کرے یا اپنے مذہب کو اسلام کے طور پر موسوم کرے یا منسوب کرے یا الفاظ کے ذریعے خواہ زبانی ہوں یا تحریری یا مرئی نقوش کے ذریعے اپنے مذہب کی تبلیغ یا تشہیر کرے یا دوسروں کو اپنا مذہب قبول کرنے کی دعوت دے یا کسی بھی طریقے سے مسلمانوں کے مذہبی احساسات کو مجروح کرے، کو کسی ایک قسم کی سزائے قید اتنی مدت کے لیے دی جائے گی جو تین سال تک ہو سکتی ہے اور جرمانے کا بھی مستوجب ہوگا۔

سوال: 2019ء میں اسلام آباد ہائی کورٹ نے قادیانیوں کے خلاف ایک تاریخی فیصلہ دیا، اس کے چند اہم نکات بیان کریں۔

جواب: کوئی قادیانی حکومتی کلیدی عہدے پر فائز نہیں ہو سکتا، کوئی قادیانی کسی بھی تعلیمی ادارے میں اسلامیات کا مضمون نہیں پڑھا سکتا۔ قادیانیوں کو غلامان مرزا یا مرزائی

صفحہ ٥٥

سے تعبیر کیا جائے اور کسی صورت انہیں احمدی نہ کہا جائے۔ کسی قادیانی کو یہ حق حاصل نہیں ہے کہ وہ اپنے آپ کو مسلمان ظاہر کرے۔ کوئی بھی شہری جو ایسا کرتا ہے، وہ ریاست سے دھوکا دہی کا مرتکب ہوگا۔

سوال: قادیانیوں نے 1993ء میں سپریم کورٹ میں اپنی رٹ پٹیشن (ظہیر الدین بنام سرکار) کے ذریعے عدالت سے درخواست کی کہ انہیں شعائر اسلامی استعمال کرنے کی اجازت دی جائے۔ اس پر معزز عدالت نے اپنے فیصلہ میں کیا کہا؟

جواب: عدالت نے اپنے فیصلہ میں کہا کہ کسی غیر مسلم کو شعائر اسلامی استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔ ایسی پابندی کا مطلب بے ایمان اور دھوکے باز غیر مسلموں (جیسا کہ قادیانی ہیں) کو شعائر اسلامی کے استعمال سے باز رکھنا ہے تاکہ وہ اسلام کے نام پر دوسرے غیر مسلموں کو اپنے مذہب میں نہ لاسکیں۔ عدالت نے قادیانیوں کے بارے میں unscrupulous and fraudulent non-Muslims کے الفاظ استعمال کیے جو نہایت قابل غور ہیں۔ عدالت نے مزید کہا کہ ہر قادیانی اپنے عقائد کی رو سے گستاخ رسول ہے۔

سوال: قادیانی کہتے ہیں کہ انہیں پاکستان کے آئین کے آرٹیکل 19 اور 20 کے تحت تقریر و تحریر اور اپنے مذہب کی تبلیغ کرنے کا حق حاصل ہے لیکن انہیں پاکستان میں کوئی حقوق حاصل نہیں ہیں، اس بات میں کتنی حقیقت ہے؟

جواب: قادیانیوں کو معلوم ہونا چاہیے کہ آئین کے آرٹیکل 19 اور 20 کے تحت تقریر وتحریر، آزادی اظہار رائے، پریس کی آزادی اور اپنے مذہب کی تبلیغ کرنے کا حق اسلام کی عظمت، پاکستان کی سالمیت، قانون، امن عامہ اور اخلاقیات سے مشروط ہے۔ قادیانیوں کو وہ تمام معاشی، معاشرتی اور سیاسی حقوق حاصل ہیں جو پاکستان کے کسی بھی دوسرے شہری کو حاصل ہیں۔ پاکستان کے تمام بڑے شہروں کے مہنگے ترین علاقوں میں ان کی وسیع وعریض جائیدادیں اور ہاؤسنگ سوسائٹیاں ہیں۔ کاروباری سیکٹر میں ان کے سینکڑوں پروجیکٹس ہیں جہاں سے وہ ہر سال مسلمانوں سے اربوں روپیہ کماتے ہیں۔ ان کی درجنوں ٹیکسٹائل، گھی اور شوگر ملز ہیں۔ قادیانی

صفحہ ٥٦

کمپنی شیزان انٹرنیشنل (اس کی مصنوعات، ریسٹورنٹس، بیکرز) کا کاروبار پورے پاکستان میں پھیلا ہوا ہے۔ ہر ٹی وی چینل پر اس کا اشتہار آتا ہے۔ ہر شہر میں ان کے بڑے بڑے تعلیمی اور آئی ٹی کے ادارے ہیں۔ کئی فنانشل اور لاء کالجز ان کے اپنے ہیں۔ کئی معروف کوریئر کمپنیز کے وہ مالک ہیں۔ کئی بڑے بڑے ہسپتال، فارما کمپنیز اور میڈیکل لیبارٹریاں ان کی ملکیت ہیں۔ پاکستان بھر میں بڑے بڑے شاپنگ پلازوں اور مالز میں ان کی بے شمار دکانیں ہیں۔ گاڑیوں کے معروف شو رومز ان کے ہیں۔ رئیل اسٹیٹ کے کاروبار میں ان کا کوئی مد مقابل نہیں۔ قادیانی امپورٹ اور ایکسپورٹ کا وسیع پیمانے پر کاروبار کرتے ہیں۔ ہر چیمبر آف کامرس میں وہ خفیہ طریقے سے چھائے ہوئے ہیں۔ منی چینجرز اور سٹاک ایکسچینج میں ان کی بھاری بھرکم انویسٹمنٹ کسی سے پوشیدہ نہیں۔ ملک کے ہر سرکاری محکمہ میں قادیانی اعلیٰ عہدوں پر فائز ہیں۔ قومی اسمبلی میں ان کے لیے ایک نشست مختص ہے جہاں وہ اپنا نقطہ نظر بیان کر سکتے ہیں۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ قادیانیوں کو مزید کون سے حقوق درکار ہیں؟ ان کے ساتھ کون سی زیادتی یا ناانصافی ہورہی ہے؟ کون سا حق ہے جس سے ان کو محروم رکھا جارہا ہے؟ کوئی ایک ثبوت بتائیں کہ مملکت میں ان کو کبھی دوسرے درجے کا شہری سمجھا گیا ہو؟ دراصل وہ اقلیت کی آڑ میں اپنے مذہب کی تبلیغ و ترویج چاہتے ہیں جس کی آئین و قانون اجازت نہیں دیتا۔ افسوس ہے کہ وہ آئین میں دی گئی اپنی حیثیت کو ماننے سے انکاری ہیں اور اعلیٰ عدالتوں کے فیصلوں کو بھی تسلیم نہیں کرتے۔ البتہ قادیانی ایک غیر قانونی حق حاصل کرنا چاہتے ہیں جس کے لیے وہ پوری دنیا میں پاکستان کے خلاف پروپیگنڈا کرتے ہیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ ان کو پاکستان میں آنجہانی مرزا قادیانی کو ”محمد رسول اللہ“ کہنے کا حق دیا جائے (نعوذ باللہ)۔ لیکن مسلمان اور اعلیٰ عدالتیں قادیانیوں کو یہ گستاخانہ حق دینے سے انکاری ہیں۔

سوال: اگر کوئی قادیانی سوشل میڈیا (واٹس ایپ، فیس بک، ٹویٹر، انسٹا گرام وغیرہ) پر اپنے مذہب کی تبلیغ کرتا ہے تو اس کے خلاف کیسے قانونی کارروائی ہو گی؟

صفحہ ٥٧

جواب: کوئی قادیانی (ربوی یا لاہوری) سوشل میڈیا (واٹس ایپ، فیس بک، ٹویٹر، انسٹاگرام وغیرہ) پر اپنے مذہب کی کوئی ممنوعہ کتاب یا اس کا کوئی اقتباس یا گستاخانہ یا دل آزار مواد پر مبنی اس کا کوئی صفحہ یا پیرا شیئر نہیں کر سکتا۔ خلاف ورزی کی صورت میں ملزم کے خلاف نیشنل سائبر کرائم انوسٹی گیشن ایجنسی (NCCIA) میں تعزیرات پاکستان کی متعلقہ دفعات 298 بی اور 298 سی کے علاوہ الیکٹرانک سائبر جرائم کی روک تھام (PECA) ایکٹ 2016ء کی دفعہ 11 کے تحت مقدمہ درج ہوگا اور وہ ضمانت پر رہائی کا بھی مستحق نہیں ہوگا۔ اگر ایسا مواد حضور نبی کریم ﷺ یا قرآن مجید سے متعلقہ ہو تو یہ حضور نبی کریم ﷺ اور قرآن مجید کی بے حرمتی کرنے کے مترادف ہے اور اس کے مرتکب کے خلاف تعزیرات پاکستان کی دفعہ 295۔بی اور سی کے تحت مقدمہ درج ہوگا۔

تحاریک ختم نبوت

سوال: تحریک ختم نبوت 1953ء میں صرف لاہور شہر میں کتنے مسلمان شہید ہوئے؟ جواب: تقریباً دس ہزار۔ سوال: تحریک ختم نبوت 1953ء کی قیادت کس شخصیت نے فرمائی؟ جواب: حضرت مولانا سید ابوالحسنات شاہؒ نے۔ سوال: تحفظ ختم نبوت اور انسداد قادیانیت کے لیے پاکستان میں آج تک کتنی تحریکیں چلی ہیں؟ جواب: کل تین، 1953ء، 1974ء اور 1984ء میں۔ سوال: چناب نگر کو کھلا شہر قرار دینے کا فیصلہ کب ہوا اور کس تاریخ کو اس پر عملدرآمد ہوا؟ جواب: چناب نگر (ربوہ) کو کھلا شہر قرار دینے کا فیصلہ 22 جون 1974ء کو ہوا اور اس پر عملدرآمد جنوری 1975ء کو۔

غدارانِ پاکستان

سوال: اس ملعون قادیانی سائنس دان کا نام بتائیے جس نے پاکستان کے بارے میں یہ ہرزہ سرائی کی تھی: ’’میں اس لعنتی ملک پر قدم نہیں رکھنا چاہتا جب تک کہ آئین

صفحہ ٥٨

میں کی گئی ترمیم (قادیانی غیر مسلم ہیں) واپس نہ لی جائے۔‘‘ جواب: ڈاکٹر عبدالسلام قادیانی۔

سوال: ظفر اللہ خان قادیانی نے پاکستان کا وزیر خارجہ ہوتے ہوئے بھی قائد اعظم محمد علی جناح کی نماز جنازہ نہ پڑھی اور ایک غیر مسلم وزیر کے ساتھ گپ شپ لگاتا رہا، جب اس سے اس بات کی وضاحت طلب کی گئی تو اس نے کیا جواب دیا؟ جواب: اس نے کہا: ”مجھے مسلمان حکومت کا کافر ملازم سمجھ لو یا کافر حکومت کا مسلمان ملازم سمجھ لو۔“

قادیانیوں کا بائیکاٹ

سوال: مسلمان قادیانیوں سے نفرت اور اُن کا بائیکاٹ کیوں کرتے ہیں؟ جواب: قادیانی مرتد، زندیق، گستاخ رسول اور ختم نبوت کے باغی ہیں۔ قادیانی، آنجہانی مرزا قادیانی کو ’’محمد رسول اللہ‘‘، اس کی بیوی کو ’’ام المومنین‘‘، اس کی بیٹی کو ’’سیدۃ النساء‘‘، اس کے خاندان کو ’’اہل بیت‘‘، اس کے ساتھیوں کو ’’صحابہ کرام‘‘، اس کی نام نہاد وحی و الہامات کو ’’قرآن مجید‘‘، اس کی گفتگو کو ’’احادیث رسول‘‘، اس کے ناپاک شہر قادیان کو ’’مکہ‘‘، ربوہ کو ’’مدینہ‘‘ اور اس کے مرگھٹ کو ’’جنت البقیع‘‘ قرار دیتے ہیں۔ بلاشبہ یہ سب باتیں ایک ادنیٰ سے ادنیٰ بلکہ فاسق و فاجر مسلمان کے لیے بھی ناقابل برداشت ہیں اور اس کرۂ ارض پر کوئی بے حمیت مسلمان ایسا نہیں جو کسی بدبخت سے ایسی گستاخانہ باتیں سننا گوارا کرے۔ اس لیے قادیانیوں سے نفرت اور بائیکاٹ ہر مسلمان کی دینی غیرت و حمیت کا تقاضا ہے۔

سوال: وہ کون سی قادیانی (مصنوعات) پروڈکٹس ہیں، جن کا ہمیں بائیکاٹ کرنا چاہیے؟ جواب: شیزان کی تمام مصنوعات، الرحیم جیولرز، شاہ تاج شوگر ملز، ذائقہ گھی، شاہنواز ٹیکسٹائل ملز، یونیورسل سٹیبلائزر وغیرہ۔

سوال: شیزان کی مصنوعات کا بائیکاٹ کیوں ضروری ہے؟ جواب: شیزان گستاخان رسولﷺ مرزائیوں کی مشروب ساز فیکٹری اور ان کا سب سے بڑا ادارہ ہے۔ اس کی آمدنی کا ایک کثیر حصہ دارالکفر چناب نگر (ربوہ) جاتا ہے۔

صفحہ ٥٩

مسلمان اپنی کم علمی کی بنا پر اس کے مشروبات اور دیگر مصنوعات خرید کر کم از کم 30 پیسے فی روپیہ ربوہ فنڈ میں جمع کرواتے ہیں اور اس طرح اپنے آقا ومولا حضور خاتم النبیین حضرت محمد مصطفےٰ ﷺ، دین اسلام اور وطن عزیز پاکستان کی مخالفت کے بھیانک جرم میں شریک ہو جاتے ہیں۔ شیزان اور دیگر قادیانی مصنوعات ساز ادارے اپنے منافع میں سے ایک مخصوص رقم قادیانی جماعت کو دیتے ہیں اور وہ رقم حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی ختم نبوت اور دین اسلام کے خلاف خرچ کی جاتی ہے۔ لہٰذا جو شخص جان بوجھ کر قادیانی مصنوعات خریدتا ہے، وہ قادیانیوں کا معاون و مددگار ہے۔ حالانکہ شیزان کی تمام اشیاء حرام اور لحم الخنزیر کی حیثیت رکھتی ہیں۔ معروف سابق قادیانی مرزا محمد حسین نے ہولناک انکشاف کرتے ہوئے کہا تھا کہ شیزان کمپنی کے مالک شاہنواز قادیانی کی خصوصی ہدایت پر اس کی تمام مصنوعات میں ربوہ کے نام نہاد بہشتی مقبرہ کی ناپاک مٹی بطور تبرک استعمال ہوتی ہے۔ لہٰذا شیزان کی تمام تر مصنوعات اور اس کے دیگر اداروں شیزان ریسٹورنٹ اور شیزان بیکرز کا مکمل بائیکاٹ ہر غیور مسلمان عاشق رسول ﷺ کا دینی وملی فرض ہے۔ علاوہ ازیں اگر آپ کی نظر میں کوئی دوسری قادیانی کمپنی یا آپ کے شہر میں کوئی دکان ہے تو اس کا بھی بائیکاٹ کیجئے۔ یہ آپ کی دینی غیرت وحمیت کا اوّلین تقاضا ہے۔

خدمات مجاہدین ختم نبوت

سوال: پاکستان کی کس روحانی شخصیت نے مرزا قادیانی کو یہ چیلنج دیا؟ کہ ”لاہور آؤ اور بادشاہی مسجد کے ایک مینار پر تم چڑھ جاؤ اور دوسرے پر میں چڑھ جاؤں اور دونوں بیک وقت چھلانگ لگائیں جو سچا ہوگا بچ جائے گا اور جو جھوٹا ہوگا، مر جائے گا؟“

جواب: حضرت پیر سید مہر علی شاہ گولڑویؒ نے۔

سوال: مفکر پاکستان حضرت علامہ محمد اقبالؒ کا قادیانیوں کے بارے میں کوئی ایک بیان بتائیں؟

جواب: قادیانی اسلام اور ملک دونوں کے غدار ہیں۔ قادیانیت، یہودیت کا چربہ ہے۔

سوال: علامہ اقبالؒ، مرزا قادیانی کی انگریزی نبوت کی طرف اشارہ کر کے فرماتے ہیں۔

صفحہ ٦٠
وہ نبوت ہے مسلماں کے لیے برگ حشیش

دوسرا مصرعہ بتائیں؟

جواب: جس نبوت میں نہیں قوت و شوکت کا پیام

سوال: مرزائی اور مرزائی نوازوں کے بارے میں امام اہلسنّت اعلیٰ حضرت مولانا احمد رضا خاں بریلویؒ کا فتویٰ بیان کریں؟

جواب: قادیانی اور قادیانی نواز دونوں کافر ہیں۔ اگر کوئی شخص یہ کہے کہ مرزائی نواز کافر نہیں ہے تو وہ بھی کافر ہے۔ قادیانیوں سے بائیکاٹ کرنے سے منع کرنے والا اور قادیانیوں کی ہمدردی کرنے والا بھی کافر ہے۔

سوال: وہ کون سی شخصیت ہے جن کی تبلیغ و محنت سے دنیا بھر بالخصوص افریقہ وغیرہ میں ہزاروں قادیانیوں اور عیسائیوں نے دین اسلام قبول کیا؟

جواب: حضرت مولانا شاہ محمد عبدالعلیم صدیقی میرٹھی مدنیؒ ۔ یاد رہے کہ آپ حضرت مولانا شاہ احمد نورانی صدیقیؒ کے والد گرامی اور ایک بلند پایہ عالم دین تھے۔

سوال: حضرت مولانا شاہ محمد عبدالعلیم صدیقیؒ کی رد قادیانیت پر کتب کے نام بتائیں؟

جواب: حقیقۃ المرزائین (عربی)۔ مرزائی حقیقت کا اظہار (اردو)۔

سوال: مقدمہ بہاولپور کی کامیابی میں کس عظیم شخصیت کا کلیدی کردار ہے؟

جواب: حضرت علامہ غلام محمد محدث گھوٹویؒ ، شیخ الجامعہ جامعہ عباسیہ بہاولپور۔

سوال: یہ الفاظ کس شخصیت نے کہے؟ ’’جج صاحب آپ قادیانیوں کو علی الاعلان غیر مسلم قرار دیں اگر نواب بہاولپور کی ایک کیا ہزاروں ریاستیں بھی ہوں تو سرکار محمد ﷺ کی نبوت کے تحفظ میں قربان ہو جائیں تو پروا نہیں ۔‘‘

جواب: نواب بہاولپور محمد صادق پنجم ۔

سوال: حضرت میاں شیر محمد شرقپوریؒ نے مرزا قادیانی کو بحالت کشف کس حال میں دیکھا؟

جواب: آپ نے دیکھا کہ ’’مرزا قادیانی قبر میں ایک باؤلے کتے کی طرح ہے، اس کا منہ دُم کی طرف ہے۔ منہ سے پانی بہہ رہا ہے اور بھونکتے ہوئے گول چکر کاٹ رہا ہے ۔‘‘

سوال: رد قادیانیت کے سلسلہ میں حضرت پیر سید مہر علی شاہ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی کتب

صفحہ ٦١

کے نام تحریر فرمائیں؟

جواب: (1) شمس الہدایۃ۔ (2) سیف چشتیائی۔

سوال: حضرت پیر جماعت علی شاہ محدث علی پوریؒ نے سچے نبی کی چار نشانیاں بیان کی تھیں، کیا آپ وہ نشانیاں دہرا سکتے ہیں؟

جواب: (1) سچا نبی کسی کا شاگرد نہیں ہوتا۔ (2) سچا نبی چالیس سال کی عمر کے بعد اچانک اعلان نبوت کرتا ہے۔ (3) سچے نبی کا نام مفرد ہوتا ہے۔ (4) سچا نبی کوئی ترکہ یا وراثت نہیں چھوڑتا۔ (5) سچا نبی جہاں فوت ہو، وہیں دفن ہوتا ہے۔

سوال: یہ الفاظ کس مجاہد ختم نبوت کے ہیں؟ ”جو شخص حضور نبی اکرم ﷺ کی عزت و ناموس کی حفاظت نہیں کرسکتا، وہ اپنی ماں اور بہن کی عزت کی بھی حفاظت نہیں کرسکتا۔“

جواب: حضرت صاحبزادہ سید فیض الحسن شاہؒ کے۔

سوال: تحریک ختم نبوت 1953ء میں حصہ لینے کی پاداش میں ایک نوجوان عالم دین (مولانا سید خلیل احمد قادریؒ) کو سزائے موت سنائی گئی۔ پھر جب یہ خبر اس نوجوان کے والد تک پہنچی تو اس نے کہا: ”ایک بیٹا تو کیا اگر میرے ہزار بیٹے بھی ہوتے تو میں تحفظ ختم نبوت پہ نچھاور کر دیتا“ یہ عظیم باپ کون تھا؟

جواب: حضرت علامہ ابوالحسنات مولانا سید محمد احمد قادریؒ۔

سوال: قومی اسمبلی میں قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے کی قرارداد کس شخصیت نے کس تاریخ کو پیش کی؟

جواب: قومی اسمبلی میں قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے کی قرارداد حضرت مولانا شاہ احمد نورانی صدیقیؒ نے 30 جون 1974ء کو قومی اسمبلی میں پیش کی۔

سوال: مولانا عبدالستار خان نیازیؒ اپنی اسیری کے بعد جب جیل سے باہر آئے تو انہوں نے اخباری نمائندوں کو اپنی کیا عمر بتائی؟

جواب: پہلے عدالت نے انھیں سزائے موت سنائی۔ آپ نے خندہ پیشانی سے اس سزا کو

صفحہ ٦٢

قبول کیا۔ بعدازاں حکومت نے سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کر دیا، پھر دو سال اور ایک ماہ بعد یہ سزا بھی ختم ہو گئی۔ مولانا عبدالستار خاں نیازیؒ اپنی اسیری کے بارے میں فرماتے ہیں: ’’مجھے اپنی زندگی پر فخر ہے کہ جب تحریک ختم نبوت کے مقدمہ کے بعد میری رہائی ہوئی تو پریس والوں نے میری عمر پوچھی۔ اس پر میں نے کہا تھا۔ ’’میری عمر وہ دن اور راتیں ہیں جو میں نے ختم نبوت ﷺ کے تحفظ کی خاطر پھانسی کی کوٹھڑی میں گزاری ہیں کیونکہ یہی میری زندگی ہے اور باقی شرمندگی۔ مجھے اپنی اس جیل والی زندگی پر ناز ہے‘‘۔

سوال: اس بزرگ ہستی کا نام بتائیے جنھوں نے قادیانیت کو خارش زدہ کتے سے بدتر قرار دیا ہے؟ جواب: ضیاء الامت حضرت جسٹس پیر محمد کرم شاہ الازہریؒ نے۔

سوال: شہرۂ آفاق کتاب ’’قادیانی مذہب کا علمی محاسبہ‘‘ کے مصنف کا نام بتائیں؟ جواب: پروفیسر محمد الیاس برنیؒ ۔

سوال: وہ کون سی معروف شخصیت ہے جس نے اپنی شعلہ نوا خطابت کے ذریعے مسلمانوں کو حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام سے بے پناہ محبت وعقیدت، تحفظ ختم نبوت اور تحفظ ناموس رسالت ﷺ کا درس اور شعور دیا؟ جواب: امام المجاہدین حضرت مولانا حافظ خادم حسین رضوی قادریؒ۔

سوال: ’’شہر سدوم‘‘ کے مصنف کا نام بتائیں؟ جواب: شفیق مرزا۔

سوال: 14 اگست 1947ء کو جب پاکستان بنا تو اس دن کون سی اسلامی تاریخ تھی؟ جواب: 27 رمضان المبارک 1366ء۔

سوال: محسنِ پاکستان ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے قادیانیوں کی ملک دشمنی کا ذکر کرتے ہوئے کیا فرمایا؟ جواب: ’’اس میں ذرا بھی شبہ نہیں کہ عرصہ دراز سے قادیانی ملک کے اندر اور باہر یہودی لابی سے مل کر پاکستان کے ایٹمی پروگرام کے خلاف بین الاقوامی سطح پر بے بنیاد

صفحہ ٦٣

پروپیگنڈا کر کے پاکستان کو بدنام کرنے کی کوشش میں سرگرم عمل ہیں‘‘۔ ”قادیانیت انگریز کا وہ خود کاشتہ پودا ہے جس نے شروع دن سے ہی پاکستان کے ایٹمی پروگرام کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کرنے کی انتہائی کوششیں کی تھیں مگر وہ اپنے مذموم مقاصد میں ناکام رہے اور اللہ تبارک و تعالیٰ نے ہمیں سرخرو کیا، پاکستان ایٹمی طاقت بن گیا۔ جناب ذوالفقار علی بھٹو نے اپنے دورِ حکومت 1974ء میں انہیں قومی اسمبلی سے اقلیت قرار دیا تھا اور جنرل محمد ضیاء الحق نے 1984ء میں اپنے ایمان افروز فیصلوں سے ان کی سرگرمیاں بہت حد تک محدود کر دی تھیں مگر یہ فتنہ آج بھی زخمی سانپ کی طرح بِس گھول رہا ہے‘‘۔

سوال: دفاع ختم نبوت کونسل پاکستان کے زیر اہتمام ”تحفظ ختم نبوت خط و کتابت کورس‘‘ ہر مسلمان کے لیے کیوں ضروری ہے؟

جواب: دفاع ختم نبوت کونسل کے زیر اہتمام عقیدہ ختم نبوت کے تحفظ اور فتنہ قادیانیت کی سرکوبی کے موضوع پر اکابرین و ماہرین تحفظ ختم نبوت کی سرپرستی اور نگرانی میں تیار کردہ خط و کتابت کورس انتہائی منفرد اور جامع ترین ہے۔ ختم نبوت خط و کتابت کورس سیرت النبی، تحفظ ناموس رسالت ﷺ، تحفظ ختم نبوت، حیات و نزول مسیحؑ اور فتنہ قادیانیت ایسے اہم موضوعات پر اکابرین امت کے موقف پر مبنی سکولز و کالجز اور دینی مدارس کے طلبا و طالبات اور عوام الناس کے لیے بے حد ضروری ہے۔

کیا آپ جانتے ہیں کہ عقیدہ ختم نبوت اور ناموس رسالت ﷺ کا تحفظ ایماناً اور شرعاً کیوں ضروری ہے؟ قادیانی عقائد و نظریات کیا اور کتنے مضحکہ خیز، بودے اور کھوکھلے ہیں؟ پاکستان کی پارلیمنٹ نے قادیانیوں کو کن وجوہ کی بنیاد پر غیر مسلم اقلیت قرار دیا؟ برطانوی سامراج نے فتنہ قادیانیت کی سرپرستی اور نگہبانی کیوں کی؟ قادیانی، اسلام اور پاکستان کے خلاف روزِ اوّل سے کون سی سازشوں کی بارودی سرنگیں بچھا رہے ہیں؟ آئین پاکستان، تعزیرات پاکستان اور اعلیٰ عدالتوں بالخصوص عدالت عظمیٰ اور عدالت ہائے عالیہ نے اپنے فیصلوں میں قادیانیوں پر کون کون سی پابندیاں عائد کی ہیں؟ علامہ اقبالؒ نے فتنہ قادیانیت کے سد باب کے لیے کیا تاریخ ساز کردار ادا کیا؟ حیات و نزول حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا

صفحہ ٦٤

عقیدہ کیا ہے؟ ظہور حضرت مہدیؒ کی نشانیاں کیا ہیں؟ صحابہ کرامؓ نے منکرین ختم نبوت کی سرکوبی میں کیا کلیدی کردار ادا کیا؟ تحفظ ختم نبوت کے سلسلہ میں حضرت پیر مہر علی شاہؒ اور دیگر اکابرین کی خدمات کیا ہیں؟ قادیانی کن حیلوں، حربوں اور دسیسہ کاریوں سے مسلمانوں کو مرتد بناتے ہیں؟ جھوٹے مدعی نبوت آنجہانی مرزا قادیانی کا ذاتی کردار اور اطوار کتنے بد بودار اور اضحوکۂ روزگار تھے؟ قادیانی اور قادیانیت نوازوں کا کیا عبرتناک اور بھیانک انجام ہوا؟ قادیانیوں کے نام نہاد اخلاق کی اصل حقیقت کیا ہے؟ آج کے پرفتن دور میں اتحاد بین المسلمین کی اہمیت کیوں ہے؟ قادیانیوں کے سوشل بائیکاٹ کی شرعی اور قانونی حیثیت کیا ہے؟ قادیانیوں سے مناظرہ و مباحثہ میں کون سے دلائل و براہین کو بروئے کار لا کر انہیں لا جواب کیا جا سکتا ہے؟ ان تمام موضوعات پر مستند اور جامع معلومات حاصل کرنے کے لیے ”تحفظ ختم نبوت خط و کتابت کورس“ کا اہتمام کیا گیا ہے تا کہ فتنہ قادیانیت کے پیروکار آپ کے ایمان و ایقان کو کسی بھی سطح پر کوئی نقصان نہ پہنچا سکیں۔ یہ کورس آپ کو بے شمار کتابوں کے مطالعہ سے بے نیاز کر دے گا اور آپ اپنی معلومات میں بیش بہا اضافہ کر سکیں گے۔ شعور ختم نبوت حاصل کرنے کے لیے یہ کورس سکولوں، کالجوں، مدارس کے طلباء و طالبات اور ہر شعبہ زندگی سے تعلق رکھنے والے (خواتین و مرد) حضرات کے لیے ایک بیش قیمت تحفہ ہے۔

خواہش مند حضرات اپنا نام، ولدیت، مکمل پتہ اور فون نمبر اس نمبر 0333-4432090 پر SMS کریں یا دفاع ختم نبوت کونسل پاکستان پی۔ او۔ باکس نمبر 81۔ جی پی او۔ دی مال۔ لاہور پاکستان کے ایڈریس پر خط لکھیں۔ کورس کی کامیاب تکمیل پر آپ کو نہایت خوبصورت سند بھی ارسال کی جائے گی۔ اُمید واثق ہے کہ یہ سند روز محشر آپ کی مغفرت و بخشش کا پروانہ ثابت ہوگی۔ (ان شاء اللہ) سوال یہ نہیں کہ اس کورس کے نتیجہ میں کتنے قادیانیوں نے اسلام قبول کیا، کمال یہ ہے کہ اس کورس کی بدولت ہزاروں مسلمان ارتداد کا شکار ہونے سے بچ گئے اور ان کا قیمتی ایمان بچ گیا۔

PDF 66

ایک علمی سوغات

عقیدہ ختم نبوت اس قدر حساسیت اور اہمیت کا حامل ہے کہ اکابرین امت کے نزدیک ”جو شخص یہ نہیں جانتا کہ حضرت محمد ﷺ اللہ تعالیٰ کے آخری نبی اور رسول ہیں، وہ دائرہ اسلام سے خارج ہے کیونکہ یہ بات ضروریات دین میں سے ہے“۔ بدقسمتی سے ہمارے ہاں سادہ لوح عوام کی ایک بڑی تعداد ضروریات دین سے ناواقف ہے، یعنی ایسے بنیادی عقائد جن کا تعلق ایمان و ایقان سے ہے، کا ادراک نہیں رکھتے۔ ضرورت اس بات کی تھی کہ کوئی ایسی مستند کتاب تیار ہو جو مختصر مگر معلومات کے اعتبار سے جامع و مانع ہو، الحمد للہ! زیر نظر کتاب ”معلومات ختم نبوت (سوالاً جواباً)“ نے اس ضرورت کو کما حقہ پورا کیا ہے۔ یہ کتاب ہمارے سرپرست جناب محمد متین خالد کی تحقیقی صلاحیتوں اور دعوتی جذبوں کا حسین مرقع ہے جو انہوں نے بے شمار کتابوں سے اہم معلومات اکٹھی کر کے ایک بیش بہا خزانہ کی صورت میں انہیں ایک جگہ یکجا کر دیا ہے۔ انتہائی معلوماتی سوالات و جوابات کو ایسے خوبصورت سنگم کی شکل میں ضبط تحریر میں لانا جو عوام الناس بالخصوص نوجوان نسل کے لیے بے حد دلچسپی اور تجسس کا باعث ہوں، خاصا جانگسل مرحلہ تھا جسے انہوں نے کامیابی سے طے کیا۔ دلچسپ عنوانات، خوبصورت اسلوب نگارش، اعلیٰ ذوق جستجو، گہری علمی تحقیق اور بسیط مطالعہ پر مبنی یہ کتاب کوئز مقابلوں کے لیے بے حد مفید ہے۔ اس کتاب میں جتنا تنوع ہے، اسی قدر اس میں کشش بھی ہے۔ آپ جوں جوں اس کتاب کے ورق پلٹتے جائیں گے، آپ کو محسوس ہو گا کہ آپ تاریخ کی مختلف وادیوں سے گزر رہے ہیں اور آپ کے علم و عمل مضبوط تر ہورہے ہیں۔ میرے خیال میں اسے لازمی طور پر اسلامیات کے نصاب میں شامل کیا جانا چاہیے کیونکہ یہ کتاب ان تمام ضروری اور بنیادی معلومات کا احاطہ کرتی ہے جن سے واقفیت ہر مسلمان کے لیے ناگزیر ہے۔ شعور و آگہی تقسیم کرتی اپنی نوعیت کی منفرد کتاب مرتب کرنے پر جناب محمد متین خالد نہایت مبارک باد کے مستحق ہیں۔ اللہ تعالیٰ انہیں ایمان و صحت والی لمبی عمر عطا فرمائے تاکہ وہ تحفظ ختم نبوت کے محاذ پر مزید گرانقدر خدمات سرانجام دیتے رہیں۔ (آمین) اسد اللہ ساقی چیف آرگنائزر تحریک تحفظ ختم نبوت، جڑانوالہ

تحفظ ختم نبوت کونسل ننکانہ صاحب

0300-4887477, 0300-4839384