فتنۂ قادیانیت
کو پہچانیئے
ترتیب و تدوین محمّد طاہر رزاق
بسم الله الرحمن الرحيم
فتنۂ قادیانیت
کو
پہچانیے!
محمد طاہر رزاق
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت حضوری باغ روڈ ملتان
بسم اللہ الرحمن الرحیم
ہر مسلمان اس کتاب کو شائع کر سکتا ہے لیکن اگر مصنف کو اس سے باخبر کر دیا جائے تو یہ ان کی مہربانی ہو گی۔
*
نام کتاب ........ فتنہ قادیانیت کو پہچانئے مصنف ........ محمد طاہر رزاق تعداد ........ گیارہ سو کمپوزنگ ........ المدد کمپوزرز‘ راج گڑھ لاہور ڈیزائننگ ........ عنایت اللہ رشیدی قیمت ........ -/150 روپے اشاعت اول ........ جنوری 1999ء ناشر ........ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت حضوری باغ روڈ۔ ملتان مطبع ........ شرکت پرنٹنگ پریس‘ نسبت روڈ لاہور
ملنے کا پتہ:
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت۔ حضوری باغ روڈ۔ ملتان المحمود اکیڈمی۔ عزیز مارکیٹ‘ اردو بازار۔ لاہور مکتبہ سید احمد شہید۔ اردو بازار۔ لاہور
آئینہ مضامین
- مرزائی کسے کہتے ہیں؟ محمد طاہر رزاق 13
- عقیدہ ختم نبوت اور چہرہ قادیانیت علامہ انور شاہ کشمیریؒ 25
- مرزا قادیانی اور اس کے پیرو کار کافر مولانا احمد رضا خان بریلویؒ 65
کیوں؟
- قادیانیت عقیدہ ختم نبوت، ناموس علامہ محمد اقبالؒ 87
رسالت اور وحدت امت کے خلاف ایک ہولناک سازش
- قادیانیوں کے اعتراضات اور مولانا مولانا عبد الشکور لکھنویؒ 97
عبد الشکور لکھنویؒ کے جوابات
- قادیانیوں کا علمی احتساب مولانا لال حسین اخترؒ 109
- قادیانیوں کا مکمل بائیکاٹ عین عدل و مفتی ولی حسن ٹونکیؒ 137
انصاف ہے
- فتنہ قادیانیت کو پہچانئے! مولانا محمد یوسف لدھیانوی 163
- اسلام کے اجالے قادیانیت کے علامہ خالد محمود 199
اندھیرے
- تفہیم ختم نبوت اور پہچان قادیانیت علامہ خالد محمود / مولانا منظور
احمد چنیوٹی 261
- قادیانیوں کے طریقہ ہائے واردات محمد طاہر رزاق 279
- قادیانیوں کے سوشل بائیکاٹ کی شرعی مفتی محمد امین 297
حیثیت
- تصویر فیصلہ کرتی ہے محمد طاہر رزاق 319
- آؤ! قادیانی اخلاق دکھاؤں محمد طاہر رزاق 325
- قادیانی اسلامی شعائر اور اسلامی مولانا عبید اللہ عفیف 329
اصطلاحات استعمال نہیں کر سکتے
- قادیانیت سوز محمد طاہر رزاق 343
- ادراک ختم نبوت اور ابطال قادیانیت علامہ خالد محمود 355
- قادیان کا بدکردار محمد طاہر رزاق 375
- فتنہ قادیانیت کی نقاب کشائی مولانا اللہ وسایا 385
- قادیانی اخلاق...... ایک سازش...... محمد طاہر رزاق 427
ایک جال
- حرف ناقدانہ بجواب حرف ناصحانہ مولانا منظور احمد چنیوٹی 435
- قادیانی جنازہ پڑھنا اور قادیانیوں سے مفتی عبد القیوم خان 459
میل جول حرام ہے
- جواب پیش خدمت ہے محمد طاہر رزاق 465
انتساب
چمن میں ہم نے کچھ بلبل غزل خواں یوں بھی دیکھے ہیں
خطیبِ اسلام ، خطیبِ ختمِ نبوّت ، اور عہدِ حاضر میں امیرِ شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاری کی خطابت کے امین حضرت مولانا محمّد اجمل خاں مدظلہ العالی کے نام جنہوں نے اس مشتِ خاک کو تحفظِ ختمِ نبوّت کا شعور اور احساس عطا کیا
حرف سپاس
ابتدائے کتاب سے لے کر تکمیل کتاب تک تمام مرحلوں میں میرے محترم دوست جناب محمد فیاض اختر ملک، جناب محمد متین خالد، جناب محمد صدیق شاہ بخاری، جناب سید علمدار حسین شاہ بخاری، جناب طارق اسماعیل ساگر، جناب حافظ شفیق الرحمن، جناب عبدالرؤف روفی، جناب ممتاز اعوان، جناب محمد سلیم ساقی کا تعاون ہر دم مجھے میسر رہا اور ان دوستوں کی جدوجہد اور دعاؤں سے یہ کتاب منصہ شہود پر طلوع ہوئی۔ میں ان تمام دوستوں کا دل کی اتھاہ گہرائیوں سے شکر گزار ہوں اور اللہ تعالیٰ کے حضور بدست دعا ہوں کہ اللہ پاک انہیں اجر عظیم سے نوازے۔ (آمین)
میں ممنون ہوں خواجہ خواجگان حضرت مولانا خان محمد مدظلہ، خطیب ختم نبوت حضرت مولانا محمد اجمل خان مدظلہ، نمونہ اسلاف حضرت مولانا عزیز الرحمن جالندھری مدظلہ، فدائے ختم نبوت حضرت مولانا سید نفیس شاہ الحسینی مدظلہ، جانثار ختم نبوت الحاج محمد نذیر مغل مدظلہ، پروانہ ختم نبوت جناب ارشاد احمد عارف مدظلہ، مجاہد ختم نبوت صاحبزادہ طارق محمود مدظلہ کا جن کی سرپرستی کا سحاب کرم میرے سر پر چھایا رہا۔ اللہ تعالیٰ ان تمام بزرگوں کا سایہ ہمارے سروں پر تادیر سلامت رکھے۔ (آمین ثم آمین)
محمد طاہر رزاق
افتتاحیہ
- قادیانی فتنہ ------!!!
- لومڑی سے زیادہ مکار --------
- گرگٹ سے زیادہ رنگ بدلنے والا --------
- اونٹ سے زیادہ کینہ پرور --------
- کتے سے زیادہ بھونکنے والا -------
- سانپ سے زیادہ موذی --------
- بچھو سے زیادہ نیش زن --------
- مکھی سے زیادہ نجس --------
- گدھ سے زیادہ حریص --------
- پاگل ریچھ سے زیادہ خطرناک --------
- سور سے زیادہ بے غیرت -------
- مگرمچھ سے زیادہ آنسو بہانے والا --------
- یہ فتنہ وہ چور ہے جو سر پہ پگڑی باندھتا ہے --------
- یہ فتنہ وہ رہزن ہے جو ہاتھ میں چراغ رکھتا ہے -------
- یہ فتنہ وہ طوائف ہے جو عصمت کا درس دیتی ہے --------
- یہ فتنہ وہ ڈاکٹر ہے جو در حقیقت گورکن ہے --------
- یہ فتنہ وہ قاتل ہے جو مقتول کہلاتا ہے --------
- یہ فتنہ وہ غدار ہے جو اپنے سینے پر حب الوطنی کے تمغے سجاتا ہے --------
- یہ فتنہ وہ ابو جہل ہے جو کلمہ طیبہ پڑھتا ہے --------
- یہ فتنہ شیطان کا مناد ہے، لیکن موذن کہلاتا ہے۔۔۔۔۔۔۔
- یہ فتنہ وہ باڑھ ہے جو باغ کو کھاتی ہے۔۔۔۔۔۔۔
- یہ فتنہ وہ مقتل ہے جس پر شفاخانے کا بورڈ لگا ہے۔۔۔۔۔۔۔
- یہ فتنہ وہ بلی ہے جو کبوتر کے روپ میں رہتی ہے۔۔۔۔۔۔۔
میں نے اس فتنہ کو پابند سلاسل کر کے ماہر سرجنوں سے اس کا پوسٹ مارٹم کرایا ہے۔ ماہرین نے پوسٹ مارٹم رپورٹ میں جن ہولناک اور تشویشناک بیماریوں کا تذکرہ کیا ہے، اگر ہم نے ان مہلک بیماریوں کا سد باب نہ کیا تو یہ بیماریاں ہمارے اور ہماری نئی نسل کے ایمانوں کو چاٹ جائیں گی۔
خاکپائے مجاہدین ختم نبوت محمد طاہر رزاق بی۔ ایس۔ سی‘ ایم۔ اے (تاریخ) یکم اکتوبر ١٩٩٨ء‘ لاہور
رد قادیانیت اور احیائے اسلام
نبی کریم رؤف الرحیم ﷺ کا فرمان ہے ”جس نے علم کا کوئی (خاص) فن حاصل کیا تاکہ اس کے ذریعہ اسلام کو زندہ کرے تو جنت میں اس کے اور انبیاء کے درمیان صرف ایک درجے کا فرق ہو گا“۔
مزید ارشاد فرمایا ”جو کوئی علم کا خصوصی فن حاصل کرنے کی غرض سے نکلا تاکہ اس کے ذریعہ باطل کا رد کر سکے تو اس کا درجہ چالیس سالہ عبادت گزار کے برابر ہو گا“۔
ان ارشادات سے معلوم ہوا کہ باطل کے مقابلہ کے لیے علم حاصل کرنے والا اور پھر اس علم کو آگے پھیلانے کی جدوجہد کرنے والا آقائے دو عالم ﷺ کو بے حد عزیز ہے۔
ہر دور میں حق کے مقابلہ میں باطل موجود رہا ہے مگر ہر بار اک نئے نام اور اک نئے انداز سے۔ اور پھر اللہ رب العزت بھی ہر دور میں مجاہدین حق کو پیدا کرتے رہے جو اس دور کے تقاضوں کو سمجھ کر باطل سے خوب نبرد آزما ہوتے رہے جیسا کہ امام غزالیؒ ، امام رازیؒ اور امام ابن تیمیہؒ نے اپنے اپنے دور میں یہ فریضہ بطریق احسن انجام دیا۔ اس دور کا سب سے بڑا فتنہ بلاشبہ قادیانیت ہے جس کی ہر آن یہ کوشش ہے
کہ جناب محمد عربی ﷺ کے اسلام کو (معاذ اللہ) مردہ اور اپنے مکروہ و خبیث نظریات کو زندہ اسلام ثابت کرے۔ چنانچہ اس فتنے کا مقابلہ کرنا یقیناً احیائے حق اور احیائے اسلام کے مترادف ہے۔ اللہ پاک جزائے خیر دے مجاہد ختم نبوت محمد طاہر رزاق کو، کہ انہوں نے عقابی نگاہوں سے اس فتنے کا جائزہ لیا اور وقت کے تقاضوں کو سمجھتے اور جانتے ہوئے اور ہر گھڑی بدلتے حالات کی نبض پہ ہاتھ رکھتے ہوئے اس فتنے کا مقابلہ کرنے کی ٹھان لی اور اس عزم مصمم پہ پھر اللہ کی مدد و نصرت بھی آن پہنچی اور اللہ پاک نے ان کے سینے کو خوب کھول دیا اور انہوں نے ہر بار اس فتنہ کے تار و پود کچھ اس انداز سے بکھیرے کہ باطل تڑپ تڑپ گیا۔
اس بار محمد طاہر رزاق سوال و جواب کے انداز میں باطل کی رگ جاں پہ نشتر چبھونے آئے ہیں اور اپنی اس کوشش میں وہ پہلے سے بھی بڑھ کر کامیاب و کامران نظر آتے ہیں اور اس سے میرا یہ گمان اور بھی مضبوط ہو گیا ہے کہ وہ آقا ﷺ کی مذکورہ بالا احادیث میں بیان کردہ بشارتوں کے یقیناً حقیقی مصداق ہیں۔ اللہ پاک سے دعا ہے کہ وہ اپنا اور اپنے حبیب کا فیض و کرم ان پہ ہر گھڑی ہر آن بڑھاتا جائے تاکہ یہ مجاہد امت مسلمہ کو ہر دم گرماتا جائے۔ نبیؐ کے بھولے بھالے امتیوں کو سمجھاتا جائے، قادیانیوں کے ہاتھوں میں اک آئینہ پکڑاتا جائے، قادیانیت نوازوں کو شرماتا جائے، باطل کو رلاتا اور جہنم میں گراتا جائے، ختم نبوت کی حفاظت اور قادیانیت کا تعاقب کر کے شجر امت کے گرد جذبوں اور جانوں کی فصیل بناتا جائے اور جو بھی اس کے ساتھ چلے، ان کو لے کر بالاخر جنت میں مسکراتا جائے۔ اللہ کرے میں اور آپ بھی اس قافلہ عشق و وفا میں شامل ہو جائیں۔ (آمین۔ ثم آمین)
خاکپائے مجاہدین ختم نبوت الحاج محمد نذیر مغل
قادیانی کسے کہتے ہیں؟
محمد طاہر رزاق
یہ سردیوں کی ایک سہانی شام تھی۔ میں گھر میں بیٹھا تھا کہ باہر کسی نے گھنٹی دی۔ میں باہر نکلا---- دیکھا---- تو میرا ایک دوست باہر کھڑا تھا---- اکرم خان تقریباً ایک سال بعد آج مجھ سے ملنے آیا تھا---- وہ جذبہ محبت سے بغلگیر ہو گیا۔ میں اسے ڈرائنگ روم میں لے آیا---- خیر خیریت پوچھی---- ادھر ادھر کی باتیں ہوتی رہیں---- پھر چائے کا دور چلا---- چائے کے دور میں گفتگو کا دور بھی چلتا رہا----
”آج کیسے آنا ہوا“ میں نے پوچھا۔
”آج ایک خاص کام کے لیے آپ کے پاس آیا ہوں“ اس نے جواب دیا۔
”خیریت تو ہے؟“
”جی ہاں! خیریت ہی ہے“۔
”جی فرمائیے!“ میں نے کہا۔
”طاہر بھائی! قادیانی کسے کہتے ہیں؟“ اس نے دریافت کیا۔
”تجھے کیا ضرورت پڑ گئی؟“ میں نے پوچھا۔
آج ایک قادیانی سے بات ہو گئی لیکن میں نے خود کو اس موضوع پر کورا پایا“۔
میں نے کہا بھائی اکرم خان! اپنی نجی زندگی میں تم اتنے ہوشیار---- اپنی کاروباری زندگی میں تم اتنے کائیاں---- لیکن---- ختم نبوت کے باغیوں کے بارے میں تم اس حد تک نا آشنا!
جناب رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے تاج و تخت ختم نبوت کے ڈاکوؤں کے بارے میں تمہاری معلومات کی یہ حالت!
ملت اسلامیہ اور پاکستان کے دشمنوں کے بارے میں تمہاری اس درجہ لاعلمی!
اس پر افسوس کے سوا اور کیا کہا جا سکتا ہے۔۔۔۔ حکیم الامت علامہ اقبالؒ نے ملت اسلامیہ کی اس حالت پر آنسو بہاتے ہوئے کہا تھا۔
کارواں کے دل سے احساس زیاں جاتا رہا
"نہیں ۔۔۔ نہیں ۔۔۔ میں قادیانیت کے نام سے تو واقف ہوں لیکن قادیانیت کے "کام" سے واقف نہیں"۔ میری کڑوی گفتگو سن کر اس نے آنکھیں جھکاتے ہوئے کہا۔
میں نے کہا "جگر تھام۔۔۔۔ کلیجہ سنبھال اور ہوش کے گوش سے سن میرے بھائی"۔
"قادیانی کسے کہتے ہیں؟" میں نے ٹھنڈی آہ بھرتے ہوئے اس کا سوال دہرایا اور پھر اس کا جواب دیتے ہوئے کہا:
قادیانی اسے کہتے ہیں۔۔۔۔ جس کا عقیدہ ہو۔۔۔۔ جس کا یقین ہو۔۔۔۔ جس کا اعتقاد ہو کہ:
- مرزا قادیانی اللہ کا نبی اور رسول ہے۔ (نعوذ باللہ)
- نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مرزا قادیانی کی شکل میں دوبارہ اس دنیا
میں آئے ہیں۔ (نعوذ باللہ)
- مرزا قادیانی، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک ترقی یافتہ صورت ہے۔
(نعوذ باللہ)
- حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نبوت پہلی رات کے چاند کی طرح اور
مرزا قادیانی کی نبوت چودھویں کے چاند کی طرح ہے۔ (نعوذ باللہ)
- کلمہ طیبہ میں جہاں لفظ محمدؐ آتا ہے، اس سے مراد محمدؐ عربی نہیں بلکہ ان کی
دوسری بعثت "محمدؐ" ہی یعنی مرزا قادیانی ہے۔ (نعوذ باللہ)
- اللہ تعالیٰ نے جب سارے نبیوں کو ایک صورت میں دکھانا چاہا تو انہیں
مرزا قادیانی کی شکل میں دکھایا۔ (نعوذ باللہ)
- شریعت اسلامیہ میں مرزا قادیانی کا قول "قول فیصل" ہے۔ (نعوذ باللہ)
- جہاد کو حرام قرار دے دیا گیا ہے۔ اب جو جہاد کرے گا‘ وہ اللہ اور رسولؐ
کا باغی ہے۔ (نعوذ باللہ)
- اللہ تعالیٰ اور اس کے فرشتے مرزا قادیانی پر درود بھیجتے ہیں۔ (نعوذ باللہ)
- قرآن پاک مرزا قادیانی پر دوبارہ نازل کیا گیا ہے۔ (نعوذ باللہ)
- قرآن پاک میں جہاں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو مخاطب کیا گیا
ہے‘ اب اس سے مراد مرزا قادیانی ہے۔ (نعوذ باللہ)
- مرزا قادیانی پر نازل ہونے والی "وحی" قرآن پاک کی طرح ہے۔ (نعوذ
باللہ)
- اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک قادیان کے قریب نازل کیا۔ (نعوذ باللہ)
- مرزا قادیانی کی باتیں احادیث رسولؐ ہیں۔ (نعوذ باللہ)
- مرزا قادیانی کو احادیث پر حکم بنا کر بھیجا گیا ہے۔ وہ جس حدیث کو صحیح کہے‘
وہ صحیح اور جسے غلط کہے‘ وہ غلط ہے۔ (نعوذ باللہ)
- مرزا قادیانی کے گھر والے ”اہل بیت“ ہیں۔ (نعوذ باللہ)
- مرزا قادیانی کی بیوی ”ام المومنین“ ہے۔ (نعوذ باللہ)
- کائنات میں دو عورتیں سب سے افضل ہیں۔ سیدہ آمنہؓ‘ نبی اکرم صلی اللہ
علیہ وآلہ وسلم کی والدہ ماجدہ‘ اور چراغ بی بی عرف گھسیٹی‘ مرزا قادیانی کی ماں۔ (نعوذ باللہ)
- مرزا قادیانی کی بیٹی ”سیدۃ النساء“ ہے۔ (نعوذ باللہ)
- مرزا قادیانی کے ساتھی ”صحابہ کرام“ ہیں۔ (نعوذ باللہ)
- مرزا قادیانی کے ٣١٣ ساتھی ”اصحاب بدر“ ہیں۔ (نعوذ باللہ)
- قادیان اور ربوہ مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کی طرح ہیں۔ (نعوذ باللہ)
- مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ سے فیض ختم ہوچکا ہے اور اب یہ فیض صرف
قادیان سے ملتا ہے۔ (نعوذ باللہ)
- قادیان کی زمین حرم پاک کی زمین کی طرح متبرک ہے۔ (نعوذ باللہ)
- مکہ مکرمہ کے حج سے اب حج کے مقاصد پورے نہیں ہوتے۔ اس لیے
قادیان کا حج اب ظلی حج ہے۔ (نعوذ باللہ)
- جنت البقیع کے مقابلہ میں اب مرزا قادیانی کا بنایا ہوا قبرستان بہشتی مقبرہ
ہے اور جو اس میں دفن ہو‘ وہ بہشتی ہے۔ (نعوذ باللہ)
- مرزا قادیانی کے جانشین خلفائے راشدین کی طرح خلفاء ہیں۔ (نعوذ باللہ)
- اب مرزا قادیانی کو نبی مانے بغیر نجات نہیں ہو سکتی۔ (نعوذ باللہ)
- مرزا قادیانی کی نبوت پر ایمان لانا اتنا ہی ضروری ہے‘ جتنا دوسرے انبیائے
کرام پر۔ (نعوذ باللہ)
- جو مرزا قادیانی کو نبی نہیں مانتا‘ وہ دائرہ اسلام سے خارج‘ پکا کافر اور جہنمی
ہے۔ (نعوذ باللہ)
- جو مرد مرزا قادیانی کو نبی نہیں مانتے وہ سور اور جو عورتیں مرزا قادیانی کو
نبی نہیں مانتیں‘ وہ کتیاں ہیں۔ (نعوذ باللہ)
- جو لوگ مرزا قادیانی کو نبی نہیں مانتے‘ وہ حرامی اور کنجریوں کی اولاد ہیں۔
(نعوذ باللہ)
- اب سید صرف وہ ہوگا جو مرزا قادیانی کی اولاد سے ہوگا۔ (نعوذ باللہ)
- احادیث نبویؐ میں جس مسیح موعود کے آنے کا ذکر ہے‘ وہ مرزا قادیانی ہے۔
(نعوذ باللہ)
- احادیث رسولؐ میں جس امام مہدی کے آنے کا وعدہ فرمایا گیا ہے‘ وہ مرزا
قادیانی ہے۔ (نعوذ باللہ)
- جناب حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو پھانسی دے دی گئی ہے اور وہ آسمانوں پر
زندہ نہیں ہیں۔ (نعوذ باللہ)
- پاکستان ختم ہو جائے گا اور اکھنڈ بھارت بنے گا۔ (نعوذ باللہ)
- عنقریب پاکستانیوں میں قادیانیوں کی حکمرانی ہوگی۔ (نعوذ باللہ)
- وہ وقت دور نہیں جب مسلمان قیدیوں کی طرح قادیانی حکمرانوں کے سامنے
پیش کیے جائیں گے۔ (نعوذ باللہ)
میں سن رہا تھا کہ اکرم خان میرے ہر جملے پر نعوذ باللہ کہہ رہا تھا اور میں دیکھ
رہا تھا کہ اس کی آنکھوں میں بار بار آنسو چھلک رہے تھے۔ اکرم خان مجھے کہنے لگا ”طاہر بھائی! آپ نے مجھے جھنجوڑ جھنجوڑ کے بے حال کر دیا ہے۔۔۔۔ میرے دل و دماغ میں اک انقلاب برپا کر دیا ہے۔ مجھے یوں محسوس ہو رہا ہے کہ میں نے اس دنیا میں آج ایک نیا جنم لیا ہے۔۔۔۔ میں نے آج ایک نئے جہان میں آنکھیں کھولی ہیں۔۔۔۔ اور میرے ذمہ ایک بہت بڑا فرض ہے، جسے مجھے ادا کرنا ہے۔ اس فرض کی پکار مجھے بلا رہی ہے“۔
وہ کہنے لگا ”طاہر بھائی! قادیانی اتنے خطرناک۔۔۔۔ اتنے مہلک اور اتنے زہریلے ہیں۔۔۔۔ تو مسلمان انہیں برداشت کیسے کرتے ہیں؟“
”جیسے تم کرتے تھے“ میں نے جواب دیا۔
”میں تو ان کی ہولناکیوں اور زہرناکیوں سے واقف ہی نہیں تھا“ وہ بولا۔
”حق و باطل کے فرق کو نہ ماننا بھی جرم ہے اور نہ جاننا بھی جرم ہے۔ قیامت کے روز اللہ کے دربار میں کوئی شخص یہ عذر نہیں کر سکے گا کہ وہ قادیانیوں کو جانتا نہیں تھا۔ اسلام اور پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے خلاف کفر کی اتنی بھیانک سازش ہو۔۔۔۔ اور مسلمان کو پتہ نہ ہو۔۔۔۔ یہ کیسی مسلمانی ہے؟“ میں نے جواب دیا۔
میں نے کہا کہ آج قادیانیت فقط مسلمان کی بے غیرتی و بے حمیتی کی وجہ سے زندہ ہے۔ تاج و تخت ختم نبوت پہ ڈاکہ زنی ہوتے دیکھ کر مسلمان کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگتی۔ ناموس رسالت پہ قادیانی کتے بھونکتے دیکھ کر مسلمان ٹس سے مس نہیں ہوتا۔۔۔۔ ارتدادی تبلیغ ہوتے دیکھ کر اس کی رگ حمیت نہیں پھڑکتی۔۔۔۔ مسلمانوں کا ایمان لٹتے دیکھ کر بھی اس کے ماتھے پر تشویش کی سلوٹیں نہیں ابھرتیں۔۔۔۔۔ وہ آغوش دنیا میں بدمست ہے اور اس بدمستی کی دلدل میں مزید دھنستا جا رہا ہے۔۔۔۔ ہماری ایمانی پستی، بے غیرتی، بے حسی اور عشق رسولؐ کے تنزل پہ نوحہ خوانی کرتے ہوئے مجاہد ختم نبوت جناب سید منظور الحسن شاہ نے کیا خوب کہا ہے ؎
اسے حرا میں رلانے والو
اس سے محبت جتانے والو
مگر محمدؐ کے دشمنوں سے محبتوں کو بڑھانے والو
تمہارے اندر نبیؐ کی الفت کی اک رمق بھی نہیں رہی ہے!
تمہارے چہرے پہ اس کی یادوں کی ایک جھلک بھی نہیں رہی ہے؟
نبیؐ سے عشق و وفا نبھانے کے دعویدارو!
ذرا محمدؐ کے پیار کا اپنے واسطے تم مقام دیکھو
گریباں اپنے بھی جھانک دیکھو
اس نبیؐ کی محبتوں کا مقام دیکھو
کہ جس نے امت سے پیار کرنے پہ چمن طائف میں زخم کھائے
وہی محمدؐ کہ جس نے اپنے
تمام آنسو خدا کے آگے تمہاری خاطر ہی ہیں بہائے
شہید دنداں بھی کرائے! شدید صدمات بھی اٹھائے
وہی محمدؐ کہ جس نے تم کو نئے درس انسانیت سکھائے
وہی محمدؐ کہ جس نے تمہارے پیار خاطر ہی اپنا آبائی شہر چھوڑا
وہی محمدؐ کہ جس نے فاقے تو کر لیے پر نہ تم سے عہد وفا کو توڑا
وہی محمدؐ کہ جس کے ہونٹوں سے پتھروں کے عوض دعاؤں کے پھول برسے
وہی محمدؐ کہ جس کی چند مسکراہٹوں پر خدا نے تمہارے گناہ بخشے
اسی کی روح عظیم تمہاری الفتوں کو تلاش کرنے میں سرگرم ہے
مگر تمہاری محبتوں کے خزانے خالی پڑے ہیں لوگو!
تمہارے آقاؐ تمہاری غیرت کو دیکھ کر چپ کھڑے ہیں لوگو!
نبی کے دشمن بڑے ہیں لوگو! کفر کے پہرے کڑے ہیں لوگو!
مگر ہم اپنی محبتوں پر
رسولؐ سے بیوفائیوں کے لبادے اوڑھے کھڑے ہیں لوگو!
سنو! محمدؐ کا نام سنتے ہی آنسوؤں کو بہانے والو!
سنو! محمدؐ کے منہ سے نکلے حروف کو بیچ کھانے والو!
سنو نبیؐ کے نقوش پا کی تلاش میں نکلے راستوں کو مٹانے والو!
سنو محمدؐ کے دشمنوں سے محبتوں کو بڑھانے والو!
تمہیں ذرا بھی خبر نہیں ہے
کہ قادیانی تمہارے آقا کی عصمتوں کو
طویل مدت سے ماند کرنے میں سرگرم ہیں
وہ کب سے تمہاری بے بسی اور بے حسی پر
خوشی کے نعرے لگا رہے ہیں
نبیؐ کے دین کو مٹا رہے ہیں
بنائے اسلام ڈھا رہے ہیں
تمہیں تمہارے عظیم آباء سے ملنے والی
میراث عشق محمدیؐ کو مٹا رہے ہیں
سنو محمدؐ کا دین بچانے فلک سے کوئی نہیں آئے گا
تفرقہ بازی کے بت گرانے فلک سے کوئی نہیں آئے گا
نجاست قادیاں مٹانے فلک سے کوئی نہیں آئے گا
نبیؐ سے عہد وفا نبھانے فلک سے کوئی نہیں آئے گا
سنو محمدؐ کے بے وفاؤ!
تمہیں کو اپنے نبیؐ سے وعدے نبھانے ہوں گے
تمہیں کو امت کو ایک رستے پہ لانا ہو گا
تمہیں کو ہی دشمنان امت دبانے ہوں گے
تمہیں کو فتنہ قادیاں کو مٹانا ہو گا
نبیؐ سے عشق و وفا نبھانے کے دعویدارو!
تمہیں محمدؐ کا عشق اب بھی پکارتا ہے
چلو خدارا!
منافقت کے قبیح لبادے اتار ڈالیں
نبیؐ کے دشمن اجاڑ ڈالیں
خدا کی رحمت پکار ڈالیں
چلو کہ فتنہ قادیاں کو
جڑوں سے اس کی اکھاڑ ڈالیں
چلو کہ اپنے لہو کو عشق محمدؐ پر نثار ڈالیں
عقیدۂ ختم نبوّت
اور
چہرۂ قادیانیت
مولانا سید
انور شاہ کشمیری
ایمان اور کفر کی حقیقت
کسی کے قول کو اس کے اعتماد پر باور کرنے اور غیب کی خبروں کو انبیاء کے اعتماد پر باور کرنے کو ایمان کہتے ہیں اور کفر کہتے ہیں۔ حق ناشناسی اور منکر ہو جانے کو یا مکر جانے کو۔ ہمارے دین کا ثبوت دو طرح سے ہے‘ تواتر سے یا خبر احاد سے۔ تواتر اسے کہتے ہیں کہ کوئی چیز ثابت ہوئی ہو‘ نبی کریم ﷺ سے جو ہم تک پہنچی ہو علی الاتصال کہ اس میں احتمال خطا کا نہ ہو۔
اقسام تواتر
تواتر ہمارے دین میں چار قسم کا ہے:
- ١۔ حدیث: من کذب علی متعمداً فلیتبوا مقعدہ من
النار۔ یہ حدیث متواتر ہے اور تیس صحابہؓ سے بسند صحیح مذکور ہے۔ اس کو تواتر اسنادی کہا جائے گا۔ نزول مسیح میں چالیس حدیثیں ہمارے پاس موجود ہیں‘ جو متواتر ہیں۔ اس کا کوئی انکار کرے وہ کافر ہے۔
- ٢۔ دوسری قسم تواتر کی تواتر طبقہ ہے۔ یہ نہ معلوم ہو کہ کس نے کس سے لیا
بلکہ یہی معلوم ہوا کہ پچھلی نسل نے اگلی نسل سے لیا تھا۔ جیسا کہ قرآن شریف کا تواتر اس تواتر کا منکر اور منحرف بھی کافر ہے۔ مسواک کا ثبوت بھی دونوں طرح سے متواتر ہے۔ اگر کوئی ترک کر دے تو چنداں وبال نہیں اور اگر اس کا کوئی انکار کر دے۔ علم کے بعد تو وہ کافر صریح ہے۔ اگر کوئی شخص کہہ دے کہ جو حرام ہیں تو وہ کافر ہے‘ جو بحسب شریعت محمدیہ کوئی بڑی چیز نہ تھی‘ لیکن چونکہ پیغمبر ﷺ نے جو کھائے اور امت
اب تک جو کھاتی آئی ہے، اس تواتر قطعی کا انکار کفر ہے۔
- ٣۔ تیسری قسم تواتر کی تواتر قدر مشترک ہے۔ حدیثیں کئی ایک خبر واحد آئی
ہوں۔ اس میں قدر مشترک متفق علیہ وہ حصہ حاصل ہوا، جو تواتر کو پہنچ گیا۔ مثال اس کی کہ معجزات نبی کریم ﷺ کچھ متواتر ہیں اور کچھ اخبار احاد ہیں، لیکن ان اخبار احاد میں ایک مضمون مشترک ملت ہے کہ وہ قطعی ہو جاتا ہے۔ اس کا انکار بھی ویسا ہی کفر ہے جیسے پہلے دو قسموں کا۔
- ٤۔ چوتھی قسم تواتر کی تواتر توارث ہے، یعنی جسے نسل نے نسل سے لیا ہو۔
جیسا کہ ساری امت اس علم میں شریک ہے کہ خاتم الانبیاء محمد ﷺ کے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا۔ تواتر اس طرح سے ہے کہ بیٹے نے باپ سے لیا اور باپ نے اپنے باپ سے لیا۔ اس کا انکار بھی صریح کفر ہے، اگر متواترات کے انکار کو کفر نہ کہا جائے تو اسلام کی کوئی حقیقت نہیں رہ سکتی اور نہ کسی اور یقینی چیز کی۔ ان متواترات میں تاویل کرنا مطلب بگاڑنا کفر صریح ہے، رد ہے، مسموع نہیں ہے۔
متواترات کو تاویلات سے پلٹنا کفر صریح ہے
میں نے اپنی کتاب عقیدۃ الاسلام کے صفحہ اول پر متواترات کے پلٹنے کی مثال دی ہے۔ اس کا نام باطنیت ہے، اس کا نام زندقیت ہے اور الحاد ہے۔
کفر کے اقسام
کفر کبھی قولی ہوتا ہے اور کبھی فعلی ہوتا ہے۔ مثلاً کوئی شخص ساری عمر نمازیں پڑھتا رہے اور تیس چالیس سال کے بعد ایک دفعہ بت کو سجدہ کرے تو وہ کافر ہے اور تارک نماز سے بدتر ہے، یہ کفر فعلی ہے۔
کفر قولی یہ ہے کہ مثلاً یہ کہہ دے کہ خدا کے ساتھ کوئی شریک ہے۔ صفتوں میں یا فعل میں یا یہ کہ رسول اللہ ﷺ کے بعد کوئی اور نیا پیغمبر آئے گا تو یہ کفر قولی ہے۔
اختلاف مراتب
کوئی شخص اپنے مساوی رتبہ سے کہہ دے کہ کلمہ بکا تو کوئی چیز نہیں۔ استاد اور باپ سے کہہ دے تو اسے عاق کہتے ہیں، پیغمبر کے ساتھ یہ معاملہ کرے تو یہ کفر صریح ہے۔
قرآن مجید میں ہے کہ جب منافقین سے کہا جاتا ہے کہ پیغمبر سے آکر مغفرت کی دعا کراؤ تو وہ اپنے سر پھیر لیتے ہیں۔ اس کو بھی پیغمبر کے مقابلے میں قرآن نے کفر قرار دیا ہے۔ کوئی شخص اگر بغیر نیت کے بطور ہنسی کے کلمہ کفر کہتا ہے تو وہ بھی کافر ہے اور اگر خطا سے نکل گیا ہے تو یہ معاف ہے۔
اس کی تائید میں قرآن شریف کی آیت ولقد قالوا کلمہ الکفر وکفروا بعد اسلامہم۔ (سورۃ توبہ، پارہ گیارہواں) اور لاتعتذرو لقد کفرتم بعد ایمانکم۔ (سورۃ توبہ، پارہ گیارہواں)۔
ان دفعات اسلامیہ سے جو اوپر بیان کیے گئے ہیں جو انکار کرے تو وہ خدا کا باغی ہے اور اس کی سزا موت ہے۔
مرزائیوں کا اختلاف، قانون اور اصول کا اختلاف ہے
اہل سنت والجماعت اور مرزائی مذہب والوں میں قانون کا اختلاف ہے۔ علمائے دیوبند اور علمائے بریلی میں واقعات کا اختلاف ہے، قانون کا نہیں۔
مرزا نے اسلام کے بہت سے اصول بدل دیئے ہیں
مرزائی مذہب والے نے مہمات دین کے بہت سے اصولوں کی تبدیلی کر دی ہے اور بہت سے اسمائے کا مسمی بدل دیا ہے۔ نبوۃ کے ختم میں ہمارے پاس کوئی دو سو احادیث ہیں اور قرآن مجید ہے اور اجماع بالفعل ہے اور ہر پچھلے آدمی نے اس کو پہلے سے لیا ہے اور کوئی مسلمان جس کو تعلق ہے، اسلام کے ساتھ وہ اس عقیدہ سے غافل نہیں رہا۔ اس عقیدہ کو تحریف کرنا اور
اس سے انحراف کرنا کفر صریح ہے۔ اگر کوئی آیت قرآن میں ہے اور اس کی مراد پر اجماع صحابہ اور امت کا ہو اور اس سے انحراف کرنا اور تحریف کرنا کفر صریح ہے اور جو یہ کہا گیا ہے کہ امام احمد نے کہا ہے: من ادعی الاجماع فهو كاذب ۔ تو اس کی مراد یہ ہے کہ لوگ کہیں کہیں اجماع کا دعویٰ کرتے ہیں۔ وہ اجماع نہیں نہ یہ کہ کوئی چیز دین محمدی میں اجماعی ہی نہیں۔ ہم خود امام احمد کے زبانی اجماع کو ثابت کردیں گے۔
امت محمدیہ میں پہلا اجماع مدعی نبوت کے قتل پر ہوا
پہلا اجماع جو اس امت محمدیہ میں ہوا ہے وہ اس پر ہوا ہے کہ مدعی نبوت کو قتل کیا جاوے۔ نبی کریم ﷺ کے زمانہ میں مسیلمہ کذاب نے دعویٰ نبوت کیا۔ صدیق اکبرؓ نے خلافت کے زمانہ میں مسیلمہ کے قتل کے واسطے صحابہ کو بھیجا، کسی نے اس میں تردد نہ کیا یعنی جو خاتم النبیین کے بعد دعویٰ نبوت کرے تو وہ مرتد اور زندیق ہے اور واجب القتل ہے۔
سنن ابوداؤد میں ہے کہ نبی کریم ﷺ کے پاس مسیلمہ کے قاصد آئے تھے، آپ ﷺ نے فرمایا کہ تم کہتے ہو کہ وہ نبی ہے۔ اس پر انہوں نے کہا کہ ہاں فرمایا، طریقہ یہ ہے: دنیا کا کہ قاصدوں کو قتل نہیں کیا جاتا اگر یہ نہ ہوتا تو آج تمہاری گردن مار دیتا۔
(”باب الرسل“ ص ٣٨٠، مطبوعہ لکھنؤ)
اس کے بعد معجم طبرانی میں ہے کہ عبداللہ بن مسعودؓ کو ان قاصدوں میں سے ایک کوفہ میں ملا۔ حضرت فاروق ؓ یا حضرت عثمان ؓ کے زمانہ میں وہ مسیلمہ کا نام لیتا تھا، فرمانے لگے کہ اب تو یہ قاصد نہیں ہے۔ حکم دیا کہ اس کی گردن مار دی جاوے۔ یہ روایت بخاری کی کتاب کفالت میں بھی موجود ہے۔
(”معجم طبرانی کتب خانہ مولوی شمس الدین صاحب مرحوم بہاولپوری“ ورق نمبر٢٩)
جو روایت ”معجم طبرانی“ سے نقل کی گئی ہے وہ بھی سنن ابی داؤد میں موجود ہے۔
اسلام میں ختم نبوت کا عقیدہ متواتر ہے
ختم نبوت کا عقیدہ دین محمدی ﷺ میں متواتر ہے۔ قرآن سے‘ حدیث سے‘ اجماع بالفعل سے اور یہ پہلا اجماع ہے۔ ہر زمانہ میں حکومت اسلامی نے اس شخص کو جس نے دعویٰ نبوت کیا‘ سزائے موت دی ہے۔ (صبح الاعشاء‘ ص ٣٠٥‘ ج ١٣) پر ہے کہ ایک شاعر کو سلطان صلاح الدین ایوبی نے بفتوائے علماء دین اس ایک شعر کے کہنے پر قتل کرا دیا تھا۔
سعی فاصبح یدعی سید الامم
جس کا ترجمہ یہ ہے: ”کہ اس دین کا آغاز ایک ایسے سے ہے جس نے کوشش کی اور امتوں کا سردار بن گیا۔ اس شعر سے قرار دیا گیا کہ یہ نبوت کو کسبی کہتا ہے جو ریاضتوں سے حاصل ہو سکتی ہے‘ اس لیے اسے قتل کر دیا گیا“۔
ختم نبوت کی آیت:
ما كان محمد ابا احد من رجالكم ولكن رسول الله وخاتم النبيين۔
”جس کا معنی یہ ہے کہ محمد ﷺ تم بالغوں میں سے کسی کے باپ نہیں ہیں‘ لیکن رسول ہیں‘ اللہ کے اور پیغمبروں کے ختم کرنے والے ہیں“۔
اس آیت میں یہ فرمایا جا رہا ہے کہ نبی کریم ﷺ کی ابوت کا علاقہ دائماً دنیا سے منقطع ہے اور اس کے عوض رسالت اور نبوت کا علاقہ دائماً ثابت ہے۔ گویا ساری جگہ نبوت اور رسالت محمد رسول اللہ ﷺ نے گھیر لی ہے۔ کوئی جگہ خالی نہ رہی۔ احادیث تواتر کو پہنچ گئی ہے کہ یہ عہدہ منقطع ہو گیا ہے۔ نبی کریم ﷺ اشخاص نبوت کے بھی خاتم ہیں اور آپ ﷺ کے تشریف لانے سے نبوت کا عہدہ بھی منقطع ہو گیا ہے۔ حضرت عیسیٰؑ کا آنا علامت ہے‘ اس بات کی کہ انبیاء کے عدد میں کوئی باقی نہیں رہا اس لیے پہلے نبی کو لانا پڑا۔
مرزا کا قول کتاب ضمیمہ حقیقۃ الوحی ص ٢٦٦ پر ہے اور چونکہ میں ظلی طور پر محمد ہوں ﷺ ، پس اس طور سے خاتم النبیین کی مہر نہیں ٹوٹی کیونکہ محمد ﷺ کی نبوت محمد ﷺ تک ہی محدود رہی۔ یعنی بہر حال محمد ﷺ ہی نبی رہا نہ اور کوئی نہیں۔ مطلب یہ ہے کہ میں آئینہ بن گیا ہوں۔ محمد الرسول اللہ کی تصویر مجھ میں اتر آئی ہے، اس سے مہر نبوت نہیں ٹوٹی۔ میں کہتا ہوں کہ یہ تمسخر و استہزا ہے، اللہ اور اس کے رسول ﷺ سے۔ گویا مطلب یہ ہوا کہ مہر لگی رہی اور مال میں سے مال چرا لیا گیا۔ کبھی کہتا ہے کہ آپ خاتم النبیین ہیں، ان کی مہر لگانے سے اور ان کی منظوری سے اور شخص بھی نبی بن سکتے ہیں۔ میں کہتا ہوں کہ یہ بھی دین سے تمسخر ہے اور استہزا ہے۔
("حقیقۃ الوحی" ص ٩٧) پر ہے۔ آپ کی پیروی سے نبوت بخشی ہے اور آپ کی توجہ روحانی نبی تراش ہے اور یہ قوت قدسیہ کسی اور نبی کو نہیں ملی۔
چند شبہات کے جوابات
علماء اسلام کا یہ قول ہے کہ اگر کسی کے کلمہ کفر میں ٩٩ احتمال کفر کے ہوں اور ایک احتمال اسلام کا ہو تو ٩٩ کو نظر انداز کیا جاوے۔ اس کی مراد یہ ہے، صرف ایک ہی کلمہ کسی کا پایا گیا ہو اور اس کے حالات معلوم نہ ہوں۔ اس وقت یہ صورت ہو گی اور اگر حالات معلوم ہوں اور وہ بیس سال عبادت کرے اور کلمہ کفر بولے وہ کافر ہے۔
تکفیر اہل قبلہ
- ٢۔ یہ مسئلہ جو مشہور ہے کہ اہل قبلہ کی تکفیر جائز نہیں۔ اس کے معنی حسب
تصریح علماء یہ ہیں کہ کل متواترات اور ضروریات دین پر ایمان رکھتا ہو۔ گویا اہل قبلہ کا لفظ ایک عنوان ہے۔
("عالمگیریہ" ص ٢٢٠، ج ٢، "کتاب السیر" اور ردالمختار" پر ص ٢٤٧، "شرح فقہ
اکبر" ص ١٨٩)
میں نے شروع میں کہا تھا کہ اجماع کا منکر کافر ہے اور اجماع صحابہ کا قطعی ہے۔
وابن تیمیہ کی کتاب ”اقامۃ الدلیل“ ص ١٤٠‘ جلد ٣ میں ہے‘ جس کا مطلب یہ ہے کہ اجماع صحابہ کا اتباع واجب ہے بلکہ وہ قوی تر حجتہ ہے اور دوسری حجتوں پر مقدم ہے۔ اسلام شناخت ہے مسلمانوں کی اور مسلمان شناخت ہیں اسلام کی۔ اگر اجماع کو درمیان سے اٹھا دیا جاوے تو دین گر گیا۔ (”بخاری“ ص ١٠٢٤‘ ج ٢‘ میں ہے۔ اس کتاب کے اسی صفحہ پر یہ حدیث ہے۔) فان له اصحاب الخ۔ کہ اس کی ذریت میں سے قوم نکلے گی جو ان کی نماز روزہ کے سامنے تمہارے یعنی صحابہ کے نماز روزہ ہیچ ہوں گے اور جھٹ سے نکل جاویں گے۔ دین سے جیسے تیر نکل جاتا ہے۔ شکار سے اور ایک اور حدیث ہے اگر میں نے ان کو پایا تو عاد و ثمود کی طرح انہیں قتل کر دوں گا۔ حافظ ابن تیمیہ کہتے ہیں کہ ہمارا یہ قول کہ گناہ گار کی تکفیر نہیں ہونی چاہیے۔ تو گناہ سے وہ گناہ مراد ہے جو حد کفر تک نہیں پہنچا جو کلمات یا افعال کفر کے ہیں۔ ان سے ہر طرح سے تکفیر کی جائے۔ ایسے گناہ مثلاً زنا‘ شراب خوری سے تکفیر نہیں ہوگی کہ اگر کوئی شخص نماز کو دانستہ طور پر ترک کر دے وہ کافر نہیں‘ فاسق اور سخت عاصی ہے اور اگر تاویل کر جائے کہ اس سے کوئی اور چیز مراد ہے تو وہ قطعا کافر ہے۔ نماز کی فرضیت کا منکر نہ ہو اور صرف تارک ہو تو وہ فاسق ہے اور اگر دانستہ ایک دفعہ قبلہ سے پھر کر نماز پڑھے تو وہ کافر ہے۔ تمام کافروں سے بدتر کافر ہے جن کا لگاؤ ہو اسلام کے ساتھ جہنم کے کافروں سے کیونکہ اصل کافروں سے نفع ہوتا ہے اور دوسروں سے پونجی جاتی ہے۔
شیطان کا کفر
کبھی یوں بھی ہوتا ہے کہ نہ خدا کی تکذیب کی نہ پیغمبر ﷺ کی‘ جیسے ابلیس نہ خدا کی تکذیب کی نہ آدم کی۔
کافر‘ منافق اور زندیق میں فرق
جو اس دین محمدی کا انکار کرے وہ کافر ہے۔ جو اندر سے منکر ہو اور بظاہر مقر ہو وہ منافق ہے۔ اس کا حکم کافروں سے اشد ہے اور جو زبان کے اقرار کے بعد دین کے
اصول بدلائے، وہ زندیق ہے اور یہ دونوں قسموں سے شدید ہے۔ امام اعظم فرماتے ہیں: (”احکام الفرقان“ ص ٥٣) من انکر شیاء من شرایع الاسلام۔ جس نے اسلامی امور میں سے کسی امر کا انکار کیا تو اس کے کلمہ لا الہ الا اللہ الخ کا کوئی اعتبار نہیں رہا۔
ایمان، کفر اور ارتداد کے معنی
اس وقت تک جو اجمالی طور کفر واسلام کی حقیقت بیان کی گئی ہے، اس سے یہ معلوم ہوا کہ معنی ارتداد کے یہ ہیں کہ اسلام سے ایک مسلمان کلمہ کفر کہہ کر اور ضروریات و متواترات سے کسی چیز کا انکار کر کے خارج ہو جاوے اور ایمان یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ خدا تعالیٰ سے جس چیز کو لائے ہیں اور اس کا ثبوت بدیہات اسلام سے ہے۔ ہر مسلمان عام و خاص اس کو جانتے ہیں۔ اس کی تصدیق کرنا عبارت ذیل سے یہ دونوں مضمون ثابت ہیں۔ (”درمختار برحاشیہ شامی“ ج ٣، ص ٢٨٣) باب المرتد ھوا الراجع عن دین الاسلام الی قولہ مما علم عن مجیئہ ضروره۔ یعنی مرتد وہ ہے جو پھر جائے دین اسلام سے اور رکن اس کا ایمان کے بعد زبان پر اجراء کلمۃ الکفر ہے اور ایمان تصدیق ہے۔ آنحضرت ﷺ کی ان تمام چیزوں میں جو وہ خدا کی طرف سے لائے ہیں اور ثبوت ان کا بدیہی ہے۔
(”اشباہ النظائر“ ص ٢٦٧) الایمان الی قولہ ما ادخلہ فیہ۔ یعنی ایمان تصدیق ہے۔ آنحضرت ﷺ کی جملہ ان چیزوں میں جو وہ لائے اور ثابت ہو گیا ہے پورے تواتر سے، کفر تکذیب ہے۔ آنحضرت ﷺ کی کسی ایک چیز کی دین میں جو ہدایت سے ثابت ہو، کافر نہیں ہوگا۔ کوئی اہل قبلہ مگر ساتھ انکار کرنے اس چیز کے جسے اس نے ایمان میں داخل کیا تھا۔
ضروریات دین کی تعریف
ضروریات دین وہ ہیں جسے خواص و عوام پہچانیں کہ یہ دین سے ہیں۔ جیسے اعتقاد
توحید و رسالتہ و خمس صلوات ویسے ہی اور چیزیں۔ ("شامی" ص ٤٢٧‘ ج١‘ باب الامامت)
مرزائی توجیہات کے جوابات
جو لوگ ضروریات دین کے منکر ہو جاتے ہیں‘ وہ عموماً اپنے کفر کے چھپانے کے لیے مختلف تاویلیں اختیار کرتے ہیں۔ کبھی کہتے ہیں کہ اہل قبلہ ہیں اور اہل قبلہ کی تکفیر جائز نہیں۔ کبھی کہتے ہیں کہ ہم ارکان اسلام نماز‘ روزہ‘ حج‘ زکوٰۃ وغیرہ ادا کرتے ہیں اور تبلیغ اسلام میں سر توڑ کوشش کر رہے ہیں۔ ہمیں کیسے خارج از اسلام کہا جاتا ہے۔ کبھی کہتے ہیں کہ بتصریح فقہا اگر ایک شخص کے کلام میں ٩٩ وجوہ کفر ہوں اور صرف ایک وجہ اسلام کی موجود ہو تو مفتی کا فرض ہے کہ اسی ایک وجہ کو اختیار کر کے اسے مسلمان کہے اور کفر کا حکم نہ لگائے‘ پھر ہمیں کیسے خارج از اسلام کہا جاتا ہے۔ کبھی کہتے ہیں کہ بتصریح فقہا جو شخص کلمہ کفر کسی تاویل کی بناء پر کہے اسے کافر نہیں کہا جاتا۔ ان چاروں شبہات کے جواب بالترتیب یہ ہیں:
- ١۔ پہلی بات کہ اہل قبلہ کی تکفیر جائز نہیں۔ یہ لاعلمی اور ناواقفیت پر مبنی ہے
کیونکہ حسب تصریح و اتفاق علماء اہل قبلہ کے یہ معنی نہیں کہ جو قبلہ کی طرف منہ کرے وہ مسلمان ہے‘ چاہے سارے عقائد اسلامیہ کا منکر ہو۔ قرآن نے منافقین کو تمام کفار سے زیادہ بدتر کافر ٹھہرایا‘ حالانکہ وہ نہ صرف قبلہ کی طرف منہ کرتے‘ بلکہ تمام ظاہر احکام کو ادا کرتے تھے۔ قرآن کا ارشاد ہے: لیس البر ان تولوا وجوهکم قبل المشرق والمغرب۔ اس مضمون کی تصریح کتب ذیل میں موجود ہے۔
("شرح فقہ اکبر" ص ١٧٩)
یعنی جان لے کہ اہل قبلہ سے وہ لوگ مراد ہیں جنہوں نے اتفاق کیا‘ ضروریات دین پر۔ جیسے حدوث عالم۔ حشر اجساد‘ علم اللہ کا کلی و جزئی کے ساتھ اور ایسے دوسرے مسائل مہمہ۔ پس جس نے مداومت کی تمام عمر طاعات و عبادات پر باوجود اعتقاد قدم عالم کے اور نفی حشر کے اور جزئیات مادیات کے ساتھ علم الٰہی کی نفی کی۔ وہ اہل قبلہ میں
سے نہیں ہے اور یہ جو مسئلہ ہے کہ اہل قبلہ کی تکفیر جائز نہیں‘ اس کی مراد یہ ہے کہ کافر نہیں ہو گا جب تک علامات کفر اور کوئی چیز موجبات کفر میں سے نہ پائی گئی ہو۔ تقریر شرح تحریر الاصول ص ٣١٨‘ ج ٣‘ میں ہے ۔ والمراد‘ قطعا یعنی مراد مبتدع سے وہ ہے جو اپنی بدعت کی وجہ سے کافر نہیں اور ویسے ہی گنہگار اہل قبلہ سے وہ شخص مراد ہے جو ضروریات دین کے موافق ہے۔ جیسے حدوث عالم و حشر اجساد سوائے اس کے کہ اس سے کوئی چیز موجبات کفر سے صادر ہو‘ اس کتاب کے اسی صفحہ پر ہے۔ کافر نہ کہنا اہل قبلہ کا کسی گناہ سے تصریح کی ہے۔ اس کو ابو حنیفہؒ نے فقہ اکبر میں فرمایا ہے‘ ہم کافر نہیں کہتے کسی کو‘ کسی گناہ کی وجہ سے‘ اگرچہ وہ گناہ کبیرہ ہو بشرطیکہ اسے حلال نہ سمجھے۔ جیسے کہ منتقی حاکم شہید کی کتاب میں ہے۔
دوسرا شبہ یہ کہا جاتا ہے کہ یہ لوگ نماز‘ روزہ‘ حج‘ زکوٰۃ اور تمام ارکان کے پابند ہیں اور تبلیغ اسلام میں مساعی ہیں۔ پھر ان کو کیسے کافر کہا جاتا ہے‘ اس کا ”صحیح بخاری“ کی حدیث میں ہے: ”كتاب استتابة المعاندين والمرتدين“ ص ١٠٢٤‘ ”باب قتال الخوارج“ ص ١٢٤‘ ج ٢ میں جواب ہے‘ جس کو میں اپنے بیان میں کہہ چکا ہوں۔
اس حدیث میں تصریح ہے کہ یہ قوم جس کے متعلق آنحضرت ﷺ فرماتے ہیں کہ دین اسلام سے صاف نکل جائیں گے اور ان کے قتل کرنے میں بڑا ثواب ہے۔ یہ لوگ نماز‘ روزہ کے پابند ہوں گے بلکہ ظاہری خشوع و خضوع کی حالت یہ ہوگی کہ مسلمان اپنی نماز روزہ کو ان کے مقابلہ پر ہیچ سمجھیں گے‘ لیکن اس کے باوجود جب بعض ضروریات دین کا انکار ان سے ثابت ہوا تو ان کی نماز روزہ ان کو کفر سے نہ بچا سکے۔
تیسرا شبہ یہ کہا جاتا ہے کہ فقہاء نے ایسے شخص کو مسلمان کہا ہے جس کے کلام میں ٩٩ وجوہ کفر کے ہوں اور صرف ایک وجہ اسلام کی ہو تو جواب یہ ہے کہ اس کا منشاء بھی یہ ہے۔ بعض فقہاء کے کلمات دیکھ لیے گئے اور ان کے معنی سمجھنے کی کوشش نہ کی گئی اور نہ وہ ان کے اقوال دیکھے جن میں تصریح ہے کہ یہ حکم عموم پر نہیں‘ بلکہ اس وقت ہے کہ جب قائل کا صرف ایک کلمہ مفتی کے سامنے آئے اور قائل کا دوسرا کوئی حال معلوم نہ ہو اور نہ اس کے کلام میں تصریح ہو۔ جس سے معنی کفریہ متعین ہو جائے تو
اس حالت میں مفتی کا فرض ہے کہ معاملہ تکفیر میں احتیاط کرے اور اگر کوئی ضعیف سے ضعیف احتمال ایسا نکل سکے۔ جس کی بناء پر یہ کلام اور کلمہ کفر ہونے سے بچ جائے تو اس احتمال کو اختیار کر کے اسے کافر نہ کہے۔ لیکن اگر ایک شخص کا کلمہ کفر اس کی سینکڑوں تحریرات میں بعنوانات و الفاظ مختلف موجود ہو‘ جس کو دیکھ کر یقین ہو جائے کہ یہ شخص بھی معنی کفریہ مراد لیتا ہے یا وہ خود اپنے کلام میں معنی کفر کی تصریح کر دیتا ہے تو باجماع فقہاء اسے مسلمان نہیں کہہ سکتے اور قطعی طور پر ایسے شخص کے لیے فتویٰ کفر لگایا جاوے گا۔ ”فتاویٰ ہند“ یہ کتاب ”السیر اخر الباب التاسع“ ص٢٢٠ میں ہے۔ اذا کان ۔ الیٰ قولہ کذا فی بحر الرائق ۔ یعنی جب مسئلہ میں کئی وجوہ موجب کفر ہوں اور ایک وجہ مانع کفر ہو تو مفتی پر لازم ہے کہ اسی ایک وجہ کی طرف مائل ہو اور ایسا ہی ہے۔ خلاصہ بزازیہ میں مگر جب تصریح کر دے‘ ایسی مراد کی جو موجب کفر ہے تو اس وقت کوئی تاویل نفع نہ دے گی۔ ایسا ہی ہے۔ بحر الرائق میں۔
شبہ چہارم یہ کہا جاتا ہے کہ جب کلمہ کفر کسی تاویل کے ساتھ موجب کفر کہا جائے تو کفر نہیں ہے۔ جواب یہ ہے کہ اس میں بھی تصریح فقہا سے ناواقفیت کا اظہار ہے۔ فقہا اور متکلمین کی تصریحات موجود ہیں کہ تاویل اسی کلام اور اسی چیز میں مانع تکفیر ہو سکتی ہے جو ضروریات دین سے نہ ہو لیکن اگر کوئی ضروریات میں تاویل کرے اور اجماعی عقیدہ کے خلاف کوئی نئے معنی تراشے تو بلاشبہ اسے کافر کہا جائے گا۔ اسے قرآن مجید الحاد کہتا ہے اور حدیث نے اس کا نام زندیق رکھا ہے۔ زندیق اسے کہتے ہیں جو مذہبی لٹریچر بدلے‘ الفاظ کی حقیقت بدل دے۔
محمد بن ابو بکر حاکم مصر نے حضرت علیؓ کو لکھا کہ دو مسلمان زندیق ہو گئے ہیں۔ ادھر سے جواب دیا گیا کہ وہ توبہ کر لیں تو بہ‘ ورنہ انہیں قتل کرو۔ رواہ الشافعی والبیہقی واخذ من کنز العمال۔ زندیق فارسی لفظ ہے جس کو عربی میں لیا گیا۔ علماء کے نزدیک کتابوں میں اس کا نام باطنیت آتا ہے۔ یہ تینوں چیزیں ایک ہی معنی رکھتی ہیں اور کفر صریح ہیں۔ ”معانی الاثار“ ص٧٩‘ ج٢‘ ”کتاب الحدود باب حد الخمر“ میں امام طحاویؒ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت نقل کی ہے کہ اہل شام کی ایک جماعت نے شراب پی اور آیت کریمہ لیس علی الذین
امنوا وعملوا الصالحات۔۔۔ کی تحریف کر کے شراب کو حلال قرار دیا۔ اس وقت یزید بن ابی سفیان حاکم شام نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو اس واقعہ کی اطلاع دی۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے جواب میں لکھا کہ ان کو گرفتار کر کے یہاں بھیج دو۔ جب یہ لوگ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس پہنچے تو صحابہ اور تابعین سے اس معاملہ میں مشورہ ہوا اور یہ رائے قرار پائی یا امیرالمومنین‘ ترى انهم قد كذبوا على الله تعالى واشرعوا في دينهم ما لم ياذن به الله فاضرب اعناقهم ۔ یعنی اللہ تعالیٰ پر انہوں نے افتراء کیا اور دین میں ایک ایسی بات جاری کی ہے کہ خدا تعالیٰ نے اس کی کوئی اجازت نہیں دی۔ لہٰذا ان کی گردنیں ماری جائیں۔ لوگوں نے یہ رائے پیش کی مگر حضرت علی رضی اللہ عنہ ساکت تھے۔ عمر رضی اللہ عنہ نے پوچھا کہ آپ کیا فرماتے ہیں‘ فرمایا‘ میں سمجھتا ہوں کہ آپ انہیں کہیں کہ اس سے توبہ کرو۔ اگر توبہ کریں تو ہر ایک کو ٨٠‘ ٨٠ کوڑے لگوائیے اور اگر توبہ نہ کریں تو ان کی گردنیں مار دی جاویں۔ کیونکہ یہ لوگ اللہ پر افترا کرتے ہیں اور دین میں ایسی بات جاری کرتے ہیں جس کی اللہ تعالیٰ نے اجازت نہیں دی۔ یہ واقعہ حافظ بن حجر نے ”فتح الباری“ ص ٣٢٢‘ میں بحوالہ مسند عبدالرزاق و مصنف بن ابی شیبہ نقل کیا ہے۔
نتیجہ یہ نکلا کہ شرعی لفظ کو بحال رکھنا اور اس کی حقیقت کو بدل دینا اور معاملہ ہو متواترات کا‘ تو یہ کفر صریح ہو گا۔ ان لوگوں نے قرآن کی تکذیب نہ کی تھی بلکہ ایک بیجا تاویل کی تھی‘ جس پر قتل کر دیئے گئے۔
ونیز محمد بن ابراہیم ”یمانی ایثار الحق عن الخلق“ کے ص ٤٢٥‘ پر لکھتے ہیں: مثل الى قوله عن سلفها۔ یعنی جیسے کفر زنادقہ اور ملحدوں کا انہوں نے کھیل اور تمسخر کیا‘ قرآن کی سب آیتوں کے ساتھ اور تاویل کی آیتوں کی۔ ان باطنی چیزوں کے ساتھ جس پر نہ لفظوں کی دلالت ہے‘ نہ نشان ہے اور نہ سلف صالحین کا اشارہ ہے۔ ان ملحدوں کی طرح وہ لوگ ہیں جو ان کے ہم صفت ہوں۔ شرع کے نشان مٹانے اور بدیہی علوم کے رد کرنے میں جس کو اگلی نسلوں نے پچھلی نسلوں سے لیا۔ یہاں تک میرے بیان سے اصولی طور پر کفر اور ایمان کی شرعی حقیقت اور یہ بات واضح ہو گئی کہ ایک مسلمان کسی قسم کے اقوال یا افعال کی وجہ سے کافر اور خارج از اسلام ہو
جاتا ہے۔
قادیانی کے کفر پر دنیائے اسلام کے علماء کے فتوے
اس کے بعد میں بیان کرتا ہوں کہ قادیانی مدعی نبوت نے کتنی ضروریات دین کا انکار کیا ہے جس کی وجہ سے وہ باجماع امت کافر و مرتد قرار دیا گیا اور ہندوستان کے تمام اسلامی فرقے اپنے شدید اختلاف مشرب کے باوجود ان کے اور ان کے متبعین کے کفر و ارتداد پر متفق ہیں۔ "القول الصحيح فى مكايد المسيح" میں مولوی محمد سہول صاحب سابق مدرس دارالعلوم دیوبند حال پرنسپل کالج شمس الہدے پٹنہ عظیم آباد نے ایک فتویٰ مرتب کیا ہے، جس پر تمام علماء کے دستخط ہیں، جس میں حضرت شیخ الہندؒ کی یہ عبارت ہے۔ مرزا علیہ ما یستحقہ کے عقائد واقوال کا اور کفریہ ہونا ایسا بدیہی ہے کہ جس کا انکار کوئی منصف صاحب فہم نہیں کر سکتا۔ جن کی تفصیل جواب میں موجود ہے، مصر کا فتویٰ بھی اس کے ساتھ چھپا ہوا موجود ہے، شام کا بھی موجود ہے۔ شام کا فتویٰ جس کا نام خلاصتہ الروفی انتقاد مسیح الہند ہے جو مرقومہ محمد ہاشم الرشید الخطيب الحسینی القادری کا ہے۔ اس کی چند سطور کا مطلب یہ ہے، تیسری کلام وہ جو کہ میں نے رسالہ کے ص ٢‘ ٣ پر نقل کی ہے۔ وہ شہادت دیتی اور حکم کرتی ہے کہ تو کاذب ہے، نہیں داخل ہوا تو دائرہ اسلام میں اور ایسا ہی تیرا مسیح ہندی اور اس کے اتباع۔
آگے لکھتے ہیں کہ اسکندرانی اور سب جرائد نے تمہارے رد کا اعلان کیا ہے۔ سارے مسلمان اس یقین پر ہیں کہ تم ملحد اور کافر ہو۔ دوسرا فتویٰ ہندوستان کا ہے، اس میں بھی تمام مشاہیر علماء ہند کے دستخط ہیں۔ یہ فتویٰ ١٣٣٨ھ میں شائع ہوا ہے۔
مصری فتویٰ کا ترجمہ
جو انجمن تائید الاسلام گوجرانوالہ نے اپنے رسالہ "کفر مرزا" میں شائع کیا ہے، یہ ہے: کہ غلام احمد ہندی کی کتاب سے پتہ چلتا ہے کہ آنحضرت ﷺ خاتم الانبیاء ہیں۔ مگر غلام احمد نے کہا کہ میرا مقصود ختم نبوت سے ختم کمالات نبوت ہے جو سب سے
افضل رسل و انبیاء ہیں اور میرا عقیدہ ہے کہ آنحضرت ﷺ کے بعد کوئی نبی نہیں۔ بجز اس کے جو آپ کی امت میں ہو اور پوری طرح سے آپ کا پیرو ہو‘ جس نے سارا فیض آپ کی روحانیت سے پایا ہو اور آپ کی روشنی سے روشنی پائی ہے تو وہاں پر مغائرت کا مقام نہیں رہتا‘ اور نہ کوئی دوسری نبوت ہے۔ یہ مقام حیرت نہیں بلکہ وہ خود احمد ہی ہے‘ جو دوسرے آئینہ میں ظاہر ہوا ہے۔ کوئی شخص اپنی صورت پر جس کو اللہ تعالیٰ آئینہ میں دکھاتا ہے اور ظاہر کرتا ہے‘ غیریت نہیں کرتا۔ پس جو شخص نبی سے ہو اور نبی کے اندر ہو تو وہ ہو بہو وہی ہے۔
یہ کلام اس بارے میں بالکل صاف ہے کہ غلام احمد آنحضرت ﷺ کے بعد اجراء نبوت کا عقیدہ رکھتا ہے۔ یعنی کہ آنحضرت ﷺ کے بعد وہ بھی نبی آپ کے اتباع سے ہوا ہے اور وہ صورت آنحضرت ﷺ سے ہے اور ہو بہو محمد ﷺ ہے‘ یہ صریح کفر ہے۔
اور اللہ تعالیٰ کا فرمان وما کان محمد الخ کے صریح مخالف ہے۔ یہ ان بہت سے دعوؤں سے ایک ہے‘ جو کذب غلام احمد ہندی پر دلالت کرتے ہیں اور جن کو اس نے اپنی کتاب ”مواہب الرحمن“ میں تحریر کیا ہے۔ مغفور مصطفیٰ کامل پاشا رئیس حزب الوطن اور مالک اخبار اللواء نے اس کا رد لکھا ہے اور غلام احمد کو ضال اور مضل لکھا تھا۔ (کاتب فتویٰ مفتی مصر محمد نجیب ہیں)
دوسرے دستخط علامہ طنطاوی جوہری کے ہیں۔ میں نے اصل فتویٰ دیکھا ہوا ہے‘ ترجمہ درست ہے۔ یہ فتویٰ بمصر علیحدہ طبع ہوا تھا اور میں محمد نجیب اور علامہ طنطاوی کو جانتا ہوں۔ رسالہ استنکاف الاسلام میں مفتی بھوپال کے دستخط اور مہر بھی ہے۔ انہوں نے اس سوال نکاح کے متعلق بھی اپنا فتویٰ دیا ہے۔
قادیانی کی کتابوں میں بہت سے متواترات دین کا انکار ہے
اگر قادیانی کی کتب کا استیعاب کیا جاوے تو بہت سے متواترات شرعیہ کا انکار اور خلاف شرع صریح طور پر اس کی کلام میں موجود ہے۔ جن میں سے اس وقت
چند چیزیں پیش کی جاتی ہیں، جو ہمارے اور ساری امت کے نزدیک موجبات کفر سے ہیں:
- (الف) ختم نبوت کا انکار اور اس کے اجماعی معنے کی تحریف۔
- (ب) دعویٰ نبوت اور اس کی تصریح کہ ایسی نبوت مراد ہے۔ جیسی کہ پہلے انبیاء
کی ہے۔
- (ج) وحی کا دعویٰ اور اپنی وحی کا قرآن کی طرح واجب الایمان قرار دینا۔
- (د) عیسیٰ کی توہین۔
- (ر) آنحضرت ﷺ کی توہین۔
- (ھ) تمام امت محمدیہ کی تکفیر بجز چند اپنے مریدوں کے سارے مسلمانوں کو دائرہ
اسلام سے خارج سمجھنا پچاس کروڑ مسلمانوں کو اولاد زنا قرار دینا۔ ان سب چیزوں کو اپنے آخر بیان میں خود قادیانی کی کتب سے بیان کروں گا۔ اس سے پہلے ہر ایک نمبر کے متعلق یہ بتلا دینا چاہتا ہوں کہ یہ سب چیزیں متواترات اور ضروریات دین کے خلاف ہیں، اجماعا کفر ہیں۔
امر اول ---- ختم نبوت کا انکار
آیت: ما کان محمد اباء احد ۔ الخ
- ١۔ امر اول، ختم نبوت کا انکار کفر ہے۔ خداوند کی مشیت میں یہ مقرر تھا کہ انبیاء
کی عمارت نبی کریم ﷺ پر ختم کر دی جائے اور جتنے کمال ہیں، آنحضرت ﷺ پر ختم ہو جائیں۔ اس کے بعد سلسلہ پیغمبری باقی رکھنا مشیت ایزدی سے نہیں ہے۔ اسی مشیت کے ماتحت آنحضرت ﷺ کی اولاد نرینہ باقی نہ رہی۔۔۔۔ اسی مقصود سے فرمان ہے، قرآن مجید کا کہ نبی کریم ﷺ کی ابوت مستقبل کے لیے ہے اور خاتم النبیین کا علاقہ ماضی کے لیے ہے۔ پہلی کتب میں بھی آپ پر سلسلہ نبوت ختم کیا گیا اور توریت میں بلفظ عبرانی یہ آیت ہے:
نبی من قربک من اخوتک کمثلک یقیم لک الهک الیہ تسمعون۔
جس کا ترجمہ یہ ہے، ”پیغمبر ایک رسول‘ ایک نبی‘ ایک تیرے قرابت داروں میں سے‘ تیرے بھائیوں میں سے تجھ جیسا قائم کرے گا۔ تیرے لیے خدا تیرا اس کی اطاعت کرنی ہوگی“۔
انجیل میں بلفظ عبرانی یوں ہے:
یحوہ مسینائی با وزارح مساعیر ہوفیع مہر فاران۔
اردو ترجمہ یوں ہے: ”خدا سینا سے آیا‘ طلوع اس کا ساعیر پر ہوا‘ اور جلوہ اس کا فاران پر ہوا“۔
نبوت موسوی اور عیسوی اور محمدی کی طرف اشارہ ہے اور ان کو کمال تک پہنچا کر سلسلہ کو ختم کر دیا ہے۔ یہ عبارتیں کتاب ”الملل والنحل“ میں ہیں۔
ختم نبوت کا عقیدہ‘ قرآن‘ حدیث اور اجماع امت سے ثابت ہے
اس کے متعلق اتنا کہتا ہوں کہ ختم نبوت کا عقیدہ باین معنی کہ آنحضرت ﷺ کی نبوت کے بعد کسی کو عہدہ نبوت نہ دیا جاوے گا۔ بغیر کسی تاویل و تخصیص کے‘ ان اجماعی عقائد میں سے ہے جو اسلام کے اصول و عقائد میں شمار کیے گئے ہیں اور آنحضرت ﷺ کے عہد مبارک سے لے کر آج تک نسلاً بعد نسل ہر مسلمان جس کو اسلام سے کچھ بھی تعلق ہے۔ اس پر ایمان رکھتا ہے کیونکہ یہ مسئلہ قرآن مجید کی بہت سی آیات سے اور احادیث متواتر المعنی سے جس کا عدد دو سو سے بھی زائد ہے اور قطعی اجماع امت سے روز روشن کی طرح ثابت ہے۔ جس کا منکر قطعا کافر مانا گیا ہے اور کوئی تاویل و تخصیص اس میں قبول نہیں کی گئی۔
منجملہ ان آیات کے صرف ایک آیت پر اکتفا کرتا ہوں۔ ما کان محمد۔ الخ اس آیت میں ختم نبوت کا ثبوت باین معنی کہ آنحضرت ﷺ کی نبوت کے بعد کسی کو عہدہ نبوت ہرگز نہیں دیا جاوے گا۔
باجماع صحابہ و تابعین اور اتفاق مفسرین ثابت ہے اور اس پر اجماع ہے۔ اس میں کسی تاویل و تخصیص کا احتمال نہیں اور جو شخص اس میں کسی قسم کی تاویل و تخصیص نکالے وہ ضروریات دین میں تاویل کرنے کی وجہ سے منکر ضروریات دین سمجھا جائے گا۔
ختم نبوت پر چند ائمۃ المفسرین والحدیث کے اقوال
اس کے ثبوت کے لیے چند ائمۃ المفسرین و حدیث کے اقوال پیش کرتا ہوں۔ حافظ ابن کثیر جلد ہشتم ص ٨٩ پر لکھتے ہیں:
فهذه الایۃ نص تا----رضی اللہ تعالیٰ عنهم
یعنی یہ آیت اس میں نص ہے کہ آنحضرت ﷺ کے بعد کوئی نبی نہیں۔ جب کوئی نبی نہیں تو پھر رسول بطریق اولیٰ نہیں، کیونکہ مقام نبوت سے مقام رسالت خاص ہے، ہر رسول نبی ہے اور ہر نبی رسول نہیں۔
اس کے موافق متواتر حدیثیں صحابہؓ کی جماعت کی روایت سے وارد ہوئی ہیں۔ امام موصوف کے اس کلام سے یہ بھی ثابت ہوا کہ ختم نبوت کو ثابت کرنے کی حدیثیں متواتر ہیں جس کا بہت بڑا حصہ امام موصوف نے نقل فرما کر لکھا ہے۔
فمن رحمه الله الى قوله عند اولى الالباب۔
(ج ٨‘
ص ٩١)
یعنی اللہ تعالیٰ کی رحمت اپنے بندوں پر ہے کہ اس نے محمد مصطفیٰ ﷺ کو رسول بنا کر بھیجا اور ختم نبوت اور رسالت سے مشرف کیا اور آپ نے دین حنیف کامل کر دیا۔ خبر دی ہے، اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں اور نبی نے اپنی احادیث متواترہ میں کہ کوئی نبی نہیں ہے۔ بعد آنحضرت ﷺ کے تاکہ جان لو کہ جس نے دعویٰ کیا اس عہدہ کا بعد خاتم الانبیاء کے وہ جھوٹا ہے، مفتری ہے، دجال ہے، گمراہ ہے، گمراہ کرنے والا ہے۔ اگرچہ کتنے حیلے اور شعبدے ایجاد کرے اور کتنے سحر اور طلسمات نیرنگیاں دکھائے یہ سب محال اور گمراہی ہے۔ اسی آیۃ کی تفسیر میں شیخ محمود الوسی، مفتی بغداد تحریر فرماتے
ہیں ۔ " تفسیر روح المعانی " ج ٧ ‘ ص ٦٠ پر ہے ۔ والمراد اے قولہ بالنبوہ ۔ یعنی نبی کریم ﷺ کے خاتم الانبیاء کی مراد یہ ہے کہ بعد آنحضرت ﷺ کے کوئی اور شخص اس عہدہ سے سرفراز نہ ہوگا ۔ آگے لکھا ہے کہ حضرت عیسیٰ ؑ کے نزول کا عقیدہ اس کے مخالف نہیں جو کہ امت کا مجمع علیہ اور اتنی احادیث سے ثابت ہے جو غالباً تواتر معنوی کی حد تک پہنچتی ہیں اور جس پر قرآن ناطق ہے اور اس کا عقیدہ رکھنا واجب ہے ۔ حتیٰ کہ اس کے منکر کو کافر شمار کیا گیا ہے کیونکہ آنحضرت ﷺ کے نبوۃ سے آراستہ ہونے سے قبل عیسیٰ ؑ اس دنیا میں صفت نبوت سے متصف تھے ۔
قاضی عیاض شفا لکھتے ہیں : ص ٣٦٢ باب ما هو من مقالات الكفر اجمعت الامه ۔ اے قولہ معاً یعنی امت کا اجماع ہے کہ یہ کلام اپنے ظاہر پر ہے اور اس کا ظاہری مفہوم مراد ہے ۔ سوی کسی تاویل کے اور تخصیص کے کوئی شک نہیں ۔ ان طوائف کے کفر و الحاد میں جو اوپر بیان ہوئے از روی اجماع امت اور نصوص کے احادیث کے ذخیرہ میں سے صرف ایک حدیث پر اکتفا کرتا ہوں ۔ بخاری کتاب ”حدیث الانبیاء“ ص ٤٩١ میں ہے ۔ عن النبى عليه السلام كان بنو اسرائيل ۔ اے آخرہ یعنی آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ بنو اسرائیل کی نگہبانی انبیاء کرتے تھے جب ایک نبی فوت ہو جائے تو دوسرا نبی آ جاتا تھا مگر میرے بعد کوئی نبی نہیں ہے ۔ ہاں خلفاء ہوں گے اور بہت ہوں گے ۔ عرض کی گئی ‘ اس پر کیا حکم کرتے ہیں ۔ فرمایا ‘ اطاعت کرو اول کی ‘ انہیں ان کا حق ادا کرو ‘ خدا ان سے پوچھ لے گا ۔ اس رعیت کے متعلق جو ان کے حوالہ کی گئی ۔ اس کو مسلم نے ”کتاب الامارۃ “ میں لکھا ہے ۔ اس کے بعد اجماع امت اور چند اقوال بزرگان ملت کے پیش کر کے اس بحث کو ختم کرتا ہوں اور سب سے پہلا اجماع جو اسلام میں منعقد ہوا تھا اس پر نبوت کو بغیر اس تحقیق کے کہ اس کی تاویل کیا ہے اور کیسی نبوت کا دعویٰ کرتا ہے ‘ مرتد اور کافر قرار دیا گیا اور سزا اس کی قتل ہے ۔ صحابہؓ کے اجماع سے صدیق اکبر ؓ کے زمانہ میں مسیلمہ کذاب مدعی نبوت پر جہاد کیا گیا ‘ اسے قتل کر دیا گیا ۔ عبارت اس حدیث کی بالفاظ ذیل ہے جو کہ ایک صفحہ تک چلی جاتی ہے اور ملا علی قاری شرح میں لکھتے ہیں ۔ ج ٤ ‘ ص ٥٠٦ تا ج ٤ ‘ ص ٥٠٩ ۔ باب ما
هو من مقالات الكفر وكذالك۔ اے قولہ بلا مرتبہ یعنی جو شخص آنحضرت ﷺ کے ساتھ کسی کی نبوت کا دعویٰ کرے جیسے مسیلمہ کذاب اور اسود عنسی کے متبعین یا آنحضرت ﷺ کے بعد نبوت کا دعویٰ کیا جیسے عیسیٰ ابن اسحاق اصفہانی کے متبعین یا نبوت کا اکتساب ریاضت سے جائز رکھا، بلاشبہ کافر ہیں۔ خفاجی نے شرح شفاء میں اس کے قریب قریب لکھا ہے، ابن حزم ”کتاب الفصل“ میں لکھتے ہیں ’ج ٤‘ ص١٨٠‘ باب ذکر العزائم الموجبه----- الی قوله--- فی آخرالزمان۔ یعنی کیسے کوئی شخص جائز رکھ سکتا ہے کہ آنحضرت ﷺ کے بعد کوئی نبی زمین میں ثابت کرے سوا اس کے جس کو خود آنحضرت ﷺ نے استثناء کیا ہے۔ متواتر احادیث میں یعنی نزول عیسیٰ بن مریم ؑ کا اسی کتاب کے ج٣، ص٢٤٩ پر ہے۔ او ان اے قولہ علیہ۔ یعنی یا یہ کہ آنحضرت ﷺ کے بعد کوئی نبی ہو، سوائے عیسیٰ بن مریم ؑ کے، کیونکہ دو آدمیوں کا بھی اس شخص کے کفر میں خلاف نہیں، یہاں تک یہ ثابت ہو گیا کہ ختم نبوت اپنے مشہور معنی کے ساتھ قرآن و حدیث و نصوص قطعیہ سے ثابت ہے اور اسلام کا اجماعی عقیدہ ہے، کہ اس کا منکر یا موول یا محرف کافر ہے۔
امر دوم-----ادعائے وحی نبوت
امر دوم، ادعائے وحی نبوت: اب امر دوم ب کے متعلق ادعائے نبوت کفر ہے۔ میں دلائل بیان کرتا ہوں۔ اس امر کے اثبات کے لیے وہ تمام آیات اور احادیث اور اجماع اور اقوال سلف کافی دلائل ہیں جو بحث الف میں پیش کر چکا ہوں۔ مزید برآں چند عبارات اور بھی پیش کی جاتی ہیں۔ ملا علی قاری کلمات الکفر کی بحث میں فرماتے ہیں، ”شرح فقہ اکبر“ ص١٩٠’ و دعویٰ نبوت اے قولہ کفر بالاجماع ۔ یعنی آنحضرت ﷺ کے بعد دعویٰ نبوت کفر ہے۔ ”فتاویٰ عالمگیری“ ص٢٦٣ ’ج ٢‘ میں ہے۔ اذا لم يعرف اے قوله کذا فی التتارخانیہ ۔ یعنی جب کوئی شخص آنحضرت ﷺ کو آخری نبی نہ جانے وہ مسلمان نہیں۔ اسی طرح ”تتمہ الدھر“ میں ہے۔
میں اس کے تحت حسب ذیل دلائل پیش کرنا چاہتا ہوں۔ وحی لازم نبوت ہے، یعنی جو اس کا مدعی ہو، اگرچہ بظاہر نبوت کا مدعی نہ ہو مگر وہ فی الحقیقت مدعی نبوت ہے اور کافر ہے۔ جیسا کہ بحوالہ "شرح شفاء" گزر چکا ہے جس کے بعض الفاظ یہ ہیں: و کذالک من ادعی منھم انہ یوحے الیہ و ان لم یدع النبوہ۔ یعنی جس نے صرف وحی کا دعویٰ کیا، وہ کافر ہے، اگرچہ دعویٰ نبوت نہ کرے۔
امر سوم۔۔۔۔۔ کشف و الہام و وحی کے معانی
"نسیم الریاض" ص ٥٠٨، ج ٤۔۔۔۔ کشف یہ ہے کہ کوئی پیرایہ آنکھوں کو دکھایا گیا جس کی مراد کشف و الہام ہو کشف والا خود سمجھے اور اگر کوئی مضمون دل میں ڈال کر سمجھایا گیا تو وہ الہام ہے۔ خدا نے اگر کوئی کلام بذریعہ فرشتہ بھیجا وہ وحی ہے۔ کشف و الہام ظنی ہیں اور وحی قطعی ہے۔ بنی نوع انسان میں وحی انبیاء کے ساتھ مخصوص ہے۔ غیروں کے لیے کشف و الہام یا لغوی وحی ہو سکتی ہے، نہ شرعی۔
امر چہارم و پنجم۔۔۔۔۔ حضرت عیسٰیؑ اور آنحضرت ﷺ کی توہین
موجبات کفر قادیانی میں سے امر چہارم حضرت عیسٰیؑ کی توہین ہے اور امر پنجم آنحضرت ﷺ کی توہین ہے۔ توہین دو طرح پر ہے، ایک صریح، دوسری تعریضی۔ تعریضی اسے کہتے ہیں کہ دوسرے کا حوالہ دے کر نقل کیا اور غرض پنہانی یہ ہو کہ اس شخص کے نقائص لوگوں میں پھیل جائیں۔ گویا کام اپنا کرتا ہے اور دوسرے کے کندھے پر ڈالتا ہے، یہ بھی کفر صریح ہے، مگر میں توہین کی صریح مثالیں پیش کروں گا۔ بعض توہینوں کو مستند کرتا ہے۔ قرآن سے یعنی قرآن ان کی سند میں پیش کرکے اس سے تفسیر قرآن کرتا ہے اور کسی کے متعلق کہتا ہے کہ حق بات یہ ہے، یعنی اس پر اپنا فیصلہ دیتا ہے۔ اب میں سندات پیش کرتا ہوں کہ توہین انبیاء علیہم السلام کفر ہے۔ ابتدائے بیان میں آچکا ہے کہ بنص قرآن نبی کا کلام سن کر سر پھیر لینا بھی کفر قرار دیا گیا ہے۔ و اذا
قيل لهم تعالوا يستغفر لكم - رسول اللہ یعنی جب انہیں کہا جاتا ہے کہ آؤ رسول اللہ ﷺ تمہاری بخشش کی دعا کریں تو وہ سر پھیر لیتے ہیں اور تو ان کو اعراض و کبر کرتا ہوا دیکھے گا اور بحکم آیتہ کریمہ لا نفرق بين احد من رسله الخ ۔ یہ حکم تمام انبیاء کو عام شامل ہے۔ اس لیے فتاویٰ کی مشہور کتاب ”درمختار“ اور ”شامی“ ”باب المرتد“ ص ٤٩٠‘ ج ٣ میں ہے ” ومن شک فی عذابہ و کفرہ کفر ۔ یعنی جو شخص کسی نبی کو برا کہنے کی وجہ سے کافر ہوا ہو، یعنی وہ قتل کیا جائے گا حد کے طور پر اور اس کی توبہ دنیا میں قبول نہیں کی جائے گی اور جو ان کے عذاب میں شک کرے، وہ بھی کافر ہے ۔“ حافظ ابن تیمیہ ”الصارم المسلول“ ص ٢٢٣ میں لکھتے ہیں:
انواع الکفر وجماع جمیع الضلالات وکل کفر
مفرع منہ ۔
یعنی جانا گیا کہ نبیوں کا سب اور طعن کرنا ان پر سرچشمہ ہے۔ جمیع انواع کفر کا اور مجموعہ ہے۔ جملہ گمراہیوں کا اور ہر کفر اسی کی شاخ ہے۔ قاضی عیاض نے ”شفا“ میں اس بحث پر چند فصلیں لکھیں ہیں جن میں ثابت کیا ہے کہ کسی نبی کی ادنیٰ توہین بھی کفر ہے۔ ”شفا“ ص ٣٢٠‘ الباب الاول فی سب النبی ﷺ الی اخر الباب ۔ اسی کتاب کے ص ٢٨٢ پر توہین انبیاء کرنے والے کے قتل کے متعلق لکھا ہے ”الدلیل السادس ۔۔۔۔۔ تا ۔۔۔۔۔ فقتلوا ۔ جس کا ترجمہ یہ ہے کہ چھٹی دلیل اقوال ہیں۔ صحابہ کے وہ نص ہیں۔ ایسے شخص کے قتل میں جیسے عمر فاروق ؓ کا قول جس نے ناسزا کہا، خدا یا کسی پیغمبر کو اس کو قتل کر دو، اسی کتاب کے ص ٥٢٧ پر ہے کہ قال امام احمد ۔۔۔۔۔ تا ۔۔۔۔۔ کالصریح ۔ ترجمہ یہ ہے کہ امام احمدؒ فرماتے ہیں کہ جس نے ناسزا کہا، نبی کریم کو یا تنقیص کی (مسلمان ہو یہ شخص یا کافر ہو) سزا اس کی قتل ہے۔ ہمارے علماء نے کہا ہے، اشارہ کرنا یعنی تعریض کرنا خدا کی اور رسول ﷺ کے سب کا ارتداد ہے اور موجب قتل ہے۔ جیسے صراحتاً ساری امت حاضرہ کی تکفیر کرنے والا بھی کافر ہے۔
مرزا نے پچاس کروڑ مسلمانوں کو کافر کہا ہے
قادیانی مدعی نبوت نے اپنے چند مریدوں کے سوا پچاس کروڑ مسلمانوں کو کافر کہا ہے اور سب کو اولاد الزنی کہا‘ یہ امر بھی موجب کفر ہے۔
مرتد کا شرعی حکم
قرآن شریف میں ہر قسم کے کفار کے نکاح کے متعلق یہ صاف فیصلہ موجود ہے۔ لاهن حل لهم ولاهم يحلون لهن ۔ ”درمختار“ اور ”شامی“ ص ٣٠١‘ ج ٣ میں ہے۔ و يبطل منه اتفاقا ما يعتمد المله وهى خمس النكاح والذبيحه والصيد والشهاده والارث ۔ یعنی باطل ہے۔ سبب ارتداد ہر وہ چیز جس کی بناء ملت پر ہو۔ وہ پانچ چیزیں ہیں۔ نکاح‘ ذبح شکار شہادت ارث یعنی ارتداد سے یہ ۔۔۔۔۔ چیزیں منقطع ہو جائیں گی۔ اسی کتاب کے جلد ثانی باب نکاح الکافر میں ہے۔ وارتداد احدهما تا فسخ عاجل بلا قضا ۔ یعنی ارتداد احد الزوجین سے فوراً نکاح فسخ ہو جاتا ہے اور قضاء قاضی کی ضرورت نہیں۔
حوالہ جات از کتب قادیانی دربارہ توہین انبیاء
اب توہین انبیاء کے قول قادیانی کی کتابوں سے نقل کیے جاتے ہیں۔ ”نزول المسیح“ ص ٩٩ میں ہے۔
آنچہ داد است ہر نبی را جام داد آں جام را مرا بتمام
کم نیم زان ہمہ بروئے یقین ہر کہ گوید دروغ ہست و لعین
انبیاء میں باہمی فضیلت کا باب فرق مراتب کا ہے اور جو پیغمبر افضل ہے‘ وہ کسی قرینہ سے ظاہر ہو جاوے گا کہ وہ دوسرے سے افضل ہے۔ آنحضرت ﷺ نے اس کو اپنی امت تک یہ پہنچایا ہے‘ مگر اس احتیاط سے کہ اس میں فوقیت مقصود نہیں۔ ایک نبی
کو ایسی فضیلت دینا اگرچہ وہ اس پیغمبر میں واقعی ہو، جس میں کسی دوسرے نبی کی توہین لازم آتی ہو تو کفر صریح ہے۔ ”ازالہ اوہام“ ص ٦٩ پر مرزا لکھتا ہے۔
قرآن کریم میں یہود و نصاریٰ کے عقائد کی بیخ کنی کی گئی ہے مگر ایک حرف بھی حضرت موسیٰ اور عیسیٰ کی ہتک کا اشارۃ یا کنایۃ ذکر نہیں کیا۔ ”دافع البلا“ ص ٢٠ میں ہے ’ابن مریم کے ذکر کو چھوڑو کہ اس سے بہتر غلام احمد ہے۔ یہ باتیں شاعرانہ نہیں بلکہ واقعی ہیں۔ اگر تجربہ کی رو سے خدا کی تائید سے مسیح بن مریم سے بڑھ کر نہ ہو تو میں جھوٹا ہوں ۔ حاشیہ ضمیمہ انجام آتھم ص ٥ پر ہے ’مگر میرے نزدیک آپ کی یہ حرکات جائے افسوس نہیں‘ کیونکہ آپ تو گالیاں دیتے تھے اور یہودی ہاتھ سے کسر نکال لیا کرتے تھے۔ ص ٦ میں ہے ’عیسائیوں نے آپ کے بہت سے معجزات لکھے ہیں مگر حق بات یہ ہے کہ آپ سے کوئی معجزہ نہیں ہوا‘ اس میں صریح عیسیٰ کی توہین ٹپکتی ہے۔ حق بات کے الفاظ سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ مرزا صاحب کے اپنے فیصلہ کے الفاظ ہیں۔
لفظ یسوع عبرانی میں ایشوع بمعنی نجات دہندہ کے ہے۔ اسی سے تعریب کر کے عیسیٰ بنایا گیا۔ یہ تعریب قرآن نے نہیں کی بلکہ نزول قرآن سے پہلے عرب کے نصاریٰ عیسیٰ کو عیسیٰ ہی بولتے تھے۔ مرزا کے نزدیک یسوع و عیسیٰ ایک ہی شخص کے نام ہیں۔ ”توضیح المرام“ ص ٣ پر ہے ’دوسرے مسیح ابن مریم جس کو عیسیٰ و یسوع بھی کہتے ہیں۔ الخ‘ معلوم ہوا کہ مرزا نے حضرت عیسیٰ کی توہین کی اور توہین کی ایک تیسری قسم لزومی ہے جس کا معنی یہ ہے کہ عبارت اس لیے نہیں لائی گئی کہ توہین ہو مگر وہ عبارت اس وقت تک صادق نہ ہو جب تک اس سے توہین ثابت نہ ہو۔ مرزا نے اسی قسم کے ماتحت آنحضرت ﷺ کی توہین کرتے ہوئے کہا ہے۔ ”تحفہ گولڑویہ“ ص ٤٠ پر جناب رسول کریم ﷺ کے معجزات کی تعداد تین ہزار لکھی ہے اور اپنے معجزات کی تعداد براہین احمدیہ حصہ پنجم ص ٥٦ پر دس لاکھ لکھی ہے اور اس ضمن میں کتاب ”اعجاز احمدی“ ص ٧١ پر ہے کہ خسف القمر المنیر وان لی خسف القمران المنیران اتنکر ۔ یعنی نبی کریم ﷺ کے لیے صرف چاند کو گرہن لگا مگر میرے
لیے تو چاند اور سورج دونوں کو گرہن لگا۔ کیا تجھے انکار ہے‘ یہ خاص توہین لزومی ہے۔
ادعائے نبوت تشریعی
مرزا کہتا ہے:
- ١۔ سچا خدا وہی ہے جس نے قادیان میں اپنا رسول بھیجا۔ (”دافع البلا“ ص ١١)
- ٢۔ اور مجھے بتلایا گیا تھا کہ تیری خبر قرآن و حدیث میں موجود ہے اور تو ہی اس
آیت کا مصداق ہے کہ ھوالذی ارسل رسولہ بالہدی ودین الحق لیظہرہ علی الدین کلہ۔ ”اعجاز احمدی“ ص ٧١
- ٣۔ اور اگر کہو صاحب الشریعت افتراء کر کے ہلاک ہوتا ہے‘ نہ ہر ایک مفتری تو
اول یہ دعوٰی بے دلیل ہے۔ خدا نے افتراء کے ساتھ شریعت کی کوئی قید نہیں لگائی۔ ماسوا اس کے یہ بھی تو سمجھو کہ شریعت کیا چیز ہے جس نے اپنی وحی کے ذریعے چند امر و نہی بیان کیے اور اپنی امت کے لیے ایک قانون مقرر کیا۔ وہی صاحب الشریعت ہو گیا۔ پس اس تعریف کی رو سے بھی ہمارے مخالف ملزم ہیں‘ کیونکہ میری وحی میں امر بھی ہے اور نہی بھی اربعین ج ٤‘ ص ٦-٧
- ٤۔ ہاں اگر یہ اعتراض ہو کہ اس جگہ وہ معجزات کہاں ہیں تو میں صرف یہی
جواب نہیں دوں گا کہ میں معجزات دکھلا سکتا ہوں بلکہ خدا تعالٰی کے فضل و کرم سے میرا جواب یہ ہے کہ اس نے میرا دعوٰی ثابت کرنے کے لیے اس قدر معجزات دکھائے ہیں کہ بہت ہی کم نبی ایسے آئے ہیں جنہوں نے اس قدر معجزات دکھائے ہیں۔ (”تتمہ حقیقت الوحی“ ص ١٣٦)
- ٥۔ اب ظاہر ہے کہ ان الہامات میں میری نسبت بار بار بیان کیا گیا ہے کہ خدا کا
فرستادہ خدا کا مامور خدا کا امین اور خدا کی طرف سے آیا ہے جو کچھ کہتا ہے‘ اس پر ایمان لاؤ اور اس کا دشمن جہنمی ہے۔ ”انجام آتھم“ ص ٦٢‘ (دشمن سے مراد وہ شخص ہے جو اسے نہ مانے)
- ٦۔ میں صرف پنجاب کے لیے مبعوث نہیں ہوا بلکہ جہاں تک دنیا کی آبادی ہے
ان سب کی اصلاح کے لیے مامور ہوں۔ (”حاشیہ حقیقت الوحی“ ص ١٩٢)
٧۔ تا تم سمجھو کہ قادیان اسی لیے محفوظ رکھی گئی کہ خدا کا رسول اور فرستادہ قادیان میں تھا۔ ("دافع البلا" ص ٥)
٨۔ خدا نے اس امت میں مسیح موعود بھیجا جو اس پہلے مسیح سے اپنی تمام شان میں بہت بڑھ کر ہے اور اس نے اس دوسرے مسیح کا نام غلام احمد رکھا۔ ("دافع البلا" ص ١٣)
حضرت عیسیٰؑ کی توہین کے متعلق ایک اور صریح عبارت
٩۔ پھر جب کہ خدا نے اور اس کے رسول ﷺ نے اور تمام نبیوں نے آخری زمانہ کے مسیح کو ان کارناموں کی وجہ سے افضل قرار دیا ہے تو پھر یہ وسوسہ شیطانی ہے کہ کہا جائے کہ کیوں تم مسیح ابن مریم سے اپنے تئیں افضل قرار دیتے ہو۔ ("حقیقۃ الوحی" ص ١٥٥)
تکفیر امت حاضرہ کے بارے میں مرزا صاحب کے حسب ذیل اقوال ہیں:
ہاں چونکہ شریعت کی بنیاد ظاہر پر ہے، اس لیے ہم منکر کو مومن نہیں کہہ سکتے اور یہ نہیں کہہ سکتے کہ وہ مواخذہ سے بری ہے اور کافر منکر ہی کو کہتے ہیں۔ کیونکہ کافر کا لفظ مومن کے مقابل پر ہے اور کفر دو قسم پر ہے۔ اول یہ کہ ایک شخص اسلام ہی سے انکار کرتا ہے اور آنحضرت ﷺ کو خدا کا رسول نہیں جانتا، دوسرے یہ کفر کہ مسیح موعود کو نہیں مانتا اور اس کو باوجود اتمام حجت کے جھوٹا جانتا ہے جس کے ماننے اور سچا جاننے کے بارے میں خدا اور رسول ﷺ نے تاکید کی ہے اور پہلے نبیوں کی کتابوں میں بھی تاکید پائی جاتی ہے۔ پس اس لیے کہ وہ خدا اور رسول ﷺ کے فرمان کا منکر ہے۔ کافر ہے اور اگر غور سے دیکھا جائے تو یہ دونوں قسم کفر کے ایک ہی قسم میں داخل ہیں۔ ("حقیقۃ الوحی" ص ١٧٩)
"آئینہ کمالات اسلام" ص ٥٤٧ و ٥٤٨ تلک کتب ینظر الیہا کل مسلم بعین المودہ والمحبہ و ینتفع من معارفہا و یقبلنی ویصدق دعوتی الا ذریۃ البغایا الذین ختم اللہ
علی قلوبهم فهم لا یقبلون۔ جس کا ترجمہ یہ ہے: ”یہ میری کتابیں ہیں‘ ہر ایک مسلمان ان کو محبت اور مودت کی نگاہ سے دیکھتا ہے اور اس کے معارف سے نفع پاتا ہے اور مجھے قبول کرتا ہے اور میرے دعویٰ کی تصدیق کرتا ہے۔ مگر وہ لوگ جو زانیہ عورتوں کی نسل ہیں جن کے دلوں پر اللہ تعالیٰ نے مہر کر دی ہے‘ وہ قبول نہیں کرتے۔
مرزا کا ادعائے وحی اور قرآن کی برابری کا دعویٰ
مرزا کہتا ہے:
- ١۔ میں خدا تعالیٰ کی تیس برس کی متواتر وحی کو کیونکر رد کر سکتا ہوں۔ میں اس
کی اس پاک وحی پر ایسے ہی ایمان لاتا ہوں‘ جیسے کہ ان تمام خدا کی وحیوں پر ایمان لاتا ہوں‘ جو مجھ سے پہلے ہو چکی ہیں۔ (”حقیقتہ الوحی“ ص ١٥٠)
- ٢۔ مگر میں خدا تعالیٰ کی قسم کھا کے کہتا ہوں کہ میں ان الہامات پر اس طرح
ایمان لاتا ہوں‘ جیسا کہ قرآن شریف پر اور خدا کی دوسری کتابوں پر اور جس طرح میں قرآن شریف کو خدا کا کلام جانتا ہوں‘ اسی طرح اس کلام کو بھی جو میرے پر نازل ہوتا ہے‘ خدا کا کلام یقین کرتا ہوں۔ (”حقیقتہ الوحی“ ص ٢١١)
- ٣۔ پھر اس کتاب میں اس مکالمہ کے قریب ہی یہ وحی اللہ موجود ہے۔
محمد رسول الله والذين معه اشداء على الكفار رحماء بينهم ۔ اس وحی الٰہی میں میرا نام محمد رکھا گیا اور رسول بھی۔ (”ضمیمہ حقیقتہ النبوۃ ”ایک غلطی کا ازالہ‘ ص ٢٦٢)
- ٤۔ اور میں جیسا کہ قرآن شریف کی آیات پر ایمان رکھتا ہوں‘ ایسا ہی بغیر فرق
ایک ذرہ کے خدا کی اس کھلی وحی پر ایمان لاتا ہوں‘ جو مجھے ہوئی جس کی سچائی اس کی متواتر نشانیوں سے مجھ کو کھل گئی ہے اور میں بیت اللہ میں کھڑے ہو کر یہ قسم کھا سکتا ہوں کہ وہ پاک ہے‘ وحی جو میرے پر نازل ہوتی ہے وہ اسی خدا کا کلام ہے جس نے حضرت موسیٰ و حضرت عیسیٰ علیہم السلام اور حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ پر اپنا کلام نازل کیا
تھا۔ میرے لیے زمین نے بھی گواہی دی اور آسمان نے بھی۔ اس طرح پر میرے لیے آسمان بھی بولا اور زمین بھی کہ میں خلیفتہ اللہ ہوں، مگر پیشگوئیوں کے مطابق ضرور تھا کہ انکار ہی کیا جاتا۔ (ایک غلطی کا ازالہ منقول از ”ضمیمہ حقیقتہ النبوۃ“ ص ٢٦٤)
سب نبی کے متعلق شیخین کا حکم
میں آج حضرت صدیق اکبر اور فاروق اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہما کا فتویٰ سب نبی کے متعلق پیش کرتا ہوں:
حافظ ابن تیمیہ الصارم المسلول ص ١٩٥ میں حرب کی ایک روایت امام حدیث سے نقل کرتے ہیں کہ ایک شخص فاروق اعظم رضی اللہ عنہ کے سامنے لایا گیا جس نے سب کی تھی۔ نبی کریم ﷺ کی فاروق اعظمؓ نے اسے سزائے موت دی۔ حضرت فاروق اعظم رضی اللہ عنہ کا ارشاد ثم قال عمر من سب الله تعالى وسب احدا من الانبياء فاقتلوہ۔ ”جس نے ناسزا کہا، خدا کو یا کسی پیغمبر کو، اسے سزائے موت دی جائے“۔
صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کا حکم
کسی عورت نے بحرین میں نبی کریم ﷺ کو سب کہا تھا، وہاں کے حاکم مہاجرین امیر نے اسے کوئی سزا دی تھی۔ صدیق اکبرؓ کا حکم پہنچا کہ پہلے مجھے اطلاع ہوتی تو میں سب نبی کی یہ سزا نہ دیتا بلکہ اس کی سزا قتل ہے۔ لفظ صدیق اکبرؓ کے یہ ہیں۔ فلولا سبقنى لامرتک بقتلها لان حد الانبياء ليس يشبه الحدود فمن سب من مسلم فهو مرتد او معاهد فهو محارب غادر۔ خلاصہ ترجمہ یہ ہے: ”اگر تو پہلے کچھ نہ کر چکا ہوتا، میں امر کرتا اس عورت کے قتل کا کیونکہ انبیاء کے سب کی حد اور حدوں کے مشابہ نہیں، جو کوئی مسلمان ایسا کرے، وہ مرتد ہے اور جو کوئی ذمی ایسا کرے وہ جنگ کرنے والا ہے، ہم سے اور غدر کرنے والا ہے“۔
یہ جو خلفاء کے احکام ہیں، اس مسئلہ پر کل امت محمدیہ کا اجماع بلافصل ہے۔ حافظ ابن تیمیہ نے اس مسئلہ (سب نبی) پر ایک کتاب لکھی ہے، جو ”صارم مسلول“ کے نام سے موسوم ہے۔ دوسری کتاب ”سیف مسلول“ ہے جو شیخ تقی الدین سبکی کی تصنیف ہے۔ یہ دونوں آٹھویں صدی کے حافظ حدیث ہیں۔
مرزا کتاب ”دافع البلاء“ کے آخری صفحہ پر لکھتا ہے کہ لیکن مسیح کی راستبازی اپنے زمانہ میں دوسرے راستبازوں سے بڑھ کر ثابت نہیں ہوتی بلکہ یحییٰ نبی کو اس پر ایک فضیلت ہے، کیونکہ وہ شراب نہیں پیتا تھا اور کبھی نہیں سنا گیا کہ کسی فاحشہ عورت نے آکر کمائی کے مال سے اس کے سر پر عطر ملا تھا یا اپنے ہاتھوں اور سر کے بالوں سے اس کے بدن کو چھوا تھا یا کوئی بے تعلق جوان عورت اس کی خدمت کرتی تھی، اس وجہ سے خدا نے قرآن میں یحییٰ کا نام حصور رکھا۔ (حصور اسے کہتے ہیں، جو تعلقات زنانہ شوئی نہ کرسکے، مگر مسیح کا یہ نام نہ رکھا کیونکہ ایسے قصے اس نام کے رکھنے سے مانع تھے۔)
کتاب ”نزول المسیح“ ص ١٠٠ پر ایک شعر مرزا صاحب کا بالفاظ ذیل ہے:
مرزا اور علماء کے نقل میں فرق
علماء نے جب تورات اور انجیل محرف سے کوئی چیز محرف نقل کی ہے، نتیجہ یہ نکالا ہے کہ یہ کتابیں تحریف شدہ ہیں اور مرزا صاحب یہ نتیجہ نکالتے ہیں کہ عیسیٰؑ نالائق تھے۔ علماء کے طریق میں اور مرزا صاحب کے طریق میں کفر و اسلام کا فرق ہے۔
کل جو عبارت ”حقیقۃ الوحی“ ص ١٧٩ سے پڑھی گئی ہے اس سے ثابت ہوا تھا کہ قادیانی صاحب اپنے منکرین کو کافر کہتا ہے۔ یہی مضمون ”حاشیہ اربعین“ ص ٤، ص ٧ میں ان الفاظ کے ساتھ موجود ہے۔ اب دیکھو، خدا نے میری وحی اور میری تعلیم اور میری بیعت کو نوح کی کشتی قرار دیا ہے اور تمام انسانوں کے لیے مدار نجات ٹھہرایا ہے جس کی آنکھیں ہوں، دیکھے اور جس کے کان ہوں سنے اور ”تریاق القلوب“ ص ٣٢٥ میں ہے۔
یہ نقطہ یاد رکھنے کے لائق ہے کہ اپنے دعویٰ کے انکار کرنے والے کو کافر کہنا یہ صرف ان نبیوں کی شان ہے جو خدا تعالیٰ کی طرف سے شریعت اور احکام جدیدہ لاتے ہیں، لیکن صاحب الشریعت کے سوا جس قدر ملہم اور محدث ہیں۔ گو وہ کیسی ہی جناب الہی میں اعلیٰ شان رکھتے ہوں اور خلعت و مکالمہ الہیہ سے سرفراز ہوں، ان کے انکار سے کوئی کافر نہیں بن جاتا۔ ”تریاق القلوب“ کی عبارت مذکور کو پہلی عبارتوں کے ساتھ جمع کرنے سے یہ بھی معلوم ہوا کہ قادیانی صاحب فقط نبوت ہی کے مدعی نہیں بلکہ شریعت جدیدہ کے بھی مدعی ہیں۔ جیسا کہ اربعین ج ٤، ص ٧ کی عبارت سے بھی یہ بات پہلے معلوم ہو چکی ہے۔ اصول یہ باندھا کہ جو صاحب شریعت ہو اس کا انکار کفر ہے اور پھر ساری امتِ حاضر کو (جو اس کی منکر ہو) اس کو کافر کہا کہ گویا دعویٰ شریعت جدیدہ کیا اور پھر اس پر بس نہیں کی بلکہ تصریح کر دی کہ شریعت امر و نہی کا نام ہے اور وہ میری وحی میں موجود ہے، لیکن محض مسلمانوں کو مغالطہ دینے کے لیے چند الفاظ ظلی و بروزی وغیرہ گھڑے ہوئے ہیں، جن کی آڑ میں دین کی تحریف کرتا ہے۔ اس لیے میں ان الفاظ کی حقیقت خود مرزا صاحب کے کلام سے واضح کر دینا چاہتا ہوں۔
بروزی، ظلی و مجازی نبوت کی اصلیت
”تریاق القلوب حاشیہ“ ص ١٥٧ میں خود قادیانی صاحب کا کلام ہے۔ غرض جیسا کہ صوفیوں کے نزدیک مانا گیا ہے کہ مراتب وجود دوریہ ہیں۔ اسی طرح ابراہیم علیہ السلام نے اپنی خود اور طبیعت اور دلی مشابہت کے لحاظ سے قریباً اڑھائی ہزار برس اپنی وفات کے بعد پھر عبداللہ بن عبدالمطلب کے گھر میں جنم لیا اور محمد ﷺ کے نام سے پکارا گیا۔
یہ ہے حقیقت مرزا صاحب کے نزدیک بروزی ظلی اور مجازی کی جنم کا عقیدہ اسلام میں کفر ہے اور یہ ہندوؤں کا عقیدہ ہے۔
اور کتاب ”قول فیصل“ ص ٦ میں بحوالہ اخبار الحکم ٢٤ اپریل ١٩٠٢ء پر مرزا کا قول اس طرح ہے۔ کمالات متفرقہ جو تمام دیگر انبیاء میں پائے جاتے ہیں، وہ سب
حضرت رسول کریم ﷺ میں ان سے بڑھ کر موجود تھے اور اب وہ سارے کمالات حضرت رسول کریم ﷺ سے ظلی طور پر ہم کو عطا کیے گئے۔ پہلے تمام انبیاء ظل تھے۔ نبی کریم ﷺ کی خاص خاص صفات میں اب ہم ان تمام صفات میں نبی کریم ﷺ کے ظل ہیں۔
ان عبارات سے نتائج ذیل برآمد ہوتے ہیں:
- (الف) مرزا نے جو اپنے آپ کو ظلی و بروزی نبی کہہ کر دنیا کو یہ دھوکہ دینا چاہا
ہے کہ اس کی نبوت نبوت محمدیہ ﷺ سے علیحدہ کوئی چیز نہیں اور اس سے مہر نبوت نہیں ٹوٹتی۔ یہ بالکل لغو اور بے ہودہ خیال ہے۔ اگر یہ صحیح ہو تو مرزا کے اس قول مذکورہ سے یہ لازم آتا ہے کہ سرور عالم ﷺ (معاذ اللہ) کوئی چیز نہیں تھے‘ بلکہ ان کا تشریف لانا بعینہ حضرت ابراہیمؑ کا تشریف لانا ہے۔ گویا ابراہیمؑ اصل رہے اور آئینہ رسول اللہ ﷺ ہوئے اور چونکہ ظل اور صاحب ظل میں مرزا کے نزدیک عینیت ہے اور اس وجہ سے وہ اپنے آپ کو عین محمد ﷺ کہتے ہیں تو جب محمد ﷺ بروز ابراہیمؑ ہوئے تو عین ابراہیمؑ ہوئے۔ اس سے صاف لازم آتا ہے کہ معاذ اللہ رسول اللہ ﷺ کا کوئی وجود بالا ستقلال نہیں اور نہ آپ کی نبوت کوئی مستقل نبوت ہے‘ جو صریح کفر ہے۔
- (ب) جب رسول اللہ ﷺ ابراہیمؑ کے بروز ہوئے اور خاتم النبیین آپ
ہوئے تو اس سے معلوم ہوا کہ خاتم بروز اور ظل ہوتا ہے اور اس طرح سے مرزا صاحب آنحضرت ﷺ کے بروز ہوئے تو خاتم النبیین مرزا صاحب ہوئے نہ آنحضرت ﷺ ۔
- (ج) الحکم کی عبارت مذکورہ سے یہ ثابت ہوا کہ جملہ انبیاء سابقین رسول اللہ
ﷺ کی ایک ایک صفت میں ظل ہیں اور تمام کمالات رسالت رسول کریم ﷺ میں پائے جاتے ہیں۔ جب رسول اللہ ﷺ حضرت ابراہیمؑ کے بروز ہوئے تو جملہ کمالات نبوت اگر مجتمع ہوں گے تو حضرت ابراہیمؑ میں ہوں گے‘ نہ کہ آنحضرت ﷺ میں۔ یہ صریح توہین سرور عالم ﷺ کی کفر صریح ہے۔ اس کے علاوہ یہ مضمون بھی فی نفسہٖ باطل اور بے معنی ہے کہ آنحضرت ﷺ حضرت ابراہیمؑ کے بروز
ہوں اور حضرت ابراہیمؑ آنحضرت ﷺ کے بروز ہوں۔ جو کھلا ہوا دعویٰ ہے اس کے بعد میں ظل اور بروز کی تحقیق کتب فلسفہ سے پیش کرتا ہوں۔ جس سے قادیانی صاحب کا کید اور فریب پورا واضح ہو جائے گا۔ فلسفہ یونان نے بروز اسے کہا ہے کہ ایک روح دوسری ذی روح میں حلول کرے، یعنی ایک بدن میں دو روحیں ہو جائیں۔ تناسخ اسے کہتے ہیں کہ روح ڈھانچے بدلتی رہے۔ مسخ اسے کہتے ہیں کہ ایک نوع دوسری نوع میں تبدیل ہو، نسخ اسے کہتے ہیں کہ ایک حیوان نباتات میں تبدیل ہو، فسخ اسے کہتے ہیں کہ حیوان جماد بن جائے۔ یہ پانچوں اصطلاحیں آسمانی دینوں میں کوئی حیثیت نہیں رکھتیں۔
قادیانی صاحب کا اقرار ختم نبوت بالمعنی المعروف
”حمامتہ البشریٰ“ ص ٧٩ میں ہے۔ وما کان لی ان ادعی النبوہ واخرج من الاسلام والحق بقوم کافرین۔ (منقول از ”ضمیمہ النبوۃ فی الاسلام“ ج ١٣‘ ص ٥٩)
”ازالۃ الاوہام“ حصہ دوم ص ٤١٦ پر لکھا ہے: مسیح کیونکر آسکتا‘ وہ رسول تھا اور خاتم النبیین کی مہر اس کو آنے سے روکتی ہے۔
”ازالۃ الاوہام“ حصہ دوم ص ٤٣١ پر لکھا ہے: یہ ظاہر ہے کہ یہ بات مستلزم محال ہے کہ خاتم النبیین کے بعد پھر جبرائیل کی وحی رسالت کے ساتھ زمین پر آمدورفت شروع ہو جائے۔ ایک نئی کتاب اللہ جو مضمون قرآن شریف سے توارد رکھتی ہو‘ پیدا ہو جائے اور جو امر مستلزم محال ہو‘ وہ محال ہوتا ہے۔ فتدبر۔
”ازالۃ الاوہام“ حصہ دوم‘ ص ٤٣٠ پر لکھا ہے: قرآن کریم بعد خاتم النبیین کے کسی رسول کا آنا جائز نہیں رکھتا‘ خواہ وہ نیا رسول ہو یا پرانا کیونکہ رسول کو علم دین بتوسط جبرائیل ملتا ہے اور باب نزول جبرائیل بہ پیرا یہ وحی رسالت مسدود ہے۔ یہ بات خود ممتنع ہے کہ دنیا میں رسول تو آوے اور سلسلہ وحی رسالت نہ ہو۔ مضمون اختلاف بیان مرزا صاحب میں پیش کیا گیا ہے جو انہوں نے ابتداء ہی سے زندقہ اور الحاد کا ارادہ کیا ہوا تھا۔
مسلمانوں کا عقیدہ ختم نبوت کے متعلق
آیت کریمہ‘ ما کان محمد ابا احد من رجالکم ولکن
رسول اللہ و خاتم النبیین ۔ یہ آیت اس واسطے آئی ہے کہ آنحضرت ﷺ کی نسل نرینہ ہماری مشیت میں مقدر نہیں کیونکہ آپ کے بعد آج سے تا آخر دنیا نبوت کی اسامی آپ کے وجود ذی جود سے پر ہے۔ آپ مستقبل کے لیے تا آخر دنیا رسول ہیں اور جملہ انبیاء سابقین کے خاتم ہیں۔ اس عقیدہ کے موافق کوئی دو سو احادیث نبی کریم ﷺ سے وارد ہوئی ہیں۔ نسبی سلسلہ کے بدلے میں اس نبوۃ سلسلہ کو عوض میں رکھ لو۔ ایک رسالہ دیوبند کے مفتی مولانا محمد شفیعؒ کی طرف سے شائع ہو چکا ہے۔ جس میں یہ تمام احادیث مذکور ہیں اور اس عقیدہ پر امت محمدیہ کی ابتداء سے لے کر آج تک اجماع بلافصل رہا ہے اور جس طرح قرآن امت تک پہنچا ہے۔ اسی طرح یہ عقیدہ بھی پہنچا ہے اور اس وقت سے لے کر اب تک یہ بھی اجماع چلا آیا ہے کہ اس آیت میں کوئی تاویل نہیں ہے اور اس عقیدہ میں کوئی فرق نہیں ہے۔ خلفاء اور سلاطین اسلام نے اس وقت سے لے کر اب تک مدعیان نبوۃ کو سزائے موت دی اور اسے کافر و مرتد سمجھا۔ اصلی کافر کے وجود کو برداشت کیا اور ایسے مرتد کے وجود کو برداشت نہیں کیا اور خود مرزا کا (جب تک مسلمان تھا) یہی عقیدہ رہا۔
نبوت اور ولایت کا فرق
نبوت ایک اصلی صفت نبی کی ذات کے ساتھ قائم ہوتی ہے۔ نہ وہ کسب سے حاصل ہوتی ہے اور نہ وہ کبھی سلب ہوتی ہے۔
سلب نبوت کا عقیدہ یہود کا عقیدہ ہے
یہ عقیدہ یہود کا ہے کہ نبوت سلب بھی ہو سکتی ہے۔ ( ”ضمیمہ النبوت فی الاسلام“ ص ٢٨٤‘ پر ہے۔ اگر نبوت کسبی ہو تو سلب بھی ہو سکتی ہوگی‘ یہ عقیدہ اسلام کا نہیں۔ ولایت ایسی چیز ہے کہ کسب سے حاصل ہو اور زائل بھی ہو جائے۔ یہ صفت جو نبی کی ذات کے ساتھ قائم و دائم باقی ہے‘ احکام شرع کی تبلیغ اس وقت کے وقتی ثمرات اور مواقع میں سے ہے۔ کسی محدود وقت میں اگر اس نے ضروری احکام نہ پہنچائے تو وہ نبی
بحال خود نبی برحق ہے۔ صفت نبوت جو اس کی ذات کے ساتھ قائم ہے، وہ کسی طرح زائل نہیں ہوتی۔ تبلیغ ایک کارگزاری تھی، پیغمبر کی کہ حاجت پر دائر ہوگی۔ عیسیٰ کا آنا بعینہ ایسا ہے جیسے گذشتہ زمانہ میں یعقوب مصر میں چلے گئے تھے اور وہاں بطور رعایت کچھ دن گزارے۔
صوفیائے کرام کا مطلب
صوفیائے کرام نے نبوت کو بمعنی لغوی لے کر مقسم بنایا اور اس کی تفسیر خدا سے اطلاع پانا دوسرے کو اطلاع دینا کی۔ اس کے نیچے انبیاء علیہ السلام اور اولیاء کرام کو داخل کیا اور نبوت کو دو قسم کر دیا۔
- ١۔ نبوت شرعی
- ٢۔ نبوت غیر شرعی
شرعی کے نیچے انبیاء اور رسل دونوں درج کر دیئے اور اب ان کے لیے نبوت غیر شرعی اولیاء کے کشف اور الہام کے لیے نکھر گئی اور مخصوص ہو گئی۔ صوفیائے کرام کی تصریح ہے کہ کشف کے ذریعہ مستحب کا درجہ بھی ثابت نہیں ہوتا۔ صرف اسرار معارف، مکاشف اس کا دائرہ ہیں۔ اگر کوئی دعویٰ کرے کہ مجھ پر مستحب کا حکم آیا، پس اگر یہ پہلے سے شریعت محمدی میں موجود ہے تو فبہا اور اگر موجود نہیں اور پھر دعویٰ کرتا ہے، اضافہ کا تو وہ گردن زدنی ہے اور یہ تصریح فرماتے ہیں کہ हमारा کشف دوسرے پر حجت نہیں۔ ہمارا کشف ہمارے لیے ہے۔ کتاب "الیواقیت والجواہر" کے ص١٧٩ پر حسب ذیل الفاظ ہیں۔ فقد بان لک۔۔۔۔ الخ یعنی پس روشن ہو گیا تیرے لیے کہ دروازے اوامر اور نواہی دین کے بند کر دیئے گئے ہیں۔ جس نے دعویٰ کیا امر و نہی کا بعد محمد ﷺ کے۔ پس وہ مدعی اس شریعت کا ہوا جو اس کی طرف بھیجی گئی ہے، برابر ہے کہ وہ موافق ہو، ہماری شریعت کے یا مخالف ہو۔ پس اگر یہ مدعی عاقل بالغ ہے تو ہم اس کی گردن مار دیں گے اور اگر عاقل بالغ نہیں، اس سے اعراض کریں گے۔
صوفیاء کے شطحیات
صوفیائے کرام کے ہاں ایک بات ہے جس کو شطحیات کہتے ہیں اور خود فتوحات میں اس کا باب ہے۔ اس کا حاصل یہ ہے کہ ان پر حالات گزرتے ہیں اور ان حالات میں کوئی کلمات ان سے نکل جاتے ہیں جو ہمارے ظاہر قواعد پر چسپاں نہیں ہوتے اور بسا اوقات غلط راستہ لینے کا سبب ہو جاتے ہیں۔ صوفیاء کی تصریح ہے کہ ان سے کوئی عمل پیرا نہ ہو اور تصریح کرتے ہیں کہ جن پر یہ احوال نہ گزرے ہوں۔ وہ ہماری کتابوں کا مطالعہ نہ کرے۔ مجملاً ہم یہ سمجھتے ہیں جو شخص کسی حال کا مالک ہوتا ہے۔ دوسرا خالی شخص اس سے ضرور الجھ جائے گا، لیکن دین میں کسی زیادتی کمی کا صوفیا میں سے کوئی بھی قائل نہیں اور ایسے مدعی کو بالاتفاق کافر کہتے ہیں۔
ہم نے اولیاء اللہ قدس اللہ تعالیٰ اسرارہم کی طہارت اور تقویٰ اور تقدس کی خبریں سن کر اور ان کے شواہد افعال و اعمال اور اخلاق سے تائید پا کر ان کو ولی مقبول تسلیم کر لیا ہے۔ ان قرائن اور نشانیوں سے جو خارج مبحوث عنہ ہیں، یعنی انہی شطحیات سے ان کی ولایت کو ثابت نہیں کرتے، بلکہ ولایت ان کی خارج سے پایہ ثبوت کو پہنچتی ہے جو طریقہ ثبوت کا ہے، اس کے بعد کہ ہم نے کسی کی ولایت تسلیم کی اور ہم اس تسلیم میں صواب پر تھے تو اس کے بعد اگر کوئی کلمہ مغائر یا موہم ہمارے سامنے پڑتا ہے تو ہم اس کی کوشش کرتے ہیں کہ اس کی توجیہ کریں اور محمل نکالیں کہ ٹھکانا اس کا کیا ہے۔ شطحیات کو ہی پہلے پیش کرنا اور اس پر ولایت کا جھگڑا جمانا نافہم اور جاہل کا کام ہے۔ کسی شخص کی راست بازی اگر جداگانہ تجارب سے اور جو طریقہ راست بازی ثابت کرنے کا ہے، ثابت ہوئی ہو تو پھر اگر کہیں کوئی کلمہ موہم اور مغالطہ میں ڈالنے والا اس کے سامنے آگیا تو منصف طبیعتوں کے ذہن اس کی توجیہہ کریں گے اور محمل نکالیں گے۔
یہ عاقل کا کام نہیں ہے کہ راست بازی کسی کی ثابت ہونے سے پیشتر وہی کلمات مغالطہ پیش کر کے بے ثبوت مقولوں پر قیاس کرے اور کہے کہ فلاں نے ایسا کہا، فلاں نے ایسا لکھا، اس کا جواب مختصراً یہ ہو گا کہ فلاں کی راست بازی جداگانہ۔ اگر ہمیں کسی
طریقہ اور دلیل سے معلوم ہے تو ہم محتاج توجیہہ ہوں گے اور اگر زیر بحث یہی کلمات ہیں اور اس سے بہتر کچھ سامان خیر کا ہے ہی نہیں تو ہم یہ کھوٹی پونجی اس کے منہ پر ماریں گے۔
خلاصہ بیان
میرے کل بیان کا خلاصہ یہ ہے کہ قادیانی مدعی نبوت حسب تصریحات قرآن و حدیث اور باجماع امت کافر مرتد ہے اور جو شخص ان کے عقائد باطلہ اور دعویٰ نبوت و وحی پر مطلع ہونے کے باوجود ان کو کافر نہ سمجھے۔ ان کی نبوت کو تسلیم کرے یا مسیح موعود مانے، وہ بھی اسی کے حکم میں ہے۔
اور حکم یہ ہے کہ ان کا نکاح کسی مسلمان مرد و عورت کے ساتھ جائز نہیں اور اگر بعد نکاح کے کوئی شخص ایسا عقیدہ اختیار کرے تو فوراً نکاح فسخ ہو جاتا ہے۔ قضاء قاضی اور عدت کی بھی (اور اگر غیر مدخولہ ہو) ضرورت شرعاً نہیں رہتی اور اس کے بعد اگر زن و شوہر کے تعلقات باقی رکھے گئے تو جو اولاد ہو گی وہ اولاد زنا ہو گی، نسب ثابت نہ ہو گا۔ جیسا کہ بحوالہ شامی گزر چکا ہے اور موجبات کفر مرزا صاحب اور اس کے متبعین کے لیے میرے بیان میں چھ وجوہ آئی ہیں۔
- (اول) ختم نبوت کا انکار اور اس کے اجماعی معنی کی تحریف اور جس مذہب میں
سلسلہ نبوت منقطع ہو اس کو لعنتی اور شیطانی مذہب قرار دینا۔
- (دوم) دعویٰ نبوت مطلقہ و تشریعیہ۔
- (سوم) دعویٰ وحی اور اپنے وحی کو قرآن کے برابر قرار دینا۔
- (چہارم) حضرت عیسیٰؑ کی توہین۔
- (پنجم) آنحضرت ﷺ کی توہین۔
- (ششم) ساری امت محمدیہ کو بغیر اپنے متبعین کے کافر کہنا۔
یہ اصول ہیں جن کے تحت میں اور بھی بہت سے ایسے فروع موجود ہیں جو مستقل موجبات کفر ہو سکتے ہیں۔
ضروری گزارشات
قادیانی کتابوں کے دیکھنے والوں پر یہ بات پوری طرح روشن ہو جاتی ہے کہ ان کی ساری تصانیف میں صرف چند ہی مسائل کا تکرار اور دور ہے ۔ ایک مسئلہ اور ایک ہی مضمون کو بیسیوں کتابوں میں مختلف عنوانوں سے ذکر کیا ہے اور پھر سب اقوال میں بہت تفاوت اور تعارض پایا جاتا ہے ۔ اور خود مرزا صاحب نے ایسی پریشان خیالی کی ہے اور بالقصد ایسی روش اختیار کی ہے جس سے نتیجہ گڑ بڑ رہے اور ان کے لیے بوقت ضرورت کے مخلص اور مفر باقی رہے ۔ یہی میں ذکر کر آیا ہوں کہ زنادقہ نے ہمیشہ یہی راستہ اختیار کیا ہے ۔ کہیں ختم نبوت کے عقیدہ کو اپنے مشہور اور اجماعی معنی کے ساتھ قطعی اور اجماعی عقیدہ کہتے ہیں ، اور کہیں ایسا عقیدہ بتلانے والے مذہب کو لعنتی اور شیطانی مذہب قرار دیتے ہیں ۔ کہیں عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کو تمام امت محمدیہ کے عقیدہ کے موافق متواترات دین میں داخل کر کے اس پر اجماع ہونا نقل کرتے ہیں اور کہیں اس عقیدہ کو مشرکانہ عقیدہ بتلاتے ہیں ۔
اس کا سبب پورے غور کرنے سے دو چیزیں معلوم ہوتی ہیں ۔ اول یہ کہ مرزائے قادیانی چونکہ مادر زاد کافر نہ تھے ۔ ابتداً تمام اسلامی عقائد پر نشو و نما ہوا ، انہیں کے پابند تھے ، وہی لکھے ۔ پھر تدریجاً ان سے الگ ہونا شروع ہوا ۔ یہاں تک کہ آخری اقوال میں بہت سی ضروریات دین سے قطعاً مخالف ہو گئے ۔ دوسرے یہ کہ اپنے باطل اور جھوٹے دعووں کو رواج دینے کے لیے یہ تدبیر اختیار کی ، کہ اسلامی عقائد کے الفاظ وہی قائم رکھے جو قرآن و حدیث میں مذکور ہیں ، اور عام و خاص مسلمان کی زبانوں پر جاری ہیں ۔ لیکن ان کے حقائق کو ایسا بدلا جس سے بالکل ان عقائد کا انکار ہو گیا ۔ جس کے متعلق پہلے بیان میں آچکا ہے کہ ایسا کرنا کفر صریح ہے ، اور اس قسم کے کفر کا نام قرآن نے الحاد رکھا ہے اور حدیث نے زندقہ اور عام مصنفین نے باطنیہ کے نام سے اس کو پکارا ہے ۔ اس لیے اب قادیانی صاحب کی کتابوں سے ایسے اقوال پیش کرنا ، جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ بعض عقائد میں عام اہلسنت والجماعت کے ساتھ شریک ہیں ۔ ان کے اقوال و افعال کفریہ کا کفارہ نہیں بن سکتے ۔ جب تک اس کی تصریح نہ ہو ان عقائد
کی مراد بھی وہی ہے جو جمہور امت نے سمجھی اور پھر اس کی تصریح نہ ہو کہ جو عقائد کفریہ انہوں نے اختیار کیے تھے ، ان سے توبہ کر چکے ہیں اور جب تک توبہ تصریح نہ ہو ، چند عقائد اسلام کے الفاظ کتابوں میں لکھ کر کفر سے نہیں بچ سکتا۔ کیوں کہ زندیق تو اسی کو کہا جاتا ہے ، جو عقائد اسلام ظاہر کرے اور قرآن وحدیث کے اتباع کا دعویٰ کرے۔ لیکن ان کی ایسی تاویل و تحریف کر دے جس سے ان کے حقائق بدل جائیں۔ اس لیے جب تک اس کی تصریح نہ دکھائی جائے کہ ، قادیانی صاحب ختم نبوت اور انقطاع وحی کا اسی معنی کے اعتبار سے قائل ہے جس معنی سے صحابہ و تابعین اور تمام امت محمدیہ قائل ہے۔
اس وقت تک ان کی کسی ایسی عبارت کا مقابلہ میں پیش کرنا مفید نہیں ہو سکتا جس میں خاتم النبیین کے الفاظ کا اقرار کیا ہو۔ اسی طرح حشر اجساد نزول مسیح وغیرہ عقائد کے الفاظ کا کسی جگہ اقرار کر لینا ، یا لکھ دینا بغیر تصریح مذکور کے ہرگز مفید نہیں ہو گا۔ خواہ وہ عبارت تصنیف میں مقدم ہو یا موخر۔ اسی طرح مسئلہ توہین ہے کہ جب ایک جگہ توہین کے کلمات ثابت ہو گئے ، تو ہزار جگہ اگر کلمات مدحیہ لکھے ہوں اور ثنا خوانی بھی کی ہو تو وہ اس کو اس کفر سے نجات نہیں دلا سکتے۔ جیسا کہ تمام دنیا اور دین کے قواعد مسلمہ اس پر شاہد ہیں کہ اگر ایک شخص تمام عمر کسی کی اتباع اور طاعت گزاری اور مدح و ثنا کرتا ہے ، لیکن کبھی کبھی اس کی سخت ترین توہین بھی کیا کرتا ہے تو کوئی انسان اس کو مطیع اور معتقد واقعی نہیں کہہ سکتا۔
مرزا آخر عمر تک دعویٰ وحی ونبوت پر قائم رہا ہے
الغرض اول تو یہ بات ہو چکی ہے کہ مرزا اپنی آخری عمر تک دعویٰ نبوت و وحی پر قائم رہا اور اپنے کفریات سے کوئی توبہ نہیں کی۔ جیسا کہ ان کے آخری خط اور عقائد کفریہ سے واضح ہوتا ہے ، جو موت سے تین دن پہلے اخبار عام لاہور کے ایڈیٹر کے نام لکھا ہے ، اور اگر یہ بھی ثابت نہ ہوتا تو کلمات کفریہ لکھنے اور کہنے کے بعد اس وقت تک اس کو مسلمان نہیں کہہ سکتے جب تک وہ ان عقائد سے توبہ کا اعلان نہ کرے اور توبہ کا
اعلان جہاں تک ہم نے کوشش کی ان کی کسی کتاب یا تحریر میں نہیں پایا گیا۔ اس لیے تکفیر کرنے پر مجبور ہونا پڑا ہے۔
علاوہ ازیں اگر یہ بھی فرض کر لیا جائے کہ مرزا صاحب نے دعویٰ نبوت وغیرہ سے توبہ کر لی تھی۔ جب بھی ہمارا مدعا علیہ چونکہ ان کو عام انبیاء کی طرح نبی اور رسول ماننے کی تصریح اپنے کلام میں کرتا ہے، اس لیے اس کے کفر اور ارتداد میں کسی شبہ کی گنجائش نہیں۔ لہٰذا از روئے عقائد اسلام و مسائل فقہیہ اجماعیہ اس کا نکاح جو مسلمان عورت کے ساتھ ہوا تھا، قطعاً فسخ ہو چکا۔
وصلی الله تعالیٰ علی خیر خلقہ وسید انبیائہ محمد والہ واصحابہ اجمعین ۔
مرزا قادیانی
اور
اُس کے پیروکار کافر کیوں؟
مولانا
احمد رضا خان
بریلوی
◯
بسم الله الرحمٰن الرحیم
الحمد لله وحده والصلاة والسلام علٰی من لا نبی بعدہ وعلٰی آلہ وصحبہ المکرمین عندہ ربّ انّی اعوذ بک من ہمزت الشیطین واعوذ بک ربّ ان یحضرون ۔ اللہ عزّوجل دین حق پر استقامت عطا فرمائے اور ہر ضلال و وبال ونکال سے بچائے ۔ قادیانی مرزا کو اپنے آپ کو مسیح ومثیل مسیح کہنا تو شہرہ آفاق ہے، اور بحکم آنکہ ع
فقیر کو بھی اس دعوے سے اتفاق ہے، مرزا کے مسیح و مثیل مسیح ہونے میں اصلاً شک نہیں مگر لا واللہ نہ مسیح کلمتہ اللہ علیہ صلوات اللہ بلکہ مسیح دجال علیہ اللعن والنکال پہلے اس ادعائے کاذب کی نسبت سہارنپور سے سوال آیا تھا جس کا ایک مبسوط جواب ولداعز فاضل نوجوان مولوی حامد رضا خان سلمہ حفظہ اللہ تعالیٰ نے لکھا اور بنام تاریخی الصّارم الرّبّانی علٰی اسراف القادیانی مسمی کیا یہ رسالہ حامی سنن ماحی فتن ندوہ شکن ندوی فگن مکرمنا قاضی عبدالوحید صاحب حنفی فردوسی مصون عن الفتن نے اپنے رسالہ مبارکہ تحفہ حنفیہ میں کہ عظیم آباد سے ، بتواتر طبع ہوتا ہے طبع فرما دیا بحمد اللہ تعالیٰ اس شہر میں مرزا کا فتنہ نہ آیا اور عزّوجلّ قادر ہے کہ کبھی نہ لائے اس کی تحریرات یہاں نہیں ملتیں مجیب محترم نے جو اقوال ملعونہ اس کی کتابوں سے بہ نشان صفحات نقل کیے مثیل مسیح ہونے کے ادعا کو شناعت و نجاست میں اُن سے کچھ نسبت نہیں اُن میں صاف صاف انکار ضروریاتِ دین اور بوجوہ کثیرہ کفر وارتداد مبین ہے۔ فقیر اُن میں سے بعض
کی اجمالی تفصیل کرے ۔
کفر اوّل مرزا کا ایک رسالہ ہے جس کا نام ازالۃ الاوہام ہے اس کے صفحہ ٦٧٣ پر لکھتا ہے میں احمد ہوں جو آیت مبشراً برسول یاتی من بعدی اسمہ احمد میں مراد ہے ۔ آیہ کریمہ کا مطلب یہ ہے کہ سیّدنا مسیح ربانی عیسیٰ بن مریم رُوح اللہ علیھما الصَّلوٰۃ والسَّلام نے بنی اسرائیل سے فرمایا کہ مجھے اللہ عزوجل نے تمہاری طرف رسول بنا کر بھیجا ہے توریت کی تصدیق کرتا اور اُس رسول کی خوشخبری سناتا ہوا جو میرے بعد تشریف لانے والا ہے جس کا نام پاک احمد ہے صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلّم ازالہ کے قول ملعون مذکور میں صراحتاً ادعا ہوا کہ وہ رسول پاک جن کی جلوہ افروزی کا مژدہ حضرت مسیح لائے معاذ اللہ مرزا قادیانی ہے ۔
کفر دوم توضیح مرام طبع ثانی ص ٩ پر لکھتا ہے کہ میں محدث ہوں اور محدث بھی ایک معنی سے نبی ہوتا ہے ۔
لہ لا الہ الا اللہ لقد کذب عدو اللہ ایھا المسلمون . سید المحدثین امیر المؤمنین عمر فاروق اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہیں کہ انہیں کے واسطے حدیث محدثین آئی انہیں کے صدقے میں ہم نے اُس پر اطلاع پائی کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا قد کان فیما مضی قبلکم من الامم اناس محدثون فان یکن فی أُمّتی منھم احد فانہ عمر بن الخطاب اگلی امتوں میں کچھ لوگ محدث ہوتے تھے یعنی فراست صادقہ و الہام حق والے اگر میری امت میں ان میں سے کوئی ہوگا تو وہ ضرور عمر ہے رضی اللہ تعالیٰ عنہ رواہ احمد و البخاری عن ابی ھریرۃ واحمد و مسلم والترمذی والنسائی عن ام المؤمنین الصدیقۃ رضی اللہ تعالیٰ عنھما فاروق اعظمؓ نے نبوت کے کوئی معنی نہ پائے صرف ارشاد آیا لو کان بعدی نبی لکان عمر بن الخطاب
کفر سوم
دافع البلا مطبوعہ ریاض ہند ص ٩ پر لکھتا ہے : سچا خدا وہی ہے جس نے قادیان میں اپنا رسول بھیجا۔
کفر چہارم
مجیب ہیچ نے نقل کیا و نیز میگوید کہ خدا تعالیٰ نے براہینِ احمدیہ میں اس عاجز کا نام امتی بھی رکھا ہے اور نبی بھی۔ ان اقوال خبیثہ میں اولاً کلام الٰہی کے معنی میں صریح تحریف کی کہ معاذاللہ آیہ کریمہ میں شخص مراد ہے نہ حضور سیّد عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم ۔ ثانیاً نبی اللہ و رسول اللہ و کلمۃ اللہ عیسیٰ روح اللہ علیہ الصلوٰۃ والسلام پر افترا کیا کہ وہ اس کی بشارت دینے کو اپنا تشریف لانا بیان فرماتے تھے۔ ثالثاً اللہ عزوجل پر افترا کیا کہ اس نے عیسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام کو اس شخص کی بشارت دینے کے لیے بھیجا ۔ اور اللہ عزوجل فرماتا ہے ۔ اِنَّ الَّذِیْنَ یَفْتَرُوْنَ عَلَی اللّٰہِ الْکَذِبَ لَا یُفْلِحُوْنَ ہ (بیشک جو لوگ اللہ عزوجل پر جھوٹ بہتان اٹھاتے ہیں فلاح نہ پائیں گے) اور فرماتا ہے : اِنَّمَا یَفْتَرِی الْکَذِبَ الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ ہ (ایسے افترا وہی باندھتے ہیں جو بے ایمان کافر ہیں) رابعاً اپنی گھڑی ہوئی کتاب براہینِ غلامیہ کو اللہ عزوجل کا کلام ٹھہرایا کہ خداے تعالیٰ نے براہینِ احمدیہ میں یوں فرمایا ہے اور اللہ عزوجل فرماتا ہے
اگر میرے بعد کوئی نبی ہو سکتا تو عمر ہوتا رواہ احمد والترمذی والحاکم عن عقبہ بن عامر والطبرانی فی الکبیر عن عصمۃ بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنھما مگر پنجاب کا محدث حادث کہ حقیقۃً نہ محدّث ہے نہ مجدّد ہے۔ یہ ضرور ایک معنی پر مبنی ہو گیا الا لعنۃ اللہ علی الکاذبین والعیاذ باللہ ربّ العٰلمین ہ
فويل للذين يكتبون الكتب بايديهم ثم يقولون هذا من عند الله ليشتروا بہ ثمناً قليلاً فويل لهم مما كتبت ايديهم وويل لهم مما يكسبون ہ
(خرابی ہے ان کے لیے جو اپنے ہاتھوں کتاب لکھیں پھر کہہ دیں یہ اللہ کے پاس سے ہے تاکہ اس کے بدلے کچھ ذلیل قیمت حاصل کریں سو خرابی ہے ان کے لیے ان کے ہاتھوں کے لکھے سے اور خرابی ہے اُن کے لیے اس کمائی سے )
ان سب سے قطع نظر ان کلمات ملعونہ میں صراحۃً اپنے لیے نبوت و رسالت کا ادعائے قبیح ہے اور وہ باجماع قطعی کفر صریح ہے فقیر نے رسالہ جزاء الله عدوّہ بآبائہ ختم النبوۃ خاص اسی مسئلے میں لکھا اور اس میں آیت قرآن عظیم اور اور ایک سو دس حدیثوں اور تیس نصوں کو جلوہ دیا اور ثابت کیا کہ محمد رسول الله صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کو خاتم النبیین ماننا اُن کے زمانہ میں خواہ ان کے بعد کسی نبی جدید کی بعثت کو یقیناً قطعاً محال و باطل جاننا فرض اجل وجزء ایقان ہے۔ ولکن رسول الله وخاتم النبیین نص قطعی قرآن ہے اس کا منکر نہ منکر بلکہ شک کرنے والا نہ شاک کہ ادنیٰ ضعیف احتمال خفیف سے توہم خلاف رکھنے والا قطعاً اجماعاً کافر ملعون مخلد فی النیران ہے نہ ایسا کہ وہی کافر ہو بلکہ جو اس کے اس عقیدہ ملعونہ پر مطلع ہو کر اسے کافر نہ جانے وہ بھی کافر ہونے میں شک و تردد کو راہ دے وہ بھی کافر بین الکفر جلی الکفران ہے ۔ قول دوم و سوم میں شاید وہ یا اس کے اذناب آجکل کے بعض شیاطین سے سیکھ کر تاویل کی اڑ لیں کہ یہاں نبی و رسول سے معنی لغوی مراد ہیں یعنی خبر دار یا خبر دہندہ اور فرستادہ مگر یہ ہوس ہے اولاً صریح لفظ میں تاویل نہیں سنی جاتی ۔ فتاویٰ خلاصہ وفصول عمادیہ وجامع الفصولین و فتاویٰ ہندیہ وغیر ہا میں ہے واللفظ للعمادى قال قال انا رسول الله او قال بالفارسية من پيغمبرم يريد به من پيغام مى برم يكفر یعنی اگر کوئی اپنے
آپ کو اللہ کا رسول کہے یا کہے میں پیغمبر ہوں اور مراد یہ لے کہ میں کسی کا پیغام پہنچانے والا ایلچی ہوں کافر ہو جائے گا۔ امام قاضی عیاض کتاب الشفا فی تعریف حقوق المصطفےٰ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم میں فرماتے ہیں قال احمد بن ابی سلیمن صاحب سحنون رحمهما الله تعالى فى رجل قيل له لا وحق رسول الله قال فعل الله رسول الله كذا وكذا وذكر كلاما قبيحا فقيل له ما تقول يا عدو الله فى حق رسول الله قال فعل الله برسول الله كذا وكذا وذكر كلاما قبيحا فقيل له ما تقول يا عدو الله فى حق رسول الله فقال اشد من كلامه الاول ثم قال انما اردت برسول الله العقرب فقال ابن ابی سليمن للذى سأله اشهد عليه وانا شريكك يريد فى قتله وثواب ذلك قال حبيب بن الربيع لان ادعاءه التاويل فى لفظ صراح لا يقبل یعنی امام احمد بن ابی سلیمان تلمیذ و رفیق امام سحنون رحمہما اللہ تعالیٰ سے ایک مردک کی نسبت کسی نے پوچھا کہ اُس سے کہا گیا تھا رسول اللہ کے حق کی قسم اُس نے کہا اللہ رسول اللہ کے ساتھ ایسا ایسا کرے اور ایک بدکلام ذکر کیا کہا گیا اے دشمن خدا تو رسول اللہ کے بارے میں کیا بکتا ہے تو اس سے بھی سخت تر لفظ بکا پھر بولا میں نے تو رسول اللہ سے بچھو مراد لیا تھا۔ امام ابن ابی سلیمن نے مستفتی سے فرمایا تم اس پر گواہ ہو جاؤ اور اُسے سزائے موت دلانے اور اس پر جو ثواب ملے گا اس میں میں تمہارا شریک ہوں یعنی تم حاکم شرع کے حضور اس پر شہادت دو اور میں بھی سعی کروں گا کہ ہم تم دونوں بحکم حاکم اسے سزائے موت دلانے کا ثواب عظیم پائیں۔ امام حبیب بن ربیع نے فرمایا یہ اس لیے کہ کھلے لفظ میں تاویل کا دعویٰ مسموع نہیں ہوتا۔ مولانا علی قاری شرح شفا میں فرماتے ہیں :- ثم قال انما اردت برسول الله العقرب فانه ارسل من عند
الحق وسلط علی الخلق تاویلا للرسالہ العرفیہ بالارادہ اللغویہ وہو مردود عند القواعد الشرعیہ
(یعنی وہ جو اس مردک نے کہا کہ میں نے بچھو مراد لیا اس میں اس نے رسالت عرفی کو معنی لغوی کی طرف ڈھالا کہ بچھو کو بھی خدا ہی نے بھیجا اور خلق پر مسلط کیا ہے اور ایسی تاویل قواعد شرع کے نزدیک مردود ہے)
علامہ شہاب خفاجی نسیم الریاض میں فرماتے ہیں :
ہذا حقیقۃ معنی الارسال وہذا مما لاشک فی معناہ وانکارہ مکابرہ لکنہ لا یقبل من قائلہ ادعاؤہ انہ مرادہ لبعدہ غایہ البعد وصرف اللفظ عن ظاہرہ لا یقبل کما لو قال لہا انت طالق وقال اردت محلولۃ غیر مربوطۃ لا یلتفت لمثلہ ویعد ہذیانا اہ ملتقطا
یعنی یہ لغوی معنی جن کی طرف اُس نے ڈھالا ضرور بلاشک حقیقی معنی ہیں اس کا انکار ہٹ دھرمی ہے با ایں ہمہ قائل کا یہ ادعا مقبول نہیں کہ اس نے یہ معنی لغوی مراد لیے تھے اس لیے کہ یہ تاویل نہایت دُور از کار ہے ۔ اور لفظ کو اُس کے معنی ظاہر سے پھیرنا مسموع نہیں ہوتا جیسے کوئی اپنی عورت کو کہے تو طالق ہے ۔ اور کہے میں نے یہ مراد لیا تھا کہ تو کھلی ہوئی ہے بندھی نہیں (کہ لغت میں طالق کشادہ کو کہتے ہیں) تو ایسی تاویل کی طرف التفات نہ ہوگا اور اُسے ہذیان سمجھا جائے گا
ثانیاً وہ بالیقین ان الفاظ کو اپنے لیے مدح وفضل جانتا ہے نہ ایک ایسی عام بات کہ ؎
چشمان تو زیر ابروانند
کوئی عاقل بلکہ نیم پاگل بھی ایسی بات کو جو ہر انسان ہر بھنگی چمار بلکہ ہر
جانور بلکہ ہر کافر مرتد میں موجود ہو محل مدح میں ذکر نہ کرے گا نہ اس میں اپنے لیے فضل و شرف جانے گا بھلا کہیں براہین غلامیہ میں یہ بھی لکھا کہ سچا خدا وہی ہے جس نے مرزا کی ناک میں دو نتھنے رکھے ۔ مرزا کے کان میں دو گھونگھے بنائے یا خدا نے براہین احمدیہ میں لکھا ہے کہ اس عاجز کی ناک ہونٹوں سے اوپر اور بھوؤں کے نیچے ہے کیا ایسی بات لکھنے والا پورا مجنون پکا پاگل نہ کہلایا جائے گا اور شک نہیں کہ وہ معنی لغوی یعنی کسی چیز کی خبر رکھنا یا دینا یا بھیجا ہوا ہونا ان مثالوں سے بھی زیادہ عام ہیں بہت جانوروں کے ناک، کان ، بھویں اصلاً نہیں ہوتیں مگر خدا کے بھیجے ہوئے وہ بھی ہیں اللہ نے انھیں عدم سے وجود نر کی پیٹھ سے مادہ کے پیٹ سے دنیا کے میدان میں بھیجا جس طرح اس مردک خبیث نے بچھو کو رسول بمعنی لغوی بنالیا ۔
مولوی معنوی قدس سرہ القوی مثنوی شریف میں فرماتے ہیں :
مرورا بے کار و بے فعلی مداں
کمترین کارش کہ آں رب احد
روز سہ لشکر روانہ میکند
لشکری ز اصلاب سوئے امہات
تا بروید در رحمہا شان نبات
لشکری از ارحام سوئے خاکداں
تا ز نر و مادہ پر گردد جہاں
لشکری از خاکداں سوئے اجل
تا بہ بیند ہر کسے حسنِ عمل
حق عز وجل فرماتا ہے :
فارسلنا عليهم الطوفان والجراد والقمل والضفادع والدم (ہم نے فرعونیوں پر بھیجے طوفان اور ٹڈیاں اور جوئیں اور مینڈکیں اور خون) کیا مرزا ایسی ہی رسالت پر فخر رکھتا ہے جیسے ٹڈی اور مینڈک اور جوں اور کتے اور سُور سب کو شامل ماننے لگا ۔ ہر جانور بلکہ ہر حجر و شجر بہت علوم سے خبردار رہے ۔ اور ایک دوسرے کو خبر دینا بھی صحاح احادیث سے ثابت حضرت مولوی قدس سرہ المعنوی اُن کی طرف سے فرماتے ہیں :
با شما نا محرمان ما خامشیم
اللہ عزوجل فرماتا ہے : وان من شئ الا يسبح بحمده ولكن لا تفقهون تسبيحهم (کوئی چیز ایسی نہیں جو اللہ کی حمد کے ساتھ اس کی تسبیح نہ کرتی ہو مگر ان کی تسبیح تمہاری سمجھ میں نہیں آتی)
حدیث میں ہے رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم فرماتے ہیں : ما من شئ الا يعلم انى رسول الله الا كفرة الجن والانس (کوئی چیز ایسی نہیں جو مجھے اللہ کا رسول نہ جانتی ہو سوا کافر ، جن اور آدمیوں کے) رواه الطبرانى فى الكبير عن يعلى بن مرة رضى الله تعالى عنه وصححه خاتم الحفاظ -
حق سبحانہ وتعالیٰ فرماتا ہے : فمكث غير بعيد فقال احطت بما لم تحط به وجئتك من سبأ بنبأ يقين ه (کچھ دیر ٹھہر کر ہُدہُد بارگاہِ سلیمانی میں حاضر ہوا اور عرض کی مجھے ایک بات وہ معلوم ہوئی ہے جس پر حضور کو اطلاع نہیں اور میں خدمتِ عالی میں ملک سبا سے ایک یقینی خبر لے کر حاضر ہوا ہوں)
حدیث میں ہے رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم فرماتے ہیں :
ما من صباح والارواح الا وبقاع الارض ينادى بعضها بعضا يا جارة هل مر بك اليوم عبد صالح صلى عليك او ذكر الله فان قالت نعم رأت ان لها بذلك فضلا
(کوئی صبح اور کوئی شام ایسی نہیں ہوتی کہ زمین کے ٹکڑے ایک دوسرے کو پکار کر نہ کہتے ہوں کہ اے ہمسائے آج تیری طرف کوئی نیک بندہ ہو کر نکلا جس نے تجھ پر نماز پڑھی یا ذکر الٰہی کیا اگر وہ ٹکڑا جواب دیتا ہے کہ ہاں تو وہ پوچھنے والا ٹکڑا اعتقاد کرتا ہے کہ اسے مجھ پر فضیلت ہے)
رواہ الطبرانی فی الاوسط وابو نعیم فی الحلیۃ عن انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ ۔ تو خبر رکھنا خبر دینا سب کچھ ثابت ہے کیا مرزا ہر اینٹ پتھر ہر بت پرست کافر ہر ریچھ ، بندر ہر کتے ، سؤر کو بھی اپنی طرح نبی و رسول کہے گا ہرگز نہیں تو صاف روشن ہوا کہ معنی لغوی ہرگز مراد نہیں بلکہ یقیناً وہی شرعی و عرفی رسالت و نبوت مقصود اور کفر و ارتداد یقینی قطعی موجود۔ و بعبارۃ اخرے معنی چار ہی قسم ہیں لغوی ، شرعی ، عرفی عام یا خاص ۔ یہاں عرف عام تو بعینہ وہی معنی شرعی ہے جس پر کفر قطعاً حاصل اور ارادۂ لغوی کا ادعا یقیناً باطل اب یہی رہا کہ فریب دہی عوام کو یوں کہہ دے کہ میں نے اپنی خاص اصطلاح میں نبی و رسول کے معنی اور رکھے ہیں جن میں مجھے سگ و خوک سے امتیاز بھی ہے اور حضرات انبیاء علیہم الصلاۃ والسلام کے وصف نبوت میں اشتراک بھی نہیں۔ مگر حاش للہ ایسا باطل ادعا اصلاً شرعاً عقلاً عرفاً کسی طرح بادِ شتر سے زیادہ وقعت نہیں رکھتا ایسی جگہ لغت و شرع و عرف عام سب سے الگ اپنی نئی اصطلاح کا مدعی ہونا قابلِ قبول ہو تو کبھی کسی کافر کی کسی سمت سے بات پر گرفت نہ ہو سکے کوئی مجرم کسی معظم کی کیسی ہی شدید توہین کر کے مجرم نہ ٹھہر سکے کہ ہر ایک کو اختیار ہے کہ اپنی کسی اصطلاح خاص کا دعویٰ کر دے جس میں کفر و توہین کچھ نہ ہو۔ کیا زید کہہ سکتا ہے خدا دو ہیں ۔ جب اس پر اعتراض ہو کہہ دے میری اصطلاح
میں ایک کو دو کہتے ہیں۔ کیا عمرو جنگل میں سؤر کو بھاگتا دیکھ کر کہہ سکتا ہے وہ قادیانی بھاگا جاتا ہے جب کوئی مرزائی گرفت چاہے کہہ دے میری مراد وہ نہیں جو آپ سمجھے میری اصطلاح میں ہر بھگوڑے یا جنگلی کو قادیانی کہتے ہیں۔ اگر کہیئے کوئی مناسبت بھی تو جواب دے کہ اصطلاح میں مناسبت شرط نہیں۔ لا مشاحة فی الاصطلاح آخر سب جگہ منقول ہی ہونا کیا ضرور لفظ مرتجل بھی ہوتا ہے جس میں معنی اوّل سے مناسبت اصلاً منظور نہیں معہذا قادیٰ بمعنی جلدی کنندہ ہے یا جنگل سے آنے والا قاموس میں ہے قدت قادیة جاء قوم قد اتحموا من البادیة والفرس قدیانا اسرع قادیان اس کی جمع اور قادیانی اُس کی طرف منسوب یعنی جلدی کرنے والوں میں یا جنگل سے آنے والوں کا ایک اس مناسبت سے میری اصطلاح میں ہر بھگوڑے جنگلی کا نام قادیانی ہوا کیا زید کی وہ تقریر کسی مسلمان یا عمرو کی یہ توجیہ کسی مرزائی کو مقبول ہوسکتی ہے حاشا وکلا کوئی عاقل ایسی بناوٹوں کو نہ مانے گا بلکہ اسی پر کیا موقوف یوں اصطلاح خاص کا ادعا مسموع ہو جائے تو دین و دنیا کے تمام کارخانے درہم و برہم ہوں عورتیں شوہروں کے پاس سے نکل کر جس سے چاہیں نکاح کرلیں کہ ہم نے تو ایجاب و قبول نہ کیا تھا اجازت لیتے وقت ہاں کہا تھا ہماری اصطلاح (ہاں) بمعنی (ہوں) یعنی کلمہ زجر و انکار ہے۔ لوگ بیع نامے لکھ کر رجسٹری کرا کر جائدادیں چھین لیں کہ ہم نے تو بیع نہ کی تھی بیچنا لکھا تھا ہماری اصطلاح میں عاریت یا اجارے کو بیچنا کہتے ہیں الی غیر ذلک من فسادات لا تحصیٰ تو ایسی چھوٹی تاویل والا خود اپنے معاملات میں اُسے نہ مانے گا کیا مسلمانوں کو زن و مال اللہ و رسول سے زیادہ پیارے ہیں کہ جورو اور جائداد کے باب میں تاویل و سنیں اور اللہ و رسول کے معاملے میں ایسی ناپاک بناوٹیں قبول کرلیں۔ لا الہ ١؎
١؎ جل جلالہ وصلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم ١٢ منہ
انشاء اللہ مسلمان ہرگز ایسے مردود بہانوں پر التفات بھی نہ کریں گے انہیں اللہ و رسول اپنی جان اور تمام جہان سے زیادہ عزیز ہیں وللہ الحمد جل جلالہ وصلی الله تعالیٰ علیہ وسلّم خود ان کا رب جلّ و علا قرآن عظیم میں ایسے بیہودہ عذروں کا دفتر جلا چکا ہے فرماتا ہے ۔ قل لا تعتذروا قد کفرتم بعد ایمانکم اُن سے کہہ دو بہانے نہ بناؤ بے شک تم کافر ہو چکے ایمان کے بعد والعیاذ باللہ ربّ العلمین
ثالثاً کفر چہارم میں امّتی و نبی کا مقابلہ صاف اُسی معنی شرعی و عرفی کی تعیین کر رہا ہے
رابعاً کفر اوّل میں تو کسی چھوٹے ادعائے تاویل کی بھی گنجائش نہیں آیت میں قطعاً معنی شرعی ہی مراد ہیں نہ لغوی نہ اس شخص کی کوئی اصطلاح خاص اور اسی کو اس نے اپنے نفس کے لیے مانا تو قطعاً یقیناً بمعنی شرعی ہی اپنے نبی اللہ و رسول اللہ ہونے کا مدعی اور ولکن رسول اللہ وخاتم النبیین کا منکر اور باجماع قطعی جمیع امّت مرحومہ مرتد و کافر ہوا سچ فرمایا سچے خدا کے سچے رسول سچے خاتم النبیین محمد مصطفیٰ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے کہ عنقریب میرے بعد آئیں گے ثلثون دجالون کذابون کلھم یزعم انہ نبی تیس دجال کذاب کہ ہر ایک اپنے کو نبی کہے گا وانا خاتم النبیین لا نبی بعدی حالانکہ میں خاتم النبیین ہوں میرے بعد کوئی نبی نہیں آمنت آمنت صلی اللہ تعالیٰ علیک وسلّم اسی لیے فقیر نے عرض کیا تھا ۔ کہ مرزا ضرور مثیل مسیح ہے صدق بلکہ مسیح دجال کا کہ ایسے مدعیوں کو یہ لقب خود بارگاہ رسالت سے عطا ہوا ہے والعیاذ باللہ ربّ العلمین
دافع البلا ص ١١ پر حضرت مسیح علیہ الصلوۃ والسّلام سے اپنی برتری کا اظہار کیا ہے ۔
کفر ششم
اسی رسالہ کے صفحہ ١٧ پر لکھا ہے
اس سے بہتر غلام احمد ہے
کفر ہفتم
اشتہار معیار الاخیار میں لکھا ہے میں بعض نبیوں سے افضل ہوں۔ یہ ادعا بھی باجماع قطعی کفر و ارتداد یقینی ہے۔ فقیر نے اپنے فتوے مسمی بہ ردّ الرفضہ میں شفا شریف امام قاضی عیاض و روضۂ امام نووی وارشاد الساری امام قسطلانی و شرح عقائد نسفی و شرح مقاصد امام تفتازانی واعلام ابن حجر مکی و منح الروض علامہ قاری و طریقہ محمدیہ علامہ برکوی و حدیقہ ندیہ مولیٰ نابلسی وغیرہا کتب کثیرہ کے نصوص سے ثابت کیا ہے کہ باجماع مسلمین کوئی ولی کوئی غوث کوئی صدیق بھی کسی نبی سے افضل نہیں ہو سکتا جو ایسا کہے قطعاً اجماعاً کافر ملحد ہے از انجملہ شرح صحیح بخاری شریف میں ہے : النبی افضل من الولی وھو امر مقطوع بہ والقائل بخلافہ کافر لانہ معلوم من الشرع بالضرورة (یعنی ہر نبی ہر ولی سے افضل ہے اور یہ امر یقینی ہے اور اس کے خلاف کہنے والا کافر ہے کہ یہ ضروریات دین سے ہے)
کفر ہفتم میں اسے ایک لطیف تاویل کی گنجائش تھی کہ یہ لفظ (نبیوں) بتقدیم نون نہیں بلکہ (بنیوں) بتقدیم با ہے۔ یعنی بھنگی درکنار کہ خود اُن کے تو لال گرو کا بھائی ہوں اُن سے تو افضل ہوا ہی چاہوں میں تو بعض بنیوں سے بھی افضل ہوں کہ انہوں نے صرف آٹے دال میں ڈنڈی ماری اور یہاں وہ ہتھ پھیری کی کہ بیسیوں کا دین ہی اُڑ گیا۔ مگر افسوس کہ دیگر تصریحات نے اس تاویل کی جگہ نہ رکھی۔
کفر ہشتم
ازالہ صفحہ ٣٠٩ پر حضرت مسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام کے معجزات کو جن کا ذکر خداوند تعالیٰ بطور احسان فرماتا ہے
مسمریزم لکھ کر کہتا ہے اگر میں اس قسم کے معجزات کو مکروہ نہ جانتا تو ابن مریم سے کم نہ رہتا۔ یہ کفر متعدد کفروں کا خمیرہ ہے معجزات کو مسمریزم کہنا ایک کفر کہ اس تقدیر پر وہ معجزہ نہ ہوئے بلکہ معاذ اللہ ایک کسبی کرشمے ٹھہرے۔ اگلے کافروں نے بھی ایسا ہی کہا تھا حق عزوجل فرماتا ہے :
اذقال الله يعيسى بن مريم اذكر نعمتى عليك وعلى والدتك اذ ايدتك بروح القدس تكلم الناس فى المهد وكهلا واذا علمتك الكتب والحكمة والتوراة والانجيل واذ تخلق من الطين كهيئة الطير باذنى فتنفخ فيها فتكون طيرا باذنى وتبرئ الاكمه والابرص باذنى واذ تخرج الموتى باذنى واذ كففت بنى اسرائيل عنك اذاجئتهم بالبينت فقال الذين كفروا منهم ان هذا الا سحر مبين ہ
جب فرمایا اللہ سبحانہٗ نے اے مریم کے بیٹے یاد کر میری نعمتیں اپنے اُوپر اور اپنی ماں پر جب میں نے پاک رُوح سے تجھے قوت بخشی لوگوں سے باتیں کرتا پالنے میں اور پکی عمر کا ہو کر اور جب میں نے تجھے سکھایا لکھنا اور حکمت اور توریت وانجیل اور جب تو بناتا مٹی سے پرند کی سی شکل میری پروانگی سے پھر تو اس میں پھونکتا تو وہ پرند ہو جاتی میرے حکم سے اور تو چنگا کرتا مادر زاد اندھے اور سفید داغ والے کو میری اجازت سے اور جب تو قبروں سے جیتا نکالتا مُردوں کو میرے اذن سے اور جب میں نے یہود کو تجھ سے روکا جب تو ان کے پاس یہ روشن معجزے لے کر آیا تو ان میں کے کافر بولے یہ تو نہیں مگر کھلا جادُو۔
مسمریزم بتایا یا جادو کہا بات ایک ہی ہوئی یعنی الٰہی معجزے نہیں کسبی ڈھکوسلے ہیں ایسے ہی منکروں کے خیالِ ضلال کو حضرت مسیح کلمۃ اللہ صلی اللہ تعالیٰ علی سیدہ و علیہ وسلم نے بار بار بتاکید رد فرما دیا تھا۔ اپنے معجزات مذکورہ ارشاد کرنے سے پہلے فرمایا :
انی قد جئتكم باية من ربكم اني اخلق لكم من الطين كهيئة الطير الاية
میں تمہارے پاس رب کی طرف سے معجزے لایا کہ میں مٹی سے پرند بناتا اور پھونک مار کر اُسے جلاتا اور اندھے اور کوڑھی کو شفا دیتا اور خدا کے حکم سے مُردے جلاتا اور جو کچھ تم کھا کر آؤ اور جو کچھ گھر میں اٹھا رکھو وہ سب تمہیں بتاتا ہوں اور
اس کے بعد فرمایا :
ان فى ذلك لاية لكم ان كنتم مومنين
بے شک ان میں تمہارے لیے بڑی نشانی ہے اگر تم ایمان لاؤ
پھر مکرر فرمایا :
جئتكم باية من ربكم فاتقوا الله واطيعون ه
( میں تمہارے رب کے پاس سے معجزہ لایا ہوں تو خدا سے ڈرو اور میرا حکم مانو )
مگر جو عیسیٰ کے رب کی نہ مانے وہ عیسیٰ کی کیوں ماننے لگا یہاں تو اسے صاف گنجائش ہے کہ اپنی بڑائی سبھی کرتے ہیں ۔ ؏
پھر ان معجزات کو مکروہ جاننا دوسرا کفر یہ کہ کراہت اگر اس بناء پر ہے کہ وہ فی نفسہ مذموم کام تھے جب تو کفر ظاہر ہے قال الله تعالیٰ تلك الرسل فضلنا بعضهم علیٰ بعض یہ رسول ہیں کہ ہم نے ان میں ایک کو دوسرے پر فضیلت دی اور اُسی فضیلت کے بیان میں ارشاد ہُوا
واتينا عيسى بن مريم البينت وايدنٰه بروح القدس
اور ہم نے عیسیٰ بن مریم کو معجزے دیئے اور جبریل سے اس کی تائید فرمائی ۔
اور اگر اس بناء پر ہے کہ وہ کام اگر چہ فضیلت کے تھے مگر میرے منصبِ اعلیٰ کے لائق نہیں تو یہ دعوٰی نبی پر اپنی تفضیل ہے ہر طرح کفر و ارتداد قطعی سے مفر نہیں، پھر ان کلماتِ شیطانیہ میں مسیح کلمۃ اللہ صلی اللہ تعالیٰ علی سیدہ وعلیہ وسلم کی تحقیر تیسرا
کفر ہے اور ایسی ہی تکفیر اس کلام ملعون کفر ششم میں تھی اور سب سے بڑھ کر اس کفر نہم میں ہے کہ ازالہ ص ٦٦١ پر حضرت مسیح علیہ الصلوۃ والسلام کی نسبت لکھا بوجہ مسمریزم کے عمل کرنے کے تنویر باطن اور توحید اور دینی استقامت میں کم درجے پر بلکہ قریب ناکام رہے انا للہ وانا الیہ راجعون الا لعنۃ اللہ علیٰ اعداء انبیاء اللہ وصلی اللہ تعالیٰ علیٰ انبیائہ وبارک وسلم ہر نبی کی تحقیر مطلقاً کفر قطعی ہے جس کی تفصیل سے شفا شریف وشرح شفا وسیف مسلول امام تقی الملۃ والدین سبکی و روضہ امام نووی و وجیز امام کردری و اعلام امام ابن حجر مکی وغیرہا تصانیف ائمہ کرام کے دفتر گونج رہے ہیں نہ کہ نبی بھی کون نبی مرسل نہ کہ مرسل بھی کیسا مرسل اولو العزم نہ کہ تحقیر بھی کتنی کہ مسمریزم کے سبب نہ تنویر باطن نہ نور باطن بلکہ دینی استقامت نہ دینی استقامت بلکہ نفس توحید میں نہ کم درجہ بلکہ قریب ناکام رہے اس ملعون قول لعن اللہ قائلہ وقابلہ نے اولوالعزمی ورسالت و نبوت درکنار اس عبداللہ و کلمۃ اللہ و روح اللہ علیہ صلوات اللہ وسلام و تحیات اللہ کے نفس ایمان میں کلام کر دیا اس کا جواب ہمارے ہاتھ میں بجز اس کے کہ ان الذین یؤذون اللہ ورسولہ لعنہم اللہ فی الدنیا والآخرۃ واعد لہم عذابا مہینا ہ بیشک جو لوگ ایذا دیتے ہیں اللہ اور اس کے رسول کو اُن پر اللہ نے لعنت کی دنیا و آخرت میں اور اُن کے لیے تیار کر رکھا ہے ذلت کا عذاب ۔
کفر دہم ازالہ صفحہ ٦٢٩ پر لکھتا ہے ایک زمانے میں چار سو نبیوں کی پیشگوئی غلط ہوئی اور وہ جھوٹے ١؎ یہ صراحۃً انبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام کی تکذیب ہے ۔ عام اقوام کفار لعنہم اللہ کا کفر حضرت عزوجل نے یوں ہی تو بیان فرمایا : کذبت قوم
١؎ یہ اس کی پیش بندی ہے کہ یہ کذاب اپنی بڑیں ہمیشہ پیشین گوئیاں ہانکتا رہتا ہے اور بہ غضب الٰہی وہ آئے دن جھوٹی پڑا کرتی ہیں ، تو یہاں یہ بتانا چاہتا ہے کہ پیشینگوئی غلط پڑنی کچھ شان نبوت کے خلاف نہیں معاذ اللہ اگلے انبیاء میں بھی ایسا ہوتا ہے ۔ اینہم بزعم ملہم ١٢ ۔
نوح ن المرسلين ہ كذبت عاد ن المرسلين ہ كذبت ثمود ن المرسلين كذبت قوم لوط ن المرسلين ہ كذب اصحب لئيكة المرسلين
ائمہ کرام فرماتے ہیں جو نبی پر اس کی لائی ہوئی بات میں کذب جائز ہی نہ مانے اگرچہ وقوع نہ جانے باجماع کافر ہے نہ کہ معاذ اللہ چار سو انبیاء کا اپنے اخبار بالغیب میں کہ وہ ضرور اللہ ہی کی طرف سے ہوتا ہے واقع میں جھوٹا ہو جانا شفا شریف میں ہے :
من دان بالوحدانیہ وصحۃ النبوۃ ونبوہ نبینا صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم ولکن جوز علی الانبیاء الکذب فیما اتوا بہ ادعی فی ذلک المصلحۃ بزعمہ او لم یدعہا فہو کافر باجماع ۔
یعنی جو اللہ تعالیٰ کی وحدانیت نبوت کی حقانیت ہمارے نبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی نبوت کا اعتقاد رکھتا ہو با ایں ہمہ انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام پر اُن کی باتوں میں کذب جائز مانے خواہ بزعم خود اس میں کسی مصلحت کا ادعا کرے یا نہ کرے ہر طرح بالاتفاق کافر ہے ظالم نے چار سو کہہ کر گمان کیا کہ اُس نے باقی انبیاء کو تکذیب سے بچا لیا حالانکہ یہی آیتیں جو ابھی تلاوت کی گئی ہیں شہادت دے رہی ہیں کہ اُس نے آدم نبی اللہ سے محمد رسول اللہ تک تمام انبیائے کرام علیہم افضل الصلوۃ والسلام کو کاذب کہہ دیا کہ ایک رسول کی تکذیب تمام مرسلین کی تکذیب ہے۔ دیکھو قوم نوح و ہود و صالح و لوط و شعیب علیہم الصلوۃ والسلام نے اپنے ایک ہی ایک نبی کی تکذیب کی تھی مگر قرآن نے فرمایا ۔ قوم نوح نے سب رسولوں کی تکذیب کی۔ عاد نے کل پیغمبروں کو جھٹلایا ۔ ثمود نے جمیع انبیاء کو کاذب کہا ۔ قوم لوط نے تمام رسل کو جھوٹا بتایا ۔ ایکہ والوں نے سارے نبیوں کو دروغ گو کہا یوہیں واللہ اس قائل نے نہ صرف چار سو بلکہ جملہ انبیاء و مرسلین کو کذاب مانا ، فلعن اللہ من کذب احدا من انبیائہ و صلی اللہ تعالیٰ علی انبیائہ ورسلہ والمومنین بہم اجمعین وجعلنا منہم وحشرنا فیہم وادخلنا معہم دارالنعیم
بجاههم عنده وبرحمته بهم ورحمتهم بنا انه ارحم الراحمين والحمد لله رَبِّ العلمين طبرانی معجم کبیر میں ودیز حنفی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے راوی رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم فرماتے ہیں : اني اشهد عدد تراب الدنيا ان مسيلمة كذاب۔
بیشک میں ذرہ خاک تمام دنیا کی برابر گواہیاں دیتا ہوں کہ مسیلمہ (جس نے زما نہ اقدس میں ادعائے نبوت کیا تھا) کذاب ہے ۔ وانا اشہد معك یا رسول اللہ اور محمد رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی بارگاہ عالم پناہ کا یہ ادنیٰ کتا بصد دانہائے ریگ وستار ہائے آسمان گواہی دیتا ہے اور میرے ساتھ تمام ملائکہ سموات والارض وحاملانِ عرش گواہ ہیں اور خود عرش عظیم کا مالک ہے وکفیٰ باللہ شہیدا کہ ان اقوال مذکورہ کا قائل بیباک کافر مرتد کذاب ناپاک ہے۔ اگر یہ اقوال مرزا کی تحریروں میں اسی طرح ہیں تو واللہ واللہ وہ یقیناً کافر اور جو اس کے ان اقوال یا ان کے امثال پر مطلع ہو کر اُسے کافر نہ کہے وہ بھی کافر ندوہ مخذولہ اور اس کے اراکین کہ صرف توتے کی طرح کلمہ گوئی پر مدار اسلام رکھتے اور تمام بد دینوں گمراہوں کو حق پر جانتے خدا کو سب سے یکساں راضی مانتے سب مسلمانوں پر مذہب سے لا دعوے رہنا لازم کرتے ہیں جیسا کہ ندوہ کی روداد اوّل و دوم و رسالہ اتفاق وغیر ہا میں مصرح ہے ان اقوال پر بھی اپنا وہ ہی قاعدہ ملعونہ مجرد کلمہ گوئی نیچریت کا اعلیٰ نمونہ جاری رکھیں اس کی تکفیر میں چون و چرا کریں تو وہ بھی کافر وہ اراکین بھی کفار مرزا کے پیرو اگر چہ خود ان اقوال نجس الابوال کے معتقد بھی نہ ہوں مگر جب کہ صریح کفر و کھلے ارتداد دیکھتے سنتے پھر مرزا کو امام و پیشوا و مقبول خدا کہتے ہیں قطعاً یقیناً سب مرتد ہیں۔ سب مستحق نار ۔
١؎ یہ اقوال دوسرے کے منقول تھے اس فتوے کے بعد مرزا کی بعض نئی تحریریں جو نظر سے گزریں جن میں قطعی کفر بھرے ہیں ۔ بلاشبہ وہ یقیناً کافر مرتد ہے ١٢
شفا شریف میں ہے نکفر من لم یکفر من دان بغیر ملۃ المسلمین من الملل او وقف فیہم او شک ۔ یعنی ہم ہر اُس شخص کو کافر کہتے ہیں جو کافر کو کافر نہ کہے یا اس کی تکفیر میں توقف کرے یا شک رکھے۔ شفا شریف نیز بزازیہ و درر وغرر و فتاویٰ خیریہ و درمختار و مجمع الانہر وغیرہ میں ہے : من شک فی کفرہ وعذابہ فقد کفر جو اس کے کفر و عذاب میں شک کرے یقیناً خود کافر ہے۔ اور جو شخص با وصف کلمہ گوئی و ادعائے اسلام کفر بکے وہ کافروں کی سب سے بدتر قسم مرتد کے حکم میں ہے ۔ ہدایہ و درمختار و عالمگیری وغرر و ملتقی الابحر ومجمع الانہر وغیرہا میں ہے : صاحب الہوی ان کان یکفر فہو بمنزلۃ المرتد فتاویٰ ظہیریہ و طریقہ محمدیہ و حدیقہ ندیہ و برجندی شرح نقایہ و فتاویٰ ہندیہ میں ہے : ہؤلاء القوم خارجون عن ملۃ الاسلام واحکامہم احکام المرتدین یہ لوگ دین اسلام سے خارج ہیں اور ان کے احکام بعینہ مرتدین کے احکام ہیں۔ اور شوہر کے کفر کرتے ہی عورت نکاح سے فوراً نکل جاتی ہے۔ اب اگر بے اسلام لائے اپنے اُس قول و مذہب سے بغیر توبہ کیے یا بعد اسلام و توبہ عورت سے بغیر نکاح جدید کیے اُس سے قربت کرے زنائے محض ہو جو اولاد ہو یقیناً ولد الزنا ہو یہ احکام سب ظاہر اور تمام کتب میں دائر و سائر ہیں فی الدر المختار عن غنیۃ ذوی الاحکام ما يكون کفراً اتفاقاً یبطل العمل والنکاح واولادہ اولاد زنا اور عورت کا کل مہر اس کے ذمے عائد ہونے میں بھی شک نہیں جب کہ خلوت صحیحہ
ہوچکی ہو کہ ارتداد کسی دین کو ساقط نہیں کرتا ۔ فی التنویر وارث کسب اسلامه وارثه المسلم بعد قضاء دين اسلامه وكسب ردته فیء بعد قضاء دین ردته اور معجل تو فی الحال آپ ہی واجب الادا ہے رہا مؤجل وہ ہنوز اپنی اجل پر رہے گا مگر یہ کہ مرتد بحال ارتداد ہی مر جائے یا دارالحرب کو چلا جائے اور حاکم شرع حکم فرمائے کہ وہ دارالحرب سے ملحق ہوگیا اس وقت مؤجل بھی فی الحال واجب الادا ہو جائے گا اگرچہ اجل موعود میں دس بیس برس باقی ہوں۔ فی الدر ان حكم القاضي بلحاقه حل دينه في رد المحتار لانه باللحاق صار من اهل الحرب وهم اموات في حق احكام الاسلام فصار كالموت الا انه لا يستقر لحاقه الا بالقضاء لاحتمال العود واذا تقرر موته تثبت الاحكام المتعلقة به كما ذكر پھر اولاد صغار ضرور اس کے قبضے سے نکال لی جائے گی۔ حذراً علی دینہم الا تری انهم صرحوا بنزع الولد من الام الشفيقة المسلمة ان كانت فاسقة والولد يعقل يخشى عليه التخلق بسيرها الذميمة فما ظنك بالاب المرتد والعياذ بالله تعالىٰ قال في رد المحتار الفاجرة بمنزلة الكتابية فان الولد يبقى عندها الى ان يعقل الاديان كما سيأتى خوفاً عليه من تعلمه منها ما تفعله فكذا الفاجرة الخ وانت تعلم ان الولد لا يحضنه الاب الا بعد ما بلغ سبعا او تسعا وذلك عمر العقل قطعاً فيحرم الدفع اليه ويجب النزع منه وانما اخرجنا الى هذا ان الملك ليس بيد الاسلام والسلطان این یبقى لمرتد حتى يبحث عن حضانته
١ ؎ فان سلطان الاسلام مامور بقتله لا يجوز له ابقاءه بعد ثلثة ايام ١٢ منه
الا ترى الى قولهم لا حضانة لمرتدة لانها تضرب وتحبس كل يوم فانى تتفرغ للحضانة فاذا كان هذا فى المحبوس فما ظنك بالمقتول ولكن انا لله وانا اليه راجعون ولا حول ولا قوة الا بالله العلى العظيم مگر ان کے نفس یا مال میں بدعویٰ ولایت اس کے تصرفات موقوف رہیں گے اگر پھر اسلام لے آیا اور اس مذہب ملعون سے توبہ کی تو وہ تصرف سب صحیح ہو جائیں گے اور اگر مرتد ہی مر گیا یا دارالحرب چلا گیا اور حکم لحوق ہو گیا تو باطل ہو جائیں گے ۔ فی الدرالمختار يبطل منه اتفاقا ما يعتمد المساواة وهو المفاوضة او ولاية متعدية وهو التصرف على ولده الصغير ان اسلم نفذ و ان هلك او لحق بدار الحرب وحكم بلحاقه بطل اهـ مختصرا نسأل الله الثبات على الايمان وحسبنا الله ونعم الوكيل وعليه التكلان ولا حول ولا قوة الا بالله العلى العظيم وصلى الله تعالى على سيدنا ومولينا وآله وصحبه اجمعين امين والله تعالى اعلم
كتبه محمدی سنی حنفی قادری عبد المصطفےٰ احمد رضا خاں عبده المذنب احمد رضا خان البریلوی عفی عنہ بمحمد المصطفیٰ النبی الامی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم محمد وصی احمد سورتی
قادیانیت
عقیدۂ ختم نبوت، ناموس رسول
اور وحدت امت کے خلاف
ایک ھولناک سازش
علامہ محمد اقبالؒ
FC
○
ختم نبوت کے معنی یہ ہیں کہ کوئی شخص بعد اسلام اگر یہ دعویٰ کرے .... کہ مجھے الہام وغیرہ ہوتا ہے اور میری جماعت میں داخل نہ ہونے والا کافر ہے تو وہ شخص کاذب ہے اور واجب القتل، مسیلمہ کذاب کو اسی بناء پر قتل کیا گیا حالانکہ جیسا کہ طبری لکھتا ہے وہ حضور رسالتماب (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کی نبوت کا مصدق تھا اور اس کی اذان میں حضور رسالتماب (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کی نبوت کی تصدیق تھی۔
○
محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کے بعد کسی ایسے الہام کا امکان ہی نہیں ہے جس سے انکار کفر کو مستلزم ہو۔ جو شخص ایسے الہام کا دعویٰ کرتا ہے وہ اسلام سے غداری کرتا ہے۔ قادیانیوں کا اعتقاد ہے کہ تحریک احمدیت کا بانی ایسے الہام کا حامل تھا لہٰذا وہ تمام عالم اسلام کو کافر قرار دیتے ہیں۔ خود بانی احمدیت کا استدلال جو قرون وسطیٰ کے متکلمین کے لیے زیبا ہو سکتا ہے، یہ ہے کہ اگر کوئی دوسرا نبی نہ پیدا ہو سکے تو پیغمبر اسلام کی روحانیت نامکمل رہ جائے گی۔ وہ اپنے دعویٰ کے ثبوت میں کہ پیغمبر اسلام کی روحانیت میں پیغمبر خیز قوت تھی خود اپنی نبوت کو پیش کرتا ہے۔ لیکن آپ اس سے پھر دریافت کریں کہ محمد (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کی روحانیت ایک سے زیادہ نبی پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے تو اس کا جواب نفی میں ہے۔ یہ خیال اس بات کے برابر ہے کہ ۔۔۔ محمد ۔۔۔ (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) آخری نبی نہیں، میں آخری نبی ہوں۔
○
یہ ظاہر ہے کہ اسلام جو تمام جماعتوں کو ایک رسی میں پرونے کا دعویٰ رکھتا ہے ایسی تحریک
کے ساتھ کوئی ہمدردی نہیں رکھ سکتا جو اس کی موجودہ وحدت کے لیے خطرہ ہو اور مستقبل میں انسانی سوسائٹی کے لیے مزید افتراق کا باعث بنے۔
O
حکومت ، قادیانیوں کو (مسلمانوں سے) ایک الگ جماعت تسلیم کرلے۔ یہ قادیانیوں کی پالیسی کے عین مطابق ہو گا اور مسلمان ان سے ویسی ہی رواداری سے کام لے گا جیسی وہ باقی مذاہب کے معاملے میں اختیار کرتا ہے۔
O
اس قسم کے معاملات میں جو لوگ رواداری کا نام لیتے ہیں وہ لفظ رواداری کے استعمال میں غیر محتاط ہیں ....... رواداری کی روح ذہن انسانی کے مختلف نقاط نظر سے پیدا ہوتی ہے۔ گبن کہتا ہے کہ ایک رواداری فلسفی کی ہوتی ہے جس کے نزدیک تمام مذاہب یکساں طور پر صحیح ہیں ، ایک رواداری مورخ کی ہے جس کے نزدیک تمام مذاہب یکساں طور پر غلط ہیں ، ایک رواداری مدبر کی ہے جس کے نزدیک تمام مذاہب یکساں طور پر مفید ہیں ، ایک رواداری ایسے شخص کی ہے جو ہر قسم کے فکر و عمل کے طریقوں کو روا رکھتا ہے کیونکہ وہ ہر قسم کے فکر و عمل سے بے تعلق ہوتا ہے ، ایک رواداری کمزور آدمی کی ہے جو محض کمزوری کی وجہ سے ہر قسم کی ذلت کو جو اس کی محبوب اشیاء یا اشخاص پر کی جاتی ہے ، برداشت کر لیتا ہے ، یہ ایک بدیہی بات ہے کہ اس قسم کی رواداری اخلاقی قدر سے معرا ہوتی ہے۔ اس کے برعکس اس سے اس شخص کے روحانی افلاس کا اظہار ہوتا ہے جو ایسی رواداری کا مرتکب ہوتا ہے۔ حقیقی رواداری عقلی اور روحانی وسعت سے پیدا ہوتی ہے۔ یہ رواداری ایسے شخص کی ہوتی ہے جو روحانی حیثیت سے قوی ہوتا ہے اور اپنے مذہب کی سرحدوں کی حفاظت کرتے ہوئے دوسرے مذہب کو روا رکھتا ہے اور ان کی قدر کر سکتا ہے۔ ایک سچا مسلمان ہی اس قسم کی رواداری کی صلاحیت رکھتا ہے۔
O
نام نہاد تعلیم یافتہ مسلمانوں نے ختم نبوت کے تمدنی پہلو پر کبھی غور نہیں کیا اور مغربیت کی ہوا
نے انہیں حفظ نفس کے جذبہ سے بھی عاری کر دیا ہے۔ بعض ایسے ہی نام نہاد تعلیم یافتہ مسلمانوں نے اپنے مسلمان بھائیوں کو رواداری کا مشورہ دیا ہے۔ اگر سر ہربرٹ ایمرسن مسلمانوں کو رواداری کا مشورہ دیں تو میں انہیں معذور سمجھتا ہوں کیونکہ موجودہ زمانے کے فرنگی کے لیے جس نے بالکل مختلف تمدن میں پرورش پائی ہو اس کے لیے اتنی گہری نظر پیدا کرنی دشوار ہے کہ وہ ایک مختلف تمدن رکھنے والی جماعت کے اہم مسائل کو سمجھ سکے۔
O
اسلامی ایران میں موبدانہ اثر کے ماتحت ملحدانہ تحریکیں اٹھیں اور انہوں نے بروز، حلول اور ظل وغیرہ اصطلاحات وضع کیں تاکہ تناسخ کے اس تصور کو چھپا سکیں۔ ان اصطلاحات کا وضع کرنا اس لیے لازم تھا کہ وہ مسلم قلوب کو ناگوار نہ گزریں۔ حتیٰ کہ مسیح موعود کی اصطلاح بھی اسلامی نہیں بلکہ اجنبی ہے اور اس کا آغاز بھی اسی موبدانہ تصور میں ملتا ہے۔ یہ اصطلاح ہمیں اسلام کے دور اول کی تاریخ اور مذہبی ادب میں نہیں ملتی۔
O
اس سے قبل اسلامی موبدیت نے حال ہی میں جن دو صورتوں میں جنم لیا ہے، میرے نزدیک ان میں بہائیت، قادیانیت سے کہیں زیادہ مخلص ہے۔ کیونکہ وہ کھلے طور پر اسلام سے باغی ہے لیکن موخر الذکر اسلام کی چند نہایت اہم صورتوں کو ظاہری طور پر قائم رکھتی ہے لیکن باطنی طور پر اسلام کی روح اور مقاصد کے لیے مہلک ہے۔ اس کا حاسد خدا کا تصور کہ جس کے پاس دشمنوں کے لیے لاتعداد زلزلے اور بیماریاں ہوں۔ اس کا نبی کے متعلق نجومی کا تخیل اور اس کا روح مسیح کے تسلسل کا عقیدہ وغیرہ یہ تمام چیزیں اپنے اندر یہودیت کے اتنے عناصر رکھتی ہیں گویا یہ تحریک ہی یہودیت کی طرف رجوع ہے۔
O
اس پالیسی نے ہندوستان ایسے ملک پر بدقسمتی سے بہت برا اثر ڈالا ہے۔ جہاں تک اسلام کا تعلق ہے، یہ کہنا مبالغہ نہ ہو گا کہ مسلم جماعت کا استحکام اس سے کہیں کم ہے جتنا حضرت مسیح کے زمانے میں یہودی جماعت کا رومن کے ماتحت تھا۔ ہندوستان میں کوئی مذہبی شیرازہ بندی
اغراض کی خاطر ایک نئی جماعت کھڑی کر سکتا ہے اور یہ لبرل حکومت اصل جماعت کی وحدت کی ذرا بھر پروا نہیں کرتی بشرطیکہ یہ مدعی اسے اپنی اطاعت اور وفاداری کا یقین دلائے اور اس کے پیرو حکومت کے محصول ادا کرتے رہیں۔
ایک اور چیز بھی حکومت کی خاص توجہ کی محتاج ہے ۔ ہندوستان میں مذہبی مدعیوں کی حوصلہ افزائی کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ لوگ مذہب سے بالعموم بیزار ہونے لگتے ہیں اور بالآخر مذہب کے اہم عنصر کو اپنی زندگی سے علیحدہ کر دیتے ہیں۔ ہندوستانی دماغ ایسی صورت میں مذہب کی جگہ کوئی اور بدل پیدا کرے گا، جس کی شکل روس کی دہری مادیت سے ملتی جلتی ہوگی ۔
ہندوستان میں کوئی مذہبی فتنے باز اپنی اغراض کی خاطر ایک نئی جماعت کھڑی کر سکتا ہے اور یہ لبرل حکومت اصل جماعت کی وحدت کی ذرہ بھر پروا نہیں کرتی بشرطیکہ یہ مدعی اسے اپنی اطاعت اور وفاداری کا یقین دلادے اور اس کے پیرو حکومت کے محصول ادا کرتے رہیں۔
تحریک کے دو گروہوں کے باہمی نزاعات اس امر پر شاہد ہیں کہ خود ان لوگوں کو جو بانی تحریک کے ساتھ ذاتی رابطے رکھتے تھے، معلوم نہ تھا کہ تحریک آگے چل کر کس راستہ پر پڑ جائے گی۔ ذاتی طور پر میں اس تحریک سے اس وقت بیزار ہوا تھا جب ایک نئی نبوت ۔۔۔۔۔ بانی اسلام کی نبوت سے اعلیٰ تر نبوت ۔۔۔۔ کا دعویٰ کیا گیا۔ اور تمام مسلمانوں کو کافر قرار دیا گیا۔ بعد میں یہ بیزاری بغاوت کی حد تک پہنچ گئی جب میں نے تحریک کے ایک رکن کو اپنے کانوں سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق نازیبا کلمات کہتے سنا۔ درخت جڑ سے نہیں پھل سے پہچانا جاتا ہے۔ اگر میرے موجودہ رویہ میں کوئی تناقض ہے تو یہ بھی ایک زندہ اور سوچنے والے انسان کا حق ہے کہ وہ اپنی رائے بدل سکے۔ بقول ایمرسن صرف پتھر اپنے آپ کو نہیں جھٹلا سکتے ۔
O
میں اپنے ذہن میں اس امر کے متعلق کوئی شبہ نہیں پاتا کہ احمدی، اسلام اور ہندوستان دونوں کے غدار ہیں۔ حضرت علامہ کا اصل خط چونکہ انگریزی میں ہے اس لیے ہم اس مقام پر ان کی انگریزی عبارت بھی نقل کیے دیتے ہیں تاکہ قارئین حضرت علامہ کے مافی الضمیر کا صحیح صحیح اندازہ کر سکیں۔
"I have no doubt in my mind that the Ahmadis are traitors both to Islam and to India." (Thoughts and Reflections of Iqbal. Page 306. By Syed Adbul Wahid)
”اسٹیٹسمین“ کے جواب میں
میرے بیان مطبوعہ ١٤ مئی پر آپ نے تنقیدی اداریہ لکھا، اس کے لیے میں آپ کا ممنون ہوں۔ جو سوال آپ نے اپنے مضمون میں اٹھایا ہے وہ فی الواقعہ بہت اہم ہے اور مجھے مسرت ہے کہ آپ نے اس سوال کی اہمیت کو محسوس کیا ہے۔ میں نے اپنے بیان میں اسے نظر انداز کر دیا تھا کیونکہ میں سمجھتا ہوں کہ قادیانیوں کی تفریق کی پالیسی کے پیش نظر جو انہوں نے مذہبی اور معاشرتی معاملات میں ایک نئی نبوت کا اعلان کر کے اختیار کی ہے خود حکومت کا فرض ہے کہ وہ قادیانیوں اور مسلمانوں کے بنیادی اختلافات کا لحاظ رکھتے ہوئے آئینی اقدام اٹھائے اور اس کا انتظار نہ کرے کہ مسلمان کب مطالبہ کرتے ہیں اور مجھے اس احساس میں حکومت کے سکھوں کے متعلق رویہ سے اور بھی تقویت ملی۔ سکھ ١٩١٩ء تک آئینی طور پر علیحدہ سیاسی جماعت تصور نہیں کیے جاتے تھے لیکن اس کے بعد علیحدہ جماعت تسلیم کر لیے گئے حالانکہ انہوں نے کوئی مطالبہ نہیں کیا تھا بلکہ لاہور ہائی کورٹ نے فیصلہ کیا تھا کہ سکھ ہندو ہیں۔
اب چونکہ آپ نے یہ سوال کیا ہے۔ میں چاہتا ہوں کہ اس مسئلہ کے متعلق جو
برطانوی اور مسلم دونوں زاویہ نگاہ سے نہایت اہم ہے چند معروضات پیش کروں۔ آپ چاہتے ہیں کہ یہ واضح کروں کہ حکومت جب کسی جماعت کے مذہبی اختلافات کو تسلیم کرتی ہے تو میں اسے کس حد تک گوارا کر سکتا ہوں۔ سو عرض ہے کہ :
اولاً اسلام لازماً دینی جماعت ہے جس کے حدود مقرر ہیں۔ یعنی وحدت الوہیت پر ایمان، انبیاء پر ایمان اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ختم رسالت پر ایمان۔ دراصل یہ آخری یقین ہی وہ حقیقت ہے جو مسلم اور غیر مسلم کے درمیان وجہ امتیاز ہے کہ فرد یا گروہ ملت اسلامیہ میں شامل ہے یا نہیں؟ مثلاً برہمو خدا پر یقین رکھتے ہیں اور رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو خدا کا پیغمبر مانتے ہیں لیکن انہیں ملت اسلامیہ میں شمار نہیں کیا جا سکتا۔ کیونکہ قادیانیوں کی طرح وہ انبیاء کے ذریعہ وحی کے تسلسل پر ایمان رکھتے ہیں اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ختم نبوت کو نہیں مانتے۔ جہاں تک مجھے معلوم ہے کوئی اسلامی فرقہ اس حد فاصل کو عبور کرنے کی جسارت نہیں کر سکتا۔ ایران میں بہائیوں نے ختم نبوت کے اصول کو صریحاً جھٹلایا لیکن ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی تسلیم کیا کہ وہ الگ جماعت ہیں اور مسلمانوں میں شامل نہیں ہیں۔ ہمارا ایمان ہے کہ اسلام بحیثیت دین کے خدا کی طرف سے ظاہر ہوا لیکن اسلام بحیثیت سوسائٹی یا ملت کے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی شخصیت کا مرہون منت ہے۔ میری رائے میں قادیانیوں کے سامنے صرف دو راہیں ہیں، بہائیوں کی تقلید کریں اور ختم نبوت کے اصول کو صریحاً جھٹلا دیں یا پھر ختم نبوت کی تاویلوں کو چھوڑ کر اس اصول کو اس کے پورے مفہوم کے ساتھ قبول کر لیں۔ ان کی جدید تاویلیں محض اس غرض سے ہیں کہ ان کا شمار حلقہ اسلام میں ہو تاکہ انہیں سیاسی فوائد پہنچ سکیں۔
ثانیاً ہمیں قادیانیوں کی حکمت عملی اور دنیائے اسلام سے متعلق ان کے رویہ کو فراموش نہیں کرنا چاہیے۔ بانی تحریک نے ملت اسلامیہ کو سڑے ہوئے دودھ سے تشبیہ دی تھی اور اپنی جماعت کو تازہ دودھ سے اور اپنے مقلدین کو ملت اسلامیہ سے میل جول رکھنے سے اجتناب کا حکم دیا تھا۔ علاوہ بریں ان کا بنیادی اصولوں سے انکار اپنی جماعت کا نیا نام (احمدی)، مسلمانوں کی قیام نماز سے قطع تعلقی، نکاح وغیرہ کے معاملات میں مسلمانوں
سے بائیکاٹ اور سب سے بڑھ کر یہ اعلان کہ دنیائے اسلام کافر ہے، یہ تمام امور قادیانیوں کی علیحدگی پر دال ہیں بلکہ واقعہ یہ ہے کہ وہ اسلام سے اس سے کہیں دور ہیں، جتنے سکھ، ہندوؤں سے کیونکہ سکھ ہندوؤں سے باہمی شادیاں کرتے ہیں اگرچہ وہ مندروں میں پوجا نہیں کرتے۔
ثالثاً اس امر کو سمجھنے کے لیے کسی خاص ذہانت یا غور و فکر کی ضرورت نہیں ہے کہ جب قادیانی مذہبی اور معاشرتی معاملات میں علیحدگی کی پالیسی اختیار کرتے ہیں پھر وہ سیاسی طور پر مسلمانوں میں شامل رہنے کے لیے کیوں مضطرب ہیں؟ علاوہ سرکاری ملازمتوں کے فوائد کے ان کی موجودہ آبادی جو ٥٦٠٠٠ (چھپن ہزار) ہے انہیں کسی اسمبلی میں ایک نشست بھی نہیں دلا سکتی اور اس لیے انہیں سیاسی اقلیت کی حیثیت بھی نہیں مل سکتی۔ یہ واقعہ اس امر کا ثبوت ہے کہ قادیانیوں نے اپنی جداگانہ سیاسی حیثیت کا مطالبہ نہیں کیا کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ مجالس قانون ساز میں ان کی نمائندگی نہیں ہو سکتی۔ نئے دستور میں ایسی اقلیتوں کے تحفظ کا علیحدہ علیحدہ لحاظ رکھا گیا ہے لیکن میرے خیال میں قادیانی حکومت سے کبھی علیحدگی کا مطالبہ کرنے میں پہل نہیں کریں گے۔ ملت اسلامیہ کو اس مطالبہ کا پورا حق حاصل ہے کہ قادیانیوں کو علیحدہ کر دیا جائے۔ اگر حکومت نے یہ مطالبہ تسلیم نہ کیا تو مسلمانوں کو شک گزرے گا کہ حکومت اس نئے مذہب کی علیحدگی میں دیر کر رہی ہے کیونکہ وہ ابھی اس قابل نہیں کہ چوتھی جماعت کی حیثیت سے مسلمانوں کی برائے نام اکثریت کو ضرب پہنچا سکے۔
حکومت نے ١٩١٩ء میں سکھوں کی طرف سے علیحدگی کے مطالبہ کا انتظار نہ کیا اب وہ قادیانیوں سے ایسے مطالبہ کے لیے کیوں انتظار کر رہی ہے؟
O
یہ بات بھی بدیہی ہے کہ قادیانی نبی مسلمانان ہند کے سیاسی نفوذ کی ترقی سے ان کا یہ مقصد یقیناً فوت ہو جائے گا کہ پیغمبر عرب کی امت سے ہندوستانی پیغمبر کی ایک نئی امت تیار کریں۔ حیرت کی بات ہے کہ میری یہ کوشش کہ مسلمانان ہند کو اس امر سے متنبہ کروں کہ
ہندوستان کی تاریخ میں جس دور سے وہ گزر رہے ہیں، اس میں ان کا اندرونی استحکام کس قدر ضروری ہے اور ان انتشار انگیز قوتوں سے محترز رہنا کس قدر ناگزیر ہے جو اسلامی تحریکات کے بھیس میں پیش ہوتی ہیں، پنڈت جی کو یہ موقع دیتی ہے کہ ایسی تحریکوں سے ہمدردی کریں۔
جب میں بانی احمدیت کی نفسیات کا مطالعہ ان کے دعویٰ نبوت کی روشنی میں کرتا ہوں تو معلوم ہوتا ہے کہ وہ اپنے دعویٰ کے ثبوت میں پیغمبر اسلام کی تخلیقی قوت کو صرف ایک نبی یعنی تحریک احمدیت کے بانی کی پیدائش تک محدود کر کے پیغمبر اسلام کے آخری نبی ہونے سے انکار کر دیتا ہے۔ اس طرح یہ نیا پیغمبر چپکے سے اپنے روحانی مورث کی ختم نبوت پر متصرف ہو جاتا ہے۔
پس میرے خیال میں وہ تمام ایکٹر جنہوں نے احمدیت کے ڈرامہ میں حصہ لیا ہے، زوال اور انحطاط کے ہاتھوں میں محض سادہ لوح کٹھ پتلی بنے ہوئے تھے۔ ایران میں بھی اس قسم کا ایک ڈرامہ کھیلا گیا تھا لیکن اس میں نہ وہ سیاسی اور مذہبی امور پیدا ہوئے اور نہ ہو سکتے تھے جو احمدیت نے اسلام کے لیے ہندوستان میں پیدا کیے ہیں۔
قادیانی اعتراضات
اور مولانا عبدالشکور لکھنویؒ
کے جوابات
مولانا
عبدالشکور لکھنویؒ
پہلا اعتراض: قرآن مجید ظاہر کرتا ہے کہ ہر رسول پر اسی قوم کی زبان میں وحی آئی ہے جس کی طرف وہ بھیجا گیا ہے‘ اسی طرح یہ بھی کہا گیا ہے کہ قرآن عربی زبان میں اس لیے نازل ہوا ہے تاکہ مخاطب لوگ اس کو سمجھ سکیں۔ لہٰذا معلوم ہوا کہ قرآن اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم صرف عرب ہی کے لیے آئے تھے‘ اس لیے یہ دعویٰ کیوں کیا جاتا ہے کہ قرآن ساری دنیا کے لیے آیا ہے؟
ج: قرآن مجید میں مذکورہ مضمون صرف ان نبیوں کی بابت آیا ہے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے آئے تھے کیونکہ آپؐ سے پہلے کسی نبی کی نبوت ساری دنیا کے لیے نہیں ہوئی تھی۔ چنانچہ ہر نبی صرف ایک خاص قوم کے لیے ہوتا تھا اور اسی قوم کی زبان میں ان پر وحی اترتی تھی۔ اس قضیہ کو الٹ کر یہ نتیجہ نکالنا کہ جس نبی کی جو زبان ہو اس کی نبوت اسی قوم کے ساتھ مخصوص ہے‘ غلط ہے۔ قرآن عربی زبان میں اس لیے آیا ہے کہ سب سے پہلے اس کی روشنی عرب میں پھیلے اور پھر اس کے ذریعہ ساری دنیا منور ہو‘ چنانچہ قرآن مجید میں ارشاد باری ہوتا ہے:
لتکونوا شہداء علی الناس و یکون الرسول علیکم شہیدا۔ (سورۃ البقرۃ‘ ١٤٣)
”اے اہل عرب تم سب لوگوں کے سامنے گواہی دینے والے بنو اور رسول تمہارے سامنے گواہی دینے والے بنیں“۔
یہاں قرآن یہ صاف تصریح کر رہا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت اور قرآن کی ہدایت ساری دنیا کے لیے ہے‘ چنانچہ اس سلسلہ میں حسب ذیل آیتیں مزید اس کی شاہد ہیں:
قل یایہا الناس انی رسول اللہ الیکم جمیعا....... فامنوا باللہ ورسولہ النبی الامی۔ (سورۃ الاعراف)
”اے نبی کہہ دیجئے کہ میں تم سب کی طرف اللہ کا رسول ہوں۔ پس ایمان لاؤ‘ اللہ پر اور اس کے رسول ”نبی امی پر“
وما ارسلناک الا کافۃ للناس بشیرا ونذیرا (سورۃ سباء‘ ٢٨)
”اے نبی ہم نے آپ کو تمام لوگوں کے لیے خوشخبری سنانے والا اور ڈرانے والا بنا کر بھیجا ہے“۔
واوحی الی ھذا القران لانذرکم بہ ومن بلغ (سورۃ الانعام‘ ١٩)
”یہ قرآن مجھ پر وحی کیا گیا تاکہ میں تم کو اس کے ذریعہ سے ڈراؤں اور نیز ان تمام لوگوں کو (ڈراؤں) جن تک یہ قرآن پہنچ جائے“۔
تبارک الذی نزل الفرقان علی عبدہ یکون للعلمین نذیرا (سورۃ الفرقان‘ ١)
”برکت والا ہے وہ خدا جس نے اپنے بندوں پر قرآن اتارا تاکہ وہ تمام دنیا کے لیے ڈرانے والا ہے“
لہٰذا جب قرآن مجید کی یہ واضح تصریح ہے تو اس کے خلاف آیت کا مطلب لینا کیسے صحیح ہو سکتا ہے کیونکہ کسی کلام سے کوئی ایسا مفہوم استنباط کرنا جو اس کلام کے دوسرے حصہ کی تصریح کے خلاف ہو‘ یہ عقلاً بھی جائز نہیں ہے۔
دوسرا اعتراض: قرآن دوسرے مذاہب کے خدائی آغاز کو تسلیم کرتا ہے اور توریت کو نور و ہدایت کہتا ہے‘ اس لیے ایسی حالت میں اگر یہ وحیاں کامل تھیں تو کیوں منسوخ ہوئیں اور اگر کامل نہیں تھیں تو وہ لوگ کیوں کامل چیز سے محروم کیے گئے؟
ج: قرآن شریف نے بے شک یہ بیان کیا ہے کہ ہر قوم اور ہر ملک میں نبی آئے اور ہدایت اتری ہے مگر یہ کہیں نہیں بیان کیا گیا کہ دنیا کے موجودہ مذاہب بعینہ وہی ہیں جن کی تعلیم ان کے نبیوں نے دی تھی جبکہ اس کے برعکس یہ تصریح ضرور اکثر آیتوں میں ہے کہ انبیاء کی تعلیمات اور ان کی خدائی کتابوں میں ان نبیوں کے بعد بہت کچھ تحریف و ترمیم کر
دی گئی ہے۔ اس تحریف و ترمیم کا ثبوت تاریخی واقعات اور دوسرے دلائل سے بھی ہم کو ملتا ہے، لہٰذا یہ سمجھ لینا چاہیے کہ اگلی شریعتوں کے منسوخ ہونے کے دو اسباب ہیں، ایک یہ کہ وہ شریعتیں اصلی حالت پر باقی نہیں رہی تھی اور ان میں بہت کچھ تحریفات کر دی گئی تھیں ۔ دوسرے یہ کہ قرآن مجید دین کامل لے کر آیا ہے جبکہ اگلی شریعتیں بہ نسبت شریعت محمدیہ کے دین کامل لے کر نہیں آئی تھیں، جیسا کہ قرآن مجید میں ارشاد فرمایا ہے :
اليوم اكملت لكم دينكم - (سورہ المائدہ‘ ٣)
”آج میں نے تمہارا دین تمہارے لیے کامل کر دیا“۔
لہٰذا اگلی شریعتوں کی بہ نسبت شریعت محمدیہ کا مکمل ہونا اور مذکورہ بالا دوسری شریعتوں کے مسائل دیکھنے سے بھی بخوبی واضح ہو جاتا ہے۔
اب یہ کہنا کہ اگلی قومیں کیوں ایسے دین کامل سے محروم کی گئیں‘ یہ ایک بے جا اعتراض ہے۔ نظام عالم ہم کو بتلا رہا ہے کہ قانون قدرت یہی ہے کہ ترقی بتدریج ہوتی ہے‘ چنانچہ جب انسان پیدا ہوتا ہے تو وہ اس وقت کمزور ہوتا ہے کیونکہ بولنا‘ چلنا‘ پھرنا اور تمام وہ قوتیں جو انسان سے تعلق رکھتی ہیں۔ وہ بتدریج اس میں پیدا ہوتی ہیں اور ترقی کرتی ہیں۔ لہٰذا اس پر یہ اعتراض کرنا کہ پہلے ہی سب قوتیں انسان کو کیوں نہ مل گئیں اور بچے اس کمال سے کیوں محروم کیے گئے قانون فطرت پر اعتراض کرنا ہے۔
تیسرا اعتراض : بہائی لوگ کہتے ہیں کہ پیغمبری ختم نہیں ہوئی ہے‘ خدا نے حضرت آدمؑ سے وعدہ کیا تھا کہ ہم وقتاً فوقتاً پیغمبر بھیجتے رہیں گے‘ اس لیے بنی آدم میں ہمیشہ نبوت کا سلسلہ قائم رہنا چاہیے اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر نبوت ختم ہونے کا عقیدہ غلط ہے۔
ج : بہائی لوگوں کا‘ یا ان سے سیکھ کر مرزا غلام احمد قادیانی اور ان کے پیروؤں کا یہ کہنا کہ نبوت ختم نہیں ہوئی ہے‘ قرآن اور عقل دونوں کے خلاف ہے۔ قرآن واضح طور پر کہتا ہے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر نبوت ختم ہو گئی ہے۔
ما كان محمد ابا احد من رجالكم ولكن رسول الله وخاتم النبيين - (سورۃ الاحزاب‘ ٤٠)
”محمد صلی اللہ علیہ وسلم کسی مرد کے باپ نہیں ہیں بلکہ اللہ کے رسول اور خاتم الانبیاء ہیں“۔
قرآن مجید کی وہ آیات جن کا حوالہ اعتراض میں ہے، ان کا مطلب وہ نہیں ہے جو بہائی اور مرزائی بیان کرتے ہیں۔ بلکہ ان کا مفہوم صرف اس قدر ہے کہ خدا کی طرف سے نبی آئیں گے اور ہدایت آئے گی، کسی لفظ سے اشارتاً بھی یہ نہیں نکلتا کہ نبوت کبھی ختم نہیں ہوگی۔ یہ بات دوسرے اعتراض کے جواب میں بیان ہو چکی ہے کہ اگلی شریعتیں کیوں منسوخ ہوئی ہیں۔ چونکہ منسوخیت کی وہ وجہ شریعت محمدیہ میں نہیں ہے، اس لیے محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر نبوت کا ختم ہو جانا عقل کے بھی موافق ہے۔ اگلی شریعتیں دین کامل نہیں تھیں اور شریعت محمدیہ دین کامل ہے۔ اگلی شریعتوں میں تحریف ہو گئی تھی لیکن شریعت محمدیہ کے محفوظ رہنے کا خود خدا تعالیٰ ذمہ دار ہے۔
انا نحن نزلنا الذکر وانا لہ لحفظون۔ (سورۃ الحجر ٩) ”یہ نصیحت ہم نے اتاری ہے اور ہم خود (ہی) اس کے محافظ ہیں“۔
شریعت محمدیہ کا محفوظ رہنا ان سلسلہ اسانید کے علاوہ جو اہل اسلام کے پاس ہیں، تاریخی واقعات اور غیر مسلم اصحاب کی شہادت سے بھی بخوبی ظاہر ہے۔
چوتھا اعتراض: قرآن کسی خاص پیغمبر کی پیروی میں نجات کو منحصر نہیں کرتا، جیسا کہ دوسرے پارے کی آیت سے ظاہر ہے۔ لہٰذا صرف دین اسلام ہی قبول کرنے کی کیا ضرورت ہے؟
ج: کسی خاص پیغمبر کی پیروی میں نجات کا منحصر نہ ہونا صرف خواجہ کمال الدین ہی کا قول ہے ورنہ قرآن کی بہت سی آیتوں میں بیان ہوا ہے کہ نجات دین اسلام میں منحصر ہے:۔
ومن یبتغ غیر الاسلام دینا فلن یقبل منہ۔ (سورۃ آل عمران ٨٥) ”جو شخص اسلام کے سوا کوئی دوسرا دین اختیار کرے گا، تو وہ ہرگز اس سے قبول نہ کیا جائے گا“۔
دوسرے پارے کی وہ آیت جس کا حوالہ لائق معترض نے دیا ہے، اس کا مطلب انہوں نے صحیح بیان نہیں کیا ہے۔ اس آیت کا منشاء صرف اس قدر ہے کہ قرآن نجات کو کسی قوم کے ساتھ مخصوص نہیں بتاتا۔ جیسا کہ یہودیوں کا قول تھا: الذین امنوا اور نصاریٰ صابئین وغیرہ الفاظ مذہبی حیثیت سے متجاوز ہو کر قومیت کے معنی میں مستعمل
ہونے لگے تھے، لفظ ”عرب“ قومیت کے معنی میں مخصوص ہے مگر ”تمدن عرب“ کا مصنف مذہبی معنوں میں استعمال کرتا ہے۔ یعنی مسلمانوں کو خواہ کسی بھی قوم کے ہوں، وہ ”عرب“ کہتا ہے، اس لیے قرآن نے بتایا کہ جو شخص اسلام قبول کرے، خواہ وہ کسی قوم کا ہو، نجات کا حقدار ہے۔ اگر آیت کے وہ معنی لیے جائیں جو خواجہ کمال الدین کہتے ہیں تو معاذ اللہ یہ ایک مہمل کلام ہو جاتا۔ اس لیے کہ الذین امنوا کے ساتھ من امن کا لفظ کسی طرح نہیں لگ سکتا۔ یعنی ایمان والوں کے لیے یہ شرط لگانا کہ وہ ایمان لائیں، بے معنی ہے۔
دو اہم نکات
اس فرقہ کو احمدی کہنا گناہ ہے
مولانا لکھنوی فرماتے ہیں کہ مرزا کے ماننے والے اپنے کو ”احمدی“ لکھتے اور کہتے ہیں اور اکثر مسلمان بھی اپنی نادانی اور کم علمی کی بناء پر انہیں ”احمدی“ کہہ دیتے ہیں۔ حالانکہ ان کو احمدی کہنے میں تین گناہ ہیں:
- اول: احمدی کہنا گویا اس افترا کی تصدیق کرنا ہے جو وہ اپنی کتابوں میں لکھ گیا ہے کہ آیہ
کریمہ:
ومبشرا برسول یاتی من بعدی اسمه احمد۔ (سورۃ الصف ٦)
”اور میں بشارت سناتا ہوں کہ ایک پیغمبر جو میرے بعد آئیں گے، ان کا نام احمد ہو گا“۔
- دوم: ”احمدی“ کہنے میں اس امر کا شبہ ہوتا ہے کہ شاید یہ نسبت سید الانبیاء صلی اللہ
علیہ وسلم کے نام مبارک ”احمد“ کی طرف ہے، جبکہ ایسا بالکل نہیں ہے۔
- سوم: آج سے بہت پہلے لفظ ”احمدی“ امام ربانی مجدد الف ثانی حضرت شیخ احمد
سرہندیؒ کے متوسلین کا مخصوص لقب رہ چکا ہے، چنانچہ اس سلسلہ کے اکابر بطور شعار یہ لفظ اپنے نام کے ساتھ استعمال کیا کرتے تھے، جیسے (شاہ) غلام علی احمدی اور (شاہ) احمد سعید
احمدی وغیرہ، ان حضرات کی مہروں میں یہ نسبت اسی طرح کندہ تھی، اس لیے قادیانیوں کو احمدی کہنا گویا اکابر امت کے لیے ایک امتیازی لقب کا غصب کرنا ہے۔ (”صولت محمدیہ“
(ص ٢٠)
فرقہ غلمدیہ
اس فرقہ کا ایک مشہور نام مرزائی ہے۔ لیکن یہ لوگ اس نام سے چڑتے ہیں، حضرت مولانا سید محمد علی مونگیریؒ اس فرقہ کو ”جدید عیسائی“ کہا کرتے تھے، کیونکہ ان کا مقتدیٰ اپنے عیسیٰ ہونے کا مدعی تھا، لیکن حضرت مولانا عبد الشکور صاحب لکھنویؒ اس فرقہ کو ”غلمدی“ کہا کرتے تھے۔ غلام احمد نام میں دو جز ہیں اور دونوں کی طرف نسبت اس نام میں آگئی ہے۔ عربی قاعدہ کے مطابق بھی یہ طریق نسبت کثیر الاستعمال ہے جیسے عبد شمس سے عبشمی، عبد الدار سے عبدری اور عبد القیس سے عبقسی وغیرہ۔ علمی حلقوں میں یہ نام بہت مقبول ہوا تھا۔ حضرت مونگیریؒ نے بھی اس نام کو بہت پسند کیا تھا، چنانچہ ان کے متوسلین اس نام کو برابر اپنی مطبوعہ اور غیر مطبوعہ تحریروں میں استعمال کیا کرتے تھے۔
اعتراض یہ ہے:
- ١- حضرت عیسیٰؑ کی بعثت بنی اسرائیل کی طرف ہوئی تھی اور حضورؐ کی بعثت
سارے عالم کی طرف، اب اگر یہ عقیدہ رکھا جائے کہ حضرت عیسیٰؑ ہی مسیح موعود بن کر آئیں گے؟ اور کیا یہ عقیدہ حضورؐ کی اس خصوصیت (سارے عالم کے لیے نبی ہونا) کو نہیں توڑتا؟
- ٢- اگر ختم نبوت کا مطلب یہ ہے کہ حضورؐ کے بعد کوئی نبی نہ آئے، تو حضرت
عیسیٰؑ کا آنا کیا ختم نبوت کے منافی نہ ہوگا؟
- ٣- اس اعتبار سے خاتم النبیین حضرت عیسیٰ علیہ السلام ہوئے کیونکہ ان کے
بعد کوئی نبی نہ آئے گا، حضور صلی اللہ علیہ وسلم خاتم النبیین نہ ہوں گے، کیونکہ ان کے بعد حضرت عیسیٰ علیہ السلام آئیں گے۔ (دیکھئے، ”نزول المسیح“ ص ٥٣، از قاضی محمد نذیر)
اس اعتراض کا بہت ہی آسان اور سیدھا سادہ جواب ہے، جو اعتراض کی تینوں شقوں کو شامل ہے، جواب یہ ہے کہ حضورؐ کے بعد کوئی نبی نہ آنے کا مطلب یہ ہے کہ حضورؐ کے بعد کوئی نبی مبعوث نہ ہو گا۔ ظاہر ہے کہ حضرت عیسیٰؑ کا نزول، حضرت عیسیٰؑ کی بعثت نہ ہوگی۔ کیونکہ حضرت عیسیٰؑ تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے کئی سو سال پہلے مبعوث ہو چکے تھے اور جب بعثت نہ ہوئی تو یہ سوال ہی ختم ہو جاتا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام صرف بنی اسرائیل کے لیے نبی ہوں گے یا حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی طرح سارے عالم کے لیے۔ بعثت پر ہی دار و مدار تھا۔ عقیدہ ختم نبوت کا بھی، جب بعثت نہ ہوئی تو حضرت عیسیٰؑ کا نزول ختم نبوت کے منافی نہ ہوا۔ اس طرح خاتم النبیین حضور صلی اللہ علیہ وسلم ہی رہے نہ کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام، کیونکہ خاتم النبیین کا مطلب ہی یہی ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی نبی مبعوث نہ ہو اور ظاہر ہے کہ حضورؐ کے بعد کوئی نبی مبعوث نہ ہو گا۔
رہا یہ سوال کہ کیا ثبوت ہے کہ حضرتؑ کا نزول، بحیثیت بعثت نہ ہو گا، اس کا جواب ”مسلم شریف“ کی اسی زیر بحث روایت میں موجود ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے متعلق ارشاد فرمایا تھا:
وامکم منکم۔ ”اور وہ امامت کریں گے تمہاری، تمہیں میں سے“۔ یعنی تمہاری شریعت کے مطابق نماز پڑھائیں گے (نہ کہ اپنی شریعت کے مطابق)
اس روایت کے ایک راوی ابن ابی ذئب ہیں اور ان سے روایت کرنے والے ولید بن مسلم ہیں، ولید بن مسلم کہتے ہیں ابن ابی ذئب نے مجھ سے کہا ”اتدری ما امکم منکم۔ ”کیا تم جانتے ہو کہ حضرت عیسیٰؑ تمہاری کیا امامت کریں گے، تمہیں میں سے“؟ ولید بن مسلم نے کہا ”تخبرنی“ ”آپ ہی بتائیے“، انہوں نے کہا:
فامکم بکتاب ربکم عزوجل وسنۃ نبیکم صلی اللہ علیہ وسلم۔
”پس وہ تمہاری امامت کریں گے تمہارے رب عزوجل کی کتاب (قرآن) اور تمہارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کے مطابق“۔
(”مسلم“ ج١، ص٨٧، ”فتح الباری“ ج٦، ص٤٩٣، ”فتح الملہم“ ج٢، ص٣٠٢)
طبرانی میں عبداللہ بن مغفلؓ کی روایت میں ہے:
ینزل عیسیٰ بن مریم مصدقا بمحمد علی ملتہ۔ (”فتح الباری“ ج٦، ص٤٩١)
”عیسیٰ ابن مریمؑ اتریں گے، محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی تصدیق کرتے ہوئے ان کے مذہب پر“۔
نووی میں ہے:
ای ینزل حاکما بہذہ الشریعۃ لاینزل نبیا برسالۃ مستقلۃ وشریعۃ ناسخۃ بل ہو حاکم من حکام ہذہ الامۃ۔ (”نووی علی المسلم“ ج١، ص٨٧)
”حضرت عیسیٰ علیہ السلام اتریں گے، اسی شریعت کے مطابق، مستقل رسالت و شریعت لے کر نہیں آئیں گے کہ وہ ادیان باقیہ کے لیے ناسخ بن جائے بلکہ وہ اسی امت کے حکام میں سے ایک حاکم ہوں گے“۔
فتح الملہم میں ہے۔
قال الطیبی المعنی یؤمکم عیسیٰ حال کونہ فی دینکم۔ (ج٢، ص٣٠٣)
”طیبیؒ فرماتے ہیں یؤمکم کا مطلب یہ ہے کہ حضرت عیسیٰؑ تمہاری امامت کریں گے۔ ان کے ہونے کی حالت میں تمہارے دین پر“۔
مرقات المفاتیح میں ہے۔
ای یؤمکم عیسیٰ حال کونہ من دینکم۔ ((ج٥، ص٢٢٢)
”امامت کریں گے عیسیٰ ان کے ہونے کی حالت میں تمہارے دین پر“۔
ایک نکتہ!
ایک قابل غور نکتہ یہ بھی ہے کہ زیر بحث حدیث میں رسول اللہؐ نے امت محمدیہ کی خوش قسمتی اور نصیبہ وری کو بیان فرمایا ہے۔ كيف انتم اذ انزل ابن مريم فيكم وامامكم منكم (تم کتنے اچھے اور خوش قسمت ہو گے۔ جب تم میں حضرت عیسیٰؑ نازل ہوں گے، حال یہ کہ تمہارا امام تمہیں میں سے ہوگا)۔ اس خوش قسمتی کی دو ہی شکل ہو سکتی ہو، تیسری نہیں۔
- ١۔ حضرت عیسیٰؑ کے ہوتے ہوئے، امت محمدیہ کا یہ اعزاز ہو کہ امامت، امت کا
ہی کوئی فرد کرے۔
كيف حالكم وانتم مكرمون عند الله تعالی والحال ان عیسی ینزل فیكم وامامكم منكم و عیسی یقتدی بامامكم تكرمه لدینكم ویشهد له
الحدیث الاتی الخ۔ (مرقات المفاتیح، ج٥، ص٢٢٢)
”کیا حال ہوگا تمہارا (یعنی کتنے خوش قسمت ہو گے) اللہ تعالیٰ کے نزدیک بھی قابل اعزاز و اکرام ٹھہرو گے۔ حال یہ کہ عیسیٰ ابن مریم تم میں اتریں گے۔ اور تمہارا امام تمہیں میں سے ہوگا۔ اور عیسیٰؑ تمہارے امام کی اقتداء کریں گے تمہارے دین کے اعزاز کو ظاہر کرتے ہوئے اور اس کی تائید آنے والی حدیث (روایت جابرؓ بھی کرتی ہے)“۔
- ٢۔ امامت حضرت عیسیٰ نبینا وعلیہ السلام ہی کریں لیکن اپنی شریعت کے مطابق
نہیں، بلکہ امت محمدیہ کو عطا کردہ شریعت کے مطابق، جیسا کہ ابن ابی ذئب کی روایت سے پتہ چلا۔
دونوں میں جو مفہوم بھی لیا جائے، قادیانی حضرات کا یہ دعویٰ ثابت نہیں ہو سکتا کہ امامت کرنے والے عیسیٰ، امت محمدیہ میں سے ہوں گے، وہ عیسیٰ ابن مریم نہ ہوں گے۔ جن کے متعلق رفع الی السماء کا عقیدہ ہے۔
مذکورہ بالا بحث سے صاف ظاہر ہے کہ حضرت عیسیٰ‘ وہی حضرت عیسیٰ علی نبینا و علیہ السلام ہوں گے‘ جو زندہ آسمان پر اٹھا لیے گئے اور مہدی امت محمدیہ کے ایک فرد ہوں گے‘ جو نزول مسیح کے وقت موجود ہوں گے‘ لہٰذا دونوں ایک شخصیت نہیں‘ دو شخصیتیں ہیں۔
قادیانیت کا علمی احتساب
مولانا
لال حسین اختر
مرزائیوں نے ایک پمفلٹ "ختم نبوت اور بزرگان امت" پاکستان اور ہندوستان میں بہ تعداد کثیر تقسیم کیا ہے۔ پمفلٹ کیا ہے، دجل و فریب اور عبارات سلف کی قطع و برید کا ایک شاطرانہ مجموعہ ہے۔ انہوں نے یہ سمجھتے ہوئے کہ نہ ملک کی اکثریت علوم دین اور عربی زبان سے واقف ہے، نہ عوام کو تمام کتابیں میسر ہیں، نہ کتابیں تلاش کر کے مطالعہ کی فرصت ہے، نہ ہی وہ تمام مسلمان جن کے ہاتھوں میں کذب و افتراء کا یہ پلندہ پہنچے گا، علمائے اسلام سے ان عبارات کو سمجھنے کی کوشش کریں گے۔ ممکن ہے کہ بعض اشخاص اس سے متاثر ہو کر قادیانی نبوت کے گرویدہ ہو جائیں اور اس طرح چند مسلمانوں کو قادیانی نبوت کا حلقہ بگوش بنایا جا سکے۔ دراصل یہ پمفلٹ مودودی صاحب کے کتابچہ ختم نبوت کا ردعمل ہے۔ اس میں قادیانیوں کا روئے سخن مودودی صاحب کی طرف ہے۔ مرزائیوں نے مودودی صاحب کو متعدد بار چیلنج دیا ہے کہ ہمارے اس پمفلٹ کا جواب لکھئے۔ قادیانی پمفلٹ کو شائع ہوئے ایک سال سے زائد عرصہ گزر گیا ہے، مودودی صاحب نے خاموشی اختیار کر رکھی ہے۔ شاید وہ بزرگان امت پر قادیانیوں کے عائد کردہ افتراؤں کا جواب لکھنا اپنے لیے تضیع اوقات سمجھتے ہوں گے۔ متعدد دینی حلقوں نے عموماً اور جناب سردار محمد خاں صاحب لغاری رئیس اعظم چوٹی ضلع ڈیرہ غازی خاں نے خصوصاً ارشاد فرمایا کہ آپ اکابرین امت پر لگائے گئے بہتانات کا جواب شائع کریں تاکہ عامتہ المسلمین پر قادیانی تحریفات کی حقیقت واضح ہو جائے۔ ان مختصر اوراق میں اجمالی تبصرہ کیا جاتا ہے۔
ناقابل اعتبار روایت
مرزائی : سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم آیت خاتم النبیین کے نزول کے پانچ
سال بعد اپنے فرزند ارجمند حضرت ابراہیمؑ کی وفات پر فرماتے ہیں۔ لو عاش لکان صدیقا نبیا (”ابن ماجہ“ جلد ١‘ ص ٢٧٣‘ کتاب ”الجنائز“) اگر میرا بیٹا (ابراہیمؑ) زندہ رہتا تو ضرور صدیق نبی بنتا۔ گویا آیت خاتم النبیین صاحب زادہ ابراہیمؑ کے نبی بننے میں روک نہ تھی۔ محض ان کا وفات پا جانا ان کے نبی بننے میں روک تھا۔ (پمفلٹ مذکور ص ٣)
جواب : مرزائیوں نے ابن ماجہ سے یہ روایت نقل کی ہے۔ اسی کتاب میں اسی روایت کے حاشیہ پر لکھا ہے کہ
- (١) بعض محدثین نے اس کی صحت میں کلام کیا ہے۔
- (٢) لو عاش ابراہیم لکان نبیا قال النووی فی تہذیبہ ہذا الحدیث باطل
(”موضوعات کبیر“ ص ٥٨) امام نوویؒ فرماتے ہیں کہ ”اگر ابراہیم زندہ رہتا تو نبی ہوتا“ یہ باطل حدیث ہے۔
- (٣) قال ابن عبدالبر فی تمہیدہ لا ادری ما ہذا (”موضوعات کبیر“ ص ٥٨)
محدث اعظم حضرت علامہ ابن عبدالبر رحمۃ اللہ علیہ تمہید میں فرماتے ہیں کہ میں نہیں جانتا کہ یہ روایت کیا ہے؟
- (٤) شیخ عبدالحق صاحب محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ ”مدارج النبوت“ جلد
دوم‘ ص ٢٦٧ میں تحریر فرماتے ہیں کہ اس حدیث کی سند میں ابو شیبہ ابراہیم بن عثمان ہے‘ جو ضعیف ہے۔ اس راوی کے متعلق بلند پایہ محدثین کرام کے ارشادات ہیں۔
- (٥) ثقہ نہیں ہے۔ (حضرت امام احمد بن حنبلؒ‘ حضرت امام یحییٰؒ‘
حضرت امام داؤدؒ)
- (٦) منکر حدیث ہے۔ (حضرت امام ترمذیؒ)
- (٧) متروک الحدیث ہے۔ (حضرت امام نسائیؒ)
- (٨) اس کا اعتبار نہیں۔ (حضرت امام جوزجانیؒ)
- (٩) ضعیف الحدیث ہے۔ حضرت امام ابو حاتمؒ
- (١٠) ضعیف ہے۔ اس کی حدیث نہ لکھی جائے۔ اس نے حکم سے منکر حدیثیں
روایت کی ہیں۔ (”تہذیب التہذیب“ جلد اول، ص١٤٤-١٤٥) (مرزائیوں کی مندرجہ بالا نقل کردہ حدیث بھی حاکم ہی سے روایت ہے) یہ حال ہے اس روایت کی صحت کا، جس کو مرزائیوں نے اپنے باطل عقیدہ ”اجرائے نبوت“ کی توثیق کے لیے پیش کیا ہے۔
اس روایت میں حرف لو ہے، جو امتناع اور ناممکنات کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ جیسے باری تعالیٰ کا ارشاد ہے لو کان فیہما الھہ الا اللہ لفسدتا (انبیا نمبر ٢٢) اگر (زمین و آسمان) دونوں میں اللہ تعالیٰ کے سوا معبود ہوتا تو دونوں بگڑ جاتے۔ جیسے دو خدا نہیں ہو سکتے۔ اسی طرح حضرت ابراہیم رضی اللہ عنہ زندہ نہ رہ سکتے تھے اور نہ نبی ہو سکتے تھے۔
بہتان عظیم
مرزائیوں نے اس پمفلٹ میں بارہ اکابرین امت پر عظیم بہتان لگایا ہے کہ یہ حضرات معاذ اللہ مرزائیوں کی طرح امت محمدیہ میں غیر تشریعی نبوت کے اجراء کے قائل تھے۔ اپنے باطل عقیدہ کے اثبات کے لیے انہوں نے بزرگان دین کے چند اقوال نقل کیے ہیں کہ ”کوئی نبی شرع ناسخ لے کر نہیں آئے گا“، ”اب کوئی ایسا شخص نہیں ہوگا، جسے اللہ تعالیٰ لوگوں کے لیے شریعت دے کر مامور کرے۔ یعنی نئی شریعت لانے والا نبی نہ ہوگا“، ”آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد مجرد کسی نبی کا آنا محال نہیں، بلکہ نئی شریعت والا البتہ ممتنع ہے“۔
جن حضرات نے ایسی عبارات لکھی ہیں، ان کے پیش نظر تین امور تھے۔
- اول : حضرت مسیح علیہ السلام کا تشریف لانا، بظاہر آیت خاتم النبیین اور
حدیث لانبی بعدی کے منافی معلوم ہوتا ہے۔
- دوئم : حدیث لم یبق من النبوت الا المبشرات (نبوت سے سوائے
مبشرات کے کچھ باقی نہیں) میں نبوت کے ایک جز کو باقی کہا گیا ہے۔ یہ حدیث سطحی طور پر حدیث لانبی بعدی کے مخالف نظر آتی ہے۔
- سوم : بعض علماء صوفیاء کو وحی و الہام سے نوازا جاتا ہے، جس سے بادی
النظر میں ختم نبوت سے تعارض معلوم ہوتا ہے۔ ان تینوں امور کے متعلق حضرت شیخ محی الدین ابن عربی رحمۃ اللہ علیہ نے تحریر فرمایا ہے۔ امر اول کے متعلق فرماتے ہیں۔
وان عيسى عليه السلام اذا نزل ما یحکم الا بشریعۃ محمد اللہ علیہ وسلم
("فتوحات مکیہ" ج ١‘ باب ١٤‘ ص ١٥٠)
"اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام جب نازل ہوں گے تو وہ صرف حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہی کی شریعت کے مطابق فیصلہ کریں گے"۔
امر دوم کی تشریح ان الفاظ میں کی ہے۔
قالت عائشۃ اول ما بدی بہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم من الوحی الرؤیا فکان لا یری رویا الا خرجت مثل فلق الصبح وہی التی ابقی اللہ علی المسلمین وہی من اجزاء النبوۃ لما ارتفعت النبوۃ بالکلیہ ولہذا قلنا انما ارتفعت نبوہ التشریع فہذا معنی لانبی بعدہ
("فتوحات مکیہ" ج ٢‘ باب ٧٣‘ سوال ٢٥)
"ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ حضور سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کو وحی سے پہلے سچے خواب نظر آتے تھے۔ جو چیز حضور رات کو دیکھتے تھے، وہ خارج میں صبح روشن کی طرح آپ کو نظر آتی تھی اور یہ وہ چیز ہے، جو اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں پر باقی رکھی ہے۔ اور یہ خواب نبوت کے اجزاء میں سے ہے۔ پس اس اعتبار سے کلی طور پر نبوت ختم نہیں ہوئی اور اسی وجہ سے ہم نے کہا ہے۔ لانبی بعدی کا معنی یہ ہے کہ حضورؐ کے بعد نبوت تشریعی باقی نہیں کیونکہ رویاء صالحہ اور مبشرات باقی ہیں"۔
اس ارشاد سے یہ بات روز روشن کی طرح واضح ہو جاتی ہے کہ سچا خواب نبوت کا ایک جز ہے اور رویا صالحہ ہی غیر تشریعی نبوت ہے، جو امت محمدیہ میں جاری ہے اور حدیث لانبی بعدی کا یہ معنی ہے کہ حضورؐ کے بعد نبوت تشریعی باقی نہیں
اور غیر تشریعی نبوت یعنی رویا صالحہ اور مبشرات باقی ہیں اور یہ نبوت کا ایک جز ہے‘ نبوت نہیں۔
امر سوم کے متعلق تحریر فرماتے ہیں۔
فلا ولياء والا نبياء الخبر خاصہ ولا نبياء الشرائع والرسل الخبر والحكم (”فتوحات مکیہ“ ج٢‘ باب ١٥٨‘ ص ٢٥٧)
”انبیاء و اولیاء کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے الہام (خبر خاصہ) کے ذریعہ خصوصی خبر دی جاتی ہے اور انبیاء کے لیے تشریعی احکام نازل ہوتے ہیں اور رسول کے لیے خبر بھی ہوتی ہے اور دوسروں کو حکم کرنا بھی ہوتا ہے“۔
حضرت شیخ رحمۃ اللہ علیہ نے اس عبارت میں اولیاء اور انبیاء کو خبر اور وحی میں ظاہراً مشترک قرار دے کر شریعت کا اختصاص صرف انبیاء علیہم السلام کے لیے کیا ہے اور رسالت کا مقام اس سے بھی بلند بتایا ہے۔ ان پر تشریعی احکام بھی نازل ہوتے ہیں اور ان کا فرض منصبی دوسروں کو حکم کرنا بھی ہوتا ہے۔
حضرت شیخ اکبرؒ نے تو حیوانات کی فطرتی ہدایت کو بھی نبوت کا نام دیا ہے۔
وهذه النبوة ساريه فى الحيوان مثل قوله تعالى واوحى ربك الى النحل (”فتوحات مکیہ“ ج٢‘ باب ١٥٥‘ ص ٢٥٤)
”اور یہ نبوت حیوانات میں بھی جاری ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اور تیرے رب نے شہد کی مکھی کو وحی کی“۔
حضرت ابن عربیؒ گھوڑے‘ گدھے‘ بلی‘ چھپکلی‘ چوہے‘ چمگادڑ‘ الو اور شہد کی مکھی وغیرہ حیوانات میں بھی نبوت جاری تسلیم کرتے ہیں۔ کیا مرزائی ”قادیانی نبوت“ کو اسی قبیل سے سمجھتے ہیں؟
مندرجہ بالا اقتباسات سے یہ حقیقت صاف واضح ہو جاتی ہے کہ حضرت شیخ اکبرؒ تشریعی اور غیر تشریعی نبوت کا جو فرق بیان فرماتے ہیں‘ ان کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ حضور سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کسی کو نبوت و رسالت مل سکتی ہے لیکن تشریعی نہیں ہو سکتی بلکہ وہ تو یہ فرماتے ہیں کہ جو وحی نبی و رسول پر
نازل ہوتی ہے وہ تشریعی ہی ہوتی ہے اس میں اوامر و نواہی ہوتے ہیں۔ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کسی پر وحی تشریعی نازل نہ ہوگی، اس لیے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی نبی نہیں ہو سکتا۔ البتہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نبی اللہ نازل ہوں گے اور وہ بھی شریعت محمدیہ پر عمل کریں گے۔ نیز نبوت کا ایک جز مبشرات قیامت تک باقی ہے اور بعض خواص کو الہام اور وحی ولایت ہو سکتی ہے لیکن کسی پر نبی اور رسول کا لفظ ہرگز نہیں بولا جا سکتا۔ فرماتے ہیں:
کذالک اسم النبی زال بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لانہ زال التشریع المنزل من عند اللہ بالوحی بعدہ صلی اللہ علیہ وسلم
(”فتوحات مکیہ“ ج٢، ص٥٨‘ باب٧٣‘ سوال٢٥)
”اسی طرح سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد نبی کا لفظ کسی پر نہیں بولا جا سکتا کیونکہ آپؐ کے بعد وحی جو تشریعی صورت میں صرف نبی پر ہی آتی ہے۔ ہمیشہ کے لیے ختم ہوچکی ہے“۔
مطلب واضح ہے کہ نبی وہ ہوتا ہے جو تشریعی احکام لاتا ہے۔ حضور سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد احکام شرعیہ (اوامر و نواہی) کا نازل ہونا ممتنع اور محال ہے۔ اس لیے کسی پر لفظ نبی کا اطلاق نہیں ہو سکتا۔
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا پر بہتان عظیم
قادیانی اعتراض: ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا صحابہ کو مخاطب کر کے فرماتی ہیں۔ قولوا انہ خاتم الانبیاء ولا تقولوا لانبی بعدہ (”در منثور“ ج٥، ص٢٠٤‘ ”تکملہ مجمع البحار“ ص٨٥) کہ اے لوگو! آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو خاتم الانبیاء تو ضرور کہو۔ مگر یہ نہ کہو کہ آپ کے بعد کسی قسم کا نبی نہ آئے گا۔ کس لطیف انداز میں فرماتی ہیں کہ اے مسلمانو! کبھی لانبی بعدی کے الفاظ سے ٹھوکر نہ کھانا۔ خاتم النبیین کی طرف نگاہ رکھنا مگر یہ نہ کہنا کہ آپ کے بعد کوئی نبی نہیں۔ (پمفلٹ مذکور، ص٢ و ٣)
جواب : کتنا صریح جھوٹ اور بہتان عظیم ہے ام المومنین حضرت صدیقہ
رضی اللہ تعالیٰ عنہا پر کہ وہ ”فرماتی ہیں اے مسلمانو! کبھی لا نبی بعدی کے الفاظ سے ٹھوکر نہ کھانا۔ اگر امت مرزائیہ حضرت ام المومنین کے یہ الفاظ دنیا کی کسی کتاب سے دکھا دے تو ہم اسے ایک ہزار روپیہ نقد انعام دیں گے۔ اگر نہ دکھا سکے اور یقیناً کبھی نہ دکھا سکے گی تو یہ سمجھ لے کہ جھوٹے بہتان باندھنے والوں کے لیے اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے۔ لعنت اللہ علی الکاذبین۔
جملہ قولوا انہ خاتم الانبیاء ولا تقولوا لا نبی بعدہ کی حضرت ام المومنین کی طرف نسبت یہ ایسا قول ہے کہ دنیا کی کسی مستند کتاب میں اس کی سند نہیں۔ میں نے بیسیوں مناظروں میں قادیانی مبلغین کو انعامی چیلنج دیا کہ اگر حضرت صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا تک اس قول کی سند دکھا دو تو دس ہزار روپیہ انعام لو۔ کسی مرزائی مناظر کو ہمت نہیں ہوئی کہ میرے اس چیلنج کو منظور کر سکے۔
اگر بالفرض اس بے سند قول کو صحیح تسلیم کیا جائے تو اس سے مراد یہ ہوگی کہ نصوص قطعیہ کے پیش نظر حضرت مسیح علیہ السلام تشریف لائیں گے۔ اس لیے یہ نہ کہو کہ کوئی نبی آئے گا نہیں۔ ہاں حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو خاتم الانبیا کہو‘ جس کے معنی ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی نبی پیدا نہ ہوگا یا کوئی نیا نبی مبعوث نہ ہوگا۔
ختم نبوت کے متعلق حضرت ام المومنین رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا وہی عقیدہ ہے جو قرآن مجید‘ احادیث نبوی‘ اجماع صحابہ اور اجماع امت سے ثابت ہے کہ حضور سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم پر نبوت ختم ہے۔ آپ نے فرمایا۔
عن عائشۃؓ ان النبی صلی اللہ علیہ وسلم قال لا یبقی بعدی من النبوۃ شئی الا المبشرات قالوا یا رسول اللہ ما المبشرات قال الرؤیا الصالحہ یراھا الرجل او تری لہ (”مسند احمد“ ج٦‘ ص١٢٩ ”کنز العمال“)
”حضرت صدیقہ فرماتی ہیں کہ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میرے بعد نبوت سے کچھ بھی باقی نہیں۔ ہاں صرف مبشرات باقی رہ گئے ہیں۔ صحابہ نے عرض کیا یا رسول اللہ مبشرات کیا چیز ہے؟ حضور
نے فرمایا کہ اچھے خواب ہیں۔ آدمی خود ان کو دیکھتا ہے یا اس کے حق میں کوئی دوسرا آدمی دیکھتا ہے“۔
حضرت امام محمد طاہر رحمۃ اللہ علیہ کے متعلق فریب
مرزائی اعتراض : حضرت امام صاحب مصنف ”مجمع البحار“ لکھتے ہیں یعنی حضرت عائشہ نے جو یہ فرمایا کہ اے مسلمانو! تم آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق خاتم النبیین کے الفاظ تو بے شک استعمال کیا کرو لیکن لا نبی بعدہ کے الفاظ استعمال نہ کیا کرو۔ یہ بات لا نبی بعدی کے مخالف نہیں کیونکہ لا نبی بعدی فرمانے سے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد یہ ہے کہ آپ کے بعد کوئی ایسا نبی نہیں آسکتا، جو آپ کی شریعت کو منسوخ کرے۔ (”تکملہ مجمع البحار“ ص٨٥)
جواب : دنیا میں سب سے بڑا دھوکا باز وہ شخص ہے، جو دین و مذہب کے متعلق فریب دے کر لوگوں کو گمراہ کرنے کی کوشش کرے۔ شاید موجودہ دور میں مذہبی دھوکا دہی مرزائیوں کے لیے الاٹ ہو چکی ہے۔ اس لیے انہوں نے مکمل عبارت درج نہیں کی، بلکہ ماقبل اور مابعد کو چھوڑ کر ایک جملہ، جسے انہوں نے اپنے لیے مفید سمجھا، نقل کر دیا۔ ہم پوری عبارت نقل کرتے ہیں تاکہ عامۃ المسلمین پر قادیانیوں کی خیانت واضح ہو جائے۔
وفی حدیث عیسی انہ یقتل الخنزیر و یکسر الصلیب و یزید فی الحلال ای یزید فی حلال نفسہ بان یتزوج و یولد لہ و کان لم یتزوج قبل رفعہ الی السماء فزاد بعد الہبوط فی الحلال فحینئذ یومن کل احد من اھل الکتب بتیقن بانہ بشر و عن عائشۃ قولوا انہ خاتم الانبیاء ولا تقولوا لا نبی بعدہ وھذا ناظرا الی نزول عیسی و ھذا ایضا لا ینافی حدیث لا نبی بعدی لانہ اراد لا نبی ینسخ شرعہ۔ (”تکملہ مجمع البحار“ ص٨٥)
”اور حدیث میں ہے کہ نزول کے بعد عیسیٰ علیہ السلام خنزیر کو قتل کریں گے اور صلیب کو توڑیں گے اور حلال چیزوں میں زیادتی کریں گے یعنی نکاح کریں گے اور ان کی اولاد ہوگی۔ آسمان پر جانے سے پہلے انہوں
نے نکاح نہ کیا تھا۔ ان کے آسمان سے اترنے کے بعد حلال میں اضافہ ہوگا۔ (اولاد ہوگی) اس زمانہ میں ہر ایک اہل کتاب ان پر ایمان لائے گا کہ یقیناً یہ بشر رسول ہیں اور حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو خاتم الانبیاء کہو اور یہ نہ کہو کہ آپ کے بعد کوئی نبی آنے والا نہیں۔ یہ صدیقہؓ کا فرمان لا تقولوا لا نبی بعدہ اس بات کے مدنظر ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام آسمان سے نازل ہوں گے اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا نزول حدیث لا نبی بعدی کے مخالف نہیں اس لیے کہ حدیث کا مطلب یہ ہے کہ کوئی ایسا نبی نہیں آئے گا جو حضور کے دین کا ناسخ ہو"۔
واضح رہے کہ اگر لا تقولوا لا نبی بعدہ ام المومنینؓ کا مقولہ ثابت ہو جائے تو اس کا مفہوم یہ ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام کا آسمان سے نزول ہوگا۔ ان کا تشریف لانا حدیث لا نبی بعدی کے خلاف نہیں۔ اس لیے کہ حدیث کا مطلب یہ ہے کہ کوئی ایسا نبی نہیں آ سکتا جو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے دین کو منسوخ کر دے اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے دین کی اشاعت کے لیے تشریف لائیں گے نہ کہ اسلامی تعلیمات کو منسوخ کرنے کے لیے۔
حضرت محی الدین ابن عربی رحمتہ اللہ علیہ پر افتراء
مرزائی اعتراض: تصوف کے امام حضرت ابن عربی لکھتے ہیں (ترجمہ) وہ نبوت جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے آنے سے ختم ہوئی ہے، وہ صرف شریعت والی نبوت ہے نہ کہ مقام نبوت پس اب ایسی شریعت نہیں آسکتی، جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی شریعت کو منسوخ قرار دے یا آپ کی شریعت میں کوئی حکم زائد کرے۔ یہی معنی اس حدیث کے ہیں کہ ان الرسالۃ والنبوۃ قد انقطعت کہ اب رسالت اور نبوت منقطع ہو گئی ہے۔ میرے بعد نہ رسول ہے، نہ نبی۔ یعنی کوئی ایسا نبی نہیں ہوگا، جو ایسی شریعت پر ہو، جو میری شریعت کے خلاف ہو، بلکہ جب کبھی نبی آئے گا تو وہ میری شریعت کے تابع ہوگا۔" ("فتوحات مکیہ" ج ٢، ص ٣) مرزائی ٹریکٹ، ص ٣)
جواب: ہم اوپر اسی کتاب "فتوحات مکیہ" سے چند عبارات نقل کر چکے ہیں کہ جن سے روز روشن کی طرح ظاہر ہے کہ حضرت شیخ محی الدین ابن عربی رحمتہ اللہ علیہ کی تحقیق اور عقیدہ یہ تھا کہ نبی وہ ہوتا ہے جو شریعت لاتا ہے۔ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی شریعت نہیں لائے گا اور نہ کسی کے متعلق لفظ نبی استعمال کیا جائے گا۔ وہ ولایت، الہام اور مبشرات کو امت میں جاری مانتے ہیں اور اسی کو غیر تشریعی نبوت کے نام سے موسوم کرتے ہیں۔ وہ حضرت مسیح علیہ السلام کے آسمان سے نزول کے قائل ہیں۔ آمد ثانی کے بعد حضرت مسیح پر کسی نئے اوامر و نواہی کا نزول نہیں مانتے۔ ان کا عقیدہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے برگزیدہ نبی حضرت عیسیٰ علیہ السلام حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے امتی کی حیثیت سے تشریف لائیں گے۔ وہ شریعت محمدیہؐ کو منسوخ نہ کریں گے بلکہ اسی شریعت کی متابعت کریں گے۔
حیرت اور ہزار حیرت ہے امت مرزائیہ پر کہ ان کے قادیانی نبی نے حضرت محی الدین ابن عربی رحمتہ اللہ علیہ اور وحدت الوجود کا عقیدہ رکھنے والوں پر کافر ملحد اور زندیق کا فتویٰ لگایا ہے۔ (وحدت وجود پر مرزا قادیانی کا ایک خط بنام میر عباس علی) لیکن مرزائی ہیں کہ اپنے نبی کی نبوت ثابت کرنے کے لیے معاذ اللہ اسی ملحد اور زندیق کی پناہ لے رہے ہیں۔ ان کے اس طرز استدلال پر ارسطو کی روح بھی پھڑک اٹھی ہوگی۔
حضرت مولانا جلال الدین رومی رحمتہ اللہ علیہ کی نسبت دھوکا
مرزائی اعتراض: مثنوی میں مولانا روم فرماتے ہیں۔
کہ نیکی کی راہ میں خدمت کی ایسی تدبیر کر کہ تجھے امت کے اندر نبوت مل جائے
(مثنوی مولانا روم، دفتر اول، ص ٥٣)
جواب: مثنوی شریف کے اس شعر کے کسی لفظ کا معنی نہیں کہ حضور سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد اللہ تعالیٰ کسی کو نبی مبعوث کرے گا۔ اس شعر کا
مفہوم یہ ہے کہ نیک اعمال کے لیے کوشش کرنے سے مومن کو فیضان نبوت سے نوازا جاتا ہے۔ کیونکہ نبوت کسبی نہیں، بلکہ وہبی ہے۔ حضرت مولانا تو ہر متبع سنت پیر و مرشد کو مجازاً نبی کہتے ہیں۔
آں نبی وقت باشند اے مرید تا از او نور نبی آید پدید
در حقیقت علیم و خبیر اللہ تعالیٰ کی صفات ہیں۔ پیر کو مجازاً علیم و خبیر فرمایا ہے کیونکہ پیر مرید کے احوال و مقامات سے باخبر ہوتا ہے۔ دوسرے شعر کا مفہوم ہے کہ پیر اپنے مرید کے لیے بمنزلہ نبی ہوتا ہے کیونکہ مرید کو پیر کی وساطت سے فیض نبوت حاصل ہوتا ہے۔
حضرت مولانا روم رحمۃ اللہ علیہ نے بیسیوں مقامات پر ختم نبوت کا اعلان کیا ہے۔ مرزائیوں کی آنکھوں پر تعصب کی پٹی بندھی ہے۔ اس لیے انہیں مثنوی شریف میں ختم نبوت کے اشعار نظر نہیں آتے۔ مشتے نمونہ از خروارے مختلف مقامات کے چند اشعار درج ذیل ہیں۔
سکہ شاہاں ہمی گردد دگر سکہ احمد ببیں تا مستقر
یا رسول اللہ رسالت را تمام تو نمودی ہم چو شمس بے غمام
ایں ہمہ انکار کفراں زایشان چوں در آمد سید آخر الزمان
مرزائی پمفلٹ میں مثنوی شریف کے اور تین شعر نقل کئے ہیں، جن کا اجرائے نبوت کے باطل عقیدہ سے اتنا تعلق بھی نہیں، جتنا کہ مرزا غلام احمد قادیانی کا محمدی بیگم کے آسمانی نکاح سے تھا۔ مثلاً:
مثل او نے بود نے خواہند بود
مرزائی ترجمہ : یعنی آپؐ خاتم اس لیے ہوئے کہ آپ بے مثل ہیں۔ فیض روحانی کی بخشش میں۔ آپ جیسا نہ کوئی پہلے ہوا اور نہ آئندہ آپ جیسے ہوں
گے ۔ (ٹریکٹ ص ٣)
جواب : اس شعر کو ”اجرائے نبوت“ سے کیا تعلق؟ اس میں تو حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے فضائل و کمالات اور روحانی فیوض کا تذکرہ ہے۔ یہ قادیانیوں کا محض افتراء ہے کہ حضرت مولانا روم رحمۃ اللہ علیہ حضور رسالت ماب صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد ”اجرائے نبوت“ کے قائل تھے، جس کا کوئی ثبوت وہ پیش نہیں کر سکے۔
حضرت امام عبدالوہاب شعرانی رحمۃ اللہ علیہ پر افتراء
مرزائی اعتراض : امام شعرانی فرماتے ہیں۔ (ترجمہ) کہ یاد رکھو کہ مطلق نبوت نہیں اٹھی اور صرف شریعت والی نبوت بند ہوئی ہے۔ (”الیواقیت و الجواہر“ ج ٢‘ ص ٢)
جواب : حضرت امام شعرانی رحمۃ اللہ علیہ پر افتراء ہے کہ وہ حضور سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد مرزائیوں کی طرح غیر تشریعی نبوت کے اجراء کے قائل تھے۔ امام شعرانیؒ نے تشریعی اور غیر تشریعی نبوت کی تقسیم انہیں تین امور کے پیش نظر کی ہے۔ جن کا ذکر ہم نے حضرت شیخ اکبرؒ کے حوالہ جات سے کر دیا ہے۔ آپ فرماتے ہیں:
وكذالك عیسی علیه السلام اذ انزل الى الارض لا يحكم فينا الا بشریعۃ نبینا صلی اللہ علیہ وسلم (”الیواقیت و الجواہر“ ج ٢‘ ص ٣٨)
”اسی طرح جب حضرت عیسیٰ علیہ السلام زمین پر نازل ہوں گے تو ہمارے نبی حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کی شریعت کے مطابق فیصلہ کریں گے“۔
صاف الفاظ ہیں کہ آسمان سے نازل ہونے کے بعد حضرت مسیح علیہ السلام جدید شریعت نہیں لائیں گے بلکہ شریعت محمدیہ علیٰ صاحبہا الصلوٰۃ والسلام پر عمل پیرا ہوں گے۔ حضرت امام شعرانی حضرت شیخ اکبر محی الدین ابن عربی کا قول نقل فرماتے ہیں:
وهذا باب اغلق بعد موت محمد صلی اللہ علیہ وسلم فلا يفتح لا حد الى يوم القيامه ولكن بقى للاولياء وحى الا لهام الذى لا تشريع فيه (”اليواقيت و الجواہر“ ج٢‘ ص٣٧)
”اور یہ (نزول وحی نبوت کا) دروازہ حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد بند ہوچکا ہے اور قیامت تک کسی کے لیے نہیں کھل سکتا۔ لیکن اولیاء کے لیے وحی الہام ہوتی رہے گی‘ جس میں شرعی احکام نہ ہوں گے“۔
اس عبارت نے قطعی فیصلہ کر دیا کہ حضرت محی الدین ابن عربی اور امام شعرانی دونوں حضرات کا عقیدہ ہے کہ حضور سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد وحی نبوت بند ہو چکی ہے ہاں اولیاء اللہ کو الہام ہوتے ہیں‘ جن میں شرعی احکام یعنی اوامر و نواہی نہیں ہوتے‘ ان الہامات کو مبشرات کہا گیا ہے ان پر نبوت کا اطلاق نہیں ہوتا۔
امام شعرانی نے عقیدہ ختم نبوت کا اظہار فرمایا ہے اعلم ان الا جماع قد انعقد علی انہ صلی اللہ علیہ وسلم خاتم المرسلین کما انہ خاتم النبیین (”اليواقيت و الجواہر“ ج٢‘ ص٣٧) ”جان لے کہ اس عقیدہ پر امت کا اجماع منعقد ہے کہ حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جس طرح رسولوں کے ختم کرنے والے ہیں اسی طرح نبیوں کے بھی خاتم ہیں“۔
حضرت مولانا عبدالکریم جیلانی رحمۃ اللہ علیہ پر اتہام
قادیانی اعتراض : حضرت امام عبدالوہاب شعرانی فرماتے ہیں (ترجمہ) آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد نبوت تشریعی بند ہو گئی اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم خاتم النبیین قرار پا گئے کیونکہ آپ ایسی کامل شریعت لائے جو اور کوئی نبی نہ لایا۔ (”الانسان کامل“ ج١‘ ص٩٨‘ مطبوعہ مصر)
جواب : حضرت محی الدین ابن عربی اور حضرت امام شعرانی کی طرح حضرت عبدالکریم جیلانی کا بھی یہی عقیدہ تھا کہ نبی وہ ہوتا ہے جس پر وحی تشریعی نازل ہو
اور وحی تشریعی حضور رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کسی پر نازل نہ ہوگی۔ انہوں نے کہیں نہیں لکھا کہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے بعد امت میں نئے نبی مبعوث ہوں گے۔ مرزائیوں میں ہمت ہے تو ان کی کوئی عبارت پیش کریں لیکن تمام امت مرزائیہ دم واپسیں تک ایسی کوئی عبارت پیش نہ کر سکے گی۔
حضرت شاہ ولی اللہ صاحب محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ پر بہتان
مرزائیوں نے حضرت شاہ صاحب رحمۃ اللہ علیہ پر بھی یہ بہتان تراشا ہے کہ آپ بھی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد اجرائے نبوت کا عقیدہ رکھتے تھے۔ اس افتراء کا حقیقی جواب تو لعنت اللہ علی الکاذبین ہی ہے۔ تفہیمات کے الفاظ میں کس لفظ کا معنی ہے کہ حضور سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کی امت میں نبی مبعوث ہوں گے؟ حضرت کے الفاظ ”اب کوئی ایسا شخص نہیں ہو گا جسے اللہ تعالیٰ لوگوں کے لیے شریعت دے کر مامور کرے“ تشریعی اور غیر تشریعی کا فرق انہیں تین وجوہ کی بنا پر ہے، جو ہم تحریر کر چکے ہیں۔ ختم نبوت کے متعلق حضرت شاہ صاحب نے تحریر فرمایا ہے:
- (١) نیست محمد پدر ہیچ کس از مردمان شما و لیکن پیغمبر خدا است و مہر پیغمبران یعنی
بعد از وے ہیچ پیغمبر نباشد۔“ (فتح الرحمان زیر آیت خاتم النبیین)
ترجمہ : حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم تمہارے مردوں میں سے کسی کے باپ نہیں لیکن خدا تعالیٰ کے پیغمبر ہیں اور پیغمبروں پر مہر یعنی حضور کے بعد کوئی نبی نہ ہوگا۔
- (٢) اقول فالنبوۃ انقضت بوفاۃ النبی صلی اللہ علیہ وسلم
(”حجۃ اللہ البالغہ“ ج ٢، ص ٥٠٦)
”میں کہتا ہوں حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات سے نبوت کا خاتمہ ہو گیا۔
- (٣) واعلم ان الدجاجلۃ دون الدجال الاکبر کثیرۃ ویجمعہم
امر واحد و ہو انہم یذکرون اسم اللہ و یدعون الناس الیہ الی ان
فمنهم من يدعى النبوة (”تفہیمات الٰہیہ“ ج ٢‘ ص ١٩)
”جان لو کہ دجال اکبر سے پہلے بہت سے دجال آئیں گے اور سب میں یہ امر مشترک ہوگا کہ اللہ تعالیٰ کا نام لے کر لوگوں کو اس کی طرف دعوت دیں گے۔ ان دجالوں میں سے وہ دجال بھی ہوں گے جو نبوت کا دعویٰ کریں گے“۔
مرزائیوں کے قلوب میں اگر ذرہ بھر بھی خوف خدا اور انصاف ہو تو انہیں سمجھ لینا چاہیے کہ حضرت شاہ ولی اللہ صاحب محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ (جنہیں مرزائی بارہویں صدی کا مجدد مانتے ہیں) حضور رسالت ماب صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد اجرائے نبوت کے قائل تھے یا تمام مدعیان نبوت کو دجالوں کا گروہ قرار دیتے تھے؟
حضرت مجدد الف ثانی رحمۃ اللہ علیہ پر بہتان
مرزائی اعتراض: حضرت مجدد الف ثانی فرماتے ہیں۔ (ترجمہ) خاتم الرسل علیہ الصلوٰۃ والسلام کے مبعوث ہونے کے بعد خاص متبعین آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو بطور وراثت کمالات نبوت کا حاصل ہونا آپؐ کے خاتم الرسل ہونے کے منافی نہیں ہے۔ یہ بات درست ہے اس میں شک مت کرو۔ (مکتوب نمبر ٣٠١‘ ص ٤٢٢‘ جلد اول‘ ”مکتوبات امام ربانی رحمۃ اللہ علیہ)
جواب: کہاں مرزائیوں کا ”اجرائے نبوت“ جیسا باطل عقیدہ اور کہاں حضرت مجدد کے حقائق و معارف۔ حضرت کی مندرجہ بالا عبارت کے کن الفاظ کا مفہوم ہے کہ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کسی کو نبوت مل سکتی ہے؟ عبارت کا مطلب تو یہ ہے کہ حضورؐ کی کامل اطاعت کرنے والوں کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے کمالات نبوت عطا کئے جاتے ہیں نہ کہ انہیں نبی بنا دیا جاتا ہے۔ امت کے ذی شان افراد کو کون سے کمالات سے نوازا جاتا ہے؟ حضرت مجددؒ تحریر فرماتے ہیں۔
”مثل قلت حساب و کفارت زلات بشریت و ارتفاع درجات و مراعات صحبت فرشتہ مرسل کہ از اکل و شرب پاک است و کثرت ظہور خوارق کہ مناسب مقام
نبوت اند امثال آں باید دانست کہ حصول دین موہبت در حق انبیاء علیہم الصلوۃ والتسلیمات بے توسط است۔ در حق اصحاب انبیاء علیہم الصلوۃ التحیات کہ بہ تبعیت و وراثت بایں دولت مشرف گشتہ اند بتوسط انبیاء است علیہم الصلوۃ والبرکات۔“
(مکتوب نمبر ٢٠٢ حصہ پنجم، ص ١٤٢، ١٤٣)
مرزائیوں کو کون سمجھائے کہ حضرت مجدد رحمتہ اللہ علیہ کے ارشاد کے پیش نظر حساب میں آسانی، معمولی لغزشوں کی معافی، درجات کی بلندی، ملا ئکہ سے ملاقات اور کثرت ظہور خوارق ایسے کمالات نبوت حضور علیہ الصلوۃ والسلام کے وسیلہ سے امت محمدیہ کے برگزیدہ افراد کو عطا کئے جاتے ہیں۔ یہ چند فضائل و کمالات اجزائے نبوت ہیں اور چند کمالات نبوت کے حصول سے نبوت نہیں مل جاتی۔ شجاعت، سخاوت وغیرہ صفات حسنہ بھی کمالات نبوت ہیں۔ کیا ہر شجاع اور ہر سخی مسلمان نبی بن جاتا ہے؟
حضرت والا اپنے عقیدہ کا اظہار ان الفاظ مبارکہ میں فرماتے ہیں:
حضرت عیسیٰ علیٰ نبینا و علیہ الصلوۃ والسلام کہ از آسمان نزول خواہد فرمود متابعت شریعت خاتم الرسل خواہد نمود علیہ و علیہم الصلوۃ والتسلیمات“ (مکتوب نمبر ١٧ دفتر سوم، ج ثالث، ص ٣٥)
ترجمہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام آسمان سے نازل ہوں گے تو آخری رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی شریعت کی متابعت کا شرف حاصل کریں گے۔
”اول انبیاء حضرت آدم است علی نبینا وعلیہ و علیہم الصلوۃ والتسلیمات و التحیات و آخر شان و خاتم نبوت شان حضرت محمد رسول اللہ است علیہ و علیہم الصلوۃ والتسلیمات۔ (مکتوبات دفتر سوم، مکتوب نمبر ١٧، ص ٣٥)
ترجمہ سب سے پہلے نبی حضرت آدم علیہ السلام اور نبیوں میں سب سے آخر اور ان کی نبوت کو ختم کرنے والے حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔
صاف الفاظ ہیں کہ سب سے پہلے حضرت آدم علیہ السلام نبی مبعوث ہوئے اور سب نبیوں کے بعد حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت ہوئی۔ اس لیے
حضورؐ آخری نبی ہیں۔
حضرت نواب صدیق حسن خاں رحمتہ اللہ علیہ پر افتراء
مرزائی اعتراض : حضرت نواب صاحب فرماتے ہیں لا نبی بعدی آیا ہے جس کے معنی نزدیک اہل علم کے یہ ہیں کہ میرے بعد کوئی نبی شرع ناسخ (یعنی پہلی شریعت منسوخ کر کے نئی شریعت) لے کر نہیں آئے گا۔" ("اقتراب الساعۃ"
ص ١٦٢)
جواب : حضرت نواب صاحب رحمتہ اللہ علیہ کے متعلق اتہام ہے کہ وہ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد ”اجرائے نبوت“ کا عقیدہ رکھتے تھے۔ ان کی کسی کتاب میں اس خلاف اسلام نظریہ کا شائبہ تک نہیں۔ لا نبی بعدی کے مفہوم میں ”کوئی نبی شرع ناسخ لے کر نہیں آئے گا۔“ اس لیے کہا گیا کہ حضرت مسیح علیہ السلام بعد از نزول نئی شریعت لا کر شریعت اسلامیہ کو منسوخ نہ کریں گے بلکہ خود اسی شریعت کی متابعت کریں گے۔
ان کا اپنا عقیدہ ان کے اپنے الفاظ میں یہ ہے۔
ہمارے حضرت خاتم النبیینؐ ہیں اور ناسخ جملہ شرائع ما قبل۔ آپؐ کے بعد کوئی نبی نہ ہوگا۔ آپؐ اللہ کے بندے اور اس کے رسول اور صفی ہیں۔
اول انبیاء آدم علیہ السلام ہیں اور آخر انبیاء محمد صلی اللہ علیہ وسلم"۔ ("عقیدۃ السنی" مصنفہ حضرت نواب صدیق حسن خاں‘ ص١٥‘ ١٦)
حضرت مولانا عبدالحی صاحب لکھنوی رحمتہ اللہ علیہ پر بہتان
مرزائی اعتراض : ”مولانا عبدالحی صاحب فرماتے ہیں۔ بعد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے یا زمانے میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے مجرد کسی نبی کا آنا محال نہیں بلکہ نئی شریعت والا البتہ ممتنع ہے۔“ (دافع الوسواس فی اثر ابن عباس نیا ایڈیشن‘ ص١٦)
جواب : حضرت عبداللہ ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے ایک حدیث
مروی ہے جس کا مضمون یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے سات زمینیں پیدا کی ہیں اور ہر زمین میں انبیاء علیہم السلام مبعوث ہوئے۔ ایک گروہ اس حدیث کو قابل اعتبار نہیں سمجھتا دوسرا گروہ اسے صحیح و معتبر مانتا ہے۔
حضرت مولانا محمد قاسم صاحب نانوتوی بانی دارالعلوم دیوبند اور حضرت مولانا عبدالحی صاحب لکھنوی اس دوسرے گروہ میں شامل ہیں اس حدیث کی تحقیق و تشریح کے سلسلہ میں حضرت نانوتوی رحمۃ اللہ علیہ نے تحذیر الناس" اور حضرت مولانا عبدالحی صاحب لکھنوی رحمۃ اللہ علیہ نے آیات بینات علی وجود الانبیاء فی الطبقات" اور دافع الوسواس فی اثر ابن عباسؓ" اردو زبان میں اور زجر الناس علی انکار اثر ابن عباسؓ" عربی میں تحریر فرمائی ہیں۔ اختصار کے پیش نظر ہم حضرت مولانا عبدالحی صاحب کی ایک عبارت نقل کرتے ہیں۔
"پس اس امر کا اعتقاد کرنا چاہئے کہ خواتم طبقات باقیہ بعد عصر نبویہ نہیں ہوئے یا قبل ہوئے یا ہم عصر اور بر تقدیر اتحاد عصر وہ متبع شریعت محمدیہ ہوں گے اور ختم ان کا بہ نسبت اپنے حلقہ کے اضافی ہوگا اور ختم ہمارے حضرت کا عام ہوگا۔" (فتویٰ مولانا عبدالحی صاحب لکھنوی ملحقہ "تحذیر الناس" ص ٤٤)
حضرت کا مفہوم یہ ہے۔ کہ سات زمینیں ہیں اور ہر زمین میں ایک آخری نبی ہوگا۔ لیکن باقی چھ زمینوں میں سے ہر زمین کے آخری نبی حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد نہیں ہو سکتے۔" اگر حضورؐ کے زمانہ کے قبل ہوں تو جائے اعتراض نہیں اور اگر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ہم عصر ہوں تو ان تمام کی خاتمیت اپنی زمین اور اپنے طبقہ کے لحاظ سے اضافی ہوگی اور حضور سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کی خاتمیت ان سب کے بعد اور حقیقی ہوگی اور وہ حضورؐ ہی کی شریعت کے متبع ہوں گے۔ رہا یہ ارشاد کہ "بعد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے یا زمانے میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے مجرد کسی نبی کا آنا محال نہیں بلکہ نئی شریعت والا البتہ ممتنع ہے" یہ نزول حضرت مسیح علیہ السلام کے پیش نظر فرمایا ہے۔ حضرت مسیح حضور
علیہ الصلوٰۃ والسلام کے بعد نازل ہوں گے کوئی نئی شریعت نہ لائیں گے بلکہ حضور ہی کی شریعت پر عمل پیرا ہوں گے۔
حضرت مولانا عبدالحی صاحب عقیدہ ختم نبوت کے متعلق اپنے ایک فتویٰ میں حضرت علامہ ابو شکور سالمی کی مندرجہ ذیل عبارت نقل فرماتے ہیں۔
اعلم ان الواجب علی کل عاقل ان یعتقد ان محمداً کان رسول اللہ والان ہو رسول اللہ وکان خاتم الانبیاء ولا یجوز بعدہ ان یکون احد انبیاء ومن ادعی النبوۃ فی زماننا یکون کافراً۔ (”فتاویٰ مولانا عبدالحی لکھنوی“ جلد اول‘ ص٩٩)
جاننا چاہئے کہ ہر عاقل پر واجب ہے کہ یہ اعتقاد رکھے کہ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ کے رسول تھے اور اب بھی رسول ہیں اور آپ تمام نبیوں کو ختم کرنے والے ہیں آپؐ کے بعد کسی کا نبی بننا جائز نہیں اور جو آج ہمارے زمانہ میں نبوت کا دعویٰ کرے وہ کافر ہے۔
حضرت مولانا محمد قاسم صاحب نانوتوی رحمتہ اللہ علیہ پر افتراء
مرزائی اعتراض۔ حضرت مولانا محمد قاسم صاحب نانوتوی بانی مدرسہ دیو بند فرماتے ہیں۔
- (الف) ”سو عوام کے خیال میں تو رسول اللہ صلعم کا خاتم ہونا بایں معنی ہے کہ
آپ کا زمانہ انبیاء سابق کے زمانہ کے بعد اور آپ سب میں آخری نبی ہیں مگر اہل فہم پر روشن ہوگا۔ کہ تقدم و تاخر زمانی میں بالذات کچھ فضیلت نہیں پھر مقام مدح میں ولکن رسول اللہ و خاتم النبین فرمانا اس صورت میں کیوں کر صحیح ہو سکتا ہے۔“ (”تحذیر الناس“ ص ٣)
- (ب) ”اگر بالفرض بعد زمانہ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم بھی کوئی نبی پیدا ہو تو پھر
بھی خاتمیت محمدی میں کچھ فرق نہ آئے گا۔ (”تحذیر الناس“ ص ٢٨)
جواب۔ قادیانیوں کا حضرت نانوتوی رحمتہ اللہ علیہ پر بہت بڑا اتہام ہے کہ وہ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد اجرائے نبوت“ کے مقر تھے۔ حضرت والا
نے کتاب تحذیر الناس ختم نبوت کے اثبات کے لیے لکھی اور اس میں ختم نبوت کے ناقابل تردید دلائل پیش کئے۔ اس کا موضوع ہی خاتمیت ذاتی و زمانی و مکانی کی حمایت و حفاظت ہے۔ تحذیر الناس کے صفحہ ٣ کی عبارت کو ہم عام فہم الفاظ میں پیش کرتے ہیں۔
خاتمیت کی تین اقسام ہیں (١) خاتمیت مرتبی (٢) خاتمیت مکانی (٣) خاتمیت زمانی‘ حضرت نانوتوی نے لکھا ہے کہ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم خاتمیت کے تینوں مرتبوں کے ساتھ متصف ہیں۔ لیکن قابل غور یہ امر ہے کہ خاتمیت کے ان تینوں مراتب میں دلائل و براہین کے لحاظ سے اعلیٰ اور افضل یا بالفاظ دیگر بالذات و بالاصالت کون سا مرتبہ ہے؟ عوام تو یہ خیال کرتے ہیں کہ چونکہ حضورؐ کا زمانہ سب انبیاء سے آخر تھا۔ صرف اس وجہ سے آپؐ خاتم الانبیا ہیں۔ اگر یہی ایک وجہ ہو تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا شرف و مجد زمانہ اور مکان کی وجہ سے ہوا حضورؐ کی وجہ سے زمان و مکان کا شرف نہ ہوا حالانکہ تقدم و تاخر زمانی میں بالذات کوئی فضیلت نہیں پھر مقام مدح میں ولکن رسول اللہ و خاتم النبیین فرمانا کس طرح صحیح ہو سکتا ہے؟ اس لحاظ سے ثابت ہوگا کہ حضور کی جلالت شان اور رفیع منزلت ذات کے مناسب حال بالذات خاتمیت مرتبی ہے اور اس اعلیٰ و افضل مرتبہ کے ساتھ خاتمیت زمانی بھی آپؐ کے لیے ثابت ہے اور خاتمیت مکانی بھی آپؐ پر ختم ہے۔
مرزائی محرفین نے اپنی روایتی چالبازی سے دھوکہ اور فریب دینے کے لیے ”تحذیر الناس“ کے صفحہ ٢٨ سے محولہ بالا ادھورا حوالہ نقل کر دیا۔ اگر وہ پوری عبارت نقل کر دیتے تو ان کی فریب دہی کا پردہ چاک ہو جاتا اور ان کے ٹریکٹ کے قارئین کو علم ہو جاتا کہ حضرت نانوتوی رحمتہ اللہ علیہ کا ارشاد کیا ہے۔ پوری عبارت یہ ہے۔
”ہاں اگر خاتمیت بمعنی اتصاف ذاتی بوصف نبوت لیجئے جیسا اس ہیچمدان نے عرض کیا ہے تو پھر سوا رسول اللہ صلعم اور کسی کو افراد مقصود بالخلق میں سے مماثل
نبوی صلعم نہیں کہہ سکتے بلکہ اس صورت میں فقط انبیا کے افراد خارجی پر آپ کی فضیلت ثابت نہ ہوگی افراد مقدرہ پر بھی آپ کی افضلیت ثابت ہو جائے گی بلکہ اگر بالفرض بعد زمانہ نبوی صلعم بھی کوئی نبی پیدا ہو تو پھر بھی خاتمیت محمدی میں کچھ فرق نہ آئے گا چہ جائے کہ آپ کے معاصر کسی اور زمین میں یا فرض کیجئے اسی زمین میں کوئی اور نبی تجویز کیا جائے بالجملہ ثبوت اثر مذکور منافی ثبوت خاتمیت ہے۔ معارض و مخالف خاتم النبیین نہیں۔" (تحذیر الناس ص ٢٨)
اس سے ظاہر ہے کہ یہاں خاتمیت ذاتی کا ذکر ہے خاتمیت زمانی کا نہیں۔ حضرت فرماتے ہیں اگر بالفرض حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں یا آپ کے بعد اور کوئی نبی ہو تب بھی آپ کی اس خاتمیت ذاتی میں کچھ فرق نہیں آئے گا۔ رہی خاتمیت زمانی اس کا یہاں کوئی ذکر نہیں اگر کوئی بدفہم اسکا مطلب یہ سمجھے کہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے بعد اور نبی ہو سکتے ہیں تو حضرت نانوتوی رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک وہ کافر ہوگا اسی تحذیر الناس میں حضرت تحریر فرماتے ہیں "سو اگر اطلاق اور عموم ہے تب تو ثبوت خاتمیت زمانی ظاہر ہے۔ ورنہ تسلیم لزوم خاتمیت زمانی بدلالت التزامی ضرور ثابت ہے۔ ادھر تصریحات نبوی مثل انت منی بمنزلہ ہارون من موسیٰ الا انہ لا نبی بعدی او کما قال جو بظاہر بطرز مذکور اسی لفظ خاتم النبیین سے ماخوذ ہے۔ اس باب میں کافی ہے کیونکہ یہ مضمون درجہ تواتر کو پہنچ گیا ہے پھر اس پر اجماع بھی منعقد ہوگیا گو الفاظ مذکور بسند متواتر منقول نہ ہوں۔ سو یہ عدم تواتر الفاظ باوجود تواتر معنوی یہاں ایسا ہی ہوگا جیسا تواتر اعداد رکعات فرائض و وتر وغیرہ باوجودیکہ الفاظ حدیث مشعر تعداد رکعات متواتر نہیں جیسا اس کا منکر کافر ہے۔ ایسا ہی اس کا منکر بھی (ختم نبوت زمانی) کافر ہوگا۔" (تحذیر الناس ص ١٠)
کس قدر واضح الفاظ ہیں کہ خاتمیت زمانی کا منکر ایسا ہی کافر ہے جیسا کہ دوسری ضروریات دین اور قطعیات دین کا منکر کافر ہے۔
اس عبارت میں حضرت رحمۃ اللہ علیہ نے فرضی اور تقدیری طور پر اگر کا لفظ استعمال فرمایا ہے اور اس مفروضہ کے لیے لفظ اگر پر ہی اکتفا نہیں کیا بلکہ لفظ
بالفرض ساتھ ملا کر بیان کیا ہے۔ تاکہ کسی مفسد کو دھوکا دینے کا موقع نہ مل سکے۔ اگر کوئی جاہل کہے کہ ایسے مفروضہ کی کیا ضرورت تھی تو اسے باری تعالیٰ کا ارشاد سنا دینا چاہئے۔ قل ان كان للرحمن ولد فانا اول العابدين (زخرف نمبر ٨١)
اے نبی آپ کہہ دیجئے اگر بالفرض خدا تعالیٰ کا بیٹا ہو تو میں سب سے پہلے اس کی عبادت کرنے والوں میں ہوں گا۔
حضرت شاہ ولی اللہ صاحب محدث دہلوی رحمتہ اللہ علیہ اس آیت کا فارسی ترجمہ کرتے ہیں۔
”بگو اگر بالفرض باشد خدارا فرزندے پس من نخستین عبادت کنندگان باشم“
مرزائی منطق کی رو سے اس آیت سے ثابت ہوگا کہ خدا تعالیٰ کا بیٹا ہونا ممکن ہے اور حضور سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کا خدا تعالیٰ کے اس مفروض بیٹے کی عبادت کرنا بھی ممکن ہوگا (معاذ اللہ) کیا اس آیت کا یہی مفہوم ہے؟ ایک معمولی عقل والا آدمی بھی سمجھ سکتا ہے کہ یہ فرضی اور تقدیری بات ہے نہ یہ کہ اس سے اللہ تعالیٰ کا بیٹا تسلیم کیا جائے یا اسکے امکان پر اس آیت کو دلیل بنا کر لوگوں کو مغالطہ دیا جائے۔
حضرت نانوتوی رحمتہ اللہ علیہ نے ختم نبوت کے متعلق اپنے عقیدہ کا اظہار فرمایا ہے۔
- ١۔ خاتمیت زمانی اپنا دین و ایمان ہے۔ ناحق کی تہمت کا البتہ کچھ
علاج نہیں“ (”مناظرہ عجیبہ“ مصنفہ حضرت نانوتویؒ ص ٣٩)
- ٢۔ ”اپنا دین و ایمان ہے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کسی اور
نبی کے ہونے کا احتمال نہیں جو اس میں تامل کرے اس کو کافر سمجھتا ہوں۔“ (”مناظرہ عجیبہ“ ص ١٠٣)
حضرت ملا علی قاری رحمتہ اللہ علیہ پر اتہام
مرزائی اعتراض۔ جلیل القدر امام حضرت ملا علی قاری فرماتے ہیں۔ یعنی اگر صاحب زادہ ابراہیمؓ زندہ رہتے اور نبی ہو جاتے اور اسی طرح حضرت عمرؓ نبی بن
جاتے تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے متبع یا امتی نبی ہوتے جیسے عیسیٰ، خضر، الیاس علیہم السلام ہیں اور یہ صورت خاتم النبیین کے خلاف نہیں ہے۔ کیونکہ خاتم النبیین کے تو یہ معنی ہیں کہ اب حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد ایسا نبی نہیں آ سکتا جو آپ کی شریعت کو منسوخ کرے اور آپ کا امتی نہ ہو۔" ("موضوعات کبیر" ص ٥٩)
جواب۔ اس حدیث کے ضعف کے متعلق ہم بلند پایہ محدثین کے اقوال نقل کر چکے ہیں۔ اس مجروح روایت میں حرف لو آیا ہے جو زبان عرب میں ناممکنات اور محالات کے لیے آتا ہے۔ قرآن حکیم میں اللہ تعالیٰ نے اٹھارہ پیغمبروں کا نام لے کر اور باقی انبیاء علیہم السلام کا اجمالاً ذکر کر کے فرمایا۔
ولو اشركوا لحبط عنهم ما كانوا يعملون ("سورہ انعام" آیت ٨٨) اگر یہ پیغمبر بھی شرک کا ارتکاب کرتے تو ان کے تمام اعمال برباد ہو جاتے۔
اس آیت میں تعلیق بالمحال ہے یعنی حرف لو سے یہ مسئلہ فرضی طور پر بیان کیا گیا ہے کہ بالفرض اگر نبی بھی اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی اور کو شریک ٹھہراتے تو ان کے تمام اعمال اکارت اور ضائع ہو جاتے۔ کیا مرزائیوں کے مذہب میں اس سے یہ استدلال صحیح ہو گا کہ نبیوں سے بھی شرک ہو سکتا ہے؟ نعوذ باللہ منہ۔
حضرت ملا علی قاریؒ مندرجہ بالا عبارت کی تشریح کرتے ہیں۔
لا يحدث بعدہ نبی لانہ خاتم النبیین السابقین وفیہ ایماء الی انہ لو کان بعدہ نبی لکان علیا وھو لا ينافی ما ورد فی حق عمرؓ صریحا لان الحکم فرضی فکانہ قال لو تصور بعدی لکان جماعۃ من اصحابی انبیاء ولکن لا نبی بعدی و ھذا معنی قولہ صلی اللہ علیہ وسلم لو عاش ابراھیم لکان نبیا ("مرقات" مصنفہ ملا علی قاریؒ ج پنجم، ص ٥٦٤)
ترجمہ۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کسی کو نبوت نہیں مل سکتی کیونکہ آپ پہلے نبیوں کے ختم کرنے والے ہیں۔ اگر آپ کے بعد کوئی نبی ہو سکتا تو حضرت علی رضی اللہ عنہ نبی ہوتے اور یہ حدیث اور اسی طرح
وہ حدیث جو صراحت کے ساتھ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے بارے میں آئی ہے۔ خاتم النبیین کی آیت کے منافی نہیں کیونکہ یہ حکم فرضی اور تقدیری طور پر ہے۔ گویا یہ کہا گیا کہ اگر میرے بعد کوئی نبی تصور کیا جا سکتا تو میرے فلاں اور فلاں صحابی نبی ہوتے، لیکن میرے بعد کوئی نبی نہیں بن سکتا اور یہی معنی اس حدیث کا کہ اگر ابراہیم زندہ رہتا تو نبی ہوتا۔
توضیح فرما دی کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ اور حضرت ابراہیم رضی اللہ عنہ کے بارے میں جو حدیثیں وارد ہوئی ہیں وہ تمام فرضی طور پر اور تقدیری طور پر بیان ہوئی ہیں۔ اگر بالفرض حضورؐ کے بعد اور کوئی نبی ہوتا تو حضرت عمرؓ، حضرت علیؓ اور حضرت ابراہیمؓ ہوتے لیکن آپ کے بعد کسی کو نبوت نہیں مل سکتی۔ اس لیے یہ حضرات بھی نبی نہ ہو سکے۔ حضرت ملا علی قاری نے اپنے عقیدہ کے متعلق لکھا ہے۔
دعوى النبوة بعد نبينا صلى الله عليه وسلم كفر بالاجماع (”شرح فقہ اکبر“ ص ٢٠٢)
ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد نبوت کا دعویٰ بااجماع امت کفر ہے۔
مرزائی اعتراض۔ ”مودودی صاحب کے پیش کردہ اقوال کے قائلین میں سے کسی ایک نے بھی نہیں کہا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد امتی نبی کا آنا بند ہے۔ اگر ایسا ایک قول بھی مودودی صاحب پیش کر سکتے ہوں تو ہماری طرف سے انہیں چیلنج ہے مگر وہ ایسا ہرگز نہیں کر سکتے۔ (پمفلٹ، ص ٥)
جواب۔ یہ ناقابل تردید حقیقت ہے کہ حضور سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد مدعیان نبوت کاذبہ ”امتی نبی“ ہی کہلائیں گے۔ جیسا کہ مخبر صادق حضرت نبی کریم علیہ الصلوٰۃ والسلام کا ارشاد ہے۔
سيكون فى امتى كذابون ثلاثون كلهم يزعم انه نبى وانا خاتم النبيين لا نبى بعدى هذا حديث صحيح۔ (مشکوٰۃ کتاب الفتن)
یقیناً میری امت میں تیس کذاب ہوں گے جن میں سے ہر ایک نبوت کا دعویٰ کرے گا حالانکہ میں خاتم النبیین ہوں۔ میرے بعد کوئی نبی نہیں ہو سکتا۔ یہ حدیث صحیح ہے۔
مودودی صاحب آپ کے اس چیلنج کا جواب نہیں دیتے تو یہ ان کا اور آپ معاملہ ہے ہمیں اس میں دخل دینے کی ضرورت نہیں۔ محتسب را درون خانہ چہ کار۔ اگر آپ کو ہمت ہے تو ہمیں چیلنج دیجئے دنیا دیکھے گی کہ ہم آپ کے مطالبہ کے پرخچے اڑا کر روز روشن میں آپ کو کیسے تارے دکھاتے ہیں۔
جلا کے خاک نہ کر دوں تو داغ نام نہیں
بزرگان امت کی نسبت مرزائی عقیدہ
مرزائی عامتہ المسلمین کو فریب دینے کی غرض سے بزرگان دین کا نام لیتے ہیں۔ ہاتھی کے دانت کھانے کے اور دکھانے کے اور۔ اکابرین امت کی نسبت ان کا عقیدہ یہ ہے۔
- (١) ”بعض نادان صحابی جن کو درایت سے کچھ حصہ نہ تھا وہ ابھی اس عقیدہ
سے بے خبر تھے کہ کل انبیاء فوت ہو چکے ہیں (”ضمیمہ براہین احمدیہ“ حصہ پنجم‘ ص٢٤٠‘ مرزا غلام احمد‘ ”روحانی خزائن“ ص٢٨٤‘ ج٢١)
- (٢) اس لیے یاد رکھو کہ پرانی خلافت کا جھگڑا چھوڑو اب نئی خلافت لو ایک زندہ
علی تم میں موجود ہے اس کو چھوڑتے ہو اور مردہ علی کی تلاش کرتے ہو۔“ (”ملفوظات احمدیہ“ ص١٣١‘ ج١‘ مطبوعہ لاہور‘ ملفوظ مرزا غلام احمد)--- ”ملفوظات احمدیہ“ ربوہ و لندن‘ ص١٤٢‘ ج٢)
- (٣) ”اقوال سلف و خلف کوئی مستقل حجت نہیں“ (”ازالہ اوہام“ مصنفہ مرزا
غلام احمد‘ ص٥٢٨‘ ”روحانی خزائن“ ص٣٨٩‘ ج٣)
- (٤) ”امت کا کورانہ اتفاق یا اجماع کیا چیز ہے؟“ (”ازالہ اوہام“ ص٦٣‘
”روحانی خزائن“ ص١٧٢‘ ج٣)
- (٥) ”ہمارے مخالف سخت شرمندہ اور لاجواب ہو کر آخر کو یہ عذر پیش کر دیتے
ہیں کہ ہمارے بزرگ ایسا ہی کہتے چلے آئے ہیں۔ نہیں سوچتے کہ وہ بزرگ معصوم نہ تھے بلکہ جیسا کہ یہودیوں کے بزرگوں نے پیشگوئیوں کے سمجھنے میں ٹھوکر کھائی ان بزرگوں نے بھی ٹھوکر کھائی۔“ (”ضمیمہ براہین احمدیہ“ حصہ پنجم، مصنفہ مرزا غلام احمد، ص ١٣٤، ”روحانی خزائن“ ص ٢٩٠، ج ٢١)
یہ ہے صحابہؓ آئمہ اور اولیائے امت کی نسبت مرزائیوں کا عقیدہ کہ (نعوذ باللہ من ذلک) انہیں یہود سے مشابہت دی گئی اور طرفہ تماشا یہ ہے کہ قادیانی نبوت کی حفاظت کے لیے (معاذ اللہ) انہیں مثیل یہود کے اقوال کو پناہ گاہ بنایا گیا ہے۔ تلک اذا قسمۃ ضیزیٰ۔
قادیانیوں کا
مکمل بائیکاٹ
اسلامی عدل و انصاف کے عین مطابق ہے
مولانا
مفتی ولی حسن
ٹونکی
ص
کیا فرماتے ہیں علماء دین متین وفقہم اللہ للصواب حسب ذیل مسئلہ میں کوئی شخص یا جماعت کسی مدعی نبوت کاذبہ پر ایمان لانے کی وجہ سے جو باتفاق امت دائرہ اسلام سے خارج ہو اور ان کا کفر یقینی اور شک و شبہ سے بالاتر ہو اس کے علاوہ ان میں حسب ذیل وجوہ بھی موجود ہوں۔
- ١۔ وہ اسلام کا لبادہ اوڑھ کر مسلمانوں کے ایمان پر ڈاکہ ڈالتے ہوں اور تمام
عالم اسلام اور ملت اسلامیہ کے خلاف ریشہ دوانیوں میں مصروف ہوں۔
- ٢۔ مسلمانوں کو جانی و مالی ہر طرح کی ایذا پہنچانے میں تا مقدور کوتاہی نہ کرتے
ہوں۔
- ٣۔ ان کی مادی قوت اور مالی وسائل میں روزافزوں ترقی کا تمام تر انحصار
مسلمانوں کے استحصال پر ہو اور وہ سیاسی و اقتصادی وسائل پر قابض ہونے کی کوششیں کر رہے ہوں۔
- ٤۔ ان کی سیاسی و عسکری تنظیمیں موجود ہوں اور ان کی زیر زمین سرگرمیاں
تمام ملت اسلامیہ کے لیے بین الاقوامی سطح پر عظیم خطرہ ہوں۔
- ٥۔ دشمن اسلام بیرونی طاقتوں، یہودی اور مسیحی حکومتوں اور ہندوستان کی
اسلام دشمن حکومت سے ان کے قوی روابط ہوں۔ الغرض مسلمانوں کے لیے دینی، سیاسی، معاشی، اقتصادی اور معاشرتی اعتبار سے ان کا طرز عمل سنگین خطرات کا باعث ہو بلکہ ان کی وجہ سے ایک اسلامی مملکت کو بغاوت و انقلاب کے خطرات تک لاحق ہوں۔
- ٦۔ حکومت یا حکومت کی سطح پر یہ توقع نہ ہو کہ اس فتنہ سے ملک و ملت کو بچانے
کی کوئی تدبیر کی جائے گی اور یہ امید نہ ہو کہ جس شرعی سزا کے وہ مستحق ہیں وہ ان پر
جاری ہو سکے گی۔ اندریں حالات بے بس مسلمانوں کو اس فتنہ کی روک تھام کے لیے کیا کرنا چاہیے؟ اور اس سلسلہ میں شرعی طور پر ان پر کیا فریضہ عائد ہوتا ہے؟ کیا ان حالات میں اس جماعت یا افراد کی بڑھتی ہوئی جارحیت پر قدغن لگانے کے لیے حسب ذیل امور کے جواز یا وجوب کی شرعاً کوئی صورت ہے کہ :
- (الف) امت اسلامیہ اس فرد یا جماعت کے ساتھ برادرانہ تعلقات منقطع
کرے۔
- (ب) ان سے سلام و کلام‘ میل و جول‘ نشست و برخاست شادی و غمی میں
شرکت نہ کی جائے بلکہ معاشرتی سطح پر ان سے مکمل طور پر قطع تعلق کر لیا جائے۔
- (ج) ان سے تجارت‘ لین دین اور خرید و فروخت کی جائے یا نہیں؟
- (د) ان کے کارخانوں اور فیکٹریوں سے مال خریدا جائے یا ان کا مکمل اقتصادی
مقاطعہ (بائیکاٹ) کیا جائے۔
- (ہ) ان کی تعلیم گاہوں‘ ہوٹلوں‘ ریستورانوں میں جانا جائز ہے یا نہیں؟
- (و) ان سے رواداری برتی جائے یا نہیں؟
- (ز) ان کے کارخانوں اور فیکٹریوں کی مصنوعات استعمال کی جائیں یا نہیں؟
غرض ان سے مکمل بائیکاٹ یا مقاطعہ کرنے کی اجازت ہے یا نہیں؟ کیا تمام مسلمانوں کو بھی یہ حق حاصل ہے کہ انہیں راہ راست پر لانے کے لیے ان کا بائیکاٹ کریں جب کہ اس کے سوا اور کوئی چارہ اصلاح موجود نہ ہو؟
افتونا ماجورین‘ واللہ سبحانہ یجزل لکم الاجر والثواب‘ وہو المسئول الملہم للحق والصواب۔
(”المستفتی“، مجلس عمل تحفظ ختم نبوت‘ کراچی)
الجواب واللہ الہادی للصواب
بلاشبہ قرآن کریم کی وحی قطعی جناب رسول اللہ ﷺ کی احادیث متواترہ قطعیہ اور امت محمدیہ کے قطعی اجماع سے ثابت ہے کہ حضرت محمد رسول اللہ ﷺ آخری نبی ہیں‘ آپ کے بعد کوئی نبی نہیں آ سکتا۔ اس لیے حضرت نبی کریم ﷺ کے بعد نبوت کا مدعی کافر اور دائرہ اسلام سے قطعاً خارج ہے اور جو شخص اس مدعی نبوت کی تصدیق کرے اور اسے مقتداء و پیشوا مانے وہ بھی کافر اور مرتد اور دائرہ اسلام سے خارج ہے۔ اس کفر اور ارتداد کے ساتھ اگر اس میں وجوہ مذکورہ فی السوال میں سے ایک وجہ بھی موجود ہو تو قرآن کریم اور احادیث نبویہ ﷺ اور فقہ اسلامی کے مطابق وہ اسلامی اخوت اور اسلامی ہمدردی کا ہرگز مستحق نہیں۔ مسلمانوں پر واجب ہے کہ اس کے ساتھ سلام و کلام‘ نشست و برخاست اور لین دین وغیرہ تمام تعلقات ختم کر دیں‘ کوئی ایسا تعلق یا رابطہ اس سے قائم کرنا جس سے اس کی عزت و احترام کا پہلو نکلتا ہو یا اس کو قوت و آسائش حاصل ہوتی ہو جائز نہیں‘ کفار محاربین اور اعداء اسلام سے ترک موالات کے بارے میں قرآن حکیم کی بے شمار آیات موجود ہیں۔ اسی طرح احادیث نبویہ ﷺ اور فقہ میں اس کی تفصیلات موجود ہیں۔
یہ واضح رہے کہ کفار محاربین‘ جو مسلمانوں سے برسرپیکار ہوں‘ انہیں ایذا پہنچاتے ہوں‘ اسلامی اصلاحات کو مسخ کر کے اسلام کا مذاق اڑاتے ہوں اور مار آستین بن کر مسلمانوں کی اجتماعی قوت کو منتشر کرنے کے درپے ہوں۔ اسلام ان کے ساتھ سخت سے سخت معاملہ کرنے کا حکم دیتا ہے۔ رواداری کی ان کافروں سے اجازت دی گئی ہے جو محارب اور موذی نہ ہوں ورنہ کفار محاربین سے سخت معاملہ کرنے کا حکم ہے۔ علاوہ ازیں بسا اوقات اگر مسلمانوں سے کوئی قابل نفرت گناہ سرزد ہو جائے تو بطور تعزیر و تادیب ان کے ساتھ ترک تعلق اور سلام و کلام و نشست و برخاست ترک کرنے کا حکم شریعت مطہرہ اور سنت نبوی ﷺ میں موجود ہے۔ چہ جائیکہ کفار محاربین کے ساتھ اس سلسلہ میں سب سے پہلے تو اسلامی حکومت پر یہ فرض عائد ہوتا ہے کہ وہ ان فتنہ پرداز مرتدین پر من بدل دینہ فاقتلوہ کی شرعی تعزیر نافذ کر کے اس
فتنہ کا قلع قمع کرے اور اسلام اور ملت اسلامیہ کو اس فتنہ کی یورش سے بچائے۔ چنانچہ رسول اللہ ﷺ اور خلفاء راشدینؓ نے فتنہ پرداز موذیوں اور مرتدوں سے جو سلوک کیا وہ کسی سے مخفی نہیں اور بعد کے خلفاء اور سلاطین اسلام نے بھی کبھی اس فریضہ سے غفلت اور تساہل پسندی کا مظاہرہ نہیں کیا، لیکن اگر مسلمان حکومت اس قسم کے لوگوں کو سزا دینے میں کوتاہی کرے یا اس سے توقع نہ ہو تو خود مسلمانوں پر یہ فرض عائد ہوتا ہے کہ وہ بحیثیت جماعت اس قسم کی سزا کا فیصلہ کریں جو اس کے دائرہ اختیار میں ہو۔ الغرض ارتداد، محاربت، بغاوت، شرارت، نفاق، ایذاء، مسلمانوں کے ساتھ سازش، یہود و نصاریٰ و ہنود کے ساتھ ساز باز، ان سب وجوہ کے جمع ہو جانے سے بلاشبہ مذکورہ فی السوال فرد یا جماعت کے ساتھ مقاطعہ یا بائیکاٹ نہ صرف جائز بلکہ واجب ہے، اگر مسلمانوں کی جماعت بہیئت اجتماعی اس فتنہ کی سرکوبی کے لیے مقاطعہ یا بائیکاٹ جیسے ہلکے سے اقدام سے بھی کوتاہی کرے گی تو وہ عند اللہ مسئول ہوگی۔
یہ مقاطعہ یا بائیکاٹ ظلم نہیں بلکہ اسلامی عدل و انصاف کے عین مطابق ہے۔ کیونکہ اس کا مقصد یہ ہے کہ مسلمانوں کو ان کی محاربت اور ایذارسانی سے محفوظ کیا جائے اور ان کی اجتماعیت کو ارتداد و نفاق کے دستبرد سے بچایا جائے۔ اس کے ساتھ ہی ساتھ خود ان محاربین کے لیے بھی اس میں یہ حکمت مضمر ہے کہ وہ اس سزا یا تادیب سے متاثر ہو کر اصلاح پذیر ہوں اور کفر و نفاق کو چھوڑ کر ایمان و اسلام قبول کریں۔ اس طرح آخرت کے عذاب اور ابدی جہنم سے ان کو نجات مل جائے، ورنہ اگر مسلمانوں کی ہیئت اجتماعیہ ان کے خلاف کوئی تادیبی اقدام نہ کرے تو وہ اپنی موجودہ حالت کو مستحسن سمجھ کر اس پر مصر رہیں گے اور اس طرح ابدی عذاب کے مستحق ہوں گے۔
رسول اکرم ﷺ نے مدینہ پہنچ کر ابتداً یہی طریقہ اختیار فرمایا تھا کہ کفار مکہ کے قافلوں پر حملہ کر کے ان کے اموال پر قبضہ کیا جائے تاکہ مال اور ثروت سے ان کو جو طاقت اور شوکت حاصل ہے وہ ختم ہو جائے، جس کے بل بوتے پر وہ مسلمانوں کو ایذاء پہنچاتے ہیں اور مقابلہ کرتے ہیں اور مختلف سازشیں کرتے ہیں۔ قتل نفس اور جہاد بالسیف کے حکم سے پہلے مقاطعہ اور دشمنوں کو اقتصادی طور پر مفلوج کرنے کی تدبیر اس
لیے اختیار کی گئی تھی تاکہ اس سے ان کی جنگی صلاحیت ختم ہو جائے اور وہ اسلام کے مقابلہ میں آکر کفر کی موت نہ مریں۔ گویا اس اقدام کا مقصد یہ تھا کہ ان کے اموال پر قبضہ کر کے ان کی جانوں کو بچایا جائے کیونکہ اموال پر قبضہ ان کی جان لینے سے زیادہ بہتر تھا۔
علاوہ ازیں اس تدبیر میں یہ حکمت و مصلحت بھی تھی کہ کفار مکہ کے لیے غور و فکر کا ایک اور موقع فراہم کیا جائے تاکہ وہ ایمان کی نعمت سے سرفراز ہو کر ابدی نعمتوں کے مستحق بن سکیں اور عذاب اخروی سے نجات پاسکیں، لیکن جب اس تدبیر سے کفار و مشرکین کے عناد کی اصلاح نہ ہوئی تو ان کے شر و فساد سے زمین کو پاک کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ کی جانب سے جہاد بالسیف کا حکم بھیج دیا گیا اور اللہ تعالیٰ نے قریش کے تجارتی قافلہ کے بجائے ان کی عسکری تنظیم سے مسلمانوں کا مقابلہ کرا دیا۔ رسول اکرم ﷺ کی ابتدائی تدبیر سے امت مسلمہ کو یہ ہدایت ضرور ملتی ہے کہ خاص قسم کے حالات میں جہاد بالسیف پر عمل نہ ہو سکے تو اس سے اقل درجہ کا اقدام یہ ہے کہ کفار محاربین سے نہ صرف اقتصادی بائیکاٹ کیا جائے بلکہ ان کے اموال پر قبضہ تک کیا جاسکتا ہے مگر ظاہر ہے کہ عام مسلمان نہ تو جہاد بالسیف پر قادر ہیں نہ انہیں اموال پر قبضہ کی اجازت ہے۔ اندریں صورت ان کے اختیار میں جو چیز ہے وہ یہ ہے کہ ان موذی کافروں سے ہر قسم کے تعلقات ختم کر کے ان کو معاشرہ سے جدا کر دیا جائے۔
بدن انسانی کا جو حصہ اس درجہ سڑ گل جائے کہ اس کی وجہ سے تمام بدن کو نقصان کا خطرہ لاحق ہو اور جان خطرہ میں ہو تو اس ناسور کو جسم سے پیوستہ رکھنا دانش مندی نہیں بلکہ اسے کاٹ دینا ہی عین مصلحت و حکمت ہے۔ تمام عقلاء اور حکماء و اطباء کا اس پر عمل و اتفاق ہے اور پھر جب یہ موذی کفار مسلمانوں کا خون چوس چوس کر پل رہے ہوں اور طاقتور بن کر مسلمانوں ہی کو صفحہ ہستی سے مٹانے کی کوشش کر رہے ہوں تو ان سے خرید و فروخت اور لین دین میں مکمل مقاطعہ کرنا اسلام اور ملت اسلامیہ کے وجود و بقاء کے لیے ایک ناگزیر ملی فریضہ بن جاتا ہے۔ آج بھی اس متمدن دنیا میں مقاطعہ یا اقتصادی ناکہ بندی کو ایک اہم دفاعی مورچہ سمجھا جاتا ہے اور اس کو سیاسی حربہ کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔ مگر مسلمانوں کے لیے یہ کوئی سیاسی حربہ نہیں بلکہ
اسوہ نبی ﷺ، سنت رسول ﷺ اور ایک مقدس مذہبی فریضہ ہے۔ اسلام کی غیرت ایک لمحہ کے لیے یہ برداشت نہیں کرتی کہ اسلام اور ملت اسلامیہ کے دشمنوں سے کسی نوعیت کا کوئی تعلق اور رابطہ باقی رکھا جائے۔
اب ہم آیات قرآنیہ، احادیث نبویہ ﷺ اور فقہاء امت اسلامیہ کے وہ نقول پیش کرتے ہیں جن سے اس مقاطعہ کا حکم واضح ہوتا ہے:
- ١۔ واذا سمعتم آيات الله يكفربها ويستهزابها فلا
تقعدوا معهم -(”سورہ نساء“ آیت ١٣٩)
”اور جب سنو تم کہ اللہ کی آیتوں کا انکار کیا جا رہا ہے اور ان کا مذاق اڑایا جا رہا ہے تو ان کے ساتھ نشست و برخاست ترک کر دو“۔
- ٢۔ واذا راء يت الذين يخوضون فى آياتنا فاء عرض
عنهم -(”سورہ انعام“ آیت ٦٨)
”اور جب تم دیکھو ان لوگوں کو جو مذاق اڑاتے ہیں ہماری آیتوں کا تو ان سے کنارہ کشی اختیار کر لو“۔
اس آیت کے ذیل میں حافظ الحدیث امام ابو بکر الجصاص الرازیؒ لکھتے ہیں:
وهذا يدل على ان علينا ترك مجالسه الملحدين وسائر الكفار لاظهارهم الكفر والشرك وما لايجوز على الله تعالى اذا لم يكن انكاره الخ ۔
”یہ آیت اس امر پر دلالت کرتی ہے کہ ہم (مسلمانوں) پر ضروری ہے کہ ملاحدہ اور سارے کافروں سے ان کے کفر و شرک اور اللہ تعالیٰ پر ناجائز باتیں کہنے کی روک نہ کر سکیں، تو ان کے ساتھ نشست و برخاست ترک کر دیں“۔
- ٣۔ يا ايها الذين امنوا لا تتخذوا اليهود والنصارى
اولياء ۔ (”سورہ مائدہ“ آیت ٥١)
”اے ایمان والو تم یہود و نصاریٰ کو اپنا دوست مت بناؤ“۔
امام ابو بکر الجصاصؒ لکھتے ہیں:
و فی ھذہ الایہ دلالہ علی ان الکافر لایکون ولیا للمسلمین لا فی التصرف ولا فی النصرہ، وتدل علی وجوب البراء عن الکفار والعداوہ بھم، لان الولایہ ضد العداوہ فاذا امرنا بمعادات الیھود والنصاری لکفرھم فغیرھم من الکفار بمنزلتھم والکفر ملہ واحدہ۔
(”احکام القرآن“ ٤٤٤:٢)
”اس آیت میں اس امر پر دلالت ہے کہ کافر مسلمانوں کا ولی (دوست) نہیں ہو سکتا، نہ تو معاملات میں اور نہ امداد و تعاون میں اور اس سے یہ امر بھی واضح ہوتا ہے کہ کافروں سے برأت اختیار کرنا اور ان سے عداوت رکھنا واجب ہے، کیونکہ ولایت عداوت کی ضد ہے اور جب ہم کو یہود و نصاریٰ سے ان کے کفر کی وجہ سے عداوت رکھنے کا حکم ہے۔ دوسرے کافر بھی انہی کے حکم میں ہیں، سارے کافر ایک ہی ملت ہیں“۔
- ٤۔ ”سورہ ممتحنہ“ کا موضوع ہی کفار سے قطع تعلق کی تاکید ہے۔ اس سورۃ
میں بہت سختی کے ساتھ کفار کی دوستی اور تعلق سے ممانعت کی گئی ہے۔ اگرچہ رشتہ دار قرابت دار ہوں اور فرمایا کہ قیامت کے دن تمہارے یہ رشتے کام نہیں آئیں گے اور یہ کہ جو لوگ آئندہ کفار سے دوستی اور تعلق رکھیں گے وہ راہ حق سے بھٹکے ہوئے اور ظالم شمار ہوں گے۔
- ٥۔ لاتجد قوماً یومنون باللہ والیوم الآخر یوادون
من حاد اللہ ورسولہ ولو کانوا آبائھم او ابنائھم او اخوانھم او عشیرتھم۔
(”سورہ مجادلہ“
آیت ٢٢)
”تم نہ پاؤ گے کسی قوم کو جو یقین رکھتے ہوں، اللہ پر اور آخرت پر کہ دوستی کریں، ایسوں سے جو مخالف ہیں اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے خواہ ان کے باپ ہوں، بیٹے ہوں، بھائی ہوں یا خاندان والے ہوں“۔
آگے چل کر اس آیت کریمہ میں ان مسلمانوں کو جو باوجود قرابت داری کے
محارب کافروں سے دوستانہ تعلقات ختم کر دیتے ہیں، سچا مومن کہا گیا ہے، انہیں جنت اور رضوان الہی کی بشارت سنادی گئی ہے اور ان کو ”حزب اللہ“ کے لقب سے سرفراز فرمایا گیا ہے جس سے واضح ہو جاتا ہے کہ خدا اور رسول ﷺ کے دشمنوں سے دوستی رکھنا کسی مومن کا کام نہیں ہو سکتا۔
بطور مثال ان چند آیات کا تذکرہ کیا گیا ہے، ورنہ بے شمار آیات کریمہ اس مضمون کی موجود ہیں۔ اب چند احادیث نبویہ ﷺ ملاحظہ ہوں:
- ١۔ ”جامع ترمذی“ کی ایک حدیث میں سمرہؓ بن جندب سے مروی ہے کہ حکم دیا
گیا ہے کہ:
”مشرکوں اور کافروں کے ساتھ ایک جگہ سکونت بھی اختیار نہ کریں، ورنہ مسلمان بھی کافروں جیسے ہوں گے“۔
(”باب فی کراہیہ المقام بین اظہر المشرکین“ ١-١٩٤)
- ٢۔ نیز ”ترمذی“ کی ایک حدیث میں جو جریر بن عبداللہ البجلیؓ سے مروی ہے،
رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:
انا برى من كل مسلم يقيم بين اظهر المشركين۔
”یعنی آپ ﷺ نے اظہار برات فرمایا، ہر اس مسلمان سے جو محارب کافروں میں سکونت پذیر ہو“۔
- ٣۔ ”صحیح بخاری“ کی ایک حدیث میں قبیلہ عکل اور عرینہ کے آٹھ نو اشخاص کا
ذکر ہے جو مرتد ہو گئے تھے۔ ان کے گرفتار ہونے کے بعد حضور اکرم ﷺ نے حکم دیا کہ ان کے ہاتھ پاؤں کاٹ دیئے جائیں اور ان کی آنکھوں میں گرم کر کے لوہے کی کیلیں پھیر دی جائیں اور ان کو مدینہ طیبہ کے کالے کالے پتھروں پر ڈال دیا جائے۔ چنانچہ ایسا ہی کیا گیا، یہ لوگ پانی مانگتے تھے لیکن پانی نہیں دیا جاتا تھا۔ ”صحیح بخاری“ کی روایت کے الفاظ يستسقون فلا يسقون۔ اور ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں، حتی ان احدهم يكدم بفيه الارض۔ کہ وہ پیاس کے مارے زمین چاٹتے تھے مگر انہیں پانی دینے کی اجازت نہ تھی۔
امام نوویؒ اس حدیث کے ذیل میں لکھتے ہیں:
ان المحارب المرتد لا حرمہ لہ فی سقی الماء ولاغیرہ‘ ویدل علیہ ان من لیس معہ ماء الا للطھارہ لیس لہ ان یسقیہ المرتد ویتمم بل یستعملہ ولو مات المرتد عطشا۔ (”فتح الباری“ ١-٣٩٣)
”اس سے یہ معلوم ہوا کہ محارب مرتد کا پانی وغیرہ پلانے میں کوئی احترام نہیں۔ چنانچہ جس شخص کے پاس صرف وضو کے لیے پانی ہو تو اس کو اجازت نہیں ہے کہ پانی مرتد کو پلا کر تیمم کرے بلکہ اس کے لیے حکم ہے کہ پانی مرتد کو نہ پلائے۔ اگرچہ وہ پیاس سے مرجائے بلکہ وضو کر کے نماز پڑھے“۔
- ٤- غزوہ تبوک میں تین کبار صحابہ ’کعب بن مالک‘ ’ہلال بن امیہ‘ ’واقفی
بدری‘ اور مرارہ بن ربیع ’بدری عمری‘ کو غزوہ میں شریک نہ ہونے کی وجہ سے سخت سزا دی گئی۔ آسمانی فیصلہ ہوا کہ ان تینوں سے تعلقات ختم کر لیے جائیں‘ ان سے مکمل مقاطعہ کیا جائے۔ کوئی شخص ان سے سلام و کلام نہ کرے حتیٰ کہ ان کی بیویوں کو بھی حکم دیا گیا کہ وہ بھی ان سے علیحدہ ہو جائیں اور ان کے لیے کھانا بھی نہ پکائیں۔ یہ حضرات روتے روتے نڈھال ہو گئے اور حق تعالیٰ کی وسیع زمین ان پر تنگ ہو گئی۔ وحی قرآنی کے الفاظ ملاحظہ ہوں:
وعلی الثلاثہ الذین خلفوا حتی اذا ضاقت علیھم الارض بما رحبت وضاقت علیھم انفسھم وظنوا ان لا ملجا من اللہ الا الیہ۔ (”سورئہ توبہ“’ آیت ١١٨)
”اور ان تینوں پر بھی (توجہ فرمائی) جن کا معاملہ ملتوی چھوڑ دیا گیا تھا‘ یہاں تک زمین ان پر باوجود اپنی فراخی کے تنگ ہو گئی اور وہ خود اپنی جانوں سے تنگ آگئے اور انہوں نے سمجھ لیا کہ اللہ سے کہیں پناہ نہیں مل سکتی‘ بجز اسی کی طرف“۔
پورے پچاس دن تک یہ سلسلہ جاری رہا‘ آخر کار اللہ تعالیٰ نے ان کی یہ توبہ قبول فرمائی اور معافی ہو گئی۔ قاضی ابو بکر بن العربیؒ لکھتے ہیں:
وفیہ دلیل علی ان للامام ان یعاقب المذنب بتحریم کلامہ علی الناس ادبا لہ وعلی تحریم اہلہ علیہ۔ (”احکام القرآن لابن العربی“ ٣-١١٤)
”اس قصہ میں اس امر کی دلیل ہے کہ امام کو حق حاصل ہے کہ کسی گناہگار کی تادیب کے لیے لوگوں کو اس سے بول چال کی ممانعت کر دے، اور اس کی بیوی کو بھی اس کے لیے ممنوع ٹھہرا دے“۔
حافظ ابن حجر ”فتح الباری“ ٨-٩٤، میں لکھتے ہیں:
وفیہ ترک السلام علی من اذنب وجواز ہجرہ اکثر من ثلاث۔
”اس سے ثابت ہوا کہ گناہگار کو سلام نہ کیا جائے اور یہ کہ اس سے قطع تعلق تین روز سے زیادہ بھی جائز ہے“۔
بہر حال کعب بن مالکؓ اور ان کے رفقاء کا یہ واقعہ قرآن کریم کی ”سورۂ توبہ“ میں مذکور ہے اور اس کی تفصیل ”صحیح بخاری“، ”صحیح مسلم“ اور تمام صحاح ستہ میں موجود ہے۔
امام ابو داؤدؒ نے اپنی کتاب ”سنن ابی داؤد“ میں کتاب السنۃ کے عنوان کے تحت متعدد ابواب قائم کیے ہیں۔
- (الف) باب مجانبہ اہل الاہواء و بغضہم۔ ”اہلِ اھواء باطل
پرستوں سے کنارہ کشی کرنے اور بغض رکھنے کا بیان“۔
- (ب) باب ترک السلام علی اہل الاہواء۔ ”اہلِ اھواء سے
ترکِ سلام و کلام کا بیان“۔
”سنن ابی داؤد“ میں حدیث ہے کہ ”عمار بن یاسرؓ نے ”خلوق“ (زعفران) لگایا تھا۔ آپ ﷺ نے ان کو سلام کا جواب نہیں دیا۔ غور فرمائیے کہ معمولی خلافِ سنت بات پر جب یہ سزا دی گئی تو ایک مرتد، موذی اور کافر محارب سے بات چیت، سلام و کلام اور لین دین کی اجازت کب ہو سکتی ہے؟
امام خطابی ”معالم السنن“ (٤-٢٩٦) میں حدیث کعب کے سلسلے میں تصریح فرماتے
ہیں:
"مسلمانوں کے ساتھ بھی ترک تعلق اگر دین کی وجہ سے ہو تو بلا قید ایام کیا جا سکتا ہے، جب تک توبہ نہ کریں۔"
- ٥۔ "مسند احمد" و "سنن ابی داؤد" میں ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے
کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
القدريه مجوس هذه الامه، ان مرضوا فلا تعودوهم، وان ماتوا فلا تشهدوهم۔
"تقدیر کا انکار کرنے والے اس امت کے مجوسی ہیں، اگر بیمار ہوں تو عیادت نہ کرو اور اگر مرجائیں تو جنازہ پر نہ جاؤ"۔
- ٦۔ ایک اور حدیث میں ہے:
لا تجالسوا اهل القدر ولا تفاتحوهم۔
"منکرین تقدیر کے ساتھ نہ نشست و برخاست رکھو اور نہ ان سے گفتگو کرو"۔
بہر حال یہ تو حضرت نبی کریم ﷺ کے ارشادات ہیں۔ عہد نبوت کے بعد عہد خلافت راشدہ میں بھی اسی طرز عمل کا ثبوت ملتا ہے۔ مانعین زکوۃ کے ساتھ صدیق اکبر کا اعلان جہاد کرنا "بخاری و مسلم" میں موجود ہے۔ مسیلمہ کذاب، اسود عنسی، طلیحہ اسدی اور ان کے پیروؤں کے ساتھ جو سلوک کیا گیا۔ اس سے حدیث و سیر کا معمولی طالب علم بھی واقف ہے۔ عہد فاروقی میں ایک شخص صبیغ عراقی قرآن کریم کی آیات کے ایسے معانی بیان کرنے لگا جن میں ھواء نفس کو دخل تھا اور ان سے مسلمانوں کے عقائد میں تشکیک کا راستہ کھلتا تھا۔ یہ شخص فوج میں تھا جب عراق سے مصر گیا اور حضرت عمرو بن عاص گورنر مصر کو اس کی اطلاع ہوئی تو انہوں نے اس کو حضرت عمر فاروق کے پاس مدینہ بھیجا اور صورت حال لکھی۔ حضرت عمر نے نہ اس کا موقف سنا نہ دلائل، اس سے بحث و مباحثہ میں وقت ضائع کیے بغیر اس کا "علاج بالجرید" ضروری سمجھا، فوراً کھجور کی تازہ ترین شاخیں منگوائیں اور اپنے ہاتھ سے اس کے سر پر بے تحاشا مارنے لگے، اتنا مارا کہ خون بہنے لگا۔ وہ چیخ اٹھا! امیر المومنین آپ مجھے قتل ہی کرنا
چاہتے ہیں تو مہربانی کیجئے تلوار لے کر میرا قصہ پاک کر دیجئے اور اگر صرف میرے دماغ کا خناس نکالنا مقصود ہے تو آپ کو اطمینان دلاتا ہوں کہ اب وہ بھوت نکل چکا ہے۔ اس پر حضرت عمرؓ نے اسے چھوڑ دیا اور چند دن مدینہ رکھ کر واپس عراق بھیج دیا اور حضرت ابو موسیٰ اشعریؓ کو لکھا:
ان لا یجالسہ احد من المسلمین۔
"کہ کوئی مسلمان اس کے پاس نہ بیٹھے"۔
اس مقاطعہ سے اس شخص پر عرصہ حیات تنگ ہو گیا تو حضرت ابو موسیٰؓ نے حضرت عمرؓ کو لکھا کہ اس کی حالت ٹھیک ہو گئی ہے تب حضرت عمر ﷺ نے لوگوں کو اس کے پاس بیٹھنے کی اجازت دی۔
- ٧۔ "سنن کبریٰ للبیہقی" (٨٥-٩) میں حضرت علیؓ سے روایت ہے:
امرنی رسول اللہ ﷺ ان اغور ماء آبار بدر۔
"جنگ بدر میں رسول اللہ ﷺ نے مجھے حکم فرمایا کہ بدر کے کنوؤں کا پانی خشک کردوں"۔
اور ایک روایت میں ہے:
ان یغور المیاہ کلھا غیر ماء واحد نلقی القوم علیہ۔
"کہ سوائے ایک کنوئیں کے جو بوقتِ جنگ ہمارے کام آئے گا باقی سب کنوئیں خشک کر دیئے جائیں"۔
- ٨۔ "صحیح بخاری" (٢-١٠٢٣) میں ہے کہ حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے پاس چند
بددین زندیق لائے گئے تو آپ نے انہیں آگ میں جلا دیا۔ حضرت ابن عباسؓ کو اس کی اطلاع پہنچی تو فرمایا:
"اگر میں ہوتا تو انہیں جلاتا نہیں، کیونکہ رسول اللہ ﷺ نے منع فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے عذاب کی سزا مت دو، بلکہ میں انہیں قتل کرتا"۔
کیونکہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے:
من بدل دینہ فاقتلوہ۔ "جو شخص مرتد ہو جائے اسے قتل کر
دو“۔
- ٩۔ ”صحیح بخاری“ (١-٤٢٣) میں صعب بن جثامہ ؓ سے مروی ہے کہ
رسول اللہ ﷺ سے سوال کیا گیا کہ رات کی تاریکی میں مشرکین پر حملہ ہوتا ہے تو عورتیں اور بچے بھی زد میں آجاتے ہیں۔ فرمایا ’وہ بھی انہی میں شامل ہیں‘۔
اب فقہ کی چند تصریحات ملاحظہ ہوں۔
- ١۔ علامہ دردیر مالکی ”شرح کبیر“ میں باغیوں کے احکام میں لکھتے ہیں:
وقطع الميره والماء عنهم الا ان يكون فيهم نسوه و زراری“ (٤-٢٩٩)
”ان کا کھانا پانی بند کر دیا جائے الا یہ کہ ان میں عورتیں اور بچے ہوں“۔
- ٢۔ کوئی قاتل اگر حرم مکہ میں پناہ گزین ہو جائے‘ اس سلسلہ میں ابوبکر الجصاصؒ
لکھتے ہیں:
قال ابو حنيفه وابو يوسف ومحمد وزفر والحسن بن زياد‘ اذا قتل فى غير الحرم ثم دخل الحرم لم يقتص منه ما دام فيه ولكنه لا يبايع ولا يواكل الى ان يخرج من الحرم۔ (احکام القرآن ٤-٢١٠)
”امام ابو حنیفہؒ ‘ ابو یوسفؒ ‘ محمد‘ زفر اور حسن بن زیادؒ کا قول ہے کہ جب کوئی حرم سے باہر قتل کر کے حرم میں داخل ہو تو جب تک حرم میں ہے اس سے قصاص نہیں لیا جائے گا مگر نہ اس کے ہاتھ کوئی چیز فروخت کی جائے‘ نہ اس کو کھانا دیا جائے۔ یہاں تک کہ وہ حرم سے نکلنے پر مجبور ہو جائے۔
- ٣۔ ”در مختار“ میں ہے:
وافتى الناصحى بوجوب قتل كل موذٍ وفى شرح الوهبانيه ويكون بالنفي عن البلد وبالهجوم على بيت المفسدين وبالاخراج عن الدار وبهدمها۔
”ناصحی نے فتویٰ دیا ہے کہ ہر موذی کا قتل واجب ہے اور ”شرح
وہبانیہ" میں ہے کہ تعزیر یوں بھی ہو سکتی ہے کہ شہر بدر کر دیا جائے اور ان کے مکان کا گھیراؤ کیا جائے، انہیں مکان سے نکال باہر کیا جائے اور مکان ڈھا دیا جائے۔
- ٤۔ ابن عابدین الشامی "درمختار" (٢٧/٢٠٣) میں لکھتے ہیں:
قال في احكام السياسه: وفي "المنتقى" واذا سمع في داره صوت المزامير فادخل عليه لانه، لما اسمع الصوت فقد اسقط حرمته الدار، وفي حدود "البزازيه" وغصب "النهايه" وجنايه الدرايه" ذكر صدر الشهيد عن اصحابنا انه يهدم البيت على من اعتاد الفسوق وانواع الفساد في داره حتى لاباس بالهجوم على بيت المفسدين ـ وهجم عمر على نائحته في منزلها وضربها بالدره حتى سقط خمارهاـ فقيل له فيه، فقال لا حرمه لها بعد اشتغالها بالمحرم والتحقت بالاماء..... وعن عمر رضی اللہ عنہ انه احرق بيت الخمار و عن الصفار الزاهد الامر بتخريب دار الفاسق
"احکام السیاسۃ میں "المنتقی" سے نقل کیا ہے کہ جب کسی کے گھر سے گانے بجانے کی آواز سنائی دے تو اس میں داخل ہو جاؤ کیونکہ جب اس نے یہ آواز سنائی تو اپنے گھر کی حرمت کو خود ساقط کر دیا ہے، اور بزازیہ کے کتاب الحدود نہایہ کے باب الغصب اور درایہ کے کتاب الجنایات میں لکھا ہے کہ صدرالشہید نے ہمارے اصحاب سے نقل کیا ہے کہ جو شخص فسق و بدکاری اور مختلف قسم کے فساد کا عادی ہو ایسے شخص پر اس کا مکان گرا دیا جائے، حتیٰ کہ مفسدوں کے گھر میں گھس جانے میں بھی مضائقہ نہیں۔ حضرت عمرؓ ایک نوحہ گر عورت کے گھر میں گھس آئے اور اس کے ایسا درا مارا کہ اس کے سر سے چادر اتر گئی، اور اپنے طرزِ عمل کی وضاحت کرتے
ہوئے فرمایا کہ: حرام میں مشغول ہونے کے بعد اس کی کوئی حرمت نہیں رہی اور یہ لونڈیوں کی صف میں شامل ہو گئی ۔ حضرت عمرؓ سے یہ بھی مروی ہے کہ آپ نے ایک شرابی کے مکان کو آگ لگا دی تھی۔ صفار زاہد کہتے ہیں کہ فاسق کا مکان گرا دینے کا حکم ہے"۔
- ٥۔ ملا علی قاری "مرقاۃ شرح مشکوۃ" (٤-١٠٧) باب التعزیر میں لکھتے ہیں:
وهذا تنصيص على ان الضرب تعزير يملكه الانسان وان لم يكن محتسبا وصرح فى "المنتقى" بذالك۔
"اور یہ کہ اس امر کی تصریح ہے کہ مارنا ایسی تعزیر ہے جس کا انسان اختیار رکھتا ہے، خواہ محتسب نہ ہو، "المنتقى" میں اس کی تصریح کی گئی"۔
یاد رہے کہ اس قسم کے مقاطعہ کا تعلق در حقیقت بغض فی اللہ سے ہے جس کو حضرت محمد رسول اللہ ﷺ نے احب الاعمال الی اللہ فرمایا ہے۔ (كما فى روايه ابي ذر في كتاب السنة عند ابي داود)۔
بغض فی اللہ کے ذیل میں امام غزالیؒ "احیاء العلوم" (٢-١٦٧) میں بطور کلیہ لکھتے ہیں:
الاول الكافر، فالكافر ان كان محاربا فهو يستحق القتل والارقاق، وليس بعد هذين اهانته۔ الثانى المبتدع الذى يدعو الى بدعه فان كانت البدعه بحيث يكفر بها فامره اشد من الذمى لانه لا يقر بجزيه ولا يسامح بعقد ذمه، و ان كان ممن لا يكفر به فامره بينه وبين الله اخف من امر الكافر لا محاله، ولكن الانكار عليه اشد منه على الكافر، لان شر الكافر غير متعد فان المسلمين اعتقدوا كفره فلا يلتفتون الى قوله۔ الخ
”اول کافر‘ پس کافر اگر حربی ہو تو اس بات کا مستحق ہے کہ قتل کیا جائے یا غلام بنا لیا جائے۔ اور یہ ذلت و اہانت کی آخری حد ہے۔ دوم صاحب بدعت جو اپنی بدعت کی دعوت دیتا ہے پس اگر بدعت حد کفر تک پہنچی ہوئی ہو تو اس کی حالت کافر ذمی سے بھی سخت تر ہے کیونکہ نہ اس سے جزیہ لیا جا سکتا ہے اور نہ اس کو ذمی کی حیثیت دی جاسکتی ہے‘ اور اگر بدعت ایسی نہیں جس کی وجہ سے اس کو کافر قرار دیا جائے تو عنداللہ تو اس کا معاملہ کافر سے لامحالہ اخف (ہلکا) ہے۔ مگر کافر کی بہ نسبت اس پر نکیر زیادہ کی جائے گی‘ کیونکہ کافر کا شر متعدی نہیں‘ اس لیے کہ مسلمان کافر کو ٹھیٹ کافر سمجھتے ہیں۔ لہٰذا اس کے قول کو لائق التفات ہی نہیں سمجھیں گے“۔ الخ
”ردالمختار“ (٤-٢٩٨) میں قرامطہ کے بارے میں لکھا ہے:
نقل عن المذاهب الاربعہ انہ لایحل اقرارہم فی دیار الاسلام بجزیہ ولاغیرہا‘ ولاتحل مناکحتہم ولاذبائحہم ..... والحاصل انہم یصدق علیہم اسم الزندیق والمنافق والملحد‘ ولایخفی ان اقرارہم بالشہادتین مع ہذا الاعتقاد الخبیث لایجعلہم فی حکم المرتد لعدم التصدیق ولایصح اسلام احدہم ظاہرا الا بشرط التبری عن جمیع ما یخالف دین الاسلام‘ لانہم یدعون الاسلام ویقرون بالشہادتین وبعد الظفربہم لاتقبل توبتہم اصلا۔ الخ
”مذاہب اربعہ سے منقول ہے کہ انہیں اسلامی ممالک میں ٹھہرانا جائز نہیں نہ جزیہ لے کر نہ بغیر جزیہ کے‘ نہ ان سے شادی بیاہ جائز ہے‘ نہ ہی ان کا ذبیحہ حلال ہے..... حاصل یہ ہے کہ ان پر زندیق‘ منافق اور ملحد کا مفہوم پوری طرح صادق آتا ہے۔ اور ظاہر ہے کہ اس خبیث عقیدہ کے باوجود ان کا کلمہ پڑھنا انہیں مرتد کا حکم نہیں دیتا‘ کیونکہ وہ تصدیق نہیں رکھتے اور ان کا
ظاہری اسلام غیر معتبر ہے ۔ جب تک کہ ان تمام امور سے جو دین اسلام کے خلاف ہیں۔ برأت کا اظہار نہ کریں، کیونکہ وہ اسلام کا دعویٰ اور شہادتین کا اقرار تو پہلے سے کرتے ہیں (مگر اس کے باوجود پکے بے ایمان اور کافر ہیں) اور ایسے لوگ گرفت میں آجائیں تو ان کی توبہ اصلاً قابل قبول نہیں “۔
فقہ حنفی کی معتبر کتاب ”معین الحکام“ بسلسلہ تعزیر ایک مستقل فصل میں لکھا ہے ۔
والتعزير لا يختص بفعل معين ولا قول معين، فقد عزر رسول الله صلى الله عليه وسلم بالهجر، وذالك فى حق الثلاثه الذين ذكرهم الله تعالى فى القرآن العظيم فهجروا خمسين يوماً لا يكلمهم احد، وقصتهم مشهوره فى الصحاح، وعزر رسول الله صلى الله عليه وسلم بالنفى فامر باخراج المخنثين من المدينه ونفاهم ـ وكذالك الصحابه من بعده ـ ونذكر من ذالك بعض ما وردت به السنه مما قال ببعضه اصحابنا ـ وبعضه خارج المذهب: فمنها: امر عمر بهجر صبيغ الذى كان يسال عن الذاريا وغيرها، ويامر الناس بالتفقه فى المشكلات من القرآن فضربه ضربا وجيعا ونفاه الى البصرة او الكوفه، وامر بهجره، فكان لا يكلمه احد حتى تاب وكتب عامل البلد الى عمر بن الخطاب رضى الله عنه يخبره بتوبه فاذن للناس فى كلامه ـ ومنها: ان عمر رضى الله عنه حلق راس نصير بن الحجاج و نفاه من المدينه لما شببت النساء به فى الاشعار وخشى الفتنه ـ
ومنها: ما فعله عليه الصلواه والسلام بالعرنيين ـ
ومنها: ان ابابكر استشار الصحابه فى رجل ينكح كما تنكح المراه، فاشاروا بحرقه بالنار فكتب ابوبكر بذالك الى خالد بن الوليد، ثم حرقهم عبدالله بن الزبير فى خلافته، ثم حرقهم هشام بن عبدالملك ـ ومنها: ان ابابكر رضى الله عنه حرق جماعه من اهل الرده ـ ومنها: امره صلى الله ------- عليه وسلم بكسر دنان الخمر وشق ظروفهاـ ومنها: امره صلى الله عليه وسلم يوم خيبر بكسر القدور التى طبخ فيها لحم الحمر الاهليه، ثم استاذنوه فى غسلها، فاذن لهم فدل على جواز الامرين لان العقوبه بالكسر لم تكن واجبهـ ومنها: تحريق عمر المكان الذى يباع فيه الخمرـ ومنها: تحريق عمر قصر سعد بن ابى وقاص لما احتجب فيه عن الرعيه وصار يحكم فى دارهـ ومنها: مصادره عمر عماله باخذ شطر اموالهم وقسمتها بينهم وبين المسلمينـ ومنها: انه ضرب الذى زور على نقش خاتمه واخذ شيئا من بيت المال مائه، ثم ضربه فى اليوم الثانى مائه ثم ضربه فى اليوم الثالث مائه، وبه اخذ مالك لان مذهبه التعزير يزاد على الحدـ ومنها: ان عمر رضى الله عنه لما وجد مع السائل من الطعام فوق كفايته وهو يسال، اخذ ما معه واطعمه ابل الصدقهـ وغير ذالك مما يكثر تعداده وهذه قضايا صحيحه معروفه الخ (ص-٢٣١ و فى شرح السير الكبير، ٣-٧٥) ولا باس بان يبيع المسلمون
من المشركين من الطعام والثياب وغير ذالك الا السلاح والكراع والسبى سواء دخلوا اليهم بامان او بغير امان، لانهم يتقون بذالك على قتال المسلمين ولا يحل للمسلمين اكتساب سبب تقويتهم على قتال المسلمين، وهذا المعنى لا يوجد فى سائر الامتعة ثم هذا الحكم اذا لم يحاصروا حصنا من حصونهم فلا ينبغى لهم ان يبيعوا من اهل الحصن طعاما ولا شرابا ولا سببا يقويهم على المقام ـ لانهم انما حاصروهم لينفد طعامهم وشرابهم، حتى يعطوا بايديهم ويخرجوا على حكم الله، ففى بيع الطعام وغيره منهم اكتساب سبب تقويتهم على المقام فى حصنهم، بخلاف ما سبق فان اهل الحرب فى دارهم يتمكنون من اكتساب ما يتقون به على المقام لا بطريق الشراء من المسلمين، واما اهل الحصن لا يتمكنون ذالك بعد ما احاط المسلمون بهم فلا يحل لاحد من المسلمين ان يبيعهم شيا من ذالك، فمن فعله فعلم به الامام ادبه على ذالك لارتكابه ما لا يحل ـ
ترجمہ: اور تعزیر کسی معین فعل یا معین قول کے ساتھ مختص نہیں، چنانچہ رسول اللہ ﷺ نے ان تین حضرات کو (جو غزوہ تبوک میں پیچھے رہ گئے تھے اور) جن کا واقعہ اللہ تعالیٰ نے قرآن عظیم میں ذکر فرمایا ہے، مقاطعہ کی سزا دی تھی چنانچہ پچاس دن تک ان سے مقاطعہ رہا، کوئی شخص ان سے بات تک نہیں کر سکتا تھا۔ ان کا مشہور قصہ صحاح ستہ میں موجود ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے جلا وطنی کی سزا بھی دی۔ چنانچہ مخنثوں کو مدینہ سے نکالنے کا حکم
دیا اور انہیں شہر بدر کر دیا۔ اسی طرح آپ کے بعد صحابہ کرام نے بھی مختلف تعزیرات جاری کیں۔ ہم ان میں سے بعض کو جو احادیث کی کتابوں میں وارد ہیں یہاں ذکر کرتے ہیں، ان میں سے بعض کے ہمارے اصحاب قائل نہیں اور بعض پر دیگر ائمہ نے عمل کیا۔
حضرت عمرؓ نے صبیغ نامی ایک شخص کو مقاطعہ کی سزا دی۔ یہ شخص ”الذاریات“ وغیرہ کی تفسیر پوچھا کرتا تھا، اور لوگوں کی فہمائش کیا کرتا تھا کہ وہ مشکلات قرآن میں تفقہ پیدا کریں۔ حضرت عمرؓ نے اس کی سخت پٹائی کی اور اسے بصرہ یا کوفہ جلاوطن کر دیا اور اس سے مقاطعہ کا حکم فرمایا، چنانچہ کوئی شخص اس سے بات تک نہیں کرتا تھا، یہاں تک کہ وہ تائب ہوا اور وہاں کے گورنر نے حضرت عمرؓ کو اس کے تائب ہونے کی خبر لکھ بھیجی۔ تب آپ نے لوگوں کو اجازت دی کہ اس سے بات چیت کر سکتے ہیں۔
حضرت عمرؓ نے نصیر بن حجاج کا سر منڈوا کر اسے مدینے سے نکلوا دیا تھا۔ جب کہ عورتوں نے اشعار میں اس کی تشبیب شروع کر دی تھی اور فتنہ کا اندیشہ لاحق ہو گیا تھا۔ آنحضرت ﷺ نے قبیلہ عرینہ کے افراد کو جو سزا دی (اس کا واقعہ صحاح میں موجود ہے)۔ حضرت ابوبکر صدیقؓ نے ایک ایسے شخص کے بارے میں جو بدفعلی کرتا تھا، صحابہ کرام سے مشورہ کیا۔ صحابہ کرامؓ نے مشورہ دیا کہ اسے آگ میں جلایا جائے۔ حضرت ابوبکر صدیقؓ نے خالد بن ولید کو یہ حکم لکھ بھیجا، بعد ازاں حضرت عبداللہ بن زبیر اور ہشام بن عبدالملک نے بھی اپنے اپنے دور خلافت میں اس قماش کے لوگوں کو آگ میں ڈالا۔
حضرت ابوبکر صدیقؓ نے مرتدین کی ایک جماعت کو آگ میں جلایا۔ آنحضرت ﷺ نے شراب کے مٹکے توڑنے اور اس کے مشکیزے پھاڑ دینے کا حکم دیا۔ آنحضرت ﷺ نے خیبر کے دن ان ہانڈیوں کو توڑنے کا حکم فرمایا، جن میں گدھوں کا گوشت پکایا گیا تھا، پھر صحابہ کرام نے آپ سے اجازت چاہی کہ انہیں دھو کر استعمال کر لیا جائے تو آپ نے اجازت دے
دی۔ یہ واقعہ دونوں باتوں کے جواز پر دلالت کرتا ہے، کیونکہ ہانڈیوں کو توڑ ڈالنے کی سزا واجب نہیں تھی۔
حضرت عمرؓ نے اس مکان کو جلا دینے کا حکم فرمایا، جس میں شراب کی خرید و فروخت ہوتی تھی۔ حضرت سعد بن ابی وقاص نے جب رعیت سے الگ تھلگ ہو کر اپنے گھر ہی میں فیصلہ کرنا شروع کیا تو حضرت عمرؓ نے ان کا مکان جلا دیا۔ آپ نے اپنے عمال کے مال کا ایک حصہ ضبط کر کے مسلمانوں میں تقسیم کر دیا۔ ایک شخص نے حضرت عمرؓ کی مہر پر جعلی مہر بنوائی تھی اور بیت المال سے کوئی چیز لے لی تھی۔ حضرت عمرؓ نے اس کے سو درے لگائے، دوسرے دن پھر سو درے لگائے، اور تیسرے دن بھی سو درے لگائے۔ امام مالکؒ نے اسی کو لیا ہے۔ چنانچہ ان کا مسلک ہے کہ تعزیر مقدار ”حد“ سے زائد بھی ہو سکتی ہے۔
حضرت عمرؓ نے جب ایک سائل ایسا دیکھا جس کے پاس قدر کفالت سے زائد غلہ موجود تھا چھین کر صدقہ کے اونٹوں کو کھلا دیا۔ ان کے علاوہ اس نوعیت کے اور بھی بہت سے واقعات ہیں اور یہ صحیح اور معروف فیصلے ہیں۔ اھ اور شرح سیر کبیر (٥٠٣) میں ہے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
اور کوئی مضائقہ نہیں کہ مسلمان کافروں کے ہاتھ غلہ اور کپڑا وغیرہ فروخت کریں مگر جنگی سامان اور گھوڑے اور قیدی فروخت کرنے کی اجازت نہیں، خواہ وہ امن لے کر ان کے پاس آئے ہوں یا بغیر امان کے، کیونکہ ان چیزوں کے ذریعہ مسلمانوں کے مقابلے میں ان کو جنگی قوت حاصل ہو گی، اور مسلمانوں کے لیے ایسی کوئی چیز حلال نہیں۔ مسلمانوں کے مقابلہ میں کافروں کو تقویت پہنچانے کا سبب بنے اور یہ علت دیگر سامان میں نہیں پائی جاتی۔ پھر یہ حکم جب ہے جب کہ مسلمانوں نے ان کے کسی قلعہ کا محاصرہ کیا ہوا ہو، لیکن جب انہوں نے ان کے کسی قلعہ کا محاصرہ نہ کیا ہوا ہو، تو ان کے لیے مناسب نہیں کہ اہل قلعہ کے ہاتھ غلہ یا پانی یا کوئی ایسی چیز فروخت کریں جو ان کے قلعہ بند رہنے میں ممد و معاون ثابت ہو۔ کیونکہ مسلمانوں
ہیں: ”مسلمانوں کے ساتھ بھی ترک تعلق اگر دین کی وجہ سے ہو تو بلا قید ایام کیا جاسکتا ہے‘ جب تک توبہ نہ کریں“۔
- ٥۔ ”مسند احمد“ و ”سنن ابی داؤد“ میں ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے
کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: القدریہ مجوس ھذہ الامہ‘ ان مرضوا فلا تعودوہم‘ وان ماتوا فلا تشہدوہم۔ ”تقدیر کا انکار کرنے والے اس امت کے مجوسی ہیں‘ اگر بیمار ہوں تو عیادت نہ کرو اور اگر مرجائیں تو جنازہ پر نہ جاؤ“۔
- ٦۔ ایک اور حدیث میں ہے:
لا تجالسوا اہل القدر ولا تفاتحوہم۔ ”منکرین تقدیر کے ساتھ نہ نشست و برخاست رکھو اور نہ ان سے گفتگو کرو“۔
بہرحال یہ تو حضرت نبی کریم ﷺ کے ارشادات ہیں۔ عہد نبوت کے بعد عہد خلافت راشدہ میں بھی اسی طرز عمل کا ثبوت ملتا ہے۔ مانعین زکوۃ کے ساتھ صدیق اکبر کا اعلان جہاد کرنا ”بخاری و مسلم“ میں موجود ہے۔ مسیلمہ کذاب‘ اسود عنسی‘ طلیحہ اسدی اور ان کے پیروؤں کے ساتھ جو سلوک کیا گیا۔ اس سے حدیث و سیر کا معمولی طالب علم بھی واقف ہے۔ عہد فاروقی میں ایک شخص صبیغ عراقی قرآن کریم کی آیات کے ایسے معانی بیان کرنے لگا جن میں ہواء نفس کو دخل تھا اور ان سے مسلمانوں کے عقائد میں تشکیک کا راستہ کھلتا تھا۔ یہ شخص فوج میں تھا جب عراق سے مصر گیا اور حضرت عمرو بن عاص گورنر مصر کو اس کی اطلاع ہوئی تو انہوں نے اس کو حضرت عمر فاروقؓ کے پاس مدینہ بھیجا اور صورت حال لکھی۔ حضرت عمرؓ نے نہ اس کا موقف سنا نہ دلائل‘ اس سے بحث و مباحثہ میں وقت ضائع کیے بغیر اس کا ”علاج بالجرید“ ضروری سمجھا‘ فوراً کھجور کی تازہ ترین شاخیں منگوائیں اور اپنے ہاتھ سے اس کے سر پر بے تحاشا مارنے لگے‘ اتنا مارا کہ خون بہنے لگا۔ وہ چیخ اٹھا! امیر المومنین آپ مجھے قتل ہی کرنا
چاہتے ہیں تو مہربانی کیجئے تلوار لے کر میرا قصہ پاک کر دیجئے اور اگر صرف میرے دماغ کا خناس نکالنا مقصود ہے تو آپ کو اطمینان دلاتا ہوں کہ اب وہ بھوت نکل چکا ہے۔ اس پر حضرت عمرؓ نے اسے چھوڑ دیا اور چند دن مدینہ رکھ کر واپس عراق بھیج دیا اور حضرت ابو موسیٰ اشعریؓ کو لکھا:
ان لا یجالسہ احد من المسلمین ۔
”کہ کوئی مسلمان اس کے پاس نہ بیٹھے“۔
اس مقاطعہ سے اس شخص پر عرصہ حیات تنگ ہو گیا تو حضرت ابو موسیٰؓ نے حضرت عمرؓ کو لکھا کہ اس کی حالت ٹھیک ہو گئی ہے تب حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے لوگوں کو اس کے پاس بیٹھنے کی اجازت دی۔
- ٧۔ ”سنن کبریٰ للبیہقی“ (٨٥-٩) میں حضرت علیؓ سے روایت ہے:
امرنی رسول اللہ ﷺ ان اغور ماء آبار بدر ۔
”جنگ بدر میں رسول اللہ ﷺ نے مجھے حکم فرمایا کہ بدر کے کنوؤں کا پانی خشک کر دوں“۔
اور ایک روایت میں ہے:
ان یغور المیاہ کلہا غیر ماء واحد نلقی القوم علیہ ۔
”کہ سوائے ایک کنوئیں کے جو بوقت جنگ ہمارے کام آئے گا باقی سب کنوئیں خشک کر دیئے جائیں“۔
- ٨۔ ”صحیح بخاری“ (١٠٢٣-٢) میں ہے کہ حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے پاس چند
بد دین زندیق لائے گئے تو آپ نے انہیں آگ میں جلا دیا۔ حضرت ابن عباسؓ کو اس کی اطلاع پہنچی تو فرمایا:
”اگر میں ہوتا تو انہیں جلاتا نہیں، کیونکہ رسول اللہ ﷺ نے منع فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے عذاب کی سزا مت دو، بلکہ میں انہیں قتل کرتا“۔
کیونکہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے:
من بدل دینہ فاقتلوہ ۔ ”جو شخص مرتد ہو جائے اسے قتل کر
نے ان کا محاصرہ اسی لیے کیا ہے کہ ان کا رسد اور پانی ختم ہو جائے، اور وہ اپنے آپ کو مسلمانوں کے سپرد کر دیں، اور اللہ تعالیٰ کے حکم پر باہر نکل آئیں۔
پس ان کے ہاتھ غلہ وغیرہ بیچنا ان کے قلعہ بند رہنے میں تقویت کا موجب ہوگا۔ بخلاف گزشتہ بالا صورت کے کیونکہ اہل حرب اپنے ملک میں ایسی چیزیں حاصل کر سکتے ہیں جن کے ذریعہ وہاں قیام پذیر رہ سکیں، انہیں مسلمانوں سے خریدنے کی ضرورت نہیں، لیکن جو کافر قلعہ بند ہوں اور مسلمانوں نے ان کا محاصرہ کر رکھا ہو وہ مسلمانوں کے کسی فرد سے ضروریات زندگی نہیں خرید سکتے۔ لہٰذا کسی بھی مسلمان کو حلال نہیں کہ ان کے ہاتھ کسی قسم کی کوئی چیز فروخت کرے، جو شخص ایسی حرکت کرے اور امام کو اس کا علم ہو جائے تو امام اسے تادیب اور سرزنش کرے کیوں کہ اس نے غیر حلال فعل کا ارتکاب کیا ہے۔
مذکورہ بالا نصوص اور فقہاء اسلام کی تصریحات سے حسب ذیل اصول و نتائج منقح ہو کر سامنے آجاتے ہیں۔
- ١۔ کفار محاربین سے دوستانہ تعلقات ناجائز اور حرام ہیں جو شخص ان سے ایسے
روابط رکھے وہ گمراہ ظالم اور مستحق عذاب الیم ہے۔
- ٢۔ جو کافر مسلمانوں کے دین کا مذاق اڑاتے ہیں ان کے ساتھ معاشرتی تعلقات
نشست و برخاست وغیرہ بھی حرام ہیں۔
- ٣۔ جو کافر مسلمانوں سے برسر پیکار ہوں ان کے محلے میں ان کے ساتھ رہنا بھی
ناجائز ہے۔
- ٤۔ مرتد کو سخت سے سخت سزا دینا ضروری ہے اس کی کوئی انسانی حرمت نہیں
یہاں تک کہ اگر پیاس سے جان بلب ہو کر تڑپ رہا ہو تب بھی اسے پانی نہ پلایا جائے۔
- ٥۔ جو کافر مرتد اور باغی مسلمانوں کے خلاف ریشہ دوانیوں میں مصروف ہوں
ان سے خرید و فروخت اور لین دین ناجائز ہے۔ جب کہ اس سے ان کو تقویت حاصل ہوتی ہو بلکہ ان کی اقتصادی ناکہ بندی کر کے ان کی جارحانہ قوت کو مفلوج کر دینا واجب
ہے۔
- ٦۔ مفسدوں سے اقتصادی مقاطعہ کرنا ظلم نہیں بلکہ شریعت اسلامیہ کا اہم حکم
اور اسوہ رسول ہے۔
- ٧۔ اقتصادی اور معاشرتی مقاطعہ کے علاوہ مرتدوں، موذیوں اور مفسدوں کو یہ
سزائیں بھی دی جاسکتی ہیں، قتل کرنا، شہر بدر کرنا، ان کے گھروں کو ویران کرنا، ان پر ہجوم کرنا وغیرہ۔
- ٨۔ اگر محارب کافروں اور مفسدوں کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے ان کی
عورتیں اور بچے بھی تبعاً اس کی زد میں آجائیں تو ان کی پرواہ نہیں کی جائے۔ ہاں اصلاً عورتوں اور بچوں پر ہاتھ اٹھانا جائز نہیں۔
- ٩۔ ان لوگوں کے خلاف مذکورہ بالا اقدامات کرنا دراصل اسلامی حکومت کا
فرض ہے، لیکن اگر حکومت اس میں کوتاہی کرے تو خود بھی ایسے اقدامات کر سکتے ہیں جو ان کے دائرہ اختیار کے اندر ہوں مگر انہیں کسی ایسے اقدام کی اجازت نہیں جس میں ملکی امن میں خلل و فساد کا اندیشہ ہو۔
- ١٠۔ مکمل مقاطعہ صرف کافروں اور مفسدوں سے ہی جائز نہیں بلکہ کسی سنگین
نوعیت کے معاملہ میں ایک مسلمان کو بھی یہ سزا دی جاسکتی ہے۔
- ١١۔ زندیق اور ملحد جو بظاہر اسلام کا کلمہ پڑھتا ہو مگر اندرونی طور پر خبیث عقائد
رکھتا ہو اور غلط تاویلات کے ذریعے اسلامیہ نصوص کو اپنے عقائد خبیثہ پر چسپاں کرتا ہو۔ اس کی حالت کافر اور مرتد سے بھی بدتر ہے، کہ کافروں اور مرتد کی توبہ بالاتفاق قابل قبول ہے، مگر بقول شامی زندیق کا نہ اسلام معتبر ہے نہ کلمہ نہ اس کی توبہ قابل التفات ہے۔ الا یہ اپنے عقائد خبیثہ سے برات کا اعلان کرے۔
ان اصول کی روشنی میں زیر بحث جماعت کی حیثیت اور ان سے اقتصادی و معاشی، اور معاشرتی و سیاسی مقاطعہ یا مکمل سوشل بائیکاٹ کا شرعی حکم بالکل واضح ہو جاتا ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم۔
کتبہ: ولی محمد ٹونکی غفر اللہ لہ
(دار الافتاء مدرسہ عربیہ اسلامیہ نیو ٹاؤن کراچی)
فتنۂ قادیانیت کو پہچانیے !
مولانا
محمد یوسف لدھیانوی
ہماری بد نصیبی کہ قادیانی مرتد، زندیق، گستاخ رسول، باغی ختم نبوت، مجرمان تحریف قرآن و حدیث، غداران ملت و دین، آلہ کاران یہود و نصاریٰ ہونے کے باوجود خدا کی دھرتی پر بڑی عیش و عشرت اور کرو فر کے ساتھ زندہ ہیں اور اپنی دجالی صورتیں اور منحوس وجود لیے اسلام اور ملت اسلامیہ کے خلاف تخریبی کارروائیوں میں پوری توانائیوں کے ساتھ جتے ہوئے ہیں۔
افسوس صد افسوس! وہ طائفہ مرتدین جسے تہ تیغ ہونا تھا، وہ گروہ زندیقین جسے تختہ دار پہ جھولنا تھا، سارقان ختم نبوت کی وہ جماعت جسے خاک و خون میں تڑپنا تھا اور جس کا بند بند کاٹا جانا تھا، آج ہمارے معاشرے کا رواں دواں حصہ ہے اور اپنے آقاؤں کی بخشی ہوئی دولت اور عطا کردہ کلیدی عہدوں کی طاقت سے سوسائٹی میں ایک طاقتور حیثیت حاصل کر چکے ہیں اور وہ مسلم معاشرے میں اس طرح گھل مل گئے ہیں جیسے دونوں کے مابین کوئی فرق ہی نہیں۔ جب فکر کے بلند مینارے پر بیٹھ کر ایک عمیق نگاہ اپنے معاشرے پر ڈالتے ہیں تو چشم حیرت دیکھتی ہے کہ کسی کا بھائی قادیانی، کسی کا چچا قادیانی، کسی کا شوہر قادیانی، کسی کی بیوی قادیانی، کسی کا استاد قادیانی، کسی کا شاگرد قادیانی، کوئی قادیانی کا افسر، کوئی قادیانی کا ماتحت، کوئی قادیانی کا جگری دوست، کوئی قادیانی کا شریک کاروبار، کوئی قادیانی کا ہمسایہ، کہیں قادیانی کی فیکٹری میں مسلمان ملازم، کہیں مسلمان کی فیکٹری میں قادیانی اعلیٰ عہدوں پر تعینات...... پھر یہ تعلقات مزید بڑھتے ہیں، پروان چڑھتے ہیں اور ایک خطرناک موڑ مڑ کر وادی ایمان شکن کے نشیب میں اتر جاتے ہیں..... پھر ہم دیکھتے ہیں کہ ایک دوسرے کے جنازے پڑھے جا رہے ہیں...... آپس میں رشتے ناتے طے کیے جا رہے ہیں...... خوشی کے موقعوں پر تحائف کا تبادلہ ہو رہا ہے...... عید کے موقع پر
بغل گیریاں ہو رہی ہیں اور ماتھے چومے جا رہے ہیں۔۔۔۔۔ شادیوں میں کھانا اکٹھا کھایا جا رہا ہے، قہقہے لگ رہے ہیں اور خود کو مسلمان کہلوانے والا ”قادیانی دولہا“ کے وکیل کی حیثیت سے نکاح فارم پر دستخط کر رہا ہے۔۔۔۔۔ چند ٹکوں کے لیے مسلمان اساتذہ قادیانیوں کے گھروں میں ٹیوشن پڑھا رہے ہیں اور مرتدوں کے ہاں سے چائے شربت بھی اڑا رہے ہیں۔۔۔۔۔ تحریف قرآن کے مجرموں کے گھروں میں مسلمان بچے قرآن پڑھنے جا رہے ہیں، شعائر اسلامی کی توہین کرنے کے جرم میں اگر کوئی قادیانی پکڑا گیا ہے تو عدالت کے ایوان میں مسلمان وکیل دنیائے فانی کی خاطر چند روپوں کے عوض اس مجرم اسلام کو مظلوم ثابت کرنے کے لیے بڑے پرجوش انداز میں دلائل کے انبار لگا رہا ہے۔ غرضیکہ کفر و ایمان کی حد فاصل کو منہدم کیا جا رہا ہے۔ لیکن ان میں سے بہتوں کو معلوم نہیں کہ وہ اپنے ہی ہاتھوں سے اپنے ایمان کا گلا گھونٹ رہے ہیں۔ وہ اس حقیقت سے آشنا نہیں کہ وہ جہالت کی شمشیر سے اپنی دینی غیرت کے ٹکڑے کر رہے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو تڑپا رہے ہیں اور اللہ کی آتش انتقام کو دعوت انتقام دے رہے ہیں۔ اللہ اجر عظیم عطا فرمائے مجاہد اسلام‘ پاسبان ختم نبوت‘ حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانوی مدظلہ کو جو ایک طویل مدت سے ملت اسلامیہ کو فتنہ قادیانیت اور اس کی خطرناک چالوں سے آگاہ کر رہے ہیں اور افراد امت کی تربیت کر کے انہیں اس فتنہ کی سرکوبی کے لیے صف آرا کر رہے ہیں۔ یہ کتابچہ ان سوالات کے مجموعہ سے انتخاب ہے جو اندرون و بیرون ملک کے قارئین روزنامہ ”جنگ“ کراچی اور ہفت روزہ ”انٹرنیشنل“ ختم نبوت میں مولانا سے پوچھتے ہیں۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت ننکانہ صاحب نے حسن نیت اور حسن طباعت سے اسے شائع کرنے کی سعادت حاصل کی ہے۔ اب کتابچہ آپ کے ہاتھوں میں ہے اور آپ کے در دل پہ دستک دے رہا ہے کہ خدارا مجھے پڑھو اور پڑھاؤ۔۔۔۔۔ سمجھو اور سمجھاؤ۔۔۔۔۔ جاگو اور جگاؤ۔۔۔۔۔ بچو اور بچاؤ!!!
خاتم النبیین محمد عربی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے عشق و وفا کا رشتہ عظیم رکھنے والے تمام مسلمانوں سے التماس ہے کہ اس کتابچہ کو اپنی اپنی استعداد کے مطابق چھپوا کر گلی گلی‘ کوچہ کوچہ‘ قریہ قریہ‘ گاؤں گاؤں‘ قصبہ قصبہ اور ملک ملک میں پھیلا کر یہ ثابت کر دیں کہ
ناموس محمدؐ کے پاسدار ہیں ہم لوگ
محمد طاہر رزاق لاہور
مسلمان کی تعریف
س : قرآن اور حدیث کے حوالہ سے مختصراً بتائیں کہ مسلمان کی تعریف کیا ہے؟
ج : ایمان نام ہے آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لائے ہوئے پورے دین کو بغیر کسی تحریف و تبدیلی کے قبول کرنے کا اور اس کے مقابلہ میں کفر نام ہے آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دین کی کسی قطعی ویقینی بات کو نہ ماننے کا۔ قرآن کریم کی بے شمار آیات میں ”ما انزل الی الرسول“ کے ماننے کو ”ایمان“ اور ”ما انزل الی الرسول“ میں سے کسی ایک کے نہ ماننے کو کفر فرمایا گیا ہے۔ اسی طرح احادیث شریفہ میں بھی یہ مضمون کثرت سے آیا ہے، مثلاً صحیح مسلم (جلد اول، ص ٣٧) کی حدیث میں ہے ”اور وہ ایمان لائیں مجھ پر اور جو کچھ میں لایا ہوں اس پر“...... اس سے مسلمان اور کافر کی تعریف معلوم ہو جاتی ہے یعنی جو شخص محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لائے ہوئے دین کی تمام قطعی و یقینی باتوں کو من و عن مانتا ہو، وہ مسلمان ہے اور جو شخص قطعیات دین میں سے کسی ایک کا منکر ہو یا اس کے معنی و مفہوم کو بگاڑتا ہو وہ مسلمان نہیں، بلکہ کافر ہے۔
مثال کے طور پر قرآن مجید نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو خاتم النبیین فرمایا ہے اور بہت سی احادیث شریفہ میں اس کی یہ تفسیر فرمائی گئی کہ آپ کے بعد کوئی نبی نہیں ہوگا۔ اور امت اسلامیہ کے تمام فرقے (اپنے اختلافات کے باوجود) یہی عقیدہ رکھتے آئے ہیں۔ لیکن مرزا غلام احمد قادیانی نے اس عقیدے سے انکار کر کے نبوت کا دعویٰ کیا۔ اس وجہ سے قادیانی غیر مسلم اور کافر قرار پائے۔
اسی طرح قرآن کریم اور احادیث شریفہ میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے آخری
زمانے میں نازل ہونے کی خبر دی گئی ہے۔ مرزا قادیانی اور اس کے متبعین اس عقیدے سے منحرف ہیں۔ اور وہ مرزا کے عیسیٰ ہونے کے مدعی ہیں، اس وجہ سے بھی وہ مسلمان نہیں۔ اس طرح قرآن کریم اور احادیث شریفہ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پیروی کو قیامت تک مدار نجات ٹھہرایا گیا ہے لیکن مرزا قادیانی کا دعویٰ ہے کہ میری وحی نے شریعت کی تجدید کی ہے۔ اس لیے اب میری وحی اور میری تعلیم مدار نجات ہے (اربعین نمبر ٤، ص ٧ حاشیہ) غرض کہ مرزا قادیانی نے بے شمار قطعیات اسلام کا انکار کیا ہے۔ اس لیے تمام اسلامی فرقے ان کے کفر پر متفق ہیں۔
مسلمان اور قادیانیوں کے کلمہ اور ایمان میں بنیادی فرق
س: انگریزی دان طبقہ اور وہ حضرات جو دین کا زیادہ علم نہیں رکھتے لیکن مسلمانوں کے آپس کے افتراق سے بیزار ہیں، قادیانیوں کے سلسلہ میں بڑے گو مگو میں ہیں۔ ایک طرف وہ جانتے ہیں کہ کسی کلمہ گو کو کافر نہیں کہنا چاہیے جبکہ قادیانیوں کو کلمہ کا بیج لگانے کی بھی اجازت نہیں ہے، دوسری طرف وہ یہ بھی جانتے ہیں کہ مرزا غلام احمد قادیانی نے جھوٹا دعویٰ نبوت کیا تھا۔ برائے مہربانی آپ بتائیے کہ قادیانی جو مسلمانوں کا کلمہ پڑھتے ہیں، کیونکر کافر ہیں؟
ج: قادیانیوں سے یہ سوال کیا گیا تھا کہ اگر مرزا غلام احمد قادیانی نبی ہیں جیسا کہ ان کا دعویٰ ہے تو پھر آپ لوگ مرزا صاحب کا کلمہ کیوں نہیں پڑھتے؟ مرزا صاحب کے صاحب زادے مرزا بشیر احمد صاحب ایم اے نے اپنے رسالہ ”کلمۃ الفصل“ میں اس سوال کے دو جواب دیئے ہیں۔ ان دونوں جوابوں سے آپ کو معلوم ہو جائے گا کہ مسلمانوں اور قادیانیوں کے کلمہ میں کیا فرق ہے؟ اور یہ کہ قادیانی صاحبان ”محمد رسول اللہ“ کا مفہوم کیا لیتے ہیں؟
مرزا بشیر احمد صاحب کا پہلا جواب یہ ہے کہ
”محمد رسول اللہ کا نام کلمہ میں اس لیے رکھا گیا ہے کہ آپ نبیوں کے سرتاج اور خاتم النبیین ہیں، اور آپ کا نام لینے سے باقی سب نبی خود اندر آ جاتے ہیں۔ ہر ایک
کا علیحدہ نام لینے کی ضرورت نہیں ہے۔
ہاں! حضرت مسیح موعود (مرزا صاحب) کے آنے سے ایک فرق ضرور پیدا ہو گیا ہے اور وہ یہ کہ مسیح موعود (مرزا صاحب) کی بعثت سے پہلے تو محمد رسول اللہ کے مفہوم میں صرف آپ سے پہلے گزرے ہوئے انبیاء شامل تھے مگر مسیح موعود (مرزا صاحب) کی بعثت کے بعد ”محمد رسول اللہ“ کے مفہوم میں ایک اور رسول کی زیادتی ہو گئی۔
غرض اب بھی اسلام میں داخل ہونے کے لیے یہی کلمہ ہے۔ صرف فرق اتنا ہے کہ مسیح موعود (مرزا صاحب) کی آمد نے محمد رسول اللہ کے مفہوم میں ایک رسول کی زیادتی کر دی ہے اور بس“۔
یہ تو ہوا مسلمانوں اور قادیانی غیر مسلم اقلیت کے کلمے میں پہلا فرق۔ جس کا حاصل یہ ہے کہ قادیانیوں کے کلمہ کے مفہوم میں مرزا قادیانی بھی شامل ہے اور مسلمانوں کا کلمہ اس نئے نبی کی ”زیادتی“ سے پاک ہے۔ اب دوسرا فرق سنئے! مرزا بشیر احمد صاحب ایم اے لکھتے ہیں:
”علاوہ اس کے اگر ہم بفرض محال یہ بات مان بھی لیں کہ کلمہ شریف میں نبی کریم کا اسم مبارک اس لیے رکھا گیا ہے کہ آپ آخری نبی ہیں تو تب بھی کوئی حرج واقع نہیں ہوتا اور ہم کو نئے کلمہ کی ضرورت پیش نہیں آتی کیونکہ مسیح موعود (مرزا صاحب) نبی کریم سے کوئی الگ چیز نہیں ہے جیسا کہ وہ (یعنی مرزا صاحب) خود فرماتا ہے ”صار وجودی وجودہ“۔ (یعنی میرا وجود محمد رسول اللہ ہی کا وجود بن گیا ہے۔ از ناقل) نیز ”من فرق بینی و بین المصطفےٰ فما عرفنی و ما رانی“ (یعنی جس نے مجھ کو اور مصطفیٰ کو الگ الگ سمجھا‘ اس نے مجھے نہ پہچانا نہ دیکھا۔ ناقل) اور یہ اس لیے ہے کہ اللہ تعالیٰ کا وعدہ تھا کہ وہ ایک دفعہ اور خاتم النبیین کو دنیا میں مبعوث کرے گا۔ (نعوذ باللہ۔ ناقل) جیسا کہ آیت آخرین منھم سے ظاہر ہے۔
”پس مسیح موعود (مرزا صاحب) خود محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم‘ رسول اللہ ہیں جو اشاعت اسلام کے لیے دوبارہ دنیا میں تشریف لائے۔ اس لیے ہم کو کسی نئے کلمہ کی ضرورت نہیں۔
ہاں! اگر محمد رسول اللہ کی جگہ کوئی اور آتا تو ضرورت پیش آتی“...... فقط
ہوا۔۔۔۔۔۔ (”کلمۃ الفصل“ ص١٥٨، مندرجہ رسالہ ”ریویو آف ریلیجنز“ جلد١٤، نمبر٣-٤، بابت ماہ مارچ و اپریل ١٩١٥ء) یہ مسلمانوں اور قادیانیوں کے کلمہ میں دوسرا فرق ہوا کہ مسلمانوں کے کلمہ شریف میں ”محمد رسول اللہ“ سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم مراد ہیں اور قادیانی جب ”محمد رسول اللہ“ کہتے ہیں تو اس سے مرزا غلام احمد قادیانی مراد ہوتے ہیں۔
مرزا بشیر احمد صاحب ایم اے نے جو لکھا ہے کہ ”مرزا صاحب خود محمد رسول اللہ ہیں جو اشاعت اسلام کے لیے دنیا میں دوبارہ تشریف لائے ہیں“ یہ قادیانیوں کا بروزی فلسفہ ہے جس کی مختصر سی وضاحت یہ ہے کہ ان کے نزدیک آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو دنیا میں دوبارہ آنا تھا۔ چنانچہ پہلے آپ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ مکرمہ میں تشریف لائے اور دوسری بار آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مرزا غلام احمد کی بروزی شکل میں معاذ اللہ مرزا غلام مرتضیٰ کے گھر میں جنم لیا۔ مرزا صاحب نے ”تحفہ گولڑویہ“۔ ”خطبہ الہامیہ“ اور دیگر بہت سی کتابوں میں اس مضمون کو بار بار دہرایا ہے۔ (دیکھئے ”خطبہ الہامیہ“ ص١٧١، ص١٨٠)
اس نظریہ کے مطابق قادیانی امت مرزا صاحب کو ”عین محمد“ سمجھتی ہے۔ اس کا عقیدہ ہے کہ نام، کام، مقام اور مرتبہ کے لحاظ سے مرزا صاحب اور محمد رسول اللہ کے درمیان کوئی دوئی اور مغائرت نہیں ہے، نہ وہ دونوں علیحدہ وجود ہیں بلکہ دونوں ایک ہی شان، ایک ہی مرتبہ، ایک ہی منصب اور ایک ہی نام رکھتے ہیں، چنانچہ قادیانی غیر مسلم اقلیت مرزا غلام احمد کو وہ تمام اوصاف و القاب اور مرتبہ و مقام دیتی ہے جو اہل اسلام کے نزدیک صرف اور صرف محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مخصوص ہے۔ قادیانیوں کے نزدیک مرزا صاحب بعینہ محمد رسول اللہ ہیں، محمد مصطفیٰ ہیں، احمد مجتبیٰ ہیں، خاتم الانبیاء ہیں، امام الرسل ہیں، رحمۃ للعالمین ہیں، صاحب کوثر ہیں، صاحب معراج ہیں، صاحب مقام محمود ہیں، صاحب فتح مبین ہیں، زمین و زمان اور کون و مکان صرف مرزا صاحب کی خاطر پیدا کیے گئے وغیرہ وغیرہ۔
اسی پر بس نہیں بلکہ اس سے بڑھ کر بقول ان کے مرزا صاحب کی ”بروزی بعثت“ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اصل بعثت سے روحانیت میں اعلیٰ و اکمل ہے۔
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا زمانہ روحانی ترقیات کی ابتدا کا زمانہ تھا اور مرزا صاحب کا زمانہ ان ترقیات کی انتہا کا۔ وہ صرف تائیدات اور دفع بلیات کا زمانہ تھا اور مرزا صاحب کا زمانہ برکات کا زمانہ ہے۔ اس وقت اسلام پہلی رات کے چاند کی مانند تھا جس کی کوئی روشنی نہیں ہوتی اور مرزا صاحب کا زمانہ چودھویں رات کے بدر کامل کے مشابہ ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو تین ہزار معجزے دیئے گئے تھے اور مرزا صاحب کو دس لاکھ، بلکہ دس کروڑ بلکہ بے شمار۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا ذہنی ارتقاء وہاں تک نہیں پہنچا جہاں تک مرزا صاحب نے ذہنی ترقی کی۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر بہت سے وہ رموز و اسرار نہیں کھلے جو مرزا صاحب پر کھلے۔
مرزا صاحب کی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر فضیلت و برتری کو دیکھ کر قادیانیوں کے بقول...... اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم علیہ السلام سے لے کر حضرت رسول اللہ علیہ وسلم تک تمام نبیوں سے عہد لیا کہ وہ مرزا صاحب پر ایمان لائیں اور ان کی بیعت و نصرت کریں۔ خلاصہ یہ کہ قادیانیوں کے نزدیک نہ صرف مرزا صاحب کی شکل میں محمد رسول اللہ خود دوبارہ تشریف لائے ہیں بلکہ مرزا غلام مرتضیٰ کے گھر پیدا ہونے والا قادیانی ”محمد رسول اللہ“ اصلی محمد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) سے اپنی شان میں بڑھ کر ہے۔ نعوذ باللہ! استغفراللہ! لعنت اللہ علیہ۔
چنانچہ مرزا صاحب کے ایک مرید (یا قادیانی اصطلاح میں مرزا صاحب کے ”صحابی“) قاضی ظہور الدین اکمل نے مرزا صاحب کی شان میں ایک ”نعت“ لکھی جسے خوش خط لکھوا کر اور خوبصورت فریم بنوا کر قادیان کی ”بارگاہ رسالت“ میں پیش کیا۔ مرزا صاحب اپنے نعت خواں سے بہت خوش ہوئے اور اسے بڑی دعائیں دیں۔ بعد میں وہ قصیدہ نعتیہ مرزا صاحب کے ترجمان اخبار ”بدر“ جلد ٢، نمبر ٤٣ میں شائع ہوا۔ وہ پرچہ راقم الحروف کے پاس محفوظ ہے۔ اس کے چار شعر ملاحظہ ہوں:
غلام احمد ہوا دارالاماں میں
غلام احمد ہے عرش رب اکبر
مکاں اس کا ہے گویا لامکاں میں
اور آگے سے ہیں بڑھ کر اپنی شاں میں
محمدؐ دیکھنے ہوں جس نے اکمل
غلام احمد کو دیکھے قادیاں میں
(اخبار ”بدر“ قادیان‘ ٢٥؍ اکتوبر ١٩٠٦ء)
مرزا صاحب کا ایک اور نعت خواں‘ قادیان کے ”بروزی محمد رسول اللہ“ کو ہدیہ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہتا ہے:
کہ جس پر وہ بدر الدجیٰ بن کے آیا
محمد پئے چارہ سازی امت
ہے اب ”احمد مجتبیٰ“ بن کے آیا
حقیقت کھلی بعثت ثانی کی ہم پر
کہ جب مصطفیٰ مرزا بن کے آیا
(”الفضل“ قادیان‘ ٢٨؍ مئی ١٩٢٨ء)
یہ ہے قادیانیوں کا ”محمد رسول اللہ“ جس کا وہ کلمہ پڑھتے ہیں۔
چونکہ مسلمان‘ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان رکھتے ہیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو خاتم النبیینؐ اور آخری نبی مانتے ہیں‘ اس لیے کسی مسلمان کی غیرت ایک لمحہ کے لیے بھی یہ برداشت نہیں کر سکتی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد پیدا ہونے والے کسی بڑے سے بڑے شخص کو بھی منصب نبوت پر قدم رکھنے کی اجازت دی جائے کجا کہ ایک ”غلام اسود“ کو ”نعوذ باللہ“ ”محمد رسول اللہ“ بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی اعلیٰ و افضل بنا ڈالا جائے۔ بنابریں قادیان کی شریعت مسلمانوں پر کفر کا فتویٰ دیتی ہے۔ مرزا بشیر احمد ایم اے لکھتے ہیں:
”اب معاملہ صاف ہے۔ اگر نبی کریم کا انکار کفر ہے تو مسیح موعود (غلام احمد قادیانی) کا انکار بھی کفر ہونا چاہیے کیونکہ مسیح موعود نبی کریم سے الگ کوئی چیز نہیں بلکہ وہی ہے“۔
”اور اگر مسیح موعود کا منکر کافر نہیں تو نعوذ باللہ نبی کریمؐ کا منکر بھی کافر نہیں کیونکہ یہ کس طرح ممکن ہے کہ پہلی بعثت میں تو آپ کا انکار کفر ہو مگر دوسری بعثت (مرزا قادیانی کی بروزی بعثت۔ ناقل) میں جس میں بقول مسیح موعود آپ کی روحانیت اقویٰ اور اکمل اور اشد ہے..... آپ کا انکار کفر نہ ہو“۔
(”کلمۃ الفصل“ ص ١٤٧)
دوسری جگہ لکھتے ہیں:
”ہر ایک ایسا شخص جو موسیٰ کو تو مانتا ہے مگر عیسیٰ کو نہیں مانتا یا عیسیٰ کو مانتا ہے مگر محمد کو نہیں مانتا یا محمد کو مانتا ہے پر مسیح موعود (مرزا غلام احمد) کو نہیں مانتا وہ نہ صرف کافر بلکہ پکا کافر اور دائرہ اسلام سے خارج ہے“۔
(ص ١١٠)
ان کے بڑے بھائی مرزا محمود احمد صاحب لکھتے ہیں:
”کل مسلمان جو حضرت مسیح موعود (مرزا غلام احمد) کی بیعت میں شامل نہیں ہوئے۔ خواہ انہوں نے حضرت مسیح موعود کا نام بھی نہیں سنا‘ وہ کافر اور دائرہ اسلام سے خارج ہیں“۔
(”آئینہ صداقت“ ص ٣٥)
ظاہر ہے کہ اگر قادیانی بھی اسی محمد رسول اللہ کا کلمہ پڑھتے ہیں جن کا کلمہ مسلمان پڑھتے ہیں تو قادیانی شریعت میں یہ ”کفر کا فتویٰ“ نازل نہ ہوتا‘ اس لیے مسلمانوں اور قادیانیوں کے کلمہ کے الفاظ گو ایک ہی ہیں مگر ان کے مفہوم میں زمین و آسمان اور کفر و ایمان کا فرق ہے۔
لاہوری گروپ کیا چیز ہے؟
س: لاہوری گروپ کیا چیز ہے؟ اس کے پیروکار کون لوگ ہیں؟ ان کا طریقہ عبادت کیا ہے؟ یہ اپنے آپ کو کون سی امت کہلاتے ہیں؟
ج: حکیم نورالدین کے مرنے کے بعد مرزائی جماعت دو حصوں میں تقسیم ہوگئی تھی۔ جماعت کے بڑے حصہ نے مرزا محمود کے ہاتھ پر بیعت کرلی۔ یہ قادیانی مرزائی کہلاتے ہیں اور ایک مختصر حصہ نے مرزا محمود کی بیعت سے کنارہ کشی اختیار کی۔ ان کا مرکز لاہور تھا اور اس جماعت کا قائد مسٹر محمد علی لاہوری تھا۔ یہ جماعت لاہوری مرزائی کہلاتی ہے۔ ان دونوں جماعتوں میں اس پر اتفاق ہے کہ مرزا قادیانی مسیح موعود تھا۔
مہدی تھا، ظلی نبی تھا۔ اس کی وحی واجب الایمان اور اس کی پیروی موجب نجات ہے۔ البتہ اس میں اختلاف ہے کہ مرزا کو حقیقی نبی کہا جائے یا نہیں؟ لاہوری جماعت مرزا کو نبی کہنے سے گھبراتی ہے۔ اسے مسیح موعود، مہدی مسعود اور چودھویں صدی کے مجدد کے ناموں سے یاد کرتی ہے۔ اہل اسلام کے نزدیک ان دونوں جماعتوں کا...... بلکہ مرزا کو ماننے والی تمام جماعتوں کا ایک ہی حکم ہے کیونکہ مرزا مرتد تھا۔ مرتد کو مسیح ماننے والے بھی مرتد ہوں گے۔
”احمدی“ یا قادیانی
س : ”ختم نبوت“ مسلمانوں کا بہترین رسالہ ہے۔ آپ صرف یہ بتائیں کہ احمدی کا قادیانی سے کیا تعلق ہے۔ کیا احمدی ہی قادیانی کا دوسرا نام ہے اور اگر احمدی کا قادیانی سے کوئی تعلق نہیں تو احمدی کے متعلق مفصل بتائیں کہ وہ کیا ہے اور اس کا اسلام سے کیا تعلق ہے؟
ج : قادیانی مرزائی ہی اپنے آپ کو ”احمدی“ کہتے ہیں اور ان کے ”احمدی“ کہلانے میں بھی بہت بڑا دجل ہے کیونکہ ”احمدی“ نسبت ہے ”احمد“ کی طرف اور قادیانی مرزائی، مرزا غلام احمد کو ”احمد“ کہتے ہیں اور اسے قرآن کی آیت ”ومبشرا برسول یاتی من بعدی اسمہ احمد“ کا مصداق سمجھتے ہیں اس لیے وہ ”احمد“ کی طرف نسبت کر کے ”احمدی“ کہلاتے ہیں۔ گویا قادیانیوں / مرزائیوں کا اپنے آپ کو ”احمدی“ کہلانا دو باتوں پر موقوف ہے۔
- الف......... مرزا غلام احمد، احمد ہے۔
- ب........... وہ قرآنی آیت کا مصداق ہے۔
اور یہ دونوں باتیں جھوٹ ہیں کیونکہ مرزا کا نام ”احمد“ نہیں بلکہ غلام احمد تھا۔ یہ الگ بات ہے کہ اس نالائق غلام نے آقا کی گدی پر قبضہ کر کے خود ”احمد“ ہونے کا دعویٰ کر دیا ہے اور یہ دوسری بات اس لیے جھوٹ ہے کہ اسم احمد کا مصداق ہمارے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہیں نہ کہ مرزا غلام احمد قادیانی، اس لیے مرزائیوں کو ”احمدی“ کہنا مسلمانوں کے نزدیک جائز نہیں۔ ہمارا انگریزی پڑھا لکھا طبقہ جو ان کو
”احمدی“ کہتا ہے‘ وہ حقیقت حال سے بے خبر ہے۔
احمد کا مصداق کون ہے؟
س: قرآن پاک میں ٢٨ویں پارے میں سورہ صف میں موجود ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام نے فرمایا کہ میرے بعد ایک نبی آئے گا اور اس کا نام احمد ہوگا۔ اس سے مراد کون ہیں جبکہ قادیانی مرزا قادیانی مراد لیتے ہیں؟
ج: اس سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم مراد ہیں کیونکہ صحیح بخاری اور صحیح مسلم کی حدیث میں ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”میرے کئی نام ہیں میں محمد ہوں اور میں احمد ہوں“۔ (مشکوٰۃ‘ ص٥١٥) قادیانی چونکہ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان نہیں رکھتے اس لیے وہ اس کو بھی نہیں مانیں گے۔
کافر‘ زندیق‘ مرتد کا فرق
س: (١) کافر اور مرتد میں کیا فرق ہے؟ (٢) جو لوگ کسی جھوٹے مدعی نبوت کو مانتے ہوں وہ کافر کہلائیں گے یا مرتد؟ (٣) اسلام میں مرتد کی کیا سزا ہے اور کافر کی کیا سزا ہے؟
ج: (١) جو لوگ اسلام کو مانتے ہی نہیں وہ تو کافر اصلی کہلاتے ہیں‘ جو لوگ دین اسلام کو قبول کرنے کے بعد اس سے برگشتہ ہو جائیں وہ ”مرتد“ کہلاتے ہیں اور جو لوگ دعویٰ اسلام کا کریں لیکن عقائد کفریہ رکھتے ہوں اور قرآن و حدیث کے نصوص میں تحریف کر کے انہیں اپنے عقائد کفریہ پر فٹ کرنے کی کوشش کریں انہیں ”زندیق“ کہا جاتا ہے اور جیسا کہ آگے معلوم ہو گا ان کا حکم بھی ”مرتدین“ کا ہے بلکہ ان سے بھی سخت۔
(٢) ختم نبوت اسلام کا قطعی اور اٹل عقیدہ ہے اس لیے جو لوگ دعویٰ اسلام کے باوجود کسی جھوٹے مدعی نبوت کو مانتے ہیں اور قرآن و سنت کے نصوص کو اس جھوٹے مدعی پر چسپاں کرتے ہیں‘ وہ مرتد اور زندیق ہیں۔
(٣) مرتد کا حکم یہ ہے کہ اس کو تین دن کی مہلت دی جائے اور اس کے
شبہات دور کرنے کی کوشش کی جائے۔ اگر ان تین دنوں میں وہ اپنے ارتداد سے توبہ کر کے پکا سچا مسلمان بن کر رہنے کا عہد کرے تو اس کی توبہ قبول کی جائے اور اسے رہا کر دیا جائے لیکن اگر وہ توبہ نہ کرے تو اسلام سے بغاوت کے جرم میں اسے قتل کر دیا جائے۔ جمہور ائمہ کے نزدیک مرتد خواہ مرد ہو یا عورت دونوں کا ایک ہی حکم ہے، البتہ امام ابو حنیفہ کے نزدیک مرتد عورت اگر توبہ نہ کرے تو اسے سزائے موت کے بجائے حبس دوام کی سزا دی جائے۔
زندیق بھی مرتد کی طرح واجب القتل ہے لیکن اگر وہ توبہ کرے تو اس کی جان بخشی کی جائے گی یا نہیں؟ امام شافعی فرماتے ہیں کہ اگر وہ توبہ کر لے تو قتل نہیں کیا جائے گا۔ امام مالک فرماتے ہیں کہ اس کی توبہ کا کوئی اعتبار نہیں، وہ بہرحال واجب القتل ہے۔ امام احمد سے دونوں روایتیں منقول ہیں ایک یہ کہ اگر وہ توبہ کر لے تو قتل نہیں کیا جائے گا اور دوسری روایت یہ ہے کہ زندیق کی سزا بہرصورت قتل ہے خواہ توبہ کا اظہار بھی کرے۔ حنفیہ کا مختار مذہب یہ ہے کہ اگر وہ گرفتاری سے پہلے از خود توبہ کر لے تو اس کی توبہ قبول کی جائے اور سزائے قتل معاف ہو جائے گی لیکن گرفتاری کے بعد اس کی توبہ کا اعتبار نہیں۔ اس تفصیل سے معلوم ہوا کہ زندیق مرتد سے بدتر ہے کیونکہ مرتد کی توبہ بالاتفاق قبول ہے لیکن زندیق کی توبہ کے قبول ہونے پر اختلاف ہے۔
قادیانیوں کے ساتھ اشتراک تجارت اور میل ملاپ حرام ہے
س: کیا فرماتے ہیں علمائے کرام مندرجہ ذیل مسئلہ میں؟
قادیانی اپنی آمدنی کا دسواں حصہ اپنی جماعت کے مرکزی فنڈ میں جمع کراتے ہیں جو مسلمانوں کے خلاف تبلیغ اور ارتدادی مہم پر خرچ ہوتا ہے۔ چونکہ قادیانی مرتد، کافر اور دائرۂ اسلام سے متفقہ طور پر خارج ہیں تو کیا ایسے میں ان کے اشتراک سے مسلمانوں کا تجارت کرنا یا ان کی دکانوں سے خرید و فروخت کرنا یا ان سے کسی قسم کے تعلقات یا راہ و رسم رکھنا از روئے اسلام جائز ہے؟
ج: صورت مسئولہ میں اس وقت چونکہ قادیانی کافر، محارب اور زندیق ہیں اور
اپنے آپ کو غیر مسلم اقلیت نہیں سمجھتے بلکہ عالم اسلام کے مسلمانوں کو کافر کہتے ہیں‘ اس لیے ان کے ساتھ تجارت کرنا‘ خرید و فروخت کرنا ناجائز و حرام ہے کیونکہ قادیانی اپنی آمدنی کا دسواں حصہ لوگوں کو قادیانی بنانے میں خرچ کرتے ہیں۔ گویا اس صورت میں مسلمان بھی سادہ لوح مسلمانوں کو مرتد بنانے میں ان کی مدد کر رہے ہیں‘ لہٰذا کسی بھی حیثیت سے ان کے ساتھ معاملات ہرگز جائز نہیں۔ اسی طرح شادی‘ غمی‘ کھانے پینے میں ان کو شریک کرنا‘ عام مسلمانوں کا اختلاط‘ ان کی باتیں سننا‘ جلسوں میں ان کو شریک کرنا‘ ملازم رکھنا‘ ان کے ہاں ملازمت کرنا‘ یہ سب کچھ حرام بلکہ دینی حمیت کے خلاف ہے‘ فقط واللہ اعلم۔
قادیانیوں سے میل جول رکھنا
س : میرا ایک سگا بھائی جو میرے ایک اور سگے بھائی کے ساتھ مجھ سے الگ اپنے آبائی مکان میں رہتا ہے‘ محلہ کے ایک قادیانی کے گھر والوں سے شادی‘ غمی میں شریک ہوتا ہے۔
میرے منع کرنے کے باوجود وہ اس قادیانی خاندان سے تعلق چھوڑنے پر آمادہ نہیں ہوتا۔ میں اپنے بھائیوں میں سب سے بڑا ہوں اور الگ کرائے کے مکان میں رہتا ہوں۔ والد صاحب انتقال کر چکے ہیں۔ والدہ اور بہنیں میرے اس بھائی کے ساتھ رہتی ہیں۔
اب میرے سب سے چھوٹے بھائی کی شادی ہونے والی ہے۔ میرا اصرار ہے کہ وہ شادی میں اس قادیانی کو گھر مدعو نہ کریں لیکن ایسا معلوم ہوتا ہے کہ وہ ایسا نہیں کریں گے۔
اب سوال ہے کہ میرے لیے شریعت اور اسلامی احکامات کی رو سے بھائیوں اور والدہ کو چھوڑنا ہوگا یا میں شادی میں شرکت کروں تو بہتر ہوگا۔ اس صورت حال میں جو بات صائب ہو اس سے براہ کرم شریعت کا منشا واضح کریں۔
ج : قادیانی مرتد اور زندیق ہیں اور ان کو اپنی تقریبات میں شریک کرنا دینی غیرت کے خلاف ہے۔ اگر آپ کے بھائی صاحبان اس قادیانی کو مدعو کریں تو آپ اس
تقریب میں ہرگز شریک نہ ہوں ورنہ آپ بھی قیامت کے دن محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مجرم ہوں گے۔ واللہ اعلم۔
مرزائیوں کے ساتھ تعلقات رکھنے والا مسلمان
س: ایک شخص مرزائیوں (جو بالاجماع کافر ہیں) کے پاس آتا جاتا ہے اور ان کے لٹریچر کا مطالعہ بھی کرتا ہے اور بعض مرزائیوں سے یہ بھی سنا گیا ہے کہ یہ ہمارا آدمی ہے یعنی مرزائی ہے مگر جب خود اس سے پوچھا جاتا ہے تو وہ کہتا ہے کہ ہرگز نہیں بلکہ میں مسلمان ہوں اور ختم نبوت اور حیات حضرت عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام و نزول حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور حضرت مہدی علیہ الرحمۃ و فرضیت جہاد وغیرہ تمام عقائد اسلام کا قائل ہوں اور مرزائیوں کے دونوں گروپوں کو کافر، کذاب، دجال، خارج از اسلام سمجھتا ہوں، تو کیا وجوہ بالا کی بنا پر اس شخص پر کفر کا فتویٰ لگایا جائے گا؟ اگر از روئے شریعت وہ کافر نہیں ہے تو اس پر فتویٰ کفر لگانے کے بارے میں کیا حکم ہے جبکہ ان کے عقائد مذکورہ معلوم ہونے پر بھی تکفیر کرتا ہو اور کفار والا ان کے ساتھ سلوک کرتا ہو اور اس کی نشر و اشاعت کرتا ہو؟
ج: ایسے شخص سے اس کے مسلمان رشتہ دار بائیکاٹ کریں، سلام و کلام ختم کریں، اس کو علیحدہ کر دیں اور بیوی اس سے علیحدہ ہو جائے تاکہ یہ شخص اپنی حرکات سے باز آئے۔ اگر باز آگیا تو ٹھیک ہے ورنہ اس کو کافر سمجھ کر کافروں جیسا معاملہ کیا جائے۔
قادیانی کی دعوت اور اسلامی غیرت
س: ایک ادارہ جس میں تقریباً ٢٥ افراد ملازم ہیں اور ان میں ایک قادیانی بھی شامل ہے اور اس قادیانی نے اپنے احمدی (قادیانی) ہونے کا برملا اظہار بھی کیا ہوا ہے۔ اب وہی قادیانی ملازم اپنے ہاں بچے کی پیدائش کی خوشی میں تمام سٹاف کو دعوت دینا چاہتا ہے اور سٹاف کے کئی ممبران اس کی دعوت میں شریک ہونے کو تیار ہیں جبکہ چند ایک ملازمین اس کی دعوت قبول کرنے پر
تیار نہیں کیونکہ ان کے خیال میں چونکہ جملہ قسم کے مرزائی مرتد‘ دائرہ اسلام سے خارج اور واجب القتل ہیں اور اسلام کے غدار ہیں تو ایسے مذہب سے تعلق رکھنے والوں کی دعوت قبول کرنا درست نہیں ہے۔ آپ برائے مہربانی قرآن و سنت کی روشنی میں اس کی وضاحت کریں کہ کسی بھی قادیانی کی دعوت قبول کرنا ایک مسلمان کے لیے کیا حیثیت رکھتا ہے تاکہ آئندہ کے لیے اسی کے مطابق لائحہ عمل تیار ہو سکے؟
ج: مرزائی کافر ہونے کے باوجود خود کو مسلمان اور دنیا بھر کے مسلمانوں کو کافر اور حرامزادے کہتے ہیں۔ مرزا قادیانی کا کہنا ہے کہ ”میرے دشمن جنگلوں کے سور ہیں‘ اور ان کی عورتیں ان سے بدتر کتیاں ہیں“۔ جو شخص آپ کو کتا‘ خنزیر‘ حرام زادہ اور کافر یہودی کہتا ہو اس کی تقریب میں شامل ہونا چاہیے یا نہیں؟ یہ فتویٰ آپ مجھ سے نہیں بلکہ خود اپنی اسلامی غیرت سے پوچھئے۔
قادیانیوں کی تقریب میں شریک ہونا
س: اگر پڑوس میں زیادہ اہلسنت والجماعت رہتے ہوں‘ چند گھر قادیانی فرقہ کے ہوں‘ ان لوگوں سے بوجہ پڑوسی ہونے کے شادی بیاہ میں کھانا پینا یا ویسے راہ و رسم رکھنا جائز ہے یا نہیں؟
ج: قادیانیوں کا حکم مرتدین کا ہے‘ ان کو اپنی کسی تقریب میں شریک کرنا یا ان کی تقریب میں شریک ہونا جائز نہیں قیامت کے دن خدا اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اس کی جوابدہی کرنا ہوگی۔
قادیانیوں کے گھر کا کھانا
س: قادیانی کے گھر کا کھانا صحیح ہے یا غلط؟
ج: قادیانی کا حکم تو مرتد کا ہے۔ ان کے گھر جانا ہی درست نہیں‘ نہ کسی قسم کا تعلق۔
قادیانی سے تعلقات
س: ١- اگر کسی مسلمان کا رشتہ دار قادیانی ہو اور اس کے ساتھ تعلقات بھی ہوں تو اس کے ساتھ کھانے پینے‘ لین دین اور قرضے کی صورت میں کیا احکام ہیں؟ اور قادیانی عورت یا قادیانی مرد سے نکاح کرنا کیسا ہے؟
٢- اور اگر زوجین میں سے ایک قادیانی ہو جائے تو دوسرے یعنی مسلمان کو کیا کرنا چاہیے اور ان کی بالغ اولاد کے بارے میں کیا حکم ہے کہ انہیں مسلمان کہا جائے گا یا قادیانی؟
ج: ١- قادیانی زندیق و مرتد ہیں‘ ان کے ساتھ کسی قسم کا تعلق رکھنا ناجائز ہے۔
٢- قادیانی اور مسلمان کا باہمی نکاح نہیں ہو سکتا۔ اگر زوجین میں کوئی خدا نخواستہ مرتد قادیانی ہو جائے تو نکاح فوراً فسخ ہو جاتا ہے۔ اولاد مسلمان کے پاس رہے گی۔
(نوٹ: میرے رسائل ”قادیانی جنازہ“۔ ”قادیانی مردہ“ اور ”قادیانی ذبیحہ“ کا مطالعہ ضرور کریں)
قادیانی سہیلی سے تعلق رکھنا
س: میری ایک بہت قریبی دوست ہے جو قادیانی ہے۔ جس وقت میری اس سے دوستی ہوئی تھی‘ مجھے اس بات کا علم نہیں تھا۔ جب دوستی انتہائی مضبوط اور پختہ ہو گئی اس کے بعد کسی اور ذریعے سے مجھے یہ بات معلوم ہوئی۔ میری اس دوست نے مجھے خود کبھی یہ بات نہیں بتائی اور کبھی دین کے مسئلہ پر کوئی بات بھی نہیں ہوئی۔ اب میری سمجھ میں کوئی بات نہیں آتی کہ کیا کروں؟
١- کیا اپنی اس قادیانی دوست سے تعلق ختم کر لوں؟
ج: جی ہاں! اگر اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے تعلق رکھنا ہے تو قادیانی سے تعلق توڑنا ہوگا۔
٢- کیا قادیانیوں یا کسی غیر مسلم سے دوستی رکھنا جائز ہے؟
ج: حرام ہے۔
٣۔ قادیانی کافر ہیں یا مرتد؟
ج: قادیانی مرتد اور زندیق ہیں۔ اس کے لیے میرا رسالہ ”قادیانیوں اور دوسرے کافروں کے درمیان کیا فرق ہے؟“ ملاحظہ فرمائیں۔
قادیانی شادی میں شرکت کا حکم
س: کئی سال قبل ایک شادی میں شرکت کی تھی، کچھ عرصہ بعد معلوم ہوا کہ ماں باپ اور چند اعزہ کی ملی بھگت سے وہ شادی غیر مسلم یعنی قادیانی سے کی گئی ہے۔ اب معلوم یہ کرنا ہے کہ اس شادی میں جو لوگ نادانستہ شریک ہوئے، ان کے بارے میں کیا حکم ہے؟ اس لڑکی سے جو اولاد پیدا ہو رہی ہے، اس کو کیا کہا جائے گا؟
ج: جن لوگوں کو لڑکی کے قادیانی ہونے کا علم نہیں تھا، وہ تو گنہگار نہیں ہوئے، اللہ تعالیٰ معاف فرمائے۔
- ٢۔ جن لوگوں کو علم تھا کہ لڑکی قادیانی ہے اور ان کو قادیانیوں کے عقائد کا علم
نہیں تھا، اس لیے ان کو مسلمان سمجھ کر شریک ہوئے، وہ گنہگار ہیں، ان کو توبہ کرنی چاہیے اور اللہ تعالیٰ سے معافی مانگنی چاہیے۔
- ٣۔ اور جن لوگوں کو لڑکی کے قادیانی ہونے کا علم تھا اور ان کے عقائد کا بھی
علم تھا اور وہ قادیانیوں کو غیر مسلم سمجھتے تھے مگر یہ مسئلہ معلوم نہیں تھا کہ مسلمانوں اور قادیانیوں کا آپس میں نکاح نہیں ہو سکتا، وہ بھی گنہگار ہیں، ان کو توبہ کرنی چاہیے اور اللہ تعالیٰ سے معافی مانگنی چاہیے۔
- ٤۔ اور جن لوگوں کو لڑکی کے قادیانی ہونے کا بھی علم تھا اور ان کے عقائد بھی
معلوم تھے، اس کے باوجود انہوں نے قادیانیوں کو مسلمان سمجھا اور مسلمان سمجھ کر ہی اس شادی میں شرکت کی، وہ ایمان سے خارج ہو گئے۔ ان پر تجدید ایمان اور توبہ کے بعد تجدید نکاح لازم ہے۔
قادیانیوں کا حکم مرتد کا ہے۔ مرتد مرد یا عورت کا اس سے نکاح نہیں ہوتا، اس لیے قادیانی لڑکی سے جو اولاد ہو گی، وہ ولد الحرام شمار ہو گی۔
نوٹ : ان مسائل کی تحقیق میرے رسائل ”قادیانی جنازہ“۔ ”قادیانی مردہ اور قادیانی ذبیحہ“ میں دیکھ لی جائے۔
مسلمان عورت سے قادیانی کا نکاح
س : ہمارے علاقے میں ایک خاتون رہتی ہیں جو بچوں کو ناظرہ قرآن کی تعلیم دیتی ہیں۔ نیز محلہ کی مستورات تعویذ گنڈے اور دینی مسائل کے بارے میں موصوفہ سے رجوع کیا کرتی ہیں۔ لیکن باوثوق ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ اس کا شوہر قادیانی ہے۔ موصوفہ سے دریافت کیا گیا تو اس نے یہ موقف اختیار کیا کہ اگر میرا شوہر قادیانی ہے تو کیا ہوا‘ میں تو مسلمان ہوں۔ میرا عقیدہ میرے ساتھ اور اس کا اس کے ساتھ۔ اس کے عقائد سے میری صحت پر کیا اثر پڑتا ہے۔ آپ سے یہ دریافت کرنا مطلوب ہے کہ
- ١- کسی مسلمان مرد یا عورت کا کسی قادیانی مذہب کے حامل افراد سے
زن و شوہر کے تعلقات قائم رکھنا کیسا ہے؟
- ٢- اہل محلہ کا شرعی معاملات میں اس خاتون سے رجوع کرنا نیز
معاشرتی تعلقات قائم رکھنے کی شرعی حیثیت کیا ہے؟
ج : کسی مسلمان خاتون کا کسی غیر مسلم سے نکاح نہیں ہو سکتا‘ نہ قادیانی سے نہ کسی دوسرے غیر مسلم سے اور نہ کوئی مسلمان خاتون کسی قادیانی کے گھر رہ سکتی ہے‘ نہ اس سے میاں بیوی کا تعلق رکھ سکتی ہے۔ یہ خاتون‘ جس کا سوال میں ذکر کیا گیا ہے‘ اگر اس کو یہ مسئلہ معلوم نہیں تو اس کو اس کا مسئلہ بتا دیا جائے۔ مسئلہ معلوم ہونے کے بعد اسے چاہیے وہ قادیانی مرتد سے فوراً قطع تعلق کر لے اور اگر وہ مسئلہ معلوم ہونے کے بعد بھی بدستور قادیانی کے ساتھ رہتی ہے تو سمجھ لینا چاہیے کہ وہ درحقیقت خود بھی قادیانی ہے‘ محض بھولے بھالے مسلمانوں کو الو بنانے کے لیے وہ اپنے آپ کو مسلمان ظاہر کرتی ہے۔ محلے کے مسلمانوں کو آگاہ کیا جائے کہ اس سے قطع تعلق کریں اور اس سے بھی وہی سلوک کریں جو قادیانی مرتدوں سے کیا جاتا ہے۔ اس سے بچوں کو قرآن کریم پڑھوانا‘ تعویذ گنڈے لینا‘ دینی مسائل میں اس سے رجوع کرنا‘ اس سے معاشرتی
تعلقات رکھنا حرام ہے۔
اگر کوئی جانتے ہوئے قادیانی عورت سے نکاح کرلے تو اس کا شرعی حکم
س : اگر کوئی شخص کسی قادیانی عورت سے یہ جاننے کے باوجود کہ یہ عورت قادیانی ہے، عقد کر لیتا ہے تو اس کا نکاح ہوا کہ نہیں اور اس شخص کا ایمان باقی رہا یا نہیں؟
ج : قادیانی عورت سے نکاح باطل ہے۔ رہا یہ کہ قادیانی عورت سے نکاح کرنے والا مسلمان بھی رہا یا نہیں؟ اس میں یہ تفصیل ہے کہ
- (الف) اگر اس کو قادیانیوں کے کفریہ عقائد معلوم نہیں۔ یا
- (ب) اس کو یہ مسئلہ معلوم نہیں کہ قادیانی مرتدوں کے ساتھ نکاح نہیں ہو سکتا تو
ان دونوں صورتوں میں اس شخص کو خارج از ایمان نہیں کہا جائے گا البتہ اس شخص پر لازم ہے کہ مسئلہ معلوم ہونے پر اس قادیانی مرتد عورت کو فوراً علیحدہ کردے اور آئندہ کے لیے اس سے ازدواجی تعلقات نہ رکھے اور اس فعل پر توبہ کرے اور اگر یہ شخص قادیانیوں کے عقائد معلوم ہونے کے باوجود ان کو مسلمان سمجھتا ہے تو یہ شخص بھی کافر اور خارج از ایمان ہے کیونکہ عقائد کفریہ کو اسلام سمجھنا خود کفر ہے۔ اس شخص پر لازم ہے کہ اپنے ایمان کی تجدید کرے۔
قادیانی نواز وکلاء کا حشر
س : کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان دین متین اس مسئلے میں کہ گزشتہ دنوں مردان میں قادیانیوں نے ربوہ کی ہدایت پر کلمہ طیبہ کے بیج بنوائے، پوسٹر بنوائے اور بیج اپنے بچوں کے سینوں پر لگائے اور پوسٹر دکانوں پر لگا کر کلمہ طیبہ کی توہین کی۔ اس حرکت پر وہاں کے علماء کرام اور غیرت مند مسلمانوں نے عدالت میں ان پر مقدمہ دائر کر دیا اور فاضل جج نے ضمانت مسترد کرتے ہوئے ان کو جیل بھیج دیا۔ اب عرض یہ ہے کہ وہاں کے مسلمان وکلاء صاحبان ان قادیانیوں کی پیروی کر رہے ہیں اور چند پیسوں کی خاطر ان کے ناجائز عقائد کو جائز کرنے کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں۔ ان وکلاء صاحبان میں ایک سید ہے۔
براہ کرم قرآن اور احادیث نبویؐ کی روشنی میں تفصیل سے تحریر فرمادیں کہ شریعت محمدی صلی اللہ علیہ وسلم کی رو سے ان وکلاء صاحبان کا کیا حکم ہے؟ ج: قیامت کے دن ایک طرف محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا کیمپ ہوگا اور دوسری طرف مرزا غلام احمد قادیانی کا۔ یہ وکلاء، جنہوں نے دین محمدی صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف قادیانیوں کی وکالت کی ہے، قیامت کے دن غلام احمد کے کیمپ میں ہوں گے اور قادیانی ان کو اپنے ساتھ دوزخ میں لے کر جائیں گے۔ واضح رہے کہ کسی عام مقدمے میں کسی قادیانی کی وکالت کرنا اور بات ہے لیکن شعائر اسلامی کے مسئلہ پر قادیانیوں کی وکالت کے معنی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف مقدمہ لڑنے کے ہیں۔ ایک طرف محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا دین ہے اور دوسری طرف قادیانی جماعت ہے۔ جو شخص دین محمدی صلی اللہ علیہ وسلم کے مقابلہ میں قادیانیوں کی حمایت و وکالت کرتا ہے، وہ قیامت کے دن آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی امت میں شامل نہیں ہوگا، خواہ وہ وکیل ہو یا کوئی سیاسی لیڈر یا حاکم وقت۔
قادیانی نواز کو سمجھایا جائے
س: قادیانی کافر، مرتد اور زندیق ہیں۔ جو شخص ان کے ساتھ لین دین رکھتا ہے، کھاتا پیتا ہے اور مسلمانوں کی بات کو رد کرتا ہے، قرآن و سنت کے مطابق اس آدمی کا بائیکاٹ کیا جائے یا نہیں؟ اس کے ساتھ کیسا سلوک کیا جائے، جس سے وہ آدمی اس حرکت سے باز آجائے؟ ج: قادیانیوں کو کافر و مرتد اور زندیق بھی سمجھتا ہے، اگر ان سے کاروبار کرتا ہے تو اپنی ایمانی کمزوری سے ایسا کرتا ہے۔ اس کو سمجھانے کی کوشش کی جائے اور اس سے قطع تعلق نہ کیا جائے۔
قادیانی نوازوں کے بارے میں مفید مشورہ
س: ہمارے علاقہ میں کچھ مرزائی رہتے ہیں۔ جب ہم نے ان کے خلاف مہم شروع کی تو کچھ لوگوں نے تو ہمارا ساتھ دیا لیکن بعض نے ہماری مخالفت کی۔ ہمیں برا بھلا کہا لیکن ہم نے ان کی پروا کیے بغیر کام کیا۔ مخالفوں
نے مرزائیوں کی حمایت کی، ان کو پناہ دی، ان کو کاروبار چلانے کے لیے جگہ دی، ان کی ہر ممکن امداد کی، ان سے ہر قسم کا برتاؤ کیا، ان کے ساتھ کھانا کھایا، چائے پی، ہم نے ان کو ٹوکا تو ہمارے خلاف ہو گئے۔ آپ براہ مہربانی قرآن و سنت کی روشنی میں ان سوالوں کا جواب دیں۔
- ١- مرزائی نوازوں کے بارے میں کیا حکم ہے؟
- ٢- ہمیں مرزائی نوازوں کے ساتھ کیا سلوک کرنا چاہیے؟
- ٣- مرزائی نواز مسجد میں نماز پڑھتے ہیں۔ کیا ان کو مسجد میں نماز پڑھنے
دینا چاہیے؟
- ٤- کیا مرزائی نوازوں کا ایمان خطرے میں نہیں ہے؟ ان سوالوں کا
جواب جلدی دیں، شکریہ۔ ہم رسالہ ”ختم نبوت“ مسلسل اڑھائی ماہ سے پڑھ رہے ہیں۔ اس کا انتظار رہتا ہے۔ ان سوالوں کا جواب جلدی اور ضرور دیں۔
ج: ان بے چاروں کو مرزائیوں کے عقائد کا علم نہیں ہوگا یا مرزائیوں نے ان کو کسی تدبیر سے جکڑ رکھا ہوگا۔ آپ انہیں ختم نبوت اور قادیانیوں کے متعلقہ لٹریچر پڑھائیں۔
قادیانیوں کا ذبیحہ حرام ہے
س: کیا قادیانیوں کے ہاتھ کا لایا ہوا سودا سلف اور ان کا ذبیحہ جائز ہے اور ان کا ذبح کیا ہوا جانور جائز ہے؟
ج: قادیانیوں کا ذبح کیا ہوا جانور تو مردار اور حرام ہے، ان کا لایا ہوا سودا سلف جائز ہے مگر ان سے منگوانا جائز نہیں اور ان سے قطع تعلق نہ کرنا ایمان کی کمزوری ہے۔
س: کیا اسلام مجھے اپنی بیوی پر یہ پابندی لگانے کا حق دیتا ہے کہ میں اپنی بیوی کو قادیانی رشتہ داروں سے نہ ملنے دوں؟
ج: ضرور پابندی ہونی چاہیے۔
جس نے کہا قادیانی مسلمانوں سے اچھے ہیں، وہ قادیانیوں سے بدتر کافر ہو گیا
س: میرے ایک مسلمان ساتھی نے بحث کے دوران کہا کہ آپ (مسلمانوں) سے مرزائی اچھے ہیں اور مرزائی مسلمان ہیں کیونکہ وہ کلمہ پڑھتے ہیں، نماز پڑھتے ہیں، قرآن پاک پڑھتے ہیں حالانکہ یہ بات ہر ایک کے علم میں ہے کہ ستمبر ١٩٧٤ء میں اس وقت کی قومی اسمبلی نے ان کو غیر مسلم قرار دے دیا تھا، جس میں علمائے دین کے کردار و خدمات کو فراموش نہیں کیا جاسکتا۔ اب آپ قرآن و سنت کی روشنی میں بتائیں کہ مرزائی کو مسلمان کہنا اور مسلمان سے مرزائی کو اچھا کہنے والے کے متعلق کیا حکم ہے؟
ج: جس شخص نے یہ کہا کہ قادیانی مسلمانوں سے اچھے ہیں، وہ خود قادیانیوں سے بدتر کافر ہو گیا۔ اپنے اس قول سے توبہ کرے اور اپنے نکاح و ایمان کی تجدید کرے۔
قادیانیوں کو مسلمان سمجھنے والے کا شرعی حکم
س: کوئی شخص قادیانی گھرانے میں رشتہ یہ سمجھ کر کرتا ہے کہ وہ ہم سے بہتر مسلمان ہیں۔ اسلام میں ایسے شخص کے لیے کیا حکم ہے؟
ج: جو شخص قادیانیوں کے عقائد سے واقف ہو، اس کے باوجود ان کو مسلمان سمجھے تو ایسا شخص خود مرتد ہے کہ کفر کو اسلام سمجھتا ہے۔
مرزائی کا جنازہ
س: ہمارے گاؤں میں چند مرزائیوں کے گھر ہیں جو دنیاوی حالات سے ٹھیک ٹھاک ہیں۔ گزشتہ دنوں ان کا ایک جوان فوت ہو گیا تو ان کے مربی نے اس مرزائی کا جنازہ پڑھایا۔ ہمارے محلے کی مسجد کے امام صاحب بھی قبرستان میں بطور افسوس چلے گئے تو مسلمانوں نے کہا، ہم مرزائی امام کے پیچھے تمہارا جنازہ نہیں پڑھیں گے بلکہ ہم علیحدہ اپنا جنازہ اپنے امام کے پیچھے ادا کریں گے۔ پھر انہوں نے مولوی صاحب کو کہا کہ جنازہ پڑھاؤ تو مولوی صاحب نے بلا چوں و چرا اس مرزائی کا جنازہ پڑھ دیا۔ مجھے اور ایک اور باضمیر مسلمان کو بڑی حیرت ہوئی کہ الٰہی کیا ماجرا ہے۔ ہم دونوں نے جنازہ نہ پڑھا، اور واپس آ گئے۔ پھر مغرب کی نماز کے وقت مولوی صاحب مسجد میں کہنے لگے کہ مجھ سے گناہ
کبیرہ ہو گیا ہے‘ میرے لیے دعا کریں۔ نیز اس مرزائی کو مسلمانوں کے قبرستان میں دفن کر دیا ہے۔ مسئلہ دریافت طلب یہ ہے کہ کیا ایسے امام کے پیچھے نماز درست ہے؟ وہ جو کہتے ہیں کہ میں اس گناہ پر توبہ کرتا ہوں‘ کیا ایسے آدمی کی توبہ قبول ہے؟ دوسرے مسلمانوں کے متعلق کیا حکم ہے جنہوں نے مرزائی کا جنازہ پڑھا‘ ان سے کیا معاملات رکھیں؟
ج : مرزائی کا جنازہ جائز نہیں اور اس کو مسلمانوں کے قبرستان میں دفن کرنا بھی جائز نہیں۔ جن مسلمانوں نے مرزائی کو کافر سمجھ کر محض دنیاوی وجاہت کی وجہ سے جنازہ پڑھا‘ وہ گنہگار ہوئے۔ ان کو توبہ کرنی چاہیے اور توبہ کے اعلان کے بعد اس امام کے پیچھے نماز جائز ہے اور جن لوگوں نے مرزائیوں کے عقائد معلوم ہونے کے باوجود ان کو مسلمان سمجھ کر مرزائی کا جنازہ پڑھا‘ ان پر تجدید ایمان اور تجدید نکاح لازم ہے۔
کیا مسلمانوں کے قبرستان کے نزدیک کافروں کا قبرستان بنانا جائز ہے؟
س : کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ کسی کافر کا مسلمانوں کے قبرستان میں دفن کرنا تو جائز نہیں لیکن کسی مسلمان کے قبرستان کے متصل ان کا قبرستان بنانا جائز ہے یا کہ دور ہونا چاہیے؟
ج : ظاہر ہے کہ کافروں مرتدوں کو مسلمانوں کے قبرستان میں دفن کرنا حرام اور ناجائز ہے‘ اس طرح کافروں کو مسلمانوں کے قبرستان کے قریب بھی دفن کرنے کی ممانعت ہے تاکہ کسی وقت دونوں قبرستان ایک نہ ہو جائیں۔ کافروں کی قبر مسلمانوں کی قبروں سے دور ہونی چاہیے تاکہ کافروں کے عذاب والی قبر مسلمانوں کی قبر سے دور ہو کیونکہ اس سے بھی مسلمانوں کو تکلیف پہنچے گی۔
قادیانی مردہ
س : کیا قادیانی اہل کتاب ہیں؟
ج : قادیانی اہل کتاب نہیں بلکہ مرتد اور زندیق ہیں۔
س : قادیانی کے سلام کرنے کی صورت میں کیا کرنا چاہیے؟
ج : اس کو سلام نہ کیا جائے‘ نہ جواب دیا جائے۔
س : کیا قادیانی کے ساتھ کھانا پینا یا اس کے ہاتھ کا پکا ہوا کھانا جائز ہے؟
ج : اس کے ساتھ کھانا جائز نہیں۔
س : کسی مسلمان کا کسی قادیانی کی نماز جنازہ میں شریک ہونا یا اس کی میت کو کندھا دینا جائز ہے؟
ج : مرتد کا جنازہ جائز نہیں اور اس میں شرکت بھی جائز نہیں۔
س : کسی قادیانی کا کسی مسلمان کی نماز جنازہ میں شریک ہونے یا میت کو کندھا دینے کے بارے میں کیا حکم ہے؟ کیا اس کو روکنا صحیح ہے؟
ج : اس کو روک دیا جائے کہ وہ مسلمان کے جنازہ میں شریک نہ ہو، نہ کندھا دے۔
س : کسی قادیانی میت کا مسلمانوں کے قبرستان میں دفن کرنے کے متعلق کیا حکم ہے؟
ج : قادیانی مرتد کو مسلمانوں کے قبرستان میں دفن کرنا جائز نہیں۔ اگر دفن کر دیا جائے تو اس کا اکھاڑنا ضروری ہے۔
قادیانی مسجد میں داخل نہیں ہو سکتا
س : اگر کوئی قادیانی ہماری مساجد میں آ کر الگ ایک کونے میں جماعت سے الگ نماز پڑھ لے تو ہم اس کو اس کی اجازت دے سکتے ہیں کہ ہماری مسجد میں اپنی مرضی سے نماز پڑھے؟
ج : کسی غیر مسلم کا ہماری اجازت سے ہماری مسجد میں اپنی عبادت کرنا صحیح ہے۔ نصاریٰ نجران کا جو وفد بارگاہ نبوی میں حاضر ہوا تھا، انہوں نے مسجد نبوی (علیٰ صاحبہا الف الصلوٰۃ والسلام) میں اپنی عبادت کی تھی۔ یہ حکم تو غیر مسلموں کا ہے لیکن جو شخص اسلام سے مرتد ہو گیا ہو، اس کو کسی حال میں مسجد میں داخلے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ اس طرح جو مرتد اور زندیق اپنے کفر کو اسلام کہتے ہوں، جیسا کہ قادیانی مرزائی، ان کو بھی مسجد میں آنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔
غیر مسلم سے مدرسہ کے لیے چندہ لینا بے غیرتی ہے۔
س : غیر مسلم مرزائی سے مدرسہ یا مسجد کے لیے چندہ لینا کیسا ہے؟ ج: بے غیرتی ہے۔
شیزان کا بائیکاٹ
میں اکثر رسالہ ہفت روزہ ”ختم نبوت“ کا مطالعہ کرتا رہتا ہوں۔ آپ کے رسالہ اور بعض پوسٹروں سے معلوم ہوا تھا کہ شیزان قادیانیوں کی کمپنی ہے، اس لیے شیزان کا بائیکاٹ کیا جائے۔ الحمدللہ ابھی تک اپنے ساتھیوں کے ساتھ شیزان کا بائیکاٹ جاری ہے۔
کچھ دن پہلے کی بات ہے کہ کولڈ ڈرنک کی دکانوں میں ایک پیک ڈبے میں شیزان جوس مل رہا تھا۔ میں اور میرا ایک دوست کولڈ ڈرنک کی دکان میں گئے تو شیزان جوس دیا گیا۔ میں نے اپنے ایک دوست کو بتایا ’یہ قادیانیوں کی کمپنی ہے‘ اس کا بائیکاٹ کیا جائے تو میرے دوست نے بھی اس کا بائیکاٹ کیا۔ جب دکاندار کو معلوم ہوا تو انہوں نے بھی شیزان والوں سے جوس لینا بند کر دیا۔ جب جوس دینے والے نے دکاندار سے پوچھا کہ آپ ہمارا شیزان جوس کیوں نہیں لیتے تو انہوں نے جواب دیا ہمارے علماء کہتے ہیں کہ یہ قادیانیوں کی کمپنی ہے، یہ ہمارے دین اور نبیؐ کے دشمن ہیں، اس لیے اس کا بائیکاٹ کیا جائے۔ تو انہوں نے کہا کہ مشروبات میں بعض یہودی اور عیسائیوں کی بھی کمپنیاں ہیں، آپ ان کا بائیکاٹ کیوں نہیں کرتے ہیں اور وہ بھی پاکستان میں رہتے ہیں، ہم بھی پاکستانی ہیں۔
الحمدللہ ابھی کافی لوگوں کو پتہ چلا ہے تو شیزان جوس اور شیزان بوتل کا بائیکاٹ کر رہے ہیں۔
لیکن بعض لوگ پروپیگنڈوں کی وجہ سے لوگوں کے دلوں میں شبہ ڈال رہے ہیں، اس لیے میں بعض سوالات اس تحریر میں لکھ رہا ہوں۔
امید ہے آپ اپنے ہفت روزہ ”ختم نبوت“ رسالہ میں ان سوالات کے جوابات اور اس تحریر کو شائع کر کے بہت سے مسلمانوں کے شکوک و شبہات دور فرمائیں گے۔
س : بعض لوگ کہتے ہیں کہ شیزان کمپنی کو مسلمان نے خریدا ہے،
اب وہ چلا رہے ہیں؟
ج : بظاہر قادیانیوں کا جھوٹا پروپیگنڈہ ہے۔ ہماری معلومات کے مطابق یہ قادیانیوں کی ملکیت ہے۔
س : کیا شیزان جوس بھی قادیانیوں کی شیزان کمپنی کا تیار کردہ ہے؟
ج : ”شیزان کمپنی“ کے سوا دوسرا کوئی ”شیزان جوس“ کیسے تیار کر سکتا ہے؟
س : کیا بعض مشروبات کمپنیاں عیسائیوں اور یہودیوں کی بھی ہیں۔ اگر ہیں تو نشاندہی فرمائیے تاکہ ان سے بھی ہم اپنے آپ کو بچائیں؟
ج : قادیانی کافر ہیں مگر وہ خود کو مسلمان اور دنیا بھر کے مسلمانوں کو کافر، کتے، خنزیر اور ولد الحرام کہتے ہیں اور پھر اپنی آمدنی کا بڑا حصہ مسلمانوں کو مرتد بنانے کے لیے خرچ کرتے ہیں، اس لیے قادیانیوں کے ساتھ لین دین قطعاً ناجائز اور غیرت ملی کے خلاف ہے۔ قادیانی مصنوعات کا بائیکاٹ ضروری ہے۔ دوسرے کافروں کے ساتھ لین دین کی ممانعت اس صورت میں ہے جبکہ وہ ہمارے ساتھ حالت جنگ میں ہوں ورنہ ان کے ساتھ لین دین جائز ہے۔
کیا قادیانیوں کو جبراً قومی اسمبلی نے غیر مسلم بنایا ہے؟
س : ”لا اکراہ فی الدین“ یعنی دین میں کوئی جبر نہیں۔ نہ تو آپ جبراً کسی کو مسلمان بنا سکتے ہیں اور نہ ہی جبراً مسلمان کو آپ غیر مسلم بنا سکتے ہیں۔ اگر یہ مطلب ٹھیک ہے تو پھر آپ نے ہم (جماعت احمدیہ) کو کیوں جبراً قومی اسمبلی اور حکومت کے ذریعہ غیر مسلم کہلوایا؟
ج : آیت کا مطلب یہ ہے کہ کسی کو جبراً مسلمان نہیں بنایا جا سکتا، یہ مطلب نہیں کہ یہ جو شخص اپنے غلط عقائد کی وجہ سے مسلمان نہ رہا، اس کو غیر مسلم بھی نہیں کہا جا سکتا۔ دونوں باتوں میں زمین و آسمان کا فرق ہے۔ آپ کی جماعت کو قومی اسمبلی نے غیر مسلم نہیں بنایا۔ غیر مسلم تو آپ اپنے عقائد کی وجہ سے خود ہی ہوئے ہیں البتہ مسلمانوں نے غیر مسلم کو غیر مسلم کہنے کا ”جرم“ ضرور کیا ہے۔
منکرین ختم نبوت کے لیے اصل شرعی فیصلہ کیا ہے؟
س : خلیفہ اول بلافصل سیدنا ابوبکر صدیقؓ کے دور خلافت میں مسیلمہ کذاب نے نبوت کا جھوٹا دعویٰ کیا تو حضرت صدیق اکبرؓ نے منکرین ختم نبوت کے خلاف اعلان جنگ کیا اور تمام منکرین ختم نبوت کو کیفر کردار تک پہنچایا۔ اس سے ثابت ہوا کہ منکرین ختم نبوت واجب القتل ہیں لیکن ہم نے پاکستان میں قادیانیوں کو صرف ”غیر مسلم اقلیت“ قرار دینے پر ہی اکتفا کیا۔ اس کے علاوہ اخبارات میں آئے دن اس قسم کے بیانات بھی شائع ہوتے رہتے ہیں کہ ”اسلام نے اقلیتوں کو جو حقوق دیئے ہیں، وہ حقوق انہیں پورے پورے دیئے جائیں گے“۔ ہم قادیانیوں کو نہ صرف حقوق اور تحفظ فراہم کیے ہوئے ہیں بلکہ کئی اہم سرکاری عہدوں پر بھی قادیانی فائز ہیں۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ منکرین ختم نبوت اسلام کی رو سے واجب القتل ہیں یا اسلام کی طرف سے اقلیتوں کو دیئے گئے حقوق اور تحفظ کے حقدار ہیں؟
ج : منکرین ختم نبوت کے لیے اسلام کا اصل قانون تو وہی ہے جس پر حضرت ابوبکر صدیقؓ نے عمل کیا۔ پاکستان میں قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دے کر ان کی جان و مال کی حفاظت کرنا ان کے ساتھ رعایتی سلوک ہے۔ لیکن اگر قادیانی اپنے آپ کو غیر مسلم اقلیت تسلیم کرنے پر آمادہ نہ ہوں بلکہ مسلمان کہلانے پر مصر ہوں تو مسلمان حکومت سے یہ مطالبہ کر سکتے ہیں کہ ان کے ساتھ مسیلمہ کذاب کی جماعت کا سا سلوک کیا جائے لیکن اسلامی مملکت میں مرتدین اور زندیق کو سرکاری عہدوں پر فائز کرنے کی کوئی گنجائش نہیں۔ یہ مسئلہ نہ صرف پاکستان بلکہ دیگر اسلامی ممالک کے ارباب حل و عقد کی توجہ کا متقاضی ہے۔
حضرت مہدیؑ کے بارے میں نشانیاں
س : حضرت مہدیؑ کے بارے میں نشانیاں کیا کیا ہیں؟ وہ کب تشریف لائیں گے اور کہاں آئیں گے؟ مسلمان انہیں کس طرح پہچانیں گے؟
ج : حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد نقل کرتی ہیں کہ ”ایک خلیفہ کی موت پر (ان کی جانشینی کے مسئلہ پر) اختلاف ہو گا تو اہل
مدینہ میں سے ایک شخص بھاگ کر مکہ مکرمہ آ جائے گا (یہ مہدی ہوں گے اور اس اندیشہ سے بھاگ کر مکہ آ جائیں گے کہ کہیں ان کو خلیفہ نہ بنا دیا جائے) مگر لوگ ان کے انکار کے باوجود ان کو خلافت کے لیے منتخب کریں گے۔ چنانچہ حجر اسود اور مقام ابراہیم کے درمیان (بیت اللہ شریف کے سامنے) ان کے ہاتھ پر لوگ بیعت کریں گے“۔
”پھر ملک شام سے ایک لشکر ان کے مقابلے میں بھیجا جائے گا، لیکن یہ لشکر ”بیداء“ نامی جگہ میں، جو مکہ و مدینہ کے درمیان ہے، زمین میں دھنسا دیا جائے گا۔ پس جب لوگ یہ دیکھیں گے تو (ہر خاص و عام کو دور دور تک معلوم ہو جائے گا کہ یہ مہدی ہیں) چنانچہ ملک شام کے ابدال اور اہل عراق کی جماعتیں آپ کی خدمت میں حاضر ہو کر آپ سے بیعت کریں گی۔ پھر قریش کا ایک آدمی، جس کی ننھیال قبیلہ بنو کلب میں ہوگی، آپ کے مقابلہ میں کھڑا ہوگا۔ آپ بنو کلب کے مقابلے میں لشکر بھیجیں گے۔ وہ ان پر غالب آئے گا اور بڑی محرومی ہے اس شخص کے لیے جو بنو کلب کے مال غنیمت کی تقسیم کے موقع پر حاضر نہ ہو۔ پس حضرت مہدی خوب مال تقسیم کریں گے اور لوگوں میں ان کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کے موافق عمل کریں گے اور اسلام اپنی گردن زمین پر ڈال دے گا (یعنی اسلام کو استقرار نصیب ہوگا)۔ حضرت مہدی چالیس سال رہیں گے پھر ان کی وفات ہوگی اور مسلمان ان کی نماز جنازہ پڑھیں گے“۔ (یہ حدیث ”مشکوۃ شریف“ ص ٤٧١ میں ابوداؤد کے حوالے سے درج ہے اور امام سیوطی نے ”العرف الوردی فی آثار المہدی“ ص ٥٩ میں اس کو ابن ابی شیبہ احمد ابوداؤد ابویعلی اور طبرانی کے حوالے سے نقل کیا ہے۔
حضرت مہدی رضی اللہ عنہ کے بارے میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جو کچھ فرمایا ہے اور جس پر اہل حق کا اتفاق ہے، اس کا خلاصہ یہ ہے کہ حضرت فاطمۃ الزہرا رضی اللہ عنہا کی نسل سے ہوں گے اور نجیب الطرفین سید ہوں گے۔ ان کا نام نامی محمد اور والد کا نام عبداللہ ہوگا۔ جس طرح صورت و سیرت میں بیٹا باپ کے مشابہ ہوتا ہے، اسی طرح وہ شکل و شباہت اور اخلاق و شمائل میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے مشابہ ہوں گے۔ وہ نبی نہیں ہوں گے، نہ ان پر وحی نازل ہوگی، نہ وہ نبوت کا دعویٰ کریں گے، نہ ان کی نبوت پر کوئی ایمان لائے گا۔
ان کی کفار سے خونریز جنگیں ہوں گی۔ ان کے زمانے میں کانے دجال کا خروج ہوگا اور وہ لشکر دجال کے محاصرے میں گھر جائیں گے۔ ٹھیک نماز فجر کے وقت دجال کو قتل کرنے کے لیے سیدنا عیسیٰ علیہ السلام آسمان سے نازل ہوں گے اور فجر کی نماز حضرت مہدی رضی اللہ عنہ کی اقتداء میں پڑھیں گے۔ نماز کے بعد دجال کا رخ کریں گے۔ وہ لعین بھاگ کھڑا ہو گا۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام اس کا تعاقب کریں گے اور اسے باب لد پر قتل کر دیں گے۔ دجال کا لشکر تہہ تیغ ہو گا اور یہودیت و نصرانیت کا ایک ایک نشان مٹا دیا جائے گا۔
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں نشانیاں
س : قادیانی کہتے ہیں حضرت عیسیٰ علیہ السلام وفات پا چکے ہیں جبکہ مسلمانوں کا عقیدہ ہے کہ وہ آسمان پر زندہ ہیں اور قرب قیامت میں دوبارہ تشریف لائیں گے۔ براہ کرم قرآن و حدیث کی روشنی میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کے بارے میں ارشاد فرمائیں، مزید برآں مسلمان انہیں کس طرح پہچانیں گے اور ان کی کیا کیا نشانیاں ہیں؟
ج : قرآن کریم اور احادیث طیبہ میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی تشریف آوری کو قیامت کی بڑی نشانیوں میں شمار کیا گیا ہے اور قیامت سے ذرا پہلے ان کے تشریف لانے کی خبر دی ہے لیکن جس طرح قیامت کا وقت معین نہیں بتایا گیا کہ فلاں صدی میں آئے گی، اسی طرح حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کا وقت بھی معین نہیں کیا گیا کہ وہ فلاں صدی میں تشریف لائیں گے۔
قرآن کریم میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا تذکرہ کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے ”اور بے شک وہ نشانی ہے قیامت کی۔ پس تم اس میں ذرا بھی شک مت کرو“۔ (سورۃ زخرف) بہت سے اکابر صحابہ و تابعین نے اس آیت کی تفسیر میں فرمایا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا نازل ہونا قرب قیامت کی نشانی ہے۔ قرآن مجید میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے تذکرہ میں ہے:
”اور نہیں کوئی اہل کتاب میں سے، مگر ضرور ایمان لائے گا اس پر اس کی موت
سے پہلے اور قیامت کے دن وہ ہوگا ان پر گواہ“۔ (النساء)
اور حدیث شریف میں ہے:
”اور میں سب لوگوں سے زیادہ قریب ہوں عیسیٰ بن مریم کے کیونکہ میرے اور اس کے درمیان کوئی نبی نہیں ہوا۔ پس جب تم اس کو دیکھو تو اس کو پہچان لینا‘ قد میانہ‘ رنگ سرخ و سفید‘ بال سیدھے‘ بوقت نزول ان کے سر سے گویا قطرے ٹپک رہے ہوں گے‘ خواہ ان کو تری نہ بھی پہنچی ہو‘ ہلکے رنگ کی دو زرد چادریں زیب تن ہوں گی۔ پس صلیب کو توڑ ڈالیں گے‘ خنزیر کو قتل کریں گے‘ جزیہ کو بند کریں گے اور تمام مذاہب کو معطل کردیں گے۔ یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اسلام کے سوا تمام ملتوں کو ہلاک کردیں گے اور اللہ تعالیٰ ان کے زمانے میں مسیح دجال کذاب کو ہلاک کردیں گے۔ زمین میں امن و امان کا دور دورہ ہو جائے گا‘ یہاں تک کہ اونٹ شیروں کے ساتھ‘ چیتے گائے کے ساتھ اور بھیڑیئے بکریوں کے ساتھ چریں گے اور بچے سانپوں کے ساتھ کھیلیں گے‘ ایک دوسرے کو نقصان نہیں پہنچائیں گے۔ پس جتنا عرصہ اللہ تعالیٰ کو منظور ہوگا‘ زمین پر رہیں گے پھر ان کی وفات ہوگی۔ پس مسلمان ان کی نماز جنازہ پڑھیں گے اور انہیں دفن کریں گے۔ (”مسند احمد“ ص ٤٣٧‘ ج ٢‘ ”فتح الباری“ ص ٣٩٣‘ جلد ٦‘ مطبوعہ لاہور‘ ”التصریح بما تواتر فی نزول المسیح“ ٤١)
آپ کے زمانہ کے جو واقعات احادیث طیبہ میں ذکر کیے گئے ہیں‘ ان کی فہرست خاصی ہے۔ مختصراً
- آپ سے پہلے حضرت مہدی کا آنا۔
- آپ کا عین نماز فجر کے وقت اترنا۔
- حضرت مہدی کا آپ کو نماز کے لیے آگے کرنا اور آپ کا انکار فرمانا۔
- نماز میں آپ کا قنوت نازلہ کے طور پر یہ دعا پڑھنا...... قتل اللہ الدجال۔
- نماز سے فارغ ہو کر آپ کا قتل دجال کے لیے نکلنا۔
- دجال کا آپ کو دیکھ کر سیسے کی طرح پگھلنے لگنا۔
- ”باب لد“ نامی جگہ پر (جو فلسطین شام میں ہے) آپ کا دجال کو قتل کرنا اور
اپنے نیزے پر لگا ہوا دجال کا خون مسلمانوں کو دکھانا۔
- قتل دجال کے بعد تمام دنیا کا مسلمان ہو جانا، صلیب کے توڑنے اور خنزیر کو
قتل کرنے کا عام حکم دینا۔
- آپ کے زمانہ میں امن و امان کا یہاں تک پھیل جانا کہ بھیڑیئے بکریوں کے
ساتھ اور چیتے گائے بیلوں کے ساتھ چرنے لگیں اور بچے سانپوں کے ساتھ کھیلنے لگیں۔
- کچھ عرصہ بعد یاجوج ماجوج کا نکلنا اور چار سو فساد پھیلانا۔
- ان دنوں میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا اپنے رفقاء سمیت کوہ طور پر تشریف
لے جانا اور وہاں خوراک کی تنگی پیش آنا۔
- بالآخر آپ کی بددعا سے یاجوج ماجوج کا یکدم ہلاک ہو جانا اور بڑے بڑے
پرندوں کا ان کی لاشوں کو اٹھا کر سمندر میں پھینکنا اور پھر زور کی بارش ہونا اور یاجوج ماجوج کے بقیہ اجسام اور تعفن کو بہا کر سمندر میں ڈال دینا۔
- حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا عرب کے ایک قبیلہ بنو کلب میں نکاح کرنا اور اس
سے آپ کی اولاد ہونا۔
- ”فج الروحا“ نامی جگہ پہنچ کر حج و عمرہ کا احرام باندھنا۔
- آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے روضہ اطہر پر حاضری دینا اور آپ صلی اللہ
علیہ وسلم کا روضہ اطہر کے اندر سے جواب دینا۔
- وفات کے بعد روضہ اطہر میں آپ کا دفن ہونا وغیرہ وغیرہ۔
- آپ کے بعد مقعد نامی شخص کو آپ کے حکم سے خلیفہ بنایا جانا اور مقعد کی
وفات کے بعد قرآن کریم کا سینوں اور صحیفوں سے اٹھ جانا۔
- اس کے بعد آفتاب کا مغرب سے نکلنا، نیز دابۃ الارض کا نکلنا اور مومن و
کافر کے درمیان امتیازی نشان لگانا وغیرہ وغیرہ۔
کیا حضرت مہدیؒ و عیسیٰ علیہ السلام ایک ہی ہیں؟
س : مہدی اس دنیا میں کب تشریف لائیں گے؟ اور کیا مہدی اور عیسیٰ ایک ہی وجود ہیں؟
ج : حضرت مہدی رضوان اللہ علیہ آخری زمانہ میں قرب قیامت میں ظاہر ہوں
گے۔ ان کے ظہور کے تقریباً سات سال بعد دجال نکلے گا اور اس کو قتل کرنے کے لیے عیسیٰ علیہ السلام آسمان سے نازل ہوں گے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے لے کر تیرہویں صدی کے آخر تک امت اسلامیہ کا یہی عقیدہ رہا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور حضرت مہدی دو الگ الگ شخصیتیں ہیں اور یہ کہ نازل ہو کر پہلی نماز حضرت عیسیٰ علیہ السلام حضرت مہدی کی اقتداء میں پڑھیں گے۔ مرزا غلام احمد صاحب قادیانی پہلے شخص ہیں جنہوں نے عیسیٰ اور مہدی کے ایک ہونے کا عقیدہ ایجاد کیا ہے۔ اس کی دلیل نہ قرآن کریم میں ہے‘ نہ کسی صحیح اور مقبول حدیث میں اور نہ سلف صالحین میں کوئی اس کا قائل ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی متواتر احادیث میں وارد ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کے وقت حضرت مہدی اس امت کے امام ہوں گے اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام ان کی اقتداء میں نماز پڑھیں گے۔
حضرت عیسیٰ علیہ السلام بحیثیت نبی کے تشریف لائیں گے یا بحیثیت
امتی کے؟
س: حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام تشریف لائیں گے۔ کیا حضرت عیسیٰ علیہ السلام بحیثیت نبی تشریف لائیں گے یا حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے امتی ہونے کی حیثیت سے؟ اگر آپ بحیثیت نبی تشریف لائیں گے تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم خاتم النبیین کیسے ہوئے؟
ج: حضرت عیسیٰ علیہ السلام جب تشریف لائیں گے تو بدستور نبی ہوں گے لیکن آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی تشریف آوری سے ان کی شریعت منسوخ ہو گئی اور ان کی نبوت کا دور ختم ہو گیا‘ اس لیے جب وہ تشریف لائیں گے تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی شریعت کی پیروی کریں گے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے امتی کی حیثیت سے آئیں گے۔ ان کی تشریف آوری ختم نبوت کے خلاف نہیں کیونکہ نبی آخر الزمان آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو نبوت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے مل چکی تھی۔
اسلام کے اجالے
قادیانیت کے اندھیرے
علامہ
خالد محمود
س: ”دعوت“ کی کسی سابقہ اشاعت میں نظر سے گزرا تھا کہ معراج شریف کے جسمانی ہونے پر تمام صحابہ کا اجماع ہے۔ ایک مرزائی کہتے ہیں کہ یہ بالکل غلط ہے۔ اکثر صحابہ معراج کو روحانی مانتے تھے۔ یہ معراج جسمانی کا عقیدہ بہت بعد کی پیداوار ہے جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے جسمانی طور پر اوپر اٹھائے جانے کے خیال کی تائید کے لیے وضع کیا گیا تھا۔ اس اجماع کا حوالہ مطلوب ہے؟ (منصور علی‘ از کیمبل پور)
ج: مرزا غلام احمد قادیانی خود لکھتے ہیں:
”اس بارہ میں کہ وہ جسم سمیت شب معراج میں آسمانوں کی طرف اٹھائے گئے تقریباً تمام صحابہ کا یہی اعتقاد ہے“۔ (”ازالہ اوہام“ ج ١‘ ص ١٢٦)
مرزا صاحب نے اس کتاب کے ص ١٤٨ کی آٹھویں سطر میں اس کے لیے اجماع صحابہؓ کا لفظ بھی بیان کیا ہے۔ (”ازالہ اوہام“ طبع ١٣١٠ھ)
امید ہے کہ اب آپ کے مرزائی دوست کا کوئی شبہ باقی نہیں رہا ہو گا۔ باقی رہا نہ ماننا‘ تو یہ دلوں کی مہر کا ایک ظاہری نشان ہے۔ حق تعالیٰ اتباع حق کی توفیق عطا فرمائیں۔ (واللہ اعلم بالصواب)
س: ہمارے عقیدے میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام آسمانوں پر موجود ہیں اور علمائے دیوبند کا یہ بھی عقیدہ ہے کہ ہمارے پیغمبر حضور سرکار مدینہؐ اپنے روضہ منورہ میں اپنے اصلی جسم عنصری کے ساتھ زندہ اور موجود ہیں۔ ہمارے ملنے والے بعض مرزائی لوگ یہ اعتراض کرتے ہیں کہ اس میں آنحضرت ﷺ کی توہین ہے کہ وہ تو زمین پر ہوں اور حضرت عیسیٰ ؑ آسمان پر اتنی بلندی میں ہوں۔ مرزائیوں کی دیکھا دیکھی اب بعض عیسائی بھی اس سوال کو بار بار پیش کر رہے ہیں۔ از راہ کرم ”دعوت“ کی کسی قریبی اشاعت میں اس کا مفصل جواب دیں؟ (احقر حافظ اسحاق احمد‘ از ڈیرہ اسماعیل خاں)
ج: قادیانیوں کا یہ ایک مغالطہ ہے کہ روضہ اطہر زمین پر ہے تو اس سے آنحضرت ﷺ کی شان میں کمی نظر آتی ہے۔ معاذ اللہ ثم معاذ اللہ۔ ان کا مقصد صرف یہ ہے کہ مسلمان کسی طرح اس اسلامی عقیدے سے دستبردار ہو جائیں کہ حضرت عیسیٰ
علیہ السلام آسمان پر بجسدہ الاصلی زندہ نہیں اور قرب قیامت پر دوبارہ تشریف نہ لائیں گے۔ مرزائیوں کا یہ مغالطہ اتنا سطحی ہے کہ بادنیٰ توجہ اس کی حقیقت کھل جاتی ہے۔ بفرض محال یہ تسلیم کرلیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام وہاں تشریف فرما نہیں تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ وہاں ملاء اعلیٰ میں یا آسمانوں میں فرشتے بھی موجود اور استقرار پذیر ہیں یا نہ؟ اگر ملائکہ کرام وہاں موجود ہیں تو پھر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ وہ ملائکہ کرام آنحضرت ﷺ سے مرتبے میں زیادہ ہیں یا کم؟ اگر قول اول اختیار کریں تو یہ اسلام کی اس اجمالی تعلیم کے خلاف ہے کہ رب العزت کی ساری مخلوق میں آنحضرت ﷺ کی شان کے برابر کوئی نہیں۔ چہ جائیکہ افضل ہو اور قول ثانی اختیار کریں کہ ان فرشتوں کا درجہ آنحضرت ﷺ سے کم ہے تو پھر مرزائیوں کا یہ مفروضہ غلط ہوا کہ جن مقدس ہستیوں کا استقرار آسمان میں ہو‘ ان کا درجہ اس ذات اقدس سے زیادہ ہے‘ جس کا روضہ اطہر اس زمین پر موجود ہو۔ نہایت حیرت کا مقام ہے کہ محض اس لیے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام آسمان میں زندہ موجود ہیں۔ خاتم الانبیاءؐ پر بھی ان کی فضیلت کا دعویٰ کر دیا جائے۔
ہمارے عقیدے میں تو آنحضرت ﷺ کے روضہ اطہر کی جگہ آسمانوں کی دنیا تو درکنار خود عرش معلیٰ سے بھی افضل ہے اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی بھی انتہائے سعادت یہی ہے کہ قرب قیامت پر نزول فرمانے اور پھر موت کا ذائقہ چکھنے کے بعد آنحضرت ﷺ کے روضہ اطہر میں دفن ہوں۔ آنحضرت ﷺ کا ارشاد ہے:
یموت فیدفن معی فی قبری (مشکوۃ‘ ص ٤٨٠) ترجمہ: ”پھر عیسیٰ علیہ السلام میرے ساتھ میرے روضہ میں دفن کیے جائیں گے“۔
پس مقام غور ہے کہ اگر اوپر آسمانوں میں ہونا ہی وجہ افضلیت تھا تو پھر اللہ تعالیٰ انہیں اس مقام سے یہاں نیچے کیوں لائیں گے۔ ان کا آخر کار روضہ اطہر میں دفن ہونا ہی اس بات کی دلیل ہے کہ اوپر اور نیچے ہونا کوئی معیار فضیلت نہیں۔ اگر ایسا ہو تو مندرجہ ذیل صورتوں کا کیا جواب ہو گا؟
- ١۔ ترازو کا جو پلڑا اوپر ہو‘ اسے ترجیح ہوتی ہے یا اسے‘ جو نیچے ہو؟
- ٢۔ خانہ کعبہ جو نیچے ہے‘ اسے فضیلت ہے یا کوہ ہمالیہ کی چوٹی ماؤنٹ ایورسٹ کو
جو اس خطہ ارضی کا بلند ترین مقام ہے؟
- ٣۔ جو افراد ہوائی جہاز سے سفر کرتے ہیں‘ وہ مرتبے میں ان مسافروں سے
افضل ہیں جو ریل میں یا اونٹوں پر سفر کرتے ہوں اور پھر ہوائی جہاز کی یہ سیٹیں مساجد شریفہ سے افضل ہیں یا نہ؟
- ٤۔ جو موتی دریاؤں کی انتہائی گہرائی میں ہیں‘ ان کا درجہ زیادہ ہے یا وہ بلبلے
افضل ہیں جو دریا کی اوپر کی سطح پر پائے جاتے ہیں؟
- ٥۔ جو پرندے‘ چڑیا‘ کبوتر‘ بلبل وغیرہ فضا کی نیچی سطح پر اڑتے ہیں‘ وہ زیادہ
اچھے سمجھے جاتے ہیں یا وہ گدھ اور خنجر جو فضا کی انتہائی بلندیوں میں پرواز کرتے ہیں؟
- ٦۔ جن مکانوں میں سجی ہوئی بیٹھکیں اور خوب صورت مہمان خانے نچلی منزل
میں ہوتے ہیں اور بیت الخلا اوپر کی چھت پر‘ ان میں سے کون سی جگہ افضل اور اعلیٰ ہوتی ہے۔
ایسی اور بھی کئی مثالیں دی جا سکتی ہیں اور حاصل سب کا یہی ہے کہ محض اوپر اور نیچے ہونا کوئی معیار فضیلت نہیں۔ محض ایسے مغالطوں سے اسلام کی اصولی تعلیمات پر ہر گز پردے نہیں ڈالے جا سکتے۔ واللہ اعلم بالصواب۔ (کتبہ خالد محمود‘ عفا اللہ عنہ‘ ٢٥ جنوری ١٩٦٣ء)
مفتی اعظم مصر استاذ العلماء شیخ حسنین محمد مخلوف
کا علمی و تحقیقی فتویٰ
حضرت عیسیٰ ؑ کا رفع آسمانی اور کفریات مرزا غلام احمد قادیانی
ہفت روزہ ”دعوت“ کے باب الاستفسارات میں کافی عرصہ سے ایسے سوالات موصول ہو رہے تھے کہ سیدنا حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے رفع جسمانی اور حیات آسمانی
کے متعلق علمائے مصر کا عقیدہ کیا ہے؟ کیا وہ واقعی اسلام کے اس اجماعی عقیدے کے قائل ہیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا ظہور ثانی علامات قیامت میں سے ایک علامت ہے اور یہ کہ وہ آسمان پر بجسد عنصری زندہ اور موجود ہیں یا علمائے مصر اس باب میں باقی جمیع علماء عرب اور پاک و ہند کے خلاف ہیں۔ ان سوالات کا اصل محرک مصر کے ایک آزاد خیال پروفیسر شلتوت کا ایک مضمون تھا جو آج سے پچیس تیس سال پہلے شائع ہوا تھا اور جسے قادیانی حضرات اپنی ہمنوائی میں ہر سال شائع کرتے رہتے ہیں۔ قادیانیوں کا اس اشاعت سے مقصد عوام کو یہ تاثر دینا ہے کہ ان ابواب میں اکابر علمائے مصر ان کے ساتھ ہیں۔ اس مغالطے اور تلبیس کا پردہ چاک کرنے کے لیے حکومت مصر کے سابق مفتی اعظم استاذ العلماء حضرت شیخ حسنین محمد مخلوف کا ایک فتویٰ ان کی بلند پایہ کتاب ”صفوۃ البیان لمعانی القرآن“ طبع ١٣٧٠ھ سے نقل کیا جاتا ہے۔ یہ تمام استفسارات کا مشترک جواب ہے، جو اس سلسلہ میں دفتر ”دعوت“ میں موصول ہوتے رہے ہیں۔ رہا پروفیسر شلتوت کا معاملہ تو آزاد خیال اور خود پسند ادیب کہاں نہیں ملتے۔
اگر مصر کے ایک غیر ذمہ دار اور غیر معتمد علیہ پروفیسر نے سلف کی شاہراہ سے ہٹ کر کتاب و سنت میں الحاد کی راہ اختیار کی ہے تو اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ جمہور علمائے مصر اور ارباب فتویٰ و قضاء بھی معاذ اللہ اسلام کے اجماعی فیصلوں سے برگشتہ ہوگئے ہیں۔ جس طرح پاکستان میں مسٹر پرویز اور ڈاکٹر غلام جیلانی برق کو باوجودیکہ ہر دو حضرات اسلامی عنوانات کو ہی اپنا موضوع سخن بنا رہے ہیں اور ان کے قلم کی جولانگاہ یہ اسلامی موضوعات ہی ہیں۔ تاہم انہیں یہاں پاکستان کے اونچے درجے کے علماء اور محققین کا اعتماد حاصل نہیں اور علمی ابواب میں ان لوگوں کی رائے نہ صرف غلط ہے بلکہ کفر کی سرحدوں سے ملتی ہے۔ اس طرح مصر کے آزاد خیال پروفیسر شلتوت بھی وہاں کے علمی، دینی اور تحقیقی حلقوں میں کسی اعتماد کے لائق نہیں رہے ہیں۔ انہوں نے جب وہ تحریر لکھی تھی، جسے کہ قادیانی حضرات آئے دن اس طرح شائع کرتے رہتے ہیں، گویا کہ یہ فتویٰ آج چھپ کر آیا ہے، تو وہاں کے اکابر علماء نے اسی وقت اس کی تردید فرمادی تھی اور مختلف رسائل و جرائد نے اس پر پر زور رد عمل فرمایا تھا۔ بہر حال مصر کے معتمد عالم اور حکومت مصر کے سابق مفتی اعظم کا یہ تحقیقی فیصلہ قارئین ”دعوت“
کے پیش خدمت ہے۔ ترجمہ مولانا منظور احمد صاحب (چنیوٹ) نے کیا ہے۔ (ادارہ)
واعلم ان عيسى عليه السلام لم يقتل ولم يصلب كما قال تعالى وماقتلوه وماصلبوه ولكن شبه لهم وقال وما قتلوه يقينا فاعتقاد النصارى القتل و الصلب كفرلاريب فيه وقداخبرالله تعالى انه رفع اليه عيسى كما قال ورافعك الى وقال بل رفعه الله اليه فيجب الايمان به والجمهور على انه رفع حيا من غير موت ولاغفوه بجسده وروحه اليالسماء و الخصوصيه له عليه السلام هى فى رفعه بجسده و بقاءه فيها الى الامدالمقدرله. واماالتوفى المذكورفى هذه الايه وفى قوله تعالى فلما توفيتنى فالمراد منه ماذكرنا على الروايه الصحيحه عن ابن عباس” والصحيح من الاقوال كماقاله القرطبى وهواختيارالانباری وغيره۔ وان من اهل الكتاب الا ليومنن به قبل موته اى مااحد من اهل الكتاب الموجودين عند نزول عيسى عليه السلام اخر الزمان الا ليومنن بانه عبدالله و رسوله و كلمته قبل ان يموت عيسى عليه السلام فتكون الاديان كلها دينا واحدا وهو دين الاسلام الحنيف دين ابراهيم عليه السلام و نزول عيسى عليه السلام ثابت فى الصحيحين و هو من اشراط الساعه۔ (”صفوۃ البیان معان القرآن“ ص١٠٩،
(١١٠
ترجمہ: ”اور جاننا چاہیے کہ عیسیٰ علیہ السلام نہ تو قتل ہوئے ہیں اور نہ ہی سولی دیے گئے ہیں۔ جیسا کہ ارشاد تعالیٰ ہے وما قتلوه وماصلبوه ولكن شبه
لهم وما قتلوه يقينا انہوں نے عیسیٰ علیہ السلام کو قتل بھی نہیں کیا اور سولی بھی نہیں دیا۔ لیکن ان کے لیے ایک شخص کو عیسیٰ علیہ السلام کا ہمشکل بنا دیا گیا اور یہ امر یقینی ہے کہ انہوں نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو قتل نہیں کیا۔ لہٰذا عیسائیوں کا قتل اور صلیب کا عقیدہ رکھنا بلاشبہ کفر ہے اور اللہ تعالیٰ نے قرآن حکیم میں خبر دی ہے کہ عیسیٰ کو اس نے اپنی طرف اٹھا لیا ہے جیسا کہ ارشاد فرمایا ورافعك الی میں تجھے اپنی طرف اٹھا لوں گا۔
اور فرمایا بل رفعه الله اليه بلکہ اللہ تعالیٰ نے عیسیٰ علیہ السلام کو اپنی طرف اٹھا لیا ہے۔ لہٰذا اس پر (جسمانی رفع پر) ایمان لانا واجب ہے اور جمہور علماء اسلام کا اس بات پر اتفاق ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام کو موت یا نیند طاری کیے بغیر زندہ آسمان پر اٹھا لیا گیا ہے اور جسم سمیت آسمان پر اٹھایا جانا اور وہاں ایک مدت مقررہ تک مقیم رہنا آپ ہی کی خصوصیت ہے اور لفظ توفی جو اس آیت اور آیت فلما توفیتنی میں مذکور ہے۔ اس سے مراد وہی ہے جو ہم نے ابن عباسؓ کی صحیح روایت کی بنا پر تحریر کر دیا ہے اور مفسرین کے اقوال میں سے صحیح قول وہی ہے جو ہم نے ذکر کیا ہے۔ جیسا کہ امام قرطبیؒ کے علاوہ دیگر علماء کرام نے بھی تصریح کی ہے"۔
وان من اهل الكتاب الا ليومنن به قبل موته کی تفسیر میں مفتی اعظم فرماتے ہیں:
"آخری زمانہ میں عیسیٰ علیہ السلام کے نازل ہونے کے وقت جو اہل کتاب بھی موجود ہوں گے، وہ عیسیٰ علیہ السلام کی موت سے پہلے اس بات پر ایمان لائیں گے کہ وہ اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں اور اس کے کلمہ ہیں اور تمام مذاہب کی جگہ ایک ہی مذہب رہ جائے گا اور وہ ابراہیمی دین اسلام ہے اور عیسیٰ علیہ السلام کا (آسمان سے) نازل ہونا صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں ثابت ہے اور یہ نزول سماوی قیامت کی نشانیوں میں سے ایک نشانی ہے"۔
و المراد على القراء تين انه صلى الله عليه وسلم آخر انبياء الله رسله فلا نبی ولا رسول بعده
الی قیام الساعہ فمن زعم النبوہ بعدہ فہو کذاب افاک و کافر بکتاب اللہ وسنہ رسولہ ولذا افتینا بکفر طائفہ القادیانیہ اتباع المفتون غلام احمد القادیانی الزاعم ہـو واتباعہ انہ نبی یوحی الیہ وانہ لا یجوز مناکحتہم ولادفنہم فی مقابر المسلمین
(”صفوۃ البیان لمعان القرآن“ ص١٨١)
فضیلہ الاستاذ الشیخ الحسنین مخلوف مفتی الدیار المصریہ السابق و عضو جماعت کبار العلماء‘ طبع اولیٰ‘ سنہ ١٣٧٠ھ)
ترجمہ : ”زیر آیت خاتم النبیین تحریر فرماتے ہیں اور لفظ خاتم کی مراد زیر و زبر والی دونوں قراتوں کی بنا پر یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ تمام نبیوں اور رسولوں کے آخر میں آنے والے ہیں۔ آپ کے بعد قیامت تک کوئی نبی اور کوئی رسول نہیں بنایا جائے گا۔ لہٰذا حضور ﷺ کے بعد جو شخص بھی نبوت کا دعویٰ کرے‘ وہ پرلے درجہ کا جھوٹا‘ بہت بڑا بہتان باندھنے والا اور اللہ تعالیٰ کی کتاب اور اس کے رسول کی سنت کا منکر ہے“۔
اسی لیے ہم علماء حق نے مرزا غلام احمد قادیانی کو مع تمام جماعت کے کافر ہونے کا فتویٰ دیا ہے۔ مرزا غلام احمد قادیانی اور اس کی تمام جماعت کا یہ دعویٰ ہے کہ وہ نبی ہے اور اس کی طرف وحی کی جاتی ہے‘ کفر ہے۔ ہم یہ بھی فتویٰ دیتے ہیں کہ نہ ان کے ساتھ رشتہ کیا جائے اور نہ ان کو مسلمانوں کے قبرستانوں میں دفن کیا جائے۔
س : کسی حدیث میں آنحضرت ﷺ کا یہ ارشاد موجود ہے کہ امام مہدی کے ظہور کے وقت ایک ہی رمضان میں سورج گرہن اور چاند گرہن لگیں گے۔ چاند گرہن رمضان کی ١٣ تاریخ کو اور سورج گرہن ٢٨ رمضان کو ہوگا۔ اصل حقیقت کیا ہے؟ نیز مطلع فرمائیں کہ کیا یہ دونوں گرہن اپنی مذکورہ تاریخوں میں مرزا غلام احمد کے دعویٰ نبوت کے دور میں لگے ہیں؟
(سائل سید ناصر علی‘ از لاہور)
ج : حدیث کی کتب میں یہ پیشگوئی آنحضرت ختمی مرتبت ﷺ کے الفاظ سے
منقول نہیں اور نہ اسے حدیث نبوی کہا جاسکتا ہے۔ مرزائی مبلغین جب اسے حدیث نبویؐ کہہ کر پیش کرتے ہیں تو یہ حضور اکرم ﷺ پر ایک صریح بہتان اور افتراء ہے۔ سنن دار قطنی میں یہ پیش گوئی ایک بزرگ محمد بن علی سے منقول ہے جو صحابی بھی نہیں چہ جائیکہ اس روایت کو آنحضرت ﷺ کا ارشاد کہا جائے بلکہ ہم یہ بھی نہیں کہ سکتے کہ محمد بن علیؒ نے ایسا واقعی فرمایا ہو۔ کیونکہ اس قول کو محمد بن علی سے نقل کرنے والے بھی تقریباً ایسے ہی ہیں جو ضعیف اور پایہ اعتبار سے سقط ہیں۔ سنن دار قطنی میں محمد بن علی نامی کسی بزرگ کا یہ قول اس طرح منقول ہے:
قال ان لمہدینا ایتین لم تکونا منذ خلق
السموات و الارض تنکسف القمر لاول لیلہ من
رمضان و تنکسف الشمس فی النصف منہ لم
تکونا منذ خلق السموات والارض (سنن دار قطنی، ج١،
ص ١٨٨)
ترجمہ : ”شمر کا بیٹا جابر جعفی سے نقل کرتا ہے کہ محمد بن علی (نامی کسی شخص) نے کہا کہ ہمارے مہدی کے دو نشان ہوں گے اور وہ دونوں (اپنی اپنی جگہ پر مستقل طور پر) ایسے ہیں کہ زمین و آسمان جب سے پیدا ہوئے، کبھی ان کا ظہور نہیں ہوا۔ اول یہ کہ چاند کو گرہن رمضان کی پہلی رات ہو گا اور دوسرا یہ کہ سورج گرہن اسی رمضان شریف کے نصف میں واقع ہو گا اور جب اس خدا تعالیٰ نے زمین و آسمان پیدا کیے، ایسے گہنوں کا ظہور کبھی نہیں ہوا“۔
شمر کا بیٹا عمرو جو محمد بن علی کے مذکورہ بالا قول کو نقل کر رہا ہے، اس قابل نہیں کہ اس کی نقل پر اعتماد کیا جائے۔ یہ شخص کذاب اور تقیہ باز تھا۔ اس پر رافضی اور شاتم صحابہؓ ہونے کی جرح میزان الاعتدال ذہبی میں موجود ہے۔ اس کا استاد جابر جعفی جو مذکورہ پیشگوئی کا راوی ہے، ضعیف ہے۔ اس کے متعلق سیدنا امام ابو حنیفہؒ فرماتے ہیں کہ میں نے آج تک اس جیسا جھوٹا راوی کسی کو نہیں دیکھا۔ پس جب محمد بن علی سے
نقل کرنے والوں کا بھی یہ حال ہے تو ہم اسے پورے اعتماد کے ساتھ حضرت محمد بن علی کا قول بھی نہیں کہہ سکتے چہ جائیکہ اسے کسی صحابی کا قول یا ارشاد رسول خاتم کہا جاسکے۔
باقی رہا یہ سوال کہ اگر یہ قول ایسا ہی کمزور اور مقطوع تھا تو پھر اسے امام دار قطنی نے درج کیوں کیا ہے‘ اس کا جواب یہ ہے کہ احادیث کی کتابوں میں ارشادات نبوی کے علاوہ صحابہ اور تابعین کے آثار بھی منقول ہوتے ہیں۔ بعض مقامات پر آئمہ و فقہاء کے اپنے اقوال بھی مندرج ہوتے ہیں۔ حدیث کی کتاب میں درج ہونا اس بات کو ہرگز لازم نہیں کہ یہ قول خود لسان شریعت سے منقول ہو۔ ایسا گمان محض جہالت اور نادانی پر مبنی ہے۔ اہل علم کے ہاں اس سوال کی کوئی قیمت نہیں۔ حضرت شاہ عبد العزیز محدث دہلویؒ اپنے اصول حدیث کے رسالہ عجالہ نافعہ کے ص ٧ پر تصریح فرماتے ہیں کہ سنن دار قطنی حدیث کی تیسرے طبقے کی کتابوں میں سے ہے۔ جن کے جمع کرنے والوں نے روایات کی صحت کا التزام نہیں کیا بلکہ ہر طرح کی روایات ان میں جمع کر رکھی ہیں۔
مرزا صاحب نے اس ضعیف اور بے بنیاد قول کو جو کذاب قسم کے راویوں کے واسطہ سے صرف محمد بن علی تک پہنچتا ہے۔ اگر حدیث رسول سمجھ لیا ہے تو ہمارے لیے بالکل قابل التفات نہیں۔ مرزا صاحب فن حدیث میں بہت کمزور تھے۔ انہیں یہ بھی پتہ نہیں تھا کہ ”صحیح“ ایک خاص معیار کی کتب ہوتی ہیں۔ جیسے صحیح بخاری اور صحیح مسلم وغیرہ اور یہ کہ حدیث کی ہر کتاب صحیح نہیں کہلاتی اور وہ اس حقیقت سے بھی بے خبر تھے کہ سنن دار قطنی محدثین کے ہاں ہر قسم کی رطب و یابس روایات پر مشتمل ہے۔ مرزا صاحب کی نادانی دیکھئے کہ وہ دار قطنی کو بھی صحیح کا نام دے رہے ہیں۔ لکھتے ہیں:
”صحیح دار قطنی میں ایک حدیث ہے“.....(الخ) (حقیقتہ الوحی‘ ص ١٩٤)
یہ سنن دار قطنی ہونا چاہیے تھا۔
یہ حدیث اگر قابل اعتبار نہیں تھی تو دار قطنی نے اپنی صحیح میں کیوں اس کو درج کیا (”تحفہ گولڑویہ“ ص ٢٨)
حدیث کے ابتدائی درجہ کے طلبہ کو بھی معلوم ہے کہ حضرت امام بخاری کا اسم گرامی محمد تھا۔ اسماعیل نہ تھا۔ اسماعیل ان کے باپ کا نام تھا مگر مرزا صاحب ازالہ اوہام میں امام بخاری کا نام اسماعیل بتاتے ہیں۔ حالانکہ اس وقت اور ان علاقوں میں اس
طرح کے مرکب ناموں کا منہاج ہی نہ تھا۔ (دیکھئے ازالہ اوہام' جلد ١' ص ١١١' جلد دوم' ص ٢٥٩' ص ٦٤٥) شہادت القرآن میں مرزا صاحب ایک حدیث صحیح بخاری کے حوالے سے نقل کرتے ہیں۔ حالانکہ وہ صحیح بخاری میں بالکل نہیں ہے۔ اور پھر یہ نہیں کہ صحیح بخاری کا لفظ اتفاقاً قلم سے نکل گیا ہو۔ بلکہ اسے صحیح الکتب بعد کتاب اللہ کہہ کر اس نقل کی اور توثیق کرتے ہیں۔ پھر ازالہ اوہام' ص ٢٣ پر آنحضرت ﷺ کی طرف نسبت کرتے ہوئے یہ الفاظ بطور حدیث کے پیش کرتے ہیں بل ھو امامکم منکم لفظ بل عجیب اضافہ ہے۔ حالانکہ یہ الفاظ اس طرح آنحضرت ﷺ کی کسی حدیث میں نہیں ملتے۔ نہ ان کے لیے کوئی سند صحیح ہے اور نہ کوئی ضعیف۔ یہ محض ایک افتراء اور بہتان ہے۔ الحاصل مرزا غلام احمد فن حدیث میں عام طلبہ کے بھی ہمسر نہیں تھے۔ پس اس کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا کہ ہم ان کے اعتماد پر مذکورہ الصدر پیشگوئی کو آنحضرت ﷺ کی حدیث تسلیم کرلیں۔ (معاذ اللہ ثم معاذ اللہ)
- ٣۔ مذکورہ گرہن مرزا غلام احمد قادیانی کے دعویٰ کی تصدیق کے لیے قطعاً ثابت
نہیں ہوئے۔ یہ محض پراپیگنڈہ ہے۔ مرزائیوں کے اپنے دعویٰ کے مطابق گرہنوں کا وقوع ١٣١٢ھ میں پیش آیا۔ حالانکہ اس وقت تک مرزا صاحب نے رسالت کا دعویٰ ہی نہ کیا تھا۔ تعجب ہے کہ مرزا صاحب نے ان گرہنوں کو اپنے دعویٰ نبوت اور رسالت کی تصدیق کے لیے کیسے پیش کر دیا۔ مرزا صاحب لکھتے ہیں:
”اس حدیث کا یہ مطلب نہیں ہے کہ رمضان کے مہینہ میں کبھی یہ دو گرہن جمع نہیں ہوئے بلکہ یہ مطلب ہے کہ کسی مدعی نبوت یا رسالت کے وقت میں کبھی یہ دونوں گرہن جمع نہیں ہوئے جیسا کہ حدیث کے ظاہر الفاظ اس پر دلالت کر رہے ہیں۔ اگر کسی کا یہ دعویٰ ہے کہ کسی مدعی نبوت یا رسالت کے وقت میں یہ دونوں گرہن رمضان میں کسی زمانہ میں جمع ہوئے تو اس کا فرض ہے کہ اس کا ثبوت دے“ (”حقیقۃ الوحی“ ص ١٩٦)
اگر یہ کہا جائے کہ گرہن مہدویت کی علامت ہیں' نبوت اور رسالت کی نہیں تو یہ بھی صحیح نہیں۔ کیونکہ مرزا صاحب کے نزدیک مہدیت کا دعویٰ رسالت کے دعویٰ کو
بھی شامل ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ وہ حقیقۃ الوحی کی مذکورہ عبارت میں اسے اپنے دعویٰ نبوت و رسالت کے لیے آسمانی نشان بتلا رہے ہیں ۔ چونکہ مرزا صاحب کا یہ دعویٰ رسالت بہت بعد کا ہے، اور یہ وقوع گرہن اس سے بہت پہلے کا ہے۔ بنا بریں ہم یقینی طور پر کہہ سکتے ہیں کہ مرزا صاحب کے دعویٰ نبوت کے دور میں ایسے گرہن کبھی نہیں لگے۔ یہ قادیانی حضرات کا محض پراپیگنڈہ ہے۔ اسی طرح ان لوگوں کا یہ کہنا بھی غلط ہے کہ ١٣١٢ھ کے اس مذکورہ گرہن سے پہلے اس طرح کے گرہن کبھی نہیں لگے۔ کیونکہ اس سے ایک سال قبل ١٣١١ھ میں بھی چاند اور سورج کا گرہن امریکہ میں لگا تھا اور وہاں بھی اس وقت ایک جھوٹا مدعی نبوت مسٹر ڈوئی موجود تھا۔ پس ایسے گرہن جو خرق عادت بھی نہیں، کسی دعویٰ کی تصدیق کے ضامن ہرگز نہیں ہو سکتے۔ واللہ اعلم بالصواب ۔ (کتبہ خالد محمود عفا اللہ عنہ)
س : براہ کرم ہفت روزہ ”دعوت“ میں مندرجہ ذیل امور کا جواب دیں۔ دلائل ایسے ہوں کہ ان کی تاویل نہ کی جا سکتی ہو۔
- ١- مرزا غلام احمد قادیانی نبی کیوں نہیں تسلیم کیے جاتے؟
- ٢- مرزا صاحب مجدد کیوں نہیں تسلیم کیے جاتے؟
- ٣- مرزا صاحب عالم کیوں نہیں تسلیم کیے جاتے؟
- ٤- مرزا صاحب عابد و زاہد کیوں نہیں تسلیم کیے جاتے؟
- ٥- مرزا غلام احمد قادیانی مسلمان کیوں نہیں تسلیم کیے جاتے؟
(آپ کا مخلص، نذیر احمد بٹ، رحیم سٹریٹ سردار پورہ، اچھہرہ لاہور)
ج : مرزا صاحب نبی اس لیے نہیں تسلیم کیے جاسکتے کہ وہ حضورؐ کے بعد تیرہویں صدی میں پیدا ہوئے اور حضور خاتم النبیینؐ کے بعد میں پیدا ہونے والا کوئی شخص کبھی نبی نہیں ہو سکتا۔ حضرت عیسیٰؑ اپنی آمد پر محض اس لیے نبی تسلیم کر لیے جائیں گے کہ وہ حضور ختمی مرتبتؐ سے بہت پہلے کے پیدا ہوئے ہیں مگر آنحضرت ﷺ کے بعد پیدا ہونے والا کوئی شخص نبی نہیں ہو سکتا۔ کیونکہ ہر طرح کی نبوت حضورؐ پر ختم ہو چکی ہے اور وحی نبوت کا سلسلہ منقطع ہو چکا ہے ۔ علاوہ ازیں پیغمبروں کی شان یہ ہے کہ وہ اللہ رب العزت کے سوا کسی سے نہیں ڈرتے۔ قال اللہ تعالیٰ:
یخشون احدا الا اللہ
(پ ٢٢‘ احزاب‘ آیت ٣٩)
ترجمہ : ”جو لوگ اللہ تعالیٰ کی رسالت آگے پہنچاتے ہیں اور وہ اسی سے ڈرتے ہیں اور اس کے سوا کسی سے نہیں ڈرتے“۔
اور مرزا صاحب انگریزوں سے ڈرتے تھے۔ مسلمانوں سے ڈرنے کا ثبوت یہ ہے کہ انہوں نے حج نہیں کیا تھا اور محض اسی لیے نہیں کیا تھا کہ انہیں حجاز کے مسلمانوں سے جان کا خوف تھا اور پھر یہ نہیں کہ یہ ڈر کوئی امر وقتی تھا بلکہ زندگی بھر مرزا صاحب کے ساتھ رہا اور انگریزوں سے ڈرنے کی دلیل یہ ہے کہ ڈپٹی کی عدالت میں انہوں نے محض ڈرتے ہوئے اپنے طریق کار کے خلاف آئندہ ضمانت کے طور پر دستخط کر دیے تھے اور پھر ساری عمر انگریزوں کی مدح خوانی اور سلطنت برطانیہ کی قصیدہ خوانی کرتے رہے۔ پس ایسے اشخاص کے متعلق جن کی قلبی اور ذہنی کیفیت اس قدر کمزور ہو نبوت کے تصور کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔
- ٢۔ مرزا صاحب مجدد اس لیے تسلیم نہیں کیے جاسکتے کہ مجدد کا کام قوم کو پہلی
بدعات اور پہلی آلائشوں سے نجات دلانا ہے ۔ جو برے تاثرات اور رسم و رواج سے وہ داخل دین ہو چکے ہوں اور وہ بھی زیادہ تر عملی میدان میں معروف کے قیام اور منکرات کی روک تھام کے لیے عمل میں آتا ہے ۔ مرزا صاحب بجائے اس کے کہ قوم کو کسی پہلے انتشار سے نجات دلاتے‘ خود ایک وجہ انتشار بن گئے ۔ بجائے اس کے کہ پہلی فرقہ بندی میں کچھ کمی ہوتی‘ ایک اور فرقے کا ان میں اضافہ ہو گیا اور وہ فرقہ بھی ایسا بنا جو پوری قوم سے کٹ کر ایک جداگانہ ملت بن گیا ۔ پس جب کہ مرزا صاحب کا دعویٰ مجددین سابقین کے منہاج پر نہ تھا ۔ انہیں مجدد کس طرح تسلیم کیا جاسکتا ہے ۔
- ٣۔ مرزا صاحب کو ایک عالم اس لیے تسلیم نہیں کیا جاتا کہ وہ معقول منقول اور
ادب ہر اعتبار سے کمزور اور خام تھے ۔ ادب عربی کے اعتبار سے وہ متعدد غلطیوں کے مرتکب ہوئے‘ جن کی تفاصیل سب اپنی اپنی جگہ موجود ہیں ۔ منقول میں بھی انہوں نے بہت سی غلطیاں کی ہیں ۔ حدیث کی بحث کرتے ہیں تو قواعد محدثین اور آداب محدثین سے ناواقف دکھائی دیتے ہیں ۔ تفسیر کرتے ہیں تو قرآنی علوم سے خالی نظر آتے ہیں ۔
علی ہذا القیاس ان میں کوئی علمی ممتاز شان نہ تھی کہ انہیں امتیازی طور پر عالم تسلیم کیا جائے۔
- ٤۔ مرزا صاحب کا غیر محرم عورتوں سے اختلاط اور متعدد غلط بیانیوں کا ارتکاب
انہیں ایک زاہد اور پرہیز گار انسان سمجھنے کی اجازت نہیں دیتا۔
- ٥۔ مرزا صاحب کو مسلمان تسلیم کرنے سے یہ امور مانع ہیں:
- ١۔ انہوں نے مراق سے افاقہ کی حالت میں بھی ختم نبوت کے ان معنوں کا انکار
جاری رکھا جو آنحضرت ﷺ سے لے کر آخر تک امت مسلمہ نے بالاجماع سمجھ رکھے تھے اور ختم نبوت کا یہ انکار ایک مستقل وجہ کفر ہے۔
- ٢۔ انہوں نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی توہین کی اور انہیں بہت سے نامناسب
الفاظ کے ساتھ ذکر کیا اور قاعدہ شرعیہ ہے کہ نبی کی توہین اور اس کی شان میں کسی قسم کی گستاخی ہر دو موجب کفر ہیں۔
- ٣۔ مرزا صاحب نے بعض ان امور شرعیہ کو جو حضور ختمی مرتبتؐ کی شریعت
میں عبادات تھے حرام قرار دے کر تحریم حلال اور تحلیل حرام کا ارتکاب کیا جیسے جہاد کو حرام قرار دینا وغیرہ۔ واللہ اعلم بالصواب۔ (کتبہ خالد محمود عفا اللہ عنہ)
س: ”دعوت“ میں حیات مسیح پر ایک مسلسل مضمون کئی قسطوں میں آ رہا ہے۔ اس موضوع پر ایک شبہ وارد ہوتا ہے۔ اس کا جواب ”دعوت“ میں ہی دے کر مشکور فرمائیں۔ سوال یہ ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر قرآن کی رو سے واوصانی بالصلوۃ والزکوٰۃ ما دمت حیا کے مطابق ہر وقت جب تک وہ زندہ ہیں نماز اور زکوٰۃ فرض ہے۔ اگر وہ اب آسمانوں میں زندہ ہیں تو وہاں نماز اور زکوٰۃ کیسے ادا کرتے ہوں گے اور وہ زکوٰۃ لیتا کون ہو گا۔ اس کا جواب مطلوب ہے؟ (سائل‘ مختار
حسن صدر لاہور کینٹ)
ج: آپ پہلے اس آیت کے معنی سمجھ لیجئے جو آپ نے نقل کی ہے۔ اس میں انشاء اللہ العزیز تمام شبہات زائل ہو جائیں گے۔ آیت کا ترجمہ یہ ہے: واوصانی بالصلوۃ والزکوٰۃ ما دمت حیا (پ١٦‘
مریم)
ترجمہ : ”اور اللہ تعالیٰ نے مجھے حکم دیا ہے نماز اور زکوٰۃ کا جب تک میں زندہ رہوں“۔
اس آیت کی تفسیر میں شیخ الاسلام حضرت مولانا شبیر احمد عثمانیؒ فرماتے ہیں:
”یعنی جب تک زندہ رہوں‘ جس وقت اور جس جگہ کے مناسب جس قسم کی صلو ۃ و زکوٰۃ کا حکم ہو اس کی شروط و حقوق کی رعایت کے ساتھ برابر ادا کرتا رہوں گا۔ جیسے دوسری جگہ مومنین کی نسبت فرمایا الذین ھم عن صلوتھم دائمون اس کا یہ مطلب نہیں کہ ہر آن اور ہر وقت نماز پڑھتے رہتے ہیں۔ بلکہ یہ مراد ہے کہ جس وقت جس طرح کی نماز کا حکم ہو‘ ہمیشہ پابندی سے تعمیل حکم کرتے ہیں اور اس کی برکات و انوار ہمہ وقت ان کو محیط رہتی ہیں۔ کوئی شخص کہے کہ ہم جب تک زندہ ہیں نماز‘ زکو ۃ‘ روزہ‘ حج وغیرہ کے مامور ہیں۔ کیا اس کا مطلب یہ لیا جائے گا کہ ہر ایک مسلمان مامور ہے کہ ہر وقت نماز پڑھتا رہے‘ ہر وقت زکوٰۃ دیتا رہے‘ (خواہ نصاب کا مالک ہو یا نہ ہو) ہر وقت روزے رکھتا رہے‘ ہر وقت حج کرتا رہے۔ حضرت مسیحؑ کے متعلق بھی ما دمت حیا کا ایسا ہی مطلب سمجھنا چاہیے۔ یاد رہے کہ لفظ ”صلوٰۃ“ کچھ اصطلاحی نماز کے ساتھ مخصوص نہیں۔ قرآن نے ملائکہ اور بشر سے گزر کر تمام جہان کی طرف صلوٰۃ کی نسبت کی ہے۔ الم تر ان اللہ یسبح لہ من فی السموات والارض والطیر صافات کل قد علم صلوتہ و تسبیحہ (نور‘ رکوع ٦) اور یہ بھی بتا دیا کہ ہر چیز کی تسبیح و صلوٰۃ کا حال اللہ ہی جانتا ہے کہ کس کی صلوٰۃ و تسبیح کس رنگ کی ہے۔ اسی طرح زکوٰۃ کے معنی بھی اصل میں طہارت‘ نما‘ برکت‘ مدح کے ہیں۔ جن میں سے ہر ایک معنی کا استعمال قرآن و حدیث میں اپنے اپنے موقع پر ہوا ہے۔ اسی رکوع میں حضرت مسیحؑ کی نسبت غلاما زکیا کا لفظ گزر چکا جو زکوٰۃ سے مشتق ہے اور یحییٰ علیہ السلام کو فرمایا وحنانا من لدنا وزکوہ سورۂ کہف میں ہے خیرا منہ زکوہ واقرب رحماء اسی طرح کے عام معنی یہاں بھی زکوٰۃ کے کیے جاسکتے ہیں اور ممکن ہے اوصانی بالصلوہ والزکوہ سے اوصانی بان امر بالصلوہ والزکوہ مراد ہو جیسے اسماعیل علیہ السلام کی نسبت فرمایا و کان یامر اھلہ بالصلوہ و
الزکوہ پھر لفظ اوصانی اپنے مدلول لغوی کے اعتبار سے اس کو مقتضی نہیں کہ وقت ایصاء ہی سے اس پر عمل درآمد شروع ہو جائے۔ نیز بہت ممکن ہے کہ ما دمت حیا سے یہ ہی زمینی حیات مراد لی جائے۔ جیسے ترمذی کی ایک حدیث میں ہے کہ جابرؓ کے والد کو اللہ نے شہادت کے بعد زندہ کر کے فرمایا کہ ہم سے کچھ مانگ۔ اس نے کہا کہ ”مجھے دوبارہ زندہ کر دیجئے کہ دوبارہ تیرے راستہ میں قتل کیا جاؤں“۔ اس زندگی سے یقیناً زمینی زندگی مراد ہے۔ ورنہ شہداء کے لیے نفس حیات کی قرآن میں اور خود اسی حدیث میں تصریح موجود ہے۔ واللہ اعلم بالصواب۔ (کتبہ خالد محمود عفا اللہ عنہ)
س : قادیانی کہتے ہیں کہ مرزا صاحب نے نبوت کا دعویٰ کیا۔ اگر یہ محض افتراء اور جھوٹ تھا تو وہ حیات طبیعی تک زندہ کیسے رہے۔ جو شخص خدا پر افتراء باندھے، وہ نہایت ذلت کی موت مرتا ہے۔ حیات طبیعی تک زندہ نہیں رہ سکتا۔ مگر مرزا صاحب کا سلسلہ تو ان کے بعد بھی قائم ہے۔ اس مغالطے کی وضاحت کیجئے۔ (سائل فضل رحیم از شیخوپورہ)
ج : فلاح نہ پانا اور فائز المرام نہ ہونا، یہ صرف انہیں کفار سے خاص نہیں جو اللہ رب العزت پر افتراء کر کے اللہ پر جھوٹے دعوے کریں۔ بلکہ قرآن کی رو سے کوئی کافر بھی فوز و فلاح کا مستحق نہیں۔ قرآن کریم میں ہے:
انه لا يفلح الكافرون (پاره ١٨، المومنون) ترجمہ : ”بے شک کافر فلاح نہیں پائیں گے“۔
اس آیت کی رو سے کوئی کافر خواہ وہ ہندو یا عیسائی، دہریہ ہو یا یہودی، ہرگز فلاح نہیں پائیں گے۔ اب اس فلاح نہ پانے اور کامیاب نہ ہونے کو کسی خاص قسم کے کافروں سے مخصوص کرنا اور یہ کہنا کہ جو شخص نبوت کا جھوٹا دعویٰ کرے، وہ فلاح نہیں پائے گا۔ یہ محض سینہ زوری اور تحکم ہے۔ قرآن کریم اس خیال کی تائید نہیں کرتا۔ وہ شخص جو خدا پر افتراء باندھے، اور وہ شخص جو اللہ کی آیتوں اور نشانیوں کو جھٹلائے، قرآن میں دونوں کو ایک ہی لڑی میں پرو دیا گیا ہے اور پھر دونوں کا ایک ہی حکم ہے کہ ایسے ظالم ہرگز فلاح نہیں پائیں گے۔ قرآن پاک کہتا ہے:
و من اظلم ممن افترى على الله كذبا او كذب باياته انه لا يفلح الظالمون ۔ (پ ٧، انعام، ع ٣)
ترجمہ : ”اور اس شخص سے بڑھ کر کون ظالم ہو سکتا ہے جو خدا پر جھوٹ باندھے یا اس کی نشانیوں کو جھٹلائے، بے شک ایسے ظالم ہرگز فلاح نہیں پائیں گے“۔
پھر ایک دوسرے مقام پر ارشاد ہوتا ہے:
فمن اظلم ممن افترى على الله كذبا او كذب
باياته انه لا يفلح المجرمون (پ ١١ یونس‘ ع ٢) ترجمہ : ”اس شخص سے بڑھ کر کون ظالم ہے‘ جس نے خدا پر جھوٹ باندھا یا اس کی آیات کی تکذیب کی۔ ایسے گنہگار یقیناً فلاح نہیں پائیں گے۔“
ان آیات کریمہ میں مفتری علی الله اور مکذب بآیات بالله دونوں کو ایک ہی حکم میں داخل کیا گیا ہے۔ پس اس عدم فلاح اور ناکامی کو مفتری علی الله سے خاص کرنا فہم قرآن سے خالی ہونے کی وجہ سے ہے۔
فلاح نہ پانے سے یہ مراد لینا کہ وہ عمر طبعی پوری نہ کریں گے یا دنیا میں کسی قسم کی عزت نہ پائیں گے‘ یہ نظریہ بالکل غلط اور ہدایت کے خلاف ہے۔ جن لوگوں نے تاریخ عالم کے نشیب و فراز دیکھے ہیں اور نیکوں اور بدوں کی دنیوی تاریخ ان کی نظر سے اوجھل نہیں‘ انہیں یقین ہے کہ ان آیات قرآنیہ میں کامیابی سے مراد دنیا کی کامیابی نہیں بلکہ آخرت کی فوز و فلاح مقصود ہے۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے فرعون اور اس کے تمام ساتھیوں سے خطاب فرمایا تھا:
قال لهم موسى ويلكم لا تفتروا على الله كذبا فيسحتكم بعذاب و قد خاب من افترى
(پ ١٦‘ طہ‘ ع ٣)
ترجمہ : ”موسیٰ علیہ السلام نے انہیں کہا کہ تمہارے حال پر افسوس ہے۔ خدا تعالیٰ پر تم افتراء نہ باندھتے‘ ایسا کرنے سے خدا تمہیں کسی عذاب سے برباد کر دے گا بے شک جس نے خدا پر افتراء باندھا وہ نامراد اور خاسر رہا۔“
اس آیت شریفہ میں فرعون اور اس کے ماننے والوں سب کو مفتری علی الله کہا گیا ہے اور پھر سب کے لیے کہا گیا ہے کہ وہ یقیناً نامراد رہیں گے۔ فرعون نے چار سو برس تک حکومت کی اور اس مدت دراز میں اسے کبھی سردرد تک نہ ہوئی۔ مگر بایں ہمہ وہ قرآن کی رو سے خائب و خاسر اور محروم الفلاح تھا۔ مرزا صاحب اس آیت کا آخری جملہ قد خاب من افتری تو پیش کرتے ہیں مگر پوری آیت نقل نہیں کرتے۔
تاکہ بات کھل نہ جائے اور حقیقت سے پردہ نہ اٹھ جائے کہ خدا پر افتراء باندھنے والے چار سو برس تک بھی کامیابی سے زندہ رہ سکتے ہیں۔ یہ محض دنیوی زندگی ہے۔ حقیقی زندگی میں یہ لوگ ایک آن واحد کے لیے بھی فائز الفلاح نہیں کیے جا سکتے۔ واللہ اعلم بالصواب۔ (کتبہ خالد محمود عفا اللہ عنہ)
س: تاریخ کی رو سے کیا کسی شخص کی نشاندہی کی جاسکتی ہے، جس نے جناب پیغمبر اسلام کے بعد نبوت کا دعویٰ کیا ہو اور پھر آخر عمر تک وہ باعزت اور محفوظ رہا ہو۔ یہاں تک کہ اس کا سلسلہ اس کے بعد بھی چلتا رہا ہو۔ اس کی بھی تحقیق مطلوب ہے۔ (فضل رحیم، از شیخوپورہ)
ج: انتہائے مغرب میں برغواطہ قوم کا ایک شخص صالح بن طریف گزرا ہے، جس نے نبوت کا دعویٰ کیا تھا اور یہ بھی دعویٰ کیا تھا کہ اس پر ایک قرآن بھی اترتا ہے۔ اس قرآن کی بعض سورتوں کے نام یہ تھے سورۃ الدیک، سورۃ النمر، سورۃ آدم، سورۃ ہاروت و ماروت، سورۃ غرائب الدنیا وغیرہ وغیرہ۔ صالح کا یہ بھی دعویٰ تھا کہ میں مہدی اکبر ہوں، جس کی خبر خود آنحضرت ﷺ نے دی ہے۔ دعویٰ نبوت کے ساتھ اسے اتنا فروغ ہوا کہ اپنے پورے علاقہ کا بادشاہ بن گیا۔ سینتالیس سال کے قریب اس نے حکومت کی اور اپنی تمام سیاسی اور مذہبی مہمات کا سربراہ رہا۔ اس کے بعد سرداری اس کے بیٹے الیاس کو ملی۔ اس نے پچاس سال کے قریب حکومت کی۔ اس کے بعد اس کا بیٹا یونس برسر اقتدار آیا۔ جس نے اپنے دادا صالح بن طریف کے مذہب کو بہت ترقی دی اور چوالیس برس کے قریب حکومت کی۔ صالح بن طریف کے زمانے میں خلافت بغداد پر ہشام بن عبدالملک کا قبضہ تھا۔ مورخ شہیر علامہ ابن خلدونؒ لکھتے ہیں:
زعم انہ المہدی الاکبر الذی یخرج فی اخر الزمان وان عیسیٰ یکون صاحبہ ویصلی خلفہ وان اسمہ فی العرب صالح و فی سریانی مالک و فی العجمی عالم و فی العبرانی روبیا و فی البربری دربا ومعناہ الذی لیس بعدہ نبی (تاریخ ابن خلدون، ج ٦، ص ٤٠٧)
ترجمہ : "اس کا دعویٰ تھا کہ وہی مہدی اکبر ہے جو قرب قیامت میں ظاہر ہو گا اور حضرت عیسیٰ اس کے ساتھی ہوں گے اور اس کے پیچھے نماز پڑھیں گے۔ عرب میں اس کا نام صالح تھا۔ سریانی میں مالک، عجمی میں عالم، عبرانی میں روبیا اور بربری میں دربا تھا اور اس کا معنی ہے الذی لیس بعدی نبی اس کے بعد اب کوئی اور نبی نہ ہوگا۔
یونس کے بعد صالح کا پڑپوتا ابو غفیر بر سر حکومت آیا (یہ معاذ بن الیسع بن طریف تھا) اس کے متعلق فاضل ابن خلدون لکھتے ہیں:
و اشتدت شوکتہ و عظم امرہ
ترجمہ : "اسے عظیم شوکت حاصل تھی اور اس کی حکومت بلند پایہ تھی"۔
ابو غفیر کے بعد ابوالانصار برسر اقتدار آیا۔ جس نے اپنے باپ دادا کے مذہب کو بہت فروغ دیا۔ اس کے بعد ابو منصور عیسیٰ کا دور آیا جو برغواطہ کا ساتواں بادشاہ تھا۔ اس نے بھی دعویٰ نبوت کیا۔ ابن خلدون لکھتے ہیں:
و ادعی النبوہ و الکہانہ و اشتد امرہ و علا سلطنہ و دانت لہ قبائل الغرب (تاریخ ابن خلدون، ج ٦، ص ٢٠٧)
ترجمہ : "اس نے بھی نبوت اور غیب دانی کا دعویٰ کیا۔ اس کی حکومت اور سطوت بہت زور کی تھی اور مغرب کے تمام قبائل اس کے آگے سرنگوں تھے"۔
اس کے بعد اس خاندان کا سلسلہ نہایت ذلت سے ختم ہوا۔ ان حقائق سے یہ امر روز روشن کی طرح واضح ہے کہ یہ دعویٰ کہ مفتری کے سلسلے کو بقاء نہیں ہوتی یا ضروری ہے کہ وہ بیس یا تئیس سال کے اندر اندر ہلاک ہو جائے۔ اس کی شریعت میں کوئی اصل نہیں ہے۔
مقام غور : علاوہ ازیں یہ بھی سمجھنا چاہیے کہ کسی مدعی نبوت کا لازمی طور پر قتل
ہونا اگر اس کے جھوٹا ہونے کی دلیل ہو تو پھر وہ پیغمبران کرام جو سچے ہو کر بھی مقام شہادت پا گئے اور انہیں ان کے مخالفین نے قتل کیا‘ ان کی صداقت کیوں کر مشتبہ نہ ہو جائے گی۔ جب لازم ممکن نہیں تو ملزوم بالبداہت خود بخود باطل ہے۔ حضرت یحیٰی علیہ السلام نے ٣٢ سال کی عمر میں جام شہادت نوش فرما دیا۔ حضرت ابن عباس فرماتے ہیں:
قتل یحییٰ قبل رفع عیسیٰ علیہ السلام (تفسیر ابی
السعود‘ ج ٢‘ ص ٢٦٢‘ تفسیر کبیر‘ ج ٢‘ ص ٢٦٣)
ترجمہ : ”حضرت یحیٰی علیہ السلام قتل ہوئے‘ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے اوپر اٹھائے جانے سے بہت پہلے“۔
ایسا ہی تاریخ طبری‘ ج ٢‘ ص ١٣‘ الاخبار الطوال‘ ص ٤٤‘ تاریخ کامل‘ ج ١‘ ص ١٠٤‘ فتوحات الہیہ‘ ج ١‘ ص ٧٢‘ ص ٢٦٢‘ تفسیر فتح البیان‘ ج ١‘ ص ١٢٠‘ بحر محیط‘ ج ١‘ ص ٢٣٦‘ تفسیر جمل‘ ج ١‘ ص ٧٢‘ کشاف‘ ص ٧٩‘ در منثور‘ ج ٤‘ ص ٢٦٢ اور تفسیر مراح لبید لامام النووی میں مذکور ہے۔ واللہ اعلم بحقیقتہ الحال (کتبہ
خالد محمود عفا اللہ عنہ)
س : وہ لوگ جو اس وقت سیدنا محمد رسول اللہ ﷺ کے بعد کسی نئے نبی کے دنیا میں بھیجے جانے کے قائل ہوں اور بالفعل کسی ایسے شخص کو نبی اور رسول قرار دیں جو پیغمبر اسلام کے سینکڑوں سال بعد پیدا ہوا تو سوال یہ ہے کہ ایسے لوگوں کا ذبیح کیا ہوا جانور مسلمانوں کے لیے کھانا کیسا ہے؟ اور ان میں سے اگر کوئی شخص دوسرے مسلمان کے ساتھ گائے کی قربانی میں شریک ہو تو باقی چھ مسلمانوں کی قربانی شرعاً جائز سمجھی جائے گی یا نہیں؟ اس مسئلے کو تشریح کے ساتھ بیان کریں۔ (سائل عزیز احمد از نواب شاہ
، سندھ)
ج: مسئلہ کی تفصیل سے پہلے یہ معلوم ہونا ضروری ہے کہ شریعت کی رو سے ان منکرین ختم نبوت کا کیا حکم ہے؟ سو معلوم ہونا چاہیے کہ ایسے تمام لوگ اکابر علمائے اسلام خصوصاً شیخ الاسلام علامہ شبیر احمد عثمانیؒ کے متفقہ فیصلے کی رو سے کافر اور دائرۂ اسلام سے خارج ہیں۔ ان میں سے جو لوگ پہلے مسلمان تھے اور بعد میں وہ کسی نئی نبوت کے قائل ہوئے‘ شریعت اسلام انہیں مرتد قرار دیتی ہے اور جو عیسائیوں یا
ہندوؤں سے اس نئے مسلک میں آئے جو ان کے ہاں ہی پیدا ہوئے‘ وہ شریعت کی رو سے زندیق ہیں۔ حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلویؒ فرماتے ہیں کہ مرتد اور زندیق کی سزا شرع میں ایک ہے۔ (مسوی عربی‘ شرح موطا‘ ج ٢‘ ص ١٠٩)
اگر کہا جائے کہ یہ حضرات اگرچہ دین کے بعض ضروری مسائل کا انکار کرتے ہیں لیکن جب کہ کلمہ پڑھتے ہیں اور اہل قبلہ میں سے ہیں تو مرتد کیسے ہوگئے تو اس کا جواب یہ ہے کہ مسلمان ہونے کے لیے تو یہ ضروری ہے کہ جمیع امور دینیہ پر ایمان ہو لیکن کافر ہونے کے لیے یہ ضروری نہیں کہ تمام امور دینیہ کا ہی انکار ہو بلکہ ضروریات دین میں سے کسی ایک کا انکار کر دینے سے بھی انسان مرتد ہو جاتا ہے۔ موجبہ کلیہ کی نقیض سالبہ جزئیہ آتی ہے۔ ایمان میں جمیع کی قید ہے اور کفر میں یہ قید نہیں۔ شامی میں مرتد کی تعریف یہ ہے:۔
الرَاجِع عَن دِين الاسلام و رکنھا اجراء کلمہ تکفر على اللسان بعد الایمان (شامی‘ جلد ٣‘ ص ٢٨٣‘ مصر)
ترجمہ : ”دین سے ہٹ جانے والا مرتد ہے اور اس کی بنیاد مسلمان ہونے کے بعد کسی ایک کفریہ کلمہ کو اپنی زبان پر لانا ہے“
حضرت صدیق اکبرؓ کے زمانہ میں کچھ لوگوں نے اسلام کے صرف ایک رکن زکوٰ ۃ کا انکار کیا تھا۔ نمازوں اور روزوں کو وہ بدستور مانتے تھے۔ مگر بایں ہمہ صحابہ کرامؓ نے انہیں مرتد قرار دیا ہے۔ امام بخاریؒ نے مانعین زکوٰۃ اور قتال ابی بکر کے واقعہ پر مندرجہ ذیل باب باندھا ہے:
باب قتل من ابی قبول الفرائض و ما نسبوا الی الردہ (صحیح بخاری‘ ج ٢‘ ص ١٠٢٣)
یہاں صریح طور پر ردت اور ارتداد کے الفاظ موجود ہیں۔ شیخ الاسلام امام ابن تیمیہؒ لکھتے ہیں:
السلف قد سموا مانعی الزکوہ مرتدین مع کونھم یصومون و یصلون (فتاویٰ ابن تیمیہ‘ ج ٤‘ ص ٢٦٩)
ترجمہ : ”سلف نے زکوٰۃ روکنے والوں کا نام مرتد رکھا ہے ۔ حالانکہ وہ روزے بھی رکھتے تھے اور نمازیں بھی پڑھتے تھے“۔
امام الائمہ امام محمدؒ جن پر فقہ حنفی کا مدار ہے:
من انکر شیاء من شرائع الاسلام فقد ابطل قول لا الہ الا اللہ (تفسیر کبیر‘ ج ٤‘ ص ٣٦٥)
ترجمہ : ”جو شخص اسلام کی شرائع میں سے کسی ایک بات کا بھی انکار کرے‘ اس نے اپنا کلمہ پڑھنے کو باطل کر لیا“
امام ابن حزم علیہ الرحمہ لکھتے ہیں:
وصح الاجماع ان کل من جحد شیاء صح عندنا بالاجماع ان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اتی بہ فقد کفر وصح بالنص ان کل من استھزا باللہ تعالیٰ او بملک من الملائکہ او بنبی من الانبیاء او بآیہ من القران او بفریضہ من فرائض الدین فھی کلھا آیات اللہ بعد بلوغ الحجہ الیہ فھو کافر و من قال نبی بعد النبی علیہ الصلوہ والسلام او جحد شیئا صح بان النبی صلی اللہ علیہ وسلم قالہ فھو کافر (کتاب الفصل‘ ج ٣‘ ص ٢٥٥)
ترجمہ : ”اس بات پر اجماع درست ہوچکا ہے کہ جو شخص کسی ایسی بات کا انکار کرے جو اجماعی طور پر حضورؐ کی تعلیم ہو‘ وہ کافر ہے اور یہ امر نص کے ساتھ ثابت ہے کہ جو شخص اللہ تعالیٰ کے ساتھ مذاق کرے یا اس کے فرشتے کے ساتھ یا قرآن پاک کی کسی آیت کے ساتھ یا نبیوں میں سے کسی نبی کے ساتھ یا دین کے فرائض میں سے کسی ایک فریضہ کے ساتھ استہزاء کرے اس کے بعد کہ اس تک حجت شرع پہنچ چکی ہو تو وہ کافر ہو جاتا ہے اور جو شخص سرور دوعالم کے بعد کسی اور نبی کے پیدا ہونے کا قائل ہو یا
کسی بات کا انکار کرے، جو اس کے ہاں حضور کی تعلیم ہو تو وہ کافر ہے"۔ ایسے لوگوں کا ہمارے قبلہ کی طرف منہ کر کے نماز پڑھنا، انہیں اہل قبلہ میں داخل نہیں کر دیتا۔ جب تک کہ تمام ضروریات دین پر ایمان نہ لے آئیں۔ امام المتکلمین ملا علی قاریؒ فرماتے ہیں:
اعلم ان المراد من اهل القبله الذين اتفقوا على ما هو من ضروريات الدين
(شرح فقہ اکبر، ص١٨٩)
ترجمہ : "اہل قبلہ سے مراد وہ لوگ ہیں جو ساری ضروریات دین پر ایمان رکھتے ہیں"۔
امام ابن حزمؒ ذرا تفصیل فرماتے ہیں:
اهل القبله في اصطلاح المتكلمين من يصدق بضروريات الدين اى الامور التي علم ثبوتها الشرع و اشتهر فمن انكر شيئا من الضروريات كحدوث العالم و حشر الاجساد و علم الله سبحانه بالجزئيات و فرضيه الصلوه و الصوم لم يكن من اهل القبله ولو كان مجاهداً بالطاعات
(الفصل، ج٤، ص٢٤٥)
ترجمہ : "متکلمین اسلام کی اصطلاح میں اہل قبلہ سے مراد وہ لوگ ہیں جو ساری ضروریات دین کو سچا مانیں اور ضروریات دین سے وہ امور مراد ہیں جن کا ثبوت شرع میں اس طرح ہو کہ انہیں اسلام میں شہرت کا درجہ حاصل ہو۔ پس جو کوئی ایسے ضروری مسئلوں سے انکار کرے، جیسے دنیا کا حادث ہونا، قیامت کو تمام جسموں کا اکٹھا ہونا، خدا تعالیٰ کے علم کا محیط ہونا، نمازوں اور روزوں کا فرض ہونا تو ایسے مسائل کا منکر اہل قبلہ میں سے نہیں ہو سکتا۔ اگرچہ عبادات میں وہ کسی قدر مجاہد ہی کیوں نہ ہو ۔ حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلویؒ فرماتے ہیں:
ولا نكفر احداً من اهل القبله الا بما فيه نفى
القادر المختار او عباده غير الله او انكار المعاد و النبی وسائر ضروریات الدین
(العقیدہ الحسنہ ص٩)
اب دیکھنا چاہیے کہ یہ منکرین ختم نبوت کسی ایسے امر کا انکار کرتے ہیں یا نہیں جس کے نہ ماننے کی وجہ سے انسان کافر ہو جاتا ہے۔ سو معلوم ہونا چاہیے کہ ان میں تقریباً وہ تمام وجوہ موجود ہیں جو امام ابن حزمؒ کی تحریر میں موجود ہیں لیکن ان سب میں نمایاں ختم نبوت کے اسلامی معنوں کا انکار ہے۔ ہمارا ان پر الزام ہے کہ تم خاتم النبیینؐ کے بعد ایک نئے نبی کے قائل ہو وہ بھی تسلیم کرتے ہیں کہ ہاں ہم ایک نئے نبی کی پیدائش کے بے شک قائل ہیں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ حضور ﷺ کے بعد کسی دوسرے شخص کو نبی ماننے والے کا حکم شرعاً کیا ہے؟ علامہ ابو شکور السالمیؒ لکھتے ہیں:
ومن ادعى النبوه في زماننا فانه يصير كافرا و من طلب منه المعجزات فانه يصير كافرا لانه لا شك في النص و يجب الاعتقاد بانه ما كان لاحد شرکه في النبوه لمحمد ؐ بخلاف ما قالت الروافض ان عليا كان شريكا لمحمد ؐ وهذا منهم كفر
(التمہید)
ترجمہ: ”جو شخص اس زمانے میں نبوت کا دعویٰ کرے یا اس سے معجزہ طلب کرے، وہ کافر ہو جاتا ہے۔ کیونکہ خاتم النبیین کی نص میں کوئی شک نہیں ہے اور اس بات پر ایمان لانا واجب ہے کہ حضورؐ کی نبوت میں آپؐ کا کوئی شریک نہیں ہے بخلاف شیعوں کے۔
شرح فقہ اکبر میں ہے:
دعوی النبوه بعد نبينا صلى الله عليه وسلم كفر بالاجماع
(شرح فقہ اکبر‘ ص٢٠١)
یعنی حضورؐ کے بعد نبوت کا دعویٰ کرنا اجماعی طور پر کفر ہے۔ اجماع سے وہ اجماع مراد ہے جو صحابہ کرامؓ کا مسیلمہ کذاب کے بارے میں منعقد ہوا تھا۔
حجۃ الاسلام حضرت مولانا محمد قاسم صاحبؒ بانی دارالعلوم دیوبند ارشاد فرماتے
ہیں:
"اپنا دین و ایمان ہے بعد رسول اللہ ﷺ کسی اور نبی کے ہونے کا احتمال نہیں جو اس میں تامل کرے اس کو کافر سمجھتا ہوں"۔ (جوابات
محذورات، ص ١٠٣)
اس بات کے واضح ہونے کے بعد ایسے حضرات قطعاً مسلمان نہیں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ مرتد کے ذبیحہ کے بارے میں شریعت کا کیا حکم ہے۔ درمختار میں ہے:
لا تحل ذبیحہ غیر کتابی من وثنی ومجوسی و مرتد (شامی، ج ٥، ص ٢٥٩)
ترجمہ : "کتابی کے سوا کسی بت پرست، مجوسی، آتش پرست اور مرتد کا ذبیحہ مسلمان کے لیے حلال نہیں ہے"۔
اس سے یہ بات پوری طرح واضح ہے کہ ایسے لوگوں کا ذبح کیا ہوا جانور مسلمانوں کے لیے کھانا حرام قطعی ہے۔ کیونکہ وہ مردار کے حکم میں ہے۔ اسے یا تو واپس کر دینا چاہیے، یا دفن کر دینا چاہیے۔ حرام چیز کو عمداً جانوروں کو بھی کھلانا درست نہیں۔
وشرط كون الذابح مسلماً حلالاً خارج الحرم. ان كان صيدٌ فصيد الحرم لا تحلہ الزکوٰہ فی الحرم مطلقاً او کتابیاً ذمیاً او حربیاً الا اذا سمع منہ عند الذبح ذکر المسیح (ونحوہ فی البخاری، ج ٢،
ص ٨٢٨)
آپ نے جن منکرین ختم نبوت کے متعلق پوچھا ہے، وہ کتابی کے ذیل میں بھی نہیں آسکتے۔ کیونکہ کتابی وہ ہے جو قرآن پاک سے پہلے کی کسی کتاب پر ایمان رکھتا ہو۔ قرآن پاک میں متعدد مقامات پر اوتوا الکتاب کے ساتھ من قبلکم موجود ہے۔ جو شخص قرآن پاک پر ایمان کا اظہار کرتا ہے تو اگر اس کا ایمان صحیح معنوں میں ہے تو وہ مسلمان ہے اور اگر صحیح معنوں میں نہیں تو کافر ہے، کتابی نہیں ہو سکتا۔ کتابی یہود اور نصاریٰ ہی ہیں۔ شامی میں ہے:
الکتابی من یعتقد دیناً سماویاً ای منزلاً
بکتاب کالیھود والنصاری (شامی‘ ص ٣٨٠)
اسی طرح کلیات ابو البقاء میں ہے: الکافر ان كان متدینا ببعض الادیان والکتب المنسوخہ فھو الکتابی (کلیات‘ ص ٥٥٣) ترجمہ : ”کتابی اس کافر کو کہتے ہیں جو کسی پرانے دین اور منسوخ کتاب پر ایمان رکھتا ہو“۔
پس جب کہ منکرین ختم نبوت کتابی کے ذیل میں بھی نہیں آسکتے تو ان کا ذبیحہ مسلمانوں کے لیے کسی طرح بھی حلال نہیں ہو سکتا۔ حضور اکرم ﷺ نے مجوسیوں کا ذبیحہ مسلمانوں کے لیے صاف لفظوں میں حرام فرمایا تھا۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ عقائد کفریہ کا اثر ذبیحہ پر بھی ضرور پڑتا ہے۔ امام عبدالرزاق اور امام ابن ابی شیبہؒ حضرت حسنؓ سے مرسلاً نقل کرتے ہیں کہ حضورؐ نے ”ہجر“ کے مجوسیوں کے بارے میں ارشاد فرمایا تھا:
من لم يسلم ضربت عليه الجزيه غير ناكحى نسائهم ولا اكلى ذبائحهم
ترجمہ : ”ان میں سے جو شخص مسلمان نہ ہو اس پر جزیہ لگایا جائے۔ ہاں ان کی عورتوں سے نکاح درست نہیں اور ان کا ذبح کیا ہوا جانور مسلمانوں کے لیے کھانا حلال نہیں“۔
شیخ الاسلام ابن حجر عسقلانیؒ اس حدیث کے اسناد کو جید قرار دیتے ہیں۔
(الدرایہ‘ ص ٣٨)
سیدنا حضرت امام بخاری اپنی کتاب ”خلق افعال عباد“ میں جو مسائل کلامیہ میں اہل علم کی بہت راہنمائی کرتی ہے‘ فرقہ جہمیہ کے متعلق ارشاد فرماتے ہیں:
لا يسلم عليهم ولا يعادون ولا يناكحون ولا توكل ذبائحهم ۔
ترجمہ : ”اس میں ایسے لوگوں کے ذبیحہ کے ناجائز ہونے پر صاف تصریح موجود ہے“۔
نوٹ : یہاں یہ امر ملحوظ رہے کہ جو شخص اسلام سے اہل کتاب کے دین میں چلا جائے تو باوجودیکہ وہ اہل کتاب کے دین میں ہے۔ اسے حکم شرع میں کتابی نہیں کہا جائے گا۔ وہ مرتد کہلائے گا۔ کتابی وہ اسی صورت میں تھا کہ پہلے اسلام پر نہ ہوتا۔ پس ایسے شخص کا ذبیحہ کتابی کا ذبیحہ نہیں ہو گا بلکہ اسے مرتد کا ذبیحہ کہا جائے، جو مسلمان کے لیے حرام ہے۔ پس ایسے حضرات کتابی بھی نہیں کہلا سکتے۔ کیونکہ وہ دین اسلام سے تاویلاً منحرف ہو کر اس نئے دین میں گئے ہیں۔
خلاصہ مافی الباب یہ ہے کہ جس طرح ذبح ہونے والے جانور کے لیے کچھ شرطیں ہیں کہ حرام جانور نہ ہو، جیسے کتا، بلی، بندر وغیرہ اور نیز یہ کہ حدود حرم میں نہ ہو، اسی طرح ذبح کرنے والے کے لیے بھی کچھ شرطیں ہیں کہ وہ مسلمان ہو اور یہ کہ حالت احرام میں نہ ہو۔ اس کے علاوہ صرف کتابی کا ذبیحہ جائز ہے۔ بشرطیکہ بوقت ذبح مسیح کا نام نہ لیا گیا ہو۔ جب تک ذبح کرنے والے میں ذبح کرنے کی شرطیں نہ پائی جائیں گی، اس کا ذبح کیا ہوا جانور وہی حکم رکھتا ہے جو مردار کے گوشت یا حرام جانور کے ذبیحہ کا ہے۔ پہلے معاملہ میں ذابح ہونے کی اور دوسرے معاملہ میں مذبوح ہونے کی اہلیت مفقود ہے۔ بناء علیہ مرتد کے ذبیحہ میں اور ذبح کیے ہوئے حرام جانور میں حکماً کوئی فرق نہیں ہے۔ کھانا دونوں کا ایک مسلمان کے لیے حرام ہے۔
جس طرح مسلمان ان منکرین ختم نبوت کے پیچھے نماز نہیں پڑھتے اور اسے بے جا تعصب یا منافرت پر محمول نہیں کیا جاتا، اسی طرح انصاف یہ ہے کہ ان کے ذبیحہ کو بھی حرام سمجھا جائے اور اسے بے جا تعصب اور شرانگیزی پر محمول نہ کیا جائے۔ اگر وہ لوگ ہمارا ذبیحہ کھا لیتے ہیں تو اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ ہمیں اہل کتاب میں سے شمار کرتے ہیں اور ان کے نزدیک ہمارا دین، دین سماوی ہے اور چونکہ ہمارے نزدیک وہ کتابی نہیں اور ان کا دین ہمارے دین سے پہلے کا نہیں بلکہ بعد کا ہے۔ اس لیے ہمارا اپنے عمل کو ان کے عمل پر قیاس کرنا درست نہیں ہوگا۔ واللہ اعلم بالصواب
قربانی کرنا ایک خالص اسلامی عبادت ہے۔ گائے کی قربانی میں جو سات افراد شریک ہیں، ان کی اس مجموعی عبادت کے سارے شرکاء کا مسلمان ہونا ضروری ہے۔
ان میں سے اگر ایک بھی ختم نبوت کے اسلامی معنوں کا منکر ہو گا تو قربانی کسی کی ادا نہ ہو گی۔ واللہ اعلم بالصواب (کتبہ خالد محمود عفا اللہ عنہ، ١٣ اپریل ٧٤ء)
س: بخدمت جناب حضرت علامہ صاحب دامت برکاتہم!
السلام علیکم!
سمندری میں ٢٢ اپریل کو دفتر بلدیہ سمندری کے چیئرمین کی زیر صدارت یوم اقبال منایا گیا، جس میں چند مرزائی بھی مدعو تھے۔ میں نے اقبال اور ختم نبوت کے موضوع پر تاریخی روشنی ڈالی، جس پر مرزائی مبلغ نے اعتراض کیا کہ یہ واقعہ غلط ہے۔ میں نے بیان کیا تھا کہ کشمیر کمیٹی میں جب مرزا بشیر الدین محمود صدر تھے، ڈاکٹر اقبال نے استعفیٰ دیا تھا اور انجمن حمایت اسلام میں جب ڈاکٹر اقبال صدر تھے تو انہوں نے مرزائی ارکان انجمن حمایت اسلام سے خارج کر دیے تھے۔ میں نے یہ بھی بیان کیا تھا کہ ڈاکٹر اقبال نے مرزائیوں کو علیحدہ اقلیت قرار دینے پر بھی ایک بیان دیا تھا۔ مرزائی مبلغین نے ان سب امور کا انکار کیا ہے۔ اس لیے آپ ان موضوعات کے متعلق دعوت کے باب الاستفسارات میں تفصیلاً بیان فرمائیں۔ بہت مشکور ہوں گا۔ (محمد علی جانباز)
ج: یہ صحیح ہے کہ علامہ اقبالؒ جب انجمن حمایت اسلام لاہور کے صدر تھے تو ان کی تحریک اور عام مسلمانوں کی تائید سے انجمن حمایت اسلام نے ١٩٣٦ء کے اوائل میں ایک قرار داد منظور کی تھی، جس کی رو سے مرزائی انجمن حمایت اسلام کے ممبر نہیں ہو سکتے تھے اور اس قرار داد کے مطابق اس وقت جتنے بھی مرزائی ممبر تھے، سب انجمن حمایت اسلام کی رکنیت سے خارج ہو گئے تھے۔ سمندری کے مرزائی مبلغ نے غلط بیانی سے کام لیتے ہوئے ان حقائق پر پردہ ڈالنے کی ناکام کوشش کی ہے۔ آپ اسے لاہور لا کر انجمن حمایت اسلام کا ریکارڈ دکھا سکتے ہیں۔ ایسے روشن حقائق کا انکار بہت موجب تعجب ہے۔
پنڈت جواہر لال نہرو نے ١٩٣٦ء کے وسط میں پنجاب کے مختلف مقامات کا دورہ کیا تھا اور مرزائیوں کی ایک سیاسی انجمن نے اس دوران میں پنڈت جی کو ایک دعوت استقبالیہ بھی دی تھی۔ اس پر بعض حلقوں سے مرزائیوں پر کافی اعتراضات ہوئے اور مرزا بشیر الدین محمود خلیفہ قادیان نے اپنے خطبہ جمعہ میں ان اعتراضات کے جوابات
دیے تھے۔ ان جوابات کے ضمن میں مرزا بشیر الدین نے بیان کیا تھا کہ ڈاکٹر اقبال نے احمدیوں کو عام مسلمانوں سے علیحدہ اقلیت قرار دینے کی تحریک کی تھی اور پنڈت جواہر لال نہرو نے اس کا رد کیا تھا۔ اس لیے ایسے شخص کا استقبال بالکل حق بجانب ہے۔ خلیفہ قادیان کا یہ خطبہ اخبار الفضل میں شائع بھی ہوا۔ الفاظ یہ ہیں:
”اگر پنڈت جواہر لال نہرو اعلان کر دیتے کہ احمدیت کو مٹانے کے لیے وہ اپنی تمام طاقت خرچ کر دیں گے جیسا کہ احرار نے کیا ہوا ہے تو اس قسم کا استقبال بے غیرتی ہوتا۔ لیکن اس کے برخلاف یہ مثال موجود ہو کہ قریب کے زمانہ میں ہی پنڈت صاحب نے ڈاکٹر اقبال کے ان مضامین کا رد لکھا ہے جو انہوں نے احمدیوں کو مسلمانوں سے علیحدہ قرار دیے جانے کے لیے لکھے تھے اور نہایت عمدگی سے ثابت کیا ہے کہ ڈاکٹر صاحب کا احمدیت پر اعتراض اور احمدیوں کو علیحدہ کرنے کا سوال بالکل نامعقول اور خود ان کے گزشتہ رویے کے خلاف ہے تو ایسے شخص کو جب کہ وہ صوبہ میں مہمان کی حیثیت سے آ رہا ہو‘ ایک سیاسی انجمن کی طرف سے استقبال بہت اچھی بات ہے“۔
(اخبار الفضل‘ ١١ جون ١٩٣٦ء‘ ج ٢٣‘ شمارہ نمبر ٢٧٨‘ خطبہ جمعہ)
خط کشیدہ عبارت میں نہایت واضح اقرار ہے کہ مرزائیوں کو علیحدہ اقلیت قرار دینے کے محرک اول علامہ اقبالؒ ہی تھے۔ پس سمندری کے مرزائی مبلغ کا انکار حقیقت پر مبنی نہیں۔
- ٣۔ ڈاکٹر یعقوب بیگ انجمن حمایت اسلام کے ایک پرانے سرگرم رکن تھے۔
وہ مرزائیوں کی لاہوری جماعت سے وابستہ تھے۔ علامہ اقبالؒ کی اسی مذکورہ بالا تحریک کی بناء پر وہ بھی انجمن حمایت اسلام کی رکنیت سے علیحدہ کر دیے گئے۔ اس لیے علامہ اقبال کی یہ تحریک لاہوری جماعت پر بھی بہت گراں تھی۔ انہی دنوں لاہوری جماعت کے امیر مولوی محمد علی صاحب کی طرف سے بھی اخبار پیغام صلح میں یہ بیان شائع ہوا تھا:
”علامہ اقبال جیسے بلند پایہ انسان‘ جسے آج سے چار برس پہلے ایک مسلمان کمیٹی کا صدر بنائیں‘ آج اسے کافر قرار دیں۔ مرزا محمود احمد صاحب کو کشمیر کمیٹی کا صدر بنانے میں سر محمد اقبال پیش پیش تھے اور جس جماعت کو
سولہ سترہ سال پیشتر ٹھیٹھ اسلامی سیرت کا نمونہ بتائیں، آج اسے کافروں کی جماعت قرار دیں۔ پس مناسب ہے کہ جو کچھ فتویٰ دیں، وہ آج کی تحریرات
پر دیں"۔ -(اخبار پیغام صلح، ج ٢٤، شمارہ ٢٨، فروری ١٩٣٦ء)
گو ہمیں اس سے اتفاق نہیں کہ مرزا بشیر الدین محمود کو کشمیر کمیٹی کا صدر بنانے کے محرک علامہ اقبال تھے۔ اس وقت اس سے بھی بحث نہیں کہ پھر علامہ اقبال نے اس کمیٹی سے آخر کیوں استعفیٰ دے دیا تھا۔ اس وقت ہمیں صرف یہ دکھانا ہے کہ قادیانی اور لاہوری دونوں جماعتوں کے بیان کے مطابق مرزائیوں کو مسلمانوں سے علیحدہ اقلیت قرار دینے کے محرک اول علامہ اقبال مرحوم ہی تھے۔
ڈاکٹر یعقوب بیگ (لاہوری مرزائی) انجمن حمایت اسلام کے اس فیصلے کے پورے ایک ہفتہ بعد فوت ہو گئے تھے اور مرزائی اخبارات نے لکھا تھا کہ ڈاکٹر صاحب کی وفات اسی صدمہ سے ہوئی ہے کہ ملت اسلامیہ انہیں کس طرح پوری ملت سے کٹا ہوا سمجھتی ہے۔
پھر اخبار پیغام صلح کی اسی جلد کے شمارہ ٦٠ کی اشاعت میں یہاں تک مذکور ہے کہ ان دنوں اسمبلی کے امیدوار یہ عہد کرتے پھرتے تھے کہ اسمبلی میں جاکر: ”احمدیوں کو مسلمانوں سے علیحدہ اقلیت منظور کرانے کی کوشش کروں
گا"۔ (پیغام صلح، ٩ ستمبر، ١٩٣٦ء)
علامہ اقبال کو اگر ایک وقت تک مرزائیوں کے تفصیلی نظریات کی اطلاع نہ ہو سکی تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ علامہ اقبال کے اپنے نظریات میں کوئی کمزوری تھی۔ نہیں ان کا اپنا اعتقاد اس وقت بھی اتنا ہی پختہ تھا جتنا کہ بعد میں ظاہر ہوا۔ علامہ ڈاکٹر محمد اقبال کا ایک مضمون ١٩١٤ء کی ابتداء میں ”لمعات" شائع ہوا تھا۔ جسے ”اخبار الفضل" نے بھی جلد ٣ کے شمارہ ١٠٥ میں نقل کیا تھا:
”وہ (ڈاکٹر اقبال) لکھتے ہیں کہ جو شخص نبی کریم ﷺ کے بعد کسی ایسے نبی کے آنے کا قائل ہے، جس کا انکار مستلزم کفر ہو وہ خارج از دائرہ اسلام ہے۔ اگر قادیانی جماعت کا بھی یہی عقیدہ ہے تو وہ بھی دائرہ اسلام سے
خارج تھے"۔ (الفضل، ١١ اپریل، ١٩١٤ء)
رہا یہ مسئلہ کہ قادیانی فرقہ کے نزدیک مرزا غلام احمد کا انکار ”مستلزم“ کفر ہے یا نہیں سو اس کے لیے اتنی بات یاد رکھئے کہ علامہ اقبال مرحوم پہلے مرزا غلام احمد قادیانی کے وابستگان میں سے تھے۔ پھر جب وہ مرزائیت کی حقیقت سے واقف ہوئے تو انہوں نے ان کی جماعت سے علیحدگی اختیار کر لی۔ اس پر مرزا صاحب نے انہیں لکھا کہ آپ کا نام نہ صرف جماعت سے بلکہ اسلام سے ہی کاٹ دیا گیا ہے۔ اس واقعہ کا کچھ تذکرہ مرزا بشیر الدین کے بھائی مرزا بشیر احمد نے بھی سیرت المہدی کی تیسری جلد میں کیا ہے اور اس مسئلے کی بحث کہ مرزائیوں کے نزدیک مرزا غلام احمد کا انکار ”مستلزم“ کفر ہے یا نہیں‘ احقر کی کتاب ”عقیدہ الامہ فی معنی ختم النبوہ“ میں نہایت مفصل طور پر موجود ہے۔ بہر حال اس سے انکار نہیں ہو سکتا کہ علامہ اقبالؒ کی اسلامی خدمات میں سے عقیدہ ختم نبوت کی خدمت ملت اسلامیہ پر ایک ایسا احسان ہے کہ اسے بیان کرنے کے بغیر یاد اقبال کا کوئی حق ادا نہیں ہو سکتا۔ آپ کی (مولانا محمد علی صاحب) یہ ہمت لائق تحسین ہے کہ آپ نے سمندری کے اس جلسہ یوم اقبال میں علامہ اقبالؒ کی اس عظیم اسلامی خدمت کو تفصیل سے بیان کیا۔ رب العزت آپ کو جزائے خیر دے۔ والسلام۔ (احقر خالد محمود عفا اللہ عنہ)
س: مرزائی کمپنی کے ایجنٹ یہ اعتراض کرتے ہیں کہ حضرت ابوبکر صدیقؓ نے مسیلمہ کذاب کے خلاف جو چڑھائی کی تھی‘ وہ اس کی بغاوت کی بناء پر کی تھی۔ اس کی تحقیق مقصود ہے کہ کس بنا پر وہ چڑھائی کی گئی تھی (سائل ماسٹر محمد ابراہیم)
ج: حضرت ابوبکر صدیقؓ نے مسیلمہ کذاب کے خلاف جو چڑھائی کی‘ وہ بغاوت کی بنا پر نہ تھی‘ انکار ختم نبوت کی بنا پر تھی۔ مسیلمہ کے ایلچی ایک مرتبہ خود حضور ختمی مرتبہ (ﷺ) کی خدمت میں بھی حاضر ہوئے تھے اور اپنے مسیلمہ کذاب پر ایمان لانے کا اقرار کیا تھا۔ اس پر حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا تھا:
لولا ان الرسل لا تقتل لضربت اعناقکما
(سنن ابی
داؤد‘ ج ٢‘ ص ٣٨٠)
ترجمہ: ”اگر ایلچیوں کا قتل کرنا خلاف اصول نہ ہوتا تو میں تمہاری گردنیں اڑا دیتا“۔
پھر آپ نے امیر کوفہ قرظہ بن کعب کو حکم دیا اور انہوں نے اسے بر سرعام قتل کر دیا۔ اس طرح وہ سالہا سال پہلے کا منشاء رسالت حضرت عبداللہ بن مسعودؓ کے ہاتھوں پر پورا ہوا۔
سنن دارمی کی ایک اور روایت میں ہے کہ آپ نے ان مرتدین کی مسجد کو بھی گرانے کا حکم دیا اور وہ نام نہاد مسجد منہدم کر دی گئی۔ (دیکھئے ”جمع الفوائد من جامع الاصول و مجمع الزوائد“ ج١‘ ص ٢٨٤)
اب سوال یہ ہے کہ حضرت عبداللہ بن مسعودؓ نے انہیں باغی سمجھا ہوا تھا یا مرتدین؟ اس کے لیے ہمیں ان کے بارے میں صراحت سے مرتدین کے الفاظ ملتے ہیں۔ صحیح بخاری کتاب الکفالہ میں ہے:
قال جریر و الاشعث لعبداللہ بن مسعود فی المرتدین استبہم و کفلہم فتابوا او کفلہم عشائرہم (صحیح بخاری‘ ج١‘ ص٣٠٦)
ترجمہ : ”جریر اور اشعث نے حضرت عبداللہ بن مسعودؓ کی توجہ اس طرف منعطف کرائی کہ آپ ان مرتدین کو توبہ کی طرف بلائیں اور ان کی کفالت کریں۔ پس وہ تائب ہوگئے اور آپ نے ان کے کنبوں کی کفالت فرمائی“۔
شیخ الاسلام حافظ ابن تیمیہؒ جنہیں مرزائی حضرات اپنے وقت کا مجدد تسلیم کرتے ہیں‘ لکھتے ہیں:
انما قاتل بنی حنیفہ لکونہم امنوا بمسیلمہ الکذاب واعتقدوا بنبوتہ (منہاج السنہ‘ ج٢‘ ص٢٣‘ مطبوعہ مصر)
ترجمہ : ”حضرت ابوبکرؓ نے بنی حنیفہ سے اس لیے جہاد کیا تھا کہ وہ مسیلمہ کذاب پر ایمان لائے ہوئے تھے اور اس کی نبوت کے قائل تھے“۔
پس یہ خیال غلط ہے کہ حضرت صدیق اکبرؓ کی مذکورہ بالا چڑھائی بنی حنیفہ کی بغاوت کی بنا پر تھی‘ دعویٰ نبوت کی بناء پر نہ تھی۔ حافظ ابن تیمیہؒ یہ بھی لکھتے ہیں:
فان الصدیق لم یقاتل احدا علی طاعته ولا الزم احد ببیعته (ایضاً‘ ج ٢‘ ص ٢٣١)
ترجمہ : "حضرت ابو بکر صدیقؓ نے کسی شخص کے ساتھ اس کی بغاوت پر یا اپنی خلافت منوانے کے لیے جہاد نہیں کیا"۔
اس سے پہلے حافظ ابن تیمیہؒ اس پر اجماع ان لفظوں میں نقل کر چکے ہیں:
فلم نعلم احدا انکر قتال اہل الیمامہ وان مسیلمہ الکذاب ادعی النبوہ وانہم قاتلوہ علی ذالک (ایضاً‘ ج ٢‘ ص ٢٣٠)
ترجمہ : "آج تک کسی نے اس امر سے انکار نہیں کیا کہ حضرت ابو بکرؓ کا بنی حنیفہ سے جہاد مسیلمہ کذاب کے دعویٰ نبوت کی بناء پر ہی تھا"۔
پس مرزائی مبلغ کی مذکور فی السوال تاویل نہایت رکیک اور غلط ہے اور کسی حقیقت پر مبنی نہیں۔ واللہ اعلم بالصواب (کتبہ خالد محمود عفا اللہ عنہ)
س : مرزا غلام احمد کے متعلق یہ مشہور ہے کہ وہ سلطنت برطانیہ کا خیر خواہ اور انگریزوں کا ایجنٹ تھا مگر اس کے برعکس ہم دیکھتے ہیں کہ عیسائیوں کی تردید میں وہ بہت پیش پیش تھا۔ اگر وہ واقعی ان عیسائی قوموں کا نمک خوار تھا تو وہ پھر عیسائیوں کی تردید میں اس قدر کام کیوں کرتا رہا؟ اس کا جواب ہفت روزہ دعوت میں دیں؟
ج : سلسلہ مرزائیت کے سربراہ اور قادیانیوں اور لاہوریوں ہر دو طبقوں کے پیشوا مرزا غلام احمد قادیانی خود اس تناقض سے پردہ اٹھا چکے ہیں۔ ان کی اپنی تحریر سے زیادہ اور کوئی بیان اس مسئلہ کی وضاحت نہیں کر سکتا۔ مرزا صاحب آنجہانی ١٨٩٩ء کی ایک تحریر میں عیسائی پادریوں کی سخت تحریروں کا تذکرہ کرتے ہوئے لکھتا ہے:
"مجھے ایسی کتابوں اور اخباروں کے پڑھنے سے دل میں یہ اندیشہ پیدا ہوا کہ مبادا مسلمانوں کے دلوں پر جو ایک جوش رکھنے والی قوم ہے‘ ان کلمات کا کوئی سخت اشتعال دینے والا اثر پیدا ہو تب میں نے ان جوشوں کو ٹھنڈا کرنے کے لیے اپنی صحیح اور پاک نیت سے یہی مناسب سمجھا کہ اس عام جوش کے دبانے کے لیے حکمت عملی یہی ہے کہ ان تحریرات کا کسی قدر سختی
سے جواب دیا جائے تاکہ سریع الغضب انسانوں کے جوش فرو ہو جائیں اور ملک میں کوئی بے امنی پیدا نہ ہو۔ تب میں نے بمقابل ایسی کتابوں کے جن میں کمال سختی سے بدزبانی کی گئی تھی، چند ایسی کتابیں لکھیں جن میں کسی قدر بالمقابل سختی تھی۔ کیونکہ میرے کانشنس نے مجھے قطعی طور پر مجھے فتویٰ دیا کہ اسلام میں جو بہت سے وحشیانہ جوش والے آدمی موجود ہیں، ان کے غیظ و غضب کی آگ بجھانے کے لیے یہ طریق کافی ہو گا۔ کیونکہ عوض معاوضہ کے بعد کوئی گلہ باقی نہیں رہتا۔
سو یہ میری پیش بینی کی تدبیر صحیح نکلی اور ان کتابوں کا یہ اثر ہوا کہ ہزارہا مسلمان جو پادری عماد الدین وغیرہ لوگوں کی تیز اور گندی تحریروں سے اشتعال میں آ چکے تھے، ایک دفعہ ان کے اشتعال فرو ہو گئے۔ کیونکہ انسان کی یہ عادت ہے کہ جب سخت الفاظ کے مقابل اس کا عوض دیکھ لیتا ہے تو اس کا وہ جوش نہیں رہتا۔ بایں ہمہ میری تحریر پادریوں کے بالمقابل بہت نرم تھی۔ گویا کچھ بھی نسبت نہ تھی۔ ہماری محسن گورنمنٹ خود سمجھتی ہے کہ مسلمان سے یہ ہرگز نہیں ہو سکتا کہ اگر کوئی پادری ہمارے نبی ﷺ کو گالی دے تو ایک مسلمان اس کے عوض میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو گالی دے۔ کیونکہ مسلمانوں کے دلوں میں دودھ کے ساتھ ہی یہ اثر پہنچایا گیا ہے کہ وہ جیسا کہ اپنے نبی ﷺ سے محبت رکھتے ہیں۔ ایسا ہی وہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے محبت رکھتے ہیں۔ سو کسی مسلمان کا یہ حوصلہ ہی نہیں کہ تیز زبانی کو اس حد تک پہنچائے، جس حد تک ایک متعصب عیسائی پہنچا سکتا ہے اور مسلمانوں میں یہ ایک عمدہ سیرت ہے جو فخر کرنے کے لائق ہے کہ وہ تمام نبیوں کو جو آنحضرت ﷺ سے پہلے ہو چکے ہیں، ایک عزت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں اور حضرت مسیح علیہ السلام سے بعض وجوہ سے ایک خاص محبت رکھتے ہیں، جس کی تفصیل کے لیے اس جگہ موقع نہیں۔ سو مجھ سے پادریوں کے مقابل جو کچھ وقوع میں آیا، یہی ہے کہ حکمت عملی سے بعض وحشی مسلمانوں کو خوش کیا گیا اور میں دعوے سے کہہ سکتا ہوں کہ میں تمام
مسلمانوں میں سے اول درجہ کا خیرخواہ گورنمنٹ انگریزی کا ہوں۔ کیونکہ مجھے تین باتوں نے خیرخواہی میں اول درجہ پر بنا دیا ہے۔
اول والد مرحوم کے اثر نے۔
دوم اس گورنمنٹ کے احسانوں نے۔
سوم خدا تعالیٰ کے الہام نے۔ اب میں اس گورنمنٹ محسنہ کے زیر سایہ ہر طرح سے خوش ہوں۔ (دیکھئے تبلیغ رسالت، ج ٨، ص ٥١، ص ٥٣، مطبوعہ قادیان)
اس تحریر سے یہ بات نہایت واضح ہے کہ قادیانیوں کا مسیحی تبلیغات کا مقابلہ کرنا اسلام کی خیرخواہی کے لیے ہرگز نہ تھا۔ عیسائی قوتوں کو ہر ممکن اضمحلال اور کمزوری سے بچانے کے لیے یہ ان کا ایک حکیمانہ طریق کار تھا۔ اسلام کی خیرخواہی اگر کچھ بھی ان کے دلوں میں موجود ہوتی تو یہ آنحضرت ﷺ کی نبوت جامعہ اور رسالت جاریہ کے بعد کسی قسم کی نبوت کے ملنے کے ہرگز قائل نہ ہوتے اور ان کا مرکز عقیدت مدینہ منورہ کی بجائے کسی صورت میں قادیان قرار نہ پاتا۔ یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ انگریز کا خود کاشتہ پودا خود عیسائیوں کے ہی خلاف کام کرنے لگے۔ یہ جو کچھ دکھائی دے رہا ہے، یہ فقط ظاہر ہے۔ حقیقت وہی ہے جسے مرزا صاحب آنجہانی خود سپرد قلم کر چکے ہیں۔ اس پر تعجب نہ کیا جائے کہ انہوں نے اپنا راز خود کیسے کھول دیا۔۔۔۔ یہ انگریزوں کو مطمئن کرنے کے لیے ضروری تھا۔ مرزا غلام احمد نے اسے صرف ایک اشتہار میں لکھا تھا، کتاب میں نہیں۔ یہ اس کے پیروؤں نے کیا کہ اس کے تمام اشتہارات کتابی شکل میں جمع کر دیئے ۔ واللہ اعلم بالصواب (کتبہ خالد محمود عفا اللہ عنہ، ٢٦ جون ١٩٧٤ء)
س:
مکرمی و محترمی جناب علامہ صاحب قبلہ!
السلام علیکم و رحمۃ اللہ ۔ آپ نے رحیم یار خاں مجلس کے دوران فرمایا تھا کہ مرزا غلام احمد نے اپنی عمر کے متعلق جو الہام شائع کیا تھا، وہ امر واقعہ کی روشنی میں بالکل غلط نکلا۔ قادیانی اس کا انکار کرتے ہیں اور حوالہ مانگتے ہیں۔ براہ کرم مجھے اس کے مفصل
حوالہ جات سے مطلع کریں۔ ممکن ہے اس سے کچھ لوگوں کے عقائد درست ہو جائیں۔ (سائل عبد الخالق‘ رحیم یار خاں)
ج: وعلیکم السلام و رحمتہ اللہ !
مرزا صاحب نے جولائی ١٨٨٧ء میں یہ پیش گوئی کی تھی کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے مخاطب کر کے فرمایا ہے:
یاتی علیک زمان مختلف بارواح مختلفه و تری نسلا بعیدا ولنحیینک حیوه طیبه ثمانین حولا او قریبا من ذلک۔
خط کشیدہ عبارت کا ترجمہ یہ ہے:
ترجمہ : ”اور ہم تجھے ضرور ایک پاکیزہ زندگی عطا فرمائیں گے۔ اسی سال یا اس کے قریب قریب“۔
مرزا صاحب نے اپنی اس پیشگوئی کا اشتہار شائع کیا تھا اور پھر اس الہام کو اپنی کتاب ازالہ اوہام‘ حصہ دوم میں بھی نقل فرمایا۔ مرزا صاحب اسے نقل کرنے کے بعد لکھتے ہیں:
”اب جس قدر میں نے بطور نمونہ کے پیشگوئیاں بیان کی ہیں‘ درحقیقت میرے صدق یا کذب کے آزمانے کے لیے یہی کافی ہے“۔ (ازالہ اوہام‘ حصہ دوم‘ ص ٣١٨‘ طبع دوم‘ قادیان)
اس تصریح سے یہ امر واضح ہے کہ اسی سال عمر ہونے کی یہ پیش گوئی مرزا صاحب کے صدق یا کذب کو جانچنے کے لیے کافی ہے۔ ہاں مرزا صاحب نے اس پیشگوئی کو او قریبا من ذلک یعنی یا اس کے قریب قریب کے الفاظ سے جس طرح گول کیا ہے۔ اب ہم اس کی بھی تحدید کیے دیتے ہیں کہ اس سے مراد کیا تھی۔
مرزا صاحب حقیقۃ الوحی میں اپنا یہ الہام پیش کرتے ہیں:
اطال اللہ بقاء ک ای یا اس پر پانچ چار زیادہ یا پانچ چار کم۔
(حقیقۃ الوحی‘ ص ٩٦‘ مطبع قادیان)
پھر مرزا صاحب نے احتیاطاً اس کی اور توسیع کی۔ خود لکھتے ہیں:
”خدا نے صریح لفظوں میں مجھے اطلاع دی تھی کہ تیری عمر ٨٠ برس ہوگی اور یا یہ کہ پانچ چھ سال زیادہ یا پانچ چھ سال کم“۔ (براہین احمدیہ' حصہ پنجم' ص ٩٧' ضمیمہ)
ان تصریحات کی روشنی میں مرزا صاحب کی عمر کم از کم ٧٤ سال اور زیادہ سے زیادہ ٨٦ سال ہونی چاہیے تھی مگر افسوس کہ مرزا صاحب ان تمام پیشگوئیوں کو غلط ثابت کرتے ہوئے ١٣٢٦ھ میں تقریباً ٦٦ سال کی عمر میں فوت ہو گئے اور وہ پیشگوئی جسے انہوں نے خود اپنے صدق و کذب کا معیار ٹھہرایا تھا' انہیں یکسر کاذب ٹھہرا گئی۔
مرزا صاحب کی عمر پر پہلا استدلال:
مرزا صاحب لکھتے ہیں:
”جب میری عمر چالیس برس تک پہنچی تو خدا تعالیٰ نے اپنے الہام اور کلام سے مجھے مشرف کیا اور یہ عجیب اتفاق ہوا کہ میری عمر کے چالیس برس پورے ہونے پر صدی کا سر بھی آ پہنچا۔ تب خدا تعالیٰ نے الہام کے ذریعہ سے میرے پر ظاہر کیا کہ تو اس صدی کا مجدد اور صلیبی فتنوں کا چارہ گر ہے“۔ (تریاق القلوب' ضمیمہ' ص ٦٨' طبع اول' ص ١٣٦' طبع سوم)
غلام احمد قادیانی اپنے حروف کے اعداد و شمار سے اشارہ کر رہا ہے یعنی ١٣٠٠ کا جو عدد اس نام سے نکلتا ہے' وہ بتلا رہا ہے کہ تیرہویں صدی کے ختم ہونے پر یہی مجدد آیا جس کا نام تیرہ سو کا عدد پورا کر رہا ہے۔ (تریاق القلوب' ص ٦٨' طبع اول)
مرزا صاحب کی مندرجہ بالا تحریروں سے یہ دو باتیں ثابت ہیں:
- ١۔ مرزا صاحب تیرہویں صدی کے ختم ہونے پر مجدد مبعوث ہوئے۔
- ٢۔ اس وقت مرزا صاحب کی عمر پورے چالیس برس کی تھی۔
مرزا صاحب کی وفات بالاتفاق ١٣٢٦ھ میں ہوئی ہے۔ چودھویں صدی کے یہ چھبیس سال چالیس میں جمع کیے جائیں تو آپ کی کل عمر ٦٦ سال کے قریب بنتی ہے۔
مرزا صاحب کی عمر پر دوسرا استدلال:
خدا تعالیٰ نے ایک کشف کے ذریعہ سے اطلاع دی ہے کہ سورۃ العصر کے اعداد سے بحساب ابجد معلوم ہوتا ہے کہ حضرت آدم علیہ السلام سے آنحضرت ﷺ کے مبارک عصر تک جو عہد نبوۃ ہے یعنی تئیس برس کا تمام و کمال زمانہ یہ کل مدت گزشتہ زمانہ کے ساتھ ملا کر ٤٧٣٩ برس ابتدائے دنیا سے آنحضرت ﷺ کے روز وفات تک قمری حساب سے ہیں۔ (تحفہ گولڑویہ، ص ٩٤، طبع اول)
اس کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ کی ہجرت کے وقت دنیا کی عمر ٤٧٣٩ سے گیارہ برس کم یعنی ٤٧٢٨ برس تھی۔ مرزا صاحب کی وفات ١٣٢٦ھ میں ہوئی جس سے واضح ہوتا ہے کہ مرزا صاحب کی وفات کے وقت دنیا کی عمر ٤٧٢٨ + ١٣٢٦ = ٦٠٥٤ برس کے قریب تھی۔ اب مرزا صاحب کی پیدائش کا وقت ان کے اپنے بیان کی رو سے ملاحظہ کیجئے:
”اس حساب سے میری پیدائش اس وقت ہوئی جب چھ ہزار میں سے گیارہ برس رہتے تھے“ (حاشیہ تحفہ گولڑویہ، ص ٩٥)
خلاصہ اینکہ مرزا صاحب کی پیدائش اس وقت ہوئی جب دنیا کی پیدائش پر تقریباً ٥٩٨٨ سال گزر چکے تھے اور وفات اس وقت ہوئی جب دنیا کی عمر ٦٠٥٤ برس کے قریب تھی۔ اس مدت سے ٥٩٨٨ نکال دینے سے باقی ٦٦ سال ہی رہ جاتے ہیں۔ مرزا صاحب کی عمر کا یہ تعین ان کے دعوؤں اور الہامات پر مبنی ہے۔ ان کی بعثت اگر تیرھویں صدی کے ختم پر چودھویں صدی کے آغاز سے کچھ ایک دو سال پہلے تجویز کی جائے تو زیادہ سے زیادہ اس عمر کا تصور ٦٧ یا حد ٦٨ سال ہو سکے گا۔ اس سے زیادہ کسی صورت میں ممکن نہیں۔ مشہور انگریز سر لیپل گریفن نے پنجاب چیفس Punjab Chiefs کے نام سے پنجاب کے زمینداروں کی ایک اہم تاریخ مرتب کی تھی۔ اس کی دوسری جلد میں مرزا صاحب کے خاندان کا بھی تذکرہ ہے۔ مورخ موصوف اس میں لکھتے ہیں:
”غلام احمد جو غلام مرتضیٰ کا چھوٹا بیٹا تھا، مسلمانوں کے ایک مشہور مذہبی فرقہ احمدیہ کا بانی ہوا۔ یہ شخص ١٨٣٩ء میں پیدا ہوا“۔ (پنجاب چیفس، ج ٢،
ص ٦٦)
مرزا صاحب کی وفات انگریزی حساب سے ١٩٠٨ء کے اوائل میں واقع ہوئی۔ ١٨٣٩ء میں پیدائش ہو اور ١٩٠٧ء کے اختتام تک مرزا صاحب کی عمر ٦٨ سال بنتی ہے۔ قادیانی سلسلے کے خلیفہ اول جناب حکیم نور الدین صاحب بھی اپنی کتاب ”نور الدین“ میں (جو مرزا صاحب کی زندگی میں ہی لکھی گئی تھی اور ١٩٠٤ء میں شائع ہوئی) مرزا صاحب کی تاریخ پیدائش ان الفاظ میں لکھی ہے: ”سن پیدائش حضرت صاحب مسیح موعود و مہدی مسعود ١٨٣٩ء“۔
(نور الدین‘ ص ١٧٠‘ مطبع ضیاء الاسلام قادیان)
الہامات پر مبنی عمر ٦٦ سال ہو یا تاریخی واقعات پر مبنی ٦٨ سال ہو‘ ہر دو اعداد عمر مرزا غلام احمد کے اس الہام کو غلط ثابت کرنے کے لیے کہ ان کی عمر کم از کم ٧٤ سال ہوگی اور زیادہ سے زیادہ ٨٦ سال کی ہوگی‘ کافی و وافی ہیں۔
اب ہم مرزا صاحب کی اس عبارت کو پھر پیش کرتے ہیں‘ جو انہوں نے اسی سال کی عمر کی پیشگوئی تحریر فرمانے کے متصل بعد لکھی ہے: ”اب جس قدر میں نے بطور نمونہ کے پیشگوئیاں بیان کی ہیں‘ در حقیقت میرے صدق یا کذب کے آزمانے کے لیے یہی کافی ہے“۔ (ازالہ
اوہام‘ ص ٣١٨‘ طبع دوم)
نہایت افسوس کا مقام ہے کہ قادیانیوں نے مرزا صاحب کے خلاف الہام وفات سے سبق لینے کی بجائے آپ کے واقعات عمر میں ہی رد و بدل کرنا شروع کر دیا۔ وفات کی تاریخ تو وہ نہ بدل سکتے تھے‘ ناچار انہوں نے تاریخ پیدائش میں اختلاف کرنا شروع کر دیا۔ تاکہ کسی نہ کسی بہانے واقعات کو پیشگوئی پر منطبق کیا جاسکے۔
یاد رہے کہ مرزا صاحب کی زندگی میں ان کی پیدائش کبھی زیر اختلاف نہیں آئی۔ ہم نے مرزائیوں کو بارہا چیلنج دیا ہے کہ مرزا صاحب کی تاریخ پیدائش کا کوئی اختلاف وہ مرزا صاحب کی زندگی کے واقعات سے پیش کریں اور بتائیں کہ کبھی ان کے حین حیات بھی اس موضوع میں کوئی اختلاف رونما ہوا ہو۔ اگر یہ اختلافات سب مرزا صاحب کی وفات کے بعد ہی اٹھے ہیں تو کیا یہ خود اس امر کا ثبوت نہیں کہ اس کا واحد سبب مرزا
صاحب کی وہ الہامی پیش گوئی ہے‘ جس پر مرزا صاحب کی مدت حیات کسی طرح منطبق نہ اتر سکی۔ مرزا بشیر الدین محمود نے سیرت مسیح موعود کے نام سے ایک مختصر رسالہ لکھا تھا‘ جو اب پانچویں بار ربوہ کے مرکز جدید سے شائع ہوا ہے۔ اس میں جماعت کے خلیفہ نے سر لیپل گریفن کی کتاب ”پنجاب چیفس“ سے مرزا صاحب کا سن پیدائش نقل کرنے میں کھلم کھلا تحریف اور خیانت کی ہے۔ مرزا محمود اس رسالہ کے ص ٥ پر اسے یوں نقل کرتے ہیں:
”غلام احمد جو غلام مرتضیٰ کا چھوٹا بیٹا تھا‘ مسلمانوں کے ایک مشہور مذہبی فرقہ احمدیہ کا بانی ہوا۔ یہ شخص ١٨٣٧ء میں پیدا ہوا“۔ (سیرت مسیح موعود‘ ص ٥‘ مصنفہ مرزا بشیر الدین محمود)
مرزائی حضرات سے دوسرا سوال:
- ١۔ اپنے قدیم تحریری ذخائر سے یہ ثابت کریں کہ مرزا صاحب کی تاریخ پیدائش
کے متعلق اختلاف کبھی ان کی زندگی میں بھی اٹھا ہو۔
- ٢۔ مرزا محمود نے پنجاب چیفس کے حوالے سے مرزا صاحب کا سن پیدائش نقل
کرنے میں تحریف اور خیانت نہیں کی؟
نقل کو اصل کے مطابق ثابت کر کے خلیفہ صاحب سے بددیانتی کے اس داغ کو دور کریں۔
الحاصل مرزا صاحب کی عمر ٦٦ اور ٦٧ سال کے قریب ہی بنتی ہے اور کسی صورت میں بھی ٧٤ سال ثابت نہیں ہوتی۔ مرزا صاحب اپنی خلاف الہام وفات سے اپنے دعوؤں کی پوری طرح تکذیب کر چکے ہیں۔ واللہ اعلم بالصواب (کتبہ خالد محمود‘ عفا اللہ عنہ‘ ١٢ اکتوبر ٦٤ء)
س: آنحضرت ﷺ نے نصاریٰ نجران کو مباہلے کا چیلنج دیا تھا انہوں نے اسے منظور نہ کیا نہ مباہلہ ہوا۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا کوئی امتی بھی کسی کو مباہلے کا چیلنج دے سکتا ہے؟ اور کیا یہ چیلنج کسی مسلمان کو بھی دیا جا سکتا ہے یا صرف غیر مسلموں کے
لیے ہی ہے؟
ج : ہاں امتی بھی اگر کسی موضوع پر اپنے آپ کو یقین پر تصور کرے اور دوسرے کے بارے میں یقینی طور پر معلوم ہو کہ وہ حقیقت سمجھ رہا ہے مگر ضد کر رہا ہے تو پھر ایسے شخص سے بھی مباہلہ ہو سکتا ہے۔ حافظ ابن کثیرؒ (٧٧٤ھ) آیت تطہیر کے بارے میں لکھتے ہیں:
وقال عكرمه من شاء باهلته انه نزلت في شان نساء النبى ﷺ
(تفسیر ابن کثیر، جلد ٣، ص ٤٨٣)
ترجمہ : "عکرمہ نے کہا یہ آیت حضور کی ازواج کے حق میں نازل ہوئی ہے جو چاہے میں اس سے مباہلہ کرنے کو تیار ہوں"۔
حافظ ابن ہمام اسکندری (٨٦١ھ) التحریر میں ترجمان القرآن حضرت عبداللہ بن عباسؓ سے نقل کرتے ہیں۔ آپ کا ترک عول پر دوسرے صحابہ حضرت علیؓ اور حضرت زید بن ثابتؓ سے اختلاف چلا۔ آپ نے فرمایا:
من شاء باهلته ان الله تعالى لم يجعل في مال واحد نصفا ونصفا وثلثا
(التحریر، ص ٥٣٣، مصر)
ترجمہ : "جو چاہے میں اس سے مباہلہ کرنے کو تیار ہوں اللہ تعالیٰ نے کسی مال کے حصے یوں نہیں ٹھہرائے نصف اور نصف اور تہائی"۔
قرآن کریم میں حاملہ عورت کی عدت وضع حمل تک ہے۔ (دیکھئے پ ٢٨، الطلاق، آیت ٦) اور دوسری عورتیں جن کے خاوند فوت ہو جائیں ان کی عدت چار ماہ اور دس دن ہے۔ دیکھئے پ ٢، البقرہ، آیت ٢٣٤) حضرت عبداللہ بن مسعودؓ ان لوگوں کے خلاف جو کہتے تھے کہ حاملہ عورت جس کا خاوند فوت ہو جائے، اس کی عدت وضع حمل اور چار ماہ دس دن میں سے جو زیادہ ہو، اس کے مطابق ہو گی۔ استدلال کرتے ہوئے کہتے ہیں ایسا نہیں۔ سورۃ طلاق (سورۂ نساء صغریٰ) نے پہلا حکم (چار ماہ اور دس دن والا) اس کے حق میں (حاملہ کے حق میں) منسوخ کر دیا ہے۔ علامہ سرخسی (٤٩٠ھ) لکھتے ہیں حضرت عبداللہ بن مسعودؓ نے فرمایا میں اس پر مباہلہ کے لیے تیار ہوں:
قال ابن مسعود رضى الله عنه في عده
المتوفی عنہا زوجہا اذا كانت حاملا محتجا بہ علی من یقول انہا تعتد بابعد الاجلین فانہ قال من شاء باہلتہ ان سورۃ النساء القصریٰ (واولات الاحمال اجلہن) نزلت بعد سورہ النساء الطولیٰ (یتربصن بانفسہن) فجعل التاخر دلیل النسخ
(اصول السرخسی، ص ٢٠)
سورۃ النساء الطولیٰ سورۃ البقر کا ایک دوسرا نام ہے جیسے سورۃ الطلاق کو سورۃ النساء القصریٰ سے بھی موسوم کرتے ہیں۔
اس سے ثابت ہوتا ہے کہ ضروری نہیں کہ پیغمبر ہی مباہلہ کی دعوت دے امتی بھی بنا بر یقین کامل اس کی دعوت دے سکتا ہے اور یہ دعوت مسلمانوں کو بھی دی جاسکتی ہے بشرطیکہ وہ بھی اپنے یقین اور قطعیت کے مدعی ہوں۔
مباہلے کا موقعہ :
آنحضرت ﷺ نے نصاریٰ نجران سے پہلے مباحثہ کیا تھا پھر انہیں مباہلہ کا چیلنج دیا تھا۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ مباہلہ میں وہی آئے جو پہلے مباحثہ میں آچکا ہو۔ جس شخص کو موضوع زیر بحث سے کبھی کوئی پالا نہ پڑا ہو، نہ کوئی مناسبت رہی ہو، نہ کبھی اس نے اس موضوع پر مباحثہ کیا ہو، اس کا مباہلہ کے میدان میں اترنا ایک خود نمائی کے سوا کوئی درجہ نہیں رکھتا۔ صاحب واقعہ کسی کو اس قسم کا چیلنج دے، یہ اور بات ہے۔ قرآن کریم میں پہلے مباحثہ کا ذکر ہے۔ پھر اس پر مباہلہ کی دعوت دی ہے۔ ارشاد ہوتا ہے:
فمن حاجک فیہ من بعد ماجاء ک من العلم فقل تعالوا...... ثم نبتھل (پ ٣، المائدہ، آیت ٦١)
ترجمہ : ”سو پھر جو کوئی تجھ سے جھگڑا کرے اس میں بعد اس کے کہ آ چکا تمہارے پاس علم تو آپ کہہ دیں آؤ بلاویں ہم اپنے بیٹے...... پھر ہم سب التجا کریں (اللہ سے) اور لعنت کریں ان پر جو جھوٹے ہیں“۔
س: کیا فرماتے ہیں علماء دین و مفتیان شرع متین مندرجہ ذیل مسائل دوازدہ کے بارے میں۔ پیش نظر رہے کہ سائل اہل سنت و الجماعت عقیدے سے تعلق رکھتا ہے اور اسی کے مطابق جوابات کا طالب ہے۔ (ابراہیم محمد زبکا متعلم دار العلوم ندوۃ العلماء، لکھنؤ)
- ١۔ امتی کی صحیح تعریف کیا ہے؟
- ٢۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو امتی کہہ سکتے ہیں یا نہیں؟ یہ امتی ماننا جزو ایمان ہے یا نہ؟
- ٣۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام بعد نزول نبی رہیں گے یا نہ؟ اگر ان کو کوئی نبی نہ مانے تو کیا وہ
اسلام سے خارج ہو گا؟
- ٤۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر بعد نزول وحی آئے گی یا نہیں؟ اگر آئے گی تو وہ وحی نبوت
ہو گی یا وحی الہامی؟
- ٥۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام بعد نزول مثل دیگر انبیاء کے معصوم تسلیم کیے جائیں گے یا
نہیں؟
- ٦۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو حسب سابق نبی کی حیثیت سے ماننے میں اور ان پر وحی
آنے کے قائل ہونے سے ختم نبوت کے مسئلہ پر اثر پڑنے کا اشکال صحیح ہے یا غلط؟
- ٧۔ جو یہ کہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام شریعت محمدیہ ہی کا اتباع کریں گے مگر امتی نہ
ہوں گے تو وہ اسلام سے خارج ہو گا یا نہیں؟
- ٨۔ حضرت ابو بکر صدیقؓ افضل الامہ ہیں یا حضرت عیسیٰ علیہ السلام جنہوں نے دنیوی
زندگی میں حضور کو بحالت ایمان معراج کی رات دیکھا تھا؟
- ٩۔ حضرت امام مہدی اور حضرت عیسیٰ ایک ہی شخصیت کے دو نام ہیں یا یہ دو علیحدہ
علیحدہ اشخاص ہیں؟
- ١٠۔ حضرت عیسیٰ کا قبلہ تو بیت المقدس تھا۔ آپ نازل ہونے کے بعد کس طرح حج کریں
گے اور مکہ آئیں گے؟
- ١١۔ کیا یہ حدیث صحیح ہے لو کان موسی و عیسی حیین لما وسعهما الا اتباعی اگر
یہ حدیث ہو تو کیا اس میں صاف مذکور نہیں کہ حضرت عیسیٰ اب زندہ نہیں ہیں؟
- ١٢- حضرت عیسیٰ کے نازل ہونے پر یہود و نصاریٰ ہر دو ملتیں ختم ہو جائیں گی تو کیا حنفی،
مالکی، شافعی، حنبلی کے فقہی امتیازات باقی رہیں گے یا نہیں یا سب کا مسلک فقہی بھی ایک ہو جائے گا۔
آپ کے سوالوں کے جوابات درج ذیل ہیں:
حامدا ومصلیا ومسلما اما بعد!
- ١- امت سے مراد مقتدی ہیں۔ جو لوگ کسی مقتدا کی اقتدا پر جمع ہوں وہ اس کے
امتی ہوں گے۔ جس طرح نخبہ کے معنی منتخب کے اور رحلہ کے معنی مرحول الیہ کے ہیں۔ اسی طرح لفظ امت فعلہ کے وزن پر مفعول کے معنی میں ہیں‘ جس کی امامت کی گئی‘ وہ امت ہے۔
اقتداء کرنے والے جب کسی مقتداء پر اتفاق کر لیں تو جماعت بنتی ہے۔ اس پہلو سے امت اور جماعت ”الجیل من الناس“ کو کہا جاتا ہے۔ حق پر جمع ہونے والے افراد بھی ایک امت شمار ہوتے ہیں۔ کما نص علیہ صاحب القاموس لیکن یہ معنی مجازی ہوں گے۔
اللہ تعالیٰ نے آنحضرت ﷺ کو مبعوث فرمایا تو جن لوگوں کے لیے آپ کی بعثت ہوئی وہ سب آپ کی امت ہیں۔ آپ جن لوگوں کے لیے پیشوا قرار پائے‘ وہ سب آپ کی امت دعوت ہیں اور مکلف ہیں کہ آپ کی بات مانیں۔ جنہوں نے مان لیا‘ وہ امت اجابت بن گئے۔ امت اجابت سے مراد وہ لوگ ہیں جو آپ کی دعوت اور آپ کی تعلیمات پر جمع ہو گئے۔ امتی وہ ہے جس کو علم دین پیغمبر سے ملے اور پیغمبر وہ ہے جسے علم دین خدا سے ملے۔ اگر کوئی امتی دعویٰ کرے کہ مجھے علم خدا سے ملتا ہے اور علم دینی نوعیت کا ہے تو وہ امتی ہونے سے نکل جاتا ہے۔ اب اس کے لیے دو ہی صورتیں ہیں۔ یا وہ پیغمبر ہو یا کذاب۔۔۔۔ امتی وہ کسی صورت میں نہیں رہا۔
- ٢- حضرت عیسیٰ علیہ السلام مستقل صاحب شریعت اور صاحب امت نبی تھے۔
قیامت سے پہلے دنیا میں ایک دفعہ پھر تشریف لائیں گے۔ آپ کے بعد حضور خاتم النبیین ﷺ تشریف لائے تو آپ کی امت ختم ہو گئی۔ نئے نبی پر نئی امت بنتی ہے۔ جب نیا نبی آئے تو ایک اور امت بن جاتی ہے۔ اب اس دور کے لیے صاحب امت نبی حضور خاتم النبیین ﷺ ہیں۔ مگر چونکہ پہلے نبی حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر ابھی وفات نہیں آئی اور قیامت سے پہلے آپ کی دوبارہ تشریف آوری بھی مقدر تھی۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے آپ کی امت کو ایک درجے میں باقی رکھا۔ وہ درجہ اہل کتاب کا ہے۔ آپ چونکہ شریعت تورات کے بھی کسی حد تک پیرو تھے، اس لیے اہل تورات کو بھی اہل کتاب میں رکھا گیا۔ یہود و نصاریٰ دونوں امتیں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی دوبارہ تشریف آوری پر آپ پر ایمان لے آئیں گی اور مسلمان ہو جائیں گی۔ اسی طرح حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی امت کلیتہ ختم ہو جائے گی۔ سب اہل کتاب آپ پر صحیح تفصیل سے ایمان لا کر امت محمدی میں شامل ہو جائیں گے اور یہ دور 'دور محمدی ہو گا۔
قرآن کریم میں ہے:
وان من اهل الكتاب الا ليؤمنن به قبل موته و يوم القيامه يكون عليهم شهيدا۔ (پ٦، النساء، ع٢٢)
ترجمہ : ”اور اہل کتاب سے کوئی باقی نہ رہے گا مگر یہ کہ وہ حضرت عیسیٰ پر ان کی وفات سے پہلے وہ ضرور ایمان لے آئے گا اور آپ قیامت کے دن ان پر گواہ ہوں گے“۔
سوال پیدا ہوتا ہے کہ ایک صاحب امت نبی جب صاحب امت نہ رہے اور زندہ بھی ہو تو وہ کس درجے میں شمار ہو گا۔ کیا وہ نبی ہو گا یا اپنے وقت کے نبی کا تابع ہو گا؟
جواب یہ ہے کہ وہ اپنی پوری امت کے ساتھ امت محمدی میں شامل ہو جائے گا اور اپنے اسی نئے دور زندگی میں حضور ﷺ کی اقتداء کرے گا اور آپ کی امت ہو کر رہے گا۔ نبی ہونے کے باوجود اس کی نبوت نافذ نہ ہو گی۔ یہ نہیں کہ ان حالات میں ان سے نبوت واپس لے لی جائے گی۔ شرح مواقف میں ہے:
لا يتصور عزله عن كونه رسولا (شرح مواقف، ص٧٦٢)
ترجمہ : ”آپ کے رسالت سے معزول کیے جانے کا تصور بھی نہیں کیا
جاسکتا"۔
حضرت عیسیٰ علیہ السلام اپنی تشریف آوری کے فوراً ساتھ مسلمانوں کی امامت فرماتے تو اس میں دور محمدی کے ختم ہونے کا ابہام تھا۔ آپ دوسری تشریف آوری پر پہلی نماز حضور ﷺ کے امتی کی اقتداء میں پڑھیں گے اور اس سے آپ خود بھی امتی ہو جائیں گے۔ آپ کا حضور ﷺ کے امتی کی اقتداء کرنا گویا اعلان ہوگا کہ یہ دور ’دور محمدی‘ ہے اور پچھلے ایک نبی کے آنے پر بھی وہ دور محمدؐ ہی رہے گا۔ تاہم آپ رسالت سے معزول نہ ہوں گے۔ جب موت پر بھی رسالت منقطع نہیں ہوتی تو اگر موت بھی نہ آئی ہو تو رسالت کے ختم ہونے کا سوال بالکل بے موقع ہوگا۔ اللہ تعالیٰ کریم ہے۔ کوئی مرتبہ عطا کر کے چھین لینا اس کی شان کریمی کے خلاف ہے۔ سو حق یہ ہے کہ ان کی آمد ثانی پر نبوت آپ سے مسلوب نہ ہوگی، صرف اس کا حکم نافذ نہ ہوگا۔ کیونکہ یہ دور دور محمدی ہے اور اس میں حضور ﷺ ہی کی روحانی بادشاہی ہے۔ ایک بادشاہ کسی دوسرے ملک میں جائے تو وہ بادشاہ تو رہتا ہے لیکن اس کی بادشاہی وہاں نافذ نہیں ہوتی۔ اس کا حکم نہیں چلتا۔ وہاں اسی کی بادشاہی چلے گی، جس کا وہ ملک ہے۔
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے لیے نبی کے الفاظ :
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے لیے اس دور ثانی میں نبی اور وحی کے الفاظ حدیث شریف میں ملتے ہیں۔ حضرت نواس بن سمعانؓ کہتے ہیں کہ حضور ﷺ نے فرمایا:
ثم یآء تی عیسی قوم قد عصمہم الله منہ فیمسح عن وجوہہم و یحدثہم بدرجاتہم فی الجنہ فبینما ہو کذلک اذا اوحی الله الی عیسی علیہ السلام..... ثم یہبط نبی الله عیسی علیہ السلام واصحابہ الی الارض فلا یجدون فی الارض
(مسلم شریف، ج٢، ص٤٠١)
اس حدیث میں صریح طور پر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے لیے وحی خداوندی آنے اور آپ کے لیے نبی اللہ کے الفاظ ملتے ہیں۔
٤۔ معلوم رہے کہ یہ قانونی وحی نہیں کہ آپ اس کی تصدیق کی کسی کو دعوت دیں اور اس پر ایمان لانا ضروری قرار پائے۔ بلکہ یہ وحی عملی ہے۔ جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر حجت ہوگی اور آپ اس کے مطابق عمل کریں گے۔ اس قسم کی وحی کے لیے جبرائیل کی آمد کا کتب حدیث میں کہیں ذکر نہیں ملتا۔ سو یہ وحی الہامی ہے۔ وحی رسالت نہیں۔ نزول جبرائیل بہ پیرایہ وحی قیامت تک کے لیے مسدود ہے۔ آپ شریعت کے طور پر حضور ﷺ کی شریعت پر عمل پیرا ہوں گے اور اسی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے آپ کو تورات و انجیل کے ساتھ قرآن و حدیث کی تعلیم بھی دے دی تھی۔ قرآن کریم میں ہے:
(پ ٣‘ آل عمران)
ترجمہ: ”اور اللہ تعالیٰ عیسیٰ ابن مریم کو سکھائے گا قرآن و حدیث اور تورات و انجیل“۔
حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے یہ دور محمدی پانا نہ ہوتا تو اللہ تعالیٰ آپ کو قرآن و حدیث کی تعلیم نہ دیتے۔ کتاب و حکمت قرآن کے محاورے میں کتاب و سنت کا نام ہے۔
قدوة المتکلمین الشیخ ابو منصور البغدادیؒ (٤٢٩ھ) لکھتے ہیں:
الانبياء و الرسل و اقر بتابيد شريعته و منع من
نسخها و قال ان عيسى عليه السلام اذا انزل من
السماء ينزل بنصرته شريعه الاسلام
(اصول الدین‘ ١٦٣)
ترجمہ: ”ہر وہ شخص جس نے حضور ﷺ کی نبوت کا اقرار کر لیا‘ اس نے مان لیا کہ حضور خاتم الانبیاء والرسل ہیں۔ اس نے مان لیا کہ آپ کی شریعت ہمیشہ تک رہے گی‘ کبھی منسوخ نہ ہوگی۔ سو اس نے یہ بھی مان لیا
کہ حضرت عیسیٰ جب آسمان سے نازل ہوں گے تو حضور ﷺ کی شریعت کی نصرت کے لیے آئیں گے اپنی نبوت کی دعوت نہ دیں گے“۔
حضرت امام ربانی مجدد الف ثانیؒ لکھتے ہیں:
اجتہاد حضرت روح اللہ موافق اجتہاد امام اعظم خواہد بود نہ آنکہ تقلید ایں مذہب خواہد کرد کہ شان او ازاں بلند تر است کہ تقلید علمائے امت
فرماید (مکتوبات دفتر دوم، مکتوب ٥٥، ص ١٠٧، لکھنؤ)
ترجمہ: ”حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا اجتہاد امام ابو حنیفہؒ کے اجتہاد کے موافق نہ ہو گا نہ یہ کہ وہ حنفی مذہب کے مقلد ہوں گے۔ آپ کی شان اس سے بہت بلند ہے کہ آپ اس امت کے علماء کی تقلید کریں۔
اس عبارت سے بھی یہی مفہوم ہوتا ہے کہ آپ عام علماء امت کی طرح اس امت میں شامل نہیں ہیں۔ لیکن یہ بات اپنی جگہ طے شدہ ہے کہ آپ روایتاً اور اجتہاداً شریعت محمدی کے تابع ہی ہوں گے۔ ایک دوسرے مکتوب میں حضرت مجدد الف ثانیؒ لکھتے ہیں:
عیسیٰ علی نبینا و علیہ الصلوۃ والسلام کہ نزول خواہد نمود عمل بشریعت او
خواہد کرد و بعنوان امت او خواہد بود (دفتر دوم، مکتوب نمبر ٦٧، ص ٨)
اس میں تصریح ہے کہ آپ (حضرت عیسیٰ علیہ السلام) حضور ﷺ کے امتی ہوں گے۔
حضرت عیسیٰ علیہ السلام آمد ثانی پر ایک جلالی شان سے تشریف لائیں گے۔ سب یہود و نصاریٰ آپ پر ایمان لے آئیں گے۔ آپ کی تشریف آوری علامات قیامت میں سے ہو گی۔ سو یہ سوال پیدا نہیں ہوتا کہ کوئی شخص اس آمد ثانی پر آپ پر ایمان نہ لائے۔ قرآنی آیت لیومنن بہ قبل موتہ میں آپ پر صحیح ایمان لے آنے کی خبر دی گئی ہے۔ اس وقت کوئی کافر نہ رہے گا۔ ہر کچے پکے مکان میں کلمہ اسلام داخل ہو جائے گا۔
- ٥۔ معصومیت لوازم رسالت میں سے ہے اور یہ لوازم ذات میں سے ہے۔
جب نبوت آپ سے مسلوب نہیں تو ظاہر ہے کہ عصمت بھی آپ سے منتفی نہ ہو گی۔
آپ سے کوئی ایسا عمل سرزد نہ ہو گا جو نبی کی شان عصمت کے خلاف ہو ۔
- ٦۔ آپ کی دوبارہ تشریف آوری عقیدہ ختم نبوت کے ہر گز خلاف نہیں۔ سیدنا
ملا علی قاری (١٠١٤ھ) لکھتے ہیں:
اقول لا منافاه بين ان يكون نبيا و يكون متابعا لنبينا صلى الله عليه وسلم فى بيان احكام شريعته و اتقان طريقته و لو بالوحى اليه كما يشير اليه قوله صلى الله عليه وسلم لو كان موسى حيا لما وسعه الا اتباعى اى مع وصف النبوه و الرساله و الا مع سلبها لا يفيد زياده المزيه فالمعنى انه لا يحدث بعده نبى لانه خاتم النبيين
(مرقات، ج ٥، ص ٥٦٤)
ترجمہ : ”حضور ﷺ کا ارشاد ہے کہ اگر موسیٰ علیہ السلام بھی زمین پر زندہ ہوتے تو انہیں بھی میری اتباع کے سوا چارہ نہ تھا۔ یعنی وہ نبوت اور رسالت سے موصوف ہونے کے باوجود میری اطاعت کرتے۔ کیونکہ نبوت اور رسالت کے بغیر حضرت موسیٰ کے آپ کا مطیع ہونے سے حضور تاجدار ختم نبوت کے مطاع ہونے میں کسی فضیلت کا اظہار نہیں ہوتا۔ حالانکہ یہ مقام مدح ہے۔ پس واضح ہوا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی آمد ثانی پر ان کا نبی ہونا آیت ”خاتم النبیین“ اور حدیث ”لا نبی بعدی“ کے خلاف نہیں۔ ان دونوں کا صحیح مطلب جو امت نے سمجھا ہے، یہی ہے کہ آپ کے بعد کوئی نبی پیدا نہیں ہو گا۔
- ٧۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام اپنی اس آمد ثانی پر نبی بھی ہوں گے اور
حضور ﷺ کے امتی بھی۔ امتی نہ بھی کہیں تو حرج نہیں۔ متبع تسلیم کرنا اور آپ کو تابع شریعت محمدی ماننا ضروری ہو گا۔ جو یہ کہے کہ آپ شریعت محمدی کا اتباع تو کریں گے لیکن امتی نہ ہوں گے، وہ اسلام سے خارج نہیں ہوتا۔
آپ کی ذات گرامی میں چونکہ یہ دونوں وصف شامل ہوں گے۔ یعنی نبی بھی اور امتی بھی تو مناسب تھا کہ اس امت میں افضل الامتہ علی الاطلاق حضرت ابو بکر صدیقؓ ہی سمجھے جائیں۔ اس واسطے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام صرف امتی نہیں‘ ساتھ نبی بھی ہوں گے۔ گو ان کی نبوت نافذ نہ ہو اور جو افراد صرف امت ہیں‘ ان سب کے سردار حضرت ابو بکر صدیقؓ ہی ہیں۔
- ٨۔ آپ کے لیے امتی ہونا یا معین الامتہ ہونا علماء اسلام کے ہاں
مختلف فیہ تعبیریں ہیں۔ کسی نے آپ کے امت ہونے کا انکار کیا اور معین الامتہ وغیرہ کی تعبیر اختیار فرمائی۔ سو اس اختلاف کے پیش نظر مناسب تھا کہ آپ کو علی الاطلاق افضل الامتہ کہا جائے۔ سو اس خطاب کے لائق حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ ہی رہے۔
حضور ﷺ کی ساری امت کا حشر آپ کے ساتھ ہوگا۔ دیگر سب امتیں اپنے اپنے نبی کے ساتھ ہوں گی۔ قرآن کریم میں ہے:
فكيف اذا جئنا من كل امه بشهيد وجئنابك على هولاء شهيدا (پ٥‘ النساء‘ ع٦)
ترجمہ : ”پھر کیا حال ہو گا جب ہم ہر امت سے ایک گواہی دینے والا لائیں گے اور آپ کو ان لوگوں پر احوال بتانے والا کر کے لائیں گے“۔
اس آیت کی روشنی میں پتہ چلتا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا حشر اپنی امت سابقہ کے ساتھ ہی ہوگا۔ حضور ﷺ کی امت میں نہ ہوگا۔ الا یہ کہ بعض علماء کی بات مان لی جائے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے لیے دو حشر ہوں گے۔ یہ قول بے شک موجود ہے۔ جو لوگ حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر ان کی آمد ثانی پر ایمان لائیں گے‘ گو اس کے مابعد وہ لوگ امت محمدیؐ میں داخل ہو جائیں گے اور آپ کی امت ختم ہوگی۔ لیکن ان کے ایمان لانے کی گواہی قیامت کے دن حضرت عیسیٰ علیہ السلام ہی دیں گے۔
جیسا کہ قرآن کریم میں ہے:
وان من اهل الكتاب الا ليومنن به قبل موته و
يوم القيامه يكون عليهم شهيداً - (پ ٦‘ النساء‘ ٢٢)
ترجمہ : ”اور کوئی نہ رہے گا اہل کتاب سے مگر یہ کہ ضرور ایمان لائے گا عیسیٰ پر اس کی موت سے پہلے اور وہ قیامت کے دن ان پر گواہ ہو گا“۔
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے علیحدہ حشر پر جو آپ کا اپنی امت کے ساتھ ہو گا‘ ایک اور شہادت ملتی ہے۔ آنحضرت ﷺ ایک اور حدیث میں ارشاد فرماتے ہیں:
فاقول كما قال العبد الصالح و كنت عليهم شهيدا ما دمت فيهم (صحیح بخاری‘ ج ٢‘ ص ٦٦٥)
ترجمہ : ”سو میں کہوں گا وہی بات جو عبد صالح (حضرت عیسیٰ علیہ السلام) پہلے کہہ چکے ہوں گے کہ میں ان پر (عیسائیوں پر) اسی مدت تک گواہ تھا جب تک میں ان میں رہا“۔
اس سے ثابت ہوتا ہے کہ حضرت عیسیٰ اپنی امت پر گواہی دیں گے گو وہ اس دور تک کی ہی ہو جب تک وہ ان میں رہے تھے اور حضور ﷺ اپنی امت پر گواہی دیں گے۔ حضرت عیسیٰ کے لیے قال کا صیغہ ماضی اقول کی نسبت سے ہے کہ حضور جب یہ کہیں گے اس وقت حضرت عیسیٰ اپنی بات کہہ چکے ہوں گے۔ حضرت عیسیٰ اپنی آمد ثانی کے بعد کے کسی حال پر اس لیے گواہی نہ دیں گے کہ یہ دور محمدیؐ ہے۔ اس پر کوئی اور نبی گواہی کیسے دے سکتا ہے۔ حضرت عیسیٰ خود حضور ﷺ کی امت میں شامل ہوں گے۔
ملحوظ رہے کہ آنحضرت ﷺ اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام میں تشبیہ صرف اس میں ہے کہ حضرت عیسیٰ بھی اس وقت تک کے گواہ ہوں گے جب تک وہ ان میں رہے اور حضور ﷺ نے بھی اسی وقت تک کے حالات براہ راست دیکھے ہوں گے‘ جب تک آپ ان میں رہے۔ باقی رہی اگلی بات کہ بعد کے حالات دونوں پیغمبروں کے اپنے اپنے تھے اور دونوں کی توفی اپنے اپنے طور پر ہوئی۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی توفی پہلے زندہ اٹھا کر ہوئی اور حضورؐ کی اس کے بغیر۔ سو اس میں یہاں تشبیہ نہیں ہے۔ مشبہ اور مشبہ بہ میں کسی پہلو سے تشبیہ ہو جائے تو ارادہ تشبیہ پورا ہو جاتا ہے۔ ہر پہلو سے مشابہت ضروری نہیں۔ كما لا يخفى على من له ادنى معرفه فی
العلم
- ٩۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور حضرت امام مہدی دو علیحدہ علیحدہ شخصیتیں ہیں۔
حضرت عیسیٰ علیہ السلام آسمان سے اتریں گے اور حضرت مہدی اس امت میں پیدا ہوں گے مگر شیعہ حضرات کا عقیدہ ہے کہ امام مہدی کی ولادت نہیں ہوگی‘ ظہور ہوگا۔ ولادت ان کی ہزار سال پہلے سے ہو چکی ہے اور اس وقت وہ کہیں چھپے ہوئے ہیں۔ آپ قیامت سے پہلے ظہور کریں گے۔ اہل سنت والجماعت کے عقیدہ میں امام مہدی عام انسانوں کی طرح پیدا ہوں گے‘ کسی غار سے نہ نکلیں گے۔
آنحضرت ﷺ فرماتے ہیں:
كيف انتم اذا انزل فيكم ابن مريم فامكم
منكم (صحیح مسلم‘ ج ١‘ ص ٨٧)
ترجمہ : "تمہارا کیا حال ہوگا جب ابن مریم تم میں اتریں گے اور تمہاری امامت وہ کرائے گا جو تم میں سے ہوگا"۔
پھر دونوں کا امامت کے لیے ہم کلام ہونا بھی حدیث میں مذکور ہے۔ جب حضرت عیسیٰ کہیں گے کہ یہ اس امت کا اعزاز و اکرام ہے کہ امامت اسی کی رہے تو اس سے صریح طور پر دونوں کا علیحدہ علیحدہ شخصیت ہونا مفہوم ہوتا ہے۔
- ١٠۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام پہلے اسرائیلی نبی تھے۔ اسرائیلی شریعت میں بیت
اللہ شریف کا حج نہیں۔ کعبہ مشرفہ اسماعیلی تعمیر ہے اور اسی کی تولیت اور تعمیر اس سلسلہ میں رہی ہے۔ حضور ﷺ اسماعیلی ہیں اور آپ کی شریعت میں حج اسی گھر کا قصد کرنا ہے۔
حضرت عیسیٰ علیہ السلام اپنی اس آمد ثانی پر اس گھر کا حج اور عمرہ کریں گے۔ حضور ﷺ نے فرمایا کہ آپ فج روحاء کے مقام سے احرام باندھیں گے اور تلبیہ پکاریں گے۔ آپ نے فرمایا:
والذي نفسى بيده ليهلن ابن مريم بفج
الروحاء حاجا او معتمرا او ليثنينهما (صحیح مسلم‘ ج ١‘
ص ٤٠٨)
اس سے واضح طور پر پتہ چلتا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نازل ہونے کے بعد شریعت محمدیؐ کی اتباع کریں گے۔ نماز میں بیت اللہ شریف کا رخ کریں گے اور اس کے گرد طواف فرمائیں گے اور آپ حضورؐ کی تابعداری کرنے والے ایک فرد ہوں گے۔ اس حیثیت میں آپ انہیں حضورؐ کا امتی بھی کہہ سکتے ہیں اور آپ کی شریعت کا متبع اور معین بھی۔۔۔۔ یہ مختلف تعبیرات ہیں۔ حقیقت اپنی جگہ ایک ہے کہ یہ دور دور محمدی ﷺ ہے اور آپ کے دور میں اس زمین پر حضرت موسیٰ بھی زندہ ہوتے تو آپ کو ان کی اتباع سے چارہ نہ تھا۔ حضور اکرم ﷺ بھی فرماتے ہیں:
والذی نفس محمد بیدہ لو اصبح فیکم موسیٰ ثم اتبعتموہ‘ و ترکتمونی لضللتم انتم خطی من الامم وانا حظکم من النبیین
(المصنف لعبد
الرزاق‘ ج ٦‘ ص ١١٣)
ترجمہ : "قسم اس ذات کی جس کے قبضے میں میری جان ہے اگر تم میں موسیٰ آجائیں اور تم ان کی پیروی کرو اور مجھے چھوڑ دو تم گمراہ ہوگے۔ امتوں میں تم میرا حصہ ہو اور نبیوں میں میں تمہارا حصہ ہوں۔"
آنحضرت ﷺ یہ بھی فرماتے ہیں:
والذی نفسی بیدہ لو اتاکم یوسف وانا فیکم فاتبعتموہ و ترکتمونی لضللتم۔
(ایضاً‘ ص ١١٤)
ترجمہ : "قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ میں میری جان ہے اگر تمہارے پاس حضرت یوسفؑ بھی آجائیں اور میں تم میں موجود ہوں اور تم اس کی اتباع کرنے لگو اور مجھے چھوڑ دو پھر بھی تم گمراہ شمار ہوگے۔ (گو ایک پیغمبر کی اتباع کررہے ہوگے)
- ١١۔ یہ روایت کہ اگر موسیٰ اور عیسیٰ علیہم السلام زندہ ہوتے تو انہیں میری اتباع
کے سوا چارہ نہ تھا‘ حدیث کی کسی کتاب میں موجود نہیں اور نہ اس کی کوئی سند صحیح یا ضعیف کہیں ملتی ہے۔ اگر یہ روایت ثابت بھی ہوتی تو معنی یہی تھا کہ یہ دونوں پیغمبر اگر اس زمین پر زندہ ہوتے تو انہیں میری شریعت کی اتباع ہی کرنی پڑتی۔ ظاہر ہے کہ زمین
پر دونوں حضرات میں سے کوئی زندہ نہیں۔ حضرت موسیٰ تو ویسے ہی وفات پا چکے ہیں۔ رہے حضرت عیسیٰ تو وہ آسمان پر زندہ ہیں، نہ کہ زمین پر اور جب زمین پر اتریں گے تو وہ حضورؐ کی اتباع ہی کریں گے اور واقعی انہیں حضور ﷺ کی پیروی سے چارہ نہ ہوگا۔ حدیث کے جو اصل الفاظ ملتے ہیں، صرف اتنے ہیں:
لو کان موسی حیاما وسعہ الا اتباعی رواہ احمد والبیہقی (مشکوٰۃ، ص٣٠)
اور حضرت ملا علی قاری نے شرح شفا میں بھی اس پر بحث کی ہے اور پھر شرح فقہ اکبر میں بھی اس کا ذکر کیا ہے۔ شرح فقہ اکبر کے مصری نسخے اور ہندی نسخے میں اختلاف ہے۔ ایک نسخے میں لو کان موسی و عیسی کے الفاظ ہیں اور ایک نسخہ میں صرف لو کان موسی حیا کے الفاظ ہیں۔ ایسے مواقع پر حدیث کی اصل کتابوں کی طرف رجوع کیا جاتا ہے۔ محدث عبدالرزاق (٢١١ھ) امام احمد (٢٤١ھ) امام بیہقی (٤٥٨ھ) صرف موسیٰ کا ذکر کرتے ہیں۔ مشکوٰۃ شریف میں بھی یہی ہے۔ اب ملا علی قاری (١٠١٤ھ) کی نقل میں اگر کہیں موسیٰ اور عیسیٰ کے الفاظ ملیں تو ظاہر ہے کہ اصل کتابوں کی روشنی میں اس کی اصلاح کی جائے گی۔ پھر جب شرح فقہ اکبر کا دوسرا نسخہ بھی اس سے اختلاف کرے تو وہی نسخہ صحیح سمجھا جائے گا جو پہلوں کے مطابق ہو۔ پھر ملا علی قاریؒ خود اس میں اپنی کتاب شرح شفاء کا بھی حوالہ دیتے ہیں۔ اس کی طرف مراجعت کریں تو اس میں بھی صرف لو کان موسی کے الفاظ ملتے ہیں موسی و عیسی کے الفاظ نہیں۔
سو شرح شفا کی طرف مراجعت کرنے سے شرح فقہ اکبر طبع ہند کا نسخہ صحیح قرار پاتا ہے۔ پس حدیث میں صرف حضرت موسیٰ علیہ السلام کا ذکر ہے، حضرت عیسیٰ کا نہیں اور اگر ہو بھی تو ہم اس کی مراد پہلے واضح کر آئے ہیں۔
- ١٢- حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی دوبارہ تشریف آوری پر مسلمانوں کا فقہی مسلک
ایک ہوگا۔ یا وہ اسی طرح مختلف مسالک پر عمل کرتے رہیں گے جس طرح کہ آج مختلف چار طریقِ عمل رائج ہیں۔
آنحضرت ﷺ کی اتباع کا کامل نمونہ صحابہ کرامؓ ہیں۔ جب صحابہؓ کے دور میں
بھی جو اس امت کے بہترین افراد تھے، مختلف فقہی مسلک قائم رہے تو ظاہر ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی آمد ثانی پر بھی یہ مختلف پیرایہ عمل قائم رہیں گے۔ اس لیے کہ ان میں صرف افضل و مفضول کا فرق ہے۔۔۔۔ حق و باطل کا فاصلہ نہیں۔۔۔۔ حضور ﷺ کی اپنی سنن میں بہت وسعت تھی۔ اگر آپ کی ہر ادا امت کے مختلف طبقوں میں معمول بہ رہے اور آپ کی ہر سنت زندہ قائم ہو تو اس سے آپ کی شریعت پر کوئی حرف نہیں آتا۔ صحابہ کرامؓ بے شک معیار حق ہیں۔ حضرت عیسیٰ کی آمد ثانی پر اگر مختلف فقہی مسلک ایک ہو جائیں تو امت کا یہ نقشہ عمل پھر صحابہؓ کی ترتیب پر نہ ہوا۔ حضرت عیسیٰ کے طریق پر معمول بہ ٹھہرے گا اور یہ نہیں ہو سکتا۔ کیونکہ آپ تابع شریعت محمدیؐ ہوں گے اور ظاہر ہے کہ شریعت محمدی کے اصل علمبردار صحابہ کرامؓ ہیں۔ اس لیے انہی کا نقشہ عمل تاقیام عالم باقی رہے گا۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا پہلی نماز میں حضرت مہدی کی اقتداء کرنا اس طرف مشیر ہے کہ شریعت محمدی کی تفصیلات میں آپ صحابہ کرامؓ کے نقشہ عمل کی ہی تائید کریں گے اور فقہی مسالک میں وہی انداز عمل قائم رہے گا جو صحابہ کرامؓ کے دور میں تھا۔ یہ اور بات ہے کہ حضرت مسیح کا اپنا فقہی مسلک کسی امام کے اجتہاد سے توارد رکھتا ہو اور اس کے مطابق ہو اور یہ صحیح ہے کہ وہ حضرت امام ابو حنیفہؒ کے موافق ہو گا۔ واللہ اعلم وعلمہ اتم و احکم
(خالد محمود عفا اللہ عنہ)
تفہیمِ ختمِ نبوت اور
پہچانِ قادیانیت
علامہ خالد محمود
مولانا منظور احمد چنیوٹی
بسم اللہ
یہ ١٩٧٦ء کی بات ہے۔۔۔ سفیر ختم نبوت مولانا منظور احمد چنیوٹی اور وکیل ختم نبوت علامہ خالد محمود نے افریقہ کا تبلیغی دورہ کیا۔۔۔ ان کے اس طوفانی اور ایمانی دورے سے قادیانیوں کو دورے پڑنے لگے۔۔۔ افریقہ کی سرزمین‘ جسے قادیانیوں نے اپنی شکار گاہ بنا رکھا تھا‘ وہاں قادیانی لوگوں کی غصیلی اور تیکھی آنکھوں سے شکار ہونے لگے۔۔۔ قادیانیوں کا دجل و فریب طشت از بام ہونے لگا۔۔۔ قادیانی سازشوں کی گرہیں کھلنے لگیں۔۔۔ جھوٹی نبوت کا چہرہ آئینہ حقیقت میں دیکھا جانے لگا۔۔۔ نور اسلام اور ظلمت نبوت کاذبہ الگ الگ نظر آنے لگے۔۔۔ دونوں مجاہدین ختم نبوت نے مختلف مقامات پر عقیدہ ختم نبوت اور تردید قادیانیت کے موضوعات پر جلسوں اور کانفرنسوں سے خطاب کیا اور لیکچرز دیے۔ جلسوں‘ کانفرنسوں اور لیکچرز کے بعد سوال و جواب کی نشستیں ہوتی رہیں۔ طالبان علم سوالات کر کے اپنی علمی پیاس بجھاتے رہے اور اپنے دماغوں کی لائبریریوں میں معلومات کا ذخیرہ کرتے رہے۔ سوال و جواب کی یہ نشستیں فتنہ قادیانیت کے لیے مقتل بنتی رہیں اور وہاں قادیانیت کا رقص موت ہوتا رہا۔ سوال و جواب کی شمشیروں سے قادیانیت کے نجس وجود کے اعضاء کی قطع و برید ہوتی رہی۔ جوابات سن کر کچھ لوگ انگشت بدنداں رہ گئے۔۔۔ کچھ کی آنکھوں میں غیرت کی بجلیاں چمکیں‘ کچھ اپنے جہل پر خود کو کوسنے لگے اور کچھ صاحبان درد اپنے دل میں قادیانیت کو تہس نہس کرنے کی منصوبہ بندی کرنے لگے۔۔۔ یہ چشم کشا اور معلومات افزا سوال و جواب ان دونوں مجاہدین ختم نبوت کی مرتب کردہ کتاب ”دورہ افریقہ“ میں شائع ہو چکے ہیں۔ ان سوال و جواب کو مسلمانوں کے لیے انتہائی مفید سمجھتے ہوئے میں نے ان میں سے کچھ سوال و جواب کا انتخاب کر کے مسلمانوں کی خدمت میں پیش کرنے کا اہتمام کیا ہے۔ آپ انہیں پڑھئے‘ چشمان دل و دماغ سے پڑھئے۔ اور پھر فکر کی اتھاہ گہرائیوں میں جاکر سوچئے۔۔۔ کہ آپ نے اس زہر ناک فتنہ کے خلاف کیا کام کیا؟ اور کیا کام کرنا ہے؟ کیونکہ کسی شخص کا حضور خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے جتنا تعلق ہو گا‘ وہ تحفظ ختم نبوت کا اتنا ہی کام کرے گا!!!
خاکپائے مجاہدین ختم نبوت محمد طاہر رزاق
سوال نمبر ١: مرزا قادیانی نے سیاسی مصلحت اور ظاہر داری کے طور پر انگریزوں کو خوش کرنے کی کوشش کی ہوگی‘ اس لحاظ سے یہ بات صحیح بھی ہو سکتی ہے‘ ہم اسے کلیتہً تو غلط نہیں کہہ سکتے؟
جواب: مرزا غلام احمد مسیح موعود اور پیغمبر ہونے کا مدعی ہے‘ وہ کوئی سیاسی لیڈر نہیں کہ آپ اس کے بیانات کو ظاہر داری اور مصلحت وقت کہہ کر فارغ ہو جائیں۔ مرزا قادیانی نے انگریزوں کی جو تعریف کی وہ خدا کے نام پر کی ہے۔
یہ اس کی اصل کتابیں ہیں‘ دیکھ لیجئے اور ان حوالوں کا ترجمہ لکھ لیجئے۔ یہ مرزا قادیانی کی مختصر تحریر ہے۔
حضور گورنمنٹ عالیہ میں ایک عاجزانہ درخواست
اس میں مرزا قادیانی لکھتا ہے:
اول درجہ کا خیر خواہ گورنمنٹ انگریز کا ہوں‘ کیونکہ مجھے تین باتوں نے خیر خواہی میں اول درجہ پر بنا دیا ہے:
- اول والد مرحوم کے اثر نے
- دوم اس گورنمنٹ عالیہ کے احسانوں نے
- سوم خدا تعالیٰ کے الہام نے ۔ (”تریاق القلوب“ ضمیمہ ص٣)
پھر اس جگہ دیکھئے:
مسلمانوں کا فرض ہے جس کے ترک سے وہ خدا تعالیٰ کے گناہگار ہوں گے کہ اس گورنمنٹ کے سچے خیر خواہ اور دلی جان نثار ہو جائیں.... ان کا فرض ہے کہ اس گورنمنٹ محسنہ کے ناشکرگزار نہ بنیں اور نمک حرامی سے خدا کے گنہگار نہ ٹھہریں۔
(عاجزانہ درخواست‘ ص ب)
اس قسم کی تحریریں کسی مجبوری یا مصلحت کے تحت نہیں ہو سکتیں۔ مرزا قادیانی کی خانہ ساز نبوت انگریزوں کے حکم سے چلتی تھی۔
سوال نمبر ٢: انگریزوں کی یہ اطاعت صرف دنیوی امور کے لیے ہو سکتی تھی‘ دینی کاموں میں انگریزی حکومت کا کیا دخل ہو سکتا تھا؟
جواب: مذکورہ بالا عاجزانہ درخواست کی یہ عبارت بھی دیکھ لیجئے۔ یہ عاجز گورنمنٹ کے حکم سے ایک سال کے اندر ایک ایسا آسمانی نشان دکھلا دے جس کا مقابلہ کوئی قوم اور کوئی فرقہ جو زمین پر رہتے ہیں نہ کرسکے۔ (ایضاً ص ١) پیغمبروں کے معجزے بھی گورنمنٹ کے حکم سے ظاہر ہوں تو پھر کیسے کہا جاسکتا ہے کہ انگریزوں کی اطاعت صرف دنیوی امور کے لیے تھی۔
سوال نمبر ٣: کیا یہ نہیں ہوسکتا کہ مرزا قادیانی کا عقیدہ یہی ہو کہ حکومت وقت کی اطاعت فرض ہے، خواہ وہ غیر مسلم ہی ہو اور اسی لیے وہ انگریزوں کی حمایت کرتا ہو، یہ نہیں کہ وہ انگریزوں کا پولیٹیکل ایجنٹ ہو؟
جواب: اگر ایسا ہوتا جیسا کہ آپ کہتے ہیں تو مرزا قادیانی کا انگریزوں کی حمایت کا دائرہ صرف ہندوستان یا افریقہ میں ہوتا مگر امر واقع یہ ہے کہ مرزا قادیانی نے اسلامی ممالک میں بھی انگریزوں کے حق میں زبردست پراپیگنڈہ کیا اور عالمی سطح پر انگریزوں کی حمایت کی تبلیغ کرتا رہا۔ اس نے اس تبلیغ کے مشن دوسرے ممالک میں بھی قائم کر رکھے تھے۔ لیجئے! مرزا غلام احمد نے خود لکھا ہے:
بیس برس کی مدت سے میں اپنے دلی جوش سے ایسی کتابیں زبان فارسی، عربی، اردو اور انگریزی میں شائع کر رہا ہوں۔ یہ کتابیں میں نے اس ملک اور عرب و شام اور فارس اور مصر وغیرہ ممالک میں شائع کی ہیں۔ (عاجزانہ درخواست)
ان تصریحات سے یہ بات کھل کر سامنے آتی ہے کہ مرزا غلام احمد کی سرکار انگریزی کی خدمات صرف اس لیے نہ تھیں کہ وہ انگریزوں کو اپنا اولی الامر سمجھتا تھا اور حکومت وقت کی اطاعت فرض جانتا تھا، بلکہ اسے انگریزوں کے ایک پولیٹیکل ایجنٹ کے طور پر تمام دنیا میں برطانوی مفادات کی حفاظت کرنا ہوتی تھی۔
سوال نمبر ٤: قرآن شریف میں مسلمانوں کو کہا گیا ہے کہ اے اولاد آدم، تم میں پیغمبر آتے رہیں گے، تم ان کی سننا اور انہیں ماننا۔
جواب: نہیں! ہم مسلمانوں کو کہیں نہیں بتلایا گیا کہ تم میں انبیاء آتے رہیں گے۔ قرآن کریم میں ایک پچھلی بات نقل کی گئی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے جب حضرت آدم اور حوا کو
زمین پر بھیجا تو ان کی اولاد کو بشارت دی گئی کہ تم میں انبیاء آتے رہیں گے‘ یہ اس وقت کی حکایت ہے۔ قرآن کریم نے سورۃ البقرہ میں اسے نبوت کی بجائے ہدایت کہا ہے۔
اما یاتینکم منی ھدی
اور سورۃ اعراف میں یاتینکم رسل منکم کے الفاظ ہیں۔ سیاق و سباق بتلاتا ہے کہ یہ سب اس وقت کی حکایت ہے۔
سوال نمبر ٥: تو پھر اسے قرآن شریف میں کیوں لایا گیا ہے‘ یہ تو پچھلی بات تھی؟
جواب: تو کیا قرآن شریف میں پچھلی باتیں نہیں ہیں؟ وہ کیوں لائی گئیں‘ فرشتوں نے آدم کو سجدہ کیا اور ابلیس نے انکار کیا‘ کیا یہ پچھلی بات نہ تھی۔ کیا یہ قرآن مجید میں موجود نہیں؟ اس طرح سینکڑوں پچھلے واقعات قرآن کریم میں منقول ہیں۔ اللہ تعالیٰ جب اس امت کو کوئی حکم دیتے ہیں تو قرآن پاک کا اسلوب بیان یا ایھا الذین امنوا ہوتا ہے۔ سب لوگ مخاطب ہوں تو یا ایھا الناس سے خطاب ہوتا ہے اور ابتدائی دور میں کوئی بات کہی گئی ہے تو یبنی آدم سے شروع ہوتی ہے اور یہ اس دور کی حکایت ہوتی ہے۔
سوال نمبر ٦: حضور صلی اللہ علیہ وسلم پر نبوت ختم ہوچکی تو اب اس کی جگہ کون سا روحانی مقام ہے جو کسی انسان کو مل سکتا ہے؟
جواب: ختم نبوت کے بعد بھی خدا سے ہمکلامی کی کھڑکی کھلی ہے‘ یہ ولایت تامہ ہے جسے محدثیت کہتے ہیں۔ حضرت عمرؓ محدثیت کا مقام پا کر ولایت تامہ پر فائض تھے‘ خدا ان سے کلام کرتا تھا۔ مگر وہ نبی نہ تھے‘ محدث تھے۔ نبوت اور محدثیت کے درمیان غیر تشریعی نبوت کوئی درجہ ہوتا تو حضورؐ اسے ضرور بیان فرماتے۔ آپؐ نے ختم نبوت کا اعلان فرمایا‘ تو خلافت کو اس کے قائم مقام بتلایا اور اس خلافت پر واقعی وہ لوگ آئے جو خدا سے ہم کلامی کا شرف پاتے تھے‘ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے جانشین تھے۔
یہ دیکھو مرزا غلام احمد قادیانی بھی لکھتا ہے:
"بعد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کوئی نبی نہیں آسکتا اس لیے شریعت میں نبی کے قائم مقام محدث رکھے گئے ہیں"۔
(شھادۃ القرآن‘ ص ٢٨)
سوال نمبر ٧ : نبی اور محدث میں فرق کن کن باتوں میں ہے‘ محدث کو بھی نبی کہہ دیا جائے تو کیا حرج ہے‘ نام بدلنے سے کیا ہوتا ہے اگر کام وہی رہے؟
- جواب: ١- نبی اپنے منصب کا مدعی ہوتا ہے‘ لوگوں کو اپنے اس منصب کے تسلیم
کرنے کی دعوت دیتا ہے۔ محدث اپنے اس درجے کا دعویٰ نہیں کرتا‘ نہ لوگوں کو دعوت دیتا ہے کہ وہ اس کا محدث ہونا تسلیم کریں۔
- ٢- نبی کا ماننا فرض ہے‘ منکر اس کا کافر ہے۔ محدث کو ماننا فرض نہیں اور اس
کے محدث ہونے کا منکر کافر نہیں‘ ہاں پیغمبر کسی کو محدث کہہ دے تو اسے ماننا ضروری ہو جاتا ہے اور یہ بھی اس لیے کہ نبی نے بتلایا ہے اور نبی کی بات ماننا فرض ہے۔
- ٣- قبر میں یا آخرت میں کسی سے نہ پوچھا جائے گا کہ تیرے وقت میں محدث
کون کون تھا‘ ہاں یہ ضرور پوچھا جائے گا کہ تیرا نبی کون ہے؟
- ٤- انبیاء سے امتوں اور جماعتوں کا سلسلہ قائم ہوتا ہے لیکن محدث باقی امت
سے علیحدہ کوئی سلسلہ قائم نہیں کرتے‘ ان کو قانونی طور پر کوئی حقیقت حاصل نہیں ہوتی۔ مرزا غلام احمد کی یہ بات درست نہیں کہ شریعت میں نبی کے قائم مقام محدث رکھے گئے۔ ہاں یوں کہہ سکتے ہیں کہ حکمت ایزدی یوں ہوئی کہ انبیاء کے بعد محدث خدا سے شرف ہم کلامی پائیں۔
- ٥- نبی کی بات قانونی درجہ رکھتی ہے۔ اس پر اسلام کا عمل اور فقہ مرتب ہوتی
ہے۔ محدث سے خدا کی بات کسی تشریع اور قانون سے متعلق نہیں ہوتی‘ اسرار و حکم پر مشتمل ہوتی ہے۔ اسے قانونی درجہ حاصل نہیں ہوتا۔ حضرت عمرؓ پر نماز کی حالت میں جنگ کے نقشے کھولے جاتے تھے‘ تو یہ بات اسرار خداوندی میں سے تھی‘ اسے اسلام میں قانون کا درجہ حاصل نہیں ہوگا۔
سوال نمبر ٨ : حضرت عیسیٰؑ کے دوبارہ آنے کا عقیدہ کیا ایمان کا جزو ہے یا اسے محض ایک قیامت کی علامت کے طور پر ذکر کیا گیا ہے؟
جواب: یہ عقیدہ ایمانیات میں سے ہے۔ صحیح مسلم میں نزول عیسیٰؑ بن مریم کی روایت کتاب الایمان میں لکھی گئی ہے۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ محدثین اسے ایمان کا جزو
سمجھتے تھے۔ یہ صحیح ہے کہ حضرت عیسیٰؑ کی آمد ثانی علامت قیامت میں سے ہے، لیکن اس پر ایمان لانا بھی ضروری ہے۔
سوال نمبر٩: نزول عیسیٰ بن مریمؑ کی روایت خبر واحد ہے یا خبر متواتر ہے، جس پر ایمان لانا ضروری ہے؟
جواب : نزول عیسیٰ بن مریمؑ کی روایت خبر متواتر ہے۔ ہر دور میں اسے اتنے راویوں نے روایت کیا ہے کہ اس میں جھوٹ کا کوئی احتمال نہیں رہتا۔ دیوبند کے جلیل القدر محدث مولانا انور شاہ صاحب کشمیریؒ نے نزول مسیحؑ کی تقریباً تمام روایات التصریح بما تواتر فی نزول المسیحؑ میں جمع کر دی ہیں، جن کا حاصل تواتر اور یقین ہے۔
سوال نمبر١٠: ان آیات میں کہیں یہ ثابت ہے کہ وہی مسیح ناصری دوبارہ تشریف لائیں گے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے ہو گزرے ہیں، اور جنہیں انجیل دی گئی تھی؟
جواب : ہاں وہی عیسیٰ بن مریم قرب قیامت میں تشریف لائیں گے جو حضورؐ سے پہلے بھی ہو گزرے ہیں۔ انہی کے نزول پر امت کا اجماع ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے بارے میں فرمایا تھا لم یکن بینی و بینہ نبی یعنی میرے اور اس کے مابین اور کوئی نبی نہیں ہوا۔ اور پھر فرمایا و انہ نازل۔ اسی نے نازل ہونا ہے۔ مثیل مسیحؑ کا عقیدہ غلط ہے اور ایک علیحدہ بات ہے، اپنے لیے راہ بنانے کی ایک غلط کوشش ہے۔
سوال نمبر١١: حضرت عیسیٰؑ جب دوبارہ آئیں گے تو نبی ہوں گے یا امتی ہوں گے؟
جواب : حضرت عیسیٰؑ اللہ کے نبی تھے۔ اللہ تعالیٰ کسی کو نبوت دے کر اس سے چھینتے نہیں۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام اپنی دوسری آمد میں بھی نبی ہوں گے لیکن ان کی نبوت یہاں نافذ نہ ہوگی، نہ ان کی شریعت کا کوئی حکم یہاں چلے گا۔ یہ دور، دور محمدیؐ ہے۔ پس حضرت عیسیٰؑ امتی ہو کر آئیں گے۔ دن کے وقت چراغ روشن ہو، وہ چراغ تو ہوگا لیکن اس کی روشنی نافذ نہ ہوگی۔ ضیائے آفتاب کے سامنے اس کی روشنی کا نفوذ کیسے ہو سکے گا؟ حضرت عیسیٰ علیہ السلام اپنی آمد ثانی میں نبی تو ہوں گے لیکن نہ نبی کی حیثیت سے پیش ہوں گے، نہ امتی نبی کی حیثیت سے بلکہ محض امتی ہو کر آئیں گے۔ کہیں نبی ہونے
کا دعویٰ نہ کریں گے۔
سوال نمبر ١٢: اگر وہ امتی ہو کر آئیں گے اور قرآن و حدیث کے مطابق عمل کریں گے تو قرآن و حدیث کی تعلیم کہاں سے پائیں گے؟
جواب: جہاں سے انہوں نے تورات و انجیل کی تعلیم پائی، وہیں سے انہیں کتاب و سنت کی تعلیم ملے گی۔ ان کی والدہ حضرت مریم کو پہلے سے خبر دی گئی تھی کہ ان کے ہاں جو بچہ پیدا ہوگا، اللہ تعالیٰ اسے کتاب و سنت اور تورات و انجیل چاروں کی تعلیم دیں گے۔
سوال نمبر ١٣: قرآن کریم میں یہ کہاں لکھا ہے؟
جواب: تیسرے پارے میں سورۂ آل عمران میں لکھا ہے ويعلمہ الکتاب والحكمہ و التوراۃ والانجیل (اور سکھائے گا اللہ اسے کتاب و سنت اور تورات اور انجیل، اور وہ رسول ہوگا، صرف بنی اسرائیل کی طرف) قرآن کریم کے محاورے میں کتاب و حکمت سے مراد قرآن و حدیث ہوتے ہیں، قرآن کریم میں یہ الفاظ کئی جگہ انہی معنوں میں آئے ہیں۔
سوال نمبر ١٤: آخر دور میں جس مسیح کے آنے کی خبر دی گئی ہے، اس کی بڑی نشانی کیا ہوگی؟ تاکہ اس کے بارے میں کسی قسم کا کوئی تردد نہ رہے۔
جواب: اس کی بڑی علامت یہ ہوگی کہ اس کے آنے پر جنگوں کا خاتمہ ہو جائے گا، ظلم باقی نہ رہے گا۔ شیر اور بکری ایک گھاٹ پر پانی پئیں گے۔ کفر دنیا میں باقی نہ رہے گا۔ جب کفر ہی دنیا سے جاتا رہے تو جہاد کی ضرورت ہی نہ رہے گی۔ صحیح بخاری میں حضرت عیسیٰؑ کے بارے میں لکھا ہے ويضع الحرب اور وہ جنگوں کا خاتمہ کرے گا۔
یہ دیکھئے مرزا قادیانی کی کتاب ”تحفہ گولڑویہ“ ہمارے پاس موجود ہے۔ شاعر قادیان لکھتا ہے:
کیا یہ نہیں، بخاری میں دیکھو تو کھول کر
فرما چکا ہے سید الکونین مصطفیٰؐ
جب آئے گا تو صلح کو وہ ساتھ لائے گا
جنگوں کے سلسلہ کو وہ یکسر مٹائے گا
مرزا غلام احمد اپنے آپ کو مسیح موعود کہتا رہا۔ اس کی جماعت کے دونوں گروپ قادیانی اور لاہوری اسے مسیح موعود مانتے ہیں۔ کیا مرزا قادیانی کے آنے پر لڑائیاں ختم ہوگئیں؟ کیا دنیا کے ایسے حالات ہوگئے کہ سب قومیں شیر و شکر ہو جائیں اور شیر و بکری ایک ہی گھاٹ پر پانی پیئیں۔
ستم ظریفی دیکھئے کہ دنیا کی بڑی بڑی جنگیں اسی فرضی مسیح موعود کے آنے کے بعد ہی لڑی گئیں۔ مرزا قادیانی کی وفات ١٩٠٨ء میں ہوئی۔ ١٩١٤ء میں پہلی جنگ عظیم شروع ہوئی اور ١٩٣٩ء میں دوسری جنگ عظیم۔ پاکستان اور ہندوستان میں بھی دو دفعہ جنگ ہو چکی ہے۔ قادیان سے ربوہ کی طرف اور ربوہ سے قادیان کی طرف بم جاتے رہے۔ مصر اور اسرائیل کے مابین بھی دو دفعہ جنگ ہوئی۔ مسیح موعود پر جنگوں کے خاتمے کا کیا عجب نشان ہے؟ کچھ تو سوچو۔
سوال نمبر ١٥ : مسیح موعود کی اور کوئی نمایاں علامت کیا ہوگی، جس کے عالمی اثرات ہوں اور ہر کوئی انہیں دیکھ سکے؟
جواب: حضرت عیسیٰؑ کے نازل ہونے پر یہود و نصاریٰ کی شوکت جاتی رہے گی۔ مرزا غلام احمد کے آنے پر یہودیوں کی شوکت مزید قائم ہوئی۔ پہلے ان کی کہیں حکومتیں نہ تھیں۔ اب ان کی باقاعدہ سلطنت قائم ہوئی۔ امریکہ جس کا سرکاری مذہب عیسائی ہے، وہ ایک عالمی طاقت بن گیا اور سوائے برطانیہ کے جسے مرزا صاحب خدا کا سایہ رحمت کہتے رہے، ہر عیسائی قوت پہلے سے مضبوط ہوگئی۔ یہود و نصاریٰ میں اتحاد ہو گیا۔
یہ حالات بتا رہے ہیں کہ ابھی مسیح بن مریم نہیں آئے۔ ان کے آنے پر دونوں قوموں کا خاتمہ ہو جائے گا اور دونوں قومیں حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر ایمان لا کر مسلمان ہو جائیں گی۔
سوال نمبر ١٦ : یہ کہاں لکھا ہے کہ دونوں قومیں حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر ایمان لے
آئیں گی؟
جواب : قرآن کریم میں لکھا ہے : و ان من اهل الكتاب الا ليؤمنن به قبل موته (سورۃ النساء) (یعنی اہل کتاب میں سے کوئی نہ ہوگا مگر یہ کہ حضرت عیسیٰؑ پر ان کی موت سے پہلے ضرور ایمان لے آئے گا)۔
سوال نمبر ١٧: اس کے علاوہ مسیح موعود کے آنے کا نشان کیا ہوگا؟
جواب : مسیح موعود کے آنے پر دنیا میں مکمل امن و امان ہو جائے گا۔ کوئی کسی پر ظلم نہ کر سکے گا۔ عدالتوں میں کیس نہیں جائیں گے اور دنیا امن کا گہوارہ بن جائے گی۔ بچے سانپوں سے کھیلیں گے اور وہ انہیں نہ ڈسیں گے۔ مرزا غلام احمد خود بھی لکھتا ہے‘ یہ ہے ”تحفہ گولڑویہ“ دیکھئے:
کھیلیں گے بچے سانپوں سے بے خوف و بے گزند
یعنی وہ وقت امن کا ہوگا‘ نہ جنگ کا
بھولیں گے لوگ مشغلہ تیر و تفنگ کا
سوال نمبر ١٨: مسیح کی اور کھلی پہچان کیا ہوگی؟
جواب : حضرت عیسیٰ علیہ السلام دوبارہ تشریف لائیں گے تو حج ضرور کریں گے۔ یہ نہیں ہوگا کہ وہ حرم شریف حاضر نہ ہو سکیں اور مکہ آنے پر اپنے آپ کو خطرے میں سمجھیں۔
حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے تو یہاں تک فرمایا کہ وہ فجّ روحاء کے مقام سے حج یا عمرہ کا احرام باندھیں گے‘ یا دونوں احرام باندھیں گے۔ یہ حدیث صحیح مسلم میں موجود ہے۔
سوال نمبر ١٩: مرزا غلام احمد نے کتنے حج کیے تھے؟
جواب : مرزا غلام احمد نے ایک حج یا ایک عمرہ بھی نہ کیا۔ جب بھی کہا جاتا کہ تم حج کیوں نہیں کرتے‘ تم کیسے مسیح موعود ہو؟ تو مرزا قادیانی کہتا کہ وہاں اسلامی حکومت ہے‘ وہ مجھے زندہ نہ چھوڑیں گے۔ اس لیے میں حج کے لیے نہیں جاسکتا۔
سوال نمبر ٢٠: نبوت اللہ تعالیٰ کی طرف سے بہت بڑی نعمت ہے۔ آپ بتائیں کہ اللہ تعالیٰ نے اولاد آدم پر اپنی یہ نعمت ختم کیوں کر دی۔ اولاد آدم نے کیا غلطی کی کہ یہ سلسلہ بند ہو گیا۔ قادیانی اس سلسلے کو جاری سمجھتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ اللہ کی نعمتیں بند نہیں ہوا کرتیں؟
جواب: آپ ان قادیانیوں سے پوچھیں کہ تشریعی نبوت (جس میں پیغمبر نئی شریعت لے کر آتے ہیں) وہ بھی اللہ تعالیٰ کی نعمت تھی یا نہ؟
اگر واقعی نعمت تھی تو اولاد آدم نے کیا غلطی کی تھی کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی اس نعمت کو ان پر ختم کر دیا؟
قادیانی بھی تو تشریعی نبوت کو حضور صلی اللہ علیہ وسلم پر ختم مانتے تھے۔ جو جواب ان کا ہوگا‘ وہی جواب آپ ہماری طرف سے سمجھ لیں کہ نبوت اللہ کی نعمت ہے تو یہ سلسلہ بند کیوں ہو گیا؟
بات دراصل یہ ہے کہ نبوت کا ملنا اور بات ہے اور نبوت اور چیز ہے۔ جو نعمت ہے‘ وہ نبوت ہے۔ نبوت کا ملنا ختم ہوا ہے‘ نبوت ختم نہیں ہوئی۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت قیامت تک باقی ہے اور اللہ نے اولاد آدم پر اپنی یہ نعمت ختم نہیں کی۔ جو چیز ختم ہوئی‘ وہ نبوت کا ملنا ہے‘ نبوت نہیں۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کسی کو نبوت ملے گی نہیں۔ لا نبی بعدی کے معنی محدثین یہی بیان کرتے ہیں۔ لا یحدث نبی بعدی یعنی میرے بعد کوئی نبی پیدا نہ ہوگا۔
سوال نمبر ٢١: پہلے پیغمبروں کے بعد جب نبی آتے رہے تو حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کیوں ان کی ضرورت نہیں؟
جواب: پہلے پیغمبروں کی شریعت ابدی نہ تھی۔ یعنی ہمیشہ رہنے والی نہ تھی۔ اس کی حفاظت کوئی آسمانی وعدہ نہ تھا۔ تورات کی حفاظت کے ذمہ دار ان کے علماء تھے اور وہی تورات کے نگہبان تھے۔ خدا تعالیٰ نے پچھلی کتابوں کی حفاظت اپنے ذمہ نہ لی تھی۔ علماء بنی اسرائیل نے جب اپنی ذمہ داریوں کو ڈھیلا کر لیا تو آسمانی کتابیں تحریف کا شکار ہو گئیں۔ لوگ اپنے ہاتھوں باتیں لکھ کر کہہ دیتے تھے کہ یہ خدا کی طرف سے ہے۔
پس ضرورت تھی کہ تورات کے بعد ان انبیاء کی آمد باقی رہتی جو تحریفات دین کو رد کر کے صحیح تعلیمات سماویہ کی نصرت کرتے۔ لیکن قرآن کریم کی ابدی حفاظت خدا تعالیٰ نے اپنے ذمہ لے رکھی تھی۔ قرآن کریم اپنی عبارت اور اپنے مفہوم و معنی کے لحاظ سے ہمیشہ تک کے لیے محفوظ ہے۔ پس آپ کے بعد کسی نئے نبی کی ضرورت نہ تھی۔ آپ ہی قیامت تک کے لیے پیغمبر قرار پائے۔ آپؐ نے فرمایا کہ میں اور قیامت دو انگلیوں کی طرح ایک دوسرے سے متصل ہیں۔
سوال نمبر ٢٢: جو پیغمبر نئی شریعت نہ لاتے تھے‘ پہلی شریعتوں کے تابع ہوتے تھے۔ ان کا بڑا کام کیا ہوتا تھا؟
جواب: وہ اپنی قوم میں شریعت کے احکام بیان کرتے‘ جو ان میں ملاوٹ ہوتی‘ اسے دور کرتے اور شریعت کے فیصلے نافذ کرتے‘ قوم کی سیاسی اور عملی رہنمائی ان کے ذمہ تھی۔
سوال نمبر ٢٣: یہ تو درست ہے کہ وہ احکام شریعت بیان کرتے ہوں گے۔ لیکن اس کا کیا ثبوت ہے کہ وہ ان احکام کو نافذ کرتے تھے۔ سیاست تو انبیاء کا کام نہیں؟
جواب: قرآن مجید میں ہے: انا انزلنا التوراة فيها هدی و نور يحكم بها النبيون ترجمہ: ہم نے تورات اتاری جس میں ہدایت اور نور تھا۔ بعد کے نبیؑ اس کے مطابق فیصلے کرتے رہے۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ وہ فیصلے دینے کے اختیارات رکھتے تھے اور اصحاب اقتدار تھے۔ حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک حدیث میں ان کے اس کام کو سیاست کے لفظ سے ذکر کیا ہے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: كانت بنو اسرائیل تسوسهم الانبياء یعنی بنی اسرائیل کا نظام انبیاء ہی چلاتے تھے۔ یہاں نظام چلانے کو لفظ سیاست سے ذکر کیا ہے‘ یہ حدیث پختہ اور صحیح ہے۔
سوال نمبر ٢٤: کیا یہ درست ہے کہ سچے خواب آنا بھی نبوت کی ایک قسم ہے اور یہ
قسم جاری ہے تو نبوت ہر طرح سے ختم نہ ہوئی۔ ایک قسم پھر بھی تو جاری رہی؟
جواب : سچے خواب آنا نبوت کی کوئی قسم نہیں اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد نبوت کی کوئی قسم جاری نہیں۔ ہاں سچے بشارتی خواب نبوت کا ایک جزو ہیں لیکن وہ نبوت کی کوئی قسم نہیں ہوتے۔ حدیث میں صاف لفظوں میں مبشرات کو جزو کہا ہے۔ پس یہ نبوت کی کوئی قسم نہیں۔ سالن میں نمک اچار کا جزو ہے لیکن اچار کی کوئی قسم نہیں‘ سالن میں نمک کم ہو تو کوئی نہیں کہتا کہ اچار کم ہے۔ نہ کوئی یہ کہتا ہے کہ اچار پہاڑوں سے نکلتا ہے۔ حالانکہ نمک پہاڑوں سے نکلتا ہے۔
سوال نمبر ٢٥ : اسلام میں وہ کون سا معیار ہے جس کے مطابق ہم کسی کے مسلمان یا کافر ہونے کا فیصلہ کر سکیں؟ کیا درست نہ ہوگا کہ جس کے ظاہری اعمال مسلمانوں جیسے ہوں‘ اسے ہم مسلمان سمجھیں؟
جواب : کسی کے مسلمان ہونے کا فیصلہ اس کے اعمال سے نہیں بلکہ اس کے عقیدہ کی رو سے کرنا چاہیے۔ اعمال عقائد کے تابع ہیں۔
اسلام کیا ہے؟
حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو خدا کا رسول برحق مان کر آپ کی تمام تعلیمات کو برحق تسلیم کرنا اور ان میں سے کسی کا انکار نہ کرنا اسلام ہے اور ان میں سے کسی ایک بات کا انکار بھی کفر ہے۔ اسلام کے لیے تو سب کا اقرار ضروری ہے۔ لیکن کفر کے لیے سب کا انکار ضروری نہیں ہے۔ اسلام کی کسی ایک یقینی بات کے انکار سے بھی انسان کافر ہو جاتا ہے۔
اسلام کا یہی معیار ہے جس پر کسی کے عقائد پرکھ کر اس کے مسلمان یا کافر ہونے کا فیصلہ کیا جاسکتا ہے۔ قادیانی اس اصول پر اسلام سے خارج ہیں کہ وہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو رسول برحق مان کر آپ کی قطعی الثبوت تعلیم کا انکار کرتے ہیں کہ آپ کے بعد کسی قسم کا کوئی سچا نبی پیدا نہ ہوگا۔ اس بات کا انکار اسلام کا انکار ہے اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ہر بات میں سچا ہونے کا انکار ہے اور غور کیا جائے تو یہ دراصل حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کا ہی انکار ہے۔ اسلام کے قطعی عقیدہ ختم نبوت کے
یہ لوگ (قادیانی) منکر ہیں۔
سوال نمبر ٢٦: مسلمان ہونے کے لیے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی تمام باتوں کا تسلیم کرنا شرط ہے۔ صرف آپؐ کی رسالت کا اقرار کافی نہیں، یہ کہاں لکھا ہے اور اس کا کیا ثبوت ہے؟
جواب: لیجئے یہ قرآن کریم سورۃ النساء میں ہے:
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
فلا وربک لا یومنون حتی یحکموک فیما شجر بینھم
تیرے رب کی قسم وہ کبھی مسلمان نہیں ہو سکتے جب تک تجھے اپنے ہر اختلاف میں حکم نہ مان لیں۔
اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم بھی فرماتے ہیں:
حتی یومنوبی و بما جئت بہ یعنی لوگ اس وقت تک واجب قتال ہیں جب تک وہ مجھ پر اور میری سب تعلیمات پر ایمان نہ لے آئیں۔
قرآن و حدیث کا یہ فیصلہ بہت واضح ہے۔ یہ حدیث صحیح مسلم میں موجود ہے۔
جہاں تک فقہ کا تعلق ہے، امام محمدؒ (١٨٩ھ) کی عبارت بہت واضح ہے، فرماتے ہیں:
من انکر شیئا من شرائع الاسلام فقد ابطل قول لا الہ الا اللہ
یعنی جس نے اسلام کی ایک بنیادی بات کا انکار کر دیا، اس نے اپنے کلمہ پڑھنے کو ضائع کر دیا۔ وہ اب حکماً کلمہ گو نہیں رہا اور مسلمان نہیں ہے گو زبان سے کلمہ اسلام کا دعویٰ کرے۔
سوال نمبر ٢٧: تو پھر الزامات کی بناء پر اختلاف کرنے والے ایک دوسرے کو کافر کیوں کہتے ہیں؟
جواب: وہ صرف الزاماً کافر کہتے ہیں، تحقیقاً نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جو حقیقتاً کافر ہیں، ان کے مقابلہ میں یہ سب ایک ہو جاتے ہیں۔ کیا یہ امر واقعہ نہیں؟
پاکستان کی پہلی تحریک ختم نبوت میں سب فرقوں نے مولانا ابو الحسنات بریلوی کو اور دوسری تحریک ختم نبوت میں سب نے محدث العصر مولانا محمد یوسف بنوری دامت
برکاتہم کو اپنا قائد بنایا ہوا تھا۔ حالانکہ بریلوی اور دیوبندی دونوں ایک دوسرے پر الزام لگاتے تھے کہ وہ ختم نبوت کے منکر ہیں مگر دونوں کو یہ بھی پتہ تھا کہ یہ ایک الزام ہے، اختلاف نہیں۔ کیونکہ علماء دیوبند ختم نبوت زمانی کے منکر کو برملا کافر کہتے تھے۔
سوال نمبر ٢٨ : کیا ہم ثابت کر سکتے ہیں کہ وہ محض الزاماً دوسروں کو کافر کہتے ہیں، حقیقتاً انہیں کافر نہیں سمجھتے؟
جواب : پاکستان اور ہندوستان میں علماء دیوبند اور بریلوی کے درمیان خوب معرکہ آرائی رہی لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ دیوبندی، بریلوی کے مابین آج تک کوئی نکاح اختلاف عقیدہ کی وجہ سے کسی عدالت میں فسخ نہیں ہوا۔ نماز جنازہ، تعزیت اور ایصال ثواب میں لوگ ایک دوسرے کے ساتھ شامل ہو جاتے ہیں لیکن مسلمانوں اور قادیانیوں کے درمیان نکاح نہ صرف پاکستان کی عدالتوں میں فسخ ہوئے، بلکہ متحدہ ہندوستان میں بھی جب کہ وہاں انگریزوں کی حکومت تھی اور وہ قادیانیوں کے مربی اور سرپرست تھے۔ ایسے نکاح فسخ ہوتے رہے کیونکہ یہاں حقیقی طور پر کفر و اسلام کا فاصلہ تھا۔ اس مختلف طرز عمل سے پتہ چلتا ہے کہ ایک تکفیر محض الزاماً ہے جو کبھی بروئے کار نہ آسکی۔ نہ کسی عدالت میں اپنا آپ منوا سکی اور دوسری تکفیر تحقیقاً تھی، جس کا ہر اپنے پرائے کو اقرار کرنا پڑا۔
سوال نمبر ٢٩ : قادیانیوں سے ہمارا اختلاف حقیقی ہے۔ یہ سمجھ میں آگیا لیکن ان کی لاہوری جماعت سے ہمارا کیا اختلاف ہے؟ کیا یہ محض الزامی اختلاف نہیں کہ ہم تو ان پر انکار ختم نبوت کا دعویٰ کریں اور وہ خود اس کا انکار کریں؟
جواب : مرزائیوں کی لاہوری جماعت سے ہمارا اختلاف گو ختم نبوت کے موضوع پر نہ ہو لیکن ہمارا ان سے مسیح موعود کے موضوع پر اختلاف یقیناً حقیقی ہے۔ ہم یقینی طور پر جانتے ہیں کہ مرزا غلام احمد مسیح موعود نہیں اور لاہوری یقینی طور پر مرزا غلام احمد کو مسیح موعود سمجھتے ہیں۔ یہ اختلاف حقیقی ہو گیا۔ محض الزامی نہ رہا۔ ہمارے اس یقین کی بنیاد قرآن کریم، احادیث متواترہ اور چودہ سو سال کا فہم امت ہے۔ لاہوری مرزائی ہم سے اس مسئلے میں اختلاف کر کے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ان تعلیمات کا یقینی انکار کر
رہے ہیں جو آپ نے نزول عیسیٰ بن مریم کے بارے میں امت کو دی ہیں۔ اب ان کے انکار کو محض خطا یا فروعی اختلاف نہیں کہا جاسکتا۔ بلکہ یہ تکذیب پیغمبر کو لازم ہے۔ پس جس طرح قادیانی دائرہ اسلام سے خارج ہیں۔ اسی طرح ان کا لاہوری گروپ بھی یقیناً اسلام سے باہر ہے۔
سوال نمبر ٣٠ : کیا یہ درست ہے کہ اس امت میں ہر سو سال کے بعد ایک مجدد پیدا ہوتا ہے؟
جواب : ہاں حدیث میں موجود ہے کہ اللہ تعالیٰ اس امت کے لیے ہر صدی کے سر پر ایسے لوگ بھیجتے ہیں جو دین کی تجدید کرتے ہیں اور غیر دین کی جو باتیں دین میں شامل کرلی گئی ہوں‘ ان سے دین کو پاک کرتے ہیں۔ لیکن یہ تصریح کہیں نہیں کہ ایک صدی میں صرف ایک ہی مجدد ہوتا ہے۔ ایک صدی میں کئی مجدد بھی آسکتے ہیں۔
سوال نمبر ٣١ : حضرت عیسیٰ اور مہدی ایک ہی شخص کا نام ہوگا یا ان ناموں اور اوصاف کے دو علیحدہ علیحدہ شخص ہوں گے؟
جواب : وہ علیحدہ علیحدہ شخصیتیں ہوں گی۔ امام مہدی اس امت میں پیدا ہوں گے اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام آسمان سے نازل ہوں گے۔ یہ وہی ابن مریم ہوں گے جو حضورؐ سے پہلے کے نبی تھے اور اب حضورؐ کے امتی ہو کر آئیں گے اور حضورؐ کی شریعت کے مطابق عمل کریں گے۔ پہلی نماز میں حضرت مہدی امام ہوں گے اور حضرت عیسیٰ ان کی اقتداء کریں گے۔ یہ ان کا حضورؐ کے ماتحت ہونے کا نشان ہوگا۔
سوال نمبر ٣٢ : امام مہدی کے ظہور کی بڑی نشانی کیا ہوگی؟
جواب : بڑی نشانی یہ ہوگی کہ وہ صاحب الامر ہوں گے‘ حاکم وقت ہوں گے‘ سیاست پر ان کا قبضہ ہوگا۔ وہ دنیا کو عدل و انصاف سے اس طرح بھردیں گے جس طرح پہلے یہ ظلم سے بھری ہوگی۔ جو شخص خود انگریزوں کے ماتحت ہو‘ اور جس کو زندگی بھر ایک لمحہ کے لیے آزادی کی ہوا نہ لگی ہو‘ وہ مہدی کیسے ہو سکتا ہے اور دنیا میں امن کیسے قائم کر سکتا ہے۔ کچھ تو سوچو۔
اس کے بعد امام مہدی کے لیے چاند گرہن اور سورج گرہن کی گفتگو چلی۔
علامہ صاحب نے فرمایا کہ ایسا پہلے بھی کئی دفعہ ہوچکا ہے۔ یہ غلط ہے کہ یہ دونوں گرہن اس طرح صرف مرزا قادیانی کی زندگی میں ہی لگے تھے۔ پہلے بھی کئی دفعہ لگ چکے ہیں۔ یہ بھی بتایا کہ مہدی کے لیے اس طرح گرہن لگنا حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی کسی حدیث میں وارد نہیں۔ نہ یہ کسی صحابیؓ کا قول ہے کہ مہدی کی علامت یہ دو گرہن ہوں گے۔ قادیانی اسے غلط طور پر حضورؐ کی حدیث بتاتے ہیں۔
سوال نمبر ٣٣ : خدا نے اگر نبوت کو ختم فرما دیا ہے تو حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد اب انبیاء کا بدل کیا ہے۔ انبیاء کی بجائے کون ہوں گے؟
جواب : حضورؐ کے بعد نبوت کا دروازہ ہمیشہ کے لیے بند ہے۔ آپؐ کے بعد نبوت کی جگہ خلافت ہے۔ نبوت اور خلافت کے درمیان اگر غیر تشریعی نبوت کوئی درجہ ہوتا تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ختم نبوت کے اعلان کے ساتھ غیر تشریعی نبوت کو اس کے قائم مقام بتاتے۔ مگر آپؐ نے ختم نبوت کے اعلان کے ساتھ خلافت کو اس کے قائم مقام بتلایا۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں۔ لیکن خلفاء ہوں گے۔ تم پہلے اور دوسرے خلیفہ کے وفادار رہنا۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ ختم نبوت کے بعد غیر تشریعی نبوت کا کوئی سلسلہ جاری نہیں۔ حضورؐ نے ان انبیاء کا ذکر کر کے جو تورات کے تابع تھے، خود نئی شریعت نہ لائے تھے، اعلان فرمایا لا نبی بعدی یعنی میرے بعد کوئی نبی نہیں اور ساتھ ہی فرمایا کہ اب خلفاء ہوا کریں گے۔ اس سیاق و سباق سے پتہ چلتا ہے کہ حضورؐ کے بعد غیر تشریعی انبیاء جو قرآن کے تابع ہو کر نبوت کریں۔ ہر گز نہ ہوں گے بلکہ ان کی بجائے خلفاء ہوں گے اور وہ راشدین ہوں گے۔ آخری دور میں بھی خلافت ہی ہوگی اور مہدی کی خلافت پر دنیا کا خاتمہ ہوگا۔
سوال نمبر ٣٤ : حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد اگر ہر طرح سے نبوت کا دروازہ بند ہے تو حضرت بی بی عائشہؓ کیوں کہتی ہیں ”یہ نہ کہو کہ آپؐ کے بعد کوئی نبی نہیں؟“
جواب : ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہؓ نے اگر ایسا کہا تو اس لیے کہا کہ حضورؐ کے بعد ایک پچھلے نبی (عیسیٰؑ بن مریم) کی آمد ثانی کا انکار نہ ہو کیونکہ یہ بات اسلام میں
متواتر روایات سے ثابت ہے کہ قیامت کے قریب حضرت عیسیٰ بن مریم نازل ہوں گے۔ وہ چونکہ حضورؐ سے پہلے کے نبی ہیں اس لیے ان کے آنے سے ختم نبوت کی مہر نہیں ٹوٹتی۔ پچھلا نبی ایک کیا‘ سارے بھی آجائیں تو ختم نبوت کا اصول اپنی جگہ قائم رہتا ہے۔ مسلمان عقیدہ رکھتے ہیں کہ معراج کی رات پچھلے سب انبیاءؑ مسجد اقصیٰ میں آئے اور حضورؐ کے پیچھے نماز پڑھی۔ اس کے باوجود سب مسلمانوں کا عقیدہ ہے کہ حضورؐ کے بعد کوئی نبی پیدا نہ ہوگا۔
سوال نمبر ٣٥ : آپ احمدیوں کے لیے ہمیشہ قادیانی یا مرزائی کا لفظ استعمال کرتے ہیں۔ معلوم ہوتا ہے کہ آپ احمدی کے لفظ سے جان بوجھ کر گریز کرتے ہیں‘ کیا یہ درست ہے؟
جواب : ہاں! ہم انہیں احمدی کہنا ناجائز سمجھتے ہیں۔ انہیں احمدی کہنا اس الحاد اور تحریف قرآن کی تائید کرنا ہے‘ جو مرزا غلام احمد نے اس لفظ کے بارے میں اختیار کی تھی۔ قرآن کریم کی رو سے احمد ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا نام ہے۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے اپنے سے پہلے نبی حضرت موسیٰ علیہ السلام کی تصدیق کی اور آئندہ آنے والے نبی ”احمد“ کی بشارت دی۔ ہمارا اعتقاد ہے کہ وہ احمد ہمارے نبی کریمؐ ہیں۔ قرآن کریم پ ٢٨ سورۂ صف میں ہے: اذ قال عیسی بن مریم یبنی اسرائیل انی رسول اللہ الیکم مصدقا لما بین یدی من التوراة و مبشرا برسول یاتی من بعدی اسمہ احمد فلما جاءھم بالبینات قالوا ھذا سحر مبین
ترجمہ : جب عیسیٰ‘ مریم کے بیٹے نے کہا اے بنی اسرائیل میں بھیجا ہوا ہوں اللہ کا تمہاری طرف‘ تصدیق کرنے والا ہوں تورات کی جو مجھ سے آگے ہے اور خوشخبری دیتا ہوں ایک رسول کی جو میرے بعد آئے گا اس کا نام احمد ہوگا‘ پھر جب آیا ان کے پاس نشانیاں لے کر تو انہوں نے کہا یہ تو کھلا جادو ہے۔
صحیح بخاری میں ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
انا محمد و انا احمد و انا العاقب (الحدیث)
میں محمد ہوں‘ میں احمد ہوں اور میں عاقب ہوں۔
اور عاقب وہ ہے جس کے بعد کوئی آنے والا نہ ہو۔ یہ روایت تواتر کے درجے
تک پہنچتی ہے۔ پس قرآن و حدیث کی رو سے احمد ہمارے نبی کا نام ہے اور احمدی ہم ہیں جو حضورؐ کی امت ہیں۔
قادیانی متنبی کا نام تھا ”غلام احمد“۔ ”احمد“ اس کا نام نہ تھا۔ اس نے تحریف کر کے اپنا نام ”احمد“ رکھ لیا اور اپنے آپ کو حضرت عیسیٰؑ کی بشارت کا مصداق قرار دے دیا اور اس کے مطابق اپنے ماننے والوں کا نام اس نے ”احمدی“ رکھا۔ آپ نے دیکھا کہ ان کے احمدی کہلانے میں کتنی تحریفات ہیں اور قرآن و حدیث کے مفہوم میں کتنا کھلا الحاد ہے۔ اب جو شخص انہیں احمدی کہتا ہے‘ وہ گویا ان سب تحریفات کی تائید کرتا ہے اور اس کفر و الحاد میں شریک ہو رہا ہے۔ کسی کو یہ بات معلوم نہ ہو اور وہ انہیں احمدی کہہ دے تو اور بات ہے لیکن حقیقت معلوم ہونے کے بعد کسی مسلمان کے لیے انہیں احمدی کہنا حرام ہے۔ غلام احمد کی نسبت سے یہ غلمدی (Ghulmadi) ہو سکتے ہیں‘ مرکز قادیانی کی وجہ سے انہیں قادیانی کہہ سکتے ہیں۔ مرزا کے پیرو ہونے کے لحاظ سے انہیں مرزائی کہا جا سکتا ہے لیکن انہیں احمدی کہنا کسی طرح جائز اور درست نہیں۔ مولانا سید عطاء اللہ شاہ صاحب بخاریؒ کہا کرتے تھے میں ”عطاء اللہ“ اگر لفظ ” عطاء“ ہٹا کر ”اللہ“ نہیں ہو سکتا تو ”غلام احمد“ لفظ ”غلام“ ہٹا کر ”احمد“ کیسے ہو سکتا ہے۔
سوال نمبر ٣٦: تو ان کی مسجد کو ”احمدیوں کی مسجد“ کہنا بھی پھر جائز نہ ہوگا؟
جواب: ہاں یہ بھی بالکل جائز نہیں۔ ان کی عبادت گاہوں کو مسجد کہنا جائز نہیں۔ مسجد مسلمانوں کی عبادت گاہ کو کہتے ہیں۔ جب یہ غیر مسلم اقلیت ہیں تو ان کی عبادت گاہیں مسجدیں کیسے بن گئیں؟ عیسائیوں کی عبادت گاہ گرجا‘ یہودیوں کی صومعہ‘ ہندوؤں کی مندر اور سکھوں کا گردوارہ کہلاتی ہے۔ مرزائیوں کی عبادت گاہ کو ”مرزواڑہ“ کہتے ہیں تو بجا کہتے ہیں۔ اسے مسجد کہنا کسی طرح بھی جائز نہیں ہے۔
سوال نمبر ٣٧: مرزا غلام احمد نے کتنے حج یا عمرے کیے تھے؟
جواب: ایک بھی نہیں۔ مرزا غلام احمد نے اتنے الحادی اور کفری دعوے کر رکھے تھے کہ سلطنت برطانیہ کے باہر کسی اسلامی ملک میں قدم رکھنا اس کے لیے ممکن نہ تھا۔ اسی وجہ سے وہ حج بھی نہ کر سکا تھا۔
پیش نظر رہے کہ مرزا غلام احمد کا دعویٰ تھا کہ وہ مسیح موعود ہے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم حدیث میں فرما چکے ہیں کہ حضرت عیسیٰ بن مریم نزول کے بعد حج یا عمرہ ضرور کریں گے اور فج روحا (FAJJ OF ROWHA) کے مقام سے احرام باندھیں گے۔ مرزا غلام احمد مسیح موعود ہونے کی اس شرط کو پورا کیے بغیر ہی دنیا سے چل بسا۔
قادیانیوں کے
طریقہ ھائے واردات
محمّد طاہر رزّاق
قادیانیت دجل و فریب کا پلندہ اور کذب و افتراء کا مرقع ہے۔ اس مذہب باطل کی نیو فرنگی نے اٹھائی۔ دین اسلام، پیغمبر اسلام اور شعائر اسلام کے بارے میں زبان و قلم چلانے کا فن قادیانیوں نے یہودیوں سے سیکھا۔ یہود نے انہیں ملت اسلامیہ سے جنگ لڑنے کی تربیت دی اور ہنود نے ہندوستان میں انہیں بھرپور تقویت دی۔ دنیا کی ان تین بد ترین قوموں نے قادیانیت کو بنایا اور اٹھایا۔ قوم انگریز، قوم یہود اور قوم ہنود میں انفرادی طور پر جو صفات رذیلہ پائی جاتی ہیں، وہ مجموعی طور پر قادیانیت میں پائی جاتی ہے۔ اس لیے ان صفات شیطانی میں ہر قادیانی لاثانی ہے۔ اس نے شیطان کی مکر و فریب کی کتاب کا ورق ورق پڑھا ہے۔ جھوٹ بولنے پر آئیں تو دلائل کے انبار لگا دیں۔ ظلم بھی کریں اور پھر پوری دنیا میں اپنی مظلومیت کا ڈھنڈورا اس طرح پیٹیں کہ سب ان پر ترس کھائیں، قتل بھی کرتے ہیں، اور ہاتھ بھی صاف رکھتے ہیں، مسلمان بھی کہلاتے ہیں اور قرآن و حدیث پر تحریف کی قینچی بھی چلاتے ہیں۔ اخلاق دکھانے پر آئیں تو سادہ لوح ان کے راستے میں اپنی آنکھیں بچھائیں۔ انسانیت کی خدمت کے بہانے محسن انسانیتؐ کے امتیوں کا ایمان لوٹتے ہیں۔ یہاں پر قادیانیوں کے چند طریقہ ہائے واردات درج کئے جاتے ہیں۔ انہیں پڑھئے، پڑھائیے، سمجھئے، سمجھائیے، اور پھر ان خطرناک حملوں کا تدارک کیجئے۔
قادیانی حوریں (چڑیلیں)
نام نہاد جنت ربوہ سے نکلی ہوئی قادیانی حوریں ایک پروگرام کے تحت مسلمان نوجوانوں کے دلوں پر ڈاکہ ڈالتی ہیں۔ اور انہیں اپنے دام عشق و محبت میں اسیر کر لیتی ہیں۔ طائر محبت ستاروں سے باتیں کرنے لگتا ہے۔ دونوں شادی کے بندھن میں بندھ جاتے ہیں۔ اولاد کا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے۔ جب بے چارے کی چشم ہوش کھلتی ہے تو قادیانیت کے دڑبے میں بند ہوتا ہے۔ لیکن اب کیا ہو؟
راقم نے اپنے علاقہ لاہور کے کونسلر جو مصالحتی عدالت کا چیئرمین بھی ہے، کے پاس ایک ایسا ہی کیس دیکھا۔ مسلمان نوجوان اور قادیانی حور دونوں کمرہ عدالت میں
موجود تھے۔ واقعہ کچھ یوں تھا کہ قادیانی حور اور مسلمان نوجوان دونوں ایک ہی دفتر میں ملازم تھے۔ قادیانی حور نے اس پر محبت کے ڈورے ڈالے اور وہ اس پر دل ہار بیٹھا۔ دونوں رشتہ ازدواج میں منسلک ہو گئے۔ قادیانی حور اسے اس کی والدہ اور تمام رشتہ داروں سے چھڑوا کر الگ ایک مکان میں رہنے لگی۔ کچھ مدت کے بعد جب نوجوان کو معلوم ہوا کہ مذکورہ بالا عورت مرزائی ہے، تو وہ حیرانی و پریشانی کے عالم میں سر پکڑ کر بیٹھ گیا۔ اور اسے فوراً حکم دیا کہ ابھی میرے گھر سے نکل جائے۔ میری طرف سے تمہیں طلاق ہے۔ راقم نے کمرہ عدالت میں اس نوجوان کی بوڑھی اور خمیدہ کمر والدہ کو دیکھا، جو رو رو کر اور ہاتھ جوڑ جوڑ کر کہہ رہی تھی میں بیوہ ہوں۔ یہ میرا اکلوتا بیٹا ہے۔ خدا کے لیے میرے بیٹے کو اس دلدل سے نکال لو۔ میرا گھر لٹ چکا ہے۔ میرا سکھ چین چھن چکا ہے۔ اس کی آہ و فغاں سن کر سینے میں دل رو رہا تھا۔ اور حاضرین مبہوت تھے۔ قادیانی حور اپنے والدین کے ہمراہ اپنی جعلی شرافت دکھانے کے لیے برقع پہنے بیٹھی تھی۔ وہ طلاق نہ لینے پر مصر تھی، اس کی زبان قینچی کی طرح چل رہی تھی اور اس کی گفتگو میں وہی بازاری پن تھا جو اس کے دیسی نبی مرزا قادیانی نے اپنی تصنیفات میں استعمال کی ہے۔ بحث جاری تھی۔ راقم نے بحث کو روک کر عدالت کے چیئرمین کو مخاطب کر کے کہا کہ قادیانی دائرہ اسلام سے خارج ہیں۔ ان کے کفر میں شک کرنے والا بھی کافر ہے۔ لہٰذا کسی بھی صورت میں ایک مسلمان کا مرزائی عورت سے نکاح نہیں ہو سکتا۔ جسے چیئرمین عدالت نے فوراً قبول کر لیا اور طلاق ہو گئی۔ اس طرح نوجوان اور اس کی بوڑھی والدہ کو ”قادیانی تحفے“ سے نجات مل گئی۔
قادیانی ارتدادی فیکٹریاں
ملک کے اندر سینکڑوں کی تعداد میں قادیانیوں کی چھوٹی بڑی فیکٹریاں چل رہی ہیں، جن میں ہزاروں مسلمان ملازمین محنت مزدوری کر رہے ہیں۔ یہ فیکٹریاں دراصل کفر و ارتداد کے اڈے ہیں۔ جہاں دیگر مصنوعات سازی کے ساتھ ساتھ مرتد سازی بھی ہوتی ہے۔ ان فیکٹریوں میں ترقی حاصل کرنے کے لیے قادیانی افسروں کی قربت حاصل کرنا لازمی امر ہے۔ ختم نبوت کے ڈاکوؤں کے خطرناک عزائم سے نا آشنا مزدور بھی قادیانی
افسروں کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے ان کی خوب خدمت کرتے ہیں۔ ان فیکٹریوں میں اکثر مسلمان اور قادیانی اکٹھے کھاتے پیتے ہیں جس سے ان میں ایک دوستانہ فضا قائم ہو جاتی ہے۔ اگرچہ ماسوائے چند کے وہ قادیانی نہیں ہوتے لیکن قادیانیوں کے خلاف ان کے دل میں نفرت بھی نہیں پیدا ہوتی۔ ان قادیانیوں کے خلاف جہاد میں وہ ناکارہ ہو جاتے ہیں۔ ایک زمانہ تھا جب ربوہ میں قادیانیوں کا سالانہ میلہ بڑے زور و شور سے لگا کرتا تھا‘ اور انہی فیکٹریوں سے مسلمانوں کی بسیں بھر بھر کر ربوہ جاتی تھیں۔ محنت کش ربوہ سے نبوت چوروں کی چرب زبانی سن کر آتے تو کئی دولت ایمان سے محروم ہو چکے ہوتے اور کئی اسلام کے بارے میں اپنے دل میں شکوک و شبہات لے کر آتے۔ غرض اثر سب پر ہوتا کسی پر زیادہ کسی پر کم۔
الحمد اللہ اب سالانہ میلہ پر تو پابندی لگ چکی ہے۔ لیکن دیہاتوں اور شہروں میں سینکڑوں مقامات پر قادیانی اجتماعات ہوتے رہتے ہیں‘ جہاں ان فیکٹریوں کے محنت کشوں کی ایک کثیر تعداد شرکت کر رہی ہے جو کہ خطرے کا الارم ہے۔ ایک طرف مایوسی کا یہ گھپ اندھیرا ہے لیکن دوسرے طرف ایمان اور جرات کے چند چراغ ان اندھیروں میں روشنیاں بکھیر رہے ہیں۔ یعنی قادیانی فیکٹریوں میں دینی غیرت سے سرشار محنت کشوں نے قادیانیوں کے خلاف انقلاب برپا کر دیا ہے۔ اور وہ اپنی فیکٹریوں میں قادیانی مالکان سے نبرد آزما ہیں اور وہ جھوٹے نبی کی امت کو للکار کر کہہ رہے ہیں۔
ہم اٹھائے ہوئے سورج کا علم آتے ہیں
سندھ میں قادیانی مالکان کے خلاف مزدوروں نے جو جہاد کیا ہے اور قادیانی مالکان و افسروں کی جو درگت بنائی ہے‘ وہ آب زر سے لکھنے کے قابل ہے۔ لاہور میں سکاٹ میٹر فیکٹری واقع ملتان روڈ کی لیبر یونین نے فیکٹری کے مالک کا اس مجاہدانہ انداز سے محاسبہ کیا ہے کہ وہ نیم پاگل ہو چکا ہے۔ اس کے خلاف کئی مقدمات درج ہو چکے ہیں۔ درجنوں مرتبہ ضمانت قبل از گرفتاری کروا چکا ہے۔ اور کئی دفعہ معافیاں مانگ چکا ہے۔ پوری مزدور برادری اس سے انتہائی نفرت کرتی ہے‘ اور وہ مزدوروں کی مرضی کے بغیر کوئی قدم نہیں اٹھا سکتا۔
ہر سو دین کی شمعیں جلانے کی ضرورت ہے
بیروزگار نوجوانوں کا شکار
بیروزگاری ہمارے ملک میں ایک بہت بڑا مسئلہ ہے۔ ان پڑھ تو اپنی جگہ کالجوں اور یونیورسٹیوں سے فارغ التحصیل نوجوان ہاتھوں میں ڈگریاں لیے ملازمتوں کی تلاش میں مارے مارے پھرتے دکھائی دیتے ہیں۔ اور بعض کمزور دل اور حساس نوجوان بیروز گاری اور غربت و افلاس سے تنگ آکر خود کشی ایسے گناہ عظیم کے مرتکب ہو چکے ہیں۔ جوان بیٹے کی موت سے والدین اپنا ذہنی توازن کھو بیٹھتے ہیں۔ گھر کا چراغ بجھ جاتا ہے اور جواں مرگ اپنی دنیا و آخرت برباد کر بیٹھتا ہے۔
بیروزگار نوجوان قادیانیوں کے لیے لقمہ تر ہے۔ وہ حالات کے ستائے ہوئے ان پریشان نوجوانوں کی تلاش میں رہتے ہیں۔ ایسے نوجوانوں کو قادیانی بنا کر بیرونی ملک بھجوانے کے لیے ان کا ایک خصوصی شعبہ کام کر رہا ہے۔ اب تک قادیانی سینکڑوں مسلمانوں کو قادیانی بنا کر بیرونی ممالک میں بھیج چکے ہیں۔ پھر قادیانی گھرانوں میں ان کی شادیاں کر دی جاتی ہیں۔ اور وہ بری طرح قادیانی دلدل میں پھنس جاتے ہیں۔
قادیانی جن نوجوانوں کو بیرون ممالک لے جا رہے ہیں‘ ان میں اکثریت کو وہاں سیاسی پناہ لے کر دیتے ہیں۔ یہود و نصاریٰ کے ایجنٹ ہونے کے ناطے ان کے ہاتھ تو بہت لمبے ہوتے ہیں‘ اور بین الاقوامی صحافت پر بھی ان کا قبضہ ہے۔ اس لیے یہ غوغا آرائیاں کرتے رہتے ہیں کہ پاکستان میں قادیانیوں کو قتل کیا جا رہا ہے۔ ان کی املاک کو لوٹا جا رہا ہے۔ ان کو ملازمتوں سے نکالا جا رہا ہے۔ اس لیے پاکستان میں رہنا ان کے لیے مشکل ہے۔ لہٰذا مگرمچھ کے آنسو بہا کر یہ سیاسی پناہ حاصل کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں۔ حکومت کا فرض ہے کہ وہ سنگین صورت حال کا سختی سے نوٹس لے۔ بیرونی ممالک میں تعینات اپنے سفیروں کے ذریعے ان ممالک کی حکومتوں کو صحیح صورت حال سے مطلع کرے اور انہیں اس حقیقت سے آشنا کرے کہ مظلومیت کا رونا رونے والے نو سرباز ہزاروں مسلمانوں کے خون سے ہاتھ رنگ چکے ہیں۔ اور تمام کلیدی عہدوں پر سانپ بن
کر بیٹھے ہیں وغیرہم، مجاہدین ختم نبوت کا فرض ہے کہ وہ ان ممالک میں رہنے والے مسلمانوں سے فوری رابطہ قائم کریں اور انہیں اس المناک داستان سے واقف کریں۔ اور انہیں کہیں کہ وہ اپنے ممالک میں اس عظیم فراڈ کے خلاف آواز بلند کریں اور تنظیمیں قائم کر کے ان کی سازشوں کو بے نقاب کریں۔ اور ڈھونڈ ڈھونڈ کر ان لٹے ہوئے نوجوانوں سے رابطہ قائم کریں۔ ان کے قلوب میں ایمان کی چنگاری روشن کریں۔ ان کے ذہن اور ضمیر پر لگے ہوئے قادیانیت کی نحوست کے دھبے صاف کریں۔ انہیں ان کی خطرناک چالوں سے آگاہ کریں اور دولت ایمان کی قدر و قیمت بتاتے ہوئے انہیں سمجھائیں کہ
دین حق پہ رکھ یقین باطل کا شیدائی نہ ہو
کی محمدؐ پر نبوت ختم حق نے اے بشر
قدر ایمان ہے اگر تجھ کو تو مرزائی نہ ہو
زمین کے عوض یقین
انگریز نے اپنے انگریزی نبی مرزا قادیانی عرف مسٹر گاما کے کفر بھرے سر پر جب اپنی انگریزی نبوت کا ہیٹ رکھا تو ہیڈ مرتد مسٹر گاما اور دیگر چھوٹے مرتدین کو بے شمار مراعات سے نوازا۔ انگریز گورنر سر فرانسس موڈی نے جھوٹی نبوت کے ذلیل خاندان کو ربوہ ضلع جھنگ میں ١٠٣٣ ایکڑ سات کنال آٹھ مرلے اراضی پرانا آنہ فی مرلہ کے حساب سے مرتدستان کی تعمیر کے لیے مہیا کی۔ قادیانیوں نے پورے ہندوستان سے مفلوک الحال لوگوں اور ایمان فروشوں کو لا کر ربوہ میں پلاٹ دے کر قادیانی سازی کی مہم شروع کی۔ ربوہ میں کالونیاں بنیں۔ بازار بنے۔ ہسپتال بنے، سکول بنے، کالج بنا، تار گھر بنا، ڈاک خانہ بنا، ریلوے اسٹیشن بنا غرض کہ ایک پورا شہر آباد ہو گیا مگر ہزاروں لوگوں کا ایمان برباد ہو گیا۔ جس نے بھی پلاٹ لیا اس نے تاجدار ختم نبوت صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنا رشتہ کاٹ لیا۔ جس نے بھی ٹکڑا زمین لیا، اس نے اس کے عوض قادیانیوں کو ختم نبوت سے انحراف کا یقین دیا۔ لیکن قادیانیوں کی کمال ہوشیاری دیکھئے کہ لوگوں کے ایمانوں کی
رجسٹریاں تو کرالیں لیکن آج تک مکانوں کی مکینوں کے نام رجسٹریاں نہیں کیں۔ ربوہ کی ساری زمین قادیانیوں کی ”رائل فیملی“ کے نام ہے۔ رائل فیملی نے ربوہ میں بسنے والے تمام قادیانیوں کو زمین اور مکان کے شکنجے میں کس رکھا ہے۔ اگر کوئی قادیانی مسلمان ہونا چاہے تو اسے مکان سے محروم ہونا پڑتا ہے۔ جو اس کی کمزور معیشت پر ناقابل برداشت بوجھ ہوتا ہے۔ اگر آج ربوہ کی زمین ”رائل فیملی“ کی بجائے اس کے مکینوں کے نام کر دی جائے تو آج ہی ربوہ کے آدھے قادیانی مسلمان ہو جائیں گے۔
راقم عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے تحت ہونے والی سالانہ ختم نبوت کانفرنس میں حاضر تھا۔ راقم مسلم کالونی سے اپنے دوستوں کے ہمراہ اندرون ربوہ کا عجائب خانہ دیکھنے کے لئے ایک تانگہ میں سوار ہو کر روانہ ہوا۔ کوچوان جو ایک ساٹھ سالہ بوڑھا تھا۔ جب راقم نے اس سے پوچھا کہ کیا تم قادیانی ہو؟ تو اس نے جواب دیا ہاں میں قادیانی ہوں۔ راقم نے پوچھا تم قادیانی کیسے ہوئے؟ اس نے بتایا کہ تقسیم ملک کے بعد وہ اپنے والدین کے ہمراہ جڑانوالہ ضلع فیصل آباد میں آباد ہو گیا۔ کچھ دیر جڑانوالہ میں رہے۔ پھر اس کا والد ربوہ میں منتقل ہو گیا۔ اسے وہاں زمین مل گئی۔ اس کے ساتھ ہی والد قادیانی ہو گیا اور ہم سب اہل خانہ نے بھی یہی مذہب اختیار کر لیا۔ راقم نے جب اس سے مذہب قادیانیت کے بارے میں پوچھا تو وہ بالکل کورا تھا۔ کہنے لگا بابوجی! ہمیں کیا پتہ‘ ہم تو مزدور لوگ ہیں‘ صبح سے شام تک تانگہ چلاتے ہیں اور بیوی بچوں کے لئے روٹی کماتے ہیں۔ اس کی دلسوز داستان سن کر راقم تھر تھرا اٹھا اور سوچ رہا تھا کہ زمین کا ایک ٹکڑا دے کر قادیانیوں نے ارتداد کی تلوار سے ایک خاندان کے بیسیوں مسلمانوں کے ایمانوں کے ٹکڑے کر دیئے۔
قادیانی اداروں کی یلغار
قادیانیوں نے مسلمانوں کو قادیانیت کے جال میں پھنسانے کے لئے اور اپنے جعلی مذہب کی دھاک بٹھانے کے لئے اندرون و بیرون ملک مختلف اصلاحی و رفاہی ادارے بنا رکھے ہیں‘ جو در حقیقت ملت اسلامیہ کے لئے اصلاحی و رفاہی نہیں بلکہ باعث تباہی ہیں۔
قادیانیوں نے مختلف علاقوں میں سکول قائم کر رکھے ہیں‘ جہاں وہ نصابی تعلیم کے ساتھ ساتھ اپنی مذہبی تبلیغ بھی کرتے ہیں۔ چھوٹے چھوٹے بچے جو خالی الذہن ہوتے ہیں ان کے ذہن میں آہستہ آہستہ قادیانیت کا زہر انڈیلا جاتا ہے۔ استاد ہونے کے ناطے بچے اور ان کے والدین قادیانی اساتذہ کا احترام کرتے ہیں‘ جس کے نتیجہ میں قادیانی اپنے علاقوں میں بااثر اور مقبول ہو جاتے ہیں اور ان کا ایک حلقہ ارادت قائم ہو جاتا ہے۔
کچھ قادیانی ملت اسلامیہ کی نوخیز نسل کو اپنے قریب کرنے کے لئے سکولوں اور کالجوں کے طلباء کو فری ٹیوشن پڑھاتے ہیں اور معاشرے میں اپنا مقام بنا رہے ہیں۔ کئی علاقوں میں قادیانیوں نے فری ڈسپنسریاں بنا رکھی ہیں‘ جہاں غریبوں کا مفت علاج کر کے ان سادہ لوح لوگوں کی ہمدردیاں حاصل کی جا رہی ہیں اور انہیں دوائی کی صورت میں قادیانی زہر پلایا جا رہا ہے۔ جسمانی علاج کے بہانے انہیں روحانی طور پر بیمار کیا جا رہا ہے۔ مجاہدین ختم نبوت کا فرض ہے۔ کہ وہ فوری طور پر قادیانیوں کے ان خطرناک حربوں کا سختی سے نوٹس لیں‘ نیز اپنے علاقوں میں ایسے قادیانی اڈوں (سکولوں) کا پتہ لگائیں اور بچوں کے والدین سے فوری طور پر رابطہ قائم کر کے انہیں اس خطرناک صورت حال سے آگاہ کریں۔ اور ان پر زور دے کر ان کے بچوں کو ایمان کے لٹیروں کے سکولوں سے نکلوائیں۔ انشاء اللہ چند دنوں میں قادیانیوں کا سکول کسی ویران آسیب زدہ مکان کا منظر پیش کرنے لگے گا۔ اور قادیانی وہاں منہ لٹکائے ہوئے جواریوں کی طرح بیٹھے دکھائی دیں گے۔
اسی طرح ان نوجوانوں سے ملیں جو قادیانیوں سے فری ٹیوشن پڑھ رہے ہوں انہیں سمجھائیں کہ اے ملت اسلامیہ کے شاہینو! ٹیوشن کی آڑ میں یہود و نصاریٰ کے یہ ایجنٹ تمہارے بال و پر کاٹ رہے ہیں۔ ان کا مقصد تمہیں زیور تعلیم سے آراستہ کرنا نہیں بلکہ زیور اسلام سے محروم کرنا ہے۔ اسی طرح قادیانیوں کی شکار گاہیں یعنی فری ڈسپنسریوں کا بھی صفایا کریں۔ علاقہ میں اگر کوئی قادیانی ڈاکٹر یا حکیم اپنا کلینک یا مطب چلا رہا ہو تو اس کا بائیکاٹ کروائیں۔ جب دینی غیرت و حمیت سے سرشار ہو کر مسلمان ان کا بائیکاٹ کریں گے‘ تو پھر ڈاکٹر کے کلینک میں الو بولے گا اور حکیم کے مطب میں مکڑی جالا بنے گی۔ اور یہ دونوں معالج سے مریض ہو جائیں گے۔ لیکن ضرورت اس بات کی
ہے کہ کوئی تڑپ کر اور مسلمان کو جھنجھوڑ کر گلی گلی یہ صدا لگائے کہ
خواب سے بیدار ہو للہ دیوانو اٹھو
حرمت دین محمدؐ کے نگہبانو اٹھو
شعلہ سامانی دکھاؤ شعلہ سامانو اٹھو
قادیانی اور تعلیم قرآن
شیطان نے اپنے یار مرزائے قادیان کی امت کو ملت اسلامیہ سے لڑنے کے لئے اتنے داؤ پیچ سکھائے ہیں کہ ان کا شمار مشکل ہے۔ اور قادیانی بھی خوب شاگردی ادا کرتے ہیں۔ ایک داؤ ملاحظہ ہو۔
مختلف علاقوں میں قادیانی عورتیں اور مرد مسلمان بچوں اور بچیوں کو قرآن مجید پڑھا رہے ہیں۔ مرزا قادیانی کی نبوت کو سچا اور قادیانیت کو دین حق ثابت کرنے کے لئے غلط تراجم اور تشریحات کر رہے ہیں۔ بچے قرآن پڑھنے کے بعد ساری زندگی اپنے اساتذہ کی عزت کرتے رہتے ہیں، جو کہ قادیانیت کے لئے ایک بہت بڑا سہارا ہے۔ راقم کے ایک دوست نے جب ایک ایسے ہی قادیانی استاد کی سر بازار درگت بنائی تو وہ سر کچلے سانپ کی طرح بل کھاتا ہوا وہاں سے بڑبڑاتا ہوا چلا گیا۔ لیکن تھوڑی دیر کے بعد دس بارہ مسلمان نوجوان راقم کے دوست سے بدلہ لینے کے لئے آگئے۔ اور انہوں نے کہا کہ تم نے ہمارے استاد کی بے عزتی کی ہے۔ جب راقم کے دوست نے انہیں مرزا قادیانی اور عقائد قادیانیت سے آگاہ کیا تو وہ ششدر رہ گئے۔ وہ حیرت کی تصویریں بنے ساری گفتگو سن رہے تھے اور کف افسوس مل رہے تھے۔
جو لباس بھی وہ چالاک پہن کر نکلا
آپ اپنے علاقوں کا فوراً دورہ کیجئے اور دیکھئے کہ کہیں کوئی قادیانی رہزن لباس رہبر میں مسلمان بچوں کو قرآن تو نہیں پڑھا رہا؟ اگر کہیں خدانخواستہ ایسی صورت حال ہو تو فوراً ظلم عظیم کو روکیئے۔
خون کے ذریعے ایمان پر شب خون
آپ نے اکثر اخبارات اور ٹیلی ویژن پر یہ اپیل سنی اور پڑھی ہوگی کہ فلاں ہسپتال میں فلاں مریض شدید بیمار ہے اور اسے فلاں گروپ کے خون کی اشد ضرورت ہے۔ راقم کے علم میں یہ بات آئی کہ قادیانیوں نے دکھی خاندانوں کی ہمدردیاں حاصل کرنے اور انہیں دام فریب میں پھنسانے کے لئے خون دینے والے مختلف گروپ بنا رکھے ہیں، جو اپیل سنتے ہی ہسپتال پہنچ جاتے ہیں۔ اور مریض کے وارثوں سے میٹھی میٹھی گفتگو کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ہم احمدی ہیں، دکھی انسانیت کی خدمت ہمارا مقصد حیات ہے۔ یہ خون دے کر پورے خاندان کو ممنون احسان کرلیتے ہیں۔ اور پورے خاندان سے دوستانہ تعلقات پیدا کرکے قادیانیت کی تبلیغ شروع کردیتے ہیں۔ مجاہدین ختم نبوت ایسے خون دینے والے گروپوں پر کڑی نظر رکھیں اور اس بات کا پہرہ دیں کہ کسی مرتد زندیق اور گستاخ رسول کا خون مسلمان کی رگوں میں داخل نہ ہوسکے اور کوئی مرزائی خون دینے کے بہانے کسی مسلمان کے ایمان کا خون نہ کر دے۔
محمد مصطفیٰ کے فدائی جاگ
قادیانی رہائش گاہیں یا شکار گاہیں
گاؤں قصبات اور چھوٹے شہروں سے جو لوگ ملازمت کے سلسلہ میں، محنت و مزدوری کے سلسلہ میں اور طلباء اپنی تعلیم کے سلسلہ میں بڑے شہروں میں آتے ہیں، تو رہائش کا مسئلہ ان کے لئے سب سے بڑا مسئلہ ہوتا ہے۔ ایک طرف تو معمولی تنخواہیں یا اجرتیں اور دوسری طرف بھاری کرایہ جات، ان کی معیشت کی کمر پر بھاری بوجھ ہوتا ہے۔ لہٰذا قادیانی شکاری ان پریشان حال لوگوں کے شکار میں نکلتے ہیں، اور ان کے غمگسار بن کر اپنے بڑے بڑے معبد خانوں میں بنے ہوئے کمرہ جات یا امیر قادیانی افراد کی کوٹھیوں میں ”سرونٹ کوارٹر“ سے ایک کمرہ دے دیتے ہیں۔ پھر آہستہ آہستہ ان پر اپنے عقائد و نظریات کی چھاپ لگانا شروع کردیتے ہیں۔ اور کئی سادہ لوح ان کے جعلی اخلاق سے متاثر ہو کر مکان کے عوض ایمان دے دیتے ہیں۔
راقم کا واسطہ ایک ایسے ہی نو قادیانی نوجوان سے پڑا، جس کے ایمان کا گلا قادیانیوں نے اس رہائش کی تلوار سے کاٹا تھا۔
راقم نے اسے قادیانیت کے جوہڑ سے نکال کر اسلام کی مہکتی فضاؤں میں دوبارہ لانے کی انتہائی کوشش کی۔ وہ دوبارہ مسلمان تو نہ ہوا لیکن اس مہم میں راقم کو قادیانیوں کے ایک خطرناک وار سے واقفیت حاصل ہو گئی۔ یہ نوجوان ایم اے انگلش ہے۔ سرکاری ملازم ہے۔ بہاولپور سے لاہور نوکری کے سلسلہ میں آیا۔ ایک قادیانی وکیل کے ہتھے چڑھ گیا جس نے یہی طریقہ واردات استعمال کر کے اس کی متاع ایمان چھین لی۔ راقم جب لاہور میں واقع اس قادیانی وکیل کی بہت بڑی رہائش پر گیا تو نیچے کی منزل کی ایک بوسیدہ سے کمرے میں تین چارپائیاں بچھی تھیں۔ اور تین کونوں میں کچھ لوگوں کا سامان وہاں پڑا تھا۔ راقم کے استفسار پر اس قادیانی نے بتایا کہ یہ تینوں چارپائیاں ہم تین ساتھیوں کی ہیں، جن میں سے دو احمدیت قبول کر چکے ہیں۔ تیسری چارپائی ایک طالب علم کی ہے، جو احمدیت قبول کرنے والا تھا۔ لیکن اس کے گاؤں کے مولوی صاحب کو پتہ چل گیا۔ مولوی صاحب اس کے والدین کو لے کر فوراً یہاں پہنچے اور اسے ساتھ لے گئے۔ اس کی چارپائی خالی پڑی ہے۔ اب یہاں کوئی اور آجائے گا۔ یہ تمام روح فرسا مناظر دیکھتے ہوئے راقم مجسمہ حیرت بنا کھڑا تھا۔ اور وارثان منبر و محراب سے گلہ کرتے ہوئے کہہ رہا تھا۔
مگر افسوس ابھی دین محمدؐ کے رکھوالے سو رہے ہیں۔
راقم کی ملاقات ایسے ہی ایک کیس میں ایک میڈیکل کالج کے طالب علم سے ہوئی۔ اس نے بتایا کہ مجھے لاہور میں رہائش کا مسئلہ درپیش تھا۔ مکان کی تلاش کے دوران میری ملاقات ایک شخص سے ہوئی جو بظاہر بڑا شفیق اور مہربان نظر آتا تھا۔ اس نے مجھے کہا آپ پریشان کیوں ہیں؟ میں آپ کو فری رہائش مہیا کرتا ہوں۔ چکنی چپڑی باتیں کرتا وہ مجھے لاہور کے قادیانی مرکز واقع گڑھی شاہو لے آیا۔ وہاں اس نے پیار بھرے لہجے میں ایک چھوٹا سا کمرہ دکھاتے ہوئے کہا یہ رہا آپ کا کمرہ۔ راقم کو اس طالب علم نے بتایا کہ مجھے یہ معلوم ہوا کہ یہ قادیانی معبد خانہ ہے، تو میں فوراً وہاں سے استغفار
پڑھتا ہوا بھاگا۔ جناب خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم کے غلاموں کی خدمت میں گزارش ہے کہ وہ مرزائیت کے اس خطرناک جال کو تار تار کر دیں۔ اور اس میں پھنسے ہوئے مسلمان بھائیوں کو نکال لائیں۔ جو لٹ چکے ہیں ان سے رابطہ قائم کر کے ان پر محنت کریں۔ اگر ان کے والدین اور عزیز واقارب کو معلوم نہیں کہ ان کا فرزند جو تعلیم حاصل کرنے آیا تھا، وہ اب تعلیم مرزائیت حاصل کر کے مرزائی ہو چکا ہے۔ جو دولت کمانے آیا تھا وہ دولت ایمان سے محروم ہو چکا ہے۔ یہ خبر اس کے والدین، اس کے دوستوں اور اس کے خاندان پر بجلی بن کر گرے گی۔ اور وہ بجلی کی سرعت کے ساتھ آئیں گے اور خود ہی اس کا علاج کر لیں گے۔
قادیانی اجتماعات میں مسلمانوں کو لے جانا
مذہب لعین ”قادیانیت“ کے مبلغین اپنے اپنے علاقوں میں اپنے اس مذہب کے پرچار کے لئے اجتماعات کرتے رہتے ہیں۔ جس میں قادیانی مبلغین اپنے نوجوانوں سے کہتے ہیں کہ ہر نوجوان اس اجتماع میں پانچ پانچ دس دس مسلمان نوجوانوں کو اپنے ساتھ لے کر آئے۔ بعض قادیانی اپنی رہائش گاہوں پر اپنے نام نہاد خلیفہ مرزا طاہر کی تقریروں کی فلمیں وی سی آر پر اپنے محلے کے نوجوانوں کو اپنے گھروں میں مدعو کر کے دکھاتے ہیں۔ دیہاتوں میں بھی یہ فعل قبیح جاری ہے۔ تاج و تخت ختم نبوت کے محافظوں سے گزارش ہے کہ وہ ایسے قادیانیوں کا سختی سے محاسبہ کریں، کیونکہ قانوناً ”کوئی قادیانی اپنے باطل مذہب کا پرچار نہیں کر سکتا۔“ لہٰذا فوراً تھانہ میں زیر دفعہ 298 - C پرچہ درج کرائیں۔ مرزا طاہر کی کفریہ تقریریں سننے والے نوجوانوں سے فرداً فرداً ملیں۔ انہیں قادیانیت کی غلاظت سے آگاہ کریں۔ اس علاقہ میں قادیانیت کے زہریلے اثرات کے تدارک کے لئے رد قادیانیت کے موضوع پر لیکچر یا جلسہ کا اہتمام کریں۔ عوام کو مسئلہ سمجھانے اور انہیں اپنا ہم نوا بنانے کے لئے صبح و شام محنت کریں اور پھر ضرب کاری لگا کر قادیانیت کا کام تمام کریں۔
اسلام سے جس قوم کو ہے کچھ بھی محبت
میں اس کے لئے راہ میں آنکھوں کو بچھا دوں
غریب مسلمانوں کو گھروں میں ملازم رکھنا
قادیانی غریب مسلمان بچوں یا بوڑھی عورتوں اور بوڑھے مردوں کو اپنے گھر کا کام کاج کرنے کے لئے ملازم رکھ لیتے ہیں۔ بچہ جس کے مذہبی خیالات و نظریات ابھی پختہ نہیں ہوتے، قادیانی اسے اپنے اجتماعات میں اپنے ساتھ لے جاتے ہیں۔ اسے اپنے مذہب بد کی تعلیم دیتے رہتے ہیں۔ حتی کہ وہ وقت آ جاتا ہے جب وہ مکمل طور پر قادیانی ہو جاتا ہے۔ یہی طریقہ واردات بوڑھے ملازمین پر آزمایا جاتا ہے۔ انہیں خوش و خرم رکھا جاتا ہے۔ اماں جی اور میاں جی کہہ کر مخاطب کیا جاتا ہے۔ کھانے پینے کے لئے اچھی غذا اور پہننے کے لئے اچھا کپڑا دیا جاتا ہے۔ غرض کہ انہیں اپنے مصنوعی اخلاق کے شیشے میں اتار کر مرزائی بنا لیا جاتا ہے۔ ایسا ہی ایک واقعہ رائے ونڈ ضلع لاہور میں پیش آیا۔ جہاں ایک ساٹھ سالہ بوڑھی عورت ایک قادیانی گھرانے میں ملازمہ ہوئی اور کچھ ہی مدت کے بعد وہ ایمان کے شکاریوں کے ہاتھوں شکار ہو کر قادیانی ہو گئی۔ ہائے افسوس! کہ اس کا دامن رحمتہ للعالمینؐ سے کٹ کر زحمت للعالمین مرزا قادیانی سے وابستہ ہو گیا۔
خصوصاً آج کل کے انبیاء سے
مجاہدین ختم نبوت کو چاہئے کہ وہ فوری طور پر اپنے علاقہ کا سروے کریں۔ اگر آپ کے علاقہ میں کوئی مسلمان کسی قادیانی کے گھر میں ملازمت کر رہا ہے، تو اسے فوراً اس خطرناک جال سے نکالیں۔
الگ قطعہ زمین خرید کر وہاں کفر نگر آباد کرنا
کسی شہر یا گاؤں میں کچھ قادیانی خاندان مل کر ایک الگ قطعہ زمین خرید لیتے ہیں اور وہاں مکانات بنا کر رہائش اختیار کر لیتے ہیں۔ باہر کے علاقوں سے بھی قادیانی آکر وہاں آباد ہونا شروع ہو جاتے ہیں۔ اپنی پوجا پاٹ کے لئے ایک عبادت خانہ تعمیر کرتے ہیں۔
غرض کہ ایک کفر گڑھ معرض وجود میں آجاتا ہے۔ امور تبلیغ کے لئے ایک قادیانی مربی وہاں پہنچ جاتا ہے اور ارتدادی مہم شروع ہو جاتی ہے۔ ارد گرد کے علاقوں میں قادیانیت پر مبنی لٹریچر مہیا کیا جاتا ہے۔ دیہاتوں میں بناسپتی نبوت کی تبلیغ کے لئے قادیانی مبلغین پھیل جاتے ہیں اور سادہ لوح دیہاتیوں کے ایمانوں کو لوٹتے ہیں۔ قادیانی ایسی سینکڑوں کالونیاں وطن عزیز میں قائم کر چکے ہیں، جن کو یہ قادیانیت کے قلعے قرار دیتے ہیں۔ لیکن دینی غیرت ہمیں جھنجوڑ جھنجوڑ کے کہتی ہیں۔
غیرت محمود کی ہم داستان تازہ کریں۔
تاج و تخت ختم نبوت کے محافظوں سے درخواست ہے کہ وہ ایسی صورت حال میں قادیانیوں سے نپٹنے کے لئے اس آبادی سے ملحقہ گاؤں کا کام کے لئے انتخاب کریں۔ وہاں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کا دفتر قائم کریں۔ جلسوں کا اہتمام کریں۔ وافر مقدار میں لٹریچر مہیا کریں۔ گھر گھر جا کر جھوٹی نبوت کے بارے میں لوگوں کو بتائیں۔ عوام کے دلوں میں مرزائیت کے خلاف نفرت کوٹ کوٹ کر بھردیں۔ جب ایک گاؤں یا بستی کی ذہن سازی ہو جائے اور وہاں سے مجاہدین ختم نبوت کی ایک فوج تیار ہو جائے، تو اسکے ساتھ والے گاؤں میں بھی یہی طریقہ تبلیغ استعمال کریں۔ پھر ارد گرد کے چند دوسرے گاؤں میں بھی جذبہ جہاد کی لہر دوڑا دیں۔ قادیانیوں کا سوشل بائیکاٹ کرائیں۔ الیکشن میں ان کے ووٹ مسلمانوں کے ووٹوں میں داخل نہ ہونے دیں۔ اگر کوئی قادیانی مردود مرجائے تو اسے گاؤں کے قبرستان میں دفن نہ ہونے دیں، دوکان دار حضرات انہیں سودا سلف دینا بند کردیں۔ انشاء اللہ تھوڑا سا شکنجہ کسنے سے قادیانیت علاقہ سے یوں غائب ہو جائے گی جیسے گدھے کے سر سے سینگ!
قادیانی اور سماجی بہبود
قادیانی مسلم معاشرے میں باعزت مقام حاصل کرنے اور عوام الناس کے دلوں پر اپنی جعلی چھاپ لگانے کے لئے سماجی بہبود کے کاموں میں پیش پیش رہتے ہیں۔ ١٩٨٨ء میں جب اوجڑی کیمپ کا روح فرسا حادثہ پیش آیا جس میں سینکڑوں انسان جاں بحق
ہو گئے۔ اس المناک حادثہ پر پورا پاکستان جذبہ ایمانی کے ساتھ اپنے مسلمان بھائیوں کی امداد کے لئے امڈ آیا۔ متاثرین کے لئے ادویات، کپڑے، اور دیگر کھانے پینے کی اشیاء کا بندوبست کیا۔ جہاں دیگر تنظیموں اور اداروں نے اپنے امدادی کیمپ لگائے، وہیں ایمان کے شکاریوں ”قادیانیوں“ نے بھی اپنی ”دکان فریب“ سجائی۔ حالانکہ یہ بات منظر عام پر آچکی ہے کہ سانحہ اوجڑی کیمپ میں قادیانیوں کا کتنا ہاتھ تھا۔ ١٩٨٨ء میں پنجاب میں جب بدترین سیلاب آیا تو لاکھوں لوگ بے گھر ہوگئے۔ کروڑوں روپے کی کھڑی فصلیں تباہ ہو گئیں۔ پانی کی موجیں لوگوں کا سب کچھ بہا کر لے گئیں۔ ان آفت زدہ علاقوں میں مسلمانوں کے ساتھ ساتھ قادیانی شکاری بھی امداد کے بہانے اپنے شکار پر نکل آئے۔ لوگوں میں اشیاء تقسیم کیں اور قادیانیت کا پرچار کیا۔ متاثرین سے کہا کہ صرف احمدیت ہی خدمت انسانیت کا نام ہے۔
ان فریبیوں اور جھوٹوں سے کوئی پوچھے تم ملت اسلامیہ کے ہمدرد اور غمگسار کہاں سے آگئے۔ تم نے تو ہمیشہ ملت اسلامیہ کو زخم لگا کر قہقہے لگائے ہیں۔ تم نے تو ہمیشہ مسلمانوں کو تڑپتے دیکھ کر خوشی سے رقص کیا ہے۔ تم نے خلافت عثمانیہ کی تباہی پر قادیان میں چراغاں کیا تھا۔ تم نے سقوط ڈھاکہ کے موقع پر حلوے کی دیگیں تقسیم کی تھیں۔ تم نے شاہ فیصل کی شہادت پر ربوہ میں بھنگڑا ڈالا تھا اور مٹھائی تقسیم کی تھی۔
تم کہاں سے آگئے ملت اسلامیہ کے غم خوار؟ تمہارے اس دجل و فریب پر ہم یہی کہہ سکتے ہیں۔
صیاد عطر مل کے چلا ہے گلاب کا
مجاہدین ختم نبوت کا فرض ہے کہ وہ ایسے موقع پر قادیانی لٹیروں کی کڑی نگرانی کریں اور خدمت انسانی کی آڑ میں صورت خضر میں نکلے ہوئے ان لٹیروں کو پکڑ کر باہر نکالیں، کیونکہ ان کا کام تعمیر نہیں بلکہ تخریب ہے اور وہ بھی تخریب ایمان!
بیواؤں اور یتیموں کی امداد
قادیانی اس ”نیکی“ کی آڑ میں بھی قادیانیت کا خوب خوب پرچار کر رہے ہیں۔
راقم الحروف کے نوٹس میں یہ بات بھی آئی ہے کہ ایک گھرانے کا کفیل مسلمان شخص فوت ہو گیا۔ اس کی بیوہ اپنے تین بچوں کے تعلیمی اخراجات برداشت نہ کر سکی اور اس نے بچوں کو سکول سے اٹھا لیا۔ ان بچوں میں سے ایک کا کلاس فیلو ایک قادیانی کا بیٹا تھا، جس نے اپنے باپ سے کہا کہ فلاں لڑکا سکول نہیں آتا۔ وہ قادیانی اپنے بیٹے کے ساتھ اس بیوہ کے پاس پہنچا اور اسے کہا کہ وہ اپنے تمام بچوں کو تعلیم دلوائے جس کے تمام اخراجات میں برداشت کروں گا۔ اس قادیانی بیوہ کی مالی امداد شروع کر دی۔ قادیانی چونکہ ہر سال ربوہ جاتا تھا۔ ایک دن بیوہ کے بچے بھی ضد کر کے اپنے نام نہاد ”چچا“ کے ساتھ ربوہ چلے گئے۔ آج وہ پورا خاندان قادیانی ہو چکا ہے۔
مسلمانوں سے گزارش ہے کہ وہ اپنے محلہ میں غریب لوگوں خصوصاً بیواؤں اور یتیم بچوں کا خاص خیال رکھیں اور اسلام کی روشن تعلیمات پر عمل پیرا ہو کر بیواؤں اور یتیموں کی پرورش کریں تاکہ کوئی قادیانی ان کو لقمہ تر نہ بنا سکے۔
قادیانیوں
کے
سوشل بائیکاٹ کی شرعی حیثیت
مولانا مفتی
محمد امین
سوشل بائیکاٹ کی شرعی حیثیت
الحمد لله وحده والصلوه والسلام علی من لا نبی بعدہ اما بعد
حدود و قصاص کا قائم کرنا حکومت کا کام ہے، رعایا کا کام نہیں لیکن اگر معاشرہ میں بگاڑ پیدا ہو جائے اور کچھ افراد جرائم و معاصی کا ارتکاب کرنے لگ جائیں تو ان کو درست اور سیدھا کرنے کے لیے اور معاشرہ کو برائیوں سے پاک وصاف رکھنے کے لیے جرائم پیشہ افراد سے قطع تعلقی (بائیکاٹ) کرنا، ان کے ساتھ میل جول، لین دین ترک کر دینا، ان سے رشتہ ناطہ نہ کرنا ان کی تقریبات شادی غمی میں شریک نہ ہونا، ان کو اپنی تقریبات میں شامل نہ کرنا نہایت ہی پرامن بے ضرر اور موثر ذریعہ ہے۔ آج سے تقریباً نصف صدی پہلے تک ہر زمانہ کے مسلمان اسی بائیکاٹ کے ذریعہ اصلاح معاشرہ کرتے چلے آئے ہیں۔ چنانچہ شرح مشکوٰۃ میں ہے وھکذا كان داب الصحابہ و من بعدہم من المومنین فی جمیع الازمان فانہم كانوا يقاطعون من حاد الله ورسوله مع حاجتہ الیہ واثروا رضاء الله تعالی علی ذالک (مرقات (شرح مشکوٰۃ، ج ١، صفحہ ٢٩٠) یعنی صحابہ کرام اور ان کے بعد والے ہر زمانہ کے ایمان والوں کی یہ عادت رہی ہے کہ وہ خدا تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کے مخالفوں، دشمنوں کے ساتھ بائیکاٹ کرتے رہے حالانکہ ان ایمانداروں کو دنیاوی طور پر ان مخالفین کی احتیاج بھی ہوتی تھی لیکن وہ مسلمان خدا تعالیٰ کی رضا کو اس پر ترجیح دیتے ہوئے بائیکاٹ کرتے تھے۔ خدا تعالیٰ مسلمانوں کو اپنی رضا جوئی کی اور صحابہ کرام ؓ کے نقش
قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔ (آمین)
یہ بائیکاٹ قرآن وحدیث کے عین مطابق ہے بلکہ سید عالم ﷺ نے عملی طور پر بھی اس کو نافذ فرمایا۔ جب غزوہ خیبر میں یہودیوں کا محاصرہ کیا اور یہودی قلعہ میں محصور ہو گئے اور کئی دن گزر گئے تو ایک یہودی آیا اور اس نے کہا اے ابوالقاسم اگر آپ مہینہ بھر ان کا محاصرہ رکھیں تو ان کو پرواہ نہیں کیونکہ ان کے قلعہ کے نیچے پانی ہے وہ رات کے وقت قلعہ سے اترتے ہیں اور پانی پی کر واپس چلے جاتے ہیں تو اگر آپ ان کا پانی بند کر دیں تو جلدی کامیابی ہوگی۔ اس پر سید دو عالم ﷺ نے ان کا پانی بند کر دیا تو وہ مجبور ہو کر قلعہ سے اتر آئے فسار رسول الله ﷺ الى مائهم فقطعه عليهم فلما قطع خرجوا (زاد المعاد علی الزرقانی، جلد نمبر ٤ صفحہ ٢٠٥) اور ایک مرتبہ جبکہ حضرت سیدنا کعب بن مالک صحابی اور ان کے ساتھی دو اور صحابی ؓ غزوہ تبوک سے پیچھے رہ گئے۔ واپسی پر سید دو عالم ﷺ نے جواب طلبی فرمائی اور تمام مسلمانوں کو حکم دیا کہ ان تینوں کے ساتھ بات چیت ترک کر دی جائے۔ حضرت کعب ؓ فرماتے ہیں ونهى النبى ﷺ عن كلامي وكلام صاحبي یعنی رسول اکرم ﷺ نے میرے ساتھ اور میرے دونوں ساتھیوں کے ساتھ بات چیت کرنے سے منع فرما دیا۔ فاجتنب الناس كلامنا (صحیح بخاری، صفحہ ٦٧٥ جلد دوم) ہمارے ساتھ کوئی بھی بات نہ کرتا تھا۔ انتہی اور اس بائیکاٹ کا یہ اثر ہوا کہ زمین باوجود وسیع ہونے کے ان پر تنگ ہو گئی بلکہ وہ اپنی جانوں سے بھی تنگ آگئے وضاقت عليهم الارض بمارحبت وضاقت عليهم انفسهم وظنوا ان لا ملجا من الله الا اليه (قرآن مجید، پارہ ١١)
اور یہ بائیکاٹ جب چالیس دن تک پہنچا تو رسول اکرم علیہ السلام نے حکم دیا کہ اب ان کی بیویاں بھی ان سے الگ ہو جائیں۔ پھر جب پورے پچاس دن ہو گئے تو خدا تعالیٰ نے ان کی توبہ قبول فرمائی اور اس کا حکم بذریعہ وحی نازل فرمایا۔ (روح البیان)
تنبیہ: یہ حضرات صحابہ کرام تھے ان سے لغزش ہوئی اللہ تعالیٰ نے اپنے حبیب پاک
صاحب لولاک ﷺ کی برکت سے ان کی لغزش کو معاف فرمایا۔ ان کی معافی کی سند قرآن مجید میں نازل فرمائی ان کے درجات بلند کئے لہٰذا اب کسی کو یہ حق نہیں پہنچتا کہ ان حضرات کے متعلق کوئی ادب سے گری ہوئی بات کہے یا دل میں بدگمانی رکھے کیونکہ صحابہ کرام کے ساتھ ایسا کرنا سراسر ہلاکت ہے اور دین کی بربادی ہے۔ خدا تعالیٰ ادب کی توفیق عطا فرمائے۔ (آمین)
قطع تعلقی (بائیکاٹ) کے متعلق قرآن پاک میں ہے ولا ترکنوا الی الذین ظلموا فتمسکم النار یعنی ظالموں کی طرف میلان نہ کرو ورنہ تمہیں نار جہنم پہنچے گی۔
نیز قرآن پاک میں ہے فلا تقعد بعد الذکریٰ مع القوم الظلمین یعنی یاد آنے کے بعد ظالموں کے پاس نہ بیٹھو۔
اور حدیث پاک میں ہے:
”رسول اکرم ﷺ نے فرمایا کہ جب بنی اسرائیل گناہوں میں مبتلا ہوئے تو ان کو ان کے علماء نے منع کیا مگر وہ باز نہ آئے پھر ان کے علماء نے ان کے ساتھ ان کی مجلسوں میں بیٹھنا شروع کر دیا اور ان کے ساتھ کھاتے پیتے رہے (بائیکاٹ نہ کیا) تو خدا تعالیٰ نے ان کے ایک دوسرے کے دلوں پر مار دیا اور حضرت داؤد اور حضرت عیسیٰ کی زبانی ان پر لعنت بھیجی کیونکہ وہ نافرمانی کرتے حد سے بڑھ گئے تھے۔ حضرت ابن مسعود ؓ نے فرمایا کہ رسول اکرم ﷺ تکیہ لگائے تشریف فرما تھے۔ حضور اٹھ کر بیٹھ گئے اور فرمایا قسم اس ذات کی جس کے قبضہ میں میری جان ہے جرائم پیشہ لوگوں کو روک لو“۔ (ترمذی شریف صفحہ ١٣٠‘ ج ٢)
مذکورہ بالا بائیکاٹ کا حکم ایسے لوگوں کے متعلق ہے جو عملی طور پر جرائم کا ارتکاب کرتے ہیں لیکن جو دین کے ساتھ دشمنی کریں اور خدا تعالیٰ اور اس کے پیارے رسول ﷺ کی شان و عظمت پر حملے کریں ایسے بد مذہبوں کے لیے سخت حکم ہے ان کے ساتھ بائیکاٹ نہ کرنا‘ میل ملاپ‘ محبت‘ دوستی کرنا سخت
حرام ہے اگرچہ وہ ماں باپ ہوں یا بیٹے بیٹیاں ہوں، بہن بھائی کنبہ برادری ہو، قرآن پاک میں ہے۔
يا ايها الذين امنوا لا تتخذوا اباء كم واخوانكم اولياء ان استحبوا الكفر على الايمان ومن يتولهم منكم فاولئك هم الظلمون
”یعنی اے ایمان والو! اگر تمہارے باپ دادا اور تمہارے بھائی، بہن ایمان پر کفر کو پسند کریں تو ان سے محبت و دوستی نہ کرو اور جو تم میں سے ان کے ساتھ دوستی کرے گا وہ ظالموں میں سے ہو گا“۔
نیز قرآن پاک میں ہے:
لا تجد قوما يومنون بالله واليوم الاخر يوادون من حاد الله ورسوله ولو كانوا ابائهم او ابنائهم او اخوانهم او عشيرتهم اولئك كتب فى قلوبهم الايمان وايدهم بروح منه ويدخلهم جنت تجرى من تحتها الانهر خلدين فيها رضی الله عنهم ورضوا عنه اولئك حزب الله الا ان حزب الله هم المفلحون
”یعنی تم نہ پاؤ گے کسی ایسی قوم کو جو خدا تعالیٰ پر اور آخرت پر ایمان رکھتے ہوں، وہ دوستی کریں ایسے لوگوں سے جو دشمنی اور مخالفت کریں اللہ تعالیٰ اور اس کے پیارے رسول ﷺ سے اگرچہ وہ دشمنی کرنے والے ان کے باپ ہوں یا بیٹے ہوں، بھائی ہوں یا کنبہ برادری ہو۔ ایسے ایمان والوں کے دلوں میں اللہ تعالیٰ نے ایمان نقش فرما دیا ہے اور ان کی روح سے مدد فرماتا ہے اور انہیں بہشتوں میں داخل فرمائے گا جن کے نیچے نہریں جاری ہیں۔ ان بہشتوں میں وہ ہمیشہ رہیں گے۔ خدا تعالیٰ ان سے راضی وہ خدا سے راضی۔ یہ لوگ خدا تعالیٰ کی جماعت ہیں اور خدا تعالیٰ کی جماعت ہی دونوں جہان میں کامیاب ہے“۔
آیت مذکورہ کا مفہوم یہ کہ خدا تعالیٰ پر ایمان اور خدا کے رسول کے دشمنوں کے
ساتھ دوستی یہ دونوں چیزیں اکٹھی ہو ہی نہیں سکتیں چنانچہ تفسیر روح المعانی میں ہے۔ والكلام على ما فى الكشاف من باب التخييل خيل ان من الممتنع المحال ان تجد قوما مومنين يوادون المشركين ”یعنی آیت مبارکہ میں یہ تصور دلایا گیا ہے کہ کوئی قوم مومن بھی ہو اور کفار و مشرکین کے ساتھ اس کی محبت و دوستی بھی ہو یہ محال و ممتنع ہے“۔ نیز اسی میں ہے: مبالغه فى النهى عنه والزجر عن ملابسته والتصلب فى مجانبه اعداء الله تعالى ”یعنی آیت مذکورہ میں خدا تعالیٰ اور اس کے پیارے رسول ﷺ کے دشمنوں کے ساتھ محبت و دوستی کرنے سے مبالغہ کے ساتھ منع فرمایا گیا ہے اور ایسا کرنے والوں کے لیے زجر و توبیخ ہے اور خدا تعالیٰ کے دشمنوں سے الگ رہنے کی پختگی بیان کی گئی ہے“۔
خدا تعالیٰ جل مجدہ نے اپنے حبیب پاک کے صحابہ کرام کے دلوں میں ایسا ایمان نقش کر دیا تھا کہ ان کی نظروں میں حبیب خدا ﷺ کے مقابلہ میں کسی کی کوئی وقعت ہی نہ تھی خواہ وہ باپ ہو کہ بیٹا‘ بھائی ہو کہ بہن۔ چنانچہ سیدنا امیر المومنین ابو بکر صدیق ؓ نے اپنے باپ ابو قحافہ کی زبان سے سید دو عالم علیہ الصلوۃ والسلام کی شان میں گستاخی سنی تو اس کو ایسا مکا رسید کیا کہ وہ گر گیا۔ جب حضور علیہ الصلوۃ والسلام سے عرض کیا اور حضور نے پوچھا فعلت یا ابا بکر اے ابو بکر تو نے ایسا کیا ہے۔ عرض کی ہاں یا رسول اللہ ۔ قال لاتعد قال والله لو كان السيف قريبا منى لضربته یا رسول اللہ خدا تعالیٰ کی قسم اگر میرے قریب تلوار ہوتی تو میں اس کو مار دیتا اس پر آیت مذکورہ نازل ہوئی۔(روح المعانی)
اور سیدنا ابو عبیدہ بن جراح ؓ نے اپنے باپ کے منہ سے اپنے محبوب آقا کی شان میں کوئی ناپسندیدہ بات سنی تو اسے منع کیا وہ باز نہ آیا تو اس باپ کو قتل کر دیا جیسے روح
العانی میں ہے۔ - عن انس قال كان ان ابو عبيده قتل اباه وهو من جمله اساری بدر بیده لما سمع منه فى رسول الله ﷺ ما يكره ونهاه فلم ينته
یوں ہی حضرت فاروق اعظم ؓ نے اپنے ماموں عاص بن ہشام کو بدر کے دن اپنے ہاتھ سے قتل کر دیا اور حضرت مولیٰ علی شیر خدا اور حضرت حمزہ اور حضرت عبیدہ بن حارث نے عتبہ شیبہ اور ولید بن عتبہ کو قتل کر دیا اور حضرت مصعب بن عمیر نے اپنے بھائی عبید بن عمیر کو اپنے ہاتھ سے قتل کر دیا۔
خدا تعالیٰ ان پاک روحوں پر لاکھوں، کروڑوں، اربوں، کھربوں رحمتیں نازل فرمائے جنہوں نے امت کو عشق مصطفیٰ کا درس دیا اور یہ ثابت کر دیا کہ ناموس مصطفیٰ کے سامنے سب ہیچ ہیں۔ حضور رحمت دو عالم علیہ الصلوۃ والسلام کی عزت و عظمت کے سامنے نہ کسی استاد کی عزت ہے نہ کسی پیر کا تقدس رہ جاتا ہے، نہ ماں باپ کا وقار، نہ بیوی بچوں کی محبت آڑے آتی ہے، نہ مال و دولت ہی رکاوٹ بن سکتی ہے۔ - سبحان من كتب الايمان فى قلوب المومنين وايدهم بروح منه
صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم کے عشق و محبت ہی کی بنا پر خدا تعالیٰ نے ان کے جذبات کی تعریف فرمائی ہے۔ - اشداء على الكفار رحماء بينهم یعنی وہ کافروں دشمنوں پر بڑے ہی سخت ہیں اور آپس میں رحم دل ہیں، بلکہ اگر غور کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ خدا اور رسول صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے دشمنوں کے ساتھ دشمنی اور شدت کی مقدار پر ہی عشق و محبت کا نکھار ہوتا ہے۔ جو شخص محبت کا دعویٰ تو کرے لیکن محبوب کے دشمنوں کے ساتھ بغض و عداوت نہ رکھے وہ محبت میں سچا نہیں ہے، وہ محبت، محبت ہی نہیں ہے بلکہ وہ بربریت ہے، دھوکہ ہے، فریب ہے۔ - الحاصل خدا تعالیٰ اور اس کے پیارے رسول ﷺ کے دوستوں کے ساتھ دوستی اور ان کے دشمنوں کے ساتھ دشمنی افضل الاعمال ہیں۔ حدیث پاک میں ہے افضل الاعمال الحب فى الله والبغض فى الله (مشکوۃ شریف) یعنی عملوں میں سے افضل ترین عمل خدا تعالیٰ کے دوستوں سے محبت کرنا اور خدا
تعالیٰ کے دشمنوں کے ساتھ دشمنی کرنا ہے۔ رسول اکرم ﷺ دربار الہی میں یوں دعا کرتے ہیں:
”اللهم اجعلنا هادین مهتدین غیر ضالین ولا مضلین سلما لاولیئک وعدوا لاعدائک نحب بحبک من احبک ونعادی بعداوتک من خالفک اللهم هذالدعا وعلیک الاجابه ـ“ (ترمذی شریف صفحہ ١٧٨‘٢)
”یا اللہ! ہم کو ہدایت دہندہ‘ ہدایت یافتہ کر۔ یا اللہ ہم کو گمراہ اور گمراہ کرنے والا نہ کر‘ یا اللہ ہم کو اپنے دوستوں کے ساتھ محبت و دوستی کرنے والا اور اپنے دشمنوں کے ساتھ دشمنی و عداوت رکھنے والا بنا۔ یا اللہ ہم تیری محبت کی وجہ سے تیرے دوستوں سے محبت کرتے ہیں اور تیرے ساتھ ان کی عداوت کی وجہ سے ہم ان سے عداوت رکھتے ہیں۔ یا اللہ یہ ہماری دعا ہے اسے قبول فرما“۔
ان ارشادات عالیہ کو وہ صلح کلی حضرات آنکھیں کھول کر دیکھیں جو لوگ بے سوچے سمجھے جھٹ کہہ دیتے ہیں کہ حضور تو کافروں کو بھی گلے لگاتے تھے۔ ان حضرات سے سوال ہے کہ رسول اکرم ﷺ خدا تعالیٰ کے ارشاد مبارک یا ایھا النبی جاھد الکفار والمنافقین واغلظ علیھم کے مطابق حکم الٰہی کی تعمیل کرتے تھے یا نہیں۔ ہر مسلمان کا ایمان ہے کہ احکام خداوندی کی تعمیل سید دو عالم ﷺ سے بڑھ کر کوئی نہیں کر سکتا اور نہ کسی نے کی ہے۔ بنابریں رسول اکرم ﷺ نے مسجد نبوی شریف سے منافقوں کا نام لے کر مسجد سے نکال دیا۔ سیدنا ابن عباس ؓ نے فرمایا:
”یعنی رسول اکرم ﷺ جمعہ کے دن جب خطبہ کے لیے کھڑے ہوئے تو فرمایا اے فلاں تو منافق ہے‘ لہٰذا مسجد سے نکل جا۔ اے فلاں تو بھی منافق ہے مسجد سے نکل جا‘ حضور ﷺ نے کئی منافقوں کے نام لے کر نکالا اور ان کو سب کے سامنے رسوا کیا۔ اس جمعہ کو حضرت فاروق اعظم ؓ بھی مسجد
شریف میں حاضر نہیں ہوئے تھے۔ کسی کام کی وجہ سے دیر ہو گئی تھی جب وہ منافق مسجد سے نکل کر رسوا ہو کر جا رہے تھے تو سیدنا فاروق اعظمؓ آ رہے تھے۔ سیدنا فاروق اعظمؓ شرم کی وجہ سے چھپ رہے تھے کہ مجھے تو دیر ہو گئی ہے شاید جمعہ ہو گیا ہے لیکن منافق فاروق اعظم سے اپنی رسوائی کی وجہ سے چھپ رہے تھے۔ پھر جب فاروق اعظمؓ مسجد میں داخل ہوئے تو ابھی جمعہ نہیں ہوا تھا‘ بعد میں ایک صحابی نے کہا اے عمرؓ تجھے خوش خبری ہو کہ آج خدا تعالیٰ نے منافقوں کو رسوا کر دیا ہے”۔ (تفسیر روح المعانی جلد ١١‘ صفحہ ١١‘ تفسیر مظہری صفحہ ٢٨٩ / ٤‘ تفسیر ابن کثیر صفحہ ٣٨٤ / ٢‘ تفسیر خازن صفحہ ٥١١ / ٣‘ تفسیر بغوی علی الخازن صفحہ ٥١١ / ٣‘ تفسیر روح البیان صفحہ ٤٩٤ / ٣)
اور سیرت ابن ہشام میں عنوان قائم کیا ہے طرد المنافقین من مسجد رسول اللہ ﷺ اور اس کے تحت فرمایا کہ منافق لوگ مسجد نبوی میں آتے اور مسلمانوں کی باتیں سن کر ٹھٹھے کرتے دین کا مذاق اڑاتے تھے۔ ایک دن کچھ منافق مسجد نبوی شریف میں اکٹھے بیٹھے تھے آہستہ آہستہ آپس میں باتیں کر رہے تھے ایک دوسرے کے ساتھ قریب قریب بیٹھے تھے۔ رسول اکرم ﷺ نے دیکھ کر کہا فامر بھم رسول اللہ ﷺ فاخرجوا من المسجد اخراجا عنيفا۔ رسول اللہ ﷺ نے حکم دیا کہ ان منافقوں کو سختی سے نکال دیا جائے۔ اس ارشاد پر حضرت ابو ایوبؓ‘ خالد بن زید اٹھ کھڑے ہوئے اور عمر بن قیس کو ٹانگ سے پکڑ کر گھسیٹتے گھسیٹتے مسجد سے باہر پھینک دیا پھر حضرت ابو ایوب نے رافع بن ودیعہ کو پکڑا اس کے گلے میں چادر ڈال کر خوب بھینچا اور اس کے منہ پر طمانچہ مارا اور اس کو مسجد سے نکال دیا اور ساتھ ساتھ حضرت ابو ایوب فرماتے جاتے اف لک منافقا خبیثا ارے خبیث منافق تجھ پر افسوس ہے۔ اے منافق رسول اکرم ﷺ کی مسجد سے نکل جا اور ادھر حضرت عمارہؓ بن حزم نے زید بن عمرو کی داڑھی کو پکڑا زور سے کھینچا اور کھینچتے کھینچتے مسجد سے نکال دیا اور پھر اس کے سینے پر دونوں ہاتھوں سے تھپڑ مارا کہ وہ گر گیا۔ اس منافق نے کہا اے عمارہ تو نے مجھے بہت عذاب دیا ہے۔ تو صحابی عمارہ نے فرمایا خدا تجھے دفع کرے جو
خدا تعالیٰ نے تیرے لیے عذاب تیار کیا ہے وہ اس سے بھی سخت تر ہے۔ فلا تقربن مسجد رسول اللہ ﷺ ۔ آئندہ رسول اللہ ﷺ کی مسجد مبارک کے قریب نہ آنا۔
اور بنو نجار قبیلہ کے دو صحابی ابو محمد جو کہ بدری صحابی تھے اور ابو محمد مسعود نے قیس بن عمرو کو جو کہ منافقین میں سے نوجوان تھے گدی پر مارنا شروع کیا حتی کہ مسجد سے باہر نکال دیا اور حضرت عبداللہ بن حارث نے جب سنا کہ حضور نے منافقوں کے نکال دینے کا حکم فرمایا ہے‘ حارث بن عمرو کو سر کے بالوں سے پکڑ کر زمین پر گھسیٹتے گھسیٹتے مسجد سے باہر نکال دیا۔ وہ منافق کہتا تھا‘ اے ابن حارث تو نے مجھ پر بہت سختی کی ہے تو انہوں نے جواب میں فرمایا اے خدا کے دشمن تو اسی لائق ہے تو نجس ہے پلید ہے۔ آئندہ مسجد کے قریب نہ آنا۔ ادھر ایک صحابی نے اپنے بھائی زری بن حارث کو سختی سے نکال کر فرمایا افسوس کہ تجھ پر شیطان کا تسلط ہے۔ (سیرت ابن ہشام صفحہ ١/٥٢٨)
نیز خدا تعالیٰ نے مسلمانوں کو ارشاد فرمایا کہ تم ابراہیم ؑ کی پیروی میں خدا تعالیٰ اور اس کے حبیب ﷺ کے دشمنوں سے ہمیشہ نفرت اور بیزاری رکھو۔ ارشاد ہے:
قد كانت لكم اسوه حسنه فى ابراهيم والذين معه اذ قالوا لقومهم انا براء منكم ومما تعبدون من دون الله كفرنا بكم وبدا بيننا وبينكم العداوه والبغضاء ابدا حتى تومنوا بالله وحده (سورہ ممتحنہ)
”یعنی اے ایمان والو تمہارے لیے ابراہیمؑ اور ان کے ماننے والوں میں اچھی پیروی ہے جب کہ انہوں نے اپنی قوم سے فرمایا کہ ہم تم سے اور تمہارے بتوں سے بیزار ہیں۔ ہم انکاری ہیں اور ہمارے تمہارے درمیان جب تک تم خدا وحدہ پر ایمان نہ لاؤ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے دشمنی ٹھن گئی ہے“۔
اور تفسیر روح المعانی میں حدیث قدسی منقول ہے:
يقول الله تبارك وتعالى وعزتي لا ينال رحمتي من لم يوال اوليائي ويعاد اعدائي (صفحہ ٣٥ جز ٢٨)
"یعنی اللہ تعالیٰ فرماتا ہے مجھے میری عزت کی قسم جو شخص میرے دوستوں کے ساتھ دوستی نہیں کرتا اور میرے دشمنوں کے ساتھ دشمنی نہیں کرتا وہ میری رحمت حاصل نہیں کر سکتا"۔
اور درۃ الناصحین میں علامہ خوبوی نے ایک حدیث پاک ذکر کی ہے: "یعنی رسول اکرم ﷺ سے مروی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ کی طرف وحی بھیجی فرمایا اے موسیٰ تو نے میرے لیے بھی کوئی عمل کیا ہے۔ موسیٰؑ نے عرض کی یا اللہ میں نے تیرے لیے نماز پڑھی خدا تعالے نے فرمایا نماز تو تیرے ہی لیے برہان بنے گی۔ عرض کی یا اللہ میں نے تیرے لیے روزے رکھے ہیں۔ خدا تعالے نے فرمایا اے موسیٰ روزہ تو تیرے لیے ہی ڈھال بنے گا۔ پھر عرض کی میں نے تیرے لیے صدقہ دیا ہے خدا تعالے نے فرمایا صدقہ تو تیرے ہی لیے سایہ بنے گا۔ عرض کی میرے خدا میں نے تیرے لیے ذکر کیا ہے۔ فرمایا اے موسیٰ تو تیرے لیے ہی نور ہو گا۔ بتا تو نے میرے لیے کون سا عمل کیا ہے۔ موسیٰؑ نے عرض کی میرے پروردگار تو ہی بتا دے کہ وہ کون سا عمل ہے جو تیرے لیے ہو۔ خدا تعالے نے فرمایا اے پیارے موسیٰ کیا تو نے میرے دوستوں کے ساتھ محبت و دوستی کی ہے اور کیا تو نے میرے دشمنوں کے ساتھ دشمنی کی ہے"۔ (درۃ الناصحین، صفحہ ٢١٠)
اسی طرح کا ایک واقعہ ایک ولی اللہ کے ساتھ پیش آیا جیسا کہ تفسیر روح البیان صفحہ ٤ / ٤٧٨ پر ہے۔
اس سے معلوم ہوا کہ خدا تعالے کے دربار میں خدا تعالے کے دوستوں کے ساتھ محبت کرنا جتنا مقبول و محبوب عمل ہے، اتنا ہی خدا تعالے کے دشمنوں کے ساتھ دشمنی و عداوت رکھنا بھی مقبول و محبوب عمل ہے۔ نیز خدا تعالے اور اس کے پیارے حبیب کی محبت اور ان کے دشمنوں، گستاخوں کی محبت آپس میں ضدیں ہیں یہ دونوں بیک وقت ایک دل میں جمع نہیں ہو سکتیں۔
مخدوم الاولیاء سیدنا امام ربانی خواجہ مجدد الف ثانی سرہندی قدس سرہ نے فرمایا۔
”دو محبت متبائنہ جمع نشوند جمع کہ ضدین را محال گفتہ اند۔ محبت یکے مستلزم عداوت دیگر ست۔“ (مکتوبات امام ربانی مکتوب نمبر ١٦٥ جلد اول) یعنی دو محبتیں جو ایک دوسرے کی ضد ہوں ایک دل میں جمع نہیں ہو سکتیں کیونکہ اجتماع ضدین محال ہے۔ اگر خدا تعالیٰ اور اس کے پیارے رسول ﷺ کی دل میں محبت ہوگی تو خدا اور رسول کے دشمنوں کی محبت دل میں نہیں آسکتی اور خدا تعالیٰ اور اس کے پیارے رسول ﷺ کے دشمنوں کی جتنی محبت و دوستی دل میں آئے گی تو خدا اور رسول (جل جلالہ و ﷺ) کی محبت اتنی ہی کم ہو جائے گی۔
نیز فرمایا وعلامت کمال محبت کمال بغض است با اعداء او ﷺ (مکتوب ١/١٦٥)
یعنی تاجدار مدینہ ﷺ کے ساتھ کمال محبت کی یہ علامت ہے کہ سید دو عالم علیہ الصلوۃ والسلام کے دشمنوں کے ساتھ کمال بغض و عداوت ہو۔ نیز فرمایا:
”کافروں کے ساتھ جو کہ خدا تعالیٰ اور اس کے پیارے حبیب کے دشمن ہیں دشمنی رکھنی چاہیے اور ان کو ذلیل و خوار کرنے میں کوشش کرنی چاہیے اور کسی طرح ان کی عزت نہیں کرنی چاہیے اور ان بدبختوں کو اپنی مجلس میں نہیں آنے دینا چاہیے۔“۔ (مکتوب نمبر ١٦٥)
نیز فرمایا در رنگ سگاں ایشاں را دور باید داشت یعنی خدا اور رسول کے دشمنوں کو کتوں کی طرح دور رکھنا چاہیے۔ نیز فرمایا ”پس عزت اسلام در خواری کفر و اہل کفرست۔ کسیکہ اہل کفر را عزیز داشت اہل اسلام را خوار ساخت“۔ (مکتوب نمبر ١/١٦٣) یعنی اسلام کی عزت اسی میں ہے کہ کفر و کفار کو خوار و ذلیل کیا جائے جو شخص کفر والوں کی عزت کرتا ہے وہ حقیقت میں مسلمانوں کو ذلیل کرتا ہے۔
نیز سیدنا امام ربانی ؒ نے فرمایا:
”رسول اکرم شفیع معظم ﷺ کی بارگاہ تک لے جانے والا یہی ایک راستہ ہے (کہ انکے دشمنوں کے ساتھ دشمنی عداوت رکھی جائے۔) اگر اس راستہ کو چھوڑ دیا جائے تو اس
دربار تک رسائی مشکل ہے"۔ (مکتوب نمبر ١/١٦٥)
اور یہ بھی مسلم کہ سید اکرم نور مجسم فخر آدم و بنی آدم ﷺ تک رسائی ہی دین ہے۔ ڈاکٹر سر اقبال مرحوم نے کیا خوب فرمایا ہے۔
اگر باو نرسیدی تمام بولہبی ست
یعنی تو اپنے آپ کو مصطفیٰ ﷺ کے مبارک قدموں تک پہنچا دے اور اگر تو ان تک نہ پہنچ سکا تو تیرا سب کچھ ہی ابولہب ہے۔
بدمذہبوں کے ساتھ بائیکاٹ کے متعلق چند احادیث مبارکہ بیان کی جاتی ہیں۔
حدیث نمبر ١ عن ابی ھریرہ قال قال رسول اللہ ﷺ
یکون فی اخر الزمان دجالون کذابون یاتونکم من الاحادیث بمالم تسمعوا انتم ولا ابائکم فایاکم وایاہم لا یضلونکم ولا یفتنونکم۔ (مسلم شریف)
"حضرت ابوہریرہ ؓ روایت کرتے ہیں کہ رسول اکرم ﷺ نے فرمایا آخری زمانہ میں کچھ لوگ کذاب دجال بہت جھوٹے دھوکہ باز آئیں گے وہ تم سے ایسی باتیں بیان کریں گے جو نہ تم نے سنی ہوں گی نہ تمہارے باپ دادا نے سنی ہوں گی لہٰذا اے میری امت! تم ان کو اپنے سے بچاؤ اور اپنے آپ کو ان سے بچاؤ کہیں وہ تمہیں گمراہ نہ کردیں۔ کہیں وہ تمہیں فتنہ میں نہ ڈال دیں"۔
سبحان اللہ! کیا شان ہے تاجدار مدینہ ﷺ کی۔ آپ نے نور نبوت سے پہلے ہی دیکھ لیا کہ دین کے ڈاکو آئیں گے۔ بھولے بھالے مسلمانوں کو ان سنی اور بناوٹی باتیں سنا کر اپنے دجل و فریب سے ان کے ایمان لوٹیں گے لہٰذا اس شفیق امت ﷺ نے پہلے سے ہی امت کو بچنے کی تدبیر بتائی کہ اے میری امت! بے دینوں کے قریب مت پھٹکنا اور نہ ان کو اپنے قریب آنے دینا ورنہ گمراہ ہو جاؤ گے۔ لیکن امت کے کچھ بے لگام افراد ہیں جو
کہتے پھرتے ہیں جی صاحب! ہر کسی کی بات سننی چاہیے، دیکھیں بھلا کہتے کیا ہیں۔ اسی بنا پر بدمذہبوں کے جلسوں میں جانے والے، ان کا لٹریچر پڑھنے والے، ان کی تقریریں سننے والے ہزاروں لوگ گمراہ، بد دین ہو گئے، جہنم کا ایندھن بن گئے۔ حسبنا اللہ ونعم الوکیل ولاحول ولاقوہ الا باللہ العلی العظیم -
اے میرے مسلمان بھائیو! ہوشیار، خبردار، ہوشیار، خبردار! غیروں کے جلسوں میں مت جاؤ! ان کی تقریریں مت سنو، ان کے رسائل و اخبارات مت پڑھو ورنہ پچھتاؤ گے۔ اگر تقریر سنو تو اس کی جس کا دل محبت مصطفیٰ ﷺ سے لبریز ہے، کتابیں اور رسالے پڑھو تو ان کے جن کے سینے عشق مصطفیٰ ﷺ سے معمور ہیں۔ سیدنا محمد بن سیرین ؒ کے متعلق منقول ہے۔
”یعنی حضرت ابن سیرین ؒ بیٹھے تھے کہ دو بدمذہب آئے اور انہوں نے عرض کی کہ حضرت اجازت ہو تو ہم آپ کو ایک حدیث پاک سنائیں۔ آپ نے فرمایا نہیں، پھر انہوں نے عرض کیا کہ اجازت ہو تو ہم قرآن پاک کی ایک آیت پاک بیان کریں، آپ نے فرمایا ہرگز نہیں یا تو تم یہاں سے چلے جاؤ یا میں اٹھ کر چلا جاتا ہوں۔ اس پر وہ دونوں خائب و خاسر ہو کر چلے گئے تو کسی نے عرض کیا حضور اس میں کیا حرج تھا کہ وہ دو آدمی قرآن پاک کی کوئی آیت پاک سناتے۔ اس پر حضرت سیدنا محمد بن سیرین قدس سرہ نے فرمایا کہ یہ دونوں بدمذہب تھے۔ اگر یہ آیت پاک بیان کرتے وقت اپنی طرف سے اس میں کچھ لگا دیتے تو مجھے ڈر تھا کہ کہیں وہ تحریف میرے دل میں بیٹھ جاتی (اور میں بھی بدمذہب ہو جاتا)“۔ (از فتاویٰ الحرمین)
سبحان اللہ! وہ امام بن سیرین جلیل القدر محدث، قوم کے پیشوا، وقت کا علامہ علم کا ٹھاٹھیں مارتا ہوا سمندر ۔ وہ تو بدمذہبوں سے اتنا پرہیز کریں کہ قرآن پاک کی ایک آیت ان سے سننے کے روادار نہیں اور آج کے ان پڑھ، دین سے بے خبر اتنی بے باکی اور جرات سے کہہ دیتے ہیں کہ جی صاحب ہر کسی کی بات سننی چاہیے ۔ ولا حول ولا قوہ الا باللہ العلی العظیم ۔ یوں ہی حضرت سعید بن جبیر سے کسی نے کوئی بات
پوچھی تو آپ نے اس کو جواب نہ دیا فقيل له فقال ازایشان (فتاوی الحرمین) کسی نے عرض کیا کہ حضرت آپ نے اس کو جواب کیوں نہیں دیا تو آپ نے فرمایا یہ بدمذہبوں میں سے ہے۔
حدیث پاک نمبر ٢
قال رسول الله ﷺ ان مجوس هذه الامه المكذبون باقدار الله ان مرضوا فلا تعودوهم وان ماتوا فلا تشهدوهم وان لقيتموهم فلا تسلموا عليهم (ابن ماجه شريف)
”یعنی رسول اللہ ﷺ نے فرمایا قضا و قدر کو جھٹلانے والے اس امت کے مجوسی ہیں۔ (حالانکہ وہ نمازیں بھی پڑھتے ہیں، روزے بھی رکھتے ہیں) فرمایا کہ اگر وہ بیمار پڑیں تو ان کو پوچھنے مت جاؤ اور اگر وہ مرجائیں تو ان کے مرنے پر ان کے جنازہ وغیرہ میں مت شریک ہو، اگر تم سے ملیں تو ان کو سلام نہ کرو“۔
بزرگان دین کے ارشادات
حضرت سیدنا سہل تستریؒ نے فرمایا
"جس شخص نے اپنا ایمان درست کیا اور اپنی توحید کو خالص کیا وہ کسی بدمذہب سے انس و محبت نہ کرے گا نہ اس کے پاس بیٹھے گا، نہ اس کے ساتھ کھائے پئے گا نہ اس کے ساتھ آئے جائے گا بلکہ اپنی طرف سے اس کے لیے دشمنی اور بغض ظاہر کرے گا"۔
(روح المعانی صفحہ نمبر ٢٨/٣٥)
نیز فرمایا: "جو شخص کسی بدمذہب کے ساتھ خوش طبعی کرے خدا تعالیٰ اس کے دل سے نور ایمان نکال لے گا۔ جس بندے کو اس بات کا اعتبار نہ آئے وہ تجربہ کر کے دیکھ لے"۔
(روح المعانی)
تفسیر روح البیان میں ہے:
"وفات کے بعد کوئی شخص خواب میں سیدنا ابن مبارک رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی زیات سے مشرف ہوا اور عرض کیا حضرت آپ کے ساتھ خدا تعالیٰ نے کیا کیا تو فرمایا مجھے عتاب فرمایا اور مجھے تیس سال، ایک روایت میں تین سال کھڑا رکھا اور اس عتاب کا سبب یہ کہ میں نے ایک دن ایک بدمذہب کی طرف شفقت سے دیکھا تھا تو خدا تعالیٰ نے فرمایا اے ابن مبارک تو نے میرے دین کے ایک دشمن کے ساتھ دشمنی کیوں نہیں کی"۔
(روح البیان ص ٤١٩، جلد ٤)
یہ واقعہ لکھنے کے بعد صاحب تفسیر روح البیان فرماتے ہیں: "پس کیا حال ہوگا اس شخص کا جو دیدہ دانستہ دین کے ظالموں کے پاس بیٹھتا ہے"۔
(روح البیان ص ٢٢٠)
عارف باللہ حضرت علامہ حقیؒ کا ارشاد مبارک
"برا ہمنشین انسان کو دوزخ کی طرف کھینچ کر لے جاتا ہے اور اسے ہلاکت کے
گڑھے میں ڈال دیتا ہے لہٰذا مخلص اور سنی مومن کو چاہیے کہ وہ کافروں، منافقوں اور بدمذہبوں کی صحبت سے بچے تاکہ اس کی طبیعت میں ان کا بدعقیدہ اور برا عمل سرایت نہ کر جائے۔ (روح البیان صفحہ ٤١٩ / ٤)
نیز عارف باللہ علامہ حقی نے فرمایا ”حدیث پاک میں ہے کہ جو شخص کسی قوم سے محبت کرے گا‘ ان کے کسی عمل کو پسند کرے گا وہ انہیں کے ساتھ اٹھایا جائے گا اور اس قوم کے ساتھ حساب میں شریک ہو گا اگرچہ ان کے ساتھ اعمال میں شریک نہیں تھا“۔
(روح البیان صفحہ نمبر ٤٩٤ / ٩)
نیز تفسیر روح البیان میں ہے ”خدا تعالیٰ کے دشمنوں پر سختی کرنا یہ بھی حسن خلق میں داخل ہے۔ اس لیے کہ جب سب مہربانوں سے مہربان آقا کو اعدائے دین پر سختی کرنے کا حکم ہے تو دوسرے کا کیا شمار۔ لہٰذا دشمنان دین پر سختی کرنا یہ دوستوں پر مہربانی کے منافی نہیں ہے۔ جیسا کہ خدا تعالیٰ نے صحابہ کرام کی مدح کرتے ہوئے فرمایا ہے وہ دشمنوں پر بڑے سخت ہیں اور اپنوں پر بڑے مہربان“۔ (روح البیان صفحہ نمبر ١٠/٤٧)
حضرت سیدنا فضیل بن عیاضؒ کا ارشاد گرامی
”یعنی جس کسی نے کسی بدمذہب سے محبت کی خدا تعالیٰ اس کا عمل برباد کر دے گا اور اس کے دل سے نور ایمان نکال دے گا“۔ (غنیۃ الطالبین صفحہ نمبر ٨٠)
نیز فرمایا: ”خدا تعالیٰ جب دیکھتا ہے کہ فلاں بندہ بدمذہبوں سے بغض رکھتا ہے‘ مجھے امید ہے کہ خدا تعالیٰ اس کے گناہ بخش دے گا اگرچہ اس کی نیکیاں تھوڑی ہوں“۔ (غنیہ الطالبین صفحہ نمبر ١/٨٠)
حضرت سفیان بن عیینہؒ کا ارشاد مبارک
”یعنی جو شخص کسی بدمذہب کے جنازہ پر گیا وہ لوٹنے تک خدا تعالیٰ کی ناراضگی میں رہے گا“۔
سرکار غوث اعظم محبوب سبحانی قطب ربانیؒ کا ارشاد مبارک:
وان لا یکاثر اهل البدع ولا یدانیہم ولا یسلم علیہم۔
”بدمذہبوں کے (جلسوں وغیرہ میں شرکت کر کے) ان کی رونق نہ بڑھائے اور ان کے قریب نہ آئے اور ان پر سلام نہ کرے“۔
(غنیة الطالبین صفحہ نمبر ٨٠)
نیز فرمایا ”یعنی بدمذہبوں کے ساتھ نہ بیٹھے اور ان کے قریب نہ جائے اور نہ ہی انہیں عید وغیرہ شادی کے موقع پر مبارک دے اور جب وہ مرجائیں تو ان کا جنازہ نہ پڑھے اور جب ان کا ذکر ہو تو رحمتہ اللہ علیہ نہ کہے بلکہ ان سے الگ رہے اور ان سے خدا تعالیٰ کی رضا کے لیے عداوت رکھے یہ اعتقاد کرتے ہوئے کہ ان کا مذہب باطل ہے اور ایسا کرنے میں ثواب کثیر اور اجر عظیم کی امید رکھے“۔
(غنیة الطالبین، صفحہ ٨٠)
امیرالمومنین سیدنا فاروق اعظم ؓ نماز مغرب پڑھ کر مسجد سے تشریف لائے تھے کہ ایک شخص نے آواز دی کون ہے جو مسافر کو کھانا کھلائے۔ سیدنا فاروق اعظم ؓ نے خادم سے فرمایا اس کو ساتھ لے آؤ وہ لے آیا۔ فاروق اعظم ؓ نے اسے کھانا منگا کر دیا۔ اس نے کھانا شروع کیا اس کی زبان سے ایک بات نکلی جس سے بدمذہبی کی بو آتی تھی، آپ نے فوراً اس کے سامنے سے کھانا اٹھا لیا اور اس کو نکال دیا۔
(ملفوظات امام اہلسنت الملفوظ حصہ دوم صفحہ ٩٨)
پھر یہ کہ خدا تعالیٰ کے نافرمانوں اور مخالفوں کے ساتھ بائیکاٹ کرنا یہ کوئی نئی بات نہیں بلکہ پہلی امتوں سے چلا آتا ہے۔ قرآن پاک میں ہے واسئلہم عن القریه التی کانت حاضره البحر اذ یعدون فی السبت اذ تاتیہم حیتانہم یوم سبتہم شرعا ویوم لا یسبتون لا تاتیہم ۔ (سوره اعراف) یعنی اصحابِ سبت جن کی بستی دریا کے کنارے واقع تھی انہوں نے ہفتہ کے دن مچھلیاں پکڑ کر خدا اور اس کے نبی کی نافرمانی کی تو اس قوم کے تین گروہ ہو گئے ایک گروہ
نافرمانی کرنے والا ایک برائی سے روکنے والا تیسرا خاموش۔ آخر کار فرمانبردار گروہ نے نافرمانوں سے ایسا بائیکاٹ کیا کہ درمیان میں دیوار کھڑی کر دی نہ یہ ادھر جاتے نہ ادھر آتے جب نافرمانوں کی نافرمانی حد سے بڑھ گئی تو وہ بندر بنا کر ہلاک کر دیے گئے۔ (تفسیر مظہری جلد سوم سورہ اعراف صفحہ ٧٢٦۔ تفسیر روح المعانی سورہ اعراف جلد نمبر ٩ صفحہ ٩٤)
پھر طرفہ یہ کہ ہر نمازی نماز وتر کی دعا میں پڑھتا ہے ونخلع ونترک من یفجرک یا اللہ ہم ہر اس شخص سے قطع تعلقی کریں گے اور علیحدہ ہو جائیں گے جو تیرا نافرمان ہے۔ عجیب معاملہ ہے کہ مسلمان مسجد میں دربار الہی میں مودبانہ کھڑا ہو کر ہاتھ باندھ کر عہد کرتا ہے کہ یا اللہ ہم تیرے نافرمانوں، مخالفوں کے ساتھ بائیکاٹ کریں گے لیکن مسجد سے باہر آکر ساری باتیں بھول جاتے ہیں۔ خدا تعالیٰ عہد پورا کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔
مسلمان بھائیوں سے اپیل:
میرے مسلمان بھائیو تاجدار مدینہ ﷺ کے بھولے بھالے امتیو ہوشیار خبردار، ہوشیار خبردار، اپنے ایمان کو بچاؤ، اپنے بیگانے کو پہچانو اور اگر شیطان دھوکہ دینے کی کوشش کرے تو مندرجہ بالا ارشادات کو بار بار پڑھو۔ خدا تعالیٰ دوست دشمن کی پہچان نصیب کرے۔ ان ارید الا الاصلاح ما استطعت وما توفیقی الا باللہ تعالیٰ۔
طالب دعا: سگ دربار سلطانی فقیر ابو سعید محمد امین غفرلہ، ٣ جمادی الاخرہ ١٣٩٤ھ
تتمہ
- ١۔ یہ تھا دنیا میں مسلمانوں کا خدا تعالیٰ اور اس کے پیارے حبیب علیہ الصلوٰۃ والسلام
کے دشمنوں کے ساتھ بائیکاٹ لیکن قیامت کے دن خدا تعالیٰ کی طرف سے بائیکاٹ ہوگا۔ چنانچہ قرآن پاک میں ہے:
يوم يقول المنافقون والمنافقات للذين امنوا انظرونا نقتبس من نوركم قيل ارجعوا ورائكم فالتمسوا نورا فضرب بينهم بسور له باب باطنه فيه الرحمه وظاهره من قبله العذاب (سورہ حدید‘ پ٢٧‘ آیه ١٣)
”یعنی قیامت کے دن (جب پل صراط پر سے گزر ہو گا اور خدا تعالیٰ ایمان والوں کو نور عطا فرمائے گا) اس نور کو دیکھ کر منافق مرد اور منافق عورتیں ایمان والوں سے کہیں گے کہ ہمیں ایک نگاہ دیکھو کہ ہم تمہارے نور سے کچھ حصہ لیں۔ اس پر فرمایا جائے گا اپنے پیچھے لوٹو وہاں نور ڈھونڈو۔ پھر جب لوٹیں گے تو ان کے درمیان دیوار کھڑی کر دی جائے گی جس کا ایک دروازہ ہو گا۔ اس کے اندر کی طرف رحمت ہو گی اور باہر کی طرف عذاب ہو گا یعنی دیوار کے ذریعہ ایسا مکمل بائیکاٹ کر دیا جائے گا کہ منافق لوگ ایمان والوں کے نور کی روشنی بھی نہ لے سکیں گے“۔
- ٢۔ جب قیامت کا دن ہو گا تو خدا تعالیٰ کی طرف سے اعلان ہو گا:
وامتازوا اليوم ايها المجرمون (سورہ یٰسین‘ پ ٢٣‘ آیه ٥٩)
”یعنی اے نافرمانو کافرو آج میرے بندوں سے الگ ہو جاؤ“۔
خدا تعالیٰ سب کو دین اسلام کی پیروی کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
مسلمان بندوں کی دعاؤں کا محتاج فقیر ابو سعید محمد امین غفرلہ
تصویر فیصلہ کرتی ھے !
محمد طاہر رزاق
تصویر
فیصلہ کرتی ہے
انگریز نے اشارہ کیا۔۔۔۔۔ مرزا قادیانی نے اپنا پھٹا ہوا منہ کھولا۔۔۔۔ اور ہذیان بکا۔۔۔۔ میں محمدؐ ہوں (نعوذ باللہ)۔۔۔۔۔ خدا تعالیٰ نے انسانیت کی ہدایت کے لیے محمدؐ کو دوبارہ اس دنیا میں میری شکل میں بھیجا ہے (نعوذ باللہ)۔۔۔۔۔ میں صورت اور سیرت کے اعتبار سے عین محمدؐ ہوں (نعوذ باللہ)۔۔۔۔۔ جو میرا انکار کرتا ہے۔۔۔۔۔ وہ محمدؐ کا انکار کرتا ہے۔۔۔۔۔ کیونکہ مجھ میں اور محمدؐ میں کوئی فرق نہیں ۔۔۔۔۔ جب مرزا قادیانی نے اپنی جہنمی زبان سے یہ کفر نکالا۔۔۔۔۔ تو اس کے ایک شاعر مرید لعین قاضی اکمل نے مرزا قادیانی کی شان میں ایک قصیدہ لکھا۔۔۔۔۔ جس کے دو شعر بصد معذرت پیش کرتا ہوں۔۔۔۔۔ نقل کفر‘ کفر نباشد ۔۔۔۔۔
اور آگے سے ہیں بڑھ کر اپنی شاں میں
محمدؐ دیکھنے ہوں جس نے اکمل
غلام احمد کو دیکھے قادیاں میں
(نعوذ باللہ)
جب مرزا قادیانی ملعون کے پاس یہ ارتدادی اشعار پہنچے۔۔۔۔۔ تو اس نے ان اشعار کو خوبصورت لکھوا کر ۔۔۔۔۔ فریم کروا کر ۔۔۔۔۔ اپنے کمرے کی دیوار پر لگوا دیا ۔۔۔۔۔ تاکہ آنے جانے والے اسے دیکھتے رہیں ۔۔۔۔۔ اور اس عقیدہ کی تشہیر ہوتی رہے۔۔۔۔۔
کرہ ارض پر بسنے والے انسانو! مرزا قادیانی لعین کو سرور کونین ﷺ سے کیا نسبت؟
کہاں ختم نبوت کا آفتاب عالمتاب ﷺ اور کہاں قادیان کا چمگادڑ کہاں سرور کائنات ﷺ اور کہاں رذیل کائنات۔ کہاں اللہ کا حبیب ﷺ اور کہاں گماشتہ ابلیس کہاں فخر انسانیت ﷺ اور کہاں ننگ انسانیت۔
کہاں شافع محشر ﷺ اور کہاں تماشائے محشر۔
اے اہل دنیا! ادب سے نگاہیں جھکا دو۔۔۔۔۔ اور گوش ہوش سے سنو۔۔۔۔۔
میرے نبی ! جناب محمد رسول اللہ ﷺ
جمال کائنات....... حسن کائنات....... زینت کائنات....... جن کے چہرے سے سورج کو ضیا ملتی ہے....... جن کے رخساروں کی دمک سے چاند‘ چاندنی حاصل کرتا ہے....... جن کی آنکھوں کی چمک سے ستارے جگمگانا سیکھتے ہیں....... جن کے دانتوں کی تنویر سے جواہرات چمکنے کا ہنر جانتے ہیں....... جن کے لبوں کی نزاکت سے غنچے چٹکنا سیکھتے ہیں....... جن کے ماتھے کے نور سے انسانیت کو راستے ملتے ہیں....... جن کے قد زیبا سے سرو اپنے قد کی رعنائی حاصل کرتا ہے....... جن کے سانسوں کی مہک سے مشک و عنبر خوشبو پاتے ہیں....... جن کی زلفوں کی لٹک سے کائنات بننا سنورنا سیکھتی ہے....... جن کی آنکھوں کی حیا سے کلیاں شرمانا سیکھتی ہیں....... جن کی مسکراہٹ سے قوس و قزح رنگ بکھیرنا جانتی ہے....... جن کی چال سے مست خرام ندیاں چلنے سے آشنا ہوتی ہیں....... جن کی گفتگو سے بلبل نغمے سیکھتی ہے....... جن کی آنکھوں کی سیاہی سے کالی گھٹاؤں کو حسن ملتا ہے....... جن کی آنکھوں کی سفیدی سے دن کو اجالا ملتا ہے....... جن کی پلکوں کی دلاویز حرکت سے نجوم جھلملانا سیکھتے ہیں....... جن کے ابرو خمدار کو دیکھ کر ہلال اپنی صورت تراشتا ہے....... جن کے جلال سے بجلیاں کڑکنا اور جن کے جمال سے باد نسیم چلنا جانتی ہے....... جن کی گفتگو کے لفظوں سے ہدایت کے چراغ جلتے ہیں....... اور جن کے قدموں کے نشان سے انسانیت کو منزل کا سراغ ملتا ہے۔
اب ذرا مرزا قادیانی کی تصویر دیکھو۔۔۔۔۔ انتہائی غور سے دیکھو۔۔۔۔۔!!!
آنکھیں ۔۔۔۔۔۔ چھوٹی بڑی
بڑی آنکھ بھی اتنی چھوٹی ۔۔۔۔۔کہ آنکھ کی سفیدی اور سیاہی کا امتیاز مشکل ہے۔۔۔۔۔
ہاتھی کی طرح لٹکتے ہوئے لمبے لمبے کان۔۔۔۔۔
لمبوترا سا سر۔۔۔۔۔ جس کا عیب چھپانے کے لیے سر پر سکھوں والا ”پگڑ“ باندھ دیا گیا
ہے-----
بے ڈھب ماتھا-----کسی پوٹھوہاری علاقے کا منظر پیش کرتا ہے-----
ابرو کے بال---- یوں ٹوٹے ہوئے جیسے "بال جھڑ" کا مریض ہو-----
کچھوے کی طرح اندر دبکی ہوئی گردن-----
خمیری روٹی کی طرح پھولے ہوئے بڑے بڑے ہونٹ-----
پھولے ہوئے نتھنے-----جیسے کم آکسیجن والی ہوا میں سانس لے رہا ہو-----
پچکے ہوئے گال-----جیسے چہرے پر کوئی باکسر مشق کرتا رہا ہو-----
آوارہ داڑھی-----جیسے مکڑی کے جالے کا ویرانہ
چہرے پر------رعب نہ دبدبہ-----
وجاہت نہ ملاحت-----
امانت نہ دیانت-----
شرافت نہ صداقت-----
رعنائی نہ زیبائی-----
جاذبیت نہ آدمیت-----
وقار نہ افتخار-----
شوکت نہ تمکنت-----
قابلیت نہ انسانیت-----
بتائیے! کیا یہ شکل کسی نبی کی ہو سکتی ہے؟ (نعوذ باللہ)
ہرگز نہیں----- اللہ کی قسم----- ہرگز نہیں-----
مرزا قادیانی دنیا کا سب سے کریہہ الصورت اور غلیظ منہ شخص تھا-----
اس کی تصویر ہی اس کے جھوٹا ہونے کی سب سے بڑی دلیل ہے۔
اس کی تصویر ہی اس کے کاذب ہونے کا اعلان کرتی ہے۔
اس کی تصویر ہی اس کے دجال ہونے کا فیصلہ کرتی ہے۔
شاعر ختم نبوت سید امین گیلانی نے کیا خوب کہا ہے
تو ہے بڑا دجال، ترے کیا کہنے ہیں
حلیہ دیکھو، آنکھیں ٹیڑھی، سر فٹ بال
پچکے پچکے گال، ترے کیا کہنے ہیں
جب کوئی تصویر دکھاتا ہے تیری
ڈر جاتے ہیں بال، ترے کیا کہنے ہیں
پیدا ہو نہیں سکتا رہتی دنیا تک
اب کوئی تجھ سا ”لال“، ترے کیا کہنے ہیں
جراح قادیانیت محمد طاہر رزاق
آؤ! قادیانی اخلاق دکھاؤں
محمد طاہر رزاق
”قادیانیوں کا اخلاق بڑا اچھا ہوتا ہے“ یہ وہ جملہ ہے جو اکثر ہمارے بھولے بادشاہوں کے نوک زبان رہتا ہے۔ یہ جملہ ملت اسلامیہ کے سادہ لوح لوگوں تک یونہی نہیں پہنچا۔ اس کے پیچھے قادیانیوں کی کفریہ مشینری کا پون صدی پر محیط پراپیگنڈہ شامل ہے۔ قادیانیوں کو شاید مرزا قادیانی کی جھوٹی نبوت کی تشہیر پر اتنی قوت نہیں صرف کرنا پڑی جتنی کہ انہیں اس زہر آلود جملہ کو مسلمانوں کے دل و دماغ میں اتارنے کے لیے صرف کرنا پڑی۔ ہمارے بھولے بادشاہوں کو ایک بنیادی بات ذہن میں رکھنی چاہیے کہ جو لوگ ہمارے آقا ﷺ کے دشمن ہیں وہ ہمارے محسن کیسے ہو سکتے ہیں؟ جو معلم اخلاق صلی اللہ علیہ سلم کی شان اقدس میں بکواس کرتے ہیں ان کا اخلاق سے کیا ناطہ؟ جو ملت اسلامیہ کو مدینہ منورہ کی شاہراہ سے ہٹا کر قادیان کے تاریک ارتدادی غاروں میں لے جانا چاہتے ہیں، وہ ہمارے خیر خواہ کیسے؟
میں اپنے سادہ لوح بھائیوں کے سامنے بانی فتنہ قادیانیت مرزا قادیانی کے اخلاق کی صرف ایک جھلک دکھاتا ہوں۔ وہ دیگ کا صرف یہی ایک دانہ چکھیں اور اندازہ کریں کہ باقی دیگ کتنی دم پختہ ہوگی۔ مرزا قادیانی مسلمانوں پر ایک ہزار دفعہ لکھ کر لعنت بھیج رہا ہے اور ہر لعنت پر نمبر بھی ڈالے جا رہا ہے تاکہ اس کے موذی دل کو تسکین مل جائے۔ حوالہ پیش خدمت ہے۔
١ لعنت ٢ لعنت ٣ لعنت ٤ لعنت ٥ لعنت ٦ لعنت ٧ لعنت ٨ لعنت ٩ لعنت ١٠ لعنت ١١ لعنت ١٢ لعنت ١٣ لعنت ١٤ لعنت ١٥ لعنت ١٦ لعنت ١٧ لعنت ١٨ لعنت ١٩ لعنت ٢٠ لعنت ٢١ لعنت ٢٢ لعنت ٢٣ لعنت ٢٤ لعنت
١٥٨
حوالہ نمبر 97 تا 101
٢٥ لعنت ٢٦ لعنت ٢٧ لعنت ٢٨ لعنت ٢٩ لعنت ٣٠ لعنت ٣١ لعنت ٣٢ لعنت ٣٣ لعنت ٣٤ لعنت ٣٥ لعنت ٣٦ لعنت ٣٧ لعنت ٣٨ لعنت ٣٩ لعنت ٤٠ لعنت ٤١ لعنت ٤٢ لعنت ٤٣ لعنت ٤٤ لعنت ٤٥ لعنت ٤٦ لعنت ٤٧ لعنت ٤٨ لعنت ٤٩ لعنت ٥٠ لعنت ٥١ لعنت ٥٢ لعنت ٥٣ لعنت ٥٤ لعنت ٥٥ لعنت ٥٦ لعنت ٥٧ لعنت ٥٨ لعنت ٥٩ لعنت ٦٠ لعنت ٦١ لعنت ٦٢ لعنت ٦٣ لعنت ٦٤ لعنت ٦٥ لعنت ٦٦ لعنت ٦٧ لعنت ٦٨ لعنت ٦٩ لعنت ٧٠ لعنت ٧١ لعنت ٧٢ لعنت ٧٣ لعنت ٧٤ لعنت ٧٥ لعنت ٧٦ لعنت ٧٧ لعنت ٧٨ لعنت ٧٩ لعنت ٨٠ لعنت ٨١ لعنت ٨٢ لعنت ٨٣ لعنت ٨٤ لعنت ٨٥ لعنت ٨٦ لعنت ٨٧ لعنت ٨٨ لعنت ٨٩ لعنت ٩٠ لعنت ٩١ لعنت ٩٢ لعنت ٩٣ لعنت ٩٤ لعنت ٩٥ لعنت ٩٦ لعنت ٩٧ لعنت ٩٨ لعنت ٩٩ لعنت ١٠٠ لعنت ١٠١ لعنت ١٠٢ لعنت ١٠٣ لعنت ١٠٤ لعنت ١٠٥ لعنت ١٠٦ لعنت ١٠٧ لعنت ١٠٨ لعنت ١٠٩ لعنت ١١٠ لعنت ١١١ لعنت ١١٢ لعنت ١١٣ لعنت ١١٤ لعنت ١١٥ لعنت ١١٦ لعنت ١١٧ لعنت ١١٨ لعنت ١١٩ لعنت ١٢٠ لعنت ١٢١ لعنت ١٢٢ لعنت ١٢٣ لعنت ١٢٤ لعنت ١٢٥ لعنت ١٢٦ لعنت ١٢٧ لعنت ١٢٨ لعنت ١٢٩ لعنت ١٣٠ لعنت ١٣١ لعنت ١٣٢ لعنت ١٣٣ لعنت ١٣٤ لعنت ١٣٥ لعنت ١٣٦ لعنت ١٣٧ لعنت ١٣٨ لعنت ١٣٩ لعنت ١٤٠ لعنت ١٤١ لعنت ١٤٢ لعنت ١٤٣ لعنت ١٤٤ لعنت ١٤٥ لعنت ١٤٦ لعنت ١٤٧ لعنت ١٤٨ لعنت ١٤٩ لعنت ١٥٠ لعنت ١٥١ لعنت ١٥٢ لعنت ١٥٣ لعنت ١٥٤ لعنت ١٥٥ لعنت ١٥٦ لعنت ١٥٧ لعنت ١٥٨ لعنت ١٥٩ لعنت ١٦٠ لعنت ١٦١ لعنت ١٦٢ لعنت ١٦٣ لعنت ١٦٤ لعنت ١٦٥ لعنت ١٦٦ لعنت ١٦٧ لعنت ١٦٨ لعنت ١٦٩ لعنت ١٧٠ لعنت ١٧١ لعنت ١٧٢ لعنت ١٧٣ لعنت ١٧٤ لعنت ١٧٥ لعنت ١٧٦ لعنت ١٧٧ لعنت ١٧٨ لعنت ١٧٩ لعنت ١٨٠ لعنت ١٨١ لعنت ١٨٢ لعنت ١٨٣ لعنت ١٨٤ لعنت ١٨٥ لعنت ١٨٦ لعنت ١٨٧ لعنت ١٨٨ لعنت ١٨٩ لعنت ١٩٠ لعنت ١٩١ لعنت ١٩٢ لعنت ١٩٣ لعنت ١٩٤ لعنت ١٩٥ لعنت ١٩٦ لعنت ١٩٧ لعنت ١٩٨ لعنت ١٩٩ لعنت ٢٠٠ لعنت ٢٠١ لعنت ٢٠٢ لعنت ٢٠٣ لعنت ٢٠٤ لعنت ٢٠٥ لعنت ٢٠٦ لعنت ٢٠٧ لعنت ٢٠٨ لعنت ٢٠٩ لعنت ٢١٠ لعنت ٢١١ لعنت ٢١٢ لعنت ٢١٣ لعنت ٢١٤ لعنت ٢١٥ لعنت ٢١٦ لعنت ٢١٧ لعنت ٢١٨ لعنت ٢١٩ لعنت ٢٢٠ لعنت ٢٢١ لعنت ٢٢٢ لعنت ٢٢٣ لعنت ٢٢٤ لعنت ٢٢٥ لعنت ٢٢٦ لعنت ٢٢٧ لعنت ٢٢٨ لعنت ٢٢٩ لعنت ٢٣٠ لعنت ٢٣١ لعنت ٢٣٢ لعنت ٢٣٣ لعنت ٢٣٤ لعنت ٢٣٥ لعنت ٢٣٦ لعنت ٢٣٧ لعنت ٢٣٨ لعنت ٢٣٩ لعنت ٢٤٠ لعنت ٢٤١ لعنت ٢٤٢ لعنت ٢٤٣ لعنت ٢٤٤ لعنت ٢٤٥ لعنت ٢٤٦ لعنت ٢٤٧ لعنت ٢٤٨ لعنت ٢٤٩ لعنت ٢٥٠ لعنت ٢٥١ لعنت ٢٥٢ لعنت ٢٥٣ لعنت ٢٥٤ لعنت ٢٥٥ لعنت ٢٥٦ لعنت ٢٥٧ لعنت ٢٥٨ لعنت ٢٥٩ لعنت ٢٦٠ لعنت ٢٦١ لعنت ٢٦٢ لعنت
١٥٩
٢٦٣ لعنت ٢٦٤ لعنت ٢٦٥ لعنت ٢٦٦ لعنت ٢٦٧ لعنت ٢٦٨ لعنت ٢٦٩ لعنت ٢٧٠ لعنت ٢٧١ لعنت ٢٧٢ لعنت ٢٧٣ لعنت ٢٧٤ لعنت ٢٧٥ لعنت ٢٧٦ لعنت ٢٧٧ لعنت ٢٧٨ لعنت ٢٧٩ لعنت ٢٨٠ لعنت ٢٨١ لعنت ٢٨٢ لعنت ٢٨٣ لعنت ٢٨٤ لعنت ٢٨٥ لعنت ٢٨٦ لعنت ٢٨٧ لعنت ٢٨٨ لعنت ٢٨٩ لعنت ٢٩٠ لعنت ٢٩١ لعنت ٢٩٢ لعنت ٢٩٣ لعنت ٢٩٤ لعنت ٢٩٥ لعنت ٢٩٦ لعنت ٢٩٧ لعنت ٢٩٨ لعنت ٢٩٩ لعنت ٣٠٠ لعنت ٣٠١ لعنت ٣٠٢ لعنت ٣٠٣ لعنت ٣٠٤ لعنت ٣٠٥ اللعنة ٣٠٦ اللعنة ٣٠٧ اللعنة ٣٠٨ اللعنة ٣٠٩ اللعنة ٣١٠ اللعنة ٣١١ اللعنة ٣١٢ اللعنة ٣١٣ اللعنة ٣١٤ اللعنة ٣١٥ اللعنة ٣١٦ اللعنة ٣١٧ اللعنة ٣١٨ اللعنة ٣١٩ اللعنة ٣٢٠ اللعنة ٣٢١ اللعنة ٣٢٢ اللعنة ٣٢٣ اللعنة ٣٢٤ اللعنة ٣٢٥ اللعنة ٣٢٦ اللعنة ٣٢٧ اللعنة ٣٢٨ اللعنة ٣٢٩ اللعنة ٣٣٠ اللعنة ٣٣١ اللعنة ٣٣٢ اللعنة ٣٣٣ اللعنة ٣٣٤ اللعنة ٣٣٥ اللعنة ٣٣٦ اللعنة ٣٣٧ اللعنة ٣٣٨ اللعنة ٣٣٩ اللعنة ٣٤٠ اللعنة ٣٤١ اللعنة ٣٤٢ اللعنة ٣٤٣ اللعنة ٣٤٤ اللعنة ٣٤٥ اللعنة ٣٤٦ اللعنة ٣٤٧ اللعنة ٣٤٨ اللعنة ٣٤٩ اللعنة ٣٥٠ اللعنة ٣٥١ اللعنة ٣٥٢ اللعنة ٣٥٣ اللعنة ٣٥٤ اللعنة ٣٥٥ اللعنة ٣٥٦ اللعنة ٣٥٧ اللعنة ٣٥٨ اللعنة ٣٥٩ اللعنة ٣٦٠ اللعنة ٣٦١ اللعنة ٣٦٢ اللعنة ٣٦٣ اللعنة ٣٦٤ اللعنة ٣٦٥ اللعنة ٣٦٦ اللعنة ٣٦٧ اللعنة ٣٦٨ اللعنة ٣٦٩ اللعنة ٣٧٠ اللعنة ٣٧١ اللعنة ٣٧٢ اللعنة ٣٧٣ اللعنة ٣٧٤ اللعنة ٣٧٥ اللعنة ٣٧٦ اللعنة ٣٧٧ اللعنة ٣٧٨ اللعنة ٣٧٩ اللعنة ٣٨٠ اللعنة ٣٨١ اللعنة ٣٨٢ اللعنة ٣٨٣ اللعنة ٣٨٤ اللعنة ٣٨٥ اللعنة ٣٨٦ اللعنة ٣٨٧ اللعنة ٣٨٨ اللعنة ٣٨٩ اللعنة ٣٩٠ اللعنة ٣٩١ اللعنة ٣٩٢ اللعنة ٣٩٣ اللعنة ٣٩٤ اللعنة ٣٩٥ اللعنة ٣٩٦ اللعنة ٣٩٧ اللعنة ٣٩٨ اللعنة ٣٩٩ اللعنة ٤٠٠ اللعنة ٤٠١ اللعنة ٤٠٢ اللعنة ٤٠٣ اللعنة ٤٠٤ اللعنة ٤٠٥ اللعنة ٤٠٦ اللعنة ٤٠٧ اللعنة ٤٠٨ اللعنة ٤٠٩ اللعنة ٤١٠ اللعنة ٤١١ اللعنة ٤١٢ اللعنة ٤١٣ اللعنة ٤١٤ اللعنة ٤١٥ اللعنة ٤١٦ اللعنة ٤١٧ اللعنة ٤١٨ اللعنة ٤١٩ اللعنة ٤٢٠ اللعنة ٤٢١ اللعنة ٤٢٢ اللعنة ٤٢٣ اللعنة ٤٢٤ اللعنة ٤٢٥ اللعنة ٤٢٦ اللعنة ٤٢٧ اللعنة ٤٢٨ اللعنة ٤٢٩ اللعنة ٤٣٠ اللعنة ٤٣١ اللعنة ٤٣٢ اللعنة ٤٣٣ اللعنة ٤٣٤ اللعنة ٤٣٥ اللعنة ٤٣٦ اللعنة ٤٣٧ اللعنة ٤٣٨ اللعنة ٤٣٩ اللعنة ٤٤٠ اللعنة ٤٤١ اللعنة ٤٤٢ اللعنة ٤٤٣ اللعنة ٤٤٤ اللعنة ٤٤٥ اللعنة ٤٤٦ اللعنة ٤٤٧ اللعنة ٤٤٨ اللعنة ٤٤٩ اللعنة ٤٥٠ اللعنة ٤٥١ اللعنة ٤٥٢ اللعنة ٤٥٣ اللعنة ٤٥٤ اللعنة ٤٥٥ اللعنة ٤٥٦ اللعنة ٤٥٧ اللعنة ٤٥٨ اللعنة ٤٥٩ اللعنة ٤٦٠ اللعنة ٤٦١ اللعنة ٤٦٢ اللعنة ٤٦٣ اللعنة ٤٦٤ اللعنة ٤٦٥ اللعنة ٤٦٦ اللعنة ٤٦٧ اللعنة ٤٦٨ اللعنة ٤٦٩ اللعنة ٤٧٠ اللعنة ٤٧١ اللعنة ٤٧٢ اللعنة ٤٧٣ اللعنة ٤٧٤ اللعنة ٤٧٥ اللعنة ٤٧٦ اللعنة ٤٧٧ اللعنة ٤٧٨ اللعنة ٤٧٩ اللعنة ٤٨٠ اللعنة ٤٨١ اللعنة ٤٨٢ اللعنة ٤٨٣ اللعنة ٤٨٤ اللعنة ٤٨٥ اللعنة ٤٨٦ اللعنة ٤٨٧ اللعنة ٤٨٨ اللعنة ٤٨٩ اللعنة ٤٩٠ اللعنة ٤٩١ اللعنة ٤٩٢ اللعنة ٤٩٣ اللعنة ٤٩٤ اللعنة ٤٩٥ اللعنة ٤٩٦ اللعنة ٤٩٧ اللعنة ٤٩٨ اللعنة ٤٩٩ اللعنة ٥٠٠ اللعنة
١٦٠
328 - ب المائة ٥٠١ المائة ٥٠٢ المائة ٥٠٣ المائة ٥٠٤ المائة ٥٠٥ المائة ٥٠٦ المائة ٥٠٧ المائة ٥٠٨ المائة ٥٠٩ المائة ٥١٠ المائة ٥١١ المائة ٥١٢ المائة ٥١٣ المائة ٥١٤ المائة ٥١٥ المائة ٥١٦ المائة ٥١٧ المائة ٥١٨ المائة ٥١٩ المائة ٥٢٠ المائة ٥٢١ المائة ٥٢٢ المائة ٥٢٣ المائة ٥٢٤ المائة ٥٢٥ المائة ٥٢٦ المائة ٥٢٧ المائة ٥٢٨ المائة ٥٢٩ المائة ٥٣٠ المائة ٥٣١ المائة ٥٣٢ المائة ٥٣٣ المائة ٥٣٤ المائة ٥٣٥ المائة ٥٣٦ المائة ٥٣٧ المائة ٥٣٨ المائة ٥٣٩ المائة ٥٤٠ المائة ٥٤١ المائة ٥٤٢ المائة ٥٤٣ المائة ٥٤٤ المائة ٥٤٥ المائة ٥٤٦ المائة ٥٤٧ المائة ٥٤٨ المائة ٥٤٩ المائة ٥٥٠ المائة ٥٥١ المائة ٥٥٢ المائة ٥٥٣ المائة ٥٥٤ المائة ٥٥٥ المائة ٥٥٦ المائة ٥٥٧ المائة ٥٥٨ المائة ٥٥٩ المائة ٥٦٠ المائة ٥٦١ المائة ٥٦٢ المائة ٥٦٣ المائة ٥٦٤ المائة ٥٦٥ المائة ٥٦٦ المائة ٥٦٧ المائة ٥٦٨ المائة ٥٦٩ المائة ٥٧٠ المائة ٥٧١ المائة ٥٧٢ المائة ٥٧٣ المائة ٥٧٤ المائة ٥٧٥ المائة ٥٧٦ المائة ٥٧٧ المائة ٥٧٨ المائة ٥٧٩ المائة ٥٨٠ المائة ٥٨١ المائة ٥٨٢ المائة ٥٨٣ المائة ٥٨٤ المائة ٥٨٥ المائة ٥٨٦ المائة ٥٨٧ المائة ٥٨٨ المائة ٥٨٩ المائة ٥٩٠ المائة ٥٩١ المائة ٥٩٢ المائة ٥٩٣ المائة ٥٩٤ المائة ٥٩٥ المائة ٥٩٦ المائة ٥٩٧ المائة ٥٩٨ المائة ٥٩٩ المائة ٦٠٠ المائة ٦٠١ المائة ٦٠٢ المائة ٦٠٣ المائة ٦٠٤ المائة ٦٠٥ المائة ٦٠٦ المائة ٦٠٧ المائة ٦٠٨ المائة ٦٠٩ المائة ٦١٠ المائة ٦١١ المائة ٦١٢ المائة ٦١٣ المائة ٦١٤ المائة ٦١٥ المائة ٦١٦ المائة ٦١٧ المائة ٦١٨ المائة ٦١٩ المائة ٦٢٠ المائة ٦٢١ المائة ٦٢٢ المائة ٦٢٣ المائة ٦٢٤ المائة ٦٢٥ المائة ٦٢٦ المائة ٦٢٧ المائة ٦٢٨ المائة ٦٢٩ المائة ٦٣٠ المائة ٦٣١ المائة ٦٣٢ المائة ٦٣٣ المائة ٦٣٤ المائة ٦٣٥ المائة ٦٣٦ المائة ٦٣٧ المائة ٦٣٨ المائة ٦٣٩ المائة ٦٤٠ المائة ٦٤١ المائة ٦٤٢ المائة ٦٤٣ المائة ٦٤٤ المائة ٦٤٥ المائة ٦٤٦ المائة ٦٤٧ المائة ٦٤٨ المائة ٦٤٩ المائة ٦٥٠ المائة ٦٥١ المائة ٦٥٢ المائة ٦٥٣ المائة ٦٥٤ المائة ٦٥٥ المائة ٦٥٦ المائة ٦٥٧ المائة ٦٥٨ المائة ٦٥٩ المائة ٦٦٠ المائة ٦٦١ المائة ٦٦٢ المائة ٦٦٣ المائة ٦٦٤ المائة ٦٦٥ المائة ٦٦٦ المائة ٦٦٧ المائة ٦٦٨ المائة ٦٦٩ المائة ٦٧٠ المائة ٦٧١ المائة ٦٧٢ المائة ٦٧٣ المائة ٦٧٤ المائة ٦٧٥ المائة ٦٧٦ المائة ٦٧٧ المائة ٦٧٨ المائة ٦٧٩ المائة ٦٨٠ المائة ٦٨١ المائة ٦٨٢ المائة ٦٨٣ المائة ٦٨٤ المائة ٦٨٥ المائة ٦٨٦ المائة ٦٨٧ المائة ٦٨٨ المائة ٦٨٩ المائة ٦٩٠ المائة ٦٩١ المائة ٦٩٢ المائة ٦٩٣ المائة ٦٩٤ المائة ٦٩٥ المائة ٦٩٦ المائة ٦٩٧ المائة ٦٩٨ المائة ٦٩٩ المائة ٧٠٠ المائة ٧٠١ المائة ٧٠٢ المائة ٧٠٣ المائة ٧٠٤ المائة ٧٠٥ المائة ٧٠٦ المائة ٧٠٧ المائة ٧٠٨ المائة ٧٠٩ المائة ٧١٠ المائة ٧١١ المائة ٧١٢ المائة ٧١٣ المائة ٧١٤ المائة ٧١٥ المائة ٧١٦ المائة ٧١٧ المائة ٧١٨ المائة ٧١٩ المائة ٧٢٠ المائة ٧٢١ المائة ٧٢٢ المائة ٧٢٣ المائة ٧٢٤ المائة ٧٢٥ المائة ٧٢٦ المائة ٧٢٧ المائة ٧٢٨ المائة ٧٢٩ المائة ٧٣٠ المائة ٧٣١ المائة ٧٣٢ المائة ٧٣٣ المائة ٧٣٤ المائة ٧٣٥ المائة ٧٣٦ المائة ٧٣٧ المائة ٧٣٨ ١٦١
ج - 328 المائة ٧٣٩ المائة ٧٤٠ المائة ٧٤١ المائة ٧٤٢ المائة ٧٤٣ المائة ٧٤٤ المائة ٧٤٥ المائة ٧٤٦ المائة ٧٤٧ المائة ٧٤٨ المائة ٧٤٩ المائة ٧٥٠ المائة ٧٥١ المائة ٧٥٢ المائة ٧٥٣ المائة ٧٥٤ المائة ٧٥٥ المائة ٧٥٦ المائة ٧٥٧ المائة ٧٥٨ المائة ٧٥٩ المائة ٧٦٠ المائة ٧٦١ المائة ٧٦٢ المائة ٧٦٣ المائة ٧٦٤ المائة ٧٦٥ المائة ٧٦٦ المائة ٧٦٧ المائة ٧٦٨ المائة ٧٦٩ المائة ٧٧٠ المائة ٧٧١ المائة ٧٧٢ المائة ٧٧٣ المائة ٧٧٤ المائة ٧٧٥ المائة ٧٧٦ المائة ٧٧٧ المائة ٧٧٨ المائة ٧٧٩ المائة ٧٨٠ المائة ٧٨١ المائة ٧٨٢ المائة ٧٨٣ المائة ٧٨٤ المائة ٧٨٥ المائة ٧٨٦ المائة ٧٨٧ المائة ٧٨٨ المائة ٧٨٩ المائة ٧٩٠ المائة ٧٩١ المائة ٧٩٢ المائة ٧٩٣ المائة ٧٩٤ المائة ٧٩٥ المائة ٧٩٦ المائة ٧٩٧ المائة ٧٩٨ المائة ٧٩٩ المائة ٨٠٠ المائة ٨٠١ المائة ٨٠٢ المائة ٨٠٣ المائة ٨٠٤ المائة ٨٠٥ المائة ٨٠٦ المائة ٨٠٧ المائة ٨٠٨ المائة ٨٠٩ المائة ٨١٠ المائة ٨١١ المائة ٨١٢ المائة ٨١٣ المائة ٨١٤ المائة ٨١٥ المائة ٨١٦ المائة ٨١٧ المائة ٨١٨ المائة ٨١٩ المائة ٨٢٠ المائة ٨٢١ المائة ٨٢٢ المائة ٨٢٣ المائة ٨٢٤ المائة ٨٢٥ المائة ٨٢٦ المائة ٨٢٧ المائة ٨٢٨ المائة ٨٢٩ المائة ٨٣٠ المائة ٨٣١ المائة ٨٣٢ المائة ٨٣٣ المائة ٨٣٤ المائة ٨٣٥ المائة ٨٣٦ المائة ٨٣٧ المائة ٨٣٨ المائة ٨٣٩ المائة ٨٤٠ المائة ٨٤١ المائة ٨٤٢ المائة ٨٤٣ المائة ٨٤٤ المائة ٨٤٥ المائة ٨٤٦ المائة ٨٤٧ المائة ٨٤٨ المائة ٨٤٩ المائة ٨٥٠ المائة ٨٥١ المائة ٨٥٢ المائة ٨٥٣ المائة ٨٥٤ المائة ٨٥٥ المائة ٨٥٦ المائة ٨٥٧ المائة ٨٥٨ المائة ٨٥٩ المائة ٨٦٠ المائة ٨٦١ المائة ٨٦٢ المائة ٨٦٣ المائة ٨٦٤ المائة ٨٦٥ المائة ٨٦٦ المائة ٨٦٧ المائة ٨٦٨ المائة ٨٦٩ المائة ٨٧٠ المائة ٨٧١ المائة ٨٧٢ المائة ٨٧٣ المائة ٨٧٤ المائة ٨٧٥ المائة ٨٧٦ المائة ٨٧٧ المائة ٨٧٨ المائة ٨٧٩ المائة ٨٨٠ المائة ٨٨١ المائة ٨٨٢ المائة ٨٨٣ المائة ٨٨٤ المائة ٨٨٥ المائة ٨٨٦ المائة ٨٨٧ المائة ٨٨٨ المائة ٨٨٩ المائة ٨٩٠ المائة ٨٩١ المائة ٨٩٢ المائة ٨٩٣ المائة ٨٩٤ المائة ٨٩٥ المائة ٨٩٦ المائة ٨٩٧ المائة ٨٩٨ المائة ٨٩٩ المائة ٩٠٠ المائة ٩٠١ المائة ٩٠٢ المائة ٩٠٣ المائة ٩٠٤ المائة ٩٠٥ المائة ٩٠٦ المائة ٩٠٧ المائة ٩٠٨ المائة ٩٠٩ المائة ٩١٠ المائة ٩١١ المائة ٩١٢ المائة ٩١٣ المائة ٩١٤ المائة ٩١٥ المائة ٩١٦ المائة ٩١٧ المائة ٩١٨ المائة ٩١٩ المائة ٩٢٠ المائة ٩٢١ المائة ٩٢٢ المائة ٩٢٣ المائة ٩٢٤ المائة ٩٢٥ المائة ٩٢٦ المائة ٩٢٧ المائة ٩٢٨ المائة ٩٢٩ المائة ٩٣٠ المائة ٩٣١ المائة ٩٣٢ المائة ٩٣٣ المائة ٩٣٤ المائة ٩٣٥ المائة ٩٣٦ المائة ٩٣٧ المائة ٩٣٨ المائة ٩٣٩ المائة ٩٤٠ المائة ٩٤١ المائة ٩٤٢ المائة ٩٤٣ المائة ٩٤٤ المائة ٩٤٥ المائة ٩٤٦ المائة ٩٤٧ المائة ٩٤٨ المائة ٩٤٩ المائة ٩٥٠ المائة ٩٥١ المائة ٩٥٢ المائة ٩٥٣ المائة ٩٥٤ المائة ٩٥٥ المائة ٩٥٦ المائة ٩٥٧ المائة ٩٥٨ المائة ٩٥٩ المائة ٩٦٠ المائة ٩٦١ المائة ٩٦٢ المائة ٩٦٣ المائة ٩٦٤ المائة ٩٦٥ المائة ٩٦٦ المائة ٩٦٧ المائة ٩٦٨ المائة ٩٦٩ المائة ٩٧٠ المائة ٩٧١ المائة ٩٧٢ المائة ٩٧٣ المائة ٩٧٤ المائة ٩٧٥ المائة ٩٧٦ ١٦٢
میرے بھولے بادشاہو! آپ نے دیکھا کہ مرزا قادیانی کا منہ اسلام کے خلاف دہکتے ہوئے ”آتش فشاں“ کا دہانہ ہے۔ اس کا قلم ابلیس کی کرپان ہے اور اس کے الفاظ شیطان کے ترکش کے تیر ہیں۔ اے فریب خوردہ مسلمانو! مرزا قادیانی نے صفحہ قرطاس پر جو متلی کی ہے، ذرا اس کی بدبو اور تعفن کو سونگھئے۔۔۔۔۔ ہاں ہاں سونگھئے۔۔۔۔ لمبے لمبے سانس لیجئے۔۔۔۔
سونگھئے۔۔۔۔ جھوٹی نبوت کے ان پھولوں کو۔۔۔۔ سونگھئے۔۔۔۔ اس قادیانی مشک کو۔۔۔۔۔!!! سونگھئے۔۔۔۔ اس قادیانی عنبر کو۔۔۔۔!!!
دیکھئے۔۔۔۔ حریر و پرنیاں سے بنے ہوئے ان الفاظ کو۔۔۔۔ غور سے دیکھئے۔۔۔۔ ان چمکتے دمکتے مرزائی یاقوتوں کو۔۔۔۔ ڈوب کے دیکھئے۔۔۔۔ قادیانی اخلاق سے تراشے ہوئے ان ہیروں کو۔۔۔۔ شاباش۔۔۔۔۔ شاباش۔۔۔۔۔ ویری گڈ۔۔۔۔۔ ہمت کیجئے۔۔۔۔ ہمت کیجئے۔۔۔۔۔!!! ایک دفعہ پھر گہری نظر سے دیکھئے۔۔۔۔۔۔ ایک دفعہ پھر گہرا سانس لے کے سونگھئے۔۔۔۔۔۔ تاکہ تمہارے دلوں سے قادیانی اخلاق کا خناس نکل سکے۔۔۔۔۔ تاکہ تمہارے دماغوں سے قادیانی آسیب دفع ہو جائے۔۔۔۔۔
از قلم: جراح قادیانیت محمد طاہر رزاق
قادیانی اسلامی شعائر اور
اسلامی اصطلاحات
استعمال نہیں کر سکتے
مولانا
عبید اللہ
عفیف
س: پاکستان میں عرصہ ١٥ سال سے قومی اسمبلی کے فیصلے کے مطابق قادیانی غیر مسلم قرار دئے جا چکے ہیں اور ١٩٨٤ء میں قادیانیوں کی خلاف اسلام سرگرمیوں کو روکنے کے لیے آرڈیننس بھی نافذ ہو چکا ہے، لیکن اس کے باوجود مرزائی اپنے آپ کو مسلمان ظاہر کرتے ہیں اور کلمہ شریف کا استعمال کر رہے ہیں اور تمام شعائر اسلامی اور دوسری اسلامی اصطلاحیں مثلاً السلام علیکم، بسم اللہ، اذان، نماز، روزہ، حج، قربانی، علیہ السلام، رضی اللہ، امیر المومنین اور اپنی عبادت گاہ کا نام مسجد رکھنا وغیرہ کا کثرت سے استعمال کر رہے ہیں۔ کیا قرآن و سنت اور اسلامی لٹریچر کی روشنی میں کسی غیر مسلم کو ان اسلامی اصطلاحوں کے استعمال کا حق حاصل ہے یا نہیں؟ جواب دے کر مشکور فرمائیں۔
(سائل: اللہ دتہ مجاہد، نیا بازار، قصور)
الحمد لله رب العالمين والصلوه والسلام على محمد خاتم النبيين والعاقبه للمتقين ولا عدوان الا على الظالمين و بعد الجواب بعون الوهاب و منه الصدق والصواب۔
صورت مسئولہ میں واضح باشد کہ غیر مسلم قادیانی وغیرہ کو اسلامی اصطلاحوں کے استعمال کا شرعاً ہرگز ہرگز حق حاصل نہیں۔ اور وہ ایسا کرتے ہیں تو وہ کتاب و سنت، اجماع امت اور آئین پاکستان کی خلاف ورزی کے مرتکب اور مستوجب سزا ہیں۔ چنانچہ جب ابو عامر منافق کے کہنے پر مدینہ کے منافقین نے مسجد ضرار تعمیر کر ڈالی۔ جس کی بنیاد محض ضد، کفر و نفاق، عداوت اسلام اور مخالفت خدا و رسول ﷺ پر رکھی گئی تھی، جو بظاہر مسجد تھی مگر در حقیقت مسجد کی شکل میں اسلام دشمن کارستانیوں اور سازشوں کا مرکز تھی، تو اللہ تعالیٰ کے حکم سے حضرت جبرائیل علیہ السلام نازل ہوئے اور ان منافقین کے ناپاک عزائم اور اسلام دشمن اغراض پر مطلع کر کے مسجد ضرار کا پول کھول دیا۔ فرمایا، ”اور جنہوں نے دکھ دینے کو، اور کفر
کرنے کو اور مسلمانوں میں تفریق ڈالنے کو اور اس شخص (ابو عامر نصرانی منافق) کو پناہ دینے کی نیت سے جو خدا یعنی اس کے رسولؐ سے پہلے کئی مرتبہ لڑ چکا ہے (ان ظالموں نے ایک) مسجد بنائی ہے، حلف اٹھائیں گے کہ ہمیں محض بھلائی کا خیال ہے اور اللہ تعالیٰ خود گواہی دیتا ہے کہ وہ جھوٹے ہیں تو اس مسجد میں کبھی بھی کھڑا نہ ہو جیو۔"
(سورۃ التوبہ ١٠٧۔١٠٨) (ترجمہ شیخ الاسلام مولانا ثناء اللہ امرتسریؒ)
اس آیت شریفہ میں اس مسجد کو مسجد ضرار قرار دینے کے اللہ تعالیٰ نے چار ناپاک مقاصد بیان فرمائے ہیں۔
- ١۔ ضرار ۔ یعنی قبا کے مخلص مسلمانوں کو نقصان پہنچائیں کیونکہ مسجد قباء کی وجہ
سے انہیں ایک خاص عزت حاصل ہو گئی تھی (جیسے فرمایا فیہ رجال یحبون ان یتطھروا واللہ یحب المطھرین ۔ (التوبہ ١٠٨)
- ٢۔ دوسرا مقصد یہ ہے کہ کفر و نفاق کی اشاعت اور اسلام کے خلاف پروپیگنڈہ
کرنے کے لیے اڈا قائم کرنا۔ اس عمارت کو مسجد ضرار قرار دینے سے یہ بھی ثابت ہوا کہ نیک کاموں کا نیک ہونا مقصد و نیت پر موقوف ہے، ورنہ مسجد بنانے جیسا کام بھی کفر کی اشاعت اور اسلام کو نیچا دکھانے کے لیے ہو سکتا ہے۔ جیسے قادیانیوں کا اپنے مراکز کا نام بیت الذکر وغیرہ رکھنا۔
- ٣۔ تیسرا ناپاک مقصد یہ کہ وتفریقا بین المومنین ۔ مسلمانوں میں
تفرقہ ڈالا جائے، کیونکہ قبا کی تمام آبادی ایک ہی مسجد میں نماز پڑھتی تھی۔
- ٤۔ چوتھے یہ کہ اللہ و رسولؐ کے باغی اور منافق ابو عامر نصرانی راہب کے لیے
پناہ گاہ مہیا کرنا تاکہ وہ یہاں بیٹھ کر مدینہ کے منافقوں کو اسلام اور اہل اسلام کے خلاف پالیسی اور تراکیب سمجھائے وغیرہ وغیرہ۔
اور ان چاروں مقاصد پر سرسری نظر ڈالنے سے یہ ثابت ہو جاتا ہے کہ یہ سب کچھ اسلام کے خلاف بغاوت اور عداوت ہی ہے۔ لہٰذا قادیانیوں کو یہ حق قطعاً حاصل نہیں کہ وہ اپنی عبادت گاہ کا نام مسجد رکھیں اور نہ ان کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ اپنی عبادت گاہ کا نقشہ اور طرز تعمیر ہماری مسجد کے مطابق تیار کریں کہ اس سے ہماری مسجد کی توہین اور مسلمانوں کو دھوکہ دینا مقصود ہے، کیونکہ مسجد من جملہ شعائرِ اسلامی میں
سے ایک شعار ہے۔ لہٰذا قادیانیوں کو اس کی اجازت دینا، اس شعار کی واضح توہین اور استخفاف ہے، جسے برداشت نہیں کیا جا سکتا۔ مزید تفصیل آگے آ رہی ہے۔
قرآن مجید میں ارشاد خداوندی ہے کہ
”جو لوگ اللہ پر اور پچھلے دن یعنی دوسری زندگی پر ایمان نہیں رکھتے اور نہ اللہ اور رسولؐ کی محرمات کو حرام جانتے ہیں اور نہ دین حق کو تسلیم کرتے ہیں یعنی اہل کتاب۔ ان سب سے لڑو‘ جب تک کہ وہ ماتحت ہو کر جزیہ دینا منظور نہ کریں ۔“ (یعنی جب محکوم رعیت بن جائیں تو ان سے جہاد کرنا ترک کر دو)
(التوبہ ۔ ٢٩)
اس آیت کریمہ سے روز روشن کی طرح واضح ہوا کہ عیسائیوں، یہودیوں، مرزائیوں، قادیانیوں، لاہوریوں اور دوسرے کافروں کو اسلامی ریاست میں اپنے باطل مذہب کی کھلے بندوں پرچار کرنے کی اجازت نہیں تاوقتیکہ وہ اسلام کی برتری تسلیم کر کے اس کی ماتحتی قبول کرتے ہوئے اپنی ماتحتی کا پورا پورا اعتراف کرتے ہوئے اور جزیہ دیتے ہوئے ذمی بن کر رہنا قبول نہ کر لیں، ان سے جہاد کیا جائے۔ ایسے میں قادیانیوں کو اسلامی طرز تعمیر کے مطابق مسجد بنانے کی اجازت کیوں کر دی جا سکتی ہے اور وہ اپنے عبادت خانہ کو مسجد کا نام کیوں کر دے سکتے ہیں۔
حضرت امام ابن کثیرؒ اپنی شہرہ آفاق کتاب تفسیر قرآن العظیم میں ”حتی یعطوا الجزیہ عن ید وہم صاغرون“ کی تفسیر میں رقم فرماتے ہیں۔
”وہم صاغرون کا مطلب یہ ہے کہ ان لوگوں (غیر مسلم مسیحیوں، یہودیوں، قادیانیوں) کو خوب ذلیل و رسوا اور حقیر جانو۔ ان کو معزز جاننا شرعاً جائز نہیں اور نہ ان کو مسلمانوں پر ترجیح دینا جائز ہے کیونکہ یہ کمینے، حقیر اور بد نصیب لوگ ہیں۔ حضرت ابو ہریرہؓ کی صحیح حدیث کے مطابق ان کو سلام کرنے میں پہل کرنی بھی جائز نہیں، بلکہ ان کو تنگ راستے سے گزرنے پر مجبور کرنا چاہئے“۔
(تفسیر ابن کثیرؒ ج ٢ ص ٣٤٧)
”وہم صاغرون ایسا فصیح و بلیغ اور جامع جملہ ہے گویا کوزے میں دریا بند کرنے کے مصداق ہے، یہ جملہ کیا ہے گویا ذمی یعنی غیر مسلم رعیت اور اقلیتوں کے لیے ایک ایسی جامع قانونی دستاویز ہے، جس میں ان کی عبادت اور پوجا پاٹ کی حدود اور اس کا طریقہ کار، مذہبی آزادی اور ان کی تبلیغ، قربانی، لباس، خوشی اور غمی کے اظہار
کی تمام حدود متعین کر دی گئی ہیں۔ اس دستاویز کی پوری پوری تفصیل آج بھی ان معاہدات میں موجود ہے جو خلفائے راشدین کے مثالی دور میں ان کے عمال اور سپہ سالار کے تحت اس دور کی غیر مسلم اقلیتوں، یہود و نصاریٰ اور مجوسیوں اور کفار سے طے پائے تھے۔ ان معاہدوں کی روشنی میں ہمارے قابل فخر فقہاء و محدثین، مفسرین، آئمہ مجتہدین اور اسلامی قوانین کے غواص علمائے اسلام نے درج ذیل قوانین مستنبط فرمائے ہیں۔
ذمی رعیت نیا عبادت خانہ تعمیر نہیں کر سکتی
- (١) قاضی ابو یوسفؒ فرماتے ہیں: ”عیسائیوں کو نیا صومعہ اور گرجا تعمیر کرنے کی
اجازت نہیں ہو گی۔ البتہ جو معاہدہ کے وقت گرجا موجود ہو گا، اس کو گرایا نہ جائے گا۔ نیا بیعہ اور کنیسہ گرا دیا جائے گا۔“ (کتاب الخراج لابی یوسف ص ١٥٩)
- (٢) امام ابو الحسن علی بن الماوردیؒ (المتوفی ٤٥٠ھ) رقم فرماتے ہیں: ”اہل ذمہ
کے لیے جائز نہیں کہ وہ دار الاسلام میں نیا بیعہ یا کنیسہ تعمیر کریں۔ اس کی ان کو شرعاً اجازت نہیں۔ اگر وہ کوئی نیا بیعہ یا کنیسہ تعمیر کریں گے تو اس کو گرا دیا جائے گا۔“
(الاحکام السلطانیہ ص ١٤٦)
- (٣) امام ابو زکریا محی الدین یحییٰ بن شرف النووی شافعیؒ (المتوفی ٦٧٦ھ) تصریح
فرماتے ہیں: ”مسلمانوں کے شہروں میں ذمیوں کو کنائس، بیعے اور صومعے بنانے کی اجازت نہیں، کیونکہ ترجمان القرآن حضرت عبداللہ بن عباسؓ نے فرمایا کہ جس شہر کو نئے سرے سے مسلمان آباد کریں، اس میں غیر مسلم اقلیتوں کو گرجا وغیرہ بنانے کا حق نہیں ۔“ (شرح المہذب جلد ١٩ ص ٤١٢ طبع دار الفکر)
- (٤) قاضی ابو یعلی حنبلیؒ (المتوفی ٤٥٨ھ) رقم فرماتے ہیں: ولا یجوز ان
یحدثوا دار الاسلام بیعته و کنیسته فان احدثوها هدمت علیهم (الاحکام السلطانیہ ص ١٤٢) اس کا ترجمہ پہلے گزر چکا ہے۔
- (٥) امام محمد قدامہؒ حنبلی لکھتے ہیں: ”جزیرہ کے ذمیوں نے حضرت عبد الرحمن
بن غنم ؓ سے جو معاہدہ کیا تھا، اس میں یہ شرط بھی تھی کہ آج کے بعد ہم اپنے شہر میں نہ تو کوئی کنیسہ تعمیر کریں گے اور نہ دیر اور نہ قلایہ اور نہ کسی راہب کے لیے نیا صومعہ بنائیں گے اور ان میں سے جو گر جائے گا، اس کو دوبارہ تعمیر نہیں کریں گے اور اس طرح جو گرجا وغیرہ مسلم آبادی میں ہو گا، اس کو بھی دوبارہ نہیں بنائیں گے۔ ہم اپنے گرجاؤں کو مسلمانوں کے لیے رات دن کھلے رکھیں گے اور اسی طرح گزرنے والوں اور مسافروں کے لیے ان کے دروازے وسیع رکھیں گے تاکہ وہ ان میں آرام کر سکیں، نہ ہم ان گرجاؤں اور اپنے گھروں میں کسی جاسوس کو ٹھہرائیں گے۔"
(المغنی لابن قدامۃ ج ٩، ص ٢٨٢)
- (٦) امام ابن قیمؒ فرماتے ہیں: حضرت عمر فاروقؓ کے عامل حضرت عبد الرحمن بن
غنمؓ سے جزیرہ کے عیسائیوں نے از خود جو معاہدہ کیا تھا، اس میں یہ بھی تھا۔ ان شرطنا لك على انفسنا ان لا نحدث فی مدينتنا كنيستہ ولا فيما حولها ديرا ولا قلايتہ ولا صومعتہ راهب ولا نجدد ماخرب من كنائسنا ۔ (حقوق اہل الذمہ ج ٢، ص ٦٨٩، ٦٩٠ تحقیق الدكتور صبحی صالح طبع دمشق) ترجمہ اس کا اوپر ابن قدامہؒ کی عبارت میں آچکا ہے۔
ان آئمہ کرام اور ماہرین قوانین اسلام کی ان تصریحات سے ثابت ہوا ہے کہ عیسائیوں اور یہودیوں کو جب کہ وہ اہل کتاب بھی ہیں، کسی مسلم ممالک میں نئے گرجے اور عبادت خانے تعمیر کرنے کی اسلام اجازت نہیں دیتا اور جو گر جائے اس کی تجدید بھی جائز نہیں جیسا کہ حضرت فاروق اعظمؓ نے فرمایا: "رسول اللہ ﷺ نے فرمایا، کہ دارالاسلام میں گرجا وغیرہ بنانا جائز نہیں اور اسی طرح اگر پہلے کا بنا ہوا گرجا وغیرہ گر جائے تو اس کی تجدید بھی جائز نہیں۔ (شرح المہذب ج ١٩، ص ٤١٣)
جب اہل کتاب عیسائیوں اور یہودیوں کے لیے رسول اللہ ﷺ نے دارالاسلام میں گرجے اور صومعے تعمیر کرنے کی اجازت نہیں دی، حالانکہ وہ اہل کتاب ہیں تو پھر قادیانی، مرتدوں اور کافروں کو دارالاسلام اور مسلمان ملک میں مسجد کے نام سے عبادت خانہ بنانے کی اجازت کیوں کر دی جا سکتی ہے۔ اور وہ اپنے مذہبی مرکز کو مسجد کے نام سے کیوں کر پکار سکتے ہیں؟
مسلمانوں کی طرح عید اور قربانی کی اجازت نہیں
”ذمیوں یعنی عیسائیوں، یہودیوں (اور آج کے قادیانیوں) کو منکر (خلاف اسلام کوئی کام) اور عید منانے اور صلیب پہن کر بازار میں نکلنے سے روک دینا ہو گا۔ (شرح المہذب ج ١٩، ص ٤١١)
- (٢) شوافع کا مذہب بھی یہی ہے کہ ”غیر مسلم اقلیتوں کو کھلم کھلا شراب پینے،
بازار میں خنزیر لے کر نکلنے، صلیب پہن کر بازار میں آنے اور عیدوں کے برملا منانے سے اور اپنے مردوں پر ماتم کرنے سے روک دیا جائے۔“ کیوں کہ حضرت عبدالرحمٰن بن غنمؓ کے معاہدہ میں ان چیزوں پر پابندی لگائی گئی ہے۔ یاد رہے کہ یہ وہ پابندی ہے جو حضرت فاروق اعظمؓ کی ہدایت کے مطابق لگائی گئی تھی۔ جیسا کہ ابن کثیر کی تفسیر ج ٢ ص ٣٤٧ پر اس کی صراحت موجود ہے۔ (شرح المہذب ج ١٩ ص ٤١١)
- (٣) امام بن قیمؒ لکھتے ہیں: کہ ”اس معاہدہ میں یہ بھی تھا کہ ہم ذمی لوگ بعوث
(ان کی عید کا نام) کے لیے کھلے میدان میں نہیں نکلیں گے جیسے مسلمان عید قربان اور عید الفطر پڑھنے کے لیئے کھلے میدان میں آتے ہیں۔“ جس سے شوکتِ اسلام کا اظہار مقصود ہے۔ (کتاب حقوق اہل الذمہ ج ٢، ص ٦٦١)
- (٤) امام نوویؒ لکھتے ہیں: ”جزیرہ کے عیسائی ذمیوں نے یہ شرط بھی تسلیم کر لی
تھی کہ ہم اپنی دونوں عیدوں شعانین اور بعوث کو نہیں نکلیں گے۔“ (شرح المہذب ج ١٩، ص ٤١٠)
اللہ تعالیٰ قرآن، دین اسلام اور رسول ﷺ کی گستاخی
نہیں کریں گے
جزیرہ کے نصاریٰ نے اپنے عہد ذمہ میں پابندی بھی قبول کی تھی کہ وہ اللہ تعالیٰ، قرآن مجید، دین اسلام اور رسول اللہ ﷺ کے حق میں کوئی گستاخی یا توہین آمیز کلمہ اور استخفاف پر مبنی کوئی بات نہیں کریں گے ورنہ ہمارے حقوق از خود ختم متصور ہوں
گے اور ہم سزا کے مستوجب ہوں گے۔
- (١) امام ابو الحسن الماوردی لکھتے ہیں: کہ ”وہ چھ شرطیں جن کی پابندی ہر ایک
ذمی شخص خواہ وہ کوئی بھی غیر مسلم ہو، پر واجب ہے۔ ان میں پہلی شرط یہ ہے کہ وہ قرآن مجید پر طعن نہیں کرے گا نہ اس میں تحریف کا دعویٰ، دوسری شرط یہ ہے کہ وہ محمد رسول اللہ ﷺ کی تکذیب نہیں کرے گا اور نہ آپؐ کے حق میں توہین آمیز بات کرے گا اور تیسری شرط یہ کہ وہ دین اسلام کی مذمت نہیں کرے گا اور نہ اس میں مین میکھ نکالے گا۔“
(الاحکام السلطانیہ ص ١٤٥)
مرزائی قرآن میں تحریف کا دعویٰ تو نہیں کرتے، لیکن اس میں تحریف کا ارتکاب کرتے ہیں کہ وہ خاتم النبیین کی ایسی توجیہ و تاویل کرتے ہیں جو قرآن مجید کی بیسیوں نصوص و آیات اور اسی طرح احادیث رسولؐ، اقوال صحابہؓ اور اجماع امت کے سراسر خلاف ہے، اس سے بڑی تحریف اور کیا ہو سکتی ہے؟ اور اسی طرح وہ رسول اللہ ﷺ کی توہین کے مرتکب ہیں کہ آپ کا ایک وصف اور شرف خاتم النبیین ہونا ہے اور قادیانی آپ کے اس وصف کا اپنے عقیدہ اور عمل کے ساتھ انکار کر رہے ہیں، اور اس انکار کی نشر و اشاعت میں ان کا مالدار پریس شبانہ روز سرگرم عمل ہے اور اجرائے نبوت کے مزعومہ عقیدہ کے اثبات کے لیے لٹریچر چھاپ کر پاکستان کے بے علم اور سادہ لوح مسلمانوں کو خصوصاً اور دنیا بھر کے نئے مسلمان ہونے والوں کو عموماً گمراہ کرنے پر تلا ہوا ہے۔ مگر تعجب ہے، پاکستان کی حکومت رواداری اور مداہنت سے کام لے رہی ہے۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اسلامی ملک میں غیر مسلم اقلیتوں کو اپنے باطل مذاہب کی تبلیغ کی اجازت ہے؟۔
کیا غیر مسلم اقلیتوں کو اپنے مذاہب باطلہ کی تبلیغ کی اجازت ہے؟
تو سوال کا جواب یہ ہے کہ اسلامی ملک میں کسی بھی غیر مسلم ذمی رعیت اور اقلیت کو اپنے مذہب اور عقیدہ کی پابندی کرنے کی تو اسلام اجازت دیتا ہے مگر اس کی تبلیغ اور اشاعت کی اجازت ہرگز نہیں دیتا۔
(١) امام ابو الحسن الماوردیؒ رقم فرماتے ہیں: ’’ذمیوں پر تیسری شرط جس کی پابندی ان پر لازم ہے‘ یہ ہے کہ وہ اپنے ناقوس کی آوازیں مسلمانوں کو نہیں سنائیں گے‘ اور نہ باآواز بلند اپنی کسی کتاب کی تلاوت کریں گے‘ اور نہ حضرت عزیر اور حضرت مسیح علیہ السلام کے بارے میں اپنے عقیدہ کا برملا اظہار کریں گے۔ اور چوتھی شرط لازم یہ ہے کہ وہ اعلانیہ طور پر نہ شراب پئیں گے‘ اور نہ بازاروں میں صلیب لٹکا کر نکلیں گے‘ اور نہ بازاروں میں خنزیروں کو لے کر آئیں گے‘ اور پانچویں لازمی شرط یہ بھی ہے کہ اپنے مردوں کو چپکے سے دفن کریں گے اور ان پر نہ تو آواز کے ساتھ واویلا کریں گے اور نہ نوحہ ۔‘‘ (الاحکام السلطانیہ ص ١٤٥)
(٢) امام محی الدین یحییٰ بن شرف النوویؒ وضاحت فرماتے ہیں: ’’ذمیوں کو بازاروں میں شراب اور خنزیر کی خرید و فروخت کا حق نہ ہو گا‘ ناقوس بجانے‘ تورات اور انجیل کی اعلانیہ تلاوت کرنے اور صلیب پہن کر بازاروں میں چلنے کا حق نہ ہو گا‘ نہ وہ اپنی عیدیں پڑھنے کے لیے کھلے میدان یا کسی گراؤنڈ میں جا سکیں گے اور نہ اپنے مردوں پر بلند آواز سے نوحہ کر سکیں گے۔ جیسا کہ حضرت عبدالرحمن بن غنمؓ نے حضرت عمر فاروق اعظمؓ کے اس معاہدہ کے مندرجات کا حوالہ دیا ہے جو آپ نے شام کے نصاریٰ کے ساتھ کیا تھا۔ ان میں ان تمام پابندیوں کی تفصیل موجود ہے۔ (شرح المہذب ج١٩‘ ص ٤١٢)
(٣) حضرت امام ابن کثیرؒ تصریح فرماتے ہیں: (١) ’’ہم اپنے گرجوں کے فلک بوس میناروں پر صلیب بلند نہیں کریں گے۔ (٢) ہم اپنی صلیبوں اور کتابوں کو مسلمانوں کے راستوں اور منڈیوں میں نہیں لائیں گے یعنی ان کے سرعام سٹال نہیں لگائیں گے۔ (٣) ہم اپنے گرجوں کے اندر بھی اونچی آواز سے ناقوس نہ بجائیں گے۔ (٤) ہم اپنے گرجوں کے اندر بھی اونچی آواز ت اپنی کتاب کی قرات نہ کریں گے۔ (٥) اپنی عیدیں (شعانین اور بعوث) پڑھنے کے لیے کسی کھلے گراؤنڈ میں نہ نکلیں گے۔ (٦) ہم اپنے مردوں پر بلند آواز سے نہ روئیں گے اور نہ اپنے مردوں کے ساتھ آگ لے کر چلیں گے۔ (٧) اپنے مردوں کو مسلمانوں کے قبرستان کے قریب دفن نہیں کریں گے۔ اگر ہم ان تمام شرائط کو جن کو ہم نے ازخود اپنے لیے تجویز کیا ہے ان میں سے کسی ایک
شرط کی خلاف ورزی کریں گے، تو عہد ذمہ ختم ہو گا اور مسلمانوں کو ہمارے مستقبل کا فیصلہ کرنے کا حق حاصل ہو گا۔ جس طرح ان باغی کافروں کے مستقبل کا فیصلہ کرنے کا اختیار حاصل ہے۔" (تفسیر ابن کثیر ج٢، ص٤٤٨)
- (٣) امام ابن القیمؒ رقم فرماتے ہیں: ”ذمیوں نے حسب ذیل شرطیں قبول کرتے
ہوئے ان پر دستخط کئے کہ (١) ہم اپنے گرجاوں میں با آواز بلند ناقوس نہ بجائیں گے۔ (٢) ان کے اوپر اونچی کر کے صلیب کھڑی نہیں کریں گے۔ (٣) ہم اپنے گرجاوں کے اندر بھی بلند آواز کے ساتھ دعا نہ مانگیں گے۔ (٤) نہ ان کے اندر اونچی آواز کے ساتھ اپنی کتاب پڑھیں گے۔ (٥) مسلمانوں کے بازاروں میں صلیب نہیں نکالیں گے۔ (٦) عید کے لیے کھلے میدان میں نہیں جائیں گے، جیسے مسلمان اپنی عید الاضحیٰ اور عید الفطر کی ادائیگی کے لیے کھلے گراؤنڈ میں جاتے ہیں۔ (٧) کھلے عام شرک نہیں کریں گے۔ (٨) ہم اپنے دین کی کسی کو ترغیب نہ دیں گے۔ (٩) اور نہ کسی کو اپنے دین کی دعوت دیں گے۔" (کتاب احکام اہل الذمہ ج٢، ص٦٥٩ - ٦٦٠)
ان تصریحات کا خلاصہ یہ ہے کہ از روئے اسلام مسلم ممالک کے ذمیوں اور اقلیتوں کو اپنے باطل مذاہب کی تبلیغ و اشاعت کی ہرگز اجازت نہیں، نہ تقریر میں اور نہ تحریر میں اور نہ مناظروں کے ذریعہ سے اور نہ مناقشوں کے ساتھ، غرض یہ کہ وہ اپنے مذہب کی کسی طرح اور کسی بھی انداز میں تبلیغ نہیں کر سکتے۔ اگر کوئی مسلمان حکمران کسی وجہ سے اس کی اجازت دیتا ہے تو یہ اجازت کالعدم اور شرعاً مجرم ہو گا، کیونکہ اس میں اسلام کی حقانیت کو بٹہ لگتا ہے۔ اللہ تعالیٰ رسول اللہ ﷺ اور کتاب اللہ، قرآن مجید کی تکذیب لازم آتی ہے اور اسلام کی توہین اور سبکی ہوتی ہے۔
جب یہود و نصاریٰ کو مسلم ملک میں اپنے مذہب کی تبلیغ و اشاعت، اپنے لٹریچر کو سرعام بازار میں لانے، صلیب لٹکا کر چلنے، گرجا کے منارے پر صلیب گاڑنے اور گرجا کے اندر بلند آواز سے دعا کرنے اور انجیل پڑھنے کی اجازت اور از سر نو گرجا تعمیر کرنے یا گرے ہوئے گرجا کی مرمت کرنے کی اجازت نہیں اور ان کو اپنے تہوار کھلے گراؤنڈ میں منانے کی اجازت نہیں، حالانکہ وہ اہل کتاب ہیں یعنی کسی وقت وہ سچے دین و مذہب پر رہ چکے ہیں تو پھر سلطنت خدا داد پاکستان میں قادیانیوں کو جو مرتدین کی اولاد اور شرعاً اور قانوناً خارج از اسلام اور
کافر ہیں، کو اپنے عبادت خانے تعمیر کرنے اور ان کو مساجد کے نام سے موسوم کرنے اور بلانے کی اجازت کیوں کر ہو سکتی ہے؟ ان کو پاکستان میں ایک کذاب اور مفتری علی اللہ (مرزا غلام احمد قادیانی) کے باطل نظریات اور ہذیانات کی کھلے عام نشر و اشاعت اور تبلیغ و دعوت کی اجازت اسلام سے بغاوت اور رسول اللہ ﷺ کی سراسر توہین ہے۔ نہ جانے پاکستان کے مسلمانوں کی غیرت کہاں سو چکی ہے۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔
ذمی لوگوں کو مسلمانوں کے ناموں جیسے نام رکھنے کی اجازت نہیں
ذمی لوگوں کو مسلم ملک میں نہ صرف اپنے دین اور مذہب کی تبلیغ و ترویج کی اجازت نہیں، بلکہ ان کو مسلمانوں کے ناموں پر اپنے نام رکھنے حتیٰ کہ مسلمانوں کا سا لباس پہننے کی اجازت نہیں تاکہ اسلامی تشخص مٹ نہ جائے۔ جیسا کہ اسلامی دفاتر میں اس کی وضاحت و صراحت موجود ہے۔
امام ابن کثیرؒ تصریح فرماتے ہوئے لکھتے ہیں۔
”شام کے نصاریٰ نے یہ شرطیں بھی قبول کی تھیں۔ (١) ہم اپنے بچوں کو قرآن نہیں پڑھائیں گے۔ (٢) ہم اپنے شرکیہ کام کھلم کھلا نہیں کریں گے۔ (٣) اور نہ اپنے شرک کی دعوت دیں گے۔ (٤) ہم اپنے کسی قرابت دار کو اسلام قبول کرنے سے منع نہیں کریں گے۔ (٥) ہم مسلمانوں جیسا لباس بھی نہیں پہنیں گے، نہ مسلمانوں کی ٹوپی جیسی ٹوپی، یا عمامہ جیسا عمامہ اور نہ جوتے جیسے جوتے۔ (٦) نہ ہم سر کے بالوں کی سیدھی مانگ نکالیں گے۔ (٧) نہ ان کی زبان بولیں گے۔ (٨) نہ ان کی کنیتوں جیسی کنیت رکھیں گے۔ (٩) اور نہ اپنی سواریوں پر زین سجائیں گے۔ (١٠) اور نہ تلوار لٹکائیں گے (یاد رہے تلوار اس زمانے میں مسلمانوں کا علامتی ہتھیار اور شعار (شناختی نشان) سمجھا جاتا تھا۔ (١١) اور نہ ہم اپنے گھروں میں اسلحہ رکھیں گے۔ (١٢) اور نہ کسی قسم کا اسلحہ اٹھا کر چلیں گے۔ (١٣) اور نہ اپنی انگلیوں میں عربی زبان میں کچھ نقش کریں گے اور آخر میں یہ بھی لکھا ہے کہ اگر ہم ان جملہ شرائط میں سے کسی ایک شرط کی خلاف ورزی کریں گے تو مستوجب سزا ہوں گے۔“
(تفسیر ابن کثیر ج ٢، ص ٣٤٧-٣٤٨)
امام ماوردیؒ یہ بھی لکھتے ہیں۔
”پانچویں شرط لازمی یہ بھی ہے کہ ذمی لوگ اور کوئی اقلیت کسی مسلمان کو اس کے دین کے معاملہ میں کسی آزمائش اور فتنہ میں مبتلا کرنے کی ہرگز مجاز نہ ہو گی‘ نہ دھونس کی صورت میں‘ نہ مال کی تحریص کے ساتھ‘ نہ رشتہ کی ترغیب کے ساتھ اور نہ کسی قسم کے لالچ کے ساتھ‘ اگر وہ ایسا کرے گی تو قانون حرکت میں آکر اس کو کیفر کردار تک پہنچا کر رہے گا۔“
(الاحکام السلطانیہ ص ١٤٥)
خلاصۃ المرام یہ کہ کسی غیر مسلم عیسائی‘ یہودی‘ مجوسی‘ صابی‘ ہندو‘ سکھ‘ پارسی‘ بہائی‘ بابی‘ قادیانی‘ لاہوری‘ اور ربوی مرزائیوں کو شعائر اسلامی یعنی کلمہ‘ توحید‘ رسول‘ قبلہ‘ صلوٰۃ‘ درود‘ مسجد‘ قربانی‘ عید وغیرہ مقدس اصطلاحوں کو استعمال کرنے کی از روئے شرع اسلام قطعاً اجازت نہیں اور نہ ان مذکورہ باطل گروہوں اور خارج از اسلام فرقوں کو اپنے باطل عقائد و افکار اور اعمال اور رسومات کا برملا پرچار کرنے کی اجازت ہے اور نہ ان کو اپنے ان باطل اور خلاف اسلام عقائد و افکار اور اعمال و رسومات کی نشر و ترویج اور دعوت اور تبلیغ کی اجازت ہے اور مسلمان حکمران اور مسلم اکثریت پر شرعاً واجب ہے کہ وہ اپنے ملک میں بسنے والی غیر مسلم اقلیتوں کو ان شرائط کا پابند بنائے کہ یہ مسلمانوں کا شرعی فریضہ ہے۔
تفصیل آپ کے سامنے ہے۔ ھذا ما عندی واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب۔
قادیانیت سوز
محمد طاہر رزاق
- O ختم نبوت کے باغی کہتے ہیں کہ نبوت رحمت خداوندی ہے۔ اگر نبوت بند ہو
گئی تو رحمت بند ہو گئی لہٰذا نبوت کا ختم ہونا رحمت نہیں بلکہ زحمت ہے۔ اس لئے اس رحمت کو جاری رکھنے کے لئے نبوت جاری ہے۔ ہم باغیان ختم نبوت سے کہتے ہیں کہ نبوت بہت بڑی رحمت خداوندی ہے۔ ہاں نبوت کی پہلی رحمت آدم علیہ السلام کی صورت میں آئی پھر یہ رحمت کبھی نوحؑ کی صورت میں ظاہر ہوئی۔ کبھی ابراہیمؑ کی شکل میں‘ کبھی داؤدؑ کی شکل میں‘ کبھی موسیٰؑ کی شکل میں اور کبھی رحمت عیسیٰ علیہ السلام کی صورت میں تشریف لائی۔ لیکن یہ رحمتیں مخصوص مقامات اور مخصوص زمانوں کے لئے تھیں۔ ان میں کوئی بھی رحمت دائمی‘ ہمہ گیر اور عالمگیر نہ تھی۔ لیکن جب محبوب رب العالمین خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم اس گلشن ہستی میں رونق افروز ہوئے تو مالک کائنات نے پوری کائنات کو مخاطب کر کے یہ مژدہ جان فزا سنا دیا۔
وما ارسلنک الا رحمۃ للعالمین (ترجمہ) اور نہیں بھیجا ہم نے آپ کو مگر تمام جہاں والوں کے لئے رحمت بنا کر
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات اقدس کو رب العزت نے سارے جہانوں اور سارے زمانوں کے لئے رحمت بنا کر مبعوث فرمایا۔ اس کے ساتھ ہی رحمت کا سلسلہ جو ابو البشر حضرت آدم علیہ السلام سے شروع ہوا تھا۔ تاجدار ختم نبوت صلی اللہ علیہ وسلم کی عظیم شخصیت پر ختم ہو لیا اور رحمت اپنی تکمیل و معراج کو پہنچ گئی۔ اس کی مزید تفہیم کے لئے اس مثال کو دیکھئے۔ آسمان نبوت خالی پڑا تھا۔ نبوت کا کوئی بھی ستارہ ابھی آسمان نبوت پر چمکا نہیں تھا۔ نبوت کا پہلا ستارہ آدم علیہ السلام کی صورت میں چمکا‘ پھر نوح علیہ السلام کا ستارہ منور ہوا‘ پھر ابراہیم علیہ السلام کا ستارہ ضوفشاں ہوا‘ کہیں ہود علیہ السلام کا ستارہ ضیا بار ہوا‘ کہیں یعقوب علیہ السلام کا ستارہ جگمگانے لگا‘ کہیں عیسیٰ علیہ السلام کی نبوت کا ستارہ تابندہ ہوا۔ ستارے آتے رہے اور اپنی اپنی روشنیاں بکھیرتے رہے۔ حتیٰ کہ آسمان نبوت ان ستاروں سے بھر گیا۔ مگر دنیا میں اجالا نہ ہوا‘ دن نہ نکلا۔ ابھی رات ہی رات تھی۔ پھر فاران کی چوٹیوں سے وہ آفتاب نبوت طلوع ہوا۔
جس کی ضیا بار کرنوں نے اندھیروں کے سینے چیر دیئے، کفر و شرک کے سائے چھٹ گئے، سحر کا سپیدہ نمودار ہوا اور یہ ظلمت کدہ کائنات بقعہ نور بن گئی۔ پھر آفتاب نبوت نے اعلان کر دیا کہ اب کسی ستارے سے روشنی لینے کی ضرورت نہیں۔ پوری دنیا کو روشن کرنے کے لئے میں اکیلا ہی کافی ہوں اور میں قیامت کی آخری شام تک روشن ہوں۔ مندرجہ بالا مثال سے ہر صاحب فہم یہ سمجھ گیا کہ جس طرح آفتاب کی موجودگی میں کسی ستارے سے روشنی لینے کی ضرورت نہیں اسی طرح خاتم النبیین محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم کی عالمگیر نبوت کی موجودگی میں کسی نبی کی نبوت کی ضرورت نہیں۔
- ○ فتنہ انکار ختم نبوت کے مبلغین و مقلدین کہتے ہیں کیونکہ آنحضرت صلی اللہ
علیہ وسلم کی نبوت پرانی اور فرسودہ ہو چکی۔ لہٰذا جدید پیدا شدہ مسائل کے حل کے لئے نئے نبی کا آنا ضروری تھا۔ سنت خیر الانام عصر حاضر کے بے چین انسانوں کے سلگتے ہوئے مسائل کو حل کرنے کے لئے کافی نہیں۔ (نعوذ باللہ) اس عقیدہ باطل کو بیان کرتے ہوئے مرزائی کہتے ہیں ”نبی اکرم کی ذہنی استعدادوں کا پورا ظہور، بوجہ تمدن کے نقص کے، نہ ہوا ورنہ قابلیت تھی۔ اب تمدن کی ترقی سے حضرت مسیح موعود کے ذریعے ان کا پورا ظہور ہوا“
(ریویو مئی ١٩٢٢ء بحوالہ قادیانی مذہب ص ٢٦٦ اشاعت نہم مطبوعہ لاہور)
مزید زہر افشانی سنئے
”ہمارے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی روحانیت نے پانچویں ہزار میں (یعنی مکی بعثت میں) اجمالی صفات کے ساتھ ظہور فرمایا اور وہ اس روحانیت کی ترقیات کی انتہا نہ تھا بلکہ اس کے کمالات کے معراج کے لئے پہلا قدم تھا۔ پھر اسی روحانیت نے چھٹے ہزار کے آخر میں یعنی اس وقت پوری طرح سے تجلی فرمائی“ (خطبہ الہامیہ ص ١٧٧)
ان عقل کے اندھوں سے کوئی پوچھے کہ نبوت کے تمام مراتب تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر ختم ہو چکے، نبوت اپنی تکمیل پر پہنچ گئی، دین مکمل ہو گیا۔ تم کون سی نبوت کی بات کرتے ہو؟ احمقوں کی کس جنت کے باسی ہو؟ تمہیں تو شیطان نے ریشمی دھاگوں سے بنے ہوئے دلفریب جال میں پھنسایا ہوا ہے۔ جاؤ عقل کے ناخن لو۔ اپنے قلب میں ایمان کی شمع فروزاں کرو اور تعصب و جہالت کی عینک اتار کر کلام اللہ اور
کلام خاتم النبیینؐ کا مطالعہ کرو تو پھر تم لسان و قلب سے پکار اٹھو گے۔
اور جہاں تک تمہارے مسائل کا تعلق ہے تو جاؤ تمہیں چیلنج ہے۔ اپنے معاشی مسائل لے کر آؤ، اپنے معاشرتی مسائل لے کر آؤ، دنیا بھر کے مسائل کا پلندہ لے کر دوڑتے ہوئے آؤ اور آفتاب ختم نبوت کی روشنی میں پلک جھپکنے میں اپنے مسائل حل کر لو۔
طب و صحت کے میدانوں میں ساری زندگی سرگرداں رہنے والو! اگر دنیا کو صحت کی دولت سے مالا مال کرنا چاہتے ہو تو طب نبویؐ کا مطالعہ کرو۔
چاند پر پہنچنے اور مریخ کا عزم رکھنے والو! اگر خلائی سائنس پر عبور چاہتے ہو تو معراج النبیؐ کا مطالعہ کرو۔
معاشیات کے ماہرو! اگر خطہ ارضی پر بسنے والے انسانوں کو معاشی سکون دینا چاہتے ہو تو خاتم الانبیاءؐ کے نظام زکوٰۃ کو اپنا لو
عالمی عدالت کے ججو! اگر دنیا میں انصاف کا بول بالا کرنا چاہتے ہو تو مدینہ کے قاضی کی سیرت کو اپنا لو۔
لاشوں کے انبار اور سروں کے مینار تعمیر کرنے والے مغرور فاتحو! کیا تم نے فاتح مکہ کی جھکی ہوئی گردن کو نہ دیکھا؟
اولاد سے سختی کرنے والو اور رزق کے خوف سے اسے قتل کرنے والو! کیا تم نے مصطفیٰؐ کے لبوں کو حسینؓ کے رخساروں کو چومتے نہیں دیکھا؟
ماں سے گستاخانہ رویہ برتنے والو! کیا سرور دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے جنت کو ماں کے قدموں تلے نہیں بتایا؟
مزدوروں کے حقوق کے لئے صدائیں بلند کرنے والے لیڈرو! کیا تم نے رحمت دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نہیں سنا کہ مزدور کی مزدوری اس کا پسینہ خشک ہونے سے قبل ادا کرو؟
معاشرے میں یتیموں کے حقوق کی باتیں کرنے والو! کیا معلم انسانیت صلی اللہ علیہ وسلم نے یتیم سے شفقت کرنے والے کو جنت میں اپنی رفاقت کا مژدہ جاں فزا نہیں
سنایا؟
غرضیکہ تاجدار ختم نبوت صلی اللہ علیہ وسلم نے قیامت تک کے لئے آنے والے انسانوں کو زندگی کے ہر ہر سلیقے سے آشنا کر دیا۔ زندگی کو مہد سے لحد تک علم کی روشنی سے منور کر دیا۔ اس دنیا کے باسیوں کو ہر زہر کے لئے تریاق فراہم کر دیا۔ آج بھی ختم نبوت کا آفتاب اپنی تابانیوں کے ساتھ روشن ہے اور ہم ہر گھڑی ہر لمحہ اس آفتاب عالم تاب سے روشنی حاصل کر سکتے ہیں۔
زندگی کی الجھنیں سلجھا گیا بطحا کا چاند
- ○ قادیانی کہتے ہیں کہ مرزا قادیانی کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی کامل
اطاعت کی وجہ سے نبوت ملی‘ اس نے سرور کائنات کی اتباع کا حق ادا کر دیا۔ وہ فنا فی الرسول تھا اور وہ نبوت کے راستے پر چلتے چلتے خود نبی بن گیا (نعوذ باللہ)
ان عیاروں‘ مکاروں‘ دغا بازوں اور جعلسازوں سے کوئی پوچھے کہ کیا حضرت ابو بکر صدیقؓ‘ حضرت عمر فاروقؓ‘ حضرت عثمان غنیؓ‘ حضرت علی المرتضیٰؓ‘ حضرت طلحہؓ‘ حضرت زبیرؓ‘ حضرت بلال حبشیؓ‘ حضرت عبدالرحمنؓ بن عوفؓ‘ حضرت سلیمان فارسیؓ‘ حضرت ابو ہریرہؓ‘ حضرت خالد بن ولیدؓ‘ حضرت انسؓ‘ حضرت عباسؓ‘ حضرت ابو ذرؓ‘ حضرت جابرؓ‘ حضرت معاذؓ بن جبلؓ‘ حضرت عبداللہؓ بن مسعودؓ‘ حضرت ابو موسیٰ اشعریؓ‘ حضرت سعدؓ اور حضرت زیدؓ بن ثابتؓ ایسے جلیل القدر صحابہ کرام‘ امام بخاریؒ‘ امام مالکؒ‘ امام احمد بن حنبلؒ‘ امام ترمذیؒ‘ ابن ماجہؒ‘ طبرانیؒ‘ ابو نعیمؒ‘ ابن حبانؒ‘ ابن عساکرؒ‘ ابن جوزیؒ‘ حافظ ابن حجرؒ‘ طحاویؒ‘ اور نسائیؒ ایسے محدثین‘ ابن کثیرؒ‘ علامہ زمحشریؒ‘ سید محمود آلوسی ؒ‘ علامہ بغویؒ‘ امام رازیؒ‘ قاضی بیضاویؒ‘ علامہ جلال الدین سیوطیؒ‘ قاضی ثناء اللہ پانی پتیؒ اور علامہ اسماعیل حقیؒ ایسے مفسرین کبار‘ خواجہ معین الدین چشتی اجمیریؒ‘ حضرت علی ہجویریؒ‘ بابا فرید گنج شکرؒ‘ حضرت میاں میرؒ‘ نظام الدین اولیاءؒ‘ قطب الدین بختیار کاکیؒ اور مجدد الف ثانیؒ ایسے اولیائے کرامؒ اور صوفیائے عظام نے سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت و اتباع نہیں کی؟
اطاعت کی تو تمہارے بناسپتی نبی مرزائے قادیانی نے جس نے فرنگی کی گود میں بیٹھ کر نبوت کا ڈرامہ رچایا‘ دین اسلام کی ادھاری قبا پہنانے کی ناپاک جسارت کی۔ قرآنی آیات میں تحریف کے جھکڑ چلائے‘ احادیث رسول کو اپنے غارتگر قلم سے مسخ کیا‘ شعائر اللہ کو ابلیسی بلڈوزروں سے کچل ڈالا‘ اپنی زہریلی زبان سے جہاد کو حرام قرار دے دیا۔ دشمن اسلام فرنگی کی اطاعت کو فرض قرار دے دیا اور پوری امت مسلمہ کی اجلی پیشانی پر کفر کا ٹپہ لگا دیا۔
نفس ارتداد کے اسیر قادیانیو! تمہارے انگریزی برانڈ نبی کی اطاعت کا یہ عالم کہ وہ عورتوں سے منہ کالا کرتا تھا‘ افیون کھاتا تھا‘ شراب کے جام لنڈھاتا تھا‘ بے تحاشا گالیاں بکتا تھا۔ مریدوں کا چندہ ہڑپ کر کے بیوی کے زیورات بناتا تھا۔ حیا سوز شاعری کرتا تھا‘ محمدی بیگم سے شادی رچانے کے لئے غلیظ خط و کتابت کرتا تھا اور مسلمانوں کو رسول رحمت کے دین سے ہٹا کر انہیں مرتد بنا کر جہنم کے گڑھے میں پھینکتا تھا۔ کیا یہی اطاعت ہے؟ کیا یہی اتباع ہے؟ کیا یہی پیروی ہے؟ ع
جھوٹی نبوت کے فریب خوردہ انسانو! نبوت ایک عطائی اور وہبی گوہر ہے۔ کوئی شخص اطاعت‘ اتباع‘ عبادت‘ ریاضت‘ محنت اور لیاقت کے ذریعے منصب نبوت پر فائز نہیں ہو سکتا‘ اگر نبوت ان اوصاف کے حصول سے ملتی ہوتی تو ابوبکرؓ کا کون ثانی تھا۔ عمرؓ کا کون ہمسر تھا‘ عثمانؓ کا کون مثیل تھا‘ علیؓ کا کون مقابل تھا اور دیگر صحابہؓ ان اوصاف میں کتنے ممتاز تھے؟ لیکن ان میں سے کسی نے دعویٰ نبوت نہ کیا بلکہ ہمیشہ خاتم النبیینؐ کی ختم نبوت کا اعلان اور تحفظ کیا اور اس عقیدہ کی عصمت پر ڈاکہ ڈالنے والوں کی سرکوبی کی اور اس راہ میں کبھی بھی کسی قربانی سے دریغ نہ کیا۔
نہ ہماری بزم خیال میں نہ دکان آئینہ ساز میں
قادیانی اپنی دجل و فریب کی زبان استعمال کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ مرزا قادیانی ظلی اور بروزی نبی ہے اور ’’نبی اکرم کا بروز ہے تاریخ انبیاء شاہد ہے کہ مالک کائنات
نے اہل کائنات کی رشد و ہدایت کے لئے تقریباً ایک لاکھ چوبیس ہزار انبیائے کرام کو اس خاکدان ارضی پر مبعوث فرمایا۔ ان سارے نبیوں میں سے کوئی بھی کسی کا ظل یا بروز نہیں تھا اور نہ ہی دین اسلام میں ظل اور بروز کا کوئی تصور ہے۔ عیار مرزا قادیانی نے یہ تصور ہندوؤں سے مستعار لیا۔ ہم قادیانیوں سے سوال کرتے ہیں کہ بتاؤ دنیا کے کس گوشے اور معاشرے میں ظل و بروز کے عقیدے کو عملی حیثیت حاصل ہے؟ کتنے لوگ بروزی زندگی گزار رہے ہیں اور انہیں کس کا بروز تسلیم کیا جا رہا ہے؟
قادیانیو! ذرا توجہ دینا‘ اگر کوئی عورت اپنے گھر میں کام کاج میں مصروف ہے دروازے پر کوئی شخص دستک دیتا ہے۔ عورت دروازے کے قریب جا کر پوچھتی ہے کون؟ وہ شخص جواب دیتا ہے میں تیرا بروزی خاوند ہوں۔ بتاؤ اس شخص کی کیسی ”چھترول“ ہو گی؟ اگر کوئی نوجوان کسی گاڑی میں سفر کر رہا ہو۔ سامنے کی نشست پر کوئی بوڑھا آدمی آکر بیٹھ جائے اور نوجوان سے کہے بیٹا! مجھے پانچ سو روپیہ دے۔ نوجوان سوال کرے کہ جناب میں تو آپ کو جانتا ہی نہیں۔ بوڑھا پلٹ کر بولے بیٹا! کمال کرتے ہو تم بھی‘ تم مجھے جانتے ہی نہیں‘ میں تمہارا بروزی ابا ہوں۔ بتائیے نوجوان کے جذبات کا کیا عالم ہو گا اور اس کی غیرت اس بوڑھے سے کیا سلوک کرے گی؟
اگر ہمارے معاشرے میں ظل و بروز کا چکر چل جائے تو پورا معاشرہ جہنم بن جائے اور معاشرتی زندگی تباہ و برباد ہو جائے۔ ملک کا نظام تلپٹ ہو جائے۔ کوئی بروزی صدر بن جائے کوئی بروزی وزیر اعظم بن جائے‘ کوئی بروزی کمشنر بن جائے‘ کوئی بروزی سفیر بن جائے‘ کوئی بروزی مشیر بن جائے‘ کوئی بروزی ایم۔ این۔ اے بن جائے اور کوئی بروزی ایس پی بن جائے وغیرہم۔ کیا ان لوگوں کی کوئی سرکاری یا عملی حیثیت ہو گی؟ یہ تو بہت بڑے عہدوں کا تذکرہ ہے۔ اگر کوئی خاکروب کارپوریشن کے دفتر میں آکر کہے کہ جناب! آج خاکروب ”مہنگا مسیح“ نہیں آیا اور وہ پورا ایک مہینہ نہیں آئے گا۔ میں ”سستا مسیح“ اس کا بروز ہوں اور میں اس کی جگہ پورا مہینہ کام کروں گا اور اس کی تنخواہ بھی وصول کروں گا۔ یقینی بات ہے کہ کارپوریشن آفیسر اسے فوراً تھانے یا پاگل خانے بھجوائے گا۔ اگر کوئی چوہڑا کسی چوہڑے کا بروز نہیں ہو سکتا تو چوہڑوں کا ”چوہڑہ“ مرزا
قادیانی مردود کس طرح سید الاولین و آخرین جناب محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم کا بروز ہو سکتا ہے؟ اگر وہ چوہڑا تھانے یا پاگل خانے جانے کا مستحق ہے تو یہ ”سپر چوہڑا“ بھی تھانے یا پاگل خانے جانے کا سزاوار ہے۔
- قادیانی کہتے ہیں کہ خاتم کے معنی ”مہر“ سے یہ مراد ہے کہ نبی اکرم کی مہر
نبوت لگانے سے نبی بنتے ہیں لیکن عقل کے مارے اور نصیبوں کے ہارے قادیانیوں کو سوچنا چاہئے کہ حضور تو خاتم النبین ہیں اور النبین تو جمع ہے اور اس سے یہ معنی لینے چاہئیں کہ نبی پاک کی مہر سے بہت سے نبی بنتے ہیں اور یہاں صدیوں کی مسافت کے بعد مہر نبوت سے ایک ہی نبی ”مسٹر گاماں“ معرض وجود میں آیا!! الامان والحفیظ۔
سب پہ سبقت لے گئی بے حیائی آپ کی
- قادیانی سوال اٹھاتے ہیں کہ جب قرب قیامت عیسیٰ علیہ السلام نزول
فرمائیں گے تو اس وقت عقیدہ ختم نبوت پر زد پڑے گی کیونکہ عیسیٰ علیہ السلام جناب محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد تشریف لائیں گے۔
جواباً عرض ہے کہ عقیدہ ختم نبوت کا مفہوم یہ ہے کہ سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی بھی نبی پیدا نہیں ہو گا۔ جناب عیسیٰ علیہ السلام حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے قبل پیدا ہوئے اور ان کی نبوت کا زمانہ آپ سے پہلے کا ہے۔ اس کے بعد رب العزت نے انہیں زندہ آسمانوں پر اٹھا لیا۔ قرب قیامت، دجال کے قتل اور اسلام کی تبلیغ کے لئے دوبارہ تشریف لائیں گے لیکن اپنی شریعت لے کر نہیں بلکہ شریعت محمدی کے تابع ہو کر، اپنی نبوت کے تحت نہیں بلکہ نبوت محمدی کے تحت!! علماء نے لکھا ہے کہ ساری کائنات کے انسانوں کا آخرت میں صرف ایک دفعہ حساب ہو گا لیکن عیسیٰ علیہ السلام کا دو دفعہ حساب ہو گا ایک دفعہ نبی ہونے کی حیثیت سے، دوسری مرتبہ سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کے امتی ہونے کی حیثیت سے! اس گفتگو سے ہر صاحب عقل سمجھ سکتا ہے عیسیٰ علیہ السلام کی آمد سے عقیدہ ختم نبوت پر کوئی آنچ نہیں آتی۔
- قادیانیوں کے لاہوری گروپ نے مسلمانوں کو دھوکہ دینے کے لئے ایک
عجیب ڈرامہ رچا رکھا ہے۔ وہ اپنی دجالی زبان استعمال کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ہم مرزا قادیانی کو نبی و رسول نہیں بلکہ مجدد و امام مہدی مانتے ہیں (حالانکہ یہ بھی پرلے درجے کا کفر ہے۔ کیونکہ جو شخص مدعی نبوت ہو‘ اسے مجدد یا امام مہدی تو کجا‘ مسلمان ماننا بھی کفر ہے) ہم ان سے پوچھتے ہیں اے ماہرین دجل و فریب! کیا تمہیں مرزا قادیانی کی کتابوں میں بار بار اس کا اعلان نبوت نظر نہیں آتا۔ اگر تمہیں نظر نہیں آتا تو وہ ہم دکھائے دیتے ہیں مرزا قادیانی اعلان کر رہا ہے۔
- ○ ”سچا خدا وہی ہے جس نے قادیان میں اپنا رسول بھیجا“ (دافع البلاء ص ١١
مصنفہ مرزا قادیانی)
- ○ ”میں خدا کی قسم کھا کر کہتا ہوں جس کے ہاتھ میں میری جان ہے۔ کہ اس
نے مجھے بھیجا ہے اور اسی نے میرا نام نبی رکھا ہے اور اسی نے مجھے مسیح موعود کے نام سے پکارا ہے۔ اور اس نے میری تصدیق کے لئے بڑے بڑے نشان ظاہر کئے جو تین لاکھ تک پہنچے ہیں“ (تتمہ حقیقت الوحی ص ٦٨)
- ○ ”اس زمانہ میں خدا نے چاہا کہ جس قدر نیک اور راست باز مقدس نبی گزر
چکے ہیں‘ ایک ہی شخص کے وجود میں ان کے نمونے ظاہر کئے جائیں‘ سو وہ میں ہوں“ (براہین احمدیہ حصہ پنجم ص ٩٠۔ مباحثہ راولپنڈی ص ١٣٥)
- ○ ”حق یہ ہے کہ خدا کی وہ پاک وحی جو میرے اوپر نازل ہوتی ہے اس میں
ایسے لفظ رسول اور مرسل اور نبی کے موجود ہیں نہ کہ ایک دفعہ بلکہ ہزار دفعہ“ (براہین احمدیہ ص ٤٩٨)
- ○ ”میں کوئی نیا نبی نہیں مجھ سے پہلے سینکڑوں نبی آچکے ہیں۔ (الحکم ١٠ اپریل
١٩٠٨ء از مباحثہ راولپنڈی ص ١٣٣)
اب بتاؤ! کیا سوچ ہے؟ کیا فکر ہے؟ آئندہ کیا لائحہ عمل ہے؟ قادیانیو! قادیانیت کے گندے جوہڑ کو چھوڑ کر اسلام کے چشمہ صافی پر آجاؤ‘ تم نے ارتداد کی جھاڑیوں میں پھنس کر اپنے دامن کو تار تار کیا ہے۔ آؤ! ایمان کے دھاگوں سے اسے رفو کر لو۔ ندامت کے چند آنسو بہا کر اپنے گناہوں کی سیاہی دھو لو۔
ارتداد کے گھٹا ٹوپ اندھیروں میں ٹھوکریں نہ کھاؤ۔ آؤ! قرآن کے آفتاب اور نبوت کے مہتاب کی روشنی میں صراط مستقیم پر گامزن ہو جاؤ۔ کیوں جھوٹی نبوت کی باد صرصر میں جھلس رہے ہو اسلام کی باد صبا تمہارا انتظار کر رہی ہے۔ لا نبی بعدی کا نعرہ مستانہ لگا کر جھوٹی نبوت کی آہنی زنجیریں توڑ دو۔ جعلی نبی اور جعلی نبوت کے منحوس چہروں پر زناٹے دار تھپڑ رسید کر دو۔
ختم نبوت کے باغیو! زندگی کے چند ایام باقی ہیں، در توبہ کھلا ہے۔۔۔۔ تمہارا رحمان و رحیم رب تمہیں بلا رہا ہے۔۔۔۔ اپنے رب کی بات سن لو۔۔۔۔ قرآن تمہیں رشد و ہدایت کی روشنی دینے کے لئے پکار رہا ہے۔۔۔۔
خدارا! قرآن کی پکار سن لو۔۔۔۔ جناب خاتم النبیین تمہیں جنت کے لئے صدائیں دے رہے ہیں۔۔۔۔ خدارا ان کی صدائے رحمت پر گوش ہوش رکھ دو۔۔۔۔ وقت تمہیں لپک لپک کے اور جھنجھوڑ جھنجھوڑ کے دہائی دے رہا ہے۔
ذرا میخانہ ”محمدؐ“ سے اک جام پیتا جا
- ○ تمام نبیوں نے اپنے بعد آنے والے نبیوں کے بارے میں پیش گوئیاں کیں
لیکن جب رحمت دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو آپؐ نے کسی نئے نبی کے آنے کی پیش گوئی نہ کی بلکہ اعلان فرمایا--- انا خاتم النبیین لا نبی بعدی
- ○ اللہ تعالیٰ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو خاتم النبیین کہا، خاتم المرسلین
نہیں کہ مبادا اس کا مطلب کوئی یوں لے کہ رسالت ختم ہو گئی اور نبوت ختم نہیں ہوئی کیونکہ ہر نبی رسول نہیں ہوتا اور ہر رسول نبی ضرور ہوتا ہے۔ خاتم النبیین میں ”النبیین“ رسول اور نبی دونوں کا احاطہ کئے ہوئے ہے۔ لہٰذا آپ کی ذات اقدس پر نبوت و رسالت دونوں ختم ہو گئیں۔
- ○ محسن انسانیت صلی اللہ علیہ وسلم اول النبیین بھی ہیں اور آخر النبیین بھی
کیونکہ عالم ارواح میں سب سے پہلے منصب نبوت آپ کو عطا کیا گیا اور بعثت میں سب سے آخر ہیں۔
آپ کی ہستی مبارک پر نبوت ختم ہوئی تو نبوت کے سارے کمالات آپؐ پر ختم ہو گئے جملہ انبیائے کرام کو جزوی طور پر جو کمالات نبوت ملے تھے، وہ آپ کو کلی طور پر عطا کر دیئے گئے۔
آنچہ خوباں ہمہ دارند تو تنہا داری
- ○ قانون فطرت ہے کہ ہر چیز کی ایک ابتداء ہوتی ہے اور ایک انتہا، نبوت کی
ابتداء حضرت آدم علیہ السلام سے ہوئی اور انتہا جناب محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم پر اور انتہا کے بعد کوئی گنجائش باقی نہیں رہا کرتی۔
- ○ بعثت محمدی سے پہلے خدا تک پہنچنے کے بہت سے دروازے تھے۔ یہ آدم کا
دروازہ ہے، اس سے داخل ہو جائیے، خدا کا قرب مل جائے گا۔ یہ نوح کا دروازہ ہے، اس سے داخل ہو جائیے، اللہ تک رسائی ہو جائے گی۔ یہ ابراہیم کا دروازہ ہے، اس سے داخل ہو جائیے، خدا مل جائے گا۔ یہ موسیٰ کا دروازہ ہے، اس سے داخل ہو جائیے، خدا مل جائے گا یہ عیسیٰ کا دروازہ ہے، اس سے داخل ہو جائیے، اللہ کی معرفت نصیب ہو جائے گی، یہ عیسیٰ کا دروازہ ہے، مالک سے رابطہ ہو جائے گا۔ لیکن جب بعثت محمدی ہو گئی تو یہ سارے چھوٹے چھوٹے دروازے بند کر دیئے گئے اور نبوت محمدی کا ”مین گیٹ“ کھول دیا گیا اور رب ذوالجلال نے یہ اعلان کر دیا اب جو بھی مجھ تک پہنچنا چاہتا ہے، اسے ”مین گیٹ“ سے گزر کے آنا ہو گا۔
- ○ جس طرح ہر مسلمان کا ایک جسمانی باپ ہے اسی طرح ہر مسلمان کا ایک
روحانی باپ ہے۔ جس کے جوتوں کی خاک کے ذروں پر جسمانی باپ کو قربان کیا جا سکتا ہے اس روحانی باپ کا نام نامی اسم گرامی ”محمد“ ہے اگر کوئی شخص دوسرے جسمانی باپ کا دعویٰ کرتا ہے تو وہ اپنی ماں کی عصمت کے سفینے کو اپنے ہاتھوں سے غرق کرتا ہے اور اگر کوئی دوسرے روحانی باپ کا دعویٰ کرتا ہے تو وہ اپنے ایمان کی کشتی کو اپنے ہاتھوں سے ڈبو دیتا ہے لہٰذا جس طرح کسی مسلمان کا دوسرا جسمانی باپ نہیں ہو سکتا، اسی طرح کسی مسلمان کا دوسرا روحانی باپ (نبی) نہیں ہو سکتا۔
ادراکِ ختمِ نبوت
اور ابطالِ قادیانیت
ایک قادیانی کے سوالوں کے جوابات
علامہ
خالد محمود
س : مسلمان کی تعریف (Definition) مثبت طور پر کیا ہے؟
ج : آنحضرت ﷺ کی جملہ تعلیمات کو سچ جاننا اور اس کا اقرار کرنا کہ آپ کی جملہ تعلیمات برحق ہیں، اصلی ایمان ہے۔ جن باتوں کا یقینی طور پر پتہ چل جائے کہ یہ حضور ﷺ کی پیش کردہ تعلیم ہے، انہیں اقرار توحید و رسالت کے پورے یقین سے تسلیم کرنا مسلمان ہونے کے لیے ضروری ہے۔ کتب عقائد میں ایمان کی یہی تعریف کی گئی ہے:
الايمان هو التصديق بجميع ما جاء به النبى صلى الله عليه وآله وسلم
جو باتیں اجمالاً معلوم ہیں، ان کا اجمالی اقرار، جو باتیں تفصیلاً درجہ یقین تک پہنچیں، ان کا تفصیلاً اقرار مسلمان ہونے کے لیے ضروری ہے۔
س : حضرت نبی کریم ﷺ کے زمانہ مبارک سے آج تک کن الفاظ سے غیر مسلموں کو مسلمان کیا جاتا رہا ہے؟
ج : غیر مسلم جب حضور ﷺ کو آپ کی سب باتوں میں سچا مان لے، وہ مسلمان ہو جاتا ہے۔ کلمہ پڑھنا، اس تصدیق قلبی کے اظہار کے لیے ہوتا ہے۔ کلمہ میں حضور ﷺ کی رسالت کا اقرار، بایں معنی ہے کہ آپ اپنی سب تعلیمات میں سچے ہیں۔ حضور ﷺ کے زمانہ سے لے کر اب تک غیر مسلم کو مسلمان کرنے کا یہی طریقہ زیر عمل رہا ہے کہ اسے ذہن سے کلمہ پڑھایا جائے کہ اب وہ حضور ﷺ کی جملہ تعلیمات کو سچ مان رہا ہے اور وہ بھی اس ذہن سے پڑھے کہ حضور اپنی جملہ تعلیمات میں سچے ہیں۔ اس تصدیق کے بغیر صرف ظاہری اقرار رسالت کو کبھی بھی مسلمان ہونے کے لیے کافی نہیں سمجھا گیا۔ ظاہری اقرار توحید و رسالت اسی صورت میں مسلمان ہونے کی علامت تسلیم کیا جائے گا کہ کلمہ پڑھنے والے سے کلمہ کے مفاہیم و مضمرات کے صریحاً منافی کوئی بات نہ ہو۔
س: کیا کوئی اسمبلی یا سیاسی ادارہ کسی فرد یا جماعت کے مذہب کے متعلق اس کی مرضی کے خلاف فیصلہ کرنے کا مجاز ہے؟ مثلاً کوئی عیسائی یا ہندو یا مسلمان ہونے کا اقرار کرتا ہے لیکن اس کے برعکس وہ ادارہ یا اسمبلی اس کے متعلق فیصلہ کرتی ہے کہ وہ عیسائی یا ہندو یا مسلمان نہیں بلکہ اس کا فلاں مذہب ہے تو کیا اسمبلی کا ایسا فیصلہ شرعاً درست اور صحیح ہے؟
ج: اسلام کے اصول و عقائد ظاہر ہیں کوئی شخص ان کا اقرار کرے اور اس کے قول و فعل میں اس اقرار کے خلاف کوئی بات نہ پائی جائے تو اسے مسلمان سمجھا جائے گا لیکن اگر اس کے کسی قول و فعل میں کفر کی نشاندہی ہو گئی تو اسے مسلمان نہ سمجھا جائے گا۔ بے شک شریعت کے احکام ظاہر پر ہیں، لیکن جس طرح اس کا کلمہ پڑھنا ظاہر ہے، اسی طرح ایک یا چند باتوں میں اس کا کفر بھی ظاہر ہو گیا ہے۔ کوئی اسمبلی یا سیاسی ادارہ یا مسلمانوں کا جرگہ جسے علماء اسلام کی سرپرستی یا شمولیت حاصل ہو، وہ اس اصول کی روشنی میں فیصلہ کر سکتا ہے کہ فلاں گروہ مسلمان ہے یا نہیں۔ جو اس طرح کا فرد یا گروہ کافر ٹھہرے، وہ کافر تو دراصل پہلے ہی سے تھا، اب اس فیصلہ نے اسے ظاہر کر دیا۔ علماء یا ایسے ادارے کسی کو کافر بناتے نہیں، بتاتے ہیں۔
س: کیا مسلمان حکومت کا ہر فیصلہ شرعاً صحیح اور درست ہوتا ہے اور جو بھی فیصلہ کرے، اس پر ایمان لانا ضروری ہے؟
ج: مسلمان حکومت کا وہ فیصلہ جو مستند علماء اسلام کی رہنمائی میں، کتاب و سنت کے مطابق ہوا ہو اور فی الجملہ مسلمانوں کے معتمد علیہم علماء اس سے اتفاق کریں، وہ ہر حال میں درست اور واجب التسلیم ہو گا۔ اس کے شائع ہونے کے بعد دوسرے اکابر علماء اسلام کا اس سے اختلاف نہ کرنا۔ اسے مجمع علیہ مسئلہ بنا دیتا ہے۔ اجتماعی امور میں شاملین کا فیصلہ غائبین پر ناطق ہوتا ہے، بشرطیکہ وہ اس کا انکار نہ کریں۔
س: اگر مسلمان حکومت کا ہر فیصلہ درست اور شرعی ہوتا ہے تو ابتداء اسلام میں جن مسلمان حکومتوں نے وہ فیصلے جو حضرت امام حسین ؓ اور حضرت امام اعظم ؒ اور امام احمد بن حنبل ؒ وغیرہ کے خلاف کیے تھے، وہ شرعاً درست تھے؟ اگر اس زمانہ میں صحیح تھے تو کیا آج بھی آپ لوگ ان کو درست اور صحیح سمجھتے ہیں؟
ج: ابتداء اسلام میں اس اصول پر مسلم حکومتوں نے جتنے فیصلے کیے‘ سب برحق تھے۔ حضرت صدیق اکبرؓ کا مسیلمہ کذاب اور منکرین زکوٰۃ کے خلاف فیصلہ بالکل برحق تھا اور اسے سب نے قبول کیا۔ تاریخ میں حضرت امام اعظمؒ اور حضرت امام احمدؒ کے خلاف جو کارروائی ہوئی‘ وہ کسی جرگے‘ قومی ادارے یا دوسرے علماء کے فیصلے سے نہ تھی۔ وقت کے حاکم کی شخصی کارروائی تھی۔ اسی طرح حضرت امام حسینؓ کے خلاف جو کارروائی ہوئی‘ وہ بھی کسی مجلس شوریٰ یا اسمبلی کے فیصلے سے نہ تھی اور نہ اس میں علماء دین کا مشورہ شامل تھا۔
س: جب کسی مسلمان حکومت کی اسمبلی اور پارلیمنٹ کو یہ حق حاصل ہے تو اگر کوئی غیر مسلم حکومت اپنے ملک کی اکثریت کے دباؤ کے تحت اپنے ملک میں رہنے والے مسلمانوں کے متعلق یہ فیصلہ کرے کہ وہ مسلمان نہیں بلکہ ہندو یا عیسائی ہیں تو کیا وہ غیر مسلم حکومت بھی ایسا فیصلہ کرنے میں حق بجانب ہے یا نہیں؟ اگر نہیں تو کیوں؟
ج: مسلمان حکومت کی پارلیمنٹ مستند علماء اسلام کی راہنمائی میں اپنے مذہب کی نظریاتی سرحدوں کا تعین کرتے ہوئے کسی شخص یا گروہ کے بارے میں فیصلہ کر سکتی ہے کہ وہ مسلمان ہے یا نہیں۔ لیکن کسی دوسرے مذہب کی حدود کا تعین اس کا کام نہیں۔ اسی طرح کسی غیر مسلم حکومت اور اس کی اسمبلی کو یہ حق تو حاصل ہے کہ وہ اپنی نظریاتی سرحدوں کا تعین کرے لیکن اسے یہ حق حاصل نہیں کہ کسی شخص یا گروہ کے بارے میں یہ فیصلہ کرے کہ وہ مسلمان ہے یا نہیں۔ یہ فیصلہ صرف اہل اسلام ہی کر سکتے ہیں۔
س: قرآن کریم کی رو سے نبی کی تعریف (Definition) کیا ہے؟
ج: قرآن کریم کی رو سے نبی وہ انسان ہے‘ جسے اللہ تعالیٰ دوسروں تک اپنی باتیں پہنچانے کے لیے مقرر کرے۔ اسے اللہ تعالیٰ کی طرف سے نئے احکام ملیں یا اسے پہلی شریعت کی تبلیغ پر ہی مامور کیا جائے‘ وہ مشرع ہوتا ہے۔ ایک شریعت پیش کرنے والا ہے اور یہ سب حکم الٰہی سے عمل میں آتا ہے۔ کوئی شخص‘ مکالمہ الٰہیہ سے کتنی دولت کیوں نہ پائے‘ وہ نبی نہیں ہوتا۔ نبی ہونا لوگوں تک خدا کی باتیں پہنچانے پر مامور ہونے کا کام ہے۔
س : قرآن مجید میں جہاں جہاں رسول اور مرسل کے الفاظ آئے ہیں، وہاں ہر جگہ اصطلاح شریعت کے معنوں میں ہیں یا کسی آیت میں لغوی اور مجازی معنوں میں بھی استعمال ہوئے ہیں۔ بزرگان اسلام نے اس کے متعلق کیا لکھا ہے؟
ج : رسول اور مرسل کا لفظ قرآن مجید میں لغوی معنوں میں بھی استعمال ہوا ہے لیکن یہ لغوی رسول نہ کوئی علیحدہ جماعت بناتے ہیں۔ نہ خدا کے نام پر کوئی بات کہتے ہیں، کہ اس نے انہیں بھیجا ہے اور نہ اپنے نہ ماننے والوں کو مجرم ٹھہراتے ہیں۔ لغوی رسول کا دائرہ کار دنیوی امور ہوتے ہیں جیسے ڈاکیہ کا ڈاک پہنچانا وغیرہ دینی امور نہیں ہوتے۔ دینی امور میں دخل دینے کا مطلب ہی یہ ہے کہ وہ لغوی رسول نہیں، شرعاً رسول ہونے کا مدعی ہے۔
س : رسول، مرسل، نبی اور کانبیاء کے الفاظ قرآن مجید، احادیث اور بزرگان دین کی کتابوں میں غیر انبیاء کے لیے بھی استعمال ہوئے ہیں یا نہیں؟
ج : نبی کا لفظ قرآن و حدیث میں محض لغوی معنوں میں کہیں استعمال نہیں ہوا۔ کانبیاء بنی اسرائیل کے الفاظ بھی قرآن کریم اور صحاح ستہ کی کتابوں میں نہیں ملتے۔ بعض چوتھے درجے کی کتابوں میں یہ الفاظ ہوں گے لیکن یہ الفاظ خود بتاتے ہیں کہ غیر پیغمبروں پر انبیاء کا لفظ کہیں نہیں آ رہا۔ نہ وہ انبیاء ہیں۔ صرف انبیاء کی مانند ہیں۔ سو کانبیاء بنی اسرائیل میں بھی لفظ انبیاء اپنے شرعی معنوں میں ہے، لغوی معنوں میں نہیں۔
بزرگان دین میں سے کسی نے بقائمی ہوش و حواس اپنے لیے لفظ نبی اللہ استعمال نہیں کیا، نہ اپنے لیے اس کا دعویٰ کیا ہے۔ اگر کسی دوسرے پر بولا تو وہ بھی ضابطے کے طور پر نہیں اور جس پر بولا اس نے نہ خود اس کا دعویٰ کیا اور نہ اس نے اس دعوے پر کوئی جماعت بنائی اور نہ اپنے نہ ماننے والوں کو کسی درجہ میں مجرم ٹھہرایا۔
س : کیا حدیث میں محدث کی اصطلاح پائی جاتی ہے؟ اگر ہے تو احادیث کی رو سے محدث کی کیا تعریف ہے؟
ج : حدیث میں محدث کی اصطلاح موجود ہے۔ اس درجہ کا فرد کامل اس امت
میں حضرت عمرؓ تھے ۔ حضرت عمرؓ کے بارے میں بے شک حدیث میں وارد ہے کہ میری بعد کوئی نبی ہوتا تو وہ عمر ہی ہوتے ۔ جب وہ نبی نہ ہوئے تو معلوم ہوا کہ محدث کسی درجہ بھی نبی نہیں ہوتا ۔ یہ درست ہے کہ وہ ولی کی نسبت نبی کے زیادہ قریب ہوتا ہے لیکن اسے نبی کسی تاویل سے بھی نہیں کہا جاسکتا ۔
س : قرآن مجید ‘ احادیث اور بزرگان اسلام کی کتابوں میں غیر نبیوں کے مکالمہ ‘ مخاطبہ الہیہ کا ثبوت ملتا ہے یا نہیں ؟
ج : اولیاء اللہ بے شک مکالمہ الہیہ کی دولت پاتے ہیں لیکن وہ اپنے لیے کسی منصب کا دعویٰ نہیں کرتے ‘ نہ اپنی ولایت کے اقرار کی دوسروں کو دعوت دیتے ہیں ۔ یہ صرف نبوت ہے ‘ جس کے اقرار کی دوسروں کو دعوت دی جاتی ہے ۔ ولایت اس طور پر کہیں پیش نہیں ہوتی ‘ نہ اولیاء اللہ کو کبھی نبی اللہ یا رسول اللہ مانا یا کہا جاتا ہے ۔
س : قرآن مجید کی آیات غیر نبیوں کو یا اولیاء اللہ کو الہام ہو سکتی ہیں ؟ سلف صالحین کا اس کے متعلق کیا عقیدہ ہے ؟
ج : قرآن مجید کی آیات غیر نبیوں کو الہام ہوں تو وہ وحی کے درجہ میں نہیں ‘ خواب کے درجہ میں شمار ہوں گی ۔ خواب کا عنوان اور ہوتا ہے اور تعبیر کچھ اور ہوتی ہے ۔ یہ آیات ظاہراً حضور ﷺ پر اتری تھیں ۔ اب یہی اگر کسی ولی کو الہام ہوں تو ان کا ظاہری خطاب معتبر نہ ہو گا ۔ تعبیر کی طرح ان کی مراد کچھ اور ہوگی ۔ اگر انہیں خواب کے درجہ میں نہ مانا جائے تو بعض صورتوں میں کفر لازم آتا ہے ۔
س : حقیقت ‘ مجاز اور استعارہ کی تعریف کیا ہے ؟ کیا آنحضرت ﷺ کے بعد کسی ولی نے اپنے لیے یا اپنے بزرگوں کے لیے مجازاً نبی کے الفاظ استعمال کیے ہیں ؟
ج : لفظ ان معنوں میں استعمال ہو جن کے لیے وہ بنا ہے تو یہ حقیقت ہے غیر موضوع لہ‘ کے لیے کسی مناسبت سے استعمال ہو تو یہ مجاز ہے ۔ استعارہ مجاز کی فرع ہے جس طرح لغوی مباحث میں حقیقت اور مجاز کا سلسلہ ہے شرعی مباحث میں بھی حقیقت شرعی اور مجاز شرعی کا سلسلہ قائم ہے جب نبی کا لفظ لغوی معنوں میں استعمال نہیں ہوتا تو مجاز لغوی میں یہ کیسے استعمال ہوسکے گا ۔ رہا مجاز شرعی تو اس کے لیے شرعی دلیل چاہئے کہ لفظ نبی قرآن و حدیث میں کہیں مجاز کی تعبیر پائے ہوئے ہو حقیقت شرعی کے سوا یہ
لفظ قرآن و حدیث میں کسی اور معنوں میں نہیں ملتا۔
س: کیا مسلمان صوفیاء کرام نے اپنی کتابوں میں غیر تشریعی ، ظل ، بروز اور فنا فی الرسول کی اصطلاحات استعمال کی ہیں یا نہیں؟
ج: شرعی مباحث میں صوفیہ کی بات حجت نہیں ہوتی صرف فقہاء شریعت کے امین ہیں جس طرح محدثین علم کے امین ہیں۔ صوفیاء کرام نے جو باتیں صحو کی حالت میں کہیں جب وہ بھی دوسروں کے لیے شرعی سند کا درجہ نہیں رکھتیں ، تو جو باتیں ان سے سکر کی حالت میں صادر ہو ئیں تو ان شطحات کی شریعت میں کیسے سند مانا جاسکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ صوفیاء کرام نے اپنی مخصوص اصطلاحات کے دائرہ میں اپنی کوئی علیحدہ جماعت بندی نہیں کی نہ لوگوں کو اپنے ماننے کی دعوت دی ، نہ اپنے انکار کو دوسروں کے لیے وجہ کفر یا کسی درجہ میں مستوجب سزا ٹھہرایا۔
س: قرآن مجید اور حدیث میں مجاز کے طور پر بھی الفاظ آئے ہیں یا نہیں؟ اس کے متعلق سلف صالحین کا کیا عقیدہ ہے؟
ج: قرآن و حدیث میں جو الفاظ مجاز کے طور پر وارد ہوئے ہیں ان کی تفسیر سلف نے اپنی رائے سے جائز نہیں سمجھی۔ ان کے ظاہر پر ایمان رکھتے ہیں۔ ان کی حقیقت میں بحث نہیں کرتے نہ انہیں کسی کی مثل کہتے ہیں قرآن مجید کے کسی متشابہ لفظ پر کسی نے کسی جماعت کی تشکیل نہیں کی نہ کسی کو حق پہنچتا ہے کہ اپنی رائے یا اپنی واردات سے قرآن کریم کی متشابہ تحریر کو اپنے مخصوص معنی پہنائے۔
س: ایک لاکھ چوبیس ہزار انبیاء میں سے اگر کوئی شخص ایک نبی کی نبوت کا انکار کرے تو کیا وہ آپ کے نزدیک مسلمان ہے؟
ج: ایک لاکھ چوبیس ہزار انبیاء میں سے ہم تک صرف بعض کے نام پہنچے ہیں جن انبیاء کا ذکر قرآن مجید میں ملتا ہے ان میں سے کسی ایک کا بھی انکار کیا جائے تو انسان مسلمان نہیں رہتا کسی نبی کا حدیث متواتر میں پتہ چلے تو بھی اسلام کی قطعی بات سے انکار کرنے والا کافر ہو جائے گا کسی ایک پیغمبر کا بھی انکار کیا جائے بشرطیکہ اس کے پیغمبر ہونے کا قرآن کریم و حدیث متواتر سے پتہ چلا ہو تو انسان مسلمان نہیں رہتا۔
س: قرآن مجید کی وہ کون سی آیت ہے جس میں ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام اپنے خاکی جسم کے ساتھ زندہ آسمان پر چلے گئے؟
ج: قرآن مجید میں ہے کہ یہود جس مسیح کو قتل کر چکنے کے مدعی تھے اس کو اللہ تعالیٰ نے اپنی طرف اٹھایا۔ (دیکھو پ ٦، سورہ نساء، آیت نمبر ١٥٨) قتل کا فعل جس چیز پر وارد ہوتا ہے اس کو اللہ تعالیٰ نے اپنی طرف اٹھایا قتل جسم خاکی پر وارد ہوتا ہے سو آپ کا رفع (اٹھانا) بھی اسی بدن عنصری سے ہوا۔ یہود کا یہ دعویٰ قتل اور خدا کا اس کے جواب میں رفع مسیح کو بیان کرنا اس جسم خاکی کے رفع اٹھائے جانے پر نص ہے۔
س: بقول آپ کے جب حضرت مسیح ناصری علیہ السلام اپنے مادی جسم کے ساتھ زندہ آسمان پر تشریف لے گئے ہیں کیا وہ بغیر کھانے پینے کے وہاں اپنی زندگی گزار رہے ہیں یا وہاں کھاتے پیتے ہیں؟ قرآن مجید نے اس کے متعلق کیا فرمایا ہے؟
ج: قرآن مجید نے اس پر بحث نہیں کی کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام وہاں جنت میں کیا کھاتے پیتے ہیں حضرت آدم علیہ السلام بھی اس جسد خاکی سے اس ملاء اعلیٰ میں رہ چکے ہیں اور پھر وہاں سے زمین پر اترے تھے تو جو ان کی خوراک ہوتی ہو گی، وہی خوراک وہاں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی بھی ہو سکتی ہے۔ پھر جو خدا تعالیٰ اصحاب کہف کو سالہا سال تک زمین پر زندہ رکھ سکتا ہے کہ وہ بغیر کچھ کھائے پئے سالہا سال تک سوئے رہیں تو کیا وہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو بغیر کسی مادی خوراک کے وہاں زندہ نہیں رکھ سکتا؟
س: حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی یہ پیشگوئی تو قرآن مجید میں ہے، جس میں انہوں نے کہا ہے کہ آنحضرت ﷺ میرے بعد آئیں گے (ومبشرا برسول یاتی من بعدی اسمہ احمد) کیا قرآن مجید میں ایسی آیت بھی ہے جس میں یہ ہو کہ حضرت محمد عربی ﷺ کے بعد حضرت عیسیٰ علیہ السلام اپنے مادی جسم کے ساتھ آخری زمانہ میں آسمان سے نازل ہوں گے؟
ج: آنحضرت ﷺ نے جو اپنے بعد یا اپنے سامنے پیش آنے والے واقعات بیان فرمائے یا علامات قیامت بیان فرمائیں، ان سب کا قرآن کریم میں مذکور ہونا ضروری نہیں۔ پہلے پیغمبر جو بعد میں آنے والے پیغمبروں کی بشارت دیتے رہے۔ تو یہ اس بات کی خبر تھی کہ آئندہ دنیا کو ہدایت ان کے ذریعہ ملے گی۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی آمد ثانی صرف ان کاموں کے لیے ہو گی جو قرآن و حدیث میں مذکور ہیں۔ رہی
تبلیغ دین اور نشر ہدایت تو اس کے لیے شریعت محمدی کافی و وافی ہوگی اور آپ بھی اسی پر عمل کریں۔
س: قرآن مجید کی آیت بل رفعہ اللہ الیہ کے معنی اگرچہ آپ کے نزدیک حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے اپنے مادی جسم کے ساتھ آسمان پر اٹھائے جانے کے ہیں تو بقول آپ کے جس وقت وہ زمین پر واپس آئیں گے، تو اس وقت اس آیت کے معنی کیا ہوں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام آسمان پر ہیں یا زمین پر؟
ج: قرآن مجید میں کئی ہونے والے واقعات کی خبر دی گئی ہے۔ حالانکہ ان میں سے کئی حضور ﷺ کی زندگی میں ہی پورے ہو گئے تھے۔ ان واقعات کے پورا ہونے کے بعد حضور ﷺ جب ان آیات کو پڑھتے ہوں گے تو حضور ﷺ کے ہاں اس وقت ان آیات کی تفسیر کیا ہوگی؟ یہی نا کہ ایک بات کے ظہور پذیر ہونے کی خبر دی گئی تھی، اور اب وہ بات واقع ہو گئی۔ جو واقعات عمل میں آگئے تو ان کی پہلی خبروں کے لیے کیا قرآن کریم کا دروازہ بند ہے؟
اسی طرح حضرت عیسیٰ علیہ السلام جب دنیا میں تشریف لائیں گے تو وہ اور دوسرے مسلمان ان آیات کو جس میں حضرت عیسیٰ کے بارے میں دوبارہ آنے کی خبر دی گئی ہے، بے شک پڑھیں گے اور اس ذہن سے پڑھیں گے کہ گزشتہ دور میں ان واقعات کے وقوع پذیر ہونے کی خبر دی گئی تھی اور جیسا بتایا گیا تھا، ویسا عمل میں آگیا۔ اب حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا یہاں موجود ہونا قرآن کریم کی ان خبروں کی تردید نہیں، ان کی عملی تصدیق ہے۔
س: آپ کے عقیدہ کے مطابق اگر وہ آخری زمانہ میں نازل ہوں گے تو اس وقت ان کی عمر کتنی ہوگی؟ قرآن و حدیث..............
ج: حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی عمر ان کی آمد ثانی پر دائرہ کہولت میں ہوگی۔ قرآن کریم اس باب میں کہل کا لفظ ذکر کرتا ہے اور یہ اس کے لیے آتا ہے جس کے سر کے بال سفیدی سے مخلوط ہو چکے ہوں۔ آپ کا اس عمر میں لوگوں سے کلام فرمانا قرآن کریم میں معجزہ کی صورت میں مذکور ہے۔ اس عمر میں بات کرنا عام طور پر معجزہ نہیں ہوتا۔ ہاں آپ جب سالہا سال کے بعد پھر اس زمین پر جلوہ افروز ہوں گے تو پھر آپ
کہولت میں کلام کرنا واقعی معجزے کا نشان ہوگا۔ جس طرح آپ کا ماں کی گود میں کلام کرنا ایک نشان تھا، اسی طرح کہولت میں اس پس منظر کے ساتھ کلام کرنا بے شک ایک نشان ہوگا۔
س : حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی زبان تو عربی نہ تھی۔ آپ کے عقیدہ کے مطابق جب وہ نازل ہوں گے تو قرآن مجید اور حدیث کس طرح پڑھیں گے ۔ کیونکہ وہ تو عربی میں ہیں۔ بذریعہ وحی سیکھیں گے یا علماء کرام سے پڑھیں گے ۔ قرآن مجید سے بتلائیں؟
ج : قرآن کریم میں ہے کہ حضرت مریم کو پہلے سے خبر دی گئی تھی کہ اللہ تعالیٰ حضرت مسیح علیہ السلام کو تورات، انجیل اور کتاب و حکمت سکھائیں گے۔ قرآن کریم کی اصطلاح عمومی میں کتاب و حکمت قرآن و حدیث کو کہا گیا ہے۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے اگر دور محمد کا کچھ حصہ نہ پانا ہوتا تو آپ کو اللہ تعالیٰ قرآن و حدیث کی تعلیم کیوں دیں گے۔ کتاب کو تورات و انجیل کے ساتھ ذکر کرنا بتاتا ہے کہ یہ بھی کوئی آسمانی دستاویز ہے ۔ کوئی عام چیز نہیں۔ شیخ اکبر کہتے ہیں یعرفه الحق تعالى بها على طريق التعريف و ان كان نبيا (الیواقیت‘‘ ص ٣٨‘ ج ٢) اللہ تعالیٰ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو قرآن و حدیث کی تعلیم کب دیں گے ؟ یہ ضرورت کے وقت ہوگا۔ تاہم یہ صحیح ہے کہ وہ یہاں آکر کسی استاد سے نہ پڑھیں گے نہ گل علی شاہ سے نہ فضل احمد سے نہ فضل الٰہی سے ۔ جو خدا کن کہہ کر جہاں بنا سکتا ہے، وہ ایک تکوین میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو عربی زبان اور کتاب و حکمت بھی پڑھا سکتا ہے ۔
س : قرآن مجید کی رو سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام بنی اسرائیل کے نبی تھے ۔ اگر وہ آنحضرت ﷺ کے آخری زمانہ میں امت محمدیہ میں نازل ہوئے تو وہی خاتم النبیین اور آخری نبی ہو جائیں گے ۔ کیونکہ وہ سب کے آخر میں مبعوث ہوں گے۔ کیا ان کی بعثت اور ان کے آنے سے آنحضرت ﷺ کی مہر ختمیت نہیں ٹوٹے گی ؟
ج : حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی رسالت صرف بنی اسرائیل کے لیے تھی ۔ آمد ثانی پر آپ ﷺ کی امت میں سے ہوں گے ۔ اس لیے پوری دنیا آپ کے دائرہ کار میں ہوگی۔ آپ اپنی ذات میں تو نبی ہوں گے لیکن اپنے کام میں آپ امتی ہوں گے۔ یوں کہیے کہ آپ کی نبوت نافذ نہ ہوگی۔ حضور ﷺ کے آنے پر آپ کی شریعت
منسوخ ہو چکی۔ یہ صحیح ہے کہ آپ آخری زمانہ میں نازل ہوں گے لیکن یہ صحیح نہیں کہ آپ مبعوث ہوں گے۔ ختم نبوت کے بعد کسی نبی کی بعثت نہیں۔ جب ان کی بعثت ہی نہ ہوگی تو آپ کی آمد سے حضور ﷺ کی خاتمیت سے کوئی ٹکراؤ نہ ہو گا۔ بھلا ایک پیغمبر کیا سارے نبی بھی آ جائیں، جیسا کہ معراج کی رات بیت المقدس میں آگئے تھے تو اس سے مہر ختم نبوت نہیں ٹوٹتی۔
س : آیت خاتم النبیین کی موجودگی میں بھی اگر حضرت عیسیٰ علیہ السلام امت محمدیہ میں آ سکتے ہیں تو اگر اللہ تعالیٰ عربی زبان میں یہ بیان کرنا چاہتا کہ محمد رسول اللہ ﷺ کے بعد کوئی نبی نہیں تو کن الفاظ میں بیان کرتا؟
ج : اس مضمون کو عربی میں یوں ادا کیا جاسکتا ہے۔ رہی شان اعجاز تو یہ اللہ تعالیٰ ہی جانیں کہ اس کے لیے معجزے والے الفاظ کیا ہوتے ولكن رسول الله و خاتم النبيين لا محدث بعده نبي ولا ينزل بعده احد من السابقين جب تک لا ينزل بعده احد جیسے الفاظ نہ ملیں، اس وقت تک آپ کی آمد ثانی کو عقیدہ ختم نبوت کے خلاف نہیں سمجھا جاسکتا۔
س : حدیث لا نبی بعدی کے ہوتے ہوئے بھی اگر حضرت عیسیٰ علیہ السلام آنحضرت ﷺ کے بعد آ سکتے ہیں تو اگر حضرت محمد عربی ﷺ یہ کہنا چاہتے کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں تو عربی زبان میں کیا الفاظ استعمال کرتے؟
ج : حضور ﷺ بھی اسی قسم کے الفاظ فرماتے لا محدث بعدی نبی ولا ياتي احد من السابقين
س : مسلم کی حدیث میں نواس بن سمعان کی روایت میں آنے والے مسیح کے متعلق جو ”نبی اللہ“ کے الفاظ چار دفعہ آئے ہیں، قرآن مجید کی آیت خاتم النبیین اور حدیث لا نبی بعدی کے ہوتے ہوئے اس نبی اللہ کے معنی کیا ہوں گے؟
ج : گھانا کا صدر، نائیجیریا میں آئے اور کوئی شخص اسے صدر کہہ دے تو اس کے معنی کیا ہوں؟ یہی نا کہ یہ شخص اپنے مرتبہ میں صدر مملکت ہے۔ گو یہاں وہ اس عہدے میں نہیں، نہ اس کا حکم یہاں نافذ ہے۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے لیے نبی اللہ کا لفظ آپ کے مرتبہ کا بیان ہے۔ آپ کے اس وقت کے عہدے کا بیان نہیں
کیونکہ یہاں وہ امتی کی حیثیت سے کام کریں گے۔ دور نبوت کے لحاظ سے یہ دور دور محمدؐ ہو گا۔
س: قرآن مجید میں ہے کہ ہر امت کا گواہ قیامت کے دن ان کا نبی ہو گا اور حضرت محمد عربی ﷺ اپنی امت کے گواہ ہوں گے۔ اگر حضرت عیسیٰ علیہ السلام امت محمدیہ میں آخری زمانہ میں آئیں گے تو کیا ان کا آنا اس آیت کے خلاف نہیں ہو گا؟
ج: حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا حشر (میدان حشر میں حاضری) دو دفعہ بھی ہو سکتا ہے۔ ایک دفعہ آپ اپنی امت پر گواہی دیں گے، جس طرح سب انبیاء اپنی اپنی امت کی گواہی دیں گے۔ دوسری دفعہ آپ امت محمدیہ کے ساتھ میدان حشر میں آئیں گے اور حضور ﷺ اپنی ساری امت پر گواہی دیں گے۔ جب یہ ممکن ہے کہ حشر کی حاضری آپ کی دو دفعہ ہو تو پھر آپ کی آمد ثانی بحیثیت امتی کے اس آیت کے خلاف نہ ہو گی کہ قیامت کے دن ہر امت کا گواہ ان کا نبی ہو گا۔
(پ ٥، النساء، آیت ٤١)
س: اگر حضرت عیسیٰ علیہ السلام آمد ثانی کے وقت نبی نہیں ہوں گے، بلکہ امتی ہوں گے تو کیا ان کا امت محمدیہ میں آنا آیت قرآنی وما ارسلنا من رسول الا لیطاع باذن اللہ (ہر ایک رسول مطاع اور امام بنانے کے لیے بھیجا جاتا ہے۔ اس غرض سے نہیں بھیجا جاتا کہ دوسرے کا مطیع اور فرمانبردار ہو) کے خلاف نہیں ہو گا؟
ج: حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا نزول بعثت یا رسالت کے ساتھ نہ ہو گا وما ارسلنا من رسول الا لیطاع باذن اللہ میں جس ارسال رسل کا بیان ہے، اس سے مراد رسولوں کا رسالت کے ساتھ آنا ہے۔ رسول جب رسالت کے ساتھ آتے ہیں تو ان کی حیثیت مطاع کی ہوتی ہے، مطیع کی نہیں۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نزول کے ساتھ تشریف لائیں گے بعثت کے ساتھ نہیں۔ اللہ تعالیٰ نے یہ تو فرمایا وما ارسلنا من رسول یہ نہ فرمایا وما انزلنا من رسول سو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی آمد ثانی پر ان کا بالذات مطاع ہونا لازم نہیں آتا۔
س: اگر کوئی شخص یہ عقیدہ رکھتا ہو کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام دوسرے انبیاء کی طرح فوت ہو گئے ہیں اور تمام احادیث جن میں نزول مسیح یا مسیح کی آمد ثانی کا ذکر
ہے وہ ایرانی اور عجمی تخیلات کا نتیجہ ہے اور قرآن کریم کی صحیح سپرٹ سے ان کو کوئی سروکار نہیں ایسا عقیدہ رکھنے والا مسلمان ہے یا کافر؟
ج : جو یہ عقیدہ رکھتا ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام دوسرے انبیاء کی طرح فوت ہو گئے‘ اسے یہ گمان ہے کہ سب انبیاء ایک ہی طرح فوت ہوئے۔ یہ خود غلط ہے۔ بعض انبیاء قتل ہوئے‘ جیسے یحییٰ علیہ السلام۔ بعض کچھ وقت کے لیے فوت ہوئے جیسے عزیر علیہ السلام اور وہ پھر اس دنیا میں اٹھ کھڑے ہوئے۔ اگر وہ شخص یہ عقیدہ رکھتا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر حضرت عزیر علیہ السلام کی طرح وفات کچھ وقت کے لیے وارد ہوئی اور وہ اٹھائے گئے اور آپ ایک دفعہ پھر اس دنیا میں قیامت کے قریب تشریف لائیں گے تو یہ عقیدہ غلط ہے۔ تاہم وہ شخص حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے قیامت کا نشان ہونے (انہ لعلم للساعہ) کا منکر نہ سمجھا جائے گا۔ البتہ اس کا یہ کہنا کہ نزول مسیح کی احادیث صحیح نہیں‘ غلط ہے‘ یہ اس کی علمی غلطی ہے‘ عقیدہ کی غلطی نہیں کیونکہ وہ آپ کے قریب قیامت کا نشان ہونے کا منکر نہیں ہے۔
پھر بسا اوقات ایسا ہوتا ہے کہ کسی کا عقیدہ وفات مسیح کا نہ ہو‘ اس کی وفات کے بعد اس کے کسی شاگرد نے ایسی بات بنالی ہو یا گھڑ لی ہو اور اس کے نام پر اسے شہرت دے دی ہو۔ ایسی صورت میں مزید تحقیق کی جائے گی۔ اگر اس کی اپنی تحریر مل جائے تو اسے دوسروں کی نقل پر فائق سمجھا جائے گا۔ اس کی مثال حضرت مولانا عبید اللہ سندھی سے دی جاسکتی ہے۔ ان کے کسی شاگرد نے ان کے نام پر وفات مسیح کا نظریہ قائم کر لیا حالانکہ مولانا سندھی خیر کثیر کے ترجمہ میں اپنے قلم سے نزول مسیح کے عقیدے کی توثیق کر چکے ہیں اور محمودیہ میں بھی اس کی تائید موجود ہے۔
پھر بعض اوقات ایسا ہوتا ہے کہ کسی کا عقیدہ تو ایسا نہ ہو اور وہ رد عیسائیت کے جوش میں الوہیت مسیح کے عقیدہ کا توڑ کرنے کے لیے مسیح کا مدعی بن بیٹھے سرسید احمد خاں اور مفتی محمد عبدہ وغیرہ نے بھی اسی انداز میں بہت سی غلط باتیں کی ہیں۔ رہی یہ بات کہ یہ کس طرح پتہ چلے کہ ان کا عقیدہ یہ نہ تھا‘ سو اگر وہ اس عقیدے پر جماعت بندی کرتا ہے اور وہ اور اس کی پوری جماعت اس عقیدے کی اشاعت کے لیے پوری محنت کرتی ہے تو یہ یقیناً اس کا عقیدہ ہوگا نہ کہ مصلحت جیسے مرزا غلام احمد اور اس کے پیرو اپنے
تمام مباحث میں وفات مسیح کے عقیدہ کو اولین جگہ دیتے ہیں۔
ہاں اگر کوئی شخص اسلامی ممالک کا دور کا رہنے والا ہو اور اسے کسی مستند عالم سے اس مسئلہ کو سمجھنے کا موقع نہیں ملا اس نے یکطرفہ لٹریچر سے ایسا عقیدہ اختیار کر لیا جیسے مسٹر اسد ( جرمنی والے) پہلے اس پر اس مسئلہ میں علمی حجت پوری کی جائے گی۔ پھر نہ مانے تو اسے بھی مرزا غلام احمد اور اس کے پیروؤں کی طرح قطعیات اسلام کا منکر سمجھا جائے گا اور اس پہلو سے وہ کفر کی زد میں ہو گا۔
نوٹ: سوال میں مختلف صورتیں ایک جگہ لپٹی تھیں۔ ہم نے جواب میں انہیں کھول دیا ہے تاکہ ہر صورت کا حکم علیحدہ بیان کر دیا جائے۔
س: حضرت سید عبدالقادر جیلانیؒ ، حضرت شیخ اکبر محی الدین ابن عربیؒ ، حضرت مجدد الف ثانیؒ ، حضرت سلطان باہوؒ ، حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلویؒ ، حضرت شاہ عبدالعزیزؒ ، حضرت سید محمد اسماعیل شہیدؒ ، حضرت شیخ عبدالحق محدث دہلویؒ ، مولانا عبدالعلیمؒ صاحب بحر العلوم، حضرت خواجہ غلام فرید صاحب چاچڑاں والے، حضرت خواجہ شمس الدین سیالویؒ ، مولانا رشید احمد گنگوہیؒ اور مولانا اشرف علی صاحب تھانوی ؒ وغیرہم نے اپنی تحریرات اور ملفوظات وغیرہ میں جو 'غیر تشریعی نبی'، 'ظل'، 'بروز' اور 'فنا فی الرسول' کی اصطلاحات لکھی ہیں، وہ صحیح ہیں یا انہوں نے اپنے اپنے زمانہ میں ہندووانہ تصور اپنا کر مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی کوشش کی تھی اور ان اصطلاحات کے لکھنے سے کوئی اسلام کی خدمت ان کے مدنظر تھی۔ آخر انہوں نے اپنی کتابوں میں یہ اصطلاحات کیوں لکھی ہیں اگر انہی اصطلاحات کو کوئی دوسرا شخص لکھے تو اس کے متعلق کیا فتویٰ ہے؟
ج: 'ظل' اور 'بروز' کی اصطلاحات ہندو تصورات سے ماخوذ ہیں، جو ان کے عقیدہ تناسخ کے پہلو سے نکلی ہیں۔ پھر بعض صوفیاء نے اپنے فنا اور بقا کے مقامات سے مخلوط کر لیا ہے اور ان میں یہ تاویل کر کے اپنے ہاں لے لیا ہے۔ تاہم اس میں شبہ نہیں کہ ان کی اصل ہندو نظریات میں سے تھی۔ ہاں یہ بات اپنی جگہ صحیح ہے کہ کسی قوم سے الفاظ لے کر انہیں اپنی کسی نئی اصطلاح میں بدل لینا، یہ امر ممنوع نہیں تھا۔ 'فنا فی الشیخ'، 'فنا فی الرسول' اور 'فنا فی اللہ' صوفیہ کی اپنی اصطلاحات ہیں اور ان کی تشریحات ہیں۔
غیر تشریعی نبی کی اصطلاح کو سائل نے یونہی ان اصطلاحات کے ساتھ جوڑا ہے ۔ اگر ان سے مراد وہ شخص ہے جو شریعت کی رو سے کسی درجہ میں نبی نہیں، جیسے سعدی کو پیغمبر غزل کہا گیا تو شرعی حیثیت کے سوا کسی کو بھی کسی فن کا پیغمبر کہا جا سکتا ہے ۔ جو خدا کے پیغمبر ہوئے ہیں، انہیں نبی اللہ کہا جاتا ہے ۔ وہ فنی نبی نہیں ہوتے، شرعی نبی ہوتے ہیں ۔ شریعت نے انہیں نبی مانا ہے ۔ وہ نئے احکام لائیں، یا پرانی شریعت پر چلیں، وہ شرعی نبی ہیں ۔
حضور ﷺ کے بعد اب کسی شخص پر شرعی نبی کا لفظ نہیں بولا جا سکتا ۔ لا نبی بعدی کے معنی لا متبوع بعدی کے ہیں کہ آپ کے بعد کوئی شخص شرعاً نبی نہیں کہلا سکتا ۔
اگر کوئی شخص یہ عقیدہ رکھے کہ شریعت کی رو سے حضور ﷺ کے بعد ایسا نبی پیدا ہو سکتا ہے، جو نئی شریعت نہ لائے، حضور ﷺ کی شریعت کے تابع رہے، لیکن شریعت کی رو سے اسے نبی اللہ کہہ سکیں گے تو ایسا عقیدہ رکھنے والا کافر ہے ۔ ہاں نبوت کے کمالات جاری ہیں اور بہت سے غیر پیغمبروں کو بھی ان کمالات سے حصہ ملتا ہے ۔ لیکن کسی ایسے شخص پر نبی یا نبی اللہ کا لفظ نہیں بولا جا سکتا، نہ شریعت نے اس کی اجازت دی ہے ۔
بزرگوں کی بعض عبارات میں کمالات نبوت پانے کا ذکر ہے لیکن ان میں یہ بھی مذکور ہے کہ ایسے شخص کو نبی ہرگز نہ کہا جا سکے گا ۔ پھر بھی اگر کوئی شخص اپنے آپ کو نبی کہتا ہے اور وہ ہوش و حواس میں ایسی بات کہتا ہے اور اپنے نہ ماننے والوں کو جہنمی قرار دیتا ہے، تو اس کے کفر میں کوئی شبہ نہ ہو سکے گا ۔ سوال میں جن بزرگوں کے نام دیے گئے ہیں، ان میں کوئی بھی ان شرائط کے ساتھ کسی غیر تشریعی نبوت کے جاری رہنے کا قائل نہ تھا ۔
س : صوفیاء کرام کی اصطلاحات کے علاوہ محدثین، فقہاء اور بزرگان دین نے عقائد، حدیث، اصول حدیث، فقہ اور اصول فقہ کی جو اصطلاحات وضع کی ہیں، یہ اصطلاحات آنحضرت ﷺ کے کتنا عرصہ بعد وضع ہوئی ہیں؟ کیا آنحضرت ﷺ کے بعد وضع ہونے کی وجہ سے یہ غیر اسلامی ہیں؟ اگر یہ اسلامی ہیں تو طریقت کی اصطلاحات
کیوں غیر اسلامی ہیں؟
ج: محدثین اور فقہاء کرام نے اپنے اپنے دائرہ علم میں جو اصطلاحات وضع کی ہیں، وہ علمی اصطلاحات ہیں، شرعی نہیں۔ ان سے مسائل کا درجہ معلوم ہوتا ہے، مسئلہ ثابت نہیں ہوتا۔ مسئلہ کے مراجع و مصادر قرآن و حدیث ہیں۔۔۔۔ طریقت کی اصطلاحات محض بیان حال کے لیے ہیں۔ تعیین منصب کے لیے نہیں۔ کتاب و سنت سے احکام استنباط کرنے والے ان احکام کے صرف مظہر ہوتے ہیں کہ انہوں نے کتاب و سنت کی وہ گہرائی ظاہر کر دی، وہ مثبت احکام نہیں ہوتے۔ مسائل میں فقہاء کے فیصلے سند ہیں۔ صوفیاء کا قول حجت نہیں۔
س: آنحضرت ﷺ کی امت میں ہزاروں ایسے بزرگ ہوئے ہیں، جنہوں نے فنا فی الرسول کے مقام پر پہنچ کر اپنے آپ کو ’آدم‘ ’نوح‘ ’ابراہیم‘ ’موسیٰ‘ ’عیسیٰ‘ ’محمد‘ ’احمد‘ کہا ہے اور بعض نے تو نبی اور رسول بھی کہہ دیا ہے اور کئی وہ ہوئے ہیں، جنہوں نے اپنے نام کے کلمے بھی پڑھا دیے ہیں، جو اہل علم حضرات سے مخفی نہیں۔ کیا یہ سب بزرگان دین اور ان کے متبعین غیر مسلم ہیں؟
ج: صوفیہ کی اصطلاحات میں اہل حال اور اہل قال دو علیحدہ علیحدہ طبقے ہیں۔ اس کا مطلب اس کے سوا کیا ہے کہ سند اہل قال سے لی جائے، اہل حال سے نہیں۔ اپنی حیثیت کو فنا کر کے کوئی شخص اپنے شیخ کا مظہر بنے، اس سے اس کے حال کا تو پتہ چل سکتا ہے، لیکن اس کے اس حال پر کبھی جماعت بنی نہیں سنی گئی۔ نہ اس سے شرعی احکام چلتے ہیں، نہ لوگوں کو اس مقام کی دعوت دی جاتی ہے۔ جن صوفیوں سے ان کی کسی خاص حالت میں شطحیات صادر ہوئے، وہ ان کا ارادی کام نہ تھا۔ اس صورت میں وہ لائق معافی ہیں۔ لیکن ان کی باتوں کو سند نہیں بنایا جا سکتا اور نہ وہ باتیں اپنے ظاہر میں صحیح سمجھی جا سکتی ہیں۔
س: جماعت احمدیہ لاہور کا ہر فرد آنحضرت ﷺ کو غیر مشروط طور پر خاتم النبیین اور آخری نبی مانتا ہے اور یقین کرتا ہے کہ امام الزماں، مجدد صد چہار دہم، مسیح موعود جناب حضرت مرزا غلام احمد قادیانی نے نبوت کا دعویٰ ہرگز نہیں کیا بلکہ بار بار اعلان کیا کہ "سیدنا و مولانا محمد مصطفیٰ ﷺ ختم المرسلین کے بعد کسی دوسرے مدعی
نبوت اور رسالت کو کاذب اور کافر جانتا ہوں" (مجموعہ اشتہارات‘ جلد اول‘ ص ٢٣٠)
ج : یہ دعویٰ کہ جماعت احمدیہ لاہور کا ہر فرد حضور ﷺ کو غیر مشروط طور پر آخری نبی مانتا ہے‘ مندرجہ ذیل تحریرات کی رو سے صحیح نہیں۔ مرزا غلام احمد‘ حضور ﷺ کو آخری نبی اس طرح مانتا ہے کہ کلمہ‘ قبلہ اور شریعت بدلے بغیر نیا نبی نہ آ سکے‘ بلکہ بعض عبارات میں اس کا شریعت لانے کا دعویٰ بھی ہے۔ یہ حضور ﷺ کے آخری ہونے کا غیر مشروط عقیدہ نہیں‘ اپنے لیے ایک چور دروازہ کھولنا ہے۔ مرزا غلام احمد کی موت ٢٦ مئی ١٩٠٨ء کو ہوئی۔ اس نے ٢٣ مئی ١٩٠٨ء کو اخبار عام میں جو بیان دیا‘ وہ ٢٦ مئی کو شائع ہوا۔ یہ مرزا صاحب کی اس مسئلہ پر آخری تحریر ہے۔ اس میں ہے:
”جس بنا پر میں اپنے تئیں نبی کہلاتا ہوں‘ وہ صرف اس قدر ہے کہ میں خدا تعالیٰ کی ہم کلامی سے مشرف ہوں اور وہ میرے ساتھ بکثرت بولتا اور کلام کرتا ہے اور میری باتوں کا جواب دیتا ہے اور بہت سی غیب کی باتیں میرے پر ظاہر کرتا ہے اور آئندہ زمانوں کے راز میرے پر کھولتا ہے اور جب انسان کو اس کے ساتھ خصوصیت کا قرب نہ ہو‘ دوسرے پر وہ اسرار یقین نہیں کھولتا اور انہی امور کی کثرت کی وجہ سے اس نے میرا نام نبی رکھا ہے۔ سو میں خدا کے حکم کے موافق نبی ہوں اور اگر میں اس سے انکار کروں تو میرا گناہ ہو گا اور جس حالت میں خدا میرا نام نبی رکھتا ہے تو میں کیونکر انکار کر سکتا ہوں“۔
(منقول از النبوہ فی الاسلام‘ مصنفہ (مولوی محمد علی صاحب‘ امیر جماعت احمدیہ
لاہور)
اس عبارت کی روشنی میں یہ کہنا کہ لاہوری جماعت کے لوگ حضور ﷺ کو غیر مشروط طور پر آخری نبی مانتے ہیں‘ کسی طرح درست نہیں۔ جب انہوں نے نبوت کا ایک دروازہ کھلا رکھا ہے‘ گو کسی تاویل سے کیوں نہ ہو‘ تو پھر ختم نبوت پر غیر مشروط عقیدہ رکھنے کا یہ دعویٰ جھوٹ نہیں تو اور کیا ہے۔ پھر مرزا صاحب نے صرف یہی نہیں کہا کہ خدا نے میرا نام نبی رکھا ہے کہ اسے وحی شیطانی کہہ کر نظر انداز کیا جا سکے مرزا
صاحب نے اپنی اسی وحی کی اساس پر نبوۃ کا دعویٰ بھی کیے رکھا اور اس کے انکار کو گناہ بھی قرار دیا۔ مولوی محمد علی صاحب ایک اور مقام پر لکھتے ہیں:
"خدا تعالیٰ نے تمام نبوتوں اور رسالتوں کے دروازے بند کر دیے مگر آپ کے متبعین کامل کے لیے، جو آپ کے رنگ میں رنگین ہو کر آپ کے اخلاق کاملہ سے ہی نور حاصل کرتے ہیں، ان کے لیے یہ دروازہ بند نہیں ہوا"۔
ایک اور مقام پر لکھتے ہیں:
"جزئی طور پر ایک قسم کی نبوت ان کو ملتی ہے اور آفتاب نبوت ان کے دل کے آئینے میں منعکس ہو کر ایک ظلی یا بروزی نبوت ان کو دیتا ہے"۔
('مسیح موعود' ص ٣٠٦، تحریر ١٩١٨)
قادیانیت کا بدکردار
محمد طاہر رزاق
سوال: جناب عالی ہم نے مختلف لوگوں سے یہ سنا ہے کہ مرزا قادیانی
- ١۔ شراب پیتا تھا۔
- ٢۔ افیون کھاتا تھا۔
- ٣۔ غیر محرم عورتوں سے ٹانگیں دبواتا تھا۔
- ٤۔ سینما دیکھتا تھا۔
- ٥۔ غلیظ گالیاں بکتا تھا۔
- ٦۔ اسے مراق و ہسٹیریا تھا۔
- ٧۔ وہ جوتے کا دایاں پاؤں بائیں میں اور بایاں پاؤں دائیں میں ڈال لیتا تھا۔
- ٨۔ قمیض کے بٹن اپنے سامنے والے کاجوں کے بجائے اوپر نیچے لگاتا تھا۔
- ٩۔ اس نے جوتے کو سیاہی کی دوات بنا رکھا تھا۔
- ١٠۔ وہ مختاری کے امتحان میں فیل ہو گیا تھا۔
- ١١۔ اس کے فرشتوں کے نام ٹیچی ٹیچی درشن اور خیراتی تھے۔
- ١٢۔ اسے انگریزی‘ ہندی اور پنجابی میں الہامات وحی ہوتے تھے۔
- ١٣۔ اس نے جہاد کو حرام قرار دیا۔
- ١٤۔ اس نے کہا کہ جو مجھے نہیں مانتا وہ کافر ہے۔
- ١٥۔ وہ حیاسوز شاعری کرتا تھا۔
کیا یہ باتیں ہوائی یا فرضی ہیں یا کہ ان کے ثبوت بھی ہیں؟ اگر ثبوت موجود ہیں اور قادیانیوں کی ایک کثیر تعداد کو ان باتوں کا پتہ بھی ہے تو پھر وہ اسے کیوں اپنا نبی اور راہنما مانتے ہیں۔ (از طرف ‘ فیاض اختر ملک)
جواب: جن باتوں کا آپ نے تذکرہ کیا یہ ہوائی نہیں ہیں بلکہ ہمارے پاس ان تمام کے بین ثبوت موجود ہیں۔ لیجئے ثبوت پیش خدمت ہیں۔
شراب
”محبی اخویم محمد حسین سلمہ اللہ تعالیٰ اسلام علیکم و رحمتہ اللہ و برکاتہ ۔
اس وقت میاں یار محمد بھیجا جاتا ہے۔ آپ اشیائے خریدنی خود خریدیں اور ایک بوتل ٹانک وائن‘ ای پلومر کی دکان سے خریدیں۔ مگر ٹانک وائن چاہیے۔ اس کا لحاظ رہے۔ باقی خیریت ہے"۔ والسلام (خطوط امام بنام غلام‘ ص٥)
سودائے مرزا کے حاشیہ پر حکیم محمد علی پرنسپل طبیہ کالج امرتسر لکھتے ہیں ’ٹانک وائن کی حقیقت لاہور میں ای پلومر کی دکان سے ڈاکٹر عزیز احمد صاحب کی معرفت معلوم کی گئی۔ ڈاکٹر صاحب جواباً تحریر فرماتے ہیں حسب ارشاد ای پلومر کی دکان سے دریافت کیا گیا۔ جواب حسب ذیل ہے:
”ٹانک وائن ایک قسم کی طاقتور اور نشہ دینے والی شراب ہے جو ولایت سے سربند بوتلوں میں آتی ہے۔ اس کی قیمت ساڑھے پانچ روپے ہے“۔
(٢١ دسمبر ١٩٣٢ء ’’سودائے مرزا‘‘ ص ٣٩‘ حاشیہ)
افیون
”حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ”تریاق الٰہی“ دوا‘ خدا تعالیٰ کی ہدایت کے ماتحت بنائی اور اس کا ایک بڑا جز افیون تھا اور یہ دوا کسی قدر اور افیون کی زیادتی کے بعد حضرت خلیفہ اول (حکیم نور الدین) کو حضور (مرزا قادیانی) چھ ماہ سے زائد تک دیتے رہے اور خود بھی وقتاً فوقتاً مختلف امراض کے دوروں کے وقت استعمال کرتے رہے۔“
(مضمون میاں محمود احمد‘ اخبار ”الفضل“ جلد ١٧‘ نمبر ٤‘ مورخہ ١٩ جولائی ١٩٢٩ء)
غیر محرم عورتیں
”حضرت ام المومنین (محترمہ نصرت جہاں بیگم زوجہ مرزا قادیانی) نے ایک دن سنایا کہ حضرت صاحب کے ہاں ایک بوڑھی ملازمہ مسماۃ بھانو تھی۔ وہ ایک رات جب کہ خوب سردی پڑ رہی تھی‘ حضور کو دبانے بیٹھی۔ چونکہ وہ لحاف کے اوپر سے دباتی تھی اس لیے اسے پتہ نہ لگا کہ کس چیز کو دبا رہی ہے۔ وہ حضور کی ٹانگیں نہیں بلکہ پلنگ کی پٹی ہے۔ تھوڑی دیر کے بعد حضرت نے فرمایا ”بھانو آج بڑی سردی ہے۔“ بھانو کہنے لگی ”ہاں جی! تَدے تے تہاڈیاں لتاں لکڑی وانگ ہویاں ہویاں نیں“ (جبھی تو آپ کی ٹانگیں لکڑی کی
طرح سخت ہو رہی ہیں۔) خاکسار عرض کرتا ہے کہ حضرت صاحب نے جو بھانو کو سردی کی طرف توجہ دلائی تو اس میں غالبا یہ جتانا مقصود تھا کہ آج شاید سردی کی وجہ سے تمہاری حس کمزور ہو رہی ہے۔" (”سیرت المہدی“ جلد ٣‘ ص ٢١٠‘ مصنفہ مرزا بشیر احمد ابن مرزا قادیانی)
سینما یا تھیٹر
مرزا قادیانی کا نام نہاد صحابی مفتی محمد صادق بیان کرتا ہے: ”ایک شب دس بجے کے قریب میں تھیٹر میں چلا گیا جو مکان کے قریب ہی تھا اور تماشہ ختم ہونے پر دو بجے رات کو واپس آیا۔ صبح منشی ظفر احمد صاحب نے میری عدم موجودگی میں حضرت صاحب کے پاس میری شکایت کی کہ مفتی صاحب رات کو تھیٹر چلے گئے تھے۔ حضرت صاحب نے فرمایا‘ ایک دفعہ ہم بھی گئے تھے۔“ (”ذکر حبیب“ ص ١٨‘ مصنفہ مفتی محمد صادق)
غلیظ گالیاں
- (i) ”سعد اللہ لدھیانوی بے وقوفوں کا نطفہ اور کنجری کا بیٹا ہے۔“ (تتمہ حقیقتہ الوحی‘
ص ١٤)
- (ii) ”خدا تعالیٰ نے اس کی بیوی کے رحم پر مہر لگادی۔“ (تتمہ حقیقتہ الوحی‘ ص ١٣)
- (iii) ”آریوں کا پرمیشر (خدا) ناف سے دس انگل نیچے ہے۔ سمجھنے والے سمجھ لیں"۔
(چشمہ معرفت‘ ص ١١٦)
- (iv) ”ہر مسلمان مجھے قبول کرتا ہے اور میرے دعوے پر ایمان لاتا ہے مگر زنا کار کنجریوں
کی اولاد جن کے دلوں پر خدا نے مہر کر دی ہے۔ وہ مجھے قبول نہیں کرتے"۔ (آئینہ کمالات اسلام‘ ص ٥٤٧)
- (v) ”جھوٹے آدمی کی یہی نشانی ہے کہ جاہلوں کے روبرو تو بہت لاف گزاف مارتے ہیں
مگر جب کوئی دامن پکڑ کر پوچھے کہ ذرا ثبوت دے کر جاؤ تو جہاں سے نکلے تھے وہیں داخل ہو جاتے ہیں"۔ (حیات احمد‘ جلد نمبر ١۔ ٣‘ ص ٢٥)
- (٧١) "عبدالحق کو پوچھنا چاہیے کہ اس کلمہ مباہلہ کی برکت کا لڑکا کہاں گیا۔ کیا اندر ہی
اندر پیٹ میں تحلیل پا گیا یا پھر رجعت قہقری کر کے نطفہ بن گیا۔ اب تک اس کی عورت کے پیٹ سے ایک چوہا بھی پیدا نہ ہوا"۔ (ضمیمہ انجام آتھم ص ٢٧)
مراق۔ ہسٹریا
"ڈاکٹر میر محمد اسماعیل نے مجھ سے بیان کیا کہ میں نے کئی دفعہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے سنا ہے کہ مجھے ہسٹریا ہے۔ بعض اوقات آپ مراق بھی فرمایا کرتے تھے۔ لیکن دراصل بات یہ ہے کہ آپ کو دماغی مشقت اور شبانہ روز تصنیف کی مشقت کی وجہ سے بعض ایسی عصبی علامات پیدا ہو جایا کرتی تھیں جو ہسٹریا کے مریضوں میں بھی عموماً دیکھی جاتی ہیں۔ مثلاً کام کرتے کرتے یک دم ضعف ہو جانا، چکروں کا آنا، ہاتھ پاؤں کا سرد ہو جانا، گھبراہٹ کا دورہ ہو جانا، ایسا معلوم ہوتا تھا کہ ابھی دم نکلتا ہے یا کسی تنگ جگہ یا بعض اوقات زیادہ آدمیوں میں گھر کر بیٹھنے سے دل کا سخت پریشان ہونے لگنا وغیرہ ذالک"۔ (سیرت
المہدی حصہ دوم ص ٥٥ مصنفہ مرزا بشیر احمد قادیانی)
دایاں بایاں
"بعض اوقات کوئی دوست حضور کے لیے گرگابی (جوتا) ہدیۃً لاتا تو آپ بسا اوقات دایاں پاؤں، بائیں میں ڈال لیتے تھے اور بایاں، دائیں میں۔ چنانچہ اس تکلیف کی وجہ سے آپ دیسی جوتا پہنتے تھے۔ اسی طرح کھانے کا یہ حال تھا کہ خود فرمایا کرتے تھے، ہمیں تو اس وقت پتہ لگتا ہے کہ کیا کھا رہے ہیں، جب کھانا کھاتے کھاتے کوئی کنکر وغیرہ کا ریزہ دانت کے نیچے آ جاتا ہے"۔
(”سیرت المہدی“ حصہ دوم، ص ٥٨، مصنفہ بشیر احمد قادیانی ابن مرزا قادیانی)
بٹن اور کاج
"بار ہا دیکھا گیا ہے کہ بٹن اپنا کاج چھوڑ کر دوسرے ہی میں لگے ہوئے ہوتے تھے۔ بلکہ صدری کے بٹن کوٹ کے کاجوں میں لگائے ہوئے دیکھے گئے"۔
(سیرت المہدی حصہ دوم ص ١٢٦ مصنفہ مرزا بشیر احمد قادیانی)
جوتی کی دوات
”ایک دفعہ فرمانے لگے میرے لیے کسی نے بوٹ بھیجے ہیں۔ میری سمجھ میں اس کا دایاں بایاں نہیں آیا۔ آخر اس کو سیاہی ڈالنے کے لیے بنالیا۔“
(الحکم ١٤ دسمبر ١٩٣٢ء ص ٥ کالم نمبر ٢)
مختاری کے امتحان میں فیل
”چونکہ مرزا صاحب ملازمت کو پسند نہیں کرتے تھے اس واسطے آپ نے مختاری کے امتحان کی تیاری شروع کر دی اور قانون کی کتابوں کا مطالعہ شروع کیا‘ پر امتحان میں کامیاب نہ ہوئے۔“ (”سیرت المہدی“ حصہ اول‘ ص ١٣٨‘ بشیر احمد قادیانی)
فرشتے
”ٹیچی ٹیچی“ : ”٥ مارچ ١٩٠٥ء کو خواب میں ایک فرشتہ دیکھا جس نے اپنا نام ”ٹیچی ٹیچی“ بتایا“
(”حقیقت الوحی“ ص ٢٣٢‘ مصنفہ مرزا قادیانی)
”درشنی“ : ”ایک فرشتہ میں نے بیس برس کے نوجوان کی شکل میں دیکھا۔ صورت اس کی مثل انگریزوں کی تھی اور میز کرسی لگائے ہوئے بیٹھا تھا۔ میں نے اس سے کہا۔ آپ بہت ہی خوبصورت ہیں اس نے کہا میں درشنی ہوں۔“ (”تذکرہ“ ص ٣١)
”خیراتی“ : ”تین فرشتے آسمان سے آئے اور ایک کا نام خیراتی تھا۔“
(”تریاق القلوب“ ص ١٩٢‘ مصنفہ مرزا قادیانی)
پنجابی‘ ہندی اور انگریزی وحی
پنجابی: ”ایک دفعہ حضرت مسیح موعود نے یہ الہام سنایا کہ ”پٹی پٹی گئی“۔
(”تذکرہ“ ص ٨٠١)
ہندی: ”ہے کرشن جی رو در گوپال“
("البدر" جلد دوم‘ نمبر ٤١‘ ٤٢‘ مورخہ ٢٩ اکتوبر ٨ نومبر ١٩٠٣ء ص ٣٢٢)
انگریزی: میں تم سے محبت کرتا ہوں "I love you." میں تمہارے ساتھ ہوں "I am with you" میں تمہاری مدد کروں گا "I shall help you."
(”حقیقتہ الوحی“ ص ٣٠٣ مصنفہ مرزا قادیانی)
جہاد
دین کے لیے حرام ہے اب جنگ اور قتال
اب آگیا مسیح جو دین کا امام ہے
دین کے لیے تمام جنگوں کا اب اختتام ہے
اب آسمان سے نور خدا کا نزول ہے
اب جنگ اور جہاد کا فتویٰ فضول ہے
دشمن ہے خدا کا جو کرتا ہے اب جہاد
منکر نبی کا ہے جو یہ رکھتا ہے اعتقاد“
(ضمیمہ ”تحفہ گولڑویہ“ ص ٣٩‘ مصنفہ مرزا قادیانی)
- O ”آج سے انسانی جہاد جو تلوار سے کیا جاتا تھا‘ خدا کے حکم کے ساتھ بند کیا گیا۔ اب
اس کے بعد جو شخص کافر پر تلوار اٹھاتا ہے اور اپنا نام غازی رکھتا ہے۔ وہ اس رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی نافرمانی کرتا ہے۔“ (”خطبہ الہامیہ“ مترجم‘ ص ٢٨-٢٩‘ مصنفہ مرزا قادیانی)
کافر ہے!
”ہر ایک شخص جس کو میری دعوت پہنچی ہے اور اس نے مجھے قبول نہیں کیا وہ
مسلمان نہیں۔“ (”حقیقتہ الوحی“ ص ١٦٣‘ مصنفہ مرزا غلام احمد قادیانی)
”جو شخص میری پیروی نہ کرے گا اور بیعت میں داخل نہ ہو گا وہ خدا‘ رسول کی نافرمانی کرنے والا جہنمی ہے“۔ (اشتہار معیار الاخیار ص ٨‘ مصنفہ مرزا قادیانی)
شاعری
نام اولاد کے حصول کا ہے ساری شہوت کی بے قراری ہے
بیٹا بیٹا پکارتی ہے نطفہ یار کی اس کو آہ و زاری ہے
دس سے کروا چکی ہے زنا پاک دامن ابھی بے چاری ہے
زن بیگانہ پر یہ شیدا ہیں جس کو دیکھو وہی شکاری ہے
(”آریہ دھرم“ ص ٧٦۔٧٧‘ مصنفہ مرزا قادیانی)
- ○ آپ نے پوچھا ہے کہ اگر قادیانیوں کی اکثریت مرزا قادیانی کی حقیقت کو جانتی ہے
تو پھر اسے اپنا نبی اور راہبر کیوں مانتے ہیں؟
- ○ جواباً عرض ہے کہ ہیروئن پینے والے کو پتہ ہوتا ہے کہ ہیروئن نوشی سے میں
صحت اور دولت سے محروم ہو جاؤں گا اور پھر یہ ہیروئن مجھے موت کے گھاٹ اتار دے گی۔ لیکن وہ اپنے بچوں کے منہ سے نوالے چھین کر اور بیوی کے زیورات بیچ کر اور گھر کو جہنم بنا کر اپنا ہولناک شوق پورا کرتا ہے۔
- ○ جعلی ادویات بیچنے والے کو معلوم ہوتا ہے کہ وہ معاشرے میں شفا نہیں بلکہ موت
کا زہر بیچ رہا ہے۔ اسے معلوم ہوتا ہے کہ وہ کئی گھروں کے چراغ گل کر دے گا۔ کئی پھولوں کو یتیم کر دے گا۔ کئی سہاگنوں کے سہاگ لوٹ لے گا۔ کئی ممتا بھری آنکھوں کو آنسوؤں کے چشمے بنا دے گا۔ لیکن وہ اپنے مفاد کی خاطر یہ سب کچھ کر گزرتا ہے۔
- ○ اسلام کی سنہری مالا کو چھوڑ کے اگر کوئی قادیانیت کے کانٹوں کو اپنے گلے میں سجاتا
ہے تو اس میں تعجب کی کیا بات ہے؟
- ○ چینی لوگ مچھلیوں کی موجودگی میں سانپ چھپکلیاں اور دیگر غلیظ کیڑے کھاتے ہیں۔
کورین لوگ خوبصورت بکرے کو چھوڑ کر کتے کا گوشت مزے لے کر کھاتے ہیں۔ یورپین
لوگ بہترین مرغوں کو چھوڑ کر لحم خنزیر کو منہ میں ڈالتے ہیں۔ کئی بد بخت آب زم زم کی موجودگی میں اپنے منہ اور معدے کو شراب سے غلیظ کرتے ہیں۔ ہندو اپنے ہاتھوں سے بت بناتا اور پھر اس بت کو خدا کہتا ہے۔ وہ اپنے ہاتھوں سے بنائے ہوئے بت کو تو خدا کہتا ہے لیکن جس رب نے اسے بنایا اسے خدا نہیں کہتا۔
محترم بھائی! جس طرح مرزا قادیانی کو پتہ تھا کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم خدا کے آخری نبی ہیں لیکن اس نے دعویٰ نبوت کیا‘ اسی طرح قادیانیوں کی اکثریت کو بھی معلوم ہے کہ مرزا قادیانی اللہ کا نبی نہیں ہے لیکن وہ پھر بھی اپنے مفادات کے لیے اسے نبی مانتے ہیں۔
برادر عزیز! جب مسیلمہ کذاب نے دعویٰ نبوت کیا اور بہت سے لوگوں کو اپنے دام تزویر میں پھنسا لیا تو انہی دنوں مسیلمہ کذاب کا ایک دوست باہر سفر پر تھا۔ جب وہ گھر پلٹا تو لوگ اس کے پاس آئے اور اسے بتایا کہ تیرے دوست مسیلمہ نے نبوت کا دعویٰ کر رکھا ہے۔ اسے بڑا تعجب ہوا۔ اس نے انہیں کہا کہ تم سب میرے ساتھ آؤ‘ ہم مسیلمہ کے پاس چلتے ہیں۔ جب وہ مسیلمہ کے مکان پر پہنچا تو اس نے اپنے ساتھیوں سے کہا کہ تم باہر ٹھہرو میں اندر بند کمرے میں مسیلمہ سے گفتگو کر کے اسے پرکھتا ہوں کہ وہ سچا ہے یا جھوٹا؟
وہ ایک بند کمرے میں مسیلمہ کے ساتھ طویل گفتگو کرتا رہا۔ اس سے مختلف سوال و جواب کرتا رہا‘ اسے پرکھتا رہا اور پھر جب وہ کافی دیر بعد مسیلمہ کذاب کے مکان سے باہر آیا تو لوگ اس کے منتظر تھے۔ وہ فوراً اس کے گرد اکٹھے ہو گئے اور اس سے پوچھا کہ بتا مسیلمہ کو کیا پایا۔ اس نے جواب دیا کہ میں نے مسیلمہ کو ہر زاویے سے پرکھا اور میں اس نتیجہ پر پہنچا ہوں کہ وہ جھوٹا ہے لیکن ہم اسے سچا نبی مانیں گے کیونکہ باہر کے سچے نبی سے گھر کا جھوٹا نبی بہتر ہے۔
طالب شفاعت محمدی‘ بروز محشر محمد طاہر رزاق
فتنۂ قادیانیت کی
نقاب کشائی
مولانا اللہ وسایا
س : مرزائیوں کا کہنا ہے کہ ہم کلمہ پڑھتے ہیں‘ نماز پڑھتے ہیں‘ روزہ رکھتے ہیں‘ قبلہ کی طرف رخ کرتے ہیں‘ زکوٰۃ دیتے ہیں‘ مسلمانوں کی طرح ذبیحہ کرتے ہیں تو پھر ہمیں کافر کیوں کہا جاتا ہے؟
ج : مسلمان ہونے کے لیے پورے اسلام کو ماننا ضروری ہے کافر ہونے کے لیے پورے اسلام کا انکار ضروری نہیں‘ دین کے ایک مسئلہ کے انکار سے بھی کافر ہو جاتا ہے اگر کسی نے دین کے ایک ضروری مسئلہ کا انکار کیا تو وہ کافر ہو جائے گا‘ چاہے کروڑ دفعہ کلمہ کیوں نہ پڑھتا ہو یا نمازی حاجی اور زکوٰۃ دینے والا کیوں نہ ہو۔ اس میں مثال ایسی ہے جیسے ایک دیگ میں چار من دودھ جمع ہو سکتا ہے۔ اب اس کے پاک ہونے کے لیے ضروری ہے کہ وہ پورے کا پورا پاک ہو۔ ناپاک ہونے کے لیے ضروری نہیں کہ چار من دودھ میں چار من شراب ڈالیں گے‘ تب پلید ہو گا بلکہ ایک تولہ شراب کا بھی چار من دودھ کو پلید کر سکتا ہے۔ پس ثابت ہوا کہ اگر کوئی شخص دین کے ایک مسئلہ کا انکار کر دے گا تو وہ کافر ہو جائے گا۔ مرزائیوں نے ایک مسئلہ کا نہیں کئی کا انکار کیا ہے اس لیے وہ کافر ہیں چاہے وہ کروڑ دفعہ کلمہ کیوں نہ پڑھتے ہوں۔
مسیلمہ کذاب اور اس کی پارٹی کے لوگ نماز پڑھتے تھے‘ اذان دیتے تھے‘ کلمہ پڑھتے تھے‘ مسلمانوں کے قبلہ کی طرف رخ کرتے تھے‘ مسلمانوں کا ذبیحہ کھاتے تھے‘ غرض یہ کہ تمام مسلمانوں کا اور مسیلمہ کذاب کا دین کے دیگر مسائل میں اختلاف نہ تھا۔ صرف ایک مسئلہ میں اختلاف تھا وہ یہ کہ صحابہ کرام کہتے تھے کہ حضور علیہ السلام ہی نبی ہیں۔ اور آخری نبی ہیں جب کہ مسیلمہ کہتا تھا کہ حضور بھی نبی ہیں۔ مسیلمہ کذاب نے کہا حضور بھی نبی اور حضور کے بعد میں بھی‘ تو صحابہ کرام نے ارشاد فرمایا کہ مسیلمہ تو نے حضور کے بعد نبوت کا دعویٰ کر کے ایسے جرم کا ارتکاب کیا ہے کہ اب تیری کوئی نیکی‘ نیکی نہیں رہی۔ دعویٰ نبوت کے بعد تو کافر ہے نہ تیرے کلمے کا اعتبار ہے نہ نماز وغیرہ کا اس لیے صحابہ کرام نے اس کے ساتھ جنگ کی۔ اسی طرح مرزا قادیانی کے دعویٰ نبوت اور مرزائیوں کا اسے نبی مان لینا یہ وہ جرم ہے جس کے ہوتے ہوئے مرزائیوں کی کوئی نیکی‘ نیکی نہیں رہی۔
مرزائیوں کا یہ کہنا کہ ہم مسلمانوں والا کلمہ پڑھتے ہیں یہ بھی غلط ہے ۔ بلکہ ہمارا دعویٰ ہے کہ مرزائیوں کا کلمہ اور ہے اس لیے مرزا کے لڑکے مرزا بشیر نے اپنی کتاب ”کلمۃ الفصل“ کے صفحہ ١٥٨ پر تحریر کیا ہے کہ مسیح موعود کی بعثت کے بعد محمدؐ کے مفہوم میں ایک اور زیادتی ہو گئی ۔ تو جب مسلمان کلمہ کا دوسرا جز محمدؐ پڑھتے ہیں تو مسلمانوں کے نزدیک محمدؐ سے مراد صرف محمدؐ کی ذات اقدس ہوتی ہے ۔ اس میں کسی اور کی شراکت کا تصور بھی نہیں کر سکتے لیکن حوالہ بالا سے ثابت ہوا کہ مرزائیوں کے نزدیک کلمہ طیبہ کے دوسرے جز ’محمد ‘ سے مراد مرزا قادیانی ہوتا ہے ۔ پس ثابت ہوا کہ مسلمانوں کا کلمہ اور ہے اور قادیانیوں کا کلمہ اور ہے ۔ نیز اسی کتاب کے اسی صفحہ پر یہ عبارت بھی ہے ”پس مسیح موعود محمد رسول اللہ ہے ۔ جو اشاعت اسلام کے لیے دوبارہ دنیا میں تشریف لائے، اسی لیے ہم کو کسی نئے کلمہ کی ضرورت نہیں ۔ ہاں اگر محمد رسول اللہ کی جگہ کوئی اور آتا تو ضرورت پیش آتی ۔
پس یہ عبارت پکار پکار کر بانگ دہل اعلان کرتی ہے کہ مرزائیوں کے نزدیک محمد رسول اللہ سے مراد مرزا قادیانی ہے ۔ (اس کلمہ طیبہ میں مسلمان ”محمد رسول اللہ“ سے مراد رحمت عالم حضور علیہ السلام کی ذات اقدس کو ہی لیتے ہیں، جب کہ مرزائیوں کے نزدیک محمد رسول اللہ سے مراد مرزا قادیانی ہوتا ہے ۔ پس ثابت ہوا کہ مرزائیوں کا کلمہ اور ہے اور مسلمانوں کا کلمہ اور ہے اس بات کو ایک مثال سے یوں سمجھا جا سکتا ہے کہ امام بخاریؒ کا نام بھی محمد تھا ۔ امام ابو حنیفہؒ کے ایک شاگرد کا نام بھی محمد تھا ۔ شیخ محمد یوسف بنوریؒ کے صاحبزادے کا نام بھی محمد ہے ۔ اب یہ تینوں فرض کیجئے کہ ایک مجلس میں ہوں ۔ امام بخاری کے والد صاحب آ کر کہیں تو اس سے مراد ان کا اپنا بیٹا امام بخاریؒ مراد ہو گا ۔ اور اگر اسی مجلس میں امام ابو حنیفہؒ آ کر کہیں محمد تو اس سے ان کا اپنا شاگرد امام محمد باقر مراد ہو گا ۔ اور اگر اسی مجلس میں حضرت بنوریؒ آ کر کہیں محمد تو اس سے مراد ان کا اپنا بیٹا محمد بنوری مراد ہو گا ۔ تینوں نے لفظ ایک ہی بولا، لیکن ہر ایک لفظ سے مراد علیحدہ علیحدہ اشخاص تھے ۔ اسی طرح جب مرزائی محمد رسول اللہ کہتے ہیں تو اس سے مراد مرزا قادیانی بھی ہوتا ہے پس ثابت ہوتا ہے کہ ان کا کلمہ اور مسلمانوں کا کلمہ
اور ہے
مرزائیوں کا یہ کہنا ہے کہ ہم کلمہ پڑھتے ہیں ہمیں کافر کیوں کہا جاتا ہے۔ بعینہ یہی سوال ان سے بھی کیا جاسکتا ہے کہ جب مسلمان کلمہ طیبہ پڑھتے ہیں تو مرزائی ان کو کافر کیوں کہتے ہیں‘ جیسا کہ مرزا قادیانی کے ایک مکتوب تذکرہ کے صفحہ ٦٩٧ مطبوعہ ربوہ اشاعت سوم پر درج ہے مرزا نے لکھا ہے کہ ”اللہ تعالیٰ نے میرے پر ظاہر کیا ہے کہ ہر ایک شخص جس کو میری دعوت پہنچی ہے اور اس نے مجھے قبول نہیں کیا وہ مسلمان نہیں ہے اسی طرح مرزا قادیانی کے لڑکے اور قادیانی جماعت کے دوسرے سربراہ مرزا محمود نے اپنی کتاب آئینہ صداقت کے صفحہ ٣٥ پر لکھا ہے کہ کل مسلمان جو حضرت مسیح موعود کی بیعت میں شامل نہیں ہوئے خواہ انہوں نے حضرت مسیح موعود کا نام بھی نہیں سنا وہ کافر اور دائرہ اسلام سے خارج ہیں۔
اور ایسے ہی مرزا قادیانی کے لڑکے مرزا بشیر احمد نے کلمۃ الفصل کے صفحہ ١١٠ پر لکھا ہے کہ ہر ایک شخص جو موسیٰ کو تو مانتا ہے مگر عیسیٰ کو نہیں مانتا یا عیسیٰ کو مانتا ہے محمد کو نہیں مانتا اور یا محمد کو مانتا ہے مگر مسیح موعود کو نہیں مانتا وہ نہ صرف کافر بلکہ پکا کافر اور دائرہ اسلام سے خارج ہے۔ مرزائیوں کی ان عبارتوں سے یہ ثابت ہوا کہ ان کے نزدیک مسلمان ہزار دفعہ کلمہ کیوں نہ پڑھتے ہوں لیکن مرزا کو نہ ماننے کی وجہ سے کافر ہو سکتے ہیں اور یہ امر مرزائیوں کو بھی مسلم ہے‘ پس مرزائیوں کا ہزار بار کلمہ پڑھنا مرزائے قادیانی کو نبی ماننے کی وجہ سے ان کو کفر سے نہیں بچا سکتا۔
س: ایک موقع پر حضرت اسامہؓ نے ایک کافر کو قتل کرنا چاہا اس نے فوراً کلمہ پڑھا لیکن حضرت اسامہؓ نے اس کو قتل کر دیا اور حضرت اسامہؓ حضور علیہ السلام کی خدمت میں پیش ہوئے اور یہ واقعہ عرض کیا جس کے جواب میں نبی کریمؐ نے ارشاد فرمایا‘ اس کے کلمہ پڑھنے کے باوجود قتل کر دیا۔ حضرت اسامہؓ نے فرمایا کہ اس نے ڈر کے مارے کلمہ پڑھا نبی کریمؐ نے ارشاد فرمایا‘ ھل شققت قلبہ کیا تو نے اس کا دل چیر کر دیکھا تھا کہ وہ ڈر کے مارے کلمہ پڑھ رہا ہے اور آپؐ نے ارشاد فرمایا کہ اگر کل قیامت میں اس کے بارے میں کوئی بات ہوئی تو میں اسامہ کے فعل سے بری ہوں۔ مرزائی اس سے استدلال کرتے ہیں کہ جب ہم کلمہ پڑھتے ہیں تو ہمارے کلمہ کا
اعتبار ہونا چاہئے کیا انہوں نے ہمارے دل چیر کر دیکھ لیے ہیں کہ ہم اوپر سے کلمہ پڑھتے ہیں ہمارے دل میں کچھ اور ہوتا ہے اور تو جس طرح حضور علیہ السلام نے اسامہ کے اس فعل سے برات کا اظہار کیا‘ مسلمانوں کے طرز عمل سے بھی اسلام بری ہے۔
ج: ایک شخص جب کلمہ پڑھتا ہے تو اسے موقع ملنا چاہئے کہ وہ اپنے افعال اور طرز عمل سے یہ ثابت کرے کہ اس نے یہ کلمہ دل سے پڑھا ہے یا زبان سے اس لیے کہ دل کی ترجمانی زبان ہے اس آدمی کا طرز عمل یہ بتائے گا کہ اس کا دل اور زبان ایک ہے یا نہیں بخلاف اس واقعہ کے کہ حضرت اسامہؓ نے اس آدمی کو موقع نہیں دیا تھا کہ وہ ثابت کرتا اپنے عمل سے کہ آیا اس نے کلمہ دل سے پڑھا ہے یا زبان سے۔ اس لیے حضرت محمدؐ نے اس پر نکیر فرمائی لیکن مرزائی اس حدیث سے اس لیے استدلال نہیں کر سکتے‘ اس لیے کہ مدت مدید اور عرصہ بعید مسلمانوں نے ان کو موقع فراہم کیا۔ کہ وہ اپنے طرز عمل سے بتلائیں کہ ان کے دل میں کیا ہے آیا ان کی زبان اور دل ایک ہے۔ مرزائیوں کے لٹریچر ان کے روز مرہ کے معمولات نے یہ بتا دیا کہ زبانی طور پر کلمہ پڑھنے کے باوجود ان کے دل میں یہ ہے کہ عقیدہ ختم نبوت کا انکار اور اجراء نبوت کے قائل ہیں۔ انبیاء علیہم السلام کی تنقیص کرتے ہیں اور ایک مدعی نبوت مرزا قادیانی کو نبی مانتے ہیں۔ حضور علیہ السلام کے بعد وحی نبوت کے جاری ہونے کے قائل ہیں تو ان کے اس طرز عمل نے بتا دیا کہ یہ کلمہ پڑھنے کے باوجود کافرانہ عقائد رکھتے ہیں‘ جس کے باعث ان کے کلمہ کا اعتبار نہیں اس لیے حدیث اسامہؓ سے ان کا استدلال باطل ہے۔
س: ایک دفعہ حضرت بلالؓ اذان دے رہے تھے‘ حضرت ابو محذورہؓ جو چھوٹے بچے تھے اور ابھی تک اسلام نہیں لائے تھے‘ انہوں نے بھی نقل اتارتے ہوئے حضرت بلالؓ کے ساتھ اذان دینا شروع کر دی۔ جب حضرت بلالؓ کی اذان پوری ہوئی تو حضور علیہ السلام نے حضرت ابو محذورہؓ کو بلا کر اذان کے کلمات کہلوائے۔ آپ کے پیار و محبت اور توجہ عالی کہ جونہی اذان کے کلمات ختم ہوئے حضرت محذورہؓ مسلمان ہو گئے۔ اس سے مرزائی استدلال کرتے ہیں کہ ابو محذورہؓ نے ابتداءً کفر کی حالت میں اذان کہی چلو ہم آئین کے اعتبار سے کافر سہی‘ تو کافر ہونے کی حالت میں ہمیں اذان دینی
چاہئے۔
ج: قرآن و سنت سے پوری کائنات کے قادیانی ایک واقعہ بھی ایسا ثابت نہیں کر سکتے کہ نماز کے لیے مسلمانوں نے کبھی کافر کو اذان کہنے کی اجازت دی ہو یا کسی کافر نے نماز کے لیے اذان دی ہو۔ جس دن ابو محذورہؓ نے حضرت بلالؓ کی اذان کی نقل اتاری تھی اس دن بھی نماز کے لیے اذان حضرت بلالؓ نے ہی دی تھی۔ اس حدیث شریف سے اگر مرزائی استدلال کرنا چاہتے ہیں تو بھی تعلیم و تبلیغ کے نقطہ نظر سے ایک دفعہ اذان کے کلمات کہہ کر ان کو بھی مرزا پر لعنت بھیج کر مسلمان ہو جانا چاہیے لیکن وہ اذان بھی تعلیم و تبلیغ کے لیے ہو گی نہ کہ نماز کے لیے۔ ہاں مسلمان ہونے کے بعد جتنی مرتبہ چاہیں اذان دینے کی سعادت حاصل کر سکتے ہیں پس کافر کو قطعاً نماز کے لیے اذان دینے کی اجازت نہیں ہے۔
س: مرزائی یہ کہتے ہیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام دوبارہ اس دنیا میں تشریف لائیں گے تو آیا ان کو وحی ہو گی یا نہ۔ اگر وحی ہو گی تو ثابت ہوا کہ حضورؐ کے بعد وحی ہو سکتی ہے‘ پس مسلمان کا انقطاع وحی کا عقیدہ غلط ہوا۔
ج: انقطاع وحی سے مراد انقطاع وحی نبوت ہے باقی رہا کشف و الہام صالحہ تو وہ امت میں جاری ہیں اور خود قرآن گواہ ہے کہ وحی نبوت کے علاوہ اور بھی ہدایت کا راستہ دکھانے کے یا کسی مخفی امر پر مطلع کرنے کے اور بھی راستے ہیں جیسے فرمایا واوحینا الی موسیٰ یا واوحینا الی النحل شہد کی مکھی یا ام موسیٰ کو جو رہنمائی ہوئی قرآن نے اسے وحی سے تعبیر کیا۔ وحی ہونے کے باوجود وہ وحی نبوت نہ ہو گی۔ لہٰذا ان کی طرف وحی کا ہونا امت کے عقیدہ انقطاع وحی کے منافی نہ ہو گا۔
س: تذکرہ اولیاء وغیرہ اس قسم کی کتابوں میں لکھا ہے کہ بعض بزرگوں نے یہ کہا کہ میں نبی ہوں‘ میں محمد ہوں‘ میں خدا ہوں وغیرہ اگر مرزا نے بھی کہہ دیا تو اس پر فتوائے کفر کیوں؟
ج: بزرگوں کا کوئی قول و فعل شرعاً ہمارے لیے حجت نہیں بخلاف مرزائیوں کے کہ وہ مرزے قادیانی کو نبی مانتے ہیں نبی کی بات چونکہ شریعت میں حجت ہوتی ہے‘ اس لیے مرزا صاحب کے یہ اقوال مرزائیوں پر حجت ہوں گے۔ نیز یہ بزرگوں کے ان
اقوال کو ہم شرعاً صحیح نہیں سمجھتے ہم پر الزام تب ہو تا کہ ہم ان کو شرعاً حجت سمجھتے مرزا کے اقوال کو مرزائی چونکہ شرعاً حجت سمجھتے ہیں تو ان کافرانہ اقوال کو ماننے کے باعث مرزائی کافر ہوئے۔
نیز تصوف کی رو سے بعض صوفیاء پر ایسی جذب وغیرہ کی کیفیت طاری ہوتی ہے کہ جس میں وہ مدہوش ہوئے۔ اس مدہوشی میں بعض وہ ایسی باتیں کہہ دیتے ہیں جو شرعاً صحیح نہیں ہوتیں بے ہوش ہونے کے بعد ہم ان کو معذور سمجھیں گے۔ اور اگر وہ مدہوش نہ تھے اور عمداً ایسا کہا تو ایسا کہنے والے کو ہم کافر کہیں گے۔ چنانچہ ان کے خلاف شرع اقوال کے لیے دو راستے ہیں یہ کہ معذور ہو گا یا کافر ہو گا۔ اب مرزائی بتلائیں کہ مرزا قادیانی معذور تھا یا کافر‘ معذور تب ہو تا کہ وہ اس کو مدہوش مانیں‘ اور مدہوشی اور معذوری نبوت کے شایان شان نہیں۔ نیز اس میں ایک اور بھی فرق ہے کہ جب ان بزرگوں پر مدہوشی کی کیفیت ختم ہوتی تھی اگر ان کے کسی مرید نے بتا دیا کہ آپ نے یہ کہا تھا کہ میں محمد ہوں‘ میں خدا ہوں‘ تو اس بزرگ نے فوراً کہا‘ کہ تم نے مجھے قتل کیوں نہ کیا۔ اس سے ثابت ہوا کہ وہ بزرگ بھی اس قسم کے دعاوی کو جائز نہیں سمجھتے تھے‘ بخلاف مرزا قادیانی کے کہ اس نے نہ صرف ان خلاف شرع باتوں کو کہا بلکہ اسے وحی اور نبوت کا حصہ بتایا۔ اس لیے مرزائی بھی آج تک اس کے خلاف شرع باتوں پر ایمان لاتے ہیں‘ لہٰذا تذکرہ اولیاء اور اس قبیلہ کے دوسرے افراد معذور سمجھے جائیں گے مرزا اور مرزائی کافر سمجھے جائیں گے۔
س : قادیانی جماعت یہ اعتراض کرتی ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو دشمنوں سے بچانے کے لیے اللہ تعالیٰ نے آسمانوں کا انتخاب فرمایا‘ اور حضور سرور کائنات کو دشمنوں سے بچانے کے لیے غار ثور کا‘ چنانچہ مرزا قادیانی نے اپنی کتاب تحفہ گولڑویہ کے صفحہ ١١٢ طبع دوم پر لکھا ہے کہ خداوند کریم نے آنحضرتؐ کے چھپانے کے لیے ایک ایسی ذلیل جگہ تلاش کی جو نہایت متعفن اور تنگ اور تاریک اور حشرات الارض اور نجاست کی جگہ تھی۔
(استغفر اللہ) مگر حضرت مسیح کو آسمان پر جو بہشت کی جگہ اور فرشتوں کی ہمسائیگی کا مکان ہے بلا لیا نیز مرزا محمود نے اپنی کتاب دعوت الامیر میں لکھا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ
السلام آسمانوں پر حضور علیہ السلام زمین میں یہ حضور علیہ السلام کی توہین اور تنقیص ہے۔
ج: عیسیٰ علیہ السلام کا آسمانوں پر جانا اور حضور سرور کائنات کا زمین میں مدفون ہونا عیسیٰ علیہ السلام کے لیے بلندی اور حضور علیہ السلام کے لیے زمین کا انتخاب کرنا غرض یہ کہ کسی کا اوپر ہونا اور کسی کا نیچے ہونا اس سے عظمت یا تنقیص لازم نہیں آتی کوئی اوپر ہو یا نیچے جس کی جو شان ہے وہ برقرار رہے گی۔ آسمان والوں کی زیادہ شان ہو اور زمین والوں کی کم‘ مرزائیوں کی یہ بات عقلاً نقلاً غلط ہے۔
فرشتے آسمانوں پر رہتے ہیں اور انبیاء علیہم السلام زمین میں مدفون اس سے یہ لازم نہیں ہوتا کہ فرشتے آسمانوں پر ہیں اور رحمت عالم روضہ طیبہ میں۔ حالانکہ جبریل امین حضور علیہ السلام کے دربان تھے۔
ایک دفعہ حضور علیہ السلام کے کندھوں پر مدینہ طیبہ کے بازار میں حضرت حسنؓ سوار تھے‘ آپؐ نے ان کو کندھوں پر اٹھایا ہوا تھا۔ جس پر حضرت عمرؓ نے ارشاد فرمایا کہ حسن تمہیں سواری اچھی ملی ہے۔ اس کے جواب میں حضور علیہ السلام نے ارشاد فرمایا کہ اے عمرؓ! اگر سواری اچھی ہے تو سوار بھی اچھا ہے تو کیا حضرت حسنؓ کا حضورؐ کے کندھوں پر سوار ہونا اس سے یہ لازم آتا ہے کہ حضرت حسنؓ حضور علیہ السلام سے افضل تھے‘ نہیں اور ہرگز نہیں۔ اس طرح فتح مکہ کے موقع پر کعبہ شریف سے بتوں کو ہٹانے کے لیے حضور علیہ السلام کے حکم پر حضرت علیؓ آپؐ کے کندھے پر سوار ہوئے تو کیا اس سے یہ لازم آتا ہے کہ حضرت علیؓ حضورؐ سے افضل تھے۔
امتی حضور علیہ السلام کے روضہ پر کھڑے ہو کر سلام عرض کرتے ہیں‘ اس وقت امتی زمین پر ہوتے ہیں اور حضور علیہ السلام زیر زمین تو کیا اس سے یہ لازم آتا ہے کہ امتی حضورؐ سے افضل ہیں۔ نہیں اور ہرگز نہیں۔ غرض یہ کہ اللہ رب العزت نے حضور علیہ السلام کو جو شان بخشی ہے وہ آپ کی ہر حال میں برقرار رہے گی‘ چاہے حضور ؐ کے کندھوں پر کوئی سوار ہو یا حضورؐ کسی کے کندھے پر سوار ہوں‘ جیسے حضور علیہ السلام نے ہجرت کی رات ابو بکر صدیقؓ کے کندھوں پر بیٹھ کر سواری کی۔ (بلا تشبیہ) موتی دریا کی تہہ میں ہوتے ہیں اور گھاس پھوس‘ تنکے اور جھاگ سمندر کی سطح پر ہوتے
ہیں تو اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ تنکے یا حباب موتیوں سے افضل ہوں یا جیسے مرغی زمین پر ہوتی ہے، لیکن کوا اور گدھ فضا میں اڑتے ہیں۔ ان کے فضا میں اڑنے سے یہ لازم نہیں آتا کہ کوا اور گدھ مرغی سے افضل ہوں یا جیسے رات کو آدمی سوتا ہے تو رضائی اس کے اوپر ہوتی ہے۔ اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ رضائی انسان سے افضل ہو‘ بادام کا سخت چھلکا اوپر ہوتا ہے اور مغز اندر تو اس سے لازم نہیں آتا تو مغز سے چھلکا افضل ہو۔
باقی رہا‘ مرزائیوں کا یہ کہنا کہ حضور علیہ السلام کا زمین میں مدفون ہونا‘ اس سے حضورؐ کی تنقیص لازم آتی ہے تو ان کو یاد رکھنا چاہیے کہ اہل سنت کے نزدیک رحمت عالم صلی اللہ علیہ وسلم جس مبارک مٹی میں آرام فرما رہے ہیں۔ اہلسنت کے نزدیک اس مٹی کی شان عرش سے بھی زیادہ ہے۔ مرزائیوں کا منہ بند کرانے کے لیے یہ واقعہ بھی بڑی اہمیت کا حامل ہے کہ میں (مولانا اللہ وسایا) نے اپنی نظروں سے خود دیکھا کہ مرزا محمود کی قبر پر چار دیواری سے قبل ایک کتا پیشاب کر رہا تھا تو کیا اس سے یہ لازم آیا کہ کتا مرزا محمود سے افضل ہے۔
س: اگر کوئی شخص مرزا قادیانی کی گستاخیوں کو دیکھ کر اس کو خنزیر کہہ دے تو کیا اس کو ایسا کہنا درست ہو گا؟
ج١: قرآن مجید کی نص قطعی ہے کہ نافرمان لوگوں کے لیے قرآن مجید میں اولئک کالانعام بل ہم اضل ہے، پس جانوروں میں خنزیر بھی شامل ہے تو قرآن کی نص‘ قطعی سے ثابت ہوا کہ مرزا اور اس جیسے اور لوگوں کو خنزیر جیسے جانوروں سے تشبیہ دے دی جائے تو کوئی حرج نہیں۔
ج٢: خنزیر تو کیا مرزائی خنزیروں سے بھی زیادہ بدتر ہیں، اس لیے کہ اگر کہیں اسلامی حکومت قائم ہو تو اس میں خنزیر پالنا جرم ہو گا۔ لیکن دور دراز کے جنگلوں میں خنزیر کو تلاش کر کے قتل کرنا اسلامی مملکت کے ذمہ نہیں، مل جائے تو قتل کر دو‘ تلاش کر کے قتل کرنا ضروری نہیں جبکہ مرتد اور زندیق کو تلاش کر کے قتل کرنا اسلامی حکومت کے ذمہ ہے‘ لہٰذا مرزا قادیانی خنزیر سے بھی زیادہ بدتر ہے۔
ضروری نوٹ: حلول اور تناسخ خالصتاً ہندوؤں کے عقیدے ہیں مرزا قادیانی نے
ان سے لے کر اپنے عقائد میں شامل کر لیا۔ تفصیل پروفیسر الیاس برنی کی کتاب (قادیانی مذہب) میں دیکھی جا سکتی ہے۔ رہا ظل اور بروز ممکن ہے کہ کسی صوفی نے یہ اصطلاح استعمال کی ہو مگر آئمہ اربعہ میں اس کا کوئی وجود نہیں۔ نیز یہ کہ قادیانی جس وقت ظلی یا بروزی نبوت کا تصور پیش کرتے ہیں تو وہ بھی محض مسلمانوں کو دھوکہ دینے کے لیے، ورنہ قادیانیوں کا عقیدہ ہے کہ مرزا نے ظلی نبوت پا کر بھی نعوذ باللہ حضور علیہ السلام کے پہلو بہ پہلو کھڑا ہونے کی کوشش حاصل کر لی تھی۔ جیسا کہ مرزا قادیانی کے لڑکے مرزا بشیر احمد نے اپنی کتاب ”کلمتہ الفصل“ کے ص ١٣ پر لکھا ہے کہ:
”پس ظلی نبوت نے مسیح موعود کے قدم کو پیچھے نہیں ہٹایا بلکہ آگے بڑھایا اور اس قدر آگے بڑھایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پہلو بہ پہلو لا کھڑا کیا“۔
س: مرزا قادیانی کے فرشتے کا نام کیا تھا؟
ج: مرزا قادیانی کے فرشتے کا نام ٹیچی تھا۔ مرزا قادیانی نے خود اپنی کتاب ”حقیقۃ الوحی“ کے ص ٣٣٢ پر لکھا ہے کہ:
”میں نے خواب میں دیکھا کہ ایک شخص جو فرشتہ معلوم ہوتا تھا، میرے سامنے آیا اور اس نے بہت سا روپیہ میرے دامن میں ڈال دیا، میں نے اس کا نام پوچھا، اس نے کہا، نام کچھ نہیں میں نے کہا، آخر کچھ تو نام ہوگا۔ اس نے کہا میرا نام ہے ٹیچی، ٹی چی پنجابی زبان میں وقت مقررہ کو کہتے ہیں، یعنی عین ضرورت کے وقت پر آنے والا“۔
اس سے ہمارا استدلال یہ ہے کہ مرزا قادیانی مرزائیوں کے نزدیک نبی تھا تو نبی کا خواب بھی شریعت میں حجت ہوتا ہے، جیسے حضرت ابراہیم علیہ السلام کا خواب اور بیدار ہونے کے بعد اس پر عمل۔ قرآن مجید میں مذکور ہے، امتی کا خواب غلط ہو سکتا ہے، نبی کا خواب غلط نہیں ہو سکتا۔ اس لیے کہ نبی اور امتی کی نیند میں فرق ہے، امتی کی نیند ناقض وضو ہوتی ہے، نبی کی نیند ناقض وضو نہیں ہوتی۔ امتی جب سوتا ہے تو اس کی آنکھیں بھی سوتی ہیں اور دل بھی سوتا ہے، بخلاف نبی کے کہ وہ جب سوتا ہے تو اس کی آنکھیں نیند کرتی ہیں اور دل خدا کو یاد کرتا ہے۔ (”بخاری شریف“ ج ١، ص ٥٤، باب قیام النبی فی رمضان وغیرہ)
مرزائیوں کے نزدیک جب مرزا قادیانی نبی تھا تو مرزا کا یہ خواب بھی مرزائیوں
کے لیے حجت ہونا چاہیے تھا۔ مرزا قادیانی نے فرشتہ سے پوچھا، تمہارا نام کیا ہے، اس نے کہا، میرا نام کچھ نہیں۔ جب دوبارہ مرزا نے کہا، آخر کچھ تو نام ہو گا، اس پر فرشتہ نے کہا کہ میرا نام ٹیچی ہے۔ پہلی بار سوال کرنے پر کہا کہ کچھ نام نہیں ہے، دوبارہ پوچھنے پر کہا کہ میرا نام کچھ نہیں ہے۔ اگر اس کا نام کچھ نہیں تھا تو یہ کیوں کہا کہ میرا نام ٹیچی ہے، اگر نام ٹی چی تھا تو یہ کیوں کہا کہ میرا نام کچھ نہیں، دونوں باتوں میں سے ایک سچ ہے دوسری جھوٹ، دونوں باتیں سچی نہیں ہو سکتیں۔ اب مرزائی بتائیں کہ وہ نبی کتنا مقدس ہو گا کہ جس کا فرشتہ بھی جھوٹ بولتا تھا۔ کیا آج تک کبھی فرشتے نے جھوٹ بولا، (اور پھر وہ بھی نبی کے سامنے)۔
س: بعض مرزائی کہہ دیتے ہیں کہ ہم مرزا قادیانی کو نبی نہیں مانتے بلکہ وہ مجدد تھا؟
ج: مرزا قادیانی نے اپنی کتاب ”دافع البلاء“ کے ص ٨١، پر لکھا ہے کہ: ”سچا خدا وہی ہے جس نے قادیان میں اپنا رسول بھیجا“۔ اسی طرح مرزا قادیانی نے اپنی کتاب ”حقیقتہ الوحی“ کے ص ٣٩١ پر لکھا ہے کہ: ”اور یہ بات ایک ثابت شدہ امر ہے کہ جس طرح خدا تعالیٰ نے مجھ سے مکالمہ و مخاطبہ کیا ہے اور جس قدر امور غیبیہ مجھ پر ظاہر فرمائے ہیں، ١٣ سو برس ہجری میں کسی شخص کو آج تک بجز میرے یہ نعمت عطا نہیں کی گئی۔ اگر کوئی منکر ہو تو بار ثبوت اس کی گردن پر ہے۔ غرض اس حصہ کثیرہ من الوحی اور امور غیبیہ میں اس امت میں سے ہی ایک فرد مخصوص ہوں اور جس قدر مجھ سے پہلے اولیاء، ابدال اور اقطاب اس امت میں سے گزر چکے ہیں، ان کو یہ حصہ کثیر اس نعمت کا نہیں دیا گیا۔ پس اس وجہ سے نبی کا نام پانے کے لیے میں ہی مخصوص کیا گیا ہوں اور دوسرے تمام لوگ اس کے مستحق نہیں“۔
مرزا قادیانی کی بے شمار عبارتوں میں سے دو عبارتیں آپ کے سامنے ہیں، جن میں مرزا صاحب نے کہا کہ میں نبی اور رسول ہوں۔ مرزائی کہتے ہیں کہ وہ نبی نہ تھے۔ اب مرزائی بتائیں کہ یہ سچے ہیں یا مرزا قادیانی، نیز مرزا قادیانی کے دعوٰی نبوت کے بعد اس کو کافر نہ کہنے والا شخص بھی کافر ہو گا، چہ جائیکہ اسے کوئی مجدد مانتا ہو۔
س : مرزا یا مرزائی نواز طبقہ عموماً یہ اعتراض کرتے ہیں کہ مرزائیوں کے ساتھ شدت نہیں ہونی چاہیے ۔ حضور علیہ السلام نے ہمیشہ اپنے دشمنوں سے درگزر کر لیا تو اب حضور علیہ السلام کی سنت کا تقاضا یہ ہے کہ آپ کے دشمنوں سے درگزر کر لیا جائے نہ کہ ان کے ساتھ شدت برتی جائے؟
ج : ایک ہے ذات‘ ایک ہے دین‘ اپنی ذات کے لیے شدت کی بجائے درگزر کرنی چاہیے مگر دین کے لیے شدت بعض اوقات لازم ہو جاتی ہے۔ حضور علیہ السلام اگر اپنے دشمنوں کو معاف کر دیتے تھے تو یہ آپ کی ذات کا مسئلہ تھا‘ چونکہ حضورؐ کی ذات ہمارے لیے دین کا حصہ نہیں بلکہ سراپا دین ہے اور دین کے معاملہ میں درگزر کرنا مداہنت ہے۔ اس لیے ہمارے نزدیک حضورؐ کے دشمنوں کے مقابلہ میں اشداء علی الکفار کا نمونہ بننا چاہیے ۔ مولانا انور شاہ کشمیریؒ فرمایا کرتے تھے کہ جس طرح حضورؐ کے ساتھ محبت رکھنا ایمان کی نشانی ہے‘ اسی طرح حضورؐ کے دشمن کے ساتھ بغض رکھنا یہ بھی ایمان کی نشانی ہے ۔ اب آئیے اس طرف کہ آیا کبھی صحابی رسول کے سامنے کسی بدبخت نے حضورؐ کی توہین کی ہو‘ (نعوذ باللہ) اور صحابی رسول نے اسے برداشت کر لیا ہو‘ پوری اسلامی تاریخ میں اس کی مثال نہیں ملتی۔ اس کے برخلاف یہ تو ہے کہ کسی صحابی رسول کے سامنے حضور علیہ السلام کی کسی شخص نے توہین کی تو صحابی رسول نے اپنی جان جوکھوں میں ڈال کر حضور علیہ السلام کی عزت کا تحفظ کیا۔ اسلامی تاریخ میں یہ واقعہ بھی بڑے سنہری حروف میں لکھا جائے گا کہ ایک دفعہ ایک صحابی رسول کو پھانسی پر لٹکایا جا رہا تھا تو کفار نے اس سے کہا کہ کیا تو اس بات کو پسند کرتا ہے کہ تجھے چھوڑ دیا جائے اور تیری جگہ تیرے نبی کو پھانسی پر لٹکا دیا جائے۔ (نعوذ باللہ) تو جواب میں صحابی رسول نے فرمایا کہ پھانسی پر لٹکایا جانا تو درکنار اگر مجھے یہ کہہ دیا جائے کہ ہم تجھے چھوڑ دیتے ہیں اور تیری جگہ تیرے نبی کو کانٹا چبھو دیتے ہیں تو میں پھانسی پر لٹکنا گوارا کر لوں گا‘ لیکن اپنے نبی کو کانٹا چبھنا گوارا نہیں کر سکتا۔
نیز اس کے علاوہ تبلیغی نصاب کے ص٧٠ پر ہے کہ جب عروہ بن مسعود ثقفی نے حضور علیہ السلام سے کہا کہ میں آپ کے ساتھ اشراف کی جماعت نہیں دیکھتا‘ یہ اطراف کے کم ظرف لوگ تمہارے ساتھ ہیں‘ مصیبت پڑنے پر سب لوگ بھاگ
جائیں گے۔ حضرت ابوبکر صدیق پاس کھڑے ہوئے تھے، یہ جملہ سن کر غصہ میں بھر گئے اور ارشاد فرمایا کہ تو اپنے معبود لات کی پیشاب گاہ کو چاٹ کیا، ہم حضور سے بھاگ جائیں گے اور آپ کو چھوڑ دیں گے۔ نیز اس کے علاوہ معارف القرآن ج ٨، ص ٤٠٠، سورۂ ممتحنہ کی پہلی آیت کا شان نزول بیان کرتے ہوئے مولانا مفتی محمد شفیع صاحب نے ”بخاری شریف“ ج ٢، ص ٥٦٨، اسی طرح ”بخاری شریف“، ”کتاب المغازی“ کے حوالے سے لکھا ہے کہ مکہ مکرمہ کی ایک مغنیہ عورت سارہ نامی مدینہ منورہ میں آئی ہوئی تھی، جب وہ مدینہ سے جانے لگی تو حضرت حاطب بن ابی بلتعہ نے اسے کفار کے نام ایک خط دیا جو حضور علیہ السلام کے مکہ مکرمہ پر خفیہ حملہ کرنے کے ارادہ پر مشتمل تھا۔ حضور علیہ السلام نے حضرت علیؓ ، ابو مرثد اور حضرت زبیر بن عوامؓ تینوں حضرات کو حکم دیا کہ سارہ کے پاس ایک خفیہ خط ہے جو وہ مکہ لے جا رہی ہے وہ تمہیں روضہ خاخ پر ملے گی۔ حضرت علیؓ فرماتے ہیں کہ ہم نے گھوڑوں پر بیٹھ کر اس کا تعاقب کیا، ٹھیک وہ ہمیں اسی مقام پر ملی جس مقام پر حضور علیہ السلام نے حکم فرمایا تھا۔ ہم نے عورت کو کہا کہ خط دو، اس نے انکار کیا کہ میرے پاس کوئی خط نہیں۔ حضرت علیؓ فرماتے ہیں کہ ہم نے دل میں سوچا کہ حضورؐ کا فرمان غلط نہیں ہو سکتا۔ خط ضرور اس کے پاس ہے، یہ جھوٹ بول رہی ہے، ہم نے اس کے اونٹ کو بٹھا کر اس کی تلاشی لی مگر خط نہ ملا۔ ہم نے اسے کہا کہ خط دے دے ورنہ تیرے کپڑے پھاڑ کر خط لے لیں گے، اس پر گھبرا کر اس نے خط دے دیا۔ باقی تفصیل معارف القرآن میں دیکھی جا سکتی ہے۔
س : کیا عیسیٰ علیہ السلام جب دوبارہ دنیا میں تشریف لائیں گے تو اس سے ختم نبوت کی مہر ٹوٹ جائے گی، ان کی تشریف آوری ختم نبوت کے منافی ہے۔ حضور سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم نے ”مسلم شریف“ کی روایت کے مطابق تین دفعہ فرمایا کہ عیسیٰؑ نبی اللہ تشریف لائیں گے تو حضورؐ کی ختم نبوت کے بعد نبی اللہ کا تشریف لانا یہ ختم نبوت کے منافی ہے؟
ج : عیسیٰ علیہ السلام کی دوبارہ تشریف آوری اور مرزا قادیانی کے دعویٰ نبوت میں زمین و آسمان کا فرق ہے اور ان دونوں باتوں کو باہمی خلط ملط کرنا انصاف کا خون کرنا
ہے کہ خاتم النبیین کا تقاضا مفہوم و معنی یہ ہے کہ رحمت عالم کے بعد کوئی شخص نبی یا رسول نہیں بنایا جائے گا۔ نبوت و رسالت کسی کو نہیں ملے گی، بخلاف عیسیٰ علیہ السلام کے کہ وہ حضور علیہ السلام سے پہلے کے نبی ہیں اور رسول ہیں۔ ان کو آپ سے پہلے نبوت اور رسالت مل چکی ہے، اس لیے ان کی تشریف آوری ختم نبوت کے منافی نہیں۔ کشاف، تفسیر ابی سعود، روح المعانی، مدارک شرح مواہب لزرقانی میں ہے۔
یعنی آخرالانبیاء ہونے کے معنی یہ ہیں کہ حضور علیہ السلام کے بعد کوئی شخص نبی نہ بنایا جائے گا، جبکہ عیسیٰ علیہ السلام ان نبیوں میں سے ہیں جن کو منصب نبوت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے عطا کیا جا چکا ہے۔ اس سے یہ بات واضح ہو گئی کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی شخص نئے سرے سے منصب نبوت پر فائز نہیں ہو سکتا، نہ نیا نہ پرانا، اور نہ آپ کے بعد وحی نبوت کسی کو ہو سکتی ہے، نہ پرانے احکام سے متعلق اور نہ نئے احکام کی بابت اب مرزا قادیانی کے کیس پر غور کریں کہ اس نے چودہویں صدی میں نبوت کا دعویٰ کیا تو اس کا دعویٰ نبوت رحمت عالم صلی اللہ علیہ وسلم کے خاتم النبیین ہونے کے بعد ہے، لہٰذا یہ نہ صرف غلط بلکہ ختم نبوت کے منافی ہے۔ مرزا قادیانی کا دعویٰ نبوت کرنا آنحضرت کے ارشاد کے مطابق کہ جو شخص میرے بعد دعویٰ کرے گا دجال و کذاب ہو گا۔ یہ دجل و کذب پر مبنی ہے، یہ ہر دو علیحدہ علیحدہ امر ہیں ان کو باہمی خلط ملط نہیں کیا جا سکتا۔
س: عیسیٰ علیہ السلام دوبارہ تشریف آوری کے بعد نبی ہوں گے یا نہ، اگر ہوں گے تو پھر یہ ختم نبوت کے خلاف ہے، اگر نبی نہ ہوں گے تو پھر کیا وہ نبوت سے معزول ہو جائیں گے؟
ج: عیسیٰ علیہ السلام کی دوبارہ تشریف آوری بحیثیت حضور علیہ السلام کے امتی اور خلیفہ کے ہوئی۔ یعنی امت محمدیہ کی طرف نبی بن کر تشریف نہ لائیں گے کیونکہ وہ صرف بنی اسرائیل کے نبی تھے جس پر قرآن شریف کی آیت رسولا الی بنی اسرائیل دلالت کرتی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کافہ و عامہ کے بعد عیسیٰ علیہ السلام کی یہ ڈیوٹی ختم ہو گئی، اس سے وہ صرف امتی اور خلیفہ ہوں گے۔ ”بخاری شریف“ ج ١، ص ٤٩٠، ”مسلم شریف“ ج ١، ص ٨٨، پر ہے کہ ان
ينزل فيكم عيسى ابن مريم حكماً مقسطاً۔ اور ابن عساکر میں ہے:
انه خلیفتی فی امتی من بعدی۔ کہ میری امت میں میرے خلیفہ ہوں گے، تشریف آوری کے وقت وہ امت محمدیہؐ کی طرف نبی اور رسول بن کر تشریف نہ لائیں گے بلکہ خلیفہ و امام ہوں گے۔ اس لیے ان کی تشریف آوری سے ختم نبوت کی خلاف ورزی لازم نہ آئے گی۔ باقی رہا یہ کہ وہ کیا نبوت سے معزول نہ ہوں گے بلکہ دوبارہ تشریف آوری کے بعد نبی اللہ ہونے کے باوجود ان کی ڈیوٹی بدل جائے گی جیسے پاکستان کے صدر مملکت اس وقت پاکستان کے سربراہ ہیں، اگر وہ برطانیہ تشریف لے جائیں تو صدر مملکت پاکستان ہونے کے باوجود برطانیہ تشریف آوری پر ان کو برطانیہ کے قانون کی پابندی لازم ہے۔ حالانکہ وہ صدر مملکت ہیں مگر وہاں جاکر ان کی حیثیت صدر مملکت ہونے کے باوجود مہمان کی ہوگی۔ اسی طرح حضرت عیسیٰ علیہ السلام اپنے زمانہ میں جو ان کی نبوت کا پیریڈ تھا، اس میں وہ نبی تھے، کل جب وہ حضور علیہ السلام کی امت میں تشریف لائیں گے، گو نبی ہونے کے باوجود حضور علیہ السلام کے زمانہ نبوت میں ان کی حیثیت امتی و خلیفہ کی ہوگی۔ اب وہ نہ نبوت سے معزول ہوئے، نہ ان کے تشریف لانے سے ختم نبوت پر حرف آیا۔
س: عیسیٰ علیہ السلام جب تشریف لائیں گے، کس شریعت پر عمل کریں گے اپنی شریعت پر یا حضور علیہ السلام کی شریعت پر؟
ج: حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی آمد امتی ہونے کی حیثیت سے ہے تو ظاہر ہے کہ وہ حضور علیہ السلام کی شریعت پر عمل کریں گے، اس لیے ہمارے عقائد کی کتابوں میں ہے:
يحكم بشرعنا لا بشرعه۔
"کہ وہ ہماری یعنی امت محمدیہ کی شریعت کے مطابق عمل کریں گے اور خود بھی عمل پیرا ہوں گے نہ کہ اپنی شریعت پر"۔
س: کیا وہ شریعت محمدیہؐ میں آکر کسی سے پڑھیں گے یا ان کو وحی ہوگی اگر وحی ہوگی تو وحی کا دروازہ بند نہ ہوا؟
ج: نبی دنیا میں کسی کا شاگرد نہیں ہوتا‘ نبی کی تعلیم و تبلیغ خود اللہ رب العزت فرماتے ہیں۔ (مرزا قادیانی کے جھوٹے ہونے کی ایک یہ بھی دلیل ہے کہ وہ ایک نہیں کئی استادوں کے شاگرد تھے جن میں مولوی فضل الہی‘ مولوی فضل احمد اور گل علی شیعہ بطور خاص مشہور ہیں۔ نبی دنیا میں کسی کا شاگرد نہیں ہوتا۔ اسلامی تعلیمات اور دیگر کتب کی رو سے تو یہ ممکن ہے کہ ایک نبی دوسرے نبی سے بحکم و مصلحت خداوندی چند خاص امور کی تفسیر و وضاحت کے لیے جائے مگر ایک نبی دنیا میں کسی غیر نبی کے دروازہ پر علم کی تحصیل کے لیے جائے یہ کبھی نہیں ہو سکتا۔
مرزا قادیانی کا دوسروں کے دروازوں پر تحصیل علم کے لیے زانوئے تلمذ طے کرنا‘ اس کے جھوٹے ہونے کے لیے کافی ہے اور مختاری کے امتحان میں فیل ہونا اس کی عزت میں اضافہ نہیں کرتا۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام چونکہ اللہ کے نبی ہیں‘ وہ دوبارہ نازل ہو کر کسی سے قرآن و حدیث یا شریعت محمدیہ کی تعلیم حاصل کریں یہ ناممکن اور ہمارے عقائد کے خلاف ہے۔ ان کے لیے قرآن و سنت کی تعلیم کا اللہ کی طرف سے ہونا خود قرآن میں مذکور ہے۔
واذ علمتک الکتاب والحکمہ۔ (”سورۃ آل عمران“ رکوع: ٢)
باقی رہا یہ سوال کہ کیا ان پر وحی نازل ہوگی تو جناب ان پر وحی نبوت نہ ہوگی‘ وحی نبوت کا دروازہ امت محمدیہ صلی اللہ علیہ وسلم پر بند ہے تو پھر ان کو شریعت محمدیہ کا علم کیسے ہوگا۔ اس کا اہتمام اللہ رب العزت کے ذمہ ہے‘ اس اہتمام اور ان کی تعلیم کے لیے وحی نبوت نہ ہوگی بلکہ الہام کشف مبشرات القاء علم لدنی ہے‘ بے شمار قدرت کے ذرائع ہیں جن کے ذریعہ اللہ رب العزت ان کو شریعت محمدیہ کی تعلیم کا اہتمام فرمادیں گے۔ قادیانی بے فکر رہیں‘ نہ وحی نبوت کی ضرورت ہے‘ نہ کسی کے دروازہ پر زانوئے تلمذ طے کر کے نبوت کو مذاق بنانے کی۔ قدرت کی طرف سے اس کا اہتمام ہوگا‘ قرآن مجید میں صراحتاً ہے کہ وحی نبوت کے علاوہ اور بھی وحی کے اقسام ہیں۔ مثلاً: واذا اوحینا الی ام موسیٰ ۔ (”سورۃ طہ“ رکوع: ٢) یا جیسے واوحینا الی النحل۔
ظاہر کہ ام موسیٰؑ کی طرف یا نحل کی طرف وحی ہونے کے باوجود وہ وحی نبوت نہ تھی۔ پس قرآن کی ان آیات سے ثابت ہوا کہ وحی نبوت کے علاوہ بھی وحی ہے۔
س : قادیانی کہتے ہیں کہ آپ کے عقیدہ کے مطابق جب عیسیٰ علیہ السلام نازل ہوں گے تو وہ زمین پر فرشتوں کے ذریعہ آئیں گے اور پھر مینار سے آگے ان کے لیے سیڑھی لائی جائے گی۔ کیا جو خدا ان کو مینار تک لایا ہے وہ صحن تک لانے پر قادر نہیں؟
ج : قدرت و حکمت میں فرق سمجھیں، قدرت علیحدہ چیز ہے، حکمت علیحدہ چیز ہے۔ اللہ تعالیٰ ان کو صحن پر لانے پر بھی قادر ہیں، یہ قدرت کے خلاف نہیں مگر حکمت اسی میں ہے کہ ان کو مینار تک تو فرشتوں کے ذریعہ لایا جائے۔ آگے مسلمان ان کو خود سیڑھی لے کر مینار سے اتاریں، اس میں دو حکمتیں نظر آتی ہیں۔
"مشکوٰۃ شریف" ص ٥٤٧ 'باب المعجزات کی متفق علیہ روایت کے مطابق نبی علیہ السلام نے جنگ حدیبیہ میں جب مسلمانوں کے لشکر میں پانی ختم ہو گیا، صحابہ کرامؓ نے اپنی پریشانی کا ذکر کیا۔ رحمت عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ برتنوں میں سے بچا کچھا پانی اکٹھا کر کے لائیں، ایک پیالے میں پانی لایا گیا، آپ نے پیالہ کے جمع شدہ پانی میں ہاتھ مبارک ڈال دیئے جس سے پانچوں انگلیوں سے پانی کے چشمے جاری ہو گئے۔ آپ پیالہ میں جمع شدہ پانی میں ہاتھ ڈال کر امت کو سبق دے رہے تھے کہ جو انسان کی ہمت میں ہے وہ خود کرے۔ جہاں انسان کی ہمت جواب دے جائے وہاں سے پھر انسان کو قدرت خداوندی پر نظر رکھنی چاہیے۔ بعینہ اسی طرح مینار سے اوپر آسمانوں تک انسان کی طاقت نہیں چلتی جہاں انسان کی طاقت کام نہیں کر سکتی وہاں خدا تعالیٰ کی قدرت کام کرے گی، جہاں پر انسان کی طاقت چل سکتی ہے وہ مینار سے نیچے سیڑھی لگا کر اپنی طاقت کو استعمال کریں گے۔ دوسری حکمت یہ ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام کو ہم اپنے ہاتھوں سے اتاریں گے، خود سیڑھی لائیں گے تاکہ مسلمانوں کو یقین ہو کہ سچا مسیح وہ ہے جس کے لیے ہم سیڑھی لائیں گے۔ اپنے ہاتھوں سے اتاریں گے جو قادیان میں ماں کے پیٹ سے پیدا ہو کر کہتا ہے کہ میں مسیح ہوں، جھوٹ بولتا ہے۔
س : حضرت عیسیٰ علیہ السلام شام، دمشق میں نازل ہوں گے، اسرائیل بیت المقدس جائیں گے، وہ پھر وہاں سے قتل دجال کے بعد مکہ مکرمہ سعودی عرب تشریف
لائیں گے تو ان کی نیشنلٹی کس ملک کی ہو گی‘ پاسپورٹ‘ این او سی‘ زر مبادلہ کا کیا بنے گا؟
ج: اس اشکال کا حل بھی تعلیمات اسلامیہ میں موجود ہے۔ ”مشکوٰۃ شریف“ باب نزول مسیح ص ٤٧٩ متفق علیہ روایت کے الفاظ یہ ہیں۔ ان ینزل فیکم ابن مریم ۔ وہ حاکم ہوں گے اور حاکم بھی مرزا قادیانی کی طرح انگریز کے مدح سرا اور انگریز کی خوشامد اور لجاجت کی خجالت میں غرق نہ ہوں گے‘ نہ ہی ملکہ وکٹوریہ کو برطانیہ میں خط لکھیں گے کہ تو زمین کا نور ہے اور میں آسمان کا نور ہوں۔ تیرے وجود کی برکت و کشش نے مجھے اوپر سے نیچے کھینچ لیا ہے۔ ستارہ قیصریہ‘ تحفہ قیصریہ اور گورنمنٹ عالیہ کی خدمت میں عاجزانہ درخواست ملحقہ تریاق القلوب جس میں جہاد کو حرام اور انگریز کی اطاعت کو فرض اور خود کو گورنمنٹ برطانیہ کا خود کشتہ پودا قرار دیا ہے۔ عیسیٰ علیہ السلام ایسے نہیں ہوں گے‘ وہ حاکم عادل ہوں گے‘ ان کے نزول کے وقت
یھلک کلھا الا ملہ واحدہ الا وھی الاسلام۔
تمام ملتیں اور ادیان باطلہ مٹ جائیں گے‘ دین اسلام کی برتری اور شاہی ہو گی۔ پوری دنیا پر اسلام کا جھنڈا ہو گا‘ پوری دنیا اسلام کی وحدت و اکائی اور ون یونٹ میں پروئی ہو گی اور اس کے حکمران حضرت عیسیٰ علیہ السلام بحیثیت خلیفہ محمدی صلی اللہ علیہ وسلم ہوں گے۔ تو جب قیامت سے قبل نزول مسیح کے وقت تمام دنیا اسلام کے زیر نگیں ہو گی اور اس کے حکمران عیسیٰ علیہ السلام ہوں گے تو ان سے اس وقت پاسپورٹ اور ویزا کی بحث کرنی عقل اور نقل کے خلاف ہے۔
س: کیا حضرت عیسیٰ علیہ السلام خنزیروں کو قتل کریں گے‘ کیا خنزیر کو قتل کرنا ان کی شان کے خلاف نہیں؟
ج: مسئلہ کو اس کی حقیقت کی روشنی میں صحیح سمجھنے کی کوشش کرنی چاہیے‘ اس سے صورت حال واضح ہو گی۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نعوذ باللہ خود خنزیروں کو قتل نہیں کریں گے بلکہ ان کی تشریف آوری کے بعد جب دنیا میں خنزیر کھانے والی اور اس کا ریوڑ پالنے والی قوم نہ رہے گی بلکہ وہ مسلمان ہو جائیں گے تو ان کے مسلمان ہو جانے پر جو لوگ خنزیر پالنے والے تھے‘ وہی اس کے مٹانے والے ہوں گے کیونکہ قتل
خنزیر کشی کا سبب عیسیٰ علیہ السلام کا نزول ہو گا۔ آپ کے حکم سے خنزیر قتل کیے جائیں گے اور آپ کے زمانہ بعد نزول میں یہ سب کچھ ہو گا۔ اس لیے قتل کی نسبت آپ کی طرف کر دی گئی۔ مثلاً جنرل محمد ضیاء الحق نے ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی دی حالانکہ پھانسی کا فیصلہ کرنے والا مشتاق احمد چیف جسٹس تھا اور پھانسی کا پھندا گلے میں ڈال کر بھٹو کو لٹکانے والا تارا مسیح مشہور جلاد تھا۔ مگر بایں ہمہ نسبت پھانسی کی جنرل ضیاء الحق کی طرف منسوب کی جاتی ہے اور کی جائے گی کہ یہ سب کچھ ان کے عہد اقتدار میں ہوا۔ حالانکہ اس نے خود پھانسی نہیں دی۔ اسی طرح جنرل ایوب خان نے ٦٥ء کی پاک بھارت جنگ میں فتح حاصل کی حالانکہ لڑنے والے فوجی تھے۔ ایوب کے حکم سے اس کے زمانہ میں فتح ہوئی۔ اس لیے فتح کی نسبت ایوب خان کی طرف جائے گی۔ یا بھٹو نے مرزائیت کو اقلیت قرار دیا حالانکہ اقلیت کا ریزولیشن پاس کرنے والی اسمبلی تھی مگر اس کے زمانہ میں ہوا، اس لیے اس کی طرف نسبت کی جاتی ہے۔ اسی طرح خنزیر عیسیٰ علیہ السلام کے زمانہ میں قتل ہوں گے مگر یہ برائی آپؑ کے زمانہ بعد از نزول میں اختتام پذیر ہوگی، اس لیے اس کا کریڈٹ احادیث میں آپ کو دیا گیا تو ایک برائی کو ختم کرنا اچھا فعل ہے نہ کہ قابل ملامت و باعث اعتراض۔ پھر کیا آپ نے کبھی یہ بھی سوچا کہ قتل تو خنزیر ہوں گے مگر پریشان قادیانی جماعت ہے، آخر کیوں اور اگر قتل خنزیر سے بقول قادیانیوں کے عیسیٰ علیہ السلام کی توہین لازم آتی ہے تو پھر قادیانی جماعت کے مفتی صادق کی کتاب ذکر حبیب میں موجود ہے کہ مرزا قادیانی کے ایک مرید نے شکایت کی کہ لوگ مجھے کتا مار پیر کہتے ہیں، اس پر مرزا قادیانی نے کہا کہ اس میں کیا حرج ہے، خدا نے مجھے سؤر مار کہا ہے۔ (”ذکر حبیب“ ص ١٦٢)
اس طرح تحفہ گولڑویہ ص ٢١٤ پر اپنے آپ کو سؤر مارنے والا کہا ہے، ان دونوں حوالہ جات میں مرزا قادیانی نے وہی بات کہی جو عیسیٰ علیہ السلام کے لیے باعث ملامت بتاتے ہیں۔ اگر ان کے لیے باعث ملامت ہے تو اس کے لیے کیوں نہیں۔ اب ایک اور امر کی طرف توجہ دلانا ضروری ہے کہ مرزا قادیانی نے اپنی کتاب ”براہین احمدیہ“ ج ٥، ص ٥٨ پر لکھا ہے۔
ان (عیسیٰ علیہ السلام) کی تعلیم میں خنزیر خوروں اور تین خدا بنانے کا حکم اب
تک انجیلوں میں نہیں پایا جاتا۔ اسی طرح تورات میں بھی ہے کہ سؤر مت کھانا اور حقیقتہ الوحی کے ص ٢٩ پر لکھتا ہے کہ :
”عیسیٰ علیہ السلام اگر آئیں گے تو سؤر کا گوشت کھائیں گے‘ معاذ اللہ ثم معاذ اللہ “۔
نیز براہین احمدیہ حصہ پنجم کے ص ٤١٤ کے حاشیہ پر مرزا قادیانی نے لکھا کہ :
”عیسیٰ علیہ السلام کے کشمیر چلے جانے کے بعد پولوس نے ان کی تعلیمات میں تحریف کر کے خنزیر جیسے ابدی حرام جانور کو حلال کر دیا “۔
فرمائیے‘ خود ہی مرزا نے لکھا کہ شریعت عیسیٰ میں خنزیر خوری منع اور ابدی حرام ہے اور پھر خود لکھا کہ وہ یعنی عیسیٰ علیہ السلام دوبارہ آئیں گے تو سؤر کا گوشت کھائیں گے۔ معاذ اللہ ثم معاذ اللہ ۔
ایک چیز جو باقرار مرزا‘ عیسیٰ علیہ السلام کی شریعت میں جائز نہیں‘ اس کی نسبت عیسیٰ علیہ السلام کی طرف کرنا توہین نبوت ہے یا نہ ۔ ”حقیقتہ الوحی“ ص ٢٩ کی عبارت یہ ہے۔
یہ بات بالکل غیر معقول ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی ایسا نبی آنے والا ہے کہ جب لوگ نماز کے لیے جانے کے لیے مساجد کی طرف دوڑیں گے تو وہ کلیسا کی طرف بھاگے گا اور جب لوگ قرآن شریف پڑھیں گے تو وہ انجیل کھول بیٹھے گا اور جب لوگ عبادت کے لیے بیت اللہ کی طرف منہ کریں گے تو وہ بیت المقدس کی طرف متوجہ ہو گا۔ اور شراب پیے گا اور سؤر کا گوشت کھائے گا۔ معاذ اللہ ثم معاذ اللہ اور اسلام کے حلال اور حرام کی کچھ پرواہ نہیں رکھے گا۔ کیا کوئی عقل تسلیم کر سکتی ہے کہ اسلام کے لیے یہ مصیبت کا دن پھر باقی رہے۔ یہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی نبی ایسا بھی آئے گا۔
س : مرزائی کہتے ہیں کہ جب مرزا نے صاف لکھ دیا ہے کہ یہ بات بالکل غیر معقول ہے تو اب وہ جس بات کو خود غیر معقول کہہ رہے ہیں‘ آپ اس کو کیوں ملزم ٹھہراتے ہیں یہ تو انصاف کا خون ہے؟
ج : مرزا قادیانی کی یہ عبارت اردو ہے‘ اردو جاننے والے دنیا میں کروڑوں
انسان رہتے ہیں، کسی سے اس کا مفہوم پوچھ لیں۔ مرزا لکھتا ہے کہ یہ بات بالکل غیر معقول ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی ایسا نبی آنے والا ہے یعنی یہ کہ وہ نہیں آئے گا۔ اس کا آنا عقل کے خلاف اور غیر معقول بات ہے کیونکہ اگر وہ آئے تو (١) مسجد کی بجائے کلیسہ کو جائے گا۔ (٢) مسلمان قرآن پڑھیں گے تو وہ انجیل کھول کر بیٹھے گا۔ (٣) مسلمان بیت اللہ کی طرف اور وہ بیت المقدس کی طرف رخ کرے گا۔ (٤) شراب پیئے گا۔ (٥) سؤر کا گوشت کھائے گا۔ (٦) اسلام کے حلال و حرام کی پابندی نہیں کرے گا۔
لہٰذا ثابت ہوا کہ کوئی ایسا نبی نہیں آئے گا۔ اس کا آنا غیر معقول ہے کیونکہ اگر وہ آئے گا تو اس کو یہ کام کرنے ہوں گے۔ ان کے باعث وہ کہتا ہے کہ ان کا آنا غیر معقول ہے۔ اب فرمائیے کہ ایک ایسی چیز مثلاً خنزیر جو عیسیٰ علیہ السلام کی انجیل میں بھی بقول مرزا منع ہے تو کیا عیسیٰ ؑ آکر ایک حرام چیز کو کھانا شروع کر دیں گے۔ یہ وہ قادیانی تعلیمات ہیں جس کی بنیاد پر ہم اس کو کفر کا فتویٰ دیتے ہیں۔ باقی رہا مرزا قادیانی کا یہ اعتراض کہ مسلمان جب بیت اللہ کی طرف رخ کریں گے تو وہ بیت المقدس کی طرف منہ کرے گا۔ اس کا بھی احادیث میں جواب موجود ہے، ایسے محسوس ہوتا ہے کہ مرزا قادیانی کے دجل و فریب کذب و تلبیس کا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث میں جواب مذکور ہے۔ اب یہ کہ وہ بیت المقدس کی طرف رخ کرے گا، اس کا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث میں یہ جواب موجود ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نزول کے بعد پہلی نماز حضرت مہدی ؑ کی اقتداء میں ادا فرمائیں گے بلکہ باقی نمازیں بھی عیسیٰ علیہ السلام خود پڑھائیں گے۔ حضرت مہدی ؑ ”حضور“ کے امتی ہیں، امتی ہونے کے ناطے سے ان کا رخ بیت اللہ کی طرف ہو گا۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام ان کے مقتدی ہیں تو کیا عقلاً و شرعاً یہ ممکن ہے کہ امام رخ بیت اللہ کی طرف اور مقتدی کا بیت المقدس۔
س : علامات مسیح و مرزا قادیانی سے متعلق بحث؟ ج : احادیث میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی دوبارہ تشریف آوری کے متعلق ایک سو اسی علامات ہیں جو موجودہ تواتری نزول المسیح کے ساتھ بطور ضمیمہ کے شائع ہوئی ہیں۔ جس کا اردو ایڈیشن علامات قیامت اور نزول عیسیٰ علیہ السلام کے نام سے
عام ملتا ہے ' بازار سے ۔ یہ ترجمہ مولانا رفیع عثمانی نے کیا ہے ' ان علامات میں سے چند ایک پیش خدمت ہیں:
- ١۔ حضور علیہ السلام نے فرمایا ' آنے والے کا نام عیسیٰ علیہ السلام ہو گا ' مرزا کا
نام غلام احمد قادیانی تھا۔ آنے والا بغیر باپ کے پیدا ہوا ' مرزا قادیانی کا چھ فٹ قد کا باپ ' غلام مرتضیٰ نامی ایک شخص باپ بیان کیا جاتا ہے۔
- ٢۔ آنے والے کا لقب مسیح اللہ روح اللہ کلمتہ اللہ ہے۔ اس کا لقب کوئی نہ تھا یا
زیادہ سے زیادہ وہی سؤر مار جس کا حوالہ پہلے گزر چکا ہے۔
- ٣۔ آنے والے کی والدہ کا نام مریم ہے ' اس کی والدہ کا نام چراغ بی بی تھا ' اس
کا لقب گھسیٹی مشہور عام ہے۔
- ٤۔ آنے والے کی والدہ کی عصمت و عفت کی قرآن مجید نے گواہی دی۔ مرزا
قادیانی کی ماں کی کہانی اس وقت کے لوگوں کو معلوم ہو گی ' ہم کچھ نہیں کہہ سکتے۔ مگر جس کا بیٹا اتنا مقدر والا تھا کہ اس کے صاحبزادے مرزا محمود کو مرزا کے ایک مرید جو اس کو خط میں مسیح موعود لکھتے ہیں اور پھر وہ خط مرزا محمود نے اپنے خطبہ جمعہ میں لوگوں کو سنایا اور پھر مرزائی اخبار الفضل قادیان مورخہ ٣١ اگست ١٩٣٨ء کو ص ٧ ' کالم ١ پر شائع ہوا جس میں ہے کہ:
حضرت مسیح ولی اللہ ہے اور ولی اللہ بھی کبھی کبھی زنا کیا کرتے ہیں اگر انہوں نے کبھی زنا کر لیا تو اس میں کیا حرج ہے۔
یہ چراغ بی بی کے صاحبزادے کے کمالات ہیں تو غرض یہ کہ مرزا قادیانی میں ایک نشانی بھی عیسیٰ علیہ السلام والی نہ پائی جاتی تھی۔
- ٥۔ اور یہ کہ عیسیٰ علیہ السلام آسمان سے نازل ہوں گے ' یہ ماں کے پیٹ سے
نکلا۔
- ٦۔ وہ فرشتوں کے پروں پر ہاتھ رکھ کر آئیں گے ' اسے دائی نے وصول کیا۔
- ٧۔ عیسیٰ علیہ السلام جب آئیں گے تو ان کے سر کے بالوں سے پانی ٹپکتا ہو گا '
گویا غسل کر کے آئے ہیں جبکہ مرزا نفاس کے خون میں لت پت تھا۔
- ٨۔ مسیح علیہ السلام نے تشریف آوری کے وقت دو چادریں پہن رکھی ہوں گی
جبکہ مرزا پیدائش کے وقت الف ننگا تھا۔
- ٩۔ مسیح علیہ السلام تشریف آوری کے وقت خوش و خرم ہوں گے جبکہ مرزا
قادیانی میں یہ صفت نہ پائی جاتی تھی اور یہ کہ مرزا تو حضرت مسیح کے ساتھ کسی قسم کی مشابہت نہیں رکھتا تھا۔
س: مرزائی کہتے ہیں کہ اخبار الفضل کی عبارت مرزا قادیانی پر الزام ہے زنا کا؟
ج: الزام ہم نے مرزا پر لگایا نہیں، پڑھ کر سنایا ہے۔ اس پر زنا کا الزام تو اس کے مرید نے جو اس کو مسیح موعود اور ولی اللہ لکھتا ہے، اس نے لگایا اور اس کے مقدس بیٹے نے پڑھ کر خط سنایا۔ ہم جس وقت یہ حوالہ دیتے ہیں تو مرزائی اس سے بہت چیں بہ جبیں ہوتے ہیں، لیکن انہیں یاد رکھنا چاہیے کہ ہمارا قصور صرف اتنا ہے کہ ہم صرف حوالہ دیتے ہیں اگر یہ حوالہ پڑھنا قصور ہے تو سب سے بڑا قصور وار مرزا محمود تھا اور جس نے خط پڑھ کر سنایا۔ خط لکھنے والا مرزائیوں کا اپنا آدمی تھا جس نے خط میں مرزے کو ولی اللہ اور مسیح موعود لکھا ہے۔ اس کا مرزے کو مسیح موعود اور ولی اللہ لکھنا دلیل اس بات کی ہے کہ وہ آدمی ہمارا نہیں مرزائیوں کا تھا۔ یہ بھی ذہن میں رہے کہ مرزا قادیانی کے زنا کے اس حوالہ سے مرزائی بہت چیں بہ جبیں ہوتے ہیں، لیکن اگر یہی الزام مرزا قادیانی حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر لگائے تو اس سے مرزائیوں کی رگ حمیت نہیں پھڑکتی۔
س: مرزائی یہ کہتے ہیں کہ مرزا قادیانی نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی توہین نہیں کی؟
ج: مرزا قادیانی نے اپنی کتاب ”دافع البلاؤ“ کے آخری ٹائٹل پیج پر لکھا ہے۔ لیکن مسیح علیہ السلام کی راست بازی اپنے زمانے میں دوسرے راست بازوں سے بڑھ کر ثابت نہیں ہوتی بلکہ یحییٰ نبی کو اس پر فضیلت ہے۔ کیونکہ وہ شراب نہیں پیتا تھا اور کبھی نہیں سنا گیا کہ کسی فاحشہ عورت نے اپنی کمائی کے مال سے اس کے سر پر عطر ملا، یا غیر ہاتھوں اور سر کے بالوں سے اس کے بدن کو چھوا تھا یا کوئی بے تعلق جوان عورت اس کی خدمت کرتی تھی۔ اسی وجہ سے خدا نے قرآن میں یحییٰ کا نام حصور رکھا مگر مسیح کا یہ نام نہ رکھا کیونکہ ایسے قصے اس کا یہ نام رکھنے سے مانع تھے۔
مرزا قادیانی کی اس عبارت سے چار باتیں ثابت ہوئیں:
- ١۔ مسیح شراب پیتا تھا۔
- ٢۔ فاحشہ عورت اپنی بدکاری کے مال سے خریدا ہوا عطر ان کے سر پر لگاتی
تھی۔
- ٣۔ فاحشہ عورتیں اپنے ہاتھوں اور سر کے بالوں سے مسیح کے جسم کو چھوتی
تھیں۔
- ٤۔ غیر محرم جوان عورتیں مسیح علیہ السلام کی خدمت کیا کرتی تھیں۔
ان گناہوں میں ملوث ہونے کے باعث مسیح علیہ السلام کا نام قرآن میں حصور نہیں رکھا گیا۔
اس عبارت میں دو چیزیں قابل توجہ ہیں:
- ١۔ مرزا قادیانی نے عیسائیوں کی کتابوں سے مسیح علیہ السلام پر الزام نہیں لگایا
بلکہ مسیح علیہ السلام کے دامن کے داغ کو دور کرنے کے لیے قرآن سے استدلال کیا ہے۔
- ٢۔ پھر استدلال بھی کیسا بودا اور بے ہودا ہے، اگر قرآن مجید نے مسیح علیہ
السلام کے ان گناہوں کے باعث ان کو حصور نہیں کہا تو قرآن مجید میں باقی انبیاء علیہم السلام حضرت آدمؑ، حضرت نوحؑ خود حضرت محمد علیہم السلام کو بھی حصور نہیں کہا گیا۔ کیا ان کو بھی حصور نہ کہنے کی یہی وجہ تھی، نعوذ باللہ کہ ان سے بھی یہی گناہ ہوا ہے۔
اصل واقعہ یہ ہے کہ مرزا قادیانی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا بدترین دشمن تھا۔ آپ کی والدہ کے متعلق مرزا نے لکھا ہے کہ مریم کی وہ شان ہے جس نے ایک مدت تک اپنے تئیں نکاح سے روکے رکھا اور پھر بزرگان قوم کے نہایت اصرار سے بوجہ حمل کے نکاح کر لیا۔ (”کشتی نوح“ ص ١٦)
اور ”ازالہ اوہام“ کے ص ٤٧٣ کے حاشیہ پر لکھا ہے کہ: حضرت مسیح علیہ السلام اپنے باپ یوسف کے ساتھ ٢٢ برس کی مدت تک نجاری کا کام کرتے رہے۔
”کشتی نوح“ کے ص ١٦ پر لکھا ہے، آپ کے چار بھائی اور دو بہنیں ہیں۔ یہ
سب یسوع کے حقیقی بھائی اور بہنیں تھیں یعنی سب یوسف اور مریم کی اولاد تھیں۔ مرزا قادیانی نے حضرت مسیح کے خاندان کے متعلق لکھا کہ:
آپ کا خاندان بھی نہایت پاک اور مطہر ہے، آپ کی تین نانیاں اور دادیاں زنا کار اور کسبی عورتیں تھیں۔ (ضمیمہ انجام آتھم ص ٧، حاشیہ)
یہاں اس حوالہ میں دادیاں کا لفظ توجہ طلب ہے، دادی اس کی ہوتی ہے جس کا دادا ہو اور دادا اس کا ہوتا ہے جس کا باپ ہو۔ مرزا قادیانی حضرت مسیح کی دادیاں کے لفظ لکھ کر یہ ثابت کرنا چاہتا ہے کہ آپ بغیر باپ کے پیدا نہیں ہوئے۔ مرزے قادیانی نے حضرت مسیح علیہ السلام کی ذات کے متعلق لکھا ہے:
مسیح کا چال چلن کیا تھا، ایک کھاؤ پیو، شرابی، نہ زاہد، نہ عابد، نہ حق کا پرستار، متکبر، خود بین اور خدائی کا دعویٰ کرنے والا۔ (مکتوبات احمدیہ ج ٣ ص ٢١)
مسیح علیہ السلام کے معجزات کا انکار کرتے ہوئے لکھا ہے کہ:
عیسائیوں نے بہت سے آپ کے معجزات لکھے ہیں مگر حق بات یہ ہے کہ آپ سے کوئی معجزہ نہیں ہوا۔ (ضمیمہ انجام آتھم ص ٤، حاشیہ)
مرزا قادیانی نے اسی ضمیمہ انجام آتھم کے ص ٧ پر لکھا ہے کہ آپ کے ہاتھ میں سوائے فریب اور مکر کے کچھ نہ تھا۔ اعجاز احمدی کے ص ١٤ پر لکھا ہے:
ہائے کس کے آگے ماتم لے جائیں کہ حضرت عیسیٰ کی تین پیش گوئیاں صاف طور پر جھوٹ نکلیں۔
مرزا قادیانی پر لعنت بے شمار، لعنت، لعنت، لعنت، مرزا قادیانی پر لعنت، لعنت، لعنت، لعنت، مرزا قادیانی پر لعنت، لعنت، لعنت، لعنت، مرزا قادیانی پر لعنت، لعنت، لعنت، لعنت، مرزا قادیانی پر لعنت۔ بے شمار لعنت...... الو دے پٹھے تے لعنت، لعنت، لعنت، بے شمار لعنت، لعنت، لعنت....... جتنے زمین کے ذرے، جتنے آسمان کے تارے ہیں ان سے بڑھ کر مرزے پر لعنت، لعنت، لعنت، لعنت، لعنت، لعنت۔
مرزے نے اپنی کتاب نور الحق میں ایک ہزار بار لعنت لعنت لکھ کر کئی صفحات کالے کیے ہیں۔
س: مرزا قادیانی خود مسیح موعود ہونے کے مدعی تھے تو وہ مسیح علیہ السلام کی کس طرح توہین کے مرتکب ہو سکتے ہیں؟
ج: پہلے تو مرزائی یہ بتلائیں کہ مرزا قادیانی نے ازالہ اوہام کے ص ١٩ پر لکھا ہے کہ اس عاجز نے جس نے مثیل مسیح موعود ہونے کا دعویٰ کیا ہے جس کو کم فہم لوگ مسیح موعود‘ خیال کر بیٹھے ہیں نے یہ ہرگز دعویٰ نہیں کیا کہ میں مسیح ہوں جو شخص یہ الزام میرے پر لگائے وہ سراسر مفتری اور کذاب ہے۔
مرزا قادیانی کے اس فرمان کو قادیانی بار بار پڑھیں وہ کہتا ہے کہ میں مثیل مسیح ہوں نہ کہ مسیح موعود۔ جو مجھے مسیح کہے وہ کم فہم مفتری اور کذاب ہے اسی کتاب کے ٹائٹل پر دیکھیں کہ مرزا قادیانی کو مسیح موعود کہا گیا ہے اب مرزائی ارشاد فرمائیں کہ اندر کی بات صحیح ہے یا ٹائٹل کی‘ یا یہ کہ ہاتھی کے دانت دکھانے کے اور کھانے کے اور اس کا ذمہ مرزائیوں کے ذمہ ہے۔
مرزا قادیانی نے لکھا ہے کہ میں مثیل مسیح ہوں مگر کشتی نوح میں لکھا ہے کہ میں عیسیٰ ابن مریم ہوں اب قادیانی بتائیں کہ پہلی والی بات صحیح ہے یا کشتی نوح والی اور پھر لطف یہ کہ مسیح ابن مریم بننے کے لیے مرزا نے جو کہانی تراشی ہے وہ عجیب ہی عبرت آموز اور حیا سوز ہے۔
مرزا قادیانی نے کشتی نوح کی ص ٥٠ اور ٥١ پر لکھا ہے کہ مریم کی طرح عیسیٰ کی روح مجھ میں نفخ کی گئی اور استعارہ کے رنگ میں مجھے حاملہ ٹھہرایا گیا آخر کئی مہینے کے بعد جو دس مہینے سے زیادہ نہیں مجھے مریم سے عیسیٰ بنایا گیا۔
اور اس سے اگلے صفحے پر دروازہ اور کھجور کا بھی ذکر ہے اب مرزائی فیصلہ کریں کہ اس نے ازالہ میں کہا کہ میں مثیل مسیح ہوں اور اس حوالہ میں کہا کہ میں مسیح ہوں کیا اس سے مرزا قادیانی کے اس طرز عمل سے یہ بات ثابت نہیں ہوتی کہ اس کے دل میں چور تھا۔ جیسے چور قدم قدم گھر والوں کو سویا ہوا پاکر چوری کے لیے قدم اٹھاتا ہے یہی کیفیت مرزے کی دماغی بناوٹ کی تھی اب ظاہر ہے کہ ان دو میں سے ایک صحیح اور
ایک غلط ۔ مرزائی فیصلہ کریں کہ مرزے نے کون سی بات صحیح کہی ہے اور کون سی غلط اور یہ بھی یاد رہے کہ جھوٹا نبی نہیں ہو سکتا۔ یہاں ایک سوال یہ بھی رہ جاتا ہے کہ مرزا صاحب کو حمل کیسے ٹھہرا ہے۔ اسلامی قربانی ص ١٤ پر مرزا صاحب کے مرید باصفا نے حضرت صاحب کا ایک کشف لکھ کر اس معمہ کو حل کر دیا حضرت صاحب نے ایک دفعہ اپنے کشف کی یہ حالت بیان کی کہ گویا آپ عورت ہیں اور خدا تعالیٰ نے آپ سے قوت رجولیت کا اظہار کیا سمجھنے والے کے لیے اشارہ کافی ہے۔
اللہ رب العزت کے متعلق یہ دریدہ دہنی یاوہ گوئی پھر خود حاملہ خود ہی خود سے پیدا ہو گئے، بقلم خود ہو گئے۔ یہ بن ولد کے معمہ کو حل کرنا یا مرزائیوں کی ذمہ داری ہے۔
باقی رہا مرزائیوں کا یہ کہنا کہ وہ کس طرح مسیح کی توہین کے مرتکب ہوئے یہ تو ممکن ہی نہیں بات امکان کی نہیں یہاں تو مسئلہ وقوع کا ہے کہ وہ توہین کے مرتکب ہوئے اس کا باعث مندرجہ ذیل ہے۔
- ١۔ مرزا قادیانی کے مسیح بننے کے لیے ضروری تھا کہ وہ مسیح علیہ السلام کی صفات
کا حامل ہوتا مرزا اس درجہ پر پہنچ نہیں سکتا تھا تو ان کا درجہ کم کر کے اپنے درجہ اور سطح پر ان کو لے آیا کہ جیسے میں ہوں ویسے ہی مسیح تھے ۔ (نعوذ باللہ)
- ٢۔ آئینہ میں انسان کی اپنی شکل نظر آتی ہے مرزا قادیانی اپنے کرکٹر اور کردار
کے آئینہ میں حضرت مسیح علیہ السلام کو دیکھتا تھا اس لیے ان کی توہین کا مرتکب ہوتا تھا۔
- ٣۔ مسیح بننے کے باعث رقابت کے مرض کا شکار ہو کر واہی تباہی بکنی شروع کر
دی کہ چلو میں ان کے جیسا ہی نہیں تو میرے جیسے تھے مرزا قادیانی کو مرض لاحق تھا کہ جب تک حضرت مسیح علیہ السلام کی کسی بھی پہلو سے توہین نہ کر لیتا اسے چین نہ آتا۔
- ٤۔ ازالہ اوہام کے ص ٢٥٨ کے حاشیہ پر مرزا نے لکھا ہے۔
یہ عاجز اس عمل کو اگر مکروہ اور قابل نفرت نہ سمجھتا تو خدا تعالیٰ کے فضل اور توفیق سے امید قوی رکھتا تھا کہ ان عجوب نمائیوں میں حضرت مسیح ابن مریم سے کم نہ رہتا اور پھر آگے لکھا کہ ابن مریم استقامتوں کے کامل طور پر دلوں میں قائم رہنے کے بارے میں ان کی کاروائیوں کا نمبر ایسا رہا کہ کم درجہ کا کہ قریب قریب ناکام رہے۔
(استغفر اللہ ) اور اسی کتاب کے ص ٢٩٩ پر ہے کہ مسیح کو دعوت حق میں قریباً ناکامی رہی۔ یہ ہے مرزا قادیانی کی خود نمائی اور مسیح علیہ السلام کے بارے میں اس کی تنقیص کا انداز۔ کیا شاطرانہ چال کہ چلو ان کو کمتر ثابت کرنے کی کوشش کرو۔ پھر ایک اور امر کی طرف توجہ کرنا انتہائی ضروری ہے کہ مرزا قادیانی نے نبوت کا دعویٰ کیا تو ظاہر ہے کہ اس میں نبوت درکنار شرافت تک قریب نہ پھٹکنے پائی تھی تو مرزا صاحب نے نبوت کا ایسا تصور دیا کہ الامان یہ مرزا صاحب نے اپنی کتاب تریاق القلوب کے ص ١٣٣ پر لکھا ہے کہ
ایک شخص جو قوم کا چوہڑا یعنی بھنگی ہے اور ایک گاؤں کے شریف مسلمانوں کی ٣٠، ٤٠ سال سے خدمت کرتا کہ دو وقت ان کے گھروں کی گندی نالیوں کو صاف کرنے آتا ہے اور ان کے پاخانوں کی نجاست اٹھاتا ہے اور ایک دو دفعہ چوری میں بھی پکڑا گیا ہے اور چند دفعہ زنا میں بھی گرفتار ہو کر اس کی رسوائی ہو چکی ہے اور چند سال جیل خانہ میں قید بھی رہ چکا ہے چند دفعہ ایسے برے کاموں پر گاؤں کے نمبرداروں نے اس کو جوتے بھی مارے ہیں اور اس کی ماں اور دادیاں اور نانیاں ہمیشہ سے ایسے نجس کام میں مشغول رہی ہیں اور سب مردار کھاتے اور گند اٹھاتے ہیں۔ اب خدا تعالیٰ کی قدرت پر خیال کر کے ممکن تو ہے کہ وہ ایسے کاموں سے تائب ہو کر مسلمان ہو جائے اور پھر یہ بھی ممکن ہے کہ خدا تعالیٰ کا ایسا فضل اس پر ہو کہ رسول اور نبی بھی بن جائے۔
اس عبارت سے مرزا قادیانی کی تکنیک (ڈھنگ) کو سمجھا جا سکتا ہے کہ وہ جس منصب کا دعویٰ کرتا ہے اگر اس کے تقاضوں کو پورا نہیں کر سکتا تو اس منصب کو کم کر کے اپنے اوپر فٹ کرنے لگتا ہے۔ عیسیٰ علیہ السلام کے منصب پر فائز ہونے کے لیے اسے مسیحی شان اور بزرگی کی ضرورت تھی اس کو پورا نہ کر سکا تو مسیح علیہ السلام کی تنقیص کر کے اسے اپنے برابر لا کھڑا کیا اور یا ان کو اتنا گرایا کہ خود ان سے افضل ہونے کا مدعی ہو گیا یہ اس کے حسد اور رقابت کی دلیل ہے۔
چنانچہ درثمین کے ص ٢٢ پر لکھتا ہے
”ابن مریم کے ذکر کو چھوڑو۔۔۔۔۔ اس سے بہتر غلام احمد ہے۔ (نعوذ باللہ)“
س: مرزا قادیانی نے اپنی کتابوں میں حضرت مریم کو صدیقہ لکھا ہے تو جس کو وہ صدیقہ لکھے اس کی توہین کا کس طرح مرتکب ہو سکتا ہے؟
ج: سیرۃ المہدی ص ٢٢٠ ج ٣ پر ہے۔
مولوی ابراہیم بقاپوری نے مجھ سے بذریعہ تحریر بیان کیا ایک دفعہ میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی خدمت میں پیش ہوا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی والدہ کی اللہ تعالیٰ نے صدیقہ کے لفظ سے تعریف فرمائی ہے۔ اس پر حضور علیہ السلام نے فرمایا کہ خدا تعالیٰ نے اس جگہ حضرت عیسیٰ کی الوہیت توڑنے کے لیے ماں کا لفظ استعمال کیا ہے اور صدیقہ کا لفظ اسی جگہ اس طرح آیا ہے کہ جس طرح ہماری زبان میں کہتے ہیں بھرجائی کانڑی سلام آکھنا واں، جس سے مقصود کانا ثابت کرنا ہوتا ہے، نہ سلام کرنا۔ اسی طرح اسی آیت میں اصل مقصود حضرت مسیح کی والدہ ثابت کرنا ہے جو منافی الوہیت ہے نہ کہ مریم کی صدیقیت کا اظہار۔ (سیرۃ المہدی ص ٢٢٠)
مرزا قادیانی کی یہ کمینگی کسی تبصرہ کی محتاج نہیں اب آپ فرمائیں کہ کیا مندرجہ واقعہ حضرت مریم کے صدیقہ ہونے کا قائل تھا۔
س: مرزا قادیانی نے حضرت مسیح علیہ السلام کے بارے میں جو کچھ کہا وہ الزامی رنگ میں ہے یہودیوں کے اس نے الفاظ ذکر کیے جیسے چشمہ مسیح ص ٢٠ پر اس کی صراحت ہے۔
ج: ہم تسلیم کرتے ہیں کہ مرزا قادیانی اور یہودی بغض عیسیٰ علیہ السلام میں ایک دوسرے سے بڑھ کر ہیں۔ یہودی استاد ہیں تو مرزائی شاگرد مگر دیکھیے کہ یہود کے رویہ اور وطیرہ کی تردید کر کے قرآن مجید نے مسیح علیہ السلام کی والدہ کی شان بیان کی ہے مگر مرزا قادیانی اب بھی بغض عیسیٰ علیہ السلام میں یہودیوں کی سنت پر عمل پیرا ہے۔ دو کردار ہیں ایک دشمنان مسیح، یہود کا دوسرا کردار ہے وکالت مسیح کا جو قرآن ادا کر رہا ہے مرزا قادیانی کس کردار کو ادا کر رہا ہے وہ آپ کے سامنے ہے۔
س: مرزا قادیانی نے انجیلی یسوع کے متعلق یہ الفاظ کہے ہیں نہ کہ حضرت مسیح کے متعلق۔
ج: ہم نے جو حوالہ جات عرض کیے ہیں ان میں صراحۃً حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا نام لے کر ان کو گالیاں دی ہیں اس کے باوجود اگر تسلیم بھی کر لیا جائے کہ اس نے یسوع کے متعلق یہ کہا ہے تو بھی وہاں مراد عیسیٰ علیہ السلام ہیں کیونکہ مرزا قادیانی نے اپنی کتاب توضیح المرام کے ص ٣ پر لکھا ہے کہ یسوع ، مسیح ابن مریم ایک شخص کے نام ہیں۔
پس ثابت ہوا کہ جہاں اس نے یسوع کی توہین کی ہے وہاں بھی مراد عیسیٰ علیہ السلام ہیں۔
س: مرزا صاحب نے عیسائیوں کی رد میں اسے لکھا اس لیے کہ وہ ہمارے نبی علیہ السلام کی توہین کرتے ہیں تو مرزا صاحب نے الزامی رنگ میں مسیح علیہ السلام کے بارے میں ایسا لکھ دیا ہے۔
ج: تمام انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام کی عزت و توقیر اور ان پر ایمان لانا بموجب لا نفرق بین احد من رسلہ ان میں تفریق نہ کرنا مسلمانوں پر فرض ہے کسی ایک نبی کی توہین کا مرتکب بھی کافر ہے کسی کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ اپنے نبی علیہ الصلوۃ والسلام کی عزت بچانے کے لیے کسی دوسرے نبی پر الزام تراشی کرے، یہ بھی کفر ہے باقی یہ مستقل بحث ہے کہ مرزا قادیانی حضور علیہ السلام کی عزت کا محافظ تھا یا سب سے بڑا دشمن، ہمارا دعویٰ یہ ہے کہ مرزا قادیانی سے بڑھ کر اور کوئی بدبخت بھی آپؐ کی عزت و ناموس کا اتنا دشمن نہیں ہے جتنا مرزا قادیانی دجال تھا۔
س: مرزا قادیانی نے فرضی مسیح کی توہین کی ہے نہ کہ حقیقی کی۔
ج: اگر فرضی نبی کو گالیاں دینا جائز ہے تو کیا ہم مرزا قادیانی کو الو کا پٹھہ کہہ سکتے ہیں۔ اگر اس پر قادیانی سیخ پا ہوئے تو ہم کہہ دیں گے کہ ہم نے فرضی نبی غلام احمد قادیانی کو گالی دی ہے۔ اس طرح تو فساد کا ایک ایسا در کھل جائے گا کہ جو مرزائیوں سے بھی بند نہ ہو سکے گا۔ دوسرا یہ کہ اگر فرضی اور خیالی مسیح کو گالیاں دی ہیں تو وہ عیسائیوں کے لیے حجت اور قابل تسلیم کیسے ہوں گی۔
س: مرزا نے انجیل کے حوالہ سے بات کی ہے۔
ج: مرزا قادیانی نے چشمہ معرفت کے ص ٢٥٥ پر لکھا ہے کہ
تورات اور انجیل صرف مبدل کتابیں ہیں محرف مبدل کتابوں سے تحریف شدہ حوالہ جات لے کر کسی نبی کو مشق ستم بنانا کہاں کی شرافت ہے
س: مرزا قادیانی نے جہاں مسیح علیہ السلام کی بہنوں یا بھائیوں کا ذکر کیا ہے انما المومنون اخوہ کے تحت کہا ہے نہ کہ حقیقی طور پر
ج: مرزا قادیانی نے کشتی نوح کے ص ١٦ پر لکھا ہے کہ آپ کے چار بھائی اور دو بہنیں تھیں۔ یہ سب یسوع کے حقیقی بھائی اور بہنیں تھیں ۔۔۔۔۔ تو اب مرزا نے انما المومنون اخوہ کے تحت نہیں کہا بلکہ حقیقی طور پر ان کی بہنیں اور بھائی مراد ہیں۔
س: کیا دشمنوں کے اعتراض نقل کرنے جرم ہیں؟
ج: مرزائیوں کے نزدیک اگر دوسروں کے اعتراض نقل کرنا جرم نہیں تو ہمیں بھی یہ حق ہے کہ مرزا قادیانی کے دشمنوں نے مرزا صاحب کے متعلق جو اعتراض کئے ہم بھی ان کو نقل کر سکیں۔ مرزا کے زمانہ میں جن لوگوں نے مرزا کے متعلق جو کہا اور مرزا نے خود اپنی کتاب میں اسے نقل کیا ہے وہ ہم عرض کر دیں۔ مرزا قادیانی نے اپنی کتاب حقیقۃ الوحی کے ص ١٨١ پر لکھا ہے۔
ازاں جملہ یہ امر قابل ذکر ہے کہ عبدالحکیم خان نے اپنے ہم جنسوں کی پیروی کر کے میرے پر یہ الزام لگائے ہیں کہ میں جھوٹ بولتا رہا ہوں اور میں دجال ہوں اور حرام خور ہوں‘ اور خائن ہوں اور اپنے رسالہ المسیح الدجال میں طرح‘ طرح کی میری عیب شماری کی ہے۔ چنانچہ میرا نام شکم پرست‘ نفس پرست‘ متکبر‘ دجال‘ شیطان‘ جاہل‘ مجنوں‘ کذاب‘ سگ‘ حرام خور‘ عہد شکن‘ خائن رکھا ہے اور دوسرے کئی عیب لگائے ہیں۔
مرزا قادیانی نے اپنی کتاب تتمہ حقیقۃ الوحی کے ص ٢١ پر لکھا ہے کہ۔
مولوی محمد حسین بٹالوی نے جب جرات کے ساتھ زبان کھول کر میرا نام دجال رکھا اور میرے پر فتویٰ کفر لکھوا کر صدہا پنجاب و ہندوستان کے مولویوں سے مجھے
گالیاں دلوائیں اور مجھے یہود و نصاریٰ سے بدتر قرار دیا اور میرا نام کذاب مفسد‘ دجال‘ مفتری‘ مکار‘ ٹھگ فاسق فاجر خائن رکھا۔
اب مرزائی بتائیں کہ اگر عیسیٰ علیہ السلام کے دشمنوں کے اعتراض سے مرزا صاحب استدلال کر سکتے ہیں تو پھر مرزا قادیانی پر جن مخالفین نے اعتراض کیے وہ آپ کے ہاں کیوں قابل قبول نہیں۔
س : مرزا قادیانی نے اس مسیح کے متعلق سخت الفاظ کہے تھے جس نے ابنیت کا دعویٰ کیا تھا۔
ج : مرزا قادیانی نے اپنی کتاب تحفہ قیصریہ کے ص ١٦ پر لکھا ہے کہ حضرت یسوع مسیح ان چند عقائد سے جو کفارہ تثلیث و ابنیت ہے ایسے متنفر پائے جاتے ہیں تو گویا ایک بھاری افتراء ہے جو ان پر کیا ہے۔
س : پہلے جیسے علماء مولانا رحمت اللہ کیرانوی نے بھی تو جوابات دیے ہیں عیسائیوں کو
ج : کسی کو الزامی جواب دیتے وقت اگر کسی نبی کی تحقیر کا پہلو آگیا تو یہ کفر ہے چاہے جواب دینے والا کوئی کیوں نہ ہو جواب حقیقی یا الزامی ہو۔ انبیاء علیہم السلام میں سے کسی ایک کی توہین و تحقیر کرنا کفر ہے‘ چنانچہ پہلے علماء نے ایسا قطعاً نہیں کیا۔ نیز یہ کہ مرزا قادیانی نے لکھا ہے کہ حق بات یہ ہے کہ آپ سے کوئی معجزہ سرزد نہیں ہوا (حوالہ ماسبق) تو حق بات کا جملہ یہ بتاتا ہے کہ مرزا قادیانی اپنی طرف سے یہ بات کہہ رہا ہے نہ کہ الزامی طور پر۔
س : مرزا قادیانی نے عیسیٰ علیہ السلام کی تعریف کی ہے تو جس شخص کی وہ تعریف کرے اس کی تنقیص کیسے کر سکتا ہے؟
ج : ہمارا یہی موقف ہے کہ مرزا قادیانی جھوٹا تھا۔ جھوٹے آدمی کے کلام میں تناقض ہوتا ہے‘ مرزا قادیانی کا روز بروز‘ صبح و شام‘ قدم بقدم‘ موقف بدلنا‘ پینترا تبدیل کرنا اس کی عادت تھی جن لوگوں کی مرزا قادیانی کی کتابوں پر نظر ہے وہ جانتے ہیں کہ کس طرح مرزا قادیانی کے کلام میں تناقض ہے اس عنوان پر مرزے کی رد میں اس کی تحریرات کی روشنی میں امت نے کافی کتابیں لکھی ہیں۔
س : مسلمانوں کے عقیدہ کے مطابق قرآن مجید میں ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام نازل ہوں گے جب وہ نازل ہوں گے تو قرآنی آیات کا کیا بنے گا۔ یہ آیات تو پھر بھی یہ کہہ رہی ہوں گی کہ کیا عیسیٰ نازل ہوں گے یہ منسوخ ہو جائیں گی۔
ج : قرآن مجید میں اللہ رب العزت نے حضور علیہ السلام سے بہت وعدے کیے جو حضور علیہ السلام کے زمانہ میں ہی آپ کی ذات سے وابستہ تھے، وہ وعدے پورے ہوئے مگر آیات آج بھی موجود ہیں۔ نمبر ١ الم غلبت الروم نمبر ٢ اذا جاء نصر اللہ نمبر ٣ تبت ید ابی لہب نمبر ٤ لتدخلن المسجد الحرام یہ تمام وعدے پورے ہوتے جب بات پوری ہو جائے تو آیت بدل نہیں جاتی بلکہ اور زیادہ شان سے چمکنے لگتی ہے کہ جن کا وعدہ تھا وہ پورا ہو گیا۔ قرآن مجید میں ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام نے خوشخبری دی مبشرا برسول یاتی من بعدی اسمه احمد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا انا بشاره عیسیٰ بعینہ اسی طرح جب عیسیٰ علیہ السلام تشریف لائیں گے تو وہ بھی فرمائیں گے کہ میں ان آیات کا بذات خود مصداق بن کر آیا ہوں تو ان کے نزول سے ان آیات کی عملی تفسیر ہو جائے گی اور یہ آیات اور زیادہ شان سے چمکنے لگ جائیں گی نہ کہ منسوخ ہو جائیں گی۔
س : مرزا قادیانی نے کہا کہ میں مسیح موعود ہوں ہم نے کہا کہ اگر تو مسیح موعود ہے تو مسیح موعود تو دجال کو قتل کریں گے تو اس نے کہا کہ قتل دجال تلوار سے نہیں قلم سے ہو گا۔
ج : مشکوۃ شریف باب قصہ ابن صیاد ص ٤٧٩ میں شرح السنہ کے حوالے سے حدیث ہے کہ رحمت عالم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں ابن صیاد کے متعلق مشہور ہوا کہ وہ دجال ہے، رحمت عالم صلی اللہ علیہ وسلم اس کی تحقیق حال کے لیے گئے۔ حضرت عمرؓ آپؐ کے ساتھ تھے، انہوں نے تلوار نکال کر آپؐ سے اجازت چاہی کہ اگر اجازت ہو تو میں اسے قتل کر دوں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر یہ دجال ہے تو تم اسے قتل نہیں کر سکتے۔ اس کو عیسیٰ بن مریم علیہ السلام ہی قتل کریں گے۔ اگر یہ دجال نہیں تو تم اپنے ہاتھ قتل ناحق سے کیوں رنگین کرتے ہو، اس حدیث شریف نے
ثابت کر دیا کہ دجال سے لڑائی تلوار کے ساتھ ہو گی ورنہ جس وقت حضرت عمرؓ نے تلوار نکالی تھی حضور علیہ السلام فرما دیتے کہ اے عمرؓ یہ کیا کر رہے ہو اس سے تو جہاد قلم کے ساتھ ہو گا۔ حضرت عمرؓ کا تلوار نکالنا اور حضور علیہ السلام کا یہ فرمانا کہ اگر یہ دجال ہے تو تم قتل نہیں کر سکتے اس کو عیسیٰ بن مریم ہی قتل کرے گا۔ یہ دلیل ہے کہ اس بات کی کہ دجال کے ساتھ لڑائی تلوار کے ساتھ ہو گی نہ کہ قلم کے ساتھ۔
س: اگر دجال تلوار سے قتل ہو گا تو کہاں ہو گا؟
ج: حدیث شریف میں ہے کہ دجال مقام لد پر قتل ہو گا لد اس وقت اسرائیل میں واقع ہے۔ اسرائیلی ائرفورس کا ائیر بیس ہے دجال کے ساتھ اس وقت ستر ہزار یہودیوں کی جماعت ہو گی (ازالہ اوہام ص ٣٠٠) جو اس کے حامی اور مددگار ہوں گے جس وقت سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا اس وقت اسرائیل کا وجود تھا اور نہ ہی مقام لد کی کوئی اہمیت حاصل تھی۔ آپؐ کی صداقت پر قربان جائیں کہ کس طرح آج اسرائیل میں لد کو اہمیت حاصل ہے وہاں اس کی فوج کی چھاؤنی ہے گویا دجال آخر وقت تک یہود کی فوج میں پناہ لینے کی کوشش کرے گا۔ یہاں ایک اور بات قابل توجہ ہے کہ مرزا قادیانی ١٩٠٨ء میں مرا اور پاکستان ١٩٤٧ء میں بنا۔ پاکستان بننے کے دو سال بعد اسرائیل کی حکومت وجود میں آئی جس وقت مرزا قادیانی زندہ تھا اس وقت اسرائیل کا وجود بھی نہ تھا۔ مرزا کے مرنے کے اکتالیس سال بعد اسرائیل کی حکومت وجود میں آئی‘ مرزا قادیانی سور اپنی کتابوں میں مذاق اڑاتا ہے اس بات کا کہ ستر ہزار یہودی تو پوری دنیا میں نہیں ہیں وہ کس طرح دجال کے ساتھ ہوں گے لیکن اس بدبخت کو معلوم نہ تھا کہ ساری کائنات کا نظام بدل سکتا ہے۔ اللہ کے نبیؐ کی بات جھوٹ نہیں ہو سکتی‘ آج مرزا قادیانی کی قبر سے کوئی سوال کرے کہ اے بدبخت جن ستر ہزار یہودیوں سے متعلق حدیث کا مذاق اڑاتا تھا آج وہ نصف النہار کی طرح پوری ہو چکی ہے۔
س: عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کے وقت کیا حالت ہو گی؟
ج: جس وقت وہ نازل ہوں گے اس وقت انہوں نے دو زرد رنگ کی چادریں پہن رکھی ہوں گی مرزا قادیانی نے کہا کہ زرد رنگ کی چادروں سے مراد بیماری ہے۔
مجھے بھی دو مرض لاحق ہیں ایک بدن کے اوپر کے حصہ میں دوران سر‘ اور نیچے کے حصہ میں کثرت پیشاب۔
حقیقتہ الوحی ص ٣٠٧ روحانی خزائن ج ٢٢ ص ٣٢٠ کثرت پیشاب کی تشریح مرزا قادیانی کی دوسری کتاب نسیم دعوت کے ص ٧٤ پر ہے۔
بعض دفعہ سو سو مرتبہ ایک ایک دن میں پیشاب آیا ہے اور بوجہ اس کے پیشاب میں شکر ہے کبھی کبھی خارش کا عارضہ بھی ہو جاتا ہے۔
اب آپ انصاف فرمائیں کہ دنیا کی کسی لغت کی کتاب میں چادر کا معنی بیماری نہیں ہے۔ فقیر نے سعودی عرب‘ انڈونیشیا‘ سنگاپور‘ ملیشیا‘ تھائی لینڈ‘ برطانیہ‘ سری لنکا‘ شام‘ مصر‘ ڈنمارک‘ سویڈن‘ ناروے‘ کینیڈا کا سفر کیا ہے آج تک مجھے کوئی ایسی کتاب نہیں ملی جس میں چادر کا معنی بیماری لکھی ہو اور وہ بھی پیشاب کی وہ بھی ایسے جیسے ٹوٹا ہوا لوٹا جو ہر وقت بہتا رہتا ہے۔ سوچئے کہ کس طرح مرزا نے احادیث کا مذاق اڑایا ہے۔ دوران سر کو مرزا نے ہسٹریا تعبیر کیا ہے جیسے اس کی بیوی کا بیان ہے جو سیرۃ المہدی ج ١‘ ص ١٣ پر درج ہے۔
س : مرزا قادیانی نے مسیح علیہ السلام کی کیا کیا علامات لکھی ہیں؟
ج: مرزا قادیانی نے اپنی کتاب حقیقتہ الوحی کے ص ٣٠٧ پر لکھا ہے۔
- ١۔ وہ دو زرد چادروں کے ساتھ اترے گا۔
- ٢۔ نیز یہ کہ وہ فرشتوں کے کاندھوں پر ہاتھ رکھے ہوئے اترے گا۔
- ٣۔ نیز یہ کہ کافر اس کے دم سے مریں گے۔
- ٤۔ نیز یہ کہ وہ ایسی حالت میں دکھائی دے گا کہ گویا وہ غسل کر کے ابھی حمام سے
نکلا ہے اور پانی کے قطرے اس کے سر پر موتی کے دانے کی طرح ٹپکتے نظر آئیں گے اور یہ کہ وہ دجال کے مقابل پر خانہ کعبہ کا طواف کرے گا۔
- ٥۔ نیز یہ کہ وہ صلیب کو توڑے گا۔
- ٦۔ نیز یہ کہ وہ خنزیر کو قتل کرے گا۔
- ٧۔ نیز یہ کہ وہ بیوی کرے گا اور اس کی اولاد ہوگی۔
- ٨۔ نیز یہ کہ وہی ہے جو دجال کا قاتل ہوگا۔
- ٩۔ نیز یہ کہ مسیح موعود قتل نہیں کیا جائے گا بلکہ فوت ہو گا اور آنحضرت کی قبر میں
داخل ہو گا۔
سوال و جواب کی شکل میں مرزا قادیانی نے ان علامات کی جو تاویل و تحریف کی ہے اس کی بحث گزر چکی ہے۔
س: مرزا قادیانی نے علامات مسیح بیان کرتے ہوئے علامت نمبر ٢ میں دو فرشتوں سے مراد غیبی طاقتیں لیا ہے۔
ج: یہ حدیث کے ساتھ مرزا قادیانی کا ناروا استہزاء ہے دو فرشتوں سے مراد حقیقتہ دو فرشتے ہیں جو اللہ تعالیٰ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کے وقت ساتھ بھیجیں گے۔ ان کے کندھوں پر ہاتھ رکھ کر عیسیٰ علیہ السلام نزول فرمائیں گے ایک دفعہ مرزا نے کہا کہ فرشتوں سے مراد میرے یہ دو آدمی ہیں جو مجھے ملے ہیں۔ جب قادیانی جماعت اختلاف کا شکار ہوئی اور قادیانی اور لاہوری جماعت میں بٹ گئی تو مرزا بشیر الدین نے کہا کہ لاہوری منافق ہیں تو انہوں نے کہا کہ ان میں تو وہ بھی ہے جن کو حضرت نے فرشتہ قرار دیا اس پر مرزا بشیر الدین نے کہا کہ
”ہے تو حضرت کا فرشتہ مگر منافق ہو گیا۔
س: عیسیٰ علیہ السلام کے دم سے کافر مریں گے مرزا نے اس کی توجیہہ یہ کی کہ اس کی وجہ سے کافر ہلاک ہوں گے۔
ج: بالکل ٹھیک ہے اس میں کیا حرج ہے حدیث کے مطابق عیسیٰ علیہ السلام کو دیکھتے ہی دجال پگھلنا شروع ہو جائے گا جیسے نمک پانی میں اور کافر جہاں تک اس کی سانس پہنچے گی کافر مرتے جائیں گے۔ یہ حدیث ظاہر پر محمول ہے بالکل اس طرح وقوع ہو گا۔ آج انسان نے ایسی ایسی چیزیں ایجاد کی ہیں جیسے اشک آور گیس جہاں تک اس کا اثر پہنچتا ہے آنسو جاری ہو جاتے ہیں۔ ایک بم تیار ہو چکا ۔ اگر وہ چلا دیا جائے تو تمام دنیا آکسیجن جلنے کے باعث دم گھٹنے سے مرجائے یہ ساری انسان کی طاقت ہے عیسیٰ علیہ السلام کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی قدرت اور نصرت ہوگی ان سے کیا کچھ نہ ہو گا انسانی طاقت سے جو کچھ ہو سکتا ہے وہ خدا کی قدرت سے کیوں نہ ہو گا اور سب سے بڑھ کر یہ کہ ہمارے نبی کی بات پوری ہو گی۔
س : علامت نمبر ٤ کہ وہ ایسی حالت میں دکھائی دے گا کہ گویا کہ وہ غسل کر کے آیا ہے کہ گویا موتی ٹپک رہے ہیں۔ مرزا قادیانی نے حقیقتہ الوحی ص ٣٠٨ پر توجیہ کی ہے کہ وہ تضرع زاری ایسے کرے گا کہ گویا اس سے بار بار غسل کرے گا اور پاک غسل کے پاک قطرے موتیوں کی طرح اس کے سر پر سے ٹپکتے ہیں۔
ج: تمام انبیاء علیہم السلام اللہ کی بارگاہ میں تضرع و زاری کرتے ہیں، تو ان کے متعلق کیوں نہیں کہا گیا کہ ان کے سر کے بالوں سے موتیوں کی طرح پانی ٹپکے گا اس سے ثابت ہوا کہ یہ تضرع کا عمل نہیں بلکہ حقیقی پانی کا ٹپکنا مراد ہے۔
ج٢:- تو یہ زاری سے پانی آنکھوں سے ٹپکتا ہے نہ کہ سر سے۔
ج٣:- مرزا قادیانی کا یہ عذر سفید کذب، افتراء اور تحریف فی الحدیث ہے، حدیث شریف میں ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام کے سر کے بالوں سے پانی کے قطرات اس طرح گرتے ہوں گے کہ ابھی غسل کر کے تشریف لائے ہیں۔ اس کی محدثین نے دو توجیہات کی ہیں اور دونوں صحیح ہیں۔
- ١۔ جس وقت تشریف لے گئے تھے اس وقت غسل کر کے فارغ ہوئے تھے کہ
آسمانوں پر اٹھا لیے گئے تو جب آسمانوں پر گئے تو سر سے پانی ٹپک رہا تھا جب واپس تشریف لائیں گے تو بھی بالوں سے پانی ٹپک رہا ہوگا۔ آج کل کی سائنس نے یہ مسئلہ بھی حل کر دیا کہ واٹر کولر میں پانی جوں کا توں باقی رہتا ہے خراب نہیں ہوتا۔ فریج میں کسی چیز کو ہفتہ بھر جوں کا توں رکھا جا سکتا ہے۔ اگر کسی چیز کو کولڈ اسٹور میں رکھ دیں تو جوں کی توں سال بھر رہے گی خراب نہیں ہوگی۔ اگر انسان اپنی عقل و ہمت سے کسی چیز کو سنبھالنا چاہے جوں کا توں ایک دن ایک ہفتہ ایک سال تک سنبھال سکتا ہے۔ مگر رب کریم کی قدرت کو دیکھو کہ عیسیٰ علیہ السلام جس حالت میں گئے تھے جوں کے توں اسی حالت میں تشریف لائیں گے۔ انسان کی ہمت کی جہاں انتہا ہوتی ہے رب العزت کی قدرت کی وہاں سے ابتداء ہوتی ہے جب تشریف لے گئے تو بھی بالوں سے پانی ٹپک رہا تھا جب واپس تشریف لائیں گے تو بھی سر کے بالوں سے پانی ٹپک رہا ہو گا۔
- ٢۔ توجیہ یہ لکھی ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام کے بال مبارک ایسے نرم و نازک،
گھنگریالے اور تاب دار ہوں گے کہ ان پر نظر نہ ٹھہر سکے گی۔ ایسے محسوس ہوتا ہو گا کہ
سر کے بالوں سے قطرات ٹپک رہے ہیں۔ یہ دونوں توضیحات صحیح ہیں کوئی تضاد نہیں ہے۔
س : علامت نمبر ٥- دجال کے مقابلہ میں خانہ کعبہ کا طواف کریں گے (استغفر اللہ) یعنی یہ کہ دجالی طاقتیں چور کی طرح بیت اللہ کا طواف کریں گی۔ ان کے مقابلہ میں عیسیٰ علیہ السلام طواف کریں گے یعنی ان کو مٹا دیں گے۔
(حقیقۃ الوحی ص ٣١٠)
ج : حدیث شریف پر افتراء ہے یہ مرزا قادیانی کے ذہن کی پیداوار ہے۔ آج تک کسی محدث نے یہ نہیں لکھا کہ مرزا قادیانی کی یہ تاویل بالفاظ دیگر باطل احادیث اور خود رحمت عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی منشاء کے خلاف ہے۔ حدیث میں ہے کہ دجال ہر جگہ جائے گا‘ مگر مدینہ نہیں جائے گا۔ جبکہ مرزا کہتا ہے کہ چوروں کی طرح بیت اللہ کا طواف کرے گا‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ قتل دجال سے فراغت کے بعد عیسیٰ علیہ السلام مکہ مکرمہ آئیں گے حج یا عمرہ یا دونوں کریں گے‘ طواف کریں گے۔ بیت اللہ سے فارغ ہونے کے بعد میرے روضہ طیبہ پر آئیں گے‘ وہ سلام کہیں گے میں سنوں گا‘ میں جواب دوں گا وہ سنیں گے۔ تفصیل کے لیے دیکھئے۔
التصریح بما تواتر فی نزول المسیح۔
اب ان الفاظ کو سامنے رکھیں تو مرزائیوں کی کوئی تاویل نہیں چل سکتی‘ ہاں البتہ مرزا قادیانی کی یہ تاویل خود قادیانیوں پر فٹ ہے کہ دعویٰ نبوت کرنے والا دجال اور وہ ہے مرزا بے ایمان اسے ماننے والی دجالی طاقت ان کے ہو گئے دو گروہ یا تو دجالی طاقت کی بجائے دو طاقتیں ہو گئے‘ ان کے حرم کعبہ میں جانے پر پابندی ہے تو یہ چوروں کی طرح چوری جا کر طواف کریں گے‘ یعنی ان کو مٹا دیں گے اس لیے کہ جب حقیقی مسیح آ جائے گا تو جھوٹے مسیح کو ماننے والا کوئی نہیں رہے گا۔ پس مرزا کی تاویل خود مرزائیوں پر فٹ آتی ہے۔
س : صلیب کو توڑے گا‘ مرزا قادیانی نے اپنی کتاب حقیقۃ الوحی کے ص ٣٠٧ پر یہ کہا کہ اس سے مراد یہ ہے کہ وہ صلیبی عقیدہ کو توڑے گا‘ مرزے قادیانی نے اپنی اس کتاب کے ص ٣١١ میں اس کی تاویل یہ کی ہے کہ صلیب سے مراد لکڑی سونا چاندی
نہیں ۔ بلکہ صلیبی عقیدہ کو توڑیں گے۔
ج : یہودی‘ عیسائی جو مقابلہ کریں گے مارے جائیں گے باقی ماندہ مسلمان ہو جائیں گے‘ تو جب صلیب والے نہ رہے تو صلیب کب رہے گی‘ جو صلیب کے پرستار تھے وہ مسلمان ہو کر صلیب شکن بن جائیں گے اس لیے یہ عیسیٰ علیہ السلام کے زمانہ میں ہو گا‘ آپ کے حکم سے ہو گا۔ اس لیے صلیب شکنی کی آپ کی طرف نسبت کر دی گئی‘ باقی مرزا کا یہ تاویل کرنا کہ صلیبی عقیدہ کو توڑے گا یہ باطل ہے اس لیے کہ بقول مرزا کے اس نے عیسیٰ علیہ السلام کو وفات شدہ کہہ کر عیسائیوں کے عقیدہ کو توڑا اس سے عیسائیوں کی صحت پر کیا اثر پڑ سکتا ہے۔ دنیا میں ایک بھی مسیحی عیسیٰ علیہ السلام کے دوبارہ دنیا میں تشریف لانے کا منکر نہیں ہے تو اس سے عیسائیوں کا عقیدہ کب ٹوٹا‘ پس ثابت ہوا کہ صلیب شکنی سے مراد حقیقی صلیب کو توڑنا ہے نہ کہ صلیبی عقیدہ کو ۔
س : علامت ٨ پر بحث گزر چکی ہے نمبر ٩ زیر بحث ہے‘ نیز یہ کہ وہ بیوی کرے گا اور اس کی اولاد ہو گی اس کی مرزا قادیانی نے انجام آتھم کے ص ٢٧٣ کے حاشیہ پر یہ تاویل لکھی ہے (اس پیشین گوئی کی ”انجام آتھم“ میں محمدی بیگم والی) تصدیق کے لیے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی پہلے سے ایک پیشین گوئی فرمائی ہے کہ يتزوج ويولد یعنی مسیح موعود بیوی کرے گا اور نیز وہ صاحب اولاد ہو گا۔ اب ظاہر ہے کہ تزوج اور اولاد کا ذکر کرنا عام طور پر مقصود نہیں کیونکہ عام طور پر ایک شادی کرتا ہے اور اولاد بھی ہوتی ہے اس میں کچھ خوبی نہیں بلکہ تزوج سے مراد ایک خاص تزوج ہے جو بطور نشان ہو گا‘ اس جگہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان سیاہ دل منکروں کو ان کے شبہات کا جواب دے رہے ہیں۔
ج : مرزا قادیانی نے محمدی بیگم سے شادی کے شوق میں حدیث شریف میں تحریف کی ہے ورنہ حدیث شریف میں تزوج ویولد محض اس لیے فرمایا گیا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے رفع سے قبل شادی نہیں کی تھی۔ تو حضور علیہ السلام نے فرمایا کہ وہ نزول کے بعد شادی کی سنت پر عمل کریں گے اور یہ کہ ان کی اولاد ہوگی (دو صاحبزادے ایک کا نام محمد‘ دوسرا موسیٰ) دوسرا یہ کہ مرزائیوں کا یہ اعتراض ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام آسمانوں پر اتنا لمبا قیام کریں گے تو مرور زمانہ کا ان کی صحت پر کیا
اثر ہو گا اور یہ کہ وہ پیر فرتوت ہو گئے ہوں گے۔ حضور علیہ السلام نے اس حدیث شریف میں یہ جواب دیا کہ وہ اتنے طاقت ور ہوں گے کہ وہ شادی کریں گے اور اتنے ہمت والے ہوں گے کہ ان کی اولاد بھی ہو گی مرور زمانہ کا واپسی پر ان پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔ باقی رہی یہ بات کہ اس سے مراد محمدی بیگم تو اس کا جو حال ہوا ہے وہ سب جانتے ہیں۔
س: علامت نمبر ٩۔ دجال کو قتل کریں گے‘ مرزا قادیانی نے اپنی کتاب حقیقۃ الوحی کے ص ٣١٣ پر اس کی تاویل یہ کی ہے کہ دجال کو قتل کریں گے اس کا معنی یہ ہے کہ اس کے ظہور سے دجالی فتنہ روبزوال ہو جائے گا۔
ج ١: دجال سے مراد حقیقۃ قتل دجال ہے جیسا کہ مشکوٰۃ شریف کے ص ٤٧٩ کی حدیث درج کی جاچکی ہے۔
ج ٢: مرزا قادیانی کی یہ تاویل بھی غلط ہے اس لیے کہ یہ خود کو مسیح کہتا ہے اور اپنے ظہور سے دجالی فتنہ کے روبزوال ہونے کا اقرار کرتا ہے لیکن واقعہ یہ ہے کہ مرزا کے زمانہ میں تو درکنار اس کے مرنے کے بعد بھی عیسائیت مزید ترقی کرتی گئی حوالہ یہ ہے کہ
کیا آپ کو معلوم ہے کہ اس وقت ہندوستان میں عیسائیوں کے ١٣ مشن کام کر رہے ہیں‘ یعنی ہیڈ مشن ان کی برانچوں کی تعداد بہت زیادہ ہے‘ ہیڈ مشنوں میں ١٨٠ سے زیادہ پادری کام کرتے ہیں‘ چار سو تین ہسپتال ہیں جن میں ٥٠٠ ڈاکٹرز کام کر رہے ہیں‘ ٤٣ پریس ہیں اور تقریباً ١٢٠ اخبارات مختلف زبانوں میں چھپتے ہیں ٥١ کالج‘ ٤١٧ ہائی اسکول اور ٤ ٹریننگ کالج ہیں ان میں ٦٠٠٠٠ طالب علم تعلیم پاتے ہیں مکتی فوج میں ٣٠٨ یورپین اور ٢٨٨ ہندوستانی مناد کام کر رہے ہیں۔ اس کے ماتحت ٥٠٧ پرائمری سکول ہیں جن میں ١٨٦٧٥ طالب علم ہیں۔ ١٨ بستیاں اور ١١ اخبارات ان کے اپنے ہیں۔ اس فوج کے مختلف اداروں کے ضمن میں ٣٢٩٠ آدمیوں کی پرورش ہو رہی ہے‘ اور ان سب کی کوششوں کا نتیجہ یہ ہے کہ کہا جاتا ہے کہ روزانہ دو سو چوبیس مختلف مذاہب کے آدمی ہندوستان میں عیسائی ہو رہے ہیں۔ اس کے مقابلہ میں مسلمان کیا کر رہے ہیں؟ تو وہ اس کام کو شاید قابل توجہ بھی نہیں سمجھتے۔ احمدی جماعت کو سوچنا چاہیے کہ عیسائی
مشنوں کے اس قدر وسیع جال کے مقابلہ میں اس کی مساعی کی حیثیت کیا ہے ہندوستان بھر میں ہمارے درجن مبلغ ہیں اور وہ بھی جن حالات میں کام کر رہے ہیں انہیں ہم لوگ خوب جانتے ہیں (اخبار الفضل قادیان مورخہ ١٩ جون ١٩٤١ء)
نوٹ : مرزا قادیانی ١٩٠٨ء میں مرا تھا یہ مرزائیوں کے اخبار ١٩٤١ء کی رپورٹ ہے کہ عیسائیت ترقی کر رہی ہے اس کے مرنے کے بعد ٣٣ سال کے بعد کی رپورٹ نے ثابت کر دیا کہ دجالی فتنہ روبزوال ہونے والی اس کی تاویل بھی غلط ہے۔
س : علامت نمبر ١٠ : مسیح موعود کو قتل نہیں کیا جائے گا بلکہ فوت ہو گا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر میں داخل کیا جائے گا‘ مرزا نے اپنی کتاب حقیقت الوحی کے ص ٣١٣ پر اس کی تاویل یہ کی کہ اسے حضور علیہ السلام کا قرب نصیب ہو گا۔ ظاہری تدفین مراد نہیں اس لیے کہ حضور علیہ السلام کا روضہ طیبہ کھولا گیا تو اس سے آپ کی توہین لازم آئے گی۔
ج : روضہ طیبہ کی دیواروں کو نہیں توڑا جائے گا۔ ایک دیوار جالی مبارک والی ہے جہاں پر کھڑے ہو کر درود و سلام پڑھا جاتا ہے اس میں تو دروازہ موجود ہے مسلم سربراہان اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے روضہ اقدس اور مسجد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کے خدام کے لیے کھولا جاتا ہے آگے والی دیوار مبارک جس پر پردہ مبارک ہے قبور مقدسہ تک جتنی دیواریں یا پردے ہیں ان سب میں دروازے موجود ہیں بعد میں ان کو ہی چن دیا گیا جب عیسیٰ علیہ السلام کی تدفین ہو گی تو معمولی سی کوشش سے ان دروازوں کو دوبارہ کھول دیا جائے گا اس سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی توہین نہ ہو گی۔ نیز یہ کہ آپ کے فرمان اقدس کو پورا کرنے کے لیے تمام رکاوٹوں کو دور کرنا آپؐ کی عین اطاعت ہے نہ کہ توہین۔
قادیانی اخلاق
ایک سازش ــــ ایک جال
محمد طاہر رزاق
ایک سادہ لوح دوست مجھے کہنے لگا کہ جناب آپ تو ہر وقت ہاتھ دھو کر قادیانیوں کے پیچھے پڑے رہتے ہیں۔ ان کے خلاف زبان و قلم کو متحرک رکھتے ہیں حالانکہ قادیانی تو بڑے با اخلاق ہوتے ہیں۔ بڑی محبت سے ملتے ہیں۔ بڑی الفت سے مصافحہ کرتے ہیں۔ بڑے غمگسار بن کر خیر و عافیت دریافت کرتے ہیں۔ بڑی میٹھی اور رسیلی زبان میں گفتگو کرتے ہیں۔ ان کے لہجے میں بڑی انکساری ہوتی ہے اور ان کے الفاظ بڑے ملائم اور ٹھنڈے ہوتے ہیں۔
اسکی لاعلمی دیکھ کر اور اس کی فریب خوردگی ملاحظہ کر کے میری لوح دماغ پر مرشد اقبال کے قادیانیت کے بارے میں اسی صورت حال کو بیان کرتے ہوئے مندرجہ ذیل اشعار بجلی بن بن کر کوندنے لگے۔
آپ بھی یہ اشعار پڑھئے اور دیکھئے کہ ملت اسلامیہ کا یہ غمگسار حکیم الامت قادیانیوں کے دام تزویر میں پھنسے ہوئے ایسے مسلمانوں کی سادہ لوحی اور جہالت پر کس طرح رویا ہے۔
کرے کہیں منزل تو گزرتا ہے بہت جلد
تحقیق کی بازی ہو تو شرکت نہیں کرتا
ہو کھیل مریدی کا تو ہارتا ہے بہت جلد
تاویل کا پھندا کوئی صیاد لگا دے
یہ شاخ نشیمن سے اترتا ہے بہت جلد
میں نے اس دوست سے کہا ”جناب ہماری تو قادیانیوں سے جنگ ہے۔ آپ کی تو قادیانیوں سے کوئی جنگ نہیں اور نہ آپ ان کے پیچھے ہاتھ دھو کر پڑے ہیں۔ آپ ان کے لیے ایک بے ضرر انسان ہیں۔ میں آپ کو بتانا چاہتا ہوں کہ آپ جیسا شخص جو صرف ساحل کا تماشائی ہے اس کے بارے میں قادیانی کتنے با اخلاق ہیں۔“
میں نے اس سے کہا کہ اے قادیانیوں سے صلح جو انسان ذرا آنکھیں بھی کھول اور کان بھی کھول۔۔۔۔
قادیانیوں کے مہکتے جملے سن
قادیانیوں کی میٹھی تحریریں پڑھ
قادیانیوں کی عطر بیز عبارتیں دیکھ
ان کا شیریں لہجہ دیکھ
ان کے طرز تکلم سے کانوں میں رس گھول
ان کے اخلاق عالیہ سے اپنے قلب و جگر کو ٹھنڈا کر
میں نے اسے پوری طرح متوجہ کر کے قادیانیوں کی عبارتیں سنانا شروع کیں۔
- O ”جو شخص تیری پیروی نہیں کرے گا اور تیری جماعت میں داخل نہیں ہو گا وہ خدا
اور رسول کی نافرمانی کرنے والا جہنمی ہے۔“
(اشتہار مرزا غلام احمد قادیانی، مندرجہ تبلیغ رسالت، جلد نمبر ٩، ص ٢٧)
میں نے کہا کہ اس عبارت کی رو سے
تو رسول کا نافرمان ہے۔
تو جہنمی ہے۔
- O ”میری ان کتابوں کو ہر مسلمان محبت کی نظر سے دیکھتا ہے اور اس کے معارف سے
فائدہ اٹھاتا ہے اور میری دعوت کی تصدیق کرتا ہے اور اسے قبول کرتا ہے مگر رنڈیوں (بدکردار عورتوں) کی اولاد نے میری تصدیق نہیں کی۔“
(آئینہ کمالات اسلام، ص ٥٤٧، مصنفہ مرزا قادیانی)
اس عبارت کی رو سے
- O ”میرے مخالف جنگلوں کے سور ہو گئے اور ان کی عورتیں کتیوں سے بڑھ
گئیں۔“
(نجم الہدیٰ، ص ١٥، مصنفہ مرزا قادیانی)
اس عبارت کی رو سے ”تو‘ تیرا باپ‘ تیرے بھائی‘ تیرا دادا‘ تیرا نانا‘ تیرے چچا‘ تیرے ماموں وغیرہم سب جنگل کے ”سور“ اور اسی طرح تیری ماں‘ تیری نانی‘ تیری دادی‘ تیری خالہ‘ تیری بہنیں ...... وغیرہم ”کتیوں“ سے بڑھی ہوئی ہیں۔
- ”جو ہماری فتح کا قائل نہیں ہو گا تو سمجھا جائے گا کہ اس کو ولد الحرام بننے کا شوق
ہے اور وہ حلال زادہ نہیں۔“
(انوار الاسلام ص ٣٠‘ مصنفہ مرزا قادیانی)
اس عبارت کی رو سے تو حرام زادہ ہے‘ تیری ماں زانیہ ہے‘ تیرا باپ ایک بے غیرت انسان ہے۔
- ”ہر ایک شخص جس کو میری دعوت پہنچتی ہے اور اس نے مجھے قبول نہیں کیا وہ
مسلمان نہیں۔“
(حقیقۃ الوحی‘ ص ١٦٣‘ مصنفہ مرزا قادیانی)
اس عبارت کی رو سے تو کافر ہے۔
- ”اور جو میرے مخالف تھے‘ ان کا نام عیسائی اور یہودی اور مشرک رکھا گیا۔“
(نزول المسیح‘ مصنفہ مرزا قادیانی‘ حاشیہ ص ٤۔ مندرجہ کلمۃ الفصل ص ٦٢)
اس عبارت کی رو سے تو عیسائی ہے‘ تو یہودی ہے‘ تو مشرک ہے۔
- ”ایک شخص نے حضرت خلیفہ المسیح الاول‘ حکیم نور الدین صاحب سے سوال کیا
کہ حضرت مرزا صاحب کے ماننے کے بغیر نجات ہے یا نہیں۔ فرمایا ”اگر خدا کا کلام سچا ہے تو مرزا صاحب کے ماننے کے بغیر نجات نہیں ہو سکتی۔“
(رسالہ تشحیذ الاذہان‘ قادیان نمبر ١١‘ ص ٢٤‘ بابت ماہ نومبر ١٩١٤ء‘ اخبار بدر جلد ١٢
نمبر ٢۔ مورخہ ١١ جولائی ١٩١٣ء)
اس عبارت کی رو سے آخرت میں تیری نجات نہیں ہو سکتی اور تو واصل جہنم ہو گا۔
- ”جو لوگ انسانوں میں سے شیطان ہیں وہ مجھے نہیں مانتے۔“
(چشمہ معرفت، ص ٣١٧ مصنفہ مرزا قادیانی)
اس عبارت کی رو سے ۔۔۔ تو شیطان ہے۔
میں نے اسے کہا کہ میں نے تجھے یہ نہیں بتایا کہ قادیانی اللہ، رسول اللہ، کتاب اللہ، کعبتہ اللہ، مکہ مکرمہ، مدینہ منورہ، احادیث رسول، امہات المومنین، صحابہ کرام اور اولیائے امت کے بارے میں کیا کیا بکتے ہیں۔ میں نے تو تجھے صرف تیرے بارے میں بتایا ہے کہ قادیانی تجھ جیسے بے ضرر انسان کو جس کے ہاتھ اور زبان سے انہیں کوئی مزاحمت نہیں سہنا پڑی اس کے بارے میں قادیانیوں کے نظریات کیا ہیں۔
میں نے اسے کہا کہ دیکھ لیا تو نے قادیانیوں کے اخلاق کہ ان کے ہاتھ سے تیری عفت ماب ماں کی عزت بھی محفوظ نہیں، ان کی زبان سے تیری با عصمت بہنوں کی حرمت بھی مامون نہیں۔ ان کے قلم سے تیرے شریف باپ کی آبرو بھی سلامت نہیں۔ تیرے دادا اور نانا جیسی باریش بزرگ ہستیاں بھی ان کی زبان کی نیش زنی سے نہیں بچیں۔
میں نے دیکھا کہ بار ندامت سے اس کی نگاہیں جھک گئی ہیں، اس کا سر نیچے ڈھلک چکا ہے اور اسے اپنے سابقہ طرز فکر پر بڑا تاسف اور افسوس ہے۔
طاہر بھائی! "اگر یہ لوگ اندر سے اتنے کالے اور زہریلے ہوتے ہیں تو پھر ظاہری طور پر اتنے با اخلاق اور با مروت کیوں ہوتے ہیں؟ اس نے سوال کیا۔
"دنیا کے ہر لٹیرے اور فریبی کو ایسا ہی روپ اختیار کرنا پڑتا ہے۔ میں نے جواب دیا۔
- O جب کوئی بدکار کسی بچے کو اغوا کرنا چاہتا ہے تو اسے بڑے پیار سے اپنے پاس بلاتا
ہے۔ اس کے سر پر ہاتھ پھیرتا ہے۔ ماتھا چومتا ہے اور مسکراتے ہوئے اسے ٹافی کھانے کے لیے دیتا ہے۔ بچہ اسے اپنا ہمدرد سمجھ کر ٹافی منہ میں ڈال لیتا ہے۔ ٹافی میں بے ہوش کرنے والی دوائی ہوتی ہے۔ ادھر اس نے ٹافی کھائی ادھر وہ بے ہوش ہوا اور جب اسے ہوش آیا تو کسی عقوبت خانے کا اسیر تھا۔ معصوم بچے کو کیا معلوم تھا کہ ٹافی کھانے کے بعد وہ کبھی بھی واپس اپنے گھر نہیں جاسکے گا۔ اس کے کھلونے اس کے منتظر رہ جائیں گے وہ کبھی بھی اپنے بہن بھائیوں کو دیکھ نہ سکے گا۔ اس کی ماں کی ممتا ہمیشہ ماہی بے آب کی طرح تڑپتی رہے گی
اور اس کے باپ کی آنسو ٹپکتی آنکھیں ہمیشہ اسے نگر نگر ڈھونڈتی رہیں گی۔
- O افغانستان پر جب روس نے حملہ کیا تو ظالم روسی تخریب کار افغانستان کے شہروں
اور دیہاتوں میں بچوں کے کھیلنے کی جگہ پر ”کھلونے بم“ بکھیر دیتے۔ یہ ”کھلونے بم“ خوبصورت کھلونوں کی شکل میں ہوتے۔ بچے جب ان دیدہ زیب کھلونوں کو دیکھتے تو انہیں اپنے کسی محسن کا تحفہ سمجھتے۔ خوشی سے تمتماتے رخساروں کے ساتھ مسکراتے ہوئے ان کھلونوں سے کھیلنے لگتے اور پھر تھوڑی دیر کے بعد یہ ”کھلونے بم“ پھٹ جاتے۔ بچے خاک و خون میں تڑپنے لگتے۔ ان کی معصوم مسکراہٹیں دلدوز چیخوں میں بدل جاتیں۔ کسی کا ہاتھ نہیں ہے۔ کسی کا پاؤں نہیں ہے۔ کسی کی قوت بینائی نہیں ہے۔ کسی کی قوت شنوائی نہیں ہے اور کوئی زندگی کی بازی ہار گیا ہے۔ وہ جگہ جہاں تھوڑی دیر پہلے ننھے ننھے ہاتھ پاؤں شوخیاں کر رہے تھے اب وہ مقتل بن چکی ہے۔ جہاں تھوڑی دیر پہلے قہقہوں کی گونج تھی وہاں اب ماؤں کی چیخوں نے آسمان سر پر اٹھا لیا ہے۔
- O مچھلی کا شکاری کانٹے پر گوشت کا ٹکڑا لگا کر اسے دریا میں پھینک کر شکار کے انتظار
میں بیٹھ جاتا ہے۔ ایک مچھلی کانٹے کے پاس سے گزرتی ہے۔ گوشت کو دیکھ کر اس کا دل للچانے لگتا ہے اور وہ گوشت کے ٹکڑے کو کسی شفیق انسان کا تحفہ سمجھتی ہے اور دل میں سوچتی ہے کہ یہ شخص مجھ پر کتنا مہربان ہے کہ اس نے اس دریا میں میری ضیافت کا اہتمام کیا یہ سوچ کر وہ منہ کھولے گوشت کے ٹکڑے کی طرف بڑھتی ہے۔ ایک بزرگ مچھلی راستہ روک کر اس کے سامنے آجاتی ہے اور اسے کہتی ہے خبردار! اس گوشت کے ٹکڑے کے پاس مت جانا۔ یہ گوشت کا ٹکڑا کسی محسن کا تحفہ نہیں بلکہ ایک شکاری کا حربہ ہے، جو تمہیں پکڑنے کے لیے استعمال کیا گیا ہے۔ جونہی تم گوشت کھانے لگو گی تیز کانٹا تمہارے منہ میں چبھ جائے گا۔ تم خود کو کانٹے کی گرفت سے چھڑا نہ سکو گی۔ ایک زور دار جھٹکا لگے گا اور تم دریا سے خشکی پر موت کا رقص کر رہی ہو گی۔ تمہارے مرنے کے بعد شکاری تمہارے جسم کی کھال کو کھرچ کھرچ کر اتار پھینکے گا۔ پھر ایک خطرناک چھرے کے ساتھ تمہارے ٹکڑے ٹکڑے کرے گا۔ پھر ان ٹکڑوں کو نمک مرچ لگائے گا۔ پھر ان ٹکڑوں کو ایک کڑاہی جس میں کھولتا ہوا تیل ہو گا، اس میں پھینک دے گا۔ جب تمہارے ٹکڑے پک جائیں گے تو پھر تمہارے اس محسن کے دو ہاتھ تمہاری طرف بڑھیں گے اور ان ہاتھوں کی دس انگلیاں
تمہارے ٹکڑوں کو توڑ ڈالیں گی۔ پھر تمہارے گوشت کو تمہارے محسن کے بتیس دانت پیسیں گے۔ پھر تم اپنے محسن کے تاریک پیٹ میں اتر جاؤ گی۔ کچھ گھنٹے وہاں قیام کرنے کے بعد تم گل سڑ کر فضلہ بن جاؤ گی اور تمہارا محسن اس فضلے کو اپنے پیٹ سے باہر نکال دے گا۔ لہٰذا اے مچھلی ! تو اس گوشت کے ٹکڑے کے پاس مت جانا۔ لیکن وہ مچھلی اس بزرگ مچھلی کی سوچ کو دقیانوسی، رجعت پسند، غیر حقیقی، فرسودہ اور بے وقعت قرار دے کر جھٹک دیتی ہے پھر جونہی وہ گوشت کے ٹکڑے کو کھانے لگتی ہے تو نہایت باریک اور تیز کانٹا اس کے منہ میں چبھ جاتا ہے اور شکاری کے ایک جھٹکے سے وہ دریا سے باہر خشکی پر تڑپ رہی ہوتی ہے اور پھر اس کے جسم پر وہ سارے وار ایک ایک کر کے آزمائے جاتے ہیں اور پھر بڑی شدت کے ساتھ اسے بزرگ مچھلی یاد آتی ہے لیکن موت کے بعد کف افسوس ملنے سے کیا حاصل ہوتا ہے؟
میں نے کہا ”اے فریب قادیانیت میں مبتلا سادہ دل انسان!“
قادیانیوں کے ہر چال کے پیچھے ایک جال ہوتا ہے۔
ان کی ہر مسکراہٹ کے پیچھے ایک زہر ہوتا ہے
ان کی اسلامی گفتگو کے پیچھے مرزا قادیانی کی جعلی نبوت کی ہولناک سازش ہوتی ہے۔
ان کی ہر نمائشی تعمیر کے پیچھے اک منظم تخریب ہوتی ہے۔
ان کی دوستی کے پیچھے ارتداد کا دو دھاری خنجر ہوتا ہے۔
ان کی معاشی مدد کے پیچھے کفر کا پھندہ ہوتا ہے۔
ان کی تعلیم کے پیچھے ذہنی ارتداد کے بیج ہوتے ہیں۔۔۔ اور ان کے ہر نعرے کے پیچھے امریکہ اور اسرائیل کا مفاد ہوتا ہے۔۔۔
نگاہ زہر پہ رکھ‘ خوشنما بدن پہ نہ جا
طالب شفاعت محمدیؐ بروز محشر
محمد طاہر رزاق
حرفِ ناقدانہ
بجواب
اک حرفِ ناصحانہ
مولانا
منظور احمد
چنیوٹی
قادیانیوں نے ایک پمفلٹ ”اک حرف ناصحانہ“ کے نام سے چھپوا کر راتوں رات لاکھوں کی تعداد میں پورے ملک میں تقسیم کیا ہے۔ جس میں اپنے آپ کو بڑا مظلوم ظاہر کر کے سادہ لوح مسلمانوں کو کئی طرح سے مغالطے دینے کی کوشش کی گئی ہے اور بڑی جرات و جسارت سے آئینی ترمیم کے خلاف اپنے مسلمان ہونے پر اصرار کیا ہے اور اسلام کی وہ مقدس اصطلاحات جو ٢٦ اپریل ١٩٨٤ء کو ایک نوٹیفکیشن کے ذریعے ممنوع ہو چکی ہیں ان کو نہ صرف استعمال کر کے قانون شکنی کا مظاہرہ کیا ہے بلکہ ان پر اصرار بھی کیا ہے کہ یہ ہمارا حق ہے اور ہمیں اس سے کوئی روک نہیں سکتا۔
اس پمفلٹ سے مسلمانوں کے جذبات مشتعل ہوئے اور ان میں اضطراب و بے چینی کی ایک لہر دوڑ گئی۔ جگہ جگہ ان کے خلاف احتجاج ہوا۔ اب یہ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ ان کی قانون شکنی اور آئین سے بغاوت کا فوری نوٹس لے۔ امید ہے کہ حکومت اسے ضبط کر کے فوری طور پر ان کے خلاف قانونی کاروائی کرے گی۔
ان کے دجل و فریب کا پردہ چاک کرنے کے لیے یہ چند سطور ”حرف ناقدانہ“ کے نام سے اس ”اک حرف ناصحانہ“ کا مختصر جواب ہے تاکہ سادہ لوح مسلمانوں پر اصل حقیقت واضح ہو جائے۔ مرزائیوں کے اس پمفلٹ کا مقصد اور لب لباب یہ ہے کہ علماء اسلام نے اپنے جائز مطالبات منظور نہ ہونے کی صورت میں ٣٠ اپریل کو مرزائیوں کی عبادت گاہوں کو گرا دینے کا سنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مطابق جو فیصلہ کیا ہے اس کے خلاف واویلا مچا کر مسلمانوں کی غیرت کو سلانے کی کوشش کی جائے اور علما کا ساتھ دینے سے باز رکھا جائے۔
”اک حرف ناصحانہ“ جس کے مصنف کا نام ظاہر نہیں کیا گیا ضیاء الاسلام پریس ربوہ سے سید عبد الحئی صاحب نے شائع کیا ہے۔ ظاہر ہے کہ جب ان کے مرکز سے شائع ہوا ہے اور مصنف کا نام ظاہر نہیں کیا گیا تو یہ پمفلٹ ان کی جماعت کے سربراہ مرزا طاہر احمد کی طرف سے ہے اور اس کے تمام مندرجات کا وہی ذمہ دار ہے۔۔۔ حکومت پاکستان جو آئے دن مرزائیوں کے متعلق مختلف بیانات دے رہی ہے اس کی طرف سے اس پمفلٹ کو اب تک ضبط نہ کرنا اور اس کے ذمہ داروں کو قانون کے شکنجے میں نہ کسنا
بدترین قسم کی ڈھٹائی ہے جس کے لیے کوئی وجہ جواز پیش نہیں کی جاسکتی۔
ص ٣ پیش لفظ کی ابتدا:
"یہ ایک حیران کن توارد ہے کہ وطن عزیز پاکستان کو جب بھی سیاسی عدم استحکام اور اندرونی و بیرونی خطرات کا سامنا ہوتا ہے تو ایک مخصوص طبقہ علما جو زیادہ تر جمعیت علماء پاکستان (پاکستان نہیں ”اسلام“ (ناقل)) احراری گروپ سے تعلق رکھتا ہے۔ ملک کی توجہ اصل اور حقیقی خطرات سے ہٹا کر جماعت احمدیہ کی طرف منعطف کرنے کی بھرپور کوشش شروع کردیتا ہے“ اور ص ٥ پر ہے :
"احمدیوں کو قوم، وطن اور اسلام کا غدار قرار دیا جارہا ہے"
ج : وطن عزیز کو جب بھی اندرونی و بیرونی خطرات کا سامنا ہو تو ہر محب وطن کا فرض ہے کہ حکومت کو ان خطرناک دشمنوں سے خبردار کرے جو ملک وملت کے غدار ہوں۔
"قادیانی جماعت ملک اور اسلام دونوں کی غدار ہے" (علامہ اقبالؒ)
ان کی ملک دشمنی اسلام دشمنی سے بھی زیادہ واضح ہے۔ اسلام کے بدترین دشمن اسرائیل سے ان کے مراسم و روابط ڈھکے چھپے نہیں۔ پاکستان کے بدترین دشمن انڈیا کے یہ سب سے بڑے جاسوس ہیں۔ پاکستان کی نسبت ان کی تمام تر عقیدت و محبت انڈیا کے ساتھ ہے۔ کیونکہ اس میں ان کے ”نبی“ غلام احمد قادیانی کا مولد و مدفن قادیان میں موجود ہے جو ان کے نزدیک مکہ اور مدینہ سے زیادہ متبرک اور مقدس ہے۔ پھر مرزا بشیر الدین محمود کی پیشگوئی ”اکھنڈ ہندوستان“ اور یہ کہ پاکستان کا وجود عارضی ہے اور ہمیں کوشش کرنی چاہیے کہ جلد اکھنڈ ہندوستان بنے۔ (الفضل ٥ اپریل ١٩٤٧ء)
تمام قادیانی اپنے امام کی اس پیشگوئی کو پورا کرنے کے لیے سر دھڑ کی بازی لگائے ہوئے ہیں۔ پاکستان کو انہوں نے اپنا ملک ہی نہیں تسلیم کیا۔ اسی لیے تو ربوہ کے قبرستان میں اپنی نعشیں بطور امانت دفن کراتے ہیں کہ اکھنڈ ہندوستان بننے پر ان کو قادیان منتقل کر دیا جائے گا۔ ”بہشتی مقبرہ ربوہ“ میں مرزا بشیر الدین محمود کی یہ وصیت آج بھی لکھی
ہوئی موجود ہے۔ کیا کسی اور پاکستانی کی بھی ایسی وصیت ہے کہ ہمیں ہندوستان لے جا کر دفن کیا جائے؟ اس لیے ہر محب وطن کا فرض ہے کہ وطن عزیز کو جب خطرات کا سامنا ہو تو ان مار آستین لوگوں سے حکومت کو خبردار کرے۔ اس میں احراری علما کو اگرچہ اولیت کا شرف حاصل ہے لیکن علماء کی مجلس عمل میں ہر مکتب فکر کے علما شامل ہوتے ہیں ۔ پوری قوم، ملک وملت کے ان غداروں کے خلاف کھڑی ہو جاتی ہے۔
ص ٦٥ پر تحریر کرتے ہیں:
”احمدیوں کے خلاف کھلم کھلا قتل و غارت کی تلقین کی جا رہی ہے۔ ان کے اموال لوٹنے کی ترغیب دی جا رہی ہے۔ ان کے شہری حقوق اور مذہبی آزادی کو سلب کرنے کے مشورے دیے جا رہے ہیں“
ج : یہ جھوٹ اور بہتان عظیم ہے۔ صرف حکومت سے مطالبہ ہے کہ قادیانی اگر پاکستان کے باشندے ہیں تو ان سے آئین پاکستان کی پابندی کرائیں۔ یہ آئین کی رو سے غیر مسلم ہیں۔ یہ اپنے آپ کو مسلمان نہ کہیں۔ اسلامی اصطلاحات استعمال نہ کریں۔ اگر ٣٠ اپریل تک مجلس عمل کے جائز مطالبات تسلیم نہ کیے گئے تو سنت نبویؐ کے مطابق ان غیر مسلموں (مرزائیوں) کی عبادت گاہیں جو مسجدوں کے نام سے دھوکہ کا سبب بنتی ہیں وہ مسمار کر دی جائیں گی۔ قتل و غارت کی نہ ترغیب ہے اور نہ ہی کوئی پروگرام۔
ص ٧٨ پر ہے:
”اسلام شرف انسانیت اور آزادی ضمیر کا علمبردار ہے۔ اسلام آزادی ضمیر، حریت فکر اور مذہبی رواداری کا اس شدت سے داعی ہے کہ اس کی نظیر دیگر مذاہب میں نہیں ملتی۔ پس زیر نظر مطالبہ اسلام کے نام پر پیش کرنا یقیناً اسلام کی تعلیم کے صریحاً خلاف ہے“۔
ج : بلاشبہ اسلام آزادی ضمیر اور حریت فکر کا داعی ہے۔ کسی غیر مسلم کو جبر و
اکراہ کے ذریعے زبردستی اسلام میں داخل کرنے کی اجازت نہیں دیتا جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے لا اکراہ فی الدین اسے اپنے مذہب کے مطابق اپنی مذہبی رسومات ادا کرنے میں مکمل آزادی ہے۔ لیکن جو شخص اپنی پسند اور خوشی سے اسلام قبول کرے گا یا اسلام کا دعویٰ کرے گا اسے اسلام کے تمام نظریات و عقائد اور احکام کی پوری پوری پابندی کرنا پڑے گی۔ وہ اسلام میں داخل ہونے کے بعد اپنی من مانی نہیں کر سکتا۔ چوری کرے گا تو ہاتھ کٹیں گے‘ زنا کرے گا تو سنگسار ہو گا۔ آزادی ضمیر کی بنا پر کسی کو حلال یا حلال کو حرام سمجھے گا۔ مثلاً آزادی ضمیر کی بنا پر ماں‘ بہن یا بیٹی سے نکاح کو حلال سمجھے گا تو اسے مرتد قرار دے کر قتل کر دیں گے۔
ضروریات دین اور اسلامی عقائد میں سے کسی کا انکار کرے گا تو مرتد ہو جائے گا‘ اور واجب القتل ہو گا۔ آزادی ضمیر کا مطلب آپ نے کہاں سے لے لیا کہ اسلام کا دعویدار جو چاہے کرتا پھرے اس کو کچھ نہ کہا جائے اس سے اسلامی احکام کی پابندی کرائی جائے گی۔ خلاف ورزی کی صورت میں اس کے مطابق سزا ملے گی۔ اگر آزادی ضمیر کا مطلب آپ یہی لیتے ہیں تو آزادی ضمیر کے علم بردار پیغمبر اسلام رحمت اللعالمین صلی اللہ علیہ وسلم کے پہلے رحیم و کریم نرم خو خلیفہ صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے مسیلمہ کذاب اور اس کے بائیس ہزار متبعین کو قتل کیوں کیا؟
پھر آزادی ضمیر کے اسی علمبردار پیغمبر نے منافقوں کی مسجد ضرار کو آگ لگا کر کیوں مسمار کرایا؟ اس مسجد کا نام ضرار خود اللہ تعالیٰ نے رکھا (سورہ توبہ) اور نبی کریم علیہ السلام نے تفریق بین المسلمین اور کفر و نفاق کے اس اڈے کو نیست و نابود کر دیا۔ حالانکہ وہ بھی مرزائیوں کی طرح کلمہ شہادت پڑھتے تھے‘ نمازیں ادا کرتے تھے اور مسلمان ہونے کے مدعی تھے۔ علماء اسلام کا مطالبہ اسلام کی تعلیم و سنت نبوی کے عین مطابق ہیں۔
ص ٨ پر چند سوال ہیں:
س: احمدی اگر غیر مسلم ہیں تو پھر احمدی کا مذہب آخر کیا ہے؟ (ب) احمدی کا
مذہب جمہوری اکثریت تجویز کرے گی یا احمدی کو خود اپنے مذہب کی تعیین کا حق ہے؟ (ج) اگر احمدی کا مذہب کسی غیر احمدی جمہوری اکثریت نے تجویز کرنا ہے تو کیا احمدی کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ اس مجوزہ مذہب کو تسلیم کرنے سے انکار کر دے؟
ج: (قرآن و حدیث کی روشنی میں)
حضور خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کسی کذاب کو نبی ماننے والے غیر مسلم مرتد ہوتے ہیں۔ "احمدی" کوئی مذہب نہیں یہ مرتدوں اور باغیوں کا ایک گروہ ہے جب تک سچی توبہ نہ کریں اس وقت تک کسی اسلامی ملک میں رہنے کے مستحق نہیں ہیں، ہم آپ کے مذہب کا نام ہرگز ہرگز تجویز نہیں کرتے ہمارا تو بس اتنا مطالبہ ہے کہ آپ اپنے مذہب کا نام اسلام نہیں رکھ سکتے۔ یہ ہمارے مذہب کا نام ہے جس طرح یہودی یا عیسائی اپنے آپ کو مسلمان نہیں کہلا سکتے اسی طرح آپ بھی مسلمان نہیں کہلا سکتے۔ اپنے مذہب کا نام اسلام کے علاوہ جو چاہے رکھ لیجئے۔ قادیانی صرف پاکستان کی موجودہ جمہوری اکثریت کے نزدیک ہی کافر نہیں بلکہ پوری امت مسلمہ اتفاق و اجماع سے ان کے کفر پر مہر تصدیق ثبت کر چکی ہے اور حکومت پاکستان علماء اسلام کے فیصلہ کے مطابق انہیں آئینی اور قانونی طور پر کافر قرار دے چکی ہے۔ اب اسی فیصلہ سے انکار ملکی آئین کی صریحاً بغاوت ہے اور اس کی سزا بھی قتل ہے۔
س ١١
آئین پاکستان میں آرٹیکل نمبر ٢٠ کو شامل کیا گیا ہے۔ اس آرٹیکل کی رو سے ہر پاکستانی شہری کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ جو بھی عقیدہ اور مذہب رکھے اس کا برملا اظہار کرے اور اس کی تبلیغ کرے۔
ج: بلاشبہ اس آرٹیکل کی رو سے ہر مذہب والے کو آزادی ہے لیکن آئین نے جو اس کا مذہب متعین کیا ہے اسی کے مطابق اسے آزادی ہوگی۔ آپ آئین پاکستان کی رو سے غیر مسلم کافر ہیں۔ آپ اپنے مذہب کو اسلام کے نام سے پیش نہیں کر سکتے۔
مسلمانوں والی اصطلاحات اور اسلامی شعائر بھی استعمال نہیں کر سکتے ورنہ تو مسلمانوں اور غیر مسلمانوں میں کوئی امتیاز باقی نہیں رہتا۔ مسلمان اپنے حقوق کا یہ استحصال اور شعائر اسلام کی یہ بے حرمتی کسی صورت برداشت نہیں کر سکتے اور یہ ملکی آئین سے کھلم کھلا بغاوت ہے۔
ہندو، عیسائی، پارسی ان تینوں کے عقائد بلاشبہ اسلام کے خلاف ہیں لیکن وہ اپنے مذہب کو اسلام نہیں کہتے اور نہ ہی اسلامی اصطلاحات استعمال کر کے کسی قسم کے دھوکے اور تلبیس کا باعث بنتے ہیں۔ لہٰذا انہیں اپنے آئینی مذہب کے مطابق ہر قسم کی آزادی ہے۔ اگر اسلامی تعلیمات پسند ہوں تو وہ بے شک ان پر عمل کریں لیکن جب تک وہ اسلام میں پورے پورے داخل نہ ہو جائیں اس وقت تک ان کو بعض اسلامی اعمال اختیار کرنے کی وجہ سے مسلمان کہلانے کی ہرگز اجازت نہیں ہو گی۔
ص ٢٢
”خواہ آپ کسی کو مسلم کہیں یا غیر مسلم، کافر یا غیر کافر۔ قرآن کریم پر ایمان لانے سے تو آپ کسی قیمت پر اسے روک نہیں سکتے۔ خود قرآن کریم یہ حق اسے دیتا ہے جو چاہے ایمان لائے جو چاہے کفر کرے۔“
ج : ہم تو ساری دنیا کو قرآن پر ایمان لانے کی دعوت دیتے ہیں کس کو کون روک سکتا ہے۔ ہاں اگر روکتے ہیں تو اس سے کہ قرآن پاک کی من مانی تحریف کی جائے۔ جو شخص قرآن پر ایمان رکھتا ہے اس کو اس کے معانی و مفہوم وہی لینے ہوں گے جس پر چودہ سو سال سے امت متفق چلی آتی ہے... ”اسے خاتم النبیین کا معنی ”نبوت جاری ہے“ اور مرزا غلام احمد حضورؐ کے بعد نبی ہے۔ رفع اور حیات مسیحؑ کا یہ معنی کہ وہ فوت ہو کر کشمیر میں دفن ہو چکے ہیں۔ عیسیٰ بن مریم جو بغیر باپ اللہ تعالیٰ کی قدرت سے پیدا ہوئے۔ اس کا معنی کہ ان کا باپ یوسف نجار تھا اور العیاذ باللہ مائی مریم علیہا السلام کی منگنی یوسف نجار سے ہوئی تھی اور قبل از نکاح وہ منگنی کے دوران حاملہ ہو گئی تھیں۔ ان تحریفات و کفریات کی کسی کو اجازت نہیں دی جاسکتی۔
ص ٢٣
اسلامی شعائر اگر غیر بھی اپنائیں تو کسی مسلمان کی دل آزاری نہیں ہو سکتی۔ اگر ایک مذہب کے شعائر دوسرے مذہب والوں کے اپنانے سے جذبات کو ٹھیس پہنچ سکنے کا احتمال ہو تو سب سے پہلے اس قسم کا مطالبہ یہودی پیش کرتے جو مسلمانوں کے دل و جان سے دشمن ہیں۔ کیا یہ حقیقت نہیں کہ ختنہ کرانا‘ حلال گوشت کھانا‘ داڑھی رکھنا‘ یہودی مذہب کے شعائر تھے اور ہیں جنہیں مسلمانوں نے بھی اپنا لیا ہے کیا اسی قسم کا مطالبہ یہودی نہیں کر سکتے؟
تیری ”مدعیت“ عقل اندھی آنکھیں بند کر کھیلتے ہو ۔۔۔۔۔ افسوس قادیانیوں کے علم و دانش پر کہ مرزا قادیانی مراقبی نبی کی محبت میں اس قدر مغلوب ہیں کہ نہ تو وہ ”شعائر“ کو جانتے ہیں کہ شعائر کسے کہتے ہیں اور نہ یہ کہ ختنہ کرانا‘ حلال گوشت کھانا‘ داڑھی رکھنا یہ یہودی مذہب کے شعائر میں نہیں۔ یہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی سنتوں میں سے ہیں جن پر ابراہیم علیہ السلام کے تمام ماننے والے عمل پیرا ہیں۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت سے قبل مشرکین مکہ جو اپنے آپ کو مذہب ابراہیم پر کہتے تھے۔ ان سنتوں پر وہ بھی عمل کرتے تھے۔ یہ یہودی مذہب کے مختص شعائر میں سے نہیں۔
شعار و شعائر جو کسی قوم یا مذہب کے مختص علامات ہوتے ہیں جیسے عیسائیوں کی صلیب‘ گرجا ان کا مذہبی شعار ہے۔ ہندوؤں کے مندر‘ ان کے سر پر چوٹی‘ سکھوں کے گور دوارے‘ کیس‘ کڑا وغیرہ۔ بہر حال اسلام اپنے مختص شعائر کے استعمال کی غیر مسلموں کو اجازت نہیں دیتا تاکہ مسلم اور غیر مسلم میں امتیاز قائم رہے۔ آخر میں ”حرف ناصحانہ“ کے مولف نے اسلام کی بعض خاص اصطلاحات کو اپنے لیے استعمال کرنے کے جواز میں بزعم خود چند دلائل پیش کیے ہیں۔ جن میں اپنی روایتی‘ بدیانتی اور تلبیس سے پورا پورا کام لیا ہے۔
ص ٢٤: نبی اور رسول
”نبی اور رسول کی اصطلاحات عیسائی عام استعمال کرتے ہیں۔ حالانکہ وہ نہ مسلمان ہیں اور نہ اسلام کو سچا مذہب تصور کرتے ہیں لیکن احمدی تو قرآن و سنت کے سوا کسی اور شریعت پر ایمان ہی نہیں رکھتے۔
الجواب
عیسائی غیر مسلم اور باطل پر ہونے کے باوجود نبی اور رسول کا استعمال اللہ تعالیٰ کے سچے نبیوں اور رسولوں پر کرتے ہیں جو حضرت محمد رسول اللہ اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے پہلے ہو چکے ہیں۔ جیسے حضرت موسیٰ، حضرت یحییٰ، حضرت زکریا، حضرت شعیب، حضرت صالح، حضرت ہود، حضرت اسماعیل، حضرت اسحق اور حضرت ابراہیم علیہم السلام۔
لیکن تم حضور خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد غلام احمد قادیانی مدعی نبوت کو جو حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد مبارک کے مطابق کذاب، دجال، کافر، مرتد اور واجب القتل ہے اس پر نبی و رسول کا پاکیزہ و مقدس لفظ استعمال کر کے توہین رسالت کا ارتکاب کرتے ہو۔ عیسائیوں میں اور تم میں زمین و آسمان کا فرق ہے۔ وہ سچوں کے لیے یہ الفاظ استعمال کرتے ہیں جو حقیقتاً نبی اور رسول ہیں تم ایک کذاب و دجال کے لیے استعمال کرتے ہو۔
ص ٢٤ علیہ السلام
علیہ السلام ایک دعا ہے اور یہ کہنا کہ یہ صرف انبیاء کرام کے لیے ہی مخصوص ہے اس لیے درست نہیں کہ نماز کے اندر ہر مسلمان التحیات میں بیٹھ کر السلام علیک ایھا النبی..... السلام علینا پڑھتے ہیں۔ اسی طرح اسلامی کتب میں غیر انبیاء پر علیہ السلام کہا گیا ہے جیسا کہ فتاویٰ عزیزیہ وغیرہ۔
الجواب
غیر انبیاء پر ”علیہ السلام“ کے استعمال میں اگرچہ سلف میں کچھ اختلاف پایا جاتا ہے۔ بعض حضرات غائب کے صیغہ کے ساتھ غیر انبیاء پر بھی جائز سمجھتے ہیں اور بعض ناجائز کہتے ہیں۔ لیکن ”علیہ الصلوۃ والسلام“ یہ دونوں لفظ اصالتاً صرف نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ خاص ہیں۔ آپ کے تابع ہو کر تو کسی پر بولا جاسکتا ہے جیسے صلی اللہ علیہ و آلہ واصحابہ وسلم لیکن غیر نبی پر مستقلاً یہ دونوں لفظ استعمال نہیں ہو سکتے۔ جیسا کہ علامہ ابن کثیرؒ نے اپنی تفسیر جلد ٣ صفحہ ٥١٦ پر اس کی تصریح کر دی ہے۔
آپ لوگ مرزا غلام احمد قادیانی کے لیے ”علیہ الصلوۃ والسلام“ دونوں لفظ استعمال کرتے ہیں۔ جیسا کہ پیر سراج الحق نعمانی مرزا قادیانی کے مرید نے اپنی کتاب تذکر المہدی کے حاشیہ پر لکھا ہے کہ مرزا صاحب نے ہمیں حکم دیا ہے کہ ہم ان کے نام کے ساتھ ”صلوۃ والسلام“ دونوں لفظ کہیں کیوں وہ اللہ تعالیٰ کے سچے نبی ہیں کہاں ”علیہ السلام“ کا کسی ایک مسلمان بزرگ پر بولا جانا اور کہاں ایک کذاب و دجال، مرتد جو شرعاً واجب القتل ہو اس پر ”علیہ الصلوۃ والسلام“ کی مقدس اصطلاح جو صرف اور صرف حضور خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم پر بولی جاسکتی ہے اس کا استعمال کرنا۔ ع
اگر علیہ السلام محض دعا ہے اور ہر ایک پر بولا جاسکتا ہے تو آپ بھی علیہ السلام مرزا قادیانی کے علاوہ بشیر الدین محمود، مرزا ناصر یا مرزا طاہر یا سر ظفر اللہ وغیرہ کسی کے نام کے ساتھ کیوں نہیں کرتے۔ اگر یہ محض دعا ہے اور نبی کے ساتھ خاص نہیں تو آپ غلام احمد قادیانی کے علاوہ اس کا استعمال کیوں نہیں کرتے۔
ص ٢٥ صحابی
”لفظ صحابی کا جہاں تک تعلق ہے یہ لفظ صحابی یا اصحاب بلاشبہ ان خوش بخت بزرگان کے متعلق بھی بولا جاتا ہے جنہوں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بابرکت صحبت پائی۔ لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ یہ لفظ صرف اس معنی تک محدود ہے۔ آں
حضرت نے "عیسیٰ نبی اللہ و اصحابہ" کہا۔ قرآن پاک نے اصحاب الکہف‘ اصحاب الفیل‘ اصحاب الیمین‘ اصحاب الشمال بہت سے مقامات پر اضافت کے ساتھ استعمال کیا ہے۔ صحابی یا اصحاب کے لفظ کا اصلی مفہوم اپنے مضاف الیہ کے ساتھ ہی مل کر ادا ہوتا ہے۔ احمدی چونکہ حضرت مرزا غلام احمد قادیانی صاحب کی آمد کو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی آمد ثانی تسلیم کرتے ہیں۔ اس لیے ان کے ساتھیوں کے لیے صحابہ کا لفظ استعمال کرنا اسلامی تعلیمات اور احمدیہ عقیدے کے مطابق ان کے لیے لازمی ہے اور انہیں ہرگز اپنے عقیدے کے خلاف عمل پر مجبور نہیں کیا جا سکتا"۔
ج: لفظ صحابی اور صحابی کی تحقیق
اصحاب اور صحابہ یہ دونوں صاحب کی جمع ہیں۔ صاحب ساتھ کو کہتے ہیں لیکن صحابہ صرف آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھیوں کے لیے خاص ہو گیا ہے۔ جنہوں نے آپ کو ایمان کی حالت میں دیکھا اور اسی حالت میں وفات پائی وہ صحابہ کہلاتے ہیں۔
صحابی: اس کا واحد ہے جو صحابہ کی طرف منسوب ہے۔۔۔۔۔ اور یہ لفظ ہر کسی کے ساتھی پر نہیں بولا جاتا۔ صرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھی پر بولا جاتا ہے اور کسی کے ساتھی کو صحابی نہیں کہا جا سکتا۔ حتیٰ کہ صحابی کے ساتھی کے لیے مخصوص اصطلاح "تابعی" کی ہے۔
صحابہ کے وصفی معنیٰ پر علمیت غالب آ چکی ہے۔ اب یہ لفظ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے رفقاء کے لیے بطور علم اور نام بولا جاتا ہے جو اور کسی پر استعمال نہیں ہو سکتا۔
اصحاب کا لفظ عام ہے۔ اس کا معنی اپنے مضاف الیہ سے متعین ہو گا جیسا کہ قرآن و حدیث کے استعمال سے اس کی وضاحت ہو رہی ہے۔ اصحاب الجنۃ بھی ہیں اور اصحاب النار بھی‘ اصحاب الرسول بھی ہیں اور اصحاب الاخدود بھی اور اصحاب الشیاطین بھی ہیں جیسے اولیاء الرحمن اور اولیاء الشیطان۔
"حرف ناصحانہ" کا مولف دیدہ دانستہ تلبیس سے کام لیتے ہوئے صحابی یا اصحاب
لکھ کر دونوں کو ہم معنی بتا کر دجل سے کام لیتا ہے کہ صحابی یا اصحاب کے لفظ کے بکلی مفہوم اپنے مضاف الیہ کے ساتھ ہی مل کر ادا ہوتا ہے۔ صحابی اور صحابہ کا بکلی مفہوم ملائے بغیر ہی ادا ہو جاتا ہے ان کے لیے مضاف الیہ کی کوئی ضرورت نہیں ہوتی۔ کہا جاتا ہے کہ صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین نے یوں فرمایا۔ ایک صحابی جا رہے تھے انہوں نے یوں فرمایا۔ البتہ صاحب اور اصحاب کا مفہوم بغیر مضاف الیہ متعین نہیں ہوتا۔ کہنا پڑے گا کہ اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے یوں فرمایا۔ صحابی اور صحابہ کا لفظ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ”ان خوش بخت ساتھیوں“ پر ہی نہیں بلکہ ان ہی پر بولا جائے گا۔ جنہوں حالت ایمان میں آپ کی صحبت پائی۔ اہل لغت کے مطابق تصریح کی ہے دیکھئے لغت کی مشہور کتاب ”المنجد“ ص ٥٥٧۔
الصحابہ ۔۔۔۔۔ وہ بزرگ حضرات جن کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا دیدار اور آپ کی صحبت نصیب ہوئی اور ایمان لائے اور پھر ایمان ہی پر ان کا خاتمہ بھی ہوا۔
الصحابی ۔۔۔۔۔ صحابہ کی طرف منسوب ایک صحابی۔
الصحابہ۔ بالفتح۔ اصحاب النبی وقد غلبت علیہم حتی صارت کالعلم لہم۔ زبر کے ساتھ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھیوں کو کہتے ہیں۔ ان پر وصفی نام غالب آچکا ہے۔ اب یہ نبی ؐ کے ساتھیوں کا علم یعنی نام بن چکا ہے۔
الصحابی: منسوب الی الصحابہ مصدرا و جمعا وانما نسب الیہ وھو جمع لانہ صار کالعلم وعند المسلمین من راءی نبیہم وطالت صحبتہ معہ والم یرو عنہ وقیل وانما لم تطل صحبتہ
اقرب الموارد ص نمبر ٦٣٤
یعنی لفظ صحابی لفظ صحابہ کی طرف منسوب ہے جو مصدر یا جمع ہے اور یہ نسبت اس لیے کی گئی ہے کہ یہ علم بن چکا ہے۔ (یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھیوں کا
نام) اور مسلمانوں کے نزدیک صحابی اسے کہتے ہیں جس نے ان کے نبی کو دیکھا ہو اور آپ کے ساتھ لمبا عرصہ رہا ہو۔ اگرچہ آپ سے کوئی روایت نہ کی ہو اور بعض نے کہا ہے کہ لمبی صحبت کا ہونا بھی ضروری نہیں ہے۔
بہر حال یہ متفق علیہ مسئلہ ہے کہ صحابی نبی کے ساتھی اور تابعی صحابی کے ساتھی کو کہا جاتا ہے۔ آپ لوگ خود مرزا غلام احمد قادیانی کے ساتھیوں کو صحابہ اور صحابی اور پھر ان کے ساتھیوں کو تابعی کہتے ہیں۔ مرزا بشیر الدین اور مرزا ناصر کے ساتھیوں کو صحابی نہیں کہتے بلکہ تابعی کہتے ہیں جس سے صاف واضح ہوتا ہے کہ صحابی نبی کا ساتھی ہوتا ہے۔ ہر کسی کے ساتھی کو صحابی اور صحابہ نہیں کہا جاسکتا۔ اصحاب ہر ایک ہو سکتے ہیں۔
ص ٢٦
ام المومنین
”اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ یہ اصطلاح آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج مطہرات کے لیے استعمال ہوتی ہے۔ لیکن بایں ہمہ اس لفظ کا استعمال دیگر بزرگ خواتین کے لیے بھی اسلامی لٹریچر سے ثابت ہے“۔
ج: آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج مطہرات کے لیے امہات المومنین کی اصطلاح قرآن کریم کی نص قطعی ہے اور یہ لفظ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج کے علاوہ کسی دیگر خاتون پر نہیں بولا جا سکتا۔ اگر کہیں کسی نے استعمال کیا ہے تو وہ غلط ہے۔ جب ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ جو بالاتفاق افضل امت ہیں اور حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پہلے جانشین ہیں۔ ان کی بیوی کو امت میں کسی نے ام المومنین نہیں کہا۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی بیوی فاطمۃ الزہرا جو حسن و حسین کی اماں ہے۔ جنت کی عورتوں کی سردار ہیں انہیں کسی نے ام المومنین کا خطاب نہیں دیا تو حضرات پیران پیر کی والدہ یا کسی کی خادمہ کے لیے ام المومنین کہنا کہاں صحیح ہو گا؟ اگر نبی کی بیوی کے علاوہ بھی کسی اور کو ام المومنین کہنا جائز ہوتا تو قادیانی بھی حکیم نور الدین مرزا
قادیانی کے پہلے جانشین یا مرزا بشیر الدین مرزا کے بیٹے یا کسی اور قادیانی کی بیوی یا بیٹی کو ام المومنین کا خطاب دیتے۔ حالانکہ قادیانی بھی صرف مرزا قادیانی کی بیوی ہی کو ام المومنین کہتے ہیں۔ کیونکہ مرزا قادیانی کو وہ نبی مانتے ہیں۔ نبی امت کا روحانی باپ اور نبی کی بیوی امت کی روحانی ماں ہوتی ہے جس سے واضح ہوتا ہے کہ ام المومنین نبی کی بیوی ہی کو کہا جاسکتا ہے کسی اور عورت کو نہیں۔
حرف ناصحانہ کے مولف نے ”گل دستہ کرامات“ ترجمہ ”تذکرہ غوثیہ“ کا حوالہ دیا ہے۔ گل دستہ کرامات ہمیں دستیاب نہیں ہوئی تاکہ قادیانی دیانت کا پتہ چلایا جاتا البتہ ”تذکرہ غوثیہ“ میں تلاش کے باوجود ہمیں حوالہ نہیں ملا۔ کتاب سیر الاولیاء مصنفہ حضرت محمد بن مبارک کرمانی میں خواجہ فرید الدین شکر گنج نے اپنے خلیفہ جمال الدین ہانسوی کی خادمہ کے لیے ”ام المومنین“ کا خطاب نہیں ہے۔ البتہ اس میں ”مادر مومنین“ کا لفظ آیا ہے۔ جس کا ”حرف ناصحانہ“ کے مولف نے بڑی چالاکی سے اپنے پاس سے ”ام المومنین“ ترجمہ کیا ہے۔
”ام المومنین“ ایک خاص اصطلاحی لقب ہے۔ بھلا آپ اردو عبارت میں مرزا قادیانی کی بیوی کے لیے مومنین کی ماں کیوں نہیں لکھتے۔ ”ام المومنین“ عربی لفظ کیوں استعمال کرتے ہو۔ اسی طرح ”مادر ملت“ اور ام المومنین میں بھی یہی فرق ہے۔ پھر مرزا قادیانی کافر اور مرتد ہے۔ اس کے تمام متبعین قانوناً اور شرعاً کافر اور مرتد ہیں۔ اس کی بیوی ام المومنین کیسے ہو سکتی ہے؟ وہ تو ام الکافرین یا ام المرتدین یا ام المرزائین کہلا سکتی ہے۔
جب آپ مرزا قادیانی کی بیوی کے لیے ”ام المومنین“ کا خطاب استعمال کریں گے تو وہ تمام مومنین کہلانے والوں کی ماں سمجھی جائے گی۔ یہ عجیب منطق ہے کہ اس سے مراد صرف مرزائی ہیں۔ اس کا تو صاف معنی یہ ہے، مرزائی اپنے علاوہ کسی کو مومن تسلیم نہیں کرتے اور حقیقت بھی یہی ہے کہ ان کے نزدیک تو مومن اور مسلم صرف وہ ہیں جو مرزا قادیانی پر ایمان لائے باقی تمام مسلمان خواہ انہوں نے مرزا قادیانی کا نام بھی نہیں سنا وہ کافر جہنمی اور دائرہ اسلام سے خارج ہیں۔
دیکھو تذکرہ ص ٣٤٢، آئینہ صداقت، ص ٣٥
ص ٢٧
مسجد و اذان
”مسجد و اذان کا لفظ صرف مسلمانوں کے لیے مختص نہیں ۔ خود خدا تعالیٰ نے عیسائی عبادت گاہوں کو مسجد کا نام دیا ہے اور رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم نے خود ایک غیر مسلم لڑکے (ابو محذورہ) سے اذان دلوائی ۔ جس کا ذکر حدیث کی کتاب ابو داؤد میں ہے“ ۔
الجواب
مسجد و اذان یہ اسلام کے شعائر میں سے ہیں اور کسی غیر مسلم کے لیے قطعا جائز نہیں ۔ قرآن کریم نے عیسائی عبادت گاہوں کو مسجد نہیں کہا ۔ قرآن مجید عبادت گاہوں کے لیے چار الفاظ استعمال ہوتے ہیں ۔
(١) صوامع (٢) بیع (٣) صلوات (٤) مساجد
- ١۔ صوامع : عیسائی راہبوں کے خلوت خانے ۔
- ٢۔ بیع : عیسائیوں کی عبادت گاہیں ۔ (گرجے)
- ٣۔ صلوات : یہودیوں کی عبادت گاہیں ۔
- ٤۔ مساجد : مسلمانوں کی عبادت گاہیں ۔
علامہ ابن کثیرؒ نے اپنی تفسیر جلد ٣ ص ٢٢٦ پر اس کی تصریح کی ہے اور لکھا ہے اما المساجد فهي للمسلمين یعنی مساجد صرف مسلمانوں کے لیے خاص ہیں ۔
سورہ توبہ گیارھویں پارے میں مسجد ضرار کے واقعہ سے قادیانیوں کی آنکھیں کھل جانی چاہیں ۔ یہ واقعہ اس جھگڑے میں فیصلہ کن حیثیت رکھتا ہے ۔ قادیانیوں کی طرح کلمہ پڑھنے والے منافقین نے قبا میں ایک مسجد تعمیر کی تھی لیکن شریعت اسلامیہ
نے اسے مسجد تسلیم نہیں کیا اور نہ اسے باقی رہنے دیا بلکہ حضور تاجدار انبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے آگ لگوائی اور اسے مسمار کرا کر اس کا نام و نشان مٹا دیا۔ تاکہ کسی مسلمان کو منافقین اور کفار کی بنائی ہوئی اس مسجد سے دھوکہ نہ ہو۔ رہا اذان کا مسئلہ تو اذان بھی اسلامی شعار ہے۔ کوئی کافر مسلمانوں کی اذان اپنے مذہبی شعار کے طور پر ادا نہیں کرتا اور نہ کر سکتا ہے۔ ابو محذورہ رضی اللہ عنہ کا واقعہ یوں ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم غزوہ حنین سے واپس تشریف لا رہے تھے۔ موذن نے اذان دی۔ ابو محذورہؓ اس وقت بچے تھے۔ وہ بچوں کے ساتھ موذن کی نقل اتارنے لگے۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان بچوں کو بلایا اور دریافت فرمایا کہ اونچی آواز کس کی تھی۔ بچوں نے ابو محذورہؓ کی طرف اشارہ کیا۔ آپؐ نے اسے محبت سے بلایا۔ اس کی پیشانی پر ہاتھ رکھا اور اس سے خود اذان کہلائی۔ جب اشہد ان محمد رسول اللہ کہا تو آواز آہستہ نکالی حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دوبارہ اونچی آواز سے شہادت کہلوایا۔ (اسی لیے حضرت ابو محذورہ رضی اللہ عنہ کو اسلام قبول کرنے کے بعد جب مکہ مکرمہ میں موذن مقرر کیا گیا تو وہ اپنی اذان میں کلمہ شہادت اسی طرح تکرار سے کہا کرتے تھے)۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ابو محذورہ رضی اللہ عنہ کو چاندی کی تھیلی بھی دی۔ ابو محذورہؓ کہتے ہیں کہ اس واقعہ کے بعد جو مخالفانہ جذبہ ان کے دل میں موجود تھا، وہ محبت میں بدل گیا اور وہ مسلمان ہو گئے۔ اس کم سن بچہ کو اسی خصوصیت کی بنا پر حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ معظمہ کا موذن مقرر فرما دیا۔ اس واقعہ سے کفار کے لیے اذان دینے کا جواز تلاش کرنا یہ قادیانیوں کی عقل و دانش ہی کو زیبا ہے۔
تاریخ اسلام کا صرف یہ ایک واقعہ ہے جس سے ”اک حرف ناصحانہ“ کے مولف نے کافر سے اذان دینے کا ثبوت پیش کیا ہے۔ قارئین کرام قادیانیوں کی بے بسی ملاحظہ فرمائیں۔
کہتے ہیں: ”ڈوبتے کو تنکے کا سہارا“ پر یہ تو تنکے کا سہارا بھی ثابت نہ ہوا۔ ابو محذورہ رضی اللہ عنہ تو اذان سیکھنے کے بعد اسی وقت مسلمان ہو گئے اور اپنے باطل عقیدہ سے توبہ کر لی۔ آپ بھی خود کو کافر تسلیم کریں، پھر سچے دل سے توبہ کریں، مرزا
غلام احمد قادیانی پر لعنت بھیجیں۔ اس کے کذاب، دجال کافر اور مرتد ہونے کا اعلان کریں تو پھر بے شک اذانیں دیں، مسجدیں بنائیں، آپ ہمارے بھی بھائی ہوں گے۔ اگر آپ مرزا قادیانی دجال، کذاب کو مسیح موعود اور سچا نبی بھی سمجھتے رہیں اور پھر کہیں کہ ہمیں اسلامی اصطلاحات اور شعائر کے استعمال کرنے کی اجازت بھی ہو۔۔۔۔۔ ع
اسلامی اصطلاحات کا استعمال تو کجا اسلام تو آپ جیسے مرتدوں اور باغیوں کے وجود کو ہی اسلامی ملک میں برداشت نہیں کرتا اور دنیا میں کوئی حکومت بھی اپنے ملک میں باغی کے وجود کو برداشت نہیں کر سکتی۔ لہٰذا اسلامی مملکت میں بھی اسلام کے باغی (مرتد) کو برداشت نہیں کیا جاتا۔
پیکر عفو و درگزر رحمت دو عالم آزادی ضمیر کے سب سے بڑے علم بردار پیغمبر محمد مصطفیٰ خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے پہلے خلیفہ جو رحماء بینہم کے بنیادی مصداق اور حلم و بردباری کے مجسم تھے۔ مسیلمہ کذاب مدعی نبوت اور اس کے متبعین سے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہدایات کی روشنی میں جو عمل کیا تھا۔ جب تک آپ لوگ توبہ نہ کریں اسی سلوک کے مستحق ہیں اور یہی علماء اسلام کا حکومت سے مطالبہ ہے کہ سنت صدیقی جس پر تمام صحابہ کرام کا پہلا اجماع ہوا ہے اسی پر عمل کریں۔ مسیلمہ کذاب اور اس کے متبعین بھی مسلمانوں والی اذانیں دیتے تھے یہی کلمہ اور یہی قرآن پڑھتے تھے۔ تمہاری طرح مساجد میں نمازیں قبلہ کی طرف منہ کر کے پڑھتے تھے۔ لیکن صدیق اکبرؓ نے انہیں کسی چیز کی اجازت نہیں بلکہ حکم دیا کہ ان کو قتل کرو ان کے باغات کو اجاڑ دو۔ ان کے گھروں کو مسمار کر دو۔ چنانچہ آپ جیسے بائیس ہزار ٢٢٠٠٠ کلمہ اور نمازیں پڑھنے والے مرتدین جو حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت و رسالت پر ایمان بھی رکھتے تھے ان کو قتل کیا گیا اور اس معرکہ میں بارہ صد صحابہ کرام جن میں بہت اونچی شان اور بڑے مرتبہ والے بدری صحابہ کرام بھی تھے اور سات صد کے قریب قرآن کریم کے حفاظ اور قاری تھے شہید ہوئے۔ اگر آپ لوگوں کو مسجدیں بنانے، اذانیں دینے، نمازیں پڑھنے پر اصرار ہے تو بڑے شوق سے کریں لیکن مرزا قادیانی کی تکذیب اور قادیانیت سے سچی توبہ کرنے کے بعد۔ یہ
نہیں ہو سکتا کہ آپ پاکستان میں رہتے ہوئے جس کا سرکاری مذہب اسلام ہے اور قادیانی غیر مسلم ہیں آپ اپنے آپ کو غیر مسلم بھی تسلیم نہ کریں۔
دیکھیں ص ٢٩ (حرف ناصحانہ)
اور اپنے علاوہ تمام مسلمانوں کو جہنمی‘ کافر اور کنجریوں کی اولاد بھی ٹھہراتے رہیں اور صرف مرزا قادیانی کے متبعین ہی کو مسلمان سمجھیں ۔۔۔۔۔ پھر آپ کو اسلامی اصطلاحات اور شعائر کی اس ملک میں اجازت بھی مل جائے۔ آخر خود ہی سوچئے کہ مسلمان بھی مسجد بنائے اور بالکل اسی شکل و صورت میں ایک غیر مسلم بھی مسجد بنائے۔ مسلمان بھی اس مسجد میں اذان دے اور وہ غیر مسلم بھی اپنی مسجد میں بالکل ویسے ہی اذان دے۔ مسلمان امام اپنی مسجد میں نماز پڑھائے اور وہ غیر مسلم بھی بالکل اسی طرح محراب میں کھڑے ہو کر نماز پڑھائے تو حق اور باطل، کفر اور اسلام ۔۔۔۔۔ اصل اور نقل میں کیا فرق رہے گا۔ ایک اجنبی اور ناواقف دھوکے سے کیسے بچ سکے گا۔ اب فریقین کے نزدیک دونوں جماعتوں میں ایک مسلمان ہے ایک کافر ہے۔ نہ دونوں مسلمان ہیں نہ دونوں کافر۔ ایک اصلی مسلمان ہوں گے ان کی ہر چیز نقلی و جعلی ہو گی وہ در اصل غیر مسلم کافر ہوں گے انہوں نے دھوکہ دینے کے لیے مسلمانوں کا لبادہ اوڑھ رکھا ہو گا کسی ملک میں صدر مملکت تو کجا ایک جعلی تحصیلدار یا پٹواری، ایک جعلی تھانیدار یا سپاہی‘ فوج کا ایک جعلی کیپٹن یا صوبیدار بھی برداشت نہیں کیا جا سکتا۔ چہ جائیکہ ایک اسلامی حکومت میں ایک جھوٹا نبی اس کی امت اور ان کا تمام جھوٹ کا کاروبار قبول کر لیا جائے اور آزادی ضمیر کی بنا پر انہیں ملاوٹ اور جعل سازی کی کھلی چھٹی دے دی جائے! ذرا ٹھنڈے دل سے غور فرمائیے گا۔
"حرف ناصحانہ" کے نامعلوم مولف نے پیش لفظ کے صفحہ ٤ پر رقم طراز ہیں۔ جماعت احمدیہ کے مقدس امام اور دیگر بزرگان کے خلاف ایسی زبان استعمال کی جا رہی ہے کہ اسے نقل کرنا بھی کسی شریف انسان کا قلم گوارا نہیں کرتا"۔
الجواب: مثل مشہور ہے "الٹا چور کوتوال کو ڈانٹے" کاش "نامعلوم مولف" نے علماء کی فحش کلامی کا کچھ نمونہ پیش کیا ہوتا تاکہ مرزا
غلام احمد قادیانی کی کوثر و تسنیم سے دھلی ہوئی مہذب و شستہ زبان کا اس سے موازنہ کیا جاتا۔ مرزا قادیانی کی کتابوں سے اس کی تہذیب و شرافت کے چند نمونے پیش کیے جاتے ہیں جس سے قارئین کرام کو معلوم ہو گا کہ مرزا کے تیر و نشتر‘ سب و شتم اور فحش کلامی سے کوئی مسلمان حتی کہ صدر مملکت بھی محفوظ نہیں۔ دوسروں کو تہذیب و شرافت کا درس دینے والے ذرا پہلے اپنے گھر کی خبر لیں۔ ملاحظہ ہو۔ عام مسلمانوں کے متعلق:۔۔۔۔۔
- ا۔ ”تلك كتب ينظر اليها كل مسلم بعين المحبه
والموده وينتفع من معارفها ويقبلنی ويصدق دعوتی الا ذريه البغايا الذين ختم الله على قلوبهم لا يقبلون“ (آئینہ کمالات اسلام ص ٥٤٧‘ ٥٤٨)
ترجمہ : میری کتاب کو ہر مسلمان محبت و پیار کی نگاہ سے دیکھتا ہے اور ان سے فائدہ اٹھاتا ہے۔ مجھے قبول کرتا ہے میرے دعوے کی تصدیق کرتا ہے سوائے کنجریوں کی اولاد کے جن کے دلوں پر اللہ تعالیٰ نے مہریں کر دی ہیں وہ مجھے قبول نہیں کرتے۔
۔۔۔۔۔
- ٢۔ ان العدى صارو اخنازير الفلا ونساء هم من دونهن
الاكلب
(نجم الہدیٰ ص ٥٣)
ترجمہ : میرے مخالف جنگلوں کے خنزیر ہیں اور ان کی عورتیں کتیوں سے بڑھ کر ہیں۔
عالم اسلام کے کروڑوں‘ اربوں مسلمان ہیں جن میں علماء و مشائخ بھی ہیں اور عمائدین سلطنت بھی ہیں۔ حتیٰ کہ ہمارے صدر محترم چیف مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر پاکستان جو حال ہی میں وضاحت کر چکے ہیں کہ وہ قادیانی نہیں اور قادیانیوں کو کافروں سے بھی بدتر سمجھتے ہیں اور ان کے والد مرحوم تمام عمر قادیانیوں کے مخالف رہے اور ان کے خلاف جہاد کرتے رہے‘ سب اس گالی کی زد میں ہیں۔ حتیٰ کہ بہت سے قادیانی بھی ایسے ہوں گے جن کے والد مرزا قادیانی پر ایمان نہیں لائے ہوں گے اور ان کے مخالف
رہے ہوں گے تو وہ قادیانی مرزا صاحب کے بقول خنزیروں اور کتیوں کی اولاد ہیں۔
٣۔ علماء اسلام کے متعلق:
اے بدذات فرقہ مولویان تم کب تک حق کو چھپاؤ گے۔ کب وہ وقت آئے گا کہ تم یہودیانہ خصلت کو چھوڑو گے۔ اے ظالم مولویو! تم پر افسوس کہ تم نے جس بے ایمانی کا پیالا پیا وہی عوام کالانعام کو پلایا۔
(انجام آتھم ص ٢١)
-----
- ٤۔ مگر کیا یہ لوگ قسم کھالیں گے۔ ہرگز نہیں کیونکہ یہ جھوٹے ہیں اور کتوں کی طرح
جھوٹ کا مردار کھا رہے ہیں۔ بعض خبیث طبع مولوی جو یہودیت کا ضمیر اپنے اندر رکھتے ہیں۔
(ضمیمہ انجام آتھم ص ٢٩٣)
-----
- ٥۔ سب جانداروں سے زیادہ پلید اور کراہت کے لائق خنزیر ہے مگر خنزیر سے زیادہ
پلید وہ لوگ ہیں۔
اے مردار خور مولویو اور گندی روحو‘ اے اندھیرے کے کیڑو۔
(ضمیمہ انجام آتھم ص ٢٨٩)
٦۔ مولانا ثناء اللہ امرتسری مرحوم اہل حدیث کے متعلق:
ابو جہل‘ کفن فروش‘ کتا‘ غدار وغیرہ
-----
٧۔ مولانا علی الحائری مجتہد شیعہ کے متعلق:
جاہل تر‘ حسین کی عبادت کرنے والا‘ دیو‘ کھوئی آنکھ والا‘ یک چشم‘ شیخ ضال۔
- ٨۔ مولانا سعد اللہ لدھیانوی نو مسلم مرحوم حنفی کے متعلق:
ہندو زادہ‘ کمبخت‘ بدبخت‘ دین فروش‘ شیطانی فطرت‘ کمینہ‘ فاسق‘ شیطان‘ ملعون‘ بے وقوفوں کا نطفہ‘ خبیث‘ مفسد‘ مزور‘ منحوس‘ کنجری کا بیٹا۔
۔۔۔۔۔
- ٩۔ پیر مہر علی شاہ گولڑوی مرحوم کے متعلق:
خبیث طبع‘ کذاب‘ دروغ گو‘ مزور‘ خبیث بچھو کی طرح نیش زن‘ فرومایہ‘ کمینہ‘ گمراہی کے شیخ‘ دیو‘ بدبخت‘ میرے مقابل بیٹھ جاتے تا دروغ گو۔ بے حیا کا منہ ایک ہی ساعت میں سیاہ ہو جاتا۔ اے گولڑہ کی زمین تجھ پر خدا کی لعنت تو ایک ملعون کے سبب سے ملعون ہو گئی۔
۔۔۔۔۔
- ١٠۔ مولانا رشید احمد گنگوہیؒ دیوبندی کے متعلق:
اندھا شیطان‘ گمراہ دیو‘ بدبخت‘ شقی‘ ملعون۔
مشتے نمونہ از خروارے کے طور پر یہ چند گالیاں پیش قارئین ہیں۔ دیکھو مرزا قادیانی کی کتابیں: انجام آتھم‘ اعجاز احمدی‘ نزول مسیح‘ ضیاء الحق‘ حقیقت الوحی وغیرہ۔
۔۔۔۔۔
چیلنج : ایک ہزار روپیہ نقد انعام
ہم قادیانی امت کو چیلنج دیتے ہیں کہ اس صدی میں مرزا غلام احمد قادیانی سے بڑا بد زبان اور گالی دینے والا اگر ان کے علم میں کوئی اور شخص ہو تو پیش کریں۔ ہم فریقین کے مسلمہ کسی جج کے سامنے مرزا صاحب کی بد زبانیاں اور گالیاں اس کی کتابوں سے
پیش کریں گے اگر قادیانیوں کا پیش کردہ شخص بڑھ جائے تو ہم مبلغ ایک ہزار روپیہ اسی وقت نقد انعام پیش کریں گے۔
......
”اک حرف ناصحانہ “ کے نامعلوم الاسم مولف نے مرزا قادیانی کے عقائد تحریر کرتے ہوئے ص ١٩ پر مرزا قادیانی کی درج ذیل رباعی نقل کی ہے۔
نام اس کا ہے محمد دلبر میرا یہی ہے
سب ہم نے اس سے پایا شاہد ہے تو خدایا
وہ جس نے حق دکھایا وہ راہ نما یہی ہے
.....
الجواب
مرزا قادیانی کی یہ رباعی اور دیگر تحریرات اس کے پہلے دور کی ہیں لیکن جب اس نے خود خاتم الانبیاء اور محمد رسول اللہ ہونے کا دعویٰ کیا تو پھر اپنے مرتبہ اور شان کو محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی اونچا اور افضل قرار دیا۔ اس پر بہت سے حوالے پیش کیے جاسکتے ہیں لیکن خوف طوالت سے مرزا قادیانی کے ایک مرید جو ضلع گجرات گولیکی کا رہنے والا تھا۔ اس نے مرزا صاحب کی شان میں جو قصیدہ لکھ کر فریم کے ساتھ پیش کیا تھا اور مرزا صاحب نے اسے داد دی اور اس قصیدہ کو اپنی زندگی میں اپنے روزنامہ اخبار ”بدر“ مورخہ ٢٥ اکتوبر ١٩٠٦ء یعنی اپنی وفات سے تقریباً دو سال قبل (کیونکہ مرزا صاحب کی وفات ٢٦ مئی ١٩٠٨ء کو ہوئی ہے) شائع کرایا۔ اس قصیدہ سے چند اشعار ہدیہ ناظرین کیے جاتے ہیں:
غلام احمد ہے عرش رب اکرم مکاں اس کا ہے گویا لا مکاں میں
غلام احمد رسول اللہ برحق شرف پایا ہے نوع انس و جاں میں
محمد دیکھنے ہوں جس نے اکمل غلام احمد کو دیکھے قادیاں میں
تیری مدحت سرائی مجھ سے کیا ہو کہ سب کچھ لکھ دیا راز نہاں میں
خدا سے تو، خدا تجھ سے ہے واللہ تیرا رتبہ نہیں آتا بیاں میں
(العیاذ باللہ)
اب کس چیز کی کمی باقی رہ گئی؟
قادیانی جنازہ پڑھنا
اور
قادیانیوں سے میل جول حرام ہے
مفتی
عبدالقیوم خان
استفتاء
مفتی عبدالقیوم خان (صدر دارالافتاء)
س : ہمارے گاؤں میں دو قادیانی باپ بیٹے کی ایک دن وفات ہو گئی۔ قادیانیوں کا یہ خاندان علاقے میں اپنی جاگیر و دولت اور اثر و رسوخ کے حوالے سے اچھا خاصا مقام رکھتا ہے۔ ان کے جنازے میں شرکت کے لیے علاقے کے تقریباً 700 افراد کے علاوہ ڈپٹی کمشنر‘ مقامی M N A اور دیگر مقتدرین علاقہ نے شرکت کی۔ امام صاحب نے نہ صرف خود جانتے بوجھتے ہوئے بلکہ ایک اور مقامی مولانا صاحب کے فتوئے منع کرنے کے باوجود جنازہ پڑھایا۔ بعد ازاں ان دونوں مرزائیوں کی تدفین بھی مسلمانوں کے مقامی قبرستان میں کر دی گئی۔ یہ خبر سننے کے بعد ایک مولانا صاحب نے فتویٰ دیا کہ ”قادیانیوں کا جنازہ پڑھنے اور پڑھانے والوں کو تجدید نکاح کرنا پڑے گا“۔ برائے مہربانی وضاحت فرمائیں۔
- ١۔ آیا کہ مرزائیوں کا جنازہ پڑھنے اور پڑھانے والوں کا نکاح ٹوٹ گیا؟
- ٢۔ اگر نکاح ٹوٹ گیا تو تجدید نکاح کی شرعی صورت کیا ہوگی؟
- ٣۔ قادیانیوں کو مسلمانوں کے قبرستان میں دفنایا جا سکتا ہے کہ نہیں؟
(محمد بشیر نواب‘ منڈی بہاؤالدین‘ بمقام ڈیرہ بجواں)
ج : قرآن کی نصوص قطعیہ‘ سنت متواترہ اور صحابہ کرام کے دور سے آج تک امت کا اس بات پر اجماع و اتفاق ہے کہ رسول اللہ ﷺ اللہ تعالیٰ کے آخری نبی و رسول ہیں۔ آپ کے بعد نہ کوئی نبی ہے‘ نہ رسول۔ اگر کوئی شخص حضور ﷺ کے بعد نبوت یا رسالت کا دعویٰ کرے‘ خواہ کسی معنی میں ہو‘ وہ کافر‘ مرتد‘ خارج از اسلام ہے۔ جو شخص اس کے کفر و عذاب میں شک کرے‘ وہ بھی کافر و مرتد جہنمی ہے۔
مرزائے قادیانی نے یقیناً اپنی نبوت و رسالت کا دعویٰ کیا، جو اس کی کتابوں میں موجود ہے۔ اس دعویٰ کے بعد اس نے توبہ نہیں کی، لہٰذا وہ قرآن و سنت اور امت کے متفقہ فیصلے کی بناء پر کافر و مرتد ہے۔ جو مرزائے قادیانی مذکور کے کفر و عذاب میں شک کرے، وہ بھی کافر و مرتد جہنمی ہے۔
علم کے باوجود جن لوگوں نے قادیانی کی نماز جنازہ پڑھی، وہ احکام قرآنی، حدیث اور اجماع امت کے باغی ہیں۔ وہ فوری طور پر توبہ کریں اور از سر نو ایمان لائیں۔ چونکہ جان بوجھ کر کفر اختیار کرنے والا کافر و مرتد ہو جاتا ہے، جب کہ اس کی بیوی مسلمان تھی اور مسلمان کا نکاح کافر و مرتد سے نہیں ہوتا اور اس جرم کے ساتھ ہی وہ لوگ کافر و مرتد ہو گئے۔ پس ان کی مسلمان بیویوں سے ان کے نکاح فوراً ٹوٹ گئے۔ لہٰذا وہ عورتیں ان کے نکاح سے نکل گئیں۔
اگر یہ لوگ اپنے فعل پر نادم ہوں اور صدق دل سے توبہ کر کے تجدید ایمان کر لیں، تو دوبارہ ان بیویوں کی رضامندی سے نکاح کر سکتے ہیں۔ ورنہ ان کی بیویاں شرعاً آزاد ہیں، جہاں چاہیں نکاح کر لیں، کوئی عدت نہیں۔
قادیانی جیسا کہ ذکر ہوا، کافر و مرتد ہیں، لہٰذا ان کو مسلمانوں کے قبرستان میں دفن کرنا حرام ہے۔ فقہائے کرام فرماتے ہیں ینفسخ النكاح بالرده مرتد ہونے سے نکاح ٹوٹ جاتا ہے۔ (”فتح القدیر“ ٥٬٤١٠) اذا ارتد المسلم عن الاسلام و العياذ بالله عرض عليه الاسلام فان كانت له شبہہ کشفت عنہ جب مسلمان، اسلام سے (نعوذ باللہ) پھر جائے، اس پر اسلام پیش کیا جائے۔ اگر کوئی شبہ ہو تو اس کا ازالہ کیا جائے۔ .... و یحبس ثلاثة ایام فان اسلم والا قتل اسے تین دن قید کیا جائے۔ اگر مسلمان ہو جائے تو بہتر، ورنہ قتل کر دیا جائے۔ (ہدایہ ”فتح القدیر“ ٥٬٤٠٧)
س : قادیانیوں سے میل جول اور عام زندگی میں تعلقات کی نوعیت کیا ہونی چاہیے۔ خاص طور پر جب وہ خوش اخلاق اور خدمت گار بھی ہو؟
(محمد رشید لاہور)
ج : قادیانی علی العموم کافر و مرتد ہیں۔ ان سے سلام، کلام، کھانا، پینا، بیاہ، شادی، لین دین کسی مسلمان کے لیے جائز نہیں۔ حرام، حرام قطعی حرام ہے۔ کوئی
محض کسی لحاظ سے بہترین صفات کا حامل ہو، اس کا اللہ، رسول اور قرآن، اسلام اور اہل اسلام کا دشمن ہونا اور ان سے بغاوت کرنا اتنا بڑا جرم ہے کہ کوئی ذاتی خوبی اس کا مداوا نہیں کر سکتی ۔ قرآن کریم میں ارشاد ہے :
لا تجد قوما یومنون باللہ والیوم الاخر یوادون من حاد اللہ و رسولہ و لو کانوا آبائہم او ابنائہم او اخوانہم او عشیرتہم اولئک کتب فی قلوبہم الایمان وایدہم بروح منہ ویدخلہم جنات تجری من تحتہا الانہر خالدین فیہا رضی اللہ عنہم و رضوا عنہ اولئک حزب اللہ الا ان حزب اللہ ہم المفلحون
ترجمہ : ”تم نہ پاؤ گے ان لوگوں کو جو یقین رکھتے ہیں اللہ اور پچھلے دن پر کہ دوستی کریں ان سے جنہوں نے اللہ اور اس کے رسول سے مخالفت کی، اگر چہ وہ ان کے باپ یا بیٹے یا بھائی یا کنبے والے ہوں ۔ یہ ہیں، جن کے دلوں میں اللہ نے ایمان نقش فرما دیا اور اپنی طرف کی روح سے ان کی مدد کی اور انہیں باغوں میں لے جائے گا، جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں ۔ ان میں ہمیشہ رہیں گے، اللہ ان سے راضی اور وہ اللہ سے راضی ۔ یہ اللہ کی جماعت ہے، سن لو، کہ اللہ کی جماعت ہی کامیاب رہے گی“۔
یہ ہے اہل ایمان کا عمل کہ وہ اللہ اور رسول کے دشمنوں سے محبت نہیں کرتے ۔ خواہ باپ ہو، بیٹا ہو، بھائی ہو، دوست ہو ۔ لہٰذا آپ قادیانی سے ہر قسم کی قطع تعلقی کریں ۔ وہ اتنا ہی خوش اخلاق ہے تو کفر و ارتداد کو چھوڑے ۔ قادیانی مرتد پر لعنت بھیجئے اور محمد رسول اللہ ﷺ کی ختم نبوت پر ایمان لائے ۔ مرتد ہونا اخلاق نہیں، بد اخلاقی ہے ۔ جو شخص خود جہنم کا ایندھن بن جائے اور دوسروں کو بھی اپنی طرف کھینچے، اس کی بہترین خدمات نہیں، بد ترین ملکات ہیں ۔
جواب
پیش خدمت ھے
محمد طاہر رزاق
سوال: مرزا قادیانی کا جرم کیا ہے؟ اور اس کی موت کے بعد بھی اس کا تعاقب اتنی شدت سے کیوں کیا جاتا ہے؟
جواب: در یتیم محمد کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے امتیو! دجال قادیان مرزا قادیانی کوئی معمولی نوعیت کا مجرم نہیں۔ یہ پورے عالم اسلام اور اسلام کا مجرم ہے۔ اس کی فرد جرم شیطان کی آنت سے بھی زیادہ طویل ہے۔
خدائی کا دعویٰ کرنے کے جرم میں یہ فرعون‘ نمرود اور شداد ہے۔ نبوت کا دعویٰ کرنے کے جرم میں یہ اسود عنسی اور مسیلمہ کذاب ہے۔ توہین رسالت کرنے کے جرم میں یہ ابو جہل‘ ابو لہب اور ولید بن مغیرہ ہے۔ قرآن مجید میں تحریف کرنے کے جرم میں یہ یہودی و نصرانی ہے۔ صحابہ کرامؓ کی توہین کرنے کے جرم میں یہ ابن سبا ہے۔ دین اسلام سے پھر جانے کے جرم میں یہ مرتد ہے۔ تعلیمات اسلامیہ کو مسخ کرنے کے جرم میں زندیق ہے۔ حضرت علیؓ کی توہین کرنے کے جرم میں یہ خارجی ہے۔ امام حسینؓ کی شان میں بکواس کرنے کے جرم میں یہ شمر ہے۔ اسلام کو گالیاں دینے کے جرم میں یہ راجپال اور سلمان رشدی ہے۔ ظاہراً مسلمان اور باطناً کافر ہونے یعنی منافق ہونے کے جرم میں یہ عبداللہ بن ابی ہے۔ خود کو انسان کا بچہ نہیں بلکہ کرم خاکی بننے کے جرم میں یہ ڈارون کی اولاد ہے۔ جھوٹے خدا شداد نے بہشت بنائی اور جھوٹے نبی مرزا قادیانی نے بہشتی مقبرہ بنایا۔ اس کفریہ نقالی کے جرم میں یہ مشن شداد کا علمبردار ہے۔
اے مسلمان! یہ خطرناک مجرم آج بھی دندناتا ہوا زندہ ہے۔ کیونکہ کوئی بھی شخص اس وقت تک زندہ رہتا ہے۔ جب تک اس کے نظریات زندہ رہتے ہیں۔ پرسوں یہ ملعون مرزا بشیر الدین جہنمی کی صورت میں زندہ تھا۔ کل یہ مردود مرزا ناصر دوزخی کی صورت میں زندہ تھا اور آج یہ فخر شیطان مرزا طاہر کی صورت میں زندہ ہے اور جب تک فرش خاکی پر ایک بھی قادیانی زندہ رہے گا یہ اس کی صورت میں زندہ رہے گا۔ اس کی
ارتدادی تحریریں چھپ رہی ہیں۔ اس کے ایمان سوز لٹریچر کی اشاعت بڑے زور و شور سے جاری ہے۔ اس کا یوم پیدائش اور یوم مرگ بڑے اہتمام سے منایا جاتا ہے۔ خود تو مرگیا لیکن اپنی قائم کردہ ”مرتد یونیورسٹی“ سے تعلیم یافتہ ہزاروں چیلے چانٹے کفر و ارتداد کی تبلیغ کے لیے چھوڑ گیا جو آج بھی چمن اسلام میں بارودی سرنگیں بچھا رہے ہیں اور معاذ اللہ بڑی شدت سے اس روز بد کا انتظار کر رہے ہیں جب یہ چمن ایک زور دار دھماکے سے ویرانے میں تبدیل ہو جائے گا اور دور دور تک خاک اڑتی دکھائی دے گی۔
قادیانی حربوں سے نا آشنا سادہ لوح مسلمان اکثر یہ سوال کرتے ہیں کہ اگر یہ شخص اس قدر گھناؤنے کردار کا مالک تھا تو پھر کیا وجہ ہے کہ سر ظفر اللہ، ایم ایم احمد، ڈاکٹر عبدالسلام، نسیم احمد، کنور ادریس، ائیر مارشل ریٹائرڈ ظفر چودھری وغیرہ ایسے بڑے بڑے لوگ اس کا کلمہ کیوں پڑھتے ہیں؟ اس کو نبی اور رسول کیوں مانتے ہیں؟ اس کو اپنا مرشد اور رہبر کیوں تسلیم کرتے ہیں؟
جواباً عرض ہے کہ یہ ایک الگ اور طویل بحث ہے کہ ان ٹھگنوں کو بلند قامتی کا سرٹیفکیٹ کون عطا کرتا ہے؟ وہ کون سے خفیہ ہاتھ ہیں جو ان کند ذہنوں کو ذہانت کے تمغوں سے نوازتے ہیں؟ وہ کون سے پردہ نشین ہیں جو ان مرتدین کو اسلامی جمہوریہ پاکستان کے اعلیٰ و حساس عہدوں پر بٹھاتے ہیں اور پھر بین الاقوامی صحافت پر قبضہ ہونے کے ناطے پوری دنیا میں ان کے ناموں اور کاموں کی تشہیر کرواتے ہیں؟ اس موضوع پر انشاء اللہ ایک الگ کتابچہ تحریر کیا جائے گا۔
بالفرض انہیں بڑا تسلیم کر بھی لیا جائے اور ان جیسے کلیدی آسامیوں پر بیٹھے ہزاروں قادیانیوں کو قابل اور ذہین مان بھی لیا جائے تو کیا مرزا قادیانی اللہ کا نبی اور رسول بن جائے گا اور ان دجالوں کی جماعت کو اس دجال کی نبوت کی دلیل کے طور پر تسلیم کر لیا جائے گا؟
اے سادہ لوح مسلمان! یاد رکھ ایمان، قدرت کا سب سے جلیل القدر تحفہ ہے اور ہدایت صرف رب ذوالجلال کے ہاتھ میں ہے، وہ چاہے تو محلات میں رہنے والوں کو نعمت ایمان سے محروم رکھے اور کسی دریا کے کنارے ٹوٹی پھوٹی جھونپڑی میں رہنے
والے کے دل کو ایمان کا خزینہ بنا دے۔ وہ چاہے تو بادشاہوں کو حالت کفر میں مارے اور انہیں جہنم کا ایندھن بنا دے اور اس کی منشا ہو تو غربت و افلاس کی چکی میں پسنے والے کو مسند ولایت پر فائز کرے اور بعد از موت جنت الفردوس اس کا مقدر ٹھہرے۔ رئیس قریش ابو جہل دولت ایمان سے محروم رہا اور حبشہ کا غلام بلال حبشیؓ مؤذن رسولؐ کا اعزاز عظیم پائے۔ سیم و زر میں کھیلنے والا ابو لہب رسول خداؐ کا چچا ہونے کے باوجود نفس کفر میں انتہائی عبرتناک موت مر جائے اور ایران سے آنے والا غربت کا مارا سلمان فارسیؓ رفیق خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم بنے‘ تاجدارؐ ختم نبوت کا کلیوں کو شرماتا بچپن‘ شبنم سے مطہر لڑکپن اور رشک مہتاب و آفتاب جوانی اپنی آنکھوں سے دیکھنے والے بہت سے بد قسمت کفر کی ظلمت میں دم توڑ گئے اور روم سے آنے والے صہیبؓ رومی آغوش نبوتؐ میں آبسے اور دامن مصطفیٰؐ کی ٹھنڈی ہواؤں سے لطف اندوز ہونے لگے۔
اے سوالی مسلمان! کیا تو نے نہیں دیکھا کہ برنارڈ شا اور سٹیفن لی کاک ایسے ادیب‘ ولیم ورڈزورتھ اور جان کیٹس ایسے شاعر‘ ابراہم لنکن اور وینڈل فلپ ایسے مقرر‘ لوئی پاسچر اور ہانمن ایسے ڈاکٹر‘ شارک اور اوپن ہائم ایسے قانون دان‘ چرچل اور گاندھی ایسے سیاست دان‘ ایڈیسن اور جارج سٹیفن سن ایسے سائنس دان‘ آئن سٹائن اور نیوٹن ایسے ماہرین طبیعیات‘ کارل مارکس اور آدم سمتھ ایسے ماہرین اقتصادیات‘ بورنگ اور بی مک گرا ایسے ماہرین نفسیات‘ مینڈل اور ڈارون ایسے ماہرین حیاتیات‘ ڈیمارگن اور ٹورنگ ایسے ماہرین ریاضیات‘ ٹائن بی اور سپنگلر ایسے ماہرین عمرانیات‘ رابرٹ بائل اور جان ڈالٹن ایسے ماہرین کیمیا‘ برٹرینڈ رسل اور ہیگل ایسے فلاسفر‘ نپولین اور منٹگمری ایسے جرنیل‘ ہٹلر اور سٹالن ایسے منتظمین‘ برژنیف اور کینیڈی ایسے حکمران‘ لین پول اور گبن ایسے مورخین‘ لارڈ میکالے ایسا ماہر تعلیم اور گلیلیو ایسا ماہر فلکیات‘ اس دنیا سے ناکام و نامراد چلے گئے‘ کیا یہ اپنے اپنے علم و فن کے دائرہ میں بڑے لوگ نہیں تھے؟ یقیناً یہ یکتائے روزگار اور نابغہ عصر تھے۔ لیکن کیا ان کا علم ان کو گمراہی سے بچا سکا اور ان کی ذہانتیں ان کی عاقبتوں کو سنوار سکیں؟ تکمیل نبوت کے بعد اس بزم
ہستی میں ہر لمحہ فطرت کی یہ صدا گونجتی ہے کہ اب جو بھی منزل تک پہنچنا چاہتا ہے‘ اسے دامن مصطفیٰ سے وابستہ ہونا ضروری ہے جس کے ہاتھ میں دامن مصطفیٰ نہیں‘ اسے قدم قدم پر ٹھوکریں لگتی ہیں‘ اس کی عقل اسے کفر و ضلالت کے لق و دق ریگستانوں میں لئے گھومتی ہے اور منزل کی تلاش میں آبلہ پا سرگرداں مسافر ویرانوں میں سسک سسک کر دم توڑ دیتا ہے۔
اب آپ کے سامنے نور ایمان سے محروم اور عقل کے شکار کئے ہوئے چند قادیانی بڑوں اور چند دیگر بڑوں کا تماشہ پیش کیا جاتا ہے اور اس میں ان لوگوں کو ان کے سوال کا جواب بھی مل جائے گا جو یہ کہتے ہیں کہ اتنے اعلیٰ تعلیم یافتہ اور اعلیٰ عہدوں پر فائز قادیانی کیسے بھٹک سکتے ہیں۔ وہ دیکھیں گے کہ اس خار زار میں صرف اعلیٰ تعلیم یافتہ قادیانی ہی دھکے نہیں کھا رہے بلکہ اعلیٰ تعلیم یافتہ کفار بھی شریک سفر ہیں۔
اگر سر ظفر اللہ جیسا خود ساختہ عقل مند مرزا قادیانی جیسے کانے بھینگے اور فاتر العقل کو نبی مانتا ہے تو اس میں اچنبھے کی کیا بات! بنی اسرائیل کے دانشوروں نے بھی بچھڑے کو خدا مانا تھا۔ اگر ڈاکٹر عبدالسلام مرزا قادیانی کی گالیوں اور خرافات کو وحی مانتا ہے تو اس میں فکر کرنے کی کیا ضرورت! بھارت کا سابقہ صدر مرار جی ڈیسائی بھی تو اپنا پیشاب پیتا ہے اور اسے Water of life (آب حیات) کہتا ہے۔ اگر ایم ایم احمد ختم نبوت کا انکار کرتا ہے تو اس میں پریشانی کی کیا وجہ! روس کا صدر گوربا چوف بھی خدا کے وجود کا انکار کرتا ہے۔ اگر مرزا طاہر بھگوڑا خود کو مرزا قادیانی جیسی عجیب و غریب مخلوق کا خلیفہ کہلوانے میں فخر محسوس کرتا ہے تو اس میں کیسی حیرانی! ڈارون بھی تو خود کو بندر کا بیٹا کہلوانے میں فخر محسوس کرتا تھا۔ اگر الٹی کھوپڑی کی قادیانی امت مرزا قادیانی پر درود و سلام بھیجتی ہے تو اس میں کیسی پریشانی! بھارت کا وزیر اعظم راجیو گاندھی بھی تو موٹے تازے ننگے دھڑنگے بت کے سامنے ہاتھ جوڑ کر رام رام کرتا ہے۔
تحفظ
ختم
نبوّت
موضوعات
از قلم: محمد طاہر رزاق
- عقیدہ ختم نبوت
- چہرہ قادیانیت
- اٹھو مسلمانو ! قادیانی قرآن بدل رہے ہیں
- عاشقانِ مصطفےٰ کہاں ہیں ؟
- عشق خاتم النبیین
- شیزان کا بائیکاٹ
- مجرم اسلام (مرزا قادیانی)
- فتنہ قادیانیت کو پہچانیے !
- قادیانیت ! انگریز کا خود کاشتہ پودا
- آستین کے سانپ
- مسئلہ کشمیر اور فتنہ قادیانیت
- قادیانی کلمہ طیبہ سے کیا مراد لیتے ہیں ؟
- ہم تحفظ ختم نبوت کا کام کیسے کریں ؟
اس کا ہر ہر ورق
- معلومات افزا
- چشم کشا
- راز افشاء
- جہاد کی صدا
مطالعہ فرمائیے اور سونے والوں کو جگائیے !!!
شعور ختم نبوت اور قادیانیت شناسی
(سوالاً جواباً)
از قلم : محمد طاہر رزاق
- فتنہ قادیانیت سوال و جواب کی تلواروں کی دھاروں پر
- عقیدۂ ختم نبوت پر قرآن وحدیث کے فولادی دلائل ۔
- عقائد قادیانیت کی بزم رونمائی — مجلس رسوائی ۔
- علمائے تحفظ ختم نبوت کے زریں تذکرے ۔
- غداران ختم نبوت کے سیاہ چہرے — منحوس ہیولے ۔
- قادیانیت کی اسلام دشمنی کے بولتے نقوش ۔
- مجاہدین ختم نبوت کی ایمان پرور داستانیں ۔
- قادیانی گرو گھنٹالوں کی عبرتناک تصویریں — ہولناک مناظر ۔
- پاکستان میں قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے کی کہانی ۔
- فرنگی اور قادیانی معاشقے کی جھلکیاں ۔
اور وہ سب کچھ جو آپ جاننا چاہتے ہیں
لفظ لفظ آگاہی — سطر سطر جستجو
مختصر وقت میں ڈھیروں معلومات
ایک ایسی کتاب جس کا ہر مسلمان گھر میں ہونا ضروری ہے ۔
از قلم، محمد طاہر رزاق
- جھوٹی نبوت کے جگر پر قلم کے نشتر
- قادیانیت کے نجس وجود کی سرجری
- مرزا قادیانی کی شخصیت بے حیثیت پر علمی قہقہے
- قادیان نبوت کی شناخت پریڈ
قادیانیت
پوسٹ مارٹم
دیباچہ نگار
- عطاء الحق قاسمی
- صاحبزادہ طارق محمود
- ڈاکٹر مجید یونس بٹ • شفیق مرزا
O اعلیٰ سفید کاغذ O خوبصورت پرنٹنگ O انتہائی نفیس چار رنگہ ٹائیٹل O صفحات ٢٨٠
قیمت : ٧٥ روپے
مجاہدین ختم نبوت کیلئے صرف ٤٠ روپے ١٠ روپے ڈاک خرچ
ایک ایسی کتاب جسے آپ کا ذوق مطالعہ ایک ہی نشست میں پڑھ جائے گا
شائع کردہ : عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت حضوری باغ روڈ، ملتان
قادیانی افسانے
از قلم
محمد طاہر رزاق
- ایک نئے زاویے سے فتنہ قادیانیت کا جائزہ ۔
- ہمارے معاشرے میں جنم لینے والی پراسرار اور ہوشربا
قادیانی کہانیاں — جن کا دامن حقائق سے مالا مال ہے — اور جن کے کردار ہمارے گلی محلوں میں چل پھر رہے ہیں !!
- جن میں مظلوم کے آنسو بھی ہیں اور ظالم کے شیطانی قہقہے بھی ۔
- جن میں اندھیرے بھی ہیں اور اجالے بھی ۔
- جن میں ارتداد کی باد صرصر بھی ہے ، اور ایمان کی باد صبا بھی ۔
- جن میں دجل و فریب کے پھندے بھی ہیں اور ان پھندوں کو
توڑنے والے بندے بھی ۔
- جن میں غفلت کی نیند کے خراٹے بھی ہیں اور خرمن قادیانیت
پر کڑکتی بجلیاں بھی ۔
- جن میں بے حسی کا گریہ بھی ہے اور جہاد کی للکار بھی !!!
دیباچہ نگار: نعیم صدیقی ، صاحبزادہ خورشید گیلانی ، شفیق مرزا
ایک ایسی کتاب جو آنکھوں کے راستے دل میں اُتر جائے گی
صفحات : ١٣٦ ، قیمت ٥٠ روپے ، مجاہدین ختم نبوّت کیلئے ٢٥ روپے علاوہ ڈاک خرچ
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوّت ٥۔ حنین سٹریٹ مسلم ٹاؤن لاہور
دجال قادیان
موضوعات
اللہ کا گستاخ
کیا ہم رسول اللہ ﷺ کے امتی ہیں؟
مرزا قادیانی کو نبی کیوں بنایا گیا؟
ختم نبوت کے پاسبان
مرزا قادیانی کا حافظہ
مسٹر گالی گلوچ
مجرم اعتراف جرم کرتا ہے
مرزا قادیانی کا بچپن
قادیان کا بدکردار
ایک منہ دو زبانیں
تحفظ ختم نبوت ہر اس شخص کا فرض ہے ...... جو کہتا ہے کہ وہ رسول ﷺ کا امتی ہے ۔ اپنے دامن میں اسی فرض کی پکار لئے ہوئے ”قادیانیت کش“ آپ کی خدمت میں حاضر ہے ...... اور آپ کے ایمانی ردعمل کی منتظر ہے
مطالعہ فرمائیے ! اور کاروان تحفظ ختم نبوت میں شامل ہو جائیے !!!
نغمات ختم نبوت
ترتیب و تدوین ، محمد طاہر رزاق
- شاعری کی فصیح وبلیغ زبان میں نبیؐ کائنات خاتم النّبیین جناب محمّد عربی ﷺ
کی ہمہ گیر، ہمہ جہت اور زمان ومکان کی قیود سے بالاتر نبوت و رسالت کا بیان۔
- عقیدۂ ختم نبوت کی اہمیت ، نزاکت اور صداقت کا تذکرہ۔
- دجّالِ قادیان مرزا قادیانی اور فتنۂ قادیانیت کا علمی اور عقلی محاسبہ۔
اس عہد کی منظوم داستان
- جب عشقِ ختم نبوت ایک جُرم تھا۔
- جب گلیوں اور سڑکوں پر ایمان اور ارتداد نبرد آزما تھے۔
- جب سینکڑوں مقتولوں کی زمینوں کو شہیدانِ ختمِ نبوت اپنے خونِ مقدّس سے سیراب کر رہے تھے۔
- جب آدم خور جنرل اعظم خان عاشقانِ رسولؐ کی لاشوں کے ڈھیر لگا کر ظلم و بربریت کی تاریخ میں ہلاکو اور چنگیز سے
اپنا قد اونچا کر رہا تھا۔
چند شعرائے کرام
علامہ اقبالؒ O مولانا ظفر علی خان O علامہ طالوتؒ O آغا شورشؒ O اکبر الہ آبادیؒ مظفر وارثی O ساغر صدیقیؒ O امین گیلانی O جانباز مرزا O سیف الدین سیف نعیم صدیقی O وقار انبالوی O حفیظ رضا پسروری O حنیف رضی O حکیم آزاد شیرازی عارف صحرائی O سائیں حیات O شریف ماہی اور دیگر درجنوں !
دیباچہ نگار پروفیسر محمد منور ● مظفر وارثی ● نذیر احمد غازی
بہترین کاغذ O دیدہ زیب پرنٹنگ O جاذب نظر چار رنگہ ٹائیٹل O صفحات : ٢٩٦
قیمت ٩٠ روپے ● مجاہدین ختم نبوت کیلئے صرف ٣٠ روپے + ١٠ روپے خرچہ ڈاک
پڑھیے اور تحفظ ختم نبوت کیلئے آگے بڑھیے !
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت حضوری باغ روڈ ملتان
قادیانیت کش
موضوعات
مرزائیت شکن مجاہد
اے گستاخ رسولؐ ! زرا دامن تو دیکھ
مرزا قادیانی کے فرشتے
قادیانی اخلاق ایک سازش..... ایک جال
مرزا قادیانی کی خوراک
قادیانی نواز ! اسلام کا موذی دشمن
مرزا قادیانی کا لباس
ڈاکٹر عبدالسلام کون؟ ایک تعارف ..... ایک تجزیہ
مرزا قادیانی کا معافی نامہ
ظالم کون؟ مسلمان یا قادیانی
گلدستہ اشعار ختم نبوت
پڑھئے اور تحفظ ختم نبوت کے لئے آگے بڑھئے !!!
جی ہاں ! تحفظ ختم نبوت آپ کا بھی فرض ہے ۔ آپ نے یہ فرض کس حد تک ادا کیا؟
مرگِ مرزائیت
قادیانی
مسلمانوں
کو
کیا
سمجھتے
ھیں؟
پاکستان
امریکی
اور قادیانی
سازشوں
کے
نرغے
میں
تھوڑی
دیر
مرزا
قادیانی
کی
قبر پر
قادیانیوں
کے
عبرتناک
انجام
قومی
شناختی کارڈ
اور
مذہب
کا
خانہ
شمع
ختم نبوّت
کے
پروانوں کی
باتیں
مرزا
قادیانی
کا
لباس
ھم
قادیانیوں
کو
کیا
سمجھتے
ھیں؟
تحریک
ختم
نبوت
١٩٧٤ء
دوزخ سے
مرزا قادیانی
کا
خط
مرزا طاہر
کے
نام
قولِ
حق
سپریم کورٹ کو
ملّتِ اسلامیہ
کا
خراجِ
عقیدت
تحریک ختم نبوت
کے
چند نقوش
زیر طبع
ترتیب و تدوین
محمد طاہر رزاق
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت
حضوری باغ روڈ ملتان فون: 514122
جنہیں
ختم نبوت سے
عشق تھا
زیر طبع
ترتیب و تدوین
محمد طاہر رزاق
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت
حضوری باغ روڈ ملتان فون: 514122