رَدِّ قادیانیت
رسائل
- حضرت مولانا محمد اعظم گوندلوی
- مولانا عبدالصمد ندوی سیاح
- حضرت مولانا ایوب دہلوی
- جناب راحت علی ملتانی
- حضرت مولانا سید مبارک علی شاہ ہمدانی
- جناب عبدالرحیم سلیم وکیل ہائیکورٹ دکن
- حضرت مولانا عبدالغفور کلانوری
- مولانا غلام احمد امرتسری
- جناب غلام نبی میر ناسک
- مولانا محمد شفیق گجرات
- مولانا حافظ حکیم عبداللطیف منڈانوالی
- نامعلوم مصنف
- حضرت مولانا کرم دین دبیر
- حضرت مولانا سید نور الحسن شاہ بخاری
- جناب علاؤ الدین احمد بی اے، بی ایل
- حضرت مولانا خدا بخش شجاعبادی
- مولانا تاج الدین خان بہل سندھی
احتساب قادیانیت
جلد ٥٣
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت حضوری باغ روڈ ، ملتان ۔ فون : 4783486-061
رد قادیانیت
رسائل
احتساب قادیانیت
٥٣
- حضرت مولانا محمد اعظم گوندلوی
- مولانا عبدالصمد سندھوی پنہار
- حضرت مولانا ایوب دہلوی
- جناب واجد علی ملتانی
- حضرت مولانا سید مبارک علی شاہ ہمدانی
- جناب عبدالرحیم سلیم وکیل ہائیکورٹ دکن
- حضرت مولانا عبدالغفور کانپوری
- مولانا غلام احمد امرتسری
- جناب غلام نبی ہیڈ ماسٹر
- مولانا محمد شفیق گجرات
- مولانا حافظ حکیم عبداللطیف تاندلیانوالی
- نامعلوم مصنف
- حضرت مولانا کرم دین دبیر
- حضرت مولانا سید نورالحسن شاہ بخاری
- جناب علاؤالدین احمد بی اے، بی ایل
- حضرت مولانا خدا بخش شجاعبادی
- مولانا تاج الدین خان بل سندھی
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم نام کتاب : احتساب قادیانیت جلد ترپن (٥٣) مصنفین : حضرت مولانا محمد اعظم گوندلوی حضرت مولانا محمد ایوب دہلوی حضرت مولانا سید مبارک علی شاہ ہمدانی حضرت مولانا عبدالغفور کلانوری جناب غلام نبی میرٹھی مولانا حافظ حکیم عبداللطیف مندرانوالی حضرت مولانا کرم دین دبیر جناب علاؤ الدین احمد بی اے، بی ایل مولانا عبدالصمد سندھوی سیاح جناب واحد علی ملتانی جناب عبدالرحیم سلیم وکیل ہائیکورٹ دکن مولانا غلام احمد امرتسری مولانا محمد شفیق گجراتی نامعلوم مصنف حضرت مولانا سید نور الحسن شاہ بخاری حضرت مولانا خدا بخش شجاع آبادی مولانا تاج الدین خان بقل سندھی
صفحات : ٦٤٨ قیمت : ٤٥٠ روپے مطبع : ناصر آرٹ پریس لاہور طبع اول : جولائی ٢٠١٣ء ناشر : عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت حضوری باغ روڈ ملتان Ph: 061-4783486
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
فہرست رسائل مشمولہ...... احتساب قادیانیت جلد ٥٣
- ☆...... عرض مرتب حضرت
- ١...... ختم نبوت حضرت
- ٢...... القول الصبیح فی حیات المسیح حضرت
- ٣...... مرزائے قادیانی کی ہذیانی حضرت
- ٤...... مرزائیوں سے چند سوالات 〃
- ٥...... مسلمانان عالم مرزائیوں کی نظر میں حضرت
- ٦...... قادیانی ہذیان حضرت
- ٧...... خضری روحانی مشن اور مسئلہ ختم نبوت جنا
- ٨...... مرزائیت کے ناپاک ارادے، حکومت 〃
پاکستان اور مسلمانوں کے لئے لمحہ فکریہ
- ٩...... بھیڑیا، بھیڑیا 〃
- ١٠...... اظہار الحق، المعروف رد مرزائیت مولا
- ١١...... دعوت الحق رحمانی، بجواب نصرۃ الحق قادیانی 〃
- ١٢...... مرزائیت کا جال، لاہوری مرزائیوں کی چال حضرت
- ١٣...... دوستانہ نصیحت جنا
- ١٤...... امروہی کے شمس بازغہ کا دائمی کسوف مولا
- ١٥...... صحيفة الولاء للنظر الى دافع البلاء جنا
- ١٦...... ختم المعانی بتردید عقائد قادیانی (١٣٤٢ھ) جنا
- ١٧...... حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی حیات پر، مرزائیوں مولا
کی دھوکہ بازیاں اور ان کا جواب
- ١٨...... مصنوعی قادیانی کے اعمال جو سخت کاذب اور اکفر ہے نامع
- ١٩...... رفع الالتباس، بحث اوّل متعلق بمسئلہ ملائکۃ حضرت
- ٢٠...... لاہور اور قادیان کے سالانہ جلسہ کے موقع پر حضرت
جماعت احمدیہ کی خدمت میں ہمارا علمی ہدیہ
- ٢١...... آنجہانی مرزا قادیانی کے سولہ سفید جھوٹ 〃
- ٢٢...... قادیانی دنیا کا چیلنج، پانچ سوال اور پانچ ہزار روپے نقد انعام مولا
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
فہرست رسائل مشمولہ ...... احتساب قادیانیت جلد ٥٣
☆...... عرض مرتب حضرت مولانا اللہ وسایا ٤ ١...... ختم نبوت حضرت مولانا محمد اعظم گوندلویؒ ١١ ٢...... القول الصبیح فی حیات المسیح حضرت مولانا محمد ایوب دہلویؒ ٧٣ ٣...... مرزائے قادیانی کی بد زبانی حضرت مولانا سید مبارک علی شاہ ہمدانیؒ ١٢٥ ٤...... مرزائیوں سے چند سوالات // // // ١٤١ ٥...... مسلمانان عالم مرزائیوں کی نظر میں // // // ١٤٧ ٦...... قادیانی ہذیان حضرت مولانا عبدالغفور کلاٹوریؒ ١٥٣ ٧...... خضری روحانی مشن اور مسئلہ ختم نبوت جناب غلام نبی میر تاسکؒ ١٨٧ ٨...... مرزائیت کے ناپاک ارادے، حکومت // // // ٢٠٥ پاکستان اور مسلمانوں کے لئے لمحہ فکریہ ٩...... بھیڑ نما بھیڑیے // // // ٢١٧ ١٠...... اظہار الحق، المعروف بہ مرزائیت مولانا حافظ حکیم عبداللطیف مندرانوالی ٢٢٥ ١١...... دعوت الحق رحمانی، بجواب نصرۃ الحق قادیانی // // // ٢٨٥ ١٢...... مرزائیت کا جال، لاہوری مرزائیوں کی چال حضرت مولانا کرم دین دبیرؒ ٣٧١ ١٣...... دوستانہ نصیحت جناب علاؤ الدین احمد بی اے، بی ایل ٣٨٣ ١٤...... امروہی کے شمس کاسفہ کا داعی کسوف مولانا عبد الصمد سندھروی سیاحؒ ٤٠٩ ١٥...... صحيفة الولاء لملتجا الی دافع البلاء جناب واجد علی ملتانیؒ ٤١٧ ١٦...... سم المعانی بتردید عقائد قادیانی (١٣٣٢ھ) جناب عبدالرحیم سلیم وکیل ہائیکورٹ دکن ٤٥١ ١٧...... حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی حیات پر، مرزائیوں مولانا غلام احمد امرتسریؒ ٥٧٥ کی دھوکے بازیاں اور ان کا جواب ١٨...... مصنف قادیانی کے اقوال جو سخت کاذب اور اکفر ہے مولانا محمد شفیق گجراتؒ ٥٩١ ١٩...... رفع الالتباس، بحث اوّل متعلق بمسئلہ ملائکۃ نامعلوم مصنفؒ ٦٠٧ ٢٠...... لاہور اور قادیان کے سالانہ جلسہ کے موقع پر حضرت مولانا سید نور الحسن شاہ بخاریؒ ٦٢٧ جماعت احمدیہ کی خدمت میں ہمارا علمی ہدیہ ٢١...... آنجہانی مرزا قادیانی کے سولہ سفید جھوٹ حضرت مولانا خدا بخش شجاع آبادیؒ ٦٣٩ ٢٢...... قادیانی دنیا کا چیلنج، پانچ سوال اور مولانا تاج الدین خان فل سندھیؒ ٦٤٥ پانچ ہزار روپیہ نقد انعام
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
عرض مرتب
الحمد للہ و کفی و سلام علیٰ عبادہ الذین اصطفے ، اما بعد ! قارئین کرام ! لیجئے !! اللہ رب العزت کے فضل و کرم سے احتساب قادیانیت کی جلد ترپن (٥٣) پیش خدمت ہے۔ اس جلد میں ذیل کی کتب و رسالہ جات شامل ہیں:
- ١...... ختم نبوت :
یہ رسالہ حضرت مولانا محمد اعظم گوندلوی شیخ الحدیث جامعہ اسلامیہ گوجرانوالہ کا مرتب کردہ ہے۔ اس میں ختم نبوت کے دلائل قرآن وسنت سے بیان کئے گئے ہیں۔ آخر میں عقیدہ ختم نبوت کے بارے میں مرزا قادیانی کے موقف کا ابطال کیا گیا ہے۔ یہ رسالہ سب سے پہلے فروری ١٩٥٥ء میں شائع ہوا۔ اب اٹھاون سال بعد دوبارہ احتساب کی اس جلد میں محفوظ کیا جارہا ہے۔
- ٢...... القول الصبیح فی حیات المسیح:
شیخ الحدیث مولانا عبد الستار دہلوی کا یہ رسالہ مرتب کردہ ہے۔ مکتبہ ایوبیہ کراچی نے اسے ١٣٨٢ھ میں شائع کیا۔ اب ١٤٣٣ھ میں گویا نصف صدی بعد اس جلد میں محفوظ کیا جارہا ہے۔ ”حیات مسیح علیہ السلام“ کے عنوان پر لائق تحسین مواد اس میں شامل ہے۔
- ٣...... مرزائے قادیانی کی بدزبانی:
یہ رسالہ حضرت مولانا سید مبارک علی شاہ ہمدانی کا مرتب کردہ ہے۔ مولانا سید مبارک علی شاہ ہمدانی، حضرت پیر سید مہر علی شاہ گولڑوی کے ہمعصر تھے۔ سادات ہمدانیہ جو قصور و خیر پور میں آباد ہیں سید مبارک علی شاہ صاحب ان کے جد اعلیٰ تھے۔
- ٤...... مرزائیوں سے چند سوالات:
یہ رسالہ بھی حضرت مولانا سید مبارک علی ہمدانی قصوری کا مرتب کردہ ہے۔
- ٥...... مسلمانان عالم مرزائیوں کی نظر میں:
یہ رسالہ بھی حضرت مولانا سید مبارک علی ہمدانی قصوری کا مرتب کردہ ہے۔
- ٦...... قادیانی ہذیان:
یہ رسالہ حضرت مولانا عبد الغفور کلانوری کا مرتب صاحب ناظم مستشار العلماء قصور نے اولاً ١٣٥٢ھ میں چھپوایا اوّل میں جو آپ نے تعارف لکھا وہ یہ ہے۔ ”خدا جزائے خیر دے جناب مولانا عبد الغفور صا دیو بند کو جنہوں نے خلیفہ قادیانی مرزا محمود کے فریب آمیز نشان کا ظہور“ کے جواب میں ایک کفر شکن رسالہ لکھا جس کا مؤلف نے اس رسالہ میں ”آہ نادر شاہ کہاں گیا“ اور ”ف مرزا قادیانی کی پیش گوئیوں پر زبردست تنقید فرما کر ثابت کیا ہ حقیقت دجل وزور اور عیاری ومکاری کے سوا کچھ نہیں ۔“
- ٧...... خضری روحانی مشن اور مسئلہ ختم نبوت:
یہ رسالہ جناب غلام نبی میر ناسک راولپنڈی کا م پہلی بار شائع ہوا۔ اب اس جلد میں محفوظ کیا جارہا ہے۔
- ٨...... مرزائیت کے ناپاک ارادے،حکومت پاکستا
یہ رسالہ بھی جناب غلام نبی میر ناسک کا مرتب کر
- ٩...... بھیڑ نما بھیڑیے :
یہ رسالہ بھی غلام نبی میر ناسک کا مرتب کردہ ہے
- ١٠...... اظہار الحق ، المعروف رد مرزائیت :
یہ رسالہ حضرت مولانا حکیم عبد اللطیف صاحب کا کے متعلق مزید معلومات درج ہیں۔
- ١١...... دعوت الحق رحمانی، بجواب نصرۃ الحق قادیا
یہ رسالہ بھی حضرت مولانا حکیم حافظ عبد اللطیف ڈگری ضلع تھر پارکر کا مرتب کردہ ہے۔ سندھ تھر پارکر میں ق تھا۔ جو قادیانی گروہ کے معروف مناظر تھے۔ قدرت حق ط لئے ڈگری ضلع تھر پارکر کے مولانا حکیم عبد اللطیف صاحب تحریر کا جواب تحریر سے، تقریر کا جواب تقریر سے، اور مناظرہ
- ٦...... قادیانی ہذیان:
یہ رسالہ حضرت مولانا عبدالغفور کلانوریؒ کا مرتب کردہ ہے۔ یہ رسالہ مولانا منظور الحق صاحب ناظم مستشارالعلماء قصور نے اسے ١٣٥٢ھ میں گویا بیاسی سال پہلے شائع کیا تھا۔ اشاعت اوّل میں جو آپ نے تعارف لکھا وہ یہ ہے۔ ”خدا جزائے خیر دے جناب مولانا عبدالغفور صاحب کلانوری مولوی فاضل وفاضل دیوبند کو جنہوں نے خلیفۂ قادیانی مرزا محمود کے فریب آمیز رسالہ ”سرزمین کابل میں ایک تازہ نشان کا ظہور“ کے جواب میں ایک کفر شکن رسالہ لکھا جس کا عنوان ہے ”قادیانی ہذیان“ فاضل مؤلف نے اس رسالہ میں ”آہ نادر شاہ کہاں گیا“ اور ”دو بکریاں ذبح کی جائیں گی“ وغیرہ مرزا قادیانی کی پیش گوئیوں پر زبردست تنقید فرما کر ثابت کیا ہے کہ مرزا قادیانی کی پیش گوئیوں کی حقیقت دجل وزور اور عیاری ومکاری کے سوا کچھ نہیں۔“
- ٧...... خضری روحانی مشن اور مسئلہ ختم نبوت:
یہ رسالہ جناب غلام نبی میر ناسک راولپنڈی کا مرتب کردہ ہے۔ اپریل ١٩٦٧ء میں پہلی بار شائع ہوا۔ اب اس جلد میں محفوظ کیا جارہا ہے۔
- ٨....... مرزائیت کے ناپاک ارادے، حکومت پاکستان اور مسلمانوں کے لئے لمحہ فکریہ:
یہ رسالہ بھی جناب غلام نبی میر ناسک کا مرتب کردہ ہے۔
- ٩...... بھیڑ نما بھیڑیئے:
یہ رسالہ بھی غلام نبی میر ناسک کا مرتب کردہ ہے۔
- ١٠....... اظہار الحق، المعروف رد مرزائیت:
یہ رسالہ حضرت مولانا حکیم عبداللطیف صاحب کا مرتب کردہ ہے۔ اگلے نمبر پر مصنف کے متعلق مزید معلومات درج ہیں۔
- ١١....... دعوت الحق رحمانی، بجواب نصرۃ الحق قادیانی:
یہ رسالہ بھی حضرت مولانا حکیم حافظ عبداللطیف ساکن چک نمبر ١٥٥ مندران والی نزد ڈگری ضلع تھرپارکر کا مرتب کردہ ہے۔ سندھ تھرپارکر میں ایک قادیانی مبلغ تھے جن کا نام احمد علی تھا۔ جو قادیانی گروہ کے معروف مناظر تھے۔ قدرت حق نے احمد علی قادیانی کا ناطقہ بند کرنے کے لئے ڈگری ضلع تھرپارکر کے مولانا حکیم عبداللطیف صاحب کو کھڑا کردیا۔ آپ نے قادیانی مبلغ کی تحریر کا جواب تحریر سے، تقریر کا جواب تقریر سے، اور مناظرہ کے لئے دوبدو میدان کارزار میں قدم
رکھا۔ قادیانیت کو ناکوں چنے چبوائے۔ اس قادیانی مناظر کی بولتی بند کی۔ سرعام اس کی بولو رام ہوگئی۔ وہ مبہوت و دم بخود ہو گیا۔ مولانا حکیم عبد اللطیف صاحب نے ایک رسالہ ”خاتم النبیین“ لکھا۔ پھر حیات مسیح علیہ السلام پر ایک رسالہ ”اظہار الحق“ لکھا۔ قادیانی مبلغ احمد علی نے اظہار الحق کا جواب ”نصرۃ الحق“ کے نام سے تحریر کیا۔ اس قادیانی کا جواب ”دعوت الحق رحمانی، بجواب نصرۃ الحق قادیانی؟“ ہے۔ یہ رسالہ ١٩٥٣ء میں تحریر کیا گیا۔ تحریر سادہ مگر گرفت بہت مضبوط ہے۔ حق تعالیٰ مصنف رسالہ کو کروٹ کروٹ جنت نصیب فرمائیں۔ نہ معلوم کیسے کیسے، فرشتہ سیرت، پاک باز لوگ قادیانیت کے مقابلہ کے لئے میدان میں اترے اور قادیانیوں کو سرعام شکست سے دوچار کیا۔ اسی منظر کا مظہر یہ رسالہ ہے۔ جو اس جلد میں شائع کیا جارہا ہے۔
- ١٢...... مرزائیت کا جال، لاہوری مرزائیوں کی چال:
مرزا کی جماعت کے لاہوری گروہ کو لاہوری مرزائی کہا جاتا ہے۔ ان کا لاٹ پادری و مہنت محمد علی لاہوری تھا۔ جو دجل کرنے میں مرزا قادیانی کے بھی کان کترتا تھا۔ جتھہ اپنے گرو سے بھی چار قدم آگے نکل گیا۔ اس لاہوری جتھہ نے اپنے عقائد کی ایک فہرست شائع کی۔ یہ یک ورقی اشتہار قادیانی دجل کا شاہکار تھا۔ پنجاب کے معروف عالم دین، بزرگ رہنما، دانشور مناظر حضرت مولانا محمد کرم الدین دبیر ساکن بھیں ضلع چکوال نے اس یک ورقی اشتہار کا جواب لکھا۔ جسے انجمن حزب الاحناف لاہور نے شائع کیا۔ اس رسالہ پر نمبر ١٨ درج ہے جس کا معنی یہ ہے کہ اس سے قبل بھی اس انجمن نے رسائل شائع کئے۔ ان میں قادیانیت کی پرزور تردید کرتے تھے۔ بعد میں کتنے شائع ہوئے۔ وہ سب مہیا کرنا۔ رد قادیانیت کے رسائل کو یکجا کرنا ایک محنت کا متقاضی امر ہے۔ اللہ تعالیٰ کسے توفیق بخشتے ہیں۔ یہ آنے والا وقت بتائے گا۔ فقیر راقم کو یہ رسالہ ملا جو اس جلد میں محفوظ ہو گیا۔ بھلے یہ کیا کم خدمت ہے۔ مولانا کرم الدین دبیر ہمارے مخدوم یادگار اسلاف حضرت مولانا قاضی مظہر حسین کے والد گرامی تھے۔ مولانا کرم الدین صاحب کی مرزا قادیانی کے ساتھ عدالتی جنگ بھی رہی۔ سالہا سال تک مقدمات چلتے رہے۔ مرزا قادیانی کو مولانا کرم الدین کے ہاتھوں کس طرح رسوائی سے دوچار ہونا پڑا۔ یہ تاریخ کا ایک شاندار باب ہے جسے مولانا کرم الدین صاحب نے ”تازیانہ عبرت“ میں قلمبند کر دیا تھا۔ وہ کتاب بار بار منگوا کر پڑھتا بھی رہا، جھومتا بھی رہا۔ لیکن آج محو حیرت ہوں کہ وہ ابھی تک کیوں شائع نہیں ہوئی۔ یہ رسالہ اس جلد میں شائع کرنے کی سعادت حاصل کرتا ہوں۔ ”تازیانہ عبرت“ نامی کتاب کسی دوسری جلد کے لئے اٹھا رکھتا ہوں۔
- ١٣...... دوستانہ نصیحت:
عبدالمجید نامی ایک شخص جو بھاگل پور کے رہنے نے مرزا قادیانی کی تائید میں چند رسائل بھی لکھے جس کا کیا گیا۔ عبدالمجید قادیانی کے رسائل اور ان کے جوابات بی ایل بھاگل پوری نے دیرینہ شناسائی اور دوستی کی بنیا دوستانہ نصیحت کے نام پر شائع کر دیا۔ قریباً ایک صدی جارہا ہے۔ اس کا ایک آخری ورق کرم خوردہ تھا جو حصہ نا چھوڑ دیا ہے۔
- ١٤...... امروہی کے شمس کاسفہ کا دائمی کسوف:
حضرت مولانا سید پیر مہر علی شاہ گولڑوی نے نامی کتاب تحریر کی۔ امروہہ کے ایک قادیانی نے بزعم خو کتاب چھپ کر سامنے آئی اس کے ایک دو مباحث کی ا سیاح نے یہ رسالہ تحریر کیا۔ جو اس جلد میں شائع ہو رہا ہے امروہہ کے قادیانی کا ناطقہ بند کیا ہے۔
- ١٥...... صحيفة الولاء المنظر الى دافع البلا
ہندوستان میں طاعون آیا۔ ملعون قادیان م کا ذبہ کی دلیل قرار دیا اور اس پر ایک کتابچہ ”دافع البلا ملتان کے جناب واحد علی کے پاس بھیجا۔ انہوں نے اس اسے شائع نہ کرنا ورنہ تمہاری خیر نہیں۔ شاید وہ پہلے شا شائع کرنے کے درپے ہوئے۔ یہ رسالہ دراصل وہی خط تھا۔ یہ خط ١٥ جولائی ١٩٠٢ء کو بھیجا گیا۔ گویا اس رسالہ زندہ رہا۔ مگر جواب کی جرأت نہ کر سکا۔ آج ٢٠١٣ء گیارہ سال بعد اس رسالہ کی اشاعت محض توفیق الٰہی کہ ملعون قادیان کس طرح بخئیے ادھیڑے گئے ہیں۔
نے۔ اس قادیانی مناظر کی بولتی بند کی۔ سرعام اس کی بولورام ہوا۔ حکیم عبداللطیف صاحب نے ایک رسالہ ”خاتم النبیین“ تالیف رسالہ ”اظہار الحق“ لکھا۔ قادیانی مبلغ احمد علی نے اظہار الحق تحریر کیا۔ اس قادیانی کا جواب ”دعوت الحق رحمانی، بجواب نصرۃ ١٩ء میں تحریر کیا گیا۔ تحریر سادہ مگر گرفت بہت مضبوط ہے۔ حق پڑھنا نصیب فرمائیں۔ نہ معلوم کیسے کیسے، فرشتہ سیرت، پاک لئے میدان میں اترے اور قادیانیوں کو سرعام شکست سے دوچار جو اس جلد میں شائع کیا جارہا ہے۔
لاہوری مرزائیوں کی چال:
لاہوری گروہ کو لاہوری مرزائی کہا جاتا ہے۔ ان کا لاٹ پادری یا کرنے میں مرزا قادیانی کے بھی کان کترتا تھا۔ پٹھہ اپنے ے۔ اس لاہوری پٹھہ نے اپنے عقائد کی ایک فہرست شائع کی۔ شائع کرتا تھا۔ پنجاب کے معروف عالم دین، بزرگ رہنما، و نامور دبیر، ساکن بھیں ضلع چکوال نے اس یک ورقی اشتہار کا جواب ہور نے شائع کیا۔ اس رسالہ پر نمبر ٨ درج ہے جس کا معنی یہ نے رسائل شائع کئے۔ ان میں قادیانیت کی پرزور تردید کرتے تھے۔ ب مہیا کرنا۔ رد قادیانیت کے رسائل کو یکجا کرنا ایک محنت کا ق بخشتے ہیں۔ یہ آنے والا وقت بتائے گا۔ فقیر راقم کو یہ رسالہ ملا کیا کم خدمت ہے۔ مولانا کرم الدین دبیر ہمارے مخدوم یادگار حسینؒ کے والد گرامی تھے۔ مولانا کرم الدین صاحبؒ کی بھی رہی۔ سالہا سال تک مقدمات چلتے رہے۔ مرزا قادیانی کو طرح رسوائی سے دوچار ہونا پڑا۔ یہ تاریخ کا ایک شاندار باب نے ”تازیانہ عبرت“ میں قلمبند کر دیا تھا۔ وہ کتاب بار بار نکلوائی آج محو حیرت ہوں کہ وہ ابھی تک کیوں شائع نہیں ہوئی۔ یہ ا سعادت حاصل کرتا ہوں۔ ”تازیانہ عبرت“ نامی کتاب کسی
١٣...... دوستانہ نصیحت:
عبدالمجید نامی ایک شخص جو بھاگل پور کے رہنے والے تھے قادیانی ہو گئے۔ اسی قادیانی نے مرزا قادیانی کی تائید میں چند رسائل بھی لکھے جس کا جواب خانقاہ عالیہ مونگیر شریف سے شائع کیا گیا۔ عبدالمجید قادیانی کے رسائل اور ان کے جوابات پڑھ کر جناب علاؤالدین احمد بی.اے، بی.ایل بھاگل پوری نے دیرینہ شناسائی اور دوستی کی بنیاد پر عبدالمجید قادیانی کو ایک خط لکھا جسے دوستانہ نصیحت کے نام پر شائع کر دیا۔ قریباً ایک صدی پہلے کا یہ خط ہے جو اس جلد میں شائع کیا جا رہا ہے۔ اس کا ایک آخری ورق کرم خوردہ تھا جو حصہ ناقابل استفادہ تھا اسے بیاض کی شکل میں چھوڑ دیا ہے۔
١٤...... امروہی کے شمس کاسفہ کا دائی کسوف:
حضرت مولانا سید پیر مہر علی شاہ گولڑویؒ نے مرزا قادیانی کے رد میں ”شمس الہدایت“ نامی کتاب تحریر کی۔ امروہہ کے ایک قادیانی نے بزعم خود شمس بازغہ کے نام پر اس کا رد لکھا۔ جونہی کتاب چھپ کر سامنے آئی اس کے ایک دو مباحث کی تردید میں فوری مولانا عبدالصمد سندھلوی سیاحؒ نے یہ رسالہ تحریر کیا۔ جو اس جلد میں شائع ہو رہا ہے پڑھیں کہ خوب منطقی طرز استدلال سے امروہہ کے قادیانی کا ناطقہ بند کیا ہے۔
١٥...... صحیفۃ النظر الی دافع البلاء:
ہندوستان میں طاعون آیا۔ ملعون قادیان مرزا قادیانی نے معاذ اللہ! اسے اپنی نبوت کاذبہ کی دلیل قرار دیا اور اس پر ایک کتابچہ ”دافع البلاء“ نامی تحریر کیا۔ ایک قادیانی نے یہ رسالہ ملتان کے جناب واحد علی کے پاس بھیجا۔ انہوں نے اپنے تاثرات قلمبند کئے۔ قادیانی نے کہا کہ اسے شائع نہ کرنا ورنہ تمہاری خیر نہیں۔ شاید وہ پہلے شائع نہ کرتے مگر اس دھمکی کے بعد وہ اسے شائع کرنے کے درپے ہوئے۔ یہ رسالہ دراصل وہی خط ہے جو انہوں نے مرسل دافع البلاء کو بھیجا تھا۔ یہ خط ١٥؍ جولائی ١٩٠٢ء کو بھیجا گیا۔ گویا اس رسالہ کی اشاعت کے بعد ملعون قادیان چھ سال زندہ رہا۔ مگر جواب کی جرأت نہ کر سکا۔ آج ٢٠١٣ء ہے۔ ١٩٠٢ء کی امانت ٢٠١٣ء میں گویا ایک سو گیارہ سال بعد اس رسالہ کی اشاعت محض توفیق الٰہی ہی ہے اور بس...... آپ پڑھیں اور دیکھیں کہ ملعون قادیان کس طرح ننگے ادھیڑے گئے ہیں۔
- ١٦...... نعم المعانی، تردید عقائد قادیانی (١٣٤٢ھ):
ہائیکورٹ حیدرآباد دکن کے وکیل جناب عبدالرحیم سلیم کے دوست ایک قادیانی وکیل حافظ عبدالعلی تھے۔ دونوں مسافر بنگلہ محبوب آباد میں جمع ہوگئے۔ باتوں باتوں میں مرزا قادیانی کا تذکرہ آیا تو قادیانی وکیل عبدالعلی نے عقائد احمدیہ نامی کتابچہ پڑھنے کے لئے جناب عبدالرحیم سلیم وکیل ہائیکورٹ کو پکڑا دیا۔ انہوں نے اسے پڑھ کر قادیانی وکیل سے چند سوالات کئے۔ قادیانی وکیل نے ان سوالات کے جوابات پر مشتمل خط تحریر کیا۔ اس خط کا جواب الجواب جناب عبدالرحیم سلیم وکیل ہائیکورٹ نے لکھا تو یہ کتاب تیار ہوگئی۔ کتاب عام فہم انداز میں لکھی گئی ہے اور مسلمان وکیل نے قادیانی وکیل کا کامیاب تعاقب کیا ہے۔ کتاب کے نام سے ١٣٤٢ھ سن اشاعت نکلتا ہے۔ ٩٢ سال بعد دوبارہ اس کتاب کی اشاعت محض توفیق ایزدی ہے۔ اللہ تعالیٰ شرف قبولیت سے سرفراز فرمائیں۔
- ١٧...... حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی حیات پر مرزائیوں کی دھوکے بازیاں اور ان کا جواب:
امرتسر میں اہل فقہ مکتبہ و پریس قائم تھا۔ وہاں سے اخبار اہل فقہ بھی جاری تھا۔ اخبار اہل فقہ کے ایڈیٹر مولانا غلام احمد امرتسری تھے۔ قاضی فضل کریم لنڈا بازار لاہور کا ایک قادیانی تھا اس نے ایک مضمون ”وفات مسیح علیہ السلام“ پر لکھ کر اپنے دل کی کالک کاغذ پر بکھیری۔ اللہ تعالیٰ نے مولانا غلام احمد امرتسری کو توفیق دی انہوں نے اس اشتہار کا اس رسالہ کی شکل میں جواب دیا۔
یہ دسمبر ١٩١٢ء کی بات ہے۔ آج ٢٠١٣ء ہے ایک صدی سے زائد کا یہ رسالہ احتساب قادیانیت کی اس جلد میں اس کی اشاعت انعام وفضل الٰہی ہے۔
- ١٨...... مصنوعی قادیانی کے اعمال جو سخت کاذب اور اکفر ہے:
چکوڑی ضلع گجرات کے جناب مولانا محمد شفیق جو مولوی فاضل تھے انہوں نے مولانا سید پیر مہر علی شاہ گولڑوی اور مرزا غلام قادیانی کے درمیان محاکمہ کے لئے یہ رسالہ تحریر کیا۔ جو ١٨٩٩ء کے لگ بھگ کا ہے۔ موصوف نے اپنے مضمون کو خوب نبھایا ہے۔ اس جلد میں یہ رسالہ بھی شامل اشاعت ہے۔
- ١٩...... رفع الالتباس، بحث اوّل متعلق بمسئلہ ملائکہ:
مرزا قادیانی کبھی ملائکہ کو کواکب کا اثر قرار دیتے ہیں، کبھی کچھ، کبھی کچھ۔ مرزا قادیانی کے اس عقیدہ باطلہ کے رد میں یہ رسالہ تحریر کیا گیا۔ مصنف کا نام اور تاریخ اشاعت نہ مل سکی۔ البتہ اتنا بوسیدہ کاغذ ہے کہ دیکھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ کم از کم ایک صدی قبل کا یہ رسالہ ہے۔ مصنف مرحوم خوب فاضل شخصیت ہیں کہ ملائکہ کے وجود پر قر اخلاص کا یہ عالم ہے کہ اپنا نام تک نہیں لکھا۔ اس بہت ہی خوشی محسوس کرتا ہوں۔
- ٢٠...... لاہور اور قادیان کے سالانہ جلس
ہمارا علمی ہدیہ:
اس رسالہ کا دوسرا نام: ”مسیح موعود ک دسمبر ١٩٣٤ء میں قادیانی ولاہوری آ
اس موقعہ پر تنظیم اہل سنت کے مرکزی دفتر شرق شاہ بخاری تھے جو امام اہل سنت تھے۔ دیوبند تھے۔ حضرت شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی کے
آپ نے کیا۔ آج بھی ان کی تحریرات و تیغ کٹ آپ نے ٢٣ دسمبر ١٩٣٤ء کو یہ رسالہ شائع کیا ہمارے لئے انعام ہے۔
- ٢١...... آنجہانی مرزا قادیانی کے سولہ ر
حضرت مولانا خدا بخش صاحب م خطیب تھے۔ رد قادیانیت کے موضوع پر ان آ کے تحت ڈیرہ غازیخان، بہاول پور، چنیوٹ، م نے یہ رسالہ تحریر کیا جس میں مرزا قادیانی کے اشاعت فقیر کے لئے ذاتی خوشی کا باعث ہے آ رب العزت نے توفیق بخشی۔
- ٢٢...... قادیانی دنیا کا چیلنج، پانچ سوال
مولانا تاج الدین خان بل گڑ میں جا کر رہائش اختیار کی۔ جمعیت علماء اس بہت ہی بہادر اور متحرک عالم دین تھے۔ آ ہے۔ فالحمدلله تعالیٰ!
خوب فاضل شخصیت ہیں کہ ملائکہ کے وجود پر قرآن وسنت کے دلائل بکثرت جمع کر دیئے ہیں۔ اخلاص کا یہ عالم ہے کہ اپنا نام تک نہیں لکھا۔ اس رسالہ کے احتساب کی جلد ہٰذا میں اشاعت پر بہت ہی خوشی محسوس کرتا ہوں۔
- ٢٠...... لاہور اور قادیان کے سالانہ جلسہ کے موقع پر جماعت احمدیہ کی خدمت میں
ہمارا علمی ہدیہ: اس رسالہ کا دوسرا نام: ”مسیح موعود کی پیش گوئی متعلقہ مصلح موعود کی منصفانہ تحقیق“ دسمبر ١٩٣٤ء میں قادیانی ولاہوری گروپ کے قادیان ولاہور میں سالانہ جلسے تھے۔ اس موقعہ پر تنظیم اہل سنت کے مرکزی دفتر شریف لاج امرتسر کے مہتمم حضرت مولانا سید نور الحسن شاہ بخاریؒ تھے جو امام اہل سنت تھے۔ دیوبند کے فاضل اور دارالمبلغین لکھنؤ کے تربیت یافتہ تھے۔ حضرت شاہ عبدالعزیز محدث دہلویؒ کے بعد برصغیر میں ردرفض پر سب سے زیادہ قلمی کام آپ نے کیا۔ آج بھی ان کی تحریرات دقیق کتب کی شکل میں علمی خزانوں کو سموئے ہوئے ہیں۔ آپ نے ٢٣؍دسمبر ١٩٣٤ء کو یہ رسالہ شائع کیا۔ اس جلد میں اس کی اشاعت اللہ رب العزت کا ہمارے لئے انعام ہے۔
- ٢١...... آنجہانی مرزا قادیانی کے سولہ سفید جھوٹ:
حضرت مولانا خدا بخشؒ صاحب شجاعبادی عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے فاضل اجل خطیب تھے۔ رد قادیانیت کے موضوع پر ان کی بڑی مضبوط گرفت تھی۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے تحت ڈیرہ غازیخان، بہاول پور، چنیوٹ، چناب نگر، بہاولنگر میں خدمات سرانجام دیں۔ آپ نے یہ رسالہ تحریر کیا جس میں مرزا قادیانی کے سولہ جھوٹ جمع کئے۔ اس جلد میں اس رسالہ کی اشاعت فقیر کے لئے ذاتی خوشی کا باعث ہے کہ اپنے ایک بھائی کے رشحات قلم محفوظ کرنے کی اللہ رب العزت نے توفیق بخشی۔
- ٢٢...... قادیانی دنیا کا چیلنج، پانچ سوال اور پانچ ہزار روپیہ نقد انعام:
مولانا تاج الدین خانؒ بپل گجرات کے رہنے والے تھے۔ پھر سندھ پڈعیدن میں جاکر رہائش اختیار کی۔ جمعیت علماء اسلام ضلع خیر پور سندھ کے نائب امیر بھی رہے۔ بہت ہی بہادر اور متحرک عالم دین تھے۔ آپ کا یہ رسالہ اس جلد میں اشاعت پذیر ہو رہا ہے۔ فالحمدللہ تعالیٰ!
غرض احتساب قادیانیت کی جلد ہذا (یعنی ترپن (٥٣) جلد) میں ١٧ حضرات کے ٢٢ رسائل و کتب محفوظ ہوگئے ہیں جن کی فہرست پر ایک بار پھر نظر ڈالیں۔
- ١...... حضرت مولانا محمد اعظم گوندلوی ؒ کا ١ رسالہ
- ٢...... حضرت مولانا محمد ایوب دہلوی ؒ کا ١ رسالہ
- ٣...... حضرت مولانا سید مبارک علی شاہ ہمدانی ؒ کے ٣ رسائل
- ٤...... حضرت مولانا عبدالغفور کلانوری ؒ کا ١ رسالہ
- ٥...... جناب غلام نبی میر ناسک ؒ کے ٣ رسائل
- ٦...... مولانا حافظ حکیم عبداللطیف مندراں والی کے ٢ رسائل
- ٧...... حضرت مولانا کرم دین دبیر ؒ کا ١ رسالہ
- ٨...... جناب علاؤالدین احمد بی اے، بی ایل کا ١ رسالہ
- ٩...... مولانا عبدالصمد سندروسی سیاح ؒ کا ١ رسالہ
- ١٠...... جناب واحد علی ملتانی ؒ کا ١ رسالہ
- ١١...... جناب عبدالرحیم سلیم وکیل ہائیکورٹ دکن کا ١ رسالہ
- ١٢...... مولانا غلام احمد امرتسری ؒ کا ١ رسالہ
- ١٣...... مولانا محمد شفیق گجرات ؒ کا ١ رسالہ
- ١٤...... نامعلوم مصنفؒ کا ١ رسالہ
- ١٥...... حضرت مولانا سید نورالحسن شاہ بخاری ؒ کا ١ رسالہ
- ١٦...... حضرت مولانا خدا بخش شجاعبادی ؒ کا ١ رسالہ
- ١٧...... مولانا تاج الدین خان بکل سندھی ؒ کا ١ رسالہ
......................................................................
گویا ١٧ حضرات کے کل ٢٢ رسائل و کتب احتساب قادیانیت کی جلد (٥٣) میں شامل اشاعت ہیں۔ حق تعالیٰ شرف قبولیت سے سرفراز فرمائیں۔ آمین ، بحرمۃ خاتم النبیین !
محتاج دعاء: فقیر اللہ وسایا! ٦؍ رمضان المبارک ١٤٣٤ھ، بمطابق ١٦؍ جولائی ٢٠١٣ء
النبیین لا نبی بعدی
ختم نبو
حضرت مولانا محمد اعظ
انا خاتم النبیین لا نبی بعدی
میں آخری نبی ہوں میرے بعد کوئی نبی نہیں۔
ختم نبوت
حضرت مولانا محمد اعظم گوندلوی رحمۃ اللہ علیہ
بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
تعارف
از قلم احمد البرکات مدرس جامعہ اسلامیہ اہلحدیث گوجرانوالہ
اس میں شک نہیں کہ فتنہ ( قادیانی ) بڑا پرانا فتنہ ہے۔ نبی علیہ السلام کی حیات اقدس ہی میں کئی کذابوں نے نبوت کا دعویٰ کیا۔ مگر ان کا جلدی ہی سدباب کیا گیا۔ یہ سلسلہ اسی طرح جاری رہا۔ آخر کار یہی فتنہ تیرھویں صدی ہجری میں عظیم فتنہ بن کر رونما ہوا۔ یہ امر مسلمہ ہے کہ یہ انگریزوں کا خودکاشتہ پودا ہے۔ جو آج کل ایک تنے کی صورت اختیار کر چکا ہے۔ ہندوستان میں غلام احمد قادیانی آنجہانی نے نبوت کا دعویٰ کر کے مسلمانوں کے دلوں سے جوش جہاد کو ختم کرنے کے لئے عزمِ سؤ کیا ہوا تھا۔ تاکہ امت مسلمہ میں تحفظ دین کا مادہ ختم ہو جائے اور اس نے انگریز حکمرانوں کی مدح وستائش میں لا تعداد کتابیں لکھیں۔ ان میں ایک جگہ رقم طراز ہیں:
”کہ گورنمنٹ برطانیہ کی اطاعت عین عبادت ہے“۔ ان ناپاک عزائم کے خلاف بہت سے علماء کرام اور دیگر شخصیتوں نے جہاد کیا۔ اس سلسلہ میں حضرت علامہ حافظ محمد صاحب گوندلوی کی مخلصانہ خدمات کو کبھی فراموش نہیں کیا جاسکتا۔ یہ مختصر مگر جامع رسالہ ”ختم نبوت“ اس سلسلہ کی ایک کڑی ہے۔ یہ رسالہ کا دوسرا ایڈیشن مزید اضافہ کے ساتھ منظر عام پر جلوہ گر ہو رہا ہے۔ اس میں کفر وتکفیر کا مسئلہ لاہوری و قادیانی پارٹی کا فرق اور ختم نبوت پر محققانہ بحث انفرادی حیثیت کی مالک ہے۔ جس سے ختم نبوت کی دیگر اکثر کتب محروم ہیں۔
حضرت حافظ علامہ الحاج محمد صاحب گوندلوی کی ذات والا صفات کسی تعارف کی محتاج نہیں کہ آپ فاضل قرآن وحدیث اور ماہر تعلیم وتدریس ہیں۔ آپ کی ساری عمر درس حدیث اور علوم اسلامیہ عربیہ میں صرف ہوئی ہے۔ اس سلسلہ میں آپ کی شخصیت پاک وہند میں مسلم ہو کر شہرت عام بقائے دوام حاصل کر چکی ہے۔ تمام ہند و پاک میں آپ کے تلامذہ پائے جاتے ہیں۔ جو دین اسلام کی خدمات بطریق احسن سر انجام دے رہے ہیں۔ یہ آپ کی لازوال خدمات ہیں جو داد وتحسین سے بالاتر ہیں۔ اب آپ مدرسہ جامعہ اسلامیہ اہلحدیث گوجرانوالہ کے صدر مدرس ہیں۔...... آخر میں میں دعا کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ حافظ صاحب اور مولوی بشیر احمد میر پوری کو اجر عظیم دے۔ جس نے باوجود مالی مشکلات کے اس رسالہ کی طباعت کا ذمہ اٹھایا ہے۔ آمین!
٢٧ فروری ١٩٥٥ء
٢
بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
مسئلہ ختم نبوت
” الحمد لله الذی اکمل لنا الدین و أتـ الیه فی امر الدین صغیرا وکبیراً وارسل رسـ علی الدین كله وما ارسله الا كافة للناس بشـ الاتمـان الا كـملان عـلی من لا نبی بعده محـ الذی صدق الله ما وعده “ اما بعد
برادران اسلام کی خدمت میں عرض ہے کہ دیـ
- ١....... وہ مسائل جن پر امت کا اتفاق ہے۔
- ٢....... وہ مسائل جن میں اختلاف ہے۔
پہلی قسم کے مسائل میں سے بعض ایسے ہیں جن سے دین کی ادنیٰ واقفیت رکھنے والا بھی واقف
- ١....... نمازیں پانچ فرض ہیں۔
- ٢....... سال بھر میں ایک ماہ کے روزے فرض ہیں۔
- ٣....... زکوٰۃ فرض ہے۔
- ٤....... قرآن اللہ کی کلام ہے۔
- ٥....... حدیث بھی دین کا حصہ ہے۔
- ٦....... آنحضرت ﷺ کے بعد کسی کو نبوت نہیں ملے گـ
اور بعض اجماعی مسائل اس قسم کے ہیں کہ ان دین کی واقفیت رکھنے والا واقف ہو۔ جیسے رضاعی رشتوں پـ قرآن میں تصریح ہے اور امت کا اس پر اتفاق ہے۔ مگـ رکھتا ہو ) ان سے واقف ہونا ضروری نہیں۔
ان تین قسم کے مسائل کے الگ الگ احکام ہیں
- ١....... جن مسائل کو ضروریات دین کہتے ہیں۔ ان
مسلمان کہلا کر ان کو زیر بحث نہیں لایا جاسکتا۔ مثلاً کوئی کـ
٣
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
مسئلہ ختم نبوت
”الحمد لله الذى اكمل لنا الدين و اتم علينا نعمه ولم يذرنا محتاج اليه فى امر الدين صغيراً وكبيراً وارسل رسوله بالهدى ودين الحق ليظهره على الدين كله وماارسله الا كافة للناس بشيرا ونذيرا. والصلوة والسلام الاتمان الا كملان على من لا نبى بعده محمد رسول الله و خاتم النبيين الذى صدق الله ماوعده “امابعد
برادران اسلام کی خدمت میں عرض ہے کہ دین کے مسائل دو قسم کے ہیں۔
- ......١ وہ مسائل جن پر امت کا اتفاق ہے۔
- ......٢ وہ مسائل جن میں اختلاف ہے۔
پہلی قسم کے مسائل میں سے بعض ایسے ہیں۔ جن کو ضروریات دین کہتے ہیں۔ وہ ایسے ہیں جن سے دین کی ادنیٰ واقفیت رکھنے والا بھی واقف ہو جاتا ہے۔ جیسے
- ......١ نمازیں پانچ فرض ہیں۔
- ......٢ سال بھر میں ایک ماہ کے روزے فرض ہیں۔
- ......٣ زکوٰۃ فرض ہے۔
- ......٤ قرآن اللہ کی کلام ہے۔
- ......٥ حدیث بھی دین کا حصہ ہے۔
- ......٦ آنحضرت ﷺ کے بعد کسی کو نبوت نہیں ملے گی۔
اور بعض اجماعی مسائل اس قسم کے ہیں کہ ان کی شہرت اس قدر نہیں کہ ان سے ہر ادنیٰ دین کی واقفیت رکھنے والا واقف ہو۔ جیسے رضاعی رشتوں کی حرمت اور بعض اور حرام چیزیں جن کی قرآن میں تصریح ہے اور امت کا اس پر اتفاق ہے۔ مگر ہر شخص کا (جو اسلام سے کچھ بھی مس رکھتا ہو) ان سے واقف ہونا ضروری نہیں۔
ان تین قسم کے مسائل کے الگ الگ احکام ہیں۔
- ......١ جن مسائل کو ضروریات دین کہتے ہیں۔ ان کے انکار سے انسان کافر ہو جاتا ہے۔
مسلمان کہلا کر ان کو زیر بحث نہیں لایا جاسکتا۔ مثلاً کوئی شخص نماز کی گنتی کے متعلق مسلمان کہلا کر
٣
بحث نہیں کر سکتا کیونکہ نمازوں کا پانچ ہونا ضروریات دین سے ہے۔ اسی طرح یہ مسئلہ کہ آنحضرت ﷺ کے بعد نبوت کسی کو مل سکتی ہے یا نہیں، ایک شخص مسلمان کہلا کر اس کو زیر بحث نہیں لاسکتا۔
- ......٢ جن مسائل پر امت کا اتفاق ہو۔ مگر وہ ضروریات دین میں داخل نہیں۔ ان کے انکار
سے اس وقت تک ایک مسلمان معذور ہو سکتا ہے جب تک اس کو علم نہ ہو۔ علم کے بعد پہلی قسم کی طرح ان کو بھی زیر بحث نہیں لایا جاسکتا۔
- ......٣ وہ مسائل جن میں اختلاف ہے، ان کی دو قسمیں ہیں۔
- الف ...... وہ مسائل جن میں ایک طرف صریح دلیل موجود ہو اور دوسری طرف صرف قیاس ہو۔
ان میں حکم یہ ہے کہ جس کو پورے طور پر دلیل کا علم ہو جائے، وہ قیاس کو چھوڑ دے۔
- ب ...... وہ مسائل جن میں دونوں طرف صریح دلیل موجود نہیں ۔ صرف قیاس ہی قیاس ہے۔ یا
غیر صریح دلیل ہے۔ ان میں حکم یہی ہے کہ جس طرف اطمینان ہو۔ اس پر عمل کرے۔
پس ختم نبوت کا مسئلہ اس قسم کا نہیں ہے جس میں اختلاف ہو یا اس کو زیر بحث لایا جا سکے۔ جب ایک شخص مسلمان کہلاتا ہے۔ تو اب اس کے لئے اس مسئلہ میں بحث کرنا جائز نہیں۔ کسی مسئلہ کو زیر بحث لانے کا یہ مطلب ہے کہ اس میں شک ہو۔ شک کو رفع کرنے کے لئے بحث کرے۔ اس کے دلائل کی دلالت میں بحث کرنا (کہ ان کی دلالت قطعی ہے یا ظنی یا دلائل کس قدر ہیں یا فلاں دلیل سے بھی یہ مسئلہ ثابت ہوتا ہے یا نہیں ) الگ امر ہے۔
پس کسی مسئلہ کا ضروریات دین سے ہونا الگ امر ہے اور اس کے دلائل میں بحث کرنا کہ ان سے یہ مسئلہ ثابت ہوتا ہے یا نہیں، الگ چیز ہے۔ مثلاً یہ مسئلہ کہ (نمازیں پانچ ہیں ) ضروریات دین سے ہے۔ اس میں شک کرنے سے انسان کافر ہو جاتا ہے۔ مگر کسی خاص آیت یا حدیث سے اس کا ثابت کرنا قابل تحقیق ہے۔ اگر کسی خاص آیت کے متعلق کوئی کہے کہ اس سے پانچ نمازیں ثابت نہیں ہوتیں تو اس کو کافر نہیں کہا جاسکتا۔
پس کسی اتفاقی مسئلہ کے متعلق جو ضروریات دین سے ہو۔ شک کی صورت میں بحث کرنا کفر ہے اور اس کی کسی خاص دلیل کی دلالت پر بحث کرنا اس وقت تک کفر نہیں۔ جب تک اس کی دلالت پر اجماع نہ ہو۔ اجماع کی صورت میں بھی اس وقت کفر ہو گا۔ جب اس کو اس اجماع کا علم ہو۔ پس یہاں تین باتیں یاد رکھنی چاہئیں۔
٤
- ......١ جو مسئلہ اجماعی ہونے کے باوجود ضروریات
- ......٢ جو مسئلہ اجماعی ہو، مگر ضروریات دین سے
معذور ہے۔ علم کے بعد اگر انکار کرے تو کافر ہے۔
- ......٣ جو مسئلہ ضروریات دین سے ہو۔ اس کا ا
خاص دلیل کی دلالت میں شک کرنے سے اس وقت دلیل کی دلالت قطعی نہ ہو۔ یا اس پر امت کا اجماع نہ ہ
پس کفر کی دو قسمیں ہیں۔
- ......١ باوجود کفر کے کافر الگ امت نہیں بنتا۔ ج
خوارج مختلف ہیں۔ اگر چہ یہ اختلاف اصولی اور شد ہیں۔
- ......٢ کفر کے ساتھ کافر الگ امت بن جاتا۔
ختم نبوت کا معروف معنی سے انکار ۔
کیونکہ قرآن مجید نے امت کے الگ ہ ہونے کا ذکر کیا ہے۔ "لكل امة رسول (یونس ”لكل جعلنا منكم شرعة ومنهاج (مائده:٤٨) "ہر ایک (امت) کے لئے (الگ) کردیتا۔ الگ الگ شریعت نہ بناتا۔
اس وقت ہمارے زیر نظر مسئلہ ختم نبوت ہ اس مسئلہ پر چند باتیں ذکر ہوں گی۔
- ......١ یہ مسئلہ اجماعی ہے۔
- ......٢ یہ مسئلہ ضروریات دین سے ہے۔
- ......٣ قرآن وحدیث سے اس کا ذکر ہوگا۔ ۔
- ......٤ مرزا قادیانی کا کیا دعویٰ ہے، محدثیت کا
- ......١ اس مسئلہ پر امت کا اجماع ہے۔
- ......١ "من ادعى نبوة احد مع نبین
القائلين لتخصيص رسالته الى العرب ٥
- ......١ جو مسئلہ اجماعی ہونے کے باوجود ضروریات دین سے ہو، اس کا انکار کفر ہے۔
- ......٢ جو مسئلہ اجماعی ہو، مگر ضروریات دین سے نہ ہو۔ جب تک ایک شخص کو اس کا علم نہ ہو وہ
معذور ہے۔ علم کے بعد اگر انکار کرے تو کافر ہے۔
- ......٣ جو مسئلہ ضروریات دین سے ہو۔ اس کا انکار تو کفر ہے۔ مگر اس کے دلائل میں کسی
خاص دلیل کی دلالت میں شک کرنے سے اس وقت تک انسان کافر نہیں ہوتا۔ جب تک اس دلیل کی دلالت قطعی نہ ہو۔ یا اس پر امت کا اجماع نہ ہو۔ پھر اس کو اس کا علم بھی ہو۔
پس کفر کی دو قسمیں ہیں۔
- ......١ باوجود کفر کے کافر الگ امت نہیں بنتا۔ جیسا بعض اجماعی مسائل جن میں شیعہ سنی اور
خوارج مختلف ہیں۔ اگرچہ یہ اختلاف اصولی اور شدید ہے۔ مگر سب ایک ہی امت کے فرقے ہیں۔
- ......٢ کفر کے ساتھ کافر الگ امت بن جاتا ہے۔ جیسے ایک نئے نبی کے قائل ہونے سے
ختم نبوت کا معروف معنی سے انکار۔
کیونکہ قرآن مجید نے امت کے الگ ہونے کے لئے رسول اور شریعت کے الگ ہونے کا ذکر کیا ہے۔ ”لکل امة رسول (یونس:٤٧)“ ہر امت کے لئے ایک رسول ہے۔ ”لکل جعلنا منكم شرعة ومنها جاولوشاء الله لجعلكم امة واحدة (مائدہ:٤٨)“ ہر ایک (امت) کے لئے (الگ) شریعت بنائی۔ اگر اللہ چاہتا تو ایک ہی امت کر دیتا۔ الگ الگ شریعت نہ بناتا۔
اس وقت ہمارے زیر نظر مسئلہ ختم نبوت ہے۔ اس مسئلہ پر چند باتیں ذکر ہوں گی۔
- ......١ یہ مسئلہ اجماعی ہے۔
- ......٢ یہ مسئلہ ضروریات دین سے ہے۔
- ......٣ قرآن وحدیث سے اس کا ذکر ہوگا۔
- ......٤ مرزا قادیانی کا کیا دعویٰ ہے، محدثیت کا یا نبوت کا؟
- ......١ اس مسئلہ پر امت کا اجماع ہے۔
- ......١ ”من ادعى نبوة احد مع نبينا ﷺ وبعده كالعيسوية من اليهود
القائلين لتخصيص رسالته الى العرب وكالحزميته القائلين بتواتر الرسل
٥
ای فهؤلاء كلهم كفار مكذبون النبی ﷺ انه اخبر انه خاتم النبيين ولا نبی بعده واخبر عن الله انه خاتم النبيين وانه ارسل كافة للناس واجمعت الامة على حمل هذا الكلام على ظاهره وان مفهومه المراد دون تاويل ولا تخصيص فلا شك فی كفر هؤ لاء الطوائف قطعا اجماعا وسمعا (شفاء قاضی عياض) ” جو آنحضرت ﷺ کے ساتھ کسی کو آپ کے عہد میں یا بعد ازاں شریک نبوت قرار دے، جیسے عیسویہ گروہ کہتا ہے کہ آنحضرت سچے رسول ہیں۔ مگر آپ کی نبوت خطہ عرب سے مخصوص ہے اور حزمیہ کہتے ہیں کہ رسول متواتر آتے رہیں گے۔ پس یہ لوگ سب کفار ہیں اور آنحضرت ﷺ کو جھوٹا سمجھنے والے ہیں۔ کیونکہ آنحضرت ﷺ نے خبر دی ہے کہ آپ خاتم النبیین ہیں۔ آپ کے بعد کوئی نبی نہیں ہوگا اور اللہ تعالیٰ نے خبر دی کہ آپ خاتم النبیین ہیں اور آپ سب لوگوں کی طرف بھیجے گئے ہیں اور امت کا اجماع ہے کہ یہ کمال اپنے ظاہری معنی پر محمول ہے۔ اس میں کسی قسم کی تاویل و تخصیص کی گنجائش نہیں۔ پس مذکورہ بالا فرقوں کے کفر میں کوئی شک نہیں۔ اجماع اور نقل سے یہ لوگ دائرہ اسلام سے قطعاً خارج ہیں۔“
- ٢...... یہ مسئلہ ضروریات دین سے ہے۔
کیونکہ اس کے انکار پر امت نے کفر کا فتویٰ صادر کیا ہے۔ اس فتویٰ میں کوئی قید علم وغیرہ کی نہیں لگائی۔ جو مسئلہ ضروریات دین سے ہو۔ اس کا انکار ہر صورت کفر ہوتا ہے۔ خواہ منکر کسی تاویل کی بناء پر انکار کرے یا عناد کی وجہ سے۔
ختم نبوت پر اجماع ہونے پر اعتراض
سوال نمبر ١:....... امام احمد کا مقولہ ہے کہ اجماع کا مدعی کاذب ہے۔ لہذا یہ کہنا کہ ختم نبوت پر اجماع ہے، خود باطل ہے۔ جواب...... جہاں یہ مقولہ مذکور ہے۔ وہاں اس کا جواب بھی منقول ہے کہ امام احمد کا یہ قول اس حالت پر محمول ہے۔ جب اس کا ناقل ایک ہو۔ اس کے حدوث کا اب دعویٰ کرے۔ ”وقول احمد محمول على انفراد اطلاع ناقله او حدوثه الان فانه احتج به فی مواضع كثيرة قال الاسفرائنی نحن نعلم ان مسائل الاجماع من اکثر عشرين الف مسئلة“ امام احمد کا کہنا کہ اجماع کا دعویٰ کرنے والا جھوٹا ہے۔ اس سے ان کی مراد یہ ہے کہ جب ایک آدمی اجماع کا دعویٰ کرے۔ دوسرے لوگ اس کے ساتھ شریک نہ ہوں یا امام احمد اپنے
زمانے کی نسبت فرماتے ہیں۔ (وہ بھی اس شخص کے ان کو انکار نہیں) کیونکہ امام احمد نے بہت جگہ اجماع اسفرائنی کہتے ہیں کہ ہم جانتے ہیں کہ مسائل اجماع
سوال نمبر :٢....... ابن عربی فتوحات مکیہ میں ہے۔ پس اجماع نہ ہوا۔ جواب...... (١) ابن عربی نہ صحابی ہے اس نے کہا بھی ہو تو یہ ان کی جہالت ہوگی کہ ان فصوص الحکم میں بہت سے مسائل میں صریح نصوص مکتوب میں اس کی تصریح موجود ہے۔
- ٢...... فتوحات میں ابن عربی نے یہ لکھا کہ
ہے۔ یعنی ہر نبی مشرع ہے۔ چنانچہ لکھتا ہے ”وما على المشرع خاصة فحجر هذا الاسم حضر التى ليس فيها هذا الوصف ونقف حيث وقف ﷺ“ ”باوجود اس کے نبوت اور نبی کا لفظ نبوت کی ممانعت اسی بناء پر ہے کہ اس میں تشریع کے الحاق کی ممانعت نہیں ۔ آنحضرت ﷺ نے روک دیا ہے۔ اس لئے اب ادب کا تقاضا یہی ہم ٹھہر جائیں ۔“ اس عبارت کا مطلب یہ ہے کہ لغت شریعت نے اس میں تشریع کی قید بڑھائی ہے۔ استعمال کرنا چاہئے۔ اس لئے لغوی معنی کے لحاظ ہے۔ کیونکہ شریعت نے جو نبی کی اطلاق کی بند تشریعی نبوت مراد نہیں۔ کیونکہ لغت میں یہ قید نہیں کہتے ہیں۔ خواہ سچا ہو یا جھوٹا۔ خدا کا نبی ہو یا ش
زمانے کی نسبت فرماتے ہیں۔ (وہ بھی اس شخص کے لئے جو کوشش نہ کرے ورنہ مطلق اجماع سے ان کو انکار نہیں) کیونکہ امام احمد نے بہت جگہ اجماع کے ساتھ استدلال کیا ہے۔ امام ابو اسحاق اسفرائینی کہتے ہیں کہ ہم جانتے ہیں کہ مسائل اجماع کی تعداد بیس ہزار سے زیادہ ہے۔
(فواتح ص ٤٩٤)
سوال نمبر : ٢...... ابن عربی فتوحات مکیہ میں فرماتے ہیں، نبوت باقی ہے۔ صرف تشریعی بند ہے۔ پس اجماع نہ ہوا۔
جواب ....... (١) ابن عربی نہ صحابی ہے نہ تابعی نہ تبع تابعی ۔ ایک متاخر آدمی ہے۔ اگر اس نے کہا بھی ہو تو یہ ان کی جہالت ہو گی کہ ان کو اس مسئلہ پر اجماع کا علم نہیں۔ ابن عربی نے فصوص الحکم میں بہت سے مسائل میں صریح نصوص کی مخالفت کی ہے۔ جیسے مجدد الف ثانی کے مکتوب میں اس کی تصریح موجود ہے۔
٢...... فتوحات میں ابن عربی نے یہ لکھا کہ شریعت میں نبوت کی حقیقت میں تشریع داخل ہے۔ یعنی ہر نبی مشرع ہے۔ چنانچہ لکھتا ہے ”ومع هذا فلا يطلق اسم النبوة والنبى الا على المشرع خاصة فحجر هذا الاسم لخصوص وصف معين في النبوة وما حجر التي ليس فيها هذا الوصف الخاص و ان كان حجر الاسم فنتادب ونقف حيث وقف ﷺ“
”باوجود اس کے نبوت اور نبی کا لفظ اسی پر بولا جائے گا۔ جو شریعت والا ہو۔ اس لفظ نبوت کی ممانعت اسی بناء پر ہے کہ اس میں تشریع کی قید ملحوظ ہے۔ ورنہ اس وصف کے بغیر نبوت کے الحاق کی ممانعت نہیں۔ آنحضرت ﷺ نے چونکہ اس لفظ کو اپنے بعد غیر مشرع کے لئے بھی روک دیا ہے۔ اس لئے اب ادب کا تقاضا یہی ہے کہ جہاں آنحضرت ﷺ ٹھہرے ہیں۔ وہاں ہم ٹھہر جائیں ۔“
اس عبارت کا مطلب یہ ہے کہ لغت کے لحاظ سے نبوت کے معنی پیش گوئی کے ہیں اور شریعت نے اس میں تشریع کی قید بڑھائی ہے۔ پس شریعت کے الفاظ کو ان کے شرعی معانی میں بھی استعمال کرنا چاہئے ۔ اس لئے لغوی معنی کے لحاظ سے اب بھی بعض اولیاء پر نبی کا لفظ استعمال ہو سکتا ہے۔ کیونکہ شریعت نے جو نبی کی اطلاق کی بندش کی ہے۔ اس سے مراد تشریعی نبوت ہے۔ غیر تشریعی نبوت مراد نہیں ۔ کیونکہ لغت میں یہ قید ملحوظ نہیں بلکہ لغت میں ہر پیش گوئی کرنے والے کو نبی کہتے ہیں۔ خواہ سچا ہو یا جھوٹا۔ خدا کا نبی ہو یا شیطان کا۔ مگر شریعت میں صرف اسی کو کہتے ہیں ۔ جو
٧
سچا اور خدا کی طرف سے پیغام لائے جیسے قرآن مجید میں ہے: "فبعث الله النبيين مبشرين و منذرين وانزل معهم الكتاب (البقرة: ٢١٣)" (اللہ تعالیٰ نے خوشخبری دینے اور ڈر سنانے کے لئے نبی بھیجے اور ان کے ساتھ کتاب نازل کی۔)
دوسری جگہ فرمایا: "وما ارسلنا من قبلك من رسول ولا نبي الا اذا تمنى القى الشيطان فى امنيته فينسخ الله ما يلقى الشيطان ثم يحكم الله اياته والله عليم حكيم (الحج: ٥٢)" (ہم نے جب کبھی رسول اور نبی بھیجا تو اس کی امنیت (قرائت) میں شیطان دخل اندازی کرتا۔ پھر اللہ تعالیٰ (شیطانی آمیزش کو مٹا دیتا ہے) اپنی آیات کو محکم فرماتا ہے۔ اللہ علیم اور حکیم ہے۔)
ان دونوں آیتوں سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ شریعت میں نبی کے لئے شریعت کتاب و آیات کا ہونا لازمی ہے۔ پس لغوی معنی کے لحاظ سے اگرچہ نبی کا اطلاق کسی ولی صاحب کشف پر ہوسکتا ہے۔ مگر شریعت نے جب اس اطلاق کی ممانعت کر دی ہے۔ پس ہم کو بھی بہ لفظ (نبی) کا آنحضرت ﷺ کے بعد کسی شخص پر نہیں بولنا چاہئے۔
پس ابن عربی کی کلام کا یہ مطلب نکلا کہ نبوت کا اطلاق صرف تشریح پر ہوتا ہے۔ غیر تشریح پر اطلاق شرعی نہیں بلکہ لغوی ہے۔ ان کا یہ مطلب ہے کہ شرعی غیر تشریعی نبوت شرعی معنے کے لحاظ سے باقی ہے۔ کیونکہ شرعاً اس پر نبوت کا اطلاق درست نہیں۔ بلکہ ادب کا تقاضا یہ ہے کہ ہم کسی معنی سے یہ لفظ استعمال نہ کریں۔
سوال نمبر ٣٠:...... ملا علی قاری نے موضوعات میں لکھا ہے۔ اگر عمر اور ابراہیم ابن محمد ﷺ نبی ہوتے تو یہ امر خاتم النبیین کے منافی نہ ہوتا۔ گویا ملا علی قاری ختم نبوت کے قائل نہیں۔ پس اجماع نہ ہوا۔
جواب:...... ہم پہلے بیان کر چکے ہیں کہ ختم نبوت پر امت کا اجماع ہے اور یہ اجماع ملا علی قاری نے بھی نقل کیا ہے۔ ملاحظہ ہو (شرح فقہ اکبر) "ودعوى النبوة بعد نبينا كفر بالاجماع " یعنی ہمارے نبی ﷺ کے بعد نبوت کا دعویٰ کرنا بالاجماع کفر ہے۔
٨
پس ملا علی قاری اس امر کے قائل ہیں کہ آ ہے، مگر خاتم النبیین سے اس کو نہیں نکالتے۔ اس کی وج ہے اور عام کی دلالت میں اختلاف ہے۔ بعض کہتے ہ ہوتی ہے۔ اس لئے ان کا خیال ہے کہ اگر حضرت عمر میں اس آیت کے یہ معنی ہوتے کہ آپ ان انبیاء صاحب کے ذہن سے یہ بات نکل گئی کہ عام ظنی ہو عام کے عموم پر اجماع نہ ہو۔ جب اجماع ہو تو عام کی
٢...... اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ ملا علی قاری کہتے ہوں۔ ایک تشریعی اور ایک غیر تشریعی اور حدیث لو غیر تشریعی کو بھی شامل ہے اور آیت میں تشریحی معنی اور شریعت میں نبوت کی حقیقت بھی یہ ہے۔ پس ا حضرت ابراہیم نبی بن جاتے یعنی لغوی معنی کے لحا میں ان کی نبوت آیت خاتم النبیین کے منافی نہ ہو جو نبی کا شرعی معنی ہے۔ وہ شرعی معنی کے لحاظ سے نب
سوال نمبر ٤٠:...... بعض وقت یہ شبہ گزرتا ہ امت کا اجماع ہے۔ تو اس صورت میں لازم آ اور اجماعی مسئلہ کا منکر کافر ہوتا ہے۔ پس لازم آ دین خیال کرتے ہیں۔
جواب:...... ہم پہلے بیان کر چکے ہ ضروریات دین سے ہیں یا اصول دین سے ہیں دوسری قسم وہ مسائل ہیں جو اجماعی ہ سے واقف ہو۔ پس ایسے مسائل سے جاہل کو کاف مجموعہ رسائل و مسائل نجدیہ کے حاش
متفقون على ان الجهل بامور الدين منه بالضرورة كالتوحيد والبعث وا بعذر للمقصر فى تعلمها مع تو
پس ملاعلی قاری اس امر کے قائل ہیں کہ آنحضرت ﷺ کے بعد کسی کو نبوت نہیں مل سکتی ہے، مگر خاتم النبیین سے اس کو نہیں نکالتے۔ اس کی دلالت ان کے نزدیک قطعی نہیں۔ کیونکہ یہ عام ہے اور عام کی دلالت میں اختلاف ہے۔ بعض کہتے ہیں کہ قطعی ہوتی ہے اور اکثر کہتے ہیں کہ ظنی ہوتی ہے۔ اس لئے ان کا خیال ہے کہ اگر حضرت عمرؓ اور حضرت ابراہیمؓ نبی بن جاتے تو اس صورت میں اس آیت کے یہ معنی ہوتے کہ آپؐ ان انبیاء کے خاتم ہیں۔ جو مشرع ہیں اور ملاعلی قاری صاحب کے ذہن سے یہ بات نکل گئی کہ عام ظنی یا قطعی ہونے کا مسئلہ اس وقت ہے۔ جب کسی عام کے عموم پر اجماع نہ ہو۔ جب اجماع ہو تو عام کی دلالت قطعی ہو جاتی ہے۔
- ٢...... اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ ملاعلی قاری بھی بلحاظ لغت نبی اور نبوت کی دو قسمیں مانتے
ہوں۔ ایک تشریعی اور ایک غیر تشریعی اور حدیث لو عاش ابراھیم میں نبوت کا لغوی معنی لیا ہو۔ جو غیر تشریعی کو بھی شامل ہے اور آیت میں تشریعی معنی لیا ہو جو لغت کے اعتبار سے نبوت تشریعی ہے اور شریعت میں نبوت کی حقیقت بھی یہ ہے۔ پس ان کی کلام کا مطلب یہ ہوا کہ اگر حضرت عمرؓ اور حضرت ابراہیمؓ نبی بن جاتے یعنی لغوی معنی کے لحاظ سے صاحب کشف ہو جاتے۔ تو اس صورت میں ان کی نبوت آیت خاتم النبیین کے منافی نہ ہوتی۔ کیونکہ آیت میں نبی سے مراد مشرع ہے۔ جو نبی کا شرعی معنی ہے۔ وہ شرعی معنی کے لحاظ سے نبوت کو جاری نہیں مانتے۔
- سوال نمبر: ٣...... بعض وقت یہ شبہ گزرتا ہے کہ جب آیت خاتم النبیین کے معنی معروف پر
امت کا اجماع ہے۔ تو اس صورت میں لازم آئے گا کہ ملاعلی قاری نے اجماع کی مخالفت کی ہے اور اجماعی مسئلہ کا منکر کافر ہوتا ہے۔ پس لازم آئے گا کہ ملاعلی کافر ہوئے۔ حالانکہ ان کو لوگ عالم دین خیال کرتے ہیں۔
جواب...... ہم پہلے بیان کر چکے ہیں کہ اجماعی مسائل دو قسم کے ہیں۔ ایک وہ جو ضروریات دین سے ہیں یا اصول دین سے ہیں۔ ان کے انکار سے تو کفر لازم آتا ہے۔
دوسری قسم وہ مسائل ہیں جو اجماعی ہونے کے باوجود اس قدر بدیہی نہیں کہ ہر شخص ان سے واقف ہو۔ پس ایسے مسائل سے جاہل کو کافر نہیں کہا جاتا بلکہ عالم معاند کو کافر کہا جاتا ہے۔
مجموعہ رسائل و مسائل نجدیہ کے حاشیہ میں سید رشید رضا فرماتے ہیں: ”علماء الامة متفقون على ان الجهل بامور الدين القطعية المجمع عليها التي هي معلومة منه بالضرورة كالتوحيد والبعث واركان الاسلام وحرمة الزنا والخمر ليس بعذر للمقصر في تعلمها مع توافر الدواعى وهم متفقون ايضاً على عذر
٩
العوام بجهل المسائل الاجماعية غير المعلومة بالضرورة وهذا التفصيل هوالذى يظهر به كلام شيخ الاسلام فى المواضع المختلفة (ص ٥١٧: رسائل و مسائل نجديه) “
علماء امت کا اس امر پر اتفاق ہے کہ جو امور دین کے قطعی ہیں۔ جن پر امت کا اجماع ہے اور دین کے ضروریات سے ہیں۔ جیسے توحید قیامت، ارکان اسلام اور زنا اور شراب کی حرمت، جو شخص ان کے سیکھنے میں کوتاہی کرے۔ باوجود اس کے کہ اسباب سیکھنے کے کافی ہوں۔ تو وہ جہالت کی بناء پر معذور نہیں سمجھا جائے گا (بلکہ ان میں شک کرنے سے کافر سمجھا جائے گا) نیز علماء اس بات پر بھی متفق ہیں کہ جو مسائل اجماعیہ ہیں۔ مگر وہ ضروریات دین سے نہیں۔ ان میں عوام کو جہالت کی بناء پر معذور سمجھا جائے گا۔
امام ابن تیمیہ کی کلام سے جو انہوں نے مختلف مقامات پر لکھی ہے۔ یہی ظاہر ہوتا ہے۔ پس اس بناء پر ہم ملا علی قاری کو کافر نہیں کہہ سکتے۔ کیونکہ ہو سکتا ہے کہ اس آیت کی دلالت پر جو اجماع ہے اس کا ان کو علم نہ ہو۔ اگر چہ نفس مسئلہ ختم نبوت جس پر اجماع وہ خود نقل کر رہے ہیں۔ اس کے وہ قائل ہوں۔
ملا علی قاری کی عبارت کی توجیہ جو ہم نے پہلے دوسرے نمبر پر نقل کی ہے (کہ وہ لغوی معنی کے اعتبار سے نبوت کے باقی رہنے کے قائل تھے نہ اصطلاحی معنی سے) اس لحاظ سے اجماع کی مخالفت کا ان پر کوئی اعتراض وارد نہیں ہوتا۔ کیونکہ اجماع صرف نبوت کے شرعی معنی کے ختم ہونے پر ہے۔ نہ لغوی معنی کے ختم ہونے پر اور جب انہوں نے خاتم النبیین کی تفسیر پر تشریح کی قید لگا کر یہ ثابت کیا کہ وہ شرعی معنی کے اعتبار سے خاتم النبیین کو عام سمجھتے ہیں تو اب مخالفت اجماع کا اعتراض ان سے اٹھ گیا۔ اگر چہ صحیح یہی ہے کہ ہم کو مطلق نبوت کے ختم ہونے کا اعتقاد رکھنا چاہئے۔
اس میں تشریح اور غیر تشریح کی بحث میں پڑ کر عوام کا دماغ پریشان نہیں کرنا چاہئے۔ کیونکہ جب ایک لفظ شرعی معنی کے اعتبار سے مشہور ہو چکا ہے۔ تو اب اس کی تقسیم میں لغوی معنی کا لحاظ کرنا جو متروک ہو چکا ہے، بالکل لغو طرز عمل ہے۔ اس کی مثال ایسی ہے جیسے کوئی شخص صلوٰۃ کو (جو ایک معروف عبادت یعنی نماز) میں مشہور ہے اور اس معنی کے اعتبار سے شرعی احکام اس کے متعلق ہیں۔ اس کو لغوی معنی کے اعتبار سے تقسیم کرے اور کہے کہ اس کے بعض افراد کے لئے وضو شرط ہے اور بعض کے لئے شرط نہیں۔ جیسے بدوں نماز دعا مانگنا۔ اگر چہ اس کا یہ کہنا فی نفسہ صحیح ہے۔
١٠
مگر عرفی محاورات میں خبط دماغی سے زائد کوئی چیز نہیں۔ ہم نے ختم نبوت کی بحث میں یہ انداز صرف ا ور نہ صحیح یہی ہے کہ ہم کو مطلق ختم نبوت کا لفظ استعمال کر معنی شرعی ہی سمجھا جائے گا۔ تشریح اور غیر تشریح کی بحث (نبوت کے لئے شرعی تشریح کی ضرورت ہے) بھی ایک لئے شرعاً بھی تشریح کی ضرورت نہ ہو اور مطلق پیش گوئی ہو۔ جس میں عصمت تو ضروری ہو۔ مگر تشریع نہ ہو اور باق درجہ ہو جہاں ان کی رسائی نہ ہو۔ میرے ناقص خیال میں چاہئے۔ کیونکہ اس کی حقیقت سے بحث کرنا ہمارے بس یا کشف سے اس کی حقیقت سے پردہ اٹھانے کی کوشش کئے جاسکتے۔
- ٣....... (الف) ختم نبوت کا مسئلہ قرآن مجید کی روشن
جنت سے نکالا۔ اس وقت فرمایا ”یابنی ادم اما یات ایاتی فمن اتقی واصلح فلا خ (اعراف:٣٥) ”اے بنی آدم اگر تمہارے پاس ا بیان کریں۔ پس جو بچ گیا اور اپنی اصلاح کر لی نہ ان پر ک اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی ط وعدہ کیا گیا تھا کہ اللہ کی طرف سے رسول آتے رہیں گ انسانوں اور فرشتوں سے ان کا انتخاب کرنا صرف اللہ کا ک ”الله يصطفى من الملائكة رسلا و انسانوں سے رسولوں کا انتخاب کرنا اللہ کا کام ہے۔﴿ا ”ولكن الله يجتبى من رسله من ي جس کو چاہے رسول منتخب کرے یا رسولوں سے جس کو چ فضل ہے۔ اسی وعدہ کو مختلف سورتوں میں بیان کیا ہے ی جگہ غیب پر مطلع کرنے کا ذکر کیا ہے۔ ہدایت اور غیب ک معرفت آتی ہے۔
١١
مگر عرفی محاورات میں خبط دماغی سے زائد کوئی چیز نہیں ۔ ہم نے ختم نبوت کی بحث میں یہ انداز صرف ایک کلام کی توجیہ کے لئے اختیار کیا ہے۔ ورنہ صحیح یہی ہے کہ ہم کو مطلق ختم نبوت کا لفظ استعمال کرنا چاہئے اور ظاہر ہے کہ اس سے نبوت کا معنی شرعی ہی سمجھا جائے گا۔ تشریح اور غیر تشریح کی بحث میں نہیں پڑنا چاہئے ۔ کیونکہ یہ کہنا کہ (نبوت کے لئے شرعی تشریح کی ضرورت ہے ) بھی ایک اجتہادی امر ہے۔ ممکن ہے کہ نبوت کے لئے شرعاً بھی تشریح کی ضرورت نہ ہو اور مطلق پیش گوئی سے جو لغوی معنی ہے۔ ایک بلند درجہ مراد ہو۔ جس میں عصمت تو ضروری ہو ۔ مگر تشریح نہ ہو اور باقی اولیاء کے جمیع مراتب سے ایک ایسا بلند درجہ ہو جہاں ان کی رسائی نہ ہو۔ میرے ناقص خیال میں نبوت کی اتنی اصولی تشریح پر ہی اکتفاء کرنا چاہئے ۔ کیونکہ اس کی حقیقت سے بحث کرنا ہمارے بس کی بات نہیں۔ جن لوگوں نے اپنی عقل یا کشف سے اس کی حقیقت سے پردہ اٹھانے کی کوشش کی ہے۔ وہ اپنی کوشش میں کامیاب نہیں کہے جا سکتے۔
- ٣...... (الف) ختم نبوت کا مسئلہ قرآن مجید کی روشنی میں اللہ تعالیٰ نے جب آدم علیہ السلام کو
جنت سے نکالا ۔ اس وقت فرمایا ” یابنی ادم اما یاتینکم رسل منکم یقصون علیکم ایاتی فمن اتقی واصلح فلا خوف علیہم ولا ہم یحزنون (اعراف: ٣٥) ” اے بنی آدم اگر تمہارے پاس تم ہی سے رسول آئیں جو تم پر میری آیتیں بیان کریں ۔ پس جو بچ گیا اور اپنی اصلاح کر لی نہ ان پر کوئی ڈر ہے اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔)
اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے آدم علیہ السلام کے زمانہ میں یہ وعدہ کیا گیا تھا کہ اللہ کی طرف سے رسول آتے رہیں گے اور دوسری جگہ فرمایا کہ رسول بنانا اور انسانوں اور فرشتوں سے ان کا انتخاب کرنا صرف اللہ کا کام ہے۔
”اللہ یصطفی من الملائکة رسلا ومن الناس (حج: ٧٥) ”ملائکہ اور انسانوں سے رسولوں کا انتخاب کرنا اللہ کا کام ہے۔
”ولکن اللہ یجتبی من رسله من یشاء (آل عمران: ١٧٩) ”اللہ تعالیٰ جس کو چاہے رسول منتخب کرے یا رسولوں سے جس کو چاہے منتخب کرے۔ ﴿یعنی انتخاب اللہ کا فضل ہے۔ اسی وعدہ کو مختلف صورتوں میں بیان کیا ہے۔ بعض جگہ ہدایت بھیجنے کا وعدہ ہے اور بعض جگہ غیب پر مطلع کرنے کا ذکر کیا ہے۔ ہدایت اور غیب سے مراد بھی شریعت ہی ہے۔ جو رسولوں کی معرفت آتی ہے۔
١١
"اما یاتینکم منی ھدی (بقرۃ: ٣٨)" ﴿اگر تمہارے پاس ہدایت آئے۔﴾
"فلا یظھر علی غیبہ احدا الا من ارتضیٰ من رسول (جن: ٢٦، ٢٧)" ﴿اللہ تعالیٰ اپنے غیب (احکام غیبیہ) پر کسی کو مطلع نہیں کرتا۔ مگر جس کو رسول پسند فرمائے۔﴾
یہ وعدہ جو کتابیں، ہدایت، غیب، آیات، رسولوں کے بھیجنے کا کیا گیا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے پورا کر دیا اور سب سے آخر ایک جامع واضح اور محفوظ شریعت دے کر حضرت محمد ﷺ کو مبعوث فرمایا اور سارے جہان کے لئے ان کی اتباع لازم قرار دی اور قیامت تک کے لئے ان کی شریعت کو واجب الاتباع قرار دیا۔
عموم رسالت کے دلائل
- .......١ "وما ارسلناک الا کافۃ للناس (سبا: ٢٨)" ﴿ہم نے تجھے سب لوگوں کے
لئے بھیجا ہے۔﴾
- .......٢ "وما ارسلناک الا رحمۃ للعالمین (انبیاء: ١٠٧)" ﴿ہم تجھے اس لئے بھیجا
ہے کہ سارے جہاں پر رحم کریں۔﴾
- .......٣ "تبارک الذی نزل الفرقان علی عبدہ لیکون للعالمین نذیرا
(فرقان: ١)" ﴿منبع الخیر والبرکات وہ ہستی ہے جس نے اپنے بندے پر فرقان نازل کیا تاکہ سارے جہان کے لئے نذیر بنے۔
- .......٤ "قل یا ایھا الناس انی رسول اللہ الیکم جمیعا (اعراف: ١٥٨)" ﴿کہو
اے لوگو! میں تم سب کی طرف اللہ کا رسول ہوں۔﴾
- .......٥ "قل للذین اوتوا الکتاب والامیین اسلمتم فان اسلموا فقد اھتدوا
(آل عمران: ٢٠)" ﴿جن کے پاس آسمانی کتاب ہے اور جن کے پاس نہیں۔ ان کو کہو کہ کیا تم مسلمان ہونے والے ہو اگر مسلمان ہو جائیں تو ہدایت پالیں گے۔﴾
- .......٦ "ومن یکفربہ من الاحزاب فالنار موعدہ (ھود: ١٧)" ﴿جو فریق اس
کتاب (قرآن) سے کفر کرے۔ اس کا ٹھکانا آگ ہے۔﴾ یعنی جو مسلمان نہ ہو وہ جہنمی ہے۔
- .......٧ "قل ان کنتم تحبون اللہ فاتبعونی یحببکم اللہ ویغفرلکم ذنوبکم
واللہ غفور رحیم، قل اطیعو اللہ والرسول فان تولوا فان اللہ لا یحب الکافرین (آل عمران: ٣١، ٣٢)" ﴿کہو اگر تم اللہ سے محبت کرتے ہو تو میری اتباع کرو، تم
١٢
٢٣
سے اللہ محبت کرے گا اور تمہارے گناہ معاف کر دے کے رسول کی اطاعت کرو۔ اگر وہ پھر جائیں تو اللہ کافر اگر کوئی فرقہ یا شخص آنحضرت ﷺ کی رسال
- .......٨ "لانذرکم بہ ومن بلغ (انعام: ١٩)"
قرآن پہنچے۔ جس ملک میں قرآن پہنچے یا جس شخص کو یہا
(٢) دین اسلام کے جامع اور کامل ہونے
"الیوم اکملت لکم دینکم و الاسلام دینا (مائدہ: ٣)" ﴿آج میں نے تم پوری کر دی اور تمہارے لئے اسلام کو دین پسند کیا۔﴾ متعلق وحی کی حاجت تھی، وہاں وحی بھیج دی گئی۔
(٣) دین واضح اور عام فہم ہے
- .......١ "ولقد یسرنا القرآن للذکر فھل
سمجھنے کے لئے آسان کر دیا ہے، کیا کوئی سمجھنے والا ہے
- .......٢ "ولقد انزلنا آیات بینات (بقرۃ)
- .......٣ "ثم ان علینا بیانہ (قیامہ: ١٩)" ﴿
- .......٤ "وانزلنا الیک الذکر لتبین للناس
رسول) ہم نے تیری طرف یہ ذکر اس لئے اتارا ہے ت
(٤) دین محفوظ ہے
- .......١ "انا نحن نزلنا الذکر وانا لہ لحا
اتارا اور ہم اس کی حفاظت کرنے والے ہیں۔﴾
- .......٢ "وعداللہ الذین امنوا منکم
الارض کما استخلف الذین من قبلکم و (نور: ٥٥)" ﴿اللہ تعالیٰ نے یہ وعدہ کیا ہے کہ زمین میں خلیفہ بنائے گا۔ جیسے تم سے پہلے لوگوں کو خلیفہ پسندیدہ دین کو زمین میں نافذ اور جاری کرے گا۔﴾
١٣
سے اللہ محبت کرے گا اور تمہارے گناہ معاف کر دے گا۔ اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔ کہو اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرو۔ اگر وہ پھر جائیں تو اللہ کافروں سے محبت نہیں کرتا۔ ﴾ اگر کوئی فرقہ یا شخص آنحضرت ﷺ کی مطلقاً اطاعت نہ کرے وہ کافر ہے۔
- .......٨ "لانذركم به ومن بلغ (انعام:١٩) ﴿ میں تم کو ڈراتا ہوں اور ہر اس شخص کو جس کو
قرآن پہنچے۔ جس ملک میں قرآن پہنچے یا جس شخص کو پہنچے، اس پر ایمان لانا فرض ہو جاتا ہے۔ ﴾
(٢) دین اسلام کے جامع اور کامل ہونے کے متعلق
"اليوم اكملت لكم دينكم واتممت عليكم نعمتى ورضيت لكم الاسلام دينا (مائدہ:٣) ﴿ آج میں نے تمہارے لئے دین کامل کر دیا اور تم پر اپنی نعمت پوری کر دی اور تمہارے لئے اسلام کو دین پسند کیا۔ ﴾ یعنی دین کامل ہو چکا ہے۔ جن احکام کے متعلق وحی کی حاجت تھی، وہاں وحی بھیج دی گئی۔
(٣) دین واضح اور عام فہم ہے
- .......١ "ولقد يسرنا القرآن للذكر فهل من مدكر (قمر:١٧) ﴿ ہم نے قرآن
سمجھنے کے لئے آسان کر دیا ہے، کیا کوئی سمجھنے والا ہے۔ ﴾
- .......٢ "ولقد انزلنا آيات بينات (بقرة)" ﴿ ہم نے احکام واضح اتارے ہیں۔ ﴾
- .......٣ "ثم ان علينا بيانه (قیامہ:١٩)" ﴿ قرآن کے مجملات کو ہم بیان کر دیں گے۔ ﴾
- .......٤ "وانزلنا اليك الذكر لتبين للناس ما نزل اليهم (نحل:٤٤)" ﴿ (اے
رسولؐ) ہم نے تیری طرف یہ ذکر اس لئے اتارا ہے تا کہ تو لوگوں کو کھول کر سمجھا دے۔ ﴾
(٤) دین محفوظ ہے
- .......١ "انا نحن نزلنا الذكر وانا له لحافظون (حجر:٩) ﴿ ہم نے یہ قرآن
اتارا اور ہم اس کی حفاظت کرنے والے ہیں۔ ﴾
- .......٢ "وعد الله الذين امنوا منكم وعملوا الصالحات ليستخلفنهم فى
الارض كما استخلف الذين من قبلكم وليمكنن لهم دينهم الذي ارتضى لهم (نـور:٥٥) ﴿ اللہ تعالیٰ نے یہ وعدہ کیا ہے کہ جو تم سے ایمان لائے اور عمل نیک کئے کہ ان کو زمین میں خلیفہ بنائے گا۔ جیسے تم سے پہلے لوگوں کو خلیفہ بنایا۔ ان کو برسرِ اقتدار لانے کے ساتھ اپنے پسندیدہ دین کو زمین میں نافذ اور جاری کرے گا۔ ﴾
١٣
یعنی یہ حکومت کا وعدہ اس لئے ہے کہ دین عملی شکل میں دنیا میں جاری کیا جائے تا کہ رات دن کے عمل اور حکومت کی سر پرستی سے پورے طور محفوظ ہو جائے۔
انہی وجوہ مذکورہ بالا (١) عموم رسالت۔ (٢) دین کی جامعیت اور کمال۔ (٣) دین کا عام فہم ہونا۔ (٤) ردو بدل سے محفوظ ہونے کی بناء پر آنحضرت ﷺ کو خاتم النبیین قرار دیا۔
١...... ”ماكان محمد ابا احد من رجالكم ولكن رسول الله وخاتم النبيين وكان الله بكل شي عليما (احزاب:٤٠)“ ﴿محمد تم میں سے کسی مرد کا باپ نہیں۔ لیکن اللہ کا رسول اور سب نبیوں سے آخری نبی ہے اور اللہ ہر شے سے واقف ہے۔ یعنی قیامت تک جس قدر ضرورتیں پیش آنے والی تھیں۔ جن میں دین کے بارے میں وحی کی ضرورت ہوتی ہے۔ وہ سب پوری کر دی گئیں۔﴾
آیت کی تشریح
خاتم کا لفظ دو طرح پڑھا جاتا ہے۔ ایک خاتم تاء کے کسرے سے اس میں دو احتمال ہیں۔ (١) اسم فاعل ہو جس کے معنی میں ختم کرنے والا۔ (٢) اسم آلہ خلاف قیاس ہو جس کے معنی ہیں ختم کا آلہ یعنی آپ ﷺ کے ساتھ نبی ختم کر دیئے گئے۔ ابن جریر میں ہے ”بكسر التاء من خاتم النبيين بمعنى انه ختم النبیین“ کسرہ تاء سے خاتم النبیین کا یہ معنی ہے کہ آپ نے نبی ختم کر دیئے۔
عبد اللہ کی قرأت میں ہے ”ولكن نبيا ختم النبيين“ لیکن نبی ہے جس نے نبی ختم کر دیئے۔ خاتم اگر فتح تاء سے پڑھا جائے تو اس صورت میں اسم آلہ خلاف قیاس ہو گا۔ اس کے دو معنی ہوں گے۔ (١) آخر کے، چنانچہ کہا ہے ”خاتم النبيين بفتح التاء بمعنى انه اخر النبيين، خاتم النبیین“ اگر فتح تاء سے پڑھا جائے تو اس کے معنی ہوں گے آخری نبی سب سے پیچھے آنے والا۔ قتادہ نے بھی ”خاتم النبيين“ کا معنی ”آخر النبیین“ کیا ہے۔
(٢) مہر کے معنی
اس کا مطلب یہ ہو گا کہ آپ ﷺ بمنزلہ مہر کے ہیں۔ اب نبوت پر مہر لگا دی گئی۔ چنانچہ لکھا ہے ”وخاتم النبيين الذي ختم النبوة فطبع عليها فلا تفتح لا حد بعده الى قيام الساعة“ ﴿آپ خاتم النبیین ہیں۔ آپ نے نبوت پر مہر لگا دی۔ ایسی مہر لگائی ہے کہ قیامت تک اب کسی کے لئے نہیں کھلے گی۔﴾
١٤
اقرب الموارد میں ہے ”الخاتم والخاتم بھی ہیں اور آخر قوم کے بھی ہیں۔ بلکہ کتب لغت میں یہ بھی ”خاتم قوم اس شخص کو کہتے ہیں جو آخری ہو۔ تفسیر نیشاپوری النبی اذا علم ان نبيا اخر فقد يترك بعض اذا علم انه ختم النبوة وكان الله بكل شي نبي بعد محمد ﷺ ومجیئ عیسی فی آخر نبی قبله“ آپ خاتم النبیین ہیں۔ کیونکہ جب نبی کو معلو بعض بیان اور ارشاد کو چھوڑ دیتا ہے۔ مگر جب اس کو یقین نہیں ہو سکتا اور اللہ ہر شے کو جانتا ہے۔ اس کے معلوما کوئی نبی نہیں۔ عیسیٰ علیہ السلام کا آخری زمانہ میں آنا آ منافی نہیں۔ کیونکہ ان کو آپ ﷺ سے پہلے نبوت دی گئی النبيين لانه ختم النبوة اى تممها بمجيئه ا نبوت کو ختم کر دیا ہے۔ یعنی آپ ﷺ نے آ کر اس کو پورا
جامع البیان میں ہے ”خاتم النبيين نبیوں کا آخر، زمخشری اپنی تفسیر (جو بیان لغت عرب مر ”وخاتم النبيين بمعنى انه لوكان له ولد يكن هو خاتم الانبياء“ آپ خاتم النبیین ہیں۔ بچہ بالغ ہوتا تو وہ نبی ہوتا۔ پھر آپ خاتم الانبیاء نہ رہتے بن رجل بعده يكون نبيا و في قراءة بفتح آپ کا فرزند بالغ ہو کر نبی نہیں ہوگا۔ ایک قرأت میں تاء آپ کے ذریعہ سے نبی ختم ہوئے۔
تفسیر کبیر میں امام فخر الدین رازی فرماتے ہ النبي الذي تكون بعده نبى ان ترك شيئا من يأتى بعده واما من لانبي بعده يكون اشفق
١٥
اقرب الموارد میں ہے ”الخاتم والخاتم “ الخاتم واخر القوم، الخاتم کے معنی مہر کے بھی ہیں اور آخر قوم کے بھی ہیں۔ بلکہ کتب لغت میں یہ بھی لکھا ہے ” خاتم القوم ای اخرهم “ خاتم قوم اس شخص کو کہتے ہیں جو آخری ہو۔ تفسیر نیشاپوری میں ہے ” خاتم النبيين لان النبی اذاعلم ان نبیا اخر فقد يترك بعض البيان والارشاد الله بخلاف اذاعلم انه ختم النبوة وكان الله بكل شی عليما ومن جملة معلوماته انه لا نبی بعد محمدﷺ ومجیی عیسیٰ فی آخر الزمان لا ینا فی ذلک لانه ممن نبی قبله “
آپ خاتم النبیین ہیں۔ کیونکہ جب نبی کو معلوم ہو کہ اس کے بعد اور کوئی نبی ہے تو کبھی بعض بیان اور ارشاد کو چھوڑ دیتا ہے۔ مگر جب اس کو یقین ہو کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں۔ تو پھر ایسا نہیں ہو سکتا اور اللہ ہر شے کو جانتا ہے۔ اس کے معلومات میں یہ بھی داخل ہے کہ محمدﷺ کے بعد کوئی نبی نہیں۔ عیسیٰ علیہ السلام کا آخری زمانہ میں آنا آنحضرتﷺ کے آخری نبی ہونے کے منافی نہیں۔ کیونکہ ان کو آپﷺ سے پہلے نبوت دی گئی ہے۔ راغب میں ہے ” وخاتم النبيين لا نه ختم النبوة اى تممها بمجيئه “ آپ خاتم النبیین ہیں۔ کیونکہ آپ نے نبوت کو ختم کر دیا ہے۔ یعنی آپﷺ نے آ کر اس کو پورا کر دیا۔
جامع البیان میں ہے ”خاتم النبيين اى اخر هم “ خاتم النبیین کا معنی ہے نبیوں کا آخر، زمخشری اپنی تفسیر (جو بیان لغت عرب محاورات میں بے نظیر ہے) میں کہتے ہیں ” وخاتم النبيين بمعنى انه لوكان له ولد بالغ مبلغ الرجال لكان نبيا ولم يكن هو خاتم الانبياء “ آپ خاتم النبیین ہیں۔ اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ اگر آپکا کوئی بچہ بالغ ہوتا تو وہ نبی ہوتا۔ پھر آپ خاتم الانبیاء نہ رہتے۔ تفسیر جلالین میں ہے ”فلا يكون له بن رجل بعده يكون نبيا و فی قراءة بفتح التاء كآلة الختم اى به ختموا “ آپ کا فرزند بالغ ہو کر نبی نہیں ہوگا۔ ایک قرأت میں تاء کے فتح سے یعنی آپ ختم کا الہ ہیں۔ یعنی آپ کے ذریعہ سے نبی ختم ہوئے۔
تفسیر کبیر میں امام فخر الدین رازی فرماتے ہیں ” وخاتم النبيين وذلك لان النبي الذى يكون بعده نبی ان ترك شيئا من النصيحة والبيان يستدرك من يأتى بعده واما من لانبی بعده يكون اشفق على امته والهدى لهم واجدى“
١٥
یعنی آپ خاتم النبیین ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ جس نبی کے بعد کوئی نبی ہو۔ اگر کوئی بات نصیحت اور بیان کی چھوڑ جائے تو بعد میں آنے والا اس کا تدارک کر سکتا ہے۔ مگر جس نبی کے بعد کوئی نبی نہ ہو وہ اپنی امت کے حق میں بہت شفیق اور بہت زیادہ ہدایت کرنے والا ہوتا ہے۔ ان عبارتوں میں علماء نے پہلے قصے کے ساتھ خاتم النبیین کی مناسبت بھی بیان کر دی ہے۔ جس کا خلاصہ یہ ہے کہ جاہلیت میں یہ دستور تھا کہ جس کا اپنا لڑکا نہ ہوتا۔ وہ کسی کو اپنا متبنی بنا لیتا اور اس کے ساتھ حقیقی بیٹے کا تعلق رکھتے۔ وہ جائز وارث ہوتا اور اس کی بیوی کے ساتھ نکاح کرنا حرام ٹھہرتا۔ آنحضرت ﷺ نے بھی زید کو اپنا بیٹا بنایا تھا۔ قرآن نے اس حکم کو منسوخ کیا اور اس پر آنحضرت ﷺ سے عمل کرایا۔ اس آیت میں اس پر عمل کرانے کی وجہ بیان کی ہے کہ اگر آپ ﷺ سے عمل نہ کرایا جاتا تو لوگ عملی طور پر شاید اس کو منسوخ نہ سمجھتے اور آپ ﷺ کے بعد کوئی نبی بھی نہیں۔ جو اس پر عمل کراتے۔ اس واسطے ضروری تھا کہ اس رسم کو آپ ﷺ ہی کے عمل سے اٹھایا جائے۔
پس خاتم خواہ فتح تاء سے ہو یا کسرہ سے خواہ اس کے معنی مہر کے ہوں یا آخر کے یا ختم کرنے والے کے ہر صورت میں اس کا مفہوم یہی ہے کہ آنحضرت ﷺ کے بعد کسی کو نبوت نہیں مل سکتی۔ اس میں نبوت کی کوئی تخصیص نہیں کہ وہ اصلی ہو یا بروزی اور ظلی، تشریعی ہو یا غیر تشریعی۔ اگر غیر تشریعی کا وجود ہو تو غیر تشریعی نبوت بھی ختم ہے۔ اگر اس کا وجود ہی نہیں تو وہ پہلے ہی معدوم ہے۔ پھر اس کے ختم ہونے کا سوال بھی پیدا نہیں ہوتا۔ اس معنی کی تائید میں حدیثیں بھی وارد ہیں۔ ان کا ذکر آگے آئے گا۔
دوسری آیت جس میں ختم نبوت کا ذکر ہے: ”وَاِذْ اَخَذَ اللّٰهُ مِيثَاقَ النَّبِيّٖنَ لَمَآ اٰتَيْتُكُمْ مِّنْ كِتٰبٍ وَّ حِكْمَةٍ ثُمَّ جَآءَكُمْ رَسُولٌ مُّصَدِّقٌ لِّمَا مَعَكُمْ لَتُؤْمِنُنَّ بِهٖ (آل عمران: ٨١) ” جب اللہ تعالیٰ نے نبیوں سے عہد لیا کہ تم کو میں کتاب وحکمت عطاء کروں گا۔ پھر جو رسول آئے گا جو تمہاری تعلیم کا مصدق ہوگا۔ اس پر تم نے ضرور ایمان لانا ہوگا۔ ﴾
جلالین میں ہے ” ھو محمد“ وہ رسول محمد ہے۔ یعنی جس نبی پر ایمان لانے کا عہد سب نبیوں سے لیا گیا ہے۔ وہ جناب آنحضرت ﷺ ہیں۔ اس آیت میں صاف طور پر مذکور ہے کہ آپ ﷺ سب نبیوں کے بعد آنے والے ہیں۔
١٦
جامع البیان میں ہے عبداللہ بن عباسؓ اور ا چنانچہ فرماتے ہیں ”والمراد من رسول مصـ عباس رضى الله عنهم“ رسول سے مراد محمدﷺ بسند صحیح ثابت ہے۔
ب....... ختم نبوت کا مسئلہ حـ
پہلی حدیث....... حدیث خلفاء
” عن ابى هريرة عن النبى ﷺ قـ الانبياء كلما هلك نبى خلفه نبى ولا نبـ قالوا فما تامرونا قالوا افوابيعة الاولـ سائلهم عمن استرعاهم متفق عليه “ ﴿ابو ہریرہؓ آنحضرت ﷺ سے روایت بـ کی سیاست انبیاء کرتے تھے۔ جب کوئی نبی فوت ہوتـ کوئی نبی نہیں اور ضرور خلفاء ہوں گے اور کثرت کے کیا حکم ہے۔ فرمایا بیعت کے ساتھ وفا کرو دے ان کـ خود ان سے رعایا کے بارہ میں پوچھے گا۔﴾
سوال....... اس حدیث میں سین ہے۔ جـ پھر نبی ہونے لگیں گے۔ میرے زمانہ کے قریب کوئی
جواب....... سین، یہاں تحقیق کے لئے بـ ما بخلوا به يوم القيامة (آل عمران) ” جـ گلے کا ہار بنے گا قیامت کے روز۔﴾
دوسرا جواب یہ ہے کہ خلیفہ کے بند ہو کیونکہ نبی کی جو نفی کی ہے۔ اس میں کوئی ایسا لفظ نہیں لفظ ”لانبی بعدی“ ہے۔ جس کے معنی ہیں میر کے جملہ میں سین کا لفظ ہے۔
١٧
جامع البیان میں ہے عبداللہ بن عباسؓ اور حضرت علیؓ سے یہ تفسیر بسند صحیح ثابت ہے۔ چنانچہ فرماتے ہیں ”والمراد من رسول مصدق محمد کما صح عن علی و ابن عباس رضی اللّٰہ عنہم“ رسول سے مراد محمدﷺ ہیں۔ جیسے حضرت علیؓ اور ابن عباسؓ سے بسند صحیح ثابت ہے۔
ب....... ختم نبوت کا مسئلہ حدیث کی روشنی میں
پہلی حدیث....... حدیث خلفاء
”عن ابی ہریرة عن النبی ﷺ قال کانت بنو اسرائیل تسوسہم الانبیاء کلما ہلک نبی خلفہ نبی ولا نبی بعدی وسیکون خلفاء فیکثرون قالوا فما تامرونا قالوا افوابیعة الاول فالاول واعطوہم حقہم فان اللّٰہ سائلہم عمن استرعاہم متفق علیہ “
﴿ابو ہریرہؓ آنحضرت ﷺ سے روایت بیان کرتے ہیں کہ آپؐ نے فرمایا بنی اسرائیل کی سیاست انبیاء کرتے تھے۔ جب کوئی نبی فوت ہوتا تو اس کا خلیفہ دوسرا نبی ہوتا اور میرے بعد کوئی نبی نہیں اور ضرور خلفاء ہوں گے اور کثرت کے ساتھ ہوں گے صحابہ نے عرض کی کہ آپؐ کا کیا حکم ہے۔ فرمایا بیعت کے ساتھ وفا کرو، ان کے حقوق کا لحاظ کرو، ان کا حق ادا کرو آگے اللہ خود ان سے رعایا کے بارہ میں پوچھے گا۔﴾
سوال....... اس حدیث میں سین ہے۔ جس کا یہ مطلب ہوا کہ خلفاء قریب ہوں گے۔ پھر نبی ہونے لگیں گے۔ میرے زمانہ کے قریب کوئی نبی نہیں ہوگا؟
جواب....... سین، یہاں تحقیق کے لئے ہے۔ جیسے آیت ذیل میں ہے ”سیطوقون ما بخلوا بہ یوم القیامة (آل عمران)“ ﴿جس مال سے یہ بخل کرتے ہیں وہ ضرور ان کے گلے کا ہار بنے گا قیامت کے روز۔﴾
دوسرا جواب یہ ہے کہ خلیفہ کے بند ہونے سے یہ لازم نہیں آتا کہ نبی آنے لگیں۔ کیونکہ نبی کی جو نفی کی ہے۔ اس میں کوئی ایسا لفظ نہیں جس کے معنی عنقریب کے ہوں۔ بلکہ وہاں لفظ ”لا نبی بعدی“ ہے۔ جس کے معنی ہیں میرے بعد کوئی نبی ہونے والا نہیں۔ صرف خلفاء کے جملہ میں سین کا لفظ ہے۔
١٧
اس حدیث میں خطاب عام ہے۔ اس واسطے اس میں اس تاویل کی گنجائش نہیں کہ یہاں حضرت علیؓ کو فرمایا ہے کہ تو میرے بعد نبی نہیں۔ جیسے حضرت علیؓ کی روایت میں کہتے ہیں کہ حضرت علیؓ سے نبوت کی نفی مراد ہے۔
دوسری حدیث کذابین والی
جس میں خاتم النبیین کی تفسیر ہے۔
- ......٢ "عن ثوبان قال قال رسول الله ﷺ اذا وضع السيف في امتى لم
يرفع عنها الى يوم القيامة ولا تقوم الساعة حتى تلحق قبائل امتى بالمشركين وحتى تعبد قبائل من امتى الاوثان وانه سيكون في امتى كذابون ثلاثون كلهم يزعم انه نبى وانا خاتم النبيين لا نبى بعدى ولا تزال طائفة من امتى على الحق ظاهرين لا يضرهم من خالفهم حتى يأتى امر الله (ابوداؤد، ترمذی)“
ثوبانؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جب میری امت میں تلوار رکھی گئی تو قیامت تک نہ اٹھائی جائے گی اور قیامت کے قائم ہونے سے پہلے میری امت کے چند قبائل مشرکین سے جاملیں گے اور چند قبائل بت پرستی کرنے لگیں گے اور ضرور میری امت میں تیس جھوٹے ہوں گے۔ ہر ایک یہی کہے گا کہ میں نبی ہوں۔ حالانکہ میں خاتم النبیین ہوں۔ میرے بعد کوئی نبی نہیں۔ میری امت سے ایک جماعت ہمیشہ حق پر رہے گی۔ ان کو مخالف ضرر نہیں دے سکے گا۔ یہاں تک کہ اللہ کا حکم آجائے۔
یہ حدیث نص صریح ہے کہ نبوت ختم ہو چکی ہے اور خاتم النبیین کا یہی معنی ہے کہ میں آخری نبی ہوں۔
تیسری حدیث قصر (محل) والی
- ......٣ "وعن ابى هريرة قال قال رسول الله ﷺ مثلى ومثل الانبياء
كمثل قصر احسن بنيانه وترك منه موضع لبنة فطاف به النظار يتعجبون من حسن بنيانه الا موضع تلك اللبنة فكنت انا وسددت موضع اللبنة وختم بى الرسل وفى رواية فانا اللبنة وانا خاتم النبيين متفق عليه“
ابو ہریرہؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا میری اور انبیاء کی مثال ایک قصر (محل) کی ہے۔ جس کی عمارت نہایت اچھی ہے۔ مگر ایک اینٹ کی جگہ چھوڑ دی گئی۔ دیکھنے والے ارد گرد پھر کر دیکھ کر تعجب کرنے لگے مگر ایک اینٹ کی جگہ کو دیکھ کر ان کا تعجب رک جاتا ہے۔
١٨
میں نے اس اینٹ کی جگہ کو بند کیا۔ میرے ساتھ عمارت میں ہی ہوں اور بعض میں خاتم النبیین ہوں۔ ﴿
اس حدیث سے صاف پتہ چلتا ہے کہ آنحضرت ﷺ آخری اینٹ اور آخری نبی ہیں۔ آپ ﷺ
سوال...... بعض تعلیقات میں قبلی کا لفظ موجود سے معلوم ہوتا ہے کہ اس مثال میں ان انبیاء کو لیا گیا ہے۔ جو جواب...... یہ قید اتفاقی ہے۔ اس کا مطلب یہ کے ماسوا آپ ﷺ کے پہلے ہی گزرے ہیں۔ اس واسطے نہیں کہ جو آپ ﷺ کے بعد آنے والے ہیں۔ ان کو اس امر کی دلیل یہ ہے کہ حدیث کا آخری لفظ (میرے ساتھ گئی۔ میں خاتم النبیین ہوں) صاف بتایا جارہا ہے کہ آپ آخری نبی ہیں۔
چوتھی حدیث عاقب والی
- ......٤ "عن جبير بن مطعم قال سمعت
انا محمد وانا احمد وانا الماحي الذي يـ وانا الحاشر الذي يحشر الناس على قدمي وانا العاقب متفق عليه.“
جبیر بن مطعم کہتے ہیں کہ میں نے نبی ﷺ ہیں۔ میں محمد ہوں، میں احمد ہوں، میں ماحی ہوں (مٹانے مٹاتا ہے۔ میں حاشر (اکٹھا کرنے والا) ہوں۔ میرے میں عاقب ہوں، عاقب وہ ہوتا ہے جس کے بعد کوئی نبی
پانچویں حدیث منزلہ ہارون والی
- ......٥ "عن سعد بن ابى وقاص قال قا
بمنزلة هارون من موسى الا انه لانبى بعدى مـ
سعد بن ابی وقاص فرماتے ہیں کہ رسول الـ میرے ساتھ اس طرح ہے۔ جیسے ہارون کی موسیٰ کی طرف
١٩
میں نے اس اینٹ کی جگہ کو بند کیا۔ میرے ساتھ عمارت ختم ہوئی اور رسول ختم ہوئے۔ پس میں وہ اینٹ میں ہی ہوں اور میں خاتم النبیین ہوں۔ ﴾
اس حدیث سے صاف پتہ چلتا ہے کہ نبوت کا محل اب مکمل ہو چکا ہے۔ آنحضرت ﷺ آخری اینٹ اور آخری نبی ہیں۔ آپ ﷺ کے بعد کسی کو نبوت نہیں مل سکتی۔
سوال...... بعض روایات میں قبلی کا لفظ موجود ہے۔ (جس کا معنی ہے مجھ سے پہلے) اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس مثال میں ان انبیاء کو لیا گیا ہے۔ جو آنحضرت ﷺ سے پہلے ہوئے ہیں۔
جواب...... یہ قید اتفاقی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ چونکہ سب انبیاء آنحضرت ﷺ کے ماسوا آپ ﷺ کے پہلے ہی گزرے ہیں۔ اس واسطے یہ لفظ بولا گیا ہے۔ اس قید کا یہ مطلب نہیں کہ جو آپ ﷺ کے بعد آنے والے ہیں۔ ان کو الگ کرنے کے لئے لفظ بولا گیا ہے۔ اس امر کی دلیل یہ ہے کہ حدیث کا آخری لفظ (میرے ساتھ رسول ختم کئے گئے ہیں اور عمارت ختم ہو گئی۔ میں خاتم النبیین ہوں) صاف بتایا جا رہا ہے کہ آپ ﷺ تمام رسولوں اور نبیوں کے خاتم اور آخری نبی ہیں۔
چوتھی حدیث عاقب والی
٤....... ”عن جبير بن مطعم قال سمعت النبی ﷺ یقول ان لی اسماء انا محمد انا احمد وانا الماحی الذی یمحو اللہ بی الکفر وانا الحاشر الذی یحشر الناس علی قدمی وانا العاقب والعاقب الذی لیس بعده نبی، متفق علیه.“
﴿جبیر بن مطعم کہتے ہیں کہ میں نے نبی ﷺ سے سنا، فرماتے ہیں کہ میرے چند نام ہیں۔ میں محمد ہوں، میں احمد ہوں، میں ماحی ہوں (مٹانے والا) ، میرے سبب سے اللہ تعالیٰ کفر کو مٹاتا ہے۔ میں حاشر (اکٹھا کرنے والا) ہوں۔ میرے قدموں پر لوگ اکٹھے کئے جائیں گے۔ میں عاقب ہوں، عاقب وہ ہوتا ہے جس کے بعد کوئی نبی نہ ہو۔﴾
پانچویں حدیث منزلہ ہارون والی
٥....... ”عن سعد بن ابی وقاص قال قال رسول اللہ ﷺ لعلیؓ انت منی بمنزلة هارون و موسیٰ الا انه لا نبی بعدی متفق علیه“
﴿سعد بن ابی وقاصؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے حضرت علیؓ کو فرمایا، تیری نسبت میرے ساتھ اس طرح ہے۔ جیسے ہارون کی موسیٰ کی طرف ہے۔ مگر میرے بعد کوئی نبی نہیں ہے۔﴾
١٩
سوال ...... اس حدیث میں حضرت علیؓ کی نبوت کی نفی مقصود ہے۔ یعنی اے علیؓ! تو میرے بعد نبی نہیں۔
جواب ...... اگرچہ حضرت علیؓ کی نبوت کی نفی کے لئے کلام چلائی گئی ہے۔ مگر لفظ عام ہے جو حضرت علیؓ اور ان کے سوا سب کو شامل ہے۔ یہ جملہ عام ایک قسم کی دلیل ہے کہ اے علیؓ! تو نبی نہیں ہے۔ کیونکہ میرے بعد کوئی نبی نہیں ہے۔
چھٹی حدیث مبشرات والی
- ٦ ...... "عن انس بن مالك قال قال رسول الله ﷺ ان الرسالة والنبوة قد
انقطعت فلا نبى بعدى ولا رسول قال فشق ذلك على الناس فقال لكن المبشرات فقالوا يارسول الله وما المبشرات قال رؤيا المسلم وهى جزء من اجزاء النبوة (ترمذي)"
﴿انسؓ کہتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا رسالت اور نبوت کا خاتمہ ہو گیا ہے۔ میرے بعد نہ کوئی نبی ہے اور نہ کوئی رسول۔ یہ بات لوگوں کو تکلیف دہ معلوم ہوئی۔ پھر آپ ﷺ نے فرمایا ”مبشرات (خوشخبری دینے والی چیزیں) باقی ہیں۔ لوگوں نے کہا مبشرات کیا ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا مسلمان کا خواب یہ نبوت کے اجزاء میں سے ایک جزو ہے۔﴾
اس حدیث سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ مبشرات نبوت کی جز ہیں۔ مگر ایسی جز نہیں جس پر نبوت کا لفظ بولا جائے۔ کیونکہ آنحضرت ﷺ نے مبشرات کو جز بھی فرمایا ہے اور اس کے ساتھ یہ بھی فرمایا ہے کہ رسالت اور نبوت کا خاتمہ ہو گیا ہے۔ جیسے سرکہ کنجی کی جز ہے۔ مگر سر کے کو کنجی نہیں کہتے اور مبشرات کی تفسیر حدیث مذکور میں رؤیا کے ساتھ کی ہے اور حدیث ذیل میں بھی شامل ہے۔
- ٧ ...... "عن ابى هريرة قال قال رسول الله ﷺ لم يبق من النبوة الا
المبشرات قالوا وما المبشرات قال الرؤيا الصالحة (رواه البخارى)" ﴿ابوہریرہؓ کہتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا نبوت سے مبشرات کے سوا کچھ باقی نہیں رہا۔ صحابہؓ نے کہا مبشرات کیا ہیں؟ فرمایا، نیک خواب۔﴾
اور ایک روایت میں رؤیا کو نبوت کا چھیالیسواں حصہ قرار دیا ہے۔ جیسا کہ حدیث ذیل میں ہے۔
- ٨ ...... "عن انس قال قال رسول الله ﷺ الرؤيا الصالحة جز من ستة
٢٠
اربعين جزء من النبوة متفق عليه " ﴿ا خواب نبوت کا چھیالیسواں حصہ ہے۔﴾
سوال ...... اگر اس حدیث کے یہ معنی لئے ج خلاف ہیں۔ ”ان الذين قالوا ربنا الله ثم اس تخافوا ولا تحزنوا وابشروا بالجنة التي كـ ﴿جن لوگوں نے یہ کہا کہ تیرا رب اللہ ہے ا ہوتے ہیں۔ (اور کہتے ہیں) نہ ڈرو اور نہ غم کھاؤ۔ ج خوش ہو جاؤ۔﴾
اس آیت سے معلوم ہوا کہ خواب کے علاو حدیث مذکور کے جو معنی ذکر کئے گئے ہیں۔ اس سے معلو رؤیا ہی ہے۔ (دوم) یہ معنی ان احادیث کے بھی خلاف وحی اور الہام کا دروازہ کھلا ہے۔ اس امت میں محدث ہ اولیاء نے دعویٰ کیا ہے کہ ہمیں وحی الہام ہوتا ہے۔ (چو کا تو ذکر نہیں۔ بلکہ اجزاء کا ذکر ہے۔ کیونکہ قرآن مجید م
سوال ...... "وما نرسل المرسلين ا ﴿ہم پیغمبروں کو خوشخبری اور ڈر سنانے کے لئے بھیجتے ہیں
جواب ...... (١) قرآن مجید میں سرعام مومنوں کے ل موت کے وقت قبر اور قیامت کے دن سے ہے۔ جان الملائكة عند الموت اوعنده وفى القبر عند قبر میں قیامت کے نزدیک اتریں گے۔﴾
پھر یہ نزول استقامت کے ساتھ معلق ہے ہے جب اسی پر خاتمہ ہو۔ آنحضرت ﷺ نے یہ آیت يموت فقد استقام عليها (ابن كثير)" ﴿جو کرنے والا ہے۔﴾
زید بن اسلمؒ فرماتے ہیں: ”يبشرونه ف رواه ابن ابى حاتم وهذا القول يجمع الاحـ
٢١
اربعین جزء من النبوة متفق عليه ” انسؓ کہتے ہیں فرمایا رسول اللہ ﷺ نے اچھا خواب نبوت کا چھیالیسواں حصہ ہے۔﴾
سوال...... اگر اس حدیث کے یہ معنی لئے جائیں تو یہ معنی اول تو قرآن مجید کے صریح خلاف ہیں۔ ”ان الذین قالوا ربنا الله ثم استقاموا تتنزل عليهم الملائكة الا تخافوا ولا تحزنوا وابشروا بالجنة التی كنتم توعدون (حم سجده:٣٠)“ ﴿جن لوگوں نے یہ کہا کہ ہمارا رب اللہ ہے۔ پھر اس پر جم گئے۔ ان پر فرشتے نازل ہوتے ہیں۔ (اور کہتے ہیں) نہ ڈرو اور نہ غم کھاؤ۔ جس جنت کا تم کو وعدہ دیا گیا تھا اس سے خوش ہو جاؤ۔﴾
اس آیت سے معلوم ہوا کہ خواب کے علاوہ فرشتے بھی خوشخبری لے کر آتے ہیں اور حدیث مذکور کے جو معنی ذکر کئے گئے ہیں۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ خوشخبری دینے والی شے صرف رویا ہی ہے۔ (دوم) یہ معنی ان احادیث کے بھی خلاف ہے جن میں یہ ذکر ہے کہ اس امت میں وحی اور الہام کا دروازہ کھلا ہے۔ اس امت میں محدث اور مکلم ہوں گے۔ (سوم) اس امت کے اولیاء نے دعویٰ کیا ہے کہ ہمیں وحی الہام ہوتا ہے۔ (چہارم) اس حدیث میں نبوت کے بند ہونے کا تو ذکر نہیں۔ بلکہ اجزاء کا ذکر ہے۔ کیونکہ قرآن مجید سے ثابت ہے کہ مبشرات ہی نبوت ہیں۔
سوال...... ”وما نرسل المرسلين الا مبشرين ومنذرین (انعام:٤٨)“ ﴿ہم پیغمبروں کو خوشخبری اور ڈر سنانے کے لئے بھیجتے ہیں۔﴾
جواب...... (١) قرآن مجید میں سرعام مومنوں کے لئے جس خوشخبری کا ذکر ہے۔ اس کا تعلق موت کے وقت قبر اور قیامت کے دن سے ہے۔ جامع البیان میں ہے ”تتنزل عليهم الملائكة عند الموت اوعنده وفى القبر عند البعث “﴿فرشتے موت کے وقت اور قبر میں قیامت کے نزدیک اتریں گے۔﴾
پھر یہ نزول استقامت کے ساتھ معلق ہے اور استقامت اس صورت میں متحقق ہوتی ہے جب اسی پر خاتمہ ہو۔ آنحضرت ﷺ نے یہ آیت پڑھی اور فرمایا ”فمن قالها حتی یموت فقد استقام علیها (ابن کثیر) “﴿جو موت تک اس پر قائم رہے وہی استقامت کرنے والا ہے۔﴾
زید بن اسلم فرماتے ہیں: ”یبشرونه عندموته وفى قبره وحين يبعث رواه ابن ابی حاتم وهذا القول يجمع الاحوال كله هو حسن جدا وهو الواقع
٢١
(ابن کثیر) ”مومن کو موت کے وقت اور قبر میں اور قیامت کے دن اٹھنے کے وقت خوش ہیں ۔“ ابن کثیر فرماتے ہیں یہ قول سب اقوال کا جامع ہے اور بہت اچھا ہے اور واقع میں بھی اسی طرح ہے۔
اگر نزول ملائکہ کو موت سے پہلے بھی تسلیم کیا جائے تو اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ ملائکہ کی خوشخبری جز نبوت ہو۔ صرف اتنا ثابت ہوتا ہے کہ مومن کو زندگی میں فرشتے خوشخبری دیتے ہیں اور مومن کی رؤیا کی (جو خوشخبری کی صورت ہے ) وہی جز و نبوت ہے۔ جیسا کہ حدیث میں مذکور ہے۔
٢...... امت میں وحی والہام کا دروازہ کھلا ہے۔ یہ ایک مجمل لفظ ہے۔ جس کی تفصیل یہ ہے کہ وحی نبوت تو منقطع ہو چکی ہے مگر کشوف و رؤیا و الہام یا تلقی الغیب کی بعض صورتیں باقی ہیں۔ جن کو وحی نبوت سے تعبیر نہیں کر سکتے ۔ کیونکہ انھیں حدیث میں یہ نہیں آتا کہ نبوت جاری ہے یا کشوف والہام یا تلقی عن الغیب کی بعض صورتیں جو امت میں جاری ہیں۔ یہ نبوت کے اجزاء ہیں۔ پس یہ احادیث (جن میں امور مذکورہ کے جاری رہنے کا ذکر ہے ) حدیث مبشرات کے ذکر کردہ معنی کے مخالف نہ ہوئیں۔
پھر جن احادیث میں محدث یا مکلم کا ذکر ہے۔ ان میں ایسے الفاظ ہیں۔ جو تردد کے لئے بولے جاتے ہیں۔ ان سے محدث یا مکلم کا ہونا یقینی طور پر ثابت نہیں ہوتا۔
حدیث محدث
”عن ابی ھریرة قال قال رسول اللہ ﷺ ولقد کان فیما قبلکم من الامم محدثون فان یکن فی امتی احد فانہ عمر متفق علیہ “ ابو ہریرہؓ کہتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا، پہلی امتوں میں محدث گزرے ہیں۔ اگر میری امت میں کوئی ہوتا تو عمرؓ ہوتا۔
اس حدیث سے صرف اتنا معلوم ہوتا ہے کہ کوئی محدث اس امت میں ہوتا تو عمرؓ ہوتا۔ اس کا مطلب یہ بھی ہو سکتا ہے کہ اگر عمرؓ نہ ہوئے تو کوئی بھی نہ ہوگا۔ حافظ ابن قیم فرماتے ہیں۔
”وما ثبت فی شى من الروایات ان عمر کان یدعى التحدیث بل کتب کتابہ یوما کاتبہ ھذا ما ارى اللہ امیر المومنین عمر بن الخطاب فقال لا محہ واکتب ھذا رای عمر بن الخطاب فان کان صوابا فمن اللہ وان یکن خطاء فمنی ومن الشیطان وانی سمعت شیخ الاسلام تقی الدین ابن تیمیہ
٢٢
یقول جزم بانھم کائنون فی الأمم قبلنا الشرطیہ مع انھا افضل الامم لا حتیاج الا عنھم بکمال نبیھا ورسالتہ عمن سواہ فلم یحوج الـ ولا صاحب کشف ولا الى منام فھذا الـ لنقصھا (مدارج السالکین ج ١ ص ٢٢) “
اور کسی روایت سے یہ ثابت نہیں ہوتا کـ ایک روز آپؐ کے کاتب نے یہ لکھا کہ وہ یہ حکم ہے جـ آپ نے کہا اس کو مٹا دو اور یہ دیکھو کہ یہ وہ حکم ہے جـ ہے۔ اگر غلط ہے تو مجھ سے اور شیطان سے ہے۔ (مـ
ابن تیمیہ سے سنا ، فرماتے تھے پہلی امتوں میں محدثوں کہا ہے اگر ہوئے، حالانکہ یہ امت افضل ہے اور اس تھی اور یہ امت اپنے نبی کے کمال اور اس کی آنحضرت ﷺ کے بعد اللہ نے امت کو کسی محدث بنایا۔ پس یہ کہنا (اگر ہوئے ) امت کے کمال اور سـ صورت میں ۔
یہ حدیث اس آیت کی طرح ہوئی ”لـ (انبیاء: ٢٢) “ اگر آسمان و زمین میں اللہ آیت میں فساد کی نفی سے (معبودات متعددہ) کی جب محدث کی نفی ہوئی۔ دوسرا مطلب اس کا یہ ہوگا۔ یعنی جب پہلی امتوں میں محدث ہوتے ہـ امت کو چونکہ ان کی ضرورت نہیں۔ اس واسطے صـ مرتبہ میں ہوگا اور ضرور ہوگا وہ اس سلسلہ کا سید ا ہے۔ مگر اس کو کمال متابعت کی بناء پر محدث کی ضر
ابن قیم فرماتے ہیں ”قال شیخـ استغنى بکمال صدیقیتہ ومتابعتہ عـ سلم قلبہ کلہ سرہ و باطنہ للرسول ﷺ
يقول جزم بانهم كائنون في الأمم قبلنا وعلق وجودهم في هذه الامة بان الشرطيه مع انها افضل الامم لا حتياج الامم قبلنا اليهم واستغناء هذه الامة عنهم بكمال نبيها ورسالته فلم يحوج الله امته بعده الى محدث ولا ملهم ولا صاحب كشف ولا الى منام فهذا التعليق لكمال الامة واستغنائها لا لنقصها (مدارج السالكين ج ١ ص ٢٢)
اور کسی روایت سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ حضرت عمرؓ نے محدثیت کا دعویٰ کیا تھا۔ بلکہ ایک روز آپؐ کے کاتب نے یہ لکھا کہ یہ وہ حکم ہے جو اللہ نے امیر المومنین عمر بن خطابؓ کو بتلایا۔ آپ نے کہا اس کو مٹا دو اور یہ لکھو کہ یہ وہ حکم ہے جو عمر بن خطاب نے سمجھا اگر صحیح ہے تو اللہ سے ہے ۔ اگر غلط ہے تو مجھ سے اور شیطان سے ہے۔ (حافظ ابن قیمؒ فرماتے ہیں) میں نے شیخ الاسلام ابن تیمیہؒ سے سنا، فرماتے تھے پہلی امتوں میں محدثوں کے وجود کو تسلیم کیا ہے اور اس امت میں یہ کہا ہے اگر ہوئے ، حالانکہ یہ امت افضل ہے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ پہلی امتوں کو ان کی ضرورت تھی اور یہ امت اپنے نبی کے کمال اور اس کی رسالت کی بناء پر اس سے بے نیاز ہے۔ آنحضرت ﷺ کے بعد اللہ نے امت کو کسی محدث ، ملہم ، صاحب کشف اور خواب کا محتاج نہیں بنایا۔ پس یہ کہنا (اگر ہوئے) امت کے کمال اور بے نیاز ہونے کی بناء پر ہے، نہ نقص کی بناء پر اس صورت میں۔
یہ حدیث اس آیت کی طرح ہوئی ”لو كان فيهما الهة الا الله لفسدتا (الانبیاء:٢٢) “ ”اگر آسمان و زمین میں اللہ کے سوا معبود ہوتے تو بگڑ جاتے۔“ جیسا کہ اس آیت میں فساد کی نفی سے (معبودات متعددہ) کی نفی مفہوم ہوتی ہے۔ اسی طرح حضرت عمرؓ سے جب محدث کی نفی ہوئی۔ دوسرا مطلب اس کا یہ ہے کہ اگر میری امت میں کوئی محدث ہوا تو عمرؓ ہوگا۔ یعنی جب پہلی امتوں میں محدث ہوتے ہیں تو اس امت میں ان کی گنجائش ہے۔ مگر اس امت کو چونکہ ان کی ضرورت نہیں ۔ اس واسطے صرف عمرؓ ہوگا۔ یا یہ مطلب ہے کہ عمرؓ سب سے اول مرتبہ میں ہوگا اور ضرور ہوگا وہ اس سلسلہ کا سید اور معیار ہوگا۔ اگرچہ صدیقؓ محدث سے بڑا ہوتا ہے۔ مگر اس کو کمال متابعت کی بناء پر محدث کی ضرورت نہیں ہوتی۔
ابن قیمؒ فرماتے ہیں ”قال شيخنا والصديق اكمل من المحدث لانه استغنى بكمال صديقيته ومتابعته عن التحديث والالهام والكشف فانه قد سلم قلبه كله سره و باطنه للرسول فاستغنى به (مدارج ص ١٢ ج ١)“
٢٣٣
﴿ہمارے استاذ (ابن تیمیہ) فرماتے ہیں کہ صدیق محدث سے زیادہ کامل ہے۔ کمال صدیقیت اور متابعت کی بناء پر اس کو تحدیث الہام اور کشف کی حاجت نہیں کیونکہ اس کا دل بتمامہ سر اور باطن رسول کے تابع ہے۔ اس وجہ سے بے نیاز ہو گیا ہے۔﴾
بہر کیف نبوت کا دروازہ اگر اس امت کے لئے کھلا بھی ہو تو بھی مبشرات کی حدیث کے منافی نہیں۔ کیونکہ تحدیث کا جزو نبوت ہونا ثابت نہیں۔ نہ اس کا ان مبشرات میں داخل ہونا ثابت ہے۔ جو نبوت کی جزو ہیں۔
اگر تحدیث وغیرہ امور کو ان مبشرات میں داخل کیا جائے جو نبوت کے جز ہیں۔ تو بہر کیف ایسی جزو ہوں گے۔ جن کے تحقق سے نبوت کا تحقق لازم نہیں آئے گا۔ کیونکہ اس حدیث میں نبوت سے مبشرات کو مستثنیٰ قرار دے کر یہ بھی فرمایا ہے کہ میرے بعد نہ کوئی نبی ہے اور نہ رسول اور پہلے یہ بھی فرمایا کہ نبوت اور رسالت ختم ہو چکی ہے۔ کسی جزو کے باقی رہنے سے کل کا باقی رہنا لازم نہیں آتا۔ اس کی مثال مندرجہ ذیل حدیث ہے۔
”عن عبدالله بن سرجس ان النبی ﷺ قال السمت الحسن والتؤدة والاقتصاد جزء من اربع وعشرين جزء من النبوة (رواه الترمذى)“
﴿عبداللہ بن سرجس سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا اچھی سیرت کام میں ذرا تاخیر کرنا اور درمیانہ روی نبوت کا چوبیسواں حصہ ہے۔ ﴾
اب ظاہر ہے کہ جن چیزوں کو اس حدیث میں جز نبوت قرار دیا گیا ہے۔ ان کے تحقق سے نبوت متحقق نہیں ہوتی۔
- ٣...... جن لوگوں نے اس امت سے الہام کا دعویٰ کیا ہے۔ تو ان کے دعویٰ کا صدق کہاں
سے معدوم ہوا۔ ممکن ہے وہ اس معاملہ میں غلطی پر ہوں۔ حضرت عمرؓ جن کو اس سلسلۂ تحدیث کا بانی و سید المحدثین کہنا چاہئے۔ کبھی تحدیث والہام میں عصمت کا دعویٰ نہیں کیا تو دوسرے کا کیا حق ہے۔ حافظ ابن قیم نے ان کا ذکر اس طرح کیا ہے۔
”وكان هذا المحدث يعرض مايحدث به على ماجاء به الرسول فان وافقه قبله والا رد الى ان قال وانما يقوله كثير من اصحاب الخيالات و الجهالات حدثنى قلبى عن ربى “ یہ محدث (حضرت عمرؓ) اپنی تحدیث کو رسول کی شریعت پر پیش کرتے اگر موافق ہوتا تو قبول کرتے ورنہ رد کرتے۔ باقی رہی یہ بات جو خیالات میں محو ہونے والے اور جاہل لوگ کہتے ہیں کہ میرے دل نے میرے رب سے حدیث بیان کی۔
٢٤
”فصحيح ان قلبه حدثه وعمن حدثني قلبی عن ربی کان مسندا للحديث ا كذب و محدث هذه الامة لم يكن يقول ذلك
اعاذه الله من ان يقول ذلك (مدارج ص٢٢ ج١)
یہ حدیث بیان کی۔ کلام اس میں ہے کہ اس کے دل نے ق یہ کہے کہ میرے دل نے رب سے لیا تو اس نے اپنے ا جس کے متعلق یقین نہیں کہ اس نے بتلایا ہو اور یہ جھوٹ ہ کہہ سکتا تھا اور نہ اس نے کبھی ایسا کہا۔ اللہ نے اس کو اس ب یہ لوگ الہام کا دعویٰ کرنے والے سب کے س فریب خوردہ تھے یا واقعی ملہم تھے۔ بہر کیف صادق ہوں مبشرات کی حدیث کے منافی نہیں۔ کیونکہ اگر صادق ہو اگر بالفرض تسلیم کر لیا جائے کہ ان کا الہام بھی مبشرات کا ف رؤیا سے تعبیر کیا گیا ہے۔ وہ صرف بصورت مثال ہے مبشرات ایسی جزو نہیں جس کے تحقق سے نبوت کا تحقق ہ
- ٤...... اس میں کوئی شبہ نہیں کہ انبیاء مبشر و منذر (ڈ
ہیں اور یہ ان کے لئے ضروری امر ہے۔ مگر اس سے یہ کیونکہ تبشیر وانذار ہر مبلغ کا کام ہے۔ جیسا کہ مندرجہ ذی
”وعن ابی موسیٰ قال كان ر اصحابه في بعض امره قال بشر واولا علیہ“ ابو موسیٰؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جب ا فرماتے خوشخبری دو اور نفرت نہ دلاؤ، آسانی کرو سختی نہ کرو
اگر تبشیر وانذار ہی نبوت کی حقیقت ہو تو لاز حصر ہے مبشرین اور منذرین میں اس سے صرف یہ لازم سے یہ لازم نہیں کہ ہر مبشر اور منذر رسول ہو اور یہ حصر ت میں حصر کرنا حقیقی طور پر ممکن ہی نہیں۔ کیونکہ ایک موصو ہیں۔ تو اب حصر اضافی بھی ہو سکتا ہے اور آیت مذکورہ
٢٥
”فصحیح ان قلبه حدثه وعمن عن شيطانه اوعن ربه فاذا قال حدثنی قلبی عن ربی كان مسند الحديث الى من لا يعلم انه حدثه به وذلك كذب و محدث هذه الامة لم يكن يقول ذلك ولا تفوّه به يوما من الدهر وقد اعاذه الله من ان يقول ذلك (مدارج ص٢٦ ج١) ”اس قدر تو صحیح ہے کہ اس سے دل نے یہ حدیث بیان کی۔ کلام اس میں ہے کہ اس کے دل نے شیطان سے سیکھا ہے۔ یا رب سے جب یہ کہے کہ میرے دل نے رب سے لیا تو اس نے اپنے الہام کو ایسی ذات کی طرف منسوب کیا۔ جس کے متعلق یقین نہیں کہ اس نے بتلایا ہو اور یہ جھوٹ ہے۔ اس امت کا محدث (عمرؓ) ایسا نہیں کہہ سکتا تھا اور نہ اس نے کبھی ایسا کہا۔ اللہ نے اس کو اس سے بچائے رکھا۔
یہ لوگ الہام کا دعویٰ کرنے والے سب کے سب مفتری تو نہ تھے۔ مگر یہ معلوم نہیں کہ وہ فریب خوردہ تھے یا واقعی ملہم تھے۔ بہر کیف صادق ہوں یا کاذب۔ ان کا دعویٰ کسی صورت میں مبشرات کی حدیث کے منافی نہیں۔ کیونکہ اگر صادق ہوں تو ان کا الہام یا مبشرات سے نہ ہوگا۔ اگر بالفرض تسلیم کر لیا جائے کہ ان کا الہام بھی مبشرات کا فرد ہے اور حدیث میں جو مبشرات کو صرف رؤیا سے تعبیر کیا گیا ہے۔ وہ صرف بصورت مثال ہے۔ نہ بصورت حصر تو اس صورت میں بھی مبشرات ایسی جزو نہیں جس کے تحقق سے نبوت کا تحقق ہو۔
٤...... اس میں کوئی شبہ نہیں کہ انبیاء مبشر وانذار (خوشخبری دینے اور ڈرانے) کے لئے آتے ہیں اور یہ ان کے لئے ضروری امر ہے۔ مگر اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ ہر مبشر اور منذر نبی ہو۔ کیونکہ تبشیر وانذار ہر مبلغ کا کام ہے۔ جیسا کہ مندرجہ ذیل حدیث سے ثابت ہوتا ہے۔
”وعن ابي موسىٰ قال كان رسول الله ﷺ اذا بعث احدا من اصحابه في بعض امره قال بشروا ولا تنفروا ويسّروا ولا تعسّروا متفق عليه“ ﴿ابوموسیٰؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جب کسی کو اپنے اصحاب سے بعض کام میں بھیجتے فرماتے خوشخبری دو اور نفرت نہ دلاؤ، آسانی کرو سختی نہ کرو۔﴾
اگر تبشیر وانذار ہی نبوت کی حقیقت ہو تو لازم آئے گا کہ ہر مبلغ نبی ہو۔ یہاں مرسلین کا حصر ہے مبشرین اور منذرین میں اس سے صرف یہ لازم آتا ہے کہ ہر مرسل مبشر اور منذر ہو۔ اس سے یہ لازم نہیں کہ ہر مبشر اور منذر رسول ہو اور یہ حصر بھی اضافی ہے۔ بلکہ موصوف کا ایک صفت میں حصر کرنا حقیقی طور پر ممکن ہی نہیں۔ کیونکہ ایک موصوف کے لئے ایک سے زائد صفات ہوتے ہیں۔ تو اب حصر اضافی بھی ہو سکتا ہے اور آیت مذکورہ میں مرسلین کا حصر مبشرین ومنذرین میں
٢٥
بانسبت عذاب لانے کے ہے۔ یعنی رسول عذاب نہیں لاسکتا۔ یہ اللہ تعالیٰ کا کام ہے۔ رسول کا نہیں ۔ اس کا کام صرف بشیر و انذار ہے۔ اس آیت سے جو پہلی آیت ہے اس سے یہ معنی بالکل کھل جاتا ہے وہ یہ ہے۔ " قل ارأيتكم ان اتلكم عذاب الله بغتة اوجهرة هل يهلك الا القوم الظالمون (انعام:٤٧) " ﴿ مجھے بتاؤ اگر اللہ کا عذاب ناگہان یا دیکھتے دیکھتے آ جاوے تو ظالم قوم کے سوا کون ہلاک ہوگا۔ ﴾
ایک دوسری آیت بھی اس کی تائید کرتی ہے کہ نبی نفع اور نقصان کا مالک نہیں۔ صرف بشیر و نذیر ہے " قل لا املك لنفسي نفعا ولا ضرا الا ما شاء الله ولوكنت اعلم الغيب لاستكثرت من الخير ومامسنى السوء ان انا الا نذير وبشير لقوم يؤمنون
(اعراف:١٨٨)"
﴿ کہ میں تو اپنی جان کے نفع و نقصان کا بھی اختیار نہیں رکھتا۔ مگر جو اللہ چاہے۔ اگر میں غیب جانتا ہوتا تو اپنے لئے بہت خیر (مال) جمع کر لیتا اور مجھے تکلیف نہ پہنچتی۔ میں تو صرف مومنوں کے لئے نذیر بشیر ہوں۔ ﴾
تبشیر و انذار اگرچہ لوازم نبوت سے ہے۔ مگر اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ تبشیر و انذار نبوت کی جزو ہو۔ کیونکہ ہر لازم ملزوم کی جزو نہیں ہوتا۔ چہ جائیکہ اس کو عین نبوت قرار دیا جائے۔ جیسے ہر رسول بشری کے لئے رجل (مرد) ہونا ضروری ہے۔ مگر رجولیت جزو نبوت نہیں۔ قرآن مجید میں ہے " وما ارسلنا قبلك الا رجالا نوحى اليهم (انبيا:٧) " ﴿ ہم نے تجھ سے پہلے جتنے رسول بھیجے ہیں، سب مرد تھے۔ ﴾
ایک اور آیت میں ہے " وما ارسلنا قبلك من المرسلين الا انهم ليأكلون الطعام ويمشون في الاسواق (فرقان:٢٠) " ﴿ ہم نے تم سے پہلے جتنے پیغمبر بھیجے ہیں۔ وہ کھانا کھاتے تھے اور بازاروں میں چلتے تھے۔ ﴾
اس آیت میں ہر رسول کے لئے کھانا اور بازار میں چلنا لازم قرار دیا ہے۔ اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ ہر کھانے والا اور بازاروں میں چلنے والا رسول ہو۔ بلکہ یہ بھی لازم نہیں آتا کہ کھانا اور بازار میں چلنا نبوت کی خمیر یا اس کا عین ہو۔
ساتویں حدیث
جس میں حضرت عمر کی نبوت کا ذکر ہے۔
٢٦
- ٧....... " عن عقبة بن عامر قال قال ال
ابن الخطاب (رواه الترمذى) وقال هذا حديث مشرح بن هامان" ﴿عقبہ بن عامر کوئی نبی ہوتا تو عمر بن خطاب ہوتا۔ ﴾ اس کی سند مشرح مقبول ہے۔
اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ اگر آ ضرور نبی ہوتے ۔ جب حضرت عمر نبی نہ ہوئے تو ا
- سوال....... اگر اس حدیث کے معنی یہ
مل سکتی تو مندرجہ ذیل حدیث کے کیا معنی ہوں گے نبيا " ﴿ اگر ابراہیم زندہ رہتے تو نبی ہوتے۔ ﴾ نبی بن سکتے ہیں۔
- جواب....... (١) یہ حدیث صحیح نہیں ۔ ا
عبدالقدوس بن محمد حدثنا داود عثمان حدثنا الحكم بن عتبه عن مقسم بن رسول الله ﷺ وقال ان له مرضعافی ا ماجه)"
﴿ جب ابراہیم فوت ہوئے تو آپ ﷺ اس کی سند میں ابراہیم بن عثمان ہے ہے کا ذب ہے۔ امام احمد نے کہا ہے ضعیف ہے ا سے محدثین نے سکوت کیا ہے (یعنی اس کی حدیث کسی محدث سے اس کی توثیق ثابت کہ اس میں یہ ذکر ہے اگر زندہ رہتے تو نبی ہوتے نہیں رہ سکتے۔ کیونکہ آپ ﷺ آخری نبی ہیں۔ ا امام احمد اور ابن مندہ کے حوالہ سے ب ابراهيم قال في المهد ولوبقى لم
- ٧...... "عن عقبة بن عامر قال قال النبى ﷺ لو كان بعدى نبى لكان عمر
ابن الخطاب (رواه الترمذى) وقال هذا حديث حسن غريب لا تعرفه الا من حديث مشرح بن هامان "﴿عقبہ بن عامرؓ سے مروی ہے نبی ﷺ نے فرمایا اگر میرے بعد کوئی نبی ہوتا تو عمر بن خطاب ہوتا۔﴾ اس کی سند میں مشرح منفرد ہے۔ تقریب میں لکھا ہے کہ مشرح مقبول ہے۔
اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ اگر آنحضرت ﷺ کے بعد کوئی نبی ہوتا تو حضرت عمرؓ ضرور نبی ہوتے۔ جب حضرت عمرؓ نبی نہ ہوئے تو اور بھی کوئی نبی نہیں بن سکتا۔
سوال...... اگر اس حدیث کے معنی یہ ہیں کہ آنحضرت ﷺ کے بعد کسی کو نبوت نہیں مل سکتی تو مندرجہ ذیل حدیث کے کیا معنی ہوں گے؟ "لـو عـاش ابـراهـيـم لكان صديقـا نـبـيـا" ﴿اگر ابراہیم زندہ رہتے تو نبی ہوتے۔﴾ کیونکہ اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ ابراہیم نبی بن سکتے ہیں۔
جواب...... (١) یہ حدیث صحیح نہیں۔ اس کی سند اس طرح ہے۔ "حـــــدثـــــنـــــا عبد القدوس بن محمد حدثنا داود بن شبيب الباهلى حدثنا ابراهيم بن عثمان حدثنا الحكم بن عتبه عن مقسم عن بن عباس قال لما مات ابراهيم بـن رسـول ﷺ وقـال ان له مرضعا فى الجنة ولوعاش لكان صديقا نبيا (ابن ماجه)"
﴿جب ابراہیم فوت ہوئے تو آپ ﷺ نے فرمایا اگر زندہ رہتا تو صدیق نبی ہوتا۔﴾
اس کی سند میں ابراہیم بن عثمان ہے۔ جس پر مندرجہ ذیل جرحیں ہیں۔ شعبہ نے کہا ہے کاذب ہے۔ امام احمد نے کہا ہے ضعیف ہے ابن معین نے کہا ثقہ نہیں۔ امام بخاری نے کہا اس سے محدثین نے سکوت کیا ہے (یعنی اس کی حدیث نہیں لیتے) نسائی نے کہا ہے متروک ہے۔
(میزان ص١٧٠ ج١)
کسی محدث سے اس کی توثیق ثابت نہیں۔ بالاتفاق ضعیف ہے۔ دوسرا جواب یہ ہے کہ اس میں یہ ذکر ہے اگر زندہ رہتے تو نبی ہوتے۔ مگر دوسری حدیث میں یہ ذکر ہے کہ وہ زندہ نہیں رہ سکتے۔ کیونکہ آپ ﷺ آخری نبی ہیں۔
امام احمد اور ابن مندہ کے حوالہ سے فتح الباری میں ہے "سـالـت انـس كـم بلـغ ابراهيم قـال قـد ملأ المهـد ولوبقى لكان نبيا ولكن لم يكن ليبقى لان نبيكم
٢٧
آخر الانبياء (فتح البارى ج٢٠ ص٦١٣ طبع هندى) ”سدی کہتے ہیں کہ میں نے حضرت انسؓ سے پوچھا ابراہیم کتنے بڑے تھے؟ حضرت انسؓ نے کہا گود کو بھر دیتے تھے۔ اگر زندہ رہتے تو نبی ہوتے۔ مگر وہ باقی نہیں رہ سکتے تھے۔ کیونکہ تمہارا نبی آخری نبی ہے۔ ﴿
یہ حدیث قرآن کی مندرجہ ذیل آیت کی طرح ہے۔
”لوكان فيهما آلهة الا الله لفسدتا (انبیاء) ” اگر آسمان و زمین میں اللہ کے سوا دو معبود ہوتے تو دونوں بگڑ جاتے۔ ﴿
اس کی تائید حدیث ذیل سے بھی ہوتی ہے ”قال مات وهو صغير و لو قضى ان يكون بعد محمد نبى لعاش ابنه ولكن لانبى بعده (بخارى) ”حضرت ابن ابی اوفیٰؓ فرماتے ہیں ابراہیم چھوٹے ہی فوت ہو گئے۔ اگر محمدؐ کے بعد کسی نبی کا ہونا مقدر ہوتا تو آپ کا بیٹا زندہ رہتا۔ لیکن آپ ﷺ کے بعد کوئی نبی نہیں۔ ﴿
یہ حدیث اگرچہ موقوف ہے۔ مگر اس کی سند اس مرفوع سے قوی ہے اور اس میں قیاس کو بھی دخل نہیں۔ اس واسطے یہ مرفوع کے حکم میں ہے۔
سوال ...... ملاعلی قاری نے موضوعات کبیر میں لکھا ہے ”لكن له طرق ثلثة يقوى بعضها بعضا“ اس کی تین سندیں ہیں۔ جس سے ایک دوسری کی تقویت ہوتی ہے۔
جواب ...... اس حدیث سے دو باتیں مفہوم ہو سکتی ہیں۔ ایک یہ کہ آنحضرت ﷺ خاتم النبیین ہیں۔ اس لئے آپ ﷺ کا لڑکا ابراہیم زندہ نہ رہا۔ دوسرا یہ ہے کہ ابراہیم کی نبوت کے لئے ان کی زندگی ہی مانع تھی۔ ملاعلی قاری نے پہلے مفہوم کو ملحوظ رکھ کر یہ کہا ہے کہ اس کی تین سندیں ہیں۔ کیونکہ باقی دو سندوں سے جو لفظ مروی ہیں۔ وہ پہلے معنی کی تائید کرتے ہیں۔ جیسا کہ ہم نے فتح الباری اور بخاری سے نقل کیا ہے اور ملاعلی قاری کی عبارت ذیل سے بھی اس کی تائید ہوتی ہے۔ چنانچہ کہتے ہیں:
”ويشير اليه قوله ما كان محمد ابا احد من رجالكم ولكن رسول الله وخاتم النبيين فانه يومى اليه بانه لم يعش له ولد يصل الى مبلغ الرجال فان ولده من صلبه يقتضى ان يكون لب قلبه كما يقال الولد سرا بيه ولو عاش وبلغ اربعين وصار نبيا لزم ان لايكون نبينا خاتم النبيين(موضوعات كبير ص٦٩)“
٢٨
﴿ اسی معنی کی طرف اللہ تعالیٰ کا قول نہیں۔ لیکن اللہ کا رسول اور خاتم النبیین ہے۔ اس ہوا۔ کیونکہ آپ ﷺ کا بچہ آپ ﷺ کے دل کا ہوتا ہے۔ اگر آپ ﷺ کا لڑکا زندہ رہتا تو چا النبیین نہ ہوتے۔ ﴿
اس عبارت سے صاف معلوم ہوتا ہ خاتم النبیین ہونا مانع تھا۔ نہ یہ کہ ابراہیم کی زندگ اس معنی کی تائید کرتے ہیں۔ دوسرے احتمال کی باوجود پہلے قوی احتمال کے ضعیف ہے۔
امام نووی فرماتے ہیں ”هذا الحد بالمغيبات ومجازفته وهجوم على ع میں جرات اور ایک بڑی لغزش ہے۔
امام نووی نے اس حدیث کے متعلق یعنی جھوٹ ہے۔ اس کی وجہ یہی ہے کہ اس کی سن
دوم ...... غیبی امور میں دلیرانہ بات کہہ دی ہ ہیں۔ سب غیب کی ہیں اور عالم الغیب صرف ال بتاتے ہیں۔ جب حدیث صحیح نہ ہوئی تو یہ غیبی امو
سوم ...... بڑی لغزش ہے اس کی وجہ بھی یہی ہ ہوسکتی ہیں اور واسطہ ہمارے لئے ہمارے نبی ر اس صورت میں محض تک بندی ہوئی۔
امام ابن عبدالبر کی کلام
”لادرى ما هذا فقد ولد نوح الانبياء لكان كل احد نبيا لا نهم من ص٦٨) ” میں نہیں جانتا کہ یہ کیا کلام ہے ( تھے۔ اگر نبی سے نبی ہی ہوتا تو ہر ایک شخص ن ہے۔ ﴿
﴿اسی معنی کی طرف اللہ تعالیٰ کا قول اشارہ کرتا ہے کہ محمدﷺ تم میں سے کسی مرد کا باپ نہیں ۔لیکن اللہ کا رسول اور خاتم النبیین ہے۔ اس میں اشارہ ہے کہ آپﷺ کا کوئی بچہ بالغ نہیں ہوا۔ کیونکہ آپﷺ کا بچہ آپﷺ کے دل کا مغز ہوگا۔ جیسے کہا جاتا ہے کہ بچہ باپ کا سر (بھید) ہوتا ہے۔ اگر آپﷺ کا لڑکا زندہ رہتا تو چالیس سال کو پہنچتا تو نبی بن جاتا تو آپﷺ خاتم النبیین نہ ہوتے۔﴾
اس عبارت سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ ابراہیم کی زندگی کے لئے آنحضرتﷺ کا خاتم النبیین ہونا مانع تھا۔ نہ یہ کہ ابراہیم کی زندگی ہی مانع تھی۔ پس اس حدیث کے دوسرے طرق اس معنی کی تائید کرتے ہیں۔ دوسرے احتمال کی تائید دوسرے طریق سے نہیں ہوتی اور یہ حدیث باوجوہ پہلے قوی احتمال کے ضعیف ہے۔
امام نووی فرماتے ہیں ”هذا الحديث باطل وجسارة على الكلام بالغیبات ومجازفته وهجوم على عظيم“ یعنی یہ حدیث باطل ہے اور غیب کی باتوں میں جرات اور ایک بڑی لغزش ہے۔
امام نووی نے اس حدیث کے متعلق تین باتیں کہی ہیں۔ اول یہ کہ یہ حدیث باطل ہے یعنی جھوٹ ہے۔ اس کی وجہ یہی ہے کہ اس کی سند اس قابل نہیں کہ اس سے احتجاج کیا جائے۔
- دوم....... غیبی امور میں دلیرانہ بات کہہ دی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ آئندہ کے متعلق جو باتیں
ہیں۔ سب غیب کی ہیں اور عالم الغیب صرف اللہ ہی ہے اور رسول کریمﷺ اللہ کے بتانے سے بتاتے ہیں۔ جب حدیث صحیح نہ ہوئی تو یہ غیبی امور میں دخل اندازی اور جرات ٹھہری۔
- سوم....... بڑی لغزش ہے اس کی وجہ بھی یہی ہے کہ غیبی باتیں اللہ تعالیٰ کے بتانے سے ہی معلوم
ہو سکتی ہیں اور واسطہ ہمارے لئے ہمارے نبی رسول کریمﷺ ہیں۔ جب حدیث باطل ٹھہری تو اس صورت میں محض تک بندی ہوئی۔
امام ابن عبدالبر کی کلام
”لاادری ماھذا فقد ولد نوح علیہ السلام غیر نبی ولولم یلد النبی الا نبیا لکان کل احد نبیا لانهم من ولد نوح علیہ السلام (موضوعات کبیر ص٦٨) ”میں نہیں جانتا کہ یہ کیا کلام ہے (یعنی یہ کلام غلط ہے) کیونکہ نوح کے لڑکے نبی نہ تھے۔ اگر نبی سے نبی ہی ہوتا تو ہر ایک شخص نبی ہونا چاہئے۔ کیونکہ یہ ایک نوح کی اولاد سے ہے۔﴾
٢٩
ان کا مطلب یہ معلوم ہوتا ہے کہ اگر ابراہیم کی زندگی نبوت کو مستلزم ہو تو اس کی وجہ غالباً ہوتی کہ وہ نبی کا بیٹا ہے۔ اگر یہ وجہ ہوتی تو اس پر یہ اعتراض ہو سکتا ہے کہ اس سے لازم آتا ہے کہ ہر انسان نبی ہو۔ کیونکہ ہمارا سلسلہ نوح علیہ السلام تک پہنچتا ہے اور وہ نبی ہیں۔ یہ اعتراض اسی صورت میں وارد ہوتا ہے جب ابراہیم کے نبی ہونے کی وجہ یہ ہو کہ وہ نبی کا بیٹا ہے اور نبی کا بیٹا نبی ہونا چاہئے۔ اگر ابراہیم کے نبی ہونے کی وجہ یہ ہو کہ اس میں استعداد نبوت ہے اور استعداد بھی ایسی کہ خود بخود سن بلوغ اور نبوت کی عمر پر پہنچنے سے وہ کمال فطری ظاہر ہو جائے جو اس میں موجود ہے۔ تو پھر یہ اعتراض وارد نہیں ہوتا۔ مگر یہ اعتراض وارد ہوتا ہے کہ اگر مجرد استعداد نبوت کو مستلزم ہوتی تو عمر بھی نبی ہوتے۔ کیونکہ ان کے متعلق بھی آیا ہے۔ اگر میرے بعد نبی ہوتا تو عمر ہوتے۔
اس سے معلوم ہوتا ہے ان میں استعداد نبوت کی تھی۔ اس اعتراض کے جواب کی طرف اشارہ کر دیا ہے کہ استعداد استعداد میں فرق ہے۔ ایک وہ استعداد جس میں نبوت کا جاری ہونا نبوت ملنے کے لئے کافی ہے اور ایک وہ استعداد ہے جس میں سن نبوت کو پہنچنا نبوت پر فائز ہونے کے لئے کافی ہے۔ یہ استعداد وہبی ہے۔ پس نبوت دونوں صورتوں میں وہبی ہوئی۔ فرق صرف اتنا ہے کہ پہلی صورت میں دو طرح سے وہبی ہوئی استعداد اور انتخاب سے دوسری صورت صرف استعداد کی بناء پر وہبی ٹھہری۔
ابن عبداللہ غالباً دوسری قسم کے قائل نہیں۔ کیونکہ نبوت کی بناء قرآن نے اجتباء پر رکھی ہے اور اجتباء سے بظاہر یہی مفہوم ہوتا ہے کہ استعداد کے علاوہ انتخاب میں بھی اجتباء کی ضرورت ہے۔ ”اللہ یجتبی الیه من یشاء ویهدی الیه من ینیب (شوری) “ ﴿اللہ جس کو چاہتا ہے اپنی طرف چن لیتا ہے اور جو اس کی طرف رجوع کرے اس کو ہدایت کرتا ہے۔﴾
نبوت کی بناء جب اجتباء پر ٹھہری تو اس صورت میں یہ کہنا کہ ابراہیم اگر زندہ رہتے تو ضروری نبی ہوتے ، صحیح نہیں۔ کیونکہ نبوت کی بناء محض استعداد پر نہیں۔ بلکہ اجتباء کی بھی ضرورت ہے۔ پس ابراہیم اگر زندہ بھی رہتے تب بھی بدون اجتباء کے نبی کیسے ہو سکتے تھے؟
مگر ابن عبداللہ کے اس قول پر صحابہ کے اقوال مذکورہ کی تردید کرنی پڑے گی۔ حالانکہ ان کے اقوال قیاس سے بالاتر ہونے کی بناء پر مرفوع کا حکم رکھتے ہیں۔ حافظ ابن حجر فتح الباری میں فرماتے ہیں ”فهذه عدة احادیث صحيحة من هؤلاء الصحابة فلا ادرى ما الذى حمل النووى فى ترجمة ابراهيم المذكور من كتاب تهذیب الاسماء واللغات على استنكار ذالك ومبالغته حيث قال هو باطل وجسارة فى الكلام
على المغيبات ومجازفة وهجوم على عظم استحضر ذلك عن الصحابة المذكورين و فقال ذلك وقد استنكر قبله ابن عبدالبر فى الـ ان الذى نقل عن الصحابة المذكورين وانما فتح البارى ص ٦١٣) “
﴿یہ چند صحیح حدیثیں ان صحابہ سے مروی ہیں کے ترجمہ میں اس پر کیوں انکار کیا اور اتنا مبالغہ کیا، کہا بھاری لغزش ہے ممکن ہے نووی صاحب کو ان صحابہ کے قـ انکار کیا۔ سب سے پہلے ابن عبدالبر نے استیعاب میں نے (نبوت کو جاری نہیں مانا بطور شرط کے ان کی نبوت کا
حافظ ابن حجر امام نووی اور ابن عبدالبر کے صحابہ کرام سے جو آثار وارد ہوتے ہیں۔ ان کی سندیں طرف سے یہ کہا جاسکتا ہے کہ صحابہ کے اقوال اور ابن حدیث میں مانع ابراہیم کی وفات کو قرار دیا گیا ہے۔ ا ثبوت نبوت کے لئے صرف حیات کافی نہیں۔ اجتباء کی موجود ہے۔ وہ ختم نبوت اور صحابہ کے آثار میں ختم نبوت دیا ہے کہ اگر آنحضرت ﷺ کے بعد نبوت جاری ہوتی ابراہیم اس منصب کے لائق ٹھہرتا۔ اللہ تعالی اس کو زند واسطے اس کی زندگی کو برقرار رکھنا ضروری نہیں ٹھہرایا عبدالبر کا انکار درست ہوا۔
حافظ ابن حجر نے جو اخیر میں جملہ کہا ہے قاری نے ابن حجر کی طرف سے اس جواب کی تردید ہیں ”وما قول ابن حجر المكي وتأويله أو للمقدم وإنكار النووى كا بن عبدالبر لذلك فبعيد جدا ان لا يفهم الا مامان الجليلان فرض وقوع المقدم فافهم والله سبحانه الـ
على المغيبات ومجازفة وهجوم على عظيم من الدين ويحتمل ان يكون استحضر ذلك عن الصحابة المذكورين ورواه عن غيرهم ممن تاخر عنهم فقال ذلك وقد استنكر قبله ابن عبدالبر فى الاستيعاب الحديث المذكور مع ان الذى نقل عن الصحابة المذكورين وانما اتوا فيه بقضية شرطية (جزء٢ فتح البارى ص ٦١٣) “
﴿یہ چند صحیح حدیثیں ان صحابہ سے مروی ہیں میں نہیں جانتا کہ نووی نے ابراہیم مذکور کے ترجمہ میں اس پر کیوں انکار کیا اور اتنا مبالغہ کیا، کہا کہ یہ باطل مغیبات ہیں۔ اٹکل اور بڑی بھاری لغزش ہے ممکن ہے نووی صاحب کو ان صحابہ کے قول کا علم ہو کر پچھلے لوگوں سے نقل کر کے انکار کیا۔ سب سے پہلے ابن عبدالبر نے استیعاب میں حدیث مذکور کا انکار کیا ہے۔ حالانکہ صحابہ نے (نبوت کو جاری نہیں مانا بطور شرط کے ان کی نبوت کا ذکر کیا ہے)﴾
حافظ ابن حجر امام نووی اور ابن عبدالبر کے انکار پر تعجب کا اظہار کر رہے ہیں۔ کیونکہ صحابہ کرام سے جو اثار وارد ہوتے ہیں۔ ان کی سندیں صحیح ہیں۔ مگر امام نووی اور ابن عبدالبر کی طرف سے یہ کہا جا سکتا ہے کہ صحابہ کے اقوال اور ابن ماجہ کی حدیث میں فرق ہے۔ ابن ماجہ کی حدیث میں مانع ابراہیم کی وفات کو قرار دیا گیا ہے۔ اگر زندہ ہوتے تو ضرور نبی ہوتے۔ حالانکہ ثبوت نبوت کے لئے صرف حیات کافی نہیں۔ اجتباء کی بھی ضرورت ہے اور اجتباء سے مانع یہاں موجود ہے۔ وہ ختم نبوت اور صحابہ کے آثار میں ختم نبوت کو مانع قرار دیا گیا ہے۔ بلکہ یہاں تک کہہ دیا ہے کہ اگر آنحضرت ﷺ کے بعد نبوت جاری ہوتی تو سب سے اوّل آنحضرت ﷺ کا فرزند ابراہیم اس منصب کے لائق ٹھہرتا۔ اللہ تعالیٰ اس کو زندہ رکھتا اب چونکہ نبوت ختم ہو چکی ہے۔ اس واسطے اس کی زندگی کو برقرار رکھنا ضروری نہیں ٹھہرایا گیا۔ پس اس لحاظ سے امام نووی اور ابن عبدالبر کا انکار درست ہوا۔
حافظ ابن حجر نے جو اخیر میں جملہ کہا ہے۔ وہی ان کی طرف سے جواب ہے۔ ملاعلی قاری نے ابن حجر کی طرف سے اس جواب کی تردید نقل کر کے اس کا رد بھی کیا ہے۔ چنانچہ فرماتے ہیں ”وما قول ابن حجر المكى وتاويله ان القضية الشرطية لا تستلزم وقوع المقدم وانكار النووى كابن عبدالبر لذلك فلعدم ظهور هذا التاويل وهو ظاهر فبعيد جدا ان لايفهم الامامان الجليلان مثل هذه المقدمة وانما الكلام على فرض وقوع المقدم فافهم والله سبحانه اعلم (موضوعات کبیر ص٦٩)“
٣١
﴿ابن حجر مکی نے جو یہ کہا ہے کہ اس حدیث کا یہ مطلب ہے کہ قضیہ شرطیہ میں مقدم کا وقوع ضروری نہیں ہوتا (لہذا نبوت کا ملنا تحقق نہ ہوا نووی اور ابن عبدالبر نے اس حدیث کا انکار اس لئے کیا کہ ان کو اس تاویل کا پتہ نہیں چلا۔ حالانکہ تاویل ظاہر ہے۔) بالکل بعید ہے یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ یہ دونوں امام اس تاویل کو بھی نہ جانتے ہوں بلکہ ان کا انکار اس حالت پر ہے جب مقدم کا وقوع فرض کر لیا جائے۔﴾
یعنی اگر ابراہیم کی زندگی فرض کر لی جاوے تو وہ ضروری نہیں اس کو غلط قرار دیا ہے۔ کیونکہ یہاں ختم نبوت بھی ایک امر مانع موجود ہے۔ اس عبارت میں دو باتیں ذکر کی ہیں۔
- ١...... ان احادیث کی تاویل جس سے غرض یہ ہے کہ نووی اور ابن عبدالبر کے انکار کی تردید
کی جائے۔
- ٢...... اس تاویل کی تردید اور ان کی کلام کا محمل ۔
پہلی بات یہ ہے کہ ان احادیث میں جملہ شرطیہ ہے اور جملہ شرطیہ میں حکم کا تحقق مقدم پر معلق ہے۔ مگر مقدم کا ہونا ضروری نہیں۔ پس ان احادیث سے نبوت کا جاری ہونا ثابت نہیں ہوتا۔ جس پر امام نووی اور ابن عبدالبر انکار کر رہے ہیں۔
دوسری بات یہ ہے کہ امام نووی اور ابن عبدالبر اتنے پست دماغ کے آدمی نہیں کہ وہ اس قاعدہ سے غافل ہوں۔ بلکہ ان کا مطلب یہ ہے کہ نبوت کا تحقق ابراہیم کی حیات پر معلق ہے۔ اگر زندہ ہوں تو نبی ہو سکتے ہیں۔ حالانکہ یہاں ختم نبوت خود ایک مانع موجود ہے۔
مگر میں نے جو پہلے لکھا ہے کہ امام نووی کا اعتراض ابن ماجہ کی حدیث پر ہے اور ایک طرح سے (جب نبوت کو اجتباء پر موقوف رکھا جائے) یہ اعتراض درست ہے اور صحابہ کے احوال پر یہ اعتراض درست نہیں۔ کیونکہ ان میں مانع ختم نبوت کو قرار دیا گیا ہے۔
اب ہم آخیر میں پھر ملا علی قاری کا وہ قول (جو آپ نے حضرت ابراہیم اور حضرت عمرؓ کی نبوت کے وقوع کو خاتم النبیین کے لئے غیر منافی قرار دینے کے بارے میں ذکر کیا ہے) نقل کر کے اس کا جواب بھی ذکر کرتے ہیں۔
"قلت ومع هذا لوعاش ابراهيم وصارنبيا وكذا لوصارعمر نبيا لكان من اتباعه عليه السلام كعيسى والخضر و الياس عليهم السلام فلا ينا قض قوله تعالى خاتم النبيين اذلمعنى انه لا يأتى بعده نبى ينسخ ملته ولم
یکن من امته ويقويه حديث لو كان موسى حيا لما وسعه الا اتباعی
(موضوعات کبیر ص ٦٩)
﴿اگر ابراہیم زندہ رہتے اور نبی بن جاتے۔ اسی طرح اگر عمر بھی نبی بن جاتے تو ضرور یہ آنحضرت ﷺ کے متبعین سے ہوتے۔ حضرت عیسیٰ، حضرت خضر اور حضرت الیاس علیہم السلام ہیں۔ پس یہ اللہ تعالیٰ کے قول خاتم النبیین کے منافی نہیں۔ کیونکہ اس قول کا یہ معنی ہے آپ کے بعد کوئی ایسا نبی نہیں آئے گا۔ جو آپ کے دین کو منسوخ کردے اور آپ کی امت سے نہ ہو۔ اس حدیث سے بھی اس کی تقویت ہوتی ہے۔ اگر موسیٰ زندہ ہوتے تو لازمی طور پر میری اتباع کرتے۔﴾
اس عبارت سے جو معلوم ہوتا ہے۔ اس کا ہم جواب دو طرح سے دے چکے ہیں۔
- ١....... اگر ابراہیم اور حضرت عمر نبی ہو جاتے تو ان کی نبوت اس آیت کے منافی نہ ہوتی۔
اگرچہ حدیث لا نبی بعدی کے منافی ہونے کی بناء پر ایسا نہیں ہو سکتا۔
- ٢....... نبوت کا ایک معنی ایسا ہے جو شرعی معنی سے عام ہے۔ جس میں تشریع کی قید نہیں۔
ایسی نبوت خاتم النبیین کے منافی نہیں۔ تشریعی نبوت (جو شریعت میں وہی نبوت ہے) کے منافی ہے۔
اب ذرا مزید وضاحت سنئے۔
ملا علی قاری اس عبارت میں یہ کہنا چاہتے ہیں ایسا نبی جو آنحضرت ﷺ کی امت سے ہو اور آپ کی شریعت کا ناسخ نہ ہو۔ آنحضرت ﷺ کی امت سے ہو تو ایسے نبی کا آنا آیت خاتم النبیین کے منافی نہیں۔ ہاں ایسے نبی کا آنا جو شریعت کا ناسخ ہو۔ آنحضرت ﷺ کی امت سے نہ ہو تو ایسے نبی کا آنا آیت خاتم النبیین کے واقعی مخالف ہے۔ جیسے حضرت عیسیٰ، حضرت الیاس اور حضرت خضر علیہم السلام آنحضرت ﷺ کے عہد نبوت میں پائے جاتے ہیں۔ مگر ان کی نبوت آیت خاتم النبیین کے منافی نہیں۔ کیونکہ یہ اس وقت آنحضرت ﷺ کی امت میں داخل ہیں اور آپ کی شریعت کو منسوخ نہیں کر سکتے۔ بلکہ اسی شریعت پر عمل کرنے کے مکلف ہیں۔ پس جب ان انبیاء علیہم السلام کی نبوت آیت خاتم النبیین کے منافی نہیں تو اسی طرح اگر حضرت ابراہیم اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ بھی نبی ہو جاتے تو ان کی نبوت بھی آیت خاتم النبیین کے منافی نہ ہوتی۔
اب اس وقت سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ملا علی قاری نے شرح فقہ اکبر میں آنحضرت ﷺ کے بعد نبوت کے دعویٰ پر کفر کا فتویٰ بالاجماع نقل کیا ہے۔ اس کا کیا مطلب
ہے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ کے بعد نبوت کا وجود خاتم النبیین کے منافی نہ ہونا امر دیگر ہے اور اس کا عدم جواز امر دیگر ہے۔ ایک دلیل کے فوت ہونے سے دعویٰ باطل نہیں ہوتا۔ جب تک یہ ثابت نہ ہو کہ اس دعویٰ پر یہی دلیل ہے۔ باقی رہی یہ بات کہ عیسیٰ علیہ السلام کا وجود باوجود اس کے کہ آپ نبی مرسل ہیں۔ لا نبی بعدی کے کیسے منافی نہیں۔ اس کا جواب یہ ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام کو نبوت پہلے دی گئی ہے اور اجماع اس امر پر ہے کہ آپ ﷺ کے بعد کسی کو نبوت نہیں ملے گی۔ پس ملا علی قاری بھی ختم نبوت کے قائل ہیں اور آنحضرت ﷺ کے بعد نبوت کے دعویٰ کو بالاجماع کفر سمجھتے ہیں۔ اگر چہ غیر تشریعی نبوت کو آیت خاتم النبیین کے منافی نہیں سمجھتے ، یہ ان کی غلطی ہے۔
سوال....... عیسیٰ اور خضر علیہم السلام کی مثال دینے سے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ملا علی قاری نے نبوت کا معنی لغوی نہیں بلکہ شرعی لیا ہے۔ پس ملا علی قاری کی طرف سے دوسرا جواب جس میں نبوت کو لغوی معنی میں لیا گیا ہے، کیسے درست ہوسکتا ہے؟
جواب....... عیسیٰ علیہ السلام اگرچہ نبی مرسل صاحب شریعت ہیں۔ مگر انکا وہ دور جس میں وہ نئی شریعت لائے تھے، گزر چکا ہے۔ اب آپ بحیثیت تابع کے آئیں گے اور آپ ﷺ پر جو وحی آئے گی۔ اس کا شریعت مقرر کرنے سے کوئی تعلق نہیں ہوگا۔ پس اس وحی پر نبوت کا اطلاق بمعنی لغوی ہی ہوگا۔ نہ شرعی جیسا کہ ہم پہلے تفصیل کر چکے ہیں۔ یہاں دو چیزیں ہیں۔ (١) نبوت کا کسی کو ملنا۔ (٢) کسی نبی کا آنحضرت ﷺ کے بعد پایا جانا۔ اجماع پہلے امر کے عدم جواز پر ہے۔ نہ دوسرے کے عدم پر۔
سوال....... اگر آپ پر اس قسم کی وحی نہ ہوگی۔ جس کو نبوت سے تعبیر کرتے ہیں۔ تو اس کا یہ مطلب ہوا کہ آپ سے نبوت سلب ہوگئی ہے۔
جواب....... جب ایک کام اپنے وقت پر ہو کر پورا ہو جائے تو اس کو سلب ہونا نہیں کہتے۔ جیسے قرآن مجید جب مکمل ہو گیا تو آنحضرت ﷺ پر پھر قرآن نہیں اترا تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ حضرت محمد ﷺ سے قرآن سلب ہو گیا۔ اسی طرح عیسیٰ علیہ السلام اپنے پہلے زمانہ میں وحی شریعت کا کام کر چکے ہیں۔ اب اس امت میں اگر ان پر وحی شریعت نہ ہو تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ ان سے نبوت سلب ہوگئی ہے۔ بلکہ یہ مطلب ہے کہ بحیثیت نبوت ان کا کام ختم ہو گیا ہے۔
سوال (١)....... اگر حدیث” لو کان بعدی نبی لکان عمر “(اگر میرے بعد نبی ہوتا تو عمر ہوتا) سے صرف عمر کے نبی ہونے کا امکان نکلتا حالانکہ حدیث میں وارد ہے۔ ” لا یرد
القضاء الا الدعاء (ترمذی) ”قضا کو صرف بھی تقدیر کو رد کرتی ہے۔
جواب....... (١) حضرت عمر والی حدیث ب ہے۔ نہ ممکن ہونا کیونکہ لو شرط و جزا ء کی نفی کے لئے آت یہ نکلتا ہے تو حدیث ذیل ” فلو کان شی سابق ا شے تقدیر سے آگے بڑھتی تو نظر بد بڑھ جاتی ) سے صر کہ وہ تقدیر کو رد نہیں کرسکتی۔
قرآن مجید میں ہے ” لا معقب لحک سوہ فلا مردلہ (رعد: ١١) “ ” ما یفتح الل یمسک فلا مرسل لہ من بعدہ (فاطر: ٢) جب کسی قوم کو تکلیف دینا چاہے تو اس کو کوئی رد نہیں کر دروازہ کھولے تو کوئی بند نہیں کرسکتا۔ اگر بند کرے تو ک
- ٢....... اور حدیث (قضاء کو صرف دعا رد کرتی ہے
ہے۔ جس سے ایک مصیبت آئی ہوئی ٹل جاتی ہے ۔ ہو جاتا اور کبھی قضاء کا اطلاق اٹل امر پر ہوتا ہے ۔ کرتے ہیں۔
تنبیہ....... حدیث لو عاش میں حضرت ابراہیم کی نبو میں نبوت کے ملنے کا ذکر ہے نہ پہلے نبی ہونے کا ۔ اگ فوت ہو گیا ہے۔ کیونکہ میرے بعد کوئی نبی نہیں۔ مگر رہتا تو نبی بنتا اور حدیث ” لا نبی بعدی “ (میرے بعد کسی کو نبوت نہیں ملے گی ۔ سابق انبیاء کی نبوت اس کیونکہ آپ کے زمانہ میں جو نبی فوت ہو چکے یا گزر رسول اللہ ﷺ اپنی حیات طیبہ میں بھی نبی تھے اور اب
اسی طرح سب انبیاء علیہم السلام سابقین بھی لفظ نبی سے یاد کئے جائیں گے اور تشہد میں ہ استعمال کرنا ہے۔ جیسے صاحب کتاب کو صاحب کتا
القضاء الا الدعاء (ترمذی) ”قضا کو صرف دعا رد کرتی ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ دعا بھی تقدیر کو رد کرتی ہے۔
جواب ...... (١) حضرت عمر والی حدیث سے تو آپ کے بعد نبوت کا محال ہونا نکلتا ہے۔ نہ ممکن ہونا کیونکہ لو شرط و جزا کی نفی کے لئے آتا ہے۔ اسی طرح حدیث سے نظر بد کے متعلق یہ نکلتا ہے تو حدیث ذیل ”فلوكان شئ سابق القدر سبقته العين (مسلم)“ (اگر کوئی شے تقدیر سے آگے بڑھتی تو نظر بد بڑھ جاتی) سے صرف نظر بد کے بڑھ جانے کا امکان نکلتا ہے کہ وہ تقدیر کو رد نہیں کر سکتی۔
قرآن مجید میں ہے ”لا معقب لحكمه (رعد:٤١)“ ”واذا اراد الله بقوم سوء فلا مرد له (رعد:١١)“ ”ما يفتح الله للناس من رحمة فلا يمسك له وما يمسك فلا مرسل له من بعده (فاطر:٢) “ اس کے حکم پر کوئی تعاقب نہیں کر سکتا۔ اللہ تعالیٰ جب کسی قوم کو تکلیف دینا چاہے تو اس کو کوئی رد نہیں کر سکتا۔ اللہ تعالیٰ اگر لوگوں کے لئے رحمت کا دروازہ کھولے تو کوئی بند نہیں کر سکتا۔ اگر بند کرے تو کوئی کھول نہیں سکتا۔
- ٢...... اور حدیث (قضاء کو صرف دعا رد کرتی ہے) کا یہ مطلب ہے کہ دعا بھی ایک مؤثر چیز
ہے۔ جس سے ایک مصیبت آئی ہوئی ٹل جاتی ہے۔ کیونکہ قضاء کا اطلاق کبھی مصیبت آمدہ پر بھی ہو جاتا اور کبھی قضاء کا اطلاق اٹل امر پر ہوتا ہے۔ عموماً دوسری کو قدر اور پہلی کو قضاء سے تعبیر کرتے ہیں۔
توجیہ....... حدیث لو عاش میں حضرت ابراہیم کی نبوت کو اس لئے معلق کیا گیا ہے کہ اس حدیث میں نبوت کے ملنے کا ذکر ہے نہ پہلے نبی ہونے کا۔ اگر ابراہیم نبی ہوتے تو آپ فرماتے کہ آج نبی فوت ہو گیا ہے۔ کیونکہ میرے بعد کوئی نبی نہیں۔ مگر آپ نے یہ نہیں فرمایا بلکہ یہ فرمایا کہ اگر زندہ رہتا تو نبی بنتا اور حدیث ”لا نبی بعدی“ (میرے بعد کوئی نبی نہیں) کا یہ مطلب ہے کہ میرے بعد کسی کو نبوت نہیں ملے گی۔ سابق انبیاء کی نبوت اس جملہ ”لا نبی بعدی“ کے منافی نہیں۔ کیونکہ آپ کے زمانہ میں جو نبی فوت ہو چکے یا گزر چکے تھے۔ سب نبی تھے اور اب بھی ہیں۔ جیسے رسول اللہ ﷺ اپنی حیات طیبہ میں بھی نبی تھے اور اب بھی نبی ہیں۔
اسی طرح سب انبیاء علیہم السلام سابقین سب کے سب نبی ہیں۔ بلکہ قیامت کے دن بھی لفظ نبی سے یاد کئے جائیں گے اور تشہد میں ہر نمازی آنحضرت ﷺ کے لئے نبی کا لفظ استعمال کرتا ہے۔ جیسے صاحب کتاب کو صاحب کتاب کہتے ہیں۔ کیونکہ اس کو کتاب دی گئی۔ پس
٣٥
حدیث ”لانبی بعدی“ کا معنی یہ مراد ہے کہ میرے بعد کوئی نبی ہونے والا نہیں۔ ابن ماجہ کی حدیث خلفاء میں اس طرح لفظ آئے ہیں۔
”وانه ليس كائن بعدی نبی (ابن ماجہ)“ ﴿میرے بعد کوئی نبی ہونے والا نہیں۔﴾ اس لئے آپ نے فرمایا ”انا اخر الانبیاء وانتم اخر الامم (ابن ماجہ) “ ﴿میں آخری نبی ہوں اور تم آخری امت ہو۔﴾
سوال....... اگر حدیث ”لوکان بعدی نبی لکان عمر“ (اگر میرے بعد کوئی ہوتا تو عمر ہوتا) سے یہ نکلتا ہے کہ اس امت میں نبی ہو ہی نہیں سکتا تو حدیث ”فان یکن “والی سے محدث کی بھی نفی ہوگی۔
جواب....... ان اور لو میں فرق ہے۔ ان عام طور پر ممکنات پر بولتے ہیں اور شک کی جگہ استعمال کرتے ہیں اور ”لو“ نفی کے لئے آتا ہے۔ نحو اور معانی کی کتابیں دیکھو۔
سوال....... حضرت عمرؓ والی حدیث غریب ہے۔
جواب....... غریب ہونے سے ضعیف نہیں بن جاتی۔
سوال....... اس حدیث میں جو فرمایا ہے کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں ہوگا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ میرے بعد قریب کے زمانہ میں کوئی نہیں ہوگا۔ کیونکہ مسیح کو نبی اللہ کہا گیا ہے۔
جواب....... لفظ عام ہے قریب اور بعید، دونوں زمانوں کو شامل ہے اور مسیح کو نبوت پہلے مل چکی ہے۔ وہ پہلے انبیاء سے ہیں۔
مسیح کے متعلق ایک حدیث
”عن ابى هريرة ان النبى ﷺ قال ليس بينى وبينه نبى يعنى عيسى وانه نازل فاذا رايتموه فاعرفوه رجل مربوع الى الحمرة و البياض (ابو داؤد ج ٢ ص ١٣٥)“ ﴿ابو ہریرہؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا میرے اور عیسیٰ علیہ السلام کے درمیان کوئی نبی نہیں اور وہ اترنے والا ہے۔ جب دیکھو تو پہچان لو، میانہ قد سرخی اور سفیدی مائل ہے۔﴾
سوال....... جس طرح ”لم يبق من النبوة الاالمبشرات“ (نبوت سے صرف مبشرات باقی ہیں) میں حصر بنظر آحاد (عوام) کے مانا جاتا ہے اور دوسری حدیث ”فان یکن“ کا مورد خواص کو بتایا جاتا ہے۔ اسی طرح کلمہ ”کان بعدی“ کی نسبت کہا جاسکتا ہے کہ یہ اور اعتبار ہے اور مسیح موعود کی نبوت کا اور اعتبار۔
جواب....... خواب والی حدیث جس میں مبشرات عوام اور خواص سب کو شامل ہے، نہ کوئی عام اس سے آگے بڑھے وہ حدیث جس میں محدث کا ذکر ہے۔ اس میں اول تو اس نہیں ہوتا۔ اگر محدث کے ضرور ہونے کا ذکر ہو تو اس میں کوئی خاص ہے تو دوسرے قرائن کی بناء پر ہے اور حدیث ”لانبی ہے۔ خواہ بڑا ہو یا چھوٹا اور مسیح سے مراد سابق نبی ہے۔ نہ کہ نہیں۔ جس سے اس کو خاص قرار دیا جائے۔ بلکہ بہت سے قطعی بن گیا ہے۔
سوال....... ایک اور بات جو صاحب فتح الباری هو فان يك فى امتى احد فعمر على ظاهره هذا ہے کہ یہ حدیث (میری امت میں کوئی (محدث) ہوا تو عمر تردد کے لئے ہے۔
جواب....... اس کلام کے ذکر سے کیا مقصد ہے ہے۔ کیونکہ اس حدیث میں محدث ہونے میں بھی تردد ثابت کم ہوتا ہے۔ پھر اس سے نبی کے ہونے کا کیسے ثبوت مل سکتا حدیث میں نبوت کے بارہ میں متردد کا ذکر ہے۔ حالانکہ اس محدث کے متعلق ہے اور جس حدیث میں حضرت عمر کی طرف ہوتا تو عمرؓ ہوتے) وہ حدیث اور ہے۔ وہاں کلمہ کا لفظ اور ”ان“ ہوتا ہے۔
سوال....... لانبی والی حدیث میں لفظ ”من الانبیاء ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ جس قسم کے انبیاء پہلے کے انبیاء اب نہیں ہوں گے۔
جواب....... حدیث میں لفظ ”من قبلی توحید سمجھی جاتی ہے۔ مگر یہاں وہ اتفاقی ہے نہ احترازی۔ الرسل“ (میرے ساتھ رسول ختم ہوگئے) اور لفظ ”انا خاتم النبیین (میں خاتم النبیین ہوں) اس کی پوری پوری
جواب ....... خواب والی حدیث جس میں مبشرات کو نبوت سے مستثنیٰ قرار دیا گیا ہے۔ عوام اور خواص سب کو شامل ہے، نہ کوئی عام اس سے آگے بڑھ کر نبی بن سکتا ہے نہ کوئی خاص اور وہ حدیث جس میں محدث کا ذکر ہے۔ اس میں اول تو اس سے محدث کے ضرور ہونے کا یقین نہیں ہوتا۔ اگر محدث کے ضرور ہونے کا ذکر ہو تو اس میں کوئی صیغہ عام نہیں۔ پھر اگر اس کا مورد خاص ہے تو دوسرے قرائن کی بناء پر ہے اور حدیث ”لانبی بعدی“ عام ہے۔ سب کو شامل ہے۔ خواہ بڑا ہو یا چھوٹا اور مسیح سے مراد سابق نبی ہے۔ نہ کوئی جدید مدعی۔ یہاں ایسا کوئی قرینہ نہیں۔ جس سے اس کو خاص قرار دیا جائے۔ بلکہ بہت سے قرائن ایسے موجود ہیں جن سے عموم قطعی بن گیا ہے۔
سوال ....... ایک اور بات جو صاحب فتح الباری اور ملا علی قاری نے لکھی ہے۔ ”وقیل هو فان يك فى امتى احد فعمر على ظاهره هذا القول ورد مورد التردد“ کہا گیا ہے کہ یہ حدیث (میری امت میں کوئی (محدث) ہوا تو عمر ہوگا) اپنے ظاہر پر ہے۔ یعنی یہ کلام تردد کے لئے ہے۔
جواب ....... اس کلام کے ذکر سے کیا مقصد ہے؟۔ اگر اعتراض کرنا مقصود ہے تو لغو ہے۔ کیونکہ اس حدیث میں محدث ہونے میں بھی تردد ثابت ہوتا ہے۔ حالانکہ اس کا درجہ نبی سے کم ہوتا ہے۔ پھر اس سے نبی کے ہونے کا کیسے ثبوت مل سکتا ہے۔ شاید سائل یہ سمجھ رہا ہے کہ اس حدیث میں نبوت کے بارہ میں متردد کا ذکر ہے۔ حالانکہ اس میں نبوت کے متعلق تردد نہیں۔ بلکہ محدث کے متعلق ہے اور جس حدیث میں حضرت عمر کی نبوت کا ذکر ہے (کہ میرے بعد کوئی نبی ہوتا تو عمرؓ ہوتے) وہ حدیث اور ہے۔ وہاں کان کا لفظ اور لو نفی کے لئے ہے۔ تردد کے لئے لفظ ”ان“ ہوتا ہے۔
سوال ....... تشبیہ والی حدیث میں لفظ ”من قبلی“ صفت واقع ہے اور موصوف الانبیاء ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ جس قسم کے انبیاء پہلے ہوتے تھے۔ یعنی براہ راست اس قسم کے انبیاء اب نہیں ہوں گے۔
جواب ....... حدیث میں لفظ ”من قبلی“ حال واقع ہے۔ صفت نہیں اور حال سے قید سمجھی جاتی ہے۔ مگر یہاں وہ اتفاقی ہے نہ احترازی۔ آخری جملہ ”ختم بــــــــی الرسل“ (میرے ساتھ رسول ختم ہوگئے) اور لفظ ”انا اللبنة“ (میں وہ اینٹ ہوں) اور لفظ خاتم النبیین (میں خاتم النبیین ہوں) اس کی پوری پوری تصریح کر رہا ہے۔
٣٧
نیز یہ کیسے معلوم ہوا کہ پہلے صرف بلا واسطہ نبی ہوتے تھے۔ اگر ہوتے تھے تو خدا نے سنت کی تبدیلی کب سے کی۔ اس تبدیلی کی کیا دلیل ہے اور اس حدیث سے استدلال درست نہیں۔ کیونکہ اس میں تبدیلی کا ذکر نہیں۔
سوال....... یہ حدیث اس معنی کی رو سے جو تم نے کئے ہیں، مسیح کی آمد ثانی کی بھی مانع ہے۔ کیونکہ آخری اینٹ رسول کریم ﷺ کے زمانہ میں نبوت کے محل میں رکھ دی گئی۔ پھر کسی پہلی اینٹ کو اکھیڑ کر دوبارہ مکان میں لگانا فضول ہے۔
جواب....... مسیح نبوت کے مکان کی ایک اینٹ ہے۔ جو اپنے وقت اپنی جگہ لگ چکی ہے اور قیامت کے دن بھی وہ اس مثالی مکان کی اینٹ ہوں گے۔ اسی طرح اب اگر دنیا میں تشریف لائیں تو اس مکان سے علیحدہ نہیں ہوں گے۔ تاکہ پھر دوبارہ آپ کو لگایا جائے۔ قادیانیوں کو شاید یہ وہم اس لئے ہوا ہے کہ وہ سمجھ رہے ہیں کہ وہ مکان آسمان یا عالم مثال میں کوئی نفس الامری وجود رکھتا ہے اور سب انبیاء اپنا اپنا مکان لئے ہوئے اس میں پیوست ہیں۔ پس جب مسیح عالم مثال سے عالم شہادت میں یا آسمان سے زمین پر تشریف لائیں گے تو لامحالہ اس نقل و حرکت سے وہ اس مکان سے اکھڑ جائیں گے۔ یہ محض وہم ہی وہم ہے۔ کیونکہ یہ مکان تمثیلی ہے۔ یعنی فرضی ہے۔ ایسی تمثیلات میں وجود عقلی ہوتا ہے۔ اس کا مطلب صرف یہ ہے کہ جیسے آخری اینٹ سے مکان مکمل ہو جاتا ہے۔ اسی طرح میری آمد سے نبی ختم ہو چکے ہیں۔ میں آخری نبی ہوں۔ میرے بعد کوئی نبی نہیں۔
سوال....... اگر اس امت میں دجال ہی دجال ہوں۔ کوئی صادق نہ ہو تو یہ امت شرالامم ہوں نہ خیرالامم!
جواب....... یہ سوال بھی عجیب ہے۔ اگر سارے مدعی نبوت دجال ہی ہوتے۔ کوئی سچا نہ ہو تو یہ امت شرالامم ہوئی۔ یہ اس طرح ہے کہ کوئی اگر ہر مدعی نبوت جھوٹا اور دجال ہی ہو۔ کوئی سچا نہ ہو تو امت شرالامم ہوئی۔ سبحان اللہ! کیسی سمجھ ہے۔ جب ایک امر کا دعویٰ شرعاً سراسر کذب و افتراء ہے تو اس میں تقسیم کی گنجائش کب؟ ہاں جو کمالات اس امت کے لئے باقی ہیں۔ وہ بھی اس امت میں نہ ہوں تو اس صورت میں اس امت کے شرالامم ہونے کا احتمال ہے۔ اس امت کا کمال اب نبی کی متابعت میں ہے اور حدیث شریف میں ہے کہ ایک گروہ ہمیشہ حق پر رہے گا۔ "وعن معاوية بن قرة عن ابيه قال رسول الله ﷺ ولا يزال طائفة ٣٨
من امتی منصورین لا يضرهم من خذلهم حتـ هم اصحاب الحديث (رواه الترمذي وقال هذا حـ ﴿ قرة کہتے ہیں فرمایا رسول اللہ ﷺ نے پاتی رہے گی۔ ان کو خوار کرنے والا نقصان نہیں دے گا المدینی فرماتے ہیں یہ جماعت اصحاب حدیث کی ہے۔ اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے۔ ایک گرو ہے نہ کاذب۔ معترض نے یہ سمجھا کہ مدعی نبوت صادق نہیں۔ قرآن مجید میں ہے۔ "يا ايها الذين امنوا اتقوا الله و ﴿اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو اور صادقوں (سچوں) "الذين امنوا بالله ورسله اولئـ لوگ اللہ اور اس کے رسولوں پر ایمان لائے وہ بڑے "انما المؤمنون الذين امنوا با باموالهم وانفسهم فى سبيل الله اولئك هـ وہی لوگ ہیں جو اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لائے جان سے اللہ کی راہ میں جہاد کیا۔ یہی لوگ صادق ( پس ثابت ہوا کہ اس امت میں صادق جب صادق ہوئے تو شرالامم نہ ہوئے۔ ہاں نبی غیـ جس امت میں نبی گزرے ہیں۔ وہ امت مجموعی طـ کہ پہلی امتیں آنحضرت ﷺ کے صحابہ سے افضل مجموعہ کی فضیلت اگر دوسرے مجموعہ پر ہو تو اس سے سے افضل ہے۔ مثلاً عرب کی غیر عرب پر فضیلت پر بھی عرب افضل ہوں۔ اسی طرح غریب قریش نہیں آتا کہ بلال سے ابو جہل افضل ہے۔
سوال....... مسیح موعود کو نبی کریـ
من امتى منصورين لا يضرهم من خذلهم حتى تقوم الساعة قال ابن المدينى هم اصحاب الحديث (رواه الترمذى وقال هذا حديث حسن صحيح) ﴿ قرہ کہتے ہیں فرمایا رسول اللہ ﷺ نے ایک جماعت میری امت سے اللہ کی مدد پاتی رہے گی۔ ان کو خوار کرنے والا نقصان نہیں دے گا۔ یہاں تک کہ قیامت قائم ہو۔ امام ابن المدینی فرماتے ہیں یہ جماعت اصحاب حدیث کی ہے۔ ﴾
اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے۔ ایک گروہ ہمیشہ حق پر رہے گا اور یہ گروہ قطعاً صادق ہے نہ کاذب۔ معترض نے یہ سمجھا کہ مدعی نبوت صادق ہو تو اس امت میں صادق ہوں گے ورنہ نہیں۔ قرآن مجید میں ہے۔ "يا ايها الذين امنوا اتقوا الله وكونوا مع الصادقين (توبہ: ١١٩)" ﴿ اے ایمان والو اللہ سے ڈرو اور صادقوں (سچوں) کے ساتھ ہو جاؤ۔ ﴾ "الذين امنوا بالله ورسله اولئك هم الصديقون (حدید: ١٩)" ﴿جو لوگ اللہ اور اس کے رسولوں پر ایمان لائے وہ بڑے صادق (سچے) ہیں۔ ﴾ "انما المؤمنون الذين امنوا بالله ورسوله ثم لم يرتابوا وجاهدوا باموالهم وانفسهم فى سبيل الله اولئك هم الصادقون (حجرات: ١٥)" ﴿ مومن وہی لوگ ہیں جو اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لائے۔ پھر شک میں نہ پڑے اور اپنے مال اور اپنی جان سے اللہ کی راہ میں جہاد کیا۔ یہی لوگ صادق (سچے) ہیں۔ ﴾
پس ثابت ہوا کہ اس امت میں صادق موجود ہیں اور صادق کا نبی ہونا ضروری نہیں۔ جب صادق ہوئے تو شرالامم نہ ہوئے۔ ہاں نبی غیر نبی سے افضل ہوتا ہے۔ اس سے یہ لازم نہیں جس امت میں نبی گزرے ہیں۔ وہ امت مجموعی طور پر اس امت سے افضل ہو ورنہ لازم آئے گا کہ پہلی امتیں آنحضرت ﷺ کے صحابہ سے افضل ہوں۔ کیونکہ صحابہ سے کوئی نبی نہیں ہوا۔ کسی مجموعہ کی فضیلت اگر دوسرے مجموعہ پر ہو تو اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ ہرفرد پہلے کا دوسرے ہرفرد سے افضل ہے۔ مثلاً عرب کی غیر عرب پر فضیلت ہے۔ اس سے لازم نہیں آتا کہ غیر عرب نبیوں پر بھی عرب افضل ہوں۔ اسی طرح قریش غیر قریش سے افضل ہیں۔ مگر اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ بلالؓ سے ابو جہل افضل ہے۔
سوال ...... مسیح موعود کو نبی کریم ﷺ نے خود نبی فرمایا ہے۔
٣٩
جواب....... وہ مسیح ناصری ہیں نہ قادیانی۔ وہ مریم کے بیٹے ہیں جو حدیث میں ہے: ”والذی نفسی بیده لیوشکن ان ينزل فيكم ابن مريم حكما مقسطا فيكسر الصليب ويقتل الخنزير ويضع الجزية ويفيض المال حتى لا يقبله احد و في رواية حتى تكون السجدة الواحدة خير امن الدنيا وما فيها ثم يقول ابوهريرة اقرؤا ان شئتم وان من اهل الكتاب الا ليؤمنن به قبل موته
(نساء:١٥٩)“
قسم ہے اس کی جس کے قبضہ میں میری جان ہے۔ عنقریب تم میں ابن مریم اترے گا۔ حکم اور عادل ہو کر صلیب کو توڑے گا۔ خنزیر کو قتل کرے گا اور جزیہ اٹھا دے گا اور مال بہت ہوگا۔ یہاں تک کہ اس کو کوئی نہ لے گا۔ ایک سجدہ دنیا اور جو اس میں ہے اس سے بہتر ہوگا۔ پھر ابو ہریرہؓ کہتے اگر چاہو تو یہ آیت پڑھو۔ تمام اہل کتاب مسیح کی موت سے پہلے اس پر ایمان لائیں گے۔
سوال....... تیس دجال تو مرزا قادیانی سے پہلے پورے ہو چکے ہیں۔
جواب....... تیس کا لفظ حصر کے لئے نہیں۔ بعض روایات میں یہ بھی ہے کہ ستر کذاب ہوں گے۔ اگر تیس گزر چکے ہیں۔ تو مرزا قادیانی کا نمبر ٣١ ہوگا۔ اگر تیس سے مراد شوکت اور بہت مریدوں والے مراد ہوں۔ تو اس صورت میں ان کو تیس میں مندرج ماننا پڑے گا۔
سوال....... دجالوں سے مراد وہ ہے جو جھوٹی حدیث بنا کر گویا اپنے نفس کو رسول اللہ بناتے ہیں۔
جواب....... حدیث میں صاف لفظ ہے ”كلهم يزعم انه نبي الله “ یہ دجال سارے کے سارے اس قسم کے ہوں گے کہ ہر ایک یہی کہے گا کہ میں نبی اللہ ہوں۔ نیز جو مدعی نبوت حضرت محمد ﷺ کے بعد ضروری ہے کہ جھوٹا ہو اور اپنی طرف سے حدیثیں گھڑے یا گھڑی ہوئی حدیثوں کو اپنے پر چسپاں کرنے کی کوشش کرے۔ مندرجہ ذیل حدیث کے متعلق مرزا قادیانی کا جھوٹ چنانچہ فرماتے ہیں۔ ملاحظہ ہو بخاری کی وہ حدیثیں جن میں آخری زمانہ میں بعض خلیفوں کی نسبت خبر دی گئی ہے۔ خاص کر وہ خلیفہ جس کی نسبت بخاری میں لکھا ہے کہ آسمان سے اس کے لئے آواز آئے گی کہ ”هذا خليفة الله المهدى“ (یعنی یہ اللہ کا خلیفہ مہدی ہے) اب سوچو کہ یہ حدیث کس پایہ اور مرتبہ کی ہے۔ جو ایسی کتاب میں درج ہے جو اصح الکتب بعد کتاب اللہ ہے۔
(شہادت القرآن ص ٤١، خزائن ج ٦ ص ٣٣٧)
٤٠
٥١
مرزا قادیانی کا دوسرا جھوٹ (حقیقت الوحی ص ”اگر چہ اس امت کے بعض افراد مکالمہ ومخاطبہ سے مخصو لیکن جس شخص کو بکثرت اس مکالمہ اور مخاطبہ سے مشرف ک کئے جائیں۔ وہ نبی کہلاتا ہے۔ یہ جو کچھ لکھا ہے۔ مکتوبا ذیل ہے ”واذاكثر هذا القسم من الكلام مع واح
جب اس قسم کی کلام کا شرف کسی کو کثرت س ہیں۔ مجدد صاحب کا یہ کلام مرزا قادیانی نے دوسری جگ ج٣ص٦٠٠) ”مگر اس وقت چونکہ صرف محدث بننے پرق بھی نقل کیا ہے۔ مگر جب یہ سمجھا کہ مرید ہر دعویٰ کو تسلیم نبی نقل کر دیا اور مکلم کہلا نبی ہونے کا دعویٰ کیا اور بعض مرید اس قسم کے بھی تھے۔ جو نبوت کے دعویٰ سے بدک یہ فرق ہے کہ نبی کا الہام قطعی ہوتا ہے اور محدث کا الہا کی صحت و فساد کا علم ہوتا ہے اور محدث کے الہام سے استدلال تسلیم کر لیا گیا تو اس صورت میں ایسی بات کا ہے۔ پس اس کے بعد اس کو محدث سے تعبیر کر دیا۔ ہے۔ اس قسم کے جھوٹ بہت ہیں۔ علماء نے ان کو قلم ب
حدیث ”لانبی بعدی“ پر اعتراضات
- ١....... لانبی کی ذات کی نفی نہیں کرتا۔ بلکہ وصف ک
الا علی“ (علی کے سوا کوئی جوان نہیں ہے کامل۔ بفاتحة الكتاب “ (جوان نہیں ذوالفقار کے سو کے نماز نہیں یعنی کامل نماز میں) جیسے ان تین مثالوں میں ذات کی نفی نہیں ”لانبی بعدی “ میں بھی کمال کی نفی ہو۔ یعنی م نفی جنس کے لئے مشہور ہے۔ دراصل وہ جنس سے م
٤١
مرزا قادیانی کا دوسرا جھوٹ (حقیقت الوحی ص ٣٩٠، خزائن ج ٢٢ ص ٤٠٦) میں لکھا ہے۔ ”اگر چہ اس امت کے بعض افراد مکالمہ ومخاطبہ سے مخصوص ہیں اور قیامت تک مخصوص رہیں گے۔ لیکن جس شخص کو بکثرت اس مکالمہ اور مخاطبہ سے مشرف کیا جائے اور بکثرت امور غیبیہ اس پر ظاہر کئے جائیں۔ وہ نبی کہلاتا ہے۔ یہ جو کچھ لکھا ہے۔ مکتوبات میں کہیں نہیں بلکہ مکتوبات میں عبارت ذیل ہے ”واذا کثر ھذا القسم من الکلام مع واحد منھم یسمی محدثاً“
(مکتوبات جلد ١ ص ٩٩)
جب اس قسم کی کلام کا شرف کسی کو کثرت کے ساتھ حاصل ہوتا ہے تو اس کو محدث کہتے ہیں۔ مجدد صاحب کا یہ کلام مرزا قادیانی نے دوسری جگہ بھی نقل کیا ہے۔ (ازالۃ الاوہام ص ٩١٤، خزائن ج ٣ ص ٦٠٠) ”مگر اس وقت چونکہ صرف محدث بننے پر اکتفاء کیا تھا۔ اس واسطے وہاں محدث کا لفظ بھی نقل کیا ہے۔ مگر جب یہ سمجھا کہ مرید ہر دعویٰ کو تسلیم کرنے کے لئے تیار ہیں۔ تو اس وقت لفظ نبی نقل کر دیا اور مکلم کہلانے ہونے کا دعویٰ کیا اور بعض جگہ ساتھ مجاز کی پچر بھی لگا دی۔ کیونکہ بعض مرید اس قسم کے بھی تھے۔ جو نبوت کے دعویٰ سے بدکتے تھے کہ ہاں محدث اور نبی کے الہام میں یہ فرق ہے کہ نبی کا الہام قطعی ہوتا ہے اور محدث کا الہام قطعی نہیں ہوتا۔ نبی کے الہام سے کسی مسئلہ کی صحت وفساد کا علم ہوتا ہے اور محدث کے الہام سے نہیں ہوتا۔ پس جب دونوں کو قطعی اور قابل استدلال تسلیم کر لیا گیا تو اس صورت میں ایسی بات کا دعویٰ ہوا جو اہل سنت کے نزدیک غلط اور کفر ہے۔ پس اس کے بعد اس کو محدث سے تعبیر کر دیا۔ نبوت سے بات ایک ہی ہے۔ یہ نزاع لفظی ہے۔ اس قسم کے جھوٹ بہت ہیں۔ علماء نے ان کو قلم بند کیا ہے۔ عاقل کو اشارہ کافی ہے۔
حدیث ”لا نبی بعدی“ پر اعتراضات
- ....... ١ لا نبی نفی ذات کی نہیں کرتا۔ بلکہ وصف کی نفی کے لئے بھی ہوتا ہے۔ جیسے ”لا فتیٰ
الا علی“ (علی کے سوا کوئی جوان نہیں ہے کامل۔ ”ولا سیف الا ذو الفقار لا صلوٰۃ الا بفاتحۃ الکتاب“ (جوان نہیں ذوالفقار کے سوا کوئی تلوار نہیں یعنی بہت عمدہ تلوار نہیں بغیر فاتحہ کے نماز نہیں یعنی کامل نماز نہیں)
جیسے ان تین مثالوں میں ذات کی نفی نہیں بلکہ کمال کی نفی ہے۔ اسی طرح ہو سکتا ہے کہ ”لا نبی بعدی“ میں بھی کمال کی نفی ہو۔ یعنی صاحب شریعت نبی نہیں وغیرہ وغیرہ جواب لا جو نفی جنس کے لئے مشہور ہے۔ دراصل وہ جنس سے صفت کی نفی کے لئے ہے۔ اگر صفت بصورت خبر
٤١
مذکور ہو تو اس صفت کی نفی ہوگی۔ خواہ خاص ہو جیسے ”لا غلام رجل ظریف“ (آدمی کا غلام ظریف نہیں) اس مثال میں صرف مرد کے غلام سے ظرافت کی نفی ہے۔
اگر صفت عام ہو تو اس کی نفی ہوگی۔ مگر وصف عام کی نفی سے اسم لا کی بھی نفی ہوگی۔ کیونکہ بغیر وصف عام کے کسی شے کا وجود محال ہوتا ہے۔ جیسے ”لا رجل موجود فی الدار “ کوئی آدمی گھر میں موجود نہیں۔ اگر خبر محذوف ہو تو قاعدہ یہی ہے کہ افعال عامہ سے خبر نکالی جاتی ہے۔ اگر کوئی قرینہ ہو تو افعال خاصہ سے نکالی جاتی ہے۔ یہاں افعال عامہ سے نکالی جائے گی۔ کیونکہ اصل یہی ہے بلکہ یہاں ابن ماجہ کی حدیث میں کائن کا لفظ بھی موجود ہے۔ جس سے صاف پتہ چلتا ہے کہ یہاں خبر افعال عامہ سے نکالی جائے گی جیسے (١)”لا الہ الا اللہ“ (٢) ”لا حول ولا قوۃ الا باللہ“ (٣) ”لا صلوۃ الا بفاتحۃ الکتاب “ ان تینوں مثالوں میں جنس کی نفی ہے۔ ”لا الہ الا اللہ“ کا معنی ہے اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں۔
”لا حول ولا قوۃ الا باللہ “ کا معنی ہے اللہ کی مدد کے بغیر نہ کسی کام سے رک سکتا ہے اور نہ کوئی کام کر سکتا ہے۔ ”لا صلوۃ الا بفاتحۃ الکتاب“ بدوں فاتحہ کے نماز نہیں حقیقی معنی چھوڑ کر مجازی معنی لینے کے لئے قرینہ کی ضرورت ہوتی ہے۔ صرف اس سے کام نہیں چلتا۔ لا نفی ذات کی ہی نہیں ہوتی۔ بلکہ وصف کی بھی ہوتی ہے۔ لہذا اس جگہ وصف کی نفی مراد ہوگی۔ اگر اتنی وسعت دی جائے تو ”لا الہ الا اللہ“ میں بھی ایک شخص نفی وصف کی مراد لے سکتا ہے۔ تو پھر توحید کیسے ثابت ہوگی۔ جو تین مثالیں معترض نے ذکر کی ہیں۔ وہاں مجازی معنی لینے کے لئے قرینے موجود ہیں۔ ”لا فتی“ میں حضرت علیؓ کے علاوہ دوسرے جوانوں کا پایا جانا اور ”لا سیف “ میں دوسری تلواروں کا وجود یہ قرینہ ہے کہ یہاں جنس کی نفی نہیں۔ اسی طرح ”لا ایمان“ اور ”لا دین “ میں جو لوگ مجازی معنی لیتے ہیں۔ وہ ان احادیث کو قرینہ قرار دیتے ہیں۔ جن میں گناہ گاروں کی معافی اور دوزخ سے رہائی پا کر جنت میں داخل ہونے کا ذکر ہے۔
کیونکہ جنت میں صرف مومن ہی جائیں گے اور جو ان احادیث کو ظاہر پر رکھتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ عہد اور امانت ایسے عام لفظ ہیں کہ ان میں سارا دین آجاتا ہے۔ جب جنس دین کی نفی ہوئی تو کفر آ گیا۔ جب کفر آیا تو ایمان اور دین اٹھ گیا اور حافظ ابن تیمیہ کہتے ہیں کہ ایمان سے مراد ایمان واجب ہے۔ جس میں سب واجبات کا کرنا اور سب کبائر سے بچنا داخل ہے۔ اب ظاہر ہے کہ عہد اور امانت واجبات سے ہیں۔ ان کے اٹھنے سے ایمان کی نفی درست ہے۔ اسی طرح ”اذا ھلک کسریٰ فلا کسریٰ بعدہ“ (جب کسریٰ ہلاک ہو گا تو پھر کوئی کسریٰ نہ
٤٢
ہوگا) میں خارج میں کسریٰ کا پایا جانا قرینہ ہے کہ ( عراق میں نہ رہنا) مراد ہے۔
اسی طرح ”اذا ھلک قیصر فلا قـ نہیں) میں قیصر کا وجود قرینہ ہے کہ اس سے مراد یہ وجہ یہ ہے کہ قریش گرمی اور جاڑے میں عراق اور جب قریش مسلمان ہو گئے اور مسلمانوں کی مخالفت گئے کہ ہماری تجارت کو نقصان پہنچے گا۔ اس وقت آپ اپنی تجارت کے متعلق اطمینان ہو جائے۔ اس میں تسلسل رہا۔ مگر عراق اور شام سے ان کی حکومت اٹھ
فرق صرف اس قدر ہے کہ کسریٰ نے آ آپ ﷺ نے بددعا کی۔ اس کی نسل میں تسلسل تھوڑا بخلاف قیصر کے اس نے آپ کے خط کی تعظیم کی آ اس کے خاندان میں مدت تک تسلسل رہا۔ دیر کے مجازی معنی لینا پڑا اور حدیث لا نبی بعدی میں حقیقی مع نفی اس صیغہ سے مفہوم نہیں ہوتی۔
سوال ...... خاتم النبیین بمعنی مصدق ا الکلم وخواتمه ای القرآن ختمت به الکتب مصدق لھا “ ﴿ مجھے ایسے کلمات عطاء ہوئے ہیں، اور اس کے ساتھ سماوی کتب کا خاتمہ ہوا اور یہ سب کـ
جواب ...... مجمع البحار میں مصدق خاتم کی تفسیر نہیں بلکہ لوازم کا ذکر ہے۔ خاتم کی تفسیر تو پہلے جملہ خـ گئیں) میں بیان کی گئی ہے۔ اسی صفحہ میں خاتم کا مـ نہیں) کیا ہے اور (صفحہ ٤٣٠) میں لکھا ہے:
”والخاتَم والخاتِم من اسمـ وبالکسر اسم فاعل “ ﴿خاتِم اور خاتَم آنحضو ان کے آخر میں کسرہ کے ساتھ اسم فاعل ہے۔﴾
٤٣
ہوگا) میں خارج میں کسریٰ کا پایا جانا قرینہ ہے کہ اس جگہ ان کی نفی سے مخصوص جگہ سے نفی (یعنی عراق میں نہ رہنا) مراد ہے۔ اسی طرح ”اذا ھلك قیصر فلا قیصر بعدہ“ (جب قیصر ہلاک ہو تو کوئی قیصر نہیں) میں قیصر کا وجود قرینہ ہے کہ اس سے مراد یہ ہے کہ علاقہ شام میں قیصر نہیں رہے گا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ قریش گرمی اور جاڑے میں عراق اور شام میں تجارت کے لئے جاتے آتے تھے۔ جب قریش مسلمان ہو گئے اور مسلمانوں کی مخالفت کا اثر روم و ایران میں جا پہنچا۔ اب قریش ڈر گئے کہ ہماری تجارت کو نقصان پہنچے گا۔ اس وقت آپ نے فرمایا اس فرمان کا مقصد یہ تھا کہ قریش کو اپنی تجارت کے متعلق اطمینان ہو جائے۔ اس میں پیش گوئی کے بعد اگرچہ کسریٰ اور قیصر میں تسلسل رہا۔ مگر عراق اور شام سے ان کی حکومت اٹھ گئی۔
فرق صرف اس قدر ہے کہ کسریٰ نے آنحضرت ﷺ کے خط کی بے ادبی کی۔ اس پر آپ ﷺ نے بددعا کی۔ اس کی نسل میں تسلسل تھوڑی مدت رہا۔ خلافت راشدہ ہی میں ختم ہو گیا۔ بخلاف قیصر کے اس نے آپ کے خط کی تعظیم کی آپ نے ان کے بقاء کے متعلق بھی کہا اس لئے اس کے خاندان میں مدت تک تسلسل رہا۔ دیر کے بعد ختم ہوا (فتح الباری) اس لئے قرینہ کی بناء پر مجازی معنی لینا پڑا اور حدیث لا نبی بعدی میں حقیقی معنی کی نفی پر کوئی قرینہ نہیں اور سابق نبی کی آمد کی نفی اس صیغہ سے مفہوم نہیں ہوئی۔
سوال ....... خاتم النبیین بمعنی مصدق ہے، مجمع البحار میں ہے: ”اوتیت جوامع الکلم وخواتمہ ای القرآن ختمت بہ الکتب السماویہ وہو حجۃ علی سائرھا و مصدق لھا“ ﴿مجھے ایسے کلمات عطاء ہوئے ہیں۔ جو جامع اور خاتم ہیں۔ اس سے مراد قرآن مجید ہے اس کے ساتھ سماوی کتب کا خاتمہ ہوا اور یہ سب کتب پر حجت اور ان کا مصدق ہے۔﴾
جواب ...... مجمع البحار میں مصدق خاتم کی تفسیر نہیں۔ بلکہ اس کے خاتم بمعنی آخر کے لوازم میں سے ایک لازم کا ذکر ہے۔ خاتم کی تفسیر تو پہلے جملہ ختمت بہ الکتب (اس کے ساتھ کتابیں ختم کی گئیں) میں بیان کی گئی ہے۔ اسی صفحہ میں خاتم کا معنی یہ ”لا نبی بعدی“ (میرے بعد کوئی نبی نہیں) کیا ہے اور (صفحہ ٣٣٠) میں لکھا ہے: ”والخاتم والخاتم من أسمائہ ﷺ (ش) بالفتح اسم ای آخرہم وبالکسر اسم فاعل“ ﴿خاتم اور خاتم آنحضرت ﷺ کا نام ہے فتح کے ساتھ اسم ہے۔ یعنی ان کے آخر میں کسرہ کے ساتھ اسم فاعل ہے۔﴾
٤٣
اور ”خاتم القوم اخرهم“ کے معنی ہیں کتب لغت میں مسطور ہے اور مجمع البحار کی پہلی عبارت میں قرآن کو خاتم کہا ہے اور اسی کو مصدق کہا ہے۔ اگر خاتم کا معنی یہ کہا جائے کہ آپ کی معرفت نئے نبی بنتے ہیں تو قرآن سے اس معنی کے اعتبار سے نئی کتابیں بننی چاہئیں۔
سوال ....... خاتم النبیین ال استغراق نہیں بلکہ ایسا ال ہے جیسے ”یقتلون النبیین“ میں ہے اور یہ ال استغراقی نہیں۔ کیونکہ سارے نبی قتل نہیں ہوئے۔
جواب ....... جمع مذکر سالم پر اگر الف و لام داخل ہے۔ تو اصل یہی ہے اور جمیع افراد کے لئے ہو۔ جیسے ”رب العالمین“ (سارے عالموں کا رب) ”ان الله یحب المحسنین فان الله لایحب الکافرین“ ﴿اللہ تعالیٰ سب محسنین سے محبت کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کسی کافر سے محبت نہیں کرتے۔﴾
اگر قرینہ پایا جائے تو اس سے بعض افراد مراد لئے جاسکتے ہیں۔ جیسے ”للعالمین نذیرا“ فرقان آنحضرت ﷺ پر اس لئے نازل کیا کہ وہ جہاں والوں کو ڈرائیں۔ اس جگہ عالمین سے مراد وہ ہے جن و انس میں جو آپ کی بعثت کے بعد قیامت تک آپ پر ایمان لانے کے مکلف ہیں۔ اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ رب العالمین میں بھی تخصیص ہو۔ اسی طرح خاتم النبیین میں بجز آپ کے سب نبی مراد ہیں۔ کیونکہ آپ مضاف ہیں اور مضاف مضاف الیہ کا غیر ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ کوئی قرینہ نہیں جو تخصیص پر دلالت کرے اور ”تقتلون النبیین“ ﴿قتل کرتے ہیں نبیوں کو﴾ میں تین قرینے ہیں۔ جس سے صیغہ کی تخصیص کی جاتی ہے۔
- ١....... لفظ ”قتل“ کیونکہ بعض جگہ قرآن مجید نے بعض نبیوں کے قتل کا ذکر کیا ہے۔ چنانچہ
فرمایا ”وفریقا تقتلون“ ﴿ایک فریق کو قتل کرتے ہو﴾ اور واقعہ بھی اسی طرح ہے کہ بعض نبی قتل ہوئے۔ یہ قرینہ حسی ہے اور پہلا لفظی۔
- ٢....... یہود کا فاعل ہونا۔ کیونکہ یہود صرف انہی کو قتل کر سکتے تھے۔ جو نبی ان میں ہوئے۔
- ٣....... بعض انبیاء کے غیر مقتول ہونے کا ذکر ”والله یعصمک من الناس“ ﴿اللہ مجھے
لوگوں سے بچائے گا۔﴾ یہ تین قرائن دلالت کرتے ہیں کہ یہاں بعض نبی مراد ہیں۔
سوال ....... نبوت ایک نعمت ہے۔ اس امت سے نعمت کیوں سلب ہوئی؟
جواب ....... نزول کتاب اور نبوت تشریعی بھی اور نبوت مستقل بھی لامحالہ ایک نعمت ہے۔ ”لقد منّ الله علی المؤمنین اذ بعث فیهم رسولا (آل عمران: ١٦٤)“ ﴿بیشک مومنوں پر اللہ کا احسان ہے جب اس نے ان میں ایک رسول بھیجا۔﴾
٤٤
جب یہ نعمت باوجود بند ہونے کے امت میں نقم نبوت نعمت ہو تو ختم ہونے کی صورت میں کوئی نقص پیدا نہیں نعمت ہے۔ نہ غیر وقت میں جیسے بارش اللہ کی رحمت ہے م وقت ہو تو عذاب بن جاتی ہے۔ طاعون کفار کے لئے عذاب ضرورت ہو تو نعمت ہے۔ اگر ضرورت نہ ہو تو ایک قسم کا عذاب نجات سے محروم رہے گا اور امت میں تفریق لازم آئے گی گے۔ سو اللہ کا فضل ہے کہ اس نے ہم کو اس سے بچالیا۔
سوال ....... آیت ذیل سے معلوم ہوتا ہے کہ نب الملائکة رسلا ومن الناس (حج: ٧٥)“ ﴿اللہ فرشتوں اور آیت ذیل اس کی مؤید ہے: ”ولکن الله عمران: ١٧٩)“ ﴿اللہ تعالیٰ اپنے رسولوں سے جسے چاہے
جواب ....... اس آیت میں فعل مضارع محض اس غرض کے اللہ کا کام ہے۔ جس کو چاہے رسول بنائے اور جس کو چاہے کا یہ معنی نہیں کہ اللہ تعالیٰ چنتا ہے اور چنتا رہے گا۔ یعنی یہ اس کی نظیر آیت ذیل ہے۔ ”هوالذی ینزل علی عبده آیات بندے پر بین آیتیں اتارتا ہے۔﴾
اس آیت میں بھی صیغہ مضارع کا ہے۔ اس نزول مستمر ہو۔ جہاں غرض یہ ہو کہ فعل کو اللہ کے ساتھ مختص کے لئے ہوتا۔ باقی رہا فعل کا دائم یا غیر دائم ہونا۔ یہ اس ہوتی ہے۔ اس کی نفی یا اثبات کے لئے دوسری دلیل ک استدلال کرنا کہ فعل مستمر ہے، لغو ٹھہرتا ہے۔ سورہ حج میں کہتے تھے کہ رسول کوئی بڑا آدمی ہونا چاہئے...... فرشتہ بھی ہونا چاہئے نہ انسان۔ اس استبعاد کو نہ تمہارا۔ میں جسے چاہوں منتخب کروں۔ باقی رہی یہ با دوسرے دلائل سے ثابت ہوگا۔ اسی طرح دوسری جگہ فرمایا
٤٥
جب یہ نعمت باوجود بند ہونے کے امت میں نقص پیدا نہیں کرتی تو اسی طرح اگر مطلق نبوت نعمت ہو تو ختم ہونے کی صورت میں کوئی نقص پیدا نہیں کرے گی۔ کیونکہ نعمت اپنے وقت میں نعمت ہے۔ نہ غیر وقت میں جیسے بارش اللہ کی رحمت ہے۔ مگر اپنے وقت میں نعمت ہے۔ اگر بے وقت ہو تو عذاب بن جاتی ہے۔ طاعون کفار کے لئے عذاب ہے اور مومنوں کے لئے رحمت۔ نبوت کی ضرورت ہو تو نعمت ہے۔ اگر ضرورت نہ ہو تو ایک قسم کا عذاب ہے۔ کیونکہ جو ایمان نہ لائے گا۔ وہ نجات سے محروم رہے گا اور امت میں تفریق لازم آئے گی۔ یعنی بعض افراد کافر اور مومن بن جائیں گے۔ سو اللہ کا فضل ہے کہ اس نے ہم کو اس سے بچالیا۔
سوال ........ آیت ذیل سے معلوم ہوتا ہے کہ نبوت جاری ہے: ”اللہ یصطفی من الملائکۃ رسلا ومن الناس (حج:٧٥)“ ”اللہ فرشتوں اور انسانوں سے رسول چنتا ہے۔“ اور آیت ذیل اس کی مؤید ہے: ”ولکن اللہ یجتبی من رسلہ من یشاء (آل عمران:١٧٩)“ ”اللہ تعالیٰ اپنے رسولوں سے جسے چاہے پسند کرے۔“
جواب ....... اس آیت میں فعل مضارع محض اس غرض کے لئے ہے کہ بتا دے کہ اصطفاء اور اجتباء اللہ کا کام ہے۔ جس کو چاہے رسول بنائے اور جس کو چاہے رسولوں سے انتخاب کرے۔ اس آیت کا یہ معنی نہیں کہ اللہ تعالیٰ چنتا ہے اور چنتا رہے گا۔ یعنی یہاں مضارع تجدد و استمرار کے لئے نہیں۔ اس کی نظیر آیت ذیل ہے۔
”ھوالذی ینزل علی عبدہ آیات بینات (حدید:٩)“ ”اللہ ہی اپنے بندے پر بین آیتیں اتارتا ہے۔“
اس آیت میں بھی صیغہ مضارع کا ہے۔ اب اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ قرآن کا نزول مستمر ہو۔ جہاں غرض یہ ہو کہ فعل کو اللہ کے ساتھ مختص کیا جاوے۔ وہاں مضارع اثبات فعل کے لئے ہوتا۔ باقی رہا فعل کا دائم یا غیر دائم ہونا۔ یہ اس صیغہ سے ثابت نہیں ہوتا۔ نہ اس کی نفی ہوتی ہے۔ اس کی نفی یا اثبات کے لئے دوسری دلیل کی ضرورت ہوتی ہے۔ لہٰذا اس سے یہ استدلال کرنا کہ فعل مستمر ہے، لغو ٹھہرتا ہے۔ سورہ حج میں کفار کے اس استبعاد کو رد کیا گیا ہے جو وہ کہتے تھے کہ رسول کوئی بڑا آدمی ہونا چاہئے ........
فرشتہ ہی ہونا چاہئے نہ انسان۔ اس استبعاد کو اس طرح رفع کیا کہ انتخاب میرا کام ہے نہ تمہارا۔ میں جسے چاہوں منتخب کروں۔ باقی رہی یہ بات کہ وہ انتخاب مستمر ہے یا منقطع۔ یہ دوسرے دلائل سے ثابت ہوگا۔ اسی طرح دوسری جگہ فرمایا ہے۔
٤٥
”ينزل الملائكة بالروح من امره على من يشاء من عباده (نحل:٢) “ ﴿ملائکہ کو اپنی روح امر کے ساتھ جس بندے پر چاہے، اتارے۔﴾
اس آیت کا مطلب بھی یہی ہے کہ فرشتوں کو اپنا امر (روح) دیگر کسی بندے پر اتارنا اللہ کا کام ہے۔ دوسرا جواب یہ ہے کہ مضارع حال اور استقبال کے لئے ہے۔ یعنی ان دونوں زمانوں سے ایک زمانے کے لئے مستعمل ہے۔ ایک زمانہ کی تعیین کے لئے قرینے کی ضرورت ہوتی ہے جب ایک زمانہ متعین ہو جائے تو دوسرے زمانہ کا ارادہ کرنا منع ہو جاتا ہے۔ جیسا کہ کتب نحو میں لکھا ہے۔ (شرح جامی)
تیسرا جواب یہ ہے کہ اصطفاء کا تعلق انسانوں اور فرشتوں دونوں سے ہے۔ جب ایک فعل دو چیزوں کے ساتھ متعلق ہو تو ضروری نہیں کہ فعل کا تعلق دونوں کے ساتھ برابر ہو۔ پس جب فرشتوں سے رسول آتے رہتے ہیں اور انسانوں میں بند ہوگئے ہیں۔ تو فعل کے صدق کے لئے اتنا ہی کافی ہے کہ فرشتوں میں یہ سلسلہ اصطفاء کا جاری رہے اور انسانوں میں بند ہوجائے۔ یہ سلسلہ فرشتوں میں جاری ہے۔ کیونکہ فرشتوں کو مختلف امور کے لئے بھیجا جاتا ہے۔ جان قبض کرنے کے لئے بھی فرشتے بھیجے جاتے ہیں۔ قرآن مجید میں ہے ”توفته رسلنا (انعام) “ ہمارے رسول ان کی جان قبض کرتے ہیں وغیرہ۔
سوال ...... آیت ذیل سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ نبوت جاری ہے۔ ”يابني ادم اما ياتينكم رسل منكم يقصون عليكم اياتي (اعراف:٣٥) “ ﴿اے بنی آدم ! اگر تمہارے پاس رسول تم میں سے آئیں۔ تم پر میری آیتیں پڑھیں۔﴾
جواب ...... (١) اس آیت میں آدم کی نسل کو خطاب ہے۔ تفسیر ابن جریر میں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آدم اور اس کی نسل کو ایک ہاتھ میں لے کر یہ خطاب فرمایا تھا۔ سو یہ وعدہ انبیاء اور رسولوں کے مسلسل آنے سے یہاں تک کہ حضرت محمد ﷺ تشریف لائے ، پورا ہوا۔
سوال ...... یہ آیت سورہ اعراف کی ہے۔ اس آیت میں بنی آدم کو خطاب ہے۔ اس آیت سے پہلے بھی چند بار بنی آدم کو خطاب کیا گیا اور وہ خطاب عام ہے۔ جس میں قیامت تک کے لوگ شریک ہیں۔ اس میں بھی شریک ہونے چاہئیں۔
جواب ...... اس خطاب میں بھی قیامت تک کے لوگ شریک ہیں۔ مگر اس خطاب سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ ہر زمانہ میں رسول آتے رہیں۔ حدیث شریف میں ہے کہ میرے اور مسیح کے درمیان
٤٦
کوئی رسول نہیں۔ یہ زمانہ فترت کا کہلاتا ہے۔ یہ لوگ بھی زمانہ میں کوئی رسول نہیں آیا۔ قرآن مجید میں ہے: ”لتنذر قوما ما اتاهم من نذير من قبلك کہ تو ڈرائے جن کے پاس تیرے پہلے کوئی نذیر نہیں آیا۔﴾
مرزا غلام احمد نے بھی لکھا ہے کہ اتنی مدت تک بے رسول رہے ہوں۔ تیرہ سو سال تک کے لوگ باوجود مخاطب ہونے کے عذاب سے بچ گئے۔ پس معلوم ہوا کہ یہاں خطاب جنس کو ہے۔ مراد یہ ہے کہ بنی آدم میں رسول آئے ہوں نہ یہ کہ ہر قرن میں ہو۔ جس کے پاس نبی آ گیا ”لانذركم به ومن بلغ (انعام) “ اور ہر اس شخص کے لئے جس کو قرآن پہنچے۔ پس اب ہم پر یہ شریعت ہمارے لئے واجب التعمیل ہے۔
- ٢....... آیت میں لفظ ان کا ہے۔ جس کا تحقق ضروری
نہیں، بلکہ ممکن ہے۔ جیسا کہ یہ لفظ قرآن مجید میں ایک امر غیر واقع پر بھی ہوا ہے۔ ”ان كان للرحمن ولد فانا اول العابدین (زخرف:٨١) “ ﴿کہہ دے کہ اگر بفرض محال رحمٰن کی اولاد ہو تو میں اس کا پہلا پرستار ہوں۔﴾ ایک جگہ فقولی (مریم:٢٦) “ ﴿(مائی مریم کو فرمایا ) اگر تو بشر کو دیکھے تو کہہ دے۔۔۔الخ﴾ اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ مائی مریم قیامت تک زندہ رہیں۔
- ٣....... نبوت اور رسالت میں فرق ہے۔ اگر چہ نبوت
رسالت کے لئے شرط ہے۔ اس لئے رسالت کی نبوت کی طرف نسبت مشہور ہے۔ مگر تتبع اور استقراء سے معلوم ہوتا ہے کہ رسول کا لفظ عام ہے۔ خواہ وہ انسان ہو یا فرشتہ۔ مگر نبی انسان ہی ہے اور اس نسبت کی وجہ یہ بیان کی گئی ہے کہ جیسے بعض نبی نہیں ہوتے جیسے فرشتے رسول مگر بعض کا یہ خیال ہے کہ رسل سے مراد انبیاء ہیں۔
مرزا غلام احمد نے بھی اس کا ذکر کیا ہے۔ چنانچہ قفينا من بعده بالرسل “ آیا ہے، نہ کہ قفينا من بعده بالانبيا کہ رسل سے مراد مرسل ہیں۔ خواہ وہ رسول ہوں یا نبی ہوں
٤٧
کوئی رسول نہیں۔ یہ زمانہ فترت کا کہلاتا ہے۔ یہ لوگ بھی اس خطاب میں داخل ہیں۔ مگر ان کے زمانہ میں کوئی رسول نہیں آیا۔ قرآن مجید میں ہے: ”لتنذر قوما ما اتاهم من نذير من قبلك (سجده:٣)“ ﴿تاکہ تو اس قوم کو ڈرائے جن کے پاس تیرے پہلے کوئی نذیر نہیں آیا۔ ﴾
مرزا غلام احمد نے بھی لکھا ہے کہ اتنی مدت میں میں ہی نبی کا نام پانے کے قابل ہوا ہوں۔ تیراں سو سال تک کے لوگ باوجود مخاطب ہونے کے کسی رسول کو نہ دیکھ سکے۔ حالانکہ اللہ کا وعدہ سچا ہے۔ پس معلوم ہوا کہ یہاں خطاب جنس کو ہے۔ اس کا پورا ہونا اس طرح بھی متصور ہوسکتا ہے کہ بنی آدم میں رسول آئے ہوں نہ یہ کہ ہر قرن میں ہوں۔ جس شخص کو کسی نبی کی تعلیم پہنچے۔ گویا اس کے پاس نبی آگیا ”لانذرکم به ومن بلغ (انعام)“ میں تمہارے لئے بھی نذیر ہوں اور اور اس شخص کے لئے جس کو قرآن پہنچے۔ پس اب ہمارے لئے رسول و نبی ہیں اور آپ کی شریعت ہمارے لئے واجب التعمیل ہے۔
- ٢...... آیت میں لفظ ان کا ہے۔ جس کا تحقق ضروری نہیں۔ بلکہ بعض جگہ اس کا استعمال غیر
واقع پر بھی ہوا ہے۔ ”ان كان للرحمن ولد فانا اول العابدين (زخرف:٨١)“ ﴿اگر رحمٰن کی اولاد ہو تو میں اس کا پہلا پرستار ہوں۔ ﴾ ایک جگہ فرمایا ”اما ترين من البشر احدا فقولی (مریم:٢٦)“ ﴿(مائی مریم کو فرمایا) اگر تو بشر سے کسی کو دیکھے تو یہ کہہ دے۔ ﴾ اب اس آیت میں یہ ذکر ہے کہ اگر تو کسی بشر کو دیکھے۔ مگر اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ مائی مریم قیامت تک زندہ رہیں۔
- ٣...... نبوت اور رسالت میں فرق ہے۔ اگرچہ نبوت اور رسالت من اللہ میں عام و خاص کی
نسبت مشہور ہے۔ مگر تتبع اور استقراء سے معلوم ہوتا ہے کہ دونوں میں عام و خاص من وجہ کی نسبت ہے اور اس نسبت کی وجہ یہ بیان کی گئی ہے کہ جیسے بعض نبی رسول نہیں ہوتے۔ اسی طرح بعض نبی نہیں ہوتے جیسے فرشتے رسول مگر بعض کا یہ خیال ہے کہ رسول کا اطلاق کبھی مبلغ پر بھی ہوتا ہے۔
مرزا غلام احمد نے بھی اس کا ذکر کیا ہے۔ چنانچہ لکھتے ہیں ”وقفينا من بعده بالرسل“ آیا ہے، نہ کہ ”قفينا من بعده بالانبياء“ پس یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ رسل سے مراد مرسل ہیں۔ خواہ وہ رسول ہوں یا نبی ہوں یا محدث۔
(شہادت القرآن ص ٢٨، خزائن ج ٦ ص ٣٢٣)
٤٧
اب یہ واضح ہے کہ آیات مذکورہ بالا میں لفظ رسول مذکور ہے۔ کسی آیت میں لفظ نبی وارد نہیں ہوا۔ کلام ختم نبوت اور ختم رسالت من اللہ میں ہے۔ نہ مطلق رسالت میں جس کے معنی تبلیغ کے بھی ہیں۔ اس معنی کے اعتبار سے تو جمیع علماء امت رسل ہوئے۔
سوال...... سورہ فاتحہ میں ہے ”اهد نا الصراط المستقيم صراط الدين انعمت عليهم “ اور سورہ نساء میں ہے ”و من يطع الله والرسول فاولئك مع الذين انعم الله عليهم من النبيين والصديقين و الشهداء والصالحين“ ﴿ جو اللہ اور رسول کی اطاعت کرے وہ ان لوگوں کے ساتھ ہے جن پر اللہ نے انعام کیا۔ یعنی نبیوں، صدیقوں، شہداء اور صالحین کے ساتھ ہوگا۔ ﴾
سورہ فاتحہ میں یہ کہا کہ یا اللہ جن پر تو نے انعام کیا۔ ان کی راہ بتا اور سورہ نساء میں ان کا ذکر کیا جن پر انعام ہوا۔ دونوں آیتوں کے ملانے سے یہ معنی ہوئے کہ یا اللہ مجھے نبیوں، صدیقوں، شہداء اور صالحین کی راہ بتا۔ جب کسی گروہ کی راہ پر عمل کرے گا تو اسی گروہ میں داخل ہو جائے گا۔ جیسے صالحین، شہداء اور صالحین کی راہ اختیار کرنے سے صالح، شہید اور صدیق بن سکتا ہے۔ اسی طرح نبی کی راہ اختیار کرنے سے نبی بننا چاہئے۔
پھر سورۂ نساء میں بالکل صراحت ہے۔ کیونکہ وہاں یہ فرمایا کہ جو اللہ اور رسول کی اطاعت کرے گا۔ وہ ان مذکورہ بالا فریقوں کے ساتھ ہوگا۔ ساتھ تب ہی ہو سکتا ہے۔ جب اس گروہ میں داخل ہوا جب صالح کے ساتھ ہونے سے صالح بن سکتا ہے۔ شہید کے ساتھ ہونے سے شہید بن سکتا ہے اور صدیق کے ساتھ ہونے سے صدیق بن سکتا ہے۔ تو کیا وجہ ہے نبی کے ساتھ ہونے سے نبی نہ بنے۔
جواب...... استدلال کی بنیاد دو چیزوں پر ہے (یعنی ہدایت اور معیت) سورہ فاتحہ کی آیت سے استدلال کی بنیاد اس امر پر ہے کہ جس فریق کے راستہ پر چلے، اسی فریق میں داخل ہوگا۔ کسی فریق کے راستہ پر چلنے کا مطلب یہ ہے کہ اسی قسم کے اعمال اختیار کرے۔ جب صالحین کے اعمال اختیار کرے گا تو صالحین کے گروہ میں داخل ہوگا۔ اگر شہداء یا صدیقین کے اعمال اختیار کرے گا تو شہید یا صدیق بنے گا۔ اسی طرح اگر نبی کے اعمال اختیار کرے گا تو نبی ہوگا۔
اس استدلال میں یہ کمزوری ہے کہ اس میں کسی فریق کے طریق پر چلنے سے یہ سمجھ لیا ہے کہ اب ہر وجہ سے وہ فریق مذکور کی طرح ہو گیا ہے اور یہ غلط ہے۔ اس سے لازم آتا ہے کہ ہر
شخص نبی ہو۔ کیونکہ ہر شخص کو نبی کی اتباع کا حکم ہے اور ہر شخص کرتا ہے۔ بس چاہئے کہ ہر ایک ان میں سے نبی بنے۔ گروہوں کے مختلف طریقے فرض کر لئے گئے ہیں۔
حالانکہ ان کا طریق ایک ہی ہے۔ فرق صرف لئے یکساں ہے۔ سوائے چند خصوصیات کے، سب فریق اخ نبی اور غیر نبی میں فرق انتخاب کا ہے اور انتخاب میں استعد جب ضرورت ختم ہو چکی تو اس کی جدوجہد اور اس کا مطالبہ بھی یہ دعا پڑھتے تھے اور صدیق بھی یہ دعا کرتے تھے مگر نبو رہی اور عورتیں بھی یہ دعا پڑھتی ہیں۔ حالانکہ عورت رسول نہی ٹھہرا تو اس صورت میں اختلاف عمل کا سوال ہی پیدا نہیں ہ بلکہ انتخاب کا ہے۔ اسی طرح صدیق اور شہید میں فرق با میں فرق کا ہے۔ پس ان کے راستوں کو الگ الگ سمجھنا یک
سورہ نساء سے استدلال کی بنیاد معیت کے معن مطلب ہے کہ جو نبی کے ساتھ ہو وہ نبی ہے؟ یا یہ مطلب ہے وہاں جائے۔ یہاں دوسرا مفہوم ہی مراد ہو سکتا ہے۔ مرسل ثب
”ان الله مع الصابرين (بقرہ:١٥٣)“ ”ان الله مع الذين اتقوا (نحل:١٢٨)“
اگر معیت عینیت کو مستلزم ہوتی تو ان آیات کا ر معیت کے لئے جیسے یہ ضروری ہے کہ ایک صفات میں شریک ہو۔ ویسے یہ بھی ضروری نہیں کہ اس آیت اثبات نبوت کے لئے حجت نہیں۔ اسی طرح اثبا بھی پیش نہیں کی جاسکتی۔ ان کا ثبوت اور عدم ثبوت و شہادت اور صلاح کے لئے تو دوسری جگہ صراحت موجود
”والذين امنوا بالله ورسله او ربهم “ ﴿ جو اللہ اور اس کے رسولوں پر ایمان لا۔
٤٩
شخص نبی ہو۔ کیونکہ ہر شخص کو نبی کی اتباع کا حکم ہے اور ہر شخص صدیق و شہید اور صالح اس پر عمل کرتا ہے۔ پس چاہئے کہ ہر ایک ان میں سے نبی بنے۔ اس غلطی کی وجہ یہ ہے کہ مذکورہ بالا گروہوں کے مختلف طریقے فرض کر لئے گئے ہیں۔
حالانکہ ان کا طریق ایک ہی ہے۔ فرق صرف مراتب کا ہے۔ عملی پروگرام سب کے لئے یکساں ہے۔ سوائے چند خصوصیات کے، سب فریق اعتقاد و عمل میں برابر کے ذمہ دار ہیں۔ نبی اور غیر نبی میں فرق انتخاب کا ہے اور انتخاب میں استعداد کے علاوہ ضرورت کا بھی لحاظ ہے۔ جب ضرورت ختم ہو چکی تو اس کی جدوجہد اور اس کا مطالبہ بے معنی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ صحابہ کرام بھی یہ دعا پڑھتے تھے اور صدیق بھی یہ دعا کرتے تھے مگر نبی نہیں بنے۔ کیونکہ نبی کی ضرورت نہیں رہی اور عورتیں بھی یہ دعا پڑھتی ہیں۔ حالانکہ عورت رسول نہیں بن سکتی۔ جب ان کا طریق ایک ہی ٹھہرا تو اس صورت میں اختلاف عمل کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ نبی اور صدیق میں عمل کا فرق نہیں بلکہ انتخاب کا ہے۔ اسی طرح صدیق اور شہید میں فرق باطنی ہے۔ یہی حال صالح اور غیر صالح میں فرق کا ہے۔ پس ان کے راستوں کو الگ الگ سمجھنا پہلی غلطی ہے۔
سورہ نساء سے استدلال کی بنیاد معیت کے مفہوم پر ہے کہ معیت کا معنی کیا ہے۔ کیا یہ مطلب ہے کہ جو نبی کے ساتھ ہو وہ نبی ہے؟ یا یہ مطلب ہے کہ جہاں نبی گیا ہے یعنی جنت میں یہ بھی وہاں جائے۔ یہاں دوسرا مفہوم ہی مراد ہو سکتا ہے۔ ورنہ جیسا کہ آیات ذیل سے لازم ہوتا ہے۔ ”ان الله مع الصابرین (بقرہ: ١٥٣) “ ﴿اللہ صابروں کے ساتھ ہے﴾ ”ان الله مع الذين اتقوا (نحل: ١٢٨) “ ﴿اللہ پرہیز گاروں کے ساتھ ہے﴾ اگر معیت عینیت کو مستلزم ہوتی تو ان آیات کا یہ مطلب ہوتا کہ اللہ صابر ہے اور متقی ہے۔
معیت کے لئے جیسے یہ ضروری ہے کہ ایک فریق دوسرے فریق کے ساتھ اس کی صفات میں شریک ہو۔ ویسے یہ بھی ضروری نہیں کہ اس کی صفات میں شریک ہو۔ بس جیسے یہ آیت اثبات نبوت کے لئے حجت نہیں۔ اسی طرح اثبات صدیقیت شہادت اور صلاح کے لئے بھی پیش نہیں کی جا سکتی۔ ان کا ثبوت اور عدم ثبوت دوسرے دلائل سے معلوم ہوگا۔ صدیقیت شہادت اور صلاح کے لئے تو دوسری جگہ صراحت موجود ہے۔ ”والذين امنوا بالله ورسله اولئك هم الصديقون والشهداء عند ربهم“ ﴿جو اللہ اور اس کے رسولوں پر ایمان لائے وہی اپنے رب کے ہاں صدیق اور شہید
٤٩
ہیں ۔ ان الارض يرثها عبادى الصالحون (انبياء : ١٠٥) " ﴿زمین کے وارث میرے بندے صالح ہوں گے۔﴾
ان دو آیتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ نبوت کے علاوہ تین کمالات صدیقیت شہادت اور صلاح باقی ہیں اور نبوت دلائل مذکورہ بالا کی بنا پر ختم ہوچکی ہے۔ معیت سے مراد کسی وصف ذاتی میں شرکت نہیں۔ بلکہ جنت میں داخل ہونے میں شرکت مراد ہے۔ جیسے ذیل سے معلوم ہوتا ہے۔
" التاجر الصدوق الامين مع النّبيين والصديقين والشهدا (ترمذی، دارمی، دارقطنی، ابن ماجه، مشكوة ص٢٤٣) " ﴿سچا امین تاجر (قیامت کے روز) نبیوں صدیقوں اور شہیدوں کے ساتھ ہوگا۔......
اس حدیث کا یہ مطلب نہیں ہوسکتا کہ ایسا تاجر نبی بن جاتا ہے۔
ہمارے بیان کردہ معنی کی تائید حدیث ذیل سے بھی ہوتی ہے۔ ”عــن عـــائشـــة فسمعته يقول مع الذين انعمت عليهم من النبيين والصديقين والشهداء و الصالحين (المتفق عليه) “ ﴿مائی عائشہؓ فرماتی ہیں۔ میں نے رسول اللہ ﷺ سے (وفات کے وقت) سنا، فرماتے تھے (یا اللہ مجھے) ان لوگوں کے ساتھ کر جن پر تو نے انعام کیا، یعنی نبی، صدیقین، شہداء اور صالحین گروہ کے ساتھ کر۔﴾
اب ظاہر ہے کہ رسول اللہ ﷺ نبی رسول تھے۔ پھر بھی فرما رہے ہیں کہ یا اللہ مجھے نبیوں، صدیقوں شہیدوں اور صالحوں کے ساتھ کر۔ اس کا یہی مطلب ہوسکتا ہے کہ مجھے دنیا سے اٹھا کر اپنے قرب وجوار جنۃ الماویٰ میں پہنچا۔ اس حدیث میں قرآن مجید کی تفسیر بالکل واضح ہو گئی کہ معیت سے مراد جنت میں داخل ہونا ہے نہ نبی بننا۔
سوال....... قرآن مجید میں ہے نبی کے مبعوث ہونے کے بغیر عذاب نہیں آتا۔
" وما كنا معذبين حتى نبعث رسولا (بنی اسرائيل:١٥) “ ﴿جب تک رسول نہ بھیجیں۔ ہم عذاب نہیں کرتے۔﴾
اور دوسری آیت میں فرمایا قیامت سے پہلے ہم ہر بستی کو ہلاک کریں گے یا عذاب کریں گے۔ پس ثابت ہوا کہ جب عذاب آئے گا تو اس سے پہلے ضرور کوئی رسول آئے گا۔ پس ثابت ہوا کہ نبوت جاری ہے۔
جواب....... آیت سے تو اتنا معلوم ہوتا ہے کہ اگر نبوت ورسالت کا سلسلہ نہ ہوتا تو اللہ
٥٠
٦١ تعالیٰ عذاب نہ کرتے۔ کیونکہ بغیر حجت قائم کرنے کے عذاب یہ مطلب نہیں کہ جب عذاب آئے تو اس سے متصل ایک سے چونکہ حجت قائم کرنا ہے۔ پس جب ایک رسول کی دعوت قائم ہوچکی ہے۔ تو پہلے رسول کی دعوت ہی عذاب سے رسول ﷺ کی بعثت تمام عالم کے لئے اور قیامت تک کے آپ ﷺ کی آمد سے تمام ان لوگوں پر حجت قائم ہوگئی ہے دعوت کی ادلہ شروع میں بیان کی جاچکی ہے۔ جب آپ ﷺ ہوچکی ہے۔ تو عذاب آنے کے لئے کسی نئے نبی کے آنے
سوال....... حديث مسلم "فاني اخر الانبیاء (مسلم ج١ ص٤٤٦) “ ﴿میں آخری نبی ہوں اور میری م
سے معلوم ہوتا ہے کہ اس جگہ خاص قسم کے انبیاء جائیں گے۔ تو مسجد سے بھی ہر قسم کی مساجد مراد لینی پڑیں گی مساجد سے آخری مسجد نہیں۔ بلکہ انبیاء کی مساجد سے آخری
جواب....... اخر المساجد سے مراد یہاں آخر م
دوسری روایت میں ہے " انــا خــاتــم الانـبـيــاء و مسـ (کنز العمال ج١٢ ص٢٧٠) “ ﴿میں نبیوں کا خاتم ہوں ہے۔﴾
مسلم کی روایت میں الانبیاء میں ال عوض ہے پس یہ حدیث جو مسلم میں ہے۔ اس تفسیر کے مطابق دو وجہوں ایسا لفظ " اخر الانبيا “ ﴿میں آخری نبی ہوں﴾ اور دوسر بعد نبوت میری مسجد (انبیاء کی) مساجد سے آخری مسجد ہے جاری ہو تو بعد کے نبی بھی مسجدیں بنائیں گے۔ پھر آپ ﷺ آپ ﷺ نے فرمایا میری مسجد آخری ہے تو اس کا یہ مطلب
سوال....... آیت ذیل میں پچھلی وحی کا ذکر ہے (بقرہ:٤) “ ﴿(متقین لوگ) پچھلی وحی پر (بھی) یقین کرتے
٥١
تعالیٰ عذاب نہ کرتے۔ کیونکہ بغیر حجت قائم کرنے کے عذاب کرنا خدا کی رحمت کے خلاف ہے۔ یہ مطلب نہیں کہ جب عذاب آئے تو اس سے متصل ایک رسول ضرور آئے۔ اصل مقصد بعثت سے چونکہ حجت قائم کرنا ہے۔ پس جب ایک رسول کی دعوت دنیا میں موجود ہو جس کی بناء پر حجت قائم ہو چکی ہے۔ تو پہلے رسول کی دعوت ہی عذاب کے لئے کافی ہے۔ ہم مانتے ہیں کہ محمد رسول ﷺ کی بعثت تمام عالم کے لئے اور قیامت تک کے عام لوگوں کے لئے ہے۔ پس آپ ﷺ کی آمد سے تمام ان لوگوں پر حجت قائم ہو گئی جہاں جہاں آپ کی دعوت پہنچی۔ عموم دعوت کی ادلہ شروع میں بیان کی جا چکی ہے۔ جب آپ ﷺ کے آنے سے تمام عالم پر حجت قائم ہو چکی ہے۔ تو عذاب آنے کے لئے کسی نئے نبی کے آنے کی ضرورت باقی نہ رہی۔
سوال....... حدیث مسلم ”فانى اخر الانبياء وان مسجدى اخر المساجد ﴿میں آخری نبی ہوں اور میری مسجد آخری مسجد ہے۔﴾
“ (مسلم ج ١ ص ٤٤٦)
سے معلوم ہوتا ہے کہ اس جگہ خاص قسم کے انبیاء مراد ہیں۔ اگر ہر قسم کے انبیاء مراد لئے جائیں گے۔ تو مسجد سے بھی ہر قسم کی مساجد مراد لینی پڑیں گی۔ حالانکہ حضرت ﷺ کی مسجد سب مساجد سے آخری مسجد نہیں۔ بلکہ انبیاء کی مساجد سے آخری مسجد ہے۔
جواب....... اخر المساجد سے مراد یہاں آخر مساجد الانبیاء ہے۔ جیسے اس کی تصریح دوسری روایت میں ہے ”انا خاتم الانبیاء و مسجدى خاتم مساجد الانبیاء ﴿میں نبیوں کا خاتم ہوں اور میری مسجد نبیوں کی مسجدوں کے خاتم
“ (کنز العمال ج ١٦ ص ٢٧٠)
ہے۔﴾
مسلم کی روایت میں الانبیاء میں ال عوض ہے۔ مضاف الیہ کا یعنی اخر مساجد الانبیاء پس یہ حدیث جو مسلم میں ہے۔ اس تفسیر کے مطابق دو وجہ سے ختم نبوت پر دلالت کرتی ہے۔ ایک ایسا لفظ ”اخر الانبیاء“ ﴿میں آخری نبی ہوں﴾ اور دوسرا لفظ ”و مسجدى اخر المساجد“ بمعنی میری مسجد (انبیاء کی) مساجد سے آخری مسجد ہے۔ کیونکہ جب آپ ﷺ کے بعد نبوت جاری ہو تو بعد کے نبی بھی مسجدیں بنائیں گے۔ پھر آپ ﷺ کی مسجد آخری مسجد نہ ہوتی۔ جب آپ ﷺ نے فرمایا میری مسجد آخری ہے تو اس کا یہ مطلب ہوا کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں ہوگا۔
سوال....... آیت ذیل میں پچھلی وحی کا ذکر ہے ”وبالاخرة هم يوقنون ﴿(متقی لوگ) آخرت پر (بھی) یقین کرتے ہیں۔﴾
“ (بقرہ:٤)
٥١
جواب ...... یہ تفسیر بالرائے اور قرآن کی تحریف معنوی ہے۔ آخرت کا لفظ دار کی صفت واقعہ ہے۔ جیسے دوسری جگہ اس کی تصریح موجود ہے ” ان الدار الاخرة لهى الحيوان (عنکبوت : ٦٤) “﴿ پچھلا گھر ہی اصل زندگی ہے۔ ﴾
سوال ...... مائی عائشہ صدیقہؓ نے فرمایا ہے ” لا تقولوا لانبی بعدی بل قولوا خاتم النبیین “ ﴿ لانبی بعدی نہ کہو، خاتم النبیین کہو۔ ﴾ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ حدیث لانبی بعدی ٹھیک نہیں ہے۔
جواب ...... اس قول کا حوالہ کسی معتبر کتاب سے دینا چاہئے۔ کیونکہ غیر معتبر کتابوں میں بعض موضوع و منکر روایات بھی پائی جاتی ہیں اور یہ روایت منکر معلوم ہوتی ہے۔ کیونکہ مائی صاحبہؓ سے بھی یہ حدیث ” لانبی بعدی “ بھی مروی ہے۔ ملاحظہ ہو مسند احمد جب وہ خود اس حدیث کو بیان کر رہے ہوں تو ان کی طرف نفی کی نسبت کرنا کیونکر درست ہے؟
دوسرا جواب مائی صاحبہؓ کا یہ مطلب نہیں کہ ” لانبی بعدی “ بیان نہ کرو۔ بلکہ وہ نبوت کے مفہوم کو واضح کرنا چاہتی ہیں کہ ختم نبوت کا یہ مطلب نہیں کہ سابق نبی بھی نہ آئے۔ بلکہ یہ مطلب ہے کہ کسی نبی کو نئی نبوت نہیں ملے گی۔ جملہ لا نبی بعدی سے بعض وقت ایک شخص غلط فہمی میں مبتلا ہو جاتا ہے وہ یہ سمجھنے لگتا ہے کہ یہ حدیث نئے اور پرانے نبی دونوں کی آمد کو روکتی ہے۔ اس غلط فہمی کو دور کرنے کے لئے یہ تعبیر اختیار کی کہ لا نبی بعدی نہ کہو۔ یعنی یہ نہ سمجھو کہ ہر نبی کی آمد منع ہے۔ بلکہ یہ سمجھو کہ نیا نبی نہیں آ سکتا اور پرانا آسکتا ہے۔ اس لئے خاتم النبیین کہو۔
کیونکہ یہ لفظ صرف نئے نبی کی آمد کے منافی ہے اور سابق نبی کی آمد کو نہیں روکتا۔ یہ طریق خطاب (کہ عبارت سے مراد اس کا ظاہری معنی نہیں) ہو بلکہ قرینہ کی بناء پر اور معنی لیا جاتا ہے۔ جامع اور مانع ہے۔ اس جگہ عائشہؓ سے اس حدیث ” لانبی بعدی “ کا مروی ہونا قوی قرینہ ہے کہ اس عبارت کا ظاہری معنی مراد نہیں۔ بلکہ ختم نبوت کی حقیقت واضح کرنے کے لئے یہ لفظ استعمال کئے ہیں۔ اس طرز بیان کی مثال:
- ١...... ” ليس المسكين الذى يطوف على الناس متفق عليه “ ﴿ در بدر
پھرنے والا مسکین نہیں ہے۔ ﴾
اس حدیث میں آنحضرت ﷺ نے در بدر پھرنے والے ایک لقمہ دولقمہ وصول کرنے والے سے جو مسکنت کی نفی کی ہے۔ اس کا ظاہری معنی مراد نہیں کہ وہ مسکین نہیں۔ بلکہ لوگوں کو اس بات کی طرف متوجہ کرنا مقصود ہے کہ جو نہیں مانگتا اس کا خیال کرو۔
٥٢
٦٣
- ٢...... ” انما الكرم قلب المؤمن (بخاری) “ ﴿کرم
میں ہے۔ ﴾
اس حدیث کا یہ مطلب نہیں کہ کرم کا اطلاق مومن ہے کہ انگور کو کرم نہ کہو۔ یعنی یہ نہ خیال کرو کہ شراب سے مخمور مومن کا دل ہے۔
- ٣...... ” انما المفلس الذي يفلس يوم القيامة
قیامت کے روز مفلس ہوگا۔ ﴾
اس کا یہ مطلب نہیں کہ جس کے پاس درہم ودینار مقصد ہے کہ آخرت کا خیال رکھو۔ مگر یاد رکھنا عبارت کا ظاہری میں قرینے کی ضرورت ہوتی ہے۔ بدوں قرینے کے ظاہری معنی
سوال ...... ختم نبوت عقیدہ کفار کا ہے، جیسے قرآن الله من بعده رسولا (مومن:٣٤) “ ﴿ (آل فرعون کرتے ہوئے کہا ہے ...... تم نے کہا اللہ یوسف کے بعد کسی کو
جواب ...... اس آیت کا یہ مطلب نہیں کہ وہ یوسف نبوت کو بند جانتے تھے۔ بلکہ یہ مطلب ہے کہ یوسف کی زندگی رہے اور اس کی وفات کے بعد کسی اور نبی کی نبوت کے بھی قائل کے قائل ہی نہ تھے۔
” فمازلتم في شك وانما الغرض بيان الى تكذيب يوسف ولهذا ختم الاية بقوله مرتاب (مومن: ٣٤) “ ﴿ تم شک کرتے رہے ( یوسف موسیٰ کو جھٹلا رہے ہو، اسی طرح یوسف کو جھٹلاتے رہے اس شخص کو گمراہ کرتا جو مسرف شکی ہو۔ ﴾
- ٢...... ختم نبوت کتب کے ختم کی طرح ہے۔ جیسے کتاب
کا عقیدہ تھا اور بعد میں کتابوں کے مسلسل آمد عقیدہ ہے آنحضرت ﷺ سے پہلے کفریہ ہے اور بعد میں تسلسل نبوت
٥٣
- ٢...... ”انما الكرم قلب المؤمن (بخاری)“ ﴾ کرم (سخاوت) صرف مومن کے دل
میں ہے۔﴾
اس حدیث کا یہ مطلب نہیں کہ کرم کا اطلاق مومن کے دل پر ہونا چاہئے۔ بلکہ یہ مقصد ہے کہ انگور کو کرم نہ کہو۔ یعنی یہ نہ خیال کرو کہ شراب سے سخاوت پیدا ہوتی ہے۔ بلکہ سخاوت کا منبع مومن کا دل ہے۔
- ٣...... ”انما المفلس الذی یفلس یوم القیامة (بخاری)“ ﴾ مفلس وہی ہے جو
قیامت کے روز مفلس ہوگا۔﴾
اس کا یہ مطلب نہیں کہ جس کے پاس درہم و دینار ہو وہ مفلس نہیں۔ بلکہ اس کلام کا مقصد ہے کہ آخرت کا خیال رکھو۔ مگر یاد رکھنا عبارت کا ظاہری مفہوم چھوڑ کر دوسرا مفہوم مراد لینے میں قرینے کی ضرورت ہوتی ہے۔ بدوں قرینے کے ظاہری معنی چھوڑنا زندقہ اور الحاد ہے۔
سوال ...... ختم نبوت عقیدہ کفار کا ہے، جیسے قرآن مجید میں ہے۔ ”قلتم لن یبعث الله من بعده رسولا (مومن:٣٤)“ ﴾ (آل فرعون سے جو مومن تھا، اس قوم کو خطاب کرتے ہوئے کہا ہے ...... تم نے کہا اللہ یوسف کے بعد کسی کو رسول نہیں بنائے گا۔﴾
جواب ...... اس آیت کا یہ مطلب نہیں کہ وہ یوسف کو تو نبی مانتے تھے۔ مگر اس کے بعد نبوت کو بند جانتے تھے۔ بلکہ یہ مطلب ہے کہ یوسف کی زندگی میں اس کی نبوت میں شک کرتے رہے اور اس کی وفات کے بعد کسی اور نبی کی نبوت کے بھی قائل نہ رہے۔ یعنی وہ سرے سے نبوت کے قائل ہی نہ تھے۔
”فمازلتم فى شك وانما الغرض بیان ان تکذیب هم لموسیٰ مضمون الی تکذیب یوسف ولهذا ختم الایة بقوله کذالك یضل الله من هو مسرف مرتاب (مومن:٣٤)“ ﴾ تم شک کرتے رہے (یوسف کی نبوت میں) غرض یہ ہے کہ جیسے تم موسیٰ کو جھٹلارہے ہو، اسی طرح یوسف کو جھٹلاتے رہے اسی واسطے آخر میں فرمایا اس طرح اللہ اس شخص کو گمراہ کرتا جو مسرف شکی ہو۔﴾
- ٤...... ختم نبوت کتب کے ختم کی طرح ہے۔ جیسے ختم کتب قرآن مجید کے نزول سے پہلے کفر
کا عقیدہ تھا اور بعد میں کتابوں کے مسلسل آمد عقیدہ کفر ہے۔ اسی طرح ختم نبوت کا عقیدہ آنحضرت ﷺ سے پہلے کفر یہ ہے اور بعد میں تسلسل نبوت کا عقیدہ کفر ہے۔ کیونکہ ہر چیز پر اس
٥٣
کے وقت میں ایمان لانا فرض ہوتا ہے۔ مثلاً چربی اور بعض طیبات جو یہود پر حرام تھیں۔ ان کو جائز سمجھنا ان کے لئے کفر، جب حلال ہوگئیں، اب ان کو حرام سمجھنا کفر ہے۔
سوال...... جب انبیاء علیہم کی آمد جاری رہی تو اب سنت اللہ میں کیوں تبدیلی ہوئی۔ حالانکہ قرآن مجید میں ہے ”وَلَن تَجِدَ لِسُنَّةِ اللَّهِ تَبْدِيلا (احزاب:٦٢)“ ”اللہ کی سنت بدلتی نہ دیکھے گا۔“
جواب...... اس آیت سے یہ معلوم نہیں ہوتا کہ انبیاء کی آمد باقی ہے یا ان کی اب آمد سنت اللہ میں داخل ہے۔ سنت اللہ کی تعین یا تو نص سے ہو سکتی ہے۔ یا استقراء تام سے قرآن و سنت میں تو کہیں اب نبوت کے تسلسل کا پتہ نہیں چلتا۔ بلکہ اس کے خلاف دلائل موجود ہیں۔ جن سے پتہ چلتا ہے کہ انبیاء علیہم میں سنت اللہ یہ ہے کہ جب دنیا سن رشد کو پہنچ جائے اور آپس میں ان کے تعلقات وابستہ ہو جائیں۔ قریب ہے کہ وہ ایک خاندان کی طرح سمجھے جاویں۔ پس اس وقت لازمی طور پر ایک ہی رسول کے ذریعہ ایک ہی قانون شریعت بھیج کر قومی تفرقہ کو مٹا دیا جائے اور جب تک دنیا سن رشد کو نہیں پہنچتی اور آپس میں تعلقات وابستہ نہیں بندھے۔ بلکہ مختلف گروہوں اور آبادیوں میں بٹی ہوئی ہے۔ اس وقت سنت اللہ یہ ہے کہ نبوت ورسالت کا تسلسل باقی رہے۔ جیسے نقل سے تسلسل ثابت ہے۔ اسی طرح عقلی دلیل بھی نبوت کے بارے میں تسلسل ثابت نہیں۔ لہٰذا تسلسل نبوت کو سنت اللہ کہنا نقل اور عقل کے خلاف ہے۔
سوال...... ابراہیم علیہ السلام کو اللہ نے امام بنایا تو آپ نے فرمایا میری ذریت سے بھی امام بنیں۔ اللہ نے فرمایا میرا عہد ظالموں کو نہیں پہنچ سکتا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ابراہیم علیہ السلام کی نسل میں نبوت جاری ہے۔ ورنہ سب کے سب ظالم ٹھہریں گے۔
جواب...... یہاں امامت کا ذکر ہے نہ نبوت کا اور امامت نسل ابراہیم میں جاری ہے۔ اگر نبوت مراد ہو تو مطلب یہ ہوا کہ جو نبی نہ ہو وہ ظالم ہے۔ امامت کے متعلق تو قرآن مجید نے دعا ذکر کی ہے۔ فرمایا بندے رحمٰن کے یہ دعا کرتے ہیں ”وَاجْعَلْنَا لِلْمُتَّقِينَ اِمَامًا (فرقان:٧٤)“ ”ہم کو متقیوں کے لئے امام بنا۔“
سوال...... ”وَجَعَلْنَا فِي ذُرِّيَّتِهِ النُّبُوَّةَ وَالْكِتَابَ (عنکبوت:٢٧)“ ”ہم نے ابراہیم کی اولاد میں نبوت اور کتاب رکھی۔“ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ نبوت جاری ہے۔
جواب...... (١) اگر اس آیت سے معلوم ہوتا کہ نبوت جاری ہے۔ تو یہ بھی معلوم ہوتا ہوگا کہ کتابوں کی آمد بھی جاری ہے۔
٥٤
٢...... اس آیت کا یہ مطلب ہے کہ نبوت و کتاب صرف کا یہ مطلب نہیں کہ کتاب و نبوت ابراہیم کی نسل میں مسلسل رہے
مرزا غلام احمد اور ختم نبوت
شروع میں مرزا قادیانی بھی جمہور امت کی طرح انہیں مانتے تھے کہ آپ کے بعد کسی کو نبوت نہیں مل سکتی۔
ص٤٤) میں آیت ”ما كان محمد ابا احد من رج النبیین“ کا ترجمہ اس طرح لکھا ہے۔ ”یعنی محمدﷺ تم میں رسول ہے اور ختم کرنے والا نبیوں کا۔“
اور حدیث ”لا نبی بعدی“ کے متعلق (ایام اس طرح لکھا ہے۔ ”حدیث ”لا نبی بعدی“ میں بھی ”لا اور گستاخی ہے کہ خیالات رکیکہ کی پیروی کر کے نصوص صر اس کے جو وحی منقطع ہو چکی ہے۔ پھر سلسلہ وحی کا جاری کرد
اور ایک جگہ لکھتے ہیں: ”ختم المرسلین کے بعد کس سمجھتا ہوں۔“
(اشتہار ٢ما
اور کہتے ہیں ”مجھے کب جائز ہے کہ میں نبوت جاؤں۔“
مگر نومبر ١٩٠١ء میں فرماتے ہیں: ”یہ کس قدر جائے کہ بعد آنحضرتﷺ کے وحی الہی کا دروازہ ہمیشہ اس کی کوئی امید نہیں۔“
(ضمیمہ براہین
مرزا قادیانی کے متعلق لاہوری جماعت کا عقی
”اگر انبیاء کی ایک الگ جماعت ہے۔ جو دنی ہمارا احمد (علیہ الصلوۃ والسلام) اسی جماعت کا ایک ممتاز فر کرشن نبی تھے اور اگر حضرت موسیٰ اور حضرت مسیح، خدا کی احمد ایک نبی ہے۔ کیونکہ جن علامتوں کے ذریعے زرتش معلوم ہوئے وہ تمام علامتیں مرزا غلام احمد قادیانی فداہ وابی
مولوی محمد علی صاحب امیر جماعت لاہور مندرجہ ریویو آف ١٩٠
٥٥
٢ ...... اس آیت کا یہ مطلب ہے کہ نبوت و کتاب صرف ابراہیم کی نسل میں رکھی گئی ہے۔ اس کا یہ مطلب نہیں کہ کتاب و نبوت ابراہیم کی نسل میں مسلسل رہے گی۔
مرزا غلام احمد اور ختم نبوت
شروع میں مرزا قادیانی بھی جمہور امت کی طرح آنحضرت ﷺ کو اسی معنی سے خاتم النبیین مانتے تھے کہ آپ کے بعد کسی کو نبوت نہیں مل سکتی۔ چنانچہ (ازالہ اوہام ص ٦١٤، خزائن ج ٣ ص ٤٣١) میں آیت ”ماکان محمد ابا احد من رجالکم ولکن رسول اللہ خاتم النبیین“ کا ترجمہ اس طرح لکھا ہے۔ ”یعنی محمد ﷺ تم میں سے کسی مرد کا باپ نہیں۔ مگر وہ اللہ کا رسول ہے اور ختم کرنے والا نبیوں کا۔“
اور حدیث ”لا نبی بعدی“ کے متعلق (ایام الصلح ص ١٤٦، خزائن ج ١٤ ص ٣٩٢) میں اس طرح لکھا ہے۔ ”حدیث ”لا نبی بعدی“ میں بھی ”لا“ نفی عام ہے۔ پس یہ کس قدر دلیری اور گستاخی ہے کہ خیالات رکیکہ کی پیروی کر کے نصوص صریحہ قرآن کو عمداً چھوڑ دیا جائے اور بعد اس کے جو وحی منقطع ہو چکی ہے۔ پھر سلسلہ وحی کا جاری کر دیا جائے۔“
اور ایک جگہ لکھتے ہیں: ”ختم المرسلین کے بعد کسی دوسرے مدعی نبوت کو کاذب اور کافر سمجھتا ہوں۔“
(اشتہار ٢ اکتوبر ١٨٩١ء، مجموعہ اشتہارات ج ١ ص ٢٣٠)
اور کہتے ہیں ”مجھے کب جائز ہے کہ میں نبوت کا دعویٰ کر کے اسلام سے خارج ہو جاؤں۔“
(حمامة البشریٰ ص ٧٩، خزائن ج ٧ ص ٢٩٧)
مگر نومبر ١٩٠١ء میں فرماتے ہیں: ”یہ کس قدر لغو اور باطل عقیدہ ہے کہ ایسا خیال کیا جائے کہ بعد آنحضرت ﷺ کے وحی الٰہی کا دروازہ ہمیشہ کے لئے بند ہو گیا اور آئندہ قیامت تک اس کی کوئی امید نہیں۔“
(ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم ص ١٨٣، خزائن ج ٢١ ص ٣٥٤)
مرزا قادیانی کے متعلق لاہوری جماعت کا عقیدہ جن کے امیر محمد علی تھے
”اگر انبیاء کی ایک الگ جماعت ہے۔ جو دنیا کے دوسرے لوگوں سے ممتاز ہے تو یقیناً ہمارا احمد (علیہ الصلوٰۃ والسلام) اسی جماعت کا ایک ممتاز فرد ہے اگر زرتشت ایک نبی ..... اگر بدھ اور کرشن نبی تھے اور اگر حضرت موسیٰ اور حضرت مسیح، خدا کی طرف سے نبی ہو کر دنیا میں آئے تو یقیناً احمد ایک نبی ہے۔ کیونکہ جن علامتوں کے ذریعے زرتشت اور دیگر انبیاء علیہم السلام کا نبی ہونا ہمیں معلوم ہوا وہ تمام علامتیں مرزا غلام احمد قادیانی فداہ ابی وامی علیہ السلام میں موجود ہیں۔“ (مضمون مولوی محمد علی صاحب امیر جماعت لاہور مندرجہ ریویو آف ١٩١٠ء، ص ٤٧ بحوالہ از قادیانی نبی ص ٧٨ مطبع چہارم)
٥٥
- ٢...... ”ہم خدا کو شاہد کر کے اعلان کرتے ہیں کہ ہمارا ایمان ہے کہ حضرت مسیح موعود مہدی
معہود علیہ الصلوٰۃ والسلام اللہ تعالیٰ کے سچے رسول ہیں اور اس زمانہ کی ہدایت کے لئے نازل ہوئے۔ آج آپ کی متابعت میں ہی دنیا کی نجات ہے۔“
(لاہوری جماعت کا اخبار پیغام صلح ج اول نمبر ٣٥، مورخہ ٧؍ستمبر ١٩١٣ء)
مرزا قادیانی کے متعلق قادیانی جماعت (جن کے امیر مرزا محمود احمد ہیں) کا عقیدہ
چنانچہ مولوی محمد علی لاہوری کے جواب میں لکھتے ہیں ”یہ تبدیلی عقیدہ مولوی محمد علی صاحب لاہوری تین امور کے متعلق بیان کرتے ہیں۔ اوّل! یہ کہ میں نے مسیح موعود کے متعلق خیال فرمایا ہے کہ آپ فی الواقع نبی ہیں۔ دوم! یہ کہ آپ ہی آیۃ اسمہ احمد کی پیش گوئی مذکورہ قرآن مجید کے مصداق ہیں۔ سوم! یہ کل مسلمان جو حضرت مسیح موعود کا نام بھی نہیں سنا وہ کافر اور دائرہ اسلام سے خارج ہیں۔ میں تسلیم کرتا ہوں کہ میرے یہ عقائد ہیں۔ لیکن اس بات کو تسلیم نہیں کرتا کہ ١٩١٤ء یا اس سے تین چار سال پہلے سے میں نے یہ پہلے میں نے یہ عقائد اختیار کئے۔“
(آئینہ صداقت ص ٣٥)
حکیم نور الدین، خلیفہ اول کا عقیدہ
آن غلام احمد است ومرزائے قادیان
گر کسے آرد شکے درشان اوکافر است
جائے او باشد جہنم بیشک و ریب وگمان
یہ رباعی حکیم نور الدین صاحب کی ہے۔ (اخبار الحکم بابت ١٧؍اگست ١٩٠٧ء) میں حکیم صاحب کی طرف سے چھپی تھی۔
لاہوری اور قادیانی جماعت کا اختلاف جو مرزا قادیانی کی نبوت میں معروف ہے۔ وہ خلافت کی رسہ کشی کا پیدا کردہ ہے۔ ورنہ مرزا قادیانی نے آخر میں کھلے طور پر نبوت کا دعویٰ کیا ہے اور خاتم النبیین کے معنی میں نئی توجیہ ہے۔
مرزا قادیانی کو نبی ماننے والے اگر چہ لفظ خاتم النبیین کو مانتے ہیں۔ مگر جمہور اسلام اور کتاب وسنت کی شہادت ہے جو معنی مشہور خاتم النبیین کے ہیں۔ اس کو تسلیم نہیں کرتے۔ یہ اسی طرح ہے جیسے کلمہء الحق والے نے لکھا ”لاالہ الا اللہ“ کا معنی جو مشہور ہے (کہ اللہ کے سوا کوئی
٥٦
معبود نہیں) غلط ہے۔ صحیح معنی یہ ہے کہ ہر معبود اللہ کا عین الہ الااللہ“ کا اقرار کیا ہے۔ مگر معنی ایسا کیا ہے جس ب لوگوں کا ہے یہ لوگ بظاہر لفظ کا اقرار کرتے ہیں۔ مگر ایک انکار کرتے ہیں۔
(لاہوری اور قادیانی گروہ حقیقت میں متفق جس حقیقت کا دعویٰ مرزا قادیانی نے کیا ہے۔ وہ وحی ا سے حاصل ہوتی ہے۔ لاہوری کہتے ہیں کہ کیونکہ وہ ولایت ہے اور قادیانی ایسی وحی کو جس میں عصمت ہو ا حاصل ہو۔ اس کو نبوت سے تعبیر کرتے ہیں۔ لاہوری شریعت نہیں۔ بلکہ امور تائیدی یعنی پیش گوئیاں ہیں۔ پ کہ نبی کے لئے نئے احکام لانا کوئی ضروری نہیں۔ پ لاہوری فریق مانتا ہے۔ وہی تعلق قادیانی مانتے ہیں۔ لا ہیں اور قادیانی نبوت سے۔
اگر یہ تعلق کو حقیقت میں نبوت نہیں تو اس کو ن نبوت ہے تو اس کو محدثیت کہنا ایک لفظی غلطی ہوگی۔ ح قادیانی نے جو اپنے دعویٰ کی بنیاد اسی وحی کو قرار دیا ہے۔ بات بھی کہی ہے ۔ مگر اصل بنیاد وہی ہے۔ اگر مسیحیت ک ہے تو اسی وجہ سے، اگر مسیح کی وفات کے قائل ہوئے ہ باللہ نبوت یا محدثیت کہا یا اپنے آپ کو امتی نبی کہا ہے تو ا
پس حقیقت میں کوئی اختلاف نہیں۔ صرف عقائد کی کتابوں میں یہ مسئلہ درج کیا ہے کہ الہام سے قدر ہے کہ قادیانیوں نے احادیث اور سلف کی تفاسی پارٹی نے ضعیف احادیث میں یعنی خبر واحد میں اپنے م لاہوری کہتے ہیں کہ محدث شریعت میں لانا وہ ایسے ہ سے غلطی کا امکان نہیں ہوتا۔ اس کی وحی میں جبرائیل
٥٧
معبود نہیں) غلط ہے۔ صحیح معنی یہ ہے کہ ہر معبود اللہ کا عین ہے۔ کلمۃ الحق والے نے بھی بظاہر ”لا الہ الا اللہ“ کا اقرار کیا ہے۔ مگر معنی ایسا کیا ہے جس سے مقصد فوت ہو جاتا ہے۔ یہی حال ان لوگوں کا ہے یہ لوگ بظاہر لفظ کا اقرار کرتے ہیں۔ مگر ایک نئی من گھڑت تاویل کر کے حقیقت سے انکار کرتے ہیں۔
(لاہوری اور قادیانی گروہ حقیقت میں متفق ہیں۔ ان میں صرف لفظی نزاع ہے)
جس حقیقت کا دعویٰ مرزا قادیانی نے کیا ہے۔ وہ وحی ایسی ہے۔ جو آنحضرت ﷺ کی متابعت سے حاصل ہوتی ہے۔ لاہوری کہتے ہیں کہ کیونکہ وہ وحی جبرائیل نہیں لایا۔ اس لئے یہ وحی ولایت ہے اور قادیانی ایسی وحی کو جس میں عصمت ہو اگرچہ آنحضرت ﷺ کی متابعت سے ہی حاصل ہو۔ اس کو نبوت سے تعبیر کرتے ہیں۔ لاہوری کہتے ہیں کہ مرزا قادیانی کی وحی میں شریعت نہیں۔ بلکہ امور تائیدی یعنی پیش گوئیاں ہیں۔ اس واسطے آپ محدث ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ نبی کے لئے نئے احکام لانا کوئی ضروری نہیں۔ پس جو تعلق مرزا قادیانی کا اللہ تعالیٰ سے لاہوری فریق مانتا ہے۔ وہی تعلق قادیانی مانتے ہیں۔ لاہوری اس تعلق کو محدثیت سے تعبیر کرتے ہیں اور قادیانی نبوت سے۔
اگر یہ تعلق گو حقیقت میں نبوت نہیں تو اس کو نبوت کہنا ایک لفظی غلطی ہوگی۔ اگر یہ تعلق نبوت ہے تو اس کو محدثیت کہنا ایک لفظی غلطی ہوگی۔ حقیقت میں کوئی اختلاف نہیں ہوگا اور مرزا قادیانی نے جو اپنے دعویٰ کی بنیاد اسی وحی کو قرار دیا ہے۔ اگرچہ اس کو قرآن وسنت پر پیش کرنے کی بات بھی کہی ہے یہ مگر اصل بنیاد وہی ہے۔ اگر مسیحیت کا دعویٰ ہے تو اسی بنا پر اگر مہدی بننے کا ذکر ہے تو اسی وجہ سے، اگر مسیح کی وفات کے قائل ہوئے ہیں تو وحی پر اعتماد کرتے ہیں اور اپنے تعلق باللہ نبوت یا محدثیت کہا یا اپنے آپ کو امتی نبی کہا ہے تو اسی وحی کی بناء پر۔
پس حقیقت میں کوئی اختلاف نہیں۔ صرف لفظی اختلاف ہے۔ حالانکہ اہل سنت کے عقائد کی کتابوں میں یہ مسئلہ درج کیا ہے کہ الہام سے کوئی مسئلہ ثابت نہیں ہوتا۔ فرق صرف اس قدر ہے کہ قادیانیوں نے احادیث اور سلف کی تفاسیر کو مداری کی پٹاری بنا رکھا ہے اور لاہوری پارٹی نے ضعیف احادیث میں یعنی خبر واحد میں اپنے مجدد کے اقوال کو فیصلہ کن تسلیم کیا ہے۔ محمد علی لاہوری کہتے ہیں کہ محدث شریعت نہیں لاتا مگر جو وحی وہ پیش کرتا ہے، قطعی ہوتی ہے۔ اس سے غلطی کا امکان نہیں ہوتا۔ اس کی وحی میں جبرائیل کا واسطہ نہیں ہوتا۔ کوئی فرشتہ ہوتا ہے۔ بہر
٥٧
کیف جبرائیل کا واسطہ ہو یا نہ ہو اس میں کوئی فرق نہیں پڑتا۔ جبکہ نوعیت دونوں کی حجت کے اعتبار سے ایک ہی ہو۔
اب ان کی تاویل سنئے
”کیونکہ اللہ جل شانہ نے آنحضرتﷺ کو صاحب خاتم بنایا ہے۔ یعنی آپﷺ کو افاضہ کمال کے لئے مہر دی جو کسی اور نبی کو ہرگز نہیں دی گئی۔ اسی وجہ سے آپﷺ کا نام خاتم النبیین ٹھہرا۔ یعنی آپ کی پیروی کمالات نبوت بخشتی ہے اور آپﷺ کی توجہ روحانی نبی تراش ہے اور یہ قوت قدسیہ کسی اور نبی کو نہیں ۔“
(حقیقت الوحی ص ٩٦، خزائن ج ٢٢ ص ١٠٠)
”اور بغیر شریعت کے نبی ہو نہیں سکتا۔ مگر وہی جو پہلے سے امتی ہو پس اسی بناء پر میں امتی بھی ہوں اور نبی بھی۔“
(تجلیات الہیہ ص ٢٥، خزائن ج ٢٠ ص ٤١٢)
مرزا قادیانی نے جو لکھا ہے کہ: ”ہم خادم دین اسلام ہیں اور یہی ہمارے آنے کی علت غائی ہے اور نبی اور رسول کے لفظ استعارہ اور مجاز کے رنگ میں ہیں۔“ (مرزا قادیانی کا مکتوب مرقومہ ٢٠؍ اگست ١٨٩٩ء) یہ سب کچھ پہلے کی بات ہے۔ پیچھے تو انہوں نے صاف لکھا کہ : ”ہمارا دعویٰ ہے کہ ہم رسول اور نبی ہیں۔“ دیکھو (بدر ٥؍ مارچ ١٩٠٨ء ، ملفوظات ج ١٠ ص ١٢٧) ”میں خدا کے حکم کے موافق ہوں اگر میں اس کا انکار کروں تو میرا گناہ ہے اور جس حالت میں خدا میرا نام نبی رکھتا ہے۔ تو میں کیونکر اس سے انکار کر سکتا ہوں۔ میں اس پر قائم ہوں اس وقت جو دنیا سے گزر جاؤں۔“ دیکھو (خط حضرت مسیح موعود بہ طرف ایڈیٹر اخبار عام لاہور ) یہ خط حضرت مسیح موعود نے اپنی وفات سے تین دن پہلے یعنی ٢٣؍ مئی ١٩٠٨ء کو لکھا۔
(کلمۃ الفصل ص ١١٠، مصنفہ مرزا بشیر احمد قادیانی)
باوجود اس کے آنحضرتﷺ خاتم النبیین اس معنی سے ہیں کہ آپ کی معرفت نبی بنتے ہیں۔ مگر صرف ایک ہی بنا۔
”آنحضرتﷺ کے بعد صرف ایک ہی کا ہونا لازم ہے اور بہت سارے انبیاء سے خدا تعالیٰ کی بہت سی مصلحتوں اور حکمتوں میں رخنہ واقع کرتا ہے۔“
(تشحیذ الاذہان قادیان نمبر ٨ ج ١٢ ص ١١، بابت ماہ اگست ١٩١٧ء)
مرزا قادیانی نے صاحب شریعت ہونے کا دعویٰ کیا
”یہ بھی تو سمجھو کہ شریعت کیا چیز ہے۔ جس نے اپنی وحی کے ذریعہ سے چند امر و نہی بیان کئے اور اپنی امت کے لئے ایک قانون مقرر کیا ۔ وہی صاحب شریعت ہو گیا۔ میری وحی میں
٥٨
امر بھی ہے اور نہی بھی۔ مثلاً الہام ہوا ”قل للمؤمنین یغضوا فروجہم ذٰلك ازکٰی لھم“ یہ براہین احمدیہ میں درج ہے اور ا اس پر تئیس برس کی مدت بھی گزر گئی ہے اور ایسا ہی اب تک میر نہی بھی اور اگر کہو کہ شریعت سے وہ شریعت مراد ہے۔ جس میں ا اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ”ان ھٰذا لفی الصحف الاولٰی صحـ قرآنی تعلیم تورات میں بھی ہے۔“
(اربعی
اسی واسطے اپنے منکر پر فتویٰ کفر لگایا اور اسلام سے خارج کیا ہے کہ ہر ایک وہ شخص جس کو میری دعوت پہنچی ہے اور اس نہیں ہے۔“
(ارشاد مرزا قادیانی مندرجہ رسالہ الذکر الحکیم نمبر ٤ ص ٢٤ مرق
الفضل مورخہ ١٥؍ جنوری ١٩٣٥ء)
”کل جو مسلمان حضرت مسیح موعود کی بیعت میں شا حضرت مسیح موعود کا نام بھی نہیں سنا ، وہ کافر دائرہ اسلام سے خار ”یہاں ہمارا فرض ہے کہ غیر احمدیوں کو مسلمان نہ سمجھیں ۔ کیونکہ ہمارے نزدیک وہ خدا تعالیٰ کے ایک نبی کے منکر
غیر احمدی سے نکاح
”احمدی لڑکیوں کے نکاح غیر احمدیوں سے کرنا ناجائز ہے۔“
(ناظر امور عامہ قادیان، اخبار الفضل قاد
مرزا قادیانی نے نبوت کا دعویٰ کیا۔ جو ان کو نبی نہ خارج قرار دیا۔ ان کے ہاں نہ ان کا جنازہ درست ہے نہ ان کو
دوسری طرف مرزا کو نہ ماننے والوں کا عقیدہ
اور ہم ثابت کر چکے ہیں کہ از روئے قرآن وحدیث جو دعویٰ غلام احمد قادیانی نے کیا ہے۔ باطل ہے۔ اس سے ایک الگ ا اس کی کسی صورت میں گنجائش نہیں۔ لہٰذا ہم کہتے ہیں کہ آنحضر تﷺ کا منکر کافر ہے اور اس کا ماننے والا بھی کافر اور دائرہ اسلام سے خارج ہے نہیں مانتے ہیں اور دوسرے مسلمان جو اس قسم کے دعویٰ کی گنجائش نکالتے ہیں (ہمارے نزدیک الگ الگ امت ہیں) جو اتفاقی ہے۔ جس پر مسل
٥٩
امر بھی ہے اور نہی بھی ۔ مثلا الہام ہوا ”قل للمؤمنین یغضوا من ابصارهم ویحفظوا فروجهم ذلك ازکى لهم “ یہ براہین احمدیہ میں درج ہے اور اس میں امر بھی ہے اور نہی بھی اور اس پر بتیس برس کی مدت بھی گزر گئی ہے اور ایسا ہی اب تک میری وحی میں امر بھی ہوتے ہیں اور نہی بھی اور اگر کہو کہ شریعت سے وہ شریعت مراد ہے۔ جس میں نئے احکام ہوں تو یہ باطل ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ” ان هٰذا لفي الصحف الاولى صحف ابراهیم و موسیٰ“ یعنی قرآنی تعلیم تورات میں بھی ہے۔“
(اربعین نمبر ٤ ص ٧، خزائن ج ١٧ ص ٤٣٦)
اسی واسطے اپنے منکر پر فتویٰ کفر کا لگایا اور اسلام سے خارج کیا ۔ ”خدا نے میرے پر ظاہر کیا ہے کہ ہر ایک وہ شخص جس کو میری دعوت پہنچی ہے اور اس نے مجھے قبول نہیں کیا۔ وہ مسلمان نہیں ہے۔“ (ارشاد مرزا قادیانی مندرجہ رسالہ الذکر الحکیم نمبر ٤ ص ٢٤ مرتبہ ڈاکٹر عبدالحکیم صاحب منقول از اخبار الفضل مورخہ ١٥؍ جنوری ١٩٣٥ء)
”کل جو مسلمان حضرت مسیح موعود کی بیعت میں شامل نہیں ہوئے۔ خواہ انہوں نے حضرت مسیح موعود کا نام بھی نہیں سنا، وہ کافر دائرہ اسلام سے خارج ہیں ۔“
(آئینہ صداقت ص ٣٥)
”یہاں ہمارا فرض ہے کہ غیر احمدیوں کو مسلمان نہ سمجھیں اور ان کے پیچھے نماز نہ پڑھیں ۔ کیونکہ ہمارے نزدیک وہ خدا تعالیٰ کے ایک نبی کے منکر ہیں ۔“
(انوار خلافت ص ٩٠)
غیر احمدی سے نکاح
”احمدی لڑکیوں کے نکاح غیر احمدیوں سے کرنے ناجائز ہیں ۔ آئندہ احتیاط کی جائے ۔“
(ناظر امور عامہ قادیان، اخبار الفضل قادیان ج ٢ نمبر ٦٢ مورخہ ١٨ فروری ١٩١٣ء)
مرزا قادیانی نے نبوت کا دعویٰ کیا۔ جو ان کو نبی نہ مانے ۔ اس کو کافر ، دائرہ اسلام سے خارج قرار دیا۔ ان کے ہاں نہ ان کا جنازہ درست ہے نہ ان کو احمدی لڑکی سے نکاح جائز ہے۔
دوسری طرف مرزا کو نہ ماننے والوں کا عقیدہ
اور ہم ثابت کر چکے ہیں کہ ازروئے قرآن وحدیث اور اجماع امت اس قسم کا دعویٰ جو غلام احمد قادیانی نے کیا ہے۔ باطل ہے۔ اس سے ایک الگ امت کی بنیاد پڑتی ہے۔ اسلام میں اس کی کسی صورت میں گنجائش نہیں ۔ لہٰذا ہم کہتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ کے بعد نبوت کا دعویٰ کفر ہے اور اس کا ماننے والا بھی کافر اور دائرہ اسلام سے خارج ہے۔ یہ مسئلہ (کہ مرزائی جو مرزا کو نبی مانتے ہیں اور دوسرے مسلمان جو اس قسم کے دعویٰ کی گنجائش اسلام میں نہیں مانتے ۔ ہر دو فریق کے نزدیک الگ الگ امت ہیں ) امر اتفاقی ہے۔ جس پر مسلمان اور مرزائی دونوں متفق ہیں۔
٥٩
مرزا قادیانی کی ایک عبارت جو (ضمیمہ حقیقت الوحی ص ٢٥، خزائن ج ٢٢ ص ٦٨٩) میں ہے "وسميت نبيا من الله على طريق المجاز لا على وجه الحقيقت" یعنی "اور اللہ کی طرف سے میرا نام نبی رکھا گیا۔ مجاز کے طور پر نہ حقیقت کے طور پر۔" اس عبارت سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ مرزا قادیانی نے آخر عمر میں بھی نبی کا لفظ اپنے لئے بطور مجاز کے استعمال کیا ہے نہ حقیقت کے طور پر۔ قادیانی گروہ کی طرف سے جو یہ جواب دیا گیا ہے (کہ نبوت مجازی اور حقیقی دونوں نبوت کی قسمیں ہیں) ٹھیک نہیں۔ کیونکہ اقسام میں مقسم ایک معنی کے اعتبار سے مشترک ہونا چاہئے۔ اگر یہاں مقسم (نبوت) کا ایسا معنی لیا جاوے جو حقیقی معنی اور مجازی معنی (محدثیت) کو بھی شامل ہو۔ تو اس صورت میں نبوت کا معنی لغوی ہوگا نہ اصطلاحی۔ اگر لفظی اشتراک کی بناء پر تقسیم ہو تو حقیقت کی حقیقت اور ہوگی اور مجاز کی اور۔
دوسری طرف مرزا قادیانی اور ان کے حواریوں نے حقیقی نبوت کے لوازمات کو مرزا قادیانی کی نبوت پر چسپاں کرنے کی کوشش کی ہے۔ یعنی دوسرے مسلمان کافر ہیں۔ اہل کتاب کی طرح میں ان کو لڑکی کا رشتہ دینا منع ہے اور نماز جنازہ منع ہے وغیرہ وغیرہ۔ اس دورنگی چال کو کسی صحیح نقطہ نظر پر لانا مشکل، بلکہ محال ہے۔ اس واسطے دونوں گروہ اپنی اپنی جگہ مجبور ہیں۔ قادیانی گروہ لفظ مجازی کی تاویل کرتا ہے یعنی غیر مستقل نبوت کو نبوت مجازی، مجاز کے طور پر کہا ہے۔ ورنہ اصل میں وہ حقیقی نبوت ہے۔ جیسے ان کی اور عبارت سے پتہ چلتا ہے جو گزر چکی ہے۔ اس کی مثال اسی طرح ہے جیسے قرآن کے اطلاق کے متعلق شرح عقائد میں لکھا ہے کہ قرآن اس لفظی وجود کے لئے بھی حقیقت کے لحاظ سے مستعمل ہے اور مشائخ نے جو یہ لکھا ہے کہ قرآن کا حقیقی مفہوم کلام نفسی ہے اور کلام لفظی پر اطلاق مجاز ہے۔ اس کا یہ مطلب ہے کہ اصل کلام نفسی ہے اور کلام نفسی پر اطلاق دال ہونے کی بل پر ہے۔ جو اصل میں مجازی ہے۔ مگر وضع کے اعتبار سے حقیقی ہے۔
پس قادیانی گروہ کا استدلال ان عبارات سے قوی ہو جاتا ہے جن میں نبوت کے لوازمات کا ذکر ہے۔ ان عبارات کے مقابلہ میں یہ ایک عبارت جو مرزا قادیانی کی آخری عمر میں ان سے سرزد ہوئی ہے۔ کچھ حقیقت نہیں رکھتی۔ لہذا اس کی تاویل کرنی چاہئے۔ حالانکہ لاہوری گروہ بھی ایک وقت تک قادیانیوں کے ساتھ اس اعتقاد میں متفق رہا اور خلافت کی رسہ کشی میں الگ ہوئے اور مرزا قادیانی سے جو دراصل مداری کے پٹارہ کی طرح ہر قسم کی گنجائش
٦٠
رکھتی ہیں۔ ایک عبارت (جو قابل تاویل ہے) کو د قدر خدمت نہیں۔ ہاں ایک بات ایسی ہے۔ اگر ا کچھ وقعت رکھتی ہے۔
وہ یہ وجہ ہے کہ مرزا قادیانی دوسرے مجد اڑے بھی رہتے تھے۔ جیسے ان کی پیش گوئی کی تفسیر و قادیانی نے جو مسلمانوں کی تکفیر یا ان سے رشتہ و ناطہ ہیں۔ یہ ان کی اجتہادی غلطیاں ہیں۔ ورنہ حقیقت م کوئی کافر نہیں ہوتا اور نماز سب مسلمانوں کی درست اس کے خلاف مرزا قادیانی نے جو کچھ پھینکنے کے قابل ہے۔ اصل دین قرآن وحدیث اولیاء اللہ کا ہے ان کو ماننا کوئی ضروری نہیں۔ نہ ان ایک مدت تک جو مرزا قادیانی کے ماننے کا ضرور ہ ہم ترک کر چکے ہیں۔
پس اس صورت میں ہم لاہوری پارٹی کے میدان میں انہی کا پلڑا بھاری ہوگا۔ اگر چہ حق اصحاب اس غلط فہمی میں مبتلا ہیں کہ مرزا قادیانی کے کہنے سے کافر ہو جاتا ہے۔ کیونکہ حدیث شریف میں کافر ہو جاتا ہے۔ پس جو مسلمان مرزا قادیانی کو کا کافر کہتے ہیں۔
اس غلط فہمی کی وجہ یہ ہے کہ اس حدی حدیث کا صحیح محمل محدثین نے بتایا ہے کہ کسی مسلما چسپاں ہوتا ہے۔ مگر دوسرے مسلمان مرزا قادیانی جن میں بعض دعاوی کو آپ لوگ بھی کفر خیال کرت حالت میں گالی گلوچ کی شکل میں کافر نہیں کہتے ۔ ہے۔ اگر کوئی شخص کسی مسلمان کو کسی تاویل کی بناء پر
رکھتی ہیں۔ ایک عبارت (جو قابل تاویل ہے) کو دستاویز بنا کر الگ ہوئے۔ یہ کوئی صحیح اور قابل قدر خدمت نہیں۔ ہاں ایک بات ایسی ہے۔ اگر اس کو لاہوری فریق تسلیم کرے تو ان کی بات کچھ وقعت رکھتی ہے۔
وہ یہ وجہ ہے کہ مرزا قادیانی دوسرے مجتہدین کی طرح غلطی بھی کرتے تھے اور خطاء پر اڑے بھی رہتے تھے۔ جیسے ان کی پیش گوئی کی تفسیر وتوضیح سے معلوم ہوتا ہے۔ پس اس بناء پر مرزا قادیانی نے جو مسلمانوں کی تکفیر یا ان سے رشتہ و ناطہ الگ کرنے یا نماز جنازہ نہ پڑھنے کی باتیں کی ہیں۔ یہ ان کی اجتہادی غلطیاں ہیں۔ ورنہ حقیقت میں مرزا قادیانی کے انکار، بلکہ ان کی تکفیر سے کوئی کافر نہیں ہوتا اور نماز سب مسلمانوں کی درست ہے اور رشتے ناطے سب جائز ہیں۔
اس کے خلاف مرزا قادیانی نے جو کچھ لکھا ہے۔ سب غلط اور ردی کی ٹوکری میں پھینکنے کے قابل ہے۔ اصل دین قرآن وحدیث ہے اور مرزا قادیانی کا درجہ دوسرے ملہمین یا اولیاء اللہ کا ہے ان کو ماننا کوئی ضروری نہیں۔ نہ ان کے ماننے پر نجات منحصر ہے اور ہم نے بھی ایک مدت تک جو مرزا قادیانی کے ماننے کو ضروری قرار دیا، یہ ہماری اجتہادی غلطی تھی۔ جس کو ہم ترک کر چکے ہیں۔
پس اس صورت میں ہم لاہوری پارٹی کے دعویٰ کو حق بجانب خیال کریں گے اور گفتگو کے میدان میں انہی کا پلڑا بھاری ہوگا۔ اگر چہ حقیقت میں دونوں ایک ہی ہیں۔ بعض لاہوری اصحاب اس غلط فہمی میں مبتلا ہیں کہ مرزا قادیانی کے انکار سے انسان کافر نہیں ہوتا۔ مگر ان کو کافر کہنے سے کافر ہو جاتا ہے۔ کیونکہ حدیث شریف میں ہے کہ کسی مسلمان کو اگر کوئی کافر کہے تو وہ خود کافر ہو جاتا ہے۔ پس جو مسلمان مرزا قادیانی کو کافر کہتے ہیں۔ اس حدیث کے رو سے ہم ان کو کافر کہتے ہیں۔
اس غلط فہمی کی وجہ یہ ہے کہ اس حدیث کا نہ صحیح محمل سمجھا۔ نہ کفر کا مفہوم معلوم کیا۔ حدیث کا صحیح محمل محدثین نے بتایا ہے کہ کسی مسلمان کو مسلمان سمجھتا ہوا کافر کہے تو اس پر یہ فتویٰ چسپاں ہوتا ہے۔ مگر دوسرے مسلمان مرزا قادیانی کو ان کے ان دعاویٰ کی بناء پر کافر کہتے ہیں۔ جن میں بعض دعاویٰ کو آپ لوگ بھی کفر خیال کرتے ہیں۔ مرزا قادیانی کو مسلمان سمجھ کر غصہ کی حالت میں گالی گلوچ کی شکل میں کافر نہیں کہتے۔ امام بخاری نے اپنی کتاب میں یہ مسئلہ ذکر کیا ہے۔ اگر کوئی شخص کسی مسلمان کو کسی تاویل کی بناء پر کافر کہے تو کافر نہیں ہوتا۔ آگے اس کی سند میں
٦١
حدیث لائے ہیں کہ حضرت عمرؓ نے حاطب صحابی بدری کو منافق واجب القتل کہا۔ مگر حضرت عمرؓ اس سے کافر نہیں ہوئے۔
اسی طرح جو شخص کسی بزرگ یا ولی اللہ کو اس بناء پر کافر کہے کہ اس ولی بزرگ کی طرف سے اس کو ایسا کلمہ کلام پہنچا ہے۔ جس کو وہ کفر سمجھتا ہے۔ خواہ اس بزرگ نے وہ کلام نہ کہا ہو یا کہا ہو۔ مگر حقیقت کے اعتبار سے کفر کا کلام نہ ہو۔ اس نے اس کلام سے کفر سمجھا ہو تو غلط فہمی کی بناء پر اس کو کافر کہنے والے کو کافر نہیں کہہ سکتے۔ ہاں اتنی بات ضرور ہے کہ جس بزرگ کے ایمان کی شہادت کتاب وسنت میں تواتر کے ساتھ پائی جاتی ہو۔ ایک شخص اس تواتر کے مقابلہ میں اس کو کافر کہتا ہو تو اس کے کفر میں بحث ہو سکتی ہے۔ دوسری بات یہ کہ اس حدیث میں کفر سے مراد اس کا حقیقی نہیں۔ بلکہ اس جملہ ”کفر دون کفر“ میں جو کفر کا معنی ہے۔ وہی یہاں مراد ہے۔ یعنی گناہ، نہ کفر حقیقی، جس سے انسان ملت سے خارج ہو جاتا ہے۔
پس لاہوری پارٹی جو مرزا قادیانی کو کافر کہنے والوں کے متعلق اس حدیث کے رو سے کفر فتویٰ صادر کرتے ہیں۔ غلط فہمی میں مبتلا ہیں۔ ان کو اس مسئلہ میں نظر ثانی کرنی چاہئے۔ یہ بحث تو نبوت جدیدہ کے قبول کرنے پر کفر، عدم کفر بھی جس سے دو امت کی بنیاد پڑتی ہے۔ اس کے علاوہ بھی مرزا قادیانی کے ماننے والوں اور نہ ماننے والوں میں امور امتیاز یہ ہیں جن کی بناء پر ماننے والوں پر کفر کا فتویٰ صادر کیا جاتا ہے۔ جس کی بناء ایک متواتر اور ضروریات کے انکار پر ہے۔ اس قسم کا کفر اگرچہ اہل قبلہ شیعی وسنی وخوارج وغیرہ بھی ایک دوسرے پر چسپاں کرتے ہیں۔ مگر قدیم فرقوں کی تکفیر اور مرزائی اور غیر مرزائی کی تکفیر میں فرق ہے۔ پہلی تکفیر سے دو امت کی بنیاد نہیں پڑتی۔ دوسری قسم سے دو امت کی بنیاد پڑتی ہے۔ کیونکہ قدیم فرقوں کے نزدیک مرجع دلائل صرف قرآن وحدیث ہے۔ باقی صرف مبلغ ہیں۔ اگرچہ بعض ان کی شان میں بعض وقت غلو کر جاتے ہیں۔ بخلاف اس نئے فرقہ کے ان کے ہاں مرجع صرف مرزا قادیانی کے اقوال ہیں۔ قرآن وحدیث تو ان کے نزدیک جیسے وہ کہتے ہیں، مداری کے پٹارا کی طرح ہیں۔ معاذ اللہ۔
پس اس لئے ان کے کفر اور دوسرے فرق کے کفر میں فرق ہے۔ اس کتاب میں چونکہ بحث ختم نبوت کے عقیدہ سے ہے۔ اس واسطے اس میں دوسرے امور سے پہلو تہی کی جاتی ہے۔ ”وآخر دعوانا ان الحمدلله رب العالمين ، سبحانك اللهم وبحمدك اشهد ان لااله الاانت استغفرك واتوب اليك اللهم اغفرلي۔“
٦٢
خاتم النبیین لا نبی بعدی
میں آخری نبی ہوں میرے بعد کوئی نبی نہیں
القول الصبیح
فی
حیات المسیح
حضرت مولانا محمد ایوب دہلوی رحمۃ اللہ علیہ
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
تقریظ!
خالق کائنات نے اکرم الاولین والآخرین حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کو یہ شرف، یہ بزرگی اور یہ فضیلت عنایت فرمائی ہے کہ آپ ﷺ اپنے وقت بعثت سے تا قیام قیامت روئے زمین کے ہر شہر، ہر قصبے اور ہر دیہات کے مکینوں کے لئے خواہ وہ عربی ہوں یا عجمی، کالے ہوں یا گورے، سرخ ہوں یا سفید، نبی ورسول بنا کر بھیجے گئے ہیں۔
لیکن اسی امت محمدیہ میں کچھ ایسے نقاب پوش پیدا ہوئے کہ انہوں نے نبوت محمدیؐ پر ڈاکہ ڈال کر اپنی نبوت کا عنکبوتی گھروندہ بنانا چاہا اور اس کی حفاظت کے لئے اپنی من مانی، تاویلاتی بھڑوں کی ایک فوج کھڑی کر دی۔
حضرت الامام صاحب مدظلہ العالی نے اس رسالہ میں قرآن وحدیث سے ایسے اسلحہ جات مہیا فرمائے ہیں کہ اگر ایک مرد مسلم ان کو صحیح طریقے سے استعمال کرے تو مصنوعی نبوت کا یہ گھروندہ اور مکر و دجل کی یہ فوج ایک منٹ کے لئے بھی اس کے سامنے نہیں ٹھہر سکتی۔
”جزی اللہ تعالیٰ احسن الجزاء۔ آمین“ کرم الٰہی ، مدیر صحیفہ اہل حدیث کراچی ، ٨/ شوال ١٣٨٣ھ
نزول مسیح علیہ السلام
تفسیر احسن التفاسیر میں ہے کہ حضرت ابو ہریرہؓ کی متفق علیہ حدیث سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ آخر زمانے میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام پھر دنیا میں تشریف لائیں گے۔ اس باب میں اور بہت سی حدیثیں ہیں۔ اسی طرح ابو داؤد اور حاکم کی ابو ہریرہؓ کی صحیح حدیث سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے دنیا میں دوبارہ آنے کے بعد پھر ان کی وفات ہوگی اور اس وقت کے مسلمان ان کی جنازہ کی نماز پڑھیں گے اور آیت ’’الله الذی خلقکم ثم رزقکم ثم یمیتکم ثم یحییکم‘‘ سے معلوم ہوتا ہے کہ ہر شخص کی موت دنیا میں ایک دفعہ اللہ تعالیٰ نے قرار دی ہے۔ اسی سبب سے آیت ’’وهو الذی یتوفکم باللیل ......‘‘ کے قرینے سے انی متوفیک کے معنی جن مفسرین نے یہ لئے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے جب حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو آسمان پر اٹھایا تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی حالت نیند کی تھی۔ انہی مفسرین کا قول صحیح معلوم ہوتا ہے۔
٢
نزول مسیح کے متعلق نبی علیہ السلام کا بیان
حدیث متفق علیہ میں بروایت ابو ہریرہؓ مرفوعاً آ لیوشکن ان ینزل فیکم ابن مریم حکما عدلا م الخنزیر و یضع الجزیة ویفیض المال حتیٰ ل یکون السجدة الواحدة خیر من الدنیا وما ف ان شئتم وان من اھل الکتاب الا لیومنن بہ ق اذا نزل ابن مریم فیکم وامامکم منکم وفی ر تدری ما امکم منکم قلت تخبرنی قال فام نبیکم ﷺ (مسلم ج ١ ص ٨٧) و فی افراد مسلم قال فبینما ھما کذالك اذ یبعث اللہ المسیح بن منارة البیضاء شرقی دمشق (مسلم ج ٢ ص ٤٠١ الله ﷺ قال لیس بینی وبینہ یعنی عیس فاعرفوہ فانہ رجل مربوع الی الحمرة والبی راسہ یقطر وان لم یصبہ بلل فیقاتل النا ویقتل الخنزیر ویضع الجزیة و یھلک اللہ ا ویھلک المسیح الدجال ثم یمکث فی الارض ا علیہ المسلمون، اخرجہ (ابوداؤد ج ٢ ص ٥ التعزیل وغیرہ میں۔
مسئلہ حیات مسیح علیہ السلام
حیات مسیح علیہ السلام کا مسئلہ ایک ایسا مسئلہ ہ نظری کے اس سے انکاری ہو جاتے ہیں۔ حالانکہ ایک ای کوئی امر محال نظر نہیں آتا۔ جس ذات باری عزوجل نے اسے خلعت وجود بخشا، معدوم سے موجود کر دیا اور گونا گو دی۔ اس قادر مطلق کے آگے یہ کوئی مشکل ہے کہ ایک ان زیادہ زندہ رکھے اور آسمان پر اٹھا لے۔ بڑی مشکل آج ک میں یہ آ رہی ہے کہ ایسا ہونا قانون قدرت کے خلاف ہے
٣
نزول مسیح کے متعلق نبی علیہ السلام کا بیان
حدیث متفق علیہ میں بروایت ابوہریرہؓ مرفوعاً آیا ہے ”والذى نفسى بيده ليوشكن ان ينزل فيكم ابن مريم حكما عدلا مقسطا فيكسر الصليب و يقتل الخنزيرو يضع الجزية ويفيض المال حتى لايقبله احد زادفى رواية حتى يكون السجدة الواحدة خير من الدنيا وما فيها ثم يقول ابوهريرة واقرأوا ان شئتم وان من اهل الكتاب الاليؤمنن به قبل موته وفى رواية كيف انتم اذا نزل ابن مريم فيكم وامامكم منكم وفى رواية فامكم منكم قال ابن ذئب تدرى ماامكم منكم قلت تخبرنى قال فامكم كتاب ربكم عزوجل وبسنة نبيكمﷺ (مسلم ج ١ ص ٨٧) و فی افراد مسلم من حديث النواس بن سمعان قال فبينما هما كذالك اذبعث الله المسيح بن مريم عليه السلام فينزل عند منارة البيضاء شرقى دمشق (مسلم ج ٢ ص ٤٠١) وعن ابی هريرة ان رسول اللهﷺ قال ليس بينی وبینه یعنی عیسیٰ نبی وانه نازل فاذا رايتموه فاعرفوه فانه رجل مربوع الى الحمرة والبياض ينزل بين ممصرتين كان راسه يقطر وان لم يصبه بلل فيقاتل الناس على الاسلام فيدق الصليب ويقتل الخنزير ويضع الجزية و يهلك الله الملل في زمانه كلها الا الاسلام ويهلك المسيح الدجال ثم يمكث فى الارض اربعين سنة ثم يتوفى اويصلى عليه المسلمون، اخرجه (ابوداؤد ج ٢ ص ١٣٥)“ اسی طرح ہے تفسیر خازن و معالم التنزیل وغیرہ میں۔
مسئلہ حیات مسیح علیہ السلام
حیات مسیح علیہ السلام کا مسئلہ ایک ایسا مسئلہ ہے کہ عوام الناس بوجہ اپنی کم علمی اور کوتاہ نظری کے اس سے انکاری ہو جاتے ہیں۔ حالانکہ ایک ایمان دار ومسلمان شخص کے لئے اس میں کوئی امر محال نظر نہیں آتا۔ جس ذات باری عزوجل نے اپنی قدرت کاملہ سے تمام کائنات کو عدم سے خلعت وجود بخشا، معدوم سے موجود کر دیا اور گونا گوں مخلوقات بلا اسباب ظاہری کے پیدا کر دی۔ اس قادر مطلق کے آگے یہ کوئی مشکل ہے کہ ایک انسان کو ہزار، دو ہزار برس تک یا اس سے زیادہ زندہ رکھے اور آسمان پر اٹھا لے۔ بڑی مشکل آج کل کے فلسفی طبع اصحاب کو اس کے ماننے میں یہ آ رہی ہے کہ ایسا ہونا قانونِ قدرت کے خلاف ہے۔
٣
لہٰذا مناسب ہے کہ ہم مسئلہ حیات مسیح کو کتاب وسنت سے ثابت کرنے کے ساتھ ساتھ قانون قدرت کی بھی تھوڑی سی تشریح کر دیں۔ واضح ہو کہ نیچر کے ماننے والے منطقی اور فلسفی اور اکثر مرزائی حضرات عوام کو یہ مغالطہ دیتے ہیں کہ فلسفہ بالاتفاق اس بات کو محال ثابت کرتا ہے کہ کوئی انسان اپنے اس خاکی جسم کے ساتھ آسمان پر پہنچ سکے۔ وہ کہتے ہیں یہ بات بدیہی ہے اور مصنوعات وموجودات پر نظر کرنے سے چاروں طرف یہی نظر آتا ہے کہ قدرت نے جس طرح جس کا ہونا بنا دیا بغیر خطا کے اسی طرح ہوتا اور اسی طرح پر ہوگا اور اصول بھی وہی سچے ہیں۔ جو اس کے مطابق ہوں۔
میں کہتا ہوں کہ یہ سب ظاہری دھوکہ وفریب ہے۔ اسی دھوکہ کی وجہ سے یہ لوگ نبی علیہ السلام کی معراج جسمانی کے بھی منکر ہیں۔ اگر از روئے فلسفہ انسان کا آسمان پر جانا محال ہے۔ تو کیا خدا کے لئے بھی محال ہے کہ وہ جس کو چاہے نہ لے جاسکے؟ پھر ان اللہ علیٰ کل شئی قدیر کا معنی کیا ہوا؟ حقیقت یہ ہے کہ اذا جاء نہر اللہ بطل نہر معقل۔
اللہ کی شریعت کے آگے ہماری ناقص عقلیں باطل ہیں۔ اس سے ہرگز یہ ثابت نہیں ہوتا کہ قدرت الہیٰ کے طریقے اسی حد تک محدود ہیں جو ہمارے مشاہدہ میں آچکے ہیں اور جو ہماری ناقص سمجھ اور مشاہدہ سے باہر ہے۔ وہ قانون قدرت سے بھی باہر ہے۔ قوانین قدرت غیر متناہی و غیر محدود ہیں۔ ہمارا یہ اصول ہونا چاہئے کہ ہر ایک نئی بات جو ظہور پذیر ہو، پہلے ہی اپنی عقل سے بالاتر دیکھ کر اس کو رد نہ کریں۔ بلکہ اس کے ثبوت وعدم ثبوت کا حال کتاب وسنت سے معلوم کریں۔ اگر ثابت ہو تو قانون قدرت کی فہرست میں اسے بھی داخل کرلیں۔ ورنہ کہہ دیں کہ ثابت نہیں۔ ثابت شدہ امر کے متعلق ہم یہ کہنے کے ہرگز مجاز نہیں کہ یہ قانون قدرت سے باہر ہے۔ قانون قدرت سے کسی چیز کو خارج سمجھنے کے لئے ضروری ہے کہ ہم ایک دائرہ کی طرح خدا ئے تعالیٰ کے تمام قوانین پر محیط ہوں اور ہمارا ایک فکر اس بات پر احاطہ تام کرے کہ اللہ عزوجل نے روز ازل سے آج تک کیا کیا قدرتیں ظاہر کیں اور آئندہ اپنے ابدی زمانہ میں کیا کیا ظاہر کرے گا اور جدید قدرتوں کے اظہار پر قادر ہوگا یا نہیں۔
اگر نہیں تو کیا نعوذ باللہ وہ عاجز آئے گا یا کسی دوسرے قاہر نے اس پر جبر کیا ہوگا۔ بہر حال اپنے ایک محدود زمانے کے محدود تجارب کو پورا پورا قانون قدرت خیال کرلینا اور اس پر غیر متناہی سلسلہ قدرت کو ختم کر دینا، سراسر جنون، دیوانگی اور کوتاہ نظری ہے۔ آج کل کے بعض فلسفی
٤
الطبع اشخاص کو یہ بڑی بھاری غلطی لگی ہے کہ وہ قانون قدرت کو الوجوہ حد و بس ہوچکی ہے۔ اسی وجہ سے معجزات انبیاء کے بھی منکر عقلی شیش محل کو پاش پاش کر کے رکھ دیا۔
اب بھی اللہ تعالیٰ وقتاً فوقتاً اپنی قدرت کا اظہار کرتا اور مغالطہ کی تار و پود ٹوٹ کر رہ جاتی ہے۔ قانون قدرت کوئی ایسی سے خدا عاجز ہو۔ بس قانون قدرت وہی ہے جو قدرتی طور پر حال ومستقبل میں اللہ عزوجل اپنی قدرتوں کے دکھانے سے قاصر نہ کسی خارجی قاہر سے مقہور ومجبور ہو۔ اگرچہ انسان ایک نوع عاجز واقع ہیں۔ مگر ان میں سے جس کو خدا چاہے اپنی قدرت کا
چنانچہ مشاہدہ گواہ ہے کہ زمانہ حال میں بعض نے جو عادت ہے۔ تھوڑا عرصہ گزرا کہ مظفر گڑھ میں ایسا بکرا پیدا ہوا جب اس کا چرچا شہر میں پھیلا تو میکالف صاحب ڈپٹی کمشنر مظفر ڈیڑھ سیر دودھ اس نے دیا۔ میرا اپنا مشاہدہ ہے انقلاب سے وہاں کے عجائب خانہ میں ایک بکرا دودھ دیتا تھا۔ ہر ایک دیکھ قدرت سے دودھ پیدا کر دیا۔
آمد بر سر مطلب
بعینہ یہی جواب مسئلہ حیات مسیح میں سمجھنا چاہئے کہ اور نر میں مادہ کی طرح دودھ پیدا کر سکتا ہے۔ وہ عیسیٰ علیہ السلام کرنے پر بھی قادر ہے۔ بجائے فلسفیانہ موشگافیوں کے یہ دیکھ السلام کا صعود الی السماء قرآن مجید وحدیث سے ثابت ہے تو ہم
ایک شبہ اور اس کا جواب کہ کرہ زمہریر؟
مرزائی حضرات یہ شبہ پیش کرتے ہیں کہ مسیح موعود جب انسان بلندی میں پہنچے گا تو کرہ زمہریر میں جا کر ہلاک ہو
جواب ...... اس کا جواب یہ ہے کہ جس قادر مطلق نے مسیح موعود لئے اسے نشان قدرت ٹھہرایا ہے۔ اس کو یقیناً یہ قدرت بھی ہو
٥
الطبع اشخاص کو یہ بڑی بھاری غلطی لگی ہے کہ وہ قانون قدرت کو ایسا سمجھ بیٹھے ہیں۔ جس کی من کل الوجوہ حد و بس ہو چکی ہے۔ اسی وجہ سے معجزات انبیاء کے بھی منکر ہیں۔ کتاب و سنت نے ان کے عقلی شیش محل کو پاش پاش کر کے رکھ دیا۔
اب بھی اللہ تعالیٰ وقتاً فوقتاً اپنی قدرت کا اظہار کرتا رہتا ہے۔ جس سے ان کے قاعدہ اور مغالطہ کی تار پود ٹوٹ کر رہ جاتی ہے۔ قانون قدرت کوئی ایسی شے نہیں جس کے خلاف کرنے سے خدا عاجز ہو۔ پس قانون قدرت وہی ہے جو قدرتی طور پر ظہور میں آئے۔ زمانہ ماضی ہو یا حال و مستقبل میں اللہ عزوجل اپنی قدرتوں کے دکھانے سے تھک نہیں گیا۔ نہ بے زور ہو گیا ہے نہ کسی خارجی قاہر سے مقہور و مجبور ہے۔ اگرچہ انسان ایک نوع ہونے کی وجہ سے باہم مناسب الطبع واقع ہیں۔ مگر ان میں سے جس کو خدا چاہے اپنی قدرت کا نشان بنا دے۔
چنانچہ مشاہدہ گواہ ہے کہ زمانہ حال میں بعض نے تین سو برس کی عمر پائی جو بطور خارق عادت ہے۔ تھوڑا عرصہ گزرا کہ مظفر گڑھ میں ایسا بکرا پیدا ہوا جو بکریوں کی طرح دودھ دیتا تھا۔ جب اس کا چرچا شہر میں پھیلا تو میکالف صاحب ڈپٹی کمشنر مظفر گڑھ کے روبرو دوہا گیا تو قریب ڈیڑھ سیر دودھ اس نے دیا۔ میرا اپنا مشاہدہ ہے انقلاب سے قبل میں جودھپور برائے تبلیغ گیا۔ وہاں کے عجائب خانہ میں ایک بکرا دودھ دیتا تھا۔ ہر ایک دیکھنے والا یہی کہتا تھا کہ خدا نے اپنی قدرت سے دودھ پیدا کر دیا۔
آمد بر سر مطلب
بعینہ یہی جواب مسئلہ حیات مسیح میں سمجھنا چاہئے کہ جو خدا چاند کے دو ٹکڑے کر سکتا ہے اور نر میں مادہ کی طرح دودھ پیدا کر سکتا ہے۔ وہ عیسیٰ علیہ السلام کو آسمان پر زندہ رکھنے اور نازل کرنے پر بھی قادر ہے۔ بجائے فلسفیانہ موشگافیوں کے یہ دیکھنا چاہئے کہ جب حضرت مسیح علیہ السلام کا صعود الی السماء قرآن مجید و حدیث سے ثابت ہے تو ہمیں انکار نہ کرنا چاہئے۔
ایک شبہ اور اس کا جواب کرہ زمہریر؟
مرزائی حضرات یہ شبہ پیش کرتے ہیں کہ مسیح ؑ کا صعود الی السماء عقلاً محال ہے۔ جب انسان بلندی میں پہنچے گا تو کرہ زمہریر میں جا کر ہلاک ہو جائے گا۔ جواب...... اس کا جواب یہ ہے کہ جس قادر مطلق نے مسیح ؑ کو آسمان پر اٹھایا ہے اور لوگوں کے لئے اسے نشان قدرت ٹھہرایا ہے۔ اس کو یقیناً یہ قدرت بھی حاصل ہے کہ اس کی آمد و رفت کے
٥
وقت کره زمہریر و دیگر کڑوہاۓ مہلک کے مضر اثرات کو معدوم کر دے اور انسانی قوی پر جس قدر اثرات آب و ہوا عارض ہو سکتے ہیں، ان سب سے محفوظ رکھے۔ جیسے ہمارے نبی ﷺ کو معراج جسمانی ہوئی۔ اللہ تعالیٰ نے تمام آسمانوں کی سیر کرا کر صحیح و سلامت واپس پہنچا دیا۔ یادرکھو قدرت الہیہ پر اعتراض کرنا خود خدا کا انکار کرنا ہے۔ خدا کی قدرتوں کا انسانی عقل کب احاطہ کر سکتی ہے؟ جو چیز قرآن وحدیث سے ثابت ہو۔ اس پر بلا چون و چرا ایمان لانا چاہئے۔ ”وبـــــاللہ التوفیق“
الغرض! حیات مسیح کا قانون قدرت وغیرہ کی آڑ لے کر انکار کرنا باعث فساد عقیدہ و موجب دہریت ہے۔ آیت باب حیات مسیح ”ورفع الى السماء“ پر صریح دال ہے۔ مرزائی لوگ خلاف قرآن مسیح علیہ السلام کی موت طبعی پر اصرار، صلیب پر چڑھنے کا اقرار اور ”رفع الی السماء“ کا انکار کرتے ہیں۔ چنانچہ مرزا قادیانی کہتے ہیں ”رفع سے مراد وہ موت ہے جو عزت کے ساتھ ہو۔“
(ازالہ اوہام ص ٥٩٩، خزائن ج ٣ ص ٤٢٢)
نیز اسی کتاب کے (ص٣٨٠، خزائن ج ٣ ص ٢٩٥) میں صلیب پر چڑھنے کا واقعہ لکھا ہے۔ حالانکہ قرآن مجید نے اس عقیدہ کو لعنتی قرار دے کر مسیح علیہ السلام کا زندہ آسمان پر اٹھایا جانا ظاہر کیا ہے۔ نیز ابن عباسؓ سے منقول ہے کہ ”فاجتمعت الیهود على قتله فاخبره الله بانه يرفعه الى السماء و يطهره من صحبة يهود (نسائی وابن مردویہ، ذکر فی السراج منير)“ یعنی جب یہود مسیح علیہ السلام کو قتل کرنے کے لئے جمع ہوئے تو اللہ تعالیٰ نے خبر دی کہ میں تجھے آسمانوں پر اٹھاؤں گا اور کفار یہود کی صحبت سے پاک رکھوں گا۔ اس آیت میں توفی کے معنی ”اخذ الشی وافیا“ کے ہیں۔ جیسا کہ تفسیر بیضاوی میں تحت آیت ”فلما توفیتنی“ مرقوم ہے۔ نیز کتب لغت میں بھی یہی معنی لکھا ہے۔ ملاحظہ ہو مختار الصحاح وغیرہ۔
یعنی توفی کے معنی کسی چیز کو پورا پورا لینے کے ہیں۔ محاورہ عرب بھی اس کا مؤید ہے۔ کہتے ہیں ”توفیت منه دراهمی“ یعنی میں نے اس سے اپنے درہم پورے لے لئے۔ (تفسیر کبیر ج ٢ ص ٢٩١) مرزا نے بھی (براہین احمدیہ ص ٥١٩ حاشیہ، خزائن ج ١ ص ٦٢٠) میں یہی معنی کئے ہیں۔ ”میں تجھ کو پوری نعمت دوں گا اور اپنی طرف اٹھالوں گا“
الغرض! اللہ تعالیٰ نے حسب وعدہ مسیح علیہ السلام کو اپنی طرف اٹھا لیا اور کفار کے مکر کو انہی پر لوٹا دیا۔ چنانچہ حضرت ابن عباسؓ جن کے متعلق مرزا قادیانی کو بھی اقرار ہے کہ وہ ببرکت دعائے نبوی قرآن کے سمجھنے میں اول تھے، کی روایت سے تفسیر معالم میں مرقوم ہے: ”فبعث الله ٦
تعالی اليه جبرائيل فادخله في خوخة تلك الكوة...... فالقى الله تعالى عليـ وصلبوه (نسائي و ابن مردويه ذكره في السـ یعنی جب یہود عیسیٰ علیہ السلام کو قتل کر السلام کو بھیج کر اس مکان کی چھت کے روزن میـ شخص پر مسیح کی مشابہت ڈال دی۔ پس یہود نے کہ ہم نے عیسیٰ کو قتل کر دیا اور صلیب پر چڑھا دیا۔ کہ ”وماقتلوه وماصلبوه ولكن شبه لهـ الیہ“ یعنی یہود نے عیسیٰ علیہ السلام کو نہ قتل کیا نہ لیا۔ یہود نے شبہ میں دوسرے آدمی کو قتل کر دیا۔ جـ ابن حمید اور نسائی اور ابن مردویہ سے نقل کیا ہے۔ قرار دیا ہے۔ پس آیات و عبارات مندرجہ بالا کی حضرت مسیح کو صلیب پر چڑھا دیا اور ہاتھوں میں ہے۔ یقیناً اللہ عزوجل نے عیسیٰ علیہ السلام کو یہو بجسمہ زندہ آسمان پر اٹھا کر کفار کے شر سے بچالیا۔
مرزائی سوال اور مغالطہ زمین کی بجائے
جب مرزائی حضرات دلائل سے لاجـ مغالطہ دیتے ہیں کہ جب دیگر انبیاء کو اللہ تعالیٰ ۔ پھر عیسیٰ علیہ السلام کی کیا خصوصیت تھی کہ انہیں کیوں نہیں اٹھا؟ کیا مسیح کو زمین پر رکھ کر کافروں بـ
الجواب بعون الوهاب!
”لا يسئل عما يفعل وهم يسـ کوئی نہیں کہ تو نے یہ کیوں کیا اور اس طرح کیوں ہے کہ آسمان و زمین کی پیدائش سے پچاس ہزار عیسیٰ علیہ السلام نہ صرف بغیر باپ پیدا ہونے کے اٹھائے جانے کے خدا کی قدرت کا نشان بنائے ٧
تعالیٰ الیہ جبرائیل فادخلہ فی خوختہ فی سقفھا کوۃ فرفعہ الی السماء من تلك الكوۃ ...... فالقی اللہ تعالیٰ علیہ شبہ عیسیٰ علیہ السلام ...... فقتلوہ
وصلبوہ (نسائی و ابن مردویہ ذکرہ فی السراج المنیر ج ١ ص ٣٤٤)“
یعنی جب یہود عیسیٰ علیہ السلام کو قتل کرنے کے لئے آئے تو اللہ تعالیٰ نے جبرائیل علیہ السلام کو بھیج کر اس مکان کی چھت کے روزن میں سے مسیح علیہ السلام کو آسمان پر اٹھا لیا اور ایک شخص پر مسیح کی مشابہت ڈال دی۔ پس یہود نے اسی شخص کو قتل کیا اور صلیب پر چڑھا کر کہنے لگے کہ ہم نے عیسیٰ کو قتل کر دیا اور صلیب پر چڑھا دیا۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں ان کی تردید کر دی کہ ”وماقتلوہ وماصلبوہ ولکن شبہ لھم“ نیز فرمایا ”وماقتلوہ یقینا بل رفع اللہ الیہ“ یعنی یہود نے عیسیٰ علیہ السلام کو نہ قتل کیا نہ سولی پر چڑھایا۔ بلکہ اللہ نے اس کو اپنی طرف اٹھا لیا۔ یہود نے شبہ میں دوسرے آدمی کو قتل کر دیا۔ حضرت ابن عباسؓ نے اس روایت کو در منثور میں ابن حمید اور نسائی اور ابن مردویہ سے نقل کیا ہے۔ حافظ ابن کثیر و امام سیوطیؒ نے بھی اس کی سند کو صحیح قرار دیا ہے۔ پس آیات و عبارات مندرجہ بالا کی موجودگی میں یہ اعتقاد رکھنا کہ معاذ اللہ یہود نے حضرت مسیح کو صلیب پر چڑھا دیا اور ہاتھوں میں میخیں ٹھونکیں، ایک صریح، گندہ اور کفریہ عقیدہ ہے۔ یقیناً اللہ عزوجل نے عیسیٰ علیہ السلام کو یہود کے ہاتھوں میں مبتلائے آلام ہونے سے قبل مجسمہ زندہ آسمان پر اٹھا کر کفار کے شر سے بچالیا۔
مرزائی سوال اور مغالطہ زمین کی بجائے آسمان پر کیوں؟
جب مرزائی حضرات دلائل سے لاجواب ہو جاتے ہیں۔ تو یہ سوال کر کے عوام کو مغالطہ دیتے ہیں کہ جب دیگر انبیاء کو اللہ تعالیٰ نے اسی دنیا میں رکھ کر کفار کے شر سے محفوظ رکھا تو پھر عیسیٰ علیہ السلام کی کیا خصوصیت تھی کہ انہیں آسمان پر اٹھا لیا۔ حضرت محمدﷺ سید المرسلین کو کیوں نہیں اٹھا؟ کیا مسیح کو زمین پر رکھ کر کافروں کے شر سے نہیں بچایا جاسکتا تھا؟ وغیرہ وغیرہ۔
الجواب بعون الوہاب!
”لا يسئل عما يفعل وهم يسئلون“ خدا سے پوچھنے والا اور محاسبہ کرنے والا کوئی نہیں کہ تو نے یہ کیوں کیا اور اس طرح کیوں نہیں کیا۔ یہ خدا کی بے ادبی ہے۔ بات اصل یہ ہے کہ آسمان و زمین کی پیدائش سے پچاس ہزار سال پہلے لوح محفوظ میں یونہی مقدر تھا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نہ صرف بغیر باپ پیدا ہونے کے بلکہ ایک عرصہ دراز تک زندہ رہنے اور آسمان پر اٹھائے جانے کے خدا کی قدرت کا نشان بنائے جائیں گے اور آخری زمانہ میں ان کے ہاتھ سے
٧
خدمت اسلام، کتاب وسنت کی تبلیغ کرا کر محمد مصطفیٰ ﷺ کی شان و رتبہ کو دوبالا کیا جائے گا۔ کیونکہ آپ ﷺ کا وہ مرتبہ ہے کہ مستقل اور صاحب شریعت رسول بھی آپ ﷺ کی اتباع کو اپنی سعادت سمجھیں۔ حتیٰ کہ امت محمدیہ کے آگے ہو کر امام الصلوٰۃ بھی نہ بنیں اور گواہی دیں کہ تكرمة الله هذه الامة ! مشکوٰۃ باب نزول عیسیٰ علیہ السلام۔ اس لئے اللہ عزوجل نے آپ کو آسمان پر اٹھا لیا۔ اللہ تعالیٰ کے نزدیک آدم علیہ السلام سے لے کر خاتم الانبیاء محمد مصطفیٰ ﷺ جملہ انبیاء کرام با فضیلت ہیں 'تلك الرسل فضلنا بعضهم على بعض ' کسی کو خدا نے کسی طرح فضیلت عطاء کی اور کسی کو کسی طرح۔ اب خدا پر اعتراض کرنا کہ فلاں کو یہ فضیلت کیوں دی اور فلاں کو کیوں نہ دی اور اس اعتراض کی آڑ میں ثابت شدہ امر کا انکار کرنا سراسر حماقت اور جہالت ہے۔ جس سے ہر مسلمان کو اجتناب کرنا چاہئے۔
مرزائیوں سے ایک سوال...... مسیح بغیر باپ؟
اگر کوئی کہے کہ آپ حضرات مسیح علیہ السلام کی ولادت بلا باپ کو مانتے ہیں۔ جیسا کہ مرزا قادیانی کی تصریحات موجود ہیں۔ پس بتائیے کہ کیا وجہ ہے کہ خدا نے دیگر انبیاء علیہم السلام کو تو ماں باپ دونوں کے ذریعہ پیدا کیا۔ مگر عیسیٰ علیہ السلام کو بغیر باپ کے پیدا کیا۔ بس ”ماهو جوابكم فهو جوابنا“ جو جواب تم اس کا دو گے۔ اسی میں ہمارا جواب موجود ہے۔
مرزائی اعتراض...... رفعہ کی ضمیر؟
”رفعه الله“ میں ”ہ“ کی ضمیر روح مع الجسم کی طرف نہیں بلکہ صرف روح کی طرف ہے۔ مراد یہ ہے کہ مسیح علیہ السلام کی روح کو اٹھا لیا۔
جواب اعتراض ایسا کہنا یہود و نصاریٰ کی موافقت اور قرآن مجید کی مخالفت کرنا ہے۔ اللہ عزوجل کا فرمان ہے ”وما قتلوه يقينا بل رفعه الله“ یہاں دونوں ضمیروں کا مرجع ایک چیز ہے۔ اگر ”قتلوہ“ کی ضمیر کا مرجع روح مع الجسم ہے تو ”رفعہ“ کی ضمیر کا مرجع صرف روح کو قرار دینا صریح غلطی ہے۔ اس آیت میں حضرت مسیح کا ذکر ہے جو زندہ رسول تھے۔ خدا نے اسی زندہ رسول کا رفع فرمایا ہے۔ پس یہ تاویل کرنا کہ رفع سے مراد روحانی رفع ہے۔ نظم قرآن کے صریح خلاف ہے۔ آیت باب میں بھی اللہ عزوجل نے فرمایا ہے 'یاعيسى انی متوفيك و رافعك الی' ﴿اے عیسیٰ میں تجھ کو نیند کی حالت میں اپنی طرف اٹھانے والا ہوں ۔﴾ ظاہر ہے کہ عیسیٰ روح مع الجسم کا نام تھا نہ کہ صرف روح کا۔ شاید معترض کے نزدیک عیسیٰ صرف روح کا نام ہو اور جسم کا کچھ اور لیکن ”ولايقول بذالك احد“ (تفسیر خازن ج١
٨
ص ٣٠٠) میں صاف فیصلہ موجود ہے ”ان معنى التوفی تعالى ان من الناس من يخطر بباله ان ال جسده كما زعمت النصارى ان المسيح ر الارض ناسوته يعنى جسده فرد الله علیہ فاخبر الله تعالى انه رفع بتمامه الى السماء“ یعنی اللہ تعالیٰ خوب جانتا تھا کہ بعض لوگوں اللہ نے عیسیٰ علیہ السلام کی صرف روح اٹھائی ہے، جسم نہیں کی روح اٹھائی گئی اور جسم زمین پر باقی رہ گیا۔ پس اس ک کے مقلدین مرزائیہ کا ) رد کر دیا اور بتا دیا کہ عیسیٰ علیہ السلا دونوں کے ساتھ نہ صرف روح کے ساتھ۔
اسی طرح علامہ ابو محمد محی السنۃ امام بغوی کی ت ہے: ”قال الحسن و الكلبي وابن جريج من غير موت يدل عليه قوله تعالى فلما توف حى لان قومه انما تنصروا بعد رفعه لا يعبد
یعنی اس آیت کا معنی متقدمین سلف صالح اے عیسیٰ ! میں تجھ کو دنیا سے اپنی طرف بغیر موت کے باوجود معترض کا یہ کہنا کہ جسم کے بغیر صرف روح کو اٹھا کرنا ہے۔ اللہ پناہ دے۔ آمین۔
مرزائی اعتراض...... سجدہ میں وارفعنی؟
حدیث میں ہے کہ آنحضرت ﷺ دو سجدو تھے کہ خدایا میرا رفع کر۔ اسی طرح ایک حدیث میں ا بلند مرتبہ ہوتا ہے۔ اسی طرح اللہ نے عیسیٰ علیہ السلام ک
جواب اعتراض چونکہ رفع سے پہلے یہاں م تفاسیر و اقرار مرزا ”پورا لینے“ کے ہیں۔ اس لئے جائیں تو ہمارے مدعا کے خلاف نہیں۔ پس اس صو جسم و روح آسمان پر پورے پورے اٹھالئے گئے۔
٩
ص ٣٠٠) میں صاف فیصلہ موجود ہے ”ان معنى التوفى اخذ الشی وافيا ولما علم الله تعالى ان من الناس من يخطر بباله ان الذى رفعه الله اليه هو روحه دون جسده كما زعمت النصارى ان المسيح رفع لا هوته يعنى روحه وبقى فى الارض ناسوته يعنى جسده فرد الله عليهم بقوله انى متوفيك ورافعك الى فاخبر الله تعالى انه رفع بتمامه الى السماء بروحه وجسده جميعاً“ یعنی اللہ تعالیٰ خوب جانتا تھا کہ بعض لوگوں کے دل میں شیطان یہ وسوسہ ڈالے گا کہ اللہ نے عیسیٰ علیہ السلام کی صرف روح اٹھائی ہے، جسم نہیں اٹھایا۔ جیسا کہ نصاریٰ کا دعویٰ ہے کہ مسیح کی روح اٹھائی گئی اور جسم زمین پر باقی رہ گیا۔ پس اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے نصاریٰ کا (اور ان کے مقلدین مرزائیہ کا) رد کر دیا اور بتا دیا کہ عیسیٰ علیہ السلام بتمامہ اٹھا لئے گئے۔ یعنی روح اور جسم دونوں کے ساتھ نہ صرف روح کے ساتھ۔
اسی طرح علامہ ابو محمد محی السنۃ امام بغوی کی تفسیر معالم التنزیل میں تحت آیت ہذا مرقوم ہے: ”قال الحسن و الكلبى وابن جريج انى قابضك ورافعك من الدنيا انى من غير موت يدل عليه قوله تعالى فلما توفيتنى اى قبضتنى الى السماء وانا حى لان قومه انما تنصر وابعد رفعه لا بعد موته“ یعنی اس آیت کا معنیٰ متقدمین سلف صالحین سے یہ منقول ہے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا اے عیسیٰ! میں تجھ کو دنیا سے اپنی طرف بغیر موت کے اٹھانے والا ہوں۔ پس ان تصریحات کے باوجود معترض کا یہ کہنا کہ جسم کے بغیر صرف روح کو اٹھایا۔ صریح عناد، ضد نفسانیت اور حق کا مقابلہ کرنا ہے۔ اللہ پناہ دے۔ آمین۔
مرزائی اعتراض...... سجدہ میں وارفعنی؟
حدیث میں ہے کہ آنحضرت ﷺ دو سجدوں کے درمیان دعا میں ”وارفعنی“ کہتے تھے کہ خدایا میرا رفع کر۔ اسی طرح ایک حدیث میں آیا ہے کہ متواضع بندہ کا رفع ہو جاتا ہے۔ یعنی بلند مرتبہ ہوتا ہے۔ اسی طرح اللہ نے عیسیٰ علیہ السلام کا مرتبہ بلند کر دیا بجسمہ آسمان پر نہیں اٹھایا۔
جواب اعتراض چونکہ رفع سے پہلے یہاں توفی کا ذکر ہے اور توفی کے معنی حسب لغت و تفاسیر و اقرار مرزا ”پورا لینے“ کے ہیں۔ اس لئے رفع کا معنی بالفرض بلندی درجات بھی لئے جائیں تو ہمارے مدعا کے خلاف نہیں۔ پس اس صورت میں مطلب یہ ہوگا کہ مسیح علیہ السلام مع جسم و روح آسمان پر پورے پورے اٹھا لئے گئے۔ جیسا کہ متوفیک کا منشاء و مقتضا ہے۔ جس سے
٩
ان کا مرتبہ بھی بلند ہو گیا۔ اگر توفی کے معنی موت لے کر رفع درجات لیا جائے تو یہ یہود کی مطابقت ہے۔ یہود کہتے تھے کہ ہم نے مسیح کو مار دیا۔ اب ان کے جواب میں یہ کہنا کہ ہاں ہاں مار تو دیا تھا۔ لیکن وہ عزت کی موت مرے اور مر کر درجہ بلند ہو گیا۔ یہود کی تردید نہیں بلکہ عین تصدیق ہے۔ حالانکہ اللہ عزوجل نے اس عقیدے کو لعنتی قرار دیا ہے۔ نیز ارشاد باری ہے: ”ورفعنا فوقهم الطور (البقره: ٦٣)“ ﴿ہم نے بنی اسرائیل پر کوہ طور کو اٹھایا۔﴾ اب بتائیے کہ کوہ طور کا مرتبہ بلند کیا تھا یا رفع سے مراد رفع روح ہے یا رفع جسم؟ ہر جگہ رفع کے معنی رفع درجات کے نہیں ہوتے فافہم و تدبر۔
مرزائی اعتراض ...... آسمان کہاں؟
اچھا مانا کہ رفعہ اللہ میں خدا کی طرف اٹھانا مرقوم ہے۔ لیکن اس میں آسمان کا کہاں ذکر ہے؟
جواب اعتراض یاد رکھو اللہ عزوجل بذاتہ و بعلمہ ساتوں آسمانوں کے اوپر عرش عظیم پر مستوی ہے۔ اس کے لئے جہت فوقیت ثابت ہے: ”وهو القاهر فوق عباده“ اسی معنی کی رو سے قرآن مجید میں ارشاد باری ہے: ”أأمنتم من في السماء ان يخسف بكم الارض (ملک آیات ١٦، ١٧)“ نیز ”أمنتم من في السماء ان يرسل عليكم حاصبا“ کیا تم خدا سے نڈر ہو گئے ہو جو آسمان پر ہے۔ کیا تم اس سے بے خوف ہو گئے ہو جو آسمان پر ہے۔ تمہیں زمین پر دھنسا دے یا تم پر ہواؤں سے پتھراؤ کر دے۔ اسی طرح نبی علیہ السلام انتظار وحی کے وقت آسمان کی طرف دیکھا کرتے تھے: ”قد نری تقلب وجهك في السماء (البقره: ١٤٤) “ نیز مرزا قادیانی نے بھی خود رفعہ اللہ کے معنی آسمان کی طرف اٹھایا جانا لکھے ہیں۔ فرماتے ہیں کہ: ”حضرت عیسیٰ کے فوت ہو جانے کے بعد ان کی روح آسمان کی طرف اٹھائی گئی۔“
(ازالۃ اوہام ص ٢٦٤، خزائن ج ٣ ص ٢٣٣)
اس تحریر میں بعبارۃ النص رفعہ اللہ کے معنی آسمان پر اٹھایا جانا موجود ہے۔ باقی رہا یہ امر کہ مرزا قادیانی نے روح کا اٹھایا جانا لکھا ہے۔ سو اس کا رد و بدل ہم نے پہلے کر دیا ہے کہ یہ معنی یہود کی تقلید سے نکلے ہیں اور قرآن وحدیث کے سراسر خلاف ہیں۔
مرزائی اعتراض ...... الیٰ غایت انتہاء؟
”رفعه الله “ میں مسیح کا زندہ بجسم خدا کی طرف اٹھایا جانا کسی طرح عقل تسلیم نہیں کرتی۔ کیونکہ لفظ ”الیٰ“ غایت انتہاء کے لئے آتا ہے۔ تو کیا حضرت مسیح بلا فاصلہ خدا کے پہلو بہ
پہلو بیٹھے ہوئے ہیں؟
جواب اعتراض ”رفعه الله“ کے جیسا کہ خود مرزا قادیانی نے بھی آسمان کی تصریح پر بھی دل کا زنگ اور تقلید یہود کا اثر زائل نہ ہو تو سو الطيب والعمل الصالح يرفعه “ یعنی پاک ان کا رفع کرتا ہے۔“
کیوں جناب! یہ روحیں جو خدا کی طر ہیں اور خدا کے پہلو بہ پہلو جا بیٹھتی ہیں؟ یا درمیان فهو جوابنا “ قرآن مجید میں جا بجا لفظ ”الیٰ“ ”وهو الذى اليه تحشرون “ یعنی اللہ تعالیٰ ہی کی طرف تم حشر کئے جاؤ گے۔ ”ثم اليه مرجعكم ثم رد الآیات “ کیا ان جملہ مقامات میں ”الیٰ“ کے الامن سفه نفسه۔“
مرزائی اعتراض...... توفی کے بعد امس
بخاری کی حدیث میں ہے کہ نبی میری امت بگڑی ہے اور مسیح کی مثال دیں گے۔
جواب اعتراض یاد رکھو! جب ایک ہی لفظ شخصیت اس کے جدا جدا معنی ہو سکتے ہیں۔ دیکھی بولتے ہیں اور اللہ عزوجل کے لئے بھی وہی لفظ اس اعلم ما في نفسك “ اب کیا خدا کا نفس اور ٹھیک اسی طرح حضرت مسیح کی ”توفی اخذ الش اگر موت مراد لی جائے تو علاوہ نصوص صریحہ جن م کے یہود پلید کی تائید و تصدیق ہوتی ہے اور یہ جان پس حضرت مسیح کے بارے میں ”توف خود مرزا قادیانی نے بھی اپنی کتاب براہین احم
پہلو بیٹھے ہوئے ہیں؟
جواب اعتراض ”رفعه الله“ کے معنی اس جگہ یقیناً آسمان کی طرف اٹھایا جانا ہیں۔ جیسا کہ خود مرزا قادیانی نے بھی آسمان کی تصریح کی ہے اور ان کو عقل نے تسلیم کر لیا ہے۔ اگر اس پر بھی دل کا زنگ اور تقلید یہود کا اثر زائل نہ ہو تو سنو! مرزا قادیانی رقم ہیں ”اليه يصعد الكلم الطيب والعمل الصالح يرفعه “ یعنی پاک روحیں خدا کی طرف صعود کرتی ہیں اور عمل صالح ان کا رفع کرتا ہے۔“
(ازالہ ص ٤٤٠، خزائن ج ٣ ص ٣٣٣)
کیوں جناب! یہ روحیں جو خدا کی طرف صعود کرتی ہیں۔ کیا خدا کے ساتھ چمٹ جاتی ہیں اور خدا کے پہلو بہ پہلو جا بیٹھتی ہیں؟ یا درمیان میں کچھ فاصلہ ہوتا ہے؟ ”فماهو جوابكم فهو جوابنا“ قرآن مجید میں جابجا لفظ ”الی“ آتا ہے۔ فرمایا ”والى الله ترجع الامور“ ”وهو الذى اليه تحشرون “ یعنی اللہ تعالیٰ ہی کی طرف جملہ امور لوٹائے جاتے ہیں اور اللہ ہی کی طرف تم حشر کئے جاؤ گے۔
”ثم اليه مرجعكم ثم ردوا الى الله مولهم الحق، وغير ذالك من الآيات “ کیا ان جملہ مقامات میں ”الی“ کے معنی چمٹنے کے ہیں؟ ”ولا يقول بذالك احد الا من سفه نفسه.“
مرزائی اعتراض ...... توفی کے بعد امت کا بگڑنا؟
بخاری کی حدیث میں ہے کہ نبی ﷺ قیامت کے دن کہیں گے کہ میری توفی کے بعد میری امت بگڑی ہے اور مسیح کی مثال دیں گے۔ پس ثابت ہوا کہ توفی کے معنی موت کے ہیں۔
جواب اعتراض یاد رکھو! جب ایک ہی لفظ دو مختلف اشخاص پر بولا جائے تو حسب حیثیت و شخصیت اس کے جدا جدا معنی ہو سکتے ہیں۔ دیکھئے حضرت عیسیٰ علیہ السلام اپنے حق میں نفس کا لفظ بولتے ہیں اور اللہ عزوجل کے لئے بھی وہی لفظ استعمال کرتے ہیں۔ ”تعلم مافى نفسى ولا اعلم ما فى نفسك“ اب کیا خدا کا نفس اور عیسیٰ علیہ السلام کا نفس ایک جیسا ہے؟ ہرگز نہیں۔ ٹھیک اسی طرح حضرت مسیح کی ”توفی اخذ الشئ وافیا“ پورا لینے کے معنی میں ہے۔ کیونکہ اگر موت مراد لی جائے تو علاوہ نصوص صریحہ جن میں حیات مسیح کی صراحت ہے، کے خلاف ہونے کے یہود پلید کی تائید و تصدیق ہوتی ہے اور یہ جائز نہیں۔
پس حضرت مسیح کے بارے میں ”توفی“ کے معنی بجز رفع جسمانی کے اور کچھ نہیں۔ خود مرزا قادیانی نے بھی اپنی کتاب براہین احمدیہ میں حیات مسیح و رفع جسمانی و نزول کا اقرار کیا
١١
ہے ۔ مگر پھر بعد میں پلٹی لگا گئے اور کہہ دیا کہ مسیح علیہ السلام تو فوت ہو گئے اور میں مسیح موعود ہوں۔ ”فيا للعجب وضيعة العلم والادب.“
رفع کے حقیقی معنی
لفظ رفع کے معنی کسی چیز کو صرف اوپر اٹھا لینے کے ہیں۔ باقی روحانی اور جسمانی قیود و قرائن حالیہ ومقالیہ سے سمجھے جاتے ہیں۔ صرف لفظ رفع سے ہر جگہ اس امر کا تصفیہ نہیں ہو سکتا۔ لہٰذا مرزائیوں کے جملہ شبہات و تمثیلات محض لا یعنی و معطل ہیں۔
محل استعمال رفع سے معنی کی تعین
اس نزاع کا فیصلہ لفظ رفع کے مدخول علیہ سے ہو سکتا ہے۔ یعنی اگر لفظ رفع کا مدخول علیہ کوئی روحانی چیز ہے تو رفع بھی روحانی ہوگا۔ اگر کوئی امر جسمانی ہو تو رفع بھی جسمانی ہوگا۔ علمی چیز ہے تو رفع بھی علمی ہوگا۔ اگر خیالی ہے تو رفع بھی خیالی ہوگا اور اگر رفع کا مدخول علیہ جسم اور روح ہر دو اجتماعی صورت میں ، تو رفع بھی روح اور جسم ہر دو کا اجتماع ماننا لازم ہوگا۔ جیسا کہ عیسیٰ علیہ السلام کے متعلق روح اور جسم ہر دو کی اجتماعی صورت میں واقع ہوا ہے۔ اس تقریر کو ملحوظ رکھتے ہوئے تمام آیات قرآنی واحادیث نبوی کو پڑھ جائیے۔ کسی ایک مقام پر بھی اس کے خلاف نہ مل سکے گا۔ انشاء اللہ!
رفع کی کیفیت اس کے مدخول علیہ کے بدلنے سے بدلتی رہتی ہے۔ یاد رکھو! ہر چیز کا رفع اس کی اپنی ذات و وجود کے لحاظ سے ہوتا ہے۔ جو جیسی چیز ہوگی ویسے ہی اس کا رفع بھی ہوگا۔ ہمیں نہ روحانی رفع سے انکار ہے نہ جسمانی سے۔ قرآن وحدیث میں اس کی بکثرت امثلہ موجود ہیں۔ مگر آپ لوگ ہر جگہ روحانی ہی رفع مراد لیتے ہیں۔ یہ آپ کی کم علمی یا ہٹ دھرمی کا ثبوت ہے۔ دعا بین السجدتین میں جو رفع کا لفظ ہے۔ وہ بھی ہمارے مدعا کے خلاف نہیں۔ کیونکہ وہ منقولی رنگ میں پڑھی جاتی ہے۔ نیز اس سے یہ مقصود ہے کہ یا اللہ تو ہم کو جنت عالیہ میں سرر مرفوعہ پر مرفوع فرما۔ نبی علیہ السلام کے اس کلام کا مقصد یہ ہو سکتا ہے کہ یا اللہ جس طرح تیری توفیق سے اب سجدہ سے میں نے سر اٹھایا ہے۔ اسی طرح قیامت کے دن جب میں سجدہ میں سر رکھوں گا تو اپنا حکم ارفع راسک صادر فرمائیو۔
مرزائی عذر...... رسمی عقیدہ؟
مرزا قادیانی نے ”براہین احمدیہ“ میں محض رسمی طور پر عقیدہ حیات مسیح کا لکھ دیا تھا۔ کوئی ١٢
خدائی حکم نہ تھا۔ جواب عذر اولا تو ہمیں یہ مضر نہیں۔ رسول یزدانی و تصریحات علماء ربانی سے حیات مسیح یہ عذر بالکل غلط و مردود ہے۔ کیونکہ مرزا قادیانی بـ ملاحظہ ہو (ایک غلطی کا ازالہ ص ١ ، خزائن ج ١٨ ص ٢٠٦ مـ مرزا قادیانی کی یہ تحریر جس میں حیات مسیح کا اقرار بـ کیونکہ مرزا قادیانی اس کتاب کے صفحہ ہو کر بغرض اصلاح تالیف کی۔“ (اشتہار بـ آنحضرت ﷺ نے الہام سے اس کا نام قطعی رکھا بـ ملاحظہ ہو۔ (براہیـ مرزائی دوستو! اب بتاؤ یہ رسمی عقیدہ تھـ قادیانی کا قطب ستارہ ٹوٹتا ہے اور اگر مسیح مانتے ڈھانچہ یعنی مرزا قادیانی کا مسیح موعود ہونے کا دعویٰ بـ حاصل کلام وخلاصۃ المرام یہ کہ مرزا قادیانی حیات مسیح کے قائل تھے، بالکل لغو اور باطل
حیات مسیح علیہ السلام کا ثبوت احادیث نـ
- ١....... مشکوٰۃ باب بدء الخلق میں بحوالہ مسلم
النبی ﷺ قال عرض علی الانبیاء فا رجال شنوۃ ورأيت عیسیٰ بن مريم بن مسعود (مسلم ج ١ ص ٩٥) ”یعنی فرما السلام مجھ سے ملے۔ موسیٰ علیہ السلام تو دبلے پتلے اور عیسیٰ علیہ السلام مشابہ تھے مانند عروہ بن مسعود کـ حدیث ہٰذا سے معلوم ہوا کہ حضرت عیـ اٹھایا ہوا ہے۔ حضرت عروہ بن مسعودؓ کے مشابہ ہـ ملاحظہ ہو۔
- ٢....... صحیح مسلم میں حضرت ابن عمرؓ سے روایـ
خدائی حکم نہ تھا۔
جواب عذر اولاً تو ہمیں یہ مضر نہیں۔ کیونکہ ہم نے بفضلہ تعالیٰ آیات قرآنی واحادیث رسول یزدانی وتصریحات علماء ربانی سے حیات مسیح کا مسئلہ ثابت کر دیا ہے۔ ثانیاً احمدی حضرات کا یہ عذر بالکل غلط و مردود ہے۔ کیونکہ مرزا قادیانی بقول خود براہین احمدیہ کے وقت رسول اللہ تھے۔ ملاحظہ ہو (ایک غلطی کا ازالہ ص ١، خزائن ج ١٨ ص ٢٠٦، ٢٠٧، ایام الصلح اردو ص ٧٥، خزائن ج ١٤ ص ١٠٩) پس مرزا قادیانی کی یہ تحریر جس میں حیات مسیح کا اقرار ہے۔ مرزائیوں پر مثل وحی اللہ حجت ہے۔
کیونکہ مرزا قادیانی اس کتاب کے متعلق لکھتا ہے کہ ”مؤلف نے یعنی (مرزا نے ) ملہم ہو کر بغرض اصلاح تالیف کی۔“ (اشتہار براہین احمدیہ، سرمہ چشم آریہ، خزائن ج ٢ ص ٣١٩) آنحضرت ﷺ نے اس کا نام قطبی رکھا۔ یعنی قطب ستارہ کی طرح مستحکم اور غیر متزلزل۔ ملاحظہ ہو۔
(براہین احمدیہ حصہ سوم ص ٢٣٨، ٢٣٩، خزائن ج ١ ص ٢٧٥)
مرزائی دوستو! اب بتاؤ یہ رسمی عقیدہ تھا یا حتمی تھا یا غلط؟ اگر غلط اور رسمی کہتے ہو تو مرزا قادیانی کا قطب ستارہ ٹوٹتا ہے اور اگر صحیح مانتے ہو جس کے مانے بغیر کوئی چارہ نہیں تو مرزائی ڈھانچہ یعنی مرزا قادیانی کا مسیح موعود ہونے کا دعویٰ غلط ہوتا ہے۔
حاصل کلام و خلاصۃ المرام یہ کہ مرزائیوں کا یہ کہنا کہ محض رسمی عقیدہ کی بناء پر مرزا قادیانی حیات مسیح کے قائل تھے، بالکل لغو اور باطل ہے۔
حیات مسیح علیہ السلام کا ثبوت احادیث نبویہ سے
- ١....... مشکوٰۃ باب بداء الخلق میں بحوالہ مسلم بروایت جابر منقول ہے: ’’ان رســـــــول
اللہ ﷺ قال عرض على الانبياء فـاذا موسى ضرب من الرجال كانه من رجال شنوة ورايت عيسى بن مريم فاذا هو اقرب من رايت به شبها عروة بن مسعود (مسلم ج ١ ص ٩٠) “ یعنی فرمایا رسول اللہ ﷺ نے شب معراج ان انبیاء علیہم السلام مجھ سے ملے۔ موسیٰ علیہ السلام تو دبلے پتلے تھے گویا قبیلہ شنوءہ کے آدمیوں میں سے ہیں اور عیسیٰ علیہ السلام مشابہ تھے ساتھ عروہ بن مسعودؓ کے۔
حدیث ہذا سے معلوم ہوا کہ حضرت عیسیٰ بن مریم علیہ السلام جن کو اللہ نے آسمان پر اٹھایا ہوا ہے۔ حضرت عروہ بن مسعودؓ کے مشابہ ہیں۔ اسی کو ملحوظ نظر رکھتے ہوئے دوسری حدیث ملاحظہ ہو۔
- ٢....... صحیح مسلم میں حضرت ابن عمرؓ سے روایت ہے کہ نبی علیہ السلام نے فرمایا نکلے گا دجال
١٣
پس رہے گا زمین میں’ فيبعث الله عيسى بن مريم كانه عروة بن مسعود فيطلبه فيهلكه (مسلم ج٢ ص٤٠٣) كذافي المشكوة باب لاتقوم الساعة “ پس بھیجے گا اللہ عیسیٰ بن مریم کو گویا کہ وہ عروہ بن مسعود ہیں۔ پس وہ ڈھونڈیں گے دجال کو پس ہلاک کریں گے اس کو۔
واضح ہو کہ پہلی حدیث میں جس مسیح علیہ السلام کو آپ ﷺ نے آسمان پر دیکھا۔ دوسری حدیث میں اس کا نزول بتایا۔ جس سے صاف ثابت ہوا کہ وہی مسیح بن مریم رسول اللہ تشریف لائیں گے نہ کہ گورداسپوری مثیل مسیح۔
- ٣....... ابن ماجہ میں موقوفاً اور مسند احمد میں مرفوعاً عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے:
”قال لما كان ليلة اسرى برسول الله ﷺ لقى ابراهيم و موسى و عيسىٰ فتذاكروا الساعة فبدأ بابراهيم فسالوه عنها فلم يكن عنده منها علم ثم سألوا موسىٰ فلم يكن عنده علم فردالحديث الى عيسىٰ بن مريم فقال قد عهد الى فيما دون وجبتها فاما وجبتها فلا يعلمها الا الله فذكر خروج الدجال و خروج عيسىٰ بن مريم (ابن ماجه ص٢٩٩)“
یعنی شب معراج میں انبیاء علیہم السلام سے ملاقات کے وقت قیامت کا تذکرہ شروع ہوا۔ سب نے اس کے وقت سے لاعلمی کا اظہار کیا۔ آنحضرت مسیح علیہ السلام سے سوال کیا گیا تو آپ نے فرمایا علم تو مجھے بھی نہیں، البتہ مجھ سے وعدہ ہوا ہے قرب قیامت کے نازل ہونے کا۔ پس آپ نے دجال کا ذکر کیا اور فرمایا کہ میں نازل ہو کر اس کو قتل کروں گا۔
اسی طرح دیگر بہت سی احادیث سے قرب قیامت کے نزول مسیح کا ثبوت ملتا ہے۔ جو حیات مسیح پر صاف اور صریح دال ہیں۔
نیز قرآن مجید پارہ ١٣ سورۃ رعد میں ارشاد الٰہی ہے: ”ولقد ارسلنا رسلا من قبلك وجعلنا لهم ازواجا وذرية“ ”اے نبی! ہم نے تجھ سے پہلے رسولوں کو اولاد و ازواج والے بنایا تھا“ چونکہ حضرت مسیح بھی محمد مصطفیٰ ﷺ سے پہلے کے رسول ہیں۔ جو بموجب آیت بالا بیوی بچوں والے ہونے چاہئیں۔ حالانکہ ان کی بیوی نہ تھی۔ چنانچہ مرزا قادیانی کے بھی اس پر دستخط موجود ہیں۔ (کلام مرزا اور ریویو ص ١٤٢) اور اولاد بھی نہ تھی۔ (ص٢٣٦ تریاق ج ص٩٩، تریاق ط٢ والحکم ١٠؍ اپریل ١٩٠٥ء وغیرہ) پس لازم ہوا کہ ابھی تک وہ زندہ ہوں اور بعد نزول بیوی کر کے صاحب اولاد ہو کر فوت ہوں چنانچہ حدیث میں نبی علیہ الصلوۃ والسلام کا ارشاد ہے۔ ١٤
- ٤...... ”عن عبدالله بن عمرؓ قال قا
مريم الى الارض فيتزوج ويولد له ويمكث دفن معى فى قبرى (مشكوة ص٤٨٠، باب نزو کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا، آئندہ زمانے میں عیسیٰ کریں گے۔ ان کی اولاد ہوگی۔ وہ ٤٥ سال زندہ رہی مقبرے میں دفن ہوں گے۔
اسی طرح مشکوٰۃ باب فضائل سید المرسلین سے مروی ہے انہوں نے کہا کہ توریت میں نبی علیہ ”عيسىٰ بن مريم يدفن معه قال ابومودو عیسیٰ علیہ السلام محمد ﷺ کے پاس مدفون ہوں گے۔ ر میں سے تھے، فرماتے ہیں کہ حجرۂ نبوی میں ابھی تک ا كثير میں تحت آیت ”وان من اهل الكتاب“ عبداللہ بن سلام سے روایت کی ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام اور ان کی قبر چوتھی قبر ہوگی۔
”فيكون قبره رابعا “ نیز تفسیر ابن ج منقول ہے: ”قال رسول الله ﷺ لليهود ا قبل يوم القيمة “ یعنی فرمایا رسول اللہ ﷺ نے کہ وہ قیامت سے پہلے واپس لوٹ کر آئیں گے۔
پس ان احادیث صحیحہ و عبارت مندرجہ ب زندہ ہیں۔ جو قرب قیامت کے دن زمین پر نازل ہو کر حجرہ نبویہ مدینہ منورہ میں مدفون ہوں گے۔ قرآن م لعلم للساعة فلا تمترون بها واتبعون ( عباسؓ سے جن کو دعائے نبوی سے علم قرآن حاصل تھا ج ١ ص٤١٧، درمنثور ج٦ ص٢٠، ابن کثیر ج٩ ص١٤٤، فتح البا ہٰذا میں عیسیٰ علیہ السلام کا نزول قبل از قیامت مطلو ١٥
٤...... ”عن عبدالله بن عمر قال قال رسول الله ﷺ ينزل عيسى بن مريم الى الارض فيتزوج ويولد له ويمكث خمسا واربعين سنة ثم يموت فيد فن معى فى قبرى (مشكوة ص٤٨٠، باب نزول عيسى)“ یعنی ابن عمرؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا، آئندہ زمانے میں عیسیٰ بن مریم زمین پر نازل ہوں گے اور نکاح کریں گے۔ ان کی اولاد ہوگی۔ وہ ٤٥ سال زندہ رہیں گے۔ پھر فوت ہو کر میرے پاس میرے مقبرے میں دفن ہوں گے۔
اسی طرح مشکوٰۃ باب فضائل سید المرسلین، فصل ثانی میں عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ سے مروی ہے انہوں نے کہا کہ توریت میں نبی علیہ السلام کی صفت میں یہ بھی مرقوم ہے کہ ”عيسى بن مريم يدفن معه قال ابومودود بقى فى البيت موضع قبر“ یعنی عیسیٰ علیہ السلام محمد ﷺ کے پاس مدفون ہوں گے۔ راوی حدیث ابومودود جو فضلاء و صلحاء مدینہ میں سے تھے، فرماتے ہیں کہ حجرۂ نبوی میں ابھی تک ایک قبر کی جگہ باقی ہے۔ اسی طرح تفسیر ابن کثیر میں تحت آیت ”وان من اهل الكتاب“ بروایت طبرانی، ابن عساکر اور تاریخ بخاری عبداللہ بن سلام سے روایت کی ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام نبی علیہ السلام کے حجرہ میں دفن ہوں گے اور ان کی قبر چوتھی قبر ہوگی۔
”فيكون قبره رابعا“ نیز تفسیر ابن جریر وابن ابی حاتم و درمنثور میں امام حسنؒ سے منقول ہے: ”قال رسول الله ﷺ لليهود ان عيسى لم يمت وانه راجع اليكم قبل يوم القيمة“ یعنی فرمایا رسول اللہ ﷺ نے کہ بیشک عیسیٰ علیہ السلام ابھی تک نہیں مرے اور وہ قیامت سے پہلے واپس لوٹ کر آئیں گے۔ (درمنثور ج ١ ص ٣٦، تفسیر ابن کثیر ج ١ ص ٣٦٦)
پس ان احادیث صحیحہ و عبارت مندرجہ سے صاف واضح ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام ابھی زندہ ہیں۔ جو قرب قیامت کے دن زمین پر نازل ہوں گے اور بیوی بچے ہونے کے بعد وفات پا کر حجرہ نبویہ مدینہ منورہ میں مدفون ہوں گے۔ قرآن مجید میں بھی ارشاد باری تعالیٰ ہے: ”وانه لعلم للساعة فلا تمترون بها واتبعون (پ٢٥)“ آیت ہٰذا کی تفسیر میں حضرت ابن عباسؓ سے جن کو دعائے نبوی سے علم قرآن حاصل تھا۔ جو مرزا قادیانی کو بھی مسلم ہے۔ (مسند احمد ج ١ص٢٦٧، درمنثور ج٦ص٢٠، ابن کثیر ج٩ص١٤٣، فتح البیان ج٨ص٣١١ وغیرہ) میں مروی ہے کہ آیت ہٰذہ میں عیسیٰ علیہ السلام کا نزول قبل از قیامت مطلوب و مقصود ہے۔ اسی طرح تفسیر ابن جریر میں
١٥
جن کو مرزا قادیانی بھی رئیس المفسرین مانتے ہیں، مرقوم ہے (ج٥ص٢٨) نیز محدث عبد بن حمید نے بروایت ابوہریرہؓ یہی معنی نقل کئے ہیں۔ (درمنثور ج٦ص٢٠)
مرزائی اعتراض...... لعلم للساعة سے مراد قرآن؟
اس آیت میں ”انہ“ کی ضمیر مسیح کی طرف نہیں ہے۔ قرآن کی طرف ہے۔ نیز ساعت سے مراد قیامت نہیں۔
جواب اعتراض آہ! چہ دلاور است دزدے کہ بکف چراغ دارد، آیات قرآنی و احادیث نبوی و تفاسیر صحابہ کے ہوتے ہوئے اپنے غلط اور جھوٹے مذہب کی حمیت کی وجہ سے اس قدر دلیری اور جرأت کر کے یہ کہنا کہ یہ ضمیر مسیح کی طرف نہیں، سراسر انصاف کا خون کرنا نہیں تو اور کیا ہے۔ خیر الامہ مفسر قرآن حضرت ابن عباسؓ تو فرمائیں کہ اس سے مراد عیسیٰ علیہ السلام ہیں۔ نیز جملہ مفسرین معتبرین اسی کے قائل ہیں۔ مگر قادیانی حضرات نہ مانیں اور تاویل باطلہ سے کام لیں تو کوئی مسلمان اسے باور نہیں کر سکتا۔
احمدی دوستو! آؤ ہم تمہارے مصنوعی نبی مرزا قادیانی سے کہلوا دیں کہ اس سے مراد مسیح علیہ السلام ہیں۔ تب تو مانو گے؟ آئیے ہم مرزا قادیانی سے اس پر دستخط کرا دیں۔ سنئے! (اعجاز احمدی ص٢١، خزائن ج١٩ص١٣٠) میں مرزا قادیانی لکھتے ہیں: ”قرآن شریف میں ہے ’انه لعلم للساعة‘ یعنی اے یہود! عیسیٰ کے ساتھ تمہیں قیامت کا پتہ لگ جائے گا۔“ صاف ظاہر ہے کہ عبارت ہذا میں ”انہ“ کی ضمیر بطرف مسیح تسلیم کی گئی ہے۔ اب بتاؤ تم سچے یا مرزا قادیانی؟
اگر آپ قرآن مجید میں اس آیت کے سیاق و سباق پر غور کر لیتے تو ایک واضح اور صریح چیز کے انکار کی جرأت نہ ہوتی۔ ذرا قرآن مجید کھول کر دیکھئے۔ اس آیت کے شروع رکوع کے الفاظ ہیں: ”ولما ضرب ابن مریم مثلا“ پھر فرمایا ”ان هو الا عبد انعمنا عليه“ پھر فرمایا ”وانه لعلم للساعة“ جب قرآن مجید میں خود ابن مریم کا لفظ موجود ہے تو آپ کا یہ فرمانا کہ ضمیر کا مرجع ابن مریم نہیں بلکہ قرآن ہے۔ تکذیب قرآن نہیں تو اور کیا ہے۔ اللہ سے ڈرو اور اپنی ایک غلط چیز کے منوانے میں قرآن و حدیث کو نہ جھٹلاؤ۔ ورنہ قیامت کے دن رسوا اور ذلیل ہو گے۔ العیاذ باللہ۔
اسی طرح یہ کہنا یہ ساعت سے مراد قیامت نہیں، مغالطہ دہی اور کذب بیانی سے خالی نہیں۔ مرزا قادیانی (حمامة البشریٰ ص٩٠، خزائن ج٧ص٣١٥) میں لکھتا ہے: ”ایک فرقہ یہود کا
١٦
قیامت کے وجود سے منکر تھا۔ خدا نے بعض انبیاء کی زبانی باپ پیدا ہوگا۔ یہ قیامت کے وجود پر ایک نشانی ہے۔“
اس عبارت سے صاف ثابت ہے کہ مراد گھڑی۔ اسی طرح خود مصنف مرزائی پاکٹ بک نے ” پھیری ہے اور ساعت سے مراد حقیقی قیامت لکھی ہے۔ ما
مرزائی اعتراض...... شک کا کیا معنی؟
مسیح کا نزول تو آئندہ ہونا تھا۔ پہلے ہی س نشانی نے مدت کے بعد آنا ہے تو ان کو شک سے کس برب
جواب اعتراض کیوں جناب! ایک سچ مچ واق ہدایت کرنا آپ کے نزدیک ناجائز ہے؟ یہاں تو کفار م ہیں۔ اللہ عزوجل تو موسیٰ علیہ السلام جیسے اولوالعزم رس الساعة اتية اكاد اخفيها الى قوله تعالى واتبع هواه فتردى (پ١٦:سورت طه)“ خبردار! کوئی بے ایمان خواہش پرست تجھے اس کے مان
بھلا اس جگہ اگر مخالفین اسلام میں سے کوئی السلام کو قیامت پر شک نہ تھا۔ پھر یہ وعظ کیسا؟ یا ابھی پہلے سے ان کو شک کرنے سے کیسے روکا جا رہا ہے۔ تو بتائ فهو جوابنا “ آؤ تمہیں تمہارے گھر کی ایک مثا جائے۔ مرزا جی کا نکاح آسمانی محمدی بیگم سے دنیا میں باوجود اس صریح جھوٹی پیش گوئی کے مرزا قادیانی کا ا ”الحق من ربك فلا تكونن من الممترين “ شک کرتا ہے۔“ (ازالہ اوہام ص٣٩٨، روحانی خزائن ج نکاح تو نہ ہونا تھا نہ ہوا، اتنے پہلے ہی شک سے روکا جا
مقام حیرت و تعجب ہے فرقہ احمدیہ مرزائیہ نصوص قرآنیہ کی بھی پرواہ نہیں کرتے اور تاویلات رکی
١٧
قیامت کے وجود سے منکر تھا۔ خدا نے بعض انبیاء کی زبانی ان کو خبر دی کہ تمہاری قوم میں ایک لڑکا بلا باپ پیدا ہوگا۔ یہ قیامت کے وجود پر ایک نشانی ہے۔“
اس عبارت سے صاف ثابت ہے کہ مراد قیامت سے حقیقی قیامت ہے نہ کوئی اور گھڑی۔ اسی طرح خود مصنف مرزائی پاکٹ بک نے ”انـــــــہ“ کی ضمیر مسیح علیہ السلام کی طرف پھیری ہے اور ساعت سے مراد حقیقی قیامت لکھی ہے۔ ملاحظہ ہو
(ص ٢٣٩)
مرزائی اعتراض ....... شک کا کیا معنی؟
مسیح کا نزول تو آئندہ ہونا تھا۔ پہلے ہی سے کیسے کہہ دیا کہ شک نہ کرو۔ جب ابھی نشانی نے مدت کے بعد آنا ہے تو ان کو شک سے کس برتے پر روکا جاتا ہے۔
جواب اعتراض کیوں جناب! ایک سچ مچ واقع ہونے والی بات پر شک نہ کرنے کی ہدایت کرنا آپ کے نزدیک ناجائز ہے؟ یہاں تو کفار مخاطب ہیں جو مسیح علیہ السلام کی آمد کے منکر ہیں۔ اللہ عزوجل تو موسیٰ علیہ السلام جیسے اولوالعزم رسول کو بھی بطور ہدایت فرماتا ہے کہ: ”ان الساعة اتية اكاد اخفيها الى قوله تعالى فلا يصدنك عنها من لا يؤمن بها واتبع هواه فتردی (پ ١٦: سورت طہ) ”اے موسیٰ! قیامت یقیناً آنے والی ہے۔ خبردار! کوئی بے ایمان خواہش پرست تجھے اس کے ماننے سے نہ روک دے۔“
بھلا اس جگہ اگر مخالفین اسلام میں سے کوئی آریہ وغیرہ اعتراض کرے کہ موسیٰ علیہ السلام کو قیامت پر شک نہ تھا۔ پھر یہ وعظ کیسا؟ یا ابھی قیامت نے مدت کے بعد آنا تھا۔ تو اتنے پہلے سے ان کو شک کرنے سے کیسے روکا جا رہا ہے۔ تو بتاؤ کیا جواب دو گے؟ ”ماهو جوابکم فهو جوابنا “ آؤ تمہیں تمہارے گھر کی ایک مثال دے کر سمجھائیں۔ شاید تمہاری سمجھ میں آ جائے۔ مرزا جی کا نکاح آسمانی محمدی بیگم سے دنیا میں نہ ہونا تمہارے مسلمات میں سے ہے۔ باوجود اس صریح جھوٹی پیش گوئی کے مرزا قادیانی کا الہام کنندہ قبل از وقت کہتا رہا۔ ”اے مرزا! ”الحق من ربک فلا تكونن من الممترین“ تیرے رب کی طرف سے حق ہے تو کیوں شک کرتا ہے۔“ (ازالہ اوہام ص ٣٩٨، روحانی خزائن ج ٣ ص ٣٠٦) کیوں جناب! یہ کیا بات ہے۔ نکاح تو نہ ہونا تھا نہ ہوا۔ اتنے پہلے ہی شک سے روکا جارہا ہے۔ آہ:
مقام حیرت و تعجب ہے فرقہ احمدیہ مرزائیہ پر کہ اپنے باطل مذہب کی حمیت کی وجہ سے نصوص قرآنیہ کی بھی پرواہ نہیں کرتے اور تاویلات رکیکہ سے تکذیب حق کے مرتکب ہوتے ہیں۔
١٧
آپ جس آیت کی تفسیر پڑھ رہے ہیں۔ یہ آیت اور اس کے ماقبل کے رکوع کی آیت: "و يكلم الناس فى المهد وكهلا من الصلحين" نزول مسیح علیہ السلام کی صریح دلیل ہے۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی پیدائش سے قبل فرشتہ نے منجانب اللہ جناب مریم صدیقہ کو بطور بشارت یہ خبر دی کہ تمہارے بطن سے ایک لڑکا پیدا ہوگا جو: "يكلم الناس فى المهد وكهلا ومن الصلحين (آل عمران:٤٦) " کلام کرے گا لوگوں سے بچپن کی عمر میں اور کہولت کی عمر میں نیز وہ صالحین سے ہوگا۔
اس آیت میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے کلام مہد وکہولت کو اللہ عزوجل نے منجملہ انعامات کے ذکر کیا ہے۔ جو دونوں معجزہ کے رنگ میں ہیں۔ کلام مہد تو اس لئے معجزہ ہے کہ ایسے بچے کو تو خود اپنے وجود کی سدھ بدھ نہیں ہوتی۔ چہ جائیکہ وہ اپنی والدہ ماجدہ سے الزام رفع کرے اور اپنے نبی صاحب کتاب ہونے کا دعویٰ کرے۔ باقی رہا کہولت میں کلام کرنا۔ سو بظاہر یہ کوئی خارق عادت بات نہیں۔ کیونکہ اس عمر میں ہر زندہ انسان کلام کرتا ہے۔ مگر جب قرآن مجید کی دیگر آیات واحادیث پر نظر ڈالی جائے تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا آسمان پر جانا پھر مدت مدید کے بعد بغیر کسی ظاہری تغیر کے اسی حالت میں نازل ہونا خدمت دین کرنا ثابت وعیاں ہے۔
پس اس آیت میں اسی عمر کہولت کا ذکر ہے جو فی الواقع معجزہ ہے۔ (تفسیر فتح البیان ج٢ ص٢٤٨) میں ہے: "وفى الاية بشارة لمريم بانه يبقى حتى يكتمل وفيه انه يتغيرمن حال الى حال ولوكان الها لم يدخل عليه التغيير ففيه ردعلى النصارىٰ وقال الحسن ابن الفضل يكلم الناس كهلا بعد نزوله من السماء وفيه نص على انه سينزل من السماء الى الارض"
یعنی اس آیت پر مریم علیہا السلام کے لئے بشارت ہے کہ ان کا بیٹا عیسیٰ زندہ رہے گا۔ یہاں تک کہ بڑھاپے کی عمر میں لوگوں سے کلام کرے گا اور اس میں نصاریٰ کا بھی رد ہے جو ان کو خدا مانتے ہیں کہ دیکھو عیسیٰ علیہ السلام میں تغیر ہوگا۔ ایک حال سے یعنی جوانی سے دوسرے حال یعنی بڑھاپے میں داخل ہوں گے۔ اگر وہ خدا ہوتے تو یہ تغیر نہ ہوتا۔ یعنی کبھی جوان اور کبھی بوڑھے۔ علامہ حسن بن فضلؒ نے فرمایا کہ عیسیٰ علیہ السلام آسمان سے اترنے کے بعد عمر کہولت میں لوگوں سے کلام کریں گے۔
یہ آیت نص ہے۔ اس بات پر کہ وہ آسمان سے زمین کی طرف ضرور اتریں گے۔ نیز اس آیت میں رد ہے مرزائیوں کا جو نزول مسیح علیہ السلام کے منکر ہیں۔ اسی طرح علامہ ابن جریرؒ جو
١٨
مرزا قادیانی کے مسلمہ رئیس المفسرین ہیں، رقمطراز ہ وسيكلمهم اذا قتل الدجال وهو يومئذ نے اپنی ماں کی گود میں بھی کلام کیا اور آسمان سے اتر سے کلام کریں گے۔...... وہ ان کے کہولت کا زمانہ شعو تفسیر کبیر، تفسیر خازن ومعالم میں اس آیت کو نزول م اگر بالفرض والتقدیر مرزائیوں کا عقیدہ صحیح تسلیم کر لیا بلکہ جوانی کی حالت میں فوت ہو گئے۔ تو قرآن و ح تکذیب لازم آئے گی۔ فالعیاذ باللہ تعالیٰ۔
مرزائی اعتراض...... تین چاند؟
حدیث میں آیا ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام آ اگر یہ صحیح ہے تو پھر حضرت عائشہؓ کو خواب میں تین آئے تھے۔
جواب اعتراض عائشہ رضی اللہ عنہا کو خواب
زندگی میں ان کے حجرہ میں صرف تین چاندی ج دیکھنے والی تھیں۔ یعنی نبی کریم ﷺ کو اور اپنے والد باقی رہے حضرت عیسیٰ علیہ السلام سو وہ حضرت عائشہ وجہ سے ان کو نہ دکھائے گئے۔ مزید برآں اگر حدیث کے خواب یا قول کے خلاف ہونے سے غلط یا موض باللہ مردود ہو جائے گا اور اسلام دنیا سے رخصت۔
٥...... مشکوٰۃ ص٤٧٩، باب قصہ ابن صیاد م ابن صیاد کو دیکھنے گئے۔ ابن صیاد کے متعلق صحابہؓ کو عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کی: "ائذن لی یارسول يكن هو فلست صاحبه انما صاحبه دیجئے کہ میں ابھی اسے قتل کردوں۔ آپ ﷺ نے سکے گا۔ کیونکہ اس کا قتل عیسیٰ بن مریم کے ہاتھوں م
مرزا قادیانی کے مسلمہ رئیس المفسرین ہیں، رقمطراز ہیں: ”قد كلمهم عيسى فى المهد وسيكلمهم اذا قتل الدجال وهو يومئذ كهل (ج ٣ ص ١٠٩)“ یعنی عیسیٰ علیہ السلام نے اپنی ماں کی گود میں بھی کلام کیا اور آسمان سے اتر کر جب دجال کو قتل کریں گے تب بھی لوگوں سے کلام کریں گے۔ ...... وہ ان کے کہولت کا زمانہ ہوگا۔ ایسا ہی تفسیر فتح البیان، ترجمان القرآن، تفسیر کبیر، تفسیر خازن و معالم میں اس آیت کو نزول من السماء کے بعد کلام کرنے پر دلیل لکھا ہے۔ اگر بالفرض والتقدیر مرزائیوں کا عقیدہ صحیح تسلیم کر لیا جائے کہ عیسیٰ علیہ السلام آسمان پر نہیں گئے بلکہ جوانی کی حالت میں فوت ہو گئے۔ تو قرآن وحدیث و جملہ مفسرین، محدثین و آئمہ دین کی تکذیب لازم آئے گی۔ فالعیاذ باللہ تعالیٰ۔
مرزائی اعتراض...... تین چاند؟
حدیث میں آیا ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام آنحضرت ﷺ کے مقبرہ میں دفن ہوں گے۔ اگر یہ صحیح ہے تو پھر حضرت عائشہؓ کو خواب میں تین چاند کیوں دکھائی دیئے؟ پھر تو چار چاند نظر آنے تھے۔
جواب اعتراض عائشہ رضی اللہ عنہا کو خواب میں تین چاند اس لئے دکھائی دیئے کہ ان کی زندگی میں ان کے حجرہ میں صرف تین چاند ہی دفن ہونے والے تھے اور وہ صرف تینوں ہی کو دیکھنے والی تھیں۔ یعنی نبی کریم ﷺ کو اور اپنے والد ماجد ابو بکر صدیقؓ و عمر فاروق رضی اللہ عنہما کو باقی رہے حضرت عیسیٰ علیہ السلام سو وہ حضرت عائشہؓ کی زندگی میں دفن ہونے والے نہیں تھے۔ اسی وجہ سے ان کو نہ دکھائے گئے۔ مزید برآں اگر حدیث نبوی یعنی فرمان رسالت مآب ﷺ کسی امتی کے خواب یا قول کے خلاف ہونے سے غلط یا مشکوک ہو جائے تو آج احادیث کا سارا دفتر نعوذ باللہ مردود ہو جائے گا اور اسلام دنیا سے رخصت۔
- ٥...... مشکوٰۃ ص ٤٧٩، باب قصہ ابن صیاد میں مذکور ہے کہ نبی علیہ السلام بمعہ چند صحابہ کرامؓ
ابن صیاد کو دیکھنے گئے۔ ابن صیاد کے متعلق صحابہ کو شبہ ہوا کہ کہیں یہی دجال موعود نہ ہوں۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کی: ”ائذن لی یارسول الله فاقتله فقال رسول الله ﷺ ان یکن هو فلست صاحبه انما صاحبه عيسى بن مريم“ یا رسول اللہ! مجھے اجازت دیجئے کہ میں ابھی اسے قتل کر دوں۔ آپ ﷺ نے فرمایا اگر یہ وہی دجال ہے تو پھر تو اسے قتل نہ کر سکے گا۔ کیونکہ اس کا قتل عیسیٰ بن مریم کے ہاتھوں اللہ تعالیٰ نے مقرر کر دیا ہے۔
١٩
احمدی مترو! تمہارے نبی مرزا جی نے بھی یہی معنی لکھے ہیں، مرزا لکھتا ہے: ”آنحضرت ﷺ نے عمرؓ کو قتل کرنے سے منع کیا اور فرمایا اگر یہی دجال ہے تو اس کا صاحب عیسیٰ بن مریم ہے۔ جو اسے قتل کرے گا۔ ہم اسے قتل نہیں کر سکتے۔“ (ازالہ اوہام ص ٢٢٥، خزائن ج ٣ ص ٢١٢، ٢١٣) پس ثابت ہوا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام آسمان پر زندہ موجود ہیں۔ جو ایک نہ ایک دن زمین پر اتر کر دجال کو قتل کریں گے۔ جیسا کہ حدیث معراج میں اس کی مزید تائید ہے۔
مرزائی اعتراض ...... قتل سے مراد دلائل؟
اس حدیث میں قتل سے مراد جسمانی قتل نہیں ہے۔ بلکہ دلائل سے قتل ولا جواب کرنا مقصود ہے۔ جیسا کہ ہمارے مرزا قادیانی نے مخالفین کو دلائل سے لاجواب کیا۔ گویا انہیں قتل کر دیا۔
جواب اعتراض آہ! خدا الٹی سمجھ کسی کو نہ دے: ”ذالك بانهم قوم لايفقهون“ یہاں قتل سے روحانی و دلائل سے قتل مراد لینا بالکل لغو اور باطل ہے۔ صحیح بات یہی ہے کہ اس سے مراد ظاہری و جسمانی قتل ہے۔ کیونکہ حضرت عمرؓ کا آمادہ قتل ہونا اور آپ کا اس خیال کی تردید نہ کرنا بلکہ دجال کا قتل عیسیٰ علیہ السلام کے ہاتھوں مقدر و متعین فرمانا اس کی صاف اور صریح دلیل ہے۔ اگر دلائل سے قتل کرنا مقصود ہوتا تو کیا نبی علیہ السلام اور حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ دلائل بیان کرنے سے عاجز تھے؟ پڑیں پتھر اس سمجھ پر سمجھے تو یوں سمجھے۔ ”وكم من عائب قولا صحيحاً وآفته من الفهم السقيم“
- ٦...... صحیح مسلم کی طویل حدیث میں ...... ہے کہ دجال اپنا فتنہ و فساد برپا کر رہا ہوگا کہ ’اذ
بعث الله المسيح بن مريم عليه السلام فينزل عند المنارة البيضاء شرقى دمشق بين مهرودتين واضعا كفيه على اجنحة ملكين الحديث، فيطلبه حتى يدركه بباب لد فيقتله (مسلم ج ٢ ص ٤٠١) ”پس نازل کرے گا اللہ عزوجل عیسیٰ بن مریم کو منارہ سفید دمشق کے مشرقی طرف۔ پھر فرمایا جس وقت وہ اتریں گے دو چادریں زرد رنگ کی ان کے زیب تن ہوں گی۔ دونوں ہتھیلیاں ان کی دو فرشتوں کے بازوؤں پر ہوں گی۔ پھر حضرت مسیح بن مریم دجال کی تلاش میں نکلیں گے اور ’لد‘ کے دروازہ پر جو بیت المقدس کے دیہاتوں میں سے ایک دیہات ہے۔ اس کو جا پکڑیں گے اور قتل کر ڈالیں گے۔
اسی طرح مرزا قادیانی نے بھی (ازالہ اوہام ص ٢٢٠، خزائن ج ٣ ص ٢٠٨) میں لکھا ہے: ”نیز معراج سے ثابت ہوا کہ مسیح بن مریم قاتل دجال ہیں ۔“ لہٰذا اس جگہ نزول مسیح سے بجز نزول
٢٠
از آسمان کے اور کوئی تاویلی معنی لینا قرآن وحدیث کے سرا سے بھی خدا نے یہی الفاظ لکھوائے ہیں۔ چنانچہ (ازالہ اوہام ص ”صحیح مسلم کی حدیث میں جو یہ لفظ موجود ہے کہ گے تو ان کا لباس زرد رنگ کا ہوگا۔“ الغرض یہ حدیث بھی حیات
مرزائی اعتراض ...... نزول سے مراد ولادت ؟
مسیح علیہ السلام کے متعلق حدیثوں میں نزول کا ل نہیں آیا کہ آسمان سے اتریں گے اور ’نزول‘ کے معنی پیدا انزلنا الحديد ”ہم نے لوہا پیدا کیا۔ جب کوئی صاحب ر سے دریافت کرتے ہیں۔ ”آپ نے کہاں نزول فرمایا“ تو کہ نزول فرمایا۔“
جواب اعتراض جہالت کی بھی ایک حد ہوتی ہے۔ جہالت ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے: ”وانزلنا اليك الذ الامین “ یعنی ہم نے اے نبی تمہاری طرف قرآن اتارا ہے اس کو لے کر اترے ہیں۔“ کیوں جناب! کیا قرآن آسمان پ یہیں زمین پر پیدا ہوا تھا؟ اور جبرائیل بھی زمین میں ثابت کر آئے ہیں کہ مرزا قادیانی مسیح کے آسمان سے ا بے مہار مرزائی ہیں جو اپنے نبی کی بات بھی نہیں مانتے۔ ا مندرجہ ذیل ملاحظہ ہو۔ جس نے معترض کے عقیدہ واعتراض ک
- ٧...... ”عن ابى هريرة انه قال قال رسول الل
مريم من السماء فيكم وامامكم منكم (بيهقى كت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ فرمایا رسول اللہ ﷺ نے تمہارا ک سے عیسیٰ بن مریم آسمان سے نازل ہوں گے اور اس وقت حدیث میں صاف آسمان کا لفظ موجود ہے۔ جس نے مرزائیوں
مرزائی اعتراض ...... قد خلت؟
قرآن مجید میں ہے: ”وما محمد الا رسول عمران: ١٤٤) ”اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ محمد ﷺ سے
٢١
آسمان کے اور کوئی تاویلی معنی لینا قرآن وحدیث کے سراسر خلاف ہے۔ مرزا قادیانی کی قلم سے بھی خدا نے یہی الفاظ لکھوائے ہیں۔ چنانچہ (ازالہ اوہام ص ٨١، خزائن ج ٣ ص ١٤٢) میں لکھتے ہیں:
’’صحیح مسلم کی حدیث میں جو یہ لفظ موجود ہے کہ حضرت مسیح جب آسمان سے اتریں گے تو ان کا لباس زرد رنگ کا ہوگا۔‘‘ الغرض یہ حدیث بھی حیات مسیح کی بین اور واضح دلیل ہے۔
مرزائی اعتراض......نزول سے مراد ولادت؟
مسیح علیہ السلام کے متعلق حدیثوں میں نزول کا لفظ آتا ہے کہ ’’اتریں گے۔‘‘ یہ کہیں نہیں آیا کہ آسمان سے اتریں گے اور ’’نزول‘‘ کے معنی پیدا ہونے کے ہیں۔ جیسا کہ فرمایا: ’’و انزلنا الحدید‘‘ ہم نے لوہا پیدا کیا۔ جب کوئی صاحب باہر سے تشریف لاتے ہیں۔ تو ہم ان سے دریافت کرتے ہیں۔ ’’آپ نے کہاں نزول فرمایا‘‘ تو کیا اس کا مطلب یہ ہوگا کہ آسمان سے نزول فرمایا۔‘‘
جواب اعتراض جہالت کی بھی ایک حد ہوتی ہے۔ ہر جگہ نزول کا معنی پیدائش لینا عین جہالت ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے: ’’وانزلنا الیک الذکر‘‘ نیز فرمایا: ’’نزل بہ الروح الامین‘‘ یعنی ہم نے اے نبی تمہاری طرف قرآن اتارا ہے۔ روح امین یعنی جبرائیل علیہ السلام اس کو لے کر اترے ہیں۔‘‘ کیوں جناب! کیا قرآن آسمان سے نہیں اترا؟
یہیں زمین پر پیدا ہوا تھا؟ اور جبرائیل بھی زمین پر پیدا ہوئے ہیں؟ ہم اوپر کی تحریر میں ثابت کر آئے ہیں کہ مرزا قادیانی مسیح کے آسمان سے اترنے کے قائل ہیں۔ پھر یہ کیسے شتر بے مہار مرزائی ہیں جو اپنے نبی کی بات بھی نہیں مانتے۔ اس اعتراض کے جواب میں حدیث مندرجہ ذیل ملاحظہ ہو۔ جس نے معترض کے عقیدہ واعتراض کو پاش پاش کر کے رکھ دیا۔
- ٧....... ’’عن ابی ھریرة انہ قال قال رسول اللہ ﷺ کیف انتم اذا نزل ابن
مریم من السماء فیکم وامامکم منکم (بیہقی کتاب الاسماء والصفات)‘‘ حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ فرمایا رسول اللہ ﷺ نے تمہارا کیا حال ہوگا اس وقت جب کہ تم میں سے عیسیٰ بن مریم آسمان سے نازل ہوں گے اور اس وقت تمہارا ایک امام بھی موجود ہوگا۔ اس حدیث میں صاف آسمان کا لفظ موجود ہے۔ جس نے مرزائیوں کی تمام تاویلات کو باطل کر دیا۔
مرزائی اعتراض...... قد خلت؟
قرآن مجید میں ہے: ’’وما محمد الا رسول قد خلت من قبلہ الرسل (آل عمران:١٤٤)‘‘ اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ محمد ﷺ سے پہلے سب نبی فوت ہو گئے۔
٢١
جواب اعتراض مقام غور ہے کہ کہاں بیسیوں آیات قرآنیہ و احادیث نبویہ جن میں بالتصریح عیسیٰ علیہ السلام کا نام لے کر ان کا رفع آسمانی وحیات جسمانی ونزول من السماء مذکور و مرقوم ہے اور کجا یہ آیت جس میں نہ مسیح علیہ السلام کا ذکر ہے اور نہ خدا کا مقصد تمام انبیاء کی وفات کا ظاہر کرنا ہے۔ سنئے ! ”خلت“ یا ”خلا“ کے معنی ہیں جگہ خالی کرنا، خواہ زندہ گزر کر یا موت سے ”واذا خلوا الی شیاطینہم (بقرہ:١٤)“ یعنی منافق لوگ جب مسلمانوں سے ملتے ہیں تو کہتے ہیں ہم ایمان لائے اور جب اپنے ملا، مولویوں، شیطانوں کی طرف جاتے ہیں تو کہتے ہیں ہم تو مسلمان سے مذاق کرتے ہیں ۔“
اسی طرح سورۃ آل عمران:١١٩ میں فرمایا: ”واذا خلوا عضوا علیکم الانامل من الغیظ “ یعنی ”اے مسلمانو ! یہ مخالف جب تم سے الگ ہوتے ہیں تو غصہ کے مارے تم پر انگلیاں چباتے ہیں ۔“
کیوں جناب ! یہاں کیا معنی کرو گے؟ کیا یوں کہو گے کہ وہ منافق جب مسلمانوں سے الگ ہوتے تھے تو مر جاتے تھے اور جب پھر ملتے تھے تو زندہ ہو جاتے تھے۔ فیالعجب نیز پارہ اول سورۃ بقرہ میں فرمایا : ”واذا خلا بعضہم الی بعض “ یعنی جب الگ ہوتا ہے بعض ان کا طرف بعض کے ۔“ اگر آپ کتاب وسنت میں غور کرتے تو معلوم ہو جاتا کہ یہ لفظ کتنے معنوں کے لئے آیا ہے۔ ہر جگہ صاف ایک معنی مراد لینا اور دیگر نصوص کو نظر انداز کرنا قطعاً بے انصافی ہے۔
سنئے ! مرزا قادیانی بھی یہی معنی کرتا ہے: ”قد خلت من قبلہ الرسل “ اس سے پہلے بھی رسول ہی آتے رہے۔ (جنگ مقدس ص ٧ ، خزائن ج٦ ص ٨٩) پھر ”الرسل “ کا ترجمہ ”سب رسول“ کرنا بھی اس جگہ مراد خداوندی کے خلاف ہے۔ آیت: ”ولقد اتینا موسیٰ الکتاب وقفينا من بعدہ بالرسل “ کا ترجمہ خود مرزا قادیانی نے ”کئی رسول“ کیا ہے۔ ملاحظہ ہو (شہادۃ القرآن ص ٤٥، خزائن ج٦ ص٣٤٠) نیز آیت : ”قد خلت من قبلہ الرسل “ کا ترجمہ مولوی نورالدین صاحب خلیفہ قادیان نے ”پہلے اس سے بہت سے رسول آچکے ہیں“ کیا ہے۔ ملاحظہ ہو (فصل الخطاب ج ١ ص ٣٢) ایسا ہی سورہ حم السجدہ میں : ”اذ جاءتہم الرسل “ جب آئے اس کے پاس (جنس) رسولوں سے کئی ایک۔
احمدی دوستو! ذرا سوچو تو سہی کیا سب کے سب رسول آگئے تھے؟ پھر تو معلوم ہوتا ہے کہ مرزا قادیانی بھی اس وقت آگئے ہوں گے۔ اور سنو! فرشتے بھی تو رسول ہیں کیا یہ بھی نبی علیہ
٢٢
السلام سے پہلے فوت ہو گئے تھے؟ اگر قرآن کریم میں غور کرو تو انشاء اللہ الستار تمہارے اعتراض کا نتیجہ خود تم پر واضح ہو جائے گا۔ یہود کے متعلق سورۃ آل عمران میں ارشاد باری تعالیٰ ہے: ”يقتلون النبيين“ قتل کرتے ہیں خدا کے نبیوں کو“ کیا سب انبیاء کو انہوں نے قتل کر دیا تھا یا ان کو جو ان کی طرف مبعوث ہوئے؟ اسی طرح کفار کہتے تھے ہم پر عذاب جلدی کیوں اترتا نہیں۔ خدا نے ارشاد فرمایا: ”قد خلت من قبلهم المثلت (رعد)“ یعنی شک کیوں کرتے ہو۔ اس سے پہلے عذاب کی بہت سی مثالیں گزر چکی ہیں۔“
مرزائی دوستو! کیا یہاں بھی ”خلت“ کے معنی موت کے ہیں؟ نیز اسی صورت میں دوسرے مقام پر ارشاد باری ہے: ”كذالك ارسلنك فى امة قد خلت من قبلها امم“ یعنی اے نبی ! اسی طرح بھیجا ہم نے تم کو ایک امت میں کہ اس کے قبل کئی امتیں گزر گئیں۔“
کیا اس جگہ ”خلت“ کے یہ معنی ہیں کہ پہلی امتیں سب کی سب صفحہ ہستی سے مٹ چکی ہیں؟ نہیں، ہرگز نہیں۔ آپ ﷺ کے زمانہ میں یہود و نصاریٰ موجود تھے۔ آپ ﷺ سے مقابلہ و مناظرہ کرتے تھے۔ خود قرآن مجید میں متعدد مقام پر ”اہل الانجیل“، ”اہل الکتاب“ ”اہل تورۃ“ وغیرہ لکھ کر مخاطب کیا ہے۔ الغرض ”خلت“ کے معنی موت سے لے کر وفات مسیح پر استدلال کرنا بالکل غلط اور بے بنیاد ہے۔ بالفرض اگر ”خلت“ کے معنی موت ہی کے لئے جائیں۔ تب بھی عیسیٰ علیہ السلام اس کے عموم سے مستثنیٰ و مخصوص ہوں گے۔ کیونکہ ان کے لئے دیگر دلائل سے ثابت ہے کہ وہ ابھی فوت نہیں ہوئے۔ بلکہ آسمان پر زندہ ہیں۔ قرب قیامت کے نازل ہوں گے۔
اسی طرح ”الرسل“ سے تمام رسول مراد لینا بھی تحکم ہے اور یہ تو بتائیے اگر نبی علیہ السلام سے پہلے تمام رسول فوت ہو چکے تھے تو مرزا قادیانی نے (نور الحق حصہ اوّل ص ٥٠، خزائن ج ٨ ص ٦٨، ٦٩) میں موسیٰ علیہ السلام کا آسمانوں پر زندہ ہونا اور اس پر ایمان لانا لازمی و ضروری کیسے لکھا ہے؟ فرماتے ہیں: ”موسیٰ صرف اور نبیوں کی طرح ایک نبی خدا کا ہے اور اس نبی معصوم کی شریعت کا ایک خادم ہے جس پر تمام دودھ پلانے والی حرام کی گئی تھیں۔ یہاں تک کہ وہ اپنی ماں کی چھاتیوں تک پہنچایا گیا اور اس کا خدا کوہ سینا میں اس سے ہم کلام ہوا اور اس کو پیارا بنایا۔ یہ وہی موسیٰ مرد خدا ہے۔ جس کی نسبت قرآن میں اشارہ ہے کہ وہ زندہ آسمان میں موجود ہے ۔ ”ولم يمت وليس من الميتين “ وہ مردوں میں سے نہیں۔ مگر یہ بات کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام
٢٣
آسمان سے نازل ہوں گے، سو ہم نے اس خیال کا باطل ہونا ثابت کر دیا۔ ہم قرآن میں بغیر وفات عیسیٰ کے کچھ ذکر نہیں پاتے۔“
افسوس صد افسوس کہ مرزا قادیانی کو قرآن مجید میں حیات مسیح نظر نہ آئی جو منصوص ہے اور حیات موسوی نظر آ گئی۔ جس کا کوئی ثبوت نہیں۔ آہ سچ ہے :
چشمہ آفتاب را چہ گناہ
پس معلوم ہوا کہ ”قد خلت“ کا یہ معنی نہیں کہ نبی علیہ السلام سے قبل سب رسول فوت ہو گئے۔ کیونکہ تمہارے نزدیک موسیٰ علیہ السلام ابھی زندہ ہیں۔ جس طرح اس عام حکم سے موسیٰ علیہ السلام کو مستثنیٰ سمجھتے ہو۔ اسی طرح عیسیٰ علیہ السلام کو بھی سمجھ لو۔
مرزائی اعتراض ...... موسیٰ علیہ السلام ؟
اس جگہ موسیٰ علیہ السلام کی روحانی زندگی مراد ہے۔
جواب اعتراض : یہ کہنا کہ اس سے مراد روحانی زندگی ہے۔ بالکل غلط اور باطل ہے۔ نیز مرزا قادیانی کی تقریر کے بھی سراسر خلاف ہے۔ وفات کے بعد روحانی زندگی تو جملہ انبیاء علیہ السلام کو حاصل ہے۔ اس میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کی کیا خصوصیت ؟ نیز اس کے بعد مرزا قادیانی نے جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو مردہ کہا تو یہ تفریق بتا رہی ہے کہ مرزا قادیانی حضرت موسیٰ علیہ السلام کی جسمانی زندگی کے قائل تھے۔ بہر حال اگر ”خلت“ کے معنی موت اور ”الرسل“ میں جملہ انبیاء کو شامل بھی سمجھا جائے تو بھی عیسیٰ علیہ السلام اس سے خارج و مستثنیٰ ہیں۔ کیونکہ ان کی حیات نصوص قطعیہ سے ثابت ہے۔
مرزائیو! حضرت مسیح علیہ السلام کی حیات پر جو قطعی طور پر ثابت ہے۔ عام آیات سے غلط استدلال کر کے شبہات پیش کرنا اہل حق اور انصاف کا کام نہیں، بلکہ شیوہ کفار ہے۔ دیکھو قرآن مجید میں جب یہ آیت نازل ہوئی: ”انكم وما تعبدون من دون الله حصب جهنم“ ”تم اور تمہارے باطل معبود جہنم میں جائیں گے۔“ تو کفار نے بغلیں بجانی شروع کر دیں اور تمہاری طرح آیت ہذا سے عام استدلال کرتے ہوئے مسیح علیہ السلام کو بھی بوجہ اس کے کہ وہ خدا بنائے گئے تھے، جہنمی قرار دیا۔ ان کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ”ما ضربوه لك الا جدلا بل هم قوم خصمون ان هو الا عبد انعمنا عليه (زخرف)“ ”اے نبی ! یہ بدبخت جدالی قوم ہے۔ یہ لوگ سخت جھگڑالو ہیں۔ مسیح تو خدا کا محبوب بندہ ہے جس پر خدا کے
انعامات نازل ہوئے۔ اس قسم کے نیک لوگ جہنمی نہیں ہیں۔﴾
بعینہ یہی مثال مرزائیوں کی ہے کہ وہ بھی مثل کفار کے ثابت شدہ حیات مسیح کو عام استدلال سے توڑنا چاہتے ہیں۔ حالانکہ اصولی مسئلہ ہے علماء خوب جانتے اور مانتے ہیں کہ: ”ما من عم الا وقد خص منه البعض “ یعنی تخصیص بعد التعمیم ہوا کرتی ہے اور خاص حکم ، عام حکم پر مقدم ہوا کرتا ہے۔
برادران اسلام! اس قسم کی آیات کے عمومات سے مرزائی حضرات جس قدر مغالطے دیتے ہیں۔ ان سب کا بالاختصار یہی ایک جواب کافی ہے۔ جو اوپر مذکور ہوا۔ اگر ان عمومات کی بناء پر عیسیٰ علیہ السلام کو فوت شدہ مان لیا جائے تو (رعد) میں ارشاد باری تعالیٰ ہے:”ولقد ارسلنا رسلا من قبلك وجعلنا لهم ازواجا و ذرية “ یعنی ﴿اے نبی! تجھ سے پہلے رسولوں کو ہم نے اولاد وازواج والا بنایا ہے۔“
اب چونکہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام بھی آپ سے پہلے کے رسول ہیں۔ جو بموجب آیت بالا بیوی بچوں والے ہونے چاہئے تھے۔ حالانکہ اب تک نہ ان کی بیوی ہے نہ کوئی بچہ۔ پس یہی کہنا پڑے گا کہ اس عام حکم میں عیسیٰ علیہ السلام ابھی داخل نہیں۔ جب آسمان سے اتریں گے تب نکاح کریں گے اور بچے ہوں گے۔ اسی طرح آیت: ”قد خلت من قبله الرسل (آل عمران:١٤٤) “ وغیرہ آیات کے عموم میں بھی ابھی داخل نہیں ہوئے۔ جب آسمان سے نازل ہوں گے۔ تب ان آیات کے مصداق بنیں گے۔ دہلی میں بفضلہ تعالیٰ میدان تیس ہزاری اور کمپنی باغ میں جماعت غرباء اہلحدیث کے تبلیغی جلسے منعقد ہوتے رہتے تھے۔ اثناء جلسہ میں بابو عمردین قادیانی سے مسئلہ حیات و ممات مسیح پر مناظرہ مقرر ہوا۔ جب میں نے حیات مسیح پر دلائل پیش کئے تو مولانا قادیانی نے اسی قسم کی آیات کے عمومات سے استدلال کرنا شروع کیا۔ جن کے جوابات خداوند تعالیٰ کی مدد سے مدلل دیئے گئے۔ بالآخر قادیانی صاحب نے مرزائیت سے توبہ کی۔ بحمد اللہ باطل کی شکست اور حق کی فتح ہوئی۔ جس کا اعلان اس وقت کے دہلی کے اخبارات میں بھی آیا۔
مرزائی اعتراض ....... مسیح اور مریم کا کھانا کھانا؟
قرآن میں ہے کہ مسیح اور اس کی والدہ کھانا کھایا کرتے تھے۔ اس سے استدلال یہ ہے کہ مریم علیہا السلام بوجہ موت کھانے سے روکی گئی۔ یہی حال مسیح کا بھی ہے۔ مسیح علیہ السلام آسمان پر کھانا کہاں سے کھاتے ہوں گے اور کھانے کا نتیجہ بول و براز کہاں کرتے ہوں گے؟ اور وہ اتنی مدت تک زندہ کیسے رہ سکتے ہیں؟
٢٥
جواب اعتراض اللہ عزوجل نے عیسائیوں پر جو مسیح علیہ السلام کو اور ان کی والدہ کو خدا مانتے ہیں ، حجت قائم کی کہ : ”کانا یاکلن الطعام“ وہ تو دونوں لوازم بشریہ مثل طعام وغیرہ کے محتاج تھے۔ پھر وہ کیسے خدا ہو گئے؟ خدا تو کسی چیز کا محتاج نہیں ہوتا۔ اس آیت میں حضرت مسیح علیہ السلام کی حیات کا ذکر تک بھی نہیں۔ کیوں جناب! اگر میں کہوں کہ مرزا قادیانی اور ان کے بیوی بچے اکٹھے کھانا کھایا کرتے تھے۔ یا یہ کہ وہ ایک ہی مکان میں رہا کرتے تھے۔ کیا یہ کہنا غلط ہوگا؟ ہرگز نہیں۔ پھر مرزا قادیانی تو مر گئے مگر ان کے بعد ان کے بیوی بچے زندہ رہے۔ کیا تم ان کو بھی مرزا قادیانی کے ساتھ ہی مردہ سمجھنے لگے تھے۔ یا وہ ان کے بعد کھانا نہیں کھاتے تھے یا اس مکان میں نہیں رہتے تھے۔ اللہ کے بندو! شیطان کے پھندوں میں نہ آؤ۔ کیا جس خدا نے مسیح علیہ السلام کو آسمان پر اٹھا لیا ہے۔ وہ انہیں کھانا نہیں کھلا سکتا؟ یا بغیر کھلائے زندہ نہیں رکھ سکتا؟
آخر موسیٰ علیہ السلام بھی تو بقول شما زندہ ہیں ۔ ”ماھو جوابکم فهو جوابنا۔“ نیز واضح ہو کہ طعام کا اطلاق احادیث میں تسبیح و تقدیس پر بھی تو آتا ہے اور تسبیح کا بجائے طعام کافی ہونا ثابت ہے۔ جیسا کہ ایک صحابی نے کہا یا رسول اللہ ! جب طعام وغیرہ پر دجال کا قبضہ و غلبہ ہوگا تو اس وقت ہم کیا کھائیں گے؟ آپ نے فرمایا : ”یجزئھم مایجزئ اھل السماء من التسبيح والتقديس (احمد، ابوداؤد،طیالسی، مشکوٰة)“ یعنی کفایت کرے گی ایمان والوں کو اس وقت وہ چیز جو کفایت کرتی ہے، آسمان والوں کو یعنی تسبیح و تہلیل ”جب فرشتے آسمان پر تسبیح و تہلیل سے پیٹ بھر کر زندہ ہیں تو کیا حضرت مسیح علیہ السلام زندہ نہیں رہ سکتے؟
کیا خدا ہر چیز پر قادر نہیں؟ کیا اصحاب کہف کا قصہ بھول گئے۔ ارشاد باری ہے : ”ولبثوا فی کھفھم ثلاث مائة سنین وازدادو تسعاً (کھف:٢٥)“ یعنی اصحاب اپنے غار میں بغیر کچھ کھائے پیئے سینکڑوں برس سوتے رہے۔ نیز فرمایا : ”وتحسبھم ایقاظا وهم رقود“ یعنی تو ان کو گمان کرتا ہے کہ وہ ..... جاگ رہے ہیں۔ حالانکہ وہ تو سو رہے ہیں۔
اصل بات یہ ہے قادیانی و مرزائی حضرات جب دلائل سے لاجواب و عاری ہوجاتے ہیں تو ایسے ہی لایعنی اعتراضات و شبہات وارد کرتے ہیں کہ انسان کا اتنے دن زندہ رہنا محالات عقلیہ میں سے ہے۔ اگر عیسیٰ علیہ السلام زندہ ہیں تو پاخانہ کہاں پھرتے ہوں گے اور حجامت کہاں کراتے ہوں گے۔ کیا باوجود بشر ہونے کے لوازمات بشریہ کے محتاج نہ ہوں گے؟ بھلا کوئی ان
٢٦
سے پوچھے کہ تمہیں ان کے پاخانے اور حجامت کا کیا فکر اس پر بلا چون و چرا ایمان لاؤ۔ تمہارے یہ جملہ وساوس ش قلوب پر کچھ بھی اثر نہیں کرتے ۔ اہل حق تو ہمیشہ یہ کہتے ہ
باطل ہو جاتی ہے۔ کتاب اللہ و حدیث رسول اللہ و ک موجود ہے۔ ارشاد باری ہے: ”لولا انه كان من الم يبعثون“ یعنی اگر یونس علیہ السلام آیت کریمہ: ”لا الہ الظالمین“ نہ پڑھتے تو قیامت تک مچھلی کے پیٹ میں صورت عدم تسبیح یونس علیہ السلام قیامت تک زندہ رہ سکتے عز وجل ایسا نہ فرماتا۔
شرط اور جزا کا قاعدہ
واضح ہو کہ کلمہ کی شرط اگر ممکن الوقوع ہو بشرطیکہ ہوتی ہے۔ چونکہ یونس علیہ السلام کی عدم تسبیح بالاتفاق مم رہنا بھی ممکن الوقوع ٹھہرا۔ اب بتاؤ در صورت عدم تسبیح یو کرتے : ”فما ھو جوابكم فهو جوابنا“ اور اگر ی تھے تو پھر اللہ تعالیٰ کی اس بیان سے کیا غرض ہے؟ کیا نعو وتدبر ولا تكن من الغافلين والمعاندين۔“
مرزائی اعتراض ....... زمین پر حیات؟
قرآن میں ہے: ”الم نجعل الارض كف زمین کو زندوں اور مردوں کے لئے کافی نہیں بنایا۔ یہ ومتاع الى حين“ تمہارے لئے زمین میں ٹھکان تحيون وفيها تموتون ومنها تخرجون“ گے اور اسی سے اٹھائے جاؤ گے۔
یہ ایک عام فہم قانون الٰہی ہر فردِ بشر پر حاوی خلاف حضرت مسیح آسمان پر زندہ موجود ہوں؟
٢٧
سے پوچھتے کہ تمہیں ان کے پاخانے اور حجامت کا کیا فکر۔ تمہیں جس طرح خدا ورسول نے فرمایا اس پر بلا چون و چرا ایمان لاؤ۔ تمہارے یہ جملہ وساوس شیطانیہ واعتراضات رکیکہ اہل ایمان کے قلوب پر کچھ بھی اثر نہیں کرتے۔ اہل حق تو ہمیشہ یہ کہتے چلے آئے: ”اذاجاء نهر الله بطل نهر معقل“ ﴿جب اللہ کی نہر آ جائے تو عقل کی نہر باطل ہو جاتی ہے۔﴾ کتاب اللہ وحدیث رسول اللہ وکتب تفاسیر میں ان تمام شبہات کا قلع قمع موجود ہے۔ ارشاد باری ہے: ”لولا انه كان من المسبحين للبث في بطنه الى يوم يبعثون“ یعنی اگر یونس علیہ السلام آیت کریمہ: ”لااله الا انت سبحانك انى كنت من الظالمين“ نہ پڑھتے تو قیامت تک مچھلی کے پیٹ میں اسی طرح رہتے۔ اس سے معلوم ہوا کہ در صورت عدم تسبیح یونس علیہ السلام قیامت تک زندہ رہ سکتے تھے۔ اگر بشر کے لئے یہ ممکن نہ تھا تو اللہ عزوجل ایسا نہ فرماتا۔
شرط اور جزا کا قاعدہ
واضح باد کلمہ کی شرط اگر ممکن الوقوع ہو بشرطیکہ کلام صحیح ہو تو اس کی جزا بھی ممکن الوقوع ہوتی ہے۔ چونکہ یونس علیہ السلام کی عدم تسبیح بالاتفاق ممکن الوقوع تھی۔ لہٰذا ان کا تاقیامت زندہ رہنا بھی ممکن الوقوع ٹھہرا۔ اب بتاؤ درصورت عدم تسبیح یونس علیہ السلام لوازمات بشریہ کا کیا انتظام کرتے: ”فما هو جوابكم فهو جوابنا“ اور اگر یونس علیہ السلام تاقیامت زندہ نہیں رہ سکتے تھے تو پھر اللہ تعالیٰ کی اس بیان سے کیا غرض ہے؟ کیا نعوذ باللہ اللہ تعالیٰ نے غلط کہا ہے: ”فافهم وتدبرولاتكن من الغافلين والمعاندين.“
مرزائی اعتراض...... زمین پر حیات؟
قرآن میں ہے: ”الم نجعل الارض كفاتا احياء وامواتا“ ﴿کیا ہم نے زمین کو زندوں اور مردوں کے لئے کافی نہیں بنایا۔﴾ نیز فرمایا: ”ولكم فى الارض مستقر ومتاع الى حين“ ﴿تمہارے لئے زمین میں ٹھکانا اور فائدہ ہے ایک مدت تک۔﴾ ”فيها تحيون وفيها تموتون ومنها تخرجون“ ﴿تم زمین میں زندہ رہتے ہو، اسی میں مرد گے اور اسی سے اٹھائے جاؤ گے۔﴾ یہ ایک عام فہم قانون الٰہی ہر فرد، بشر پر حاوی ہے۔ پھر کیونکر ہو سکتا ہے کہ اس کے صریح خلاف حضرت مسیح آسمان پر زندہ موجود ہوں؟
٢٧
جواب اعتراض جب خاص دلائل سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی حیات ثابت ہو چکی ہے تو پھر عمومات سے دلیل پکڑنا چہ معنی دارد؟ کتب اصول میں مقرر و مسلم اصول ہے کہ خاص دلیل عام پر مقدم ہوتی ہے اور ان دونوں کے مقابلہ میں دلیل خاص کا اعتبار کیا جاتا ہے۔ اس کے نظائر و امثلہ قرآن مجید میں بکثرت موجود ہیں۔ مثلاً عام انسانوں کی پیدائش کے متعلق قرآن مجید خبر دیتا ہے: ”انا خلقنا الانسان من نطفة امشاج (الدهر)“ ہر انسان ملے ہوئے نطفہ سے پیدا ہوا ہے۔
اب اس کے برخلاف حضرت آدم علیہ السلام، حضرت حوا علیہا السلام اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی نسبت خاص دلائل سے معلوم ہو گیا کہ ان کی پیدائش اس طرح نہیں ہوئی۔ حضرت آدم علیہ السلام مٹی سے پیدا ہوئے اور اماں حوا علیہا السلام حضرت آدم علیہ السلام کی بائیں پسلی سے پیدا ہوئیں اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام بغیر باپ کے پیدا ہوئے۔ پس ان ہر سہ حضرات کے متعلق دلیل خاص کا اعتبار کیا گیا اور عام حکم سے خارج و مستثنیٰ سمجھے گئے جو فریقین کو مسلم ہے۔
آپ کا ان آیات کو پیش کرنا حیات مسیح علیہ السلام کے ہرگز منافی نہیں۔ ہم بھی مانتے ہیں کہ زمین زندوں اور مردوں کے لئے کافی ہے۔ عیسیٰ علیہ السلام بھی ایک دن آسمان سے زمین ہی پر اتریں گے اور فوت ہونے کے بعد زمین ہی میں دفن ہوں گے۔ گو کچھ حصہ زندگی کا انہوں نے بحکم خدا آسمان پر گزارا۔ آج جو لوگ ہوائی جہاز کا سفر کرتے ہیں۔ کئی کئی گھنٹے اور دن و رات آسمان و زمین کے درمیان اڑ کر زندگی بسر کرتے ہیں۔ اگر کوئی منچلا کہنے لگے کہ یہ آسمان پر ان کا اڑنا ناجائز اور آیات ہذا کے خلاف ہے۔ کیونکہ زندگی اور مرنے کے بعد کے لئے تو زمین کافی ہے۔ تو آپ کیا جواب دیں گے؟ ”ماہو جوابکم فہو جوابنا“ نیز جس طرح آپ حضرات مذکورہ آیات سے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو مستثنیٰ کریں گے۔ اسی طرح حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو بھی کر لیجئے۔
مرزائی اعتراض ...... معبودان باطلہ مردہ ہیں؟
قرآن مجید میں ہے: ”والذين يدعون من دون الله لا يخلقون شيئا وهم يخلقون، اموات غير احياء وما يشعرون ايان يبعثون (النحل)“ یعنی مشرک لوگ اللہ کے سوا جن لوگوں کو پکارتے ہیں۔ وہ مردہ ہیں۔ زندہ نہیں۔ پس عیسیٰ علیہ السلام بھی ان ہستیوں میں داخل ہیں۔ لہٰذا وہ بھی وفات یافتہ ہوئے۔
٢٨
جواب اعتراض اس کا جواب اوپر آچکا ہے۔ مگر آپ نے غور نہیں کیا۔ آیت کا مطلب یہ نہیں کہ معبودان مصنوعی سب مرچکے ہیں۔ بلکہ مطلب یہ ہے کہ وہ تمہاری مرادیں پوری نہیں کر سکتے۔ وہ تو خود مخلوق یعنی عاجز و بے بس ہیں اور ایک دن مرنے والے ہیں۔ ”اموات“ کو دیکھ کر یہ نتیجہ اخذ کرنا کہ وہ سب مرچکے ہیں، غلط ہے۔ آیت: ”انک میت وانھم میتون“ کے معنی پر غور کیجئے۔ یعنی ﴿اے نبی! تو بھی میت ہے اور وہ سب بھی۔﴾ مطلب یہ ہوا کہ بالآخر سب کو ایک دن موت آنے والی ہے۔ لہٰذا آیت کا صحیح ترجمہ یہ ہوا کہ تمام وہ لوگ جو اللہ تعالیٰ کے سوا پوجے جاتے ہیں۔ آخرکار مرنے والے ہیں۔ گو ان میں کئی مر بھی چکے ہوں۔ ہم بھی مانتے ہیں کہ عیسیٰ علیہ السلام بعد نزول از آسمان فوت ہو جائیں گے۔ نیز مشرکین جنات و ملائکہ کو بھی پوجتے ہیں۔ کیا وہ سب بھی مر چکے ہیں؟ کیونکہ وہ بھی ”من دون اللہ“ میں شامل ہیں۔ جہاں آپ اس آیت سے ملائکہ وغیرہ کو مستثنیٰ سمجھتے ہیں۔ وہاں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو بھی مستثنیٰ سمجھ لیجئے۔
مرزائی اعتراض...... نماز وزکوٰۃ کہاں ادا کرتے ہوں گے؟
قرآن مجید میں ہے: ”واوصانی بالصلوٰۃ والزکوٰۃ مادمت حیا“ یعنی ﴿مسیح علیہ السلام کو زندگی بھر کے لئے نماز وزکوٰۃ کا حکم دیا گیا تھا۔﴾ اب آسمان پر اگر وہ زندہ ہیں تو زکوٰۃ کس کو دیتے ہیں؟ وہاں مستحقین زکوٰۃ کہاں ہیں؟
جواب اعتراض کسی نے سچ کہا ہے کہ ”خوئے بد را بہانہ ہائے بسیار“ کسی بھوکے سے دریافت کیا گیا کہ دو اور دو کتنے ہیں؟ وہ جھٹ سے بولا چار روٹیاں ہوتی ہیں۔ یہی مثال مرزائیوں کی ہے کہ خواہ مخواہ وفات مسیح پر زور لگاتے ہیں۔ خواہ ثابت ہو یا نہ ہو۔ الفاظ کا مقصد خواہ کچھ بھی ہو۔ انہیں تو وفات مسیح سے مطلب ہے۔ کہاں حیات مسیح کا مدلل و باثبوت مسئلہ اور کہاں یہ مرزائیوں، قادیانیوں کی کھینچ تان۔
مرزائی دوستو! اگر اس آیت کی رو سے یہ ضروری و لابدی امر ہے کہ مسیح علیہ السلام تمام زندگی بھر زکوٰۃ دیتے رہے اور ضروری ہی اس کام کے لئے ان کی جیب روپوں سے بھری رہے تو یہ الفاظ مسیح علیہ السلام نے اپنی صغر سنی میں جب کہے تھے اس وقت بھی تو وہ زندہ تھے۔ فرمائیے اس وقت ان کی جیب میں کتنے سو پونڈ موجود تھے اور کون سے مستحقین ان سے زکوٰۃ وصول کرتے تھے؟ اور وہ ان دنوں کتنی نمازیں ادا کرتے تھے؟ کون گواہ ہے؟
ناظرین! شریعت میں کسی امر کا حکم ہونا یہ معنی نہیں رکھتا کہ ہر وقت رات و دن، سوتے جاگتے، اٹھتے بیٹھتے، اس پر عمل کرتے رہیں۔ بلکہ ”ہر نکتہ مکانے دارد“ کے ماتحت ہر کام کا ایک
٢٩
وقت ہوتا ہے۔ شریعت میں اس کی حدود و شرائط مقرر ہیں۔ مثلاً قرآن مجید میں حکم ہے کہ ”نماز پڑھو۔“ تو کیا اس حکم کی تعمیل میں ہر وقت نماز پڑھتے رہیں؟ ہرگز نہیں! بلکہ ہر نماز کا وقت مقرر ہے۔ جب وہ وقت آ جائے تب نماز پڑھیں۔ نماز بعد بلوغت فرض ہوتی ہے اور زکوٰۃ بعد مال۔
جب مسیح علیہ السلام بچے تھے، نماز فرض نہ تھی۔ بالغ ہوئے حکم بجالائے۔ جب مال تھا زکوٰۃ دیتے تھے۔ اب آسمان پر ان کے پاس مال نہیں زکوٰۃ کیسے دیں؟ پہلے تم ان کے پاس مال ہونا ثابت کرو۔ پھر پوچھو کہ زکوٰۃ کس کو دیتے ہیں اور سنو! حدیث شریف میں آیا ہے کہ نبیوں کا دین واحد ہے بدیں لحاظ موسیٰ علیہ السلام پر بھی زکوٰۃ فرض ہوئی۔ بتلائیے جب وہ آپ کے نزدیک آسمان پر زندہ ہیں تو زکوٰۃ کسے دیتے ہیں اور ان کے پاس روپیہ کس قدر ہے؟
”فما جوابكم فهو جوابنا“ لو آپ اپنے دام میں صیاد آ گیا۔
مرزائی اعتراض....... حیات مسیح سے خلود لازم؟
قرآن مجید میں ہے: ”وما جعلنا لبشر من قبلك الخلدا فان مت فهم الخلدون (الانبياء)“ ﴿ہم نے کسی بشر کے لئے ہمیشہ کی زندگی نہیں رکھی۔ لہٰذا مسیح علیہ السلام کو زندہ اور محمد مصطفیٰ ﷺ کو فوت شدہ ماننا قابل شرم وہتک نبوی ہے۔﴾
جواب اعتراض اس اعتراض کے دو جواب ہیں۔ اول یہ کہ موسیٰ علیہ السلام کو زندہ ماننا کیوں قابل شرم و ہتک نبوت نہیں؟ جواب نمبر (٢) مسیح علیہ السلام کے لئے بھی ہمیشہ کی زندگی نہیں ہے۔ قرآن مجید میں صاف ارشاد ہے: ”وان من اهل الكتاب الا ليؤمنن به قبل موته (نساء:١٥٩)“ یعنی وفات مسیح کے قبل ہر اہل کتاب ایمان لے آئے گا۔ اسی حدیث شریف میں ہے کہ مسیح آسمان سے نازل ہوگا: ”ثم يموت فيدفن معي في قبري“ غرض مسیح کو موت آئے گی۔ ہم کب کہتے ہیں کہ وہ ہمیشہ زندہ رہیں گے۔
مرزائی اعتراض....... بعدی سے مراد موت؟
قرآن مجید میں ہے: ”ومبشرا برسول يأتي من بعدي اسمه احمد (صف:٦)“ یعنی ﴿عیسیٰ نے کہا تھا کہ میرے بعد احمد رسول آئے گا۔﴾ ”بعد“ سے مراد وفات ہے۔ معلوم ہوا کہ عیسیٰ علیہ السلام زندہ نہیں، فوت ہو گئے۔
جواب اعتراض مرزائی دوستو! سوائے عمومات سے استدلال کرنے کے کوئی خاص اور صریح دلیل بھی تمہارے پاس ہے؟ ہرگز نہیں۔ سنو! ہر جگہ ”بعد“ سے مراد وفات لینا کتاب وسنت
٣٠
سے ناواقفیت اور جہالت کی دلیل ہے۔ موسیٰ علیہ السلام جـ ان کے بعد بچھڑے کی پوجا شروع کر دی۔ جس کے متعلق الـ موسى اربعين ليلة ثم اتخذتم العجل من بعده ﴿پھر تم نے موسیٰ کے بعد بچھڑے کو پوجا اور تم ہیں۔ وہی معنی کلام مسیح میں بھی ہیں۔ کیا آیت ہذا میں ”بعـ ہے؟ ہرگز نہیں۔
مرزائی اعتراض....... موسیٰ وعیسیٰ زندہ ہوتے ؟
آنحضرت ﷺ نے فرمایا ہے کہ موسیٰ وعیسیٰ زنـ ہوا کہ عیسیٰ وفات پاگئے۔
جواب اعتراض اللہ اکبر! ڈوبتے کو تنکے کا سہارا۔ جن میں بالتصریح مسیح علیہ السلام کی حیات آسمانی ونزول جسـ ذرا آپ پہلے اس کی سند تو پیش کریں۔ سچ ہے: ”لولاالا (مقدمه صحیح مسلم) ”اگر سند نہ ہوتی تو جو جس کے جی نے یہ قول نقل کیا ہے۔ وہ خود حیات مسیح کے قائل ہیں۔ یحیـ السلام کا نام تغلیباً آ گیا ہے۔ جیسے تغلیباً شمسین، قمرین، حسـ روایت میں صرف موسیٰ علیہ السلام کا نام ہے۔ آپ ﷺ کا لما وسعه الا اتباعی (احمد، بیهقی في شعب الايمـ بالكتاب والسنة)“ یعنی اگر موسیٰ علیہ السلام زندہ ہو چارہ نہ ہوتا۔“
تمام روایت میں صرف موسیٰ علیہ السلام کا ہی روایتوں میں صرف موسیٰ علیہ السلام کا ذکر ہے۔ نیچے کی بـ اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر وہ اس وقت زمین پر زندہ مو تمہارے نزدیک آسمان پر زندہ موجود ہیں۔ جو جواب الـ مسیح علیہ السلام کے بارے میں بھی سمجھ لو۔
مرزائی اعتراض....... شرح فقہ اکبر میں لوکان عیـ
(شرح فقہ اکبر مصری ص ٩٩) میں ہے: ”لوکا
٣١
سے ناواقفیت اور جہالت کی دلیل ہے۔ موسیٰ علیہ السلام جب توریت لینے گئے تو ان کی قوم نے ان کے بعد بچھڑے کی پوجا شروع کر دی۔ جس کے متعلق ارشاد باری ہے: ”وَاِذْ وَاعَدْنَا مُوْسٰی اَرْبَعِيْنَ لَيْلَةً ثُمَّ اتَّخَذْتُمُ الْعِجْلَ مِنْ بَعْدِهٖ وَاَنْتُمْ ظَالِمُوْنَ (بقرہ)“ ﴿پھر تم نے موسیٰ کے بعد بچھڑے کو پوجا اور تم ظالم ہو۔﴾ جو معنی اس جگہ ”بعد“ کے ہیں۔ وہی معنی کلام مسیح میں بھی ہیں۔ کیا آیت ہٰذا میں ”بعد“ سے مراد موسیٰ علیہ السلام کی وفات ہے؟ ہرگز نہیں۔
مرزائی اعتراض......موسیٰ وعیسیٰ زندہ ہوتے؟
آنحضرت ﷺ نے فرمایا ہے کہ موسیٰ وعیسیٰ زندہ ہوتے تو میری پیروی کرتے۔ معلوم ہوا کہ عیسیٰ وفات پاگئے۔
جواب اعتراض اللہ اکبر! ڈوبتے کو تنکے کا سہارا۔ کجا آیاتِ قرآنیہ اور نصوصات حدیثیہ جن میں بالتصریح مسیح علیہ السلام کی حیات آسمانی ونزول جسمانی کا ذکر ہے اور کجا یہ بے سند قول۔ ذرا آپ پہلے اس کی سند تو پیش کریں۔ سچ ہے: ”لولا الاسناد لقال من شاء ماشاء (مقدمہ صحیح مسلم)“ اگر سند نہ ہوتی تو جو جس کے جی میں آتا کہہ دیتا۔ جس کتاب سے آپ نے یہ قول نقل کیا ہے۔ وہ خود حیات مسیح کے قائل ہیں۔ یعنی امام ابن کثیر وغیرہ۔ اس میں عیسیٰ علیہ السلام کا نام تغلباً آگیا ہے۔ جیسے تغلباً شمسین، قمرین، حسنین وغیرہ کہہ دیا جاتا ہے۔ ورنہ اصل روایت میں صرف موسیٰ علیہ السلام کا نام ہے۔ آپ ﷺ کا فرمان ہے: ”لَوْكَانَ مُوْسٰی حَيًّا لَّمَا وَسِعَهٗ اِلَّا اتِّبَاعِی (احمد، بیہقی فی شعب الایمان، مشکوٰۃ ص ٣٠، باب الاعتصام بالکتاب والسنۃ)“ یعنی اگر موسیٰ علیہ السلام زندہ ہوتے تو ان کو بجز میری تابعداری کے کوئی چارہ نہ ہوتا۔“
تمام روایت میں صرف موسیٰ علیہ السلام کا ہی ذکر ہے۔ ابن کثیر میں بھی اوپر کی دو روایتوں میں صرف موسیٰ علیہ السلام کا ذکر ہے۔ نیچے کی روایت میں عیسیٰ علیہ السلام کا لفظ ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر وہ اس وقت زمین پر زندہ موجود ہوتے۔ پھر موسیٰ علیہ السلام بھی تو تمہارے نزدیک آسمان پر زندہ موجود ہیں۔ جو جواب ان کے بارے میں دوگے۔ وہی حضرت مسیح علیہ السلام کے بارے میں بھی سمجھ لو۔
مرزائی اعتراض...... شرح فقہ اکبر میں لو کان عیسیٰ حیا ہے؟
(شرح فقہ اکبر مصری ص ٩٩) میں ہے: ”لوکان عیسیٰ حیا لما وسعه الا
٣١
اتباعی“ یعنی اگر عیسیٰ زندہ ہوتے تو ان کو میری پیروی کے بغیر چارہ نہ ہوتا۔ معلوم ہوا کہ عیسیٰ فوت ہو گئے، زندہ نہیں۔ جواب اعتراض شرح فقہ اکبر کوئی حدیث کی کتاب نہیں۔ صحیح روایت:”لوکان موسیٰ حيا“ ہے۔ جیسا کہ ہم نے اوپر صحیح روایت نقل کی ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ شرح فقہ اکبر مطبوعہ مصر میں غلطی سے لفظ موسیٰ کی جگہ عیسیٰ لکھا گیا ہے اور ممکن ہے کہ یہ کسی مرزائی کی سازش ہو۔ ہندوستان کے تمام مطبوعہ و قلمی نسخوں میں لفظ موسیٰ ہی ہے۔ مرزائی حضرات مصری نسخہ سے جو عبارت نقل کرتے ہیں وہ یہ ہے: ”اشارة الى هذا النبيﷺ بقوله لوكان عيسى حيا لما وسعه الا اتباعى وبينت وجه ذلك عند قوله واذاخذ الله (شرح الشفاء)“ یعنی نبی علیہ السلام نے جو حدیث لوکان (موسیٰ) عیسیٰ حیا فرمائی ہے۔ اس کی پوری تشریح ہم نے آیت: ”واذ اخذ الله میثاق النبیین“ کے تحت اپنی کتاب شرح شفاء میں کر دی ہے۔
اب فیصلہ آسان ہے۔ آئیے ”شرح شفاء“ کھول کر دیکھیں۔ اس روایت کے کیا الفاظ ہیں؟ شرح فقہ اکبر مصری کا پہلا ایڈیشن ١٣١٢ ہجری میں اور دوسرا ١٣٢٧ ہجری میں طبع ہوا ہے اور ملا علی قاری کی کتاب ”شرح شفاء“ شرح فقہ اکبر مصری سے پیشتر استنبول میں ١٣٠٩ھ میں طبع ہوئی ہے۔ اس کی پہلی جلد فصل سات میں آیت: ”واذ اخذ الله“ کے تحت لکھا ہے: ”والیه اشارةﷺ بقوله حین رای عمر انه ينظر في صحيفته من التوراة لوكان موسیٰ حیا لما وسعه الا اتباعی“ پس اس واضح شہادت سے قطعی فیصلہ ہو گیا کہ مصری چھاپہ میں لفظ عیسیٰ غلطی سے طبع ہو گیا۔
نیز جناب ملا علی قاری حنفی صاحب مذکورہ اپنی کتاب موضوعات کبیر (جو ١٢٨٩ھ) میں طبع ہوئی تھی۔ میں حدیث :”لو عاش ابراهيم لكان صديقا نبيا“ پر بحث کرتے کرتے آخر میں لکھتے ہیں: ”يـقـويـه حديث لوكان موسى عليه السلام حيا لما وسعه الا اتباعی (ص٧٨)“ یہاں بھی بجائے لفظ عیسیٰ کے موسیٰ تحریر کیا ہے اور یہی صحیح ہے۔ نیز ملا علی صاحب مذکور اپنی کتاب مرقاۃ شرح مشکوٰۃ مطبوعہ مصری میں رقمطراز ہیں: ”ولوكان موسى حيا اى فى الدنيا (ج١ ص٢٠)“ یعنی موسیٰ علیہ السلام اگر دنیا میں زندہ موجود ہوتے۔ یہاں بھی لفظ موسیٰ بصراحت مرقوم ہے۔ ٣٢
اسی طرح مسند احمد، بیہقی، دارمی اور مشکوٰۃ و غیرہ میں جملہ محدثین نے نقل کیا ہے اور ملا علی قاری حنفی نے حوالہ جات لفظ موسیٰ ہی لکھا ہے۔ پھر یہ کیونکر تسلیم کیا جاسکتا ہے کہ پس ابین من الامس واظہر من الشمس ہو گیا کہ مصری نسخہ میں موسیٰ ہے۔
مرزائی دوستو! اس طرح غلط چیزیں پیش کر کے تمہیں اسی فقہ اکبر سے ہی ملا علی قاری صاحب کا عقیدہ بھی اکبر مصری ص٩٢ طبع ١٣٢٣ھ، ص١٠١ طبع مصر ١٣٢٧ھ ):”انه عيسى من السما“ یعنی دجال حضرت مسیح کے آسمان سے جیسے پانی نمک میں گھلتا ہے۔ نیز (شرح شفا استنبول ج٢ ص قبله وينزل بعده ويحكم بشريعته“ یعنی عیسیٰ نبی ہیں اور بعد میں قرب قیامت کے نازل ہو کر شریعت محمدیہ مرقاۃ شرح مشکوٰۃ مصری ج٥ ص١٦٠ میں مسطور ہے: ” السماء“ یعنی عیسیٰ علیہ السلام آسمان سے نازل ہوں گے ہے: ”أن عیسی یدفن بجنب نبینا صلی اللہ علیہ وسلم بینہ السلام حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پہلو میں آپ کے اور ابو بکر و عمر کے
مرزائی اعتراض ..... سو سال تمام جاندار؟
صحیح مسلم و کنز العمال کی روایت میں ہے کہ تمام جاندار مرجائیں گے۔ پس معلوم ہوا کہ عیسیٰ علیہ جواب اعتراض اس حدیث کا اگر یہی ترجمہ ہے السلام اور کل ملائکہ بھی داخل ہو گئے۔ کیا یہ سب کے سب دلیل سے تم ملائکہ اور موسیٰ علیہ السلام کو ہر جاندار کے حضرت مسیح علیہ السلام کو بھی خارج سمجھ لو۔ ناظرین! خیانت و فریب ہے۔ مرزا قادیانی کی بھی یہی عادت تھی کرتے۔ اس میں جو فقرہ نفسانیت کے خلاف ہوتا۔ اس ٣٣
اسی طرح مسند احمد ، بیہقی ، دارمی اور مشکوٰۃ وغیرہ کتب حدیث میں لوکان موسٰی حیا ہی جملہ محدثین نے نقل کیا ہے اور ملا علی قاری حنفی نے حوالجات مذکورہ کی بناء پر اپنی تمام تصانیف میں لفظ موسٰی ہی لکھا ہے۔ پھر یہ کیونکر تسلیم کیا جاسکتا ہے کہ وہ شرح فقہ اکبر میں لفظ عیسیٰ لکھیں گے۔ پس ابین من الامس واظہر من الشمس ہو گیا کہ مصری نسخہ میں لفظ عیسیٰ چھاپے کی غلطی ہے۔ صحیح موسٰی ہے۔
مرزائی دوستو! اس طرح غلط چیزیں پیش کر کے تم ہرگز کامیاب نہیں ہو سکتے۔ آؤ ہم تمہیں اسی فقہ اکبر سے ہی ملا علی قاری صاحب کا عقیدہ بابت نزول مسیح دکھلائیں۔ ملاحظہ ہو (فقہ اکبر مصری ص٩٢ طبع ١٣٢٣ھ ،ص ١٠١ طبع مصریہ ١٣٢٧ھ): ”انه يذوب كالملح في الماء عند نزول عيسى من السما“ یعنی دجال حضرت مسیح کے آسمان سے نازل ہونے پر یوں گھلنے پگھلنے لگے گا جیسے پانی نمک میں گھلتا ہے۔ نیز (شرح شفاء استنبول ج٢ ص١٩) میں مرقوم ہے: ”ان عيسى نبي قبله وينزل بعده ويحكم بشريعته“ یعنی عیسیٰ علیہ السلام ہمارے نبی ﷺ سے پہلے کے نبی ہیں اور بعد میں قرب قیامت کے نازل ہو کر شریعت محمدیہ قرآن وحدیث پر عمل کریں گے۔ نیز مرقاۃ شرح مشکوٰۃ مصری ج٥ ص١٦٠ میں مسطور ہے : ”فينزل عيسى بن مريم من السماء “ یعنی عیسیٰ علیہ السلام آسمان سے نازل ہوں گے۔ (جمع الوسائل مصری ص ٥٦٣) میں منقول ہے: ”ان عيسى يدفن بجنب نبيناﷺ بينه وبين الشيخين “ یعنی تحقیق عیسیٰ علیہ السلام حضور ﷺ کے پہلو میں آپ کے اور ابو بکر وعمر کے مابین دفن ہوں گے۔
مرزائی اعتراض ...... سو سال تمام جاندار؟
صحیح مسلم وکنز العمال کی روایت میں ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ سو سال تک تمام جاندار مر جائیں گے۔ پس معلوم ہوا کہ عیسیٰ علیہ السلام بھی مر گئے ، زندہ نہیں۔
جواب اعتراض اس حدیث کا اگر یہی ترجمہ ہے جو کیا گیا ہے تو پھر ہر جاندار میں موسٰی علیہ السلام اور کل ملائکہ بھی داخل ہوگئے۔ کیا یہ سب کے سب سو سال کے اندر فوت ہوگئے؟ پس جس دلیل سے تم ملائکہ اور موسٰی علیہ السلام کو ہر جاندار کے لفظ سے خارج کرو گے۔ اسی دلیل سے حضرت مسیح علیہ السلام کو بھی خارج سمجھ لو۔ ناظرین! اصل بات یہ ہے کہ مرزائی مذہب سراپا خیانت وفریب ہے۔ مرزا قادیانی کی بھی یہی عادت تھی کہ کوئی حدیث اپنے مطلب کے لئے نقل کرتے۔ اس میں جو فقرہ نفسانیت کے خلاف ہوتا۔ اس کو قصداً چھوڑ دیتے۔
٣٣
چنانچہ (حملۃ البشریٰ ص ٨٨، خزائن ج ٧ ص ٣١٢) پر کنز العمال کی روایت بابت نزول مسیح لکھتے ہیں: ”اس لفظ ”من السماء“ کو چھوڑ گئے ہیں تاکہ نزول کے جو غلط معنی یہ لوگ کرتے ہیں ۔ اس کی تردید نہ ہو جائے۔ یہی چالاکی مرزائی مصنف ومعترض نے کی ہے۔ صحیح مسلم کی حدیث جو جابرؓ سے مروی ہے۔ اس میں: ”ماعلی الارض“ کا لفظ موجود ہے۔ یعنی نبی علیہ السلام نے فرمایا آج جتنے لوگ زمین پر موجود ہیں۔ سو سال تک ان میں سے کوئی باقی نہ رہے گا۔ ”ماعلى الارض نفس منفوسة يأتى عليها مائة سنة وهى حية يومئذ (مسلم)“
مطلب صاف ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام اس میں داخل نہیں۔ کیونکہ وہ زمین پر موجود نہیں وہ آسمان پر زندہ ہیں۔ لیکن مرزائی معترض کی خیانت دیکھو کہ ”زمین پر آج کے لوگوں کے الفاظ“ اڑا کر ہر جاندار ترجمہ کر کے مسیح علیہ السلام کی وفات زبردستی ثابت کرتا ہے۔ آہ:
مرزائی اعتراض...... متوفیک کا معنی ممیتک؟ حضرت ابن عباسؓ بھی وفات مسیح کے قائل تھے۔ آپ نے آیت ”متوفيك“ کے معنی ”ممیتک“ کئے ہیں۔ یعنی اے عیسیٰ! میں تجھ کو فوت کرنے والا ہوں۔۔
جواب اعتراض یہ سراسر افتراء ہے اور مسلمانوں کو فریب دینا ہے۔ حضرت ابن عباسؓ ہرگز وفات مسیح کے قائل نہیں۔ بلکہ حیات مسیح کے قائل ہیں۔ ”کما مر بیانہ“ نیز ابن عباسؓ فرماتے ہیں: ”فرفعه الى السماء“ یعنی عیسیٰ علیہ السلام کو خدا نے آسمان پر اٹھا لیا۔ (نسائی، ابن مردویہ) ”اجمعت اليهود على قتله فاخبرالله بانه يرفعه الى السماء“ یعنی یہود مسیح کو جب گرفتار کرنے کے لئے اکٹھے ہوئے تو اللہ تعالیٰ نے آپ کو آسمان پر اٹھائے جانے کی خبر دے کر اطمینان بخشا۔
(سراج منیر ج ١ ص ٥٣٩)
”وان من اهل الكتاب الا ليؤمنن به قبل موته قال قبل موت عیسیٰ“ (ابن جریر ج ٥ ص ١٢) یعنی آخر زمانے میں اہل کتاب حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی موت سے پہلے پہلے ان پر ایمان لے آئیں گے۔ اس اعتراض کا جواب پہلے ہی مفسرین نے دے کر معترضین کا منہ بند کر دیا ہے۔ چنانچہ تفسیر خازن و معالم میں تحت آیت ہٰذا مرقوم ہے: ”ان فــی الاية تقديما وتاخيرا تقديره انى رافعك الى ومطهرك من الذين كفروا و متوفيك بعد انزالك الى الارض“ یعنی حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے جو ”متوفيك“
٣٤
کے معنی ”ممیتک“ کئے ہیں۔ وہ اس وقت ہیں جب کہ جس کا مطلب یہ ہوگا کہ خدا نے فرما دیا اے ہوں اور تجھ کو آسمان سے زمین پر اتارنے کے بعد فوت کـ وجــمــاعــة “ یعنی حضرت ضحاک تابعیؒ اور ایک جماعـ آیت: ”يمريم اقنتى ربك واسجدى واركعى مـ تقديم وتاخیر ہے۔ ایسا ہی آیت ہٰذا میں بھی ہے: ”عـن انى متوفيك الآيه رافعك ثم يميتك فى آخر ا عباسؓ نے اس آیت کی تفسیر یوں کی ہے کہ اے عیسیٰ میں پھر آخری زمانہ میں تجھے وفات دوں گا۔
کیوں جناب! اب بھی یہی کہو گے کہ حضرت باید، اور سنئے! ”والصحيح ان الله تعالىٰ رفعه مـ وابن زيد وهو اختيار الطبرى وهو الصـ الـسـعـود)“ یعنی اصلیت یہ ہے کہ خدا نے مسیح عـ (گہری) نیند کے۔ جیسا کہ حسنؒ اور ابن زیدؒ نے کہا اور رحمۃ اللہ علیہ نے اور یہ معنی صحت کے ساتھ ابن عباسؓ سـ میں مرقوم ہے۔
حاصل یہ ہے کہ حضرت ابن عباسؓ اس جـ ”متوفيك“ کے معنی ”ممیتک“ کئے ہیں۔ یعنی رفع ا بعد وفات ہوگی۔ تفسیر میں ہے: ”رافعك الـى مـن ( ”رافعك الیٰ“ کا معنی یہ ہے کہ میں تجھ کو اپنی طرف ا پھر حضرت ابن عباسؓ کی تفسیر کا مطلب بتایا ہے کہ: ”وفـ متوفيك مميتك اى مميتك فى وقتك بعد النـز اب تو تجھے اپنی طرف اٹھانے والا ہوں اور آسمان سے ماردوں گا۔
تفسیر جلالین میں مرقوم ہے: ”انی متوفیـ من غير موت“ نیز تفسیر فتح البیان میں ہے: ”قال
٣٥
کے معنی ”مميتك“ کئے ہیں۔ وہ اس وقت ہیں جب کہ آیت میں تقدیم و تاخیر مانی جائے۔
جس کا مطلب یہ ہوگا کہ خدا نے فرما دیا اے عیسیٰ! میں تجھ کو اپنی طرف اٹھانے والا ہوں اور تجھ کو آسمان سے زمین پر اتارنے کے بعد فوت کرنے والا ہوں۔ ”کذا قاله الضحاك وجماعة“ یعنی حضرت ضحاک تابعیؒ اور ایک جماعت نے یہی مطلب بیان کیا ہے۔ جیسا کہ آیت: ”يمريم اقنتى ربك واسجدى واركعى مع الراكعين (آل عمران:٤٣)“ میں تقدیم و تاخیر ہے۔ ایسا ہی آیت ہٰذا میں بھی ہے: ”عن الضحاك عن ابن عباس في قوله انی متوفيك الآیہ رافعك ثم يميتك فى آخر الزمان (درمنثور)“ یعنی حضرت ابن عباسؓ نے اس آیت کی تفسیر یوں کی ہے کہ اے عیسیٰ میں تجھے آسمان پر زندہ اٹھانے والا ہوں۔ پھر آخری زمانہ میں تجھے وفات دوں گا۔
کیوں جناب! اب بھی یہی کہو گے کہ حضرت ابن عباسؓ وفات مسیح کے قائل ہیں دیدہ باید، اور سنئے! ”والصحيح ان الله تعالى رفعه من غير وفات ولا نوم قال الحسن وابن زيد وهو اختيار الطبرى وهو الصحيح عن ابن عباس (تفسير ابو السعود)“ یعنی اصلیت یہ ہے کہ خدا نے مسیح علیہ السلام کو آسمان پر اٹھا لیا۔ بغیر وفات اور (گہری) نیند کے۔ جیسا کہ حسنؓ اور ابن زیدؒ نے کہا اور اسی کو اختیار کیا ہے۔ علامہ طبری ابن جریر رحمۃ اللہ علیہ نے اور یہ معنی صحت کے ساتھ ابن عباسؓ سے منقول ہے۔ اسی کے قریب جامع البیان میں مرقوم ہے۔
حاصل یہ ہے کہ حضرت ابن عباسؓ اس جگہ تقدیم و تاخیر کے قائل ہیں۔ اس لئے ”متوفيك“ کے معنی ”مميتك“ کئے ہیں۔ یعنی رفع آسمان ہو چکا۔ اب آسمان سے اترنے کے بعد وفات ہوگی۔ تفسیر میں ہے: ”رافعك الى من الدنيا من غير موت“ یعنی کلام الٰہی ”رافعك الیٰ“ کا معنی یہ ہے کہ میں تجھ کو اپنی طرف اٹھانے والا ہوں۔ دنیا سے بغیر موت کے۔ پھر حضرت ابن عباسؓ کی تفسیر کا مطلب بتایا ہے کہ: ”وفى البخارى قال ابن عباس متوفيك مميتك اى مميتك فى وقتك بعد النزول من السماء ورافعك الان“ یعنی اب تو تجھے اپنی طرف اٹھانے والا ہوں اور آسمان سے اترنے کے بعد تیری موت کے وقت تجھے مار دوں گا۔
تفسیر جلالین میں مرقوم ہے: ”انی متوفيك قابضك ورافعك الى من الدنيا من غير موت“ نیز تفسیر فتح البیان میں ہے: ”قال الفراء ان فى الكلام تقديما و
٣٥
تاخير التقديره انى رافعك و مطهرك ومتوفيك بعد انزالك من السماء قال ابوزيد متوفيك قابضك “ یعنی عبارت میں تقدیم و تاخیر ہے۔ مقصد یہ ہے کہ اے عیسیٰ! میں تجھے آسمان سے اتارنے کے بعد فوت کروں گا۔ اسی طرح امام شوکانیؒ نے اپنی تفسیر فتح القدیر میں لکھا ہے: ”عن مطر الوراق قال متوفيك من الدنيا وليس بوفات موت ...... لان الصحيح ان الله رفعه الى السماء من غير وفاة كما رجحه كثير من المفسرين واختاره ابن جرير الطبرى و وجه ذالك انه قدصح فى الاخبار عن النبى ﷺ نزوله وقتله الدجال الى قوله وقيل الواوفى قوله ورافعك لا تفيد الترتيب لانها لمطلق الجمع فلافرق بين التقديم والتاخير قاله ابو البقاء“
یعنی اگر عبارت میں تقدیم و تاخیر تسلیم نہ ہو تو پھر وفات کے معنی موت کے نہیں۔ کیونکہ صحیح حدیث سے ثابت ہے کہ اللہ عزوجل نے عیسیٰ علیہ السلام کو آسمان کی طرف زندہ اٹھا لیا بغیر موت کے۔ اکثر مفسرین نے اسی کو ترجیح دی ہے۔ امام ابن جریرؒ نے بھی اس معنی کو پسند کیا ہے۔ صحیح حدیث میں نبی علیہ السلام سے عیسیٰ علیہ السلام کا آسمان سے اترنا اور اتر کر دجال کو قتل کرنا ثابت ہے۔ علامہ ابوالبقاء نے کہا کہ ”انى متوفيك ورافعك الى“ میں واؤ مطلق جمع کے ہے۔ ترتیب کے لئے نہیں ہے۔
مرزائی دوستو! حضرت مسیح علیہ السلام کے رفع جسمانی کی صراحت قرآن مجید میں موجود اور جملہ مفسرین معتبرین کے نزدیک مسلم ہے۔ علامہ ابن جریر رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: ”واولى هذه الاقوال بالصحة عندنا قول من قال معنى ذالك انى قابضك من الارض ورافعك الى لتواتر الاخبار عن رسول الله ﷺ“ عبارت ہذا میں ”لتواتر الاخبار عن رسول الله ﷺ“ کے الفاظ خاص طور پر قابل غور ہیں اور اسی عقیدہ پر محققین ومحدثین کا اجماع ہو چکا ہے۔ پس جولوگ ممات مسیح کے قائل ہیں۔ وہ نہ صرف قرآن مجید کے بلکہ احادیث متواترہ کے بھی منکر ہیں۔ پس جب حضرت مسیح علیہ السلام کی پیدائش عام انسانی قاعدہ توالد و تناسل سے الگ یعنی بغیر باپ کے توسط کے محض نفخہ جبرائیل سے مسلم ہے۔ تو ان کی زندگی وانجام بھی معمول عام کے خلاف ماننے میں کیا استبعاد ہے۔
حرف واؤ میں ترتیب ضروری نہیں
علم نحو وادب، معانی و بلاغت کی کتابوں میں بالاتفاق موجود ومسطور ہے کہ حرف واؤ میں ہر جگہ ترتیب ضروری نہیں ہوتی۔ چنانچہ ”کافیہ“ (جو کہ علم نحو کی مشہور کتاب ہے) میں
ہے: ”الواوللجمع المطلق لا ترتيب فيها“ ( قوله تعالى انى متوفيك ورافعك الى لاتفيد تعالى يفعل به هذه الافعال فاما كيف يفعل و على الدليل و قد ثبت بالدليل انه حى ورد ا ويقتل الدجال ثم ان الله يتوفى بعده ذلك“
یعنی آیت ”انى متوفيك ورافعك الى“ می آیت میں اللہ عزوجل نے حضرت مسیح علیہ السلام سے کئی وعد یوں کروں گا۔ مگر یہ بات کہ وہ کیسے کرے گا اور کب کرے گا بات ثابت ہو چکی ہے کہ مسیح علیہ السلام زندہ ہیں۔ رسول اللہ عیسیٰ علیہ السلام نازل ہوں گے اور دجال کو قتل کریں گے۔ پھر
واؤ کے ترتیب کے لئے نہ ہونے پر امثلہ قرآنیہ
(نحل) میں ارشاد باری تعالیٰ ہے: ”والله اخر تعلمون شيئا وجعل لكم السمع والابصار والا نے تم کو تمہاری ماؤں کے پیٹ سے اس حال میں نکالا کہ تم ک کان اور آنکھیں اور دل تاکہ تم خدا کا شکر کرو۔ ﴿
آیت ہذا میں اللہ عزوجل نے ہر انسان کی پیدائش بعد میں بیان کیا۔ حالانکہ پیدائش سے قبل ہی ماں کے پیٹ می
دوسری مثال...... (بقرہ) میں فرمایا: ”وادخلوا البا (اعراف) میں فرمایا: ”وقولوا حطة وادخلوا الـ (ص ٥٠٣) میں ہے: ”ولوكانت للترتيب لناقض قولـ قوله فى موضع اخرى وقولوا حطة اذا القصة و لئے مانا جائے تو اللہ تعالیٰ کے قول میں تناقض لازم آئے گا۔ میں سجدہ کرتے ہوئے اور کہو حطہ، اور دوسری آیت میں ہے سجدہ کرتے ہوئے۔ خلاصہ یہ کہ ایک آیت میں حطہ کو پہلے فر ایک ہی ہے۔
تیسری مثال...... سورہ بقر میں اللہ عزوجل کا ارشاد ہے
ہے: ”الواو للجمع المطلق لا ترتيب فيها“ (تفسیر کبیرج٢) میں ہے: ”ان الواو فى قوله تعالى انى متوفيك ورافعك الى لاتفيد الترتيب فالاية تدل على انه تعالى يفعل به هذه الافعال فاما كيف يفعل و متى يفعل فالامرفيه موقوف على الدليل و قد ثبت بالدليل انه حى ورد الخبر عن النبى ﷺ انه ينزل ويقتل الدجال ثم ان الله يتوفى بعده ذالك“
یعنی آیت ”انى متوفيك ورافعك الى“ میں واؤ ترتیب کے لئے نہیں ہے۔ اس آیت میں اللہ عزوجل نے حضرت مسیح علیہ السلام سے کئی وعدے کئے ہیں کہ میں تیرے ساتھ یوں یوں کروں گا۔ مگر یہ بات کہ وہ کیسے کرے گا اور کب کرے گا یہ چیز محتاج دلیل ہے اور دلیل سے یہ بات ثابت ہو چکی ہے کہ مسیح علیہ السلام زندہ ہیں۔ رسول اللہ ﷺ کا فرمان عالی شان موجود ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام نازل ہوں گے اور دجال کو قتل کریں گے۔ پھر اللہ تعالیٰ ان کو فوت کرے گا۔
واؤ کے ترتیب کے لئے نہ ہونے پر امثلہ قرآنیہ
(نحل) میں ارشاد باری تعالیٰ ہے: ”والله اخرجكم من بطون امهتكم لا تعلمون شيئا وجعل لكم السمع والابصار والافئدة لعلكم تشكرون “ ﴿خدا نے تم کو تمہاری ماؤں کے پیٹ سے اس حال میں نکالا کہ تم کچھ نہ جانتے تھے اور بنائے تمہارے کان اور آنکھیں اور دل تاکہ تم خدا کا شکر کرو۔﴾
آیت ہذا میں اللہ عزوجل نے ہر انسان کی پیدائش پہلے ذکر کی اور کان، آنکھ، دل کا بنانا بعد میں بیان کیا۔ حالانکہ پیدائش سے قبل ہی ماں کے پیٹ میں یہ سب چیزیں موجود ہیں۔
دوسری مثال...... (بقرہ) میں فرمایا: ”وادخلوا الباب سجدا وقولوا حطة“ (سورہ اعراف) میں فرمایا: ”وقولوا حطة وادخلوا الباب سجدا“ (رضی شرح کافیہ ص ٥٠٣) میں ہے: ”ولو كانت للترتيب لناقض قوله تعالى وادخلوا الباب سجدا قوله فى موضع اخرى وقولوا حطة اذا القصة واحدة “ یعنی اگر واؤ کو ترتیب کے لئے مانا جائے تو اللہ تعالیٰ کے قول میں تناقض لازم آئے گا۔ کیونکہ پہلی آیت میں داخل ہو دروازہ میں سجدہ کرتے ہوئے اور کہو حطہ، اور دوسری آیت میں ہے کہ کہو حطہ اور داخل ہو دروازے میں سجدہ کرتے ہوئے۔ خلاصہ یہ کہ ایک آیت میں حطہ کو پہلے فرمایا اور دوسری میں پیچھے حالانکہ قصہ ایک ہی ہے۔
تیسری مثال...... سورہ بقر میں اللہ عزوجل کا ارشاد ہے: ”واقيموا الصلوة واتوا
٣٧
الزکوة واركعو مع الراکعین ﴿ ”نماز پڑھو اور زکوۃ دو اور رکوع کرو۔﴾ اس مقام پر بھی اگر واؤ ترتیب کے لئے سمجھی جائے تو مطلب یہ ہوگا کہ جب بھی زکوۃ دینی ہو تو پہلے نماز پڑھی جائے اور زکوۃ دینے کے لئے رکوع کیا جائے ۔ حالانکہ منشائے الٰہی ہرگز یہ نہیں ہے۔ مقصد صرف یہ ہے کہ ان کاموں کو اپنے اپنے موقع پر ادا کرتے رہو۔ ترتیب کا کوئی لحاظ نہیں۔
چوتھی مثال ...... ﴿ ”يمريم اقنتى لربك واسجدى وارکعی من الراکعین (آل عمران) ” اے مریم ! مطیع فرماں بردار ہو جا اپنے رب کی اور سجدہ کر اور رکوع کر۔﴾ یہاں رکوع سے پہلے سجدہ کرنے کا حکم ہے۔ کیا نماز کا یہی طریقہ ہے؟ بات اصل یہ ہے کہ واؤ ترتیب کے واسطے نہیں ہے۔ اسی واسطے تحت آیت ہذا تفسیر فتح البیان میں مرقوم ہے: ” کــــــــــــــــــــون الواو لمجرد الجمع بلا ترتيب “ واؤ مجرد جمع کے لئے ہے ترتیب مراد نہیں ہے۔ اسی طرح صاوی حاشیہ جلالین میں مرقوم ہے: ” والواو لا تقضى ترتيبا ان كانت صلوتهم كصلاتنا من تقديم الركوع على السجود“
الغرض اس قسم کی بہت سی مثالیں کتاب وسنت میں مل سکتی ہیں۔ مرزا قادیانی بھی اس کے قائل ہیں۔ چنانچہ (تریاق القلوب ص ١٥٧ خزائن ج ١٥ ص ٣٥٢) میں لکھتے ہیں کہ: ”ضروری نہیں کہ صرف واؤ کے ساتھ ہمیشہ ترتیب کا لحاظ واجب ہو ۔ “ حاصل یہ کہ حضرت ابن عباسؓ حیات مسیح کے قائل تھے۔ ان پر وفات کا اتہام لگانے والا مفتری و کذاب ہے۔
مرزائی اعتراض ....... خطبہ حسنؓ
(طبقات کبریٰ ج ٣ ص ٢١) میں ہے کہ امام حسنؓ نے وفات علیؓ کے خطبہ میں کہا: ”لـــقـــد قبض الليلة عرج فيه بروح عيسى بن مريم “ ملاحظہ ہو (مرزائی پاکٹ بک ص ٢٣٣)
جواب اعتراض اول تو طبقات کبریٰ کوئی مستند و معتبر کتاب نہیں کہ محض اس کا نقل کرنا ہی دلیل صداقت ہو۔ مرزائیوں پر لازم ہے کہ اس کی سند پیش کریں تا کہ معلوم ہو کہ اس کے راوی سچے ہیں یا مرزائیوں کی طرح مفتری۔ ورنہ ایسی بے سند و بے ثبوت بات کوئی عاقل ماننے کے لئے تیار نہیں ہے۔
دوم ...... چونکہ خود اسی کتاب کا مصنف حیات مسیح کا قائل ہے۔ جیسا کہ (ج ١ ص ٣٦) میں حضرت ابن عباسؓ کا قول بابت حیات مسیح نقل کیا ہے۔ لکھتے ہیں :” وانه رفع بجسده وانه حي الان وسيرجع الى الدنيا فيكون فيها ملكا ثم يموت كما يموت الناس “ یعنی تحقیق مسیح علیہ السلام مع جسم کے آسمان پر اٹھائے گئے اور بلا ریب وہ اس وقت زندہ موجود
٣٨
ہیں ۔ عنقریب دنیا کی طرف آئیں گے اور شاہانہ فوت ہو جائیں گے۔
جیسا کہ شیخ عبدالقادر جیلانی رحمۃ اللہ لکھا : ”ورفع عيسى عليه السلام فى يوم تھے نہ صرف روح اور بہت ممکن ہے کہ معترض کی ”الله“ ساقط ہو گیا ہو۔ اصل عبارت میں عبارت بن مریم “ یعنی روح اللہ عیسیٰ بن مریم اٹھائے کا لفظ ہو۔ جیسا کہ درمنثور کی روایت میں آیا ہے کہ ایک روایت (مستدرک حاکم ج ٣ ص ١٣٢) میں بائیں الحديث سمعت الحسن بن على يقول بعيسىٰ وليلة قبض موسىٰ (درمنثور امام حسنؓ سے سنا کہ حضرت علیؓ اس رات قتل کئے گئے السلام سیر کرائے گئے اور حضرت موسیٰ علیہ السلام قبض ناظرین کرام! غور فرمائیے کہ حضرت علیؓ وفات پا گئے تھے۔...... قبض کا لفظ استعمال ہوا۔ لیکن گئے تھے۔ ان کے حق میں اسریٰ فرمایا گیا۔ جیسا کہ لفظ اسریٰ استعمال کیا گیا۔ چنانچہ ارشاد باری ہے : ﴿ اگر امام حسنؓ کا خطبہ امر واقع ہے تو یقیناً اس کا مطلب اٹھائے گئے اور یہی حق اور قرآن حدیث کے موافق حضرات نے جس روایت کو وفات مسیح کی دلیل ٹھہرایا ہو گئی۔ نیز اس سے یہ بھی ثابت ہو گیا کہ موسیٰ علیہ زندہ مانتے ہیں۔ دیکھو
مرزائی اعتراض ....... بخاری میں ممیتک
امام بخاریؓ بھی وفات مسیح کے قائل ”متوفيك مميتك“ کو بخاری میں نقل کیا ہے۔ جواب اعتراض اوپر کے مضمون میں ہم ثابت
٣٩
ہیں ۔ عنقریب دنیا کی طرف آئیں گے اور شاہانہ زندگی بسر کریں گے۔ پھر دیگر انسانوں کی طرح فو ت ہو جائیں گے۔
جیسا کہ شیخ عبدالقادر جیلانی رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی کتاب (غنیۃ الطالبین ص٥٧٩) میں لکھا: ”ورفع عيسى عليه السلام فى يوم عاشوره“ یہ صاف دلیل ہے مرفوع خود عیسیٰ تھے نہ صرف روح اور بہت ممکن ہے کہ معترض کی پیش کردہ عبارت میں سے بوجہ غلطی کاتب لفظ ”اللہ“ ساقط ہو گیا ہو۔ اصل عبارت میں عبارت یوں ہوتی: ”عرج فيها بروح الله عيسىٰ بن مريم“ یعنی روح اللہ عیسیٰ بن مریم اٹھائے گئے نیز یہ بھی امکان ہے کہ عیسیٰ کی بجائے موسیٰ کا لفظ ہو۔ جیسا کہ در منثور کی روایت میں آیا ہے کہ: ”لیلة قبض موسیٰ“ نیز اس بارے میں ایک روایت (مستدرک حاکم ج ٣ ص ١٤٢) میں بایں الفاظ منقول ہے جو قاطع نزاع ہے: ”عن الحريث سمعت الحسن بن على يقول قتل ليلة انزل القران وليلة اسرىٰ بعيسىٰ وليلة قبض موسىٰ (درمنثور ج٢ ص٢٦)“ یعنی حریث کہتے ہیں کہ میں نے امام حسنؓ سے سنا کہ حضرت علیؓ اس رات قتل کئے گئے ۔ جس رات قرآن اترا اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام سیر کرائے گئے اور حضرت موسیٰ علیہ السلام قبض کئے گئے۔
ناظرین کرام! غور فرمائیے کہ حضرت علیؓ پر جو شہید ہوئے تھے، قتل کا لفظ اور موسیٰ پر جو وفات پا گئے تھے ...... قبض کا لفظ استعمال ہوا۔ لیکن حضرت مسیح علیہ السلام جو زندہ آسمان پر اٹھائے گئے تھے۔ ان کے حق میں اسریٰ فرمایا گیا۔ جیسا کہ محمد مصطفیٰ ﷺ کو معراج جسمانی کرائی گئی اور لفظ اسریٰ استعمال کیا گیا۔ چنانچہ ارشاد باری ہے: ”سبحن الذی اسرىٰ بعبده “ الحاصل اگر امام حسنؓ کا خطبہ امر واقع ہے تو یقیناً اس کا مطلب یہ ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام مع جسم اٹھائے گئے اور یہی حق اور قرآن حدیث کے موافق ہے۔ یہ بھی ایک تائید الہی ہے کہ مرزائی حضرات نے جس روایت کو وفات مسیح کی دلیل ٹھہرایا تھا۔ خدا کی قدرت وہی حیات مسیح کی مثبت ہو گئی۔ نیز اس سے یہ بھی ثابت ہو گیا کہ موسیٰ علیہ السلام وفات پا چکے۔ حالانکہ مرزا قادیانی ان کو زندہ مانتے ہیں۔ دیکھو
(نور الحق حصہ اول ص ٥ ، خزائن ج ٨ ص ٦٨)
مرزائی اعتراض ...... بخاری میں ممیتک؟
امام بخاریؒ بھی وفات مسیح کے قائل تھے۔ جبھی تو حضرت ابن عباسؓ کی روایت ”متوفيك ممیتک“ کو بخاری میں نقل کیا ہے۔
جواب اعتراض اوپر کے مضمون میں ہم ثابت کر چکے ہیں کہ صحابہ کرام خصوصاً ابن عباسؓ کو
٣٩
قائلین وفات مسیح قرار دینا قطعاً جھوٹ اور افتراء ہے۔ ان کی روایات سے وفات ہرگز ثابت نہیں ہوتی۔ بلکہ حیات ثابت ہوتی ہے۔ بنا بریں امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ کو بھی قائل وفات کہنا یقیناً جہالت و ضلالت ہے۔ امام موصوف نے تو حضرت ابو ہریرہؓ کی روایت جس میں نزول مسیح کا ذکر اور تاہنوز ان کے زندہ ہونے کا تذکرہ موجود ہے۔ یعنی وہ روایت جس میں آیت: ”وان من اهل الكتاب الا ليؤمنن به قبل موته“ سے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے حیات مسیح پر استدلال کیا ہے۔ اپنی صحیح میں درج فرما کر مسئلہ حیات مسیح کو واضح کیا ہے۔ جس سے مرزا قادیانی کا مثیل مسیح ہونے کا دعویٰ بالکل باطل ہو کر رہ جاتا ہے۔ اسی وجہ سے تو مرزا قادیانی نے غصہ میں آکر (ضمیمہ ثمرۃ الحق ص ٢٣٣، خزائن ج ٢١ ص ٤١٠) میں ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کو غبی، فہم قرآن میں ناقص اور درایت میں حصہ نہ رکھنے والا قرار دے کر دریدہ دہنی کی ہے۔ اس حدیث میں رسول اللہ ﷺ نے قسم کھا کر نزول مسیح کا اظہار فرمایا اور ابو ہریرہؓ نے آیت قرآنی کے ساتھ اس پر یہ مہر تصدیق ثبت کر دی اور امام بخاریؒ نے اسے صحیح بخاری میں درج فرما کر مسئلہ حیات مسیح کو واضح و ثابت کر دیا۔ اس پر بھی یہ کہہ کر دھوکہ دینا امام بخاری نعوذ باللہ وفات مسیح کے قائل تھے، افتراء بازی نہیں تو اور کیا ہے۔
مرزائی دوستو! بخاری پھر پڑھو۔ امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے تو بایں الفاظ باب منعقد کیا ہے ”باب نزول عیسیٰ بن مریم“ مزید تشفی کے لئے ہم ان کی تاریخ سے ان کا فرمان نقل کرتے ہیں۔ ملاحظہ ہو: ”یدفن عیسىٰ بن مریم مع رسول الله ﷺ وصاحبيه فيكون قبره رابعاً كذا في الدر المنثور ج ٢ ص ٢٤٥“ یعنی فرمایا امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام حجرہ نبوی میں نبی علیہ السلام اور آپ ﷺ کے صاحبین کے ساتھ دفن ہوں گے اور ان کی قبر چوتھی قبر ہو گی۔ کیوں جناب! اب بھی کہو گے کہ امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ وفات مسیح علیہ السلام کے قائل تھے؟ دیدہ باید۔
مرزائی اعتراض ....... امام مالک؟
امام مالک رحمۃ اللہ علیہ بھی وفات مسیح علیہ السلام کے قائل تھے۔ ”قال مالك مات عیسىٰ (مجمع البحار و شرح اكمال الاكمال)“ جواب اعتراض یہ بھی سفید جھوٹ ہے۔ اول تو یہ قول بے سند ہے اور مالک کوئی مجہول شخص ہے۔ دبئی میں جب مجھ سے بابو عمر دین قادیانی جو مرزائیوں کی طرف سے مشہور مناظر تھا، نے مسئلہ حیات و ممات مسیح پر مناظرہ کیا تو استدلالاً یہی قول پیش کیا۔ میں نے جواباً کہا کہ اس کی
٤٠
سند پیش کرو۔ یہ کیسے سمجھا جائے اس مالک سے مراد امام دارالـ پس پھر کیا تھا، مرزائی مناظر کے ہاتھوں کے طوطے اڑ گئے جواب نہ بن پڑا۔
دوم ....... یہ کہ بعض سلف سے منقول ہے کہ حضرت عیسیٰ سلائے گئے تھے۔ چنانچہ لفظ ”توفی“ کے یہ بھی ایک معنی الذى يتوفاكم بالليل “ اللہ تعالیٰ وہ ذات ہے جو رات کو سلاتا ہے۔ یہ امام مالکؒ ہی کا قول ہے۔ تو اس سے مراد سلانا ہے۔ ملاحظہ ہو: ”الله يتوفى الانفس حين موتها“ ہے۔ ملاحظہ ہو قاموس وغیرہ۔
سوم ....... یہ کہ ”وفی العتبية قال مالك بينا الـ الصلوۃ فتغشاهم غمامة فاذا نزل عيسىٰ “ یعنی عتبیہ میں ہے کہ امام مالکؒ نے فرمایا لوگ اچانک ایک بادل چھا جائے گا اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام نا عبارت ہذا سے صاف ثابت و معلوم ہو گیا کہ نزول فی آخر الزمان کے قائل تھے۔ اسی واسطے مالکی مذہب کے قائل ہیں۔ چنانچہ علامہ زرقانی مالکی شرح مواہب لدنیہ وهو حىّ على الصحيح “ یعنی صحیح بات یہی ہے کہ عیسیٰ اب تک زندہ ہیں۔
واضح باد ....... کہ کتاب عتبیہ امام مالکؒ کی تصنیف عبدالعزیز اندلسی کی ہے جن کی وفات ٢٥٤ھ میں ہوئی۔ ملا
(كشف الظنون)
مرزائی اعتراض ...... امام ابو حنیفہؒ
امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ بھی وفات مسیح علیہ السلام جواب اعتراض بالکل جھوٹ اور افتراء ہے۔ ”ھا لاؤ ثبوت اگر سچے ہو۔ دکھاؤ کس کتاب میں لکھا ہے کہ اما کسی نے جھوٹ بولنا اور مغالطہ دینا سیکھنا ہو تو مرزائیوں
٤١
سند پیش کرو۔ یہ کیسے سمجھا جائے اس مالک سے مراد امام دار ہجرہ مالک بن انس رحمۃ اللہ علیہ ہیں۔ پس پھر کیا تھا، مرزائی مناظر کے ہاتھوں کے طوطے اڑ گئے۔ ادھر ادھر بغلیں جھانکنے لگا اور کوئی صحیح جواب نہ بن پڑا۔
دوم...... یہ کہ بعض سلف سے منقول ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام اٹھائے جانے سے قبل سلائے گئے تھے۔ چنانچہ لفظ ”توفی“ کے یہ بھی ایک معنی ہیں ارشاد باری تعالیٰ ہے: ”وهو الذی یتوفاکم باللیل“ اللہ تعالیٰ وہ ذات ہے جو رات کو تمہیں سلا دیتا ہے۔ اگر یہ فی الواقع امام مالک رحمۃ اللہ علیہ ہی کا قول ہے۔ تو اس سے مراد سلانا ہے۔ موت کے معنی نوم کے بھی آتے ہیں۔ ملاحظہ ہو: ”الله يتوفى الانفس حين موتها“ مات کے معنی لغت میں نام کے بھی ہیں۔ ملاحظہ ہو قاموس وغیرہ۔
سوم...... یہ کہ ”وفی العتبیة قال مالك بینا الناس قیام یستمعون لاقامة الصلوة فتغشاهم غمامة فاذا نزل عیسیٰ“
(شرح اکمال الاکمال ج ١ ص ٢٦٦)
یعنی عتبیہ میں ہے کہ امام مالکؒ نے فرمایا لوگ نماز کے لئے تکبیر کہہ رہے ہوں گے کہ اچانک ایک بادل چھا جائے گا اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام نازل ہوں گے۔
عبارت ہذا سے صاف ثابت و معلوم ہو گیا کہ امام مالک رحمۃ اللہ علیہ حیات مسیح و نزول فی آخر الزمان کے قائل تھے۔ اسی واسطے مالکی مذہب کے دیگر علماء، و فقہاء بھی حیات مسیح کے قائل ہیں۔ چنانچہ علامہ زرقانی مالکی شرح مواہب لدنیہ میں رقمطراز ہیں: ”رفع عیسیٰ وهو حی علی الصحیح“ یعنی صحیح بات یہی ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام آسمان پر اٹھائے گئے اور اب تک زندہ ہیں۔
واضح باد...... کہ کتاب عتبیہ امام مالک کی تصنیف نہیں ہے۔ بلکہ علامہ قرطبی امام عبدالعزیز اندلسی کی ہے جن کی وفات ٢٥٤ھ میں ہوئی۔ ملاحظہ ہو
(کشف الظنون عن اسامی الکتب والفنون ج ١ ص ١٠٦، ١٠٧)
مرزائی اعتراض...... امام ابو حنیفہؒ
امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ بھی وفات مسیح علیہ السلام کے قائل تھے۔
جواب اعتراض بالکل جھوٹ اور افتراء ہے۔ ”هاتوا برهانكم ان كنتم صدقین“ لاؤ ثبوت اگر سچے ہو۔ دکھاؤ کس کتاب میں لکھا ہے کہ امام صاحبؒ وفات مسیح کے قائل تھے۔ اگر کسی نے جھوٹ بولنا اور مغالطہ دینا سیکھنا ہو تو مرزائیوں سے سیکھ لے۔ امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ تو
٤١
فقہ اکبر میں لکھتے ہیں: ”نزول عیسیٰ علیہ السلام من السماء حق كائن“ یعنی عیسیٰ علیہ السلام کا آسمان سے اترنا حق اور ثابت ہے۔ کیوں احمدیو! اب بھی مسلمانوں کو دھوکہ دو گے؟
مرزائی اعتراض...... امام احمد؟
امام احمد بن حنبل بھی وفات مسیح علیہ السلام کے قائل تھے؟
جواب اعتراض
سچ ہے یرقان کے مریض کو ساری چیزیں زرد ہی دکھائی دیتی ہیں اور بلی کو خواب میں چھیچھڑے ہی نظر آتے ہیں۔ امام احمد بن حنبلؒ کی مسند میں تو بیسیوں حدیثیں حیات مسیح علیہ السلام کی موجود ہیں۔۔ جن سے امام موصوف نے مسئلہ حیات مسیح علیہ السلام ونزول مسیح علیہ السلام کو بڑی وضاحت سے ثابت کیا ہے۔ باوجود اس کے آپؒ کو قائل وفات گرداننا انتہا درجہ کی کذب بیانی وافتراء پردازی نہیں تو اور کیا ہے؟
افسوس صد افسوس! مرزائی حضرات حمیت مذہبی کی وجہ سے اتنے بڑے امام دین پر بھی جھوٹ بولنے اور بہتان باندھنے سے باز نہیں آتے۔ کل خدا کو کیا جواب دیں گے؟
امام ابن حزمؒ پر اتہام
مرزائیوں نے عوام کو دھوکہ دینے کے لئے علامہ ابن حزم رحمۃ اللہ علیہ پر بھی افتراء پردازی کی ہے کہ وہ وفات مسیح کے قائل تھے۔ حالانکہ وہ برابر حیات مسیح کے قائل تھے۔ چنانچہ اپنی کتاب (محلی ج١ ص٩) میں رقمطراز ہیں: ”ان عیسیٰ بن مریم سینزل“ یعنی بیشک عیسیٰ علیہ السلام عنقریب نازل ہوں گے۔ نیز (کتاب الفصل ج١ ص١٨٠) میں ہے: ”فكيف يستجيز لمسلم ان يثبت بعدہ علیہ السلام نبيا في الارض حاشا ما استثناه رسول اللہ ﷺ في الاثار المسندۃ الثابتة في نزول بن مریم علیہ السلام فی اخر الزمان“
یعنی کسی مسلمان کو کس طرح جائز ہو سکتا ہے کہ وہ محمد مصطفیٰ ﷺ کے بعد کسی کو زمین میں نبی مانے۔ الا اسے جسے خود رسول ﷺ نے احادیث صحیحہ ثابتہ میں مستثنیٰ کر دیا ہے۔ عیسیٰ علیہ السلام کے آخری زمانہ میں نازل ہونے کے بارے میں پھر لکھتے ہیں: ”واما من قال ان بعد محمد نبيا غير عيسى بن مريم فانه لا يختلف اثنان في تكفيره (كتاب مذكور ج٣ ص٢٤٩)“
یعنی جو شخص اس کا قائل ومعتقد ہو کہ محمد ﷺ کے بعد سوائے عیسیٰ بن مریم علیہ السلام کے کوئی اور نبی بھی ہے (جیسے غلام احمد قادیانی وغیرہ) تو اس شخص کے کفر میں امت محمدیہ میں سے دو
٤٢
آدمی کو بھی اختلاف نہیں۔ وہ سب کے نزدیک بالاتفاق (ص٧٧) پر نزول مسیح علیہ السلام پر ایمان لانا واجب لکھ
مولانا عبدالحق صاحب
علامہ نواب صدیق حسن خانؒ
اسی طرح ان دونوں بزرگوں پر بھی مرزائیو مسیح کے قائل تھے۔ حاشا وکلا ہرگز نہیں۔ چنانچہ مولانا ج٤ ص٣٢٤) پر لکھتے ہیں: ”ونزول عیسیٰ بن مریم و بقی آسمان بر زمین۔“ نیز (ص٣٧٤) پر مسیح کا آسمان سے ن میں مرقوم ہے۔
علامہ نواب صاحبؒ نے تو اپنی کتاب حجج ا ایک مستقل باب منعقد کر کے با دلائل ثابت کیا ہے۔
نواب صاحب کی تصنیف لطیف تفسیر فتح البیان و ترج بالوضاحت موجود ہے۔
امام ابن قیم رحمۃ اللہ علیہ پر اتہام
ان کے متعلق بھی مرزائی کہتے ہیں کہ یہ وفا کتاب ”مدارج السالکین“ میں حدیث: ”لو کان موس زندہ ہوتے) نقل کی ہے۔
جواب اتہام
امام ابن قیم رحمۃ اللہ نے ہرگز اس قول سے حیات وممات کا تذکرہ نہیں۔ بلکہ مقصود علیہما السلام زندہ ہوتے تو رسول ﷺ کی پیروی کرنے نبی علیہ السلام کی بزرگی ثابت کرنا چاہی ہے نہ کہ وفات مرزائی چوری وخيانت سے نقل کر کے اپنا الو سیدھا کرت فرماتے ہیں ملاحظہ ہو: ”ومحمد ﷺ مبعوث لجميع الجن و الانس فى كل زمان ولوك اتباعه واذا نزل عیسیٰ ابن مریم فانه
٤٣
آدمی کو بھی اختلاف نہیں۔ وہ سب کے نزدیک بالاتفاق کافر ہے۔ اسی طرح کتاب مذکور کے (ص ٧٧) پر نزول مسیح علیہ السلام پر ایمان لانا واجب لکھا ہے۔
مولانا عبدالحق صاحب دہلوی اور
علامہ نواب صدیق حسن خان صاحب قنوجی پر اتہام
اسی طرح ان دونوں بزرگوں پر بھی مرزائیوں نے بہتان باندھا ہے کہ یہ ہر دو وفات مسیح کے قائل تھے۔ حاشا وکلا ہرگز نہیں۔ چنانچہ مولانا عبدالحق صاحب اپنی کتاب (اشعۃ اللمعات ج ٤ ص ٤٣٤) پر لکھتے ہیں: ”ونُزول عیسیٰ بن مریم و یاد کرد آنحضرت ﷺ فرود آمدن عیسیٰ را از آسمان بر زمین۔“ نیز (ص ٢٧٣) پر مسیح کا آسمان سے نازل ہونا صاف لکھا ہے۔ ایسا ہی تفسیر حقانی میں مرقوم ہے۔
علامہ نواب صاحبؒ نے تو اپنی کتاب حجج الکرامۃ میں نزول و حیات مسیح علیہ السلام پر ایک مستقل باب منعقد کر کے بادلائل ثابت کیا ہے۔ ملاحظہ ہو کتاب مذکور (باب ٧ ص ٤٢٢)۔ نیز نواب صاحب کی تصنیف لطیف تفسیر فتح البیان و ترجمان القرآن وغیرہ میں مسئلہ حیات مسیح بالوضاحت موجود ہے۔
امام ابن قیم رحمۃ اللہ علیہ پر اتہام
ان کے متعلق بھی مرزائی کہتے ہیں کہ یہ وفات مسیح کے قائل تھے۔ کیونکہ انہوں نے اپنی کتاب ”مدارج السالکین“ میں حدیث: ”لوکان موسیٰ و عیسیٰ حیین“ (اگر موسیٰ وعیسیٰ زندہ ہوتے) نقل کی ہے۔
جواب اتہام امام ابن قیم رحمۃ اللہ نے ہرگز اس قول کو حدیث نہیں لکھا۔ مطلب ان کا اس قول سے حیات وممات کا تذکرہ نہیں۔ بلکہ مقصود صرف یہ ہے کہ اگر آج زمین پر موسیٰ وعیسیٰ علیہما السلام زندہ ہوتے تو رسول ﷺ کی پیروی کرتے۔ یعنی زمین کی زندگی کو فرض مانتے ہوئے نبی علیہ السلام کی بزرگی ثابت کرنا چاہی ہے نہ کہ وفات کا اظہار۔ چنانچہ وہ اسی عبارت میں جسے مرزائی چوری وخیانت سے نقل کر کے اپنا الو سیدھا کرنا چاہتے ہیں۔ آگے چل کر نزول مسیح کا اقرار فرماتے ہیں ملاحظہ ہو: ”ومحمد ﷺ مبعوث الی جمیع الثقلین فرسالته عامة لجمیع الجن و الانس فی کل زمان ولوکان موسیٰ و عیسیٰ حیین لکان من اتباعه واذا نزل عیسیٰ ابن مریم فانما یحکم بشریعة محمد ﷺ (مدارج ٤٤
السالکین ج ٤ ص ٢١٣، مطبوعہ مصر ص ٢٤٢)“ یعنی نبوت محمدیؐ تمام جن وانس کے لئے اور ہر زمانے کے لئے ہے۔ بالفرض اگر موسیٰ وعیسیٰ علیہما السلام آج زندہ موجود ہوتے تو وہ بھی آپ ہی کی اتباع کرتے اور جب عیسیٰ علیہ السلام آسمان سے نازل ہوں گے تو وہ شریعت محمدیہؐ پر ہی عمل کریں گے۔
مرزائی دوستو! پس جھوٹی بات کو سچا کرنے کے لئے کسی پر اتہام لگانا انتہا درجہ قبیح اور بعید از شرافت ہے۔ اگر اس قول سے وفات ہی ثابت کرنا چاہتے ہو تو ساتھ ہی مرزا قادیانی کی نبوت کے دعوے سے بھی ہاتھ دھو لو۔ کیونکہ وہ حیات موسوی کے قائل ہیں۔ حالانکہ اس قول میں موسیٰ علیہ السلام کی وفات مذکور ہے: ”فما جوابکم فهو جوابنا“ الغرض امام ابن قیم رحمۃ اللہ علیہ کی تصنیفات میں مسئلہ حیات مسیح بعبارۃ النص موجود ہے۔
چنانچہ (کتاب التبیان مصنفہ ابن قیم ص ١٤٩) میں مرقوم ہے: ”وهذا المسيح بن مريم حى لم يمت وغذاؤه من جنس غذاء الملئكة“ یعنی مسیح بن مریم زندہ ہیں، فوت نہیں ہوئے۔ ان کی خوراک وہی ہے جو فرشتوں کی ہے۔ نیز کتاب مذکور کے (ص٢٢) پر مسطور ہے: ”وانه رفع المسيح اليه“ یعنی تحقیق اللہ عزوجل نے مسیح علیہ السلام کو اپنی طرف اٹھا لیا۔ نیز: ”وهو نازل من السماء فيحكم بكتاب الله“ اور وہ آسمان سے نازل ہو کر قرآن و حدیث پر عمل کریں گے۔
(ہدية الحیاریٰ مع ذیل الفارق ص ٣٣ مطبوعہ مصر)
حافظ محمد لکھویؒ پر اتہام
حافظ صاحب موصوف پر بھی مرزائیوں نے الزام لگایا ہے کہ یہ بھی وفات مسیح کے قائل تھے۔ حالانکہ یہ سراسر جھوٹ و بہتان ہے۔ وہ اپنی تفسیر (تفسیر محمدی ج١ ص٢٩١) پر بزبان پنجابی تحت آیت: ”ومكروا ومكر الله“ لکھتے ہیں یعنی خدا نے اس وقت جبرائیل علیہ السلام بھیجا جو عیسیٰ علیہ السلام کو اٹھا کر آسمان پر لے گیا۔ جب طیطانوس انہیں قتل کرنے کے ارادہ سے اندر گیا تو خدا نے اسے عیسیٰ کی شکل بنا دیا۔ جسے سولی دی گئی۔ اسی طرح اگلے صفحہ پر آیت: ”انی متوفیک و رافعک الی“ کی تفسیر میں بھی وضاحت کی ہے۔
علامہ ابن عربیؒ پر اتہام
کہا گیا ہے کہ یہ بزرگ بھی وفات مسیح علیہ السلام کے قائل تھے۔ حالانکہ یہ محض جھوٹ اور افتراء ہے۔ کیونکہ وہ اپنی کتاب (فتوحات مکیہ ج ٢ ص ١٤٥) میں لکھتے ہیں: ”ان عیسٰی عليه السلام ...... ينزل في هذه الامة في اخر الزمان ويحكم بشريعة محمد ﷺ“ ٤٤
یعنی عیسیٰ علیہ السلام آخر زمانے میں نازل ہو کریں گے۔ پھر کتاب مذکور (ج ٣ ص ٣٤١، ٣٤٢) رفعه الله الى هذه السماء واسكنه في بلکہ آسمان پر سکونت پذیر ہیں۔
امام ابن جریر رحمۃ اللہ پر اتہام
علامہ ابن جریرؒ نے جا بجا اپنی تفسیر میں تفاسیر میں مختلف لوگوں کے اقوال نقل ہوا کرتے ”قدمات عيسىٰ“ مرزائیوں نے جھوٹ است دینا شروع کر دیا کہ امام ابن جریرؒ بھی وفات مسیح کے جریرؒ تو متعدد اقوال لکھ کر بعد میں اپنا فیصلہ بایں الفاظ ”واولى هذه الاقوال بالص قابضك من الارض ورافعك الى لتم ”توفی“ کے متعلق جو بحث ہے۔ کوئی کہتا ہے ہے جو آخری زمانے میں ہو گی وغیرہ وغیرہ۔ ان میں زمین سے تجھ کو پورا پورا لینے والا ہوں۔ یہ السلام سے متواتر حدیثوں میں آیا ہے کہ: ”انه ين يمكث في الارض ثم يموت (ج ٢ ص ١٨٧ مرزائی دوستو! تمہارے مصنوعی نبی مر لکھا ہے۔ ملاحظہ ہو (چشمہ معرفت حاشیہ ص ٢٥٠، خزان کہ آیت: ”انى متوفيك ورافعك الى“ کا دجال کو قتل کریں گے۔ پھر فوت ہوں گے۔ ابھی لیکن تمہیں تو صرف دھوکہ دہی مقصود ہے۔ ایمان و
مصنف الیواقیت والجواہر پر اتہام
کہا گیا ہے کہ یہ بھی وفات مسیح کے قا ”حییّن“ نقل کی ہے۔
جواب اتہام
پھر تو مرزا قادیانی بھی یقینا ٤٥
یعنی عیسیٰ علیہ السلام آخر زمانے میں نازل ہوں گے اور شریعت محمدیہ ﷺ کے مطابق فیصلے کریں گے۔ پھر کتاب مذکور (ج ٣ ص ٢٣١، ٣٦٧) میں مرقوم ہے: ”انه لم يمت الى الان بل رفعه الله الى هذه السماء واسكنه فيها“ یعنی عیسیٰ علیہ السلام ابھی فوت نہیں ہوئے۔ بلکہ آسمان پر سکونت پذیر ہیں۔
امام ابن جریر رحمۃ اللہ پر اتہام
علامہ ابن جریرؒ نے جابجا اپنی تفسیر میں حیات مسیح علیہ السلام کا ثبوت دیا ہے۔ مگر چونکہ تفاسیر میں مختلف لوگوں کے اقوال نقل ہوا کرتے ہیں۔ اسی طرح انہوں نے کسی کا قول نقل کیا کہ: ”قدمات عیسیٰ“ مرزائیوں نے جھٹ اسے ابن جریرؒ کا قول قرار دے کر عوام الناس کو مغالطہ دینا شروع کر دیا کہ امام ابن جریرؒ بھی وفات مسیح کے قائل ہیں۔ حالانکہ یہ بالکل غلط ہے۔ امام ابن جریرؒ تو متعدد اقوال لکھ کر بعد میں اپنا فیصلہ بایں الفاظ لکھتے ہیں کہ:
”واولى هذه الاقوال بالصحة عندنا قول من قال معنى ذالك انی قابضك من الارض ورافعك الى لتواتر الاخبار عن رسول الله ﷺ“ یعنی ”توفی“ کے متعلق جو بحث ہے۔ کوئی کہتا ہے کہ توفی بمعنی نیند ہے۔ کوئی کہتا ہے کہ بمعنی موت ہے جو آخری زمانے میں ہوگی وغیرہ وغیرہ۔ ان جملہ اقوال سے ہمارے نزدیک صحیح یہ قول ہے کہ میں زمین سے تجھ کو پورا پورا لینے والا ہوں۔ یہ معنی اس لئے اقرب الی الصواب ہے کہ نبی علیہ السلام سے متواتر حدیثوں میں آیا ہے کہ: ”انه ينزل عيسىٰ بن مريم فيقتل الدجال ثم يمكث فى الارض ثم يموت (ج ٢ ص ١٨٤)“
مرزائی دوستو! تمہارے مصنوعی نبی مرزا قادیانی نے امام ابن جریر کو معتبر آئمہ حدیث لکھا ہے۔ ملاحظہ ہو (چشمہ معرفت حاشیہ ص ٢٥٠، خزائن ج ٢٣ ص ٢٦١) آؤ امام موصوف کا فیصلہ مان لو کہ آیت: ”انی متوفيك ورافعك الی“ کا صحیح معنی یہ ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام آسمان سے اتر کر دجال کو قتل کریں گے۔ پھر فوت ہوں گے۔ ابھی فوت نہیں ہوئے۔ آسمان پر زندہ موجود ہیں۔ لیکن تمہیں تو صرف دھوکہ دہی مقصود ہے۔ ایمان وانصاف سے کیا مطلب؟
مصنف الیواقیت والجواہر پر اتہام
کہا گیا ہے کہ یہ بھی وفات مسیح کے قائل تھے۔ کیونکہ انہوں نے حدیث موسٰی وعیسٰی ”حیین“ نقل کی ہے۔
جواب اتہام پھر تو مرزا قادیانی بھی یقیناً جھوٹے ہیں۔ کیونکہ وہ موسٰی علیہ السلام کو زندہ
٤٥
مانتے ہیں۔ آہ سچ ہے دروغ گورا حافظہ نباشد۔ کتاب مذکور کے مصنف امام عبدالوہاب شعرانی پر یہ صریح اتہام ہے۔ کیونکہ انہوں نے اپنی کتاب میں یہ سوال کر کے کہ مسیح علیہ السلام کے نازل ہونے پر کیا دلیل ہے؟ بایں الفاظ جواب دیا ہے:
”الدلیل على نزوله قوله تعالى و ان من اهل الكتاب الا ليؤمنن به قبل موته، اى حين ينزل ويجتمعون عليه وانكرت المعتزلة والفلاسفة واليهود والنصارى عروجه بجسده الى السماء وقال تعالى فى عيسى عليه السلام وانه لعلم للساعة.......والضمير فى انه راجع الى عيسى....... والحق انه رفع بجسده الى السماء والايمان بذالك واجب قال الله تعالى بل رفعه الله اليه“
(اليواقيت والجواہر ج ٢ ص ١٤٠، ١٤١)
یعنی نزول مسیح علیہ السلام کی دلیل اللہ عزوجل کا یہ قول ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام کے مرنے سے پہلے وہ اہل کتاب ان پر ایمان لے آئیں گے جو اس وقت جمع ہوں گے اور معتزلہ و فلاسفہ اور یہود و نصاریٰ مسیح علیہ السلام کے آسمان پر رفع جسمانی کے منکر ہیں۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام کا اترنا قیامت کی نشانی ہے اور ”انہ“ کی ضمیر مسیح علیہ السلام کی طرف راجع ہے۔ حق بات یہی ہے کہ وہ بجسدہ آسمان پر اٹھائے گئے۔ اس پر ایمان لانا واجب ہے۔ ارشاد الہی ہے کہ اٹھا لیا اس (عیسیٰ علیہ السلام) کو اللہ تعالیٰ نے اپنی طرف۔
پس معلوم ہوا کہ رفع جسمانی کا انکار کرنا یہود ونصاریٰ وغیرہ کفار کا عقیدہ ہے، مسلمانوں کا نہیں۔ اس میں مرزائی اور یہود و نصاریٰ برابر ہیں۔
احمدی دوستو! عبارت مندرجہ بالا کو پھر بغور پڑھو اور ایمان لاؤ تاکہ نجات ہو۔ نیز اسی کتاب مطبوعہ مصر کے ص ١٤٠ میں مرقوم ہے: ”ثم رفعه الى السماء“ یعنی پھر اللہ تعالیٰ نے عیسیٰ علیہ السلام کو آسمان کی طرف اٹھا لیا۔
شیخ الاسلام امام ابن تیمیہؒ پر اتہام
مرزا قادیانی کی (کتاب البریہ ص ١٨٨، خزائن ج ١٣ ص ٢٢١ حاشیہ) کے حاشیہ پر لکھا ہے کہ ابن تیمیہ بھی وفات مسیح کے قائل تھے۔
جواب اتہام
یہ بھی صریح اتہام ہے۔ علامہ موصوف تو حیات مسیح کے قائل ہیں۔ دیکھو ان کی کتاب ”الجواب الصحيح لمن بدل دين المسيح“ اور ”زيارت القبور“ وغیرہ۔ ”فبعث
٤٦
المسيح رسله يدعونهم الى دين الله تعا الارض و بعضهم بعد رفعه الى السماء فدعو ج ١ ص ١١٩)“
یعنی کفار روم و یونان وغیرہ غیر اللہ کی پوجا کر اپنے نائب مبلغ بھیجے کہ وہ لوگوں کو توحید الہی کی طرف دعو زندگی میں گئے (یعنی جب وہ زمین پر زندہ موجود تھے) ا کے بعد گئے۔ ”ويقال ان انطاكية اول المدائن ال السلام وذالك بعد رفعه الى السماء“
یعنی انطاکیہ ان بڑے شہروں میں سے پہلا شہ ایمان لائے اور یہ مسیح علیہ السلام کے آسمان پر اٹھائے جان
قادیانی وربوی دوستو! علماء وصلحاء امت پر اف رکھو! جتنے اولیاء اللہ و بزرگان دین گزرے ہیں۔ سب حیات
مجدد الف ثانی رحمۃ اللہ کا عقیدہ!
حضرت شیخ احمد سرہندیؒ اپنی مکتوبات میں فرما خواہد فرمود متابعت شریعت خاتم الرسل خواہد نمود“
یعنی حضرت عیسیٰ علیہ السلام آسمان سے نزو شریعت کی اتباع کریں گے۔
شیخ عبدالقادر جیلانی رحمۃ اللہ کا عقیدہ!
آپ اپنی مشہور کتاب (غنیۃ الطالبین ج٢ ص ٤٨ عزوجل عيسى عليه السلام الى السماء“ یعنی آسمان پر اٹھا لیا۔
خواجہ معین الدین اجمیری رحمۃ اللہ کا عقیدہ!
آپ ارشاد فرماتے ہیں ”حضرت عیسیٰ از آس حضرت عیسیٰ علیہ السلام قرب قیامت کے آسمان سے نازل بزرگان دین حیات مسیح علیہ السلام کے قائل ہیں۔
٤٧
المسيح رسله يدعونهم الى دين الله تعالى فذهب بعضهم فى حياته فى الارض و بعضهم بعد رفعه الى السماء فدعوهم الى دين الله (الجواب الصحيح ج١ص١١٩)“
یعنی کفار روم و یونان وغیرہ غیر اللہ کی پوجا کیا کرتے تھے۔ پس مسیح علیہ السلام نے اپنے نائب مبلغ بھیجے کہ وہ لوگوں کو توحید الہی کی طرف دعوت دیں۔ پس بعض تو مسیح علیہ السلام کی زندگی میں گئے (یعنی جب وہ زمین پر زندہ موجود تھے) اور بعض ان کے آسمان پر اٹھائے جانے کے بعد گئے: ”ويقال ان انطاكية اول المدائن الكبار الذين امنوا بالمسيح عليه السلام وذالك بعد رفعه الى السماء“ یعنی انطاکیہ ان بڑے شہروں میں سے پہلا شہر ہے جس کے باشندے مسیح علیہ السلام پر ایمان لائے اور یہ مسیح علیہ السلام کے آسمان پر اٹھائے جانے کے بعد تھا۔
قادیانی و لاہوری دوستو! علماء و صلحاء امت پر افتراء پردازی سے کام نہیں چل سکتا۔ یاد رکھو! جتنے اولیاء اللہ و بزرگان دین گزرے ہیں۔ سب حیات مسیح کے قائل و معتقد تھے۔ ملاحظہ ہو
مجدد الف ثانی رحمۃ اللہ علیہ کا عقیدہ!
حضرت شیخ احمد سرہندیؒ اپنی مکتوبات میں فرماتے ہیں ”حضرت عیسیٰ کہ از آسمان نزول خواہد فرمود متابعت شریعت خاتم الرسل خواہد نمود“
(مکتوب ٦٧ دفتر سوم)
یعنی حضرت عیسیٰ علیہ السلام آسمان سے نزول فرما کر محمد مصطفیٰ ﷺ خاتم النبیین کی شریعت کی اتباع کریں گے۔
شیخ عبدالقادر جیلانی رحمۃ اللہ علیہ کا عقیدہ!
آپ اپنی مشہور کتاب (غنیۃ الطالبین ج٢ ص٥٨٢) میں رقمطراز ہیں: ”رفع الله عزوجل عيسى عليه السلام الى السماء“ یعنی اللہ عزوجل نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو آسمان پر اٹھالیا۔
خواجہ معین الدین اجمیری رحمۃ اللہ علیہ کا عقیدہ!
آپ ارشاد فرماتے ہیں ”حضرت عیسیٰ از آسمان فرود آید۔“ (انیس الارواح ص٩) یعنی حضرت عیسیٰ علیہ السلام قرب قیامت میں آسمان سے نازل ہوں گے۔ پس ثابت ہوا کہ جملہ بزرگان دین حیات مسیح علیہ السلام کے قائل ہیں۔
٤٧
حیات مسیح کا ثبوت متفرق دلائل سے!
تفسیر ابن کثیر میں تحت آیت : ”انی متوفیک“ مرقوم ہے: ”نجاہ اللہ تعالی من بينهم ورفعه من روزنة ذالك البيت الى السماء“ یعنی اللہ تعالیٰ نے عیسیٰ علیہ السلام کو ان کافروں سے نجات دی اور اس گھر کے روزن سے ان کو آسمان کی طرف زندہ اٹھا لیا۔ (تفسیر کبیر ج ٣ ص٤٣٢) میں ہے: ”رفع عیسیٰ الى السماء ثابت بهذه الاية“ یعنی عیسیٰ علیہ السلام کا آسمان کی طرف زندہ اٹھایا جانا اس آیت سے ثابت ہے۔ (درمنثور ج ٢ ص٢٣١ بحوالہ ابن ابی حاتم) مرقوم ہے: ”قال الحسن ان الله رفع اليه عيسى وهو باعثه قبل يوم القيامة“ یعنی اللہ عزوجل نے عیسیٰ علیہ السلام کو اپنی طرف زندہ اٹھا لیا اور قیامت سے پہلے اسے بھیجے گا۔
شرح عقائد نسفی مطبوعہ مجتبائی دہلی (ص١٣٢) میں ہے کہ نبی علیہ السلام نے خروج دجال اور دابۃ الارض اور یاجوج ماجوج کے آنے اور نزول عیسیٰ علیہ السلام کو قیامت کی نشانی فرمایا ہے۔ پس معلوم ہوا کہ حیات مسیح و نزول مسیح من السماء کا عقیدہ رکھنا اسلامی عقائد میں داخل ہے۔ ان کے خلاف عقیدہ رکھنے والا مخالف اسلام ہے۔ ”وان من اهل الكتاب“ مرقوم ہے : ”والمعنى انه اذا نزل من السماء امن به اهل الملل جميعاً“ یعنی اس آیت کا معنی یہ ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام آسمان سے نازل ہوں گے۔ تو ان پر سب فرقے ایمان لے آئیں گے۔ تفسیر خازن میں ہے: ”وانه يعنى عيسى لعلم للساعة يعنى نزوله من اشراط الساعة“ یعنی عیسیٰ علیہ السلام کا اترنا قیامت کی نشانیوں سے ہے۔ تفسیر کبیر، مدارک ج٤ ص١٤٩، جلالین ص٣٠٩، جامع البیان وغیرہ میں ہے: ”وقراء ابن عباس وانه لعلم للساعة وهو العلامة اى وان نزوله لعلم للساعة وان عيسى مما يعلم به مجيئ الساعة“
یعنی ابن عباسؓ فرماتے ہیں کہ نزول عیسیٰ علیہ السلام علامات قیامت سے ہے۔ (تفسیر ابن جریر ج٣ ص١٨٣) میں ہے: ”قال الحسن ان عیسیٰ رفعه الله اليه فهو عنده فی السماء“ یعنی اللہ تعالیٰ نے عیسیٰ علیہ السلام کو اپنی طرف اٹھا لیا ہے۔ پس وہ اللہ کے پاس آسمان پر زندہ ہیں۔ نیز امام شوکانیؒ نے اپنے رسالہ التوضیح فی تواتر ماجاء فی المہدی والدجال والمسیح میں نزول مسیح علیہ السلام کے متعلق ١٩ حدیثیں درج کی ہیں۔
٤٨
حیات مسیح کا ثبوت اجماع امت سے!
(تفسیر محیط سورہ آل عمران ص٢٧٣) میں ما تضمنه الحديث المتواتر من ان عيسى الزمان“ یعنی حدیث متواتر کی بناء پر ساری امہ اور اخیر زمانے میں نازل ہوں گے۔
امام نوویؒ (شرح مسلم شریف ج ٢ مجتبائی دہ هذا الحديث دليل على ان عيسى بن مر من حكام هذا الامة يحكم بشريعة نبينا صریح دلیل ہے کہ جب عیسیٰ علیہ السلام اخیر زمانے کر شریعت محمدیہ پر چلائیں گے۔ حاشیہ تفسیر جامع الـ ”والاجماع على انه حى فى السـ عیسیٰ علیہ السلام آسمان پر زندہ ہیں۔ ایک دن ناز دلیل سے یہ بات ثابت ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام زندہ ہوں گے۔
مرزائی اعتراض ...... نزول کی حکمت؟
صرف عیسیٰ علیہ السلام کو زندہ رکھنے اور ہے۔ کسی دیگر نبی کے ساتھ ایسا کیوں نہیں کیا؟
جواب اعتراض
(فتح الباری شرح صحیح بخاری ج ١٣ ص٢٨١ بـ بخاری مع شرح پڑھ لیتا تو اس اعتراض بے جا کی تکلیـ نزول عيسىٰ دون غيره من الانبياء لـ فبين الله كذبهم وانه الذى يقتلهم“ یعنی علماء امت نے نزول مسیح کی یہ حکمہ ”انا قتلنا المسيح عيسى بن مريم رسو اللہ عزوجل نے ان کا رد کر دیا اور ان کا جھوٹ بیان
٤٩
حیات مسیح کا ثبوت اجماع امت سے!
(تفسیر بحر محیط سورہ آل عمران ص ٤٧٣) میں مرقوم ہے: ”واجمعت الامة على ماتضمنه الحديث المتواتر من ان عيسى فى السماء حى وانه ينزل فى اخر الزمان“ یعنی حدیث متواتر کی بناء پر ساری امت کا اجماع ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام آسمان پر زندہ اور اخیر زمانے میں نازل ہوں گے۔
امام نوویؒ (شرح مسلم شریف ج ٢ مجتبائی دہلی ص ٤٧٨) میں رقمطراز ہیں: ”قالوا وفى هذا الحديث دليل على ان عيسى بن مريم اذانزل فى اخر الزمان نزل حكما من حكام هذا الامة يحكم بشريعة نبينا“ یعنی جملہ علماء امت نے کہا ہے کہ یہ حدیث صریح دلیل ہے کہ جب عیسیٰ علیہ السلام اخیر زمانے میں نازل ہوں گے تو اس امت کے حاکم بن کر شریعت محمدیہ پر چلائیں گے۔ حاشیہ تفسیر جامع البیان میں مرقوم ہے:
”والاجماع على انه حى فى السماء ينزل “یعنی اس پر اجماع ہو چکا ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام آسمان پر زندہ ہیں۔ ایک دن نازل ہوں گے۔ (تفسیر کبیر ص ٣٥٨) میں ہے کہ دلیل سے یہ بات ثابت ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام زندہ ہیں اور نبی علیہ السلام کا فرمان ہے کہ وہ نازل ہوں گے۔
مرزائی اعتراض......نزول کی حکمت؟
صرف عیسیٰ علیہ السلام کو زندہ رکھنے اور پھر دوبارہ نازل کرنے میں کیا خاص حکمت ہے۔ کسی دیگر نبی کے ساتھ ایسا کیوں نہیں کیا؟
جواب اعتراض
(فتح الباری شرح صحیح بخاری پ ١٣ ص ٤٨١) میں اس کا جواب موجود ہے۔ اگر معترض صحیح بخاری مع شرح پڑھ لیتا تو اس اعتراض بے جا کی تکلیف نہ کرتا۔ ”قال العلماء الحكمة فى نزول عيسى دون غيره من الانبياء الرد على اليهود فى زعمهم انهم قتلوه فبين الله كذبهم وانه الذى يقتلهم“ یعنی علماء امت نے نزول مسیح کی یہ حکمت بیان کی ہے کہ چونکہ یہودیوں کا اعلان تھا کہ :”انا قتلنا المسيح عيسى بن مريم رسول الله “ یعنی ہم نے مسیح بن مریم کو قتل کر دیا۔ اللہ عزوجل نے ان کا رد کر دیا اور ان کا جھوٹ بیان کر دیا کہ وہ جھوٹے ہیں۔ انہوں نے عیسیٰ علیہ
٤٩
السلام کو قتل نہیں کیا۔ بلکہ عیسیٰ علیہ السلام آسمان سے آ کر ان کو قتل کریں گے۔ اسی طرح مرزائی قادیانی حضرات بھی یہود کی طرح وفات مسیح کے قائل ہیں۔ اللہ تعالیٰ کے علم میں مرزائیوں کی تکذیب بھی مقدر تھی۔ ان کا بھی جھوٹا ہونا ثابت ہوگا۔
فیصلہ نبوی در بارہ حیات مسیح !
(تفسیر ابن جریر ج٣ ص١٨٩) میں مرقوم ہے: ”عن الحسن قال قال رسول اللہ ﷺ لليهود ان عيسىٰ لم يمت وانه راجع اليكم قبل يوم القيٰمة “ یعنی رسول اللہ ﷺ نے یہود سے فرمایا کہ عیسیٰ علیہ السلام ابھی فوت نہیں ہوئے اور تحقیق وہ قبل قیامت تمہاری طرف لوٹنے والے ہیں۔
ابو داؤد ج ٢ ص ١٣٥ میں ہے: ”قال رسول اللہ ﷺ ينزل عيسىٰ بن مريم عند المنارة البيضاء شرقی دمشق “ یعنی فرمایا رسول اللہ ﷺ نے کہ عیسیٰ بن مریم علیہ السلام دمشق کے مشرقی سفید منارہ پر نازل ہوں گے۔ حدیث ہذا حیات مسیح اور مقام نزول کی بین دلیل ہے اور مرزا قادیانی کے دعوٰی کی صریح مبطل ہے۔
مشکوٰۃ ص ٥٨٣ کے باب ثواب ہذہ الامۃ میں ہے: ”قال قال رسول اللہ ﷺ كيف تهلك امة انا اولها والمهدى وسطها والمسيح اخرها “ یعنی وہ امت کیسے ہلاک ہوگی۔ جس کے اول میں میں ہوں اور درمیان میں امام مہدی اور آخر میں مسیح ابن مریم ہیں۔“ پس معلوم ہوا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام قرب قیامت کے ضرور نازل ہوں گے۔
نیز ابو داؤد ج ٢ ص ١٣٥ باب خروج الدجال و مسند احمد وطبرانی کی معجم صغیر میں ہے: ”قال رسول اللہ ﷺ انا اولى الناس بعيسىٰ بن مريم لانه لم يكن بينى وبينه نبى وان خليفتى على امتى وانه نازل و يقاتل الناس على الاسلام حتى يهلك الله الملل كلها وتقع فى الارض الامنة ثم يتوفى ويصلى المسلمون عليه ويدفنونه “ یعنی فرمایا رسول اللہ ﷺ نے میں عیسیٰ بن مریم علیہ السلام سے بہت نزدیک ہوں۔ کیونکہ میرے اور ان کے درمیان کوئی نبی نہیں آیا اور وہ میری امت پر میرے خلیفہ ہیں اور وہ یقیناً نازل ہونے والے ہیں۔ لوگوں سے اسلام کی خاطر لڑیں گے۔ یہاں تک کہ بجز اسلام کے باقی کل ادیان مٹ جائیں گے اور زمین میں امن قائم ہو جائے گا۔ اس کے بعد عیسیٰ علیہ السلام فوت ہوں گے اور مسلمان ان پر جنازہ پڑھیں گے اور دفن کریں گے۔
٥٠
حدیث ہذا عیسیٰ علیہ السلام کی حیات ونزول اللہ ﷺ فرما رہے ہیں کہ عیسیٰ علیہ السلام میرے خلیفہ زمین پر ایک مذہب اسلام ہوگا۔ باقی جملہ ادیان باطلہ قادیانی ہیں، جو مثیل مسیح ہونے کے مدعی ہیں۔ تو مرزا بجائے گھٹنے کے اور بڑھے گی۔ لہٰذا مرزا قادیانی کے کاذب
تفسیر خازن میں تحت آیت: ”بل رفعه عباس ما من احد قبل موت عيسىٰ ول اخر الزمان فلا يبقى احد من اهل الكتاب واحدة وهى ملة الاسلام “ ترجمہ وہی ہے جو اوپر
ناظرین با تمکین ! دلائل مندرجہ بالا سے بخوبی لغو اور باطل ہے اور اس کا بانی مدعی نبوت دجال و کذا ولایت کا دعویٰ کیا۔ پھر تمام اولیاء اللہ سے جو اس وقت م میں سب سے اعلیٰ و ادنیٰ ہوں۔ پھر کبھی مثیل آدم اور کبھی موسیٰ و داؤد ہوئے۔ آخر نوبت بایں جا رسید کہ عیسیٰ علیہ ا اور مسیح موعود بن بیٹھے۔ لیکن یہ نہ سمجھے کہ جس کو خدا نہ بنا مرزا قادیانی کے ان کے اشتہارات و رسائل سے ظاہر ص ٢٧، توضیح مرام ص ١٨، ١٩، خزائن ج ٣ ص ٦٠، فتح الاسلام ص
براہین احمدیہ میں آپ مسیح موعود ہونے کا دعویٰ اور نیا دعویٰ کیا جو مراقی مرزا کی بین دلیل ہے۔ چنانچہ فر مخاطب کر کے مکمل طور پر اللہ تعالیٰ نے مرزا قادیانی کو مثیل قرار دیا۔ دیکھو
(ازالہ اوہام حصہ
کبھی کہلایا مجھے الہام ہوا ہے: ”انا انزلن خزائن ج ٣ ص ١٣٩) اسی برتے پر یہ لوگ احادیث کا انکا مناظروں ومباحثوں میں مغالطہ دیتے اور ابلہ فریبی کر بفضلہ تعالیٰ نے یہاں درج کر دیئے ہیں۔ اگر مزید ترد رسائل ملاحظہ ہوں۔
٥١
حدیث ہذا عیسیٰ علیہ السلام کی حیات ونزول من السماء کی بین دلیل ہے۔ کیونکہ رسول اللہ ﷺ فرما رہے ہیں کہ عیسیٰ علیہ السلام میرے خلیفہ ہیں۔ ان کے نازل ہونے پر تمام روئے زمین پر ایک مذہب اسلام ہوگا۔ باقی جملہ ادیان باطلہ ختم ہو جائیں گے۔ اگر اس سے مراد مرزا قادیانی ہیں، جو مثیل مسیح ہونے کے مدعی ہیں۔ تو مرزا قادیانی کی آمد سے تو فرق باطلہ کی تعداد بجائے گھٹنے کے اور بڑھ گئی۔ لہذا مرزا قادیانی کے کاذب ہونے میں کیا شک وشبہ باقی رہا۔
تفسیر خازن میں تحت آیت: ”بل رفعه الله اليه“ مرقوم ہے: ”قال ابن عباس ما من احد قبل موت عيسىٰ وذالك عند نزوله من السماء في اخر الزمان فلا يبقى احد من اهل الكتاب الا امن بعيسىٰ حتى تكون الملة واحدة وهى ملة الاسلام“ ترجمہ وہی ہے جو اوپر مذکور ہوا۔
ناظرین باتمکین! دلائل مندرجہ بالا سے بخوبی واضح ہو گیا کہ مرزائی مذہب بالکل جھوٹا لغو اور باطل ہے اور اس کا بانی مدعی نبوت دجال و کذاب ہے۔ مرزا غلام احمد قادیانی نے اول ولایت کا دعویٰ کیا۔ پھر تمام اولیاء اللہ سے جو اس وقت موجود تھے، تفوق اور بڑائی کا اشتہار دیا کہ میں سب سے اعلیٰ واولیٰ ہوں۔ پھر کبھی مثیل آدم اور کبھی مثیل نوح، کبھی ابراہیم و یوسف اور کبھی موسیٰ و داؤد ہوئے۔ آخر نوبت بایں جا رسید کہ عیسیٰ علیہ السلام کو مار کر ان کے عہدہ پر ہاتھ صاف کیا اور مسیح موعود بن بیٹھے۔ لیکن یہ نہ سمجھے کہ جس کو خدا نہ بنائے وہ کچھ بھی نہیں بن سکتا۔ یہ جملہ دعاویٰ مرزا قادیانی کے ان کے اشتہارات و رسائل سے ظاہر ہیں۔ دیکھو (ازالہ اوہام ص ٢٥٣، خزائن ج ٣ ص ٢٢٧، توضیح مرام ص ١٨، ١٩، خزائن ج ٣ ص ٦٠، فتح الاسلام ص ١٥، ١٩، خزائن ج ٣ ص ١٠ تا ١٢)
براہین احمدیہ میں آپ مسیح موعود ہونے کا دعویٰ کر چکے تھے۔ پھر ازالہ اوہام میں ایک اور نیا دعویٰ کیا جو حماقت مرزا کی بین دلیل ہے۔ چنانچہ فرماتے ہیں کہ بار بار یا احمد کے خطاب سے مخاطب کر کے مکمل طور پر اللہ تعالیٰ نے مرزا قادیانی کو مثیل سردار انبیاء و اصفیاء حضرت اقدس ﷺ قرار دیا۔ دیکھو
(ازالۃ الاوہام حصہ اول ص ٢٥٣، ٢٥٤، خزائن ج ٣ ص ٢٢٧، ٢٢٨)
کبھی کہلایا مجھے الہام ہوا ہے: ”انا انزلناہ قریبا من القادیان“ (ازالہ ص ٧٥، خزائن ج ٣ ص ١٣٩) اسی برتے پر یہ لوگ احادیث کا انکار کرتے اور طرح طرح کی تاویلات کر کے مناظروں و مباحثوں میں مغالطہ دیتے اور ابلہ فریبی کرتے ہیں۔ اکثر مغالطوں کے جوابات تو بفضلہ تعالیٰ ہم نے یہاں درج کر دیئے ہیں۔ اگر مزید تردید و دلائل منظور ہوں تو مندرجہ ذیل کتب و رسائل ملاحظہ ہوں۔
٥١
- ......١ الفتح الربانی فی الرد علی القادیانی، مصنفہ حضرت العلامہ شیخ حسین بن محسن انصاری
یمانی۔
- ......٢ الحق الصریح فی اثبات المسیح مؤلفہ مولانا محمد بشیر صاحب سہوانی۔
- ......٣ اعلاء الحق الصریح بتکذیب مثیل المسیح، مؤلفہ مولانا محمد اسمعیل صاحب علی گڑھی۔
- ......٤ نمونہ لیاقت علی مولوی محمد احسن جواب مثنوی مسیح۔
- ......٥ بیان للناس، مؤلفہ مولانا عبدالمجید صاحب در رد مولوی محمد احسن امروہی۔
- ......٦ شفاء للناس مؤلفہ مولانا عبداللہ صاحب شاہ جہاں پوری در رد اعلام الناس مصنفہ
امروہی۔
- ......٧ تصنیفات مولانا ثناء اللہ صاحب امرتسری۔
- ......٨ تصنیفات مولانا محمد حسین صاحب بٹالوی وغیرہ۔
اب ہم ناظرین کی ضیافت طبع کے لئے ایک مختصر سی نظم درج کر کے مضمون ہذا کو ختم کرتے ہیں۔ دلائل کتابوں میں اور بھی بہت ہیں۔ مگر انصاف پسند طبائع و متلاشیان حق کے لئے اتنا ہی کافی وافی ہے: ”وفیہ کفایۃ لمن لہ درایہ“
نظم در بارہ حیات مسیح علیہ السلام
از جناب حاجی شیخ نور الٰہی صاحب دہلویؒ
زندہ کہتا ہے انہیں قرآن پاک مانتے ہیں ہم کو اب کس کا ہے باک
وہ نہیں شامل ابھی اموات میں ذکر اس کا ہے کئی آیات میں
اور حلف سے مصطفیٰ نے یہ کہا آئیں گے دنیا میں عدلاً مقسطاً
جس کو چاہے رب رکھے زندہ مدام بندہ کر سکتا ہے اس میں کیا کلام
اس کی ہے مخلوق ساری کائنات کیا چرند اور کیا پرند اے نیک ذات
قادیانی اور تہی توحید ہے مرزا کی سر بسر تقلید ہے
ہو مقلد مرزا قادیانی کے تم ورنہ کیوں ہوتی عقل تمہاری گم
یاں تو بس نور الٰہی دل میں ہے اور شمع مصطفیٰ ﷺ محفل میں ہے
...... ٭ ...... ٭ ...... ٥٢
مرزائے قادیانی
حضرت مولانا سید مبارک
انا خاتم النبیین لا نبی بعدی
میں آخری نبی ہوں میرے بعد کوئی نبی نہیں
مرزائے قادیانی کی بدزبانی
حضرت مولانا سید مبارک علی شاہ ہمدانی رحمہ اللہ
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
فتنہ قادیانیت
نسبحك اللهم ونحمده والصلوٰة والسلام على من هو المسمى بمحمد واحمد وعلى آله واصحابه الاكرم الامجد
- ١....... برادران اسلام! قبل ازیں میں ایک ٹریکٹ کے ذریعہ آپ پر نہایت صحیح حوالجات سے
واضح کر چکا ہوں کہ مرزائی جماعت کا یہ عقیدہ ہے کہ دنیا کے پچاس کروڑ مسلمان، مسلمان نہیں ہیں۔ بلکہ کافر اور دائرہ اسلام سے خارج ہیں۔ اس جماعت کا یہ عقیدہ ان کا اپنا گھڑا ہوا نہیں ہے۔ بلکہ ان کے پیر و مرشد مرزا غلام احمد قادیانی کی اس کے متعلق نصوص ہیں۔
- ٢....... آپ (حقیقت الوحی ص ١٦٣ خزائن ج ٢٢ ص ١٦٧، ١٦٨) پر لکھتے ہیں: ”میرا منکر کافر
ہے۔“ اور (انجام آتھم ص ٦٢ خزائن ج ١١ ص ٦٢) پر لکھتے ہیں: ”الہامات میں میری نسبت بیان کیا گیا ہے۔..... جو کچھ کہتا ہے، اس پر ایمان لاؤ! اور اس کا دشمن جہنمی ہے۔“ نعوذ باللہ منہ!
- ٣....... مرزا قادیانی نے اپنے مخالفین (مسلمانوں) کے لئے جہاں کافر، جہنمی جیسے القاب
تجویز کئے ہیں۔ وہاں اپنی تصنیفات میں عام طور پر اور نام لے لے کر بھی خوب کوسا ہے۔ بلکہ میری تحقیق میں تو آپ کو جامع مانع گالیاں وضع کرنے میں ایک خاص ملکہ تھا۔
- ٤....... خلق عظیم کے مالک ”علیه وعلى آله الصلوٰة والسلام“ فرماتے ہیں کہ چار
باتیں جس میں ہوں گی وہ خالص منافق ہے اور جس میں ان چار میں سے ایک بات ہو اس میں ایک بات نفاق کی ہے۔
- ١....... امین بنایا جائے تو خیانت کرے۔
- ٢....... بات کرے تو جھوٹ بولے۔
- ٣....... وعدہ کرے تو خلاف کرے۔
- ٤....... لڑے تو بیہودہ گوئی کرے۔
- ٥....... مرزا قادیانی کی کتابوں کے مطالعہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ کو ان چاروں
امور میں اچھی خاصی دسترس تھی۔ سچ ہے:
٢
میں فی الحال آپ کے سامنے آخری امر کے شواہد ہوں کہ آپ جب کبھی کسی سے لڑے ہیں تو بد زبانی، بیہودہ گو نہ رکھا ہو۔
حضرت پیر مہر علی شاہ صاحب گولڑوی مدظلہ
آپ ہندوستان کے مشہور پیر ہیں۔ صرف پیری م کے باعث آپ اہل سنت والجماعت کے چوٹی کے علماء میں قادیانی کی تردید میں متعدد کتب ورسائل تصنیف فرمائے ہیں ج مرزائی اعتقاد کی قاطع سمجھئے۔
اس کتاب میں آپ نے جہاں حیات مسیح وغیر اثبات کیا ہے۔ وہاں آپ نے مرزا قادیانی کی علمیت کو بھی آپ اپنی علمیت وصالحیت کی وجہ سے مرجع ومحمود انام ہیں۔ لیک کا آپ نے نہایت منصفانہ رد فرمایا ہے۔ اس لئے مرز ”اذا خاصم فجر“ حسب ذیل سلوک ہوتا ہے۔
- ١....... ”مجھے ایک کتاب کذاب کی طرف سے پہنچی ہے ج
زن ہے۔“
- ٢....... ”پس میں نے کہا اے گولڑہ کی زمین تجھ پر لعنت
پڑے۔“
- ٣....... ”اس فرومایہ نے کمینہ لوگوں کی طرح گالی کے سا
(جو پیر صاحب کی تصنیفات کا مطالعہ کریں) اور ہر ایک آدمی غو (سچ ہے)
- ٤....... ”کیا تو اے گمراہی کے شیخ! یہ گمان کرتا ہے کہ م
(میرا یقین ہے)“
- ٥....... ”اے دیو! تو نے بدبختی کی وجہ سے جھوٹ بولا۔ ا
دلیری کرتا ہے۔“
(اعجاز احمدی ص ٧٥، خزائن ج ١٩ ص ١٨٨)
نوٹ....... بفضلہ تعالیٰ پیر صاحب موصوف ابھی تک زندہ ہیں سے فیض یاب ہو رہے ہیں۔ لیکن یہ بدزبان ١٩٠٨ء کا شکار ہوا
٣
میں فی الحال آپ کے سامنے آخری امر کے شواہد پیش کرتا ہوں اور واضح کر دینا چاہتا ہوں کہ آپ جب کبھی کسی سے لڑے ہیں تو بد زبانی، بیہودہ گوئی کا کوئی ہتھیار نہیں، جو آپ نے اٹھا نہ رکھا ہو۔
حضرت پیر مہر علی شاہ صاحب گولڑوی مدظلہ
آپ ہندوستان کے مشہور پیر ہیں۔ صرف پیر ہی نہیں بلکہ علمی کمالات کے حامل ہونے کے باعث آپ اہل سنت والجماعت کے چوٹی کے علماء میں شمار ہوتے ہیں۔ آپ نے مرزا قادیانی کی تردید میں متعدد کتب ورسائل تصنیف فرمائے ہیں۔ جن میں سے ”سیف چشتیائی“ کو تو مرزائی اعتقاد کی قاطع سمجھئے۔
اس کتاب میں آپ نے جہاں حیات مسیح وغیرہ مسائل کا دلائل و براہین ہند سے اثبات کیا ہے۔ وہاں آپ نے مرزا قادیانی کی علمیت کو بھی خوب بے نقاب کیا ہے۔ بہرحال آپ اپنی علمیت وصالحیت کی وجہ سے مرجع و محمود انام ہیں۔ لیکن چونکہ مرزا قادیانی کے عقائد واہیہ کا آپ نے نہایت منصفانہ رد فرمایا ہے۔ اس لئے مرزا قادیانی کی طرف سے باقاعدہ ”اذا خاصم فجر“ حسب ذیل سلوک ہوتا ہے۔
- ......١ ”مجھے ایک کتاب کذاب کی طرف سے پہنچی ہے۔ وہ خبیث کتاب بچھو کی طرح نیش
زن ہے۔“
- ......٢ ”پس میں نے کہا اے گولڑہ کی زمین تجھ پر لعنت، تو ملعون کے سبب سے ملعون ہو
گئی۔“
- ......٣ ”اس فرومایہ نے کمینہ لوگوں کی طرح گالی کے ساتھ بات کی ہے (بالکل غلط اتہام
ہے پیر صاحب کی تصنیفات کا مطالعہ کریں) اور ہر ایک آدمی خصومت کے وقت آزمایا جاتا ہے۔“ (سچ ہے)
- ......٤ ”کیا تو اے گمراہی کے شیخ! یہ گمان کرتا ہے کہ میں نے یہ جھوٹ بنایا ہے۔“ (بلکہ
یقین ہے)
- ......٥ ”اے دیو! تو نے بدبختی کی وجہ سے جھوٹ بولا۔ اے موت کے شکار خدا سے ڈر کیوں
دلیری کرتا ہے۔“
(اعجاز احمدی ص ٧٥، خزائن ج ١٩ ص ١٨٨، ترجمہ اشعار از مرزا قادیانی)
نوٹ ...... بفضلہ تعالیٰ پیر صاحب موصوف ابھی تک زندہ ہیں اور ہزاروں لوگ ان کے علم وفضل سے فیض یاب ہو رہے ہیں۔ لیکن یہ بدزبان ١٩٠٨ء کا شکار موت ہو چکا ہے۔
٣
مولوی ثناء اللہ صاحب
آپ پنجابی جماعت اہل حدیث کے سردار کہلاتے ہیں اور مولوی فاضل ہیں۔ آپ نے بھی مرزا قادیانی کی تردید میں رسائل کی ایک کثیر تعداد شائع کی۔ مرزا قادیانی کی پیش گوئیوں کو قطعی جھوٹا ثابت کرنے میں آپ کو باع وسیع حاصل ہے۔ مرزا قادیانی کی درگاہ سے آپ کو جو انعام ملا ہے۔ اس کا نمونہ حسب ذیل ہے۔
- ١...... ”میں تجھے اور غدار زمانہ ثناء اللہ کو خدا کا ہاتھ دکھلاؤں گا۔“
(اعجاز احمدی ص ٧٧، خزائن ج ١٩ ص ١٩٠)
- ٢...... ”کیا تو نے کسی بھیڑیے سے دوستی لگائی یا مولوی ثناء اللہ سے۔“
(اعجاز احمدی ص ٧٨، خزائن ج ١٩ ص ١٩١)
- ٣...... ”اے عورتوں کی عار ثناء اللہ۔“
(اعجاز احمدی ص ٨٣، خزائن ج ١٩ ص ١٩٦)
- ٤...... ”تو نے اپنی کتاب لکھی۔ پس ان انگلیوں پر واویلا ہے اور ہلاک ہو گیا وہ ہاتھ جو لوگوں
کو گمراہ کرتا اور بکواس کرتا ہے۔“
(اعجاز احمدی ص ٧٩، خزائن ج ١٩ ص ١٩٢)
نوٹ...... مرزا قادیانی نے ١٥؍اپریل ١٩٠٧ء (مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ٥٧٩) کو ایک اشتہار شائع کیا۔ اس میں لکھتے ہیں: ”یا اللہ میں تیرے ہی تقدس کا دامن پکڑ کر تیری جناب میں ملتجی ہوں کہ مجھ میں اور ثناء اللہ میں سچا فیصلہ فرما اور جو تیری نگاہ میں حقیقت میں مفسد اور کذاب ہے۔ اس کو صادق کی زندگی میں ہی دنیا سے اٹھالے۔“ (مولوی صاحب اب تک مرزائیوں کے خلاف دندناتے پھر رہے ہیں اور اس دعا کے داعی مرزا قادیانی ١٩٠٨ء کو ہی دنیا سے اٹھ چکے ہیں)
مولوی علی حائری صاحب
آپ پنجاب کی شیعہ جماعت کے مجتہدین اور ان میں بڑے عالم سمجھے جاتے ہیں۔ آپ کی نسبت مرزا قادیانی کا ایک مصرعہ ہی نقل کر دینا کافی ہے: ”كانك غول فاقد العين اعور“ یعنی: ”گویا کہ تو ایک دیو ہے، آنکھ کھوئی والا ایک چشم۔“
(اعجاز احمدی ص ٧٤، خزائن ج ١٩ ص ١٨٦)
مذکورہ بالا تینوں اشخاص اپنی اپنی جماعت کے نہایت برگزیدہ اشخاص ہیں۔ جن میں سے کسی کو مرزا قادیانی نے ملعون کہا ہے تو کسی کو دیو اور کسی کو بکواسی جس کے یہ معنی ہیں کہ مرزا قادیانی کی بدزبانی سے سنی، شیعہ اور اہل حدیث کا کوئی عالم بھی محفوظ نہیں رہا۔ ٤
باوجود اس کے ڈھٹائی دیکھئے کہ (ازالہ ہے: ”میں سچ سچ کہتا ہوں کہ جہاں تک مجھے معلوم ہے جس کو دشنام دہی کہا جائے۔“
شرم، شرم، شرم، حضرات! مرزا قادیانی نے بیان کیا ہے۔ وہ یہ کہ ”سخت الفاظ استعمال کرنے میں جاتے ہیں۔“ (ازالہ اوہام ص ٢٩، خزائن ج ٣ ص ١١٧) پر لکھتے ہیں: ”من او را بکلمات درشت سنائیدم گفتم تا باشد که او برائے جنگ من برخیز دل آزار الفاظ اس لئے کہے ہیں تاکہ وہ کسی طرح ہما ہو جائے۔
لہٰذا یہ کہنا کہ مرزا قادیانی نے گالی کے جوا حوالجات سے صریح معلوم ہوتا ہے کہ آپ نے اس ط استعمال کئے ہیں تاکہ ان کے مخالفین ایسے کلمات س ایک ہنگامہ پیدا ہو اور لوگوں کو معلوم ہو جائے کہ مخا سیالکوٹ کی عدالت کا مقدمہ بتا رہا ہے۔ سچ ہے:
مرزا قادیانی (ایک غلطی کا ازالہ ص ٥، خزائ محمد ہوں۔ (کچھ آگے چل کر) میں بروزی طور پ کمالات محمدی مع نبوت محمدیہ کے میرے آئینہ ظلی کر) تمام انبیاء علیہم السلام کا اس پر اتفاق ہے کہ مہ
یہ عبارت اپنے مطلب میں واضح ہ کائنات ﷺ میں کچھ فرق نہیں۔ ٥
باوجود اس کے ڈھٹائی دیکھئے کہ (ازالہ اوہام ص ١٣، خزائن ج ٣ ص ١٠٩) میں لکھتا ہے: ”میں سچ سچ کہتا ہوں کہ جہاں تک مجھے معلوم ہے میں نے ایک بھی ایسا لفظ استعمال نہیں کیا۔ جس کو دشنام دہی کہا جائے۔“
شرم شرم شرم، حضرات ! مرزا قادیانی نے اس بدزبانی کا ایک عجیب وغریب فلسفہ بھی بیان کیا ہے۔ وہ یہ کہ ”سخت الفاظ استعمال کرنے میں ایک یہ بھی حکمت ہے کہ خفتہ دل بیدار ہو جاتے ہیں۔“ (ازالہ اوہام ص ٢٩، خزائن ج ٣ ص ١١٧) اور (انجام آتھم ص ٢٤٥، خزائن ج ١١ ص ایضاً) پر لکھتے ہیں: ”من او را بمکلمات درد رسانندہ در غضب آوردم و الفاظ دل آزار گفتم تا باشد کہ او برائے جنگ من برخیزد“ یعنی میں نے اسے درد رساں کلمات اور دل آزار الفاظ اس لئے کہے ہیں تا کہ وہ کسی طرح ناراض ہو کر مجھ سے جنگ کرنے کے لئے آمادہ ہو جائے۔
لہٰذا یہ کہنا کہ مرزا قادیانی نے گالی کے جواب میں گالی دی ہے، غلط ہے۔ بلکہ ان ہر دو حوالجات سے صریح معلوم ہوتا ہے کہ آپ نے اس مصلحت کو مد نظر رکھ کر دل آزار اور سخت کلمات استعمال کئے ہیں تا کہ ان کے مخالفین ایسے کلمات اپنے یا اپنے بزرگوں کی نسبت سن کر بھڑکیں۔ ایک ہنگامہ پیدا ہو اور لوگوں کو معلوم ہو جائے کہ قادیان جیسے غیر معروف قصبہ میں بھی کوئی ضلع سیالکوٹ کی عدالت کا محرر رہتا ہے۔ سچ ہے:
مرزا قادیانی (ایک غلطی کا ازالہ ص ٥، خزائن ج ١٨ ص ٢١٢) میں لکھتے ہیں: ”میں ظلی طور پر محمد ہوں۔ (کچھ آگے چل کر) میں بروزی طور پر آنحضرت ہوں اور بروزی رنگ میں تمام کمالات محمدی مع نبوت محمدیہ کے میرے آئینہ ظلیہ میں منعکس ہیں۔ (ایضاً) (کچھ اور آگے چل کر) تمام انبیاء علیہم السلام کا اس پر اتفاق ہے کہ بروز میں دوئی نہیں۔“
(ایک غلطی کا ازالہ ص ٥، خزائن ج ١٨ ص ٢١٤)
یہ عبارت اپنے مطلب میں واضح ہے۔ یعنی میں محمدؐ ہوں۔ مجھ میں اور سرور کائناتؐ میں کچھ فرق نہیں۔
حضرات! مرزا قادیانی جیسے بدزبان آدمی کا اپنے آپ کو نبی کریم ﷺ کا عین کہنا سخت گستاخی ہے اور آپ ﷺ کی عزت و ناموس پر حملہ کرنا ہے۔
حضور علیہ الصلوۃ والسلام کی ذات بابرکات تو وہ تھی۔ جس کی نسبت اللہ تعالیٰ نے نص فرمادی:”انك لعلى خلق عظيم (القلم:٤)“ ﴿یقینا آپ خلق عظیم کے مالک ہیں۔﴾ اور مہر کر دی کہ:”فبما رحمة من الله لنت لهم (آل عمران:١٥٩)“
صحابہ کا آپ کی نسبت یقین وایمان تھا کہ:”انك لا تكافئ السيئة بالسيئة “﴿یقینا آپ برائی کا بدلہ برائی نہیں کرتے۔﴾ اور: ”كان لا يشافه احدا بما يكرهه حياء وكرم نفس (شفا)“ ﴿آپ ﷺ حیاء و کرم نفسی کی وجہ سے کبھی کسی کے روبرو نہ ہوتے جو اسے مکروہ و ناپسند ہو۔ حضرت انسؓ آپ کے دیرینہ خادم کہتے ہیں: ”ماقال لی اف قط (شفا)“ ﴿مجھے حضور ﷺ نے اف تک بھی کبھی نہیں فرمایا تھا۔﴾
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: ”ماكان احد احسن خلقا من رسول الله ﷺ (شفا)“ ﴿حضور ﷺ سے بہترین خلق کا کوئی نہیں تھا۔ اور حضور ﷺ خود فرماتے ہیں: ”انى لم ابعث لعانا ولكنى بعثت رحمة“ ﴿میں لعنت کرنے والا نہیں بھیجا گیا میں تو صرف رحمت بنا کر بھیجا گیا ہوں۔﴾
مرزائی جماعت کے سامنے جب مرزا قادیانی کی کرتوت ظاہر کی جاتی ہے تو بجائے اس کے کہ راہ راست پر آئیں، الٹا مسلمانوں کے دل کو مجروح کرنے کے لئے سرور عالم ﷺ کی ذات بابرکات اور قرآن مجید پر حملے شروع کر دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ قرآن مجید میں بھی تو اپنے مخالفین کو گالیاں دی گئی ہیں۔”نستغفر الله العظيم“
حضرات! آپ بتلائیں کہ اس دلیل کا سوائے اس کے اور کیا مطلب ہوا کہ:”نعوذ بالله منه“ قرآن مجید اور نبی کریم ﷺ ہمیں اپنے مخالفین کو گالی دینا سکھاتے ہیں۔ چونکہ اس منافقانہ شرارت سے قرآن مجید وسرور عالم ﷺ کی نسبت صرف مرزا قادیانی کو بچانے کے لئے عوام کے اعتقاد کو تباہ کر دیتے ہیں۔ اس لئے مناسب ہوا کہ بالاختصار اس جواب کی حقیقت کو طشت از بام کروں تا کہ بوقت ضرورت ان منافقین کا منہ بند کیا جاسکے۔
ایک مسلمان کا عقیدہ ہے کہ قرآن مجید اپنی دیگر بے نظیر تعلیمات کی طرح اخلاقیات کی
٦
تعلیم میں بھی ایک بے نظیر کتاب ہے اور کلا صادق آسکتا ہے۔ قرآن مجید کی نسبت یہ ک درجے کی بے ہودگی اور کفر ونفاق کا انتہائی در کا ہی عقیدہ ہوسکتا ہے کہ کلام الہی میں گالیاں قرآن مجید میں کسی کافر یا منافق ک کو بھی گالی دینے سے مسلمانوں کو منع فرمایا ہ دون الله (الانعام :١٠٨) “﴿اے مسل نہ دو۔﴾
تفاسیر میں بروایت قتادہؓ اس کا شا يسبون اصنام الكفار فنهاهم الله گالیاں دیا کرتے تھے۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے
دوسری جگہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: ”قل لع اسرائیل:٥٣)“ ﴿آپ میرے بندوں کو ک
ان ہر دو آیات کے علاوہ اور بھی ہیں۔ باقی رہیں احادیث جو گالی کی برائی اور ہی زیادہ ہے۔ جن کے نقل کرنے کی اس چھو
قرآن مجید کے کلام الہی ہونے
”لوكان من عند غير الله لوجدو مجید اگر اللہ تعالیٰ کے سوا کسی دوسرے کا کلا کے کلام میں اختلاف وتصادم ضروری ہے ن محدودہ پرمشتمل ہونے کے باوجود کسی ایک کلام الہی ہے۔ غیر اللہ کا کلام نہیں ہے۔
مذکورہ بالا ہر دو آیات سے معلو تاکید فرمارہا ہے اور گالی سے بچنے کی یہاں
تعلیم میں بھی ایک الہامی کتاب ہے اور ”كلام الملك ملك الكلام“ صرف اسی پر صحیح طور پر صادق آ سکتا ہے۔ قرآن مجید کی نسبت یہ کہنا کہ اس میں مخالفین کو گالیاں دی گئی ہیں، پرلے درجے کی بے ہودگی اور کفر و نفاق کا انتہائی درجہ کا مظاہرہ ہے۔ یہ صرف ایک منافق و کافر یا مرزائی کا ہی عقیدہ ہو سکتا ہے کہ کلام الہی میں گالیاں ہیں۔
قرآن مجید میں کسی کافر یا منافق کو گالی دینے کی تعلیم تو کہاں رہی ان کے معبودین باطلہ کو بھی گالی دینے سے مسلمانوں کو منع فرمایا ہوا ہے۔ پڑھئے: ”ولا تسبوا الذين يدعون من دون الله (الانعام :١٠٨) “ ﴿اے مسلمانو! تم ان کو جن کو یہ کافر، اللہ کے سوا پوجتے ہیں، گالی نہ دو۔﴾
تفاسیر میں بروایت قتادہؓ اس کا شان نزول یہ بیان کیا ہوا ہے کہ : ”كان المسلمون يسبون اصنام الكفار فنهاهم الله عزوجل عن ذلك “ یعنی مسلمان کفار کے بتوں کو گالیاں دیا کرتے تھے۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے انہیں اس بات (بتوں کو گالی دینے) سے منع فرمایا۔ دوسری جگہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: ”قل لعبادي يقولوا التي هي احسن (بني اسرائيل: ٥٣) “ ﴿آپ میرے بندوں کو کہہ دیں کہ وہ نہایت ہی اچھی بات کہا کریں۔﴾
ان ہر دو آیات کے علاوہ اور بھی تہذیب کلام کے بارہ میں قرآن مجید میں آیات وارد ہیں۔ باقی رہیں احادیث جو گالی کی برائی اور تہذیب کلام کی نسبت منقول ہیں۔ ان کی تعداد تو بہت ہی زیادہ ہے۔ جن کے نقل کرنے کی اس چھوٹے سے رسالہ میں گنجائش نہیں۔
قرآن مجید کے کلام الہی ہونے کی قرآن مجید میں ایک یہ بھی دلیل دی گئی ہے کہ: ”لو كان من عند غير الله لوجدوا فيه اختلافا كثيرا (النساء: ٨٢) “ ﴿قرآن مجید اگر اللہ تعالیٰ کے سوا کسی دوسرے کا کلام ہوتا تو اس میں بہتیرا اختلاف ہوتا۔﴾ کیونکہ غیر اللہ کے کلام میں اختلاف و تصادم ضروری ہے۔ لیکن جب اس کلام پاک میں واقعات کثیرہ و علوم غیر محدودہ پر مشتمل ہونے کے باوجود کسی ایک بات میں بھی اختلاف وتصادم نہیں۔ تو ثابت ہوا کہ یہ کلام الہی ہے۔ غیر اللہ کا کلام نہیں ہے۔
مذکورہ بالا ہر دو آیات سے معلوم ہو رہا ہے کہ قرآن مجید اپنے متبعین کو قول احسن کی تاکید فرمارہا ہے اور گالی سے بچنے کی یہاں تک تاکید کی ہے کہ کفار کے بتوں تک گالی نہ دو۔ اب
٧
اگر کوئی عقل کا اندھا یہ کہے کہ قرآن مجید میں مخالفین کو گالیاں دی گئی ہیں۔ جس کے دوسرے معنی یہ ہیں کہ ”نعوذ باللہ“ قرآن مجید مخالفین کو گالی دینے کی تعلیم دیتا ہے تو بتلائیے ہم اسے کیا سمجھیں کافر، منافق یا پاگل؟
سرور کائنات ﷺ کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے تاکید ہو رہی ہے کہ: ”اصبر کما صبر اولو العزم من الرسل (الاحقاف:٣٥)“ آپ ﷺ اسی طرح صبر کریں جس طرح کہ اولوالعزم رسولوں نے صبر کیا۔ اور آپ ﷺ نے اس پر وہ عمل کر دکھایا جس سے تمام دنیا جانتی ہے اور اپنے پیروں کو وہ اخلاقی تعلیم دی جس کی نظیر ڈھونڈنے سے بھی نہیں ملتی۔ لیکن مرزا قادیانی کے مرید اپنے سباب کی حمایت میں قرآن مجید پر اتہام لگاتے ہیں اور کہہ دیتے ہیں کہ قرآن مجید میں بھی گالیاں ہیں۔
مرزا قادیانی کی بدزبانی کے جواب میں مرزائی الزاماً مسلمانوں کو جو کچھ کہا کرتے ہیں۔ ان میں سے ایک تو یہ ہے کہ قرآن مجید میں ولید بن مغیرہ کو زنیم کہا گیا ہے۔ جس کے معنی حرام زادہ کے ہیں۔ دوسرا ابولہب کو تبت یدا ابی لہب میں گالی دی گئی ہے۔ سو پہلے کے متعلق یاد رکھنا چاہئے کہ قرآن مجید میں کہیں ولید بن مغیرہ کا نام نہیں آیا۔ دوسرا مفسرین کا اس میں اختلاف ہے کہ زنیم وغیرہ اوصاف کا مصداق ولید بن مغیرہ یا اسود بن یغوث یا اخنس بن شریق جب کسی ایک شخص کو معین نہیں کیا جاسکتا۔ تو بتلائیے حرام زادہ کس کو کہا گیا اور پھر نام تو قرآن مجید میں کسی ایک کا بھی نہیں ہے۔ تیسرا زنیم کے کئی معنی ہے۔ جو شرارت میں مشہور ہو اس کو بھی زنیم کہتے ہیں۔ علیٰ ہذا۔
چوتھا یہ ہے کہ جس آیت میں زنیم کا لفظ آیا ہے۔ اس میں تو یہ بتلایا گیا ہے کہ ایسے ایسے اخلاق و عادات کے آدمی کی اطاعت نہ کرو اور یہ عام ہے۔ خواہ کوئی ہو کسی کی تخصیص نہیں ہے۔ گالی والی کا تو وہاں ذکر ہی نہیں۔ بلکہ بد افعال آدمی کی مذمت ہے خواہ کسے باشد۔ آیت مع ترجمہ پڑھیں اور غور کریں کہ کیا اس میں کسی کو گالی دی گئی ہے؟ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
”ولا تطع كل حلاف مهين هماز مشاء بنميم مناع للخير معتد اثيم عتل بعد ذالك زنيم (القلم:١٠ تا ١٣)“ اور (اے مخاطب) تو ہر ایک ایسے شخص کی بات بات پر جھوٹی قسم کھانے والا ہو۔ ذلیل طبع ہو۔ طعنہ زن ہو۔ چغل خور ہو۔ بخیل ہو۔ ظالم ہو۔ فاجر ہو۔ بدخو ہو مع اس کے زنیم (شرارت میں مشہور، حرام زادہ) ہو اطاعت نہ کر۔
٨
ولید وغیرہ کا نام جو مفسرین نے گنا ہے تو اس کی کیفیت سنئے! جب مذکورہ بالا آیت نازل ہوئی تو شریر ترین کفار (ولید، اسود وغیرہ) نے اپنے آپ کو اس آیت کا مصداق جانا۔ چنانچہ ولید کے متعلق تفاسیر میں آیا ہے کہ اس نے نزول آیت پر کہا یہ اوصاف تو مجھی میں پائے جاتے ہیں۔ ہو نہ ہو محمد ﷺ نے میری نسبت ہی کہا ہے مگر میں زنیم تو نہیں ہوں لیکن چونکہ کفار مکہ کو یقین تھا کہ آنحضرت ﷺ جو کچھ فرماتے ہیں۔ وہ عین واقع کے مطابق ہوتا ہے۔ اس لئے اس نے اپنے زنیم بمعنی حرامزادہ ہونے کی تحقیق شروع کر دی۔ چنانچہ وہ اپنی والدہ کے پاس جاتا ہے۔ اس سے پوچھتا ہے انکار کرنے پر اسے دھمکاتا ہے۔ آخر وہ بتلاتی ہے کہ تو منسوب الیہ کا بیٹا نہیں ہے۔ دراصل تو فلاں شخص کا ...... ہے۔
حضرات! بتلائیں اگر کوئی شخص خود بخود ہی اوصاف مذکورہ فی الآیۃ کا اپنے آپ کو مصداق ٹھہرالے اور زنیم بمعنی حرام زادہ والی صفت کے غیر معلوم ہونے پر اس کو محقق کر کے اپنے آپ پر چسپاں کرلے تو اس میں قرآن مجید کا کیا قصور ہے۔
اور ایسے واقعات سے یہ سمجھ لینا کہ قرآن مجید میں مخالفین کو گالیاں دی گئی ہیں۔ یہ صرف منافق اور مرزائی ذہنیت کا ہی نتیجہ ہو سکتا ہے۔ ورنہ قرآن مجید میں تو تصریح ہے کہ ایسے ایسے اوصاف والے کی اطاعت نہ کرو اور فی الواقع اگر زنیم بمعنی حرام زادہ بھی لئے جائیں تو ایک پاکیزہ اخلاق آدمی ایسے خبیث مادہ کی جس سے سو فیصدی ظہور خباثت کی ہی امید ہو سکتی ہے۔ کبھی اطاعت کرنا پسند نہیں کر سکتا۔ حضور ﷺ فرماتے ہیں نطفہ خبیثہ کے لئے یہ ممکن ہی نہیں کہ وہ مرنے سے پہلے اپنے محسن سے برائی نہ کرے۔ وغیرہ وغیرہ۔
(شیخ زادہ علی البیضاوی ص ٥٢٨)
مرزائیوں کے دوسرے الزام کی حقیقت سنئے۔ سورۂ لہب کا شان نزول تفاسیر میں اس طرح بیان کیا گیا ہے کہ:
گیا ایک دن حسب فرمان داور سوئے دشت اور چڑھ کے کوہ صفا پر
یہ فرمایا سب سے کہ اے آل طالب سمجھتے ہو تم مجھ کو صادق کہ کاذب
کہا سب نے قول آج تک کوئی تیرا کبھی ہم نے جھوٹا سنا اور نہ دیکھا
کہا گر سمجھتے ہو تم مجھ کو ایسا تو باور کرو گے اگر میں کہوں گا
کہ فوج گراں پشت کوہ صفا پر پڑی ہے کہ لوٹے تمہیں گھات پاکر
٩
کہا گر میری بات یہ دل نشیں ہے تو سن لو خلاف اس میں اصلاً نہیں ہے
کہ سب قافلہ یہاں سے ہے جانے والا ڈرو اس سے جو وقت ہے آنے والا
اس پر ابولہب کہنے لگا: ”تبا لک الہذا دعوتنا جمیعا“ یعنی (ارے تو مرے کیا اس لئے تو نے ہم کو بلایا تھا۔) ابولہب کے ان گستاخانہ کلمات استعمال کرنے کی اللہ تعالیٰ نے جو سزا دنیا و آخرت میں اس کے لئے تجویز کی تھی۔ اس کی خبر ابولہب کے ہی الفاظ میں دے دی یعنی ابولہب کے جملہ انشائیہ کو بصورت خبر یوں ادا کر دیا جس کا مطلب یہ ہے کہ ابولہب ہلاک ہوگا۔ اس کا مال و متاع دنیا و آخرت میں کچھ مفید نہ ہوگا۔
چنانچہ ایسا ہی ہوا اور یہ پیش گوئی اس طرح صادق آئی کہ ابولہب کو ایک قسم کا طاعونی دانہ نکلا۔ اس کی بدبو کی وجہ سے اس کے پاس کوئی پھٹکنے نہ پاتا تھا۔ جب وہ مر گیا تو اس کی لاش کچھ روز لاوارث پڑی رہی۔ آخر مزدوروں نے گڑھے میں پھینکا اور مٹی سے دبا دیا۔ باقی رہی آخرت، تو اس میں جو کچھ اس کو عذاب ہوگا ایک مسلمان اس کے متعلق یقین اور اعتقاد رکھتا ہے۔ ہاں منافق یا مرزائی عقیدہ کا آدمی اس کو گالی بتاتا رہے تو اس کی عقل پر:
تفسیر معالم التنزیل وغیرہ میں ہے: ”تبت يدا ابي لهب اے هو اخبر عن يديه والمراد به نفسه“ یعنی (تبت کے معنی ہیں ابولہب کے دونوں ہاتھ خسارہ میں پڑے۔ یعنی اللہ تعالیٰ نے ابولہب کے دونوں ہاتھ بمعنی اس کی ذات کے خبر دی ہے)
”ما اغنی عنه ماله (سوره لهب:٢)“ یعنی اس کے مال نے اس کو نفع نہیں دیا یعنی نفع نہیں دے گا۔
چونکہ ابولہب کی ہلاکت و عذاب کا واقعہ یقینی تھا۔ اس لئے مستقبل کو بصورت ماضی ذکر کر دیا گیا۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ واقعہ ذلت ابولہب کو ہو چکا، جانو۔ لہٰذا یہ ایک پیشین گوئی ہے جسے ابولہب کے ہی الفاظ میں دہرایا گیا۔
اگر کوئی اسے گالی بتائے تو ہم اس سے پوچھیں گے کہ تم مسلمان ہو یا کافر منافق؟ اگر وہ اپنے آپ کو مسلمان کہتا ہے تو ہم اس سے پوچھیں گے کہ تمہارا ایمان ہے یا نہیں کہ قرآن مجید اعلیٰ
اخلاق سکھاتا ہے؟ اگر یہ ایمان ہے کہ قرآن مجید اعلیٰ اخ کہہ سکتے ہو کہ کلام الٰہی میں گالی دی گئی۔ جب کہ گالی کو خو اور جبکہ قرآن مجید میں اختلاف محال و ممنوع ہے تو ایک ج سکتا ہے؟
اور اگر وہ مسلمان نہیں بلکہ منافق یا کافر ہ سمجھانے کی کوشش کریں گے۔ اگر اس نے ضمیر کی آواز پر
حضرات! جب قرآن مجید کی تعلیم یہ ہو کہ ا سلوک برتنا چاہئے۔
- ١...... ”ادفع بالتي هي احسن (حم السجدة:
- ٢...... ”فاعف عنهم واصفح (مائد
درگزر کر
- ٣...... ”وليعفوا وليصفحوا (نور:٢٢)“
کریں ۔ ﴾
- ٤...... ”فاصفح الصفح الجميل (نحل:٨٥
- ٥...... ”والكاظـمين الغيظ والعافي
اور غصہ کے کھانے والے اور لوگوں کو معاف کرنے وا
تو یہ کس طرح باور کیا جاسکتا ہے کہ اس میں اعتقاد کسی مسلمان کا ہرگز نہیں ہو سکتا۔
مرزا قادیانی جب سینکڑوں گالیاں دے ک کوشش کرتے ہوئے گالی کی تعریف کرتے ہیں: ”دشنام خلاف واقعہ اور دروغ کے طور پر محض آزار رسانی کی غرض
اگرچہ گالی ایسے کلمہ کا نام ہے جسے روزمرہ م
اخلاق سکھاتا ہے؟ اگر یہ ایمان ہے کہ قرآن مجید اعلیٰ اخلاق سکھاتا ہے تو پھر بتلاؤ کہ تم کس طرح کہہ سکتے ہو کہ کلام الٰہی میں گالی دی گئی۔ جب کہ گالی کو کوئی شخص بھی خوش اخلاقی میں شمار نہیں کر سکتا اور جبکہ قرآن مجید میں اختلاف محال و ممنوع ہے تو ایک مسلمان ایسے دو متضاد اعتقاد کس طرح رکھ سکتا ہے؟
اور اگر وہ مسلمان نہیں بلکہ منافق یا کافر ہے تو ہم اسے مذکورہ بالا واقعات بتلا کر سمجھانے کی کوشش کریں گے۔ اگر اس نے ضمیر کی آواز پر لبیک کہا تو فبہا ورنہ ہمارا وتیرہ یہ ہو گا کہ:
حضرات! جب قرآن مجید کی تعلیم یہ ہو کہ اپنے مخالف کے ساتھ تمہارا حسب ذیل سلوک ہونا چاہئے۔
- ......١ ”ادفع بالتی ھی احسن (حم السجدہ:٣٤)“ ﴿تو اچھے طریقے سے دور
کر۔﴾
- ......٢ ”فاعف عنہم واصفح (مائدہ:١٣)“ ﴿پس تو ان سے معاف کر اور
درگزر کر۔﴾
- ......٣ ”ولیعفوا ولیصفحوا (نور:٢٢)“ ﴿ان کو چاہئے کہ معاف کریں اور درگزر
کریں۔﴾
- ......٤ ”فاصفح الصفح الجمیل (نحل:٨٥)“ ﴿پس تو اچھے طور پر درگزر کر۔﴾
- ......٥ ”والکاظمین الغیظ والعافین عن الناس (آل عمران:١٣٤) “
﴿اور غصہ کے پینے والے اور لوگوں کو معاف کرنے والے۔﴾
تو یہ کس طرح باور کیا جا سکتا ہے کہ اس میں کسی کو گالی یا گالی کی تعلیم دی گئی ہوگی۔ ایسا اعتقاد کسی مسلمان کا ہرگز نہیں ہو سکتا۔
مرزا قادیانی جب سینکڑوں گالیاں دے چکے تو اس جرم کے ازالہ کی ازالہ اوہام میں کوشش کرتے ہوئے گالی کی تعریف کرتے ہیں: ”دشنام اور سب اور شتم فقط اس مفہوم کا نام ہے جو خلاف واقعہ اور دروغ کے طور پر محض آزار رسانی کی غرض سے استعمال کیا جائے۔“
(ازالہ اوہام ص ١٣، خزائن ج ٣ ص ١٠٩)
اگر چہ گالی ایسے کلمہ کا نام ہے جسے روزمرہ میں گالی سمجھا جاتا ہو۔ مرزا قادیانی کی طرح
قیود عائد کرنے کی ضرورت نہیں ہے تاہم اسی تعریف کی بناء پر ہم پوچھتے ہیں کہ مولوی ثناء اللہ صاحب کو بھیڑیا کہنا یا علی حائری صاحب کو دیڑھ آنکھ کھوئی والا اور یک چشم یا میرے مخالف جنگلوں کے سور ہیں اور ان کی عورتیں کتیوں سے بڑھ کر ہیں وغیرہ وغیرہ خلافِ واقع اور جھوٹے مفہوم نہیں ہیں؟ اور کیا محض آزار رسانی کی غرض سے یہ الفاظ استعمال نہیں کئے گئے؟
قارئین کرام! جواب عموماً دو قسم پر ہوا کرتا ہے۔ ایک تحقیقی دوسرا الزامی۔ تحقیقی جواب تو یہ ہوتا ہے کہ جس سے یہ ظاہر کیا جائے کہ معترض کا اعتراض حقیقتاً واقعی نہیں ہے دراصل معترض کی غلط فہمی ہے اور الزامی جواب کے یہ معنی ہیں کہ اعتراض ثابت ہوا۔ لیکن جو شخص اعتراض کر رہا ہے وہ خود ملزم ہے۔ خواہ نفس الامر میں وہ ملزم ہو یا نہ ہو۔ مثلاً کوئی شخص دوسرے کو کہے کہ تم شراب پیتے ہو تو وہ اس کے جواب میں کہے کہ تمہارا باپ بھی تو پیتا تھا۔ اب یہ جواب اس کے اعتراض کا جواب تو ہے نہیں بلکہ یہ مان لیا گیا ہے کہ میں شراب پیتا ہوں اور نہ اصل جواب سے شراب کی حلت ثابت ہوئی اور یہ بھی کوئی یقینی امر نہیں کہ اس کا باپ بھی شراب پیتا ہو۔ ہاں جو شخص اپنے باپ کے کیریکٹر سے پوری طرح واقف نہیں وہ تو اس الزامی جواب سے خاموش ہو جائے گا۔ لیکن جس کو حالات سے پوری واقفیت ہے اور جانتا ہے کہ میرا باپ شراب نہیں پیا کرتا تھا۔ یہ جھوٹ بکتا ہے تو وہ نہایت دلیری سے اس کے اس الزام کی قلعی کھول دے گا۔
یہی حال یہاں مرزائیوں کا ہے کہ جب انہیں کہا جاتا ہے کہ مرزا قادیانی مسمی دسونڈھی بیگ المعروف غلام احمد قادیانی بڑے بد زبان ہیں۔ آپ نے بڑے بڑے علماء صلحاء کو اور عام مسلمانوں کو بڑی بری بری اور فحش گالیاں دی ہیں تو کہتے ہیں کہ قرآن مجید میں بھی تو گالیاں دی گئی ہیں۔ مثلاً مخالفین کو زنیم وغیرہ سے یاد کیا گیا ہے۔ اب ناواقف مسلمان تو زنیم و تبت یدا کو سن کر خاموش ہو جاتا ہے۔ بلکہ بدظنی کا شکار ہو کر ایمان سے بھی ہاتھ دھو بیٹھتا ہے۔ کیونکہ قرآن مجید اس قسم کے اتہام سے بالکل مبرّا و پاک ہے۔ لیکن جو شخص مذکورہ بالا الفاظ کی حقیقت سے پوری طرح واقف ہے۔ وہ انہیں بری طرح لیتا ہے جس سے انہیں جان چھڑانا بھی مشکل ہو جاتا ہے۔ بشرطیکہ شرم وحیا ہو۔ ”وهذا فی المرزائین نادر والنادر کا المعدوم “
مرزا قادیانی کے ایک دوست منشی الہی بخش تھے۔ انہوں نے مرزا قادیانی کی حرکات خبیثہ سے بیزار ہو کر آپ کی تردید میں چار پانچ سو صفحات کی ایک کتاب لکھی تھی۔ جس کا نام انہوں نے ”عصائے موسیٰ“ رکھا۔ منشی صاحب موصوف نے اس کتاب میں حروف تہجی کے لحاظ سے مرزا ١٢
قادیانی کی کچھ گالیاں بالاختصار نقل کی ہیں۔ ناظرین اس مضمون کے کچھ حصہ کو بعینہ یہاں نقل کر دینا خالی از
(عصائے موسیٰ ص ١٤٤ تا ١٤٦) ”چونکہ مرزا ۔
صرف خوش اخلاقی ہی کو مراد لیا ہے اور ذکر کیا ہے لہٰذا اس کلامی کا جو انہوں نے اپنے کتب واشتہارات میں خا مشکل وطویل ہے۔ لیکن بطور نمونہ چند الفاظ وکلمات وغی لکھتا ہوں اور ان کی نقل کرنے سے اللہ کی پناہ و بخشش مان
- الف....... اے بدذات فرقہ مولویاں! تم نے جس بـ
پلایا۔ اندھیرے کے کیڑے۔ ایمان وانصاف سے دو اسلام کے دشمن، اسلام کی عار مولویو! اے جنگل کے وحـ احمق مخالف، اے پلید دجال، اسلام کے بدنام کرنے و اکّافرین، اوباش، اے بدذات، خبیث، دشمن، اللہ ور نہ رہے گی اور صفائی سے ناک کٹ جائے گی۔
- ب....... بے ایمان اندھے مولوی، پلید طبع، پاگل،
حیائی سے بات بڑھانا، بددیانت، بے حیا، بدذات بداندیش، بدظن، بدبخت قوم، بدگفتار، بدباطن، بختہ بیوقوف جاہل، بیہودہ، بدعلماء۔
- ت....... تمام دنیا سے بدتر، تنگ ظرف، ننگ حیا،
ترک تقویٰ کی شامت سے ذلت پہنچ گئی۔ خنزیر ولعنت کی
- ث....... ثعلب (لومڑی جیسے) ”ثم اعلم ایھا ا
یعنی پھر تو اے شیخ دجال اور دجال بطال جان لے۔
- ج....... جھوٹ کی نجاست کھائی۔ جھوٹ کا گوہ کھ
منحرف ودور، جعلساز، جیتے جی مر جاتا، چوہڑے، چما
- ح....... حمار (گدھا) حمقاء حق وراستی سے منحرف
- خ....... خبیث طبع مولوی جو یہودیت کا خمیر اپنے
١٣
قادیانی کی کچھ گالیاں بالاختصار نقل کی ہیں۔ ناظرین پر مرزا کی فحش کے اظہار کے لئے ان کے اس مضمون کے کچھ حصہ کو بعینہ یہاں نقل کر دینا خالی از فائدہ نہ ہوگا۔
(عصائے موسیٰ ص ١٤٤ تا ١٤٦) ”چونکہ مرزا نے بے ادبیوں اور بد زبانوں کے مقابلہ پر صرف خوش اخلاقی ہی کو مراد لیا ہے اور ذکر کیا ہے لہٰذا اس جگہ مرزا قادیانی کی خوش اخلاقی وشیریں کلامی کا جو انہوں نے اپنے کتب واشتہارات میں ظاہر فرمائی ہے اور جس کا بالاستیعاب ذکر تو مشکل وطویل ہے۔ لیکن بطور نمونہ چند الفاظ وکلمات و فقرات اظہار حقیقت کے لئے بدل ناخواستہ لکھتا ہوں اور ان کی نقل کرنے سے اللہ کی پناہ وبخشش مانگتا ہوں۔ مثلاً
- الف ...... اے بدذات فرقہ مولویوں ! تم نے جس بے ایمانی کا پیالہ پیا۔ وہی عوام کالانعام کو بھی
پلایا۔ اندھیرے کے کیڑے۔ ایمان وانصاف سے دور بھاگنے والا۔ اندھے، نیم دہریہ، ابولہب، اسلام کے دشمن، اسلام کی عار مولویو! اے جنگل کے وحشی، اے نابکار، ایمانی روشنی مسلوب ہوئی۔ احمق مخالف، اے پلید دجال، اسلام کے بدنام کرنے والے، اے بدبخت مفتریو، سفلی، اشرار، اول اکافرین، اوباش، اے بدذات، خبیث، دشمن اللہ ورسول کے۔ ان بیوقوفوں کے بھاگنے کی جگہ نہ رہے گی اور صفائی سے ناک کٹ جائے گی۔
- ب ...... بے ایمان اندھے مولوی، پلید طبع، پاگل، بدذات جھوٹا، بد گوہری ظاہر نہ کرتے، بے
حیائی سے بات بڑھانا، بددیانت، بے حیا، بدذات فتنہ انگیز، بدقسمت منکر، بدچلن، بخیل بداندیش، بدظن، بدبخت قوم، بدگفتار، بدباطن، کینہ چیں، باطنی جذام، بخل کی سرشت والے، بیوقوف جاہل، بیہودہ، بدعلماء۔
- ت ...... تمام دنیا سے بدتر، تنگ ظرف، ترک حیا، تقویٰ ودیانت کے طریق کو بالکل چھوڑ دیا،
ترک تقویٰ کی شامت سے ذلت پہنچ گئی۔ تکبر ورعونت کی جھاگ منہ سے نکالنے کے لئے۔
- ث ...... ثعلب (لومڑی جیسے) ”ثم اعلم ایها الشیخ الدجال والدجال البطال“
یعنی پھر تو اے شیخ دجال اور دجال بطال جان لے۔
- ج ...... جھوٹ کی نجاست کھائی۔ جھوٹ کا گوہ کھایا۔ جاہل، وحشی، جادہ صدق وصواب سے
منحرف ودور، جعلساز، جیتے جی مر جانا، چوہڑے، چمار۔
- ح ...... حمار (گدھا) احمق، حق وراستی سے منحرف۔ حاسد، حق پوش۔
- خ ...... خبیث طبع مولوی جو یہودیت کا خمیر اپنے اندر رکھتے ہیں۔ خنزیر سے زیادہ پلید خطا کار
١٣
ذلت انہیں کے منہ پر۔ خالی گدھے، خائن، خیانت پیشہ، خاسرین، خلیعۃ من نور الرحمٰن، خام خیال، خفاش (چمگادڑ۔)
د...... دل کے مجذوم، دھوکہ دہ، دیانت ایمان داری راستی سے خالی۔ دجال، دروغ گو، فرعون کی طرح سخرہ، دشمن سچائی، دشمن قرآن، دلی تاریکی۔
ذ...... ذلت کی موت، ذلت کے ساتھ پردہ دری، ذلت کے سیاہ داغ ان کے منحوس چہروں کو سوروں اور بندروں کی طرح کر دیں گے۔
ر...... رجس الدجالین ریش سفید کو منافقانہ سیاہی کے ساتھ قبر میں لے جائیں گے۔ روسیاہ، روباہ باز، رجس للمصطفین، راس المعتدین، راس الغاوین۔
ز...... زہر ناک مادے والے، زندیق، زور کم، ملعوامی ضواحی الروزا۔ تمہارا جھوٹ کٹار ہائے مضاعفہ کے منتظر ہوگا۔
س...... سفلی جادو کی لعنت انہیں پر برسی۔ سفلی ملا بے بصر، سیاہ دل منکر، سخت بے حیا ہو گا جو اس فوق العادت سلسلہ سے انکار کرے۔ سیاہ دل فرقہ کس قدر شیطانی افتراؤں سے کام لے رہا ہے۔ سادہ دل سفیہا، سفلہ، سلطان المتکبرین الذی اضاع دینہ بالکبر۔
ش...... شرم و حیا سے دور، شرارت و خباثت، شیطانی کارروائی والے۔ شریف از سفلہ مے ترسد بلکہ از سفلہ مے ترسد۔ شریر مکار۔ شقی سے بھرا ہوا۔ شیخ نجدی و شیطان۔
ص...... صداقت کا سرنیزہ تجھے پارہ پارہ کر دے گا اور میرا دھنس جانے والا نیزہ تجھے دریائے خون بنا دے گا۔
ض...... ضال۔ ”ضررهم اكثر من ابليس اللعين.“
ط...... طالع منحوس۔ ”طبتم نفساً بالغاء الحق والدین.“ حق و دین کے باطل کرنے میں تم خوش ہو۔
ظ...... ظالم۔ ظلمانی حالت۔
ع...... علماء السوء۔ عداوت اسلام۔ عجب و پندار والے۔ عدو العقل و الحق۔ عقارب۔ عقب الکلب۔ عدو خدا۔
غ...... غول الاغویٰ۔ غدار سرشت۔ غالی۔ غافل۔
ف...... فبئس یا عبد الشیطان الموسوم بہ۔ فریبی۔ فن عربی سے بے بہرہ۔ فرعونی رنگ۔
١٤
ق...... قبر میں پاؤں لٹکائے ہوئے۔
قد سبق الكل فى الكفر
یعنی ان کے دل سخت ہو گئے جیسے پتھروں کی حالت ...... ہے۔
ک...... کتے۔ گدھا۔ کینہ ور۔ گندے اور پلید فتویٰ والے (مادر زاد اندھے۔) گندی عادت۔ گندے اخلاق۔ گندہ و غلیظ ۔ کج دل قوم۔ کوتاہ نظر۔ کھوپڑی میں کیڑا۔ کینہ پرور روح۔
ل...... لاف و گزاف والے۔ لعنت کی موت۔
م...... مولویت کو بدنام کرنے والو۔ مولویوں کا منہ کالا۔ مورد غضب۔ مفسد۔ مرے ہوئے کیڑے۔ مخذول۔ مہجور۔ مولوی نجس طینت۔ مولوی کی بک بک۔ مردار خوار مولوی۔
ن...... نجاست نہ کھاؤ۔ نا اہل مولوی۔ ناک کٹے علماء۔ نمک حرام۔ نفسانی۔ ناپاک نفس۔ نا بکار قوم ابھی تک اس کا منہ کالا ہو۔ نفرتی و ناپاک شیوہ۔ نادان متعصب۔ حریف۔ نجاست سے بھرے ہوئے۔ نادانی میں ڈوبے ہوئے۔
و...... وحشی طبع۔ وحشیانہ عقائد والے۔
ہ...... ہامان۔ ہالکین۔ ہندو زادہ۔
ی...... یک چشم مولوی۔ یہودیانہ تحریف۔ یہودی سیرت و المفتری البطال ”یہود کے علماء۔ یہودی صفت وغیرہ“
(نوٹ) مؤلف رسالہ ہذا نے ابجد کے حساب تمام گالیوں کے ردیف وار حوالہ جات احتساب ج ٢ ص پر درج کیے ہیں۔ (مرتب)
مرزا قادیانی کی کتب وغیرہ تو ان کلمات سے بھری پڑی ہیں۔ ضمیمہ رسالہ انجام آتھم و دوسرے اوراق سے جو الفاظ سر
ق ...... قبر میں پاؤں لٹکائے ہوئے۔
قد سبق الکل فی الکذب والمین
یعنی ان کے دل سخت ہو گئے جیسے جاہلوں کی عادت ...... سب سے جھوٹ و ناراستی میں بڑھ گیا ہے۔
ک ...... کتے۔ گدھا۔ کینہ ور۔ گندے اور پلید فتویٰ والے۔ کمینہ۔ گندی کارروائی والے۔ کہا (مادر زاد اندھے۔) گندی عادت۔ گندے اخلاق۔ گندہ دہانی۔ گندے خیال والے۔ ذلت سے غرق ہو جاتا۔ کج دل قوم۔ کوتاہ نظر۔ کھوپڑی میں کیڑا۔ کیڑوں کی طرح خود ہی مر جائیں گے۔ گندی روح۔
ل ...... لاف و گزاف والے۔ لعنت کی موت۔
م ...... مولویت کو بدنام کرنے والو۔ مولویوں کا منہ کالا کرنے کے لئے۔ منافق۔ مفتری۔ مورد غضب۔ مفسد۔ مرے ہوئے کیڑے۔ مخذول۔ مہجور۔ مجنوں و درندہ۔ مغرور۔ متکبر۔ محجوب۔ مولوی مگس طینت مولوی کی بک بک۔ مردار خوار مولویو۔
ن ...... نجاست نہ کھاؤ۔ نا اہل مولوی۔ ناک کٹ جائے گی۔ ناپاک طبع لوگوں نے۔ نابینا علماء۔ نمک حرام۔ نفسانی۔ ناپاک نفس۔ نابکار قوم ابھی تک حیاء و شرم کی طرف رخ نہیں کرتی۔ اس کا منہ کالا ہو۔ نفرتی و ناپاک شیوہ۔ نادان متعصب۔ نالائق۔ نفس امارہ کے قبضہ میں۔ نا اہل حریف۔ نجاست سے بھرے ہوئے۔ نادانی میں ڈوبے ہوئے۔ نجاست خواری کا شوق۔
و ...... وحشی طبع۔ وحشیانہ عقائد والے۔
ہ ...... ہامان۔ ہالکین۔ ہندو زادہ۔
ی ...... یک چشم مولوی۔ یہودیانہ تحریف۔ یہودی سیرت۔ ”یاایھا الشیخ الضال والمفتری البطال“ یہود کے علماء۔ یہودی صفت وغیرہ۔
(نوٹ) مؤلف رسالہ ہذا نے ابجد کے حساب سے مرزا کی گالیاں درج کیں۔ ان تمام گالیوں کے ردیف وار حوالہ جات احتساب ج٢ ص١١١ تا ١٤٣ پر درج ہیں۔ وہاں ملاحظہ کئے جائیں۔ (مرتب)
مرزا قادیانی کی کتب وغیرہ تو ان کلمات سے لبالب ہیں۔ لیکن بہت ہی اختصار کر کے ضمیمہ رسالہ انجام آتھم و دوسرے اوراق سے جو الفاظ سرسری دیکھنے سے نظر سے گزرے ان میں
سے بھی بہت چھوڑ کر یہ لئے ہیں اور مرزا قادیانی نے ان کو اکثر ان مسلمان علماء، اہل قبلہ، پابند صوم وصلوٰۃ، حجاج، حافظان قرآن مجید کلام رب رحیم وحدیث۔ رسول کریم کے لیواؤں کا نام لے کر استعمال فرمایا ہے جو اکثر خدمت قرآن مجید وحدیث شریف واپنے وظائف واوراد و ذکر اللہ میں شب وروز مصروف ہیں اور ان میں بہت ایسے ہیں جن کی مجلس میں کبھی مرزا قادیانی کا ذکر بھی مشکل سے ہوتا ہے اور مرزا قادیانی نے بعض جگہ تو کل قوم کو ہی مخاطب کیا ہے۔ "الکذوب قد یصدق" یعنی جھوٹا کبھی سچ بھی کہہ دیا کرتا ہے، کے قاعدہ کے مطابق مرزا قادیانی نے ایک نہایت سچی بات بھی کہی ہے۔ جس کا آخر میں ذکر کر دینا ضروری ہے۔ چنانچہ مرزا قادیانی فرماتا ہے:
جس دل میں یہ نجاست بیت الخلاء یہی ہے
(درثمین ص١٢)
سچ ہے سچ ہے سچ ہے سچ
اپیل
برادران اسلام! مرزا قادیانی کی بدزبانی، دریدہ دہنی اور مسلم آزاری کہاں تک گنوائی جائے؟ ان سے جہاں تک ہوسکا، مسلمانوں کو ان کے علماء وصلحاء کو ان کے بزرگان دین انبیاء کرام علیہم الصلوٰۃ والسلام تک کو برا بھلا کہنے میں کوئی کسر نہیں اٹھا رکھی۔ مذکورہ بالا حوالجات اس امر کی کافی شہادت ہیں۔ مرزا قادیانی کی اس قدر دل آزار تصانیف اس قابل نہیں ہیں کہ ان کا وجود دنیا پر رہے۔ جن لوگوں کی گورنمنٹ عالیہ کے در تک رسائی ہے۔ میری مراد اس سے ہمارے ممبران بہادر اور دیگر اکابر ملت ہیں ذرا ادھر مزید توجہ کریں اور گورنمنٹ عالیہ ہند کی توجہ دلائیں کہ وہ مرزا قادیانی کی تصانیف کو دیگر فتنہ انگیز، مفسد اور دل آزار کتابوں کی طرح ضبط کرے۔
”والسلام علٰی من صرف ہمتہ الٰی اعلاء الدین القوی المتین، وانا المفتقر الی اللہ السید مبارک علی شاہ الہمدانی نسباً الحنفی مذہبا القصوری الفنجابی وطنا اللہم احفظنا من شر اعداء الدین بحرمۃ سید المرسلین و خاتم النبیین ﷺ واصحابہ الطیبین الطاہرین“
مرزائیوں سے
حضرت مولانا سید مبارک
انا خاتم النبیین لا نبی بعدی
مرزائیوں سے چند سوالات
حضرت مولانا سید مبارک علی شاہ ہمدانی رحمہ اللہ
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
حمد وصلوٰۃ کے بعد معلوم ہونا چاہئے کہ سرور کائنات، فخر موجودات، سیدنا و مولانا حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کا آخری نبی و رسول ہونا اجماعی عقیدہ ہے۔ حضور ﷺ کے بعد مدعی نبوّت کو ہمیشہ سے امت کاذب دجال سمجھتی آئی ہے۔ حدیث میں ہے: ”عنقریب میری امت میں یعنی ”لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ“ پڑھنے والے تیس کذاب دجال ہوں گے۔ ان میں سے ہر ایک کہے گا میں اللہ کا نبی ہوں حالانکہ میں نبیوں کا ختم کرنے والا ہوں۔ میرے بعد کوئی نبی نہیں۔“
مرزا قادیانی کا نمبر کذب و دجل میں کسی مدعی نبوت سے کم نہیں رہا۔ مرزا قادیانی کے مرید اپنے پیر کی طرح اس سلسلہ میں بڑے طاق ہیں اور یہ رات دن مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی کوشش میں رہتے ہیں۔ اس ٹریکٹ میں مرزائیوں سے چند ایک سوال کئے گئے ہیں۔ اگر آپ انہیں محفوظ رکھیں گے تو انشاء اللہ مرزائیوں کی چھیڑ چھاڑ پر آپ ان کا ناطقہ بند کر سکتے ہیں۔
- ١...... مرزا قادیانی (چشمہ معرفت ص ٢٨٦، خزائن ج ٢٣ ص ٢٩٩) وغیرہ میں لکھتے ہیں کہ:
”آنحضرت ﷺ کے گیارہ لڑکے فوت ہوئے تھے۔“ فرمائیے وہ کون سی کتاب ہے جس میں حضور علیہ السلام کے لڑکوں کی تعداد گیارہ لکھی ہے؟
- ٢...... مرزا قادیانی (شہادۃ القرآن ص ٤١، خزائن ج ٦ ص ٣٣٧) پر لکھتے ہیں: ”بخاری میں لکھا
ہے کہ آسمان سے اس کے لئے آواز آئے گی: ”هذا خليفة الله المهدی“ فرمائیے بخاری شریف کے کس مطبوعہ یا قلمی نسخہ میں لکھا ہے؟ محض کذب وافتراء ہے۔
٢
- ٣...... قرآن مجید: ”وما ارسلنا من رسول ا
ہم نے کسی رسول کو مگر اس کی قوم کی زبان میں۔ یعنی ہر ر زبان میں ہوتی ہے۔
مرزا قادیانی (چشمہ معرفت ص ٢١٠، خزائن ج ٢٣ ص معقول اور بیہودہ امر ہے کہ انسان کی اصل زبان تو کوئی ہو اور ا
اب سوال یہ ہے کہ مرزا قادیانی کے انگریزی م الہامات کو مرزائی کیا کہیں گے؟
- ٤...... (البدر ١٩ جولائی ١٩٠٦ء، مکتوبات احمدیہ ج ٦ حصہ اول
جدید) میں مرزا قادیانی لکھتے ہیں: ”میرا کام جس کے لئے م کے ستون کو توڑ دوں۔“ (اب ستون شکنی سنئے)
مرزائی اخبار (پیغام صلح ٦ مارچ ١٩٢٨ء) میں لکھتا ہ ہے۔ ”دوسرا! اس دعویٰ ١٩٠٦ء کے بعد اب تک برطانیہ وغیر کی ہے وہ کسی سے مخفی نہیں۔ تیسرا! ہندوستان میں عیسائیوں ک قادیانی کے اپنے وطن ضلع گورداسپور میں ١٩٠١ء میں جہاں ا ٢٤٣٢٣ ہو گئے۔
- ٥...... مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی مرحوم نے مسٹر ۔
کی عدالت میں مرزا قادیانی کے خلاف زیر دفعہ ١٠٧ دعویٰ د نامہ ڈپٹی کمشنر مذکور کی عدالت میں پیش کر کے اپنی جان چھڑائی ”میں ایسی پیش گوئی شائع کرنے سے پرہیز کروں گا جس ک
٣
- ٣...... قرآن مجید: ”وما ارسلنا من رسول الا بلسان قومه“ ﴿اور نہیں بھیجا
ہم نے کسی رسول کو مگر اس کی قوم کی زبان میں۔ یعنی ہر ایک رسول کو وحی اس کی اپنی قوم کی زبان میں ہوتی ہے۔
مرزا قادیانی (چشمہ معرفت ص ٢١٠ ، خزائن ج ٢٣ ص ٢١٨) پر لکھتے ہیں: ”اور یہ بالکل غیر معقول اور بیہودہ امر ہے کہ انسان کی اصل زبان تو کوئی ہو اور الہام اس کو کسی اور زبان میں ہو ۔“
اب سوال یہ ہے کہ مرزا قادیانی کے انگریزی سنسکرت اور عبرانی وغیرہ زبانوں کے الہامات کو مرزائی کیا کہیں گے؟
- ٤...... (البدر ١٩ جولائی ١٩٠٦ء، مکتوبات احمدیہ ج ٦ حصہ اول ص ١٦٢، مکتوبات احمدیہ ج ٥ ص ٣٩٥، طبع
جدید) میں مرزا قادیانی لکھتے ہیں: ”میرا کام جس کے لئے میں کھڑا ہوں، یہی ہے کہ عیسیٰ پرستی کے ستون کو توڑ دوں۔“ (اب ستون شکنی سنئے)
مرزائی اخبار (پیغام صلح ٦؍ مارچ ١٩٦٨ء) میں لکھتا ہے: ”عیسائیت دن بدن ترقی کر رہی ہے۔“ دوسرا! اس دعویٰ ١٩٠٦ء کے بعد اب تک برطانیہ وغیرہ عیسائی حکومتوں نے جو ترقی حاصل کی ہے وہ کسی سے مخفی نہیں۔ تیسرا! ہندوستان میں عیسائیوں کی تعداد دن بدن بڑھ رہی ہے۔ مرزا قادیانی کے اپنے وطن ضلع گورداسپور میں ١٩٠١ء میں جہاں ٤٤٧٢١ عیسائی تھے۔ وہاں ١٩٣١ء میں ٢٣٤٢٣٣ ہو گئے۔
- ٥...... مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی مرحوم نے مسٹر جے ایم ڈوئی ڈپٹی کمشنر ضلع گورداسپور
کی عدالت میں مرزا قادیانی کے خلاف زیر دفعہ ١٠٧ دعویٰ دائر کیا۔ مرزا قادیانی نے ایک اقرار نامہ ڈپٹی کمشنر مذکور کی عدالت میں پیش کر کے اپنی جان چھڑائی۔ اس اقرار نامہ کا پہلا نمبر یہ ہے کہ ”میں ایسی پیش گوئی شائع کرنے سے پرہیز کروں گا جس کے یہ معنی ہوں یا ایسے معنی خیال کئے جا
٣
سیکیں کہ کسی شخص کو ذلت پہنچے گی یا وہ مورد عذاب الٰہی ہوگا۔“ تقریباً اسی مضمون کے دوسرے نمبر بھی ہیں۔ یہ اقرار نامہ ١٨٩٩ء میں عدالت میں پیش کیا گیا۔ بعد ازاں ١٩٠٠ء میں آپ اربعین شائع کرتے اس کے (حاشیہ ص ١، خزائن ج ١٧ ص ٤٣٢) پر لکھتے ہیں:
”اور ہر ایک پیش گوئی سے اجتناب ہوگا۔ جو امن عامہ اور اغراض گورنمنٹ کے مخالف ہو۔ یا کسی شخص کی ذلت یا موت پر مشتمل ہو۔“ اب سوال یہ ہے کہ کیا کبھی کوئی ایسا بزدل نبی بھی پیدا ہوا ہے جو الہام الٰہی یا پیش گوئی کو شائع کرنے سے صرف اس لئے پرہیز کرتا ہو کہ کہیں گورنمنٹ کے اغراض کے مخالف نہ ہو۔ رحمانی الہام تو ”جس پر نازل ہوتا ہے اس کو مرد میدان کر دیتا ہے۔ یہاں تک کہ اگر اس کو تیز تلوار کے ساتھ ٹکڑے ٹکڑے کر دیا جائے یا اس کو پھانسی دیا جائے یا ہر قسم کا دکھ جو دنیا میں ممکن ہے، پہنچایا جائے وہ نہیں کہے گا کہ یہ خدا کا کلام نہیں۔“
(حقیقت الوحی ص ١٤٠، خزائن ج ٢٢ ص ١٤٣)
- ٦...... مرزا قادیانی کے حسب ذیل الہامات کا کیا مطلب ہے؟ ”ربنا عاج“ (براہین احمدیہ
ص ٥٥٤، خزائن ج ١ ص ٦٦٢) ، خاکسار پیچہ منٹ (تذکرہ ص ٥١٧، البشریٰ ج ٢ ص ٩٤)، عالم کباب (تذکرہ طبع سوم ص ٣٢٦)، ہماری قسمت اتوار (البشریٰ ج ٢ ص ٩٢، تذکرہ ص ٥٢٠ طبع ٣)، بکتن بن کا بیڑا غرق (تذکرہ طبع سوم ص ٦٨٣)
- ٧...... مرزا قادیانی نے لکھا ہے: ”میں مدینہ میں روضہ نبویہ میں دفن ہوں گا۔“ کیا ایسا ہوا؟
(ازالہ اوہام ص ٤٧٠، خزائن ج ٣ ص ٣٥٢)
- ٨...... مرزا قادیانی نے لکھا ہے: ”میں دجال کو مسلمان بنا کر ساتھ لے کر حج کروں گا۔“ کیا
ایسا ہوا؟
(ایام الصلح ص ١٦٩، خزائن ج ١٤ ص ٣٧١)
- ٩...... مرزا قادیانی نے لکھا: ”مسیح کے زمانہ میں اونٹ بیکار ہو جائیں گے۔ ریل جاری ہو
جائے گی۔“ کیا یہ کام ہو گیا؟
(نزول مسیح ص ٢٨، خزائن ج ١٨ ص ٤٠٦)
٤
- ١٠...... مرزا قادیانی نے لکھا ہے: ”عبداللہ آتھم پ
جائے گا۔“ کیا ایسا ہوا؟
- ١١...... مرزا قادیانی نے لکھا تھا: ”محمدی بیگم سے میر
یہ میرے پاس نہ آئے تو میں جھوٹا۔“
کیا یہ منکوحہ بن کر مرزا قادیانی کی پیش گوئی پ
- ١٢...... مرزا قادیانی نے لکھا ہے کہ: ”مجھ سے خدا فر
ان یقول لہ کن فیکون“ یعنی اے مرزا جب تو کس جائے گی۔
کیا ایسا دعویٰ کسی نبی نے کیا؟
- ١٣...... مرزا قادیانی نے لکھا تھا: ”جو ظاہر الفاظ وحی
اندر عمر کا تعین کرتے ہیں۔“
(ضمیمہ براہ
کیا مرزا قادیانی کی عمر اتنی ہوئی؟
- ١٤...... مرزا قادیانی (پیغام صلح ص ٢٣، خزائن ج ٢٣ ص
طرف سے مانتے ہیں اور (ص ٢٥، خزائن ج ٢٣ ص ٤٥٩) دلیل کافی ہے کہ آریہ ورت کے کئی کروڑ آدمی ہزار ہا سال (ص ١٠، خزائن ج ٢٣ ص ٤٤٥) پر ”ماسوا اس کے صلح پسندوں قدر اسلام میں تعلیم پائی جاتی ہے۔ وہ تعلیم ویدک تعلیم کی
٥
- ١٠...... مرزا قادیانی نے لکھا ہے: ”عبداللہ آتھم پادری ١٥ ماہ میں ٢٨ ستمبر ١٨٩٤ء تک مر
جائے گا۔“ کیا ایسا ہوا؟
(جنگ مقدس ص ١٨٨، خزائن ج ٦ ص٢٩٢)
- ١١...... مرزا قادیانی نے لکھا تھا: ”محمدی بیگم سے میرا نکاح آسمان پر ہو چکا ہے۔ دنیا میں اگر
یہ میرے پاس نہ آئے تو میں جھوٹا۔“
(انجام آتھم ص ٦٠، خزائن ج ١١ ص ایضاً)
کیا یہ منکوحہ بن کر مرزا قادیانی کی پیش گوئی کے مطابق ان کے گھر آگئیں؟
- ١٢...... مرزا قادیانی نے لکھا ہے کہ: ”مجھ سے خدا فرماتا ہے ”انما امرک اذا اردت شیئا
ان یقول لہ کن فیکون “ یعنی اے مرزا جب تو کسی چیز کو موجود ہونے کا حکم دے گا تو فوراً ہو جائے گی۔
(حقیقت الوحی ص ١٠٥، خزائن ج ٢٢ ص ١٠٨)
کیا ایسا دعویٰ کسی نبی نے کیا؟
- ١٣...... مرزا قادیانی نے لکھا تھا: ”جو ظاہر الفاظ وحی کے ہیں وہ تو چوہتر اور چھیاسی کے اندر
اندر عمر کا تعین کرتے ہیں۔“
(ضمیمہ براہین احمدیہ جلد پنجم ص ٩٧، خزائن ج ٢١ ص ٢٥٧)
کیا مرزا قادیانی کی عمر اتنی ہوئی؟
- ١٤...... مرزا قادیانی (پیغام صلح ص ٢٣، خزائن ج ٢٣ ص ٤٥٣) پر لکھتا ہے: ”ہم وید کو بھی خدا کی
طرف سے مانتے ہیں اور (ص ٢٥، خزائن ج ٢٣ ص ٤٥٤) پر ”ہمارے لئے وید کی سچائی کی یہ ایک دلیل کافی ہے کہ آریہ ورت کے کئی کروڑ آدمی ہزار ہا سال سے اس کو خدا کا کلام جانتے ہیں“ اور (ص ١٠، خزائن ج ٢٣ ص ٤٤٥) پر ”ماسوا اس کے صلح پسندوں کے لئے یہ ایک خوشی کا مقام ہے کہ جس قدر اسلام میں تعلیم پائی جاتی ہے۔ وہ تعلیم ویدک تعلیم کی کسی نہ کسی شاخ میں موجود ہے۔“
٥
کیا وید کی نسبت کسی مسلمان کا عقیدہ ہوا ہے یا ہو سکتا ہے؟
- ١٥...... مرزا قادیانی نے اپنی کتاب (منظور الٰہی ص ٢٣٨، اخبار بدر جون ١٩٠٦ء ص ٥) میں لکھا ہے:
”مجھے مراق کی بیماری ہے۔ اور مالیخولیا (دیوانگی) کی شاخ ہے۔“ دیکھو
(بیاض نور دین حصہ اول ص ٢١١)
اب سوال یہ ہے کہ دنیا میں کبھی کوئی دیوانہ نبی آیا ہے؟ کیا کبھی کسی نبی نے کہا ہے کہ میں دیوانہ ہوں؟ قرآن مجید: ”وما انت بنعمت ربک بمجنون“ ﴿اور تو (اے محمد ﷺ) اپنے رب کے فضل سے دیوانہ نہیں ہے۔﴾
- ١٦...... (الحکم جلد ٦، ٢٤ نومبر ١٩٠٢ء) میں مرزا قادیانی لکھتے ہیں: ”حضرت موسیٰ علیہ السلام کی
امت میں سے بھی نبی ہوتے رہے۔ مگر وہ ان کی غلامی اور اتباع سے نہیں ہوئے۔“
ذیل کی عبارت پڑھیں اور فرمائیں باپ بیٹا دونوں میں سے کون سچا ہے؟
- ١٧...... مرزا قادیانی کو الہام ہوتا ہے: ”ایلی ایلی سبقتنی کرم ہائے تو مرا کرد
گستاخ“ اے میرے خدا! اے میرے خدا تو نے مجھے کیوں چھوڑ دیا۔ تیری بخششوں نے ہمیں گستاخ بنا دیا۔ (براہین احمدیہ ص ٥٥، خزائن ج ١ ص ٦٦٤) لیکن خلیفہ صاحب کہتے ہیں: ”نادان ہے وہ شخص جس نے کہا کہ کرم ہائے تو مارا کرد گستاخ کیونکہ خدا کے فضل انسان کو گستاخ نہیں کرتے اور سرکش نہیں کر دیا کرتے۔ بلکہ اور زیادہ شکر گزار اور فرمانبردار بناتے ہیں۔“
(الفضل ٢٣ جنوری ١٩١٧ء)
فرمائیے! مرزا قادیانی کا مذکورہ بالا الہام صحیح ہے یا بقول مرزا بشیر الدین محمود قادیانی نادانی؟
٦
انا خاتم النبیین لا نبی بعدی
مسلمانان عالم
مرزائیوں کی نظر میں
حضرت مولانا سید مبارک علی شاہ ہمدانی رحمۃ اللہ علیہ
”کل مسلمان جو مسیح موعود (مرزائے قادیانی) کی بیعت میں شامل نہیں ہوئے خواہ انہوں نے حضرت موعود (مرزائے قادیانی) کا نام بھی نہیں سنا وہ کافر اور دائرہ اسلام سے خارج ہیں۔ میں تسلیم کرتا ہوں، میرے بھی یہی عقائد ہیں“
(آئینہ صداقت ص ٣٥ مصنفہ مرزا محمود احمد خلیفہ قادیان)
تمام مسلمان کیوں کافر ہیں؟
بعض تقیہ باز قادیانی مسلمانوں سے کہا کرتے ہیں کہ تم ہمیں کافر کہتے ہو اس لئے ہم بھی جواباً تمہیں کافر کہہ دیتے ہیں۔ لیکن مندرجہ بالا تحریر سے معلوم ہو سکتا ہے کہ اس کی وجہ یہ نہیں بلکہ یہ وجہ ہے کہ تمام مسلمان مرزا قادیانی کی نبوت کے منکر ہوئے۔ پھر دہراؤ ”جو مسیح موعود کی بیعت میں شامل نہ ہوئے خواہ انہوں نے مرزا قادیانی کا نام بھی نہ سنا ہو ......الخ !“ بھلا جس شخص نے مرزا قادیانی کا نام تک نہ سنا ہو وہ اسے کافر کہنے والا کون ہے۔ بتلائیے ! وہ مرزا قادیانی یا ان کے مریدوں کو کس طرح کافر کہہ سکتا ہے؟ لیکن ایسے ناواقف شخص کو بھی خلیفہ صاحب کافر قرار دیتے ہیں۔
لیجئے ! اس سے بھی واضح عبارت میں وجہ تکفیر سنئے۔
”یہ فرض ہے کہ ہم غیر احمدیوں کو مسلمان نہ سمجھیں اور ان کے پیچھے نماز نہ پڑھیں، کیونکہ وہ ہمارے نزدیک خدا تعالیٰ کے ایک نبی کے منکر ہیں۔“
(انوار خلافت ص ٩٠ مصنفہ مرزا محمود احمد خلیفہ قادیان)
اب اس میں صاف بتلا دیا گیا ہے کہ ہم اس لئے غیر احمدیوں (یعنی تمام مسلمانوں) کو کافر سمجھتے ہیں کہ یہ مرزائے قادیانی کی نبوت کے منکر ہیں۔
تمام مسلمان ایسے ہی کافر ہیں جیسے ہندو اور عیسائی
قادیانیوں کے نزدیک دنیا جہاں کے تمام مسلمان ایسے ہی کافر ہیں جیسے ہندو اور عیسائی۔
٣
”کل مسلمان جو مسیح موعود (مرزائے قادیانی) کی بیعت میں شامل نہیں ہوئے، خواہ انہوں نے حضرت موعود (مرزائے قادیانی) کا نام بھی نہ سنا ہو، وہ کافر اور دائرہ اسلام سے خارج ہیں۔ میں تسلیم کرتا ہوں، میرے بھی یہی عقائد ہیں۔“
(آئینہ صداقت ص ٣٥)
تمام مسلمان کیوں کافر ہیں؟
بعض تقیہ باز قادیانی مسلمانوں سے کہا کرتے ہیں کہ چونکہ تم مرزا قادیانی کو کافر کہتے ہو اس لئے ہم بھی جواباً تمہیں کافر کہہ دیتے ہیں۔ لیکن مذکورہ بالا عبارت میں ہی تھوڑا سا غور کرنے سے معلوم ہو سکتا ہے کہ اس کی وجہ یہ نہیں بلکہ یہ وجہ ہے کہ وہ مرزا قادیانی کی بیعت میں داخل نہیں ہوئے۔ پھر دہراؤ ”جو مسیح موعود کی بیعت میں شامل نہیں ہوئے خواہ انہوں نے حضرت موعود کا نام بھی نہ سنا ہو...... الخ!“ بھلا جس شخص نے مرزا قادیانی کا نام ہی نہیں سنا اور وہ جانتا ہی نہیں قادیانی کون ہیں۔ بتلائیے ! وہ مرزا قادیانی یا ان کے مریدوں کو کافر کس طرح کہہ سکتا ہے۔ حالانکہ ایسے ناواقف شخص کو بھی خلیفہ صاحب کافر قرار دیتے ہیں۔
لیجئے ! اس سے بھی واضح عبارت میں وجہ کفر بتلا دی گئی ہے۔ (انوار خلافت ص ٩٠) ہمارا یہ فرض ہے کہ ہم غیر احمدیوں کو مسلمان نہ سمجھیں اور ان کے پیچھے نماز نہ پڑھیں۔ کیونکہ وہ ہمارے نزدیک خدا تعالیٰ کے ایک نبی کے منکر ہیں۔
اب اس میں صاف بتلا دیا گیا ہے کہ ہم اس لئے غیر احمدیوں (دنیائے اسلام کے مسلمانوں) کو کافر سمجھتے ہیں کہ یہ مرزائے قادیانی کی نبوت کو نہیں مانتے۔
تمام مسلمان ایسے ہی کافر ہیں جیسے ہندو اور عیسائی
قادیانیوں کے نزدیک دنیا جہاں کے تمام مسلمان اور ہندو عیسائی کفر میں برابر ہیں۔
(ملائکۃ اللہ ص ٦)
٣
”جو شخص غیر احمدیوں کو رشتہ دیتا ہے وہ حضرت مسیح موعود کو نہیں سمجھتا۔ اور نہ یہ جانتا ہے کہ احمدیت کیا چیز ہے۔ کیا کوئی غیر احمدیوں (مسلمانوں) میں سے ایسا بے دین ہے جو کسی ہندو یا عیسائی کو اپنی لڑکی دے دے۔ ان لوگوں (مسلمانوں) کو تم کافر کہتے ہو مگر وہ تم سے اچھے رہے کہ کافر ہو کر بھی کافر کو لڑکی نہیں دیتے۔ مگر تم احمدی کہلا کر کافر کو دیتے ہو۔“
اس سے بھی زیادہ واضح الفاظ میں (انوار خلافت ص٩٣) ”اب ایک اور سوال رہ جاتا ہے کہ غیر احمدی تو حضرت مسیح موعود کے منکر ہوئے۔ اس لئے ان کا جنازہ نہیں پڑھنا چاہئے۔ لیکن اگر کسی غیر احمدی کا چھوٹا بچہ مر جائے تو اس کا جنازہ کیوں نہ پڑھا جائے۔ وہ تو مسیح موعود کا منکر (منکر) نہیں۔ میں یہ سوال کرنے والے سے پوچھتا ہوں کہ اگر یہ بات درست ہے تو پھر ہندوؤں اور عیسائیوں کے بچوں کا جنازہ کیوں نہیں پڑھا جاتا اور کتنے لوگ ہیں جو ان کا جنازہ پڑھتے ہیں۔“
یعنی غیر احمدیوں (مسلمانوں) کے بچوں کا جنازہ اسی طرح نہیں پڑھنا چاہئے جس طرح ہندو اور عیسائیوں کے بچوں کا جنازہ نہیں پڑھا جاتا۔ نتیجہ ظاہر ہے کہ جیسے ہندو عیسائی کافر ہیں۔ ویسے ہی دنیا کے پچاس کروڑ مسلمان کافر ہیں۔ دونوں میں کچھ فرق نہیں۔ والی اللّٰہ المشتکٰی!
مسلمانوں سے وہی سلوک ہو سکتا ہے جو ایک ہندو اور عیسائی سے
مذکورہ بالا عبارات سے یہ بھی واضح ہو رہا ہے کہ قادیانی مسلمانوں سے وہی تعلقات رکھ سکتے ہیں جو ہندوؤں، عیسائیوں سے رکھ سکتے ہیں اور جو تعلقات ہندوؤں اور عیسائیوں سے نہیں رکھ سکتے مثلاً نکاح وغیرہ۔ اسی طرح وہ دنیا کے تمام مسلمانوں سے بھی نہیں رکھ سکتے۔ وجہ صاف ہے کہ پچاس کروڑ مسلمان اور ہندو عیسائی ان کی نظر میں مذہبًا ایک جیسے ہیں۔ لہٰذا ایک مرزائی جس طرح اپنی بیٹی ہندو یا عیسائی کے نکاح میں نہیں دے سکتا۔ اسی طرح ایک مسلمان کے نکاح میں بھی نہیں دے سکتا اور جس طرح ایک ہندو یا عیسائی یا اس کے بچہ کا جنازہ نہیں پڑھ سکتا۔
اسی طرح ایک مسلمان اور اس کے بچہ کا جنازہ بھی نہیں پڑھ سکتا۔ کیونکہ ہندو، عیسائی اور دنیا کے تمام مسلمان اس کی نظر میں بحیثیت کافر ہونے کے مساوی ہیں۔
مسلمان کو لڑکی نہ دو
(برکات خلافت ص ٧٣) "غیر احمدیوں (مسلمانوں) کو لڑکی دینے سے بڑا نقصان پہنچتا ہے اور علاوہ اس کے وہ نکاح جائز نہیں۔" (ملائکۃ اللہ ص ٦٤) کا مذکورہ بالا حوالہ اس مضمون کو اور زیادہ واضح کرتا ہے۔
مسلمان کے پیچھے نماز جائز نہیں
اور اس کی وجہ بھی سوا اس کے اور کچھ نہیں کہ مسلمان مرزا قادیانی کا مرید نہیں اور جو مرزا قادیانی کا مرید نہ ہو۔ بھلا ایک قادیانی کی اس کے پیچھے نماز کس طرح جائز ہو سکتی ہے۔ (انوار خلافت ص ٨٩) "باہر سے لوگ اس کے متعلق بار بار پوچھتے ہیں۔ میں کہتا ہوں کہ تم جتنی دفعہ پوچھو گے۔ اتنی دفعہ ہی میں یہی جواب دوں گا کہ غیر احمدی کے پیچھے نماز پڑھنی جائز نہیں جائز نہیں، جائز نہیں۔"
ایک قادیانی کی نماز مسلمان کے پیچھے جائز نہ ہونے کی وجہ صرف یہ ہے کہ مسلمان مرزا قادیانی کا مرید نہیں۔ (انوار خلافت ص ٩٠) "اور ہمیں اس وقت تک کسی کے پیچھے نماز نہیں پڑھنی چاہئے جب تک وہ بیعت میں داخل نہ ہو۔"
اور یہ مرید نہ ہونا اتنا بڑا گناہ ہے کہ خواہ کیسا ہی نیک آدمی ہو اور رواداری کی بیماری کے باعث مرزائیت کے کنارے پر پہنچ چکا ہو۔ تب بھی اس کے پیچھے ایک قادیانی کی نماز جائز نہیں ہو سکتی۔
(مجموعہ فتاویٰ احمدیہ ج ١ ص ٣٠٢) "(حکیم نور دین) سے ایک شخص نے دریافت کیا کہ ایک غیر احمدی نیک طینت پنج وقتہ نماز گزار حضرت مرزا قادیانی کا مدح خواں ان کے دعویٰ پر غور کر رہا ہے۔ کیا ایسے شخص کے پیچھے نماز احمدی پڑھ لے۔ فرمایا یہ سب ترکیبیں ہیں۔ میں ان کو پسند نہیں کرتا۔"
٥
مسلمانوں سے نہ سلام لو، نہ سلام دو
تمام قادیانی تمام مسلمانوں کا سلام لیتے ہیں اور دیتے بھی ہیں۔ لیکن یہ سب منافقانہ باتیں ہیں۔ جبکہ ایک قادیانی دنیا کے تمام مسلمانوں کو مسلمان نہیں سمجھتا۔ اس کا اعتقاد ہے کہ یہ لوگ کافر دائرہ اسلام سے خارج ہیں اور کافر بھی ایسے جیسے ہندو اور عیسائی تو بتلائیے اس کا سلام لینا دینا منافقانہ نہیں تو اور کیا ہے؟ مزید برآں اس کے متعلق فتویٰ بھی سن لیجئے جس سے صاف ثابت ہوتا ہے کہ مسلمانوں سے ان کا سلام لینا دینا خلوص سے نہیں بلکہ مصلحتاً ہے اور منافقانہ ہے۔ (فتاویٰ احمدیہ ص ٩٩ ج ١) ”سوال کہ مخالف مکذب کو سلام کہنا اور اس کا جواب دینا یا خرید و فروخت کرنا جائز ہے یا نہیں۔ فرمایا جو گالیاں دیتے ہیں اور صریح مخالف ہیں اس کا سلام نہ لو اور نہ دو۔“
ماحصل
یہ ہے کہ قادیانیوں کے نزدیک دنیا کے پچاس کروڑ مسلمان کافر اور دائرہ اسلام سے خارج ہیں۔ کسی قادیانی کو جائز نہیں کہ ان کا یا ان کے کسی بچہ کا جنازہ پڑھے۔ کوئی قادیانی کسی مسلمان کے پیچھے نماز نہیں ادا کر سکتا اور نہ کسی مسلمان سے اسلامی تعلق (رشتہ دار، سلام) پیدا کر سکتا ہے۔
برادران اسلام! یہ ہے قادیانیوں کا اسلام اور یہ ہے ان کی مسلمانوں سے محبت۔ میرا فرض تھا کہ میں حتی الامکان آپ تک صحیح قادیانیت پہنچا دوں اور اس دل کو چیر کر رکھ دوں جس کا پہلو میں بہت شور سنا جاتا تھا۔ اگر اس کے پڑھنے کے بعد بھی آپ ان گندم نماؤں کے دجل و فریب میں آجائیں تو میں سمجھ لوں گا کہ مشیت ایزدی ہی یوں ہے جو میرے یا کسی اور کے بس سے باہر ہے۔ آخر میں دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہم مسلمانوں کو صراط مستقیم کی ہدایت کرے اور فرق باطلہ کی شرارتوں سے محفوظ رکھے۔
٦
قادیانی
حضرت مولانا عبدالغ
ہیں۔ لیکن یہ سب منافقانہ تا۔ اس کا اعتقاد ہے کہ یہ سائی تو بتلائیے اس کا سلام س لہجے جس سے صاف مصلحتاً ہے اور منافقانہ ہے۔ ب دینا یا خرید و فروخت کرنا سلام نہ لو اور نہ دو۔“
مان کافر اور دائرہ اسلام نازہ پڑھے۔ کوئی قادیانی ی تعلق (رشتہ دار، سلام)
مسلمانوں سے محبت ۔ میرا ل کو چیر کر رکھ دوں جس کا ن گندم نماؤں کے دجل و رے یا کسی اور کے بس سے ت کرے اور فرق باطلہ کی
خاتم النبیین لا نبی بعدی
میں آخری نبی ہوں، میرے بعد کوئی نبی نہیں۔
قادیانی ہذیان
حضرت مولانا عبدالغفور کلانوری رحمۃ اللہ علیہ
بسم الله الرحمن الرحيم
اظہار خیال
مرزا غلام احمد قادیانی آنجہانی نے اسلام اور فرزندان اسلام کی کوئی خدمت انجام تو دی ہی نہیں اور نہ وہ اس مقصد کے لئے مبعوث ہوئے تھے۔ ان کی بعثت کا ایک اور صرف ایک ہی مقصد تھا۔ وہ یہ کہ اسلامی مفاد، اسلامی شوکت، اسلامی تنظیم، اسلامی روح (ولولۂ جہاد) اور اسلامی حکومتوں کو برباد کرنے کی کوشش کریں۔ اسلامی حکومتیں آپ کے ”الہامات“ کا ہمیشہ تختہ مشق بنی رہیں۔ کسی اسلامی حکومت پر جب کبھی کوئی افتاد پڑی تو آپ اور آپ کی امت نے گھی کے چراغ جلائے اور اس کو اپنا ”معجزہ“ قرار دیا۔ پچھلے دنوں غازی محمد نادر خان مرحوم سابق شاہ افغانستان کی شہادت کو مرزا آنجہانی کی پیشگوئی کا نتیجہ اور ان کا ”معجزہ“ بتایا۔
میرے محترم دوست مولانا عبدالغفور صاحب کلانوری مولوی فاضل وفاضل دیوبند نے اس رسالہ نافعہ میں جو اس وقت ناظرین کرام کے ہاتھوں میں ہے۔ اس نام نہاد پیش گوئی کی حقیقت پر کافی روشنی ڈال دی ہے اور ثابت کر دیا ہے کہ مرزائے آنجہانی کی پیش گوئیاں اس چالاک رملّی کے ڈھکوسلوں سے زیادہ وقعت نہیں رکھتیں۔ جس نے ایک اولاد کی خواہشمند عورت کو بطور تعویذ یہ لکھ کر دے دیا تھا کہ ”لڑکا نہ لڑکی“ مقصود اس رملّی کا یہ تھا کہ اگر لڑکا پیدا ہوگا تو کہہ دوں گا کہ میں نے تو پہلے ہی لکھ دیا تھا کہ ”لڑکا۔ نہ لڑکی“ اور اگر لڑکی پیدا ہوئی تو کہہ سکوں گا کہ میں نے لکھا تو تھا کہ ”لڑکا نہ۔ لڑکی“ اور اگر لڑکا ہوا نہ لڑکی، تو کہنے کی پوری گنجائش ہے کہ ”لڑکا نہ لڑکی“ لکھنے کا میرا یہ مطلب تھا کہ نہ لڑکا ہوگا نہ لڑکی۔
بہرکیف رملّی کا یہ قصہ فرضی ہو یا واقعی، لیکن اس میں ذرا بھی شبہ نہیں کہ مرزا قادیانی آنجہانی نے ”چالاک رملّی“ کے بھی کان کتر دیئے۔ آپ کی پیش گوئیاں خدا کے فضل اور رحم کے ساتھ موم کی ناک ہیں۔ جس طرف چاہو پھیر لو۔
میں تمام برادران اسلام سے درخواست کرتا ہوں کہ وہ مولانا موصوف کی محنت کی قدر فرمائیں اور اس رسالہ کو ملک کے گوشہ گوشہ میں پہنچا کر ثواب دارین حاصل کریں۔ (پیرزادہ) محمد بہاء الحق قاسمی، امرتسری عفا اللہ عنہ، امرتسر ٦ ذوالحجہ ١٣٥٢ھ ٢
بسم الله الرحمن الرحيم "الحمد لله وحده والصلوة والسلام على م
مرزا قادیانی کی پیش گوئیوں پر ایک اجمالی نظر
یہ حقیقت اظہر من الشمس ہے کہ پیشین گوئی کرنا اور دلیل نہیں ہے۔ کیونکہ دنیا میں ایسے ہزاروں انسان ہو گزرے پیشین گوئیاں کرتے ہیں اور وہ سچی نکلتی ہیں۔ چنانچہ آج کل بعض بنا رکھا ہے۔ مرزا قادیانی بھی ہمارے اس بیان کی تصدیق کر کتاب (براہین احمدیہ ص ٢٦٧، تمہید ششم، خزائن ج١ ص ٥٥٨) ”نجومیوں نظر آتے ہیں کہ ایسی ایسی خبریں پیش از وقوع بتلایا کرتے ہیں گی۔ لڑائیاں ہوں گی، قحط پڑے گا۔ ایک قوم دوسری قوم پر چڑھ بار ہا کوئی نہ کوئی ان کی خبر سچی نکل آتی ہے“
بہر حال پیش گوئی کا سچا نکلنا مامور من اللہ ہونے کی د رمل و جفر کے جاننے والے نجوم کے ماہر پیش گوئیاں کرتے ابو معشر جعفر بن محمد بلخی متوفی ٢٧٢ ہجری جو فن نجوم کا امام گزرا ہے مدخل، زیج، المدکرات، الالوف یادگار چھوڑی ہیں۔ اس کی (تفصیل کے لئے دیکھو دائرۃ المعارف وابن خلکان) بنا بریں لیں کہ مرزا قادیانی کی بعض گول مول پیش گوئیاں سچی نکلی ہیں تو اللہ اور مرسل ثابت ہو سکتے ہیں؟ ہرگز نہیں۔
جیسا کہ (اشاعۃ السنۃ ج ٥ ص ٢٩) پر لکھا ہے کہ : ”مر سیالکوٹ سے جس کو علم نجوم اور رمل و جفر میں دخل تھا، استفادہ کیا اور ممکن ہے کہ مرزا قادیانی کی طبیعت میں کہانت کرتے ہیں۔ جو عموماً سچی نکلتی ہیں۔ جیسا کہ امام رازیؒ نے (تفسیر کیا ہے کہ شہر بغداد میں ایک کاہنہ رہا کرتی تھی۔ جس کو سنجر بن خراسان لے گیا تھا۔ بادشاہ نے اس کاہنہ سے آئندہ پیش کئے۔ جو اس نے تفصیل کے ساتھ بیان کئے اور وہ اپنے اپنے ٣
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
”الحمد لله وحده والصلوۃ والسلام علی من لانبی بعده“
مرزا قادیانی کی پیش گوئیوں پر ایک اجمالی نظر
یہ حقیقت اظہر من الشمس ہے کہ پیشین گوئی کرنا اور اس کا سچا نکلنا بزرگی یا نبوت کی دلیل نہیں ہے۔ کیونکہ دنیا میں ایسے ہزاروں انسان ہو گزرے ہیں اور اب بھی موجود ہیں کہ جو پیشین گوئیاں کرتے ہیں اور وہ سچی نکلتی ہیں۔ چنانچہ آج کل بعض لوگوں نے اس کو اپنا ذریعہ معاش بنا رکھا ہے۔ مرزا قادیانی بھی ہمارے اس بیان کی تصدیق کرتے ہیں۔ ملاحظہ ہو ان کی الہامی کتاب (براہین احمدیہ ص ٤٦٧ تمہید ششم، خزائن ج ١ ص ٥٥٨) ”بجز انبیاء کے اور بھی ایسے لوگ بہت نظر آتے ہیں کہ ایسی ایسی خبریں پیش از وقوع بتلایا کرتے ہیں کہ زلزلے آئیں گے، وبا پڑے گی۔ لڑائیاں ہوں گی، قحط پڑے گا۔ ایک قوم دوسری قوم پر چڑھائی کرے گی۔ یہ ہوگا، وہ ہوگا اور بارہا کوئی نہ کوئی ان کی خبر سچی نکل آتی ہے۔“
بہرحال پیش گوئی کا سچا نکلنا مامور من اللہ ہونے کی دلیل نہیں ہے اور ہو بھی کیونکر جبکہ رمل و جفر کے جاننے والے نجوم کے ماہر پیش گوئیاں کرتے ہیں اور وہ سچی نکلتی ہیں۔ جیسے ابو معشر جعفر بن محمد بلخی متوفی ٢٧٢ ہجری جو فن نجوم کا امام گزرا ہے اور اس فن میں متعدد تصانیف جیسے مدخل، زیج، المذکرات، الالوف یادگار چھوڑی ہیں۔ اس کی پیش گوئیوں کا مطالعہ کیا جائے (تفصیل کے لئے دیکھو دائرۃ المعارف وابن خلکان) بنابریں اگر ہم تھوڑی دیر کے لئے فرض کر لیں کہ مرزا قادیانی کی بعض گول مول پیش گوئیاں سچی نکلی ہیں تو کیا اس سے مرزا قادیانی مامور من اللہ اور مرسل ثابت ہو سکتے ہیں؟ ہرگز نہیں۔
جیسا کہ (اشاعت السنہ ج ٥ ص ٤٩) پر لکھا ہے کہ: ”مرزا قادیانی نے سید ملک شاہ ساکن سیالکوٹ سے جس کو علم نجوم اور رمل و جفر میں دخل تھا، استفادہ کیا۔“
اور ممکن ہے کہ مرزا قادیانی کی طبیعت میں کہانت کا مادہ ہو اور کاہن بھی پیش گوئیاں کرتے ہیں۔ جو عموماً سچی نکلتی ہیں۔ جیسا کہ امام رازیؒ نے (تفسیر کبیر جلد ٣) میں ایک کاہنہ کا قصہ نقل کیا ہے کہ شہر بغداد میں ایک کاہنہ رہا کرتی تھی۔ جس کو سنجر بن ملک شاہ والی خراسان بغداد سے خراسان لے گیا تھا۔ بادشاہ نے اس کاہنہ سے آئندہ پیش آنے والے چند واقعات دریافت کئے۔ جو اس نے تفصیل کے ساتھ بیان کئے اور وہ اپنے اپنے وقت پر حرف بحرف پورے نکلے۔
٣
حضرت امام نے اس کاہنہ کی صداقت میں تین شہادتیں پیش کی ہیں۔
- ١...... بادشاہ خراسان کا تجربہ۔
- ٢...... بعض علمائے محققین کا تجربہ۔
- ٣...... علامہ ابوالبرکات کے بیس برس کا تجربہ۔
علاوہ ازیں مرزائیوں کو معلوم ہونا چاہئے کہ مالیخولیا کے مریض بھی خود کو غیب دان خیال کرتے ہیں اور بسا اوقات آئندہ پیش آنے والے واقعات کی خبر پیش از وقوع بیان کر دیتے ہیں۔ (از شرح اسباب ج١ ص٧٠) اور مرزا قادیانی کو مراق تھا جیسا کہ وہ خود اقرار کرتے ہیں۔ دیکھو (کتاب منظور الٰہی ص٣٤٨) اور مراق مالیخولیا کی ایک قسم ہے (اکسیر اعظم ج١ ص١٨٦) بنابریں مرزا قادیانی کی پیش گوئیوں کو کیوں نہ مراق کا نتیجہ کہا جائے؟
اب ہم مرزا قادیانی کے مریدوں سے دریافت کرتے ہیں کہ وہ انصاف کو مدنظر رکھتے ہوئے بتلائیں کہ ہم مرزا قادیانی کی گول مول پیش گوئیوں کو کس قسم میں داخل کریں۔ ہم اس بات کا فیصلہ ان کے انصاف پر چھوڑتے ہیں اور اس کے ساتھ ہی خیر خواہانہ گزارش کرتے ہیں کہ قرآن مجید کی جن آیات میں اظہار غیب کا ذکر آیا ہے۔ ان کی تفسیر واقعات کے برخلاف بیان کرنے کی جرأت نہ کریں اور ان کو معلوم ہونا چاہئے کہ قرآن مجید اور حدیث صحیح اور تاریخ کی معتبر کتابوں سے یہ امر پایہ ثبوت کو پہنچ چکا ہے کہ کسی سچے نبی نے اپنی صداقت میں کفار کے مقابلہ میں اپنی پیش گوئیوں کو پیش نہیں کیا۔
پیش گوئی کی حقیقت مرزا قادیانی کے قلم سے
اب ہم مرزا قادیانی کی کتابوں سے چند اقتباسات ہدیہ ناظرین کرتے ہیں تاکہ مرزا قادیانی کی پیش گوئیوں کی حقیقت بآسانی معلوم ہوسکے۔
- ١...... ”پیش گوئی میں کھلا کھلا تاریخی واقعہ ہونا چاہئے۔“
(ضمیمہ تحفہ گولڑویہ ص١٢١، خزائن ج١٧ ص٣٠١)
- ٢...... ”پیش گوئی میں وہ امور پیش کرنے چاہئیں جن کو کھلے کھلے طور پر دنیا دیکھ سکے اور
پہچان سکے۔“
(ضمیمہ تحفہ گولڑویہ ص١٢٢، ایضاً)
- ٣...... ”اس درماندہ انسان (حضرت مسیح علیہ السلام) کی پیشین گوئیاں کیا تھیں؟ صرف یہی کہ
زلزلے آئیں گے۔ قحط پڑیں گے، لڑائیاں ہوں گی۔ پس ان دنوں پر لعنت جنہوں نے ایسی ایسی پیشین گوئیاں اس کی خدائی پر دلیل ٹھہرائیں اور ایک مردہ کو اپنا خدا بنالیا۔ کیا ہمیشہ زلزلے نہیں آتے؟
٤
کیا ہمیشہ قحط نہیں پڑتے؟ کیا کہیں نہ کہیں لڑائی کا سلسلہ نے ان معمولی باتوں کا نام پیش گوئی کیوں رکھا؟“
- ٤...... ”حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو کوستے ہوئے ١؎
معجزات کا دعویٰ تو نہیں کرتا اور پیش گوئیوں کا حال اس گوئیاں ہیں کہ زلزلے آئیں گے۔ مری پڑے گی یا لڑائی افسوس یہ امر ہے کہ جس قدر مسیح کی پیش گوئیاں غلط نکلیں
- ٥...... ”اور مسیح علیہ السلام کی پیش گوئیوں کا سب س
گوئی کے معنی کچھ سمجھے اور آخر کچھ اور ہی ظہور میں آیا۔“
نوٹ از مؤلف...... ان مذکورہ بالا تین حوالجات میں گئی ہے؟ (نعوذ باللہ)
- ٦...... ”قرآن مجید اور تورات کی رو سے یہ امر غل
سکتی ہے۔“
- ٧...... ”وعید کی پیش گوئی میں گو بظاہر کوئی بھی شر
جاتی ہے۔“
نوٹ از مؤلف...... ان دو حوالوں میں صرف مسل افتراء کیا ہے۔ قرآن مجید میں اس کا کہیں ذکر تک نہیں ۔
- ٨...... ”یعنی اگر کل الہامات کو دیکھا جائے تو رح
شیطانی میں اس کے برخلاف اور ہم نے کل کا لفظ رعی
١؎ مرزا قادیانی نے قحط، زلزلوں اور لڑائیوں ناقابل اعتنا قرار دیا ہے۔ مثلاً (اخبار الحکم یکم مئی ١٩٠١ء ص منقول ہے: ”ہمیں افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ مسیح کی ج ہیں کہ ان کو پڑھ کر ہنسی آتی ہے کہ قحط پڑیں گے۔ زلزل اب ہر گاؤں میں جا کر دیکھو کہ ہر وقت مرغ بانگ د معمولی باتیں ہیں جو آج کل کے مدبر تو اس سے بھی آئے گا۔ فلاں وقت بارش ہوگی۔“ (محمد بہاء الحق قاسمی
٥
کیا ہمیشہ قحط نہیں پڑتے؟ کیا کہیں نہ کہیں لڑائی کا سلسلہ شروع نہیں رہتا؟ پس اس نادان اسرائیلی نے ان معمولی باتوں کا نام پیش گوئی کیوں رکھا؟"
(ضمیمہ انجام آتھم ص٤، خزائن ج١١ ص٢٨٨)
- ٤...... "حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو کوستے ہوئے تحریر کرتے ہیں: ”کیا تالاب کا قصہ مسیحی
معجزات کی رونق دور نہیں کرتا اور پیش گویوں کا حال اس سے بھی زیادہ ابتر ہے۔ کیا یہ بھی کوئی پیش گوئیاں ہیں کہ زلزلے آئیں گے۔ مری پڑے گی یا لڑائیاں ہوں گی۔ قحط پڑیں گے زیادہ تر قابل افسوس یہ امر ہے کہ جس قدر مسیح کی پیش گوئیاں غلط نکلیں اس قدر صحیح نہیں نکلیں۔" (عیاذ باللہ)
(ازالہ اوہام ص٧، خزائن ج٣ ص١٠٦)
- ٥...... "اور مسیح علیہ السلام کی پیش گوئیوں کا سب سے بدتر حال ہے بارہا انہوں نے کسی پیش
گوئی کے معنی کچھ سمجھے اور آخر کچھ اور ہی ظہور میں آیا۔"
(ازالہ ص٤١٩، خزائن ج٣ ص٣١٦)
نوٹ از مؤلف ...... ان مذکورہ بالا تین حوالجات میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی کس قدر توہین کی گئی ہے؟ (نعوذ باللہ)
- ٦...... "قرآن مجید اور تورات کی رو سے یہ امر ثابت ہے کہ وعید کی میعاد توبہ کی وجہ سے ٹل
سکتی ہے۔"
(حاشیہ انجام آتھم ص٢٩، خزائن ج١١ ص ایضاً)
- ٧...... "وعید کی پیش گوئی میں گو بظاہر کوئی بھی شرط نہ ہو۔ تب بھی بوجہ خوف تاخیر ڈال دی
جاتی ہے۔"
(حاشیہ انجام آتھم ص٣٠، خزائن ج١١ ص٣٢)
نوٹ از مؤلف ...... ان دو حوالوں میں صرف مسلمانوں کو دھوکہ دینے کے لئے خدا پر محض افتراء کیا ہے ۔ قرآن مجید میں اس کا کہیں ذکر تک نہیں ہے۔
- ٨...... "یعنی اگر کل الہامات کو دیکھا جائے تو رحمانی الہام میں کثرت سچ کی ہوتی ہے اور
شیطانی میں اس کے برخلاف اور ہم نے کل کا لفظ رحمانی خوابوں یا الہاموں کی نسبت اس لئے
١؎ مرزا قادیانی نے قحط، زلزلوں اور لڑائیوں کی پیش گوئیوں کو دوسرے مقامات پر بھی ناقابل اعتنا قرار دیا ہے۔ مثلاً (اخبار الحکم مورخہ ٣١ جنوری ١٩٠٢ء ص٦ کالم١) پر مرزا قادیانی کا یہ قول منقول ہے: "ہمیں افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ مسیح کی جو پیش گوئیاں انجیل میں درج ہیں۔ وہ ایسی ہیں کہ ان کو پڑھ کر ہنسی آتی ہے کہ قحط پڑیں گے۔ زلزلے آئیں گے۔ مرغ بانگ دے گا وغیرہ ۔ اب ہر گاؤں میں جا کر دیکھو کہ ہر وقت مرغ بانگ دیتے ہیں یا نہیں؟ اور قحط اور زلزلے بالکل معمولی باتیں ہیں جو آج کل کے مدبر تو اس سے بھی بڑھ کر بتا دیتے ہیں کہ فلاں وقت طوفان آئے گا۔ فلاں وقت بارش ہوگی۔" (محمد بہاء الحق قاسمی عفاہ اللہ عنہ)
٥
استعمال نہیں کیا کہ ان میں سے بعض الہام یا خواب متشابہات کے رنگ میں ہوتے ہیں یا اجتہادی طور پر کوئی غلطی ہو جاتی ہے اور جاہل نادان ایسی پیش گوئیوں کو جھوٹ سمجھ لیتے ہیں اور ان کا وجود محض ابتلاء کے لئے ہوتا ہے اور بعض ربانی پیش گوئیاں وعید کی قسم سے ہوتی ہیں۔ جن کا تخلف جائز ہوتا ہے۔"
(حقیقت الوحی ص ١٤٠، خزائن ج ٢٢ ص ١٤٣)
- ٩...... "بعض فاسقوں اور غایت درجے کے بدکاروں کو بھی سچی خوابیں آ جاتی ہیں۔ بلکہ
بعض پرلے درجے کے بدمعاش اور شریر آدمی اپنے ایسے ایسے مکاشفات بیان کرتے ہیں کہ آخر وہ سچے نکلتے ہیں۔"
(توضیح مرام ص ٨٢، خزائن ج ٣ ص ٩٥)
- ١٠...... "یہ بالکل غیر معقول اور بیہودہ امر ہے کہ انسان کی اصل زبان تو کوئی اور ہو اور الہام
اس کو اس زبان میں ہو جس کو وہ سمجھ بھی نہیں سکتا۔ کیونکہ اس میں تکلیف مالا یطاق ہے اور ایسے الہام سے فائدہ کیا ہوا جو انسانی سمجھ سے بالاتر ہے۔"
(چشمہ معرفت ص ٢٠٩، خزائن ج ٢٣ ص ٢١٨)
تلک عشرۃ کاملۃ
اے مرزا قادیانی کے مریدو! کیا یہ مرزا قادیانی کی کتابیں آپ کی نظر سے نہیں گزریں؟ کیا آپ نے ان کا بغور مطالعہ نہیں کیا؟ کیا آپ کو ان میں خدا کے ایک مقدس رسول حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی توہین ہوتی نظر نہ آئی؟ کیا الزامی جواب اس طرح دیا جاتا ہے؟ کیوں نہیں صدق دل سے توبہ کر لیتے۔ کوئی ڈر نہیں انسان بھول جاتا ہے۔ خدائے پاک غفور و رحیم ہے۔
اچھا اگر آپ توبہ نہیں کرتے تو خدارا ذرا تکلیف گوارہ فرما کر مرزا قادیانی کے الہامات کی پٹاری اپنے سامنے رکھ لیں اور اقتباس نمبر ١، ٢ کی رو سے مرزا قادیانی کی وہ تمام پیش گوئیاں ان کی پٹاری سے نکال دیں۔ جن میں کوئی کھلا کھلا تاریخی واقعہ نہیں اور نہ ان میں وہ امور بیان کئے گئے ہیں۔ جن کو دنیا کھلے کھلے طور پر دیکھ سکے ( تشریحات کی ضرورت نہ پڑے) جیسے "شاتان تذبحان" (تذکرہ ص ٨٨ طبع ٣) یعنی دو بکریاں ذبح کی جائیں گی، تین بکرے ذبح کئے جائیں گے، وغیرہ۔
اب فرمائیے! کیا مرزا قادیانی کی پٹاری میں کوئی ایسا الہام باقی رہ جاتا ہے جس کو ہم مرزا قادیانی کے فتویٰ کے مطابق پیش گوئی کہہ سکیں؟ اگر کوئی ہے تو پیش کیجئے اور یہ بھی بتائیے کہ "آہ نادر شاہ کہاں گیا؟" (تذکرہ ص ٥٤٧، طبع ٣) میں کون سا کھلا کھلا تاریخی واقعہ ہے اور وہ کون سے امور پیش کئے گئے ہیں۔ جن کو دنیا کھلے کھلے طور پر دیکھ سکے اور ان امور پر کون سے الفاظ دلالت کرتے ہیں اور دلالت کی کون متعلق ہے اور نادر خان نادر شاہ بن جا اور (اقتباس نمبر ٣، ٤) کو پی معنی مرزا قادیانی نے کچھ سمجھے اور آخر ص ٨٨، طبع ٣) (دو بکریاں ذبح کی جا انجام آتھم ص ٥٧، خزائن ج ١١ ص ٣٣٠) بیگ ہوشیار پوری ہے اور دوسری بکر
پھر جب مرزا قادیانی نے بدل کر اس الہام کو ان پر چسپاں کیا۔ وقت جس طرف چاہا پھیر دیا۔
بات وہ ک
نتیجہ یہ نکلا کہ مرزا قادیانی ہی بدتر ہے۔ مرزا قادیانی نے تو یہ ف قادیانی پر آگیا۔ عربی میں اس کو "قضا اور (اقتباس نمبر ٦، ٧، ٨) متعلق ہیں۔ کیونکہ مرزا قادیانی کے ن گوئی کو بھی خارج کر دیں کیونکہ بعض پر غلط ہو جاتی ہیں۔ جیسے بشیر الدولہ، ص ١١٦، تذکرہ طبع سوم ص ٦٢٦) پس مرزا کذب کا معیار بن سکتی ہے نہ وعدہ کی ہیں کہ ٹل گئی یا متشابہات کے رنگ میں
اور اگر بالفرض مرزا قادی نہیں ہے۔ اس سے مرزا قادیانی ما کشف یا خواب کو اقتباس نمبر ٩ میں د
دلالت کرتے ہیں اور دلالت کی کون سی قسم ہے؟ اور اس میں یہ کہاں لکھا ہے کہ یہ کشف کامل کے متعلق ہے اور نادر خان نادر شاہ بن جائے گا؟ ذرا سوچ سمجھ کر جواب دیں۔ اور (اقتباس نمبر ٢،٣) کو پیش نظر رکھتے ہوئے وہ پیش گوئیاں بھی خارج کر دیں۔ جن کے معنی مرزا قادیانی نے کچھ سمجھے اور آخر کچھ اور ہی ظہور میں آیا۔ جیسے ”شاتان تذبحان“ (تذکرہ ص ٨٨ طبع ٣) (دو بکریاں ذبح کی جائیں گی) مرزا قادیانی نے اس الہام کے سترہ سال بعد (ضمیمہ انجام آتھم ص ٥٧، خزائن ج ١١ ص ٣٣٠) پر اس الہام کی یہ تشریح کی تھی کہ ”ایک بکری سے مراد مرزا احمد بیگ ہوشیار پوری ہے اور دوسری بکری سے مراد اس کا داماد ہے۔“ پھر جب مرزا قادیانی کے دو مرید کابل میں سنگسار کئے گئے تو مرزا قادیانی نے پہلو بدل کر اس الہام کو ان پر چسپاں کیا۔ مرزا قادیانی کے عجیب گول مول الہام ہیں۔ ضرورت کے وقت جس طرف چاہا پھیر دیا۔
بات وہ کہہ کہ نکلتے رہیں پہلو دونوں
نتیجہ یہ نکلا کہ مرزا قادیانی کی پٹاری میں بعض ایسی پیش گوئیاں ہیں۔ جن کا حال بہت ہی بدتر ہے۔ مرزا قادیانی نے تو یہ فتویٰ حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر لگایا تھا مگر افسوس کہ الٹا مرزا قادیانی پر آ لگا۔ عربی میں اس کو ”قضى الرجل على نفسه“ کہتے ہیں۔
اور (اقتباس نمبر ٦، ٧، ٨) کے پیش نظر وہ تمام پیش گوئیاں نکال دیں جو کسی کی موت کے متعلق ہیں۔ کیونکہ مرزا قادیانی کے نزدیک ٹل جاتی ہیں اور ان کا تخلف جائز ہے اور وعدہ کی پیش گوئی کو بھی خارج کر دیں کیونکہ بعض ان میں سے متشابہات کے رنگ میں ہوتی ہیں یا اجتہادی طور پر غلط ہو جاتی ہیں۔ جیسے بشیر الدولہ، عالم کباب، شادی خاں، کلمۃ اللہ والی پیش گوئی (البشریٰ ج ٢ ص ١١٦، تذکرہ طبع سوم ص ٦٢٦) پس مرزا قادیانی کی اس تحقیق کے مطابق نہ وعید کی پیش گوئی صدق و کذب کا معیار بن سکتی ہے نہ وعدہ کی۔ کیونکہ اگر ایسی پیش گوئی پوری نہ ہو تو مرزا قادیانی کہہ سکتے ہیں کہ ٹل گئی یا متشابہات کے رنگ میں ہے۔
اور اگر بالفرض مرزا قادیانی کا کوئی کشف یا خواب صحیح نکل آئے تو کوئی تعجب کی بات نہیں ہے۔ اس سے مرزا قادیانی مامور من اللہ اور سچے نبی ثابت نہیں ہو سکتے۔ آپ اس قسم کے کشف یا خواب کو اقتباس نمبر ٩ میں درج کر لیجئے۔
٧
اور اقتباس نمبر ١٠ کے پیش نظر مرزا قادیانی کی پٹاری سے وہ تمام الہامات خارج کر دیں جو ان کو ایسی زبان میں ہوئے ہیں۔ جس کو وہ سمجھ نہیں سکتے۔ جیسے ”ھوشعنا نعسا“
(براہین احمدیہ ص ٥٥٦، خزائن ج ١ ص ٦٦٤)
”پریشن عمر براطوس“
(البشریٰ ج ١ ص ٥١، تذکرہ طبع سوم ص ١١٥)
”بعد۔ ١١۔ انشاء اللہ۔“
(البشریٰ ج ٢ ص ٦٥، ٦٦، تذکرہ طبع سوم ص ٣٠١) وغیرہ۔
اب فرمائیے کہ اس غیر معقول اور بیہودہ امر کا ارتکاب کس نے کیا ہے؟ اس کا جواب یہ ہو سکتا ہے کہ مرزا قادیانی کے ملہم (الہام کرنے والے) نے ارتکاب کیا اور غیر معقول اور بیہودہ امر کا ارتکاب تو خدائے قدوس نہیں کر سکتا۔ پس اس سے معلوم ہوا کہ یہ الہامات مرزا صاحب کو خدا کی طرف سے نہیں ہوئے بلکہ شیطان نے القاء کئے تھے۔ اب رہا یہ امر کہ شیطانی الہام کس کو ہوتے ہیں؟ اس کا جواب مرزا قادیانی نے یہ دیا ہے:
”رحمانی الہام اور وحی کے لئے اول شرط یہ ہے کہ انسان محض خدا کا ہو جائے اور شیطان کا کوئی حصہ اس میں نہ رہے۔ کیونکہ جہاں مردار ہے ضرور وہاں کتے بھی جمع ہو جائیں ...... جو شیطان کے ہیں اور شیطان کی عادتیں اپنے اندر رکھتے ہیں۔ انہیں کی طرف شیطان دوڑتا ہے۔ کیونکہ وہ شیطان کے شکار ہیں۔“
(حقیقت الوحی ص ١٣٩، خزائن ج ٢٢ ص ١٤٢)
مرزا قادیانی کے الہامات کی پٹاری خالی ہو گئی
اے مرزا قادیانی کے عقیدت مندو! مذکورہ بالا اقتباسات کی روشنی میں مرزا قادیانی کی پٹاری میں نظر کرو اور بتلاؤ کہ اس کے اندر کوئی ایسی پیش گوئی رہ گئی ہے۔ جس پر تنقید کرنے کی ہم کو تکلیف برداشت کرنی پڑے۔ امید ہے کہ ہر ایک عقلمند یہی جواب دے گا کہ کوئی نہیں۔ پھر اگر آپ گول مول الہامات کا نام پیش گوئی رکھیں گے یا ہمارے سامنے وہ پیش گوئیاں اور الہامات پیش کریں گے۔ جن میں زلزلے، قحط، لڑائی، مری وغیرہ کا ذکر ہوگا۔ تو ہم بھی مجبور ہو جائیں گے کہ جو فتویٰ مرزا قادیانی نے حضرت مسیح علیہ السلام پر لگایا ہے کہ ”اس نادان اسرائیلی نے ان معمولی باتوں کا نام پیش گوئی کیوں رکھا۔“ یہی فتویٰ مرزا قادیانی پر لگائیں گے کہ ”اس نادان ...... نے ان معمولی باتوں کا نام پیش گوئی کیوں رکھا؟“
ناظرین! یہ حقیقت ثابتہ ہے کہ کسی آئندہ پیش آنے والے واقعہ کی خبر دینا پیش گوئی کہلاتا ہے۔ بشرطیکہ الفاظ پیش گوئی کے مفہوم کو متعین کرتے ہوں۔ مگر دجال و کذاب، فریبی و مکار انسان عموماً گول مول الفاظ میں پیش گوئی کرتے ہیں۔ جس میں کوئی جھوٹ کا پہلو نہیں نکل سکتا۔ پہلے سے ہی ان کی پیش گوئی کے الفاظ میں بہت گنجائش ہوتی ہے۔ گویا موم کی ناک کی طرح ہوتی ٨
ہے۔ جس طرف کو چاہیں پھیر سکتے ہیں۔ کیونکہ ان کو ہر نے کوئی ایسی پیش گوئی کی جس میں کوئی تفصیل یا تشر پوری نہ ہو تو وہ کذاب ٹھہریں گے اور دنیا کو ان کے دجل بگڑ جائے گا۔
مجھے نہایت ہی افسوس ہے ان لکھے پڑھے ا مرزا قادیانی کی نبوت ثابت کرتے ہیں۔ بلکہ ایسے گول کا اثر ہو نبی نہ ہونے کی دلیل ہیں۔ کاش! کہ میرے مرز اس کے بعد اگرچہ مرزا قادیانی کی کسی نہیں رہتی مگر پھر بھی ہم خلیفہ قادیانی بشیر الدین محمود صا تازہ نشان کا ظہور۔“ پر ضروری قدر اپنے خیالات کا اظہا
پہلی پیش گوئی اور اس کا رَد
خلیفہ صاحب! آپ نے جو یہ تحریر کیا ۔
مجددیت سے پہلے ”شاتان تذبحان“ (دو بکریا میں دو خونوں کی خبر دی تھی، جو وہاں ناحق کئے جانے فروغ ہے۔
ہم آپ کو چیلنج کرتے ہیں کہ آپ اپنے مطبوعہ تحریر پیش کریں جو ان کے دعویٰ مجددیت سے پہ ہو کہ اللہ تعالیٰ نے مجھ کو ”شاتان تذبحان“ کا الہا جو وہاں ناحق قتل کئے جائیں گے۔ مگر ہمارا دعویٰ ہے کہ دھوکہ دیا ہے۔ کیونکہ مرزا قادیانی نے دعویٰ مجددیت ص ١١٠ میں صرف ”شاتان تذبحان“ کا گول تشریح نہیں کی۔ بلکہ یہ گول مول الہام سترہ برس تک بہ کرتے بھی کیوں؟
یہ تو ان کی خانہ ساز نبوت کے مقاصد کے تھی کہ چند گول مول خود ساختہ الہام لکھ چھوڑتے تھے اور تازہ حادثہ کے مطابق گول مول الہام کی تشریح کر ٩
ہے ۔ جس طرف کو چاہیں پھیر سکتے ہیں ۔ کیونکہ ان کو ہر وقت یہ خطرہ دامن گیر رہتا ہے کہ اگر انہوں نے کوئی ایسی پیش گوئی کی جس میں کوئی تفصیل یا تصریح ہو اور وہ اپنی تفصیل یا تصریح کے مطابق پوری نہ ہو تو وہ کذاب ٹھہریں گے اور دنیا کو ان کے دجل و فریب کا پتہ چل جائے گا اور بنا بنایا کھیل بگڑ جائے گا۔
مجھے نہایت ہی افسوس ہے ان لکھے پڑھے انسانوں پر جو ایسے گول مول الہاموں سے مرزا قادیانی کی نبوت ثابت کرتے ہیں۔ بلکہ ایسے گول مول الہام جن میں کہانت و مانخولیا وغیرہ کا اثر ہو نبی نہ ہونے کی دلیل ہیں۔ کاش! کہ میرے مرزائی دوست اس پر غور کرتے ۔
اس کے بعد اگرچہ مرزا قادیانی کی کسی پیش گوئی پر تنقید کرنے کی ضرورت باقی نہیں رہتی مگر پھر بھی ہم خلیفہ قادیانی بشیرالدین محمود صاحب کے رسالہ ”سرزمین کابل میں ایک تازہ نشان کا ظہور ۔“ پر ضروری قدر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہیں ۔
پہلی پیش گوئی اور اس کا رد
خلیفہ صاحب ! آپ نے جو یہ تحریر کیا ہے : ”اللہ تعالی نے مرزا قادیانی کو دعویٰ مجددیت سے پہلے ”شاتان تذبحان“ (دو بکریاں ذبح کی جائیں گی ) کا الہام کر کے کابل میں دو خونوں کی خبر دی تھی، جو وہاں ناحق کئے جانے والے تھے ۔“ سراسر جھوٹ اور دروغ بے فروغ ہے ۔
ہم آپ کو چیلنج کرتے ہیں کہ آپ اپنے ابا جان مرزا غلام احمد قادیانی کی کوئی ایسی مطبوعہ تحریر پیش کریں جو ان کے دعویٰ مجددیت سے پہلے کی ہو اور اس میں مرزا قادیانی نے یہ لکھا ہو کہ اللہ تعالی نے مجھ کو ”شاتان تذبحان“ کا الہام کر کے کابل میں دو خونوں کی خبر دی ہے ۔ جو وہاں ناحق قتل کئے جائیں گے ۔ مگر ہمارا دعویٰ ہے کہ آپ نہیں دکھا سکتے ۔ آپ نے محض لوگوں کو دھوکہ دیا ہے ۔ کیونکہ مرزا قادیانی نے دعویٰ مجددیت سے پہلے براہین احمدیہ ص ٥١٢، خزائن ج ١ ص ٦١٧ میں صرف ”شاتان تذبحان“ کا گول مول الہام لکھا ہے اور اس کی کوئی کسی قسم کی تشریح نہیں کی ۔ بلکہ یہ گول مول الہام سترہ برس تک یونہی بغیر کسی قسم کی تشریح کے پڑا رہا اور تشریح کرتے بھی کیوں ؟
یہ تو ان کی خانہ ساز نبوت کے مقاصد کے برخلاف تھا۔ مرزائے آنجہانی کی یہ عادت تھی کہ چند گول مول خود ساختہ الہام لکھ چھوڑتے تھے ۔ پھر جب طبیعت چاہتی ، تو کسی نئے واقعہ اور تازہ حادثہ کے مطابق گول مول الہام کی تشریح کر کے اس واقعہ پر چسپاں کر لیتے اور اپنے
٩
مریدوں میں اپنی صداقت کا خوب ڈھنڈورا پیٹئے۔ مثلاً یہی الہام ”شاتان تذبحان“ یعنی دو بکریاں ذبح کی جائیں گی، کو دیکھ لیجئے کہ اپنے گول مول ہونے میں نظیر نہیں رکھتا۔ دنیائے جہاں کا سب سے بڑا کاذب بھی یہ جملہ کہے اور اس کو پیش گوئی ٹھہرائے تو کوئی شخص اس کی تکذیب نہیں کرسکتا۔ کیونکہ یہ گول مول الہام ہر زمان و ہر مکان میں صادق آسکتا ہے۔
قادیان میں دو بکریاں ذبح کی جائیں تو بھی صادق ہے۔ قصور میں ذبح کی جائیں جب بھی۔ لاہور میں کی جائیں جب بھی، پشاور میں کی جائیں تو بھی، کابل میں کی جائیں تب بھی (وغیرہ وغیرہ)
اس میں تو جھوٹ کا پہلو نکل سکتا ہی نہیں۔ اس لئے کہ دنیا میں جب تک بکریاں موجود ہیں، ذبح ہوتی رہیں گی۔ خواہ مختلف تقریبات پر ذبح کی جائیں یا یونہی گوشت کھانے کے شوق سے۔ اگر بکریوں سے مراد انسان ہیں تو بھی ہر وقت صادق ہے۔ کیونکہ جب تک دنیا میں انسان رہیں گے، مرتے رہیں گے اور جس امر کی وجہ سے یہ گول مول الہام پیش گوئی بن سکتا تھا، وہ اس میں ہے نہیں کہ دو بکریوں سے مراد مرزا قادیانی کے دو مرید ہیں۔ جو کابل میں ناحق قتل کئے جائیں گے۔ بلکہ اس الہام کے نزول کے تقریباً ٢٣ سال بعد جب مرزا قادیانی کے دو مرید یکے بعد دیگرے کابل میں خاص جرم کے ماتحت قتل کر دیئے گئے۔ تو اس الہام میں یہ معنی ٹھونس دیئے کہ دو بکریوں سے مراد مرزا قادیانی کے یہی دو مرید ہیں، جو کابل میں قتل کئے گئے۔
اے اصحاب دانش و عقل اور اے ارباب علم و فضل! ان لوگوں کی عقل کا ماتم کیجئے۔ جو اس قسم کے گول مول بے معنی اور بے مغز خود ساختہ الہاموں کا نام پیش گوئی رکھتے ہیں اور جو لوگ علوم شرعیہ سے ناواقف ہیں۔ ان کی ناواقفیت سے ناجائز فائدہ حاصل کر کے اپنی جھوٹی نبوت کا ڈھونگ رچاتے ہیں۔
اے مرزائی دوستو! اگر کوئی مدعی نبوت آپ سے یہ کہے کہ میں نے یہ پیش گوئیاں کی ہیں۔ اگر یہ سچی نکلیں تو مجھے بھی سچا تسلیم کر لینا وہ پیش گوئیاں یہ ہیں۔
- ١....... دو بیل خرید کئے جاویں گے۔
- ٢....... دو درخت لگائے جاویں گے۔
- ٣....... دو مکان تعمیر کئے جائیں گے۔
- ٤....... دو روٹیاں کھائی جائیں گی۔
اور وہ قبل از وقت اس کی کوئی کسی قسم کی تشریح نہیں کرتا۔ تو میرے دوستو خدا لگتی کہنا کہ
١٠
کیا آپ ان گول مول جملوں کا نام پیش گوئیاں رکھنے کے یہی کہیں گے کہ یہ ایسے جملے ہیں جو اپنے مفہوم کے اعتبار سے سچا رہتا ہے۔ آپ صرف اس پر ہی اکتفا نہیں کریں گے بلکہ آپ کے اس تمسخر کو اپنی نبوت کی دلیل ٹھہرائے کہ قرآن مجی گیا ہے۔ تو آپ اس کا کیا جواب دیں گے؟
مرزا قادیانی کی پریشانی
میں اوپر لکھ چکا ہوں کہ ”شاتان تذبحان (دو بکریاں ذبح کی جائیں گی۔) براہین احمدیہ میں سترہ سال رہا اور پھر اس قدر طویل مدت کے بعد جب مرزا قادیانی ک منکوحہ آسمانی کا والد مرزا احمد بیگ فوت ہو چکا ہے۔ گویا ا (مرزا سلطان محمد منکوحہ آسمانی کا ارضی خاوند مرزا قادیانی ک رکاوٹیں دور ہونے کے بعد محمدی بیگم از سر نو باکرہ ہو کر م ہوگی۔ تو اس الہام کی یہ تشریح کرتے ہیں۔
”اس کے بعد یوں ہوگا کہ دو بکریاں ذبح کی جا ایک ہوشیار پوری ہے اور دوسری بکری سے مراد اس کا دا سست مت ہو اور غم مت کرو ایسا ہی ظہور میں آئے گا۔“ (ضم ہائے ہائے قادیانی تیرا ستیاناس! بھلا کوئی مرزا منکوحہ آسمانی کے باپ اور اس کے خاوند کی موت کے مت ”بینواتوجروا“
پھر تقریباً سات برس کے بعد جب مرزا قادی اپنے کئے ہوئے جرم کے بدلے قتل کر دیئے گئے تو مرزا ا محمدی بیگم کا خاوند مرزا سلطان محمد تو ابھی تک مرا نہیں ہے اور ن ضمیمہ انجام آتھم (ص ٥٧، خزائن ج ١١ ص ٣٤١) پر کی ہے کہ ا پوری ہے اور دوسری بکری سے مراد اس کا داماد ہے۔ ممکن ہ منکوحہ آسمانی کا خاوند اب تک زندہ موجود ہے) اور اب اب ”شاتان تذبحان“ کی یہ تشریح کئے دیتے ہیں
١١
کیا آپ ان گول مول جملوں کا نام پیش گوئیاں رکھنے کے لئے تیار ہوں گے (ہرگز نہیں ) آپ یہی کہیں گے کہ یہ ایسے جملے ہیں جو اپنے مفہوم کے اعتبار سے عام ہیں اور دنیا میں عموماً ایسا ہوتا ہی رہتا ہے۔ آپ صرف اس پر ہی اکتفا نہیں کریں گے بلکہ اس پر تمسخر بھی اڑائیں گے۔ پھر اگر وہ آپ کے اس تمسخر کو اپنی نبوت کی دلیل ٹھہرائے کہ قرآن مجید میں آیا ہے کہ ہر ایک نبی سے تمسخر کیا گیا ہے۔ تو آپ اس کا کیا جواب دیں گے؟
مرزا قادیانی کی پریشانی
میں اوپر لکھ چکا ہوں کہ ”شاتان تذبحان“ (براہین احمدیہ ص٥١٢، خزائن ج١ ص٦١٠) (دو بکریاں ذبح کی جائیں گی ۔) براہین احمدیہ میں سترہ سال تک یونہی بغیر کسی قسم کی تشریح کے پڑا رہا اور پھر اس قدر طویل مدت کے بعد جب مرزا قادیانی نے دیکھا کہ ان کا آسمانی خسر محمدی بیگم منکوحہ آسمانی کا والد مرزا احمد بیگ فوت ہو چکا ہے۔ گویا ایک بکری تو مر چکی ہے اور دوسری بکری (مرزا سلطان محمد منکوحہ آسمانی کا ارضی خاوند مرزا قادیانی کا رقیب) بھی مر جائے گی اور سب رکاوٹیں دور ہونے کے بعد محمدی بیگم از سر نو باکرہ ہو کر مرزا قادیانی کے حرم سرائے میں داخل ہوگی۔ تو اس الہام کی یہ تشریح کرتے ہیں۔
”اس کے بعد یوں ہوگا کہ دو بکریاں ذبح کی جائیں گی۔ پہلی بکری سے مراد مرزا احمد بیگ ہوشیار پوری ہے اور دوسری بکری سے مراد اس کا داماد (مرزا سلطان محمد ۔) پھر فرمایا ”تم سست مت ہو اور غم مت کرو ایسا ہی ظہور میں آئے گا۔“ (ضمیمہ انجام آتھم ص٥٧، خزائن ج١١ ص٣٤١)
ہائے ہائے نفسانی تیرا ستیاناس! بھلا کوئی مرزائی مبلغ اس امر پر روشنی ڈال سکتا ہے کہ منکوحہ آسمانی کے باپ اور اس کے خاوند کی موت کے متعلق پیش گوئی کرنے کا کیا فلسفہ ہے؟
”بینواتوجروا“
پھر تقریباً سات برس کے بعد جب مرزا قادیانی کے دو مرید عبدالرحمن و عبداللطیف اپنے کئے ہوئے جرم کے بدلے قتل کر دیئے گئے تو مرزا قادیانی کو خیال پیدا ہوا کہ منکوحہ آسمانی محمدی بیگم کا خاوند مرزا سلطان محمد تو ابھی تک مرا نہیں ہے اور ”شاتان تذبحان“ کی جو تشریح ضمیمہ انجام آتھم (ص٥٧، خزائن ج١١ ص٣٤١) پر کی ہے کہ ایک بکری سے مراد مرزا احمد بیگ ہوشیار پوری ہے اور دوسری بکری سے مراد اس کا داماد ہے۔ ممکن ہے کہ غلط نکلے (جو یقیناً غلط نکلی کیونکہ منکوحہ آسمانی کا خاوند اب تک زندہ موجود ہے) اور اب یہ ایک سنہری موقع ہاتھ آ گیا ہے۔ چلو اب ”شاتان تذبحان“ کی یہ تشریح کئے دیتے ہیں کہ ایک بکری سے مراد عبدالرحمن ہے اور
١١
دوسری بکری سے مراد عبداللطیف ہے۔ جو کابل میں قتل کئے گئے اور فوراً ایک کتاب لکھ ماری جس کا نام ”تذکرۃ الشہادتین“ ہے اور اس میں لکھ دیا کہ ہماری پیش گوئی پوری ہو گئی۔
مگر افسوس کہ مرزا قادیانی نے (ضمیمہ انجام آتھم) میں ”شاۃ“ (بکری) اور ”ذبح“ (ذبح کرنا) کے تقابل کو مدنظر رکھا کیونکہ مرزا احمد بیگ اور مرزا سلطان محمد منکوحہ آسمانی محمدی بیگم کے مرزا قادیانی کے حرم سرائے میں داخل ہونے سے مانع تھے۔ جس کی وجہ سے وہ ذبح کر دیئے کے قابل تھے اور تذکرۃ الشہادتین میں اس تقابل کو بالکل نظر انداز کر دیا گیا اور اس پر مہر لگا دی کہ ان کے دو مخلص مرید عبدالرحمن اور عبداللطیف دونوں واقعی ذبح کر دینے کے قابل تھے۔
ناظرین! کیا یہ صادقوں کی شان ہے کہ ایک گول مول الہام گھڑ لیا اور موم کی طرح جس طرف چاہا پھیر کر اپنا الو سیدھا کر لیا اور جب کبھی کوئی نیا واقعہ رونما ہوا تو فوراً اپنی پٹاری میں سے کوئی گول مول الہام نکالا اور اس میں اپنی طرف سے معنی ڈال کر بعید از قیاس تشریح کرتے ہوئے اس واقعہ پر چسپاں کر لیا۔ یہ ہیں متنبی قادیان کے الہام۔ کیا ایسے گول مول الہام خدا کی طرف سے ہو سکتے ہیں۔ یہ تو شیطانی الہامات ہیں۔ کیونکہ: ”وہ گنگا ہے فصیح اور کثیر المقدار باتوں پر قادر نہیں ہو سکتا۔“
(حقیقت الوحی ص ١٤٩، خزائن ج ٢٢ ص ١٥٢)
خلیفہ قادیانی سے سوالات
- ١...... اگر آپ کے نزدیک اللہ تعالیٰ نے مرزا قادیانی کو دعویٰ مجددیت سے پہلے ”شاتان
تذبحان“ کا الہام کر کے کابل میں ان دو خونوں کی خبر دی تھی۔ جو وہاں ناحق قتل کئے جانے والے تھے۔ تو مرزا قادیانی نے اس الہام کے نزول کے سترہ برس بعد (ضمیمہ انجام آتھم ص ٥٧، خزائن ج ١١ ص ٣٤١) پر اللہ تعالیٰ کی مرضی و مراد اور اس کی بتلائی ہوئی خبر کے برخلاف ”شاتان تذبحان“ کی تشریح یہ کیوں کی کہ ایک بکری سے مراد مرزا احمد بیگ ہوشیار پوری اور دوسری بکری سے مراد اس کا داماد ہے اور پھر اس کی تائید اس الہام سے کیوں کی کہ: ”سست مت ہو اور غم مت کرو۔ ایسا ہی ظہور میں آئے گا۔“
(ایضاً)
- ٢...... ”سچا نبی اللہ کی مخالفت نہیں کر سکتا۔ کیونکہ وہ اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ایسا ہوتا ہے جیسا
مردہ زندہ کے ہاتھ میں۔“ (ریویو جلد ١ ص ٧٥) اور مرزا قادیانی اللہ تعالیٰ کی تئیس سال تک مخالفت کرتے رہے۔ یعنی جب تک مرزا قادیانی کے دو مرید کابل میں قتل نہیں کئے گئے اس وقت تک ”شاتان تذبحان“ کی تشریح اللہ تعالیٰ کی بتلائی ہوئی خبر اور اس کی مرضی و مراد کے برخلاف کرتے رہے۔ یہ وہ سنگین جرم ہے جو شانِ نبوت کے سراسر خلاف ہے اور نیز اس سے یہ بھی معلوم
١٢
ہوتا ہے کہ مفتری کو ٢٣ سال سے زیادہ مہلت مل جاتی
- ٣...... اگر کوئی وظیفہ خوار مرزائی مولوی یہ کہے کہ م
اس کی تشریح مرزا قادیانی کی سمجھ میں نہیں آئی یا نہیں ذہن اور اسرار الہیہ سے ناواقف ہونا لازم آتا ہے اور کند ذہن اور غبی کی غباوت معلوم نہ کر سکا اور اس کی ط سے عاجز رہا۔ نعوذ باللہ من ذلک!
اور جب مرزا قادیانی نے ٧١ سال کے ب کے برخلاف اور چھ سال تک اس پر ڈٹے رہے اور اس ہوگا۔
- ٤...... جو شخص اپنی مزعومہ وحی کا مطلب ٢٣ سال
کے برخلاف۔ وہ کتاب اللہ اور نبی کریمﷺ کی وحی و معارف قرآنی پر کیا اعتماد کیا جا سکتا ہے۔
خلیفہ صاحب! آپ ان مذکورہ سوالات پ کہ اللہ تعالیٰ کے برگزیدہ رسولوں پر قرآن وحدیث ک لگائیں کہ دیکھو فلاں نبی نے اپنی وحی کے معنی غلط سمجھے کہ وہ بھی مرزا قادیانی کی طرح سچے نبی نہ تھے۔ (العیا
خلاصہ کلام
”شاتان تذبحان“ (دو بکریاں ذبح ک ہم اس کے قائل کو خواہ وہ کذاب اعظم ہی کیوں نہ ہو زمان و مکان میں صادق ہے اور مرزا قادیانی کے فتوئی میں کوئی کھلا کھلا تاریخی واقعہ نہیں ہے اور حیرت انگیز یہ مرزا احمد بیگ ہوشیار پوری کی وفات کے بعد (ضمیم اس گول مول الہام کی جو تشریح کی تھی کہ ایک بکری دوسری بکری سے مراد اس کا داماد (مرزا قادیانی کی منکوح اس تشریح کے مطابق یہ گول مول الہام سلطان محمد اب تک زندہ موجود ہے اور پھر اس گول مول
١٣
ہوتا ہے کہ مفتری کو ٢٣ سال سے زیادہ مہلت مل جاتی ہے اور غیرت الہی اس کو نہیں پکڑتی۔
- ٣...... اگر کوئی وظیفہ خوار مرزائی مولوی یہ کہے کہ ”شاتان تذبحان“ کے الہام کے وقت
اس کی تشریح مرزا قادیانی کی سمجھ میں نہیں آئی یا نہیں سمجھے تو سترہ سال تک مرزا قادیانی کا غبی، کند ذہن اور اسرار الہیہ سے ناواقف ہونا لازم آتا ہے اور اللہ تعالیٰ بھی جاہل اور عاجز ٹھہرتا ہے کہ ایک کند ذہن اور غبی کی غباوت معلوم نہ کر سکا اور اس کی غباوت کے مطابق مشرح و مفصل کلام کرنے سے عاجز رہا۔ نعوذ باللہ من ذلک!
اور جب مرزا قادیانی نے ١٧ سال کے بعد اس کی تشریح کی بھی تو وہ بھی غلط مراد الٰہی کے برخلاف اور چھ سال تک اس پر ڈٹے رہے اور اس کی صورت میں بھی وہی دوسرا اعتراض وارد ہوگا۔
- ٤...... جو شخص اپنی مزعومہ وحی کا مطلب ٢٣ سال تک سمجھ نہیں سکتا اور اگر سمجھتا ہے تو مراد الٰہی
کے برخلاف۔ وہ کتاب اللہ اور نبی کریمﷺ کی وحی کیا سمجھ سکتا ہے اور اس کے خود ساختہ حقائق و معارف قرآنی پر کیا اعتماد کیا جاسکتا ہے۔
خلیفہ صاحب! آپ ان مذکورہ سوالات کا جواب سوائے اس کے کچھ نہیں دے سکتے کہ اللہ تعالیٰ کے برگزیدہ رسولوں پر قرآن وحدیث کے غلط اور خود ساختہ معنوں کی آڑ میں الزام لگائیں کہ دیکھو فلاں نبی نے اپنی وحی کے معنی غلط سمجھے۔ فلاں رسول کو غلط فہمی ہوئی۔ گویا مطلب یہ کہ وہ بھی مرزا قادیانی کی طرح سچے نبی نہ تھے۔ (العیاذ باللہ)
خلاصہ کلام
”شاتان تذبحان“ (دو بکریاں ذبح کی جائیں گی) یہ ایک گول مول الہام ہے۔ ہم اس کے قائل کو خواہ وہ کذاب اعظم ہی کیوں نہ ہو، ہرگز ہرگز جھٹلا نہیں سکتے۔ کیونکہ یہ فقرہ ہر زماں ومکان میں صادق ہے اور مرزا قادیانی کے فتویٰ کی رو سے پیش گوئی نہیں بن سکتا۔ کیونکہ اس میں کوئی کھلا کھلا تاریخی واقعہ نہیں ہے اور حیرت انگیز یہ امر ہے کہ مرزا قادیانی نے اپنے آسمانی خسر مرزا احمد بیگ ہوشیار پوری کی وفات کے بعد (ضمیمہ انجام آتھم ص٥٧، خزائن ج١١ ص٣٤١) پر اپنے اس گول مول الہام کی جو تشریح کی تھی کہ ایک بکری سے مراد مرزا احمد بیگ ہوشیار پوری ہے اور دوسری بکری سے مراد اس کا داماد (مرزا قادیانی کی منکوحہ آسمانی محمدی بیگم کا خاوند) ہے۔
اس تشریح کے مطابق یہ گول مول الہام غلط نکلا۔ کیونکہ مرزا احمد بیگ کا داماد مرزا سلطان محمد اب تک زندہ موجود ہے اور پھر اس گول مول الہام کو عبدالرحمٰن اور عبداللطیف کے کابل
١٣
میں قتل کئے جانے کے بعد ان پر چسپاں کرنا اس بات کی دلیل بین ہے کہ مرزا قادیانی کا یہ الہام تشریح مذکور کے ساتھ غلط نکلا اور وہ الہام بھی جس سے اس مشرح الہام کی تائید کی تھی، شیطانی ثابت ہوا کہ: ”تم سست مت ہو غم مت کرو ایسا ہی ظہور میں آئے گا۔“ (ایضاً) اور ایسا ظہور میں نہ آیا۔ میں اس تردید کو یہاں پر ختم کرتا ہوں۔ طالبان حق کے لئے اسی قدر کافی ہے۔
دوسری پیش گوئی اور اس کا رد
خلیفہ قادیانی لکھتے ہیں کہ: ”جب یہ پیش گوئی (جس کی تردید ہو چکی ہے ) ١٩٠٣ء کو تکمیل کو پہنچ گئی تو اللہ تعالیٰ نے آئندہ کے متعلق پھر خبر دی کہ اب تین اور آدمی وہاں (کابل میں) شہید کئے جائیں گے۔ چنانچہ یکم جنوری ١٩٠٦ء کا الہام ہے تین بکرے ذبح کئے جائیں گے۔ یہ الہام ١٩٢٤ء میں آ کر پورا ہوا جبکہ امیر امان اللہ خان صاحب کے عہد میں دوبارہ احمدیوں پر ظلم ہوا۔
خلیفہ قادیانی نے اس میں بھی کذب بیانی سے کام لیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے مرزا قادیانی کو اس الہام میں کابل کے تین خونوں کی بالکل کوئی کسی قسم کی خبر نہیں دی۔ یہ محض خلیفہ صاحب نے اپنے ابا جان پر افتراء کیا ہے اور اس کے ساتھ ہی اپنے موروثی دجل وفریب سے بھی کام لیا ہے کہ الہام کی تاریخ تو لکھ ماری۔ مگر حوالہ نہیں دیا کہ مرزا قادیانی کی کس کتاب یا اخبار و رسالہ سے نقل کیا ہے۔ محض اس لئے کہ ان کے دجل وفریب کا پردہ چاک نہ ہو۔
اے طالبان حق ! مرزا قادیانی تو اس الہام کا خاتمہ کر چکے ہیں اور اس کو پیش گوئی قرار نہیں دیتے۔ دیکھئے (اخبار بدر ج ٣ نمبر ٢١ ص ٢) جہاں یہ الہام لکھا ہوا ہے۔ وہاں اس کے ساتھ ہی اس کی تشریح بھی موجود ہے کہ: ”مسیح موعود (مرزا) نے فرمایا کہ ظاہر پر عمل کر کے آج ہم نے تین بکرے ذبح کرا دیئے ہیں۔“
(البشریٰ ج ٢ ص ١٠٥، تذکرہ ص ٥٨٩ طبع ٣)
اے خلیفہ قادیانی کے مریدو! خدارا تھوڑی دیر کے لئے انصاف سے کام لو اور دیکھو کہ مرزا قادیانی نے اس الہام کے ظاہری معنی لے کر تین بکرے ذبح کرا دیئے اور الہاموں کا خاتمہ کر دیا۔ مگر آپ کے لیڈر خلیفہ صاحب اپنے ابا جان کے برخلاف ان کے اس گول مول الہام کو پیش گوئی بنا کر سادہ لوح انسانوں کو صریح دھوکہ دے رہے ہیں۔ کیا آپ لوگوں میں ایسا کوئی رشید انسان نہیں ہے۔ جو خلیفہ صاحب کی عقل کے ناخن لے؟
خلیفہ صاحب ! کابل میں تین مرزائیوں کے سنگسار ہونے کے بعد جو اس الہام کا باطنی مطلب آپ کو معلوم ہوا ہے۔ اگر یہی اللہ تعالیٰ کا مطلب تھا تو مرزا قادیانی نے اس الہام کے
١٤
ظاہری معنی لے کر اللہ تعالیٰ کی کیوں مخالفت کی اور ا دنیا سے کیوں چل بسے اور خدا تعالیٰ نے ان کے م انتہاء ہو تو ایسی ہی ہو اگر آپ یہ کہیں کہ اس الہام آپ مرزا قادیانی کی تحریر سے اس کا ثبوت پیش کریں
علاوہ ازیں یہ گول مول الہام مرزا قادی گوئی نہیں بن سکتا۔ مگر افسوس ہے کہ خلیفہ قادیانی ا سے بالکل نہیں ڈرتے۔ حالانکہ مرزا قادیانی ان کے ہیں۔ اس الہام پر اور بھی گفتگو ہو سکتی ہے۔ مگر میں اس
تیسری پیش گوئی اور اس کا رد
پیش گوئی کے الفاظ صرف یہ ہیں: ”ر مریں گے۔“
اس الہام میں محل وقوع تو بتلا دیا گیا ہے کیسے مریں گے؟ کسی وبا کا شکار ہوں گے یا میدان زندگی میں مریں گے یا ان کے بعد؟ بہر حال یہ ایک نہیں جس کی وجہ سے اس کو پیش گوئی کہہ سکیں ہم اس کیونکہ ایسے وسیع ملک میں روزانہ کئی اموات ہوتی قریب ہو جائے تو قائل کہہ سکتا ہے کہ دیکھو، میری پی
یہ فقرہ ایک گونہ پیش گوئی اس وقت بن س کا سبب مذکور ہوتا۔ مگر مرزا قادیانی کے فتویٰ کی رو اوہام ص ٢٧، خزائن ج ٣ ص ١٠٦) ” کیا یہ بھی کوئی پیش گو لڑائیاں ہوں گی۔“
خلیفہ قادیانی لکھتے ہیں: ”جب امیر امان روانہ ہوئے تو ملک میں خانہ جنگی کی آگ پھیل گئی آدمیوں کے مارے جانے کا اندازہ کیا جاتا ہے۔ اس پوری ہوئی۔ جس کے یہ الفاظ تھے کہ ”ریاست کابل
ناظرین ! الہامی الفاظ تو ”قریب پچاس
١٥
ظاہری معنی لے کر اللہ تعالیٰ کی کیوں مخالفت کی اور اس مخالفت کو اپنے ساتھ لے کر ہمیشہ کے لئے دنیا سے کیوں چل بسے اور خدا تعالیٰ نے ان کے مرنے سے پہلے ان کو تنبیہ تک نہ کی؟ عصمت انبیاء ہو تو ایسی ہی ہو اگر آپ یہ کہیں کہ اس الہام کے ظاہری اور باطنی دونوں معنی مراد ہیں۔ تو آپ مرزا قادیانی کی تحریر سے اس کا ثبوت پیش کریں اور یہ محال ہے۔
علاوہ ازیں یہ گول مول الہام مرزا قادیانی کے اپنے فتوے کے مطابق کسی طرح پیش گوئی نہیں بن سکتا۔ مگر افسوس ہے کہ خلیفہ قادیانی اپنے والد مرزائے آنجہانی کی مخالفت کرنے سے بالکل نہیں ڈرتے۔ حالانکہ مرزا قادیانی ان کے نزدیک باعث کون و مکان اور قمر الانبیاء وغیرہ ہیں۔ اس الہام پر اور بھی گفتگو ہو سکتی ہے۔ مگر میں اسی پر اکتفا کرتا ہوں۔
تیسری پیش گوئی اور اس کا رد
پیش گوئی کے الفاظ صرف یہ ہیں: ”ریاست کابل میں قریب پچاسی ہزار کے آدمی مریں گے۔“
(١٥؍ اپریل ١٩٠٧ء، تذکرہ ص ٦٠٥ طبع ٣)
اس الہام میں محل وقوع تو بتلا دیا گیا ہے مگر وقت کا اندازہ ندارد اور یہ بھی نہیں لکھا کہ کیسے مریں گے؟ کسی وبا کا شکار ہوں گے یا میدان جنگ میں کام آئیں گے۔ مرزا قادیانی کی زندگی میں مریں گے یا ان کے بعد؟ بہرحال یہ ایک ایسی پیش گوئی ہے جس میں کوئی ایسی تفصیل نہیں جس کی وجہ سے اس کو پیش گوئی کہہ سکیں ہم اس گول مول فقرے کے قائل کو جھٹلا نہیں سکتے۔ کیونکہ ایسے وسیع ملک میں روزانہ کئی اموات ہوتی رہتی ہیں۔ جب ان کی تعداد پچاسی ہزار کے قریب ہو جائے تو قائل کہہ سکتا ہے کہ دیکھو، میری پیش گوئی صحیح نکلی۔ کوئی نہیں جو اس کو جھٹلا سکے۔
یہ فقرہ ایک گونہ پیش گوئی اس وقت بن سکتا تھا کہ جب اس میں وقت کا تعین اور موت کا سبب مذکور ہوتا۔ مگر مرزا قادیانی کے فتوے کی رو سے یہ فقرہ بھی پیش گوئی نہیں بن سکتا۔ (ازالہ اوہام ص ٤٧١، خزائن ج ٣ ص ١٠٦) ”کیا یہ بھی کوئی پیش گوئیاں ہیں کہ زلزلے آئیں گے، مری پڑے گی لڑائیاں ہوں گی۔“
خلیفہ قادیانی لکھتے ہیں: ”جب امیر امان اللہ خان صاحب تاج و تخت چھوڑ کر قندہار کو روانہ ہوئے تو ملک میں خانہ جنگی کی آگ پھیل گئی اور اس خانہ جنگی میں عام طور پر ایک لاکھ آدمیوں کے مارے جانے کا اندازہ کیا جاتا ہے۔ اس طرح مرزا قادیانی کی ایک تیسری پیش گوئی پوری ہوئی۔ جس کے یہ الفاظ تھے کہ ”ریاست کابل میں پچاسی ہزار کے قریب آدمی مریں گے۔“
ناظرین! الہامی الفاظ تو ”قریب پچاسی ہزار“ ہیں۔ یعنی الہام میں مرنے والوں کی
١٥
تعداد پچاس ہزار کے قریب بتلائی گئی ہے اور مرنے والے ایک لاکھ ہیں۔ کیا کوئی عقلمند انسان یہ کہہ سکتا ہے کہ یہ مرزا قادیانی کی مزعومہ پیش گوئی الہامی الفاظ کے مطابق پوری ہوئی؟ ہرگز نہیں بلکہ اس سے تو یہ لازم آتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کو علم نہ تھا کہ کابل میں جو خانہ جنگی ہوگی۔ اس میں ایک لاکھ آدمی مریں گے۔ صرف اٹکل سے مرزا قادیانی نے کہہ دیا کہ ریاست کابل میں پچاس ہزار کے قریب آدمی مریں گے۔ مرزا قادیانی کو جس سرکاری طرف سے الہام ہوتا ہے۔ اس کے نزدیک پندرہ سولہ ہزار کا فرق کوئی چیز نہیں ہے۔ کیا ایسے الہام علام الغیوب کی طرف سے ہو سکتے ہیں؟
اس الہام سے پہلے جو الہام ہے۔ ہم نے اس سے قطع نظر کر کے اس نفس الہام پر گفتگو کی ہے۔ اب ہم اس کے ساتھ ملا کر گفتگو کرتے ہیں۔ جس سے آپ کو معلوم ہو جائے گا کہ یہ الہام اپنے پہلے ہمہ گیر الہام کا نتیجہ و تتمہ ہے۔ ہم سب نقل کئے دیتے ہیں۔
- ٩...... ”یورپ اور دوسرے عیسائی ملکوں میں ایک قسم کی طاعون پھیلے گی۔ جو بہت ہی سخت
ہوگی۔“
(تذکرہ ص ٧٠٥، طبع ٣)
- ١٠...... ”ریاست کابل میں قریب پچاس ہزار کے آدمی مریں گے۔“
(البشریٰ ج ٢ ص ١٤٦، تذکرہ طبع سوم ص ٧٠٥)
ان دو الہاموں کے درمیان کوئی اور الہام مرزا قادیانی کو نہیں ہوا۔ اب مطلب بالکل واضح ہے کہ ریاست کابل میں جو قریب پچاس ہزار کے آدمی مریں گے۔ وہ خاص قسم کی طاعون سے مریں گے۔ جو بہت ہی سخت ہوگی اور خاص قسم کی طاعون جو بہت ہی سخت ہو۔ ١٩٠٧ء سے لے کر اب تک نہ یورپ میں پھیلی ہے اور نہ دوسرے عیسائی ممالک میں اور نہ کابل میں خاص قسم کی طاعون سے پچاس ہزار کے قریب آدمی مرے ہیں۔
گویا آج تک ان میں سے کوئی الہام بھی پورا نہیں ہوا اور علاوہ ازیں خلیفہ قادیانی نے کوئی معتبر شہادت پیش نہیں کی۔ جس سے یہ ثابت ہو کہ انقلاب افغانستان کے وقت خانہ جنگی کی آگ سے ایک لاکھ آدمی مر گئے تھے۔ خلیفہ قادیانی کا فرض تھا کہ پہلے اس کو ثابت کرتا پھر مرزا قادیانی کے الہام میں غور کرتا۔
چوتھی پیش گوئی اور اس کا رد
باطل کی دھجیاں فضائے آسمانی میں
خلیفہ قادیانی (ص ٦) پر رقمطراز ہیں: ”وہ پیش گوئی کابل میں نے اوپر ذکر کیا ہے۔ حضرت
١٦
مسیح موعود (مرزا) بانی سلسلہ احمدیہ نے ١٩٠٥ء میں شائع الہام آپ کو ٣ مئی ١٩٠٥ء کو ہوئے تھے اور ان کے الفاظ ی
”اللہ رمیٰ“ (٢) ”آہ نادر شاہ کہاں گیا؟“
خلیفہ قادیانی کی اس عبارت سے واضح ہے کہ جزو ہیں۔ جو کابل سے تعلق رکھتی ہے اور اس پر دس ورق الہام بچہ سقا اور امیر امان اللہ خان صاحب کی جنگ کے مرزائے آنجہانی کی کنکریاں ہیں۔ جو امیر امان اللہ خان کھا کر ملک سے بھاگ گئے اور یہ شکست ان کو اس لئے سے عذاب کے مستحق قرار پا چکے تھے۔
خلیفہ قادیانی نے اس امر موہوم کو جنگ بدر کا نادر خان شاہ افغانستان کی موت وغیرہ سے تعلق رکھتا ہے،
اے طالبان حق! خلیفہ قادیان نے اپنے دجل ابا جان کی تشریحات کو پائے استحقار سے ٹھکرا کر سینہ زور قرار دیا ہے اور اپنے مریدوں میں اضافہ کرنے کے لئے
پہلا الہام اور اس کی حقیقت
اے حق و صداقت کے تلاش کرنے والو! آپ نے قادیانی کے سرکاری گزٹ (الفضل مجریہ ٤ امیر کابل (امان اللہ خان) نے ملاؤں کے ڈر سے اپنی اختیار کی ہے۔“
لاہوری مرزائی جماعت کے واحد اخبار ”پیغام سے امیر امان اللہ خان کی بیزاری کے زیر عنوان وزیر خارجہ ہے۔ جس میں لکھا ہے کہ: ”حکم سنگساری نعمت اللہ بحکم خصو محکمہ عالیہ قضات شرعیہ افغانستان است۔
پس سمجھ میں نہیں آتا کہ جس حالت میں نعمت کرتے تھے۔ بلکہ بقول پیغام صلح اس سے وہ بیزار تھے تو پ کیوں دی؟ (کرے مونچھوں والا پکڑا جائے داڑھی والا)
١٧
مسیح موعود (مرزا) بانی سلسلہ احمدیہ نے ١٩٠٥ء میں شائع کی تھی اور دو الہاموں پر مشتمل تھی۔ یہ الہام آپ کو ٣؍ مئی ١٩٠٥ء کو ہوئے تھے اور ان کے الفاظ یہ تھے (١) ’’ما رمیت اذ رمیت ولکن اللہ رمیٰ‘‘ (٢) ’’آہ نادر شاہ کہاں گیا؟‘‘
(تذکرہ ص ٥٤٧، طبع ٣)
خلیفہ قادیانی کی اس عبارت سے واضح ہے کہ یہ دونوں الہام ایک ہی پیش گوئی کے دو جزو ہیں۔ جو کابل سے تعلق رکھتی ہے اور اس پر دس ورق سیاہ کئے ہیں۔ جن کا خلاصہ یہ ہے کہ پہلا الہام بچہ سقا اور امیر امان اللہ خان صاحب کی جنگ کے متعلق ہے۔ بچہ سقا اور اس کے ہمراہی مرزائے آنجہانی کی کنکریاں ہیں۔ جو امیر امان اللہ خان صاحب کو لگیں اور وہ بڑی بھاری شکست کھا کر ملک سے بھاگ گئے اور یہ شکست ان کو اس لئے ہوئی کہ وہ فتنہ مرزائیت کی مخالفت کی وجہ سے عذاب کے مستحق قرار پا چکے تھے۔
خلیفہ قادیانی نے اس امر موہوم کو جنگ بدر کا نمونہ قرار دیا ہے اور دوسرا الہام غازی محمد نادر خان شاہ افغانستان کی موت وغیرہ سے تعلق رکھتا ہے۔
اے طالبان حق! خلیفہ قادیان نے اپنے دجل وفریب کا خوب مظاہرہ کیا ہے اور اپنے ابا جان کی تشریحات کو پائے استحقار سے ٹھکرا کر سینہ زوری سے ان گول مول الہاموں کو پیش گوئی قرار دیا ہے اور اپنے مریدوں میں اضافہ کرنے کے لئے خوب ہاتھ پاؤں مارے ہیں۔
پہلا الہام اور اس کی حقیقت
اے حق وصداقت کے تلاش کرنے والو! آؤ اور دیکھو کہ خلیفہ قادیانی نے کس قدر
١؎ قادیانی کے سرکاری گزٹ (الفضل مجریہ ١٩؍ اگست ١٩٢٣ء ص ٩ کالم ٣) پر لکھا ہے کہ: ” امیر کابل (امان اللہ خان) نے ملانوں کے ڈر سے اپنی غیر احمدیت کا ثبوت دینے کے لئے یہ راہ اختیار کی ہے۔“
لاہوری مرزائی جماعت کے واحد اخبار ”پیغام صلح“ نے عدالت کابل کے وحشیانہ فعل سے امیر امان اللہ خان کی بیزاری کے زیر عنوان وزیر خارجہ قونصل جنرل افغانستان کا ایک تار نقل کیا ہے۔ جس میں لکھا ہے کہ: ”حکم سنگساری نعمت اللہ حکم خصوصی شاہانہ آنحضرت غازی نیست بل حکم محکمہ عالیہ قضات شرعیہ افغانستان است۔
(پیغام صلح مجریہ ٢٦؍ اکتوبر ١٩٢٤ء ص ١)
پس سمجھ میں نہیں آتا کہ جس حالت میں نعمت اللہ مرزائی کے قتل کو امان اللہ خان پسند نہ کرتے تھے۔ بلکہ بقول پیغام صلح اس سے وہ بیزار تھے تو قدرت نے اس قتل کی سزا امان اللہ خان کو کیوں دی؟ (کرے مونچھوں والا پکڑا جائے داڑھی والا) چہ خوب؟ (محمد بہاء الحق قاسمی عفا اللہ عنہ)
١٧
لوگوں کو صریح دھوکہ دیا ہے۔ میں آپ کے سامنے "البشریٰ" (جو مرزا قادیانی کے الہامات کی پٹاری) کی (جلد ٢ ص ٩٧) کی عبارت پیش کرتا ہوں۔ آپ اس میں غور کریں اور چار چار آنکھیں بنائیں کہ اس پر آشوب زمانے میں سادہ لوح مسلمانوں کے متاع ایمانی پر ڈاکہ ڈالنے میں ہر توڑ کوششیں کی جارہی ہیں اور ان فرزندان توحید کو جو سرور کائنات، فخر موجودات، رحمت للعالمین، شفیع امم، فخر آدم، سید الاولین والآخرین ﷺ کے دامن سے وابستہ ہیں۔ خدمت اسلام کا دانہ ڈال کر دام تزویر میں کس کس طرح پھانسنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں، عبارت ملاحظہ ہو: ”٣؍ مئی ١٩٠٥ء 'ما رمیت اذ رمیت ولکن اللہ رمی'“ (تذکرہ ص ٥٤٦ طبع ٣) یعنی تو نے مٹھی خاک نہیں پھینکی تھی جب پھینکی تھی مگر اللہ نے پھینکی تھی۔
تشریح ...... حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) نے فرمایا اس سے اشارہ ان اشتہارات کی طرف معلوم ہوتا ہے جو حال میں شائع ہو رہے ہیں۔
٢٠...... "آہ نادر شاہ کہاں گیا؟"
(کشف نمبر ١٢٤ ، بدر جلد ١ نمبر ٤ ص ١، البشریٰ ج ٢ ص ٩٧، تذکرہ طبع سوم ص ٥٤٧)
خلیفہ صاحب! اب فرمائیے کیا حال ہے؟ مرزا قادیانی آپ کے ابا جان اس الہام کے مالک مٹھی خاک سے اشتہارات کی طرف اشارہ کر رہے ہیں یا بچہ سقا کی طرف؟ اس قدر صریح دھوکہ، خدایا تیری پناہ!، جس الہام میں ماضی کا واقعہ بیان کیا گیا ہے۔ آپ نے اس کو مستقبل کے معنوں میں لے کر پیش گوئی بنایا۔ کیا یہ مرزا قادیانی کے کلام میں صریح خیانت نہیں ہے؟
ناظرین! آپ نے دیکھ لیا کہ خلیفہ قادیانی نے جس قصر دجل و زور کی بنیاد اپنے اوہام باطلہ پر رکھی تھی۔ ان کے ابا جان مرزا غلام احمد قادیانی کی ایک ہی ضرب سے منہدم ہو گیا اور سب بنا بنایا مداری کا کھیل بگڑ گیا۔ مجھے سخت افسوس ہے ان قادیانی مولویوں پر جو علم و فضل کا دعویٰ کرتے نہیں تھکتے اور اب اپنے خلیفہ کی اس قدر فاش غلطی پر منہ میں گھنگھنیاں ڈالے بیٹھے ہیں۔ شاید قادیان کے بہشتی مقبرہ میں دفن ہو جانے کی امید پر جہنم کی آتشیں خندقوں اور لگاموں سے نہیں ڈرتے اور ممکن ہے کہ خلیفہ قادیانی نے ان کے منہ میں خاک کی مٹھی ڈال دی ہو۔
سنا گیا ہے کہ سرور شاہ صاحب قادیانی خلیفہ صاحب کے استاد ہیں۔ میں ان کی خدمت میں عرض کرتا ہوں کہ وہ اپنے شاگرد رشید کو سمجھائیں کہ وہ اپنے مضامین میں مرزا قادیانی کی تصریحات کے برخلاف صریح دھوکہ نہ دیں ورنہ بہت سے مریدان کے دام تزویر سے نکل جائیں گے۔
١٨
اے خلیفہ قادیانی کے گرویدہ مرید میں ہاتھ دیا ہوا ہے اور جس کو آپ صفحہ ہستی پر ہ ہیں۔ میں نے آپ پر واضح کر دیا ہے کہ وہ مرزا صریح دھوکہ دے رہے ہیں۔ جو مسیح موعود کے جا آپ خدارا بنظر انصاف میرے ان چند اوراق کا کے لئے بہت سا سامان مہیا کر دیا ہے۔ بخدا ہ ہمدردی کا ایک بحر ناپید کنار موجزن ہے۔ مگر کیا کر اسلام کو ڈھونگ رچا کر اپنے دام تزویر میں پھنسا جاتے ہیں کہ پھر پھڑپھڑانا مفید نہیں ہو سکتا۔
آمدم برسر مطلب کہ ”ما رمیت اذ ر
سوم ) یہ مرزا قادیانی کا اپنا الہام ہے۔ جب مرزا قا نہیں کہتے بلکہ صاف الفاظ میں یہ تشریح کرتے ہ مرزا قادیانی کی طرف سے شائع ہوئے تو خلیفہ ک دیں۔ پس مرزا قادیانی کی تشریح سے روز روشن کی سے کسی قسم کا تعلق نہیں ہے اور خلیفہ قادیانی نے صر
ناظرین! یہ بات کس قدر مضحکہ انگیز مقبرے میں دفن ہو جاتا ہے اور کئی سو سال بعد ا بدر کا نمونہ مرزا قادیانی کے فوت ہو جانے کے بعد امیر امان اللہ خان ہر دو فریق مرزا قادیانی کے نز سرکردہ علماء جن کے فتویٰ کی تعمیل کے لئے مرزائیو جن کی وجہ سے بچہ سقا کی جماعت مرزائی شریعت اللہ خان کے سیاحت یورپ کے زمانہ میں کافی زور امیر کی رعایا کا ایک معتد بہ حصہ بچہ سقا کا حامی بن کہنا کس قدر تاریخی حقائق سے چشم پوشی کرنا ہے۔
خلیفہ قادیانی نے جس پیش گوئی کے د قادیانی کی تشریح سے باطل کر چکا ہوں اور انتقال
١٩
اے خلیفہ قادیانی کے گریجویٹ مریدو! آپ نے جس تقدس مآب خلیفہ کے ہاتھوں میں ہاتھ دیا ہوا ہے اور جس کو آپ صفحہ ہستی پر بہترین انسان اور روحانیت کا مجسمہ خیال کرتے ہیں۔ میں نے آپ پر واضح کر دیا ہے کہ وہ مرزا قادیانی کی تشریحات کے برخلاف لوگوں کو عمداً صریح دھوکہ دے رہے ہیں۔ جو مسیح موعود کے جانشین کے لئے کسی طرح موزوں نہیں ہو سکتا۔ آپ خدارا بنظر انصاف میرے ان چند اوراق کا بغور مطالعہ فرمائیں۔ میں نے آپ کی رہنمائی کے لئے بہت سا سامان مہیا کر دیا ہے۔ بخدا سچ کہتا ہوں کہ میرے دل میں آپ کے ساتھ ہمدردی کا ایک بحر ناپید کنار موجزن ہے۔ مگر کیا کروں کہ آپ کو جہاں کوئی حب رسول اور خدمت اسلام کو ڈھونگ رچا کر اپنے دام تزویر میں پھنسانا چاہتا ہے۔ آپ وہاں فوراً بری طرح پھنس جاتے ہیں کہ پھر چھڑانا ممکن نہیں ہو سکتا۔
آمدم بر سر مطلب کہ ”ما رمیت اذ رمیت ولكن الله رمیٰ“ (تذکرہ ص ٥٤٦ طبع سوم) یہ مرزا قادیانی کا اپنا الہام ہے۔ جب مرزا قادیانی اس الہام کے مالک اس الہام کو پیش گوئی نہیں کہتے بلکہ صاف الفاظ میں یہ تصریح کرتے ہیں کہ مٹھی خاک سے مراد وہ اشتہارات ہیں جو مرزا قادیانی کی طرف سے شائع ہوئے تو خلیفہ کو کیا حق حاصل ہے کہ وہ اس کو پیش گوئی قرار دیں۔ پس مرزا قادیانی کی تشریح سے روز روشن کی طرح ثابت ہوا کہ اس الہام کو کابل کی سرزمین سے کسی قسم کا تعلق نہیں ہے اور خلیفہ قادیانی نے صریح دھوکہ دیا ہے۔
ناظرین! یہ بات کس قدر مضحکہ انگیز ہے کہ کنکر مارنے والا بیس سال پیشتر بہشتی مقبرے میں دفن ہو جاتا ہے اور کنکر بیس سال بعد امیر امان اللہ خان صاحب کو آلگتے ہیں اور جنگ بدر کا نمونہ مرزا قادیانی کے فوت ہو جانے کے بیس برس بعد دکھایا جا رہا ہے اور لطف یہ ہے کہ بچہ سقا امیر امان اللہ خان ہر دو فریق مرزا قادیانی کے نزدیک کافر تھے۔ بلکہ کابل کے بعض مقتدر اور سرکردہ علماء جن کے فتویٰ کی تعمیل کے لئے مرزائیوں کو سنگسار کیا گیا تھا، بچہ سقا کے ساتھ تھے۔ جن کی وجہ سے بچہ سقا کی جماعت مرزائی شریعت میں سخت کافروں کی جماعت تھی۔ جو امیر امان اللہ خان کے سیاحت یورپ کے زمانہ میں کافی زور پکڑ چکی تھی اور حاسدین کے پروپیگنڈے سے امیر کی رعایا کا ایک معتد بہ حصہ بچہ سقا کا حامی بن گیا تھا۔ اندریں حالات اس کو جنگ بدر کا نمونہ کہنا کس قدر تاریخی حقائق سے چشم پوشی کرنا ہے۔
خلیفہ قادیانی نے جس پیش گوئی کے دو جز بنائے تھے۔ میں اس کے ایک جزو کو مرزا قادیانی کی تشریح سے باطل کر چکا ہوں اور انتفاء جزء کل کے انتفاء کو مستلزم ہوتا ہے۔ پس خلیفہ
١٩
قادیانی کی پیش کردہ پیش گوئی غلط ثابت ہوئی۔ اگر چہ اس بناء پر پیش گوئی کے دوسرے جزو ’’آہ نادر شاہ کہاں گیا‘‘ پر تنقید کرنے کی ضرورت باقی نہیں رہتی۔ مگر پھر بھی اس پر کچھ لکھنا خالی از فائدہ نہ ہوگا۔
آہ نادر شاہ کہاں گیا؟
معزز ناظرین! یہ ایک گول مول کشف ہے۔ اس کے لفظوں میں نادر شاہ کی کوئی تخصیص نہیں کی گئی کہ کہاں کا رہنے والا ہے اور اظہار افسوس کرنے والے کا بھی بالکل کسی قسم کا پتہ نہیں دیا گیا اور صاحب کشف مرزا غلام احمد قادیانی نے بھی کوئی کسی قسم کی تشریح نہیں کی۔ اندریں حالات قرینہ معنویہ یہ ہے کہ اظہار افسوس مرزا قادیانی کی جانب سے ہو۔ کیونکہ ان کو یہ کشف ہوا ہے اور نادر شاہ بھی کوئی مرزا قادیانی کا مرید ہوتا کہ آسمان قادیان سے اس پر اظہار افسوس کیا جائے۔ کیونکہ جس شخص نے مرزا قادیانی کی دعوت کو قبول نہیں کیا۔ وہ مرزا قادیانی کے نزدیک ’’حرام زادہ اور کافر‘‘ ہے۔ اس پر اظہار افسوس کرنے سے کیا مطلب؟
پس غازی محمد نادر خان صاحب مرحوم والی کابل جو صحیح العقیدہ حنفی المذہب تھے اور خلیفہ قادیانی کے فتوٰی کی رو سے کافر تھے۔ وہ اس گول مول کشف کا مصداق کیسے بن سکتے ہیں؟
اور نیز اس کشف میں ’’گیا‘‘ صیغہ ماضی کا ہے جس سے ثابت ہوتا ہے کہ اس کشف سے پہلے کوئی نادر شاہ مر گیا ہوگا یا اس کی غیر حاضری میں اس کی ضرورت پڑی ہوگی۔ پھر بعد میں مرزا قادیانی کے ملہم (الہام کرنے والے) نے اس کشف کے ذریعہ اظہار افسوس کا حکم دیا۔ ورنہ
لے بیشک اس نام نہاد پیش گوئی سے یہی متبادر ہوتا ہے کہ مرزا کے کسی مرید کی نسبت ہے۔ اسی بناء پر ایک مرزائی نادر علی شاہ کو جب اس پیش گوئی کا علم ہوا۔ تو وہ گھبرایا ہوا خلیفہ قادیانی مرزا محمود کے پاس گیا۔ چنانچہ خود خلیفہ جی کہتے ہیں: ’’ہمارے ایک دوست نادر علی شاہ صاحب ہیں۔ ایک دفعہ وہ میرے پاس گھبرائے ہوئے آئے اور کہنے لگے، حضرت مسیح موعود (مرزا) کا یہ الہام کہ ’’آہ نادر شاہ کہاں گیا؟‘‘ کیا میرے متعلق تو نہیں؟ میں نے کہا آپ کا نام تو نادر علی شاہ ہے اور الہام میں نادر شاہ کا ذکر ہے۔ کہنے لگے شاید میرا نام مخفف کر دیا گیا ہے۔‘‘ (الفضل مورخہ ٧ جنوری ١٩٣٣ء ص ٤) اس کے جواب میں خلیفہ جی نے سکوت اختیار کیا اور اس کا کوئی مفہوم متعین نہ کیا تاکہ یہ سکوت سند رہے اور بوقت ضرورت کام آئے۔ غرض ایک مرزائی نے بھی اس پیش گوئی کے لب ولہجہ اور طرز بیان سے یہی سمجھا کہ یہ کسی ایسے شخص ہی کے متعلق ہے جو مرزا قادیانی کی خانہ ساز نبوت پر ایمان لا چکا ہو۔ (بہاء الحق قاسمی عفا اللہ عنہ)
٢٠
فعل ماضی کو مستقبل کے معنوں میں استعمال کرتے ہیں اور دنیا جانتی ہے کہ اظہار افسوس گزرے ہوے قادیانی کی زندگی میں خاتمہ ہو چکا ہے۔
اس لئے یہ کشف غازی محمد نادر خان صا اگر ان قرائن سے قطع نظر کر کے اس کشف کو دیکھا جا زبان میں ہے اور یہ ایک ایسا واضح قرینہ ہے کہ جس ملک کے ساتھ ہے۔ جس کی زبان اردو ہے۔ کیونکہ والوں کے افسوس کی حکایت ہے اور کابل کی زبان ار پس شاہ شہید پر اس کو چسپاں نہیں کیا جا گیا۔ اگر چہ خلیفہ قادیانی اور ان کے مرید اس کشف پا تو ہم اس کو واضح قرینہ قرار نہ دیتے اور بے چون و چرا
میرے مرزائی دوستو! یہ کس قدر نا انصافی یہ پر زور مطالبہ کیا جاتا ہے کہ وہ کسی حدیث سے من ا بعض مستند کتابوں میں موجود ہے اور بعض آیات قرا دلالت کرتا ہے۔ مگر خلیفہ قادیانی سے یہ مطالبہ نہیں کـ افغانستان کا لفظ دکھائیں۔
علاوہ ازیں ’’آہ نادر شاہ کہاں گیا‘‘ ایسے اظہار افسوس نہیں کیا جاتا۔ کیونکہ یہ ایک عامیانہ جملہ ہوئے اس گول مول الہام کو دیکھا جائے تو یہ جملہ اجـ اب دیکھئے اسلامی دنیا میں بیسیوں نادر شاہ نام کے آئندہ بھی ہوں گے۔ دنیا میں جو نادر شاہ نام کا آدا بعد اس کی ضرورت پڑے یا وہ مر جائے تو کہہ سکتے ہیں خواہ وہ نادر شاہ قادیان کا رہنے والا ہو یا بمبئی کا۔ کراچی کا ہو یا ملتان کا۔ قصور کا ہو یا ہوشیار پو ایک نادر شاہ کی موت یا اس کی غیر حاضری میں اس پا نادر شاہ کہاں گیا؟
٢١
فعل ماضی کو مستقبل کے معنوں میں استعمال کرنے کے لئے وجوہات درکار ہیں۔ جو یہاں معدوم ہیں اور دنیا جانتی ہے کہ اظہار افسوس گزرے ہوئے واقعہ پر کیا جاتا ہے۔ پس اس کشف کا مرزا قادیانی کی زندگی میں خاتمہ ہو چکا ہے۔
اس لئے یہ کشف غازی محمد نادر خان صاحب مرحوم والی کابل پر چسپاں نہیں ہو سکتا۔ اگر ان قرائن سے قطع نظر کر کے اس کشف کو دیکھا جائے کہ کس زبان میں ہے تو پتہ چلتا ہے کہ اردو زبان میں ہے اور یہ ایک ایسا واضح قرینہ ہے کہ جس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس کشف کا تعلق اس ملک کے ساتھ ہے۔ جس کی زبان اردو ہے۔ کیونکہ اظہار افسوس کا جملہ ہے جو اظہار افسوس کرنے والوں کے افسوس کی حکایت ہے اور کابل کی زبان اردو نہیں ہے۔
پس شاہ شہید پر اس کو چسپاں نہیں کیا جاسکتا۔ کابل میں اظہار افسوس فارسی میں کیا گیا۔ اگر چہ خلیفہ قادیانی اور ان کے مرید اس کشف میں نادر شاہ افغانستان یا کابل کا لفظ دکھا دیتے تو ہم اس کو واضح قرینہ قرار نہ دیتے اور بے چون و چرا تسلیم کر لیتے۔
میرے مرزائی دوستو! یہ کس قدر نا انصافی ہے کہ حیات مسیح کا عقیدہ رکھنے والوں سے تو یہ پر زور مطالبہ کیا جاتا ہے کہ وہ کسی حدیث سے من السماء کا لفظ دکھائیں۔ حالانکہ یہ لفظ حدیث کی بعض مستند کتابوں میں موجود ہے اور بعض آیات شریفہ کا سیاق و سباق بھی ”رفع الی السماء“ پر دلالت کرتا ہے۔ مگر خلیفہ قادیانی سے یہ مطالبہ نہیں کیا جاتا کہ وہ ”آہ نادر شاہ کہاں گیا“ میں شاہ افغانستان کا لفظ دکھائیں۔
علاوہ ازیں ”آہ نادر شاہ کہاں گیا“ ایسے الفاظ سے کسی ملک کے بادشاہ کی موت پر اظہار افسوس نہیں کیا جاتا۔ کیونکہ یہ ایک عامیانہ جملہ ہے۔ اگر ان تمام قرائن کو بالائے طاق رکھتے ہوئے اس گول مول الہام کو دیکھا جائے تو یہ جملہ احتمال کا ہر ایک نمایاں پہلو اپنے اندر رکھتا ہے۔ اب دیکھئے اسلامی دنیا میں بیسیوں نادر شاہ نام کے آدمی گزرے ہیں اور اب بھی موجود ہیں اور آئندہ بھی ہوں گے۔ دنیا میں جو نادر شاہ نام کا آدمی کہیں چلا جائے اور اس کے چلے جانے کے بعد اس کی ضرورت پڑے یا وہ مر جائے تو کہہ سکتے ہیں کہ ”آہ! نادر شاہ کہاں گیا۔“
خواہ وہ نادر شاہ قادیان کا رہنے والا ہو یا امرتسر کا۔ لاہور کا ہو یا پشاور کا۔ کلکتہ کا ہو یا بمبئی کا۔ کراچی کا ہو یا ملتان کا۔ قصور کا ہو یا ہوشیار پور کا۔ دیو بند کا ہو یا بریلی کا۔ غرضیکہ دنیا کے ہر ایک نادر شاہ کی موت یا اس کی غیر حاضری میں اس کی ضرورت پڑنے کے وقت کہہ سکتے ہیں کہ آہ نادر شاہ کہاں گیا؟
٢١
مثلاً دیکھئے یہاں قصور میں ایک سید نادر شاہ صاحب رہا کرتے تھے۔ جن کو مارشل لاء کے زمانہ میں عبور دریائے شور کی سزا ملی تھی اور ابھی تک وہ سزا بھگت رہے ہیں۔ ان کی غیر حاضری میں ان کے اقارب احباب کی زبان سے کئی دفعہ یہ جملہ نکلا کہ ”آہ نادر شاہ کہاں گیا ۔“ اسی طرح امرتسر کے ایک شخص نادر شاہ صاحب ہیں۔ جو کلکتہ میں پشمینہ کی تجارت کرتے ہیں۔ ان کے متعلق بھی ان کے حلقہ احباب میں یہ جملہ کئی دفعہ استعمال کیا گیا۔ اسی طرح ایک اور بزرگ مولوی نادر شاہ صاحب ہوشیار پوری ہیں۔ ان کی غیر حاضری میں بھی یہ جملہ استعمال کیا گیا اور لیجئے جب سید نادر شاہ صاحب تحصیلدار بہادر اور ڈاکٹر محمد حسین مرزائی نواح سرگودھا میں قتل کر دیئے گئے تو ان پر بھی اظہار افسوس کیا گیا اور مرزائیوں نے بھی شور مچایا کہ مرزا قادیانی کی پیش گوئی ”آہ نادر شاہ کہاں گیا“ پوری ہو گئی اور اب غازی محمد نادر خان صاحب پر چسپاں کرتے ہیں۔
ناظرین! آپ سمجھ گئے ہوں گے کہ نادر شاہ کہاں گیا یہ ایک ایسا جملہ ہے جو ہر ایک نادر شاہ کی موت اور اس کی ضرورت کے موقع پر بولا جاسکتا ہے۔ ایسے جملے کو پیش گوئی کہنا انصاف کا خون کرنا ہے۔ ایسے جملے کو پیش گوئی قرار دینے والا جھوٹا ہو ہی نہیں سکتا اگر چہ وہ کذاب اعظم ہی کیوں نہ ہو۔ کیونکہ جب تک دنیا میں کوئی نادر شاہ موجود ہے، یہ جملہ صادق ہے
اور مرزا قادیانی آنجہانی کے فتویٰ کی رو سے بھی یہ گول مول کشف پیش گوئی نہیں بن سکتا۔ پیش گوئی میں تو وہ امور پیش کرنے چاہئیں جن کو کھلے کھلے طور پر دنیا دیکھ سکے اور پہچان سکے۔ (ضمیمہ تحفہ گولڑویہ ص ٢٢، خزائن ج ١٧ ص ٣٠١) میں اس کو یہاں ختم کرتا ہوں اور آپ کی توجہ مرزا قادیانی کی ان پیش گوئیوں کی طرف مبذول کرانا چاہتا ہوں جو انہوں نے بڑی تحدی کے ساتھ دنیا کے سامنے پیش کیں اور وہ جھوٹی نکلیں۔
سچے نبی کی پیش گوئیوں کا پورا ہونا ضروری ہے
پیش گوئی کرنا اور اس کا سچا نکلنا اگرچہ نبوت یا بزرگی کی دلیل نہیں ہے۔ مگر یہ ضروری ہے کہ سچا نبی جو بھی پیش گوئی کرے وہ پوری نکلے۔
کیونکہ سچا نبی اللہ تعالیٰ سے علم پا کر پیش گوئی کرتا ہے۔ اگر سچے نبی کی پیش گوئی پوری نہ ہو تو اللہ تعالیٰ پر الزام آتا ہے کہ وہ عالم الغیب نہیں ہے اور وہ وعدہ خلافی کرتا ہے اور اپنے رسولوں کے ساتھ جھوٹ بولتا ہے۔ ملاحظہ ہو آیت کریمہ: "فلا تحسبن الله مخلف وعده رسله
١؎ خود مرزائے آنجہانی کو بھی اقرار ہے کہ ”ممکن نہیں کہ نبیوں کی پیش گوئیاں ٹل جائیں۔“ (کشتی نوح ص ٥، خزائن ج ١٩ ص ٥) محمد بہاء الحق قاسمی عفا اللہ عنہ!
٢٢
ان الله عزيز ذو انتقام (ابراہیم ع ٤٧) ” ﴿اے مخاطب کہ اللہ تعالیٰ اپنے رسولوں سے وعدہ خلافی کرے گا۔ اس میں طا والا ہے۔ ﴾
مرزا قادیانی کی بعض جھوٹی پیش
زلزلہ کی پیش گوئی
- ١....... پیش گوئی متعلقہ زلزلہ جو قیامت کا نمونہ ہوگا اور مرزا قا
نہ آیا۔ پیش گوئی غلط نکلی۔ مرزا قادیانی (ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم ص
لکھتے ہیں: ”قولہ (مولوی محمد کرم اللہ صاحب کا اعتراض مندرجہ آپ نے (مرزا قادیانی) اس الہام میں یہ بھی نہیں بتایا کہ زلزلہ ر
اقول ....... ظاہر وحی الٰہی میں زلزلہ کا لفظ ہے۔ مگر ایسا زلزلہ جو قیا زلزلہ ہوگا اور یہ کہ اس سے ہزار ہا مکان گریں گے اور کئی بستیاں پہلے زمانہ میں نہیں پائی جائے گی۔ ناگہانی طور پر ہزار ہا آدمی مر معجزہ ہے۔ ہاں اگر وہ شدید آفت ظاہر نہ ہوئی جو دنیا میں ایک نمو ظاہر الفاظ کی رو سے زلزلہ کے رنگ میں ہوگی یا کوئی معمولی امر ظا ہے۔ جو خارق عادت اور غیر معمولی نہیں ہے اور جو سچ مچ قیامت زندگی میں ظاہر نہ ہوا تو بیشک نقارہ بجا کر میری تکذیب کرو اور مجھے
(ضمیمہ براہین احمدیہ ص ٩٠، خزائن ج ٢١ ص
مرزا قادیانی اس زلزلے کا موسم اور وقت بتاتے ہیں: ”پھر اس سے معلوم ہوتا ہے کہ زلزلہ موعودہ کے وقت موسم بعض الہامات سے سمجھا جاتا ہے غالباً ”وہ صبح کا وقت ہوگا یا اس کے
(حاشیه ضمیمہ براہین احمدیہ
اور سنئے ! ”آئندہ زلزلہ کوئی معمولی بات نکلی یا میری ز خدا تعالیٰ کی طرف سے نہیں۔“ (ضمیمہ براہین احم
خلیفہ صاحب! فرمائیے کہ کیا مرزا قادیانی کی یہ پیش گ
٢٣
ان الله عزیز ذوانتقام (ابراہیم ع٧) ”اے مخاطب تو ایسا خیال اور گمان ہرگز نہ کر کہ اللہ تعالیٰ اپنے رسولوں سے وعدہ خلافی کرے گا۔ اس میں شبہ نہیں کہ اللہ زبردست بدلہ لینے والا ہے۔ ﴾
مرزا قادیانی کی بعض جھوٹی پیش گوئیاں
زلزلہ کی پیش گوئی
- ا۔ ...... پیش گوئی متعلقہ زلزلہ جو قیامت کا نمونہ ہوگا اور مرزا قادیانی کی زندگی میں آئے گا۔ مگر
نہ آیا۔ پیش گوئی غلط نکلی۔ مرزا قادیانی (ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم ص٩٠، خزائن ج٢١ص٢٥٧، ٢٥٨) پر لکھتے ہیں: ”قولہ (مولوی محمد اکرم اللہ صاحب کا اعتراض مندرجہ اخبار ’پیسہ اخبار‘ ٢٢ مئی ١٩٠٥ء آپ نے (مرزا قادیانی) اس الہام میں یہ بھی نہیں بتایا کہ زلزلہ سے مراد کیا ہے؟ اقول ...... ظاہر وحی الٰہی میں زلزلہ کا لفظ ہے۔ مگر ایسا زلزلہ جو نمونہ قیامت ہوگا۔ بلکہ قیامت کا زلزلہ ہوگا اور یہ کہ اس سے ہزار ہا مکان گریں گے اور کئی بستیاں نابود ہو جائیں گی اور اس کی نظیر پہلے زمانہ میں نہیں پائی جائے گی۔ ناگہانی طور پر ہزار ہا آدمی مر جائیں گے...... پس بہر حال وہ مخبوء ہے۔ ہاں اگر وہ شدید آفت ظاہر نہ ہوئی جو دنیا میں ایک زلزلہ ڈال دے گی جو وحی الٰہی کے ظاہر الفاظ کی رو سے زلزلہ کے رنگ میں ہوگی یا کوئی معمولی امر ظہور میں آیا جس کو دنیا ہمیشہ دیکھتی ہے۔ جو خارق عادت اور غیر معمولی نہیں ہے اور جو سچ مچ قیامت کا نمونہ نہیں اور یا وہ حادثہ میری زندگی میں ظاہر نہ ہوا تو بیشک نقارہ بجا کر میری تکذیب کرو اور مجھے جھوٹا سمجھو۔“
(ضمیمہ براہین احمدیہ ص٩٠، خزائن ج٢١ ص٢٥٧، ٢٥٨، اپریل ١٩٠٥ء کو لکھا گیا)
مرزا قادیانی اس زلزلہ کا موسم اور وقت بتاتے ہیں: ”پھر بہار آئی خدا کی بات پوری ہوئی۔“ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ زلزلہ موعودہ کے وقت موسم بہار کے دن ہوں گے اور جیسا کہ بعض الہامات سے سمجھا جاتا ہے غالباً ”وہ صبح کا وقت ہوگا یا اس کے قریب۔“
(حاشیہ ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم ص٩٠، خزائن ج٢١ ص٢٥٨)
اور سنئے! ”آئندہ زلزلہ کوئی معمولی بات نکلی یا میری زندگی میں اس کا ظہور نہ ہوا تو میں خدا تعالیٰ کی طرف سے نہیں۔“
(ضمیمہ براہین احمدیہ ص٩٢، ٩٣، خزائن ج٢١ ص٢٥٣)
خلیفہ صاحب! فرمائیے کہ کیا مرزا قادیانی کی یہ پیش گوئی پوری ہوئی؟ اور ان کی زندگی
٢٣
میں ایسا زلزلہ آیا جو قیامت کا نمونہ تھا؟ ہرگز نہیں ۔ اب آپ کا فرض ہے کہ آپ نظارہ بجا کر اعلان کریں کہ مرزا قادیانی خدا کی طرف سے نہ تھے ۔ ورنہ آپ مرزا قادیانی کے نافرمان ٹھہریں گے اور قیامت کے دن جوابدہی مشکل ہوگی ۔
منکوحہ آسمانی کی پیش گوئی
- ٢...... پیش گوئی متعلقہ منکوحہ آسمانی محمدی بیگم بنت مرزا احمد بیگ ہوشیار پوری جو بالکل جھوٹی
نکلی اور دنیا اس کی گواہ ہے ۔ ہم اس پیش گوئی کے متعلق مرزا قادیانی کے اس حلفیہ بیان کا اقتباس نقل کرتے ہیں جو انہوں نے عدالت میں دیا تھا ۔ "عورت (محمدی بیگم) اب تک زندہ ہے ۔ میرے نکاح میں وہ عورت ضرور آئے گی ۔ امید کیسی یقین کامل ہے ۔ یہ خدا کی باتیں ہیں ٹلتی نہیں ہو کر رہیں گی ۔"
(اخبار الحکم قادیان ١٠ اگست ١٩٠١ء ص ١٤ کالم ٣)
یہ مرزا قادیانی کا اپنا حلفیہ بیان ہے جو کسی تشریح کا محتاج نہیں ہے ۔ اس سے روز روشن کی طرح ثابت ہوتا ہے کہ مرزا احمد بیگ کی لڑکی مرزا قادیانی کے ساتھ ضرور بیاہی جائے گی اور یہ بیاہ اس دنیا ہی میں ہوگا اور کوئی شرط یا کسی کی گریہ وزاری اس نکاح کو نہیں روک سکتی ۔
- ٢....... "میں اس عورت کو اس کے نکاح کے بعد واپس لاؤں گا اور تجھے دوں گا اور میری تقدیر
نہیں ٹلتی اور میرے آگے کوئی انہونی نہیں اور میں سب روکوں کو اٹھا دوں گا جو اس حکم کے نفاذ سے مانع ہوں ۔"
(اشتہار مورخہ ٦ ستمبر ١٨٩٣ء ص ٤، مجموعہ اشتہارات ج ٢ ص ٤٣)
مرزا قادیانی کی اس عبارت سے ثابت ہوتا ہے کہ مرزا قادیانی کا نکاح محمدی بیگم کے ساتھ ضرور ہوگا اور کوئی چیز اس نکاح کو نہیں روک سکتی اور یہ بھی واضح ہوتا ہے کہ اس نکاح کے لئے کوئی کسی قسم کی شرط نہیں ہے ۔ کیونکہ یہ وہ تقدیر ہے جو نہیں ٹلتی ۔ اگر کوئی شرط ہوتی تو اس کو تقدیر معلق کہتے نہ کہ مبرم ۔ مگر دنیا جانتی ہے کہ منکوحہ آسمانی ایک منٹ کے لئے بھی مرزا قادیانی کے آغوش میں نہیں آئی اور مرزا قادیانی باصد حسرت و ارمان دنیا سے کوچ کر گئے اور محمدی بیگم منکوحہ آسمانی بفضلہ تعالیٰ اب تک اپنے خاوند مرزا سلطان احمد کے گھر میں آباد ہے ۔
قدرت خدا کی درد کہیں اور دوا کہیں
مرزا قادیانی کے مریدو ! منکوحہ آسمانی کے متعلق مرزا قادیانی کو جس قدر الہام ہوئے
ہیں ۔ اگرچہ خدا تعالیٰ کی طرف سے تھے تو نکاح کا ہونا نہایت ضروری امر تھا۔ مگر نکاح نہیں ہوا ١ جس سے روز روشن کی طرح ثابت ہوتا ہے کہ یہ الہام مرزا قادیانی کی ہوائے نفسانی کا نتیجہ تھے ۔ اگر ان کو خدا تعالیٰ کی طرف سے تسلیم کیا جائے تو لازم آتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کو تمام امور غیبیہ کا علم نہیں ہوتا ہے۔ یا یہ کہ اس کو علم تو تھا مگر اس نے مرزا قادیانی کو فریب دیا ہے ۔ بہر حال وعدہ خلافی کا الزام ثابت ہے۔
١ اس پیش گوئی کی مرزائی امت عجیب و غریب تاویلیں کرتی ہے۔ لاہوری مرزائی پارٹی کے ایک سرکردہ لیڈر ڈاکٹر بشارت احمد اسسٹنٹ سرجن گجرات نے تو محمدی بیگم سے مراد عیسائی قوم اور نکاح سے مراد تبلیغ لے کر مرزا آنجہانی کو ”دلہا“ ثابت کر دیا اور یہ لکھ کر اپنا جی خوش کر لیا کہ ”ہم ہر روز اسی دلہا (مرزا قادیانی) کی برات کو یورپ اور امریکہ میں چڑھتے دیکھتے ہیں ۔ ایسی اعلیٰ شان کی محمدی بیگم کا تزوج جس خوش قسمت کے ساتھ ہو اس سے مطالبہ کرنا کہ فلاں عورت سے نکاح کیوں نہ ہوا ۔ ویسا ہی ہے جیسے کسی کو کوئی سلطنت مل جائے اور لوگ اس سے مطالبہ کریں کہ تم نے تو کہا تھا۔ ہمیں ایک گھوڑا ملے گا۔ وہ تو نہ ملا (الیٰ قولہ) پس محمدی بیگم سے مراد وہی حقیقت ہے جو اس نام میں مضمر ہے اور یہ آسمانی نکاح ازل سے مقدر تھا۔“
(منقول از اخبار پیغام صلح لاہور مجریہ ٢؍جولائی ١٩٣٣ء ص ٣، ٤)
اب مرزائی امت کے بڑے میاں حکیم نور الدین آنجہانی کی سنئے، وہ لکھتے ہیں ”جب تخاطب میں مخاطب کی اولاد، مخاطب کا جانشین اور اس کے مماثل داخل ہو سکتے ہیں تو احمد بیگ کی لڑکی (محمدی بیگم) یا اس لڑکی کی لڑکی کیا داخل نہیں ہو سکتی؟ اور کیا آپ کے علم فرائض میں بنات البنات کو حکم بنات نہیں مل سکتا؟ اور کیا مرزا کی اولاد مرزا کی عصبہ نہیں؟ میں نے بارہا عزیز میاں محمود کو کہا کہ اگر حضرت (مرزا) کی وفات ہو جائے اور یہ لڑکی (محمدی بیگم) نکاح میں نہ آئے تو میری عقیدت میں تزلزل نہیں آ سکتا ۔
(منقول از رسالہ وفات مسیح موعود ص ٢٣)
غرض قادیانی پیش گوئیاں کیا ہیں؟ سراسر فریب، مکاری اور ڈھیٹ پنے کی بولتی چالتی تصویریں ہیں ۔ اسی ہیرا پھیری سے یہ لوگ سادہ لوحوں کے ایمان پر ڈاکے ڈالتے ہیں ۔
کافر یہ جیب کاٹ گئے پیغمبری کے نام سے
ظفر علی خان
٢٥ .
ناظرین! مرزا قادیانی کے وظیفہ خوار مولویوں نے ان کو سچا ثابت کرنے کے لئے بہت ہاتھ پاؤں مارے ہیں اور بڑی رکیک و سخیف تاویلیں کی ہیں۔ مگر یاد رہے کہ مرزا قادیانی کے جملہ الہامات متعلقہ نکاح آسمانی ان تاویلات باطلہ کا رد کرنے کے لئے کافی ہیں جو مرزا قادیانی کی وہ عبارتیں آپ کے سامنے پیش کی گئی ہیں۔ ان میں غور کرنے سے ان تمام تاویلات کا جواب مل سکتا ہے۔
٣...... منکوحہ آسمانی کے خاوند مرزا سلطان محمد کی موت کے متعلق پیش گوئی
ناظرین کرام کو معلوم ہوگا کہ مرزا قادیانی کے آسمانی نکاح میں سب سے بڑی رکاوٹ منکوحہ آسمانی کا ارضی خاوند مرزا سلطان محمد تھا۔ اس لئے مرزا قادیانی نے محمدی بیگم کو اپنے نکاح میں لانے کے لئے مرزا سلطان محمد کی موت کی پیش گوئی کر دی کہ وہ روز نکاح کے بعد اڑھائی سال کے اندر اندر مر جائے گا۔ مگر جب وہ میعاد مقررہ کے اندر نہ مرا اور ہر طرف سے مرزا قادیانی پر اعتراضات کی بوچھاڑ ہوئی۔ تو اپنی ذلت اور رسوائی پر پردہ ڈالنے کے لئے (حاشیہ انجام آتھم ص ٢٩، خزائن ج ١١ ص ٢٩) پر لکھتے ہیں:
”رہا داماد اس کا (احمد بیگ) سو وہ اپنے رفیق اور خسر کی موت کے حادثہ سے اس قدر خوف سے بھر گیا تھا کہ گویا قبل از موت مر گیا۔“
یہ بالکل جھوٹ ہے۔ اگر مرزا سلطان محمد ڈر گیا تھا اور موت سے پہلے مر گیا تھا تو اپنی منکوحہ محمدی بیگم کو طلاق دے کر مرزا قادیانی کے حوالے کیوں نہ کر دیا۔ بلکہ سلطان محمد بقول مولوی ثناء اللہ صاحب امرتسری مرزا قادیانی کے سینہ پر مونگ دلتا رہا۔ بے چارے سلطان محمد کا تو جرم ہی یہی تھا کہ اس نے مرزا قادیانی کی منکوحہ آسمانی سے نکاح کیوں کیا۔ چنانچہ مرزا قادیانی لکھتے ہیں:
”احمد بیگ کے داماد کا یہ قصور تھا کہ اس نے تخویف کا اشتہار دیکھ کر اس کی پرواہ نہ کی۔ خط پر خط بھیجے گئے۔ ان سے کچھ نہ ڈرا۔ پیغام بھیج کر سمجھایا گیا۔ کسی نے اس طرف ذرا التفات نہ کی اور احمد بیگ سے ترک تعلق نہ چاہا۔ بلکہ وہ سب گستاخی اور استہزاء میں شریک ہوئے۔ سو یہی قصور تھا کہ پیش گوئی کو سن کر پھر ناطہ کرنے پر راضی ہوئے۔“
(اشتہار انعامی چار ہزار روپیہ، مجموعہ اشتہارات ج ٢ ص ٩٥)
اور اس کے ساتھ ہم مرزا سلطان محمد کی چٹھی کی نقل پیش کرنا بھی ضروری خیال کرتے ہیں۔ یہ چٹھی (اخبار اہلحدیث ١٤؍مارچ ١٩٣٣ء) میں شائع ہوئی تھی، ملاحظہ ہو: ”جناب مرزا غلام احمد
٢٦
صاحب نے جو میری موت کے متعلق پیش گوئی فرمائی تھی نہیں کی۔ نہ میں اس پیش گوئی سے کبھی ڈرا۔ میں ہمیشہ سے رہا ہوں۔ ٣؍مارچ ١٩٣٣ء دستخط مرزا سلطان محمد از پٹی۔“
مرزا قادیانی کے اپنے بیان اور مرزا سلطان محمد ہرگز نہیں ڈرا اور نہ اس نے اپنے قصور سے توبہ کی اور ن اپنے جرم سے توبہ کرتا تو ضرور محمدی بیگم سے دست بردار قادیانی کے حرم سرائے میں داخل ہو جاتی اور ”بستر عیش“ م اور سنئے! اب مرزا قادیانی میعاد مقررہ کو نظر ا بار بار کہتا ہوں کہ نفس پیش گوئی داماد احمد بیگ کی تقدیر مب ہوں تو یہ پیش گوئی پوری نہیں ہوگی اور میری موت آجائے گ
”یاد رکھو کہ اس پیش گوئی کی دوسری جزو (سل ایک بد سے بدتر ٹھہروں گا۔ اے احمقو! یہ انسان کی افتر ہے۔ یقیناً سمجھو کہ یہ خدا کا سچا وعدہ ہے۔ وہی خدا جس کی
ناظرین! آپ نے دیکھ لیا کہ مرزا قادیانی کرتے ہیں کہ سلطان محمد کا ان کی زندگی میں مر جانا تقد اگر سلطان محمد ان کی زندگی میں نہ مرا تو وہ ہر ایک بد س سامنے ہے کہ مرزا قادیانی ٢٦؍مئی ١٩٠٨ء کو دنیا سے کوچ خاوند مارچ ١٩٣٣ء تک زندہ ہے۔ اب آپ انصاف مطابق ہر ایک بد سے بدتر نہیں ٹھہرے اور خبیث مفتری کی اپنی اقراری ڈگریاں ہیں۔ مرزا قادیانی کی اس پیش نتائج برآمد ہوئے ۔
- ١....... خدا تعالیٰ اپنے حتمی وعدہ پورے نہیں کرتا۔
- ٢....... یہ مرزا قادیانی کا الہام ہے۔
٢٧
صاحب نے جو میری موت کے متعلق پیش گوئی فرمائی تھی۔ میں نے اس میں ان کی تصدیق کبھی نہیں کی۔ نہ میں اس پیش گوئی سے کبھی ڈرا۔ میں ہمیشہ سے اور اب بھی اپنے بزرگان اسلام کا پیرو رہا ہوں۔ ٣؍ مارچ ١٩٣٢ء دستخط مرزا سلطان محمد از پٹی۔‘‘
مرزا قادیانی کے اپنے بیان اور مرزا سلطان محمد کی تحریر سے ثابت ہو گیا ہے کہ سلطان محمد ہرگز نہیں ڈرا اور نہ اس نے اپنے قصور سے توبہ کی اور یہ بالکل بدیہی بات ہے کہ اگر وہ ڈرتا اور اپنے جرم سے توبہ کرتا تو ضرور محمدی بیگم سے دست بردار ہو جاتا اور محمدی بیگم از سر نو باکرہ ہو کر مرزا قادیانی کے حرم سرائے میں داخل ہو جاتی اور ”بستر عیش ١؎‘‘ والا الہام پورا ہوتا۔
اور سنئے! اب مرزا قادیانی میعاد مقررہ کو نظر انداز کر کے فرماتے ہیں: ”............ میں بار بار کہتا ہوں کہ نفس پیش گوئی داماد احمد بیگ کی تقدیر مبرم ہے۔ اس کی انتظار کرو اور اگر میں جھوٹا ہوں تو یہ پیش گوئی پوری نہیں ہوگی اور میری موت آجائے گی۔“
(حاشیہ انجام آتھم ص ٣١، خزائن ج ١١ ص ایضاً)
”یاد رکھو کہ اس پیش گوئی کی دوسری جزو (سلطان محمد کی موت) پوری نہ ہوئی تو میں ہر ایک بد سے بدتر ٹھہروں گا۔ اے احمقو! یہ انسان کی افتراء نہیں نہ یہ کسی خبیث مفتری کا کاروبار ہے۔ یقیناً سمجھو کہ یہ خدا کا سچا وعدہ ہے۔ وہی خدا جس کی باتیں نہیں ٹلتی ہیں۔“
(ضمیمہ انجام آتھم ص ٥٤، خزائن ج ١١ ص ٣٣٨)
ناظرین! آپ نے دیکھ لیا کہ مرزا قادیانی کس بلند آہنگی اور شدومد کے ساتھ اعلان کرتے ہیں کہ سلطان محمد کا ان کی زندگی میں مرجانا تقدیر مبرم اور اٹل ہے اور اقرار کرتے ہیں کہ اگر سلطان محمد ان کی زندگی میں نہ مرا تو وہ ہر ایک بد سے بدتر ٹھہریں گے۔ اب نتیجہ آپ کے سامنے ہے کہ مرزا قادیانی ٢٦؍ مئی ١٩٠٨ء کو دنیا سے کوچ کر گئے اور مرزا سلطان محمد منکوحہ آسمانی کا خاوند مارچ ١٩٣٣ء تک زندہ ہے۔ اب آپ انصاف فرمائیں کہ مرزا قادیانی اپنے بیان کے مطابق ہر ایک بد سے بدتر نہیں ٹھہرے اور خبیث مفتری ثابت نہیں ہوئے؟ یہ دونوں مرزا قادیانی کی اپنی اقراری ڈگریاں ہیں۔ مرزا قادیانی کی اس پیش گوئی کے غلط اور جھوٹا نکلنے سے مندرجہ ذیل نتائج برآمد ہوئے۔
- ١...... خدا تعالیٰ اپنے حتمی وعدہ پورے نہیں کرتا۔
١؎ یہ مرزا قادیانی کا الہام ہے۔ (البشریٰ ج ٢ ص ٨٨، تذکرہ طبع سوم ص ٤٩٩)
٢٧
- ......٢ اور اپنے رسولوں کو فریب دیتا ہے۔
- ......٣ اور وہ امور غیبیہ سے بے خبر ہے۔ (نعوذ باللہ من ذلک)
مرزا قادیانی نے ایسی پیش گوئیاں کر کے غیر مسلموں کے لئے اسلام پر ہنسی اڑانے کا کافی سامان بہم پہنچایا ہے۔ آپ اسلام کے مسلم نما دشمن ثابت ہوئے ہیں۔ ہر ایک شخص بانگ دہل کہہ سکتا ہے کہ مرزا قادیانی کا خدا اپنے سچے وعدے بھی پورے نہیں کرتا اور اس کی اٹل باتیں بھی ٹل جاتی ہیں۔ اس کو امور غیبیہ کا بھی علم نہیں ہے۔ کیا اب مرزا قادیانی خدا تعالیٰ کو اس کی تمام صفات کاملہ کے ساتھ دنیا کے سامنے پیش کر سکتے ہیں؟ اور دنیا کا کون عقلمند انسان مرزا قادیانی کے پیش کردہ اسلام کو قبول کر سکتا ہے؟ یہ اچھے مسیح دنیا میں آئے کہ کافروں کو مسلمان کرنے کی بجائے الٹا ان کو اسلام سے سخت بدظن کر دیا اور دنیا کے چالیس کروڑ مسلمانوں کو حلقہ اسلام سے خارج کر دیا۔ یہ ہے وہ خدمت اسلام جو مرزا قادیانی نے انجام دی۔
٤...... پیش گوئی ڈپٹی عبداللہ آتھم عیسائی کی موت کے متعلق
مرزا قادیانی کا ایک مباحثہ ڈپٹی عبداللہ آتھم کے ساتھ ہوا تھا۔ جو پندرہ دن تک رہا۔ جب کوئی کامیابی نہ ہوئی تو مرزا قادیانی نے اپنی غیب دانی اور تقدس کا رعب اس پر ڈالا اور آخری دن یعنی ٥/ جون ١٨٩٣ء کو مرزا قادیانی نے مسٹر آتھم کی نسبت یہ پیش گوئی شائع کر دی جس کے الفاظ مرزا قادیانی کی کتاب جنگ مقدس سے نقل کئے جاتے ہیں:
”جو فریق عمداً جھوٹ کو اختیار کر رہا ہے اور عاجز انسان کو خدا بنا رہا ہے۔ وہ انہی دنوں مباحثہ کے لحاظ سے یعنی فی دن ایک مہینہ لے کر یعنی ١٥ ماہ تک ہاویہ میں گرایا جائے گا اور اس کو سخت ذلت پہنچے گی۔ بشرطیکہ حق کی طرف رجوع نہ کرے اور جو شخص سچ پر ہے اور سچے خدا کو مانتا ہے۔ اس کی اس سے عزت ہو گی اور اس وقت جبکہ یہ پیش گوئی ظہور میں آئے گی۔ بعض اندھے سوجاکھے ہو جائیں گے اور بعض لنگڑے چلنے لگیں گے اور بعض بہرے سننے لگیں گے۔“
(جنگ مقدس ص ١٨٩، خزائن ج ٦ ص ٢٩٣)
مگر یہ پیش گوئی لفظ بلفظ غلط نکلی۔ کیونکہ (١) نہ تو مسٹر آتھم نے حق کی طرف رجوع کیا (مسلمان نہ ہوا) (٢) نہ وہ پندرہ ماہ کے اندر فوت ہوا۔ نہ ہاویہ میں گرایا گیا۔ (٣) نہ اس کی ذلت ہوئی۔ (٤) نہ مرزا قادیانی کی عزت ہوئی۔ (٥) نہ بعض اندھے سوجاکھے ہوئے۔ (٦) نہ بعض لنگڑے چلنے لگے۔ (٧) نہ بعض بہرے سننے لگے۔
٢٨
البتہ اس پیش گوئی کے غلط نکلنے پر مرزا قادیا میں شک کرنے لگے۔ مرزا قادیانی اس پیش گوئی کے ب اپنی کذب بیانی پر پردہ ڈالنے کے لئے خوب زور تحریر دک کچھ نہ بنا سکے۔
مرزا قادیانی نے (ضیاء الحق ص ١٢، ١٣، خزائن ج بھاگے پھرنے کا نام ”رجوع الی الحق“ رکھا ہے اور (انوار نام ہاویہ رکھا ہے۔ یعنی مرزا قادیانی نے رجوع الی الحق پیش گوئی کے الفاظ کی رو سے رجوع الی الحق اور ہاویہ میں پریشان ہیں۔ گویا خود ہاویہ میں ہیں اور بہکی ہوئی باتیں کر
چنانچہ مرزا قادیانی کے ایک مرید لکھتا ہ
”مضمون صاف ہے کہ اگر آتھم رجوع الی الحق ظاہر کرے گا تو ہاویہ کی سزا سے بچ جائے گا۔ رجوع الی الحق دیکھتے ہیں کہ حضرت مرزا قادیانی نے آتھم کے بھاگے الحق بھی رکھا ہے اور ہاویہ میں گرنا بھی اب سوال یہ ہے سے ناممکن ہے۔ بے چارہ اگر رجوع کر چکا تو پھر ہاویہ ہاویہ میں گرتا۔ یہ تاویل جس میں اجتماع ضدین ہے۔ ”م کے ماتحت ہو کر وحی الہی سے ہوا تھا یا نہیں ۔“ (انجم اشاق
مرزا قادیانی نے اس رسوائی اور ذلت کے لئے ایک اشتہار دے دیا کہ مسٹر آتھم اگر قسم کھائیں کہ ان روپیہ پھر لکھا کہ چار ہزار روپیہ انعام لیں۔
مسٹر آتھم رجوع کرنے سے بالکل انکاری مذہب میں جائز نہیں۔ جیسا کہ سور کھانا اسلام میں جائز ن کھائیں تو میں ان کو انعام دینے کے لئے تیار ہوں۔
آخر جب آتھم جو ستر سال کا بوڑھا تھا، بحکم خ قادیانی کی پیش گوئی کی میعاد ختم ہونے کے تنئیس ماہ بع گوئی کا پورا ہونا مشتہر کر دیا اور بعض تصانیف میں لکھ دیا
٢٩
البتہ اس پیش گوئی کے غلط نکلنے پر مرزا قادیانی کے بعض مرید مرزا قادیانی کی صداقت میں شک کرنے لگے۔ مرزا قادیانی اس پیش گوئی کے پورا نہ ہونے سے بہت پریشان ہوئے اور اپنی کذب بیانی پر پردہ ڈالنے کے لئے خوب زور تحریر دکھایا۔ سینکڑوں صفحے سیاہ کر ڈالے مگر پھر بھی کچھ نہ بنا سکے۔
مرزا قادیانی نے (ضیاء الحق ص ١٢، ١٣، خزائن ج ٩ ص ٢٦٥) پر آتھم کے ہراسیمہ ہونے اور بھاگے پھرنے کا نام ”رجوع الی الحق“ رکھا ہے اور (انوار الاسلام ص ٥، ٧، خزائن ج ٩ ص ٧) میں اسی کا نام ہاویہ رکھا ہے۔ یعنی مرزا قادیانی نے رجوع الی الحق اور ہاویہ دونوں کو جمع کر دیا ہے۔ حالانکہ پیش گوئی کے الفاظ کی رو سے رجوع الی الحق اور ہاویہ جمع نہیں ہو سکتے۔ دیکھا مرزا قادیانی کس قدر پریشان ہیں۔ گویا خود ہاویہ میں ہیں اور بہکی ہوئی باتیں کر رہے ہیں۔
چنانچہ مرزا قادیانی کے ایک مرید گریجویٹ اس پر ایک نوٹ لکھتے ہیں۔ ملاحظہ ہو ”مضمون صاف ہے کہ اگر آتھم رجوع الی الحق نہ کرے تو ہاویہ میں گرایا جائے گا۔ یعنی اگر رجوع کرے گا تو ہاویہ کی سزا سے بچ جائے گا۔ رجوع الی الحق اور سزائے ہاویہ جمع نہیں ہو سکتے۔ لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ حضرت مرزا قادیانی نے آتھم کے بھاگے پھرنے اور ہراسیمہ ہونے کا نام رجوع الی الحق بھی رکھا ہے اور ہاویہ میں گرنا بھی اب سوال یہ ہے کہ رجوع اور ہاویہ کا جمع ہونا تو الہام کی رو سے ناممکن ہے۔ بے چارہ اگر رجوع کر چکا تو پھر ہاویہ اس پر کہاں سے آگیا یا تو رجوع ہی کرتا یا ہاویہ میں گرتا۔ یہ تاویل جس میں اجتماع ضدین ہے: ”ما ینطق عن الهویٰ......“ والے الہام کے ماتحت ہو کر وحی الٰہی سے ہوا تھا یا نہیں۔“ (انجم الثاقب)
مرزا قادیانی نے اس رسوائی اور ذلت کے بدنما داغ کو اپنے چہرے سے مٹانے کے لئے ایک اشتہار دے دیا کہ مسٹر آتھم اگر قسم کھائیں کہ انہوں نے رجوع الی الحق نہیں کیا تو دو ہزار روپیہ پھر لکھا کہ چار ہزار روپیہ انعام لیں۔
مسٹر آتھم رجوع کرنے سے بالکل انکاری تھا۔ اس نے جواب دیا کہ حلف ہمارے مذہب میں جائز نہیں۔ جیسا کہ سور کھانا اسلام میں جائز نہیں۔ اگر مرزا قادیانی بھرے جلسے میں سور کھائیں تو میں ان کو انعام دینے کے لئے تیار ہوں۔
آخر جب آتھم جو ستر سال کا بوڑھا تھا، بحکم ”کل نفس ذائقة الموت“ مرزا قادیانی کی پیش گوئی کی میعاد ختم ہونے کے تیس ماہ بعد فوت ہو گیا تو مرزا قادیانی نے فوراً پیش گوئی کا پورا ہونا مشتہر کر دیا اور بعض تصانیف میں لکھ دیا کہ:
٢٩
”میں نے مباحثہ کے وقت قریباً ساٹھ آدمیوں کے روبرو یہ کہا تھا کہ ہم دونوں میں سے جو جھوٹا ہے، وہ پہلے مرے گا۔ سو آتھم بھی اپنی موت سے میری سچائی کی گواہی دے گیا۔“
(اشتہار انعامی پانچ سو روپیہ ص ٧، اربعین نمبر ٣ ص ١١ خزائن ج ١٧ ص ٣٩٧، کشتی نوح ص ٦، خزائن ج ١٩ ص ٦)
ناظرین! اب دیکھ لیجئے کہاں پندرہ ماہ کا تعین اور کہاں جھوٹے کا سچے سے پہلے مرنا۔ یہ پچھلا فقرہ بالکل جھوٹ اس لئے تراشا گیا کہ آتھم میعاد مقررہ میں فوت نہیں ہوا۔ مرزا قادیانی (اشتہار انعامی چار ہزار مرتبہ چہارم مورخہ ٢٧ اکتوبر ١٨٩٣ء کے ص ١٦، مجموعہ اشتہارات ج ٢ ص ١١٦، ١١٥) پر لکھتے ہیں: ”میں بالآخر دعا کرتا ہوں کہ اے خدائے قادر و علیم اگر آتھم کا عذاب مہلک میں گرفتار ہونا اور احمد بیگ کی دختر کلاں کا آخر اس عاجز کے نکاح میں آنا یہ پیش گوئیاں تیری طرف سے ہیں ۔ تو ان کو ایسے طور پر ظاہر فرما جو خلق اللہ پر حجت ہو اور کور باطن حاسدوں کا منہ بند ہو جائے اور اگر اے خداوند یہ پیش گوئیاں تیری طرف سے نہیں ہیں تو مجھے نامرادی اور ذلت کے ساتھ ہلاک کر۔“
یہ ظاہر ہے کہ پیش گوئی کے مطابق عبداللہ آتھم پر کوئی مہلک عذاب آیا نہ محمدی بیگم سے مرزا قادیانی کا نکاح ہوا۔ نہ حاسدوں کا منہ بند ہوا۔ اس لئے ثابت ہوا کہ دونوں پیش گوئیاں اللہ کی طرف سے نہیں تھیں۔
ناظرین! مرزا قادیانی نے یہ پیش گوئی کر کے عیسائیوں کو اسلام پر خوب تمسخر اڑانے کا موقعہ دیا ہے۔ عیسائیوں کو اس سے یقین ہو گیا کہ مرزا قادیانی جو اسلام ان کے سامنے پیش کرتے ہیں۔ بالکل جھوٹا مذہب ہے اور ان کے قدم عیسائیت پر بڑی مضبوطی سے جم گئے اور اسلام سے ان کو کلی نفرت ہو گئی۔ یہی وجہ ہے کہ مرزا قادیانی ہندوستان کے چند عیسائیوں کو بھی اپنے حلقہ بیعت میں داخل نہ کر سکے اور جھوٹا کسر صلیب کا وعدہ کرتے رہے اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو مصلوب اور فوت شدہ قرار دے کر عیسائیت کے بنیادی عقیدے (کفارہ) کی تائید کرتے ہوئے دنیا سے چل بسے۔
٥...... مولوی ثناء اللہ صاحب کے قادیان نہ آنے کی پیش گوئی
رسالہ (اعجاز احمدی ص ٣٧، خزائن ج ١٩ ص ١٤٨) پر لکھا ہے کہ: ”وہ ہرگز قادیان میں نہیں آئیں گے ۔“ مگر مولوی ثناء اللہ صاحب مرزا قادیانی کی پیش گوئیوں کی پڑتال کے لئے ١٠؍ جنوری ١٩٠٣ء کو قادیان پہنچے اور مرزا قادیانی کی پیش گوئی کو غلط ثابت کر دیا۔
٣٠
٦...... ”عالم کباب“ کے متعلق پیش گ
(١) بشیر الدولہ ۔ (٢) عالم کباب ۔ از مرزا قادیانی ۔) ”بذریعہ الہام الٰہی معلوم ہوا کہ میاں لڑکا پیدا ہوگا۔ جس کے یہ نام ہوں گے۔ یہ نام مرزا قادیانی کی اس پیش گوئی کے بیگم فوت ہو گئی اور کباب صاحب پیدا نہ ہوئے چنانچہ مرزا قادیانی کے الہامات کے جامع نے م
(مندرجہ اشتہار تہر
٧، ٨، ٩، ١٠...... الہامی پیش گوئیاں
٧...... ”مبارک احمد جو میرا لڑکا فوت ہو گ
گا۔ کوئی پہچان نہیں سکے گا۔“ مگر دوسرا مبارک احمد پیدا نہ ہوا۔ ب چھ ماہ بعد دنیا سے چلتے بنے اور حمل میں بھی کچھ
٨...... ”ڈاکٹر عبدالحکیم خان (مرزا قادیانی
موت چاہتا ہے۔ وہ میری آنکھوں کے روبرو ا مگر ڈاکٹر عبدالحکیم خان کی عمر بڑھ گ کی طرح نیست و نابود ہو گئے۔
٩...... ”تیری عمر بڑھا دوں گا۔“
مگر مرزا قادیانی کی عمر ایسی بڑھی ک خان کو مارتے مارتے خود موت کا شکار ہو گئے۔
١٠...... ”اس ملک یا دوسرے ملک میں اس
جس کی نظیر پہلے کبھی دیکھی نہیں گئی۔ وہ لوگوں کو ب مگر نہ تو ١٩٠٧ء میں کوئی اس قسم کی ١٩٠٨ء کو چلتے بنے۔
٦...... ”عالم کباب“ کے متعلق پیش گوئی
(١) بشیرالدولہ۔ (٢) عالم کباب۔ (٣) شادی خاں۔ (٤) کلمۃ اللہ خان۔ (نوٹ از مرزا قادیانی۔)
”بذریعہ الہام الٰہی معلوم ہوا کہ میاں منظور محمد صاحب کے گھر میں یعنی محمدی بیگم کا ایک لڑکا پیدا ہوگا۔ جس کے یہ نام ہوں گے۔ یہ نام بذریعہ الہام الٰہی معلوم ہوئے ۔“
(البشریٰ ج دوم ص ١١٦، تذکرہ طبع سوم ص ٦٦٣، ٦٥٥)
مرزا قادیانی کی اس پیش گوئی کے شائع ہو جانے کے بعد میاں منظور محمد کی بیوی محمدی بیگم فوت ہو گئی اور کباب صاحب پیدا نہ ہوئے۔ لہٰذا مرزا قادیانی کی یہ الہامی پیش گوئی غلط نکلی۔ چنانچہ مرزا قادیانی کے الہامات کے جامع نے مجبور ہو کر اس پیش گوئی کو متشابہات میں قرار دیا۔
(مندرجہ اشتہار تبصرہ ٥؍ نومبر ١٩٠٧ء، مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ٥٨٥ تا ٥٩٢)
٧، ٨، ٩، ١٠...... الہامی پیش گوئیاں
- ٧...... ”مبارک احمد جو میرا لڑکا فوت ہو گیا ہے۔ اس کی جگہ دوسرا مبارک احمد بعینہ دیا جائے
گا۔ کوئی پہچان نہیں سکے گا۔“
مگر دوسرا مبارک احمد پیدا نہ ہوا۔ بلکہ مرزا قادیانی خود اس الہام کے شائع کرنے کے چھ ماہ بعد دنیا سے چلتے بنے اور حمل میں بھی کچھ نہ چھوڑا۔
- ٨...... ”ڈاکٹر عبدالحکیم خان (مرزا قادیانی کا بدری صحابی جو تائب ہو گیا تھا) میرا دشمن میری
موت چاہتا ہے۔ وہ میری آنکھوں کے روبرو اصحاب فیل کی طرح تباہ ہوگا۔“
مگر ڈاکٹر عبدالحکیم خان کی عمر بڑھ گئی اور مرزا قادیانی ان کی زندگی میں خود اصحاب فیل کی طرح نیست و نابود ہو گئے۔
- ٩...... ”تیری عمر بڑھا دوں گا۔“
مگر مرزا قادیانی کی عمر ایسی بڑھی کہ مشکل سے چھ ماہ پورے کئے اور ڈاکٹر عبدالحکیم خان کو مارتے مارتے خود موت کا شکار ہو گئے۔
- ١٠...... ”اس ملک یا دوسرے ملک میں اس سال یا آئندہ سال میں سخت طاعون پڑے گی۔
جس کی نظیر پہلے کبھی دیکھی نہیں گئی۔ وہ لوگوں کو دیوانہ کر دے گی۔“
مگر نہ تو ١٩٠٧ء میں کوئی اس قسم کی طاعون پڑی ، نہ ١٩٠٨ء میں بلکہ مرزا قادیانی خود ١٩٠٨ء کو چلتے بنے۔
٣١
تلک عشرة کاملة
ناظرین! اگر زیادہ تفصیل درکار ہے تو حضرت مولانا محمد علی صاحب مونگیری رحمۃ اللہ علیہ کے تصنیف کردہ رسائل ”فیصلہ آسمانی“ ہر سہ حصہ وغیرہ کا مطالعہ کریں۔ جن کا جواب آج تک مرزائی صاحبان نہیں دے سکے۔ اس کے ساتھ ”تحقیق لاثانی“ کو بھی ضرور ملاحظہ فرمائیں کہ وہ نکاح آسمانی کے متعلق بے نظیر کتاب ہے۔
ناظرین! آپ نے دیکھ لیا کہ جس قدر معرکہ کی پیش گوئیاں بطور تحدی کے مرزا قادیانی نے کی ہیں۔ اس قدر صریح تھیں کہ تاویل ان کو معنی پہناتے پہناتے شرمانے لگی۔ یہاں تک کہ مرزا قادیانی نے وہ طریق اختیار کیا جو نہایت ہی خطرناک ہے کہ خدا کے برگزیدہ رسولوں کو زبردستی کھینچ کر جھوٹے اور کاذب نبیوں کی صف میں لا کھڑا کر دیا ہے۔ چنانچہ آنحضرت ﷺ کو خاطی قرار دیا اور (ازالہ اوہام ص ٤٧٣، خزائن ج ٣ ص ٤١١) پر صاف اور غیر مشتبہ الفاظ میں لکھ دیا کہ آپ نے پیش گوئیوں کی حقیقت سمجھنے میں غلطی کھائی۔ ”نعوذ باللہ من ذلک“
حضرت یونس علیہ السلام کو مطعون کیا اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو خوب اچھی طرح سے کوسا۔ ”عیاذاً باللہ“
میں کہتا ہوں کہ یہ سب مجبوریاں تھیں۔ جو مرزا قادیانی کو پیش آئیں۔ کیونکہ ان کی معرکہ کی عظیم الشان پیش گوئیاں غلط نکلیں۔ اگر مرزائے آنجہانی قرآن مجید اور حدیث شریف کے غلط اور خود ساختہ معنوں کی آڑ میں خدا کے برگزیدہ رسولوں پر غلط فہمی اور نا سمجھی اور خدا کی ذات ستودہ صفات پر وعدہ خلافی کی تہمت نہ لگاتے تو ایک مرید بھی ان کے قبضے میں نہ رہتا۔
اے اصحاب عقل و دانش! کیا مرزا قادیانی کے اس طریق سے شریعت الہی کی بنیادیں متزلزل نہیں ہوتیں؟ قرآن مجید غیر معتبر نہیں ٹھہرتا؟ اور اس کی مقدس کتاب میں مسلمانوں کے لئے جو وعدے ہیں اور منکروں کے لئے جو وعیدیں ہیں۔ وہ بیکار ثابت نہیں ہوتیں؟ اور نبی کی ہر ایک وحی ناقابل اعتبار نہیں ٹھہرتی اور اس کے تمام وعدوں پر زلزلہ نہیں پڑتا؟
کیا پھر گنہگار بندوں کو جہنم کے عذاب سے ڈرایا جا سکتا ہے اور اندریں حالات اعمال خیر کی ترغیب دینا بے سود نہ ہوگا اور قرآن کریم اور رحمۃ للعالمین کا بشیر ونذیر ہونا لغو نہ ٹھہرے گا؟
پھر اس پر طرہ یہ کہ ان تمام لغو و بیہودہ باتوں کو قرآن مجید اور حدیث سے ثابت کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ محض اس لئے کہ سادہ لوح مریدان کے دام تزویر میں پھنسے رہیں اور ان
٣٢
بے چاروں کو اس طرح بھی ڈرایا جاتا ہے کہ یاد رکھو جو کئے جاتے ہیں۔ آنحضرت ﷺ پر بھی وارد ہوتے ہیں سے تم کو نبی کریم ﷺ اور دیگر انبیاء کا بھی انکار کرنا پڑ بیٹھو گے۔
چنانچہ کئی دفعہ دیکھنے میں آیا ہے کہ جب کسی پر کوئی سوال کیا تو مرزائی صاحبان نے فوراً بڑی بے باک طعن دراز کی۔ حالانکہ رحمۃ للعالمین ﷺ کی پیش گوئیاں کے زمانے کے سخت ترین دشمن بھی کوئی کسی قسم کا اعتر علماء سلف کو کافروں کے مقابلہ میں آپ ﷺ کی پیش کرنے کی ضرورت نہیں پڑی۔۔
اسلامی عقائد کو متزلزل کرنے میں مرزائیت
حضرات یہ ہے وہ رخنہ اندازی جو مرزا قا آریوں اور عیسائیوں کے اخبار و رسائل دے رہے ہیں کے عنوان کے ماتحت لکھتا ہے:
”اسلامی عقائد کو متزلزل کرنے میں احمدی کام آریہ سماج صدیوں میں انجام دینے کے قابل ہوت میں کر دکھایا ہے۔ بہر حال آریہ سماج کو مرزا قادیانی او چاہئے۔“
ناظرین! کیا عقل اس بات کو باور کر سکتی ہے علم پا کر کوئی پیش گوئی کرے اور وہ غلط نکلے؟ ہرگز نہیں۔ ہونا لازم آتا ہے اور اللہ تعالیٰ بھی کاذب ٹھہرتا ہے۔ ”ن
قرآن پڑھے
(حم عسق ع ٢: رعد ع ٣، روم ع ٣
کہ کس طرح آیات کریمہ بآواز بلند پکار کر کہہ رہی ہیں کوئی وعدہ وعید نہیں ٹلتا اور اس پر امت مرحومہ کے تما (توسیع قدرت) کے قائل ہوں یا امتناع کذب کے
٣٣
بے چاروں کو اس طرح بھی ڈرایا جاتا ہے کہ یاد رکھو جو اعتراضات مرزا قادیانی کی پیش گوئیوں پر کئے جاتے ہیں۔ آنحضرت ﷺ پر بھی وارد ہوتے ہیں۔ اگر تم مرزا قادیانی کا انکار کرو گے تو اس سے تم کو نبی کریم ﷺ اور دیگر انبیاء کا بھی انکار کرنا پڑے گا۔ گویا پورے طور پر ایمان سے ہاتھ دھو بیٹھو گے۔
چنانچہ کئی دفعہ دیکھنے میں آیا ہے کہ جب کسی مسلمان نے مرزا قادیانی کی کسی پیش گوئی پر کوئی سوال کیا تو مرزائی صاحبان نے فوراً بڑی بے باکی سے آنحضرت ﷺ کی پیش گوئی پر زبان طعن دراز کی۔ حالانکہ رحمۃ للعالمین ﷺ کی پیش گوئیاں اس قدر صفائی کے ساتھ سچی نکلیں کہ آپ کے زمانے کے سخت ترین دشمن بھی کوئی کسی قسم کا اعتراض نہ کر سکے۔ چنانچہ یہی وجہ ہے کہ ہمارے علماء سلف کو کافروں کے مقابلہ میں آپ ﷺ کی پیش گوئیوں کے متعلق مستقل کتابیں تصنیف کرنے کی ضرورت نہیں پڑی۔
اسلامی عقائد کو متزلزل کرنے میں مرزائیت کا حصہ
حضرات یہ ہے وہ رخنہ اندازی جو مرزا قادیانی نے اسلام میں کی۔ جس کی شہادت آریوں اور عیسائیوں کے اخبار و رسائل دے رہے ہیں۔ چنانچہ آریہ ویر، احمدیت کا اثر اسلام پر کے عنوان کے ماتحت لکھتا ہے:
”اسلامی عقائد کو متزلزل کرنے میں احمدیت نے آریہ سماج کو ایسی امداد دی ہے کہ جو کام آریہ سماج صدیوں میں انجام دینے کے قابل ہوتا وہ احمدی جماعت کی جدوجہد نے برسوں میں کر دکھایا ہے۔ بہر حال آریہ سماج کو مرزا قادیانی اور ان کے مقلد و مرید مرزائیوں کا مشکور ہونا چاہئے۔“
(آریہ ویر ٢٢/١٢ مارچ ١٩٣٣ء ص ١٢ کالم ١)
ناظرین! کیا عقل اس بات کو باور کر سکتی ہے کہ اللہ تعالیٰ کا ایک سچا رسول اللہ تعالیٰ سے علم پا کر کوئی پیش گوئی کرے اور وہ غلط نکلے؟ ہر گز نہیں۔ کیونکہ اس سے اس رسول کا جھوٹا اور مفتری ہونا لازم آتا ہے اور اللہ تعالیٰ بھی کاذب ٹھہرتا ہے۔ ”نعوذ باللہ من ذلک“
قرآن پڑھئے (زمر ع٢، رعد ع ٤، روم ع ١، یونس ع ٦، حج ع ٦، ابراہیم ع ٧) اور دیکھئے کہ کس طرح آیات کریمہ بآواز بلند پکار کر کہہ رہی ہیں کہ اللہ تعالیٰ وعدہ خلافی نہیں کرتا اور اس کا کوئی وعدہ وعید نہیں ٹلتا اور اس پر امت مرحومہ کے تمام علماء کا اتفاق ہے۔ خواہ وہ امکان کذب (توسیع قدرت) کے قائل ہوں یا امتناع کذب کے (دیکھو کتب کلامیہ) اور مرزا قادیانی نے بھی
اپنی متعدد تصانیف میں اس عقیدے کا اظہار کیا ہے کہ: ”ممکن نہیں کہ نبیوں کی پیش گوئیاں ٹل جائیں اور خدا کی باتیں نہیں ٹلتیں۔“
(کشتی نوح ص ٥، خزائن ج ١٩ ص ٥، ضمیمہ انجام آتھم ص ٥٤، خزائن ج ١١ ص ٣٣٨)
اور میں آپ پر دلائل و براہین کے ساتھ واضح کر چکا ہوں کہ مرزا قادیانی کی معرکہ کی پیش گوئیاں جن کے سچا نکلنے کو مرزا قادیانی نے اپنی صداقت کا معیار مقرر کیا اور بڑے زور کے ساتھ ان کے اٹل ہونے کا اعلان کیا اور بار بار ان کو تقدیر مبرم ٹھہرایا۔ وہ روز روشن کی طرح غلط نکلیں۔ اگر مرزا قادیانی خدا کے سچے نبی تھے تو یہ ان کی پیش گوئیاں کیوں غلط نکلیں؟
اس کا صحیح جواب مرزا قادیانی کی تحریر کے مطابق کہ: ”ممکن نہیں کہ نبیوں کی پیش گوئیاں ٹل جائیں۔“ (کشتی نوح ص ٥، خزائن ج ١٩ ص ٥) یہی ہو سکتا ہے کہ مرزا قادیانی سچے نبی نہ تھے اور یہ ان کی پیش گوئیاں خدا کی طرف سے نہ تھیں، کیونکہ: ”اس کی باتیں نہیں ٹلتیں۔“
ناظرین! میں مرزا قادیانی کی پیش گوئیوں پر بقدر ضرورت تنقید کر چکا ہوں اور طالب رشد و ہدایت کے لئے ضروری باتیں بیان کر چکا ہوں۔ اس سے میری غرض اپنے ان بھائیوں کی اصلاح ہے جو دھوکے میں آ کر ہم سے جدا ہو چکے ہیں اور رحمۃ للعالمین کے دامن کو ناکافی سمجھتے ہوئے مرزا قادیانی کی نبوت پر ایمان لانا ضروری خیال کرتے ہیں۔ مجھے امید واثق ہے کہ اگر یہ میرے بچھڑے ہوئے بھائی تعصب کی عینک اتار کر اپنی خداداد سمجھ سے کام لے کر میرے اس مختصر رسالہ کا بغور مطالعہ فرمائیں گے تو ان کی ہدایت ایک یقینی امر ہے۔
کیونکہ میں نے نہایت متانت کے ساتھ مرزائیوں کے جذبات کا احساس کرتے ہوئے واقعیت کا اظہار کیا ہے اور عقلی و نقلی دلائل سے مرزا قادیانی کی پیش گوئیوں کو پرکھا ہے۔ اللہ تعالیٰ ان سب کو انابت الی اللہ اور استغفار کی توفیق عنایت فرمائے اور واپس دین محمدی میں لائے اور اسلام پر خاتمہ کرے۔ آمین!
مسلمانو! آپ بھی میرے اس رسالہ کا بغور مطالعہ کریں۔ انشاء اللہ اس کے مطالعہ سے آپ کے قلوب نور ایمان سے بھر پور ہو جائیں گے اور ہمیشہ کے لئے قادیانی دجل و فریب کے اثر سے محفوظ رہو گے:
تجھ کو گر ایمان پیارا ہے تو مرزائی نہ ہو
٣٤
انا خاتم النبیین لا نبی بعدی
خضری رؤ
داد
مسئلہ ختم
جناب غلام نبی
خاتم النبیین لا نبی بعدی
سب سے آخر میں جو ہے ظہور، اس کے بعد کوئی نبی نہ ہوگا ضرور
خضری روحانی مشن
اور
مسئلہ ختم نبوت
جناب غلام نبی میر ناسک رحمۃ اللہ علیہ
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
نحمده ونصلى على من قال لانبی بعدی!
کون رہبر ہو بھلا جب خضر بہکانے لگے
”پیر اں نمی پرند و مریداں می پرانند“ کی مثل تو آپ نے بارہا سنی ہوگی۔ آج اس کا صحیح مصداق ہم آپ کو بتائے دیتے ہیں اور وہ ہیں پیر دیول جو آج کل بزعم خود عالم لاہوت کی بلندیوں کی انتہا سے بھی اوپر پرواز کر رہے ہیں۔ اس بلند پروازی کے لئے پیر دیول جن شہ پروں کو کام میں لا رہے ہیں۔ اہل بصیرت پر ان کی حقیقت مخفی نہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ عالم ناسوت کے اندر بھی اپنے ترہات و ہفوات کے خلاف تقریر وتحریر کے ذریعہ مقابلہ کرنے والے علماء دین کو مرعوب کرنے کے لئے آئے دن اخبارات و ملفوظات میں وقت کے برسراقتدار اشخاص کو اپنا ارادت مند ظاہر کرتے رہتے ہیں۔
گویا پیر دیول نے ان حضرات کے اقتدار کو اپنے لئے حصن حصین تصور فرما رکھا ہے۔ لیکن حالات بتا رہے ہیں کہ یہ پیر دیول کی بھول ہے۔ حکمرانان وقت ایسے بے انصاف نہیں جیسے کہ پیر دیول نے سمجھ لئے ہیں۔ یہ کبھی نہ ہوگا کہ وہ پیر دیول کو تو کتاب وسنت کے خلاف اپنی لاف وگزاف کی نشر و اشاعت کی کھلی چھٹی دے دیں اور دوسروں کی جائز اور صحیح تنقید پر بھی پابندی لگادیں۔
ایک جمہوریت کی علمبردار صداقت کے راج میں ایسے اندھیر کا تصور بھی گناہ ہے۔ جن دانش مندوں نے ملفوظات خضری اور شجرۂ خضری کا مطالعہ کیا ہے۔ وہ پیر دیول کے مؤقف اور اس کے دعاویٰ کی حقیقت خوب جانتے ہیں۔ پیر دیول کے رویاء و کشوف اور ملفوظات آیا کسی باطل پرست محکوم اور غلامانہ ذہنیت کی غمازی کرتے ہیں یا حق پرست آزاد ذہنیت کی۔ ہمارا یقین ہے کہ اسے پیر دیول خود بھی بخوبی سمجھتے ہوں گے۔
اپنے رؤیائی نوشتہ کے مطابق پیر دیول کا یہ دعویٰ ہے کہ: ”الله رب العلمین“ اور ”محمد رحمۃ اللعلمین“ کے بعد وہ یعنی محمد عبدالمجید احمد ”امام الغلمین“ ہے۔ لیکن پیر دیول کو معلوم ہونا چاہئے کہ مسلمان علمائے حق کے متفقہ فیصلہ کے مطابق کسی زمانے کا بڑے سے
٢
بڑا ولی، غوث یا قطب بھی صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم ا امام الغلمین ہونے کا دعویٰ کرے۔ حالانکہ ایسا دعویٰ تو راشدین میں سے کسی نے نہیں کیا۔
پیر دیول کے ملفوظات کا کاتب (مرتبہ ”ولی الرسول“ بن جانے کا مدعی ہے۔ کیونکہ مخفی ٹوپی ہے۔ یہ ٹوپی بھی کسی سلیمانی ٹوپی کی قسم سے ملی ہے۔ کہیں در پردہ پیر دیول بھی رسالت کا دعویٰ کر بیٹھیں ۔ امام الغلمین ہونے کا دعویٰ اس کی ابتدائی کڑیوں میں سے ہے۔ جن لوگوں نے ”دلق ملمع“ کا مطالعہ کیا (صفحہ ١٦) پر یہ الفاظ لکھے ہوئے ہیں کہ آئندہ صفحات اگرچہ سردست نبی تو نہیں تھے ۔ لیکن شیخ عبدالقادر جیلانی رحمۃ اللہ علیہ کا ہم پایہ تو خود کو سمجھنے لگ گئے ہیں۔
قریب قریب ان چودہ صدیوں میں روحانی معجون مرکب ایرانی عجمی باطنی تحریک نے جس کا بنیادی ایسے ہزاروں افراد پیدا کئے جنہوں نے اسلام کا لبادہ دعویٰ کی آڑ میں وہ وہ ستم اسلام پر ڈھائے کہ اگر: کسی بت کدے میں بیان کروں پیر دیول کو بھی اپنی روحانیت پر بڑا ناز اور بخشوا لینے کا دعویٰ ہے۔ لیکن ہمیں اس سے بحث نہیں کہ باطنیوں کے نقش قدم پر چل کر اپنی بزرگی اور کرامات کی ہم صرف اس بیان پر تنقید کریں گے جو براہ راست طنز کر رہا ہے اور جسے کتاب وسنت کی تعلیمات پر یقین برداشت نہیں کر سکتے ۔
راولپنڈی کے روز نامہ تعمیر کی اشاعت مورخہ
٣ ٤
بڑا ولی، غوث یا قطب بھی صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی گرد پا کو نہیں پہنچ سکتا۔ چہ جائیکہ وہ امام العلمین ہونے کا دعویٰ کرے۔ حالانکہ ایسا دعویٰ کسی بڑے سے بڑے صحابی حتیٰ کہ خلفائے راشدین میں سے کسی نے نہیں کیا۔
پیر دیول کے ملفوظات کا کاتب (مرتب) مونس زبیری بھی پیر دیول کی معیت میں ”ولی الرسول“ بن جانے کا مدعی ہے۔ کیونکہ اس کے سر پر بزعم خود متعدد اولیائے کرام کی دستخطی ٹوپی ہے۔ یہ ٹوپی بھی کسی سلیمانی ٹوپی کی قسم سے ہوگی۔ لیکن یہ معلوم نہیں کہ وہ کس رسول کا ولی ہے۔ کہیں در پردہ پیر دیول بھی رسالت کا دعویٰ کرنے کی تیاری تو نہیں کر رہے؟ اگر ایسا ہے تو پھر امام العلمین ہونے کا دعویٰ اس کی ابتدائی کڑیوں میں سے ہے۔
جن لوگوں نے ”دلق ملمع“ کا مطالعہ کیا ہے۔ انہیں معلوم ہوگا کہ میں نے اس کے (صفحہ ١٦) پر یہ الفاظ لکھے ہیں کہ آئندہ صفحات میں آپ کو معلوم ہوگا کہ یہ پیر عبدالمجید بھی اگر چہ سر دست نبی تو نہیں تھے۔ لیکن شیخ عبدالقادر جیلانی علیہ الرحمۃ اور حضرت سید مخدوم علی ہجویری رحمۃ اللہ علیہ کا ہم پایہ تو خود کو سمجھنے لگ گئے ہیں۔
قریب قریب ان چودہ صدیوں میں روحانیت کا روپ دھار کر یہودیت اور مجوسیت کی معجون مرکب ایرانی عجمی باطنی تحریک نے جس کا بنیادی مقصد اسلام کی تخریب کے سوا کچھ بھی نہیں، ایسے ہزاروں افراد پیدا کئے جنہوں نے اسلام کا لبادہ اوڑھ کر حب اہلبیت اور حب رسول کے دعویٰ کی آڑ میں وہ وہ ستم اسلام پر ڈھائے کہ اگر:
پیر دیول کو بھی اپنی روحانیت پر بڑا ناز اور اپنے متبعین کو محض مرید ہونے کی بناء پر بخشوا لینے کا دعویٰ ہے۔ لیکن ہمیں اس سے بحث نہیں کیونکہ یہ پیر دیول بھی اپنے پیشرو عجم پرست باطنیوں کے نقش قدم پر چل کر اپنی بزرگی اور کرامات کا ڈھنڈورا پیٹ رہے ہیں۔ ہم تو پیر دیول کے صرف اس بیان پر تنقید کریں گے جو براہ راست ملت اسلامیہ کی جڑ پر کلہاڑے کی ضرب کا کام کر رہا ہے اور جسے کتاب وسنت کی تعلیمات پر یقین رکھنے والے مسلمان کسی حال میں بھی برداشت نہیں کر سکتے۔
راولپنڈی کے روزنامہ تعمیر کی اشاعت سہ شنبہ مورخہ ٧ نومبر ١٩٦٠ء میں پیر دیول کا
٣
ایک خطبہ بہ عنوان (اسلامی روحانی مشن) شائع ہوا ہے۔ جس میں انہوں نے ”ختم نبوت“ کے متعلق اپنے عقیدے کا اظہار کیا ہے۔ پھر یہی مضمون ”ملفوظات خضری حصہ دوم“ میں بعنوان ”اسلامی خضری روحانی مشن (ص١٢٦) پر چھپا ہے، ملاحظہ فرمائیں۔
”ایسی حالت میں منافقین اسلام نے مذہب کی دوسرے رنگ میں بنیادیں ڈالنی شروع کر دیں۔ حتیٰ کہ ختم نبوت کے مسئلہ کو بھی فرقہ وارانہ شکل میں ہوا دی گئی اور اسلام کی جامعیت کو نقصان پہنچایا گیا۔ اس کی بڑی وجہ یہ تھی کہ اسلام کو صرف ایک علمی اور کتابی چیز ہی متصور کرایا گیا۔ اس کی لچک کو اپنے اغراض نفسانی کی خاطر محجوب فرمایا گیا۔“
کیا اس عبارت کا مطلب اس کے سوا کچھ اور بھی ہو سکتا ہے کہ ١٩٥٣ء میں جن پاکستانی مسلمانوں نے ختم نبوت کی تحریک ۔ قادیانی ٹولے کو خارج از اسلام ثابت کرنے اور منوانے کے لئے چلائی تھی۔ وہ سب منافق ہیں اور انہوں نے اسلام کی جامعیت اور لچک کو نقصان پہنچایا ہے؟
معلوم ہونا چاہئے کہ حضرت محمدﷺ کی حیثیت صرف رسول اللہﷺ ہی کی نہیں بلکہ وہ خاتم النبیین بھی ہیں اور یہی وہ وصف ہے جو حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کو دیگر سابقہ انبیاء ورسل سے ممتاز کرتا ہے۔ اسی لئے ان کی رسالت پر ایمان لانے کے ساتھ ساتھ ہمیں ان کی ختم نبوت پر ایمان رکھنا بھی فرض اور ضروری ہے۔ ورنہ ہم مسلمان نہیں رہ سکتے۔ جو لوگ ختم نبوت کے اقرار و اعلان اور حفاظت کے اقدامات کو اسلام کی جامعیت اور لچک کے منافی سمجھتے ہیں۔ وہ اپنے اسلام وایمان کی خیر منائیں۔ حق پرست مسلمان باطل کی خوشنودی کے لئے ختم نبوت کے اقرار واعلان سے دست بردار نہیں ہو سکتے۔ جیسا کہ آئندہ سطور میں یہ حقیقت آپ پر واضح ہو جائے گی۔
دنیا جانتی ہے اور تواریخ اسلامیہ میں یہ بات بالکل صاف اور واضح ہے کہ حضرت محمدﷺ کی زندگی ہی میں عرب کے مختلف نقاط میں اسود عنسی، مسیلمہ کذاب اور ذوالتاج لقیط وغیرہ اشخاص نے جن کو متعدد قبیلوں اور ہزاروں لوگوں کی معیت حاصل تھی۔ جب نبی ہونے کا دعویٰ کیا تھا تو حضرت محمدﷺ نے اسی وقت ان کے کاذب اور دجال ہونے کا اعلان فرما دیا تھا اور مسیلمہ کے خط کے جواب میں اس کے نام کے ساتھ کذاب کا لفظ لکھا۔ جو اس کے نام کا جزو بن کر رہ گیا۔ کیا حضور علیہ السلام پر یہ حقیقت منکشف نہ ہوئی تھی کہ ایسا لکھنے سے یہ لوگ دائرہ اسلام سے خارج ہو جائیں گے اور اسلام کی لچک کو نقصان پہنچے گا؟ پھر یہی نہیں بلکہ اسی وقت ان مرتدین کے مقابل
٤
کارروائی کرنے کا ارادہ کیا۔ لیکن جب اسی اثناء میں حضورﷺ اپنے رفیق اعلیٰ سے جاملے تو ان کے اولین جانشین خلیفہ حضرت ابوبکر صدیق نے ان نبوت کاذبہ کے دعوے داروں کے مقابل زبردست لشکر روانہ کئے۔ جن کی کمان حضرت خالد بن ولید اور عکرمہ جیسے بہادر صحابہ کے ہاتھوں میں تھی۔ پھر ان جنگوں میں ہزاروں کی تعداد میں جو مرتدین قتل ہوئے کیا اس سے اسلام کی جامعیت کو نقصان پہنچا؟
اسود عنسی مارا گیا اور یمن کے علاقہ میں اس کے ہزاروں مددگار قتل کئے گئے۔ عمان میں ذوالتاج لقیط بن مالک ازدی نبوت کاذبہ کا دعویدار اپنے ہزار ساتھیوں سمیت قتل ہوا۔ مسیلمہ کذاب اور اس کے ساتھ جنگ یمامہ میں چالیس ہزار کے لگ بھگ مرتد قتل ہوئے اور وہ باغ جس کا نام حدیقۃ الرحمٰن تھا اور جس میں مسیلمہ کذاب اپنے ساتھیوں سمیت محصور ہو گیا تھا اور بعد میں یہ سب کے سب اسی جگہ قتل ہوئے۔ مقتول مرتدین کی کثرت سے حدیقۃ الموت کے نام سے مشہور ہو گیا۔ کیا حضرت صدیق اکبرؓ، رسول اللہﷺ کے یار غار اور ان کے ساتھ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نہیں جانتے تھے کہ اس طرح ہزاروں مرتدین کو محض ختم نبوت کے مسئلہ کی بناء پر خارج از اسلام قرار دینے اور قتل کرنے سے اسلام کی جامعیت کو نقصان پہنچے گا اور اس کی لچک ختم ہو جائے گی؟ کیا خیر القرون کے یہ مسلمان صحابی منافق تھے؟ کیا انہوں نے اپنی اغراض نفسانی کی بناء پر ختم نبوت کے منکرین کو خارج از اسلام اور واجب القتل سمجھا تھا؟ یا آج کا یہ پیر دیول جو امام العالمین ہونے کا مدعی ہے۔ اسلام کی جامعیت اور لچک کی حقیقت کو حضرت محمدﷺ اور ان کے جانشین خلفائے راشدین سے زیادہ سمجھتا ہے؟
کار مرداں روشنی و گرمی است کار دوناں حیلہ و بے شرمی است
شیر پشمیں از برائے کد کنند بو مسیلمہ را لقب احمد کنند
بومسیلمہ را لقب کذاب ماند مر محمد را اولوالالباب ماند
ختم نبوت کا مسئلہ کسی فرد واحد یا کسی ایک آدھ سیاسی یا مذہبی جماعت کا مسئلہ نہیں۔ بلکہ یہ اسلام کا ایک بنیادی اور مرکزی مسئلہ ہے۔ جس پر تمام صحابہ، تابعین، تبع تابعین، محدثین، ائمہ فقہاء، علماء حق، اولیاء الرحمٰن کا اتفاق رہا ہے۔ صحابہ کرام کے زمانہ کے بعد بھی عرب یا عجم میں جہاں کہیں بھی کسی نے نبوت کا دعویٰ کیا۔ اسے اور اس کے پیروکاروں کو وہی سزا دی گئی جو مسیلمہ
٥
کذاب اور اس کے ساتھیوں کو ایران میں بابی اور بہائی مذہب کا جو حشر ہوا یہ کل کی بات ہے۔ ان لوگوں کے تاریخی حالات اٹھا کر دیکھئے یہ بھی شروع شروع میں روحانیت کے علمبردار بن کر آئے۔ جب ذرا جمعیت حاصل ہوئی تو حصول اقتدار کی خاطر حکومت کے خواب دیکھنے لگے۔ حسن بن صباح اور اس کے فرقہ کی اسلام کش کوششوں سے کون واقف نہیں۔ تاریخ بتاتی ہے کہ اس قسم کے مدعی تمام کے تمام دنیا کے جاہ و جلال اور اقتدار کے بھوکے تھے۔ انہوں نے اسلام اور روحانیت کا نام صرف حصول اغراض کے لئے اپنایا۔ ورنہ حقیقت میں وہ اول درجہ کے بے دین اور نفس پرست تھے۔
یہ اللہ تعالیٰ کا ملت اسلامیہ پر بڑا احسان ہے کہ جب بھی ایسے افراد پیدا ہوئے۔ ان کی ریا کاری کا پردہ باوجود ان کی ظاہر داری کے ان کے اپنے ہی اقوال وافعال سے چاک ہورہا ہے۔ ایسے لوگوں کی تقریریں اور تحریریں ہمیشہ ہی تضاد کی حامل رہی ہیں اور یہ تضاد ہی ان کی اندرونی منافقت اور ریا کاری پر دلالت کرتا رہا ہے۔ اس کے مقابل علماء حق کی تحریر وتقریر ہمیشہ سادگی اور حقیقت کی آئینہ دار رہی ہے۔ ان کے ہاں دعوؤں کی بجائے عجز وانکسار کا اظہار ہوتا ہے۔ وہ: ’’مکذبین اولی النعمة (مزمل:١١)‘‘ سے دور بھاگتے ہیں اور اپنے قول وفعل سے کبھی بھی ان کی تائید یا تعریف نہیں کرتے۔ کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ قانون الٰہی کی توڑ پھوڑ، تکذیب کرنے والوں کے مداح اولیاء الرحمٰن ہی نہیں۔ بلکہ اولیاء الشیطان ہوتے ہیں۔ جو اپنے مباحثین اور ارادت مندوں کو اسلام کی سیدھی اور نورانی راہ سے ہٹا کر الحاد و ارتداد کی تاریک راہوں کی طرف لے جاتے ہیں۔ وہ منہ سے تو خدا کا نام لیتے ہیں۔ لیکن در پردہ لوگوں سے اپنی عبادت چاہتے ہیں۔ وہ خود کو حاجت روا اور مشکل کشا کی صورت میں لوگوں کے سامنے پیش کرتے ہیں۔
رہزناں اندر لباس رہبراں
(مؤلف)
افسوس صد افسوس! کہ آج مسلمان قرآن و حدیث کی تعلیمات سے بے بہرہ ہوچکا ہے۔ ورنہ ان عیاروں کے ہتھے نہ چڑھتا۔ اگر یہ لوگ قرآن کی کوئی آیت یا حدیث کی کوئی عبارت کبھی اپنے ارادتمندوں کے سامنے پڑھیں بھی تو اس کی تاویل ہی کچھ عجیب و غریب کرتے ہیں۔ ایسے ہی علماء سُوء اور ادعیاء باطلین کے متعلق علامہ اقبال نے فرمایا:
٦
کہ پیغام
ولے تاویل شان در
خدا وجبرئیل
ان حیدری لباس میں ملبوس مفتریوں کی کشوف اور کرامات پر ہوتا ہے۔ اسی لئے سادہ لوح لو اور آج کل تو ہر باطل پرست اور عیار اپنے تمام کاموں ہے۔ ایسے لوگوں کی جوان عیاروں کے مرید ہوتے آپ دیکھیں گے کہ وہ تمام تر کرامات کے مبالغہ آمیز کا ان سے کوئی ایسا تعلق نہیں۔
کسی بزرگ کی مجلس میں اس کے چند م کر رہے تھے۔ ایک نے کہا کہ فلاں بزرگ بڑا ص ہے۔ دوسرے نے دوسرے کے متعلق کہا کہ وہ پان کے متعلق کہا کہ وہ چشم زدن میں ایک شہر سے دوسر نے ، جو بڑے با کمال تھے ، مسکرا کر فرمایا اس میں اڑتے ہیں۔ انسان اڑا تو کیا کمال حاصل کر لیا ؟ آن میں مشرق سے مغرب تک پہنچ جاتا ہے۔ انسا میں پڑتی ہے محنت زیادہ۔
دجال کے متعلق آپ نے سنا ہوگا کہ دے گا اور جسے مار کر زندہ کرے گا۔ وہی شخص اس کے ہمارے نبی کریم ﷺ نے دجال کی یہ نشانی بتائی تھی کا نام ہے۔ کشف و کرامات کا نہیں اور کشف و کراما کے شعبدوں اور جوگیوں کے استدراج کو بھی کرامت کو صاحب ولایت ہی پہچان سکتا ہے۔ سنا نہیں ”ولی
٧
کہ پیغام خدا گفتند مارا
ولے تاویل شان در حیرت انداخت
خدا و جبرئیل و مصطفیٰ را
ان حیدری لباس میں ملبوس مفتریوں کی پیشوائی کا تمام تر سہارا من گھڑت رویاء و کشوف اور کرامات پر ہوتا ہے۔ اسی لئے سادہ لوح لوگ خصوصاً عورتیں ان کی زیادہ شکار ہوتی ہیں اور آج کل تو ہر باطل پرست اور عیار اپنے تمام کاموں کی تکمیل کے لئے عورت ہی کو استعمال کر رہا ہے۔ ایسے لوگوں کی جو ان عیاروں کے مرید ہوتے ہیں۔ اگر کبھی آپ کو باتیں سننے کا اتفاق ہو تو آپ دیکھیں گے کہ وہ تمام تر کرامات کے مبالغہ آمیز قصے ہوں گے۔ حالانکہ ولایت و اتباع سنت کا ان سے کوئی ایسا تعلق نہیں۔
کسی بزرگ کی مجلس میں اس کے چند مرید بعض لوگوں کی کرامات کے متعلق باتیں کر رہے تھے۔ ایک نے کہا کہ فلاں بزرگ بڑا صاحب کرامت ہے۔ کیونکہ وہ ہوا میں اڑتا ہے۔ دوسرے نے دوسرے کے متعلق کہا کہ وہ پانی پر چلتا ہے۔ تیسرے نے ایک اور بزرگ کے متعلق کہا کہ وہ چشم زدن میں ایک شہر سے دوسرے شہر میں جا پہنچتا ہے۔ ان کے بزرگ پیشوا نے، جو بڑے باکمال تھے، مسکرا کر فرمایا اس میں کون سی برتری ہے۔ پرندے بھی ہوا میں اڑتے ہیں۔ انسان اڑا تو کیا کمال حاصل کر لیا؟ حیوان بھی پانی پر چلتے ہیں اور شیطان تو ایک آن میں مشرق سے مغرب تک پہنچ جاتا ہے۔ انسان بنو کہ انسان بننا ہی اصل کمال ہے۔ مگر اس میں پڑتی ہے محنت زیادہ۔
دجال کے متعلق آپ نے سنا ہو گا کہ اسے یہ قدرت ہوگی کہ انسان کو مار کر زندہ کر دے گا اور جسے مار کر زندہ کرے گا۔ وہی شخص اس کے دجال ہونے کی شہادت دے گا اور کہے گا کہ ہمارے نبی کریم ﷺ نے دجال کی یہ نشانی بتائی تھی۔ مطلب یہ کہ اسلام عمل بالقرآن واتباع سنت کا نام ہے۔ کشف و کرامات کا نہیں اور کشف و کرامات کو سمجھنے والا بھی کون۔ آج تو لوگ مداریوں کے شعبدوں اور جوگیوں کے استدراج کو بھی کرامت اور معجزہ کہہ دیتے ہیں۔ عالم کو علم والا اور ولی کو صاحب ولایت ہی پہچان سکتا ہے۔ سنا نہیں ”ولی را ولی می شناسد“
٧
لیکن آج عالم یا ولی وہ ہے جسے جاہلوں، فاسقوں، فاجروں، چوروں، رہزنوں، دنیا پرستوں کی حمایت حاصل ہو۔ اقبال نے کیا خوب کہا ہے:
کہ در تاراج دل ہا سخت کوش اند
گراں قیمت گناہے را پشیزے
کہ ایں سوداگراں ارزاں فروش اند
زفہم دوں نہاں گر چہ دور است
ولے ایں نکتہ را گفتن ضرور است
بہ ایں نوزادہ ابلیساں نبازد
گنہگارے کہ طبع او غیور است
مسئلہ تو ختم نبوت کا تھا اور میں کہیں کا کہیں آ پہنچا۔ بہر حال ظاہر ہے کہ اس ختم نبوت کے مسئلہ میں شک پیدا کرنے کے خواہش مند وہی لوگ ہوتے ہیں۔ جو اپنے مستقبل کے دعوؤں کے لئے کسی غرض کی خاطر زمین ہموار کرتے ہیں۔ مرزا قادیانی نے بھی نبی بننے کے دعوے سے پہلے مہدی، مجدد اور خدا جانے کیا کیا دعوے کئے تھے۔ اسی طرح پیر دیولی بھی غوث زماں اور قطب دوراں کے دعوؤں سے امام العالمین کے دعوٰی تک پہنچ ہی گئے ہیں۔
خدا بخشے اکبر الہ آبادی کو، کیا پتے کی بات کہہ گئے:
انا الحق کہو اور پھانسی نہ پاؤ
مسلمانوں کو معلوم ہونا چاہئے کہ جس طرح اگلی امتوں پر یہ فرض تھا کہ اپنی آئندہ نسل کو نبی وقت پر ایمان لانے کے ساتھ ساتھ آنے والے نبی کی بشارت کے ساتھ اس پر بھی ایمان لانے کی تلقین کر جایا کرتے۔ اسی طرح آج مسلمانوں پر فرض ہے کہ اپنی موجودہ نسل کے ذہن
نیز ابراہیم ہوں نسلیں ہیں میری بے شمار
(براہین احمدیہ حصہ پنجم ص ١٠٣، خزائن ج ٢١ ص ١٣٣)
٨
نشین یہ بات کر دیں کہ حضرت محمدﷺ اللہ کے آخری نبی ہیں۔ جو نبی ہونے کا دعویٰ کرے وہ دجال وکذاب ہو گا۔ ورنہ تم مسلمان نہیں رہو گے اور جو شخص اس امر اسلام اور ایمان کی نسبت الحاد و ارتداد کے زیادہ قریب ہے
یہ جہاں چیز ہے کیا لوح و قلم تیرے ہیں
مسئلہ ختم نبوت کی مزید وضاحت کے لئے رسول اللہﷺ اور اقوال مفسرین ملاحظہ فرماویں۔ یہ مولانا بدر عالم صاحب سے لئے گئے ہیں۔ اللہ تعالیٰ
ما كان محمد ابا احد من رجالكم ولكن رسول الله وخاتم النبيين وكان الله بكل شئى عليما (الاحزاب : ٤٠) ”یعنی اب تک معلوم ہوا کہ آپ رسول اللہ ہونے کے علاوہ خاتم النبیین بھی ہیں اس لئے دو باتوں کا تصور ضروری ہے۔ وہ یہ کہ آپ رسول اللہ ہیں آپ کے متعلق صرف رسول اللہ کا تصور آپ کی خاتمیت کے تصورات میں آپ کا امتیازی تصور خاتم النبیین ہونے کا ہے جو بدیہی مسائل میں داخل ہے۔ جن کا علم سب پر واضح ہے گنجائش نہیں۔ حافظ ابن کثیرؒ (ج ٦ ص ٣٨٢) میں فرماتے ہیں:
”وقد اخبر الله تبارك وتعالیٰ فى كتابه ورسوله فى سنته المتواترة عنه انه لا نبى بعده ليعلموا ان كل من ادعى هذا فهو افاك، دجال، ضال مضل“ یعنی اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں اور رسول اللہﷺ نے احادیث متواترہ میں ختم نبوت کا اعلان اس لئے کیا ہے کہ جو شخص بھی اس منصب کا دعویٰ کرے گا وہ جھوٹا، مفتری، دجال و گمراہ کرنے والا ہے۔ علماء محققین لکھتے ہیں کہ ختم نبوت کے بعد جو شخص نبی یا رسول بن کر آ جائے کہ اب یہ پیغمبر آخری پیغمبر ہے اور یہ دین آخری ہے اور اس کے بعد دنیا کی بستی اجڑنے والی ہے۔ جیسا کہ کوئی دکاندار کہے کہ اب میں دکان بڑھاتا ہوں۔ جسے جو سودا لینا ہے لے لے
نشین یہ بات کر لیں کہ حضرت محمد ﷺ اللہ کے آخری رسول اور آخری نبی ہیں۔ ان کے بعد کوئی نبی نہیں۔ جو نبی ہونے کا دعویٰ کرے وہ دجال و کذاب ہوگا اور تم پر اس کی تردید و تکذیب فرض ہوگی۔ ورنہ تم مسلمان نہیں رہو گے اور جو شخص اس مسئلہ میں لچک پیدا کرنے کی کوشش کرے۔ وہ اسلام اور ایمان کی نسبت الحاد و ارتداد کے زیادہ قریب ہے۔ اس سے بچنا واجب و لازم ہے۔
یہ جہاں چیز ہے کیا لوح و قلم تیرے ہیں
مسئلہ ختم نبوت کی مزید وضاحت کے لئے ذیل میں آیات کتاب اللہ اور احادیث رسول اللہ ﷺ اور اقوال مفسرین ملاحظہ فرمادیں۔ جن کے اقتباسات ترجمان السنہ جلد اول تالیف مولانا بدرعالم صاحب سے لئے گئے ہیں۔ اللہ تعالیٰ سورۃ احزاب میں فرماتے ہیں: ”ما كان محمد ابا احد من رجالكم ولكن رسول الله وخاتم النبيين وكان الله بكل شئ علیما (الاحزاب: ٤٠)“ یعنی اب تک جتنے رسول آئے ہیں وہ صرف رسول تھے۔ آپ رسول اللہ ہونے کے علاوہ خاتم النبیین بھی ہیں۔ اس بناء پر آنحضرت ﷺ کے تصور کے لئے دو باتوں کا تصور ضروری ہے۔ وہ یہ کہ آپ رسول اللہ ہیں اور یہ کہ آپ خاتم النبیین بھی ہیں۔ آپ کے متعلق صرف رسول اللہ کا تصور آپ کی ذات کا ادھورا اور ناتمام تصور ہے۔ بلکہ ان ہر دو تصورات میں آپ کا امتیازی تصور خاتم النبیین ہی ہے۔ ختم نبوت بھی اسلام کے ان بنیادی اور بدیہی مسائل میں داخل ہے۔ جن کا علم سب پر فرض ہے اور جن میں اب کسی تبدیلی و ترمیم کی گنجائش نہیں۔ حافظ ابن کثیرؒ (ج٣ص٣٨٤) میں فرماتے ہیں:
”وقد اخبر الله تبارك وتعالى في كتابه ورسوله ﷺ في السنة المتواترة عنه انه لا نبي بعده ليعلموا ان كل من ادعى هذا المقام فهو كذاب افاك، دجال، ضال مضل “ یعنی اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب (قرآن) میں اور اس کے رسول نے احادیث متواترہ میں ختم نبوت کا اعلان اس لئے فرمایا ہے تاکہ معلوم ہو جائے کہ جو شخص اب اس منصب کا دعویٰ کرے گا وہ جھوٹا ، مفتری ، دجال اور پرلے درجے کا گمراہ ہوگا۔
علماء محققین لکھتے ہیں کہ ختم نبوت کے اعلان میں ایک حکمت یہ بھی ہے کہ دنیا متنبہ ہو جائے کہ اب یہ پیغمبر آخری پیغمبر ہے اور یہ دین آخری دین ہے۔ جس کو حاصل کرنا ہے کرلے۔ اس کے بعد دنیا کی پیٹھ اجڑنے والی ہے۔ جیسا شام کے وقت ایک دکاندار اعلان کرتا ہے کہ اب میں دکان بڑھاتا ہوں۔ جسے جو سودا لینا ہے لے لے۔ یا جیسا ایک حاکم بوقت رخصت آخری
٩
اسپیچ دیتا ہے اور کہتا ہے کہ میری تم سے اب یہ آخری ملاقات ہے۔ جو کہتا ہوں خوب غور سے سن لو۔ اسی طرح خالق زمین و زماں کو جو آخری ہدایات دینا تھیں۔ وہ آنحضرت ﷺ کی معرفت دے دیں اور اعلان کر دیا کہ اب یہ رسول آخری رسول ہے۔
ایمانیات، اخلاقیات، معیشت، تمدن کے سب اصول مکمل کر دیئے گئے۔ اس لئے یہ دین آخری دین ہے۔ جسے جو عمل کرنا ہے کر لے۔ حیل و حجت کا وقت نہیں رہا۔ بحث و جدل کی بجائے عمل کی فرصت نکالنی چاہئے۔ وقت تھوڑا رہ گیا ہے اور حساب کی ذمہ داری سر پر ہے۔
”اقترب للناس حسابهم وهم فی غفلة معرضون (الانبیاء: ١)“ ﴾ لوگوں کے حساب کتاب کی گھڑی قریب آ پہنچی اور وہ غفلت میں منہ موڑے چلے جارہے ہیں۔ ﴿
پیش کر غافل عمل کوئی اگر دفتر میں ہے
اب نہ کوئی رسول آئے گا، نہ نبی، نہ تشریعی نہ غیر تشریعی، نہ ظلی نہ بروزی مگر اس معنی سے نہیں کہ آئندہ نفوس انسانیہ کو کمال و تکمیل سے محروم کر دیا ہے۔ بلکہ اس معنی سے کہ اب یہ منصب ہی ختم ہو گیا ہے۔ پہلے عالم کی عمر میں بہت وسعت تھی اور اس منصب پر تقرر کی گنجائش بھی کافی تھی۔ اس لئے انبیاء علیہم السلام برابر آتے رہے۔ اب دنیا کی عمر ہی اتنی باقی نہیں رہی کہ اس میں اور تقرر کی گنجائش ہوتی۔ اس لئے اس کے خاتمہ پر آپ ﷺ کو بھیج کر یہ اعلان کر دیا گیا ہے کہ اب نبی نہیں آئیں گے۔ قیامت آئے گی۔
چونکہ سنت الٰہیہ یہ ہے کہ جب وہ کسی چیز کو ختم فرمانے کا ارادہ کرتا ہے تو کامل ہی ختم کر دیتا ہے۔ ناقص ختم نہیں کرتا۔ نبوت بھی اب اپنے کمال کو پہنچ چکی تھی۔ اس لئے مقدر یوں ہوا کہ اس کو بھی ختم کر دیا جائے۔ اس کی تفصیل یہ ہے کہ جب تم فطرت عالم پر غور کرو گے تو تم کو جزو کل میں ایک حرکت نظر آئے گی۔ ہر حرکت ایک ارتقاء اور کمال کی متلاشی ہوتی ہے۔ پھر ایک حد پر پہنچ کر یہ حرکت ختم ہو جاتی ہے اور جہاں ختم ہوتی ہے۔ وہی اس کا نقطہ کمال کہا جاتا ہے۔ انواع پر نظر ڈالئے تو جمادات سے نباتات اور نباتات سے حیوانات پھر حیوانات سے انسان کی طرف ایک ارتقائی حرکت نظر آ رہی ہے۔
مگر انسان پر پہنچ کر یہ ارتقائی حرکت ختم ہو جاتی ہے۔ اس لئے کہا جاتا ہے کہ انسان تمام انواع میں کامل تر نوع ہے۔ یہی تدریج عالم نبوت میں بھی نمایاں ہے۔ حضرت آدم علیہ السلام سے لے کر تمام شریعتوں پر نظر ڈالئے تو آپ کو معلوم ہوگا کہ تمام نبوتیں کسی ایک کمال کی
١٠
٧
طرف متحرک ہیں۔ ہر پچھلی شریعت پہلے سے نسبتاً اصول کے مطابق ضروری ہے کہ یہ حرکت بھی کسی لیکن جب نبوت ہمارے ادراک سے بالا تر حقیقت ادنیٰ ہماری پرواز سے باہر ہونا چاہئے۔
اس لئے ضروری ہوا کہ قدرت خود ہ دے کہ نبوت کا ارتقاء جہاں ختم ہوا ہے، وہ مرکز ہے۔ اس لئے ..... قرآن مجید میں: ”ولکن ر ہے: ”وكان الله بكل شیء علیما (احزاب یہ جانتا ہے کہ نبیوں میں خاتم النبیین اور آخری کو تم معلوم کر سکو کہ اس کے رسولوں کی مجموعی تعداد کتن
اگر اسے عالم کا بقاء اور منظور ہوتا تو ش کر دیتا۔ لیکن چونکہ دنیا کی اجل مقدر پوری ہو اینٹ بھی لگا دی جائے اور اعلان کر دیا جائے کہ ہے۔ نبوت نے اپنا مقصد پا لیا ہے۔ آپ ﷺ بہ
قرآن کریم سے ثابت ہے کہ نبوت کوئی کمال منتظر اس کے لئے باقی نہیں رہا۔ اس ب چاہئے: ”الیوم اکملت لکم دینکم واتمم دینا (مائدہ: ٣)“ ﴾ یعنی تمہارا دین کمال کو پہنچ چکی ہے۔ ﴿ اب آئندہ اس سے زیادہ اس کے ق لئے دین اسلام کو پسند کر چکی ہے۔ اس لئے کوئی د
عربی زبان میں کمال و تمام دونوں لفظ کمال اوصاف خارجیہ کے نقصان کے مقابلہ میں انسان کا ایک ہاتھ نہ ہو تو وہ ناقص ہے۔ یعنی اس کیوں نہ ہو اور اگر اسکے اعضاء پورے ہیں۔ مگر م درشت و ناہموار ہیں تو اس کو بجائے ناتمام کے نا
طرف متحرک ہیں۔ ہر پچھلی شریعت پہلے سے نسبتاً ارتقائی شکل میں نظر آتی ہے۔ اس لئے اس طبعی اصول کے مطابق ضروری ہے کہ یہ حرکت بھی کسی نقطہ پر جا کر ختم ہو۔ جس کو اس کا کمال کہا جائے۔ لیکن جب نبوت ہمارے ادراک سے بالاتر حقیقت ہے تو اس کے آخری نقطہ کمال کا ادراک بدرجہ اولیٰ ہماری پرواز سے باہر ہونا چاہئے۔
اس لئے ضروری ہوا کہ قدرت خود ہی اس کا تکفل فرمائے اور خود ہی اس کا اعلان کر دے کہ نبوت کا ارتقاء جہاں ختم ہوا ہے، وہ مرکزی اور کامل ہستی آنحضرت ﷺ کی مبارک ہستی ہے۔ اس لئے..... قرآن مجید میں: ”ولکن رسول اللہ وخاتم النبیین“ کے بعد فرمایا ہے: ”وکان اللہ بکل شیء علیما (احزاب:٤٠)“ یعنی اللہ تعالیٰ ہی کو ہر چیز کا علم ہے۔ وہی یہ جانتا ہے کہ نبیوں میں خاتم النبیین اور آخری کون ہے۔ یہ بات تمہاری دریافت سے باہر ہے کہ تم معلوم کر سکو کہ اس کے رسولوں کی مجموعی تعداد کتنی ہے۔ ان میں اول کون ہے اور آخر کون؟
اگر اسے عالم کا بقاء اور منظور ہوتا تو شاید وہ آپ کی آمد ابھی کچھ دن کے لئے اور مؤخر کردیتا۔ لیکن چونکہ دنیا کی اجل مقدر پوری ہوچکی تھی۔ اس لئے ضروری تھا کہ نبوت کی آخری اینٹ بھی لگا دی جائے اور اعلان کر دیا جائے کہ دنیا کی عمر کے ساتھ قصر نبوت کی بھی تکمیل ہوگئی ہے۔ نبوت نے اپنا مقصد پالیا ہے۔ آپ ﷺ کے بعد اب کوئی رسول نہیں آئے گا۔
قرآن کریم سے ثابت ہے کہ نبوت اب اپنے ارتقائی کمال کو پہنچ چکی ہے۔ اب اور کوئی کمال منتظر اس کے لئے باقی نہیں رہا۔ اس لئے اس فطری اصول کے مطابق اسے ختم ہو جانا چاہئے: ”الیوم اکملت لکم دینکم واتممت علیکم نعمتی ورضیت لکم الاسلام دینا (مائدہ:٣)“ یعنی تمہارا دین کمال کو پہنچ چکا ہے۔ اب ناقص نہ ہوگا۔ خدا کی نعمت پوری ہو چکی ہے۔ اب آئندہ اس سے زیادہ اس کے تمام کی توقع غلط ہے اور نظر ربوبیت اب ہمیشہ کے لئے دین اسلام کو پسند کرچکی ہے۔ اس لئے کوئی دین اس کا ناسخ بھی نہیں آئے گا۔
عربی زبان میں کمال و تمام دونوں لفظ نقصان کے مقابل ہیں۔ ان میں فرق یہ ہے کہ کمال اوصاف خارجیہ کے نقصان کے مقابلہ میں بولا جاتا ہے اور تمام اجزاء کے لحاظ سے مثلاً اگر انسان کا ایک ہاتھ نہ ہو تو وہ ناقص ہے۔ یعنی اسے ناتمام انسان کہا جائے گا۔ خواہ کتنا ہی حسین کیوں نہ ہو اور اگر اسکے اعضاء پورے ہیں۔ مگر صورت اچھی نہیں، اخلاق نادرست ہیں۔ خصائل درشت و ناہموار ہیں تو اس کو بجائے ناتمام کے نامکمل انسان کہا جائے گا۔
11
اب قارئین کرام سمجھ گئے ہوں گے کہ ختم نبوت اور یہ کہ اس کی حفاظت کے اقدامات نبی کریم ﷺ کی زندگی صحابہ نے اس کی خاطر اپنی جانیں دیں اور ہزاروں مرتدوں اس مسئلہ کی حفاظت کے لئے علماء اسلام نے جو کچھ کیا وہ کتا السلام اور صحابہ کی تقلید میں کیا۔ ہندوستان میں مرزا غلام احمد تحریر و تقریر سے اس کا رد کرتے رہے۔ لیکن حکومت برطانیہ پودا پھلتا پھولتا رہا۔
پھر حضرت علامہ انور شاہ صاحب کشمیریؒ نے انتظام کیا۔ ان کی بصیرت نے دنیا کی دو عظیم شخصیات کو چنا بخاری مدظلہ العالیٰ جو دنیا کے بے مثال خطیب ہیں اور دوسر حکیم مشرق تسلیم کیا ہے اور جو بقول پاکستانی مسلمانوں کے ایک نے خطابت کے ذریعے اور دوسرے نے شاعری کے ذ کی اور سب سے پہلے انگریز سے قادیانی جماعت کو مسلمانوں علامہ اقبال نے کیا اور جن کی تفصیلات اس وقت اخبار سٹیٹس اردو ترجمہ حرف اقبال نامی کتاب میں بعنوان ”اسلام اور قادی یہاں اس تحریر کے چند اقتباسات درج کئے جا مرحوم نے قادیانی تحریک کے ختم نبوت کے مسئلہ سے انکار کو سے نتائج بھانپے جن کی بناء پر انہوں نے اس گروہ کو مسلمانو بلند کیا۔ کیا اس نعرہ کے بلند کرنے میں بقول پنڈت نہرو علامہ ا منافق تھے؟ اگر نہیں تو پھر انہوں نے اسلام کی جامعیت کو نقص کیوں ٹھانی؟ اس کے لئے ذیل میں علامہ اقبال مرحوم فرمائیں۔ اسلام اور دیگر مذاہب کے فرق کے متعلق اقبال لکھ
”ہندوستان کی سرزمین پر بے شمار مذاہب بستے مذاہب کی نسبت زیادہ گہرا ہے۔ کیونکہ ان مذاہب کی بنیاد نسلی، اسلام نسلی تخیل کی سراسر نفی کرتا ہے اور اپنی بنیاد محض مذہبی صرف دینی ہے۔ اس لئے وہ سراپا روحانیت ہے اور خونی رش
١٣
اب قارئین کرام سمجھ گئے ہوں گے کہ ختم نبوت کے مسئلہ کی اسلام میں کیا اہمیت ہے اور یہ کہ اس کی حفاظت کے اقدامات نبی کریم ﷺ کی زندگی میں ہی شروع ہوگئے تھے اور ہزاروں صحابہ نے اس کی خاطر اپنی جانیں دیں اور ہزاروں مرتدوں کو جہنم واصل کیا۔ تب سے اب تک اس مسئلہ کی حفاظت کے لئے علماء اسلام نے جو کچھ کیا وہ کتاب وسنت کی روشنی میں اور پیغمبر علیہ السلام اور صحابہ کی تقلید میں کیا۔ ہندوستان میں مرزا غلام احمد قادیانی کے دعویٰ نبوت کے بعد علماء تحریر و تقریر سے اس کا رد کرتے رہے۔ لیکن حکومت برطانیہ کی پشت پناہی سے اس کا یہ خودکاشتہ پودا پھلتا پھولتا رہا۔
پھر حضرت علامہ انور شاہ صاحب کشمیریؒ نے شدت کے ساتھ اس کی مدافعت کا انتظام کیا۔ ان کی بصیرت نے دنیا کی دو عظیم شخصیات کو چنا۔ ایک امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاری مدظلہ العالیٰ جو دنیا کے بے مثال خطیب ہیں اور دوسرے علامہ اقبال مرحوم، جن کو دنیا نے حکیم مشرق تسلیم کیا ہے اور جو بقول پاکستانی مسلمانوں کے تخیل پاکستان پیش کرنے والے تھے۔ ایک نے خطابت کے ذریعے اور دوسرے نے شاعری کے ذریعے اس نبوت کاذبہ کی تردید شروع کی اور سب سے پہلے انگریز سے قادیانی جماعت کو مسلمانوں سے الگ اقلیت قرار دینے کا مطالبہ علامہ اقبال نے کیا اور جن کی تفصیلات اس وقت اخبار سٹیٹس میں شائع ہوتی رہی اور آج بھی ان کا اردو ترجمہ حرف اقبال نامی کتاب میں بعنوان ”اسلام اور قادیانیت“ آپ ملاحظہ فرما سکتے ہیں۔
یہاں اس تحریر کے چند اقتباسات درج کئے جاتے ہیں تا کہ معلوم ہو کہ علامہ اقبال مرحوم نے قادیانی تحریک کے ختم نبوت کے مسئلہ سے انکار کو کس صورت میں دیکھا اور اس کے کون سے نتائج بھانپے جن کی بناء پر انہوں نے اس گروہ کو مسلمانوں سے الگ اقلیت قرار دینے کا نعرہ بلند کیا۔ کیا اس نعرہ کے بلند کرنے میں بقول پرویز علامہ اقبال کی کوئی نفسانی غرض تھی؟ کیا وہ بھی منافق تھے؟ اگر نہیں تو پھر انہوں نے اسلام کی جامعیت کو نقصان پہنچانے اور لچک کو ختم کرنے کی کیوں ٹھانی؟ اس کے لئے ذیل میں علامہ اقبال مرحوم کے بیانات کے اقتباسات ملاحظہ فرمائیں۔ اسلام اور دیگر مذاہب کے فرق کے متعلق اقبال لکھتے ہیں:
”ہندوستان کی سرزمین پر بے شمار مذاہب بستے ہیں۔ اسلام دینی حیثیت سے ان تمام مذاہب کی نسبت زیادہ گہرا ہے۔ کیونکہ ان مذاہب کی بنیاد کچھ حد تک مذہبی ہے اور ایک حد تک نسلی، اسلام نسلی تخیل کی سراسر نفی کرتا ہے اور اپنی بنیاد محض مذہبی تخیل پر رکھتا ہے اور چونکہ اس کی بنیاد صرف دینی ہے۔ اس لئے وہ سراپا روحانیت ہے اور خونی رشتوں سے کہیں زیادہ لطیف بھی ہے۔
١٤
اسی لئے مسلمان ان تحریکوں کے معاملہ میں زیادہ حساس ہے۔ جو اس کی وحدت کے لئے خطرناک ہیں۔ چنانچہ ہر ایسی مذہبی جماعت جو تاریخی طور پر تو اسلام سے وابستہ ہو۔ لیکن اپنی بنائی نبوت پر رکھے اور بزعم خود اپنے الہامات پر اعتقاد نہ رکھنے والے تمام مسلمانوں کو کافر سمجھے۔ مسلمان اسے اسلام کی وحدت کے لئے خطرہ تصور کرے گا اور یہ اس لئے کہ اسلامی وحدت ختم نبوت سے ہی استوار ہوتی ہے۔“
(حرف اقبال ص ١٢١، ١٢٢)
ختم نبوت کا انکار اسلام کی وحدت کو توڑنے کے مترادف ہے۔ اسی حقیقت کو علامہ اقبالؒ نے ”رموز بے خودی“ میں بعنوان ”رسالت“ یوں بیان فرمایا ہے۔
تا نہ ایں وحدت ز دست ما رود ہستی ما با ابد ہمدم شود
پس خدا بر ما شریعت ختم کرد بر رسول ما رسالت ختم کرد
لا نبی بعدی ز احسان خداست پردۂ ناموس دین مصطفیٰ است
قوم را سرمایہ قوت ازو حفظ سر وحدت ملت ازو
ترجمہ..... ہم مسلمان جو یک جان ہیں۔ انہی کا احسان ہے اور یہ (وحدت کا) موتی انہی کے اتھاہ سمندر سے ملا ہے۔ اس لئے کہ یہ وحدت ہم سے چھن نہ جائے اور ہماری ہستی ابد تک قائم رہے۔ خدا تعالیٰ نے ہم پر شریعت ختم کر دی اور ہمارے رسول ﷺ پر رسالت ختم کر دی۔ اب زمانے کی محفل کی رونق ہمارے ہی دم سے ہے۔ ان پر رسالت ختم ہے اور ہم پر قومیت۔ ”لانبی بعدی“ اللہ کا احسان ہے اور یہ عقیدہ حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کے دین کے ناموس کا پردہ ہے۔ قوم کی قوت کا سرمایہ اسی (ختم نبوت کے عقیدے) سے ہے۔ ملت کی وحدت کے راز کی حفاظت کے لئے جب مسلمان اٹھتا ہے تو نام نہاد تعلیم یافتہ مسلمان اسے رواداری سے عاری اور جاہل تصور کرتے ہیں۔
اس کے علاوہ علامہ اقبال لکھتے ہیں: ”نام نہاد تعلیم یافتہ مسلمانوں نے ختم نبوت کے تمدنی پہلو پر کبھی غور نہیں کیا اور مغربیت کی ہوا نے اسے حفظ نفس کے جذبہ سے بھی عاری کر دیا ہے۔ بعض ایسے ہی نام نہاد تعلیم یافتہ مسلمانوں نے اپنے مسلمان بھائیوں کو رواداری کا مشورہ دیا ہے۔ اس قسم کے معاملات میں جو لوگ ”رواداری“ کا نام لیتے ہیں۔ وہ لفظ رواداری کے استعمال میں بے حد غیر محتاط ہیں اور مجھے اندیشہ ہے کہ وہ لوگ اس لفظ کو بالکل نہیں سمجھتے۔ رواداری کی روح ذہن انسانی کے مختلف نقاط نظر سے پیدا ہوتی ہے۔ گبن کہتا ہے:
١٤
”ایک رواداری فلسفی کی ہوتی ہے۔ جس ہیں۔ ایک رواداری مؤرخ کی ہے۔ جس کے نزدیک رواداری مدبر کی ہے۔ جس کے نزدیک تمام مذاہب شخص کی ہے جو ہر قسم کے فکر و عمل کے طریقوں کو رواد تعلق ہوتا ہے۔ ایک رواداری کمزور آدمی کی ہے۔ ج اس کی محبوب اشیاء یا اشخاص سے روا رکھی جاتی ہے، ج یہ ایک بدیہی بات ہے کہ اس قسم کی رو کے برعکس اس شخص کے روحانی افلاس کا اظہار ہوتا ہ رواداری عقلی اور روحانی وسعت سے پیدا ہوتی ہ روحانی حیثیت سے قوی ہوتا ہے اور اپنے مذہب کی مذاہب کو روا رکھتا ہے اور ان کی قدر کر سکتا ہے ب صلاحیت رکھتا ہے۔“
پھر ختم نبوت کے اسلامی معنی اور مرزائی نبوت کے معنی بالکل سلیس ہیں۔ محمد ﷺ کے بعد جو کے جو ضمیر انسان کی گہرائیوں سے ظہور پذیر ہوتا ہ ہستی کے آگے روحانی حیثیت سے سر تسلیم خم نہ کیا ہ بیان کر سکتے ہیں کہ وہ اجتماعی اور سیاسی تنظیم جسے اسل بعد کسی ایسے الہام کا امکان ہی نہیں ہے جس سے انکا ہے۔ وہ اسلام سے غداری کرتا ہے۔ قادیانیوں ک قادیانی) ایسے الہام کا حامل تھا۔ لہٰذا وہ تمام عالم اسل استدلال یہ ہے کہ اگر کوئی دوسرا نبی نہ پیدا ہو سکے تو وہ اپنے دعویٰ کے ثبوت میں کہ پیغمبر اسلام کی روحانی ہے۔ لیکن آپ اس سے پھر دریافت کریں کہ محمد ﷺ کی صلاحیت رکھتی ہے؟ تو اس کا جواب نفی میں ہ آخری نبی نہیں بلکہ ..... میں آخری نبی ہوں۔ اس تصور نوع انسان کی تاریخ میں بالعموم اور ایشیاء کی تاری
١٥
”ایک رواداری فلسفی کی ہوتی ہے۔ جس کے نزدیک تمام مذاہب یکساں طور پر صحیح ہیں۔ ایک رواداری مؤرخ کی ہے۔ جس کے نزدیک تمام مذاہب یکساں طور پر غلط ہیں۔ ایک رواداری مدبر کی ہے۔ جس کے نزدیک تمام مذاہب یکساں طور پر مفید ہیں۔ ایک رواداری ایسے شخص کی ہے جو ہر قسم کے فکر و عمل کے طریقوں کو روا رکھتا ہے۔ کیونکہ وہ ہر قسم کے فکر و عمل سے بے تعلق ہوتا ہے۔ ایک رواداری کمزور آدمی کی ہے۔ جو محض کمزوری کی وجہ سے ہر قسم کی ذلت کو جو اس کی محبوب اشیاء یا اشخاص سے روا رکھی جاتی ہے، برداشت کر لیتا ہے۔
یہ ایک بدیہی بات ہے کہ اس قسم کی رواداری اخلاقی قدر سے معراء ہوتی ہے۔ اس کے برعکس اس شخص کے روحانی افلاس کا اظہار ہوتا ہے۔ جو ایسی رواداری کا مرتکب ہوتا ہے۔ حقیقی رواداری عقلی اور روحانی وسعت سے پیدا ہوتی ہے۔ یہ رواداری ایسے شخص کی ہوتی ہے۔ جو روحانی حیثیت سے قوی ہوتا ہے اور اپنے مذہب کی سرحدوں کی حفاظت کرتے ہوئے دوسرے مذاہب کو روا رکھتا ہے اور ان کی قدر کر سکتا ہے۔ ایک سچا مسلمان ہی اس قسم کی رواداری کی صلاحیت رکھتا ہے۔“
(حرف اقبال ص ١٤٢، ١٤٣)
پھر ختم نبوت کے اسلامی معنی اور مرزائیوں کے استدلال کے متعلق لکھتے ہیں: ”ختم نبوت کے معنی بالکل سلیس ہیں۔ محمدﷺ کے بعد جنہوں نے اپنے پیروؤں کو ایسا قانون عطاء کر کے جو ضمیر انسان کی گہرائیوں سے ظہور پذیر ہوتا ہے، آزادی کا راستہ دکھا دیا ہے اور کسی انسانی ہستی کے آگے روحانی حیثیت سے سر تسلیم خم نہ کیا جائے۔ دینیاتی نقطہ نظر سے اس نظریہ کو یوں بیان کر سکتے ہیں کہ وہ اجتماعی اور سیاسی تنظیم جسے اسلام کہتے ہیں، مکمل اور ابدی ہے۔ محمدﷺ کے بعد کسی ایسے الہام کا امکان ہی نہیں ہے جس سے انکار کفر کو مستلزم ہو۔ جو شخص ایسے الہام کا دعویٰ کرتا ہے۔ وہ اسلام سے غداری کرتا ہے۔ قادیانیوں کا اعتقاد ہے کہ تحریک احمدیت کا بانی (مرزا قادیانی) ایسے الہام کا حامل تھا۔ لہٰذا وہ تمام عالم اسلام کو کافر قرار دیتے ہیں۔ خود بانی احمدیت کا استدلال یہ ہے کہ اگر کوئی دوسرا نبی نہ پیدا ہو سکے تو پیغمبر اسلام کی روحانیت نامکمل رہ جائے گی۔ وہ اپنے دعوے کے ثبوت میں کہ پیغمبر اسلام کی روحانیت میں پیغمبر خیز قوت تھی، اپنی نبوت کو پیش کرتا ہے۔ لیکن آپ اس سے پھر دریافت کریں کہ محمدﷺ کی روحانیت ایک سے زیادہ نبی پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے؟ تو اس کا جواب نفی میں ہے۔ یہ خیال اس بات کے برابر ہے کہ محمدﷺ آخری نبی نہیں بلکہ...... میں آخری نبی ہوں۔ اس امر کے سمجھنے کی بجائے کہ ختم نبوت کا اسلامی تصور نوع انسان کی تاریخ میں بالعموم اور ایشیاء کی تاریخ میں بالخصوص کیا تہذیبی قدر رکھتا ہے، بانی
١٥
”ایک رواداری فلسفی کی ہوتی ہے۔ جس کے نزدیک تمام مذاہب یکساں طور پر صحیح ہیں۔ ایک رواداری مؤرخ کی ہے۔ جس کے نزدیک تمام مذاہب یکساں طور پر غلط ہیں۔ ایک رواداری مدبر کی ہے۔ جس کے نزدیک تمام مذاہب یکساں طور پر مفید ہیں۔ ایک رواداری ایسے شخص کی ہے جو ہر قسم کے فکر وعمل کے طریقوں کو روا رکھتا ہے۔ کیونکہ وہ ہر قسم کے فکر وعمل سے بے تعلق ہوتا ہے۔ ایک رواداری کمزور آدمی کی ہے۔ جو محض کمزوری کی وجہ سے ہر قسم کی ذلت کو جو اس کی محبوب اشیاء یا اشخاص سے روا رکھی جاتی ہے، برداشت کر لیتا ہے۔
یہ ایک بدیہی بات ہے کہ اس قسم کی رواداری اخلاقی قدر سے معراء ہوتی ہے۔ اس کے برعکس اس شخص کے روحانی افلاس کا اظہار ہوتا ہے۔ جو ایسی رواداری کا مرتکب ہوتا ہے۔ حقیقی رواداری عقلی اور روحانی وسعت سے پیدا ہوتی ہے۔ یہ رواداری ایسے شخص کی ہوتی ہے۔ جو روحانی حیثیت سے قوی ہوتا ہے اور اپنے مذہب کی سرحدوں کی حفاظت کرتے ہوئے دوسرے مذاہب کو روا رکھتا ہے اور ان کی قدر کر سکتا ہے۔ ایک سچا مسلمان ہی اس قسم کی رواداری کی صلاحیت رکھتا ہے۔“
(حرف اقبال ص ١٤٢، ١٤٣)
پھر ختم نبوت کے اسلامی معنی اور مرزائیوں کے استدلال کے متعلق لکھتے ہیں: ”ختم نبوت کے معنی بالکل سلیس ہیں۔ محمد ﷺ کے بعد جنہوں نے اپنے پیروؤں کو ایسا قانون عطاء کر کے جو ضمیر انسان کی گہرائیوں سے ظہور پذیر ہوتا ہے، آزادی کا راستہ دکھا دیا ہے اور کسی انسانی ہستی کے آگے روحانی حیثیت سے سرتسلیم خم نہ کیا جائے۔ دینیاتی نقطہ نظر سے اس نظریہ کو یوں بیان کر سکتے ہیں کہ وہ اجتماعی اور سیاسی تنظیم جسے اسلام کہتے ہیں، مکمل اور ابدی ہے۔ محمد ﷺ کے بعد کسی ایسے الہام کا امکان ہی نہیں ہے جس سے انکار کفر کو مستلزم ہو۔ جو شخص ایسے الہام کا دعویٰ کرتا ہے۔ وہ اسلام سے غداری کرتا ہے۔ قادیانیوں کا اعتقاد ہے کہ تحریک احمدیت کا بانی (مرزا قادیانی) ایسے الہام کا حامل تھا۔ لہٰذا وہ تمام عالم اسلام کو کافر قرار دیتے ہیں۔ خود بانی احمدیت کا استدلال یہ ہے کہ اگر کوئی دوسرا نبی نہ پیدا ہو سکے تو پیغمبر اسلام کی روحانیت نامکمل رہ جائے گی۔ وہ اپنے دعویٰ کے ثبوت میں کہ پیغمبر اسلام کی روحانیت میں پیغمبر خیز قوت تھی، اپنی نبوت کو پیش کرتا ہے۔ لیکن آپ اس سے پھر دریافت کریں کہ محمد ﷺ کی روحانیت ایک سے زیادہ نبی پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے؟ تو اس کا جواب نفی میں ہے۔ یہ خیال اس بات کے برابر ہے کہ محمد ﷺ آخری نبی نہیں بلکہ ..... میں آخری نبی ہوں۔ اس امر کے سمجھنے کی بجائے کہ ختم نبوت کا اسلامی تصور نوع انسان کی تاریخ میں بالعموم اور ایشیاء کی تاریخ میں بالخصوص کیا تہذیبی قدر رکھتا ہے، بانی
١٥
احمدیت کا خیال ہے کہ ختم نبوت کا تصور ان معنوں میں کہ محمد ﷺ کا کوئی پیرو نبوت کا درجہ حاصل نہیں کر سکتا۔ خود محمد ﷺ کی نبوت کو نامکمل پیش کرتا ہے۔ جب میں ”بانی احمدیت“ کی نفسیات کا مطالعہ اس کے دعویٰ نبوت کی روشنی میں کرتا ہوں تو معلوم ہوتا ہے کہ وہ اپنے دعویٰ کے ثبوت میں پیغمبر اسلام کی تخلیقی قوت کو صرف ایک نبی یعنی ”تحریک احمدیت“ کے بانی کی پیدائش تک محدود کر کے پیغمبر اسلام کے آخری نبی ہونے سے انکار کر دیتا ہے۔ اسی طرح یہ ”نیا پیغمبر“ چپکے سے اپنے روحانی مورث کی ختم نبوت پر متصرف ہو جاتا ہے۔“
(حرف اقبال ص ١٥٠، ١٥١)
انہی حقائق کے مدنظر علامہ اقبال نے اس وقت کی حکومت کے فرض کے متعلق لکھا کہ ”حکومت کو موجودہ صورت حالات پر غور کرنا چاہئے اور اس معاملہ میں جو قومی وحدت کے لئے اشد اہم ہے۔ عام مسلمانوں کی ذہنیت کا اندازہ لگانا چاہئے۔ اگر کسی قوم کی وحدت خطرے میں ہو تو اس کے لئے اس کے سوا چارہ کار نہیں رہتا کہ وہ معاندانہ قوتوں کے خلاف اپنی مدافعت کرے...... سوال پیدا ہوتا ہے کہ مدافعت کا طریقہ کیا ہے؟ اور وہ طریقہ یہی ہے کہ اصل جماعت جس شخص کو تلعب بالدین (دین کے ساتھ مذاق) کرتے پائے۔ اس کے دعاویٰ کو تحریر و تقریر کے ذریعے جھٹلائے۔ پھر کیا یہ مناسب ہے کہ اصل جماعت کو رواداری کی تلقین کی جائے۔ حالانکہ اس کی وحدت خطرے میں ہو اور باغی گروہ کو تبلیغ کی پوری اجازت ہو۔ اگرچہ وہ تبلیغ جھوٹ اور دشنام سے لبریز ہو۔“
(حرف اقبال ص ١٤٦)
پھر اس وقت کی حکومت کو اس امر میں بہترین طریق کار بتلائے اور قادیانیوں کو مسلمانوں سے الگ جماعت قرار دینے کے مشورہ پر عمل کرنے کے لئے تین باتیں بتائیں جن میں سے آخری یہ ہے کہ: ”ثالثاً..... اس امر کو سمجھنے کے لئے کسی خاص ذہانت یا غور و فکر کی ضرورت نہیں ہے کہ جب قادیانی مذہبی اور معاشرتی معاملات میں علیحدگی کی پالیسی اختیار کرتے ہیں تو پھر وہ سیاسی طور پر مسلمانوں میں شامل رہنے کے لئے کیوں مضطرب ہیں؟ علاوہ سرکاری ملازمتوں کے فوائد کے ان کی موجودہ تعداد انہیں کسی اسمبلی میں ایک نشست بھی نہیں دلا سکتی اور اس لئے انہیں سیاسی اقلیت کی حیثیت بھی نہیں مل سکتی۔ یہ واقعہ اس امر کا ثبوت ہے کہ قادیانیوں نے اپنی جدا گانہ سیاسی حیثیت کا کبھی مطالبہ نہیں کیا۔ کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ مجالس قانون ساز میں ان کی نمائندگی نہیں ہو سکتی۔ لیکن میرے خیال میں قادیانی حکومت سے کبھی علیحدگی کا مطالبہ کرنے میں پہل نہیں کریں گے۔ ملت اسلامیہ کو اس مطالبہ کا پورا حق حاصل ہے کہ قادیانیوں کو علیحدہ کر دیا جائے۔ اگر حکومت نے یہ مطالبہ تسلیم نہ کیا تو مسلمانوں کو شک گزرے گا کہ حکومت دانستہ اس نئے
١٦
مذہب کی علیحدگی میں دیر کر رہی ہے۔“
ختم نبوت سے متعلق علامہ اقبال کی مذکورہ بالا ت غور فرمائیں کہ وہ کون سے تقاضے ہیں جن کی بناء پر پیر دیو مشرق اور حکیم الامت کے القاب سے یاد کرتی ہے۔ منافقین جنہوں نے مدعیان نبوت اور ختم نبوت کے انکاری گروہ ع جہاد کیا، اور انہیں کسی قسم کی رعایت نہ دی، شمار کرنے لگیں تو سرور دو عالم ﷺ حضرت ابوبکرؓ کا نام نامی واسم گرامی ہے۔ کو اس کے چالیس ہزار مرتد سپاہیوں سمیت حدیقۃ الموت م
مرزائیت کے متعلق میری جو بات چیت پیر دیو نے ”دہلی مجمع“ میں شائع کر دی تھی۔ وہ بھی یہاں نقل کئے د مؤقف صحیح صحیح معلوم ہو جائے۔
”میں نے پھر کہا اچھا بتائیے آپ لوگ ”علم غی غلط مسائل پھیلا کر مسلمانوں میں منافرت کیوں پھیلا رہے ہ ہوں گے۔ وہاں مرزائیوں کی عبادت گاہ ضرار سے باہر بور الفاظ لکھے ہوتے ہیں۔ جو میرے آپ کے اور تمام مسلمانو مطلب دوسرے الفاظ میں یہ ہوا کہ ہم سب جھوٹے ہیں اور م کی طرف ہم یہ اسلام منسوب کرتے ہیں۔ بلحاظ اس استد جھوٹی ہی ٹھہری۔ آپ اس فتنے کا مقابلہ کیوں نہیں کرتے؟“
اس کے جواب میں پیر صاحب نے فرمایا: ”دیک اور اپنے وقت پر غروب پاتا ہے۔ اگر ہم چاہیں کہ طلوع و غرو مشیت ہی یہی ہے۔ اسی طرح جو فتنہ بھی پیدا ہوتا ہے۔ وہ اپ وقت پر ہی فنا ہوگا۔ ہماری روک تھام اور مدافعت بے ا ہے۔“ میں نے کہا سبحان اللہ! قربان جائیے، اس جواب پ حاضر و ناظر کے مسائل پر مسلمانوں میں سر پھٹول کرانے کی ک ہی ختم ہو جائیں گے۔ جہاں مقابلے کی ضرورت ہے وہاں تو
مذہب کی علیحدگی میں دیر کر رہی ہے۔"
(حرف اقبال ص ١٣٧، ١٣٨)
ختم نبوت سے متعلق علامہ اقبال کی مذکورہ بالا تصریحات پڑھنے کے بعد اب آپ ہی غور فرمائیں کہ وہ کون سے تقاضے ہیں جن کی بناء پر پیر دیول نے اس شخص پر جسے ساری قوم حکیم مشرق اور حکیم الامت کے القاب سے یاد کرتی ہے۔ منافقین اسلام میں شمار کیا اور پھر ان ہستیوں کو جنہوں نے مدعیان نبوت اور ختم نبوت کے انکاری گروہ سے قلم اور زبان سے نہیں، بلکہ تلوار سے جہاد کیا، اور انہیں کسی قسم کی رعایت نہ دی، شمار کرنے لگیں تو ان میں سر فہرست خلیفہ اول، جانشین سرور دو عالم ﷺ حضرت ابو بکرؓ کا نام نامی واسم گرامی ہے۔ جن کے عہد حکومت میں مسیلمہ کذاب کو اس کے چالیس ہزار مرتد سپاہیوں سمیت حدیقۃ الموت میں قتل کر دیا گیا۔
مرزائیت کے متعلق میری جو بات چیت پیر دیول سے ١٩٥٦ء میں ہوئی تھی۔ وہ میں نے ”دلق طمع“ میں شائع کر دی تھی۔ وہ بھی یہاں نقل کئے دیتا ہوں تا کہ مسلمانوں کو پیر دیول کا مؤقف صحیح صحیح معلوم ہو جائے۔
”میں نے پھر کہا اچھا بتائیے آپ لوگ ”علم غیب“ اور ”حاضر و ناظر“ کے فضول اور غلط مسائل پھیلا کر مسلمانوں میں منافرت کیوں پھیلا رہے ہیں؟ مری روڈ پر آپ بارہا گزرتے ہوں گے۔ وہاں مرزائیوں کی عبادت گاہ ضرار سے باہر بورڈ پر ”احمدیت ہی حقیقی اسلام ہے“ کے الفاظ لکھے ہوتے ہیں۔ جو میرے آپ کے اور تمام مسلمانوں کے منہ پر ایک چپت ہے اور جس کا مطلب دوسرے الفاظ میں یہ ہوا کہ ہم سب جھوٹے ہیں اور نعوذ باللہ ہمارا اسلام جھوٹا ہے اور جس کی طرف ہم یہ اسلام منسوب کرتے ہیں۔ بلحاظ اس استدلال کے نعوذ باللہ وہ مبارک ہستی بھی جھوٹی ہی ٹھہری۔ آپ اس فتنے کا مقابلہ کیوں نہیں کرتے؟“
اس کے جواب میں پیر صاحب نے فرمایا: ”دیکھئے سورج اپنے وقت پر طلوع ہوتا ہے اور اپنے وقت پر غروب ہوتا ہے۔ اگر ہم چاہیں کہ طلوع کو روک دیں تو یہ ناممکن ہے۔ کیونکہ اللہ کی مشیت ہی یہی ہے۔ اسی طرح جو فتنہ بھی پیدا ہوتا ہے۔ وہ اپنے وقت پر عروج پا کر رہے گا اور اپنے وقت پر ہی فنا ہوگا۔ ہماری روک تھام اور مدافعت بے سود ہے۔ نیز ملک میں فتنہ پیدا ہوتا ہے۔“ میں نے کہا سبحان اللہ! قربان جائیے، اس جواب کے، اگر یہی خیال ہے تو پھر علم غیب اور حاضر و ناظر کے مسائل پر مسلمانوں میں سر پھٹول کرانے کی کیا ضرورت؟ جو اس کے منکر ہیں خود ہی ختم ہو جائیں گے۔ جہاں مقابلے کی ضرورت ہے وہاں تو آپ فرار اختیار کرتے ہیں اور جہاں
ضرورت نہیں، وہاں آپ شور مچاتے ہیں۔ اب میں سمجھا کہ تحفظ ختم نبوت کی تحریک میں مولوی عارف اللہ نے جیل سے آ کر اس تحریک کے قائدین کو کیوں کوسا اور اس کے مقابل اپنی انجمن تحفظ شان رسالت قائم کر کے مسلمانوں کو مرزائیت کے مقابلے سے موڑ کر پھر سے مفروضہ وہابیوں اور حضور ﷺ کو عالم الغیب اور حاضر ناظر نہ ماننے والوں کے خلاف کیوں اکسانے لگے۔ اگر مرزائیت کا مقابلہ کرنا فتنہ ہے تو کیا یہ فتنہ نہیں ہے۔ جس کے ذریعے تمام اہل سنت والجماعت کا شیرازہ منتشر کر رہے ہو؟ کہنے لگے، تمہارا کیا خیال ہے، ختم نبوت کی تحریک چلا کر لوگوں نے کیا کر لیا، کیا مرزائی ختم ہو گئے؟
میں نے کہا کہ یہ ٹھیک ہے کہ ہر فتنے کی پیدائش اور اس کے عروج کا وقت اللہ تعالیٰ کی جانب سے مقرر ہے۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی ہے کہ جن مسلمانوں کی موجودگی میں کوئی فتنہ پیدا ہوتا ہے۔ وہ سمجھ لیں کہ اللہ تعالیٰ کو ان کے ایمان کا امتحان منظور ہے۔ جیسا کہ وہ خود فرماتے ہیں: ”احسب الناس ان يتركوا ان يقولوا آمنا، وهم لا يفتنون (عنكبوت : ٢)“ ﴿کیا لوگوں نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ وہ صرف زبان سے ہم ایمان لے آئے کہنے سے چھوٹ جائیں گے اور وہ آزمائے نہ جائیں گے۔﴾ جو مومن اور مسلم ہوگا وہ تو دل و جان سے اس فتنے کا مقابلہ کرتا رہے گا۔ خواہ اس میں اس کی جان جاتی رہے اور فتنہ برقرار رہے۔ کیونکہ فتنے کا مٹانا تو اللہ کی مرضی پر ہے۔ مومن و مسلم کا کام تو اس کا مقابلہ کرنا ہے۔ لیکن جو منافق ہوتے ہیں وہ مصلحت وقت کو اپنا شعار بنا کر پہلوتہی کر جاتے ہیں۔
اب میں ”الحق“ میں پیر خضری کے متعلق لکھے ہوئے اپنے دو شعر لکھ کر اس مضمون کو ختم کرتا ہوں:
یہ دین حق کے واسطے بڑے ستم ظریف ہیں
وہ حاصل ربیع تھے یہ حاصل خریف ہیں
فقط: والسلام على من اتبع الهدى! احقر العباد غلام نبی ہیڈ ماسٹر۔ مدرسہ خاتم الاسلام گلی نمبر ٢ سید پوری گیٹ راولپنڈی۔ ٢٧/ اپریل ١٩٦١ء
وما ارسلنک الا رحمۃ للعالمین
مرزائیت کے نا
حکومت پا
مسلمانوں کے
جناب غلام نبی
بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
یاد رکھئے
مرزائی مغربی استعمار کے ایجنٹ اور اس کی پیدا کردہ ایک سیاسی جوڑ توڑ کرنے والی جماعت ہے۔ جس نے مذہب کا لبادہ اوڑھ رکھا ہے تاکہ وہ اس طرح اپنے سیاسی منصوبوں کو ”رؤیاء“، ”کشف“ اور ”الہام“ کی صورت میں شائع کر سکے اور وقت پڑنے پر عذر کی گنجائش بھی رہے۔
اب میں حکومت پاکستان اور مسلمانان پاکستان کی توجہ مرزائیوں کے سردار مرزا بشیر محمود کے چند تازہ ”رؤیاء“ و ”کشوف“ کی طرف مبذول کرانا چاہتا ہوں جو اس نے ٢٧/ جنوری ١٩٥١ء کو بمقام ”ربوہ“ (چناب نگر) بیان کئے اور جن کو محمد یعقوب مولوی فاضل نے مرتب کیا اور جو روزنامہ ”الفضل“ مورخہ یکم فروری ١٩٥١ء میں دوسرے صفحہ پر شائع ہوئے۔
اس صفحے پر تین ”رؤیا“ یا ”کشوف“ ہیں اور تینوں سیاسی اتار چڑھاؤ سے متعلق ہیں۔ پہلے رؤیا یا کشف میں ایران میں روسی غلبے کے متعلق پیش گوئی کر کے کمیونسٹوں کی دلجوئی کی کوشش کی گئی ہے۔ دوسرا رؤیا یا کشف جس کے شروع میں یہ الفاظ ہیں کہ: ”میں نے دیکھا کہ میں ایک جگہ پر ہوں اور گویا میرے ساتھ ریاست قنوج کے کچھ امراء باتیں کر رہے ہیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ ان کا سردار یا خود راجہ جے چند راجہ قنوج ہے یا اس کا بڑا وزیر۔“ مرزائی جماعت کی بھارتی حکومت کے ساتھ ساز باز کی غمازی کرتا ہے۔
تیسرا رؤیا یا کشف ہی دراصل وہ منصوبہ ہے۔ جو پاکستان میں ١٩٥١ء میں رونما شدہ ہولناک سازش اور قتل شہید ملت لیاقت علی خان مرحوم کے واقعات اور نتائج کو بے نقاب کرتا ہے۔ اس کے الفاظ مندرجہ ذیل ہیں۔
”میں نے دیکھا کہ مجھے کوئی شخص کہتا ہے کہ فلاں شخص نے فلاں صوبہ کے افسر سے چارج لے لیا ہے۔ میں دونوں آدمیوں کو جانتا ہوں۔ لیکن صوبہ کا افسر تو مجھے یاد رہ گیا ہے اور دوسرے آدمی کا نام مجھے یاد نہیں رہا۔ مگر مصلحتاً میں اس صوبہ کے افسر کا نام ظاہر نہیں کرنا چاہتا۔ خواب میں، میں حیران ہوں کہ ابھی تو ان کے چارج دینے کا وقت نہیں آیا تھا۔ انہوں نے چارج
٢
کیوں دیا ہے اور میں سوچتا ہوں کہ وہ بیمار ہو گئے ہیں یا ان کو کہیں بدل دیا گیا ہے یا انہیں ہٹا دیا گیا ہے۔ فوت ہونے کا لفظ خاص طور پر میرے ذہن میں نہیں ہے۔ لیکن سارے خیالات کے نتیجہ میں اس کا بھی طبیعت پر اثر ہے اور میں سوچتا ہوں کہ وہ کون سی وجہ ہے۔ جو ان کے عہدہ سے قبل از وقت ہٹنے کا باعث ہو سکتی ہے۔“
اس ”رویائی بیان“ کے ٹھیک اکتالیسویں (٤١) روز یعنی ٩؍مارچ ١٩٥١ء کو وہ سازش پکڑی گئی۔ جس میں بڑے بڑے مرزائی افسر ماخوذ ہیں اور جو اچھا خاصا مرزائیت اور کمیونزم کا گٹھ جوڑ تھا۔ اگر یہ سازش اپنے وقت پر کامیاب ہو جاتی تو خان لیاقت علی خان اسی وقت شہید کئے جاتے۔ مگر سازش کے بے نقاب ہونے سے وہ اس وقت تو بچ گئے۔ لیکن بعد میں قتل کر دیئے گئے۔
آنے والے دور کی دھندلی سی ایک تصویر دیکھ
(اقبال)
مرزائیوں نے انگریزی حکومت کے زمانہ میں کبھی انگریزی حکومت کے خلاف کسی سازش میں شمولیت نہیں کی۔ اس لئے کہ انگریز بقول مرزا غلام احمد قادیانی ان کا ”اپنا“ تھا اور یہ اس کے ”خودکاشتہ پودے“ لیکن آج پاکستانی حکومت کے خلاف جو بقول سر ظفر اللہ خان مرزائی ایک ”کافر حکومت“ ہے۔ مرزائی جماعت سازشیں کر رہی ہے اور اپنی حکومت کے خواب دیکھ رہی ہے۔
مرزائیوں کے سردار مرزا بشیر محمود کے نام، فضل محمد خان مرزائی ڈپٹی اسسٹنٹ فنانشل ایڈوائزر، آرڈیننس ڈپو، راولپنڈی کا خط!
نقل بمطابق اصل
(اصل خط کا عکس مقابل کے صفحہ پر ملاحظہ ہو) بتاریخ ٢٤؍فروری ١٩٣٩ء
”بسم اللہ الرحمن الرحیم......نحمدہ ونصلی علیٰ رسولہ الکریم“
عالی جناب سیدنا مخدومی قبلہ گاہی حضرت خلیفۃ المسیح
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ التماس ہے کہ میں چار پانچ ماہ سے وارد راولپنڈی ہوا ہوں۔ جس قدر تبلیغی جمود اس شہر میں ہے۔ وہ شاید کہیں نہ ہو۔ اس لئے درخواست ہے کہ شہر
٣
راولپنڈی جب کہ یہ آرمی ہیڈ کوارٹر بھی ہے۔ اس میں تبلیغی ہیڈ کوارٹر بھی ہونا چاہئے۔ حضور کی توجہ کا محتاج ہے۔ اس پر قبضہ ساری آرمی پر قبضہ کے مترادف ہے۔ حضور نے اس شہر کو بار بار ملاحظہ فرمایا ہے۔
معلوم نہیں کہ اس کو کیوں توجہ کے نہ قابل سمجھا گیا۔ اول تو میں خود روحانی اور جسمانی کمزوریوں سے پر ہوں۔ لیکن ماحول سے متاثر ہوتا ہوں۔ حالات یہ چاہتے ہیں کہ ہر احمدی پہلے سے زیادہ چست ہو۔ لیکن وقوعہ یہ ہے کہ ہر احمدی پہلے سے ست ہے۔ علی ہذا القیاس مجھ پر بھی اثر ہے۔ میں ایک عام احمدی کی طرح کہ جتنی کوشش وہ کر سکتا ہے، کرتا رہتا ہوں اور ہر ماہ سال رواں میں اوسطاً ایک بیعت بھی کروا دیتا ہوں۔ لیکن مالی طور پر خوشحال نہیں ہوں۔ تالیف و تربیت نو مبائعین بے حد ضروری ہے۔ جس کے ناقابل ہونے کی وجہ سے کوشش معطل ہو جاتی ہے۔ بے حد دینی پریشانی ہوتی ہے۔ آدھی درجن سے زیادہ میجر، کیپٹن، کرنل وغیرہ ہیں۔ سب کے سب ماشاء اللہ ہوش مند ہیں۔ لیکن تبلیغی کارگزاری نہیں ہے۔
میں دفتر میں بہت پرانا ملازم تھا اور خدا کے فضل و رحم کے ماتحت گزٹیڈ افسر ہو گیا ہوں۔ اس لئے غیر احمدی حکام کا ایک بڑا حصہ میرے خلاف ریشہ دوانیاں کرتا رہتا ہے۔ پارٹی بازی اور خویش پروری میں مبتلا ہے۔ اب اگر میں پختہ ہو جاؤں تو پنشن میں کافی فائدہ ہوگا۔ لیکن خدا محفوظ رکھے اگر لپیٹ میں آگیا تو بے حد پریشانی ہوگی۔ حضور سے التجا ہے کہ میرے لئے دعا فرمائیں کہ مولا کریم مجھے ہر قسم کے آفات و حادثات سے محفوظ رکھے۔ میری سب روحانی اور جسمانی کمزوریوں کو دور فرمائے اور مجھ پر اپنی رضا کی راہیں کھول دے اور ہر قسم کی قربانی کی توفیق عطا فرمائے۔
حضور کا ادنیٰ خادم ، فضل محمد خان احمدی، راولپنڈی
میرا پتہ یہ ہے: Deputy Asstt financial Adviser Centeral Ordnance Depot Rawalpindi.
اس خط میں مندرجہ ذیل باتیں قابل توجہ ہیں۔
- ......١ خلیفہ قادیان کو جنرل ہیڈ کوارٹرز آرمی پاکستان پر قبضہ کرنے کی دعوت۔
٤
- ......٢ جی۔ ایچ۔ کیو (جنرل ہیڈ کوارٹرز آرمی) پر
مترادف ہے۔
- ......٣ سرکاری دفاتر میں مرزائیت کا پرچار۔
- ......٤ مرزائی افسروں کی اکثریت جو کلیدی عہدوں پ
- ......٥ ہر ماہ ایک دو مسلمانوں کو مرتد بنایا جاتا ہے
قادیان سے مال وغیرہ کی فرمائش ہے۔
- ......٦ مسلمان افسروں پر پارٹی بازی اور خویش پرو
- ......٧ بعض حساس مسلمان آفیسروں کا مجبور ہو کر را
جی ایچ کیو میں آج بھی مذہب سے بے خبر کم جاری ہے۔ جن کو مختلف لالچ دے کر پھانسا جا رہا ہے۔ نی ان کی کوشش ہے کہ زیادہ سے زیادہ افسر مرزائی ہو جائیں جائے۔
آج پاکستان کے سرکاری دفتروں میں مرزا وہی سلوک ہے۔ جو انگریز کی موجودگی میں ہندوؤں کا ا کہ مسلمان کی جگہ ان کا اپنا ہم مذہب آ جائے یا بصور رہے۔ بالکل یہی ذہنیت مرزائیوں کی ہے۔ وہ ہر خالی کرتے ہیں۔ ماتحت مسلمانوں کو بہلا پھسلا کر مرتد بنا کو حکام بالا کے ذریعے دبانے اور معطل کرانے کی کوش دلانے کی ہر ممکن کوشش کرتا ہے اور مسلمان کو ہر طرح بے
مرزائیت کے عزائم
یہ واقعہ حضرت مولانا احتشام الحق تھانوی رمضان کے دن تھے۔ میں روزے کی حالت میں ا صاحب مسجد میں آئے اور مجھے کہا کہ آپ نے ہماری کون سی جماعت؟ تو انہوں نے بتایا ”جماعت احمدیہ میں نے پڑھا ہے اور نہ ہی میں پڑھنا چاہتا ہوں ۔ ب
٥
- ٢...... جی۔ ایچ۔ کیو (جنرل ہیڈ کوارٹرز آرمی) پر قبضہ ساری آرمی (فوج) پر قبضہ کے
مترادف ہے۔
- ٣...... سرکاری دفاتر میں مرزائیت کا پرچار۔
- ٤...... مرزائی افسروں کی اکثریت جو کلیدی عہدوں پر فائز ہے۔
- ٥...... ہر ماہ ایک دو مسلمانوں کو مرتد بنایا جاتا ہے۔ جن کی تالیف و تربیت کے لئے خلیفہ
قادیان سے مال وغیرہ کی فرمائش ہے۔
- ٦...... مسلمان افسروں پر پارٹی بازی اور خویش پروری کا الزام۔
- ٧...... بعض حساس مسلمان آفیسروں کا مجبور ہو کر ردعمل پر آمادہ ہونا۔
جی ایچ کیو میں آج بھی مذہب سے بے خبر عموماً مسلمان افسروں کو مرتد بنانے کی کوشش جاری ہے۔ جن کو مختلف لالچ دے کر پھانسا جا رہا ہے۔ جس کے ثبوت ہیڈ کوارٹرز میں موجود ہیں۔ ان کی کوشش ہے کہ زیادہ سے زیادہ افسر مرزائی ہو جائیں تا کہ جنرل ہیڈ کوارٹرز پر قبضہ آسان ہو جائے۔
آج پاکستان کے سرکاری دفتروں میں مرزائی افسروں کا مسلمان ملازمین سے بالکل وہی سلوک ہے۔ جو انگریز کی موجودگی میں ہندوؤں کا تھا۔ ہندو کی کوشش حتی الامکان یہ ہوتی تھی کہ مسلمان کی جگہ ان کا اپنا ہم مذہب آ جائے یا بصورت مجبوری مسلمان ان کا جی حضوری بن کر رہے۔ بالکل یہی ذہنیت مرزائیوں کی ہے۔ وہ ہر خالی جگہ پر مرزائیوں کو متعین کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ماتحت مسلمانوں کو بہلا پھسلا کر مرتد بناتے ہیں اور جو مسلمان مقابل آ جائے۔ اس کو حکام بالا کے ذریعے دبانے اور ذلیل کرانے کی کوشش کرتے ہیں۔ مرزائی آفیسر مرزائی کو جگہ دلانے کی ہر ممکن کوشش کرتا ہے اور مسلمان کو ہر طرح سے روکتا ہے۔
مرزائیت کے عزائم
یہ واقعہ حضرت مولانا احتشام الحق تھانوی مدظلہ کے ساتھ پیش آیا۔ وہ لکھتے ہیں: ” رمضان کے دن تھے۔ میں روزے کی حالت میں اپنی مسجد میں اعتکاف میں بیٹھا تھا کہ ایک صاحب مسجد میں آئے اور مجھے کہا کہ آپ نے ہماری جماعت کا لٹریچر پڑھا ہے؟ میں نے پوچھا کون سی جماعت؟ تو انہوں نے بتایا ”جماعت احمدیہ“۔ میں نے پوچھا قادیانی جماعت کا لٹریچر نہ میں نے پڑھا ہے اور نہ ہی میں پڑھنا چاہتا ہوں۔ وہ شخص بڑے متکبرانہ لہجہ میں کہنے لگا۔ آپ کو
پڑھنا پڑے گا اور اگر آپ نہیں پڑھیں گے تو آپ کو ملک چھوڑنا پڑے گا۔‘‘
(منقول از ہفت روزہ ”حکومت“ حیدرآباد سندھ، مورخہ ١٤ دسمبر ١٩٥١ء، ج ٥ ص ٩٢)
مسلمانوں کو تازہ دھمکی
مرزائیوں کے سردار بشیر محمود کی مسلمانوں کو تازہ دھمکی (جو دسمبر ١٩٥١ء کے آخر میں بمقام ربوہ چوتھی سالانہ کانفرنس میں دی گئی) پر روزنامہ ”آفاق“ لاہور کے تاثرات، رائے اور حکومت پاکستان سے مطالبہ۔
(آفاق لاہور، مورخہ یکم جنوری ١٩٥٢ء) مرزا بشیر نے کہا: ”وہ وقت آنے والا ہے۔ جب یہ لوگ (مسلمان) مجرموں کی حیثیت سے ہمارے سامنے پیش ہوں گے۔ میں ان اخبار نویسوں سے کہتا ہوں کہ اس وقت تم بھی میرے یا میرے قائم مقام کے سامنے آکر یہی کہو گے کہ آپ یوسف ہیں اور ہمارے ساتھ یوسف کے بھائیوں جیسا سلوک کرو اور میں تمہیں یقین دلاتا ہوں کہ تم اپنی طاقت اور قوت کے گھمنڈ میں جو جی میں آئے کہو اور کرو۔ اس موقع پر میں یا میرا قائم مقام تمہارے ساتھ یوسف علیہ السلام ١؎ والا سلوک کرے گا۔“
مرزا کی اس تقریر کو پڑھنے کے بعد تو ہمارے خیال میں ہر شخص کو ہمارے اس مطالبے سے پورا اتفاق ہو گا کہ اگر اس ملک کے عوام کی حالت کو بہتر بنانا ہے اور انہیں خون آشام سرمایہ داروں اور جاگیرداروں سے نجات دلانا ہے۔ تو سب سے پہلے اس قسم کے عوام دشمن اور اسلام کے نام سے ظلم کی حمایت کرنے والے مامورین من اللہ اور ملہمین کے فتنے کا سدباب کیجئے جو کسانوں اور مزارعوں پر ظلم کرنے والوں کے خلاف احتجاج کرنے والوں کو ابو جہل اور اپنے آپ کو نعوذ باللہ رسول اکرم کہتے ہیں۔
ایک شخص جو اپنے آپ کو مصلح موعود کہتا ہے اور اسے دعویٰ ہے کہ میں اس دور کا مامور من اللہ ہوں۔ جسے اللہ تعالیٰ کی طرف سے الہام ہوتا ہے اور اسلام وہی ٹھیک ہے جس کی سند میں دوں۔ میں ناطق حق ہوں، وغیرہ وغیرہ۔ ایسا شخص اگر یہ کہے اور نہ صرف کہے بلکہ اس پر کتاب لکھے اور اسے بڑے بڑے زمینداروں میں نشر کرے کہ زرعی اصلاحات اسلام کے نزدیک ناجائز ہیں اور اسلام غیر محدود ملکیت کی اجازت دیتا ہے اور اس کے ثبوت میں وہ آیات اور احادیث سے
١؎ مرزا بشیر محمود کا بزعم خود حضرت یوسف علیہ السلام سے تقابل اس امر کا شاہد ہے کہ وہ اپنی حکومت کے خواب دیکھ رہے ہیں۔ (مرتب)
٦
غلط استناد کرے اور محض مصلح موعود اور مامور من اللہ ہونے کی بنا پر اپنے ان غلط استناد کو لوگوں سے منوانا چاہے تو حکومت کا فرض ہے کہ وہ اس ”فساد فی الارض“ کو روکے اور جس طرح وہ اسمبلی سے اوقاف بل منظور کرا رہی ہے۔ اسی طرح وہ اسمبلی میں ایسی انجمنوں کی تنظیم اور نگرانی کا بھی بل لائے۔ جن کے ذریعے سادہ لوح اور زود اعتقاد لوگوں سے چندہ بٹور کر اس قسم کی گمراہیاں پھیلائی جاتی ہیں۔
ایک مصلح موعود اور مامور من اللہ کو کوئی حق نہیں کہ وہ اپنے کئی سو مربع زمین بچانے کے لئے اسلام کے نام کو اس طرح ملوث کرے اور دنیا کے سامنے اسلام کو جلد مٹنے والے جاگیرداروں اور زمینداروں کا حامی ثابت کرے۔ یہ اسلام کی توہین ہے۔ نعوذ باللہ! قرآن مجید کی توہین ہے اور اسلام کے ساتھ سب سے بڑی دشمنی ہے۔ ضرورت ہے کہ ہماری حکومت اس قسم کے مامور من اللہ اور مصلحین موعود کو کھلی چھٹی نہ دے اور جس طرح برطانوی حکومت کے دور میں کبھی کبھی کوئی ایمرسن یا کوئی ڈپٹی کمشنر بلکہ اے، ڈی، ایم ان خلیفۃ اللہ فی الارض کو بتا دیا کرتا تھا کہ حضرت! آپ کی یہ حیثیت ہے اس سے آپ تجاوز نہ کریں۔ اسی طرح اب بھی انہیں یہ تلخ حقائق گوش گزار کر دیئے جائیں اس میں جماعت احمدیہ کا بھی فائدہ ہے اور حکومت کو بھی آنے والے فتنوں سے نجات مل جائے گی۔“
(روزنامہ آفاق لاہور یکم جنوری ١٩٥٢ء)
سامراج مغرب کا پاکستان میں مرزائیت کی فتنہ پردازیوں پر تکیہ
برادران ملت! تحریک مرزائیت سامراج مغرب کی طرف سے تحریک اسلامی کا سوچا سمجھا ہوا جواب ہے۔ یہ کفر کا دست شمشیر فگن نہیں، بلکہ دام صیاد مکار ہے۔ وہ تلواروں سے جسم اسلامی کو مجروح کر سکتا تھا۔ لیکن خلش جراحت پر مسکرا دینے والی روح اسلامی کا کیا علاج تھا۔
مرزائیت روح اسلامی کو مفلوج اور مجروح کرنے کی تدبیر ہے۔ حضرت علامہ اقبالؒ نے بہاء اللہ ایرانی اور غلام احمد قادیانی کے متعلق کیا خوب کہا ہے:
تا جہاد و حج نہ ماند از واجبات رفت جاں از پیکر صوم و صلوٰۃ
روح چوں رفت از صلوٰۃ واز صیام فرد ناہموار و ملت بے نظام
سینہ ہا از گرمی قرآن تہی از چنیں مرداں چہ امید بہی
٧
قادیانی اور یہودی
آج جبکہ تمام ممالک اسلامیہ کی فطرت آزاد حلقہ ہائے دام کو توڑ کر پھر سے فضائے حیات پر چھا جانے والی ہے۔ ایران ہو یا مصر، فلسطین ہو یا پاکستان، سبھی آزادی کی دھن میں سرشار نظر آتے ہیں اور ایک ہی طرح کے مردانہ طرز عمل پر گامزن ہیں۔ سامراجین مغرب عربستان میں صہیونیت اور پاکستان میں مرزائیت کی فتنہ پردازیوں پر تکیہ لگائے بیٹھے ہیں۔ ضرورت ہے کہ اہل نظر حضرات ان آستین کے سانپوں سے محتاط رہیں۔ مرزائیت کی طرح صہیونیت بھی اپنے قیام و بقاء میں افرنگ کی محتاج ہے۔ صہیونیت امریکی سامراج کا مرغ دست پروردہ ہے تو مرزائیت برطانوی استعمار کا خودکاشتہ پودا، مقصد دونوں کا اسلام دشمنی اور داخلی ریشہ دوانیاں ہیں۔ آج جبکہ بقائے پاکستان کے لئے ہر پاکستانی کا سر بکف ہو جانا لازم ہے اور جبکہ خیبر سے کراچی تک نعرہ جہاد گونج رہا ہے اور کفر مغرور جونا گڑھ اور کشمیر کے بعد خود پاکستان کی سالمیت کو چیلنج کر رہا ہے۔ منکرین جہاد اور پرستاران فرنگ کا پاکستان میں وجود نہ صرف وجود بلکہ غیر معمولی اثر و رسوخ بہت ہی تشویشناک مسئلہ ہے۔ یہ ایک دیمک امر ہے جو ہمارے ملی قوی کو مفلوج اور ماؤف کرتا چلا جارہا ہے۔
لہٰذا اس کا انسداد لازم ہے۔ اگر مرزائی شریف اور وفادار بن کر رہیں تو بہر حال ان کے جان و مال کا تحفظ ہونا چاہیے، لیکن ان کی ذہنی پرداخت اور اعتقادی ساخت کے پیش نظر ان کا وفادار پاکستانی بن کر رہنا بظاہر امر محال ہے۔ ان کے مذہبی پیشوا مرزا بشیر الدین محمود قادیانی کی وہ رؤیا ہمارے سامنے ہیں۔ جس میں انہوں نے گاندھی صاحب سے اپنے اختلاط اور مکالمہ کا تذکرہ کیا ہے۔ یہاں اختلاط کی صورت سے مجھے بحث نہیں۔ اس مسئلہ پر تو ماہرین نفسیات ہی بہتر روشنی ڈال سکتے ہیں۔ کیونکہ ان باپ اور بیٹے کی خوابوں میں قابل اعتراض اختلاط کے جلوے نظر آتے ہیں۔ مجھے تو صرف مکالمہ کا ماحصل آپ کے پیش کرنا ہے۔ جس کا ٹیپ کا بند یہ ہے کہ مرزا قادیانی گاندھی صاحب کو یہ کہہ رہے ہیں کہ: ”تقسیم ملک فی الوقت ناگزیر ہے۔ گو ہمیں ناگوار بھی ہے۔ تاہم ہماری یہ انتہائی کوشش ہوگی کہ دونوں ملک پھر ایک ہو جائیں۔ یعنی بھارت اکھنڈ ہو جائے۔“
اب آپ ہی فرمائیے کہ امین الملک جے سنگھ بہادر کے صاحبزادے کے خواب کے مضمون اور ٹنڈن یا شیاما پرشاد مکرجی کے بیانات میں کیا فرق ہے؟ صرف یہی کہ وہ تو یہ بیان
٨
دے کر پاکستان کے دشمن قرار دیئے جا چکے ہیں دینے کے لئے پاکستان میں قیام فرما کر مسلمانوں مرزائیوں کے نزدیک اس ملک کے تمام باشندے ہمارے وزیر خارجہ نے نہیں پڑھی) ترک جہاد کے فلسفہ کے علمبرداروں ملی عزائم کو کیا کچھ نقصان پہنچا سکتی ہے؟ یہ اہل نظر ریاست بہاولپور کے معرکۃ الآراء فیصلہ کے پیش خدمت سمجھتا ہوں اور ریاست کو تحفظ ختم نبوت کے کرتا ہوں۔ جس میں پاکستان اور ہندوستان مرزائیوں کے ارتداد کو ثابت کر دیا ہے۔ مرزائیوں قرار دے دیا جائے اور ان کو ان کے تناسب آبا ان کا ختم نبوت اور تکفیر مسلمانان عالم کے بعد ان جائے تاکہ حق و باطل میں امتیاز باقی رہے کہ کفر و ہے۔“
ضمیمہ
قادیانی ٹولی کی نسبت پاکستانی اخبارات
دامن کو ذرا دیکھ
- ١...... ”قادیانی ایک ہی وقت میں ہند و پاک
- ٢...... ”وہ بہت منحوس گھڑی تھی۔ جب چوہدری
کیا گیا۔“
- ٣...... ”سر ظفر اللہ امور خارجہ میں پاکستان کو
- ٤...... ”پاکستان کے قادیانی پاکستان کو اپنا
دے کر پاکستان کے دشمن قرار دیے جاچکے ہیں اور مرزا محمود قادیانی اپنے خواب کی تعبیر کو عملی شکل دینے کے لئے پاکستان میں قیام فرما کر مسلمانوں کے خوان کرم سے متمتع ہو رہے ہیں (یاد رہے کہ مرزائیوں کے نزدیک اس ملک کے تمام باشندے کافر ہیں حتیٰ کہ قائد اعظم کی نماز جنازہ بھی ہمارے وزیر خارجہ نے نہیں پڑھی)
ترک جہاد کے فلسفہ کے علمبرداروں کا وجود رسوخ اور تبلیغی جدوجہد اس وقت ہمارے ملی عزائم کو کیا کچھ نقصان پہنچا سکتی ہے؟ یہ اہل نظر حضرات سمجھ سکتے ہیں۔ اس کا واحد حل یہ ہے کہ یہ ریاست بہاولپور کے معرکۃ الآراء فیصلہ کے پیش نظر جس کو میں عہد حاضر کی بہت بڑی اسلامی خدمت سمجھتا ہوں اور ریاست کو تحفظ ختم نبوت کے سلسلہ میں مومنانہ اقدام پر دلی مبارک باد پیش کرتا ہوں۔ جس میں پاکستان اور ہندوستان کے علماء نے متفقہ طور پر دلائل و براہین سے مرزائیوں کے ارتداد کو ثابت کر دیا ہے۔ مرزائیوں کو مسلمانوں سے قطعا الگ ایک علیحدہ اقلیت قرار دے دیا جائے اور ان کو ان کے تناسب آبادی کے مطابق حقوق تفویض کئے جائیں۔ لیکن ان کے انکار ختم نبوت اور تکفیر مسلمانان عالم کے بعد ان کو اسلام کا لیبل استعمال کرنے کی اجازت نہ دی جائے تاکہ حق و باطل میں امتیاز باقی رہے کہ کفر و اسلام میں امتیاز کا باقی نہ رہنا سب سے بڑا فتنہ ہے۔"
(ہفت روزہ حکومت، کراچی ٢٣؍ جنوری ١٩٥٢)
آئینہ
قادیانی ٹولی کی نسبت پاکستانی اخبارات کی رائے
دامن کو ذرا دیکھ ذرا بند قبا دیکھ
- ١....... "قادیانی ایک ہی وقت میں ہندوستان اور پاکستان کے وفادار کیسے ہو سکتے ہیں؟"
(زمیندار)
- ٢....... ”وہ بہت منحوس گھڑی تھی۔ جب چوہدری ظفر اللہ خان کو وزارت خارجہ کا قلمدان سپرد
کیا گیا۔"
(مغربی پاکستان)
- ٣....... ”سر ظفر اللہ امور خارجہ میں پاکستان کو برطانیہ کا خیمہ بردار نہ بنائے ۔“
(نوائے وقت)
- ٤....... ”پاکستان کے قادیانی پاکستان کو اپنا وطن نہیں سمجھتے بلکہ قادیان کو اپنا وطن سمجھتے ہیں۔“
(احسان)
٩
- ٥....... ”قادیانی پاکستان کے مہاجن بننے کے جتن کر رہے ہیں۔“
(آفاق)
- ٦....... ”چوہدری ظفر اللہ خان اپنے ذاتی رجحانات کی بناء پر پاکستان کی خارجہ حکمت عملی کا
بیڑا غرق کر رہے ہیں۔“
(شعلہ)
ہندوستان سے وفاداری
- الف....... ”پاکستان کے قادیانی قادیان آنے کے لئے بے تاب ہیں۔“
(پیغام مرزا محمود بر موقع جلسہ سالانہ منعقدہ قادیان دسمبر ١٩٤٩ء)
- ب....... ”ہمارے نبی کا حکم ہے کہ حکومت وقت (بھارتی حکومت) کی وفاداری کرو۔“
(یعقوب علی قادیانی)
- ج....... ”آج تک کسی بھی قادیانی نے (بھارتی) حکومت کے خلاف شورش یا بغاوت میں
حصہ نہیں لیا۔“
(جلسہ قادیان، دسمبر ١٩٤٩ء، روزنامہ آزاد لاہور ٢ نومبر ١٩٥١ء)
آخر میں مسلمان علماء و مجتہدین سے دردمندانہ التماس کرتا ہوں کہ وہ وقت کی نزاکت اور اہمیت کو سمجھیں اور اپنے فرائض منصبی کو بلا خوف لومۃ لائم بجالا کر سرگرمی کے ساتھ اس اسلام کش فتنے کا سدباب کریں۔ اس وقت ملک میں ”شیعہ اور سنی“ ”دیوبندی اور بریلوی“ بحثیں کھڑی کرنے والے ملت اسلامیہ کے بدترین دشمن اور مرزائیوں کے ایجنٹ تصور کئے جائیں گے۔
اے گرفتار ابوبکرؓ و علیؓ ہشیار باش
چھپا کر آستیں میں بجلیاں رکھی ہیں گردوں نے
عنادل باغ کے غافل نہ بیٹھیں آشیانے میں
نہ سمجھو گے تو مٹ جاؤ گے دنیا سے مسلمانو!
تمہاری داستاں تک بھی نہ ہوگی داستانوں میں
نیز مرزائیت کی حقیقت سے ناواقف مسلمان حکام سے انصاف اور اسلام کے نام پر اپیل کرتا ہوں کہ وہ اصل جماعت یعنی جمہور مسلمانوں کی جن کی بے مثال قربانیوں کا نتیجہ پاکستان کی صورت میں رونما ہوا اور جنہوں نے اپنی عزت و آبرو، جان و مال اور دین و ایمان کی پاسبانی اور حفاظت کے فرائض، آپ حضرات کو اہل سمجھ کر سونپ دیئے ہیں۔ ملت اسلامیہ اور پاکستان کے
١٠
ازلی اور بدترین دشمن مرزائیوں کی غلط اطلاعات کی بنا کریں ورنہ اس کا نتیجہ نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا بھر کے
خدا شاہد ہے کامل میرا ا
”ربنا اغفر لنا ذنوبنا واسرافن علی القوم الکافرین۔“
عصر حاضر کا کذاب و دجال یعنی مرزا غلام
میرے زمانے نے ایک پیغمبر (مرزا غلام
اپنے سوا کچھ نظر نہ آیا۔
وہ مدعی تن پرست، جاہ کا بھوکا اور کم نگاہ
وہ پیدا تو مسلمانوں میں ہوا، مگر مرید کلی
مذہبی اور ملی عزت خاک میں ملا دی۔
اس نے کہا اسلام کی رونق برطانوی غلامی
ایسے مدعی کا دامن تھامنا حماقت ہے۔ کیو
یہ غلامی کی زنجیروں کو بجائے توڑنے ب
مذہب میں اس مدعی کو جاہل شمار کیا گیا ہے۔
اس کی لفظی بحثوں سے پرہیز کرو، اس ل
١١
ازلی اور بدترین دشمن مرزائیوں کی غلط اطلاعات کی بناء پر جائز اور حق پر مبنی آواز دبانے کی کوشش نہ کریں ورنہ اس کا نتیجہ نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا بھر کے مسلمانوں کے حق میں تباہ کن ہوگا۔
خدا شاہد ہے کامل میرا ایمان ہو نہیں سکتا
(ظفر علی خان)
"ربنا اغفرلنا ذنوبنا واسرافنا فی امرنا، وثبت اقدامنا وانصرنا علی القوم الکافرین۔"
عصر حاضر کا کذاب و دجال یعنی مرزا غلام احمد قادیانی آنجہانی
میرے زمانے نے ایک پیغمبر (مرزا غلام احمد قادیانی) بھی پیدا کیا۔ جسے قرآن میں اپنے سوا کچھ نظر نہ آیا۔
وہ مدعی تن پرست، جاہ کا بھوکا اور کم نگاہ ہے۔ اس کے دل میں خدا بالکل نہیں۔
وہ پیدا تو مسلمانوں میں ہوا۔ مگر مرید کلیسائے (برطانیہ) کا ہو گیا۔ اس نے ہماری مذہبی اور ملی عزت خاک میں ملادی۔
اس نے کہا اسلام کی رونق برطانوی غلامی میں ہے۔ زندگی خود کو مٹا دینے کا نام ہے۔
ایسے مدعی کا دامن تھامنا حماقت ہے۔ کیونکہ اس مدعی کے سینے میں روشن دل نہیں ہے۔
یہ غلامی کی زنجیروں کو بجائے توڑنے کے مضبوط کرتا ہے۔ شرافت اور آزادی کے مذہب میں اس مدعی کو جاہل شمار کیا گیا ہے۔
اس کی لفظی بحثوں سے پرہیز کرو، اس کے منافقانہ بیانات سے بچو!
١١
اس کے ساتھ کھانے پینے سے پرہیز کرو، اس کی بری صحبت سے بچو۔
برطانوی حکومت اس کا خدا ہے۔ یہ دنیا کے لئے دین و ایمان بیچنے والا ہے۔
اس کا مذہب کیا ہے؟ اغیار سے وفاداری یعنی اسلام کو برباد کر کے برطانوی استعمار کو مضبوط کرنا۔
یہ مدعی حلال و حرام میں تمیز نہیں کرتا۔ اس کا علم خام اور اس کا عمل ناقص ہے۔
اس کا سرمہ لگانے سے تمہاری آنکھیں اندھی ہو جائیں گی اور تم مجبور سے مجبور تر ہو جاؤ گے۔
اگر تُو آزادی چاہتا ہے تو اُس کے پھندے سے بچ۔ پیاس سے مر جاؤ مگر اس کی شراب نہ پیو۔
اس نے برطانوی حکومت کو ”رحمت“ کہا اور ساری عمر انہی کا کلمہ پڑھتا رہا۔
اس مدعی کی بدولت ملت اسلامیہ کی وحدت پارہ پارہ ہوگئی اس مدعی کا علاج ”موسوی ڈنڈے“ کے سوا کچھ نہیں۔
(اقبال)
نوٹ....... مندرجہ بالا اشعار علامہ اقبال کی مثنوی ”پس چہ باید کرد“ سے ماخوذ ہیں۔ جن کو میں نے ایک ترتیب میں جمع کر دیا ہے۔
❁ ٭ ❁ ١٢
تھیٹر نما
جناب غلام ف
قمار بدکیش الحذر! اس کی محبت سے بچو۔ بیع دین و ایمان سود او دین و ایمان بیچنے والا ہے۔ از خشت حرم تعمیر دیر اسلام کو برباد کر کے برطانوی استعمار کو
خام است و کارش ناتمام اور اس کا عمل ناقص ہے۔ مجبور از و مجبور تر یں گی اور تم مجبور سے مجبور تر ہو جاؤ
میر و بزم تاکش نیست ہوتے بچو۔ پیاس سے مر جاؤ مگر اس
یرو کلیسا کور و مرد اور اندھی کا کلمہ پڑھتا رہا۔ رنگین نیست جز چوب کلیم زندہ ہوگی اس مدعی کا علاج ”موسوی
(اقبال)
اخذ کرو“ سے ماخوذ ہیں۔ جن کو میں
وانا خاتم النبیین لا نبی بعدی
صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
بھیڑ نما بھیڑیے
جناب غلام نبی میر ناسک
رحمۃ اللہ علیہ
بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اللہ کے شیروں کو آتی نہیں روباہی
تحریک ختم نبوت کے بعد قادیانیت کی جو درگت بنی وہ کسی سے مخفی نہیں۔ جمہور مسلمین نے جن میں سنی اور شیعہ سب ہی متفق تھے اور ایک ہی پلیٹ فارم پر سے متفقہ آواز کے ساتھ مرزا غلام احمد قادیانی آنجہانی کی امت کو مرتد اور خارج از اسلام قرار دے رہے تھے۔ حکومت پاکستان سے مطالبہ کیا کہ وہ مرزائیوں کو الگ اقلیت قرار دے اور اس مسئلہ کے لئے ہزاروں مسلمانوں نے سینوں پر گولیاں کھائیں اور خون دے کر ثابت کر دیا کہ وہ کسی صورت میں بھی مرزائیوں کو مسلمان ماننے کے لئے تیار نہیں۔ لیکن حکومت پاکستان جس کے تمام تر اراکین انگریز کے دست پروردہ تھے اور ہیں۔ وہ بھلا کب برداشت کر سکتے ہیں کہ انگریز کا یہ خود کاشتہ پودا جو ان کا پیر بھائی ہے، وجود سے عدم کی تاریکیوں میں کھو جائے۔ اس لئے انہوں نے اصل ملت کا مطالبہ تو نظر انداز کر دیا۔ لیکن مکار گروہ کی ہر ممکن اعانت کی اور کر رہے ہیں۔
آج مرزائیوں میں موجودہ خلیفہ پر عدم اعتماد کی وجہ سے پھوٹ پڑی ہوئی ہے اور روز بروز بگڑتے ہوئے حالات نے اس جماعت کی پوزیشن کو سخت خطرے میں ڈال دیا ہے۔ پھر انہی دنوں میں مرزا محمود نے کچھ ایسے خطبات اور کشف و رویا شائع کئے جس سے پاکستان کا قریب قریب تمام پریس حکومت پاکستان سے مطالبہ کرنے لگا کہ ان پر ایکشن لیا جائے۔ ان تمام تر پیش آمدہ حالات سے مرزائی گروہ بوکھلا رہا ہے اور وہ اپنا فائدہ اسی میں سمجھ رہا ہے کہ پاکستان کے اندر بدامنی پیدا ہو جائے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ آئے دن ایسی حرکات کرتا رہتا ہے۔ لیکن حکومت اپنے اس پیر بھائی گروہ کو من مانی کرنے کے لئے کھلی چھٹی دے چکی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ اس گروہ پر تو نہیں، البتہ ان لوگوں پر ایکشن لیتی ہے جو اس فتنہ پرداز گروہ کی فتنہ پردازیوں کا سد باب کرنا چاہتے ہیں اور یہ تمام تر حقائق "منیر رپورٹ" میں وضاحت کے ساتھ درج ہیں۔
مرزائیت کی ابتداء بھی مکاری سے ہوئی تھی۔ یعنی مرزا غلام احمد قادیانی نے مخالفین اسلام کے مقابلہ کے بہانے سے سادہ لوح مسلمانوں کو اپنے ساتھ ملایا اور بعد میں نبوت کا دعویٰ کر کے مغربی سامراج کی جڑوں کو ہندوستان میں مضبوط کرنا شروع کر دیا۔ اس سلسلے میں جہاد کو بھی حرام قرار دیا۔
٢
آج دم توڑتی ہوئی مرزائیت پھر اسلام میدان میں آنا چاہتی ہے اور اس کے لئے مرزائیوں انتخاب کیا۔ کیونکہ یہ پاکستان آرمی کا جنرل ہیڈ کوارٹ پر مرزائی آفیسر متمکن ہے۔ حکام شہر میں ان کا اثر و احکام جاری کر سکتے ہیں۔
چنانچہ مدرسہ تعلیم القرآن کو سالانہ اجلا مشکل سے اجازت ملی اور مرزائیوں کو جلسہ کی اجاز ”جلسہ کی اجازت زبانی حاصل کر لی گئی تھی۔ اس کی نہ ہو پیر بھائی جو ٹھہرے۔
٢٩/ مارچ کو اس مرتد گروہ نے راولپنڈ بہانہ یہ رکھا کہ وہ ایک پادری کی بکواس کا جواب د کو کب برداشت کر سکتے تھے۔ انہوں نے احتجاج جلسہ بند کرا کر اپنے بہترین حسن تدبر کا ثبوت دیا۔ ان کا شکر گزار ہونا چاہئے۔ کیونکہ مشتعل ہجوم کو مرزائیوں کی خاطر خواہ حفاظت کر سکتی۔ دوسری طر چنگاری کا مصداق بن جاتا۔
ان کے جلسے کی مثال تو ڈاکوؤں کے ا کسی بستی میں داخل ہو جائے اور وہ عوام و حکام کو کاروبار شروع کر دے اور موقع کا منتظر رہے۔ لیکن منٹ کے لئے بھی ان کا شہر میں رہنا اور کاروبار پاکستان کا کھاتا ہے اور پاکستان ہی کو نقصان پہنچا
ملک دشمن عنصر کون ہے؟
ذرا مرزا محمود کے مندرجہ ذیل رؤیا، جو ہیں۔ ملاحظہ فرمائیں اور انصاف کریں کہ پاکستانیو
آج دم توڑتی ہوئی مرزائیت پھر اسلام کے نام پر عیسائیت کے مقابلہ کا بہانہ بنا کر میدان میں آنا چاہتی ہے اور اس کے لئے مرزائیوں نے سارے پاکستان میں راولپنڈی کے شہر کا انتخاب کیا۔ کیونکہ یہ پاکستان آرمی کا جنرل ہیڈ کوارٹر ہے اور اس کے مضافات میں اکثر کلیدی عہدوں پر مرزائی آفیسر متمکن ہے۔ حکام شہر میں ان کا اثر و رسوخ ہے اور وہ وقت پر اپنی مرضی کے مطابق احکام جاری کر سکتے ہیں۔
چنانچہ مدرسہ تعلیم القرآن کو سالانہ اجلاس کے لئے تین دن تک کی تگ و دو کے بعد مشکل سے اجازت ملی ادھر مرزائیوں کو جلسہ کی اجازت باتوں ہی باتوں میں مل گئی۔ بقول ان کے ”جلسہ کی اجازت زبانی حاصل کر لی گئی تھی۔ اس کی اطلاع پولیس کو بھی دے دی گئی تھی ۔“ کیوں نہ ہو پیر بھائی جو ٹھہرے۔
جب سیاں بھئے کوتوال پھر ڈر کاہے کا؟
٢٩؍ مارچ کو اس مرتد گروہ نے راولپنڈی کے ٹرنک بازار میں کھلا جلسہ کرنا چاہا اور بہانہ یہ رکھا کہ وہ ایک پادری کی بکواس کا جواب دیں گے۔ بھلا جمہور مسلمین ان کے اس فریب کو کب برداشت کر سکتے تھے۔ انہوں نے احتجاج کیا اور حکام نے بروقت مداخلت کر کے ان کا جلسہ بند کرا کر اپنے بہترین حسن تدبر کا ثبوت دیا۔ مرزائیوں کو حکام کا گلہ اور شکوہ کرنے کی بجائے ان کا شکر گزار ہونا چاہئے۔ کیونکہ مشتعل ہجوم کو روکنے کے لئے وہاں کوئی ایسی فورس نہ تھی جو مرزائیوں کی خاطر خواہ حفاظت کر سکتی۔ دوسری طرف یہ فتنہ سارے پاکستان کے لئے بارود میں چنگاری کا مصداق بن جاتا۔
ان کے جلسے کی مثال تو ڈاکوؤں کے اس گروہ کی سی ہے جو سوداگروں کا بھیس بدل کر کسی بستی میں داخل ہو جائے اور وہ عوام و حکام کی اصل حال سے بے خبری کی بناء پر شہر میں اپنا کاروبار شروع کر دے اور موقع کا منتظر رہے۔ لیکن جب ان کا راز کھل جائے تو عوام اور حکام ایک منٹ کے لئے بھی ان کا شہر میں رہنا اور کاروبار کرنا برداشت نہ کریں۔ دیکھئے...... یہ مرتد گروہ پاکستان کا کھاتا ہے اور پاکستان ہی کو نقصان پہنچاتا ہے۔ خود چور ہے اور دوسروں کو چور بناتا ہے۔
ملک دشمن عنصر کون ہے؟
ذرا مرزا محمود کے مندرجہ ذیل رؤیا، جو مرزائیوں کے گزٹ ”الفضل“ میں شائع ہوئے ہیں ۔ ملاحظہ فرمائیں اور انصاف کریں کہ پاکستان کی تخریب اور بھارت کی تائید کون کر رہا ہے اور
٣
اول و آخر پاکستان کی ”پ“ کی سالمیت کا دشمن کون ہے؟
ملفوظات حضرت امیر المومنین
”ایک صاحب نے پاکستان کے متعلق سوال کیا کہ اس بارے میں حضور (مرزا محمود) کا کیا خیال ہے؟ حضور نے فرمایا میں اصولی طور پر اس کا قائل نہیں۔ میں سمجھتا ہوں خدا تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود کو ہندوستان میں اس لئے پیدا کیا کہ سارا ہندوستان اسلام کے جھنڈے کے نیچے آ جائے اور وہ احمدیت کی ترقی کے لئے ایک عظیم الشان بنیاد کا کام دے۔ حضرت مسیح موعود کا ایک الہام ہے ”آریوں کا بادشاہ“ اگر ہم آریوں کو الگ کر دیں اور مسلمانوں کو الگ تو حضرت مسیح موعود کا یہ الہام کس طرح پورا ہو سکتا ہے۔ بس ضروری ہے کہ ہندوستان کے سب لوگ متحد رہیں۔ اگر ہندوستان کے الگ الگ ٹکڑوں میں تقسیم ہو جانا تھا تو حضرت مسیح موعود پاکستان کے بادشاہ کہلاتے۔ آریوں کے بادشاہ نہ کہلاتے۔ پس بیشک مسلمان زور لگاتے رہیں۔ جس قسم کا پاکستان وہ چاہتے ہیں ۔ وہ کبھی نہیں بن سکتا۔ پاکستان قائم کرنے میں مسلمانوں کا فائدہ نہیں، اکھنڈ ہندوستان میں ہے۔ پس ضروری ہے کہ ہندوستان میں اتحاد رہے اور اس کے حصے الگ الگ نہ ہوں۔ مسلمان پاکستان پر تو زور دیتے ہیں۔ مگر یہ نہیں سوچتے کہ ان کے پاس نہ روپیہ ہے اور نہ ہی کوئی اور سامان ہے۔ روپیہ تو ہندوؤں کے قبضہ میں ہے۔ پس یہ ایک مشغلہ ہے جو چند تعلیم یافتہ لوگوں نے اختیار کیا ہوا ہے۔ ہماری جماعت کے دوستوں کو ایسے معاملات میں دلچسپی نہیں لینی چاہئے۔ بلکہ اگر کسی کے دل میں کوئی ایسی بات آئے تو اسے استغفار کرنا چاہئے۔ ہم ایک مذہبی جماعت ہیں۔ ہمارا ان باتوں سے کوئی واسطہ نہیں۔“
(بیان مرزا محمود، مندرجہ اخبار الفضل ١٨؍جون ١٩٤٥ء)
- ٢........ ”میں نے دیکھا کہ میں کسی شخص کو کہہ رہا ہوں کہ ہم تو قادیان جاتے ہیں۔ اب یہاں
جو میرے پاس زمینیں ہیں اور گورنمنٹ کے الاٹ کی ہیں۔ وہ کسی مہاجر کو دے دیں یا گورنمنٹ کو واپس کر دیں۔“
(الفضل ٣١؍جنوری ١٩٥٧ء)
- ٣........ ”میں نے دیکھا کہ میری چھوٹی ہمشیرہ امۃ الحفیظ بیگم میرے ساتھ ایک جگہ ٹہل رہی ہیں
اور اردگرد دوسرے لوگ بیٹھے ہیں۔ وہ نہایت ہی آہستہ آواز میں میرے کان کے پاس منہ کر کے کہتی ہیں کہ ابھی مکانوں پر زیادہ خرچ نہ کرو۔ (دارالحمد) کو بنانے کی طرف توجہ کرو۔ میں سمجھتا ہوں کہ ان کو کسی نے کہلا بھیجا ہے کہ قادیان تو ہمیں ملنے والی ہے۔ اس لئے کئی دوسری جگہ مکان بنوانے سے کیا فائدہ ہے؟ مگر میں خواب میں اس مشورے کو غلط سمجھتا ہوں اور خیال کرتا ہوں کہ کسی جماعت کا مرکز کے بغیر تھوڑا عرصہ رہنا بھی بڑا خطرناک ہوتا ہے۔ یہ خیال کرکے میں نے بڑے جوش میں بلند آواز
٤
میں کہا کہ آہستہ آہستہ یہ بات کیوں کہتی ہو۔ ہر ایک سے کے یہ معنی نہیں کہ ہم دوسری جگہ مکان نہ بنائیں۔ جب ہی ملے گی۔ جب قادیان ملے گی تو اس کے ساتھ شملہ و اضلاع بھی ملیں گے۔ شملہ کا لفظ تو مجھے خوب یاد ہے۔ باقی خیال ہے کہ میں نے شملہ کے ساتھ ڈلہوزی کا بھی نام لیا ذکر کیا کہ ہمیں وہ بھی ملیں گے۔ بلکہ اس وقت مجھ پر یہ الہام یا دلی کے پاس تک کا علاقہ ہم کو اس وقت ملے گا۔“
- ٤........ ”یہ رویا اگر ظاہر پر محمول کیا جائے تو اس کے
ہوگا۔ لیکن رستے اصل چیز نہیں۔ اصل چیز تو یہ ہے کہ قادیان اور مسلمان عزت و احترام کے ساتھ وہاں جائیں گے ہے۔“
- ٥........ پھر اسی سلسلہ میں گاندھی جی اور مسز سروجنی
سارے مسلمانوں کو اجازت اور سب مسلمانوں کو گنجائش انگریزوں کے زمانے میں رہے تھے اور پاکستان اور ہند گی۔“
- ٦........ ”سات آٹھ دن ہوئے میں نے رویا دیکھی
احمدیت کا تعریف کے ساتھ ذکر کیا ہے۔ یہ واقعہ ایک دو بات ہے۔ تو اس پر میں نے کہا کہ ظاہر میں تو بات معمولی احمدیت کی اہمیت دور دور تک واضح ہوگئی ہے۔“
کہئے! پاکستان کی سالمیت کو ختم کرنے والے میں کون کر رہا ہے۔ بلکہ صاف لفظوں میں ظاہر ہورہا سرحدوں کو ختم کرنے کی اللہ تعالیٰ کی مرضی اور منشاء قرار دیا
لا اِکراہ فی الدین کی نئی تفسیر
”پریس آرڈیننس“ کے عنوان سے الفضل میں صفحہ تین پر مرزائی لکھتے ہیں کہ ”یقیناً اسلام میں اس کی رو سے غلط سے غلط خیال بیان کرنے کا حق حاصل
٥
میں کہا کہ آہستہ آہستہ یہ بات کیوں کہتی ہو۔ ہر ایک جانتا ہے کہ قادیان ہم کو ملنے والی ہے۔ مگر اس کے یہ معنی نہیں کہ ہم دوسری جگہ مکان نہ بنائیں۔ جب قادیان ملے گی تو یوں ہی آہستگی سے تھوڑی ہی ملے گی۔ جب قادیان ملے گی تو اس کے ساتھ شملہ بھی ملے گا۔ ڈلہوزی بھی ملے گی اور دوسرے اضلاع بھی ملیں گے۔ شملہ کا لفظ تو مجھے خوب یاد ہے۔ ڈلہوزی کا لفظ پورے یقین سے یاد نہیں۔ مگر میرا خیال ہے کہ میں نے شملہ کے ساتھ ڈلہوزی کا ہی نام لیا تھا۔ اسی طرح دوسرے اضلاع کا میں نے ذکر کیا کہ ہمیں وہ بھی ملیں گے۔ بلکہ اُس وقت مجھ پر یہ اثر معلوم ہوتا ہے کہ پنجاب کا علاقہ بشمولیت دلی یا دلی کے پاس تک کا علاقہ ہم کو اس وقت ملے۔‘‘
(الفضل یکم فروری ١٩٥٧ء)
- ٤....... ’’یہ رؤیا اگر ظاہر پر محمول کیا جائے تو اس سے یہی معلوم ہوتا ہے کہ جانا امرتسر کی طرف
ہوگا۔ لیکن رستے اصل چیز نہیں۔ اصل چیز تو یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ پھر ان علاقوں کو آپس میں ملا دے اور مسلمان عزت و احترام کے ساتھ وہاں جائیں۔ ہمارا ظاہری طور پر بھی ہمیشہ یہی خیال رہا ہے۔‘‘
(خطبہ مرزا محمود، الفضل یکم فروری ١٩٥٧ء)
- ٥....... پھر اسی سلسلہ میں گاندھی جی اور مس مردولا سارا بائی کا ذکر کرتے ہوئے کہتا ہے کہ: ’’
سارے مسلمانوں کو اجازت اور سب مسلمانوں کو کہو کہ وہ آزادی سے اسی طرح رہیں گے۔ جیسے انگریزوں کے زمانے میں رہتے تھے اور پاکستان اور ہندوستان کے درمیان کوئی باؤنڈری نہیں ہو گی۔‘‘
(الفضل یکم فروری ١٩٥٧ء)
- ٦....... ’’سات آٹھ دن ہوئے میں نے رؤیاء میں دیکھا کہ جنرل آئرن ہارڈے نے
احمدیت کی تعریف کے ساتھ ذکر کیا ہے۔ یہ واقعہ ایک مجلس میں بیان ہوا تو کسی نے کہا کہ یہ کونسی بات ہے۔ تو اُس پر میں نے کہا کہ ظاہر میں تو بات کچھ بھی نہیں۔ مگر اس سے یہ پتہ لگتا ہے کہ احمدیت کی اہمیت دُور دُور تک واضح ہو گئی ہے۔‘‘
یہ پاکستان کی سالمیت کو ختم کرنے کے عزائم کا اظہار رؤیاء اور کشوف کے پردے میں کون کر رہا ہے۔ بلکہ صاف لفظوں میں ظاہر طور پر بھی کرتا ہے اور بھارت اور پاکستان کی سرحدوں کو ختم کرنے کی اللہ تعالیٰ کی مرضی اور منشا قرار دیتا ہے۔
لا اکراہ فی الدین کی نئی تفسیر
’’پریس آف مظلوموں‘‘ کے عنوان سے ٣١؍ مارچ ١٩٥٧ء کو شائع ہونے والے پمفلٹ میں صفحہ تین پر مرزا جی لکھتے ہیں کہ ’’یقیناً اسلام کی تعلیم لا اکراہ فی الدین کی حامل ہے اور اس کی رو سے غلط خیال بیان کرنے کا حق ہر ایک کو حاصل ہے اور اسی میں انسانیت کی
٥
بہتری ہے۔ ورنہ انسان ارتقاء کی کبھی ایک بھی منزل طے نہیں کر سکتا اور قدامت پسندی اور تحکم، سائنس، فلسفہ اور دیگر علوم میں ایک قدم بھی آگے بڑھنے نہیں دیتی۔ اگر کوئی چیز کھٹکتی ہے تو وہ یہی روح ہے جو آزادی خیال کو کچلنا چاہتی ہے۔“
خوب پتے کی کہی۔ واقعی مرزائیت نے اپنے ارتقاء کی منزلیں ایسے ہی غلط سے غلط خیالات بیان کر کے طے کی ہیں اور اس کا ثبوت مرزا غلام احمد قادیانی آنجہانی کی الماری اور موجودہ مرزا محمود کی ہفوات و خرافات کی پٹاری سے بخوبی مل جاتا ہے۔ مشتے نمونہ از خروارے...... ملاحظہ فرمائیں فرانس و برطانیہ کی مدح سرائی میں مرزا محمود قادیانی کا الہامی بیان ۔
”انگریزوں کی مثال در حقیقت ایسی ہی ہے جیسے قرآن کریم میں آتا ہے کہ وہ یتیم بچوں کا خزانہ ایک دیوار کے نیچے دبا ہوا تھا۔ ایک مدت کے بعد وہ دیوار بوسیدہ ہو کر گرنے کے قریب ہو گئی ۔ مگر حضرت موسیٰ علیہ السلام اور ان کے ساتھی نے اس دیوار کو پھر بنا دیا۔ اسی طرح بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ انگریز اور فرانسیسی وہ دیوار ہیں جن کے نیچے احمدیت کا خزانہ مدفون ہے اور خدا تعالیٰ چاہتا ہے کہ یہ دیوار (یعنی فرانس اور برطانیہ ) اس وقت تک قائم رہے جب تک خزانہ کے اصل حق دار جوان نہیں ہو جاتے۔ ابھی احمدیت چونکہ بالغ نہیں ہوئی اور بالغ نہ ہونے کی وجہ سے وہ اس خزانہ پر قبضہ نہیں کر سکتی۔ اس لئے اگر اس وقت یہ دیوار گر جائے تو نتیجہ یہ ہوگا کہ دوسرے اس پر قبضہ جمالیں گے۔ پس اللہ تعالیٰ چاہتا ہے کہ ہم پھر ایسی دیوار بنا دیں تاکہ جب احمدیت اپنی بلوغت کاملہ کو پہنچ جائے تو اس وقت وہ اس خزانہ کو سنبھال لے۔ پس اس وقت احمدیت کا فائدہ انگریزوں کی فتح میں ہے۔ حضرت مسیح موعود نے بھی دعا کی ہے کہ اللہ تعالیٰ جنگ میں انگریزوں کو فتح دے۔ پس حضرت مسیح موعود کی سنت کی اتباع ہمارا فرض ہے کہ ہم انگریزوں کی کامیابی کے لئے دعا کریں۔ اس وقت انگریزوں یا فرانسیسیوں کا سوال نہیں، بلکہ احمدیت کی تبلیغ کی آزادی کا سوال ہے۔ پس نہایت ہی درد اور کرب کے ساتھ دعا کریں۔ کیونکہ معاملہ معمولی نہیں، بلکہ نہایت خطرناک ہے۔“
(بیان مرزا محمود احمد خلیفہ قادیان، مندرجہ الفضل ٤/جون ١٩٤٠ء)
دیکھا: ”واما الجدار فكان لغلمين يتيمين في المدينة وكان تحته كنز لهما (كهف: ٨٢)“ پڑھ لی آپ نے اس آیت کی غلط سلط تاویل ...... مرزائی کہتے ہیں کہ جب تک ایسی غلط بیانی نہیں کی جائے گی۔ انسانیت کا ارتقاء رکا رہے گا۔
تو جناب عالی سن لیجئے ...... اس غلط بیانی کی اجازت دنیا تو تم کو دے سکتی ہے۔ لیکن حضرت محمد ﷺ کا لایا ہوا اسلام ہرگز اس کی اجازت نہ دے گا اور نہ ہی اس مقدس و محترم ہستی کے
٦
نام لیوا کبھی اس خرافات کو برداشت کریں گے۔ خواہ انہیں خون کے سمندروں میں کیوں نہ تیرنا پڑے۔ مسلمان کے کامل ایمان کی نشانی ہی یہی ہے کہ وہ ایسی لغویات کو قوت بازو سے روک دے۔ ”من رای منکم منکرا فلیغیرہ بیدہ“
پھر لکھتے ہیں: ”احرار تو ہمیشہ احمدیوں کے جلسوں میں اس قسم کی شور انگیزی کرتے آئے ہیں۔ کیا وہ گذشتہ ٦٠، ٧٠ سال کے عرصے میں ایک مثال بھی اس کی پیش کر سکتے ہیں کہ احمدیوں نے کبھی ان کے جلسہ کو کبھی خراب کیا ہے؟ شاید وہ یہ کہیں کہ احمدیوں کو اتنی طاقت ہی کہاں ہے کہ وہ شور ڈال سکیں۔ میں یہ کہنے پر مجبور ہوں کہ احرار کو یہ یاد رکھنا چاہئے کہ ”حلیم“ کا غصہ بڑا سخت ہوتا ہے۔“
قربان جائیے ان کی حلیمی کے حلیمی ہے یا بزدلی۔ سخت غصے کی بنیاد سے ہم بھی بخوبی واقف ہیں۔ کیا پدی اور کیا پدی کا شوربا۔ دعا دیجئے انگریزوں اور فرانسیسیوں کو۔ دعا دیں امریکہ اور اس کے کاسہ لیسوں کو، جو تمہاری حلیمی اور سخت غصے کے رکھوالے ہیں...... ایک مثل ہے:
تمہاری حلیمی اور سخت غصہ یا بالفاظ دیگر بزدلی کے کارنامے قادیان میں دیکھیے۔ جبکہ تم نے ١٩٣٠ء میں مولوی عبدالکریم مباہلہ پر قاتلانہ حملہ کرایا اور نتیجہ میں حاجی محمد حسین شہید ہو گئے اور اس کے قاتل محمد علی پشاوری کو پھانسی کے بعد بہشتی مقبرہ میں دفن کیا اور مرزا محمود نے اس کے جنازے کو کندھا دیا۔ کیا اس وقت ”لااکراہ فی الدین (بقرہ:٢٥٧)“ کی تفسیر بالا ذہن میں نہ تھی کہ ایک حق پرست کے قاتل کی اتنی توقیر کی۔ آج چلا رہے ہو کہ اگر کوئی چیز کھٹکتی ہے۔ تو وہ یہی روح ہے جو آزادی خیال کو کچلنا چاہتی ہے۔ حالانکہ جب غازی علم الدین شہید نے رنگیلے رسول کے مصنف راجپال کو قتل کیا تو مرزا محمود نے کہا: ”قتل راجپال محض مذہبی دیوانگی کا نتیجہ ہے۔ جو لوگ قانون کو ہاتھ میں لیتے ہیں۔ وہ بھی اور جو ان کی پیٹھ ٹھونکتا ہے وہ بھی مجرم ہے۔ وہ بھی قانون کا دشمن ہے۔ جو لیڈران کی پیٹھ ٹھونکتے ہیں۔ وہ خود مجرم ہیں، قاتل اور ڈاکو ہیں۔ جو لوگ توہین انبیاء کی وجہ سے قتل کرتے ہیں۔ ایسے لوگوں سے برأت کا اظہار کرنا چاہئے اور ان کو دبانا چاہئے۔ یہ کہنا کہ محمد رسول اللہ کی عزت کے لئے قتل کرنا جائز ہے۔ نادانی ہے۔ انبیاء کی عزت کی حفاظت قانون شکنی سے نہیں ہو سکتی۔“
(خطبہ جمعہ مرزا محمود، مندرجہ الفضل ١٩؍ اپریل ١٩٢٩ء)
لیکن اپنی ذات پر نکتہ چینی کرنے والے کے قتل کے لئے محمد علی پشاوری کو بلوانا اور پھر اس قاتل کے جنازے کو کندھا دینا اور اسے بہشتی مقبرے میں دفن کرنا یہ کیا ہے؟ بہ بین تفاوت رہ
٧
از کجاست تا بکجا۔
اس کے بعد محمد امین بخارا کا قتل اور پھر فخر الدین ملتانی کا قتل اور پھر حاجی عبدالغنی رئیس اعظم بٹالہ کا قتل۔ پھر قادیان کے قبرستان میں وہاں کے مسلمانوں کو اپنے مردوں کو دفن نہ کرنے دینا بلکہ مسلمانوں کی قبریں اکھاڑ پھینکنا اور ان کا اپنے مردوں کے دفن کرنے کے لئے مجبورا بٹالہ آنا..... کیا یہ شیروں کے کام ہیں یا بزدلوں کے؟ بزدل ہمیشہ غیروں کے کھونٹے پر ناچا کرتے ہیں۔ سوال کیا گیا ہے کہ آخر احرار چاہتے کیا ہیں؟ ابھی تک ان کو یہ بھی پتہ نہیں چلا کہ احرار کیا چاہتے ہیں۔ سنئے! احرار ہی نہیں، بلکہ تمام مسلمان خواہ وہ سنی ہوں یا شیعہ، حنبلی ہوں یا شافعی، مالکی ہوں یا حنفی یا اہلحدیث، سب یہ چاہتے ہیں کہ مرزائیوں کو جمہور مسلمین سے الگ تھلگ ایک غیر مسلم اقلیت قرار دیا جائے اور یہی مطالبہ تمہارے مرزا محمود نے بھی کیا تھا۔ ملاحظہ ہو (الفضل ١٣؍نومبر ١٩٤٦ء) مطالبہ حسب ذیل الفاظ میں ہے۔
"میں نے اپنے ایک نمائندہ کی معرفت ایک بڑے ذمہ دار انگریز افسر کو کہلوا بھیجا کہ پارسیوں اور عیسائیوں کی طرح ہمارے حقوق بھی تسلیم کئے جائیں۔ جس پر افسر نے کہا کہ وہ تو اقلیت ہیں اور ہم ایک مذہبی فرقہ ہیں۔ جس طرح ان کے حقوق علیحدہ تسلیم کئے گئے ہیں۔ اسی طرح ہمارے بھی کئے جائیں۔ تم ایک پارسی پیش کرو۔ اس کے مقابلہ میں میں دو، دو احمدی پیش کرتا جاؤں گا۔"
مرزائیوں کے پمفلٹ کا عنوان "جرس از آہ مظلوماں" ہے۔ کیا یہ شجاعت کا خاصہ ہے یا مظلومیت کا؟ شجاع بردبار بھی ہوتا ہے اور غیور بھی لیکن بے غیرت نہیں ہوتا۔
آخر میں ہم حکومت پاکستان سے دردمندانہ اپیل کرتے ہیں کہ اگر وہ ملک میں واقعی طور پر امن چاہتی ہے تو اسلام دشمن عناصر کے منہ میں لگام دے۔ خواہ وہ مرزائی ہوں یا عیسائی یا کوئی اور۔ ان دشمنانِ اسلام کو دریدہ دہنی کی کھلی چھٹی دے دینا اور جمہور مسلمین کو پابند کرنے کی کوشش کرنا کسی صورت میں بھی جائز اور مفید نہ ہوگا۔ ہم پاکستان کے اندر اسلام اور بانی اسلام حضرت محمد ﷺ کے خلاف کسی قسم کی بکواس سننے کے لئے تیار نہیں۔ خواہ اس کے لئے ہمیں کتنی ہی قربانی کیوں نہ دینی پڑے۔
صاف ہے نیت اگر اپنی تو کیا پرواہ ہمیں
بندۂ مومن کا دل ہر دم ریا سے پاک ہے
قوت فرمانروا کے سامنے بے باک ہے
(اقبال، بہ تغیر الفاظ)
نحمدہ ونصلی علی رسولہ الکریم
اظہار الحق
المعروف رد م
حضرت مولانا حافظ حکیم ع
سلمانی کا قتل اور پھر حاجی عبدالغنی رئیس وں کو اپنے مردوں کو دفن نہ کرنے دینا کے دفن کرنے کے لئے مجبوراً بٹالہ ردوں کے کھودنے پر ناچا کرتے ہیں۔ یہ بھی پتہ نہیں چلا کہ احرار کیا چاہتے شیعہ ، حنبلی ہوں یا شافعی ، مالکی ہوں یا سلمین سے الگ تھلگ ایک غیر مسلم ی کیا تھا۔ ملاحظہ ہو (الفضل ١٣ نومبر
ے ذمہ دار انگریز افسر کو کہلوا بھیجا کہ جائیں۔ جس پر افسر نے کہا کہ وہ تو قوق علیحدہ تسلیم کئے گئے ہیں۔ اسی کے مقابلہ میں میں دو، دو احمدی پیش
ہاں‘ ہے۔ کیا حلیمی شجاعت کا خاصہ بے غیرت نہیں ہوتا۔ کرتے ہیں کہ اگر وہ ملک میں واقعی ے۔ خواہ وہ مرزائی ہوں یا عیسائی یا دینا اور جمہور مسلمین کو پابند کرنے کی کستان کے اندر اسلام اور بانی اسلام نہیں۔ خواہ اس کے لئے ہمیں کتنی ہی
فرما روا کے سامنے بے باک ہے
(اقبال ، بقیہ الفاظ)
خاتم النبیین لا نبی بعدی
سورة احزاب آیت ٤٠
اظہار الحق ،
المعروف رد مرزائیت
حضرت مولانا حافظ حکیم عبداللطیف رحمۃ اللہ علیہ
بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ
برادران اسلام
ہمارے پیارے نبی حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ اپنی پیاری امت کو یہ نصیحت فرما گئے ہیں کہ میرے بعد کئی ایسے دجال کذاب پیدا ہوں گے۔ جن کا دعویٰ نبی ہونے کا ہوگا۔ ان میں سے ہر ایک کہے گا کہ وہ اللہ تبارک وتعالیٰ کا بھیجا ہوا نبی ہے۔ سب جھوٹے ہوں گے۔ چنانچہ آپ کے فرمانے کے مطابق دجالوں وکذابوں کی جماعت میں سے پہلے مسیلمہ کذاب نے دعویٰ نبوت کیا۔ اس کے قتل ہونے کے بعد پھر آہستہ آہستہ یہ دکانداری بڑھتی گئی۔ حتیٰ کہ پنجاب ضلع گورداسپور قادیان میں بھی ایک آدمی کو اس تجارت کے کرنے کا شوق ہوا۔ اس نے بھی ظلی بروزی نبی ہونے کا دعویٰ کیا اور اپنی صداقت ان تین باتوں پر رکھی۔
- ١...... ابن مریم (حضرت عیسیٰ علیہ السلام) آسمان پر زندہ نہیں گئے۔ وہ فوت ہو چکے ہیں۔
ان کی قبر سری نگر محلہ خانیار میں موجود ہے۔
(تریاق القلوب ص ٥٢، خزائن ج ١٥ ص ٣٣٤، ٣٣٥)
- ٢...... سرور کائنات خاتم النبیین کے بعد شرعی رسالت ختم ہو چکی۔ اب غیر شرعی نبی قیامت
تک پیدا ہوتے رہیں گے۔
(حقیقت الوحی ص ٢٨، خزائن ج ٢٢ ص ٣٠)
- ٣...... جس ابن مریم کے متعلق حضور ﷺ نے فرمایا ہے کہ وہ دوبارہ نازل ہوں گے۔ وہ میں
ہی ہوں۔
(شہادۃ القرآن ص٢، خزائن ج ٦ ص ٢٩٨)
چنانچہ مرزا قادیانی کی تجارت یہاں تک عروج پکڑ گئی کہ بڑے بڑے رئیس انگلش خواں اور عالم بھی اس دکانداری کے منافع میں شریک ہو گئے۔ اہل علموں کا اس منافع میں شریک ہونا ہمارے نزدیک دو طرح پر ہے۔ ایک جماعت تو اہل علم مرزا قادیانی کی اطاعت اس لئے کر رہی ہے کہ ان کو دنیا کی عیش وعشرت اور شکم پروری کے لئے کافی سے زیادہ روپیہ ملتا رہتا ہے۔ دوسری جماعت زیر آیت ”وما يضل به كثيراً“ کے تحت خود برے عملوں سے گمراہ ہو چکے ہیں۔ یہ ہر دو جماعت حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے سخت ترین دشمن ہیں۔ اس لئے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے اپنی امت کو یہ نصیحت فرمائی تھی کہ ”اے میری امت! میرے بعد پہاڑ پہاڑوں سے ٹکرائیں گے۔ مری پڑے گی اور بھونچال بھی آئیں گے۔ اس وقت بہتیرے میرے نام سے آئیں گے اور کہیں گے کہ وہ میں ہی ہوں۔ وہ جھوٹے ہوں گے ۔“
(انجیل اردو لوقا ب ٢٢)
٢
مرزا قادیانی (کشتی نوح ص ١٥، خزائن مقبرے کے اندر دفن ہوتا ہے، وہ میں ہی ہوں جب کہ مرزائی نبی بناوٹی کو حضرت عیسیٰ علیہ ال مرزا قادیانی کیوں ان سے عداوت نہ رکھیں ۔ علم لکھ آیا ہوں۔ ایسی دشمن ہے جیسے ابن زیاد رکھ کر یزید پلید کی طرف سے تحفہ تحائف کی خو پیارے نواسے کو بڑی بے دردی سے کربلا کی زی راجعون“
مرزا غلام احمد قادیانی کے علماء دیو اسلام! یوں تو بڑے بڑے علماء دین نے ان کو پھر بھی اپنی ضد سے باز نہیں آتے ۔ جیسے: ”لاہو پیدا ہوا کہ ایک رسالہ ایسا تالیف کیا جائے جس تفاسیر و احادیث شریف واقوال صحابہ و فقہ شریف تا کہ ہر مسلم بھائی ان مرزائیوں کو اچھی طرح س حکیم حافظ م
اعتراض (١)
”ولكم في الارض مستقر آدم کے واسطے تمہارے بیچ زمین کے ٹھکانا ہے اللہ تعالیٰ نے بنی آدم کے لیئے یہ ز کے لئے زمین قرار گاہ ہے۔ اس میں ہی زندگ جمع مخاطب جو کہ تمام اولاد آدم پر حاوی ہے او عبداللہ (مریم: ٣٠) ”میں جیسے ذکر ہے السلام مستثنیٰ ہو کر آسمان پر جاسکتے ہیں۔ اگر بقو قانون الٰہی اور صیغہ جمع ٹوٹ جائے گا۔ قرآنی اعتقاد از روئے کتاب اللہ یہی ہے کہ وہ بیشک ہیں۔ ان کی دوبارہ آمد کا انتظار خیال و خواب ۔
مرزا قادیانی (کشتی نوح ص ١٥، خزائن ج ١٩ ص ١٦) پر لکھتے ہیں: ”جس نے رسول خدا کے مقبرے کے اندر دفن ہونا ہے، وہ میں ہی ہوں۔“ انجیل مقدس اور کشتی نوح کے الفاظ یکساں ہیں۔ جب کہ مرزا کی نبوت کو حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے جھوٹا قرار دیا۔ تو بھلا پھر ان کی امت اور مرزا قادیانی کیوں ان سے عداوت نہ رکھیں۔ اس لئے مرزا قادیانی کی وہ جماعت جن کو اول اہل علم لکھ آیا ہوں۔ ایسی دشمن ہے جیسے ابن زیاد شمر لعین وغیرہ، جنہوں نے دنیا کی خواہشوں کو مدنظر رکھ کر یزید پلید کی طرف سے تحفہ تحائف کی خاطر ایک معصوم بے گناہ حضور آقا نامدار ﷺ کے پیارے نواسے کو بڑی بے دردی سے کربلا کی زمین پر شہید کر دیا۔ ”انا للہ وانا الیہ راجعون“
مرزا غلام احمد قادیانی کے خلاف علماء دین کی رات دن تقریریں ہوتی رہتی ہیں۔ برادران اسلام! یوں تو بڑے بڑے علماء دین نے ان کو دندان شکن جواب دیئے اور دے رہے ہیں۔ لیکن پھر بھی اپنی ضد سے باز نہیں آتے۔ جیسے: ”لا یبصرون“ پھر بھی اس ناچیز کے دل میں یہ شوق پیدا ہوا کہ ایک رسالہ ایسا تالیف کیا جائے جس میں ان کے دلائل پیش کرکے پھر قرآن مجید و معتبر تفاسیر و احادیث شریف و اقوال صحابہؓ و فقہ شریف و اقوال بزرگان دین سے جواب دیئے جائیں تاکہ ہر مسلم بھائی ان مرزائیوں کو اچھی طرح سے جواب دے سکے۔ آمین!
حکیم حافظ عبداللطیف مندراں والا تعلقہ ڈگری ضلع میر پور خاص
اعتراض (١)
”ولکم فی الارض مستقر ومتاع الیٰ حین (البقرۃ:٣٦)“ ﴿اے بنی آدم کے واسطے تمہارے بیچ زمین کے ٹھکانا ہے اور فائدہ ہے مدت تک۔﴾
اللہ تعالیٰ نے بنی آدم کے لئے یہ قانون مقرر فرمایا ہے کہ اے بنی آدم! تمہارے سب کے لئے زمین قرارگاہ ہے۔ اس میں ہی زندگی بسر کرنا تمہارے لئے فائدہ ہے ”ولکم“ صیغہ جمع مخاطب جو کہ تمام اولاد آدم پر حاوی ہے اور ابن مریم بھی اولاد آدم ضرور ہیں۔ ”انی عبداللہ (مریم:٣٠)“ میں جیسے ذکر ہے۔ پھر کیونکر ”ولکم“ صیغہ جمع سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام مستثنیٰ ہو کر آسمان پر جاسکتے ہیں۔ اگر بقول تمہارے ابن مریم کو آسمان پر زندہ سمجھ لیا جائے تو قانون الٰہی اور صیغہ جمع ٹوٹ جائے گا۔ قرآن مجید کی آیت مبارکہ پر زد آئے گی۔ اس لئے ہمارا اعتقاد از روئے کتاب اللہ یہی ہے کہ وہ بیشک مرزا قادیانی کے فرمانے کے مطابق فوت ہو چکے ہیں۔ ان کی دوبارہ آمد کا انتظار خیال و خواب ہے۔
٣
الجواب نمبر ١
جو آپ نے حضرت ابن مریم علیہ السلام کی حیات پر ”ولکم“ سے اعتراض کیا ہے۔ بالکل غلط ہے۔ اس لئے کہ پہلے اس آیت کا شان نزول دیکھئے۔ پھر برابر علم ہو جائے گا کہ واقعی وہ ”ولکم“ صیغہ جمع سے مستثنیٰ ہو کر آسمان پر چلے گئے ہیں۔ دوبارہ پھر قریب قیامت اس دنیا پر تشریف لائیں گے۔ آؤ میں آپ کو قرآن مجید سے ان کی حیات پر چند دلائل پیش کرتا ہوں۔ مگر اس سے قبل آپ مخاطب کی گردان سن لیجئے۔ پھر آپ کو جلدی سمجھ آئے گی۔
تذکیر و تانیث واحد ترجمہ تثنیہ ترجمہ جمع ترجمہ مذکر لہ واسطے ایک مرد لھما واسطے دو مردوں لھم واسطے تین مرد کے بہت کے کے مردوں کے مونث لھا واسطے ایک لھما واسطے دو عورتوں لھن واسطے تین عورتوں کے، عورت کے کے بہت عورتوں کے مذکر لک واسطے ایک مرد لکما واسطے دو مردوں لکم واسطے تین مردوں کے، کے کے بہت مردوں کے مونث لک واسطے ایک لکما واسطے دو عورتوں لکن واسطے تین عورتوں کے، عورت کے کے بہت عورتوں کے مونث، مذکر لی واسطے ایک واسطے تین عورتوں کے بہت عورت کے واسطے عورتوں کے واسطے مرد کے تین مردوں کے بہت مردوں کے ذکر ہو وہ ایک مرد ہما وہ دو مرد ہم وہ تین مرد، بہت مرد مونث ہی وہ ایک عورت ہما وہ دو عورتیں ہن وہ تین عورتیں، بہت عورتیں ذکر انت تو ایک مرد انتما تم دو مرد انتم تم تین مرد، بہت مرد مونث انت تو ایک عورت انتما تم دو عورتیں انتن تم تین عورتیں، بہت عورتیں مذکر مونث انا میں ایک مرد نحن ہم تین مرد، بہت مرد ہم میں ایک عورت تین عورتیں، بہت عورتیں
٤
میرے خیال میں اب آپ بخو استعمال کیا جاتا ہے۔ جیسے ”ولك“ صیغہ واح مردوں پر اور ”ولکم“ تین مردوں سے ا استعمال کر سکتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ”ولکم“ کیا ہے۔ آؤ میں آپ کو قرآن مجید سے سمجھ سامنے پیش کرتا ہوں۔ انشاء اللہ پھر آپ جلد
”وقلنا یٰادم اسکن ان شئتما ولا تقربا ھذہ الشجرة فاخرجھما مما کان فیہ وقلنا اھ مستقر ومتاع الی حین (البقرة:
بہشت میں اور کھاؤ دونوں اس میں سے دونوں اس درخت کے، پس ہو جاؤ گے تم د نے اس سے پس نکال دیا ان دونوں کو اس اب بعضے تمہارے واسطے بعض کے دشمن ہو فائدہ ایک مدت تک۔ ﴿
مرزائیو اللہ تعالیٰ نے آیت ”یہ فیہ“ تک ان چند آیتوں میں صیغہ مخاطب کھاؤ پیو دونوں بہشت سے پھر ”حیث ش تقربا“ صیغہ تثنیہ مت قریب جانا دونوں ا پس ہو جاؤ گے تم دونوں ظالموں سے ”فـا شیطان نے پھر ”فاخرجھما“ صیغہ تثنیہ یہاں تک عبارت عربی میں ص زمین پر اترنے کا حکم نازل ہوتا ہے تو ”وق کہ یہاں پر کیوں نہیں کہا گیا۔ ”وقلنا اه کے صیغہ جمع استعمال کیا گیا۔ اب مرزائیوں نے ”وقلنا اهبطوا“ حکم نازل فرما
پر ”ولکم“ سے اعتراض کیا ہے۔ ۔ پھر برابر علم ہو جائے گا کہ واقعی وہ دوبارہ پھر قریب قیامت اس دنیا پر ات پر چند دلائل پیش کرتا ہوں۔ مگر جائے گی۔
جمع ترجمہ لھم واسطے تین مرد کے بہت مردوں کے لھن واسطے تین عورتوں کے، بہت عورتوں کے لکم واسطے تین مردوں کے، بہت مردوں کے لکن واسطے تین عورتوں کے، بہت عورتوں کے واسطے تین عورتوں کے بہت واسطے عورتوں کے تین مردوں کے بہت مردوں کے ھم وہ تین مرد، بہت مرد ھن وہ تین عورتیں، بہت عورتیں انتم تم تین مرد، بہت مرد انتن تم تین عورتیں، بہت عورتیں نحن ہم تین مرد، بہت مرد ہم تین عورتیں، بہت عورتیں
میرے خیال میں اب آپ بخوبی سمجھ گئے ہوں گے کہ صیغہ جمع کتنے آدمیوں سے استعمال کیا جاتا ہے۔ جیسے ”ولك“ صیغہ واحد ایک مرد کے لئے استعمال ہے۔ ”ولكما“ دو مردوں پر اور ”ولكم“ تین مردوں سے لے کر ہزاروں ، لاکھوں ، کروڑوں ، اربوں ، کھربوں تک استعمال کرسکتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ”ولكم“ جو صیغہ جمع حضرت آدم علیہ الصلوٰۃ والسلام پر استعمال کیا ہے۔ آؤ میں آپ کو قرآن مجید سے سمجھا دیتا ہوں۔ ملاحظہ ہو، ساری آیت پڑھ کر آپ کے سامنے پیش کرتا ہوں۔ انشاء اللہ پھر آپ جلدی سمجھ جاؤ گے۔ آئیے قرآن مجید فرماتا ہے:
”وقلنا يادم اسكن انت وزوجك الجنة وكلا منها رغداً حيث شئتما ولا تقربا هذه الشجرة فتكونا من الظالمين فازلهما الشيطن عنها فاخرجهما مما كان فيه وقلنا اهبطوا بعضكم لبعض عدو ولكم فى الارض مستقر ومتاع الى حين (البقرة:٣٦) ”اور کہا ہم نے اے آدم رہ تو اور بیوی تیری بہشت میں اور کھاؤ دونوں اس میں سے بافراغت جہاں چاہو تم دونوں اور نہ قریب جاؤ تم دونوں اس درخت کے، پس ہو جاؤ گے تم دونوں ظالموں سے۔ پس پھسلایا ان دونوں کو شیطان نے اس سے پس نکال دیا ان دونوں کو اس چیز سے کہ تھے بیچ اس کے اور کہا ہم نے اترو سارے اب بعضے تمہارے واسطے بعض کے دشمن ہیں اور واسطے تمہارے اب بیچ زمین کے ٹھکانا ہے اور فائدہ ایک مدت تک۔“
مرزائیو اللہ تعالیٰ نے آیت ”يادم اسكن“ سے لے کر ”فاخرجهما مما كان فيه“ تک ان چند آیتوں میں صیغہ مخاطب تثنیہ ہی استعمال فرمایا۔ مثلاً ”وكلا منها“ صیغہ تثنیہ کھاؤ پیو دونوں بہشت سے پھر ”حيث شئتما“ صیغہ تثنیہ جہاں چاہو تم دونوں، آگے ”ولا تقربا“ صیغہ تثنیہ مت قریب جانا دونوں اس درخت کے ”فتكونا من الظالمين“ صیغہ تثنیہ پس ہو جاؤ گے تم دونوں ظالموں سے ”فازلهما الشيطن“ صیغہ تثنیہ پس پھسلایا ان دونوں کو شیطان نے پھر ”فاخرجهما“ صیغہ تثنیہ پس نکلوا دیا ان دونوں کو۔
یہاں تک عبارت عربی میں صیغہ تثنیہ ہی استعمال ہے اور جب ان کو نکل جانے کا یعنی زمین پر اترنے کا حکم نازل ہوتا ہے تو ”وقلنا اهبطوا“ صیغہ جمع امر ہے، یہی سمجھنے کی بات ہے کہ یہاں پر کیوں نہیں کہا گیا۔ ”وقلنا اهبطا“ جو صیغہ تثنیہ ہے کہ تم اترو دونوں۔ مگر بجائے اس کے صیغہ جمع استعمال کیا گیا۔ اب مرزائیوں سے ایک سوال، جس وقت اللہ تعالیٰ کی ذات بابرکات نے ”وقلنا اهبطوا“ حکم نازل فرمایا۔ کیا اس وقت اولادِ آدم علیہ الصلوٰۃ والسلام کی موجود تھی؟
٥
جو صیغہ جمع مخاطب استعمال کیا گیا۔ ”وقلنا اهبطوا بعضكم لبعض عدو ولكم في الارض مستقر ومتاع الى حين (البقرة:٣٦)“ اگر نہیں تھی تو پھر خداوند عالم نے صیغہ تثنیہ ”وقلنا اهبطا“ کیوں استعمال نہیں کیا؟ اس کی کیا وجہ؟
اگر یہ جواب دو کہ ان کی تمام اولاد کے پیدا ہونے کا سبب ان کے اندر موجود تھا۔ اس لئے جمع کا صیغہ استعمال کیا گیا تو پھر میں یہ کہوں گا کہ جس وقت اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم علیہ السلام کو داخل بہشت کیا تھا۔ کیا اس وقت ان کی اولاد کے پیدا ہونے کا سبب ان کے جسم میں موجود نہ تھا؟ کیونکر پھر صیغہ تثنیہ استعمال کیا گیا؟ اس سے ہم کو معلوم ہوا کہ ”ولکم“ صیغہ جمع اولاد آدم کے لئے استعمال نہیں ہوا۔ بلکہ ان کے لئے استعمال ہوا ہے جن چیزوں نے عزازیل کا ساتھ دیا ہوگا۔ یا جنہوں نے عزازیل کے مشورہ پر ”نعم“ کہا ہوگا۔ یہ قانون بس ان کے حق میں نازل ہے۔ آؤ میں آپ کو شیخ المحدثین ایک معتبر صحابی حضرت ابن عباسؓ سے تصدیق کرا دیتا ہوں کہ ”ولکم“ اولاد آدم کے لئے یہ قانون نازل نہیں بلکہ عزازیل وغیرہ کے لئے ہے۔
الجواب نمبر ٢
حضرت ابن عباسؓ اپنی تفسیر میں زیر آیت ”قلنا اهبطوا“ راقم ہیں، ملاحظہ ہو: ”وقلنا لادم وحواء وطاؤس وحية وابليس اهبطوا انزلوا الى الارض بعضكم لبعض عدو ولكم فى الارض مستقرا منزل ومتاع منفعة ومعاش الى حين الموت“ ﴿وقال اللہ، کہا ہم نے واسطے آدم علیہ السلام کے اور ماں حوا کے اور واسطے مور اور سانپ کے اور ابلیس کے اترو سارے طرف زمین پر اب بعض تمہارے واسطے بعض کے دشمن ہیں اور واسطے تمہارے اب بیچ زمین کے ٹھکانا ہے اور اس میں تمہیں فائدہ ہے۔ ایک مدت تک یعنی اپنی موت تک۔﴾
واہ مرزا جیو! کہاں کی بات اور کہاں لگا رہے ہو۔ ان فریب بازیوں سے باز آ جاؤ۔ وقت بالکل قریب ہے۔ اتنا ظلم ایک معصوم نبی حضرت ابن مریم علیہا السلام پر کر رہے ہو کل کو جب وہ دوبارہ آسمان سے تشریف لے آئیں گے تو یہ سارے بدلے تمہیں بھگتنے پڑیں گے۔ کیونکہ وہ آیت ”ولکم“ سے مستثنیٰ ہیں۔ آسمان پر زندہ ہیں۔ پھر دوبارہ عنقریب آنے والے ہیں۔ دیکھا صاحب سیدنا حضرت عباسؓ کے بیٹے حضرت عبداللہؓ نے ہماری تصدیق میں کیسی گواہی دی ہے۔ اگر یہ گواہی بھی منظور نہیں۔ تو آؤ کسی مفسر سے بھی گواہی کرا دیتا ہوں۔ انشاء اللہ الرحمن!
الجواب نمبر ٣
چنانچہ مفسر ابوالبرکات حضرت عبداللہ بن ”وقلنا اهبطوا“ راقم ہیں۔ ”وقلنا اهبـ والخطاب لادم وحواء وابليس وقيل ص٥٨)“ ﴿قال اللہ تعالیٰ، پھر کہا ہم نے اترو تم سار اور ماں حوا کے اور ابلیس کے اور کہا گیا واسطے سانپ میں شہادت تفسیر مدارک والوں کی بھی گزر چکی ہے کہ ولكم فى الارض مستقر ومتاع الى حين علیہ السلام اور ماں حوا اور ابلیس اور سانپ ہیں۔ کیو السلام آسمان پر زندہ ہیں:
کل قرآں بے عقلاں تائیں
الجواب نمبر ٤
”يا ايها الذين امنوا لا تلهـ (المنافقون:٩)“ ﴿لوگو جو ایمان لائے ہو نہ بھلا دے اللہ کی یاد سے۔﴾
مرزا جیو! اللہ تبارک وتعالیٰ کی ذات نے اِ کو مال تمہارے اور نہ اولاد تمہاری۔ اب یہ دیکھنا ہے ہر مسلمان کے گھر مال اور اولاد موجود ہے۔ ہرگز نہیں موجود ہیں اور ہزاروں لوگ بغیر مال کے دیکھے کھاتے اب تو قرآن مجید کا قانون نہیں بدلا۔ مـ بھلا تو نہیں کہا۔ اس لئے کہ صیغہ جمع اور ہزاروں لوگو مستثنیٰ ہو کر آسمان پر تشریف لے گئے۔ تمہارا شور بـ جیسے یہاں صیغہ جمع میں سے ہزاروں نہیں، لاکھوں اپنی جگہ قائم ہے۔ اسی طرح ”ولـكـم فـي الار السلام بھی آسمان پر چلے گئے ہیں۔ ”فلاريب فيه ٧
الجواب نمبر ٣
چنانچہ مفسر ابوالبرکات حضرت عبداللہ بن احمد بن محمود النسفیؒ اپنی تفسیر مدارک زیر آیت ”وقلنا اهبطوا“ رقم ہیں۔ ”وقلنا اهبطوا الهبوط النزول الى الارض والخطاب لادم وحواء وابليس وقيل و الحية والصحيح (مدارك ج ١ ص ٥٨)“ کہ قال اللہ تعالیٰ ، پھر کہا ہم نے اترو تم سارے زمین پر یہ کہا گیا واسطے آدم علیہ السلام اور ماں حوا کے اور ابلیس کے اور کہا گیا واسطے سانپ کے یہ صحیح ہے۔ مرزائیو! اب تو ہمارے حق میں شہادت تفسیر مدارک والوں کی بھی گزر چکی ہے کہ ”قلنا اهبطوا بعضكم لبعض عدو ولكم فى الارض مستقر ومتاع الى حين (البقرة:٣٦)“ کے مصداق حضرت آدم علیہ السلام اور ماں حوا اور ابلیس اور سانپ ہیں۔ کیا اب ایمان لے آؤ گے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام آسمان پر زندہ ہیں:
کل قرآں بے عقلاں تائیں کچھ نہ اثر پہنچاوے
الجواب نمبر ٤
”يا ايها الذين امنوا لا تلهكم اموالكم ولا اولادكم عن ذكر الله (المنافقون:٩)“ ﴿لوگو جو ایمان لائے ہو نہ ہلاک کر دیں تم کو مال تمہارے اور نہ اولاد تمہارے اللہ کی یاد سے۔﴾
مرزائیو! اللہ تبارک وتعالیٰ کی ذات نے ایمان والوں کو پکار کر کہا ہے کہ نہ ہلاک کر دیں تم کو مال تمہارے اور نہ اولاد تمہاری۔ اب یہ دیکھنا ہے کہ کیا یہ صیغہ جمع مخاطب نہیں ہے؟ اگر ہے تو کیا ہر مسلمان کے گھر مال اور اولاد موجود ہے۔ ہرگز نہیں۔ ہزاروں لوگ بے اولاد ہماری نظروں میں موجود ہیں اور ہزاروں لوگ بغیر مال کے دھکے کھاتے پھرتے ہیں۔ حالانکہ صیغہ جمع استعمال ہے۔
اب تو قرآن مجید کا قانون نہیں بدلا۔ مرزا قادیانی یا آپ لوگوں نے خداوند عالم کو برا بھلا تو نہیں کہا۔ اس لئے کہ صیغہ جمع سے ہزاروں لوگ مستثنیٰ ہیں اور ابن مریم تو اکیلے ہی ولکم سے مستثنیٰ ہو کر آسمان پر تشریف لے گئے۔ تمہارا شور ساری دنیا پر کیا ہو گیا۔ بڑی شرم کی بات ہے۔ جیسے یہاں صیغہ جمع میں سے ہزاروں نہیں، لاکھوں انسان مستثنیٰ ہیں۔ قانون خداوندی اور صیغہ جمع اپنی جگہ قائم ہے۔ اسی طرح ” ولكم فى الارض “ صیغہ جمع سے مستثنیٰ ہو کر حضرت عیسیٰ علیہ السلام بھی آسمان پر چلے گئے ہیں۔ ” فلاریب فيه “
٧
الجواب نمبر ٥
"يايها الذين امنوا ان من ازواجكم واولادكم عدو لكم فاحذروهم (التغابن: ١٤)" ﴿اے لوگو جو ایمان لائے ہو، تحقیق عورتیں تمہاری اور اولاد تمہارے دشمن ہے واسطے تمہاری پس بچو ان سے۔﴾
مرزائیو! اس آیت میں اللہ تبارک و تعالیٰ چاروں جگہ صیغہ جمع استعمال فرماتا ہے۔ مسلمانو! تمہاری عورتیں اور اولاد دشمن ہیں واسطے تمہارے پس ان سے بچو۔
سوال ....... کیا ہر مسلمان کے گھر بیوی اور اولاد ہے۔ واللہ۔ اگر فہرست بنائی جائے تو ہمارے ہی گاؤں میں کافی رنڈوے موجود ہیں۔ اگر دنیا ساری کے مسلمانوں کی فہرست تیار کی جائے تو لاکھوں تک تعداد پہنچے گی۔ اب صیغہ جمع باقی رہے گا یا ٹوٹ جائے گا اور قانون الہی تو تغیر و تبدل نہیں ہوگا۔ جبکہ اتنے انسان صیغہ جمع سے مستثنیٰ ہو سکتے ہیں۔ تو کیا صرف ایک آدمی کے آسمان پر جانے سے صیغہ جمع ٹوٹ سکتا ہے؟ ہرگز نہیں۔ پھر کیوں نہیں مرزا غلام احمد کذاب کو چھوڑ کر مدینہ والے کی آغوش کو اختیار کر لیتے.....؟
اعتراض نمبر ٢
"واذ قال الله يعيسى انى متوفيك ورافعك الى (آل عمران: ٥٥)" ﴿اور جب کہا اللہ تعالیٰ نے اے عیسیٰ علیہ السلام تحقیق میں مارنے والا ہوں تجھ کو اور اٹھانے والا ہوں تجھ کو طرف اپنی ۔﴾
اس آیت سے صاف ظاہر ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام اس دنیا فانی سے ہمیشہ کے لئے کوچ کر گئے ہیں۔ کیونکہ اگر ان کو اللہ تعالیٰ کی ذات پاک نے زندہ اٹھانا ہوتا تو قرآن مجید میں پہلے "رافعك الى" آتا اور بعد "متوفيك" ہوتا۔ مگر خلاف اس کے پہلے "متوفيك" اور بعد میں "رافعك" جیسے قرآن مجید میں آیا ہے۔ اب کس طرح حضرت ابن مریم علیہ السلام کو آسمان پر زندہ سمجھ لیا جائے۔ یہ تو عقیدہ کھلم کھلا قرآن مجید کے خلاف ہے۔ "متوفيك ورافعك الى" سے کسی صورت حضرت ابن مریم علیہ السلام نکل نہیں سکتے۔ وہ تو بہر حال فوت ہو چکے ہیں۔
الجواب نمبر ١
مرزائیو! آپ نے جو "متوفيك ورافعك الى" کی آیت سے جو یہ استدلال پکڑا ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام فوت ہو چکے ہیں، یہ غلط ہے۔ متوفی کے معنی موت کرنا یہ آپ کو کس استاد
٨
نے پڑھایا ہے اور متوفیک کا ترجمہ موت کرنا ایسا ہے جیسے دن کو کوئی بیوقوف یہ کہہ دے کہ اب رات ہے۔ یہاں تمہارے استاد کا ایسا ترجمہ پڑھایا ہوا کام نہیں دے سکتا۔ ”متوفیک“ مادہ وفا کا ہے۔ آؤ میں آپ کے لئے قرآن مجید سے چند آیتیں پیش کرتا ہوں۔ پھر معتبر تفاسیر کی سیر کراؤں گا کہ مفسرین کے نزدیک ”متوفی“ کا معنی کیا ہے۔ ملاحظہ فرمائیں، قرآن مجید کی آیت پیش کرتا ہوں۔
الجواب نمبر ١ (الف)
”واما الذین امنوا وعملوا الصلحت فیوفیہم اجورہم (آل عمران :٥٧)“ ﴿اور تحقیق جو لوگ ایمان اور عمل کریں گے صالح، پس پورا کر دوں گا ان کو اجر ان کا۔﴾
مرزائیو! کیا اب تمہارے نزدیک یہ معنی ہو گا کہ جو لوگ ایمان لے آئے اور عمل کریں گے صالح پس فوت کر دوں گا عمل ان کے یعنی ضائع کر دوں گا عمل ان کے؟ ہرگز نہیں بلکہ پورے دیئے جائیں گے ان کو اجر ان کے، نہیں ضائع کیا جائے گا ان کے عملوں سے کچھ۔ معلوم ہوا کہ متوفی کا معنی موت نہیں ہے۔ دوسری آیت بھی ملاحظہ ہو۔
الجواب نمبر ٢
”ثم توفی کل نفس ما کسبت وہم لا یظلمون (البقرة:٢٨١)“ ﴿پھر پورے دیئے جائیں گے جو کچھ کمایا ہر جی نے اور وہ نہیں ظلم کئے جائیں گے۔﴾
مرزائیو! اس آیت میں بھی اللہ تبارک وتعالیٰ نے پورے اجر دینے کا وعدہ قرآن مجید میں فرمایا ہے۔ نہ کہ عمل ضائع کرنے کا۔ اب کیا سمجھو گے کہ متوفی کا معنی موت ہے؟ ہرگز نہیں۔
الجواب نمبر ٣
”ثم توفی کل نفس ماعملت وہم لا یظلمون (البقرة:٢٨١)“ ﴿اور پورا دیا جائے گا ہر جی کو جو کچھ کمایا ہے اور وہ نہیں ظلم کئے جائیں گے۔﴾
مرزائیو! اللہ وحدہ لاشریک اپنے بندوں سے وعدہ فرماتا ہے کہ میں ہر جان کو جو کچھ اس نے کمایا ہے پورا پورا اجر دوں گا۔ نہ یہ کہ ان کے عملوں کو فوت کر دوں گا۔ یعنی ضائع کر دوں گا۔ ہرگز نہیں۔ پس ہمیں ان آیتوں سے معلوم ہوا ہے کہ ”متوفیک“ کے معنی بھی یہی ہیں کہ ”پورا لینے والا ہوں تجھ کو۔“ نہ یہ کہ موت دینے والا ہوں تجھ کو۔ ایسے معنی کرنا قرآن مجید کے خلاف ہے۔
٩
الجواب نمبر ٤
"لیوفیھم اجورھم ویزیدھم من فضلہ (فاطر:٣٠)" ﴿تاکہ پورا دیوے ان کو ثواب ان کا فضل اپنے سے اور زیادہ دے گا ان کو۔﴾
مرزائیو! اللہ تبارک تعالیٰ قرآن مجید کے اندر تو یہی حکم صادر فرماتا ہے کہ میں پورے پورے اجر دوں گا ان لوگوں کو جن لوگوں نے میرے خوف سے عمل صالح کئے ہیں۔ بلکہ میں اور زیادہ دے دوں گا اپنے فضل سے معلوم ہوا کہ "متوفیک" کا معنی بھی موت نہیں ہے بلکہ پورا لینے کے ہیں ۔ جیسا کہ قرآن مجید سے ظاہر ہے۔
الجواب نمبر ٥
"انما یوفی الصبرون اجرھم بغیر حساب (الزمر:١٠)" ﴿سوائے اس کے نہیں کہ پورا دیا جائے گا صبر کرنے والوں کو ثواب ان کا بے حساب۔﴾ قادیانو! اس آیت کا ترجمہ کیا کرو گے؟ فرمایا جائے۔
الجواب نمبر ٦
"وھو الذی یتوفکم باللیل ویعلم ماجرحتم بالنھار ثم یبعثکم فیہ لیقضی اجل مسمی (الانعام:٦٠)" ﴿اور وہی ہے اللہ تعالیٰ جو قبض کرتا ہے تم کو بیچ رات کے اور جانتا ہے جو کچھ کماتے ہو تم بیچ دن کے پھر اٹھاتا ہے تم کو بیچ اس کے تاکہ پورا کیا جاوے وقت مقرر کیا ہوا۔﴾
مرزائیو! اللہ تعالیٰ رات کو بلا ناغہ ہماری روحوں کو قبض کرتا ہے اور دن اٹھاتا رہتا ہے تاکہ جو وقت مقرر زندگی کا ہے موت تک پورا ہو جائے۔ اس آیت مبارکہ سے معلوم ہوا کہ نیند بھی موت کے بالکل مشابہ ہے۔ اس لئے تو مفسرین کی جماعت نے "متوفیک" کے معنی بھی قبض کرنے والا ہوں کیا ہے۔ "متوفیک" شان نزول! جب حضرت ابن مریم علیہ السلام یہودیوں کی طرف چند معجزوں کے ساتھ تشریف لائے اور خداوندی حکم احکام سنائے تو انہوں نے آپ کی تکذیب کرنے کے علاوہ آپ کو قتل کرنے کے بھی مکر و فریب کئے اور مکمل ارادہ کر لیا کہ ان کو صلیب پر چڑھا کر جان سے مار دیا جائے۔
چنانچہ آپ کو یہود کے مکر و فریب کا علم ہوا۔ فوراً بارگاہ الٰہی میں درخواست کر دی کہ یا اللہ مجھے ان کے مکر و فریب سے نجات دے۔ تب اللہ تبارک و تعالیٰ نے آپ کی درخواست کو
١٠
مستجاب فرما کر یہ چند کلمات بطور تسلی نازل فرمائے۔ "ی ان کے تمام مکر و فریب کو رد کر کے تجھ کو اپنی طرف اٹھا ل
والله خير المکرین!
مرزائیو! خداوند تعالیٰ کی ذات بابرکات یہود کو دور رکھ کر بذریعہ جبرائیل علیہ السلام کے زندہ آس مبارکہ سے ظاہر ہے۔ اللہ تعالیٰ دن قیامت کے ابن اے عیسیٰ! وہ وقت یاد کر۔
الجواب نمبر ٧
"اذکففت بنی اسرائیل عنک اذج منهم ان ھذا سحر مبین (مائدہ:١١٠)" ﴿و سے دور رکھا اور آئے تھے تم جب ان کے پاس ساتھ کافر ہوئے کہ جادوگر ہے ظاہر۔﴾ اور تجھ کو قتل کرنے عملی سے ایسا کام لیا کہ وہ قریب بھی نہ پہنچے تھے کہ تم دشمن تھا۔ ان کے ہاتھوں سے اس کو صلیب پر چڑھا کر یہود روتے آئے ہیں۔
الجواب نمبر ٨
"انا قتلنا المسیح عیسیٰ ابن مری ولکن شبہ لهم وان الذین اختلفوا فی الاتباع الظن، وما قتلوہ یقینا بل رفع (النساء:١٥٧)" ﴿بقول یہود کہ تحقیق ہم نے قتل رسول ہونے کا تھا، اور نہیں قتل کیا اس کو اور نہ سولی دی اور تحقیق جو لوگ اختلاف کرتے ہیں بیچ ان کے البت ساتھ اس کے کچھ علم مگر وہ پیروی کرتے ہیں ظن کی ا نے طرف اپنی اور ہے اللہ زبردست حکمت والا۔﴾
مرزائیو! بقول یہود کے قتل کر ڈالا ہم ن
١١
مستجاب فرما کر یہ چند کلمات بطور تسلی نازل فرمائے۔ ”متوفيك ورافعك الیّ“ یعنی غم نہ کر میں ان کے تمام مکر وفریب کو رد کر کے تجھ کو اپنی طرف اٹھانے والا ہوں۔ جیسے مکروا ومکر الله ، والله خير الماکرین!
مرزائیو! خداوند تعالیٰ کی ذات بابرکات نے حسب وعدہ ابن مریم علیہ السلام سے یہود کو دور رکھ کر بذریعہ جبرائیل علیہ السلام کے زندہ آسمان پر اٹھا لیا۔ جیسا کہ قرآن مجید کی آیت مبارکہ سے ظاہر ہے۔ اللہ تعالیٰ دن قیامت کے ابن مریم علیہ السلام کو یہ احساس بھی یاد کرائے گا اے عیسیٰ! وہ وقت یاد کر۔
الجواب نمبر ٧
”اذكففت بنى اسرائيل عنك اذ جئتهم بالبينت فقال الذين كفروا منهم ان هذا سحر مبين (مائدہ: ١١٠)“ ﴿جب میں نے بنی اسرائیل کے ہاتھوں کو تجھ سے دور رکھا اور آئے تھے تم جب ان کے پاس ساتھ دلیلوں ظاہر کے اور کہا ان میں سے جو لوگ کافر ہوئے کہ جادو گر ہے ظاہر۔﴾ اور تجھ کو قتل کرنے کے مکر وفریب کئے۔ میں نے بھی اپنی حکمت عملی سے ایسا کام لیا کہ وہ قریب بھی نہ پہنچے تھے کہ تجھ کو آسمان پر اٹھا لیا اور ططیانوس جو تیرا سخت دشمن تھا۔ ان کے ہاتھوں سے اس کو صلیب پر چڑھا کر اس کی روح کو قبض کیا۔ جس کا رونا آج تک یہود روتے آئے ہیں۔
الجواب نمبر ٨
”انا قتلنا المسيح عيسىٰ ابن مريم رسول الله وما قتلوه وما صلبوه ولكن شبه لهم وان الذين اختلفوا فيه لفى شك منه مالهم به من علم الا الاتباع الظن وما قتلوه يقينا بل رفعه الله اليه وكان الله عزيزاً حكيما (النساء: ١٥٧)“ ﴿بقول یہود کہ تحقیق ہم نے قتل کر ڈالا مسیح بیٹے مریم کے کو جس کا دعویٰ اللہ کے رسول ہونے کا تھا، اور نہیں قتل کیا اس کو اور نہ سولی دیا اس کو اور لیکن شبہ ڈال دیا گیا واسطے ان کے اور تحقیق جو لوگ اختلاف کرتے ہیں بیچ ان کے البتہ وہ بیچ شک کے ہیں نہیں ہے واسطے ان کے ساتھ اس کے کچھ علم مگر وہ پیروی کرتے ہیں ظن کی اور نہیں قتل کیا اس کو یہ یقین ہے بلکہ اٹھا لیا اللہ نے طرف اپنی اور ہے اللہ زبردست حکمت والا ۔ ﴾
مرزائیو! بقول یہود کے قتل کر ڈالا ہم نے عیسیٰ ابن مریم کو جن کا دعویٰ خدا کے رسول
١١
ہونے کا تھا۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کے قول ”انا قتلنا“ کی تردید نہیں کی کہ یہودیوں نے کسی آدمی کو بھی قتل نہیں کیا اور نہ صلیب دیا بلکہ ”وما قتلوہ وما صلبوہ“ سے صرف اس بات کی نفی کی ہے کہ ان لوگوں نے میرے رسول کو نہ تو قتل ہی کیا اور نہ سولی دیا۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ کسی مشابہت شکل کو صلیب دے کر ”انا قتلنا“ قول کے قائل ہو چکے ہیں۔
جیسا کہ اگلی آیت سے ظاہر ہے اور لیکن شبہ ڈال دیا میں نے واسطے ان کے ططیانوس کا اس لئے وہ اختلاف میں ہیں اور شک میں ہیں کہ ہم نے ابن مریم علیہ السلام کو ہی صلیب پر دیا ہے۔ حالانکہ ان کو مسیح ابن مریم کے حالات سے کچھ بھی علم نہیں۔ وہ صرف پیروی کرتے ہیں ظن کی۔ ”وما قتلوہ یقیناً“ اے میرے حبیب یہ یقین کیجئے گا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو ان لوگوں نے ہرگز قتل نہیں کیا۔ وہ اس کے بجائے ططیانوس کو قتل کر چکے ہیں۔ ان کو یہی شبہ ہے بلکہ میں نے اس کو اپنی طرف اٹھا لیا ہے اور میں زبردست حکمت والا ہوں۔ ان کی تجویز اور صلاح یہی تھی کہ پکڑ کر مکان سے صلیب دے دیا جائے۔
میں نے ان کے مکر و فریب کو رد کر کے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو تو آسمان پر اٹھا لیا اور ان کے دشمن ططیانوس کی شکل بدلی تھی کہ یہودیوں نے ابن مریم سمجھ کر اس کو قتل کر دیا جس کے وہ آج تک قائل ہیں۔ ”انا قتلنا المسیح عیسٰی ابن مریم رسول اللہ“ یہی اللہ تبارک وتعالیٰ کی زبردست حکمت ہے۔
مرزائیو! آپ ططیانوس کا صلیب دیئے جانا سن کر افسوس کرتے ہوگے کہ وہ کیوں صلیب دیا گیا۔ یہ بھی قانون الٰہی ہے آؤ میں آپ کے سامنے قرآن مجید پیش کرتا ہوں، ملاحظہ ہو: ”ولا یحیق المکر السئ الا باھلہ (فاطر: ٤٣)“ ﴿اور نہیں گھیرتا برا مکر مگر کرنے والوں کو۔﴾
مرزائیو! قرآن مجید کی شہادت ہمارے حق میں گزری ہے اس لئے کہ ططیانوس نے ہی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو پکڑ کر سولی دینے کی تجویزیں اپنی قوم سے پاس کرائی تھیں۔ جو اس کے پیش آ گئیں۔ کیونکہ یہ قانون الٰہی ہے۔ ہر نبی کا اس کے زمانے میں ایک دشمن ضرور ہوتا رہا ہے اور دشمن کو اللہ تعالیٰ پہلے ہلاک کرتا آیا جیسے قرآن مجید بھی اس بات کی شہادت دیتا ہے۔
الجواب نمبر ٩
سیدنا حضرت ابراہیم علیہ السلام خلیل اللہ کا دشمن نمرود بن کنعان تھا۔ آپ سے پہلے ہلاک ہوا اور سیدنا ابراہیم علیہ السلام زندہ تھے اور حضرت داؤد علیہ السلام کا دشمن جالوت تھا، پہلے قتل ہوا۔ ”وقتل داؤد جالوت“ ﴿جیسے قتل کیا داؤد نے جالوت کو آپ زندہ تھے۔﴾ حضرت موسیٰ
١٢
کلیم اللہ کا دشمن فرعون تھا۔ ”واغرقنا ال فرع حضرت کلیم اللہ زندہ تھے اور ططیانوس حضرت عیسیٰ اور آپ آسمان پر اٹھائے گئے۔ کیونکہ یہ سنت قد ابو جہل تھا۔ جنگ بدر میں قتل کر دیا گیا اور اللہ تعالیٰ کے
مرزائیو! اس عقلی نقلی دلائل سے بھی حضر معلوم ہوا کہ ”متوفیک“ کا معنی ہرگز موت نہیں آئیے آپ کو اب معتبر تفاسیر سے بھی متوفیک کے تمہارے عقائد صحیح اور درست ہو جائیں کہ واقعی حضر دوبارہ پھر نزول فرمائیں گے۔
تفسیر ابن عباس نمبر ١
حضرت ابن عباسؓ اپنی (تفسیر ابن عباس ص ٢٣٧) میں فرماتے ہیں، ملاحظہ ہو ”ومک ومکر اللہ اراد اللہ قتل صاحبہم تطیا المریدین ویقال افضل الصالحین اذ قا مقدم و مؤخر یقول انی رافعک الی ومطہر
مکر کیا یہود نے یعنی حضرت عیسیٰ علیہ ا تدبیریں کرنے والا ہے اور اللہ تعالیٰ نے ارادہ کیا ان تعالیٰ نے ”انی متوفیک ورافعک“ شروع اور آخ میں اٹھانے والا ہوں تجھ کو طرف اپنی و مطہرک کا معنی ۔ کفر کرتے ہیں ساتھ تیرے۔
مرزائیو! مطلب حاصل یہ ہے کہ حضرت کرتے اور حیات مسیح علیہ السلام کے قائل ہیں۔ صحابہ یہی عقیدہ رکھتے ہیں کہ وہ زندہ ہیں اور جماعت صحابہ رضو ان علیہم ”من کان علی مثل ما انا علیہ واصحاب آپ ﷺ نے فرمایا، میرے بعد میری ام دوزخی ہوں گے لیکن وہ فرقہ نجات پانے کے قائل ہو گا
١٣
کلیم اللہ کا دشمن فرعون تھا۔ ”واغرقنا ال فرعون وانتم تنظرون“ فرعون غرق ہو گیا حضرت کلیم اللہ زندہ تھے اور ططیانوس حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا دشمن تھا۔ یہودیوں نے قتل کر دیا اور آپ آسمان پر اٹھائے گئے۔ کیونکہ یہ سنت قدیمہ چلی آرہی ہے اور محمد رسول ﷺ کا دشمن ابوجہل تھا۔ جنگ بدر میں قتل کر دیا گیا اور اللہ تعالیٰ کے رسول زندہ تھے۔
مرزائیو! اس عقلی نقلی دلائل سے بھی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی زندگی ثابت ہوتی ہے۔ معلوم ہوا کہ ”متوفیک“ کا معنی ہرگز موت نہیں۔ بلکہ قبض کرنے والا ہوں تجھ کو درست ہے۔ آئیے آپ کو اب معتبر تفاسیر سے بھی متوفیک کے معنی موت نہیں۔ شہادت کرا دیتا ہوں تا کہ تمہارے عقائد صحیح اور درست ہو جائیں کہ واقعی حضرت عیسیٰ علیہ السلام آسمان پر زندہ ہیں اور دوبارہ پھر نزول فرمائیں گے۔
تفسیر ابن عباس نمبر ١
حضرت ابن عباسؓ اپنی (تفسیر ابن عباس ص ٦٣،٦٤) میں زیر آیت: ”مکروا ومکر اللہ (آل عمران:٥٤)“ راقم ہیں، ملاحظہ ہو ”ومکرو ارادوا يعنى اليهود قتل عيسىٰ ومكر الله اراد الله قتل صاحبهم ططيانوس والله خير الماكرين اقوى المريدين ويقال افضل الصانعين اذ قال الله يعيسىٰ انى متوفيك ورافعك مقدم و مؤخر يقول انى رافعك الى ومطهرك منجيك من الذين كفروا بك“
مکر کیا یہود نے یعنی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے قتل کرنے کا اور اللہ تعالیٰ بڑی تدبیریں کرنے والا ہے اور اللہ تعالیٰ نے ارادہ کیا ان کے ططیانوس کے قتل کر دینے کا اور کہا اللہ تعالیٰ نے ”انی متوفیک ورافعك“ شروع اور آخر یعنی ان دونوں جملوں کا یہی مطلب ہے کہ میں اٹھانے والا ہوں تجھ کو طرف اپنی و مطہرک کا معنی ہے کہ نجات دینے والا ہوں تجھ کو یہود سے جو کفر کرتے ہیں ساتھ تیرے۔
مرزائیو! مطلب حاصل یہ ہے کہ حضرت ابن عباسؓ بھی متوفیک کا معنی موت نہیں کرتے اور حیات مسیح علیہ السلام کے قائل ہیں۔ صحابہ کرامؓ بھی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے متعلق یہی عقیدہ رکھتے ہیں کہ وہ زندہ ہیں اور جماعت صحابہؓ کی اتباع کرنا لازمی ہے اس لئے قال رسول اللہ ﷺ ”من كان على مثل ما انا عليه واصحابی“
آپ ﷺ نے فرمایا، میرے بعد میری امت ٧٣ فرقوں میں جدا ہو گی۔ سب دوزخی ہوں گے لیکن وہ فرقہ نجات پانے کے قابل ہو گا جو میری اور میرے صحابہ کی اتباع پر قائم ہو
١٣
گا۔ آؤ مرزائیو! جہنم کے ٹکٹ نہ خریدو، حضور اور حضورﷺ کے صحابہ کا دامن پکڑ لو تا کہ نجات مل جائے۔ آمین!
تفسیر صاوی نمبر ٢
مفسر تفسیر صاوی والے زیر آیت ”مکر اللہ (آل عمران:٥٤)“ راقم ہیں، ملاحظہ ہو۔
قوله بان القى شبه عيسى الخ حاصل (على قتله) ”ذالك انهم لما تجمعوا على قتله جاءه جبريل فوجده فى مكان فى سقفه فرجة فرفعه من تلك الفرجة الى السماء وامر ملك اليهود رجلا اسمه ططيانوس ان يدخل على عيسى فيقتله فلما دخل فلم يجده خرج وقد القى الله شبه عيسى عليه فلما راؤه ظنوه عيسى...... فقتلوه وفتشوا على عيسى فوقع بينهم قتال عظيم
(تفسير صاوى بحواله جلالين ص٥٢ حاشيه نمبر٩)“
یعنی شکل ڈال دی اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی ایک یہود پر جبکہ جمع ہوئے تھے ان کے قتل کرنے کے لئے اور آیا حضرت جبرائیل علیہ السلام اور دیکھا مکان میں ایک سوراخ پس اٹھا لیا اس میں سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو طرف آسمان کے اور حکم کیا بادشاہ یہود نے اس کو کہ وہ۔ نام اس کا تھا ططیانوس۔ یہ پکڑنے گیا تھا مکان میں سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو اس لئے کہ ان کو قتل کر دیا جائے۔ پس جب داخل ہوا اور نہ پایا مکان میں ابن مریم علیہ السلام کو اور پھر بدل دیا اس کی شکل کو اللہ تعالیٰ نے اوپر ابن مریم کے جب دیکھا یہود نے اس کو اور ظن کیا اس پر کہ یہی عیسیٰ علیہ السلام ہیں۔ پس قتل کیا اس کو یہ واقع گزرا درمیان ان کے قتل عظیم کا۔ معلوم ہوا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی ططیانوس کو قتل کر کے ”انا قتلنا“ کے قائل ہوئے ہیں۔ ابن مریم الحمد للہ اب تک زندہ ہیں۔
تفسیر کبیر نمبر ٣
تفسیر کبیر میں زیر آیت ”والله خير الماكرين“ راقم ہیں، ملاحظہ فرمائیں: ”قوله ورفع عيسى الى السماء وذلك ان ملك اليهود اراد قتل عيسى عليه السلام وكان جبريل عليه السلام لا يفارقه ساعة وهو معنى قوله وايدناه بروح القدس فلما ارادوا ذلك أمره جبريل عليه السلام ان يدخل بيتاً فيه روزنة فلما دخلوا البيت اخرجه جبريل عليه السلام من تلك الروزنة وكان قد القى شبه على غيره فاخذ وصلب (تفسير كبير ج٤ جزء ص٦٩)“
١٤
یعنی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو اٹھا لیا ا یہودیوں کے بادشاہ نے ارادہ کیا تھا ابن مریم علیہ الس کی قرآن مجید کے اندر اطلاع بھی دی ہے جیسے ”واید دی ابن مریم علیہ السلام کو۔ اور پھر حکم کیا اللہ تعالیٰ نے السلام اس مکان میں جس میں ابن مریم علیہ السلام سوراخ تھا۔ پس داخل ہو کر لے گئے اس سوراخ سے مریم علیہ السلام کو آسمان پر اور ڈال دی اللہ تعالیٰ نے یہودیوں نے اس کو پکڑ کر سولی دے دیا۔
مرزائیو! تفسیر والوں کا عقیدہ ماشاء اللہ ہمار
کہ خوشبو آ نہیں سکتی کاغذ
کبھی نصرت نہیں ملتی در مو
کبھی ضائع نہیں کرتا وہ اپنے
تفسیر جلالین نمبر ٤
حضرت علامہ جلال الدین سیوطیؒ اپنی تفسیر جل راقم ہیں، ملاحظہ ہو: ”اذقال الله يٰعيسىٰ انى م الدنيا من غير موت (جلالين ص٥٢)“ یعنی اٹھانے والا ہوں یعنی قبض کرنے والا ہوں تجھ کو اور او موت کے اس دنیا سے فی الحال۔
مرزائیو! علامہ جلال الدین سیوطیؒ بھی متوفی علیہ السلام کی حیات کے قائل ہیں۔ جیسا کہ ان کی تفسیر م
تفسیر مدارک نمبر ٥
مفسر ابوالبرکات حضرت عبداللہ بن احمد بن ”مکروا“ راقم ہیں، ملاحظہ ہو: ”ای کفار بنی ا الكفر حين قتله (وصلبه ومكر الله) اى جاز الى السماء والقى شبه على من اراد اغتياله
١٥
یعنی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو اٹھا لیا اللہ نے اوپر آسمان کے اس وقت جبکہ یہودیوں کے بادشاہ نے ارادہ کیا تھا ابن مریم علیہ السلام کے قتل کا اور اللہ تعالیٰ نے اس واقعہ کی قرآن مجید کے اندر اطلاع بھی دی ہے جیسے ”وایدنٰہ بروح القدس“ اور ہم نے قوت دی ابن مریم علیہ السلام کو۔ اور پھر حکم کیا اللہ تعالیٰ نے جبرائیل علیہ السلام کو کہ اے جبرائیل علیہ السلام اس مکان میں جس میں ابن مریم علیہ السلام بند کئے ہوئے تھے۔ اس مکان میں ایک سوراخ تھا۔ پس داخل ہو کر لے گئے اس سوراخ سے حضرت جبرائیل علیہ السلام حضرت ابن مریم علیہ السلام کو آسمان پر اور ڈال دی اللہ تعالیٰ نے مشابہت شکل ابن مریم کی ططیانوس پر یہودیوں نے اس کو پکڑ کر سولی دے دیا۔
مرزائیو! تفسیر والوں کا عقیدہ ماشاء اللہ ہمارے مطابق ہے:
کہ خوشبو آ نہیں سکتی کاغذ کے پھولوں سے
کبھی نصرت نہیں ملتی در موسیٰ سے گندوں کو
کبھی ضائع نہیں کرتا وہ اپنے نیک بندوں کو
تفسیر جلالین نمبر ٤
حضرت علامہ جلال الدین سیوطیؒ اپنی تفسیر جلالین میں زیر آیت ”انی متوفيك“ راقم ہیں، ملاحظہ ہو: ”اذ قال الله یعیسیٰ انی متوفيك قابضك ورافعك الیٰ من الدنيا من غير موت (جلالین ص ٥٢)“ یعنی جب کہا اللہ تعالیٰ نے اے عیسیٰ! تحقیق میں اٹھانے والا ہوں یعنی قبض کرنے والا ہوں تجھ کو اور اوپر اٹھانے والا ہوں تجھ کو طرف اپنی، بغیر موت کے اس دنیا سے فی الحال۔
مرزائیو! علامہ جلال الدین سیوطیؒ بھی متوفیک کا معنی قابضک کرتے ہیں اور ابن مریم علیہ السلام کی حیات کے قائل ہیں۔ جیسا کہ ان کی تفسیر جلالین سے ظاہر ہے۔
تفسیر مدارک نمبر ٥
مفسر ابوالبرکات حضرت عبداللہ بن احمد بن محمود النسفیؒ اپنی تفسیر مدارک میں زیر آیت ”مکروا“ راقم ہیں، ملاحظہ ہو: ”ای کفار بنی اسرائیل الذین احس عيسىٰ منهم الكفر حين قتله (وصلبه ومكر الله) اى جازاهم على مكرهم بان رفع عيسىٰ الى السماء والقى شبه على من اراد اغتياله حتى قتل ولا يجوز اضافة المكر
١٥
الى الله تعالى الا على معنى الجزاء لانه مذموم عندالخلق وعلى هذا الخداع والا ستهزاء كذافى شرح التاويلات (والله خير الماكرين) اقوى المجازين واقدرهم على العقاب من حيث لا يشعر المعاقب (اذقال الله) ظرف لمكر الله (يا عيسى انى متوفيك) اى مستوفى اجلك ومعناه انى عاصمك من ان يقتلك الكفار ومميتك حتف انفك لا قتلا بايديهم (ورافعك الى) الى سمائى ومقر ملائكتي و (مطهرك من الذين كفروا) من سوء جوارهم وخبث صحبتهم وقيل متوفيك قابضك من الارض من توفيت مالى على فلان اذا استوفيته او مميتك فى وقتك بعد النزول من السماء ورافعك الان اذ الواو لا توجب الترتيب قال النبى ﷺ ينزل عيسى خليفة على امتى يدق الصليب ويقتل الخنازير ويلبث اربعين سنة ويتزوج ويولدله ثم يتوفى وكيف تهلك امة انا فى اولها و عيسى فى اخرها والمهدى من اهل بيتى فى وسطها او متوفى نفسك بالنوم ورافعك وانت نائم حتى لايلحقك خوف وتستيقظ وانت فى السماء آمن مقرب (تفسير مدارك عربي مطبع مصر ج ١ ص ١٨٧، ١٨٨)“
یعنی کافر ہوئے جو لوگ بنی اسرائیل سے انہوں نے مکمل ارادہ کر لیا کہ ابن مریم علیہ السلام کو قتل کر دیا جائے یا سولی دیا جائے ۔ اللہ تبارک وتعالیٰ نے انکے اس ارادہ کو رد کر کے اپنے رسول کو آسمان پر اٹھا لیا اور ابن مریم علیہ السلام کے سخت ترین دشمن کی شکل بدل دی۔ یہودیوں نے ططیانوس کو حضرت عیسیٰ علیہ السلام سمجھ کر سولی پر لٹکا دیا۔ وہاں پر ہی اس کو موت نصیب ہوئی۔ کیونکہ یہ اس کے ظلم کا جزاء تھا جو دیا گیا۔ اگر یہ جزاء نہ دیا جاتا تو مذموم تھا مخلوق کے نزدیک ۔ ایمان والوں کی دل شکنی کا باعث تھا۔ قال اللہ تعالیٰ اے عیسیٰ! تحقیق میں قبض کرنے والا ہوں تجھ کو یعنی پورا کرنے والا ہوں تیری زندگی کو تیری اجل تک اور معنی یہ ہوا کہ تحقیق میں بچانے والا ہوں تجھ کو ان کافروں سے جو تجھے قتل کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں اور تیرے دشمن کو ان سے ہی قتل کراؤں گا اور اٹھانے والا ہوں تجھ کو آسمان پر اور پاک کرنے والا ہوں تجھ کو ان لوگوں سے جو کافر ہوئے اور ارادہ رکھتے ہیں تیرے ساتھ برائی کا۔ اور پورا لینے والا ہوں تجھ کو یعنی قبض کرنے والا ہوں تجھ کو زمین سے پھر نازل کرنے کے بعد موت دوں گا تجھ کو اور اٹھانے والا ہوں تجھ کو فی الحال۔
١٦
مرزائیوں کا اعتراض، بقول تمہارے اگر ابن مریم زندہ ہیں تو اس آیت کی ترتیب ایسے نہ ہوتی ”متوفيك رافعك الی“ سے بعد ہوتا۔ اس کا جواب بھی انشاء اللہ قرآن مجید سے برابر دیا جائے گا۔ احادیث شریف میں حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ فرماتے ہیں کہ ابن مریم نازل ہوں گے اور اس وقت خلیفہ ہوں گے میری امت پر اور توڑیں گے صلیب کے قانون کو اور قتل کریں گے دجال، خنازیر کو اور ٹھہریں گے زمین میں چالیس سال اور پھر نکاح کریں گے اور اولاد ہوگی ان کے لئے پھر فوت ہوں گے۔ میری امت کیونکر ہلاک ہوسکتی ہے۔ جس کا اول میں ہوں اور آخری ا ن کا خلیفہ ابن مریم علیہ السلام ہے اور درمیان میرے اہل بیت سے امام مہدی ہوگا ان میں۔ اے عیسیٰ قبض کرنے والا ہوں تجھ کو اس حال میں کہ تو ہوگا نیند میں پھر اٹھالوں گا طرف اپنی۔ پھر تجھے کسی قسم کا خوف نہ ہوگا۔
مرزائیو! تفسیر مدارک والوں نے بالتفصیل نہیں سمجھایا؟ اب ایمان لے آنا تمہارے اختیار میں ہے۔ اگر اب بھی ابن مریم علیہ السلام کی حیات پر شبہ ہو تو آؤ، میں آپ کو ہر طرح تسلی کرانے کے لئے تیار ہوں۔
کذا فی الصراح فی القاموس نمبر ٦
”انی متوفيك اسم فاعل من التوفی بمعنی تمام گرفتن حق (کذافی الصراح وفی القاموس)“ یعنی تحقیق میں قبض کرنے والا ہوں تجھ کو۔ یہ اسم فاعل توفی سے، معنی اس کے یہ ہیں کہ میں قبض کرنے والا ہوں۔
فی العباسی نمبر ٧
”التوفی اخذالشیئ وافیا وفی ابی البقاء متوفيك ورافعك الی کلا هما للمستقبل والتقدير رافعك ومتوفيك لانه رفع الی السماء ثم یتوفی فی العباسی ثم متوفيك قابضك“
تفسیر معالم التنزیل نمبر ٨
”بعد النزول و فی معالم التنزیل قال الحسن والکلبی وابن جریج انی قابضك ورافعك من الدنیا الی من غیر موت (معالم التنزیل ج ١ ص ١٦٢)“
تفسیر کبیر نمبر ٩
”فی تفسیر الکبیر انی متوفيك ای متمم عمرك فحینئذ اتوفاك فلا
١٧
اتركهم حتى يقتلوك بل انا رافعك الى سمائى ومقربك هذا تاویل حسن
(تفسیر کبیر ج ٤ جز ٨ ص ٧١)
یعنی توفی کا معنی ہے کسی چیز کو پکڑنے کے اور پورا کرنے کے ”متوفیک ورافعك الی“ یہ دونوں کلمے واسطے مستقبل کے ہیں اور اٹھانے والا ہوں تجھ کو اور قبض کرنے والا ہوں تجھ کو طرف آسمان کے پھر فوت کروں گا دوبارہ نازل کرنے کے بعد اور کہا حسنؒ و اکلبیؒ اور ابن جریج نے متوفی معنی قبض کرنے والا ہوں تجھ کو اور اٹھانے والا ہوں تجھ کو اس دنیا سے طرف اپنی بغیر موت کے۔
یہ عبارت بیچ تفسیر کبیر کے موجود ہے۔ تحقیق قبض کرنے والا ہوں تجھ کو اور باقی تیری عمر جو باقی ہے، اس کو پورا کروں گا اور تیرے دشمن کو قتل کراؤں گا اور وہ ارادہ رکھتے ہیں تیرے قتل کا۔ بلکہ اٹھاؤں گا تجھ کو طرف آسمان کے اور رکھوں گا ساتھ ملائکہ کے بے خوف۔
مرزائیو! کون مفسر ہے جو تمہاری تصدیق کرتا ہے۔ کوئی نہیں، تمہیں شرم کرنی چاہئے۔ متوفیک کا ترجمہ موت کرنا قرآن مجید، احادیث شریف معتبر تفاسیر کے کھلم کھلا خلاف پایا گیا۔
اعتراض نمبر ٣
اگر اللہ تعالیٰ نے ابن مریم کو آسمان پر اٹھانا تھا تو ”متوفيك“ کیوں پہلے بیان کیا گیا۔ پہلے ”رافعك“ کیوں نہیں آیا۔ بقول تمہارے اگر زندہ ہوتے تو آیت کی ترتیب غلط نہ ہوتی۔ جیسے ”متوفيك ورافعك“ موجود ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ واقعی ابن مریم علیہ السلام اس دنیا سے وفات پاچکے ہیں۔
الجواب نمبر ١
”الذی خلق الموت والحیٰوة لیبلوكم ایكم احسن عملا (الملك:٢)“ ﴿وہی ہے اللہ تبارک وتعالیٰ جس نے پیدا کیا موت کو اور زندگی کو تا کہ آزمائے تم کو تا کہ تم میں سے کون سا بہتر عمل میں ہے۔﴾
مرزائیو! اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں فرمایا کہ اے انسان میں نے موت زندگی تمہاری اس لئے بنائی ہے کہ دیکھوں تم میں سے پرہیز گاری کو کون اختیار کرتا ہے۔
سوال....... کیا پہلے موت پیدا ہوتی ہے یا زندگی؟ معاذ اللہ۔
قرآن مجید کی یہ عبارت تمہارے نزدیک غلط ہوگی۔ کیونکہ پہلے زندگی بیان ہوتی بعد موت۔ مگر ایسا نہیں حالانکہ پہلے موت ہے۔ اب تمہارا کیا فتویٰ ہے؟ اگر بالفرض آیت متوفی کے
١٨
معنی موت ہیں اور خداوند عالم نے اس آیت ک السلام کی حیات پر ایمان لانے میں کیا مضائقہ ہوئی۔ آؤ، اور بھی دلائل پیش کرتا ہوں۔
الجواب نمبر ٢
”یٰمریم اقنتی لربك وا عمران:٤٣) ”اے مریم! فرمانبرداری کر ساتھ رکوع کرنے والوں کے۔﴾
مرزائیو! یہ آیت بھی تمہاری نظروں پہلے سجدہ کرنے کا حکم نازل فرماتا ہے اور بعد رک سجدہ۔ اب کیا تجویز کرنا چاہئے جیسے ان ہر دو ک ہے۔ بعینہ متوفی والی آیت کو اس کے یکساں سمج نظر آتے ہیں۔ آؤ بھلا میں آپ سے ایک الفا حل کرنا ہوگا۔ پھر تمہیں شاید حضرت عیسیٰ علیہ ہوجائے۔
الزامی جواب نمبر ٣
”لقد كفر الذين قالوا ان الله الله شيئا ان اراد ان يهلك المسيح (المائده:١٧) ”البتہ تحقیق کافر ہو گئے وہ دے اے محمد رسول اللہ ﷺ پس کون اختیار کرڈالے مسیح بیٹے مریم کے کو اور ماں اس کی کو او
مرزائیو! پہلے ”يهلك“ کے معنی ی ہے تو ابن مریم ابھی تک فوت نہیں ہوئے۔ کیو موت ہیں۔ اللہ تبارک وتعالیٰ نے اس آیت ابن مریم کو اور اس کی ماں کو اور جو کچھ زمین کے معلوم ہوا کہ ابھی نہ تو ابن مریم ساری۔ اس آیت سے ابن مریم علیہ السلام کی
معنی موت ہیں اور خداوند عالم نے اس آیت کی طرح ترتیب رکھی ہو۔ پھر تمہیں ابن مریم علیہ السلام کی حیات پر ایمان لانے میں کیا مضائقہ ہے۔ اس صورت سے بھی آپ کی زندگی ثابت ہوئی۔ آؤ، اور بھی دلائل پیش کرتا ہوں۔
الجواب نمبر ٢
"يمريم اقنتي لربك واسجدى واركعى مع الراكعين (آل عمران:٤٣)" ﴿اے مریم! فرمانبرداری کر واسطے رب اپنے کے اور سجدہ کیا کر اور رکوع کیا کر ساتھ رکوع کرنے والوں کے۔﴾
مرزائیو! یہ آیت بھی تمہاری نظروں میں صحیح تو نہیں ہوگی۔ کیونکہ اللہ وحدہ لا شریک پہلے سجدہ کرنے کا حکم نازل فرماتا ہے اور بعد رکوع کرنے کا۔ حالانکہ پہلے رکوع کیا جاتا ہے بعد سجدہ۔ اب کیا تجویز کرنا چاہئے جیسے ان ہر دو آیت کی ترتیب ظاہری صورت میں ٹیڑھی نظر آتی ہے، بعینہ متوفی والی آیت کو اس کے یکساں سمجھ لیجئے۔ ابن مریم انشاء اللہ ہر صورت میں زندہ ہی نظر آتے ہیں۔ آؤ بھلا میں آپ سے ایک الفاظ کے معنی پوچھتا ہوں۔ ذرا سوچ کر اس کے معنی کو حل کرنا ہوگا۔ پھر تمہیں شاید حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی حیات کا از روئے قرآن مجید پتہ معلوم ہو جائے۔
الزامی جواب نمبر ٣
"لقد كفر الذين قالوا ان الله هو المسيح ابن مريم، قل فمن يملك من الله شيئا ان اراد ان يهلك المسيح ابن مريم وامه ومن فى الارض جميعاً (المائده: ١٧)" ﴿البتہ تحقیق کافر ہو گئے وہ لوگ کہا انہوں نے تحقیق اللہ وہی ہے ابن مریم، کہہ دے اے محمد رسول اللہ ﷺ پس کون اختیار رکھتا ہے اللہ کے کام سے کچھ اگر چاہے اللہ تو ہلاک کر ڈالے مسیح بیٹے مریم کے کو اور ماں اس کی کو اور ان لوگوں کو جو بیچ زمین کے ہیں سارے۔﴾
مرزائیو! پہلے ”يھلك“ کے معنی دیکھئے کہ صیغہ مضارع تو نہیں ہے۔ اگر بمعنی مضارع ہے تو ابن مریم ابھی تک فوت نہیں ہوئے۔ کیونکہ الفاظ ”يھلك“ کے معنی ہلاک، اور ہلاک کے معنی موت ہیں۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس آیت میں اپنی مشیت بیان فرمائی ہے۔ اگر میں چاہوں تو ابن مریم کو اور اس کی ماں کو اور جو کچھ زمین کے بیچ ہے، ہلاک کر دوں۔
معلوم ہوا کہ ابھی نہ تو ابن مریم ہلاک ہوئے اور نہ مریم علیہ السلام اور نہ ہی دنیا ساری۔ اس آیت سے ابن مریم علیہ السلام کی کھلم کھلا زندگی ثابت ہوتی ہے۔ اب دریافت طلب
١٩
دو چیزیں ہیں کہ 'يهلك' صیغہ مضارع ہے یا نہیں اور معنی اس کے ہلاک کے ہیں یا کہ نہیں اور ہلاک موت کو کہتے ہیں یا نہیں۔
اگر آپ ہلاک سے مراد موت تصور نہ کرتے ہوں تو آؤ میں تمہیں قرآن مجید سے ہلاک کے معنی موت دکھا سکتا ہوں اور رہا مریم علیہا السلام کی زندگی کا سوال تو وہ آپ کوئی آیت ڈھونڈ کر پیش کیجئے کہ مریم بنت عمران اس آیت سے فوت ہوئی۔ مرزائیو! اپنی ضد سے باز آؤ۔ حضرت ابن مریم علیہ السلام کی حیات پر ایمان لا کر اسلام میں داخل ہو جاؤ تا کہ نجات حاصل ہو جائے۔
دلائل
”ولما جاءت رسلنا ابراهيم بالبشرى قالوا انا مهلكوا اهل هذه القرية ان اهلها كانوا ظلمين، قال ان فيها لوطا (العنکبوت: ٣١)“ ﴿اور جب آئے بھیجے ہوئے ہمارے ابراہیم علیہ السلام کے پاس ساتھ بشارت کے، کہا انہوں نے تحقیق ہم ہلاک کرنے والے ہیں اہل اس بستی کے کہ تحقیق رہنے والے اس کے ہیں ظالم، کہا ابراہیم خلیل اللہ علیہ السلام نے تحقیق بیچ اس کے لوط علیہ السلام ہیں۔﴾
مرزائیو! یہ لوط علیہا السلام کی قوم کا قصہ قرآن مجید نے پیش کیا ہے۔ الفاظ ”مهلکوا“ سے ثابت ہے کہ ساری قوم ہلاک یعنی مار دی گئی۔ اب ”یہلک“ سے کیا موت نہ سمجھو گے؟ مرزائیو! کیا اب بھی تمہاری تسلی نہیں ہوئی کہ ابن مریم علیہ السلام زندہ ہیں۔ تو آؤ، سرکار مدینہ ﷺ کے پاس اس مقدمہ کو پہنچاتے ہیں جو آپ فیصلہ دیں، ہمیں سرچشم منظور ہے۔ آئیے۔
حدیث نمبر ١
”عن حذيفة ابن اسيدن الغفاري قال اطلع النبى ﷺ علينا ونحن نتذاكر فقال ماتذكرون قالو انذكر الساعة قال انها لن تقوم حتى ترون قبلها عشر أيات فذكر الدخان والدجال والدابة وطلوع الشمس من مغربها ونزول عيسى ابن مريم عليه السلام وياجوج وماجوج (مسلم شریف ج ٢ ص ٣٩٣)“ ﴿ حضرت حذیفہؓ سے روایت ہے کہ آئے ہمارے پاس رسول اللہ ﷺ اور ہم ذکر کر رہے تھے روز قیامت کا۔ فرمایا حضور ﷺ نے کس چیز کا ذکر کرتے ہو؟ ہم نے ذکر کیا یعنی عرض کی کہ ہم ذکر کرتے ہیں قیامت کا۔ آپ ﷺ نے فرمایا، نہیں آئے گی قیامت، یہاں تک کہ نہ دیکھو پہلے اس کے دس نشان۔ آپ ﷺ نے ذکر کیا دھوئیں کا اور دجال کا اور دابۃ الارض کا اور سورج کا نکلنا
٢٠
مغرب سے اور ابن مریم علیہ السلام کا نازل ہونا اور مرزائیو! آپ ﷺ نے صاف الفاظ میں چراغ بی بی کا۔ یہ حدیث اس آیت کی تفسیر ہے، جو ق
آیت نمبر ١
”وانه لعلم للساعة فلا تمترن تحقیق وہ البتہ نشان ہے قیامت کا پس مت شک لاؤ مرزائیو! ابن مریم علیہ السلام قیامت کے السلام آسمان سے تشریف نہیں لائیں گے۔ قیامت نے فرمائی ہے۔ جو احادیث اس کے قبل پیش کر آیا صحابی سے بھی شہادت کرادوں تا کہ تمہاری تسلی ہو
زیر آیت ”وانه لعلم للساعة“ رقم ہیں۔ ”(وانه)“ یعنی نزول عیسیٰ ابن مریم ويقال علامة لقيام الساعة ان قرات بفتح تشكن بها بقيام الساعة واتبعون“ یعنی نازل ہوں گے ابن مریم علیہ السلام کے نزدیک لعلم للساعة قرات ل اور ع ساتھ نصب آیت بھی حضرت ابن مریم علیہ السلام کے نزول ہیں۔ قرب قیامت پھر تشریف لائیں گے۔
حدیث نمبر ٢
”وعن النواس بن سمعان قال المسيح ابن مريم فينزل عند المنارة واضعا كفيه على اجنحة ملكين (مسلم) نواسؓ فرمایا نبی کریم ﷺ نے بھیجے گا اللہ تبارک ہوں گے نزدیک سفید منارے کے اور اتریں گے کندھوں پر ہاتھ ہوں گے۔ یہ حدیث لمبی ہے۔
مغرب سے اور ابن مریم علیہ السلام کا نازل ہونا اور نکلنا یاجوج ماجوج کا۔﴾
مرزائیو! آپ ﷺ نے صاف الفاظ میں نازل ہونا ابن مریم کا ذکر کیا ہے نہ کہ ابن چراغ بی بی کا۔ یہ حدیث اس آیت کی تفسیر ہے، جو پیش کرتا ہوں، ملاحظہ فرمائیں۔
آیت نمبر ١
”وانه لعلم للساعة فلا تمترن بها واتبعون (الزخرف:٦١)“ ﴿اور تحقیق وہ البتہ نشان ہے قیامت کا پس مت شک لاؤ ساتھ اس کے اور پیروی کرو میری۔﴾
مرزائیو! ابن مریم علیہ السلام قیامت کا نشان ہے۔ یعنی جب تک حضرت عیسیٰ علیہ السلام آسمان سے تشریف نہیں لائیں گے۔ قیامت نہیں آئے گی اور اس آیت کی تفسیر حضور ﷺ نے فرمائی ہے۔ جو احادیث اس کے قبل پیش کر آیا ہوں۔ اگر اب بھی شبہ ہے تو آئیے ایک معتبر صحابی سے بھی شہادت دلادوں تاکہ تمہاری تسلی ہوجائے۔ سیدنا ابن عباسؓ اپنی تفسیر ابن عباس میں زیر آیت ”وانه لعلم للساعة“ رقم ہیں۔
”(وانه)“ یعنی نزول عیسیٰ ابن مریم ”(لعلم للساعة) لبيان قيام الساعة ويقال علامة لقيام الساعة ان قرأت بنصب العين واللام فلا تمترون بها فلا تشكن بها بقيام الساعة واتبعون“
(ص٥٢٢)
یعنی نازل ہوں گے ابن مریم علیہ السلام، البتہ آپ نشان ہیں قیامت کے، تحقیق بعض کے نزدیک لعلم للساعة قرأت ل اور ع ساتھ نصب کے۔ پس نہ شک لاؤ ساتھ اس کے۔ مرزائیو! یہ آیت بھی حضرت ابن مریم علیہ السلام کے نزول پر دلالت کرتی ہے کہ وہ آسمان پر زندہ موجود ہیں۔ قرب قیامت پھر تشریف لائیں گے۔
حدیث نمبر ٢
”وعن النواس بن سمعان قال ذكر رسول الله ﷺ ...... اذ بعث الله المسيح ابن مريم فينزل عند المنارة البيضاء شرقى دمشق بين مهروذتين واضعا كفيه على اجنحة ملكين (مسلم ج ٢ ص ٤٠١) “ روایت کرتے ہیں حضرت نواسؓ فرمایا نبی کریم ﷺ نے بھیجے گا اللہ تبارک وتعالیٰ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو دمشق میں نازل ہوں گے نزدیک سفید منارے کے اور اتریں گے درمیان دو فرشتوں کے یعنی دو فرشتوں کے کندھوں پر ہاتھ ہوں گے۔ یہ حدیث لمبی ہے۔ روایت کیا اس کو امام مسلم نے۔
٢١
حدیث نمبر ٣
” وعن جابر قال قال رسول الله ﷺ لا تزال طائفة من امتى يقاتلون على الحق ظاهرين الى يوم القيامة قال فينزل عيسى ابن مريم فيقول اميرهم تعال صلّ لنا فيقول لا ان بعضكم على بعض امراء تكرمة الله هذه الامة (مسلم شریف ج ١ ص ٨٧) “ یعنی حضرت جابرؓ سے روایت ہے کہ فرمایا نبی کریم ﷺ نے ہمیشہ ایک جماعت پر میری امت سے لڑتی رہے گی وہ جماعت لوگوں سے اوپر حق کے دن قیامت تک فرمایا پس اتریں گے حضرت ابن مريم علیہ السلام پس کہیں گے امام مہدی علیہ السلام آؤ نماز پڑھاؤ واسطے ہمارے۔ پس کہیں گے حضرت عیسیٰ علیہ السلام نہیں ہے حق امامت کا بعض تمہارے اوپر بعض کو، کیونکہ یہ بزرگی اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس امت کو ہی عطا فرمائی ہے۔ روایت کیا اس کو امام مسلم نے اپنی کتاب میں۔
حدیث نمبر ٤
” عن عبدالله ابن عمر قال قال رسول الله ﷺ ينزل عيسى ابن مريم الى الارض فيتزوج ويولد له ويمكث خمسا واربعين سنة ثم يموت فيد فن معى فى قبرى فاقوم انا وعيسى ابن مريم فى قبر واحد بين ابي بكر و عمر (ابن جوزی کتاب الوفاء مشکوٰۃ ص ٤٨٠) “ یعنی حضرت عبداللہ بن عمرؓ سے روایت کرتے ہیں فرمایا نبی کریم ﷺ نے نازل ہوں گے ابن مریم علیہ السلام طرف زمین کے اور نکاح کریں گے اور اولاد ہوگی ان کے لئے اور ٹھہریں گے زمین میں ٤٥ سال پھر فوت ہو جائیں گے۔ پس دفن ہوں گے بیچ مقبرے میرے کے پس اٹھوں گا میں اور ابن مریم ایک مقبرے سے آگے ابوبکرؓ اور حضرت عمرؓ کے۔ روایت کیا اس کو امام ابن جوزی نے بیچ کتاب الوفاء کے ملاحظہ ہو۔
حدیث نمبر ٥
” وعن ابی هريرة قال قال رسول الله ﷺ قال كيف انتم اذا نزل ابن مريم فيكم وامامكم منكم (بخاری ج ١ ص ٤٩٠ ، مسلم ج ١ ص ٨٧) “ یعنی حضرت ابوہریرہؓ روایت کرتے ہیں فرمایا نبی کریم ﷺ نے کیونکر ہوگا حال تمہارا جبکہ نازل ہوں گے ابن
٢٢
مریم بیچ تمہارے اور امام ہوگا تمہارا تم میں سے۔ روایت کیا اس کو بخاری مسلم شریف
حدیث نمبر ٦
” عن ابی هريرة قال قـ ليوشكن ان ينزل فيكم ابن مريم حـ ويضع الحرب ويفيض المال حتى خيرا من الدنيا وما فيها ثم يقول الکتب الا لیؤمنن به قبل موته (بخا روایت ہے ابوہریرہؓ سے کہ فرمایا میں میری جان ہے کہ ضرور نازل ہوں گے بـ عادل ہوں گے پس توڑیں گے صلیب کو اور قـ اور بہت ہوگا مال یہاں تک کہ نہ قبول کرے پڑھی سیدنا ابوہریرہؓ نے یہ آیت اور نہیں کوئی ا کے پہلے موت عیسیٰ علیہ السلام کے اور حضر کے اسلام قبول کرنے کے۔ اس حدیث کو رو
حدیث نمبر ٧
” عن ابی هريرة قال قال فبينا هم يعدون للقتال ويسوون ابن مريم عليه السلام فاذا ر فلو تركه لا نذاب حتى يهلك و (رواه مسلم ج ٢ ص ٣٩٢) “ روایت ہے ابوہریرہؓ سے جبکہ مـ کے پھر قائم کی جائیں گی صفیں اور نماز پڑ جب دشمن اللہ کا یعنی دجال ابن مریم علیہ ا نمک بیچ پانی کے اور اگر چھوڑ دیا جائے تو وتعالیٰ دجال کو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے
مریم بیچ تمہارے اور امام ہوگا تمہارا تم میں سے۔ روایت کیا اس کو بخاری مسلم شریف نے۔
حدیث نمبر ٦
"عن ابی ھریرةؓ قال قال رسول اللہ ﷺ والذی نفسی بیدہ لیوشکن ان ینزل فیکم ابن مریم حكما عدلا فیکسر الصلیب ویقتل الخنزیر ویضع الحرب ویفیض المال حتی لا یقبلہ احد حتی تکون السجدة الواحدة خیرا من الدنیا وما فیها ثم یقول ابو ھریرة واقرؤا وان شئتم وان من اھل الکتب الا لیؤمنن بہ قبل موتہ (بخاری شریف ج ١ ص ٤٩٠، مسلم ج ١ ص ٨٧)“
روایت ہے ابوہریرہؓ سے کہ فرمایا رسول اللہ ﷺ نے قسم ہے اس خدا کی جس کے قبضہ میں میری جان ہے کہ ضرور نازل ہوں گے بیچ تمہارے ابن مریم علیہ السلام حالانکہ حاکم ہوں گے عادل ہوں گے پس توڑیں گے صلیب کو اور قتل کریں گے خنازیروں کو اور رکھ دیں گے جزیہ اور بہت ہوگا مال یہاں تک کہ نہ قبول کرے گا اس کو کوئی اور ہوگا ایک سجدہ بہتر ساری دنیا سے پھر پڑھی سیدنا ابوہریرہؓ نے یہ آیت اور نہیں کوئی اہل کتاب سے مگر البتہ ایمان لاوے گا ساتھ اس کے پہلے موت عیسیٰ علیہ السلام کے اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام دن قیامت کے گواہ ہوں گے ان پر۔ اس حدیث کو روایت کی بخاری شریف اور مسلم شریف نے
حدیث نمبر ٧
"عن ابی ھریرةؓ قال قال رسول اللہ ﷺ ...... فاذا جاؤا الشام خرج فبینا ھم یعدّون للقتال ویسوون الصفوف اذا قیمِت الصلوٰة فینزل عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام فاذا راہ عدو اللہ ذاب کما یذوب الملح فی الماء فلو ترکہ لا نذاب حتی یھلک ولکن یقتلہ اللہ بیدہ فیریھم دمہ فی حربتہ
(رواہ مسلم ج ٢ ص ٣٩٢)“
روایت ہے ابوہریرہؓ سے جبکہ مسلمان لڑتے آئیں گے درمیان شام ملک کے کناروں کے پھر قائم کی جائیں گی صفیں اور نماز پڑھیں گے ابن مریم علیہ السلام اور دمشق میں ہوگا۔ جب دشمن اللہ کا یعنی دجال ابن مریم علیہ السلام کو دیکھے گا تو پگھل جائے گا جیسے پگھل جاتا ہے نمک بیچ پانی کے اور اگر چھوڑ دیا جائے تو خود بخود ہلاک ہو جائے۔ لیکن قتل کرائے گا اللہ تبارک و تعالیٰ دجال کو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے ہاتھوں سے اور اس کو قتل کرنے کے وقت نیزہ خون آلود ہوگا
٢٣
حربہ ابن مریم کا۔ پھر دکھائیں گے لوگوں کو اس روایت کو بیان کیا ہے حضرت امام مسلمؒ نے۔
حدیث نمبر ٨
"وعن عبدالله ابن سلامؓ قال مكتوب في التوراة صفة محمد وعيسى ابن مريم يدفن معه فقال ابومودود قد بقى فى البيت موضع قبر "روایت کرتے ہیں حضرت عبداللہ بن سلامؓ سے کہ لکھا ہوا (رواہ الترمذی ج٢ ص٢٠٢) دیکھا ہے میں نے بیچ تورات کے صفت رسول اللہ ﷺ اور ابن مریم علیہ السلام کی کہ دفن ہوں گے دونوں یہ اللہ کے رسول ایک مقبرہ میں اور کہا حضرت ابو مودودؒ نے کہ تحقیق باقی ہے اس مقبرہ میں ایک قبر کی جگہ۔ روایت کیا اس کو امام ترمذی نے بیچ کتاب اپنی کے۔
حدیث نمبر ٩
"عن ابى هريرةؓ عن النبى ﷺ قال لاتقوم الساعة حتى ينزل عيسى ابن مريم حكما مقسطا واماما عدلا فيكسر الصليب ويقتل الخنزير ويضع الجزية ويفيض المال حتى لا يقبله (ابن ماجه ص٢٩٩) " ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ وہ نقل کرتے ہیں نبی ﷺ سے کہ فرمایا نہیں ہوگی قیامت یہاں تک کہ اتریں گے ابن مریم علیہ السلام حالانکہ حاکم عادل ہوں گے۔ امام ہوں گے۔ پس توڑیں گے صلیب کو اور قتل کریں گے خنزیر کو اور رکھ دیں گے جزیہ اور بہت ہوگا مال حتیٰ کہ نہ قبول کرے گا اس کو کوئی اور روایت کیا اس کو ابن ماجہ نے بیچ کتاب اپنی کے۔
حدیث مشارق الانوار نمبر ١٠
"عن النبى ﷺ انه قال ان عيسى نازل فيكم وهو خليفتى عليكم فمن ادركه فليقرئه سلامى فانه يقتل الخنزير ويكسر الصليب ويحج فى سبعين الفا فيهم اصحاب الكهف فانهم يحجون ان عيسى عليه السلام ينزل عند المنارة البيضاء شرق دمشق بين مهزودتين (مشارق الانوار مطبع مصر
ص١٢٧) "
نقل کیا ہے نبی ﷺ سے تحقیق حضرت عیسیٰ علیہ السلام نازل ہوں گے بیچ تمہارے اور خلیفہ ہوگا میرا اوپر تمہارے۔ پس پہنچایا جائے گا سلام میرا پس قتل کریں گے خنزیروں کو اور توڑیں گے صلیب کو اور حج کریں گے ساتھ ٧٠ ہزار آدمیوں کے بیچ ان کے ہوں گے اصحاب کہف وہ بھی
٢٤
حج کریں گے۔ تحقیق نازل ہوں گے ابن مریم زرد رنگ کی چادروں میں ہوں گے مجھے امید کہ ابن مریم علیہ السلام زندہ ہیں۔ مرزا جیو! رسول خدا ﷺ کا فیصلہ تو ہوئے۔ وہ آسمان پر زندہ ہیں۔ پھر قرب قیامت اللہ تعالیٰ کے رسول پاک کا یہ عقیدہ مصمم ثابت مریم علیہ السلام زندہ ہیں۔ ضرور ہوگا اور تھا بھی آؤ اب آپ کو آئمہ اربعہ سے بھی بیشک زندہ ہیں۔ حضرت نعمان بن ثابت یعنی آپ کا تعارف کرا دینا چاہتا ہوں۔ امام اعظمؒ بھی کی ہے۔ آپ تابعی ابن مریم علیہ السلام کی وفات کے بعد تقریباً ٧٠ سال بعد پیدا ہوئے آپ کی ملاقات بھی ہوئی۔ پھر آپ کا ابن مریم ١٣٠٠ ہجری میں ایک آدمی پیدا ہو کر یہ دعویٰ فوت ہیں، بڑے تعجب کی بات ہے کہ یہ رسول زیادہ سمجھنے والا کہاں سے پیدا ہو گیا۔ دیکھئے ا
قول امام اعظمؒ نمبر ١
"ونزول عيسى عليه السلام ہوں گے حضرت عیسیٰ علیہ السلام آسمان سے بھی اس مسئلہ کے متعلق دریافت کرتے نہیں، ملاحظہ ہو۔
قول حضرت عبدالقادر جیلانیؒ نمبر
"رفع الله عزوجل، عيسى اٹھایا اللہ نے ابن مریم علیہ السلام
(کتاب ترجمہ فتوح الغیب باب عاشورہ مطبع ریـ
حیات مسیح علیہ السلام کے قائل ہیں۔
حج کریں گے۔ تحقیق نازل ہوں گے ابن مریم نزدیک سفید منارے کے جو دمشق میں درمیان دو زرد رنگ کی چادروں میں ہوں گے مجھے امید ہے کہ آپ نے سردار مدینہ کے فیصلہ کو منظور کر لیا ہوگا کہ ابن مریم علیہ السلام زندہ ہیں۔
مرزا جیو! رسول خدا ﷺ کا فیصلہ تو آپ نے سن لیا کہ ابن مریم علیہ السلام فوت نہیں ہوئے۔ وہ آسمان پر زندہ ہیں۔ پھر قرب قیامت تمہاری طرف لوٹ کر آنے والے ہیں۔ جب اللہ تعالیٰ کے رسول پاک کا یہ عقیدہ مصمم ثابت ہوا تو صحابہ کرام کا عقیدہ یہ کیوں نہیں ہوگا کہ ابن مریم علیہ السلام زندہ ہیں۔ ضرور ہوگا اور تھا بھی۔
آؤ اب آپ کو آئمہ اربعہ سے بھی اس بات کی شہادت کرا دوں کہ ابن مریم علیہ السلام بیشک زندہ ہیں۔ حضرت نعمان بن ثابت یعنی امام اعظم سے بھی تصدیق کرا دوں۔ اس سے پہلے آپ کا تعارف کرا دینا چاہتا ہوں۔ امام اعظم وہ پاک ہستی ہے جنہوں نے چند صحابہ سے ملاقات بھی کی ہے۔ آپ بھی ابن مریم علیہ السلام کی حیات کے قائل ہیں اور لطف یہ ہے کہ آپ ﷺ کی وفات کے بعد تقریباً ٧٠ سال بعد پیدا ہوئے۔ اس وقت چار صحابی ماشاء اللہ زندہ سلامت تھے اور آپ کی ملاقات بھی ہوئی۔ پھر آپ کا ابن مریم علیہ السلام کی نسبت عقیدہ کہ وہ زندہ ہے۔ آج ١٤٠٠ ہجری میں ایک آدمی پیدا ہو کر یہ دعویٰ کرتا ہو کہ ابن مریم علیہ السلام از روئے قرآن مجید فوت ہیں، بڑے تعجب کی بات ہے کہ یہ رسول خدا ﷺ اور صحابہ کرام و آئمہ اربعہ سے قرآن مجید کو زیادہ سمجھنے والا کہاں سے پیدا ہو گیا۔ دیکھئے امام اعظم اپنی کتاب فقہ اکبر میں راقم ہیں۔
قول امام اعظم نمبر ١
"ونزول عیسیٰ علیہ السلام من السماء (الفقه الاکبر ص٩٨) " نازل ہوں گے حضرت عیسیٰ علیہ السلام آسمان سے۔ آؤ رئیس المحدثین حضرت شاہ عبد القادر جیلانی سے بھی اس مسئلہ کے متعلق دریافت کرتے ہیں کہ آپ کا حیات مسیح علیہ السلام پر عقیدہ ہے یا نہیں، ملاحظہ ہو۔
قول حضرت عبد القادر جیلانی نمبر ٢
"رفع الله عزوجل، عیسیٰ عليه السلام الى السماء فيه والعاشرة" اٹھایا اللہ نے ابن مریم علیہ السلام کو طرف آسمان کے اس روز عاشور تھا۔
(کتاب ترجمہ فتوح الغیب باب عاشورہ مطبع رفیق عام لاہور ص ٦٨١) مرزا جیو! شاہ عبد القادر جیلانی بھی حیات مسیح علیہ السلام کے قائل ہیں۔
٢٥
قول مرزا غلام احمد قادیانی بر حیات مسیح نمبر ٣
مرزائیو! آپ کے انڈین نبی بھی حیات مسیح کے قائل تھے۔ آؤ ملاحظہ فرماؤ، چنانچہ کتاب (براہین احمدیہ ص ٤٩٩، خزائن ج ١ ص ٥٩٣ حاشیہ در حاشیہ نمبر ٣) میں مرزا قادیانی فرماتے ہیں: ”اور جس غلبہ کاملہ دین اسلام کا وعدہ دیا گیا ہے۔ وہ غلبہ مسیح کے ذریعہ سے ظہور میں آئے گا اور جب حضرت مسیح علیہ السلام دوبارہ اس دنیا میں تشریف لائیں گے۔ تو ان کے ہاتھ سے دین اسلام جمیع آفاق اور اقطار میں پھیل جائے گا۔“
مرزائیو! مرزا قادیانی بھی ابتداً حیات مسیح علیہ السلام کے قائل تھے۔
اعتراض مرزائی نمبر ٤
جناب مرزا قادیانی بیشک حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو نبی ہونے کے پہلے زندہ ہی سمجھتے رہے ہیں اور جب نبوت اتری اور وحی انڈین یعنی سچی آئی تو معلوم ہوا کہ رب العالمین کے نزدیک یہ عقیدہ تو بالکل غلط ہے۔ آپ فوراً تائب ہوئے اور اس بات کا اعلان کر دیا کہ ابن مریم علیہ السلام فوت ہوچکے ہیں۔ جو ان کو زندہ سمجھے وہ مشرک ہے۔ (کشتی نوح ص ١٥، خزائن ج ١٩ ص ١٦، ١٧ ملخص) مرزا قادیانی کا عقیدہ پہلے ایسا تھا جیسے رسول اللہ ﷺ کا۔ آپ بھی تقریباً ڈیڑھ سال مسجد اقصیٰ کی طرف منہ کرکے نماز پڑھتے رہے۔ جب حکم خداوندی نازل ہوا تو آپ نے قبلہ بدل لیا اور مسجد الحرام کی طرف منہ کرکے نماز پڑھائی۔ بس اسی طرح مرزا قادیانی بھی پہلے حیات مسیح علیہ السلام کے قائل تھے۔ جب خداوندعالم نے ان پر بھید افشاں کیا، آپ تائب ہو گئے۔
الجواب محمدی نمبر ١
مرزائیو! تمہارے نزدیک حیات مسیح کا عقیدہ رکھنا غلط بلکہ شرک ہے۔ سوال، جو آدمی تقریباً ٥٢ سال شرک کرتا رہا ہو۔ وہ بھی نبی ہونے کے لائق رہ سکتا ہے؟ شرک ایسا کبیرہ گناہ ہے جو تمام نیک اعمال کو ضائع کر دیتا ہے۔ جیسے قرآن مجید کے اندر اللہ تعالیٰ کی ذات نے اطلاع دی، ملاحظہ ہو: ”ولقد اوحی الیک والی الذین من قبلك لئن اشرکت لیحبطن عملك ولتكونن من الخسرین (الزمر: ٦٥)“
﴿اور البتہ تحقیق وحی بھیجی گئی طرف تیرے اور اسی طرح بھیجی گئی تھی طرف ان رسولوں کے جو تجھ سے پہلے آئے تھے۔ میں تاکید کرتا ہوں اس بات کی اگر تو نے شرک کیا تو سارے عمل تیرے ضائع کر دیئے جائیں گے اور ہو جائے گا تو خسارہ پانے والا۔﴾
بھلا جو پورے ٥٢ سال شرک کرتا رہا ہو نبوت تو بہت دور۔ وہ تو ولی اللہ بھی نہیں ہو سکتا۔ مرزا قادیانی کی طرف پیغام لے کر عزرائیل صاحب آئے اور وحی الٰہی نے یہ بات ظاہر کی ہے کہ لوگوں کو کہہ دو ابن مریم فوت ہو چکے۔ باوا حضرت آدم علیہ الصلوۃ والسلام سے لے کر آج تک کوئی نبی ایسا نہیں آیا جو شرک کو مٹانے کی کوششوں میں رہا ہے اور رہے گا۔ مت بھولئے رسو دوسرے جو آپ نے حضور ﷺ کے قبـ کی طرف منہ کر کے نماز پڑھتے رہے ہیں۔ بڑے فخر سے یہ اعتراض کیا ہے، کیا ١٣ سال تک حضور ﷺ مکہ میں نماز پڑھنا شرک تھا یا خداوند تعالیٰ کے نزدیـ نعوذ باللہ یہ شرک پسندیدہ تھا؟ نہیں۔ بلکہ اللہ تعالیٰ وحدہ لاشریک نے قرآن مجید کے ذریعے ” فبهداهم اقتده “ (الـ ہدایت کی تھی کہ آپ ان کی اقتداء کریں۔ یہ وحی الٰہی آ گئی تھی۔ پس آپ سابقہ نبیوں کے راستہ پر عمل کر رہے تھے۔ کیا پہلے رسولوں کا قبلہ مسجد اقصیٰ نہ تھا؟ کیا وہ اپنی مرضی سے اس طرف منہ کر کے نماز پڑھتے تھے یا حکم الٰہی تھا؟ اگر حکم الٰہی تھا تو کیا ادھر کـ منہ کر کے نماز پڑھنا شرک تھا؟ ہرگز نہیں۔ جب تک قبلہ کے متعلق حکم نازل نہیں ہوا۔ آپ اسی طرف منہ کر کے نماز پڑھتے رہے۔ اور جب حکم آ گیا آپ فوراً اس قبلہ کو چھوڑ کر مسجد الحرام کی طرف ہو گئے۔
مرزائیو! حیات مسیح پر عقیدہ جو تم نے بدل لیا ہے۔ کیا پہلے جو تم عقیدہ رکھتے تھے وہ تمہارے نزدیک بالکل غلط بلکہ شرک ہے خلاف قرآ اللہ کے رسول کے خلاف اور صحابہ کرام رضوا ن اللہ علیہم اجمعین کے خلاف تھا۔ پس جو شرک کرتا رہا ہو وہ شخص نبی کیسے ہو سکتا ہے۔ میں تمہیں سچ کہتا ہوں کہ مرزا قادیانی اللہ کا نبی نہیں ہو سکتا بلکہ دجالوں کذابوں اور طاعون کی نبوت کـ نبی ضرور ہوں گے۔ ہمارا ایمان ہے۔
مرزائیو! اعتراض کرنا تمہار کام نہیں۔ تم اپنے مرزا قادیانی کی تعلیم کو چھوڑ کر قرآن و حدیث رسول اللہ ﷺ پر ایمان لے آؤ۔ ورنہ یاد رکھو اس حدیث کے تم بھی مصداق نہ ہو جاؤ اور کہنا پڑے۔
بھلا جو پورے ٥٢ سال شرک کرتا رہا ہو۔ کیا وہ نبی ہونے کا حق دار ہے؟ ہرگز نہیں۔ نبوت تو بہت دور۔ وہ تو ولی اللہ بھی نہیں ہو سکتا۔ مرزائیو! یہ سارا مکر و فریب تو ایلچی کا ہے۔ جو مرزا قادیانی کی طرف پیغام لے کر عزازیل صاحب کے آتا رہا۔ ابن مریم کی وفات بھی اس نے ہی ظاہر کی ہے کہ لوگوں کو کہہ دو ابن مریم فوت ہو چکے ہیں۔ ہم اس ایلچی سے واقف ہیں۔ یہ ہمارے باوا حضرت آدم علیہ الصلوٰۃ والسلام سے لے کر آج تک خدا کے بندوں کو خراب یعنی گمراہ کرنے کی کوششوں میں رہا ہے اور رہے گا۔ مت بھولے رسول خدا ﷺ کا راستہ اختیار کر لو، بہتر ہے۔
دوسرے جو آپ نے حضور ﷺ کے متعلق یہ کہا کہ رسول خدا ﷺ بھی پہلے مسجد اقصیٰ کی طرف منہ کر کے نماز پڑھتے رہے ہیں۔ بڑے شرم کی بات ہے۔ پہلے مسجد اقصیٰ کی طرف منہ کر کے کیا نماز پڑھنا شرک تھا یا خداوند تعالیٰ کے نزدیک یہ گمراہی تھی؟ ہرگز نہیں۔ بلکہ حکم الٰہی تھا جیسے اللہ تعالیٰ وحدہ لاشریک نے قرآن مجید کے ذریعہ اپنے نبی کو اطلاع دی ہے، ملاحظہ ہو۔ "فبھداہم اقتدہ" ﴿اے نبی جس مسئلہ کے لئے آپ کو ابھی اطلاع نہیں دی گئی۔ پس آپ سابقہ نبیوں کے راستہ پر عمل کرتے رہنا۔﴾
کیا پہلے رسولوں کا قبلہ مسجد اقصیٰ نہ تھی؟ اگر تھی تو کیا وہ اپنے ارادہ سے قبلہ تصور کرتے تھے یا حکم الٰہی تھا؟ اگر حکم الٰہی تھا تو کیا ادھر کو نماز پڑھنا پڑھانا شرک ہوا یا اتباع خداوندی؟ جب تک قبلہ کے متعلق حکم نازل نہیں ہوا۔ آپ نماز پڑھتے پڑھاتے رہے اور جب اطلاع آگئی۔ آپ فوراً اس قبلہ کو چھوڑ کر مسجد الحرام کی طرف ہو گئے۔
مرزائیو! حیات مسیح پر عقیدہ جو مرزا قادیانی نے تقریباً ٥٢ سال رکھا ہے۔ یہ تمہارے نزدیک بالکل غلط بلکہ شرک ہے خلاف قرآن مجید اور خلاف احادیث شریف۔ یعنی اللہ تعالیٰ اور اللہ کے رسول کے خلاف اور صحابہ کرام رضوان اللہ عنہم کے خلاف۔ پھر سوچو تو سہی ایسا عقیدت مند شخص نبی کیسے ہو سکتا ہے۔ میں تمہیں سچ کہتا ہوں کہ آپ حزب اللہ جماعت کے نبی نہیں ہیں۔ بلکہ دجالوں کذابوں اور ملاحدوں کی نبوت کا دروازہ قیامت تک کھلا ہے۔ آپ اس جماعت کے نبی ضرور ہوں گے۔ ہمارا ایمان ہے۔
مرزائیو! اعتراض کرنا تمہارے ایلچی کا یہ سبق تمہیں جو حاصل ہے، چھوڑ دو۔ قرآن مجید و حدیث رسول اللہ ﷺ پر ایمان لے آؤ۔ انشاء اللہ نجات حاصل ہوگی۔ کہیں ان شعروں کے مصداق نہ ہو جاؤ اور کہنا پڑے:
٢٧
نہ حلوا ملا اور نہ مانڈے
نہ خدا ہی ملا نہ وصال صنم
نہ ادھر کے رہے نہ ادھر کے رہے
اعتراض نمبر ٥
”وما محمد الا رسول،قدخلت من قبله الرسل (آل عمران:١٤٤) “ ﴿اور نہیں ہے محمدﷺ مگر رسول، تحقیق گزرے اس سے پہلے تمام رسول۔﴾ یعنی محمد ﷺ بھی آپ کے پہلے آنے والے رسول تمام فوت ہو گئے ہیں۔ چونکہ ابن مریم علیہ السلام سے بھی آپ کے پہلے ہی اس دنیا پر رسالت لے کر آئے تھے۔ وہ بھی فوت ہو چکے ہیں۔ چنانچہ حضور آقا نامدار ﷺ کی عین وفات کے وقت ایک اعرابی نے یہ کہہ دیا کہ رسول خدا ﷺ فوت ہو گئے تو سیدنا عمر فاروقؓ نے اپنی تلوار اس کو قتل کرنے کے لئے نکال لی اور ابو بکر صدیقؓ نے دیکھ کر آپ کو روکا اور تمام صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو جمع کر کے خطبہ پڑھا اور آیت: ”وما محمد الا رسول قد خلت من قبله الرسل“ پیش کی اور ابوبکرؓ کا اس آیت کو پڑھ کر سنانا، صحابہ کرام رضوان اللہ اجمعین پر یہ اثر ہوا کہ سب خاموش ہو گئے اور سمجھ گئے۔ جبکہ تمام رسول فوت ہو چکے ہیں تو کیا سردار دو جہاں رسول اللہ ﷺ ہمیشہ کے لئے ہمارے پاس رہتے؟ ہر گز نہیں اور نہ ہی کسی صحابیؓ نے یہ اٹھ کر کہا کہ یا خلیفۃ المسلمین ابن مریم علیہ السلام تو آسمان پر زندہ ہیں۔ کسی نے نہیں کہا۔ معلوم ہوا کہ صحابہ رضوان اللہ اجمعین ابن مریم علیہ السلام کی وفات کے قائل تھے۔
الجواب محمدی ﷺ نمبر ١
”واذا لقوا الذین امنوا قالوا امنا واذا خلوا الی شیطنهم قالوا انا معکم انما نحن مستهزؤن (البقرۃ:١٤) “ ﴿اور جب ملتے ہیں منافق ان لوگوں سے جو ایمان لائے، کہتے ہیں ایمان لائے ہم اور جب اکیلے ہوتے ہیں طرف سرداروں اپنوں کے کہتے ہیں تحقیق ہم ساتھ تمہارے ہیں اور سوائے اس کے نہیں کہ ہم مسلمانوں سے ٹھٹھا کرتے ہیں۔﴾
مرزائیو! اللہ تبارک وتعالیٰ اس آیت میں منافقین کا ذکر فرماتا ہے۔ اے میرے نبی
٢٨
جب یہ منافق مسلمانوں سے ملاقات کرتے ہیں اپنے سرداروں کے پاس جاتے ہیں تو ان کو کہتے سے تو ہم ٹھٹھے کرتے ہیں۔
مرزائیو! کیا منافقین مسلمانوں کے پاس پہنچ کر مسلمانوں کے متعلق مذاق اڑاتے تھے کے معنی ہیں گزرنا اور گزرنے کے معنی ہیں موت۔ جنہوں نے ہر اسٹیشن جنکشن ریلوے لائن کو عبور کر لکھ دیتے ہیں مسافروں کے گزرنے کا راستہ، یہ تمہا کیا وہ موت کا راستہ ہے یا ادھر سے ا اور نادانی ہے۔ یہ قرآن دانی نہیں بے ایمانی ہے موت کیا جائے تو معاذ اللہ، اللہ وحدہ کی ذات پر وہ
الجواب محمدی ﷺ دوئم
ترجمہ آیت: عادت اللہ کی جو تحقیق گز اے محمدؐ! واسطے عادت کے بدلی جانا۔
مرزائیو! الفاظ بھی غلط لیکن معنی تمہارے تھی وہ اب بھی ہے۔ مثلاً پہلے اللہ تعالیٰ کی ذات کو کرنے کی عادت، غریبوں کو امیر کرنے کی عادت اور بیمار کرنے کی عادت اور بیماروں کو اچھا کرنے کی عاد محکوم بنانے کی عادت۔ گمراہ کو ہدایت کرنے کی عادت اللہ تعالیٰ کی تمام عادتیں جو پہلے تھیں، ا اگر خلت کا معنی موت ہے تو معاذ اللہ یہ سب عادتیں بات اب یہ معنی صحیح ہے یا غلط؟ اگر تمہارے نزدیک م پر بھی جو شبہ رکھے، وہ بھی کافر ہے۔ کیونکہ خدا کی ساری۔ قرآن نہ بدلا جائے گا۔
آگے آگے دیکھئے
٢٩
جب یہ منافق مسلمانوں سے ملاقات کرتے ہیں تو یہ کہتے ہیں کہ ہم ایمان لے آئے اور جب پھر اپنے سرداروں کے پاس جاتے ہیں تو ان کو کہتے ہیں کہ حقیقتاً ہم تو تمہارے ساتھی ہیں۔ مسلمانوں سے تو ہم ٹھٹھے کرتے ہیں۔
مرزائیو! کیا منافقین مسلمانوں کے پاس ہو کر پھر فوت ہو جاتے تھے یا منافقین کے پاس پہنچ کر مسلمانوں کے متعلق مذاق اڑاتے تھے۔ خلت کے معنی ہرگز ہرگز موت نہیں۔ اگر خلت کے معنی ہیں گزرنا اور گزرنے کے معنی ہیں موت۔ پھر تو ریلوے محکمہ کے اچھے شریف انسان ہیں۔ جنہوں نے ہر اسٹیشن، جنکشن ریلوے لائن کو عبور کرنے کے لئے جو پل بنایا ہے۔ اس کے راستہ پر لکھ دیتے ہیں مسافروں کے گزرنے کا راستہ، یہ تمہارے نزدیک ہوا مر جانے کا راستہ۔
کیا وہ موت کا راستہ ہے یا ادھر سے ادھر جانے کا؟ خلت کے معنی موت کرنا جہالت اور نادانی ہے۔ یہ قرآن دانی نہیں بے ایمانی ہے۔ یہ معنی رحمانی نہیں بلکہ شیطانی ہے۔ اگر معنی موت کیا جائے تو معاذ اللہ، اللہ وحدہ کی ذات پر دھبہ آئے گا۔ آؤ آیت پیش کرتا ہوں۔
الجواب محمدی دوم
ترجمہ آیت: عادت اللہ کی جو تحقیق گزری ہے پہلے اس سے اور ہرگز نہ پاوے گا تو اے محمدؐ! واسطے عادت کے بدلی جانا۔
مرزائیو! الفاظ بھی خلت لیکن معنی تمہارے خلاف دیکھئے۔ اللہ تعالیٰ کی جو عادت پہلے تھی وہ اب بھی ہے۔ مثلاً پہلے اللہ تعالیٰ کی ذات کو نیکوں پر رحم کرنے کی عادت اور گنہگاروں پر قہر کرنے کی عادت، غریبوں کو امیر کرنے کی عادت اور امیروں کو غریب کرنے کی عادت۔ اچھوں کو بیمار کرنے کی عادت اور بیماروں کو اچھا کرنے کی عادت۔ محکوم کو حاکم بنانے کی عادت اور حاکموں کو محکوم بنانے کی عادت۔ گمراہ کو ہدایت کرنے کی عادت۔ علیٰ ہٰذا القیاس۔
اللہ تعالیٰ کی تمام عادتیں جو پہلے تھیں، اب بھی ہیں اور رہیں گی۔ مگر تمہارے نزدیک اگر خلت کا معنی موت ہے تو معاذ اللہ یہ سب عادتیں اللہ تعالیٰ کی فوت ہو چکی ہیں۔ دریافت طلب بات اب یہ معنی صحیح ہے یا غلط؟ اگر تمہارے نزدیک موت ہی معنی صحیح ہے تو پھر تمہارے کافر ہونے پر بھی جو شبہ رکھے، وہ بھی کافر ہے۔ کیونکہ خدا کی عادت نہیں بدلے گی۔ بدل جائے گی دنیا ساری۔ قرآن نہ بدلا جائے گا۔
آگے آگے دیکھئے ہوتا ہے کیا
٢٩
الجواب محمدی سوم
"تلك امة قد خلت لها ماكسبت ولكم ماكسبتم (البقرة:١٤١)" ﴿یہ ایک اُمت تھی کہ تحقیق گزر گئی واسطے ان کے جو کچھ کمایا انہوں نے واسطے تمہارے جو کچھ کمایا تم نے﴾
مرزا ئيو! "تلك امة" سے مراد یہودی اور نصاریٰ ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے خلت کے الفاظ کو استعمال فرما کر اپنے نبی کو تسلی و تشفی عطا فرمائی۔ اے میرے حبیب! اگر یہ لوگ کہتے ہیں کہ سیدنا ابراہیم خلیل اللہ علیہ السلام اور آپ کی اولاد یہودی اور نصاریٰ تھے تو آپ کہہ دیجئے کہ اے یہود و نصاریٰ تم اس چیز سے زیادہ واقف ہو۔ یا اللہ تعالیٰ کی ذات بابرکات کو ان کا زیادہ علم ہے۔ سوال، الفاظ خلت استعمال لیکن یہود اور نصاریٰ موجود ہے؟ اب خلت کا معنی موت نہ سمجھو گے یا جگہ کی تبدیلی ادھر یا ادھر اگر خلت کا معنی موت ہوتا تو انشاء اللہ ان لوگوں کا وجود بھی نظر نہ آتا۔ خلت کے معنی موت نہیں۔
کیونکہ اللہ تبارک و تعالیٰ قرآن مجید کے اندر ”قل يا اهل الكتب لستم على شی“ یہود اور نصاریٰ کو بذریعہ رسول خدا ﷺ کے پکار رہا ہے۔ معلوم ہوا کہ خلت کے معنی موت کرنا از روئے قرآن مجید غلط اور ”وما محمد الا رسول قد خلت من قبله الرسل (آل عمران:١٤٤)“ سے ابن مریم علیہ السلام کی موت کا اظہار کرنا آپ کی نادانی یا بے ایمانی کا ثبوت ہے۔ ابن مریم علیہ السلام از روئے قرآن مجید آسمان پر زندہ موجود ہیں۔ دوبارہ قرب قیامت پھر تشریف لائیں گے۔
اعتراض مرزائی ششم
"واذ قال الله يعيسى ابن مريم ءانت قلت للناس اتخذونى وامى الهين من دون الله...... ان اعبد الله ربى وربكم وكنت عليهم شهيداً مادمت فيهم فلما توفيتنى كنت انت الرقيب عليهم وانت على كل شى شهيدا (المائد:١١٧)“
﴿اور جب کہا اللہ تعالیٰ نے اے عیسیٰ کیا تو نے کہا تھا واسطے لوگوں کے کہ پکڑو مجھ کو اور میری ماں کو دو معبود سوائے اللہ کے۔ عرض کریں گے ابن مریم باری تعالیٰ میں تو لوگوں کو یہی کہتا رہا ہوں کہ عبادت کرو اللہ کی جو میرا اور تمہارا رب ہے اور تھا میں اوپر ان کے گواہ جب تک رہا بیچ ان کے پس جب تو نے مجھے موت دے دی پھر تھا تو ہی نگہبان ان کے اور تو اوپر ہر چیز کے گواہ ہے﴾
٣٠
٥٥
غیر احمدیو! اس آیت میں اللہ تعالیٰ قیامت کو اللہ تعالیٰ جبکہ عدالت کے لئے ابن مریم پوچھے گا اے ابن مریم! کیا تو نے دنیا میں لوگوں کو ک پکارو سوائے اللہ کے۔
حضرت عیسیٰ علیہ السلام عرض کریں گے تو یہی کہتا رہا ہوں کہ اے لوگو عبادت کرو ایک وحد کہا میں نے ان کو اور میں گواہی دیتا ہوں اوپر ان کے جب تو نے مجھے موت دے دی پھر تھا تو ہی نگہبا معلوم ہوا کہ ابن مریم علیہ السلام اپنی ام بقول تمہارے زندہ ہوں اور دوبارہ تشریف لے آ گے۔ اس لئے کہ یکدم کسی قوم نے کسی بھی نبی کو فو نہیں۔ ابن مریم علیہ السلام تو خدا کے بیٹے ہیں۔ ی جائے گی۔ پھر وہ روز قیامت رب العالمین کے ح خبری ظاہر کر سکتے ہیں۔ بس معلوم ہوا کہ قوم نصار لئے آپ بلا شک بے خبر ہوں گے اور ”توفیتن السلام زندہ نہیں ہیں، یہ غلط ہے:
مدفون ہو زمیں
الجواب محمدی اول
مرزائیو! جو آپ نے اس آیت سے ا چکے ہیں، غلط ہے۔ کیونکہ اللہ تبارک و تعالیٰ جب ع گے کہ کیا تو نے لوگوں کو کہا تھا کہ مجھے اور میری ماں ک تعالیٰ میں تو نبوت سے لے کر توفیت تک لوگوں کو ی تمہارا اور میرا حقیقی معبود ہے اور میں اپنی امت پر ا بات کی کہ مجھے میری قوم نے یعنی امت نے معبود ب
٣١
غیر احمدیو! اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے قیامت کا قصہ بیان فرمایا ہے۔ یعنی روز قیامت کو اللہ تعالیٰ جبکہ عدالت کے لئے ابن مریم کو بلائے گا، آپ حاضر ہوں گے تو اللہ تعالیٰ پوچھے گا اے ابن مریم! کیا تو نے دنیا میں لوگوں کو اس قسم کی تبلیغ کی تھی کہ مجھ کو اور میری ماں کو معبود پکارو سوائے اللہ کے۔
حضرت عیسیٰ علیہ السلام عرض کریں گے باری تعالیٰ! میں نے ان کو یہ نہیں کہا۔ بلکہ میں تو یہی کہتا رہا ہوں کہ اے لوگو عبادت کرو اللہ وحدہ لاشریک کی جو میرا اور تمہارا رب ہے۔ یہ نہیں کہا میں نے ان کو اور میں گواہی دیتا ہوں اوپر ان کے اس بات کی جب تک رہا ہوں میں بیچ ان کے جب تو نے مجھے موت دے دی پھر تھا تو ہی نگہبان اوپر ان کے۔
معلوم ہوا کہ ابن مریم علیہ السلام اپنی امت کی گمراہی سے بالکل بے خبر ہوں گے۔ اگر بقول تمہارے زندہ ہوں اور دوبارہ تشریف لے آئیں تو ضروری ہے کہ وہ قوم نصاریٰ سے سن لیں گے۔ اس لئے کہ یکدم کسی قوم نے کسی بھی نبی کو قبول نہیں کیا۔ عیسائی فوراً کہیں گے کہ تم ابن مریم نہیں۔ ابن مریم علیہ السلام تو خدا کے بیٹے ہیں۔ یا ویسے دنیا میں دوبارہ آنے سے ان کو اطلاع ہو جائے گی۔ پھر وہ روز قیامت رب العالمین کے دربار میں کس طرح اپنی قوم کی گمراہی سے بے خبری ظاہر کر سکتے ہیں۔ پس معلوم ہوا کہ قوم نصاریٰ آپ کی وفات کے بعد گمراہ ہوئی ہے۔ اس لئے آپ بلا شک بے خبر ہوں گے اور "توفیتنی" کا معنی موت ثابت ہوا اور ابن مریم علیہ السلام زندہ نہیں ہیں، یہ غلط ہے:
مدفون ہو زمیں پر شاہجہاں ہمارا
الجواب محمدی اول
مرزا جیو! جو آپ نے اس آیت سے ظاہر کرنا چاہا ہے کہ ابن مریم علیہ السلام فوت ہو چکے ہیں، غلط ہے۔ کیونکہ اللہ تبارک وتعالیٰ جب قیامت کے دن ابن مریم علیہ السلام سے پوچھیں گے کہ کیا تو نے لوگوں کو کہا تھا کہ مجھے اور میری ماں کو دو معبود پکارو۔ تو آپ عرض کریں گے کہ باری تعالیٰ میں تو نبوت سے لے کر توفیتنی تک لوگوں کو یہی تبلیغ کرتا رہا ہوں کہ اللہ کی پوجا کرتے رہو جو تمہارا اور میرا حقیقی معبود ہے اور میں اپنی امت پر گواہی دیتا ہوں نبوت سے لے کر توفیتنی تک اس بات کی کہ مجھے میری قوم نے یعنی امت نے معبود نہیں پکارا۔ جب تک رہا میں بیچ ان کے اور جب
٣١
تو نے مجھے قبض کر لیا تھا۔ پھر تھا تو نگہبان اوپر میری امت کے۔ بیشک ابن مریم علیہ السلام توفیتنی سے تا نزول تک اپنی امت کی گمراہی سے بے خبر تھے اور ابن مریم علیہ السلام کی گواہی بھی امت کے اوپر اس عرصہ تک کی ہے جب تک ان میں موجود رہے۔
اگر اب نزول کے وقت کوئی عیسائی یہ کہہ بھی دے گا کہ ابن مریم آپ نہیں بلکہ ابن مریم تو خدا کا بیٹا ہے۔ یا ویسے اطلاع ہو جائے گی کہ آپ کے چلے جانے کے بعد آپ کی امت نے آپ کو اور ماں مریم کو معبود پکارا تھا۔ تو کیا اعتراض، ابن مریم کی گواہی تو صرف اپنی امت پر اس عرصہ تک کی ہے۔ جب تک ان میں رہے۔ اب جب دوبارہ نزول ہوگا۔ تو ان کی امت کی طرف نہیں۔ بلکہ امت محمدیہ کی طرف تشریف لائیں گے۔
اس سے معلوم ہوا کہ آپ زندہ ہیں۔ اگر ابن مریم علیہ السلام قیامت کے روز دربار عالیہ میں یہ بیان دیتے کہ ”وكنت عليهم شهيدا مادمت حيا“ یعنی میں گواہ ہوں اوپر ان کے جب تک رہا ہوں میں جیتا۔ تو بیشک ابن مریم فوت تھے۔ پھر دوبارہ آنے کی کوئی ضرورت باقی نہ رہتی۔ لیکن قرآن مجید نے ”وكنت عليهم شهيدا مادمت فيهم“ جو بیان کیا ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ زندہ ہیں۔ کیونکہ آپ کی گواہی صرف اس عرصہ تک کی ہے۔ جب تک ان میں رہے اور جب قبض کر لئے گئے تو پھر باری تعالیٰ کی نگہبانی عائد ہوگئی۔ رہا ”توفيتنى“ کے متعلق آپ کا اعتراض کہ اس کا معنی موت ہے، ہر گز نہیں۔ آپ قرآن مجید دیکھئے: ”وان كل لما ليوفينهم ربك اعمالهم (هود: ١١١)“ ﴿اور تحقیق ہر ایک جب آوے گا روبرو پروردگار کے البتہ پورا دے گا ان کو رب تیرا عمل ان کے۔﴾
مرزائیو! پورے عمل دینے کا وعدہ اللہ تعالیٰ کرتا ہے نہ یہ کہ فوت کروں گا عمل ان کے۔
دیکھئے اور غور کیجئے
الجواب محمدی دوئم
”ولكل درجت مما عملوا وليوفيهم اعمالهم (الاحقاف: ١٩)“ ﴿اور واسطے ہر ایک کے درجے ہیں جو کیا انہوں نے اور یہ کہ پورا دے گا ان کو عمل ان کا۔﴾
مرزائیو! ہر ایک آدمی کا جو عمل اچھا یا برا کیا ہوگا، برابر ملے گا اس کو قیامت کے روز۔
الجواب محمدی سوئم
”يومئذ يوفيهم الله دينهم الحق ويعلمون ان الله هو الحق المبين
٣٦
٥٧
(النور: ٢٥) ” ﴿اس دن پوری دے گا اللہ ان کو کرنے والا ظاہر۔﴾
مرزائیو! شاید تمہارے نزدیک یہ ترجمہ میں موجود ہے۔ آپ ترجمہ کرو گے یعنی فوت کرو ترجمہ موت کرتے ہو۔
الجواب محمدی چہارم
”ووفيت كل نفس ماعملت و پورا دیا جائے گا ہر ایک جی کو جو کچھ کیا تھا اور وہ اللہ خ اس آیت سے بھی پورے اجر دینے کا ابن عباسؓ سے دریافت کرتے ہیں۔ چنانچہ ان ”توفیتنی“ راقم ہیں، جو ملاحظہ کیجئے۔
الجواب پنجم تفسیر ابن عباسؓ
”وكنت عليهم شهيدا بالم توفيتنى، رفعتنى من بينهم كنت انت ا
(تفسیر ابن عباس ص ١٣٧)
”اور تھا میں اوپر ان کے شاہد یعنی اللہ بیچ ان کے۔ پس جب پورا کیا مجھ کو یعنی اٹھا لیا مجھ کے یعنی حافظ اور گواہ اوپر ان کے۔“
مرزائیو! ”توفیتنی“ کے موت معنی نگہبان اوپر ان کے۔
الجواب ششم تفسیر جلالین
حضرت جلال الدین سیوطیؒ اپنی تفسیر جلا قال الله تعالیٰ بقول عیسیٰ علیہ السلام ’وكنت عل مادمت فيهم فلما توفيتنى قبضتنى عليهم الحفيظ لا عمالهم (جلالین ص ١١
٢٣
(النور:٢٥) ” ﴿اس دن پوری دے گا اللہ ان کو جزا ان کی اور جان لیں گے یہ کہ اللہ وہی ہے حق کرنے والا ظاہر۔﴾
مرزائیو! شاید تمہارے نزدیک یہ ترجمہ غلط ہوگا۔ کیونکہ لفظ ”یوفیہم اللہ“ اس آیت میں موجود ہے۔ آپ ترجمہ کرو گے یعنی فوت کر دے گا اللہ تعالیٰ ان کے اعمالوں کو جیسے توفّی کا ترجمہ موت کرتے ہو۔
الجواب محمدی چہارم
”ووفیت کل نفس ما عملت وہو اعلم بما یفعلون (الزمر:٧٠) ﴿اور پورا دیا جائے گا ہر ایک جی کو جو کچھ کیا تھا اور وہ اللہ خوب جانتا ہے جو کچھ کہ کرتے ہو۔﴾
اس آیت سے بھی پورے اجر دینے کا وعدہ ہے۔ آؤ ہم ”توفيتني“ کا معنی سیدنا ابن عباسؓ سے دریافت کرتے ہیں۔ چنانچہ ابن عباسؓ اپنی تفسیر ابن عباس میں زیر آیت ”توفيتني“ راقم ہیں، جو ملاحظہ کیجئے۔
الجواب پنجم تفسیر ابن عباسؓ
”وکنت علیہم شہیدا بالبلاغ مادمت فیہم، ماکنت فیہم فلما توفیتنی، رفعتنی من بینہم کنت انت الرقیب علیہم الحفیظ والشہید علیہم
(تفسیر ابن عباس ص١٣٧)
”اور تھا میں اوپر ان کے شاہد یعنی اللہ کی رسالت پہونچانے پر جب تک رہا ہوں میں بیچ ان کے۔ پس جب پورا کیا مجھ کو یعنی اٹھا لیا مجھ کو درمیان ان کے سے تھا تو ہی نگہبان اوپر ان کے یعنی حافظ اور گواہ اوپر ان کے۔“
مرزائیو! ”توفیتنی“ کے موت معنی نہیں کیا۔ بلکہ اٹھا لیا مجھ کو جب تو نے تھا پھر تو ہی نگہبان اوپر ان کے۔
الجواب ششم تفسیر جلالین
حضرت جلال الدین سیوطیؒ اپنی تفسیر جلالین میں زیر آیت: ”وکنت علیہم“ جیسے قال اللہ تعالیٰ بقول عیسیٰ علیہ السلام ”وکنت علیہم شہیدا رقیبا امنعہم مما یقولون مادمت فیہم فلما توفیتنی قبضتنی بالرفع الی السماء کنت انت الرقیب علیہم الحفیظ لاعمالہم (جلالین ص١١١)“
٣٣
”اور تھا میں اوپر ان کے شاہد یعنی نگہبان جو منع کرتا ان کو ساتھ اس چیز کے جو کرتے ہیں جب تک رہا میں بیچ ان کے پس جب قبض کر لیا تو نے مجھ کو یعنی اٹھا لیا طرف آسمان کے، تھا تو ہی نگہبان پھر اوپر ان کے یعنی حفاظت کرنے والا ان کے اعمالوں کی۔“
مرزائیو! ”توفیتنی“ کا معنی موت نہیں، ملاحظہ کیجئے۔
الجواب ہفتم تفسیر صاوی
مرزائیو! تفسیر صاوی والے زیر آیت ”توفیتنی“ راقم ہیں: ”فلما توفیتنی
يستعمل التوفى اخذ الشئ وافيا اى كاملا“
(بحوالہ جلالین ص ١١١ حاشیہ نمبر ١٢)
”پس جب قبض کیا مجھ کو یعنی استعمال کیا جاتا ہے لفظ ”توفنی“ بیچ کسی چیز کے پکڑنے کو اور پورا کرنے اور مکمل کرنے کو۔“ لیکن موت اس کا معنی کرنا جہالت ہے۔ آئیے قرآن مجید سے بھی ثابت کرتا ہوں۔
الجواب ہشتم قرآن مجید
”الله يتوفى الانفس حين موتها والتى لم تمت فى منامها
(الزمر:٤٢)“
﴿اللہ قبض کر لیتا ہے جانوں کو نزدیک موت ان کی کے اور جو نہیں مرے ان کو قبض کرتا ہے بیچ نیند ان کی کے۔﴾
مرزائیو! ابن مریم علیہ السلام بیشک اس وقت نیند میں تھے جبکہ اللہ تبارک وتعالیٰ نے آپ کو بذریعہ جبرائیل علیہ السلام کے آسمان پر اٹھایا۔ اس لئے تو حضرت ابن مریم علیہ السلام کی درخواست میں لفظ ”توفیتنی“ موجود ہے۔ جبکہ یہودی حضرت ابن مریم علیہ السلام کو قتل کرنے کی تیاری میں تھے کہ آپ کو علم ہوا اور فوراً بارگاہ الٰہی میں دعا کی یا اللہ تو مجھے میرے دشمنوں سے محفوظ رکھنا۔ جیسے تفسیر مدارک میں مذکور ہے۔
الجواب محمدی نہم
تفسیر مدارک میں زیر آیت: ”ولکن شبه لهم“ راقم ہیں، ملاحظہ ہو
”ولكن شبه لهم روى ان رهطا من اليهود سبوه وسبوا امه فدعا عليهم اللهم انت ربى وبكلمتك خلقتنى اللهم العن من سبنى وسب والدتى فمسخ الله من سبهما قردة وخنازير فاجتمعت اليهود على قتله فاخبره الله
٣٤
بانه يرفعه الى السماء ويطهره من
”اور لیکن شبہ ڈال دیا گیا ولا حضرت ابن مریم علیہ السلام کو اور آپ کی و ان کی تجویز بھی تھی۔ پھر حضرت عیسیٰ علیہ ا الہی! تو میرا رب ہے۔ ساتھ کلمات اپنے میری والدہ کے دشمنوں پر۔ اللہ تعالیٰ نے ہوئے یہودی ابن مریم کو قتل کرنے کے س مریم علیہ السلام کو طرف آسمان کے اور پاک
مرزائیو! ابن مریم علیہ السلام لاؤ، یہ تمہاری مرضی پر موقوف ہے۔ بہرحال
الجواب محمدی دہم
مرزائیو! (مشارق الانوار عربی ملاحظہ فرمائیں: ”وسئل الجلال الم فى السماء الثانية لا ياكل ولا يشر
”سوال کیا گیا حضرت علامہ آپ نے جواب دیا ابن مریم علیہ السلام کھاتے اور پیتے لازم ہے واسطے ان کے اب آسمان پر ابن مریم علیہ السلام کی خوراک
مرزائیو! حیات مسیح کے قائل اجماعاً اور آئمہ اربعہ مفسرین ومحدثین وفقہاء بز اس مسئلہ پر ہیں کہ ابن مریم علیہ السلام زن
اعتراض مرزائی ہفتم
”قال فيها تحيو
” بیچ اس کے زندہ
(الاعراف:٢٥)
گے تم۔“
بانه يرفعه الى السماء ويطهره من صحبة اليهود“
(تفسیر مدارک عربی مطبع مصری ج اول ص٤٠٤)
”اور لیکن شبہ ڈال دیا گیا واسطے ان کے روایت ہے کہ تحقیق یہودی برا کہتے تھے حضرت ابن مریم علیہ السلام کو اور آپ کی والدہ کو اس کے علاوہ قتل کرنے کی ابن مریم علیہ السلام کو ان کی تجویز بھی تھی۔ پھر حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے اپنے پروردگار کے دربار میں عرض کی، اے الٰہی! تو میرا رب ہے۔ ساتھ کلمات اپنے کے پیدا کیا تو نے مجھ کو۔ اے الٰہی! لعنت کر میرے اور میری والدہ کے دشمنوں پر۔ اللہ تعالیٰ نے صورت بدل دی، ان کی ہوگئے بندر اور سور۔ پس جمع ہوئے یہودی ابن مریم کو قتل کرنے کے لئے اور اللہ وحدہ لاشریک نے اطلاع دی اور اٹھا لیا ابن مریم علیہ السلام کو طرف آسمان کے اور پاک کیا یعنی بچا لیا یہودیوں کے مکر و فریب سے۔“
مرزائیو! ابن مریم علیہ السلام کی حیات پر بہت دلائل موجود ہیں۔ آپ ایمان لاؤ یا نہ لاؤ، یہ تمہاری مرضی پر موقوف ہے۔ بہرحال وہ زندہ سلامت ہیں۔
الجواب محمدی دہم
مرزائیو! (مشارق الانوار عربی باب نزول عیسیٰ علیہ السلام مطبع مصر ص ١١٧) میں مرقوم ہے، ملاحظہ فرمائیں: ”وسئل الجلال السيوطى عن حياة عيسى ومقره فقال هو حى فى السماء الثانية لاياكل ولا يشرب ملازم للتسبيح كالملائكة“
”سوال کیا گیا حضرت علامہ جلال الدین سیوطی سے ابن مریم علیہ السلام کے متعلق۔ آپ نے جواب دیا ابن مریم علیہ السلام زندہ ہیں اور دوسرے آسمان پر ان کا ٹھکانہ ہے۔ نہیں کچھ کھاتے اور پیتے لازم ہے واسطے ان کے تسبیح جیسے فرشتوں کی خوراک اللہ تعالیٰ کی عبادت ہے۔ اب آسمان پر ابن مریم علیہ السلام کی خوراک سوائے عبادت کے اور کچھ نہیں ۔“
مرزائیو! حیات مسیح کے قائل سردار مدینہ ﷺ اور صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ اجمعین اولیاء اور ائمہ اربعہ مفسرین ومحدثین و فقہاء بزرگان دین ہیں۔ سوائے تمہاری جماعت کے سب متفق اس مسئلہ پر ہیں کہ ابن مریم علیہ السلام زندہ ہیں اور دوبارہ قرب قیامت ان کا نزول ہوگا۔
اعتراض مرزائی ہفتم
”قال فيها تحيون وفيها تموتون ومنها تخرجون (الاعراف:٢٥) ” بیچ اس کے زندہ رہو گے تم اور بیچ اس کے مرو گے تم اور اس سے اٹھائے جاؤ گے تم۔“ ﴾
٣٥
یہ اللہ تعالیٰ کا قانون بنی آدم کے لئے مقرر ہے۔ فرمایا اللہ تعالیٰ نے اے بنی آدم! تم زمین میں ہی زندہ رہو گے اور زمین میں مرو گے اور زمین سے ہی اٹھائے جاؤ گے۔ افسوس صد افسوس کہ ابن مریم علیہ السلام اس قانون الٰہی سے کیونکر مستثنیٰ ہو کر اپنی زندگی آسمان پر بسر کر سکتے ہیں۔ کیا وہ آدم علیہ الصلوٰۃ والسلام کی اولاد میں سے نہیں ہیں؟ اگر ہیں تو پھر یہ ضروری ہے کہ ان کی زندگی اس زمین پر ہی گزرتی۔ قانون الٰہی تو بیشک ٹوٹ جائے لیکن اپنی ضد سے باز نہیں آؤ گے۔ دوستو! اگر تمہارا ایمان قرآن مجید پر خدا کا کلام ہونے کا ہے تو پھر اس آیت پر عمل کر کے ایمان لے آؤ کہ ابن مریم فوت ہو چکے ہیں۔
الجواب محمدی اول
مرزائیو! واہ آپ کی ہوشیاری...... ”قال فیہا تحیون “ جو آپ نے اس آیت کو قانون بنی آدم کے لئے قرار دیا ہے۔ سوال کیا اس آیت کے پہلے ”یابنی آدم “ الفاظ قرآن مجید کے اندر موجود ہیں؟ اگر ہیں تو دکھائیے پھر میں مبلغ پچاس روپے انعام دوں گا۔ مگر قرآن مجید کے اندر اس آیت کے قبل ”یا بنی آدم “ نہیں ہے۔ یہ صرف تمہاری ہوشیاری، مکاری کا جال ہے۔ شرم کرو، جو بات قرآن مجید نے مخلوق خدا کے لئے پیش نہیں کی، تم اپنی طرف سے کیوں بنا کر کلام الٰہی قرار دے رہے ہو؟ یہی مکر و فریب یہود و نصاریٰ کے اندر موجود تھے۔ وہ بھی اپنی طرف سے بناوٹی باتیں بنا کر لوگوں کے سامنے پیش کیا کرتے اور پھر اس کو کلام الٰہی قرار دیتے تھے جو آپ نے اس آیت سے حضرت ابن مریم علیہ السلام کی حیات پر اعتراض کیا ہے کہ وہ زندہ اس لئے نہیں ہیں کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ”قال فیہا تحیون وفیہا تموتون ومنہا تخرجون “ وہ اپنی زندگی اس قانون الٰہی سے باہر ہو کر آسمان پر بسر نہیں کر سکتے، لہٰذا فوت ہو گئے۔
مرزائیو! یہ آیت تو ان کے لئے ہے جو حضرت آدم علیہ السلام کے ساتھ زمین پر اتارے گئے۔ عربی عبارت قرآن مجید کی پیش کرتا ہوں۔
”قال اھبطوا بعضکم لبعض عدو ولکم فی الارض مستقر ومتاع الی حین، قال فیہا تحیون وفیہا تموتون ومنہا تخرجون (اعراف:٢٤،٢٥)“
کہا ہم نے اترو سارے اب بعض تمہارے واسطے بعض کے دشمن ہیں اور واسطے تمہارے بیچ زمین کے ٹھکانا ہے اور فائدہ ہے موت تک اور بیچ اس کے زندہ رہو گے اور بیچ اس کے مرو گے اور اس سے اٹھائے جاؤ گے۔
٣٦
برادرانِ اسلام! اس آیت کے پہلے ”قال اھبطوا “ سے ”متاع الی حین “ تک ہے۔ آپ دیکھ لیجئے گا۔ اس کے بعد یہ دیکھنا ہے کہ آدم ہیں یا حضرت آدم علیہ السلام اور اماں حوا اور ا مور۔ آیئے کسی مفسر سے تصدیق کرادوں۔ لیکن مف میں زیر آیت ”قال اھبطوا “ راقم ہیں، ملاحظہ ہو
”قال اھبطوا انزلوا من ال حواء والحية والطاؤس ولكم في الارض الى حين حين الموت قال فيها في الارض تموتون ومنها من الارض تخرجون يوم
”کہا اترو سارے جنت سے اب بعض گیا حضرت آدم علیہ السلام کو اور حواء کو اور طاؤس کو ٹھکانا ہے اور فائدہ یعنی روزی معاش موت تک فرما زمین کے مرو گے اور زمین سے نکالے جاؤ گے دن
مرزائیو! اس آیت کا شان نزول معلوم زندگی بڑے آرام کے ساتھ بسر کر رہے ہیں۔ اس ہو کہ یہ صیغہ جمع ہے۔ اس لئے صیغہ جمع سے ابن مریم قرآن مجید کی سیر کراؤں تاکہ معلوم ہو جائے کہ صیغہ
بھئی! اگر ایک آدمی ہو، تو کہا جائے گا ”ولکما “ اور تین ہو گے تو ”ولکم “ مثلاً ایک آدم یعنی سلام ہو اوپر تیرے ایک کے، اور اگر دو ہوں گے سلام ہو اوپر تمہارے دونوں کے، اگر تین ہوں تو کہا اوپر تمہارے تین آدمیوں کے۔ یہ ہے صیغہ جمع۔
مگر صیغہ جمع تین آدمیوں سے شروع کھربوں تک استعمال کر سکتے ہیں۔ خواہ تین مذکر جاوے گا۔ آؤ اب قرآن مجید کی آیات ان دلائل پر پ
٣٧
برادران اسلام! اس آیت کے پہلے یا بنی آدم الفاظ آئے ہیں؟ ہرگز نہیں۔ یہ عاجز "قال اهبطوا" سے "متاع الی حین" تک اعتراض مرزائی نمبر اول پر مکمل بحث کر کے آیا ہے۔ آپ دیکھ لیجئے گا۔ اس کے بعد یہ دیکھنا ہے کہ آیا "قال تحیون" کی آیت کے تحت بنی آدم ہیں یا حضرت آدم علیہ السلام اور اماں حوا اور عزازیل ملعون اور سانپ اور طاؤس یعنی جانور مور۔ آئیے کسی مفسر سے تصدیق کرادوں۔ لیکن مفسر بھی کون سیدنا ابن عباسؓ اپنی تفسیر ابن عباس میں زیر آیت "قال اهبطوا" رقم ہیں، ملاحظہ ہو۔
"قال اهبطوا انزلوا من الجنة لبعضكم لبعض عدو يعنى آدم و حواء والحية والطاؤس ولكم فى الارض مستقرا ماؤى و منزل ومتاع معاش الى حين حين الموت قال فيها فى الارض تحيون تعيشون وفيها فى الارض تموتون ومنها من الارض تخرجون يوم القيامة"
(تفسیر ابن عباس ص ١٦٥)
"کہا اترو سارے جنت سے اب بعض تمہارے واسطے بعض کے دشمن ہیں۔ یعنی حکم کیا گیا حضرت آدم علیہ السلام کو اور حواء کو اور طاؤس کو اور سانپ کو کہ واسطے تمہارے بیچ زمین کے ٹھکانا ہے اور فائدہ یعنی روزی معاش موت تک فرمایا بیچ اس کے یعنی زمین میں زندہ رہو گے اور بیچ زمین کے مرو گے اور زمین سے نکالے جاؤ گے دن قیامت کو۔"
مرزائیو! اس آیت کا شان نزول معلوم ہوا اس لئے ابن مریم علیہ السلام آسمان پر اپنی زندگی بڑے آرام کے ساتھ بسر کر رہے ہیں۔ اس قانون سے مستثنیٰ ہیں۔ اگر یہ کہو جیسا کہا کرتے ہو کہ یہ صیغہ جمع ہے۔ اس لئے صیغہ جمع سے ابن مریم مستثنیٰ ہو کر کیوں کر چلے گئے۔ آؤ آپ کو میں قرآن مجید کی سیر کراؤں تاکہ معلوم ہو جائے کہ صیغہ جمع کی تعریف کیا ہے۔
بھئی! اگر ایک آدمی ہو تو کہا جائے گا "ولک" اور اگر دو ہوں گے تو کہا جائے گا "ولکما" اور تین ہوگئے تو "ولکم" مثلاً ایک آدمی ہے۔ اس کو کہا جائے گا "السلام علیک" یعنی سلام ہو اوپر تیرے ایک کے، اور اگر دو ہوں گے تو کہا جائے گا "السلام علیکما" یعنی سلام ہو اوپر تمہارے دونوں کے، اگر تین ہوں تو کہا جائے گا "السلام علیکم" یعنی سلام ہو اوپر تمہارے تین آدمیوں کے۔ یہ ہے صیغہ جمع۔
مگر صیغہ جمع تین آدمیوں سے شروع ہو کر ہزاروں، لاکھوں، کروڑوں، عربوں کھربوں تک استعمال کر سکتے ہیں۔ خواہ تین مذکر ہوں یا مؤنث ان پر صیغہ جمع ہی استعمال کیا جاوے گا۔ آؤ اب قرآن مجید کی آیات ان دلائل پر پیش کرتا ہوں۔
٤٧
الجواب محمدی دوئم
”ان الذین یکفرون بآیات الله ویقتلون النبیین بغیر حق (آل عمران:٢١) “ ﴾تحقیق جو لوگ کافر ہوگئے ساتھ نشانیوں اللہ کی کے قتل کئے انہوں نے نبی ناحق۔﴿
مرزائیو! کیا کفار نے تمام انبیاء کو قتل کیا ہے یا چند نبی کفار کے ہاتھوں سے شہید ہوئے؟ اگر اب تمہاری طرح کہا جائے کہ صیغہ جمع ہے کیوں نہیں۔ تمام نبی قتل کئے گئے؟ درست ہوگا یا نہیں۔ کیونکہ نحویوں کے نزدیک یقتلون النبیین صیغہ جمع ہے۔ پھر بے شمار نبی کیوں مستثنیٰ ہیں۔ چاہئے تھا کہ سارے نبی معاذ اللہ قتل کئے جاتے پھر صیغہ جمع تمہارے نزدیک نہ ٹوٹتا۔ مرزائیو! کفار نے چند نبی شہید کئے ہیں لیکن اللہ تعالیٰ نے صیغہ جمع ہی استعمال فرما کر کفار کے اس فعل کو اپنے حبیب کے سامنے پیش کیا۔ جس طرح اس صیغہ جمع سے ہزاروں نبی مستثنیٰ ہیں ۔ بعینہ ابن مریم علیہ السلام اس صیغہ جمع سے مستثنیٰ ہو کر آسمان پر چلے گئے جو کہ دوبارہ قریب قیامت پھر تشریف لائیں گے۔
الجواب سوئم
”یایہاالرسل کلوا من الطیبت واعملوا صالحا (المومنون: ٥١) “ ﴾اے پیغمبرو! کھاؤ پاکیزہ چیزوں سے اور کام کرو اچھے۔﴿
مرزائیو! ”یایہاالرسل“ صیغہ جمع ہے۔ کیا تمام رسول اس وقت موجود تھے؟ جن کو کہا گیا کہ اے پیغمبرو کھاؤ پاکیزہ کھانے یعنی حلال روزی۔ سوال، کیا یہ لفظ ، لفظ ندا نہیں صیغہ حاضر نہیں، اور رسل صیغہ جمع نہیں؟ تو پھر کیوں اللہ تعالیٰ نے ”یا ایہا الرسل“ کہہ پکارا۔ کیا تمام رسول اس آیت کے نازل ہوتے وقت موجود تھے۔ کیونکہ صیغہ جمع استعمال کیا جارہا ہے، ہرگز نہیں تھے۔ اب بتلائیے ابن مریم علیہ السلام کے متعلق تمہارا کیا فیصلہ ہے۔ اگر ایمانداری کی بات کرو تو ماننا پڑے گا کہ آپ بلا شک زندہ ہیں۔ اول تو ”قال فیہا تحیون“ اولادِ آدم کے لئے یہ قانون ہی نہیں۔ اگر بقول تمہارے قبول کر لیا جائے کہ صیغہ جمع ہے۔ پھر بھی ابن مریم علیہ السلام آسمان پر زندہ ہیں۔
کیونکہ جن ذی روح مذکر ہوں یا مونث اپنی زندگی اس زمین پر بسر کرلیں اور فوت ہو جائیں اور اس زمین سے نکالے جائیں قیامت کے روز، اور باقی ”کلھم“ مخلوق خداوند عالم کی ٣٨
اپنی زندگی آسمان پر گزارے تو بھی یہ صیغہ جمع ٹوٹ حیات مسیح کے اس لئے ہی قائل ہیں۔
اعتراض ہشتم مرزائی
”یبنی آدم قد انزلنا علی (الاعراف: ٢٦) ”یعنی اے بنی آدم کے تخم شرمگاہ تمہاری کو اور پہناوا زینت کا۔“
غیر احمدیو! یہ قانون تو اولاد آدم کے ل لباس پہنے۔ اس سے ہر انسان کی زینت زیب و ہے۔ جیسے ”یابنی آدم خذوازینتکم عند ک (اعراف: ٣١) ”یعنی ”اے اولاد آدم علیہ السلام پیو اور نہ اسراف کرو۔ یہ قانون تمام اولاد آدم کے آسمان پر زندہ سمجھا جائے تو پھر وہاں لباس اپنی نما کیونکہ وہاں پر نہ تو جلاہا ہے ہی کپڑے کا کام کر پڑھتے ہوں گے۔ کیونکہ قرآن مجید میں یہ کہیں نہی اور کپڑا پہننا اولاد آدم کے لئے فرض ہے یا معاذ ا رہے ہیں۔ ان تمام باتوں سے مکمل پتہ چلتا ہے کہ پر ہی زندہ رہتے۔ پھر کوئی اعتراض اس قسم کا ہرگز دوبارہ ان کا انتظار بے کار ہے۔
الجواب اول محمدی
مرزائیو! آپ نے اس آیت سے حی نامعقول ہیں۔ آپ نے قرآن مجید کو کبھی پڑھا کی سمجھ نہیں ہوگی۔ اس لئے کہ جو آپ نے اس دھرائے ہیں کہ آسمانوں پر نہ تو کوئی دکان اور نہ لباس پہن کر نماز پڑھتے ہوں گے۔ افسوس! آپ نہیں یا کارخانے۔
اپنی زندگی آسمان پر گزارے تو بھی یہ صیغہ جمع ٹوٹ نہیں سکتا۔ بس روشن خیال اہل علم ایماندار لوگ حیات مسیح کے اس لئے ہی قائل ہیں۔
اعتراض ہشتم مرزائی
”یبنی آدم قد انزلنا علیکم لباسا یواری سواتکم وریشا (الاعراف: ٢٦)“ ”یعنی اے بنی آدم کہ تحقیق اتارا ہم نے اوپر تمہارا پہناوا کہ ڈھانکتا ہے شرمگاہ تمہاری کو اور پہناوا زینت کا۔“
غیر احمدیو! یہ قانون تو اولاد آدم کے لئے مکمل ہے۔ یعنی ہر انسان کو ضروری ہے کہ وہ لباس پہنے۔ اس سے ہر انسان کی زینت زیب دیتی ہے اور دوسری آیت میں یہ بھی حکم موجود ہے۔ جیسے ”یابنی آدم خذوا زینتکم عند کل مسجد وکلوا واشربوا ولا تسرفوا (اعراف: ٣١)“ ”یعنی اے اولاد آدم علیہ السلام، پکڑو زینت اپنی نزدیک ہر نماز کے اور کھاؤ اور پیو اور نہ اسراف کرو۔ یہ قانون تمام اولاد آدم کے لئے مکمل ہے۔ اگر بقول تمہارے ابن مریم کو آسمان پر زندہ سمجھا جائے تو پھر وہاں لباس اپنی نماز یا غیر نماز کے لئے کہاں سے لیتے ہوں گے۔ کیونکہ وہاں پر نہ تو جولاہے ہی کپڑے کا کام کرتے ہیں اور نہ ہی کوئی کارخانے۔ پھر نماز کیسے پڑھتے ہوں گے۔ کیونکہ قرآن مجید میں یہ کہیں نہیں پڑھا کہ آسمانوں میں کپڑوں کی دکانیں ہیں اور کپڑا پہننا اولاد آدم کے لئے فرض ہے یا معاذ اللہ وہاں پر ابن مریم ننگے ہی زندگی کے روز گزار رہے ہیں۔ ان تمام باتوں سے مکمل پتہ چلتا ہے کہ اگر ان کو خداوند تعالیٰ نے زندہ رکھنا ہوتا تو زمین پر ہی زندہ رہتے۔ پھر کوئی اعتراض اس قسم کا ہرگز پیش نہ آتا۔ معلوم ہوا کہ وہ ضرور فوت ہو چکے۔ دوبارہ ان کا انتظار بے کار ہے۔
الجواب اول محمدی
مرزائیو! آپ نے اس آیت سے حیات مسیح علیہ السلام پر ایسے اعتراض کئے ہیں جو کہ نامعقول ہیں۔ آپ نے قرآن مجید کو کبھی پڑھا نہیں ہوگا یا پڑھا تو ہوگا لیکن قرآن مجید کے معنوں کی سمجھ نہیں ہوگی۔ اس لئے کہ جو آپ نے اس آیت کی تشریح کرنے کے وقت یہ الفاظ جو بار بار دھرائے ہیں کہ آسمانوں پر نہ تو کوئی دکان اور نہ کوئی جولاہے اور نہ کارخانے تو ابن مریم کہاں سے لباس پہن کر نماز پڑھتے ہوں گے۔ افسوس! آپ کے خیال میں کپڑے یا تو جولاہے تیار کر سکتے ہیں یا کارخانے۔
٣٩
مرزائیو! جنت میں جو لباس جنتیوں کو اللہ تعالیٰ کی ذات عطا فرمائے گی وہ کس کارخانے کا کپڑا سمجھتے ہو؟ قادیان کے کارخانے کا یا انگلش یا جرمنی یا فرانسیسی یا روسی یا جاپانی، فیصلہ دیں؟ اس کے علاوہ قرآن مجید نے سورہ نجم کے پہلے رکوع میں جو جنت کا قصہ مختصر بطور اشارہ کے نازل فرمایا ہے۔ آپ پڑھ کر دیکھئے کہ جنت کہاں ہے اور جب معلوم ہو جائے تو پھر سوچئے کہ ابن مریم علیہ السلام بھی آسمان پر ہیں اور جنت بھی۔ سدرۃ المنتہیٰ کے پاس ہے تو کیا وہاں سے پھر اللہ تعالیٰ کو ابن مریم کے لئے لباس بھیج دینا تمہاری نظروں میں مشکل ہے؟ ہرگز نہیں۔ آؤ قرآن مجید کی آیت پیش کرتا ہوں، ملاحظہ فرمائیے۔
"عند سدرة المنتهى، عندها جنة الماوى (نجم:١٤،١٥)" "سدرۃ المنتہیٰ نزدیک اس کے ہے جنت ماویٰ۔“
مرزائیو! سدرہ ساتویں آسمان کے اوپر ہے اور قریب اس کے جنت ماویٰ بھی ہے۔ بھلا سوچو تو سہی جبکہ جنت بھی اوپر، ابن مریم بھی اوپر، تو کیا جنت سے آپ کو لباس نہیں مل سکتا؟ بھلا جس نے کفار کے مکر و فریب سے نجات دلا کر آسمان پر اٹھا لیا کیا اس پر یہ مشکل بات ہے کہ جنت سے ہی ابن مریم علیہ السلام کو لباس عطا فرماتا رہے؟ مرزائیو! سردار مدینہ ﷺ فرماتے ہیں کہ میں نے جبرائیل علیہ السلام کو دیکھا کہ آپ نے سبز رنگ کا لباس پہنا ہوا تھا۔ آئیے احادیث پیش کرتا ہوں۔
الجواب دوئم محمدیؐ
"وفی روایة الترمذی قال رای رسول الله ﷺ جبرئیل فی حلة من رفرف قد ملا مابین السماء والارض"
ترمذی شریف میں روایت ہے کہ فرمایا رسول اللہ ﷺ نے کہ ”دیکھا میں نے جبرائیل علیہ السلام کو بیچ لباس سبز اور بھرا ہوا تھا آسمان آپ کے قدوقامت سے زمین تک۔“
مرزائیو! یہ لباس جو حضرت جبرائیل علیہ السلام کو پہنا ہوا رسول خدا ﷺ نے دیکھا اور وہ بھی اتنا بڑا جس سے آسمان کے کنارے بھرے ہوئے تھے۔ یہ کس نے عطا کیا؟ حضرت جبرائیل علیہ السلام سے کیا ابن مریم علیہ السلام کی شان کم ہے۔ آپ بھی اللہ تعالیٰ کے رسول ہیں۔ کیا ان کو نہیں مل سکتا؟ آئیے ایک اور حدیث پیش کرتا ہوں۔
الجواب سوئم محمدیؐ
"وعن النواس ابن سمعان قال ذكر رسول الله ﷺ ...... اذ بعث
٤٠
الله المسيح ابن مريم فينزل عند مهروذتين و اضعا كفيه على اجنحة ملا سے روایت ہے ذکر کیا رسول خدا ﷺ نے کہ ”جب آپ اتریں گے نزدیک سفید منارے شرق دمشق میں
مرزائیو! یہ وہ حدیث شریف ہے جس کی ہے۔ لکھتے ہیں کہ: ”رسول اللہ ﷺ نے فرمایا دو زرد رنگ کی چادریں پہنی ہوں گی۔ یہ حدیث بیماریاں دی گئی ہیں۔ ایک تو اوپر کے دھڑ کی یعنی بول۔“ (اربعین نمبر ٤ ص ٣، خزائن ج ١٧ ص ٤٢٠، ٤٧١ سمجھا تو تاویل کی۔
مرزائیو! جب نزول کے ٹائم لباس پہنا ہیں؟ ہرگز نہیں۔ ایسے اعتراض تمہارے بے کار ہیں کی زندگی کے منکر ہوگئے ہو۔ افسوس۔
اعتراض نہم قادیانی
قرآن مجید اور احادیث میں ابن مریم مطلب تمہارے نزدیک یہ ہوگا کہ وہ آسمان سے اتر غلط سمجھے۔ نزول کے معنی یہ ہرگز نہیں بلکہ زمین پر نزول کا مطلب تمہارے نزدیک یہی ہو۔ تو آئیے کرتے ہیں۔ پھر دریافت کریں گے کہ جس ہے: "وانزلنا الحديد فيه باس شديد اتارا ہم نے لوہا بیچ اس کے سخت لڑائی ہے اور فائدے
غیر احمدیوں سے ایک ضروری سوال، آسمان سے نازل ہوتی ہیں یا زمین میں سے لوہے اس آیت کے قبل الفاظ ”انزلنا“ موجود ہے "انزلنا“ کے الفاظ کا استعمال کیا۔ حالانکہ یہ
٤١
الله المسيح ابن مريم فينزل عند المنارة البيضاء شرقي دمشق بين مهرودتين واضعا كفيه على اجنحة ملكين (مسلم ج٢ ص ٤٠١) ”حضرت نواسؓ سے روایت ہے ذکر کیا رسول خدا ﷺ نے کہ ”جب بھیجے گا اللہ تعالیٰ ابن مریم علیہ السلام کو پس آپ اتریں گے نزدیک سفید منارے شرق دمشق میں درمیان زرد رنگ دو چادروں کے۔“
مرزائیو! یہ وہ حدیث شریف ہے جس کی تصدیق جناب مرزا قادیانی نے اس طرح کی ہے۔ لکھتے ہیں کہ: ”رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تھا کہ جب ابن مریم نازل ہوں گے تو اس نے دو زرد رنگ کی چادریں پہنی ہوں گی۔ یہ حدیث میرے وقوع میں اس طرح آئی۔ مجھے دو بیماریاں دی گئی ہیں۔ ایک تو اوپر کے دھڑ کی یعنی مراق۔ دوسری نیچے کے دھڑ کی یعنی کثرت بول۔“ (اربعین نمبر ٣ ص ٤، خزائن ج ١٧ ص ٤١٠، ٤١١ ملخص) مرزا قادیانی نے اس حدیث شریف کو صحیح سمجھا تو تاویل کی۔
مرزائیو! جب نزول کے ٹائم لباس پہنا ہوا نظر آئے گا تو کیا آسمان پر اب ننگے رہ سکتے ہیں؟ ہر گز نہیں۔ ایسے اعتراض تمہارے بے کار ہیں۔ کیا ایسے اعتراضات پر ابن مریم علیہ السلام کی زندگی کے منکر ہو گئے ہو۔ افسوس۔
اعتراض نہم قادیانی
قرآن مجید اور احادیث میں ابن مریم کے لئے جو نزول کا لفظ آیا ہے۔ کیا نزول کا مطلب تمہارے نزدیک یہ ہوگا کہ وہ آسمان سے اتریں گے؟ ہرگز نہیں بلکہ آپ نے نزول کے معنی غلط سمجھے۔ نزول کے معنی یہ ہرگز نہیں بلکہ زمین پر ہی پیدا ہو کر دنیا کو دعوت اسلام دیں گے ۔اگر نزول کا مطلب تمہارے نزدیک یہی ہو۔ تو آئیے ہم تمہارے سامنے قرآن مجید کی آیت پیش کرتے ہیں۔ پھر دریافت کریں گے کہ جس کا ذکر اللہ تبارک وتعالیٰ سورہ حدید میں کرتا ہے: ”وانزلنا الحديد فيه باس شديد ومنافع للناس (الحدید:٢٥)“ یعنی ”اور اتارا ہم نے لوہا بیچ اس کے سخت لڑائی ہے اور فائدہ ہے واسطے لوگوں کے۔“
غیر احمدیوں سے ایک ضروری سوال، کیا یہ لوہا مثلاً ٹی آر، گارڈر، چادریں وغیرہ وغیرہ آسمان سے نازل ہوتی ہیں یا زمین میں سے لوہے کو نکال کر ان چیزوں کو تیار کیا جاتا ہے۔ حالانکہ اس آیت کے قبل الفاظ ”انزلنا“ موجود ہے۔ معلوم ہوا کہ جیسے لوہے کے لئے اللہ تعالیٰ نے ”انزلنا“ کے الفاظ کا استعمال کیا۔ حالانکہ یہ نکلتا تو زمین سے ہے۔ اسی طرح مسیح بھی آسمان
٤١
سے نہیں اترے گا۔ وہ بھی زمین پر پیدا ہو کر دعویٰ مسیحیت کر کے دنیا کو غلطیوں سے پاک کرے گا۔ وہ جناب مرزا غلام احمد قادیانی ہیں۔ جن کا دعویٰ مسیح موعود ہونے کا ہے۔ آپ ہی ابن مریم کی صفت پر پیدا ہو کر دنیا کو راہ راست پر لگا کر فوت ہو گئے۔
الجواب اول محمدیؒ
مرزائیو! اس آیت کا آپ نے مطلب نہیں سمجھا نہ ہی ”انزلنا“ کے الفاظ پر غور کیا اور نہ ہی کسی مفسر سے دریافت کیا کہ ”انزلنا“ الفاظ لوہے کے لئے ”وحدہ لاشریک“ نے کیوں استعمال کیا۔ اگر کسی اہل علم سے دریافت کر لیتے تو ضرور معلوم ہو جاتا کہ واقعی اس آیت سے پیشتر الفاظ چاہئے تھا۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ”اور اتارا ہم نے لوہا بیچ اس کے سخت لڑائی ہے اور فائدہ ہے لوگوں کے واسطے۔“
کیا لڑائیوں میں شروع سے لوہے کے ہتھیار استعمال نہیں ہوتے رہے؟ چنانچہ سیدنا حضرت داؤد علیہ السلام کو اللہ تبارک تعالیٰ نے اس لوہے کو استعمال کرنے کا طریقہ سکھایا اور جنگی سامان بنانے کے لئے حکم نازل فرمایا۔ یہی لوہا پھر ”فیه باس شدید“ کے الفاظ سے تعریف کیا گیا۔ اگر اس کے استعمال کا طریقہ امر من اللہ نہ ہوتا تو لوہے کو جنگوں میں کبھی استعمال نہ کر سکتے۔ اس لئے کہ آپ نے شاید اس کی پہلی حالت نہ دیکھی ہو۔ جبکہ اس کی گاڑیاں بھر کر آتی ہیں۔ تو یہ مانند کیچڑ کے ہوتا ہے۔ پھر اس کو ٹاٹا کمپنی جو کلکتہ کے پاس ہے۔ وہاں صاف کر کے مختلف سامان بنا کر استعمال کرتے ہیں۔ بھلا سوچو تو سہی اگر اس کے ہتھیار بنانے کا اللہ کی طرف سے حکم نازل نہ ہوتا۔ تو کیا اس کیچڑ سے لڑائی کی جاتی۔ یا اللہ تبارک وتعالیٰ قرآن مجید میں اس کو ”فیه باس شدید“ فرماتا؟ ہرگز نہیں۔ ”انزلنا“ صرف لوہے کے لئے استعمال نہیں کیا گیا۔ بلکہ اس چیز کے لئے جس سے اس میں طاقت ”فیه باس شدید“ پیدا ہوئی۔ اس کی پیدائش ”امر من اللہ“ سمجھے۔ کیونکہ قرآن مجید شاہد ہے۔
”وعلمنه صنعة لبوس لكم لتحصنكم من بأسكم فهل انتم شاكرون (الانبیاء: ٨٠) “ اور سکھلائی ہم نے داؤد علیہ السلام کو صنعت یعنی کاریگری ایک پہناوے تمہارے کی کہ بچاوے تم کو لڑائی تمہاری سے پس کیا ہو تم شکر کرنے والے۔
مرزائیو! لوہے کو استعمال کرنے کا حکم اللہ کی جانب سے نازل ہوا اور اللہ تعالیٰ کے حکم نازل ہونے کے باعث یہ ”فیه باس شدید “ ہو گیا اور اللہ تعالیٰ نے ہتھیار بنانے کی صنعت ٤٢
حضرت داؤد علیہ السلام کو سکھلائی۔ پس انزلنا نازل ہوا۔ اگر اس کے استعمال کرنے کے لئے نہ کرتا۔ تو لوہے کے لئے کبھی ”انزلنا الحدید پس اس کے استعمال کا طریقہ ”امر نے استعمال فرمایا اور ”انزلنا“ ہمیشہ آسمان طرح ابن مریم کے لئے بھی احادیث میں ”فینزل قیامت آسمان سے ضرور نزول فرمائیں گے۔
الجواب دوم محمدیؒ
مرزائیو! لوہے کے استعمال کے لئے بنانے کے لئے جو اوزار کاریگر کے پاس ہوتے ساتھ ہوا۔ جن کے باعث ہتھیار جنگی تیار ہونے فیه باس شدید“ قرآن مجید میں فرمایا ہے۔ مکمل تسلی ہو جائے۔
(تفسیر مدارک عربی مطبع مصرح چہارم ص باس شدید“ راقم ہیں۔ ملاحظہ فرمائیں۔
”وانزلنا الحديد قيل نزل حديد السندان والكلبتان و الميقعة ہوئے حضرت آدم علیہ السلام جنت سے تو ساتھ مثلاً آہرن، سنسی، ہتھوڑا، کلہاڑی وغیرہ، وغیرہ۔ ہر قسم کا سامان اس دنیا پر تیار ہونے لگا۔ اس لئے کے اندر ارشاد فرمایا۔ جس طرح یہ چیزیں اوپر طرح تشریف لائیں گے۔
الجواب سوم محمدیؒ
تفسیر کبیر میں زیر آیت ”انزلنا ا عمر انه عليه الصلوة والسلام قال
حضرت داؤد علیہ السلام کو سکھلائی۔ بس انزلنا کا معنی نزول کاریگری سکھلانے کے باعث حکم نازل ہوا۔ اگر اس کے استعمال کرنے کے لئے خداوند عالم حضرت داؤد علیہ السلام پر کوئی حکم نازل نہ کرتا۔ تو لوہے کے لئے کبھی ”انزلنا الحديد“ الفاظ صادر نہ ہوتے۔
پس اس کے استعمال کا طریقہ ”امر من اللہ“ ہے۔ اس لئے ”انزلنا“ خداوند عالم نے استعمال فرمایا اور ”انزلنا“ ہمیشہ آسمان سے کسی چیز کے اترنے پر ہی استعمال کیا گیا۔ اسی طرح ابن مریم کے لئے بھی احادیث میں ”فینزل“ الفاظ موجود ہیں۔ لہذا آپ بلاشک قریب قیامت آسمان سے ضرور نزول فرمائیں گے۔
الجواب دوم محمدی
مرزائیو! لوہے کے استعمال کے لئے حضرت داؤد علیہ السلام کو امر من اللہ ہوا اور سامان بنانے کے لئے جو اوزار کاریگر کے پاس ہوتے ہیں۔ ان کا نزول بھی حضرت آدم علیہ السلام کے ساتھ ہوا۔ جن کے باعث ہتھیار جنگی تیار ہونے لگے۔ اس لئے اللہ تعالیٰ نے ”انزلنا الحديد فيه باس شدید“ قرآن مجید میں فرمایا ہے۔ آئیے آپ کی کسی مفسر سے تصدیق کرادوں تا کہ مکمل تسلی ہو جائے۔
(تفسیر مدارک عربی مطبع مصر ج چہارم ص ٢٧٨) میں زیر آیت ”انزلنا الحديد فيه باس شدید“ رقم ہیں، ملاحظہ فرمائیں ۔
”وانزلنا الحديد قيل نزل آدم من الجنة ومعه خمسة اشياء من حديد السندان والكلبتان و الميقعة والمطرقة والابرة“ یعنی فرمایا جب نازل ہوئے حضرت آدم علیہ السلام جنت سے تو ساتھ آپ کے پانچ چیزیں لوہے کی اتاری گئی تھیں۔ مثلاً آرن، سنسی، ہتھوڑا، کلہاڑی وغیرہ، وغیرہ۔ مرزائیو! معلوم ہوا کہ یہ چیزیں اترنے کے باعث ہر قسم کا سامان اس دنیا پر تیار ہونے لگا۔ اس لئے ”انزلنا الحديد“ خداوند تعالیٰ نے قرآن مجید کے اندر ارشاد فرمایا۔ جس طرح یہ چیزیں اوپر سے نازل ہوئی ہیں۔ ابن مریم بھی آسمان سے اسی طرح تشریف لائیں گے۔
الجواب سوم محمدی
تفسیر کبیر میں زیر آیت ”انزلنا الحديد“ رقم ہے، ملاحظہ فرمائیں۔ ”روی ابن عمر انه عليه الصلوة والسلام قال الله تعالى انزل اربع بركات من السماء
٤٣
الی الارض انزل الحدید والنار والماء والملح“
روایت ہے ابن عمرؓ سے فرمایا تحقیق اللہ تعالیٰ نے نازل فرمائی ہیں چار چیزیں آسمان سے طرف زمین کے اتارا اللہ نے لوہا اور آگ اور پانی اور نمک۔
مرزائیو! نزول کے معنی آسمان سے اترنا کیا آپ لوگ قبول نہیں کرتے پھر تو قرآن مجید کے لئے بھی تمہیں کہنا پڑے گا کہ یہ آسمان سے نازل نہیں ہوا۔ خود رسول اللہ ﷺ کا تیار کردہ ہے۔ حالانکہ اللہ تبارک تعالیٰ نے قرآن مجید کے لئے بھی الفاظ ”نزلنا الذکر“ استعمال کئے ہیں۔ آؤ پوری عبارت پیش کرتا ہوں۔
الجواب چہارم
”انا نحن نزلنا الذکر وانا لہ لحفظون (الحجر:٩)“ ﴿تحقیق ہم ہی اتارنے والے قرآن مجید کو اور تحقیق ہم ہی واسطے اس کے محافظ ہیں۔﴾
مرزائیو! اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ میں نے اس کو نازل کیا ہے کیا تم اس کے نزول پر ایمان لے آؤ گے کہ واقعی آسمان سے اترا ہے پہلے یہ دیکھ لیجئے یہی الفاظ ابن مریم علیہ السلام کے لئے سردار مدینہ ﷺ نے استعمال کئے ہیں۔ اگر قرآن مجید پر یہ ایمان لے آؤ کہ بیشک آسمان سے اترا ہے تو پھر ابن مریم علیہ السلام کے نزول سے آپ انکار نہیں کر سکتے۔
الجواب پنجم
مرزائیو! سردار مدینہ ﷺ کا دعویٰ رسالت کیا ہوا تھا کہ ایک روز کفار مکہ جمع ہو کر آنحضرت ﷺ کی خدمت میں آئے اور چند معجزات کے متعلق سوال کیا۔ آخری معجزہ طلب یہ بات تھی کہ آپ ﷺ آسمان پر چڑھ جاؤ۔ لیکن آپ ﷺ کے چڑھ جانے سے بھی ہم لوگ ایمان نہیں لائیں گے۔ یہاں تک کہ اتار لاوے تو اوپر ہمارے کتاب، پڑھیں ہم اس کو انصاف کی نظر سے دیکھئے جن لوگوں کی زبان عربی قرآن عربی رسول عربی وہ ”تنزل“ کے معنی آسمان سے اتارنے کے لیتے ہیں۔ حالانکہ تنزل کے قبل آسمان پر چڑھ جانے کا ذکر بھی قرآن مجید کے اندر موجود ہے۔ پھر یہ غیر انصافی کیوں کہ نزول کا معنی آسمان سے اترنا نہیں۔ افسوس کیا تم زبان عربی کے زیادہ ماہر ہو یا وہ لوگ جن کی موجودگی میں کتاب اللہ نازل ہوئی۔ مجھے افسوس تمہاری ضد پر۔ خدا سے ڈرو۔ ابن مریم علیہ السلام کی حیات پر ایمان لاؤ۔
٤٤
٩
اعتراض دہم
”یابنی آدم قد انزلنا
”یعنی اے اولاد آدم تحق
(اعراف: ٢٦)
شرمگاہیں تمہاری کو اور پہناوا ہے زینت کا۔“
غیر احمدیو! کیا یہ کپڑا آسمان سے اتر کے کپڑے کیا آسمان سے نازل ہوتے ہیں ی شہر میں کپڑے آسمان سے اترے تو پھر انزلنا کی بذریعہ مشینوں کے تیار کیا جاتا ہے۔ معلوم ہوا اترے۔ جیسا کہ آیت ”انزلنا علیکم لباس علیہ السلام کا آسمان سے اترنے کا عقیدہ غلط سے نہیں اتریں گے۔
الجواب اول محمدی
”وانزلنا من السماء ماء
”اور اتارا ہم نے آسمان سے پا
(طہ: ٥٣)
مختلف۔﴾
مرزائیو! آئیے میں سمجھاؤں کہ کپڑ کس لئے استعمال کیا۔ چونکہ یہ بنائے تو مشینوں استعمال کیا۔ یہ بات سمجھ میں نہیں آتی۔ انزلنا ا آسمان سے نازل کیا اور اس کے بسبب رنگ باغات کھیتیاں وغیرہ کا پیدا ہونے کا ذریعہ صرف دنیا میں نظر نہ آئے۔ آپ نے پانی تو نازل ہوتا انڈیا ہی کے بعض صوبوں میں تقر نازل نہ ہو تو دنیا کے تمام کارخانے بند ہو جا وغیرہ ہوتی ہے۔ تو کیا کپاس سے روئی نکال روئی پر ہے۔ اگر روئی یعنی کپاس پیدا نہ ہو تو ہیں؟ ہر گز نہیں۔
اعتراض دہم
”یابنی آدم قد انزلنا علیکم لباسا یواری سواتکم وریشا (اعراف:٢٦) ”یعنی ”اے اولاد آدم تحقیق اتارا ہم نے اوپر تمہارے لباس جو کہ ڈھانکتا ہے شرمگاہیں تمہاری کو اور پہناوا ہے زینت کا۔“
غیر احمدیو! کیا یہ کپڑا آسمان سے اترتا ہے یا کہ زمین میں تیار ہوتا ہے۔ یہ لاکھوں رنگ کے کپڑے کیا آسمان سے نازل ہوتے ہیں۔ ہم نے آج تک کسی آدمی سے نہیں سنا کہ فلاں شہر میں کپڑے آسمان سے اترے تو پھر انزلنا کیوں استعمال کیا گیا؟ حالانکہ رات دن زمین پر ہی بذریعہ مشینوں کے تیار کیا جاتا ہے۔ معلوم ہوا کہ نزول کے یہ معنی نہیں کہ آسمان سے ہی کوئی چیز اترے۔ جیسا کہ آیت ”انزلنا علیکم لباسا یواری“ سے ثابت ہے۔ اسی طرح ابن مریم علیہ السلام کا آسمان سے اترنے کا عقیدہ غلط ہے۔ آپ بیشک قیامت تک انتظار کرلو۔ وہ آسمان سے نہیں اتریں گے۔
الجواب اول محمدی
”وانزلنا من السماء ماء فاخرجنا بہ ازواجا من نبات شتیٰ (طہ:٥٣) ”اور اتارا ہم نے آسمان سے پانی پس نکالا ہم نے بذریعہ اس کے اقسام روئیدگی کی مختلف۔“
مرزائیو! آئیے میں سمجھاؤں کہ کپڑوں کے لئے اللہ تعالیٰ نے ”انزلنا“ کے الفاظ کو کس لئے استعمال کیا۔ چونکہ یہ بنائے تو مشینوں کے ذریعے جاتے ہیں۔ لیکن الفاظ ”انزلنا“ کو استعمال کیا۔ یہ بات سمجھ میں نہیں آتی ۔ انزلنا اس لئے استعمال کیا ہے کہ خداوند عالم نے پانی جبکہ آسمان سے نازل کیا اور اس کے بسبب رنگ رنگ کی چیزیں پیدا ہو کر بڑی ہوتی ہیں۔ ان تمام باغات کھیتیاں وغیرہ کا پیدا ہونے کا ذریعہ صرف پانی ہے۔ اگر یہ پانی نازل نہ ہو تو کوئی چیز تمہیں دنیا میں نظر نہ آئے۔ آپ نے پانی تو نازل ہوتا ہزاروں دفعہ دیکھا ہوگا۔
انڈیا ہی کے بعض صوبوں میں تقریباً ٥ ماہ، ٦ ، ٧ ماہ بارش ہر سال ہوتی ہے۔ اگر یہ نازل نہ ہو تو دنیا کے تمام کارخانے بند ہو جائیں۔ جبکہ اس پانی کے سبب غلہ ہر قسم کا اور کپاس وغیرہ ہوتی ہے۔ تو کیا کپاس سے روئی نکال کر کپڑا تیار نہیں ہوتا اور کپڑے بنانے کا دارومدار روئی پر ہے۔ اگر روئی یعنی کپاس پیدا نہ ہو تو کیا مشینیں روئی کے بغیر کپڑا ہر قسم کا تیار کر سکتی ہیں؟ ہرگز نہیں۔
٤٥
اس لئے ہی اللہ تعالیٰ نے کپڑوں کے لئے ”انزلنا“ لفظ استعمال کیا۔ معلوم ہوا کہ نازل کا لفظ آسمان سے کوئی چیز اترنے پر ہی استعمال کیا جاتا ہے۔ ورنہ دوسری اشیاء پر ہرگز نہیں۔ پس جس طرح پانی آسمان سے اترا اور اس کے سبب سے کھیتیاں پیدا ہوئیں۔ اس لئے کپڑوں کے متعلق اللہ تعالیٰ نے ”انزلنا من السماء ماء“ فرمایا۔ جیسے پانی کے ”انزل“ کا لفظ استعمال کیا۔ اسی طرح مسیح کے لئے بھی ”فینزل“ رسول خدا ﷺ نے فرمایا ہے۔
الجواب دوم عقلی
تمہاری مثال تو ایسی ہے کہ کہیں کسی بے وقوف کو سینما دیکھنے کا شوق پیدا ہوا اور ٹکٹ خریدا۔ اندر جا کر کرسی پر بیٹھ گیا۔ چنانچہ جب کھیل شروع ہوا تو سامنے چادر پر دیکھ دیکھ کر حیران ہوتا تھا کہ واہ! یہ چادر بڑی قیمتی ہوگی۔ کیا عجیب کھیل اس پر پیدا ہوتے ہیں۔ اس نے سمجھا یہ سب کاریگریاں اس چادر میں بھری ہوئی ہیں۔ حتیٰ کہ ریل گاڑی، ہوائی جہاز وغیرہ وغیرہ چلتے جب اس کو نظر آئے تو بڑے تعجب میں واہ، واہ کرتے کھیل ختم ہو گیا۔ اس کا ایمان اس بات پر مضبوط ہو گیا کہ یہ چادر ہی کے کرشمے ہیں۔ بڑی قیمتی ہوگی۔
باہر آیا تو کسی تعلیم یافتہ سے ملاقات ہوئی۔ اس کے سامنے بھی اس بے وقوف نے چادر کے متعلق ذکر کیا کہ بابو جی وہ چادر بڑی قیمت سے آتی ہوگی۔ انہوں نے ہنس کر جواب دیا اے میاں! اس چادر میں کیا رکھا ہے؟ وہ تو پیچھے ایک مشین ہوتی ہے۔ جس کے ذریعے عکس اس چادر پر پڑتے ہیں۔ اگر وہاں سے بجلی کے ذریعہ عکس نہ آئیں تو چادر کوئی کھیل دکھا نہیں سکتی۔ تمہاری مثال بھی اس بے وقوف جیسی ہے کہ کپڑا زمین پر تیار ہوتا ہے۔ جولاہے یا کارخانے بناتے ہیں۔ اگر آسمان سے پانی نازل نہ ہو۔ یہ زمین مانند چادر کے کچھ پیدا نہیں کر سکتی۔ اوپر سے پانی نازل ہوتا ہے۔ پھر اس کے بذریعہ ہر چیز پیدا ہو کر ہمارے کام آتی ہے۔ اس لئے اللہ تعالیٰ نے ”انزلنا من السماء ماء“ فرمایا۔ معلوم ہوا کہ نزول کا معنی آسمان سے اترنے کے لئے ہی استعمال کیا جاتا ہے۔
الجواب سوئم
مرزائیو! کیا آپ الفاظ نزول کو آسمان سے اترنے کے لئے استعمال نہیں کرتے؟ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید کے اندر ارشاد فرمایا، ملاحظہ ہو: ”شهر رمضان الذي انزل فيه القرآن هدى للناس (البقرة: ١٨٥)“ دوسری جگہ ”انا انزلناه في ليلة القدر (القدر: ١)“ یعنی رمضان کی رات کو میں نے اس قرآن مجید کو لوح محفوظ سے پہلے آسمان پر اتارا
٤٦
پھر اللہ تعالیٰ نے سورہ محمد مصطفیٰ ﷺ کے ا وامنوا بما نزل على محمد وهـ لائے اور عمل کئے صالح اور ایمان لائے کے اور وہ حق رب اپنے سے۔﴾ سوال، کیا قرآن مجید اوپر سے زمین پر بنایا گیا؟ اگر خدا کی کلام سمجھتے ہو تـ کی شان ہے ورنہ کفار کا مقولہ قرآن مجید مـ (یسین: ١٥) ”اور اتاری اللہ نے کوئی قرآن مجید نے فرمایا: ”تنـ (القدر: ٤) ”اترتے ہیں فرشتے اور ا اپنے کے۔“ ان تمام دلائل سے معلوم ہو ہی جائز ہے۔ لہذا ابن مریم علیہ السلام بھی ا
اعتراض گیارھواں مرزا کی
”والذين يدعون من اموات غير احياء وما يشعرون ايـ پکارتے ہیں سوائے اللہ کے معبود، نہیں ہیں نہیں زندے اور نہیں جانتے کب اٹھائے جـ غیر احمدیو! قوم نصاریٰ نے حضـ ہے: ”قالوا ان الله هو المسيح ابن مریم۔ لہٰذا ثابت ہوا کہ عیسائیوں نے آپ تعالیٰ نے فرمایا: ”اموات غير احيا (ا ہے کہ معبود باطلہ تمام فوت ہو چکے ہیں اور صاف ظاہر ہے کہ ابن مریم علیہ السلام فوت قرآن مجید ہے۔
الجواب اول محمدی
مرزائیو! آپ ابن مریم علیہ الـ
پھر اللہ تعالیٰ نے سورہ محمد مصطفیٰ ﷺ کے اندر ارشاد فرمایا: ”والذین امنوا وعملوا الصلحت وامنوا بما نزل علی محمد وهو الحق من ربهم (محمد: ٢)“ ”اور جو لوگ ایمان لائے اور عمل کئے صالح اور ایمان لائے ساتھ اس چیز کے جو اتاری یعنی کتاب اللہ اوپر محمد ﷺ کے اور وہ حق رب اپنے سے۔﴾
سوال، کیا قرآن مجید اوپر سے یعنی آسمان سے نازل نہیں ہوا؟ یا تمہارا خیال ہے کہ زمین پر بنایا گیا؟ اگر خدا کی کلام سمجھتے ہو پھر تو اس کے نازل ہونے پر بھی ایمان لانا ایمان والوں کی شان ہے ورنہ کفار کا مقولہ قرآن مجید نے پیش کیا: ”وما انزل الرحمن من شی (یسین: ١٥) ”اور اتاری اللہ نے کوئی چیز۔﴾ کیا اس پر ایمان ہے؟ فیصلہ دیں۔
قرآن مجید نے فرمایا: ”تنزل الملٰئکة والروح فيها باذن ربهم (القدر: ٤) ”اترتے ہیں فرشتے اور جبرائیل علیہ السلام بیچ رات لیلۃ القدر کے ساتھ حکم رب اپنے کے۔﴾ ان تمام دلائل سے معلوم ہوا کہ الفاظ نزول کا استعمال آسمان سے اترنے کے لئے ہی جائز ہے۔ لہذا ابن مریم علیہ السلام بھی آسمان سے قریب قیامت نزول فرمائیں گے۔
اعتراض گیارھواں مرزائی
”والذين يدعون من دون الله لايخلقون شيئا وهم يخلقون، اموات غير أحياء، وما يشعرون أيان يبعثون (النحل: ٢٠، ٢١) ”اور جن لوگوں کو پکارتے ہیں سوائے اللہ کے معبود، نہیں پیدا کرتے کچھ حالانکہ وہ پیدا کئے جاتے ہیں مردے ہیں نہیں زندے اور نہیں جانتے کب اٹھائے جائیں گے۔“
غیر احمدیو! قوم نصاریٰ نے حضرت ابن مریم کو معبود پکارا ہے۔ جیسے قرآن مجید فرماتا ہے: ”قالوا ان الله هو المسيح ابن مريم “ یعنی ”کہا نصاریٰ نے تحقیق اللہ وہی ہے ابن مریم۔ لہذا ثابت ہوا کہ عیسائیوں نے آپ کو معبود پکارا اور معبود باطلہ تمام فوت ہیں۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ”اموات غیر احیا (النحل: ٢١)“ بڑا افسوس! خداوند تعالیٰ کی ذات تو فرماتی ہے کہ معبود باطلہ تمام فوت ہو چکے ہیں اور تم کہو کہ ابن مریم علیہ السلام زندہ ہیں۔ اس آیت سے صاف ظاہر ہے کہ ابن مریم علیہ السلام فوت ہو چکے ہیں۔ اب ان کا انتظار کرنا بے کار اور خلاف قرآن مجید ہے۔
الجواب اول محمدی
مرزائیو! آپ ابن مریم علیہ السلام کی حیات سے انکار اس لئے کر رہے ہو کہ خداوند
٤٧
تعالیٰ نے قرآن مجید کے اندر ”والذین یدعون من دون اللہ“ آیت کو پیش کیا۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ ابن مریم فوت ہو گئے۔ کیونکہ قوم نصاریٰ نے ابن مریم علیہ السلام کو معبود پکارا۔ یعنی خداوند کا بیٹا ہے اور آیت ”اموات غیر احیا (النحل:٢١)“ ثابت ہوا یعنی معبود باطلہ فوت ہو چکے ہیں۔ اس سے معلوم ہوا کہ ابن مریم علیہ السلام کو عیسائیوں نے معبود پکارا وہ بھی فوت ہو گئے ہیں۔
الجواب
مرزائیو! ان فریب بازیوں سے جو اپنا کام اس دنیا میں نکال رہے ہو۔ قیامت کے روز حقیقی معبود کو کیا جواب دو گے؟ ”والذین یدعون من دون اللہ“ سے کیا اکیلے ابن مریم ہی خدا کے بیٹے معبود پکارے گئے؟ ہرگز نہیں۔ بلکہ کفار نے ہر چیز کو معبود پکارا۔ آیئے میں آپ کو قرآن مجید پیش کرتا ہوں، ملاحظہ ہو۔
”فاستفتهم الربك البنات ولهم البنون، ام خلقنا الملائكة اناثا وهم شاهدون (الصفت:١٤٩، ١٥٠)“ ﴿کفار نے فرشتوں کو خداوند تعالیٰ کی بیٹیاں قرار دیا تو اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا اے میرے حبیب ﷺ پوچھو ان لوگوں سے کیا تیرے رب کے لئے بیٹیاں ہیں اور واسطے ان لوگوں کے بیٹے، اور جب پیدا کیا ہم نے فرشتوں کو جب عورتیں تو کیا یہ موجود تھے۔﴾
اس آیت سے معلوم ہوا کہ کفار نے فرشتوں کو بھی معبود پکارا۔ مثلاً جس طرح قوم نصاریٰ نے ابن مریم کو خدا کا بیٹا قرار دیا۔ بعینہ اسی طرح کفار نے فرشتوں کو خدا کی بیٹیاں قرار دیا اور اب دریافت طلب یہ ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام تو خدا کے بیٹے پکارنے کے باعث زندہ نہیں تو ملائکہ بھی زندہ کیسے رہ سکتے ہیں؟ کیا ملائکہ کو خدا کی بیٹیاں نہیں پکارا گیا؟
میرے خیال سے اب اسی لئے اللہ تعالیٰ کی ذات نے پیغام لانے کے لئے چپڑاسی کو مقرر کیا ہے کہ معاذ اللہ ملائکہ تمام فوت ہو گئے۔ اب جبرائیل علیہ السلام کی جگہ چپڑاسی صاحب اس عہدہ کو انجام دیں گے۔ دوسری آیت میں اللہ تعالیٰ نے ان کافروں کو جواب دیا ہے جنہوں نے ملائکہ کو خدا کی بیٹیاں کہا تھا۔ ”وقالوا اتخذ الرحمن ولداً سبحانه بل عباد مكرمون (الانبياء:٢٦)“ ﴿اور کہا انہوں نے کہ پکڑی ہے اللہ نے اولاد۔ پاک ہے وہ بلکہ وہ میرے بندے ہیں، عزت دیئے گئے۔﴾
٤٨
مرزائیو! اگر ”والذین یدعو مریم علیہ السلام فوت ہیں تو معاذ اللہ ملائکہ بھی ف نے معبود پکارا۔ اسی طرح ملائکہ بھی خدا کی بیٹیا کیوں؟ مرزائیو! یہ آیت صرف ان بتوں کے سے تراش تراش کر بنایا اور رات دن پوجا کرت ہوں تا کہ تمہیں مکمل تسلی ہو جائے۔
الجواب دوئم محمدی
تفسیر جلالین عربی میں زیر آیت ”و ”والذين يدعون با التاء الياء تعبدو شيئا وهم يخلقون يصورون من الـ ثان غير احياء تاكيد وما يشعرون ايـ ”اور جن لوگوں کو پکارتے ہیں سوا کے اور وہ بت ہیں۔ نہیں پیدا کرتے کچھ اور وہ پتھروں سے اور سوائے اس کے۔ مردے ہیں ہیں اور نہیں شعور پتھروں کو۔“
مرزائیو! علامہ جلال الدین سیوطی ان بتوں کا ذکر ہے جن کو انہوں نے اپنے ہاتھ اس آیت کے مصداق ابن مریم نہیں ہیں۔ وہ ہـ
الجواب سوئم
مرزائیو! کفار نے سورج اور چاند ہیں۔ ان کی روشنی زائل ہو گئی؟ کیونکہ ”والذیـ پھر کیوں ان کو ”اموات غیر احیاء“ کے مـ پر۔ آیئے قرآن مجید کی آیات مبارکہ پیش کرتـ ”لاتسجدوا للشمس و السجده:٣٧)“ ﴿نہ سجدہ کرو کافرو واسطے جس نے پیدا کیا ان چیزوں کو۔﴾
مرزائیو! اگر ”والذين يدعون من دون الله اموات غير احياء“ ابن مریم علیہ السلام فوت ہیں تو معاذ اللہ ملائکہ بھی زندہ نہیں۔ کیونکہ جیسے ابن مریم علیہ السلام کو نصاریٰ نے معبود پکارا۔ اسی طرح ملائکہ بھی خدا کی بیٹیاں قرار دیں۔ پھر دونوں کو فوت سمجھئے۔ یہ غیر انصافی کیوں؟ مرزائیو! یہ آیت صرف ان بتوں کے لئے ہی نازل کی گئی ہے جن کو کفار نے اپنے ہاتھ سے تراش تراش کر بنایا اور رات دن پوجا کرتے رہے۔ آؤ کسی معتبر مفسر سے بھی تصدیق کرا دیتا ہوں تا کہ تمہیں مکمل تسلی ہو جائے۔
الجواب دوم محمدی
تفسیر جلالین عربی میں زیر آیت ”والذین يدعون من دون الله“ راقم ہیں۔
”والذين يدعون بالتاء والياء تعبدون من دون الله وهو الاصنام لا يخلقون شيئا وهم يخلقون يصورون من الحجارة وغيرها اموات لاروح فيهم خبر ثان غير احياء تاكيد وما يشعرون اى الاصنام (جلالین ص٢١٧)“
”اور جن لوگوں کو پکارتے ہیں ساتھ ت یا ی۔ یعنی عبادت کرتے ہیں۔ سوائے اللہ کے اور وہ بت ہیں۔ نہیں پیدا کرتے کچھ اور وہ پیدا کئے جاتے ہیں۔ ان کی صورتیں بناتے ہیں۔ پتھروں سے اور سوائے اس کے۔ مردے ہیں نہیں روح بیچ ان کے۔ نہیں زندہ یہ تاکیدی الفاظ ہیں اور نہیں شعور پتھروں کو۔“
مرزائیو! علامہ جلال الدین سیوطیؒ نے شہادت ہمارے حق میں دی ہے کہ اس آیت میں ان بتوں کا ذکر ہے جن کو انہوں نے اپنے ہاتھ سے تیار کیا۔ اب تو تمہیں شرم سے کام لینا چاہئے کہ اس آیت کے مصداق ابن مریم نہیں ہیں۔ وہ خدا کے فضل وکرم سے آسمان پر زندہ ہیں۔
الجواب سوئم
مرزائیو! کفار نے سورج اور چاند اور سیاروں کی پوجا تو کی ہے۔ کیا یہ بھی فوت ہو چکے ہیں۔ ان کی روشنی زائل ہو گئی؟ کیونکہ ”والذين يدعون من دون الله“ ان کو بھی پکارا گیا۔ پھر کیوں ان کو ”اموات غير احياء“ کے مصداق نہیں سمجھتے؟ افسوس ہے ہمیں تمہاری قرآن بینی پر۔ آئیے قرآن مجید کی آیات مبارکہ پیش کرتا ہوں۔ مثلاً
”لا تسجدوا للشمس ولا للقمر واسجدوا لله الذي خلقهن (حم السجدہ:٣٧)“ نہ سجدہ کرو واسطے سورج کے اور نہ چاند اور سجدہ کرو واسطے اللہ تعالیٰ کے جس نے پیدا کیا ان چیزوں کو۔ ﴾
٤٩
مرزائیو! کفاران کی پوجا پر بھی کمر بستہ تھے۔ اللہ تبارک تعالیٰ نے ان کو سمجھایا۔ بے وقوفو! یہ چیزیں تو تمہاری خدمت کے لئے بنائی گئی ہیں۔ تم اس کی پوجا کرو جس نے ان کو تمہارے لئے پیدا کیا۔ مرزائیو! تمہارے نزدیک ان کا فوت ہو جانا بھی ضروری تھا۔ اس لئے علاوہ کفار نے آگ کی پوجا کی اور اب بھی کرتے ہیں پانی کی پوجا کی اب بھی کرتے ہیں گائے کی پوجا کی اب بھی کرتے ہیں۔ درخت پیپل کی پوجا۔ اب بھی کرتے ہیں چاند، سورج کی پوجا کی اب کرتے ہیں۔ کیا یہ تمام چیزیں فوت ہو گئیں؟ کیونکہ یدعون من دون اللہ یہ بھی پکاری گئی ہیں۔ مگر ہم دیکھتے ہیں آگ کا برابر اثر جاری ہے۔ پانی برابر جاری ہے۔ پیپل دنیا پر بے انتہاء نظر آتے ہیں اور گائے ہزاروں ذبح روزانہ ہوتی ہیں مگر ختم نہیں ہوتیں۔
معلوم ہوا کہ ابن مریم علیہ السلام کے لئے تمہاری نفسانی خواہش ہے کہ فوت ہو جائیں۔ تو مرزا قادیانی کا مسیح موعود ہونے کا دعویٰ چلتا رہے۔ افسوس صد افسوس!
اعتراض بارھواں مرزائی
"وما جعلنٰهم جسداً لا ياكلون الطعام وما كانوا خلدين (الانبياء:٨)" "اور نہیں کیا ہم نے ان کا ایسا بدن کہ نہ کھاتے کھانا اور نہ تھے ہمیشہ رہنے والے۔"
غیر احمدیو! اگر ابن مریم علیہ السلام بقول تمہارے زندہ ہیں۔ تو وہ کھانا کہاں سے کھاتے ہوں گے؟ کیونکہ ارشاد باری تعالیٰ ہے کہ میں نے کسی نبی کا ایسا جسم نہیں بنایا کہ کھانا نہ کھائے۔ اگر بالفرض کھانا ان کو مل جاتا ہوگا تو وہ بیت الخلاء کہاں جاتے ہوں گے؟ کیونکہ جب انسان کھانا کھائے گا تو پیشاب پاخانہ کی تو لازمی حاجت ہوگی اور اگر انسان کھانا نہ کھائے تو اس کی زندگی ختم ہو جاتی ہے۔ ان کو تو آج ١٩٥٢ سال کا عرصہ گزر گیا۔ اتنے عرصے میں بغیر خوراک کے زندہ کیسے رہ سکتے ہیں؟ اگر وہ نہیں کھاتے تو صیغہ جمع ٹوٹ جائے گا۔ قانون الٰہی پر زد آئے گی۔
معلوم ہوا کہ وہ مرزا قادیانی کے فرمانے کے مطابق ضرور فوت ہو چکے۔ اب ان کی آمد کا انتظار باعث غلطی ہے۔
الجواب اوّل محمدی
مرزائیو! بیشک رب العزت نے تمام پیغمبروں کے لئے اس قانون مقرر کو اپنے حبیب کے سامنے پیش کیا کہ میں نے کسی نبی کا ایسا جسم نہیں بنایا جو کھانا نہ کھائے اور حضرت ابن مریم علیہ السلام آسمان پر زندہ ہیں تو کیا کھاتے ہوں گے۔ جب وہ کھاتے نہیں تو زندگی مشکل۔ اس آیت سے یہ راز افشاں ہو گیا کہ وہ بہر حال فوت ہیں۔ کیونکہ کھانا کھانے کے سوا انسان زندہ نہیں رہ
٥٠
٥
سکتا۔ مگر آپ کو یہ بھی یاد ہونا چاہئے کہ اس آیت مریم علیہ السلام پہلے بھی کسی قانون سے مستثنیٰ کئے اگر کہا جانا ثابت ہو جائے پھر ل بالضرور باہر ہیں۔ مثلاً قانون الٰہی پیش کرتا ہوں "انا خلقنا الانسان من نطف (الدهر:٢)" "تحقیق پیدا کیا ہم نے انسان کو اور دیکھنے والا۔" آگے چل کر اللہ تعالیٰ اس کی "يخرج من بين الصلب والترائب (الط اور چھاتیوں ماں کی سے۔"
یہ کتنا بڑا قانون انسان کی پیدائش ہوئے۔ آپ اس قانون سے الگ ہیں۔ آپ ہیں۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے کہ "کیا ہم نے دوسرا قانون الٰہی دیکھئے۔
الجواب دوئم محمدی
"ولقد ارسلنا رسلا من (الرعد:٣٨)" "اور البتہ تحقیق بھیجے ہم نے بیویاں اور اولاد " آپ یعنی ابن مریم علیہ السلا ٹوٹ گیا ہے۔ اس لئے کہ مرزا قادیانی نے بھی ت
چنانچہ اپنے رسالہ (تریاق القلوب ص مریم کی نہ کوئی بیوی تھی اور نہ اولاد۔" لہٰذا ابن
مرزائی معتبر احادیث یا تفاسیر سے ثابت کر دے خدا کی قسم پچاس روپے بطور انعام فی الفور پیش کہ آپ نے نہ تو نکاح کیا اور نہ اولاد ہوئی۔
مرزائیو! ذرا سوچو اس بات کو کہ قانون سے باہر ہیں۔ وہاں بھی انشاء اللہ باہر شریف پیش کرتا ہوں۔
سکتا۔ مگر آپ کو یہ بھی یاد ہونا چاہئے کہ اس آیت سے مستثنیٰ کون ہیں ابن مریم۔ اب دیکھنا کہ ابن مریم علیہ السلام پہلے بھی کسی قانون سے مستثنیٰ کئے گئے ہیں یا نہیں۔
اگر کئے جانا ثابت ہو جائے پھر لامحالہ یہ کہنا پڑے گا کہ آپ اس قانون سے بھی بالضرور باہر ہیں۔ مثلاً قانون الٰہی پیش کرتا ہوں، ملاحظہ فرمائیں۔
”انا خلقنا الانسان من نطفة امشاج نبتلیہ فجعلنٰہ سمیعا بصیرا (الدہر:٢)“ ﴿تحقیق پیدا کیا ہم نے انسان کو نطفہ ملے ہوئے سے پھر کیا ہم نے اس کو سننے والا اور دیکھنے والا۔﴾ آگے چل کر اللہ تعالیٰ اس کی پیدائش کا ذریعہ مفصل الفاظ میں بیان فرماتا ہے:
”يخرج من بين الصلب والترائب (الطارق:٧)“ ﴿نکلتا ہے یعنی نطفہ باپ کی پیٹھ سے اور چھاتیوں ماں کی سے۔﴾
یہ کتنا بڑا قانون انسان کی پیدائش کا۔ مگر ابن مریم علیہ السلام بغیر باپ کے پیدا ہوئے۔ آپ اس قانون سے الگ ہیں۔ آپ ہی الگ نہیں بلکہ پیدائشی بہرے، اندھے بھی مستثنیٰ ہیں۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے کہ ”کیا ہم نے سننے والا اور دیکھنے والا۔“
دوسرا قانون الٰہی دیکھئے۔
الجواب دوم محمدی
”ولقد ارسلنا رسلا من قبلك وجعلنا لہم ازواجا وذریۃ (الرعد:٣٨)“ ﴿اور البتہ تحقیق بھیجے ہم نے رسول پہلے تجھ سے اور کیں ہم نے واسطے ان کے بیویاں اور اولاد﴾ آپ یعنی ابن مریم علیہ السلام اس قانون سے باہر ہیں۔ یعنی تمہارا صیغہ جمع ٹوٹ گیا ہے۔ اس لئے کہ مرزا قادیانی نے بھی تصدیق کر دی۔
چنانچہ اپنے رسالہ (تریاق القلوب ص٩٩، خزائن ج١٥ ص٣٦٣ ملخص) میں راقم ہیں: ”ابن مریم کی نہ کوئی بیوی تھی اور نہ اولاد۔“ لہٰذا ابن مریم علیہ السلام اس قانون سے مستثنیٰ ہیں۔ اگر کوئی مرزائی معتبر احادیث یا تفاسیر سے ثابت کردے کہ ابن مریم علیہ السلام نے نکاح کیا، اولاد ہوئی۔ خدا کی قسم پچاس روپے بطور انعام فی الفور پیش کروں گا۔ نفی کے لئے ہمارے پاس کافی دلائل ہیں کہ آپ نے نہ تو نکاح کیا اور نہ اولاد ہوئی۔
مرزائیو! ذرا سوچو اس بات کو کہ ان دونوں صیغوں سے مستثنیٰ ہیں۔ جیسے یہاں اس قانون سے باہر ہیں۔ وہاں بھی انشاء اللہ باہر ہوں گے۔ اب آؤ، آپ کے سامنے ایک حدیث شریف پیش کرتا ہوں۔
٥١
الجواب سوئم
اللہ کے پیارے نبی حضرت محمد ﷺ نے دجال کے زمانے کا حال ایک روز بیان فرمایا کہ اس وقت غلے کی تکلیف اتنی ہو جائے گی کہ کھانے تک کے لئے ملنا بڑا محال ہو گا تو صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ اجمعین کی طرف سے سرکارِ عالیہ میں سوال کیا گیا۔ جو حسب ذیل ہے، ملاحظہ فرمائیں ۔
” وعن اسماء بنت یزید قالت کان النبیﷺ فکیف بالمؤمنین یومئذ قال یجزئهم ما یجزی اهل السماء من التسبیح والتقدیس (رواہ احمد ج ٦ ص ٤٥٤)“ یعنی روایت کرتی ہیں حضرت اسماءؓ نبی کریم ﷺ نے فرمایا دجال کے زمانے میں غلے کا ملنا محال ہوگا۔ تو عرض کیا گیا کیونکر حال ہوگا اس وقت مسلمانوں کا ؟ آپ ﷺ نے فرمایا کفایت کرے گی وہ چیز ایمانداروں کو جو کفایت کرتی ہے آسمان والوں کو یعنی اللہ کی تسبیح و تقدیس۔
مرزائیو ! جبکہ یہ حال ہوگا اور مسلمان اللہ کی عبادت پر مانند فرشتوں کے گزارہ کریں گے۔ تو کیا ابن مریم علیہ السلام کی عبادت میں مشغول ہو کر اس نفسانی خواہش کو پورا نہیں کر سکتے ۔
حضرت علامہ جلال الدین سیوطیؒ فرماتے ہیں۔
الجواب چہارم محمدیؒ
”وسئل الجلال السيوطى عن حياة عيسى ومقره فقال هو حى فى السماء الثانية لا ياكل ولا يشرب ملازم للتسبيح كالملائكة (مشارق الانوار عربى ص١٧)“
یعنی سوال کیا گیا حضرت جلال الدین سیوطیؒ سے بابت ابن مریم علیہ السلام کے ۔ فرمایا وہ زندہ ہیں اور آسمان دوسرے کے، نہیں کھاتے اور نہیں پیتے ۔ لازم ہے واسطے ان کے تسبیح جیسے ملائکہ کے لئے ۔
مرزائیو ! یہ تمہارا عقیدہ کے خلاف قرآن مجید و احادیث میں پایا گیا۔ لہٰذا ابن مریم خدا کے فضل وکرم سے بلاشک زندہ ہیں ۔
اعتراض تیرھواں مرزائی
” قل سبحان ربي هل كنت الا بشرا رسولا (بنى اسرائيل:٩٣) “
” کہہ دے میرا رب پاک ہے میں تو ہوں ایک بشر پیغام پہنچانے والا ۔ “
٥٢
غیر احمدیو! اگر ابن مریم علیہ الـ مصطفیٰ ﷺ آسمان پر کیوں نہیں گئے؟ حالانـ آسمان پر چڑھ جاؤ۔ ہم ایمان لے آئیں گـ اے میرے حبیب ! کہہ دیجئے ان کفار کو کہ پہنچانے والا رب اپنے کا۔ معلوم ہوا کہ جب رسول پاک ﷺ السلام میں اتنی طاقت کہاں کہ وہ آسمان پـ خلاف ہے۔ اس لئے تو حضور ﷺ بھی نہیں کفار مکہ کا یہی مطالبہ تھا مگر نہیں گئے ۔ معلوم ابن مریم فوت ہیں ۔
الجواب اول محمدیؒ
مرزائیو! تمہاری مثال بعینہ اس کو دکھلائے کہ دیکھئے جناب قرآن مجید میں آ تم اپنے مطلب کی آیت کو پکڑ کر اعتراض کرتـ غور نہیں کرتے ۔ آؤ پوری آیت پیش کرتا ہوں
” او ترقى فى السماء ولن نـ قل سبحان ربی هل کنت الا بشـ کیا چڑھ جاؤ بیچ آسمان کے اور ہرگز نہیں ایـ اتار لاوے تو اوپر ہمارے کتاب پڑھیں ہم ا بشر پیغام پہنچانے والا ۔ ﴾
آپ انصاف کی نظر سے دیکھئے چڑھ جاؤ۔ ہم ایمان لے آئیں گے یا ساتھ آپ آسمان سے اترو تو ہاتھ میں مکمل کتاب نے ٢٣ سال کے اندر خداوند عالم کی طرف ساتھ لا سکتے تھے ۔ اگر چڑھ جاتے پھر نزول
غیر احمدیو! اگر ابن مریم علیہ السلام زندہ آسمان پر بیٹھے ہوئے ہیں۔ تو سردار انبیاء محمد مصطفیٰ ﷺ آسمان پر کیوں نہیں گئے؟ حالانکہ آپ سے کفار مکہ نے یہ معجزہ طلب کیا تھا کہ آپ آسمان پر چڑھ جاؤ۔ ہم ایمان لے آئیں گے تو اللہ تعالیٰ نے ان کے جواب میں یہ حکم نازل فرمایا اے میرے حبیب! کہہ دیجئے ان کفار کو کہ میرا رب پاک ہے۔ میں تو ہوں ایک بشر صرف پیغام پہنچانے والا رب اپنے کا۔
معلوم ہوا کہ جب رسول پاک ﷺ آسمان پر تشریف نہیں لے جاسکے تو ابن مریم علیہ السلام میں اتنی طاقت کہاں کہ وہ آسمان پر چلے جاتے؟ لہٰذا آسمان پر جانا انسانی فطرت کے خلاف ہے۔ اس لئے تو حضور ﷺ بھی نہیں گئے۔ حالانکہ اس وقت جانے کی بڑی ضرورت تھی۔ کفار مکہ کا یہی مطالبہ تھا مگر نہیں گئے۔ معلوم ہوا انسان کا آسمان پر جانا قانون الٰہی نہیں۔ اس لئے ابن مریم فوت ہیں۔
الجواب اول محمدیؒ
مرزائیو! تمہاری مثال بعینہ اس آدمی کے مانند ہے۔ جو قرآن مجید سے نکال کر لوگوں کو دکھلائے کہ دیکھئے جناب قرآن مجید میں ”لا تقربوا الصلوٰۃ“ موجود ہے۔ ہو بہو اسی طرح تم اپنے مطلب کی آیت کو پکڑ کر اعتراض کر دیتے ہو۔ آگے پیچھے اس آیت کے معنی کی طرف ذرا غور نہیں کرتے۔ آؤ پوری آیت پیش کرتا ہوں۔ پھر سمجھ آئے گی کہ واقعی یہ اعتراض غلط ہے۔
”اوترقی فی السماء ولن نؤمن لرقیک حتی تنزل علینا کتبا نقرؤہ قل سبحان ربی ہل کنت الا بشرا رسولا (بنی اسرائیل:٩٣) ﴿معجزہ طلب کیا چڑھ جاؤ بیچ آسمان کے اور ہرگز نہیں ایمان لائیں گے چڑھ جانے تیرے پر۔ یہاں تک کہ اتار لاوے تو اوپر ہمارے کتاب پڑھیں ہم اس کو۔ آپ کہہ دیجئے کہ میرا رب پاک ہے میں ہوں بشر پیغام پہنچانے والا۔﴾
آپ انصاف کی نظر سے دیکھئے کہ کفار مکہ کا مطالبہ صرف یہی ہے کہ آپ آسمان پر چڑھ جاؤ۔ ہم ایمان لے آئیں گے یا ساتھ کتاب آنے کے متعلق بھی ان کا اظہار ہے کہ جب آپ آسمان سے اترو تو ہاتھ میں مکمل کتاب ہونی چاہئے۔ پھر پڑھ لیں اس کو۔ بھلا جس کتاب نے ٢٣ سال کے اندر خداوند عالم کی طرف سے مکمل ہونا تھا۔ وہ یکدم کس طرح نزول کے ٹائم ساتھ لا سکتے تھے۔ اگر چڑھ جاتے پھر نزول کے وقت کتاب نہ ہوتی وہ ایمان لانے پر ہرگز تیار نہ
٥٣
تھے۔ اس لئے ان کو چند الفاظ سے اطلاع دے کر واپس بھیج دیا گیا۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کا فرمان موجود ہے۔
"واذا خاطبهم الجاهلون قالوا سلاماً (فرقان:٦٣)" اگر ساتھ کتاب کا مطالبہ نہ ہوتا تو خدا کی قسم ہم کبھی اس بات کو قبول نہ کرتے کہ ابن مریم علیہ السلام آسمان پر تشریف آور ہوں۔ مگر ان کا مطالبہ یہی تھا کہ جب اترو تو کتاب ساتھ لے کر آنا۔ بھلا سوچئے! تیئس سال میں مکمل ہونے والی کتاب کو یکدم ان کے سامنے کس طرح پیش کرتے اور ان کا اعتراض تھا کہ زبور اور تورات اور انجیل کی طرح یہ قرآن مجید اکٹھا کیوں نازل نہیں ہوتا۔ اگر یہ ٹیڑھا سوال آنحضرت ﷺ کے پیش نہ کرتے تو ضروری تھا کہ آپ آسمان پر ان کے سامنے تشریف لے جاکر پھر واپس آتے۔ مگر ان کا خیال تھا کہ قرآن مجید اکٹھا نازل ہو۔ جیسے اللہ تعالیٰ نے ان کے قول کو قرآن مجید کے اندر بیان کیا ہے، ملاحظہ ہو۔
"وقال الذين كفروا لولا نزل عليه القرآن جملة واحدة (الفرقان:٣٢)" "اور کہا ان لوگوں نے جو کافر ہوئے کیوں نہ اتارا گیا اوپر اس کے قرآن اکٹھا ایک بار۔"
مرزائیو! یہ تھا ان کفار مکہ کا مطالبہ جو رسول اللہ ﷺ کسی صورت پورا نہیں کر سکتے تھے۔ آؤ کسی مفسر سے بھی تصدیق کرا دیتا ہوں۔ آئیے۔
الجواب دوم محمدی
"قال الذين كفروا ابوجھل واصحابه لولا هلا نزل عليه القران جملة واحدة كما انزلت التوراة على موسى والانجيل على عيسى والزبور على داؤد كذالك يقول انزلنا اليك جبرئيل بالقران متفرقا (تفسير حضرت
ابن عباس مطبع مصر ج ٣ ص ٢٢٦)
"اور کہا ان لوگوں نے جو کافر ہوئے ابو جہل اور اس کے ساتھیوں نے کیوں نہیں اتارا اوپر محمد ﷺ کے قرآن مجید اکٹھا جیسے اتاری گئی تورات اوپر موسیٰ کلیم اللہ کے اور انجیل اوپر عیسیٰ روح اللہ کے اور زبور اوپر داؤد علیہ السلام کے اسی طرح۔ اور کہا تھا اللہ تعالیٰ نے اتاریں گے ہم طرف تیرے قرآن مجید کو ساتھ جبرائیل علیہ السلام کے تھوڑا تھوڑا۔"
مرزائیو! انصاف کی ضرورت ہے۔ جبکہ خداوند عالم کا وعدہ یہی تھا کہ نازل کروں گا میں اس قرآن مجید کو تھوڑا تھوڑا ساتھ جبرائیل علیہ السلام کے اوپر تیرے پھر کیونکر اکٹھا ایک دفعہ ٥٤
رسول اللہ ﷺ اپنے ساتھ لے کر آجاتے؟ اس لئے آ
اعتراض چودہواں مرزائی
"ومبشرا برسول یاتی من بعدی مریم علیہ السلام نے اپنی قوم کو ہدایت فرمائی کہ اے بشارت دیتا ہوں کہ میرے بعد آوے گا ایک رسول علیہ السلام کا تمہارے نزدیک بعد نہیں ہوا، یعنی فوت تشریف نہیں لائے۔ مگر یہ بات روشن ہو چکی ہے کہ ہم ہوا کہ ابن مریم علیہ السلام فوت ہو گئے۔ جیسا کہ آیت مریم علیہ السلام فوت نہیں ہوئے۔ رسول خدا ﷺ کو بھی بعدی" سے ثابت ہوتا ہے کہ رسول خدا ﷺ تشریف فوت ہو چکے۔
الجواب اول محمدی
مرزائیو! کیا آیت "من بعدی" سے حضو یا زندگی؟ آئیے میں آپ کے پیش قرآن مجید کی ایک آ ہو۔ لیکن زندگی پر دلالت کرتی ہو۔ کیا پھر ابن مریم ہو آئیے اور ملاحظہ فرمائیے۔
"واذ واعدنا موسى اربعين ليلة ظلمون (البقرة:٥١)" "اور جب وعدہ کیا ہم نے تم نے بچھڑے کو پیچھے اس کے اور تھے تم ظالم۔"
مرزائیوں سے سوال ہے کہ کیا موسیٰ کلیم اللہ نے بچھڑے کی پوجا شروع کی تھی؟ ہرگز نہیں۔ وہ زندہ مو ابن مریم علیہ السلام کی موت کے قائل ہیں۔ حالانکہ "م دلالت کرتی ہے۔ معلوم ہوا کہ آپ علیہ السلام کو بیشک الیه (النساء:١٥٧)" اپنی طرف یعنی آسمان پر خدا ہے۔ پھر دوبارہ عنقریب قیامت تشریف لائیں گے۔ ٥٥
رسول اللہ ﷺ اپنے ساتھ لے کر آجاتے؟ اس لئے آپ آسمان پر نہیں گئے۔ یقین کیجئے۔
اعتراض چودھواں مرزائی
"ومبشرا برسول یاتی من بعدی اسمہ احمد (الصف:٦)" یعنی "ابن مریم علیہ السلام نے اپنی قوم کو ہدایت فرمائی کہ اے لوگو! میں تمہیں تورات سے اس بات کی بشارت دیتا ہوں کہ میرے بعد آئے گا ایک رسول نام اس کا احمد ہے۔ پس اے احمدیو! اگر ابن مریم علیہ السلام کا تمہارے نزدیک بعد نہیں ہوا، یعنی فوت نہیں ہوئے تو یقین کیجئے کہ محمد ﷺ بھی تشریف نہیں لائے۔ مگر یہ بات روشن ہو چکی ہے کہ حضور ﷺ تشریف لے آئے ہیں۔ تو معلوم ہوا کہ ابن مریم علیہ السلام فوت ہو گئے۔ جیسا کہ آیت میں بعدی سے ظاہر ہے۔ جب تک ابن مریم علیہ السلام فوت نہیں ہوتے۔ رسول خدا ﷺ کو بھی اس دنیا میں نہیں آنا تھا۔ اس لئے "من بعدی" سے ثابت ہوتا ہے کہ رسول خدا ﷺ تشریف لے آئے ہیں اور ابن مریم علیہ السلام فوت ہو چکے۔
الجواب اوّل محمدی
مرزائیو! کیا آیت "من بعدی" سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی موت ظاہر ہوتی ہے یا زندگی؟ آئیے میں آپ کے پیش قرآن مجید کی ایک آیت کرتا ہوں کہ الفاظ بھی "من بعدی" ہو۔ لیکن زندگی پر دلالت کرتی ہو۔ کیا پھر ابن مریم علیہ السلام کی حیات کے قائل ہو جاؤ گے؟ آئیے اور ملاحظہ فرمائیے:۔
"واذ واعدنا موسٰی اربعین لیلۃ ثم اتخذتم العجل من بعدہ وانتم ظلمون (البقرۃ:٥١)" "اور جب وعدہ لیا ہم نے موسٰی کلیم اللہ سے چالیس راتوں کا پھر پکڑا تم نے بچھڑے کو پیچھے اس کے اور تھے تم ظالم۔"
مرزائیوں سے سوال ہے کہ کیا موسٰی کلیم اللہ اس وقت فوت ہو گئے تھے؟ جبکہ یہودیوں نے بچھڑے کی پوجا شروع کی تھی؟ ہرگز نہیں۔ وہ زندہ تھے۔ پھر کیوں آیت "من بعدی" سے ابن مریم علیہ السلام کی موت کے قائل ہیں۔ حالانکہ "من بعدی" موسٰی کلیم اللہ کی زندگی پر دلالت کرتی ہے۔ معلوم ہوا کہ آپ علیہ السلام کو بیشک از روئے قرآن مجید آیت "بل رفعہ اللہ الیہ (النساء:١٥٧)" "اپنی طرف یعنی آسمان پر خداوند تعالٰی نے ابن مریم علیہ السلام کو اٹھایا ہوا ہے۔ پھر دوبارہ عنقریب قیامت تشریف لائیں گے۔"
٥٥
اعتراض پندرھواں مرزائی
غیر احمدی! قرآن مجید میں آیت ”بل رفعه الله اليه (النساء: ١٥٧) “ جو نازل ہوئی ہے۔ کیا اس کا یہ مطلب ہے کہ ابن مریم علیہ السلام آسمان پر اٹھا لئے گئے۔ ترجمہ تو اس آیت کا یہ ہے کہ میں نے ابن مریم کو اپنی طرف اٹھا لیا۔ خداوند عالم کی ذات کہاں پر ہے۔ اس کی ایک طرف کوئی مقرر نہیں۔ وہ تو ہر طرف موجود ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں فرماتا ہے :”فاينما تولوا فثم وجه الله (البقرة: ١١٥) “ یعنی پس سوائے اللہ کے نہیں پس جدھر کو منہ کرو تم ادھر ہی منہ اللہ کا ہے۔“
لہٰذا اس آیت مبارکہ سے معلوم ہوا کہ خداوند عالم کی ذات بابرکات تو ہر طرف موجود ہے۔ اب فرمائیے کہ ابن مریم علیہ السلام کس طرف اٹھائے گئے؟ مشرق یا مغرب، جنوب یا شمال؟ دوسری آیت ملاحظہ فرمائیے:”ونحن اقرب اليه من حبل الوريد (ق: ١٦) “ ”اور ہم بہت قریب تر ہیں طرف اس کی رگ جاں سے۔“
اب اس آیت سے بھی خداوند کریم کی کوئی طرف مقررہ معلوم نہیں ہوتی۔ تو کیسے سمجھ لیا جائے کہ وہ آسمان پر ہی اٹھائے گئے ہوں تیسری آیت تو بالکل اچھی طرح سے واضح کرتی ہے کہ اللہ تعالیٰ کی ذات سے کوئی طرف خالی نہیں۔ حتیٰ کہ نہ آسمان اور نہ زمین۔ وہ تو ہر جگہ موجود ہے۔ ابن مریم کو کس طرف اٹھایا۔ مثلاً ”وهو الله فى السموات والارض (الانعام: ٣) “ ”وہی ہے اللہ بیچ آسمانوں اور زمین کے۔“
عدل و ایمان سے فیصلہ کریں کہ اگر ”الیہ“ سے ابن مریم آسمان پر جاتے ہیں۔ کیا زمین کی طرف نہیں جاسکتے ہیں؟ فیصلہ وہی ہو جو عام مخلوق کے ساتھ اللہ تبارک و تعالیٰ نے کیا ہو۔ بس ہمیں معلوم ہے کہ جیسے ہر جان فوت ہو کر خداوند کریم کی طرف چلی جاتی ہے۔ لہٰذا ابن مریم علیہ السلام ان سب کی طرح فوت ہو کر خداوند عالم کی طرف چلے گئے۔ جیسے کسی آدمی کی موت سن کر فوراً پڑھ لیا جاتا ہے:”انا لله وانا اليه راجعون “ یعنی ہم تحقیق واسطے اللہ کے ہیں اور تحقیق ہم اس کی طرف جانے والے ہیں۔ کیا یہ مطلب ہوگا کہ ہم آسمانوں پر چڑھنے والے ہیں؟ نہیں۔ بلکہ فوت ہونے والے ہیں۔ لہٰذا آج تک کوئی بشر زندہ خدا کی طرف نہیں گیا۔ ہر کوئی فوت ہو کر اللہ کی طرف جاتا ہے۔ اس لئے ”بل رفعه الله اليه (النساء: ١٥٧) “ سے ہمارا ایمان بالکل مکمل ہے کہ ابن مریم فوت ہو کر خداوند عالم کی طرف چلے گئے۔
٥٦
الجواب اول محمدی
مرزائیو! آیت ”فاينما تولوا فثم وج جو آپ نے سمجھ لیا۔ غالباً آپ اس آیت کے شان نز اہل علم سے دریافت کیا ہوتا تو آپ کا یہ عقیدہ بدل جا آپ کو ”فاينما تولوا فثم وجه الله“ کے شا عباسؓ اپنی تفسیر میں زیر آیت ”فثم وجه الله“ رقم
”فثم وجه الله فتلك قبلة رسول الله ﷺ صلوا فى سفر الى غير ا والمغرب يقول الله لله المشرق وا وجوهكم فى الصلوة الى الحرم فثم و
(ص ٢٠،٢١) “
یعنی ایک دفعہ رسول خدا ﷺ کے چند ا سفر میں نماز قبلہ کے خلاف بھول کر پڑھ لی۔ بعد نماز بڑا افسوس کیا اور رب العالمین سے معافی کے لئے د تسلی کے یہ آیت اتاری اور آئندہ کے لئے بھی ہدای ان کے لئے قبلہ مسجد الحرام ہی ہے۔ پس جب نما الحرام۔ پس ادھر ہی منہ اللہ کا ہے یعنی قبلہ اللہ کا۔
مرزائیو! اگر تمہارا ایمان اس بات پر پکا طرف موجود ہے۔ پھر کیا آپ نے کبھی خلاف قب مشرق اور کبھی مغرب کبھی جنوب اور کبھی شمال کی طر عقیدہ ”فاينما تولوا فثم وجه الله“ پر زبا ہے۔ ورنہ فریب بازی کے سوا کچھ صداقت نظر نہی دوسری آیت ”ونحن اقرب اليه من حبل ال طرف اس کی رگ جاں سے۔“ کیا آپ نے یہ مع کے پاس بیٹھا ہے؟ استغفر اللہ!
٥٧
الجواب اول محمدی
مرزائیو! آیت ”فاينما تولوا فثم وجه الله (البقرة:١١٥)“ کا یہ مطلب نہیں جو آپ نے سمجھ لیا۔ غالباً آپ اس آیت کے شان نزول سے واقف نہیں۔ اگر واقفیت ہوتی یا کسی اہل علم سے دریافت کیا ہوتا تو آپ کا یہ عقیدہ بدل جاتا اور صحیح راستہ کو ضرور اختیار کر لیتے۔ آؤ میں آپ کو ”فاينما تولوا فثم وجه الله“ کے شان نزول کے متعلق سمجھا دوں۔ چنانچہ سیدنا ابن عباسؓ اپنی تفسیر میں زیر آیت ”فثم وجه الله“ رقم ہیں، ملاحظہ ہو۔
”فثم وجه الله فتلك الصلوة برضا الله نزلت فى نفر من اصحاب رسول الله ﷺ صلوا فى سفر الى غير القبلة بالتحرى ويقال ولله المشرق والمغرب يقول الله لاهل المشرق والمغرب قبلة وهو الحرم فاينما تولوا وجوهكم فى الصلوة الى الحرم فثم وجه الله قبلة الله (تفسير ابن عباس ص ٢٠، ٢١)“
یعنی ایک دفعہ رسول خدا ﷺ کے چند صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے اپنے سفر میں نماز قبلہ کے خلاف بھول کر پڑھ لی۔ بعد نماز ادائیگی جبکہ علم ہوا کہ خلاف قبلہ نماز پڑھی گئی تو بڑا افسوس کیا اور رب العالمین سے معافی کے لئے دعا کی۔ تو خداوند تعالیٰ نے معافی فرما کر بطور تسلی کے یہ آیت اتاری اور آئندہ کے لئے بھی ہدایت کر دی کہ اہل مشرق ہو یا اہل مغرب، بیشک ان کے لئے قبلہ مسجد الحرام ہی ہے۔ پس جب نماز ادا کرو پھیر لیا کرو منہ اپنوں کو طرف مسجد الحرام۔ پس ادھر ہی منہ اللہ کا ہے یعنی قبلہ اللہ کا۔
مرزائیو! اگر تمہارا ایمان اس بات پر پکا ہے کہ خداوند عالم کی ذات بابرکات چاروں طرف موجود ہے۔ پھر کیا آپ نے کبھی خلاف بیت اللہ نماز کو ادا کیا؟ پڑھا اور پڑھایا کرو کبھی مشرق اور کبھی مغرب کبھی جنوب اور کبھی شمال کی طرف۔ پھر تو ہمیں یقین ہو جائے کہ مرزائیوں کا عقیدہ ”فاينما تولوا فثم وجه الله “ پر زبانی نہیں، بلکہ عملی ہے۔ پھر آپ کا دعویٰ سچا ہو سکتا ہے۔ ورنہ فریب بازی کے سوا کچھ صداقت نظر نہیں آتی۔ اس سے تمہارا مطلب حل نہیں ہوا۔
دوسری آیت ”ونحن اقرب اليه من حبل الوريد (سورة ق:١٦)“ ﴿ہم قرب تر ہیں طرف اس کی رگ جاں سے۔﴾ کیا آپ نے یہ مطلب سمجھا کہ خداوند تعالیٰ ہر جان کی شاہ رگ کے پاس بیٹھا ہے؟ استغفر اللہ!
٥٧
مرزائیو! ذرا انصاف کی ضرورت ہے۔ اس آیت سے اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے علم کو روشن کیا کہ میرا علم انسان کی شاہ رگ سے بھی قریب ہے۔ آؤ میں آپ کو پوری آیت پیش کرتا ہوں: ”ونحن اقرب الیہ من حبل الورید، اذ یتلقی المتلقیان عن الیمین وعن الشمال قعید ما یلفظ من قول الا لدیہ رقیب عتید (سورہ ق: ١٦، ١٧، ١٨)“ ﴿اور ہم قریب ہیں طرف اس کی رگ جان سے جبکہ لے لیتے ہیں دو لینے والے ایک دائیں طرف سے اور ایک بائیں طرف سے بیٹھا ہے اور نہیں بولتا کوئی بات مگر واسطے اس کے نگہبان ہیں تیار بیٹھے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی مخلوق کو اطلاع کر دی کہ میرا علم اتنا وسیع ہے کہ میں نے دو فرشتے یعنی کراماً کاتبین ہر انسان کے ساتھ چھوڑ رکھے ہیں۔ اس لئے کہ وہ ہر انسان کی نیکی اور بدی کا برابر حساب رکھیں۔ اے انسانو اور جنو! یہ خیال مت رکھنا کہ ہماری نیکی اور بدی کا کوئی حساب اللہ تعالیٰ کے پاس نہیں ہوگا۔ جو دل میں آئے کریں، نہیں۔ ”نحن اقرب الیہ من حبل الورید (ق: ١٦)“ ﴿ہم تو تمہاری شہ رگ سے بھی زیادہ قریب ہیں۔﴾
مرزائیو! اس آیت کا مفہوم یہی ہے کہ ہمارا علم تمہاری شہ رگ سے قریب ہے۔ نہ یہ کہ اللہ تعالیٰ ہر جان کے ساتھ شہ رگ کے پاس بیٹھا ہے۔ تیسری آیت کے متعلق بھی عرض کر دوں مثلاً ”وهو الله فی السموات والارض (الانعام:٣)“ ﴿اور وہی ہے اللہ تعالیٰ بیچ آسمانوں اور زمین کے۔﴾ آپ نے مرزائیو! اس آیت کا غلط مطلب سمجھا۔ یہ نہیں کہ خداوند عالم زمین میں ہے۔
استغفر اللہ۔ کیا وہ ہمارے قدموں کے نیچے ہے۔ بلکہ اللہ تعالیٰ اس آیت سے اپنی بادشاہت کو ظاہر کرنا چاہتا ہے تا کہ مخلوق ڈر کر برے عملوں سے بچ کر صالح عملوں پر کمر بستہ ہو جائے۔ مثلاً جیسے ہمارے پہلے بادشاہ جارج ہشتم کا پایہ تخت تو انگلینڈ تھا۔ مگر حکومت چاروں طرف باقاعدہ چل رہی تھی۔ اگر کسی نے یہ سوچا کہ ہمارا بادشاہ تو انگلینڈ میں ہے۔ میں یہاں پر اگر کسی کو قتل کر دوں تو مجھے کون پوچھے گا۔ تو کیا ایسا قاتل گرفتار نہیں ہوا۔ پھانسی نہیں دی گئی؟
اسی طرح خداوند عالم کا بھی پایہ تخت عرش معلیٰ ہے۔ لیکن اس کی حکومت ہر جگہ ہر طرف قائم ہے۔ جیسے اللہ تعالیٰ نے بذریعہ قرآن مجید کے اپنی مخلوق میں کئی جگہ اطلاع پہنچائی۔ مثلاً ”الرحمن علی العرش: طہ : ٥“ ﴿رحمن اوپر عرش کے ہے۔﴾ اس آیت کی تفصیل آیت الکرسی میں دیکھئے۔ ”وسع کرسیہ السموات والارض “ ﴿یعنی گھیرا ہوا ہے کرسی اس کی نے آسمانوں اور زمینوں کو۔﴾
٥٨
تہ یعنی اللہ تعالیٰ کی کرسی کے اندر سب کچھ کون سی طرف خالی ہے۔ وہ تو ہر جگہ موجود ہے بغیر مقیم ہے۔ یعنی اس کا ٹھہراؤ زمین ہے۔ ٹھہراؤ اس نہ اور بادشاہت ہر طرف ہر جگہ موجود ہے۔
مرزائیو! ”وهو الله فی السموات ہوا نہ کہ وہ زمین میں اپنی مخلوق کے قدموں کے نیچے قرآن پایا گیا۔ اسی طرح خداوند عالم نے سورہ ملک آپ کے پیش قرآن مجید کی آیت کرتا ہوں: ”ام اَمِ حاصباً (الملک: ١٧)“ ﴿اے انسانو اور جنو آسمانوں کے ہے۔ یہ کہ بھیج دیوے اوپر تمہارے پتھر
مرزائیو! خداوند عالم کا پیغام بذریعہ قرآ نے فرمایا ”بل رفعہ الله الیہ (النساء: ١٥٨ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو قتل کر دیا۔ آئے میرے حم کیجئے۔ بلکہ اٹھا لیا اللہ نے ابن مریم علیہ السلام کو طر نازل کرنے کے لئے بھی حکم نازل کر دیا ہے۔ جیسے قر ”وان من اهل الکتاب الا لیؤم علیہم شہیدا (النساء: ١٥٩)“ ﴿اور نہیں ہے لاوے گا ساتھ عیسیٰ علیہ السلام کے، پہلے موت اس ک یعنی ابن مریم علیہ السلام کے نزول کے وقت جو یہود گے۔ کس بات پر مثلاً یہودی ایمان لے آئیں گے تو نے ہی ان کو بغیر باپ کے پیدا کیا اور نصاریٰ کا ای کے بندے ہیں، ابن اللہ نہیں۔ یہ ہمارا عقیدہ غلط یکا
سوال ...... اگر مرزا قادیانی وہی مسیح موعود ہیں تو اہل اعتراض مرزائیو! کہ ابن مریم علیہ السلام فوت ہو چکے کے ساتھ ایمان بھی لے آئے۔ آپ کی موت کے
٥٩
وند یعنی اللہ تعالیٰ کی کرسی کے اندر سب کچھ موجود ہے۔ پھر فرمائیے کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کون سی طرف خالی ہے۔ وہ تو ہر جگہ موجود ہے بغیر جسم کے ہے۔ یہ مطلب نہیں کہ وہ زمین میں مقیم ہے۔ یعنی اس کا ٹھہراؤ زمین ہے۔ ٹھہراؤ اس لئے نہیں وہ جسم سے پاک ہے۔ لیکن اس کا علم اور بادشاہت ہر طرف ہر جگہ موجود ہے۔
مرزائیو! ”وهو الله فى السموات والارض“ سے بادشاہت کی طرف اشارہ ہوا نہ کہ وہ زمین میں اپنی مخلوق کے قدموں کے نیچے معاذ اللہ سمجھا جائے۔ لہٰذا تمہارا عقیدہ خلاف قرآن پایا گیا۔ اسی طرح خداوند عالم نے سورہ ملک کے اندر بھی اپنی مخلوق کو ڈرایا اور سمجھایا آؤ آپ کے پیش قرآن مجید کی آیت کرتا ہوں: ”ام امنتم من فى السماء ان يرسل عليكم حاصباً (الملك:١٧) ”اے انسانو اور جنو! کیا تم نڈر ہو گئے ہو اس خداوند عالم سے جو بیچ آسمانوں کے ہے۔ یہ کہ بھیج دیوے اوپر تمہارے بارش پتھروں کی۔“
مرزائیو! خداوند عالم کا پیغام بذریعہ قرآن سن لیا۔ اسی طرح ”وحده لاشريك “ نے فرمایا ”بل رفعه الله اليه (النساء:١٥٨) ”یعنی یہودی بکواس کرتے ہیں کہ ہم نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو قتل کر دیا۔ اے میرے حبیب انہیں قتل کیا اٹل گمان لوگوں نے یہ یقین کیجئے۔ بلکہ اٹھا لیا اللہ نے ابن مریم علیہ السلام کو طرف اپنی وہ ہے غالب حکمت والا اگلی آیت میں نازل کرنے کے لئے بھی حکم نازل کر دیا ہے۔ جیسے قرآن مجید فرماتا ہے:
”وان من اهل الكتاب الا ليؤمنن به قبل موته ويوم القيامة يكون عليهم شهيدا (النساء:١٥٩) ”اور نہیں رہے گا کوئی اہل کتاب سے اس وقت مگر البتہ ایمان لاوے گا ساتھ عیسیٰ علیہ السلام کے، پہلے موت اس کی کے اور ہوگا دن قیامت کے گواہ اوپر ان کے یعنی ابن مریم علیہ السلام کے نزول کے وقت جو یہود و نصاریٰ حاضر ہوں گے وہ کلمہ ایمان لائیں گے۔ کس بات پر مثلاً یہودی ایمان لے آئیں گے کہ باری تعالیٰ بیشک ابن مریم سچا رسول ہے اور تو نے ہی ان کو بغیر باپ کے پیدا کیا اور نصاریٰ کا ایمان یہ ہوگا کہ بیشک اللہ کے رسول ہیں اور اس کے بندے ہیں، ابن اللہ نہیں۔ یہ ہمارا عقیدہ غلط بلکہ کفر تھا۔
سوال...... اگر مرزا قادیانی وہی مسیح موعود ہیں تو اہل کتاب ”كلهم “ ایمان کیوں نہیں لائے؟ اعتراض مرزائیہ کہ ابن مریم علیہ السلام فوت ہو چکے ہیں اور اس آیت کے مطابق اہل کتاب ان کے ساتھ ایمان بھی لے آئے۔ آپ کی موت کے پہلے پہلے مثلاً یہودی ایمان یہ لے آئے ہیں کہ
٥٩
نعوذ باللہ ابن مریم علیہ السلام بغیر باپ کے پیدا نہیں ہوئے۔ وہ کسی نہ کسی کے بیٹے ضرور ہیں اور ہم نے ان کو قتل بھی ضرور کر دیا۔ یہ مرزائیوں کے نزدیک یہودیوں کا ایمان ہے اور عیسائی ایمان لے آئے کہ نعوذ باللہ آپ خدا کے بیٹے ہیں اور ہمارے گناہوں کا کفارہ ہوگئے۔ سولی کو قبول کر کے یہودیوں کے ہاتھ سے قتل ہو گئے۔
یہ مرزائیوں کے نزدیک یہود و نصاریٰ کا ایمان ہے۔ اگر ایمان اس کو کہتے ہیں تو پھر ہمیں غیر احمدی یا مرزا قادیانی کے دشمن یا جماعت کے باہر کیوں سمجھا جاتا ہے۔ پھر تو آج بڑا ایمان لانے والے ہمارے نزدیک مرزا قادیانی کے اوپر حضرت مولانا مولوی امیر شریعت عطاء اللہ شاہ بخاری ہیں۔ جو رات دن اپنی تقاریر میں دجال اور کذاب کا فتویٰ دیتے ہیں اور بھی مزید الفاظ ہیں۔ آپ کو معلوم ہی ہیں۔ پھر آپ کے لئے دن رات کیوں رونا ہے جبکہ انہوں نے مرزا قادیانی کے ساتھ ایمان لایا ہوا ہے کہ مرزا غلام احمد پکے سچے کافر ہیں۔ کذاب ہیں۔ ماشاء اللہ ہم بھی ایمان مرزا قادیانی کے ساتھ رکھتے ہیں کہ آپ پکے کافر ہیں۔
پھر فرمائیے تمہارے اور ہمارے مابین فرق کس چیز کا ہے۔ آپ مرزا قادیانی کے ساتھ ایمان رکھتے ہیں اور ہم بھی۔ مرزائیو شرم کی بات ہے کیا اس کا نام ایمان ہے؟ ہرگز نہیں۔ بلکہ یہودی ایمان لائیں گے کہ بیشک ابن مریم کو خداوند عالم نے اپنی قدرت کاملہ کے ساتھ بغیر باپ کے پیدا کیا اور آپ اللہ تعالیٰ کے سچے نبی ہیں۔
اور نصاریٰ کا ایمان یہ ہوگا کہ آپ ابن اللہ نہیں بلکہ بشر اور اللہ کے رسول ہیں۔ یہ کب ہوگا جبکہ وہ دوبارہ اس دنیا پر تشریف لے آئیں۔ پھر روز قیامت کو باری تعالیٰ کے روبرو ان پر گواہی دیں گے کہ اے میرے حقیقی معبود! یہ میرے ساتھ مکمل ایمان لے آئے تھے۔ پس آیت ”بل رفعہ اللہ الیہ (النساء:١٥٧)“ سے ثابت ہو گیا کہ ابن مریم کو خداوند عالم نے بلاشک آسمان پر اٹھایا ہوا ہے۔ لہٰذا آپ ازروئے قرآن مجید اور احادیث شریف و معتبر تفاسیر و اقوال صحابہ کرام و آئمہ اربعہ زندہ ہیں۔
اے ہمارے پیدا کرنے والے حقیقی معبود! ہم تمام مسلمان تیرے دربار میں التجا کرتے ہیں کہ تو ہمیں دجالوں، کذابوں کے مکر و فریب سے محفوظ اور ہم سب کو اس راستہ پر چلا جس راستے کے لئے تیرے حبیب سردار مدینہ محمد مصطفیٰ ﷺ نے ہمیں نصیحت فرمائی۔ آمین ثم آمین!
٦٠
خاتم النبیین
دعوت الحق
بجواب نصرة الحق
حضرت مولانا حافظ حکیم عب
خاتم النبیین لا نبی بعدی
دعوت الحق رحمانی،
بجواب نصرۃ الحق قادیانی
حضرت مولانا حافظ حکیم عبداللطیف رحمۃ اللہ علیہ
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
جماعت قادیانی کے عقائد باطلہ
- نمبر ١ ...... ”اللہ قیوم العالمین ایک ایسا وجود اعظم ہے کہ جس کے بے شمار ہاتھ پیر اور ہر ایک عضو
اس کثرت سے ہے کہ تعداد سے خارج اور لا انتہا عرض اور طول رکھتا ہے اور ٹینڈوے کی طرح اس وجود اعظم کی تاریں بھی ہیں۔“
(کتاب توضیح المرام ص ٧٥، خزائن ج ٣ ص ٩٠)
- نمبر ٢ ...... ”دانیال نبی نے میرا نام میکائیل رکھا۔ عبرانی زبان میں لفظی معنی میکائیل کے ہیں
یعنی خدا کی مانند۔“
(کتاب اربعین نمبر ٣ ص ٢٥، خزائن ج ١٧ ص ٤١٣)
- نمبر ٣ ...... ”میرے بھائی صاحب مرزا غلام قادر میرے قریب بیٹھ کر بآواز بلند قرآن کریم پڑھ
رہے ہیں اور پڑھتے پڑھتے انہوں نے ان فقرات کو پڑھا کہ ”اِنَّا اَنْزَلْنَاهُ قَرِيْباً مِّنَ الْقَادِیَان“ تو میں نے سن کر تعجب کیا کہ قادیان کا نام قرآن مجید میں لکھا ہوا ہے تب انہوں نے کہا یہ دیکھو لکھا ہوا ہے۔“
(ازالۃ اوہام ص ٧٧، خزائن ج ٣ ص ١٤٠)
- نمبر ٤ ...... ”حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) کا ذہنی ارتقاء آنحضرت ﷺ سے زیادہ تھا۔ اس
زمانہ میں تمدنی ترقی زیادہ ہوئی اور یہ جزوی فضیلت ہے جو آنحضرت مسیح موعود کو آنحضرت ﷺ پر حاصل ہے۔“
(ریویو قادیان جون ١٩٣٥ء)
- نمبر ٥ ...... ”کل مسلمان جو حضرت مسیح موعود کی بیعت میں شامل نہیں ہوئے، خواہ انہوں نے
حضرت مسیح موعود کا نام بھی نہیں سنا، وہ کافر ہیں اور دائرہ اسلام سے خارج ہیں۔“
(آئینہ صداقت ص ٣٥)
- نمبر ٦ ...... ”ہمارا یہ فرض ہے کہ غیر احمدیوں کو مسلمان نہ سمجھیں اور ان کے پیچھے نماز نہ پڑھیں۔“
(انوار خلافت ص ٩٠ از خلیفہ محمود احمد)
- نمبر ٧ ...... ”غیر احمدی مسلمانوں کا جنازہ پڑھنا جائز نہیں۔ حتیٰ کہ غیر احمدی معصوم بچے پر بھی
جنازہ پڑھنا جائز نہیں۔“
(انوار خلافت ص ٩٣)
- نمبر ٨ ...... ”اب جبکہ اجتہادی غلطی ہر ایک نبی اور رسول سے بھی ہوئی ہے تو ہم بطریق تنزل
کہتے ہیں کہ اگر ہم سے کوئی اجتہادی غلطی ہوئی بھی تو وہ سنت انبیاء ہے۔“
(تریاق القلوب ص ١٥٧ بقیہ حاشیہ متعلقہ نمبر ١٥، خزائن ج ١٥ ص ٢٩٠)
٢
- نمبر ٩ ...... ”پس جو میری جماعت میں داخل ہوا در
صحابہ میں داخل ہوا۔“
- نمبر ١٠ ...... ”هذا هو عيسى فتى الله الذى اد
علينا ان نؤمن بانه حى فى السماء ولم يم مژدہ خدا ہے کہ جس کا اشارہ قرآن میں ہے کہ وہ زندہ کہ وہ زندہ ہے بیچ آسمان کے اور نہیں ہے مردوں سے
- نمبر ١١ ...... ”اور نیک ہوں یا بد ہوں بار بار دنیا میں ا
خدا نے چاہا کہ جس قدر نیک اور راست باز مقدس نب کے نمونے ظاہر کئے جائیں سو وہ میں ہی ہوں۔“
(کتاب برا
- نمبر ١٢ ...... ”آپ (مسیح بن مریم) کا خاندان بھی
نانیاں آپ کی زنا کار اور کسبی عورتیں تھیں۔ جن کے کنجریوں سے میلان اور صحبت بھی شاید اسی وجہ سے پرہیز گار انسان ایک جوان کنجری کو یہ موقع نہیں دس لگائے اور زنا کاری کی کمائی کا پلید عطر اس کے سر پر م سمجھنے والے سمجھ لیں کہ ایسا انسان کس چلن کا آدمی ہو ت
- نمبر ١٣ ...... ”میں نے اپنے کشف میں دیکھا کہ میں
میرا اپنا ارادہ خیال اور کوئی عمل نہ رہا اور میں ایک سورا
مجھے معلوم وہ بد راز ہیں
چلو راہ مستقیم پر ا
کہ رہزن پھر رہے ہیں بھیس
٣
نمبر ٩...... ”پس جو میری جماعت میں داخل ہوا درحقیقت میرے سردار خیرالمرسلین محمد ﷺ کے صحابہ میں داخل ہوا۔“
(کتاب خطبہ الہامیہ ص ٧١، خزائن ج ١٦ ص ٢٥٩)
نمبر ١٠...... ”هذا هو موسى فتى الله الذى اشار الله فى كتابه الى حياته وفرض علينا ان نؤمن بانه حى فى السماء ولم يمت وليس من الميتين“ یعنی یہ وہی موسیٰ مرد خدا ہے کہ جس کا اشارہ قرآن میں ہے کہ وہ زندہ ہے اور فرض ہے اوپر ہمارے کہ ایمان لائیں کہ وہ زندہ ہے بیچ آسمان کے اور نہیں ہے مردوں سے۔
(نورالحق ج اول ص ٥٠، خزائن ج ٨ ص ٦٨، ٦٩)
نمبر ١١...... ”اور نیک ہوں یا بد ہوں بار بار دنیا میں ان کی امثال پیدا ہوتے ہیں اور اس زمانہ میں خدا نے چاہا کہ جس قدر نیک اور راست باز مقدس نبی گزر چکے ہیں ایک ہی شخص کے وجود میں ان کے نمونے ظاہر کئے جائیں سو وہ میں ہی ہوں۔“
(کتاب براہین احمدیہ حصہ پنجم ص ٩٨، خزائن ج ٢١ ص ١١٧، ١١٨)
نمبر ١٢...... ”آپ (مسیح بن مریم) کا خاندان بھی نہایت پاک اور مطہر ہے۔ تین دادیاں اور نانیاں آپ کی زنا کار اور کسبی عورتیں تھیں۔ جن کے خون سے آپ کا وجود ظہور پذیر ہوا۔ آپ کا کنجریوں سے میلان اور محبت بھی شاید اسی وجہ سے ہو کہ جدی مناسبت درمیان ہے۔ ورنہ کوئی پرہیزگار انسان ایک جوان کنجری کو یہ موقع نہیں دے سکتا کہ وہ اس کے سر پر اپنے ناپاک ہاتھ لگائے اور زنا کاری کی کمائی کا پلید عطر اس کے سر پر ملے اور اپنے بالوں کو اس کے پیروں پر ملے۔ سمجھنے والے سمجھ لیں کہ ایسا انسان کس چلن کا آدمی ہو سکتا ہے۔“
(ضمیمہ انجام آتھم ص ٧ حاشیہ، خزائن ج ١١ ص ٢٩١)
نمبر ١٣...... ”میں نے اپنے کشف میں دیکھا کہ میں خود خدا ہوں اور یقین کیا کہ میں وہی ہوں اور میرا اپنا ارادہ خیال اور کوئی عمل نہ رہا اور میں ایک سوراخدار برتن کی طرح ہو گیا۔“
(آئینہ کمالات ص ٥٦٤، خزائن ج ٥ ص ایضاً)
مجھے معلوم وہ وہ راز ہیں ان پارساؤں کے
کہ رہزن پھر رہے ہیں بھیس بدلے رہنماؤں کے
٣
برادران اسلام! جماعت قادیانی کے عقائد باطلہ مذکورہ بالا پڑھ کر آپ کو اچھی طرح معلوم ہو گیا ہوگا کہ جناب مرزا قادیانی بیماری مراق کی وجہ سے گرگٹ کی طرح ہزاروں رنگ بدلتے ہیں۔ لہٰذا آپ جیسا مراقی آدمی نبی ہونے کا حق دار نہیں ہو سکتا۔
(ذیل میں ٹائٹل پیج اول کی عبارت ملاحظہ ہو)
"هذا هو موسى فتى الله الذى اشار الله فى كتابه الى حياته و فرض علينا ان نؤمن بانه حى فى السماء لم يمت وليس من الميتين" ”یہ وہی موسیٰ مرد خدا ہے جس کی نسبت قرآن مجید میں اشارہ ہے کہ وہ زندہ ہے اور فرض ہے اوپر ہمارے کہ ایمان لائیں اس کی زندگی پر وہ نہیں مرا اور زندہ ہے بیچ آسمانوں کے اور نہیں ہے مردوں سے۔
(نورالحق جلد اول ص ٥٠، خزائن ج ٨ ص ٦٨، ٦٩)
"عن الحسن قال قال رسول الله ﷺ لليهود ان عيسى لم يمت و انه راجع اليكم قبل يوم القيامة " ”حسن بصریؒ سے مروی ہے کہ فرمایا نبی ﷺ نے واسطے یہود کے کہ ابن مریم فوت نہیں ہوئے۔ وہ لوٹ کر آنے والے ہیں قیامت سے پہلے۔“
(تفسیر ابن جریر ج سوم ص ٢٨٩)
ضروری التماس
برادران اسلام! آپ کو معلوم ہے کہ خاکسار نے (رسالہ ”خاتم النبیین“ شائع ہونے سے پیشتر) عیسیٰ علیہ السلام کی حیات جسمانی کے ثبوت میں رسالہ ”اظہار الحق“ طبع کرایا تھا اور جس کا جواب مولانا احمد علی صاحب مبلغ قادیانی سندھ نے ایک رسالہ نصرۃ الحق بجواب اظہار الحق ڈگری سندھ سے شائع کیا ہے۔ جس میں مولانا موصوف نے (بزعم خود) وفات مسیح علیہ السلام پر قرآن مجید سے چودہ دلائل پیش کرتے ہوئے اس بات کو ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ حضرت ابن مریم علیہ السلام معاذ اللہ آسمان پر نہیں گئے اور نہ خدائے کریم عیسیٰ علیہ السلام کو زندہ آسمان پر لے جانے کے لئے قادر ہے، بلکہ وہ بقول مرزا قادیانی سری نگر کشمیر میں ہی مدفون ہیں۔ اب اس کا جواب رسالہ ”دعوۃ الحق“ دیا جا رہا ہے۔
مولانا احمد علی قادیانی راقم ہیں کہ: ”حافظ صاحب نے سلسلہ احمدیہ کو تجارت اور دکانداری فرمایا مگر یہ پرانا اعتراض ہے جو آنحضرت ﷺ پر کیا گیا تھا اور جس کا جواب خداوند کریم نے یہ دیا (آیت) ”يرجون تجارة لن تبور (فاطر: ٢٩)“ ﴿بیشک تجارت ہے مگر ایسی روحانی تجارت ہے جس میں خسارہ نہیں، کیونکہ اس کا منافع جنت ہے۔﴾
(نصرۃ الحق ص ٥، مصنف احمد علی شاہ قادیانی)
٤
مولانا احمد علی قادیانی پر واضح ہو کہ اس تج قرآن کریم کے اندر ترغیب دلائی ہے۔ لیکن ہمارا ا
الذين آمنوا ان كثيرا من الاحبار و بالباطل و يصدون عن سبيل الله (الت
تحقیق بہت سے عالموں میں سے اور درویشوں کرتے ہیں خدا کی راہ سے۔ ﴾ (دوسری آیت) ”
بالهدى فما ربحت تجارتهم وما كانوا مه ہیں جنہوں نے خرید لیا گمراہی کو بدلے ہدایت کے نہ ہوئے وہ راہ پانے والے۔ ﴾
مولانا صاحب کیا یہ تجارت آپ کو فا بعد مولانا احمد علی قادیانی نے وفات مسیح علیہ السلا کئے ہیں۔
یعنی یہودیوں نے حضرت ابن مریم عل جس کے دوبارہ آنے کی ہمیں پیش گوئی دی گئی تھی ایلیا آنے والا تھا وہ یہی ہے۔ ”یعنی وہ زکریا کا بیٹا ایلیا نبی آسمان سے خود نہیں آیا بلکہ اس کا مثیل ہو ک طرح میں بھی خود نہ آؤں گا بلکہ میرے نام پر یحییٰ پید جائے گا۔ سو وہ آنے والا مثیل حضرت مرزا غلام احم
مولانا احمد علی نے اس عبارت میں فری دینے کی ناپاک کوشش کی ہے تاکہ یہ عبارت بھی ا لئے مولانا موصوف نے کوئی حوالہ پیش نہیں کیا۔۔
مولانا احمد علی نے بندہ کے رسالہ ”اظہ دیباچہ غالباً نہیں پڑھا۔ کیونکہ اس میں ایک حوالہ صاحب نے پہلے کوئی نہیں دیا۔ اب بھی نقل کرتا چند باتیں دریافت کرنا۔
٥
مولانا احمد علی قادیانی پر واضح ہو کہ اس تجارت کی تو خداوند کریم نے ہمیں بے شمار جگہ قرآن کریم کے اندر ترغیب دلائی ہے۔ لیکن ہمارا اشارہ اس تجارت سے ہے (آیت) ”يايها الذين آمنوا ان كثيرا من الاحبار والرهبان لياكلون اموال الناس بالباطل و يصدون عن سبيل الله (التوبه: ٣٤)“ ﴿اے لوگو! جو ایمان لائے ہو تحقیق بہت سے عالموں میں سے اور درویشوں سے البتہ کھاتے ہیں مال لوگوں کا ناحق اور بند کرتے ہیں خدا کی راہ سے۔﴾ (دوسری آیت) ”اولئك الذين اشتروا الضلالة بالهدى فما ربحت تجارتهم وما كانوا مهتدين (البقرة:١٦)“ ﴿یعنی یہ وہی لوگ ہیں جنہوں نے خرید لیا گمراہی کو بدلے ہدایت کے، پس نہ فائدہ دیا ان کو ان کی تجارت نے اور نہ ہوئے وہ راہ پانے والے۔﴾
مولانا صاحب کیا یہ تجارت آپ کو فائدہ مند ثابت ہوگی یا کہ نقصان دہ؟ اس کے بعد مولانا احمد علی قادیانی نے وفات مسیح علیہ السلام پر (بزعم خود) انجیل سے کئی ثبوت بھی پیش کئے ہیں۔
یعنی یہودیوں نے حضرت ابن مریم علیہ السلام سے سوال کیا تھا کہ وہ ایلیا کہاں ہے جس کے دوبارہ آنے کی ہمیں پیش گوئی دی گئی تھی۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے جواب دیا کہ ”جو ایلیا آنے والا تھا وہ یہی ہے“ یعنی وہ زکریا کا بیٹا ہے۔ (حوالہ انجیل متی باب ١١ آیت ١٤) جس طرح ایلیا نبی آسمان سے خود نہیں آیا بلکہ اس کا مثیل ہو کر یحییٰ نبی آ گیا ہے اور اس کو دکھ دیا گیا۔ (اسی طرح میں بھی خود نہ آؤں گا بلکہ میرے نام پر نئی پیدائش میں میرا مثیل آئے گا) اور اس کو بھی دکھ دیا جائے گا۔ سو وہ آنے والا مثیل حضرت مرزا غلام احمد قادیانی ہیں۔
(نصرۃ الحق ص٦، مصنفہ احمد علی شاہ قادیانی)
مولانا احمد علی نے اس عبارت میں فریب دہی سے کام لیا ہے اور عوام الناس کو دھوکہ دینے کی ناپاک کوشش کی ہے تا کہ یہ عبارت بھی انجیل ہی کی سمجھی جائے۔ حالانکہ اس عبارت کے لئے مولانا موصوف نے کوئی حوالہ پیش نہیں کیا۔
مولانا احمد علی نے بندہ کے رسالہ ”اظہار الحق“ کا جواب لکھنے میں تو قلم اٹھایا مگر اس کا دیباچہ غالباً نہیں پڑھا۔ کیونکہ اس میں ایک حوالہ انجیل کا موجود ہے۔ جس کا جواب مولانا احمد علی صاحب نے پہلے کوئی نہیں دیا۔ اب بھی نقل کرتا ہوں، ملاحظہ ہو۔ یعنی حواریوں کا ابن مریم سے چند باتیں دریافت کرنا۔
٥
”اور جب وہ زیتون کے پہاڑ پر بیٹھا تھا اس کے شاگردوں نے الگ اس کے پاس آ کر کہا۔ ہم کو بتاؤ کہ یہ باتیں کب ہوں گی اور تیرے آنے اور دنیا کے آخر ہونے کا کیا نشان ہو گا۔ یسوع نے جواب میں ان سے کہا کہ خبردار کوئی تم کو میرے نام سے گمراہ نہ کر دے۔ کیونکہ بہتیرے میرے نام سے آئیں گے اور کہیں گے میں مسیح ہوں اور بہت سے لوگوں کو گمراہ کریں گے۔۔۔۔۔ اور ایک دوسرے سے عداوت رکھیں گے۔“
(حوالہ انجیل متی باب ٢٤ آیت ٣ تا ٦ مطبوعہ امرت پریس ریلوے روڈ لاہور)
بیشک حضرت ابن مریم علیہ السلام کے فرمان کے مطابق جناب مرزا قادیانی کاذب ہیں۔ مرزا قادیانی راقم ہیں کہ ”آنحضرت ﷺ فرماتے ہیں کہ مسیح میری قبر میں دفن ہوگا وہ میں ہی ہوں۔“
(حوالہ کشتی نوح ص ١٥، خزائن ج ١٩ ص ١٦)
مولانا احمد علی صاحب کو معلوم ہو کہ کتاب انجیل کی رو سے بھی جناب مرزا غلام احمد قادیانی کاذب ہیں۔ مولانا احمد علی قادیانی راقم ہیں کہ ”حافظ صاحب کے رسالہ کو دیکھ کر جہاں ہمیں اس بات کی خوشی ہوئی کہ آپ نے علمی رنگ میں قدم اٹھایا وہاں اس امر سے افسوس بھی ہوا کہ آپ نے اس رسالہ میں سخت کلامی اور طعن وتشنیع سے کام لیا ہے اور ہم اپنے امام کی ہدایت کے مطابق آپ کے حق میں دعا کرتے ہیں:
رحم ہے جوش میں اور غیظ گھٹایا ہم نے“
(نصرۃ الحق ص٧، مصنف احمد علی شاہ قادیانی)
مولانا احمد علی شاہ نے تو واقعی رحمدلی دکھائی۔ مگر آپ کے امام صاحب کا حال دیکھئے۔
”مولوی سعد اللہ حرامزادہ ہے۔“ (حوالہ اخبار الفضل ٢٢ جولائی ١٩٣٣ء) ”مولوی ثناء اللہ کتا۔“ (اعجاز احمدی ص ٢٣، خزائن ج ١٩ ص ١٣٢) ”بدبخت مولویوں کا منہ کالا۔“ (ضمیمہ انجام آتھم ص ٥٨، خزائن ج ١١ ص ٣٤٢) ”جو شخص ہماری فتح کا قائل نہیں ہوگا تو صاف سمجھا جائے گا کہ اس کو ولد الحرام بننے کا شوق ہے۔ حرام زادوں کی یہی نشانی ہے۔“ (انوار الاسلام ص ٣٠، خزائن ج ٩ ص ٣١) ”مولوی ثناء اللہ ابو جہل۔“
(ضمیمہ حقیقت الوحی ص ٢٦، خزائن ج ٢٢ ص ٤٥٨)
تیرے قول و فعل کا ہرگز نہیں کچھ اعتبار
٦
مذکورہ بالا حوالہ جات سے معلوم ہوا کہ م کے خلاف عمل کیا۔ کیونکہ امام صاحب کا فعل تو مخالفو
اب میں مولانا صاحب سے گذارش کر جناب امام مرزا غلام احمد قادیانی کیا متحمل مزاج تھے باتیں کرنا نبی کے شان سے بعید ہے۔
ہم اپنے حقیقی معبود، وحدہ لاشریک کے ح فتنہ قادیانی یعنی مرزائیت سے محفوظ رکھ کر حضور آقا میں اپنی چند روزہ زندگیوں کو گزارنے کی توفیق عطا ف
”اللهم صل على محمد وعلى جميع الانبياء والمرسلين وعلى ع الراحمين“ ہر شخص اس کتاب کو طبع و شائع کر سکتا ہ
الداعی الی الخیر ...... حافظ عبد
نوٹ ..... مولانا احمد علی صاحب نے اپنے امام کی سخت تکذیب کی ہے۔
حیات مسیح علیہ السلام کی پہلی دلیل
۔ "واذ علمتك الكتاب والحك الطين كهيئة الطير باذني فتنفخ فيها فت برص باذني واذ تخرج الموتى باذني وا بالبينت فقال الذين كفروا منهم ان هذا ا
﴿اور جس وقت کہ سکھلائی میں نے ت وقت بناتا تھا تو مٹی سے مانند صورت جانوروں کی اس کے پس ہو جاتا تھا پرندہ ساتھ حکم میرے کے او والوں کو ساتھ حکم میرے کے اور جس وقت نکالا تھا تو روکا میں نے بنی اسرائیل کو تجھ سے اور جب لایا تھا جو کافر ہوئے ان میں سے نہیں یہ مگر جادو ظاہر ۔﴾
٧
مذکورہ بالا حوالہ جات سے معلوم ہوا کہ مولانا احمد علی صاحب نے اپنے امام کی عادت کے خلاف عمل کیا۔ کیونکہ امام صاحب کا فعل تو مخالفوں کو گالیاں دینا ہے۔
اب میں مولانا صاحب سے گذارش کرنے میں حق بجانب ہوں کہ آپ کے امام جناب امام مرزا غلام احمد قادیانی کیا متحمل مزاج تھے یا غلیظ المزاج؟ مولانا احمد علی صاحب ایسی باتیں کرنا نبی کی شان سے بعید ہے۔
ہم اپنے حقیقی معبود، وحدہ لاشریک کے دربار میں دعا کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ہمیں اس فتنہ قادیانی یعنی مرزائیت سے محفوظ رکھ کر حضور آقائے نامدار حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی اطاعت میں اپنی چند روزہ زندگیوں کو گزارنے کی توفیق عطا فرمائے، آمین ثم آمین!!
"اللهم صل على محمد وعلى ال محمد وبارك وسلم وصل على جميع الانبياء والمرسلين وعلى عباد الله الصالحين، برحمتك يا ارحم الراحمين" ہر شخص اس کتاب کو طبع و شائع کر سکتا ہے۔
الداعی الی الخیر ...... حافظ عبد اللطیف عفی عنہ ...... ٤؍ فروری ١٩٥٣ء
نوٹ ...... مولانا احمد علی صاحب نے اپنے امام کی عادت کے خلاف عمل کر کے سنت مرزائیہ کی سخت تکذیب کی ہے۔
حیات مسیح علیہ السلام کی پہلی دلیل
۔ " واذ علمتك الكتاب والحكمة والتوراة والانجيل واذ تخلق من الطين كهيئة الطير باذنى فتنفخ فيها فتكون طيرا باذنى وتبرئ الاكمه والا برص باذنى واذ تخرج الموتى باذنى واذ كففت بنى اسرائيل عنك اذ جئتهم بالبيّنت فقال الذين كفروا منهم ان هذا الا سحر مبين (المائده: ١١٠) "
﴿اور جس وقت کہ سکھلائی میں نے تم کو کتاب اور حکمت اور توراۃ اور انجیل اور جس وقت بناتا تھا تو مٹی سے مانند صورت جانوروں کی کے ، ساتھ حکم میرے کے، پس پھونکتا تھا تو بیچ اس کے پس ہو جاتا تھا پرندہ ساتھ حکم میرے کے اور اچھا کرتا تھا تو مادر زاد اندھوں کو اور سفید داغ والوں کو ساتھ حکم میرے کے اور جس وقت نکالتا تھا تو مردوں کو ساتھ حکم میرے کے اور جس وقت روکا میں نے بنی اسرائیل کو تجھ سے اور جب لایا تھا تو ان کے پاس دلیلیں۔ پس کہا ان لوگوں نے جو کافر ہوئے ان میں سے نہیں یہ مگر جادو ظاہر۔﴾
٧
یعنی اللہ تعالیٰ نے حضرت مریم کو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی خوشخبری میں کہا تھا کہ اس کو کتاب اور حکمت اور توراۃ اور انجیل سکھاؤں گا۔ لہٰذا قرآن مجید کے اندر جہاں بھی کتاب اور حکمت کا اکٹھا ذکر بصیغہ مضارع آیا ہے۔ وہاں پر سوائے قرآن کریم اور سنت رسول ﷺ کے اور کچھ مراد نہیں۔ جیسے فرمایا تھا: ”ویعلمہ الکتاب والحکمة والتوراة والانجيل (آل عمران:٤٨)“ ﴿اور سکھلائے گا اس کو کتاب اور حکمت اور توراۃ اور انجیل۔﴾ لہٰذا قیامت کے دن اللہ تبارک وتعالیٰ اس احسان کو پھر یاد کرائے گا کہ اے عیسیٰ وہ احسان یاد کر جو میں نے تجھے کتاب یعنی قرآن مجید اور حکمت یعنی سنت محمد ﷺ اور توراۃ اور انجیل سکھلائی تھی۔ کیونکہ کتاب سے مراد قرآن کریم اور حکمت سے مراد سنت رسول اللہ ﷺ ہی کی طرف اشارہ ہے۔ کیونکہ قرآن کریم میں جس جگہ بھی کتاب اور حکمت کا ذکر بصیغہ مضارع یکجا کیا گیا ہے۔ وہاں پر سوائے قرآن کریم اور سنت نبوی ﷺ کے اور کوئی مطلب نہیں۔ لہٰذا مذکورہ بالا تشریحات سے معلوم ہوا کہ حضرت ابن مریم علیہ السلام اپنی رسالت کے وقت توراۃ اور انجیل تو خداوند عالم سے سیکھ چکے۔ اب نازل ہونے کے وقت قرآن کریم اور سنت نبوی کا علم بھی اللہ تعالیٰ سے پڑھ کر آئیں گے۔
معلوم ہوا کہ فی الحال بلاشک آسمان پر زندہ ہیں۔ اگر بقول جماعت قادیانی یہ تصور کر لیا جائے کہ آپ فوت ہوچکے تو معاذ اللہ قرآن کریم کی ان آیتوں پر رولا زم آئے گی۔ (٢) انجیل اور قرآن کریم اور احادیث وغیرہ سے مکمل ظاہر ہے کہ حضرت ابن مریم علیہ السلام کو اللہ تبارک وتعالیٰ نے یہ چند معجزے عطا فرما کر بنی اسرائیل کی طرف رسول بنا کر مبعوث فرمایا تھا۔
مثلاً مٹی کی تصویر بنا کر پھر اللہ تبارک وتعالیٰ کے حکم سے اس میں پھونک دینا اور اس کا پرندہ کی طرح اڑ جانا۔ مادر زاد اندھوں کو اللہ تبارک وتعالیٰ کے حکم سے اچھے کرنا۔ بیماری برص یعنی سفید داغ کو اچھا کرنا۔ مردوں کو اللہ تعالیٰ کے حکم سے زندہ کرنا، ان معجزوں میں شک کرنا شیوہ کفار ہے۔ کیونکہ جس وقت یہ چند معجزے حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے یہودیوں کو دکھلائے تو انہوں نے دیکھ کر کہا یہ تو کھلا جادو ہے۔ پس وہ کافر ہوگئے۔
حالانکہ اس کے پہلے بھی اللہ تبارک وتعالیٰ نے اس قسم کا ذکر قرآن کریم میں بیان فرمایا ہے۔ اس لئے ہدایت کے طور پر اطلاع کردی۔ جیسے آیت: ”سنة الله التي قد خلت من قبل، ولن تجد لسنة الله تبديلا (الفتح:٢٣)“ ﴿تحقیق جو گزر چکی ہے عادت اللہ تعالیٰ کی
اس سے پہلے بھی اور ہرگز نہ پائے گا تو اس کی عاد السلام نے عرض کی کہ اے باری تعالیٰ: ”اذ قال ا قال اولم تؤمن قال بلیٰ ولکن لیطمئن ق الیک ثم اجعل علی کل جبل منھن جزء ا ث ﴿اور جب کہا حضرت ابراہیم علیہ السل زندہ کرتا ہے تو مردوں کو کہا کیا نہیں ایمان لایا تو پکڑے دل میرا، کہا پس لے چار جانوروں سے پھ ہر پہاڑ کے ان میں سے ایک ایک ٹکڑا پھر بلاؤ ان ک
لہٰذا فرمان الٰہی کے مطابق جناب س ذبح کرکے ان کے ٹکڑوں کو جدا جدا پہاڑوں پر رکھ اور تیسرے پر ان کے پاؤں اور چوتھے پر ان کے وتعالیٰ کے حکم سے زندہ ہوکر آپ کی طرف دوڑنے حکیم (البقرۃ:٢٦٠)“ یعنی جان لے کہ تحقیق
اگر بھلا بطور معجزے اسی طرح حضر کہ اللہ تعالیٰ کے نام سے ان میں پھونک دیا ہو مشکل امر ہے؟ مگر جماعت قادیانی اس چیز کو معجزے عجیب وغریب تھے اور جناب مرزا غلام نہیں کی ہوگی۔ کیونکہ وہ تو خود ہزاروں قسم کی بیمار تسلیم کرسکتے ہیں؟ کہ:
- ......١ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنے
نمرودیوں نے آپ کو آگ میں ڈالا تو صحیح سلامت
- ......٢ یا حضرت موسیٰ علیہ السلام کا عصا لکڑ
- ......٣ یا حضرت عزیر علیہ السلام کو اللہ تبارک
پھر زندہ کیا۔
- ......٤ مادر زاد اندھے اور برص کی بیماری وال
ہو جایا کرتے تھے۔
٨
اس سے پہلے بھی اور ہرگز نہ پائے گا تو اس کی عادت کو بدلی جانا۔﴾ یعنی سیدنا حضرت ابراہیم علیہ السلام نے عرض کی کہ اے باری تعالیٰ: ”اذ قال ابراهيم رب ارنى كيف تحيى الموتى قال اولم تؤمن قال بلى ولكن ليطمئن قلبى قال فخذ اربعة من الطير فصرهن اليك ثم اجعل على كل جبل منهن جزءا ثم ادعهن ياتينك سعيا (البقرة: ٢٦٠)“ ﴿اور جب کہا حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اے رب میرے، دکھلا دے مجھ کو کیونکر زندہ کرتا ہے تو مردوں کو کہا کیا نہیں ایمان لایا تو، کہا ہاں ایمان لایا ہوں میں، لیکن تا کہ اطمینان پکڑے دل میرا، کہا پس لے چار جانوروں سے پس صورت پہچان رکھ طرف اپنے پھر کر دے اوپر ہر پہاڑ کے ان میں سے ایک ایک ٹکڑا پھر بلاؤ ان کو چلے آویں گے تیرے پاس دوڑتے۔﴾
لہٰذا فرمان الٰہی کے مطابق جناب سیدنا حضرت ابراہیم خلیل اللہ نے چار جانوروں کو ذبح کر کے ان کے ٹکڑوں کو جدا جدا پہاڑوں پر رکھا۔ مثلاً ایک پہاڑ پر پَر اور دوسرے پر ان کے دھڑ اور تیسرے پر ان کے پاؤں اور چوتھے پر ان کے سر۔ پھر کھڑے ہو کر آوازیں دیں تو اللہ تبارک وتعالیٰ کے حکم سے زندہ ہو کر آپ کی طرف دوڑتے آئے۔ پھر فرمایا: ”واعلم ان الله عزيز حكيم (البقرة: ٢٦٠)“ یعنی جان لے کہ تحقیق اللہ تعالیٰ زبردست حکمت والا ہے۔
اگر بھلا بطور معجزے اسی طرح حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے بھی مٹی کی چڑیاں وغیرہ بنا کر اللہ تعالیٰ کے نام سے ان میں پھونک دیا ہو اور وہ اڑتی ہوں تو کیا یہ اللہ تعالیٰ کے لئے کوئی مشکل امر ہے؟ مگر جماعت قادیانی اس چیز کو مشکل سمجھتی ہے۔ اس لئے کہ سابقہ رسولوں کے معجزے عجیب وغریب تھے اور جناب مرزا غلام احمد قادیانی نے تو کسی مرغے کی ٹانگ بھی سیدھی نہیں کی ہوگی۔ کیونکہ وہ تو خود ہزاروں قسم کی بیماریوں میں مبتلا تھے تو پھر ان کے ماننے والے کیونکر تسلیم کر سکتے ہیں؟ کہ:
- ......١ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنے مشاہدہ میں چار جانوروں کو زندہ ہوتے دیکھا اور
نمرودیوں نے آپ کو آگ میں ڈالا تو صحیح سلامت نکلے۔
- ......٢ یا حضرت موسیٰ علیہ السلام کا عصا لکڑی کا بطور معجزہ سانپ بن جایا کرتا تھا۔
- ......٣ یا حضرت عزیر علیہ السلام کو اللہ تبارک وتعالیٰ نے موت دے کر ایک سو سال کے بعد
پھر زندہ کیا۔
- ......٤ مادر زاد اندھے اور برص کی بیماری والے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے ہاتھوں سے اچھے
ہو جایا کرتے تھے۔
٩
مولانا احمد علی صاحب! آپ انجیل سے کافی حوالے پیش کرتے آرہے ہیں۔ آئیے، میں بھی تصدیق میں انجیل کو جناب کے سامنے پیش کرتا ہوں، دیکھئے۔
”اور جب یسوع سردار کے گھر آیا اور بانسری بجانے والا اور بھیڑ کو غل مچاتے دیکھا تو کہا ہٹ جاؤ کیونکہ لڑکی مری نہیں ہے۔ بلکہ سوتی ہے وہ اس پر ہنسنے لگے مگر جب بھیڑ نکال دی گئی تو اس نے اندر جا کر اس کا ہاتھ پکڑا اور لڑکی اٹھی اور اس بات کی شہرت تمام علاقہ میں پھیل گئی اور جب یسوع وہاں سے آگے بڑھا تو دو اندھے اس کے پیچھے پکارتے ہوئے چلے کہ اے ابن داؤد ہم پر رحم کر۔ جب وہ گھر میں پہنچا تو وہ اندھے اس کے پاس آئے اور یسوع نے ان سے کہا کہ کیا تم کو اعتقاد ہے کہ میں یہ کر سکتا ہوں؟ انہوں نے ان سے کہا کہ ہاں خداوند! تب اس نے ان کی آنکھیں چھو کر کہا کہ تمہارے اعتقاد کے موافق تمہارے لئے ہو اور ان کی آنکھیں کھل گئیں۔“
(حوالہ انجیل متی باب ٩ آیت ٢٣ تا ٣٠ مطبوعہ امرت پریس لاہور)
مولانا صاحب حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے ان معجزوں کی کیفیت قرآن کریم و کتاب انجیل سے تو پیش کر آیا ہوں۔ اب آپ اپنے ائمہ دین مسیح کی زبانی بھی سن لیجئے۔ چنانچہ مرزا قادیانی راقم ہیں۔
مسیح علیہ السلام کے معجزوں کے متعلق مرزا قادیانی کا باطل ایمان
”یہ حضرت مسیح کا معجزہ پرندے بنا کر ان میں پھونک مار کر اڑانا ، حضرت سلیمان کے معجزہ کی طرح صرف عقلی تھا۔ تاریخ سے ثابت ہے کہ ان دنوں ایسے امور کی طرف لوگوں کے خیالات جھکے ہوئے تھے کہ جو شعبدہ بازی کی قسم میں سے دراصل بے سود اور عوام کو فریفتہ کرنے والے تھے۔“
(ازالہ اوہام ص ٣٠٢، خزائن ج ٣ ص ٢٥٤)
”اس سے کچھ تعجب نہ کرنا چاہئے کہ حضرت مسیح علیہ السلام نے اپنے دادا سلیمان کی طرح اس وقت مخالفین کو یہ عقلی معجزہ دکھایا اور ایسا معجزہ دکھانا عقل سے بعید بھی نہیں۔ کیونکہ زمانہ حال میں بھی دیکھا جاتا ہے کہ اکثر صناع ایسی چڑیاں بناتے ہیں کہ وہ بولتی ہیں اور دم ہلاتی ہیں۔ سنا ہے بعض چڑیاں کل کے ذریعہ پرواز بھی کرتی ہیں۔ بمبئی اور کلکتہ میں ایسے کھلونے بہت ملتے ہیں اور یورپ و امریکہ میں بکثرت ہیں اور ہر سال نئے نئے نکلتے ہیں۔“
(ازالہ اوہام ص ٣٠٣، خزائن ج ٣ ص ٢٥٥)
”اور یہود تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے معاملہ میں اور ان کی پیش گوئیوں کے متعلق اور ایسے قوی اعتراض رکھتے ہیں کہ ہم بھی ان کا جواب دینے سے حیران ہیں۔ بغیر اس کے یہ کہہ
١٠
دیں کہ ضرور عیسیٰ نبی ہیں۔ کیونکہ قرآن نے ا قائم نہیں ہوسکتی۔ بلکہ ابطال نبوت پر کئی دلائل نبیوں کے دفتر میں لکھ دیا۔“
مولانا احمد علی صاحب! بقول مرز ابن مریم علیہ السلام کا آسمان پر چلا جانا کوئی تجربہ کر رہے ہیں کہ زہرہ اور مشتری چاند وغیرہ ہے کہ ان کو بھی کئی مشکلوں کے بعد کامیابی نصی ہے۔ مرتب!)
”واذ كففت بنى اسر خازن میں راقم ہیں: ”واذا كففت بنی ا كففت وصرفت عنك اليهود و بالبينت يعنى بالدلالات الواضح هذا الاية وذلك ان عيسى عليه ا الباهرة قصد اليهود قتله خلصه ا
”اور یاد کر اے عیسیٰ علیہ السلام کئے تھے میں نے تجھ سے یہود اور روکا میں ۔ لایا تھا تو ان کے پاس دلائل واضح طور پر او جب حضرت عیسیٰ علیہ السلام لائے ان کے کرنے کا۔ پس نجات دی اللہ تعالیٰ نے اس کے۔“
ان تمام مذکورہ بالا حوالہ جات ۔ مریم علیہ السلام کو یہودیوں کے قتل سے بچا
وفات مسیح علیہ السلام پر پہلی دلیل ۔
اعتراض مولانا احمد علی قادیانی
”ولكم في الارض مست
دیں کہ ضرور عیسیٰ نبی ہیں۔ کیونکہ قرآن نے ان کو نبی قرار دیا ہے اور دلیل کوئی بھی اس کی نبوت پر قائم نہیں ہو سکتی۔ بلکہ ابطال نبوت پر کئی دلائل قائم ہیں۔ یہ احسان قرآن کا ان پر ہے کہ ان کو بھی نبیوں کے دفتر میں لکھ دیا۔
(اعجاز احمدی ص ١٣، خزائن ج ١٩ ص ١٢٠)
مولانا احمد علی صاحب! بقول مرزا غلام احمد قادیانی کے ہماری مکمل تسلی ہو گئی کہ حضرت ابن مریم علیہ السلام کا آسمان پر چلا جانا کوئی مشکل امر نہیں کیونکہ آج بھی سائنسدان اس بات کا تجربہ کر رہے ہیں کہ زہرہ اور مشتری چاند وغیرہ میں جا کر وہاں کے حالات دیکھے جائیں۔ کیا تعجب ہے کہ ان کو بھی کئی مشکلوں کے بعد کامیابی نصیب ہو ہی جائے۔ (اب تو دنیا چاند و مریخ پر پہنچ چکی ہے۔ مرتب!)
”واذ كففت بنى اسرائيل عنك اذ جئتهم بالبينت“ زیر آیت تفسیر خازن میں راقم ہیں: ”واذ كففت بنى اسرائيل عنك يعنى واذكر نعمتى عليك اذ كففت وصرفت عنك اليهود و منعتك منهم حين ارادوا قتلك اذ جئتهم بالبينت يعنى بالدلالات الواضحات والمعجزات الباهرات التى ذكرت في هذه الآية وذلك ان عيسىٰ عليه السلام لما اتى بهذه المعجزات العجيبة الباهرة قصد اليهود قتله مخلصه الله منهم ورفعه الى السماء“
(تفسیر خازن ج ١ ص ٥٣٩)
”اور یاد کر اے عیسیٰ علیہ السلام! اس نعمت کو جو کی گئی تھی اوپر تیرے کہ جس وقت بند کئے تھے میں نے تجھ سے یہود اور روکا میں نے ان کو جبکہ ارادہ کیا تھا انہوں نے تیرے قتل کا، جب لایا تھا تو ان کے پاس دلائل واضح طور پر اور معجزات تھے چمکتے ہوئے، بیچ اس آیت کے ہے کہ جب حضرت عیسیٰ علیہ السلام لائے ان کے پاس عجیب عجیب معجزے تو ارادہ کیا یہودیوں نے قتل کرنے کا۔ پس نجات دی اللہ تعالیٰ نے اس کو یعنی اٹھا لیا حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو طرف آسمان کے۔“
ان تمام مذکورہ بالا حوالہ جات سے روشن ہوا کہ واقعی اللہ تبارک وتعالیٰ نے حضرت ابن مریم علیہ السلام کو یہودیوں کے قتل سے بچا کر آسمان پر اٹھا لیا۔ آپ زندہ ہیں۔
وفات مسیح علیہ السلام پر پہلی دلیل کی بیخ کن تردید
اعتراض مولانا احمد علی قادیانی
”ولكم في الارض مستقر ومتاع الى حين (البقرة: ٣٦)“ کہ تم اپنے
١١
خاکی جسم کے ساتھ زمین پر رہو گے، یہاں تک کہ اپنی تمتع کے دن پورے کر کے مر جاؤ گے۔﴿
”یہ آیت جسم خاکی کو آسمان پر جانے سے روکتی ہے۔ کیونکہ اول تو یہاں ’لکم‘ فائدہ تخصیص کا دیتا ہے۔ دوسرے ”فی الارض“ ظرف مقدم ہو کر اس بات پر بصراحت دلالت کرتا ہے کہ جسم خاکی آسمان پر نہیں جا سکتا۔ چونکہ حضرت مسیح علیہ السلام بھی اس قانون کے تابع تھے۔ اس لئے ثابت ہوا کہ آپ بھی عام انسانوں کی طرح زمین پر ہی طبعی عمر پوری کر کے فوت ہو چکے ہیں۔“
(حوالہ نصرة الحق ص ٨ مصنفہ احمد علی شاہ قادیانی)
جواب اوّل
”ولکم فیها منافع ومشارب افلا تشکرون“ ﴿اور تمہارے لئے (ان چار پاؤں میں) منافع اور پینے کے لئے دودھ ہے۔ کیا پس نہیں شکر کرتے۔﴾
اگر آیت ”ولکم فی الارض“ سے جسم خاکی کا آسمان پر جانا منع ہے تو آیت ہذا میں سوائے چار پاؤں کے دودھ اور منافع دیگر کسی چیز سے ہمیں حاصل نہیں ہو سکتا اور ان کے سوا اور کسی چیز میں نہ تو منافع اور نہ کسی اور چیزوں کا دودھ استعمال کر سکتے ہیں۔ بلکہ تمام دنیا کے پانی پینے بھی منع ہو گئے۔ کیونکہ پیش کردہ آیت میں مقید بحصر ہے تو ہذا آیت میں منافع اور مشارب بھی وہی حکم رکھتا ہے۔ حالانکہ ہم کنوؤں اور نہروں اور تالابوں وغیرہ سے پانی پیتے ہیں اور جملہ اشیاء سے نفع حاصل کرتے ہیں۔ چار پاؤں کی کوئی خصوصیت نہیں۔
کیونکہ بقول آپ کے اس آیت میں حصر ہے۔ سوائے چار پاؤں کے ہمیں اور کسی چیز کا نفع حاصل نہیں۔ خواہ کوئی بچے کی ماں ہو وہ دودھ نہیں پلا سکتی۔ کیونکہ مشارب کا لفظ اس سے بھی روکتا ہے۔ اگر ’لکم‘ فائدہ حصر کا دیتا ہے تو غالباً یہ حصر مسند الیہ ”مستقرا“ کا مسند ہوگا۔ جیسا کہ مختصر معانی (ص ١٠٣) اور مطول سے مفہوم ہوتا ہے۔ تو بتلائیے اس حصر کا مطلب کیا ہوگا اور آیت پیش کردہ کے کیا معنی ہوں گے۔ وہی جو مختصر معانی میں لکھے ہیں۔
”لافیها غول بخلاف خمور الدنيا فان فيها غول“ (حوالہ مختصر معانی ص ١٠٣) یعنی تمہارے لئے ہی زمین میں مستقر او جگہ ہے نہ کہ کسی اور جاندار کے لئے۔ پھر بھلا حصر مذکورہ سے سوائے انسان کے جو لکم کے مخاطب ہیں۔ کسی جاندار کی جگہ نہیں۔ ہاں اگر آپ کے ایجاد کردہ معنی ہوتے تو بیشک کلام خداوندی میں ”فی الارض“ مقدم ہوتا اور آیت پیش کردہ کی ترتیب یوں ہوتی۔
١٢
”فی الارض مستقرا ومتاع الـ تشریحات سے ثابت ہوا کہ واقعی حضرت مسیح علیہ السلا آسمان پر تشریف فرما ہیں۔
جواب دوم
”احل لکم صید البحر وطعامه متـ ﴿حلال کئے گئے واسطے تمہارے شکار دریاؤں کے اور واسطے مسافروں کے۔﴾
اب دریافت طلب یہ ہے کہ ان دریاؤں کے یہ حلال ہیں؟ مثلاً مینڈک، کچھوا، سنسار، جونک وغیرہ وغیـ ان کا کھانا کیوں جائز نہیں؟ کیونکہ یہ جانور بالاتفاق اہل کا کھانا جائز نہیں رکھتا۔
اگر ہاں جناب مرزا غلام احمد قادیانی نے الـ حالانکہ آیت مذکورہ بالا میں اللہ تبارک و تعالیٰ کا فرمان مو حلال کر دیا گیا۔ بلکہ تمہیں اس میں فائدے ہیں۔ پھر یہـ کے دوسرے تمام جانوروں کو حرام سمجھا جاتا ہے۔ ان جانو گیا ہے؟ اگر ان کو مستثنیٰ کرنا اس آیت سے جائز سمجھتے ہو السلام بھی آپ کی آیت ”ولکم فی الارض“ سے مسـ سے قرآن مجید کی آیت پر ہرگز زد نہیں آسکتی۔
حیات مسیح علیہ السلام کی دوسری دلیل
”ومکروا ومکر الله والله خیر الما یہود نے کہ عیسیٰ علیہ السلام کو قتل کر دیا جائے اور اللہ تبارک اور اللہ بہتر تدبیریں کرنے والا ہے۔﴾
جس طرح یہودیوں نے حضرت عیسیٰ علیہ الـ قتل کر دیا جائے۔ (بعینہ) کفار مکہ نے بھی حضرت محمدﷺ ذکر قرآن کریم میں موجود ہے، ملاحظہ ہو۔
١٣
”في الارض مستقرا ومتاع الى حين (البقرة:٣٦)“ لہٰذا مذکورہ بالا تصریحات سے ثابت ہوا کہ واقعی حضرت مسیح علیہ السلام آیت پیش کردہ سے مستثنیٰ ہو کر بجسم خاکی آسمان پر تشریف فرما ہیں۔
جواب دوم
”احل لكم صيد البحر وطعامه متاعا لكم وللسيارة (المائدہ:٩٦)“ ﴿حلال کئے گئے واسطے تمہارے شکار دریاؤں کے اور کھانا ان کا فائدہ ہے واسطے تمہارے اور واسطے مسافروں کے۔﴾
اب دریافت طلب یہ ہے کہ ان دریاؤں کے اندر جو بھی ذی روح جانور موجود ہیں کیا یہ حلال ہیں؟ مثلاً مینڈک، کچھوا، سنسار، جونک وغیرہ وغیرہ۔ اگر یہ ”صید البحر“ ہیں تو پھر ان کا کھانا کیوں جائز نہیں؟ کیونکہ یہ جانور بالاتفاق اہل اسلام کے حرام ہیں۔ کوئی بھی مسلمان ان کا کھانا جائز نہیں رکھتا۔
اگر ہاں جناب مرزا غلام احمد قادیانی نے ان کو کھانے کا فتویٰ دیا ہو تو مجھے علم نہیں۔ حالانکہ آیت مذکورہ بالا میں اللہ تبارک وتعالیٰ کا فرمان موجود ہے کہ تمہارے لئے دریاؤں کا شکار حلال کر دیا گیا۔ بلکہ تمہیں اس میں فائدے ہیں۔ پھر یہ کیا بات ہے کہ سوائے مچھلی اور جھینگا وغیرہ کے دوسرے تمام جانوروں کو حرام سمجھا جاتا ہے۔ ان جانوروں کو آیت مذکورہ بالا سے کیونکر مستثنیٰ کیا گیا ہے؟ اگر ان کو مستثنیٰ کرنا اس آیت سے جائز سمجھتے ہو تو پھر ضروری ہے کہ حضرت ابن مریم علیہ السلام بھی آپ کی آیت ”ولکم فی الارض“ سے مستثنیٰ ہو کر آسمان پر بخوبی جاسکتے ہیں۔ جس سے قرآن مجید کی آیت پر ہرگز زد نہیں آسکتی۔
حیات مسیح علیہ السلام کی دوسری دلیل
”ومكروا ومكر الله والله خير الماكرين (آل عمران:٥٤)“ ﴿اور مکر کیا یہود نے کہ عیسیٰ علیہ السلام کو قتل کر دیا جائے اور اللہ تبارک وتعالیٰ نے اس کو بچانے کی ترکیب کی اور اللہ بہتر تدبیریں کرنے والا ہے۔﴾
جس طرح یہودیوں نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے لئے یہ مکر وفریب کیا تھا کہ ان کو قتل کر دیا جائے۔ (بعینہ) کفار مکہ نے بھی حضرت محمد ﷺ کو قتل کرنے کا مکر وفریب کیا تھا۔ جس کا ذکر قرآن کریم میں موجود ہے، ملاحظہ ہو۔
١٣
”واذ يمكر بك الذين كفروا ليثبتوك او يقتلوك او يخرجوك ويمكرون ويمكر الله، والله خير الماكرين (الانفال:٣٠)“ ﴿اور جس وقت مکر کرتے تھے ساتھ تیرے وہ لوگ کہ کافر ہوئے کہ پکڑ رکھیں تجھ کو یا قتل کریں تجھ کو یا نکال دیں تجھ کو اور مکر کرتے تھے، اور تدبیر کی اللہ تبارک وتعالیٰ نے، اور اللہ تعالیٰ بہتر تدبیر کرنے والا ہے۔﴾
مولانا احمد علی صاحب ! کفار مکہ نے بھی یہود کی طرح یہ مکر کیا تھا کہ رسول اکرم ﷺ کو قتل کر دیا جائے۔ چنانچہ انہوں نے ہر خاندان سے ایک ایک آدمی بلوا کر آنحضرت ﷺ کے مکان کے چاروں طرف پہرے بٹھا دیئے اور ان کو یہ نصیحت کی گئی کہ جب رسول خدا ﷺ مکان سے باہر نکلیں تو ان کو فوراً قتل کر دیا جائے۔ مگر اللہ تبارک وتعالیٰ نے کفار مکہ کا تمام مشورہ بذریعہ جبرئیل علیہ السلام کے حضور ﷺ کے پاس پہنچا کر یہ نصیحت کر دی کہ آپ ﷺ یہاں سے مدینہ شریف کو تشریف لے جائیں۔
چنانچہ رسول خدا ﷺ اپنے گھر سے نکل کر غار حرا میں تشریف لے گئے۔ مگر ان کفار کے پہرہ داروں کو اس بات کا علم بھی نہیں ہوا کہ حضور ﷺ کس وقت تشریف لے گئے۔ اسی طرح یہودیوں کو بھی علم نہیں ہوا کہ حضرت ابن مریم علیہ السلام آسمان پر اٹھا لئے گئے اور ان کے ایک آدمی پر اللہ تبارک وتعالیٰ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی مشابہت ڈال دی۔ یہودیوں نے اس کو حضرت ابن مریم علیہ السلام سمجھ کر قتل کر دیا۔ جس کے وہ آج بھی قائل ہیں۔ اگر آپ کہو کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو بھی رسول اللہ ﷺ کی طرح زمین پر کیوں نہ رکھا گیا۔ یہ کوئی مصلحت ہوگی جو کہ اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے۔
کیونکہ اس نے کسی نبی کو کوئی معجزے عطاء فرمائے اور کسی کو کوئی۔ اسی طرح کسی کو کسی طرح کفار سے بچایا اور کسی کو کسی طرح۔ یہ اس کی مرضی ہے جو چاہتا ہے سو کرتا ہے۔ ہمیں کیا حق ہے کہ ہم اس قسم کے اللہ تبارک وتعالیٰ کی ذات پر اعتراض کریں کہ اس کو کیوں زندہ آسمان پر اٹھا لیا اور اس کی مشابہت کیوں کسی آدمی پر ڈال دی؟
مولانا صاحب ! آئیے کہ میں آپ کو اکثر مفسرین سے اس بات کی شہادت کرا دیتا ہوں، ملاحظہ ہو:
”ومكروا، ارادوا يعنى اليهود قتل عيسى، ومكر الله اراد الله قتل صاحبهم ططيانوس والله خير الماكرين “ ﴿مکر کیا یعنی ارادہ کیا یہود نے حضرت عیسیٰ
١٢
علیہ السلام کو قتل کرنے کا اور تدبیر کی یعنی ارادہ کیا آدمی قتل کرایا جائے یعنی ططیانوس کو، اور بہتر تدبیر ک
” ومكروا اى كفار بنى اسر ومكر الله بهم بان القى شبه عيسى ع حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے لباس کو اتار کر تدبیر کی کہ ڈال دی ایک یہودی پر مشابہت حضر ” فقتلوه ورفع عيسى ا یہودیوں نے اور اٹھا لیا حضرت عیسیٰ علیہ السلام ک
” ومكروا أى كفار بنى ا ارادوا قتله وصلبه ومكر الله أي ج السماء “ ﴿اور مکر کیا یہودیوں نے جو لوگ ک ارادہ کریں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو قتل اور سولی دیں اور مکر کیا اور اٹھا لیا حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو آسمان کی طرف﴾
” ومكروا اى الذين احس جازاهم على مكرهم حين رفع عيس والله خير الماكرين “ ﴿اور مکر کیا ان لوگو السلام کو اور تدبیر کی اللہ نے اور انتقام لیا ان سے اور ڈال دی مشابہت اوپر ایک آدمی کے ان میں س اللہ بہتر تدبیریں کرنے والا ہے۔﴾
ان تمام حوالہ جات سے روشن ہوا کہ اس غرض سے مکر وفریب کئے اور اللہ تعالیٰ نے اپنے ایک آدمی کی صورت بدل دی اور کفار نے ان کو ا میں شک کرتے ہیں۔ وہ آیت ”واللہ خیر
علیہ السلام کو قتل کرنے کا اور تدبیر کی یعنی ارادہ کیا اللہ تبارک وتعالیٰ نے انتقام کا کہ ان میں سے کوئی آدمی قتل کرایا جائے یعنی طلمیانوس کو ، اور بہتر تدبیریں کرنے والا ہے اللہ تعالیٰ ۔ ﴾
(تفسیر ابن عباس ص ٦١ مطبع مصری)
" مكروا اى كفار بنى اسرائيل بعيسى اذ وكلوابه من يقتله غيلة ومكر الله بهم بان القى شبه عيسى على من قصد قتله " ﴿اور مکر کیا یہودیوں نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے کہ اس کو اچانک قتل کر دیا جائے اور اللہ تبارک وتعالیٰ نے بھی ایک بہتر تدبیر کی کہ ڈال دی ایک یہودی پر مشابہت حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی اس کو قتل کرایا جائے ۔ ﴾
" فقتلوه ورفع عيسىٰ والله خير الماكرين " ﴿پس قتل کیا اس کو یہودیوں نے اور اٹھا لیا حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو اور اللہ بہتر تدبیریں کرنے والا ہے ۔ ﴾
(تفسیر جلالین ص ٥٢ سطر ٢ مطبع کراچی)
"ومكروا أى كفار بنى اسرائيل الذين احس منهم الكفر حين ارادوا قتله وصلبه ومكر الله أى جازاهم على مكرهم بان رفع عيسىٰ الى السماء " ﴿اور مکر کیا یہودیوں نے جو لوگ کافر ہوئے ان میں سے یہ کہ ارادہ کیا انہوں نے قتل کریں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو اور سولی دیں اور اللہ تعالیٰ نے بھی تدبیر کی یعنی انتقام لیا مکر ان کے کا اور اٹھا لیا حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو آسمان پر اور ان کے ہاتھوں سے ان کا ایک آدمی قتل کرا دیا ۔ ﴾
(حوالہ تفسیر المدارک ج اوّل ص ١٨٧ مطبع مصر)
" ومكروا اى الذين احس منهم الكفر في قتل عيسىٰ ومكر الله جازاهم على مكرهم حين رفع عيسىٰ و القى شبه على احد فاخذوه وقتلوه والله خير الماكرين " ﴿اور مکر کیا ان لوگوں نے جو کافر ہوئے کہ قتل کر دیں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو اور تدبیر کی اللہ نے اور انتقام لیا ان سے ان کے مکر کا یعنی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو اٹھا لیا اور ڈال دی مشابہت اوپر ایک آدمی کے ان میں سے ۔ پس پکڑا انہوں نے اس کو قتل کیا اس کو ، اور اللہ بہتر تدبیریں کرنے والا ہے ۔ ﴾
(جامع البیان ص ٦٢ مطبع نامی دہلی)
ان تمام حوالہ جات سے روشن ہوا کہ یہودیوں نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو قتل کرنے کی غرض سے مکر و فریب کئے اور اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کو بچانے کی تدبیر کی اور انتقام لیا کہ ان میں سے ایک آدمی کی صورت بدل دی اور کفار نے ان کو ابن مریم علیہ السلام سمجھ کر قتل کیا اور جو لوگ اس واقعہ میں شک کرتے ہیں ۔ وہ آیت " والله خير الماكرين " پر انصاف کی ایک نظر ڈال کر دیکھ لیں ۔
١٥
یعنی اللہ تعالیٰ بہتر سب سے تدبیریں کرنے والا ہے۔ مگر کفار کا یہی ایمان ہے کہ حضرت ابن مریم علیہ السلام کو ہی مقتول اور مصلوب بنایا۔ مگر اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں اس بات کی نفی کرتا ہے۔ ”وما قتلوہ وما صلبوہ“
وفات مسیح پر دوسری دلیل کی بیخ کن تردید
اعتراض مولانا احمد علی قادیانی
”یاعیسیٰ انی متوفیک ورافعک الی (آل عمران:٥٥)“ یعنی اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اے عیسیٰ! میں تجھ کو وفات دینے والا ہوں اور تیرا رفع کرنے والا ہوں۔
خلاصہ ..... اس آیت سے معلوم ہوا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا رفع ان کی وفات کے بعد ہوا۔ لفظ ”متوفیک“ کے معنی حضرت ابن عباسؓ جیسے جلیل القدر صحابی نے ”ممیتک“ کئے ہیں۔ یعنی میں تجھے موت دینے والا ہوں جو کہ صحیح بخاری شریف (کتاب التفسیر ج ٣ ص ٨٠) سے نقل ہے۔
اس کے علاوہ مولانا احمد علی قادیانی نے باب تفعل سے چند آیتیں پیش کی ہیں، راقم ہیں:
- ١...... ”والذین یتوفون منکم (البقرۃ:٢٤٠)“ ﴿اور جو لوگ کہ مرجاتے ہیں تم میں
سے۔﴾
- ٢...... ”توفنا مع الابرار (آل عمران:١٩٣)“ ﴿اور مار ہم کو ساتھ نیک بختوں
کے۔﴾
- ٣...... ”ثم یتوفکم (النحل:٧٠)“ ﴿پھر قبض کرے گا تم کو۔﴾
- ٤...... ”ومنکم من یتوفی (الحج:٥)“ ﴿اور بعض تم میں سے وہ شخص ہے کہ قبض کیا
جاتا ہے۔﴾
- ٥...... ”قل یتوفکم ملك الموت (السجدۃ:١١)“ ﴿کہ قبض کرے گا تم کو فرشتہ موت کا۔﴾
- ٦...... ”اللہ یتوفی الانفس حین موتھا (الزمر:٤٢)“ ﴿اللہ قبض کر لیتا ہے
جانوں کو۔﴾
- ٧...... ”توفنی مسلما (یوسف:١٠١)“ ﴿یعنی یوسف علیہ السلام نبی نے کہا کہ قبض کر
مجھ کو مطیع اپنا۔﴾
ایسے ہی بخاری و مسلم شریف سے بھی چھ حدیثیں (توفی کے موت معنی) مولانا احمد علی قادیانی نے بیان فرمائے ہیں۔ توفی کے معنی موت قبض روح ہیں نہ کہ آسمان پر اٹھانا یا پورا لینا۔
(نصرۃ الحق حصہ ١: مصنفہ احمد علی قادیانی)
١٦
جواب اوّل متوفيك کے معنی میں مر
مرزا قادیانی راقم ہیں: ”انی متوفی ترجمہ ...... ”میں تجھ کو پوری نعمت دوں گا، اور ا
- ١...... مولانا احمد علی قادیانی کو معلوم ہے
ہیں۔ آپ کو حکم موصوف کا ترجمہ کیا ہوا ہر حال م کے مفہوم کو جو مرزا غلام احمد قادیانی سمجھ سکتے ہی سکتا۔ خواہ وہ حضرت ابن عباسؓ ہوں یا حضرت نزدیک مرزا قادیانی کے مراتب کو نہیں پہنچ سکتا۔ پھر یہ ضروری ہے کہ آپ کا کیا ہوا ترجمہ (عندالل
- ٢...... جناب خلیفہ دوئم میاں محمود احمد قادیا
”یہی وجہ ہے کہ اب کوئی قرآن نہی اور کوئی حدیث نہیں سوائے اس حدیث کے جو سوائے اس نبی کے جو مسیح موعود کی روشنی میں دکھا )
اب تو میاں محمود قادیانی کی زبانی بھی کا کیا ہوا ترجمہ کسی حالت میں خلاف ”اللہ تبارک سکتا۔ ہم بھی آپ کے حکم کا ترجمہ کیا ہوا قبول کر میں لازمی کہنا پڑے گا کہ ”ہاتھی کے دانت کھا جائے گا۔ چنانچہ تمام مفسرین جناب مرزا غلام رہے ہیں۔ پہلے ان چند مفسروں کے حوالے پیش کروں گا، چنانچہ ملاحظہ کیجئے۔
جواب دوم.
”ان التوفی هو القبض يقال وقد يكون ايضاً بمعنى استوفى وعل واصعاده الى السماء“ ﴿علامہ رازیؒ، ر
جواب اول متوفیک کے معنی میں مرزا قادیانی کی شہادت
مرزا قادیانی راقم ہیں: ”انی متوفیک ورافعک الی“ ترجمہ..... ”میں تجھ کو پوری نعمت دوں گا اور اپنی طرف اٹھاؤں گا۔“
(براہین احمدیہ ص٥٢٠، خزائن ج١ ص٦٢٠)
- ......١ مولانا احمد علی قادیانی کو معلوم ہے کہ آپ کے نزدیک جناب مرزا قادیانی ”حکم“
ہیں ۔ آپ کو حکم موصوف کا ترجمہ کیا ہوا ہر حال میں قبول کرنا پڑے گا۔ کیونکہ قرآن کریم کی ہر آیت کے مفہوم کو جو مرزا غلام احمد قادیانی سمجھ سکتے ہیں۔ کوئی بھی بعد رسول اکرمﷺ کے ایسا نہیں سمجھ سکتا۔خواہ وہ حضرت ابن عباسؓ ہوں یا حضرت ابو ہریرہؓ۔ غرضیکہ کوئی بھی ہوں۔ وہ قادیانیوں کے نزدیک مرزا قادیانی کے مراتب کو نہیں پہنچ سکتا۔ جب کوئی بھی ائمہ دین مسیح کے مرتبہ کو نہیں پہنچ سکتا تو پھر یہ ضروری ہے کہ آپ کا کیا ہوا ترجمہ (عنداللہ) ضرور صحیح ہوگا۔
- ......٢ جناب خلیفہ دوئم میاں محمود احمد قادیانی بھی راقم ہیں۔ چنانچہ ملاحظہ ہو:
”یہی وجہ ہے کہ اب کوئی قرآن نہیں سوائے اس قرآن کے جو مسیح موعود نے پیش کیا اور کوئی حدیث نہیں سوائے اس حدیث کے جو مسیح موعود کی روشنی میں دکھائی دے اور کوئی نبی نہیں سوائے اس نبی کے جو مسیح موعود کی روشنی میں دکھائی دے۔“
(خطبہ میاں محمود احمد ، اخبار الفضل قادیان ٤ جولائی ١٩٣٢ء)
اب تو میاں محمود قادیانی کی زبانی بھی تصدیق کرادی گئی ہے۔ یعنی جناب مرزا قادیانی کا کیا ہوا ترجمہ کسی حالت بھی خلاف ”اللہ تبارک وتعالیٰ“ اور اس کے رسول مقبولﷺ کے نہیں ہو سکتا۔ ہم بھی آپ کے حکم کا ترجمہ کیا ہوا قبول کرتے ہیں۔ اگر آپ قبول نہ کریں تو پھر آپ کے حق میں لازمی کہنا پڑے گا کہ ”ہاتھی کے دانت کھانے کے اور، دکھلانے کے اور“ وہی حال آپ کا سمجھا جائے گا۔ چنانچہ تمام مفسرین جناب مرزا غلام احمد قادیانی کی طرح ہی اس آیت کا ترجمہ کرتے رہے ہیں۔ پہلے ان چند مفسروں کے حوالے پیش کر کے پھر میں اپنے اصلی مضمون کی طرف رجوع کروں گا، چنانچہ ملاحظہ کیجئے۔
جواب دوم
”ان التوفی ھو القبض یقال وفانی فلان دراھمی ای وتسلمھا منہ وقد یکون ایضاً بمعنی استوفی وعلی الاحتمالین کان اخراجہ من الارض واصعادہ الی السماء“ علامہ رازیؒ راقم ہیں ”توفی“ معنی قبض کے ہیں۔ جیسے کہا جاتا
١٧
ہے پورے دیئے فلاں کو درہم میں نے اور پھر پورے پورے ہی لے لئے میں نے اس سے اور ان ہر دو وجوہ کی بناء پر ثابت ہوتا ہے چڑھنا حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا زمین سے آسمان کی طرف۔ ﴾
(حوالہ تفسیر کبیر ج دوم ص ٤٦٥ مطبع مصری ١٣٠٨ھ)
جواب سوم
”انی متوفيك ورافعك الى فان التوفى اخذ الشئ وافيا“ ﴿ تحقیق میں پورا لینے والا ہوں تجھ کو اور اٹھانے والا ہوں تجھ کو اپنی طرف۔ ﴾ پس ”توفی“ کے معنی کسی چیز کو پورا لینے کے ہیں۔
(تفسیر ابی السعود برحاشیہ کبیر ج سوم ص ٢٦٩)
جواب چہارم
”متوفيك يعنى من الدنيا وليس بوفات موت ای قابضك من الارض وافيا لم ينالوا منك شيئا من توفيت“ ﴿ اے عیسیٰ میں تجھے بغیر موت کے دنیا سے پورا لینے والا ہوں۔ ﴾
(تفسیر جامع البیان ص ٥٢ مطبع نامی دہلی)
جواب پنجم
”یاعیسیٰ انی متوفيك ورافعك الى“ ﴿ اے عیسیٰ تحقیق میں پکڑنے والا ہاں تیرا تے اٹھانے والا ہاں تیرا۔ ﴾ شعر
تے اپنی طرف اٹھاواں تینوں کفاراں پاک کریساں
(حوالہ تفسیر محمدی ص ٢٩٢ پنجابی)
جواب ششم
”معناه انى قابضك ورافعك الى من غير موت من قولهم توفيت شيئا واستوفيته اذا اخذته وقبضته تاما قال ابوبکر الواسطى معناه انی متوفيك عن شهواتك وعن حظوظ نفسك ورافعك الى ان عيسى لما رفع الى السماء صارت حالته، حالت الملائكة فى زوال الشهوة، بقوله اني متوفيك ورافعك الى فاخبره الله تعالى انه رفع بتمامه الى السماء بروحه وجسده جميعا“
(حوالہ تفسیر خازن جلد اول ص ٢٧٤ مطبع مصری)
١٨
﴿ معنی اس کا یہ ہے کہ تحقیق میں قبض موت کے اور کہنے ان کے سے، کہ پورا لیا میں قبض کیا میں نے اس کو پورا پورا اور کہا ابوبکر وا ہوں۔ شہوت تیری کو تیرے نفس کی لذتوں سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام جب اٹھائے گئے طرف سے فرشتوں جیسی۔ تحقیق میں پورا لینے والا ہوں خبر دی اللہ تعالیٰ نے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام ا روح اور جسم کے اکٹھے۔ ﴾
جواب ہفتم
”انی متوفيك من الدنيا ولي ہوں تجھ کو دنیا سے بغیر موت کے۔ ﴾
جواب ہشتم
”ياعيسى انی متوفيك ور اٹھانے والا ہوں تجھ کو اپنی طرف بغیر موت کے۔
جواب نہم
”يعيسى انى متوفيك اى ان تقتلك الكفار ومميتك حتف انا ومقر ملائكتى“ ﴿ اے عیسیٰ! تحقیق میں مہلت تیری کو اور معنی اس طرح ہوگا کہ تحقیق بچا دوں گا تجھ کو نہیں قتل ہو گا تو ساتھ ہاتھوں ان طرف آسمان اپنے کے، اور جگہ دینے والا ہوں م
خلاصہ کلام
- ١....... تفسیر کبیر۔ ٢.......
- ٣....... تفسیر جامع البیان۔ ٤.......
﴿معنی اس کا یہ ہے کہ تحقیق میں قبض کرنے والا ہوں اور اٹھانے والا ہوں تجھ کو بغیر موت کے اور کہنے ان کے سے، کہ پورا لیا میں نے اس کو اور جس وقت پکڑا میں نے اس کو اور قبض کیا میں نے اس کو پورا پورا اور کہا ابوبکر واسطی نے کہ معنی اس کا، تحقیق میں فوت کرنے والا ہوں۔ شہوت تیری کو تیرے نفس کی لذتوں سے اور اٹھانے والا ہوں تجھ کو طرف اپنی، بیشک حضرت عیسیٰ علیہ السلام جب اٹھائے گئے طرف آسمان کے۔ تو ان کی حالت ہوگئی خواہشات سے فرشتوں جیسی۔ تحقیق میں پورا لینے والا ہوں تجھ کو اور اٹھانے والا ہوں تجھ کو طرف اپنی۔ پس خبر دی اللہ تعالیٰ نے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام اٹھائے گئے تمام کے تمام آسمان کی طرف ساتھ روح اور جسم کے اکٹھے۔﴾
جواب ہفتم
"انى متوفيك من الدنيا وليس بوفات موت" ﴿تحقیق میں پورا لینے والا ہوں تجھ کو دنیا سے بغیر موت کے۔﴾
(حوالہ تفسیر ابن کثیر جلد اول ص ٣٦٦ مطبع مصری)
جواب ہشتم
"ياعيسى انى متوفيك ورافعك من الدنيا من غير موت" ﴿اور اٹھانے والا ہوں تجھ کو اپنی طرف بغیر موت کے۔﴾
(تفسیر جلالین ص ٥٢)
جواب نہم
"يعيسى انى متوفيك اى مستوفى اجلك ومعناه انى عاصمك من ان تقتلك الكفار ومميتك حتف انفك لا قتالا بايديهم ورافعك الى سمائى ومقر ملائكتى" ﴿اے عیسیٰ! تحقیق میں پورا لینے والا ہوں تجھ کو یعنی پوری کرنے والا ہوں مہلت تیری کو اور معنی اس طرح ہوگا کہ تحقیق بچانے والا ہوں تجھ کو کفار کے قتل سے اور طبعی موت دوں گا تجھ کو نہیں قتل ہو گا تو ساتھ ہاتھوں ان کے کے اور اٹھانے والا ہوں تجھ کو اپنی طرف یعنی طرف آسمان اپنے کے، اور جگہ دینے والا ہوں ساتھ فرشتوں کے۔﴾
(تفسیر مدارک جلد اول ص ١٢٣ مطبع مصری)
خلاصہ کلام
- ١....... تفسیر کبیر۔ ٢....... تفسیر ابی السعود۔
- ٣....... تفسیر جامع البیان۔ ٤....... تفسیر محمدی۔
١٩
- ٥...... تفسیر ابن کثیر۔ ٦...... تفسیر خازن۔
- ٧...... تفسیر جلالین۔ ٨...... تفسیر مدارک۔
- ٩...... جناب مرزا قادیانی وغیرہ کے حوالہ جات سے اظہر من الشمس ہے کہ:
"حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو خداوند عالم نے زندہ آسمان پر اٹھایا ہوا ہے اور ہم پر فرض ہے کہ ان تمام مذکورہ بالا بزرگوں کی اطاعت کریں۔" کیونکہ اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں فرماتا ہے : "ومن یشاقق الرسول من بعد ما تبین له الهدى ويتبع غير سبيل المؤمنين نوله ماتولى ونصله جهنم وساءت مصيرا (النساء: ١١٥)"
﴿جو کوئی برخلافی کرے رسول کی پیچھے اس کے کہ ظاہر ہوئی واسطے اس کے ہدایت ، جو کوئی پیروی کرے سوائے مسلمانوں کے راستہ کی ، متوجہ کریں گے ہم ان کو جدھر متوجہ ہوا ہے اور داخل کریں گے ہم اس کو دوزخ میں اور بری ہے وہ جگہ پھر جانے کی ۔﴾
اب قابل غور امر یہ ہے کہ ان مذکورہ تفاسیر کے مصنفوں کو جنہوں کی ساری زندگی قرآن کریم کی مقدس خدمت میں گزری۔ ان کا یقین کریں یا مرزا قادیانی کی باتوں کا کہ جن کی ساری زندگی میاں رانجھے کی طرح محمدی بیگم کے عشق میں بسر ہوئی؟
"متوفی" کا معنی موت بھی ہو تو بھی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی وفات ثابت نہیں ہوتی۔ کیونکہ زیر بحث آیت میں سیدنا ابن عباس جیسے جلیل القدر نے لفظ "متوفیک" کا معنی "ممیتک" بیان کر کے اس بات کو ظاہر کیا ہے کہ اس آیت میں تقدیم و تاخیر ہے۔ جیسے اکثر مقامات میں قرآن مجید کے اندر بھی تقدیم و تاخیر کے کئی واقعات ہیں۔ چنانچہ حضرت محمد الرازی فخر الدین صاحب اپنی کبیر میں زیر آیت "متوفیک" راقم ہیں ۔
جواب اوّل
"ان یقول فیھا تقدیم وتاخیر والمعنی انی رافعک الی و مطہرک من الذین کفروا متوفیک بعد انزالی ایاک فی الدنیا و مثلہ من التقدیم و تاخیر کثیر فی القران" یعنی زیر بحث آیت میں تقدیم و تاخیر ہے۔ یعنی قرآن کریم کی آیت میں لفظ "متوفیک" پہلے آیا ہے اور "رافعک" پیچھے۔ اصلی عبارت اس طور پر ہے کہ "رافعک" پہلے اور "متوفیک" پیچھے اور ترجمہ کرتے وقت بھی ان الفاظ کا لحاظ رکھنا ضروری ہے۔ یعنی ترجمہ یوں ہوگا: "اور اٹھانے والا ہوں تجھ کو طرف اپنی اور پاک کرنے والا ہوں تجھ کو ان کافروں سے ، اور
فوت کرنے والا ہوں تجھ کو دنیا پر نازل کرنے کے بعد ا موجود ہیں۔"
(تفسیر کم
جواب دوم
"واذ اخذنا من النبیین میثاقہم و و عیسیٰ ابن مریم (الاحزاب: ٧) ”جس وقت اور نوح علیہ السلام سے اور ابراہیم علیہ السلام سے اور ع السلام سے۔﴾
اس آیت میں اللہ تبارک و تعالیٰ نے رسول ہے ۔ حالانکہ آپ ﷺ تمام انبیاء کے بعد مبعوث ہوئے حق تعالیٰ نے رسول خدا ﷺ کا نام تو آیت کے اندر پہلے جائے گا۔ اسی طور لفظ "متوفیک" پہلے ہے "رافعک جائے گا اور "رافعک" پہلے۔
معلوم ہوا کہ ابھی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی ہونے کے بعد فوت ہوں گے۔
جواب سوم
"خلق الموت والحیاۃ لیبلوکم ا کیا میں نے موت کو اور زندگی کو تا کہ آزمائے تم کو کہ کون مولانا احمد علی قادیانی ! اس آیت میں اللہ ت اس کے زندگی کا۔ حالانکہ آیت کے اندر پہلے زندگی کا لف کا۔ اس آیت میں بھی تقدیم اور تاخیر لازمی ہے۔
جواب چہارم
"والقی السحرۃ ساجدین، قالو ہارون (الاعراف: ١٢٠ تا ١٢٢) ”ڈ ایمان لائے ہم ساتھ پروردگار عالموں کے ، پروردگار مو "فالقی السحرۃ سجدا قالوا اما
فوت کرنے والا ہوں تجھ کو دنیا پر نازل کرنے کے بعد اور ایسی مثالیں قرآن کریم کے اندر بکثرت موجود ہیں۔
(تفسیر کبیر جلد دوم ص ٣٦٦،٣٦٥ مطبوعہ مصری ١٣٠٨ھ)
جواب دوم
”وَاِذْاَخَذْنَا مِنَ النَّبِیّٖنَ مِیْثَاقَہُمْ وَمِنْکَ وَمِنْ نُوحٍ وَّ اِبْرَاہِیْمَ وَ مُوْسٰی وَ عِیْسَی ابْنِ مَرْیَمَ (الاحزاب:٧) “ ﴿جس وقت لیا ہم نے نبیوں سے عہد ان کا اور تجھ سے اور نوح علیہ السلام سے اور ابراہیم علیہ السلام سے اور موسیٰ علیہ السلام سے اور عیسیٰ بن مریم علیہ السلام سے۔﴾
اس آیت میں اللہ تبارک و تعالیٰ نے رسول اکرم ﷺ کا تمام رسولوں سے پہلے ذکر کیا ہے۔ حالانکہ آپ ﷺ تمام انبیاء کے بعد مبعوث ہوئے ہیں۔ اب معلوم ہوا کہ بیشک اللہ تبارک و تعالیٰ نے رسول خدا ﷺ کا نام تو آیت کے اندر پہلے ضرور لیا ہے۔ لیکن مفہوم سمجھنے میں بعد سمجھا جائے گا۔ اسی طور لفظ ”متوفیک“ ”پہلے ہے“ ”رافعک“ ”بعد۔ لیکن سمجھنے میں ”متوفیک“ ”بعد سمجھا جائے گا اور ”رافعک“ ”پہلے۔
معلوم ہوا کہ ابھی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو خداوند تعالیٰ نے پہلے اٹھا لیا ہے پھر نازل ہونے کے بعد فوت ہوں گے۔
جواب سوم
”خَلَقَ الْمَوْتَ وَالْحَیٰوۃَ لِیَبْلُوَکُمْ اَیُّکُمْ اَحْسَنُ عَمَلًا (الملک:٢) “ ﴿پیدا کیا میں نے موت کو اور زندگی کو تا کہ آزمائے تم کو کہ کون سا بہتر ہے عمل میں۔﴾
مولانا احمد علی قادیانی! اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے پہلے موت کا ذکر بیان کیا اور بعد اس کے زندگی کا۔ حالانکہ آیت کے اندر پہلے زندگی کا لفظ بیان کرنا چاہئے تھا اور بعد اس کے موت کا۔ اس آیت میں بھی تقدیم اور تاخیر لازمی ہے۔
جواب چہارم
”وَاُلْقِیَ السَّحَرَۃُ سَاجِدِیْنَ، قَالُوْا اٰمَنَّا بِرَبِّ الْعَالَمِیْنَ، رَبِّ مُوْسٰی وَ ھٰرُوْنَ (الاعراف: ١٢٠،١٢١،١٢٢) “ ﴿ڈالے گئے جادوگر سجدے میں، کہا انہوں نے ایمان لائے ہم ساتھ پروردگار عالموں کے، پروردگار موسیٰ کے اور ہارون کے۔﴾
”فَاُلْقِیَ السَّحَرَۃُ سُجَّدًا قَالُوْا اٰمَنَّا بِرَبِّ ھٰرُوْنَ وَمُوْسٰی (طہٰ:٧٠) “
٢١
﴿پس ڈالے گئے جادوگر سجدے میں کہا انہوں نے ایمان لائے ہم ساتھ پروردگار ہارون اور موسیٰ کے۔﴾
پہلی آیت میں لفظ موسیٰ پہلے آیا ہے اور دوسری آیت میں بعد بیان کیا گیا۔ یہ تو لازمی امر ہے کہ جادوگروں نے ایک ہی طرح کہا ہوگا۔ یا پہلی آیت کے مطابق یا دوسری آیت کے مطابق۔
تو ان ہر دو آیات سے معلوم ہوا کہ ان ہر دو کے اندر بھی تقدیم و تاخیر الفاظ واقع ہیں۔ باقی اگر آپ کو الفاظ تقدیم و تاخیر کے متعلق مزید تسلی کی ضرورت ہو تو بڑی کتابیں ”اتقان“ وغیرہ کا مطالعہ کیجئے۔ جس میں تقدیم اور تاخیر کی کافی مثالیں موجود ہیں۔
اسی طرح بعض الفاظ جو مقدم ہوتے ہیں۔ لیکن معنی اس کا مؤخر ہوتا ہے۔ جیسے ”انی متوفیک ورافعک “ بھی ان میں ہی شامل ہے۔ جیسے کہ تفاسیر بھی تقدیم و تاخیر کے متعلق شاہد ہیں کہ آیت ”متوفیک “ میں تقدیم و تاخیر ہے۔
جواب پنجم
”اذقال الله یعیسیٰ انی متوفیک ورافعک مقدم ومؤخر یقول انی رافعک الی“ یعنی اس آیت میں تقدیم و تاخیر ہے۔ یعنی پہلے ”رافعک الی “ ہے اور بعد میں ”متوفیک“ اس میں گویا الفاظ آگے پیچھے واقع ہیں۔
(تفسیر ابن عباس ص ٣٦ مطبوعہ مصری)
جواب ششم
”ان فی الایۃ تقدیم و تاخیر تقدیرہ انی رافعک الی و مطہرک من الذین کفروا ومتوفیک بعد انزالک الی الارض“
تحقیق اس آیت کے اندر تقدیم و تاخیر ہے۔ مثلاً میں اٹھانے والا ہوں تجھ کو طرف اپنی اور پاک کرنے والا ہوں تجھ کو کافروں سے اور فوت کرنے والا ہوں تجھ کو بعد نازل ہونے طرف زمین کے۔
(تفسیر خازن جلد اول ص ٤٢١ مطبوعہ مصر ١٣٢٧ھ)
جواب ہفتم
”انی متوفیک ورافعک الی فقال قتادۃ وغیرہ ھذا من المقدم والمؤخر تقدیرہ انی رافعک الی ومتوفیک یعنی بعد ذالک“
﴿پس کہا حضرت قتادہ اور دوسرے بزرگوں نے کہ اس آیت مذکورہ بالا میں الفاظ
٢٢
آگے اور پیچھے ہیں اور ترجمہ اس طرح ہوگا۔ تحقیق میں اٹھانے والا ہوں تجھ کو طرف اپنی اور پھر فوت کرنے والا ہوں تجھ کو پیچھے اس کے۔ ﴾
(تفسیر ابن کثیر ص ٣٦٦ جلد اول مطبوعہ مصری)
جواب ہشتم
اوہ موتوں پیش گیا آسمانی رلیا فرشتیاں سنگے
پھر پیش قیامت آ زمین پر چالی سال گذارے
پھر مری، مومن پڑھن جنازہ آکھیا نبی سوہنے
(تفسیر محمدی منزل اول ص ٢٦٢ مطبوعہ لاہور ١٩٤٩ء)
تمام مذکورہ بالا حوالہ جات سے معلوم ہوا کہ اس وقت اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو زندہ آسمان پر اٹھایا ہوا ہے اور قیامت کے نزدیک نازل ہو کر دنیا میں اپنی عمر کا بقایا حصہ پورا کر کے پھر فوت ہو جائیں گے۔
مولانا احمد علی قادیانی! ہم اب آپ کو جناب مرزا غلام احمد قادیانی کے چند حوالے پیش کرتے ہیں جو کہ مرزا قادیانی نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی آمد کے متعلق اپنے دعویٰ مسیح کرنے کے بعد لکھے ہیں۔ چنانچہ ملاحظہ فرمائیے۔
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی آمد پر
جناب مرزا غلام احمد قادیانی کا پہلا ایمان
- قول مرزا نمبر ١ ...... ”پس اس بیان کی رو سے ممکن ہے اور بالکل ممکن ہے کہ کسی زمانہ میں کوئی
ایسا مسیح بھی آ جائے۔ جس پر حدیثوں کے بعض ظاہری الفاظ صادق آسکیں ۔“
(ازالہ اوہام ص ١٩٩، خزائن ج ٣ ص ١٩٧)
- قول مرزا نمبر ٢ ...... ”میں اس سے ہرگز انکار نہیں کر سکتا، اور نہ کروں گا کہ شاید یہ پیش گوئیاں
جو میرے حق میں روحانی طور پر ہیں۔ ظاہری طور پر بھی پوری ہوں اور شاید سچ مچ دمشق میں کوئی مثیل مسیح نازل ہو ۔“
(مرزا قادیانی کا خط بنام مولوی عبدالجبار مورخہ ١١ فروری ١٨٩١ء، مکتوبات احمدیہ ج ١ ص ٢٤٢)
- قول مرزا نمبر ٣ ...... ”چنانچہ براہین احمدیہ میں قبل علم قطعی جو خدا سے منکشف ہوا۔ اپنے خیال
سے یہی لکھا گیا تھا کہ خود حضرت عیسیٰ علیہ السلام دوبارہ آئے گا۔ مگر خدا نے اپنی متواتر وحی سے اس
٢٣
عقیدہ کو فاسد قرار دیا اور مجھے کہا کہ تو ہی مسیح موعود ہے۔“
(تریاق القلوب ص١٦٠، خزائن ج١٥ ص٤٨٥)
جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو زندہ سمجھے وہ خلیفہ محمود کے نزدیک مشرک ہے
قول خلیفہ محمود احمد
”ان اختلافات کے طوفان کے وقت میں مسیح موعود (مرزا قادیانی) ظاہر ہوئے اور آپ نے ان سب غلطیوں سے مذہب کو پاک کر دیا۔ سب سے پہلے میں شرک کو لیتا ہوں۔ آپ نے شرک کو پورے طور پر رد کیا اور توحید کو اپنے پورے جلال کے ساتھ ظاہر کیا۔ آپ سے پہلے مسلمان علماء تین قسم کا شرک مانتے تھے۔ علماء تسلیم کرتے تھے کہ کسی میں خدائی صفات تسلیم کرنا بھی شرک ہے۔ مگر یہ صرف منہ سے کہتے تھے۔ بڑے بڑے توحید پرست وہابی بھی حضرت مسیح علیہ السلام کو ایسی صفات دیتے تھے جو خدا سے ہی تعلق رکھتی ہیں۔ مثلاً یہ کہتے کہ وہ آسمان پر کئی سو سال سے بیٹھے ہیں۔ نہ کھاتے ہیں نہ پیتے ہیں۔“ (حضرت مسیح موعود کے کارنامے ص٢٩ تقریر خلیفہ محمود احمد)
خلاصہ کلام ....... مرزا قادیانی کی زبانی یہ ثابت ہو چکا ہے کہ آپ بھی حضرت ابن مریم علیہ السلام کو تقریباً ٤٠، ٤٥ سال آسمان پر زندہ سمجھتے رہے اور خلیفہ محمود احمد کے نزدیک حضرت ابن مریم علیہ السلام کو زندہ سمجھنا شرک ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ مشرک کے لئے خداوند تعالیٰ کیا سزا مقرر کرتا ہے؟
چنانچہ قرآن کریم میں ہے: ”ولقد اوحی الیک والى الذين من قبلك لئن اشركت ليحبطن عملك ولتكونن من الخسرين (الزمر: ٦٥)“ (اور البتہ وحی کیا ہم نے طرف تیرے اور طرف ان لوگوں کے کہ پہلے تجھ سے تھے (یعنی تمام رسول) اگر شرک کیا تو نے البتہ ضائع ہو جاویں گے عمل تیرے اور البتہ ہوگا تو خسارہ پانے والا۔)
مشرک نبی نہیں ہو سکتا
مولانا احمد علی قادیانی! بھلا جو آدمی چالیس سال تک شرک کرتا رہا ہو۔ کیا وہ بھی نبی ہو سکتا ہے؟ ہرگز نہیں۔ نبی تو کیا وہ تو قرآن کریم کے نزدیک اپنے آپ کو ایک نیک آدمی بھی کہلوانے کا حق دار نہیں۔ کیونکہ مشرک کے ہر نیک عمل ساتھ کے ساتھ ہی ضائع ہوتے رہتے ہیں اور نبی تو بچپن سے لے کر موت تک کبھی اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک نہیں کرتا اور جناب انڈین مسیح تو پورے ٤٠ یا ٤٥ سال خدا کے ساتھ شرک کرتا رہا کہ حضرت ابن مریم زندہ ہے۔ پھر وہ کیونکر نبی ہو گئے؟
٢٤
مذکورہ بالا حالات سے مکمل روشنی ہو آسمان پر زندہ ہیں۔
حیات مسیح علیہ السلام کی تیسری دلیل
(اور پاک کرنے والا ہوں تجھ کو (
اور کرنے والا ہوں ان لوگوں کو کہ اطاعت کریں مولانا احمد علی قادیانی! اب دریافت سے پاک کرنے کا اللہ تعالیٰ نے وعدہ فرمایا ہے؟
(مریم:٢٨) ”(اے بہن ہارون کی (یعنی مریم یہودیوں نے حضرت مریم علیہا الـ کئے کہاں سے لائی؟ چنانچہ اللہ تبارک وتعالیٰ بیان فرمایا ہے۔
بسبب کفر ان کے کے اور کہنے ان کے کے اوپر حضرت عیسیٰ علیہ السلام (نعوذ باللہ سے ہی یہودیوں نے حضرت ابن مریم علیہ السـ کہتے تھے کہ دعویٰ اس کا اللہ تعالیٰ کے رسول (معاذ اللہ ) اس کی سزا یہی ہے کہ قتل کر دیا جائے۔ اب سوال یہ ہے کہ اگر بقول جناب حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی پاکیزگی جس کا قرآ اور کب ہوگا؟ پاکیزگی تو تب ہی ہو سکتی ہے کہ ا لائیں اور یہودی اس بات پر ایمان لے آئیں اپنی قدرت کاملہ سے بغیر باپ کے ہی پیدا کیا ہیں اور ان کی والدہ حضرت مریم علیہا السلام عائـ
مذکورہ بالا حالات سے مکمل روشنی ہو گئی کہ ابن مریم علیہ السلام فوت نہیں ہوئے۔ بلکہ وہ آسمان پر زندہ ہیں۔
حیات مسیح علیہ السلام کی تیسری دلیل
”ومطهرك من الذين كفروا وجاعل الذين اتبعوك (آل عمران: ٥٥)“ ﴿اور پاک کرنے والا ہوں تجھ کو (یعنی عیسیٰ علیہ السلام) ان لوگوں سے جو کافر ہوئے اور کرنے والا ہوں ان لوگوں کو کہ اطاعت کریں گے تیری۔﴾
مولانا احمد علی قادیانی! اب دریافت طلب یہ بات ہے کہ یہودیوں کا کفر کیا تھا کہ جس سے پاک کرنے کا اللہ تعالیٰ نے وعدہ فرمایا ہے؟ آئیے میں جناب کو پیش کرتا ہوں۔
”ياخت هارون ما كان ابوك امرا سوء وما كانت امك بغيا (مریم: ٢٨)“ ﴿اے بہن ہارون کی (یعنی مریم) نہیں تھا باپ تیرا اور ماں تیری بدکار۔﴾
یہودیوں نے حضرت مریم علیہا السلام پر زنا کا الزام لگایا تھا کہ تو یہ لڑکا بغیر نکاح کے کہاں سے لائی؟ چنانچہ اللہ تبارک وتعالیٰ نے قرآن کریم کے اندر دوسری جگہ بھی یہ قصہ بیان فرمایا ہے۔
”وبكفرهم وقولهم على مريم بهتانا عظيما (النساء: ١٥٦)“ ﴿اور بسبب کفر ان کے کے اور کہنے ان کے کے اوپر مریم علیہا السلام کے بہتان بڑا۔﴾
حضرت عیسیٰ علیہ السلام (نعوذ باللہ) کے نسب پر طعن (نقل کفر کفر نہ باشد) اس وجہ سے ہی یہودیوں نے حضرت ابن مریم علیہ السلام کو قتل کرنے کے لئے مکر وفریب بھی کئے تھے۔ کہتے تھے کہ دعویٰ اس کا اللہ تعالیٰ کے رسول ہونے کا ہے۔ مگر ہے بغیر نکاح کے پیدا ہوا۔ (معاذ اللہ) اس کی سزا یہی ہے کہ قتل کر دیا جائے۔
اب سوال یہ ہے کہ اگر بقول جناب مرزا قادیانی حضرت مسیح فوت ہو چکے ہیں تو پھر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی پاکیزگی جس کا قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے۔ وہ کب پورا ہوا اور کب ہوگا؟ پاکیزگی تو تب ہی ہو سکتی ہے کہ آپ زندہ ہوں۔ پھر آسمان سے نازل ہو کر تشریف لائیں اور یہودی اس بات پر ایمان لے آئیں کہ حضرت ابن مریم علیہ السلام کو خداوند عالم نے اپنی قدرت کاملہ سے بغیر باپ کے ہی پیدا کیا تھا۔ آپ بیشک اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں اور ان کی والدہ حضرت مریم علیہا السلام عائد کردہ الزامات سے بالکل مبرا تھی۔
٢٥
جماعت قادیانی کے گھر کی شہادت
چنانچہ ملک عبدالرحمن خادم گجراتی قادیانی اپنی پاکٹ بک احمدیہ میں زیر آیت ”مطھرک“ رقم ہیں ”تطہیر سے مراد اس آیت میں کافروں کے الزامات سے بری کرنا ہے نہ کہ ان کے ہاتھوں سے زخمی ہونے سے بچانا۔“
اب ہمارا یہ مطلب ہے کہ آیا وہ یہودی حضرت مریم صدیقہ پر الزامات لگانے سے باز آگئے اور انہوں نے اپنے آبائی عقیدہ جو کہ حضرت مسیح علیہ السلام کے متعلق تھا کیا بدل دیا؟ وہ تائب ہو گئے؟ ہرگز نہیں بلکہ وہ اپنے اس عقیدہ پر قائم ہیں۔ تو پھر خداوند کریم کا سچا وعدہ جو کہ سچی کتاب میں ہے: ”ومطھرک من الذین کفروا“ کیا پورا ہوا؟ ہرگز نہیں۔ کیونکہ ابھی تک ساری دنیا کے یہودیوں کا یہی عقیدہ چلا آ رہا ہے کہ معاذ اللہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا نسب ثابت نہیں۔
ان حالات سے ظاہر ہوا کہ ابن مریم علیہ السلام ابھی زندہ ہیں اور نازل ہونے پر تمام یہودی اس بات پر ایمان لائیں گے کہ واقعی ابن مریم علیہ السلام کو خدا تبارک و تعالیٰ نے بغیر باپ کے ہی پیدا کیا تھا۔ آپ بیشک اللہ تعالیٰ کے بندے اور اس کے سچے رسول ہیں۔
حیات مسیح علیہ السلام کی چوتھی دلیل
”انا قتلنا المسيح عيسى ابن مريم رسول الله، وما قتلوه وما صلبوه (النساء:١٥٧)“ تحقیق قتل کر ڈالا ہم نے عیسیٰ بیٹے مریم کے کو جو رسول اللہ تھا اور نہیں قتل کیا اس کو اور نہ سولی دی اس کو۔
اس آیت کے اندر اللہ تبارک و تعالیٰ نے کئی باتیں بیان فرمائی ہیں۔ اول تو صریحاً اس بات کا رد کیا کہ جو یہود و نصاریٰ کے دلوں میں شبہ پڑا ہوا تھا کہ ہم نے ابن مریم علیہ السلام کو قتل کر دیا ہے۔
دوم....... اس بات کی اطلاع بھی کر دی کہ یہودیوں نے ایک آدمی کو قتل تو ضرور کیا ہے۔ مگر حضرت ابن مریم علیہ السلام کو نہیں۔ نہ اس کو قتل کیا اور نہ سولی دیا۔
مولانا احمد علی قادیانی! یہود شروع سے حضرت ابن مریم علیہ السلام کو قتل کرنے کے قائل ہیں۔ سولی پر چڑھانے کے وہ ہرگز قائل نہیں اور قرآن کریم نے ان کا کوئی ایسا قول دنیا کے سامنے پیش نہیں کیا کہ یہودی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو سولی پر چڑھانے کے قائل ہیں۔ جبکہ یہودی قرآن کریم کی شہادت کے ہوتے ہوئے اس بات کے قائل ہی نہیں کہ ہم نے ابن مریم
٢٦
علیہ السلام کو سولی پر چڑھایا۔ تو پھر قادیانیوں نے یہ السلام سولی پر چڑھائے گئے اور وہاں پر ان کو بیہوشی دیا پھر ان کے حواری گھر لے گئے۔ زخموں پر مرہم پـ کر فوت ہو گئے
برادران اسلام! جماعت قادیانی نے قـ قبول کر لی ہے۔ کیونکہ انجیل میں ہے کہ یہودیوں چڑھایا۔ لیکن قرآن کریم کا فتویٰ انجیل کے خلاف ہـ نصاریٰ اور جماعت قادیانی ان دونوں علیہ السلام کو سولی پر چڑھائے جانا قبول کر لیں۔ جماعت قادیانی کے عقیدہ سے عیسائیت کـ عیسائی مذہب اگر حضرت عیسیٰ علیہ السلا کے مذہب کا تانا بانا سب ٹوٹ جاتا ہے۔ کیونکہ ان سولی ہی نہیں دیئے گئے تو کفارہ کیسا؟
یہ فقط جماعت قادیانی نے ان کے اس مـ علیہ السلام کو سولی پر چڑھائے جانا قبول نہ کیا جائے اس لئے ان لوگوں نے انجیل کی عبارت کو بگاڑ کر قـ کفارہ ثابت ہو جائے۔ مگر میں جماعت قادیانی کـ بناسپتی نبی کی ہدایت کو یاد رکھنا چاہئے۔ اس لئے کہ نبی کو خیر باد کہہ دیا ہے۔ پھر ان کے قول کو تو نہ بھول جا
چاروں انجیلیں قابل اعتبار نہیں
”غرض یہ چاروں انجیلیں جو یونانی ترجـ ذرہ بھر قابل اعتبار نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اس کی پیر شخص کو ہرگز نہیں ملتا جو ان انجیلوں کی پیروی کرتا ہـ ہیں۔“
جماعت قادیانی کے فرقہ کا دارومدار حضـ یہ انجیل کی اتباع نہ کریں تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی
٢٧
علیہ السلام کو سولی پر چڑھایا۔ تو پھر قادیانیوں نے یہ قصہ من گھڑت کیوں تیار کرلیا کہ ابن مریم علیہ السلام سولی پر چڑھائے گئے اور وہاں پر ان کو بیہوشی طاری ہوگئی اور یہودیوں نے مردہ سمجھ کر اتار دیا پھر ان کے حواری گھر لے گئے۔ زخموں پر مرہم لگائی اور صحت یاب ہو کر وہاں سے نکل کر کشمیر آ کر فوت ہوگئے
برادران اسلام! جماعت قادیانی نے قرآن کریم کو چھوڑ کر کتاب انجیل کی اطاعت قبول کر لی ہے۔ کیونکہ انجیل میں ہے کہ یہودیوں نے حضرت ابن مریم علیہ السلام کو سولی پر چڑھایا۔ لیکن قرآن کریم کا فتویٰ انجیل کے خلاف ہے۔ ”وما قتلوہ وما صلبوہ“ نصاریٰ اور جماعت قادیانی ان دونوں کا کام تب ہی درست ہوتا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو سولی پر چڑھائے جانا قبول کر لیں۔
جماعت قادیانی کے عقیدہ سے عیسائیت کو تقویت
عیسائی مذہب اگر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو سولی پر چڑھائے جانا قبول نہ کریں تو ان کے مذہب کا تانا بانا سب ٹوٹ جاتا ہے۔ کیونکہ ان کے مذہب کی بنیاد کفارہ پر ہے۔ جب آپ سولی ہی نہیں دیئے گئے تو کفارہ کیسا؟
یہ فقط جماعت قادیانی نے ان کے اس عقیدے کو تقویت دے دی ہے۔ مگر حضرت مسیح علیہ السلام کو سولی پر چڑھائے جانا قبول نہ کیا جائے تو عیسائیت پر زبردست اعتراض واقع ہے۔ اس لئے ان لوگوں نے انجیل کی عبارت کو بگاڑ کر قتل کی بجائے صلیب لکھ دیا تاکہ عیسیٰ علیہ السلام کا کفارہ ثابت ہو جائے۔ مگر میں جماعت قادیانی کو اس بات کی نصیحت کرتا ہوں کہ آپکو اپنے بناسپتی نبی کی ہدایت کو یاد رکھنا چاہئے۔ اس لئے کہ ان کے پیچھے تو آپ نے قرآن کریم اور سنت نبی کو خیر باد کہہ دیا ہے۔ پھر ان کے قول کو تو نہ بھول جاؤ۔ چنانچہ مرزا قادیانی راقم ہیں۔
چاروں انجیلیں قابل اعتبار نہیں
”غرض یہ چاروں انجیلیں جو یونانی ترجمہ ہو کر اس ملک میں پھیلائی جاتی ہیں۔ ایک ذرہ بھر قابل اعتبار نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اس کی پیروی میں کچھ بھی برکت نہیں۔ خدا کا جلال اس شخص کو ہر گز نہیں ملتا جو ان انجیلوں کی پیروی کرتا ہے۔ بلکہ یہ انجیلیں حضرت مسیح کو بدنام کر رہی ہیں۔“
(تریاق القلوب ص ٨، خزائن ج ١٥ ص ١٤٢)
جماعت قادیانی کے فرقہ کا دارومدار حضرت ابن مریم علیہ السلام کی وفات پر ہے۔ اگر یہ انجیل کی اتباع نہ کریں تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی وفات کسی طور ثابت نہیں ہو سکتی۔
٢٧
حالانکہ جناب مرزا قادیانی کا فرمان ہے کہ یہ انجیلیں قابل اعتبار نہیں۔ مگر قادیانی جماعت کے مبلغ مرزا قادیانی کے فرمان پر بھی عمل نہیں کرتے۔ تف ایسی امت پر۔ اگر انجیل پر عمل نہ کریں تو حیات مسیح کا ثبوت آیت پیش کردہ ایک ہی کافی ہے۔ کیونکہ یہود تو فقط اس بات کے ہی قائل ہیں کہ ”انا قتلنا“ ہم نے قتل کیا۔
اگر قادیانی جماعت یہ تسلیم کرتی ہے کہ حضرت ابن مریم علیہ السلام ہی قتل کر دیئے گئے تو پھر بھی ان کو مصیبت، کیونکہ مرزا قادیانی ہزاروں جگہ لکھ کر چلے گئے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام سری نگر میں فوت ہوئے۔ وہاں پر ان کی قبر ہے۔
اگر قتل اور صلیب دونوں باتوں کو قبول نہ کریں تو پھر لازمی ہماری طرح کہنا پڑے گا کہ ابن مریم کی جگہ کوئی دوسرا آدمی قتل کیا گیا۔ اس لئے یہود ”انا قتلنا“ کہ ہم نے قتل کیا قائل ہیں۔ تو پھر زندگی ثابت ہوئی۔ اس لئے ان لوگوں نے قرآن کریم اور نبی علیہ السلام کو چھوڑ کر مناسب سمجھا کہ انجیل پر عمل کیا جائے۔
مسیح ہی صلیب پر لٹکائے گئے
”بیشک آپ کو ہی (یعنی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو) صلیب پر لٹکایا گیا۔ مگر چونکہ اندھیرا ہو چکا تھا۔ اس لئے آپ کی بیہوشی سے یہود نے یہ گمان کیا کہ آپ فوت ہو گئے ہیں اور دوسری طرف عیسائیوں نے بھی مسیح کی جان کی حفاظت کی خاطر اس قسم کا پروپیگنڈہ کیا۔ حالانکہ اس زمانہ کی صلیب کے لحاظ سے حضرت مسیح علیہ السلام کے اڑھائی یا ٣ گھنٹے صلیب پر رہنے سے موت واقع نہیں ہو سکتی تھی۔ یہی وجہ ہے کہ دونوں چوروں کی ہڈیاں توڑ کر مارا گیا۔ مگر یہ ظاہر کر کے کہ آپ فوت ہو گئے ہیں۔ آپ کی ہڈی نہ توڑی گئی ۔“
(نصرۃ الحق ص ٢٩ مصنفہ احمد علی شاہ قادیانی)
مولانا احمد علی قادیانی بقول مرزا غلام احمد قادیانی کے کاذب ہیں کہ جو ان انجیلوں پر خود عمل کر کے اور لوگوں کو ہدایت کرتے ہیں کہ جو مسئلہ تمہیں قرآن کریم میں تمہارے خلاف ملے تو اس کو چھوڑ کر انجیل پر عمل کر لیا کرو۔ مولانا احمد علی صاحب! جو آدمی اہل سنت والجماعت کا عقیدہ رکھتا ہے وہ قرآن کریم اور حدیث رسول ﷺ کو چھوڑ کر کبھی انجیل کی طرف نہیں جائے گا۔ میں جماعت قادیانی کو علی الاعلان اس بات کا چیلنج دیتا ہوں کہ اگر حضرت مسیح علیہ السلام کا سولی پر چڑھایا جانا اور بقول مولانا احمد علی قادیانی ان کو بھالا مارنا اور خون وغیرہ نکلنا قرآن کریم یا حدیث سے ثابت کر دو تو خدا کی قسم! مبلغ ٥٠ روپیہ نقد انعام حاصل کرنے کے علاوہ میں تمہارے موقف کو قبول کرنے کے لئے تیار ہوں۔
٢٨
خدارا رسول اللہ ﷺ کی امت کو بیو اتباع کریں۔ ورنہ یاد رکھو ٹھکانا جہنم ہوگا۔ جب حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو مصلوب ہونا قبول نہیں رہے ہیں۔ چنانچہ مرزا قادیانی راقم ہیں۔
مسیح مصلوب نہیں ہوئے
”اور یاد رہے کہ عیسائی مذہب اس کے اصولوں کا واقعات حقہ سے تمام تانا بانا ٹوٹ مصلوب ہونا اور پھر آسمان پر چڑھ جانا دونوں اس قوم میں ایک زلزلہ پیدا کر دے گا۔ کیونکہ عی مدار صلیب پر اور جب صلیب ہی نہ رہی تو کفار گیا۔“
مذکورہ بالا حوالہ سے مکمل روشنی ہو گئی خلاف ہیں اور جماعت قادیانی کے علماء قرآ قادیانی کے بھی خلاف ہیں۔ کیونکہ جناب مرزا
”حضرت ابن مریم کو سولی پر چڑھ معلوم ہوا کہ جناب مرزا غلام احمد قادیانی کی جم مسلمانوں کو بدنام کیا جا رہا ہے کہ ان کے عقید قرآن کریم تو اس بات کی نفی کر رہا ہے کہ: ”و السلام کو نہ قتل کیا گیا اور نہ سولی پر دیا گیا۔ بلکہ عیس ایک یہودی پر مشابہت ڈال دی جس کو یہودا رہے ہیں کہ ”انا قتلنا“ ہم نے حضرت عیسیٰ
حیات مسیح علیہ السلام پر پانچویں دلیل
”ولکن شبہ لهم وان الذی علم (النساء:١٥٧)“ ﴿اور لیکن شبہ ڈال بیچ اس کے البتہ وہ بیچ شک کے ہیں نہیں ہے م
خدا را رسول اللہ ﷺ کی امت کو یہ ہدایت مت کرو کہ وہ قرآن کریم کو چھوڑ کر انجیل کی اتباع کریں۔ ورنہ یاد رکھو ٹھکانا جہنم ہوگا۔ حیرت ہے کہ جب قادیانی جماعت کے مرزا غلام احمد حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو مصلوب ہونا قبول نہیں کرتے تو پھر یہ لوگ کیوں آپ کے خلاف عمل کر رہے ہیں۔ چنانچہ مرزا قادیانی راقم ہیں۔
مسیح مصلوب نہیں ہوئے
”اور یاد رہے کہ عیسائی مذہب اس قدر دنیا میں پھیل گیا ہے۔ ان کے مذہب اور ان کے اصولوں کا واقعات حقہ سے تمام تانا بانا توڑ دیا جائے اور ثابت کر دیا جائے کہ حضرت مسیح کا مصلوب ہونا اور پھر آسمان پر چڑھ جانا دونوں باتیں جھوٹ ہیں۔ یہ طرز ثبوت ایسی ہے کہ بلاشبہ اس قوم میں ایک زلزلہ پیدا کر دے گی۔ کیونکہ عیسائی مذہب کا تمام مدار کفارہ پر ہے اور کفارہ کا تمام مدار صلیب پر اور جب صلیب ہی نہ رہی تو کفارہ بھی نہ رہا اور جب کفارہ نہ رہا تو مذہب بنیاد سے گر گیا۔“
(تریاق القلوب ص٢٢،خزائن ج١٥ ص١٦٩،١٦٨)
مذکورہ بالا حوالہ سے مکمل روشنی ہو گئی کہ جناب مرزا غلام احمد قادیانی تو قرآن کریم کے خلاف ہیں اور جماعت قادیانی کے علماء قرآن کریم کے خلاف ہونے کے علاوہ جناب مرزا قادیانی کے بھی خلاف ہیں۔ کیونکہ جناب مرزا فرماتے ہیں:
”حضرت ابن مریم کو سولی پر چڑھائے جانا اور ماننا عیسائیت کو ترقی دینا ہے۔“ تو
معلوم ہوا کہ جناب مرزا غلام احمد قادیانی کی جماعت تو رات دن عیسائیت کو ترقی دے رہی ہے اور مسلمانوں کو بدنام کیا جارہا ہے کہ ان کے عقیدے سے عیسائیوں کو ترقی ہوئی۔ یہ بالکل غلط ہے۔ قرآن کریم تو اس بات کی نفی کر رہا ہے کہ: ”وما قتلوہ وما صلبوہ“ یعنی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو نہ قتل کیا گیا اور نہ سولی پر دیا گیا۔ بلکہ عیسیٰ علیہ السلام کو خداوند عالم نے زندہ آسمان پر اٹھا کر ایک یہودی پر مشابہت ڈال دی جس کو یہودیوں نے قتل کر دیا۔ لہٰذا اس قول پر آج تک وہ چلے آ رہے ہیں کہ ”انا قتلنا“ ہم نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو قتل کر دیا۔
حیات مسیح علیہ السلام پر پانچویں دلیل
”ولكن شبه لهم وان الذين اختلفوا فيه لفى شك منه مالهم به من علم (النساء:١٥٧)“ ﴿اور لیکن شبہ ڈال دیا گیا واسطے ان کے اور جو لوگ اختلاف کرتے ہیں بیچ اس کے البتہ وہ بیچ شک کے ہیں نہیں ہے واسطے ان کے ساتھ اس کے کچھ علم۔﴾
٢٩
یعنی جن لوگوں کا یہ عقیدہ ہے کہ حضرت ابن مریم علیہ السلام ہی مقتول یا مصلوب ہوئے وہ شک میں ہیں۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے یہودیوں میں سے ایک آدمی کی صورت کو مانند مسیح کے بدل دیا۔ ان لوگوں کو دیکھ کر مکمل اعتماد ہو گیا کہ یہ حضرت ابن مریم علیہ السلام ہی ہیں۔ اس کو پکڑ کر قتل کر دیا گیا۔
قادیانی جماعت یہ سن کر بڑا تعجب کیا کرتی ہے کہ کسی کی شکل کا تبدیل ہونا عقل ونقل کے خلاف ہے۔ افسوس ہے کہ جماعت قادیانی کو یہ بات تو عقل ونقل کے خلاف نظر آرہی ہے (اور وہ ایک انسان کو انسان کی شکل میں تبدیل ہو جانا تسلیم نہیں کرتے) حالانکہ خداوند کریم نے انسان کو بندروں کی شکل میں تبدیل فرما کر قرآن کریم میں اس کا تذکرہ بھی فرما دیا ہے ”کونوا قردة خاسئین“ مگر ان لوگوں نے مرزا غلام احمد قادیانی کی تصانیف کو پڑھ کر نہیں دیکھا۔ آپ راقم ہیں۔
مرزا قادیانی دس ماہ حاملہ بھی رہے
”کہ مریم کی طرح عیسیٰ علیہ السلام کی روح مجھ میں نفخ کی گئی اور استعارہ کے رنگ میں مجھے حاملہ ٹھہرایا گیا اور آخر کئی مہینے کے بعد جو دس مہینے سے زائد نہیں بذریعہ الہام مجھے مریم سے عیسیٰ بنایا گیا۔ پس اس طور سے میں ابن مریم ٹھہرا۔“
(کشتی نوح ص ٤٧، خزائن ج ١٩ ص ٥٠)
مرزا قادیانی کے حیض سے بچہ بن گیا
”الٰہی بخش چاہتا ہے کہ تیرا حیض دیکھے یا کسی پلیدی اور ناپاکی پر اطلاع پائے۔ مگر خدا تجھے اپنے انعامات دکھلائے گا۔ جو متواتر ہوں گے۔ تجھ میں حیض نہیں بلکہ وہ بچہ ہو گیا ہے ایسا بچہ جو بمنزلہ اطفال اللہ کے ہے۔“
(تتمہ حقیقت الوحی ص ١٤٣، خزائن ج ٢٢ ص ٥٨١)
مرزا قادیانی خوبصورت عورت کی شکل میں بمع ڈاڑھی
”حضرت مسیح موعود نے ایک دفعہ اپنی حالت ظاہر فرمائی ہے کہ کشف کی حالت آپ پر اس طرح طاری ہو گئی کہ گویا آپ عورت ہیں اور اللہ تعالیٰ نے رجولیت کی قوت کا اظہار فرمایا۔“
(اسلامی قربانی ص ١٢، تصنیف قاضی یار محمد قادیانی مطبوعہ ریاض ہند امرتسر)
کیا اب میں مولانا احمد علی صاحب سے دریافت کر سکتا ہوں کہ کسی آدمی کی شکل تبدیل ہو جانا تو آپ کو عقل اور نقل کے خلاف معلوم ہوتا ہے۔ مگر جناب مرزا قادیانی کی حالتوں کا جنہیں علم نہیں کہ حیض کا آنا، حاملہ ہونا اور نہایت خوبصورت عورت کی شکل بدل جانا۔ خوبصورتی بھی ایسی
٣٠
کہ خداوند عالم کو دیکھ کر بھی عشق پیدا ہو گیا۔ (معاذ اللہ ہوگئی۔ بچہ پیدا ہو گیا تو پھر جناب مرزا قادیانی یعنی مرزا قادیانی نے مداریوں کی بھی ٹانگ توڑ دی۔
اب آیئے مفسرین سے بھی آیت ”ولکن ہیں۔ چنانچہ ملاحظہ ہو۔
- ......١ ”والقى شبه على المنافق فدخ
عيسىٰ عليه السلام وقيل ان طيانوس ا يجده والقى الله تعالى عليه شبه فلما خرج ڈال دیا گیا شبہ اوپر منافق کے پس جب داخل ہوئے او کہ یہی حضرت عیسیٰ علیہ السلام ہیں۔ پس قتل کیا اس کو او گھر کے جس میں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام تھے اور نہ پایا شکل حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی اوپر تطیانوس کے جب عیسیٰ علیہ السلام ہیں۔ پس پکڑا اس کو اور قتل کیا۔
- ......٢ ”ولکن شبه لهم القی شبه ع
عیسیٰ“ یعنی اور لیکن شبہ ڈال دیا گیا واسطے اس کے السلام کی اوپر تطیانوس کے پس قتل کیا اس کو بدلے حضر
مولانا احمد علی قادیانی کو ایک یاد دہانی
یہ تطیانوس یہودی وہی ہے جس کے متع تھر پارکر سندھ میں مورخہ ٢٤؍ جنوری ١٩٥٣ء بوقت تھا کہ اگر عیسیٰ علیہ السلام نہ قتل کئے گئے اور نہ سولی چڑ کسی آدمی کو قتل کر دیا۔ اگر اس کا نام کسی معتبر حوالہ ۔ انعام دوں گا۔ مولانا، خاکسار نے تفسیر سیدنا ابن عبا تھا۔ مگر افسوس صد افسوس کہ آپ باوجود ایک مولوی عہد کو کیوں پورا نہیں کر سکے تھے۔ غالباً شرمندگی کی وج
٣١
کہ خداوند عالم کو دیکھ کر بھی عشق پیدا ہو گیا۔ (معاذ اللہ) کیونکہ پہلی پیدائش آدمی پھر عورت حاملہ ہوگئی۔ بچہ پیدا ہو گیا تو پھر جناب مرزا قادیانی یعنی مرزا قادیانی ہی رہ گئے۔ خدا کی قسم! جناب مرزا قادیانی نے مداریوں کی بھی ٹانگ توڑ دی۔
اب آیئے مفسرین سے بھی آیت "ولکن شبہ لهم" کے متعلق دریافت کرتے ہیں۔ چنانچہ ملاحظہ ہو۔
- ١....... "والقى شبه على المنافق فدخلوا عليه فقتلوه وهم يظنون انه
عيسى عليه السلام وقيل ان تطیانوس اليهودى دخل بيتاكان هو فيه فلم يجده والقى الله تعالى عليه شبه فلما خرج ظن انه عيسى فاخذ وقتل " یعنی ڈال دیا گیا شبہ اوپر منافق کے پس جب داخل ہوئے اوپر اس کے یہودی پس گمان کیا انہوں نے کہ یہی حضرت عیسیٰ علیہ السلام ہیں۔ پس قتل کیا اس کو اور تھا یہ تطیانوس یہودی داخل ہوا وہ بیچ اس گھر کے جس میں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام تھے اور نہ پایا ان کو مکان میں اور اللہ تعالیٰ نے ڈال دی شکل حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی اوپر تطیانوس کے جب دیکھا اس کو یہودیوں نے تو گمان کیا کہ یہ عیسیٰ علیہ السلام ہیں۔ پس پکڑا اس کو اور قتل کیا۔
(تفسیر کبیر جلد سوم ص ٣٣٠ طبع مصری)
- ٢....... "ولكن شبّه لهم القى شبه عيسى على تطیانوس فقتلوه بدل
عيسى “ یعنی اور لیکن شبہ ڈال دیا گیا واسطے اس کے۔ یعنی ڈال دی گئی مشابہت حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی اوپر تطیانوس کے پس قتل کیا اس کو بدلے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے۔
(تفسیر ابن عباس ص ٦٨ مطبوعہ مصر)
مولانا احمد علی قادیانی کو ایک یاد دہانی
یہ تطیانوس یہودی وہی ہے جس کے متعلق جناب نے چک ١٥١ تعلقہ ڈگری ضلع تھر پار کر سندھ میں مورخہ ٢٣؍ جنوری ١٩٥٣ء بوقت مناظرہ (میرے ساتھ کرتے ہوئے) فرمایا تھا کہ اگر عیسیٰ علیہ السلام نہ قتل کئے گئے اور نہ سولی چڑھادیئے گئے مگر ان کی جگہ یہودیوں نے اور کسی آدمی کو قتل کر دیا۔ اگر اس کا نام کسی معتبر حوالہ سے مجھے بتلا دیا جائے تو میں مبلغ پانچ روپے انعام دوں گا۔ مولانا، خاکسار نے تفسیر سیدنا ابن عباسؓ سے مذکورہ بالا حوالہ آپ کے پیش نظر کیا تھا۔ مگر افسوس صد افسوس کہ آپ باوجود ایک مولوی فاضل کی حیثیت رکھتے ہوئے اپنے ایفائے عہد کو کیوں پورا نہ کر سکے۔ غالباً شرمندگی کی وجہ سے حالانکہ سامعین حضرات نے اس بات
پر اصرار بھی کیا کہ جو انعام مقرر کیا گیا تھا وہ ادا کر دیا جائے۔ مگر آپ ماشاء اللہ بڑے ہوشیار ہیں کہ اب دیتے دیتے ہضم ہی کر گئے۔
خلاصہ کلام...... اب بھی غور کر لیجئے یہی تطیانوس ہے جس کا ذکر کر آیا ہوں۔
٣...... "فالقی الله شبه عيسى على ذالك المنافق الذي دل عليه فاخذوه فقتلوه وهم يظنون انه عيسى " پس ڈال دی اللہ نے مشابہت حضرت عیسیٰ کی اوپر اس منافق کے۔ دال ہے اوپر اس کے۔ پس پکڑا اس کو۔ قتل کیا اس کو اور گمان کیا انہوں نے کہ یہی حضرت عیسیٰ ہیں۔
(تفسیر خازن جلد اول ص ٣٨٦ مطبع مصری)
٤...... "شبه لهم من قتلوه بان القى الله على رجل من اليهود وشبه فقتل" یعنی مشابہت ڈال دی اللہ تعالیٰ نے یہودیوں میں سے ایک آدمی پر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی۔ پس قتل کیا اس کو۔
(تفسیر جامع البیان ص٩٠ مطبوعہ نامی دہلی ١٣٣٤ھ)
٥...... "وقال ابن جرير عن مجاهد صلبوه رجلا شبه بعيسى ورفع الله عزوجل عيسى الى السماء حيا" یعنی حضرت ابن جریر نقل کرتے ہیں حضرت مجاہد سے کہ یہودیوں نے اس آدمی کو سولی دیا تھا جس پر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی مشابہت ڈال دی گئی تھی اور اٹھا لیا حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے طرف آسمان کے زندہ۔
(تفسیر ابن کثیر جلد اول ص ٥٧٦ مطبوعہ مصر ١٣٥٦ھ)
٦...... مولانا احمد علی قادیانی نصرۃ الحق میں راقم ہیں کہ تطیانوس کی تردید کے لئے ہم کافی لکھ چکے ہیں۔ تاہم حضرت ابن عباس کا بیان بھی سن لیجئے۔ فرماتے ہیں حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے اپنے حواریوں سے کہا تھا۔ "ایکم يلقى عليه شبهي فيقتل مكاني فيكون في الجنة " یعنی تم میں سے کون میری شبیہ میں میری جگہ قتل ہو کر جنت حاصل کرنے کا خواہاں ہے؟ تو ایک مخلص نوجوان حواری نے لبیک کہتے ہوئے اپنے آپ کو پیش کیا۔ (تفسیر کمالین بر حاشیہ جلالین ص٥٠) اس عبارت سے معلوم ہوا کہ وہ شبیہ تطیانوس نہ تھا۔ بلکہ حضرت مسیح علیہ السلام کا مخلص حواری اور شاگرد تھا جو جنتی بن گیا۔"
(نقل از نصرۃ الحق ص ٣٤، مصنفہ احمد علی شاہ قادیانی)
مولانا احمد علی قادیانی پھر راقم ہیں۔
"حالانکہ تبدیلی شکل کا خیال عقل اور نقل کے خلاف ہے۔ مثلاً پہچان کا تمام دارومدار شکل پر ہوتا ہے۔ سو جب مسیح کی شکل تطیانوس کو مل گئی اور یہودیوں نے صلیب پر مار دیا تو ان کا دعویٰ "انا قتلنا المسیح" ہم نے مسیح کو قتل کر دیا، بالکل صحیح ٹھہرا۔
(نصرۃ الحق ص٣١)
٣٢
٣١٧
جواب اوّل
مولانا احمد علی قادیانی! ہماری اس بات پر ہرگز تعالیٰ نے مشابہت ڈالی تھی۔ حواری ہو یا کہ تطیانوس، ہما حیات جسمانی پر ہے۔ سو وہ میرے مخاطب کی زبانی بھی کہ بلا شک حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی جگہ کوئی دوسرا آدم السلام۔ تمام جماعت قادیانی کو سیدنا حضرت ابن عباس پسند ہے اور مولانا احمد علی قادیانی حوالہ تفسیر کمالین کا پیش حضرت ابن عباس کا ہے کہ تطیانوس شبیہ نہیں بلکہ حواری ب
اب تو جماعت قادیانی کو یہ ماننا لازمی ہے کہ کوئی آدمی یہودیوں کے ہاتھوں سے قتل ہوا۔ جب کوئی د ابن مریم علیہ السلام زندہ ضرور آسمان پر اٹھائے گئے۔
جواب دوم
افسوس کہ مولانا احمد علی قادیانی نے قرآن کر عصا کا ذکر کہیں نہیں پڑھا ہوگا۔ جو کہ فرعونیوں کے مقا ایک غیر جنس لکڑی کو خداوند کریم سانپ ذی روح کی ش دوسرے آدمی کی شکل میں تبدیل نہیں کر سکتا؟ جیسے موسیٰ کرنا عقل اور نقل کے خلاف نہیں۔ اسی طرح حضرت عی کس طرح خلاف عقل ونقل ہو سکتا ہے؟ آیت قرآن کر
"فالقها فاذا هي حية تسعى (طه) السلام نے عصا اپنا پس ناگہاں وہ سانپ تھا دوڑتا ہوا۔
مولانا صاحب! کیا لکڑی کا سانپ نہیں بنا نے تطیانوس کی شکل کو تبدیل کر کے یہودیوں کے ہاتھوں
مولانا احمد علی صاحب، کمترین نے بمقام ٢٤ فروری ١٩٥٣ء کو مناظرہ عام پبلک میں آپ سے کر کے تحت مذکورہ بالا آیت حضرت موسیٰ علیہ السلام کے عص کا جواب نہ آیا تو فرعونیوں کی طرح جادو اور نظر بندی کا
٣٣
پ ماشاء اللہ بڑے ہوشیار ہیں
ذکر کر آیا ہوں۔ ، الذي دل عليه فاخذوه مشابہت حضرت عیسیٰ کی اوپر اس اور گمان کیا انہوں نے کہ یہی ازن جلداول ص ٢٨٦ مطبع مصری) ، رجل من اليهود وشبه ایک آدمی پر حضرت عیسیٰ علیہ ص ٩٠ مطبوعہ نامی دہلی ١٣٢٤ھ ) شبه بعيسى ورفع الله رتے ہیں حضرت مجاہد سے کہ مشابہت ڈال دی گئی تھی اور
ل ص ٥٧٦ مطبوعہ مصر ١٣٥٦ھ) کی تردید کے لئے ہم کافی لکھ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے كاني فيكون في الجنة رنے کا خواہاں ہے؟ تو ایک ۔ (تفسیر کمالین برحاشیہ جلالین ضرت مسیح علیہ السلام کا مخلص س ١٤٦، مصنفہ احمد علی شاہ قادیانی)
بھلا پہچان کا تمام تابعدار نے صلیب پر مار دیا تو اس کا (نصرۃ الحق ص ٤١)
جواب اوّل
مولانا احمد علی قادیانی! ہماری اس بات پر ہرگز ہرگز بحث نہیں کہ ضرور ططیانوس پر ہی اللہ تعالیٰ نے مشابہت ڈالی تھی۔ حواری ہو یا کہ ططیانوس، ہماری بحث تو فقط حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی حیات جسمانی پر ہے۔ سو وہ میرے مخاطب کی زبانی بھی اللہ تعالیٰ اس بات کی تصدیق کرا رہا ہے کہ بلاشک حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی جگہ کوئی دوسرا آدمی قتل کیا گیا۔ نہ کہ حضرت ابن مریم علیہ السلام۔ تمام جماعت قادیانی کو سیدنا حضرت ابن عباسؓ کا قول بھی دوسرے مفسرین سے زیادہ پسند ہے اور مولانا احمد علی قادیانی حوالہ تفسیر کمالین کا پیش کرنے سے قبل یہ بھی لکھ گئے کہ یہ قول حضرت ابن عباسؓ کا ہے کہ ططیانوس شبہ نہیں بلکہ حواری ہے۔
اب تو جماعت قادیانی کو یہ ماننا لازمی ہے کہ ضرور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی جگہ دوسرا کوئی آدمی یہودیوں کے ہاتھوں سے قتل ہوا۔ جب کوئی دوسرا قتل ہوا تو پھر لازمی امر ہے کہ حضرت ابن مریم علیہ السلام زندہ ضرور آسمان پر اٹھائے گئے۔
جواب دوم
افسوس کہ مولانا احمد علی قادیانی نے قرآن کریم کے اندر حضرت موسیٰ علیہ السلام کے عصا کا ذکر کہیں نہیں پڑھا ہوگا۔ جو کہ فرعونیوں کے مقابلہ میں لکڑی سے سانپ بن جایا کرتا تھا۔ ایک غیر جنس لکڑی کو خداوند کریم سانپ ذی روح کی شکل تو بنا سکتا ہے۔ مگر کیا آدمی کو اللہ تعالیٰ دوسرے آدمی کی شکل میں تبدیل نہیں کر سکتا؟ جیسے موسیٰ کلیم اللہ کے عصاء کا سانپ کی شکل اختیار کرنا عقل اور نقل کے خلاف نہیں۔ اسی طرح حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی شکل ططیانوس کو اختیار کرنا کس طرح خلاف عقل و نقل ہو سکتا ہے؟ آیت قرآن کریم: ”فالقاها فاذاهي حية تسعى (طہ:٢٠)“ پس ڈال دیا حضرت موسیٰ علیہ السلام نے عصا اپنا پس ناگہاں وہ سانپ تھا دوڑتا ہوا۔
مولانا صاحب! کیا لکڑی کا سانپ نہیں بنا؟ اگر آپ کو قبول ہے تو اسی طرح اللہ تعالیٰ نے ططیانوس کی شکل کو تبدیل کر کے یہودیوں کے ہاتھوں سے ہی قتل کرا دیا۔
مولانا احمد علی صاحب، کمترین نے چک ١٥١ تعلقہ ڈگری ضلع تھرپارکر سندھ میں مورخہ ٢٤؍ فروری ١٩٥٣ء کو مناظرہ عام پبلک میں آپ سے کرتے وقت اس روز بھی ”ولكن شبه لهم“ کے تحت مذکورہ بالا آیت حضرت موسیٰ علیہ السلام کے عصا والی پیش کی تھی۔ مگر جب آپ کو اس دلیل کا جواب نہ آیا تو فرعونیوں کی طرح جادو اور نظر بندی کا کھیل بتایا گیا۔ کیا یہ کفار جیسا فعل تو نہیں کہ
٣٣
اللہ تعالیٰ کے ایک رسول کے معجزہ کو نظر بندی کہنا کیا احمدیت ہے؟ (استغفر اللہ)
جواب سوم، ایک عجیب واقعہ
”ایک سترہ سالہ طالب علم لڑکی بن گیا۔ (لاہور، ٢٦/ فروری) میو ہسپتال میں ایک حیرت انگیز مریض زیر علاج ہے۔ ایک نوجوان طالب علم مرد کے اوصاف کھو کر عورت بن رہا ہے۔ واقعہ یوں بیان کیا جاتا ہے کہ خالصہ کالج امرتسر کا ایک طالب علم جس کی عمر اس وقت ١٧ سال کے قریب ہے۔ مردانہ نشانات کھو کر عورتوں کے نشانات پارہا ہے۔ کچھ عرصہ ہوا اس کے جسم میں درد شروع ہوا اور رفتہ رفتہ اس کے فوطے گھلنے شروع ہو گئے۔ حتیٰ کہ گولیاں معدوم ہو گئیں۔ تھوڑے عرصہ کے بعد عضو مخصوص گھٹنا شروع ہوا اور گھٹتے گھٹتے اس کا بھی نشان باقی نہ رہا۔ پھر چھاتی میں درد شروع ہوا اور تھوڑی دیر کے بعد اس لڑکے کی چھاتی اس طرح ابھر آئی جیسے عورتوں کی ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ اس کی نقل و حرکت بھی عورتوں جیسی ہوتی گئی۔ اب اسے ہسپتال میں لایا گیا اور کرنل ہارپر نیس انچارج میو ہسپتال کے سامنے پیش کیا گیا۔“
(حمایت الاسلام لاہور ٣ / مارچ ١٩٣٤ء ص ٥)
مولانا احمد علی قادیانی! لڑکے سے لڑکی اللہ تعالیٰ بنا سکتا ہے تو کیا طبیعتوں کی شکل کو تبدیل کرنے پر قادر نہیں ہو سکتا؟ ممکن ہے کہ فقط جماعت قادیانی کو ہی سمجھانے کے لئے اللہ تبارک و تعالیٰ ایسے کام کر کے لوگوں کو بتاتا ہو کہ میں ہر چیز پر قادر ہوں۔ جو چاہوں کر سکتا ہوں اور جو چاہا سو کیا اور جو کچھ چاہوں گا کروں گا۔ اس کے ارادہ کو کوئی بدل نہیں سکتا۔
حیات مسیح علیہ السلام کی چھٹی دلیل
”بل رفعه الله اليه وكان الله عزيزا حكيما (النساء:١٥٨)“ ﴿بلکہ اٹھا لیا حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے طرف اپنی اور ہے اللہ غالب حکمت والا۔﴾
مولانا صاحب! کو معلوم ہو کہ اس آیت پیش کردہ میں رفع کا صلہ الیٰ موجود ہے۔ جو جسم مع الروح کے مرفوع ہونے پر برہان ہے۔ نیز جناب مرزا غلام احمد قادیانی ”رفعه الله اليه“ سے ”رفع الی السماء“ تسلیم کرتے ہیں۔
کیونکہ آیت ”انی متوفیک ورافعك الیٰ“ میں رفع حضرت مسیح کا ذکر ہے اور آیت ”بل رفعه الله اليه“ میں ایفائے عہد کا بیان ہے۔ رفع کے معنی عزت کی موت کرنا مولانا صاحب کا اپنا ایجاد ہے۔ کیونکہ لغت عرب میں اس کا کہیں ثبوت نہیں۔ بلکہ خلاف منشاء اللہ تعالیٰ کے ہے۔ کیونکہ یہود کا قول ”انا قتلنا المسیح“ ہے اور ظاہر ہے کہ قتل اور سولی کے قابل جسم ہے نہ کہ روح۔ جیسا کہ یہود کا خیال تھا کہ ہم نے سولی پر چڑھایا اور آیت ”وما قتلوه وما
٣٤
؟(استغفر الله)
ور، ٢٦ فروری) میو ہسپتال میں ایک کے اوصاف کھو کر عورت بن رہا ہے۔ م جس کی عمر اس وقت ١٧ سال کے ۔ کچھ عرصہ ہوا اس کے جسم میں درد ، گولیاں معدوم ہو گئی۔ تھوڑے عرصہ شان باقی نہ رہا۔ پھر چھاتی میں درد ابھر آئی جیسے عورتوں کی ہوتی ہے۔ ب اسے ہسپتال میں لایا گیا اور کرٹل مت الاسلام لاہور ٣/مارچ ١٩٣٢ء ص ٥) ا سکتا ہے تو کیا قادیانیوں کی شکل کو ادیانی کو ہی سمجھانے کے لئے اللہ در ہوں۔ جو چاہوں کر سکتا ہوں اور ل نہیں سکتا۔
لیما (النساء: ١٥٨) ” ﴿بلکہ اٹھا غالب حکمت والا۔﴾ میں رفع کا صلہ الی موجود ہے۔ جو غلام احمد قادیانی ” رفعه الله
میں رفع حضرت مسیح کا ذکر ہے اور ہے۔ رفع کے معنی عزت کی موت کرنا ل ثبوت نہیں۔ بلکہ خلاف منشاء اللہ اور ظاہر ہے کہ قتل اور سولی کے قابل ٹھایا اور آیت ” وما قتلوه وما
صلبوہ “ سے بھی نفی قتل و سولی جسم ہی سے کی گئی ہے اور جملہ ضمائر ” ما قتلوه وما صلبوه “ ” وما قتلوه یقینا “ راجع ہیں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی طرف، اور ”المسیح عیسیٰ ابن مریم “ معبر ہے ” جسد مع الروح “ اور جسم عیسیٰ کو ہی قتل اور سولی سے بچایا گیا۔ پس اس ابن مریم کو ہی زندہ اپنی طرف اٹھایا گیا۔ لہٰذا ثابت ہوا کہ آیت ” بل رفعه الله الیہ “ قطعی طور پر حیات عیسیٰ علیہ السلام پر دال ہے۔ جیسا کہ (صحیح بخاری مع فتح الباری ج ٩ ص ٩٣١، باب اذا وكل رجلا) میں حدیث موجود ہے، ملاحظہ ہو۔ ” لا رفعنك الى رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم “ یعنی ابو ہریرہؓ نے چور سے کہا کہ تجھ کو رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف ضرور لے جاؤں گا۔
دوسری حدیث ” وعن اسامة بن زيد...... فرفع الى رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم الصبى (مشكوة شريف ص ١٥٠ باب البكاء على الميت) “ اس حدیث کا مطلب یہ ہے کہ حضرت زینبؓ کا لڑکا رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف اٹھایا گیا۔ ان ہر دو حدیث میں جسم کو لے جانا مراد ہے نہ کہ محض روح کو۔ پس محاورات عرب وحدیث سے ثابت ہوا کہ رفع کا مفعول کوئی جسم ہوگا۔ وہاں اس سے مراد نیچے سے اوپر کو لے جانا ہوگی اور اگر رفع کا متعلق و معمول کوئی معنی ہوگا تو اقتضائے مقام پر محمول ہوگا۔
جیسے محاورہ ” رفعته الى الحكم “ میں اگر ضمیر منصوب سے مراد کوئی جسم ہے تو اس سے مراد رفع جسم ہی ہوگی اور اگر کوئی امر و معاملہ ہو تو صرف اس کا پیش کرنا مراد ہوگا۔ اس بیان کی تصدیق کے لئے مصباح منیر کی عبارت ملاحظہ ہو۔
” فالرفع فى الاجسام حقيقة فى الحركة والانتقال وفى المعانى على ما يقتضيه المقام “ اس عبارت سے واضح ہو گیا کہ رفع کے حقیقی اور وضعی معنی نیچے سے اوپر کو حرکت اور انتقال کے ہوتے ہیں۔ جیسا کہ عام تفاسیر بھی شاہد ہیں۔
” عن ابن عباس قال كنا فى المسجد نتذاكر فضل الانبياء الى ان قال فذكرنا عيسى برفعه الى السماء فدخل رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم فقال فيم انتم فذكرنا له “ یعنی حضرت ابن عباسؓ سے مروی ہے کہ ہم نے مسجد میں انبیاء کا ذکر کرتے کرتے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے آسمان پر چڑھنے کا بھی ذکر کیا۔ پس رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں تشریف لائے اور فرمایا کہ کیا ذکر کر رہے ہو؟ ہم نے پھر سارا قصہ بیان کیا۔
(تفسیر کبیر جلد دوئم ص ٤٠٣ مطبوعہ مصر)
٣٥
اس حدیث سے اظہر من الشمس ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے آسمان پر زندہ اٹھائے جانے پر تمام صحابہ کا اتفاق تھا اور رسول خدا ﷺ نے سن کر تصدیق فرمائی۔
آیت ”بل رفعه الله اليه“ میں رفع کا صلہ الی موجود ہے جو جسم مع الروح کے مرفوع ہونے پر برہان ہے۔ نیز جناب مرزاغلام احمد قادیانی ”رفع الله اليه“ سے ”رفع الی السماء“ تسلیم کرتے ہیں۔
”قال الحسن ان عيسى رفعه الله اليه فهو عنده في السماء“ یعنی حضرت حسنؓ سے روایت ہے کہ اللہ تبارک وتعالیٰ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو آسمان پر اٹھایا ہوا ہے۔ پس اللہ تعالیٰ کے پاس وہ آسمان پر زندہ ہیں۔
ان تمام مذکورہ بالا حوالہ جات سے ظاہر ہوا کہ واقعی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو خدا نے جسد مع الروح ہی آسمان پر اٹھایا ہوا ہے۔
اعتراض مولانا احمد علی قادیانی
لفظ ”رفع“ کے معنی اٹھانا کہنا سراسر تحکم اور زبردستی ہے۔ کیونکہ (اول) قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ کا نام رفیع الدرجات (المؤمن:١٥) آیا ہے۔ یعنی وہ مومنوں کو درجہ میں بلند کرنے والا ہے۔ اس میں رفع کے معنی آسمان پر اٹھانا نہیں۔ بلکہ درجات بلند کرنا اور عزت دینا ہیں۔ جیسا کہ شاہ رفیع الدین صاحب کے مندرجہ ذیل آیات کے ترجمہ سے بھی ظاہر ہوتا ہے۔
- ١...... ”ان ترفع (النور:٣٦)“ یہ کہ بلند کئے جائیں۔
- ٢...... ”لا ترفعوا اصواتكم (الحجرات:٢)“ مت بلند کرو آواز اپنی کو۔
- ٣...... ”يرفع الله الذين آمنوامنكم (المجادلة:١١)“ بلند کرے گا اللہ ان کو کہ ایمان
لائے ہیں تم میں سے۔
- ٤...... ”مرفوعة مطهرة (عبس:١٤)“ بلند کئے گئے، پاک کئے گئے۔
ان تمام آیات میں لفظ ”رفع“ ہر طریق سے بلندی اور عزت دینے کے معنی میں مستعمل ہے نہ کہ جسم کو آسمان پر اٹھائے جانے کے لئے۔
(نصرۃ الحق ص٢٩، ٣٠ مصنفہ احمد علی قادیانی)
جواب اوّل
مولانا احمد علی قادیانی نے مذکورہ بالا آیتوں کے اندر بڑی فریب دہی اور دھوکہ بازی سے کام لیا ہے۔ حالانکہ پہلی آیت کے اندر اللہ تعالیٰ نے صاف صاف بیان فرمایا ہے کہ تم مسجدوں کے اندر بلند کرو میرے ذکر کو۔ کیا جو اللہ تبارک وتعالیٰ کا ذکر اذکار مساجد میں کیا جاتا ہے۔ وہ غالباً
٣٦
جماعت قادیانی کے نزدیک اللہ تعالیٰ کے پاس پہنچا وتعالیٰ کا نام سمیع وعلیم بھی ہے۔ مولانا موصوف نے لئے کہ پوری آیت کو لکھنے سے سلسلہ قادیانی کی شرم آگے اور پیچھے کے لفظوں کو چھوڑ کر درمیانی لفظ پیش نہیں؟ آؤ پوری آیت پیش کرتا ہوں۔
”في بيوت اذن الله ان ترفع حضرت شاہ رفیع الدین صاحب، بیچ گھروں کے جائے بیچ اس کے نام اس کا۔ یعنی اللہ تعالیٰ کا بقول اذکار مسجدوں وغیرہ میں کیا جاتا ہے۔ وہ اللہ تعالیٰ پہنچتا۔ (استغفر اللہ) پوری آیت سے معلوم ہوا کہ ہیں۔ وہ برابر سنتا ہے۔
جواب دوم
”يايها الذين امنوا لا ترفعوا تجهرواله (الحجرات:٢)“ اے لوگو جو ایمان نبی ﷺ کے اور مت آواز بلند کرو واسطے اس کے۔
مولانا احمد علی قادیانی! آپ اس آیت لیکن فقط تنخواہ حاصل کرنے کے لئے حق کو چھپایا! آوازیں دی تھیں کہ یا رسول اللہ آپ مکان سے لوگوں کی بلند آوازوں کو سن کر بذریعہ جبرئیل یہ مصطفیٰ ﷺ کو اس طرح مت پکارنا۔ جیسا کہ تم رکھو تمہارے نیک اعمال تمہاری بے خبری میں ضائع تعالیٰ کے پاس پہنچ گئی تھیں۔ پھر ہی اللہ تبارک معلوم ہوا کہ ”رفع“ سے اٹھانا مراد ہے نہ کہ کچھ
جواب سوئم
”يايها الذين امنوا اذا قيل يفسح الله لكم واذا قيل انشزوا فانشزوا
جماعت قادیانی کے نزدیک اللہ تعالیٰ کے پاس نہیں پہنچتا۔ حالانکہ قرآن کریم کے اندر اللہ تبارک وتعالیٰ کا نام سمیع وعلیم بھی ہے۔ مولانا موصوف نے قرآن کریم کی پوری آیت کو نقل نہیں کیا۔ اس لئے کہ پوری آیت کو لکھنے سے سلسلہ قادیانی کی تردید ہوتی تھی۔ مولانا نے آیت پیش کردہ کے آگے اور پیچھے کے لفظوں کو چھوڑ کر درمیانی لفظ پیش کر دیئے۔ کیا یہ تحریف قرآنی کی بدترین مثال نہیں؟ آؤ پوری آیت پیش کرتا ہوں۔
”فی بیوت اذن اللہ ان ترفع ویذکر فیھا اسمہ (النور:٣٦)“ ترجمہ: حضرت شاہ رفیع الدین صاحب، بیچ گھروں کے حکم کیا اللہ تعالیٰ نے یہ کہ بلند کیا جائے اور یاد کیا جائے بیچ اس کے نام اس کا۔ یعنی اللہ تعالیٰ کا بقول مولانا موصوف کے جو اللہ تبارک وتعالیٰ کا ذکر اذکار مسجدوں وغیرہ میں کیا جاتا ہے۔ وہ اللہ تعالیٰ کی طرف نہیں جاتا؟ یعنی اس کے پاس نہیں پہنچتا۔ (استغفر اللہ) پوری آیت سے معلوم ہوا کہ تمام ذکر جلی اور خفی اللہ تعالیٰ کے پاس پہنچتے ہیں۔ وہ برابر سنتا ہے۔
جواب دوم
”یایھا الذین امنوا لا ترفعوا اصواتکم فوق صوت النبی ولا تجھروا لہ (الحجرات:٢)“ ﴿اے لوگو جو ایمان لائے ہو۔ مت بلند کرو آوازیں اپنی اوپر آواز نبی ﷺ کے اور مت آواز بلند کرو واسطے اس کے۔﴾
مولانا احمد علی قادیانی! آپ اس آیت کے شان نزول سے تو بخوبی واقف ہوں گے۔ لیکن فقط تنخواہ حاصل کرنے کے لئے حق کو چھپایا گیا۔ یعنی جن لوگوں نے آقائے نامدار ﷺ کو یہ آوازیں دی تھیں کہ یا رسول اللہ آپ مکان سے باہر آئیے ایک کام ہے۔ تو کیا اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کی بلند آوازوں کو سن کر بذریعہ جبرئیل یہ پیغام نہیں پہنچایا تھا کہ آئندہ تم میرے نبی محمد مصطفیٰ ﷺ کو اس طرح مت پکارنا۔ جیسا کہ تم آپس میں ایک دوسرے کو پکارتے ہو۔ ورنہ یاد رکھو تمہارے نیک اعمال تمہاری بے خبری میں ضائع ہو جائیں گے۔ جبکہ ان لوگوں کی آوازیں اللہ تعالیٰ کے پاس پہنچ گئی تھیں۔ پھر ہی اللہ تبارک وتعالیٰ نے ان کو ان کے اس فعل سے منع فرمایا۔ معلوم ہوا کہ ”رفع“ سے اٹھانا مراد ہے نہ کہ کچھ اور۔
جواب سوئم
”یایھا الذین امنوا اذا قیل لکم تفسحوا فی المجالس فافسحوا یفسح اللہ لکم واذا قیل انشزوا فانشزوا یرفع اللہ الذین امنوا منکم والذین
٣٧
اوتوا العلم درجات (المجادلة: ١١) “ ﴿اے لوگو! جو ایمان لائے ہو جس وقت کہا جائے واسطے تمہارے کشادگی کرو بیچ مجلسوں کے۔ پس کشادہ کرو کشادہ کرے گا واسطے تمہارے اللہ تعالیٰ اور جس وقت کہا جائے اٹھ کھڑے ہو، پس کھڑے ہو جاؤ۔ بلند کرے گا اللہ ان لوگوں کو جو ایمان لائے تم میں سے اور ان لوگوں کو کہ دیئے گئے علم درجے۔﴾
مولانا احمد علی قادیانی نے اس آیت میں بھی بڑی فریب دہی سے کام لیا ہے۔ کیونکہ مولانا موصوف نے آدھی آیت کو تو لوگوں کے پیش کر دیا اور آدھی آیت اس لئے چھوڑ دی کہ اس میں درجات کا ذکر ہے۔ یعنی ”يرفع الله الذين امنوا “ کا صلہ ”درجت“ موجود ہے اور آیت ”بل رفعه الله اليه “ میں رفع کا صلہ الیٰ موجود ہے۔ جو جسم مع الروح کے مرفوع ہونے پر برہان ہے۔
خلاصہ ....... ”بل رفعه الله اليه “ سے ظاہر ہو گیا کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح علیہ السلام کے جسم کو جس کا نام عیسیٰ ہے، زندہ آسمان پر اٹھا لیا۔
جواب چہارم
”في صحف....... مكرمة عند الله تعالى مرفوعة في السماء مطهرة “ ﴿بیچ صحیفوں تعظیم کئے گئوں کے نزدیک اللہ تعالیٰ کے بلند کئے گئے اور پاک کئے گئے۔﴾
(تفسیر جلالین ص: ٤٩٠)
مولانا احمد علی قادیانی کو معلوم ہونا چاہئے کہ اس آیت پیش کردہ کے اندر اللہ تبارک و تعالیٰ نے صحیفوں کا ذکر بیان فرمایا ہے جو کہ نزدیک اللہ تعالیٰ کے لوح محفوظ میں موجود ہیں۔ اس سے بھی آپ کا مطلب حاصل نہیں ہو سکتا۔ بلکہ جماعت قادیانی کے عقیدہ کی بیخ کنی ہوتی ہے۔ رفع پر تو مولانا احمد علی قادیانی کا بھی اتفاق ہے مگر فرق اتنا ہے کہ وہ رفع سے مراد رفع درجات سمجھتے ہیں ”رفع جسم“ نہیں۔
اگر رفع سے مراد رفع درجات سمجھا جائے تو یہودیوں کی آیت ”بل رفعه الله اليه “ سے تردید نہیں ہوتی۔ بلکہ تائید ہوتی ہے۔ رفع درجات تو تب ہو سکتا ہے کہ یہودیوں نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو سولی پر چڑھایا ہو اور قتل کیا ہو۔ کیونکہ ہر عقلمند آدمی سمجھ سکتا ہے کہ یہود نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو دینداری کے باعث آپ کو مقتول یا مصلوب کیا ہوگا اور جب دینداری کے باعث آپ مقتول یا مصلوب ہوئے تو بیشک رفع درجات ہو سکتا ہے۔ اس کے بغیر ہرگز نہیں۔ جیسا کہ شہداء کی بابت اللہ تبارک و تعالیٰ نے قرآن کریم کے اندر عام طور پر بلندی مراتب کی خبر دی ہے۔
٣٨
”ولا تقولو لمن يقتل تشعرون (البقرة: ١٥٤) “ یعنی جو اللہ تعالیٰ بلکہ وہ زندہ ہیں۔ اگر رفع سے مراد رفع درجات انہوں نے کہا کہ ہم نے قتل کر ڈالا حضرت عیسیٰ اس کے درجے بلند کر دیئے۔ درجہ تو بلند تب ہی مگر قرآن کریم اس بات کی تردید کرتا ہے کہ ”و سے ظاہر ہوا کہ رفع درجات نہیں بلکہ رفع سے بات کی بشارت دے رہی ہیں۔
حیات مسیح علیہ السلام کی ساتویں دلیل
”وان من اهل الكتاب الا نہیں کوئی اہل کتاب سے مگر البتہ ایمان لائے موت اس کی کے ) یعنی حضرت عیسیٰ علیہ السلام
اس آیت میں 'لیؤمنن' بالتصریح لکھا ہے کہ نون تاکیدی مضارع کو خ کے لئے نون تاکید ثقیلہ و خفیفہ نہیں آتا۔ اس اور کلام عرب اس کے برخلاف ہے۔
چنانچہ ابن ہشام راقم ہیں: ”واما كان مستقبلا اكد بهما وجوبا ن ج٢) “ یعنی اگر مضارع حال کے معنی میں ہو تو مستقبل کے معنی میں ہو تو اس کی تاکید ان میں كيدن اصنامکم “ میں موجود ہے اور اسی ط ”وانما اختصت هذه ا دون الماضى والحال لانه لايؤكدا حصول شي والمطلوب لا يكون ماض
اس آیت کا خلاصہ یہ ہوا کہ آ میں سب اہل کتاب یہود و نصاریٰ جو اس وقت
”ولا تقولوا لمن يقتل في سبيل الله اموات بل احياء ولكن لا تشعرون (البقرۃ:١٥٤)“ یعنی جو اللہ تعالیٰ کے راستہ میں قتل کئے جائیں ان کو مردے مت کہو بلکہ وہ زندہ ہیں۔ اگر رفع سے مراد رفع درجات سمجھا جائے تو پھر یہودیوں کی تائید ہوئی۔ جیسا کہ انہوں نے کہا کہ ہم نے قتل کر ڈالا حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو اور اللہ تعالیٰ نے جواب دیا کہ میں نے اس کے درجے بلند کر دیئے۔ درجہ تو بلند تب ہی ہو سکتا ہے کہ ابن مریم کو ان لوگوں نے قتل کیا ہوتا۔ مگر قرآن کریم اس بات کی تردید کرتا ہے کہ ’وماقتلوه وما صلبوہ‘ ان عقلی اور نقلی دلائل سے ظاہر ہوا کہ رفع درجات نہیں بلکہ رفع سے مراد رفع جسمانی ہے۔ جیسا کہ عام تفاسیر معتبرہ اس بات کی بشارت دے رہی ہیں۔
حیات مسیح علیہ السلام کی ساتویں دلیل
”وان من اهل الكتاب الا ليؤمنن به قبل موته (النساء:١٥٩)“ اور نہیں کوئی اہل کتاب سے مگر البتہ ایمان لائے گا ساتھ اس کے (یعنی ساتھ حضرت عیسیٰ کے، پہلے موت اس کی کے) یعنی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی موت کے قبل۔ ﴾
اس آیت میں ’ليؤمنن“ نون تاکید ثقیلہ مع لام قسمیہ موجود ہے۔ کتب نحو میں بالتصریح لکھا ہے کہ نون تاکیدی مضارع کو خالص استقبال کے لئے کر دیتا ہے۔ ماضی اور حال کے لئے نون تاکید ثقیلہ و خفیفہ نہیں آتا۔ اس میں کسی نحوی کو خلاف نہیں اور نہ کوئی آیت اور حدیث اور کلام عرب اس کے برخلاف ہے۔
چنانچہ ابن ہشام رقم ہیں: ”واما المضارع فان كان حالا لم يوكد بهما وان كان مستقبلا اكد بهما وجوبا نحو تاالله لاكيدن اصنامكم (مغنی ص٢٢ ج٢)“ یعنی اگر مضارع حال کے معنی میں ہو تو ان ہر دو ( ثقیلہ و خفیفہ ) سے تاکید نہیں کی جاتی۔ اگر مستقبل کے معنی میں ہو تو اس کی تاکید ان میں سے کسی کے ساتھ ضرور ہوتی ہے۔ جیسا کہ آیت ”لا كيدن اصنامكم“ میں موجود ہے اور اسی طرح (شرح جامی ص٣٧٩) پر بھی مذکور ہے۔
”وانما اختصت هذه النون بهذه المذكورات الدالة على الطلب دون الماضى والحال لانه لا يؤكد الا ما يكون مطلوبا لان وضعه لتاكيد طلب حصول شى والمطلوب لا يكون ماضيا ولا حالا“
اس آیت کا خلاصہ یہ ہوا کہ آئندہ زمانہ میں ایک ایسا زمانہ آنے والا ہے جس میں سب اہل کتاب یہود و نصاریٰ جو اس وقت موجود ہوں گے۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر ان کے
٣٩
مرنے سے پہلے ضرور ایمان لے آئیں گے اور آپ ان پر قیامت کے روز شاہد ہوں گے۔ موافق محاورہ کتاب وسنت و قواعد نحو و کلام عرب میں آیت کے صحیح معنی یہی ہیں اور جتنے معنی اس کے سوا ہیں۔ وہ سب غلط اور باطل اور قرآن کریم اور حدیث کے برخلاف ہیں۔ پس چونکہ ابھی تک سب اہل کتاب کا حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر ایمان لانے کا اتفاق نہیں ہوا۔ لہٰذا آپ تاہنوز فوت بھی نہیں ہوئے۔ اس آیت سے حیات مسیح بالتشریح ثابت ہوئی۔
- ٢...... (حدیث)”حدثنا اسحق انا يعقوب ابن ابراهيم ثنا ابی صالح عن
ابن شهاب عن سعيد بن المسيب سمع ابا هريرة قال قال رسول الله ﷺ والذى نفسى بيده ليوشكن ان ينزل فيكم ابن مريم حكما عدلا فيكسر الصليب ويقتل الخنزير ويضع الحرب و يفيض المال حتى لا يقبله احد حتى تكون السجدة الواحدة خيرا من الدنيا وما فيها ثم يقول ابو هريرة واقرؤا ان شئتم وان من اهل الكتاب الا ليؤمنن به قبل موته ويوم القيامة يكون عليهم شهيدا“
(بخاری شریف جلد دوم ص ٤٩٠)
﴿ حضرت ابو ہریرہؓ سے مروی ہے کہ فرمایا نبی کریم ﷺ نے کہ مجھے اس ذات کی قسم ہے جس کے ہاتھ میں میری جان ہے۔ البتہ ضرور نازل ہوں گے تم میں حضرت ابن مریم، حاکم ہوں گے۔ عادل ہوں گے۔ پس توڑیں گے قانون صلیب کو اور قتل کریں گے خنزیروں کو اور رکھیں گے لڑائی کو اور بہت ہوگا مال حتیٰ کہ نہ قبول کرے گا اس کو کوئی اور ہوگا ایک سجدہ بہتر ساری دنیا سے۔ پھر کہا حضرت ابو ہریرہؓ نے پڑھو اگر چاہو تم۔ نہیں کوئی اہل کتاب سے مگر البتہ ایمان لائے گا ساتھ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے پہلے موت اس کی کے اور ہوگا دن قیامت کے اوپر ان کے گواہ۔﴾
اس حدیث شریف سے نہ صرف اس امر کو ثابت کیا گیا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام زندہ ہیں۔ دوبارہ آئیں گے۔ بلکہ یہ بھی ثابت ہوا کہ حیات مسیح اور نزول پر سب اصحاب کرام کا اتفاق اور اجماع تھا۔ اب جس کی تاویل کرنی بالکل ناممکن ہے۔ حافظ ابن حجر عسقلانیؒ راقم ہیں۔
”ولاحمد من وجه آخر عن ابي هريرة اقرؤه من رسول الله وان من اهل الكتاب (فتح البارى شرح بخاری ص ٢٨١ جز ١٣) “یعنی حضرت ابو ہریرہؓ نے کہا کہ اس آیت کی یہ تفسیر خود رسول اللہ ﷺ نے فرمائی ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے مرنے سے پہلے اس پر اہل کتاب ایمان لے آئیں گے۔ جب وہ نازل ہوں گے۔
٤٠
”قال رسول الله ﷺ عادلا...... وليتركن القلاص فلا الى المال فلا يقبله احد (مسلم خدا ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کی قسم ! حض عادل ہوں گے اور اونٹوں کو بیکار کریں گے دور کریں گے اور مال دینے کے لئے لوگو حدیث میں چند امور بیان فرمائے گئے ہیں
- اول ...... یہ کہ حضرت عیسیٰ ابن مریم علیہ
- دوم ...... حضرت ابن مریم علیہ السلام
کے ماتحت نہیں رہیں گے۔
- سوم ...... یہ کہ حضرت ابن مریم علیہ السلا
گے۔ لہذا معاملات دنیاوی کی حاجت نہیں
- چہارم ...... حضرت عیسیٰ ابن مریم علیہ السل
جائیں گی۔ سب کے سب مسلمان ہوں ۔ مرزا غلام احمد قادیانی کی آمد سے عداوتوں
- پنجم ...... حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی آمد
گی۔ مال و دولت اس قدر عام ہوگا کہ کو قادیانی مسیح کی آمد سے لوگوں کا افلاس دور شہادت جناب مرزا غلام احمد الخبر محمول على الظاهر لا ت رسول خدا ﷺ نے جس حدیث میں قسم ہیں۔ جس کی تاویل بالکل منع ہے۔ مولا غلام احمد قادیانی سے کرا دی گئی ہے ۔ اب ”عن عبدالله ابن مسع لقى عيسى ابن مريم فقال عهد
(ابن ماجه باب خروج المهدى ص ٢٠٩
”قال رسول الله ﷺ والله لينزلن ابن مريم حكما عادلا....... وليتركن القلاص فلا يسعى عليها ولتذهبن الشحنا...... وليدعون الى المال فلا يقبله احد (مسلم شریف ج ١ ص ٨٧، باب نزول عیسیٰ)“ یعنی رسول خدا ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کی قسم ! حضرت ابن مریم ضرور نازل ہوں گے اور حاکم ہوں گے اور عادل ہوں گے اور اونٹوں کو بیکار کریں گے کہ ان پر کوئی سواری نہیں کرے گا اور آپس میں دشمنی کو دور کریں گے اور مال دینے کے لئے لوگوں کو بلائیں گے مگر اس کو کوئی قبول نہیں کرے گا۔ اس حدیث میں چند امور بیان فرمائے گئے ہیں۔ جن کا حیات مسیح علیہ السلام سے خاص تعلق ہے۔
- اول ...... یہ کہ حضرت عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام ہی نازل ہوں گے نہ کہ ان کا کوئی مثیل ۔
- دوم ....... حضرت ابن مریم علیہ السلام تمام دنیا پر حکمران ہوں گے کسی دوسری حکومت دنیاوی
کے ماتحت نہیں رہیں گے۔
- سوم ...... یہ کہ حضرت ابن مریم علیہ السلام کے زمانہ میں تمام لوگ مال و دولت سے مالا مال ہوں
گے۔ لہٰذا معاملات دنیاوی کی حاجت نہیں پڑے گی۔
- چہارم ...... حضرت عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام کے زمانہ میں آپس کی تمام عداوتیں اور دشمنیاں کٹ
جائیں گی۔ سب کے سب مسلمان ہوں گے۔ آپس میں بھائی بھائی ہو کر رہیں گے۔ (مگر جناب مرزا غلام احمد قادیانی کی آمد سے عداوتوں میں مزید اضافہ ہو گیا)
- پنجم ...... حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی آمد سے زمین اپنے برکات اندرونی و بیرونی کو ظاہر کر دے
گی۔ مال و دولت اس قدر عام ہوگا کہ کوئی کسی کا زیر احسان اور حاجت مند نہیں رہے گا۔ (مگر قادیانی مسیح کی آمد سے لوگوں کا افلاس روز بروز ترقی پذیر ہے)
شہادت جناب مرزا غلام احمد قادیانی بابت حدیث مذکورہ ’والقسم يدل على ان الخبر محمول على الظاهر لا تاويل فيه‘ (حمامۃ البشریٰ ص١٤، خزائن ج٧ ص١٩٢) یعنی رسول خدا ﷺ نے جس حدیث میں قسم کھائی ہو اس کے ظاہری معنی مراد لینا لازمی اور ضروری ہیں۔ جس کی تاویل بالکل منع ہے۔ سو اے امت قادیانی حدیث مذکورہ بالا کی تصدیق جناب مرزا غلام احمد قادیانی سے کرا دی گئی ہے۔ اب عمل کرنا تمہارا فرض ہے۔
”عن عبدالله ابن مسعود قال لما كان ليلة اسرى برسول الله ﷺ لقى عيسى ابن مريم فقال عهد اليّ فيما دون وجبتها فانزل فاقتل الدجال (ابن ماجہ باب خروج المہدی ص ٣٠٩)“
٤١
"وفى رواية لا حمد قال رسول الله لقيت ليلة اسرى بی (مسند امام احمد ص ٣٧٥ ج ١ )" یعنی حضرت عبداللہ ابن مسعود نے کہا کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا کہ میں شب معراج حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے ملا ہوں اور ان سے قیامت کے متعلق تذکرہ ہوا تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے کہا کہ قیامت کی تاریخ کا علم تو اللہ تعالیٰ کو ہی ہے۔ مگر اللہ تعالیٰ کا میرے ساتھ وعدہ ہے کہ قیامت سے پہلے میں نازل ہوں گا اور دجال کو قتل کروں گا۔
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام اللہ کے وعدہ کے مطابق آسمان میں تشریف فرما ہیں۔
"عن الحسن قال قال رسول الله ﷺ لليهود ان عيسى لم يمت وانه راجع اليكم قبل يوم القيامة (تفسير ابن جرير ص ٢٨٩ ج٣)" یعنی حضرت حسنؓ فرماتے ہیں کہ رسول خدا ﷺ نے یہود کے لئے فرمایا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام ابھی مرے نہیں۔ تحقیق وہ قیامت سے پہلے تمہاری طرف لوٹ کر آنے والے ہیں۔ اس حدیث میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی حیات الی الان کا بالصریح بیان ہے۔
اعتراض مولانا احمد علی قادیانی
"آیت کے یہ معنی کہ حضرت مسیح علیہ السلام پر ان کی موت سے قبل تمام اہل کتاب ایمان لے آئیں گے، سراسر غلط ہے۔ تفسیر محمدی میں ہے کہ ضمیر طرف عیسیٰ علیہ السلام کے ممنوع ہے اور ضعیف ہے اور یہ تفسیر مظہری کے مصنف نے بیان کیا ہے۔ اس آیت کے صحیح معنی جس سے معلوم ہوگا کہ یہ بھی اہل کتاب کی برائی کی بات ہے، یہ ہیں۔ ہر ایک اہل کتاب (خواہ یہودی ہویا عیسائی) اسی مذکورہ بالا بات پر اپنے اپنے مرنے تک ایمان ویقین واعتقاد رکھے گا کہ مسیح صلیب پر مر کر بزعم یہود ملعون اور بخیال نصاریٰ گناہوں کا کفارہ ہو گئے۔ یہ وہ معنی ہیں جو بانی جماعت احمدیہ نے فرمائے اور جو قرآن وحدیث اور واقعات تاریخی اور حالات کے عین مطابق ہیں اور یہی صحیح معنی اور مطلب ہے۔"
(حمرۃ الحق ص ١٤٠ مصنفہ احمد علی قادیانی)
جواب اوّل
مولانا صاحب! پہلے آپ کے سامنے آپ ہی کے خلیفہ حکیم نور الدین جن کے علم و فضل کا تمام قادیانیوں کو بمع جناب مرزا غلام احمد قادیانی کو بھی اعتراف ہے۔ چنانچہ زیر آیت "ان من اهل الكتاب" راقم ہیں، سن لیجئے۔
"نہیں کوئی اہل کتاب سے مگر البتہ ایمان لائے گا ساتھ اس کے پہلے موت اس کی کے اور دن قیامت کے ہوگا اوپر ان کے گواہ۔"
مولانا احمد علی صاحب! غور کیجئے ۔ اور تفسیر مظہری اور جناب غلام احمد قادیانی شہادت دے رہے ہیں۔ کیونکہ لفظ بہ اور موت طرف راجع ہیں۔
جواب دوم
"عن الحسن وان من اهـ قبل موت عيسى والله انه الان حيى عـ
(تفسیر درمنثور ص ٢٤١ جلد دوم)"
﴿حضرت امام حسنؓ آیت مذکورہ پـ کتاب سے مگر البتہ ایمان لائے گا (ساتھ حضرـ ہے اللہ تعالیٰ کی کہ وہ زندہ ہیں نزدیک اللہ کے ا لائیں گے ساتھ اس کے۔﴾
جواب سوّم
"قال رسول الله ﷺ ينز العمال برحاشيه مسند امام احمد ص ٥٦ ج یعنی فرمایا نبی محمد مصطفیٰ ﷺ نے کہ ا ہوگا۔ معلوم ہوا کہ فی الحال وہ آسمان پر زندہ موجو
جواب چہارم
"عن ابن عباس ايضاً و ليؤمنن بعيسى قبل موت عيسىٰ وذ فلا يبقى احد من اهل الكتابين الا امـ ملة الاسلام قال عطاء اذا انزل نصرانى ولا احد يعبد غير الله الا آمـ
کے اور دن قیامت کے ہوگا اوپر ان کے گواہ ۔“
(فصل الخطاب جلد دوم ص ٨٥ حاشیہ نمبر ٢)
مولانا احمد علی صاحب ! غور کیجئے۔ کیا یہ ترجمہ خلیفہ نورالدین کا تمہارے اور تفسیر محمدی اور تفسیر مظہری اور جناب غلام احمد قادیانی کے مطابق ہے؟ ہرگز نہیں ۔ بلکہ ہمارے حق میں شہادت دے رہے ہیں۔ کیونکہ لفظ بہ اور موتہ کی یعنی دونوں ضمیریں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی طرف راجع ہیں ۔
جواب دوم
”عن الحسن وان من اهل الكتاب الا ليؤمنن به قبل موته، قال قبل موت عيسىٰ والله انه الان حی عند الله ولكن اذا انزل امنوا به اجمعون
(تفسیر درمنثور ص ٢٤١ جلد دوم) “
حضرت امام حسنؒ آیت مذکورہ بالا کی تفسیر یوں بیان کرتے ہیں کہ نہیں کوئی اہل کتاب سے مگر البتہ ایمان لائے گا (ساتھ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے ) پہلے موت اس کی کے، قسم ہے اللہ تعالیٰ کی کہ وہ زندہ ہیں نزدیک اللہ کے اور لیکن نازل ہونے کے بعد تمام اہل کتاب ایمان لائیں گے ساتھ اس کے ۔
جواب سوئم
”قال رسول الله ﷺ ينزل اخي عيسىٰ ابن مريم من السماء (كنز
العمال برحاشيه مسند امام احمد ص ٥٦ ج ٦) “
یعنی فرمایا نبی محمد مصطفیٰ ﷺ نے کہ میرا بھائی حضرت عیسیٰ علیہ السلام آسمان سے نازل ہوگا۔ معلوم ہوا کہ فی الحال وہ آسمان پر زندہ موجود ہیں۔
جواب چہارم
”عن ابن عباس ايضاً والمعنى وما من احد من اهل الكتاب الا ليؤمنن بعيسىٰ قبل موت عيسىٰ وذلك عند نزوله من السماء فى آخر الزمان فلا يبقى احد من اهل الكتابين الا امن بعيسىٰ حتى تكون الملة واحدة وهى ملة الاسلام قال عطاء اذا انزل عيسىٰ الى الارض لا يبقى يهودى ولا نصرانى ولا احد يعبد غير الله الا امن بعيسىٰ وانه عبدالله “
(تفسیر خازن جلد اول ص ٤٦٨ مطبوعہ مصر ١٣٣٧ھ )
٤٣
حضرت ابن عباس فرماتے ہیں کہ معنی اس آیت کے یہ ہیں کہ نہیں ہوگا کوئی اہل کتاب سے مگر البتہ ایمان لائے گا ساتھ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے پہلے موت اس کی کے، نازل ہونے کے بعد آسمان سے، بیچ آخری زمانہ کے۔ اس وقت تمام زمین پر فقط دین اسلام ہی ہوگا اور حضرت عطا فرماتے ہیں کہ جب حضرت عیسیٰ علیہ السلام زمین پر نازل ہوں گے تو اس وقت کوئی بھی یہودی اور نصرانی سوائے خدا تبارک و تعالیٰ کے اور کسی کی عبادت کرنے والے نہ ہوں گے اور ایمان لائیں گے ساتھ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے یہ بندہ اللہ تعالیٰ کا ہے۔
جواب پنجم
"ان قوله قبل موته اى قبل موت عيسى والمراد ان من اهل الكتاب الذين يكونون موجودين فى زمان نزوله"
(تفسیر کبیر جلد ٦ ص١٠٤ جزء ١١، مطبع مصری)
یہ قول ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی موت سے پہلے موجودہ اہل کتاب جو نازل ہونے کے وقت ہوں گے ضرور ایمان لائیں گے۔
جواب ششم
"وان من (ومامن) اهل الكتاب، اليهود و النصارى احد الا ليؤمنن به بعيسى انه لم يكن ساحراً ولا الله ولا ابنه ولا شريكه قبل موته "
(ايضاً)
﴾اور نہیں کوئی اہل کتاب سے یہودی اور نہ نصاریٰ مگر البتہ ایمان لائے گا ساتھ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے کہ تحقیق آپ نہیں تھے جادوگر اور نہ اللہ اور نہ بیٹے اس کے اور نہ شریک اس کے پہلے موت حضرت عیسیٰ کی کے۔﴿
جواب ہفتم
"وقال ابومالك فى قوله الا ليؤمنن به قبل موته قال ذلك عند نزول عيسى موت عيسى ابن مريم عليه السلام لا يبقى احد من اهل الكتاب الا أمن به وقال الضحاك عن ابن عباس وان من اهل الكتاب الا ليؤمنن به قبل موته يعنى اليهود خاصة قال الحسن البصرى يعنى النجاشى واصحابه رواهما ابن ابى حاتم وقال ابن جرير حدثنى يعقوب حدثنا ابورجاء عن الحسن وان من أهل الكتاب الا ليؤمنن به قبل موته قال قبل موت عيسى والله انه لحيى الان عند الله ولكن اذانزل امنوا به اجمعون"
(تفسیر ابن کثیر جلد اول ص ٥٧٨ مطبوعہ مصر)
﴾حضرت ابو مالک فرماتے ہیں جبکہ آپ پر ایمان لائیں گے۔ حضرت ابن عباسؓ فر رہے گا۔ حضرت حسن بصریؒ فرماتے ہیں یعنی نجا حضرت عیسیٰ علیہ السلام اب خدائے تعالیٰ کے پاس گے اس وقت اہل کتاب میں سے ایک بھی باقی ن پر ایمان نہ لائے۔﴿
جواب ہشتم
"وان من اهل الكتاب وقيل اهل الكتاب موجودين عنده نزوله فلا يبقى احد من اهل الكتاب الا الاسلام يهلك الله في اخر الزمان الملل
یعنی یہ اور موتہ یہ دونوں ضمیریں راجع کوئی ایسا یہودی اور نصرانی نزول عیسیٰ علیہ السلا السلام کی موت سے پہلے پہلے ایمان نہ لے آئے۔ آسمان سے نازل ہوں گے بیچ آخر زمانے کے پس کوئی بھی اہل کتاب باقی نہیں ر پیشتر یہ ایمان نہ لے آئے کہ آپ اللہ تعالیٰ کے دین اسلام ہوگا اور اللہ تعالیٰ ہلاک کرے گا اس و
جواب نہم
"واجمعت الامة على مائده السماء حى وانه ينزل فى الاخرالزمان
﴾اور اجماع ہے امت تمام کا اوپر بیچ آسمان کے زندہ ہیں اور وہ نازل ہوں گے آ
جواب دہم
"فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم
حضرت ابو مالک فرماتے ہیں جبکہ حضرت مسیح اتریں گے اس وقت کل اہل کتاب آپ پر ایمان لائیں گے۔ حضرت ابن عباسؓ سے روایت ہے خاص کر یہودی ایک بھی باقی نہیں رہے گا۔ حضرت حسن بصریؒ فرماتے ہیں یعنی نجاشی اور آپ کے ساتھی مروی ہیں کہ قسم خدا کی حضرت عیسیٰ علیہ السلام اب خدائے تعالیٰ کے پاس زندہ موجود ہیں۔ جبکہ آپ زمین پر نازل ہوں گے اس وقت اہل کتاب میں سے ایک بھی باقی نہیں رہے گا جو آپ پر یعنی حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر ایمان نہ لائے۔
جواب ہشتم
"وان من اهل الكتاب وقيل كلا الضميرين لعيسى والمعنى وما من اهل الكتاب موجود حين نزوله عيسى ينزل من السماء في اخر الزمان فلا يبقى احد من اهل الكتاب الا ليؤمنن به حتي تكون الملة واحدة ملة الاسلام يهلك الله في اخر الزمان الدجال"
(تفسیر ابی السعود برحاشیہ تفسیر کبیر ج ٣ ص ٤٨)
یعنی بہ اور موتہ یہ دونوں ضمیریں واسطے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے ہیں اور معنی ہیں کہ کوئی ایسا یہودی اور نصرانی نزول عیسیٰ علیہ السلام کے وقت موجود نہ ہوگا جو کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی موت سے پہلے پہلے ایمان نہ لے آئے اور روایت ہے کہ وہ یعنی حضرت عیسیٰ علیہ السلام آسمان سے نازل ہوں گے بیچ آخر زمانے کے۔
پس کوئی بھی اہل کتاب باقی نہیں رہے گا جو کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی موت کے پیشتر ان پر ایمان نہ لے آئے کہ آپ اللہ تعالیٰ کے بندے اور رسول ہیں اور اس وقت فقط ایک ہی دین اسلام ہوگا اور اللہ تعالیٰ ہلاک کرے گا اس زمانہ میں دجال کو۔
جواب نہم
"واجمعت الامة على مقتضى الحديث المتواتر من ان عيسىٰ فى السماء حى وانه ينزل فى الاخر الزمان"
(تفسیر بیضاوی سورة آل عمران ص ٤٧)
اور اجماع ہے امت تمام کا اوپر اس حدیث متواتر کے یہ کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام بیچ آسمان کے زندہ ہیں اور وہ نازل ہوں گے بیچ زمانہ آخر کے۔
جواب دہم
"فقال رسول الله ﷺ الستم تعلمون ان ربنا حى لايموت وان ٣٥
عيسى يأتى عليه الموت“
(تفسیر خازن آل عمران جلد اول ص ٢٨٩ مطبوعہ مصر)
﴿پس فرمایا نبی ﷺ نے واسطے نصاریٰ کے کیا تم جانتے ہو یہ کہ رب ہمارا ہمیشہ زندہ ہے۔ نہیں موت اس کو اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو موت آئے گی۔﴾
اس میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی حیات کا صاف ذکر ہے کہ کسی آنے والے زمانہ میں فوت ہوں گے۔
اعتراض مولانا احمد علی قادیانی
”وجاعل الذين اتبعوك فوق الذين كفروا الى يوم القيامة (آل عمران: ٥٥)“ ”والقينا بينهم العداوة والبغضاء الى يوم القيامة (المائده: ٦٤)“
یعنی حضرت مسیح علیہ السلام کے ماننے والے اور انکار کرنے والے دونوں اگر وہ قیامت تک باقی رہیں گے اور ان میں باہمی بغض و عداوت قائم رہے گی۔ مگر خدا آپ کے ماننے والوں کو منکروں پر ہمیشہ غالب رکھے گا۔ لیکن اگر کسی وقت سب یہودی ایمان لے آئیں تو غلبہ کن پر اور بغض وعداوت باہمی کیسے ہو سکتا ہے۔ غرض یہ دونوں قومیں قیامت تک رہیں گی ۔“
(نصرۃ الحق ص ١٢٨ مصنفہ احمد علی شاہ قادیانی)
جواب اول
پہلی آیت پیش کردہ میں اللہ تبارک و تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے ساتھ چار وعدوں کو پورا کرنے کے متعلق ارشاد فرمایا ہے۔
- وعدہ اول...... ورافعك الى یعنی اٹھانے والا ہوں (آسمان پر) تجھ کو طرف اپنی۔
- وعدہ دوم...... ”ومطهرك من الذين كفروا“ اور پاک کرنے والا ہوں تجھ کو ان
لوگوں سے جو کافر ہوئے۔ یعنی اس الزام سے جو حضرت مریم علیہا السلام پر لگایا گیا تھا کہ ابن مریم علیہ السلام بغیر نکاح کے کیونکر پیدا ہو گیا؟ معاذ اللہ ! ان کے نسب پر طعن کیا۔ (نقل کفر کفر نہ باشد) یہ وعدہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نازل ہونے کے وقت پورا ہو گا اور یہودی اس بات پر ایمان لے آئیں گے کہ حضرت ابن مریم علیہ السلام کو واقعی اللہ تبارک و تعالیٰ نے بغیر باپ کے ہی اپنی قدرت کاملہ سے پیدا کیا تھا۔ آپ بیشک اللہ کے بندے اور رسول ہیں۔
- وعدہ سوم...... ”یعیسیٰ انی متوفيك“ اے عیسیٰ ! میں تجھ کو طبعی موت سے فوت
کرنے والا ہوں۔ یہ وعدہ، وعدہ اول اور دوم کے بعد پورا ہوگا۔
- چوتھا وعدہ...... ”وجاعل الذين اتبعوك فوق الذين كفروا الى يوم
٤٦
القيامة“ اور کرنے والا ہوں ان لوگوں کو کہ پیروی اور پر تیرے منکروں کے دن قیامت کے۔
یعنی جو لوگ تیرے آسمان سے نازل حضرت ابن مریم ہیں اور کہیں گے کہ حضرت ابن مریم حضرت عیسیٰ نہیں بلکہ اس کے مثیل اور وہ جناب مر عیسیٰ علیہ السلام کے ماننے والے یہودی اور نصاری قیامت تک غالب رہیں گے۔
جواب دوم
”وقالت اليهود يدالله مغلول يوم القيامة (المائده: ٦٤)“ ﴿اور کہا یہود ان کے ہم نے عداوت اور بغض دن قیامت تک۔
یہودیوں کے درمیان یعنی آپس میں بـ طرح برطانیہ بھی حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر ایما عداوت رہی جس کو دنیا جانتی ہے۔ اسی طرح یہود اپنے قول پر پختہ نہ رہے۔ ان کے درمیان بھی میں قیامت تک رہے گی۔
اگر آپ کے خیال کے مطابق یہ سمجھا عداوت قیامت تک رہے گی تو یہ سراسر غلط ہے۔
عربوں نے جہاد کیا کہ فلسطین فتح ہو جائے اور یہو برطانیہ اور امریکہ یعنی عیسائیوں نے ہی امداد دے تمہارے زعم کے مطابق یہودیوں اور نصرانیوں مـ ڈال دی ہے تو پھر آپس میں یہود اور عیسائیوں کی
خلاصہ کلام کا یہ ہے کہ قوم نصاریٰ کا میں ۔ اگر ایسا بغض قیامت تک بھی رہے تو حضر امر مانع نہیں۔ کیونکہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر ا جو بھی حضرات ابن مریم کو یہ مان لیں گے کہ آپ
القیامۃ“ اور کرنے والا ہوں ان لوگوں کو کہ پیروی کریں گے تیری اور غالب رکھوں گا ان لوگوں کو اوپر تیرے منکروں کے دن قیامت کے۔
یعنی جو لوگ تیرے آسمان سے نازل ہونے کے بعد تجھے قبول نہیں کریں گے کہ یہ حضرت ابن مریم ہیں اور کہیں گے کہ حضرت ابن مریم تو محلہ خانیار سری نگر میں مدفون ہیں۔ آپ حضرت عیسیٰ نہیں بلکہ اس کے مثیل اور وہ جناب مرزا غلام احمد قادیانی ہو کر آچکے ہیں اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے ماننے والے یہودی اور نصاریٰ وغیرہ وغیرہ مذکورہ بالا منکروں پر بیشک دن قیامت تک غالب رہیں گے۔
جواب دوم
” وقالت الیہود یداللہ مغلولۃ والقینا بینھم العداوۃ والبغضاء الی یوم القیامۃ (المائدہ:٦٤) “ ﴿اور کہا یہود نے کہ ہاتھ اللہ کے بندھے ہیں اور ڈال دی درمیان ان کے ہم نے عداوت اور بغض دن قیامت تک۔﴾
یہودیوں کے درمیان یعنی آپس میں عداوت اور بغض قیامت تک قائم رہے گا۔ جس طرح برطانیہ بھی حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر ایمان رکھنے والا اور جرمنی بھی مگر آپس میں ان کی عداوت رہی جس کو دنیا جانتی ہے۔ اسی طرح یہودیوں کا ذکر اللہ تعالیٰ نے بیان فرمایا کہ یہ لوگ بھی اپنے قول پر پختہ نہ رہے۔ ان کے درمیان بھی میں نے دنیاوی بغض اور عداوت ڈال دی ہے جو کہ قیامت تک رہے گی۔
اگر آپ کے خیال کے مطابق یہ سمجھا جائے کہ یہود اور نصاریٰ کے درمیان بغض اور عداوت قیامت تک رہے گی تو یہ سراسر غلط ہے۔ کیونکہ ابھی حال کا واقعہ ہے کہ فلسطین کے خلاف عربوں نے جہاد کیا کہ فلسطین فتح ہو جائے اور یہودیوں کو یہاں سے نکال دیا جائے۔ مگر آخر ان کو برطانیہ اور امریکہ یعنی عیسائیوں نے ہی امداد دے کر خود مختار اسرائیلی اسٹیٹ قائم کرا دی۔ بھلا اگر تمہارے زعم کے مطابق یہودیوں اور نصرانیوں کے درمیان اللہ تبارک وتعالیٰ نے بغض وعداوت ڈال دی ہے تو پھر آپس میں یہود اور عیسائیوں کی اصلاح کیونکر ہوگئی؟
خلاصہ کلام کا یہ ہے کہ قوم نصاریٰ کا بغض نصاریٰ میں رہے گا اور یہود کا بغض یہود میں۔ اگر ایسا بغض قیامت تک بھی رہے تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر ایمان لانے کے لئے کوئی امر مانع نہیں۔ کیونکہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر ایمان لانے کے لئے تو دونوں قومیں متفق ہوں گی جو بھی حضرت ابن مریم کو یہ مان لیں گے کہ آپ اللہ کے رسول اور بندے ہیں اور آج تک ان کو
اللہ تعالیٰ نے آسمان پر بلاشک زندہ رکھا ہوا تھا۔ اب دنیا میں آسمان سے نازل ہو کر آئیں گے وہ ضرور ضرور عیسیٰ علیہ السلام کے منکروں پر قیامت تک حسب وعدہ اللہ تبارک و تعالیٰ کے غالب رہیں گے۔ (انشاء اللہ)
اس لئے آپ کی پیش کردہ آیت وفات مسیح علیہ السلام پر مذکورہ بالا واقعات کے لحاظ سے غلط ثابت ہوئی۔ خلاصہ کلام تفسیر درمنثور اور کنزالعمال اور تفسیر خازن اور تفسیر کبیر اور تفسیر ابن عباس اور تفسیر ابن کثیر اور تفسیر خازن اور تفسیر ابی السعود اور تفسیر بحر محیط اور ان کے علاوہ جناب حکیم نورالدین کے حوالہ جات سے اظہر من الشمس ہے کہ حضرت ابن مریم آخری زمانہ میں آسمان سے ضرور نازل ہوں گے اور تمام اہل کتاب ان پر ایمان لے آئیں گے۔
حیات مسیح کی آٹھویں دلیل
”عن عبداللہ ابن عمرؓ قال قال رسول اللہ ﷺ ینزل عیسی ابن مریم الی الارض فیتزوج ویولد لہ ویمکث خمسا واربعین سنة ثم یموت فید فن معی فی قبری فاقوم انا وعیسی ابن مریم فی قبر واحد بین ابی بکر و عمر (مشکوٰۃ شریف ص ٤٨٠)“ حضرت عبداللہ بن عمرؓ سے روایت ہے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام زمین کی طرف نازل ہوں گے۔ پس بیوی کریں گے اور صاحب اولاد ہوں گے۔ ٤٥ سال زندہ رہ کر پھر فوت ہوں گے اور میری قبر میں میرے نزدیک دفن ہوں گے۔ میں اور حضرت عیسیٰ بن مریم ایک ہی جگہ سے ابی بکرؓ اور عمرؓ کے درمیان سے اٹھیں گے۔ مولانا احمد علی قادیانی! اس حدیث سے چند وجوہ کے ساتھ حضرت عیسیٰ کا بجسد عنصری اس وقت تک زندہ رہنا ثابت ہے۔
مولانا احمد علی صاحب! اگر تمہارے خیال کے مطابق حضرت ابن مریم علیہ السلام فوت ہو چکے ہیں اور ان کی جگہ جناب مرزا غلام احمد قادیانی مثیل مسیح ہو کر اللہ تعالیٰ کی طرف سے آئے ہیں تو کیا وہ رسول اللہ ﷺ کے فرمان کے مطابق زمین میں ٤٥ سال حکمران رہے؟ اور مدینہ شریف میں رسول اللہ ﷺ کے مقبرہ کے اندر دفن ہوئے؟ ہرگز نہیں۔
تو معلوم ہوا کہ فی الحال حضرت عیسیٰ علیہ السلام آسمان پر زندہ ہیں۔ قریب قیامت آسمان سے نازل ہو کر اس زمین میں ٤٥ سال زندہ رہ کر پھر فوت ہوں گے اور دفن ہوں گے بیچ مقبرہ رسول اللہ ﷺ کے۔
٤٨
اعتراض مولانا احمد علی قادیانی
اس حدیث میں حضرت مسیح ”یدفن معی فی قبری“ بھی ظاہر ہے ایسا مسلمان ہے جو آنحضرت ﷺ کی قب کرنے کی جرات کرے گا اور قبر سے مراد دفعہ ”قبر“ کا لفظ آیا ہے نہ کہ مقبرہ کا اور لغت نیز معی اور فی قبر واحد کے الفاظ بھی مقبرہ مرا کی تعبیر حضرت ابوبکرؓ نے فرمائی تھی کہ آپ آنحضرت ﷺ ، حضرت ابوبکرؓ اور حضرت عمرؓ گئی۔“
جواب اوّل
حضرت مولانا شیخ عبدالحق صاح زیر بحث حدیث میں راقم ہیں: ”ثم یموت ابن مریم فی قبر واحد “ پس گور کردہ م مقبرہ بین ابی بکر و عمر میان ابوبکرؓ و عمرؓ کہ دراں م معلوم شد کہ مراد قبر مقبرہ است و در اخبار آمدہ قبر خالی است و ہیچ کس را آنجا میسر نہ شد۔ جا دہند و عائشہؓ کہ خانہ او بود بداں راضی شد نگاہدارند و عبدالرحمن بن عوف را نیز با آنکہ عائ بہم گفت من براں راضی نیم مرا با صواحبات م ایں جائے قبر عیسیٰ خواہد بود۔
- پس حضرت عیسیٰ علیہ السلام میر
پس اٹھوں گا میں اور عیسیٰ ایک قبر سے یعنی ابو ب مدفون ہیں۔ پس معلوم ہوا کہ قبر سے مراد مقبرہ مقبرہ میں ایک قبر کی جگہ خالی ہے اور کسی شخص حضرت حسنؓ بن علیؓ کے لئے خواہش کی گئی کہ یہا
اعتراض مولانا احمد علی قادیانی
اس حدیث میں حضرت مسیح کے آسمان پر جانے کا کوئی ذکر نہیں اور اس کے الفاظ ”یدفن معی فی قبری“ بھی ظاہر پر محمول نہیں کئے جاسکتے۔ کیونکہ وہ کون سا بے غیرت اور بے حیا مسلمان ہے جو آنحضرت ﷺ کی قبر اکھاڑ کر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو آپ کے ساتھ دفن کرنے کی جرأت کرے گا اور قبر سے مراد مقبرہ بھی نہیں ہو سکتا۔ کیونکہ حدیث شریف میں دونوں دفعہ ”قبر“ کا لفظ آیا ہے نہ کہ مقبرہ کا اور لغت میں بھی قبر کے معنی مقبرہ کرنے کی اجازت نہیں دیتی۔ نیز معی اور فی قبر واحد کے الفاظ بھی مقبرہ مراد لینے کے خلاف ہیں۔ حضرت عائشہؓ کا وہ کشف جس کی تعبیر حضرت ابوبکرؓ نے فرمائی تھی کہ آپ کے حجرہ میں تین ہی چاند دفن ہونے والے تھے یعنی آنحضرت ﷺ، حضرت ابوبکرؓ اور حضرت عمرؓ مگر مسیح کے لئے وہاں کوئی چوتھی قبر کی گنجائش نہیں بتائی گئی۔“
(نصرۃ الحق ص ٥٢ مصنفہ احمد علی شاہ قادیانی)
جواب اوّل
حضرت مولانا شیخ عبدالحق صاحب محدث دہلویؒ اپنی اشعۃ اللمعات ترجمہ مشکوٰۃ میں زیر بحث حدیث میں راقم ہیں: ”ثم یموت فیدفن معی فی قبری فاقوم انا و عیسیٰ ابن مریم فی قبر واحد “ پس گور کردہ می شود با من در مقبرہ من و پس می خیزم من وعیسیٰ از یک مقبرہ بین ابی بکر وعمر میان ابوبکرؓ وعمرؓ کہ دراں مقبرہ مدفون اند (رواہ ابن الجوزی فی کتاب الوفا) پس معلوم شد کہ مراد قبر مقبرہ است و در اخبار آمدہ است کہ در مقبرہ شریف آنحضرت ﷺ جائے یک قبر خالی است و ہیچ کس را آنجا میسر نہ شدہ۔ چنانکہ امام المسلمین حسنؓ بن علیؓ را خواستند کہ دراں جا دہند و عائشہؓ کہ خانہ او بود بداں راضی شد بنی امیہ آمدند و نگذاشتند کہ او را در مقبرہ جد وے نگاہدارند و عبدالرحمٰن بن عوف را نیز با آنکہ عائشہؓ شفعہ میسر نیامد و عائشہؓ را نیز گفتند کہ خانہ تست ترا اینجا بنہیم گفت من براں راضی نیم مرا با صواحبات من در بقیع بنہید۔ می گویند کہ حکمت دراں آں بود کہ ایں جائے قبر عیسیٰ خواہد بود۔
- پس حضرت عیسیٰ علیہ السلام میرے ساتھ میرے مقبرہ میں دفن کئے جائیں گے۔
پس اٹھوں گا میں اور عیسیٰ ایک قبر سے یعنی ابوبکرؓ اور عمرؓ کے درمیان میں سے جو کہ اس مقبرہ میں مدفون ہیں۔ پس معلوم ہوا کہ قبر سے مراد مقبرہ ہے اور حدیث میں آیا ہے کہ آنحضرت ﷺ کے مقبرہ میں ایک قبر کی جگہ خالی ہے اور کسی شخص کو بھی وہ جگہ میسر نہیں ہوئی۔ چنانچہ امام المسلمین حضرت حسنؓ بن علیؓ کے لئے خواہش کی گئی کہ یہاں دفن کریں اور حضرت عائشہؓ جو کہ ان کا گھر تھا۔
٤٩
اس بات پر راضی بھی ہوگئیں۔ لیکن بنوامیہ آئے اور انہوں نے کہا کہ ان کو اس کے آبائی مقام میں دفن کریں اور حضرت عبدالرحمنؓ بن عوف کے لئے بھی حضرت عائشہؓ راضی ہو گئی تھیں۔ مگر وہ جگہ میسر نہ ہوئی اور حضرت عائشہؓ کو کہا گیا کہ یہ آپ کا گھر ہے۔ آپ کو اس جگہ دفن کریں۔ کہا میں اس جگہ راضی نہیں ہوں۔ مجھ کو میری صاحبات کے ساتھ جنت البقیع میں دفن کیجئے۔ حکمت اس میں یہ تھی کہ یہ قبر کی جگہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے لئے ہونی چاہئے ۔“
(اشعۃ اللمعات ترجمہ فارسی مشکوٰۃ ج ٤ ص ٤٧٥)
جواب دوم
”عن عبدالله ابن سلام قال يدفن عيسىٰ بن مريم مع رسول الله وصاحبيه فيكون قبره رابعاً“
(تفسیر درمنثور ج ٢ ص ٢٤٥)
روایت ہے حضرت عبداللہ بن سلامؓ سے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام رسول اللہ ﷺ اور حضرت ابوبکرؓ اور حضرت عمر فاروقؓ کے ساتھ دفن ہوں گے اور ان کی چوتھی قبر ہو گی۔
قبر سے مراد مقبرہ جناب مرزا قادیانی کی شہادت
”مگر حسینؓ جو تمام انبیاء کا شفیع ہے۔ اس کا سارے قرآن پاک میں ذکر ندارد پھر عجیب تر یہ بات ہے کہ حسینؓ کو یہ شرف بھی حاصل نہیں ہوا کہ وہ موت کے بعد آنحضرت ﷺ کی قبر کے قریب دفن کیا جاتا۔ مگر ابوبکرؓ و عمرؓ جن کو حضرات شیعہ کافر کہتے ہیں۔ بلکہ تمام کافروں سے بدتر سمجھتے ہیں۔ ان کو یہ مرتبہ ملا کہ آنحضرت ﷺ سے ایسے ملحق ہو کر دفن کئے گئے کہ گویا ایک ہی قبر ہے۔“
(نزول المسیح ص ٤٧، خزائن ج ١٨ ص ٤٢٥)
اعتراض مولانا احمد علی قادیانی
بحث نزول کا لفظ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے لئے
”اور پھر قرآن مجید میں آنحضرت ﷺ کے لئے بھی لفظ نزول آیا ہے۔ ”قد انزل الله اليكم ذكرا رسولا يتلوا عليكم ايات الله مبينت (الطلاق: ١٠، ١١)“ تحقیق اتارا ہے اللہ نے طرف تمہارے ذکر کہ پیغمبر ہے جو پڑھتا ہے اوپر تمہارے نشانیاں اللہ کی بیان کرنے والی۔ کیا کوئی آنحضرت ﷺ کو بھی آسمان سے نازل شدہ (مسیح کی طرح) یقین کرتا ہے۔
(نصرۃ الحق ص ٤٦، نمبر ٢ تا ٣ مصنفہ احمد علی شاہ قادیانی)
٥٠
جواب اوّل
”قد انزل الله اليكم ذكرا هو القرآن ﴿تحقیق اتارا اللہ تبارک و تعالیٰ نے طرف تمہارے ذکر یعن
جواب دوم
”قد انزل الله اليكم ذكرا القرآن “ ذکر یعنی قرآن مجید۔﴾ مولانا احمد علی صاحب! ذکر سے مراد رسول قرآن کریم کے لئے ہی اللہ تبارک و تعالیٰ نے نزول کا ل کے لئے۔ اگر تمہارے خیال کے مطابق نزول سے مراد آ لئے کیا خیال ہے کہ یہ آسمان سے بذریعہ حضرت جبرئیل اگر اترنا مانتے ہو تو لازمی یہ بھی ماننا پڑے گا ک سے نازل ہوں گے۔ کیونکہ قرآن مجید کے لئے اللہ تعالیٰ ”انا نحن نزلنا الذكر انا له لحفظون ذکر یعنی قرآن مجید اور تحقیق ہم واسطے اس کے نگہبان ہیں ”والذين أمنوا وعملوا الصلحت الحق من ربهم (محمد: ٢)“ اور جو لوگ ایما لائے ساتھ اس چیز کے جو اتاری گئی اوپر حضرت محمد ﷺ مولانا احمد علی نے پیش کردہ آیت میں بڑی بحث آیت میں اللہ تبارک و تعالیٰ نے نزول کا لفظ قر جماعت قادیانی کے عالم مولانا احمد علی شاہ قادیانی رسول گمراہ کرنا چاہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے لئے لفظ نز لئے کہیں بھی نزول کا لفظ قرآن کریم میں بیان نہیں کیا گ قصہ ہے، جو غلط ہے۔
حیات مسیح علیہ السلام کی نویں دلیل
”وانه لعلم للساعة فلا تمترن بها و
٥١
جواب اول
”قد انزل الله اليكم ذكرا هو القرآن“
(تفسیر جامع البیان ص ٤٧٤ مطبوعہ نامی دہلی )
﴿تحقیق اتارا اللہ تبارک وتعالیٰ نے طرف تمہارے ذکر یعنی وہ قرآن مجید۔﴾
جواب دوم
”قد انزل الله اليكم ذكرا القرآن“ ﴿تحقیق اتارا اللہ تعالیٰ نے تمہاری طرف ذکر یعنی قرآن مجید۔﴾
(حوالہ تفسیر سیدنا ابن عباس ص ٢٥٩ مطبوعہ مصر )
مولانا احمد علی صاحب! ذکراً سے مراد رسول خدا ﷺ نہیں بلکہ قرآن مجید ہے اور قرآن کریم کے لئے ہی اللہ تبارک و تعالیٰ نے نزول کا لفظ استعمال فرمایا ہے نہ کہ رسول خدا ﷺ کے لئے۔ اگر تمہارے خیال کے مطابق نزول سے مراد آسمان سے اترنا نہیں تو پھر قرآن کریم کے لئے کیا خیال ہے کہ یہ آسمان سے بذریعہ حضرت جبرئیل علیہ السلام کے نہیں اترا؟
اگر اترنا مانتے ہو تو لازمی یہ بھی ماننا پڑے گا کہ حضرت ابن مریم علیہ السلام بھی آسمان سے نازل ہوں گے۔ کیونکہ قرآن مجید کے لئے اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے، ملاحظہ کیجئے ۔
”انا نحن نزلنا الذكر انا لہ لحفظون (الحجر:٩)“ ﴿تحقیق اتارا ہم نے ذکر یعنی قرآن مجید اور تحقیق ہم واسطے اس کے نگہبان ہیں۔﴾
”والذين أمنوا وعملوا الصلحت وأمنوا بما نزل على محمد وهو الحق من ربهم (محمد:٢)“ ﴿اور جولوگ ایمان لائے اور عمل کریں گے صالح اور ایمان لائے ساتھ اس چیز کے جو اتاری گئی اوپر حضرت محمد ﷺ کے اور وہ حق ہے رب اپنے سے۔﴾
مولانا احمد علی نے پیش کردہ آیت میں بڑی فریب بازی سے کام لیا ہے۔ کیونکہ زیرِ بحث آیت میں اللہ تبارک و تعالیٰ نے نزول کا لفظ قرآن کریم کے لئے استعمال فرمایا۔ مگر جماعت قادیانی کے عالم مولانا احمد علی شاہ قادیانی رسول اللہ ﷺ کے لئے استعمال کر کے لوگوں کو گمراہ کرنا چاہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے لئے لفظ نزول آیا ہے۔ حالانکہ رسول خدا ﷺ کے لئے کہیں بھی نزول کا لفظ قرآن کریم میں بیان نہیں کیا ۔ یہ فقط جماعت قادیانی کا خود ایجاد کردہ قصہ ہے، جو غلط ہے۔
حیات مسیح علیہ السلام کی نویں دلیل
”وانه لعلم للساعة فلا تمترن بها واتبعون (الزخرف:٦١)“ ﴿اور تحقیق
٥١
وہ البتہ (یعنی حضرت عیسیٰ) علامت قیامت کی ہیں۔ پس مت شک لاؤ ساتھ اس کے اور تابعداری کرو۔﴾
مولانا احمد علی صاحب! قرآن کریم کا فرمان موجود ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام قیامت کا نشان ہے۔ کیونکہ ”انہ“ کی ضمیر حضرت عیسیٰ علیہ السلام طرف راجع ہے۔ یعنی جب تک حضرت عیسیٰ علیہ السلام آسمان سے نازل نہیں ہوں گے، قیامت ہرگز نہیں آئے گی۔ معلوم ہوا کہ فی الحال حضرت ابن مریم علیہ السلام آسمان پر تشریف فرما ہیں اور قریب قیامت ان کا آسمان سے زمین کی طرف نزول ہوگا۔
”عن حذیفة ابن أسید الغفاری قال اطّلع النبیﷺ علینا ونحن نتذاكر فقال ماتذكرون قالوا نذكر الساعة قال انها لن تقوم حتى تروا قبلها عشر آیات فذکر الدخان والدجال والدابة وطلوع الشمس من مغربها ونزول عیسیٰ ابن مریم (مشکوٰۃ باب العلامات ص ٤٧٦)“
حضرت حذیفہؓ سے روایت ہے کہ تشریف لائے رسول اکرمﷺ اوپر ہمارے اور ہم قیامت کا ذکر کر رہے تھے۔ پس فرمایا کیا ذکر کر رہے ہو تم؟ کہا ہم نے کہ ذکر کرتے ہیں ہم قیامت کا۔ فرمایا کہ اس کو ہرگز نہ دیکھو گے (یعنی قیامت قائم نہیں ہوگی) یہاں تک کہ نہ دیکھ لو پہلے اس کے دس نشان پس ذکر کیا آپ نے دھوئیں کا اور دجال کا اور دابۃ الارض کا اور نکلنا سورج کا مغرب سے اور اترنا حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا۔ (نہ کہ ابن چراغ بی بی کا)
یہ حدیث مذکورہ بالا آیت ”وانہ لعلم للساعة“ کی تفسیر ہے جو رسول اللہﷺ نے صحابہ کرامؓ کو سنائی۔ معلوم ہوا کہ بیشک حضرت ابن مریم علیہ السلام آسمان پر زندہ ہیں۔ ان کا نازل ہونا بھی قیامت کی نشانیوں میں سے ایک بڑی نشانی ہے۔
اعتراض مولانا احمد علی قادیانی
”الضمیر للقرآن فان فيه الدلالة عليها“
(تفسیر جامع البیان ص ٤٠٧)
یعنی ”انہ“ ضمیر کا مرجع حضرت عیسیٰ علیہ السلام نہیں بلکہ قرآن مجید ہے جو قیامت کی نشانی ہے۔ جس میں مردوں کے جی اٹھنے کے لئے نشان ہے۔ کیونکہ اس سے مردہ دل زندہ ہو رہے ہیں۔ پس اس سے حیات مسیح علیہ السلام کا استدلال بے بنیاد ٹھہرا۔“
(نصرۃ الحق ص ٤٩ مصنفہ احمد علی قادیانی)
٥٢
٣٧
جواب اوّل
”وانه عیسیٰ لعلم للساعة عا ﴿اور تحقیق وہ عیسیٰ علیہ السلام البتہ ضرور ہے نشان
مولانا احمد علی صاحب! آپ نے ا عبارت نقل کرنے میں بڑی فریب دہی سے کام خوف نہیں رکھا۔ میں آپ سے دریافت کرنا چاہ پڑھ کر اپنے رسالہ میں نقل کی تھی یا کہ ویسے کی دے دیا اور عبارت کسی اور تفسیر کی پیش کر دی۔ آ دھوکہ نہ کھاتے۔ کیونکہ تفسیر جامع البیان میں زیر آ لکھا ہوا ہے۔ اگر تفسیر جامع البیان میں زیر آیۃ ھ تو خدا کی قسم نقد آپ کو مبلغ پچاس روپے بطور ا کرتے وقت بھول گئے۔ (کیونکہ دروغ گو را ح
جواب دوم
”وانه ای عیسیٰ لعلم للس کراچی) ﴿اور تحقیق وہ یعنی حضرت عیسیٰ علیہ السلا کے بعد قیامت آئے گی۔﴾
علامہ حضرت جلال الدین سیوطیؒ کی
جواب سوم
”وانه یعنی نزول عیسیٰ ص ٥٢٢) ﴿اور تحقیق وہ یعنی حضرت عیسیٰ علیہ الس
لہٰذا تفاسیر مذکورہ بالا معتبر حوالہ جات حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی طرف راجع ہے۔ آ کی طرف لوٹانا سراسر تحکم اور زبردستی ہے۔
جواب اوّل
"وانه عیسی لعلم للساعة علامتها" (تفسیر جامع البیان ص ٢٨١ مطبوعہ نامی دہلی) ﴿اور تحقیق وہ عیسیٰ علیہ السلام البتہ ضرور ہے نشان قیامت کا۔﴾ مولانا احمد علی صاحب! آپ نے تو حوالہ تفسیر جامع البیان کا دیا ہے۔ لیکن اس کی عبارت نقل کرنے میں بڑی فریب دہی سے کام لیا۔ افسوس صد افسوس کہ اللہ تعالیٰ کی ذات کا ذرا خوف نہیں رکھا۔ میں آپ سے دریافت کرنا چاہتا ہوں کہ آپ نے تفسیر جامع البیان کی عبارت پڑھ کر اپنے رسالہ میں نقل کی تھی یا کہ ویسے کسی قادیانی کی زبانی سن کر حوالہ تفسیر جامع البیان کا دے دیا اور عبارت کسی اور تفسیر کی پیش کر دی۔ اگر آپ تفسیر جامع البیان دیکھ کر نقل کرتے تو اتنا بڑا دھوکہ نہ کھاتے۔ کیونکہ تفسیر جامع البیان میں زیر آیت "وانه عیسی لعلم للساعة" صاف لکھا ہوا ہے۔ اگر تفسیر جامع البیان میں زیر آیت "وانه عیسی لعلم للساعة" الفاظ نہ ہوں تو خدا کی قسم نقد آپ کو مبلغ پچاس روپے بطور انعام پیش کرنے کے لئے تیار ہوں یا آپ نقل کرتے وقت بھول گئے۔ (کیونکہ دروغ گورا حافظہ نباشد)
جواب دوم
"وانه ای عیسی لعلم للساعة تعلم بنزوله" (تفسیر جلالین ص ٤٠٩ مطبوعہ کراچی) ﴿اور تحقیق وہ یعنی حضرت عیسیٰ علیہ السلام البتہ قیامت کی نشانی ہے۔ ان کے نازل ہونے کے بعد قیامت آئے گی۔﴾ علامہ حضرت جلال الدین سیوطیؒ کی شہادت بھی ہمارے حق میں موجود ہے۔
جواب سوم
"وانه یعنى نزول عیسی ابن مريم لعلم للساعة" (تفسیر سیدنا ابن عباسؓ ص ٥٢٢) ﴿اور تحقیق وہ یعنی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا نزول قیامت کی نشانی ہے۔﴾ لہٰذا تفاسیر مذکورہ بالا معتبر حوالہ جات سے ظاہر ہے کہ لفظ "انّہ" کی ضمیر کا مرجع حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی طرف راجع ہے۔ آپ کا نزول بھی قیامت کا نشان ہے اور قرآن کریم کی طرف لوٹانا سراسر تحکم اور زبردستی ہے۔
٥٣
وفات مسیح علیہ السلام پر تیسری دلیل کی بیخ کن تردید
اعتراض مولا احمد علی قادیانی
”وما محمد الا رسول قد خلت من قبله الرسل (آل عمران:١٤٤)“ یعنی حضرت محمدﷺ اللہ تبارک وتعالیٰ کے رسول ہیں اور اس سے پہلے کے تمام رسول گزر گئے۔ اس آیت سے مسیح ناصری کی وفات روز روشن کی طرح عیاں ہے۔ تفسیر جلالین میں لکھا ہے ”قد خلت ای ھلکت“ (تفسیر جلالین ص ٢٩٦) یعنی خلا کے معنی فوت ہونا ہے۔
(نصرۃ الحق ص ٦٨ مصنفہ احمد علی شاہ قادیانی)
جواب اوّل
مولانا احمد علی صاحب آپ اگر تفسیر جلالین سے زیر آیت ”وما محمد الا رسول قد خلت من قبله الرسل“ لفظ ”ھلکت“ نکال کر دکھا دیں تو خدا کی قسم! آپ کو مبلغ پچیس روپیہ بطور انعام پاکستانی نوٹ دیئے جائیں گے۔ مولانا احمد علی قادیانی نے اس جگہ بھی بڑی فریب دہی سے کام لیا ہے۔ اگر آپ کے نزدیک لفظ خلت کا معنی ضرور موت ہے تو جناب مرزا غلام احمد قادیانی نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو زندہ آسمان پر کیونکر تسلیم کیا؟
معلوم ہوا کہ جماعت قادیانی و جناب مرزا قادیانی کو فقط ضد ہے کہ میرے مخالف حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو آسمان پر زندہ تسلیم کرتے ہیں تو ہم موسیٰ علیہ السلام کو زندہ سمجھیں گے۔ نہ معلوم اس جماعت قادیانی اور اس کے بانی جناب مرزا غلام احمد قادیانی کو حضرت مسیح علیہ السلام سے کیا ضد ہے؟
حضرت موسیٰ علیہ السلام کی زندگی پر جناب مرزا قادیانی کا ایمان
”وكلمه ربه على طور سينين وجعله من المحبوبين هذا هو موسى فتى الله الذى اشار الله فى كتابه الى حياته و فرض علينا ان نؤمن بانه حى فى السماء ولم يمت وليس من الميتين“ اور اس کا (یعنی حضرت موسیٰ) کا خدا کوہ سینا میں اس سے ہم کلام ہوا اور اس کو پیارا نبی بنایا یہ وہی موسیٰ مرد خدا ہے جس کی نسبت قرآن کریم میں اشارہ ہے کہ وہ زندہ ہے اور ہم پر فرض ہو گیا کہ ہم اس بات پر ایمان لائیں کہ وہ آسمان میں زندہ موجود ہیں اور ہرگز موت نہیں آئی اور نہیں مردوں سے۔
(نور الحق ص ٥٠، خزائن ج ٨ ص ٦٩)
٥٤
مولانا احمد علی صاحب! بقول مرزا قادیانی پر زندہ سمجھتے ہوں گے۔ کیونکہ آپکے مسیح انڈین کا فرما لیکن حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی حیات کے قائل نہیں قادیانی کی جڑ کٹ جاتی ہے۔ جب آیت ”وما م خداﷺ سے پہلے تمام نبی فوت ہو گئے تو موسیٰ علیہ شک مرزا غلام احمد قادیانی کے مطابق زندہ تسلیم کر ماننا پڑے گا۔
آیت ”ماالمسيح ابن مريم
جواب دوم
”ماالمسيح ابن مريم الا رسو ٧٥)“ (ترجمہ از جناب مرزا قادیانی کتاب ازالۃ اوہام ص مریم مگر رسول، اس سے پہلے رسول فوت ہو چکے ہ ترجمہ تسلیم کر کے اس آیت سے حیات مسیح ثابت کر
مولانا احمد علی قادیانی صاحب! یہ سورۃ میں نازل ہوئی ہے۔ جس کا نزول ٩ ہجری تک ہوتا ر خلت من قبله الرسل (آل عمران:١٤٤) پہلے رسول۔ یہ آیت غزوہ احد ٣ ہجری میں آیت پہلے نازل ہوئی تھی۔ جس میں مسیح بھی داخل تھے۔ چکے ہیں۔
حالانکہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام آسمان زندگی کو ظاہر کرنے کے لئے اللہ تبارک وتعالیٰ نے ا مريم الا رسول قد خلت من قبله الرسل حضرت مسیح علیہ السلام تو زندہ ہیں۔ ان سے پہلے ر مذکورہ سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو مستثنیٰ کر دیا گیا رسول“ کے نازل ہونے کے وقت رسول خداﷺ ابن مريم الا رسول“ میں بطور خبر بیان فرم
١٥
مولانا احمد علی صاحب! بقول مرزا قادیانی کے تو حضرت موسیٰ علیہ السلام کو آسمان پر زندہ سمجھتے ہوں گے۔ کیونکہ آپکے مسیح انڈین کا فرمان موجود ہے کہ موسیٰ علیہ السلام زندہ ہیں۔ لیکن حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی حیات کے قائل نہیں۔ اس لئے کہ ان کی زندگی ماننے سے سلسلہ قادیانی کی جڑ کٹ جاتی ہے۔ جب آیت ”وما محمد الا رسول قد خلت“ سے رسول خدا ﷺ سے پہلے تمام نبی فوت ہو گئے تو موسیٰ علیہ السلام کیونکر زندہ رہ سکتے ہیں؟ اگر ان کو بلا شک مرزا غلام احمد قادیانی کے مطابق زندہ تسلیم کرتے ہو تو پھر مسیح علیہ السلام کو بھی زندہ لازمی ماننا پڑے گا۔
آیت ”ماالمسیح ابن مریم“ یعنی سورۃ مائدہ کا نزول
جواب دوم
”ماالمسیح ابن مریم الا رسول قد خلت من قبلہ الرسل (المائدہ: ٧٥)“ (ترجمہ از جناب مرزا قادیانی کتاب ازالۃ اوہام ص ٦٠٣، خزائن ج ٣ ص ٤٢٥) نہیں حضرت مسیح ابن مریم مگر رسول، اس سے پہلے رسول فوت ہو چکے ہیں۔“ ہم تھوڑی دیر کے لئے مرزا قادیانی کا ترجمہ تسلیم کرکے اس آیت سے حیات مسیح ثابت کرتے ہیں۔
مولانا احمد علی قادیانی صاحب! یہ سورۃ المائدہ قرآن کریم کی سب سورتوں سے آخر میں نازل ہوئی ہے۔ جس کا نزول ٩ ہجری تک ہوتا رہا اور آیت ”وما محمد الا رسول قد خلت من قبلہ الرسل (آل عمران: ١٤٤) “ ﴿اور نہیں محمد مگر رسول تحقیق گزرے اس سے پہلے رسول۔﴾ یہ آیت غزوہ احد ٣ ہجری میں آیت ”ماالمسیح ابن مریم الا رسول“ سے پہلے نازل ہوئی تھی۔ جس میں مسیح بھی داخل تھے۔ یعنی رسول خدا ﷺ سے پیشتر تمام نبی فوت ہو چکے ہیں۔
حالانکہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام آسمان پر زندہ موجود تھے۔ حضرت مسیح علیہ السلام کی زندگی کو ظاہر کرنے کے لئے اللہ تبارک وتعالیٰ نے پھر سورۃ مائدہ کے اندر آیت ”ماالمسیح ابن مریم الا رسول قد خلت من قبلہ الرسل“ نازل کرکے اس بات کی اطلاع کردی کہ حضرت مسیح علیہ السلام تو زندہ ہیں۔ ان سے پہلے کے رسول تمام فوت ہوچکے ہیں۔ گویا اس آیت مذکورہ سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو مستثنیٰ کردیا گیا۔ پس جس طرح آیت ”وما محمد الا رسول“ کے نازل ہونے کے وقت رسول خدا ﷺ زندہ تھے۔ اسی طرح آیت ”ما المسیح ابن مریم الا رسول“ میں بطور خبر بیان فرمایا کہ حضرت مسیح علیہ السلام فوت شدہ انبیاء سے
٥٥
مستثنیٰ ہیں۔ گویا آپ زندہ ہیں۔ ابھی فوت نہیں ہوئے۔ پس اس آیت سے بھی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی حیات جسمانی کا مکمل ثبوت ہو چکا ہے۔
جواب سوم
”سنة الله التي قد خلت من قبل ولن تجد لسنة الله تبديلا
(الفتح:٢٢)“
﴿عادت اللہ تعالیٰ کی جو گزری ہے پہلے اس سے اور ہرگز نہ پاوے گا تو عادت اللہ کی کو بدلا جاتا۔﴾
مولانا احمد علی صاحب! اگر خلت کا معنی تمہارے نزدیک موت ہے تو ترجمہ یوں کیا جائے گا کہ عادت اللہ تعالیٰ فوت ہوچکی ہے۔ پہلے اس سے (استغفر اللہ) اگر آپ کے نزدیک خلت کا معنی موت ہے تو کیا اس معنی سے خدائے تبارک وتعالیٰ کی زبردست صفات پر حملہ نہیں ہوتا؟ یعنی اللہ کی جو عادتیں پہلے تھیں گویا کہ وہ اب فوت ہوچکی ہیں۔ ہمارا ایمان ہے کہ خلت کا معنی ہرگز موت نہیں۔ اس لئے ہی اللہ تعالیٰ نے اپنی ذات کے لئے استعمال فرمایا۔ جو شخص خلت کا معنی موت کرتا ہے۔ گویا وہ اللہ تعالیٰ کی صفات کو مردہ کرنے کی ناپاک کوشش کرتا ہے۔ اگر جناب مرزا قادیانی نے خلت کا معنی موت کیا ہو تو وہ ان کا اپنا ایجاد کردہ ہے۔
جواب چہارم
”قال ادخلوا فى امم قد خلت من قبلكم من الجن والانس فى النار
(الاعراف:٣٨)“
﴿یعنی اللہ تعالیٰ قیامت کے دن فرمائے گا (کہے گا) داخل ہو جاؤ بیچ ان جماعتوں کے کہ تحقیق گزری ہیں پہلے تم سے جنوں سے اور آدمیوں سے بیچ آگ کے۔﴾
مولانا احمد علی صاحب! اگر تمہارا ترجمہ یہاں کیا جائے کہ خلت کا معنی موت ہے تو مطلب یہ ہوگا کہ اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ داخل ہو جاؤ بیچ ان جماعتوں کے جو فوت ہوچکی ہیں۔ پہلے تم سے جنوں سے اور آدمیوں سے بیچ آگ کے۔ کیا آپ قیامت کو زندہ ہونے کے بعد پھر موت آنا تسلیم کرتے ہو کہ جہنمیوں کو موت آئے گی۔ حالانکہ قرآن کریم اس بات کی نفی کرتا ہے۔
”ثم لا يموت فيها (الاعلیٰ:١٣)“ پھر نہیں موت آئے گی بیچ اس کے۔ جبکہ جہنم میں ان کو موت نہیں آئے گی۔ پھر کیونکر قرآن کریم میں اللہ تبارک وتعالیٰ نے ان کے لئے لفظ خلت کو استعمال کیا ہے۔ مذکورہ بالا تمام حوالہ جات سے ظاہر ہوا کہ خلت کا معنی ہرگز موت نہیں بلکہ یہ جماعت قادیانی کا اپنا ایجاد کردہ معنی ہے۔
٥٦
وفات مسیح علیہ السلام پر چوتھا
اعتراض مولانا احمد علی
”واذ قال الله يعيسى ابن مريم ءانت قلت للناس اتخذونى وامى الهين من دون الله، قال سبحنك ما يكون لى ان اقول ما ليس لى بحق، ان كنت قلته فقد علمته تعلم مافى نفسى ولا اعلم مافى نفسك، انك انت علام الغيوب، ما قلت لهم الا ما امرتنى به ان اعبدوا الله ربى وربكم وكنت عليهم شهيداً مادمت فيهم فلما توفيتنى كنت انت الرقيب عليهم وانت على كل شىء
شهيد (المائده:١١٦،١١٧)“
”اور جب کہا اللہ تعالیٰ نے اے عیسیٰ ابن مریم کیا تو نے کہا تھا واسطے لوگوں کے کہ پکڑو مجھ کو اللہ کے سوا خدا مانو۔ تو مسیح نے جواب دیا اے خدا تو پاک ہے۔ میرے لائق نہیں کہ میں ایسی بات کہوں کہ جس کا مجھے حق نہیں۔ اگر میں نے ایسا کہا تو تو اس کو جانتا ہے۔ جو کچھ میرے جی میں ہے تو اس بات کو جانتا ہے۔ مگر میں تیرے رازوں کو نہیں جانتا۔ بے شک تو ہی جاننے والا ہے چھپی باتوں کا۔ میں نے تو ان کو وہی کچھ کہا تھا جس کے کہنے کا تو نے مجھے ارشاد فرمایا تھا۔ یہ کہ تم عبادت کرو اللہ کی جو میرا اور تمہارا سب کا رب ہے اور میں ان کے اوپر نگرانی کرنے والا تھا جب تک میں ان میں رہا۔ پھر جب تو نے مجھے وفات دے دی تو پھر تو ہی ان پر نگہبان تھا اور تو ہر چیز پر نگہبان ہے“۔
اور مسیح علیہ السلام یہ بھی واضح کرتے ہیں کہ اے اللہ! جب تک میں ان میں موجود رہا۔ ان کا نگران رہا اس وقت تک ان میں خرابی اور شرک کا مادہ پیدا نہ ہوا۔ لیکن جب تو نے مجھے اپنے پاس بلا لیا تو نے مجھے وفات دے دی۔ کیونکہ اس وقت میری نگرانی ان پر نہ رہی تو وہ گمراہ ہو گئے۔ اس آیت سے صاف ظاہر ہے کہ قوم نصاریٰ کے اندر شرک پھیلنے سے پہلے وفات مسیح ہوچکی تھی۔
اس کے علاوہ موصوف نے قرآن کریم، لغات عرب کے حوالے چھوڑ کر حدیث بخاری شریف سے یہ پیش کی ہیں کہ ’توفیتنی‘ ’متوفیک‘ کے بارے میں ابن عباسؓ یہ معنی موت مانتے ہیں۔ اس لئے پیش کردہ مثالیں خالی از بحث ہیں۔ آپ نے وفات مسیح علیہ السلام پر جو قادیانی کے علاوہ مرزا غلام احمد قادیانی سے بھی زہر بھرا ہوا ایک حوالہ پیش کیا ہے۔ اور مجھ سے دریافت کرتے ہیں کہ آپ اس آیت کی بابت کیا ارشاد فرماتے ہیں۔
”(حضرت مسیح علیہ السلام) جناب باری میں عرض کریں گے کہ جب تک میں اپنی امت میں تھا۔ میں نے وہی تعلیم امت کو دی جس کی تو نے مجھے ہدایت کی تھی یعنی توحید کی۔ جب
٥٧
وفات مسیح علیہ السلام پر چوتھی دلیل کی بیخ کن تردید
اعتراض مولانا محمد علی قادیانی
”واذ قال الله يعيسىٰ ابن مريم أءنت قلت للناس اتخذونى وامى الهين من دون الله، قال سبحنك مايكون لى ان اقول ماليس لى بحق ان كنت قلته فقد علمته تعلم مافى نفسى ولا اعلم ما فى نفسك، انك انت علام الغيوب، ما قلت لهم الا ماامرتنى به ان اعبدوا الله ربى و ربكم وكنت عليهم شهيداً مادمت فيهم فلما توفيتنى كنت انت الرقيب عليهم وانت على كل شى شهيد (المائده:١١٦، ١١٧)“
”اور جب کہا اللہ تعالیٰ نے اے عیسیٰ ! تو نے اپنی قوم کو کہا تھا کہ مجھے اور میری ماں کو اللہ کے سوا خدا مانو۔ تو مسیح نے جواب دیا اے خدا تو پاک ہے میرے لئے جائز نہ تھا کہ ایسی بات کہتا۔ جس کا مجھے حق نہیں۔ اگر میں نے ایسا کہا تو تو اسے خوب جانتا ہے۔ کیونکہ تو میرے دل کی بات جانتا ہے۔ مگر میں تیرے رازوں کو نہیں جانتا۔ بیشک غیب کی باتیں تو ہی جانتا ہے۔ میں نے تو ان کو وہی کچھ کہا تھا جس کے کہنے کا تو نے مجھے ارشاد فرمایا اور وہ یہ کہ تم اللہ کی عبادت کرو جو میرا اور تمہارا سب کا رب ہے اور میں ان کے اوپر نگرانی کرتا رہا۔ جب تک میں ان میں رہا۔ لیکن جب تو نے مجھے وفات دے دی تو پھر تو ہی ان پر نگہبان تھا اور تو ہر چیز پر گواہ ہے۔“
اور مسیح علیہ السلام یہ بھی واضح کرتے ہیں کہ جب تک میں اپنی قوم نصاریٰ میں موجود اور ان کا نگران رہا اس وقت تک ان میں خرابی اور شرک کا بگاڑ پیدا نہیں ہوا تھا۔ یہ بگاڑ کب ہوا؟ جب تو نے مجھے وفات دے دی۔ کیونکہ اس وقت میری نگرانی جاتی رہی اور صرف تیری نگرانی باقی تھی۔ اس سے صاف ظاہر ہے کہ قوم نصاریٰ کے اندر شرک پھیلنے سے پہلے ہی مسیح وفات پا چکے تھے۔
اس کے علاوہ موصوف نے قرآن کریم سے باب تفعل کی آٹھ آیتیں ایک حدیث بخاری شریف سے یہ پیش کی ہیں کہ ’توفيتنى‘ کا معنی موت ہے۔ ہم بھی ’توفيتنى‘ کا معنی موت مانتے ہیں۔ اس لئے پیش کردہ مثالیں خارج از بحث ہوگئیں۔ اب ہم مولانا محمد علی قادیانی کے علاوہ مرزا غلام احمد قادیانی سے بھی زیر بحث آیت ”فلما توفيتنى“ کے متعلق دریافت کرلیں کہ آپ اس آیت کی بابت کیا ارشاد فرماتے ہیں، ملاحظہ ہو۔
”(حضرت مسیح علیہ السلام ) جناب باری میں عرض کرتے ہیں کہ جب تک میں اپنی امت میں تھا۔ میں نے وہی تعلیم امت کو دی جس کی تو نے مجھے ہدایت دی تھی اور جب تو نے مجھے
٥٧
وفات دے دی۔ تو بعد کے حالات کا مجھے کچھ علم نہیں اور ان آیات سے صاف طور پر یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام دوبارہ نہیں آئیں گے ورنہ لازم آتا ہے کہ قیامت کے دن وہ خدا تعالیٰ کے سامنے جھوٹ بولیں گے کیونکہ اگر وہ قیامت سے پہلے دنیا میں دوبارہ آئے ہوتے تو اس صورت میں ان کا یہ کہنا کہ مجھے کچھ علم نہیں کہ میری امت نے میرے بعد کیا عقیدہ اختیار کیا۔ صریحاً جھوٹ ٹھہرتا ہے۔ کیونکہ جو شخص دوبارہ دنیا میں آئے اور بچشم خود دیکھ جائے کہ اس کی امت بگڑ چکی ہے اور نہ صرف ایک دن بلکہ برابر چالیس سال تک ان کے کفر کی حالت دیکھتا رہے وہ کیونکر قیامت کے دن خداوند تعالیٰ کے سامنے کہہ سکتا ہے کہ اپنی امت کی حالت سے محض بے خبر ہوں ۔“
(ضمیمہ براہین احمدیہ ص ١١٧، خزائن ج ٢١ ص ٢٨٢)
حیات مسیح علیہ السلام کی دسویں دلیل
جواب اوّل
برادران! جناب مرزا غلام احمد قادیانی اور آپ کی جماعت نے آیت ”فـلـمـا توفیتنی“ کو وفات مسیح علیہ السلام کے لئے ایک زبردست دلیل بنایا ہوا ہے۔ حالانکہ اس آیت پیش کردہ سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی حیات جسمانی کا مکمل ثبوت ہے۔ کیونکہ قیامت کے دن حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر اللہ تعالیٰ یہ سوال کرے گا کہ اے عیسیٰ کیا تو نے لوگوں کو اس امر کی تبلیغ کی تھی۔ ”الهين من دون الله“ یعنی مجھے اور میری ماں کو سوا اللہ کے دو معبود پکارو حضرت ابن مریم علیہ السلام عرض کریں گے ”ان اقول ما لیس لی بحق“ باری تعالیٰ یہ میرا کیونکر حق تھا کہ میں لوگوں کو اس قسم کی تبلیغ کرتا۔ میں تو ”ان اعبدوا الله ربی وربکم“ کہتا رہا ہوں کہ عبادت کرو جو میرا اور تمہارا رب ہے۔ (یعنی وحدہ لا شریک کی) ”وکنت علیهم شهیداً“ اور میں ہوں اوپر ان کے شاہد (اس بات کا کہ میں نے ان کو کبھی نہیں کہا کہ تم میری عبادت کرو۔ ”مادمت فیہم فلما توفیتنی“ پس جب تک رہا ہوں میں بیچ ان کے پس جب تو نے مجھے موت دے دی۔ تھا تو ہی نگہبان اوپر ان کے۔
- الف ...... مذکورہ بالا آیت کے ترجمہ سے معلوم ہوا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام اپنی قوم کے بگڑنے
سے بخوبی خبردار ہوں گے۔
- ب ...... اگر بے خبری ہوتی جیسا کہ جناب مرزا قادیانی اور آپ کی جماعت کا عقیدہ ہے تو
حضرت عیسیٰ علیہ السلام ضرور پکار پکار کر عرض کرتے کہ باری تعالیٰ! میں نے ایسی تبلیغ نہیں کی کہ مجھے اور میری ماں کو دو معبود پکارو اور نہ میری قوم نے ہی مجھے معبود پکارا ہے۔
- ج ...... حضرت عیسیٰ علیہ السلام اپنی امـ
بھی نہیں کریں گے کہ یا اللہ مجھے اور میری ماں
- د ...... جبکہ باری تعالیٰ یہ سوال بھی نہیں
ہے یا نہیں؟ پھر کیونکر حضرت عیسیٰ علیہ السلا نے بھی میرے مولا ، معبود نہیں کہا۔
اگر بالفرض اللہ تبارک و تعالیٰ یہ عیسیٰ علیہ السلام جواب دیں گے کہ مجھے علم ثابت نہیں ہو سکتی ۔ کیونکہ تمام انبیاء کے متعلق الرسل فيقول ماذا اجبتم قـ (المائده : ١٠٩) ”جس دن اکٹھا کرے گئے تھے تم۔ کہیں گے ہمیں علم ہم کو تحقیق تو ہی
جناب مرزا غلام احمد قادیانی کے ابن مریم علیہ السلام کے فوت ہو جانے کے باعث انکار کر دیں گے کہ مجھے علم نہیں ۔ تو کیا علیہ السلام وغیرہ وغیرہ کہ جن کے ساتھ ظلم گے کہ ہمیں علم نہیں ۔ کیا حضرت ابراہیم علیہ علیہ السلام کو آرے سے نہیں چیرا اور یحییٰ علیہ الـ گے کہ ہمیں علم نہیں ۔
مولانا احمد علی قادیانی صاحب! اگـ کی خبر رکھتے ہوئے یہ عرض بھی کر دیں کہ مجھے سے موت ثابت ہوگی؟ ہرگز نہیں ۔
حضرت عیسیٰ علیہ السلام نازل ہو کہ میری قوم نے مجھے اور میری ماں کو دو معبود عیسیٰ علیہ السلام اس بات کا قیامت کے روز کرنے سے مجبور ہوں ۔ شرما رہا ہوں کہ میں ثابت ہے ’عن ابن عباس قال قال رسـ
ج...... حضرت عیسیٰ علیہ السلام اپنی امت کے بگڑ جانے کی خبر معلوم ہونے کی وجہ سے یہ عرض بھی نہیں کریں گے کہ یا اللہ مجھے اور میری ماں کو میری قوم نے معبود نہیں پکارا۔
و...... جبکہ باری تعالیٰ یہ سوال بھی نہیں کرے گا کہ تجھ کو اور تیری ماں کو تیری قوم نے معبود پکارا ہے یا نہیں؟ پھر کیونکر حضرت عیسیٰ علیہ السلام بغیر سوال کئے ہوئے یہ جواب دیں گے کہ مجھے کسی نے بھی میرے مولا ، معبود نہیں کہا۔
اگر بالفرض اللہ تبارک وتعالیٰ یہ سوال بھی کرے کہ کیا تمہاری قوم بگڑ گئی تھی اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام جواب دیں گے کہ مجھے علم نہیں۔ پھر بھی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی وفات ہرگز ثابت نہیں ہوسکتی۔ کیونکہ تمام انبیاء کے متعلق سورۂ مائدہ کے اندر ذکر ہے۔ "يوم يجمع الله الرسل فيقول ماذا اجبتم قالوا لا علم لنا انك انت علام الغیوب (المائدہ:١٠٩)" ﴿جس دن اکٹھا کرے گا اللہ تعالیٰ تمام پیغمبروں کو پس کہے گا کیا جواب دیئے گئے تھے تم۔ کہیں گے نہیں علم ہم کو تحقیق تو ہی جاننے والا غیب کا ہے۔﴾
جناب مرزا غلام احمد قادیانی کے فرمان کے مطابق اگر یہ یقین کر لیا جائے کہ حضرت ابن مریم علیہ السلام کے فوت ہو جانے کے بعد ان کی قوم بگڑ گئی تھی۔ اس لئے وہ بے خبری کے باعث انکار کردیں گے کہ مجھے علم نہیں۔ تو کیا حضرت ابراہیم علیہ السلام اور زکریا علیہ السلام اور یحییٰ علیہ السلام وغیرہ وغیرہ کہ جن کے ساتھ ظالموں نے کتنے ظلم کئے۔ وہ قیامت کے روز کیونکر کہیں گے کہ ہمیں علم نہیں۔ کیا حضرت ابراہیم علیہ السلام کو نمرودیوں نے آگ میں نہیں ڈالا اور زکریا علیہ السلام کو آرے سے نہیں چیرا اور یحییٰ علیہ السلام کو بکری کی طرح نہیں ذبح کیا گیا؟ وہ کیونکر کہیں گے کہ ہمیں علم نہیں۔
مولانا احمد علی قادیانی صاحب! اگر حضرت عیسیٰ علیہ السلام بھی باوجود امت کے بگڑنے کی خبر رکھتے ہوئے یہ عرض بھی کردیں کہ مجھے نصاریٰ کے بگڑ جانے کا نہیں پتہ، تو کیا ان کے انکار سے موت ثابت ہوگی؟ ہرگز نہیں۔
حضرت عیسیٰ علیہ السلام نازل ہونے کے بعد ضرور اس بات کو کانوں سے سن لیں گے کہ میری قوم نے مجھے اور میری ماں کو دو معبود پکارا ہے۔ اس لئے تمام رسولوں کے روبرو حضرت عیسیٰ علیہ السلام اس بات کا قیامت کے روز اقرار کریں گے کہ میں آج تمہاری شفاعت عنداللہ کرنے سے مجبور ہوں۔ شرما رہا ہوں کہ میں دنیا میں معبود پکارا گیا ہوں۔ جیسا کہ حدیث سے ثابت ہے ”عن ابن عباس قال قال رسول اللہ ﷺ...... يطول يوم القيامة......
فيقول بعضهم لبعض انطلقوا بناالى ادم ..... فليشفع لنا الى ....... ان قال فيقول موسىٰ ولكن ائتوا عيسىٰ روح الله فياتون عيسىٰ ...... فيقول انى لست هنا كم انى اتخذت الها من دون الله“
(مسند احمد ج ١ ص ٢٨٢،٢٨١)
حدیث شفاعت میں طویل ذکر ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ دن قیامت کا بڑا لمبا ہوگا۔ کئی لوگ آپس میں کہیں گے چلو حضرت آدم علیہ السلام کے پاس چل کر عرض کریں کہ دربار الٰہی میں چل کر ہماری خلاصی کے لئے شفاعت کریں۔ آدم علیہ السلام انکار کریں گے۔ الغرض چلتے چلتے موسٰی علیہ السلام کے پاس حاضر ہوں گے۔ وہ کہیں گے میں اس لائق نہیں ہوں۔ حضرت عیسٰی روح اللہ کے پاس جاؤ۔ جب وہاں جائیں گے تو حضرت عیسٰی علیہ السلام کہیں گے میں بھی تمہاری سفارش نہیں کر سکتا۔ کیونکہ میں اللہ تعالیٰ کے سوا معبود بنایا گیا ہوں۔
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ حضرت عیسٰی علیہ السلام اپنی امت کے بگڑنے کی پوری خبر رکھتے ہوں گے۔ اس لئے کہ نازل ہونے کے بعد ان کو سب کچھ یہ معلوم ہو جائے گا کہ قوم نصارٰی نے ہمیں معبود پکارا ہے۔ اگر وہ فوت ہوں تو قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کے دربار میں حاضر ہونے سے پہلے کیونکر قوم کی حالت سے مطلع ہو سکتے ہیں۔
وفات مسیح علیہ السلام پر پانچویں دلیل کی بیخ کن تردید
اعتراض مولانا احمد علی قادیانی
”وماجعلنهم جسدالا ياكلون الطعام وما كانوا خلدين (الانبیا:٨)“ یعنی اے رسول ہم نے تم سے پہلے کسی رسول کا جسم ایسا نہیں بنایا کہ جو زندہ تو ہو مگر کھانا نہ کھاتا ہو اور ہمیشہ رہنے والا ہو۔ ”كانا ياكلان الطعام (المائدہ:٧٥)“ یعنی مسیح اور ان کی والدہ جب زندہ تھے تو کھانا کھایا کرتے تھے۔ اسی وجہ سے ہے کہ وہ دونوں اب زندہ نہیں۔
(نصرۃ الحق ص ٩٩، ١٠٠ مصنفہ احمد علی شاہ قادیانی)
جواب اوّل
اللہ تبارک وتعالیٰ نے دقیانوس کے زمانہ کا ایک قصہ سورۂ کہف میں قرآن کریم کے اندر یوں بیان فرمایا ہے کہ بادشاہ دقیانوس اپنی رعایا کو مجبور کر کے کئی بتوں کی پوجا کرایا کرتا تھا۔ اس شہر میں چند آدمی اس خیال کے بھی موجود تھے کہ سوائے اللہ تعالیٰ کی ذات کے، کسی غیر کی پوجا نہ کی جائے تو وہ بے چارے اس بات کو سوچتے ہوئے شہر سے نکل پڑے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ بادشاہ
٦٠
ہمیں اس بات پر مجبور کرے کہ ان بتوں کی چنانچہ وہ دقیانوسی کچھ پیسے و غیرہ تبارک و تعالیٰ قرآن کریم کے اندر ارشاد فر سنين عددا (الكهف:١١) ”پس ہم کئی برس گنتی کے ”ولبثوا فى كهفهم ثلث اور سوئے رہے وہ غار اپنی کے پورے جناب مولانا احمد علی صاحب سال سوتے رہے۔ اس کے بعد اللہ تبارک ”وكذالك بعثنهم ليتساء لوا بي او بعض يوم ..... قال فابعثوا ا ازكى طعاماً فليأتكم برزق منه ( اور اسی طرح اٹھایا ہم نے ا ایک کہنے والے نے ان میں سے کتنا رہے انہوں نے پروردگار تمہارا خوب جانتا ہے ج مدینے کے جو یہ شہر ہے۔ پس چاہئے کہ تمہارے پاس رزق ان میں سے ۔“
مولانا احمد علی صاحب کو معلوم پورے ٣٠٩ سال غار میں زندہ رہے تو کے اور پینے کے آسمان پر زندہ نہیں رکھ سکتا کی مکمل بیخ کنی ہوگئی۔
وفات مسیح علیہ السلام
اعتراض م
”والذين يدعون من دو غير احياء وما يشعرون ايا ن يبعث پوجا کی جاتی ہے وہ کوئی چیز پیدا نہیں کر سکت زندہ اور وہ نہیں جانتے کہ کب انہیں اٹھایا جا
ہمیں اس بات پر مجبور کرے کہ ان بتوں کو سجدہ کرو تو تمہارے لئے بہتر ہے کہ شہر بدر ہو چلیں۔
چنانچہ وہ دقیانوسی کچھ پیسے وغیرہ لے کر نکلے اور ایک غار کے اندر جا کر لیٹ گئے ۔ اللہ تبارک و تعالیٰ قرآن کریم کے اندر ارشاد فرماتا ہے ”فضربنا علی اذانھم فی الکھف سنین عددا (الکہف: ١١)“ ﴿پس پردہ مارا ہمنے اوپر کانوں ان کے کے یعنی سلا دیا بیچ غار کے کئی برس گنتی کے﴾ ”ولبثوا فی کھفھم ثلث مائة سنین وازدادوا تسعا (الکہف: ٢٥)“ ﴿اور سوئے رہے وہ بیچ غار اپنی کے پورے ٣٠٩ برس ۔﴾
جناب مولانا احمد علی صاحب! حضرات اصحاب کہف اپنی غار کے اندر پورے ٣٠٩ سال سوتے رہے۔ اس کے بعد اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کو جگایا جیسا کہ قرآن کریم شاہد ہے: ”وکذالك بعثنھم لیتساء لوابینھم قال قائل منھم کم لبثتم قالوا لبثنا یوما اوبعض یوم ...... قال فابعثوا احدکم بورقکم ھذه الی المدینة فلینظر ایھا ازکی طعاما فلیاتکم برزق منه (الکہف: ١٩)“ ﴿اور اسی طرح اٹھایا ہم نے ان کو کہ سوال کریں ایک دوسرے سے آپس میں۔ پھر کہا ایک کہنے والے نے ان میں سے کتنا رہے تم کہا انہوں نے رہے ہم ایک دن یا تھوڑا دن پھر کہا انہوں نے پروردگار تمہارا خوب جانتا ہے۔ جتنا رہے تم پس بھیجو ایک آدمی اپنے کو ساتھ روپے اپنے کے جو یہ شہر ہے۔ پس چاہئے کہ دیکھے کون سا ان میں پاکیزہ ہے کھانا۔ پس لے آئے تمہارے پاس رزق ان میں سے۔﴾
مولانا احمد علی صاحب کو معلوم ہو کہ اصحاب کہف بغیر کسی کھانے کے اور پینے کے پورے ٣٠٩ سال غار میں زندہ رہے ۔ تو کیا اللہ تبارک و تعالیٰ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو بغیر کھانے کے اور پینے کے آسمان پر زندہ نہیں رکھ سکتا؟ لہذا مذکورہ بالا حوالہ جات سے تمہاری دلیل ایجاد کردہ کی مکمل بیخ کنی ہو گئی۔
وفات مسیح علیہ السلام پر چھٹی دلیل کی بیخ کن تردید
اعتراض مولانا احمد علی قادیانی
”والذین یدعون من دون الله لایخلقون شیئا وھم یخلقون اموات غیر احیاء، وما یشعرون ایان یبعثون (النحل: ٢٠، ٢١) “ ”یعنی جن لوگوں کی اللہ کے سوا پوجا کی جاتی ہے وہ کوئی چیز پیدا نہیں کر سکتے، بلکہ خود پیدا شدہ ہیں۔ وہ سب لوگ مردہ ہیں نہ کہ زندہ اور وہ نہیں جانتے کہ کب انہیں اٹھایا جائے گا۔
٦١
فلیشفع لنا الی...... ان قال ون عیسیٰ...... فیقول انی
(مسند احمد ج ١ ص ٢٨١، ٢٨٢)
نے فرمایا کہ دن قیامت کا بڑا م کے پاس چل کر عرض کریں کہ آدم علیہ السلام انکار کریں گے۔ ں گے میں اس لائق نہیں ہوں۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کہیں گے جود بنایا گیا ہوں۔﴾ اپنی امت کے بگڑنے کی پوری خبر یہ معلوم ہو جائے گا کہ قوم نصاریٰ لہ تعالیٰ کے دربار میں حاضر ہونے
ی بیخ کن تردید
یانی
ماکانوا خلدین (الانبیا: ٨)“ کہ جو زندہ ہو مگر کھانا نہ کھاتا ہو اور ہ)“ یعنی مسیح اور ان کی والدہ جب اب زندہ نہیں۔
حق ص ٩٩، ١٠٠ مصنفہ احمد علی شاہ قادیانی)
- ٢....... ”ويوم نحشرهم جميعاً ثم نقول للذين اشركوا مكانكم انتم وشركاءكم
فزيلنا بينهم وقال شركاءهم ماكنتم ايانا تعبدون فكفى باالله شهيدا بيننا وبينكم ان كنا عن عبادتكم لغافلين (يونس:٢٨،٢٩)“ یعنی جب ہم سب لوگوں کو قیامت کے روز اکٹھا کریں گے تو مشرکوں سے کہیں گے تم اور تمہارے معبود اپنی اپنی جگہ ٹھہرے رہو۔ پھر ہم ان میں جدائی ڈال دیں گے اور معبودان باطلہ اپنے پجاریوں سے کہیں گے کہ تم ہرگز ہماری عبادت نہ کرتے تھے۔ ہمارا خدا ہمارے اور تمہارے درمیان کافی گواہ ہے۔ ہم تو تمہاری عبادت کرنے سے ہی بے خبر اور غافل تھے۔
چونکہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو عیسائی قوم معبود مانتی ہے۔ ثابت ہوا کہ آپ بھی ”اموات غير احیاء“ کے فرمان کے موافق زندہ نہیں، بلکہ فوت ہوچکے ہیں اور اسی لئے آپ قیامت کے دن ان کی عبادت سے ناواقفیت اور بے خبری کا اظہار کریں گے۔“
(نصرۃ الحق ص ٩٧، ٩٨ مصنفہ احمد علی شاہ قادیانی)
جواب اوّل
”فالضمير فى يشعرون للاصنام وفى يبعثون الخلق وقيل الضمير أن للاصنام اى لايعلمون“ ”یعنی ’یشعرون‘ کا مرجع اصنام ہے۔ یعنی اس کی ضمیر بتوں کی طرف راجع ہے جو پتھروں کے بت کفار نے اپنے ہاتھوں سے بنائے ہوئے تھے۔ نہ کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام ان میں شامل ہیں۔ (تفسیر کمالین بر حاشیہ جلالین ص ٤١٧)
جواب دوم
”والذين يدعون بالتاء والياء تعبدون من دون الله وهو الاصنام يصورون من الحجارة وغيرها اموات لاروح فيها“ ”اور جن لوگوں کو پکارتے ہیں ساتھ ’ت‘ یعنی تدعون یا یدعون کے عبادت کرتے ہیں۔ ان کی سوائے اللہ کے اور وہ بت بناتے ہیں پتھروں سے، سوائے اس کے مردے ہیں نہیں روح بیچ ان کے۔“ (حوالہ تفسیر جلالین ص ٢٧١)
لہٰذا ثابت ہوا کہ زیر بحث آیت میں نہ ممات عیسیٰ علیہ السلام اور نہ حیات عیسیٰ علیہ السلام ہے۔ بلکہ ان مشرکوں کا ذکر ہے جو خدا کریم کے سوا اوروں سے کسی قسم کی اعانت کے معتقد ہیں۔ ان کا اس آیت سے رد کیا گیا اور اس سے ممات عیسیٰ علیہ السلام کا استدلال تحریف فی القرآن کریم کے سوا اور کچھ نہیں ہے۔
٦٢
نمبر ٢ والی آیت کا جواب
مولانا احمد علی قادیانی! آپ کی دلیل کی ب (یونس:٢٩) ”پر ہے۔ یعنی جن کی سوائے اللہ تعا پجاریوں کو کہیں گے کہ ہم تو تمہاری عبادت سے با علیہ السلام کی امت آپ کے فوت ہونے کے بعد ب نازل ہونے کے بعد لوگوں سے سن کر قیامت کے د کیونکہ کہہ سکتے ہیں کہ مجھ کو میری قوم نے معبود نہیں بنا
لیکن صحیح حدیث سے معلوم ہوا کہ حضرت باخبر ہوں گے۔ جیسا کہ مسند احمد میں ہے (ج اول ص رسو الله ﷺ، فيأتون عيسى فيقول ل الله“ ”حضرت ابن عباس سے روایت ہے کہ فرما کہ چلو عنداللہ شفاعت کرائیں۔ چنانچہ حضرت آدم کریں گے کہ آپ ہماری اللہ تعالیٰ کے پاس شف ہوں میں شفاعت کرنے والا۔ کیونکہ میں دنیا میں معب
اگر آپ کے عقیدہ کے مطابق فوت شد السلام کو اپنی امت کے بگڑنے کی خبر نہ ہوتی۔ معلو ہونے کے بعد ان کو یہ تمام حالات معلوم ہو جائیں پکارا ہے۔ اسی لئے روز قیامت وہ رب العالمین کے کا اظہار کریں گے کہ میں شفاعت نہیں کر سکتا۔ کیونکہ تھا۔ ان تمام مذکورہ بالا حالات سے ظاہر ہوا کہ حضرت
وفات مسیح علیہ السلام پر ساتویں
اعتراض مولانا احم
”قال فيها تحيون وفيها تموتو یعنی اے قوم بنی آدم تم زمین ہی میں زندگی بسر کرو نکالے جاؤ گے۔ اس آیت میں فعل ’تحیون‘ ’پرف
نمبر ٢ والی آیت کا جواب
مولانا احمد علی قادیانی! آپ کی دلیل کی بنیاد آیت ”عن عبادتكم لغافلين (یونس:٢٩)“ پر ہے۔ یعنی جن کی سوائے اللہ تعالیٰ کے عبادت کی گئی تھی۔ وہ روز قیامت اپنے پجاریوں کو کہیں گے کہ ہم تو تمہاری عبادت سے بالکل بے خبر ہیں۔ تو معلوم ہوا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی امت آپ کے فوت ہونے کے بعد بگڑی ہے۔ اگر آسمان پر زندہ ہوتے تو دنیا میں نازل ہونے کے بعد لوگوں سے سن کر قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کے سامنے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کیونکر کہہ سکتے ہیں کہ مجھ کو میری قوم نے معبود نہیں پکارا یا میں بے خبر ہوں۔
لیکن صحیح حدیث سے معلوم ہوا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام اپنی امت کی پوجا کرنے سے باخبر ہوں گے۔ جیسا کہ مسند احمد میں ہے (ج١ ص٢٨١،٢٨٢) ”عن ابن عباس قال قال رسول اللہﷺ، فيأتون عيسى فيقول لست هنلكم انى اتخذت الها من دون الله “ حضرت ابن عباسؓ سے روایت ہے کہ فرمایا رسول اللہﷺ نے کہ قیامت کے دن لوگ کہیں گے کہ چلو عنداللہ شفاعت کرائیں۔ چنانچہ حضرت آدم سے چلتے چلتے حضرت عیسیٰ سے آ کر عرض کریں گے کہ آپ ہماری اللہ تعالیٰ کے پاس شفاعت کیجئے۔ آپ جواب دیں گے کہ نہیں ہوں میں شفاعت کرنے والا۔ کیونکہ میں دنیا میں معبود بنایا گیا ہوں۔
اگر آپ کے عقیدہ کے مطابق فوت شدہ ہیں تو واقعی قیامت کے روز حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو اپنی امت کے بگڑنے کی خبر نہ ہوتی۔ معلوم ہوا کہ زندہ ہیں۔ کیونکہ آسمان سے نازل ہونے کے بعد ان کو یہ تمام حالات معلوم ہو جائیں گے کہ مجھے اور میری ماں کو میری قوم نے معبود پکارا ہے۔ اسی لئے روز قیامت وہ رب العالمین کے دربار میں حاضر ہونے سے پہلے ہی اس بات کا اظہار کریں گے کہ میں شفاعت نہیں کر سکتا۔ کیونکہ مجھے اور میری ماں کو میری قوم نے معبود پکارا تھا۔ ان تمام مذکورہ بالا حالات سے ظاہر ہوا کہ حضرت ابن مریم علیہ السلام زندہ ہیں۔
وفات مسیح علیہ السلام پر ساتویں دلیل کی بیخ کن تردید
اعتراض مولانا احمد علی قادیانی
”قال فيها تحيون وفيها تموتون ومنها تخرجون (الاعراف:٢٥)“ یعنی اے قوم بنی آدم تم زمین ہی میں زندگی بسر کرو گے اور زمین میں ہی مرو گے اور زمین ہی سے نکالے جاؤ گے۔ اس آیت میں فعل ”تحیون“ پر ظرف ”فیھا“ کو مقدم کر کے تمام بنی آدم کے
لئے ایک قانون بیان فرمایا ہے جس میں ازروئے قواعد نحو حصر اور کوئی استثنیٰ ممکن نہیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام زمین میں زندگی بسر کرنے کی بجائے دو ہزار برس تک آسمان پر زندہ رہ سکیں۔“
(نصرۃ الحق ص ٨٤ مصنفہ احمد علی شاہ قادیانی)
جواب اوّل
”يايهاالذين آمنوا لا تلهكم اموالكم ولا اولادكم عن ذكر الله (المنافقون:٩) “ ﴿اے لوگو! جو ایمان لائے ہو، نہ غافل کر دیں تمہیں مال تمہارے اور اولاد تمہاری اللہ کی یاد سے۔﴾
مولانا احمد علی صاحب! کیا آیت مذکورہ بالا میں تمام مسلمان مخاطب نہیں؟ پھر کیوں ہر مسلمان کے گھر مال اور اولاد اللہ تعالیٰ نے عطاء نہیں فرمائی؟ حالانکہ اس قانونِ اعظم سے ہزاروں مسلمان مستثنیٰ ہیں۔ اگر بے اولادوں اور بے مال والوں کی فہرست تیار کی جائے تو ہزاروں آدمی قانونِ مقررہ سے مستثنیٰ ہوں گے۔ اسی طرح آیت پیش کردہ سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام بھی مستثنیٰ ہو کر آسمان پر بجسم خاکی تشریف فرما ہیں۔
جواب دوم
”ان مثل عيسى عند الله كمثل آدم خلقه من تراب (آل عمران:٥٩) “ ﴿تحقیق مثال ہے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی جیسے مثال ہے حضرت آدم کی پیدا کیا اس کو مٹی سے۔﴾
مولانا احمد علی صاحب کو معلوم ہو کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے قرآنِ کریم کے اندر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو مثیلِ آدم علیہ السلام فرمایا ہے۔ یعنی حضرت آدم علیہ السلام جیسے بغیر ماں باپ کے پیدا کئے گئے۔ اسی طرح اللہ تبارک و تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو بھی بغیر باپ کے پیدا کیا ہے اور جس طرح حضرت آدم علیہ السلام کو تمام لوگوں سے عمر زیادہ دی گئی تھی۔
اسی طرح حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو بھی عمر دراز دی گئی۔ کیونکہ آپ مثیلِ آدم ہیں اور ممکن ہے کہ اتنی عمر دراز اگر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی زمین پر گزرتی تو شاید آپ کو کیا کیا تکلیفوں کا سامنا کرنا پڑتا۔ اس لئے اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس بات کو موزوں سمجھتے ہوئے حضرت عیسیٰ علیہ السلام آسمان پر اٹھایا ہوا ہے۔ کیونکہ جو شخص کسی آدمی کا مثیل ہو کر آتا ہے تو ضروری ہے کہ اس کی بعض صفتیں مثیل میں پائی جائیں۔ جیسا کہ جناب مرزا غلام احمد قادیانی کو بھی بقول آپ کے اللہ تعالیٰ نے مثیلِ آدم علیہ السلام کر کے بھیجا ہے اور بعض صفات آپ کو بھی حضرت آدم علیہ السلام
٦٤
جیسے دیئے گئے، ملاحظہ ہو۔
جناب مرزا غلام احمد قادیانی کا مثیل آدم
”اس زمانہ میں خدا تعالیٰ نے ایک شخص جو یہی راقم ہے اور اس کا نام بھی آدم رکھا۔ جیسا پیدائش کی رو سے اسی طرح توام پیدا کیا جس بھی جو آخری آدم ہوں جوڑا پیدا کیا۔ جیسا کہ الہام میں اس کی طرف اشارہ ہے اور بعض گذشتہ اکابر تھی کہ وہ انتہائی آدم جو مہدیِ کامل اور خاتم ولایت پیدا ہوگا۔ یعنی حضرت آدم کی طرح توام ذکر اور مؤنث یاد رہے کہ اس بندۂ احدیت کی پیدائش جسمانی اس پیدا ہوا تھا اور میرے ساتھ ایک لڑکی تھی جس کا نام انت وزوجك الجنة “ جو آج سے بیس برس جنت کا لفظ ہے۔ اس میں ایک لطیف اشارہ ہے کہ جنت تھا۔ غرض چونکہ خدا تعالیٰ نے اپنے کلام اور حضرت آدم علیہ السلام کی پیدائش زوجہ کے طور پر ت طرح پر میری پیدائش ہوئی۔ یعنی جیسا کہ میں اس تھی۔ جس کا نام جنت تھا اور پہلے وہ لڑکی پیدا اور میرے بعد میرے والدین کے گھر میں اور کوئی الاولاد تھا۔“
مولانا احمد علی صاحب! آپ کے جناب ساتھ پیدا ہونے کے باعث ہی مثیلِ آدم ہیں قادیانی ساتھ پیدا ہونے والی حواء علیہا السلام کے تمثیل کو بھی پورا نہیں کر سکے اور بغیر نکاح کے زوج
جناب مرزا غلام احمد قادیانی کا مثیلِ مـ
جناب مرزا غلام احمد قادیانی راقم ہیں ک تعالیٰ کی طرف سے مسیح موعود ہوں۔ احادیث میں
١٥
جیسے دیئے گئے، ملاحظہ ہو۔
جناب مرزا غلام احمد قادیانی کا مثیل آدم ہونے کا دعویٰ
”اس زمانہ میں خدا تعالیٰ نے ایک شخص کو حضرت آدم علیہ السلام کے قدم پر پیدا کیا۔ جو یہی راقم ہے اور اس کا نام بھی آدم رکھا۔ جیسا کہ مندرجہ بالا الہامات سے ظاہر ہے اور ظاہری پیدائش کی رو سے اسی طرح نَر اور مادہ پیدا کیا جس طرح کہ پہلا آدم پیدا کیا تھا۔ یعنی اس نے مجھے بھی جو آخری آدم ہوں جوڑا پیدا کیا۔ جیسا کہ الہام ’یادم اسکن انت وزوجک الجنۃ‘ میں اس کی طرف اشارہ ہے اور بعض گذشتہ اکابر نے خدا تعالیٰ سے الہام پا کر یہ پیشین گوئی بھی کی تھی کہ وہ انتہائی آدم جو مہدی کامل اور خاتم ولایت عامہ ہے۔ اپنی جسمانی خلقت کی رو سے جوڑا پیدا ہوگا۔ یعنی حضرت آدم کی طرح ذَکَر اور مؤنث کی صورت پر پیدا ہوگا اور خاتم الاولاد ہوگا۔ اب یاد رہے کہ اس بندۂ احدیت کی پیدائش جسمانی اس پیش گوئی کے مطابق بھی ہوئی۔ یعنی میں توام پیدا ہوا تھا اور میرے ساتھ ایک لڑکی تھی جس کا نام جنت تھا اور یہ الہام بھی ہوا کہ ’یادم اسکن انت وزوجک الجنۃ‘ جو آج سے بیس برس پہلے (براہین ص ٤٩٧) میں درج ہے۔ اس میں جنت کا لفظ ہے۔ اس میں ایک لطیف اشارہ ہے کہ وہ لڑکی جو میرے ساتھ پیدا ہوئی تھی۔ اس کا نام جنت تھا۔ غرض چونکہ خدا تعالیٰ نے اپنے کلام اور الہام میں مجھے آدم صفی اللہ سے مشابہت دی کہ حضرت آدم علیہ السلام کی پیدائش زوجہ کے طور پر تھی۔ یعنی ایک مرد اور ایک عورت ساتھ تھی اور اسی طرح پر میری پیدائش ہوئی۔ یعنی جیسا کہ میں ابھی لکھ چکا ہوں میرے ساتھ ایک لڑکی پیدا ہوئی تھی۔ جس کا نام جنت تھا اور پہلے وہ لڑکی پیٹ میں سے نکلی تھی اور بعد اس کے میں نکلا تھا اور میرے بعد میرے والدین کے گھر میں اور کوئی لڑکا یا لڑکی نہیں ہوا اور میں ان کے لئے خاتم الاولاد تھا۔“
(تریاق القلوب ص ١٥٧، خزائن ج ١٥ ص ٤٧٩)
مولانا احمد علی صاحب! آپ کے جناب مرزا غلام احمد قادیانی فقط اپنی ہمشیرہ جنت کے ساتھ پیدا ہونے کے باعث ہی مثیلِ آدم ہیں۔ حالانکہ حضرت آدم علیہ السلام کا تو بقول مرزا قادیانی ساتھ پیدا ہونے والی حوا علیہا السلام سے نکاح بھی ہوا تھا۔ لیکن جناب مرزا قادیانی اس تمثیل کو بھی پورا نہیں کر سکے اور بغیر نکاح کے زوج ہونے کا اطلاق فرمانے لگے۔
جناب مرزا غلام احمد قادیانی کا مثیل مسیح ہونے کا دعویٰ
جناب مرزا غلام احمد قادیانی راقم ہیں کہ ”میں کئی دفعہ بیان کر چکا ہوں کہ میں جو خدائے تعالیٰ کی طرف سے مسیح موعود ہوں۔ احادیث میں میرے جسمانی علامات میں سے یہ دو علامتیں
٦٥
بھی لکھی گئی ہیں۔ کیونکہ وہ زرد رنگ چادروں سے بیماری مراد ہے کہ جیسا کہ مسیح موعود کی نسبت حدیثوں میں دو زرد رنگ کی چادروں کا ذکر ہے۔ ایسے ہی میرے لاحق حال دو بیماریاں ہیں۔ ایک بیماری بدن کے اوپر حصہ کی ہے جو اوپر کی چادر ہے اور وہ دوران سر ہے۔ جس کی شدت کی وجہ سے بعض وقت میں زمین پر گر جاتا ہوں اور دوسری بیماری بدن کے نیچے کے حصہ میں ہے۔ جو مجھے کثرت پیشاب کی مرض ہے جس کو ذیابیطس بھی کہتے ہیں اور معمولی طور پر مجھ کو ہر روز پیشاب بکثرت آتا ہے اور پندرہ یا بیس دفعہ تک نوبت پہنچ جاتی ہے اور بعض اوقات قریب سو دفعہ کے دن رات میں آتا ہے۔“
(ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم ص ٢٠١، خزائن ج ٢١ ص ٢٧٣)
مرزا قادیانی کا تمام نبیوں کے مثیل ہونے کا دعویٰ
”اور نیک ہوں یا بد ہوں بار ہا رویا میں ان کی امثال پیدا ہوتے ہیں اور اس زمانہ میں خدا نے چاہا کہ جس قدر نیک اور راست باز مقدس نبی گزر چکے ہیں۔ ایک ہی شخص کے وجود میں ان کے نمونے ظاہر کئے جائیں۔ سو وہ میں ہی ہوں۔“
(براہین احمدیہ حصہ پنجم ص ٩٠، خزائن ج ٢١ ص ١١٧، ١١٨)
مولانا احمد علی قادیانی سے ایک سوال
آپ کے مسیح قادیانی کا دعویٰ ہے کہ میں تمام نبیوں کا مثیل ہو کر آیا ہوں۔ ہماری سمجھ میں نہیں آتا کہ جن نبیوں کا قرآن کریم نے ذکر فرمایا ہے۔ ان میں سے کس نبی کو یہ کثرت بول کی شکایت تھی کہ رات دن میں تقریباً ایک سو مرتبہ تک جناب مرزا قادیانی کو پیشاب آیا کرتا تھا؟ براہ مہربانی ہمیں بتلائیے تا کہ شک دور ہو جائے اور قرآن کریم میں اللہ تبارک و تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو حضرت آدم علیہ السلام کا مثیل بتایا ہے اور اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم علیہ السلام کو بغیر باپ کے پیدا کیا اور عمر دراز عطاء فرمائی۔ اسی طرح حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے بغیر باپ کے پیدا کر کے عمر دراز عطاء فرما کر زندہ بجسم خاکی آسمان پر اٹھا لیا۔ جو ماشاء اللہ آج تک آسمان پر زندہ ہیں۔ پھر قریب قیامت نازل ہو کر فوت ہوں گے۔ لہٰذا آپ کی زیر بحث آیت سے بالکل مستثنیٰ ہیں۔
حیات مسیح علیہ السلام کی گیارھویں دلیل
”ويعلمه الكتاب والحكمة والتوراة والانجيل (آل عمران:٤٨)“ ﴿اور سکھلاؤں گا اس کو کتاب اور حکمت اور توراۃ اور انجیل۔﴾
٦٦
جناب مولانا احمد علی صاحب ! قرآن کریم ذکر بصیغہ مضارع آیا ہے۔ وہاں بجز قرآن کریم اور سنت کہ وہ آیت سے معلوم ہوا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام چکے ہیں۔ لیکن اللہ تعالیٰ قرآن کریم اور سنت نبوی کا فرمائے گا۔
” وابعث فيهم رسولاً منهم يتلوا والحكمة (البقرة:١٢٩)“ ﴿اور بھیج ان کے پڑھے اوپر ان کے نشانیاں تیری اور سکھائے ان کو کتاب
چنانچہ آپ کی دعا کے مطابق حضرت محمد ﷺ نبوت حاصل کرنے کے بعد آپ نے لوگوں کو کتاب کہ واقعی کتاب سے مراد قرآن کریم اور حکمت سے مراد
یہی وعدہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ یعنی قرآن مجید اور سنت نبوی سکھاؤں گا۔ جو نازل ہو بلا ریب عمل کریں گے اور یہ وعدہ بھی اس عیسیٰ علیہ السلام رسول بنا کر بھیجے گئے تھے، نہ کہ کسی مثیل کے ساتھ۔
” يتلوا عليكم ايتنا ويزكيكم (البقرة:١٥١)“ ﴿(یعنی نبی محمد ﷺ) پڑھتے ہیں تم کو اور سکھاتے ہیں تم کو کتاب اور حکمت۔﴾ مولانا سے مراد قرآن کریم اور سنت نبوی ہے، ملاحظہ کیجئے۔
” لقد من الله على المؤمنين اذ عليهم ايته ويزكيهم ويعلمهم الكتاب والحكمة کیا اللہ تعالیٰ نے اوپر ایمان والوں کے جس وقت بھیجا اوپر ان کے نشانیاں اس کی اور پاک کرتے ہیں ان کو اور اور حکمت یعنی سنت اپنی۔﴾
” رسولاً منهم يتلوا عليهم ايته
٦٧
جناب مولانا احمد علی صاحب! قرآن کریم میں جہاں کہیں بھی کتاب اور حکمت کا اکٹھا ذکر بصیغہ مضارع آیا ہے۔ وہاں بجز قرآن کریم اور سنت نبوی کے اور کچھ مراد نہیں۔ اس لئے پیش کردہ آیت سے معلوم ہوا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام توراۃ اور انجیل کا تو علم اللہ تعالیٰ سے حاصل کر چکے ہیں۔ لیکن اللہ تعالیٰ قرآن کریم اور سنت نبوی کا علم دینے کے لئے آسمان سے دوبارہ نازل فرمائے گا۔
"وابعث فيهم رسولاً منهم يتلوا عليهم ايتك ويعلمهم الكتاب والحكمة (البقرة: ١٢٩) ”اور بھیج بیچ ان کے رسول ان میں سے (یعنی مکہ شریف میں) جو پڑھے اوپر ان کے نشانیاں تیری اور سکھائے ان کو کتاب اور حکمت (سنت)“
چنانچہ آپ کی دعا کے مطابق حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ مکہ معظمہ میں ظہور پذیر ہوئے اور نبوت حاصل کرنے کے بعد آپ نے لوگوں کو کتاب یعنی قرآن کریم اور سنت سکھائی۔ معلوم ہوا کہ واقعی کتاب سے مراد قرآن کریم اور حکمت سے مراد سنت رسول ﷺ ہی ہے۔
یہی وعدہ اللہ تبارک وتعالیٰ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے کیا تھا کہ میں تجھے کتاب یعنی قرآن مجید اور سنت نبوی سکھاؤں گا۔ جو نازل ہونے کے بعد ان دونوں یعنی کتاب اور سنت پر بلا ریب عمل کریں گے اور یہ وعدہ بھی اس عیسیٰ علیہ السلام کے ساتھ ہے جو بنی اسرائیلوں کی طرف رسول بنا کر بھیجے گئے تھے، نہ کہ کسی مثیل کے ساتھ۔
"يتلوا عليكم ايتنا ويزكيكم ويعلمكم الكتاب والحكمة (البقرة:١٥١) ”(یعنی نبی محمد ﷺ ) پڑھتے ہیں اوپر تمہارے نشانیاں میری اور پاک کرتے ہیں تم کو اور سکھاتے ہیں تم کو کتاب اور حکمت۔“ مولانا احمد علی صاحب! اس آیت میں بھی کتاب سے مراد قرآن کریم اور سنت نبوی ہے، ملاحظہ کیجئے۔
"لقد من الله على المؤمنين اذ بعث فيهم رسولاً من انفسهم يتلوا عليهم ايته ويزكيهم ويعلمهم الكتاب والحكمة (آل عمران:١٦٤) ”تحقیق احسان کیا اللہ تعالیٰ نے اوپر ایمان والوں کے جس وقت بھیجا ان میں رسول ان ہی میں سے، پڑھتے ہیں اوپر ان کے نشانیاں اس کی اور پاک کرتے ہیں ان کو اور سکھاتے ہیں ان کو کتاب یعنی قرآن مجید اور حکمت یعنی سنت اپنی۔“
"رسولاً منهم يتلوا عليهم ايته ويزكيهم ويعلمهم الكتاب والحكمة
٦٧
(الجمعہ:٢) ”بھیجا بیچ اُن پڑھوں کے رسول ان میں سے جو پڑھتے ہیں اوپر ان کے نشانیاں اس کی (یعنی اللہ تعالیٰ کی) اور پاک کرتے ہیں ان کو اور سکھاتے ہیں ان کو کتاب یعنی قرآن کریم اور حکمت یعنی سنت۔“
لہٰذا ان تمام پیش کردہ آیات میں کتاب سے مراد قرآن کریم اور حکمت سے مراد سنت رسول اللہ ﷺ ہی ہے۔ پس مطلب صاف ظاہر ہو گیا کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو بھی کتاب اور حکمت سکھانے کا وعدہ کیا ہوا ہے۔ توراۃ اور انجیل تو پہلے سکھائی گئی تھی۔ اب نازل ہونے کے وقت قرآن کریم اور سنت رسول اللہ ﷺ کا علم بھی حاصل کر کے اس دنیا میں تشریف لائیں گے۔ پس آیت پیش کردہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی حیات جسمانی ”الی الان“ اور نزول ”من السماء“ کے بارہ میں نص قطعی ہے۔
وفات مسیح علیہ السلام پر آٹھویں دلیل کی بیخ کن تردید
اعتراض مولا نا احمد علی قادیانی
”وجعلنی مبارکاً این ماکنت واوصانی بالصلوۃ والزکوۃ مادمت حیا (مریم:٣١)“ یعنی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے لوگوں کے لئے بابرکت بنایا ہے۔ خواہ میں کہیں بھی رہوں اور مجھے نماز پڑھنے اور زکوٰۃ دینے کی تاکید فرمائی ہے۔ جب تک کہ میں زندہ رہوں۔ اب آپ آسمان پر کون سی نماز پڑھتے ہیں اور قبلہ کون سا ہے۔ کیونکہ اگر آپ عیسائیوں والی نماز پڑھتے ہیں تو خدا تعالیٰ فرماتا ہے ”ومن یبتغ غیر الاسلام دینا فلن یقبل منہ (آل عمران:٨٥)“ یعنی اب اسلامی عبادت کے سوا کوئی اور عبادت مقبول ہی نہیں اور کہا جائے کہ آپ مسلمانوں والی نماز پڑھتے ہیں تو بتایا جائے کہ آپ نے یہ نماز کب اور کس سے اور کیسے سیکھی؟ آپ کو جب تک زندہ ہیں زکوٰۃ کی ادائیگی کا بھی حکم ہے۔ سو آپ آسمانوں پر زکوٰۃ کس کو دیتے ہیں اور اس وقت آپ پر زکوٰۃ کی ادائیگی واجب بھی ہے کہ نہیں؟“
(نصرۃ الحق ص ١١٤، ١١٥ مصنفہ احمد علی شاہ قادیانی)
جواب اوّل
”الارضون سبع فی کل ارض نبی کنبیکم (طبری)“ (تجرید الاحادیث ص١٣ حدیث نمبر ٢٥٥٥ مطبوعہ گیلانی اسٹیم پریس لاہور) یعنی زمینیں سات ہیں جس طرح تمہارے نبی
٦٨
ہوئے ہیں۔ اسی طرح ہر زمین میں نبی ہیں۔
مولا نا احمد علی قادیانی صاحب! آس زمینوں والے باشندے کس نبی اور کس شریعت ”اللہ یصطفی من الملائکۃ کر لیتا ہے فرشتوں سے رسول اور انسانوں سے کو بھیجتا رہا ہے۔ اسی طرح آسمانوں میں بھی فر کے طور پر یہ سوال کرے کہ باقی چھ زمینوں او روزے اور نمازیں ہیں، یہ غلط ہے۔ پھر یہ کہ ح بجا لاتے ہوں گے۔ تو معترض کو چاہئے کہ پہل بیت المعمور یعنی فرشتوں کا کعبہ ہے۔ اس پر غو بجا لاتے ہوں گے۔ اسی طرح حضرت عیسیٰ ع طریقہ عبادت کا فرشتوں کے لئے مقرر ہوگا، وہ جیسے کسی غیر ملک کا بادشاہ ہمارے قوانین پر عمل کرنا پڑے گا نہ کہ کسی اور ملک کے ابن مریم علیہ السلام بھی چونکہ ملائکہ کی حکومت کے قوانین ان پر مسلط ہوں گے۔
”لما رفع عیسیٰ الی الس الشهوة والغضب“ (حوالہ تفسیر کبیر جلد دوم ص گئے تو غضب اور خواہش نفسانی ان سے دور ہو اس سے ظاہر ہوا کہ آپ پر قانون باقی رہا اعتراض زکوٰۃ کے متعلق ت کتاب نصرۃ الحق میں ظاہر فرمایا ہے، ملاحظہ ہو تو سب مومنوں کے لئے ہے۔ لیکن عمل انہی پر
(ہٰذا جوابنا) اگر حضرت عیسیٰ علیہ ہے۔ اگر ان کے پاس مال ہی نہیں تو زکوٰۃ واج
ہوئے ہیں۔ اسی طرح ہر زمین میں نبی ہیں۔
مولانا احمد علی قادیانی صاحب! آپ بتائیے کہ اس موجودہ زمین کے علاوہ باقی چھ زمینوں والے باشندے کس نبی اور کس شریعت کے تابع ہوں گے؟
"الله يصطفى من الملائكة رسلا ومن الناس (الحج:٧٥)" اللہ پسند کر لیتا ہے فرشتوں سے رسول اور انسانوں سے۔ یعنی جیسے ہر زمین میں اللہ تبارک و تعالیٰ نبیوں کو بھیجتا رہا ہے۔ اسی طرح آسمانوں میں بھی فرشتوں سے رسول بنا کر بھیجتا رہا۔ اب اگر کوئی نادانی کے طور پر یہ سوال کرے کہ باقی چھ زمینوں اور آسمانوں میں ہماری طرح یا عیسائیوں کی طرح روزے اور نمازیں ہیں، یہ غلط ہے۔ پھر یہ کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نماز وغیرہ اور دیگر احکام کیسے بجالاتے ہوں گے۔ تو معترض کو چاہئے کہ پہلے وہ شریعت ملائکہ کا مطالعہ کرے اور آسمانوں پر جو بیت المعمور یعنی فرشتوں کا کعبہ ہے۔ اس پر غور کرے۔ کیونکہ جس طرح ملائکہ احکام خداوند کے بجالاتے ہوں گے۔ اسی طرح حضرت عیسیٰ علیہ السلام بھی عمل کرتے ہوں گے۔ کیونکہ جو طور و طریقہ عبادت کا فرشتوں کے لئے مقرر ہوگا، وہی ان کا ہوگا۔
جیسے کسی غیر ملک کا بادشاہ ہمارے ملک پاکستان میں آ جائے تو اس کو پاکستان کے قوانین پر عمل کرنا پڑے گا نہ کہ کسی اور ملک کے قوانین اس پر مسلط ہوں گے پس اسی طرح حضرت ابن مریم علیہ السلام بھی چونکہ ملائکہ کی حکومت کے اندر فی الحال رہائش پذیر ہیں۔ اس لئے وہاں کے قوانین ان پر مسلط ہوں گے۔
"لما رفع عيسى الى السماء صار حاله كحال الملائكة في زوال الشهوة والغضب" (حوالہ تفسیر کبیر جلد دوم ص ٣٥٨) جب حضرت عیسیٰ علیہ السلام آسمان پر اٹھائے گئے تو غضب اور خواہش نفسانی ان سے دور ہوگئی اور حالت ہوگئی ان کی فرشتوں جیسی۔
اس سے ظاہر ہوا کہ آپ پر قانون بھی فرشتوں جیسا مقرر کر دیا۔
باقی رہا اعتراض زکوٰۃ کے متعلق تو اس کا جواب مولانا احمد علی قادیانی نے خود ہی اپنی کتاب نصرۃ الحق میں ظاہر فرمایا ہے، ملاحظہ ہو، رقم ہیں: "جیسے "آتوا الزکوٰۃ " میں زکوٰۃ کا حکم تو سب مومنوں کے لئے ہے۔ لیکن عمل انہی پر واجب ہوگا جو صاحب نصاب ہوں۔"
(نصرۃ الحق ص ١٠٠، ١٠١ مصنفہ احمد علی شاہ قادیانی)
(ہذا جوابنا) اگر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے پاس اس دنیا کا مال ہوگا تو زکوٰۃ واجب ہے۔ اگر ان کے پاس مال ہی نہیں تو زکوٰۃ واجب کیسے ہوگی؟
٦٩
وفات مسیح علیہ السلام پر نویں دلیل کی پٹخ کن تردید
اعتراض مولانا احمد علی قادیانی
”والسلام علی یوم ولدت ویوم اموت ویوم ابعث حیا (مریم:٣٣)“ یعنی مجھ پر سلامتی ہے جس دن پیدا ہوا اور جس دن مروں گا اور جس دن میں زندہ اٹھایا جاؤں گا۔ اس جگہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی زندگی کے اہم واقعات صرف تین ذکر کئے گئے ہیں جو کہ بعینہ حضرت یحییٰ علیہ السلام کے بھی بیان ہوئے ہیں۔ اگر مسیح علیہ السلام کی زندگی میں رفع جسمانی اور دوبارہ نزول کے دو اہم واقعات بھی رونما ہونے والے ہوتے تو ان کو خصوصیت سے بیان کیا جاتا۔ یہ بیان ظاہر کرتا ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام کی حیات اور رفع جسمانی اور دوبارہ آمد کا خیال محض فسانہ اور برخلاف قرآن مجید ہے۔“
(نصرۃ الحق ص ١١٤ مصنفہ احمد علی شاہ قادیانی)
جواب اوّل
مولانا احمد علی قادیانی خود اپنے رسالہ میں راقم ہیں: ”کان النبی یحب موافقة اہل الکتاب فیما لم یؤمر فیہ“ یعنی حضور ﷺ کو جس امر کے متعلق ابھی کوئی حکم نہ ملا ہوتا آپ اس میں اہل کتاب کے طریق کو محبوب جانتے تھے۔
(بخاری ج ٢ ص ٨٧٧، کتاب اللباس باب الفرق)
اس سے ظاہر ہے کہ نبیوں کو تمام ضروری علم یکدم نہیں دیا جاتا۔ آنحضرت ﷺ کو بھی علوم قرآنیہ پہلے ہی دن نہیں بلکہ ٢٣ سال کے عرصہ میں کامل طور پر عطاء ہوئے۔ لیکن اگر کوئی یہودی آنحضرت ﷺ کے اس سابقہ طریق عمل کو اپنے قبلہ بیت المقدس کی تائید میں پیش کرے تو اس کی صریح بے وقوفی ہے۔ بانی جماعت احمدیہ تحریر فرماتے ہیں: ”کیا کیا اعتراض بنا رکھے ہیں۔ مثلاً کہتے ہیں کہ مسیح موعود کا دعویٰ کرنے سے پہلے براہین احمدیہ میں عیسیٰ کے آنے کا اقرار موجود ہے۔ اے نادانو! اپنی عاقبت کیوں خراب کرتے ہو...... اور مجھے کب اس بات کا دعویٰ ہے کہ میں عالم الغیب ہوں۔“
(نصرۃ الحق ص ٦٤)
مولانا احمد علی قادیانی کی اپنی تحریر کے مطابق یہ تو ثابت ہو چکا کہ کوئی رسول بھی عالم الغیب نہیں...... جب کوئی رسول بھی عالم الغیب نہیں تو کیا حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا کلام جو کہ آپ نے حضرت مریم علیہا السلام کی گود میں لوگوں کے ساتھ کیا تھا، اس پر یہ اعتراض کرنا کہ آپ نے تین ہی واقعات کا ذکر کیا ہے۔ یعنی ولادت، موت اور بعثت۔ اگر ان کو آسمان پر اتنا عرصہ زندگی گزارنی تھی تو ضرور پانچ واقعات کا ذکر کرنا چاہئے تھا جو نہیں کیا۔ معلوم ہوا کہ آسمان پر وہ زندہ نہیں۔
٧٠
اور مولانا احمد علی قادیانی نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے تین واقعات کی مثال جو حضرت یحییٰ علیہ السلام کے تین واقعات سے دی ہے۔ مجھے پڑھ کر سخت افسوس ہوا کہ مولانا موصوف اپنے رسالہ نصرۃ الحق میں تو مولوی فاضل ہونے کے دعویٰ دار ہیں۔ مگر حضرت یحییٰ علیہ السلام کے متعلق جو قرآن کریم نے آیت ”وسلام علیہ“ فرمایا ہے (ترجمہ، اور سلام ہے اوپر ان کے) مولانا احمد علی قادیانی! یہ لفظ ”علیہ“ صیغہ واحد مذکر غائب کے لئے استعمال ہوا کرتا ہے۔ یعنی اس آیت میں اللہ تبارک و تعالیٰ حضرت زکریا علیہ السلام سے کلام کر رہا ہے اور حضرت یحییٰ کو خوشخبری عطا فرما کر تین واقعات میں سلامتی کا بیان فرما رہا ہے اور دوسری آیت ”والسلام علیّ“ یعنی سلامتی ہے اوپر میرے، یہ صیغہ واحد مذکر متکلم ہے۔ اس میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام یہودیوں سے کلام کر رہے ہیں۔
خلاصہ کلام ...... پہلی آیت میں حضرت یحییٰ علیہ السلام کے متعلق اللہ تعالیٰ نے حضرت زکریا علیہ السلام کو خوشخبری عطاء فرمائی کہ ”وسلام علیہ“ اور دوسری آیت میں خود حضرت عیسیٰ علیہ السلام کلام کر رہے ہیں۔ مولانا احمد علی صاحب! کیا حضرت عیسیٰ علیہ السلام عالم الغیب تھے جو کہتے کہ میں جب آسمان پر جاؤں گا اور آؤں گا۔ حالانکہ آپ (نصرۃ الحق ص٦٢) میں لکھ چکے ہیں کہ کوئی رسول عالم الغیب نہیں۔ پھر ایسے اعتراضات کرنے دانشمندی ہے یا بے وقوفی؟ یہ دھوکہ دہی نہیں تو اور کیا ہے؟ پھر لطف یہ ہے کہ دعویٰ تو مولوی فاضل ہونے کا مگر لفظ ”والسلام“ کی جگہ ”وسلام“ لکھ رہے ہیں۔ مولانا صاحب! اس جگہ لفظ ”وسلام“ نہیں بلکہ قرآن کریم نے ”والسّلام“ فرمایا ہے۔
(نصرۃ الحق ص ١١٣ مصنفہ احمد علی قادیانی)
پس مذکورہ بالا تصریحات سے ظاہر ہوا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام آسمان پر زندہ ہیں۔ پھر قیامت سے پہلے ان کا نزول ہوگا۔
وفات مسیح علیہ السلام پر دسویں دلیل کی بیخ کن تردید
”وما جعلنا لبشر من قبلك الخلد ، افان متّ فہم الخالدون ، کلّ نفس ذائقۃ الموت (الانبیاء : ٣٤، ٣٥)“ اور نہیں کیا ہم نے واسطے کسی بشر کے پہلے تم سے ہمیشہ رہنا، پس کیا تم مر جاؤ گے اور یہ ہمیشہ رہیں گے، تفسیر جلالین میں ہے یعنی جب کفار نے کہا عنقریب محمد ﷺ فوت ہو جائیں گے اور یہ سلسلہ ختم ہو جائے گا۔ تو یہ آیت نازل ہوئی کہ اے محمد ﷺ ہم نے تم سے پہلے کسی بھی بشر کو اس دنیا میں بقاء نہیں دی۔ پھر اگر تم فوت ہو گئے تو کیا یہ باقی رہیں گے؟ ہر گز نہیں۔ کیونکہ اس دنیا میں ہر نفس کو موت کا ذائقہ چکھنا لازم ہے۔
(جلالین ص ٢٧٠)
٧١
آنحضرت ﷺ نے مرض الموت میں فرمایا: ”ايها الناس بلغنى انكم تخافون من موت نبيكم هل خلد نبى قبلى فيمن بعث فاخلد فيكم الا اننى لاحق بربى و انكم لاحقون بی“ یعنی اے لوگو! مجھے معلوم ہوا ہے کہ تم لوگ اپنے نبی کی وفات سے خائف ہو۔ مگر کیا مجھ سے پہلے کوئی بھی نبی اپنی قوم میں باقی رہا کہ میں تم میں ہمیشہ رہ سکوں؟ ہرگز نہیں۔ سن لو! میں اپنے رب سے ملنے والا ہوں اور تم بھی مجھ سے ملنے والے ہو۔ قارئین کرام غور فرمائیں کہ کیا یہ ارشادِ نبوی جس کا کوئی صحابی انکار نہیں کر سکا۔ مسیح علیہ السلام کی وفات کا واضح اعلان نہیں؟“
(نصرۃ الحق ص ١١٦، ١١٧ مصنفہ احمد علی قادیانی)
جواب اوّل
مولانا احمد علی صاحب! بیشک آیت پیش کردہ سے یہ معلوم ہوا کہ جناب نبی کریم حضرت محمد ﷺ سے پہلے کوئی ایسا نبی پیدا نہیں ہوا کہ وہ ہمیشہ زندہ رہے۔ کیونکہ ہر ایک نفس کو موت کا ذائقہ ضرور چکھنا ہے۔ خواہ کوئی بھی ہو۔ اس آیت سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی موت کیونکر ثابت ہوئی؟ کیا ہمارا مسلمانوں کا حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے متعلق یہ ایمان ہے کہ آپ کو کبھی موت نہیں آئے گی؟ وہ ہمیشہ زندہ رہیں گے؟ ہرگز نہیں۔ بلکہ اسی رسالہ کے اندر لکھ چکا ہوں کہ ”قال رسول اللہ ﷺ ثم یموت فید فن معی“ یعنی حضرت عیسیٰ علیہ السلام فوت ہوں گے پھر دفن کئے جائیں گے میرے مقبرے میں۔
معلوم ہوا کہ سوائے اللہ تعالیٰ کی ذات پاک کے کسی کو بقاء نہیں خواہ کوئی فرشتہ ہو یا انسان۔ لیکن آیت پیش کردہ میں جو لفظ ”خلد“ اللہ تعالیٰ نے بیان فرمایا ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام فی الحال زندہ ہیں۔ اگر فوت ہوتے تو آیت زیر بحث کی ترتیب یوں ہوتی۔
”وماجعلنا لبشر من قبلك الحی“ یعنی نہیں کیا ہم نے واسطے کسی بشر کے پہلے تجھ سے زندہ رہنا۔ مگر اللہ تبارک وتعالیٰ اس آیت میں ”من قبلك الخلد“ اسی لئے فرماتا ہے کہ حضرت ابن مریم علیہ السلام آسمان پر زندہ ہیں۔ یعنی تم سے پہلے ہمیشہ زندہ رہنے والا کوئی نہیں۔
- ٢....... مولانا احمد علی قادیانی نے حدیث حضور ﷺ کی مرض الموت والی کا ترجمہ کرنے میں
بڑی دھوکہ دہی سے کام لیا ہے۔ حالانکہ رسول خدا ﷺ کے الفاظ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی حیات جسمانی پر دال ہیں۔ ”هل خلد نبى قبلى“ یعنی مجھ سے پہلے کوئی نبی ایسا نہیں ہوا جو ہمیشہ ٧٢
رہنے والا ہو۔ مگر مولانا احمد علی قادیانی قوم میں باقی رہا؟ کر کے یہ ناپاک کوشش حالانکہ آیت اور حدیث سے دونوں کا ترجمہ گول مول کر کے مولانا اح علیہ السلام کی وفات کو ظاہر کرنا چاہا۔ یہ
وفات مسیح علیہ السلام
اعتراض
”ومبشرا برسول یاتی عیسیٰ علیہ السلام فرماتے ہیں کہ میں ایک میرے مرنے کے بعد آئے گا اور نام ا ہے۔ کیونکہ اگر مسیح ناصری اب تک ا آنحضرت ﷺ بھی اس جہان میں تشر عالم سے گزر جائیں گے تب آنحضرت ﷺ
جواب اوّل
”واذ واعدنا موسی ظلمون. (البقرۃ:٥١)“ اور ج نے بچھڑے کو پیچھے اس کے اور ہو تم ظالم کیا موسیٰ علیہ السلام کے فو میں؟ اس آیت سے معلوم ہوا کہ ”من حضرت موسیٰ علیہ السلام کی زندگی میں ہی
جواب دوم
”فبای حدیث بعدہ یعنی کتاب قرآن کریم کے بعد کس چیز پ مولانا احمد علی قادیانی صاح
رہنے والا ہو۔ مگر مولانا احمد علی قادیانی نے ان بریکٹ عبارت کا ترجمہ ”مجھ سے پہلے کوئی نبی اپنی قوم میں باقی رہا؟ کر کے یہ ناپاک کوشش کی ہے کہ حضرت ابن مریم علیہ السلام فوت ہو چکے ہیں۔ حالانکہ آیت اور حدیث سے صاف ظاہر ہے کہ حضرت ابن مریم زندہ ہیں۔ مگر ان دونوں کا ترجمہ گول مول کر کے مولانا احمد علی قادیانی نے بڑی ہوشیاری اور مکاری سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی وفات کو ظاہر کرنا چاہا۔ یہ فریب اور دجل کا جال ہے۔
وفات مسیح علیہ السلام پر گیارھویں دلیل کی بیخ کن تردید
اعتراض مولانا احمد علی قادیانی
”ومبشراً برسول یأتی من بعدی اسمہ أحمد (الصف:٦)“ یعنی حضرت عیسیٰ علیہ السلام فرماتے ہیں کہ میں ایک رسول کی تمہیں بشارت دیتا ہوں۔ جو کہ میرے بعد یعنی میرے مرنے کے بعد آئے گا اور نام اس کا احمد ہوگا۔ اس آیت سے بھی مسیح کی وفات ثابت ہوتی ہے۔ کیونکہ اگر مسیح ناصری اب تک اس عالم فانی سے نہیں گزرے تو اس سے لازم آتا ہے کہ آنحضرت ﷺ بھی اس جہان میں تشریف فرما نہیں ہوئے۔ کیونکہ آیت بتاتی ہے کہ جب اس عالم سے گزر جائیں گے تب آنحضرت ﷺ اس عالم میں تشریف لائیں گے۔“
(نصرۃ الحق ص ١٠٩، ١١٠ مصنفہ احمد علی شاہ قادیانی)
جواب اول
”واذ واعدنا موسیٰ اربعین لیلۃ ثم اتخذتم العجل من بعدہ وانتم ظلمون. (البقرۃ:٥١)“ ﴿اور جب وعدہ لیا تھا ہم نے موسیٰ سے چالیس راتوں کا۔ پھر پکڑا تم نے بچھڑے کو پیچھے اس کے اور ہو تم ظالم۔﴾
کیا موسیٰ علیہ السلام کے فوت ہونے کے بعد بچھڑے کی پوجا کی گئی تھی یا کہ زندگی میں؟ اس آیت سے معلوم ہوا کہ ”من بعدی“ کا معنی ہرگز موت نہیں۔ کیونکہ بچھڑے کی پوجا حضرت موسیٰ علیہ السلام کی زندگی میں ہی کی گئی تھی۔
جواب دوم
”فبای حدیث بعدہ یؤمنون (المرسلت:٥٠)“ ﴿پس اس بات کے بعد یعنی کتاب قرآن کریم کے بعد کس چیز پر ایمان لاؤ گے۔﴾
مولانا احمد علی قادیانی صاحب! اگر آپ کے نزدیک بعد کا معنی موت ہے تو پھر اس
٣٧
آیت کا کیا معنی ہوگا کہ کتاب قرآن کریم کے فوت ہو جانے کے بعد کس چیز پر ایمان لاؤ گے۔ لہٰذا مذکورہ بالا آیت ظاہر کرتی ہے کہ "من بعدی" کا معنی ہرگز موت نہیں۔ اگر معنی موت لیا جائے تو معاذ اللہ اللہ تبارک وتعالیٰ کے کلام پاک کو بھی مردہ سمجھا جائے گا۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ کے کلام پاک کو ہرگز فنا نہیں۔ اگر بالفرض من بعدی سے موت مراد ہو تو خدا کی قسم اللہ تعالیٰ کبھی بھی اپنے کلام پاک کے لئے اس لفظ کو استعمال نہ فرماتا۔ تو معلوم ہوا کہ "من بعدی" سے موت مراد لینا قرآن کریم کے خلاف ہے اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام آسمان پر زندہ ثابت ہوئے۔
وفات مسیح علیہ السلام پر بارھویں دلیل کی بیخ کن تردید
اعتراض مولانا احمد علی قادیانی
"ومنکم من یتوفی ومنکم من يرد الى ارذل العمر لکیلا یعلم من بعده علم شیئا (الحج: ٥)" یعنی سنت اللہ دو ہی طرح سے تم پر جاری ہے۔ بعض تم میں سے عمر طبعی سے پہلے ہی فوت ہو جاتے ہیں اور بعض عمر طبعی کو پہنچتے ہیں۔ یہاں تک کہ بعض "ارذل العمر" کی طرف روکے جاتے ہیں اور نوبت اس حد تک پہنچتی ہے کہ علم ہونے کے بعد وہ بچے کی طرح نادان محض ہو جاتے ہیں۔ "عن علي انه خمس وسبعون سنة ففيه ضعف القوى وسوء الحفظ وقلة العلم" (جامع البیان ص٢٤٠) حضرت علیؓ فرماتے ہیں کہ ارذل العمر ٧٥ سال کی عمر ہے جس میں قویٰ کی کمزوری حافظہ کی خرابی اور علم کی کمی واقع ہو جاتی ہے۔ علامہ بیضاوی لکھتے ہیں "قيل هو خمس وتسعون سنة وقيل خمس وسبعون" (حوالہ بیضاوی ص٤٤٧) یعنی بعض ائمہ کے نزدیک "ارذل العمر" ٩٥ برس اور بعض کے نزدیک ٧٥ سال کی عمر ہے۔ یہ آیات حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی وفات پر بصراحت دلالت کرتی ہیں۔"
(نصرۃ الحق ص ١١٩ مصنفہ احمد علی شاہ قادیانی)
جواب اوّل
"ولقد ارسلنا نوحاً الى قومه فلبث فيهم الف سنة الا خمسين عاما (العنکبوت: ١٤)" ﴿اور البتہ تحقیق بھیجا ہم نے حضرت نوح علیہ السلام کو طرف قوم اس کی کے، پس ٹھہرا بیچ ان کے عرصہ نوسو پچاس سال۔﴾ مولانا احمد علی صاحب! اب دریافت طلب یہ بات ہے کہ آپ کے پیش کردہ حوالہ جات سے جو ہمیں ارذل العمر ٧٥ یا ٩٥ سال معلوم ہوتی ہے کہ ارذل العمر میں ہر انسان کا علم و
حافظہ اور عقل اور دیگر اعضاء میں خرابی آ العمر کا اندازہ فقط ٧٥ تا ٩٥ سال واقع ہے تو ان کا حال کیا ہو گیا ہو گا؟ اگر رسول اللہ ﷺ کی نے ذکر کیا ہے تو پھر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی نہیں ہو سکتی۔ کیونکہ آپ بہت عرصہ پہلے کے ن مولانا احمد علی صاحب! اگر آپ کے سے بڑھ جائے تو اس کو زندہ دفن کر دینا شاید جا تو ڈر رہا ہے۔
اب دیکھنا یہ ہے کہ آیا حضور آقائے علیہم کی عمر طبعی اور ارذل العمر کس قدر تھی۔ چنانچہ
- ١....... "هو ابو الطفيل عامر ابن
اسمائے رجال مشکوٰۃ ص ٦٠١) یعنی حضرت ابو الطفیل
- ٢....... "لبيد ابن ربيعة...... وله م
"وخمسون" (اسمائے رجال مشکوٰۃ ص٦١١) یعنی
- ٣....... "ليث بن سعد.... مات و
(اسمائے رجال مشکوٰۃ ص٦١٥) یعنی حضرت لیث بن
مولانا احمد علی صاحب! علاوہ ازیں عمریں گزری ہیں اور آپ نے جو ٧٥ تا ٩٥ سا آپ نے جو فرمایا ہے کہ ارذل العمر میں ہر انسا لازمی ہے۔ یہ غلط ہے۔ کیونکہ ان تمام باتوں بلا شک مستثنیٰ ہیں۔
لہٰذا مذکورہ بالا حوالہ جات سے آپ حضرت عیسیٰ علیہ السلام خدا کے فضل و کرم س ہمارے آقائے نامدار کی تابعداری کریں گے بالاتر سمجھی جائے گی۔ کیونکہ تمام رسولوں کے ام شریعت والے نبی نے کی ہو۔ یہ رتبہ سردار مدینہ
حافظہ اور عقل اور دیگر اعضاء میں خرابی ہونا لازمی امر ہے تو بتائیے کہ آپ کے نزدیک تو ارذل العمر کا اندازہ ٧٥، ٩٥ سال واقع ہے اور حضرت نوح علیہ السلام کی عمر تو کئی گنا زیادہ ہوئی۔ ان کا حال کیا ہو گیا ہوگا؟ اگر رسول اللہ ﷺ کی امت کے لئے حضرت علیؓ اور تفسیر بیضاوی والوں نے ذکر کیا ہے تو پھر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی وفات تو تمہاری پیش کردہ آیت سے ہرگز ثابت نہیں ہوسکتی۔ کیونکہ آپ بہت عرصہ پہلے کے نبی ہیں۔
مولانا احمد علی صاحب! اگر آپ کے نزدیک خدانخواستہ کسی آدمی کی عمر ٧٥ یا ٩٥ سال سے بڑھ جائے تو اس کو زندہ دفن کر دینا شاید جائز ہی ہوگا۔ کیونکہ وہ مقرر شدہ قانون کی حد بندی توڑ رہا ہے۔
اب دیکھنا یہ ہے کہ آیا حضور آقائے نامدار کی امت کے اندر یعنی صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم کی عمر طبعی اور ارذل العمر کس قدر تھی۔ چنانچہ نمونے کے طور پر کچھ نقل کرتا ہوں، ملاحظہ فرمائیے۔
- ١...... ”هو ابو الطفيل عامر ابن واثلة...... مات سنة مائة واثنين“ (حوالہ نقل
اسمائے رجال مشکوٰۃ ص ٦٠١) یعنی حضرت ابو الطفیلؓ کی عمر ایک سو دو برس تھی۔
- ٢...... ”لبيد ابن ربيعة...... وله من العمر مائة واربعون وقيل مائة وسبع
و خمسون“ (اسمائے رجال مشکوٰۃ ص ٦١٢) یعنی حضرت لبیدؓ بن ربیعہ کی عمر ١٥٧ سال تھی۔
- ٣...... ”ليث بن سعد...... مات فى شعبان سنة خمس و سبعين ومائة“
(اسمائے رجال مشکوٰۃ ص ٦١٥) یعنی حضرت لیثؓ بن سعد تابعی کی عمر شریف ١٧٥ سال کی ہوئی۔
مولانا احمد علی صاحب! علاوہ ازیں اور بھی اکثر اصحاب رسول اللہ ﷺ کی کافی کافی عمریں گزری ہیں اور آپ نے جو ٧٥ تا ٩٥ سال کی عمر مقرر کی ہے۔ وہ سراسر غلط ثابت ہوئی۔ آپ نے جو فرمایا ہے کہ ارذل العمر میں ہر انسان کا علم و حافظہ اور عقل وغیرہ میں خرابی پیدا ہونا لازمی ہے۔ یہ غلط ہے۔ کیونکہ ان تمام باتوں سے اللہ تعالیٰ کے رسول ﷺ اور آپ کے اصحاب بلاشک مستثنیٰ ہیں۔
لہٰذا مذکورہ بالا حوالہ جات سے آپ کے اعتراض کی مکمل طور پر بیخ کنی تردید ہوگئی اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام خدا کے فضل و کرم سے آسمان میں زندہ ہیں اور نازل ہونے کے بعد ہمارے آقائے نامدار کی تابعداری کریں گے۔ جس سے حضور ﷺ کی شان اور بھی تمام انبیاء پر بالاتر سمجھی جائے گی۔ کیونکہ تمام رسولوں کے اندر کوئی ایسا رسول نہیں گزرا کہ جس کی اطاعت کسی شریعت والے نبی نے کی ہو۔ یہ رتبہ سردار مدینہ ﷺ کو حاصل ہے۔
٧٥
وفات مسیح علیہ السلام پر تیرہویں دلیل کی بیخ کن تردید
اعتراض مولانا احمد علی قادیانی
”واذ اخذ الله ميثاق النبيين لما اتيتكم من كتاب وحكمة ثم جاءكم رسول مصدق لما معكم لتؤمنن به ولتنصرنه قال ءاقررتم واخذتم على ذالكم اصری قالوا أقررنا قال فاشهدوا وانا معكم من الشاهدين (آل عمران:٨١)“ یعنی جب اللہ تعالیٰ نے تمام رسولوں سے اقرار لیا کہ کچھ میں نے تمہیں کتاب اور حکمت سے دیا ہے۔ پھر اس کے بعد تمہارے پاس رسول آئے جو تصدیق کرنے والا ہو۔ اس کی جو تمہارے پاس ہے تو تم ضرور اس کے اوپر ایمان لاؤ گے اور اس کی مدد کرو گے۔ فرمایا کیا تم اس کا اقرار کرتے ہو؟ اور میرے عہد کا بوجھ لیتے ہو۔ انہوں نے کہا کہ ہم اقرار کرتے ہیں۔ فرمایا تو اب گواہ رہو اور میں تمہارے ساتھ گواہ ہوں اور جو کوئی اس کے بعد پھر جائے گا تو وہ فاسق ہے۔ اس آیت کریمہ سے ظاہر ہے کہ جو نبی بھی آنحضرت ﷺ کی بعثت کے وقت زندہ ہو۔ اس کو آنحضرت ﷺ پر ایمان لانا اور آپ کی مدد کرنا واجب ہے۔ ورنہ وہ فاسق کہلائے گا۔ پھر کیا کوئی حیات مسیح کا قائل یہ ثابت کر سکتا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام آنحضرت ﷺ کی بیعت سے مشرف ہوئے۔ ایمان لائے اور جنگوں وغیرہ میں آپ کی مدد کی۔ اگر نہیں تو پھر آپ کو وفات یافتہ ماننا ہوگا۔ یا ”فاسق“ یہ کہ آنحضرت ﷺ کی بعثت کے وقت حضرت عیسیٰ علیہ السلام زندہ ہوتے تو بموجب اس پختہ اقرار کے ضرور آنحضور ﷺ کے دست مبارک پر بیعت کرتے۔“
(نصرة الحق ص ١٢٤ مصنفہ احمد علی شاہ قادیانی)
دوئم ...... دوسرے اس آیت اور اس کی تفاسیر سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ ہر ایک نبی سے پچھلے آنے والے نبی کے متعلق یہ پختہ عہد واقرار لیا گیا تھا کہ اگر وہ نبی زندہ ہو تو خود اس پر ایمان لائے اور اپنی امت کو حکم دے جائے کہ وہ اس آنے والے نبی پر ایمان لائے اور سورہ الاحزاب میں یہ بھی فرمایا ہے” واذ اخذنا من النبيين ميثاقهم ومنك ومن نوح وابراهيم وموسى و عیسی ابن مريم واخذنا منهم ميثاقا غليظا (الاحزاب:٧)“ یعنی یاد کرو جب ہم نے تمام نبیوں سے پختہ عہد و پیمان لیا۔ یعنی تم سے اور نوح علیہ السلام سے اور ابراہیم اور موسیٰ اور عیسیٰ ابن مریم علیہم السلام وغیرہ سب سے پختہ عہد لیا تھا۔ گویا نوح علیہ السلام سے اس لئے عہد لیا گیا تھا کہ ان کے بعد بھی نبی آنے والا تھا۔ ابراہیم علیہ السلام اور موسیٰ علیہ السلام اور عیسیٰ علیہ السلام سے بھی اسی لئے عہد لیا گیا تھا کہ ان کے بعد بھی نبی آنے والا تھا۔ لیکن اگر سیدنا ٧٦
حضرت محمد ﷺ کے بعد کوئی نبی آنے والا ہی نہ تھا تو ا او آپ سے عہد لینے کا کیوں ذکر کیا؟ غرض کہ آنحضرت ﷺ کے بعد ایسا نبی ہو سکتا ہے جو آپ کا م چلانے والا ہو۔ سو وہ حضرت مرزاغلام احمد قادیانی ہیں
جواب اوّل
مولانا احمد علی قادیانی صاحب ! حضرت عی مرضی کے نہ تو جسم خاکی آسمان پر تشریف لے گئے ہ نازل ہو کر زمین پر آسکتے ہیں۔ کیونکہ کوئی ایسا رسول جس وقت بھی چاہا ،لوگوں کو کوئی معجزہ دکھایا ہو۔ کیونکہ ق ”وماكان لرسول ان ياتي بآية واسطے کسی رسول کے یہ کہ لے آئے کوئی نشانی مگر ساتھ افسوس مولانا احمد علی صاحب ! اپنی پٹیوں نے ایمان کے منور پہاڑ کو آپ کی آنکھوں سے پوشید چھپا کر ایک بیمار دماغ والے مدعی نبوت کو سامنے لا کھ جائے گا کہ جس نبی کے لئے میثاق لیا گیا ہے وہ عی احمد قادیانی۔
ہماری ایمانی آنکھوں سے دیکھئے کہ جس لائے ہیں۔ اسی طرح مسیح علیہ السلام پر بھی ایمان لا گے۔ (یعنی مسیح الدجال کا خاتمہ کریں گے )
اب دریافت طلب یہ امر ہے کہ حضرت اور امداد کی وجہ سے انکار کرتے ہیں۔ حضرت موسیٰ و بند کر لی۔ کیونکہ بقول مرزا غلام احمد قادیانی کے حضر انہوں نے بھی آپکے علم کے مطابق حضور ﷺ کی ب چنانچہ مرزاغلام احمد قادیانی حضرت موسیٰ علیہ السلام پ ”وكلمه ربه على طور سي ٧٧
حضرت محمد ﷺ کے بعد کوئی نبی آنے والا ہی نہ تھا تو اللہ تعالیٰ نے یہاں ”منك“ کا لفظ کیوں رکھا او آپ سے عہد لینے کا کیوں ذکر کیا؟ غرض کہ اس آیت سے صاف ثابت ہوتا ہے کہ آنحضرت ﷺ کے بعد ایسا نبی ہوسکتا ہے جو آپ کا خادم اور امتی ہو اور آپ کی شریعت کا مفسر اور چلانے والا ہو۔ سو وہ حضرت مرزا غلام احمد قادیانی ہیں۔“
(نصرۃ الحق ص ١٢٤، ١٢٥ مصنفہ احمد علی شاہ قادیانی)
جواب اوّل
مولانا احمد علی قادیانی صاحب! حضرت عیسیٰ علیہ السلام خود بخود بغیر اللہ تبارک و تعالیٰ کی مرضی کے نہ تو بجسم خاکی آسمان پر تشریف لے گئے ہیں اور نہ ہی آسمان سے اپنی مرضی کے مطابق نازل ہو کر زمین پر آسکتے ہیں۔ کیونکہ کوئی ایسا رسول نہیں گزرا کہ جس نے اپنی منشاء کے مطابق جس وقت بھی چاہا، لوگوں کو کوئی معجزہ دکھایا ہو۔ کیونکہ قرآن کریم شاہد ہے۔
”وما كان لرسول ان ياتي بآية الا باذن الله (الرعد: ٣٨)“ اور نہ تھا واسطے کسی رسول کے یہ کہ لے آئے کوئی نشانی مگر ساتھ حکم اللہ کے۔
افسوس مولانا احمد علی صاحب! اپنی پٹیوں کے آگے سے جہالت کا تل ہٹائیے۔ جس نے ایمان کے منور پہاڑ کو آپ کی آنکھوں سے پوشیدہ کر دیا ہے اور آنے والے مسلم الثبوت نبی کو چھپا کر ایک بیمار دماغ والے مدعی نبوت کو سامنے لا کر کھڑا کر دیا ہے۔ ذرا غور کیجئے تو صاف ظاہر ہو جائے گا کہ جس نبی کے لئے میثاق لیا گیا ہے وہ عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام ہیں نہ کہ مرزا غلام احمد قادیانی۔
ہماری ایمانی آنکھوں سے دیکھئے کہ جس طرح ملائکہ مقربین خاتم الانبیاء ﷺ پر ایمان لائے ہیں۔ اسی طرح مسیح علیہ السلام پر بھی ایمان لاچکے ہیں اور مدد دینے کے لئے نزول فرمائیں گے۔ (یعنی مسیح الدجال کا خاتمہ کریں گے)
اب دریافت طلب یہ امر ہے کہ حضرت ابن مریم علیہ السلام سے تو آپ عدم ایمان اور امداد کی وجہ سے انکار کرتے ہیں۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے لئے آپ نے اپنی زبان کیوں بند کرلی۔ کیونکہ بقول مرزا غلام احمد قادیانی کے حضرت موسیٰ علیہ السلام آسمان پر زندہ موجود ہیں انہوں نے بھی آپکے علم کے مطابق حضور ﷺ کی بیعت نہیں کی اور نہ جنگوں میں مددگار ہوئے۔ چنانچہ مرزا غلام احمد قادیانی حضرت موسیٰ علیہ السلام کے متعلق لکھتے ہیں۔
”وكلمه ربه على طور سينين وجعله من المحبوبين هذا هو
١٧
موسى فتى الله الذى اشار الله فى كتابه الى حياته و فرض علينا ان نؤمن بانه حى فى السماء ولم يمت وليس من الميتين “ یعنی حضرت موسیٰ علیہ السلام کا خدا حضرت موسیٰ علیہ السلام سے کوہ سینا میں ہمکلام ہوا اور اس کو اپنے پیاروں سے بنایا۔ یہ وہی موسیٰ مرد خدا ہے جس کی نسبت قرآن کریم میں اشارہ ہے کہ وہ آسمان پر زندہ ہے۔ وہ ہر گز نہیں مرا اور نہیں وہ مردوں سے۔
(حوالہ نور الحق ج اول ص ٥٠ ، خزائن ج ٨ ص ٦٩)
مولانا احمد علی قادیانی صاحب! جبکہ حضرت موسیٰ علیہ السلام تمہارے انڈین مسیح کے نزدیک آسمان پر زندہ ہیں تو کیا انہوں نے حضرت رسول خدا ﷺ کی بیعت کر لی ہے۔ اگر نہیں کی تو وہ کیونکر زندہ ہیں؟ پس اس طرح بغیر بیعت کئے ہوئے حضرت موسیٰ علیہ السلام آسمان پر زندہ ہیں۔
اسی طرح حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو بھی آپ سمجھ لیجئے۔ مولانا احمد علی صاحب! حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو تو رسول خدا ﷺ کی بیعت کرنے کا شرف معراج کی رات حاصل ہو چکا ہے اور جماعت قادیانی کو بھی یہ امر تسلیم ہے کہ معراج کی رات حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے رسول خدا ﷺ کی ملاقات ہوئی اور جب ملاقات ہوئی تو کیا حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے اللہ تعالیٰ نے جو یہ عہد لیا ہوا تھا کہ اگر تمہاری زندگی میں رسول خدا ﷺ کو بھیج دوں تو ان پر ایمان لانا اور ان کی مدد کرنا۔ کیا اپنا عہد پورا نہیں کیا ہوگا؟ ضرور کیا ہوگا۔ کیونکہ کوئی نبی بھی اپنے وعدے کے خلاف عمل نہیں کر سکتا۔
لہٰذا مذکورہ بالا تصریحات سے معلوم ہوا کہ حضرت ابن مریم علیہ السلام بلاشک آسمان پر حضرت موسیٰ علیہ السلام کی طرح زندہ ہیں جو کہ قرب قیامت میں ان کا نزول ہوگا۔
جواب دوئم
مولانا احمد علی صاحب! جو سورۃ احزاب کی آیت آپ نے پیش کی ہے کہ رسول خدا ﷺ سے بھی یہ عہد لیا گیا تھا کہ آپ کے بعد آنے والے نبی کے متعلق لوگوں کو اطلاع دینا۔ اگر حضور ﷺ کے بعد نبوت ختم تھی تو پھر آپ سے عہد کیوں لیا گیا؟ اس آیت میں اس عہد کا ہرگز ذکر نہیں۔ بلکہ یہ عہد لیا گیا تھا کہ تمہارا سب نبیوں کا ایک ہی دین ہے۔ اس میں تفرقہ بازی نہ کرنا۔ جیسا کہ قرآن کریم نے دوسری جگہ اس آیت کی تفسیر بیان فرمائی ہے، ملاحظہ کیجئے:
” شرع لكم من الدين ماوصى به نوحا والذى اوحينا اليك وما وصينا به ابراهيم وموسى وعيسى ان اقيموا الدين ولا تتفرقوا فيه “
٧٨
(الشوریٰ: ١٣) ”مقرر کیا ہے واسطے تمہارے دین کی راہ سے وہ چیز جس کا حکم دیا نوح علیہ السلام کو اور جو وحی کی ہے ہم نے طرف تمہاری اور جس کا حکم دیا ہم نے ابراہیم علیہ السلام کو اور موسیٰ علیہ السلام کو اور عیسیٰ علیہ السلام کو کہ قائم رکھو دین کو اور مت تفرقہ ہو بیچ اس کے۔“
مولانا احمد علی صاحب! یہ عہد تھا قرآن کریم کا، نہ یہ کہ حضور ﷺ سے یہ عہد تھا کہ اپنے بعد کے آنے والے نبی پر ایمان لانا۔ مولانا صاحب! اگر بالفرض تھوڑی دیر کے لئے مان لیا جائے کہ حضور ﷺ سے بھی دوسرے نبیوں کی طرح عہد لیا گیا تھا، تو وہ بھی پورا ہوا کیونکہ آنحضرت ﷺ کے بعد حضرت ابن مریم علیہ السلام کے نزول کی آپ نے ہی ان کے آنے کی اپنی امت کو اطلاع دے دی ہے۔ جیسا کہ فرمایا:
” والذي نفسي بيده ليوشكن ان ينزل فيكم ابن مريم حكما مقسطا “
خدا کی جس کے قبضہ میں میری جان ہے البتہ ضرور نازل ہوں گے تم میں عیسیٰ ابن مریم (نہ کہ مرزا غلام احمد ابن چراغ بی بی) یعنی وہی ابن مریم جس کا ذکر قرآن کریم نے بیان کیا ہے۔ لہٰذا پھر بھی عند اللہ ہمارا عقیدہ صحیح ہوا۔
مولانا احمد علی صاحب! حضور رسول اللہ ﷺ سے یہ عہد کس طرح لیا گیا، جیسا کہ سورۃ آل عمران میں کیا گیا ہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے خود قرآن کریم میں ” ولكن رسول الله وخاتم النبيين “ فرما دیا ہے۔ اب آپ کے بعد کوئی نبی تشریعی ہو یا غیر شرعی، ظلی ہو یا بروزی، نہیں آئے گا۔ تو کیونکر آپ سے آنے والے نبی کے بارے میں عہد لیا جائے۔ کیونکہ خاتم النبیین کا حقیقی معنی خود جناب رسول اللہ ﷺ نے بیان فرمایا ہے، جو حسب ذیل ہے:
”اسی طرح پر میری پیدائش ہوئی یعنی جوڑا جوڑا پیدا ہوتا تھا۔ اور ہر توام میں ایک لڑکی پیدا ہوتی تھی۔ جس کا نام جنت تھا اور پہلے وہ لڑکی نکلتی تھی اور بعد اس کے میں نکلا تھا۔ میرے بعد میرے والدین کے گھر اور کوئی لڑکا یا لڑکی پیدا نہیں ہوئی۔ میں خاتم الاولاد تھا۔“
مولانا احمد علی صاحب! آپ نے اپنے مسیح کی خاطر اپنے نزدیک خاتم النبیین کا معنی بھی اسی طرح کرنا چاہئے کہ حضور ﷺ کے بعد
٧٩
(الشورى: ١٣) ”مقرر کیا ہے واسطے تمہارے دین سے وہ چیز کہ حکم کیا تھا ساتھ اس کے نوح علیہ السلام کو اور جو وحی کی ہے ہم نے طرف تمہارے اور جو حکم کیا تھا ہم نے ساتھ اس کے ابراہیم علیہ السلام کو اور موسیٰ علیہ السلام کو اور عیسیٰ علیہ السلام کو یہ کہ دین قائم رکھو اور مت متفرق ہو بیچ اس کے۔“
مولانا احمد علی صاحب! یہ عہد تھا قرآن کریم نے مذکورہ بالا آیت کے اندر بیان فرمایا نہ یہ کہ حضور ﷺ سے یہ عہد تھا کہ اپنے بعد کے آنے والے نبی کے متعلق لوگوں کو اطلاع دینا۔
مولانا صاحب! اگر بالفرض تھوڑی دیر کے لئے تمہاری بات کو مان بھی لیا جائے کہ حضور ﷺ سے بھی دوسرے نبیوں کی طرح عہد لیا گیا تھا تو بھی ہمارا خیال عنداللہ ضرور صحیح ہے۔ کیونکہ آنحضرت ﷺ کے بعد حضرت ابن مریم علیہ السلام کو آسمان سے نازل ہونا تھا۔ آپ ﷺ نے ہی ان کے آنے کی اپنی امت کو اطلاع دے دی ہے۔ جیسا کہ حدیثوں میں ذکر کیا گیا۔
”والذي نفسي بيده ليوشكن ان ينزل فيكم ابن مريم “ (قسم ہے اس خدا کی جس کے قبضہ میں میری جان ہے البتہ ضرور نازل ہوں گے بیچ تمہارے ابن مریم۔) (نہ یہ کہ مرزا غلام احمد ابن چراغ بی بی ) یعنی وہی ابن مریم نازل ہوں گے جن کا ذکر قرآن کریم نے بیان کیا ہے۔ لہذا پھر بھی عنداللہ ہمارا عقیدہ صحیح ہوا۔
مولانا احمد علی صاحب! حضور رسول اللہ ﷺ سے وہ عہد نہیں لیا گیا کہ جس کا ذکر سورۃ آل عمران میں کیا گیا ہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے خود قرآن کریم کے اندر جبکہ آنحضرت ﷺ کو ”ولكن رسول الله وخاتم النبيين “ فرمایا ہے، یعنی رسول اللہ ﷺ کے بعد کوئی نبی شرعی ہو یا غیر شرعی، ظلی ہو یا بروزی نہیں آئے گا۔ تو کیونکر ہو سکتا ہے کہ آپ کے بعد کوئی نبی اب دنیا میں آئے۔ کیونکہ خاتم النبیین کا حقیقی معنی خود جناب مرزا قادیانی نے کتاب تریاق القلوب میں بیان فرمایا ہے، جو حسب ذیل ہے۔
”اسی طرح پر میری پیدائش ہوئی یعنی جیسا کہ میں ابھی لکھ چکا ہوں۔ میرے ساتھ ایک لڑکی پیدا ہوئی تھی۔ جس کا نام جنت تھا اور پہلے وہ لڑکی پیٹ میں سے نکلی تھی اور بعد اس کے میں نکلا تھا۔ میرے بعد میرے والدین کے گھر اور کوئی لڑکا یا لڑکی نہیں ہوا۔ میں ان کے لئے خاتم الاولاد تھا۔“
(تریاق القلوب ص ١٥٧، خزائن ج ١٥ ص ٤٧٩)
مولانا احمد علی صاحب! آپ نے اپنے انڈین نبی کی زبانی خاتم کا معنی سن لیا۔ اب آپ کو خاتم النبیین کا معنی بھی اسی طرح کرنا چاہئے کہ رسول خدا ﷺ کے بعد ہر قسم کی نبوت ختم ہو
چکی ۔ لہذا اب اگر کوئی نبوت کا دعویٰ کرتا ہے تو وہ عنداللہ کاذب اور ملعون ہے۔
- ٢ ...... جناب مرزا غلام احمد قادیانی راقم ہیں: ’’سیدنا ومولانا حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ خاتم
المرسلین کے بعد کسی دوسرے مدعی نبوت ورسالت کو کاذب اور کافر جانتا ہوں۔ میرا یقین ہے کہ وحی رسالت حضرت آدم علیہ السلام سے شروع ہوئی اور جناب رسول اللہ ﷺ پر ختم ہوئی۔‘‘
(تبلیغ رسالت ج دوم ص٢٠، مجموعہ اشتہارات ج١ص٢٣٠،٢٣١)
- ٣ ...... ’’مجھے کب جائز ہے کہ میں نبوت کا دعویٰ کر کے اسلام سے خارج ہو جاؤں اور
کافروں سے جاملوں۔‘‘
(حمامة البشریٰ ص٧٩، خزائن ج٧ص٢٩٧)
- ٤ ...... ’’ہم بھی مدعی نبوت پر لعنت بھیجتے ہیں ’’لااله الاالله محمد رسول الله ‘‘ کے
قائل ہیں اور آنحضرت ﷺ کی ختم نبوت پر ایمان رکھتے ہیں۔‘‘
(تبلیغ رسالت ج ششم ص٢، مجموعہ اشتہارات ج٢ص٢٩٧)
- ٥ ...... ’’آنحضرت ﷺ نے بار بار فرما دیا تھا کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا اور حدیث
’’لانبی بعدی‘‘ ایسی مشہور تھی کہ کسی کو اس کی صحت میں کلام نہ تھا اور قرآن شریف جس کا لفظ لفظ قطعی ہے۔ اپنی آیت ’’ولکن رسول الله وخاتم النبیین‘‘ سے بھی اس بات کی تصدیق کرتا ہے کہ فی الحقیقت ہمارے نبی ﷺ پر نبوت ختم ہو چکی۔‘‘
(کتاب البریہ ص١٨٢، خزائن ج١٣ص٢١٨)
جناب مولانا احمد علی صاحب ! آپ کی مثال تو ایسی ہے کہ مدعی سست اور گواہ چست۔ یعنی جناب مرزا غلام احمد قادیانی تو رسول خدا ﷺ کے بعد دعویٰ نبوت کرنے والے پر لعنت بھیجتے ہیں اور آیت ’’خاتم النبیین‘‘ سے اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ آپ ﷺ کے بعد اب کوئی نبی شرعی یا غیر شرعی دنیا میں نہیں آئے گا۔ حوالے تو جناب مرزا قادیانی کی کتب سے اخذ کئے ہوئے اس قسم کے میرے پاس بے شمار ہیں۔ لیکن سمجھداروں اور ایمانداروں کے لئے تو بطور نمونہ یہی کافی ہیں۔ ان پر ہی غور کر کے اس بات پر ایمان لے آئیں کہ آنحضرت ﷺ کے بعد دعویٰ نبوت کرنے والا کاذب اور ملعون ہے۔
وفات مسیح علیہ السلام پر چودھویں دلیل کی بیخ کن تردید
اعتراض مولانا احمد علی قادیانی
’’او ترقى فی السماء ولن نؤمن لرقيك حتى تنزل علينا كتابا نقرؤه، قل سبحان ربی هل كنت الا بشرا رسولا (بنی اسرائیل:٩٣)‘‘ یعنی ہم
٨٠
تجھے نہیں مانیں گے جب تک کہ تو کوئی کتاب بھی ا نے فرمایا یعنی اے پیغمبر ! ان کو کہہ دو کہ میرا رب ہ ہوں۔ غرضیکہ اگر بشر کے لئے جسم خاکی کے ساتھ ا معجزہ دکھانے اور اتمام حجت کرنے کے لئے حضو اس سے ثابت ہوا کہ بشر کا جسم خاکی آسمان پر جانا
جواب اوّل
مولانا احمد علی صاحب! کیا کفار کا نق مطالبے تھے جو پیش کرتا ہوں۔
- ١ ...... ’’وقالوا لن نؤمن لك حت
اسرائیل:٩٠)‘‘ ”کہا انہوں نے ہر گز نہیں مانی ہمارے چشمے۔“
- ٢ ...... ’’اوتكون لك جنة من نخ
(بنی اسرائیل:٩١)‘‘ ”یا ہو واسطے تمہارے نہریں پھاڑ لانے کو۔“
- ٣ ...... ’’اوتسقط السماء كما زعمت ع
دو تم آسمان کو جیسا کہا کرتے ہو تم اوپر ہمارے ٹکر
- ٤ ...... ’’اوتأتى بالله والملائكة قبيلا
اس کے فرشتوں کو ہمارے مقابل ۔“
- ٥ ...... ’’اويكون لك بيت من زخرف
- ٦ ...... ’’او ترقى فى السماء“ ”یا چڑھ
- ٧ ...... ’’ولن نؤمن لرقيك حتى ينز
هل كنت الا بشرا رسولا (بنی اسرا چڑھ جانے کو یہاں تک کہ نہ اتار لاؤ اوپر ہمارے ہے پروردگار میرا نہیں ہوں میں مگر آدمی پیغام پہنچ ان تمام مذکورہ حوالہ جات سے اس با
١
تجھے نہیں مانیں گے جب تک کہ تو کوئی کتاب بھی آسمان پر سے نہ لائے جسے ہم پڑھیں تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا یعنی اے پیغمبر ! ان کو کہہ دو کہ میرا رب ہر نقص سے پاک ہے۔ میں تو صرف ایک رسول ہوں۔ غرضیکہ اگر بشر کے لئے جسم خاکی کے ساتھ آسمان پر جانا ممکن ہوتا تو کفار کے مطالبہ پر ان کو معجزہ دکھانے اور اتمام حجت کرنے کے لئے حضور اکرم ﷺ کو بھی ضرور آسمان پر لے جایا جاتا۔ اس سے ثابت ہوا کہ بشر کا بجسم خاکی آسمان پر جانا مندرجہ بالا نصوص قرآنیہ کے خلاف ہے۔‘‘
(نصرۃ الحق ص ١٠٥ تا ١٠٧ مصنفہ احمد علی شاہ قادیانی)
جواب اوّل
مولانا احمد علی صاحب! کیا کفار کا فقط یہی مطالبہ تھا جو دکھایا جاتا؟ نہیں، بلکہ سات مطالبے تھے جو پیش کرتا ہوں۔
- ١...... ”وقالوا لن نؤمن لك حتى تفجر لنا من الارض ينبوعا (بنی
اسرائیل:٩٠)“ ﴿کہا انہوں نے ہر گز نہیں مانیں گے یہاں تک کہ پھاڑ لاؤ تم زمین سے واسطے ہمارے چشمے۔﴾
- ٢...... ”اوتكون لك جنة من نخيل وعنب فتفجر الانهار خللها تفجيرا
(بنی اسرائیل:٩١)“ ﴿یا ہو واسطے تمہارے باغ کھجوروں کا اور انگوروں کا۔ پس پھاڑ لاؤ تم نہریں پھاڑ لانے کو۔﴾
- ٣...... ”اوتسقط السماء كما زعمت علينا كسفا (بنی اسرائیل:٩٢)“ ﴿یا ڈال
دو تم آسمان کو جیسا کہا کرتے ہو تم اوپر ہمارے ٹکڑے ٹکڑے۔﴾
- ٤...... ”اوتاتى بالله والملائكة قبيلا (بنی اسرائیل:٩٢)“ ﴿یا لے آؤ تم اللہ اور
اس کے فرشتوں کو ہمارے مقابل۔﴾
- ٥...... ”اويكون لك بيت من زخرف“ ﴿یا ہو جائے واسطے تمہارے گھر سونے کا۔﴾
- ٦...... ”او ترقى فى السماء“ ﴿یا چڑھ جائے تو بیچ آسمان کے۔﴾
- ٧...... ”ولن نؤمن لرقيك حتى ينزل علينا كتابا نقرؤه، قل سبحان ربى
هل كنت الا بشرا رسولا (بنی اسرائیل:٩٣)“ ﴿اور ہر گز نہ مانیں گے ہم تمہارے چڑھ جانے کو یہاں تک کہ نہ اتار لاؤ اوپر ہمارے کتاب کہ پڑھیں ہم اس کو۔ کہہ دیجئے کہ پاک ہے پروردگار میرا نہیں ہوں میں مگر آدمی پیغام پہنچانے والا۔﴾
ان تمام مذکورہ حوالہ جات سے اس بات پر مکمل روشنی پڑ گئی کہ کفار کا یہی مطالبہ نہیں تھا
٨١
کہ آپﷺ آسمان پر چڑھ جائیں۔ بلکہ ساتھ کتاب لانے کا بھی ذکر قرآن کریم نے فرمایا ہے اور اللہ تعالیٰ نے جو ان کو جواب دیا اس سے بھی ظاہر ہے کہ مطالبہ ان کا کتاب لانے کا تھا۔ اس لئے ہی اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ان کو کہہ دو کہ یک بارگی کتاب کو اتارنا میرا کام ہرگز نہیں۔ میں تو جو حکم اوپر سے جتنا بھی نازل ہوتا ہے۔ فقط اس کو تمہارے پاس پہنچانے والا ہوں۔
اس آیت سے ممات عیسیٰ علیہ السلام کا ثابت کرنا پرلے درجہ کی جہالت اور نادانی ہے۔ کیونکہ اس کے قبل تو رسول خداﷺ کو جسمانی معراج کرائی گئی تھی۔ جیسا کہ تفاسیر بھی شاہد ہیں، ملاحظہ ہو۔
جواب دوم
”والحق الذی علیہ اکثر الناس ومعظم السلف وعامۃ المتأخرین من الفقہاء والمحدثین والمتکلمین انہ اسریٰ بجسدہ“ (علامہ ملا علی قاریؒ مرقاۃ شرح مشکوٰۃ) یعنی متفق ہیں اس بات پر معظم سلف اور بزرگ فقہاء وغیرہ اور محدثین ومتکلمین یہ کہ سیر کرائی گئی رسول خداﷺ کو ساتھ جسم کے۔
یعنی آنحضرتﷺ کو اللہ تعالیٰ کی ذات بابرکات نے سیر کرائی۔ ساتھ روح اور جسم کے مکہ معظمہ سے بیت المقدس اور وہاں سے آسمانوں کے اوپر ساتھ حضرت جبرئیل علیہ السلام کے بیداری کی حالت میں۔ اسی لئے تو کفار مکہ نے انکار کیا تھا۔ اگر وہ لوگ بیداری کا واقعہ خیال نہ کرتے تو کبھی بھی اس واقعہ کو بعید از عقل کہہ کر انکار نہ کرتے اور نہ حضورﷺ سے بیت المقدس کی عمارت کے متعلق امتحانی سوالات ہی کرتے۔
ان کو سوال اس لئے ہی کرنے کی ضرورت ہوئی جبکہ رسول خداﷺ نے فرمایا کہ میں اس خاکی جسم کے ساتھ بیداری کی حالت میں آج بیت المقدس اور آسمانوں کی سیر کر کے آیا ہوں۔ تو مذکورہ بالا حالات سے بخوبی ظاہر ہوا کہ کفار کا مطالبہ صرف یہی نہ تھا کہ آپ آسمان پر چڑھ جائیں۔ بلکہ ”لن نؤمن لرقیک“ یعنی تیرے ساتھ آسمان پر چڑھ جانے سے بھی ہم ایمان نہ لائیں گے۔ جب تک کہ ”حتی تنزل علینا کتابا نقرؤہ“ یعنی ہمارے اوپر آسمان سے آئے ہوئے کتاب لے کر نہ آؤ۔
اس سے معلوم ہوا کہ آپ کا یہ اعتراض قرآن کریم کے خلاف ہے کہ بشر آسمان پر نہیں جاسکتا۔ حالانکہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام آسمان پر زندہ ہیں اور رسول کریمﷺ کو بھی اللہ تعالیٰ نے اس خاکی جسم کے ساتھ آسمانوں کی سیر کرائی۔ جیسا کہ حدیثوں میں ذکر ہے۔
٨٢
حیات مسیح علیہ السلام کی بارھویں
- ١....... ”سبحان الذی اسریٰ
الاقصیٰ الذی (بنی اسرائیل:١) میں مسجد حرام سے مسجد اقصیٰ تک۔ پھر لیج ساتھ معراج کرائی۔ چنانچہ قرآن کریم می نہ کہ فقط روح کی طرف۔ جیسا کہ قرآن کر
- ٢....... ”ولقد اوحینا الی مو
وحی بھیجی ہم نے طرف موسیٰ علیہ السلام کے
مولانا احمد علی صاحب! کیا ا حضرت موسیٰ علیہ السلام کو حکم فرمایا ہے یا الجسم کا مفہوم لیتے ہیں تو پیش کردہ آیت روح مع الجسم کیوں نہیں لیتے؟
- ٣....... ”وان کنتم فی ریب م
ہو کہ میں نے اپنے بندے (حضرت محمدﷺ سوال....... کیا آنحضرتﷺ کی روح م
- ٤....... ”الحمدللہ الذی انزل
واسطے اللہ تعالیٰ کے ہے جس نے اتارا ا ”عبد“ سے مراد روح لو گے یا روح مع ا
- ٥....... ”تبارک الذی نزل الف
(الفرقان:١) ”بابرکت ہے وہ اللہ تعا کہ ہو واسطے جہان کے ڈرانے والا۔“
کیا مولانا احمد علی صاحب! یہ مبارک پر نازل ہوا تھا یا روح مع الجسم پر؟ ”سبحان الذی اسریٰ بعبدہ“ معراج ہوئی نہ کہ روحانی۔ جیسا کہ قرآن ک
- ٦....... ”قال الشیخ الاکبر ق
حیات مسیح علیہ السلام کی بارھویں دلیل
- ١....... "سبحان الذی اسرى بعبده ليلا من المسجد الحرام الى المسجد
الاقصی الذی (بني اسرائيل: ١) " ﴿پاک ہے وہ ذات جو لے گیا اپنے بندہ کو ایک رات میں مسجد حرام سے مسجد اقصیٰ تک۔﴾ یعنی آنحضرت ﷺ کو باری تعالیٰ نے اسی خاکی جسم کے ساتھ معراج کرائی۔ چنانچہ قرآن کریم میں لفظ عبد کا روح مع الجسم ہونے کی طرف اشارہ کرتا ہے نہ کہ فقط روح کی طرف۔ جیسا کہ قرآن کریم ارشاد فرماتا ہے، ملاحظہ ہو۔
- ٢....... "ولقد اوحينا الى موسى ان اسر بعبادی (طه: ٧٧) " ﴿اور البتہ تحقیق
وحی بھیجی ہم نے طرف موسیٰ علیہ السلام کے کہ سیر کراؤ میرے بندوں کو۔﴾
مولانا احمد علی صاحب! کیا اس سے مراد روحوں کو سیر کرانے کے لئے اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو حکم فرمایا ہے یا کہ روح مع الجسم کو؟ اگر آپ اس آیت سے روح مع الجسم کا مفہوم لیتے ہیں تو پیش کردہ آیت ”سبحان الذی اسرى بعبده “ میں عبد سے مراد روح مع الجسم کیوں نہیں لیتے؟
- ٣....... "وان كنتم في ريب مما نزلنا على عبدنا (البقرة: ٢٣) " ﴿اگر تم کو شک
ہو کہ میں نے اپنے بندے (حضرت محمد ﷺ) پر قرآن کریم نہیں اتارا۔﴾
سوال...... کیا آنحضرت ﷺ کی روح مبارک پر قرآن کریم نازل ہوا تھا یا کہ روح مع الجسم پر؟
- ٤....... "الحمدلله الذی انزل على عبده الكتاب (الكهف: ١) " ﴿سب تعریف
واسطے اللہ تعالیٰ کے ہے جس نے اتارا اوپر بندے اپنے کے اس قرآن کریم کو۔﴾ کیا یہاں ”عبد“ سے مراد روح لوگے یا روح مع الجسم؟
- ٥....... "تبارك الذی نزل الفرقان على عبده ليكون للعالمين نذيرا
(الفرقان: ١) " ﴿بابرکت ہے وہ اللہ تعالیٰ جس نے اتارا قرآن کریم کو اوپر بندے اپنے کے یہ کہ ہو واسطے جہان کے ڈرانے والا۔﴾
کیا مولانا احمد علی صاحب! یہ قرآن کریم تمہارے نزدیک آقائے حضور ﷺ کی روح مبارک پر نازل ہوا تھا یا روح مع الجسم پر؟ اگر روح مع الجسم پر نازل ہونا آپ کو قبول ہے تو آیت ”سبحان الذی اسرى بعبده “ میں بھی یہ لازمی ماننا پڑے گا کہ رسول خدا ﷺ کو جسمانی معراج ہوئی نہ کہ روحانی۔ جیسا کہ قرآن کریم ”عبده“ سے مراد روح مع الجسم فرمایا ہے۔
- ٦....... "قال الشيخ الاكبر قدس سره ان معراجه عليه السلام اربع
٨٣
وثلاثون مرة واحدة بجسده والباقي بروحه، والذی يدل عليه على انه عليه الاسلام عرج مرة بروحه وجسده معاً قوله أسرى بعبده فان العبد اسم للروح والجسد“ یعنی حضرت شیخ اکبرؒ فرماتے ہیں کہ رسول خدا ﷺ کو ٣٤ بار معراج ہوئی اور ایک بار روح مع الجسم کرائی۔ کیونکہ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ”سبحان الذی اسرى بعبده“ بیشک عبد نام ہے روح اور جسم یعنی دونوں کا۔
(تفسیر روح البیان بر حاشیہ جلالین ص ٢٧٩ مطبوعہ کراچی)
٧...... ”والحق الذی علیہ اکثر الناس ومعظم السلف وعامة الخلف من المتاخرين من الفقهاء والمحدثين والمتكلمين انه اسرى بروحه وجسده و يدل عليه قوله سبحانه وتعالى سبحان الذى اسرى بعبده ليلا ولفظ العبد عبارة عن مجموع الروح والجسد“ یعنی اکثر لوگ معظمین سلف اور خلف اور فقہا اور محدثین و متکلمین اس بات پر متفق ہیں کہ بیشک آنحضرت ﷺ کو اللہ تعالیٰ نے روح اور جسم کے ساتھ آسمانوں کی سیر کرائی۔ یعنی معراج جو کہ اس پر دال ہے کہ پاک ہے وہ ذات جس نے سیر کرائی بندے کو ایک رات میں اور لفظ ”عبد“ روح اور جسم کا نام ہے۔
(تفسیر خازن ج ٣ ص ١٦٤ مطبع مصری)
باقی رہا حضرت عائشہؓ کا قول جو پیش کیا جاتا ہے۔ سو اس قدر معتبر قرآن کریم کے حوالہ جات کے ہوتے ہوئے ہرگز قبول نہیں کیا جاسکتا۔ بلکہ عائشہؓ کبھی بھی ایسا غلط عقیدہ جو صریحاً قرآن کریم کے خلاف ہو، نہیں رکھ سکتیں اور نہ ہی ایسی غلط روایت کی آپ راوی ہوسکتی ہیں۔ اس واسطے یہ کسی غیر معتبر آدمی کا اپنا خیال ہے جو حضرت عائشہؓ کی طرف منسوب کیا گیا ہے۔
مولانا احمد علی قادیانی بعنوان عقیدہ حیات مسیح ناصری علیہ السلام کے نقصانات کے تحت لکھتے ہیں: ”عیسائیوں پر یہ بات ثابت کردو کہ درحقیقت مسیح ابن مریم ہمیشہ کے لئے فوت ہوچکا ہے۔ یہی ایک بحث ہے جس میں فتحیاب ہونے سے تم عیسائی مذہب کی روئے زمین سے صف لپیٹ دوگے۔ تمہیں کچھ بھی ضرورت نہیں کہ دوسرے لمبے لمبے جھگڑوں میں اپنے اوقات عزیز کو ضائع کرو۔ صرف مسیح علیہ السلام ابن مریم کی وفات پر زور دو اور پرزور دلائل سے عیسائیوں کو لا جواب کردو۔ جب تم مسیح کو مردوں میں داخل ہونا ثابت کردو گے تو اس دن تم سمجھ لو کہ آج عیسائی مذہب دنیا سے رخصت ہوا۔ یقیناً سمجھو کہ جب تک ان کا خدا فوت نہ ہو ان کا مذہب بھی فوت نہیں ہوسکتا۔“
(نصرة الحق ص ١٣٣، ١٣٥ مصنفہ احمد علی قادیانی)
٨٤
جواب اہل اسلام اور مرزا غلام احمد قادیانی
مولانا احمد علی صاحب ! یہ آپ کا باطل خیال ہے کہ اگر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی موت عیسائیوں پر کسی صورت ظاہر کر دی جائے تو ان کا مذہب دنیا سے رخصت ہو جائے گا۔
حالانکہ عیسائی شروع سے اس بات کے قائل ہیں کہ یہودیوں نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو سولی پر چڑھا کر مار دیا۔ یعنی وہ ہمارے گناہوں کا کفارہ ہو گئے جبکہ وہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی موت کو خود تسلیم کرتے ہیں۔ پھر ان کا مذہب کیوں ترقی کرتا گیا؟ مولانا صاحب، یہودی اور عیسائی تو دونوں مذہب اس بات پر متفق ہیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام فوت ہو چکے۔ پھر آپ کا یہ کہنا کہاں تک درست ہو سکتا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو زندہ ماننے سے عیسائیت کی ترقی ہوئی۔
حقیقتاً آپ نے جناب مرزا قادیانی کی کتب کا مطالعہ نہیں کیا۔ ورنہ معلوم ہو جاتا کہ عیسائیت کو ترقی کیونکر حاصل ہوئی؟ آئیے میں جناب مرزا قادیانی کی زبانی تصدیق کرا دوں کہ عیسائیت کی ترقی عیسیٰ علیہ السلام کو زندہ ماننے سے نہیں بلکہ آپ کو مصلوب ماننے سے ان کے دین کی ترقی ہوئی۔
حضرت مسیح علیہ السلام کو مصلوب ماننے سے عیسائیت کی ترقی
از مرزا غلام احمد قادیانی
”یاد رہے کہ عیسائی مذہب اس قدر دنیا میں پھیل گیا ہے کہ صرف آسمانی نشان بھی اس کے زیر کرنے کے لئے کافی نہیں ہو سکتے۔ کیونکہ مذہب کو چھوڑنا بڑا مشکل امر ہے۔ لیکن یہ صورت کہ ایک طرف تو آسمانی نشان دکھائے جائیں اور دوسرے پہلو میں ان کے مذہب اور ان کے اصولوں کا واقعات حقہ سے تمام تانا بانا توڑ دیا جائے اور ثابت کر دیا جائے کہ حضرت مسیح کا مصلوب ہونا اور پھر آسمان پر چڑھ جانا دونوں باتیں جھوٹ ہیں (یعنی مردہ آسمان پر کیسے چڑھ سکتا ہے) یہ طرز ثبوت ایسی ہے کہ بلاشبہ اس قوم میں ایک زلزلہ پیدا کر دے گی۔ کیونکہ عیسائی مذہب کا تمام مدار کفارہ پر ہے اور کفارہ کا تمام مدار صلیب پر اور جب صلیب ہی نہ رہی تو کفارہ بھی نہ رہا اور جب کفارہ نہ رہا تو مذہب بنیاد سے گر گیا۔“
(تریاق القلوب ص ٤٢، خزائن ج ١٥ ص ١٦٨، ١٦٩)
٨٥
مولانا احمد علی صاحب! اب تو آپ کو جناب مرزا غلام احمد قادیانی کی زبانی یہ تصدیق ہو چکی کہ عیسائیت کو ترقی دینے والی جماعت، قادیانی ہے کہ جن کا ایمان ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام ہی سولی پر چڑھائے گئے۔ لہٰذا کچھ تو عیسائی مذہب کے پادریوں نے اس بات کی لوگوں کو تبلیغ کی کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام سولی کو قبول کر کے ہمارے گناہوں کا کفارہ کر گئے۔ دوسرے جماعت قادیانی نے ان کی مدد کے لئے قدم اٹھایا کہ ہم تمہاری تصدیق کرتے ہیں کہ بیشک حضرت ابن مریم کو ہی سولی پر چڑھایا گیا۔
واہ مولانا احمد علی صاحب! گناہ تو اپنا اور بدنام راہ حق پر چلنے والے۔ ذرا تو خوف خدا کیا ہوتا۔ آخر قیامت کو اللہ تعالیٰ کے سامنے پیش ہونا ہے۔ اگر وفات مسیح کا عقیدہ نزدیک اللہ کے صحیح ہوتا تو اللہ تعالیٰ کبھی بھی ہم مسلمانوں کو یہ تلقین نہ کرتا: ”غير المغضوب عليهم ولا الضالین، آمین“ ﴿جن پر تو نے غضب کیا اور گمراہ ہوئے ہیں ان کے راستے سے ہمیں بچائے رکھنا۔ آمین۔﴾
وہ یہودی اور نصاریٰ ہیں۔ لہٰذا ان کے مغضوب اور ملعون اور گمراہ ہونے کا سبب منجملہ دیگر اسباب کے ایک حضرت مسیح علیہ السلام کی نسبت موت کا عقیدہ ہے جس کی وجہ سے وہ مغضوب وملعون ہوئے۔ پس صاف ثابت ہوا کہ جس نے مسیح علیہ السلام کے رفع جسمانی ”الى السماء“ اور ”حیات الی الان“ سے انکار کیا۔ اس کو صراط مستقیم نصیب نہیں ہو سکتا اور مغضوب ملعون ہو کر یہود و نصاریٰ میں داخل ہے۔ شعر
الا لا يجهلن احد علينا فجهل فوق جهل الجاهلينا
برادران اسلام کمترین نے مولانا احمد علی صاحب قادیانی کے رسالہ لمعۃ الحق کا جواب قرآن کریم و احادیث و تفاسیر وغیرہ سے مکمل و مدلل طور پر دے دیا ہے۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے فضل و کرم سے میرے رسالہ ہذا کو مسلمانوں کے لئے بابرکت اور ہدایت کا موجب بنائے۔ آمین ثم آمین! ”اللهم صل علی سیدنا ومولانا محمد وبارک وسلم“
الداعی الی الخیر! خاکسار حافظ عبداللطیف مندراں والا ضلع تھر پارکر سندھ
٨٦
غلام احمد قادیانی کی زبانی یہ تصدیق جن کا ایمان ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ نے پادریوں نے اس بات کی لوگوں کو گناہوں کا کفارہ کر گئے ۔ دوسرے تصدیق کرتے ہیں کہ بیشک حضرت
حق پر چلنے والے ۔ ذرا تو خوف خدا وفات مسیح کا عقیدہ نزدیک اللہ کے غير المغضوب عليهم ولا ہیں ان کے راستے سے ہمیں بچائے
ملعون اور گمراہ ہونے کا سبب مجملہ عقیدہ ہے جس کی وجہ سے وہ مغضوب کے رفع جسمانی ”الی السماء“ نہیں ہوسکتا اور مغضوب ملعون ہو کر
فوق جهل الجاهلينا
ادیانی کے رسالہ نصرۃ الحق کا جواب دیا ہے۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے نور ہدایت کا موجب بنائے ۔ آمین
يك وسلم“ گرامی ابی الخیر! مندروں والا ضلع تھرپارکر سندھ
نحمدہ ونصلی علی رسولہ الکریم
خاتم النبیین
لا نبی بعدی
دفتر مرکزیہ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت حضوری باغ روڈ ملتان
مرزائیت کا جال،
لاہوری مرزائیوں کی چال
حضرت مولانا کرم دین دبیر رحمۃ اللہ علیہ
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
ان دنوں ایک ٹریکٹ (یک ورقہ) لاہوری احمدیہ جماعت کی طرف سے ان کے امیر مولوی محمد علی صاحب ایم۔اے نے شائع کیا ہے۔ جس میں اپنے عقائد کی فہرست دی گئی ہے اور ظاہر کیا گیا ہے کہ وہ مرزا قادیانی کو نبی ورسول نہیں کہتے اور نہ وہ مرزا قادیانی کے نہ ماننے والوں کو کافر سمجھتے ہیں۔ اس لئے مسلمانوں کو ان سے اتحاد کر لینا چاہئے۔ چونکہ سادہ لوح مسلمانوں کو اس تحریر میں دھوکہ دینا مطلوب ہے۔ اس لئے اس کے متعلق کچھ لکھنے کی ضرورت پڑی۔
مسلمانوں کو خوب معلوم ہے کہ لاہوری وقادیانی دونوں مرزائی جماعتیں مرزا قادیانی کی تبع ہیں جب تک مرزا قادیانی زندہ تھے ہر دو جماعتوں کے ایک ہی اعتقادات تھے۔ ان کی وفات کے بعد ایک جماعت (محمودی قادیانی) خزانہ عامرہ پر جو مرزا قادیانی کا اندوختہ تھا قابض ہوگئی۔ دوسرے حصہ دار خواجہ کمال الدین ومولوی محمد علی صاحبان باوجود دیرینہ خدمات اس سے بالکل محروم رہ گئے۔ انہوں نے اس رنج سے اپنی ڈیڑھ اینٹ کی علیحدہ مسجد بنالی، وہ لاہوری احمدی کہلانے لگے۔ اب بھی دونوں جماعتوں کے ایک ہی عقائد ہیں۔ دونوں مرزا صاحب کے پیرو ہیں۔ ان کی تعلیم کو سچا مانتی ہیں۔ ان کے الہامات اور دعاوی کی بھی قائل ہیں۔ قادیانیوں نے یہ جرأت کی کہ جیسا مرزاجی کا دعویٰ تھا کہ وہ نبی ورسول ہیں اور اس کے نہ ماننے والے کافر ہیں۔ ڈنکے کی چوٹ اعلان کر دیا کہ ہمارا بھی یہی عقیدہ ہے۔
دوسری جماعت (لاہوری) نے بزدلی سے کام لیا۔ وہ جانتے تھے کہ ایسے عقیدے کا اظہار کرتے ہوئے وہ دوسرے مسلمانوں کی ہمدردی حاصل نہیں کرسکتے۔ ان کو روپیہ کی ضرورت ہے جو عام مسلمانوں سے ملے گا۔ انہوں نے طریق منافقت اختیار کر کے لکھنا شروع کیا کہ ”ہم مرزا قادیانی کو نبی ورسول نہیں بلکہ مجدد مانتے ہیں اور ان کے نہ ماننے والوں کو کافر نہیں کہتے۔“
لاہوری جماعت کا طریق عمل
لاہوری احمدی جماعت کا طریق عمل بتا رہا ہے کہ وہ درحقیقت مرزا قادیانی کو نبی و رسول مانتے ہیں۔ ان کے نہ ماننے والوں کو مسلمان نہیں سمجھتے۔ ورنہ لاہوریوں کا امیر جماعت (مولوی محمد علی) لاہور میں رہتے ہوئے کبھی مسلمانوں کی شاہی مسجد میں مسلمانوں سے مل کے ان
٢
کے امام کے پیچھے نماز پڑھ کر اس امر کا عملی اور نمازوں اور جنازوں میں ان سے اشترا معیار ہے جس سے ہر ایک مسلمان لاہور یو لاہوری احمدی مرزا قادیانی کی رس اگر لاہوری جماعت مرزا قادی دے کہ مرزا قادیانی کی کتابوں اور ان کے تصانیف کے اس حصہ سے ہم متفق نہیں جو جبکہ مرزا قادیانی نے علی الاعلان نبی ورسول بالتصریح موجود ہیں تو جو شخص مرزا قادیانی ک رسالت کا ضرور قائل ہونا پڑے گا۔
مرزا قادیانی کا ادعائے نبوت ورس
مرزا قادیانی کی اول سے آخر رسول ہونے کا دعویٰ نہ کیا ہو۔ ذیل میں ان
- ......١ ”يٰسٓ اِنَّكَ لَمِنَ الْمُرْسَلِيْنَ
سیدھی راہ پر۔)
- ......٢ ”اِنَّا اَرْسَلْنَا اِلَيْكُمْ ر
رَسُوْلًا“ (ہم نے تمہاری طرف ایک ر
- ......٣ ”اِنَّا اَرْسَلْنَا اَحْمَدَ اِلٰی قَ
(مرزا) کو اس کی قوم کی طرف رسول بنا کر
- ......٤ ”سچا خدا وہی ہے جس نے قا
- ......٥ ”الہامات میں میری نسبت
امین اور خدا کی طرف سے آیا ہے۔“
کے امام کے پیچھے نماز پڑھ کر اس امر کا عملی ثبوت دیتا کہ وہ فی الواقع مسلمانوں کو مسلمان سمجھتا ہے اور نمازوں اور جنازوں میں ان سے اشتراک عمل کر سکتا ہے۔ حالانکہ ایسا نہیں ہے۔ یہ ایسا کھلا معیار ہے جس سے ہر ایک مسلمان لاہوریوں کے اصلی عقیدہ سے آگاہ ہو سکتا ہے۔
لاہوری احمدی مرزا قادیانی کی رسالت کے قائل ہیں
اگر لاہوری جماعت مرزا قادیانی کی رسالت کی قائل نہیں ہے تو وہ صاف اعلان کر دے کہ مرزا قادیانی کی کتابوں اور ان کے دعاوی سے ہمیں اتفاق نہیں ہے یا کم سے کم ان کی تصانیف کے اس حصہ سے ہم متفق نہیں ہیں۔ جس سے ادعائے نبوت و رسالت پایا جاتا ہے۔ جبکہ مرزا قادیانی نے علی الاعلان نبی و رسول ہونے کا دعویٰ کیا ہے اور یہ دعاوی ان کی کتابوں میں بالتصریح موجود ہیں تو جو شخص مرزا قادیانی کو مجدد تو کیا ایک سچا انسان بھی سمجھے۔ اس کو ان کی نبوت و رسالت کا ضرور قائل ہونا پڑے گا۔
مرزا قادیانی کا ادعائے نبوت و رسالت
مرزا قادیانی کی اول سے آخر تک ایسی کوئی کتاب نہیں ہے۔ جس میں انہوں نے نبی و رسول ہونے کا دعویٰ نہ کیا ہو۔ ذیل میں ان کے چند رسالہ جات سے عبارات لکھی جاتی ہیں۔
- ١....... ”یس انک لمن المرسلین علی صراط مستقیم “ (اے سردار تو مرسل ہے
سیدھی راہ پر۔)
(حقیقت الوحی ص ١٠٧، خزائن ج ٢٢ ص ١١٠)
- ٢....... ”انا ارسلنا الیکم رسولا شاهدا علیکم کما ارسلنا الی فرعون
رسولا“ (ہم نے تمہاری طرف ایک رسول بھیجا ہے۔ جیسا کہ فرعون کی طرف رسول بھیجا تھا۔)
(حقیقت الوحی ص ١٠١، خزائن ج ٢٢ ص ١٠٥)
- ٣....... ”انا ارسلنا احمد الی قومه فاعرضوا وقالوا کذاب اشر“ (ہم نے احمد
(مرزا) کو اس کی قوم کی طرف رسول بنا کر بھیجا ہے تو انہوں نے کہہ دیا بڑا جھوٹا ہے)
(اربعین نمبر ٣ ص ٣٤، خزائن ج ١٧ ص ٤٣٤)
- ٤....... ”سچا خدا وہی ہے جس نے قادیان میں اپنا رسول بھیجا۔“
(دافع البلاء ص ١١، خزائن ج ١٨ ص ٢٣١)
- ٥....... ”الہامات میں میری نسبت بار بار کہا گیا ہے کہ یہ خدا کا فرستادہ، خدا کا مامور، خدا کا
امین اور خدا کی طرف سے آیا ہے۔“
(انجام آتھم ص ٦٢، خزائن ج ١١ ص ایضاً)
٣
- ٦...... ”جب تک کہ طاعون دنیا میں رہے۔ قادیان کو اس کی خوفناک تباہی سے خدا محفوظ
رکھے گا۔ کیونکہ یہ اس کے رسول کا تخت گاہ ہے۔“
(دافع البلاء ص ١٠، خزائن ج ١٨ ص ٢٣٠)
- ٧...... ”میں آدم ہوں، میں نوح ہوں، میں ابراہیم ہوں، میں اسحاق ہوں، میں یعقوب
ہوں، میں اسمعیل ہوں، میں موسیٰ ہوں، میں داؤد ہوں، میں عیسیٰ بن مریم ہوں، میں محمد ﷺ ہوں۔“
(تتمہ حقیقت الوحی ص ٨٥، خزائن ج ٢٢ ص ٥٢١)
ان عبارات کو پڑھ کر ایک ادنیٰ فہم کا انسان بھی سمجھ سکتا ہے کہ مرزا قادیانی خود کو نبی و رسول کہتے ہیں۔ پھر لاہوری احمدی جماعت مرزا قادیانی کو سچا اور ان کی تصانیف کو درست مان کر اس سے ہرگز انکار نہیں کر سکتی کہ وہ ان کو نبی و رسول مانتے ہیں۔
مرزا قادیانی اپنے نہ ماننے والوں کو کیا کہتے ہیں
مرزا قادیانی نے اپنی کتابوں میں یہ بھی تصریح کر دی ہے کہ جو ان کا انکار اور تکفیر و تکذیب کرے یا ان کی صداقت میں اس کو تردد ہو وہ کافر ہے۔ اس کے پیچھے نماز درست نہیں ہے۔ حوالجات ذیل ملاحظہ کیجئے۔
- ١...... ”پس یاد رکھو کہ جیسا کہ خدا نے مجھے اطلاع دی ہے۔ تمہارے پر حرام اور قطعی حرام
ہے کہ کسی مکفر اور مکذب یا متردد کے پیچھے نماز پڑھو۔“
(اربعین نمبر ٣ ص ٢٨، خزائن ج ١٧ ص ٤١٧)
- ٢...... ”سوال ہوا کہ کسی جگہ امام حضور (مرزا) کے حالات سے واقف نہیں تو اس کے پیچھے
نماز پڑھیں یا نہیں۔ فرمایا تمہارا فرض ہے کہ اسے واقف کرو۔ پھر اگر تصدیق کرے تو بہتر، ورنہ اس کے پیچھے اپنی نماز ضائع نہ کرو اور اگر کوئی خاموش رہے نہ تصدیق کرے نہ تکذیب کرے تو بھی وہ منافق ہے۔ اس کے پیچھے نماز نہ پڑھو۔“
(فتاویٰ احمدیہ ص ٢٨٣)
- ٣...... ”جو مجھے نہیں مانتا وہ خدا اور رسول کو نہیں مانتا۔“
(حقیقت الوحی ص ١٦٣، خزائن ج ٢٢ ص ١٦٨)
- ٤...... ”کفر دو قسم ہے۔ اول یہ کفر کہ ایک شخص اسلام سے انکار کرتا ہے اور آنحضرت ﷺ کو
خدا کا رسول نہیں مانتا۔ دوسرا یہ کفر کہ مثلاً وہ مسیح موعود کو نہیں مانتا ...... پس اس لئے کہ وہ خدا اور رسول کے فرمان کا منکر ہے، کافر ہے اور اگر غور سے دیکھا جائے تو یہ دونوں قسم کے کفر ایک ہی قسم میں داخل ہیں۔“
(حقیقت الوحی ص ١٧٩، خزائن ج ٢٢ ص ١٨٥)
٤
ان عبارات میں تصریح ہے کہ مرزا قادیانی ایسے شخص کو جو ان کی رسالت کا کلمہ نہیں پڑھتا، کافر سمجھتے ہیں۔ ان کے نزدیک وہ مرزا قادیانی کو سچا نہ ماننے سے ایسا ہی کافر ہو جاتا ہے جیسا اسلام کے انکار اور خدا اور رسول کے نہ ماننے سے۔ مرزا قادیانی اپنی جماعت کو ہدایت کرتے ہیں کہ جو مرزا قادیانی کی تصدیق رسالت نہیں کرتا ہرگز اس کے پیچھے نماز نہ پڑھیں۔ جو ان کی تکفیر و تکذیب کرتا ہو یا ان کے معاملہ میں بالکل خاموش ہو۔ نہ تصدیق کرے نہ تکذیب۔ پھر ہم کیونکر مان سکتے ہیں کہ ٹریکٹ لکھنے والا (مولوی محمد علی ایم۔اے) اس دعویٰ میں سچا ہے کہ وہ مرزا قادیانی کو نبی ورسول نہیں مانتا یا ان کے نہ ماننے والوں کو مسلمان سمجھتا اور اس کے پیچھے نماز پڑھنا جائز قرار دیتا ہے۔
لاہوری احمدی جماعت کے عقائد
اب ہم ان عقائد احمدیہ (مرزائیہ) پر جو انہوں نے اپنے ٹریکٹ میں لکھے ہیں، بالترتیب روشنی ڈالتے ہیں۔ عقیدہ نمبر١:.... ”ہم اللہ تعالیٰ کی توحید پر اور محمد رسول اللہ ﷺ کی رسالت پر ایمان لاتے ہیں۔“
ہم کہتے ہیں کہ یہ محض غلط ہے۔ اگر آپ اللہ کی توحید کے قائل ہوتے تو مرزا قادیانی کے حسب ذیل کلمات شرک کی تکذیب کرتے۔
مرزا قادیانی کے مشرکانہ کلمات
- ١...... ”انت منی وانا منک“ (تو مجھ سے ہے اور میں تجھ سے۔)
(دافع البلاء ص٦، خزائن ج١٨ص٢٢٧)
- ٢...... ”انت منی بمنزلۃ ولدی“ (تو بمنزلہ میرے فرزند کے ہے۔)
(حقیقت الوحی ص٨٦، خزائن ج٢٢ص٨٩)
- ٣...... ”انت من مائنا وھم من فشل“ (تو میرے پانی سے ہے اور دوسرے خشکی
سے ۔)
(اربعین نمبر٣ ص٣٤، خزائن ج١٧ص٤٢٣)
- ٤...... ”الارض والسماء معک کماہو معی“ (زمین و آسمان تیرے (مرزا کے) تابع
ایسے ہی ہیں جیسے (خدا کے) تابع ہیں۔)
(حقیقت الوحی ص٧٥، خزائن ج٢٢ص٧٨)
- ٥...... ”یتم اسمک ولا یتم اسمی“ (تیرا ”مرزا“ کا نام کامل ہوگا اور میرا (خدا کا) نام
ناتمام ناقص رہے گا۔)
(اربعین نمبر٣ ص٣٦، خزائن ج١٧ص٣٥٣)
٥
- ٦....... "انى مع الرسول اجيب اخطی واصیب" (میں رسول کے ساتھ ہو کر
جواب دیتا ہوں خطا بھی کرتا ہوں اور صواب بھی ) (کیا مرزا کا خدا خطا کار بھی ہے)
(حقیقۃ الوحی ص ١٠٣، خزائن ج ٢٢ ص ١٠٦)
یہ ایسے کلمات ہیں جو شرک جلی بلکہ اعلیٰ ہیں۔ پھر جب آپ کے مرشد جی شرک میں مبتلا ہوں تو آپ کا دعویٰ توحید ”ہاتھی کے دانت کھانے کے اور دکھانے کے اور“ کا مصداق ہے۔ ایسا ہی آپ محمد رسول اللہ ﷺ کی رسالت کے قائل ہوتے تو مرزا قادیانی کو جو آپ سے مساوات بلکہ افضلیت کے مدعی ہیں، مرشد نہ بناتے۔
مرزا قادیانی کی توہین رسولؐ
- ١....... "وما ارسلناك الا رحمة للعلمین" (ہم نے تجھے رحمۃ للعالمین بنا کر بھیجا
ہے)
(حقیقۃ الوحی ص ٨٢، خزائن ج ٢٢ ص ٨٥)
- ٢....... "لولاك لماخلقت الافلاك" (اگر تجھے پیدا نہ کرتا تو آسمانوں کو پیدا نہ کرتا)
(حقیقۃ الوحی ص ٩٩، خزائن ج ٢٢ ص ١٠٢)
- ٣....... "سبحان الذی اسرى بعبده لیلا" (پاک ہے خدا جس نے اپنے بندے کو
رات کی سیر (معراج) کرائی)
(ضمیمہ حقیقۃ الوحی ص ٨٧، خزائن ج ٢٢ ص ٨١)
- ٤....... "اثرك الله على كل شى" (خدا نے تجھے ہر ایک چیز پر ترجیح دی ہے)
(حقیقۃ الوحی ص ٨٣، خزائن ج ٢٢ ص ١٠٩)
- ٥....... "آسمان سے کئی تخت اترے پر تیرا تخت سب سے اوپر بچھایا گیا ۔"
(حقیقۃ الوحی ص ٨٩، خزائن ج ٢٢ ص ٩٢)
- ٦....... "له خسف القمر المنیر وان لى ....... غسا القمران المشرقان اتنکر"
(اعجاز احمدی ص ٧١، خزائن ج ١٩ ص ١٨٣)
نمبر اول میں مرزا قادیانی حضورﷺ کے خطاب رحمۃ للعالمین کے جو آپؐ سے مختص ہے، ساجھی بنتے ہیں۔
- نمبر ٢....... میں باعث تکوین عالم بنتے ہیں۔ جس کا مفہوم یہ ہے کہ مرزا نہ ہوتے تو حضورﷺ بھی
نہ ہوتے۔ (معاذ اللہ)
٦
- نمبر ٣....... میں معراج کے رتبہ اعلیٰ میں جو حص
- نمبر ٤....... میں تمام چیزوں سے برتری
(استغفر اللہ)
- نمبر ٥....... میں یہ ادعا ہے کہ مرزا کا تخت ب
بھی۔ (چھوٹا منہ بڑی بات)
- نمبر ٦....... میں یہ ڈینگ ہے کہ حضورﷺ
شمس وقمر دونوں کا خسوف ہوا۔
غرض ان کلمات میں نبی اکرم ﷺ آنحضرت ﷺ کی رسالت کا کیسے قائل ہو سکتا
عقیدہ نمبر ٢
"ہم اس بات پر ایمان لاتے ہی یہ بھی کہنے کی بات ہے۔ جس رسالت کے قائل ہیں۔ تو جب تک آپ ال قائل نہیں ہو سکتے۔
عقیدہ نمبر ٣
"ہم اس بات پر ایمان لاتے ہی یہ بھی صرف زبانی ہے۔ آپ کے اگر ان کو سچا مانتے ہیں تو قرآن کو خدا کا کلا کلام کوئی بنا نہیں سکتا۔
مرزا قادیانی کا قول
"میں جیسا کہ قرآن شریف کی کے خدا کی اس کھلی کھلی وحی پر ایمان لاتا ہوں
ں رسول کے ساتھ ہو کر ی ہے) ١٠، خزائن ج ٢٢ ص ١٠٦) کے مرشد جی شرک میں اور“ کا مصداق ہے۔ مرزا قادیانی کو جو آپ
رحمۃ للعالمین بنا کر بھیجا ٨٢، خزائن ج ٢٢ ص ٨٥) نوں کو پیدا نہ کرتا ) ٩٩، خزائن ج ٢٢ ص ١٠٢) جس نے اپنے بندے کو ٧٨، خزائن ج ٢٢ ص ٨١) یج دی ہے ) ٨، خزائن ج ٢٢ ص ٧٠٩) یات“ ٨٩، خزائن ج ٢٢ ص ٩٢) لمشرقان اتنکر“ ٧١، خزائن ج ١٩ ص ١٨٣) ں کے جو آپؐ سے مختص ہوتے تو حضور ﷺ بھی
- نمبر ٣...... میں معراج کے رتبہ اعلیٰ میں جو حضور ﷺ کے لئے مخصوص تھا، شریک بنتے ہیں۔
- نمبر ٤...... میں تمام چیزوں سے برتری کا دعویٰ ہے۔ حتیٰ کہ محمد مصطفیٰ ﷺ سے بھی۔
(استغفر اللہ )
- نمبر ٥...... میں یہ ادّعا ہے کہ مرزا کا تخت سب سے بلند ہے۔ حتیٰ کہ رسالت مآب ﷺ سے
بھی۔ (چھوٹا منہ بڑی بات )
- نمبر ٦...... میں یہ ڈینگ ہے کہ حضور ﷺ کے لئے صرف خسوف قمر ہوا تو کیا ہوا۔ میرے لئے
شمس و قمر دونوں کا خسوف ہوا۔
غرض ان کلمات میں نبی اکرم ﷺ کی سخت توہین کی گئی ہے۔ پھر ایسے شخص کا متبع آنحضرت ﷺ کی رسالت کا کیسے قائل ہوسکتا ہے؟
عقیدہ نمبر ٢
”ہم اس بات پر ایمان لاتے ہیں کہ حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ خاتم النبیین ہیں۔“ یہ بھی کہنے کی بات ہے۔ جب مرزا قادیانی آنحضرت ﷺ کے بعد اپنی نبوت و رسالت کے قائل ہیں۔ تو جب تک آپ ان کو (اس دعویٰ کو) جھوٹا نہ سمجھیں، خاتم النبیین کے کبھی قائل نہیں ہوسکتے۔
عقیدہ نمبر ٣
”ہم اس بات پر ایمان لاتے ہیں کہ قرآن کریم خدا کا کلام ہے۔“ یہ بھی صرف زبانی ہے۔ آپ کے مرشد کہتے ہیں کہ ان کا کلام بھی مثل قرآن ہے۔ پھر اگر ان کو سچا مانتے ہیں تو قرآن کو خدا کا کلام نہیں مان سکتے۔ جس میں تحدی سے کہا گیا ہے کہ ایسا کلام کوئی بنا نہیں سکتا۔
مرزا قادیانی کا قول
”میں جیسا کہ قرآن شریف کی آیات پر ایمان رکھتا ہوں ایسا ہی بغیر فرق ایک ذرہ کے خدا کی اس کھلی کھلی وحی پر ایمان لاتا ہوں جو مجھے ہوئی۔“
(ایک غلطی کا ازالہ ص ٣، خزائن ج ١٨ ص ٢١٠)
٧
دوسری جگہ آپ نے لکھا ہے کہ: ”میں خدا کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ میں ان الہامات پر اسی طرح ایمان لاتا ہوں جیسا کہ قرآن شریف پر اور خدا کی دوسری کتابوں پر، اور جس طرح میں قرآن شریف کو یقینی اور قطعی طور پر خدا کا کلام مانتا ہوں۔ اسی طرح اس کلام کو بھی جو میرے پر نازل ہوتا ہے، خدا کا کلام یقین کرتا ہوں۔“
(حقیقت الوحی ص ٢١١، خزائن ج ٢٢ ص ٢٢٠)
اب آپ ہی فرمائیں کہ جو شخص قرآن کریم کے بعد کسی دوسرے انسان کے کلام کو بھی قرآن کے برابر سمجھتا ہو۔ وہ خدا کے اس فرمان پر کب ایمان رکھتا ہے۔ ”لایاتون بمثلہ ولو كان بعضهم لبعض ظهيراً“
(الاسراء:٨٨)
عقیدہ نمبر ٤
”ہم حضرت مرزا قادیانی کو چودھویں صدی کا مجدد مانتے ہیں، نبی نہیں مانتے۔“
یہ غلط ہے۔ ہم جیسا اوپر لکھ چکے ہیں کہ جب تک آپ مرزا قادیانی کی ان تحریرات کو جن میں صریح طور پر ادعاء نبوت ورسالت کیا گیا ہے، غلط نہ سمجھیں اور اس کا اعلان نہ فرمائیں۔ ہم آپ کے اس قول کو شیعہ کا تقیہ سمجھیں گے۔
عقیدہ نمبر ٥
”ہم مانتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ اس امت کے اولیاء سے کلام کرتا ہے اور ایسے لوگ اصطلاح شریعت میں مجدد کہلاتے ہیں۔ اسی پر اولیاء کی اصطلاح میں ظلی نبوت کا استعمال ہوتا ہے ورنہ جیسے ظل اللہ، اللہ نہیں۔ ظلی نبی، نبی نہیں۔
دنیا میں بہت سے اولیاء اللہ ہو گزرے ہیں۔ سوائے مرزا قادیانی کے کسی نے نبوت و رسالت کا دعویٰ نہیں کیا۔ باوجودیکہ کشف و کرامات میں مرزا قادیانی ان کے پاسنگ بھی نہیں اور ظلی بروزی کی اصطلاح تو مرزا کی ایجاد ہے۔ کیا اس اصطلاح کا کوئی پتہ قرآن وحدیث سے دیا جا سکتا ہے۔ آپ ظل اللہ اور ظل نبی ایک جیسا سمجھتے ہیں۔ یہ بھی آپ کی نرالی منطق ہے۔ ظل اللہ مضاف ومضاف الیہ ہے اور ظلی نبی صفت موصوف ۔ مضاف، مضاف الیہ کا غیر ہوتا ہے۔ جیسا غلام زید میں غلام اور ہے اور زید اور۔ لیکن صفت وموصوف ایک ہوتے ہیں۔ اس لئے ظل اللہ پر ظلی نبی کا قیاس نہیں کیا جاسکتا۔
٨
عقیدہ نمبر ٦
”ہم ہر اس شخص کو جو ’لا الہ الا الل مسلمان سمجھتے ہیں۔“ آپ بموجب فرمان جنا مجبور ہیں کہ جو کلمہ گو مسلمان مرزا قادیانی کی رسا جیسا کہ گزر چکا۔
عقیدہ نمبر ٧
”ہم تمام اصحاب کرام اور تمام بزرگا محدث یا مجدد کی تکفیر کو نفرت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں
مگر آپ کے مرزا قادیانی تو فرماتے
(ملفوظات ج ٢ ص ١٤٢) دوسری جگہ فرماتے ہیں:
صد حسین است
پھر آپ اگر حضرت علی رضی اللہ عنہ نبی نہ ہوں۔ ان کی صحابیت سے تو انکار نہ کر سکیں توہین کرتا ہو۔ اس کو سچا مان کر صحابہ کرام اور بزرگا اولیاء تو کیا انبیاء کی بھی وہ عزت کی ہے کہ الامان کے آپ مثیل بھی بنتے ہیں اور ان کو صلواتیں بھی
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی توہین
- ١...... ”آپ کا خاندان بھی نہایت پاک
کار کسبی عورتیں تھیں۔ جن کے خون سے آپ کا و
- ٢...... ”آپ کا کنجریوں سے میلان اور
عقیدہ نمبر ٦
”ہم ہر اس شخص کو جو ’لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ‘ پر ایمان لاتا ہے۔ مسلمان سمجھتے ہیں۔“ آپ بموجب فرمان جناب مرزا قادیانی بحیثیت ان کے متبع ہونے کے مجبور ہیں کہ جو کلمہ گو مسلمان مرزا قادیانی کی رسالت کی تصدیق نہ کرے، اسے مسلمان نہ سمجھیں جیسا کہ گزر چکا۔
عقیدہ نمبر ٧
”ہم تمام اصحاب کرام اور تمام بزرگان دین کی عزت کرتے ہیں اور کسی صحابی یا امام یا محدث یا مجدد کی تکفیر کو نفرت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔“
مگر آپ کے مرزا قادیانی تو فرماتے ہیں: ”ایک تم میں ہے جو علیؓ سے افضل ہے۔“ (ملفوظات ج٢ ص١٤٢) دوسری جگہ فرماتے ہیں:
صد حسین است در گریبانم
(نزول المسیح ص٩٩، خزائن ج١٨ ص٤٧٧)
پھر آپ اگر حضرت علی رضی اللہ عنہ و امام حسین رضی اللہ عنہ کی قرابت رسولؐ کے قائل بھی نہ ہوں۔ ان کی صحابیت سے تو انکار نہ کرسکیں گے۔ پھر جو شخص حضرت علیؓ اور امام حسینؓ کی یوں توہین کرتا ہو۔ اس کو سچا مان کر صحابہ کرام اور بزرگان دین کی کیا عزت کریں گے۔ مرزا قادیانی نے اولیاء تو کیا انبیاء کی بھی وہ عزت کی ہے کہ الامان۔ اور تو کیا حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو لیجئے۔ جن کے آپ مثیل بھی بنتے ہیں اور ان کو صلواتیں بھی سناتے ہیں۔
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی توہین
- ١...... ”آپ کا خاندان بھی نہایت پاک اور مطہر ہے۔ تین دادیاں اور نانیاں آپ کی زنا
کار کسبی عورتیں تھیں۔ جن کے خون سے آپ کا وجود ظہور پذیر ہوا۔“
(ضمیمہ انجام آتھم حاشیہ ص٧، خزائن ج١١ ص٢٩١)
- ٢...... ”آپ کا کنجریوں سے میلان اور صحبت بھی شاید اسی وجہ سے تھی کہ جدی مناسبت
٩
درمیان ہے۔ ورنہ کوئی پرہیزگار انسان ایک کنجری (کسبی) کو یہ موقع نہیں دے سکتا کہ وہ اس کے سر پر ناپاک ہاتھ لگائے اور زنا کاری کی کمائی کا پلید عطر اس کے سر پر ملے اور اپنے بالوں کو اس کے پیروں پر ملے۔“
(ضمیمہ انجام آتھم حاشیہ ص ٧، خزائن ج ١١ ص ٢٩١)
تو جب لاہوری احمدی جماعت ایسے شخص کو اپنا ہادی و رہبر سمجھتی ہے۔ جس نے ایک اوالعزم پیغمبر حضرت عیسیٰ علیہ السلام جن کی نسبت: ”وجيها في الدنيا والآخرة ومن المقربین“ قرآنی شہادت موجود ہے، یوں گالیاں دی ہوں اور آپ کی مغلظ گالیوں سے کوئی بزرگ عالم، صوفی کسی فرقہ کا نہ بچا ہو اور جو اپنے نہ ماننے والوں کو جیسا کہ آئینہ کمالات میں ہے ”ذرية البغايا“ (کنجریوں کی اولاد) کا خطاب دیتے ہوں۔ بزرگان دین ائمہ و صحابہ کی عزت و احترام کی امید رکھنا بالکل محال ہے۔
عقیدہ نمبر ٨
”مسلمانوں کی تکفیر کو ہم سب سے بڑھ کر قابل نفرت فعل سمجھتے ہیں اور جولوگ کسی مسلمان کی یا کسی مسلمان جماعت کی تکفیر کریں۔ ان سے اظہار نفرت کے طور پر ہم ان کے پیچھے نماز نہیں پڑھتے اور جو لوگ تکفیر کے فتوؤں سے متنفر ہیں۔ ان کے پیچھے ہم نماز پڑھ لیتے ہیں۔“
اگر آپ فی الواقع مسلمانوں کی تکفیر کو قابل نفرت فعل سمجھتے ہیں تو پھر آپ مرزا قادیانی کو کیا کہیں گے جنہوں نے جہاں دنیا کے تمام مسلمانوں کی تکفیر کا فتویٰ صادر کر دیا ہے جو ان کی تصدیق نہ کریں۔ خواہ تکذیب بھی نہ کرتے ہوں بلکہ خاموش ہوں۔ آپ کا یہ فرمانا کہ جو لوگ تکفیر کا فتویٰ نہیں دیتے ان کے پیچھے ہم نماز پڑھ لیتے ہیں۔ صرف ایک دھوکہ کی بات ہے۔ آپ تو مرزا قادیانی کے فتوے کے پابند ہیں۔ جب وہ ایسے خاموش لوگوں کو بھی کافر قرار دیتے ہوئے ان کے پیچھے نماز پڑھنے سے روکتے ہیں تو آپ عدول حکم کب کر سکتے ہیں۔
عقائد جماعت احمدیہ کی بحث ہو چکی۔ اب ہم آپ کو مرزا قادیانی کے چند اعجب العجائب اقوال بھی سنادیں۔
مرزا قادیانی کا عورت بن کر حاملہ ہو جانا اور بچہ جننا
مرزا قادیانی کا، چونکہ مسیح موعود ہونے کا دعویٰ ہے حالانکہ آنے والے مسیح کا نام عیسیٰ
١٠
بن مریم ہے اور آپ کا یہ نام نہیں نہ مریم کے ب ایسی توجیہ فرمائی کہ پڑھ کر ہنسی آتی ہے۔ فرماتے تک صفت مریمیت میں، میں نے پرورش پائی ا گزرے تو جیسا کہ براہین احمدیہ میں ہے، م استعارہ کے رنگ میں مجھے حاملہ ٹھہرایا گیا اور کئی سے عیسیٰ بنایا گیا۔ اس طور سے میں عیسیٰ بن مریم
عیسائیوں کی تثلیث تو سنا کرتے تھے سے عورت بن گئے۔ دو سال عورت کی صفت میں مہینے رہا۔ پھر بچہ (عیسیٰ) جنا۔ مرزا قادیانی تھے (مریم) آپ ہی بچہ (عیسیٰ) ہیں۔ سبحان اللہ!
کوئی سمجھے تو کیا سمجھے...... کوئی جانے
پیش گوئیوں پر خدا کے دستخط
اور انبیاء سے تو مکالمہ بذریعہ وحی ہو اللہ میاں تشریف لاتے ۔ پیش گوئیوں کی مسل جاتے ہیں۔ (حقیقت الوحی ص ٢٥٥، خزائن ج ٢٢ ہیں کہ مرزا نے اپنی پیش گوئیوں کی مسل دستخط ک نے بغیر تامل کے دستخط کر دیئے۔ دستخط کرتے قادیانی کے کرتے اور ان کے مرید عبداللہ کی (مرزا قادیانی نے معاذ اللہ) اللہ تعالیٰ کو ایک خ اور کپڑے سیاہ کر لیتا ہے۔
بن مریم ہے اور آپ کا یہ نام نہیں نہ مریم کے بیٹے ہیں۔ اس لئے آپ نے عیسیٰ بن مریم بننے کی ایسی توجیہ فرمائی کہ پڑھ کر ہنسی آتی ہے۔ فرماتے ہیں: ”جیسا کہ براہین احمدیہ سے ظاہر ہے دو برس تک صفت مریمیت میں، میں نے پرورش پائی اور پردہ میں نشو ونما پاتا رہا۔ پھر جب اس پر دو برس گزرے تو جیسا کہ براہین احمدیہ میں ہے، مریم کی طرح عیسیٰ کی روح مجھ میں نفخ کی گئی اور استعارہ کے رنگ میں مجھے حاملہ ٹھہرایا گیا اور کئی مہینے کے بعد جو دس مہینے سے زیادہ نہیں، مجھے مریم سے عیسیٰ بنایا گیا۔ اس طور سے میں عیسیٰ بن مریم ٹھہرا۔“
(کشتی نوح ص ٤٦، ٤٧، خزائن ج ١٩ ص ٥٠)
عیسائیوں کی تثلیث تو سنا کرتے تھے۔ مرزا قادیانی ان سے بھی بڑھ گئے۔ آپ مرد سے عورت بن گئے۔ دو سال عورت کی صفت میں پرورش پائی۔ پھر آپ کو حمل بھی ہو گیا۔ وہ دس مہینے رہا۔ پھر بچہ (عیسیٰ) جنا۔ مرزا قادیانی تھے تو ایک ، مگر ، آپ ہی مرد غلام احمد ، آپ ہی عورت (مریم) آپ ہی بچہ (عیسیٰ) ہیں۔ سبحان اللہ!
کوئی سمجھے تو کیا سمجھے ...... کوئی جانے تو کیا جانے
پیش گوئیوں پر خدا کے دستخط
اور انبیاء سے تو مکالمہ بذریعہ وحی ہوا کرتا تھا۔ مرزا قادیانی کے پاس (معاذ اللہ) خود اللہ میاں تشریف لاتے۔ پیش گوئیوں کی مسل پیش ہو جاتی ہے۔ سرخی کے قلم سے دستخط کئے جاتے ہیں۔ (حقیقت الوحی ص ٢٥٥، خزائن ج ٢٢ ص ٢٦٧) میں بالتفصیل اس واقعہ کا ذکر فرماتے ہیں کہ مرزا نے اپنی پیش گوئیوں کی مسل دستخط کرانے کے لئے خدا تعالیٰ کے پیش کی۔ اللہ تعالیٰ نے بغیر تامل کے دستخط کر دیئے۔ دستخط کرتے وقت قلم کو چھڑکا تو سرخی کے قطرات اڑ کر مرزا قادیانی کے کرتے اور ان کے مرید عبداللہ کی ٹوپی پر جا پڑے۔ اب تک نشانات موجود ہیں۔ (مرزا قادیانی نے معاذ اللہ ) اللہ تعالیٰ کو ایک خام نویس طفل مکتب بنالیا۔ جو لکھتے ہوئے ہاتھ منہ اور کپڑے سیاہ کر لیتا ہے۔
١١
ایک عجیب فرشتہ
مرزا قادیانی بقول شخصے ”جیسی روح ویسے فرشتے“ خود بدولت پنجابی نبی تھے۔ آپ کے پاس فرشتے بھی پنجابی آتے ہیں اور وحی بھی پنجابی ہوتی ہے، فرماتے ہیں:
”٥؍ مارچ ١٩٠٥ء کو میں نے خواب دیکھا کہ ایک شخص جو فرشتہ معلوم ہوتا تھا۔ میرے سامنے آیا اور اس نے بہت سا روپیہ میرے دامن میں ڈال دیا۔ میں نے اس کا نام پوچھا اس نے کہا نام کچھ نہیں۔ میں نے کہا کہ آخر کچھ نام تو ہونا چاہئے۔ اس نے کہا میرا نام ہے ٹیچی۔ ٹیچی پنجابی زبان میں وقت مقررہ کو کہتے ہیں۔ یعنی عین ضرورت کے وقت پر آنے والا۔ تب میری آنکھ کھل گئی۔ بعد اس کے خدا تعالیٰ کی طرف سے کیا ڈاک کے ذریعہ سے اور کیا براہ راست لوگوں کے ہاتھوں سے اس قدر مالی فتوحات ہوئیں جتنا خیال و گمان نہ تھا اور کئی ہزار روپیہ آیا۔“
(حقیقت الوحی ص ٣٣٢، خزائن ج ٢٢ ص ٣٤٦)
کیا آج تک کسی نے فرشتہ کا یہ انوکھا نام ٹیچی ٹیچی سنا؟ مرزا قادیانی نبی بنیں تو فرشتوں کے ایسے ایسے عجیب و غریب نام بتائیں۔ واہ کیا کہنا۔ مرزا قادیانی کے یہ الہام نہیں بلکہ ”اضغاث احلام“ ہیں۔ پنجابی میں مثل مشہور ہے ”بلی کا خواب چھچھڑے“ مرزا قادیانی کو روپوں کے ہی خواب آتے ہیں اور ایسے ایسے فرشتوں کا نزول ہوتا ہے کہ نام سن کر ہی دنگ رہ جائیں۔
مسلمانو! غور کرو۔ کیا کوئی ذی بصیرت ایک منٹ کے لئے بھی ایسے شخص کو ملہم، مجدد یا رسول اور نبی تسلیم کر سکتا ہے؟ مرزا قادیانی نے چند روز اپنی دکان خوب چلائی، روپے خوب بٹے۔ اولاد کے لئے بھی ایک سبیل پیدا کر گئے۔ مقبرہ بہشتی میں جو شخص دفن ہو کر جنت لینا چاہے۔ وہ آپ کی اولاد کے نام اپنی کچھ زمین بیع کر دے اور براہ راست بہشت بریں میں چلا جائے۔
بھائیو! اگر اس نازک وقت میں ایمان کی سلامتی مطلوب ہے تو مسلمانوں کی بڑی جماعت (سوادِ اعظم) مقلدین اہل سنت والجماعت سے مل جاؤ۔ ”اتبعوا السواد الاعظم فانه من شذ شذ فی النار“
الراقم خاکسار ابوالفضل محمد کرم الدین دبیر، متوطن بھیں ضلع جہلم مؤلف آفتاب ہدایت ١٢
محکم دلائل وبراہین سے مزین
متنوع ومنفرد موضوعات پر مشتمل
مفت آن لائن مکتبہ
دوستانہ
جناب علاؤ الدین احمد
اَنَا خَاتَمُ النَّبِيّٖنَ لَا نَبِيَّ بَعْدِيْ
میں آخری نبی ہوں، میرے بعد کوئی نبی نہیں۔
دوستانہ نصیحت
جناب علاؤ الدین احمد بی۔ اے، بی۔ ایل
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
سچا واقعہ
برادران اسلام! میرے دوست احمدی نے باوجود علم دین سے بے خبری کے ایک سچے بزرگ پر مخلوق پرستی کا سخت الزام لگایا تھا۔ جن کے علم و فضل اور کمال دین داری کے وہ بھی نہایت معتقد تھے۔ اس کی وجہ کوئی سمجھ میں نہیں آتی۔ بجز اس کے کہ باوجود نیک ہونے کے احمدی مرزائی ہونے کا ایسا اثر ہوا کہ خیال پرستی اور خود پرستی اس قدر سماگئی کہ ایک بڑے فاضل سچے بہی خواہ سے بدگمان ہو کر انہیں ناجائز الزام لگایا اور تیرہ درونی کا یہ حال ہے کہ میں نے ان کے خیال کی غلطی نہایت روشن کر کے دکھائی اور بت پرستوں کی طرح ان کی مرزا پرستی ثابت کی اور وہ اس کے جواب سے عاجز رہے۔
مگر اپنے خیال سے نہ ہٹے۔ اب پھر خیر خواہانہ کہتا ہوں کہ اگر میری لاجواب تحریر کی وہ وقعت نہیں کرتے تو ایسے بزرگ عالم و فاضل کے رسالوں کو دیکھیں جن کا علم و فضل ہندوستان کے علاوہ عرب و عجم میں مشہور ہے۔ ان کے معتقدین اور مریدین تمام ہندوستان کے علاوہ حرمین شریفین، مکہ معظمہ اور مدینہ منورہ اور شام و روم اور افریقہ میں بھی ہیں۔ میں اس وقت دو رسالوں کا حوالہ دیتا ہوں۔ وہ دو رسالے ایسے محققانہ اور بے نظیر طریقہ سے لکھے گئے ہیں کہ ان کے دیکھنے اور سمجھنے کے بعد کوئی حق پرست مرزا قادیانی کو ایک منٹ بھی سچا نہیں مان سکتا۔
- ١....... فیصلہ آسمانی حصہ۔ ٢....... شہادت آسمانی۔
(بحمدہ تعالیٰ احتساب قادیانیت ج ٧ کے اوّل میں یہ چاروں رسائل شائع ہو گئے ہیں)
ان دونوں رسالوں میں مرزا قادیانی کے کاذب ہونے کی دلیلیں صراحتاً اور ضمناً اس قدر بیان کی ہیں کہ ہر ایک حق پرست انہیں دیکھ کر متحیر ہو جاتا ہے کہ ایسے سچے رہنماء رسالوں کو دیکھ کر حضرات مرزائی کیوں بہک رہے ہیں اور ایسے صریح کذب کو کیونکر مان رہے ہیں؟ یہ دوسری شہادت آسمانی پہلے سے بہت بڑی اور نہایت ہی عمدہ ہے۔ ان رسالوں میں قرآن کریم کی متعدد آیتوں سے اور صحیح حدیث سے اور عقلی دلیلوں سے اور مرزا قادیانی کے پختہ اقراروں سے انہیں کاذب اور در پردہ مخالف اسلام ثابت کیا ہے۔ خیر خواہ اسلام! علاؤ الدین احمد ، بی۔اے ۔ بی۔ایل۔ بھاگلپوری
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ بعد حمد خدا اور نعت سید الانبیاء علیہ الصلوٰۃ والسلام
پوری مسلمانوں کی خدمت میں عرض کرتا ہوں کہ اتفاقاً میں نے صاحب بی۔اے۔ احمدی کو خط لکھا تھا۔ اس کا سبب صرف ی سے پورا واقف ہوں کہ ہمیشہ سے وہ نیک خیال اور راست ب کرنے والے۔ مگر جب سے احمدی ہوئے اور قادیان ہو ک سی حالت نہیں دیکھتا۔ چونکہ رابطہ اور دوستی کا تقاضا یہی ہے ک رہے۔ اس لئے میں نے انہیں خط لکھا اور مرزا قادیانی ک چاہا۔ مگر افسوس ہے کہ وہ متوجہ نہ ہوئے اور میری کسی بات اوراق سیاہ کر دیئے۔
میرے اعتراضوں کے جواب میں یہ کہا کہ ا پھر کیا اعتراضوں کی وجہ سے مذہب کو چھوڑ دیا جائے اعتراضات ہر قسم کے ہوتے ہیں۔ سچوں نے جھوٹے مدعی کیا ہے اور جھوٹوں نے سچے انبیاء پر بھی اعتراضات کئے یکساں ہیں؟ ہرگز نہیں۔ جس طرح تثلیث پرستی اور بت اٹھائے ہیں یا جس قسم کے اعتراضات مرزا قادیانی پر کئے دے سکتا۔ کیا آپ کے خیال میں اسلام پر بھی ایسا ہی کوئی اگر آپ کا خیال ایسا ہے تو آپ کا اسلام ہر گ صاف کیجئے۔ اسلام پر کوئی ایسا اعتراض نہیں ہو سکتا۔ جیس اور اس کا امتحان اس طرح ہو سکتا ہے کہ مرزا قادیانی پر جواب تم یا کوئی تمہارا بھائی جو بڑے سے بڑا مولوی ہو، و اس کا جواب ہم خود دیں گے۔ یا کسی عالم سے دریافت کر اور تمہارے مذہب کا فرق بخوبی ظاہر ہو جائے گا۔ اعتراضات مرزا قادیانی پر کئے گئے ہیں، نہایت صاف اقراروں سے کاذب ثابت کیا گیا ہے۔
٣
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
بعد حمد خدا اور نعت سید الانبیاء علیہ الصلوٰۃ والسلام کے خاکسار علاء الدین احمد بھاگل پوری مسلمانوں کی خدمت میں عرض کرتا ہے کہ اتفاقاً میں نے اپنے قدیم دوست مولوی عبدالمجید صاحب بی۔اے، احمدی کو خط لکھا تھا۔ اُس کا سبب صرف رابطہ قدیمانہ تھا۔ میں ان کی پہلی حالت سے پورا واقف ہوں کہ ہمیشہ سے وہ نیک خیال اور راست باز تھے اور صالحین اور بزرگوں کی قدر کرنے والے۔ مگر جب سے احمدی ہوئے اور قادیان ہو کر آئے ، اس وقت سے میں ان میں پہلی سی حالت نہیں دیکھتا۔ چونکہ رابطہ اور دوستی کا تقاضا یہی ہے کہ اپنے دوست کی خیر خواہی سے باز نہ رہے۔ اس لئے میں نے انہیں خط لکھا اور مرزا قادیانی کی واقعی حالت کی طرف انہیں متوجہ کرنا چاہا۔ مگر افسوس ہے کہ وہ متوجہ نہ ہوئے اور میری کسی بات کا جواب نہ دیا۔ فضول باتیں بنا کر چند اوراق سیاہ کر دیئے۔
میرے اعتراضوں کے جواب میں یہ کہا کہ اعتراضات تو اسلام پر بھی ہوتے ہیں۔ پھر کیا اعتراضوں کی وجہ سے مذہب کو چھوڑ دیا جائے۔ مگر سمجھدار حضرات سمجھ سکتے ہیں کہ اعتراضات ہر قسم کے ہوتے ہیں۔ سچوں نے جھوٹے مدعیوں پر اعتراضات کر کے انہیں لاجواب کیا ہے اور جھوٹوں نے سچے انبیاء پر بھی اعتراضات کئے ہیں۔ پھر کیا یہ دونوں قسم کے اعتراضات یکساں ہیں؟ ہرگز نہیں۔ جس طرح تثلیث پرستی اور بت پرستی پر اہل حق نے لاجواب اعتراضات اٹھائے ہیں یا جس قسم کے اعتراضات مرزا قادیانی پر کئے گئے ہیں اور کوئی ان کا مرید جواب نہیں دے سکتا۔ کیا آپ کے خیال میں اسلام پر بھی ایسا ہی کوئی اعتراض ہوتا ہے؟
اگر آپ کا خیال ایسا ہے تو آپ کا اسلام ہرگز قابل اعتبار نہیں ہے۔ اپنے عقیدے کو صاف کیجئے۔ اسلام پر کوئی ایسا اعتراض نہیں ہو سکتا۔ جیسے اعتراضات مرزا قادیانی پر ہوتے ہیں اور اس کا امتحان اس طرح ہو سکتا ہے کہ مرزا قادیانی پر تو ہم نے اعتراضات کئے ہیں۔ اس کا جواب تم یا کوئی تمہارا بھائی جو بڑے سے بڑا مولوی ہو، وہ جواب دے اور تم اسلام پر اعتراض کرو اس کا جواب ہم خود دیں گے۔ یا کسی عالم سے دریافت کر کے لکھیں گے۔ اس سے مذہب اسلام کا اور تمہارے مذہب کا فرق بخوبی ظاہر ہو جائے گا۔ میں پورے استحکام سے کہتا ہوں کہ جو اعتراضات مرزا قادیانی پر کئے گئے ہیں، نہایت صاف طور سے قرآن و حدیث اور خود ان کے اقراروں سے کاذب ثابت کیا گیا ہے۔
٣
ان کا جواب آپ یا آپ کا کوئی مولوی یہاں سے قادیان تک نہیں دے سکتا اور اسلام پر جو اعتراضات کئے گئے ہیں۔ ان کے جوابات دیئے گئے ہیں۔ چوری جیسے جرم میں ہاتھ کاٹا جانا نہایت معقول سزا ہے۔ جس کی وجہ سے عامہ خلائق کی کمائی محفوظ رہ سکتی ہے۔ اگر چند مجرم اس جرم کے اسی طرح سزایاب ہو جائیں تو اس بادشاہ کے ملک سے یہ جرم گویا جاتا رہے اور تمام رعیت کا مال و متاع محفوظ ہو جائے۔ کسی کو چوری کا خیال بھی نہ رہے۔ عام نفع کے لئے ایک خاص کا ضرر عقل بے تامل جائز رکھتی ہے۔ جس طرح بعض جرم میں بڑے بڑے دانشمندوں نے دائم الحبس کی سزا مقرر کی ہے اور قتل کی سزا میں ساری دنیا کے دانشمند سولی کی سزا تجویز کرتے ہیں۔ حالانکہ جو شبہات آپ نے چور کی سزا پر کئے ہیں۔ وہ اس سولی پر بھی ہوتے ہیں۔ بلکہ اس سے بھی زیادہ۔ خوب غور کر لیجئے مگر کوئی دانشمند ان کی طرف توجہ نہیں کرتا۔ خوب سمجھ لو کہ اسلام پر اگر کوئی اعتراض کرے گا تو میرے خیال میں وہ صرف اس کی بدگمانی ہو گی۔ یا اس کی عقل ناقص کے ڈھکوسلے، جیسے تم نے کئے ہیں اور یہ کوئی اعتراضات نہیں ہیں۔ اگر کہو گے تو تفصیل کر دی جائے گی۔ مگر پہلے میں نے اعتراضات کا سلسلہ چھیڑا ہے اور عرصے سے تمہارے گروہ پر اس قسم کے اعتراضات ہو رہے ہیں۔ تم ان کا جواب دو اس کے ختم کے بعد میں حاضر ہوں۔
دوسری بات یہ کہی کہ مرزا قادیانی کو آپ معیار ولایت پر جانچتے ہیں اور ہم معیار نبوت پر۔ آپ کا یہ مقولہ میری سمجھ میں نہیں آیا۔ میں نہایت مشتاق ہوں کہ اول دونوں معیاروں کو آپ بیان کریں۔ خصوصاً معیار نبوت کو تاکہ ہم دیکھیں کہ وہ کیسا معیار ہے کہ جس مدعی کو قرآن حدیث کاذب قرار دیں اور خود اس کے اقوال اسے کاذب ٹھہرائیں۔ مگر وہ معیار اسے صادق بنا دے، یہ عجیب بات ہے۔
میں نے یہ خیال کیا کہ میرے خط سے میرے دوست کو تو فائدہ نہ ہوا۔ مگر اس خیال سے کہ شاید کسی دوسرے کو فائدہ پہنچے۔ اس لئے میں نے قصد کیا کہ اس خط کو مشتہر کروں جو خط میں نقل کروں گا۔ مرسلہ خط سے اس میں کہیں کہیں بغرض توضیح کچھ زیادہ کر دیا گیا ہے اور کہیں ان کے جواب الجواب کی طرف اشارہ کیا ہے اور خط کے بعد بھی کسی قدر اجمالی جواب دیا جائے گا۔ چونکہ میں ان کے خط سے یہ سمجھا کہ انہیں اس قسم کی خط و کتابت پسند نہیں ہے۔ اس لئے میں نے اصلی جواب سے سکوت اختیار کیا۔ ورنہ جی تو چاہتا تھا کہ ان کے تمام خیالات کی نسبت کچھ لکھوں۔ خصوصاً ان اعتراضوں کا مفصل جواب دوں جو انہوں نے اسلام پر کئے ہیں اور اپنے ناقص خیال میں انہیں لاجواب سمجھتے ہیں۔ وہ خط ذیل میں درج کیا جاتا ہے۔
٤
تمہید
میرے کرم فرماء آپ کا رسالہ اظہارِ حق اتفاقاً مجھے ملا۔ میں نے دیکھنا شروع کیا۔ صفحہ ٥ میں میں نے یہ جملہ دیکھا کہ ہمارے جناب مولوی عصمت اللہ صاحب میں مخلوق پرستی آ گئی ہے۔ ورنہ سلسلہ عالیہ احمدیہ کی مخالفت ہرگز نہ کرتے۔ اسے دیکھ کر مجھے افسوس ہی نہیں بلکہ صدمہ ہوا اور دو وجہ سے ہوا۔
اوّل ! تو تمہاری پہلی حالت یاد آئی کہ پہلے کیسے نیک خیال اور مولانا کے معتقد تھے اور اب کیا انقلاب ہو گیا۔ نہ وہ حق پرستی رہی اور نہ وہ راست بازی۔ دوسرے یہ کہ حضرت مولانا محمد عصمت اللہ صاحب سے باخدا اور بزرگ شخص کو تم مخلوق پرست کہتے ہو اور خدا سے نہیں ڈرتے۔ میں نے مانا کہ مولانا نے پہلے مرزا قادیانی کی بہت سی کتابیں نہایت توجہ اور عقیدت سے دیکھیں اور مرزا قادیانی کی طرف انہیں رجحان ہوا۔ یہ ان کی حق جوئی تھی۔ جس طرح بعض اور علماء بھی ان کی طرف متوجہ ہوئے تھے۔ مگر جب ان کے دعووں میں ترقی ہوتی گئی اور غلط نشانات کا غل مچنے لگا۔ اس وقت یکے بعد دیگرے ان سے علیحدہ ہونے لگا۔
مولانا عصمت اللہ صاحب مرحوم چونکہ مستقل مزاج اور بہت زیادہ نیک تھے۔ انہیں دیر تک حسنِ ظن رہا۔ مگر نکاح والی پیشین گوئی نے انہیں پہلے کچھ بدگمان کیا اور مکرر انہوں نے کہا کہ یہ پیشین گوئی پوری ہوتی نظر نہیں آتی اور اس پر لاجواب اعتراضات ہوں گے۔ اس کے بعد حضرت مولانا سید محمد علی صاحب کی توجہ اس طرف ہوئی اور مولانا محمد عصمت اللہ صاحب مرحوم سے گفتگو مرزا قادیانی کے باب میں ہوتی رہی۔ چونکہ کمال علم وفضل کے ساتھ سچے خدا پرست اور طالبِ حق تھے۔ مرزائیوں کی طرح مرزا پرست نہیں ہو گئے تھے اور باطل پرستی سے ان کا دل تاریک نہیں ہوا تھا اور پیشین گوئی کے پورا نہ ہونے سے بدگمانی کا تخم بھی دل میں جم گیا تھا اور واقف تھے کہ نبی کی پیشین گوئی جھوٹی نہیں ہو سکتی اور مرزا قادیانی کے بڑے دعوے کی پیشین گوئی جھوٹی ہوئی۔
جس کے ضمن میں کئی پیشین گوئیاں اُن کی جھوٹی ہوئیں اور بہت سی باتوں میں ان کی بناوٹ ثابت ہوئی۔ جن سے بالیقین ثابت ہو گیا کہ مرزا قادیانی اپنے دعویٰ میں یقیناً جھوٹے ہیں۔
١؎ فیصلہ آسمانی حصہ ٣ میں اس کی پوری تفصیل ملاحظہ کی جائے۔ اس میں قرآن مجید کی متعدد آیات سے ثابت کیا ہے کہ نبی کی پیشین گوئی جھوٹی نہیں ہوتی۔ صفحہ ٧١ سے ٨٩ تک اس کی تشریح کی ہے۔ اس کے بعد ص ٩٠ سے آخر کتاب تک مرزا قادیانی کی جھوٹی پیشین گوئیاں بیان کی ہیں اور پھر اس جھوٹ کو سچ بنانے کے لئے مرزا قادیانی نے جو کوشش کی تھی۔ اس کی کیسی دھجیاں اڑائی ہیں کہ سبحان اللہ، بیان نہایت لائق دید ہے۔
٢؎ اس کی تفصیل فیصلہ آسمانی کے حصہ اوّل میں دیکھنا چاہئے۔
٥
ان وجوہ سے ان کی کامل تشفی ہو گئی۔ ان میں مخلوق پرستی کی کوئی وجہ نہیں ہو سکتی۔ علم دینی میں کمال رکھتے تھے۔ کامل درجہ کے راستباز تھے۔ حق گو تھے۔ ایک سکول کے ہیڈ مولوی تھے۔ کسی کے محتاج نہ تھے۔ کسی وقت ان کے حالات سے ان کے عادات سے حرص وطمع کی بو بھی نہیں پائی گئی۔ حضرت مولانا سید محمد علی صاحب ان کے پیر بھائی تھے۔ کوئی وجہ نہیں ہو سکتی کہ ایسا ذی علم اور اس صفت کا شخص ایک پیر بھائی کے کہنے سے ایسے شخص کو چھوڑ دے جنہیں مجدد وقت اور مسیح موعود مان چکا ہو۔ بغیر اس کے کہ اپنے خیال کی غلطی اور اس مدعی کا کذب نہایت روشن طریقے سے بالیقین معلوم نہ کرے۔ ایسا خیال کرنا نہایت حماقت ہے۔
مشفقم سچی بات یہ ہے کہ وہ پورے عالم دین اور طالب حق تھے۔ تمہاری طرح نیم ملا خطرہ ایمان کے مصداق اور مرزا قادیانی کی محبت میں عقل و فہم کھو نہیں بیٹھے تھے۔ اس لئے وہ ہلاکت سے بچ گئے۔ تم اپنی حالت پر نظر کرو کہ مرزا قادیانی نے کیسی ہی علانیہ غلطی کی ہو اور کوئی خیر خواہ تمہیں اس غلطی کو بلکہ اس کے صریح کذب کو دکھائے۔ مگر تمہیں وہ نظر نہیں آتا۔ تم دکھانے والے ہی کو جھوٹا جانتے ہو اور مرزا قادیانی کی موافقت میں کوئی محض جھوٹی بات کہہ دے تو تم اسے فوراً سچا مان لیتے ہو۔ مثلاً مرزا قادیانی کے غلط دعویٰ کے اظہار میں فیصلہ آسمانی میں صالح بن طریف کو دکھایا اور کتاب کا اور مقام کا پورا پتہ لکھ دیا۔ مگر تم حق طلب کی فریاد میں لکھتے ہو کہ ہم نے سارا ابن خلدون چھان مارا، مگر صالح کا حال کہیں نہ ملا۔
اب جاہل مرزائی تو یہی سمجھیں گے کہ یہ حوالہ غلط ہے۔ غرضیکہ ایک نہایت سچے بزرگ کو شائستہ عنوان سے جھوٹا ٹھہرایا۔ اب صحیفہ رحمانیہ نمبر ٨، ٩ (نوٹ: صحائف رحمانیہ کے ٢٤ نمبرات شائع ہوئے جو تمام کے تمام احتساب قادیانیت ج ٥ میں شائع ہوچکے ہیں۔ فلحمد للہ!) میں ابن خلدون کی عبارت معہ اس کے ترجمہ کے دیکھ لو تاکہ آپ کی اور آپ کے مرزائی جماعت کی حالت معلوم ہو جائے۔
اب موافقت کی حالت دیکھئے کہ مرزا قادیانی کے الہام ”کن فیکون“ پر جو اعتراض کیا گیا تو کسی مرزائی نے کہہ دیا کہ حضرت شیخ عبد القادر جیلانی کو بھی یہ الہام ہوا تھا اور فتوح الغیب کا حوالہ بھی دے دیا۔ اسے تم نے یقین کر لیا اور اپنے رسالہ ”حق نما“ میں لکھ کر مشتہر کر دیا۔ حالانکہ محض غلط ہے فتوح الغیب میں حضرت شیخ نے ہرگز نہیں لکھا کہ مجھے ایسا الہام ہوا۔ اے مہربان! جب تمہاری یہ حالت ہے کہ صریح جھوٹ کو سچ باور کر لیتے ہو اور سچی بات جو کتاب میں موجود ہے، وہ تمہیں نظر نہیں آتی۔ پھر تم اپنے تئیں اس لائق خیال کرتے ہو کہ تم مرزا قادیانی کو معیار نبوت پر
٦
جانچ سکتے ہو اور جانچتے ہو اور اس معیار پر مـ عصمت اللہ صاحب مرحوم کو یہ قابلیت نہ تھی۔ د
مرزائی جماعت کی خوشامد اور تعریف محبت میں یا نفسانی رو میں سرشار ہو کر عاقبت بر اگر تم میں مرزا پرستی غالب نہ ہوتی اور ناجائز قادیانی پر ہرگز ایمان نہ لاتے اور نبی کی تو بڑی بـ تمہاری دوسری جماعت مان رہی ہے۔
مونگیر میں جو رسالے اس کی نسبت بـ رہا ہے کہ مرزا قادیانی اپنے دعویٰ میں صادق نہـ ثبوت دیا گیا ہے۔
اصل خط
مشفقم ........ اب میں بنظر خیر خواہی آپ سے کہتا حق، کلمۃ الحکمۃ، ضالۃ المومن پر عمل کرنے والے ایسے ہی ہیں جیسے ہنود بت پرست ہیں۔ چنانچہ یہ کے غلط ہونے کے بدیہی دلائل موجود ہیں اور ابـ ہیں اور ان پر پیش کئے جاتے ہیں اور بہت سے ہنـ سے علیحدہ نہیں ہوتے۔ ان کے دلوں میں بھی شبہا کوئی مہمل سی بات کہہ دی۔ لالہ نے مان لی۔
مجید یاد کرو اپنے اس ریمارک کو جو تم نـ کہ ننگے سر اور ننگے پیر بیجنا ناتھ جی جا رہے تھے اور ہـ حال جماعت احمدیہ کا ہے کہ مرزا قادیانی نے صرف دلیل نہیں لا سکے اور جس قدر باتیں بنائیں ۔ جن کو آپ اپنے عقیدہ سے نہ ہٹے۔
اہل حق نے نہایت واضح طور پر ان کـ اقراروں سے انہیں کا ذب ثابت کیا ۔ مگر جس طر
٧
جانچ سکتے ہو اور جانچتے ہو اور اس معیار پر مرزا قادیانی کو جانچ کر انہیں نبی مانتے ہو اور مولانا عصمت اللہ صاحب مرحوم کو یہ قابلیت نہ تھی۔ دوست ذرا ہوش کر کے بات کرو۔
مرزائی جماعت کی خوشامد اور تعریف سے اپنے نفس کو خراب نہ کرو۔ مرزا قادیانی کی محبت میں یا نفسانی رو میں سرشار ہو کر عاقبت برباد نہ کرو۔ آخر میں یہ کہوں گا کہ اس میں شبہ نہیں کہ اگر تم میں مرزا پرستی غالب نہ ہوتی اور ناجائز شغف محبت سے تمہارا دل تاریک نہ ہوتا تو مرزا قادیانی پر ہرگز ایمان نہ لاتے اور نبی کی تو بڑی شان ہے۔ تم انہیں مقدس بزرگ بھی نہ مانتے جیسے تمہاری دوسری جماعت مان رہی ہے۔
مونگیر میں جو رسالے اس کی نسبت لکھے گئے ہیں۔ ان سے روز روشن کی طرح ظاہر ہو رہا ہے کہ مرزا قادیانی اپنے دعویٰ میں صادق نہ تھے اور ایک دلیل سے نہیں متعدد دلیلوں سے اس کا ثبوت دیا گیا ہے۔
اصل خط
مشفقم ....... اب میں بنظر خیر خواہی آپ سے کہتا ہوں کہ مولانا مرحوم تو نہایت حق پرست طالب حق ، بلکہ الحکمۃ ضالۃ المومن پر عمل کرنے والے تھے۔ مگر آپ کامل مخلوق پرست یعنی مرزا پرست ایسے ہی ہیں جیسے ہنود بت پرست ہیں۔ چنانچہ میرا خطاب بھی آپ کو یاد ہوگا جس طرح بت پرستی کے غلط ہونے کے بدیہی دلائل موجود ہیں اور ایسے روشن ہیں کہ کسی صاحب عقل پر پوشیدہ نہیں ہیں اور ان پر پیش کئے جاتے ہیں اور بہت سے ہنود صاحب عقل ذی رائے بھی ہیں۔ مگر بت پرستی سے علیحدہ نہیں ہوتے۔ ان کے دلوں میں بھی شبہات آتے ہیں۔ مگر جب پنڈت جی نے اس سے کوئی مہمل سی بات کہہ دی۔ لالہ نے مان لی۔
مجید یاد کرو اپنے اس ریمارک کو جو تم نے ایک ایم۔اے۔ بی۔ایل پر کیا تھا جو کامر لے کر ننگے سر اور ننگے پیر بیدیا ناتھ جی جا رہے تھے اور ہم اور تم پورنیہ سے بھاگل پور آ رہے تھے۔ یہی حال جماعت احمدیہ کا ہے کہ مرزا قادیانی نے صرف دعویٰ کیا اور اس کے ثبوت میں کوئی شرعی و عقلی دلیل نہیں لا سکے اور جس قدر باتیں بنائیں۔ جن کو دلیل میں پیش کیا۔ وہ محض غلط ثابت ہوئیں مگر آپ اپنے عقیدہ سے نہ ہٹے۔
اہل حق نے نہایت واضح طور پر ان کے کذب کے دلائل دکھائے۔ انہیں کے پختہ اقراروں سے انہیں کاذب ثابت کیا۔ مگر جس طرح بت پرست اپنی بت پرستی سے باز نہیں آتے
٧
اور کچھ نہ کچھ بات بنا کر اپنی تسلی کر لیتے ہیں۔ یہی حال جماعت احمدیہ کا ہے۔ آپ خفا نہ ہوں۔ میں نہایت صحیح واقعہ آپ سے کہہ رہا ہوں اور اس کی صحت کا ثبوت دینا اس طرح بخوبی ہوسکتا ہے کہ آپ کوئی دلیل مرزا قادیانی کے مسیح موعود ہونے کی بیان کریں اور قرآن مجید سے یا حدیث سے اور کم از کم کسی عقلی دلیل سے مرزا قادیانی کا مسیح موعود ہونا ثابت کریں۔ میں اس کی غلطی نہایت روشن طریقے سے دکھا دوں گا۔
غالباً یہ تو دکھا دیا جائے گا کہ خود مرزا قادیانی کے قول سے یہ دلیل لائق اعتبار نہیں ہے یا حوالہ دے دیا جائے گا کہ اس دلیل کا غلط ہونا فلاں بزرگ نے فلاں کتاب یا رسالہ میں لکھا ہے اور اس کا جواب کسی احمدی نے نہیں دیا اور اگر دیا ہے تو وہ جواب محض غلط ہے اور بالفرض اگر کوئی نئی دلیل پیش کریں گے تو اس کا نہایت معقول جواب دیا جائے گا۔ مگر یہ بتائیے کہ اس کا فیصلہ کس طرح ہوگا۔ آپ تو کسی طرح نہ مانیں گے۔ جس طرح بت پرست نہیں مانتے یا یوں دیکھ لیجئے کہ غلبہ صفرا کے وقت، صفراوی کو مزیدار کھانا بھی تلخ معلوم ہوتا ہے۔ اس لئے حکم ہونا چاہئے۔
اب میں کہتا ہوں کہ اگر آپ اپنے دعویٰ کے ثبوت میں کوئی دلیل پیش نہ کر سکیں تو ہم ان کے کذب کے دلائل کو پیش کریں اور آپ ان کا جواب دیں۔ اب میں آپ کی مخلوق پرستی ثابت کرنے کے لئے وہی دلیل پیش کروں گا جو ہمارے علماء پیش کر چکے ہیں اور اس کا جواب نہ مرزا قادیانی سے ہوسکا اور نہ ان کے کسی مرید سے۔ مگر چونکہ آپ پورے مرزا پرست ہو گئے ہیں اور باطل پرستی نے دل کو ایسا تاریک کر دیا ہے کہ حق و باطل آپ کو نہیں سوجھتا اور ”حبك الشئ یعمی ویصم“ نہایت مشہور اور سچا مقولہ ہے۔ اس لئے آپ کو وہ حقانی باتیں جن سے مرزا قادیانی کی راست بازی خاک میں ملتی ہے۔ وہ آپ کے ذہن میں نہیں آتیں۔
یہ میں جانتا ہوں کہ اوروں کی طرح آپ کسی بدنیتی سے ایسا نہ کریں گے۔ مگر علم دین سے بے خبری اور غلبہ محبت کی وجہ سے مجبور ہیں اور اس پر مزید یہ ہے کہ بعض خود پرست مولوی آپ کو پڑھانے والے اور سابق خیال پر روکنے والے آپ کو مل گئے۔ پھر تو کریلا اور نیم چڑھا ہو گیا۔ جیسا بت پرست بت کی عبادت پر مجبور ہوتا ہے اور کوئی پنڈت اس کی تائید کرتا رہتا ہے۔ آپ شاید یہ کہیں کہ ہم اپنے رسالے حق طلب کی فریاد میں مرزا قادیانی کی حقانیت کی دلیلیں لکھ چکے ہیں۔ مگر آپ سے خیر خواہانہ کہتا ہوں کہ آپ نے جو کچھ اس رسالہ میں لکھا ہے۔ وہ سب خام خیالی اور محض آپ کی غلطی ہے۔ اس سے مرزا قادیانی کی صداقت کسی طرح ثابت نہیں ہوسکتی۔ اس کا اجمالی جواب ملاحظہ کیجئے۔
پہلا جواب
اس رسالہ کا نہایت شافی جواب آپ کے ہیں۔ اس کا ایک حصہ ایک سو چوبیس صفحہ کا نہایت عمدہ ط چکا ہے۔ وہ ایسا کافی جواب ہے کہ کسی صاحب عقل کو ا میں دیکھا ہوگا کہ مرزا قادیانی کے کس قدر الہامات اور پ کی یہ شان ہوسکتی ہے کہ اس کے الہامات اور پیشین گو قادیانی کے کاذب ہونے کی یہی ایک دلیل کافی ہے۔
ہاں! آپ کا یہ کہنا کہ مرزا قادیانی کا یہ الہا غلط ہونے کے لوگ سچ مان رہے ہیں، حیرت ناک ہے بہت تھوڑے سے دنوں میں ایک لاکھ کے قریب ہو گئے محمد مصطفیٰ ﷺ موجود تھے۔ اس بابرکت عہد میں اس قد نثار کرنے والے ہو گئے تھے اور انہوں نے اپنی جان و کے نزدیک مسیلمہ کا یہ بہت بڑا معجزہ ہوگا۔ اس طرح ہو جاتا ہے۔ مگر بت پرست ان کی پرستش سے باز نہیں آ معجزہ ہونا چاہئے۔ ذرا دیکھئے تو سہی کہ آپ کی حالت ہوش کرو جس بات کو قرآن شریف اور توریت جھوٹے رہے ہو، یہی اسلام ہے؟
دوسرا جواب
ہم آپ کو اسی وقت نہایت مختصر بات میں مر جس سے ثابت ہو جائے گا کہ جن کو آپ نے حقانیت قادیانی کا شغف محبت اس غلطی پر پردہ ڈالے ہوئے ثابت ہو جائے تو حاکم کے نزدیک اس کی دوسری بات سے کہتا ہوں کہ مرزا قادیانی کے ناراست اقوال کا انبا ملاحظہ ہو شہادت القرآن میں جہاں مکتوبہ آسمانی کی ا ہے۔ اس کی تمہید میں لکھتے ہیں کہ ” پیشین گوئی کوئی ایس محض خدا کے اختیار میں ہے۔“
(شہا
٩
پہلا جواب
اس رسالہ کا نہایت شافی جواب آپ کے دوست مولوی عبدالحق صاحب لکھ چکے ہیں ۔ اس کا ایک حصہ ایک سو چوبیس صفحہ کا نہایت عمدہ چھپ کر آ گیا ہے اور آپ کے پاس بھیجا جا چکا ہے۔ وہ ایسا کافی جواب ہے کہ کسی صاحب عقل کو اس کے ماننے میں تامل نہیں ہوسکتا۔ اس میں دیکھا ہوگا کہ مرزا قادیانی کے کس قدر الہامات اور پیش گوئیوں کو غلط ثابت کیا ہے۔ پھر کیا نبی کی یہ شان ہو سکتی ہے کہ اس کے الہامات اور پیشین گوئیاں غلط ہوں۔ ایسا ہرگز نہیں ہوسکتا۔ مرزا قادیانی کے کاذب ہونے کی یہی ایک دلیل کافی ہے۔
ہاں ! آپ کا یہ کہنا کہ مرزا قادیانی کا یہ بہت بڑا معجزہ ہے کہ باوجود پیشین گوئیوں کے غلط ہونے کے لوگ انہیں مان رہے ہیں ، حیرت ناک بات ہے۔ مسیلمہ کذاب کے ماننے والے بہت تھوڑے سے دنوں میں ایک لاکھ کے قریب ہوگئے تھے اور اس وقت میں کہ حضرت سرور انبیاء محمد مصطفیٰ ﷺ موجود تھے ۔ اس بابرکت عہد میں اس قدر ماننے والے اور اس جھوٹے مدعی پر جاں نثار کرنے والے ہوگئے تھے اور انہوں نے اپنی جان دے دی۔ مگر مسیلمہ کذاب کو نہ چھوڑا تو آپ کے نزدیک مسیلمہ کا یہ بہت بڑا معجزہ ہوگا۔ اس طرح بتوں کی برائی میں بہت کچھ لکھا گیا ہے اور لکھا جاتا ہے۔ مگر بت پرست ان کی پرستش سے باز نہیں آتے تو آپ کے نزدیک یہ بتوں کا بہت بڑا معجزہ ہونا چاہئے ۔ ذرا دیکھئے تو سہی کہ آپ کی حالت بت پرستوں کے کیسے مشابہ ہوگئی ہے ۔ ذرا ہوش کرو جس بات کو قرآن شریف اور توریت جھوٹے مدعی کی علامت بتائے تم اسے بڑا معجزہ مان رہے ہو، یہی اسلام ہے؟
دوسرا جواب
ہم آپ کو اسی وقت نہایت مختصر بات میں مرزا قادیانی کا کاذب ہونا دکھائے دیتے ہیں۔ جس سے ثابت ہوجائے گا کہ جن کو آپ نے حقانیت کے دلائل سمجھا ہے۔ وہ آپ کی غلطی ہے ۔مرزا قادیانی کا شغف محبت اس غلطی پر پردہ ڈالے ہوئے ہے۔ کیونکہ جب مدعی یا شاہد کا ایک جھوٹ بھی ثابت ہوجائے تو حاکم کے نزدیک اس کی دوسری باتیں لائق اعتبار نہیں رہتیں۔ میں پورے دعوے سے کہتا ہوں کہ مرزا قادیانی کے ناراست اقوال کا انبار ہے۔ اس وقت بطور مثال بیان کرتا ہوں، ملاحظہ ہو شہادت القرآن میں جہاں منکوحہ آسمانی کی پیشین گوئی کا نہایت عظیم الشان ہونا بیان کیا ہے۔ اس کی تمہید میں لکھتے ہیں کہ ” پیشین گوئی کوئی ایسی چیز نہیں ہے کہ انسان کے اختیار میں ہو، بلکہ محض خدا کے اختیار میں ہے۔“
(شہادۃ القرآن ص ٨٠، ٨١، خزائن ج ٦ ص ٣٧٥، ٣٧٦)
٩
اب اس دعویٰ کا ثبوت نہ قرآن مجید سے ہے، نہ حدیث سے اور نہ عقل اور نہ تجربہ سے بلکہ عقل اور تجربہ نہایت صفائی سے بتاتے ہیں اور اہل دنیا مشاہدہ کر رہے ہیں کہ اہل دانش صاحب فراست، اپنی فراست اور دور بینی سے پیشین گوئی کرتے ہیں۔ رمال، نجومی، جوتشی اپنے اپنے علم کے ذریعہ سے پیشین گوئی کرتے ہیں اور بہت پیشین گوئیاں مشہور ہوتی ہیں اور سچی بھی نکلتی ہیں۔ اس لئے یہ کہنا کہ پیشین گوئی انسان کے اختیار میں نہیں ہے۔ کیسا صریح کذب ہے اور ایسا کذب ہے کہ کسی صاحب عقل پر پوشیدہ نہیں رہ سکتا۔ کیونکہ اس کا معائنہ اور مشاہدہ اکثر ہوتا رہتا ہے۔ جب ایسی بدیہی بات میں مرزا قادیانی راستی کے خلاف کہہ رہے ہیں۔ جس کی ناراستی عوام پر بھی روشن ہو سکتی ہے۔ تو ان کی ایسی بات پر کوئی حق طلب اعتماد نہیں کر سکتا۔ جس کی واقعی حالت ہم مشاہدہ نہ کر سکیں۔
اب اس کے بعد اگر بہت سی باتیں ایسے شخص کی صحیح بھی ہو جائیں تو ہر ایک ہوش مند اس کی صحت اتفاقیہ سمجھے گا۔ اس سے مدعی کا صادق ہونا ثابت نہیں ہو سکتا۔ ثبوت کذب کے لئے ایک جھوٹ کا ثبوت کافی ہے۔ کیا ایسا صریح کذب آپ حضرات سرور انبیاء علیہ الصلوٰۃ والسلام کا کوئی بیان کر سکتے ہیں اور ہمارے مذہب پر ایسا اعتراض آپ دکھا سکتے ہیں (استغفر اللہ) آپ کیا سارے مخالفین اسلام بھی ایسا نہیں کر سکتے۔ جس کو دعویٰ ہو وہ دکھائے اور خواہ مخواہ یہ کہہ دینا کہ ایسا اعتراض رسول اللہ ﷺ پر بھی ہوتا ہے، عوام کو فریب دینا ہے۔
تیسرا جواب
جس پیشین گوئی کا ذکر کیا گیا ہے۔ اس کو اپنی صداقت کا بہت ہی عظیم الشان نشان رکھتے ہیں۔ اس مبالغہ کو ملاحظہ کیجئے کہ اس نشان کو عظیم الشان نشان نہیں کہا۔ اس سے زیادہ عظمت بیان کرنے کے لئے بہت عظیم الشان کا لفظ تھا وہ بھی نہیں کہا۔ بلکہ نہایت اعلیٰ مرتبہ کے لئے جو لفظ اردو میں بولا جاتا ہے۔ اس لفظ سے اس نشان کی عظمت بیان کی اور لکھا کہ بہت ہی عظیم الشان نشان ہے۔ یہ وہ الفاظ ہیں۔ جن سے عظمت کی انتہاء ثابت ہوتی ہے۔ اس سے بڑھ کر عظمت کا کوئی مرتبہ نہیں ہو سکتا ہے۔
اب میں آپ سے دریافت کرتا ہوں کہ اس معمولی بات کی ایسی بے انتہاء عظمت بیان کرنا صریح کذب بلکہ ابلہ فریبی نہیں تو کیا ہے۔ مرزا قادیانی اس بڑی عظمت کی وجہ یہ بیان کرتے ہیں کہ اس پیشین گوئی کے چھ جز ہیں۔ یعنی اس پیشین گوئی میں چھ پیشین گوئیاں ہیں۔ مگر پیشین گوئی کوئی مجسم چیز نہیں ہے۔ جس کے چھ ٹکڑے ہو سکتے ہیں اور انہیں علیحدہ علیحدہ پیشین گوئی کہنا
١٠
غلط ہے۔ ایسا خیال کسی ذی عقل کا نہیں ہو سکتا۔ البتہ ایک مرتبہ وقت میں ایسی پیشین گوئی کی گئی۔ جس میں متعدد پیشین گوئیاں ہیں۔ ممکن تھا کہ انہیں علیحدہ علیحدہ بیان کر کے پیشین گوئیاں کرتے۔ مگر دونوں کا نتیجہ ایک ہے۔
اب میں کہتا ہوں کہ بہت اچھا! چھ نہیں بلکہ اٹھارہ سہی مگر ان پیشین گوئیوں کی وجہ سے وہ نشان ایسا عظیم الشان کیوں ہو گیا۔ اس کی عظمت کی کوئی وجہ تو بیان کیجئے۔ یہ تو راستے گلیوں میں پنڈت کہتے پھرتے ہیں کہ فلاں کی شادی اس سے ہوگی اور فلاں اتنی مدت میں مرے گا اور فلاں کے لڑکا پیدا ہوگا۔ کیا آپ کو اس کا تجربہ نہیں ہے۔ آپ یا آپ کے احباب میں سے کسی نے ضرور اس کا معائنہ کیا ہوگا۔ بعض وقت نجومی رمال ایسا کہتے پھرتے ہیں۔ بالخصوص پنجاب سے ایسے لوگ آتے ہیں۔ اب اگر ایسی پیشین گوئیاں پانچ، چھ، دس، بیس، سو، پچاس بھی سچی ہو جائیں تو اسے مدعی کی صداقت کا نشان کہنا محض غلط ہے۔ چہ جائیکہ اسے نہایت ہی عظیم الشان کہا جائے۔
اس میں شبہ نہیں کہ ایسا دعویٰ کرنے والے کو جھوٹا کہا جائے گا اور اگر میں غلط کہتا ہوں تو اس کی عظمت کی وجہ بیان کیجئے۔ مگر میں آپ سے قطعی طور سے کہتا ہوں کہ آپ اس قول میں مرزا قادیانی کو کسی طرح صادق ثابت نہیں کر سکتے۔ کوئی وجہ نہیں ہو سکتی کہ ایسی پیشین گوئی کو صداقت کا نشان کہا جائے۔ پھر عظیم الشان کہنا تو بڑی بات ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کسی نبی نے اپنی صداقت کی دلیل میں اپنی پیشین گوئیوں کو پیش نہیں کیا۔ قرآن شریف موجود ہے۔ دیکھئے کفار نے بار بار معجزہ طلب کیا ہے مگر سوائے اس کے کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنا عجز اور خدا کا اختیار بیان کیا ہو، کہیں نہیں کہا کہ ہم نے اس قدر پیشین گوئیاں کی ہیں۔ انہیں دیکھو اور فلاں پوری ہوگئی اور فلاں کا انتظار کرو۔ پیشین گوئیوں کو صداقت میں پیش کرنا مرزا قادیانی ہی کا ایجاد ہے۔ کسی نبی نے ایسا نہیں کیا۔
الغرض پیشین گوئی کو انسانی قدرت سے باہر بتانا اور پھر چند پیشین گوئیوں کو نہایت عظیم الشان نشان کہنا صریح دو جھوٹے دعوے ہیں۔ پھر جو شخص ایک جگہ ایک وقت دو باتیں محض ناراست بیان کرے۔ اسے کوئی عقلمند راست باز نہیں کہتا۔ مگر آپ اسے اعلیٰ درجہ کا راست باز سمجھ رہے ہیں۔ یہاں تک کہ نبوت کے درجہ تک پہنچا دیا۔ اس کی وجہ یہی ہے کہ غلبہ محبت وعقیدت سے عقل کو بے کار کر دیا ہے اور بت پرستوں کے مانند مرزا پرستی کر رہے ہیں۔ آپ کے رسالے کی دلیلیں واقع میں دلائل نہیں ہیں۔ آپ نے محض غلطی سے بلکہ ناجائز غلبہ محبت سے انہیں صداقت کی دلیل سمجھ رکھا ہے۔ معاف فرمائے گا آپ یہ خیال نہ کریں کہ ہم ذی علم ہیں۔ سمجھ دار ہیں۔ حق کی طلب رکھتے ہیں۔ پھر ہم کیونکر ایسی صریح غلطی سے آگاہ نہیں ہو سکتے۔
١١
مشفق میرے، خفانہ ہو جائیے۔ تثلیث پرستوں کو ملاحظہ کیجئے کیسے کیسے ذی علم اور ذی فہم ہیں آپ سے بہت زیادہ علم وفہم رکھتے ہیں۔ مگر تثلیث کے ماننے پر نجات کو منحصر بتاتے ہیں اور اس بدیہی البطلان دعویٰ کی غلطی ان کے خیال میں نہیں آتی۔ غلطی کی ہزار دلیلوں کو وہ محض غلط سمجھتے ہیں۔ علماء اسلام نے تثلیث کے بطلان میں بہت کچھ لکھا ہے۔ مگر وہ ذرا بھی توجہ نہیں کرتے۔ اسی طرح مرزا قادیانی کے کذب اور ان کے دعویٰ کی غلطی باوجود اظہر من الشمس ہونے کے اور حقانی علماء کے دکھانے کے آپ کی سمجھ میں نہیں آتی۔
آخر میں کہوں گا کہ آپ کے نزدیک اسلام پر ایسے پختہ اعتراض ہو سکتے ہیں؟ کیا آپ کے خیال میں رسول اللہ ﷺ نے (نعوذ باللہ) ایسے صریح جھوٹے دعوے کئے ہیں۔ جن کا جواب نہیں ہو سکتا۔ اگر آپ کے علم میں ہو تو ضرور اطلاع دیجئے اور اگر آپ ایسا نہیں دکھا سکتے تو مرزا قادیانی پر جو اعتراضات ہوتے ہیں۔ انہیں ویسے ہی اعتراضات خیال کرنا جیسے محض اپنی بدگمانی اور خام عقلی کی بنیاد پر بے دین اور منکر اسلام کرتے ہیں۔ کیسی ناسمجھی اور بے عقلی کی بات ہے۔ بھائی میرے اس پر غور کرو۔ مرزا قادیانی کے یہ دو جھوٹ ایسے صریح ہیں کہ ان کے جھوٹ ہونے میں کسی ذی علم اور عامی کو تامل نہیں ہو سکتا۔
مگر آپ بتائیں کہ آپ کے نزدیک یہ جھوٹ ہیں یا نہیں؟ اگر جھوٹ ہیں تو آپ کے معیار میں یہ بھی ہے کہ نبی جو خدا کی طرف سے ہدایت اور راست بازی پھیلانے کے لئے آیا ہے وہ ایسے صریح جھوٹ بھی بولتا ہے۔ باوجود اس کے جھوٹا ہونے کے وہ خدا کا رسول ہو سکتا ہے؟ اس کا جواب ہاں یا نہیں میں ضرور دیجئے اور اس کی وجہ بھی بیان کر دیجئے۔
چوتھا جواب
وہی پیشین گوئی جسے مرزا قادیانی نے اپنی صداقت کا نہایت ہی عظیم الشان نشان ٹھہرایا تھا۔ وہ بالکل غلط ثابت ہوئی اور اس میں جو متعدد وعدہ خداوندی بیان کئے گئے تھے، وہ سب غلط ہو گئے۔ اس لئے بموجب ارشاد خداوندی اور نصوص قرآنیہ کے مرزا قادیانی کاذب ٹھہرے۔ ان نصوص کا بیان متعدد رسالوں میں کیا گیا ہے اور انہیں آپ نے دیکھا ہے۔ فیصلہ آسمانی کے حصہ ٣ کو ذرا ٹھنڈے دل سے ملاحظہ کیجئے۔ اس میں وہ نصوص معہ ان کی تشریح کے آپ کو مل سکتے ہیں اور میں آپ کو یقینی طور سے کہتا ہوں کہ ان نصوص کا کوئی جواب نہیں ہو سکتا۔ آپ کے حضرت اگر تمام عمر ایڑی سے چوٹی تک زور لگائیں۔ مگر کوئی واقعی جواب نہیں دے سکتے۔
اور جو کچھ انہوں نے اپنے القاء میں لکھا ہے وہ محض ان کی ناسمجھی اور صریح غلطی ہے۔
١٢
زیادہ کہنا آپ کی نا خوشی کا باعث ہوگا۔ اس لئے محکمات ربانی ۔ (٣) صحیفہ رحمانیہ نمبر ١٠ ونمبر ١١، ١٢ میـ گا کہ مرزا قادیانی پر ایمان لانے سے اہل علم کی یہ تـ اس میں شبہ نہیں ہو سکتا کہ ہر مسلمان کو اـ اور غیور ہے کہ اس کے ایک وعدہ میں تخلف نہیں ہـ اور نہ اس کے وعدے میں کوئی پوشیدہ شرط ہو سکتیـ خیال کرلے اور اس کریم قادر کے وعدہ اور شیـ سوچئے۔ اس کی کامل تحقیق نہایت محققانہ طریقے سے ٨٧ تک ملاحظہ کیجئے۔ مگر افسوس یہ ہے کہ جو باـ ہی سچی اور قرآن اور حدیث سے ثابت ہو۔ مگر آپ قادیانیوں کے۔ ہائے منہ میں اللہ کی رحمت سے مایوـ ہوں۔ اُسعی منی والا تمام من اللہ ۔ آپ خیال کیجئے نہایت پختہ طور پر مرزا قادیانی نے برسوں بیان کیاـ گئے اور اس وعدہ کا ظہور نہ ہوا۔
١۔ ہائے منہ یہاں یہ کہا جاتا ہے کہ جس طرح پادری حضرت زینب کے نکاح پر کرتے ہیں۔ افسوس ہے کـ ہو گیا۔ کیسی عقل سلب ہو گئی ہے۔ حضرت زینب کی نـ مشابہت پیدا کرنے کے لئے مرزا قادیانی نے یہ دعویٰ کیاـ ہے کہ اس نے اس بناوٹ کو دنیا پر ظاہر کر دیا اور دنیا نے جـ نکاح دنیا میں ہوتا اور محمدی بیگم ان کی بیوی ہوتیں۔
جس طرح حضرت زینب نکاح میں آئیں اـ اسے کیونکر باور کر سکتا ہے کہ وہ قادر مطلق جس کا نکاح آسماـ فرضی اور خیالی نکاح حضرت زینب کے واقعی اور سچے نکاحـ جو بد گمانیاں کی گئی ہیں۔ ان کے دندان شکن جوابات ہمارے محمدی بیگم کی نسبت جو پختہ اعتراضات کئے جس نے کچھ لکھا اس کی غلطی ظاہر کر دی گئی۔ فیصلہ آسماـ دیکھے جائیں۔ اب ہمارے دوست دکھائیں کہ کس مرزائی
٣
زیادہ کہنا آپ کی ناخوشی کا باعث ہوگا۔ اس لئے نہیں کہتا۔ اس کا نمونہ (١) انوار ایمانی۔ (٢) محکمات ربانی۔ (٣) صحیفہ رحمانیہ نمبر١٠ ونمبر١١، ١٢ میں ملاحظہ کرلیجئے۔ اس سے یہ بھی معلوم ہوجائے گا کہ مرزا قادیانی پر ایمان لانے سے اہل علم کی یہ حالت ہوجاتی ہے۔
اس میں شبہ نہیں ہوسکتا کہ ہر مسلمان کو اس پر ایمان رکھنا فرض ہے کہ خدا تعالیٰ ایسا متین اور غیور ہے کہ اس کے ایک وعدہ میں تخلف نہیں ہوسکتا۔ اس کے تمام وعدے پورے ہوتے ہیں اور نہ اس کے وعدے میں کوئی پوشیدہ شرط ہوسکتی ہے۔ جس کی وجہ سے بندہ اسے شیطانی وعدہ خیال کر لے اور اس کریم قادر کے وعدہ اور شیطانی وعدہ میں وہ فرق نہ کرسکے۔ اسے خوب سوچئے۔ اس کی کامل تحقیق نہایت محققانہ طریقے سے حصہ ٣ فیصلہ آسمانی میں کی گئی ہے۔ ص ٧٣ سے ٧٨ تک ملاحظہ کیجئے۔ مگر افسوس یہ ہے کہ جو بات مرزا قادیانی کے خلاف ہوگی۔ اگرچہ وہ کیسی ہی سچی اور قرآن اور حدیث سے ثابت ہو، مگر آپ اسے نہ مانیں گے اور پھر آپ اس پر اور روغن قاز ملیں گے۔ باایں ہمہ میں اللہ کی رحمت سے مایوس نہیں ہوتا اور آپ کی خیر خواہی کرنے پر تیار ہوں۔ السعی منی والاتمام من اللہ۔ آپ خیال کیجئے کہ منکوحہ آسمانی کے نکاح میں آنے کا وعدہ الٰہی نہایت پختہ طور پر مرزا قادیانی نے برسوں بیان کیا، مگر دونوں صاحب اس جہاں سے تشریف لے گئے اور اس وعدہ کا ظہور نہ ہوا۔
١؎ بالجملہ یہاں یہ کہا جاتا ہے کہ جس طرح یہاں منکوحہ آسمانی پر اعتراض کیا جاتا ہے۔ اسی طرح پادری حضرت زینبؓ کے نکاح پر کرتے ہیں۔ افسوس ہے کہ ایک لفظ کے مشترک ہونے سے پورا اعتراض یکساں ہوگیا۔ کیسی عقل سلب ہوگئی ہے۔ حضرت زینبؓ کی نسبت یہ کہا گیا ہے کہ آپ کا نکاح آسمان پر ہوا تھا۔ ایسی مشابہت پیدا کرنے کے لئے مرزا قادیانی نے یہ دعویٰ کیا کہ محمدی بیگم سے میرا نکاح ہوگیا آسمان پر مگر خدا کا شکر ہے کہ اس نے اس بناوٹ کو دنیا پر ظاہر کر دیا اور دنیا نے جان لیا کہ یہ دعویٰ ان کا محض غلط تھا ورنہ ضرور تھا کہ ان کا نکاح دنیا میں ہوتا اور محمدی بیگم ان کی بیوی ہوتیں۔
جس طرح حضرت زینبؓ نکاح میں آئیں اور رسول اللہ ﷺ کی بیوی ہوئیں۔ کسی مسلمان کا ایمان اسے کیونکر باور کرسکتا ہے کہ وہ قادر مطلق جس کا نکاح آسمان پر کردے۔ اس کا ظہور زمین پر نہ ہو۔ پھر یہ محمدی بیگم کا فرضی اور خیالی نکاح حضرت زینبؓ کے واقعی اور سچے نکاح کے کیونکر مشابہ ہوگیا؟ ذرا غور کرو حضرت زینبؓ کی نسبت جو بدگمانیاں کی گئی ہیں۔ ان کے دندان شکن جوابات ہمارے علماء نے دیئے ہیں۔ ردّ نصاریٰ کی کتابیں دیکھئے۔
محمدی بیگم کی نسبت جو پختہ اعتراضات کئے گئے ہیں۔ ان کے جوابات کوئی مرزائی نہیں دے سکا اور جس نے کچھ لکھا اس کی غلطی ظاہر کردی گئی۔ فیصلہ آسمانی اور تتمہ اور تنزیہ ربانی اور معیار صداقت وغیرہ رسالے دیکھے جائیں۔ اب ہمارے دوست دکھائیں کہ کس مرزائی نے ان کا جواب دیا ہے۔
١٣
یہ وعدہ کس طرح کیا گیا ہے اور کس کس طریقے سے وعدہ کے ظہور کا یقین دلایا گیا ہے۔ وہ اقوال لائق ملاحظہ ہیں۔ (حصہ ٣ فیصلہ آسمانی ص ١٠٩ سے ١١٢) اس پیشین گوئی کے پورا نہ ہونے سے مرزا قادیانی یقیناً کاذب ثابت ہوا۔ کیونکہ اگر یہ وعدہ الٰہی ہوتا تو ضرور پورا ہوتا ، مگر نہیں ہوا۔ اس لئے یقیناً معلوم ہوا کہ یہ وعدہ الٰہی نہ تھا۔ اب اس اعتراض کا بہت پرانا بوسیدہ جواب تو وہی ہے جو خود مرزا قادیانی نے دیا ہے۔ یعنی یہ وعدہ مشروط بشرط تھا اور شرط کے پورا ہو جانے سے مشروط فسخ ہو گیا یا التواء میں پڑ گیا۔
اس جواب کا بوسیدہ ہونا تو اس سے ظاہر ہے کہ ساری دنیا کے نزدیک یہ بات تو مسلم اور یقینی ہے کہ شرط پائی جائے تو مشروط کا پایا جانا ضرور ہے۔ اس سے ظاہر ہے کہ اگر نکاح کے لئے کوئی شرط تھی اور وہ شرط پوری کر دی گئی تو نکاح ہونا ضرور تھا۔ مگر یہ الٹا بدیہی البطلان قاعدہ مرزا قادیانی بیان کر رہے ہیں کہ شرط کے پائے جانے سے مشروط فسخ یا ملتوی ہو گیا۔ یہ مرزا قادیانی کی کوئی الہامی منطق ہوگی۔ جو کسی ذی علم اور ذی ہوش کے خیال میں نہیں آسکتی۔ بجز ان کے جنہوں نے اپنی عقل کو مرزا قادیانی پر قربان کر دیا اور مثل بت پرستوں کے مرزا پرستی ان کے رگ و پے میں سما گئی ہو۔
اگر کسی صاحب کو مرزا قادیانی کے اس جواب کی بوسیدگی معلوم کرنی ہو۔ تو (فیصلہ آسمانی حصہ ٣ ص ١١٤) آخر تک ملاحظہ کرتے۔ نہایت محکم نو دلیلیں اس جواب کے غلط ہونے کی لکھی گئی ہیں۔ مگر میں نے کسی مقام پر لکھا ہوا دیکھا ہے کہ آپ کی تسلی اس طرح پر ہوئی کہ اس وعدہ کا پورا ہونا اس وجہ سے ملتوی ہوا کہ وعید پوری ہوئی، اور یہ وعید اس لئے پوری نہ ہوئی کہ اس کا شوہر اپنے خسر کے مرجانے سے نہایت خائف ہو گیا تھا اور خوف کی وجہ سے وعید کا ٹل جانا سنت اللہ میں داخل ہے۔ یعنی اللہ کی عادت ہے کہ خوف کی وجہ سے اپنے وعید کو پورا نہیں کرتا۔
- ١....... اب جو دریافت کیا جائے گا کہ اس کے شوہر کے اس قدر خائف ہونے کا کیا ثبوت
ہے تو بجز اس کے آپ کچھ نہیں کہہ سکتے کہ مرزا قادیانی نے فرمایا ہے اور ہمارا اس پر ایمان ہے۔ مگر واقعہ میں مرزا قادیانی کا یہ بھی ایک کذب ہے۔ احمد بیگ کا داماد کسی وقت خائف نہ ہوا۔ رسالہ اشاعۃ السنۃ میں اس کے خائف نہ ہونے کا پورا ثبوت دیا ہے۔ اب اگر یہ پوچھا جائے گا کہ بغیر ایمان لائے صرف خوف سے وعید الٰہی کا ٹل جانا کہاں سے ثابت ہے قرآن سے، حدیث سے؟
١٤
اس کے جواب میں آپ بجز اس کے قادیانی کا ارشاد ہے اور ہم ان پر ایمان لاچکے ہیں مرزا قادیانی کا یہ چوتھا جھوٹ ہے۔ شخصی وعید کسی د میں موجود ہے۔
حاصل یہ ہے کہ اس جواب کی بنیاد دو د دوسرا دعویٰ یعنی صرف خوف کی وجہ سے وعید کا ٹل جا نصوص قرآنیہ اور صحیح حدیث سے ثابت ہے۔ اس با نام مخلوق پرستی ہے کہ قرآن وحدیث کو چھوڑ کر مرزا باتوں پر نظر نہیں کی جاتی۔ مولانا عصمت اللہ مرحوم مخلوق پرست ہو گئے ۔ اگر وہ قرآن وحدیث اور ص باتوں کو مان لیتے تو اس وقت وہ آپ کے نزدیک مخل مرزا پرستی میں آپ کے نزدیک حاصل ہے۔
افسوس اسی طرح تثلیث پرست اور بت ہوں تو آپ اس کی وجہ بیان کریں۔ ہم اس کے سننے ہشتم، جب خدا کے رسول بھی ایسی جھو کیونکر اعتبار کیا جاسکتا ہے مہربان ذرا تو سوچئے۔
- ٢...... اب میں آپ کے خیال کی غلطی دوسر
ہوں کہ توجہ سے آپ ملاحظہ کریں گے۔ آپ اس رشتہ کا ذکر ہے اور مرزا قادیانی نے احمد بیگ سے کہا اڑھائی سال میں اور اس کا باپ تین برس کے اندر م جائے گا۔
یہاں دو باتوں پر غور کرنا ضروری ہے۔ ا پر گذشتہ اور آئندہ کی کوئی بات پوشیدہ نہیں رہ سکتی۔ دوسرے دونوں وعیدوں کی مدت کو دی مدت کم بیان ہوئی ہے بہ نسبت اس کے والد کے۔
١٥
اس کے جواب میں آپ بجز اس کے اور کچھ نہیں کہہ سکتے کہ کہیں سے نہیں، مرزا قادیانی کا ارشاد ہے اور ہم ان پر ایمان لا چکے ہیں۔ ہمارے نزدیک بیشک صحیح ہے۔ مگر واقعہ میں مرزا قادیانی کا یہ چوتھا جھوٹ ہے۔ شخصی وعید کسی طرح نہیں ٹلتی۔ اس کا کافی ثبوت فیصلہ آسمانی میں موجود ہے۔
حاصل یہ ہے کہ اس جواب کی بنیاد دو دعوؤں پر ہے اور وہ دونوں غلط ہیں اور بالخصوص دوسرا دعویٰ یعنی صرف خوف کی وجہ سے وعید کا ٹل جانا ہرگز ثابت نہیں ہے اور شخصی وعید کا پورا ہونا نصوص قرآنیہ اور صحیح حدیث سے ثابت ہے۔ اس لئے یہ جواب غلط ہے۔ بھائی صاحب! اس کا نام مخلوق پرستی ہے کہ قرآن وحدیث کو چھوڑ کر مرزا قادیانی کو مانا جاتا ہے اور ان کی صریح جھوٹی باتوں پر نظر نہیں کی جاتی۔ مولانا عصمت اللہ مرحوم نے یہ نہیں کیا اس لئے وہ آپ کے نزدیک مخلوق پرست ہو گئے۔ اگر وہ قرآن وحدیث اور عقل کو چھوڑ کر آنکھ بند کر کے مرزا قادیانی کی باتوں کو مان لیتے تو اس وقت وہ آپ کے نزدیک مخلوق پرست نہ ہوتے ، بلکہ خدا پرست ہوتے جو مرزا پرستی میں آپ کے نزدیک حاصل ہے۔
افسوس اسی طرح تثلیث پرست اور بت پرست بھی خیال کرتے ہیں۔ اگر میں غلط کہتا ہوں تو آپ اس کی وجہ بیان کریں۔ ہم اس کے سننے کے بہت مشتاق ہیں۔
ہشتم ، جب خدا کے رسول بھی ایسی جھوٹی باتیں کہیں تو پھر ان کے دعویٰ رسالت پر کیونکر اعتبار کیا جاسکتا ہے مہربان ذرا تو سوچئے۔
- ٢....... اب میں آپ کے خیال کی غلطی دوسرے طریقے سے بیان کرتا ہوں اور امید رکھتا
ہوں کہ توجہ سے آپ ملاحظہ کریں گے۔ آپ اس اشتہار کو دیکھئے ۔ جس میں سب سے پہلے اس رشتہ کا ذکر ہے اور مرزا قادیانی نے احمد بیگ سے کہا ہے کہ اگر یہ رشتہ دوسری جگہ ہوگا تو اس کا شوہر اڑھائی سال میں اور اس کا باپ تین برس کے اندر مر جائے گا اور انجام کار وہ لڑکی میرے نکاح میں آئے گی۔
(مجموعہ اشتہارات ج ١ ص ١٥٨)
یہاں دو باتوں پر غور کرنا ضروری ہے۔ ایک یہ کہ یہ وعدہ اس علام الغیوب کا ہے۔ جس پر گذشتہ اور آئندہ کی کوئی بات پوشیدہ نہیں رہ سکتی ۔
دوسرے دونوں وعیدوں کی مدت کو دیکھا جائے ۔ یعنی اس کے شوہر کے مرنے کی مدت کم بیان ہوئی ہے بہ نسبت اس کے والد کے ۔ کیونکہ شوہر کے موت کو ڈھائی برس کی وسعت
١٥
دی اور اس کے والد کے موت کو تین برس کی۔ اس بیان کا اقتضاء یہ ہے کہ پہلے اس کا شوہر مرے۔ اس کے بعد اس کا باپ، ورنہ اس کی مدت میں زیادہ وسعت دینے کی کوئی وجہ نہیں ہو سکتی۔ اگر معاملہ برعکس ہو تو یہ بیان جاہلانہ ہو جائے گا، جس کا منجانب اللہ ہونا کسی مومن کے خیال میں نہیں آسکتا۔
اب اگر اس وحی کے مطابق ظہور میں آتا تو نہ وعید کی وجہ سے رکتی اور نہ وعدہ کے ظہور میں کوئی مانع پیش آتا اور بموجب نصوص قطعیہ کے وعدہ اور وعید دونوں پورے ہوتے اور خدائے کریم کے صادق الوعد ہونے میں کسی طرح کا خلل نہ آتا اور کسی ملحد بے دین کو اعتراض کا موقع نہ ملتا۔ یعنی اس کا شوہر ڈھائی برس کے اندر اپنے خسر کے انتقال سے پہلے مر جاتا۔ اس کے بعد احمد بیگ اس کا خسر مرتا اس صورت میں احمد بیگ کے داماد کو اور اس کے رشتہ داروں کو خوف و ہراس کی نوبت ہی نہ آتی اور وعید پوری ہو جاتی اور محمدی بیگم مرزا قادیانی کے نکاح میں آ جاتی اور وعدہ الٰہی پورا ہو جاتا۔ کہئے کیسی عمدہ صورت میں نے وعدہ اور وعید دونوں کے پورا ہونے کی بیان کی۔ کیا یہ بات بھی آپ کے سمجھ میں نہیں آتی؟
- ٣....... اب اگر ہم اس جواب سے بھی قطع نظر کریں اور آپ کی خاطر سے یہ کہہ دیں کہ اس
کے والد کو پہلے ہی مرنا تھا اور اس وجہ سے اس کے شوہر کو غم والم اور خوف کا ہونا مقدر ہو چکا تھا۔ اس لئے ایسا ہوا تو آپ یہ فرمائیے کہ خدا تعالیٰ کو اس شدنی امر کی خبر نہ تھی کہ مرزا قادیانی سے حتمی وعدہ کر لیا اور کہہ دیا کہ انجام کار تیرے نکاح میں ضرور آئے گی اور سب مانع دور ہوں گی۔ ذرا لفظ انجام کار پر غور کیجئے اور نکاح میں آنے کے لئے لفظ ضرور کو دیکھئے۔ جن سے ظاہر ہو رہا ہے کہ جس قدر موانع ہیں۔ وہ سب دور ہوں گے اور انجام کار وہ نکاح میں ضرور آئے گی۔ اب خیال کیجئے کہ جو مانع پیش آیا اس کا علم بھی اسے ہوگا۔ اگر وہ مانع دور نہیں ہو سکتا تھا تو یہ کہنا کہ سب مانع دور ہوں گے، صریح غلط ہوا یا نہیں۔
بالجملہ وعدہ کرنے میں خلاف وعدگی اور کذب کا الزام اسے ضرور آئے گا۔ نہایت ظاہر ہے کہ باوجود مانع معلوم ہونے کے اس نے مکرر حتمی وعدہ کیا اور نہایت زور سے اس کے نکاح میں آنے کا یقین دلایا۔ اس کا نتیجہ بالضرور یہ ہوگا کہ اس نے قصداً جان کر ایک جھوٹا وعدہ کیا۔ جس طرح پکے دنیا دار کیا کرتے ہیں۔
اے مہربان تم مسلمان ہو کر خدائے پاک کی نسبت ایسی بدگمانی جائز رکھتے ہو۔ افسوس
١٦
ذرا ہوش کرو، کیسی غلطی پر پڑے ہو۔ آپ کو یہاں ضرور کہنا ہوگا کہ مرزا قادیانی کا یہ الہام قطعا شیطانی تھا یا مرزا قادیانی نے خدا پر افتراء کیا۔
مہربان میرے! کیا اس میں شک ہوسکتا ہے کہ مرزا قادیانی کی عظمت آپ کے دل میں ایسی بیٹھی ہے کہ خدائے قدوس پر یہ سخت الزام آپ کے ذہن میں نہ آیا اور ایک نہایت غلط بات سے آپ کی تسکین ہو گئی اور اس دعوٰی کی تحقیق کی طرف آپ کو توجہ نہ ہوئی۔ مجسم مخلوق پرستی اسے کہتے ہیں کہ اسے مخلوق کے سوا کچھ نہیں سوجھتا۔ خدا پر الزام آئے اسے بھی کچھ خیال نہ کریں۔ حد ہے اس مکابرہ مستقل میں ایسے سرشار ہیں کہ کچھ خبر ہی نہیں ہے۔ یہی خیال پیش نظر ہے کہ ہمارا محبوب الزام سے بچے اس کا ہوش نہیں کہ اس الزام سے بچانے میں خدا پر الزام آتا ہے۔
- ٤...... اب میں چوتھے طریقے سے آپ کے خیال کی غلطی ظاہر کرتا ہوں اور یہ طریقہ نہایت
ظاہر اور بہت آسان ہے۔ وہ یہ ہے کہ مرزا قادیانی اپنے الہام کن فیکون کے بموجب ارادہ کرتے کہ اس کا شوہر طلاق دے دے اور کن کہہ دیتے یعنی طلاق ہو جائے۔ اس کہنے سے اس کا ظہور ہو جاتا۔ دوسری مرتبہ ارادہ کرتے کہ محمدی میرے نکاح میں آ جائے اور کن کہہ دیتے، وہ نکاح میں آ جاتی۔ اب آپ فرمائیں کہ اس میں کون مانع تھا۔ اب تو کوئی وعید مانع نہیں ہو سکتی۔ اس طریقے سے اس کے شوہر کا مرنا ضرور نہیں ہے۔
- ٥...... پانچواں طریقہ بھی ملاحظہ کیجئے۔ محمدی بیگم اپنے شوہر سے لڑ کر یا خوشامد سے کچھ دے
کر طلاق لیتی۔ اگر اس کے پاس دینے کے لئے نہ ہوتا تو مرزا قادیانی سے طلب کرتی اور مرزا قادیانی چندہ کر کے دیتے۔ جس طرح تمام باتوں کے لئے ان کی عادت تھی اور ممکن تھا کہ مرزا اسی طریقہ سے طلاق کا ارادہ کرتے اور ان کے کن کہہ دینے سے طلاق کا ظہور اسی طرح ہو جاتا یعنی طلاق کا ظہور دو طور سے ہو سکتا تھا۔ ایک یہ کہ محمدی کے بغیر طلب کئے اس کا شوہر اسے طلاق دے دیتا۔ دوسرا یہ کہ محمدی کے طلب کرنے کے بعد طلاق دیتا۔
کہئے جناب! یہ دونوں طریقے آپ کے خیالی جواب کو کیسا غلط بتا رہے ہیں۔ مگر بایں ہمہ آپ کچھ خیال نہیں کرتے۔ حق طلب کی سچی فریاد میں آپ کا یہی اعتراض چھپا ہے۔ مگر یہاں آ کر آپ اسے بھی بھول جاتے ہیں۔ اسی الہام کن فیکون کی نسبت آپ لکھتے ہیں کہ اگر اس الہام کی کچھ بھی اصلیت تھی۔ یعنی اگر صرف بات ہی بات نہ تھی تو کیوں نہیں۔ حضرت مرزا قادیانی نے
١٧
لفظ کن سے اپنا سب کام کر لیا۔ احمد بیگ اور اس کی ہمشیرہ کے پاس خوشامد اور دھمکی کے خط لکھنے کی زحمت اٹھانے کے بدلے کیوں نہیں ایک کن سے سب کو راضی کر کے شادی کر لی؟
بالفرض اگر غیر سے شادی ہو چکی تھی تو ایک یا دو یا حد تین کن سے سب موانع دور ہو سکتے تھے اور پھر محمدی بیگم کے ساتھ عقد کر لیتے۔
- ٢...... ان اعتراضات کو قوت حافظہ میں محفوظ رکھ کر بیان ذیل کو غور سے ملاحظہ کیا جائے۔
یہاں کئی باتیں معلوم کرنا ضرور ہیں۔
- ١...... مرزا قادیانی کا الہام ”انما امرك اذا اردت شيئا ان تقول له كن فيكون “
(تذکرہ ص ٥١٧ طبع ٣) یعنی مرزا قادیانی اپنی یقینی وحی یہ بیان کرتے ہیں کہ میری نسبت اللہ تعالیٰ نے
یہ فرمایا ہے کہ تیری حالت یا تیرا مرتبہ یہ ہے کہ تو جس چیز کا ارادہ کرے اور کہہ دے کن یعنی ہو جا وہ فوراً ہو جائے گی۔ مرزا قادیانی اپنی وحی والہام کا یقینی ہونا ایسا ہی بتلاتے ہیں جیسا قرآن مجید اور اس پر ویسا ہی ایمان لانا فرض جانتے ہیں۔ جس طرح توریت وانجیل و قرآن پر۔
(حقیقت الوحی ص ٢١١، خزائن ج ٢٢ ص ٢٢٠) ملاحظہ ہو اس بنیاد پر اس الہام کی اصلیت میں
کچھ تردد نہیں ہو سکتا۔ بلکہ اس کا یقین ہو جانا چاہئے کہ مرزا قادیانی کو یہ قدرت دی گئی ہے۔
- ٢...... ایسے قطعی یقینی اور الہام کی نسبت آپ کا یہ کہنا کہ اگر اس الہام کی کچھ بھی اصلیت
تھی۔ یعنی صرف بات ہی نہ تھی۔ کیا معنی رکھتا ہے۔ جب آپ کے حضرت کا الہام ہے اور اسے وہ قرآن کے مثل کہتے ہیں۔ پھر اس کی نسبت یہ کہنا چہ معنی دارد اور اگر اس کی کچھ اصلیت تھی اور بات ہی بات نہ تھی۔ اس جملہ سے صاف ظاہر ہے کہ ان کے بعض الہامات ایسے بھی ہو سکتے ہیں۔ ان کی کچھ اصلیت نہ ہو اور صرف بات ہی بات ہو۔ مگر پھر بھی قرآن مجید کی مثل یقینی، ایسا خیال اور ایسا اعتقاد لائق دید ہے۔ جب ایسی خوش فہمی ہو تو مرزا قادیانی کو نبی مان لینا کوئی تعجب کی بات نہیں ہے۔
ہاں! اگر آپ یہ کہیں کہ یہ خیال اس وقت تھا جب ہم اس سلسلہ میں بیعت نہ ہوئے تھے۔ اس کے بعد وہ خیال نہیں رہا۔ تو اس کی وجہ بیان کرنی چاہئے کہ وہ خیال کیوں پلٹ گیا؟ اس الہام کے غلط ہونے کی تو آپ نہایت صاف دلیل بیان کر رہے ہیں۔ اس کے بعد کیا بات آپ نے دیکھی جو ایسی صاف اور روشن بات کا جواب ہو سکے اور مرزا قادیانی الزام سے بچ سکیں۔ مگر میرے خیال میں اس کا کوئی جواب نہیں ہو سکتا اور مرزا قادیانی اس الہام کے بیان میں ضرور
١٨
کاذب ہیں۔ اگر الہام ان کا سچا ہوتا تو مرزا قادی آنے سے ہوئی۔
- ٣...... رسالہ اظہار الحق آپ نے سچی فریاد
آپ کا اوپر نقل کیا گیا ہے۔ اس کا جواب آپ ی بے تکے حوالے تو کئی نقل کئے (جن کی حالت ک اعتراض کا کیا جواب ہوا جو اوپر مذکور ہے۔ کسی پاس کیا جواز یا علم یہ کہہ دے کہ مذکورہ اعتراض کے ص ١٢ میں لکھا گیا ہے۔
الغرض اس میں کوئی شبہ نہیں کہ جو کچھ ہے۔ تاہم جماعت احمدیہ کہتی ہے کہ اظہار ح اس قدر کافی ہے۔ واقع میں جواب ہے یا نہیں اب
- ٤...... اس کے علاوہ میں ایک خاص بات ک
اور تعجب کی نظر سے اسے نقل کرتا ہوں۔ ص ١١ کے
” فتوح الغیب سے معلوم ہوتا ہے دوسروں کو بھی عطا ہو سکتا ہے۔“
جناب من! فتوح الغیب میں یہ ہرگ کہا۔ کتاب موجود ہے۔ بتائیے کہاں ہے؟ جن احمدی جماعت میں جھوٹ کی کثرت بہت ہے آپ نے اپنے حضرت سے دریافت کیا ہے اور ا کرلیا ہے۔
یا احمدی ہونے کا نتیجہ آپ میں بھی ظ درجہ مخلوق پرستی سما گئی ہے کہ ایک بزرگ نے یہ فر طریف کا حوالہ دیا تھا اور اس کا پورا پتہ ونشان ب سارا ابن خلدون چھان مارا۔ مگر صالح بن طریف
اے عیاں راچہ بیاں آپ سمجھ گئے ہونک
کاذب ہیں۔ اگر الہام ان کا سچا ہوتا تو مرزا قادیانی کی رسوائی ہرگز نہ ہوتی جو محمدی کے نکاح میں نہ آنے سے ہوئی۔
- ......٣......رسالہ اظہارالحق آپ نے سچی فریاد کا جواب لکھا ہے۔ اب یہ فرمائیے کہ جو اعتراض
آپ کا اوپر نقل کیا گیا ہے۔ اس کا جواب آپ نے کیا دیا ہے۔ آپ نے اپنے حضرت کی تعلیم سے بے تکے حوالے تو کئی نقل کئے (جن کی حالت کسی وقت آپ کو معلوم ہوگی) مگر یہ بتائیے کہ اس اعتراض کا کیا جواب ہوا جو اوپر مذکور ہے۔ کسی صاحب عقل کی سمجھ میں یہ نہیں آسکتا کہ بی اے پاس کیا ہوا ذی علم یہ کہہ دے کہ مذکورہ اعتراض کے جواب کا اس بیان سے کوئی تعلق نہیں جو اظہار کے ص١٢ میں لکھا گیا ہے۔
الغرض اس میں کوئی شبہ نہیں کہ جو کچھ اس میں لکھا ہے اسے جواب سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ ہاں ہمہ جماعت احمدیہ کہتی ہے کہ اظہارحق سچی فریاد کا جواب ہے۔ ان کی تسکین کے لئے اس قدر کافی ہے۔ واقع میں جواب ہے یا نہیں اس سے انہیں بحث نہیں ہے۔
- ......٤......اس کے علاوہ میں ایک خاص بات کا ذکر کرنا مناسب خیال کرتا ہوں اور نہایت حیرت
اور تعجب کی نظر سے اسے نقل کرتا ہوں۔ ص١٢ کے آخر سطر سے ان کی یہ عبارت ہے۔
”فتوح الغیب سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت پیران پیر کو بھی یہ درجہ عطاء ہوا تھا دوسروں کو بھی عطا ہو سکتا ہے۔“
جناب من! فتوح الغیب میں یہ ہرگز نہیں ہے۔ جس کسی نے آپ سے کہا، محض غلط کہا۔ کتاب موجود ہے۔ بتائیے کہاں ہے؟ جس مقام پر اس کا ذکر ہے وہ میرا دیکھا ہوا ہے۔ احمدی جماعت میں جھوٹ کی کثرت بہت ہے۔ مگر آپ سے نہایت تعجب ہے۔ معلوم ہوتا ہے کہ آپ نے اپنے حضرت سے دریافت کیا ہے اور انہوں نے یہ کہہ دیا ہے اور آپ نے بے تامل باور کرلیا ہے۔
یا احمدی ہونے کا نتیجہ آپ میں بھی ظاہر ہو گیا۔ ذرا کچھ تو اپنی حالت پر غور کیجئے کہ کس درجہ مخلوق پرستی سما گئی ہے کہ ایک بزرگ نے بہ نظر خیر خواہی مرزا قادیانی کے خلاف میں صالح بن طریف کا حوالہ دیا تھا اور اس کا پورا پتہ ونشان بھی بتا دیا تھا۔ مگر تم اس کی نسبت لکھتے ہو کہ ہم نے سارا ابن خلدون چھان مارا۔ مگر صالح بن طریف کا پتہ نہ ملا۔
اے میاں راجہ میاں آپ سمجھ گئے ہوں گے۔
١٩
افسوس مرزا قادیانی کی محبت نے ایسا عقل کو سلب کر دیا ہے کہ کتاب کا حوالہ دے کر اس کی جلد بھی بتلائی ہے اور جلد میں وہ مقام بھی بتایا گیا ہے جہاں صالح کا ذکر ہے۔ مگر اس مقام کو نہیں دیکھتے اور لکھتے ہو کہ سارا ابن خلدون چھان مارا اور مرزا قادیانی کی موافقت میں جو کسی احمدی نے محض غلط مضمون بتا دیا۔ اس پر آپ کو ایمان جلدی سے آ گیا اور چھاپ کر مشتہر بھی کر دیا۔ کہیے یہ اعتراض تو خاص آپ پر ہے۔ اس کا جواب کیوں نہ دیا۔
اگر جواب نہیں دے سکتے تھے تو غلطی کا اقرار کرتے اور اس کی وجہ بیان نہ کرتے۔ اس قسم کی باتیں ہیں جو پہلے تم میں نہ تھیں۔ مرزا قادیانی کی محبت کے اثر نے تمہیں ایسا کر دیا۔ جب تم ایسے نیک انسان کا یہ خیال ہو گیا تو دوسرے جاہل یا دنیا پرستوں کا کیا ذکر کیا جائے؟
- ٥...... آپ کی اس فاحش غلطی کے علاوہ میں یہ کہتا ہوں کہ بالفرض اگر حضرت پیران پیر نے
ایسا لکھا بھی ہوتا تو اس سے اس اعتراض کا جواب کیوں کر ہو جاتا جو اوپر نقل کیا گیا ہے۔ اعتراض کا حاصل تو یہ ہے کہ مرزا قادیانی نے اپنی صداقت کے ثبوت میں پیش گوئی کی تھی اور اس پیشین گوئی کو اپنی صداقت کا بہت ہی عظیم الشان نشان ٹھہرایا تھا۔ وہ پیشین گوئی یہ تھی کہ محمدی بیگم میرے نکاح میں آئے گی اور اس کا شوہر مرے گا اور یہ ہوگا، وہ ہوگا۔ برسوں یہی کہتے رہے، مگر کچھ نہ ہوا۔
اب اگر مذکورہ الہام سچ تھا تو کن کہہ کر یہ کام کیوں نہ کر لیا اور ساری دنیا کے روبرو جھوٹے اور کاذب کیوں ہوئے؟ اس دعویٰ کے غلط ہو جانے سے مرزا قادیانی کے تمام دعوے لائق اعتبار نہ رہے۔ اگر حضرت پیران پیر کو ایسا الہام ہوا تھا تو یہ بتائیے کہ ان کا کون سا کام اٹکا رہا جس کی وجہ سے اس الہام کو غلط کہا جاتا اور انہوں نے کون سی مہدویت اور مسیحیت کا دعویٰ کر کے اس کے ثبوت میں پیشین گوئی کی تھی اور وہ پوری نہیں ہوئی اور جب تک اس کا ثبوت نہ ہو، اس وقت تک جواب میں اس قول کو پیش کرنا کسی فہمیدہ ایماندار کا کام نہیں ہے۔
اے مہربان ! ذرا تو سوچو، خط کے تیسرے نمبر میں جو اعتراضات تم نے خود کئے ہیں۔ جن کا ذکر بطور خلاصہ میں نے اوپر کیا ہے۔ ان کے جواب تم نے اپنے رسالہ اظہار حق میں دیئے ہیں۔ جو عوام پر یہ ظاہر کرتے ہو کہ ہم نے حق طلب کی سچی فریاد کا جواب دیا ہے۔ خواہ مخواہ چند آیتیں لکھ کر جاہل احمدیوں پر اپنی قابلیت دکھائی جس کو جواب سے کچھ واسطہ نہیں۔ کیا دیانت کا یہی مقتضاء ہے کہ امرِ حق پر پردہ ڈال کر عوام کو دھوکہ دیا جائے اور جو بات اعتراض کا جواب نہیں ہے۔ اسے جواب کے پیرایہ میں ذکر کر کے عوام کے خیال میں اسے جواب ٹھہرایا جائے۔ افسوس اے دوست تم پہلے اس خیال کے ہرگز نہ تھے۔ یہ تمہارے احمدی ہونے کا اثر ہے۔
٢٠
- ٦...... اس کے سوا تیسری بات اور ملاحظہ کیجئے۔ بالفرض اگر ان کا الہام ایسا ہوتا اور وہ غلط بھی
ثابت ہو جاتا تو کوئی الزام کی بات نہ تھی۔ کیونکہ ان کا یہ دعویٰ نہ تھا کہ میرا الہام ایسا ہی قطعی اور یقینی ہے۔ جیسا قرآن مجید یا یہ کہ میرے دعویٰ اور میرے الہامات کے ماننے پر نجات موقوف ہے۔ جیسا کہ مرزا قادیانی کا دعویٰ ہے۔ جب یہ نہیں ہے تو اگر ان کا کوئی الہام غلط ہو جائے تو ان پر کوئی الزام نہیں آسکتا۔ یہ بہت مشہور ہے کہ اولیاء اللہ کے الہامات ظنی ہوتے ہیں۔ مرزا قادیانی چونکہ اپنے الہام کو مثل قرآن مجید کے قطعی اور یقینی سمجھتے ہیں۔ اس لئے ان پر یہ اعتراض ضرور ہوگا۔ اب آپ مکرر غور کیجئے کہ آپ پر یہاں تین اعتراض ہوئے ہیں۔
- اول...... یہ کہ آپ نے غلط حوالہ دیا۔ یعنی جو مضمون فتوح الغیب میں آپ بتاتے ہیں۔ وہ اس
میں نہیں ہیں۔
- دوم...... یہ کہ جس قسم کی عاجزی مرزا قادیانی کی ثابت ہوئی۔ حضرت پیران پیر کی ثابت نہیں
ہے۔ اس لئے ان پر اعتراض نہیں ہوسکتا۔ مگر مرزا قادیانی پر ہوگا۔
- سوم...... بالفرض اگر کسی وجہ سے ان کا الہام غلط ثابت ہو جائے۔ اس وقت بھی ان پر الزام نہیں
ہے۔ کیونکہ ان کا وہ دعویٰ نہیں ہے جو مرزا کا ہے۔
افسوس نہ آپ ایسی موٹی باتوں کو سمجھتے ہیں۔ نہ آپ کے مرشد آپ کو سمجھاتے ہیں۔ مگر جب مخلوق پرستی ہے تو سمجھ سے کیا واسطہ؟ کیا ان اعتراضوں کی نسبت آپ یہ کہیں گے کہ اسلام پر بھی ایسے اعتراض ہوتے ہیں۔ ذرا ہوش کر کے جواب دیجئے۔ فتوح الغیب میں جو کچھ حضرت پیران پیرؒ نے لکھا ہے۔ اس کا واضح مطلب صحیفہ رحمانیہ نمبر ٧ کے صفحہ ٣٣ کے حاشیہ میں ملاحظہ کیجئے۔ اس وقت آپ کی آنکھیں کھل جائیں گی۔
اصل کلام منکوحہ آسمانی والی پیشین گوئی کے غلط ہونے کی جس بنیاد پر آپ کو تسکین ہوئی، وہ محض غلط ہے۔ اس کے غلط ہونے کے متعدد وجوہ بیان کر دئیے گئے۔ ان کے دیکھنے کے بعد کوئی صاحب عقل مذکورہ پیشین گوئی کے غلط ہونے میں تامل نہیں کرسکتا اور اس کے غلط ہو جانے سے مرزا قادیانی نصوص قرآنیہ کی رو سے کاذب ثابت ہوئے۔ مگر آپ نہیں مانتے۔ وہ نصوص آپ نے فیصلہ کے حصہ ٣ میں ملاحظہ کئے ہوں گے اور فتوح الغیب کا حوالہ آپ نے محض غلط دیا ہے۔ مگر آپ مخلوق پرستی میں ایسے سرشار ہیں کہ آپ کو امر حق نظر نہیں آتا۔
٢١
بہتر یہ ہے کہ آپ جماعت احمدیہ میں سے قابل سے قابل شخص کو آمادہ کریں کہ ایک جلسہ عام میں یا خاص میں مرزا قادیانی کے دعویٰ کو ثابت کریں اور ہماری طرف سے ایک یا دو عالم اس پر گفتگو کریں اور کوئی ذی علم حکم مقرر کیا جائے۔ وہ فیصلہ کرے یا ہمارے عالم مرزا قادیانی کے کاذب ہونے کو قرآن وحدیث سے ثابت کریں اور پھر وہ مرزائی اس پر اعتراض کریں اور آہستہ آہستہ گفتگو ہو کر فیصلہ کیا جائے۔ اس کے بعد بھی اگر آپ کی تسکین نہ ہو تو مجبوری ہے۔ مگر آپ کی اور آپ کے حضرت کی مخلوق پرستی خوب روشن ہو جائے گی۔
ہاں یہ طریقہ میں نے اس لئے بیان کیا کہ آپ کے مرزا قادیانی نے تمام عمر مناظرہ اور مباہلہ کا غل مچایا ہے اور بڑے زور وشور سے مشہور علماء کو مناظرہ کے لئے بلایا ہے۔ خاص اسی غرض سے قادیان سے دہلی آئے تھے۔ اس لئے اپنے مرشد کی سنت ادا کرنے میں آپ کو تامل نہ ہو گا اور مرزا قادیانی کے علاوہ ان کے بعد ان کے اصحاب بھی اس کا غل مچاتے رہے ہیں۔ اس لئے ان کے اصحاب کی بھی یہ سنت ہوئی۔ البتہ مونگیر میں جب سے ایک بزرگ کو اس طرف خیال ہوا اور لاجواب رسالے لکھے۔ اس کے بعد سے احمدی جماعت پر خاموشی کا عالم طاری ہے اور مرزا قادیانی کی سنت کو بیکار اور لغو سمجھتے ہیں۔ اس کی وجہ یہی ہے کہ اپنے تئیں جواب سے عاجز سمجھتے ہیں۔ سچ ہے ہیبت حق اسی کا نام ہے۔
یہ بھی معلوم ہوا کہ آپ کے حضرت آپ سے شہادت آسمانی کا جواب لکھوا رہے ہیں۔ میں خیر خواہانہ کہتا ہوں کہ آپ اس میں بہت ذلت اٹھائیں گے اور مولوی صاحب اسی خوف سے خود نہیں لکھتے، آپ سے لکھواتے ہیں۔ کیونکہ القا کا نمونہ انوار ایمانی دیکھ چکے ہیں اور اور بھی دیکھنے کا انہیں خوف ہے اور یہ خوف ان کا بجا ہے۔ ابھی وہ متعدد نمونے دیکھیں گے اور اپنی ذہانت اور قابلیت کا حال آشکارا ہوتے معلوم کریں گے۔ اس کے علاوہ اس میں ذرا شک نہیں ہے کہ اگر آپ جواب لکھیں گے تو وہ ایسا ہی ہوگا جیسا فتوح الغیب میں وہ مضمون ہے۔ جسے آپ بیان کرتے ہیں۔
خوب یقین کیجئے کہ شہادت آسمانی ایسی کتاب ہے کہ مرزا قادیانی کو دوبارہ زندگی ملے اور وہ قیامت تک اس کے جواب میں مصروف رہیں۔ تو اس کا جواب نہیں دے سکتے۔ مجھے اس تذکرہ کی ضرورت یہ ہوئی کہ حضرت مؤلف شہادت آسمانی نے اس پر نظر ثانی کر کے اس کے مضامین میں بہت اضافہ کیا ہے اور مضامین سابقہ کی خوب توضیح کی ہے۔ اگر آپ کے حضرت کو
٢٢
٥ اس کے جواب لکھنے کا خیال ہے تو دوسری شہاد وہ جواب نہیں دے سکتے۔ اس کا ثبوت اس طر کہ شہادت آسمانی میں متعدد طریقوں سے مر طریقے کا غلط ہونا ثابت کردیں۔
مثلاً اس حدیث کی صحت ثابت کر لگایا ہے اور شہادت آسمانی میں یہ ثابت کیا ہے کہ قادیانی نے بیان کئے ہیں۔ ان کا صحیح ہونا ثاب میں پیشین گوئی کرتا ہوں کہ وہ ہرگز سامنے نہ آ کس خوبی سے صحیح ہوئی۔ آپ نے اس رس اعتراضات کو کیوں شائع کیا۔ ان کی وقعت تو اس متعلم ! نہایت تعجب ہے کہ ایسی مع ایک یہ بھی اثر ہے۔ شائع کرنے کے متعدد وجو قوت فہم کا امتحان اور مسلمانوں پر اس کا اظہار من حضرات ہیں کہ ایسے ایسے مرزاکش عظیم الشان نہیں سمجھتے کہ مرزا قادیانی سے علیحدہ ہونے کے ہوگئی ہے کہ حق و باطل کے معیار کو نہیں پہچان پڑتے ہیں۔ دیکھا جائے کہ جو اعتراض میں سکتے۔ مگر سمجھتے ہیں کہ جواب دے دیا۔ یہ اعتر گے اور سمجھیں گے کہ اس جدید گروہ میں ایسے نہیں سمجھتے اور دعویٰ ہے سمجھنے کا۔ جہل کا مرکب آخر میں مجھے یہ کہنا ہے کہ آپ بالغیب “ کی پناہ میں اب چھپنا چاہتے ہیں۔ حقانی علماء کا کام ہے۔ مگر میں یہ کہتا ہوں کہ آ یہ ہے کہ مرزا قادیانی کی حالت ان انبیاء کے گئے۔ اسی طرح مرزا قادیانی پر کئے گئے ۔ ا
اس کے جواب لکھنے کا خیال ہے تو دوسری شہادت آسمانی کا انتظار کریں۔ اگر چہ یہ یقینی بات ہے کہ وہ جواب نہیں دے سکتے۔ اس کا ثبوت اس طرح ہو سکتا ہے کہ مولوی عبد الماجد صاحب سے کہئے کہ شہادت آسمانی میں متعدد طریقوں سے مرزا قادیانی کا کذب ظاہر کیا ہے۔ آپ ایک ہی طریقے کا غلط ہونا ثابت کر دیں۔
مثلاً اس حدیث کی صحت ثابت کر دیں جس کی صحت میں مرزا قادیانی نے بہت زور لگایا ہے اور شہادت آسمانی میں یہ ثابت کیا ہے کہ وہ لائق اعتبار نہیں ہے یا حدیث کے جو معنی مرزا قادیانی نے بیان کئے ہیں۔ ان کا صحیح ہونا ثابت کریں۔ اسی طرح اور باتیں بھی اس میں ہیں۔ مگر میں پیشین گوئی کرتا ہوں کہ وہ ہرگز سامنے نہ آئیں گے اور آپ دیکھیں گے کہ میری پیشین گوئی کس خوبی سے صحیح ہوئی۔ آپ نے اس رسالہ میں مجملانہ طور سے یہ بھی لکھا ہے کہ میرے اعتراضات کو کیوں شائع کیا۔ ان کی وقعت تو اس سے ظاہر ہے کہ میں مرزا قادیانی کا معتقد ہوں۔
متعلم! نہایت تعجب ہے کہ ایسی موٹی بات آپ کی سمجھ میں نہیں آتی۔ احمدی ہونے کا ایک یہ بھی اثر ہے۔ شائع کرنے کے متعدد وجوہ ہیں۔ ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ آپ کی طبع عالی اور قوت فہم کا امتحان اور مسلمانوں پر اس کا اظہار منظور ہے کہ سلسلہ مرزائیہ میں ایسے عالی فہم پختہ مزاج حضرات ہیں کہ ایسے ایسے ہزارہا عظیم الشان اعتراضات ان کے قلب میں خود موجود ہیں۔ مگر یہ نہیں سمجھتے کہ مرزا قادیانی سے علیحدہ ہونے کے لئے یہ شبہات کافی ہیں۔ ان کی عقل و فہم ایسی بیکار ہو گئی ہے کہ حق و باطل کے معیار کو نہیں پہچان سکتے اور بعینہ بت پرستوں کی طرح بت پر گرے پڑتے ہیں۔ دیکھا جائے کہ جو اعتراض میں نے ان کا نقل کیا ہے۔ اس کا کچھ جواب نہیں دے سکتے۔ مگر سمجھتے ہیں کہ جواب دے دیا۔ یہ اعتراض قابل وقعت نہیں ہے۔ مسلمان اس پر نظر کریں گے اور سمجھیں گے کہ اس جدید گروہ میں ایسے عقل و فہم کے حضرات ہیں۔ جو ایسی موٹی بات بھی نہیں سمجھتے اور دعویٰ ہے سمجھنے کا۔ جہل کا مرکب اسی کا نام ہے۔ اللہ تعالیٰ اس سے بچائے۔
آخر میں مجھے یہ کہنا ہے کہ آپ نے بعض انبیاء کا ذکر کیا ہے اور ”يُؤْمِنُونَ بِالْغَيْبِ“ کی پناہ میں اب چھپنا چاہتے ہیں۔ مگر یہ بھی آپ کی بڑی غلطی ہے۔ اس کا پورا جواب تو حقانی علماء کا کام ہے۔ مگر میں یہ کہتا ہوں کہ آپ نے انبیاء کا ذکر کیوں کیا ہے۔ کیا آپ کا مطلب یہ ہے کہ مرزا قادیانی کی حالت ان انبیاء کے مثل ہے جس طرح ان انبیاء پر اعتراضات کئے گئے۔ اسی طرح مرزا قادیانی پر کئے گئے۔ اس کے جواب میں میں وہی کہوں گا کہ یہ سب
٢٣
اعتراضات یکساں نہیں ہوتے۔ مرزا قادیانی پر جو اعتراضات کئے گئے اور جس قسم کے اعتراضات میں نے اوپر نقل کئے ہیں۔ کسی نبی پر ایسے اعتراضات نہیں ہوئے اور نہ ہو سکتے ہیں۔
مرزا قادیانی کا کاذب ہونا اور کئی طریقوں سے کاذب ہونا، معائنہ سے مشاہدے سے، صریح عقل سے، قرآن سے حدیث سے، ساری دنیا کے روبرو ثابت ہو گیا۔ یہاں ”يؤمنون بالغیب“ کو کچھ دخل ہی نہیں ہے۔ جن باتوں کو ہم آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں۔ جن باتوں کی خبر یقینی طور سے سن رہے ہیں۔ انہیں غیب کہہ دینا ایسا ہی ہے جیسے کوئی دن کو یہ کہے کہ سورج میں روشنی نہیں ہے۔ اگر ہے تو ہم اسے نہیں سمجھتے یا یہ کہے کہ یہ غیب کی باتیں ہیں۔ ہم نہیں جانتے یا شب ماہ میں چاند کا اور اس کی روشنی سے انکار کرے اور اسے غیب بتائے جو چیز ہمارے حواس سے معلوم ہوتی ہے، یا معلوم ہو سکتی ہے، وہ غیب کبھی نہیں ہو سکتی۔
مرزا قادیانی کا کذب تو معائنہ مشاہدہ اور تجربہ سے ظاہر ہو رہا ہے۔ بیان سابق کو دیکھئے جن انبیاء کا ذکر آپ نے کیا ہے۔ ان کی نبوت تو ہم نے رسول اللہ ﷺ کے فرمانے سے تسلیم کی ہے اب جو کوئی ان پر اعتراض کرے گا۔ تو ہم اسے اس لئے لائق توجہ نہ سمجھیں گے کہ حضرت سرور انبیاء ان کی نبوت کے شاہد ہیں۔ اس کے علاوہ ان پر کوئی ایسا اعتراض نہیں کرتا جس کی صحت کو ہمارا معائنہ اور مشاہدہ ثابت کرتا ہے۔ پھر مرزا قادیانی کو ان انبیاء سے کیا مناسبت ہے۔ مرزا قادیانی کی نبوت کا کون سچا شاہد ہے؟
مرزا قادیانی تو اپنی لسانی کو اپنا شاہد بنانا چاہتے ہیں۔ البتہ آپ کے نزدیک لوگوں کو انہیں مان لینا اور پھر صریح ان کی جھوٹی باتیں دیکھ کر ان سے نہ ہٹنا ان کا بڑا معجزہ ہے۔ تو پھر شاہد ہی کوئی جھوٹا نکلے۔ بلکہ جتنے جھوٹے مدعی ہوئے ہیں۔ سب سچے ہو جائیں گے۔ کیونکہ جنہوں نے جھوٹا دعویٰ کیا ہے۔ ان کی قابلیت اور کوشش کے بموجب انہیں لوگوں نے مانا ہے اور پھر ان سے وہ پھرے نہیں۔ مگر شاذ و نادر، مسیلمہ کذاب ہی کو دیکھ لو کہ رسول اللہ ﷺ کے سامنے اور ان کے خلیفہ اکبر کے روبرو اس پر بہت عرب ایمان لائے اور حضرت صدیقؓ نے ان پر جہاد کیا اور اس جھوٹے پر ایمان لانے والوں نے جانیں دے دیں مگر اس جھوٹے کو نہ چھوڑا جس کے جھوٹے ہونے کی شہادت سرور انبیاء دے رہے تھے۔
پھر مرزا قادیانی کے مریدوں کو تو یہ نوبت نہیں آئی۔ اگر ان کا قائم رہنا بڑا معجزہ ہے تو مسیلمہ کذاب کا بہت ہی بڑا معجزہ آپ کو ماننا چاہئے۔ اگر نہیں مانتے تو اس کی وجہ بیان کیجئے اور
٢٤
فرق بتائیے۔ جس طرح مسیلمہ کا کاذب قادیانی کا کاذب ہونا تیرہ سو برس پہلے میرے بعد نبوت کا دعویٰ کرے وہ کاذب کریں۔ اب جو کلام خدا اور رسول کو نہ ما بعض بزرگوں کے نام لکھے ہیں جنہیں ہم بزرگوں کے مثل ہو جائیں گے؟
اور جو اعتراضات یقینی طور پر ٹھہراتا ہے۔ وہ اعتراضات اٹھ جائیں جھوٹا اور کافر کہا ہے اور بعض نے پہلوں ک قادیانی کو ان جھوٹوں میں داخل نہ کیا اقوال اور ان پر ایمان لانے والوں کی ح
اے دوست! تم مرزا قادیانی مدعی کا پیرو سچوں کے روبرو بنا سکتا ہے کرو۔ wer 2 position answer
اس میں مجھے اب آپ کو ہے، بخوبی سمجھ سکتا ہے۔ آپ تو اللہ عادت آپ میں تھی۔ اب نہ ہونے کی ان سب کو آپ نے خیر باد کر دیا ہو تو ا
تم نے لکھا ہے کہ حضرت تمہارا مقصد یہ ہے کہ اسی طرح مرزا آخر میں تمہاری خیر خواہی کا کچھ زیاد میں یہ بتاتا ہوں کہ مرزا قادیانی کو سر بھی انہیں جھوٹا کہا ہے۔ جن کی شہرت ہوئی۔ جن کے اس قدر علماء مرید ہیں
فرق بتائیے۔ جس طرح مسیلمہ کا کاذب ہونا رسول اللہ ﷺ نے بیان فرمایا۔ اسی طرح مرزا قادیانی کا کاذب ہونا تیرہ سو برس پہلے بیان کر گئے تھے کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا۔ جو میرے بعد نبوت کا دعویٰ کرے وہ کاذب ہے۔ اس لئے مسلمانوں کو ضرور ہے کہ انہیں جھوٹا یقین کریں۔ اب جو کلام خدا اور رسول کو نہ مانیں اور باتیں بنا کر ٹالیں، یہ انہیں اختیار ہے۔ آپ نے بعض بزرگوں کے نام لکھے ہیں جنہیں بعض علماء نے کافر کہا ہے۔ پھر اس سے کیا مرزا قادیانی ان بزرگوں کے مثل ہو جائیں گے؟
اور جو اعتراضات یقینی طور پر ان پر ہوتے ہیں اور کلام خدا اور کلام رسول انہیں کاذب ٹھہراتا ہے۔ وہ اعتراضات اٹھ جائیں گے؟ ذرا سمجھ کر جواب دو۔ علماء نے جھوٹے مدعیوں کو بھی جھوٹا اور کافر کہا ہے اور بعض نے سچوں کو بھی ایسا کہا ہے۔ مگر یہ بتائیں کہ اس کی کیا وجہ ہے کہ مرزا قادیانی کو ان جھوٹوں میں داخل نہ کیا جائے اور سچوں میں سمجھا جائے؟ خصوصاً جبکہ ان کے خود اقوال اور ان پر ایمان لانے والوں کی حالت اور کلام خدا اور رسول انہیں جھوٹا بتلا رہا ہو۔
اے دوست! تم مرزا قادیانی کی صداقت میں ایسی باتیں بنا رہے ہو جو ہر ایک جھوٹے مدعی کا پیرو سچوں کے روبرو بنا سکتا ہے اور اس جھوٹے کی صداقت میں پیش کر سکتا ہے۔ اس پر غور کرو۔ Negative proves evasive answer 2 position answer یہ تمام تحریر بہت صاف لکھی گئی ہے۔
اس میں مجھے اب آپ کو سمجھانے کی ضرورت نہیں ہے اور ہر شخص جو کچھ بھی لکھا پڑھا ہے، بخوبی سمجھ سکتا ہے۔ آپ تو اللہ کے فضل و کرم سے پڑھے آدمی ہیں اور بات پر غور کرنے کی عادت آپ میں تھی۔ اب نہ ہونے کی تو کوئی وجہ نہیں معلوم ہوتی۔ ہاں مرزا قادیانی کی محبت میں ان سب کو آپ نے خیر باد کر دیا ہو تو اس کا جواب ہم نہیں دے سکتے۔
تم نے لکھا ہے کہ حضرت شیخ عبدالقادر جیلانیؒ کو مولویوں نے کافر کہا ہے۔ اس سے تمہارا مقصد یہ ہے کہ اسی طرح مرزا کو علماء کہتے ہیں؟ اس کا مختصر جواب تو میں دے چکا ہوں۔ مگر آخر میں تمہاری خیر خواہی کا کچھ زیادہ جوش ہوا۔ اس لئے کچھ اور لکھتا ہوں۔ اس کا ایک جواب تو میں یہ بتاتا ہوں کہ مرزا قادیانی کو صرف ظاہری علماء نے جھوٹا نہیں کہا۔ بلکہ اہل باطن کامل علماء نے بھی انہیں جھوٹا کہا ہے۔ جن کی شہرت بغیر اشتہار اور رسالہ بازی کے مرزا قادیانی سے بہت زیادہ ہوئی۔ جن کے اس قدر علماء مرید ہیں کہ میں شمار نہیں بتا سکتا۔
٢٥
اور دوسرا محققانہ جواب صحیفہ رحمانیہ نمبر ٧ کے آخر میں خوب دیا ہے۔ اسے دیکھو مگر اب تو تمہیں تحقیق سے گویا عداوت ہے، تم کیا دیکھو گے؟ اس لئے اب میں یہ کہتا ہوں کہ مرزا قادیانی کے کذب کی دلیلیں مونگیر کی تحریروں نے نہایت روشن کر کے دکھائی ہیں اور ایسی لاجواب تحریریں ہیں کہ ان کا جواب نہیں ہو سکتا۔ ذرا کچھ تو خیال کرو کہ مرزا قادیانی نے دعویٰ نبوت کیا اور فیصلہ آسمانی حصہ ٣ میں اور صحیفہ رحمانیہ نمبر ٦ ، ٧ میں قرآن وحدیث سے ثابت کر دیا ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ کے بعد نبوت کا دعویٰ کرنے والا جھوٹا ہے۔ اس لئے مرزا قادیانی صریح قرآن وحدیث کی رو سے کاذب ہوئے۔ ان کی بہت سی پیشین گوئیاں غلط ہوئیں اور جس مدعی نبوت کی پیشین گوئیاں غلط ثابت ہوں اسے قرآن مجید اور کتب سابقہ جھوٹا کہتے ہیں۔ فیصلہ آسمانی حصہ سوم دیکھو اور خدا سے ڈرو۔
اب تم کہو کہ شیخ عبدالقادر جیلانی ...................................................................................... ........................................................................................................................................ ........................................................................................................................................ ........................................................................................................................................
ان سے مرزا قادیانی کا جھوٹا ہونا یقیناً ثابت ہوتا ہے۔ مگر میں جانتا ہوں کہ تم نہ کافر کہنے والوں کو جانتے ہو اور نہ ان کی دلیلوں سے واقف ہو اور بلا تحقیق آنکھ بند کئے ہوئے مرزا قادیانی کو بغیر کسی دلیل کے حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی کے مثل ٹھہرانا چاہتے ہو اور مثال دے کر اپنے نفس کو اور جاہل مرزائیوں کو خوش کرتے ہو۔ میں دلیلوں کا حوالہ دے کر کہتا ہوں کہ مرزا قادیانی کا کاذب ہونا اور علماء کا انہیں کاذب کہنا ایسا ہی صحیح ہے۔ جیسا مسیلمہ کذاب کا جھوٹا ہونا اور ان کے کاذب کہنے والے چونکہ.................................................................................................................. ........................................................................................................................................
اے عزیز! میں نہایت خیر خواہی سے تمہیں سمجھا رہا ہوں۔ اس میں غور کرو اور کسی کے بہکانے میں نہ آؤ۔
والسلام ...... تمہارا قدیم رفیق علاء الدین احمد
٢٦
خاتم النبیین لا نبی بعدی
شفیع المذنبین سیدنا محمد رسول اللہ ﷺ
امروہی کے شمس کاسفہ کا دائمی کسوف
مولانا عبدالصمد سندروی سیاح رحمۃ اللہ علیہ
بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
الحمدلله رب العلمين والصلوة والسلام على خاتم النّبيين
واصحابه اَجْمَعِيْن ۔اما بعد!
كافة علماء اہل اسلام پر واضح ہے کہ حضرت پیر مہر علی شاہ صاحبؒ نے بمقابلہ لاف زنی مرزا غلام احمد قادیانی دربارہ مدعی بےمثل ہونے اپنے کے خدا شناسی وتفسیر دانی میں امتحاناً اور محض اس کے اتنے بڑے دعوے توڑنے کے لئے کلمہ طیبہ کا معنی ظاہری طور پر اپنی کتاب شمس الہدایہ کے ابتداء میں استفسار فرمایا تھا۔ جس کے جواب پر قادیانی باوجود بے تعداد اصرارِ معتقدین وغیر معتقدین کے قادر نہ ہو سکا اور مولوی نور الدین صاحب نے تو بجواب سوالات عشرہ غلام حیدر ہیڈ ماسٹر صاحب چکوالی کے اخبار الحکم میں جواب نہ لکھنے کا عذر مغلوب ہو جانے کا خوف ظاہر کیا۔ عبارت اس کی یہ ہے (ایسے رسائل کے جواب لکھنے میں غالب بھی مغلوب ہو جاتا ہے ۔) بعد اس کے بڑی منت زاری سے امروہی صاحب کو پیشگی روپیہ دے کر جواب نویسی پر آمادہ کیا ۔ سچ ہے:
یہاں پر امروہی عبدالرحیم کے جہالات مرکبہ کے ظاہر کرنے سے پیشتر پبلک کو اس طرف غور دلائی جاتی ہے کہ کامل سال کے عرصہ میں قادیانی کا جواب پر قادر نہ ہونا کیا اس کی لاف زنی مندرجہ (ایام الصلح ص ١٤٢، ایڈیشن فارسی ) ”ایں وقت زیر سقف نیلگوں ہیچ متنفس قدرت نہ دارد۔ لاف برابری با من زند من آشکار میگویم و ہرگز باک ندارم......
اے اہالی اسلام در میان شما جماعتی می باشند کہ گردن بدعوے محمدیت ومفسریت برمی فرازند۔ وطائفه اند که از نازش نسب پا بر زمین نگذارند و گروہے اند کہ دم بلند از خداشناسی زنند و خود را چشتی و قادری ونقشبندی و سہروردی و چماچھی گویند ایں جملہ طوائف را نزد من بیارید۔ کو خاک میں نہیں ملا اور ظاہر ہے کہ ممتحن کی کلمہ طیبہ میں استفسار کرنے کی غرض صرف اتنی ہی تھی جو پبلک پر ظاہر ہو چکی اور ”قَدْ تَبَيَّنَ الرُّشْدُ مِنَ الْغَیِّ“ کا ظہور ہو گیا ورنہ ان کے ادنیٰ شاگرد بھی ایسے سوالات و جوابات سے بخوبی اطلاع رکھتے ہیں۔
چنانچہ یہ عاجز بھی ایک عرصہ میں بہ رفاقت قدوة المحققین جناب مولوی میر عبداللہ
٢
صاحب ومولوی ولی احمد صاحب اس نعمت امروہی کی صرف عبارت متعلقہ جواب کو بعینہٖ کھولتے ہیں اور محققین عصر ومدققین دہر سے جناب مولوی محمد حسن المعروف بہ فیضی وجناب ہم سے منصفانہ رائے چاہتے ہیں۔
کیا عبد الرحیم کی تحریر واقعی چند آیات کی تفسیر لکھنے پر خوش کر کے روپیہ کا جواب دیا ہے۔ اس کا حاصل تو یہ تھا کہ اگر الہ برہان استثنائی میں ترتب ’لفسدتا‘ کا مر کے لما کانتا یا لما وجدتا چاہئے تھا۔ کیونکہ قدر سب قدیم ہی ہوں گے اور بر تقدیر تخالف مر ایک واجب مانع ہے نفوذ ارادہ دوسرے ۔ عرب کا شرک فی العبادۃ ہے نہ شرک فی الوجو السموات والارض ليقولن الله (ال نہیں اس لئے ہم بھی ان کی تشریح نہیں کرنے واضح ولائح ہو کہ محاورہ قرآن وہ معبود حقیقی ہے جو واجب الوجود لذاتہ ہے واجب الوجود فی فرد واحد پر دلائل عقلیہ ونقلیہ اللہ“ کے واضح اور صاف ہیں یعنی نہیں کوئی
١؎ ناظرین کو معلوم ہو کہ یہ مضموں ہوا ہے۔ جس مخلص کا ذکر امروہی نے دیبا قادیان میں پہنچائی تھی۔ باوجو د اس کے پھر کہ
تا بخواند
صاحب و مولوی ولی احمد صاحب اس نعمت سے مشرف ہوا تھا۔ اب ہم مختصر طور پر عبدالدراہم امروہی کی صرف عبارت متعلقہ جواب کو بعینہا اس کے مطاعن وبکواس کے بغیر نقل کر کے اس کی قلعی کھولتے ہیں اور محققین عصر و مدققین دہر سے مثل جناب مولوی عبداللہ صاحب پروفیسر لاہوری و جناب مولوی محمد حسن المعروف بہ فیضی و جناب مولوی غلام احمد صاحب مدرسان مدرسہ نعمانیہ وطائفہ ہم سے منصفانہ رائے چاہتے ہیں۔
کیا عبدالداہم کی تحریر واقعی جواب ہے یا جہل مرکب اور فقط اردو خوانوں کو چند آیات کی تفسیر لکھنے پر خوش کر کے روپیہ کا ہضم کرنا۔ معلوم ہوا کہ جس شق کو امروہی نے لے کر جواب دیا ہے۔ اس کا حاصل تو یہ تھا کہ اگر الہ سے ”لا الہ الا اللہ“ میں واجب الوجود لیا جائے تو برہان استثنائی میں ترتب ”لفسدتا“ کا مقدم یعنی تعدد وجوبا پر صحیح نہیں ہو سکتا۔ بلکہ بجائے لفسدتا کے لما کانتا یا لما وجدتا چاہئے تھا۔ کیونکہ قدم چونکہ وجوب کا لازم ہے تو وجباء بر تقدیر تعدد سب کے سب قدیم ہی ہوں گے اور بر تقدیر تخالف مرادان کے ایجاد عالم کا متصور ہی نہیں ہو سکتا۔ کیونکہ ہر ایک واجب مانع ہے نفوذ ارادہ دوسرے سے تو پھر فساد کہاں اور نیز مزعوم مخاطبین یعنی مشرکین عرب کا شرک فی العبادۃ ہے نہ شرک فی الوجوب بدلیل قولہ تعالیٰ: ”ولئن سئلتهم من خلق السموات والارض ليقولن الله (لقمان: ٢٥)“ باقی شقوق اعتراض چونکہ مجیب نے لئے نہیں اس لئے ہم بھی ان کی تشریح نہیں کرتے۔ امروہی کی عبارت متعلقہ جواب یہ ہے۔
واضح ولائح ہو کہ محاورہ قرآن مجید میں بلحاظ تخصیص عقلی اور شرعی کے لفظ الہ سے مراد وہ معبود حقیقی ہے جو واجب الوجود لذاتہ ہے۔ (صفحہ ٢٣ سطر ١٠،٩،٨) بعد اس کے نفی تعداد اور انحصار واجب الوجود فی فرد واحد پر دلائل عقلیہ ونقلیہ لکھ کر فرماتے ہیں۔ پس معنی کلمہ توحید ”لا الہ الا اللہ“ کے واضح اور صاف ہیں یعنی نہیں کوئی معبود حقیقی موجود سوا اللہ کے۔
١؎ ناظرین کو معلوم ہو کہ یہ مضمون شمس الہدایہ کے مصنف کی کتاب تحقیق الحق سے چرایا ہوا ہے۔ جس مخلص کا ذکر امروہی نے دیباچہ کتاب میں لکھا ہے۔ اسی مخلص نے وہ کتاب اس کو قادیان میں پہنچائی تھی۔ باوجود اس کے پھر بھی جواب پر قدرت نہ پائی۔
تا بخواند بر سلیمے افسوں ۔ منہ
٣
پس اس میں کذب کہاں ہے؟ بلکہ معترض خود محض کاذب ہے اور آیت: ”لو کان فیها آلهة الا الله لفسدتا“ بھی تعدد الہہ کے بطلان کے لئے برہان قطعی ہے۔ جس کو دوسرے مقام پر خود جناب باری تعالیٰ نے مفصل طور پر بیان فرمایا ہے: ”کما قال الله تعالیٰ ما اتخذ الله من ولد وماكان معه من اله اذا لذهب كل اله بما خلق ولعلى بعضهم على بعض سبحن الله عما يصفون (المؤمنون: ٩١)“
حاصل اس استدلال کا یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے لئے ولد متصور نہیں ہو سکتا۔ کیونکہ ولد کے لئے ضروری ہے کہ اپنے والد کے اخص اوصاف میں مثلاً جیسا کہ یہاں پر وجوب الوجود ہے۔ مشارک ہو ورنہ وہ ولد کیا ہوا۔ لیکن ولد میں صفت وجوب الوجود ہرگز ممکن نہیں ہو سکتی۔ کیونکہ ولد تو والد سے مؤخر ہوتا ہے۔ فاین وجوب الوجود، اور نہ کوئی دوسرا الہ وجوب وجود میں اس کے ساتھ معیت رکھتا ہے۔
کیونکہ اس صورت میں ہم دریافت کرتے ہیں کہ ان دونوں الہ کا تمہارے نزدیک متخالف بالذات ہونا واجب ہے یا نہیں۔ بحق ثانی دونو الہ بالضرور کسی ذاتی میں مشترک ہوں گے اور دوسری ذاتی میں متخالف ہوں گے۔ پس ترکیب لازم آئی۔ اندریں صورت دونوں کی احتیاج اپنے اجزاء ذاتیہ کی طرف لازم آوے گی۔ ”وهو مناف لوجوب الوجوب“ اور بحق اول متخالفان بالذات کے افعال کا متخالف ہونا بھی ضروری ہوگا اور اس کا اقل درجہ یہ ہے کہ عالم کا فساد لازم آئے گا اور نظام و ارتباط باہمی عالم کا بالضرور بگڑ جائے گا۔ لیکن ہم دیکھتے ہیں اور عالمان علوم طبیعات بخوبی جانتے ہیں کہ ہر ایک اشیاء عالم کا ارتباط دوسرے اشیاء عالم کے ساتھ منضبط ہے اور تمام اشیاء عالم باہم منظم و مرتبط ہیں۔
پس انتفاء تالی مستلزم ہے۔ انتفاء مقدم کو وہو المطلوب اور یہی حال مطلب ہے آیت: ”وما كان معه من اله اذ الذهب كل اله بما خلق“ کا اور دوسری دلیل ابطال تعدد الہ کی یہ بیان فرمائی گئی ہے کہ ایک الہ دوسرے الہ پر علو کامل چاہے گا۔ ”اذ الاله من له غاية الكمال ولا يكون علو الالهية الا بالعلو الكامل “ اور دوسرا الہ اسی طرح پر علو کامل میں کل الوجوہ کا مقتضی ہوگا۔ لیکن ہر ایک الہ کا علو کامل دوسرے الہ پر محال ہے اور یہی معنی ہیں ”لعلی بعضهم على بعض“ کے۔ پس اس کی طرف نسبت ولد اور شریک کے ہرگز جائز نہیں اور اس کی ذات پاک ہے ان دونوں بہتانوں سے اور یہ معنی ہیں ”سبحن الله عما يصفون“ کے۔
٤
٤١٣
”فبطل التعدد وثبت التوحيد“
حقیقی طور پر جو صادق للوجوب ہے۔ عنوان موضوع ”لما مر استدلا تفصيلا (انتهى ص ٢٣ قام خدمت میں ملتمس ہے کہ یہ تحریر دو ورق اس چھوٹے ناظرین کیا گیا ہے۔ یا صرف شرح آیات برائے خد مرزا قادیانی نے زر نقد جماعت کے چندہ کی اس لئے لکھے اور وہ بھی تفسیر کبیر وغیرہ کے دلائل محررہ کا ترجمہ ا ہرگز نہیں، بلکہ انہوں نے تو مزید براں جولا کے ٹھٹھ میں جکڑی ہوئی تھی، خلاص کرنا چاہا تھا۔ یہ
تیمم فرض گردد نوح
ادھر تو وہ بے چارہ جکڑا ہوا اماں پکار رہا ہے کے خوف سے خاموشوں کے شہر میں جا بسے۔ مگر وہ ہنوز قصور ہے کہ مرزا جیو کے برے دن و بیکار ثابت ہونے بھولی بھالی اور حیا کے پُتلہ والی جماعت کی لے کر اذن اتبعوا“ کا مصداق بنا۔
علماء عصر پر عبارت مذکورہ مروی سے ظاہر پورا ثبوت دیا۔ مگر اس کی چالا کی قابل آفرین ہے کہ اپنی لکھ دیا کہ واضح خاطر عاطر ناظرین ہو کہ ہم نے اس جدھر کو مؤلف گیا ہے۔ ادھر ہی کو ہم بھی اس کے ساتھ س میں کہتا ہوں کہ ہاں بیشک یہ کہنا آپ کا بجا ہے کہ معلم کے پیچھے طوطی کی طرح صرف الفاظ پڑھنے کی سچ کہہ دیا کہ میں شمس الہدایت کے اس مقام میں بڑا م پر لکھتے ہیں کہ ( پس مؤلف پر ضروری ہے کہ صفات احد بعضها علی بعض کو دلائل عقلیہ و نقلیہ سے اول ثابت کر بعضھا علی بعض ہے۔
٥
"فبطل التعدد وثبت التوحيد بناء عليه " اگر ارادہ استحقاق للعبادة کا حقیقی طور پر جو مساوق للوجوب ہے۔ عنوان موضوعی سے لیا جائے تو مستلزم لفساد تام کو ضرور ہوگا۔ "لما مر استدلا تفصیلا (انتهی ص ٢٣ تا ٢٦) " محرر سطور عفا عنہ ربہ الغفور اہل علم کی خدمت میں ملتمس ہے کہ یہ تحریر دو ورق اس چھوٹے سے ٹکڑے سوال کا جواب ہے جو پہلے ہدیہ ناظرین کیا گیا ہے۔ یا صرف شرح آیات برائے خدا کوئی اس جاہل مرکب سے پوچھے کہ تجھے مرزا قادیانی نے زر نقد جماعت کے چندہ کی اس لئے عطا کی تھی کہ فقط چند آیات قرآنیہ کی تفسیر لکھے اور وہ بھی تفسیر کبیر وغیرہ کے دلائل محررہ کا ترجمہ اپنے نام سے منسوب کیا ہوا ہو۔ ہرگز نہیں، بلکہ انہوں نے تو مزید براں خفیہ منتیں اور زاریاں کر کے اپنی جان کو جولاہے کے شکنجہ میں جکڑی ہوئی تھی، خلاص کرنا چاہا تھا۔ سچ کہا ہے کسی نے:
تیمم فرض گردد فوج را در عین طوفانش
ادھر تو وہ بے چارہ پکڑا ہوا امن پکار رہا ہے اور ادھر مولوی نورالدین صاحب مظلومیت کے خوف سے خاموشوں کے شہر میں جابسے۔ مگر وہ بنا بریں صداقت قابل آفرین ہیں۔ ہاں اتنا ہی قصور ہے کہ مرزا جیو کے مریدوں میں یکتا ثابت ہوئے بخلاف عبدالدرہم امروہی کے کہ زر نقد بھولی بھالی اور حیا کے پتلہ والی جماعت کی لے کر "اذتبرء الذين اتبعوا من الذين اتبعوا" کا مصداق بنا۔
علماء عصر پر عبارت مذکور امروہی سے ظاہر ہو گیا ہوگا کہ امروہی نے جہل مرکب کا پورا پورا ثبوت دیا۔ مگر اس کی چالاکی قابل آفرین ہے کہ اپنی جہالت پر پردہ ڈالنے کے لئے یہ جملہ رقم لکھ دیا کہ واضح خاطر عاطر ناظرین ہو کہ ہم نے اس جواب میں مؤلف کا ایسا تعاقب کیا ہے کہ جدھر کو مؤلف گیا ہے۔ ادھر ہی کو ہم بھی اس کے ساتھ ساتھ گئے ہیں۔ الخ (حاشیہ ص ٢٦)
میں کہتا ہوں کہ ہاں بیشک یہ کہنا آپ کا بجا اور سچ ہے۔ تاہم طالب علم کا یہی وتیرہ ہوتا ہے کہ معلم کے پیچھے طوطی کی طرح صرف الفاظ پڑھتا بکتا چلا جاتا ہے۔ گویا مجیب نے صاف صاف سچ کہہ دیا کہ میں شمس الہدایت کے اس مقام میں بڑا محق ہوں اور سنیئے بعد اس کے (ص ٢٧ سطر ٤) پر لکھتے ہیں کہ (پس مؤلف پر ضروری ہے کہ صفات احدیت وصمدیت مسئلہ محولہ خود یعنی استیلا صفاتی بعضها علی بعض کو دلائل عقلیہ و نقلیہ سے اول ثابت کرے کہ صفات احدیت وصمدیت میں استیلا بعضها علی بعض ہے۔
تب ہم بھی اس مسئلہ استیلا صفاتی بعضہا علی بعض پہ گفتگو کریں گے۔ اجی۔ میں کہتا ہوں یہ چالاکی بھی قابل آفرین ہے ناک میں سانس بھی ہو اور پھر عجز و ناتوانی کا اقرار کیا معنی رکھتا ہے۔ آخری دم میں سکندر کا مقابل دارا بادشاہ اس کے ران پر سر رکھے ہوئے کہتا تھا:
پھر اسی صفحہ میں کودن طالب علم کی طرح شمس الہدایت کی عبارت کو پڑھے جاتے ہیں۔ لکھتے ہیں کہ ”اور سلمنا کہ ازلیت امکان مستلزم ہے امکان ازلیت کو مادہ وجوب میں لیکن ممکنہ عامہ موجبہ جزئیہ یعنی بعض الالہ موجود بالامکان العام جو نقیض ہے ضروریہ سالبہ کلیہ کی یعنی لا الہ موجود بالضرورت اگر صادق ہے تو کیا اور کاذب ہے تو کیا اس کا صدق یا کذب کلمہ توحید کے معنوں میں ہم پر کیوں وارد کیا جانا چاہیئے۔“
میں کہتا ہوں قولہ اگر صادق ہے تو کیا اور کاذب ہے تو کیا صاف شہادت دے رہا ہے کہ مجیب نے اس عبارت کا مطلب نہیں سمجھا۔ تب ہی عبارت مذکورہ شمس الہدایت کو بے ربط ٹھہرایا۔ ہم نے چونکہ یہ اوراق مصنف قدس سرہ و دام فیضہ سے سبقاً پڑھی ہیں۔ لہٰذا ہم شہادت دیتے ہیں کہ مجیب عبدالدرہم اس سارے جواب میں : ایں راہ کہ تو میروی بہ ترکستان است کا مصداق ہو رہا ہے۔ ہم اس مقام کے سوال اور جواب مشرح لکھنے کے اسی صورت میں مجاز ہیں کہ قادیانی صاحب مع اپنے معاونوں کے صریح لفظوں میں اپنی جہالت کا تفسیر دانی سے اقرار کریں اور یہ بھی ناظرین کو معلوم ہوا کہ نہ تو یہ اعتراض لاحل تھا اور نہ شیخ اکبر وغیرہ۔ علماء کرام کے جواب پر اعتراض اعتقاداً کیا گیا تھا۔ بلکہ محض احمقانہ مدعی کا دعویٰ توڑنے کے لئے۔ الحمدللہ کہ ہر ایک کو معلوم ہو گیا کہ جو شخص کلمہ طیبہ کے معنی ظاہری علمی طور پر نہیں لکھ سکتا۔ وہ تفسیر نویسی میں سر آمد ابناء زمان کیسے ہو سکتا ہے۔ بعد اس کے اسی صفحہ ٢٧ پر لکھتے ہیں کہ : ”اگر کلمہ توحید کو موجہات کا لباس پہنا کر سمجھنا ہے تو یوں کہئے کہ لا الہ غیر اللہ موجود بالضرورت کیونکہ یہاں پر حرف الا موجود ہے جو بمعنی غیر ہے اور الہ کی صفت نحوی واقع ہوئی ہے۔
میں کہتا ہوں علماء عصر کی خدمت میں التماس ہے کہ کلمہ الا بمعنی غیر لا الہ الا اللہ میں کہنا کیا جہالت نہیں ہے۔ کافیہ پڑھنے والا بھی کہہ سکتا ہے کہ الا بمعنی غیر ہرگز نہیں۔ کیونکہ وہ مشروط ہے بدیں شرط ”اذ لکانت تابعتہ لجمع منكور غير محصور نحو لو كان فيها الهة الا الله لفسدتا“ اور یہ سوچنا کہ کلمات الاستثناء هل وضعت لاحكام مخالفته لما قبلها ثابتة لما بعدها خراج ما بعدها وجعله فى حكم المسكوت عنه
٦
والمشهور في كتب الشافعته السلبة بل على ان العم اصل المزکیات الاسنادیة عند الشا بين الثبوت والا نتفاء الواقعیی فلا يلزم من نفي الحكم بالثبوت
ناظرین پر واضح ہو کہ یہ سوال الہدایت نے تین سال پہلے اس کے مطبع شائع کر دیا تھا اور یہ جواب امروہی کا اسی اتنا زور ہے کہ عرصہ سال کامل تک اس جواب سمجھے بیٹھے ہیں، عندیہ لکھتے ہیں کہ مخدومی و معظمی جناب مولوی محمد غازی صا سے اول مرزا قادیانی کو ڈاک میں روانہ ک
چنانچہ بعض مریدین مرزا قاد کی مجلس میں حاضر تھے۔ بعد عید کے ہما مولوی نورالدین کا خط مطبوعہ الحکم شاہد کاف مہلت چاہتا ہوں کہ بر سر راہ ہوں بعد اح کے سامنے رکھا جائے گا۔ ابھی ضلع گوجرا موقع ملا۔ ہاں بل رفعہ اللہ کے متعلق بھی جلیلہ برہم خود رفع روحانی کو ثابت کرنا چاہ
خلاصہ اس کا یہ ہے کہ ما بعد بل یعنی قتل صلیبی میں جو بحکم توریت مستلزم ہوتا۔ یہ ہی خلاصہ اس کے جواب کا اس م التماس ہے کہ ذرا ان حضرات سے یہ در صلیب قتل کیا جائے وہ ملعون عند اللہ ہو گا
کیا منقول بغیر الحق خواہ پتھر شہداء میں بموجب احکام تورات و قرآن
والمشهور فى كتب الشافعية ليس مبنيا على ان رفع النسبة الايجابية هو السلبية بل على ان العدم اصل فى الاشيا كما ان التحقيق ليس مناط ان المركبات الاسنادية عند الشافعية موضوعة لما فى نفس الامر ولا واسطة بين الثبوت والانتفاء الواقعين وعند الحنفية موضوعة للامور الذهنية فلا يلزم من نفى الحكم بالثبوت والانتفاء الحكم بهما تو بمراحل درکنار رہا۔
ناظرین پر واضح ہو کہ یہ سوال متعلق کلمہ طیبہ کا بمعہ جواب اس کے حضرت مصنف شمس الہدایت نے تین سال پہلے اسے مطبع مصطفائی لاہور میں جمادی الثانی ١٣١٠ھ میں طبع کرا کر شائع کر دیا تھا اور یہ جواب امروہی کا اسی کی نقل ہے۔ مگر علمی لیاقت کا ماشاء اللہ مجیب عبدالدراہم کو اتنا زور ہے کہ عرصہ سال کامل تک اس سے فائدہ نہیں اٹھا سکا اور تاخیر جواب کا جس کو بزعم خود جواب سمجھے بیٹھے ہیں، عذر یہ لکھتے ہیں کہ ہم کو کتاب شمس الہدایت نہیں بھیجی گئی۔ قسمیہ کہتا ہوں کہ مخدومی و مکرمی جناب مولوی محمد غازی صاحب نے عید رمضان سال گذشتہ سے کئی دن پہلے سب سے اوّل مرزا قادیانی کو ڈاک میں روانہ کی تھی۔
چنانچہ بعض مریدین مرزا قادیانی نے جو بوقت پہنچنے کتاب کے مرزا قادیانی موصوف کی مجلس میں حاضر تھے۔ بعد عید کے ہمارے پاس آ کر اس کا ذکر کیا۔ اس کو بھی جانے دیجئے۔ مولوی نورالدین کا خط مطبوعہ الحکم شاہد کافی ہے۔ آج بتاریخ ٢٩ رمضان اسی قدر لکھ کر ناظرین سے مہلت چاہتا ہوں کہ برسرِ راہ ہوں بعد اقامت انشاء اللہ مجیب کی جہالت کا تار و پود اکھاڑ کر پبلک کے سامنے رکھا جائے گا۔ ابھی ضلع گجرات میں سفر کی حالت میں مجیب کا اتنا ہی جواب دیکھنے کا موقع ملا۔ ہاں بل رفعہ اللہ کے متعلق بھی اس کی تحریر دیکھنے میں آئی۔ جس میں حسب قواعد فاسدہ حیلہ بزعم خود رفع روحانی کو ثابت کرنا چاہا ہے۔ مگر ہنوز دلی دور است۔
خلاصہ اس کا یہ ہے کہ مابعد بل رفع جو کنایہ اعزاز و تکریم سے ہے اس میں اور ماقبل بل یعنی قتل صلیبی میں جو بحکم توریت مستلزم لعن ہے تنافی اور تضاد ہے کیونکہ ملعون معزز عند اللہ نہیں ہوتا۔ یہ ہی خلاصہ اس کے جواب کا اس مقام میں میں کہتا ہوں پبلک کی خدمت میں صرف اتنا ہی التماس ہے کہ ذرا ان حضرات سے یہ دریافت فرماویں کہ کہاں ہے تورات کا حکم کہ جو کوئی بذریعہ صلیب قتل کیا جائے وہ ملعون عند اللہ ہو گا خواہ بے گناہ ہی ہو۔
کیا مقتول بغیر الحق خواہ پتھر سے ہو یا تیر سے یا تلوار یا صلیب وغیرہ اسباب قتل سے۔ شہداء میں بموجب احکام تورات و قرآن مجید کے داخل نہیں۔ کوئی مومن بہ کتب سماویہ اس کا انکار
٧
کر سکتا ہے؟ ہر گز نہیں۔ مرزا قادیانی کو بمعہ چیلوں چانٹوں اپنے کے آیت تورات کا مطلب سمجھ نہیں آیا۔ صرف ٢٣،٢٢ آیت (کیونکہ وہ جو پھانسی دیا جاتا ہے خدا کا ملعون ہے) نظر ہے اگر آیت کو پڑھ کر تدبر فرمادیں تو صاف معلوم ہوتا ہے کہ یہ حکم ہر ایک مصلوب کے لئے نہیں، بلکہ خاص وہ شخص جو کسی جرم کی سزا میں پھانسی دیا گیا ہو۔ بائیسویں آیت یہ ہے (اور اگر کسی نے کچھ ایسا گناہ کیا ہو جس سے اس کا قتل واجب ہو اور وہ مارا جاوے اور تو اسے درخت میں لٹکاوے۔ ٢٣ تو اس کی لاش رات بھر درخت پر لٹکی نہ رہے بلکہ تو اسی دن اسے گاڑ دے کیونکہ وہ جو پھانسی دیا جاتا ہے خدا کا ملعون ہے ۔“
ظاہر ہے کہ عیسیٰ بن مریم علیہ السلام فی الواقع غیر مجرم تھے تو بناء بر واقع ماقبل بل یعنی قتل اور مابعد اس کے یعنی رفع اعزاز میں تنافی اور تضاد کہاں ہوا۔ بلکہ مقتول غیر مجرم معزز عند اللہ ہوا اور اگر مسیح کو مجرم بزعم یہود خیال کر کے تنافی پیدا کی جائے تو یہ کلام قصری یعنی ”وما قتلوه یقینا بل رفعه الله الیه “ یہود کا مقولہ نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ ان کی تکذیب میں وما قتلوہ الخ فرماتا ہے۔ پس چاہئے کہ بحسب علم الہیٰ مسیح مجرم ہو والعیاذ باللہ یہود کا مقولہ کلام قصری مشتمل بر کلمہ بل نہیں ہے۔ بلکہ وہ یہ ہے:”انا قتلنا المسيح عيسى بن مريم رسول الله
(النساء: ١٥٧)“
اور نیز اگر مسیح کا مجرم ہونا حسب زعم یہود کے خیال کر کے تضاد و تنافی مانی جاوے تو تردید اس کی ”ما قتلوه یقینا “ الخ کے ساتھ مناسب نہیں۔ بلکہ اس تقدیر پر تردید میں زیادت یوں ہونی چاہئے تھی ” ولکان المسيح لعصمته ملعونا بحكم التوراة ولوكان مقتولا كما تزعمون فاتوا بها واتلوها ان كنتم صادقين وما قتلوه الخ “ ورنہ یہود کا یہ دھوکہ نکالنے سے یہ تردید یعنی وما قتلوہ الخ قاصر ہوگی۔ تفصیل اس کی دوسری کاپی میں جو بعد اقامت کے متعلق سائر مضامین مجیب کے لکھی جاوے گی ملاحظہ فرمائیں۔ والسلام علیٰ من اتبع الہدیٰ
آئندہ بھی ہم عبدالرحیم کے مضامین کو حذف کر کے صرف عبارت متعلقہ مضمون علمی کو نقل کریں گے۔ ”اللهم صل وسلم على سيدنا محمد ن المصطفى واله وعترته اهل التقى والنقى“
الراقم ....... عبدالصمد السندھروی سیاح ....... حال وارد پنجاب
٨
خاتم النبیین لا نبی بعدي
صلى الله عليه وعلى آله واصحابه اجمعين
صحيفة الولاء النظر
الى دافع البلاء
جناب واحد علی ملتانی رحمة الله عليه
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
تمہید
میرے ایک دیرینہ کرم فرمانے، جو مرزائی ہو گئے ہیں۔ رسالہ دافع البلاء میرے پاس بھیجا تھا۔ جو مرزا غلام احمد قادیانی نے طاعون کے متعلق لکھا ہے اور جس کا خلاصہ یہ ہے کہ ”میں مسیح موعود ہوں، ابن مریم سے بدرجہا اچھا ہوں، میں نبی ہوں، خاتم الانبیاء وخاتم الاولیاء ہوں اور محمد رسول اللہ ﷺ خاتم النبیین کے برابر ہوں۔ کیونکہ میں سچا شفیع ہوں اور ہر ایک زمانہ میں قیامت تک نجات دلانے والا ہوں۔ اہل بیت رسول علیہ السلام سے بڑھ کر ہوں، میں ابن اللہ ہوں، اور جس طرح میں اللہ میں سے بطور اولاد ہوں، اسی طرح اللہ مجھ سے بطور میری اولاد کے ہے، یعنی ابواللہ بھی ہوں، میرا ہاتھ خدا کا ہاتھ ہے، مجھ سے بیعت کرنا خدا کے ہاتھ پر ہاتھ رکھنے کے برابر ہے، مجھے اس طرح نہ ماننے کی وجہ سے اور مجھے برا کہنے کی وجہ سے خدا تعالیٰ نے بطور سزا کے اس ملک میں طاعون کو بھیجا ہے اور اس کا علاج جسمانی اور روحانی جو آج تک دنیا نے سوچا اور اختیار کیا ہے، کوئی ٹھیک نہیں۔
یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ کے آگے سر جھکانا اور یہ دعا مانگنا کہ ہمیں اس وبا سے محفوظ رکھ، یہ بھی ضلالت ہے۔ علاج صحیح یہ ہے کہ مجھ پر ان اوصاف و فضائل شرائط کے ساتھ ایمان لاؤ۔ جو اس طرح مجھ پر ایمان نہ لائے گا، مبتلائے طاعون ہو کر مر جائے گا، اور اپنے ان کل فضائل اور دعاوی کے صحیح اور برحق ہونے کی دلیل یہ پیش کی ہے کہ تمام پنجاب میں طاعون پھیل گیا قادیان کے چاروں طرف دو، دو میل کے فاصلہ پر طاعون کا زور ہے۔ مگر خاص قادیان اس سے پاک ہے اور ہمیشہ اس سے پاک رہے گا۔ بلکہ جو طاعون زدہ قادیان میں آیا، اچھا ہو گیا۔ جو آئے گا، اچھا ہو جائے گا۔
میں نے مرزا قادیانی کے ان دعاوی اور استدلال کو پڑھا اور جو میری رائے اس پر ہوئی۔ میں نے نہایت نیک نیتی سے بذریعہ ایک خط کے اپنے اس عنایت فرما دوست پر ظاہر کرنی چاہی۔ انہیں جو معلوم ہوا کہ میری رائے مرزائی معتقدات اور تفہیمات کے برخلاف ہے، تو انہوں نے مجھ کو بہت کچھ ڈرایا اور دھمکایا کہ میں اپنی رائے کو ظاہر نہ کروں۔ میرے دیگر ہم خیال احباب نے اس بات پر زور دیا کہ:
”لا تلبسوا الحق بالباطل وتكتموا الحق وانتم تعلمون“ ٢
(البقرۃ:٤٢) ”سچ کو جھوٹ کے ساتھ گڈ مڈ میرے مرزائی دوست فرماتے ہی مرزا قادیانی کے خدام کا مقابلہ کریں۔ جس م آپ کے تماشائی یار سب چلتے بنیں گے۔ کی شخص ہے جو کہتا ہے کہ دکھاتا ہے۔ میں آپ ک راہ میں قدم مارنے کی جرات نہ کریں۔
میں اپنے ان محترم دوست کی مرزائی ہو گئے ہیں، اور مجھے ان سے شرف نی البلاء پر اوپن لیٹر لکھنے سے میرا یہ مقصد ہرگز مقابلہ کروں۔ میں نے جو کچھ اس خط میں عر کیا ہے۔ جو اس رسالہ میں ہے۔ مثلاً یہ رس ہوں کہ اسلام اس کے برخلاف یہ سکھاتا ہے جانو جیسے تمہاری اولاد۔ میں کہتا ہوں کہ قر معمولی انسان کو نبی مانو۔ میں کہتا ہوں کہ النبیین کہتا ہے اور خود وہ سچا رسول ﷺ فرما رسالہ سکھاتا ہے کہ ایک کلمہ گو امتی کو اہل بی جس اہل بیت کے واسطے قرآن مجید میں آ برابر فرمائی ہے۔ جن کے مخالف کو جہنمی قرا اپنے ایک ادنیٰ امتی سے تقرب الی اللہ اور ہر ایک قول کی تائید میں آیات قرآنی اور ا رسالہ کا قرآن کریم سے یا حدیث نبوی س خدام سے۔
ایک اور مرزائی دوست فرما جوکھوں میں پڑ جائے گی۔ اگر میرے ان کہ اس خط کی وجہ سے مجھ پر لائل کی نالش کی ذات سے کوئی بحث نہیں۔ میں نے
(البقرۃ:٤٢) ”سچ کو جھوٹ کے ساتھ گڈ مڈ نہ کرو اور جان بوجھ کر حق بات کو نہ چھپاؤ۔“
میرے مرزائی دوست فرماتے ہیں کہ آپ کو مناسب نہیں ہے کہ آپ مرزا قادیانی کا یا مرزا قادیانی کے خدام کا مقابلہ کریں۔ جس وقت آپ اس مقابلہ میں پھنس جائیں گے اس وقت آپ کے تماشائی یار سب چلتے بنیں گے۔ کیونکہ یہ راستہ بڑا سخت راستہ ہے یہ (مرزا قادیانی) وہ شخص ہے جو کہتا ہے کر دکھاتا ہے۔ میں آپ کو مکرر لکھتا ہوں کہ آپ اوپن لیٹر کو بند رکھیں اور اس راہ میں قدم مارنے کی جرأت نہ کریں۔
میں اپنے ان محترم دوست کی خدمت میں اور کل ایسے احباب کی خدمت میں جو مرزائی ہو گئے ہیں، اور مجھے ان سے شرف نیاز مندی حاصل ہے، عرض کرتا ہوں کہ اس رسالہ دافع البلاء پر اوپن لیٹر لکھنے سے میرا یہ مقصد ہرگز نہیں ہے کہ میں مرزا قادیانی سے یا ان کے خدام سے مقابلہ کروں۔ میں نے جو کچھ اس خط میں عرض کیا ہے۔ اس رسالہ کے مضمون پر یا اس تعلیم پر عرض کیا ہے۔ جو اس رسالہ میں ہے۔ مثلاً یہ رسالہ سکھاتا ہے کہ انسان کے بیٹے کو ابن اللہ کہو۔ میں کہتا ہوں کہ اسلام اس کے برخلاف یہ سکھاتا ہے کہ اللہ کا کوئی بیٹا نہیں۔ یہ رسالہ بتلاتا ہے کہ تم اللہ کو ایسا جانو جیسے تمہاری اولاد۔ میں کہتا ہوں کہ قرآن مجید اس کو کفر کہتا ہے۔ یہ رسالہ سکھاتا ہے کہ ایک معمولی انسان کو نبی مانو۔ میں کہتا ہوں کہ قرآن مجید اس کے برعکس محمد رسول اللہ ﷺ کو خاتم النبیین کہتا ہے اور خود وہ سچا رسول ﷺ فرماتا ہے کہ لا نبی بعدی یعنی میرے بعد کوئی نبی نہ ہوگا۔ یہ رسالہ سکھاتا ہے کہ ایک کلمہ گو امتی کو اہل بیت رسول کریم ﷺ سے بدرجہا بہتر مانو میں کہتا ہوں کہ جس اہل بیت کے واسطے قرآن مجید میں آیت تطہیر موجود ہے۔ جن کی عزت نبی نے کلام اللہ کے برابر فرمائی ہے۔ جن کے مخالف کو جہنمی قرار دیا ہے۔ جن کو نبی نے کل جنتیوں کا سردار فرمایا ہے۔ وہ اپنے ایک ادنیٰ امتی سے تقرب الیٰ اللہ اور علو مدارج میں کس طرح کم ہو سکتے ہیں؟ میں نے اپنے ہر ایک قول کی تائید میں آیات قرآنی اور احادیث نبوی پیش کر دی ہیں۔ پس اگر مقابلہ ہے تو اس رسالہ کا قرآن کریم سے یا حدیث نبوی سے مقابلہ ہے، نہ کہ مجھ ناچیز کا مرزا قادیانی سے یا ان کے خدام سے۔
ایک اور مرزائی دوست فرماتے ہیں کہ اگر تم اس خط کو شائع کرو گے تو تمہاری جان جوکھوں میں پڑ جائے گی۔ اگر میرے ان نیک صلاح دینے والے مرزائی احباب کا مطلب یہ ہے کہ اس خط کی وجہ سے مجھ پر لائبل کی نالش ہوگی۔ تو یہ ان کا خیال غلط ہے۔ کیونکہ مجھے مرزا قادیانی کی ذات سے کوئی بحث نہیں۔ میں نے ایک لفظ بھی ان کی شان میں برا یا بھلا نہیں لکھا اور نہ میں
٣
نے ان کو کہیں مخاطب کیا ہے۔ میں نے جو کچھ لکھا ہے، مرزا قادیانی کی تعلیم پر لکھا ہے اور وہ بھی صرف وہیں تک جو اس رسالہ سے مجھے معلوم ہوئی ہے۔
اگر ان دوستوں کا یہ خیال ہے کہ مرزا قادیانی میرے واسطے کوئی بددعا کریں گے اور اس سے مجھے کچھ نقصان پہنچے گا۔ تو میں ان کے اس خیال پر افسوس کرتا ہوں۔ خدا جانے وہ کیوں غلطی میں پڑے ہوئے ہیں۔ وہ مہربانی فرما کر بنظر انصاف میرے اس خط کو پڑھیں تو انہیں معلوم ہو جائے گا کہ جس شخص کے یہ باطل دعاوی ہیں۔ جو قرآن مجید اور حدیث پاک کے رو سے کفر و شرک تک پہنچ گئے ہیں۔ وہ مستجاب الدعوات کس طرح ہو سکتا ہے؟
اگر ان دوستوں کا یہ خیال ہے کہ مرزا قادیانی یا ان کے حواری اپنے کسی خادم کو میری جان لینے کے واسطے تعینات کر دیں گے تو میں عرض کرتا ہوں کہ ان کا یہ خیال بھی غلط ہے۔ مرزا قادیانی اس کیریکٹر کے آدمی نہ ہوں گے۔ شاید میرے دوستوں کا یہ خیال ان روایات پر مبنی ہو جو عیسائیوں نے یا آریہ لوگوں نے مرزا قادیانی کی نسبت شائع کی ہیں کہ مرزا قادیانی نے مسٹر عبداللہ آتھم کے مروا ڈالنے میں طرح طرح کی سعی کی تھی یا پنڈت لیکھرام کے مارے جانے میں کچھ مرزا قادیانی کا دخل تھا۔ مگر یہ سب مرزا قادیانی پر بہتان ہے۔ وہ اس قسم کے آدمی نہیں معلوم ہوتے اور اگر بالفرض محال ایسا ہو بھی تو میرے ان نصیحت کرنے والے احباب کو خوش ہونا چاہئے۔ کیونکہ اگر میں کلمہ حق کہنے کے واسطے مارا بھی جاؤں تو میراث جدی پاؤں گا۔
یا شاید یہ دھمکی مرزا قادیانی کی تقلید میں ہو۔ کیونکہ مرزا قادیانی بھی اس قسم کی دھمکیاں اپنے مخالفین کو دیا کرتے ہیں۔ چنانچہ اسی رسالہ میں مرزا قادیانی نے مولوی احمد حسن صاحب امروہی کو اس طرح دھمکایا ہے: ”لیکن امروہہ بھی مسیح موعود کے محیط ہمت سے دور نہیں ہے۔ اس لئے اس مسیح کا کافرکش دم ضرور امروہہ تک بھی پہنچے گا۔“ (دافع البلاء ص ١٧، خزائن ج ١٨ ص ٢٣٨) لیکن حضرات کوئی معقول آدمی اس دم میں نہیں آئے گا۔ یہ خالی خولی دم جھانسہ ہے۔ اس دم میں جس کا نام اس دم خم کے ساتھ ”کافرکش“ رکھا گیا ہے۔ کوئی دم نہیں ہے۔
بہر حال میں نہیں جانتا کہ ان کا مجھے دھمکانا ڈرانا کیا معنی رکھتا ہے۔ بلکہ اصل تو یہ ہے کہ یوں تو شاید میں اس خط کو شائع نہ بھی کرتا۔ مگر ان کے اس دھمکانے اور ڈرانے نے مجھے مجبور کر دیا ہے کہ میں اس کو ضرور شائع کروں اور دیکھوں کہ کیا ہوتا ہے۔ میرا ضمیر کہتا ہے کہ اگر میں کلمہ حق کو اس خوف سے چھپاتا ہوں کہ اس کے اظہار سے مجھے کوئی ذاتی نقصان پہنچے گا تو میرا ایمان کامل نہیں ہو سکتا۔ میرا عقیدہ ہے کہ اگر کوئی شخص اپنی سستی اور کاہلی کی وجہ سے نماز نہیں پڑھتا تو گناہ گار ہے
٢١
ہے۔ لیکن اگر اس کو کوئی ڈرائے کہ اگر تو نماز پڑھے الصلوٰۃ ہو جائے، تو وہ شخص کافر ہے۔
اسی طرح جو چند تفہیمات مرزائیہ کہ ا ہوئیں اور میں نے ان کو بموجب حکم خدا اور رسول ک ایک حد تک گناہ گار تھا۔ لیکن جب مجھ کو یہ دھمکی کروں گا تو مجھ کو اس سے نقصان پہنچے گا۔ تو اب ی سے باز رہنا اس درجہ کو پہنچ جاتا ہے، جس کو کفر کہتے معاف فرمائیں کہ میں اس خط کو شائع کرتا ہوں ا نبی ﷺ کے سامنے ان سے منکر قرار نہ دیا جاؤں ابن اللہ وغیرہ وغیرہ کو نیچا دکھاؤں اور اس طرح س الصدور، وانما الاعمال بالنیات“
مرزا قادیانی نے اپنے کل دعاوی کی ”قادیان میں کبھی طاعون نہیں آئے گا اور جو میرا چونکہ اب قادیان میں طاعون آ گیا ہے اور خاص طاعون سے مر چکے ہیں۔ جن کی فہرست اس خط م فیصلہ کرلیں کہ مرزا قادیانی اب کہاں تک سچے ر
قرآن کیا کہتا ہے؟
اے میرے مرزائی دوستو! ممکن ہے ی کے ارادہ سے ہو۔ کیونکہ تم خود کسی دھوکہ میں آ میں بھی حق دوستی ادا کرنے کی نیت سے اور آپ ک ڈر سے نکالنے کے واسطے خالصۃ للہ عرض کرتا ہ تحریرات اور خصوصاً یہ رسالہ جو میں نے غور سے پ اپنی بڑائی اور خود ستائی کی دھن میں اس درجہ محو ہیں ک ہیں۔ آپ ان کی تحریرات کو کوئی وقعت نہ دیں، ا
اے میرے مرزائی دوستو! میں نے ی دو چار موٹی موٹی باتیں اس رسالہ میں سے مخلصا
ہے۔ لیکن اگر اس کو کوئی ڈرائے کہ اگر تو نماز پڑھے گا تو تجھ کو یہ نقصان ہوگا اور اس ڈر سے وہ تارک الصلوٰۃ ہو جائے، تو وہ شخص کافر ہے۔
اسی طرح جو چند تحکمات مرزائیہ کہ اس رسالہ دافع البلاء سے مجھ کو خلاف اسلام معلوم ہوئیں اور میں نے ان کو بموجب حکم خدا اور رسول کفر و شرک سمجھا۔ مگر علانیہ ان کا اظہار نہیں کیا تو میں ایک حد تک گناہ گار تھا۔ لیکن جب مجھ کو یہ دھمکی دے کر ڈرایا گیا کہ اگر میں کلمۃ الحق کا اعلان کروں گا تو مجھ کو اس سے نقصان پہنچے گا۔ تو اب میرا دھمکی کی وجہ سے اعلان قال اللہ و قال الرسول سے باز رہنا اس درجہ کو پہنچ جاتا ہے، جس کو کفر کہتے ہیں۔ پس اے میرے مرزائی دوستو! آپ مجھے معاف فرمائیں کہ میں اس خط کو شائع کرتا ہوں اور صرف اس نیت سے کہ میں اپنے اللہ اور اپنے نبی ﷺ کے سامنے ان سے منکر قرار نہ دیا جاؤں۔ نہ اس غرض سے کہ آپ کے نبی اور آپ کے ابن اللہ وغیرہ وغیرہ کو نیچا دکھاؤں اور اس طرح سے ناموری حاصل کروں۔ ”والله يعلم ما فی الصدور، وانما الاعمال بالنيات“
مرزا قادیانی نے اپنے کل دعاوی کی تصدیق اس رسالہ میں اس بات پر رکھی ہے کہ ”قادیان میں کبھی طاعون نہیں آئے گا اور جو میرا معتقد ہوگا، وہ کبھی اس مرض سے نہیں مرے گا۔“ چونکہ اب قادیان میں طاعون آ گیا ہے اور خاص قادیان اور دیگر مقامات میں بہتیرے مرزائی طاعون سے مر چکے ہیں۔ جن کی فہرست اس خط کے ساتھ شامل ہے۔ میرے مرزائی دوست خود فیصلہ کر لیں کہ مرزا قادیانی اب کہاں تک سچے رہے؟ اور جو سچا نہیں ہے کاذب ہے، اس کی نسبت قرآن کیا کہتا ہے؟
اے میرے مرزائی دوستو! ممکن ہے کہ آپ کا مجھے ڈرانا اور دھمکانا حق دوستی ادا کرنے کے ارادہ سے ہو۔ کیونکہ تم خود کسی دھوکہ میں آ کر ڈر گئے ہو اور اسی طرح مجھے بھی ڈراتے ہو۔ تو میں بھی حق دوستی ادا کرنے کی نیت سے اور آپ کو صراط مستقیم پر لانے کی غرض سے اور اس جھوٹے ڈر سے نکالنے کے واسطے خالصۃً للہ عرض کرتا ہوں کہ اے میرے مکرم دوستو! مرزا قادیانی کی تحریرات اور خصوصاً یہ رسالہ جو میں نے غور سے پڑھا ہے، بتلاتا ہے کہ وہ نفس امارہ کے مطیع ہو کر اپنی بڑائی اور خود ستائی کی دھن میں اس درجہ محو ہیں کہ ”ابی واستکبر“ کی حد تک پہنچ گئے ہیں۔ آپ ان کی تحریرات کو کوئی وقعت نہ دیں، چہ جائیکہ معتقدات میں شامل کر لیں۔
اے میرے مرزائی دوستو! میں نے اس خیال سے کہ ”العاقل تكفيه الاشارة“ دو چار موٹی موٹی باتیں اس رسالہ میں سے مخلصانہ طریق سے آپ کے گوش گزار کر دی ہیں۔ ورنہ
٥
اگر آپ اس رسالہ کو بنظر انصاف ملاحظہ کریں تو یقین مانئے کہ مرزا قادیانی کا کوئی قول بھی اس قابل نہ پائیں گے کہ کوئی سلیم العقل اس کو تسلیم کرے۔ کوئی سلیم العقل انسان جس مذہب میں ہو، اس کو اس طرح خراب نہیں کرتا جس طرح قرآن کریم کو اور حدیث رسول اللہ کو یعنی اسلام کو مرزا قادیانی نے اس رسالہ میں خراب کیا ہے اور اب تو جو معیار انہوں نے اپنی سچائی پرکھنے کی اس رسالہ میں خود قرار دی تھی۔ اس کے بموجب وہ کاذب ثابت ہو گئے ہیں۔ اب تو آپ مرزائی معتقدات سے باز آئیں اور......
- اول ...... اللہ تعالیٰ کو انہی صفات کے ساتھ وحدہ لا شریک لہ مانیں جو قرآن پاک سکھاتا ہے۔
- دوم ...... قرآن مجید کو کلام اللہ مان کر اس امر کا یقین اپنے دل میں بطور ایمان کے رکھیں کہ محمد
رسول اللہ ﷺ خاتم النبیین ہیں۔
- سوم ...... اور چونکہ وہ نبی پاک دین کی کوئی بات اپنی طرف سے گھڑ کے نہیں کہتا تھا۔ ”اِن ھو
الا وحی یوحٰی (النجم:٤)“ ﴿بلکہ یہ وہ وحی ہے جو ان پر نازل ہوتی ہے۔﴾ پس یہ بھی ایمان لائیں کہ اس نبی کا یہ فرمانا ”لا نبی بعدی“ برحق ہے۔
- چہارم ...... تصدیق قلب کے ساتھ کہو کہ اگر کوئی شخص یہ کہتا ہے کہ میں ابن اللہ ہوں تو وہ کفر
کہتا ہے۔
- پنجم ...... اگر کوئی یہ کہتا ہے کہ میں نبی ہوں تو سچے دل سے پکار کے کہہ دو کہ ایسا دعویٰ کرنے والا
کاذب ہے۔ کیونکہ خاتم النبیین کے اس قول کے بعد کہ ”لا نبی بعدی“ کسی کا دعویٰ نبوت کرنا قرآن کریم اور نبی کریم کو جھٹلانا ہے۔
- ششم ...... جو شخص اہل بیت نبی کی برابری کا دعویٰ کرتا ہے، ضلالت میں ہے۔
- ہفتم ...... اگر یہ دعویٰ برابری اور برتری کسی بغض اور نفسانیت کی وجہ سے ہے، تو وہ شخص جہنمی
ہے۔ میرے اس قول کی تائید میں آپ کو آیات قرآنی اور احادیث نبوی میرے اس خط میں مل جائیں گی۔ جو ایک مسلمان کو اطمینان قلب کے واسطے کافی اور وافی ہے۔
اے میرے پیارے دوستو! خدارا مجھ سے ناراض نہ ہونا اور یہ نہ سمجھنا کہ میں آپ کے مرزا قادیانی کو خدانخواستہ برا کہتا ہوں۔ میرا یہ ارادہ مطلق نہیں ہے۔ میں صرف یہ عرض کرتا ہوں کہ جو تعلیم یہ رسالہ دافع البلا دیتا ہے، ضلالت ہے۔ جو شخص یہ تعلیم دیتا ہے، وہ مسلمان نہیں ہے۔ اگر مسلمانی کا دعویٰ کرتا ہے تو سلیم العقل معلوم نہیں ہوتا اور جو شخص اس تعلیم کو اپنے معتقدات میں داخل کرے گا، خسر الدنیا والآخرۃ ہوگا۔
رباعی
ہم ابن اللہ شد است و ہم
خودش گمراہ شد است و خلق
کسے کو پیروش باشد نہ
بسم اللہ الرحمن الرحیم نحمدہ ونصلی علی رسولہ الکریم
مخدوم و مکرم بندہ ٭٭ السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ! گرامی نامہ الاصطفا “ مطبوعہ جناب مرزا غلام احمد قادیانی شرف شکریہ ادا کرتا ہوں اور خاص کر اس رسالہ کے بھیجنے کا دوست ہیں۔ کیونکہ سچا دوست وہی ہے جو دکھ اور مصی آج کل جو مصیبت طاعون کی پنجاب میں آئی ہوئی ہ تدبیر اس مصیبت سے بچنے کی ہاتھ آئی، اس سے آس اللہ تعالیٰ آپ کو جزائے خیر عطا فرمائے۔
چونکہ آپ نے ایما فرمایا ہے کہ میں اپنی تجویز فرمایا ہے، ظاہر کروں۔ میں یہ عریضہ اس رسال ایک حرف بھی حوالہ قلم کروں، یہ گزارش کرنا ضروری کی رائے کے برخلاف ہو تو وہ میرے اور آپ کے ڈالنے کا موجب قرار نہ دے دی جائے۔ کیونکہ مجھے میں سے ہیں۔ گو یہ معلوم نہیں کہ کس درجہ تک، مگر ہیں
؎١ یہاں اس دوست کا نام تھا۔ جن کو یہ خط چاہیے۔ ہم ان کا نام بھی ظاہر کرنا نہیں چاہتے۔ اس بجائے ٭٭ لکھ دیا ہے۔
٧
رباعی
ہم ابن الله شد است وہم رو حق میچکد نامش
خودش گمراہ شد است و خلق را ہم میکند گمراہ
کسے کو پیروش باشد نہ بینم نیک انجامش
والسلام علی من اتبع الهدیٰ!
خاکسار، واحد علی! ملتان، ٢٥ جولائی ١٩٠٢ء
بسم الله الرحمن الرحیم!
نحمده ونصلی علیٰ رسوله الکریم ٠ اما بعد!
مخدوم ومکرم بندہ**لے
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ، گرامی نامہ مع ایک رسالہ موسومہ ”دافع البلاء ومعیار اہل الاصطفا“ مطبوعہ جناب مرزا غلام احمد قادیانی شرف صدور لا کر موجب افتخار ہوا۔ اس یاد آوری کا شکریہ ادا کرتا ہوں اور خاص کر اس رسالہ کے بھیجنے کا جس سے ثابت ہوتا ہے کہ آپ میرے سچے دوست ہیں۔ کیونکہ سچا دوست وہی ہے جو دکھ اور مصیبت کے وقت اپنے دوست کے کام آئے۔ آج کل جو مصیبت طاعون کی پنجاب میں آئی ہوئی ہے۔ فی الواقع بڑی مصیبت ہے۔ آپ کو جو تدبیر اس مصیبت سے بچنے کی ہاتھ آئی، اس سے آپ نے مجھے بھی مطلع فرمایا اور حق دوستی ادا کیا۔ اللہ تعالیٰ آپ کو جزائے خیر عطا فرمائے۔
چونکہ آپ نے ایسا فرمایا ہے کہ میں اپنی رائے اس علاج کی نسبت جو مرزا قادیانی نے تجویز فرمایا ہے، ظاہر کروں۔ میں یہ عریضہ اس رسالہ کے متعلق لکھتا ہوں۔ لیکن پیش از ایں کہ میں ایک حرف بھی حوالہ قلم کروں، یہ گزارش کرنا ضروری سمجھتا ہوں کہ اگر اس خط میں کوئی بات جناب کی رائے کے برخلاف ہو تو وہ میرے اور آپ کے ذاتی تعلقات میں کسی ادنیٰ حد تک بھی فرق ڈالنے کا موجب قرار نہ دے دی جائے۔ کیونکہ مجھے معلوم ہے کہ آپ مرزا قادیانی کے معتقدین میں سے ہیں۔ گو یہ معلوم نہیں کہ کس درجہ تک، مگر ہیں ضرور۔
لے یہاں اس دوست کا نام تھا۔ جن کو یہ خط لکھا گیا۔ لیکن چونکہ وہ اس کا شائع ہونا نہیں چاہتے۔ ہم ان کا نام بھی ظاہر کرنا نہیں چاہتے۔ اسی طرح تمام خط میں جہاں ان کا نام تھا۔ اس کی بجائے ** لکھ دیا ہے۔
٧
پس اگر کوئی بات مرزا قادیانی کے خیالات یا منقولات کے برخلاف ہو تو خدارا مجھے معاف کرنا۔ میں آپ کا دیرینہ خادم ہوں۔ میں آپ کی عنایات کا بہت ہی ممنون اور مرہون ہوں اور آپ کی توجہات کی بہت ہی قدر کرتا ہوں۔ مرزا قادیانی ایک بزرگ آدمی ہیں۔ نہ میری یہ مجال ہے کہ میں ان کی جناب میں کوئی گستاخانہ لفظ اپنے منہ سے یا قلم سے نکالوں۔ نہ میری یہ لیاقت ہے کہ ان کے کہے پر کوئی اعتراض کروں۔ نہ میرا یہ مدعا ہے کہ اس رسالہ پر نکتہ چینی کر کے مرزا قادیانی سے یا ان کے کسی حواری سے یا آپ سے یا آپ کے کسی ہم خیال صاحب سے کوئی مناظرہ قائم کروں۔ پس مہربانی فرما کر میرے اس خط کو ان تحریرات میں سے قرار نہ دیجئے گا جو مرزا قادیانی کے برخلاف لکھی جاتی ہیں۔
میں بلا لحاظ ذاتیات اپنی رائے اس رسالہ کی نسبت اور اس علاج کی نسبت جو اس میں بتایا گیا ہے، عرض کرتا ہوں اور امید کرتا ہوں کہ میری تحریر مخلصانہ اور بے ریا سمجھی جائے گی۔ بلکہ اس تحریر کی ضرورت بھی نہ ہوتی مگر چونکہ مرزا قادیانی قرآن کو منزل من اللہ اور حضرت محمد بن عبداللہ ﷺ کو پیغمبر برحق مانتے ہیں اور میں بھی مسلمان ہوں۔ ہمدردی اور دفع المغالطہ کے طور پر اس کا لکھنا ضروری سمجھا اگر کوئی غیر شخص یعنی جو کہ قائل قرآن نہ ہو یا پیغمبر ﷺ کا ماننے والا نہ ہو۔ وہ ایسی بات کہے تو اس کی کوئی شکایت نہیں۔ ایک غلام احمد سے ایسی باتیں سن کر صبر نہیں رہتا۔ خاص کر اس حالت میں جبکہ آپ کی طرف سے بھی اظہار رائے کی اجازت ہو چکی ہے۔
مرزا کے مجوزہ علاج طاعون پر ایک مختصر رائے
** صاحب میں نے اس رسالہ کو پڑھا اور جو علاج کہ طاعون سے بچنے کا اس میں لکھا ہے۔ وہ بعینہ ایسا معلوم ہوا جیسے کسی شخص کو جو دھوپ میں کھڑا ہے، یہ کہا جائے کہ جناب تور میں تشریف لے جائیے۔ دھوپ سے بچ جاؤ گے اور گرمی سے نجات پاؤ گے اور یہ رائے میں نے ان وجوہات سے قائم کی ہے۔
اوّل ...... یہ کہ میں اس بات کا قائل نہیں کہ طاعون کی وبا اس ملک میں ہماری بداعمالیوں کی سزا کے طور پر آئی ہے۔ کیونکہ ہمارے نبی کریم ﷺ رحمت للعالمین ہیں۔ اس رحمت للعالمین کے ظہور کی برکت سے ایسی سب سزائیں بنی آدم پر اس دنیا میں آنی بند کر دی گئی ہیں اور انسان کی بد اعمالیوں کی سزا یوم الآخر پر موقوف رکھی گئی ہے۔ ”کما قال اللہ تعالیٰ فی کتاب الکریم وماکان اللہ لیعذبہم وانت فیہم (الانفال: ٣٣)“ ﴿اور (اے پیغمبر) خدا ایسا (بے مروت) نہیں ہے کہ تم ان لوگوں میں موجود ہو اور وہ (تمہارے رہتے) ان کو عذاب دے۔﴾
٨
ہیضہ، طاعون یا آفات سماوی حسب عادت اللہ کہتے ہیں۔ دنیا میں آتی رہتی ہیں اور رہتا ہے۔
دوم ...... اگر ان آفات کا آنا ہماری بداعمالیو معلوم ہوتا ہے جو غریب انجمن حمایت اسلام لاہ نہایت عجز و شرمساری کے ساتھ اس رب العزت سچے دل سے توبہ کریں اور معافی مانگیں۔ نہ یہ جائیں اور بزرگان دین کی تحقیر اور توہین کریں جو
** صاحب آپ جانتے ہیں کہ میں معتقدات میں شرک فی الوحدت اور شرک فی العبا میں اس کی صفات میں اور اس کی عبادات میں پیارے نبی ﷺ کے برابر کسی کو سمجھنا کفر جانتا ہوں
بھائی جان! برا نہ ماننا، فرط اعتقاد انس مرزا قادیانی کی کل تصانیف پڑھی ہوں گی۔ میں پڑھی ہیں۔ ان میں جو کچھ مجھ کو خلاف اسلام یا خ رسالہ سے جو آپ نے عنایت فرمایا ہے، مجھے م اشتراک فی النبوت میں مبتلا ہونا ثابت ہوتا ہے اسلام خود کفر اور شرک کے درجہ تک پہنچ چکا ہو۔ کے بجائے سیدھا دوزخ میں جانے کا باعث ۔ اس رسالہ میں بتلایا گیا ہے۔ وہ اس قسم کا ہے کہ
مرزا قادیانی کا شرک فی الوحدت میں
دیکھئے، مرزا قادیانی کے الہام کے ال ”انت منی بمنزلة اولادی، ا ج ١٨ص ٤٢٧) اس سے اگر مرزا قادیانی کی مراد ی ہے: ”کماقال الله تعالى في كتاب (نسا:١٣١) “ ﴿اور جو کچھ آسمانوں میں ہے
ہیضہ، طاعون یا آفات سماوی حسب اقتضائے قانون طبعی جس کو شرعی اصطلاح میں عادت اللہ کہتے ہیں۔ دنیا میں آتی رہتی ہیں اور اسی قانون قدرت کے موافق ان کا مداوا بھی ہوتا رہتا ہے۔
دوم ..... اگر ان آفات کا آنا ہماری بداعمالیوں ہی کی سزا ہے تو بھی اس کا علاج وہی معقول معلوم ہوتا ہے جو غریب انجمن حمایت اسلام لاہور نے اور کل اہل اسلام نے تجویز کیا ہے کہ ہم نہایت عجز وشرمساری کے ساتھ اس رب العزت کے سامنے اپنے گناہوں کا اعتراف کریں اور سچے دل سے توبہ کریں اور معافی مانگیں۔ نہ یہ کہ توحید ہی سے انکار کریں، رسالت کے منکر ہو جائیں اور بزرگان دین کی تحقیر اور توہین کریں جو یہ رسالہ بتاتا ہے۔
** صاحب آپ جانتے ہیں کہ میں موحد ہوں۔ یعنی سیدھا سادہ مسلمان۔ میرے معتقدات میں شرک فی الوحدت اور شرک فی النبوت یکساں ہیں۔ یعنی جس طرح میں اللہ کی ذات میں اس کی صفات میں اور اس کی عبادات میں کسی کو شریک کرنا کفر سمجھتا ہوں۔ اسی طرح اپنے پیارے نبی ﷺ کے برابر کسی کو سمجھنا کفر جانتا ہوں اور کلمہ توحید کے منافی سمجھتا ہوں۔
بھائی جان ! برا نہ ماننا، فرط اعتقاد انسان کو اندھا اور بہرہ کر دیتا ہے۔ آپ نے تو غالباً مرزا قادیانی کی کل تصانیف پڑھی ہوں گی۔ میں نے اس سے پہلے مرزا قادیانی کی چند تصانیف پڑھی ہیں۔ ان میں جو کچھ مجھ کو خلاف اسلام یا خلاف معقول معلوم ہوا ہے، اس کا کیا ذکر کرنا۔ اسی رسالہ سے جو آپ نے عنایت فرمایا ہے، مجھے مرزا کا شرک فی الوحدت اور شرک فی النبوت بلکہ اشتراک فی النبوت میں مبتلا ہونا ثابت ہوتا ہے۔ پس میرے خیال میں جو شخص بموجب معتقدات اسلام خود کفر اور شرک کے درجہ تک پہنچ چکا ہو۔ اس پر ایمان لانا طاعون سے بچنے کا ذریعہ ہونے کے بجائے سیدھا دوزخ میں جانے کا باعث ہے اور اسی واسطے میں نے عرض کیا ہے کہ جو علاج اس رسالہ میں بتلایا گیا ہے۔ وہ اس قسم کا ہے کہ دھوپ سے بچنے کے واسطے تنور میں پناہ لی جائے۔
مرزا قادیانی کا شرک فی الوحدت میں مبتلا ہونا
دیکھئے، مرزا قادیانی کے الہام کے الفاظ یہ ہیں۔
”انت منى بمنزلة اولادى، انت منى وانا منك “ (دافع البلاء ص ٦،٧ خزائن ج ١٨ ص ٢٢٧) اس سے اگر مرزا قادیانی کی مراد یہ ہے کہ ہر ایک چیز خدا کی بنائی ہوئی ہے اور اسی کی ہے: ”کماقال اللہ تعالىٰ فى كتابه ولله ما فى السموات وما فى الارض (نسا: ١٣١) ” اور جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین پر ہے، سب اللہ کا ہے۔ ﴾ پس یہ کہ
٩
تمام مخلوق اس کی ذات کا اور اس کی ہستی کا ثبوت ہے۔
كما قال الله تعالى ان فى ذلك لايات لقوم يتفكرون (النحل : ٦٩)“
﴿بیشک غور کرنے والوں کے لئے اس میں عین (قدرت خدا کی بڑی ) نشانی ہے۔﴾ تو اس میں اللہ کی ادنیٰ سے ادنیٰ مخلوق بھی شامل ہے۔ مرزا قادیانی کی کوئی تخصیص نہیں:
ہر ورقے دفتر یست معرفت کردگار
مگر نہیں، مطلب سعدی دیگرست۔ مرزا قادیانی ”انت منى بمنزلة اولادى“ سے ابن اللہ بننا چاہتے ہیں۔ بننا کیا چاہتے ہیں، بن چکے
(دافع البلاء ص ٦، خزائن ج ١٨ ص ٢٢٧)
ہیں۔ اب تو منوانا چاہتے ہیں اور بایں ادّعا کہ ان کے اس قول پر ایمان لانے کا خدا نے حکم دیا ہے۔ پھر تماشہ یہ ہے کہ ابن اللہ بھی بن کر صبر نہیں آیا۔ آگے فرمایا ہے ”انت منى وانامنك “ تو مجھ میں سے اور میں تجھ میں سے۔
(دافع البلاء ص ٦، خزائن ج ١٨ ص ٢٢٧)
مرزا قادیانی خدا سے یا انہی کے الفاظ میں خدا میں سے ہو سکتے ہیں۔ لیکن خدا تعالیٰ مرزا قادیانی میں سے کیونکر ہو سکتا ہے؟ جب ان کا خدا میں سے ہونا بقول ان کے ”بمنزلة اولادی“ یعنی ابن اللہ ہوا تو لا محالہ ”انامنك“ کے معنی ہوں گے ”ابو اللہ“ جو صریحاً ”لم یلد ولم یولد“ کے منافی ہے اور یہ ان کو بھی کھٹکی ہے۔ چنانچہ اس کفر صریح سے بچنے کے واسطے (دافع البلاء ص ٦، خزائن ج ١٨ ص ٢٢٧) کے حاشیہ میں انہوں نے ”الغریق یتشبث بالحشیش“ (ڈوبتے کو تنکے کا سہارا) بہت کچھ ہاتھ پیر مارے ہیں۔ کبھی اس کا نام مجاز رکھا ہے۔ کبھی استعارہ۔ کبھی تشابہات مگر:
اپنے خیال کو چھپا نہیں سکے اور فرماتے ہیں:
”یاد رہے کہ خدائی دعووں سے پاک ہے۔“** یہ فقرہ قبیل مجاز اور استعارہ میں سے ہے۔ اس خدا کے کلام کو ہوشیاری اور احتیاط سے پڑھو اور از قبیل متشابہات سمجھ کر ایمان لاؤ۔ اس کی کیفیت میں دخل نہ دو اور حقیقت حوالہ بخدا کرو۔“
(دافع البلاء ص ٦، خزائن ج ١٨ ص ٢٢٧)
اوّل تو دیکھئے یہ کیسی ظلم کی بات ہے کہ اپنے کلام کو خدا کا کلام کہنا۔ پھر نعوذ باللہ من ہذہ الکلمات والاعتقادات۔ ابن اللہ وابواللہ ہونے کا دعویٰ کرنا۔ پھر اس سے شرمانا اور پھر اس
١٠
شرم سے مٹی ہوتی دیکھ کر اس پر صرف حوالہ بخدا کرنا:
رم کردا
معتقدات اسلام میں اگر کس ممانعت ہے تو وہ صرف ایک ذات با حواس انسانی کے ادراک سے باہر ہے ہے ، مسلمان ہونے کے لئے کافی ہے کی ضرورت نہیں ہے۔ اسی طرح مرزا ایمان لاؤ اور یہ ایمان لانا ہی نجات کے اس کی کیفیت اور حقیقت مر
مرزا قادیانی کی انانیت اور انانیت باللہ ا ادراک قوائے بشری سے باہر ہے، اگر ا جیسے ہماری تمہاری ہے۔ مجازا مراد ہے معنی ہوں گے؟ ”بمنزلة اولادك“
تو مطلب یہ ہوا کہ جس طر باللہ خداوند عالم و عالمیان مرزا قادیانی کی سب سے اچھی اور بچاؤ کی مطلب یہ ہے کہ:
مگر اس سے بھی ”انت م ص ٢٢٧) تو شاید ثابت ہو جائے گا۔ مگر
کیونکہ خدا تعالیٰ خالق کل ہونے کی وجہ وہ جو اس کل مخلوق کا پیدا کرنے والا ہے
یا یہ کہ مرزا قادیانی کا مط بیٹھنے والے غرق الخیال کی دھن میں زبا
شرم سے ہیٹی ہوتی دیکھ کر اس پر صرف ایمان لانے کی تاکید کرنا اور اس کی کیفیت اور حقیقت کو حوالہ بخدا کرنا:
رم کردن و استادن و دیدن
معتقدات اسلام میں اگر کسی بات کی حقیقت اور کیفیت میں بحث اور غور کرنے کی ممانعت ہے تو وہ صرف ایک ذات باری ہے۔ کیونکہ ذات باری کی کیفیت اور حقیقت کو سمجھنا حواس انسانی کے ادراک سے باہر ہے۔ اللہ تعالیٰ جل شانہ کی ہستی پر ایمان لانا کہ وہ ہے اور ایک ہے، مسلمان ہونے کے لئے کافی ہے۔ ماہیت ذات باری معلوم کرنے کی اور اس پر بحث کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ اسی طرح مرزا قادیانی فرماتے ہیں کہ میرے ابن اللہ اور ابو اللہ ہونے پر ایمان لاؤ اور یہ ایمان لانا ہی نجات کے لئے کافی ہے۔
اس کی کیفیت اور حقیقت مت پوچھو اور اس پر غور نہ کرو۔ گویا ذات باری کی حقیقت اور مرزا قادیانی کی ماہیت اور ابویت باللہ ایک رتبہ رکھتی ہیں۔ ان میں غور و فکر کرنا ممنوع ہے اور اس کا ادراک قوائے بشری سے باہر ہے۔ اگر آپ فرمائیں کہ نہیں ”انت منی“ کے معنی ایسی اولاد نہیں جیسے ہماری تمہاری ہے۔ مجازاً مراد ہے ”بمنزلۃ اولادی “ یوں ہی سہی، پر ”انت منک“ کے کیا معنی ہوں گے؟ ”بمنزلہ اولادک“
تو مطلب یہ ہوا کہ جس طرح مرزا قادیانی خدا کے مجازی بیٹے ہیں۔ اسی طرح نعوذ باللہ خداوند عالم و عالمیان مرزا قادیانی کا مجازی بیٹا ہے۔
سب سے اچھی اور بچاؤ کی تاویل اس الہام کی یہ ہو سکتی ہے کہ مرزا قادیانی کا اس سے مطلب یہ ہے کہ:
مگر اس سے بھی ”انت منی بمنزلۃ اولادی“ (دافع البلاء ص ٦ خزائن ج ١٨ ص ٢٢٧) تو شاید ثابت ہو جائے گا۔ مگر ”انا منک بمنزلۃ اولادک “ ثابت کیونکر ہو سکتا ہے؟ کیونکہ خدا تعالیٰ خالق کل ہونے کی وجہ سے مجازاً باپ کہا جا سکتا ہے اور کل مخلوق عیال اللہ ہے۔ مگر وہ جو اس کل مخلوق کا پیدا کرنے والا ہے۔ اپنی مخلوق کا بیٹا کیونکر ہو سکتا ہے۔
یا یہ کہ مرزا قادیانی کا مطلب اس سے ہمہ اوست ہو مگر اس خیال کو تو بھنگیڑ خانوں کے بیٹھنے والے ورق الخیال کی دھن میں زیادہ وضاحت کے ساتھ بیان کیا کرتے ہیں۔ ایک کہتا ہے:
ہاتھ لا استاد! کیوں، کیسی کہی؟
دوسرا ہانک لگاتا ہے:
جہاں میں خدا کی خدائی نہ ہوتی
تیسرا کہتا ہے:
جدھر دیکھتا ہوں ادھر تو ہی تو ہے
ایک کہتا ہے:
جدھر دیکھتا ہوں ادھر میں ہی میں ہوں
پھر ان میں اور مرزا قادیانی کے الہام میں کیا فرق ہوا؟ اگر کچھ فرق ہے تو صرف اتنا کہ ان بھنگڑ جہلاء کی کوئی بات نہیں سنتا اور مرزا قادیانی کے فرمان کو بادشاہ وقت شناس واجب الاذعان سمجھ کر ٹھوکر کھا جاتے ہیں۔
ان تاویلوں کو چھوڑ چھاڑ کر میں تو صریح الفاظ کے صاف معنی لیتا ہوں ”انت منی بمنزلہ اولادی“ تو مجھ سے ہے یعنی جیسا باپ میں سے بیٹا ہوا کرتا ہے۔ ”انت منی“ تو مجھ سے ہے ”وانا منك“ اور میں تجھ سے ہوں۔ بالفاظ دیگر تو میرا بیٹا اور میں تیرا بیٹا۔ میں تیرا باپ اور تو میرا باپ، اور یہ آیت قرآن مجید یعنی ”لم يلد ولم يولد“ ﴿نہ اس سے کوئی پیدا ہوا اور نہ وہ کسی سے پیدا ہوا﴾ کے برخلاف ہے اور ”ما اتخذ صاحبة ولا ولد“ ﴿اس نے نہ تو کسی کو اپنی جورو بنایا اور نہ کسی کو بیٹا بیٹی (سورہ جن: ٣)﴾
بھائی جان! مثل مشہور ہے کہ پیراں نمی پرند مریداں مے پرانند۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو تو ان کے حواریوں نے فرط محبت یا عقیدت میں ابن اللہ کہا تھا اور رفتہ رفتہ اللہ ہی بنالیا۔ خود عیسیٰ علیہ السلام نے جیسا کہ ”اَنت قلت للناس (المائدہ: ١١٦)“ سے ثابت ہے کبھی ابن اللہ یا اللہ ہونے کا دعویٰ نہیں کیا۔
لیکن مرزا قادیانی ماشاء اللہ اپنے منہ سے ابن اللہ بلکہ خالق اللہ یا ابو اللہ ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں اور فرماتے ہیں کہ اس پر صرف ایمان لاؤ۔ میرے ابن اللہ اور ابو اللہ ہونے کی حقیقت کی تحقیق نہ کرو۔
١٢
بھائی صاحب! میں تو یہ ایمان کبھی نہیں لاسکتا اور نہ صرف اس ایمان کی حقیقت کو حوالہ بخدا کرتا ہوں جیسا کہ مرزا قادیانی نے فرمایا ہے۔ بلکہ خود مرزا قادیانی کو بنفس نفیس حوالہ بخدا کرتا ہوں ”ومن يضلل الله فلا هادي له “ ﴿جس کو خدا گمراہ کرے تو پھر کوئی بھی اس کا راہ دکھانے والا نہیں۔﴾ اور دعا کرتا ہوں کہ ”ربنا لا تزغ قلوبنا بعد اذ هديتنا وهب لنا من لدنك رحمة، انك انت الوهاب (آل عمران:٧)“ ﴿اے ہمارے پروردگار! ہمکو راہ راست پر لائے پیچھے ہمارے دلوں کو ڈانواں ڈول نہ کر اور اپنی سرکار سے ہم کو رحمت (کا خلعت) عطا فرما، کچھ شک نہیں کہ تو بڑا دینے والا ہے۔﴾
”انت منی وانامنک“ (دافع البلاء ص ٧، خزائن ج ١٨ ص ٢٢٧) کا خیال مرزا قادیانی کو غالباً اس حدیث شریف سے پیدا ہوا ہے۔ ”علی منی وانامنہ“ یعنی رسول خدا ﷺ نے فرمایا ہے کہ علی مجھ میں سے ہے اور میں اس میں سے۔ جس کے معنی یہ ہیں کہ باعتبار شرافت و نجابت جو انسان کا جوہر ذاتی ہے۔ علیؓ اور میں ایک ہیں۔ ”انا وعلی من نور واحد “ جو میرا جسم و جان گوشت و پوست ہے، وہی علیؓ کا ہے ”لحمك لحمى ودمك دمی“ ایک دادا کے دو نوں پوتے چچیرے بھائی ایک نہ ہوں تو دو کس طرح ہو سکتے ہیں؟ تو کیا مرزا قادیانی کا گوشت و پوست اور جسم و جان بھی ایسی ہے جیسے خدا کی؟ یا نعوذ باللہ مرزا قادیانی اللہ کو اپنی طرح مضغہ گوشت موجود فی الخارج جانتے ہیں اور خداوند عالم کے چچیرے بھائی بھی ہیں۔ یہ کیا خرافات ہے؟
پھر ابن اللہ وابواللہ کی تاویل کرتے کرتے دیکھئے جناب کہاں سے کہاں جا پڑے ہیں۔ ملاحظہ فرمائیے کہ ”میری نسبت بینات میں سے یہ الہام ہے جو براہین احمدیہ میں درج ہے ”قل انما بشر مثلكم يوحى الى انما الهكم اله واحد والخير كله فى القرآن“ (دافع البلاء ص ٧، خزائن ج ١٨ ص ٢٢٧ حاشیہ) والخیر کلہ فی القرآن۔ مرزا قادیانی کے الفاظ میں، باقی اخیر حصہ ہے۔ سورۃ الکہف کا اور اس کے معنی کہ ”اے پیغمبر ان لوگوں سے کہو کہ میں بھی تو تم جیسا ایک بشر ہی ہوں (مجھ میں تم میں صرف اتنا فرق ہے کہ) میرے پاس (خدا کی طرف سے) وحی آتی ہے کہ تمہارا معبود (وہی اکیلا) ایک معبود ہے۔“
کجا بومرکب کجا ناتم۔ قطع نظر اس بے ربطی سے مرزا قادیانی کے نزدیک قرآن مجید کیا ہے؟ میاں نظیر اکبر آبادی کا کوڑی نامہ ہے کہ لونڈوں نے اپنی ضرورت کے موافق جس طرح چاہا ادل بدل کر کے بیت بازی کر لی۔
١٣
٭٭: بچپن میں ایک کہانی سنی تھی کہ کسی بستی میں ایک ملا تھا اور تین اس بستی کے نمبردار تھے۔ ایک کا نام ابراہیم تھا اور دوسرے کا موسیٰ اور تیسرے کا عیسیٰ ایک دن نماز فجر میں اس ملا نے سورۃ الاعلیٰ پڑھی اور جیسا کہ اس سورۃ کے کے اخیر میں ہے ”ان هذا لفی الصحف الاولی صحف ابراهيم و موسی (الاعلی: ١٩، ١٨)“ (یہی بات تو اگلے صحیفوں (یعنی) ابراہیم اور موسیٰ کے صحیفوں میں (بھی) ہے۔) پر قرأت کو ختم کیا۔
اتفاق سے میاں عیسیٰ بھی اس دن نماز میں شامل تھے۔ ابراہیم اور موسیٰ کے ساتھ اپنا نام نہ سن کر بہت بھنائے۔ جوں توں بقیہ نماز بھگتا، کچھ بڑبڑاتے ہوئے مکان پر آئے۔ فوراً ملا جی کو طلب کیا اور فرمایا، کیوں ملا جی! آپ کی کچھ شامتیں تو نہیں آئیں؟ ملا گھبرایا کہ یہ بات ہی کیا ہے؟ پوچھا تو نمبردار صاحب نے کہا۔ معلوم ہوتا ہے کہ آپ کو کڑکے لگے ہیں۔ تم جانتے ہو کہ میں اس گاؤں میں ایک ثلث کا مالک ہوں۔ تم نے آج صبح کی نماز میں دو نمبرداروں کا تو نام لیا اور میرا نام نہیں لیا۔ اگر روٹیاں کھانی منظور ہیں تو ہمارا نام بھی ان دونوں کے نام کے ساتھ لیا کرو۔ نہیں تو بوریابستر باندھو اور چلتے پھرتے نظر آؤ۔ ملا نے کہا جناب سہو ہو گیا۔
معاف فرمائیے اور مغرب کے وقت ضرور تشریف لائیے۔ مغرب کی نماز میں ملا جی نے پھر وہی سورت پڑھی اور ابراہیم وموسیٰ کے آگے عیسیٰ کا نام بڑھا کر قرأت کو اس طرح ختم کیا ”ان هذا لفی الصحف الاولی صحف ابراهیم وموسیٰ و عیسیٰ“ یہ کہانی سن کر بھائی جان یقین ماننا بڑا ہی استعجاب ہوتا تھا کہ یہ ملانے بڑے بے ڈھب ہوتے ہیں کہ روٹیوں کی خاطر قرآن مجید میں بھی تصرف کرلیتے ہیں۔ اب معلوم ہوا کہ غریب ملا ہی نہیں بڑے بڑے عالم فاضل جاگیردار بھی خود کو چرخ چہارم پر چڑھانے کے واسطے ایسا کرتے ہیں اور مرزا قادیانی کے الہاموں کو پڑھ کر معلوم ہوتا ہے کہ یہ تو ان کا روزمرہ ہے۔ قرآن مجید میں تحریف اور تصریف کرنا ان کے بائیں ہاتھ کا کھیل ہے۔ جتنے الہام اس رسالہ میں لکھے ہیں۔ سب اسی قسم کے ہیں۔ بخوف طوالت صرف دو چار عرض کرتا ہوں۔
- .......١ ”ان الله لا يغير ما بقوم حتى يغيروا ما بانفسهم انه اوى القرية“
(دافع البلاء ص ٥، خزائن ج ١٨ ص ٢٢٥)
(جو نعمت کسی قوم کو خدا کی طرف سے حاصل ہو جب تک وہ قوم اپنی صلاحیت کو نہ بدلے خدا اس نعمت میں کسی طرح کا تغیر و تبدل نہیں کرتا۔ (الرعد: ١١))
١٤
- .......٢ ”ماكان الله ليعذبهم وانت فيهم انه اوی“
اور (اے پیغمبر) خدا ایسا (بے مروت) نہیں ہے (تمہارے رہتے ان کو عذاب دے۔“
- .......٣ ”عسى ان يبعثك ربك مقاما محمودا“**
”عجب نہیں کہ (اس نماز تہجد کی برکت سے جس م پروردگار (قیامت کے دن) تم کو مقام محمود پر پہنچائے۔“
- .......٤ ”قل انما انابشر مثلكم يوحى الى انما ا
فی القرآن“ ”(اے پیغمبر ان لوگوں سے) کہو کہ میں (بھی) تو تم میں صرف اتنا فرق ہے کہ) میرے پاس (خدا کی طرف س (وہی اکیلا) ایک معبود ہے۔“
بھائی جان! سوائے ان الفاظ کے جن کے اوپر میں آیات قرآنی ہیں۔ مرزا قادیانی نے وہ الفاظ جن پر لکیر ہے، آیات کو نئی وحی قرار دیا ہے۔ یہ قرآن مجید میں تحریف اور تصریف ”وقد كان فريق منهم يسمعون كلام عقلوه وهم يعلمون “ ”ان میں کچھ لوگ ایسے بھی گزر کے سمجھے بوجھے دیدہ و دانستہ اس کو کچھ کا کچھ کردیتے تھے۔“ ”فويل للذين يكتبون الكتاب بايديهم ليشتروا به ثمنا قليلا، فويل لهم ماكتبت ايديهم و ”پس افسوس ہے ان لوگوں پر جو اپنے ہاتھ سے تو ک کہیں کہ خدا کے ہاں سے (اتری) ہے تاکہ اس کے ذریعہ س فائدے) حاصل کریں۔ پس افسوس ہے ان پر کہ انہوں نے ا ہے ان پر کہ انہوں نے ایسی کمائی کی۔“
١٥
- .......٢ "ماكان الله ليعذبهم وانت فيهم انه اوى القرية"
(دافع البلاء ص ٦، خزائن ج ١٨ ص ٢٢٦)
"اور (اے پیغمبر ) خدا ایسا ( بے مروت ) نہیں ہے کہ تم ان لوگوں میں موجود رہو اور وہ (تمہارے رہتے ان کو عذاب دے۔"
(سورۃ الانفال:٣٣)
- .......٣ "عسى ان يبعثك ربك مقاما محمودا***"
(دافع البلاء ص ٧، خزائن ج ١٨ ص ٢٢٧)
"عجب نہیں کہ (اس نماز تہجد کی برکت سے جس کا ذکر اس آیت میں ہے ) تمہارا پروردگار (قیامت کے دن) تم کو مقام محمود پر پہنچائے۔"
(سورۃ بنی اسرائیل:٧٩)
- .......٤ "قل انما انا بشر مثلكم يوحى الي انما الهكم اله واحد والخير كله
فى القرآن"
(دافع البلاء ص ٧، خزائن ج ١٨ ص ٢٢٧)
"(اے پیغمبر ان لوگوں سے) کہو کہ میں (بھی) تو تم جیسا ایک بشر ہی ہوں (مجھ میں تم میں صرف اتنا فرق ہے کہ) میرے پاس (خدا کی طرف سے) یہ وحی آتی ہے کہ تمہارا معبود (وہی اکیلا) ایک معبود ہے۔"
(سورۃ الکہف:١١٠)
بھائی جان! سوائے ان الفاظ کے جن کے اوپر میں نے لکیر دے دی ہے۔ باقی سب آیات قرآنی ہیں۔ مرزا قادیانی نے وہ الفاظ جن پر لکیر ہے، اپنی طرف سے زائد کر کے ان کل آیات کو نیا وحی قرار دیا ہے۔ یہ قرآن مجید میں تحریف اور تصرف نہیں تو اور کیا ہے؟
"وقد كان فريق منهم يسمعون كلام الله ثم يحرفونه من بعد ما عقلوه وهم يعلمون" "ان میں کچھ لوگ ایسے بھی گزرے ہیں کہ کلام خدا سنتے تھے اور اس کے سمجھے بوجھے دیدہ و دانستہ اس کو کچھ کا کچھ کر دیتے تھے۔"
(سورۃ البقرۃ:٧٥)
"فويل للذين يكتبون الكتاب بايديهم ثم يقولون هذا من عندالله ليشتروا به ثمنا قليلا، فويل لهم مما كتبت ايديهم وويل لهم مما يكسبون"
"پس افسوس ہے ان لوگوں پر جو اپنے ہاتھ سے تو کتاب لکھیں (پھر لوگوں سے) یوں کہیں کہ خدا کے ہاں سے (اتری) ہے تاکہ اس کے ذریعہ سے تھوڑے سے دام (یعنی دنیاوی فائدے) حاصل کریں۔ پس افسوس ہے ان پر کہ انہوں نے اپنے ہاتھوں لکھا اور (پھر ) افسوس ہے ان پر کہ انہوں نے ایسی کمائی کی۔"
(سورۃ البقرۃ:٧٩)
١٥
خلاصہ یہ ہے کہ قرآن مجید میں اس جسارت کے ساتھ تصرف کرنا جیسا کہ ان الہاموں سے ظاہر ہے، جو اس رسالہ میں درج ہیں اور آیات قرآنی میں ایک آدھ لفظ گھٹا بڑھا کر نئی وحی قرار دینا اور یہ کہنا کہ یہ مجھ پر نازل ہوئی ہے۔ خود لکھنا اور اس کو اللہ کا کلام بتلانا۔ ”لم یلد ولم یولد“ کے برخلاف ابن اللہ وابواللہ بن جانا۔ بھائی جان خدا جانے آپ اس کو کیا خیال فرماتے ہیں۔ میں اس کو صریح شرک فی الوحدت اور کفر جانتا ہوں۔
”نعوذ بالله من شرور انفسنا ومن سیّات اعمالنا“
مرزا غلام احمد قادیانی کا شرک فی النبوت میں مبتلا ہونا
مرزا قادیانی کا شرک فی التوحید میں مبتلا ہونا تو میں عرض کر چکا۔ ان کا شرک فی النبوت میں مبتلا ہونا مجھے ان کے اس قول سے ثابت ہوتا ہے۔
”حقیقی نبی، ہمیشہ اور قیامت تک نجات کا پھل کھلانے والا وہ ہے جو زمین حجاز میں پیدا ہوا تھا اور تمام دنیا اور تمام زمانوں کی نجات کے لئے آیا تھا اور اب بھی آیا مگر بروز کے طور پر۔“
(دافع البلاء ص ١١ خزائن ج ١٨ ص ٢٢٠، ٢١٩)
”یہ شفیع آنحضرت ﷺ سے جدا نہیں، بلکہ اس کی شفاعت آنحضرت ﷺ کی شفاعت ہے۔“
(دافع البلاء ص ١٣ خزائن ج ١٨ ص ٢٣٣)
”سچا شفیع میں ہوں جو اس بزرگ شفیع کا سایہ ہوں اور اس کا ظل جس کا اس زمانہ کے اندھوں نے قبول نہیں کیا۔“
(ایضاً)
”میں خاتم الانبیاء اور خاتم الاولیاء ہوں۔“
(دافع البلاء ص ٢١ خزائن ج ١٨ ص ٢٤١)
اول تو نبوت کا دعویٰ کرنا پھر آنحضرت ﷺ کا نام مبارک لے کر یہ کہنا کہ وہ اب پھر آیا۔ پھر یہ کہنا کہ سچا شفیع میں ہوں۔ بروز کے طور پر آیا ہوں۔ اس کا سایہ ہوں۔ اس کا ظل ہوں۔ اس کی شفاعت اور میری شفاعت ایک ہی ہیں۔ میں خاتم الانبیاء ہوں اور خاتم الاولیاء ہوں۔ اس زمانہ کے اندھوں نے مجھے قبول نہیں کیا۔ صاف ضلالت ہے اور شرک فی النبوت۔
اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں فرمایا ہے ”ما کان محمد ابا احد من رجالکم ولکن رسول اللّٰه وخاتم النبیین (الاحزاب:٤٠)“ یعنی حضرت محمد ﷺ رسول اللہ اور خاتم النبیین ہیں اور ان کے بعد میں کسی کو رسول یا نبی کر کے دنیا میں نہیں بھیجوں گا اور خود محمد مصطفیٰ ﷺ نے فرمایا کہ ”لا نبی بعدی“ یعنی میرے بعد کوئی نبی مبعوث نہیں ہوگا۔ مرزا قادیانی نے اسی رسالہ میں اس کے برخلاف بیسیوں جگہ فرمایا ہے کہ میں نبی ہوں۔ رسول ہوں۔
١٦
فرستادہ ہوں۔ خاتم الانبیاء ہوں اور خاتم الاولیاء ہوں۔
بھائی جان! آپ کو یاد ہوگا کہ مرزا قادیانی پہلے پہلے ابن مریم کے مثیل بنے تھے اور اپنا نام مثیل مسیح رکھا تھا۔ اب اس رسالہ میں پکار پکار کے فرماتے ہیں کہ میں مسیح ابن مریم سے تقرب الی اللہ میں اعلیٰ اور ارفع ہوں۔ اس وقت تک جیسا کہ اس رسالہ کے (دافع البلاء ص ١٣، خزائن ج ١٨ ص ٢٣٣) میں درج ہے، مرزا قادیانی اپنے آپ کو غلام احمد کہتے ہیں اور اس کا ظل اور بروز اور سایہ بنتے ہیں۔ لیکن اگر علو مدارج کی یہی رفتار ہے تو آپ کوئی دن میں دیکھ لیں گے کہ احمد کی غلامی سے بھی آزاد ہو جائیں گے اور اس کے سایہ سے بھاگیں گے۔ اس وقت یہ الہام ہوگا۔
”ماكان محمد ابا احد من رجالكم ولكن رسول الله وخاتم النبيين كمثلك“ اور اس وقت صاف الفاظ میں یہ نہیں کہا گیا۔ کہ محمد جز ایں نیست کہ یکے ہمچو من است مگر خود کو رسول کہہ کر اور نبی ہونے کا دعویٰ کر کے خدا تعالیٰ کے اس قول کو کہ ”ولكن رسول الله وخاتم النبيين“ اور رسول کریم کے اس فرمان کو کہ ”لانبی بعدی“ تو نعوذ باللہ غلط بنا دیا ہے۔
وہ کون مسلمان ہے جو یہ نہیں مانتا کہ محمد رسول اللہ کافہ انام کے لئے پیغمبر تھے، نہ صرف عرب کے لئے اور نہ کسی خاص قوم کے لئے ”ولا شك انه مبعوث الى الابيض والاسود والاحمر والاسود“ یعنی ”الی كافۃ الناس الى يوم الدين“ اور آپ نے مشیت ایزدی یا منشائے ربی کو اور اس تعلق کو جو کافہ انام کا اپنے خالق کے ساتھ ہونا چاہئے، نہایت اکمل اور اعلیٰ درجہ تک پورا کر دیا۔
”اليوم اكملت لكم دينكم واتممت عليكم نعمتى ورضيت لكم الاسلام دينا (المائدہ:٣)“ ﴿اب ہم تمہارے دین کو تمہارے لئے کامل کر چکے اور ہم نے تم کو اپنا احسان پورا کر دیا اور تمہارے لئے (اسی) دین اسلام کو پسند کیا۔﴾
پس وہ کون سی کمی ہے جس کے پورا کرنے کے واسطے اب کسی نبی کی ضرورت ہے اور چونکہ کوئی ضرورت باقی نہیں رہی تھی۔ اسی واسطے اس نبی حجازی کو خاتم النبیین کا خطاب دیا گیا۔ ان صریح شہادتوں کے ہوتے اب کسی شخص کا دعویٰ نبوت صاف کذب نہیں تو اور کیا ہے؟
اب بھائی جان! آپ کو اختیار ہے چاہے مرزا قادیانی کو نبی مانو یا ”ولكن رسول الله وخاتم النبيين“ کو سچ مانو۔ میں تو نص صریح کے برخلاف ایمان نہیں لا سکتا۔
١٧
انی تبرات من هذه الاعتقاد وما توفیقی الا بالله
آج حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو اس دلیل سے ہیچ اور پوچ کہا جاتا ہے کہ شریعت موسوی کے تابع تھے۔ (دافع البلاء ص ١٤ ٹائٹل پیج ٣، خزائن ج ١٨ ص ٢١٩ حاشیہ) امید ہے کہ کل اس نبی حجازی کو جس کا آج بروز ظل اور سایہ ہونے کا دعویٰ ہے۔ اس دلیل پر کہ وہ ملت ابراہیم کا پیرو تھا۔ یہ خطاب اور انعام دیا جائے گا۔
آج بڑی مہربانی ہے جو یہ کہا گیا ہے کہ ”قیامت تک نجات کا پھل کھلانے والا وہ ہے جو زمین حجاز میں پیدا ہوا تھا اور تمام دنیا اور تمام زمانوں کی نجات کے لئے آیا تھا۔“
(دافع البلاء ص ١٤ ٹائٹل پیج ٤، خزائن ج ١٨ ص ٢٢٠)
کل آپ دیکھ لیں گے۔ اس سے صاف گریز ہوگا۔ کیونکہ یہ محض تمہید ہے، اظہار مطلب کی۔ اصل مطلب یہ ہے جو حضور عالی نے ”آیا تھا“ سے آگے ظاہر فرمایا ہے اور وہ یہ ہے ”اور اب بھی آیا مگر بروز کے طور پر“
(ایضاً)
بالفاظ دیگر اس نبی حجازی کو تمام دنیا اور تمام زمانوں کے واسطے نجات کا پھل کھلانے والا صرف اس غرض سے کہا گیا ہے کہ وہ میں ہوں اور یہ اسی رسالہ میں بتغیر الفاظ بیسیوں جگہ کہا گیا ہے۔
پس حضرت، یقین مانئے کہ مثیل، ظل اور بروز سب لفاظیاں ہیں۔ مرزا قادیانی کا مطلب یہ ہے کہ میں بعض نبیوں سے اچھا ہوں اور محمد رسول ﷺ کے برابر ہوں۔ جو میری دانست میں صریح شرک فی النبوت ہے، بلکہ صرف وحی آنے کا ادعاء :
”ولکن رسول الله وخاتم النبیین“ کو غلط کہنا ہی شرک فی النبوت اور کفر ہے۔
مرزا قادیانی بزرگان دین کی تحقیر بڑی جرات سے کرتے ہیں
بموجب فرمان واجب الاذعان حضرت رسول کریم ﷺ خدا اور رسول سے اتر کر جن چیزوں کی سب سے زیادہ تعظیم وتکریم ہم اہل اسلام پر فرض ہے وہ دو ہیں۔ ایک قرآن مجید اور دوسرا اہل بیت رسول اللہ ﷺ۔ سو مرزا قادیانی نے کتاب اللہ کے ساتھ تو جو کچھ سلوک کیا ہے۔ اس کا ذکر اوپر ہو چکا ہے۔ اب دیکھئے کہ آل رسول اللہ ﷺ کی شان میں کیا کیا درفشانیاں فرمائی ہیں۔
مگر پہلے یہ سنئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ”انما یرید الله لیذهب عنکم الرجس اهل البیت ویطهرکم تطهیرا (الاحزاب: ٣٣)“ (اے پیغمبر کے ) گھر والو! خدا کو تو بس یہی منظور ہے کہ تم سے (ہر طرح کی) گندگی کو دور کرے اور تم کو ایسا پاک صاف بنائے جیسا کہ پاک صاف بنانے کا حق ہے۔ اور رسول کریم ﷺ فرماتے ہیں۔
١٨
- ١...... ”انی تارک فیکم الثقلین کتا
- ٢...... ”مثل اهل بیتی کمثل سفی
غرق“
- ٣...... ”علی منی وانامنه“
- ٤...... ”انا مدینة العلم وعلی بابها
- ٥...... ”لحمک لحمی ودمک دمی
- ٦...... ”من کنت مولاه فعلی مولا
- ٧...... ”الناس من شجر شتی انا
- ٨...... ”الفاطمة سیدة النساء اهل
- ٩...... ”الفاطمة بضعة منی“
- ١٠...... ”الحسن والحسین سیدا
- ١١...... ”علی مع القرآن والقرآن
- ١٢...... ”انا وعلی من نور واحد“
فضائل اہل بیت کوئی لکھنا چاہے سکے اور جو کچھ اس طرح لکھا بھی جائے گا، وہ قرآن مجید میں آیت تطہیر موجود ہے۔ جن کو برابر کہا اور فرمایا کہ میں اپنے بعد اس دنیا میں کلام اللہ دوسرے اپنے اہل بیت۔ پھر ایک دفعہ فرمایا کہ میرے اہل بیت کا ہوگا۔ وہ نجات پائے گا اور جو ان کے کہ علیؓ اور میں ایک ہیں۔ جو میرا تابعدار ہے مولا ہے۔ میں معرفت الہی کا منبع ہوں اور قرآن کے ساتھ ہے اور قرآن علیؓ کے ساتھ حضرت علیؓ کو مخاطب کر کے فرما ساخت بھی ایک ہی ہے۔ جو خون تیری رگوں ثمر علیؓ ہے اسی کا میں ہوں۔ جس نور سے میں
- ١...... "انی تارك فيكم الثقلين كتاب الله وعترتی۔"
- ٢...... "مثل اهل بيتی كمثل سفينة نوح، من ركبها نجى، ومن خلف عنها
غرق"
- ٣...... "علی منی وانامنه"
- ٤...... "انا مدينة العلم وعلی بابها"
- ٥...... "لحمك لحمی ودمك دمی"
- ٦...... "من كنت مولاه فعلی مولاه"
- ٧...... "الناس من شجر شتی انا وعلی من شجر واحد"
- ٨...... "الفاطمۃ سیدۃ النساء اهل الجنۃ"
- ٩...... "الفاطمۃ بضعۃ منی"
- ١٠...... "الحسن والحسین سیدا شباب اهل الجنۃ"
- ١١...... "علی مع القرآن والقرآن مع علی"
- ١٢...... "انا وعلی من نور واحد"
فضائل اہل بیت کوئی لکھنا چاہے اور ہزار ہا صفحے لکھے ممکن نہیں ہے کہ یکے از ہزار بھی لکھ سکے اور جو کچھ اس طرح لکھا بھی جائے گا، وہ شمع پیش آفتاب سے بڑھ کر نہیں ہوگا۔ جن کے واسطے قرآن مجید میں آیت تطہیر موجود ہے۔ جن کو اللہ تعالیٰ نے پاک فرمایا۔ جن کو نبی نے کلام اللہ کے برابر کہا اور فرمایا کہ میں اپنے بعد اس دنیا میں تمہارے واسطے دو چیزیں چھوڑے جاتا ہوں۔ ایک کلام اللہ دوسرے اپنے اہل بیت۔
پھر ایک دفعہ فرمایا کہ میرے اہل بیت کی مثال ایسی ہے جیسی کشتی نوح جو میرے اہل بیت کا ہوگا۔ وہ نجات پائے گا اور جو ان کے برخلاف ہوگا۔ وہ غرق ہو جائے گا۔ پھر فرماتے ہیں کہ علیؓ اور میں ایک ہیں۔ جو میرا تابعدار ہے میں اس کا مولا ہوں۔ جس کا میں مولا ہوں، علیؓ اس کا مولا ہے۔ میں معرفت الٰہی کا منبع ہوں اور علیؓ معرفت الٰہی میں آنے کا راستہ یا ذریعہ ہے۔ علیؓ قرآن کے ساتھ ہے اور قرآن علیؓ کے ساتھ۔
حضرت علیؓ کو مخاطب کر کے فرمایا ہے کہ میں اور تو ایک ہیں۔ یہاں تک کہ تیری میری ساخت بھی ایک ہی ہے۔ جو خون تیری رگوں میں ہے۔ وہی میری رگوں میں ہے۔ جس درخت کا ثمر علیؓ ہے اسی کا میں ہوں۔ جس نور سے میں ہوں، اسی سے علیؓ ہے۔ فاطمہؓ مجھ میں سے ہے یعنی میرا
١٩
لخت جگر ہے اور سیدۃ النساء اہل الجنۃ اور ان کی اولاد حسنینؓ اچھے سے اچھے جنتیوں کے سردار ہیں۔ جن اہل بیت کی اللہ تعالیٰ نے اور اس کے نبی ﷺ نے یہ تعریف کی ہے اور جن کی اس حد تک عزت کرنے کا حکم ہے۔ جیسا کلام اللہ کی۔ جن کو نبی نے اپنے برابر اور کل اہل جنت کا سردار فرمایا۔ ان کی نسبت مرزا قادیانی استہزاء یا تحقیر فرماتے ہیں کہ کوئی گھر ایسا نہ ہوگا جس کے دروازے پر یہ شعر چسپاں نہ ہو۔
المصطفے والمرتضی وبناھما والفاطمه
”پھر تو یا حسین کے نعرے گم ہوگئے ۔“
(دافع البلاء ص ١٤، خزائن ج ١٨ ص ٢٣٣، ٢٣٤)
پھر اس استہزا اور تحقیر کے بعد ارشاد ہوتا ہے۔
”اس پر اصرار مت کرو کہ حسین تمہارا نبی ہے۔ کیونکہ میں سچ سچ کہتا ہوں کہ آج تم میں ایک ہے جو اس حسین سے بڑھ کر ہے۔“
(دافع البلاء ص ١٣، خزائن ج ١٨ ص ٢٣٣)
ایک ادنیٰ سا مسلمان بھی جسے کچھ بھی اسلامی روایات و تواریخ سے آگاہی ہے۔ اس بات کو تسلیم کرتا ہے کہ کیا بلحاظ قرابت کے کیا بلحاظ فضیلت کے۔ کیا بلحاظ لیاقت کے کیا بلحاظ ہمت و شجاعت کے کیا بلحاظ شرافت و نجابت کے جس پہلو سے دیکھو حضرت علیؓ کے اعلیٰ اور ارفع ہونے میں کچھ کلام نہیں۔
” جند ابعلیٰ ولد فی بیت اللہ و فتح بابہ فی بیت اللہ واستشہد فی بیت اله وھوباب مدینة علم رسول اللہ “
بعد جناب حضرت علیؓ کے ان کے صاحبزادے جناب امام حسنؓ اور امام حسینؓ ہیں اور دیگر ائمہ معصومین واہل بیت رسول کریم ﷺ ہیں۔ اگر حضرت علیؓ یا ان کے صاحبزادوں کو یا ائمہ معصومین کو نبی قرار دینا کسی کا دل گوارہ نہیں کرتا تو جائے جہنم میں اور اس کا جہنم میں جانا یقینی ہے۔ کیونکہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا ہے کہ مثل اھل بیتی کمثل سفینة نوح من رکبھا نجی ومن خلف عنھا غرق “ مجھے اس سے کچھ تعرض نہیں۔ مگر ایسا دل کا اندھا کون مسلمان ہوگا جو پنجگانہ نماز میں ہر بار ”اللھم صل علی محمد “ کے ساتھ ”علی ال محمد “ پڑھتا ہو اور پھر برابری کا دعویٰ کرے۔ مرزا قادیانی نے تو نہ صرف ان کی برابری کا دعویٰ کیا ہے، بلکہ ان سے بہتر ہونے کا دعویٰ فرمایا ہے۔
٢٠
کہ نام بزرگان بزشتی برد
چنانچہ کل ادب و لحاظ کو بالائے طاق رکھتے ہوئے صاف صاف کہا ہے کہ:
”اس بات پر اصرار مت کرو کہ حسین تمہارا منجی ہے۔ کیونکہ میں سچ سچ کہتا ہوں کہ آج تم میں ایک ہے۔ جو اس حسین سے بڑھ کر ہے۔ سچا شفیع میں ہوں اور اس بزرگ شفیع کا سایہ ہوں اور ظل جس کو اس زمانہ کے اندھوں نے قبول نہیں کیا۔“
(دافع البلاء ص ١٣، خزائن ج ١٨ ص ٢٣٣)
جس بزرگ شفیع کی امت میں آکر اور جس کا غلام بن کر جناب کو اس مرتبت کا دعویٰ ہے کہ میں خود شفیع ہوں تو وہ اہل بیت پاک جن کی نسبت خود خدا تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ پاک ہیں اور نیز اس بزرگ شفیع نے فرمایا ہے کہ نجات چاہتے ہو تو ان کی طرف رجوع کرو۔ ان کا رتبہ کلام اللہ کے برابر ہے۔ میرا اور ان کا گوشت و پوست ایک ہے۔ جو میرے ہیں وہ ان کے ہیں۔ جو ان کا نہیں وہ دوزخ کا ہے۔ وہ اہل بیت اپنے ایک ادنیٰ امتی سے کس طرح کم ہو سکتے ہیں؟ برادر نبی اور جگر گوشہ نبی سے امتی کا مقابلہ اخی احمد سے اور نور چشم احمدؐ سے ایک غلام احمد برابری کرے۔ نوکر آقا کے مقابلہ میں خود کو بڑا کہے۔ کیسا ظلم ہے۔ اس سمجھ کو کیا جائے؟
”ختم الله على قلوبهم وعلى سمعهم وعلى ابصارهم غشاوة ولهم عذاب عظيم (البقرة:٧)“ ﴿ان کے دلوں پر اور ان کے کانوں پر اللہ نے مہر لگا دی ہے اور ان کی آنکھوں پر پردہ ہے اور (آخرت) میں ان کو بڑا عذاب ہونے والا ہے۔﴾
بھائی جان! آپ مرزا قادیانی کے معتقدین میں سے ہیں۔ سچ فرمانا کہ مرزا قادیانی نماز میں درود شریف بھی پڑھتا بتلاتے ہیں یا نہیں۔ ان کے عقیدہ سے تو معلوم ہوتا ہے کہ وہ ”اللّٰہم صل علی محمد وعلی آل محمد“ نہیں پڑھتے ہوں گے۔ کیونکہ جب وہ حضرت علیؓ کو خاتون جنت حضرت فاطمہؓ کو ان کے صاحبزادوں جناب امام حسنؓ اور جناب امام حسینؓ کو نعوذ باللہ اپنے سے کم جانتے ہیں تو نماز میں ان کا نام لینا اور وسیلہ گرداننا کیا معنے وہ غالباً یہ درود پڑھتے اور مریدوں سے پڑھواتے ہوں گے۔
”اللّٰہم صل علی محمد وعلیٰ غلام احمد“ واللہ ایسا کور نمک غلام بھی کوئی نہ ہو۔ جب حضرت علیؓ اور اہل بیت نبی کریم ﷺ کی مرزائی معتقدات میں یہ تعظیم و تکریم ہے تو میں حیران ہوں کہ دیگر اصحاب کبار رضوان اللہ علیہم اجمعین کی وقعت اور عظمت کیا ہوگی۔ وہ تو کسی شمار و قطار ہی میں نہ ہوں گے اور جس قصر اسلام کے یہ چار رکن ہی نہ ہوں گے۔ کیا وہ زمین کے برابر نہ
٢١
ہو جائے گا اور جو انسان ایسے اسلام میں ہوں گے وہ خسر الدنیا والآخرہ نہ ہوں گے۔ ”فاعتبروا یا اولی الابصار“
خلاصه
تحریر بالا یہ ہے کہ مجھے اس رسالہ دافع البلاء سے ثابت ہوتا ہے:
- ١...... مرزا قادیانی اللہ کو ان صفات کے ساتھ اللہ نہیں مانتے جن صفات سے قرآن مجید
سکھاتا ہے۔
- ٢...... نہ محمد رسول اللہ ﷺ کو اس شان کا نبی جانتے ہیں۔ جیسا کہ قرآن کریم بتلاتا ہے۔
- ٣...... نہ کسی اور نبی کی ان کے دل میں کوئی وقعت ہے۔
- ٤...... نہ اہل بیت رسول ﷺ کی ان کے دل میں وہ عظمت ہے جو کتاب اللہ اور حدیث
رسول اللہ ﷺ سے ثابت ہے۔
- ٥...... وہ ابن اللہ اور ابواللہ ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں۔
- ٦...... قرآن مجید میں تصرف کرتے ہیں اور اپنی کلام کو کلام اللہ بتلاتے ہیں۔
بھائی جان خدا جانے آپ ان معتقدات کے انسان کو کیا کہیں۔ میں تو ان معتقدات کے انسان کو مسلمان نہیں جانتا اور میرے خیال میں بجائے اس کے کہ وہ شخص کسی تکلیف سے بچاؤ کا موجب ہو، سیدھا دوزخ میں لے جانے کا ذریعہ ہے۔ ”اللهم نسئلك العافية في الدنيا والآخرة اللهم لا تقتلنا ولا تهلكنا بعذابك وعافنا قبل ذالك“
طاعون مرزا قادیانی کو برا کہنے کی وجہ سے نہیں آیا
ان دعاوی کے بعد جن کا کذب ہونا میں اوپر عرض کر چکا ہوں، مرزا قادیانی فرماتے ہیں کہ: ”مجھ پر ایمان نہ لانے کی وجہ سے اور مجھے برا کہنے کی وجہ سے طاعون کی بیماری آئی ہے۔“
(دافع البلاء ص ٥، خزائن ج ١٨ ص ٢٢٥)
اس مرض کے سب سے پہلے اور سب سے زیادہ زیر مشق ہندوستان میں دو شہر رہے ہیں۔ ایک بمبئی اور دوسرا کراچی۔ جہاں ہزار ہا آدمی اس مرض کا شکار ہو چکے ہیں اور ان میں سے ایک فی ہزار بھی مرزا قادیانی کے نام سے واقف نہیں۔ مخالفت کرنا اور برا کہنا تو درکنار، اگر اس
اے پس اے لوگو جن کے (منہ پر) آنکھیں ہیں۔ اس واقعہ سے عبرت پکڑو کہ دنیا میں ایسے بھی انسان ہیں جو خود کو مسلمان کہتے ہیں اور اہل بیت نبی سے خصوصاً حسنین سے برتری کا دعویٰ کرتے ہیں۔ نعوذبالله من شرور انفسنا ومن سیآت اعمالنا! ٢٢
مرض کے آنے میں کچھ مرزا قادیانی کا دخل لاہور، امرتسر، دہلی میں جہاں مرزا قادیانی کو پی بمبئی اور کراچی میں حضور کو جانتا میری مخالفت کی وجہ سے اور مجھے برا بھلا کہنے کی پھر ایک اور پہلو سے مرزا قادیانی کہنا اس بیماری کے آنے کا موجب ہے، کہاں
سب سے زیادہ مخالفت اور سب ہیں۔ مرزا قادیانی ان کے معبود کو پیچ پوچ اور (دافع البلاء ص ١٣، خزائن ج ١٨ ص ٢٣٣) اور خود کو عیسائی اس کے جواب میں مرزا کو بے نقط س کہنے والے ہندو آریا ہیں۔ جن سے ان کی ہ اہلِ اسلام ہیں۔ پس اگر مرزا قادیانی کی مخالفت تو ضرور تھا کہ سب سے زیادہ اور سب سے پ ان سے اتر کر ہندو اور ان سے کم اہلِ اسلام۔ مگر واقعات اس کے بالکل برعکس یا عیسائیوں کی تعداد سب سے زیادہ بمبئی اور ک انسان اس موت سے مرے بھی ہیں۔ مگر انگر چوڑھے، چمار، کمہار وغیرہ نیچ قومیں اور ان س ہیں کہ مرض نے ہر ایک جگہ طبعی طور پر عادت آدمی باقتضائے اپنی صحت اور طریق تمدن کے قادیانی کو برا کہنے والے ہی طاعون میں مبتلا ہو
مشفق من! آپ نے سنا ہوگا کہ پھوٹا ہے۔ جس کے صدمہ سے چالیس ہزار آ اور بے در ہو گئے ہیں۔ یہ صدمہ تو بنی آدم کے بھی زیادہ مہلک اور مضر ہوا ہے۔ اس میں مرز دم کا نتیجہ ہے۔
مرض کے آنے میں کچھ مرزا قادیانی کا دخل ہوتا تو چاہئے تھا کہ سب سے پہلے بٹالہ، لدھیانہ، لاہور، امرتسر، دہلی میں جہاں مرزا قادیانی کو ہزاروں برا کہنے والے رہتے ہیں، آئی ہوتی۔ بمبئی اور کراچی میں حضور کو جانتا کون ہے؟ پس بھائی جان! مرزا قادیانی کا یہ کہنا کہ میری مخالفت کی وجہ سے اور مجھے برا بھلا کہنے کی وجہ سے یہ بیماری ہندوستان میں آئی ہے، غلط ہے۔ پھر ایک اور پہلو سے مرزا قادیانی کے اس دعویٰ کو دیکھئے کہ میری مخالفت اور مجھے برا کہنا اس بیماری کے آنے کا موجب ہے، کہاں تک صحیح ہے۔
سب سے زیادہ مخالفت اور سب سے زیادہ مرزا قادیانی کو برا بھلا کہنے والے عیسائی ہیں۔ مرزا قادیانی ان کے معبود کو ہیچ پوچ اور لچر کہتے ہیں اور طرح طرح کے الزام لگاتے ہیں۔ (دافع البلاء ص ١٣، خزائن ج ١٨ ص ٢٣٣) اور خود کو عیسیٰ علیہ السلام سے بدرجہا اعلیٰ و افضل بتاتے ہیں۔ عیسائی اس کے جواب میں مرزا کو بے نقط سناتے ہیں۔ عیسائیوں سے اتر کر مرزا قادیانی کو برا کہنے والے ہندو آریا ہیں۔ جن سے ان کی ہمیشہ ٹکر ہی لگی رہتی ہے۔ تیسرے اور آخری درجہ پر اہل اسلام ہیں۔ پس اگر مرزا قادیانی کی مخالفت یا ان کو برا کہنا اس مرض کے آنے کا موجب ہوتا تو ضرور تھا کہ سب سے زیادہ اور سب سے پہلے اس مرض میں مبتلا ہونے والے عیسائی ہوتے۔ ان سے اتر کر ہندو اور ان سے کم اہل اسلام۔
مگر واقعات اس کے بالکل برعکس ہیں۔ کیونکہ عیسائی بالکل کم مرے ہیں۔ انگریزوں یا عیسائیوں کی تعداد سب سے زیادہ بمبئی اور کراچی میں ہے اور انہی شہروں میں سب سے زیادہ انسان اس موت سے مرے بھی ہیں۔ مگر انگریز کوئی بھی نہیں مرا۔ الا ماشاء اللہ سب سے زیادہ چوڑھے، چمار، کمہار وغیرہ نیچ قومیں اور ان سے اتر کر ہندو مسلمان مرے ہیں۔ جس کے معنی یہ ہیں کہ مرض نے ہر ایک جگہ طبعی طور پر عادت اللہ کے موافق نمو پایا ہے اور ہر ایک قوم اور ملت کا آدمی باقتضائے اپنی صحت اور طریق تمدن کے اس میں مبتلا ہوا ہے اور مرا یا جیا ہے۔ نہ یہ کہ مرزا قادیانی کو برا کہنے والے ہی طاعون میں مبتلا ہوئے ہیں۔
مشفق من! آپ نے سنا ہوگا کہ حال ہی میں سینٹ ونسنٹ میں ایک کوہ آتش فشاں پھوٹا ہے۔ جس کے صدمہ سے چالیس ہزار آدمی ١٥ منٹ کے اندر مر گئے ہیں اور ہزاروں بے گھر اور بے در ہو گئے ہیں۔ یہ صدمہ تو بنی آدم کے واسطے جو اس ملک میں رہتے ہیں، شاید طاعون سے بھی زیادہ مہلک اور مضر ہوا ہے۔ اس میں مرزا قادیانی نے کوئی ٹانگ نہیں اڑائی۔ یہ کس کافر کش دم کا نتیجہ ہے۔
٢٣
ایک اور بات سب سے زیادہ قابل غور اس ضمن میں یہ ہے کہ ہمارے نبی کریم ﷺ کی کس قدر مخالفت ہوئی۔ اس رحمت الہی کو کس قدر جسمانی تکالیف دی گئیں۔ ان کو یاد کر کے ہر ایک انسان کے بدن پر رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔ ان سلوکوں کے مقابلہ میں تو مرزا قادیانی کو کسی نے اف کے نام کو بھی نہیں کہا اور جسمانی تکلیف تو برائے نام بھی مرزا قادیانی کو کسی نے نہیں دی۔ قریش اور اہل عرب پر طاعون یا کوئی اور وبا اسی قسم کی کیوں نازل نہیں ہوئی۔ کیا اللہ تعالیٰ کی جناب میں مرزا قادیانی کی عزت اور وقعت رسول عربی ﷺ کی عزت اور عظمت سے زیادہ ہے کہ اس نبی پاک کی تکلیفوں کو دیکھ کر تو رب العزت کو غصہ نہ آئے اور مرزا قادیانی کے ان لچر اور پوچ دعاوی کی مخالفت کرنے پر اللہ میاں ایسے ناراض ہوئے کہ طاعون بھیج دیا۔
بھائی جان! انہی دو چار باتوں پر غور کرنے سے ہر ایک سمجھدار آدمی قیاس کر سکتا ہے کہ وبائے طاعون کا آنا طبعی اسباب پر منحصر ہے جیسا کہ امراض آیا کرتے ہیں۔ اس میں مرزا قادیانی کے تولا و تبرا کو کچھ دخل نہیں ہے اور ان کا یہ کہنا کہ میری مخالفت کی وجہ سے اور مجھے برا کہنے کی وجہ سے طاعون ہندوستان میں آیا ہے، دھوکہ دینا ہے۔ طاعون کیا آیا مرزا قادیانی کی اچھی چیز بن آئی۔
طاعون سے بچنے کے ذرائع اور عبادت کے نام
اب ان ذرائع پر غور فرمائیے جو اس مرض سے بچنے کے واسطے دنیا نے نکالے ہیں۔ گورنمنٹ کو ڈاکٹروں کو حکماء کو جو کچھ بہتر نظر آیا کیا اور کر رہے ہیں۔ ان پر کچھ لکھنا اس خط کے موضوع سے خارج ہے۔ میں نے اس بات کو دیکھنا ہے کہ دیندار آدمیوں نے جو اپنی طبیعت اور نیک عادت کے اقتضاء سے اپنے معبود کی طرف توجہ کی ہے، کہاں تک صحیح ہے اور آیا یہ علاج صحیح ہے یا مرزا قادیانی کا بتلایا ہوا علاج صحیح ہے۔
توجہ الی اللہ اس منبع رحمت کی طرف اور اس خلوص کے ساتھ جو ایک سچے خدا پرست کا ایمان ہے، وہ تو صرف اہل اسلام کا حصہ ہے اور اہل اسلام میں سے بھی انہی موحدین کا جنہوں نے حقیقت اسلام کو سمجھا ہے۔
بھائی جان! افسوس ہے کہ مرزا قادیانی جیسا کہ اس رسالہ سے معلوم ہوتا ہے۔ اس کوچہ سے بالکل نابلد ہیں۔ کیونکہ تکبر اور انانیت عبادت کے دشمن ہیں اور یہ دونوں صفات جیسا کہ اس رسالہ سے معلوم ہوتا ہے، مرزا قادیانی میں کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی ہیں۔ انہیں جو الہام ہوتا ہے وہ انہی کی بڑائی کے متعلق ہوتا ہے۔ جو وحی آتی ہے، وہ انہی کے گیت گاتی ہے۔
٢٤
غرضیکہ توجہ الی اللہ خالصتاً للہ ودیعت ہے کہ وہ اپنے خالق کی طرف متوجہ خواہ وہ کسی قوم کا ہو، خواہ کسی مذہب اور ملت میں موجزن ہوتا ہے اور اس کے اظہار کا ام دفع مضرت کا خیال پیدا ہوتا ہے۔ جب تک میں طبعی اسباب سے پیدا ہوتا ہے۔ اس کو بجز اس کی طرف متوجہ ہوتا ہے۔ اس سے گڑگڑاتا ہے کہ مجھے تکلیف سے بچالے ا خوش کرنے کے وسائل تلاش کرتا ہے اور ا ہر ایک انسان کے دل میں ایک نہ ایک وقت لیکن چونکہ انسان کی عقل کامل جو فی الواقع دفع مضرت یا منفعت پہنچانے ہیں جو خود بخود پکار اٹھتے ہیں۔
”انی وجہت وجھی للذ المشرکین (الانعام:٧٩)“ میں م ہے جس نے آسمان اور زمین کو بنایا اور رحمت کو اپنے مرسلین بھیجنے کی ضرورت ہوا معبود کی طرف جھکادیں۔ جو دراصل اس م کی طرف متوجہ ہونا فطرت انسانی کے بالک طرف توجہ دلائی ہے۔
کسی نے حضرت عیسیٰ علیہ الس میں نجات سمجھی ہے۔ کسی نے گوماتا کی را سمجھا۔ کسی نے خدائے وحدہ لاشریک لہ ضروری سمجھا۔
مگر تعجب ہے کہ مرزا قادیانی قدرت کی مخالف ہے اور سب کو ایک ہی ل
غرضیکہ توجہ الی اللہ خالصتاً اللہ والوں ہی کا حصہ ہے۔ لیکن چونکہ تخلیق بشر میں یہ مادہ ودیعت ہے کہ وہ اپنے خالق کی طرف متوجہ ہو۔ ہر ایک انسان میں خواہ وہ کسی ملک کا رہنے والا ہو، خواہ وہ کسی قوم کا ہو، خواہ کسی مذہب اور ملت کا پیرو ہو، یہ مادہ عبدیت ایک نہ ایک وقت اس کے دل میں موجزن ہوتا ہے اور اس کے اظہار کا اصلی وقت وہ ہے جب انسان کے دل میں جلب منفعت یا دفع مضرت کا خیال پیدا ہوتا ہے۔ جب تکلیف سے بچنے کا اور آرام پانے کا خیال انسان کے دل میں طبعی اسباب سے پیدا ہوتا ہے۔ اس کو اپنے سے ایک بڑی ہستی کی تلاش ہوتی ہے اور وہ خود بخود اس کی طرف متوجہ ہوتا ہے۔ اس سے ڈرتا ہے کہ مجھے تکلیف نہ دے۔ اس کے آگے روتا اور گڑگڑاتا ہے کہ مجھے تکلیف سے بچالے اور آرام دے۔ اس کی ناراضی سے بچنے کے اور اس کو خوش کرنے کے وسائل تلاش کرتا ہے اور ان کو عمل میں لاتا ہے۔ یہی عبادت کا موضوع ہے اور یہ ہر ایک انسان کے دل میں ایک نہ ایک وقت خود بخود طبعی اسباب سے پیدا ہوتا ہے۔
لیکن چونکہ انسان کی عقل کامل نہیں ہے وہ بسا اوقات اس بڑی ہستی کے قرار دینے میں جو فی الواقع دفع مضرت یا منفعت پہنچانے کی قدرت رکھتی ہے غلطی کرتا ہے اور بہت تھوڑے ایسے ہیں جو خود بخود پکار اٹھتے ہیں۔
”انی وجهت وجهی للذی فطر السموت والارض حنيفا وما انا من المشرکین (الانعام:٧٩)“ میں نے تو ایک ہی کا ہو کر اپنا رخ اسی ذات پاک کی طرف کر لیا ہے جس نے آسمان اور زمین کو بنایا اور میں مشرکوں میں سے نہیں ہوں۔ اس واسطے اس منبع رحمت کو اپنے مرسلین بھیجنے کی ضرورت ہوئی کہ انسان کو اس غلطی سے بچالیں اور اس سچے اور حقیقی معبود کی طرف جھکادیں۔ جو دراصل اس عزت کا مستحق ہے۔ غرض کہ ایسے وقت میں اس بڑی ہستی کی طرف متوجہ ہونا فطرت انسانی کے بالکل موافق ہے اور اسی خیال نے ہر ایک انسان کو معبود کی طرف توجہ دلائی ہے۔
کسی نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو خدا مان لینے میں اور ان کے کفارہ پر ایمان لانے میں نجات سمجھی ہے۔ کسی نے گئو ماتا کی رکھشا کو ذریعہ نجات جانا ہے۔ کسی نے وید ودیا ہی کو بچاؤ سمجھا۔ کسی نے خدائے وحدہ لاشریک لہ کے آگے سر جھکانا دفع مضرت وجلب منفعت کے واسطے ضروری سمجھا۔
مگر تعجب ہے کہ مرزا قادیانی نے سرے سے اس خیال کی مخالفت کی ہے جو کہ قانون قدرت کی مخالف ہے اور سب کو ایک ہی لاٹھی ہانکا ہے۔ بلکہ اوروں کا تو صرف ذکر ہی کر کے چھوڑ
٢٥
دیا ہے جنہوں نے یہ کہا تھا کہ اے مسلمانو! اپنے خدائے وحدہ لاشریک لہ کی طرف متوجہ ہو۔ اس کے روبرو اپنے گناہوں کا اقرار کرو۔ نہایت شرمساری کے ساتھ توبہ کرو اور معافی مانگو اور اس بلا کے دفع ہونے کے واسطے دعا کرو۔ ان کی نسبت ارشاد ہوا ہے کہ ”و ما دعاء الکافرین الا فی ضلال“ ١؎
(دافع البلاء ص ١١، خزائن ج ١٨ ص ٢٣٢)
گویا مرزا قادیانی کے خیال میں خدائے وحدہ لاشریک لہ کے آگے سجدہ کرنے والے اور بغیر سجدہ کرنے والے سب برابر ہیں اور کافر ہیں۔ اب آپ ہی انصاف فرمائیے کہ مسلمانوں کا ایسے وقت میں اپنے خدا کی طرف توجہ کرنا اور ”ایاک نعبد و ایاک نستعین“ کہنا صحیح ہے یا توجہ لغیر اللہ جو مرزا بتلاتے ہیں۔
مرزا قادیانی کا بتلایا ہوا طاعون کا علاج
اہل اسلام کی توجہ الی اللہ کو کفر اور ضلالت قرار دے کر مرزا قادیانی نے طاعون سے بچنے کا جو علاج تجویز کیا ہے، وہ یہ ہے کہ ان باتوں پر ایمان لاؤ۔
- ١....... ”میں تمام دنیا کا تمام زمانوں میں نجات دینے والا ہوں۔“
(دافع البلاء ص ١، خزائن ج ١٨ ص ٢٢٠)
- ٢....... ”مجھے سچے دل سے مسیح موعود مانو۔“
(دافع البلاء ص ٦، خزائن ج ١٨ ص ٢٢٦)
- ٣....... ”مجھے اہل بیت رسول سے افضل مانو۔“
(دافع البلاء ص ٦، خزائن ج ١٨ ص ٢٢٦)
- ٤....... ”میرے ہاتھ کو اللہ کا ہاتھ مانو اور میری بیعت کرو۔“
(دافع البلاء ص ٦ حاشیہ، خزائن ج ١٨ ص ٢٢٦)
- ٥....... ”مجھے ابن اللہ اور ابو اللہ مانو اور مجھے برا مت کہو۔“
(دافع البلاء ص ٧ حاشیہ، خزائن ج ١٨ ص ٢٢٦)
ان پانچ ارکان ایمان پر جو مرزا قادیانی نے اسلام کے پانچ ارکان کے مقابلہ میں قائم کئے ہیں۔ بہت کچھ لکھا اور کہا جاسکتا ہے۔ مگر مجھے بحث سے مطلب نہیں ہے۔ کیونکہ جس قدر لچر پوچ اور خلاف اسلام یہ ہیں، ظاہر ہے جناب سے صرف اس قدر استدعا کرتا ہوں کہ آپ ہی بنظر انصاف دیکھیں کہ:
”خدائے وحدہ لاشریک پر ایمان لانا اور اس پر ایمان لانے کو ہر ایک دنیوی اور آخرت کی تکلیف سے بچاؤ قرار دینا درست علاج ہے یا ایسے شخص کو جو خود صریح کفر و ضلالت میں
١؎ کافروں کو عرض معروض کرنا محض رائیگاں ہوگا۔
٢٦
گرفتار ہے، ان پانچ شرطوں کے ساتھ قبول مرزا قادیانی کے زعم میں دنیا بھـ مرزا قادیانی پر ان پانچ ارکان کے ساتھ جو ا ایک سمجھ دار انسان ان کو دیکھتے ہی فوراً کہہ برعکس نہند نام زنگی کافور۔ پھر دیکھئے کہ:
- ١....... ابن مریم کو ابن اللہ یا اللہ ماننے
- ٢....... یا گائے کی حفاظت میں نجات کـ
- ٣....... یا مرزا قادیانی کو ابن اللہ یا ابواللـ
فرق ہی کیا ہے جس طرح پہلا ایک سمجھدار یہی کہے گا کہ خدائے وحدہ لاشر کہ اسلام نے قرار دیا ہے صحیح اور درست علا علاج کی نسبت فرمایا ہے کہ ”و ما دعاء الـ ص ٢٣٢) حالانکہ خود ہی کفر اور شرک کی خـ چاہتے ہیں۔ ”و ما یضل بہ الا الفاسـ
وائے گر در
مرزا قادیانی کا الہام ہے کہ قادیا
اس زہر یلے اور جہنم میں لے ہیں: ”قادیان میری تخت گاہ ہونے کی وجـ محفوظ رہے گا۔“
اول تو یہ دیکھئے کہ قادیان میـ بودا اور لچر ہے۔ گویا ہندوستان یا پنجاب کـ قادیان ہی ایسی بستی ہے، جہاں طاعون نہی نہیں۔ مگر میر صاحب آپ تو جانتے ہوں طاعون نہیں آیا۔ پس اگر کسی بستی میں طاعـ دلیل ہے تو ہندوستان میں مرزا قادیانی جیـ
گرفتار ہے، ان پانچ شرطوں کے ساتھ قبول کرنا۔ مرزا قادیانی کے زعم میں دنیا بھر میں کوئی شخص مومن اور مسلمان نہیں۔ جب تک وہ مرزا قادیانی پر ان پانچ ارکان کے ساتھ جو انہوں نے قرار دیئے ہیں، ایمان نہ لاوے۔ حالانکہ ہر ایک سمجھ دار انسان ان کو دیکھتے ہی فوراً کہہ دے گا کہ جو کچھ آپ فرماتے ہیں، منافی اسلام ہے۔ برعکس نہند نام زنگی کافور۔ پھر دیکھئے کہ:
- ......١ ابن مریم کو ابن اللہ یا اللہ مانتے ہیں۔
- ......٢ یا گائے کی حفاظت میں نجات سمجھتے ہیں۔
- ......٣ یا مرزا قادیانی کو ابن اللہ یا ابواللہ مانتے ہیں۔
فرق ہی کیا ہے جس طرح پہلا عقیدہ کفر اور ضلالت ہے اسی طرح دوسرا اور تیسرا۔ ہر ایک سمجھدار یہی کہے گا کہ خدائے وحدہ لاشریک لہ کے آگے سر جھکانا اور اس سے استمداد کرنا جیسا کہ اسلام نے قرار دیا ہے صحیح اور درست علاج ہے۔ لیکن مرزا قادیانی نے کس دلیری سے اس سچے علاج کی نسبت فرمایا ہے کہ ”وما دعاء الکافرین الا فی ضلال“ (دافع البلاء ص ١١، خزائن ج ١٨ ص ٢٣٢) حالانکہ خود ہی کفر اور شرک کی ضلالت میں مبتلا ہیں اور اپنے ساتھ اوروں کو بھی ڈبونا چاہتے ہیں۔ ”وما یضل بہ الا الفاسقین“ گستاخی معاف۔
وائے گر در پس امروز فردائے
مرزا قادیانی کا الہام ہے کہ قادیان میں طاعون کبھی نہیں آئے گا
اس زہریلے اور جہنم میں لے جانے والے علاج پر بھروسہ کر کے مرزا قادیانی فرماتے ہیں: ”قادیان میری تخت گاہ ہونے کی وجہ سے آج تک طاعون سے محفوظ رہا اور آئندہ بھی ہمیشہ محفوظ رہے گا۔“
(دافع البلاء ص ٦، خزائن ج ١٨ ص ٢٢٦)
اول تو یہ دیکھئے کہ قادیان میں آج تک طاعون نہ آنے پر اپنی عظمت کا استدلال کیا بودا اور لچر ہے۔ گویا ہندوستان یا پنجاب میں کوئی بستی بھی طاعون سے خالی نہیں رہی۔ صرف ایک قادیان ہی ایسی بستی ہے، جہاں طاعون نہیں آیا یا مرزا قادیانی کے وحی لانے والے کو دنیا کی کچھ خبر نہیں۔ مگر صاحب آپ تو جانتے ہوں گے کہ ابھی ہزاروں اور لاکھوں بستیاں ایسی ہیں جہاں طاعون نہیں آیا۔ پس اگر کسی بستی میں طاعون کا نہ آنا وہاں اللہ کے پیغمبر یا نبی کے موجود ہونے کی دلیل ہے تو ہندوستان میں مرزا قادیانی جیسے ہزاروں اور لاکھوں نبی، رسول، ابن اللہ، ابواللہ، نعوذ
٢٧
باللہ موجود ہیں۔ وہ اپنے منہ میاں مٹھو کیوں بنتے ہیں۔ اس میں ان کی کرامت کو خاک دخل ہوا۔ بھائی جان! مرزا قادیانی کا دعویٰ ہے کہ اگر ٧٠ برس بھی طاعون ہندوستان میں رہے تو بھی قادیان میں نہیں آئے گا۔ میں کہتا ہوں اگر سات سو برس بھی طاعون ہندوستان میں رہے تو بھی میں سات ہزار ایسی بستیاں دکھاؤں گا جہاں طاعون مطلق نہیں آیا ہوگا۔ مرزا قادیانی خواہ مخواہ خدا کا کوتوال بن کر تمام زمانے کے منہ آتے ہیں کہ عیسائی کلکتہ کو بچالیں۔ ہندو بنارس کو بچالیں اور وہ صاحب اس شہر کو بچالیں اور وہ صاحب اس شہر کو بچالیں۔ یہ کیا بچوں کی سی باتیں ہیں۔ ہر ایک مرض کا پھیلنا اسباب طبعی پر منحصر ہے۔ اس میں کسی کی کرامت کو کیا دخل ہے۔ آپ قادیان کے واسطے ٧٠ برس کی گارنٹی کرتے ہیں اور اس پیشین گوئی پر اپنے کل دعویٰ کی بنیاد رکھتے ہیں۔ مگر بھائی جان سنئے! میں مرزا قادیانی کی طرح دعویٰ نبوت کرنا کفر جانتا ہوں۔ یہ کہنا کہ مجھ پر وحی نازل ہوئی ہے، یہ بھی کفر ہے۔ جنہیں الہام ہوتا ہے وہ کوئی اور ہی بزرگ ہوں گے۔ میں تو ایک گناہ گار مسلمان ہوں۔ صرف اللہ کی رحمت پر اور محمدﷺ کی شفاعت پر بھروسہ رکھتا ہوں۔ لیکن یہ میں ایسے ہی وثوق کے ساتھ کہتا ہوں جیسا کہ مجھ کو اس وقت آسمان پر سورج دکھائی دیتا ہے کہ مرزا قادیانی کی یہ وحی ”انه اوى القرية لولا الاکرام لهلك المقام“ (دافع البلاء ص ٦، خزائن ج ١٨ ص ٢٢٦) بالکل کذب ہے۔ قادیان میں طاعون آئے گا اور ضرور آئے گا اور مرزا قادیانی کے حواری اور معتقد اس کا شکار ہوں گے اور ضرور ہوں گے۔ ان شاء اللہ تعالیٰ، وان الله قوى عزيز ١؎
مرزا قادیانی کے سب الہام کذب ہوتے ہیں
اور یہ میں اس دلیل سے کہتا ہوں کہ مرزا قادیانی کا کوئی بھی الہام سچا نہیں ہوتا۔ تفصیل دیکھنی ہو تو عصائے موسیٰ میں دیکھ لیجئے۔ میں نے ان کے آج تک صرف دو الہاموں کو غور سے دیکھا ہے۔ ایک مسٹر عبداللہ آتھم کے متعلق اور دوسرا یہ قادیان کے متعلق۔ مسٹر عبداللہ آتھم کے متعلق جو الہام مرزا قادیانی نے فرمایا تھا وہ جیسا کچھ لچر اور کذب ثابت ہوا تمام دنیا جانتی ہے اور جو ذلت کہ مرزا قادیانی کی اس وقت ہوئی، ان کا دل ہی جانتا ہوگا۔ اب یہ قادیان کی نسبت جو الہام ہوا ہے کہ میری تخت گاہ ہونے کی وجہ سے یہ طاعون سے محفوظ رہے گا، آپ دیکھ لیں گے کہ
١؎ واضح ہو کہ اس تحریر کے بعد قادیان میں طاعون پہنچ گیا اور پیروان مذہب مرزائیہ خاص قادیان میں اور دیگر مقامات میں طاعون کا شکار ہوگئے۔ مفصل فہرست اس خط کے اخیر میں درج ہے۔ واحد علی
٢٨
٤٥ یہ بھی کذب ثابت ہوگا۔ اس وقت مرزا قادیانی بچا متعلق ان کے وقت مقررہ پر نہ مرنے کی نسبت کو ہے۔ لیکن یہ یادرہے کہ یہ ذلت اس سے بھی بڑی کو محسوس کرے۔ معلوم ہوتا ہے کہ مرزا قادیانی کے نہیں کہ حضرت کے حواس اس وقت تک صحیح نہ ہوں مشفق من! آپ نے یہ بھی دیکھا ک ہیں۔ ایک خاص پہلو لئے ہوئے ہیں۔ کہیں تو یہ ا ہے۔ کہیں یہ ارشاد ہے کہ مجھ پر ایمان لانا اس کا عل قادیان اس سے محفوظ رہے گا اور یہ سب کذب ۔ دیکھئے کہ اس کے بعد اپنے مخالفین کو مخاطب کرکے لو۔ یہ نہیں فرمایا کہ مولوی سید نذیر حسین صاحب امروہی، پیر مہر علی صاحب گولڑوی، مولوی عبدا اکاونٹنٹ چونکہ مجھے ابن اللہ اور ابو اللہ نہیں مانتے۔ اس اس تاریخ کو مبتلائے طاعون ہو کر مرجائیں گے چاہئے تو یہی تھا کہ یہ الہام ایسا ہی صری انہی کو خوب معلوم ہے۔ جنہوں نے اس مقدمہ کی حسین صاحب کے ساتھ گورداسپور میں ہوچکا ہے جناب صاحب ڈپٹی کمشنر بہادر گورداسپور بند ہو والے کیا دلیر ہیں کہ ایک دنیاوی حاکم کے حکم سے گے تو صرف ایسی صورت میں وحی پہنچائیں گے جس اسی واسطے ان قانون داں وحی لانے و اس شہر کو بچالیں اور وہ صاحب اس شہر کو۔ کسی مخالف آپ دیکھیں گے کہ پیروان مذہب مرزائیہ اور مرز کی مرزا قادیانی گارنٹی فرماتے ہیں اور جن کے محفو طاعون سے مامون نہیں رہیں گے اور اللہ تعالیٰ مرز جلد کردے گا۔
٢٩
یہ بھی کذب ثابت ہوگا۔ اس وقت مرزا قادیانی پھر کوئی الہام گھڑیں گے جیسا کہ عبداللہ آتھم کے متعلق ان کے وقت مقررہ پر نہ مرنے کی نسبت گھڑا تھا۔ وحی گھڑ لینا تو ان کے بائیں ہاتھ کا کام ہے۔ لیکن یہ یاد رہے کہ یہ ذلت اس سے بھی بڑی ہوگی۔ مگر ذلت تو اس شخص کے واسطے ہے جو اس کو محسوس کرے۔ معلوم ہوتا ہے کہ مرزا قادیانی کے دماغ میں ذلت کی حس باقی نہیں رہی اور عجب نہیں کہ حضرت کے حواس اس وقت تک صحیح نہ ہوں جب تک کہ خدا ان کو زمین سے اٹھا نہ لے۔
مشفق من! آپ نے یہ بھی دیکھا کہ جتنے الہام اس رسالہ میں طاعون کے متعلق ہیں۔ ایک خاص پہلو لئے ہوئے ہیں۔ کہیں تو یہ ارشاد ہے کہ مجھے برا کہنے کی وجہ سے طاعون آیا ہے۔ کہیں یہ ارشاد ہے کہ مجھ پر ایمان لانا اس کا علاج ہے۔ کہیں یہ فرمایا ہے کہ میری تخت گاہ یعنی قادیان اس سے محفوظ رہے گا اور یہ سب کذب ہے۔ جیسا کہ میں اوپر ثابت کر آیا ہوں۔ پھر یہ دیکھئے کہ اس کے بعد اپنے مخالفین کو مخاطب کر کے فرمایا ہے کہ تم بھی سچے ہو تو اپنے اپنے شہر کو بچا لو۔ یہ نہیں فرمایا کہ مولوی سید نذیر حسین صاحب دہلوی، مولوی محمد حسین بٹالوی، مولوی احمد حسن امروہی، پیر مہر علی صاحب گولڑوی، مولوی عبدالجبار صاحب غزنوی، منشی الٰہی بخش صاحب اکاؤنٹنٹ چونکہ مجھے ابن اللہ اور ابو اللہ نہیں مانتے۔ مجھ پر ایمان لائیں اور خود کو بچائیں ورنہ یہ سب اس اس تاریخ کو مبتلائے طاعون ہو کر مر جائیں گے۔
چاہئے تو یہی تھا کہ یہ الہام ایسا ہی صریح ہوتا مگر وحی کے اس فارم میں جو حکمت ہے، وہ انہی کو خوب معلوم ہے۔ جنہوں نے اس مقدمہ کی روئداد دیکھی ہے۔ جو مرزا قادیانی کا مولوی محمد حسین صاحب کے ساتھ گورداسپور میں ہو چکا ہے۔ جس کا خلاصہ یہ ہے کہ ایسی وحی کا آنا بحکم جناب صاحب ڈپٹی کمشنر بہادر گورداسپور بند ہو چکا ہے۔ واہ مرزا قادیانی کے پاس وحی لانے والے کیا دلیر ہیں کہ ایک دنیاوی حاکم کے حکم سے تاقیامت رکے رہیں گے اور اگر تشریف لائیں گے تو صرف ایسی صورت میں وحی پہنچائیں گے جس میں کوئی قانونی گرفت نہ ہو۔
اسی واسطے ان قانون داں وحی لانے والوں کی ہدایت سے یہ کہا گیا ہے کہ وہ صاحب اس شہر کو بچالیں اور وہ صاحب اس شہر کو۔ کسی مخالف کا نام نہیں لیا کہ وہ مر جائے گا۔ مگر بھائی جان! آپ دیکھیں گے کہ پیروان مذہب مرزائیہ اور مرزا قادیانی کی تخت گاہ قادیان بھی جن کی حفاظت کی مرزا قادیانی گارنٹی فرماتے ہیں اور جن کے محفوظ رہنے پر اپنی صداقت کا مدار رکھتے ہیں، وہ بھی طاعون سے مامون نہیں رہیں گے اور اللہ تعالیٰ مرزا قادیانی کا یہ کذب بھی الم نشرح کر دے گا اور جلد کر دے گا۔
٢٩
اس وقت جو الہام گھڑے جائیں گے بڑے مزیدار ہوں گے۔ مگر افسوس مجھے ان کی خبر کیونکر ہوگی۔ آپ ہی کی توجہ سے عبداللہ آتھم والا مباحثہ دیکھا تھا اور آپ ہی کی عنایت سے یہ رسالہ بھی دیکھا۔ اب بھی اگر آپ ہی توجہ فرمائیں گے تو وہ الہامات بھی دیکھنے میں آئیں گے۔ مگر کیا ** صاحب آپ یقین سے کہہ سکتے ہیں کہ آج تک مرزا قادیانی کے مریدوں میں سے کوئی مبتلائے طاعون نہیں ہوا؟ اگر نہیں تو بیشک تعجب کی بات ہے اور جو فی الواقع قادیان میں طاعون نہ پہنچا جیسا کہ مرزا قادیانی نے دعویٰ کیا ہے تو گویا وہ ہوگا تو اسباب طبعی سے مگر ان کا دعویٰ اسے کہہ دینا کئی ایک مذبذبین کو ٹھوکر کھلائے گا۔
مگر نہیں، مجھے یقین ہے کہ قادیان میں طاعون آئے گا اور ان کا یہ خدائی دعویٰ ان کی تازہ ذلت کا موجب ہوگا۔
** صاحب دل نہیں گوارہ کرتا کہ مرزا قادیانی جیسے عالم و فاضل کی جو میرے کئی دوستوں کے پیر و مرشد اور قبلہ و کعبہ ہیں اور میرے محترم بزرگ سرسید احمد خان صاحبؒ کے خوشہ چین ہیں۔ اس سے زیادہ ذلت ہو مگر میں کیا کروں یہ قانونِ طبعی ہے۔
خداوند عالم و عالمیان کو تکبر کسی کا بھی پسند نہیں۔
آخر میں پھر عرض کرتا ہوں کہ مجھے مرزا قادیانی سے کوئی بغض نہیں ہے۔ نہ مجھے ان کے معتقدات سے اور ان کے تخیلات سے کوئی تعرض ہے۔ نہ میں آپ کی خدمت میں یہ عرض کرنے کی مجال رکھتا ہوں کہ آپ ان معتقدات کو چھوڑ دیں۔
مرزا قادیانی کا جو جی چاہے، بن جائیں اور جو آپ کا جی چاہے آپ انہیں مانیں۔ مجھے اس سے کچھ بحث نہیں۔ مجھے آپ نے مہربانی فرما کر ایک نسخہ دافع البلاء عنایت فرمایا تھا۔ میں نے اسے دیکھا، پڑھا اور جانچا۔ اس کے بعد آپ کے ارشاد کی تعمیل میں جو کچھ اس کی نسبت میری
١؎ لیکن اب تو قادیان میں طاعون آ گیا اور معتقدان مرزا قادیانی خاص دارالامان میں اور دیگر مقامات میں اس مرض سے مر چکے ہیں۔ اب مرزا قادیانی کا دعویٰ کذب ہونے میں کسے شک ہوگا؟ مگر یہ معلوم نہیں کہ مرزا قادیانی کو بھی اس سے کچھ ذلت محسوس ہوئی یا نہیں۔ واحد علی
٣٠
رائے ہوئی ہے، میں نے اسے سیدھے س دیا ہے۔ جس کا خلاصہ یہ ہے: ’’لا اعب (الکافرون:٢تا٣) ’’نہ تو اس وقت پرستش کرتے ہو اور جس خدا کی میں پرستش بلکہ آئندہ بھی ’’و لا انـا عـ معبودوں کی پرستش کروں گا جن کی تم پرستش عبدون ما اعبد‘‘ اور نہ تم ہی میرے کرتا ہوں۔﴾
کیونکہ آپ ماشاء اللہ بڑے ا بھول بھلیوں میں پڑ گئے ہیں، جلدی نکل ا ’’والله یهدی من یشاء الی صراط وهو رب العرش العظیم‘‘ ’’اللهم ا من الاولیٰ۔ آمین‘‘
تتمہ
جب میں نے یہ خط لکھا تھا م دوست کی خدمت میں جن کو یہ خط لکھا گیا معتقدات سے باز آئیں۔ میں نے جو مر تھا۔ لیکن جب انہوں نے مجھے ڈرایا اور خو کو شائع کر دیا اور جو عرض کرنا ضروری تھا مرزائی احباب میں کلمۃ الحق تسلیم کرنے کی اخلاق و برتاؤ کے پابند ہیں۔ یعنی آیا وہ ق خدام مرزا قادیانی کو۔
مجھ سے ان کا برتاؤ وہی مخلصا بھی سنا ہے کہ مرزا قادیانی کی تعلیم ’’لا تق بیگانوں سے جدا ہو جاتے ہیں۔ تاکہ احبا آیتیں پیش کرتا ہوں۔ میرے مرزائی احبا
رائے ہوئی ہے، میں نے اسے سیدھے سادے طور سے نہ کسی مخالفانہ اور مخاصمانہ طور سے ظاہر کر دیا ہے۔ جس کا خلاصہ یہ ہے: ”لا اعبد ماتعبدون ، ولا انتم عابدون ما اعبد (الکافرون:٢،٣) “ ﴿نہ تو اس وقت میں تمہارے ان معبودوں کی پرستش کرتا ہوں جن کی تم پرستش کرتے ہو اور جس خدا کی میں پرستش کرتا ہوں تم بھی اس وقت اس کی پرستش نہیں کرتے﴾ بلکہ آئندہ بھی ”ولا انا عابد ماعبدتم“ ﴿اور آئندہ بھی نہ تو میں تمہارے ان معبودوں کی پرستش کروں گا جن کی تم پرستش کرتے ہو۔ بلکہ یہ عرض نہیں کر سکتا کہ ”ولا انتم عابدون ما اعبد “ ﴿اور نہ تم ہی سے توقع ہے کہ اس خدا کی پرستش کرو گے جس کی میں پرستش کرتا ہوں۔﴾
کیونکہ آپ ماشاء اللہ بڑے سمجھدار آدمی ہیں اور مجھے امید ہے کہ جو سمجھدار آدمی اس بھول بھلیاں میں پڑ گئے ہیں، جلدی نکل آئیں گے۔
”والله يهدي من يشاء الى صراط مستقيم وما توفيقي الا بالله عليه توكلت وهو رب العرش العظيم“ ”اللهم وفقنا لما تحب وترضى واجعل اخرتنا خير من الاولى۔ آمین“ رقیمہ نیاز خاکسار اوحد علی از ملتان، مورخہ یکم جون ١٩٠٢ء
تتمہ
جب میں نے یہ خط لکھا تھا میرا ارادہ اس کو شائع کرنے کا نہیں تھا اور نہ اپنے ان دوست کی خدمت میں جن کو یہ خط لکھا گیا تھا، صاف الفاظ میں یہ عرض کرنا مدعا تھا کہ وہ مرزائی معتقدات سے باز آئیں۔ میں نے جو عرض کرنا تھا، کر دیا تھا۔ ماننا نہ ماننا ان کے ضمیر پر چھوڑ دیا تھا۔ لیکن جب انہوں نے مجھے ڈرایا اور خوف دلا کر کلمہ حق کہنے سے باز رکھنا چاہا تو میں نے اس خط کو شائع کر دیا اور جو عرض کرنا ضروری تھا، تمہید میں لکھ دیا ہے۔ اب یہ دیکھنا باقی ہے کہ میرے مرزائی احباب میں کلمۃ الحق تسلیم کرنے کی صلاحیت کہاں تک باقی ہے اور وہ کس درجہ تک شریفانہ اخلاق و برتاؤ کے پابند ہیں۔ یعنی آیا وہ قال اللہ وقال الرسول کو تسلیم کرتے ہیں یا قال مرزا وقال خدام مرزا قادیانی کو۔
مجھ سے ان کا برتاؤ وہی مخلصانہ رہتا ہے یا اس میں کچھ تغیر ہوتا ہے۔ کیونکہ میں نے یہ بھی سنا ہے کہ مرزا قادیانی کی تعلیم ”لا تفرقوا“ کے برخلاف یہ ہے کہ بھائی بھائی سے اور خویش یگانوں سے جدا ہو جاتے ہیں۔ تا بہ احباب چہ رسد! اس ضمن میں، میں سورۃ آل عمران کی چار آیتیں پیش کرتا ہوں۔ میرے مرزائی احباب ان کو غور سے پڑھیں اور ان پر توجہ فرمائیں۔
٣١
”ياايها الذين امنوا اتقوا الله حق تقته ولا تموتن الا وانتم مسلمون، واعتصموا بحبل الله جميعاً ولا تفرقوا، واذكروا نعمت الله عليكم اذكنتم اعداء فألف بين قلوبكم فاصبحتم بنعمته اخوانا، وكنتم على شفا حفرة من النار فانقذكم منها كذالك يبين الله لكم ايته لعلكم تهتدون، ولتكن منكم امة يدعون الى الخير ويامرون بالمعروف وينهون عن المنكر، واولئك هم المفلحون ولا تكونوا كالذين تفرقوا واختلفوا من بعد ماجاء هم البينت، واولئك لهم عذاب عظيم (آل عمران: ١٠٢ تا ١٠٥)“
﴿مسلمانو! اللہ سے ڈرو جیسا اس سے ڈرنے کا حق ہے اور مرتے دم تک اسی دین اسلام پر ثابت قدم رہنا۔ اور سب مل کر خوب مضبوطی سے اللہ کا رشتہ پکڑے رہو (یعنی اسلام کو) اور ایک دوسرے سے الگ نہ ہونا اور اللہ کا وہ احسان یاد کرو جب تم (ایک دوسرے کے) دشمن تھے۔ پھر اللہ نے تمہارے دلوں میں الفت پیدا کی اور تم اس کے فضل سے بھائی بھائی ہو گئے اور تم آگ کے گڑھے (یعنی دوزخ) کے کنارے آ لگے تھے۔ پھر اس نے تم کو اس سے بچا لیا۔ اسی طرح اللہ اپنے احکام تم سے کھول کھول کر بیان کرتا ہے تاکہ تم راہ راست پر آ جاؤ اور تم میں سے ایک ایسا گروہ بھی ہونا چاہئے جو (لوگوں کو) نیک کاموں کی طرف بلائیں اور اچھے کام (کرنے) کو کہیں اور برے کاموں سے منع کریں اور (آخرت میں) ایسے ہی لوگ اپنی مراد کو پہنچیں گے اور ان جیسے نہ بنو جو (ایک دوسرے سے) بچھڑ گئے اور کھلے کھلے احکام آئے پیچھے آپس میں اختلاف کرنے لگے اور یہی ہیں جن کو (آخرت میں) بڑا عذاب ہوگا۔﴾
اے میرے دوستو! ان آیات پر غور کرو، دیکھو ان میں کیا اچھا فیصلہ ہے اس قضیہ کا جو میرے اور آپ کے درمیان ہے۔ ان میں ہم تم اپنی اپنی پوزیشن کا سچا فوٹو پائیں گے اور ساتھ ہی اس کے بحال رکھنے کا احسن طریقہ بھی معلوم کر لیں گے۔ جو تعلیم اس کے برخلاف ہے۔ ظاہر ہے کہ وہ نہ صرف مخرب دین ہی ہے بلکہ ہماری سوشل لائف کو بھی خراب کرنے والی ہے۔ خدا اس سے بچائے:
آئین ماست سینہ چو آئینہ داشتن
خادم احباب ...... خاکسار واحد بخش ...... ملتان، ١٥ جولائی ١٩٠٢ء
٣٢
ن الا وانتم مسلمون، مت الله عليكم اذ كنتم نتم علی شفا حفرة تهتدون، ولتكن منكم ن المنكر، واولئك هم وا من بعد ماجاءهم
اور مرتے دم تک اسی دین پکڑے رہو (یعنی اسلام کو) ایک دوسرے کے) دشمن سے بھائی بھائی ہو گئے اور تم تم کو اس سے بچالیا۔ اسی ت پر آ جاؤ اور تم میں سے یں اور اچھے کام (کرنے) اپنی مراد کو پہنچیں گے اور آئے پیچھے لگے آپس میں
چا فیصلہ ہے اس قضیہ کا جو ہو پائیں گے اور ساتھ ہی ر ہے کہ وہ نہ صرف مخرب سا سے بچائے:
ن ستان ، ١٥؍ جولائی ١٩٠٢ء
فہرست ان اموات کی جو مرض طاعون سے موضع قادیان ضلع گورداسپور میں واقع
ہوئیں۔ نیز ان پیروان مذہب مرزائیہ کی جو قادیان سے باہر طاعون کا شکار ہوچکے ہیں۔
نمبر شمار نام متوفی ولدیت وغیرہ قومیت سکونت کیفیت ١ مولا چوکیدار امامی بافندہ قادیان میں مرزا صاحب کے رسالہ کے متعلق اپنے مرزائی دوست ٢ نتھو ایضاً " " کو جو کچھ لکھنا تھا لکھ چکا تھا۔ بعد میں معلوم ہوا کہ قادیان ٣ عورت زوجہ نتھو " " میں طاعون آ گیا ہے۔ اس پر میں نے اپنے دو چار احباب ٤ عورت زوجہ مولا چوکیدار " " سے دریافت کیا کہ یہ خبر کہاں تک صحیح ہے۔ ان خطوں کے ٥ لڑکی دختر مولا چوکیدار " " جواب میں ان دوستوں نے بہت سے خط اور اخبارات ٦ لڑکا بڑھا تیلی " بھیجے۔ جن میں اس خبر کی تصدیق تھی اور ان اموات کی ٧ عورت زوجہ رحیم الدین " فہرستیں تھیں جو خاص قادیان میں اور قادیان سے باہر ٨ صدو بھاگا بافندہ " پیروان مرزا صاحب میں واقع ہوئی تھیں۔ یہ فہرستیں طویل ٩ ستی دختر گنگا رام کھتری " تھیں۔ میں نے اس فہرست میں وہی نام لکھے ہیں جن کی ١٠ لڑکا امام مسجد قادیانی " مکرر سہ کرر تصدیق ان کاغذات سے ہوتی ہے۔ میں نے ١١ کاشی چونی لعل برہمن " اخبارات میں یہ بھی پڑھا ہے کہ قادیانی اخبار الحکم ان ١٢ گیان چند شکر داس " " خبروں کے جواب میں لکھتا ہے کہ یہ اموات بخار وغیرہ ١٣ لڑکی رلیا سنگھ ترکھان " سے ہوئیں ہیں۔ طاعون سے نہیں ہوئیں۔ چونکہ سرما میں ١٤ جندو جھنڈا خوجہ " طاعون ترقی پر ہوتا ہے اور ممکن ہے کہ آئندہ سرما میں قادیان ١٥ بھرو گھنپت کرار ہندو " میں اس مرض کا زور ہو۔ بہتر ہوگا کہ ان دنوں میں حامیان ١٦ لڑکی پھتا نجار " مذہب مرزائیہ کوئی یورپین میڈیکل آفیسر بلائیں۔ جو اس ١٧ باجا نامعلوم " " امر کی تصدیق کردے کہ یہ اموات معمولی بخار سے ہوئیں ١٨ عورت زوجہ باجا " " یا طاعونی بخار سے۔ پھر کسی کو مغالطہ نہیں ہوگا۔ میرا یقین تو ١٩ لڑکی سندر سنگھ " " یہ ہے کہ، بخدا اگر سات سو سال بھی طاعون قادیان میں نہ ٢٠ کوہڑی زوجہ امام الدین قادیانی " آئے تو اس میں مرزا قادیانی کا کوئی کمال نہیں۔ میں اس ٢١ احمد پسر قطب الدین " " وقت بھی سات سو بستیاں طاعون سے مامون دکھا دوں گا۔ ٢٢ ستی زوجہ بھگت سنگھ ہندو " مگر خیر ان اخبارات کا منہ تو بند ہو جائے گا۔ کیونکہ اس ٢٣ جمنا دختر نول چند برہمن " حالت میں جہاں یہ ممکن ہے کہ یہ اخبارات یا اور خبر دینے ٢٤ لچھی دختر خیمہ " " والے مرزا قادیانی کی مخالفت کی وجہ سے معمولی اموات کو ٢٥ بھاگن دختر مہا نجار قادیانی " طاعونی کہتے ہوں وہاں یہ بھی ممکن ہے کہ الحکم مرزا قادیانی ٢٦ امیر بی بی زوجہ غلام قادر قریشی قادیانی " کا ہونے کی وجہ سے اموات طاعون کو معمولی امراض سے ٢٧ پریم سری دختر منگل ہندو " بتاتا ہو۔ بغیر تصدیق میڈیکل آفیسر اس کا فیصلہ نہیں ٢٨ کاشی دختر ثانی چند برہمن " ہوسکتا۔ واللہ علیٰ ما نقول وکیل۔
٣٣
٢٩ دھندو شرف الدین قادیانی قادیان ٣٠ غلام غوث بوٹا " " ٣١ گیان چند سکھداس برہمن " ٣٢ خدا یار فتح محمد قادیانی " ٣٣ بھولی دختر امام الدین نجار " ٣٤ رحیم بی بی زوجہ صوبا چوڑی گر " ٣٥ حسین کالو قادیانی کہدول ضلع گجرات ٣٦ نور احمد بہادرا " " ٣٧ بھاگو کماں " بدو ملہی ضلع سیالکوٹ اس شخص کی نسبت اخبارات میں مذکور ہے کہ اس نے ٣٨ بھاگن " " " اعلان دیا تھا کہ اگر وہ طاعون سے مر جائے تو کوئی مسلمان ٣٩ کرم نشان طوائف " لودھیانہ اس کا جنازہ نہ پڑھے۔ کیونکہ طاعون سے مرنے والا ٤٠ نتھو نتھو مراسی چادر ضلع جالندھر مرزائی نہیں ہوگا۔ چنانچہ جب وہ مرا کسی مسلمان نے اس کا ٤١ مولا " " " جنازہ نہیں پڑھا۔ ٤٢ سیماں کرم الہی " " وفاداری بشرط استواری اصل ایمان ہے ٤٣ چراغ الہیا حجام قادیانی گوجرانوالہ مرے بت خانے میں تو کعبے میں گاڑو برہمن کو ٤٤ فتو اما " " وا حسرتا ! ٤٥ حسن قلعی گر قادیانی ہریو پنڈ ضلع سیالکوٹ
٣٤
نعم الم
تردید عقا
(٣٢)
جناب عبدا
خاتم النبیین
لا نبی بعدی
خاتم النبیین کا معنی آخری نبی ہے
نعم المعانی،
تردید عقائد قادیانی
(١٣٤٢ھ)
جناب عبدالرحیم سلیم رحمۃ اللہ علیہ
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
میں ایک عرصہ سے سنا کرتا تھا کہ قادیان صوبہ پنجاب میں ایک حضرت مرزا غلام احمد قادیانی نے مہدی موعود ہونے کا دعویٰ کیا اور اس کے بعد پھر یہ سنا گیا کہ مسیح موعود ہونے کا دعویٰ کیا اور پھر ظلی نبی سے خود کو موسوم کیا۔ چونکہ مجھے ان باتوں سے کچھ دلچسپی نہ تھی۔ اس لئے میں نے ان کی دریافت میں کوئی کوشش نہیں کی تھی۔ اتفاقاً بماہ تیر ١٣٣٤ف موسم گرما میں میرے مکرم دوست مولوی فاضل جناب مولوی حافظ عبدالعلی صاحب وکیل ہائیکورٹ سرکار نظام مسافر بنگلہ محبوب آباد ضلع ورنگل میں جو ممالک محروسہ سرکار ممدوح میں واقع ہے، فروکش ہوئے میں بھی اسی بنگلہ میں دو روز قبل سے ٹھہرا ہوا تھا۔
کیونکہ قصبہ محبوب آباد میں عدالت فوجداری حصہ ضلع موجود ہے۔ اس عدالت میں مجھے بحیثیت وکیل کے کام کرنے کی ضرورت تھی۔ مولوی صاحب موصوف بھی کسی مقدمہ فوجداری کے رجوع کرنے کے لئے آئے ہوئے تھے۔ شام کے وقت مسافر بنگلہ مذکور کے کمپونڈ میں پانی چھڑکوا کر کرسیاں رکھوا دی گئی تھیں۔ ایام گرما میں اس مقام پر گرمی شدت کی ہوا کرتی ہے۔ شام کے وقت بعد غروب آفتاب ان کرسیوں پر ہم سب نماز مغرب سے فارغ ہو کر بیٹھے باتیں کر رہے تھے۔ دفعتاً مجھے خیال ہوا کہ مولوی صاحب موصوف بھی مرزا قادیانی کے معتقدوں میں سنے گئے ہیں۔ کیا یہ مناسب نہ ہوگا کہ ان سے اس فرقہ قادیانی کے متعلق کچھ دریافت کیا جائے۔
چنانچہ میں نے مولوی صاحب موصوف سے اپنے اس خیال کو ظاہر کیا۔ صاحب موصوف نے فرمایا کہ جو کچھ مجھے معلوم ہے میں بخوشی ظاہر کروں گا۔ میں نے ان کا شکریہ ادا کیا اور یہ سوال کیا ”آپ مرزا غلام احمد قادیانی کو کیا سمجھتے ہیں؟“ انہوں نے جواب دیا کہ مسیح موعود سمجھتا ہوں۔ میں نے پھر سوال کیا کہ آپ کے بیان سے وہ نبی ہوئے۔ مولوی صاحب نے کہا بیشک۔ میں نے کہا کہ قرآن کریم کی آیت شریفہ ”مـا کـان مـحـمـد ابـا احـد مـن رجـالـكـم ولـكـن رسول اللّٰه وخـاتـم النبیین (احزاب:٤٠)“ صاف بتلا رہی ہے کہ ہمارے سرکار حضرت محمد ﷺ کے اوپر نبوت ختم ہوگئی اور ہمارے سرکار دو عالم کے بعد کوئی نبی پیدا نہ ہوگا۔ پھر آپ کے مرزا قادیانی نبی کس طرح ہو سکتے ہیں؟ تو مولوی صاحب نے جواب دیا کہ جو معنی لفظ خاتم کے آپ لیتے ہیں۔ ہم لوگ وہ معنی نہیں لیتے، بلکہ اس لفظ کے معنی ہم لوگ مہر کے لیتے ہیں۔ تو میں نے کہا میں لفظ خاتم کے معنی علماء عرب وعجم جو اپنی زبان کے حاکم تھے، تیرہ سو
٢
سال سے اصطلاحاً ختم کرنے والے کے کی گنجائش نہ تھی اور دوسرے ممالک اسلا معنی کرتے چلے آئے ہیں اور زمانہ حالی کسی ایسے شخص کو جو ملک ہند میں پیدا ہو کے متفقہ مسلمہ معنی سے اختلاف کرے
مولوی صاحب ....... قرآن میں ”خ على قلوبهم “ ختم کے معنی مہر کے ہی
میں ....... تو کیا آپ کا اس سے یہ کرنے والے نہیں ہیں؟
مولوی صاحب ....... بیشک ختم (تما پر مہر کرنے والے ہیں۔
میں ....... جناب تیرہ سو سال سے تم آئے ہیں۔ اس کے خلاف اگر میں ، کے حکم میں داخل ہے۔
مولوی صاحب ....... تیس، چالیس نمبر بہت بڑھا ہوا ہے۔ آپ اپنے اس قادیانی کے اکثر ممبر تعلیم یافتہ بلکہ قریباً
میں ....... پھر بھی ان کروڑ ہا مسلمانو اور امام گزشتہ تیرہ سو برس میں گزر چکے مطلب نکالتے کہ نبوت ختم نہیں ہوئی
مولوی صاحب ....... اس سے کیا ب لیں؟
میں ....... سیاق عبارت اور فحوائے عبارت صاف بتلا رہی ہے کہ سرور عا
مولوی صاحب ....... آپ کچھ م تو اختیار ہے کہ جو معنی چاہیں، ہم لیں۔
سال سے اصطلاحاً ختم کرنے والے کے لیتے چلے آ رہے ہیں اور اس میں کسی کو آج تک اختلاف کی گنجائش نہ تھی اور دوسرے ممالک اسلامی واقع یورپ، ایشیاء وافریقہ کے علماء اور فضلاء بھی یہی معنی کرتے چلے آئے ہیں اور زمانہ حال تک بھی یہی معنی لیتے چلے آئے ہیں۔ تو اس صورت میں کسی ایسے شخص کو جو ملک ہند میں پیدا ہوا اور جس کی مادری زبان عربی نہ ہو، کیا حق ہے کہ جمہور علماء کے متفقہ مسلمہ معنی سے اختلاف کرے۔
مولوی صاحب ...... قرآن میں ”ختم“ کے الفاظ اور جگہ بھی آئے ہیں۔ چنانچہ ”ختم اللہ علی قلوبھم“ ختم کے معنی مہر کے ہیں اور لفظ خاتم بھی بمعنی مہر کے مستعمل ہوگا۔
میں ...... تو کیا آپ کا اس سے یہ مطلب ہے کہ ہمارے سردار محمد مصطفیٰ ﷺ نبوت کے ختم کرنے والے نہیں ہیں؟
مولوی صاحب ...... بیشک ختم (تمام) کرنے والے نبوت کے نہیں ہیں، بلکہ نبیوں کے نبوت پر مہر کرنے والے ہیں۔
میں ...... جناب تیرہ سو سال سے تیس، چالیس کروڑ مسلمانان عالم جس بات کو تسلیم کرتے چلے آئے ہیں۔ اس کے خلاف اگر دس، بیس، سو، پچاس آدمی کچھ کہیں تو ان کا بیان الشاذ کالمعدوم کے حکم میں داخل ہے۔
مولوی صاحب ...... تیس، چالیس کروڑ آدمی سب کے سب عالم ہیں۔ ان میں جہلاء کا نمبر بہت بڑھا ہوا ہے۔ آپ اپنے ایک انڈیا ہی کو دیکھ لیجئے کہ فیصدی کتنے جاہل ہیں فرقہ احمدی قادیانی کے اکثر ممبر تعلیم یافتہ بلکہ قریب قریب سب کے سب لکھے پڑھے لائق ہیں۔
میں ...... پھر بھی ان کروڑہا مسلمانوں میں علماء اور فضلاء کی تعداد لاکھوں کی ہے اور لاکھوں علماء اور امام گزشتہ تیرہ سو برس میں گزر چکے ہیں۔ لیکن کسی عالم یا امام کو جرات نہ ہوئی کہ لفظ خاتم سے یہ مطلب نکالتے کہ نبوت ختم نہیں ہوئی۔
مولوی صاحب ...... اس سے کیا ہوتا ہے جبکہ خاتم کے معنی مہر کے بھی ہیں تو ہم کیوں یہی معنی نہ لیں؟
میں ...... سیاق عبارت اور فحوائے کلام بھی تو کوئی شے ہے۔ قرآن کریم کی آیت شریفہ کی سیاق عبارت صاف بتلا رہی ہے کہ سرور عالم ﷺ نبوت کے ختم کرنے والے ہیں۔
مولوی صاحب ...... آپ کچھ معنی لیتے ہیں، ہم کچھ معنی لیتے ہیں۔ جبکہ ایک لفظ کے دو معنی ہیں تو اختیار ہے کہ جو معنی چاہیں، ہم لیں۔
٣
میں...... یہ بحث ٹھیک نہیں ہے۔ قرآن پاک عربی زبان میں نازل ہوا۔ عرب کے فصحاء اور بلغاء اور عرب کے لغوی جو معنی تیرہ سو برس سے لیتے آ رہے ہیں۔ جو اپنی مادری زبان کے حاکم تھے۔ ان کے خلاف دوسرے ملک کے لوگوں کو جن کی مادری زبان عربی نہ ہو، کیا حق ہے کہ ان سے اختلاف کریں۔ اہل زبان اپنی زبان کی فصاحت اور بلاغت سے جس طرح واقف ہوا کرتے ہیں اور سیاق عبارت سے اصلی غایت اور منشاء کلام کو سمجھ سکتے ہیں۔ ممکن نہیں ہے کہ اس طرح دوسرا شخص سمجھ سکے۔
مولوی صاحب...... پہلے آپ ہمارے عقائد سے واقف ہو جائیں تو مناسب ہوگا۔ یہ لیجئے یہ ایک چھوٹی سی کتاب ہمارے عقائد کی ہے۔ اس کو آپ پہلے خوب پڑھ لیجئے تو پھر آپ بحث کر سکیں گے۔
میں...... شکریہ، بہتر، میں اس کو دیکھ لیتا ہوں۔
اس کتاب کا نام ”عقائد احمدیہ“ ہے۔ جو مطبع تاج پریس واقع جمعہ بازار میں رجب ١٣٣١ھ میں طبع ہوئی ہے۔ اس کتاب کو دیکھنے کے بعد میں نے حسب ذیل اعتراض کئے۔
میں...... آپ کے پاس اس بات کا کیا ثبوت ہے کہ مرزا قادیانی مسیح موعود ہیں۔
مولوی صاحب...... یہ امر حدیثوں سے ثابت ہے کہ مسیح موعود ایسے وقت ظاہر ہوں گے جبکہ اسلام میں خرابیاں پھیلی ہوں گی اور وہ ان خرابیوں کو دور کریں گے اور دین محمدی کی تبلیغ کریں گے۔ مرزا قادیانی ایسے زمانہ میں پیدا ہوئے جبکہ دین محمدی میں بہت سی خرابیاں پھیلی ہوئی تھیں۔ آریہ سماج کے ہندو اسلام پر سخت حملہ کر رہے تھے۔ مرزا قادیانی نے آریوں کو ایسے دندان شکن جواب دیئے کہ وہ لوگ تاب مقاومت نہ لا سکے اور بہت سی کتابیں تصنیف کیں۔ جن سے دین کو تقویت ہوئی اور آج کل کیا آپ نہیں دیکھتے کہ نصف ملین لوگ ہمارے فرقہ میں شامل ہیں اور ہمارا مشن دنیا کے مختلف حصوں میں کام کر رہا ہے۔ یعنی یورپ، افریقہ، امریکہ، سیلون وغیرہ وغیرہ مختلف مقامات میں نہایت زور شور سے تبلیغ اسلام کے کام کو اپنے ذمہ لے رکھا ہے۔
میں...... یہ امور تو ایسے نہیں ہیں کہ ان سے حدیث کی پیشین گوئی ثابت ہو سکے یا ہم مرزا قادیانی کو مسیح موعود مان لیں۔
یہاں بحث کے بعد وقت باقی نہیں رہا تھا۔ ہم دونوں نے کہا انشاء اللہ تعالیٰ پھر گفتگو ہوگی اور اس کے بعد واپسی بلدہ میں نے چند سوالات لکھ کر مولوی صاحب موصوف کے پاس بھیجے۔ میرے سوالات اور ان کے جوابات ذیل میں درج ہیں۔
٤
معزز ناظرین! مولوی صاحب کے جوابات سے خود نتیجہ نکال لیں گے کہ جوابات کس حد تک درست ہیں۔ لیکن ان جوابات کے ساتھ مولوی صاحب نے مجھے ایک اور کتاب دی جو سابق الذکر مطبع کی اور اسی تاریخ کی مطبوعہ ہے۔ اس کتاب میں بہ نسبت کتاب اول الذکر کے مضامین زیادہ ہیں۔ ان دونوں کتابوں کو جن کے نام عقائد احمدیہ ہیں اور جوابات مذکورہ بالا کو پڑھنے کے بعد مجھے جو کچھ اعتراضات ہیں۔ ان کو تا بحد معلومات کے میں لکھتا ہوں۔ لیکن اس سے یہ نہ سمجھنا چاہئے کہ بس یہی جوابات اور اعتراضات ہیں۔ ممکن ہے کہ ہمارے علماء اور فضلاء نے جوابات دیئے ہوں جو میری نظر سے نہیں گزرے ہیں۔ ہر شخص مجاز ہے کہ جس حد تک اس کو معلومات ہیں ۔ اس حد تک اعتراض کرے اور اپنے اطمینان کے لئے مخالف سے جواب کا طالب ہو میرے سوالات حسب ذیل تھے۔ جن کا جواب میرے فاضل دوست نے دیا ہے۔ جو میرے سوالات کے تحت میں درج ہیں۔ چونکہ میرے عقیدہ کی رو سے دنیا بھر میں مذہب سے زیادہ پیاری چیز کوئی نہیں ہے اور میرے مذہب کے خلاف میں نے باتیں دیکھیں اس لئے مجھے ضرور ہوا کہ میں اس کے متعلق اپنی معلومات کا اظہار آزادانہ طور پر کروں۔ اگر کوئی بات ناگوار خاطر ہو تو میں امید کرتا ہوں کہ مجھے معافی دی جائے گی۔
مولوی صاحب موصوف کے جوابات پر مجھے جو اعتراضات ہیں۔ ان کو میں نے طبع کرا دیا ہے تاکہ ہمارے برادران اسلام جو خود اعتراض کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتے ہیں۔ عقائد احمدیہ کو دیکھ کر کوئی مغالطہ نہ کھائیں اور دوسرے برادران اسلام جن کو خدا نے خود ان کے سمجھنے کی لیاقت دے رکھی ہے۔ ان اعتراضات کو ملاحظہ فرمائیں اور اگر مجھ سے اس میں کوئی غلطی ہوئی ہے تو براہ کرم مجھے اطلاع فرمائیں تاکہ میں اپنی غلطی کا علم حاصل کر سکوں۔
خادم مسلمانان دین رسول کریم ( محمد عبدالرحیم وکیل المتخلص سلیم )
مولانا الفاضل مولانا جناب مولوی حافظ عبدالعلی صاحب وکیل ہائی کورٹ
السلام علیکم ! محبوب آباد کے مسافر بنگلہ میں آپ سے اور مجھ سے گفتگو ہوئی تھی۔ چونکہ اس گفتگو سے میری پوری تسلی نہیں ہوئی اس لئے چند سوالات ذیل میں کر کے جواب کا طالب ہوں۔ اگر آپ کو فرصت ہو اور تکلیف نہ ہو تو براہ کرم جواب سے مسرور فرمائیں۔ مقتضائے فطرت انسانی یہ ہے کہ اچھی بات کی تلاش کرتا ہے اور میری طبیعت کا خاصہ یہ ہے کہ میں اچھی بات کے ماننے میں ہٹ دھرمی نہیں کرتا ہوں۔ جو بات سچی اور اچھی ہو اس کو مان لینا ہر انسان پر لازم ہے۔
(عبدالرحیم)
٥
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ...... نحمدہ ونصلی علی رسولہ الکریم!
جناب مولوی عبدالرحیم صاحب زاد لطفہ
السلام علیکم ورحمۃ اللہ برکاتہ! جناب کا نامہ فرحت شمامہ پہنچا۔ جناب کی عالی حوصلگی سے دل مسرور ہوا۔ واقعی میں اگر کوئی آدمی عدل اور انصاف سے کسی بات کی جانچ پڑتال میں مشغول ہو تو امید بندھتی ہے کہ وہ کسی صحیح نتیجہ پر پہنچ جائے گا۔ مجھے جناب سے بھی اسی بات کی توقع ہے۔ امید ہے جناب از راہ تحقیق ضرور سلسلہ احمدیہ کی جانب متوجہ ہوں گے۔ خدا سے دعا ہے کہ جس طرح اس نے میرے دل پر سلسلہ حقہ کی حقیقت کھول دی ہے۔ اسی طرح آپ کو بھی اس سے بہرہ ور کرے۔ لیکن ساتھ ہی اس کے میری یہ بھی گزارش ہے کہ آپ انکشاف حق کے لئے خدا تعالیٰ سے بھی دعا مانگا کریں۔
”وَاللّٰهُ يَهْدِيْ مَنْ يَّشَآءُ اِلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِيْمٍ“ جناب کے دس سوالوں کا جواب بحذف سوالات بہ ترتیب درج ذیل ہے۔
سوال نمبر ١
کیا جناب مرزا کا یہ دعوٰی تھا کہ میں مہدی اور مثیل مسیح ہوں یا صرف مثیل مسیح؟ یا مہدی اور مسیح دونوں کی صفات ان کی ذات واحد میں تھیں۔
جواب نمبر ١
مرزا قادیانی کا دعوٰی تھا کہ میں مہدی ہوں اور مسیح بھی اور یہ بات کوئی اعجوبہ نہیں ایک شخص کے بلحاظ صفات و اعتبارات مختلف نام ہو سکتے ہیں۔ مثلاً ایک ہی شخص کو ہم بلحاظ اس کی صفات شجاعت و سخاوت کے رستم دوراں و حاتم زماں کہہ سکتے ہیں۔ مرزا قادیانی بلحاظ ہدایت مسلمانوں کے لئے مہدی اور بلحاظ اصلاح نصاریٰ مسیح کے اسم سے موسوم ہوا ہے۔ چونکہ مسیح ناصری کی وفات بدلائل قرآن و احادیث و تاریخ قطعی ہے۔ اس لئے آنے والا موعود بلحاظ صفات ایک ہی شخص ہے۔ ہاں لفظ مسیح کا اطلاق آپ پر بطور استعارہ کے ہے۔ اس لئے آپ نے بغرض تفہیم مثیل مسیح کے لفظ کو اختیار کیا ہے اور کہیں اس شبہ کے ازالہ کے لئے کہ کوئی لفظ مسیح مندرجہ احادیث سے اصلی مسیح نہ سمجھ لے، محض لفظ مسیح استعمال کیا ہے تاکہ لوگوں کو معلوم ہو کہ مسیح محمدی اور ہے جس کی بعثت کا امت کو انتظار ہے اور مسیح ناصری جو کہ صرف بنی اسرائیل کے نبی تھے رسولاً الی بنی اسرائیل اور وہ وفات پاچکے اور جن کی وفات پر آیت ”مَا جَعَلْنَا لِبَشَرٍ مِّنْ قَبْلِكَ الْخُلْدَ (الانبیاء:٣٤)“ صریح دلالت کرتی ہے۔
٦
سوال نمبر ٢
اس کے ثبوت میں انہوں ثبوت سے انہوں نے دنیا کو اپنے مہد
جواب نمبر ٢
دلائل دعوٰی مہدویت و مسیح میں مشتے نمونہ از خروارے چند دلائل ب
ا....... مہدی کے متعلق احادیث وقت رانوں پر ہاتھ مارے گا۔ کشاد آپ میں موجود تھے اور بڑی صفت بعد رسول کریم ﷺ بجز مرزا قادیانی نے ظلم (اِنَّ الشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِيْمٌ) یعنی کے لئے اس کی جماعت نے ہر بڑ ہرگز نہیں۔ پھر آپ کو مہدی تسلیم کر
دلیل نمبر ٢....... مسیح کے متعلق الخنزیر“ جس کا معنی علامہ ابن حجر والبراھین“ یعنی حجت و برہان سے صفت مرزا قادیانی اور ان کے متبعین میں کیا شک؟
سوال نمبر ٣
آپ مہدی اور مسیح کو ایک
جواب نمبر ٣
ہم مہدی اور مسیح بلحاظ ص دلائل کافی ہیں۔
دلیل نمبر ا....... مہدی اور یہ بھی ایک غلطی ہے۔ جس میں مسل
سوال نمبر ٢
اس کے ثبوت میں انہوں نے کیا کیا؟ امور دنیا کے سامنے پیش کئے اور کن کن وجوہ اور ثبوت سے انہوں نے دنیا کو اپنے مہدی اور مسیح موعود ہونے پر اطمینان دلایا؟
جواب نمبر ٢
دلائل دعویٰ مہدویت ومسیحیت سے آپ کی ٨٣ کے قریب کتابیں بھری پڑی ہیں۔ مگر میں مشتے نمونہ از خروارے چند دلائل بیان کرتا ہوں اور میرے خیال میں سردست یہی کافی ہیں۔
- .......١ مہدی کے متعلق احادیث میں آیا کہ اس کی زبان میں لکنت ہوگی اور وہ بات کرتے
وقت رانوں پر ہاتھ مارے گا۔ کشادہ پیشانی اور کشیدہ بینی اس کا حلیہ بتلایا گیا ہے۔ یہ سب امور آپ میں موجود تھے اور بڑی صفت اس کی بتلائی گئی ہے کہ عدل سے دنیا کو بھر دے گا۔ یہ صفت بعد رسول کریمﷺ بجز مرزا قادیانی کے آج تک کسی میں نہ پائی گئی۔ کیا آپ بتلا سکتے ہیں کہ کسی نے ظلم ( ان الشرک لظلم عظیم ) یعنی الوہیت عیسیٰ کی تردید اس زور شور سے کی ہو اور اشاعت توحید کے لئے اس کی جماعت نے ہر بڑے بڑے عیسائی شہر میں اپنا جھنڈا نصب کر دیا ہو، ہرگز نہیں ہرگز نہیں۔ پھر آپ کو مہدی تسلیم کرنے میں کیا عذر ہے؟
- دلیل نمبر ٢....... مسیح کے متعلق احادیث میں آیا ہے ”یکسر الصلیب ویقتل
الخنزیر“ جس کا معنی علامہ ابن حجر نے یہ بیان کیا ہے ”یبطل دین النصرانیہ بالحجج والبراهین“ یعنی حجت و برہان سے مسیح، مذہب نصاریٰ کی دھجیاں اڑا دے گا۔ اب بتلائیے کہ یہ صفت مرزا قادیانی اور ان کے متبعین میں موجود ہے کہ نہیں ہے اور ضرور ہے تو پھر آپ کو مسیح ماننے میں کیا شک؟
سوال نمبر ٣
آپ مہدی اور مسیح کو ایک سمجھتے ہیں یا جدا جدا؟ اگر ایک سمجھتے ہیں تو اس کا کیا ثبوت ہے؟
جواب نمبر ٣
ہم مہدی اور مسیح بلحاظ صفات ایک ہی شخص کو سمجھتے ہیں اور ان کے ثبوت میں سردست دو دلائل کافی ہیں۔
- دلیل نمبر ١....... مہدی اور مسیح کے الفاظ حدیث میں موجود ہیں۔ مسیح سے مسیح ناصری سمجھنا
یہ بھی ایک غلطی ہے۔ جس میں مسلمان پڑ کر مرزا قادیانی کو ماننے سے اب تک رکے ہوئے ہیں۔
٧
حالانکہ مسیح کا لفظ استعارہ مہدی پر اطلاق پاتا ہے اور بس اگر کوئی شریعت مہدی اور مسیح کا قائل ہے تو پہلے وہ حیات عیسیٰ کا ثبوت دے۔ جنہیں وفات پا کر آج دو ہزار برس کے قریب ہوتے ہیں۔
دلیل نمبر ٢ ...... ”لامھدی الا عیسیٰ ابن مریم“ (ابن ماجہ ) یعنی ابن ماجہ جس کا صحاح ستہ میں شمار ہوتا ہے۔ اس میں اس مضمون کی حدیث موجود ہے کہ مہدی اور مسیح ایک ہی ہیں۔
سوال نمبر ٤
کیا آپ مرزا قادیانی کو مہدی سمجھتے ہیں یا مسیح بھی، اور اس کے ثبوت کے لئے آپ کے پاس دلائل اور وجوہ کیا کیا ہیں؟
جواب نمبر ٤
سوال نمبر چار کا جواب غالباً جواب نمبر تین میں آچکا ہے۔
سوال نمبر ٥
اگر کوئی شخص مرزا قادیانی کو مہدی موعود یا مسیح موعود ماننے کے لئے ثبوت مانگے تو اس کے اطمینان کے لئے اور کیا کیا ثبوت دیا جاسکتا ہے؟
جواب نمبر ٥
سوال نمبر پانچ کا جواب غالباً جواب نمبر دو میں موجود ہے۔
سوال نمبر ٦
کیا معتقدین مرزا قادیانی، مرزا قادیانی کو مسیح موعود ہونے کی وجہ سے نبی سمجھتے ہیں یا کوئی جداگانہ ظلی نبی مانتے ہیں۔ آیا صرف نبی سمجھتے ہیں یا رسول بھی کیونکہ سنا گیا ہے کہ بعض معتقد ان کو رسول قادیانی کہا کرتے ہیں۔
جواب نمبر ٦
مسیح موعود کے لئے صحیح مسلم میں عیسیٰ نبی اللہ کا لفظ چار مرتبہ استعمال ہوا ہے۔ خود رسول کریم ﷺ نے موعود کو نبی اللہ کہا ہے۔ چونکہ مرزا قادیانی کا دعویٰ تھا کہ میں مسیح موعود ہوں۔ اس لئے آپ نبی اللہ بھی ہیں۔ ہاں، نبی کی تشریح میں آپ نے اس امر کی وضاحت کر دی ہے کہ میں صاحب شریعت نبی نہیں ہوں۔ بلکہ آپ کی شریعت کا متبع نبی یا ظلی نبی ہوں۔ جیسا کہ موسیٰ علیہ السلام سے عیسیٰ علیہ السلام تک صدہا متبع شریعت موسویہ انبیاء گزرے اور عیسیٰ علیہ السلام شریعت موسویہ کے پیرو تھے اور لفظ رسول و نبی باصطلاح قرآن مترادف ہیں اور خود موعود کے لئے حسب
٨
قول اکابرین مفسرین آیت ”ھو الذی ارسل“
سوال نمبر ٧
آیت ”ماکان محمد ابا ہے؟ کیا بعد ہمارے نبی کریم ﷺ کے کسی اور مطلب صراحت کے ساتھ مطلوب ہیں
جواب نمبر ٧
آیت خاتم النبیین پر ہمارا ایمان مترجم قرآن ومفسر خاتم کا ترجمہ (مہر) کر آمد کا مانع نہیں۔ کیونکہ آنحضرت ﷺ کی دیں، اس کی نبوت میں کیا شک؟ اسی بنا اللہ ﷺ نے بلفظ نبی یاد کیا ہے۔ اس لئے وہ المفسرین و خاتم الحفاظ، خاتم المحدثین کا لفظ کہ جس کسی کو خاتم الشعراء کہا گیا۔ اس کے المفسرین کہا گیا تو اس کے بعد کوئی مفسر پی اس کے معنی یہ ہیں کہ اس کمال کے مفسر پی بالکل صحیح اور یقین ہے کہ آنحضرت ﷺ کے
سوال نمبر ٨
اگر کوئی شخص مرزا قادیانی پر اعتم کہ اس کے پیچھے نماز پڑھنا آپ کے ہاں
جواب نمبر ٨
کیا ابوبکر اور عمر کا منکر کاذب نہیں۔ پھر مسیح موعود کو کافر کاذب جاننے و ہوگی؟ علاوہ ازیں مسیح موعود نبی اللہ ہے اور اب آپ خود ہی فیصلہ کریں کہ کیا آپ موعو خیال کے مطابق ہی آئے۔
قول اکابرین مفسرین آیت ”ھو الذی ارسل رسولہ بالھدی“ میں لفظ رسول موجود ہے۔
سوال نمبر ٧
آیت ”ماکان محمد ابا احد“ میں جو لفظ خاتم ہے۔ اس سے کیا مراد لی جاتی ہے؟ کیا بعد ہمارے نبی کریم ﷺ کے کسی اور نبی کا پیدا ہونا ممکن ہے۔ خاتم النبیین کے معنی اور مطلب صراحت کے ساتھ مطلوب ہیں۔
جواب نمبر ٧
آیت خاتم النبیین پر ہمارا ایمان ہے اور ہم اس بات پر بھی ایمان لاتے ہیں کہ جتنے مترجم قرآن و مفسر خاتم کا ترجمہ (مہر) کرتے ہیں۔ وہ نہایت صحیح ہے۔ اب لفظ خاتم کسی متبع نبی کی آمد کا مانع نہیں۔ کیونکہ آنحضرت ﷺ کی مہر جس پر ہو، وہ سچا نبی یعنی رسول کریم جس کو نبی کہہ دیں، اس کی نبوت میں کیا شک؟ اسی بنا پر ہم کہتے ہیں آنے والے موعود کو نبی، چونکہ رسول اللہ ﷺ نے بلفظ نبی یاد کیا ہے۔ اس لئے وہ بھی نبی ہے۔ علاوہ ازیں عرب میں خاتم الشعراء، خاتم المفسرین وخاتم الحفاظ، خاتم المحدثین کا لفظ صدہا مرتبہ مستعمل ہوا کرتا ہے۔ کیا اس کے یہ معنی ہیں کہ جس کسی کو خاتم الشعراء کہا گیا۔ اس کے بعد کوئی شاعر دنیا میں موجود نہیں یا یہ کہ کسی کو خاتم المفسرین کہا گیا تو اس کے بعد کوئی مفسر پیدا ہی نہیں ہو سکتا۔ علیٰ ہذا القیاس۔ دوسری نظیر نہیں بلکہ اس کے معنی یہ ہیں کہ اس کمال کے مفسر یا شعراء پیدا نہیں ہو سکتے۔ یہ صحیح ہے۔ اسی طرح یہ بھی بالکل صحیح اور یقین ہے کہ آنحضرت ﷺ کے کمال کا کوئی نبی قیامت تک ہوا ہے اور نہ ہوگا۔
سوال نمبر ٨
اگر کوئی شخص مرزا قادیانی پر اعتقاد نہ لائے تو آپ اس کو کیا سمجھتے ہیں؟ میں نے سنا ہے کہ اس کے پیچھے نماز پڑھنا آپ کے ہاں جائز نہیں ہے۔
جواب نمبر ٨
کیا ابوبکرؓ اور عمرؓ کو کافر کاذب سمجھنے والوں کے پیچھے سنیوں کی نماز درست ہے؟ ہرگز نہیں۔ پھر مسیح موعود کو کافر کاذب جاننے والوں کے پیچھے ماننے والے کی نماز کس طرح درست ہوگی؟ علاوہ ازیں مسیح موعود نبی اللہ ہے اور نبی کا منکر کافر ہوتا ہے۔ یہ سنیوں کا متفق علیہ مسئلہ ہے۔ اب آپ خود ہی فیصلہ کریں کہ کیا آپ موعود کے منکر کے پیچھے نماز پڑھ لیں گے۔ خواہ وہ آپ کے خیال کے مطابق ہی آئے۔
٩
سوال نمبر ٩
اگر فرض کیا جائے کہ آئندہ کوئی شخص پیدا ہو اور وہ دعویٰ کرے کہ میں مسیح موعود ہوں اور مرزا قادیانی سے زیادہ وہ اسلام کی ہمدردی کرے اور جو خرابیاں اسلام میں پیدا ہو گئی ہوں، ان کو دور کرے اور یورپ اور ایشیاء میں حالت موجودہ سے زیادہ مشن پھیلاوے اور دین اسلام کے اشاعت میں بہت زیادہ خدمات کرے اور وہ تمام صفات جو مسیح موعود میں ہونی چاہئیں، سب اس میں موجود ہوں۔ تو کیا اس کے مسیح موعود ہونے پر کوئی اعتراض ہو سکے گا؟ اگر ہوگا تو کیا اعتراض ہو سکتا ہے؟
جواب نمبر ٩
سوال نمبر ٩ کے جواب میں عرض ہے کہ اس سے علامات مبینہ رسول کریم ﷺ مشتبہ ہوں گے۔ جس کو کوئی مسلمان نہیں مان سکتا۔ ایسا سوال ایک عیسائی اور یہودی بھی کر سکتا ہے کہ توریت یا انجیل میں جس نبی (یعنی آنحضرت ﷺ) کی آمد کی بشارت ہے۔ ممکن ہے کہ ان صفات کا کوئی دوسرا شخص آئندہ پیدا ہو۔
سوال نمبر ١٠
کیا مہدی موعود کے لئے یہ ضروری نہیں ہے کہ وہ اولاد حضرت علیؓ سے ہو اور "یبعث اللہ فی الدنیا رجل منی او من اہل بیتی اسمہ اسمی وکنیۃ کنیتی و اسم ابیہ اسم ابی یملاء الارض قسطا وعدلا کما ملئت ظلما وجورا وقال ایضاء علیہ السلام المہدی من عترتی ومن اولاد فاطمۃ وقال ایضاً علیہ السلام بلاء یصیب ھذہ الامۃ حتی لا یجد الرجل ملجاء یلجاء الیہ من الظلم فیبعث اللہ من عترتی من اہل بیتی فیملاء بہ الارض قسطا وعدلا کم ملئت ظلما جورا ویرضی عنہ ساکن السماء وساکن الارض لاتدع السماء من قطرھا شیئا الا صبتہ مدرارا ولا تدع الارض من نباتہا شیئا الا اخرجتہ حتی تتمنی الاحیاء الاموات یعیش فی ذالک سبع سنین او ثمان سنین او تسع سنین " (مصنف عبدالرزاق ج ١١ ص ٣٧١) کی نسبت آپ کا کیا جواب ہے؟
امید ہے کہ اس تکلیف دہی کی معافی دی جائے گی۔ براہ کرم ایک جلد اس کتاب کی اور روانہ فرمائیے۔ جو مجھے آپ نے محبوب آباد میں عقائد احمدیہ کے متعلق مرحمت فرمائی تھی۔ وہ کتاب ایک صاحب مجھ سے لے گئے۔
(نیاز مند عبدالرحیم وکیل، یکم ستمبر ١٣٣١ف)
١٠
جواب نمبر ١٠
سوال نمبر ١٠ میں آپ نے جو احادیث درج فرمائے ہیں۔ اس میں راوی کو شک ہے۔ خود راوی کہتا ہے ”رجل منی او من اہل بیتی“ بلکہ بعض اسی پایہ کی حدیثوں میں من امتی کا لفظ بھی موجود ہے۔ (دیکھو مشکوٰۃ) پھر ادنیٰ ظن پر ہی یقین کر بیٹھنا اور سب قطعی علامات کو ترک کر کے ایک شکی امر پر تکیہ کرنا کہاں تک درست ہے اور اگر محض نام کی مطابقت ہی صدق مہدویت کی دلیل ہے تو مہدی سوڈانی کو کیوں مسلمانوں نے اب تک مہدی نہ مانا۔ حالانکہ اس کا نام محمد اور احمد اور اس کے باپ کا نام عبداللہ اور اس کی ماں کا نام آمنہ تھا پڑھو محاربات مہدی سوڈان حدیث میں موافقت کا لفظ ہے ”یواطی اسمہ اسمی“ اور موافقت دو ناموں کے لئے محمد اور احمد یا غلام احمد اور اسمین ابوین کے لئے عبداللہ وغلام مرتضیٰ۔
بظاہر مرزا قادیانی کے نام میں، کچھ تجانس نہیں محمد اور احمد میں موافقت ہے۔ اسی طرح غلام اور عبد میں موافقت ہے۔
مختصراً اور سرسری طور پر یہ جواب قلم برداشتہ لکھا گیا ہے۔ اگر کوئی بات ناگوار طبع ہو تو معافی کی امید ہے۔ اللہ آپ کو ہدایت نصیب کرے۔
فقط مرقوم ٨ شہریور ١٣٣٢ف خاکسار محمد بہاءالدین خان ساکن دربھنگہ صوبہ بہار از جانب حافظ مولوی عبدالعلی صاحب وکیل ہائی کورٹ
”الحمد لله ربّ العٰلمین والصلوٰۃ والسلام علیٰ سیّدنا محمد رسول الله خاتم النّبیین وعلیٰ آلہ الطاہرین واصحابہ المہدیین الراشدین رضوان الله تعالیٰ علیہم اجمعین“
”ربّنا لا تزغ قلوبنا بعد اذ ہدیتنا وہب لنا من لدنک رحمۃ انک انت الوہاب“ عقائد فرقہ قادیانی کا کچا چٹھہ دیکھنا ہو تو تکلیف گوارا فرما کر آخر تک ملاحظہ فرمائیے۔ بغیر تمام پڑھنے کے خدارا قادیانی نہ ہو جائیے۔
مسلمو میں نے جو لکھی تردید آپ سب کو مجھے سنانی ہے
سنئے اور خوب دل لگا کر سنئے
کیا مرزا غلام احمد قادیانی کا دعویٰ مہدی ہونے کا صحیح تھا؟ میرا پہلا اعتراض یہ ہے کہ
١١
مرزا قادیانی مہدی موعود ہونے کا دعویٰ نہیں کر سکتے تھے۔ اس لئے کہ ان کا دعویٰ ارشاد حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کے خلاف ہے۔ وہ ارشاد حسب ذیل ہے۔
"یبعث اللہ فی الدنیا رجلا منی ومن اہل بیتی یواطی اسمہ اسمی وکنیته کنیتی واسم ابیه اسم ابی یملا لارض قسطا عدلا کما ملئت ظلما وجورا" یعنی اللہ تعالیٰ دنیا میں ایک مرد پیدا کرے گا جو میرے سے ہوگا یا میرے اہل بیت سے اور اس کا نام میرے نام کے موافق ہوگا اور اس کی کنیت میری کنیت ہوگی اور اس کے باپ کا نام میرے باپ کا نام ہوگا۔ دنیا کو انصاف اور عدل سے بھر دے گا۔ جس طرح دنیا میں ظلم اور جور بھر گیا ہے۔
دوسرا ارشاد یہ ہے: "المہدی من عترتی ومن اولاد فاطمۃ" مہدی میرے رشتہ داروں سے اور اولاد فاطمہ سے ہوگا۔
تیسرا ارشاد: "بلاء یصیب ہذہ الامۃ حتی لا یجدالرجل ملجاء یلجاء الیہ من الظلم وفبعث اللہ رجلا من عترتی من اہل بیتی یملابہ الارض ...... لاتدع السماء من قطرها شیئا الا صبته مدرارا ولا ترع الارض من مائها شیئا اخرجته حتی تتمنی الاحیاء الاموات فی ذلک سبع سنین اوثمان اوتسع سنین"
(مصنف عبدالرزاق ج ١٠ ص ٣١٦)
یعنی اس امت کو بلا پہنچے گی یہاں تک کہ کسی شخص کو پناہ کی جگہ نہیں ملے گی کہ پناہ لے سکے، اس کے طرف ظلم سے۔ پھر پیدا کرے گا اللہ تعالیٰ ایک شخص کو میری اولاد سے اور میری اہل بیت سے۔ پس بھر دے گا اللہ اس کے سبب سے زمین کو عدل وانصاف سے جیسی کہ بھر گئی ہے زمین جور وظلم سے۔ اس سے راضی ہوں گے آسمان کے رہنے والے اور زمین کے رہنے والے۔ نہ چھوڑے گا آسمان اپنے مینہ کے قطروں سے کچھ مگر بکثرت اس کو برسائے گا اور نہ چھوڑے گی زمین اپنی روئیدگی سے کچھ مگر کہ نکالے گی اس کو یہاں تک کہ آرزو کریں گے زندے مردوں کی (احیاء کے ہمزہ کو زبر کے ساتھ پڑھو تو مصدر معنی زندہ کرنے کے ہوں گے۔ یعنی مردے آرزو کریں گے زندگی کی اور کہیں گے یعنی مہدی علیہ السلام) اسی خوشی میں سات برس یا آٹھ یا نو برس۔
اور قول حضرت بندگی شیخ سعدی کا یہ ہے: "لن یخرج المہدی حتی یسمع من غیب کہ علیہ اسرار التوحید" اور خاتم الاولیاء نیز گویند چنانکہ آغاز نبوت از آدم علیہ السلام۔
١٢
ست و ختم ولایت برسید محمد مہدی مو
نخواہد بود وقتی کہ مرد وزن جفت خواہ
مرد خدائے را کہ ہنوز مسلماناں کلمہ گوہ
و خدارا بہ یگانگی پرستش میکنند وقوئے
خالی از ہوائے نفس دیگر شیطان عیسیٰ
- ١....... احادیث مذکورہ بالا سے م
ہے۔
- ٢....... اور ان کا ایسے زمانے میں
جگہ تک نہ مل سکتی ہو۔
- ٣....... ان کا نام اور ان کے باپ
کے موافق ہوگا۔
- ٤....... ان کا آنا ایسے وقت میں
سلسلہ انقطاع ہو جائے گا اور زمین مبعوث ہوں گے اور ساری دنیا سے ظ گے۔ جیسا کہ ظلم و جور سے بھری ہوئی معنوں کے اعتبار سے فرمائیں کہ کیا ا عدل نہیں ہے۔
مرزا قادیانی نے تو ١٨٣٩ کی اور لکھی گئی ہے۔ وہ ان کی پیدائش ہے کہ جھوٹے مدعیان مہدیت پیدا ہ شیطانی کے نہیں ہوں گے۔ مرزا قادیان مرتضیٰ۔ ایسے زمانے میں وہ پیدا ہوئے ماننے والے نماز گزار روزہ رکھنے والے اور دنیا میں نہ کوئی ایسا جور وظلم ہے جیسا تو تھوڑی سی غور و فکر کے بع
بود و ختم نبوت محمد مصطفیٰ شد آں چناں آغاز ولایت از امیر المومنین علی کرم اللہ وجہہ ست و ختم ولایت بر سید محمد مہدی موعود خواہد شد دور زمانے کہ او پیدا خواہد شد توالد وتناسل در دنیا نخواہد بود وقتے کہ مردوزن جفت خواہند شد مضغہ حمل پیدا خواہد شد باز بہ مدتے اسقاط خواہد شد۔ شکر مر خدائے را کہ ہنوز مسلماناں کلمہ گو و نماز گزار روزہ دار در دین اسلام پیدا می شوند و دم توحید میزنند و خدارا بہ یگانگی پرستش میکنند وقومے کہ درین عہد بدروغ دعویٰ مہدی موعود میکند یقین بدانند کہ خالی از ہوائے نفس و مکر شیطان نیست۔
- ١....... احادیث مذکورہ بالا سے ثابت ہے کہ اول مہدی کا اولاد حضرت فاطمہؓ سے ہونا ضرور
ہے۔
- ٢....... اور ان کا ایسے زمانے میں پیدا ہونا ضرور ہے کہ جبکہ مسلمانوں کے لئے دنیا میں پناہ کی
جگہ تک نہ مل سکتی ہو۔
- ٣....... ان کا نام اور ان کے باپ کا نام سرور عالم حضرت محمد ﷺ کے اور ان کے باپ کے نام
کے موافق ہوگا۔
- ٤....... ان کا آنا ایسے وقت میں ہوگا جبکہ دنیا میں توالد و تناسل کا حسب قول حضرت بندگی شیخ
سعدیؒ انقطاع ہو جائے گا اور زمین میں ظلم وجور پھیلا ہوگا اور مہدی علیہ السلام ایسے وقت میں مبعوث ہوں گے اور ساری دنیا سے جور و ستم کو دور کریں گے اور دنیا کو عدل وانصاف سے بھر دیں گے۔ جیسا کہ ظلم و جور سے بھری ہوئی تھی۔ مرزا قادیانی نے کون سا عدل فرمایا؟ عدل کے لغوی معنوں کے اعتبار سے فرمائیں کہ کیا عدل کیا گیا؟ مناظرہ یا مباحثہ کرنا (غیر مذہب والوں سے) عدل نہیں ہے۔
مرزا قادیانی نے تو ١٨٤٠ء کے بعد پیدا ہو کر دعویٰ مہدیت کا کیا اور جو عبارت فارسی کی اوپر لکھی گئی ہے۔ وہ ان کی پیدائش سے سوسال قبل لکھی گئی ہے اور اس میں پیش گوئی کر دی گئی ہے کہ جھوٹے مدعیان مہدیت پیدا ہوں گے۔ یقین کرو کہ ایسے دعویٰ خالی حرص و ہوائے نفس شیطانی کے نہیں ہوں گے۔ مرزا قادیانی ذات کے مغل نام ان کا غلام احمد ان کے باپ کا نام غلام مرتضیٰ۔ ایسے زمانے میں وہ پیدا ہوئے جبکہ بفضل خدا چالیس کروڑ مسلمان کلمہ گو اور ایک خدا کے ماننے والے نماز گزار روزہ رکھنے والے اور دوسرے فرائض دین کے ادا کرنے والے موجود ہیں اور دنیا میں نہ کوئی ایسا جور وظلم ہے جیسا کہ مقصود حدیث شریف کا ہے۔ تو تھوڑی سی غور وفکر کے بعد بخوبی سمجھ میں آ سکتا ہے کہ حضرت موصوف کا دعویٰ بالکل
١٣
خلاف حدیث کے ہے اور وہ ہرگز مہدی موعود نہیں ہیں۔ میرے فاضل دوست مولوی عبدالعلی صاحب نے جو دلیل نمبر ١ مرزا قادیانی کو مہدی ثابت کرنے کے لئے پیش کی ہے کہ ان کے زبان میں لکنت تھی اور رانوں پر ہاتھ مارا کرتے تھے۔ پیشانی کشادہ اور کشیدہ بینی تھی اور چونکہ یہی حلیہ مہدی کا حدیث کی رو سے بتلایا گیا ہے۔ اس لئے حضرت موصوف مہدی ہیں۔ میں کہتا ہوں کہ کیا یہی علامات دوسرے اور بہت سے اشخاص میں نہیں ہیں؟ محض ان علامات کے لحاظ سے (گو وہ قوم کا افغان ہو) اگر کوئی شخص ذی علم دعویٰ کر بیٹھے کہ میں مہدی موعود ہوں تو ہم کیوں ماننے لگے؟
بڑی چیز تو یہ ہے کہ مہدی کا اولاد حضرت فاطمہؓ سے ہونا ضرور ہے اور وہ سید محمد مہدی نام کا ہوگا اور اس کے باپ کا نام عبداللہ ہوگا جو آنحضرت ﷺ کے والد ماجد کا نام تھا۔ مرزا قادیانی کے نام کے متعلق جو بحث لفظ مواطات کی میرے فاضل دوست نے چھیڑی ہے۔ میں اس سے اتفاق نہیں کر سکتا۔ مختلف لغتوں میں مواطات کے معنی موافقت کردن کے ہیں۔ اس سے توافق بالمعنی مراد نہیں ہے۔ بلکہ کلی توافق ضرور ہے۔ جیسا کہ منشاء حدیث شریف کا ہے اور منطق میں حمل مواطات اس کو کہتے ہیں کہ جب حمل حقیقت موضوع پر بلا واسطہ ہو اور حمل سے مراد ایک شے کا دوسری شے پر محمول ہونا ہے۔ جیسے انسان حیوان ناطق ہے۔
اگر تحقق نہ ہو محمول کا کلیتاً موضوع کے لئے جیسے تعریف انسان یہ کی جائے ذو بیاض ہے تو یہ حمل اشتقاق ہے۔ میرے دوست نے لفظ مواطات سے جو بحث کی ہے، بلحاظ لغوی معنوں کے اور بلحاظ منطق کے صحیح نہیں ہے۔ باصطلاح منطقیین خبر مشتق چیز سے بلا واسطہ مرتبۂ ادائے بدوں انضمام کلمہ ذو و غیر آں چنانچہ زید قائم بخلاف زید قیام کہ حمل صحیح نمی باشد مگر بواسطہ ذو اے زید ذو قیام، اسمہ اسمی اسم ابیہ اسم ابی سے یہ امر صاف ہے کہ نام مہدی موعود کا سید محمد ابن عبداللہ ہونا لازم ہے۔ جبھی تو اولاد فاطمہؓ سے ہوگا۔ جب وہ سید ہو۔ اگر احمد اور محمد کے اسمائے جلالی اور جمالی سے تعبیر کرکے مرزا قادیانی نے اپنے نام کو اسمہ اسمی میں داخل کر لیا تو ”واسم ابیہ اسم ابی“ میں تو کسی طرح داخل نہیں ہو سکتے۔
کیونکہ غلام مرتضیٰ سے کوئی مواطات عبداللہ سے نہیں ہے۔ پھر کیونکر ایک مغل صاحب خلاف حدیث کے صریح مضامین اور مطالب کے مہدی موعود ہونے کا دعویٰ کر سکتے ہیں۔ یہ بحث اس قدر صاف ہے کہ اس میں الجھنے کی کوئی ضرورت ہی معلوم نہیں ہوتی۔ سیاق عبارت اور فحوائے کلام کے خلاف کھینچ تان کر زبردستی شاخ در شاخ معنی کرنا کیا ضرور ہے۔ یہ کوئی معمے اور پہیلیاں تو ہے ہی نہیں۔ عبارت روز روشن کی طرح صاف ہے۔ اگر میرے عالم دوست نے غلام مرتضیٰ سے
١٤
غلام اور عبد میں مواطات قرار دیا تو مرتضیٰ اور پسندیدہ ہے اور چونکہ مرتضیٰ لقب حضرت علیؓ شروع کر دیا۔ لیکن لفظ مرتضیٰ اور اللہ میں تو غلام مرتضیٰ اور ہمارے سرور عالم کے والد امجد
پس ان دونوں ناموں میں مواطا ہوتا تب بھی ہم نہیں مان سکتے۔ رحمٰن، رحیم، صاف عبداللہ نہ ہو نہیں مانا جاسکتا۔ بحث مو (ابوداؤد ج٢ ص١٣١) ”قال رسول اللہ ﷺ یملاء الارض قسطا وعدلا کما حدیث میں الفاظ المہدی منی بہت غور طلب نہیں ہو سکتے۔
میرے فاضل دوست کے استدلا جیسا کہ بیان کی جاتی ہے۔ اسی قسم کی ہو جیسی کیا جواب ہو سکتا ہے اور یہ کہ مسیح سنین کا سنئے ”المہدی من عترتی ومن ولد فا کے کیا کوئی کہہ سکتا ہے کہ جو شخص قوم کا مغل ہ رو سے اور دوسری حدیثوں کے منشاء کے موا سے ہونا ضرور ہے۔
اور ترمذی اور ابوداؤد کی متفقہ متن ہے کہ مہدی کس ملک سے ہوں گے۔ ایک ا المغرب رجل من اهل بیتی یواط سرور عالم ﷺ نے دنیا فنا نہ ہوگی۔ یہاں تک موافق ہوگا۔ اس کا نام میرے نام کے لحا کے ملک کے مالک ہوں گے۔ کیا مرزا قاد مواطات پیدا کرنے کی کوشش کی گئی لیکن ”یو قادیانی کو کس طرح متعلق کیا جائے گا۔ میر
غلام اور عبد میں مواطات قرار دیا تو مرتضیٰ اور اللہ میں کیونکر مواطات قائم فرمائیں گے۔ مرتضیٰ بمعنی پسندیدہ ہے اور چونکہ مرتضیٰ لقب حضرت علی کا تھا۔ مسلمانوں نے فخر کے طور پر غلام مرتضیٰ نام رکھنا شروع کر دیا۔ لیکن لفظ مرتضیٰ اور اللہ میں تو کچھ بھی مواطات نہیں ہے۔ مرزا قادیانی کے والد کا نام غلام مرتضیٰ اور ہمارے سرور عالم کے والد امجد کا اسم مبارک عبداللہ۔
پس ان دونوں ناموں میں مواطات کہنا تو کسی طرح صحیح نہیں ہو سکتا۔ اگر عبدالرحمٰن نام ہوتا تب بھی ہم نہیں مان سکتے۔ رحمٰن، رحیم وغیرہ اسمائے صفات ہیں اور اللہ اسم ذات جب تک صاف عبداللہ نہ ہو نہیں مانا جاسکتا۔ بحث مواطات کی تو رہنے دیجئے۔ اب صحاح کی حدیث سنئے (ابوداؤد ج ٢ ص ١٣١) ”قال رسول اللہ ﷺ المهدی منی اجلى الجبهة اقنى الانف يملاء الارض قسطا وعدلا كما ملئت ظلما وجورا يملك سبع سنين“ اس حدیث میں الفاظ المهدی منی بہت غور طلب ہیں۔ مرزا قادیانی جو قوم کے مغل ہیں، منی میں داخل نہیں ہو سکتے۔
میرے فاضل دوست کے استدلال کے بموجب اگر ناک اور پیشانی مرزا قادیانی کی جیسا کہ بیان کی جاتی ہے۔ اسی قسم کی ہو جیسی کہ حدیث میں بیان ہو رہی ہے۔ لیکن المهدی منی کا کیا جواب ہو سکتا ہے اور یملک سبع سنین کا کیا جواب ہو سکتا ہے اور ابوداؤد کی دوسری حدیث بھی سنئے ”المهدی من عترتی ومن ولد فاطمة (ابوداؤد ج ٢ ص ١٣١)“ بلحاظ اس حدیث کے کیا کوئی کہہ سکتا ہے کہ جو شخص قوم کا مغل ہو۔ وہ دعوٰی مہدی ہونے کا کر سکتا ہے؟ اس حدیث کی رو سے اور دوسری حدیثوں کے منشاء کے موافق بھی جن کو اوپر نقل کر چکا ہوں، مہدی کا اولاد فاطمہؓ سے ہونا ضرور ہے۔
اور ترمذی اور ابوداؤد کی متفقہ متعدد حدیثیں ہیں جن میں زیادہ صراحت اس بات کی ہے کہ مہدی کس ملک سے ہوں گے۔ ایک ان میں سے یہ ہے ”لا تذهب الدنيا حتى يملك العرب رجل من اهل بيتي يواطی اسمه اسمی (ابوداؤد ج ٢ ص ١٣١)“ فرمایا سرور عالم ﷺ نے دنیا فنا نہ ہوگی۔ یہاں تک کہ مالک ہوگا عرب کا ایک شخص اہل بیت سے میرے موافق ہوگا۔ اس کا نام میرے نام کے بلحاظ صحاح کی اس حدیث کے مہدی تو وہ ہوں گے جو عرب کے ملک کے مالک ہوں گے۔ کیا مرزا قادیانی ملک عرب کے مالک تھے۔ نام میں تو کھینچ تان کر مواطات پیدا کرنے کی کوشش کی گئی لیکن ”يملك العرب“ عرب کا مالک ہوگا۔ سنئے! مرزا قادیانی کو کس طرح متعلق کیا جائے گا۔ میرے فاضل دوست تو وکیل ہیں۔ میں ان کی بحث کے
١٥
لحاظ سے ایک مقدمہ پیش کرتا ہوں اور یہ کہتا ہوں کہ آپ اس مقدمہ میں وکالت کر کے کامیاب کرا دیجئے۔ تو میں معقول محنتانہ دوں گا تو کیا وہ اس مقدمہ کو عدالت میں پیش کر کے کامیابی کی امید رکھ سکتے ہیں۔ وہ مقدمہ یہ ہے۔
زید جو دس لاکھ روپیہ کا مالک تھا، ایک وصیت نامہ لکھ کر مرا۔ وصیت نامہ میں یہ لکھا کہ میرے دس لاکھ روپیہ میں سے ایک لاکھ روپیہ محمد ولد عبداللہ، میرے بھانجا کو دے دیئے جائیں۔ زید کے دو بھانجے ہیں۔ ایک محمد ولد عبداللہ، دوسرا غلام احمد ولد شیخ مرتضیٰ۔ میں فاضل دوست سے کہتا ہوں کہ بروئے وصیت لاکھ روپیہ غلام احمد ولد شیخ مرتضیٰ کو ملنے چاہئیں اور محمد ولد عبداللہ کو نہ ملنے چاہئیں۔ کیونکہ وصیت کرنے والے کا منشاء یہ تھا کہ لاکھ روپیہ غلام احمد ولد شیخ مرتضیٰ کو جو وہ بھی اس کا بھانجہ ہوتا ہے، دلایا جائے اور چونکہ محمد اور احمد میں مواطات ہے اور شیخ مرتضیٰ اور عبداللہ میں بھی مواطات ہے۔ اس لئے غلام احمد ولد شیخ مرتضیٰ کی طرف سے آپ وکالت کیجئے اور لاکھ روپیہ وصول کیجئے تو آپ کو بھی دس ہزار روپیہ محنتانہ دیا جائیگا۔
تو کیا میرے فاضل دوست اس بحث کی بناء پر عدالت میں مقدمہ غلام احمد ولد شیخ مرتضیٰ کی طرف سے پیش کرنے پر راضی ہو جائیں گے اور ان کا ضمیر ان کو ایسا مقدمہ لینے پر مجبور کرے گا اور کیا میرے دوست اس بحث کی بناء پر کامیابی کی امید رکھ سکتے ہیں اور کیا عدالت ہائے انصاف میں ایسی بحثیں کامیاب ہو سکتی ہیں ۔ اگر اس قسم کی بحثوں پر کامیابی کی امید نہیں ہو سکتی ہے تو میں افسوس کے ساتھ فاضل دوست سے اس امر کے ظاہر کرنے پر مجبور ہوں کہ وہ اپنے نبی کی اس قسم کی بحثوں پر بھی خدا کے پاس بھی کامیابی کی امید نہیں کر سکتے ہیں اور اگر اس قسم کی بحث ان کے نبی نے ہی بتائی ہے اور خود انہوں نے اپنی طبیعت سے اس بحث مواطات کو چھیڑا ہے اور اس بحث کی وجہ سے مرزا کو مسیح یا مہدی موعود مانا ہے تو ان پر لازم ہو جائے گا کہ وہ غور فرمائیں کہ جب ہماری ایسی بحث دنیا کی عدالتوں میں کامیاب نہیں ہو سکتی تو اس عادل ذوالجلال اور منصف حقیقی کی عدالت میں کیونکر کامیاب ہو گی؟
میرے عالم دوست نے جس حدیث ابوداؤد کے حوالہ سے مرزا قادیانی کو مہدی موعود ثابت کرنے کی کوشش فرمائی ہے۔ اس بناء پر کہ ان کی پیشانی ایسی تھی اور ان کی ناک ایسی تھی اور حدیث میں بھی مہدی موعود کی وہی علامات بیان کی گئی ہیں۔ تو پھر مرزا قادیانی کو مہدی موعود ماننے میں کیا عذر ہو سکتا ہے۔ اس بحث کی بناء پر میرے لائق دوست کو ایک اور مقدمہ دیتا ہوں اور دیکھتا ہوں کہ وہ اس مقدمہ میں کامیاب کرا دیں گے یا اس مقدمہ کے لینے ہی سے قطعاً انکار کر
١٦
دیں گے اور مقدمہ والے کو بے وقوف کہیں گے یا عقلمند؟
ایک شخص احمد فاروق کہتا ہے کہ اعلیٰ حضرت غفران مکان علیہ الرحمۃ نے یہ حکم صادر فرمایا تھا کہ ایک شخص سید احمد فاروق جو مالک ہوگا۔ تعلقہ فیض آباد کا آئے تو دس لاکھ روپیہ دے دیئے جائیں۔ میں نے اس سے ایک ہیرا خریدا تھا اور اس شخص کی پیشانی کشادہ اور کشیدہ بینی ہے اور جب وہ بات کرتا ہے تو رانوں پر ہاتھ مارا کرتا ہے۔ ایک شخص جس کا مشہور نام محمد عمر خان ہے۔ میرے لائق دوست سے کہتا ہے کہ چونکہ سید احمد فاروق میں ہی ہوں۔ میری طرف سے دعویٰ رجوع کر کے روپیہ دلوا دیجئے۔ جب اس سے اعتراض ہو کہ تیرا نام محمد عمر خان ہے۔ تجھے کیونکر روپیہ ملے گا۔ تو وہ کہتا ہے کہ احمد اور لفظ محمد میں مواطات ہے اور فاروق اور عمر میں بھی مواطات ہے اور میری پیشانی کشادہ ہے کشیدہ بینی ہے۔ گفتگو کرتے وقت رانوں پر ہاتھ بھی مارا کرتا ہوں۔ اس لئے سید احمد فاروق میں ہی ہوں۔
جب اس سے کہا گیا کہ تم پٹھان ہو اور حکم شاہی میں سید احمد فاروق لکھا ہوا ہے اور اس کا مالک تعلقہ فیض آباد ہونا بھی ضرور ہے۔ نہ تم سید ہو، نہ مالک تعلقہ ہو۔ ان اعتراضات کا تو وہ جواب نہیں دیتا لیکن حلیہ کی بناء پر اور نام کے مواطات کی بناء پر وہ دعویٰ کرنا چاہتا ہے۔ کیا میرے لائق دوست بلکہ برٹش انڈیا میں کوئی ایسا وکیل ہے کہ اس بحث کی بناء پر اس کو کامیاب کرا دے یا کم از کم مقدمہ ہی رجوع کرے۔ اگر کوئی وکیل اس کو کامیاب نہیں کراسکتا تو مرزا قادیانی کو کامیاب کرانے میں کس طرح وکالت کی جاسکتی ہے۔ مہدی تو وہ ہوگا کہ جو سید ہو اور اس کا نام محمد باپ کا نام عبداللہ ہو گا اور وہ مالک ہو گا عرب کے ملک کا۔
مرزا قادیانی نہ سید ، نہ ان کا نام محمد نہ باپ کا نام عبداللہ ، نہ وہ مالک عرب کے ہوئے اور نہ دوسری حدیثوں کی رو سے وہ مصداق مہدی موعود ہو سکتے ہیں۔ تو محض اس وجہ سے کہ کشادہ پیشانی اور کشیدہ بینی رکھتے تھے اور رانوں پر ہاتھ مارا کرتے تھے، مہدی موعود ہو جائیں گے اور باقی الفاظ حدیث کے گاؤ خورد ہو جائیں گے۔ یہ تو اس قدر صاف بحث ہے کہ بچے بھی سمجھ جائیں گے۔ لیکن افسوس ہے کہ قادیانی حضرات کی سمجھ میں نہیں آئی اللہ ان کو اب سمجھنے کی توفیق دے۔
البتہ اس موقع پر ایک انگریزی کی مثال لکھنا ضروری معلوم ہوتا ہے۔ وہ یہ کہ:
They said to the hen eat and do not scatter. The corn about she replied I cannot leave off my habbit.
١٧
یعنی ’مرغی سے کسی نے کہا کہ تو دانہ کھا مگر اس کو بکھیرا مت۔ وہ بولی جناب میں تو اپنی عادت بدل نہیں سکتی۔‘
براہ کرم غور سے اور توجہ سے پڑھئے اور انصافانہ فیصلہ فرمائیے۔ ہم امید نہیں کر سکتے کہ کسی کو مثل متذکرہ بالا کے زبان پر لانے کی بھی ضرورت ہوگی۔
ایک اور مثل مشہور ہے کہ ایک شخص کسی کی ملاقات کو گیا تو اس نے پوچھا تمہارا کیا نام ہے۔ تو اس شخص نے کہا کہ میرا نام حاجی ہے تو دوسرے شخص نے کہا کہ نہیں تو سگ (کتا) ہے۔ شخص اول الذکر نے حیرت سے پوچھا جناب میں تو آدمی ہوں اور میرا نام حاجی ہے۔ آپ مجھے (سگ) کس طرح کہتے ہیں؟ تو شخص مابعد الذکر نے جواب دیا کہ حاجی اور چاجی کی شکل ایک ہے۔ چاجی کمان کو کہتے ہیں کمان گمان کی ایک ہی شکل ہے۔ گمان شک کو کہتے ہیں۔ شک اور سگ کی ایک شکل ہے اس لئے تم سگ ہو۔ شخص اول الذکر تقریر کو سن کر سخت متعجب ہوا۔ اس مغالطہ کی تشریح بالکل اسی طریقہ سے کی گئی ہے کہ انسان کو جس کا نام حاجی تھا، دوسرے شخص نے سگ بنا دیا۔ الفاظ کی اس طرح تشریح اور تعبیر کرنے سے نہ آدمی کتا ہو سکتا ہے نہ مرزا قادیانی جن کا نام غلام احمد ولد غلام مرتضیٰ ہے، محمد ابن عبداللہ قرار پا سکتے ہیں۔
میرے فاضل دوست کا یہ اعتراض ہے کہ مہدی سوڈانی کا نام سید محمد اور ان کے باپ کا نام عبداللہ اور ماں کا نام آمنہ تھا۔ باوجود ان کے دعویٰ مہدی موعود کرنے کے، آپ نے ان کو کیوں مہدی موعود نہ مانا؟
اس سوال سے خود جواب حل ہو جاتا ہے۔ یہی تو ہم لوگوں کا اعتراض ہے اور نہایت واجبی اعتراض ہے کہ حدیث شریف میں مہدی موعود کے مبعوث ہونے کا جو وقت بتلایا گیا ہے۔ وہ وقت نہیں آیا تھا۔ ان علامات کے ظاہر ہونے سے پہلے مہدی سوڈانی تو کیا اور کوئی بھی دعویٰ کرے تو ہم لوگ نہیں مان سکتے۔ کیونکہ خدا کے فضل سے اب تک کروڑہا مسلمان اپنے سچے دین کے پکے پابند ہیں اور نہ دنیا میں ایسا جور و ظلم بھر گیا ہے جیسا کہ حدیث شریف میں مذکور ہے اور نہ ساری دنیا کو عدل و انصاف سے اس مہدی نے بھر دیا ہے۔ تو پھر کیونکر ہم اندھوں کی طرح آنکھوں پر پٹی باندھ کر خلاف منشاء حدیث شریف کے کسی کو مہدی موعود سمجھ لیتے۔
صرف ایک ملک پر ترکوں کے متحدین نے ظلم کیا تو خدا کے فضل و کرم سے آپ نے دیکھ لیا کہ ترک مسلمانوں نے شمشیر بکف ہو کر ان مظالم کو دور کر لیا۔ کسی مہدی موعود نے کیا یا مہدی کے کسی فرقہ نے کوئی مدد کی؟ اللہ تعالیٰ کے فضل سے مسلمانوں میں اب تک اتنی طاقت ہے
١٨
کہ ظالم کو اس کے ظلم کا نتیجہ دکھلا سکتے ہیں حالت میں ہیں اور اپنے خدائے پاک وحدہ کو ادا کر رہے ہیں۔ ہنوز وہ نوبت نہیں آئی پناہ کی جگہ تک نہ باقی ہو۔
جیسا کہ حدیث کا منشاء ہے تو پھ دوست کا یہ ارشاد کہ ’عدل سے دنیا کو بھر د کے آج تک کسی میں نہیں پائی گئی۔ کسی طر فرماتے ہیں کہ کیا بتلا سکتے ہیں کہ کسی نے ظلم تردید اس زور شور سے کی ہو۔‘ میں خود فاض کہ دنیا کے مختلف حصص چین، جاپان، روس کے پاس آیا کرتی ہیں کہ جس سے آپ یہ قادیانی سے زیادہ زور شور کے ساتھ کسی نے عالم کے چار بڑے براعظم ایشیاء، یورپ، افر
چونکہ قادیان سے مرزا قادیانی مباحثہ یا مباہلہ تو کیا اس سے یہ لازم آت مناظروں سے خالی ہیں۔ ہاں یہ فرمائیے کہ براعظموں کے تمام چھوٹے بڑے شہروں کے چین کے آٹھ کروڑ مسلمانوں کو لے لیجئے۔
پیسہ اخبار میں آپ کو ملے گا جس نے بحوال امریکہ سے شائع ہوئی تھی کہ مسلمانان چین کی
پیسہ اخبار جو جون یا جولائی ١٩٢٣ آٹھ کروڑ کی مردم شماری بتلائی گئی ہے اور ی سے کیا کیا مباحثے ہو رہے ہیں۔ ہم آپ کو جس کو ایک سال بھی نہیں گزرا کہ نولاکھ چینی کیا بغیر علماء کی جان توڑ کوششوں کے ایک د علماء میں معلوم نہیں کہ کتنے عالم ایسے ہوں ج
کہ ظالم کو اس کے ظلم کا نتیجہ دکھلا سکتے ہیں۔ ترکی کے سوا دنیا کے مختلف حصص میں مسلمان اچھی حالت میں ہیں اور اپنے خدائے پاک وحدہ لاشریک کی وحدانیت کے قائل ہیں اور اس کے احکام کو ادا کر رہے ہیں۔ ہنوز وہ نوبت نہیں آئی کہ اسلام میں جور وظلم بھر جائے اور مسلمانوں کے لئے پناہ کی جگہ تک نہ باقی ہو۔
جیسا کہ حدیث کا منشاء ہے تو پھر کیونکر مہدی موعود کا ظہور ہو سکتا ہے۔ میرے فاضل دوست کا یہ ارشاد کہ ”عدل سے دنیا کو بھر دے گا“ یہ صفت بعد رسول اکرم ﷺ کے بجز مرزا قادیانی کے آج تک کسی میں نہیں پائی گئی۔ کسی طرح ماننے کے لائق نہیں۔ میرے عالم دوست تو مجھے فرماتے ہیں کہ کیا بتلا سکتے ہیں کہ کسی نے ظلم (ان الشرك لظلم عظيم ) یعنی الوہیت عیسیٰ کی تردید اس زور شور سے کی ہو۔“ میں خود فاضل دوست سے سوال کرتا ہوں کہ کیا آپ بتلا سکتے ہیں کہ دنیا کے مختلف حصص چین، جاپان، روس، روم، مصر اور ممالک افریقہ کی کون کون سی خبریں آپ کے پاس آیا کرتی ہیں کہ جس سے آپ یہ نتیجہ نکالنے پر مجبور ہوئے کہ الوہیت عیسیٰ کی تردید مرزا قادیانی سے زیادہ زور شور کے ساتھ کسی نے نہیں کی۔ ہم ایک چاردیواری کے اندر رہ کر سارے عالم کے چار بڑے براعظم ایشیاء، یورپ، افریقہ اور امریکہ کے خواب کیونکر دیکھ سکتے ہیں۔
چونکہ قادیان سے مرزا قادیانی نے آریوں کا یا عیسائیوں کا جواب لکھا یا مناظرہ یا مباحثہ یا مباہلہ تو کیا اس سے یہ لازم آتا ہے کہ ساری دنیا کے تمام براعظم ایسے مباحثوں یا مناظروں سے خالی ہیں۔ ہاں یہ فرمائیے کہ ہمارے پاس ذرائع ایسے نہیں ہیں کہ ہم ساری دنیا کے براعظموں کے تمام چھوٹے بڑے شہروں کے مذہبی علماء کے مباحثوں سے واقف ہوں۔ ایک ملک چین کے آٹھ کروڑ مسلمانوں کو لے لیجئے۔ ملک چین میں آٹھ کروڑ مسلمانوں کی مردم شماری کا پتہ پیسہ اخبار میں آپ کو ملے گا جس نے بحوالہ تقریر وزیر چین کسی مضمون کی تردید میں لکھا ہے جو امریکہ سے شائع ہوئی تھی کہ مسلمانان چین کی مردم شماری آٹھ کروڑ ہے۔
پیسہ اخبار جو جون یا جولائی ١٩٢٣ء میں شائع ہوا ہے۔ اس میں میں نے خود دیکھا ہے آٹھ کروڑ کی مردم شماری بتلائی گئی ہے اور بتلائیے کہ وہاں کے مسلمان علماء سے اور چینی عالموں سے کیا کیا مباحثہ ہو رہے ہیں۔ ہم آپ کچھ نہیں بتلا سکتے۔ البتہ اتنی خبر تو اخباروں میں دیکھی تھی جس کو ایک سال بھی نہیں گزرا کہ نو لاکھ چینی مسلمان ہو گئے۔ نو لاکھ چینی مسلمان ہوئے ہوں یا کم، کیا بغیر علماء کی جان توڑ کوششوں کے ایک دم اتنے لوگ مشرف بااسلام ہوئے ہوں گے۔ پھر ان علماء میں معلوم نہیں کہ کتنے عالم ایسے ہوں گے جن کی زبان میں لکنت ہو گی اور بات کرتے وقت
١٩
زانووں پر ہاتھ مارا کرتے ہوں گے اور ان کی پیشانی کشادہ اور بینی کشیدہ ہوگی اور ممکن ہے کہ ان میں سید بھی ہوں اور ان کے نام محمد ابن عبداللہ ہوں۔ تو کیا وہ سب مہدی موعود کا دعویٰ کر بیٹھیں گے؟
ابھی تو ہم دنیا کے دوسرے براعظموں کے اسلامی حالات سے اور وہاں کے علماء کے شغل اور ان کی مذہبی خدمات سے واقف نہیں ہیں۔ معلوم نہیں کہ وہاں علماء کیا کیا خدمات انجام دے رہے ہیں۔ محض اس وجہ سے کہ مرزا قادیانی نے آریہ سماجوں سے بحثیں کیں اور ان کی تردید میں کتابیں تصنیف فرمائیں یا الوہیت عیسیٰ علیہ السلام کی تردید میں مناظرہ فرمایا۔ کتابیں لکھیں یا ان کے فرقہ کے چند اصحاب مختلف مقامات پر بطور مشن کے کام کر رہے ہیں اور تبلیغ میں سعی وافر کام میں لا رہے ہیں۔
مرزا قادیانی کو مہدی موعود نہیں مانا جاسکتا۔ یہ امور ایسے ہیں کہ ایسے لوگ عنداللہ ماجورا اور عندالناس مشکور ہوں گے لیکن یہ امور ایسے نہیں ہیں کہ مہدی ماننے کے لئے کافی ہوں۔ خصوصاً ایسے روشن زمانہ میں کہ دنیا کے مختلف حصص میں ہزاروں مساجد ہیں اور کروڑ ہا مسلمان اپنے مذہبی فرائض کو بآواز بلند انجام دے رہے ہیں تو مہدی موعود کے پیدا ہونے کا موقع ہی کیا تھا۔ مذہبی احکام بیان کر کے مرزا قادیانی کا عیسائیوں کی تردید کرنا ثبوت مہدی ہونے کا نہیں ہے۔ ایسے کام علماء بھی کیا کرتے ہیں۔
ایک حضرت خالد بن ولیدؓ کے اس جنگ کے مقابلہ میں جو انہوں نے ہرقل شہنشاہ روم کی چار لاکھ عیسائی فوج سے کی تھی۔ مرزا قادیانی کی عمر بھر کی بحثیں جو عیسائیوں اور آریوں سے کی گئیں، کوئی وقعت نہیں رکھ سکتیں۔ کیا حضرت سیف اللہ کی اس صلیبی جنگ سے میرے فاضل دوست انکار کر سکتے ہیں؟ ہرگز انکار نہ کریں گے۔ خلیفہ اول امیر المومنین حضرت صدیق اکبرؓ کے حکم سے حضرت خالد بن ولیدؓ نے باہان سپہ سالار روم سے جو مباحثے فرمائے اور جس زور کی دھواں دھار تقریر سے الوہیت حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی تردید فرمائی اور ان کے عقیدہ تثلیث کے خلاف گفتگو فرمائی۔ کیا میرے فاضل دوست فرما سکتے ہیں کہ مرزا قادیانی کی عمر بھر کی کمائی بھی اس کا مقابلہ کر سکتی ہے؟
چار لاکھ صلیبیں شہنشاہ ہرقل کے حکم سے افواج میں تقسیم ہوئیں اور ان صلیبوں کو لے کر عیسائی فوج نے اسلامی فوج کا مقابلہ کیا تھا اور خالد بن ولیدؓ اور دیگر مجاہدین اسلام نے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے بموجب ”واخرجوہم من حیث اخرجوکم (بقرہ:١٩١) وقاتلوا المشركين كافة كما يقاتلونكم كافة ( سے انہوں نے تم کو نکالا اور لڑو تمام مشرکین سے عیسائی فوج کا مقابلہ ایسی بہادری س چالیس ہزار بیان کی گئی ہے، دھجیاں اڑا دیں ت گلوں میں ڈالے ہوئے تھے اور ایک بڑا صلیبی ہیں صلیبوں کے پرخچے اڑانا۔ ایسی جنگوں کو جو اللہ تعالیٰ کے حکم کے بموجب یا تو جزیرہ میں یا ب تثلیث اور الوہیت عیسیٰ علیہ السلام کے خیال کو دماغ یہ کہا جائے کہ الوہیت عیسیٰ کی تردید ف کی نسبت ایسے الفاظ کہنا جنہوں نے ایک دھڑل سے درست نہیں ہو سکتا۔ اگر کوئی یہ کہے کہ پیر م کوئی جواب نہیں ہو سکتا۔ آپ انصافاً فرمائیں اس کے مقابلہ میں کچھ قدر اور قیمت رکھتے ہیں کے کسی نے آج تک عیسائیوں کی تردید اس آفتاب کی روشنی کو نہیں روک سکتا۔‘‘
مرزا قادیانی نے نسبتاً کچھ نہیں کیا۔ سیف اللہ کا فقط صلیبی جنگوں کے متعلق تحریر کر دی عیسیٰ علیہ السلام کی تردید میں کی گئی۔ تو مضمون ہ صرف عیسائی عقائد کی تردید اور صلیب کے بغ کئی ورق بھر جائیں گے تو پھر دوسرے واقعات کتاب میں نکل سکتی ہے؟ اگر آئندہ ضرورت ہ گا کہ جن فدایان اسلام نے فی الحقیقت لاکھوں نہیں کیا کہ ہم نے صلیبوں کے پرخچے اڑا ڈال صرف زبانی جمع خرچ پنجاب کی چار دیواری م فرمائیں کہ بعد آنحضرت ﷺ کے کسی نے الوہ اور تمام تاریخی واقعات پر پردہ ڈالیں۔
٢٠
المشرکین کافۃ کما یقاتلونکم کافۃ (توبہ:٣٦) ”یعنی نکالو ان لوگوں کو وہاں سے جہاں سے انہوں نے تم کو نکالا اور لڑو تمام مشرکین سے جس طرح کہ تم سے وہ لڑتے ہیں۔“ عیسائی فوج کا مقابلہ ایسی بہادری سے کیا کہ فی الواقع صلیبوں کی جن کی تعداد دولاکھ چالیس ہزار بیان کی گئی ہے، دھجیاں اڑا دیں۔ جن کو عیسائی فوجی شہنشاہ ہرقل کے حکم سے اپنے گلوں میں ڈالے ہوئے تھے اور ایک بڑا صلیبی علم چھین کر اس کے پرخچے اڑا دیئے۔ اس کو کہتے ہیں صلیبوں کے پرخچے اڑانا۔ ایسی جنگوں کو جو خالص اسلامی جنگ تھی اور جس کی غرض یہ تھی کہ اللہ تعالیٰ کے حکم کے بموجب یا تو جزیہ دیں یا مذہب اسلام قبول کریں اور صلیبوں کو خیر باد کہہ کر تثلیث اور الوہیت عیسیٰ علیہ السلام کے خیال کو دماغوں سے دور کریں۔
یہ کہا جائے کہ الوہیت عیسیٰ کی تردید زور شور سے کی گئی تو مضائقہ نہیں۔ لیکن مرزا قادیانی کی نسبت ایسے الفاظ کہنا جنہوں نے ایک وعظ کی حیثیت سے بڑھ کر کوئی کام نہیں کیا۔ کسی طرح سے درست نہیں ہو سکتا۔ اگر کوئی یہ کہے کہ پیر من خس است۔ اعتقاد من بس است، تو اس کا تو کوئی جواب نہیں ہو سکتا۔ آپ انصافاً فرمائیں کہ مرزا قادیانی کے ساری عمر کے مناظرہ یا مباحثہ اس کے مقابلہ میں کچھ قدر اور قیمت رکھتے ہیں۔ یہ کہہ دینا تو آسان ہے کہ بعد آنحضرتﷺ کے کسی نے آج تک عیسائیوں کی تردید اس زور شور سے نہیں کی۔ پھر کہوں گا ”ابر کا ٹکڑا ہرگز آفتاب کی روشنی کو نہیں روک سکتا۔“
مرزا قادیانی نے نسبتاً کچھ نہیں کیا۔ اگر میں ایک ایک واقعہ صرف حضرت خالد بن ولیدؓ سیف اللہ کا فقط صلیبی جنگوں کے متعلق تحریر کروں اور ان کی تقریروں کا ذکر کروں جو الوہیت حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی تردید میں کی گئی۔ تو مضمون بہت بڑھ جائے گا اور دوسرے تاریخی واقعات جو صرف عیسائی عقائد کی تردید اور صلیب کے بطلان میں حضرت سیف اللہ نے فرمائے لکھوں تو کئی ورق بھر جائیں گے تو پھر دوسرے واقعات صلیبی کے بیان کی گنجائش کہاں سے اس چھوٹی سی کتاب میں نکل سکتی ہے؟ اگر آئندہ ضرورت ہوئی تو میں تاریخی واقعات تفصیل سے لکھ کر بتلاؤں گا کہ جن فدایان اسلام نے فی الحقیقت لاکھوں صلیبوں کے پرخچے اڑائے۔ انہوں نے تو دعویٰ نہیں کیا کہ ہم نے صلیبوں کے پرخچے اڑا ڈالے تو وائے بر حال مرزا قادیانی کے جنہوں نے صرف زبانی جمع خرچ پنجاب کی چار دیواری کے اندر کیا اور قادیانی حضرات اس کی نسبت یہ فرمائیں کہ بعد آنحضرتﷺ کے کسی نے الوہیت عیسیٰ علیہ السلام کی تردید آج تک ایسی نہیں کی اور تمام تاریخی واقعات پر پردہ ڈالیں۔
٢١
محاربات صلیبی کے متعلق میں نہایت مختصر طور پر کچھ لکھتا ہوں اس کو بھی ملاحظہ فرمائیں۔ سب سے پہلے دسویں صدی عیسوی کے آخر میں مسلمانوں سے جنگ کرنے کا خیال پاپائے روم سلوسٹر ثانی کو ہوا۔ جس نے ”عام گرجا“ کے نام ایک خط لکھا کہ یروشلم کو تباہی سے بچایا جائے۔ اس کے بعد شہنشاہ میانول نے پوپ گریگوری ہفتم کو ١٠٧٤ء میں بڑے ادب کے ساتھ خط لکھا۔ گریگوری نے تمام عیسائی بادشاہوں کے نام متعدد خطوط لکھے کہ مسلمانوں کے خلاف سب متفق ہو کر ہتھیار اٹھائیں۔ تمام عیسائی سلطنتوں میں تیاریاں اور مشورے سے ہوتے رہے۔
بالآخر ١٥ اگست ١٠٩٦ء میں بڑے بڑے سپہ سالاروں کی ماتحتی میں عیسائی فوجیں میدان ہائے تھریسیا میں پہنچیں۔ بالآخر میدان ہائے (ایشیاء) میں یہ فوجیں جمع ہوئیں تو ان کی تعداد سات لاکھ تھی۔ اب یہاں سے عیسائیوں کے حملے شروع ہوئے اور مسلمانوں سے مقابلہ رہا۔ بالآخر سلطان صلاح الدین نے عیسائیوں کے چھکے چھڑا دیئے اور یہ جنگ خاص اسلام سے عیسائی بادشاہوں نے کی تھی جو صلیبی جنگ ہائے عظیم کے نام سے مشہور ہے۔ سالہا سال کے معرکوں میں ہزار ہا مسلمانوں کو زخمی اور لاکھوں کو شہید ہونا پڑا۔
تاریخ میں ایک روز کا ذکر لکھا ہے ”کل صلیبی فوجیں جب شہر میں داخل ہوگئیں۔ قتل عام شروع ہو گیا۔ مسلمان سڑکوں پر ملے یا مکانوں میں ہر جگہ تہ تیغ کئے گئے۔ مسجد، مینار، محلات سب مسمار کر دیئے گئے۔ سوائے مرنے والوں کی چیخ و پکار اور نالہ وزاری کی آواز کے اور کوئی آواز نہ تھی۔ عیسائی فوج لاشوں کو روندتی جاتی تھی۔ بلا مبالغہ خون کا وہ سیلاب شوارع عام اور سڑکوں پر جاری تھا۔ بیان کیا جاتا ہے کہ جلو خانے کے نیچے صحن ایوان اور مسجد جامع کے صحن میں گھوڑوں کے گھٹنوں اور لگاموں کے برابر خون ہی خون بھرا تھا۔“
میرے لائق دوست غور فرمائیں کہ صرف ایک روز کی لڑائی کا یہ حال ہے۔ کس قدر مسلمان شہید ہوئے ہوں گے۔ جب اس قدر خون ہو گا کہ گھوڑوں کی لگاموں اور گھٹنوں تک آتا تھا۔ کیا یہ سب مسلمان اور سلطان صلاح الدین ملک گیری کے لئے تھوڑا ہی لڑے تھے؟ یہ لڑائی صلیب کی تھی اور جب تمام بادشاہان یورپ نے اتفاق کر کے اسلام کی بیخ اکھاڑ کر پھینکنا چاہا تو سلطان صلاح الدین کی غیرت نے یہ بات گوارہ نہ کی کہ اسلام یوں بیخ و بن سے اکھاڑ کر پھینک دیا جائے۔ نتیجہ کیا ہوا باوصف اس قدر مسلمانوں کی شہادت کے مسلمانوں نے وہ مقدس صلیب بھی عیسائیوں سے چھین لی۔ جس کی نسبت عیسائیوں کا عقیدہ تھا کہ یہ اصلی صلیب وہ ہے جس پر حضرت عیسیٰ علیہ السلام مصلوب ہوئے تھے۔
٢٢
یہ تھیں صلیبی لڑائیاں، پڑھنے سے قائم رکھنے اور صلیب کی دھجیاں اڑا دینے کے ہمارے فاضل دوست مرزا قادیانی کی نسبت زور سے عیسائیوں کا مقابلہ نہیں کیا۔ میں خیا پڑھے لکھے لوگوں میں کون ایسا شخص ہے جو م
اکمل العلماء عالی جناب نواب ذوالقدر جنگ رکن مجلس عالیہ عدالت نے جو تاریخ خلافت فرمائیں تو معلوم ہوگا کہ مسلمانوں نے عیسائی صلیبوں کی دھجیاں اڑائیں اور کیسے کیسے مقابلہ سو سال تک اسلامی جھنڈا ملک اسپین میں لہراتا
باوصف اس کے ان مسلمانوں نے لکھا ہے۔ تاریخ جاننے والوں پر یہ امر بھی مخفی کیسی جان توڑ کوششیں کیں۔ مشرکوں سے ا مناظرہ اور مباحثہ فرمائے۔ ان تاریخی واقعہ چاہتا۔ لیکن اتنا ضرور کہوں گا کہ صرف ایک کت
صدر یار جنگ بہادر مولانا مولوی محمد حبیب تو معلوم ہو سکتا ہے کہ علماء نے بھی دین کی کیسی
یہ دعویٰ میرے لائق دوست کا آخ کسی میں یہ بات نہیں پائی گئی کہ اہمیت عیسیٰ ک ہے اور چونکہ مرزا قادیانی نے زور وشور کے س فرماتے ہیں کہ حدیث میں جو الفاظ ہیں کہ وہ سے خاص طور پر مرزا قادیانی سے متعلق ہوتی ہ اور اس سے حدیث کا منشاء پورا ہو جاتا ہے۔ بنا اسے مہدی تسلیم کر لیں۔
میں اس کے جواب میں اس موقع فاضل دوست نے لیا ہے، ہرگز صحیح نہیں ہے
یہ تھیں صلیبی لڑائیاں، پڑھنے سے آنکھوں سے آنسو ٹپکنے لگتے ہیں کہ اسلام کا جھنڈا قائم رکھنے اور صلیب کی دھجیاں اڑا دینے کے لئے بہادران اسلام کیا کیا کارنامہ چھوڑ گئے ہیں اور ہمارے فاضل دوست مرزا قادیانی کی نسبت فرماتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ کے بعد کسی نے اس زور سے عیسائیوں کا مقابلہ نہیں کیا۔ میں خیال کرتا ہوں کہ میرے دوست کا یہ تجاہل عارفانہ تھا۔ پڑھے لکھے لوگوں میں کون ایسا شخص ہے جو مسلمانوں کے ان جنگ ہائے عظیم سے واقف نہیں۔ اکمل العلماء عالی جناب نواب ذوالفقار جنگ بہادر ایم اے ناظم اول عدالت فوجداری بلدہ حال رکن مجلس عالیہ عدالت نے جو تاریخ خلافت اندلس کے نام سے تحریر فرمائی ہے۔ اس کو ملاحظہ فرمائیں تو معلوم ہوگا کہ مسلمانوں نے عیسائی صلیبوں کا کیا حال کیا اور مسلمانوں نے کس طرح صلیبوں کی دھجیاں اڑائیں اور کیسے کیسے مقابلہ عیسائی افواج سے کر کے اسلام کا جھنڈا گاڑا اور آٹھ سو سال تک اسلامی جھنڈا ملک اسپین میں لہراتا رہا۔
باوصف اس کے ان مسلمانوں نے بھی ایسا دعویٰ نہیں کیا جیسا کہ میرے دوست نے لکھا ہے۔ تاریخ جاننے والوں پر یہ امر بھی مخفی نہیں ہے کہ بزرگان دین نے اشاعت اسلام میں کیسی جان توڑ کوششیں کیں۔ مشرکوں سے اور کفار سے کیسی کیسی بحثیں فرمائیں اور کیسے کیسے مناظرہ اور مباحثہ فرمائے۔ ان تاریخی واقعات کو یہاں بیان کر کے میں مضمون کو بڑھانا نہیں چاہتا۔ لیکن اتنا ضرور کہوں گا کہ صرف ایک کتاب موسومہ ”علماء سلف“ مؤلفہ افضل العلماء نواب صدر یار جنگ بہادر مولانا مولوی محمد حبیب الرحمن خان صاحب شروانی کو ملاحظہ فرمایا جائے تو معلوم ہوسکتا ہے کہ علماء نے بھی دین کی کیسی خدمتیں فرمائی ہیں۔
یہ دعویٰ میرے لائق دوست کا آنحضرت ﷺ کے بعد آج تک بجز مرزا قادیانی کے کسی میں یہ بات نہیں پائی گئی کہ الوہیت عیسیٰ کی تردید اس زور کے ساتھ کسی نے کی ہو۔ بلا ثبوت ہے اور چونکہ مرزا قادیانی نے زور وشور کے ساتھ تردید فرمائی ہے۔ لہٰذا میرے فاضل دوست فرماتے ہیں کہ حدیث میں جو الفاظ ہیں کہ دنیا کو عدل سے بھر دے گا۔ یہ صفت اسی تردید کی وجہ سے خاص طور پر مرزا قادیانی سے متعلق ہوتی ہے گویا نصاریٰ کی تردید کرنا دنیا کو عدل سے بھر دینا اور اس سے حدیث کا منشاء پورا ہوجاتا ہے۔ بنا براں ہم کو لازم ہے کہ ہم مرزا قادیانی کو بے چون و چرا مہدی تسلیم کرلیں۔
میں اس کے جواب میں اس موقع پر صرف اس قدر بیان کروں گا کہ جو مطلب میرے فاضل دوست نے لیا ہے، ہرگز صحیح نہیں ہے۔ نصاریٰ سے بحث مباحثہ کرنے سے یہ کیونکر سمجھا
٢٣
جائے گا کہ دنیا کو مرزا قادیانی نے عدل سے بھر دیا۔ اگر صرف قادیان پر یا پنجاب پر دنیا کی تعریف صادق آتی ہے جہاں مرزا قادیانی نے نصاریٰ سے مناظرہ فرمایا تو یہ اور بات ہے۔ لیکن مرزا قادیانی مباحثہ یا مناظرہ کے لئے پنجاب کے دو چار شہروں کے سوا اور کہیں نہیں گئے۔ دنیا میں ممالک ایشیاء، یورپ، افریقہ، امریکہ، کیسے بڑے بڑے براعظم ہیں ان ممالک کی صورت تک انہوں نے نہیں دیکھی تو پھر کیونکر یہ دعویٰ صحیح ہو سکتا ہے کہ دنیا کو انہوں نے عدل سے بھر دیا۔ یہ تو وہی مثل ہے کہ کنویں کا مینڈک جو کبھی اس کنویں سے باہر نہیں گیا، اسی کنویں کو دنیا سمجھتا ہے۔ اسی طرح مرزا قادیانی کا دعویٰ ہے کہ وہ قادیان میں یا پنجاب کے دو چار شہروں میں چند پادریوں یا آریہ سماج کے پنڈتوں سے مباحثہ کر کے یہ خیال کرتے ہیں کہ میں نے دنیا کو عدل سے بھر دیا۔
میرے لائق دوست کا یہ بیان کہ مسیح کے متعلق احادیث میں یکسر الصلیب آیا ہے اور علامہ ابن حجر نے اس کے معنی ”یبطل دین النصرانیۃ بالحجج والبراهین“ چونکہ مرزا قادیانی نے مذہب نصاریٰ کی دھجیاں اڑا دیں۔ اس لئے ان کو مسیح ماننے میں کوئی شک نہیں رہتا۔ اس لئے صحیح نہیں ہے کہ مسیح سے مسیح ابن مریم مراد ہیں۔ جس کو میں آئندہ تفصیل سے عرض کروں گا کہ جس حدیث کا میرے فاضل دوست نے حوالہ دے کر یکسر الصلیب پر زور دیا ہے۔ وہ حدیث ترمذی کی ہے اور اس میں صاف الفاظ ”ان ینزل فیکم ابن مریم“ درج ہے۔ بحث کا یہ بالکل نرالہ طریقہ ہوگا کہ جو فقرہ اپنے مفید مطلب سمجھیں اس کو معرض بحث میں لایا جائے اور جو فقرہ خلاف مطلب ہو، اس کو نظر انداز کر دیا جائے۔
حدیث محولہ میں جبکہ مسیح کے ساتھ ابن مریم کا لفظ ہے۔ تو میرے دوست اس لفظ مسیح سے مرزا قادیانی کیونکر مراد لے سکتے ہیں۔ ہاں اگر وہ ابن مریم ہوتے تو میرے فاضل دوست کی بحث صحیح ہو جاتی۔ اگر علامہ ابن حجر نے یکسر الصلیب کے یہ معنی لئے ہیں کہ دین نصرانی کو حجت اور دلائل سے باطل کر دینا تو ابن حجر کی یہ رائے محض استدلال کے طور پر ہے اور ان کی یہ ذاتی رائے ہے۔ یکسر الصلیب بصیغہ مستقبل حدیث میں آیا ہے اور کسر کے لغوی معنی توڑنے اور شکست کرنے کے ہیں۔ مرزا قادیانی نے کہاں کی صلیب توڑی؟ البتہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام جب نازل ہوں گے تو محض تقریر سے ہی کام نہ لیں گے۔ بلکہ صلیب کو عملاً توڑیں گے۔
کتاب کنز العمال اور کتاب حلیہ ابو نعیم میں تو یہاں تک لکھا ہے کہ سرور دو عالمﷺ نے ارشاد فرمایا ہے کہ قیامت کے قریب حرم کعبہ میں میری ذریت سے ایک شخص ظاہر ہوگا۔ محمد نام ابوالقاسم کنیت، مہدی لقب اس کے زمانے میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام آسمان سے اتریں گے۔
٢٣
مہدی امام بنیں گے اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام ان کے مقتدی بنیں گے۔ اگر ان مضامین پر نظر ڈالئے تو یہ اعتراض بھی ہوسکتا ہے کہ حرم کعبہ میں مہدی کا ہونا ضرور ہے۔ ایسے زمانہ میں جبکہ قیامت قریب ہو۔ صحیح مسلم میں یہاں تک لکھا ہے کہ قیامت اس وقت تک نہ ہوگی جب تک اہل قریش سے بارہ شخص خلیفہ نہ ہولیں۔ کیا کوئی کہہ سکتا ہے کہ قریش سے بارہ شخص خلیفہ ہوگئے؟ جب نہیں ہوئے تو ہنوز قیامت کا وقت نہیں آیا۔ جب وقت قیامت کا نہیں آیا تو بعثت موعود ناممکن۔ پھر مرزا قادیانی کیونکر دعویٰ مہدی ہونے کا کر سکتے تھے۔
انگریزی مثل مشہور ہے جب تک ابر نمودار نہ ہو، بارش نہیں ہوتی۔ قیامت کے آثار ہی نہیں ہیں تو مہدی کیسے آسکتے ہیں۔ مہدی موعود کے دعویٰ کرنے والوں میں ایک مرزا قادیانی ہی نہ تھے۔ بلکہ ان سے پہلے بھی بہت سے دعوے ہوئے۔ ایک مہدی سوڈانی جن کا ذکر اوپر ہوچکا ہے۔ ان کے پہلے ایک صاحب سید محمد جونپور میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے بھی دعویٰ فرمایا۔ چنانچہ ہمارے اس شہر میں ہزارہا ان کے ماننے والے مہدی پٹھانوں کے نام سے مشہور اور موجود ہیں۔ سب سے پہلے حضرت محمد حنیف ابن علی نے یہ دلیل پیش فرمائی کہ محمد تو میرا نام ہے اور کنیت ابوالقاسم میں اختیار کر چکا ہوں اور امام مظلوم شہید کے دشمنوں سے تلوار ہاتھ میں لے کر لڑا اور بدلہ لے چکا ہوں۔ حضرت محمد حنیف کو ان کے گروہ کے لوگوں نے عرصہ تک یہ شہرت دی تھی کہ حضرت ممدوح مہدی موعود ہیں۔
حضرات شیعہ کے اقوال اس مسئلہ میں مختلف ہیں۔ فرقہ امامیہ اثنا عشریہ کہتے ہیں کہ بارھویں امام محمد بن حسن کنیت ابوالقاسم القاب مہدی یہی مہدی موعود ہیں۔ دشمنوں کے خوف سے غائب ہوگئے ہیں، مرے نہیں۔ پھر ظاہر ہوں گے اور زمین کو عدل سے بھر دیں گے۔ فرقہ قرامطہ کہتا ہے کہ محمد بن اسمعیل بن جعفر اپنے باپ کی وصیت کی رو سے امام ہیں اور یہی مہدی ہیں اور نہیں مرے، بلکہ زندہ ہیں۔ باقریوں کا عقیدہ یہ ہے کہ حضرت امام باقر مہدی منتظر ہیں جو نہیں مرے بلکہ زندہ ہیں اور بہت فرقہ ہیں ان کے عقائد مختلف ہیں۔ اس موقع پر اس کے بیان کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔
تفسیر کواشی میں حضرت علیؓ سے منقول ہے کہ جب ”بسم الله الرحمن الرحیم“ کے حروف کے اعداد پورے ہوجائیں گے تو مہدی کا خروج ہوگا۔ اس میں لام مکرر نہ پڑھا جائے تو سات سو چھیاسی عدد نکلتے ہیں اور ”لام“ کو ”بسم الله الرحمن الرحیم“ میں مکرر پڑھا جائے تو اعداد گیارہ سو چھیاسی شمار ہوتے ہیں اور یہ زمانہ مہدی کے خروج کا بتلایا گیا ہے۔ چنانچہ اس قول
٢٥
کو حضرت محی الدین ابن عربی شیخ اکبر نے دو شعروں میں لکھا ہے۔
وذورات الخروج عقيب صوم الابلغہ من عندى سلاما
واضح ہو کہ یہ سب اقوال ان احادیث کے خلاف ہیں جن کا اندراج ہم نے اوپر کیا ہے۔ احادیث کے منشاء کے موافق مہدی کا خروج اس وقت ہونا چاہئے۔ جبکہ دنیا میں جور وظلم بھر گیا ہوتا کہ مہدی موعود خروج کر کے دنیا کو بجائے جور وظلم کے عدل سے بھردیں۔ پس وہ زمانہ ہنوز نہیں آیا۔ جیسا کہ میں نے اوپر ذکر کر دیا ہے تو پھر مرزا قادیانی کا یہ دعویٰ کہ میں مہدی موعود ہوں، کس طرح صحیح ہو سکتا ہے۔ اگر صحیح ترمذی شریف مطبوعہ اصح المطابع لکھنو مطبوعہ ١٣١٦ھ کے صفحہ ٣٢٥ باب ما جاء فی فتنۃ الدجال کے تحت صفحہ ٣٢٦ تک ملاحظہ کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ بہت طویل حدیثیں ہیں۔ جن میں دجال کے خروج اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول وغیرہ کے متعلق حالات درج ہیں اور ان حدیثوں میں حضرت عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام کو مسیح کے لفظ سے یاد کیا گیا ہے اور ظاہر ہوتا ہے کہ اس زمانہ میں دنیا کی کیا حالت ہوگی۔
بخوف طوالت ہم نے ان کل حدیثوں کو یہاں نقل نہیں کیا۔ پس یہی وجہ تھی کہ مسیح موعود کے ظاہر ہونے کا زمانہ نہیں تھا اور قبل از وقت دعویٰ کئے گئے تھے۔ اس لئے ہم نے ان دعوؤں کو نہیں تسلیم کیا۔ جو اس زمانہ سے قبل بعض حضرات نے کئے تھے۔ سوال نمبر ١٠ کے جواب میں میرے دوست فرماتے ہیں کہ راوی کو شک ہے۔ خود راوی نے کہا ہے ”رجل منی او من اهل بیتی“ بلکہ بعض اسی پایہ کی حدیثوں میں امتی کا لفظ آیا ہے۔ یہ بیان بھی تسلیم کرنے کے قابل نہیں ہے۔ اس لئے کہ میں نے چار حدیثوں کا حوالہ دیا ہے۔
البتہ ان میں سے ایک حدیث ”او من اهل بیتی“ لکھا ہے۔ لیکن دوسری حدیثوں میں صاف یہ الفاظ ہیں ”المهدی من عترتی ومن اولاد فاطمة رجلا من عترتی واهل بیتی“ ان سب حدیثوں کو ملا کر اس کا مطلب دیکھا جائے جس میں ”رجل منی او من اهل بیتی“ ہے تو صاف طور پر میرے لائق دوست کے اعتراض کی تردید ہو جاتی ہے۔ صاف الفاظ کو نظر انداز کر کے یہ بیان کرنا کہ راوی کو خود شبہ ہے کیونکر صحیح ہو سکتا ہے۔ اگر ایک حدیث پر آپ کو شبہ ہے تو دوسری متعدد حدیثوں پر آپ کیا شبہ کریں گے؟
اس میں تو کوئی لفظ آپ کی تائید نہیں کرتا آپ کے اعتراض کے لحاظ سے بھی نتیجہ نکلتا ہے کہ مہدی کا ”منی او من اهل بیتی“ میں داخلہ ضرور ہے۔ مرزا قادیانی نہ منی میں نہ
٧٦
اہل بیتی میں داخل ہو سکتے ہیں تو پھر خوامخواہ مہدی
بعض حدیثوں میں جو صحاح کی ہم پایہ ہیں۔ جن دعویٰ سے کہتا ہوں کہ صحاح کی کسی حدیث میں نے ایسا لکھ دیا کہ جس کا حوالہ تک نہیں دیا گیا۔
کیا مہدی اور مسیح ایک ہیں
میرے فاضل دوست کا یہ ادعا کہ قادیانی مسیح موعود بھی تھے۔ ابن ماجہ کی ایک حدی ابن مریم“ اس سے نتیجہ یہ نکالتے ہیں کہ مثالیں دی ہیں کہ بلحاظ صفات کے ایک شخص سے رستم دوراں اور سخاوت کے اعتبار سے حاتم یہ کہ ابن ماجہ نے حدیث ابی امامہ میں اس کی تص کہ مہدی موعود اور مسیح موعود جدا ہیں۔ مہدی ام
دوسرے علامہ رزقانی نے ”لامہد لیں کہ کوئی اختلاف اس حدیث سے نہیں ہے استدلال کے بموجب تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ مہد سا عیسیٰ آیا۔ وہ عیسیٰ جو لفظ عیسیٰ کے نام سے ق ابن مریم یا اور کوئی عیسیٰ ؟ ہمارے دوست اس شریف میں اور امتیان حضرت محمد ﷺ میں تیرھ
اگر مہدی اور عیسیٰ ایک ہی شخص کوئی جدا شخص نہ ہوں گے۔ لیکن بحث کا یہ مطلب کی حد تک نتیجہ نکالنے میں کہ مہدی اور فرماتے ہیں اور یہ مطلب اس غرض سے نکال عیسیٰ سے منسوب ہو سکیں۔ مگر اس امر میں اخ پھر آئیں گے۔ اس لئے کہ حضرت عیسیٰ علیہ ا قادیانی مسیح موعود ہونے کا دعویٰ نہیں کر سکتے وہ عیسیٰ ابن مریم ہیں۔
اہل بیتی میں داخل ہو سکتے ہیں تو پھر خوامخواہ مہدی بن بیٹھنا کیا معنی۔ میرے دوست کا یہ بیان کہ بعض حدیثوں میں جو صحاح کی ہم پایہ ہیں۔ من امتی لکھا گیا ہے۔ بالکل درست نہیں ہے۔ میں دعویٰ سے کہتا ہوں کہ صحاح کی کسی حدیث میں یہ لفظ نہیں ہے نہ معلوم کس طرح میرے دوست نے ایسا لکھ دیا کہ جس کا حوالہ تک نہیں دیا گیا۔
کیا مہدی اور مسیح ایک ہیں
میرے فاضل دوست کا یہ ادعا کہ مہدی موعود اور مسیح موعود ایک ہیں۔ اس لئے مرزا قادیانی مسیح موعود بھی تھے۔ ابن ماجہ کی ایک حدیث پر مبنی معلوم ہوتا ہے یعنی ”لا مہدی الا عیسیٰ ابن مریم“ اس سے نتیجہ یہ نکالتے ہیں کہ مہدی اور عیسیٰ جدا جدا نہیں ہیں اور اس کے متعلق یہ مثالیں دی ہیں کہ بلحاظ صفات کے ایک شخص کے مختلف نام ہو سکتے ہیں۔ جیسے شجاعت کے اعتبار سے رستم دوران اور سخاوت کے اعتبار سے حاتم زماں ایک ہی شخص کی نسبت کہا جاسکتا ہے۔ پہلے تو یہ کہ ابن ماجہ نے حدیث ابی امامہؓ میں اس کی تصریح کر دی ہے۔ اس کے دیکھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ مہدی موعود اور مسیح موعود جدا ہیں۔ مہدی اور ہیں اور مسیح اور۔
دوسرے علامہ زرقانی نے ”لا مہدی الا عیسیٰ“ کی تردید کی ہے۔ اگر ہم فرض کر لیں کہ کوئی اختلاف اس حدیث سے نہیں ہے تو ہم دریافت کرتے ہیں کہ ہمارے عالم دوست کے استدلال کے بموجب تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ مہدی کوئی علیحدہ نہیں ہیں۔ عیسیٰ ہی مہدی ہیں تو وہ کون سا عیسیٰ آیا۔ وہ عیسیٰ جو لفظ عیسیٰ کے نام سے قرآن مجید میں بارہا نام لیا گیا ہے۔ یعنی حضرت عیسیٰ ابن مریم یا اور کوئی عیسیٰ؟ ہمارے دوست اس سے تو انکار نہیں کریں گے کہ عیسیٰ کے لفظ سے قرآن شریف میں اور اقوال حضرت محمدﷺ میں تیرہ سو سال سے عیسیٰ ابن مریم مراد لئے گئے ہیں۔
اگر مہدی اور عیسیٰ ایک ہی شخص ہے تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام ہی مہدی ہیں تو مہدی کوئی جدا شخص نہ ہوں گے۔ لیکن بحث کا یہ کون سا طریقہ ہے کہ ہمارے فاضل دوست اپنے مطلب کی حد تک نتیجہ نکالنے میں کہ مہدی اور عیسیٰ جدا نہیں۔ ابن ماجہ کی حدیث استدلال میں پیش فرماتے ہیں اور یہ مطلب اس غرض سے نکالا جاتا ہے کہ مرزا قادیانی ہی دونوں لقب مہدی اور عیسیٰ سے منسوب ہو سکیں۔ مگر اس امر میں اختلاف کرتے ہیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام زمین پر پھر آئیں گے۔ اس لئے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے زمین پر پھر آنے کا مسئلہ صحیح مان لیں تو مرزا قادیانی مسیح موعود ہونے کا دعویٰ نہیں کر سکتے تھے۔ کیونکہ مرزا قادیانی آسمان سے نہیں آئے اور نہ وہ عیسیٰ ابن مریم ہیں۔
٢٧
محض اپنے آپ کو مسیح ثابت کرنے کے لئے ایسے صاف مسئلہ سے وہ اختلاف فرماتے ہیں اور ابن ماجہ کی حدیث سے مرزا قادیانی جو استدلال فرماتے رہے۔ وہ خود ان کے قول کی تردید کرتی ہے۔ کیونکہ عیسیٰ ابن مریم ہی مہدی ہوں گے۔ کوئی جدا نہیں ہیں۔ اس سے بھی نتیجہ یہی نکلا کہ مہدی کا لقب حضرت عیسیٰ علیہ السلام اختیار کریں گے۔ مرزا قادیانی تو کسی طرح سے اس کی رو سے مہدی نہیں کہلا سکتے۔
نوٹ ...... مرزا قادیانی ابن ماجہ کی جس حدیث سے استدلال کرتے ہیں۔ اس میں لفظ ابن مریم صاف لکھا ہوا ہے۔ پس اگر عیسیٰ مہدی ایک ہیں جدا نہیں ہیں تو حضرت عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام مہدی ہوں گے نہ کہ مرزا قادیانی۔
مرزا قادیانی اپنا یہ مطلب نکالنے کے لئے کہ مہدی اور عیسیٰ ایک ہی شخص کا نام ہے۔ ابن ماجہ کی حدیث کو سند کے طور پر پیش فرماتے ہیں۔ لیکن اس غرض کے لئے وہ کون عیسیٰ ہیں جو مہدی کا لقب اختیار کریں گے؟ یہ بات نہیں قبول فرماتے کہ وہ عیسیٰ ابن مریم ہوں گے۔ کیونکہ اس کو مان لیں تو ان کے دعویٰ کی تردید ہو جاتی ہے اور یہ کوئی طریقہ بحث کا نہیں ہے کہ دن کو دن تو کہیں مگر اس بات کو قبول نہیں فرماتے کہ دن ہے تو آفتاب بھی نمایاں ہوگا۔ اگر بغیر آفتاب نکلنے کے دن کا اطلاق ہو سکتا ہے؟ تو مرزا قادیانی کا دعویٰ بھی صحیح ہے۔
لفظ عیسیٰ کے زبان سے نکلتے ہی گو اس کے ساتھ ابن مریم کا لفظ نہ کہا جائے ، ساری دنیا کا خیال حضرت عیسیٰ ابن مریم کی طرف منتقل ہوتا ہے۔ اسی کو منطق میں دلالت وضعی اور دلالت مطابقی کہتے ہیں کہ جو لفظ جس غرض کے لئے وضع کیا گیا ہے۔ اس لفظ کے زبان سے نکلتے ہی سامع کا ذہن لفظ موضوع کی طرف منتقل ہو جائے۔ جیسے ہمارے ملک میں لفظ آنحضرت یا حضور سے بادشاہ وقت خلد اللہ ملکہ مراد لئے جاتے ہیں۔ اگر کوئی کہے کہ آنحضرت نے فرمایا یا حضور تشریف لائے تو ان الفاظ آنحضرت یا حضور کے زبان سے نکلتے ہی سامع کا ذہن فوراً ہمارے آقا شہر یار دکن کی طرف منتقل ہو جاتا ہے۔
لفظ اعلیٰ حضرت یا حضور کے ساتھ بادشاہ ملک دکن کہنے کی ضرورت نہیں ہوتی ۔ اسی طرح لفظ عیسیٰ زبان سے نکلا اور سامع کا ذہن حضرت عیسیٰ ابن مریم علیہما السلام کی طرف منتقل ہوا۔ اب فرمائیں کہ صحاح کی حدیثوں میں جو لفظ عیسیٰ کا آیا ہے۔ اس سے کیا عیسیٰ علیہ السلام مراد نہیں ہیں؟ اگر بقول مرزا قادیانی کے مہدی اور عیسیٰ ایک ہی ہیں تو مرزا قادیانی پھر مہدی کیونکر ہو سکتے ہیں۔ صحیح مسلم کی حدیث ہے ”لا تزال طائفة من امتى يقاتلون على الحق ظاهرين
٢٨
الی یوم القيامة قال فيقول لان بعضکم ص ٨٧) ”یعنی میری امت می تک مدد دے گا۔ فرمایا رسول ا کا (مہدی علیہ السلام) اس کی فرمائیں گے کہ نہیں، بعضے تم می ہے۔ اس حدیث سے صاف م اور ہیں۔
حضرت مہدی حضر عیسیٰ علیہ السلام بلحاظ عظمت ہ السلام اور مہدی علیہ السلام جد نکلتے۔ اس صاف حدیث کے ب سمجھ لیں گے۔ مرزا قادیانی تو زمانے میں حضرت عیسیٰ علیہ الس کسی طرح سے دعویٰ مہدی ہو ان ہی کے قول کے
ادعا حضرت عیسیٰ علیہ السلام کر کیا فائدہ۔ اس حدیث سے یہ دے گا اور اس کے بعد آنحضر سے مراد حضرت مہدی موعود کا لڑتے رہیں گے۔ اس کے بعد مہدی علیہ السلام فرمائیں گے ک
حدیث کی تمام عبا حضرت عیسیٰ علیہ السلام دونوں قیامت تک مدد دیں گے۔ مرزا دیتے۔ وہ تو قیامت کے آثار
الى يوم القيامة قال فينزل عيسى ابن مريم فيقول اميرهم تعال صل لنا فيقول لا ان بعضكم على بعض امراء تكرمة الله لهذه الامة (مسلم ج ١ ص ٨٧) ”یعنی میری امت میں ایک گروہ کو زوال نہ ہو گا جو حق کے واسطے حق پر لڑے گا اور قیامت تک مدد دے گا۔ فرمایا رسول اللہ ﷺ نے کہ عیسیٰ علیہ السلام ابن مریم نازل ہوں گے۔ امیر امت کا (مہدی علیہ السلام) اس گروہ سے کہے گا کہ آئیں نماز پڑھائیں تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام فرمائیں گے کہ نہیں ، بعضے تم میں سے بعضوں پر امیر ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اس امت کو بزرگی دی ہے۔ اس حدیث سے صاف معلوم ہوتا ہے۔ عیسیٰ ابن مریم اور ہیں اور امیر یعنی مہدی علیہ السلام اور ہیں۔
حضرت مہدی حضرت عیسیٰ سے خواہش کریں گے کہ آپ نماز پڑھائیں اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام بلحاظ عظمت امت محمدی امامت سے انکار فرمائیں گے۔ اگر حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور مہدی علیہ السلام جدا جدا نہ ہوتے تو آنحضرت ﷺ کی زبان مبارک سے یہ الفاظ نہ نکلتے۔ اس صاف حدیث کے بعد میرے فاضل دوست ”لا مہدی الا عیسیٰ“ کا مطلب خود سمجھ لیں گے۔ مرزا قادیانی تو نہ مہدی قرار پا سکتے ہیں نہ عیسیٰ۔ کیونکہ مہدی ہوتے تو ان کے زمانے میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام نازل ہوتے۔ عیسیٰ مسیح ہونے کا تو ان کو خود دعویٰ نہ تھا۔ پس وہ کسی طرح سے دعویٰ مہدی ہونے کا کر نہیں سکتے۔
ان ہی کے قول کے بموجب اور حسب منشاء حدیث ابن ماجہ اگر مہدی موعود ہونے کا ادعا حضرت عیسیٰ علیہ السلام کریں تو صحیح ہو سکتا ہے۔ مرزا قادیانی کو ”لا مہدی الا عیسیٰ“ سے کیا فائدہ۔ اس حدیث سے یہ امر صاف ظاہر ہے کہ ایک گروہ کو زوال نہ ہوگا۔ حق کے واسطے مدد دے گا اور اس کے بعد آنحضرت ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ عیسیٰ علیہ السلام نازل ہوں گے۔ گروہ سے مراد حضرت مہدی موعود کا گروہ ہے۔ پہلے مہدی علیہ السلام قبل وقوع قیامت کے حق کے لئے لڑتے رہیں گے۔ اس کے بعد حضرت عیسیٰ علیہ السلام نازل ہوں گے اور اس گروہ کے امیر یعنی مہدی علیہ السلام فرمائیں گے کہ آپ نماز پڑھائیں۔
حدیث کی تمام عبارت کو پڑھنے سے صاف یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ مہدی علیہ السلام اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام دونوں قیامت سے پہلے آئیں گے اور مہدی علیہ السلام معہ اپنے گروہ کے قیامت تک مدد دیں گے۔ مرزا غلام احمد قادیانی اگر وہی مہدی ہوتے تو قیامت تک زندہ رہ کر مدد دیتے۔ وہ تو قیامت کے آثار سے پہلے پیدا ہوئے اور رخصت بھی ہو گئے تو پھر وہ مہدی تو ہرگز
٢٩
نہیں قرار دیئے جاسکتے۔ جن کی نسبت حدیث میں مرقوم ہے کہ قیامت تک مدد دیں گے اور جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے کہیں گے کہ آئیں نماز پڑھائیں۔ اس موقع پر ایک واجبی اعتراض ہمارا یہ بھی ہے کہ:
مرزا غلام احمد قادیانی اگر مسیح موعود مان لئے گئے تھے تو ان کے نام کے ساتھ تعظیماً وہی لفظ بولنا چاہئے تھا جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نام ساتھ قادیانیوں کے باپ دادا اور ہمارے باپ دادا استعمال کرتے چلے آئے ہیں۔ یعنی علیہ السلام اور یہ جملہ انبیاء کرام کے لئے مستعمل ہے۔ البتہ آنحضرت ﷺ کی نسبت کہ سرور الانبیاء ہیں۔ حسب ارشاد اللہ تعالیٰ کے ”صلوا علیہ وسلموا تسلیما“ ایک خاص جملہ علیہ الصلوٰۃ والسلام ساڑھے تیرہ سو سال سے مسلمانان ہر فرقہ استعمال کرتے چلے آرہے ہیں۔ مگر افسوس اور صد ہزار افسوس کہ جو خاص جملہ آنحضرت ﷺ کی شان خاص کے شایاں تھا۔ وہ جملہ مرزا قادیانی کے لئے استعمال کیا جاتا ہے۔
اس سے قادیانی حضرات کی محبت کا پتہ چلتا ہے جو آنحضرت ﷺ کے ساتھ ہے۔ اگر حضرت عیسیٰ علیہ السلام ہی کا پتہ ان مرزا قادیانی کو دیا گیا تھا تو وہی تعظیمی الفاظ جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے لئے مخصوص تھے، استعمال کئے جاتے۔ یہ کیا بیہودہ طریقہ اختیار کیا گیا ہے کہ سرور عالم کا خاص تعظیمی جملہ درود مرزا قادیانی کے نام کے ساتھ چسپاں کر کے فرق امتیازی کو اٹھا دینے یا مساوی کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ دنیا میں جو اعلیٰ حکومت دار کہلاتے ہیں۔ ان کے لئے بھی خاص الفاظ ہز ایمپیریل میجسٹی، ہز مجسٹی، ہز رائل ہائنس، ہز اگزالٹیڈ ہائنس، ہز ہائنس اسی طرح امیر، وزیر، نواب، شاہ، شہنشاہ، ہز اکسی لینسی اعلیٰ قدر مراتب استعمال کئے جاتے ہیں۔
جس کے لئے جو تعظیمی جملہ مقرر کر لیا گیا ہے۔ اس کے نام کے ساتھ وہی جملہ بولا جائے گا۔ اگر کوئی شخص اس کے خلاف کہے تو اس کو جاہل یا بے وقوف یا پاگل کہیں گے۔ مثلاً کوئی شخص نواب صاحب رام پور کو ہز مجسٹی کہے تو آپ اس کو ضرور جاہل کہیں گے۔ اسی طرح اگر قادیانی مرزا قادیانی کو علیہ الصلوٰۃ والسلام کہیں تو قادیانیوں کو ہم کیا کہیں؟ آپ ہی انصاف سے فرمائیے۔
غنیمت کہ قادیانیوں نے علیہ الصلوٰۃ والسلام پر اکتفاء کیا۔ اگر ان کو حضرت اقدس مرزا صاحب جل جلالہ وعم شانہ فرماتے تو انڈیا کے مسلمان ان قادیانیوں کا کیا کر لیتے؟ جو مرزا قادیانی کو اقدس افضل التفضیل کے مرتبہ میں پہنچا چکے تھے۔ اس کے آگے شاید اور کوئی درجہ باقی نہ تھا ورنہ اس سے بھی درگزر نہ کرتے۔ تو پھر اس بات کا کیا تعجب ہے کہ ان کو مہدی اور مسیح دونوں بنائیں۔ واہ مرزا قادیانی۔ شعر:
٣٠
وصف مہدی
میرے دوست کا یہ قول کہ مر... مسلمانوں کے مہدی اور بلحاظ اصلاح نف... استعارہ کے ہے اور اس لئے آپ نے ہو... معلوم ہو کہ مسیح محمدی اور ہے جس کے بعث... کے نبی تھے اور وہ وفات پا چکے ، مسیح نہیں ہو...
یہ استدلال بھی کسی حدیث پر... کے خلاف مسیح کا لقب اختیار کیا۔ اللہ تعالیٰ... اس ارشاد سے معلوم ہوگا ”انما المس... (النساء: ١٧١) ”اس آیت شریف سے... مریم کے بیٹے کو دیا ہے۔ علیہا السلام اللہ ت... لیں تو یہ ان کا ذاتی فعل ہے۔ اس سے وہ ... ہے۔ وہ جو چاہے بن بیٹھے ۔ بعضوں نے ک... اسی طرح اگر کوئی کہے کہ میں مسیح ہوں تو اس ... مسیح کا خطاب اللہ تعالیٰ نے م... السلام کا بیٹا ہوگا وہ مسیح ہوگا۔ اس کے خلا ف... قادیانی کی والدہ کا نام مریم ہوتا تب تو وہ ب... کریم میں مسیح یا عیسیٰ کا لفظ آیا ہے۔ وہ س... کا نام مریم نہیں ہے۔ بنا بریں ان کی یہ عا... صریح الفاظ المسیح عیسیٰ ابن مریم کو یعنی مریم... آپ سے متعلق قرار دیتے ہیں اور مریم ک... کر اپنے زیب تاج کرنا چاہتے ہیں اور یہ... ہوں اور ساری دنیا کی آنکھوں میں کیونکر...
البتہ بعض زندہ دلان پنجاب... پنجاب کے ملک کو بھی یہ شرف حاصل ہو ک...
آنچہ خوباں ہمہ دارند تو تنہا داری
میرے دوست کا یہ قول کہ مرزا قادیانی مہدی بھی ہیں اور مسیح بھی اور بلحاظ ہدایت مسلمانوں کے مہدی اور بلحاظ اصلاح نصاریٰ مسیح کے اسم سے موسوم ہوئے اور یہ لفظ بطور استعارہ کے ہے اور اس لئے آپ نے بغرض تفہیم مثیل مسیح کے لفظ کو اختیار کیا ہے تاکہ لوگوں کو معلوم ہو کہ مسیح محمدی اور ہے جس کے بعثت کا امت کو انتظار ہے اور مسیح ناصری اور جو بنی اسرائیل کے نبی تھے اور وہ وفات پاچکے، صحیح نہیں ہو سکتا۔
یہ استدلال بھی کسی حدیث پر مبنی نہیں ہے۔ بلکہ مرزا قادیانی نے اللہ تعالیٰ کے ارشاد کے خلاف مسیح کا لقب اختیار کیا۔ اللہ تعالیٰ نے مسیح کا لقب جس کو دیا ہے۔ اس کا حال اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد سے معلوم ہوگا ”انما المسیح عیسٰی ابن مریم رسول الله وکلمتہ (النساء: ١٧١) “ اس آیت شریف سے ثابت ہے کہ مسیح کا لقب اللہ تعالیٰ نے خاص حضرت عیسیٰ مریم کے بیٹے کو دیا ہے۔ علیہا السلام اللہ کے حکم کے خلاف مرزا قادیانی اگر مسیح کا لقب اختیار کر لیں تو یہ ان کا ذاتی فعل ہے۔ اس سے وہ فی الواقع مسیح نہیں ہو جاتے۔ اللہ نے ہر شخص کو زبان دی ہے۔ وہ جو چاہے بن بیٹھے۔ بعضوں نے کہا ”انا الحق“ (میں اللہ ہوں) تو کیا وہ اللہ ہو گئے؟ اسی طرح اگر کوئی کہے کہ میں مسیح ہوں تو اس کے کہنے سے کیا ہوتا ہے؟
مسیح کا خطاب اللہ تعالیٰ نے مریم کے بیٹے عیسیٰ علیہ السلام کو دیا ہے جو حضرت مریم علیہا السلام کا بیٹا ہوگا وہ مسیح ہوگا۔ اس کے خلاف جو کہے وہ ارشاد باری تعالیٰ کے خلاف ہے۔ اگر مرزا قادیانی کی والدہ کا نام مریم ہوتا تب تو وہ بہت زور کے ساتھ استدلال کر سکتے کہ جہاں کہیں قرآن کریم میں مسیح یا عیسیٰ کا لفظ آیا ہے۔ وہ سب مجھ سے متعلق ہے۔ لیکن معلوم ہوتا ہے کہ ان کی والدہ کا نام مریم نہیں ہے۔ بنا بریں ان کی یہ عالی ہمتی بیشک قابل تعریف ہے کہ قرآن کریم کے صاف و صریح الفاظ مسیح عیسیٰ ابن مریم کو یعنی مریم کے بیٹے کو جو لقب مسیح کا اللہ تعالیٰ نے دیا ہے، وہ اپنے آپ سے متعلق قرار دیتے ہیں اور مریم کے بیٹے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا لقب ان سے چھین لے کر اپنے زیب تاج کرنا چاہتے ہیں اور یہ خیال نہیں کرتے کہ میں حضرت مریم کا کیونکر بیٹا بن سکتا ہوں اور ساری دنیا کی آنکھوں میں کیونکر خاک جھونک سکتا ہوں۔
البتہ بعض زندہ دلان پنجاب تو حب الوطنی کے جوش میں اور غالباً اس خیال سے کہ پنجاب کے ملک کو بھی یہ شرف حاصل ہو کہ ان کے وطن کی مقدس سرزمین سے بھی نبی اللہ مبعوث
٣١
ہوئے۔ مرزا قادیانی کو مسیح تسلیم کرلیں ان پر ایمان لے آئیں اور اس بات کا خیال نہ کریں کہ مریم کے بیٹے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا حق غصب ہوتا ہے اور اسی طرح پنجاب کے پڑوسی یعنی ملک ہند کے بعض حضرات بھی حق ہمسایہ ادا کریں اور مرزا قادیانی پر ایمان لانے والوں کا ساتھ دیں لیکن افغانستان ایران، توران، بلخ، بخارا، ترکستان، روم، شام، مصر، زنجبار اور افریقہ کے دوسرے صوبہ جات اور چین کے آٹھ کروڑ مسلمان جو سب مل کر قریباً ٤٠ کروڑ مسلمان ہوتے ہیں۔ اس حق تلفی کو کیونکر پسند کریں گے۔
اگر پنجاب کے اور اس کے پڑوسی ہندوستان کے بعض ان مسلمانوں کا خدا اور قرآن الگ ہوتا، جو مرزا قادیانی پر ایمان لے آئے ہیں تو ہم کو کچھ کہنے کی ضرورت نہیں ہوتی۔ لیکن جبکہ ان سب کا اور ممالک مذکور کے مسلمانوں کا خدا اور قرآن پاک ایک ہے تو ضرور ہوا کہ ہم بھی دریافت کریں کہ اس قسم کی حق تلفی کیوں کی جاتی ہے اور کیوں حضرت مریم کے بیٹے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا خدا داد لقب ان سے چھینا جاتا ہے۔ جس قدر حدیثیں میں نقل کرچکا ہوں اور آئندہ نقل کروں گا۔ ان حدیثوں کے لحاظ سے یہ امر صاف ہے کہ مہدی موعود مسلمانوں کی ہدایت کے لئے نہیں آئیں گے اور اسی طرح وہ شخص جو مسیح کے نام سے آئے گا خواہ وہ حسب بیان مرزا قادیانی کے مہدی ہی ہو یا بقول ہمارے حضرت عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام ہوں۔ صرف نصاریٰ کی اصلاح کے لئے آئے گا۔
اس وجہ سے کہ مسلمانوں کی ہدایت کی نہ ضرورت ہے نہ حضرت مہدی مسلمانوں کی ہدایت کے لئے آئیں گے۔ مسلمان تو مسلمان ہی رہیں گے۔ ان کی ہدایت کے لئے خدا کیوں مہدی علیہ السلام کو بھیجے گا۔ ہاں البتہ جو غیر مسلمان ہوں گے۔ ان کی ہدایت کی ضرورت ہوگی اور غیر مسلموں کی ہدایت کے لئے مہدی علیہ السلام آئیں گے۔ اگر ہدایت مسلمانوں کے معنی مرزا قادیانی نے یہ لئے ہیں کہ خود اپنے آپ کو مہدی تسلیم کرالینا ہی داخل ہدایت ہے تو ہم اس کو ہدایت نہیں سمجھتے۔ مہدی موعود کا وہ کام ہوگا جس کا ذکر حدیثوں میں ہے۔ کسی حدیث میں یہ نہیں ہے کہ مہدی موعود کا کام مسلمانوں کی ہدایت کرنے کا ہوگا۔
مسلمانوں کو ہدایت کرنا تحصیل حاصل ہے۔ وہ خود مسلمان اور دین کے پابند ان کو ہدایت کرنا کیا معنی۔ اسی طرح یہ دعویٰ بھی غلط ہے کہ نصاریٰ کی اصلاح کے اعتبار سے مسیح کا لقب اختیار کیا گیا۔ مسیح کا کام بھی کسی حدیث کی رو سے یہ نہ ہوگا کہ وہ صرف نصاریٰ ہی کو ہدایت فرمائیں اور نہ صرف نصاریٰ کی ہدایت کے لحاظ سے مسیح موعود کا لقب اختیار کیا جاسکتا ہے۔
٣٢
حدیثوں میں جن کا ذکر ہم کر چکے ہیں۔ یا آئندہ کریں گے۔ حضرت مہدی علیہ السلام اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے کام بصراحت بتلا دیئے گئے ہیں۔ ان حدیثوں میں کہیں ایسی صراحت نہیں ہے جیسی کہ میرے فاضل دوست نے کی ہے۔
معلوم ہوتا ہے کہ مرزا قادیانی نے اپنی طبیعت سے خلاف مضامین حدیثوں کے یہ تشریح فرمائی ہے۔ اگر بقول مرزا قادیانی کے دیکھا جائے کہ مسلمانوں کی ہدایت کے لئے مہدی کا آنا ضروری ہے تو ہم دریافت کرتے ہیں کہ انہوں نے مسلمانوں کو کیا ہدایت کی اس کے سوا وہ کچھ نہیں بتلا سکتے کہ مسلمانوں سے وہ صرف یہ کہلوانا چاہتے ہیں کہ مجھے مہدی موعود اور مسیح مانو یا مجھے نبی تسلیم کرو۔ اس کو کوئی بھی ہدایت نہیں کہے گا۔ یہ تو ان کا دعویٰ ہے جو بلا ثبوت ہونے کی وجہ سے معرض بحث میں ہے۔ ہدایت کے معنی ہرگز یہ نہیں ہیں کہ مہدی موعود جو آئیں گے تو وہ بھی اپنے آپ کو مہدی منوانے کے لئے نہیں آئیں گے۔ بلکہ وہ تو وہ کام انجام دیں گے جس کا ذکر حدیثوں میں ہے۔
یہ امر کہ آریوں سے بحث کی یا نصاریٰ قوم کے پادریوں سے مرزا قادیانی نے مباحثہ یا مناظرہ کیا حضرت موصوف نہ مہدی ہو سکتے ہیں نہ مسیح کا لقب اختیار کر سکتے ہیں۔ یہ ان کا اختیاری فعل ہے وہ جو چاہیں بن بیٹھیں۔ ایسے کام تو واعظ اور علماء کیا ہی کرتے ہیں۔ مرزا قادیانی نے پنجاب کی چار دیواری میں بیٹھ کر نصاریٰ اور آریوں سے مناظرہ کیا تو اس سے حدیث شریف کی پیش گوئی ”یملاء الارض قسطا وعدلا کما ملئت ظلما وجورا“ کیا پوری ہو گئی؟
مہدی تو وہ ہوں گے کہ ساری دنیا کو (نہ صرف پنجاب کی چار دیواری کے اندر) عدل اور انصاف سے بھر دیں گے۔ جس طرح دنیا ظلم سے بھر گئی ہو۔
میرے فاضل دوست نے میرے سوال نمبر ٧،٦ کے جواب میں یہ تحریر فرمایا کہ چونکہ صحیح مسلم کی احادیث میں عیسیٰ نبی اللہ کا لفظ چار جگہ استعمال ہوا ہے اور چونکہ آنحضرت ﷺ خاتم النبیین ہیں (یعنی نبیوں کی مہر) اور آنحضرت ﷺ نے عیسیٰ کی نسبت نبی اللہ فرمایا۔ اس لئے آنحضرت ﷺ کی مہر اس امر کے اثبات پر ہو گئی کہ عیسیٰ موعود نبی اللہ ہیں اور چونکہ مرزا قادیانی کو دعویٰ تھا کہ میں مسیح موعود ہوں۔ اس لئے وہ نبی ہیں۔ اس قسم کی بحث اگر کسی غیر قانون دان شخص کی ہوتی تو مجھے تعجب نہ ہوتا۔ لیکن میرے فاضل دوست قانون دان اور منطق سے واقف ہیں۔ اس لئے مجھے نہ صرف تعجب ہوا بلکہ افسوس ہوا اس لئے کہ صحیح مسلم کی جس حدیث میں لفظ نبی اللہ کا استعمال ہوا ہے۔ وہ کس عیسیٰ کی نسبت ہوا ہے۔ وہ عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام کی نسبت ہے یا کسی اور
٣٣
کی نسبت اور وہ عیسیٰ کیا قیامت کے قریب نازل ہوں گے یا ہندوستان کے قادیان میں یا دنیا کے کسی اور حصہ میں؟
ان دونوں امور کو میں آئندہ بھی موقع بہ موقع تفصیل سے لکھوں گا مگر اس موقع پر یہی مختصراً جواب ادا کرتا ہوں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی نسبت تو خود خدا نے قرآن میں نبی اور رسول کے الفاظ فرما کر مہر لگادی ہے اور گویا خدا کی مہر ان کی نبوت کے نسبت ہوگئی ہے اور وہ وہی ہیں جن کی شان میں آیت ”انما المسيح عيسى ابن مريم رسول الله وكلمته (النساء: ١٧١) “ آئی ہے۔ جب خدا نے خود نبی اللہ فرما کر مہر لگادی ہے تو آنحضرت ﷺ کا حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی نسبت نبی اللہ فرمانا کچھ تعجب نہیں ہے۔ لیکن مرزا قادیانی نے اس لفظ کا مدلول اور موضوع لہ اپنے آپ کو قرار دیا ہے۔ البتہ یہ بہت تعجب کی بات ہے۔ پھر لفظ مسیح دبے الفاظ میں کیوں فرمائیں گے۔
صاف یہ کیوں نہیں کہا گیا کہ میں عیسیٰ ہوں۔ میرے دوست فرماتے ہیں کہ وہ اس لئے عیسیٰ کے لفظ سے ملقب نہیں ہوئے کہ لوگوں کو دھوکہ نہ ہو اور وہ لوگ عیسیٰ نہ سمجھیں جن کا نام آتے ہی خیال ساری دنیا کے لوگوں کا ابن مریم کی طرف منتقل ہوجاتا ہے۔ یہ مرزا قادیانی نے بڑا کرم کیا کہ لوگوں کو دھوکہ کھانے سے بچایا۔ لیکن حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی جگہ جو خود لے بیٹھے اور صاف وصریح حدیثوں اور آیات میں تاویلات کر کے لوگوں کو غلط باور کرانا چاہا تو اس کو کیا کہا جائے گا؟
میرے فاضل دوست جس حدیث کے حوالہ سے مرزا قادیانی کو نبی کے لفظ سے ملقب ہونے کے مستحق سمجھتے ہیں۔ پہلے میں اس حدیث کے لفظ نقل کرتا ہوں تاکہ اس بحث کے تصفیہ میں مدد ملے۔ یاجوج ماجوج کے آنے کے بعد کے واقعات اس حدیث میں بیان ہونے کے بعد یہ الفاظ حدیث کے ہیں ”ويحصر نبى الله عيسىٰ عليه السلام واصحابه حتى تكون راس الثور لاحدهم خير من مائة دينار لاحدكم اليوم فيرغب نبى الله عيسىٰ واصحابه فيرسل الله عليهم النغف فى رقابهم فيصبحون فرسى كموت نفس واحدة ثم يهبط نبي الله عيسىٰ واصحابه الى الارض فلا يجدون فى الارض موضع شبر واصحابه الى الله فيرسل الله عليهم طيراً كاعناق البخت فتحملهم فتطرحهم حيث شاء الله (مسلم ج ٢ ص ٤٠٢) “ اور روکے جائیں گے اللہ کے نبی (عیسیٰ علیہ السلام) اور ان کے صحابہ یہاں تک کہ ہو
٣٤
گا سر بیل کا واسطے ایک ان کے بہتر سو دیناروں سے واسطے ایک تمہارے کے آج کے دن پس رغبت کریں گے عیسیٰ نبی اللہ اور ان کے اصحاب، پس اللہ تعالیٰ بھیجے گا ان پر کیڑے ان کی گردنوں میں پس ہو جائیں گے مردے مانند مرنے ایک جان کے پھر اتریں گے عیسیٰ نبی اللہ اور ان کے اصحاب زمین کی طرف پس نہیں پائیں گے زمین میں جگہ ایک بالشت بھر کہ بھر دیا ہوگا اس کو چربی اور ان کی بدبو نے پس دعا کریں گے عیسیٰ نبی اللہ اور ان کے اصحاب اللہ کی طرف، اللہ بھیجے گا پرند جانور کہ گردنیں ان کی مانند گردن اونٹ کے ہوگی پس اٹھائیں گے وہ جانور ان کو اور پھینک دیں گے ان کو جہاں چاہا اللہ نے۔
اب اس حدیث میں جو لفظ نبی اللہ استعمال ہوئے ہیں۔ تو میرے فاضل دوست اس سے یہ حجت پیش کرتے ہیں کہ نبی اللہ کے مدلول مرزا قادیانی ہیں۔ مگر میرے عالم دوست اس حدیث کے دوسرے الفاظ کا موضوع لہ معلوم نہیں کس کو قرار دیں گے۔ مثلاً ”یھبط“ یعنی اتریں گے۔ کون اتریں گے؟ کہاں سے اتریں گے؟ اگر مرزا قادیانی لفظ عیسیٰ کے موضوع لہ ہیں تو میرے دوست کو یہ بھی بتلانا چاہئے کہ وہ کہاں سے اترے؟ لفظ اترنا اسی صورت میں کہا جائے گا جب کسی مقام سے کوئی آئے۔ جبکہ لفظ اتریں گے کے بعد ”الى الارض“ زمین کی طرف بھی حدیث میں ہے۔
تو یہ سوال ہوتا ہے کہ مرزا قادیانی بلندی سے جو غیر از زمین کوئی مقام ہے، اس مقام سے زمین پر اترے اس کا جواب تو یہی ہوگا کہ مرزا قادیانی زمین قادیان میں پیدا ہوئے۔ کہیں سے نہیں اترے تو پھر وہ حدیث کے مدلول اور موضوع لہ نہیں قرار پا سکتے اور وہ عیسیٰ نہیں ہیں۔ جس کا ذکر حدیث میں ہے۔ بلکہ عیسیٰ ابن مریم ہیں جو آسمان سے زمین کی طرف اتریں گے۔ افسوس کہ ایسی صاف بات کو کھینچ تان کر مرزا قادیانی سے منسوب کیا جاتا ہے۔ علاوہ اس کے دوسری عبارت حدیث کی کہ ”بالشت“ بھر جگہ نہ پائیں گے اور وہ جگہ چربی اور بدبو سے بھری ہوگی اور پرندے اتریں گے۔ جن کی گردن اونٹ کی سی ہوگی اور وہ پرند ان کو اٹھا کر پھینک دیں گے۔
مرزا قادیانی کے نبی بننے کی وجہ سے گاؤ خورد ہو گئی۔ یہ خوب مزے کی بات ہے کہ نبی بننے کے شوق میں جس عبارت کو چاہا لے لیا اور جس کو چاہا چھوڑ دیا۔ کیا یہی طریقہ نبی بننے کا ہوتا ہے؟ میں کہتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کو یاد رکھنا چاہئے کہ ”لا تغلوا فی دینکم ولا تقولوا على الله الا بالحق (النساء:١٧١)“ ”یعنی دین کے معاملہ میں غلو مت کرو اور اللہ کے اوپر جھوٹ اتہام نہ لگاؤ سوا سچ کے۔“
٣٥
اور اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کو کہ ”اذا قلتم فاعدلوا ولو كان ذا قربى“ (الانعام: ١٥٢) ” جب تم لوگ بات کرو تو انصاف کی بات کرو خواہ کوئی تمہارا قربت دار ہی کیوں نہ ہو۔“ کیا یہ انصاف کی بات ہے کہ حدیث کے یا آیت قرآن کے ایک جزو کو اپنے مفید مطلب سمجھو تو لے لو اور دوسرے جز کو چھوڑ دو اور اس پر غور نہ کرو۔ خدا جب پوچھے گا کہ میں نے تو حکم دیا تھا کہ تمہارا کوئی قرابت دار بھی ہو تو انصاف کو ہاتھ سے مت جانے دو۔ تم نے میرے حکم کی تعمیل کیوں نہ کی اور کیوں کھینچ تان کر معنی لے لے کر انصاف کو ہاتھ سے چھوڑ دیا۔ تو نہ معلوم کیا جواب دیا جائے گا۔ خواہ مخواہ عیسیٰ ابن مریم بن بیٹھنے کی فکر میں الفاظ حدیث کے تمام فقروں کو چھوڑ کر صرف کسی ایک فقرہ کو (جو مفید مطلب سمجھا جائے) لے کر اس سے تمام دنیا کے مانے ہوئے سچے اصول اور مطالب سے اور سیدھے اور صاف معنوں سے اختلاف کرنا خدا ہرگز پسند نہ کرے گا۔ یہ حدیث اور دوسری اسی قسم کی حدیثیں صاف بتلا رہی ہیں کہ مہدی اور عیسیٰ قیامت کے قریب آئیں گے ۔ یہ زمانہ خود مرزا قادیانی کے دعویٰ کی تردید کرتا ہے۔
حدیثوں میں وہ مقام تک معین کر دیا گیا ہے۔ جہاں حضرت عیسیٰ علیہ السلام نازل ہوں گے۔ ملاحظہ ہو (مسلم ج ٢ ص ٤٠١، مشکوۃ ص ٤٧٣) ”اذ بعث الله المسيح بن مريم فينزل عند المنارة البيضاء شرقی دمشق“ ﴿بھیجے گا اللہ تعالیٰ مسیح ابن مریم کو پس وہ اتریں گے نزدیک منارہ سفید کے جانب مشرقی دمشق کے۔﴾
اور ابن ماجہ کی حدیث کی رو سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام بیت المقدس میں اتریں گے ۔ بیت المقدس جانب شرقی دمشق کے ہے۔ اب فرمائیے کہ اس حدیث میں بھی مسیح بن مریم صاف ہے اور ان کے اترنے کا مقام جانب شرقی دمشق بیت المقدس صاف درج ہے تو کیا مرزا قادیانی لفظ مسیح کے موضوع لہ قرار پا سکتے ہیں۔ کیا وہ مریم کے بیٹے تھے اور کیا وہ شرقی دمشق میں اترے تھے۔ اب میں صحاح کی چند حدیثیں عرض کر کے دریافت کروں کہ حضرات قادیانی کے پاس ان کا کیا جواب ہے۔ بخاری اور مسلم کی حدیث ہے ”والذي نفسي بيده ليوشكن ان ينزل فيكم ابن مريم حكما عدلا فيكسر الصليب ويقتل الخنزير ويضع الجزية ويفيض المال حتى لا يقبله احد حتى تكون السجدة الواحدة خيرا من الدنيا ومافيها (بخاری ج ١ ص ٤٩٠ ، مسلم ج ١ ص ٨٧)“ ”حضور ﷺ فرماتے ہیں قسم ہے اس خدا کی کہ میری جان جس کے ہاتھ میں ہے۔ تحقیق اتریں گے تم میں بیٹے مریم کے، عادل حاکم ہو کر پس ٣٦
توڑیں گے صلیب کو اور قتل کریں گے سؤروں کو نہیں قبول کرے گا کوئی یہاں تک کہ سجدہ ایک
ہمارے لائق دوست شمس الفضلا چاہتے ہیں کہ چونکہ انہوں نے زور و شور سے دھجیاں اڑا دیں۔ اس لئے اس حدیث کے
”چشم ما روشن دل ما شاد“ بہت ہیں تو اس حدیث میں لفظ ابن مریم ہے۔ ج اس حدیث کے موضوع لہ نہیں قرار پا سکتے ۔ نہیں آتا۔ کیونکہ وہ کہیں سے نہیں اترے ۔
”یقتل الخنزیر“ سے تو پ گے کہ مرزا قادیانی نے کتنے سوروں کا قتل ک حرام بیان کیا تو ہم نہیں مانتے ۔ سور تو پہلے ہ سور حرام ہے۔ تو اسی طرح مرزا قادیانی نے دنیا سے سوروں کو نیست و نابود کر دینا اور سا قادیانی نے یہ کام انجام دیا؟ ”يضع الج
نے جزیہ کے احکام جاری کئے؟
کیا دنیا میں مال کی ایسی زیادتی دنیا میں حدیث کے منشاء کے موافق مال کی نہ تھا اور کیا دنیا میں سجدہ ہی ایک ایسی بہتر زمانہ میں) سمجھا گیا تھا کہ انبیاء سے بڑھ ک جب ان باتوں میں سے کوئی بات نہیں ہوئی کہ مرزا قادیانی کے لئے تمغہ فتح قرار دے صادق نہ آئیں ۔ صرف ایک لفظ کو جو مر قادیانی کے خیال کے بموجب ان کے نام سے یہ کہنے کے لئے تیار ہو گئے کہ میں نے کہ آج تک رسول اکرم ﷺ کے بعد کسی ن
توڑیں گے صلیب کو اور قتل کریں گے سور کو اور اٹھا دیں گے جزیہ کو اور بہت ہو گا مال یہاں تک کہ نہیں قبول کرے گا کوئی یہاں تک کہ سجدہ ایک ہوگا بہتر دنیا سے اور دنیا کی ہر چیز سے۔﴾
ہمارے لائق دوست بکسر الصلیب کے لفظ سے مرزا قادیانی کے حق میں یہ فائدہ اٹھانا چاہتے ہیں کہ چونکہ انہوں نے زور و شور سے بحث کر کے اپنی بحث کے ذریعہ سے صلیب کی دھجیاں اڑا دیں۔ اس لئے اس حدیث کے موضوع لہ حضرت مرزا قادیانی ہیں۔
”چشم ما روشن دل ما شاد“ بہت اچھا! اگر اس حدیث کے موضوع ”لہ“ مرزا قادیانی ہیں تو اسی حدیث میں لفظ ابن مریم ہے۔ کیا مرزا قادیانی ابن مریم تھے؟ اگر ابن مریم نہ تھے تو وہ اس حدیث کے موضوع لہ نہیں قرار پاسکتے۔ دوسرا ”ان ینزل فیکم“ بھی مرزا پر صادق نہیں آتا۔ کیونکہ وہ کہیں سے نہیں اترے۔
”یقتل الخنزیر“ سے تو ہم واقف نہیں۔ شاید میرے لائق دوست واقف ہوں گے کہ مرزا قادیانی نے کتنے سوروں کا قتل کیا۔ اگر وہ یہ جواب دیں کہ مرزا قادیانی نے سوروں کو حرام بیان کیا تو ہم نہیں مانتے۔ سور تو پہلے سے حرام تھے۔ جیسا دنیا کے مسلمان سب کہتے ہیں کہ سور حرام ہے۔ تو اسی طرح مرزا قادیانی نے بھی بیان کیا تو وہ کوئی چیز نہیں، حدیث کے الفاظ کا منشاء دنیا سے سوروں کو نیست و نابود کر دینا اور ساری دنیا پر حرام کر دینا ہے۔ کیا کوئی بتلا سکتا ہے کہ مرزا قادیانی نے یہ کام انجام دیا؟ ”یضع الجزیۃ“ کیا میرے دوست بتلا سکتے ہیں کہ مرزا قادیانی نے جزیہ کے احکام جاری کئے؟
کیا دنیا میں مال کی ایسی زیادتی ہو گئی کہ ”لا یقبلہ احد“ کی تعریف صادق آئی۔ کیا دنیا میں حدیث کے منشاء کے موافق مال کی ایسی فراوانی ہوئی کہ اس کو کوئی دنیا میں قبول کرنے والا نہ تھا اور کیا دنیا میں سجدہ ہی ایک ایسی بہتر چیز حدیث کے منشاء کے بموجب (مرزا قادیانی کے زمانہ میں) سمجھا گیا تھا کہ انبیاء سے بڑھ کر یعنی دنیا و مافیہا سے بہتر صرف ایک سجدہ ہی ہو گیا تھا۔
جب ان باتوں میں سے کوئی بات نہیں ہوئی تو صرف ایک لفظ بکسر الصلیب کو اس حدیث سے چن کر مرزا قادیانی کے لئے تمغۂ فتح قرار دے لینا کوئی عقل کی بات ہے؟ حدیث کے تمام الفاظ گو صادق نہ آئیں۔ صرف ایک لفظ کو جو ستارہ کی طرح اس حدیث میں چمک رہا تھا اور جو مرزا قادیانی کے خیال کے بموجب ان کے نام کو روشن کرنے والا تھا، چن کر اٹھا لیا اور اس کے ذریعہ سے یہ کہنے کے لئے تیار ہو گئے کہ میں نے پادریوں سے مناظرہ کر کے صلیبوں کو اس طرح توڑا کہ آج تک رسول اکرم ﷺ کے بعد کسی نے نہیں توڑا تو یہ تو ایک خیالی پلاؤ ہوا۔
٣٧
جس طرح مرزا قادیانی نے خیالی پلاؤ پکا کر خیالی نبوت کے معتقدین کے خیالی پیٹ بھر دئے۔ لاؤ ہم بھی ہوا اور پانی پر لکھ کر مرزا قادیانی کی نبوت پر صاد کر دیتے ہیں۔ اگر ہمارا یہ صاد باقی رہ گیا تو مرزا قادیانی کی نبوت بھی باقی رہے گی ورنہ یہ نبوت ہوا پر لکھی ہوئی تحریر اور پانی پر کھنچے ہوئے نقش کی طرح زائل اور باطل سمجھنی چاہئے۔ اچھا اب اور ایک حدیث صحیح مسلم کی سن لیجئے۔ جس سے غالباً آپ نے یکسر الصلیب لے کر میرے سوالات کے جواب میں صراحت کی ہے۔
قال رسول اللہ ﷺ ”واللہ لینزلن ابن مریم حكما عادلا فلیكسرن الصلیب ولیقتلن الخنزیر ولیضعن الجزیة ولیتركن القلاص فلا یسعی علیها و لتذهبن الشحناء والتباغض والتحاسد ولیدعون الی المال فلا یقبله احد
(مسلم ج ١ ص ٨٧)“
اس حدیث میں لفظ ابن مریم ہے۔ غلام احمد قادیانی تو ابن مریم یعنی مریم علیہا السلام کے بیٹے نہ تھے اور نہ وہ کہیں سے اترے تھے۔ البتہ اس حدیث میں یہ الفاظ زیادہ ہیں جو سابق الذکر حدیث میں نہیں ہیں ”اور چھوڑ دی جائیں گی جوان اونٹنیاں، پس نہیں کی جائے گی سواری اور کام اور طلب حاجات البتہ جاتا رہے گا لوگوں میں سے کینہ اور بغض اور حسد اور البتہ بلائیں گے ابن مریم لوگوں کو طرف قبول کرنے مال کے پس نہیں قبول کرے گا اس کو کوئی ۔“
اب انصاف فرمایئے کون سی جوان اونٹنیاں مرزا قادیانی نے چھوڑیں جن پر سواری نہیں کی گئی اور فرمایئے کیا لوگوں میں سے دنیا کے کینہ اور بغض اور حسد جاتا رہا اور کیا مرزا قادیانی نے دنیا کے لوگوں کو مال لینے کے لئے بلایا تھا اور کوئی اس مال کا لینے والا اور خواہش کرنے والا نہ تھا؟ ان ساری باتوں کو چھوڑ کر حدیث کے صرف ایک لفظ کو لینا کہ حدیث میں یکسر الصلیب ہے اور میں نے بحث کر کے صلیبوں کو توڑا، اس لئے میں نبی ہوں، بچے بھی قبول نہیں کریں گے۔
مسلم کی ایک حدیث قال ﷺ ”فیبعث اللہ عیسیٰ ابن مریم ...... فیطلبه فیهلكه ...... ثم یرسل اللہ ریحا باردة من قبل الشام فلایبقی علی وجهه الارض احد فی قلبه مثقال ذرة من ایمان (مسلم ج ٢ ص ٤٠٣)“ ﴿پس بھیجے گا اللہ عیسیٰ مریم کے بیٹے کو، سو وہ ڈھونڈے گا اس کو (دجال) کو پھر تباہ کر دے گا اس کو (دجال) پھر بھیجے گا اللہ ایک ٹھنڈی ہوا ملک شام کی طرف سے، نہ باقی رہے گا زمین پر کوئی کہ اس کے دل میں ذرہ برابر بھی ایمان ہو۔﴾
٣٨
انصاف سے فرمائیے کہ جب اس حدیث میں ابن مریم صاف ہے اور وہ اس وقت اتریں گے کہ دنیا میں کوئی شخص ایسا باقی نہ ہوگا کہ جس کے دل میں ذرہ برابر بھی ایمان ہو۔ کیا مرزا قادیانی کے زمانہ میں کوئی شخص بھی ایسا باقی نہ تھا کہ ایماندار ہو۔ ابن حجر کے قول کے لحاظ سے میرے دوست نے فرمایا ہے کہ یکسر الصلیب ویقتل الخنزیر کے معنی علامہ ابن حجر نے یہ لئے ہیں ”یبطل دین النصرانية بالحجج والبراهين“ حجت اور برہان سے صلیب کی تردید کرنا ہی یکسر الصلیب ہے۔ میں کہتا ہوں کہ پہلے تو ابن حجر کا قول کوئی حدیث نہیں۔ دوسرے اگر علامہ ابن حجر نے حدیثوں کے خلاف اپنی رائے ظاہر کی تو اس کو ہم کیونکر مان سکتے ہیں۔ قطع نظر اس کے ابن حجر نے قطعی تصفیہ نہیں کر دیا ہے کہ صرف مرزا قادیانی کی طرح زبانی جمع خرچ کر دینا ہی یکسر الصلیب کے فحواء اور منشاء میں داخل ہے۔ یکسر الصلیب کے منشاء میں ممکن ہے کہ حجت اور برہان سے بھی کام لینا داخل ہو۔
لیکن محض حجت اور برہان کو یکسر الصلیب کا پورا مصداق ٹھہرا لینا ناممکن ہے۔ مجھے میرے دوست کے استدلال پر یہ سوال اور اعتراض ضرور ہے کہ علامہ ابن حجر کی ایک دلیل پر تو آپ ہم کو قائل کرنا چاہتے ہیں اور علامہ ابن حجر کے قول کی تردید میں اگر ہم صحاح کی متعدد حدیثیں پیش کریں تو کیا اس صورت میں بھی آپ ابن حجر ہی کے قول کو ترجیح دیں گے؟
مثل مشہور ہے کہ ڈوبنے والے کو تنکے کا سہارا بھی بہت بڑی چیز ہے۔ ڈوبتے وقت اگر تنکا بھی ہاتھ آ جائے تو انسان یہ سمجھتا ہے کہ میں اس کو پکڑ لوں گا تو بچ جاؤں گا۔ بالکل وہی مثال قادیانی حضرات پر صادق آتی ہے کہ صحاح کی حدیثوں کی زد سے بچنے کے لئے ابن حجر وغیرہ کے اقوال کو جن کی وقعت تنکے سے کم ہے، پکڑ کر اپنی جان اعتراضوں سے بچانا چاہتے ہیں۔ کجا ابن حجر کا قول اور کجا حدیث شریف۔ کیا ایسے دلائل اور حجت سے کامیابی ہو سکتی ہے؟ البتہ وہ لوگ ایسے کمزور دلائل کو مان لیں گے جنہوں نے باوصف لائق ہونے کے کامل توجہ نہیں کی اور محض مرزا قادیانی کے اقوال پر کہ جو کچھ وہ کہہ چکے ہیں، صحیح ہے، بھروسا کر لیا۔
کیونکہ مرزا قادیانی کی لیاقت اکثر لوگوں کے پاس مسلم ہو چکی تھی اور اسی لئے ان لوگوں نے غالباً حدیثوں کے مضمون کو پوری طرح سے نہیں پڑھا اور مرزا قادیانی نے جو کچھ لکھ دیا یا فرما دیا، اس کو صحیح تصور کر لیا۔ مجھے بالکل یقین ہے کہ اگر قادیانی حضرات ہٹ دھرمی، ضد اور تعصب کو دخل نہ دیں تو اللہ تعالیٰ کے صاف وصریح احکام متعدد حدیثوں کو جن کا حوالہ اس مختصر کتاب میں دیا گیا ہے، ٹھنڈے دل سے قبول کریں گے اور مرزا قادیانی کی بھول بھلیوں سے جس
٣٩
کو Labyrinth کہنا چاہئے، جلد باہر نکل آئیں گے۔ خدا اور رسول کے احکام کے معنے اور پہلیوں کی طرح کھینچ تان کر تاویل در تاویل کر کے مطلب نکالنے کی کوشش نہ فرمائیں گے۔ میرے فاضل دوست ان دونوں حدیثوں کے ایک لفظ لیکسر الصلیب کی من مانی تاویلات فرماتے ہیں۔ ان کا تو ان کو اختیار ہے۔ لیکن انصافاً ان کو حدیثوں کے پورے مضمون سے مطلب طے کر بلحاظ سیاق عبارت کے غور فرمانا چاہئے۔ کیا کوئی وکیل کسی عدالت میں اس طرح بحث کر سکتا ہے کہ کسی دفعہ قانون کا ایک جزو جو اپنے مفید سمجھے، عدالت کو سنا کر فیصلہ اپنے موافق کرانے کی کوشش کرے۔ جبکہ ان دونوں حدیثوں میں حضرت رسول اکرم ﷺ نے اللہ کی قسم کھا کر ارشاد فرمایا ہے تو رسول اکرم ﷺ کی قسم کو بھی کیا وہی وقعت دی جائے گی جو بازاری گواہوں کو۔ (معاذ اللہ!)
جبکہ رسول اکرم ﷺ قسم کھا کر بیان فرماتے ہیں تو ان کے غلامان امت کو لازم ہے کہ ان کے ایک ایک لفظ کو صحیح تسلیم کریں اور ان کے تمام الفاظ سے مطلب اخذ کریں۔ قانون کے الفاظ کی نسبت تو یہ امر تسلیم کر لیا گیا ہے کہ کوئی لفظ قانون کا بیکار اور بے موقع نہیں ہے۔ مگر آنحضرت ﷺ کے وضع کئے ہوئے قانون کی یہ وقعت ہو گئی کہ اس کے دو ایک لفظ کام کے سمجھے جائیں اور باقی الفاظ کو نظر انداز کر دیا جائے۔ جبکہ قانونی دفعات کا منشاء الفاظ کے متروک کر دینے سے صحیح طور پر ادا نہیں ہو سکتا۔ تو حدیث شریف کے الفاظ متروک ہو جائیں گے یا عمداً متروک کر دیئے جائیں گے تو حدیث کا صحیح منشاء کسی کی زبان سے کیونکر صحیح طور پر ادا ہو سکتا ہے۔
اگر کوئی شخص خوب شراب پی لے اور کسی کو مار ڈالے اور جب عدالت میں حاضر کیا جائے تو یہ کہے کہ مجموعہ تعزیرات سرکار عالی کی دفعہ ٣٧ میں یہ لکھا ہوا ہے کہ ”کوئی فعل جرم نہ ہوگا جس کو کوئی ایسا شخص کرے جو اس کے کرتے وقت نشہ میں ہونے کے باعث اس فعل کی ماہیت یا یہ جاننے کے قابل نہ ہو کہ وہ فعل بے جا یا خلاف قانون ہے اور میرے لائق دوست ملزم کے خلاف مستغیث کے وکیل ہوں تو کیا ملزم کی اس حجت کو قبول کر لیں گے اور اس کو بے جرم سمجھ لیں گے؟
نہیں سمجھیں گے بلکہ اس کی تردید میں دفعہ ٣٧ کی باقی عبارت پڑھ کر عدالت کو سنائیں گے اور استدلال فرمائیں گے کہ ملزم نے پوری عبارت عدالت کو نہیں سنائی بلکہ دفعہ مذکورہ میں یہ عبارت بھی ہے ”بشرطیکہ وہ شے جس سے اس کو نشہ ہوا اس کے بلا علم یا خلاف مرضی اس کو استعمال کرائی گئی ہو“ چونکہ ملزم نے یہ ثابت نہیں کیا کہ نشہ کی چیز اس کو بلا علم یا خلاف مرضی اس کے دی گئی، لہٰذا ملزم مجرم ہے اور سزا کا مستوجب ہے۔ جب قانون عبارت کا ایک جز ترک ہو جانے ٤٠
سے مطلب پورا حاصل نہیں ہو سکتا تو حدیث کا الصلیب پر زور دیں گے تو مرزا قادیانی تو کیا اور رسول بن جائے گا۔
چونکہ اس طرح تاویلات کرنے سے ہو جاتے ہیں۔ اس لئے خداوند کریم نے قرآ ہے۔ اس موقع پر میں صرف ایک آیت لکھوں گا بحبل اللہ جمیعاً ولا تفرقوا (آل عمران: ١٠٣) پھوٹ نہ ڈالو۔
دیکھو فرقے علیحدہ علیحدہ نہ کرنے آ زمین میں فساد پیدا ہوتا ہے اور اس قسم کے فسادی دئے گئے ہیں؟ اس کو میں آئندہ قرآن اور حدی کیا حضرت عیسیٰ علیہ السلام آسمان پر زن اور کیا مرزا قادیانی نبی اللہ اور مسیح محمد بلحاظ میرے عالم دوست کے جوابات
- ١....... کیا حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی وفات
ان کا نازل ہونا ناممکن ہے؟
- ٢....... کیا مرزا قادیانی عیسیٰ نہیں بلکہ مسیح مح
اللہ دی گئی ہے اور اس لئے مرزا قادیانی نبی ہیں؟
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی ایسی وفات دوست نے نہیں دیا ہے کہ جس کے بعد ان کا آ جائے۔
لیکن قرآن شریف سے ثابت ہوت نہیں ہوئی جیسا کہ قادیانی حضرات بیان کرت آل عمران میں ارشاد ہے: ”اذ قال اللہ یع عمران: ٥٥)“
سے مطلب پورا حاصل نہیں ہوسکتا تو حدیث کی اصلی عبارت کو ترک فرما کر صرف یکسر الصلیب پر زور دیں گے تو مرزا قادیانی تو کیا معنی دنیا میں اس طرح مطلب نکال کر جو چاہے نبی اور رسول بن جائے گا۔
چونکہ اس طرح تاویلات کرنے سے دین میں تفرقہ پڑتا ہے اور اسلام میں فرقے علیحدہ ہو جاتے ہیں۔ اس لئے خداوند کریم نے قرآن میں متعدد مقامات پر تفرقہ ڈالنے سے منع فرمایا ہے۔ اس موقع پر میں صرف ایک آیت لکھوں گا اور باقی آئندہ لکھوں گا ”واعتصموا بحبل الله جميعاً ولا تفرقوا (آل عمران:١٠٣) ”اللہ کی رسی کو مضبوطی سے سب مل کر پکڑو اور پھوٹ نہ ڈالو۔“
دیکھو فرقے علیحدہ علیحدہ نہ کرنے کی کیسی سخت تاکید ہے۔ اس قسم کے تفرقوں سے زمین میں فساد پیدا ہوتا ہے اور اس قسم کے فساد پیدا کرنے والے کس قسم کی سزا کے مستوجب قرار دئے گئے ہیں؟ اس کو میں آئندہ قرآن اور حدیث سے ثابت کروں گا۔
کیا حضرت عیسیٰ علیہ السلام آسمان پر نہیں اٹھالئے گئے
اور کیا مرزا قادیانی نبی اللہ اور مسیح محمدی ہیں؟
بلحاظ میرے عالم دوست کے جوابات کے دو سوال پیدا ہوتے ہیں۔
- ١...... کیا حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی وفات ہوئی اور وہ آسمان پر نہیں اٹھالئے گئے اور اب
ان کا نازل ہونا ناممکن ہے؟
- ٢...... کیا مرزا قادیانی عیسیٰ نہیں بلکہ مسیح محمدی ہیں۔ جن کے بعثت کی خبر حدیث میں بلفظ نبی
اللہ دی گئی ہے اور اس لئے مرزا قادیانی نبی ہیں؟
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی ایسی وفات کا کوئی ثبوت قرآن یا حدیث سے میرے دوست نے نہیں دیا ہے کہ جس کے بعد ان کا آسمان پر جانا اور پھر دنیا میں نازل ہونا ناممکن سمجھا جائے۔
لیکن قرآن شریف سے ثابت ہوتا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی وفات اس طرح نہیں ہوئی جیسا کہ قادیانی حضرات بیان کرتے ہیں بلکہ وہ آسمان پر اٹھالئے گئے۔ چنانچہ سورۃ آل عمران میں ارشاد ہے: ”اذ قال الله يعيسى اني متوفيك ورافعك الى (آل عمران:٥٥)“
جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اے عیسیٰ! میں تجھے اپنی موت سے ماروں گا اور اپنے پاس تجھے اٹھا لوں گا۔ کب ماروں گا اس کی صراحت اس موقع پر نہیں فرمائی گئی۔ لیکن میں آگے چل کر ثابت کر دوں گا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام اس دنیا میں اپنی موت سے نہیں مرے بلکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو آسمان پر اٹھا لیا اور قیامت کے پہلے اللہ ان کو پھر نازل کرے گا اور دنیا میں رہنے کے بعد فوت ہوں گے اور گنبد مبارک رسول اکرم ﷺ میں مدفون ہوں گے۔
جیسا کہ اس حدیث سے واضح ہے قال رسول اللہ ﷺ ينزل عيسى ابن مريم الى الارض فيتزوج ويولد له ويمكث خمسا واربعين سنة ثم يموت فيدفن معى فى قبرى فاقوم انا وعيسى ابن مريم فى قبر واحد بين ابى بكر و عمر (مشكوة ص ٤٨٠) ” یعنی فرمایا رسول اللہ ﷺ نے کہ اتریں گے عیسیٰ مریم کے بیٹے زمین کی طرف، پس نکاح کریں گے اور پیدا کی جائے گی ان کے لئے اولاد اور زمین میں پینتالیس سال ٹھہریں گے، پھر مریں گے اور دفن کئے جائیں گے میرے نزدیک میرے مقبرہ کے اندر پس میں اور عیسیٰ بیٹا مریم کا ایک مقبرہ سے اٹھیں گے درمیان ابو بکرؓ اور عمرؓ کی قبروں کے۔
اس حدیث سے تین باتیں ثابت ہیں۔ اوّل یہ کہ عیسیٰ علیہ السلام آسمان سے زمین کی طرف اتریں گے (مرزا قادیانی کے اوپر یہ بات صادق نہیں آتی ) دوسرے ان کا نکاح ہوگا اور ٤٥ سال زمین میں رہنے کے بعد مریں گے۔ تیسری بات یہ ہے کہ وہ دفن کئے جائیں گے مقبرہ رسول اکرم ﷺ میں، بعد مرنے کے۔ اس حدیث سے صاف ثابت ہوتا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام آسمان سے زندہ اتریں گے اور اس دنیا میں اترنے کے بعد مریں گے اور پھر قیامت میں سب کے ساتھ اٹھیں گے۔ اگر خدا حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو اٹھا نہ لیتا جیسا کہ فرمایا گیا ہے ”رافعک الیٰ“ تو پھر نازل ہی نہ ہوتے۔
میں اپنے فاضل دوست کے اس سوال کے جواب میں جو انہوں نے میرے سوال نمبر ٣ کے جواب میں مجھ سے حیات حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا ثبوت طلب کیا ہے۔ میں ان دلائل کو جن کو میں لکھ چکا ہوں اور آگے بھی لکھوں گا، یہ حدیث بھی پیش کرتا ہوں اور بتلاتا ہوں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام میرے دوست کے خیال کے موافق اسی دنیا میں مر گئے ہوتے تو نہ وہ پھر نازل ہوتے اور نہ پھر مرتے اور نہ پھر دفن ہوتے اور آیت قرآنی ”ما جعلنا لبشر من قبلك الخلد (الانبياء:٣٤)“ حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے اس وقت جبکہ نازل ہونے کے بعد مریں گے، اچھی طرح متعلق ہو جاتی ہے۔
٤٢
٩٣
پس بلحاظ آیت مذکور کے جو اعتراض ہے اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے دو ہزار برس اس قدر بیان کرنے کے بعد پھر میں اس بحث کو کے متعلق ہے۔ سورہ آل عمران میں جو ارشاد تھا ارشاد فرمایا ہے ”وقولهم انا قتلنا المسيح وماصلبوه ولكن شبه لهم وان الذين علم الا اتباع الظن وما قتلوه يقينا بل اور کہنے لگے (یعنی یہودی) ہم رسول کہتا تھا) مار ڈالا، حالانکہ نہ ان کو مار ڈالا ( یہ جو لوگ اس میں اختلاف کر رہے تھے وہ خود شک تھے (اس کے بعد خدا تعالیٰ فرماتا ہے) ان یہود اس کو اپنے پاس اٹھا لیا۔ ﴾
اس کے سوا اور بھی آیات قرآنی ہیں عیسیٰ علیہ السلام کو یہودیوں نے نہ مار ڈالا نہ سو رفعه الله الیه اور پہلی آیت میں رافعک الیہ سے ظاہر ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے پاس اٹھا لیا نہیں لئے جاسکتے۔ میں نے اور لوگوں سے سنا ہے معنی لیتے ہیں۔ اگر یہ بات صحیح ہے تو میں کہتا ہوں جیسا کہ ابن عباسؓ سے منقول ہے یہ ہے کہ حض دینے کا ارادہ کر لیا تو حسب خواہش حضرت عیسیٰ عیسیٰ علیہ السلام کے صلیب پر چڑھنا قبول کر لیا قریب قریب حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے ہو گئی۔ اسی حواری کو عیسیٰ علیہ السلام سمجھ کر یہ ان کو قبر میں سے زندہ اپنے پاس اٹھا لیا۔ آیت کے بہت اچھی طرح اس روایت کا ثبوت ملتا ہے جو اب جو بیان کیا گیا ہے۔ یہ واقعہ بحث طلب رہتا ہے
٣
پس بلحاظ آیت مذکور کے جو اعتراض میرے فاضل دوست نے کیا تھا، وہ رفع ہو جاتا ہے اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے دو ہزار برس پہلے مرنے کی اس حدیث سے تردید ہوتی ہے۔ اس قدر بیان کرنے کے بعد پھر میں اس بحث کی طرف توجہ دلاتا ہوں جو متوفیک اور رافعک الیٰ کے متعلق ہے۔ سورہ آل عمران میں جو ارشاد تھا اس سے زیادہ صاف اللہ تعالیٰ نے سورہ النساء میں ارشاد فرمایا ہے ”وقولہم انا قتلنا المسیح عیسیٰ ابن مریم رسول اللہ وما قتلوہ وما صلبوہ ولکن شبہ لہم وان الذین اختلفوا فیہ لفی شک منہ مالہم بہ من علم الا اتباع الظن وما قتلوہ یقینا بل رفعہ اللہ الیہ (النساء: ١٥٧، ١٥٨)“ ﴿اور کہنے لگے (یعنی یہودی) ہم نے عیسیٰ ابن مریم کو جو خدا کا رسول تھا (اپنے کو رسول کہتا تھا) مار ڈالا، حالانکہ نہ ان کو مار ڈالا (یہودیوں نے) نہ سولی دی لیکن ان کو شبہ پڑ گیا اور جو لوگ اس میں اختلاف کر رہے تھے وہ خود شک میں تھے ان کو کوئی یقین نہ تھا مگر گمان سے کہتے تھے (اس کے بعد خدا تعالیٰ فرماتا ہے) ان یہودیوں نے عیسیٰ علیہ السلام کو قتل نہیں کیا بلکہ اللہ نے اس کو اپنے پاس اٹھا لیا۔﴾
اس کے سوا اور بھی آیات قرآنی ہیں جن سے روز روشن سے زیادہ ظاہر ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو یہودیوں نے نہ مار ڈالا نہ سولی دی بلکہ خود اللہ نے ان کو اپنے پاس اٹھا لیا۔ رفعہ اللہ الیہ اور پہلی آیت میں رافعک الیٰ خاص توجہ کے قابل ہیں لفظ ”الیٰ“ اور ”الیہ“ سے ظاہر ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے پاس اٹھا لیا ان دونوں الفاظ کی وجہ سے رفع کے معنی اور کوئی نہیں لئے جا سکتے۔ میں نے اور لوگوں سے سنا ہے کہ قادیانی حضرات رفع سے مرتبہ بلند کرنے کے معنی لیتے ہیں۔ اگر یہ بات صحیح ہے تو میں کہتا ہوں کہ یہ خیال ان کا درست نہیں ہے۔ ایک واقعہ جیسا کہ ابن عباسؓ سے منقول ہے یہ ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو یہودیوں نے جب سولی دینے کا ارادہ کر لیا تو حسب خواہش حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے ایک حواری نے بجائے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے صلیب پر چڑھنا قبول کر لیا جس کا نام شمعون یا یہودا تھا اور اس کی صورت قریب قریب حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے ہو گئی۔
اسی حواری کو عیسیٰ علیہ السلام سمجھ کر یہودیوں نے صلیب پر چڑھا دیا اور اللہ تعالیٰ نے ان کو قبر میں سے زندہ اپنے پاس اٹھا لیا۔ آیت کے الفاظ ”شبہ لہم“ اور ”لفی شک منہ“ سے بہت اچھی طرح اس روایت کا ثبوت ملتا ہے جو ابن عباسؓ سے منقول ہے۔ البتہ قبر میں سے اٹھا لینا جو بیان کیا گیا ہے۔ یہ واقعہ بحث طلب رہتا ہے۔ اس کے متعلق صرف اس قدر لکھنا کافی ہے کہ
٤٣
جب صلیب سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام اتارے گئے تو ان کی لاش کو جیسا کہ بعض انجیلوں میں لکھا ہے، یوسف نے قبر میں رکھ کر اوپر ایک پتھر رکھ دیا۔ صبح کو دوسرے روز اس شبہ کی وجہ سے کہ مرے یا نہیں ( کیونکہ صلیب پر صرف چند گھنٹے رہے تھے ) یہودیوں نے دیکھا تو لاش غائب تھی۔ یہ یوسف کون تھے۔ اس موقع پر اس کی بحث غیر ضروری ہے۔ ملاحظہ ہو
(انجیل یوحنا باب ١٩ درس ٣٨ و انجیل لوقا باب ٢٣ درس ٥٠، ٥١)
شاید اسی وجہ سے ابن عباسؓ نے لفظ توفی بیان کیا ہے۔ قرآن کریم کے الفاظ ”وَمَا قَتَلُوْهُ“ سے اگر کوئی شخص دوسرا مطلب نکالے تو اس کے سوا اور کچھ نہیں نکلتا کہ اللہ تعالیٰ کو یہ ظاہر کرنا منظور تھا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام بذریعہ قتل کرنے کے نہیں مارے گئے۔ اسی طرح ”وَمَا صَلَبُوْهُ“ ہے کہ صلیب پر چڑھا کر نہیں مار ڈالے گئے۔ اس سے صلیب پر چڑھانے کی نفی نہیں ہوتی بلکہ صلیب پر چڑھا کر مار ڈالے جانے کی نفی ہوتی ہے۔ مگر ”وَلٰكِنْ شُبِّهَ لَهُمْ“ سے میرے بیان کی تائید ہوتی ہے۔ جس کو میں آگے بیان کروں گا کہ یہودیوں کا یہ خیال تھا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام صلیب پر چڑھا کر مار ڈالے گئے تو اللہ تعالیٰ نے یہ ارشاد فرمایا کہ یہودیوں کا خیال غلط ہے۔ صلیب پر چڑھائے جانے سے یہودیوں کو مر جانے کا شبہ ہوا لیکن وہ صلیب پر چڑھا کر مار نہیں ڈالے گئے۔
”بَلْ رَّفَعَهُ اللّٰهُ اِلَيْهِ“ بلکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو اٹھا لیا۔ اس موقع پر مرتبہ بلند کرنے کے معنی لے کر سیاق عبارت کے خلاف تاویلات کرنا نہ معلوم کیوں کر پسند کیا گیا۔ انجیلوں کے دیکھنے سے اور علماء کے اقوال سے معلوم ہوتا ہے کہ جب حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر یہودیوں نے کفر اور الحاد کا الزام لگایا کہ وہ شریعت موسوی کے خلاف ہو گئے ہیں۔ اس لئے ان کے قتل کے درپے تھے تو ایک اور الزام بغاوت باسرکار کا عائد کر کے صلیب کی سزا تجویز کی اور صلیب پر چڑھایا۔ انجیل یوحنا کے دیکھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ بعد صلیب چڑھانے کے صرف ہتھیلیوں میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے کیل ٹھونکے گئے لیکن لوقا کی انجیل سے معلوم ہوتا ہے کہ پیروں میں بھی کیل ٹھوکے گئے۔
چونکہ اس روز یہودیوں کی عید فصح تھی اور ضرور تھا کہ مصلوب کی لاش مغرب سے قبل دفن کر دی جائے۔ اس لئے صلیب سے اس روز لاش علیحدہ کر کے حواریوں کے حوالہ کر دی گئی۔ چونکہ صلیب پر اس قدر جلد انسان کا مرنا مشکل ہے۔ ممکن ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر غشی طاری ہو گئی ہو اور ان کو مردہ سمجھ کر یہودیوں نے جلد صلیب سے اتار دیا ہو۔ (انجیل متی باب ٢٧،
٤٩٤
انجیل یوحنا باب ١٩) اور (انجیل لوقا باب ١٥) سے ظاہر ہوتا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے اپنے ہتھیلیوں کے زخم اپنے حواریوں کو دکھلائے۔ کسی انجیل سے یا کسی کتاب سے یہ بات ظاہر نہیں ہوتی کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام دفن کئے گئے یا ان کی کوئی قبر ہے۔
البتہ عیسائی اعتقاد یہ ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام آسمان پر چلے گئے اور مسلمان بھی یہی عقیدہ رکھتے ہیں کہ ”رفعہ اللہ الیہ“ اللہ تعالیٰ نے اپنے پاس اٹھا لیا۔ اس امر کی تائید میں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام مرے نہ تھے، انجیل سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ جب حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی لاش حواریوں کے حوالہ کرنے کی حاکم سے استدعا کی گئی تو خود حاکم کو بڑا تعجب ہوا کہ صلیب پر اس قدر جلد کیسے مرگئے۔ کیونکہ صلیب پر انسان چار پانچ، چھ دن تک بھی نہیں مرا کرتے ہیں۔ کیا عجب ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر ہتھیلیوں میں سوراخ ہونے سے صرف غشی طاری ہو گئی ہو اور لوگوں نے مردہ سمجھ لیا ہو اور دفن کرنے کے لئے حوالہ کر دیا ہو۔
یہ امر کہ صلیب پر چڑھائے جانے کے بعد اکثر لوگ زندہ پائے گئے، متعدد تاریخی واقعات سے ثابت ہے۔ چنانچہ یوسی بس مورخ اپنی سوانح عمری میں لکھتا ہے کہ یسطوس نے بادشاہ سے سفارش کر کے تین آدمیوں کو صلیب سے اتروالیا اور ان میں سے ایک شخص زندہ رہا۔ ایک اور رومی مورخ ہیروڈوٹس نے لکھا ہے کہ دارا کے حکم سے ایک شخص مسمی سند و کیس صلیب پر چڑھایا گیا اور کئی دن کے بعد اتارا گیا۔ وہ زندہ تھا۔ ملاحظہ ہو تفسیر انجیل متی مرتبہ ڈاکٹر کلارک۔
جبکہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام صرف پانچ، چار گھنٹہ ہی صلیب پر رہے اور بوجہ عید فسح کے جلد اتار لئے گئے تو ان کا زندہ رہنا کچھ تعجب نہیں۔ ابھی حال کے زمانے میں ایک ایسا ہی واقعہ پیش آیا۔ وہ یہ کہ شہر ہال واقع جرمن میں ایک ایسی لاش ڈاکٹر جو کر کے حوالہ کی گئی تھی جو صلیب سے اتاری گئی تھی۔ یہ لاش ایک افسر فوج کی تھی۔ جو بموجب قانون فوج بعلت خلاف ورزی قانون فوج (کہ وہ جنگ کے وقت فرار ہو گیا تھا) صلیب پر چڑھایا گیا تھا اور اس کی لاش ڈاکٹر جو کر کے حوالہ اس غرض سے کی گئی تھی کہ وہ اپنے شاگردوں کی تعلیم کے وقت اس لاش کو چیر پھاڑ کر عملی تجربہ کر کے بتلائے۔
ڈاکٹر مذکور کہتا ہے کہ رات کے ایک بجے جب اس کمرہ میں کچھ آواز آئی جس میں وہ لاش رکھی گئی تھی، تو میں چراغ لے کر اس کمرہ میں گیا تو کیا دیکھتا ہوں کہ اس کی آنکھیں کھلی ہوئی ہیں اور وہ بیٹھا مجھے تاک رہا ہے۔ میں ایسا گھبرایا کہ قریب تھا کہ میرا دم نکل جائے کہ اتنے میں آہستہ آواز آئی کہ اے نیک جلاد، میرے حال پر مہربانی کر تو میں اس وقت سمجھا کہ یہ شخص صلیب
٤٥
پر مرانہیں۔ پھر میں نے اس کا علاج کیا تو وہ زندہ پایا گیا۔ ان تاریخی واقعات سے ثابت ہے کہ لوگ صلیب پر چڑھائے جانے کے بعد کئی کئی دن بھی زندہ پائے گئے تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا زندہ رہنا کچھ تعجب کی بات نہیں۔ میں کہتا ہوں کہ جبکہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا اللہ کی قدرت سے بن باپ کے پیدا ہونا مرزا قادیانی مانتے ہیں (کیونکہ وہ کہتے ہیں کہ قرآن اللہ کا کلام ہے اور اس پر میرا ایمان ہے) اور قرآن میں یہ آیت ہے ”ان مثل عيسى عندالله كمثل آدم خلقه من تراب ثم قال له كن فيكون (آل عمران:٥٩)“ تو پھر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے آسمان پر زندہ اٹھالئے جانے کے واقعہ کو کیوں تسلیم نہیں فرماتے۔ جس خدا کو یہ قدرت ہے کہ بن باپ کے پیدا کرے اور اس کے اس ارشاد پر کہ کن فیکون یعنی ہو جا پس ہو جاتا ہے۔ اس خدا کو کیا یہ قدرت نہیں ہے کہ صلیب پر چڑھائے جانے کے بعد اپنے نبی کو زندہ رکھے اور لوگوں کو یہ شبہ ہو سکے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام مر گئے اور ان پر غشی طاری کر کے پھر آسمان پر اٹھا لے اور کیا اللہ کو یہ قدرت نہیں ہے جیسا کہ تفسیر کبیر میں لکھا ہے کہ خدا نے طبعی موت اس وجہ سے طاری کی تھی کہ یہودی ان کو مردہ سمجھیں۔ میرے خیال میں اللہ کو یہ قدرت حاصل تھی کہ موت طبعی طاری کرنے کے بعد پھر زندہ کر کے آسمان پر اٹھا لے۔ اس صورت میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی زبان سے جو الفاظ نکلے اور جن کا ذکر قرآن مجید میں ہے ”توفیتنی“ اور موت بالکل صحیح ثابت ہو جاتے ہیں اور ان الفاظ میں بھی شک کی گنجائش نہیں رہتی۔ (تفسیر کبیر ج٢ ص ٧٨١) میں لکھا ہے کہ ”متوفيك اى مميتك وهو مروى عن ابن عباس و محمد ابن اسحاق قالوا والمقصود ان لا يصل أعداؤه من اليهود الى قتله ثم انه بعد ذلك اكرمه بان رفعه الى السماء ثم اختلفوا على ثلاثة اوجه احدها قال وهب توفى ثلاث ساعات ثم رفع و ثانيها قال محمد بن اسحاق توفى سبع ساعات ثم احياه الله ورفعه الثالث قال الربيع بن انس انه تعالى توفاه حين رفعه الى السماء قال تعالى الله يتوفى الانفس حين موتها والتى لم تمت فى منامها“ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر موت طاری کرنے سے خدا کو یہ مقصود تھا کہ ان کے دشمن ان کو قتل نہ کر سکیں اور ایسا کر کے اللہ تعالیٰ نے آسمان پر اٹھا لینے کے ذریعہ سے ان کو افتخار بخشا اور ”وھب“ کے قول کے بموجب صرف تین گھنٹے یہ موت حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر طاری رہی اور اس کے بعد اٹھا گھنٹے تک موت حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر ط بن انس کا قول یہ ہے کہ آسمان پر اٹھائے سے کوئی بات ہو، اللہ تعالیٰ کی قدرت سے کیا۔ اس نبی کو اس کے دشمنوں پر ظاہر کر طاری کرنے کے بعد اپنے پاس اٹھا لیا ہو،
معلوم ہوتا ہے کہ اگر وہ ان و ہے۔ اس لئے انہوں نے ان واقعات میں رہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام اسی دنیا میں ملاحظہ ہو آیت شریف ”والتي احصنت ابنها آية للعالمين (الانبیاء:٩١)“ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا بن باپ کے قادیانی کا مان لینا اور دیگر آیات قرآنی کو علماء سے اختلاف کرنا کیسے درست تسلیم کیا
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بن خدا نے قرآن کریم میں ارشاد فرمایا ہے کہ سے کیوں انکار کرتے ہیں کہ حضرت عیسیٰ علی سے بعض لوگ یہ مراد لیتے ہیں کہ روح ح اعتراض ہوتا ہے کہ جب روح حضرت عیسیٰ عباس کی روایت کے موافق یہ ہو سکتا ہے سے بھی اس کا پتہ چلتا ہے کہ میں پہلے لکھ چ اور مسیح کو جو دیکھا تو لاش نہیں تھی۔
ان روایات سے بھی حضرت عی ہے۔ متی انجیل باب ٢٠ درس ١٨، ١٩ میں حض قبر سے زندہ اٹھنا اور چالیس دن تک زندہ ر رو برو ابر پر سوار ہو کر آسمان پر عروج فرمائے ٤٦
علیہ السلام پر طاری رہی اور اس کے بعد اٹھا لئے گئے اور محمد ابن اسحاق کے قول کے بموجب سات گھنٹے تک موت حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر طاری رہی اور اس کے بعد آسمان پر اٹھالئے گئے اور ربیع بن انسؒ کا قول یہ ہے کہ آسمان پر اٹھائے جانے کے وقت اللہ نے موت دی۔ بہر حال ان میں سے کوئی بات ہو، اللہ تعالیٰ کی قدرت سے کچھ بعید نہیں ہے کہ جس نبی کو اس نے بغیر باپ کے پیدا کیا۔ اس نبی کو اس کے دشمنوں پر ظاہر کرنے کے لئے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام مر گئے، موت طبعی طاری کرنے کے بعد اپنے پاس اٹھالیا ہو، مرزا قادیانی کو کیوں اس میں شبہ ہے؟
معلوم ہوتا ہے کہ اگر وہ ان واقعات کو تسلیم کر لیں تو ان کے دعویٰ نبوت پر اثر پڑتا ہے۔ اس لئے انہوں نے ان واقعات میں سے کسی کو تسلیم نہیں فرمایا اور بس اس بات پر اڑے رہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام اسی دنیا میں اپنی موت سے مرے اور آسمان پر اٹھائے نہیں گئے۔
ملاحظہ ہو آیت شریف ”والتی احصنت فرجها فنفخنا فيها من روحنا وجعلناها و ابنها اية للعالمين (الانبیا: ٩١)“ اس آیت سے حضرت مریم علیہا السلام کی پاک دامنی اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا بن باپ کے پیدا ہونا ثابت ہے۔ قرآن کریم کی ان آیات کو مرزا قادیانی کا مان لینا اور دیگر آیات قرآنی کو جو ان کے مقصود کے خلاف ہیں، تاویلات کر کے تمام علماء سے اختلاف کرنا کیسے درست تسلیم کیا جاسکتا ہے۔
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بن باپ کے پیدا ہونے کے متعلق اور متعدد مقامات میں خدا نے قرآن کریم میں ارشاد فرمایا ہے کہ جس سے مرزا قادیانی کو انکار نہیں ہے۔ پھر اس واقعہ سے کیوں انکار کرتے ہیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام آسمان پر اٹھالئے گئے۔ ”رفعه الله اليه “ سے بعض لوگ یہ مراد لیتے ہیں کہ روح حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی اللہ نے اٹھالی۔ تو اس پر یہ اعتراض ہوتا ہے کہ جب روح حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی اٹھالی گئی تو جسم کیا ہوا؟ اس کا جواب ابن عباسؓ کی روایت کے موافق یہ ہو سکتا ہے کہ قبر میں سے اللہ تعالیٰ نے زندہ اٹھالیا اور بعض انجیل سے بھی اس کا پتہ چلتا ہے کہ میں پہلے لکھ چکا ہوں یوسف نے لاش کو قبر میں رکھ کر اوپر پتھر رکھ دیا تھا اور صبح کو جو دیکھا تو لاش نہیں تھی۔
ان روایات سے بھی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی لاش کا آسمان پر اٹھالینا ثابت ہوتا ہے۔ متی انجیل باب ٢٠ درس ١٨، ١٩ میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا صلیب پر مرنے کے تین دن بعد قبر سے زندہ اٹھنا اور چالیس دن تک زندہ رہ کر اپنے شاگردوں اور حواریوں کو تعلیم دے کر ان کے روبرو ابر پر سوار ہو کر آسمان پر عروج فرمانا صاف لکھا ہوا ہے۔ مگر مرزا قادیانی قرآن شریف کی
٤٧
آیات اور علماء کے اقوال اور روایات کے خلاف اور عیسائی انجیل کے خلاف یہ کہتے ہیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام آسمان پر نہیں اٹھائے گئے تو کیا مرزا قادیانی کا قول اس بارہ میں سند ہو سکتا ہے؟ ہرگز نہیں۔ ”عين الشمس لم تغطی“
تیرہ سو سال سے علماء اہل سنت والجماعت اور آئمہ سب کے سب بلا اختلاف اسی طرح مانتے چلے آئے ہیں اور خود سیاق عبارت کلام اللہ کی اس قدر صاف ہے کہ اس میں دلیل کی تو کوئی گنجائش ہی نہیں ہے تو پھر ایک ایسے شخص کو جو ملک ہند میں پیدا ہو، کیا حق ہے کہ اہل زبان نے جو مطلب عبارت قرآن سے لیا اس سے اختلاف کرے۔ عرب و عجم مصر و افریقہ کے تمام علماء اس میں متفق ہیں اور وہ عربی زبان کے استاد اور حاکم تھے۔ ہزار ہا علماء اور آئمہ کے متفق علیہ معنی کے خلاف رفع کے معنی دوسرے کرنا یا الیٰ کے لفظ کو نظر انداز کرنا یا کوئی دوسرے مطالب کھینچ تان کر نکالنا کسی طرح مستحسن معلوم نہیں ہوتا۔
خصوصاً جبکہ مسلمانوں میں اس اختلاف کی وجہ سے تفرقہ پڑتا ہو۔ اللہ تعالیٰ نے اس قسم کے تفرقہ ڈالنے کی بہت صاف الفاظ میں ممانعت فرمائی ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ”ولا تکونوا کالذین تفرقوا واختلفوا من بعد ماجاء هم البینت واولئك لهم عذاب عظیم یوم تبیض وجوه وتسود وجوہ (آل عمران: ١٠٥)“ ”اور مت ہو جاؤ ان کی طرح جو علیحدہ ہو گئے (تفرقہ ڈالا) اور اختلاف کرنے لگے بعد اس کے کہ پہنچ چکے ان کے پاس صاف حکم اور اُن کے واسطے بڑا عذاب ہے جس دن سفید ہوں گے بعضے منہ اور سیاہ ہوں گے بعضے منہ۔﴾
اور سورہ انعام میں اللہ تعالیٰ نے ”ان الذین فرقوا دينهم وكانوا شيعا لست منهم فی شی (الانعام: ١٥٩)“ ﴿یعنی جنہوں نے تفرقہ ڈالا دین میں اور ہو گئے کئی فرقہ تجھ کو ان سے کام نہیں۔﴾
ان آیتوں کو ملاحظہ فرمائیں۔ کیا اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں سے خوش ہو گا جنہوں نے دین میں تفرقہ ڈالا اور اپنا فرقہ علیحدہ کر لیا اور علیحدہ بھی ہوئے اور فرقہ علیحدہ بنا تو اس طرح سے کہ حدیث پوری نہیں لی یا آدھی حدیث سے یا حدیث کے آٹھویں حصہ سے من مانے مطلب لے کر تمام دنیا کے مانے ہوئے سچے مسائل کے خلاف لاکھوں دماغوں پر اپنے ایک دماغ کو ترجیح دی۔ حالانکہ ایک دماغ سو دماغوں کا مقابلہ نہیں کر سکتا۔ اسی لئے خدا تعالیٰ نے ہر کام میں مشورہ کر کے عمل کرنے کا حکم دیا ہے ”وامرهم شوریٰ بينهم“
ان کا کام آپس کی صلاح اور مشورہ سے چلتا ہے اور خود رسول اکرم ﷺ کو اللہ نے یہ حکم
٤٨
دیا ”وشاورهم فی الامر“ اور خود رسول اکرم ﷺ مشورہ کیا کرتے تھے تو مرزا قادیانی نے کیوں ایسی ضد کی اور مشورہ پر عمل نہیں کیا۔ جب تک خلافت راشدہ رہی اکثر امور مشورہ سے ہوا کرتے تھے۔ مجلس شوریٰ ٹوٹی اور مسلمانوں میں خرابی پڑی۔ ”فاعتبروا یااولی الابصار“ ممالک متمدنہ میں آج جمہور کی رائے پر جو سلطنتوں کا انتظام ہو رہا ہے۔ وہ اسی اصول پر ہے کہ جو کام مشورے سے ہو وہ اچھا سمجھا جاتا ہے۔ دنیا کے تمام علماء نے قرآن اور حدیث کے جو معنی تیرہ سو سال سے لئے اور لاکھوں علماء کے مشورہ سے وہ مطلب صحیح سمجھا گیا اس کو مرزا قادیانی کا یا ان کے مریدوں کا دماغ کیسے رد کر سکتا ہے۔ غلبہ آراء پر عمل نہ کر کے اپنی عقل پر کیوں اتنا بھروسہ کیا جا رہا ہے اور شرک بالنبوۃ کی ایک نئی شکل پیدا کی جا رہی ہے۔
اس موقع پر شرک بالنبوۃ سے متعلق ایک آیت قرآن کی لکھوں گا اور باقی مضمون شرک بالنبوۃ کے متعلق آئندہ عرض کروں گا۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ”ام لہم شركاء شرعوا لہم من الدين مالم ياذن بہ الله ولولا كلمة الفصل لقضى بینہم وان الظٰلمین لہم عذاب الیم (الشوریٰ:٢١)“ ”کیا ان کے شریک ہیں جنہوں نے شریعت کی راہ ڈالی ان لوگوں کے لئے دین کی جس کا (جس شرک نبوت کا) اللہ نے حکم نہیں دیا اور اگر یہ بات منصفانہ ہوتی تو فیصلہ کیا جاتا ان لوگوں میں اور بیشک ناانصافوں کے لئے عذاب دردناک ہے۔﴾
اس آیت کو ملاحظہ فرمائیے۔ خدا نے خود تصفیہ کر دیا ہے اور اعتراضاً بندوں سے خدا سوال کرتا ہے کہ جنہوں نے تمہارے لئے شریعت کی راہ ڈالی۔ کیا ان کے کوئی شریک ہیں؟ اس قسم کے شرک کا تو میں نے تم کو حکم نہیں دیا اور اس بات کا تو فیصلہ ہو چکا ہے کہ شریک بالنبوۃ نہیں ہے۔ اگر یہ امر فیصل شدہ نہ ہوتا تو ہم تصفیہ کرتے۔ اگر اس امر مفصلہ کے خلاف کرو گے تو ہم دردناک عذاب دیں گے اور پھر سورہ شوریٰ میں ارشاد ہوتا ہے۔
” شرع لكم من الدين...... ولا تتفرقوا فیہ (شوریٰ:١٣)“ ﴿شریعت دی یعنی تمہارے لئے دین ٹھہرا سو اس میں تفرقہ نہ ڈالو۔﴾ آگے چل کر پھر ارشاد ہوا ہے ”وما تفرقوا الا من بعد ماجاءہم العلم بغیا بینہم (شوریٰ:١٤)“ ﴿بعد علم ہو جانے کے ضد سے جو اختلاف کرنے لگے۔﴾ اس سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ ان لوگوں کے لئے ضد سے علم ہو جانے کے بعد اختلاف کریں گے اور تفرقہ دین میں ڈالیں گے اور دردناک عذاب میں مبتلا ہوں گے۔
خدا کو تو یہ بات معلوم تھی کہ امت محمدی میں ایسے فرقہ ہوں گے جبھی تو قرآن شریف
٤٩
میں پیشین گوئی کی گئی تھی۔ جیسا کہ آیات بالا سے ظاہر ہے۔ چنانچہ وہ پیش گوئی پوری ہوئی۔ اللہ تو بار بار فرما چکا تھا لیکن جو ہونا تھا وہ ہو کر رہا۔ ہر ایک فرقہ نے ایک نئی بات نئی بدعت نکالی۔ کوئی خارجی کوئی ناصبی کوئی جبری کوئی قدری تو کسی نے ان کا کیا کر لیا؟ سب مسلمان جبکہ ایک امر میں متفق ہیں تو ان میں اختلاف ڈلوانا اور تفرقہ پیدا کرنے والی تحریک کرنا کیونکر اچھا سمجھا جائے گا۔ حدیث ہے ”من فرق بین امتی وهم جمع فاقتلوه من کان“ فرمایا سرور عالم ﷺ نے جبکہ میری امت میں اتفاق ہو اور اس میں کوئی شخص تفرقہ ڈالے تو اس کو قتل کر دو خواہ وہ کوئی ہو۔
ظاہر ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے آسمان پر اٹھا لئے جانے کے متعلق کروڑہا امتیان حضرت سرور دو عالم ﷺ میں اتفاق ہے اور اس اتفاق میں تفرقہ پڑتا ہے۔ اس صورت میں یہ حدیث شریف متعلق ہے یا نہیں، غور کے قابل ہے۔ میرے خیال میں تو اللہ کا کلام بھی صاف ہے۔ قرآن کریم کی اس آیت شریف ”انما جزاء الذین یحاربون الله ورسوله ویسعون فی الارض فسادا ان یقتلوا او یصلبوا او تقطع ایدیهم وارجلهم من خلاف او ینفوا من الارض (المائدہ: ٣٣)“ کی رو سے بھی یہی معلوم ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ان لوگوں کی سزا جو اللہ اور اس کے رسول سے لڑیں یعنی جو اللہ اور رسول کے احکام سے لڑیں یا زمین میں فساد ڈالیں، قتل اور سولی کے قابل یا نفی بلد کے قابل ہیں۔
اللہ تعالیٰ کے صریح احکام اور رسول کریم ﷺ کے صاف ارشادات کے خلاف تاویلات کرنا اور کروڑہا اور اربوں مسلمانوں کے مسلم مسائل میں اختلاف پیدا کرنے کی کوشش کرنا درآنحالیکہ سب امت میں امن وامان قائم ہے ہرگز مستحسن نہیں سمجھا جاسکتا۔ کیا ایک قوم کے مغل صاحب کو رسول کریم ﷺ کی صاف حدیث کے خلاف کہ مہدی موعود اولاد فاطمہؓ سے ہوگا مہدی موعود تسلیم کر لینا، درآں حالیکہ ان کے نام اور ان کے باپ کے نام خلاف حدیث ہوں اور وقت کا خیال نہ کرنا کہ کیا زمین پر جور و ظلم بھر گیا ہے اور کیا مہدی موعود نے ان سب کو دور کر کے عدل سے بھر دیا اور آیات قرآنی کے صاف اور صریح الفاظ کے خلاف کھینچ تان کر خلاف علماء اور آئمہ کے مطالب اور معانی پہنانا ہے اور ایک ایسے واقعہ سے جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے آسمان پر اٹھائے جانے کے متعلق ہے اور جس کو نہ صرف کروڑہا مسلمان مان رہے ہیں، بلکہ تمام کروڑوں عیسائی بھی مثل مسلمانوں کے اعتقاد رکھتے ہیں، انکار کرنا اور قرآن کی آیتوں سے من مانے مطالب اخذ کر کے دنیا بھر کے براعظموں کے مسلمانوں اور عیسائیوں سے اختلاف کرنا اللہ رسول سے محاربہ کرنا نہیں تو اور کیا ہے؟
٥٠
اللہ تعالیٰ کے ارشاد کے خلاف اس طرح معنی پہنا کر نبی بنے اور اپنے آپ کو دنیا کے تمام لوگوں پر تفوق حاصل ہونے کی کوشش کرنا اور روئے زمین کے تمام مسلمانوں اور عیسائیوں کے متفق علیہ مسئلہ کے خلاف تقریریں کر کے ان کے دلوں کو مجروح کرنا اور ان میں اختلاف ڈلوانا زمین میں فساد ڈالنا نہیں تو کیا ہے۔ روئے زمین کے پردہ پر عرب و عجم مصر اور روم و شام افریقہ وغیرہ وغیرہ کے ٤٠ کروڑ مسلمانوں میں کوئی ان صفات کا جیسا کہ حدیث نبوی کی رو سے ہونا لازم ہے، خدا کو نہیں ملا تھا۔ جو خدا نے قادیانی مٹی سے مرزا غلام احمد صاحب مغل کو مہدی موعود اور مسیح موعود بنانے کے لئے منتخب کر کے اپنے حبیب پاک کے ارشاد کو جو امتیان محمدی کی ہدایت کیلئے تھے، معاذ اللہ جھوٹا کرنا چاہا۔ چونکہ میرے فاضل دوست بھی قانون دان ہیں اور میں بھی قانونی پیش کرتا ہوں۔ اس لئے اس موقع پر اصول قانون کا بھی ایک مسلمہ مسئلہ جس پر تمام مقنن روئے زمین کا اتفاق ہے۔ عرض کرنا مناسب سمجھتا ہوں، وہ حسب ذیل ہے۔
سب سے مقدم اور ابتدائی قاعدہ تعبیر الفاظ کا یہ ہے کہ اس امر کو مان لیا جائے کہ قانون کے الفاظ اور فقرے اصطلاحی معنوں میں استعمال کئے گئے ہیں۔ لیکن اگر ان کے معنی اصطلاحی مطلب خیز نہ ہوں تو سمجھنا چاہئے کہ وہ اپنے عام معنی میں استعمال ہوئے ہیں۔ اس صورت میں ان جملوں اور فقروں کی تعبیر قواعد زبان کے مطابق کرنا چاہئے۔ لیکن یہ کسی صورت میں درست نہیں ہے کہ ان سے ایسے معنی پیدا کئے جائیں جو از روئے زبان کے درست نہ ہوں اور جہاں دوسرے معنی بن سکتے ہوں۔ وہاں صاف و صریح معنوں کو چھوڑ کر اور معنی نہیں لینا چاہئیں۔
مقنن ڈئیل کہتا ہے کہ ایسے قانون کی تشریح کرنا محتاج تشریح نہیں، بالکل نامناسب ہے۔ خود اس کی زبان ہی بغیر کسی تشریح کے واضح قانون کے منشاء کو عمدہ طور سے ظاہر کرتی ہے اور وہی اس کا قطعی فیصلہ ہے۔ بلا تحاشہ واضعان قانون کا منشاء ہی سمجھنا چاہئے جو اس سے صاف صاف ظاہر ہو اور اس لئے اس میں تشریح کی مطلق گنجائش نہیں ہے۔ الفاظ کے جو معنی ہوں یا ہو سکتے ہوں۔ اس کے خلاف مطلب بیان کرنا قانون کی تشریح نہیں بلکہ قانون کا وضع کرنا ہے۔
الفاظ کی تشریح اور تعبیر کرنے کا جو طریقہ میرے فاضل دوست نے تحریر فرمایا ہے۔ وہ کسی طرح سے بھی درست معلوم نہیں ہوتا کہ غلام اور عبد میں مواطات ہے۔ مرتضیٰ اور اللہ میں مواطات ہے اور مرزا قادیانی کو مسیح موعود قرار دینے کے لئے لفظ عیسیٰ کے صاف و صریح معنوں سے جو قرآن کریم اور حدیثوں میں ابن مریم کے لئے گئے ہیں۔ اختلاف کر کے دنیا کے مسلمانوں کے مسلمہ مسئلہ سے مختلف ہو کر دوسرے معنی مفید مطلب پہنانا کیونکر درست ہو سکتا ہے۔ قادیانی
٥١
حضرات نے غلام احمد ولد غلام مرتضیٰ کو مواطات کے سانچے میں ڈھال کر محمد بن عبداللہ قرار دینے کی کوشش بے فائدہ فرمائی ہے۔ اگر جواب میں کوئی یہ کہے کہ جس طرح آپ مواطات قائم فرماتے ہیں ہم بھی اسی طرح مواطات قرار دیتے ہیں اور وہ یہ حجت پیش کریں کہ غلام اور علام میں توافق صورتی ہے اور علام باشہ اور چرغ کو کہتے ہیں۔
مپران باشه در روزی که طوفانی کند صرصر
زمیغ روان چرغ چو پر چرغ
پر آواز رامشگران مرغ مرغ
اس لئے مرزا قادیانی باشہ اور چرغ ہیں۔ تو کیا قادیانی حضرات اس مواطات کو مان لیں گے اور مرزا قادیانی کو اس قسم کی مواطات کی بناء پر ایک شکاری پرندہ باشہ اور چرغ سے تشبیہ دیں تو وہ قبول کرلیں گے؟ جب قادیانی حضرات اس قسم کی مواطات کو نہیں تسلیم فرماتے تو ان کی قائم کی ہوئی مواطات کو کیونکر تسلیم کرلیں گے۔ ترمذی کی اس حدیث کو ’والذی نفسی بیده لیوشکن ان ینزل فیکم ابن مریم حكماً مقسطاً فیکسر الصلیب ویقتل الخنزير ويضع الجزية ويفيض المال حتى لايقبله احد‘
(حدیث صحیح، ترمذی ج ٢ ص ٤٧)
ملاحظہ فرمائیے! اس حدیث میں لفظ ابن مریم صاف ہے۔ ابوہریرہؓ سے یہ حدیث بیان کی گئی ہے۔ قال رسول اللہ ﷺ : ”كيف انتم اذا نزل ابن مریم من السماء فيكم وامامكم منکم‘ ‘ اس حدیث میں لفظ ابن مریم من السماء ہیں۔ ان کے سوا اور بھی کئی حدیثیں ہیں جن میں لفظ ابن مریم من السماء صاف ہے تو مرزا قادیانی کا صرف یہ فرمانا: ’صحاح کی حدیثوں کو مانتا ہوں اور بخاری اصح الکتب ہے اور بعد کتاب اللہ کے وہی ہے اور وہ واجب العمل ہے ان پر میرا یقین ہے‘ کس طرح صحیح مانا جاسکتا ہے۔ حدیث اول الذکر میں ان امور کا بیان ہے جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام نازل ہوکر انجام دیں گے اور حدیث آخرالذکر میں الفاظ ابن مریم کے بعد امامکم منکم آئے ہیں اور اس لفظ سے صاف حضرت عیسیٰ علیہ السلام مراد ہیں۔
اس سے پہلے بھی مسلم کی حدیثیں لکھ چکا ہوں۔ اس میں لفظ ”امیرھم‘ ‘ ہے اور تفصیل سے میں بتلاچکا ہوں کہ امیر سے مہدی مراد ہیں۔ اسی طرح حدیث بخاری میں ”امامکم منکم‘ ‘
٥٢
سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام مراد ہیں۔ ان حدیثوں سے صاف وصریح مرزا قادیانی کے معتقدین کی محولہ حدیث ”لا مهدی الا عیسیٰ ابن مریم“ پر بخوبی روشنی پڑتی ہے اور اس ایک حدیث کے مقابلہ میں میں نے متعدد ایسی حدیثوں کا حوالہ دیا ہے جو سب کی سب صحاح ستہ کی ہیں۔ پس ان حدیثوں سے ثابت ہے کہ مہدی اور عیسیٰ علیہ السلام علیحدہ ہیں۔ سورہ نساء میں اللہ تعالیٰ نے صاف فرما دیا ہے: ”من يطع الرسول فقد اطاع الله (النساء: ٨٠)“ ﴿جس نے حکم مانا رسول اکرم ﷺ کا اس نے حکم مانا اللہ کا۔﴾ پس ظاہر ہوا کہ رسول اکرم ﷺ کے صاف احکام کو نہ ماننا اللہ تعالیٰ کے حکم سے روگردانی ہے۔ جبکہ حدیث میں صاف الفاظ میں ابن مریم لکھا ہوا ہے تو ان الفاظ کو نظر انداز کر کے صرف ایک جملہ ”لا مهدی الا عیسیٰ“ سے یہ استدلال کرنا کہ اس کا مدلول میں ہوں خدا کے حکم سے روگردانی اور نافرمانی کرنے کے مماثل ہے۔ جو شخص اللہ کے حکم کی نافرمانی کرے، اس کے لئے کیسے سخت احکام ہیں۔
حدیث ہے کہ ”من رغب عن سنتي فليس منى (مشکوٰة ص٢٧)“ ﴿جس نے میری نافرمانی کی وہ میری امت سے نہیں ہے۔﴾ مرزا قادیانی کو امتی ہونے کا دعویٰ ہے اور پھر آنحضرت ﷺ کی صاف حدیثوں سے نافرمانی اور روگردانی کی جاتی ہے۔
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے آسمان پر اٹھالئے جانے
اور پھر نازل ہونے کے متعلق میری رائے
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے آسمان پر اٹھالئے جانے اور پھر نازل ہونے کے متعلق علماء کی رائے تو میں لکھ چکا ہوں لیکن میں اپنی رائے بھی اس امر کے متعلق عرض کرنا چاہتا ہوں۔ اصلی واقعہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے آسمان پر اٹھائے جانے کا مسلمانوں اور عیسائیوں میں ایک متفق مسئلہ ہے۔ البتہ اختلاف ہے تو یہ ہے کہ عیسائی کہتے ہیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام صلیب پر چڑھائے گئے اور بغیر صلیب پر چڑھائے جانے اور اسی طرح فدیہ ہونے کے انسانوں کی نجات نہ ہوسکتی تھی۔ مسلمان یہ کہتے ہیں کہ بغیر صلیب پر چڑھانے کے خدا نے زندہ آسمان پر اٹھا لیا۔ جیسا کہ خود خدا نے قرآن مجید میں وہ الفاظ ارشاد فرمائے ہیں جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی زبان سے نکلے تھے۔ جو حسب ذیل ہیں۔
”والسلام على يوم ولدت ويوم اموت ويوم ابعث حيا (مریم: ٣٣)“ ﴿اور مجھ پر سلامتی ہے جس دن میں پیدا ہوا اور جس دن مروں گا اور جس دن پھر زندہ اٹھایا جاؤں
٥٣
گا۔ ”فلما توفيتنى كنت انت الرقيب عليهم وانت على كل شى شهيد (مائدہ:١١٧)“ ﴿پھر جب تو نے مجھے اٹھا لیا تو ان پر نگہبان تھا اور تو ہر چیز پر گواہ ہے ۔﴾
ابن عباسؓ اور محمد ابن اسحاقؒ نے بھی جیسا کہ تفسیر کبیر میں لکھا ہے ”متوفيك“ کے معنی ”مميتك“ اور اسی طرح ”توفيتنى“ یعنی جب تو نے مجھے موت دی لئے ہیں۔ لیکن اس موقع پر یہ عرض کرنا ضرور ہے کہ البتہ بعض علماء اسلام میں اس امر میں اختلاف رہا۔ اکثروں کا خیال یہ ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام زندہ آسمان پر اٹھا لئے گئے۔ بعض علماء کا قول ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام صلیب پر چڑھائے نہیں گئے۔ بلکہ اپنی موت سے مرے۔ بلحاظ آیت قرآنی میری رائے یہ ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نہ صلیب پر چڑھائے گئے نہ مارے گئے۔ بلکہ جیسا کہ خدا نے فرمایا ہے ”ما صلبوه“ ”وما قتلوه“ آسمان پر اٹھا لئے گئے۔
مجھے تعجب ہوتا ہے کہ مرزا قادیانی نے واقعہ موت کو تسلیم فرمالیا جس سے ان کے مقصود پر کوئی اثر نہیں پڑتا تھا۔ لیکن ”رفعه الله اليه“ سے اختلاف فرمایا۔ قرآن کریم میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے متعلق اس قسم کے الفاظ چار جگہ آئے ہیں۔ دو آیتیں اوپر مع ترجمہ لکھ دی گئی ہیں۔ ان میں سے پہلی آیت میں لفظ ”توفيتنى“ کا ترجمہ مجھے وفات دی کیا جائے تو بحث یہ پیدا ہو جاتی ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو خدا نے جب دنیا میں موت دے دی تو وہ پھر کیسے آسمان پر اٹھا لئے گئے؟
متعدد حدیثوں سے اور خود اللہ تعالیٰ کے ارشاد سے جو سورہ النساء میں صاف ثابت ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو اٹھا لیا۔ جو لوگ ”توفی“ کے معنی وفات کے لیتے ہیں۔ وہ چند ایسے ہیں جنہوں نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا مرنا تسلیم کیا ہے۔ لیکن ”توفی“ کے لغوی معنی دیکھنا چاہئے کہ لغت عرب میں تین معنی ہیں۔ (١) مرجانے کے، جیسے ”الله يتوفى الانفس حين موتها“ (٢) معنی سوجانے کے ہیں، جیسے ”وهوالذى يتوفكم بالليل“ (٣) اٹھا لینے اور پھیر لینے کے ہیں۔ جیسے ”فلما توفيتنى“ اور ”انى متوفيك“ سورہ مائدہ میں ”توفيتنى“ اور سورہ آل عمران میں ”متوفيك“ یہی دو لفظ بحث طلب رہتے ہیں۔
میرا خیال یہ ہے کہ جب سورہ النساء کی آیت کے الفاظ ”ما قتلوه وما صلبوه ولكن شبه لهم وان الذين اختلفوا فيه لفى شك منه (النساء:١٥٧، ١٥٨)“ کے ساتھ الفاظ ”توفيتنى“ اور ”متوفيك“ دیکھے جائیں تو ان علماء کی رائے صحیح معلوم ہوتی ہے جنہوں نے یہ فرمایا ہے کہ حضرت عیسیٰ معنی اٹھا لینے ہی کے کرنے پڑیں گے۔
نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ حضرت عیسیٰ بلکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو زندہ اٹھا لیا۔
”ما جعلنا لبشر من قبلك الخلد ہے۔ یہی منشاء ”كل نفس ذائقة الموت
جس آیت کا حوالہ میرے دوست نے دیا موت ہے ہی نہیں بلکہ نزول کے بعد قرآن متوفيك“ اس وقت صادق آئیں گے آیا ہے۔ یعنی میں ماروں گا۔ مگر کب ماروں گا میں نے حدیث سے اس سے پہلے ثابت ہوگا اور اس کے بعد وہ مریں گے۔ قرآن نسبت اللہ تعالیٰ نے صاف حکم دیا ہے ”فاما منه ابتغاء الفتنة وابتغاء تاويله
﴿جن لوگوں کے دل پھرے گمراہ کرنے کی نیت سے من مانی تاویل ”ما قتلوه وما صلبوه“ یعنی یہود نہیں مارا۔ ”بل رفعه الله اليه“ بلکہ تاویل کرنا کہ خود عیسیٰ کہلائیں کس قدر بے کے خود نتیجہ اخذ کر سکتے ہیں۔
مرزا قادیانی قرآن کو تو مانتے ہیں مگر عیسیٰ علیہ السلام کو بن باپ کے پیدا ہونے کے قائل نہیں۔ ان کا عقیدہ ہے کہ وہ بن باپ کے پیدا نہیں ہوئے بلکہ یوسف نجار کے نطفہ سے پیدا ہوئے۔ اور مریم کے ساتھ اس کی شادی ہو گئی تھی۔
٥٤
جنہوں نے یہ فرمایا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام زندہ اٹھا لئے گئے اور ان دونوں لفظوں کے لغوی معنی اٹھا لینے ہی کے کرنے پڑیں گے۔
نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نہ مارے گئے، نہ صلیب پر چڑھائے گئے۔ بلکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو زندہ اٹھا لیا۔ میرے فاضل دوست نے ایک آیت پر استدلال کیا ہے ”ما جعلنا لبشر من قبلک الخلد (الانبیاء: ٣٤)“ بیشک خلد تو کسی کے لئے دنیا میں نہیں ہے۔ یہی منشاء ”کل نفس ذائقۃ الموت“ کا ہے۔ دنیا میں کوئی نفس ابدالآباد نہیں رہ سکتا۔ لیکن جس آیت کا حوالہ میرے دوست نے دیا ہے اس سے یہ نتیجہ نہیں نکلتا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو موت ہے ہی نہیں بلکہ نزول کے بعد قیامت سے پہلے مریں گے اور یہ دونوں لفظ ”توفیتنی، متوفیک“ اس وقت صادق آئیں گے اور خدا کا ارشاد پورا ہوگا۔ سورہ مریم میں لفظ ”اموت“ آیا ہے۔ یعنی میں مروں گا۔ مگر کب مروں گا اس کی کوئی صراحت قرآن کریم میں نہیں ہے۔ لیکن میں نے حدیث سے اس سے پہلے ثابت کر دیا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا آسمان سے نزول ہوگا اور اس کے بعد وہ مریں گے۔ قرآن کی آیتوں کی جو لوگ من مانی تاویلات کرتے ہیں ان کی نسبت اللہ تعالیٰ نے صاف حکم دیا ہے ”فاما الذین فی قلوبہم زیغ فیتبعون ما تشابہ منہ ابتغاء الفتنۃ وابتغاء تاویلہ (آل عمران: ٧)“
﴿جن لوگوں کے دل پھرے ہوئے ہیں (یعنی کجی ہے) باطل کی طرف وہ لوگوں کو گمراہ کرنے کی نیت سے من مانی تاویلات کرتے ہیں۔﴾ جبکہ اللہ تعالیٰ نے صاف فرما دیا ہے ”ما قتلوہ وما صلبوہ“ یعنی یہودیوں نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو قتل نہیں کیا اور صلیب پر نہیں مارا۔ ”بل رفعہ اللہ الیہ“ بلکہ اللہ تعالیٰ نے اپنی طرف اٹھالیا۔ تو اس کے خلاف من مانی تاویل کرنا کہ خود عیسیٰ کہلائیں کس قدر افسوس کے قابل ہے۔ ناظرین سیاق عبارت سے آیتوں کے خود نتیجہ اخذ کر سکتے ہیں۔
مرزا قادیانی قرآن کو تو مانتے ہیں لیکن ان کا ماننا اختیاری معلوم ہوتا ہے۔ اس لئے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بن باپ کے پیدا ہونے سے انکار نہیں کرتے۔ لیکن اس امر سے انکار ہے کہ وہ دوبارہ دنیا میں نازل ہوں گے۔ تعجب ہے کہ خدا کی اس قدرت کو ماننا کہ حضرت آدم علیہ السلام کو اللہ نے بن ماں باپ کے پیدا کیا اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو (جن کی ماں بھی تھیں) بن باپ کے پیدا کیا اور خدا کی اس قدرت کو تسلیم نہ کرنا جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو آسمان پر اٹھالئے جانے اور دوبارہ زمین پر نازل کرنے کے متعلق حدیثوں میں بیان کی گئی ہے، نہایت تعجب کی بات
٥٥
ہے۔ حضرات قادیانیوں کو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا دوبارہ نازل ہونا اس وجہ سے ناممکن معلوم ہوتا ہے کہ وہ اسی دنیا میں مر گئے۔ پہلے تو یہ کہ اس دنیا میں ان کے مرنے کا خیال ہی غلط ہے۔ دوسرے یہ کہ اگر فرض کیا جائے کہ وہ اسی دنیا میں مر گئے تو اللہ کے پاس کیا مشکل ہے کہ پھر دوبارہ اس کو دنیا میں پیدا کرے۔
اگلے زمانہ میں بھی لوگ اس قسم کا خیال کرتے تھے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام بن باپ کے کس طرح پیدا ہو گئے؟ تو خدا نے قرآن پاک میں ان لوگوں کو اس آیت کے ذریعہ سے مخاطب کر کے فرمایا ”ان مثل عیسیٰ عند اللہ کمثل آدم خلقہ من تراب ثم قال لہ کن فیکون (آل عمران:٥٩) “ ”بیشک عیسیٰ کی مثال اللہ کے نزدیک ایسی ہے جیسے آدم کی اللہ نے آدم علیہ السلام کو مٹی سے بنایا پھر اس سے فرمایا آدم ہو جا وہ آدم بن گیا۔“
دیکھئے، خدا نے خود کیسی مثال دے کر بندوں کو سمجھایا ہے جس خدا کو یہ قدرت ہے کہ مٹی سے انسان ناطق بنائے۔ کیا اس کو یہ قدرت نہیں ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو مرنے کے بعد پھر دنیا میں لائے۔ یہ امر مرزا قادیانی نے بالکل اپنے اختیار میں کر لیا ہے کہ قرآن شریف کی جس آیت یا جزو آیت کو اپنے مصالح کے لحاظ سے جس طرح متعلق کرنا چاہا، متعلق کر دیا۔ اسی طرح حدیثوں کے جزو کو جس طرح چاہا، استعمال کیا۔ سورہ مریم میں جو الفاظ ”یوم اموت ویوم ابعث حیا (مریم:٣٣)“ خدا نے فرمائے ہیں تو غالباً یہ استدلال کیا جا سکتا ہے کہ جو لفظ زبان سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نکلے تھے، وہی الفاظ قرآن میں بیان ہوئے ہیں۔ یعنی جس دن پھر زندہ ہوں گا۔
پس حضرت عیسیٰ علیہ السلام اس دنیا میں مر گئے۔ یہ استدلال صحیح نہیں ہو سکتا۔ اس وجہ سے کہ میں نے وہ حدیث نقل کر دی ہے کہ جس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ بعد نازل ہونے کے حضرت عیسیٰ علیہ السلام اس دنیا میں زندگی بسر کریں گے اور اس کے بعد مریں گے اور اس وقت لفظ اموت صادق آئے گا اور الفاظ ”یوم ابعث حیا“ اس وقت صادق آئیں گے جب سب کے ساتھ قیامت کے دن اپنی قبر سے زندہ ہوں گے۔ اس کے مان لینے سے مرزا قادیانی کے ادعائے نبوت پر اثر پڑتا ہے۔ اگر وہ اس طرح مان لیں کہ اللہ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو اٹھا لیا تو پھر ان کا دنیا میں آنا ماننا پڑے گا۔ اسی لئے ”رفعہ اللہ الیہ“ سے دوسرا مطلب لیا گیا ہے۔ اس موقع پر بھی سیاق عبارت خود مقدم سے صاف پایا جاتا ہے کہ خدا نے اپنے پاس اٹھا لیا۔ منزلت بڑھانے کے معنی نہیں لئے جا سکتے۔
٥٦
کیا مرزا قادیانی مسیح اور ظلی نبی تھے؟
اب میں دوسرے نتیجہ سے بحث کرتا ہوں جو میرے فاضل دوست کی تحریر سے نکلتا ہے۔ وہ یہ ہے کہ مرزا قادیانی حضرت عیسیٰ علیہ السلام نہیں بلکہ مسیح محمدی ہیں۔ اس لئے وہ ظلی نبی یا شریعت محمدی کے متبع نبی ہیں۔ جن کا ذکر حدیث میں بہ لفظ نبی ہوا ہے۔ خداوند کریم نے مریم علیہا السلام کے بیٹے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی نسبت مسیح کا لفظ استعمال فرمایا ہے ”ھو المسیح ابن مریم“ ﴿وہ مسیح بیٹا مریم کا۔﴾
اسی طرح قرآن شریف میں اور دوسرے مقامات پر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی نسبت مسیح فرمایا۔ لیکن کس قدر افسوس کی بات ہے کہ خدا کے فرمان کے خلاف مرزا قادیانی نے مسیح بننے کی کوشش کی اور اعتراضات سے بچنے کے لئے لا مہدی الا عیسیٰ سے مدد لے کر مہدی اور عیسیٰ کو ایک شخص قرار دینا چاہا اور لفظ مسیح کے ساتھ ایک لفظ محمدی زیادہ کر کے مسیح محمدی کہلانے کی کوشش فرمائی۔ اس امر کا کچھ خیال نہ فرمایا گیا کہ اللہ تعالیٰ نے مسیح کا خطاب خاص حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو دیا ہے تو میں کیونکر مسیح یا مثیل مسیح ہو سکتا ہوں۔ لفظ مثیل بھی اعتراضات سے بچنے کے لئے بطور ڈھال کے استعمال کیا گیا اور صرف مثیل مسیح ہی کہہ کر ساکت ہو جاتے۔
لیکن جب دیکھا کہ اس لفظ پر بھی اعتراضات ہوں گے تو ایک لفظ محمدی اور بڑھا دیا گیا۔ اگر فی الحقیقت وہ مسیح تھے جن کا نام اللہ نے ”اسمہ المسیح عیسیٰ ابن مریم“ رکھا اور حدیث کے الفاظ نبی اللہ کے مدلول خود وہ اپنے آپ کو قرار دیتے ہیں تو خاصے عیسیٰ مسیح ٹھہرتے ہیں۔ پھر لفظ مثیل کی ضرورت کیا تھی اور جب لفظ مثیل استعمال کیا گیا تو نبی اللہ نہیں قرار پا سکتے۔ کیونکہ مثیل کبھی اصل نہیں ہو سکتا۔ اگر اصل مسیح بننے کی کوشش کرتے تو بیشک حدیث میں جو ٤ جگہ لفظ نبی اللہ استعمال ہوا ہے، اس سے مدد لے سکتے جب اصلی مسیح نہیں بلکہ مثیل مسیح ہیں تو مثل کبھی اصل نہیں ہو سکتی۔ جیسے کہ نقل کبھی اصل نہیں ہو سکتی، پھر مثیل کیونکر نبی ہو سکتا ہے؟
ہماری سمجھ میں نہیں آتا کہ کبھی تو حدیث سے مدد لے کر اصل مسیح بننے کی کوشش کی گئی اور کبھی مثیل مسیح بننے کی فکر کی گئی اور اس بھی بڑھ کر لطف کی بات یہ کہی گئی کہ ”مسیح محمدی“ تو مرزا قادیانی کے متزلزل بیانات سے کوئی ایک بات بھی صحیح طور سے ان سے متعلق نہیں کی جا سکتی۔ کبھی تو یہ فرمایا جاتا ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام اسی دنیا میں مر گئے اور آسمان پر اٹھا لئے گئے اور کبھی اس حدیث کو جس میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے دوبارہ دنیا میں نازل ہونے کا ذکر ہے۔ جس میں نبی اللہ چار جگہ استعمال ہوا ہے۔ اپنے آپ سے منسوب کر کے نبی بننا چاہتے ہیں۔
٥٧
غرض ایک بات دوسری بات کے خلاف ہے۔ بہر حال نبی مشہور کرنا دنیا کو یقین دلانا ہے کہ میں جنتی ہوں۔ کیونکہ نبی کے جنتی ہونے میں کوئی شبہ نہیں کر سکتا۔ گویا مرزا قادیانی نبی مشہور کر کے بالفاظ دیگر یہ فرمانا چاہتے ہیں کہ میں جنتی ہوں۔ لیکن حدیث یہ ہے ”من قال انا فی جنة فهو فی النار“ ﴿جس شخص کو جنتی ہونے کا زعم ہو تو وہ دوزخی ہے۔﴾ مرزا قادیانی اور ان کے معتقد میرے لائق دوست کی تحریرات سے صاف معلوم نہیں ہوتا کہ مرزا قادیانی کو لوگ مثیل مسیح سمجھیں یا مسیح محمدی؟ یا مسیح ناصری یعنی حضرت عیسیٰ؟ کبھی ان حضرات کا یہ دعویٰ ہے کہ مرزا قادیانی مسیح محمدی ہیں مسیح ناصری یعنی حضرت عیسیٰ علیہ السلام نہیں ہیں اور کہیں یہ تحریر فرمایا ہے کہ مرزا قادیانی وہ نبی اللہ ہیں۔ جن کی نسبت حدیث مذکورہ بالا میں چار جگہ لفظ نبی اللہ آیا ہے۔ اس حدیث میں جہاں نبی اللہ کا لفظ آیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی عیسیٰ کا لفظ بھی ہے۔ جس سے ثابت ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی نسبت وہ لفظ نبی اللہ کا آیا ہے۔
لوگ مرزا قادیانی کو وہ نبی اللہ تو نہیں مان سکتے جن کا ذکر حدیث میں ہے۔ لیکن مجھے تعجب ہوتا ہے کہ مرزا قادیانی جو کچھ بننا چاہتے اسی ایک بات پر کیوں نہیں قائم ہو گئے یا تو وہ اس بات پر جمے رہتے کہ میں مسیح ناصری نہیں ہوں جو مریم کے بیٹے تھے۔ بلکہ میں مسیح محمدی ہوں۔ یا صاف یہ فرما دیتے کہ عیسیٰ مسیح میں ہی ہوں۔ اگر عیسیٰ مسیح ہونے کا دعویٰ کرتے تو بیشک اس حدیث کے مدلول مرزا قادیانی قرار پا سکتے جس میں لفظ نبی اللہ استعمال ہوا ہے جبکہ ان کو عیسیٰ مسیح ہونے کا دعویٰ نہیں ہے اور ایک نئی مسیحیت موسومہ مسیح محمدی ایجاد کی گئی تو خواہ مخواہ حدیث مذکورہ بالا کو جس میں عیسیٰ اور لفظ نبی اللہ لکھا گیا ہے، اپنے آپ سے کیونکر متعلق کر سکتے تھے۔
بقول ان کے حضرت عیسیٰ علیہ السلام تو اسی دنیا میں مر گئے اور آسمان پر نہیں گئے تو پھر ان کا نازل ہونا بھی ناممکن ہے۔ ان کے اس بیان سے ثابت ہوتا ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام تو دنیا میں نہیں آسکتے۔ اس صورت میں وہ حدیث ہی سرے سے غلط ہو جاتی ہے جب وہ حدیث غلط ٹھہری جس میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نازل ہونے کا ذکر ہے تو اس حدیث میں جو لفظ نبی اللہ استعمال ہوا ہے، وہ مرزا قادیانی سے کیونکر متعلق ہو سکتا ہے۔ ان حالات کے اعتبار سے قادیانی حضرات کا استدلال کہ حدیث مذکورہ بالا میں لفظ نبی اللہ چار جگہ استعمال ہوا ہے اور وہ نبی مرزا قادیانی ہیں، باطل ہو جاتا ہے۔
حدیث کی رو سے اگر نبی بننا چاہیں تو مقدم امر یہ ہے کہ مرزا قادیانی ابن مریم ہونے کا ثبوت دیں۔ اس کے بعد حدیث ۔ کہ الفاظ نبی اللہ کے مدلول ہونے کا دعویٰ کریں یہ تو ہو نہیں سکتا
٥٨
کہ دعویٰ کریں مسیح محمدی ہونے کا اور متعلق ہے جبکہ وہ خود فرماتے ہیں کہ مسیح گے اور میں مسیح محمدی ہوں اور مثل مسیح ناصری سے متعلق ہے اور جس میں مسیح استعمال ہوا ہے، کوئی بھی پسند نہیں کرے بلکہ مسیح محمدی ہوں تو اس حدیث کو جو مسیح ہے، مرزا قادیانی سے متعلق کر کے حدیث معلوم ہوتی ہے۔
مجھ کو کمال تعجب ہوتا ہے جب کتب میں نہیں دیکھے اور نہ اسلامی ممالک لفظ تراشا گیا۔ اللہ نے پنجاب کی مٹی میں پیدا ہوتے ہیں کہ نئی باتیں اور نئے لغوی احمد خان نے پنجابیوں کو زندہ دلان پنجاب نبی نے بھی آخر مسیح محمدی کا ایک نیا جملہ رٹ کا نام میں نے غلطی سے لیا۔ دنیا کے دیگ قادیانی کی مجال نہیں ہو سکتی تھی۔ وہاں جا جاتی۔ لیکن انڈیا میں سرکار انگریزی نے ہ یہاں جو چاہے نبی، جو چاہے کہ تمہارے منہ میں کتنے دانت ہیں۔ مرز بھیجا اور خاص نام ظلی نبی خدا نے رکھا۔ سبح انڈیا کے ظلی نبی کا جادو انڈی ممالک میں نہیں چل سکے گا۔ وہاں کے لو حالت کی بڑی تعریف کریں گے۔ بلکہ ک سے طلب کر کے کیمیکل انالائز (کیمیاو قادیان کی مٹی میں کونسا جُز یا اجزاء زیادہ ہی بلکہ عجب نہیں کہ ہر موسم بارش پر ایک نبی
کہ دعویٰ کریں مسیح محمدی ہونے کا اور ثبوت میں اس حدیث کو پیش کریں جو عیسیٰ مسیح ناصری سے متعلق ہے جبکہ وہ خود فرماتے ہیں کہ مسیح ناصری اور ہے جو اسی دنیا میں مر گئے اور اب وہ نہیں آئیں گے اور میں مسیح محمدی ہوں اور مثل مسیح کے ہوں تو اس حدیث سے استدلال کرنا جو صاف طور پر مسیح ناصری سے متعلق ہے اور جس میں مسیح ناصری کے نازل ہونے کا ذکر ہے اور جس میں لفظ نبی اللہ استعمال ہوا ہے، کوئی بھی پسند نہیں کرے گا جبکہ خود ان کا دعویٰ یہ ہے کہ میں مسیح ناصری نہیں ہوں بلکہ مسیح محمدی ہوں تو اس حدیث کو جو مسیح ناصری کی شان میں ہے اور جس میں صاف عیسیٰ لکھا ہوا ہے، مرزا قادیانی سے متعلق کر کے حدیث کے الفاظ نبی اللہ کو ان سے منسوب کرنا محض ہٹ دھرمی معلوم ہوتی ہے۔
مجھ کو کمال تعجب ہوتا ہے جب وہ الفاظ سنتا ہوں جو تیرہ سو سال سے کسی نے اسلامی کتب میں نہیں دیکھے اور نہ اسلامی ممالک میں سنے گئے۔ غور کرنے کی جگہ ہے کہ مسیح محمدی یہ کیسا لفظ تراشا گیا۔ اللہ نے پنجاب کی مٹی میں شاید ایسی خاصیت رکھی ہے کہ وہاں ایسے زندہ دل لوگ پیدا ہوتے ہیں کہ نئی باتیں اور نئے لغوی معنی اور نئی اصطلاحات مقرر کریں۔ اسی لئے غالباً سرسید احمد خان نے پنجابیوں کو زندہ دلان پنجاب کے معزز خطاب سے مخاطب فرمایا تھا۔ زندہ دل نئے نبی نے بھی آخر مسیح محمدی کا ایک نیا جملہ دنیا میں رائج کر دیا۔ نہیں نہیں دنیا میں نہیں بلکہ انڈیا میں دنیا کا نام میں نے غلطی سے لیا۔ دنیا کے دیگر اسلامی ممالک میں جا کر ایسے نئے جملے تراشنے کی مرزا قادیانی کی مجال نہیں ہو سکتی تھی۔ وہاں جا کر نئے نبی یا مسیح محمدی بنتے تو فوراً وہاں خبر ان کی لے لی جاتی۔ لیکن انڈیا میں سرکار انگریزی نے ہر شخص کو آزادی دے رکھی ہے۔
یہاں جو چاہے نبی، جو چاہے مسیح محمدی بن جائے۔ یہاں تو کوئی یہ بھی دریافت نہیں کرتا کہ تمہارے منہ میں کتنے دانت ہیں۔ مرزا قادیانی کو خدا نے انڈیا کے لئے ہی غالباً ظلی نبی بنا کر بھیجا اور خاص نام ظلی نبی خدا نے رکھا۔ سبحان اللہ! کیا پاک نام ہے جو ہمارے کان سن رہے ہیں۔
انڈیا کے ظلی نبی کا جادو ایڈنیس پر کچھ تو آخر چل گیا لیکن یہ جادو دوسرے اسلامی ممالک میں نہیں چل سکے گا۔ وہاں کے لوگ مسیح اور ظلی نبی وغیرہ الفاظ سنیں گے تو انڈیا کی اسلامی حالت کی بڑی تعریف کریں گے۔ بلکہ کچھ عجب نہیں کہ خاص قادیان کی مٹی کو پارسل کے ذریعے سے طلب کر کے کیمیکل انالائز (کیمیاوی طور پر اجزاء کو تحلیل کرنا) کر کے دیکھیں کہ اللہ نے قادیان کی مٹی میں کونسا جز یا اجزاء زیادہ پیدا کئے ہیں کہ وہاں کی سر زمین سے نبی پیدا ہوتے ہیں۔ بلکہ عجب نہیں کہ ہر موسم بارش پر ایک نبی کے پیدا ہونے کی امید کریں اور یہ خیال کریں کہ جس
٥٩
طرح خاص خاص دھاتیں خاص خاص ملک کی سرزمین میں پیدا ہوتی ہیں اسی طرح نبی کے پیدا کرنے والی دھات قادیان کی سرزمین میں ہے۔
مرزا قادیانی نے مسیح محمدی کی ایک نئی اصطلاح تراش کر اور ظلی نبی کی ایک نئی نبوت نکال کر اپنے آپ کو نبی اللہ بنانے کی کوشش کی۔ رسول کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا جو صحیح مسلم سے مروی ہے: ”اما بعد فان خیر الحدیث کتاب الله وخیر الهدی هدی محمدﷺ وشر الامور محدثاتها وكل بدعة ضلالة (مشكوة ص ٢٧)“ یعنی اچھی باتوں سے اچھی بات اللہ کی کتاب قرآن مجید ہے اور بہتر راہوں میں سے بہتر راہ محمد کی ہے اور سب سے برا کام وہ ہے جو نیا ہے اور ہر نئی چیز گمراہی ہے۔“
اس حدیث سے ثابت ہے کہ جو بات قرآن اور حدیث میں نہ ہو یعنی مسیح محمدی اور ظلی نبوت کا کوئی ذکر نہ قرآن میں ہے نہ حدیث میں مرزا قادیانی نے اپنی من گھڑت اصطلاح مقرر کی۔ کیا یہ گمراہی نہیں ہے۔ ایک اور حدیث صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں ہے کہ ”من احدث فی امرنا هذا ماليس منه فهو رد (مشكوة ص٢٧)“ یعنی جس شخص نے نئی چیز نکالی ہمارے اس دین میں جو چیز اس میں نہیں تو وہ چیز باطل اور رد ہے۔
مرزا قادیانی نے جو نبوت نکالی ہے وہ نہ تو قرآن کی رو سے اور نہ حدیث کی رو سے ثابت ہوسکتی ہے۔ اپنی من مانی اصطلاحیں قائم فرمائیں اور حدیثوں سے کھینچ تان کر نبی بننے کی کوشش کی تو کیا وہ شیخین کی ان دونوں حدیثوں کی رو سے باطل اور مردود نہیں سمجھی جائیں گی۔ ایک اور حدیث ہے ”من عمل عملا ليس عليه امرنا فهورد“ جو کوئی ایسا کام کرے کہ جس کے لئے ہمارا حکم نہیں ہے، وہ رد ہے۔ اس حدیث سے بھی ایسا کام جس کے لئے سرور عالم ﷺ کا صاف حکم نہیں ہے، مردود سمجھا جائے گا۔
میں نے متعدد حدیثیں لکھ دی ہیں اور یہ ثابت کر دیا ہے کہ مسیح موعود حضرت عیسیٰ علیہ السلام ابن مریم ہیں۔ مرزا قادیانی ہرگز مسیح موعود نہیں ہیں۔ انہوں نے یہ دعویٰ جو کیا ہے کہ موعود حضرت عیسیٰ ابن مریم نہیں بلکہ وہ موعود میں ہوں اور اسی بناء پر ایک نئی اصطلاح مسیح محمدی کی ایجاد کی گئی، بالکل غلط ہے اور مرزا قادیانی نے ان حدیثوں کو جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کے متعلق ہیں، زبردستی اپنے آپ سے متعلق کرنے کی بے فائدہ کوشش فرمائی اور مسیح محمدی کا ایک نیا لقب اختیار کر کے آفتاب پر خاک ڈالنے کی کوشش کی۔ ناظرین خود سمجھ سکتے ہیں۔
کتاب عقائد احمدیہ کے دیکھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ جب مہدی ہونے کا دعویٰ کیا گیا
٦٠
تو اس امر کا خیال شاید نہ تھا کہ میـ منیر کے نام سے لکھی اس کا ایک ہست ہر مصرع ثانی کے دیکـ کی نبوت کو ختم سمجھتے تھے ورنہ دونوں مراد ہیں۔ یعنی اس وقت آئندہ کوئی نبی خواہ وہ تشریعی ہو ایک دوسری اپنی کـ قادیانی نے یہ تحریر کیا ہے ”اس خیال اور کافر نام رکھا گیا ہے۔ مـ اور نہ مجھے نبوت کا دعویٰ ہے۔“ آگے چل کر بیان کی آئے گا نیا ہو یا پرانا۔“ (نشان آسـ لائے اور وہ نبی جو شریعت نہ لا قادیانی فرماتے ہیں: ”میں اس نبوتیں اس پر ختم ہوگئیں مگر ایک قسـ اور جو اس کے چراغ میں سے نور اور اسی کے ذریعہ سے ہے۔“ میری سمجھ میں نہیں آ یکساں پڑتا ہے۔ کوئی اس نور سـ فائدہ اٹھائے وہ خود اپنا نام چراغ کی روشنی سے کوئی شخص فائدہ اٹھا ہے۔ دنیا کے کاروبار کرتا ہے۔ ا کماتے ہیں اور جو شخص اس روشـ
تو اس امر کا خیال شاید نہ تھا کہ میں نبی کا لقب بھی اختیار کر سکوں گا۔ جو مثنوی مرزا قادیانی نے شرح منیر کے نام سے لکھی اس کا ایک شعر یہ ہے:
ہر نبوت را بدو شد اختتام
(درثمین فارسی ص ١١٤)
مصرع ثانی کے دیکھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ جب یہ مثنوی لکھی گئی تو مرزا قادیانی ہر قسم کی نبوت کو مختتم سمجھتے تھے ورنہ لفظ ہر نبوت کبھی نہ لکھتا۔ ہر نبوت سے نبوت تشریعی اور نبوت اتباعی دونوں مراد ہیں۔ یعنی اس وقت تک مرزا قادیانی کے خیال میں ہر قسم کی نبوت ختم ہو چکی تھی۔ آئندہ کوئی نبی خواہ وہ تشریعی ہو خواہ ظلی یا اتباعی کسی قسم کا کوئی بھی آنے والا نہ تھا۔
ایک دوسری اپنی کتاب موسومہ (نشان آسمانی ص ٢٨، خزائن ج ٤ ص ٣٩٠) میں مرزا قادیانی نے یہ تحریر کیا ہے کہ اس عاجز کی نسبت کفر اور بے ایمانی کا فتویٰ لکھا گیا ہے اور دجال اور مکار اور کافر نام رکھا گیا ہے۔ میں نے بار بار بیان کیا ہے کہ کوئی کلمہ کفر میری کتابوں میں نہیں ہے اور نہ مجھے نبوت کا دعویٰ ہے۔“
آگے چل کر بیان کیا ہے: ”آنحضرت ﷺ کے بعد اس امت کے لئے کوئی نبی نہیں آئے گا نیا ہو یا پرانا۔“ (نشان آسمانی ص ٢٨، خزائن ج ٤ ص ٣٩٠) لفظ ”کوئی نبی“ میں وہ نبی جو شریعت لائے اور وہ نبی جو شریعت نہ لائے بلکہ ظلی یا تبع نبی سب داخل ہیں۔ اس کے خلاف ایک جگہ مرزا قادیانی فرماتے ہیں: ”میں اس کے رسول پر صدق دل سے ایمان لایا ہوں اور جانتا ہوں کہ تمام نبوتیں اس پر ختم ہوگئیں مگر ایک قسم کی نبوت ختم نہیں یعنی وہ نبوت جو اس کی کامل پیروی سے ملتی ہے اور جو اس کے چراغ میں سے نور لیتی ہے وہ ختم نہیں کیونکہ وہ محمدی نبوت ہے۔ یعنی اس کا ظل ہے اور اسی کے ذریعہ سے ہے۔“
میری سمجھ میں نہیں آیا چراغ کے نور کا نام چراغ کیسا ہوگا۔ چراغ کا نور سب کے اوپر یکساں پڑتا ہے۔ کوئی اس نور سے فائدہ اٹھاتا ہے۔ کوئی اس نور میں سوتا رہتا ہے جو شخص نور سے فائدہ اٹھائے وہ خود اپنا نام چراغ کیونکر رکھ لے گا۔ نبوت بمنزلہ چراغ کے ہے۔ جس طرح چراغ کی روشنی سے کوئی شخص فائدہ اٹھاتا ہے۔ یعنی اس کی روشنی میں لکھتا پڑھتا ہے۔ سیتا ہے پروتا ہے۔ دنیا کے کاروبار کرتا ہے۔ اسی طرح نبوت کے نور سے نیک لوگ فائدہ اٹھاتے ہیں اور ثواب کماتے ہیں اور جو شخص اس روشنی میں سو رہا ہے اور دنیا کے عجائبات سے فائدہ نہیں اٹھاتا وہ
٦١
بدبخت، بد نصیب ہے۔ لیکن چراغ نبوت کا نور جیسا ایک ولی کامل پر پڑ رہا ہے، اسی طرح ایک فاجر فاسق پر پڑتا ہے۔ لیکن وہ ولی جو چراغ نبوت کی روشنی سے بہرہ ور ہو رہا ہے۔ خود اپنے آپ کو چراغ نبوت کہے تو قابل مضحکہ بات ہوگی۔
سمندروں سے بہت سے نالے نہریں نکالی جاتی ہیں۔ لیکن کوئی شخص اس نہر یا نالے کو سمندر نہیں کہتا۔ نبی کا کام ہے کہ خدا کی طرف سے ہم لوگوں تک خبریں پہنچا کر ہم کو تنبیہ کرے یہ کام تو خاتم النبیین ﷺ کر چکے۔ اب ہم کو پھر نبی کی ضرورت کیا ہے؟ وہ آخر چراغ نبوت منور ہے اور ابدالآباد دنیا کے ہر گوشہ اور چپہ چپہ پر اپنا نور ڈالتا رہے گا اور وہ نور ایسا ہے کہ دنیا کی کوئی آفت اور کوئی ہوا اس کو بجھا نہیں سکتی۔ اس نور سے فائدہ اٹھانے والے فائدہ اٹھا رہے ہیں اور سونے والے خواب غفلت میں سو رہے ہیں۔ مگر کوئی شخص جو مثل دوسروں کے نور سے فائدہ اٹھا رہا ہے۔ سونے والوں کو جگا کر یہ نہیں کہہ سکتا کہ میں خود چراغ ہوں یا اس چراغ کا جزو ہوں۔
البتہ چراغ کے نور کے فائدہ ظاہر کر سکتا ہے اور ایسے فائدہ بتلانے والے بہت سے پیدا ہوئے اور پیدا ہوں گے جن کو ہم سب علماء زاہد، مجتہد، مولوی، پرہیزگار ولی آئمہ کہا کرتے ہیں۔ لیکن یہ لوگ محض اس وجہ سے کہ نور سے فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ اپنا نام چراغ نہیں رکھ سکتے۔ ایک انگریزی مثل ہے A well is not to be filled with dew شبنم کے پانی سے کنواں ہرگز نہیں بھر سکتا۔ جس طرح شبنم کو بارش نہیں کہہ سکتے اور شبنم سے کنویں نہیں بھر سکتے ہیں۔ اسی طرح چراغ نبوت سے نور اخذ کرنے والے خود اپنے آپ کو نبی نہیں کہہ سکتے۔ یہ عجیب منطق مرزا قادیانی کی ہے کہ نبوت تشریعی کی کامل پیروی سے ظلی نبوت مل جاتی ہے۔
اس کا مطلب تو یہ ہوا کہ چراغ کی روشنی سے کامل طور پر فائدہ اٹھانے والا خود چراغ ہو جائے گا اور جو نبوت تشریعی کی کامل پیروی کرے گا۔ اس کو نبوت ظلی مل جاتی ہے۔ مرزا قادیانی کے قول سے یہ نبوت بھی ختم نہیں ہوئی۔ نبوت تشریعی کی کامل پیروی سے نبوت محمدی کا سلسلہ قیامت تک جاری رہے گا اور ظلی نبی پیدا ہوتے رہیں گے۔ جو شخص بھی چراغ نبوت سے کامل طور پر فائدہ حاصل کرے وہ محمدی نبی کا ادعا کر سکتا ہے۔ کیونکہ مرزا قادیانی نے کہیں یہ نہیں بتلایا کہ نبوت محمدی میرے اوپر ختم ہوگئی ہے بلکہ وہ صاف کہتے ہیں کہ یہ نبوت ختم نہیں ہوئی۔ بے چاری امت مرحومہ کے لئے بڑی مشکل کا سامنا ہے کہ جو نبی اس طرح آئندہ آتا جائے گا، کہے گا کہ میرے اوپر ایمان لاؤ ورنہ تم منکر قرآن ہو۔ تمہارے پیچھے نماز جائز نہیں اور تم دائرہ اسلام سے خارج ہو۔
٦٢
کیا تکمیل دین کے لئے مرزا قادیانی
ترمذی کی حدیث بہت صاف الرسالة والنبوة قد انقطعت فلا الناس فقال لكن المبشرات فقا المسلم وهى جزء من اجزاء النبوة ( منقطع ہوگئی۔ آنحضرت ﷺ کے بعد نہ پھر کو عرض کیا کہ مبشرات سے کیا مراد ہے تو آپ اجزائے نبوت سے۔ ؎ رویا کے معنی وہ حالت جو خواب میـ کوئی ظلی نبی آنے والا ہے اور تشریعی نبی کا کـ الفاظ خاتم النبیین کے بعد کوئی استثنائی شکل نہیـ تشریعی نبی یا متبع نبی کا کوئی لفظ نہیں ہے۔ اگر ا الفاظ خاص استثنیٰ کے ساتھ ارشاد نہ ہوتے۔ کـ جاتے۔ صرف ”لكن المبشرات “ ارشـ الرسالة والنبوة قد انقطعت “ کی بـ وہ تشریعی کے نام سے ہو یا ظلی کے طور پر، باقی جو چیز مستثنیٰ ہے وہ بتلادی گئی ہے شخص نبی نہیں جس نے حج بیت اللہ کا نہ کیا ہو ہوگا۔ چنانچہ ”ما من نبي الا حج البيت وہ مستثنیٰ ہوگا۔ اسی لئے مرزا قادیانی بغیر حج کـ کی سن لیجئے ۔ قال رسول اللہ ﷺ : ”لعلی لا نبي بعدی (بخاری ج٢ ص ٦٣٣، علیؓ کو تو میرا ایسا ہے جیسا ہارون تھا موسیٰ کا لیکن اب خیال فرمائیے کہ اس حدیث یا متبع کا نہیں ہے۔ اس حدیث کی سیاق عبا نبي بعدی “ کو کس مصلحت سے اس
کیا تکمیل دین کے لئے مرزا قادیانی کی ضرورت تھی؟
ترمذی کی حدیث بہت صاف ہے کہ آنحضرت ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ: ”ان الرسالة والنبوة قد انقطعت فلا رسول بعدی ولا نبی قال فشق ذلک علی الناس فقال لکن المبشرات فقالوا یارسول اللہ وما المبشرات قال رویا المسلم وہی جزء من اجزاء النبوۃ (ترمذی ج ٢ ص ٥٣) ” ﴿ نبوّت اور رسالت تو بالکل منقطع ہو گئی۔ آنحضرت ﷺ کے بعد نہ پھر کوئی رسول ہے نہ کوئی نبی۔ لیکن مبشرات تو لوگوں نے عرض کیا کہ مبشرات سے کیا مراد ہے تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ مسلمان کا رؤیا جو ایک جزو ہے اجزائے نبوت سے۔ ﴾
رؤیا کے معنی وہ حالت جو خواب میں دیکھی جائے۔ اس کے بعد کیا کوئی کہہ سکتا ہے کہ کوئی ظلی نبی آنے والا ہے اور تشریعی نبی کا کوئی پتہ چلتا ہے؟ میں اس سے پہلے لکھ چکا ہوں کہ الفاظ خاتم النبیین کے بعد کوئی استثنائی شکل نہیں ہے۔ اسی طرح اس حدیث میں بھی کسی ظلی نبی یا تشریعی نبی یا متبع نبی کا کوئی لفظ نہیں ہے۔ اگر ایسے کسی نبی کا آنا ممکن ہوتا تو ”لانبی بعدی“ کے الفاظ خاص استثنیٰ کے ساتھ ارشاد نہ ہوتے۔ بلکہ ”لانبی بعدی لکن الظلی“ فرمائے جاتے۔ صرف ”لکن المبشرات“ ارشاد نہ ہوتا۔ اس لفظ لکن نے ظلی نبوت بند کر دی۔ ”ان الرسالة والنبوة قد انقطعت“ کی سیاق عبارت بھی صاف بتلا رہی ہے کہ کوئی نبوت خواہ وہ تشریعی کے نام سے ہو یا ظلی کے طور پر، باقی نہیں رہی۔
جو چیز مستثنیٰ ہے وہ بتلا دی گئی ہے۔ یعنی مبشرات اور حدیث صحیح مسلم کی رو سے تو ایسا شخص نبی نہیں جس نے حج بیت اللہ کا نہ کیا ہو۔ جو نبی ہوگا، وہ ضرور حج بیت اللہ شریف سے فارغ ہوگا۔ چنانچہ ”ما من نبی الا حج البیت اللہ“ شاید قادیانی ظلی نبی کے لئے حج فرض نہ ہو گا یا وہ مستثنیٰ ہوگا۔ اسی لئے مرزا قادیانی بغیر حج کے نبی ظلی ہو گئے۔ ایک اور حدیث صحیح بخاری اور مسلم کی سن لیجئے۔ قال رسول اللہ ﷺ ”لعلی انت منی بمنزلۃ ہارون من موسی الا انہ لانبی بعدی (بخاری ج ٢ ص ٦٣٣ ، مسلم ج ٢ ص ٢٧٨) ” ﴿ فرمایا رسول کریم ﷺ نے علی کو تو میرا ایسا ہے جیسا ہارون تھا موسیٰ کا لیکن یہ کہ نہیں ہے کوئی نبی بعد میرے۔ ﴾
اب خیال فرمائیے کہ اس حدیث میں بھی ”لانبی بعدی“ کے ساتھ استثنیٰ کسی ظلی نبی یا متبع کا نہیں ہے۔ اس حدیث کی سیاق عبارت صاف یہ بتلا رہی ہے کہ آنحضرت ﷺ نے ”لا نبی بعدی“ کو کس مصلحت سے اس موقع پر ارشاد فرمایا ہے۔ بادی النظر میں من موسیٰ تک
٦٣
مطلب ختم ہو جاتا ہے اور ختم ہو سکتا تھا۔ لیکن لوگوں کو شبہ ہوتا کہ جب نبی کریم ﷺ کی زبان مبارک سے حضرت علیؓ کی شان میں یہ الفاظ نکلے کہ تم میرے سے وہی نسبت رکھتے ہو جو ہارون علیہ السلام کو موسیٰ علیہ السلام سے تھی تو حضرت علیؓ کا رتبہ بھی مثل ہارون علیہ السلام کے ہے اور چونکہ حضرت ہارون علیہ السلام بھی نبی تھے۔ اس لئے لوگوں کو شبہ ہوتا کہ حضرت علیؓ کا رتبہ بھی نبی کا ہے اور کہیں ایسا نہ ہو کہ بعد نبی کریم ﷺ کے حضرت علیؓ کو لوگ نبی کے درجہ پر پہنچا دیں، یہ ارشاد ہوا ”لانبی بعدی“ (میرے بعد کوئی نبی نہیں ۔)
ورنہ بظاہر اور کوئی قرینہ اس حدیث میں ”لانبی بعدی“ فرمانے کا معلوم نہیں ہوتا ہے۔ تو اب خیال کیا جائے کہ اس قدر احتیاط خود رسول اللہ ﷺ نے فرمائی اور صاف حکم ہو گیا کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں تو پھر مرزا قادیانی ظلی نبی کیونکر ہو سکتے تھے۔ خصوصاً اس صورت میں کہ ظلی نبی کا کوئی لفظ کسی حدیث میں نہیں اور ان حدیثوں میں جن کی رو سے نبی کے آنے کی نفی کی گئی ہے، کوئی استثنیٰ نہیں ہے۔ اگر ظلی نبی کا آنا ممکن ہوتا تو کون امر مانع تھا کہ قرآن کریم میں یا کسی حدیث میں صاف طور پر ظلی نبی کے آنے کا ذکر نہ کر دیا جاتا اور کھینچ تان کر تاویل کرنے کے امکان کا خاتمہ نہ کر دیا جاتا۔
مرزا قادیانی فرماتے ہیں: ”خدا ظلی نبوت اس کو عطا کرتا ہے جو نبوت محمدیہ کا ظل ہو کر تا اسلام ایسے لوگوں کے وجود سے تازہ رہے۔ نادان آدمی نہیں چاہتا کہ اسلام میں سلسلہ مکالمات اور مخاطبات الہیہ کا جاری رہے بلکہ وہ چاہتا (١) ہے کہ اسلام بھی اور مردہ مذاہب کی طرح ایک مردہ مذہب ہو جائے۔ مگر خدا نہیں چاہتا (٢) نبوت اور رسالت کا لفظ خدائے تعالیٰ نے اپنی وحی میں میری نسبت صدہا مرتبہ استعمال کیا ہے۔ مگر اس لفظ سے صرف وہ مکالمات مخاطبات الہیہ مراد ہیں جو بکثرت ہیں اور غیب (٣) پر مشتمل ہیں۔ خدا کی یہ اصطلاح ہے کہ کثرت مکالمات اور مخاطبات کا نام اس نے نبوت رکھا ہے۔ یعنی ایسے مکالمات جن میں غیب کی خبریں دی گئی ہوں۔
(١) ان اقوال میں وہ جملے غور طلب ہیں جن پر نشان ڈالا گیا ہے۔ ان کے خیال میں ظلی نبوت اس لئے ہے کہ اسلام تازہ رہے اس جملہ کو سن کر ہم کو ہنسی آتی ہے۔ اسلام کے تازہ رکھنے کے لئے کیا ظلی نبوت ضروری ہے؟ ہرگز نہیں۔ کیا آج تک ظلی نبی کے نہ ہونے سے خدا نخواستہ اسلام باسی یا مردہ ہو گیا تھا؟ اسلام تو قیامت تک تازہ اور زندہ رہے گا۔ کیا مرزا قادیانی ظلی نبی بن کر نہ آتے تو چین کے ٨ کروڑ مسلمانوں کا اسلامی مذہب باسی یا مردہ ہو جاتا؟ اور اب جبکہ مرزا قادیانی کی ہوا بھی وہاں نہیں پہنچی۔ خدانخواستہ اسلام مردہ ہو گیا؟ یا عربستان اور عراق
٦٤
عرب اور ایران اور افغانستان بلخ ، بخارا و کوئی نہیں جانتا خاکم بدہن کیا اسلام قادیانی کی ظلی نبوت ان ممالک کے لوگوں کیا ظلی نبیوں کے بغیر اسلام قادیانی نے ظلی نبوت کا دعویٰ نہیں کیا تھا ت دین اللہ تعالیٰ کے فضل سے اب بھی ہے ا ہو مرزا قادیانی کی ایسی باتوں کو کبھی تسلیم نہی
نبوت اور رسالت کا لفظ اپنی وحی میں میری ہماری سمجھ میں نہیں آیا کہ کس مرتبہ اپنی وحی میں مرزا غلام احمد قادیانی ک ایک مرتبہ کی اس قسم کی وحی وہ بتلا دیتے ن
عقائد احمدیہ مذکورہ بالا کے صفحہ (٧٦) میں مرزا قادیانی کی نسبت رسالت اور نبوت ک جو دعویٰ اس موقع پر کیا گیا ہے۔ اس پر تو نہ کرنا کافی ہے کہ یہ دعویٰ بے دلیل ہے بلکہ
ملاحظہ ہو (کتاب عقائد احمدیہ ص آدم صفی اللہ سے شروع ہوئی اور جناب رس میں خدا نے مرزا قادیانی کی نسبت نبوت نے یہ بیان کیا ہے ملاحظہ ہو ص ١٩ کتاب م کا نام خدا نے نبوت رکھا۔ ایسے مکالمات معلوم نہیں مرزا قادیانی کو کس طرح حضو کیونکر ایسی ہو سکتی ہے۔
کثرت مکالمات کا نام نبوت کثرت نہ کہیں تو ہم اور کیا کہیں؟ خدا کثرت مکالمات۔ اگر تھوڑی دیر کے ل قادیانی کو یہ عزت مکالمات کی حاصل ہو گ
عرب اور ایران اور افغانستان بلخ، بخارہ، روس، شام ملک افریقہ میں جہاں مرزا قادیانی کا نام تک کوئی نہیں جانتا حاشا وکلا کیا اسلام مردہ ہو گیا یا مردے ہونے کی نوبت پہنچ گئی اور کیا مرزا قادیانی کی ظلی نبوت ان ممالک کے لوگ تسلیم نہ کریں گے تو ان کا مذہب اسلام مردہ ہو جائے گا۔
کیا ظلی نبیوں کے بغیر اسلام تازہ نہیں تھا؟ چہ مرزا قادیانی چہ خفتہ و چہ بیدار جب مرزا قادیانی نے ظلی نبوت کا دعویٰ نہیں کیا تھا تو اسلام کیا تازہ نہ تھا جو حالت اسلام کی ان سے پہلے تھی، وہی اللہ تعالیٰ کے فضل سے اب بھی ہے اور انشاء اللہ تعالیٰ آئندہ بھی تازہ رہے گی۔ جو شخص سمجھ دار ہو مرزا قادیانی کی ایسی باتوں کو کبھی تسلیم نہیں کر سکتا۔ مرزا قادیانی جو یہ فرماتے ہیں کہ خدا (٢) نے نبوت اور رسالت کا لفظ اپنی وحی میں میری (مرزا) کی نسبت صد ہا مرتبہ استعمال کیا ہے۔“
ہماری سمجھ میں نہیں آیا کہ کس طرح اور کس مقام پر اور کس ذریعہ سے اللہ نے صد ہا مرتبہ اپنی وحی میں مرزا غلام احمد قادیانی کی نسبت نبوت اور رسالت کا لفظ استعمال کیا ہے؟ کاش ایک مرتبہ کی اس قسم کی وحی وہ بتلا دیتے۔ صد ہا مرتبہ کی وحی وہ اپنے واسطے محفوظ کر رکھتے۔ کتاب عقائد احمدیہ مذکورہ بالا کے صفحہ (٧٦) میں تو ایسا کوئی حوالہ نہیں دیا کہ کس طرح صد ہا مرتبہ وحی میں مرزا قادیانی کی نسبت رسالت اور نبوت کا لفظ استعمال کیا گیا۔ شاید یہ زبانی جمع خرچ ہے۔ وحی کا جو دعویٰ اس موقع پر کیا گیا ہے۔ اس پر تو میں آگے چل کر روشنی ڈالوں گا۔ لیکن یہاں اس قدر بیان کرنا کافی ہے کہ یہ دعویٰ بے دلیل ہے بلکہ خود مرزا قادیانی کے قول سے اس کی تردید ہوتی ہے۔
ملاحظہ ہو (کتاب عقائد احمدیہ ص ١٩) اس میں صاف لکھا ہے کہ: ”وحی رسالت حضرت آدم صفی اللہ سے شروع ہوئی اور جناب رسول کریم ﷺ پر ختم ہو گئی ۔“ پھر کس طرح صد ہا مرتبہ وحی میں خدا نے مرزا قادیانی کی نسبت نبوت اور رسالت کا لفظ استعمال کیا۔ آگے چل کر مرزا قادیانی نے یہ بیان کیا ہے ملاحظہ ہو ص ١٩ کتاب مذکور ”خدا کی اصطلاح ہے کہ کثرت مکالمات ومخاطبات کا نام خدا نے نبوت رکھا۔ ایسے مکالمات جن میں غیب کی خبریں دی گئی ہوں ۔“ یہ اصطلاح خدا کی معلوم نہیں مرزا قادیانی کو کس طرح معلوم ہوئی ۔ یہ من گھڑت اصطلاح ہے۔ خدا کی اصطلاح کیونکر ایسی ہو سکتی ہے۔
کثرت مکالمات کا نام نبوت ہونا نہ حدیث میں ہے نہ قرآن میں ۔ ایسی اصطلاح کو من گھڑت نہ کہیں تو ہم اور کیا کہیں؟ خدا کی دی ہوئی خبروں کو بندوں تک پہنچانا نبوت ہے نہ کہ کثرت مکالمات ۔ اگر تھوڑی دیر کے لئے فرض کر لیں کہ کثرت مکالمات کا نام نبوت ہے تو مرزا قادیانی کو یہ کثرت مکالمات کبھی حاصل ہو سکتی تھی یا نہیں اور غیب کی خبریں ان کو دی گئیں یا نہیں۔
٦٥
اس موقع پر تین دعوے مرزا قادیانی کے لکھنا ضروری ہیں۔ ایک تو یہ ہے کہ وہ فرماتے ہیں کہ ”میرا یعنی مجھ مسیح موعود کا دنیا میں بھیجا جانا اسلامی عمارت کی تکمیل کے لئے ضروری تھا۔“ خدا تو قرآن کریم میں اپنے رسول پاک ﷺ کو مخاطب فرما کر یہ ارشاد فرماتا ہے: ”الیوم اکملت لکم دینکم واتممت علیکم نعمتی (المائدہ:٣) ” تمہارا دین آج کے روز میں نے تمہارے لئے کامل کیا اور میں نے اپنی نعمت تمہارے اوپر تمام کی۔﴾
مرزا قادیانی فرماتے ہیں کہ جب تک میں مسیح دنیا میں نہ آتا، اسلامی عمارت ہی مکمل نہ ہوتی۔ یہیں تفاوت رہ از کجاست تا بکجا ۔ یہ تو اللہ سے لڑنا ہے۔ اللہ تعالیٰ یہ فرمائے کہ میں نے تمہارے دین کو تمہارے لئے کامل کر دیا۔ لیکن عجب ہے کہ اللہ تعالیٰ نے معاذ اللہ جھوٹ کہا اور تیرہ سو برس تک دین کی عمارت کو نامکمل رکھ کر پہلے سے یہ فرما دیا کہ میں نے تمہارے دین کو کامل کر دیا اور اب تیرہ سو برس بعد مرزا قادیانی کو بھیج کر دین کی عمارت کو کامل کیا اور اب تک دین کی عمارت نا کامل پڑی تھی۔
خدا نے اتنے بڑے پیغمبر سرور الانبیاء محمد مصطفیٰ ﷺ کو خاتم النبیین کا لقب دے کر دنیا میں بھیجا اور پھر بھی دین کی عمارت مکمل نہ ہوئی اور یہ عمارت ٹوٹی پھوٹی حالت میں چھوڑ کر سرور عالم ﷺ ہم سے رخصت ہوئے اور مرزا قادیانی نے آ کر اس کو مکمل کیا اور بے چھت کی عمارت کو اپنی ظلی نبوت سے سایہ دار بنا دیا۔
کیا مرزا قادیانی سے خدا ہمکلام ہوتا تھا ؟
کیا خوب، مرزا قادیانی کا دوسرا دعویٰ یہ ہے کہ ”خدا مجھ سے ہمکلام ہوتا ہے۔ جس بناء پر میں اپنے تئیں نبی کہلاتا ہوں۔ وہ صرف اس قدر ہے کہ میں خدا تعالیٰ کی ہمکلامی سے مشرف ہوں اور وہ میرے ساتھ بکثرت بولتا ہے اور کلام کرتا ہے اور میری باتوں کا جواب دیتا ہے اور بہت سی غیب کی باتیں میرے پر ظاہر کرتا ہے اور آئندہ زمانوں کے راز میرے پر کھولتا ہے۔“
(حقیقت الوحی ص ٧٠،٦٨)
اس سے قبل مرزا قادیانی نے اشتہار (مورخہ ٤ اکتوبر ١٨٩١ء، مجموعہ اشتہارات ج ١ ص ٢٣٠) میں بھی اسی طرح لکھا تھا جس طرح پنجاب کے اشتہار دینے والے تاجر اشتہار میں گاہکوں کی ترغیب کے لئے اشتہار لکھ دیا کرتے ہیں کہ لو مال لٹا دیا ہے۔ ”اسی طرح مرزا قادیانی نے بھی نبوت لٹوا دی۔ جس کا جی چاہے تشریعی نبی کی کامل پیروی کرے اور کوڑیوں کے مول ظلی نبوت لوٹ لے۔ ہم اپنے ناظرین کو مرزا قادیانی کے اس فقرہ کی طرف توجہ دلاتے ہیں اور امید کرتے
٦٦
ہیں کہ وہ انصاف فرمائیں کہ یہ فقرہ کس حد تک نہیں ہوئی جو اس کی (حضرت محمد ﷺ کی) کامل
میں دریافت کرتا ہوں کہ کیا حضر نے نہیں کی اور صرف مرزا قادیانی ہی نے کامل جس طرح کامل پیروی مرزا قادیانی نے کی اِسی بن جائے گا؟ مرزا قادیانی کے بیان سے یہ تو ثا گا ، نبی ہو جائے گا اور اب مرزا قادیانی موصوف اور کامل پیروی کا طریقہ بتلا دیا ہے۔ پس لوگ بنتے چلے جائیں گے اور وہ کامل پیروی یہی ہ ہماری تحریر سے ثابت ہوتی جائے گی۔ یعنی م مسائل سے اختلاف کر کے قرآن شریف کی ن نکالا اور نئی (٢) بدعت کا آغاز کیا یعنی شرک ف اصطلاح قائم کی اور (٣) مسلمانوں میں ایک سے علیحدہ طریقہ بتلایا ۔ (٤) اپنے آپ کو تمام مہدی موعود کے لقب اختیار کئے۔ (٥) جس لے لیا اور جس کو اپنے مفید نہ دیکھا، اس سے اسلام سے خارج سمجھنے کی اپنے فرقہ کے لوگو
غرض یہ کہ یہ ہے کامل پیروی آنحضر سے وہ نبی ہو گئے ۔ اگر کامل پیروی یہی ہے تو ا ایسی کامل پیروی مرزا قادیانی ہی کو مبارک ہو آنحضرت ﷺ کی کامل پیروی سے ایسی نبوت قادیانی نے ظلی نبیوں کے آنے کے لئے اپنی اور کیا تیرہ سو سال سے کسی نے کامل پیروی نہیں اگر کسی نے کی تو کیا ظلی نبی ہوئے سوالات کے معزز ناظرین نتیجہ نکال لیں گے ک متعلق کس حد تک صحیح ہو سکتے ہیں۔ ان کا یہ تحری
ہیں کہ وہ انصاف فرمائیں کہ یہ فقرہ کس حد تک صحیح ہے۔ وہ فرماتے ہیں کہ ”ایک قسم کی نبوت ختم نہیں ہوئی جو اس کی (حضرت محمدﷺ کی) کامل پیروی سے ملتی ہے۔“
میں دریافت کرتا ہوں کہ کیا حضرتﷺ کی کامل پیروی گذشتہ تیرہ سو سال میں کسی نے نہیں کی اور صرف مرزا قادیانی ہی نے کامل پیروی کی اور اس کی وجہ سے وہ نبی بن گئے؟ اور کیا جس طرح کامل پیروی مرزا قادیانی نے کی اسی طرح کی کامل پیروی دوسرا شخص کرلے تو وہ بھی نبی بن جائے گا؟ مرزا قادیانی کے بیان سے یہ تو بات ثابت ہوتی ہے کہ جو کوئی بھی کامل پیروی کرے گا، نبی ہو جائے گا اور اب مرزا قادیانی موصوف نے کامل پیروی کر کے ایک نظیر قائم فرمادی ہے اور کامل پیروی کا طریقہ بتلا دیا ہے۔ پس لوگ اسی طرح کی کامل پیروی کرتے جائیں گے اور نبی بنتے چلے جائیں گے اور وہ کامل پیروی یہی ہے جو ہم شروع میں لکھتے چلے آئے ہیں اور آئندہ ہماری تحریر سے ثابت ہوتی جائے گی۔ یعنی مرزا قادیانی نے دنیا (١) بھر کے مسلمانوں کے مسلمہ مسائل سے اختلاف کر کے قرآن شریف کی بعض آیات اور بعض حدیثوں سے ایک جدا مطلب نکالا اور نئی (٢) بدعت کا آغاز کیا یعنی شرک بالنبوۃ کہئے یا جداگانہ ظلی نبوت۔ بہرحال ایک نئی اصطلاح قائم کی اور (٣) مسلمانوں میں ایک جدا گانہ فرقہ قائم کر کے اس فرقہ کو سب مسلمانوں سے علیحدہ طریقہ بتلایا۔ (٤) اپنے آپ کو تمام دنیا کے انسانوں پر ترجیح دینے کے لئے ظلی نبی اور مہدی موعود کے لقب اختیار کئے۔ (٥) جس حدیث کو اپنے مطلب کے مفید سمجھا اس کو جزاً یا کلاً لے لیا اور جس کو اپنے مفید نہ دیکھا، اس سے اعراض کیا۔ جو (٦) ان کو نبی نہ مانے اس کو دائرہ اسلام سے خارج سمجھنے کی اپنے فرقہ کے لوگوں کو ہدایت کی۔
غرض یہ کہ یہ ہے کامل پیروی آنحضرتﷺ کی جو مرزا قادیانی نے کی اور اسی پیروی سے وہ نبی ہو گئے۔ اگر کامل پیروی یہی ہے تو ایسی کامل پیروی کو ہم تو دور ہی سے سلام کرتے ہیں۔ ایسی کامل پیروی مرزا قادیانی ہی کو مبارک ہو۔ مگر میں ناظرین سے التماس کرتا ہوں کہ کیا کوئی آنحضرتﷺ کی کامل پیروی سے ایسی نبوت ظلی حاصل کرنے کے لئے تیار ہے؟ اور کیا مرزا قادیانی نے ظلی نبیوں کے آنے کے لئے اپنی تقریر مذکورہ بالا سے ایک نیا دروازہ نہیں کھول دیا؟ اور کیا تیرہ سو سال سے کسی نے کامل پیروی نہیں کی تھی؟
اگر کسی نے کی تو کیا ظلی نبی ہونے کا کسی نے آج تک دعویٰ کیا ہے؟ پس بلحاظ ان سوالات کے معزز ناظرین نتیجہ نکال لیں گے کہ مرزا قادیانی کے دعاویٰ اس قسم کی ظلی نبوت کے متعلق کس حد تک صحیح ہو سکتے ہیں۔ ان کا یہ تحریر فرمانا کہ ”میرا یقین ہے کہ وحی رسالت حضرت آدم
٦٧
صفی اللہ سے شروع ہوئی اور جناب رسول اللہ ﷺ پر ختم ہوگئی۔” اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب وحی کا نازل ہونا حضرت محمد ﷺ کے بعد ختم ہو گیا تو خدا مرزا قادیانی سے کس طرح ہم کلام ہوتا تھا؟ قرآن کریم میں صاف ارشاد خدائے تعالیٰ کا ہے کہ ”وماکان لبشر ان يكلمه اللہ الا وحیا أو من ورائے حجاب او يرسل رسولا فيوحي باذنه ما يشاء (الشوری: ٥١) ”اور نہیں طاقت کسی آدمی کی کہ اللہ سے بات کرے مگر وحی کے طور سے یا پردہ کے پیچھے سے یا کوئی پیغام لے جانے والا بھیجا گیا ہو کہ وحی کو پہنچادے اللہ کے حکم سے جو کچھ وہ چاہتا ہے۔“
اس سے ظاہر ہے کہ کسی انسان کی یہ طاقت نہیں کہ اللہ سے بات کرے۔ پھر مرزا قادیانی خلاف حکم خدا کے خدا سے کس طرح ہمکلام ہوا کرتے تھے۔ وحی تو حضرت رسول ﷺ کے بعد ختم ہو چکی جس کو انہوں نے خود تسلیم کیا ہے کہ وحی کا اترنا ختم ہو چکا تھا۔ وحی کے لغوی معنی مرزا قادیانی شاید اب یہ لیتے ہوں کہ جو بات خدا کی طرف سے دل میں پڑتی ہے، وہ وحی ہے۔ تو اس کا جواب تو میں اوپر لکھ چکا ہوں۔ اس کے علاوہ یہ بات بھی غور طلب ہے کہ خود مرزا قادیانی نے عام طور پر وحی کا ختم ہونا (آنحضرت ﷺ کے بعد) صاف طور پر تحریر فرما دیا ہے۔ اگر چہ مقصود ان کا ہوتا تو اسی وقت صاف تحریر فرمادیتے کہ مجھ پر وحی اسی طرح ہوتی ہے یا وحی سے میرا یہ مطلب ہے اور دل میں جو بات خدا کی طرف سے پڑتی ہے وہ بھی وحی ہے۔
غرض عام طور پر ایسا نہ فرماتے کہ وحی حضرت رسالت مآب پر ختم ہوگئی۔ افسوس مرزا قادیانی نے یہ نہیں بتلایا کہ ان پر وحی کس طرح ہوتی تھی۔ اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ ان پر اس طرح وحی نازل نہیں ہوتی تھی جس طرح کہ اور دوسرے نبیوں پر ہوا کرتی تھی۔ بلکہ مرزا قادیانی نے اپنے خیال اور تصور کو وحی خیال فرما لیا ہے۔ اس طرح کے تصورات اور خیالات کو وحی منجانب اللہ نہیں کہہ سکتے۔ ایسے تصورات اور خیالات تو ہر شخص کو ہوا کرتے ہیں۔ اس قسم کے تصورات کو لفظ وحی سے تعبیر کرنا اللہ پر بہتان کرنا ہے۔ اسی لئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: ”لا تغلوا فی دینکم ولا تقولوا علی اللہ الا بالحق (مائده: ٧٧) ”اپنے دین کے معاملات میں غلو مت کرو اور اللہ پر جھوٹ مت کہو سوا سچ کے۔“
لیکن آیت ما کان لبشر سے یہ تو صاف ظاہر ہے کہ انسان اللہ تعالیٰ سے بجز ان تین طریقوں کے جو آیت مذکور میں ارشاد ہوا ہے، اور کسی طریقہ سے بات نہیں کر سکتا اور مرزا قادیانی کے لئے کوئی چوتھا طریقہ اللہ سے بات کرنے کا معلوم نہیں ہوتا۔ پس وہ وحی جو انبیاء علیہم السلام کو
ہوا کرتی تھی، وہ تو مرزا قادیانی کو نہیں ہوئی تھی۔ اس موقع پر اگر وحی کے لغوی معنوں سے متبعین مرزا قادیانی بحث کریں اور وحی کے وہ اصطلاحی معنی جو اللہ تعالیٰ نے مقرر فرما دیئے ہیں، چھوڑ دیں تب بھی مرزا قادیانی کے دعوے کی کوئی وقعت نہیں رہتی۔ وحی کے لغوی معنی اللہ کی طرف سے کسی بات کا دل میں پڑنا ہے اور وہ وحی تو سب کو ہوتی ہے۔
مرزا قادیانی کے لئے کوئی خصوصیت نہیں ہے اور وہ وحی تو شہد کی مکھی کو بھی ہوا کرتی ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے سورہ نحل میں ارشاد فرمایا ہے: ”واوحی ربک الی النحل ان اتخذی من الجبال بیوتاً و من الشجر و مما یعرشون (النحل:٦٨)“ ﴿اور وحی کی تیرے رب نے شہد کی مکھی کی طرف کہ پہاڑوں اور درختوں اور چھتوں میں گھر بنا۔﴾ پس یہ وحی تو جس طرح ایک انسان کو ہوتی ہے، اسی طرح ایک شہد کی مکھی کو بھی ہوتی ہے تو اس طرح کی وحی پر اگر مرزا قادیانی فخر کرتے ہیں تو کوئی فخر کی بات نہیں ہے۔ لیکن وحی جو انبیاء علیہم السلام کو ہوا کرتی تھی، وہ تو مرزا قادیانی کو نہیں ہوتی تھی۔ خدا کی اصطلاح میں وہ وحی جو نبیوں کو ہوا کرتی تھی، وہ وحی نہیں تھی جو عام طور پر درندوں، چرندوں، پرندوں کو بھی ہوا کرتی ہے۔
بلکہ وہ وحی جو نبیوں کو ہوا کرتی تھی، وہ ہے جس کا ذکر آیت ”وماکان لبشر“ میں خدا نے فرمایا ہے اور یہ ارشاد ہوا ہے کہ ”انا اوحینا الیک کما اوحینا الی نوح والنبیین من بعدہ (النساء:١٦٣)“ ﴿بیشک ہم نے وحی کی تیری طرف جس طرح وحی کی نوح کی طرف اور اس کے بعد دوسرے نبیوں پر۔﴾
اس آیت میں اور آیت متذکرہ سورہ نحل مذکورہ بالا میں لفظ وحی خدا نے ارشاد فرمایا ہے۔ اس سے ظاہر ہے کہ وحی جو نبیوں پر کی جاتی تھی۔ وہ وحی نہیں تھی۔ جو عام طور پر درندوں، پرندوں اور چرندوں پر بھی کرتا ہے۔ بلکہ نبیوں پر جو وحی ہوتی تھی، وہ وحی ایسی ہوتی تھی جیسی کہ حضرت نوح علیہ السلام پر اور ان کے بعد کے نبیوں پر ہوا کرتی تھی۔ جس کی نسبت خدا نے فرمایا ”وکذالک اوحینا الیک روحا من امرنا ما کنت تدری ماالکتب ولا الایمان ولکن جعلنه نور (شوریٰ:٥٢)“ ﴿اور اسی طرح وحی کیا ہم نے تیری طرف روح کو اپنے حکم میں سے نہ جانتا تھا تو کتاب کیا ہے اور نہ ایمان، لیکن ہم نے اس کو نور کیا۔﴾
اس آیت شریفہ کو ملاحظہ فرمائیں۔ خدا نے کیا فرمایا ہے۔ رسول اکرم ﷺ پر جو وحی ہوتی تھی وہ وہ وحی تھی جو خاص پیغمبروں پر ہوتی تھی۔ جس کی غرض یہ تھی کہ اللہ تعالیٰ کی کتاب کو سمجھیں اور سمجھائیں اور یہ معلوم کرائیں کہ ایمان کیا ہے اور اللہ نے اس کو نور ہدایت کیا۔ نیز اس
٦٩
وحی کی یہ غرض ہوتی تھی کہ ”اوحینا الیك قرآنا عربیا لتنذرام القری ومن حولها وتنذر یوم الجمع لا ریب فیہ فریق فی الجنة وفریق فی السعیر (الشوریٰ:٧) ”(وحی کی ہم نے تجھ پر عربی زبان کا قرآن دیا تاکہ مکہ والوں کو اور جو اس کے اطراف (دنیا) رہتے ہیں۔ تو ڈرائے اور اس دن کی خبر سنا کر ڈرائے جس دن لوگ اکٹھے کئے جائیں گے (قیامت میں) اس میں شک نہیں کہ (اس دن) ایک فرقہ جنت میں ہوگا اور ایک فرقہ دوزخ میں۔“
اس آیت سے بھی ظاہر ہے کہ نبیوں پر جو وحی ہوتی تھی، اس وحی سے اللہ تعالیٰ کا کیا مقصود ہوتا تھا۔ رسول اکرم ﷺ پر عربی زبان میں قرآن کو وحی کے ذریعہ سے نازل فرمایا تاکہ آنحضرت ﷺ مکہ والوں کو اور دنیا کے لوگوں کو شرک اور بدعات کی گمراہیوں سے نکالیں اور وحدانیت کی روشنی میں لائیں اور عاقبت کی خبریں سنا کر اور بہشت اور دوزخ کے حالات بیان فرما کر ڈرائیں اور خوشخبری دیں جو لوگ ان ہدایت پر عمل کر کے شرک کی تیرہ و تار راہوں سے نکل کر وحدانیت کی روشنی میں آئیں گے وہ دوزخ میں نہ جائیں گے اور جو لوگ اسی گمراہی میں رہیں گے، وہ دوزخ میں جائیں گے۔ مرزا قادیانی کو خدا کس بات کی وحی کرتا تھا اور کس ذریعہ سے کچھ معلوم نہیں ہوتا۔
خدا نے صاف ارشاد فرمایا ہے: ”شرع لکم من الدین ماوصیٰ بہ نوحا والذی اوحینا الیك وما وصینا بہ ابراہیم وموسیٰ وعیسیٰ ان اقیموا الذی ولا تتفرقوا فیہ (شوری:١٣) ”(تمہارے لئے خدا نے وہ راہ نکالی دین کی جس دین پر نوح کو چلنے کا حکم دیا اور جس دین کا حکم ہم نے تجھ کو (محمد کو) دیا اور جس دین کا ہم نے ابراہیم علیہ السلام اور موسیٰ علیہ السلام اور عیسیٰ علیہ السلام کو حکم دیا دین کو قائم رکھو اور اس میں پھوٹ نہ ڈالو۔“
اس آیت شریفہ سے بھی واضح ہوگا کہ آنحضرت ﷺ پر بھی خدا نے وحی کی تو اسی طرح وحی کی جس طرح دوسرے انبیاء علیہم السلام پر فرمائی۔ مرزا قادیانی پر کس قسم کی وحی کی اس کا حال کچھ معلوم نہیں ہوتا۔ محض یہ کہہ دینا کہ میری نسبت خدا نے اپنی وحی میں صدہا مرتبہ نبوت اور رسالت کا لفظ استعمال کیا، ہرگز ماننے کے قابل نہیں ہے۔ ممکن ہے کہ مرزا قادیانی کو اسی طرح خیال ہوا ہو۔ جس طرح واعظوں کو ہوا کرتا ہے کہ شرک کی برائیاں اور تثلیث کی بے اصول باتوں کی تردید کی جائے۔ ایک واعظ کی حیثیت سے کام کر کے یہ دعویٰ کرنا کہ خدا نے مجھے وحی کی، خیالی پلاؤ پکانا ہے۔
٧٠
اس حدیث کے الفاظ ’شر بہت غور طلب ہے۔ جبکہ خدا نے خود فرما رکھو اور اس میں تفرقہ نہ ڈالو تو پھر مرزا قاد تھا اور دین کے قائم رکھنے اور اس میں تفر نبوت کی ضرورت ہی کیا تھی۔ افسوس ہے بدعت نئی نبوت کی ایجاد کی گئی۔ جو بات خ پڑتی ہے، اسے الہام کہتے ہیں۔
چنانچہ خود مرزا قادیانی نے کئی
معلوم ہوتا ہے کہ وحی تو مرزا قادیانی کو نہی لوگوں کو بھی ہوتا ہے اور اگر الہام ہو تو و بکثرت بولتا تھا اور ان کی باتوں کا جواب بھی خدا نے ان سے بات نہیں کی۔ نہ م کسی سے بات کی ہے تو بجز ذات اقدس اور کوئی نہیں۔
شب معراج آنحضرت ﷺ فیوحی باذنه“ کے بھی مرزا قادیانی کے پاس سے ان کے پاس وحی نہیں لایا ک قرآن کریم میں ارشاد فرمائے ہیں۔ ان پھر مرزا قادیانی خدا سے کس طرح ہمکلا کس طریقہ سے جواب دیتا تھا؟
جواب دینا کے تو یہ معنی ہیں جواب اللہ ان کو دیا کرتا تھا اور جبکہ مذکورہ گفتگو کا نہ تھا تو اللہ تعالیٰ نے کیا چوتھا طر تھا۔ جس کا ذکر کر کے قرآن پاک میں خ ماننے کے قابل نہیں ہے کہ خدا ان سے
اس حدیث کے الفاظ ”شرع لکم من الدین“ اور ”اقیموا الدین ولا تتفرقوا“ بہت غور طلب ہے۔ جبکہ خدا نے خود فرمایا ہے کہ تمہارے دین کے لئے جو شریعت دی اس کو قائم رکھو اور اس میں تفرقہ نہ ڈالو تو پھر مرزا قادیانی کو خدا نبی کس غرض سے کرتا۔ شریعت تو ہم کو دے چکا تھا اور دین کے قائم رکھنے اور اس میں تفرقہ نہ ڈالنے کا حکم بھی دے چکا ہے۔ پھر مرزا قادیانی کی نبوت کی ضرورت ہی کیا تھی۔ افسوس ہے کہ اللہ کے حکم کے خلاف دین میں تفرقہ ڈالا گیا اور ایک بدعت نئی نبوت کی ایجاد کی گئی۔ جو بات خدا کی طرف سے کسی غیر نبی کے دل میں اللہ کی طرف سے پڑتی ہے، اسے الہام کہتے ہیں۔
چنانچہ خود مرزا قادیانی نے کئی جگہ تحریر فرمایا ہے کہ ”من نیستم رسول ونیاورہ ام کتاب ہان ملہم استم وز خداوند منذرم (درثمین فارسی ص٨٦)“ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ وحی تو مرزا قادیانی کو نہیں ہوتی تھی۔ اگر یہ سمجھا جائے کہ الہام ہوتا تھا تو الہام اور لوگوں کو بھی ہوتا ہے اور اگر الہام ہو تو اس کو ہمکلامی نہیں کہہ سکتے تو پھر اللہ کس طرح ان سے بکثرت بولتا تھا اور ان کی باتوں کا جواب دیتا تھا؟ ”من ورائے حجاب“ یعنی پردہ کی آڑ سے بھی خدا نے ان سے بات نہیں کی۔ نہ مرزا قادیانی کا ایسا دعویٰ ہے۔ پردہ کی آڑ سے اگر خدا نے کسی سے بات کی ہے تو بجز ذات اقدس محمد مصطفیٰ ﷺ کے یا حضرت موسیٰ علیہ السلام کے دنیا میں اور کوئی نہیں۔
شب معراج آنحضرت ﷺ سے خدا نے اس طرح بات کی ہے ”او یرسل رسولاً فیوحی باذنہ“ کے بھی مرزا قادیانی مدعی نہیں ہیں۔ کیونکہ جبرئیل علیہ السلام یا اور کوئی فرشتہ اللہ کے پاس سے ان کے پاس وحی نہیں لایا کرتا تھا۔ خدا نے جو تین طریقہ انسان سے بات کرنے کے قرآن کریم میں ارشاد فرمائے ہیں۔ ان میں سے کوئی طریقہ بھی ہمکلام ہونے کا پایا نہیں جاتا تو پھر مرزا قادیانی خدا سے کس طرح ہمکلام ہوتے تھے اور خدا ان سے کیونکر بکثرت بولتا تھا اور ان کو کس طریقہ سے جواب دیتا تھا؟
جواب دینا کے تو یہ معنی ہیں کہ جب کوئی سوال خدا سے مرزا قادیانی کرتا تھا۔ اس کا جواب اللہ ان کو دیا کرتا تھا اور جبکہ مذکورہ بالا تینوں طریقہ ہائے مندرجہ قرآن کریم سے کوئی طریقہ گفتگو کا نہ تھا تو اللہ تعالیٰ نے کیا چوتھا طریقہ کلام کرنے کا خاص مرزا قادیانی کے لئے مخصوص کر رکھا تھا۔ جس کا ذکر کرنا قرآن پاک میں خدا نے مناسب نہ جانا؟ یہ دعویٰ بھی مرزا قادیانی کا ہرگز ماننے کے قابل نہیں ہے کہ خدا ان سے بکثرت بولتا اور جواب دیتا تھا۔ الہام کا ہونا ممکن ہے لیکن
الہام ایک ایسی چیز ہے کہ اکثر لوگوں کو ہوتا ہے۔ محض الہام سے یہ نہیں کہا جا سکتا کہ کوئی شخص دعویٰ کرے کہ خدا مجھ سے بکثرت بولتا ہے اور مجھے جواب دیتا ہے۔
خدا فرماتا ہے ”فالہمھا فجورھا وتقواھا قد افلح من زکھا وقد خاب من دسھا (شمس:٨، ٩، ١٠) ”پس اس کو الہام کیا (خدا نے) اس کی بری باتوں کا اور اس کی اچھی باتوں کا خدا نے جس کو فلاح دی اس نے مراد پائی اور جس کی جان کو دبا دیا وہ نامراد ہوا۔“ خدا تو انسان کی بری باتوں کا بھی الہام کر دیتا ہے اور اچھی باتوں کا الہام بھی اس کو کر دیتا ہے۔ معلوم نہیں خدا نے مرزا قادیانی کو کن باتوں کا ملہم کیا تھا۔ یہ تو انسان کا اختیار ہے کہ وہ جس کو چاہے، اختیار کرے۔ انسان برے کام کرتا ہے تو خدا کی طرف سے اسے الہام ہو جاتا ہے جسے زمانہ حال میں کانشنس کہتے ہیں۔ چور، ڈاکو و بدمعاش جس قدر برے کام کرتے ہیں۔ خدا تو ان کو بھی پہلے الہام کر دیتا ہے کہ یہ کام جو تو کرنا چاہتا ہے، برا ہے۔ دنیا میں کوئی انسان ایسا نہ پاؤ گے کہ وہ برے کام کو اچھا سمجھ کر کرے۔
برے کام کا کرنا انسان برا جانتا ہے مگر اس کا نفس امارہ اور خواہشات نفسانی اس کو ان جرائم کے ارتکاب کی طرف رجوع کر دیتی ہیں۔ تو وہ کام خود انسان سے منسوب ہوتا ہے۔ مگر اللہ نے تو اس کو پہلے سمجھا دیا تھا اور ملہم کر دیا تھا کہ یہ کام جو تو کرنا چاہتا ہے، برا ہے۔ مگر جب انسان برے کام کو برا جان کر کرتا ہے تو یہ خود اس کا فعل ہوتا ہے۔ کیونکہ اللہ نے انسان کو عقل دی ہے۔ وہ اچھے برے کام کی تمیز کر سکتا ہے۔ کیا عجب ہے کہ مرزا قادیانی کو خدا نے الہام کے ذریعہ سے مطلع فرما دیا ہو اور مرزا قادیانی باوجود الہام کے بھی اپنے ارادہ سے باز نہ آئے ہوں تو پس الہام کے ہونے سے تو ہم بھی انکار نہیں کرتے۔ الہام تو سب کو ہوتا ہے۔ انسان کو اس کی بری باتوں کی طرف ملہم کرنے کے بعد خدا کے الہام کے خلاف کرنا یا نہ کرنا یہ اختیاری کام انسان کا ہے۔
در باغ لالہ روید و در شور بوم خس
خود اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ”ما اصابک من حسنة فمن اللہ وما اصابک من سیئة فمن نفسک (النساء:٧٩)“ ”جو بھلائی تجھ کو پہنچتی ہے، وہ تو اللہ کی طرف سے ہے اور جو برائی تجھ کو پہنچتی ہے وہ تیرے گناہ کی شامت ہے۔“ یہ امر کہ انسان کوئی برا کام کرتا ہے تو وہ اس کے شامت اعمال سے کیوں منسوب کیا گیا ہے۔ یہاں تفصیل سے بیان نہیں کیا گیا کیونکہ وہ ہماری بحث سے متعلق نہیں ہے۔ خلاصہ یہ کہ ”فالہمھا فجورھا وتقواھا (شمس:٨)“
٧٢
کے بعد انسان فسق و فجور میں مبتلا ہو جائے تو یہ اس کا قصور ہوتا ہے۔ مگر وہ خاص الہام جو خاص بندگان خدا کو غیر از نبی کے ہوتا ہے، وہ تو بموجب حدیث شریف صحیح بخاری اور صحیح مسلم کے بجز حضرت عمرؓ کے آنحضرت ﷺ کی امت میں سے اور کسی کو نہیں ہو سکتا۔
چنانچہ وہ حدیث شریف یہ ہے ”قال رسول اللہ ﷺ لقد كان فيما قبلكم من الامم محدثون فان يك فى امتى احد فانه عمر (مشكوة ص٥٥٦) “ فرمایا رسول خدا ﷺ نے کہ البتہ پہلی امتوں میں ایسے لوگ ہوتے تھے جن کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے الہام ہوتا تھا اور نیک بات ان کے دلوں میں پڑ جاتی تھی۔ سو اگر ایسا میری امت میں کوئی ہوگا تو وہ عمرؓ ہیں۔“
اس حدیث سے مرزا قادیانی کو اور ان کے فرقہ کے لوگوں کو انکار نہیں ہو سکتا۔ کیونکہ حضرت موصوف نے متعدد تصانیف میں یہ امر قبول کیا ہے کہ صحیح بخاری اصح الکتب ہے اور صحیح مسلم کو بھی میں مانتا ہوں اور جبکہ یہ حدیث دونوں اصح الکتب سے نقل کی گئی ہے تو فرقہ قادیانیوں کو اس سے انکار نہیں ہو سکتا اور اس حدیث سے یہ بات بخوبی ثابت ہے کہ وہ نیک الہام جس کا درجہ وحی کے بعد ہے اور بجز پہلی امتوں کے نیک لوگوں کے آنحضرت ﷺ کی امت میں سے سوا حضرت عمرؓ کے کسی کو نہیں ہو سکتا۔ مرزا قادیانی کو تو نہیں ہو سکتا تھا۔ کیونکہ مرزا قادیانی امت محمدی سے خارج نہیں ہیں اور مجددیت کا ان کو امت محمدیہ ﷺ میں ہونے کا دعویٰ ہے تو اس صورت میں سب قادیانی حضرات کو ماننا پڑے گا کہ وہ الہام جس کا ذکر اس حدیث میں ہے، امتیان محمد رسول اللہ ﷺ میں سے اور تو کسی کو ہو نہیں سکتا تھا اس الہام سے تو اللہ تعالیٰ نے خاص حضرت عمرؓ ہی کو معزز فرمایا تھا۔
جس سے حضرت عمرؓ کا مرتبہ ظاہر ہوتا ہے تو جو الہام مرزا قادیانی کو ہوتا تھا وہ کوئی خاص الہام نہ تھا بلکہ جو الہام سب کو ہو سکتا تھا۔ اسی قسم کا الہام ان کو بھی ہوتا ہوگا۔ تو اس صورت میں مرزا قادیانی کا یہ کہنا کہ مجھے الہام ہوتا ہے، کوئی فخر کی بات نہیں۔ ہاں البتہ فخر خاص الہام کا حضرت عمرؓ کو ہے اور اس امر کا ثبوت کہ اس الہام کے بموجب اکثر اوقات امیر المومنین حضرت عمرؓ کی زبان مبارک سے جو بات نکلی آخر وحی بھی اسی طرح رسول اکرم ﷺ پر نازل ہوئی۔ اس موقع پر ان سب کا ذکر ہماری بحث سے غیر متعلق ہے۔
غرضیکہ مرزا قادیانی کے الہام کی کوئی غیر معمولی وقعت نہیں ہو سکتی۔ مرزا قادیانی نے خود یہ تحریر فرمایا ہے (ص٩ عقائد احمدیہ) کہ جبکہ سید عبد القادر (غوث الاعظم) جیلانی جیسے اہل اللہ اور مرد فرد کو شیطانی الہام ہوا تو عامۃ الناس جنہوں نے ابھی اپنا سلوک بھی تمام نہیں کیا وہ کیونکر اس
٧٣
سے بچ سکتے ہیں ۔“ اس بیان سے ظاہر ہے کہ شیطانی الہام ہوا کرتا ہے اور خصوصاً حضرت عبدالقادر جیلانی کو شیطانی الہام کا ہونا مرزا قادیانی قبول فرما کر بطور دلیل کے حجت پیش کرتے ہیں تو میں بھی انہی کا قول ان کے الہام کے متعلق پیش کر کے کہتا ہوں کہ کیا عجب ہے کہ خود مرزا قادیانی شیطانی الہام کی وجہ سے غلطی پر پڑ کر تمام دنیا کے مانے ہوئے سچے اصول اور مطالب کے خلاف اپنے آپ کو ظلی نبی کہتے ہوں۔
حضرت عبدالقادر جیلانی جیسے بزرگ کو کہ جن کی بزرگی کا مرزا قادیانی کو بھی اعتراف ہے، شیطانی الہام ہوا تھا اور شیطان نے دھوکہ دینا چاہا تو مرزا قادیانی کو شیطانی الہام کا ہونا اور شیطان کا دھوکہ دینا کچھ عجب نہیں ہے۔ بظاہر تو یہی معلوم ہوتا ہے کہ جو کچھ ان کو الہامات ہوئے، وہ از قبیل الہامات شیطانی تھے۔ اس لئے کہ قرآن کریم اور حدیث شریف کے اور جمہور علماء کرام سابق و حال کے خلاف نئی نبوت کی بدعت نکال کر مسلمانوں میں ایک رخنہ ڈالنا ثابت کرتا ہے کہ وہ شیطانی الہامات تھے۔ اگر مرزا قادیانی یا اور کوئی کسی کو مار ڈالے اور بیان کرے کہ مجھے ایسا کرنے کے لئے الہام ہوا تھا تو کیا اس الہام کو کوئی منصف مزاج قبول کرے گا؟ نہیں کرے گا۔ بلکہ یہی کہے گا کہ مجھے شیطانی الہام ہوا ہوگا۔
اسی طرح مرزا قادیانی کے الہام کی حالت معلوم ہوتی ہے۔ آنکھ بند کی اور عرش معلیٰ پر جاپہنچے۔ اسی طرح کے الہامات وسوسہ شیطانی سمجھے جاتے ہیں۔ ”الذی یوسوس فی صدور الناس من الجنۃ والناس“ کیا مرزا قادیانی کو خدا غیب کی باتیں بتلادیا کرتا تھا اور آئندہ زمانوں کے راز کھول دیا کرتا تھا۔ اس خاص صفت سے مرزا قادیانی ہی کو خدا نے مخصوص کر دیا تھا۔ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے اپنے حبیب پاک سے یہ فرمایا کہ ”ولو کنت اعلم الغیب لا ستکثرت من الخیر وما مسنی السوء (اعراف: ١٨٨)“ کہہ دے اور اگر میں غیب کا حال جانتا تو اپنے لئے بہت سی بھلائیاں کر لیتا اور کوئی برائی مجھے نہ چھوتی اور سورہ انعام میں آنحضرت ﷺ کو خدا نے حکم دیا ہے کہ سنادے میرے بندوں کو کہ تو غیب کا حال نہیں جانتا۔ یعنی یہ حکم ہوا ”قل لا اعلم الغیب“ کہہ دے میں غیب کی بات نہیں جانتا۔ حضرت رسول اکرم ﷺ کی زبان مبارک سے ایسے الفاظ خدا نے ہم کو سنوائے کہ جس سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ آنحضرت ﷺ نے بھی یہ دعویٰ نہیں فرمایا کہ غیب کی باتیں خدا نے مجھ پر ظاہر کر دیں۔ یہ اور بات ہے کہ موقع اور محل پر اللہ تعالیٰ اپنے نبیوں اور رسولوں پر غیب کا حال ظاہر کر دے۔ لیکن اس زور کا دعویٰ میں ایسا مقبول نبی ہوں کہ خدا غیب کی باتیں عام طور پر مجھ پر ظاہر کر دیتا ہے اور آئندہ
زمانوں کے راز مجھ پر کھول دیتا ہے۔ بجز مرزا قادیانی کے اور کسی نے نہیں کیا۔ بلکہ قرآن پاک میں رسول اکرمﷺ کو مخاطب کر کے اللہ نے فرمایا۔ ”قل انما الغیب لله“ غیب کے حال کا جاننا خداوند کریم نے اپنے لئے مخصوص کر رکھا ہے۔ لیکن بسا تعجب کہ جو بات اس مخصوص صفت کی رسول کریمﷺ کی زبان مبارک سے امتیان محمدی کو خدا نے سنائی وہ مرزا قادیانی کو عام طور پر بخش دی۔ کفار آنحضرتﷺ کی خدمت مبارک میں آیا کرتے تھے اور غیب کی باتیں دریافت کرتے تو آنحضرتﷺ متفکر ہوجاتے تھے تو وحی اترتی تھی کہ ”قل ...... ما ادری ما یفعل بی ولا بكم ان اتبع الا ما یوحیٰ الیٰ“ کہہ دے ...... میں نہیں جانتا کہ میرے ساتھ کیا کیا جائے گا اور تمہارے ساتھ کیا میں تو صرف اس کی پیروی کرتا ہوں جس کی وحی ہوتی ہے۔
میں نے صرف ایک آیت یہاں لکھی ہے۔ قرآن کریم میں متعدد آیتیں ایسی ہیں کہ جن سے ثابت ہے کہ غیب کا حال صرف خدا کو معلوم ہے۔ جائے غور ہے کہ ایسے جلیل القدر پیغمبر کو یہ نہ معلوم ہو کہ ان کے ساتھ خدا کیا سلوک کرے گا اور دوسروں کے ساتھ کیا کرے گا۔ لیکن تعجب ہے کہ مرزا قادیانی کو غیب کی ساری باتیں اور سارے راز خدا بتلا دیا کرتا تھا اور سرور الانبیاء کو غیب کے حالات پر مطلع نہ فرمایا۔ اگر غور سے دیکھا جائے تو نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ جب خداوند کریم مرزا قادیانی کو غیب کی باتیں اور راز آئندہ کے بتلا دیا کرتا تھا تو وہ غیب کی باتوں کو بتلا بھی سکتے تھے تو یہ ان کا بہت بڑا معجزہ سمجھا جاتا اور غیب کے حالات کا بتلا دینا خرق عادت میں داخل ہے تو وہ ایسے خارق عادت امور بتلا کر اپنی نبوت کا ثبوت دے سکتے تھے۔ یاد رکھنا چاہئے کہ خداوند تعالیٰ نے متعدد مقامات میں فرما دیا ہے کہ ایسے معجزہ بھی بغیر خدا کے حکم کے کوئی نہیں بتا سکتے۔ جب کفار نے آنحضرتﷺ سے معجزہ طلب کئے تو حکم ہوا۔ ”قالوا لولا انزل علیہ آیات من ربہ قل انما الآیات عند اللہ“ پھر مرزا قادیانی معجزہ کیونکر دکھلا سکتے تھے۔
ایک مرتبہ کفار آنحضرتﷺ کی خدمت اقدس میں حاضر ہوئے اور سخت قسمیں اللہ کی کھائیں کہ اگر آپ ہم کو معجزے دکھلائیں تو ہم آپ کے اوپر ایمان لاتے ہیں تو ملاحظہ فرمائیے کہ اللہ تعالیٰ نے کیا جواب دیا۔ ”واقسموا باللہ جہد ایمانہم لئن جاءتہم آیۃ لیؤمنن بہا قل انما الآیات عند اللہ وما یشعرکم انھا اذا جاءت لا یومنون“ اور قسمیں کھائیں اللہ کی سخت قسمیں کہ اگر آپ معجزہ دکھلائیں تو ہم آپ پر ایمان لائیں۔ کہہ دے معجزے تو اللہ تعالیٰ کے پاس ہیں اور اگر ان کو معجزے بتلائے بھی جائیں تو وہ ایمان نہیں لائیں گے۔
اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے بموجب پیغمبر بھی معجزے نہیں بتلا سکتے تھے۔ جب تک
٧٥
اللہ تعالیٰ کا حکم نہ ہو تو مرزا قادیانی کو کیونکر خدا اپنا راز دار کر دیتا اور غیب کی سب باتیں بتلا دیتا۔ ہم کو تو مرزا قادیانی کا یہ دعویٰ بھی محض غلط معلوم ہوتا ہے۔ تعجب ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مرزا قادیانی کو اپنا راز دار بنالیا اور شریک راز کر لیا تھا اور راز کی باتیں ان کو بتلا دیا کرتا تھا۔ لیکن سرور الانبیاء ﷺ کو راز کی باتیں نہ بتلائیں۔ صحیح بخاری میں ہے کہ جب عثمان بن مظعونؓ کا انتقال ہوا تو ام العلاء نے کہا اللہ تعالیٰ کے پاس آپ عزت دار ہو میں اس کی گواہی دیتی ہوں تو آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ اے ام العلاء تجھ کو یہ کیسے معلوم ہوا؟ میں اللہ کا پیغمبر ہوں۔ لیکن مجھے یہ معلوم نہیں کہ میرا کیا حال ہوگا اور تمہارا کیا حال ہوگا۔
تو اب فرمائیے کہ مرزا قادیانی کو خدا غیب کی باتیں کیسے بتلادیا کرتا تھا۔ فرمایا رسول ﷺ نے ”واللہ لا ادری وانا رسول اللہ ما یفعل بی ولا بکم“ میں نے سنا ہے کہ مرزا قادیانی کی پیش گوئی کے بعض ان کے معتقدین قائل ہیں کہ حضرت موصوف نے پیش گوئیاں کی ہیں۔ اگر یہ واقعہ صحیح ہے جیسا کہ میں نے سنا ہے تو وہ سب بلحاظ بحث مندرجہ بالا محض غلط ثابت ہوتا ہے اور اگر مرزا قادیانی نے ایسا بیان کیا تو اللہ پر محض اتہام لگایا۔ میں دعویٰ سے کہہ سکتا ہوں کہ مرزا قادیانی کا یہ دعویٰ محض غلط اور اللہ تعالیٰ پر بہتان تھا۔ ہرگز اللہ تعالیٰ نے ان کو راز کی باتیں نہیں بتلائیں۔ اللہ تعالیٰ نے ایسے ہی بہتان لینے والوں کی نسبت فرمایا ہے۔ ”اتقولون علی اللہ ما لا تعلمون“ کیا تم اللہ پر وہ بات (بہتان) کہتے ہو جس کو تم نہیں جانتے۔ سورہ لقمان میں خدا نے فرمایا ہے ”وما تدری نفس ماذا تکسب غدا“ اور نہیں جانتا کوئی کہ کیا کرے گا کل۔
تو مرزا قادیانی کو خدا نے کیسے مستثنیٰ فرمادیا اور غیب کی باتیں بتلائیں۔ غیب کی باتیں تو اللہ نے کسی کو نہیں بتائیں۔ اسی لئے سورہ انعام میں بھی ارشاد فرمایا۔ ”وعندہ مفاتح الغیب لا یعلمہا الا ھو“ اسی کے پاس ہیں کنجیاں غیب کی ان کو نہیں جانتا مگر وہی یعنی اللہ۔
غیب کی باتوں کو جاننے کی صفت خدا نے خاص اپنے لئے مخصوص کر رکھی ہے۔ ہمارے پیارے رسول اکرم ﷺ کی زبان مبارک سے ہم کو آگاہ فرمادیا ہے کہ ”قل انما الغیب للہ“ کہہ دے اپنی امت کو غیب کے حال کا جاننا تو خدا ہی کے لئے ہے۔ ملاحظہ ہو سورہ یونس اور پھر سورہ نمل میں ارشاد فرمایا کہ ”قل لا یعلم من فی السمٰوات والارض الغیب الا اللہ“ کہہ دے (اے محمدؐ) نہیں جانتا کوئی آسمانوں اور زمین میں غیب کی بات کو مگر اللہ اس آیت سے یہ واضح ہے کہ کوئی شخص زمین میں غیب کی بات کو نہیں جانتا۔ ”فاعتبروا یا اولی
٧٦
الابصار“ غیب دانی کی جو صفت خاص اللہ بار بار اپنے رسول مقبول ﷺ کے زبانی بندوں فرمائی۔ مرزا قادیانی کو عام طور پر ہندوں اور سکھوں سکتا ہے۔ ”ہذا بہتان عظیم“ اسی لئے ت علی اللہ الکذب “ اللہ تعالیٰ پر (جھوٹ) افتراء مرزا قادیانی مدعی ہیں کہ غیب کی باتیں خدا بتلادیتا ہ مرزا قادیانی کو ثبوت دینا چاہئے کہ وہ کن آیات کوئی ثبوت اس کا نہیں دیا ہے تو ان کا دعویٰ ”یفتری
کیا اللہ تعالیٰ نے مرزا قادیانی کا نام نبی
تیسرا دعویٰ مرزا قادیانی کا یہ ہے کہ ” موافق نبی ہوں ۔“ اگر کوئی سوال کرے کہ اس ا تعالیٰ نے نبوت پر مہر کر دی ہے۔ تو اس کا جواب رکھا کہ محمد مصطفیٰ ﷺ کی نبوت کا کمال ثابت ہو امت میں بھی وہ کمال ثابت نہ ہو اور امتی شخص پر نبو تمام کمالات اس پر ختم ہو گئے اور کمالات ظلی میں سے فیضیاب کرے اور یہ بات بغیر کسی نمونہ کے جو
اس دعویٰ پر مرزا قادیانی کے میں نے
- (١) خدا نے مرزا قادیانی کا نام نبی کیونکر اور کس دف
ثبوت ہے۔ کیا چاندی یا سونے یا ہیرے زمرد کے دے گیا یا آسمان سے وہ لوح مرزا قادیانی کے گھر ولد غلام مرتضیٰ کا نام خدا نے نبی رکھا۔“
ایسا دعویٰ تو مرزا قادیانی کا نہیں ہے تو پ سنایا؟ یہ دعویٰ بھی نہیں تو کیا خود خدا نے مرزا قادیان طرح اللہ نے نبی نام رکھا میں نے تو بہت غور کیا کہ سکتا ہے تو مجھ سے بھی خدا نے اسی طریقہ سے فرما جاتا ہے کہ مرزا قادیانی کا یہ بیان غلط ہے۔ میں س
٧٧
الابصار "غیب دانی کی جو صفت خاص اللہ تعالیٰ نے اپنے واسطے مخصوص کر رکھی ہے اور جس کو بار بار اپنے رسول مقبول ﷺ کے زبانی بندوں کو سنایا اور جو اپنے رسول مقبول کو بھی عطا نہیں فرمائی۔ مرزا قادیانی کو عام طور پر منٹوں اور پلوں میں عطا فرمادی۔ بھلا ایسے دعوے کو کوئی تسلیم کر سکتا ہے۔ "هذا بهتان عظيم" اسی لئے خدا نے قرآن پاک میں فرما دیا ہے۔ "يفترون على الله الكذب" اللہ تعالیٰ پر (جھوٹ) افتراء کرتے ہیں۔ چونکہ ان صریح آیتوں کے خلاف مرزا قادیانی مدعی ہیں کہ غیب کی باتیں خدا بتلا دیتا تھا تو "بفحوائے البينة للمدعى" مرزا قادیانی کو ثبوت دینا چاہئے کہ وہ کن آیات سے ایسا دعویٰ کرتے ہیں۔ جب کہ انہوں نے کوئی ثبوت اس کا نہیں دیا ہے تو ان کا دعویٰ "يفترون على الله الكذب" میں داخل ہے۔
کیا اللہ تعالیٰ نے مرزا قادیانی کا نام نبی رکھا؟
تیسرا دعویٰ مرزا قادیانی کا یہ ہے کہ "خدا نے میرا نام نبی رکھا، میں خدا کے حکم کے موافق نبی ہوں۔" اگر کوئی سوال کرے کہ اس امت میں نبی کس طرح ہو سکتا ہے؟ حالانکہ اللہ تعالیٰ نے نبوت پر مہر کر دی ہے۔ تو اس کا جواب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے میرا نام نبی محض اس لئے رکھا کہ محمد مصطفیٰ ﷺ کی نبوت کا کمال ثابت ہو۔ کیونکہ نبی کا کمال ثابت نہیں ہو سکتا جب تک امت میں بھی وہ کمال ثابت نہ ہو اور کسی شخص پر نبوت ختم ہونے کے صرف یہ معنی ہیں کہ نبوت کے تمام کمالات اس پر ختم ہو گئے اور کمالات عظمیٰ میں سے یہ بات ہے کہ نبی دوسروں کو بھی اس کمال سے فیضیاب کرے اور یہ بات بغیر کسی نمونہ کے جو امت میں پایا جائے، ثابت نہیں ہو سکتی۔"
اس دعویٰ پر مرزا قادیانی کے میں نے چار نمبر ڈالے ہیں۔ نمبر وار اعتراض لکھوں گا۔
- (١) خدا نے مرزا قادیانی کا نام نبی کیونکر اور کس ذریعہ سے رکھا۔ تو کچھ نہیں بتلایا گیا۔ یہ دعویٰ بے
ثبوت ہے۔ کیا چاندی یا سونے یا ہیرے زمرد کے لوح پر لکھ کر مرزا قادیانی کے ہاتھ میں کوئی فرشتہ دے گیا یا آسمان سے وہ لوح مرزا قادیانی کے گود میں گر پڑی جس پر یہ لکھا ہوا تھا "مرزا غلام احمد ولد غلام مرتضیٰ کا نام خدا نے نبی رکھا۔"
ایسا دعویٰ تو مرزا قادیانی کا نہیں ہے تو کیا حضرت جبرئیل علیہ السلام نے خدا کا حکم لا کر سنایا؟ یہ دعویٰ بھی نہیں تو کیا خود خدا نے مرزا قادیانی کے رو برو آ کر کہا؟ ایسا دعویٰ بھی نہیں پھر کس طرح اللہ نے نبی نام رکھا میں نے تو بہت غور کیا کہ یا اللہ وہ کون سا طریقہ اس طرح نام رکھنے کا ہو سکتا ہے تو مجھ سے بھی خدا نے اسی طریقہ سے فرمایا جس طرح مرزا قادیانی کا نام نبی رکھنا بیان کیا جاتا ہے کہ مرزا قادیانی کا یہ بیان غلط ہے۔ میں نے مرزا قادیانی کا نام ہرگز نبی نہیں رکھا۔ بلکہ خود
٧٧
مرزا قادیانی الفاظ حدیث کو کھینچ تان کر خود ساختہ نبی بن بیٹھے تھے۔ مرزا قادیانی کا دعویٰ تھا کہ ان کا نام اللہ نے نبی رکھا۔ ہم کہتے ہیں غلط مرزا قادیانی فرماتے ہیں کہ اللہ مجھ سے ہمکلام ہوتا ہے۔ ہم کہتے ہیں محض غلط مرزا قادیانی فرماتے ہیں کہ خدا ان کو راز کی باتیں بتلایا کرتا تھا۔ ہم کہتے ہیں محض بہتان ۔ مرزا قادیانی کے دعوؤں کا جواب میں نے تفصیل سے دیا ہے۔ ناظرین خود تصفیہ فرما سکتے ہیں کہ ان کے دعوے کس درجہ غلط اور بے بنیاد ہیں۔ کسی شخص کا حدیث کے الفاظ سے یہ نتیجہ بطور خود نکال لینا کہ فلاں لفظ کا موضوع لہ میں ہوں، یہ بالکل اختیاری امر ہے۔ اگر مرزا قادیانی نے کسی لفظ کا مدلول اپنے آپ کو قرار دے لیا اور اس لحاظ سے اپنے آپ کو نبی یا مسیح کا لقب دے لیں تو معترض پوچھ سکتا ہے کہ آپکو کیا حق ہے اور آپ دلائل پیش کریں گے۔ وہ اس پر بھی اعتراض کرے گا کہ یہ صفات آپ میں نہیں ہیں۔ تو مرزا قادیانی بجز اس کے کھینچ تان کر مطالب نکال لیں اور دور از کار تاویلات فرمالیں اور کیا جواب دے سکتے ہیں؟
جیسا کہ اب تک ہو رہا ہے۔ ممکن ہے کہ آئندہ کوئی شخص اور پیدا ہو اور ان حدیثوں کا موضوع لہ اپنے آپ کو قرار دے اس لئے کہ اب مرزا قادیانی نے نبیوں کے آنے کے لئے راستہ صاف فرما دیا ہے اور نبوت محمدی اور ظلی نبوت کو نا مختتم قرار دے دیا ہے۔ تو پھر کیا عجب ہے کہ زمانہ آئندہ میں اور حضرات بھی مدعی نبوت ہوں اور ان حدیثوں کا مدلول اور موضوع لہ اپنے آپ کو قرار دیں اور مرزا قادیانی سے بہتر اور بڑھ کر دلائل اور علامات پیش کریں۔ خود مرزا قادیانی نے تحریر فرمایا ہے کہ ”ہاں، محدث آئیں گے جو اللہ جل شانہ سے ہمکلام ہوتے ہیں اور نبوت تامہ کی بعض صفات ظلی طور پر اپنے اندر رکھتے ہیں اور بلحاظ بعض وجوہ شان نبوت کے رنگ سے رنگین کئے جاتے ہیں اور ان میں سے میں ایک ہوں۔“
اس بیان سے صاف ثابت ہے کہ ایسے لوگ بہت سے آئیں گے جو اللہ جل شانہ سے ہمکلام ہوں گے۔ جن میں سے ایک مرزا قادیانی بھی ہے۔ اسی وجہ سے میں نے اپنے لائق دوست سے سوال نمبر ٩ کیا تھا کہ آئندہ کوئی شخص پیدا ہو اور دعویٰ مہدیت اور مسیح موعود ہونے کا کرے تو اس کی نسبت آپ کیا کہیں گے، تو اس کا جواب میرے دوست نے کچھ نہیں دیا۔ لیکن مرزا قادیانی کی یہ تحریر کہ محدث آئیں گے جو اللہ جل شانہ سے ہمکلام ہوا کرتے ہیں۔ کسی آیت قرآن یا حدیث پر مبنی نہیں ہے۔ یہ ان کی ذاتی رائے ہے جو شیخین کی اس حدیث کے خلاف ہے جس کو میں اوپر لکھ آیا ہوں کہ ”لقد كان فيما قبلكم من الامم محدثون.“ پہلی امتوں میں البتہ محدثون ہوا کرتے تھے۔ لیکن حدیث مذکور کے جزو دوم کی رو سے
٧٨
امت حضرت محمد ﷺ میں صرف حضرت عمرؓ کو وہ درجہ ملا ہے۔ جیسا کہ یہ ارشاد ہے ”فان یک فی امتی احد فانہ عمر“ اس حدیث کی رو سے مرزا قادیانی کا بیان مذکورہ بالا بالکل غلط قرار پاتا ہے۔ مرزا قادیانی نے قرآنی آیات اور صحاح کی حدیثوں کیخلاف اکثر مواقع پر محض غلط بیان کیا ہے اور ان کے معتقد ان کے بیانات کو ”کالوحی من السماء“ سمجھ کر ان کے بیانات کے آگے سر تسلیم خم کر دیتے ہیں اور ”آمنا بہ کل من عند ربنا“ خیال کرتے ہیں۔ ان حضرات کو غور فرمانا چاہئے کہ اگر ان کے نبی کا بیان قرآن کے اور صحاح کی حدیثوں کے خلاف ہے تو کیا بیان قابل تسلیم ہے؟ ہرگز نہیں۔
پس صحیح بخاری اور صحیح مسلم کی حدیث مذکورہ بالا کے خلاف مرزا قادیانی کا یہ بیان کہ محدث اس امت میں بھی آئیں گے۔ جن میں ایک میں ہوں، جب غلط ثابت ہوا تو مرزا قادیانی کا دعویٰ بھی غلط ہو جاتا ہے۔ اگر ان حدیثوں کو جن کو مرزا قادیانی اپنے آپ سے منسوب کرتا ہے۔ کوئی دوسرا شخص اپنے سے منسوب کرے اور علامات و صفات مرزا قادیانی سے زیادہ اس میں ہوں اور دلائل بھی ان سے بہتر پیش کرے تو ہم کس کو سچا اور کس کو جھوٹا سمجھیں۔
اس طرح یہ نبوت تو جھگڑے میں رہے گی اور مرزا قادیانی کا یہ دعویٰ بمصداق ”اثبات الشئی لنفسہ“ باطل ہی باطل ہو جائے گا اور کوئی ثبوت اس امر کا نہیں ہے کہ مرزا قادیانی کا نام خدا نے نبی رکھا اور مرزا قادیانی خدا کے حکم سے نبی ہیں۔ بلکہ آنے والے مدعی نبوت ظلی خود مرزا قادیانی کی تکذیب کریں گے۔ نمبر ٢ کے متعلق واضح ہو کہ مرزا قادیانی کا نام اللہ تعالیٰ نے باوصف اس کے کہ نبوت پر مہر کر دی گئی تھی۔ (یا نبوت ختم کر دی گئی تھی) نبی اس لئے رکھا کہ حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی نبوت کا کمال ثابت ہو کسی طرح صحیح نہیں مانا جا سکتا۔
کیا تیرہ سو سال سے آنحضرت ﷺ کی نبوت کا کمال ثابت نہیں ہوا تھا؟ کیا بغیر نبوت کا کمال ثابت ہونے کے آج تک ساری دنیا ان کو سرور انبیاء اور خاتم النبیین مانتی چلی آ رہی ہے؟ کیا جب تک مرزا قادیانی کا نام نبی نہ رکھا جاتا آنحضرت ﷺ کی نبوت کا کمال ثابت نہ ہو سکتا تھا؟ کیا مرزا قادیانی ہی دنیا میں ایسے شخص برگزیدہ رب تھے کہ ان کے نبی ہونے کے بغیر آنحضرت ﷺ کی نبوت کا کمال ثابت نہیں ہوا تھا؟ معاف فرمائیے ہم کو تو ان باتوں کو سن کر سخت تعجب ہوتا ہے۔ کجا آنحضرت سرور کائنات ﷺ کی نبوت کا کمال اور کجا مرزا قادیانی کی قیل و قال۔
اللہ اکبر! اس ذات بابرکات کی نبوت کے کمال کا ثبوت منحصر ہو مرزا قادیانی کے نبی
٧٩
ہونے پر۔ بسا تعجب اس ذات مقدس کی نبوت کا کمال بدرجہ اتم ثبوت کو پہنچ گیا۔ اربوں مسلمانوں کا سینکڑوں سال سے اس بات پر ایمان رہا ہے کہ آنحضرت ﷺ کی نبوت کا کمال اسی وقت پایہ ثبوت کو پہنچ چکا تھا جبکہ آنحضرت ﷺ نے دعویٰ نبوت کا فرمایا۔ نمبر ٣ مرزا قادیانی کا یہ ارشاد کہ نبی کا کمال ثابت نہیں ہوتا جب تک امت میں بھی وہ کمال ثابت نہ ہو۔ سب سے زیادہ تعجب میں ڈال رہا ہے۔ وہ کمال جو ذات مقدس رسالتمآب میں ابتداء سے مثل روز روشن کے ثابت اور آفتاب سے زیادہ منور تھا۔ کیا ممکن ہے کہ اس درجہ کا کمال غلامان امت کو حاصل ہو۔
البتہ بعض صفات اس کمال کے امتیوں میں دیکھے جاسکتے ہیں نہ کہ سالم کمال اس موقع پر میری عقل حیران ہو گئی کہ مرزا قادیانی کی زبان سے یہ فقرے کیونکر نکلے۔ کیوں نہیں آسمان گر پڑا اور زمین کو زلزلہ آ گیا۔ کیا یہ ممکن ہے کہ غلامان رسول اکرم ﷺ میں وہ کمال جو ذات اقدس میں تھا، حاصل ہو۔ ناممکن بلکہ محال۔ میں باعتبار مرزا قادیانی کے بیان کے یہ دریافت کرتا ہوں کہ جب خدا نے وحی کے ذریعہ سے ان کا نام نبی رکھا اور رسالت کا لفظ خدا نے ان کی شان میں ارشاد فرمایا تو وہ ظلی نبی کس طرح ہوئے۔ وہ تو خود مستقل رسول اور نبی ہوئے۔ اللہ تو ان کو نبی اور رسول فرمائے اور مرزا قادیانی کسر نفسی سے ظلی نبی بنیں۔ یہ تو سمجھ میں نہیں آتا۔
اگر اللہ کے ارشاد کے خلاف وہ ظلی نبی بننا چاہیں تو خدا کے حکم کے خلاف کرتے ہیں۔ ان کو چاہئے تھا کہ وہ نبی کامل ہونے کا دعویٰ کرتے۔ مرزا قادیانی کو کیا اختیار ہے کہ اللہ کے کلام کے خلاف دعویٰ کریں۔ اس کے بعد مرزا قادیانی کا یہ فرمانا کہ تمام نبوتیں ختم ہوگئیں۔ مگر وہ نبوت ختم نہیں ہوئی جو چراغ نبوت سے نور لیتی ہے اور وہ نبوت مرزا قادیانی کی نبوت ہے۔ بالکل متضاد بیان ہے جبکہ خدا نے ان کا نام نبی رکھ دیا اور رسالت کا لفظ ان کی شان میں استعمال کیا تو مرزا قادیانی نے براہ مہربانی اس کامل نبوت کے اعلیٰ مرتبہ سے دست بردار ہو کر محض کسر نفسی سے خدا کے ارشاد کے خلاف نبوت حضرت رسول کریم ﷺ سے محض نور اخذ کرنے پر اکتفا فرمایا؟
یہ فیاضی مرزا قادیانی کی قابل تعریف ہے۔ ایسا انسان دنیا میں اللہ کو کہاں ملتا کہ اللہ تو اس کو کامل نبی بنائے اور وہ محض اپنی فیاضی سے خدا پر ناز کرے کہ تو نے تو مجھے نبوت کا اعلیٰ مرتبہ سرفراز فرمایا مگر میں محض اپنی فیاضی سے اس مرتبہ سے دست بردار ہوتا ہوں اور حضرت محمد ﷺ کے چراغ نبوت سے صرف نور لے کر ظلی نبی بننا گوارا کرتا ہوں۔ اے کاش کوئی اس وقت مرزا قادیانی کے پاس ہوتا اور حضرت موصوف سے کہتا کہ اے خانہ برانداز چمن کچھ تو ادھر بھی۔ اے لاڈلے نبی اللہ کے اے ناز کرنے والے نبی خدا کے اگر آپ کسر نفسی سے نبی کامل بننا نہیں چاہتے تو اس
٨٠
نبوت کو میری ہی طرف منتقل فرمادیتے کرتے اور خدا منظور کر لیتا۔
وہ موقع تو کیا لیکن میں ی میرا نام نبی اس لئے رکھا کہ چراغ نبوت محمدی یہ ہے کہ وہ منور کرے چراغ نبوت محمدی کا پھر نور کا وہ کونسا کمال ہے جو ثابت نہ تھا۔ ج نام نبی رکھا؟ اگر فرض کر لیں کہ خدا ہی نے ان مرزا قادیانی کی نبوت کا بھی ایک نور ہے ط نبوت حضرت محمد ﷺ کا ثابت ہونا کیا معنی ہے اور اس کے ساتھ ایک چھوٹا چراغ رکھ د نہیں کہہ سکتے کہ چراغ سابق کا نور اس دوسر جس طرح وہ چراغ اولین پہل رہے گا۔ لیکن یہ کوئی نہیں کہہ سکتا کہ اس دوسر بلکہ یہ ممکن ہے کہ چراغ اول کے ساتھ مل ک دوسرے چراغ سے ثابت ہونا کیا معنی؟ ہم کے نور کا کمال ثابت ہونے کے لئے اللہ چراغ نبوت محمد ﷺ کے نور کے کمال کا اضا نتیجہ خیز ہوتا۔ مگر اس دعویٰ کے تو کوئی معنی دوسری نورانی شے کی ضرورت ہے۔
البتہ اضافہ نور کے لئے مزید چ چراغ کے دوسرے چراغ روشن کر کے رو روشنی ایک چراغ سے جس طرح ثابت ہوت اس کے مقابل دوسرا چراغ رکھ دیا جائے ہیں کہ ایک ضرب انگشت کی بھی تاب نہیں ل آفتاب رسالت و نبوت سرتاپ کثیف و غیر کثیف ذرات پر یکساں پڑ رہ
نبوت کو میری ہی طرف منتقل فرما دیجئے۔ تو کیا عجب ہے کہ مرزا قادیانی اللہ سے ناز و لاڈ سے عرض کرتے اور خدا منظور کر لیتا۔
وہ موقع تو گیا لیکن میں یہ دریافت کرتا ہوں کہ مرزا قادیانی کا یہ دعویٰ کہ اللہ تعالیٰ نے میرا نام نبی اس لئے رکھا کہ چراغ نبوت محمد ﷺ کا کمال ثابت ہو، کیونکر مانا جا سکتا ہے؟ نور کا کمال یہ ہے کہ وہ منور کرے چراغ نبوت محمدی کا نور دنیا کو منور کئے ہوئے ہے اور یہی اس کا کمال ہے۔ پھر نور کا وہ کونسا کمال ہے جو ثابت نہ تھا۔ جس کے ثابت کرنے کے لئے خدا نے مرزا قادیانی کا نام نبی رکھا؟ اگر فرض کر لیں کہ خدا ہی نے ان کا نام نبی رکھا تو اس کے ساتھ پھر بھی ماننا پڑے گا کہ مرزا قادیانی کی نبوت کا بھی ایک نور ہے خواہ وہ نور چھوٹا ہو یا بڑا بہر حال نور ہوگا تو اس نور سے نور نبوت حضرت محمد ﷺ کا ثابت ہونا کیا معنی؟ ہاں البتہ یہ ممکن ہے کہ ایک بڑا چراغ روشن اور منور ہے اور اس کے ساتھ ایک چھوٹا چراغ رکھ دیا جائے تو یہ کہا جائے گا کہ روشنی میں اضافہ ہوا۔ لیکن یہ نہیں کہہ سکتے کہ چراغ سابق کا نور اس دوسرے چراغ سے ثابت ہوا۔
جس طرح وہ چراغ اولین پہلے منور تھا۔ دوسرے چراغ کے آنے کے بعد بھی منور رہے گا۔ لیکن یہ کوئی نہیں کہہ سکتا کہ اس دوسرے چراغ کے آنے سے چراغ اول کا نور ثابت ہوا۔ بلکہ یہ ممکن ہے کہ چراغ اول کے ساتھ مل کر نور کو بڑھا دے۔ چراغ اول کے نور کے کمال کا اس دوسرے چراغ سے ثابت ہونا کیا معنی؟ پس یہ دعویٰ مرزا قادیانی کا کہ چراغ نبوت حضرت محمد ﷺ کے نور کا کمال ثابت ہونے کے لئے اللہ نے میرا نام نبی رکھا، محض لغو ہے۔ اگر یہ دعویٰ ہوتا کہ چراغ نبوت محمد ﷺ کے نور کے کمال کا اضافہ کرنے کے لئے اللہ نے مجھے نبی بنا کر بھیجا تو یہ دعویٰ نتیجہ خیز ہوتا۔ مگر اس دعویٰ کے تو کوئی معنی نہیں کہ ایک منور شے کا کمال ثابت ہونے کے لئے دوسری نورانی شے کی ضرورت ہے۔
البتہ اضافہ نور کے لئے مزید نورانی شے کی ضرورت ہو سکتی ہے۔ جیسے بجائے ایک چراغ کے دوسرا چراغ روشن کر کے روشنی کا اضافہ کیا جا سکتا ہے۔ چراغ کے نور کا کمال یعنی روشنی ایک چراغ سے جس طرح ثابت ہو سکتی ہے اسی طرح اس وقت بھی ثابت ہو سکتی ہے جبکہ اس کے مقابل دوسرا چراغ رکھ دیا جائے۔ خلاصہ یہ کہ مرزا قادیانی کے دعاوی اس قدر کمزور ہیں کہ ایک ضرب انگشت کی بھی تاب نہیں لا سکتے۔
آفتاب رسالت و نبوت سرور عالم حضرت محمد ﷺ کا نور ساری دنیا پر پڑ رہا ہے اور کثیف و غیر کثیف ذرات پر یکساں پڑ رہا ہے جو ذرات غیر کثیف صاف اور شفاف ہیں۔ اس
٨١
آفتاب رسالت کے نور سے منور اور درخشاں ہیں اور کثیف ذرات درخشاں نہیں ہیں۔ لیکن جو ذرات شفاف اور صاف ہیں۔ نور اخذ کر کے منور ہوتے ہیں تو کیا ان ذرات کو آفتاب سے کوئی نسبت دی جاسکتی ہے؟ ہرگز نہیں دی جاسکتی۔ کیا اگر یہ صاف اور شفاف ذرات درخشاں نہ ہوں تو آفتاب کا کمال ثابت نہیں ہو سکتا ؟ ضرور ہو سکتا ہے۔
معلوم نہیں مرزا قادیانی کس طرح یہ فرماتے ہیں کہ چراغ نبوت حضرت محمد ﷺ کا کمال ثابت ہونے کے لئے اللہ نے ان کا نام نبی رکھا۔ اگر ہم مرزا قادیانی کو ایک ذرہ تسلیم کر لیں جیسا کہ اکثر ان کی تحریرات سے ثابت ہوتا ہے کہ وہ اپنے آپ کو آفتاب رسالت حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کے مقابلہ میں ایک ذرہ بے مقدار سمجھتے ہیں تو میں دریافت کرتا ہوں کہ کیا ذرات نہ چمکیں تو آفتاب کا کمال ثابت نہیں ہو سکتا ؟ آفتاب کا کمال نہ صرف ذرات کے چمکنے سے ثابت ہے بلکہ صد ہا ہزار ہا چیزوں سے آفتاب کا کمال ثابت ہو رہا ہے۔ سب سے بڑا کمال یہ ہے کہ ساری دنیا کو وہ منور کئے ہوئے ہے۔
اسی طرح آفتاب رسالت ساری دنیا کے شرک و بدعات کے ظلمات اور تاریکیوں پر اپنا نور توحید ڈال کر منور کئے ہوئے ہے۔ اگر ذرات نہ چمکیں تو آفتاب کے کمالات کیا ظاہر نہیں ہو سکتے؟ محض ذرات ہی کمال آفتاب کے ظہور کے باعث نہیں ہو سکتے۔ پس مرزا قادیانی کا یہ ارشاد کہ نبی کا کمال ثابت نہیں ہو سکتا جب تک امت میں بھی کمال ثابت نہ ہو، صحیح نہیں ہے۔ کتاب (عقائد احمدیہ ص ٢٠) کے دیکھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ مرزا قادیانی فرماتے ہیں: ”نبوت کے حقیقی معنوں کی رو سے بعد آنحضرت ﷺ کے نہ کوئی نیا نبی آ سکتا ہے اور نہ پرانا۔ قرآن ایسے نبیوں کے ظہور سے مانع ہے مگر مجازی معنوں کی رو سے خدا کا اختیار ہے کہ کسی ملہم کو نبی کے لفظ سے یا مرسل کے لفظ سے یاد کرے۔ میرے پر یہی کھولا گیا ہے کہ حقیقی نبوت کے دروازے خاتم النبیین کے بعد بکلی بند ہیں۔ اب نہ کوئی جدید نبی حقیقی معنوں کے رو سے اور نہ کوئی قدیم نبی آ سکتا ہے۔“
یہ عبارت جو میں نے کوٹ کی ہے۔ اول سے آخر تک خلاف قرآن شریف اور حدیث شریف کے ہے۔ یہاں نبیوں (١) کی دو قسمیں کی گئی ہیں۔ ایک حقیقی نبی اور دوسرا مجازی نبی۔ یہ تفریق بالکل من گھڑت ہے۔ اگر خدا کا ایسا منشاء ہوتا تو قرآن یا حدیث میں کہیں تو ذکر ہوتا۔ افسوس ہے کہ ایسی من گھڑت تقسیم اور تفریق کو جس کا ثبوت قرآن یا حدیث سے نہ دیا جاسکے، کون تسلیم کرے گا؟
یہ (٢) بیان بھی خلاف حدیث ہونے کی وجہ سے محض غلط ہے کہ کوئی قدیم نبی اب نہ
٨٢
رہے گا۔ میں متعدد حدیثیں اوپر لکھ چکا ہوں نئی شریعت نہ لائیں گے اور قیامت کے قریب
- (٣) یہ دعویٰ بھی غلط ہے کہ خد
کرے۔ میرے پر یہی کھولا گیا ہے۔ میں ک مرسل کے لفظ سے خدا یاد نہیں کرتا۔ کیونکہ ح صاف فرما دیا ہے: ”ولکن رسول اللہ خلاف ملہم کو نبی کے یا مرسل کے لفظ سے کیس ہے۔ آنحضرت ﷺ خاتم النبیین والمرسلین فرمایا ہے: ”وعد اللہ لا يخلف اللہ وعد ”اللہ نے وعدہ کیا ہے اللہ کبھی بات کو نہیں جانتے۔“ معلوم ہوتا ہے کہ مرزا ق داخل ہیں۔ خدا پہلے سے جانتا تھا کہ بعض لوگ گے۔ اس لئے اللہ نے ارشاد فرمایا کہ میرا وع جانتے جبکہ اللہ نے یہ وعدہ اپنے بندوں سے دی۔ پھر یہ بھی ارشاد فرما دیا کہ اللہ کا وعدہ س کرتا۔ جبکہ فی الحقیقت نبوت ختم کر دی تو پھر م براہ کرم ناظرین اس عبارت کو ذ چل کر بتلاؤں گا کہ مرزا قادیانی کی اس عبا قادیانی کو مستقل نبی اور رسول بنانے کی کوش مجازی نبی بننا چاہتے ہیں۔ لیکن بحوالہ قرآں نبی ورسول قرار دیتے ہیں اور آیت قرآنی ” لفظ رسول ہے، اس کے مدلول مرزا قادیانی ٹھ کہ مرزا قادیانی نے اللہ کا اختیار ظاہر کر کے اختیار میں کس کو کلام ہے؟ لیکن کلام ہے تو اس میں ہے کہ کوئی نبی نہیں پیدا کرے گا۔ خواہ وہ مجازی سمجھ
رہے گا۔ میں متعدد حدیثیں اوپر لکھ چکا ہوں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نازل ہوں گے لیکن وہ کوئی نئی شریعت نہ لائیں گے اور قیامت کے قریب زمانہ میں نازل ہوں گے۔
- (٣) یہ دعویٰ بھی غلط ہے کہ خدا کا اختیار ہے کہ کسی ملہم کو نبی یا مرسل کے لفظ سے یاد
کرے۔ میرے پر یہی کھولا گیا ہے۔ میں کہتا ہوں کہ میرے پر بھی یہ کھولا گیا ہے کہ ملہم کو کبھی نبی یا مرسل کے لفظ سے خدا یاد نہیں کرتا۔ کیونکہ حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی نسبت قرآن کریم میں خدا نے صاف فرمادیا ہے: ”ولکن رسول الله وخاتم النبیین“ تو پھر اللہ تعالیٰ اپنے ارشاد کے خلاف ملہم کو نبی کے یا مرسل کے لفظ سے کیسے یاد فرماتا۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں سے وعدہ فرمایا ہے۔ آنحضرت ﷺ خاتم النبیین والمرسلین ہیں۔ قرآن کریم میں متعدد مقامات پر خدا نے ارشاد فرمایا ہے: ”وعد اللہ لا يخلف اللہ وعدہ ولکن اکثر الناس لا یعلمون (روم:٦)“
”اللہ نے وعدہ کیا ہے اللہ کبھی اپنے وعدہ کے خلاف نہیں کرتا۔ لیکن اکثر لوگ اس بات کو نہیں جانتے۔“ معلوم ہوتا ہے کہ مرزا قادیانی ”ولکن اکثر الناس لا یعلمون“ میں داخل ہیں۔ خدا پہلے سے جانتا تھا کہ بعض لوگ ایسے پیدا ہوں گے کہ مجھ کو بھی وعدہ خلاف ٹھہرائیں گے۔ اس لئے اللہ نے ارشاد فرمایا کہ میرا وعدہ کبھی خلاف نہ ہوگا۔ لیکن اکثر لوگ اس بات کو نہیں جانتے جبکہ اللہ نے یہ وعدہ اپنے بندوں سے فرمالیا ہے کہ ہم نے نبوت ختم کر دی اور نبوت پر مہر لگا دی۔ پھر یہ بھی ارشاد فرما دیا کہ اللہ کا وعدہ کبھی خلاف نہیں ہوتا۔ تو اس کے بعد مجازی نبی کیسے پیدا کرتا۔ جبکہ فی الحقیقت نبوت ختم کر دی تو پھر مجاز کی بحث کہاں باقی رہ سکتی ہے۔
براہ کرم ناظرین اس عبارت کو ذہن میں رکھیں جس کو میں نے اوپر کوٹ کیا ہے۔ آگے چل کر بتلاؤں گا کہ مرزا قادیانی کی اس عبارت کے خلاف معتقدین حضرت موصوف نے مرزا قادیانی کو مستقل نبی اور رسول بنانے کی کوشش کی ہے اس عبارت کے لحاظ سے مرزا قادیانی تو مجازی نبی بننا چاہتے ہیں۔ لیکن بموجب پیراں نمی پرند و مریدان می پرانند کے معتقدین ان کو مستقل نبی و رسول قرار دیتے ہیں اور آیت قرآنی ”ارسل رسوله بالھدى (فتح:٢٨)“ میں جو لفظ رسول ہے، اس کے مدلول مرزا قادیانی ٹھہرائے گئے ہیں۔ غرضیکہ اس موقع پر یہ بتلانا مقصود تھا کہ مرزا قادیانی نے اللہ کا اختیار ظاہر کر کے اپنے آپ کو مجازی نبی اور ملہم قرار دیا ہے۔ اللہ کے اختیار میں کس کو کلام ہے؟
لیکن کلام ہے تو اس میں ہے کہ کیا اللہ اپنے وعدہ کے بعد کہ آنحضرت ﷺ کے بعد کوئی نبی نہیں پیدا کرے گا۔ خواہ وہ مجازی سمجھا جائے یا ظلی یا تشریعی یا تبع نبی پیدا کرے گا۔ اس حد
٨٣
تک تو میں لکھ سکا اب میرے قلم میں طاقت نہیں کہ مرزا قادیانی کے الفاظ کا جواب دوں صرف ایک مثال لکھ دینا کافی سمجھتا ہوں۔ ”جس کنویں سے تو پانی پیتا ہے اس میں پتھر نہ ڈال۔“ نمبر ٤ کے متعلق آپ خود خیال فرمائیں کہ کس قدر گستاخانہ لفظ آنحضرت ﷺ کی شان میں لکھا گیا ہے۔ ”اور کسی شخص پر نبوت ختم ہو جانے کے یہ معنی ہو سکتے ہیں۔“ تمام دنیا کے مسلمانوں کا مسلمہ مسئلہ ہے کہ نبوت آنحضرت ﷺ کی ذات اقدس پر ختم ہو گئی ہے اور خود مرزا قادیانی بھی اس کو تسلیم کرتا ہے۔ پھر بجائے آنحضرت ﷺ لکھنے کے یہ لکھنا کہ کسی شخص پر نبوت ختم ہونا، کیسی گستاخی ہے۔ غلامان آنحضرت ﷺ کے منہ سے ایسی مقدس ذات کے لئے لفظ شخص نکالنا نہ معلوم کس طرح گوارہ کیا گیا۔ اگر یہ لکھتے کہ آنحضرت ﷺ پر نبوت ختم ہونے کے یہ معنی ہیں تو کیا مناسب نہ ہوتا۔ اسی طرح میرے سوال نمبر ٨ کے جواب میں میرے فاضل دوست نے حضرت ابوبکرؓ اور حضرت عمرؓ کے نام کے ساتھ نہ تو لفظ حضرت استعمال کیا ہے اور نہ رضی اللہ عنہ تحریر فرمایا ہے۔
لیکن مرزا قادیانی کے نام کے ساتھ علیہ الصلوٰۃ والسلام تحریر فرمایا ہے۔ اگر عمداً ایسا کیا گیا ہے تو میں کہوں گا کہ اللہ تعالیٰ کے ارشاد کے خلاف کیا گیا۔ کیونکہ حضرت ابوبکرؓ کی تو وہ شان ہے کہ خدا نے ”ثانی اثنین اذ هما فی الغار“ فرمایا ہے اور قرآن شریف میں اللہ تعالیٰ نے اکثر مقامات پر ان صحابہ کو بہشتی ہونے کی بشارت دی ہے جو اس آیت کے منشاء میں داخل ہے۔
”الذین امنوا وهاجروا وجاهدوا فی سبیل الله باموالهم وانفسهم اعظم درجة عندالله واولئک هم الفائزون یبشرهم ربهم برحمة منه ورضوان وجنت لهم فیها نعیم مقیم خالدین فیها ابدا ان الله عنده اجر عظیم (توبہ:٢٠، ٢١، ٢٢)“ ﴿وہ لوگ جو اللہ پر ایمان لائے اور اللہ کی راہ میں ہجرت کی اور جہاد کیا اپنے مالوں اور جانوں کے ساتھ، ان کے درجہ اللہ کے پاس بہت بڑے ہیں اور یہی لوگ ہیں مرادوں کو پانے والے اللہ تعالیٰ ان کو بشارت دیتا ہے رحمت کی اور بہشت اور جنت ان کے لئے ہے جس میں وہ نعمتیں پائیں گے اور مقیم ہوں گے اور اس میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے اور اللہ کے پاس ان کے لئے بڑے اجر ہیں۔﴾
١؎ امیر المومنین حضرت ابوبکر صدیقؓ نے آنحضرت ﷺ کے ساتھ ہجرت فرمائی اور جہاد میں شریک رہے۔
٨٤
ایک اور مقام پر ارشاد ہوا ہے ”والذین اتبعوا هم باحسان رضی الله عنهم ورضوا عنه (توبہ:١٠٠) ” وہ لوگ جنہوں نے نیکی سے اطاعت کی اللہ تعالیٰ ان سے راضی ہوا اور وہ اللہ سے راضی ہوئے۔“ پس خیال فرمائیں کہ جن کی نسبت اللہ تعالیٰ رضی اللہ عنہم فرمائے ان کی نسبت آپ کا رضی اللہ عنہ نہ لکھنا اللہ کے ارشاد کے خلاف ہے یا نہیں؟ خلفائے راشدین، عشرہ مبشرہ میں سے ہیں اور ہمارے پاس بعد الانبیاء انہی کا رتبہ ہے۔ ان کے ناموں کے ساتھ حضرت، رضی اللہ عنہ نہ لکھنا بہت تعجب اور افسوس کے قابل ہے۔ نمبر (٤) کا جواب دینا نامناسب معلوم ہوتا ہے۔ اس کا جواب بھی نمبر ٣،٢،١ سے مل جائے گا۔؎
آنحضرت ﷺ بیشک خاتم النبیین تھے
اور ان کے بعد کوئی نبی نہیں نہ ظلی نہ تبع
اب میں قرآن شریف کی اس آیت کی طرف توجہ دلاتا ہوں جس سے قریب قریب جملہ مسلمان واقف ہیں۔ یعنی ”ماكان محمد ابا احد من رجالكم ولكن رسول الله و خاتم النبیین (احزاب:٤٠) “ سیاق عبارت صاف بتلا رہی ہے کہ آنحضرت ﷺ کے بعد پھر کوئی نبی نہ ہوگا۔ خاتم کا لفظ قرآن شریف میں بالفتح ہے۔ فصحائے عجم لفظ خاتم کو بالکسر نہیں استعمال کرتے ہیں بلکہ بالفتح استعمال کرتے ہیں۔ لغات میں لفظ خاتم بالفتح و بکسر دونوں صحیح بتلائے گئے ہیں اور محققین کہتے ہیں کہ خاتم بروزن طابع جو وزن اسم آلہ کا ہے بمعنی ”ما یختم بہ “ اور ”عالم بفتح لام“ بمعنی ”ما یعلم بہ“ اور اگر زیر سے پڑھیں تو اسم فاعل کے معنی یعنی ختم کرنے والے کے ہیں۔
قرآن مجید میں بالفتح ہے اور بالفتح پڑھنے کی تاکید حضرت علیؓ نے بھی فرمائی ہے۔ جیسا کہ ابی عبدالرحمن بن سلمی سے مروی ہے کہ ”كنت أقرئ الحسن والحسين فمر بی علی بن ابی طالب وانا اقرئهما فقال لى اقرهما خاتم النّبيين بفتح التاء“ بیشک لفظ خاتم کے معنی مہر کے یا انگشتری کے ہیں۔ مگر تمامی علمائے عرب وعجم ومصر وشام وروم و افریقہ نے اس موقع پر بلحاظ سیاق عبارت مطلب ختم کرنے والے کا لیا ہے اور ان ممالک کے علماء جن کی مادری زبان عربی تھی اور اپنی زبان کے حاکم مانے جاتے تھے۔
؎ اس آیت کے پہلے کی عبارت قرآن یہ ہے ”والسّبقون الاولون من المهجرین والانصار“
٨٥
تیرہ سو سال سے یہی مطلب لیتے چلے آئے ہیں تو مرزا قادیانی کو جو ملک ہند میں پیدا ہوئے اور جن کی مادری زبان عربی نہیں۔ فصحائے عرب و عجم کے لئے ہوئے مطالب سے کس طرح اختلاف کر سکتے ہیں اور ان کو کیا حق ہے کہ غیر زبان میں دخل در معقولات کریں۔ عربی پڑھ لینا اور بات ہے اور اہل زبان ہونا اور بات ہے۔ اگر یہ مان لیا جائے کہ لفظ خاتم کے معنی مہر کے اس موقع پر بھی لئے جائیں گے۔ تب بھی علماء کا منشاء فوت نہیں ہوتا۔ مہر کرنے سے غرض یہ ہوتی ہے کہ مضمون بند کر دیا جائے۔
جب مضمون ختم ہوتا ہے تو لکھنے والا مہر کر دیتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ عبارت ختم ہو گئی اور اس کے بعد اگر مضمون زیادہ کیا جائے تو وہ داخل جعل ہو گا۔ اسی طرح لفافہ پر مہر ہو جاتی ہے اس سے غرض یہ ہوتی ہے کہ لفافہ بند کر دیا گیا ہے اور آئندہ کوئی شخص لفافہ کھول کر کوئی نیا مضمون داخل نہ کرنے پائے۔ زمانہ نبوت میں آنحضرت ﷺ کے فرامین پر آنحضرت ﷺ کی مہر ہوا کرتی تھی۔ یہ رواج بہت قدیم سے چلا آتا ہے۔ پس اگر مہر کے معنی بھی لئے جائیں تو سیاق عبارت اور کلام الٰہی کا منشاء یہی ہے کہ آنحضرت ﷺ نبوت کے ختم کرنے والے ہیں۔ قرآن پاک میں استعارات اور کنایات اکثر مقامات پر ہیں۔ چنانچہ خدا نے کافروں کو مردوں سے تعبیر کیا ہے۔
"لا تسمع الموتی ولا تسمع الصم الدعاء اذا ولوا مدبرین (روم:٥٢)"
اس آیت میں کافروں کو موتی کے لفظ سے یاد کیا گیا ہے اور سورۃ انعام میں بھی ”انما يستجيب الذین يسمعون والموتى يبعثہم اللہ ثم الیہ يرجعون (الانعام:٣٦)“ کافروں کو موتی کے لفظ سے تشبیہ دی گئی ہے۔ سیاق عبارت بڑی چیز ہے۔ منشاء سیاق عبارت کا صاف بتلا رہا ہے کہ آنحضرت ﷺ کے بعد کوئی نبی نہ ہو گا۔ الفاظ ظلی نبی اور تبع نبی، اللہ کے کلام میں نہیں ہیں۔ یہ الفاظ انسان کے تراشیدہ ہیں۔ اگر منشائے خدا تعالیٰ کا ظلی نبی پیدا کرنے کا ہوتا تو صاف الفاظ میں حکم ہوتا۔ خدا تعالیٰ ایسا موقع ہی اپنے بندوں کو نہ دیتا کہ من مانے نبی بن جائیں۔
اگر لفظ خاتم کے معنی مہر کے لئے جائیں اور وہ تعبیر کی جائے جو مرزا قادیانی نے فرمائی ہے تو نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ آئندہ بہت سے نبی پیدا ہوتے چلے جائیں گے۔ کیونکہ لفظ نبیین سے بہت سے نبی آ سکیں گے اور حضرت سرور عالم ﷺ مہر ان نبیوں کے ٹھہریں گے۔ چونکہ حدیث کی رو سے مسیح کا پیدا ہونا ضرور ہے۔ بموجب استدلال میرے لائق دوست کے، حضرت رسول اکرم ﷺ نے اس مسیح کے نسبت نبی اللہ کا لفظ ارشاد فرمایا ہے تو آپ کی مہر گویا اس کے اثبات پر ہو گئی اور جس کو رسول اکرم ﷺ نبی فر
میں کہتا ہوں کہ اگر آنحضر مرزا قادیانی ہیں تو قرآن شریف میں حدیث کی رو سے آئندہ تو صرف ای آنحضرت ﷺ نے نبی اللہ کا لفظ ارشاد ہے۔ آنحضرت ﷺ کے ارشاد کے بمو نہیں۔ اس لئے خاتم النبی یعنی مہر نبی استعمال ہوا ہے تو بعد مرزا قادیانی کے ا ہے کہ مسیح موعود کے پیدا ہونے کے متعل لفظ بھی استعمال ہوا ہے۔ ممکن ہے کہ وہ موعود نہیں کہہ سکتا اور نہ معلوم آئندہ کتنے ممکن ہے کہ ان میں کوئی وہ آئے گا اور اگر لفظ خاتم النبیین اگلے تما لئے مہر کیونکر ہو سکتے ہیں۔ ان پر تو خود خد بعد آنحضرت ﷺ مہر نبیوں کے کیونکر ہ ہیں اور اگلوں نے دونوں سے وہ الفاظ خا السابقین والآخر" ارشاد ہوتا یا "خ مہاجرین کے شان میں خدا نے فرمایا ہے والانصار والذين اتبع ورضوا عنه (توبه:١٠٠)"
- مہاجرین اور انصار میں س
نے نیکی کے ساتھ ہجرت کی۔ اللہ ان س عبارت نہیں ہے اور سیاق عبارت صاف دے کہ ”اکملت لکم دینکم“ یعنی تمہارا ہوا کہ ”محمد رسول الله خاتم النب کرنے والے۔
پر ہوگی اور جس کو رسول اکرمﷺ نبی فرمادیں وہ ضرور نبی ہے۔
میں کہتا ہوں کہ اگر آنحضرتﷺ کا ارشاد صرف مسیح موعود کے لئے ہے اور وہ مسیح مرزا قادیانی ہیں تو قرآن شریف میں لفظ نبیین ارشاد نہ فرمایا جاتا۔ بلکہ خاتم النبی ہوتا۔ کیونکہ حدیث کی رو سے آئندہ تو صرف ایک ہی مسیح آنے والے قرار پائیں گے۔ جن کی نسبت آنحضرتﷺ نے نبی اللہ کا لفظ ارشاد فرمایا ہے۔ تو پھر نبیوں کی مہر بیان کرنے کا کیا موقع ہو سکتا ہے۔ آنحضرتﷺ کے ارشاد کے بموجب کوئی دوسرا نبی بجز مسیح موعود کے آنے والا تو ہے ہی نہیں۔ اس لئے خاتم النبی یعنی مہر نبی کی ارشاد ہوتا۔ معلوم ہوتا ہے کہ جب لفظ خاتم النبیین استعمال ہوا ہے تو بعد مرزا قادیانی کے اور بھی نبی آنے والے ہیں۔ تو اس صورت میں یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ مسیح موعود کے پیدا ہونے کے متعلق جو ارشاد رسول کریم کا ہوا ہے اور جس کی نسبت نبی اللہ کا لفظ بھی استعمال ہوا ہے۔ ممکن ہے کہ وہ کوئی اور ہو۔ مرزا قادیانی کو کوئی خصوصیت کے ساتھ مسیح موعود نہیں کہہ سکتا اور نہ معلوم آئندہ کتنے سو نبی یا کتنے ہزار نبی ایسے آنے والے ہوں گے۔
ممکن ہے کہ ان میں کوئی وہ ہو جس کی نسبت پیشین گوئی کی گئی ہے کہ ایک مسیح موعود آئے گا اور اگر لفظ خاتم النبیین اگلے تمام نبیوں سے متعلق سمجھا جائے تو آنحضرتﷺ ان کے لئے مہر کیونکر ہو سکتے ہیں۔ ان پر تو خود خدا نے نام لے کر تصدیق کی مہر لگا دی ہے۔ اللہ کی مہر کے بعد آنحضرتﷺ مہر نبیوں کے کیونکر ہوتے اور اگر پچھلے آنے والے نبی سے جیسے مرزا قادیانی ہیں اور اگلوں سے دونوں سے وہ الفاظ خاتم النبیین کے متعلق ہوتے تو ”خاتم النبیین السابقین والآخر“ ارشاد ہوتا یا ”خاتم النبیین الاولین والتابعین“ ہوتا۔ جیسا کہ مہاجرین کے شان میں خدا نے فرمایا ہے۔ ”والسابقون الاولون من المهاجرین والانصار والذین اتبعوہم باحسان رضی اللہ عنہم ورضوا عنہ (توبہ:١٠٠)“
مہاجرین اور انصار میں سے جن لوگوں نے پہلے ہجرت کی اور ان کے بعد جنہوں نے نیکی کے ساتھ ہجرت کی۔ اللہ ان سے راضی ہوا اور وہ اللہ سے راضی ہوئے۔ جب کہ ایسی عبارت نہیں ہے اور سیاق عبارت صاف یہ بتا رہی ہے کہ اللہ کو یہ منظور تھا کہ عام طور پر ظاہر فرما دے کہ ”اکملت لکم دینکم“ یعنی تمہارے اوپر تمہارے دین کو میں نے کامل کر دیا اور پھر ارشاد ہوا کہ ”محمد رسول اللہ خاتم النبیین“ یعنی محمدﷺ اللہ کے رسول ہیں اور نبیوں کے ختم کرنے والے۔
پس اس قدر صاف و صریح الفاظ کو جو مطلب خیز بھی ہیں، پیچدار کرنا اور دلائل اور براہین سے اپنے مفید مضامین اور معنی نکالنے کی کوشش کرنے کی ضرورت کیا ہے۔ اس لئے خدا نے فرما دیا ہے ”ذلک بان الذین کفروا اتبعوا الباطل وان الذین امنوا اتبعوا الحق من ربهم (محمد:٣) “ ”یہ کہ جو منکر ہیں وہ جھوٹی بات پر چلے اور جو یقین لائے انہوں نے سچی بات مانی جو اللہ کی طرف سے ہے“۔ پھر ایک مثال ہے: ”جو مجمل اور ذو معنی بات ہے تو اس کی تاویلات سے درگزر کر اگرچہ کہ وہ سچی ہوں“ اس مثل کے بموجب بھی مرزا قادیانی کو ساکت ہو جانا چاہئے تھا۔ بخلاف اس کے ایسے الفاظ کو انہوں نے آلہ نبوت بنا لیا۔ اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کو پیش نظر رکھنا فرض ہے۔ ”یااھل الکتب لا تغلوا فی دینکم ولا تقولوا علی اللہ الا بالحق (مائدہ:٧٧) “ خداوند کریم کا صاف ارشاد ہے کہ ”اے اہل کتاب اپنے دین کے امور میں ہرگز غلو مت کرو اور اللہ کے اوپر غلط بات مت کہو مگر سچی بات“۔ اللہ تعالیٰ کو معلوم تھا کہ دین محمدی میں ایسے لوگ پیدا ہوں گے جو غلو کریں گے۔ اسی لئے اور مقامات پر بھی ”لا تغلوا فی الدین“ ارشاد فرمایا بر خلاف ارشاد باری تعالیٰ کے غلو کرتے ہیں۔
یہ تعجب کی بات ہے کہ مرزا قادیانی اپنی متعدد تصانیف میں یہ جتاتے جاتے ہیں کہ نبوت آنحضرت ﷺ پر ختم ہوگئی اور اس پر میرا ایمان ہے اور پھر لفظ خاتم کی تاویلات کر کے اس بات کے ثابت کرنے کی بھی کوشش فرماتے رہے ہیں کہ لفظ خاتم بالکسر نہیں ہے۔ اس لئے نبی کا آنا ممکن ہے۔ مرزا قادیانی کی تحریرات میں اجتماع نقیضین پایا جاتا ہے۔ ایک طرف تو یہ فرمایا جاتا ہے کہ آنحضرت خاتم النبیین ہیں۔ اس کے خلاف کہنے والے پر خدا کی لعنت بھیجتے ہیں اور دوسری طرف بزعم خود دو ایک حدیث اور مختلف بزرگوں کے اقوال لے کر ظلی نبی بننے کی کوشش کرتے ہیں۔
تردید دلائل مرزا قادیانی اور تشریح ان اقوال کی جن کو
مرزا قادیانی نے اپنی نبوت کے ثبوت میں پیش کیا
ابن ماجہ کی ایک حدیث سے استدلال کیا جاتا ہے کہ ”ولو عاش ابراهیم لکان صدیقاً نبیا (ابن ماجہ ص١٠٨) “ یعنی اگر میرا بیٹا ابراہیم زندہ ہوتا تو سچا نبی ہوتا۔ اس سے یہ استدلال کیا جاتا ہے کہ اگر آنحضرت ﷺ خاتم النبیین تھے تو آپ کے صاحبزادہ نبی کیونکر
٨٨
ہوتے۔ میں کہتا ہوں کہ نبی کے بیٹے کا نبی ہونا عجب ن ہاں۔ اگر آنحضرت ﷺ نے ایسا ارشاد فرمایا تو بجا ارشاد نبی ہوتے۔ چونکہ اللہ تعالیٰ کو تو یہ منظور تھا کہ آپ خاتم حضرت ابراہیم نہ زندہ رہے نہ نبی ہوئے۔ اسی طرح کی ترمذی کی ہے۔
”لوکان بعدی نبی لکان عمر بن ال میرے بعد کوئی نبی ہوتا تو عمر ہوتا۔ تو کیا اس ارشاد سے بلکہ اس سے حضرت ابراہیم صاحبزادہ رسول اکرم ﷺ اس درجہ کی فضیلت تھی اور ایسے ان کے مراتب ہیں کہ نے نبوت کا خاتمہ تو آنحضرت ﷺ کی ذات بابرکات ابراہیم زندہ رہے اور نہ حضرت عمر نبوت سے سرفراز ہو نتیجہ نکلتا ہے کہ آنحضرت ﷺ کے بعد کوئی نبی نہ ہوگا۔
حضرت علی کا قول
مرزا قادیانی نے اپنی نبوت کے ثبوت میں میں اوپر لکھ چکا ہوں کہ لفظ خاتم کو بالفتح پڑھانے کی اس اور حسن پڑھ رہے تھے۔ اس سے وہ نتیجہ یہ نکالتے ہیں بالکسر پڑھنے سے لوگوں کو دھوکہ ہوگا اور نبوت کو ختم سمجھیں اس لئے حضرت علی بالفتح پڑھانے کی تاکید فرمائی۔ ہم کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام قریب قیامت پھر آنے پڑھانے سے منع فرمایا۔ ہم یہ بھی کہہ سکتے ہیں کہ خاتم اور حضرت علی اس خیال سے کہ خاتم بمعنی مہر ہے اور بال نبی کے آنے کی تردید ہوتی ہے۔ بالفتح پڑھنے کا حکم قادیانی کے خیال کی تائید نہیں ہوتی۔
حضرت عائشہ کا قول
اسی طرح حضرت عائشہ کا قول مرزا قادیاں جاتی تو حضرت عائشہ یہ نہ فرماتیں کہ ”قولوا انه خا
٨٩
ہوتے۔ میں کہتا ہوں کہ نبی کے بیٹے کا نبی ہونا عجب نہیں ہے۔ پہلے بھی نبی کے بیٹے نبی ہوئے ہیں۔ اگر آنحضرت ﷺ نے ایسا ارشاد فرمایا تو بجا ارشاد فرمایا۔ اگر حضرت ابراہیم زندہ ہوتے تو نبی ہوتے۔ چونکہ اللہ تعالیٰ کو تو یہ منظور تھا کہ آپ خاتم النبیین کے اعلیٰ لقب سے ملقب ہوں۔ حضرت ابراہیم نہ زندہ رہے نہ نبی ہوئے۔ اسی طرح کی ایک حدیث مجھے یاد آئی ہے۔ سنئے جو صحیح ترمذی کی ہے۔ ”لوکان بعدی نبی لکان عمر بن الخطاب (ترمذی ج ٢ ص ٢٠٩)“ اگر میرے بعد کوئی نبی ہوتا تو عمر ہوتا۔ تو کیا اس ارشاد سے آپ کے بعد نبی کا آنا لازم ہو جاتا ہے۔ بلکہ اس سے حضرت ابراہیم صاحبزادہ رسول اکرم ﷺ اور حضرت عمر کی فضیلت ثابت ہوتی ہے کہ اس درجہ کی فضیلت تھی اور ایسے ان کے مراتب ہیں کہ نبی ہونے کے لائق تھے۔ لیکن کاتب ازل نے نبوت کا خاتمہ تو آنحضرت ﷺ کی ذات بابرکات پر موقوف کر دیا تھا۔ اس لئے نہ حضرت ابراہیم زندہ رہے اور نہ حضرت عمر نبوت سے سرفراز ہوئے بلکہ مرزا قادیانی کے بیان کے خلاف یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ آنحضرت ﷺ کے بعد کوئی نبی نہ ہوگا۔
حضرت علی کا قول
مرزا قادیانی نے اپنی نبوت کے ثبوت میں حضرت علی کا وہ قول بھی پیش فرمایا جس کو میں اوپر لکھ چکا ہوں کہ لفظ خاتم کو بالفتح پڑھانے کی اس وقت ہدایت فرمائی جبکہ حضرت امام حسنؓ اور حسینؓ پڑھ رہے تھے۔ اس سے وہ نتیجہ یہ نکالتے ہیں کہ حضرت علی کو خوف تھا کہ لفظ خاتم کے بالکسر پڑھنے سے لوگوں کو دھوکہ ہوگا اور نبوت کو ختم سمجھیں گے۔ چونکہ ظلی نبوت ختم نہیں ہوئی تھی اس لئے حضرت علی نے بالفتح پڑھانے کی تاکید فرمائی۔ ہم یہ کہتے ہیں کہ حضرت علی کو یہ بات معلوم تھی کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام قریب قیامت پھر آنے والے ہیں۔ اس لئے انہوں نے بالکسر پڑھانے سے منع فرمایا۔ ہم یہ بھی کہہ سکتے ہیں کہ خاتم بمعنی مہر کے ہیں اور مہر آخر پر ہوا کرتی ہے اور حضرت علی اس خیال سے کہ خاتم فصیح لفظ ہے اور بالفتح پڑھنے سے اور شدت کے ساتھ دوسرے نبی کے آنے کی تردید ہوتی ہے۔ بالفتح پڑھنے کا حکم دیا ہو۔ حضرت علی کے ارشاد سے بھی مرزا قادیانی کے خیال کی تائید نہیں ہوتی۔
حضرت عائشہ کا قول
اسی طرح حضرت عائشہ کا قول مرزا قادیانی نقل کرتے ہیں کہ اگر نبوت ہر قسم کی ختم ہو جاتی تو حضرت عائشہ یہ نہ فرماتیں کہ ”قولوا انه خاتم الانبیاء ولاتقولوا لا نبی بعدہ
٨٩
(در منثور ج ٥ ص ٢٠٤) ”یعنی یہ کہو کہ آنحضرت ﷺ خاتم الانبیاء ہیں لیکن یہ نہ کہو کہ آنحضرت ﷺ کے بعد کوئی نبی نہیں۔
حضرت مغیرہؓ اور حضرت عائشہؓ کے اقوال
اسی طرح مغیرہ ابن شعبہ کا قول وہ نقل کرتے ہیں کہ کسی نے مغیرہ کے سامنے یہ کہا کہ ”صلی اللہ علی محمد خاتم الانبیاء لا نبی بعدہ“ تو مغیرہ نے ”لا نبی بعدہ“ کہنے سے منع کیا۔ یہ بالکل سچ کہا اور حضرت عائشہؓ نے بھی بالکل سچ فرمایا۔
حضرت عائشہؓ کے قول کا منشاء تھوڑا سا بار دماغ پر ڈالا جائے تو معلوم ہو جائے گا کہ حضرت عائشہؓ کے قول کے دو جز ہیں۔ یعنی ”قولوا انہ خاتم الانبیاء“ ایک جزو ہے اور دوسرا جزو ”ولا تقولوا لا نبی بعدہ“ جز اول سے مرزا قادیانی بھی ہمارے ساتھ متفق ہیں۔ اس میں کوئی بحث نہیں ہے۔ البتہ جزو دوم کی وجہ سے مرزا قادیانی یہ فرماتے ہیں کہ جب حضرت عائشہؓ نے فرمایا کہ ”ولا تقولوا لا نبی بعدہ“ یعنی یہ مت کہو کہ آنحضرت ﷺ کے بعد کوئی نبی نہیں تو اس سے لازمی طور پر یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ آئندہ نبی کا پیدا ہونا ممکن ہے۔ اسی طرح حضرت عائشہؓ نے منع فرمایا اور اگر کوئی نبی آئندہ پیدا ہونے والے نہ ہوتے تو منع نہ فرماتیں۔
اصل واقعہ یہ ہے کہ عوام کی زبان پر بجائے اس فصیح فقرہ کے یعنی جزو اول خاتم الانبیاء کے ایک غیر فصیح فقرہ عورتوں کی اور عوام کی زبان پر چڑھ گیا تھا۔ یعنی ”لا نبی بعدہ“ آنحضرت ﷺ کے بعد کوئی نبی نہیں تو حضرت عائشہؓ نے جو نہایت عاقلہ اور فصیحہ تھیں، لوگوں کو اس غیر فصیح فقرہ کے کہنے سے روکا اور فرمایا کہ یہ کیا جملہ تم لوگ ”لا نبی بعدہ“ کہا کرتے ہو۔ کیوں نہیں وہ فصیح جملہ استعمال کرتے جو اللہ تعالیٰ کا فرمایا ہوا ہے اور ہدایت فرمائی کہ ”قولوا انہ خاتم الانبیاء ولا تقولوا لا نبی بعدہ“ یعنی اس طرح کہو کہ آنحضرت خاتم الانبیاء ہیں اور اس طرح کا جملہ مت کہو کہ ”لا نبی بعدہ“
دراصل تقدیر عبارت یہ ہے کہ ”لا تقولوا لا نبی بعدہ بل تقولوا انہ خاتم الانبیاء“ اب تو غالباً میرے فاضل دوست کو مرزا قادیانی کی غلطی معلوم ہو جائے گی۔ مرزا قادیانی نے تو جو ترجمہ کیا ہے یا ان کی جماعت نے کہ یہ ”تو“ کہو اس سے لوگوں کو مغالطہ ہوتا ہے۔ لفظ ”تو“ نہ معلوم کس لفظ عربی کا ترجمہ ہے۔ لفظ ”تو“ زبردستی ترجمہ میں داخل کر لیا گیا ہے تاکہ مطلب اپنے مقصد کے موافق نکالیں۔ اسی طرح حضرت مغیرہؓ کا قول ہے کہ کسی نے ان کے
سامنے کہا کہ ”صلی اللہ علی محمد خاتم الانبیاء لانبی بعدہ“ تو حضرت مغیرہؓ نے منع فرمایا کہ خاتم الانبیاء کہنے کے بعد پھر لا نبی بعدہ کہنے کی (خلاف ارشاد اللہ کے) کیا ضرورت ہے۔ اللہ تعالیٰ نے خاتم النبیین فرمایا ہے اور ”لانبی بعدہ“ اللہ کے کلام پاک میں نہیں ہے تو ہم لوگوں کو کیا ضرورت ہے کہ اللہ کے مقرر کئے ہوئے فقرہ میں اور عبارت اضافہ کریں اسی لئے صرف اسی قدر جملہ کے کہنے کا حکم دیا جس قدر قرآن کریم میں ہے۔ اس سے مرزا قادیانی نے جو اپنے مفید مدعا مطلب نکالنے کی کوشش فرمائی وہ محض بیکار تھی۔ ہمارے سامنے بھی اگر کوئی کہے کہ بادشاہ ملک ہندوستان شاہ ہند تو ہم کہیں گے شاہ ہند کہنے کی ضرورت کیا ہے۔ بادشاہ ملک ہندوستان کہو شاہ ہند مت کہو۔ اس کہنے سے غرض یہ ہوتی ہے کہ ایک جملہ مکرر نہ کہا جائے۔ اگر کوئی کہے سنگ مرمر کا پتھر تو ہم کہیں گے کہ کیا واہیات بکتے ہو۔ سنگ مرمر کہو پتھر مت کہو۔
اسی طرح لیلۃ القدر کی شب کوئی کہے تو ہم کہیں گے کہ صرف لیلۃ القدر کہو اور شب مت کہو۔ اسی طرح خاتم الانبیاء کہنے سے مطلب نکل آتا ہے تو ”لا نبی بعدہ“ کہنے کی ضرورت نہ تھی۔ اس لئے حضرت مغیرہؓ نے منع فرمایا تو کیا برا ہوا۔ ہاں البتہ کھینچ تان کر مطلب نکالنے کا موقع مرزا قادیانی کو مل گیا۔ مرزا قادیانی کے دلائل کے اعتبار سے تمام علماء دین محمدﷺ نبی کہلائیں گے کیونکہ ان کی شان میں تو یہ حدیث موجود ہے ”العلماء امتی کانبیاء بنی اسرائیل“ علماء بھی کھینچ تان کر مطلب نکال سکتے ہیں کہ آنحضرتﷺ نے ہم کو مثل بنی اسرائیل کے نبیوں کے سمجھا ہے، ہم بھی نبی ہیں۔
بھلا ایسی تاویلات سے کوئی نبی ہو سکتا ہے؟ غرض کہ ”لا نبی بعدہ“ کہنے سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے پھر آنے کی تردید بھی ہوتی تھی اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا پھر دنیا میں آنا لازم ہے۔ حضرت عائشہؓ اور مغیرہؓ نے اس لئے بھی ممکن ہے کہ ”لا نبی بعدہ“ کہنے سے منع فرمایا ہو۔ مرزا قادیانی نے حضرت مغیرہؓ کے قول کے ایک جزو کو جو انہوں نے مفید مطلب سمجھا، لے لیا۔ یعنی ”لانبی بعدہ“ اور ہم سب کو بحوالہ اس قول کے قائل کرنا چاہتے ہیں کہ اگر نبی آئندہ آنے والا نہ ہوتا تو حضرت مغیرہؓ منع نہ فرماتے کہ یہ نہ کہو کہ آئندہ کوئی نبی نہیں۔ لیکن بہت تعجب اور نہایت افسوس ہے کہ حضرت مغیرہؓ کے دوسرے قول کو جو اس عبارت کے ساتھ ہے، نہیں پڑھتے اس لئے کہ وہ ان کی مقصد کے خلاف ہے اور وہ پوری عبارت یہ ہے۔
”قال رجل عندالمغیرہ حسبک اذاقلت خاتم الانبیاء فاناکنا نحدث ان عیسیٰ علیہ السلام خارج فان ہو خرج فقد کان قبلہ وبعدہ
٩١
(درمنثور ج ٥ ص ٢٠٤) ”اس پورے قول سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا نزول یقینی معلوم ہوتا ہے۔ لیکن مرزا قادیانی اس کے قائل نہیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا نزول ہوگا۔ استدلال کا یہ بالکل نیا طریقہ مرزا قادیانی نے نکالا ہے کہ ایک فقرہ کا آدھا مضمون جو ان کے مفید مدعا سمجھا گیا پیش کر کے ہم کو قائل کرنا چاہتے ہیں کہ جب مغیرہؓ نے لا نبی بعدہ کہنے سے منع کیا تو اس فقرہ ”لا نبی بعدہ“ کی تردید کیونکر کر سکتے ہو۔ مگر حضرت مغیرہؓ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کے متعلق جو کچھ فرمایا مرزا قادیانی کوئی جواب اس کا نہیں دیتے۔
اس لئے کہ اس سے ان کے نبی بننے کا مقصود فوت ہو جاتا ہے اور اسی طرح لفظ بعدہ پر بھی جناب مرزا قادیانی نے شاید نظر نہیں ڈالی یا اس سے تجاہل عارفانہ فرمایا۔ اس لفظ سے صاف ظاہر ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام جس طرح آنحضرت ﷺ کے قبل نبی آئے تھے۔ اسی طرح آنحضرت ﷺ کے بعد بھی وہی حضرت عیسیٰ علیہ السلام نبی نازل ہوں گے۔ محض ان الفاظ سے مرزا قادیانی کا یہ کہنا کہ میں وہ نبی ہوں، درست نہیں ہو سکتا۔ جبکہ بعدہ کی ضمیر آنحضرت ﷺ کی طرف اشارہ کرتی ہے۔ مرزا قادیانی صرف ”لا تقربوا الصلوٰة“ کہلوانا چاہتے ہیں تو دوسرے کیوں ماننے لگے وہ تو ”وانتم سکریٰ“ کے ساتھ ہی اس کو پڑھیں گے۔ اسی طرح حضرت مغیرہؓ کا پورا قول لے کر استدلال کیا جائے تو نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ یہ نہ کہو کہ بعد آنحضرت ﷺ کے دنیا میں نبی نہیں آئیں گے بلکہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نبی آئیں گے۔
علماء کے اقوال لا نبی بعدہ کے متعلق
اس کے بعد مرزا قادیانی اپنی نبوت کے ثبوت میں چند علماء کے اقوال مندرجہ ذیل نقل کر کے دلیل لاتے ہیں کہ بعد آنحضرت ﷺ کے نبوت ختم نہیں ہوئی۔ اگر ختم ہوئی تو وہ تشریعی نبوت ختم ہوئی۔ لیکن ظلی نبوت ختم نہیں ہوئی۔ اس بیان کی تائید میں حضرت ملا علی قاری کا قول نقل کرتے ہیں۔ ”لو عاش ابراهيم وصار نبيا وكذا لو صار عمر نبيا لكان من اتباعه لعيسى وخضر والياس عليهم السلام فلا يناقض قوله خاتم النبيين اذا المعنى انه لا ياتي بعده نبي ينسخ ولم يكن من امته“ یعنی اگر حضرت ابراہیم (صاحبزادہ رسول اکرم ﷺ) زندہ ہوتے تو نبی ہوتے۔ اسی طرح حضرت عمرؓ آنحضرت ﷺ کے تابع ہیں۔ پس یہ ان کا قول خاتم النبیین کے نقیض نہیں ہے۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ آنحضرت ﷺ کے بعد کوئی نبی نہ ہوں گے جو ان کے ملت کو منسوخ کر دیں گے۔
اس کے بعد شیخ اکبر حضرت محی الدین ابن عربی کا قول استدلال میں پیش کیا گیا ہے۔
٩٢
"النبوة التي انقطعت بوجود رسول الله ﷺ انما هی نبوة التشريع لا مقامها فلا شرع يكون ناسخا لشرعه ﷺ لا يزيد في شرعه حكما آخر وهذا معنی قوله ﷺ ان الرسالة والنبوة انقطعت فلا رسول بعدی ولا نبی ای لا نبی بعدی يكون علی شرع يخالف شرعی بل اذا كان يكون تحت حكم شریعتی"
(فتوحات مکیہ باب ٧٣ ج ٢ ص ٣)
وہ نبوت جو رسول اللہ ﷺ کے وجود مبارک سے منقطع ہو گئی وہ نبوت تشریعی ہے۔ اس کا کوئی موقع نہیں ہے۔ اب ایسی کوئی شرع نہیں ہے جو رسول اکرم ﷺ کی شرع منسوخ کر سکے اور نہ ان کی شرع میں دوسرا کوئی حکم زیادہ کر سکتی ہے اور یہی معنی رسول ﷺ کے قول کے ہیں کہ رسالت اور نبوت منقطع ہو گئی۔ پس میرے بعد کوئی رسول اور نبی نہیں۔ یعنی کوئی نبی میرے بعد میری شریعت کے خلاف نہ ہوگا بلکہ ہوگا تو میری شرع کے تحت ہوگا۔ اس کا جواب اور دوسرے مندرجہ ذیل اقوال کا جواب میں ایک ساتھ لکھوں گا۔
اس کے بعد عبد الوہاب شعرانی کا یہ قول استدلال میں پیش کیا گیا ہے۔
"فان مطلق النبوة لم يرتفع وانما ارتفع نبوة التشريع (اليواقيت والجواهر ج ٢ ص ٢٧)" یعنی مطلق نبوت نہیں اٹھادی گئی مگر یہ کہ نبوت التشریع اٹھا دی گئی۔
اس کے بعد حضرت مجدد الف ثانی کا قول نقل کیا ہے: "پس حصول کمالات نبوت متابعان را بطریق تبعیت و وراثت بعد از بعثت خاتم الرسل منافی خاتمیت او نیست۔"
(مکتوبات ج ١ ص ٦٢٧ مکتوب نمبر ٣٠١)
بعد از بعثت خاتم الرسل ﷺ کمالات نبوت کا حاصل کرنا خاص متبعین کے لئے بطور اتباع اور وراثت کے ان کے خاتم نبوت ہونے کے منافی نہیں ہے۔
اس قول سے بھی مرزا قادیانی کے دعویٰ کی تائید نہیں ہوتی۔ مجدد الف ثانی نے یہ بیان کیا ہے کہ نبوت کا ختم ہونا اس امر کے منافی نہیں ہے کہ متبعین نبوت کو کمالات نبوت نہ حاصل ہو سکیں۔ اس قول سے یہ لازم نہیں آتا کہ مرزا قادیانی کو نفس نبوت حاصل ہو جائے۔ صفات اور کمالات نبوت کی بحث کتاب منصب امامت ترجمہ مولوی عبدالجبار خان صاحب میں بہت تفصیل سے لکھی گئی ہے۔ اگر میں یہاں لکھوں تو مضمون بہت طویل ہو جائے گا۔ لہٰذا اس سے قطع نظر کر کے ایک مثال دنیا کی پیش کرتا ہوں۔ جس کو آپ ہم دیکھتے چلے آئے ہیں۔
٩٣
مثلاً کمالات انسان۔ کیا کمالات انسان اگر طوطا مینا، چنڈول، کتا، بندر وغیرہ جانوروں سے ظاہر ہوں تو وہ انسان کہلا سکتے ہیں۔ جیسے نطق ایک کمال انسانی ہے۔ طوطے مینا انسان کی سی بولی بولتے ہیں تو وہ انسان نہیں کہلا سکتے یا کتا بندر بہت سے کام انسانوں کے کرنے لگتے ہیں تو وہ انسان کہلانے کے مستحق نہیں۔ چنانچہ جہاز پر سے ایک مرتبہ بچہ دریا میں گر پڑا۔ اس کے ساتھ ہی کتا بھی کودا۔ جیسے ہی بچہ غوطہ کھا کر سطح آب پر آیا۔ کتے نے منہ سے پکڑ لیا اور مکرر غوطہ کھانے سے بچایا۔ اس کے بعد فوراً ملاح کود کر بچہ کو نکال لائے۔ کتے کا نام بابی تھا۔ یہ قصہ اور ذیل کا قصہ ایک انگریزی کتاب میں ہے۔
ایک چرواہا اپنے بچہ کو لے کر پہاڑوں میں بکریاں چرانے گیا۔ جب بکریاں متفرق ہو گئیں تو اپنے بچہ کے پاس کتے کو چھوڑ کر خود پہاڑ کے اوپر گیا تا کہ بکریوں کو واپس لائے۔ شام کا وقت تھا۔ فاگ (کہر) نے پہاڑ کو گھیر لیا۔ چرواہا راستہ بھول گیا۔ بڑی مشکل سے بغیر بچہ اور کتے کے گھر پہنچا۔ تمام رات ماں باپ، بھائی، بہنوں کا برا حال رہا۔ صبح کو تلاش میں نکلے۔ لیکن بچہ اور کتے کا پتہ نہ چلا۔ شام کو چرواہا اور اس کے دوست جو تلاش میں مصروف تھے، واپس آئے تو معلوم ہوا کہ کتا آیا تھا۔ روٹی دی گئی تو لے کر چلا گیا۔ غرض دو دن تک کتا آتا اور روٹی لے کر چلا جاتا اور چرواہا بھی تلاش کے لئے پہاڑوں کو جایا کرتا تھا۔ تیسرے دن کتے کا انتظار کیا اور پہاڑ کو نہ گیا۔ جب کتا آیا اور روٹی لے کر چلا تو اس کے پیچھے پیچھے دوڑتا ہوا چرواہا بھی چلا گیا تو کتا انہی پہاڑوں سے راستہ کتراتا ہوا ایک نہر کے قریب ایک غار میں گیا تو وہاں بچہ پایا گیا اور کتے نے روٹی اس بچہ کے سامنے ڈال دی تھی۔ اور بچہ نے روٹی کھانی شروع کی۔ تعلقہ نرساپور پاگاہ میں ایک واقعہ مشہور ہے کہ ڈاکو جب لوٹ کر واپس ہوئے تو کتا ان کے پیچھے جا کر تمام واقعات مال مسروقہ کے دفن کرنے کے دیکھنے کے بعد مجرموں کے پیچھے پیچھے جا کر ان کے مکان تک دیکھ آیا۔ جب صبح کوتوالی آئی تو کتا بار بار بھونکتا اور ایک طرف دوڑتا۔ اس کی یہ عجیب وغریب حرکتیں دیکھ کر سب کو خیال ہوا کہ اس کے پیچھے چلو، دیکھو تو یہ کیا کہتا ہے۔ جب کوتوالی کے لوگ اور بستی والے کتے کے پیچھے گئے تو وہ بڑی خوشی سے چلا اور ایک نالے کے پاس جا کر اپنے ہاتھوں سے ریتی کھودنی شروع کی۔ جب لوگوں نے زمین کھودی تو سارا مال مسروقہ برآمد ہوا۔ اس کے بعد کتا ایک سمت کو چلا۔ اب تو کوتوالی کے ملازمین کو یقین ہو گیا کہ یہ کچھ پتہ کی بات بتلائے گا۔ غرض اس کے پیچھے پیچھے گئے تو دو کوس پر ایک گاؤں کو لے گیا اور ایک مکان کے سامنے ایک شخص بیٹھا تھا۔ فوراً اس کے اوپر گرا اور کوتوالی والوں نے اسے گرفتار کر لیا اور تمام مجرمین کا پتہ اسی طرح مل گیا۔
٩٤
میں دریافت کرتا ہوں کہ یہ انسانی کمالات نہیں ہیں؟ کیا ایسے کمالات کے حاصل ہونے سے کتا انسان بن گیا؟ اسی طرح اگر انسان حیوانی یا شیطانی کام کرے تو وہ حیوان یا شیطان نہیں ہو جاتا۔ اگر بعض کمالات نبوت کسی انسان میں پائے جائیں مثلاً معجزے نبیوں سے ظہور میں آتے ہیں۔ دیکھا گیا کہ بعض اولیاء اللہ سے بھی بہت سے کرامات ظاہر ہوئے ہیں جو بالکل معجزوں کے مشابہ ہوتے ہیں۔ نبیوں کے معجزے تو معجزے کہلاتے ہیں اور اولیاء اللہ کے کرامات کے نام سے موسوم ہیں۔ لیکن اولیاء اللہ نبی کے درجہ کو نہیں پہنچ پاتے۔ پس محض کمالات نبوت کسی میں پائے جائیں تو وہ نبی نہیں ہو جاتا۔
اس کے بعد مرزا قادیانی نے مظہر جان جاناں کا قول نقل کیا ہے۔ کہ ہیچ کمال غیر از نبوت بالاضافہ ختم نگردیدہ۔ یعنی کوئی کمال ختم نہیں ہوا۔ مگر نبوت کا کوئی اضافہ نہیں ہو سکتا۔ اضافہ کے لغوی معنی افزوں کردن برچیزے صاف نہیں ہے۔ لیکن مرزا قادیانی نے جو ترجمہ فرمایا ہے۔ اضافہ کے معنی بلا واسطہ کے لئے ہیں۔ جو ان کے مقصود کے موافق ہوتے ہیں۔ حالانکہ اضافہ کے معنی ہرگز بلا واسطہ کے نہیں ہیں۔ یہ قول مرزا مظہر جان جاناں کا مرزا قادیانی کے دعویٰ کی تردید کرتا ہے۔ مرزا مظہر جان جاناں نے صاف لکھ دیا ہے کہ کوئی کمال ختم نہیں ہوا۔ لیکن نبوت پر نبوت کو اضافہ کرنا ناممکن ہے اور وہ ختم ہو گئی ہے۔ دوسرے الفاظ میں مطلب یہ ہے کہ کوئی کمال ختم نہیں ہوا سوا نبوت بالاضافہ کے کہ نبوت بالاضافہ تو حاصل نہیں ہو سکتی اور وہ ختم ہو گئی۔ باقی ہر کمال حاصل ہو سکتا ہے اور وہ ختم نہیں ہوا۔
اس قول سے تو مرزا قادیانی کوئی فائدہ نہیں اٹھا سکتے۔ اب رہے دوسرے اقوال مذکورہ بالا۔ پہلے تو ان بزرگوں کے اقوال کوئی حدیث نہیں ان کی ذاتی آراء ہیں۔ قطع نظر اس کے ان کے اقوال سے کہیں یہ مطلب نہیں نکلتا کہ نبوت ختم نہیں ہوئی بلکہ ساری دنیا کا یہ مسلمہ مسئلہ ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام ظاہر ہوں گے اور اسی اعتبار سے ان علماء نے یہ لکھا ہے کہ یہ خیال نہ کرو کہ کوئی نبی نہ آئے گا۔ یعنی حضرت عیسیٰ علیہ السلام آئیں گے۔ مگر وہ کوئی اپنی شرع نہیں لائیں گے بلکہ وہ متبع ہوں گے۔ شریعت محمدی کے اگر مسلمانوں کا عقیدہ مثل مرزا قادیانی کے یہ ہوتا کہ عیسیٰ علیہ السلام اب نہیں آئیں گے تو مرزا قادیانی کا استدلال صحیح ہو جاتا۔ لیکن جبکہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا آنا برحق سمجھا گیا ہے تو کوئی عالم بھی یہ کیونکر کہتا کہ اب کوئی نبی نہ آئے گا۔ وہ نبی موعود حضرت عیسیٰ علیہ السلام تو ضرور آئیں گے۔ لیکن وہ اپنی شریعت ناسخ شریعت محمدی نہ لائیں گے بلکہ وہ خود تابع شریعت محمدی ہوں گے۔ معلوم نہیں کہ اقوال بالا مرزا قادیانی نے اپنے مفید مطلب
٩٥
نکالنے کی زحمت کیوں گوارا فرمائی۔ اگر ان بزرگوں کے اقوال سے مرزا قادیانی کی تائید ہوتی بھی، تو ہم کہہ سکتے تھے کہ ان بزرگوں کے اقوال حدیث کا درجہ نہیں رکھتے ہیں۔ لہٰذا وہ قابل تسلیم نہیں ہیں۔
ان چار، پانچ بزرگوں کے اقوال کے خلاف ہزار ہا بزرگوں کے اقوال ہیں تو وہی اقوال تسلیم کرنے کے قابل سمجھے جائیں گے جدھر غلبہ ہو۔ صدہا اقوال کے مقابلہ میں چار، پانچ کی کیا وقعت ہو سکتی ہے؟ بہت تعجب کی بات ہے کہ چار پانچ بزرگوں کے اقوال کو تو بطور سند کے پیش کرتے ہیں اور صدہا بزرگوں کے اقوال کو جو مرزا قادیانی کے دعویٰ کے خلاف ہیں، نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔ یہ کوئی عقل کی بات ہے؟ غلبہ آراء کو دیکھنا چاہئے۔
مثنوی مولانا رومؒ سے مرزا قادیانی کا استمساک
اس کے بعد مرزا قادیانی نے حضرت مولانا روم کی مثنوی کے چند شعر استدلالاً تحریر فرمائے ہیں۔ وہو ہٰذا
تانبوت یابی اندر امتے
چون ازو نور نبی آید پدید
او نبی وقت خویش است اے مرید
مکسل از پیغمبر ایام خویش
تکیہ کم کن بر فن و بر کام خویش
اے مراچوں مصطفیٰ من چوں عمر
از برائے خدمتت بندم کمر
میرے عالم دوست خود ہی غور فرمائیں کہ مثنوی کے یہ اشعار مرزا قادیانی کے دعویٰ کی کچھ بھی تائید کرتے ہیں؟ مولانا روم کے ان اشعار میں مبالغہ تو ضیحی ہے۔ شاعروں کے کلام ایسے مبالغوں سے بھرے پڑے ہیں۔ علم عروض میں تشبیہات و استعارات و مبالغات سے کام لینا ایک فن شاعری کا سمجھا گیا ہے۔ مثلاً لوح سیمین سے محبوب کی پیشانی مراد لی جاتی ہے۔ سنبل، ریحان، تازیانہ، زنجیر سے زلف کو تشبیہ دی جاتی ہے اور قامت کو سرو سے تشبیہات اور استعارات فن شاعری میں بہت رائج ہیں۔
مشبہ کو متروک کر کے مشبہ بہ کو ذکر کرتے ہیں اور اس سے مشبہ مراد لیتے ہیں۔ مثلاً چاند
یا سورج کہہ کر اس سے معشوق کا رخسا سارا دیوان استعارات سے بھرا پڑا ہے چودہویں آز
اس شعر میں سف استعارہ ہے اور کاسہ ہائے ہے۔ اسی طرح مبالغات ہیں کہ محال ہوتا کہ سامع کو یہ گمان شد
کشتی ورس
اس شعر میں غور فرمائیں ایسی طغیانی ہوئی کہ فرشتوں نے ڈوب عروض استعارات اور مبالغات کا اس روم نے اپنے اشعار میں استعارات کے کلام کو بطور سند کے پیش فرمائیں کو پائے گا۔ یہ مثال ایسی ہے کہ کوئی گا۔ تو کیا حقیقی چاند یعنی مہر آسمان تھو
مطلب شعر کا یہ ہے کہ امت محمدیؐ میں تو دیکھے گا اور صفات چلنے والے اور نیک خدمات کرنے وقت کا نبی ہے۔ جیسا کہ میں اوپ صاحب اور مرزا دبیر صاحب کو کرتے ہیں کہ وہ اپنے وقت کے
اس سے معاذ اللہ وہ خدا ہو گئے۔ نیک کام کرے، پیغمبر سے تشبیہ دی
96
یا سورج کہہ کر اس سے معشوق کا رخسار یا چہرہ مراد لیں۔ بدر چاچ کے دیوان کو دیکھئے تو سارے کا سارا دیوان استعارات سے بھرا پڑا ہے۔ مثلاً اس کا یہ شعر:
فلک را کاسہ ہائے نقرہ در دریائے قار افتاد
اس شعر میں سقف مینا رنگ سے آسمان مراد لیا ہے اور طشت زرنگار سے آفتاب استعارہ ہے اور کاسہ ہائے نقرہ سے تارے مراد لئے ہیں۔ دریائے قار یعنی سیاہ سے رات مراد ہے۔ اسی طرح مبالغات ہیں کہ وصف کی شدت کا اس حد تک دعویٰ کرنا کہ وہاں تک اس کا پہنچنا محال ہوتا کہ سامع کو یہ گمان نہ رہے کہ اس وصف کی شدت کا کوئی مرتبہ باقی ہے۔ مثلاً
کشتی درست کرد زطوبیٰ ملک بر اوج
اس شعر میں غور فرمائیں کہ گریہ آسمان سے بھی ایک نیزہ زیادہ بلند ہو گیا اور بارش کی ایسی طغیانی ہوئی کہ فرشتوں نے ڈوبنے کے خوف سے طوبے کی لکڑی لے کر کشتی بنائی۔ بلحاظ علم عروض استعارات اور مبالغات کا استعمال نہ صرف جائز بلکہ بڑی خوبی سمجھی جاتی ہے۔ اگر مولانا روم نے اپنے اشعار میں استعارات اور مبالغات سے کام لیا تو مرزا قادیانی کو موقع مل گیا کہ مولانا کے کلام کو بطور سند کے پیش فرمائیں۔ مولانا روم فرماتے ہیں کہ نیک کام کر تا کہ امت میں تو نبوت کو پائے گا۔ یہ مثال ایسی ہے کہ کوئی عاشق کہے کہ جس باغ میں انتظار کروں گا وہاں میرا چاند آئے گا۔ تو کیا حقیقی چاند یعنی مہر آسمان تھوڑا ہی آئے گا، بلکہ معشوق آئے گا۔
مطلب شعر کا یہ ہے کہ راہ نیک میں نیک خدمات انجام دے تو نبوت کی جھلک اس امت محمدیؐ میں تو دیکھے گا اور صفات نبوت محمدی کو امت محمدؐ میں بھی پائے گا اور جب اس نیک راہ پر چلنے والے اور نیک خدمات کرنے والے سے انوار نبی ظاہر ہونے لگیں گے تو گویا وہ بھی اپنے وقت کا نبی ہے۔ جیسا کہ میں اوپر بیان کر چکا ہوں یہ شاعرانہ مبالغہ توصیفی ہے۔ جیسے میر انیس صاحب اور مرزا دبیر صاحب کو فن شاعری مرثیہ گوئی کے اعلیٰ درجہ پر پہنچنے کی وجہ سے لوگ کہا کرتے ہیں کہ وہ اپنے وقت کے خدائے کلام تھے۔
فردوسی، انوری، خاقانی کو لوگ کہتے ہیں کہ وہ اپنے وقت کے خدائے کلام تھے۔ تو کیا اس سے معاذ اللہ وہ خدا ہو گئے۔ مولانا نے تیسرے شعر میں تو اس شخص کو جو نیک راہ پر چلے اور نیک کام کرے، پیغمبر سے تشبیہ دی ہے۔ اس سے بڑھ کر چوتھے شعر میں اسی کو مصطفیٰ سے تشبیہ دے
٩٧
کر اپنے آپ کو حضرت عمرؓ سے تشبیہ دی ہے کہ جیسے آنحضرت محمدﷺ کی خدمت حضرت عمرؓ کمر باندھ کر کیا کرتے تھے۔ اسی طرح میں بھی خدمت کروں اس شخص کی جو نیک راہ پر چلنے کی وجہ سے میں اس کو مثل مصطفیٰ سمجھتا ہوں۔ مرزا قادیانی نے تشبیہات اور استعارات شاعری سے اپنا مطلب اخذ کر کے نبی بننے کی کوشش کی تو کیا وہ نبی ہو جائیں گے؟ ہرگز نبی نہیں ہو سکتے۔
معلوم ہوتا ہے کہ مولانا نے ترمذی کی اس حدیث کا ترجمہ اپنے اشعار بالا میں فرمایا ہے جس کو میں پہلے لکھ چکا ہوں۔ ’’رویا المسلم وہی جزء من اجزاء النبوة‘‘ یعنی مسلمان کا وہ خواب جس کو رسول اکرمﷺ نے اسی حدیث میں مبشرات ارشاد فرمایا ہے، ایک جز ہے اجزاء نبوت سے۔ اسی بناء پر مولانا نے یہ مصرعہ فرمایا تا نبوت یابی اندر امتے۔ چونکہ مسلم کا خواب میں حالات نیک کا مشاہدہ کرنا انوار نبوت سے نور اخذ کرنے کے مماثل ہے۔ لہٰذا مولانا نے دوسرے شعر میں یہ لکھا ہے:
او نبی وقت خویش است اے مرید
نیک لوگوں کی نسبت ان کی خدمات کے لحاظ سے اکثر تشبیہ دیا کرتے ہیں کہ وہ اپنے وقت کا سلیمان ہے۔ یا کسی عادل بادشاہ کو کہا کرتے ہیں کہ وہ اپنے وقت کا نوشیرواں ہے یا سخاوت کے اعتبار سے کسی کی نسبت کہہ سکتے ہیں کہ وہ اپنے وقت کا حاتم ہے۔ اسی طرح مولانا نے فرمایا ہے ’’او نبی وقت خویش است‘‘ یعنی گویا وہ اپنے وقت کا نبی ہے تو ان تشبیہات سے کیا کوئی فی الواقع نبی بننے کی کوشش کر سکتا ہے؟ اگر ایسے دلائل مولانا کے کلام میں نہ بھی ہوتے تو ہم کہہ سکتے کہ مولانا کا کلام اگر خلاف قرآن مجید اور حدیث کے ہے تو وہ ماننے کے قابل نہیں ہے۔
فرض کیجئے اگر مولانا کا یہ شعر ہوتا، عادل وقت است چون نوشیروان، شاہ وقت خویش اے عالی نشان، تو کیا مرزا قادیانی شاہ وقت یعنی اپنے وقت کے بادشاہ نوشیروان ہونے کا دعویٰ کر دیتے؟ اس لئے کہ مرزا قادیانی کا آریوں سے مباحثہ کرنا اور پادریوں سے مناظرہ کرنا صلیبوں کو توڑنے اور دنیا کو عدل سے بھر دینے کے مماثل ہے اور جب مرزا قادیانی نے دنیا کو عدل سے بھر دیا تو وہ اپنے وقت کے نوشیروان عادل ہوئے۔ اس لئے کیا وہ فرما سکتے تھے کہ میں نے دنیا کو عدل سے بھر دیا ہے۔ اس لئے میں نوشیروان عادل ہوں اور اپنے وقت کا بادشاہ ہوں اور شاہی احکام ملک ایران اور توران پر نافذ فرما دیتے اور اپنے نام کا سکہ سارے ملک فارس میں جاری فرما دیتے؟
٩٨
یقیناً کوئی بھی اس کو تسلیم بلکہ خود مرزا قادیانی بھی بادشاہ ہونے خرچ سے کام نہیں نکل سکتا۔ بلکہ اس پڑتی۔ نبی بننے کے لئے کسی طاقت اشعار سے استمساک کر کے نبی فرض کیا جائے کہ مولانا روم کا دعویٰ کر سکتے۔
جب اگر اللہ تعالیٰ سے کوئی نبی ہو یا ان کی ذریع اللہ وخاتم النبیین التش تشریعی ’’جبکہ خاتم النبیین کے حضرت عیسیٰ علیہ السلام دوبارہ پھر دنیا میں ہونے پائے کہ جب نبی آخرالزمان آ لئے علماء نے اپنی اپنی رائے اور اجتہاد سے (یعنی حضرت عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام) بعدہ‘‘ تو ان تحریرات علماء کو یا حضرت نبوت ختم نہیں ہوئی، اس لئے میں ہی وہ ن
لے اس شعر کے لحاظ سے بادشا اسی قبیل کے ہیں ان کو کوئی مدد نہیں دے کرتے تھے یا ان کے دل و دماغ میں یہ کرنے کے لئے نبی کا لقب اختیار کیا جا دعویٰ نہ کرتے۔ علم طب کی رو سے جنون کی یہ بھی ہے کہ انسان کے دل و دماغ میں ہے۔ اس کو ہزار طرح سمجھایا جائے مگر اس جسم کانچ کا ہے۔ وہ اپنے جسم کو بڑی احتیاط ٹوٹ جائے۔ کیا عجب ہے کہ مرزا قادیانی ک
یقیناً کوئی بھی اس کو تسلیم نہ کرے گا کہ مرزا قادیانی ایسا دعویٰ بادشاہ ہونے کا کر سکتے بلکہ خود مرزا قادیانی بھی بادشاہ ہونے کا دعویٰ نہ کر سکتے۔ بادشاہ ہونے کے لئے صرف زبانی جمع خرچ سے کام نہیں نکل سکتا۔ بلکہ اس کے لئے دنیا کی بہت سی طاقتوں کو صرف کرنے کی ضرورت پڑتی۔ نبی بننے کے لئے کسی طاقت کے صرف کرنے کی ضرورت نہ تھی۔ لہٰذا مولانا رومؒ کے چند اشعار سے استمساک کر کے نبی بن بیٹھے۔ تو اب ان کے متبعین کو انصافاً خیال کرنا چاہئے کہ اگر فرض کیا جائے کہ مولانا رومؒ کا شعر وہ ہوتا جو میں نے اوپر لکھا ہے تو کیا مرزا قادیانی بادشاہت کا دعویٰ کر سکتے۔
پس اگر اللہ تعالیٰ کو منظور ہوتا کہ ہمارے سرورِ عالم ﷺ کے بعد ان ہی کے غلاموں سے کوئی نبی ہو یا ان کی ذریات سے کوئی ظلی نبی پیدا ہو تو تقدیر کلام کی یہ ہوتی۔ ”ولکن رسول الله وخاتم النبيين التشریعی یا خاتم النبیین الا ظلی نبی یا الا نبی غیر تشریعی“ جبکہ خاتم النبیین کے ساتھ کوئی استثنیٰ نہیں ہے اور علماء نے اس اعتبار سے کہ آئندہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام دوبارہ پھر دنیا میں آنے والے ہیں، ایسی عبارتیں لکھیں کہ لوگوں کو شبہ نہ ہونے پائے کہ جب نبی آخرالزمان آچکے تو پھر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کیونکر آئیں گے اور اس لئے علماء نے اپنی اپنی رائے اور اجتہاد سے کچھ لکھا کہ جس کا مطلب یہ ہو کہ آئندہ نبی آئیں گے (یعنی حضرت عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام) اور حضرت عائشہؓ نے یہ فرمایا کہ ”لا تقولوا لا نبی بعدہ“ تو ان تحریرات علماء کو یا حضرت عائشہؓ کے قول کو تمسک پکڑ کر اور کھینچ تان کر یہ معنی نکالنا کہ نبوت ختم نہیں ہوئی، اس لئے میں ہی وہ نبی ہوں، جس کا وعدہ کیا گیا، بالکل بعید از عقل ہے۔
اس شعر کے لحاظ سے بادشاہت کا دعویٰ نہیں کر سکتے تو دوسرے اشعار مولانا کے جو اسی قبیل کے ہیں ان کو کوئی مدد نہیں دے سکتے۔ مرزا قادیانی کو یا تو شیطانی وسوسہ اور توہمات ہوا کرتے تھے یا ان کے دل و دماغ میں یہ بات جم گئی تھی کہ دنیا کے تمام انسانوں پر درجہ تفوق حاصل کرنے کے لئے نبی کا لقب اختیار کیا جائے۔ وہ ایسے صاف احکام خدا اور رسول کے خلاف ایسے دعویٰ نہ کرتے۔ علم طب کی رو سے جنون کے مختلف اقسام ہوتے ہیں۔ منجملہ ان کے ایک قسم جنون کی یہ بھی ہے کہ انسان کے دل و دماغ میں ایک خاص بات پیدا ہو جاتی ہے اور وہ اس کو صحیح سمجھنے لگتا ہے۔ اس کو ہزار طرح سمجھایا جائے مگر اس کی سمجھ میں نہیں آتا۔ ایک شخص کو یہ خبط ہو گیا تھا کہ اس کا جسم کانچ کا ہے۔ وہ اپنے جسم کو بڑی احتیاط سے بچاتا پھرتا تھا۔ ایسا نہ ہو کہ کسی کی ٹکر سے اس کا جسم ٹوٹ جائے۔ کیا عجب ہے کہ مرزا قادیانی کو بھی نبی ہونے کا خیال اسی طرح ہو گیا ہو۔
٩٩
نبی کا لفظ نباء سے مشتق ہے۔ جس کے معنی خبر دینے کے ہیں یا نبو سے مشتق ہے جس کے معنی علو اور ارتفاع کے ہیں۔ چونکہ نبی کا مرتبہ دوسری مخلوقات سے ارفع اور اعلیٰ ہوتا ہے۔ اس وجہ سے خدا ان کو معصوم پیدا کرتا ہے اور وہ خدا کے احکام کو جو ان کے پاس وحی کے ذریعہ سے مخلوق انسانی کے ہدایت کرنے کے لئے پہنچتے ہیں۔ انسانوں تک پہنچا دیتے ہیں اور ان کی ضلالت سے نور ہدایت میں لاتے ہیں اور گمراہی سے راہ راست پر لاتے ہیں اور خدائے وحدہ لاشریک کی پرستش کی ہدایت کرتے اور بہشت و دوزخ کے حالات ظاہر کر کے امیدوار مغفرت کرتے ہیں اور عذاب دوزخ سے ڈراتے ہیں اور بہشت کی نعمتوں کا حال سنا کر ان کو خوشخبری دیا کرتے ہیں۔
اسی لئے وہ نبی کے پاک اور اعلیٰ و ارفع لقب سے اللہ کی طرف سے موسوم اور مشہور ہوتے ہیں۔ اس زمانہ میں جبکہ ہمارے سرور الانبیاء ﷺ کی بدولت ہم ان سب امور سے واقف ہیں اور وحدہ لاشریک کی وحدانیت کے قائل اور دوزخ کے عذاب اور جنت کی راحتوں سے واقف ہیں اور اللہ تعالیٰ کا کلام ہمارے ہاتھوں میں ہے جس کے بعد پھر ہدایت کیلئے اور کسی کلام ربانی کی ضرورت نہیں ہے اور اللہ کے حبیب پاک کے احکام اور اقوال ہماری آنکھوں کے سامنے ہیں تو پھر ہمارے پاس نبی کے آنے کی کیا ضرورت ہے۔
نبی کے لغوی معنوں کے لحاظ سے جیسا کہ اوپر بیان کیا گیا ہے، کوئی خبر اللہ کے پاس سے بندوں تک پہنچانے کا کام خدا نے تفویض نہیں کیا تو وہ شخص نبی کہلانے کا مستحق ہی نہیں ہو سکتا۔ نبی ظلی ہو یا تبعی، لفظ نبی تو ہر حالت میں مرزا قادیانی کے ساتھ منسوب ہے اور وہ لفظ نبی سے ملقب ہوتے ہیں اور جیسا کہ اوپر عرض کیا گیا نبی تو اشرف الانسان ہے اور خدا کے بعد قوم کے پاس بس نبی ہی کا رتبہ ہے۔ کیا یہ نہیں خیال ہو سکتا کہ دنیا کے تمام انسانوں پر فوقیت حاصل کرنے کے لئے مرزا قادیانی نے ایسا لقب اختیار کیا؟ ضرور ہو سکتا ہے کیونکہ ہم اپنے رسول اکرم ﷺ کی بدولت نور ہدایت میں ہیں۔ اس غرض کے لئے کہ اللہ کے احکام کی ہم لوگ پوری طرح تعمیل کریں۔ ہمارے واسطے واعظ عالم کافی ہیں۔ جس غرض کے لئے کہ نبی ہوا کرتے ہیں۔ ان اغراض میں سے کوئی غرض بھی اس وقت متحقق نہیں ہے۔ البتہ جو لوگ ہنوز شرک اور بدعت میں مبتلا ہیں، ان کی ہدایت کے لئے قرآن کریم اور احادیث موجود ہیں اور علماء اور واعظ ان کو پند و نصیحت کر سکتے ہیں۔ قرآن پاک کی آیتوں کے متعلق علمی مسئلوں میں تاویلات اور
١٠٠
دور از کار تعبیرات اور بعید از قیاس تاویل نامناسب امر ہے۔
اس کو میرے فاضل دوست ن چاہئے کہ اس کو لوگ جاہل کا خطاب بھی د اقوام کو دین پاک کے احکام سمجھائے یہ کو سے مسلمانوں سے اختلاف کرے۔ یہ یک مدینہ منورہ جا کر یا مصر وقسطنطنیہ میں تشریف
قرآن کریم کی آیتوں کو لڑان رہا ہے۔ علماء جن آیات سے کچھ معنی لیتے ہیں اور اس کی وہ ایسی تعبیر کرتے ہیں کہ لڑانے کی فکر نہ کرنی چاہئے۔ قرآنی آیتوں جائے۔ جمہور علماء کا اتفاق ہے کہ حضرت آیتیں ہیں۔ لیکن قادیانی حضرات نے ان الخلد“ لا کھڑی کر دی۔ گویا یہ آیتوں کو لڑ
ابن ماجہ کی حدیث سے ظاہر ہ ”قال سمع النبیﷺ قوما یتدار بهذا ضربوا كتاب الله بعضہ بعضا فلا تكذبوا بعضه ببعض الی عالمه“ یعنی رسول کریم ﷺ نے فرمایا کہ تم سے پہلے جو لوگ ہلاک ہوئ دوسرے حصہ سے لڑایا۔ خدا کی کتاب تو ب بعض کی بعض سے تکذیب مت کرو۔ اس پر چھوڑ دو۔“
علمائے اسلام ایک آیت کے
دور از کار تعبیرات اور بعید از قیاس تنازعات پیدا کر کے مسلمانوں میں تفرقہ ڈالنا کس قدر نامناسب امر ہے۔
اس کو میرے فاضل دوست خود سمجھ سکتے ہیں۔ سچے ہمدرد اور فدائی قوم کا کام یہ ہونا چاہئے کہ اس کو لوگ جاہل کا خطاب بھی دیں تو پرواہ نہ کریں اور قوم کی خدمت کئے جائیں اور غیر اقوام کو دین پاک کے احکام سمجھائے یہ کوئی عقل کی بات نہیں ہے کہ خود آپ نبی کہلوانے کی غرض سے مسلمانوں سے اختلاف کرے۔ یہ ملک تو ہندوستان ہے مرزا قادیانی کی کجروی اگر مکہ معظمہ یا مدینہ منورہ جا کر یا مصر وقسطنطنیہ میں تشریف لے جاکر ایسا ادعا فرماتے تو بہت جلد نتیجہ نکل آتا۔
قرآن کریم کی آیتوں کو لڑانے والے پہلے بھی ہوئے تھے اور اس زمانہ میں بھی وہی ہو رہا ہے۔ علماء جن آیات سے کچھ معنی لیتے ہیں۔ مرزا قادیانی اس کے مقابل دوسری آیت لاتے ہیں اور اس کی وہ ایسی تعبیر کرتے ہیں کہ جس کو علماء تسلیم نہیں کرتے۔ حالانکہ آیتوں کو اس طرح لڑانے کی فکر نہ کرنی چاہئے۔ قرآنی آیتوں کی ایک دوسرے سے تصدیق ہوتی ہے نہ کہ تکذیب کی جائے۔ جمہور علماء کا اتفاق ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو اللہ نے اٹھا لیا اور اس کے متعلق صریح آیتیں ہیں۔ لیکن قادیانی حضرات نے ان کے مقابل آیت ”وما جعلنا لبشر من قبلك الخلد“ لا کھڑی کر دی۔ گویا یہ آیتوں کو لڑانا ہے۔
ابن ماجہ کی حدیث سے ظاہر ہے کہ آنحضرت ﷺ نے ایسا کرنے سے منع فرمایا ہے۔ ”قال سمع النبی ﷺ قوما يتدارون في القرآن فقال انما هلك من كان قبلكم بهذا ضربوا كتاب الله بعضه ببعض وانما نزل كتاب الله يصدق بعضه بعضا فلا تكذبوا بعضه ببعض فما علمتم منه فقولوا به وما جهلتم فوكلوه الى عالمه“ یعنی رسول کریم ﷺ نے ایک قوم کی نسبت سنا کہ قرآن میں جھگڑا کرتے تھے۔ فرمایا کہ تم سے پہلے جو لوگ ہلاک ہوئے وہ اسی سے ہوئے کہ خدا کی کتاب کے ایک حصہ کو دوسرے حصہ سے لڑایا۔ خدا کی کتاب تو اس لئے اتری ہے کہ بعض کی بعض سے تصدیق ہو۔ پس بعض کی بعض سے تکذیب مت کرو۔ اس میں سے جو سمجھو تو کہو اور نہ جانو تو اس کو اس کے عالموں پر چھوڑ دو۔“
علمائے اسلام ایک آیت کے اور معنی اور مطلب لیتے ہیں اور مرزا قادیانی دوسری
١٠١
آیت سے اس کی تردید کرتے ہیں یا اس کا مطلب کچھ اور لیتے ہیں اور ہر حال میں ان آیتوں سے جو علماء مطلب لیتے ہیں۔ مرزا قادیانی کو اختلاف ہے اور بعض حدیثوں کا موضوع لہ اپنے آپ کو قرار دیتے ہیں۔ اس حدیث کے منشاء کے موافق مرزا قادیانی کو یہ کرنا چاہئے تھا کہ ان کا تصفیہ علماء وقت پر منحصر فرماتے۔ ایک مثل ہے Doubt is sister of the unlawful, "شک جس چیز میں وہ حرام کی بہن ہے۔ ------ consult in your affairs اپنے معاملات میں ان لوگوں سے مشورہ لو جو خدا ترس ہوں۔“
جب کوئی بات انسان نہ سمجھ سکے یا کسی بات میں اس کو شک ہو تو غلبہ آراء پر عمل کرنا چاہئے۔ عقل کا مقتضا بھی یہی معلوم ہوتا ہے کہ جس بات میں شبہہ ہو اس کو علماء اور خدا ترس لوگوں کی رائے سے حل کرنا چاہئے۔ اپنی مجرد رائے پر بھروسا نہ کر لینا چاہئے۔ ممکن ہے کہ اس کی رائے غلط ہو۔ یہ امر صاف ہے کہ مرزا قادیانی کو اپنی رائے پر اس قدر بھروسہ کرنے کی کہ فلاں حدیث کا موضوع لہ میں ہوں، کوئی وجہ نہیں ہو سکتی۔
جبکہ کثرت رائے علماء کی ان کے خلاف تھی، تو ہزار عقول انسانی پر اپنی ایک رائے کو ترجیح دینا اور من مانی ایک نئی نبوت کی بنیاد ڈال کر ایک جماعت میں تفرقہ ڈالنا ہرگز درست نہیں ہو سکتا اور اس طرح نبی بننے کی کوشش کرنے کی وجہ صرف یہی معلوم ہوتی ہے کہ نبی کا رتبہ سب انسانوں سے افضل اور اعلیٰ ہوتا ہے۔ لہٰذا مرزا قادیانی نے عالم پر درجہ تفوق حاصل کرنے کے لئے دعویٰ کیا۔ چونکہ ان کا مقصود یہ ہے کہ ان احادیث کا مدلول میں ہوں جن کا ذکر ہو چکا ہے۔ تو یہ سمجھا جائے گا کہ وہ اس معاملہ میں اہل غرض تھے اور صاحب غرض کی رائے صحیح نہیں ہوتی۔
اسی لئے یہ مثل مشہور ہے کہ اہل الغرض مجنون۔ اہل غرض کو کبھی اپنی رائے پر عمل نہیں کرنا چاہئے۔ حدیث متذکرہ بالا کی رو سے اور انگریزی مقولہ کے لحاظ سے مرزا قادیانی کو عالموں کے رائے کے موافق عمل کرنا چاہئے تھا۔ حضرت شاہ ولی اللہ صاحبؒ نے حجۃ البالغہ میں باب حقیقت النبوۃ وخواصہا کے تحت ہادی اور پیشواؤں کا مضمون تحریر فرمایا ہے اور ان کے اقسام حسب ذیل بتلائے ہیں۔
- .......١ جس کو عبادت کے ذریعہ سے تہذیب نفس کے علوم کا القا اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہوتا
ہے، وہ کامل کہلاتا ہے۔
١٠٢
- ٢...... جس کو اکثر عمدہ اخلاق اور تدبیر منزل کے علوم کا القا ہوتا ہے وہ حکیم کہلاتا ہے۔
- ٣...... جس کو امور سیاست کا القا ہوتا ہے اور وہ اس کو عمل میں لاتا ہے وہ خلیفہ کہلاتا ہے۔
- ٤...... جس کو ملاء اعلیٰ سے تعلیم ہوتی ہے اور اس سے کرامات ظاہر ہوا کرتی ہیں، موید بروح
القدس کہلاتا ہے۔
- ٥...... جس کی زبان اور دل میں نور ہوتا ہے اور اس کی نصیحت سے لوگ فائدہ اٹھاتے ہیں۔
اس کے حواریوں اور مریدوں پر بھی نور و سکینہ نازل ہوتا ہے۔ وہ ہادی اور مزکی کہلاتا ہے۔
- ٦...... جو قواعد ملت کا زیادہ جاننے والا ہوتا ہے وہ امام کہلاتا ہے۔
- ٧...... جس کے دل میں کسی قوم پر آنے والی مصیبت کی خبر ڈال دی جاتی ہے۔ جس کی وہ
پیشین گوئی کرتا ہے یا قبر و حشر کے حالات کا اس پر انکشاف ہوتا ہے اور وہ اس کا وعظ لوگوں کو سناتا ہے وہ منذر کہلاتا ہے۔
- ٨...... جب خدا تعالیٰ اپنی حکمت سے ملہمون میں سے کسی کو جو بڑا شخص ہو، مبعوث کرتا ہے
تاکہ لوگوں کو ظلمات سے نور میں لائے تو وہ نبی کہلاتا ہے۔
اگر مرزا قادیانی کو یہ منظور تھا کہ دنیا کے لوگوں پر فوقیت حاصل کریں تو بجز ادعائے نبوت کے اور کوئی دعویٰ کر سکتے تھے، گو یہ تفرقہ نہ ڈالتے۔
مرزا قادیانی کہتا ہے کہ بعض اکابر علماء اس عاجز کو معراج کا منکر بتلاتے ہیں لہٰذا میں اظہاراً للحق عام و خاص اور تمام بزرگوں کی خدمت میں گزارش کرتا ہوں کہ یہ الزام مجھ پر سراسر افتراء ہے۔‘‘ اس سے ظاہر ہے کہ مرزا قادیانی معراج کے منکر نہیں ہیں۔ معراج کے واقعات صحاح ستہ میں سے صرف ابوداؤد میں نہیں ہیں۔ باقی پانچوں میں ہیں تو ہم کو بھی لازم ہوا کہ صحیح بخاری سے حدیثوں کو نقل کر کے یہ دریافت کریں کہ مرزا قادیانی واقعہ معراج کو تو مانتے ہیں اور خود صحیح بخاری کا حوالہ دیتے ہیں۔ لیکن اسی حدیث بخاری شریف میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے آسمان پر زندہ موجود ہونے کے واقعات درج ہیں تو ہماری سمجھ میں نہیں آتا کہ جب حضرت عیسیٰ علیہ السلام آسمان پر زندہ موجود ہیں اور رسول اکرمﷺ سے شب معراج ملاقات ہوئی اور ان سے باتیں کیں تو پھر کیوں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا دنیا میں پھر آنا ناممکن سمجھا جاتا ہے درانحالیکہ ان کے دنیا میں آنے کے متعلق حدیث موجود ہے۔ جس کا ہم نے اوپر ذکر کیا ہے۔
١٠٣
صحاح کی ان حدیثوں کا خلاصہ جس سے عیسیٰ علیہ السلام کا آسمان پر موجود ہونا آنحضرت ﷺ سے گفتگو کرنا ثابت ہے، حسب ذیل ہے ” ثم مررت بعيسى فقال مرحبا بالنبي الصالح والاخ الصالح قلت من هذا قال هذا عيسى (بخاری ص ٤٧١)“ پھر میں عیسیٰ علیہ السلام کے پاس گیا تو انہوں نے کہا اے نبی صالح اور اے برادر صالح ۔“ میں نے پوچھا یہ کون ہیں؟ جبرئیل نے کہا یہ عیسیٰ علیہ السلام ہیں ۔ ” ورائيت عيسى فاذا هو رجل ربعة احمر كانما خرج من ديماس “ میں نے عیسیٰ کو دیکھا اور وہ میانہ قد سرخ رنگ تھے ۔ گویا ابھی حمام سے نہا دھو کر نکلے ہیں۔“
(صحیح بخاری ص ٤٨٩)
صحیح بخاری اور صحیح مسلم کی متفقہ حدیث ہے ” وانما اراد نزوله من السماء بعد الرفع اليه “ پھر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول میں کیا شک باقی ہے؟ جبکہ مرزا قادیانی کو حسب قول ان کے صحیح بخاری اور مسلم وغیرہ صحاح کی حدیثوں پر اعتقاد ہے تو ان کو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا نزول ماننا لازم ہو جاتا ہے۔ صحیح مسلم کی حدیثیں جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کے متعلق ہیں، میں اس سے پہلے لکھ چکا ہوں۔
کن پر ایمان لانا ضرور ہے اور کیا آیت ارسل رسولہ بالھدیٰ کے
مصداق مرزا قادیانی ہو سکتے ہیں؟
میرے سوال نمبر ٦ کے جواب میں میرے فاضل دوست نے آیت ”هـــو الـــذي ارسل رسوله بالھدی “ کے حوالہ سے مجھے یہ جواب دیا ہے کہ نبی اور رسول مترادف الفاظ ہیں اور چونکہ مسیح موعود کے لئے آیت مذکور میں لفظ رسول استعمال ہوا ہے۔ اس لئے وہ مرزا قادیانی کو بھی رسول کہہ سکتے ہیں ۔ اللہ اکبر، اس خوش اعتقادی کی انتہا نہیں ہے۔ پہلے تو جواب بالا میں مسیح موعود سے کیا مراد ہے؟ یہی امر بحث طلب ہے اور میں اس سے پہلے ثابت کر چکا ہوں کہ قرآن شریف یا حدیث ضعیف میں جہاں کہیں لفظ عیسیٰ یا مسیح کا آیا ہے اس سے عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام مراد ہیں اور مرزا قادیانی نے کھینچ تان کر اس کا مدلول اپنے آپ کو قرار دے لیا ہے۔ ہم اس بحث کو تھوڑی دیر کے لئے ایک طرف رکھ کر سوال کرتے ہیں کہ کیا قرآن شریف میں (سوائے حضرت اسمعیل علیہ السلام کے) کسی ایسے نبی کی نسبت رسول کا لفظ استعمال فرمایا گیا ہے؟ جو صاحب کتاب و شریعت نہیں ہے۔ البتہ رسول کی نسبت نبی کا لفظ متعدد مقامات
١٠٤
پر اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے نہیں فرمائی وہ رسول کے لفظ ”واذکر فی الکتب موسیٰ دوسری آیت ”واذکر فی الـ اہل شریعت نبی شریعت نہیں تھے۔ ان کی نسبت مولوی عبد العلی صاحب سے منسوب کرتے ہیں تو مرزا اس واسطے کہ نبی کا لفظ بموجب ارشاد اللہ تعالیٰ مرزا قادیانی رسول ہیں۔ کیا میں نے عقائد صاف دعویٰ رسول ہونے کا رسول بھی بنا دیا اور جو عبارت قرآن کا ”هو الذي ارسل اور باقی عبارت جو اس سے سچا دین تا کہ اس کو اوپر کر اللہ تعالیٰ نے دے دی کہ تم آن کریم کی منسوب فرما لیں اور جس موصوف کو بھی ہوا ہے۔ وہ کرنا چاہئے تھا۔ اگر پوری بالهدى ودين الحق اپنا رسول ہدایت کے ساتھ
پر اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے۔ مگر اس کے برعکس نہیں۔ یعنی جس پر اللہ تعالیٰ نے کتاب نازل نہیں فرمائی وہ رسول کے لفظ سے مخاطب نہیں کئے گئے۔ جیسے سورہ مریم میں خدا نے فرمایا ہے "واذکر فی الکتب موسیٰ انہ کان مخلصاً وکان رسولا نبیا (مریم:٥١)" اور دوسری آیت: "واذکر فی الکتب ادریس انہ کان صدیقا نبیا (مریم:٥٦)" اہل شریعت نبی کی نسبت تو اللہ نے رسول کا لفظ استعمال فرمایا ہے۔ لیکن جو نبی صاحب شریعت نہیں تھے۔ ان کی نسبت رسول کا لفظ قرآن شریف میں استعمال نہیں ہوا ہے۔ آیت محولہ مولوی عبدالعلی صاحب میں جو رسولہ بالہدی کے الفاظ استعمال ہوئے ہیں۔ ان کو وہ مسیح موعود سے منسوب کرتے ہیں تو مرزا قادیانی پھنس گئے۔ بھگلو جی بہت آسانی سے رسول ہو جاتے ہیں۔ اس واسطے کہ نبی کا دعویٰ تو وہ اس بناء پر کر چکے تھے کہ وہ مسیح موعود ہیں اور چونکہ مسیح کی نسبت بموجب ارشاد اللہ تعالیٰ کے قرآن میں رسول اور نبی دونوں الفاظ استعمال ہوئے ہیں۔ اس لئے مرزا قادیانی رسول ہیں۔ کیا خوب ایں گنجے ودیگر شگفت۔
میں نے عقائد احمدیہ میں کسی مقام پر ایسی عبارت نہیں دیکھی کہ مرزا قادیانی نے صاف دعویٰ رسول ہونے کا کیا ہو۔ لیکن بقول پیران نمی پرند و مریدان می پرانند مریدوں نے ان کو رسول بھی بنا دیا اور جو عبارت خاص دین محمدی کی شان میں تھی۔ اس کو حذف کر کے صرف ایک ٹکڑا قرآن کا "هو الذی ارسل رسوله بالهدی (فتح:٢٨)" کو مرزا قادیانی سے چسپاں کر دیا اور باقی عبارت جو اسی سے ملحق ہے۔ یعنی "ودین الحق لیظهره علی الدین کله" یعنی اور سچا دین تا کہ اس کو اوپر کریں ہر دین کے۔" مریدان مرزا قادیانی نے حذف فرمادی۔
اللہ تعالیٰ نے شاید مرزا قادیانی کو الہام کے ذریعے سے یہ حکم خاص یا ایسی اجازت دے دی کہ قرآن کریم کی آیت سے جس جزو کو چاہیں، اپنے پسند اور مرضی سے اپنے آپ سے منسوب فرمالیں اور جس جزو کو چاہیں حذف فرما دیں اور شاید اسی قسم کا الہام مریدان حضرت موصوف کو بھی ہوا ہے۔ ورنہ ہمارے خیال میں تو قرآن شریف کی پوری آیت سے مطلب اخذ کرنا چاہئے تھا۔ اگر پوری آیت سے مطلب لیا جائے جو یہ ہے "هو الذی ارسل رسوله بالهدی ودین الحق لیظهره علی الدین کله" اور جس کے معنی یہ ہیں کہ اسی نے بھیجا اپنا رسول ہدایت کے ساتھ اور دین سچا تا کہ اس کو غالب کرے ہر دین پر۔
١٠٥
اب اس آیت کو پڑھنے کے بعد کیا دنیا میں کوئی ایسا مسلمان ہے کہ یہ کہہ سکے کہ آیت کے جزو اول کے مدلول مرزا قادیانی ہیں؟ اگر جزو اول کے مدلول مرزا قادیانی ہیں تو جزو دوم کے مصداق کون قرار پائیں گے؟ کیا مرزا قادیانی کا کوئی ایسا دین تھا جس کی نسبت اللہ تعالیٰ نے یہ فرمایا کہ اس کو غالب کر دے ہر دین پر؟ افسوس بلکہ ہزار افسوس اور بے انتہا افسوس ہے کہ ایسی صاف آیات کا جو روز روشن کی طرح منور ہیں، کس بری طرح سے مطلب اخذ کیا جاتا ہے اور آیت مذکورہ کے درمیان جو واؤ عطف ہے۔ اس کا بھی لحاظ نہیں کیا جاتا اور صرف جزو اول کو مسیح موعود سے منسوب کر کے اس کا فائدہ مرزا قادیانی کو دینے کی کوشش کی جارہی ہے۔
اگر جزو اول آیت مذکور کا مسیح موعود کے متعلق ہے تو جز دوم کے لحاظ سے حضرات قادیانیوں کو یہ بتلانا چاہئے کہ کیا مسیح موعود کا کوئی ایسا نیا دین ہے جو تمام دینوں پر غالب آئے گا؟ اور خصوصاً جبکہ ان کے نبی مرزا قادیانی نے یہ فرما دیا ہے ”من نیستم رسول و نیاوردہ ام کتاب هان ملهم استم وزخد اوند منذرم “ (درثمین فارسی ص ٨٢، عقائد احمدیہ ص ٢) مرزا قادیانی نے تو بظاہر صاف کہہ دیا کہ میں رسول نہیں لیکن خفیہ اور در پردہ اپنے مریدوں کو یہ کہہ گئے ہوں کہ میں رسول ہوں اور ظاہراً میں نے ایسا لکھ دیا ہے تو اور بات ہے۔ ورنہ ان کے مریدوں سے تو بعید معلوم ہوتا ہے کہ وہ مرزا قادیانی کو رسول کہتے اور جو آیت خاص شان محمدی میں نازل ہوئی ہے اور جس سے دین محمدی کی فضیلت کا اظہار اللہ نے کیا ہے۔ اس آیت کو مرزا قادیانی پر چسپاں کر دیتے۔
معلوم نہیں کہ ایسی صاف آیتوں کو بھی کھینچ تان کر نئے نبی سے متعلق کرنے کی جرأت کیونکر کی جاتی ہے اور لفظ نبی اور رسول کو اپنے نبی کی حدیث من نیستم رسول و نیاوردہ ام کتاب کے خلاف کیسے مترادف قرار دیتے ہیں۔ مرزا قادیانی بھی رسول اسی کو سمجھتے ہیں جو صاحب کتاب و شریعت ہو۔ قادیانی حضرات کے نبی کے دعوؤں میں جو اجتماع نقیضین ہے، اس کو میں آگے چل کر بیان کروں گا۔ لیکن اس موقع پر بھی مجھے ایک بات بتلانے کی ضرورت ہے وہ یہ ہے کہ میرے لائق دوست نے جواب نمبر ٦ میں جو بیان کیا ہے کہ ”مرزا قادیانی نے اس امر کی صراحت کر دی ہے کہ میں صاحب شریعت نبی نہیں ہوں بلکہ شریعت محمدی کا ظلی نبی ہوں جیسا کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام تک صدہا متبع نبی موسوی شریعت کے تابع گزرے۔“ تو وہ پھر رسول کیسے ہو گئے۔
١٠٦
اس بیان سے ظاہر ہے کہ موسوی گزرے۔ مجھے اس بیان سے ہیں مگر ان کے مرید ان کو رسول قرار تھے اور نہ ان کی نبوت ظلی نبوت تھی بلکہ فرمایا ہے۔ اگر بقول قادیانی حضرات مماثل کیسے ہو سکتے ہیں۔ اس موقع پر تابع تھے۔ ان پر ایمان لانا ہم لوگوں امنا بالله“ کے بعد ”وما اوتی الـ اگر بقول میرے دوست تابع شریعت موسوی گزرے تھے۔ تو سمجھ میں نہیں آتی کہ انبیاء موسوی شریعت نبی یا انبیاء تابع شریعت محمدی ہوتے نہیں آتی کہ بقول میرے دوست اگر رسولہ بالھدیٰ“ نازل ہوتی تو مرزا صاف طور پر ایسے رسول کا ذکر نہ ہوتا تھے اور ایسے نبی پر ایمان لانے کا ذکر ہو، بہت ہی تعجب خیز امر ہے۔ جبکہ مرزا خود رسول کریم ﷺ نے بھی چار جگہ مستقل نبی ہوئے۔ ظلی اور غیر ظلی مرزا قادیانی کے مریدوں کا یہ استدلال مرزا قادیانی ہی موعود قرار پاتے ہیں ڈھونڈی جاتی ہے۔ طور پر نبی ہونے سمجھ نہیں آتی۔ کیوں تیار کیا ہے۔ میں پہلے بھی لکھ چکا ہوں
اس بیان سے ظاہر ہے کہ مرزا قادیانی کو ان نبیوں کے مماثل سمجھا گیا جو تابع شریعت موسوی گزرے۔ مجھے اس بیان سے سخت تعجب ہے کہ خود مرزا قادیانی تو اپنے آپ کو ظلی نبی کہتے ہیں مگر ان کے مرید ان کو رسول قرار دیتے ہیں۔ وہ انبیاء جو تابع شریعت موسوی تھے۔ ظلی نبی نہ تھے اور نہ ان کی نبوت ظلی نبوت تھی۔ بلکہ وہ ایسے انبیاء تھے کہ جن کا ذکر خدا نے قرآن کریم میں فرمایا ہے۔ اگر بقول قادیانی حضرات کے مرزا قادیانی ظلی نبی تھے تو ان انبیاء علیہم السلام کے مماثل کیسے ہو سکتے ہیں۔ اس موقع پر یہ بحث غور طلب ہو جاتی ہے کہ جو انبیاء شریعت موسوی کے تابع تھے۔ ان پر ایمان لانا ہم لوگوں پر فرض ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے سورہ بقرہ میں ”قولوا آمنا بالله“ کے بعد ”وما اوتی النبیون من ربهم (البقرۃ:١٣٦)“ ارشاد فرمایا ہے۔
اگر بقول میرے دوست کے مرزا قادیانی ویسے ہی نبی ہوتے جیسے انبیاء علیہم السلام تابع شریعت موسوی گزرے تھے۔ تو کیا خداوند کریم ایسے نبی پر ایمان لانے کا حکم نہ دیتا؟ یہ بات سمجھ میں نہیں آتی کہ انبیاء موسوی شریعت کے تابع تھے ان پر ایمان لانے کا حکم تو خدا نے دیا اور جو نبی یا انبیاء تابع شریعت محمدی ہوتے ان پر ایمان لانے کا حکم نہ دیتا۔ یہ بات تو بالکل سمجھ میں نہیں آتی کہ بقول میرے دوست اگر مرزا قادیانی ہی کی شان میں آیت ”ھو الذی ارسل رسوله بالھدیٰ“ نازل ہوتی تو مرزا قادیانی ہی اس آیت کے مصداق ہوتے تو کیا قرآن میں صاف طور پر ایسے رسول کا ذکر نہ ہوتا۔ ان انبیاء پر ایمان لانے کا حکم دینا جو تابع شریعت موسوی تھے اور ایسے نبی پر ایمان لانے کا ذکر قرآن میں نہ ہونا جس کی شان میں رسول کا لفظ بھی ارشاد ہوا ہو، بہت ہی تعجب خیز امر ہے۔ جبکہ مرزا قادیانی پر آنے والے موعود کی تمام تعریفات ہیں اور ان کو خود رسول کریم ﷺ نے بھی چار جگہ حدیث میں بقول ان کے بلفظ نبی یاد فرمایا ہے تو وہ خاصے مستقل نبی ہوئے۔ ظلی اور غیر ظلی کی صورت میں معرض بحث میں لانا فضول ہے اور پھر مرزا قادیانی کے مریدوں کا یہ استدلال کہ ابن ماجہ کی حدیث ”لا مھدی الا عیسیٰ“ کی رو سے مرزا قادیانی ہی موعود قرار پاتے ہیں تو پھر اعتراضات کے لئے ظلی نبوت کی ٹٹی کی آڑ کیوں ڈھونڈی جاتی ہے۔ صاف طور پر نبی ہونے کا دعویٰ کر دیا جاتا۔ چلو چھٹی مل جاتی یہ نبوت انگریزی ہے جو سمجھ نہیں آتی۔ کیوں تیار کیا ہے۔
میں پہلے بھی لکھ چکا ہوں کہ بقول ان کے اگر مہدی کوئی جدا نہیں مرزا قادیانی ہی
١٠٧
٥٥٨ مہدی ہیں تو عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام مہدی قرار پائیں گے۔ مرزا قادیانی ابن مریم نہیں اس لئے ابن ماجہ کی حدیث سے بھی ان کا استدلال صحیح نہیں۔ حدیث کے الفاظ ”لَا مَهْدِيَّ اِلَّا عِيْسَى ابْنُ مَرْيَمَ“ سے ان کے آنے کی نفی نہیں ہوتی۔ بلکہ اس سے مطلب یہ ہے کہ ہدایت کرنے والا جیسے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام ہوں گے۔ دوسرا اس وقت میں کوئی نہیں ہوگا۔ عیسیٰ کی خدمات کا توصیفی ذکر کیا گیا ہے جو حدیث کی رو سے بیان کی گئی۔ مرزائی حضرات کے استدلال کے بموجب جب بھی حضرت عیسیٰ علیہ السلام ہی مہدی ہیں ”لا مهدی الا عیسیٰ ابن مریم“
یعنی مہدی کوئی دوسرا نہیں عیسیٰ مریم علیہا السلام کے بیٹے ہی مہدی ہیں۔ پس اس استدلال سے مہدی حضرت عیسیٰ علیہ السلام قرار پاتے ہیں۔ مرزا قادیانی تو اس حدیث کی رو سے مسیح یا مہدی موعود نہیں قرار پاسکتے۔ دُنیا میں لوگ جس طرح نام رکھ لیتے ہیں کام اور خدمات کے لحاظ سے اپنے آپ کو خطاب دے دیتے ہیں خادم قوم وغیرہ اسی طرح کا ایک نام مرزا قادیانی نے بھی ظلی نبی رکھ لیا۔ چنانچہ انہوں نے محض اس وجہ سے کہ پادریوں سے مناظرہ کئے مباحثے کئے۔ ظلی نبی کا تمغہ زیب گلو فرمالیا۔ پھر ضرورت ہوئی کہ اعتراضات سے اپنے آپ کو بچائیں تو مسیح مان کر حدیثوں سے اپنے مفید مطلب نکالنے اور دین میں تفرقہ ڈال کر ایک علیحدہ فرقہ قائم فرمالیا۔ اس سے کیا وہ ان نبیوں میں شامل ہو جائیں گے جن کا ذکر خود اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے؟ ہرگز نہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ”قُوْلُوْا آمَنَّا بِاللهِ وَمَا أُنْزِلَ إِلَيْنَا وَمَا أُنْزِلَ إِلَى إِبْرَاهِيْمَ وَإِسْمَعِيْلَ وَإِسْحَقَ وَيَعْقُوْبَ وَالْأَسْبَاطِ وَمَا أُوتِيَ مُوْسَى وَعِيْسَى وَمَا أُوتِيَ النَّبِيُّوْنَ مِنْ رَّبِّهِمْ لَا نُفَرِّقُ بَيْنَ اَحَدٍ مِّنْهُمْ وَنَحْنُ لَهُ مُسْلِمُوْنَ (البَقَرَةُ:١٣٦)“ ”کہو ہم اللہ پر اور جو ہم پر اترا ( قرآن ) اور جو ابراہیم علیہ السلام اور اسمعیل علیہ السلام اور اسحق علیہ السلام اور یعقوب علیہ السلام اور ان کی اولاد پر اترا اور جو موسیٰ علیہ السلام اور عیسیٰ علیہ السلام اور دوسرے پیغمبروں کو اپنے پروردگار کی طرف سے ملا، ان سب پر ایمان لائے، ہم ان میں سے کسی ایک میں بھی فرق نہیں کرتے اور ہم اس کے تابعدار ہیں ۔“
اس آیت کو ملاحظہ فرمائیں۔ اللہ تعالیٰ کا ہم کو حکم ہے کہ ہم تمام انبیاء پر جو آنحضرت ﷺ سے پہلے گزرے ہیں، ایمان لائیں اور ان میں فرق نہ کریں۔ اگر ہم ان انبیاء پر ١٠٨
ایمان نہ لائیں تو ہم مسلمان نہیں رہتے۔ جس ارشاد اللہ تعالیٰ کا ہے اور اگر اللہ تعالیٰ کو یہ منظور خواہ وہ ظلی ہوں یا غیر ظلی، جن پر ایمان لانا فر نبیوں پر ایمان لانے کا صاف حکم دیا ہے جو آ گزرے ہوئے نبیوں پر ایمان لا حکم نہ دیتا دلیل اس بات کی ہے کہ آئندہ کوئی اور آنحضرت ﷺ کے بعد کوئی ظلی نبی نہیں۔ کہ ظلی نبی بننے کی کوشش کی گئی ہے۔ اس کی ترد کا یہ بیان کہ ”هُوَ الَّذِيْ أَرْسَلَ رَسُوْلَهُ بِالْ یہی قول ہے، صحیح نہیں ہے۔
میں نے اوپر تفصیل سے بتلا دیا ہے ہے۔ لفظ ارسل بصیغہ ماضی مستعمل ملا ہے اس آیت کے موجود تھا۔ یعنی دین محمدی اپنی پ بِالْهُدَى “ سے صاف آنحضرت ﷺ کی دین پر۔ البتہ بعض کا خیال ہے کہ چونکہ حضر اور اس وقت دین محمدی سب ادیان پر غالب آ پر غالب نہیں ہے اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام جائے گا۔ اس لئے بعض یہ خیال کرتے ہیں کہ علیہ السلام مراد ہیں۔
لیکن میں اس بحث کو صحیح نہیں سمجھ بصیغہ مستقبل ارشاد فرمایا جاتا یعنی بھیجے گا رسول بصیغہ ماضی ارشاد فرمایا ہے اور اس کے ساتھ ہی معه “ تو اس سے اس خیال کی بخوبی تردید سورہ توبہ میں بھی ”أَرْسَلَ رَسُوْلَهُ بِالْهُدَى
ایمان نہ لائیں تو ہم مسلمان نہیں رہتے ۔ جن نبیوں پر ایمان لانا فرض ہے ان کی نسبت صاف ارشاد اللہ تعالیٰ کا ہے اور اگر اللہ تعالیٰ کو یہ منظور ہوتا کہ آنحضرت ﷺ کے بعد نبی یا انبیاء پیدا ہوں خواہ وہ ظلی ہوں یا غیر ظلی، جن پر ایمان لانا فرض ہوتا تو اللہ تعالیٰ صاف ارشاد فرما دیتا جیسا کہ ان نبیوں پر ایمان لانے کا صاف حکم دیا ہے جو آنحضرت ﷺ کے پہلے گزر چکے ہیں۔ گزرے ہوئے نبیوں پر ایمان لانے کا حکم دینا اور آنے والے نبی پر ایمان لانے کا حکم نہ دینا دلیل اس بات کی ہے کہ آئندہ کوئی نبی نہیں آئے گا اور آنحضرت ﷺ خاتم النبیین ہیں اور آنحضرت ﷺ کے بعد کوئی ظلی نبی نہیں۔ اعتراضات سے بچنے کے لئے جو ایک لفظ ظلی تراش کر ظلی نبی بننے کی کوشش کی گئی ہے۔ اس کی تردید خود اس آیت سے ہو جاتی ہے اور میرے دوست کا یہ بیان کہ ہُوَ الَّذِیْ اَرْسَلَ رَسُوْلَہٗ بِالْھُدٰی مسیح موعود سے متعلق ہے اور مفسرین کا بھی یہی قول ہے، صحیح نہیں ہے۔
میں نے اوپر تفصیل سے بتلا دیا ہے کہ دین محمدی کی فضیلت اس آیت سے ثابت ہوتی ہے۔ لفظ ارسل بصیغہ ماضی پر مستعمل ہوا ہے اس سے ثابت ہے کہ جو دین بوقت نازل ہونے اس آیت کے موجود تھا، یعنی دین محمدی اس کی فضیلت ظاہر فرمائی گئی ہے۔ ”ارسل رسوله بالھدیٰ“ سے صاف آنحضرت ﷺ کی طرف اشارہ ہے تاکہ ان کے دین کو غالب کرے ہر دین پر۔ البتہ بعض کا خیال ہے کہ چونکہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام قیامت سے پہلے نازل ہوں گے اور اس وقت دین محمدی سب ادیان پر غالب آئے گا اور چونکہ اس زمانہ میں دین محمدی سب دینوں پر غالب نہیں ہے اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نازل ہونے کے بعد صرف ایک ہی دین محمدی ہو جائے گا۔ اس لئے بعض یہ خیال کرتے ہیں کہ ”ارسل رسوله بالھدیٰ“ سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام مراد ہیں۔
لیکن میں اس بحث کو صحیح نہیں سمجھتا۔ اگر یہی مطلب اور منشاء آیت کا ہوتا تو لفظ یرسل بصیغہ مستقبل ارشاد فرمایا جاتا یعنی بھیجے گا رسول اس کا واسطے ہدایت کے۔ جبکہ اللہ نے ارسل صاف بصیغہ ماضی ارشاد فرمایا ہے اور اس کے ساتھ ہی یہ الفاظ ہیں ”محمد رسول الله والذین معه“ تو اس سے اس خیال کی بخوبی تردید ہو جاتی ہے کہ ارسل رسولہ سے مراد حضرت عیسیٰ ہیں۔ سورہ توبہ میں بھی ”ارسل رسوله بالھدیٰ“ ہے۔ لیکن حضرات قادیانیوں کا بعض مفسرین کے اقوال
١٠٩
سے مدد لے کر یہ نتیجہ نکالنا کہ چونکہ ”ارسل رسولہ بالھدی“ حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے متعلق ہے اور مرزا قادیانی چونکہ مثیل مسیح ہیں اور عیسیٰ تو اس دنیا میں مر گئے اور اب وہ آنے والے نہیں ہیں۔ لہٰذا اس آیت کے مصداق مرزا قادیانی ہی ہیں، محض خیالی پلاؤ پکانا ہے۔
میں اوپر تفصیل سے بحث عرض کر چکا ہوں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نازل ضرور ہوں گے اور بیشک اس وقت دین محمدی سب دینوں پر غالب آئے گا لیکن یہ خیال کرنا کہ مرزا قادیانی اس کے مصداق ہیں، محض غلط ہے۔ اگر فرض کیا جائے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام اس آیت کے مصداق ہیں تو اس سے مرزا قادیانی کو کیا فائدہ پہنچ سکتا ہے؟ مرزا قادیانی تو اپنے آپ کو ظلی نبی کہتے ہیں اور مثیل مسیح کہتے ہیں۔ مثل کبھی اصل نہیں ہو سکتا۔ اگر آیت مذکورہ بالا حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے متعلق ہے تو مرزا قادیانی کے مرید مرزا قادیانی کو کچھ فائدہ نہیں پہنچا سکتے اور نہ ان کو مسیح بنا سکتے ہیں۔
لیکن یہ عجیب اور بالکل نرالہ ڈھنگ مرزا قادیانی نے اختیار کیا ہے کہ ظلی نبی کے خطاب سے اپنے آپ کو منسوب کر کے ان آیات اور حدیثوں سے اپنے حق میں فائدہ اٹھانا چاہتے ہیں جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے متعلق ہیں۔ انصاف سے ملاحظہ فرمائیں کبھی آنحضرت ﷺ کے امتی ہونے کا دعویٰ کیا گیا ہے اور کبھی ظلی نبی ہونے کا دعویٰ کیا گیا ہے اور کہیں رسول ہونے سے انکار ہے۔ اگر بقول ہمارے دوست کے آیت ”هو الذی ارسل رسولہ“ کے بموجب مرزا قادیانی رسول ہیں تو پھر ظلی نبوت کا دعویٰ کیوں ہے؟ صاف دعویٰ نبوت اور رسالت کا کر دیا جاتا کہ آیت شریفہ میری شان میں ہے اور میں نبی اور رسول ہوں۔ صرف اعتراضات سے بچنے کے لئے کونہ کونہ چھپنے کی کوشش کیوں کی جاتی ہے۔
کبھی آیت سے کبھی کسی بزرگ کے قول سے مدد لے کر نبی بننے کی کوشش کیوں کی جاتی ہے۔ صاف طور پر رسول بن بیٹھتے۔ وہ کبھی یہ کہتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ کے بعد کوئی نبی نہیں نیا ہو یا پرانا۔ (عقائد احمدیہ ص ١٩) اور کبھی دبے الفاظ میں رسالت کا دعویٰ ہے۔ (ص ٦ کتاب مذکور) جس طرح کوئی شخص بے ملک اور رعیت کے بادشاہ ہونے کا دعویٰ کرے اسی طرح مرزا قادیانی بغیر کسی شریعت اور صحیفہ الٰہی کے اور حکم خدا اور رسول کے دعویٰ رسالت فرماتے ہیں مگر دبے ہوئے الفاظ میں ۔ بھلا ایسی کاٹھ کی ہانڈی کہیں چولھے پر چڑھ سکتی ہے؟
١١٠
مجھے تو مرزا قادیانی کی اختلاف بیانیوں پر ہنسی آتی ہے کہ وہ آنحضرتﷺ پر نبوت کے ختم ہونے کے کبھی قائل ہیں ان الفاظ میں کہ ”میں ختم نبوت کا قائل ہوں اور جو شخص ختم نبوت کا منکر ہو اس کو میں بے دین سمجھتا ہوں ۔“ (عقائد احمدیہ ص ١٥) اور کبھی یہ فرماتے ہیں کہ نبوت ختم نہیں ہوئی اور اگر نبوت ختم ہو جاتی تو حضرت عائشہؓ کا ”لا نبی بعدہ“ کہنے سے منع نہ فرماتیں اور اس کی تائید میں مذکورہ بالا اقوال پیش کئے ہیں اور حجت کرتے ہیں کہ نبوت ختم نہیں ہوئی ۔ (عقائد احمدیہ ص ١٩) اور کبھی فرماتے ہیں کہ ”آنحضرتﷺ پر وحی ختم ہو گئی ۔“ ملاحظہ ہو (ص ١٩ کتاب مذکور ) اور کبھی کہتے ہیں کہ صدہا مرتبہ مجھ پر وحی ہوئی (ص ٧) اور کبھی کہتے ہیں کہ وحی نہیں بلکہ مجھے الہام ہوتا ہے ”من نیستم رسول ونیاوردہ ام کتاب، ہماں ملہم استم وزخداوند مستعذرم“ ( در ثمین فارسی ص ٨٩، کتاب مذکور ص ٢) کبھی تو وہ یہ کہتے ہیں کہ میں ظلی نبی ہوں اور تابع شریعت محمدیؐ ہوں اور اس بناء پر صرف نبوت کا دعویٰ کرتے ہیں ۔
(موسومہ عقائد احمدیہ ص ٦، ٧)
اور کبھی صاف فرماتے ہیں کہ میں رسول ہوں اور رسالت آنحضرتﷺ پر ختم ہو گئی ۔ (ص١٩،٢) برخلاف اس کے کبھی رسالت کا بھی دعویٰ کرتے ہیں کہ خدا نے نبوت اور رسالت کا لفظ اپنی وحی میں میری نسبت صدہا مرتبہ استعمال کیا ہے ۔ ”یعنی وحی کے ذریعہ سے مرزا قادیانی کی نسبت رسالت کا لفظ بھی صدہا مرتبہ استعمال کیا ہے ۔ (ص ٦ سطر آخر ) کتاب مذکور میں صاف لکھا ہے کہ من ہستم رسول و نیاوردہ ام کتاب ۔ اس کے خلاف یہ کہنا کہ وحی میں خدا نے میری نسبت رسالت کا لفظ استعمال کیا ہے ۔ اجتماع ضدین ہے کیا کوئی صحیح العقل ایسی متضاد باتیں کر سکتا ہے ؟
کبھی فرماتے ہیں کہ یہ ضروری تھا کہ دنیا ختم نہ ہو جب تک کہ محمدی سلسلہ کے لئے ایک مسیح دجال رنگ کا نہ دیا جاتا ۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ”مُنِيْبِيْنَ اِلَيْهِ وَاتَّقُوْهُ وَ اَقِيْمُوا الصَّلٰوۃَ وَلَا تَکُوْنُوْا مِنَ الْمُشْرِکِیْنَ، مِنَ الَّذِیْنَ فَرَّقُوْا دِیْنَہُمْ وَکَانُوْا شِیَعًا کُلُّ حِزْبٍ بِمَالَدَیْہِمْ فَرِحُوْن (روم:٣١، ٣٢) ”یعنی اسی کی طرف رجوع رہو اور اس سے ڈرتے رہو ان لوگوں میں جنہوں نے اپنے دین میں تفرقہ ڈالا کئی گروہ ہو گئے اور ہر گروہ اپنے اعتقاد پر پھولا ہوا ہے ۔“
پہلی آیت میں خدا نے لفظ مشرکین فرمانے کے بعد ایسے لوگوں کی نسبت ارشاد فرمایا ہے جو دین میں تفرقہ ڈالتے ہیں ۔ جو شرک بالنبوۃ کے متعلق خدا نے ارشاد فرمایا ہے اور اس آیت
١١١
میں لفظ مشرکین مطلق ہے۔ ذات باری تعالیٰ کے ساتھ شرک کیا جائے یا نبوت میں اس پر لفظ مشرک صادق آئے گا۔ کیونکہ شرک کے اقسام ہیں۔ منجملہ ان کے شرک بالنبوۃ بھی ہے۔ جو شخص شرک بالنبوۃ کا مرتکب ہو کر اپنے دین میں تفرقہ ڈالے اور گروہ علیحدہ کرے اس کی نسبت ارشاد خدا کا ہے کہ وہ شخص اپنے اعتقاد پر پھولا ہوا ہے۔ لفظ فرحون صاف بتلا رہا ہے کہ اپنے اعتقاد کو سچا اور پکا سمجھ کر غرور سے پھولنا اور اپنے دین میں تفرقہ ڈال کر اپنا گروہ علیحدہ کر لینا اللہ تعالیٰ کے ارشاد کے خلاف کرنا ہے۔
اللہ تعالیٰ تو یہ فرماتا ہے کہ ”منیبین الیہ واتقواہ“ اللہ سے رجوع رہو اور اس سے ڈرتے رہو اور دین میں تفرقہ نہ ڈالو اور اپنے اعتقاد پر ہرگز مت پھولو اور مشرک مت بن جاؤ۔ جو لوگ شرک بالنبوۃ کے مرتکب ہو کر اپنے گروہ علیحدہ کر کے پھول رہے ہیں وہ خدا کے پاس ضرور جوابدہ ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ ”فلیضحکوا قلیلاً ولیبکوا کثیراً جزاء بما کانوا یکسبون“ ﴿پس ہنس لیں تھوڑا (دنیا میں) اور بہت روئیں گے (آخرت میں) ان کاموں کے عوض جو (دنیا میں) کرتے رہے۔﴾
اس سے ظاہر ہے کہ لوگ دنیا میں تو اپنے کئے پر خوش ہوتے ہیں اور ہنستے ہیں لیکن عاقبت میں ان کو بہت رونا پڑے گا۔ جن لوگوں نے اللہ اور رسول کریمﷺ کے احکام کے مان لینے سے انکار کیا ان کے حق میں یہ آیت شریفہ نازل ہوئی۔ ”لا تصل علی احد منھم مات ابدا ولا تقم علی قبرہ انھم کفروا باللہ ورسولہ وماتوا وھم (فاسقون، توبہ : ٨٤)“ ﴿ان میں سے کوئی مر جائے تو اس کے جنازہ نماز نہ پڑھو اور نہ اس کی قبر پر کھڑا ہو کیونکہ انہوں نے اللہ اور اس کے رسول (کے احکام) کو ماننے سے انکار کیا۔﴾
اللہ تعالیٰ کے صاف صریح احکام سے جو موجود ہیں، اگر انکار کیا جائے تو ہم نہیں سمجھ سکتے کہ وہ لوگ اللہ کے پاس کس طرح جواب دہی کر سکیں گے۔ غالباً بعض حضرات اس آیت کے شان نزول کے اعتبار سے یہ اعتراض کریں گے کہ میں نے بے موقع اس آیت کا حوالہ دیا لیکن واضح رہے کہ بیشک یہ آیت اس وقت نازل ہوئی تھی جبکہ بعض مسلمانوں نے آنحضرتﷺ کے حکم کے موافق جہاد پر جانے کی تیاری نہیں کی تھی۔ لیکن الفاظ انہم کفروا سے اعتراض مذکور کا جواب مل سکتا ہے۔ خدا نے خود جواب دے دیا ہے اور اعتراض کی گنجائش ہی باقی نہ رکھی۔ ان مردوں کی
١١٤
جنازہ کی نماز پڑھنے سے امتناع ہوا تعمیل سے انکار کر دیا۔ یعنی وہ لوگ حرکت اللہ اور رسول اللہﷺ کے
میرے خیال میں وہ حیلہ اور بہانہ کرتے ہیں اور خواہ مخواہ کے رسولﷺ کے احکام ماننے سے ہے۔ جو کوئی بھی کسی وقت دین کے بہانے ڈھونڈیں گے وہ اس آیت کی کا مقصود یہ ہوتا کہ اس آیت کو خاص سے حیلہ حوالہ کر کے اپنے آپ کو بچا مقصود اللہ تعالیٰ کا یہ معلوم ہوتا ہے کہ کوئی اللہ اور رسولﷺ کے حکم کی تعم
انگریزی مثل ہے on کھوج کرنے کا نتیجہ تفرقہ ہے۔ جو باتیں نکالنا گویا تفرقہ ڈالنا ہے۔ م خلاف ایسی باتیں نکالیں کہ جس کی اس گروہ کے سمجھانے کے لئے طے اس مثل کے بموجب cern g not pleasing him. کرے کہ اس سے اس بات کا تعلق خوش نہیں رہ سکتا۔
دوسرے لوگوں کو تردید خوش نہ ہوں گے۔ کیونکہ حق بات ض کو تو یاد رکھنا چاہئے کہ ”لا تفسدو
جنازہ کی نماز پڑھنے سے امتناع ہو گیا جنہوں نے اپنی زندگی میں خدا اور رسول ﷺ کے احکام کی تعمیل سے انکار کر دیا۔ یعنی وہ لوگ جو بہانہ کر کے بیٹھ گئے تھے اور جہاد میں نہیں گئے ان کی یہ حرکت اللہ اور رسول اللہ ﷺ کے احکام کے نہ ماننے کے مماثل سمجھی گئی۔
میرے خیال میں وہ لوگ جو اللہ اور رسول ﷺ کے صاف وصریح احکام کے خلاف حیلہ اور بہانہ کرتے ہیں اور خواہ مخواہ دلائل لاکر صاف احکام کی تعمیل نہیں کرتے۔ گویا وہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے احکام ماننے سے انکار کرتے ہیں۔ ”انہم کفروا“ عام طور سے ارشاد ہوا ہے۔ جو کوئی بھی کسی وقت دین کے کسی معاملہ میں بھی اللہ اور رسول ﷺ کے ارشاد کے خلاف حیلے بہانے ڈھونڈیں گے وہ اس آیت کی رو سے ”انہم کفروا“ کا مصداق ہوں گے۔ اگر اللہ تعالیٰ کا مقصود یہ ہوتا کہ اس آیت کو خاص ان ہی اشخاص تک محدود رکھا جائے جنہوں نے جہاد پر جانے سے حیلہ حوالہ کر کے اپنے آپ کو بچایا تو عام طور پر ”انہم کفروا“ ارشاد نہ ہوتا بلکہ اس ارشاد سے مقصود اللہ تعالیٰ کا یہ معلوم ہوتا ہے کہ ایک خاص واقعہ کا ذکر کر کے عام طور سے یہ حکم دیا گیا کہ جو کوئی اللہ اور رسول ﷺ کے حکم کی تعمیل سے حیلہ ڈھونڈ کر انکار کرے، وہ اس آیت کا مصداق ہوگا۔
انگریزی مثل ہے Inquiries lead to seperation ! یعنی ہر کام میں کھوج کرنے کا نتیجہ تفرقہ ہے۔ جو کام معین اور اس پر ایک گروہ عام کا اتفاق ہے۔ اس میں سے نئی باتیں نکالنا گویا تفرقہ ڈالنا ہے۔ مرزا قادیانی نے دنیا بھر کے مسلمانوں کے متفق علیہ مسئلہ کے خلاف ایسی باتیں نکالیں کہ جس کی وجہ سے مسلمانوں میں یہ تفرقہ پڑا کہ ایک گروہ علیحدہ ہو گیا اور اس گروہ کے سمجھانے کے لئے طے شدہ مسائل کو پھر اعادہ کرنے کی ضرورت پڑی اور انگریزی کی اس مثل کے بموجب He who talks which does not concern him will hear some thing not pleasing him. جو شخص ایسی بات کرے کہ اس سے اس بات کا تعلق نہ ہو تو اس کو جواب بھی ایسا سننا ضرور ہے جس کے سننے سے وہ خوش نہیں رہ سکتا۔
دوسرے لوگوں کو تردید لکھنے کی ضرورت پڑی اور جب تردید لکھی گئی تو سن کر ضدی لوگ خوش نہ ہوں گے۔ کیونکہ حق بات ضدی آدمی کو تلخ معلوم ہوا کرتی ہے۔ مگر اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کو یاد رکھنا چاہئے کہ ”لا تفسدوا فی الارض بعد اصلاحها “ (زمین میں فساد مت ڈالو
١١٣
بعد اس کے کہ اس کی اصلاح ہو گئی ہے۔ یہ اللہ کا تو یہ حکم ہے اور مرزا قادیانی نے دنیا میں فساد پھیلانے کی کوشش کی۔ جبکہ دنیا میں اصلاح ہو گئی تھی اور مسلمان امن سے گزر رہے تھے۔ نہ معلوم خدا کو مرزا قادیانی کیا جواب دیں گے جو اللہ تعالیٰ کے صریح احکام کے خلاف اور رسول اکرم ﷺ کے ارشاد کے خلاف فساد پھیلایا گیا۔
قادیانیوں کا ایمان اور ان کا کلمہ اب کیا ہو سکتا ہے؟
اب ایک اور امر جو بہت غور طلب ہے، وہ یہ ہے کہ مرزا قادیانی کے خلیفہ مرزا بشیر الدین محمود احمد نے جو الفاظ بیعت کے طبع کرائے ہیں۔ اس میں لکھا ہے ملاحظہ فرمائیں (ص ٢٥ موسومہ عقائد احمدیہ) ”حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے تمام دعاویٰ پر ایمان رکھوں گا۔“ پہلے تو مجھے یہ اعتراض ہے کہ بشیر الدین کو خلیفہ کا خطاب دے کر ایک علیحدہ خلافت قائم کی گئی ہے۔ دوسرے مرزا قادیانی پر ایمان لانا فرض کیا گیا ہے اور جو شخص مرزا قادیانی پر ایمان نہ لائے، وہ اس جماعت احمدیہ میں شریک نہیں ہو سکتا۔ وہ شخص اس قابل نہیں رہتا کہ اس کے پیچھے نماز جائز ہو۔ گویا مسلمان نہیں جو مرزا قادیانی پر ایمان نہ لائے۔
میرے فاضل دوست نے میرے سوال نمبر ٨ کا جو جواب دیا ہے۔ اس میں صاف لکھا ہے کہ ”مسیح موعود نبی اللہ ہے اور نبی کا منکر کافر ہوتا ہے۔“ اس جواب سے تو دنیا بھر کے چالیس کروڑ مسلمان سب کافر ٹھہر سکتے ہیں اور صرف مکہ اور مدینہ کی چٹکی بھر مسلمان ہیں جو مرزا قادیانی پر ایمان لا چکے ہیں۔ یا اللہ! یہ کیا غضب ہے کہ افغانستان، بلوچستان، ترکستان، عربستان، ایران، توران، بلخ، بخارہ، روم، شام، مصر، افریقہ، چین اور جاپان کے ٤ کروڑ اور ہندوستان بھر کے چھ کروڑ مسلمان سب کافر اور بس قادیانی نبی پر ایمان لانے والے چٹکی بھر مسلمان جنت میں مزے کریں گے۔
یہ چالیس کروڑ مسلمان اپنے نبی کریم ﷺ کے کیسے عاشق صادق ہوں مگر دوزخ میں جائیں گے اور جب تک مرزا قادیانی پر ایمان نہ لائیں، بہشت کی صورت نہ دیکھیں گے۔ اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں یہ فرماتا ہے کہ ”انما المؤمنون الذين آمنوا بالله ورسوله “ وہ لوگ ایمان والے ہیں کہ ایمان لائے اللہ پر اور اس کے رسول پر۔ لیکن بسا تعجب کہ قادیانی خلیفہ یہ کہتے ہیں اور مسلمانوں کو ترغیب دیتے ہیں کہ کہو ”مرزا غلام احمد قادیانی مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے تمام دعاویٰ پر ایمان رکھوں گا۔“
١١٤
قادیانی خلیفہ کی اس ترغیب کو ا ترغیب کہے تو ناجائز نہ ہو گا۔ کیونکہ قادیا دیتے ہیں اور پھر دعویٰ ہے کہ چونکہ ہم خ ہم تو قادیانی کے اوپر ایمان لے آئے او اس دعویٰ سے ثابت ہے کہ ج نے مرزا قادیانی کا نام تک نہیں سنا ؟ خدا ا ارشاد کے خلاف نہیں ہے؟ خدا ان پر ع اگر مرزا قادیانی پر ایمان لائے اور قادیانی ا مرزا قادیانی پر ایمان نہ لائے۔ ان باتوں خطبے کے دیکھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ مرزا آپ کو شریک نبوت بنا لیا ہے۔
جیسا کہ ان کے اس مقولہ سے ظاہر ہ کی نبوت ہے نہ کوئی نئی نبوت ۔“ مرزا قادیا قرار دیا ہے۔ اپنی نبوت کوئی نئی نبوت نہیں ق غالباً قادیانیوں کا ہے۔ جنہیں اگر مرزا قادیانی پ نہ لائے۔ کوئی اس فرقہ کے پاس اس کام حضرات کے جو اس زمانہ میں ہیں، انہی سے د چٹکی ہوگی اور تعجب بڑھ جائے گا۔ اگر کچھ عرصہ وہ اور ہی مسلمان سمجھے جائیں گے۔ جس طرح علیحدہ گروہ میں ہو گئے ہیں۔
اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں ارشاد ناعلیھا آباء ناو اللہ امرنا بھا (الاعراف: کہ ہم نے اپنے باپ دادا کو اسی بات پر پایا اور بچے ضرور اسی طرح کہیں گے تو ان کو اسی آیت کر بالفحشاء اتقولون على ما لا تعلمون
قادیانی خلیفہ کی اس ترغیب کو جو اللہ تعالیٰ کے ارشاد کے خلاف ہے، اگر کوئی شیطانی ترغیب کہے تو ناجائز نہ ہوگا۔ کیونکہ قادیانی حضرات اللہ کے ارشاد کے خلاف مسلمانوں کو ترغیب دیتے ہیں اور پھر دعویٰ ہے کہ چونکہ مرزا قادیانی مسیح موعود نبی اللہ ہیں اور نبی کا منکر کافر۔ اس لئے ہم تو قادیانی کے اوپر ایمان لے آئے اور جو لوگ مرزا قادیانی پر ایمان نہیں لائے وہ سب کافر۔“
اس دعویٰ سے ثابت ہے کہ روم، روس، افریقہ، شام، چین کے سارے مسلمان جنہوں نے مرزا قادیانی کا نام تک نہیں سنا مفت میں کافر ہو گئے۔ کیا قادیانیوں کا یہ دعویٰ اللہ تعالیٰ کے ارشاد کے خلاف نہیں ہے؟ خدا ان لوگوں کو ایمان والے کا خطاب دیتا ہے جو اللہ اور رسول اکرمﷺ پر ایمان لائے اور قادیانی اللہ کے حکم کی ضد میں یہ کہتے ہیں کہ وہ شخص ایمان والا نہیں جو مرزا قادیانی پر ایمان نہ لائے۔ ببین تفاوت رہ از کجاست تا بہ کجا کتاب موسومہ عقائد احمدیہ کے صفحہ ٧ کے دیکھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ مرزا قادیانی نے اپنی نبوت کو نبوت محمدیﷺ کا جزو یا اپنے آپ کو شریک نبوت بنا لیا ہے۔
جیسا کہ ان کے اس مقولہ سے ظاہر ہے ”مگر یہ نبوت (میری نبوت) آنحضرتﷺ کی نبوت ہے نہ کوئی نئی نبوت۔“ مرزا قادیانی کی نبوت کو بھی حضرت رسول اکرمﷺ کی نبوت قرار دیا ہے۔ اپنی نبوت کو کوئی نئی نبوت نہیں سمجھتے۔ بالفاظ دیگر شریک نبوت محمدی ہیں۔ یہی خیال غالباً قادیانیوں کا ہے۔ جبھی تو مرزا قادیانی پر ایمان لانا فرض قرار دیا ہے اور جب تک ان پر ایمان نہ لائے۔ کوئی اس فرقہ کے پاس اس قابل نہیں رہتا کہ اس کے پیچھے نماز جائز ہو۔ قادیانی حضرات کے جو اس زمانہ میں ہیں، انہی سے ایسے خیالات ہیں تو آئندہ ان کی نسلوں میں تو زیادہ پختگی ہوگی اور تعصب بڑھ جائے گا۔ اگر کچھ عرصہ تک اس اعتقاد کے لوگوں کا سلسلہ جاری رہا تو اغلباً وہ اور ہی مسلمان سمجھے جائیں گے۔ جس طرح کہ بعض دوسرے فرقہ مسلمانوں کے بالکل ایک علیحدہ گروہ میں ہوگئے ہیں۔
اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں ارشاد فرمایا ہے ”واذا فعلوا فاحشة قالوا وجد ناعلیہا آباءنا واللہ امرنا بہا (اعراف: ٢٨)“ (اور جب وہ برا کام کرتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ہم نے اپنے باپ دادا کو اسی بات پر پایا اور اللہ نے اس کا ہم کو حکم دیا ہے۔) قادیانیوں کے بچے ضرور اسی طرح کہیں گے تو ان کو اسی آیت کا دوسرا جملہ سمجھانا پڑے گا۔ ”قل ان الله لا یامر بالفحشاء اتقولون علی اللہ ما لا تعلمون (اعراف: ٢٨)“ (کہہ دے بیشک اللہ حکم نہیں کرتا
١١٥
برے کام کا کیا تم اللہ پر وہ بات کہتے ہو جس کو نہیں جانتے۔﴾ بہر حال حضرات قادیانیوں کی اولاد میں اور زیادہ پختہ خیال اس نبوت کا ہو جائے گا، خدا رحم فرمائے اور نیک ہدایت دے۔ اب تک ساری دنیا کے مسلمانوں کا یہ عقیدہ ہے کہ اللہ اور اس کے رسول محمد ﷺ پر جو ایمان لائے وہ مسلمان ہے اور اس کے مسلمان ہونے پر یہ حدیثیں اور آیتیں ہیں۔ ”انما المؤمنون الذين آمنوا بالله ورسوله من قال لا اله الا الله دخل الجنة“ اور ”من شهد اشهد ان لا اله الا الله دخل الجنة“ اور ”من كان كلامه لا اله الا الله دخل الجنة“ اور ہم سب کا کلمہ ہے ”لا اله الا الله محمد رسول الله“ جو تمغہ اسلام کا ہے لیکن اب یہ اضافہ کیا گیا ہے کہ مسیح موعود کے تمام دعوؤں پر ایمان رکھوں گا۔ ورنہ وہ کافر اور بے دین ہے اور اس کے پیچھے نماز جائز نہیں تو بتقدیر کلام، کلمہ کی اب یہ ہو جاتی ہے۔
”لا اله الا الله محمد رسول الله ومرزا قادیانی ظلی نبی اللہ“ اور اگر آئندہ کوئی اور ظلی نبی پیدا ہوا اور وہ بھی مرزا سے زیادہ تاویلات کر کے اپنے آپ کو ظلی نبی کہے اور مرزا قادیانی کی طرح اپنے اوپر ایمان لانے کی ہدایت کرے تو جس طرح مرزا قادیانی کا نام کلمہ کے ساتھ پڑھنا لازم ہو گیا ہے، اسی طرح اس نبی کا نام بھی جوڑنا پڑے گا۔ تو نہ معلوم اس طرح کتنے نبی پیدا ہوں گے اور ایمان لانے کو کہیں گے اور کلمہ کے ساتھ ان کا نام پڑھنا لازم ہو جائے گا۔ ظلی نبیوں کے آنے کے لئے مرزا قادیانی نے تو دروازہ کھول دیا ہے اور صاف فرما دیا ہے ”ایسے آنے والے ظلی نبیوں میں سے میں ایک ہوں۔“
پس ناظرین خود نظر انصاف سے ملاحظہ کیجئے کہ اس کا نتیجہ کیا ہوگا۔ ہر ایک نبی کا کلمہ گو ایک نیا فرقہ ہو جائے گا اور ایک دوسرے پر تکفیر کے فتوے صادر کرے گا۔ خیر مرزا قادیانی اگر ظلی نبی ہو گئے تھے اور مسیح موعود اور مہدی موعود بن گئے تھے تو صرف اسی کا رونا ہوتا۔ لیکن مرزا قادیانی نے نبیوں کے آنے کے لئے دروازہ ایسا کھول دیا ہے کہ ان کے لئے آئندہ نسلوں کو بھی رونا پڑے گا۔ غور فرمائیے اب کلمہ شہادت کی بھی ترمیم ہونی پڑے گی کہ نہیں اب قادیانیوں کا کلمہ شہادت یہ ہوا جاتا ہے۔ ”اشهد ان لا اله الا الله واشهد ان محمد عبده ورسوله و مرزا غلام احمد قادیانی ظلی نبیا“ کیونکہ جب تک کوئی ان پر ایمان نہ لائے، وہ مسلمان نہیں اور اس کے پیچھے نماز جائز نہیں۔
١١٦
یا اللہ یہ کیسا غضب ہے؟ کیوں تو نے قرآن پاک میں اس نبی کے آنے کی خبر ہم کو نہ دے دی تاکہ ہم بھی ان کو نبی مان لیتے اور کافر نہ بنتے یا اللہ تو نے تو قرآن کریم میں یہ ارشاد فرمایا ہے "لا رطب ولا یابس الا فی کتب مبین" کوئی رطب یا بس ایسا نہیں جو قرآن پاک میں نہیں ہے اور ایسا اہم امر کہ جس کے نہ ماننے سے چالیس کروڑ مسلمان کافر ہوئے جاتے ہیں۔ تو نے قرآن پاک میں ارشاد نہ فرمایا۔ اللہ تو اپنے غضب سے بچا اور ہم کو راہ راست جو دکھلا چکا ہے، اس پر قائم رکھ اور جو کلمہ پاک ہم سب تیرہ سو سال سے پڑھتے آئے ہیں۔ وہی کلمہ پاک اس وقت تک ہماری زبان پر جاری رکھنے کی ہدایت دے جس وقت تک ہمارا دم نہ نکلے۔
اشعار
کن تو مقبول این دعائے سلیم از طفیل نبی رسول کریم
جان من چوں بتو دہم آن دم از زبانم اداشود کلمہم
کلمۂ لا الہ الا اللہ محمد نبی رسول اللہ
خاتم الانبیاء ست ذات پاک لا نبی ظلی تو بگو بے باک
اس موقع پر بڑے لطف کا ایک خیال درج کیا جاتا ہے جو خواب میں ہمارے ایک دوست کو ہوا تھا اور ایک جلسہ میں انہوں نے بیان کیا۔ اگر قادیانی حضرات مکہ معظمہ یا مدینہ منورہ تشریف لے جائیں تو کیا وہاں بھی ہم میں سے کسی کی اقتدیٰ کسی نماز میں کریں گے یا وہاں بھی ڈھائی اینٹ کی مسجد کوئی علیحدہ بنالیں گے؟ اغلباً وہاں تو کوئی مسجد بنا نہ سکیں گے۔ پھر آخر کیا کریں گے؟ شاید اپنی نماز علیحدہ پڑھیں گے۔ جب وہاں کے مسلمان دریافت کریں گے کہ تم کیسے مسلمان ہو تو کہیں گے ہم قادیانی ہیں۔ وہ لوگ یہ نیا نام سن کر متحیر ہوں گے۔ قادیانی ان سے یہ کہیں گے کہ ہمارے نبی مرزا غلام احمد قادیانی پر تم لوگ ایمان نہیں لائے، تم سب کافر ہو تو وہ اور زیادہ تعجب کریں گے کہ یا اللہ یہ کونسا نبی ہے تو قادیانی حضرات فرمائیں گے کہ یہ وہ نبی ہے جس نے آریوں سے اور نصاریٰ پادریوں سے پنجاب کی چار دیواری کے اندر مناظرہ کر کے صلیب کے پرخچے اڑا دیئے۔ اس لئے وہ نبی ہیں تو وہ لوگ کہیں گے کہ سارے یورپ میں لاکھوں صلیب قائم ہیں۔ اگر پنجاب میں دو چار پادریوں کے صلیب کے پرخچے بھی (فرض کیا جائے) اڑا دیئے تو وہ کیسے نبی ہو گئے؟ تو معلوم نہیں قادیانی حضرات کیا جواب دیں گے۔ لیکن مکہ معظمہ اور
١١٧
مدینہ منورہ کے غریب مسلمان یہ سن کر تھرا ضرور جائیں گے کہ وہ سب کافر ہیں اور ہمارے قادیانی دوستوں سے سوال کریں گے کہ کیا ہم سب ساکنین مکہ معظمہ اور مدینہ منورہ اور روم و شام اور عربستان اور افریقہ ملک مصر یونس وغیرہ کے سب مسلمان جو چوبیس کروڑ سے زیادہ ہیں، ناکردہ گناہ کافر ہو گئے تو قادیانی حضرات فرمائیں گے کہ ناکردہ گناہ کیسے ہم نے گناہ عظیم کیا ہے کہ ہمارے نبی پر ایمان نہیں لائے۔ تمہاری سزا بھی یہی ہے کہ تم کو کافر کا خطاب دیا جائے تو وہ کہیں گے اللہ آپ کے نبی نے جن صاحبوں کے پرخچے اڑائے ہیں۔ ان پرچوں کا ایک آدھ پرچہ ہی ہم کو دکھا دیجئے تا کہ ہم اسی کو دیکھ کر ایمان لے آئیں۔
تو قادیانی حضرات معلوم نہیں وہ پرچہ دکھا سکیں گے یا نہیں۔ اگر دکھلائے تو وہ غریب مسلمان ضرور پریشان ہو جائیں گے اور کہیں گے یا اللہ ! ہم تیرے گھر میں اور تیرے نبی آخر الزمان کے مسجد نبوی میں پنجگانہ نماز پڑھ رہے ہیں اور تیرے احکام کی تعمیل پوری طرح سے کر رہے ہیں۔ باوصف اس کے بھی کافر ہو جائیں یہ کیا تیرا بھید ہے؟ ہم نے تو کسی کتاب میں اور کسی اسلامی ملک میں اس نئے نبی کا نام تک نہیں سنا۔ تو قادیانی حضرات فرمائیں گے ہم سناتے ہیں۔ سنو حضرت اقدس مرزاغلام احمد قادیانی مسیح موعود نبی اللہ علیہ الصلوۃ والسلام تو وہ گھبرا کر ادھر ادھر دیکھیں گے کہ یہ نیا نام کیسا؟ تو ایک کڑاکے کی آواز غیب سے آئے گی ”ما یضل بہ الا الفسقين“
تو ارد گرد دیکھنا موقوف کر کے سب کے سب دست دعا دراز کریں گے اور عرض کریں گے یا اللہ یہ لوگ کہتے ہیں کہ تیرے حکم کے موافق وہ نبی تھے اور ان پر تیرے حکم سے یہ ایمان لائے ہیں۔ ”واغفرهم وارحمهم يا أرحم الرحمين “ تو جواب ملے گا ”استغفرلهم“ اور بخش دے اور ان پر رحم فرمائے بڑے رحم کرنے والے خدا۔ تم ان کے حق میں بخشش مانگو یا نہ لا تستغفرلهم ان تستغفرلهم سبعين مرة فلن يغفرالله لهم ذلك بانهم كفروا الله ورسوله والله لايهدي القوم الفسقين“ مانگو یا بخشش نہ مانگو اگر ان کے واسطے ستر بار بخشش مانگو تو بھی اللہ تعالیٰ ان کو نہ بخشے گا۔ اس لئے کہ انہوں نے انکار کیا۔ اللہ اور رسول کے یعنی احکام خدا اور رسول سے اور اللہ بدکار لوگوں کو راہ نیک نہیں دکھلاتا۔
تو مکہ مدینہ والے اور قادیانی حضرات آپس میں کہیں گے۔ ”وہاں جا کر بیٹھو جہاں تمہارا ہاتھ پکڑیں اور مدارا کریں اس جگہ بیٹھو جہاں تمہاری ٹانگ پکڑیں اور باہر کھینچیں۔“
١١٨
خدا کا تو یہ ارشاد ہے کہ ”ولا تلـ الاسم الفسوق بعد الايمان ومن لم یـ یعنی تم آپس میں اپنے عیب مت لگاؤ اور بـ توبہ نہ کرے گا وہی لوگ ظالم ہیں۔“
خدا تو یہ فرماتا ہے کہ ایکدوسرے کـ لقب نہ دو اور نہ آپس میں عیب لگاؤ مـ لقب دیتے ہیں۔ خدا کا حکم ہے کہ ایک د اب آئندہ آپ کو اختیار ہے۔
آپ ہم کو جو چاہیں سزادیں ۔ ہم تو ا اتقكم (حجرات:١٤) ”اللہ کے پاس بـ ہو ۔“ ”ومن يطع الرسول فقد اطاع ا اس نے اللہ تعالیٰ کی اطاعت کی۔“ رسول ا کریں اور دوسروں کو کافر بنائیں۔ ان الغیب
کسی قادیانی کا بیہودہ کلام
مرزا قادیانی تو ایک بزرگ تھے مـ کے کسی مرید نے بصدق پیران می پرند و مر ملاحظہ ہو یہ شعر سردردِ حکم بنائے محمدی خاک پاک یہ شعر پیش کیا ڈاکٹر صاحب لودھیانہ نـ کہ سنئے، کسی قادیانی نے یہ قصیدہ لکھا ہے ہم کے پاس بھیجا تھا۔ مجھے بھی سن کر بے انتہا افسوس معلوم ہوتا ہے کہ رسول مدنی کے جواب میں مر کتب اسے دین ملائے بطلان خراب خواجہ رسول تو صاحب شریعت ہوا کرتے ہـ ہے۔ اسی لئے ان کی امت کو امتی الخطاب سے پـ
خدا کا تو یہ ارشاد ہے کہ ”ولا تلمزوا انفسكم ولا تنابزوا بالالقاب بئس الاسم الفسوق بعد الايمان ومن لم يتب فاولئك هم الظلمون (حجرات:١١)“ یعنی تم آپس میں اپنے عیب مت لگاؤ اور نہ برے لقب دو بعد ایمان لانے کے برا نام فاسق ہونا ہے اور جو کوئی توبہ نہ کرے گا وہی لوگ ظالم ہیں۔“
خدا تو یہ فرماتا ہے کہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ پر ایمان لانے کے بعد کسی کو برے لقب نہ دو اور نہ آپس میں عیب لگاؤ ورنہ ظالم ٹھہرو گے۔ مگر ہمارے فاضل دوست ہم کو کافر کا لقب دیتے ہیں۔ خدا کا حکم ہے کہ عیب لگانے سے توبہ کریں۔ ورنہ ظلم کرنے والے ٹھہریں گے۔
اب آئندہ آپ کو اختیار۔
آپ ہم کو جو چاہیں بنا دیں، ہم تو یہی کہیں گے قوله تعالیٰ ”ان اكرمكم عند الله اتقكم (حجرات:١٣)“ اللہ کے پاس تو وہی زیادہ عزت والا ہے جو تم میں سے زیادہ پرہیزگار ہو۔ ”ومن يطع الرسول فقد اطاع الله“ جس نے رسول اکرم ﷺ کی اطاعت کی گویا اس نے اللہ تعالیٰ کی اطاعت کی۔ رسول اکرم ﷺ کی حدیثوں کی اطاعت حضرات قادیانی نہ کریں اور دوسروں کو کافر بنائیں۔ یاللعجب ثم یاللعجب۔
کسی قادیانی کا بیہودہ کلام
مرزا قادیانی تو ایک بزرگ تھے۔ انہوں نے تو صرف نبوت ہی کا دعویٰ فرمایا ہے۔ ان کے کسی مرید نے بمصداق ”پیران نمی پرند مریدان می پرانند“ کے حضرت ممدوح کو رسول بنا دیا۔ ملاحظہ ہو یہ شعر مرزا غوث اعظم بنے مجدد مانے غوث الاعظم شاہ جیلان اسے رسول ثانی۔ یہ شعر پشاور کے ایک صاحب نے نوسہرہ چھاؤنی میں اپنے تحصیلدار صاحب کو افسوس کرتے ہوئے سنایا کہ سنئے، کسی قادیانی نے یہ قصیدہ لکھا ہے جس کا ایک شعر مجھے یاد رہا اس وقت میں بھی تحصیلدار کے پاس بیٹھا تھا۔ مجھے بھی سن کر بے انتہا افسوس ہوا۔ وہی شعر یاد رکھ کر میں نے یہاں لکھا ہے۔ معلوم ہوتا ہے کہ رسول مدنی کے جواب میں یا اس کے وزن پر رسول ثانی تراشا گیا ہے۔ کہ جسے مکتب احمدیہ میں پڑھنے والے لڑکوں کو پڑھایا جاتا ہے۔ اور میں زیادہ کیا لکھوں۔
رسول تو صاحب شریعت ہوا کرتے ہیں۔ ان پر اللہ کی طرف سے کتاب نازل ہوتی ہے۔ اسی لئے ان کی امت کو اہل الکتاب کے لقب سے خدا نے قرآن شریف میں متعدد مقامات
١١٩
پر مخاطب فرمایا ہے۔ شاید اپنے ان مرید صاحب کو مرزا قادیانی کوئی کتاب منجانب اللہ دے گئے ہوں۔ جس کی بناء پر وہ ان کو رسول کہتے ہیں۔ نامعلوم بڑھاتے بڑھاتے یہ مرید مرزا قادیانی کو اور کس درجہ پر پہنچادیں گے۔ یہ بات کیسی دل شکن اور رنج دہ ہے کہ حضرت عبدالقادر جیلانیؒ کو غوث الاعظم کے معزز لقب سے تمام اہل سنت والجماعت یاد کرتے ہیں اور ان کی عظمت ان کے دلوں میں بعد اللہ اور رسول اکرمﷺ اور صحابہ کبار رضوان اللہ علیہم اجمعین اور اہل بیت و ذریات رسول اللہﷺ کے کسی کی ہے تو بس حضرت عبدالقادر جیلانیؒ کی عظمت ہے۔
ایسے جلیل القدر بزرگ کی شان میں ایسے گستاخ کلمہ زبان سے نکالنا بجز اس کے کیا سمجھا جائے کہ ہم لوگوں کو رنج دینا مقصود ہے۔ جبکہ ہم لوگ مرزا قادیانی کو نبی نہیں مانتے ہیں تو ان کی خاک پا کو ایسے جلیل القدر بزرگ کی آنکھوں کا سرمہ بنانا داخل بیہودگی نہیں تو اور کیا ہے۔ اس کا جواب تو یہ ہو سکتا ہے۔ سنو جواب:
اپنی آنکھوں کا بنے تھے جو رسول قدنی
ہوتا عزت میں اضافہ تو سعادت ہوتی
ان کو حاصل جنہیں کہتے ہو رسول قدنی
کیا حقیقت شہ گیلان کے مقابل ان کی
ہند میں تم جسے کہتے ہو رسول قدنی
یہ مغل بچہ وہ سید تھے تو سید کیسے
جوتیاں جن کی کریں صاف ہزاروں قدنی
خاک پائے شہ گیلان کا لگاکر سرمہ
دیکھ نادان قدنی راہ رسول مدنی
میں امید کرتا ہوں کہ قادیانی حضرات آئندہ ایسے الفاظ تحریر نہ فرمائیں گے جن کو پڑھنے سے آنکھوں میں خون اتر آتا ہے۔ نتیجہ اس کا یہ ہوگا کہ جواب ترکی بہ ترکی سننے کے لئے ان کو بھی تیار رہنا پڑے گا۔ وہ مرزا قادیانی کو رسول ملک الرسل سلطان الانبیاء خدا جو چاہیں کہیں، مگر دل شکن الفاظ کہنے سے احتراز فرمائیں۔ بہر حال ہم کو ایسے لوگوں سے اعراض لازم ہے۔ لہٰذا
١٢٠
میں اپنے اللہ تعالیٰ کے حکم کے موافق یہ کہہ کر ختم کر ”واذا سمعوا اللغوا عرضوا عن عليكم لا نبتغى الجاهلين“ اور جب سنتے کہتے ہیں ہمارے عمل ہمارے لئے اور تمہارے ع چاہتے جاہلوں کو۔
اور دعا کرتا ہوں ”ربنا لا تزغ قلو رحمة انك انت الوهاب (آل عمران: ٨)“ بعد اس کے کہ تو ہم کو ہدایت دے چکا اور ہم کو رحمت التماس کرتا ہوں کہ دین محمدی کے سچے عاشقو اور اے آپ سب جانتے ہیں کہ مذہب سے زیادہ پیاری ک دکھلاتا ہے اور اسی کی سچی اطاعت سے ہم نجات پا ہاتھوں سے مضبوط پکڑے رہو اور کسی کے دھوکہ میں نہ آجاؤ۔ مگر ہمارے لئے احکام اور ہدایات بہت صاف لوگوں کی کیفیت پہلے سے لکھ دی گئی ہے۔ میں نے ا کے دیکھنے سے مرزا قادیانی کے دعوؤں کی حقیقت کھل
اس کے علاوہ میں یہ بھی عرض کرتا ہوں ک بھی مرزا قادیانی کے نبی اور مہدی ہونے کی بطلان ملاحظہ کر لو۔ خدا کے لئے کسی کے بہکانے میں نہ آؤ خلاف کھینچ تان کر تاویلات کرنے والوں کی اقوال ب صریح احکام کی پیروی کرو۔ اسی میں تمہاری نجات ہے
اور عام طور پر سب سے التماس ہے کہ اگر مجھے اطلاع فرمائیں اور مجھے معذور سمجھ کر معاف فرم اصطلاح میں یا محاورات میں کوئی لفظ غلط ہو تو بھی م ہوں اور اردو گویا میری زبان نہیں ہے۔
١٢١
میں اپنے اللہ تعالیٰ کے حکم کے موافق یہ کہہ کر ختم کرتا ہوں۔ "واذا سمعوا اللغو اعرضوا عنه وقالوا لنا اعمالنا ولکم اعمالکم سلام عليکم لا نبتغی الجاهلين" اور جب سنتے ہیں بیہودہ بات اعراض کرتے ہیں ان سے اور کہتے ہیں ہمارے عمل ہمارے لئے اور تمہارے عمل تمہارے لئے سلامتی اوپر تمہارے ہم نہیں چاہتے جاہلوں کو۔ اور دعا کرتا ہوں "ربنا لا تزغ قلوبنا بعد اذ هديتنا وهب لنا من لدنك رحمة انك انت الوهاب (آل عمران:٨)" ﴿اے ہمارے رب مت پھیر ہمارے دلوں کو بعد اس کے کہ تو ہم کو ہدایت دے چکا اور ہم کو رحمت دے۔ بے شک تو ہی دینے والا ہے۔﴾ اور التماس کرتا ہوں کہ دین محمدی کے سچے عاشقو اور اے دین اسلام کے سچے فدائی مسلمانو یہ بات آپ سب جانتے ہیں کہ مذہب سے زیادہ پیاری چیز کوئی نہیں ہے۔ مذہب ہی ہم کو راہ نیک دکھلاتا ہے اور اسی کی سچی اطاعت سے ہم نجات پاسکتے ہیں۔ خدارا اپنے مذہب کی رسی کو اپنے ہاتھوں سے مضبوط پکڑے رہو اور کسی کے دھوکہ میں نہ آؤ۔ خودغرضی نے لوگوں کو ولی مہدی نبی تک بنادیا۔ مگر ہمارے لئے احکام اور ہدایات بہت صاف ہیں۔ قرآن شریف اور حدیثوں میں ایسے لوگوں کی کیفیت پہلے سے لکھ دی گئی ہے۔ میں نے اپنی معلومات کی حد تک کچھ لکھ دیا ہے۔ اس کے دیکھنے سے مرزا قادیانی کے دعوؤں کی حقیقت کھل جائے گی۔
اس کے علاوہ میں یہ بھی عرض کرتا ہوں کہ میں نے سنا ہے کہ ہندوستان کے علماء نے بھی مرزا قادیانی کے نبی اور مہدی ہونے کی بہ دلائل معقول تردید فرمائی تھی۔ ان کتابوں کو بھی ملاحظہ کرلو۔ خدا کے لئے کسی کے بہکانے میں نہ آؤ خدا اور رسول اکرمﷺ کے صاف احکام کے خلاف کھینچ تان کر تاویلات کرنے والوں کی اقوال سے بچو۔ خدا اور رسول اکرمﷺ کے صاف و صریح احکام کی پیروی کرو۔ اسی میں تمہاری نجات ہے۔ اللہ سب کو نیک توفیق دے آمین۔
اور عام طور پر سب سے التماس ہے کہ اگر مجھ سے کوئی غلطی اس میں ہوئی ہو تو اس سے مجھے اطلاع فرمائیں اور مجھے معذور سمجھ کر معاف فرمائیں۔ اسی طرح اگر عبارت میں کوئی لغزش یا اصطلاح میں یا محاورات میں کوئی لفظ غلط ہو تو بھی مجھے معاف فرمائیں۔ کیونکہ میں باشندہ دکن کا ہوں اور اردو کے معلے میری زبان نہیں ہے۔
١٢١
قطعه تاریخ از سلیم
بہر رب ضد کی توڑ دو عینک دور بین خود ہو تم نہیں جاہل
مذہبی ہے مغالطہ، ضد سے یا تعصب سے مت رہو غافل
صرف جزء حدیث کو مت لو کل عبارت پہ تم رہو عامل
پھر نہ جھگڑا سلیم سے کچھ ہو دیکھ لو خود ہی بحر کا ساحل
ہے یہ تردید صاف قرآن سے کرو انصاف گر ہو تم عادل
خود حدیثوں سے ہوتی ہے تردید شک نہ ہرگز کرے کوئی عاقل
ہاتف غیب سے ندا آئی صادق آتی ہے بیت یہ کامل
صاحبا حل حکم جاء الحق سن لو تم دل سے وزھق الباطل
تاریخ فارسی از سلیم
ہست این فہم المعانی بے بدل شد ندا تاریخ گو سنہ بر محل
بیت یک باشد ولے تاریخ سہ عیسوی فضلی و ہجری ہم رتبہ
مشتمل بر سنہ فضلی مضبوط عیسوی ہجری بدارد دیگرے
فتنہ مہدی و عیسیٰ باطل کشف قرآن شریف بے مثل
قطعه دیگر
مدتہا شد قطع فرق ایمان مسمار عین ایمان نبوت خیالی
تمت
اطلاع ضروری اور وجہ تالیف رد عقائد احمدیہ قادیانی
برادرانِ اسلام! السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاتہ
اس بات کو تو خدائے واحد لاشریک ہی گواہ ہے، جس نے حبیب پاک مصطفیٰ ﷺ کو
١٢٢
خاتم النبیین کے معزز لقب سے سرفرا وقت میں نے کتاب موسومہ عقائد احم بے چین ہو گیا اور فوراً اس کی تردید لک کہ ہندوستان میں اور دکن میں ہزارہا میرے خیال کے مانع ا والد ماجد کو جو بڑے پکے نمازی اور تک کبھی ایک وقت کی نماز تک قضا تردید لکھ سکا۔ خواب میں دیکھا تو طرف اشارہ کر کے) دیکھی تو میں کیوں نہیں لکھتے۔ تو میں نے وہی اپنا خیال کرتے دنیا کے کام بھی پورے ہر شخص کو تا حد اپنی معلوم لوگ جو بطور خود اس کتاب کے صحیح یا غل سے فائدہ اٹھائیں اور مغالطہ میں نہ ہیں اور ان کے اعتقاد میں تزلزل واقع ہو کر بسم اللہ کہہ کر لکھنا شروع کیا: ”السل ورثة جنة النعيم“
خدا شاہد ہے کہ اس تردید خیالی ہے کہ جو برادرانِ اسلام عقائ رکھتے، مغالطہ میں نہ پڑیں۔
☆ ..... ایک روز میں بعد ختم کتاب قادیانی تجویز کر کے اعداد جوڑ رہا تھا صاحب نے مجھے مصروف دیکھ کر در یافت اس کام میں مشغول ہوں۔ انہوں ن
دور بین خود ہو تم نہیں جاہل
یا تعصب سے مت رہو غافل
کل عبارت پہ تم رہو عامل
دیکھ لو خود ہی بحر کا ساحل
کرو انصاف گر ہو تم عادل
شک نہ ہرگز کرے کوئی عاقل
صادق آتی ہے بیت یہ کامل
سن لو تم دل سے وزھق الباطل
شد عیاں تاریخ گونہ بر محل
عیسوی فصلی و ہجری بہ رتبہ
عیسوی ہجری بدارد دیگرے
کشف قرآن شریف بے مثل
شمار عین ایمان جنون خیالی
عقائد احمدیہ قادیانی
ہے کہ جس نے حبیب پاک مصطفیٰ ﷺ کو
خاتم النبیین کے معزز لقب سے سرفراز فرما کر سارے عالم کی ہدایت کے لئے دنیا میں بھیجا۔ جس وقت میں نے کتاب موسومہ عقائد احمدیہ دیکھی۔ میرے دل پر ایسی چوٹ لگی کہ اس کی تکلیف سے بے چین ہو گیا اور فوراً اس کی تردید لکھنے کا خیال ہوا۔ لیکن ایک تو میری بے بضاعتی اور دوسرا یہ تصور کہ ہندوستان میں اور دکن میں ہزار ہا علماء ہیں کیا اب تک تردید نہیں لکھی گئی ہو گی۔
میرے خیال کے مانع ہوئے تین چار روز نہیں گزرے پائے تھے کہ میں نے اپنے والد ماجد کو جو بڑے پکے مذہبی اور سچے عاشق رسول ﷺ تھے اور جن کو میں نے ان کے دم واپسین تک کبھی ایک وقت بھی نماز تک قضا کرتے نہ دیکھا تھا اور صرف جن کی تعلیم کا یہ فیض ہے کہ میں یہ تردید لکھ سکا۔ خواب میں دیکھا تو مجھ سے ارشاد فرمایا کہ تم نے وہ کتاب (ہاتھ سے عقائد احمدیہ کی طرف اشارہ کر کے) دیکھی۔ تو میں نے عرض کیا جی ہاں، دیکھی ہے۔ تو فرمایا کہ اس کی تردید کیوں نہیں لکھتے۔ تو میں نے وہی اپنا خیال ظاہر کیا تو سن کر ہنسے اور فرمانے لگے کہ انسان اگر ایسا خیال کرے تو دنیا کے کام کبھی پورے نہیں ہو سکتے۔
ہر شخص کو تاحد اپنی معلومات کے اظہار حق میں تامل نہ کرنا چاہئے۔ ضرور لکھو تا کہ وہ لوگ جو بطور خود اس کتاب کے صحیح یا غلط ہونے کی نسبت رائے قائم نہ کر سکتے ہوں تمہاری تردید سے فائدہ اٹھائیں اور مغالطہ میں نہ پڑیں۔ اکثر لوگ اس کتاب کے مضامین کو صحیح سمجھنے لگے ہیں اور ان کے اعتقاد میں تزلزل واقع ہو گیا ہے۔ میں نے صبح اٹھنے کے بعد ضروریات سے فارغ ہو کر بسم اللہ کہہ کر لکھنا شروع کیا: ”اللهم اغفر لابی انه کان من الصلحین واجعله من ورثۃ جنۃ النعیم“
خدا شاہد ہے کہ اس تردید کے لکھنے سے مجھے کسی کی دل آزاری منظور نہیں ہے۔ البتہ یہ خیال ہے کہ جو برادران اسلام عقائد فرقہ قادیانی کی نسبت رائے قائم کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتے، مغالطہ میں نہ پڑیں۔
- ٭ ...... ایک روز میں بعد ختم کتاب اس کتاب کا نام تجویز کر رہا تھا اور جواہر المعانی رد عقائد
قادیانی تجویز کر کے اعداد جوڑ رہا تھا کہ میرے ایک عالم کرم فرما جناب حکیم مولوی سید عبدالحئی صاحب نے مجھے مصروف دیکھ کر دریافت فرمایا کہ کس کام میں مصروف ہو۔ تو میں نے بیان کیا کہ اس کام میں مشغول ہوں۔ انہوں نے بھی میرے ساتھ اعداد جوڑے تو صحیح تاریخ اس سے نہیں
١٢٣
نکلی۔ تب وہ بھی اپنے طور پر نام تجویز کر کے اعداد جوڑنے میں مصروف ہوئے اور میں بھی۔ غرضیکہ کئی نام میں نے تجویز کئے اور کئی صاحب ممدوح نے۔ بالآخر میرے فاضل دوست نے تاریخی نام قمع المعانی تردید عقائد قادیانی تجویز فرمایا جس سے تاریخ نکلتی ہے۔ میں نے شکریہ ادا کیا اور وہی نام اس کا رکھا۔ جو صاحب قیمت ادا کرنے کی استطاعت نہ رکھتے ہوں ان کو یہ کتاب بلا قیمت دی جاسکتی ہے۔ میرے برادران اسلام سے صرف قیمت ایک جلد کی لی جائے گی اور جو قیمت اس کی فروخت سے جمع ہوگی اس سے دوبارہ تردید تفصیل کے ساتھ طبع کرائی اور تقسیم کی جائے گی۔ ”وماعلینا الاالبلاغ“
- ☆...... میں آخر میں افضل العلماء جناب مولوی حاجی محمد صاحب کا بھی شکریہ ادا کرتا ہوں
جنہوں نے مجھے ترمذی شریف اور کتاب الاسماء والصفات مرحمت فرمائی۔ ان دونوں کتابوں سے بھی میں نے بعض حدیثوں کا حوالہ دیا ہے۔ اگر مولانا ترمذی شریف مجھے نہ دیتے تو ترمذی کی حدیثوں سے مدد نہ لے سکتا۔ کیونکہ میرے پاس ترمذی شریف موجود نہ تھی۔
- ☆...... میں اس امر کے عرض کرنے کی معافی چاہتا ہوں کہ شاید اس مختصر کتاب کا مضمون بعض
حضرات کے خیال میں مثل ناول یا ان قصوں کے دلچسپ نہ ہوگا اور ممکن ہے کہ صفحہ دیکھ کر ان کی طبیعت اکتا جائے۔ لیکن میری گزارش ہے کہ اس کتاب کو میں نے خاص کر ان لوگوں کے لئے تالیف کیا ہے جو مرزا غلام احمد قادیانی پر ایمان لا چکے ہیں یا ان کی طبیعت ان پر ایمان لانے کی طرف مائل ہے تاکہ وہ مرزا قادیانی کے مضامین کا اور ہماری کتاب کا مقابلہ کر کے انصافانہ فیصلہ فرمائیں اور دوسرے حضرات بھی محض ان کی مولفہ کتابوں کو دیکھ کر یا ان کی سنی سنائی باتوں پر مذہب جیسی پیاری چیز کو خیر باد کہہ کر مرزا قادیانی پر ایمان نہ لے آئیں اور جو مرزا قادیانی پر ایمان لا چکے ہیں۔ ان کی خدمت میں خاص طور پر عرض ہے کہ ضد اور ہٹ دھرمی کو چھوڑ کر اور تعصب کی عینک توڑ کر انصاف سے غور فرمائیں اور قبل اس کے کہ اس کتاب کو ملاحظہ فرمائیں، اللہ تعالیٰ سے مدد کے خواستگار ہوں کہ اللہ ان کو نیک ہدایت اور اچھی توفیق دے۔
- ☆...... یہ کتاب ان حضرات کو بھی پوری ملاحظہ کر لینی چاہئے جو خود مرزا قادیانی کے مضامین کی
نسبت بطور خود بروئے قرآن اور حدیث کے کوئی رائے قائم نہ فرما سکتے ہوں۔ ہاں! البتہ ان حضرات کے لئے اس کتاب کا ملاحظہ ضروری نہیں ہے جو خود مرزا قادیانی کے دعاوی کی صحت وکذب کے متعلق انصافانہ فیصلہ فرما سکتے ہیں یا ان کے نتیجہ نکال سکتے ہیں۔
١٢٤
حضرت عیسیٰ مرزائیوں کی د مولانا غلا
شفیع المذنبین خاتم النبیین لا نبی بعدی رحمة للعالمين
میں آخری نبی ہوں میرے بعد کوئی نبی نہیں
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی حیات پر ،
مرزائیوں کی دھوکے بازیاں اور ان کا جواب
مولانا ثناء اللہ امرتسری رحمۃ اللہ علیہ
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ
حامدا وشاکرا لله العزیز الحکیم ، مصلیا و مسلما علی رسوله الکریم!
ناظرین پر پوشیدہ نہیں کہ اہل سنت والجماعت وگروہ مرزائیہ میں حیات مسیح علیہ السلام کا مسئلہ مدت سے زیر بحث ہے۔ علماء اسلام نے مرزائیوں کے دعاوی کے جوابات دیئے۔ مگر آج تک ان کو یہ حوصلہ نہ ہوا کہ علماء اسلام کی تحریروں کا جواب دے سکیں۔ پھر بھی وہ اگر کچھ کرتے ہیں تو یہ کہ کسی وقت انہی مضامین کو دہرا دیتے ہیں جو مرزا قادیانی لکھ گئے اور علماء اسلام نے ان کا دنداں شکن جواب دے دیا۔
اس مسئلہ کے متعلق ایک مضمون قابل مطالعہ ناظرین درج اخبار اہل فقہ ہونے والا تھا۔ اگر چہ مضمون مختصر ہے لیکن میں نے مناسب سمجھا کہ اس کو بھی بصورت رسالہ اخبار کے ہمراہ چھاپا جائے تاکہ ناظرین اس کو محفوظ رکھ سکیں۔ چنانچہ یہ مضمون آپ کے سامنے پیش کیا جاتا ہے۔ امید ہے کہ آپ غور سے مطالعہ فرمائیں گے۔ الراجی الی رحمته ربه الاحد!
غلام احمد عافاہ اللہ وایدہ۔ مدیر اہل فقہ امرتسر!
شروع مضمون
اس میں کوئی شک اور شبہ نہیں ہے اور یہ حق الامر ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام اس وقت تک زندہ آسمان پر موجود ہیں۔ جیسا کہ اہل اسلام اہل سنت وجماعت کا عقیدہ ہے اور قرآن شریف اور احادیث و دیگر کتب تاریخ وسیر میں اس طرح درج ہے۔ پہلے مرزا قادیانی اور اب مرزائی اپنا گلا پھاڑ پھاڑ کر چلاتے ہیں۔ روتے، چیختے ہیں۔ آئے روز اسی پر مر رہے ہیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام فوت ہو چکے ہیں۔ حالانکہ مسلمانوں کے عقائد کے مطابق علاوہ حضرت مسیح ابن مریم علیہم السلام کے تین پیغمبران علیہم السلام اور بھی زندہ اس وقت موجود ہیں۔ دو آسمان پر اور دو زمین پر۔
آسمان پر حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور حضرت ادریس علیہ السلام اور زمین پر حضرت خضر علیہ السلام اور دوسرے حضرت الیاس علیہ السلام۔ یہ سن کر مرزائی لوگ اور بھی ”یتخبط
٢
الشیطن من المس“ کی صورت پر ہو جاتے اسکی تائید میں اخیر میں انشاء اللہ تعالٰی لکھ کی دھوکے بازیاں پیش کرتے ہیں۔ امید ہے کہ ہم نے ایک دو ورقہ اشتہار سرخ رنگ کے ح فضل کریم مرزائی سکنہ لنڈہ بازار لاہور کا دیکھا ہے مہارت رکھتے ہیں۔
پہلے تو آپ نے آیات لکھی ہیں جو ازالہ اوہام میں لکھی تھی۔ مرزا قادیانی سے بڑھ کر تو بڑھ کر رہیں۔ مگر افسوس کہ ان کے جوابات بیسیوں د سے ہو چکے ہیں۔ آپ نے ان کو دیکھنے کی محنت گوار دوم مؤلفہ قاضی محمد سلیمان صاحب افسر سررشتہ تعلیم پ حافظ محمد ابراہیم صاحب سیالکوٹی کی دیکھ لی جاتی تو ش دینا مقصود ہو۔ تو کیوں ایسا کیا جائے۔ قاضی جی نے کی۔ حالانکہ ایک آیت بھی صریح طور پر وفات م تاویلات رکیکہ بے معنیٰ کر کے خلاف اجماع اہلسن جاتا ہے۔
اس اشتہار کی وجہ صرف رسالہ نیام ذوالف جو ابھی نہایت مدلل عقلی و نقلی دلائل کے ساتھ حیات جواب تو اس کا نہیں ہو سکا۔ یہ اشتہار سہی۔ اب ہم ب دکھلاتے ہیں۔ ازالہ اوہام سے آیات نکال کر درج کی ہیں۔ پہلا دھوکہ دس دھوکے شمار میں ہوں گے۔ جس م
دوسرا دھوکہ
قولہ! ماسوا اس کے حدیث کی رو سے بھی ہے۔ چنانچہ تفسیر معالم کے صفحہ ١٦٢ میں زیر تفسیر آیت ف
٣
الشیطن من المس “ کی صورت پر ہو جاویں گے۔ ان ہر چہار پیغمبران علیہم السلام کی حیات الی الان کی تائید میں اخیر میں انشاء اللہ تعالیٰ لکھا جائے گا۔ لیکن آج ہم مرزائیوں کے ایک اشتہار کی دھوکے بازیاں پیش کرتے ہیں۔ امید ہے کہ ناظرین بغور ملاحظہ فرمائیں گے۔ وہ یوں ہے کہ ہم نے ایک دو ورقہ اشتہار سرخ رنگ کے کاغذ پر حضرت مسیح علیہ السلام کی وفات کے متعلق قاضی فضل کریم مرزائی سکنہ لنڈہ بازار لاہور کا دیکھا۔ معلوم ہوتا ہے قاضی جی دھوکے بازیوں میں اچھی مہارت رکھتے ہیں۔
پہلے تو آپ نے آیات لکھی ہیں۔ یہ وہی آیات ہیں جو مرزا قادیانی نے پہلے اپنے ازالۃ اوہام میں لکھی تھی۔ مرزا قادیانی سے بڑھ کر پانچ آیات زیادہ لکھ دی ہیں تا کہ اپنے پیغمبر سے بڑھ کر رہیں۔ مگر افسوس کہ ان کے جوابات بیسیوں دفعہ علماء کرام اہل سنت والجماعت کی طرف سے ہوچکے ہیں۔ آپ نے ان کو دیکھنے کی محنت گوارہ نہیں کی۔ اگر صرف کتاب غائت المرام حصہ دوم مؤلفہ قاضی محمد سلیمان صاحب افسر سر رشتہ تعلیم پٹیالہ یا کتاب شہادت القرآن مؤلفہ مولوی حافظ محمد ابراہیم صاحب سیالکوٹی کی دیکھ لی جاتی تو ایسے لکھنے کی جرأت نہ ہوتی۔ مگر جب عمداً دھوکہ دینا مقصود ہو۔ تو کیوں ایسا کیا جائے۔ قاضی جی نے آیات کے لکھنے کی بغرض دھوکہ دہی کی کوشش کی۔ حالانکہ ایک آیت بھی صریح طور پر وفات مسیح علیہ السلام پر دلالت نہیں کرتی۔ اس پر بھی تاویلات رکیکہ بے معنیٰ کر کے خلاف اجماع اہلسنت والجماعت وفات مسیح علیہ السلام پر زور دیا جاتا ہے۔
اس اشتہار کی وجہ صرف رسالہ بنام ذوالفقار علی (برگردن) خاطی مرزائی فرزند علی ہے۔ جو ابھی نہایت مدلل عقلی و نقلی دلائل کے ساتھ حیات مسیح علیہ السلام پر لاہور میں شائع ہوا ہے۔ جواب تو اس کا نہیں ہو سکا۔ یہ اشتہار سہی۔ اب ہم اس کے اشتہار کے مشتہر کی دھوکے بازیاں دکھلاتے ہیں۔ ازالۃ اوہام سے آیات نکال کر درج کر دینا جن کے جوابات عرصہ سے کئی بار ہو چکے ہیں۔ پہلا دھوکہ دس دھوکے شمار میں ہوں گے۔ جس سے مشتہر کی حقیقت معلوم ہو جائے گی۔
دوسرا دھوکہ
قولہ! ماسوا اس کے حدیث کی رو سے بھی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا فوت ہو جانا ثابت ہے۔ چنانچہ تفسیر معالم کے صفحہ ١٦٢ میں زیر تفسیر آیت: ”یا عیسیٰ انی متوفیک ورافعک
٣
الی“ لکھا ہے کہ علی ابن طلحہ ابن عباس سے روایت کرتے ہیں کہ اس آیت کے یہ معنی ہیں کہ ”انی متوفیک“ یعنی تجھ کو مارنے والا ہوں۔ بلفظہ
(ص٢ کالم دوم، سطر ٢٣)
اقول! ناظرین کو معلوم ہے کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کی خود تفسیر عباس موجود ہے۔ جس کی روایت کو تفسیر معالم کے حوالہ سے درج کیا جاتا ہے۔ لازم تھا کہ تفسیر عباس کے حوالہ سے لکھا جاتا۔ مگر جب دھوکہ دینا ہی مراد ہے تو مرزائی صاحب ایسا کیوں کرتے؟ لیجئے حضرت ابن عباسؓ کے معنی جو انہوں نے ممیتک کے لئے ہیں۔ دکھاتے ہیں۔ فرماتے ہیں: ”متوفیک ورافعک علی التقدیم والتاخیر وقد یکون الوفاۃ قبضا لیس بموت“ بلفظہ حدیث شریف کی لغت اور شرح مسلمہ و مقبولہ مرزائیان مجمع البحار جلد ثالث کا صفحہ ٤٥٤۔ یعنی حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ جو ممیتک کے قائل ہیں۔ تو وہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی حیات الی الآن کے منکر نہیں ہیں۔ بلکہ وہ حیات الی الآن کے قائل ہیں۔ اس لئے انہوں نے اس آیت کو تقدیم و تاخیر لکھا ہے۔ معنی یوں ہیں۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اے عیسیٰ! میں تجھ کو اپنی طرف اسی جسم عنصری کے ساتھ اٹھانے والا ہوں اور پھر بعد نزول از آسمان مارنے والا ہوں۔ اس عبارت کی تفسیر معالم کی یہ ہے: ”ان
١؎ حکیم نور الدین صاحب نے امرتسر میں بایام مباحثہ آتھم بدوران گفتگو عام کہا تھا کہ ہم تقدیم و تاخیر کے قائل نہیں اور نہیں چاہتے کہ جس چیز کو خدا نے مقدم کیا ہے اس کو مؤخر سمجھیں۔ لیکن یہ ان کی زبردستی ہے کیونکہ عام قاعدہ نحوی ہے کہ معطوف اور معطوف علیہ میں ضروری نہیں کہ مقدم مقدم ہو اور مؤخر مؤخر۔ اگر حکیم صاحب اس قاعدہ کو نہ مانتے ہوں تو قرآن مجید کی ان آیات میں تقدیم و تاخیر کو اسی طرح قائم رکھ کر جس طرح کہ قرآن شریف میں مذکور ہے۔ قائم رکھ کر بتا دیں۔ سورہ مریم میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے قصہ کے بعد اور انبیاء کا قصہ ہے کیا حضرت عیسیٰ علیہ السلام ان انبیاء سے پہلے تھے اور سورہ انعام کے رکوع میں انبیاء کا ذکر اس ترتیب سے ہے۔ ابراہیم، اسحاق، یعقوب، نوح، داؤد، سلیمان، ایوب، موسیٰ، ہارون، زکریا، یحییٰ، عیسیٰ، الیاس، اسمعیل، الیسع، یونس، لوط، علیٰ نبینا وعلیہم الصلوٰۃ والسلام۔ اگر حکیم صاحب نہیں چاہتے کہ جس کو خدا نے مقدم کیا اس کو مؤخر کریں اور جس کو خدا نے مؤخر کیا اس کو مقدم کریں تو فرمادیں کہ انبیاء اسی ترتیب سے دنیا میں مبعوث ہوئے؟ (ایڈیٹر)
٤
في هذا الآية تقديما وتأخيرا مع ومتوفيك بعد انزالك من السم تاخیر ہے اور معنی اس کے یوں ہیں کہ صاف بچانے والا ہوں اور پھر آسمان حضرت ابن عباس رضی تفسیر اتقان کو دیکھنا چاہئے۔ ان معالم میں نظر نہ آئی۔ افسوس۔
تیسرا دھوکہ
قولہ حضرت ابن عباس رضی ہیں۔
اقول ...... واہ رے تیری دھوکہ بازی! مع دھوکے میں نقل کر دیا گیا ہے۔ لیکن اور لیؤمنن بہ“ کے نیچے یوں لکھا ہے۔
الف ...... ”وبهذا جزم ابن عبا جبير عنه باسناد صحيح عيسىٰ والله انه الان لحي ول العلم“
یعنی حضرت ابن عباس رضی نے سعید ابن جبیر کے طریق پر ان سے حسن بصریؒ سے روایت کی ہے۔ کہا (حضرت عیسیٰ علیہ السلام) اب تک ز وقت سب اہل کتاب حضرت عیسیٰ علیہ سے نقل کیا ہے۔
ب ...... ”ای وان من اهل ال
فى هذا الآية تقديما و تاخيرا معناه اى رافعك الى ومطهرك من الذين كفروا ومتوفيك بعد انزالك من السماء “ (معالم التنزیل ج١ ص١٦٣) یعنی اس آیت میں تقدیم و تاخیر ہے اور معنی اس کے یوں ہیں کہ میں تجھ کو اپنی طرف اوپر کو اٹھانے والا ہوں اور کفار سے صاف بچانے والا ہوں اور پھر آسمان سے اتارنے کے بعد ماروں گا۔
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے بہت سی آیات کو تقدیم و تاخیر فرمایا ہے۔ اس لئے تفسیر اتقان کو دیکھنا چاہئے۔ ان کے لکھنے کی یہاں ضرورت اور گنجائش نہیں۔ دھوکے باز کو یہ آیت معالم میں نظر نہ آئی۔ افسوس۔
تیسرا دھوکہ
قولہ! حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کا اعتقاد یہی تھا کہ حضرت عیسیٰ فوت ہو چکے ہیں۔
(بلفظہ ص٢ کالم دوم سطر ٣٠)
اقول...... واہ رے تیری دھوکہ بازی! حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کے اعتقاد کو اوپر دوسرے دھوکے میں نقل کر دیا گیا ہے۔ لیکن اور لیجئے۔ آیت شریف: ”وان من اهل الکتب الا لیومنن بہ“ کے نیچے یوں لکھا ہے:
- الف....... ”وبهذا جزم ابن عباس فیما رواه ابن جریر عن طریق سعید ابن
جبیر عنه باسناد صحیح ومن طریق ابی رجاء عن الحسن قال قبل موت عیسیٰ والله انه الان لحی ولكن اذا نزل امنوا به اجمعون نقله عن اكثر اهل العلم“
(فتح الباری باب نزول عیسیٰ علیہ السلام ج٦ ص ٤٩٣)
یعنی حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے اسی پر جزم کیا ہے۔ جیسا کہ علامہ ابن جریرؒ نے سعید ابن جبیرؓ کے طریق پر ان سے باسناد صحیح روایت کی ہے اور ابن رجاء کے طریق پر حضرت حسن بصریؒ سے روایت کی ہے۔ کہا ہے عیسیٰ علیہ السلام کی موت سے پہلے قسم ہے خدا کی وہ (حضرت عیسیٰ علیہ السلام) اب تک زندہ ہیں۔ لیکن جب وہ آسمان سے نازل ہوں گے۔ اس وقت سب اہل کتاب حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر ایمان لے آویں گے اور اس بات کو اکثر اہل علم سے نقل کیا ہے۔
- ب....... ”ای وان من اهل الکتب الا لیومنن بعیسیٰ قبل موت عیسیٰ وهم
٥
اهل الكتب الذين يكونون في زمانه فتكون الملة واحدة وهى ملة الاسلام وبهذا جزم ابن عباس فيما رواه ابن جرير من طريق سعيد ابن جبير باسناد صحیح “ (طبری ج ٦ ص ١٨ ملخص ) یعنی کوئی اہل کتاب میں سے نہ ہوگا۔ مگر البتہ ایمان لے آوے گا ساتھ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی موت سے پہلے اور وہ اہل کتاب وہ ہوں گے جو آپ کے زمانہ (وقت نزول) میں ہوں گے۔ پس صرف ایک ہی مذہب اسلام باقی رہ جائے گا۔ اسی پر حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے جزم کیا ہے۔ الخ
ج...... ”عن ابن عباس ان رهطا من اليهود سبوه وامه فدعا عليهم فمسخهم قردة وخنازير فاجمعت اليهود على قتله فاخبره الله بانه يرفعه الله الى السماء ويطهره من صحبة اليهود“
(بلفظہ صحیح نسائی)
”یعنی حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ یہود بے بہود نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو دشنام دی اور ان پر بددعا کی وہ بندر اور سور بن گئے۔ تب یہود نے حضرت موصوف علیہ السلام کے قتل کرنے پر اجتماع کیا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو خبر دیا اور اللہ تعالیٰ نے ان کو آسمان پر اٹھا لیا اور یہود کی صحبت سے پاک کر دیا۔ لیجئے دھوکے باز کے لئے اس قدر کافی ہے ورنہ اور بہت سے منقولات ہیں۔ جن سے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کا مذہب اور اعتقاد صاف ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام اللہ تعالیٰ کی قسم زندہ ہیں اور آسمان پر موجود ہیں۔ قرب قیامت میں نزول فرمائیں گے۔
چوتھا دھوکہ
قولہ ...... ناظرین پر واضح ہو گا کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ قرآن کے سمجھنے میں اول نمبر والوں میں سے ہیں اور اس بارہ میں ان کے حق میں آنحضرت ﷺ کی ایک دعا بھی ہے۔
( بلفظہ ص ٦ کالم دوم سطر ٣١)
اقول ہم اس بات کو مانتے ہیں اور ہمارا ایمان ہے کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ ایسے ہی تھے۔ بلکہ اس سے بھی زیادہ اور کئی درجہ بڑھے ہوئے تھے۔ یعنی کئی بار انہوں نے قرآن شریف رسول اکرم ﷺ کو سنایا۔ ہمیشہ آیت آیت پر استفسار کرتے تھے۔ جب تک تسلی اور تحقیق کامل نہ ہو جاتی تھی۔ آگے نہیں پڑھتے تھے۔ حضرت رسول اللہ ﷺ نے ان کے حق میں دعاء
٦
قرآن فہمی اور تفسیر اور حکمت کی فرمائی تھی۔ آنحضرت ﷺ کے چچا زاد بھائی تھے دو مرتبہ حضرت جبرائیل علیہ السلام کو بھی دیکھا تھا۔ آپ کا خطاب حبرالامۃ بھی ہے۔
(مقدمہ تفسیر ابن کثیر)
اب مرزائیوں کو فوراً اس پر ایمان لانا چاہئے اور جو انہوں نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی بابت فرمایا ہے۔ اس کو حرز جان بنانا چاہئے۔ لیکن مرزائیوں کا اس پر بھی ایمان نہیں۔ یہ محض دھوکہ ہے۔ اسی وجہ سے پہلے ان کی تعریف کرتے ہیں۔ جب ان کی مخالف پاتے ہیں تو گالیاں دینے لگ جاتے ہیں۔ یعنی جب حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ متوفیک کے معنی ممیتک کا کرتے ہیں تو ان کی تعریف کرتے ہیں اور جب اس آیت کو تقدیم اور تاخیر فرما کر حیات مسیح علیہ السلام الی الآن کی تصدیق فرماتے ہیں تو گالیاں دینے لگ جاتے ہیں۔ دیکھو مرزا قادیانی کا ازالہ اوہام اس میں مرزا قادیانی اس طرح پر درفشانی کرتے ہیں۔ وهو هذا ! ”لیکن حال کے متعصب ملا جس کو یہودیوں کی طرز پر 'یحرفون الکلم عن مواضعہ‘ کی عادت ہے اور جو ابن مریم کی حیات ثابت کرنے کے لئے ہاتھ پاؤں مارتے ہیں اور کلام الہی کی تحریف اور تبدیل پر کمر باندھ لی ہے...... کہتے ہیں...... بلکہ دراصل فقرہ انی متوفیک مؤخر اور فقرہ رافعک الی مقدم ہے۔ بلکہ باعث دخل انسانی اور صریح تغیر اور تبدیل وتحریف کے اسی محرف کا کلام متصور ہوں گے۔ جس نے بے حیائی اور شوخی کی راہ سے ایسی تحریف کی ہے اور کچھ شبہ نہیں کہ ایسی کارروائی سراسر الحاد اور صریح بے ایمانی میں داخل ہوگی ۔“
(ازالہ اوہام طبع ثانی ص ٤٦٦، خزائن ج ٣ ص ٣٤٩)
ناظرین خیال فرمائیں، یہ وہی حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ ہیں جن کی تعریف مرزا قادیانی نے اپنے ازالہ میں اور مرزائی مشتہر نے اس اشتہار میں دھوکہ دینے کی غرض سے کی تھی اور مرزا قادیانی انہیں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کی نسبت جن کا مذہب تقدیم و تاخیر آیت شریفہ ہے، اس قسم کی گالیاں نقل کفر کفر نباشد دیتے ہیں۔ متعصب ملا، یہودی تحریف کرنے والا، شوخ، بے حیاء، ملحد، بے ایمان، العیاذ باللہ۔
مرزائیو! خدا تم کو ان دھوکوں اور گالیوں کا بدلہ دے۔ بدلا مل چکا۔ ایمان سے خارج ہو گئے۔ استغفر اللہ!
تعجب! مرزائی لوگ ”متوفيك“ کے معنوں پر کیوں اس قدر دیگر اقوال پیش کرتے
٧
US@PAGE ٥٨٢
ہیں جو صریح مخالف ہیں اور کیوں بار بار دھوکے دیتے ہیں۔ کیوں اپنے پیغمبر مرزا قادیانی اور ان کے خلیفہ نورالدین کے دستاویزات کو تسلیم نہیں کرتے جن میں کوئی حجت نہیں ہو سکتی اور خلیفہ صاحب مرزائیوں کو سمجھاتے نہیں کہ تم ”متوفیک“ کے وہ معنی کرو جو مرزا قادیانی نے براہین احمدیہ میں کئے ہیں یا جو میں نے تصدیق براہین احمدیہ میں کئے ہیں۔ وہ کیا ہیں؟ ”میں تجھ کو پوری نعمت دوں گا۔“ (براہین احمدیہ ص١٩٠، خزائن ج١ ص٢٦٠) اور میں لینے والا ہوں تم کو۔
(تصدیق براہین احمدیہ ص٨ حاشیہ بحوالہ حکیم نورالدین خلیفہ قادیانی)
مگر اس پر زیادہ تعجب یہ ہے کہ مرزا قادیانی اور ان کے خلیفہ بھی اب ان معنوں پر ایمان نہیں رکھتے۔ کہیں تو کیا کہیں؟ کریں تو کیا کریں؟ یہی دھوکہ بازی اور بس۔
پانچواں دھوکہ
قولہ ...... اب ہم دکھاتے ہیں کہ قرآن وحدیث میں رفع کے معنی کیا آئے ہیں۔
”رفع درجات من نشاء يرفع الله الذين امنوا منكم والذين اوتوا العلم درجات“ وغیرہ ...... ہم نے جو کچھ لکھا ہے۔ اس میں یہ ظاہر کیا ہے کہ قرآن میں بھی رفع کے معنی درجے بلند کرنے کے ہیں اور حدیث میں بھی قرب اور درجوں کے بڑھانے کے ہیں۔
بلفظہ ملخصاً
(ص٣ کالم اول ودوم)
اقول مطلب اور منشاء اس دھوکے کا یہ ہے کہ قرآن شریف اور احادیث شریف میں لفظ رفع کے معنی صرف درجات کے بڑھانے اور بلند کرنے کے ہیں اور کوئی معنی نہیں ہیں۔ قرآن مجید میں جو اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں: ”وماقتلوه يقينا بل رفعه الله اليه (النساء:١٥٧،١٥٨)“ یعنی حضرت عیسیٰ علیہ السلام یقیناً قتل نہیں کئے گئے۔ بلکہ ان کو خداوند کریم نے اپنی طرف اٹھا لیا ہے۔ دھوکہ یہ ہے اور الٹے معنی یہ ہیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا درجہ اٹھا لیا۔ معلوم نہیں اس آیت میں درجہ کا کون سا لفظ ہے۔ جس قدر آیات و احادیث دھوکہ دینے کو نقل کی گئی ہیں۔ ان سب میں لفظ درجہ تو صاف درج ہے لیکن آیت شریف میں کوئی لفظ درجہ کا درج نہیں ہے۔ بلکہ تمام ضمائر جو ان آیات میں آئی ہیں۔ وہ سب کی سب حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی طرف راجع ہیں۔ اندریں حالت اس آیت شریف کے وہی معنی ہیں جو جمہور مفسرین ومجتہدین ومحدثین ومؤرخین نے کئے ہیں۔ یعنی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو اللہ تبارک وتعالیٰ نے اپنی قدرت کاملہ سے مع جسم آسمان پر اٹھا لیا۔
کتب لغت سے رفع کے معنی
اب ہم لفظ رفع کے معنی کتب لغت سے دھوکے کی قلعی اور بھی کھل جائے گی اور
- الف ...... رفع، برداشتن، وہو خلاف الوضع
ہیں۔ خلاف وضع کے اس کے معنی نیچے رکھنے کے
- ب ...... رفعہ رفعاً خلاف خفضہ بلفظہ مصباح
رکھنے کے۔
- ج ...... رفع، برداشتن وحرکت پیش دادن کلمہ را
درودہ و بخرمن گاہ آوردن و نزدیک گردانیدن چیزی
قرآن شریف سے رفع کے معنی
- الف ...... قرآن شریف میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
(یوسف:١٠٠) ”اپنے ماں باپ کو یوسف علیہ یوسف علیہ السلام کے ماں باپ ان کو ملنے مصر میں السلام تخت پر بیٹھے ہوئے تھے۔ انہوں نے اپنے ماں
اب غور کرو رفع کے معنوں پر کہ حضرت مع روح اور جسم کے بٹھلا لیا تھا نہ کہ مرزائیوں کے کو تخت پر چڑھا لیا اور اپنے ماں باپ کو تخت کے نیچے
- ب ...... ”ورفعناه مكاناً عليا (مریم
السلام) بلند عالی مقام پر اٹھا لیا۔ مسلمانوں کا تبارک وتعالیٰ نے آسمان پر اٹھا لیا تھا اور وہ بھی آس میں ایسا ہی لکھا ہے۔ ان کی زندگی کا ثبوت حسب اق
حدیث شریف سے رفع کے معنی
- الف ...... ”رفع رأسه الى السماء، فرفع
مشکوٰة شریف ص١٧٦) ”سورہ کہف میں اس سر اٹھانے کے ہیں۔
کتب لغت سے رفع کے معنی
اب ہم لفظ رفع کے معنی کتب لغت قرآن، حدیث سے نکال کر پیش کرتے ہیں۔ جس سے دھوکے کی قلعی اور بھی کھل جائے گی اور ناظرین اچھی طرح سمجھ جائیں گے۔
- الف....... رفع، برداشتن، وہو خلاف الوضع، بلفظہ صراح یعنی رفع کے معنی اوپر کو اٹھانے کے
ہیں۔ خلاف وضع کے اس کے معنی نیچے رکھنے یا لے جانے کے ہیں۔
- ب....... رفعہ رفعاً خلاف خفضہ بلفظہ مصباح المنیر ، رفع کے معنی اوپر اٹھانا ہے، خلاف نیچے
رکھنے کے۔
- ج....... رفع، برداشتن وحرکت پیش دادن کلمہ را و قصہ حال خود پیش حاکم بردن و برداشتن غلہ
درودہ در خرمن گاہ آوردن ونزدیک گردانیدن چیزے را بچیزے بلفظہ منتخب اللغات ۔
قرآن شریف سے رفع کے معنی
- الف....... قرآن شریف میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ”ورفع ابویہ علی العرش
(یوسف:١٠٠) ”﴿اپنے ماں باپ کو یوسف علیہ السلام نے تخت پر چڑھایا۔﴾ (جب حضرت یوسف علیہ السلام کے ماں باپ ان کو ملنے مصر میں تشریف لے گئے ) اس وقت حضرت یوسف علیہ السلام تخت پر بیٹھے ہوئے تھے۔ انہوں نے اپنے ماں باپ کو تخت پر چڑھالیا اور تخت پر بٹھایا۔
اب غور کرو رفع کے معنوں پر کہ حضرت یوسف علیہ السلام نے اپنے ماں باپ کو تخت پر مع روح اور جسم کے بٹھالایا تھا نہ کہ مرزائیوں کے عقیدہ کے مطابق صرف زبان سے رفع درجات کو تخت پر چڑھا لیا اور اپنے ماں باپ کو تخت کے نیچے ہی بٹھائے رکھا تھا۔
- ب....... ”ورفعناہ مكاناً عليا (مریم:٥٧) ”﴿ہم نے اس کو (حضرت ادریس علیہ
السلام ) بلند عالی مقام پر اٹھالیا۔﴾ مسلمانوں کا عقیدہ ہے کہ حضرت ادریس علیہ السلام کو بھی اللہ تبارک وتعالیٰ نے آسمان پر اٹھا لیا تھا اور وہ بھی آسمان پر اس وقت زندہ ہیں۔ تمام کتب اسلامی میں ایسا ہی لکھا ہے۔ ان کی زندگی کا ثبوت حسب اقرار خاتمہ پر عرض ہوگا۔ فانتظروا۔
حدیث شریف سے رفع کے معنی
- الف....... ”رفع رأسہ الی السماء، فرفعت رأسی الی السماء (صحیح بخاری
مشکوٰۃ شريف ص ١٧٦) ”سورہ کہف میں اس کی قرأت میں ان ہر دو جگہ میں آسمان کی طرف سر اٹھانے کے ہیں۔
- ب....... ”من رفع حجرا عن الطريق كتبت له حسنه (طبرانی)“ جو کوئی شخص
راستہ سے پتھر اٹھائے اس کے لئے ایک نیکی لکھی جاتی ہے۔ غور کرو، پتھر کو زمین پر سے اوپر اٹھا لیا ہے۔ نہ کہ درجات کا اٹھانا۔
- ج....... ”من رفع يديه في الركوع فلا صلوٰة له (للحاكم)“ یعنی جو کوئی رکوع میں
ہاتھ اوپر کو اٹھا دے اس کی نماز نہیں ہوتی۔ یہاں ہاتھ اوپر کو اٹھانا ہے۔ درجات کا نہیں۔
- د....... حضرت محمد ﷺ کی بیٹی حضرت زینب رضی اللہ عنہا کے فرزند فوت ہونے کے وقت کی
حدیث میں ہے: ”فرفع الى رسول الله ﷺ الصبى (صحیح بخاری و صحیح مسلم ومشکوة شريف كتاب الجنائز ص١٤٢)“ یعنی حضرت بی بی رضی اللہ عنہا کا وہ فرزند حضرت رسول خدا ﷺ کے پاس اٹھا کر لایا گیا۔
سبحان اللہ! کیا صاف طور پر رفع کے معنی رفع جسمی احادیث سے ثابت ہیں۔ لیکن مرزائیوں کی دھوکے بازیوں پر خیال فرمائیں۔ کہتے ہیں کہ قرآن اور حدیث میں رفع کے معنی صرف درجات کے اٹھانے کے ہیں۔ افسوس۔ دھوکے بازی۔
چھٹا دھوکہ
قولہ....... بالآخر ہم یہ دکھانا چاہتے ہیں کہ اگر ہم حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو اب تک زندہ جانیں تو ان سے کیا نقصان اور ہرج واقعہ ہوتے ہیں۔ آنحضرت ﷺ کی ختم نبوت پر حملہ ہوتا ہے کہ آنحضرت ﷺ تو فوت ہو گئے۔ ایک دوسرا نبی اب تک زندہ ہے۔
(بلفظہ ص٤ کالم اول)
اقول....... ہاں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے اب تک زندہ جاننے میں مرزائیوں کو اس لئے ہرج واقع ہوتا ہے کہ مرزا قادیانی کو مسیح بننے کا راستہ نہیں ملتا۔ بندۂ خدا یہ کہنا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے زندہ ہونے میں آنحضرت ﷺ کی ختم نبوت پر حملہ ہوتا ہے۔ یہ محض دھوکہ ہے اور مخالفانہ تحریر ہے ورنہ مرزائیوں کا ختم نبوت پر ہرگز ایمان نہیں۔ کیونکہ مرزا قادیانی خود بڑے بڑے زور سے دعویٰ نبوت اور رسالت کا کر چکے ہیں اور ختم نبوت پر سخت حملہ کیا جا چکا ہے اور تمام مرزائی اس پر ایمان لا چکے ہیں۔ مرزا قادیانی کا الہام ہے کہ میں رسول ہوں اور نبی ہوں بلکہ خدا بھی ہوں۔ ”انت منى وانا منك“ (تذکرہ ص ٤٢٢ بطبع سوم) شائع ہو چکا ہے۔ رسول اور نبی بھی کم درجہ کا نہیں بلکہ اولوالعزم پیغمبروں میں سے۔ مرزا قادیانی فرماتے ہیں:
(درثمین ص ٢٢)
١٠
پھر کہتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ کی وحی نے بھی غلطی کھائی۔ جو باتیں ان کو معلوم نہ ہوئیں وہ مجھ کو معلوم ہو گئیں۔ ان کو دجال ، یاجوج ماجوج دابۃ الارض کا پتہ ہی نہیں لگا۔ یہ تمام حقیقت مجھ پر منکشف ہوئی۔ وغیرہ وغیرہ۔ "لاحول ولاقوة" (ازالہ اوہام ص ٦٩١ ، خزائن ج ٣ ص ٤٧٤ ملخص) خاک بدہن اور جو میری رسالت کا منکر ہے، وہ کافر ہے۔ جتنے مسلمان اس وقت اللہ اور رسول ﷺ کو ماننے والے ان میں بڑے بڑے بزرگ اولیاء اللہ، غوث ، قطب، ابدال جو دنیا میں موجود ہیں۔ وہ سب کے سب کافر ہیں۔ کیونکہ انہوں نے مرزا قادیانی کی رسالت و نبوت کا انکار کیا اور ایمان نہیں لائے۔ یہ ہیں ختم نبوت پر حملے۔ العیاذ باللہ!
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا تشریف لانا محض بغرض قتل دجال اور رونق اسلام قرب قیامت میں ہوگا۔ جو اس وقت تابعی اور امتی اپنی دعا کی مقبولیت کی وجہ سے ہو کر تشریف لائیں گے۔ اس میں کوئی حملہ ختم نبوت پر نہیں ہے۔ یہ صریح دھوکہ ہے مرزا قادیانی کا۔ پس ختم نبوت پر مرزا قادیانی کا حملہ ہے نہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی تشریف آوری کا۔
ساتواں دھوکہ
قولہ ...... (٢) عیسائیوں کو خواہ مخواہ فضیلت یسوع پر ایک دلیل مل جاتی ہے کہ ہمارا یسوع زندہ ہے اور تمہارا محمد ﷺ فوت ہو گیا۔
(بلفظہ ص ٤)
اقول ...... زندہ ہونا یا فوت ہو جانا کسی کی فضیلت کی کوئی دلیل نہ عیسائیوں عتیق کی ہو سکتی ہے نہ عیسائیوں جدید کی۔ اگر یہی صورت ہے تو (الف) مرزا قادیانی چار سال سے فوت ہو چکے ہیں۔ پیچھے ان کے مولوی نورالدین، محمد احسن امروہی ، خواجہ کمال الدین مرزا محمود احمد وغیرہ اب تک زندہ ہیں۔ تو کیا مرزائیوں کے نزدیک یہ مرزا قادیانی سے افضل ہیں؟ ہرگز نہیں ۔
ب ...... آنحضرت ﷺ کے ارتحال کے بعد خلفائے راشدین اور صحابہ کرام رضوان اللہ اجمعین زندہ رہے تو کیا ان کی فضیلت آنحضرت ﷺ پر متصور ہوگی ۔ حاشا وکلا۔
ج ...... کل فرشتے آسمانوں اور زمینوں کے ابتداء سے ہیں۔ جن کا کوئی حساب و شمار سالوں کا نہیں ہو سکتا۔ اب تک زندہ موجود ہیں اور قیامت تک زندہ رہیں گے تو کیا ان کی فضیلت حضرت خاتم المرسلین ﷺ پر ہوگی ؟ ہر گز نہیں ۔ علاوہ ازیں اگر مسلمانوں کا یہ اعتقاد ہوتا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام فوت ہی نہ ہوں گے تب بھی کوئی فضیلت کی دلیل ہو سکتی تھی۔ لیکن مسلمانوں کا عقیدہ تو یہ ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام اس وقت آسمان پر زندہ ہیں اور قریب قیامت کے نزول فرما کر بعد
١١
قتل دجال و رونق و ترقی اسلام کے انتقال فرمائیں گے۔ مسلمان نماز جنازہ پڑھیں گے اور پھر مدینہ منورہ میں حضرت رسول ﷺ کے روضہ مطہرہ میں دفن کئے جائیں گے جن کے لئے اس وقت تک قبر کی جگہ خالی رکھی ہے۔ پس ثابت ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو حضرت رسول اللہ ﷺ پر فضیلت نہیں ہے۔ البتہ مرزائی لوگ مرزا قادیانی کی فضیلت حضرت رسول اللہ ﷺ پر ثابت کرتے ہیں جیسے کہ اوپر عرض کیا گیا ہے۔
آٹھواں دھوکہ
قولہ ...... حضرت مسیح پر حملہ ہوتا ہے کہ خدا نے تو انہیں فرمایا تھا کہ جب تک زندہ ہو زکوٰۃ دیتے رہنا۔ اب ١٩٠٠ سال سے آسمان پر پناہ گزین ہو کر اس حکم کو ٹال رہے ہیں۔
(بلفظہ ص ٤)
اقول ...... (الف) یہ دھوکہ نہایت استہزا اور جہالت کے ساتھ دیا جاتا ہے۔ جس زکوٰۃ کے ادا کرنے کا حضرت عیسیٰ علیہ السلام اقرار فرماتے ہیں۔ یعنی: ”واوصانی بالصلوٰۃ والزکوٰۃ مادمت حیا (مریم: ٣١)“ یعنی میں جب تک زندہ رہوں نماز اور زکوٰۃ ادا کرتا رہوں گا۔ وہ نماز فرشتوں کی سی نماز ہے اور وہ زکوٰۃ فرشتوں کی سی زکوٰۃ ہے۔ یہ زکوٰۃ پاکیزہ رہنا ہے۔ جیسا کہ کتب لغت اور قرآن کریم سے واضح ہے۔
اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے حضرت یحییٰ علیہ السلام کے بارہ میں: ”وحنانا من لدنا و زکوٰۃ (مریم: ١٣)“ یعنی ہم نے (حضرت یحییٰ علیہ السلام کو) نرم دلی اور پاکیزگی عنایت کی ہے۔ دیکھئے یہاں قرآن شریف میں زکوٰۃ کے معنی پاکیزگی کے کئے ہیں۔ زکوٰۃ مالی کے نہیں ہیں۔ علاوہ ازیں خداوند کریم نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے لئے لفظ خاص زکی کا فرمایا ہے: ”قولہ تعالیٰ لاھب لک غلاما زکیا (مریم: ١٩)“ یعنی حضرت جبرائیل علیہ السلام نے حضرت مریم علیہا السلام سے کہا کہ میں خدا کے حکم سے تمہارے پاس آیا ہوں تاکہ تجھے ایک لڑکا پاکیزہ بخشوں۔ پس یہاں زکوٰۃ سے مراد پاکیزہ رہنے کے ہیں۔ اسی واسطے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے زکی فرمایا۔
ب ...... زکوٰۃ مالی کا دینا ہر انسان مالک نصاب پر جو زمین پر ہیں، فرض ہے۔ لیکن جو مخلوق آسمانوں پر ہے، ان پر فرض نہیں۔ ورنہ مرزائی دکھلائیں کہ فرشتے جو آسمانوں پر ہیں، ان پر بھی زکوٰۃ فرض ہے؟ اور کس حساب سے وہ زکوٰۃ ادا کرتے ہیں۔ ہاں ان کی نماز اور عبادت تسبیح و تہلیل اور ذکر الٰہی ہے اور ان کی زکوٰۃ پاکیزگی ہے۔
ج ...... تمام مسلمان جانتے ہیں کہ ہ میں تعداد مقرر ہے۔ تب تک اس پر زکوٰ کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام پیدا ہوئے تھے (حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی نسب پاس نہیں رکھتے تھے) ہے کوئی ا کر سکے گا۔ ”ولو کان بعضھم لبعض
نواں دھوکہ
قولہ ...... (٤) امت مرحومہ کی بے مز اصلاح کے واسطے ان میں سے ایک فرد بھی
اقول ...... امت مرحومہ کی اس میں کیا مرحومہ میں امتی ہو کر داخل ہوتے ہیں۔ ہے، مگر افسوس مرزائی دھوکہ باز کو ی کان موسیٰ حیا ما وسعہ الا اتب السلام زندہ ہوتے تو وہ میری ہی اتباع کر توریت پڑھ رہے تھے۔ پس جبکہ حضرت گے تو ان کو بھی سوا اتباع حضرت خاتم النبیی اپنی دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ مجھے امت مرحومہ مرحومہ میں داخل ہونا عین عزت ہے۔ مرحومہ میں داخل نہیں ہیں۔ وہ مرزا قادیان ایسے ایسے لائق وفائق مکمل واکمل خلفاء تابعین و تبع تابعین آئمہ مجتہدین و محدی مرحومہ میں گزرے ہیں کہ جن کے حالات ان کا مصلح امت مرحومہ ہونا صوفیاء مؤید دین متین ابقاہم اللہ تعالیٰ مو کر رہے ہیں اور اسی طرح قیامت تک
ج...... تمام مسلمان جانتے ہیں کہ جب تک کوئی مسلمان مالک نصاب نہ ہو۔ جس کی شرع میں تعداد مقرر ہے۔ تب تک اس پر زکوٰۃ فرض نہیں ہے۔ کیا کوئی مرزائی یہ بات ثابت کرسکتا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام پیدا ہوتے ہی مالک نصاب تھے اور جب تک زمین پر تشریف فرما رہے تھے (حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی نسبت مشہور عام ہے کہ وہ پانی پینے کے لئے مٹی کا پیالہ بھی اپنے پاس نہیں رکھتے تھے) ہے کوئی اپنے باپ کا بیٹا فدائی مرزائی جو اس بات کو ثابت کرے؟ ہرگز نہیں کرسکے گا۔ ”ولوكان بعضهم لبعض ظهيراً“
نواں دھوکہ
قولہ...... (٤) امت مرحومہ کی بے عزتی ہوتی ہے کہ یہود کی طرح خراب تو یہ ہوگئے اور ان کی اصلاح کے واسطے ان میں سے ایک فرد بھی لائق نہ نکلا۔
(بلفظہ ص٤)
اقول...... امت مرحومہ کی اس میں کیا بے عزتی ہے کہ ایک اولوالعزم پیغمبر علیہ السلام اس امت مرحومہ میں امتی ہوکر داخل ہوتے ہیں۔ یہ تو امت مرحومہ کی نہایت توقیر اور اعلیٰ درجہ کی عزت ہے۔ مگر افسوس مرزائی دھوکے باز کو بے عزتی نظر آرہی ہے۔ حدیث شریف میں ہے: ”ولو كان موسى حيّا ماوسعه الا اتباعی (مشکوٰۃ ص ٣٠)“ یعنی اگر حضرت موسیٰ علیہ السلام زندہ ہوتے تو وہ میری ہی اتباع کرتے۔ یہ حضرت محمدﷺ نے فرمایا تھا۔ جبکہ حضرت عمرؓ توریت پڑھ رہے تھے۔ پس جبکہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام زندہ ہیں اور آسمان سے نزول فرمائیں گے تو ان کو بھی سوا اتباع حضرت خاتم النبیین کے کوئی چارہ نہیں ہے۔ نیز حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی اپنی دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ مجھے امت مرحومہ میں داخل کرے اور یہ دعا قبول ہوچکی ہے۔ پس امت مرحومہ میں داخل ہونا عین عزت ہے۔ البتہ مرزائیوں کی بے عزتی ضرور ہے۔ کیونکہ وہ امت مرحومہ میں داخل نہیں ہیں۔ وہ مرزا قادیانی کی امت ہیں۔ حضرت رسول اکرمﷺ کی امت میں ایسے ایسے لائق وفائق مکمل واکمل خلفاء راشدین جلیل القدر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین اور تابعین و تبع تابعین آئمہ مجتہدین ومحدثین علماء فہام وصوفیائے عظام وسلاطین انام اس امت مرحومہ میں گزرے ہیں کہ جن کے حالات سے کتب سیر وتواریخ بھری پڑی ہیں۔
ان کا مبلغ امت مرحومہ ہونا مسلمہ ومقبول کافہ انام ہے اور اس وقت بھی علماء جید اور صوفیاء مؤید دین متین ابقاہم اللہ تعالیٰ موجود ہیں۔ جو مخالفین ومعاندین رسول اکرمﷺ کی بیخ کنی کررہے ہیں اور اسی طرح قیامت تک ہوتے رہیں گے۔ حضرت مہدی علیہ السلام وحضرت مسیح
١٤
علیہ السلام قرب قیامت میں کامل اصلاح فرمائیں گے اور حشراتی مذاہب کو جڑھ سے اکھاڑ پھینکیں گے۔ مرزائی دھوکے باز کو شرم کرنی چاہئے۔ نادانوں کو ایسے واہی دھوکے نہیں دینے چاہئیں۔
دسواں دھوکہ
قولہ ..... اور دوسری امت کا ایک نبی ان کی اصلاح کے واسطے پہلے سے ریزور رکھنا پڑا تا کہ وقت ضرورت کام آوے۔
(بلفظہ ص٤)
اقول ..... ہم لکھ چکے ہیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام اسی امت مرحومہ میں داخل ہیں تو پھر دوسری امت کیسی؟ یہی دھوکہ بے علمی کا ہے۔
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو ریزور رکھنے کی ضرورت اس لئے مقدر رکھی گئی ہے کہ دنیا میں نئے نئے فرقے دہریہ ادعائے نبوت کرنے والے۔ امت مرحومہ سے نکل کر نئے پیغمبر کی امت میں داخل ہونے والے۔ معجزات قرآنی کے انکار کرنے والے۔ توہینات انبیاء علیہم السلام کرنے والے بالخصوص انہیں ریزورسٹ نبی علیہ السلام (حضرت عیسیٰ علیہ السلام) کو گالیاں دینے والے۔ ان کی حیات الیٰ لآن کا انکار کر کر تمسخر کرنے والے۔ ان کے معجزات کو مسمریزم کہنے والے۔ ان کو یوسف نجار کا بیٹا کہنے والے اور ان پر گندے بہتان لگانے والے۔
حضرت محمدﷺ کی توہین کرنے والے۔ معراج جسمانی کا انکار کرنے والے۔ دوزخ و بہشت کا انکار کرنے والے۔ روح اور فرشتوں کا انکار کرنے والے وغیرہ وغیرہ جو پیدا ہو گئے ہیں۔ ان کا قلع قمع کریں۔ اس وقت یہ لوگ فرار ہو کر جھاڑیوں، پتھروں، غاروں، قبروں میں جا جا کر چھپیں گے۔ تب ہر ایک جھاڑی، پتھر، غار، قبر وغیرہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو آوازیں دے دے کر بتلائیں گے کہ یہود مردود یہ چھپا ہے۔ یہاں ہے وہاں ہے۔ تب بہت بری ذلتوں کے ساتھ مارے جائیں، جہنم رسید ہوں گے۔ زمین دنیا ان غلاظتوں سے پاک ہو جائے گی۔ یہ ہے حضرت مسیح علیہ السلام کے ریزور رکھنے کی ضرورت۔ ”تلك عشرة كاملة“ یہ دس دھوکے مرزائی مشتہر کے جواب پورے ہو گئے جو مسلمانوں کی آگاہی کے لئے لکھے گئے ہیں۔ اللہ تبارک وتعالیٰ سب مسلمانوں کو ان دھوکوں سے بچائے۔ آمین، ثم آمین۔
اسلام کے چار پیغمبران علیہم السلام کا اس وقت تک زندہ ہونا
میں نے پہلے ابتداء ہی میں عرض کیا تھا کہ مرزائی لوگ صرف حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی ١٤
٩ ہی حیات پر واویلا کرتے ہیں۔ ان کے سوا تین زندہ موجود ہیں۔ تمام کتب تفاسیر و تواریخ و کتب عقائد میں یہ تصریح ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام آسمانوں پر زندہ موجود ہیں۔ جو زمین پر ہر دو پیغمبران علیہم امت میں داخل اور تابع شریعت حضور سرور کائنات اگر دیکھنا چاہو تو کتب تفاسیر و سیر و تو عرض کرتا ہوں تا کہ مسلمانوں کو مرزائیوں کی دھو اطمینان کا موقع ملے۔ کتب بھی مقبولہ اور مسلمہ مر رہے۔ وہو ہذا۔
- الف ..... ”واما اليوم فالياس والخضـ
نبينا محمدﷺ اما بحكم الوفاق او بحـ ذالك الا على التعريف لا على الطريق والسلام اذانزل الى سبيل الارض لا يحـ (یواقیت والجواہر ص١٨٩، سطر ٢٥، مطبوعہ مصر) یعنی آج دونوں ہمارے نبی محمدﷺ کی اتباع اور شریعت پر زمین پر نزول فرمائیں گے۔ تو ہمارے نبیﷺ کی
- ب ..... ”وفيه ذكر الخضر بفتح خاء
ابو العباس قيل كان في زمان ابراهيـ الاكثر واتفق عليه الصوفية والصلحاء
یعنی حضرت خضر علیہ السلام کی نبوت میـ ابوالعباس ہے۔ کہتے ہیں کہ وہ حضرت ابراہیم خلیل اب تک زندہ ہیں۔ اکثر ان کی حیات کے قائل ہیں الیٰ لآن پر اتفاق کیا ہے اور ان کی حکایات پر اعتبار یہ تو دو حوالے مسلمانوں کی کتابوں کے ١٥
ہی حیات پر واویلا کرتے ہیں۔ ان کے سوا تین اور پیغمبران علیہم السلام اس وقت (ماہ دسمبر ١٩١٢ء) زندہ موجود ہیں۔ تمام کتب تفاسیر و تواریخ و کتب سیر میں درج ہے کہ حضرت ادریس علیہ السلام اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام آسمانوں پر زندہ موجود ہیں اور حضرت خضر و حضرت الیاس علیہما السلام زمین پر زندہ موجود ہیں۔ جو زمین پر ہر دو پیغمبران علیہم السلام زندہ موجود ہیں۔ وہ آنحضرت ﷺ کی امت میں داخل اور تابع شریعت حضور سرور کائنات ﷺ ہیں۔
اگر دیکھنا چاہو تو کتب تفاسیر و سیر و تواریخ دیکھ سکتے ہو۔ لیکن میں دو ایک حوالہ کتب عرض کرتا ہوں تا کہ مسلمانوں کو مرزائیوں کی دھوکہ بازی معلوم ہو اور مرزائیوں کو مزید ایمان اور اطمینان کا موقع ملے۔ کتب بھی مقبولہ اور مسلمہ مرزائی صاحبان ہیں تا کہ ان کو انکار کا بھی موقع نہ رہے۔ وہو ہذا۔
الف ...... ”واما اليوم فالياس والخضر عليهما الصلوة والسلام على شريعة نبينا محمد ﷺ اما بحكم الوفاق او بحكم الاتباع وعلى كل حال فيكون لهما ذالك الا على التبعية لا على طريق النبوة وكذالك عيسى عليه الصلوة والسلام اذا نزل الى هذه الارض لا يحكم فينا الا بشريعة نبينا محمد ﷺ“ (يواقيت والجواہر ص ١٨٩، سطر ٢٥، مطبوعہ مصر) یعنی آج (اس وقت تک) الیاس اور خضر علیہما السلام دونوں ہمارے نبی ﷺ کی اتباع اور شریعت پر ہیں اور اسی طرح جب حضرت عیسیٰ علیہ السلام زمین پر نزول فرمائیں گے۔ تو ہمارے نبی ﷺ کی شریعت کے مطابق عمل درآمد اور حکم کریں گے۔
ب ...... ”وفيه ذكر الخضر بفتح خاء اختلف فى نبوته واسمه بليا وكنيته ابو العباس قيل كان فى زمان ابراهيم الخليل وهو حى موجود اليوم على الاكثر والمتفق عليه الصوفية والصلحاء وحكاياتهم فى اجتماعهم معه“
(مجمع بحار الانوار ج اول ص ٣٥٠ سطر ٢٦)
یعنی حضرت خضر علیہ السلام کی نبوت میں اختلاف ہے۔ نام ان کا بلیا اور کنیت ان کی ابوالعباس ہے۔ کہتے ہیں کہ وہ حضرت ابراہیم خلیل علیہ السلام کے زمانہ میں پیدا ہوئے تھے اور اب تک زندہ ہیں۔ اکثر ان کی حیات کے قائل ہیں۔ صوفیائے کرام وصلحاء عظام نے ان کی حیات الی الآن پر اتفاق کیا ہے اور ان کی حکایات بہم پہنچتی ہیں۔ یہ تو دو حوالے مسلمانوں کی کتابوں کے ہیں۔ گو مرزائیوں کے بھی مسلمہ ہیں۔ لیکن اب
١٨
ہم خالص مرزا قادیانی اور ان کے خلیفہ نور الدین کی تحریرات دستخطی حیات ہر چہار پیغمبران علیہم السلام میں نقل کر دیتے ہیں تاکہ دیگر دھوکہ باز مرزائیوں کو بھی یقین حاصل ہو۔ وہو ہذا۔
- الف ...... ”اب ہم صفائی بیان کے لئے یہ لکھنا چاہتے ہیں کہ بائبل اور ہماری احادیث و اخبار
کی کتابوں کی رو سے جن نبیوں کا اسی وجود عنصری کے ساتھ آسمان پر جانا تصور کیا گیا ہے۔ وہ دو نبی ہیں۔ ایک یوحنا جس کا نام ایلیا اور ادریس بھی ہے اور دوسرے مسیح ابن مریم جس کو عیسیٰ اور یسوع بھی کہتے ہیں۔“
(توضیح المرام ص ٢٣، خزائن ج ٣ ص ٥٢)
- ب ...... جب (موسیٰ علیہ السلام) نے ”انا اعلم“ کہہ دیا تب غیرت الہیہ نے اپنے پیارے
بندہ سیدنا حضرت خضر علیہ السلام کا انہیں پتہ دیا۔ جب موسیٰ علیہ السلام انہیں ملے تو اس کے سچے علوم اور اسرار تک نہ پہنچے۔ جناب خضر علیہ السلام نے فرمایا: ”لن تستطيع معى صبراً“
(بلفظہ حکیم نور الدین کا خط مندرجہ ازالۃ الاوہام ص ٤١٤، خزائن ج ٣ ص ٦٢٨)
- ج ...... حضرت شیخ عبد القادر جیلانی رحمۃ اللہ علیہ کے ساتھ خضر علیہ السلام کی ملاقات ہوئی۔
مجھے اس وقت ایک قصہ یاد آ گیا۔ جس کو قلائد الجواہر میں محمد بن یحییٰ تاذفی نے ارقام فرمایا ہے۔ اس پر غور کرو۔ شیخ عبد القادر جیلانی فرماتے ہیں: ”جاء نی ابوالعباس الخضر عليه السلام الخ“ (بلفظہ حکیم نور الدین کا خط مندرجہ ازالۃ الاوہام طبع ثانی ص ٤٥، خزائن ج ٣ ص ٦٢٩) کہ میرے پاس حضرت خضر علیہ السلام تشریف لائے، الخ۔
لیجئے حضرات! مرزائی دھوکہ بازوں کو اب تو ان پر ایمان لانا چاہئے لیکن مشکل یہ ہے کہ جب اصل ہی اپنی اقراری باتوں پر قائم نہ رہے ہوں تو نقلوں پر کیا شکوہ اور افسوس؟ مگر ہم بطور ناصح خیر خواہی کر کے للہ سمجھاتے ہیں کہ ایسی ایسی دھوکہ بازی اور جہالتوں کو چھوڑ دیں اور اپنی بیماری کا ایک مختصر معتدل نسخہ کسی نہ کسی طرح گلو کے نیچے اتار لیں تاکہ وہ قلب سقیم پر پہنچ کر کچھ اثر کرے اور شقاوت و قساوت قلبی دور ہو۔ جب تک یہ مرض قلبی دور نہ ہوگی تب تک کوئی بھی عمدہ سے عمدہ غذا اثر نہ کرے گی۔ کیا اچھا کہا کسی بزرگ نے:
جب تلک بیمار ہے بیمار کو کچھ اثر اچھی غذا کرتی نہیں
اب ہم یہ دعا جناب الٰہی میں کرتے ہوئے اس مختصر تحریر کو ختم کرتے ہیں۔ ”ربنا لا تزغ قلوبنا“
١٦
سیدنا محمد رسول الله
خاتم النبيين
لا نبي بعدي
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت
مصنوعی قادیانی کے اعمال
جو سخت کاذب اور اکفر ہے
مولانا محمد شفیق گجرات رحمۃ اللہ علیہ
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
مجھے ہر دو فریق سے کوئی پیری مریدی کا تعلق نہیں۔
- ١....... مگر اس وقت میرے سامنے دو شخصیتوں کی تحریرات کا سلسلہ موجود پڑا ہے۔ ان میں
سے ایک تو مرزا قادیانی اور دوسرے صاحب جناب فضیلت مآب سید پیر مہر علی شاہ صاحب گولڑہ شریف والے ہیں۔
جب ہم اوّل الذکر کے ہر قسم کی مذہبی تحریرات کے سلسلہ میں حکم کے طور پر بہ نظر غور دیکھتے ہیں تو سوائے لایعنی اوہام اور بیہودہ خرافات اور مزخرافات اور گالی گلوچ کے اور کچھ نہیں پاتے۔ مرزا قادیانی نے محض ایک دکان داری کی پٹڑی جمائی ہوئی ہے ورنہ فی نفسہ ان کی سب نوشت و خواند کے سلسلہ کو مطلقاً ایک ذرہ بھر بھی معاملات دین سے کچھ بھی تعلق نہیں۔
کیا یہ بھی شعار اسلام میں داخل ہے کہ مرزا نے جھوٹے اشتہارات دے دے کر ہزاروں روپیہ براہین کی پیشگی قیمت پچیس پچیس روپیہ فی نسخہ غریب مسلمانوں سے وصول کی اور کھا گئے اور جس قدر حجم کتاب کا وعدہ کیا تھا۔ اس کا عشر عشیر بھی ایفا نہ کیا اور چند جزو کتاب برائے نام اپنی ہی تعریف و توصیف میں چھاپ کر خاموش ہو بیٹھے۔ ہر چند مرزا کے چند احباب خصوصاً نور الدین نے عام و خاص کا یہ خیال سمجھ کر کہ یہ صریحاً دھوکہ اور عین شرع کے برخلاف ہے آپ کو مشورہ دیا کہ باقی قیمت اس حصہ کتاب کی جو ابھی طبع نہیں ہوئی اور جس کا وجود عدم سے ظہور میں نہیں آیا، واپس کرنی چاہئے اور نورالدین نے یہ بھی کہا کہ اگر آپ کے پاس روپیہ نہیں ہے تو مجھ کو ارشاد ہو کہ میں اپنے پاس سے وہ روپیہ جو واجب الادا ہے، واپس کر دوں
(فتح الاسلام ص ٢٠ تا ٦٢، خزائن ج ٣ ص ٣٦)
اے نور الدین کا لوگوں کی قیمت پیشگی وصول شدہ کو واپس کرنے کے لئے مرزا سے اجازت طلب کرنے سے پایا جاتا ہے کہ اس کا منشاء بھی کچھ ادائیگی قیمت کا نہ تھا۔ بلکہ ایک طرف سے پبلک کو اپنی فراخ حوصلگی اور زبانی ہمدردی جتانی مقصود تھی۔ ورنہ
اگر ایسا ہی نورالدین کو مرزا کے ساتھ محض بوجہ للہ عقبیٰ کی خاطر ہمدردی تھی، تو کیوں اور کیا باعث کہ نورالدین نے وہ روپیہ جو مرزا کے ذمہ واجب الادا تھا، ان لوگوں کو جن کا حق تھا، واپس کر کے مرزا سے حق العباد کے غصب کرنے کا الزام دور نہیں کیا۔
٢
مگر نہ تو وہ روپے مرزا نے اور سادہ لوح مسلمانوں کو روپے مسائل سے واقف ہو کر غصب کرنا محدث، امام الزمان، مہدی، مسیح مو کیا اس کے لئے شرم کی بات نہیں؟
- ٢....... کتاب براہین جس کے
کے بعد کئی ایک کتابیں مرزا کی مثل کی آیات قرآن شریف کو جیسا کہ " القرآن ...... يَا عِيسَىٰ اِنّى مُتَ بالهدى ودين الحق ليظهره عل اس کے مصداق خود بن بیٹھے ہیں۔ دیکھ جب علماء دین نے کہا ہ وہ آیات قرآن شریف کا اپنے حق می ہی ہیں جو بطور پیشین گوئی پہلے ہی محدث، مجدد اور عالم ایسا نہیں گزرا جو شریف اپنے حق میں ہی نازل ہونا بیا شریف میں موجود ہے اور خدا نے قاد "أنا أنزلناه قريبا من القاديان قرآن کی آیات کو مقدم معنوی کے علاوہ تحریف لفظی بھی اپنے کہ آیت: "و مكروا و مكر الله و الله خير ال يستغفرون" کو اپنے حق میں نازل لفظ "معذبهم" قرآن مجید میں ہے ص ٨١٣، خزائن ج ٢١ ص ٨٣٣) پر تحریر آتا ہے: " والفحشاء" کو اپنے حق میں نازل سے بھی عاجز (مرزا) مراد ہے اور اس
مگر نہ تو وہ روپیہ مرزا نے واپس کیا اور نہ نور الدین کو ہی اجازت دی کہ وہ ہی غریب اور سادہ لوح مسلمانوں کو روپیہ واپس کر دیتا۔ پس اس قسم کا مذموم فعل یعنی حق العباد کا دیدہ و دانستہ مسائل سے واقف ہو کر غصب کرنا جبکہ ایک عام مسلمان اس کو اچھا نہیں سمجھتا۔ تو جو ولی اللہ، مجدد، محدث، امام الزمان، مہدی، مسیح موعود، نبی بلکہ رسول ہونے کا دعویٰ کر کے پھر ایسا قبیح کام کرے تو کیا اس کے لئے شرم کی بات نہیں؟
- ٢...... کتاب براہین جس سے ہزار درجہ الف لیلہ کو اپنی ساخت پر فخر ہے۔ اس کی تصنیف
کے بعد کئی ایک کتابیں مرزائی مثل ازالۃ الاوہام، توضیح مرام، فتح اسلام وغیرہ وغیرہ لکھیں اور ان میں بہت سی آیات قرآن شریف کو جیسا کہ: "مارمیت اذرمیت ولكن الله رمی...... الرحمن علم القرآن...... ياعيسى انى متوفيك ورافعك الى...... هو الذي ارسل رسوله بالهدى ودين الحق ليظهره على الدين كله" وغیرہ وغیرہ اپنے حق میں نازل ہونا لکھ کر اس کے مصداق خود بن بیٹھے ہیں۔ دیکھو
(ازالہ اوہام ص ١٩٢، خزائن ج ٣ ص ١٩٣)
جب علماء دین نے کہا ہم سے ان امور میں تصفیہ کرو۔ تو الہام ہوا کہ ہم محض ایک دو آیات قرآن شریف کا اپنے حق میں نازل ہونا نہیں لکھتے۔ بلکہ سینکڑوں آیات آپ کے لئے ہی ہیں جو بطور پیشین گوئی پہلے ہی سے قرآن میں موجود ہیں اور آج تک مرزا کے سواء کوئی ولی، محدث، مجدد اور عالم ایسا نہیں گزرا جو ان آیات کے معنی یا مطلب سمجھے غرضیکہ قریباً تمام قرآن شریف اپنے حق میں ہی نازل ہونا بیان فرماتے ہیں اور یہ بھی لکھتے ہیں کہ قادیاں کا نام بھی قرآن شریف میں موجود ہے اور خدا نے قادیاں کا نام عزت کے ساتھ قرآن میں ذکر کیا ہے۔ جیسا کہ: "انا انزلنه قريبا من القادیان"
(ازالہ اوہام حاشیہ ص ٧٧، خزائن ج ٣ ص ١٤٠)
قرآن کی آیات کو مقدم مؤخر کر لینا تو آپ کے نزدیک ایک ادنیٰ بات ہے اور تحریف معنوی کے علاوہ تحریف لفظی بھی اپنے مطلب کے مطابق کر لینا آپ کے نزدیک جائز ہے۔ جیسا کہ آیت: "وماكان الله ليعذبهم وانت فيهم" اور "وماكان الله ليعذبهم وهم يستغفرون" کو اپنے حق میں نازل ہونا لکھا ہے تو اس میں دوسرے: "وما كان الله" کے پیچھے لفظ "معذبهم" قرآن مجید میں ہے۔ اس کو "لیعذبهم" بدلا دیا ہے۔ دیکھو مرزا کی کتاب (براہین ص ٥٥٢، خزائن ج ١ ص ٦٦٣) پھر آیت: "وكذلك منّا على يوسف لنصرف عنه السوء والفحشاء" کو اپنے حق میں نازل لکھ کر اخیر اس کے ترجمہ میں لکھتا ہے کہ اس جگہ یوسف کے لفظ سے بھی عاجز (مرزا) مراد ہے اور اس آیت میں لفظ "مكنا" کو منّا سے تحریف کیا ہے اور اسی لفظ کا
٣٠
ترجمہ کیا ہے کہ ہم نے یوسف پر احسان کیا تھی۔ (براہین ص ٥٥٥، خزائن ج ١ ص ٦٦٢) غرضیکہ جن آیات کو جس طرح چاہا تحریف و تبدیل کر لیا اور لکھ دینا مرزا کے نزدیک تو جائز ہے۔ شاید اس لئے کہ آپ کا دعویٰ ہے کہ ”میں نبی اور رسول بھی ہوں۔“
(توضیح مرام ص ١٨، خزائن ج ٣ ص ٦٠، ازالہ اوہام ص ١٩٢، خزائن ج ٣ ص ١٩٣)
- ٣...... آج تک جو الہامات اور پیشین گوئیاں مرزا نے کی ہیں۔ خدا کے فضل و کرم سے ایک بھی
پوری نہیں ہوئی۔ غیر اقوام کے پیشواؤں اور لیڈروں کو آپ نے مخاطب بنا کر وہ وہ گالیاں نکالی ہیں کہ الامان جس کے جواب میں انہوں نے اہل اسلام کے پیشواؤں خصوصاً آنحضرت ﷺ کی نسبت ایسی سخت لن ترانی کی ہے کہ قلم باوجود دوزبان ہونے کے لکھنے سے قاصر ہے۔
آپ ہی نے جنہوں نے اسلام کو دوسری قوموں کے سامنے سخت ذلیل اور رسوا کیا تھا اور سخت گالیاں نکلوائی تھیں۔ مگر اہل اسلام کے علماء اور سجادہ نشینوں وغیرہ وغیرہ کو بھی سوائے بے ایمانوں، بد ذاتوں اور یہودیوں کے نہیں لکھا۔ جس کو شک ہو وہ دیکھیں (ضمیمہ انجام آتھم ص ٢١، خزائن ج ١١ ص ٣٠٥ اور ازالہ اوہام ص ٢٥، خزائن ج ٣ ص ١١٥) بلکہ (ازالہ اوہام ٹائٹل پیج، خزائن ج ٣ ص ١٠٢) پر لکھا ہے: ”اے میرے مخالف علماء اے مولویو! اور صوفیو! اور سجادہ نشینو جو مکذب اور منکر ہو وغیرہ وغیرہ۔“
اور ہمیشہ جس نے آپ کو ایسے ایسے کاموں سے منع کیا تو جھٹ اس کی موت کا الہام ساتھ ہی موجود ہوا اور لطف یہ کہ غیروں کے لئے تو موت فوت ذلت اور بربادی کے الہام ہوئے جیسا کہ ”ہر ایک شاخ تیرے جدی بھائیوں کی کاٹی جاوے گی اور وہ جلد لاولد رہ کر ختم ہو جاوے گی اگر وہ توبہ نہ کرے گی تو خدا ان پر بلا نازل کرے گا کہ وہ نابود ہو جاویں گے۔ ان کے گھر بیواؤں سے بھر جائیں گے۔ ان کی دیواروں پر غضب نازل ہوگا۔“ وغیرہ وغیرہ۔ دیکھو (مجموعہ اشتہارات ج ١ ص ١٠٢) اور اسی طرح مرجائے گا عبداللہ آتھم، مرجائے گا احمد بیگ کا داماد، ذلیل ہو گا ملا محمد بخش، ذلیل ہو گا مولوی محمد حسین، ذلیل ہو گا مولوی ابوالحسن تبتی، مرجائے گا لیکھرام پشاوری، مر جائے گا مولوی محمد حسین ٥٢ برس کی عمر میں۔
اور خاص مرزا کی ذات کے لئے یہ الہام ہوئے۔ تیرے گھر لڑکا پیدا ہوگا۔ تو دشمنوں پر فتح پائے گا۔ تیرا گھر برکت سے بھرے گا اور پھر خدا فرماتا ہے کہ میں اپنی نعمتیں تجھ پر پوری کروں گا اور خواتین مبارکہ سے جن میں سے تو بعض کو اس کے بعد پائے گا۔ تیری نسل بہت ہوگی اور میں تیری ذریت کو بڑھاؤں گا اور برکت دوں گا تیری نسل کثرت سے ملکوں میں پھیل جائے گی اور میں تیرے خالص اور دلی محبوں کا گروہ بھی بڑھا دوں گا اور ان کے نفوس و اموال میں برکت دوں
٤
گا اور ان میں کثرت بخشوں گا اور وہ مسلمانوں کے اس دوسرے گروہ سے تا بروز قیامت غالب
(مجموعہ اشتہارات ج ١ ص ١٠٢، ١٠٣)
رہیں گے، وغیرہ وغیرہ۔ اور مرزا احمد بیگ کی دختر کلاں تیرے نکاح میں آئے گی۔ (ازالہ اوہام ص ٣٩٦، خزائن ج ٣ ص ٢٠٥) غرضیکہ فائدہ کے الہام تو مرزا کو اپنے لئے ہوتے ہیں اور نقصان وغیرہ کے دوسروں کے لئے۔ مگر شکر ہے کہ دونوں قسموں میں سے آج تک پورا کوئی بھی نہیں ہوا۔ مرزا کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ میں ظلی طور پر مثل محمد مصطفیٰ ﷺ بھی ہوں۔ (ازالہ اوہام ص ٢٥٣، خزائن ج ٣ ص ٢٢٨) آپ ہی ہیں جنہوں نے آنحضرت ﷺ کے جسم کو کثیف لکھا ہے اور ان کی معراج سے انکار کیا ہے اور لکھتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ کو معراج نہیں ہوا تھا۔ بلکہ وہ کشف تھا اور ایسے کشفوں میں میں (یعنی مرزا) تجربہ کار ہوں۔“ (ازالہ اوہام ص ٤٨، خزائن ج ٣ ص ١٢٦) مرزا نے حضرت مسیح علیہ السلام کی نسبت (ازالہ اوہام ص ٣٠٣، خزائن ج ٣ ص ٢٥٤) پر لکھا ہے کہ: ”وہ یوسف نجار کا بیٹا تھا اور ایک شعبدہ باز آدمی تھا۔“ بلکہ مسیح کی نسبت (ضمیمہ انجام آتھم ص ٩ حاشیہ، خزائن ج ١١ ص ٢٨٩ تا ٢٩٣، ازالہ ص ٤٨، خزائن ج ٣ ص ١٢٦) پر لکھتا ہے، معاذ اللہ نقل کفر کفر نہ باشد، وہ چور تھا، پاگل تھا، کم عقل تھا، شیطان کا پیرو تھا بلکہ تین دفعہ شیطان کے پیچھے پیچھے چلا گیا۔ اس کی تین دادیاں اور نانیاں زنا کار اور کسبی عورتیں تھیں جن کے خون سے مسیح کا وجود ظہور پذیر ہوا تھا۔ اور وہ صلیب پر چڑھایا گیا تھا۔
ا۔ حضرت مسیح علیہ السلام کو اس قدر گالیاں نکال کر پھر بھی مرزا کا یہ دعویٰ ہے کہ میں گورنمنٹ انگلیشیہ کا (جو ایک عیسائی گورنمنٹ ہے اور مسیح علیہ السلام کی نسبت جو اس کا اعتقاد ہے سب کو معلوم ہے) خیر خواہ ہوں۔ کیا خیر خواہ اسی کو کہتے ہیں کہ تمام عیسائیوں اور اہل اسلام کو جو رعایائے سرکار انگلیشیہ ہیں، ان کے پیشوا اور ان کے رسول کو اس طرح گالیاں نکالے اور پھر کہے کہ میں خیر خواہ سرکار ہوں بلکہ بعض اشتہارات اور کتابوں جیسا کہ (ضمیمہ انجام آتھم ص ١، خزائن ج ١١ ص ٢٨٥) میں اس نے یہ بھی لکھا ہے کہ میں کسر صلیب کے لئے مبعوث ہوا ہوں۔ جس کے صاف معنی ہر ایک آدمی بخوبی سمجھ سکتا ہے۔ گو مرزا قادیانی کچھ ہی تاویل کیوں نہ کرے۔ یہ باعث ہے کہ گورنمنٹ انگلیشیہ اس کو ہرگز منہ نہیں لگاتی باوجود یکہ دو رسالے ایک تحفہ قیصریہ اور دوم ستارہ قیصرہ ملکہ معظمہ قیصرہ ہند کی طرف خوشامدانہ مدح سرائی میں لکھ کر بھیجے اور اس دوسرے رسالہ میں لکھا ہے کہ میں نے پہلا رسالہ جو خدمت اقدس میں روانہ کیا تھا۔ مجھ کو بڑی امید تھی کہ مجھ کو کسی شاہانہ کلمہ سے یاد فرمایا جائے گا۔ چونکہ نہیں فرمایا اس لئے (بقیہ حاشیہ اگلے صفحہ پر ملاحظہ فرمائیں)
٥
غرضیکہ کوئی کلمہ کفر کا باقی نہیں رہا جو مرزا کی زبان اور قلم سے ایسے ایسے اولوالعزم رسولوں کی نسبت نہ نکلا ہو۔
- ٤...... مرزا قادیانی کی علمیت ملا محمد بخش صاحب منیجر اخبار جعفر زٹلی نے رسالہ صداقت محمدیہ
میں اچھی طرح ظاہر کی ہے۔ ملا صاحب موصوف نے مرزا کی عربی، فارسی بلکہ اردو زبان دانی میں
(بقیہ صفحہ گذشتہ صفحہ) دوسرا رسالہ مجھے لکھنا پڑا۔ باوجودیکہ اس میں خوشامدانہ طور بہت ملحوظ رکھا گیا ہے۔ مگر اس طرف سے اب تک صدائے برخواست کیا ہو سکتا ہے کہ ایسے شخص دریدہ دہن کو جس نے خلاف دین آئین حضرت مسیح کو سینکڑوں گالیاں نکالیں جیسا کہ اوپر مذکور ہوا ہے کہ اس کی دادیاں اور نانیاں زنا کار اور کسبی عورتیں تھیں۔ جن کے خون سے مسیح کا وجود ظہور پذیر ہوا تھا وغیرہ وغیرہ۔ پناہ بخدا کسی نوازش آمیز کلمہ کا مستحق ہو سکتا ہے؟ ہرگز نہیں۔
کیا ایسا شخص جو خاص عیسائی گورنمنٹ کی ایسے ایسے توہین آمیز کلمات سے دل شکنی کرنے کے علاوہ اس کی پیاری رعایا مسلمانوں اور عیسائیوں کو اپنی ایسی لچر بیہودہ اور سخت ترین تحریر سے جان بوجھ کر صدمہ پہنچائے اور پھر خیر خواہ گورنمنٹ ہونے کا دعویٰ کر کے اس کے شاہانہ کلمات کا انتظار کرے تو کیا گورنمنٹ اس کو منہ بھی لگائے گی؟ ہرگز نہیں۔ کیا گورنمنٹ کی طرف سے اس کے دو رسالوں کے جانے پر بھی ایک ذرہ بھر بھی توجہ کی گئی۔ بالکل نہیں! وہ رسالے تو کہیں ردی میں ڈال دیئے گئے۔ ایسے شخص کے رسالوں کی کیا وقعت اور وہاں پوچھتا ہی کون ہے کہ مرزا قادیانی کون ہے۔ حالانکہ مرزا نے ان رسالوں کے بھیجنے کے بعد پیش بندی کر کے ایک اشتہار خطاب، خطاب کی سرخی سے یہ سمجھ کر دے دیا تھا کہ بس رسالے کے پہنچنے کی دیر ہے کہ گورنمنٹ کی طرف سے کوئی خطاب آیا۔ مگر افسوس وہاں کچھ قدر بھی نہ ہوئی۔ بلکہ مرزا سے تو مولوی محمد حسین صاحب ہی جو اس کے مخالف ہیں، اچھے رہے کہ سرکار نے ان کو مربع زمین اپنی شاہانہ مہربانی سے عطا کر دی اور مرزا کو باوجود خوشامدانہ رسائل لکھنے پر بھی کسی نے پوچھا ہی نہیں۔ سچ ہے عیسائی گورنمنٹ اچھی طرح سے جانتی اور سمجھتی ہے کہ مرزا کس طبیعت کا آدمی ہے اور اس کے ہاتھوں سے اس کی پیاری رعایا عیسائی اور اہل اسلام نے الہام کی آڑ میں کس قدر تکالیف اٹھائی ہیں۔ باوجودیکہ گورنمنٹ نے اس کو ١٨٩٩ء ماہ فروری میں منع بھی کیا تھا اور حکم دیا تھا کہ تو اور تیرے مرید مباہلہ اور مباحثہ کے لئے کسی کو نہ بلانا اور نہ تو اپنا کسی قسم کا الہام جتا کر کسی ہندو، مسلمان، عیسائی وغیرہ کو تنگ کرنا مگر ان دنوں مرزا نے گورنمنٹ کے حکم کو بالائے طاق رکھتے ہوئے اپنے مریدوں سے مباہلہ کی درخواست کرائی ہے۔ افسوس کہ گورنمنٹ کے حکم کو دیدہ دانستہ نظر انداز کر کے پھر بھی زبانی خیر خواہ گورنمنٹ بنتا ہے۔
٦
مرزا کی ہی تحریر سے ایسی ایسی غلطیاں نکالی ہیں کہ میں مستجاب الدعوات اور ملہم ہوں۔ مگر آپ سے پیشین گوئی کی وہ جھوٹ نکلی۔ چنانچہ ١٨٩٣ء میں آپ وہاں کم بضاعتی کے باعث ہار گئے تھے
”میں اس وقت اقرار کرتا ہوں کے نزدیک جھوٹ پر ہے، ١٥ماہ کے عرصہ تو میں ہر ایک سزا اٹھانے کے لئے تیار ہوں جائے۔ مجھ کو پھانسی دیا جائے۔ ہر ایک سزا ہوں کہ ضرور وہ ایسا ہی کرے گا۔ ضرور کر پر اس کی باتیں نہ کھلیں گی...... آخر میں جھوٹا ہو کاروں اور لعنتیوں سے زیادہ مجھے قرار دے“
مگر اس قادر کریم نے جس کے عبداللہ آتھم کا ایک بال بیکا نہ کیا اور مرزا کی کے مطابق آپ ہی لعنتی، بدکاروں کا بدکار، معیار مقرر کردہ مرزا۔ امرتسر میں عبداللہ آتھ کے اوپر ایک کپڑا لگایا جس پر موٹے موٹے کون ایسا مسلمان تھا جس کو یہ غ سخت صدمہ نہ پہنچا ہو گا اور اسی پر عیسائیوں، اور ہزاروں گالیاں اسلام اور بانی اسلام کو دے
بلکہ مرزا کے رشتہ داروں میں قبول کر لیا اور اس نے ایک اشتہار میں عیس اسلام اور بانی اسلام کو وہ سخت اور سست لکھا
اے مرزا تو کر صلیب سے پیو مگر اب تک ہزاروں عیسائیوں کا مرزا کے ایمان نہیں لائے۔ بلکہ مرزا کے قریبی رشتہ
مرزا کی تاویل بہت عمدہ ہے۔
مرزا کی ہی تحریر سے ایسی ایسی غلطیاں نکالی ہیں کہ جن پر ایک طفل مکتب بھی ہنستا ہے۔ مرزا کا یہ دعویٰ کہ میں مستجاب الدعوات اور ملہم ہوں۔ مگر آپ نے جو دعا کی قبول نہ ہوئی اور جو الہام کیا وہ غلط نکلا اور جو پیشین گوئی کی وہ جھوٹ نکلی۔ چنانچہ ١٨٩٣ء میں مرزا کا ڈپٹی عبداللہ آتھم کے ساتھ مباحثہ ہوا اور جب آپ وہاں کم بضاعتی کے باعث ہار گئے تو ڈپٹی صاحب موصوف کی نسبت مفصلہ ذیل پیش گوئی کی۔
”میں اس وقت اقرار کرتا ہوں کہ اگر یہ پیش گوئی جھوٹی نکلے، یعنی وہ فریق جو خدا تعالیٰ کے نزدیک جھوٹ پر ہے، ١٥ ماہ کے عرصہ میں آج کی تاریخ سے بسزائے موت ہاویہ میں نہ پڑے تو میں ہر ایک سزا اٹھانے کے لئے تیار ہوں۔ مجھ کو ذلیل کیا جائے۔ میرے گلے میں رسہ ڈال دیا جائے۔ مجھ کو پھانسی دیا جائے۔ ہر ایک بات کے لئے تیار ہوں۔ میں اللہ جل شانہ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ ضرور وہ ایسا ہی کرے گا۔ ضرور کرے گا ضرور کرے گا۔ زمین و آسمان ٹل جاویں گے پر اس کی باتیں نہ ٹلیں گی..... اگر میں جھوٹا ہوں تو میرے لئے سولی تیار رکھو اور تمام شیطانوں اور بد کاروں اور لعنتیوں سے زیادہ مجھے قرار دو۔“
(مجموعہ اشتہارات ج١ ص ٣٤٥)
مگر اس قادر کریم نے جس کے دست قدرت میں ہر ایک کی موت اور زندگی ہے۔ عبداللہ آتھم کا ایک بال بیکا نہ کیا اور مرزا کی یہ پیش گوئی حرف غلط کی طرح اڑ گئی اور مرزا اپنے کہنے کے مطابق آپ ہی لعنتی، بدکاروں کا بدکار اور شیطانوں کا شیطان بنا اور عیسائیوں نے بعد گزرنے میعاد مقرر کردہ مرزا۔ امرتسر میں عبداللہ آتھم کو شہر میں ایک گاڑی پر سوار کر کے پھرایا اور اس گاڑی کے اوپر ایک کپڑا لگایا جس پر موٹے موٹے حروف میں لکھا کہ ”اسلام جھوٹا ہے۔“
کون ایسا مسلمان تھا جس کو یہ دیکھ کر اور سن کر مرزا قادیانی کی جھوٹی پیش گوئی کی بدولت سخت صدمہ نہ پہنچا ہوگا اور اسی پر عیسائیوں نے بس نہیں کی بلکہ اشتہارات چھاپ چھاپ کر تقسیم کئے اور ہزاروں گالیاں اسلام اور بانی اسلام کو اسی مرزا کی پیش گوئی کی بناء پر مسلمانوں کو سننی پڑیں۔
بلکہ مرزا کے رشتہ داروں میں سے آپ کے خالہ زاد بھائی محمد سعید نے دین عیسوی قبول کر لیا اور اس نے ایک اشتہار میں عیسائیوں کی طرف سے عبداللہ آتھم کی پیش گوئی کے متعلق اسلام اور بانی اسلام کو وہ سخت اور سست لکھا کہ الامان ۔
١؎ مرزا تو کسر صلیب سے ہمیشہ یہی مراد لیتا ہے کہ عیسائی مسیح موعود پر ایمان لائیں گے مگر اب تک ہزاروں عیسائیوں کا مرزا کے ہاتھ پر ایمان لانا تو درکنار دس پانچ عیسائی بھی آپ پر ایمان نہیں لائے۔ بلکہ مرزا کے قریبی رشتہ دار ہی عیسائی ہو گئے۔ اگر اسی کا نام کسر صلیب ہے تو مرزا کی تاویل بہت عمدہ ہے۔
مگر یہ سب کچھ اہل اسلام کو مرزا کی خاطر اور اس کی پیشین گوئی کی بدولت دیکھنا نصیب ہوا۔ مرزا نے اس پیشین گوئی کی تاویل ایک عجیب طرح پر کر دی کہ عبداللہ آتھم اس لئے نہیں مرا کہ وہ دل میں اسلام کی طرف رجوع کر گیا ہے۔ جس پر ملا محمد بخش صاحب منیجر اخبار جعفر ز ٹلی لاہور نے عبداللہ آتھم کو خط لکھا اور پوچھا کہ کیا یہ بات سچ ہے کہ آپ دل میں ڈر گئے اور عظمت اسلام کے قائل ہو گئے؟ مگر عبداللہ آتھم نے تحریری خط اپنے ہاتھ سے لکھ بھیجا کہ میں ہرگز عظمت اسلام کا قائل نہیں ہوا۔ جیسا کہ میں پہلے عیسائی تھا، ویسا ہی اب تک ہوں۔ جس خط کو ملا صاحب موصوف نے چھپا کر مفت تقسیم کیا جو ذیل میں درج کیا جاتا ہے۔
ڈپٹی عبداللہ صاحب کا خط
آمدہ مورخہ ٢٧؍ستمبر ١٨٩٤ء
جناب محسن بندہ جناب ملا محمد بخش صاحب، مالک اخبار جعفر زٹلی لاہور! تسلیم! آپ کے خط کے جواب میں گزارش ہے کہ میں اپنے ایمان مسیحی کی بابت مفصل اخبار نور افشاں وغیرہ میں اشتہار دے چکا ہوں کہ میں سچے دل سے عیسائی جس طرح تھا، ویسا ہی اب تک اپنے ایمان پر قائم ہوں اور ہرگز اسلام کی طرف ذرا بھی مائل نہیں ہوا۔ نہ ظاہراً نہ باطن میں۔ تو اب فرمائیے کہ اس سے زیادہ اور کیا کر سکتا ہوں۔ جو آدمی کچھ بھی عقل رکھتا ہے۔ اس سے صاف جان سکتا ہے۔ باقی رہا مرزا قادیانی کا شرط لگانا کہ آتھم قسم کھا کر یہ بات کہہ دے۔ سو صاحب من! میرے مذہب میں تو قسم کھانا منع ہے۔ متی کی انجیل میں صاف لکھا ہے کہ ”تم ہرگز قسم مت کھاؤ۔“ ہاں کی ہاں اور نہ کی ناں ہونی چاہئے اور ہزار دو ہزار روپیہ کی شرط لگانا تو ایک طرح کی جوا بازی ہے۔
میرے خیال اور میرے مذہب میں اس طرح کا لالچ بھی منع ہے۔ مرزا قادیانی کی مرضی جو چاہیں سو کہتے جائیں۔ میں تو پہلے بھی یہ دعا مانگتا تھا اور اب بھی یہی دعا مانگتا ہوں کہ ”یا خدا تعالیٰ! تو مرزا قادیانی پر رحم کر اور اس کو ہدایت کر کہ راہ راست پر آوے اور اس کو صحت اور تندرستی جسمی اور دماغی بخش، آمین۔“ اس سے زیادہ سب کچھ فضول ہے اور میں ایک ضعیف العمر آدمی، قریب ٧٠ سال کی عمر کا ہوں۔ آخر کہاں تک جیوں گا۔ کون جانتا ہے کہ کب خدا تعالیٰ بلا لے۔ زیادہ نیاز۔ از مقام فیروز پور۔ آپ کا مشکور بندہ عبداللہ آتھم پنشنر اکسترا اسسٹنٹ کمشنر ٨
اس کے شائع ہونے سے مرزا کی نہ رہا اور مرزا کے جھوٹ بولنے اور لکھنے کا لئے مرزا نے بہت ہاتھ پاؤں مارے اور آتھم مر جاویں اور معہ مریدان خاص و عام ایک نہ سنی اور عبداللہ آتھم میعاد مقررہ افسوس ایسے ملہم پر۔
- ٥...... اسی طرح مرزا نے اپ
ایک وجیہ اور پاک لڑکا تجھے دیا جائے گا پر ہوگا۔ وہ جلد بڑھے گا اور اسیروں کی رست پائے گا اور قومیں اس سے برکت پائیں گی۔ پھر اس لڑکے کی نسبت (اشتہار طرح لکھتے ہیں کہ: ”مدت حمل سے تجاوز نہیں کوئی بھی مثل سابقہ الہامات اور پیشین گوئیوں ہوئی۔ پھر جب دوسرے حمل سے لڑکا پیدا ہوا نے ٨؍اپریل ١٨٨٦ء کو پیشین گوئی کی تھی، بعد ڈیڑھ بجے کے قریب پیدا ہوا۔ (مجموعہ اش ملک عدم ہو گیا اور مرزا کی پیشین گوئی اس مول کی پیشین گوئی پوری ہوئی اور کیسا ہی وہ لڑکا اس سے برکت حاصل کی۔ کیوں نہ ہو مرزا جیسے گوئیاں پوری ہو جاویں۔ توبہ توبہ۔ نعوذ باللہ
- ٦...... اس میں کچھ شک نہیں کہ جس جس
ایسے ایسے لایعنی اوہام سے باز آؤ اور توبہ کر ذلت وغیرہ کا جھوٹا الہام نمودار ہوا۔ لیکن صد محمد بخش صاحب اور مولوی محمد حسین صاحب کی
اس کے شائع ہونے سے مرزا کی پیشین گوئی کے جھوٹ ہونے میں کسی کو کچھ شک باقی نہ رہا اور مرزا کے جھوٹ بولنے اور لکھنے کا علانیہ ثبوت مل گیا۔ گو اس پیشین گوئی کو پورا کرنے کے لئے مرزا نے بہت ہاتھ پاؤں مارے اور عبداللہ آتھم کے مکان پر سانپ چھوڑے گئے کہ عبداللہ آتھم مر جاویں اور معہ مریدان خاص دھاڑیں مار مار کر روتے چلاتے رہے لیکن خداوند کریم نے ایک نہ سنی اور عبداللہ آتھم میعاد مقررہ کے اندر ہرگز نہ مرا اور مرزا کی پیش گوئی خاک میں مل گئی افسوس ایسے ملہم پر۔
٥....... اسی طرح مرزا نے اپنے لئے ایک پیشین گوئی کی اور وہ یہ ہے: ”سو تجھے بشارت ہو کہ ایک وجیہ اور پاک لڑکا تجھے دیا جائے گا اور ایک زکی غلام تجھے ملے گا ..... اور خدا کا سایہ اس کے سر پر ہوگا۔ وہ جلد بڑھے گا اور اسیروں کی رست گاری کا موجب ہوگا اور زمین کے کناروں تک شہرت پائے گا اور قومیں اس سے برکت پائیں گی ۔“
(مجموعہ اشتہارات ج ١ ص ١٠١)
پھر اس لڑکے کی نسبت (اشتہار ٨؍اپریل ١٨٨٦ء، مجموعہ اشتہارات ج ١ ص ١١٧) میں اس طرح لکھتے ہیں کہ: ”مدت حمل سے تجاوز نہیں کر سکتا۔“ مگر افسوس بلکہ ہزار افسوس مرزا کی یہ پیشین گوئی بھی مثل سابقہ الہامات اور پیشین گوئیوں کے خاک میں مل گئی۔ کیونکہ اس حمل سے لڑکی پیدا ہوئی۔ پھر جب دوسرے حمل سے لڑکا پیدا ہوا تو آپ نے یہ دعویٰ کیا کہ وہ لڑکا جس کی نسبت میں نے ٨؍اپریل ١٨٨٦ء کو پیشین گوئی کی تھی، وہ یہی لڑکا ہے جو یکم اگست ١٨٨٧ء ١٢؍بجے رات کے بعد ڈیڑھ بجے کے قریب پیدا ہوا۔ (مجموعہ اشتہارات ج ١ ص ١٤١) مگر وہ لڑکا بھی خوردسالی میں راہی ملک عدم ہو گیا اور مرزا کی پیشین گوئی اس مولود کی طرح خاک میں مل گئی۔ کیا ہی عمدہ طور سے آپ کی پیشین گوئی پوری ہوئی اور کیسا ہی وہ لڑکا اسیروں کا رستگار ہوا اور کیا ہی دوسری قوموں نے اس سے برکت حاصل کی۔ کیوں نہ ہو مرزا جیسے نبی اور رسول ہوں اور پھر ماشاء اللہ ایسی ایسی پیشین گوئیاں پوری ہو جاویں۔ توبہ توبہ۔ نعوذ باللہ۔
٦....... اس میں کچھ شک نہیں کہ جس جس نے مرزا کو اس مذموم طریقہ سے منع کیا اور کہا کہ ایسے ایسے لایعنی اوہام سے باز آؤ اور توبہ کرو تا کہ تم نجات پاؤ۔ بس انہی کی نسبت موت، فوت، ذلت وغیرہ کا جھٹ الہام نمودار ہوا۔ لیکن صدہا شکر کہ پورا کوئی نہ ہوا۔ ایک دفعہ نہیں بلکہ کئی دفعہ ملا محمد بخش صاحب اور مولوی محمد حسین صاحب کی نسبت الہام ہوئے۔ مگر خدا کے فضل و کرم سے ان کا
٩
ایک بال بھی بیکا نہیں ہوا اور مرزا ہمیشہ نادم ہوا۔ ابھی ١٨٩٨ء میں مرزا نے ایک الہام ملا محمد بخش صاحب، مولوی محمد حسین صاحب اور مولوی ابوالحسن تبتی کی نسبت بدیں مضمون شائع کیا کہ یہ تینوں صاحبان ١٣ ماہ کے اندر یعنی ١٥؍دسمبر ١٨٩٨ء سے لے کر ١٥؍جنوری ١٩٠٠ء تک خوار اور ذلیل ہوں گے اور یہ الہام مرزا نے اس شدومد سے کیا کہ الامان۔ چونکہ مرزا ماشاء اللہ ملہم صادق تو تھا ہی آپ ہی اس الہام کی لپیٹ میں آگئے اور یہ الہام الٹا ہو کر مرزا کو ایسا چمٹا کہ آپ کی پیشین گوئی کے مطابق ذلیل تو فریق مخالف نے ہونا تھا۔ مگر مرزا آپ ہی ملزم بن کر اسی تاریخ ١٥؍دسمبر ١٨٩٨ء کو ڈپٹی کمشنر ضلع گورداسپور مسٹر جے ایم ڈوئی صاحب بہادر کے اجلاس میں پیش ہوا۔
حالانکہ اسی تاریخ سے فریق مخالف کی ذلت شروع ہونی تھی۔ لیکن مرزا آپ ہی ذلت میں مبتلا ہوا اور یہ الہام بھی آپ کا ایسا پورا ہوا کہ آپ کو وہاں عدالت میں آئندہ الہامات اور پیشین گوئیاں کرنے سے توبہ نامہ لکھ کر دینا پڑا کہ میں آئندہ کبھی بھی کسی کی نسبت خواہ مسلمان ہو، ہندو ہو یا عیسائی وغیرہ الہام یا پیشین گوئی نہ کروں گا۔ (مجموعہ اشتہارات ج٣ ص١٤٦)
اور اس پیشین گوئی میں جس فریق کے لئے یہ الہام تھا کہ وہ ذلیل و خوار ہوگا۔ وہی غالب رہا اور مقدمہ اس کے حق میں طے پایا۔ جس کو شک ہو وہ دیکھے
(رسالہ صداقت نامہ مصنفہ ملا محمد بخش صاحب منیجر اخبار جعفر زٹلی لاہور، مورخہ ٢٠؍فروری ١٨٩٩ء)
- ٧...... غرضیکہ مرزا کے عجیب و غریب اور نادر الہام اور پیشین گوئیاں ہیں جو ایک دانا اور سمجھ
دار کے لئے تو مضحکہ آمیز باتیں ہیں۔ مگر مرزا کے لئے باعث فخر اور آپ کے بعض الہام ایسے بھی ہیں جو خدا نے آپ کو الہام تو کئے مگر ذہانت طبع کے باعث آپ کی سمجھ میں نہیں آئے۔ جیسا کہ ’’ایک خوبصورت پاک لڑکا تمہارا مہمان آتا ہے اس کا نام محمود، ائیل اور بشیر بھی ہے۔ اس کو مقدس روح دی گئی ہے اور وہ رجس سے پاک ہے وہ نور اللہ ہے۔..... وہ ذکی و فہیم ہوگا اور دل کا حلیم و علوم ظاہری و باطنی سے پر کیا جاوے گا اور وہ تین کو چار کرنے والا ہوگا (اس کے معنی سمجھ میں نہیں آئے) دوشنبہ ہے مبارک دوشنبہ۔‘‘
(ضمیمہ اخبار ریاض ہند امرتسر مطبوعہ یکم مارچ ١٨٨٦ء، مجموعہ اشتہارات ج١ ص١٠١)
اب جائے تعجب ہے کہ مرزا کو الہام تو ہو گیا۔ مگر اس میں یہ جو لکھا ہے کہ وہ تین کو چار ١٠
کرنے والا ہوگا۔ مرزا کی سمجھ میں نہیں آیا۔ جس
خدا عجب خدا ہے کہ جس نے اس زمانہ میں ایک آئیں۔ تو وہ تبلیغ احکام ربانی کیونکر کر سکے گا اور میں یہ سمجھا ہو کہ وہ سمجھ گیا ہے نہ سمجھا ہو اور غلط سمجھ
آپ کے مریدوں میں بعض ایسی سے الہام ہوئے۔ مگر خود ملہمہ کی سمجھ میں نہ آ ہوئے ہیں۔ لیکن اس میں اتنی طاقت نہیں کہ جس میں اس کو الہام ہوتے نا آشنا ہے ہوئے ہیں اور لطف یہ کہ الہام عربی زبان میں ہے۔ کیوں نہ ہو مرزا کا خدا اپنے ملہم کو ایسے ہی ہوں، ملہموں کی سمجھ میں نہ آسکیں۔ چنانچہ ملا کوئی میری گواہی مانے یا نہ مانے لیکن میرے ہوگی کہ جس زبان میں مجھے الہام ہوتا ہے یعنی عر
(حاشیہ ملا
بہر دانا اشارے کافی است۔ اس نمونے ہم نے پبلک کے سامنے پیش کر دیئے ہیں
- ٨...... مرزا نے یوں تو جو پیشین گوئیاں یا
ہے جس طرح ہو سکا، خفیہ یا ظاہراً بندوبست کی درج کرتے ہیں۔ ایک عجیب اور نرالی ہے۔ آپ گاماں بیگ تھا۔ اس کی ہمشیرہ نے اپنی ملکیت جو کردی۔ جب یہ ہبہ نامہ مرتب ہوا تو چونکہ آر ضروری ہوا کہ مرزا کے بھی دستخط اس ہبہ نامہ پر سامنے لایا گیا۔ تو یہ عذر کیا کہ میں استخارہ کر کے آخر الامر آپ نے مرزا احمد بیگ کو
کرنے والا ہوگا۔ مرزا کی سمجھ میں نہیں آیا۔ جس الہام سے مرزا کے خدا پر بھی حرف آتا ہے کہ وہ خدا عجب خدا ہے کہ جس نے اس زمانہ میں ایک ایسا ملہم چنا ہے جس کو اس کی باتیں ہی سمجھ میں نہیں آتیں۔ تو وہ تبلیغ احکام ربانی کیونکر کر سکے گا اور ہو سکتا ہے اور ممکن ہے کہ وہ الہام جن کو وہ اپنے زعم میں یہ سمجھا ہو کہ وہ سمجھ گیا ہے نہ سمجھا ہو اور غلط سمجھا ہو۔
آپ کے مریدوں میں بعض ایسی عورتیں بھی ہیں جن کو مرزا کی تائید میں خدا کی طرف سے الہام ہوئے۔ مگر خود ملہمہ کی سمجھ میں نہ آئے۔ چنانچہ بمقام لیہ ایک عورت غلام فاطمہ کو الہام ہوئے ہیں۔ لیکن اس میں اتنی طاقت نہیں کہ وہ سمجھ سکے باوجود یکہ وہ عورت محض عربی کے علم سے جس میں اس کو الہام ہوئے نا آشنا ہے۔ لیکن پھر بھی مرزا کی تائید میں اس کو طرح طرح کے الہام ہوتے ہیں اور لطف یہ کہ الہام عربی زبان میں ہیں اور وہ عورت ان کے معانی سمجھنے سے قاصر ہے۔ کیوں نہ ہو مرزا کا خدا اپنے ملہم ایسے ہی بھیجا کرتا ہے جن کو وہ الہامات جو اس کی طرف سے ہوں، ملہموں کی سمجھ میں نہ آسکیں۔ چنانچہ غلام فاطمہ اپنی صداقت کی دلیل یہ لکھتی ہے ”اب اگر کوئی میری گواہی مانے یا نہ مانے لیکن میرے الہام کی سچائی کے لئے اس سے بڑھ کر اور کیا دلیل ہوگی کہ جس زبان میں مجھے الہام ہوتا ہے یعنی عربی میں اس سے میں بے خبر ہوں۔
(عاجزہ غلام فاطمہ ساکنہ شہر لیہ ضلع ڈیرہ اسماعیل خان ١٣؍ مئی ١٨٩٧ء)
بہر حال اسقدر تے کافی است۔ اس زمانے کے ملہم اور ملہمہ دونوں کے الہاموں کے نمونے ہم نے پبلک کے سامنے پیش کر دیئے ہیں۔ اب وہ خود موازنہ کر لیں۔
- ٨...... مرزا نے یوں تو جو پیشین گوئیاں یا الہام کئے۔ ان کو پورا کرنے کے لئے اپنی طرف
سے جس طرح ہو سکا، خفیہ یا ظاہرا بندوبست کئے۔ مگر مرزا کی یہ پیشین گوئی جو اب ہم آخیر میں درج کرتے ہیں۔ ایک عجیب اور نرالی ہے۔ آپ کے رشتہ داروں میں ایک شخص مرزا احمد بیگ ولد گاماں بیگ تھا۔ اس کی ہمشیرہ نے اپنی ملکیت میں سے کچھ زمین مرزا احمد بیگ کی لڑکی کے نام ہبہ کردی۔ جب یہ ہبہ نامہ مرتب ہوا تو چونکہ آپ اس کے رشتہ داروں میں سے تھے۔ اس لئے ضروری ہوا کہ مرزا کے بھی دستخط اس ہبہ نامہ پر کرائے جاویں۔ پس مرزا نے جبکہ وہ کاغذ آپ کے سامنے لایا گیا۔ تو یہ عذر کیا کہ میں استخارہ کر کے دستخط کروں گا۔
آخر الامر آپ نے مرزا احمد بیگ کو کہا کہ استخارہ سے معلوم ہوا کہ تمہاری لڑکی کی شادی
میرے مقدر میں لکھی ہے۔ آپ اس کا عقد میرے ساتھ کر دیں تو میں اس ہبہ نامہ پر دستخط کروں گا۔ مگر مرزا احمد بیگ نے منظور نہ کیا تو آپ نے علانیہ دھمکی کے طور پر ایک الہام کر دیا کہ مرزا احمد بیگ ولد مرزا گاماں بیگ کی دختر کلاں میرے نکاح میں آئے گی۔ (ازالہ اوہام ص ٣٩٦، خزائن ج ٣ ص ٣٠٥) اور پھر آپ نے یہ الہام بھی کیا کہ اگر اس کے والدین کسی اور جگہ سوا میرے اس کا نکاح کریں گے تو اس کا خاوند مر جائے گا اور پھر بیوہ ہو کر میرے نکاح میں آئے گی۔ بلکہ (آسمانی فیصلہ کے آخری ص ٤٠، خزائن ج ٤ ص ٣٥٠) پر یہ بھی لکھ دیا کہ خدا نے کہا ہے کہ تیرا عقد نکاح ہم نے اس سے باندھ دیا ہے۔ قصہ مختصر آپ نے اپنی منکوحہ عورت اور اپنے بڑے بیٹے مرزا سلطان احمد کو مجبور کیا کہ وہ کوشش کریں اور لڑکی کے والدین کو راضی کر کے میری طرف مائل کریں۔ کیونکہ وہ سلطان احمد کی والدہ کے رشتہ دار تھے۔ مگر نہ سلطان احمد اور نہ اس کی والدہ سے یہ کام ہو سکا۔ اس لئے مرزا نے سلطان احمد اپنے بڑے لڑکے کو اپنی جائیداد سے محروم کر دیا اور اس کی والدہ کو طلاق دے دی۔
اس کے بعد آپ نے اپنے دوسرے لڑکے فضل احمد کو بھی یہی لکھا کہ تم اپنی زوجہ کے ذریعہ اس کام کو انجام دو۔ اگر تمہاری عورت یہ کام نہ کرے تو تم اس کو طلاق دے دو۔ کیونکہ اس لڑکی کے والدین مرزا کی بہو کے رشتہ دار تھے اور ساتھ ہی اپنے لڑکے کو یہ بھی لکھا کہ اگر تم ایسا نہ کرو گے تو تم کو میری جائیداد سے ایک روپیہ بھی وصول نہ ہو گا۔ بلکہ ایک شرطیہ طلاق نامہ اپنی بہو کے لئے لڑکے کو لکھ بھیجا کہ تم اپنی زوجہ کو بھیج دو۔ مگر اس نے ایک نہ سنی اور جب اس لڑکی کا نکاح دوسری جگہ ہونے لگا اور مرزا کو خبر پہنچی تو آپ نے لڑکی کے والدین کے رشتہ داروں کو اس طرح خط لکھا کہ مجھے بڑی امید تھی کہ اس کا نکاح میرے ساتھ ہوگا اور اس نکاح کے لئے لاہور اور امرتسر وغیرہ شہروں کی مسجدوں میں میرے لئے دعائیں مانگی جاتی ہیں۔
اب یہ بات آپ لوگوں کے ہاتھ میں ہے۔ جس طرح ہو سکے اس لڑکی کے والدین کو دوسری جگہ شادی کرنے سے روکو اور میری طرف مائل کرو اور یہ بھی دم دیا کہ اگر میرا نکاح اس کے ساتھ ہو گیا تو خدا کی برکتیں نازل ہوں گی اور جو کچھ میرے پاس ہے۔ اس میں سے جو اولاد ہوگی وہ مالک ہوگی۔ (کلمہ فضل رحمانی ص ١٢٤، ١٢٥، مؤلفہ جناب قاضی فضل احمد کورٹ انسپکٹر لدھیانہ) غرضیکہ لطائف الحیل سے جس قدر ہو سکا ان کو فریب دینا چاہا۔ مگر لڑکی کے والدین نے صاف انکار کر کے اس لڑکی کا نکاح دوسری جگہ پڑھا کر آپ کی ملہمی کو خاک میں ملا دیا اور آپ کا یہ بھی الہام تھا کہ
١٢
اس کا خاوند ٢١؍ نومبر ١٨٩٣ء تک مرجائے سے صحیح و سالم زندہ موجود ہے اور وہ عورت کے الہامات اور ان کے پورا کرنے کے د بہر دانا
سید پیر مہر علی شاہ گولڑویؒ کے حا
اب ہم دوسرے صاحب گولڑہ شریف کا کچھ مختصر سا حال معروف صوفیاء کرام کے پا بڑے علامہ دہر اور علمائے نامدار کو آپ کی غلطیوں کہ ناپید آپ ہی ہیں جنہوں نے حض وجود باجود کو جو کہ ایک چشمہ فیض ہے، دو آدمیوں کو مرزا کے دام تزویر سے بچانے ایک کتاب بنام ”شمس الہدایت“ لکھی۔ طور پر ایسی بحث کی کہ دوست تو دوست، اور پڑھ کر مرزا کے بہت سے مریدوں نے اخبار امرتسر مورخہ ١٨؍ جون ١٩٠٠ء) اور مرزا کی سید صاحب موصوف نے مر مرزا بذات خود دیکھ دیکھ کر اب بھی مارے شریف اور ایسی ایسی دینی کتابوں، تفاسیر ١ اخبار وکیل ١٨؍ جون ٠٠ نواب الدین صاحب ایک طویل تحریر ” ا جس کا لب لباب یہ ہے کہ بمقام گولڑہ ش ہزارہ کے تمام معتقدین مرزا قادیانی کے
اس کا خاوند ٢١ نومبر ١٨٩٤ء تک مر جاوے گا۔ مگر وہ آج تک نہ مرا اور خداوند تعالیٰ کے فضل وکرم سے صحیح و سالم زندہ موجود ہے اور وہ عورت اس کے گھر میں آباد اور صاحب اولاد ہے۔ یہ ہیں مرزا کے الہامات اور ان کے پورا کرنے کے وسائل۔
سید پیر مہر علی شاہ گولڑوی کے حالات
اب ہم دوسرے صاحب جناب فیض مآب معلے القاب حضرت پیر سید مہر علی شاہ ساکن گولڑہ شریف کا کچھ مختصر سا حال معرض تحریر میں لاتے ہیں۔ آپ ہندوستان میں ایک مشہور و معروف صوفیاء کرام کے باعث فخر ہونے کے علاوہ عالم باعمل و فاضل اجل بھی ہیں۔ بڑے بڑے علامہ دہر اور علمائے نامدار کو آپ کی شاگردی پر ناز ہے:
آپ ہی ہیں جنہوں نے محض بوجہ اللہ اور فقط دین کی محبت سے خداوند تعالیٰ آپ کے وجود باجود کو جو کہ ایک چشمہ فیض ہے دیر تک سلامت با کرامت رکھے۔ بے چارے سادہ لوح آدمیوں کو مرزا کے دام تزویر سے بچانے اور عوام الناس کو اس کے دھوکہ سے دور رہنے کے لئے ایک کتاب بنام ”شمس الہدایت“ لکھی ہے۔ جس میں مرزا کے بدعقائد کی نسبت محققانہ اور عالمانہ طور پر ایسی بحث کی کہ دوست تو دوست دشمن بھی رطب اللساں ہیں اور اس لاجواب کتاب کو دیکھ اور پڑھ کر مرزا کے بہت سے مریدوں نے مرزا سے قطع تعلق کر کے دلی نفرت کی ہے۔ دیکھو (وکیل اخبار امرتسر مورخہ ١٨؍جون ١٩٠٠ء) اور مرزا کو اتنی جرات نہیں کہ اس کتاب کا جواب بھی لکھتا۔
سید صاحب موصوف نے مرزا کے مبلغ علم کا فوٹو پبلک کے سامنے ایسا رکھ دیا ہے کہ مرزا بذات خود دیکھ دیکھ کر اب بھی مارے ندامت کے پانی پانی ہوا جاتا ہے۔ آپ نے قرآن شریف اور ایسی ایسی دینی کتابوں، تفاسیروں وغیرہ کے مطابق مرزا کے عقائد بد کی بیخ کنی کی ہے
١؎ اخبار وکیل ١٨؍جون ١٩٠٠ء ص ٧، مقام کوٹ نجیب اللہ خان ضلع ہزارہ سے منشی نواب الدین صاحب ایک طویل تحریر ”ایک معجزہ نمائے انقلاب مذہبی“ کے عنوان سے بھیجتے ہیں۔ جس کا لب لباب یہ ہے کہ بمقام گولڑہ کے پیر صاحب کی کتاب شمس الہدایت سے متاثر ہو کر ضلع ہزارہ کے تمام معتقدین مرزا قادیانی کے عقیدہ کے مخالف ہو گئے ہیں۔
١٣
کہ میاں نور الدین بھیروی کی بھی عقل چکر کھا گئی۔ (اخبار الحکم مورخہ ٢٤ اپریل ١٩٠٠ء) جو قادیان سے برائے نام ایک پرچہ نکلتا ہے۔ اس میں نور الدین پوچھتے ہیں کہ یہ کتابیں دیکھنے کے لئے کہاں سے مل سکتی ہیں۔ سبحان اللہ!
جو چیرا تو اک قطرہ خون نکلا
جہلاء کم فہم نادان نور الدین پر کس قدر علمیت کا ظن رکھتے تھے۔ مگر شمس الہدایت نے علاوہ ان اشخاص کے جو اس کتاب کو دیکھ کر ہدایت پا گئے ہیں۔ ہر کس و ناکس پر یہ معجزہ نمائی کا کام بھی کر دکھایا کہ نور الدین کی لیاقت کا اندازہ بھی اسی ضمن میں بخوبی معلوم ہو گیا:
ابھی تک کتابیں دیکھنا تو درکنار نور الدین کے کان بھی نا آشنا ہیں اور استفسار سے پایا گیا ہے کہ نور الدین برائے نام ہی مرزائی جماعت میں مولوی گنا جاتا ہے۔ ورنہ اصل میں کچھ علمی مذاق نہیں رکھتا۔ گو نور الدین نے اسی اخبار الحکم میں لکھا ہے کہ میں نے ٤٠ صفحات تک کتاب شمس الہدایت دیکھی ہے۔ مگر اس کا جواب اس سے بھی آج تک کچھ نہ بن سکا اور تار عنکبوت سے بھی بودے اور نامعقول چند اعتراضات سے جو اس کی بے علمی اور کم بضاعتی پر دلالت کرتے ہیں، ٹالنے کی کوشش کی۔
ملا مولوی غازی صاحب نے جن کو سید صاحب موصوف کے خدام میں منسلک ہونے کا ایک فخر حاصل ہے۔ ان اعتراضات کے وہ پرخچے اڑائے کہ میاں نور الدین کو بار دگر یہ حوصلہ نہ ہوا کہ سید موصوف صاحب کے بندگان درگاہ کے سامنے آنکھ اٹھا کر بھی دیکھ سکتا۔ مولوی غازی صاحب نے نور الدین کو بذریعہ مطبوعہ جواب یہ بھی لکھا کہ وہ کتابیں جن کے ناموں سے تمہارے کان ابھی تک آشنا نہیں ہوئے۔ بالمشافہ دکھانے پر بھی تیار ہیں۔ اس کتاب شمس الہدایت کو دیکھ کر جس میں نہایت متانت اور تہذیب سے مرزا کے بد عقائد کا رد کیا گیا ہے۔ مرزا سے اور تو کچھ نہ بن سکا کہ اس کا جواب ہی لکھتا اور ان قوی دلائل کو جو سید صاحب نے قرآن شریف اور احادیث صحیحہ سے پیش کئے ہیں، رد کرتا۔ لیکن کیا تو یہ کیا کہ عبد الکریم نامی اپنے ایک مرید سے جو عربی، فارسی علوم سے محض نابلد ہے، سید صاحب کی شان میں (الحکم ٢٤ اپریل ١٩٠٠ء) میں اپنی عادت قدیمانہ کے مطابق گالیاں نکلوا کر اپنے مشن کا عمدہ ثبوت دیا ہے۔
١٤
وہ لکھتا ہے: ”خدا تعالیٰ کا انتظام راس آیا کہ سنت کے خلاف کتب اللہ کی غنیمت تھا کہ فقیر صاحب طبل و علم چھوڑ پورے پرانے خریداروں کی جھولی میں ڈال سوجھی کہ لافِ مولوی ہے، اعتبار کی اور حق ادا کرتے اور حق تو یہ تھا کہ اپنے ہے فقیری کے سر پر تو خاک باطل ہی عالم ظاہری کی کوئی شان دکھائی ہوتی بالفرض دی، وغیرہ وغیرہ۔
اب وہ اشخاص جو سید صاحب موصوف کے نسب اور شرافت سے بخوبی آگاہ ہیں۔ ان کے علاوہ والا کے برخلاف لکھے گئے ہیں، دیکھ کر بطور منصفانہ پر سید صاحب کے حق میں بجائے اس کے کہ کتاب زیبا ہیں۔ پھر ایسے شریف النفس عالم باعمل جن کے عالم بلکہ فاضل اور اس پر سید اولاد حضرت علی ناظرین پر واضح ہو کہ اس عبد الکریم نے کے بارہ میں ایسے ایسے نازیبا اور دل شکن فقرے ہیں۔ جن میں سے ہم نے بعضے نمونہ از خروارے لکھے سے ہر کس و ناکس پر اس قدر لکھنے سے معلوم ہو گیا ہو علمی اور جہالت کے، کس قدر بدتہذیبی کا نمونہ بھی موجود
کار طفلاں تمام
اصل میں اس جماعت اور اس کے بانی جس نے حضرت مسیح علیہ السلام جیسے اولوالعزم نبی کو
١٥
وہ لکھتا ہے: ”خدا تعالیٰ کا ابتلاء اور امتحان جو قوم پر نازل ہوا۔ ان مدعیوں کو بہت راس آیا کہ سنت کے خلاف کتاب اللہ کی ضد میں جو کچھ انہوں نے کہا، لوگوں نے مان لیا۔ غنیمت تھا کہ فقیر صاحب طبل و زیر گلیم رہتے اور اپنی دکان پر بیٹھ کر عقل کے اندھے اور گانٹھ کے پورے پرانے خریداروں کی جھولی میں لاف کاف کلمات الم غلم ڈالتے رہتے۔ لیکن یہ کیا انہی سوجھی کہ اوّل مولویت اختیار کی اور بعد ازاں مرسل اللہ پر نکتہ چینی شروع کی۔ کاش وہ مولویت کا حق ادا کرتے اور حق تو یہ تھا کہ اپنے گریبان میں ایک جھات ڈالتے کہ مولویت سے بہرہ یہی ہے فقیری کے سر پر تو خاک ڈال ہی چکے تھے اور ننگے مننگے ہو کر دکھا چکے کہ پلے ایک کوڑی نہیں مگر عالم ظاہری کی کوئی شان دکھائی ہوتی۔ افسوس پیر جی نے پیری اور مولویت دونوں کی مٹی پلید کر دی، وغیرہ وغیرہ۔
اب وہ اشخاص جو سید صاحب موصوف کو اچھی طرح سے جانتے ہیں اور ان کی حسب و نسب اور شرافت سے بخوبی آگاہ ہیں۔ ان کے علاوہ دوسرے لوگ بھی آنجناب کو جو آپ کی شان والا کے برخلاف لکھے گئے ہیں، دیکھ کر بطور منصفانہ موازنہ کریں گے کہ کیا یہ کلمات جو نامہذبانہ طور پر سید صاحب کے حق میں بجائے اس کے کہ کتاب کا جواب مدلل اور متانت سے لکھتے، شایاں و زیبا ہیں۔ پھر ایسے شریف النفس عالم باعمل جن کے لاکھوں مرید ہیں اور ان میں سے سینکڑوں عالم بلکہ فاضل اور اس پر سید اولاد حضرت محمدﷺ اور ان کے حق میں...... افسوس۔
ناظرین پر واضح ہو کہ اس عبدالکریم نے جو مرزا کا ایک چہیتا مرید ہے، سید موصوف کے بارہ میں ایسے ایسے نامہذب اور دل شکن فقروں سے قریباً اخبار کے ١٦ کالم سیاہ کر ڈالے ہیں۔ جن میں سے ہم نے مشتے نمونہ از خروارے ابھی ایک کالم لکھا ہے۔ بلکہ اس سے بھی کم جس سے ہر کس و ناکس پر اس قدر لکھنے سے معلوم ہو گیا ہو گا کہ مرزا اور اس کے مریدوں میں علاوہ بے علمی اور جہالت کے، کس قدر بدتہذیبی کا نمونہ بھی موجود ہے:
کار طفلاں تمام خواہد شد
اصل میں اس جماعت اور اس کے بانی مرزا قادیانی پر کچھ جائے افسوس نہیں۔ بھلا جس نے حضرت مسیح علیہ السلام جیسے اولو العزم نبی کو جو عیسائی گورنمنٹ کا پیشوا ہے جس کے زیر ١٥
سایہ ہم لوگ آرام سے بسر کر رہے ہیں۔ چور، پاگل، کم عقل، شیطان کا پیرو لکھ کر یہ بھی لکھا کہ اس کی یعنی مسیح علیہ السلام کی تین دادیاں، نانیاں زنا کار اور کسبی عورتیں تھیں۔ جن کے خون سے اس کا وجود ظہور پذیر ہوا تھا تو علماء دین کی نسبت جو کچھ لکھا ہے، تھوڑا ہے۔
خلاصہ کلام سید صاحب کی یہ کتاب بیشک اسم بامسمیٰ ہے۔ آپ کی کتاب لاریب شمس الہدایت ہے جس جس نے یہ کتاب دیکھی ہے۔ آپ کے حق میں دعائے خیر کرتا ہے کہ سید صاحب نے محض پبلک پر بڑا احسان کیا ہے کہ ایسے پر آشوب زمانہ میں ایسے ایسے چالاک حریص اور طامع آدمی سے اس کے عقائد کو قرآن شریف اور احادیث نبویہ کے برخلاف ثابت کر کے خلق خدا کو بچایا اور سب سے زیادہ یہ خوشی کی بات ہے کہ آپ جیسے عالموں نے مرزا کی کتابوں میں سے پبلک پر یہ بھی ثابت کر دیا کہ یہ شخص گورنمنٹ انگلشیہ کا ہرگز خیر خواہ نہیں کیا عیسائی گورنمنٹ کا خیر خواہ ایسا ہی ہوا کرتا ہے جو علانیہ اپنی کتابوں میں لکھتا ہے کہ مسیح علیہ السلام معاذ اللہ ثم معاذ اللہ چور تھا، پاگل تھا، کم عقل تھا۔ اس کے دماغ میں خلل تھا۔ شیطان کا پیرو تھا۔ اس کی دادیاں اور نانیاں کسبی عورتیں تھیں۔ جن کے خون سے مسیح کا وجود ظہور پذیر ہوا تھا۔
(ضمیمہ انجام آتھم ص ٥ تا ٩ و خزائن ج ١١ ص ٢٨٩ تا ٢٩٣)
کیا عیسائی گورنمنٹ جو ہماری مہربان گورنمنٹ ہے۔ اس قسم کے کلمات اپنے پیشوا کے حق میں سن کر خوش ہوتی ہے؟ ہرگز نہیں۔ کیا عیسائی رعایا گورنمنٹ انگلشیہ اور اہل اسلام ہر دو فریق حضرت مسیح علیہ السلام کے حق میں ایسے شنیع اور توہین آمیز کلمات سن کر رنجیدہ خاطر نہیں ہوتے؟ کیا ان کا دل پاش پاش نہیں ہوتا؟ ضرور ہوتا ہے۔ پس گورنمنٹ انگلشیہ کی جان نثار رعایا اہل اسلام اور عیسائی اور نیز خود گورنمنٹ کا دل دکھانے والا آدمی کبھی خیر خواہ ہو سکتا ہے؟ ہرگز نہیں۔
شکر صد شکر کہ ایسے شخص کے حالات اور اس کے اس قسم کے بد عقائد سے اس کی کتابوں میں سے سید صاحب جیسے عالموں نے پبلک کو پورے طور پر اطلاع دی۔ اللہ تعالیٰ سید صاحب موصوف کو اس نیک کام کی جزا خیر دے۔ آمین ثم آمین!
ہم نے یہ فیصلہ حکم کے طور پر لکھا ہے اور ساتھ ہی مرزا کی کتابوں کا حوالہ دے دیا ہے۔ جس کو شک ہو وہ مرزا کی کتابیں سامنے رکھ کر اپنی تسلی کر سکتا ہے۔ والسلام المشتہر ...... محمد شفیق مولوی فاضل ساکن چکبڑی ضلع گجرات پنجاب
١٦
رفع بح متعلق بم نامعلو
ظاہر دیکھ کر یہ بھی لکھا کہ اس ہیں۔ جن کے خون سے اس کا
آپ کی کتاب لاریب شمس دعائے خیر کرتا ہے کہ سید ایسے ایسے چالاک حریص برخلاف ثابت کر کے خلق نے مرزا کی کتابوں میں سے کیا عیسائی گورنمنٹ کا خیر ام معاذ اللہ ثم معاذ اللہ چور اس کی وادیاں اور نالیاں
(خزائن ج ١١ ص ٢٨٩ تا ٢٩٣)
م کے کلمات اپنے پیشوا کے شیعہ اور اہل اسلام ہر دو فریق رنجیدہ خاطر نہیں ہوتے؟ کیا جان نثار رعایا اہل اسلام اور ؟ ہرگز نہیں۔ م کے بدعقائد سے اس کی اطلاع دی۔ اللہ تعالیٰ سید
تابوں کا حوالہ دے دیا ہے۔ م چھکڑی ضلع گجرات پنجاب
خاتم النبیین لا نبی بعدی
میں آخری نبی ہوں، میرے بعد کوئی نبی نہیں۔
رفع الالتباس،
بحث اوّل
متعلق بمسئلہ ملائکہ
نامعلوم مصنف
بسم الله الرحمن الرحيم "الحمد لله الذى انزل على عبده الكتاب ولم يجعل له عوجا، والصلوة والسلام على رسوله وعلى اله واصحابه وسلم تسليما كثيراً كثيرا" اما بعد واضح ہو کہ اس تحریر کا باعث کوئی نفسانی غرض نہیں ہے اور نہ کسی خاص شخص سے کسی قسم کا تعلق دنیاوی اشتراک املاک منقولہ و غیر منقولہ اور نہ کسی کے کسب و آمدنی جائز و ناجائز پر حسد۔ بلکہ جو مسلمان بھائی عقائد حقہ و باطلہ میں امتیاز کا ملکہ نہیں رکھتے ، ان کو عقائد حقہ و باطلہ کی طرف توجہ دلانے اور عقائد باطلہ کے ضرر سے بچانے کے واسطے بطور مشت نمونہ خروارے ایک عقیدہ حقہ اہل سنت والجماعت کا مدلل بدلائل اور دوسرا وہ عقیدہ جو اس کے برخلاف فی زماننا اشاعت کیا جاتا ہے، بمعہ اس کے اظہار تغلیظ کے سلک تحریر میں لا کر ہدیہ ناظرین کیا جاتا ہے۔
عقیدہ اہل سنت و جماعت
......١ سارے آسمانی دین ملائکہ کی وساطت سے انسانوں تک پہنچے ہیں: "الحمد لله فاطر السموت والارض جاعل الملئكة رسلا اولى اجنحة مثنى وثلث وربع الخ (فاطر:١)" جو آسمان و زمین بنانے والے اور دو دو اور تین تین اور چار چار پروں والے فرشتوں کو پیغام پہنچانے والے، بنانے والے اللہ کی سب تعریف ہے۔ پیغام پہنچانے والے یعنی اللہ تعالیٰ کا پیغام رسولوں تک پہنچانے والے۔ بمعہ تفسیر جامع البیان اور بیضاوی اور جلالین اور رحمانی : "إنا أوحينا الى ابراهيم واسمعيل واسحق ويعقوب و الاسباط وعيسى و أيوب و يونس و هارون و سليمان و اتينا داؤد زبورا (سورة النساء:١٦٣)" ہم نے تیری طرف وحی بھیجی ہے اس وحی کی مثل جو ہم نے نوح اور اس کے بعد انبیاء کی طرف بھیجی تھی اور ہم نے ابراہیم اور اسماعیل اور اسحاق اور یعقوب اور اس کی اولاد اور عیسیٰ اور یونس اور ہارون اور سلیمان علیہم السلام کی طرف وحی بھیجی تھی اور ہم نے داؤد علیہ السلام کو زبور دی۔
ابوذر رضی اللہ عنہ کے پوچھنے سے رسول اللہ ﷺ نے انبیاء کی تعداد ایک لاکھ چوبیس ہزار بیان فرمائی۔ مشکوٰۃ ص ٥١١ حارث بن ہشام رضی اللہ عنہ نے وحی اترنے کی کیفیت پوچھی۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: کبھی کبھی مجھ کو وحی ایسے آتی ہے۔ جیسے گھنٹال کی آواز اور اس قسم کی وحی مجھ پر زیادہ سخت ہوتی ہے اور کبھی کبھی میرے واسطے فرشتہ مرد کی صورت بن آتا ہے۔ پھر مجھ سے کلام کرتا ہے۔ پھر جو کہتا ہے میں یاد رکھتا ہوں الخ !
(حدیث بخاری ومسلم مشکوٰۃ ص٥٢٢، باب المبعث وبدأ الوحی)
٢
......٢ ملائکہ اللہ تعالیٰ کی ایک جدا رسول اللہ ﷺ نے فرمایا فرشتے نور سے سے آدم علیہ السلام پیدا کیا گیا۔ (مسلم مشکوٰۃ ص ٥٠٦ ، باب ملائکہ الملائكة اجسام لطيفة اعطيت قـ السموت وابطل من قال انها اجسادها وغير ذلك من الاقوال الـ
یعنی مسلمانوں میں سے جمہور مختلف اشکال میں متشکل ہونے کی قدرت کہا کہ وہ ارواح کواکب یا وہ نفوس صالحہ ہیں میں سے دلائل سمعیہ (قرآن وحدیث) میں " واختلف العقلاء في موجودة قائمة بانفسها فذهب الـ على التشكل باشكال مختلفة طائفة من النصارى هى النفوس الحكماء انها جواهر مجردة مخالفة قسمين قسم شانهم الاستغراق في كما وصفهم في محكم تنزيله المطهرون والملائكة المقربون ماسبق به القضاء وجرى به القلم يؤمرون وهم المدبرات امرا فمنهم کتاب الطوالع (بیضاوی ص ٤٨) “
یعنی عقلا نے اس بات پر اتفاق ان کی حقیقت میں اختلاف کیا ہے۔ پھر اکثر ہیں۔ مختلف اشکال میں متشکل ہونے پر قادر
- ٢...... ملائکہ اللہ تعالیٰ کی ایک جدی مخلوق ہے۔ جیسے انسان اور جن جدی جدی مخلوق ہیں۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا فرشتے نور سے پیدا کئے گئے ہیں اور جن بے دخان آگ سے اور جس سے آدم علیہ السلام پیدا کیا گیا۔ اس کا تمہارے واسطے بیان کیا گیا ہے یعنی مٹی سے۔ حدیث (مسلم مشکوۃ ص ٥٠٦ ، باب بدءالخلق وذکر الانبیاء) ”قال جمهور اهل الكلام من المسلمين الملائكة اجسام لطيفة اعطيت قدرة على التشكل باشكال مختلفة ومسكنها السمٰوٰت وابطل من قال انها الكواكب اوانها الانفس الخيرة التى فارقت اجسادها وغير ذلك من الاقوال التى لايوجد فى الادلة السمعية شى منها“
(فتح الباری شرح بخاری جزو ١٣)
یعنی مسلمانوں میں سے جمہور اہل کلام نے کہا ہے کہ فرشتے لطیف اجسام ہیں۔ جن کو مختلف اشکال میں متشکل ہونے کی قدرت دی گئی ہے اور آسمان ان کی جائے سکونت ہیں اور جس نے کہا کہ وہ ارواح کواکب یا وہ نفوس صالحہ ہیں۔ وہ اپنے اجساد سے جدا ہو گئے اور وغیرہ وغیرہ اقوال جن میں سے دلائل سمعیہ (قرآن وحدیث) میں کچھ بھی نہیں پایا جاتا۔ اس کا خیال باطل ہے۔
”واختلف العقلاء فى حقيقتهم بعد اتفاقهم على انها ذوات موجودة قائمة بانفسها فذهب اكثر المسلمين الى انها اجسام لطيفة قادرة على التشكل باشكال مختلفة مستدلين بان الرسل يرونهم كذلك وقالت طائفة من النصارىٰ هى النفوس الفاضلة البشرية المفارقة للابدان وزعم الحكماء انها جواهر مجردة مخالفة للنفوس الناطقة فى الحقيقة منقسمة الى قسمين قسم شانهم الاستغراق فى معرفة الحق والتنزه عن الاشتغال بغيره كما وصفهم فى محكم تنزيله فقال يسبحون الليل والنهار لايفترون وهم المهيمون والملائكة المقربون وقسم يدبر الامر من السماء الى الارض على ماسبق به القضاء وجرى به القلم الالهى لا يعصون الله ماامرهم ويفعلون ما يؤمرون وهم المدبرات امرا فمنهم سماوية ومنهم ارضية على تفصيل اثبته فى كتاب الطوالع (بیضاوی ص ٥٨)“
یعنی عقلاء نے اس بات پر اتفاق کرنے کے بعد کہ فرشتے ذوات قائمہ بذات خود ہیں۔ ان کی حقیقت میں اختلاف کیا ہے۔ پھر اکثر مسلمان اس طرف گئے ہیں کہ فرشتے اجسام لطیفہ ہیں۔ مختلف اشکال میں متشکل ہونے پر قادر ہیں۔ بایں دلیل کہ رسول ﷺ نے اسی طرح ان کو دیکھا
٣
کرتے تھے اور نصاریٰ کی ایک جماعت نے کہا ہے کہ وہ نفوس فاضلہ بشریہ ہیں۔ جو اپنے ابدان سے جدا ہو گئے ہیں اور فلاسفہ نے گمان کیا ہے کہ وہ جواہر مجردہ اپنی حقیقت میں نفوس ناطقہ کے مخالف ہیں۔ وہ دو قسم پر منقسم ہیں۔ ایک قسم کی شان حق کی معرفت میں استغراق اور غیر کے اشتغال سے تنزہ ہے۔
جیسا کہ قرآن میں ان کا حال بیان کیا اور فرمایا ہے کہ وہ رات دن تسبیح پڑھتے رہتے ہیں۔ سستی نہیں کرتے اور وہ علیین اور ملائکہ مقربین ہیں اور دوسری قسم کے قضاء الٰہی کے موافق آسمان سے زمین تک اترنے والے کام کی تدبیر کرتے ہیں۔ کسی امر میں اللہ تعالیٰ کی بے فرمانی نہیں کرتے۔ جو حکم ہوتا ہے، وہی کرتے ہیں اور وہ مدبرات امر ہیں۔ پھر کچھ ان میں سے سماوی ہیں اور ان میں سے ارضی ہیں۔ اس تفصیل کے موافق جو میں نے کتاب الطوالع میں ضبط کی ہے۔
- ٣....... ملائکہ کی پیدائش انسان کی پیدائش سے پہلے ہے۔
﴿اِذْ قَالَ رَبُّكَ لِلْمَلٰٓئِكَةِ اِنِّیْ خَالِقٌۢ بَشَرًا مِّنْ صَلْصَالٍ مِّنْ حَمَاٍ مَّسْنُوْنٍ فَاِذَا سَوَّيْتُهٗ وَنَفَخْتُ فِيْهِ مِنْ رُّوْحِیْ فَقَعُوْا لَهٗ سٰجِدِيْنَ (الحجر: ٢٨،٢٩)﴾ "اور جب تیرے رب نے فرشتوں سے کہا کہ میں پیدا کرنا چاہتا ہوں انسان کو کیچڑ کی خمیرِ خام سے پھر جب میں اس کو درست کر چکوں گا اور اس میں اپنی جان ڈال چکوں گا تب اس کے آگے سجدہ کرتے گر پڑیو۔"
- ١....... اس آیت میں انسان کی پیدائش سے پہلے فرشتوں کو مخاطب بنایا گیا۔
- ٢....... قوائے انسانی اور مجرد ارواحِ کواکب کا نام ملائکہ نہیں ہے۔ قوائے انسانی کا ملائکہ نہ ہونا آیت
مذکورہ بالا سے ثابت ہے اور ارواح کواکب کے ملائکہ نہ ہونے کی دلیل آگے بیان ہوگی۔
- ٥....... ملائکہ زمین پر آتے جاتے رہتے ہیں۔
- ١....... قرآن کریم میں کئی بار بیان کیا گیا ہے کہ فرشتوں نے آدم علیہ السلام کو سجدہ کیا اور اس
قصہ کا وقوع زمین پر خصم کی پارٹی کے نزدیک مسلم ہے۔
- ٢....... سورت ہود اور حجر اور عنکبوت اور ذاریات میں مکرر بیان کیا گیا ہے کہ حضرت ابراہیم
اور لوط علیہم السلام کے پاس انسان کی صورت میں فرشتے آئے اور حضرت ابراہیم علیہ السلام نے کھانا لا کر بھی آگے رکھا اور دونوں سے فرشتوں نے باتیں بھی کیں۔
- ٣....... اللہ تعالیٰ نے سورت مریم میں فرمایا کہ فرشتہ انسان کی صورت میں بن کر مریم علیہا
السلام کے سامنے آیا اور دونوں میں باتیں بھی ہوئیں اور فرشتہ دکھائی بھی دیا۔
- ٤....... سورت بقرہ رکوع ٣٢
طالوت کے پاس رکھا۔
- ٥....... سورت انفال رکوع ٧
وقت فرشتے کافروں کے منہ اور پ
- ٦....... "اِذْ يُوْحِیْ رَبُّكَ
قُلُوْبِ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا
(انفال:١٢) "
ایمان والوں کو ثابت قدم پر مارو اور ان کی ہر ایک پور پور
- ٧....... سورت توبہ رکوع ٣
فوجیں اتاریں اور بھیجیں جن کو تم نے
- ٨....... سورت آل عمران رکوع
ہے کہ جنگ بدر اور جنگ احد میں ٣ لے کر پانچ ہزار تک ہے۔
- ٩....... "اِذْ يَتَلَقَّی الْمُتَلَقِّيٰنِ
اِلَّا لَدَيْهِ رَقِيْبٌ عَتِيْد (ق: ١٧ ایک بائیں ۔ کوئی بات نہیں بولتا پر اس
- ١٠....... "وَاِنَّ عَلَيْكُمْ لَحٰ
(الانفطار:١٠تا١٢) " تم پر نگہبان
- ١١....... "اِنْ كُلُّ نَفْسٍ لَّمَّا عَلَيْ
- ١٢....... ایک مرد حضرت ﷺ ک
ہاتھ رکھ کر اسلام اور ایمان وغیرہ جبرائیل تھا۔ (حدیث بخاری و مسلم س ابو ہریرہؓ اور دوسرے حاضرین مجلس زانو پر ہاتھ رکھنے سے حس لامسہ م احمد میں تصریح ہے۔
٤
- ٤...... سورت بقرہ رکوع ٣٢ میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ فرشتوں نے تابوت سکینہ کو اٹھا کر
طالوت کے پاس رکھا۔
- ٥...... سورت انفال رکوع ٧ اور سورت محمد رکوع ٤ میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ جان نکالتے
وقت فرشتے کافروں کے منہ اور پشت پر مارتے ہیں۔
- ٦...... ”اذيوحى ربك الى الملئكة انى معكم فثبتوا الذين امنوا سالقى فى
قلوب الذين كفروا الرعب فاضربوا فوق الاعناق واضربوا منهم كل بنان (انفال: ١٢)“ ”جب تیرا رب فرشتوں کی طرف وحی بھیجتا ہے کہ میں تمہارے ساتھ ہوں سو ایمان والوں کو ثابت قدم رکھو میں کافروں کے دلوں میں دہشت ڈال دوں گا۔ اب ان کی گردنوں پر مارو اور ان کی ہر ایک پورے پر مارو۔“
- ٧...... سورت توبہ رکوع ٤ اور سورت احزاب رکوع ٢ میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہم نے ایسی
فوجیں اتاریں اور بھیجیں جن کو تم نے نہیں دیکھا۔
- ٨...... سورت آل عمران رکوع ١٣ اور سورت انفال رکوع پہلے میں اللہ تعالیٰ نے بیان فرمایا
ہے کہ جنگ بدر اور جنگ احد میں جو فرشتے امداد کے واسطے بھیجے گئے ان کا نمبر شمار ایک ہزار سے لے کر پانچ ہزار تک ہے۔
- ٩...... ”اذيتلقى المتلقيان عن اليمين وعن الشمال قعيد، مايلفظ من قول
الا لديه رقيب عتيد (ق: ١٧، ١٨)“ ”یعنی جب لیتے ہیں دو لینے والے ایک داہنے بیٹھا اور ایک بائیں۔ کوئی بات نہیں بولتا پر اس کے پاس نگہبان تیار ہے یعنی کراماً کاتبین۔ سورہ قاف
- ١٠...... ”وان عليكم لحفظين كراماً كاتبين يعلمون ماتفعلون
(الانفطار: ١٠ تا ١٢)“ ”تم پر نگہبان ہیں جو کراماً کاتبین ہیں۔ جانتے ہیں جو کرتے ہو۔
- ١١...... ”ان كل نفس لما عليها حافظ (طارق: ٤)“ یعنی کوئی جی نہیں جس پر نگہبان نہ ہو۔
- ١٢...... ایک مرد حضرت ﷺ کے زانو سے زانو لگا کر بیٹھ گیا اور حضرت ﷺ کے زانو پر اپنے
ہاتھ رکھ کر اسلام اور ایمان وغیرہ کے معنی پوچھ کر چلا گیا۔ پیچھے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا یہ جبرائیل تھا۔ (حدیث بخاری ومسلم مشکوۃ ص ١١، کتاب الایمان) اس حدیث کے راوی حضرت عمرؓ اور ابو ہریرہؓ اور دوسرے حاضرین مجلس نے بھی اس کو آنکھ سے دیکھا اور اس کی آواز کان سے سنی اور زانو پر ہاتھ رکھنے سے حس لامسہ سے محسوس ہوا۔ حضرت ﷺ کے زانو پر ہاتھ رکھنے کی مسند امام احمد میں تصریح ہے۔
٥
١٣...... رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ ہر انسان کے ساتھ ایک قرین جنی اور ایک ملکی ہوتا ہے۔
(حدیث مسلم مشکوٰۃ ص ١٨، باب فی الوسوسۃ)
١٤...... رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ فرشتہ کو بھیجتا ہے اور وہ رحم میں جنین میں جان ڈالتا ہے۔
(حدیث بخاری ومسلم مشکوٰۃ ص ٢٠، باب الایمان بالقدر)
١٥...... رسول اللہ ﷺ نے فرمایا دو فرشتے منکر و نکیر سیاہ رنگ نیلے چشم قبر میں آتے ہیں اور میت کو بٹھا کر رب کی ربوبیت اور رسول کی رسالت پوچھتے ہیں اور کافر کو لوہے کی گرز سے مارتے ہیں اور وہ ایسا چلاتا ہے کہ جن اور انسان کے سوا باقی سب مخلوق اس کے چلانے کی آواز سنتے ہیں وغیرہ وغیرہ۔
(بخاری وترمذی وابن ماجہ مشکوٰۃ ص ٢٤، تا ٢٦، باب اثبات عذاب القبر)
١٦...... رسول اللہ ﷺ نے فرمایا سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کے جنازہ پر ٧٠ ہزار فرشتہ حاضر ہوا۔
(حدیث نسائی مشکوٰۃ ص ٢٦، باب اثبات عذاب القبر)
١٧...... رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جولوگ خانہ خدا میں بیٹھ کر قرآن پڑھتے پڑھاتے ہیں فرشتے ان کو گھیر لیتے ہیں۔
(حدیث مسلم مشکوٰۃ ص ٣٣، ٣٤، کتاب العلم)
١٨...... رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جبرائیل علیہ السلام نے بیت اللہ میں ایک دن پانچ نمازیں اول وقت میں اور دوسرے دن آخر وقت میں امام بن کر مجھ کو پڑھائیں۔
(حدیث ابوداؤد اور ترمذی مشکوٰۃ
ص ٥٩، باب المواقیت) اس حدیث سے جبرائیل کا مرئی اور اس کے صوت کا مسموع ہونا ثابت ہوا۔
١٩...... رسول اللہ ﷺ نے فرمایا شب و روز میں نوبت بنوبت تمہارے پاس فرشتے آتے ہیں اور فجر اور عصر کی نماز میں جمع ہوتے ہیں اور پھر رات والے چڑھ جاتے ہیں پھر اللہ تعالیٰ ان سے پوچھتا ہے میرے بندوں کو کس حال میں چھوڑ آئے ہو؟ جواب دیتے ہیں ہم گئے تھے تو نماز پڑھ رہے تھے اور نماز پڑھتوں کو ہم چھوڑ آئے ہیں۔
(حدیث بخاری ومسلم مشکوٰۃ ص ٦٢، باب فضائل الصلوٰۃ)
٢٠...... رسول اللہ ﷺ نے فرمایا لہسن و پیاز خام کھا کر مسجد میں نہ آوے کیونکہ فرشتوں کو ایذا پہنچتی ہے۔
(حدیث بخاری ومسلم مشکوٰۃ ص ٦٨، باب المساجد ومواضع الصلوٰۃ)
٢١...... ایک مرد نے قومہ میں حضور ﷺ کے پیچھے: "ربنا لك الحمد حمدا كثيرا طيبا مباركا فيه" پڑھا۔ رسول اللہ ﷺ نے نماز سے فارغ ہو کر فرمایا۔ میں نے تیس سے کچھ زیادہ فرشتے اس دعا کی طرف لپکتے دیکھے ہیں کہ کون ان میں سے اس کو پہلے لکھ لے۔
(حدیث بخاری مشکوٰۃ ص ٨٢، باب الرکوع)
٢٢...... رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کے فرشتے زمین پر پھرتے ہیں۔ میری امت کا
٦
سلام مجھ کو پہنچاتے ہیں۔
(حدیث
٢٣...... رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جمعہ کے دن والوں کے نمبر وار نام لکھتے ہیں۔ جب امام خطبہ
(
٢٤...... رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جب بندہ چاند جیسے سفید چہرے والے فرشتے جنت کا کفن اور بندہ سے حد نظر کے فاصلہ پر بیٹھ جاتے ہیں۔ بیٹھ جاتا ہے اور اس کی جان کو نکال لیتا ہے کر اس کفن اور خوشبو میں رکھ لیتے ہیں۔ پھر اس جماعت پر ان کا گزر ہوتا ہے (یعنی ہوا میں) وہ پوچ دیتے ہیں کہ فلاں بن فلاں ہے۔ یہاں تک کہ اس اس کے واسطے دروازہ کھلواتے ہیں۔ تو کھولا جاتا ہ والے آسمان سے اوپر والے آسمان تک ساتھ جا آسمانوں تک پہنچایا جاتا ہے الخ۔
(
یہ حدیث اس آیت کی تفسیر ہے: "قُل یت إلى ربكم ترجعون (السجده:١١)" تمہاری جان قبض کرنے پر مقرر کیا گیا ہے۔ پھر اپن مشکوٰۃ میں اس نمبر کی حدیث کے آگے
٢٥...... رسول اللہ ﷺ نے لوگوں کو سواری پر آ نہیں آتی؟ خدا تعالیٰ کے فرشتے پاؤں پر اور تم چار پا
(حدیث ترمذی وابن
٢٦...... رسول اللہ ﷺ نے فرمایا بنی اسرائیل میں اللہ تعالیٰ آزمانے لگا تو ان کی طرف فرشتہ بھیجا۔ فرشت ایک کو اونٹ اور دوسرے کو گائے اور تیسرے کو بکری تینوں کے پاس آکر سوال کیا دو نے دینے سے انکار
(حدیث بخاری
٧
سلام مجھ کو پہنچاتے ہیں۔
(حدیث نسائی اور دارمی مشکوۃ ص ٨٦، باب الصلوۃ علی النبی وفضلھا)
- ٢٣...... رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جمعہ کے دن فرشتے مسجد کے دروازہ پر بیٹھ کر آگے پیچھے آنے
والوں کے نمبر وار نام لکھتے ہیں۔ جب امام نکلتا ہے کاغذات لپیٹ کر خطبہ سننے لگ جاتے ہیں۔
(حدیث بخاری مسلم مشکوۃ ص ١٢٢، باب الجمعۃ والمنبر)
- ٢٤...... رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جب مومن بندہ کا دنیا سے آخرت کو رحلت کا وقت آتا ہے۔
چاند جیسے سفید تہہ والے فرشتے جنت کا کفن اور خوشبو لے کر آسمان سے اترتے ہیں۔ یہاں تک کہ بندہ سے حد نظر کے فاصلہ پر بیٹھ جاتے ہیں۔ پھر ملک الموت علیہ السلام اس کے سر کے پاس آ کر بیٹھ جاتا ہے اور اس کی جان کو نکال لیتا ہے اور دوسرے فرشتے ایک آن میں اس کے ہاتھ سے لے کر اس کفن اور خوشبو میں رکھ لیتے ہیں۔ پھر اس کو لے کر چڑھ جاتے ہیں۔ پھر فرشتوں کی جس جماعت پر ان کا گزر ہوتا ہے (یعنی جو میں) وہ پوچھتے ہیں کہ یہ کون پاک روح ہے؟ تو وہ جواب دیتے ہیں کہ فلاں بن فلاں ہے۔ یہاں تک کہ اس کو لے کر آسمان دنیا تک پہنچ جاتے ہیں۔ پھر اس کے واسطے دروازہ کھلواتے ہیں۔ تو کھولا جاتا ہے۔ پھر ہر ایک آسمان کے مقرب فرشتے نیچے والے آسمان سے اوپر والے آسمان تک ساتھ پہنچانے جاتے ہیں۔ یہاں تک کہ اس کو ساتوں آسمانوں تک پہنچایا جاتا ہے الخ۔
(حدیث امام احمد مشکوۃ ص ١٤٢، باب تمنی الموت و ذکرہ)
یہ حدیث اس آیت کی تفسیر ہے: "قل يتوفكم ملك الموت الذى وكل بكم ثم الى ربكم ترجعون (السجده:١١)" ﴿تو کہہ تمہاری جان قبض کرتا ہے ملک الموت جو تمہاری جان قبض کرنے پر مقرر کیا گیا ہے۔ پھر اپنے رب ہی کی طرف لوٹائے جاؤ گے۔﴾
مشکوۃ میں اس نمبر کی حدیث کے آگے پیچھے اور اسی مضمون کی کئی حدیثیں ہیں۔
- ٢٥...... رسول اللہ ﷺ نے لوگوں کو سواری پر ایک جنازہ کے پیچھے جاتے دیکھ کر فرمایا تم کو شرم
نہیں آتی؟ خدا تعالیٰ کے فرشتے پاؤں پر اور تم چارپایوں کے پشت پر۔
(حدیث ترمذی وابن ماجہ مشکوۃ ص ١٤٦، باب المشی بالجنازة والصلوة علیھا)
- ٢٦...... رسول ﷺ نے فرمایا بنی اسرائیل میں سے ایک کوڑھی اور ایک اندھے اور ایک گنجے کو
اللہ تعالیٰ آزمانے لگا تو ان کی طرف فرشتہ بھیجا۔ فرشتہ نے ان پر ہاتھ پھیرا تو بیماری جاتی رہی۔ پھر ایک کو اونٹ اور دوسرے کو گائے اور تیسرے کو بکری مل گئی۔ پھر مدت کے بعد اسی پہلی صورت میں تینوں کے پاس آ کر سوال کیا دو نے دینے سے انکار کیا اور ایک نے دینا قبول کیا۔
(حدیث بخاری و مسلم مشکوۃ ص ١٦٥، باب الانفاق و کراھیۃ الامساک)
٧
اس حدیث سے فرشتہ کا نظر آنا، اس کا جسم پر ہاتھ پھیرنا اور فرشتہ کی آواز کا سنا جانا ثابت ہوا۔
- ٢٧....... رمضان کی ہر رات میں جبرائیل علیہ السلام آنحضرت ﷺ سے ملاقات کرتے
اور حضرت ﷺ اس کے ساتھ قرآن مجید کا دور کرتے تھے۔
(بخاری ومسلم مشکوٰۃ ١٨٣، باب الاعتکاف)
- ٢٨....... اسید بن حضیر رضی اللہ عنہ نے تہجد کی نماز پڑھی سر پر ایک سائبان دیکھا جس میں چراغ
نظر آتے تھے۔ صبح رسول اللہ ﷺ نے اس کو فرمایا وہ فرشتے تھے۔ تیرے پڑھنے کی آواز پر نزدیک آئے تھے۔ اگر تو پڑھتا رہتا تو وہ ایسی حالت میں صبح کرتے کہ لوگ ان کو دیکھ لیتے۔ وہ چھپ نہ جاتے۔
(حدیث بخاری ومسلم مشکوٰۃ ص ١٨٤، کتاب فضائل القرآن)
- ٢٩....... اس اثناء میں کہ جبرائیل علیہ السلام نبی ﷺ کے پاس بیٹھا ہے۔ اوپر سے ایک سخت
آواز سنی۔ پھر سر اٹھایا اور کہا کہ یہ آسمان کا ایک دروازہ آج کھلا ہے۔ آج کے سوا کبھی نہیں کھلا تھا۔ پھر اس سے ایک فرشتہ اترا ہے۔ آج دن کے سوا کبھی نہیں اترا تھا۔ الخ!
(مسلم مشکوٰۃ ص١٨٥، کتاب فضائل القرآن)
- ٣٠....... حنظلہ رضی اللہ عنہ اور ابو بکر رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں عرض کیا کہ
آپ کی خدمت میں حاضر ہونے کے وقت جو حضور دل ہوتا ہے وہ غیر حاضری کے وقت نہیں رہتا۔ آپ نے جواب دیا کہ یہ حالت گاہ گاہ اندک زمانہ ہوا کرتی ہے۔ اگر یہ حالت دائم رہے تو فرشتے تمہاری بچھونوں پر اور راہوں میں تم سے مصافحہ کریں۔
(حدیث مسلم مشکوٰۃ ص١٩٧، ١٩٨، باب ذکر اللہ عزوجل والتقرب الیہ)
- ٣١....... رسول اللہ ﷺ نے فرمایا دجال کے آنے کے وقت مدینہ کے سب راہوں پر نگہبانی
کے واسطے فرشتے ہوں گے۔
(حدیث بخاری ومسلم مشکوٰۃ ص٤٤٠، باب حرم المدینہ حرسہا اللہ تعالیٰ)
- ٣٢....... رسول اللہ ﷺ نے فرمایا برہنہ ہونے سے پرہیز کرو۔ کیونکہ تمہارے ساتھ وہ فرشتے
رہتے ہیں جو بجز حالت براز و جماع کے وقت کبھی تم سے جدا نہیں ہوتے۔ سو ان سے شرم کرو اور ان کی تعظیم کرو۔
(حدیث ترمذی مشکوٰۃ ص٢٦٩، باب الستر الی الخلوۃ وبیان والعورات)
- ٣٣....... رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ایک مرد اپنے بھائی کی ملاقات کو کسی گاؤں کو چلا تو اس کی راہ
پر اللہ تعالیٰ نے ایک فرشتہ بٹھایا۔ فرشتہ نے پوچھا کہاں جاتا ہے؟ اس نے جواب دیا کہ بھائی کی ملاقات کو جاتا ہوں۔ الخ!
(حدیث مسلم مشکوٰۃ ص٤٢٥، ٤٢٦، باب الحب فی اللہ وکذا)
- ٣٤....... رسول اللہ ﷺ غار حرا میں معتکف تھے۔ جبرائیل علیہ السلام نے آکر کہا پڑھو آپ نے
جواب دیا مجھ کو پڑھنا نہیں آتا۔ تب جبرائیل طرح کر کے ”اقرأ باسم ربك الذی خلق“ مسلم مشکوٰۃ ص٥٢٤، باب المبعث وبدء الوحی) اس اس کی آواز سنائی دینا اور حس لامسہ
- ٣٥....... رسول اللہ ﷺ بیت اللہ
آیا۔ آگے سے فرشتہ کے پر نظر آئے تو فرشتے اس کا ایک ایک عضو کاٹ
- ٣٦....... جبرائیل علیہ السلام نے
کر بکر در سمت کردی۔
- ٣٧....... جنگ بدر کے دن ایک مسلمان
چابک مارنے کی اور سوار کی آواز سنی کہ کہتا گھوڑے کا نام ہے) ناگہاں اپنے آگے مشرک اس کو دیکھا تو اس کی ناک پر چوٹ لگی اور یہ جگہ سبز ہوگئی ہے۔ پھر یہ واقعہ رسول اللہ تیسرے آسمان کی مدد میں سے ہے۔ جو درداں
- ٣٨....... سلمہ بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ
کے دائیں بائیں سفید پوش دو مرد سخت لڑتے جبرائیل اور میکائیل ۔
یہ حدیث آیت (٨) کی تفسیر ہے۔
- ٣٩....... جب رسول اللہ ﷺ جنگ خندق
جبرائیل علیہ السلام سر سے غبار جھاڑتا ہوا آیا اور نے ابھی تک نہیں اتارے۔ ان کی طرف چلو اشارہ کیا۔ متفق علیہ اور بخاری کی ایک روایت محمد ﷺ بنی قریظہ کو چلے تب میں نے بنی غنم کے آسمان کو چڑھتا ہوا دیکھا۔
- ٤٠....... رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جب ہم
٨
جواب دیا مجھ کو پڑھنا نہیں آتا۔ تب جبرائیل علیہ السلام نے آپ کو زور سے بھینچا اور تین بار اسی طرح کر کے ’’اقرأ باسم ربک الذی خلق (العلق:١)‘‘ آیت تک پڑھایا۔ (حدیث بخاری و مسلم مشکوۃ ص ٥٢٢، باب المبعث وبدء الوحی) اس حدیث سے فرشتہ کا آنکھ سے دکھائی دینا اور کان سے اس کی آواز سنائی دینا اور حس لامسہ سے چھونے میں آنا ثابت ہوا۔
- ٣٥....... رسول اللہ ﷺ بیت اللہ میں نماز پڑھ رہے تھے۔ ابو جہل بے ادبی کے ارادہ سے
آیا۔ آگے سے فرشتہ کے پر نظر آئے تو الٹا بھاگا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اگر میرے نزدیک آتا تو فرشتے اس کا ایک ایک عضو اچک لیتے۔
(حدیث مسلم مشکوۃ ص ٥٢٣، باب علامات النبوۃ)
- ٣٦....... جبرائیل علیہ السلام نے رسول اللہ ﷺ کا سینہ مبارک چاک کر کے دل کو نکال کر اور دھو
کر پھر درست کر دیا۔
(حدیث مسلم مشکوۃ ص ٥٢٣، باب علامات النبوۃ)
- ٣٧....... جنگ بدر کے دن ایک مسلمان ایک مشرک کے پیچھے دوڑا جاتا تھا۔ ناگاہ اوپر سے
چابک مارنے کی اور سوار کی آواز سنی کہ کہتا ہے آگے بڑھ اے حیزوم (جبرائیل علیہ السلام کے گھوڑے کا نام ہے) ناگہاں اپنے آگے مشرک کی طرف دیکھا کہ چت کے بل گر پڑا ہے۔ پھر اس کو دیکھا تو اس کی ناک پر چوٹ لگی ہے اور اس کا منھ پھٹ گیا ہے۔ جیسے چابک کی ضرب ہے اور یہ جگہ سبز ہوگئی ہے۔ پھر یہ واقعہ رسول اللہ ﷺ کے آگے بیان کیا تو آپ ﷺ نے فرمایا یہ تیسرے آسمان کی مدد میں سے ہے۔
(حدیث مسلم مشکوۃ ص ٥٣١، باب فی المعجزات)
- ٣٨....... سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ نے کہا کہ جنگ احد کے دن میں نے رسول اللہ ﷺ
کے دائیں بائیں سفید پوش دو مرد سخت لڑتے دیکھے۔ نہ میں نے ان کو پہلے دیکھا تھا نہ پیچھے۔ یعنی جبرائیل اور میکائیل۔
(حدیث بخاری و مسلم مشکوۃ ص ٥٣١، باب فی المعجزات)
یہ حدیث آیت (٨) کی تفسیر ہے۔
- ٣٩....... جب رسول اللہ ﷺ جنگ خندق سے لوٹ کر آئے اور ہتھیار اتارے اور غسل کیا تب
جبرائیل علیہ السلام سر سے غبار جھاڑتا ہوا آیا اور کہا کہ آپ نے ہتھیار اتار رکھے ہیں۔ بخدا میں نے ابھی تک نہیں اتارے۔ ان کی طرف چلو۔ آپ نے فرمایا کہاں کو تب بنی قریظہ کی طرف اشارہ کیا۔ متفق علیہ اور بخاری کی ایک روایت میں ہے کہ انس رضی اللہ عنہ نے کہا جب حضرت محمد ﷺ بنی قریظہ کو چلے تب میں نے بنی غنم کے کوچہ میں جبرائیل علیہ السلام کے موکب کا اثر غبار آسمان کو چڑھتا ہوا دیکھا۔
(مشکوۃ ص ٥٣٢، باب فی المعجزات)
- ٤٠....... رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جب ہم بیت المقدس میں پہنچے جبرائیل علیہ السلام نے انگلی
٩
سے پتھر میں سوراخ کرکے براق کو وہاں باندھ دیا۔
(حدیث ترمذی مشکوٰۃ ص٥٣٠، باب فی المعجزات)
- ٤١....... رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہر سال جبرائیل علیہ السلام ایک بار مجھ سے قرآن مجید کا دور
کرتا تھا۔ امسال دو بار دور کیا ہے۔ شاید میرے کوچ کا وقت قریب آیا ہے۔
(حدیث بخاری ومسلم مشکوٰۃ ص٥٦٨، باب مناقب اہل بیتؓ)
- ٤٢....... جبرائیل علیہ السلام رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا اور کہا آپ اہل بدر کو آپس میں کیسا
سمجھتے ہو۔ آپ ﷺ نے جواب دیا کہ سب مسلمانوں سے افضل۔ جبرائیل علیہ السلام نے کہا اسی طرح فرشتوں میں جو بدر میں حاضر ہوئے تھے۔ وہ سب سے افضل گنے جاتے ہیں۔ (حدیث بخاری مشکوٰۃ ص٥٨٦) یہ حدیث آیت (٦) کی تفسیر ہے۔
- ٤٣....... رسول اللہ ﷺ نے فرمایا سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کے جنازہ کو فرشتے اٹھا رہے تھے۔
اس واسطے اس کا بوجھ کم تھا۔
(حدیث ترمذی مشکوٰۃ ص٥٧٨، ٥٧٩، باب جامع المناقب)
- ٤٤....... ایک صبح کو رسول اللہ ﷺ رنجیدہ خاطر اٹھے اور فرمایا کہ جبرائیل علیہ السلام نے آج
رات کو ملنے کا وعدہ کیا تھا اور ملا نہیں۔ بخدا اس نے وعدہ خلاف نہیں کیا ہوگا۔ پھر چارپائی کے نیچے کتے کے بچہ کا آپ کے دل میں خیال آیا۔ تب وہ آپ نے نکلوادیا اور اپنے ہاتھ سے پانی لے کر اس جگہ پر ڈالا۔ پھر جب رات کا وقت ہوا تو جبرائیل علیہ السلام آپ ﷺ سے ملے۔ حضرت ﷺ نے پوچھا کہ آپ نے شب گذشتہ میں ملاقات کا وعدہ کیا تھا۔ جبرائیل علیہ السلام نے کہا کہ وعدہ تو بیشک کیا تھا مگر جس گھر میں کتا یا تصویر ہو۔ اس گھر میں ہم داخل نہیں ہوتے۔
(حدیث مسلم مشکوٰۃ ص٣٨٥، باب التصاویر)
- ٤٥....... رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ملک الموت نے موسیٰ علیہ السلام کے پاس آ کر کہا تیرا رب
تجھ کو بلاتا ہے۔ (یعنی موت قبول کرلے) رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تب موسیٰ علیہ السلام نے اس کو ایک تھپڑ مار کر اس کی ایک آنکھ پھوڑ دی، الخ۔ (حدیث بخاری ومسلم مشکوٰۃ ص٥٠٧، باب بدء الخلق وذکر الانبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام) اس حدیث سے بھی فرشتہ کا ملموس اور مبصر اور ناطق ہونا ثابت ہوا۔
- ٤٦....... بعض فرشتے پہاڑوں پر مؤکل ہیں
رسول اللہ ﷺ طائف کے رئیس کے پاس امداد کی طلب کے واسطے تشریف لے گئے۔ وہ بدسلوکی سے پیش آیا۔ آپ ﷺ رنجیدہ خاطر واپس آرہے تھے۔ ناگہاں بادل نے سایہ کیا۔ دیکھا تو اس میں جبرائیل علیہ السلام نظر آیا اور جبرائیل علیہ السلام نے سلام بولا اور کہا آپ کی قوم کی بدسلوکی اللہ تعالیٰ نے سن لی ہے اور یہ پہاڑ کے امیر فرشتہ کو آپ کی طرف بھیجا ہے کہ آپ جو
١٠
چاہیں اس کو حکم دیں۔ پھر پہاڑ کے امیر فرشتہ نے مجھ کو آواز دی اور سلام بولا اور کہا کہ آپ کی قوم کی بدسلوکی اللہ تعالیٰ نے سن لی ہے اور میں پہاڑ کا موکل فرشتہ ہوں۔ مجھ کو آپ کی طرف بھیجا ہے کہ آپ جو چاہیں مجھ کو حکم کریں۔ اگر آپ فرمائیں تو میں دو پہاڑ اخشبان کو اکھاڑ کر ان پر گرا دوں؟ آپ ﷺ نے فرمایا نہیں، بلکہ میں امیدوار ہوں کہ اللہ تعالیٰ ان کی پشت سے خدا پرست آدمی پیدا کرے۔
(حدیث بخاری ومسلم مشکوٰۃ ص ٥٣٤، باب المبعث و بدء)
بادل پر بھی فرشتے ہیں
”ويسبح الرعد بحمده (الرعد: ١٣)“ یعنی اور رعد اس کی حمد سے ملا کر تسبیح پڑھتا ہے۔ الخ، امام احمد اور ترمذی کی روایت میں آیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ رعد بادل کے موکل فرشتہ کا نام ہے اور رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ ایک مرد بیابان میں چلا جاتا تھا۔ بادل میں سے یہ آواز سنی کہ فلاں شخص کے باغ کو پانی پلا دو، الخ۔
(حدیث مسلم مشکوٰۃ ص ١٦٥، باب الاخلاق و کراہیۃ الامساک)
- ٨....... ساتوں آسمانوں پر فرشتے رہتے ہیں
معراج کے باب میں بخاری ومسلم وغیرہ کی حدیث ملاحظہ ہو۔ مشکوٰۃ باب فی المعراج ص ٥٢٧ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جب اللہ تعالیٰ کوئی حکم صادر فرماتا ہے حاملان عرش تسبیح پڑھتے ہیں۔ پھر اس آسمان والے فرشتے بھی تسبیح کہتے ہیں، الخ۔
(حدیث مسلم مشکوٰۃ ص ٣٩٣، باب الکہانۃ)
رسول اللہ ﷺ نے قسم کھا کر فرمایا کہ آسمان میں چار انگل جگہ ایسی نہیں ہے۔ جس میں فرشتہ نے سجدہ میں ماتھا نہ رکھا ہوا ہو۔
(حدیث امام احمد و ترمذی و ابن ماجہ مشکوٰۃ ص ٤٥٧، باب البکاء والخوف)
- ٩....... ساتوں آسمانوں سے باہر عرش کے اردگرد بھی فرشتے ہیں
”الذين يحملون العرش ومن حوله يسبحون بحمد ربهم (غافر: ٧)“ جو فرشتے عرش کو اٹھاتے ہیں اور جو اس کے گرد پیش ہیں تسبیح پڑھتے ہیں اپنے رب کی حمد کے ساتھ ملا کر، الخ ! سورہ مومن اور ایک حدیث حاملان عرش کے تسبیح پڑھنے کی ابھی گزری ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے ساتوں آسمان شمار کرنے کے بعد فرمایا پھر اس کے اوپر آٹھ فرشتے ہیں۔ جن کے پشت پر عرش ہے۔
(حدیث ترمذی مشکوٰۃ ص ٥٠٩، باب بدء الخلق و ذکر الانبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام)
- ١٠....... جنت میں بھی فرشتے ہیں
”والملائكة يدخلون عليهم من كل باب سلام عليكم بما صبرتم
١١
فنعم عقبی الدار (الرعد:٢٤) ”یعنی اور فرشتے ان پر داخل ہوتے ہیں ہر دروازے سے (کہتے ہیں) تم سلامت رہو۔ تمہارے صبر کرنے کے بدلے۔ سو پچھلا گھر کیا خوب ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا قیامت کے دن میں جنت کے دروازہ پر آ کر دروازہ کھولنے کی درخواست کروں گا۔ خازن کہے گا آپ کون ہیں؟ میں کہوں گا میں محمد ﷺ ہوں، الخ۔ (حدیث مسلم مشکوۃ ص ٥١١، باب فضائل سید المرسلین صلوۃ اللہ وسلامہ علیہ) رسول اللہ ﷺ نے فرمایا میں نے جعفر طیارؓ کو فرشتوں کے ہمراہ جنت میں اڑتا ہوا دیکھا ہے۔ (حدیث ترمذی مشکوۃ ص ٥٧٠، باب مناقب اہل بیت)
١١....... دوزخ میں بھی فرشتے ہیں
”وقال الذين كفروا لخزنة جهنم ادعوا ربكم يخفف عنا يوما من العذاب قالوا اولم تك تاتيكم رسلكم بالبينت قالوا بلى قالوا فادعوا وما دعاء الكفرين الا في ضلال (المومن:٥٠) ”یعنی کافر دوزخ کے خازنوں کو کہیں گے کہ اپنے رب سے دعا کرو کہ ایک دن کسی قدر عذاب کی ہم کو تخفیف کرے۔ وہ کہیں گے کیا تمہارے رسول تمہارے پاس دلائل واضح نہ لائے تھے؟ جواب دیں گے کیوں نہیں۔ فرشتے کہیں گے اب خود دعا کرو اور کافروں کی دعا سب ضائع ہے۔
”عليها تسعة عشر وماجعلنا اصحاب النار الا ملائكة (المدثر: ٣٠، ٣١) ”یعنی دوزخ پر انیس فرشتے داروغہ ہیں اور نہیں بنائے ہم نے دوزخ کے کارکن مگر فرشتے۔
”ونادوا يامالك ليقض علينا ربك قال انكم مكثون (زخرف:٧٧) ”اور دوزخی آواز دیں گے کہ اے مالک (دوزخ کے داروغہ کا نام ہے) تیرا رب ہم پر موت بھیج دے۔ وہ کہے گا تم نے سدا رہنا ہے۔
”فليدع ناديه سَنَدْعُ الزبانية (العلق: ١٨،١٧) ”اب بلاوے اپنی مجلس کو۔ ہم دوزخ کے کارکنوں کو بلائیں گے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا معراج کی رات میں نے دوزخ کے داروغہ مالک کو دیکھا، الخ۔ (حدیث بخاری ومسلم مشکوۃ ص ٥٠٨، باب بدءالخلق وذکر الانبیاء علیہ الصلوۃ والسلام) جس شخص نے اس کے خلاف اپنا عقیدہ شائع کیا ہے۔ اس کی عبارتیں بعینہ ذیل میں نقل کر کے جواب دیا جاتا ہے۔
- ١....... ”اگر یہ استفسار ہو کہ جس خاصیت اور قوت روحانی میں یہ عاجز اور مسیح بن مریم
مشابہت رکھتے ہیں۔ وہ کیا شے ہے تو اس کا جواب یہ ہے کہ وہ ایک مجموعی خاصیت ہے جو ہم دونوں کے روحانی قویٰ میں ایک خاص طور پر رکھی گئی ہے۔ جس کے سلسلہ کی ایک طرف نیچے کو اور
١٢
ایک طرف اوپر کو جاتی ہے۔ نیچے کی طرف سے مراد وہ اعلیٰ درجہ کی دلسوزی اور غمخواری خلق اللہ ہے۔ جو داعی الی اللہ اور اس کے مستعد شاگردوں میں ایک نہایت مضبوط تعلق اور جوڑ بخش کر نورانی قوت کو جو داعی الی اللہ کے نفس پاک میں موجود ہے۔ ان تمام سر سبز شاخوں میں پھیلاتی ہے اوپر کی طرف سے مراد وہ اعلیٰ درجہ کی محبت قوی ایمانی سے ملی ہوئی ہے۔ جو اول بندہ کے دل میں بارادہ الٰہی پیدا ہو کر رب قدیر کی محبت کو اپنی طرف کھینچتی ہے۔ پھر ان دونوں محبتوں کے ملنے سے جو در حقیقت نر اور مادہ کا حکم رکھتی ہیں۔ ایک مستحکم رشتہ اور ایک شدید مواصلت خالق اور مخلوق میں پیدا ہو کر الٰہی محبت کی چمکنے والی آگ سے جو مخلوق کی ہیزم مثال محبت کو پکڑ لیتی ہے۔ ایک تیسری چیز پیدا ہو جاتی ہے جس کا نام روح القدس ہے۔"
(توضیح المرام ص ٢٢، خزائن ج ٣ ص ٦٢)
تنبیہ...... یہ روح القدس عرض ہے۔ نہ جوہر۔ کیونکہ انسان کے اندرونی خیالات میں سے ہے۔ جن کا خارج میں وجود نہیں ہے (٢) اور یہ کیفیت جو ایک آتش افروختہ کی صورت پر دونوں محبتوں کے جوڑ سے پیدا ہوتی ہے۔ اس کو روح امین کے نام سے بولتے ہیں۔ کیونکہ یہ ہر ایک تاریکی سے امن بخشتی ہے اور ہر ایک غبار سے خالی ہے اور اس کا نام شدید القویٰ بھی ہے۔ کیونکہ یہ اعلیٰ درجہ کی طاقت وحی ہے جس سے قوی تر وحی متصور نہیں ہے اور اس کا نام ذوالافق الاعلیٰ بھی ہے۔ کیونکہ یہ وحی الٰہی کے انتہائی درجہ کی تجلی ہے۔
(توضیح المرام ص ٢٦، خزائن ج ٣ ص ٦٤)
تنبیہ...... یہ روح امین اور شدید القویٰ اور ذوالافق الاعلیٰ بھی اعراض ہیں۔ نہ جوہر ان عبارتوں سے جبرائیل کا عرض ہونا ثابت ہوا۔
٣...... "اس جگہ اس بات کا بیان کرنا بھی بے موقعہ نہ ہوگا کہ جو کچھ ہم نے روح القدس اور روح الامین وغیرہ کی تعبیر کی ہے۔ یہ درحقیقت ان عقائد سے جو اہل اسلام ملائک کی نسبت رکھتے ہیں۔ منافی نہیں ہے۔ کیونکہ محققین اہل اسلام ہرگز اس بات کے قائل نہیں کہ ملائک اپنے شخصی وجود کے ساتھ انسانوں کی طرح پیروں سے چل کر زمین پر اترتے ہیں اور یہ خیال بہ بداہت باطل بھی ہے۔ کیونکہ اگر یہی ہوتا کہ ملائک اپنی اپنی خدمات کی بجا آوری کے لئے اپنے اصل وجود کے ساتھ زمین پر اترا کرتے تو پھر ان سے کوئی کام انجام پذیر ہونا بغایت درجہ محال تھا۔ مثلاً فرشتہ ملک الموت جو ایک سیکنڈ میں ہزار ہا ایسے لوگوں کی جانیں نکالتا ہے۔ جو مختلف بلاد وامصار میں ایک دوسرے سے ہزاروں کوسوں کے فاصلہ پر رہتے ہیں۔ اگر ہر ایک کے لئے اس بات کا محتاج ہو کہ اول پیروں سے چل کر اس کے ملک اور شہر اور گھر میں جاوے اور پھر اتنی مشقت کے بعد جان نکالنے کا اس کو موقع ملے تو ایک سیکنڈ کیا اتنی بڑی کار گزاری کے لئے تو کئی مہینے کی مہلت بھی کافی
١٣
نہیں ہو سکتی۔ کیا یہ ممکن ہے کہ ایک شخص انسانوں کی طرح حرکت کر کے ایک طرفۃ العین کے یا اس کے کم عرصہ میں تمام جہاں گھوم کر چلا آوے؟ ہرگز نہیں۔ بلکہ فرشتے اپنے اصلی مقامات سے جو ان کے لئے خدا تعالیٰ کی طرف سے مقرر ہیں، ایک ذرہ کے برابر بھی آگے پیچھے نہیں ہوتے۔ جیسا کہ خدا تعالیٰ ان کی طرف سے قرآن شریف میں فرماتا ہے: ”وَمَا مِنَّا إِلَّا لَهُ مَقَامٌ مَّعْلُومٌ وَإِنَّا لَنَحْنُ الصَّافُّونَ (الصافات: ١٦٤، ١٦٥) “ پس اصل بات یہ ہے کہ جس طرح آفتاب اپنے مقام پر ہے اور اس کی گرمی روشنی زمین پر پھیل کر اپنے خواص کے موافق زمین کی ہر ایک چیز کو فائدہ پہنچاتی ہے۔ اسی طرح روحانیت سماویہ خواہ ان کو یونانیوں کے خیال کے موافق نفوس فلکیہ کہیں یا دساطیر اور وید کی اصطلاح کے موافق ارواح کواکب سے ان کو نامزد کریں یا نہایت سیدھے اور موحدانہ طریق سے ملائک اللہ کا ان کو لقب دیں۔ درحقیقت یہ عجیب مخلوقات اپنے اپنے مقام میں مستقر اور قرار گیر ہے۔“
(توضیح المرام ص ٣٠ تا ٣٣، خزائن ج ٣ ص ٦٥ تا ٦٨)
تنبیہ........ یہ سارا بیان خلاف واقعہ ہے۔ یہ اس شخص کی عادت ہے کہ دھوکہ دینے کے واسطے مسلمانوں کی طرف سے خود خلاف واقعہ بیان کر لیتا ہے۔ اس جگہ بھی ایسا ہی کیا ہے اور آیت کو بے محل لایا ہے۔ وہ اظہار عبودیت ملائکہ کے واسطے بیان کی گئی ہے نہ عدم حرکت کے واسطے اور ہندو آتش پرست اور یونانی کفار اور مسلمانوں کو ملائکہ کے مصداق میں متفق الرائے قرار دینا اسلامی مسائل سے جہل مرکب کی صریح دلیل ہے۔
- ٤........ ”قرآن شریف سے ثابت ہے کہ یہ سیارات اور کواکب اپنے اپنے قالبوں کے متعلق
ایک ایک روح رکھتے ہیں۔ جن کو نفوس کواکب سے بھی نامزد کر سکتے ہیں اور جیسے کواکب اور سیاروں میں باعتبار ان کے قالبوں کے طرح طرح کے خواص پائے جاتے ہیں جو زمین کی ہر ایک چیز پر حسب استعداد اثر ڈال رہے ہیں۔ ایسا ہی ان کے نفوس نورانیہ میں بھی انواع اقسام کے خواص ہیں جو باذن حکیم مطلق کائنات الارض کے باطن پر اپنا اثر ڈال رہے ہیں اور یہی نفوس نورانیہ کامل بندوں پر بشکل جسمانی متشکل ہو کر ظاہر ہوتے ہیں اور بشری صورت سے متمثل ہو کر دکھائی دیتے ہیں۔“
(توضیح المرام ص ٤٠، ٤١، خزائن ج ٣ ص ٧١، ٧٢)
- ٥........ ”پس اس میں شک نہیں کہ بوجہ مناسبت نوری وہ نفوس طیبہ ان روشن اور نورانی
ستاروں سے تعلق رکھتے ہوں گے جو آسمانوں میں پائے جاتے ہیں۔ مگر اس تعلق کو ایسا نہیں سمجھنا چاہئے کہ جیسے زمین کا ہر ایک جاندار اپنے اندر جان رکھتا ہے۔ بلکہ اس نفوس طیبہ کو بوجہ مناسبت اپنی نورانیت اور روشنی کے جو روحانی طور پر انہیں حاصل ہے، روشن ستاروں کے ساتھ ایک مجہول
الکنہ تعلق ہے اور ایسا شدید تعلق ہے کہ اگر ان جائے تو پھر ان کے تمام قوی میں فرق پڑ جا تمام ستارے اپنے اپنے کام میں مصروف ہ ہے۔ ایسا ہے (مگر اس جگہ تشبیہ کامل مراد نہیں ہی حکم رکھتے ہیں اور ان کے جدا ہو جانے سے ان ضروری امر ہے۔“
- ٦........ ”جس قدر ارواح و اجسام اپنے کمالات
سماویہ کام کر رہی ہیں اور کبھی ایک ہی فرشتہ مختلف طور ایک عظیم الشان فرشتہ ہے اور آسمان کے ایک نہا خدمات سپرد ہیں۔ انہی خدمات کے موافق جو اس کے ہر ایک ایسے شخص پر نازل ہوتا ہے۔ جو وحی الہی سے صرف اثر اندازی کے طور پر ہے۔ نہ واقعی طور پر یا کا دائرہ مختلف ظروف کے لحاظ سے چھوٹی چھوٹی اور ب
- ٧........ اس وقت میں کہ جب انسان بوجہ انقطا
تئیں رکھ دیتا ہے۔ معاً اس نالی میں سے فیض وحی اس جبرائیل اپنا نورانی سایہ اس مستعد دل میں ڈال کر ایک جیسے اس فرشتہ کا جو آسمان پر مستقر ہے۔ جبرائیل نام جاتا ہے۔ یا مثلاً اس فرشتہ کا نام روح القدس ہے تو ہے۔ سو یہ نہیں کہ فرشتہ انسان کے اندر گھس آتا ہے ب نمودار ہو جاتا ہے۔“
- ٨........ اس جگہ میں ان لوگوں کا وہم بھی دور کرنا
ہیں۔ جو اولیاء اور انبیاء کے الہامات اور مکاشفات کو ہے۔ کیونکہ اگر نبیوں اور ولیوں پر امور غیبیہ کھلتے ہیں ہیں۔ بلکہ فاسقوں اور غایت درجہ کے بدکاروں کو بھی کے بد معاش اور شریر آدمی اپنے ایسے مکاشفات بیان ک
١٥
بلکہ تعلق ہے اور ایسا شدید تعلق ہے کہ اگر ان نفوس طیبہ کا ان ستاروں سے الگ ہونا فرض کر لیا جائے تو پھر ان کے تمام قوی میں فرق پڑ جائے گا۔ انہیں نفوس طیبہ کے پوشیدہ ہاتھ کے زور سے تمام ستارے اپنے اپنے کام میں مصروف ہیں اور جیسے خدا تعالیٰ تمام عالم کے لئے بطور جان کے ہے۔ ایسا ہے (مگر اس جگہ تشبیہ کامل مراد نہیں) وہ نفوس نورانیہ کواکب اور سیارات کے لئے جان کا ہی حکم رکھتے ہیں اور ان کے جدا ہو جانے سے ان کی حالت وجودیہ میں کلی فساد راہ پا جانا لازمی و ضروری امر ہے۔‘‘
(توضیح المرام ص ٣٧، ٣٨، خزائن ج ٣ ص ٧٠)
- ٦....... ”جس قدر ارواح واجسام اپنے کمالات مطلوبہ تک پہنچتے ہیں۔ ان سب پر تاثیرات
سماویہ کام کر رہی ہیں اور کبھی ایک ہی فرشتہ مختلف طور کے اثر ڈالتا ہے۔ مثلاً جبرائیل علیہ السلام جو ایک عظیم الشان فرشتہ ہے اور آسمان کے ایک نہایت روشن نیّر سے تعلق رکھتا ہے۔ اس کو کئی قسم کی خدمات سپرد ہیں۔ انہی خدمات کے موافق جو اس کے نیّر سے لئے جاتے ہیں۔ سو وہ فرشتہ اگرچہ ہر ایک ایسے شخص پر نازل ہوتا ہے۔ جو وحی الہی سے مشرف کیا گیا ہو۔ (نزول کی اصل کیفیت جو صرف اثر اندازی کے طور پر ہے۔ نہ واقعی طور پر یاد رکھنی چاہئے) لیکن اس کے نزول کی تاثیرات کا دائرہ مختلف ظروف کے لحاظ سے چھوٹی چھوٹی اور بڑی بڑی شکلوں میں تقسیم ہو جاتا ہے۔“
(توضیح المرام ص ٨٦، ٨٧، خزائن ج ٣ ص ٨٦)
- ٧....... اس وقت میں کہ جب انسان بوجہ اقتران محبت روح القدس کی نالی کے قریب اپنے
تئیں رکھ دیتا ہے۔ معاً اس نالی میں سے فیض وحی اس کے اندر گر جاتا ہے یا یوں کہو کہ اس وقت جبرائیل اپنا نورانی سایہ اس مستعد دل میں ڈال کر ایک عکسی تصویر اپنی اس کے اندر لکھ دیتا ہے۔ تب جیسے اس فرشتہ کا جو آسمان پر مستقر ہے۔ جبرائیل نام ہے اس عکسی تصویر کا نام بھی جبرائیل ہی ہو جاتا ہے۔ یا مثلاً اس فرشتہ کا نام روح القدس ہے تو عکسی تصویر کا نام بھی روح القدس ہی رکھا جاتا ہے۔ سو یہ نہیں کہ فرشتہ انسان کے اندر گھس آتا ہے۔ بلکہ اس کا عکس انسان کے آئینہ قلب میں نمودار ہو جاتا ہے۔“
(توضیح المرام ص ٧٠، خزائن ج ٣ ص ٨٧)
- ٨....... اس جگہ میں ان لوگوں کا وہم بھی دور کرنا چاہتا ہوں جو ان شکوک اور شبہات میں مبتلا
ہیں ۔ جو اولیاء اور انبیاء کے الہامات اور مکاشفات کو دوسرے لوگوں کی نسبت کیا خصوصیت ہو سکتی ہے۔ کیونکہ اگر نبیوں اور ولیوں پر امور غیبیہ کھلتے ہیں تو دوسرے لوگوں پر بھی کبھی کبھی کھل جاتے ہیں۔ بلکہ فاسقوں اور غایت درجہ کے بدکاروں کو بھی سچی خوابیں آجاتی ہیں اور بعض پرلے درجہ کے بدمعاش اور شریر آدمی اپنے ایسے مکاشفات بیان کیا کرتے ہیں کہ آخر وہ سچے نکلتے ہیں۔ پس
١٥
جبکہ ان لوگوں کے ساتھ جو اپنے تئیں نبی یا کسی اور خاص درجے کے آدمی تصور کرتے ہیں۔ ایسے ایسے بدچلن آدمی بھی شریک ہیں جو بدچلنیوں اور بدمعاشیوں میں پھنسے ہوئے شہرۂ آفاق ہیں تو نبیوں اور ولیوں کی کیا فضیلت باقی رہی۔
سو میں اس کے جواب میں کہتا ہوں کہ درحقیقت یہ سوال جس قدر اپنی اصل کیفیت رکھتا ہے۔ وہ سب درست اور صحیح ہے اور جبرائیلی نور کا چھیا لیسواں حصہ تمام جہاں میں پھیلا ہوا ہے۔ جس سے کوئی فاسق اور فاجر اور پرلے درجہ کا بدکار بھی باہر نہیں۔ بلکہ میں یہاں تک مانتا ہوں کہ تجربہ میں آچکا ہے کہ بعض اوقات ایک نہایت درجہ کی فاسقہ عورت جو کنجریوں کے گروہ میں سے ہے جس کی تمام جوانی بدکاری میں ہی گزری ہے۔ کبھی سچی خواب دیکھ لیتی ہے اور زیادہ تعجب یہ ہے کہ ایسی عورت کبھی ایسی رات میں بھی کہ جب وہ بادہ بسرو آشنابم کا مصداق ہوتی ہے، کوئی خواب دیکھ لیتی ہے اور وہ سچی نکلتی ہے۔
مگر یاد رکھنا چاہئے کہ ایسا ہی ہونا چاہئے تھا۔ کیونکہ جبرائیلی نور آفتاب کی طرح جو اس کا ہیڈکوارٹر ہے۔ تمام معمورہ عالم پر حسب استعداد ان کے اثر ڈال رہا ہے اور کوئی نفس بشر دنیا میں ایسا نہیں کہ بالکل تاریک ہو کم سے کم ایک ذرہ سی محبت وطن اصلی اور محبوب اصلی کی ادنیٰ سے ادنیٰ سرشت میں بھی ہے۔ اس صورت میں نہایت ضروری تھا کہ تمام بنی آدم پر یہاں تک کہ ان کے مجانین پر بھی کسی قدر جبرائیل کا اثر ہوتا اور فی الواقع ہے بھی۔
(توضیح المرام ص ٨٤، ٨٥، خزائن ج ٣ ص ٩٥)
ان سب عبارتوں کا حاصل مطلب یہ ہے کہ فرشتے اس شخص کے نزدیک ستاروں کی روحوں کا نام ہے اور جبرائیل سورج کی روح کا نام ہے اور ان کا زمین پر اترنا ناممکن ہے اور جو قرآن وحدیث میں اترنا بیان کیا گیا ہے۔ اس سے ان ارواح کا اثر اور عکس پڑنا مراد ہے اور یہ عکس اور اثر فرشتے کی طرف سے سب پر مساوی ڈالا جاتا ہے۔ کوئی اس سے محروم نہیں رہتا۔ یہاں تک کہ پاگل اور زانیہ عین حالت زنا میں بھی اس سے محروم نہیں رہتی۔ اگر تفاوت ہے تو صرف قابل کی استعداد کے تفاوت کی وجہ سے ہے اور انبیاء اور صالحین کو جو فرشتے نظر آتے ہیں وہ یہی عکس متمثل ہو کر نظر آتا ہے اور اس شخص نے ”دافع الوساوس میں صفحہ نمبر ٧٦ سے لے کر ١٤٣“ تک اسی مضمون پر بہت زور دیا ہے۔
اس کا جواب
اوّل تو اس میں ستاروں کا ذی روح ہونا ثبوت طلب امر ہے اور ایسے شخص کا قرآن شریف کا صرف نام ذکر کرنا کافی دلیل نہیں ہو سکتا۔ پھر اثر اندازی اور عکس پڑنا دوسرے ثبوت کا محتاج ہے۔ پھر ملائکہ کے لفظ سے خدا اور رسول کی یہی ستاروں کی روحیں مراد ہونا تیسرے ثبوت کی
١٦
حاجت رکھتا ہے۔ پھر اس عکس کا متشکل و متمثل ہو کر دکھائی دینا چوتھے ثبوت کا محتاج ہے۔ ورنہ خرط القتاد۔ مسلمانوں کے نزدیک قرآن وحدیث سند ہے۔ نہ کسی شخص کا عندیہ۔ لہٰذا اس شخص کا یہ کلام اگر خدائے تعالیٰ اور رسول کریم ﷺ کے کلام کے مخالف اور مغایر نہ ہوتا تو بھی سند نہ تھا اور جب مخالف اور مغایر بھی ہوا تو پھر کیونکر سند ہو سکتا ہے۔ اس مخالفت اور مغایرت کے وجوہ بیان کرنے سے پہلے دو لفظ کا مفہوم بیان کرنا سہولیت فہم مغایرت مذکورہ کے واسطے مناسب ہے۔
سو جاننا چاہئے کہ ساری مخلوق دو قسم پر منقسم ہے۔ ایک جوہر اور دوسرا عرض۔ جوہر اس کو کہتے ہیں جو اپنے وجود اور ہستی اور پایا جانے میں محل کا محتاج نہ ہو اور عرض وہ ہے جو اپنے وجود میں محل کا محتاج ہو۔ اس کی نظیر جسم اور جسم کا رنگ یا انسان اور انسان کا سایہ اور عکس جو آئینہ وغیرہ میں دکھائی دیتا ہے۔ جسم اور انسان جوہر ہے اور رنگ اور سایہ اور عکس عرض ہے۔ پھر اس عالم شہادت میں عرض کا جوہر اور جوہر کا عرض بن جانا قانون قدرت کے خلاف ہے۔
جن پر شارع کے کلام میں ملائکہ کا لفظ بولا گیا ہے ان میں اور جن کو
اس شخص نے ملائکہ سمجھا ہے ان میں مغایرت اور عدم اتحاد کے وجوہ
وجہ اوّل ....... اختلاف و تغایر امکنہ مصداق ہر دو اطلاق
اس وجہ کے بیان کی تفصیل یوں ہے کہ جن پر شارع کے کلام میں ملائکہ کا لفظ بولا گیا ہے وہ زمین اور پہاڑ اور بادل اور ہوا اور ساتوں آسمان اور آسمانوں سے باہر عرش اور بہشت اور دوزخ ان سب مواضع میں ہیں۔ جیسا کہ آیات اور احادیث مذکورہ بالا سے ثابت کیا گیا ہے اور جن کو اس شخص نے ملائکہ سمجھ لیا ہے وہ ان سب مواضع میں نہیں ہیں۔ لہٰذا وہ اور چیز ہے اور یہ اور چیز ہیں۔ علم ہیئت کی کتابوں میں لکھا ہے کہ پہلے آسمان پر فقط چاند ہے اور دوسرے آسمان پر عطارد اور تیسرے پر زہرہ اور چوتھے پر سورج اور پانچویں پر مریخ اور چھٹے پر مشتری اور ساتویں پر زحل اور آٹھویں پر جمیع ثوابت یعنی وہ ستارے جو حرکت نہیں کرتے اور نواں خالی اور قرآن و حدیث میں سات آسمان بیان کئے گئے ہیں اور ثعلبی نے کشاف کے حاشیہ میں کہا ہے کہ یہ آیت:
"ولقد زينا السماء الدنيا بمصابيح وجعلناها رجوما للشياطين (الملك:٥)"
﴿ہم نے آسمان دنیا کو چراغوں سے خوب زینت دی ہے (یعنی ستاروں سے) اور ہم نے وہ شیطانوں کو مارنے کی چیز بنائے ہیں۔﴾
١٧
اہل نجوم اور اہل علم ہیئت کی تکذیب کرتے ہیں جو پہلے آسمان کے سوائے دوسرے آسمانوں پر بھی ستاروں کے ہونے کے قائل ہیں۔ (از ضمیمہ جامع البیان) الغرض زمین اور پہاڑ اور بادل اور ہوا میں فرشتے تو ہیں اور ارواح کواکب نہیں ہیں اور ہر ایک آسمان پر فرشتے بکثرت ہیں اور ارواح کواکب بایں حیثیت نہیں ہیں اور جنت اور دوزخ میں فرشتے ہیں اور ارواح کواکب نہیں ہیں اور عرش کے حامل فرشتے ہیں اور ارواح کواکب وہاں کوئی نہیں ہیں تو دونوں میں مغایرت ثابت ہوئی۔
وجہ دوم ....... جن افعال و آثار وغیرہ کا صدور ان ملائکہ سے جن کے وجود کے مسلمان لوگ قائل ہوئے ہیں، پایۂ ثبوت کو پہنچ چکا ہے۔ ان افعال و آثار وغیرہ کا صدور اس شخص کے مجوزہ ملائکہ سے محال ہے۔ اس اجمال کی تفصیل یوں ہے کہ قرآن اور حدیث میں جن پر ملائکہ کا لفظ بولا گیا ہے۔ وہ متمثل شدہ آنکھ سے دیکھے گئے ہیں اور حس لامسہ سے محسوس ہو چکے ہیں اور کان سے ان کی آواز سنی گئی ہے اور وہ پہاڑ کو اٹھا کر پھینک سکتے ہیں وغیرہ وغیرہ۔
افعال و آثار جو آیات اور احادیث منقولہ بالا سے ثابت ہوتے ہیں اور یہ ان کے جواہر ہونے کی قطعی دلیل ہے اور یہ شخص اپنے مجوزہ ملائکہ کا اپنے محل ستاروں سے جدا ہونا ناممکن مان چکا ہے تو اس کے نزدیک یہ سب افعال و آثار وغیرہ عکس اور اثر سے صادر ہوئے اور یہ عکس اور اثر عرض ہے اور عرض کا جوہر بن جانا محال ہے تو دونوں میں مغایرت ثابت ہوئی۔
وجہ سوم....... اس شخص نے اپنے مجوزہ ملائکہ کے نزول سے جو معنی مراد لئے ہیں۔ اس معنی کو ایسا عام ٹھہرایا ہے کہ عمر بھر زنا کرنے والی زانیہ پر عین حالت زنا میں بھی جبرائیل کا اترنا خود مان لیا ہے اور جس کو قرآن وحدیث میں جبرائیل لکھا گیا ہے وہ جبرائیل ایسے گھر میں جس میں افضل البشر حضرت محمد ﷺ تھے اور وہ آپ کے پاس آنے کا وعدہ بھی کر گیا تھا اور کتے کا بچہ گھر میں ہونے کا علم آنحضرت ﷺ کو بھی نہ تھا۔ پھر بھی افضل البشر والے گھر میں کتے کا بچہ موجود ہونے کے سبب سے وہ داخل نہیں ہوا اور داخل نہ ہونے کا سبب پوچھا گیا تو جواب دیا کہ جس گھر میں کتا یا تصویر ہو، اس میں ہم داخل نہیں ہوا کرتے۔ حدیث نمبر ٢ ص ٤٢ ملاحظہ ہو اور رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس گھر میں کتا یا تصویر یا جنبی ہو، اس میں فرشتے نہیں آتے۔ (حدیث ابوداؤد ونسائی مشکوۃ ص ٣٧٤)
بلکہ افضل البشر کی ان سب حالتوں میں جن میں آپ کے نزدیک کتا و تصویر بھی نہ ہو اور آپ جنبی بھی نہ ہوں بلکہ اعلیٰ درجہ کی طہارت غسل و وضو بھی کیا ہوا ہو اور اعلیٰ درجہ کی خوشبو بھی لگائی ہوئی ہو، نہیں آتا بلکہ گاہے آتا ہے جب خدا تعالیٰ کا حکم ہو اور گاہے نہیں آتا ہے جب حکم نہ ہو۔ رسول اللہ ﷺ نے جبرائیل ؑ سے پوچھا کہ جتنی بار آپ ہماری ملاقات کو آتے ہیں۔ اس
١٨
سے زیادہ یا کیوں نہیں آتے؟ تب یہ آیت ايدينا وما خلفنا وما بین ذالك وم مگر تیرے رب کے حکم سے اس کا ہی جو مابین ہے اور تیرا رب بھولنے والا نہیں ہے کتاب التفسیر صحیح بخاری گنجائش نہیں ہے۔ معلوم ہوا کہ جن کو ہے اور جن کو یہ شخص ملائکہ کہتا ہے، وہ اور
وجہ چہارم ....... افلاک و حدیث میں جبرائیل کہا گیا ہے۔ اس کے قرآن وحدیث سے بتواتر ثابت ہے۔
فترت وحی کی حدیث مشہور بھی ملاحظہ ہو الوحی ) اور اس شخص نے اپنے مجوزہ جبرائیل نزول کذائی کو منزل علیہ سے ایک آن غیر ص ٢٧٦ تا ١٤، خزائن ج ٥ ص ایضاً) تو دونوں ج
وجہ پنجم ....... نزول وحی کے وقت رسول اللہ مجوزہ اس شخص کے پڑنے کے وقت کسی پر ہے۔ عائشہؓ نے کہا کہ سخت سردی میں وحی ا ٹپکنے کے وقت آپ ﷺ کی پیشانی مبارک عبادہ بن صامتؓ نے کہا کہ وحی اترنے کے چہرہ متغیر ہو جاتا تھا۔ (حدیث مسلم مشکوۃ ص قوی انسانی مراد لیتا ہے۔ یہ سب دلائل اس اس ساری تقریر سے یقینی طور پ ماننے کا اظہار کرتا ہے اور جو دراصل فرشتے اور نبی ورسول بن کر بلیغ تقریروں سے لوگا ہے کہ سارے آسمانی دینوں کی بنا ملائکہ قائل نہ ہو۔ اس کو کسی آسمانی دین کا قائل
سے زیادہ بار کیوں نہیں آتے؟ تب یہ آیت اتری: ”وما نتنزل الا بامر ربك له ما بين ايدينا وما خلفنا وما بين ذالك وما كان ربك نسيا (مریم: ٦٤) ﴿ہم نہیں اترتے مگر تیرے رب کے حکم سے اس کا ہی جو ہمارے آگے ہے اور جو ہمارے پیچھے ہے اور جو ہمارے مابین ہے اور تیرا رب بھولنے والا نہیں ہے۔﴾
کتاب التفسیر صحیح بخاری اس بارے میں اور بھی بہت دلائل ہیں۔ جن کی اس جگہ گنجائش نہیں ہے۔ معلوم ہوا کہ جن کو رسول اللہ ﷺ اور آپ کی امت ملائکہ کہتے ہیں وہ اور چیز ہے اور جن کو یہ شخص ملائکہ کہتا ہے، وہ اور چیز ہے۔
وجہ چہارم...... انفکاک وعدم انفکاک نزول ملک نازل از منزل علیہ یعنی جس کو قرآن و حدیث میں جبرائیل کہا گیا ہے۔ اس کے نزول کا رسول اللہ ﷺ سے جدا ہونا (یعنی گاہے نہ اترنا) قرآن وحدیث سے بتواتر ثابت ہے۔ جس کا کسی قدر بیان وجہ سوم میں بھی ہوچکا ہے اور دوسالہ فترت وحی کی حدیث مشہور بھی ملاحظہ ہو۔ (حدیث بخاری و مسلم مشکوۃ ص ٥٢٢، باب المبعث وبدأ الوحی) اور اس شخص نے اپنے مجوزہ جبرائیل کے نزول سے جو اثر اندازی مراد ٹھہرائی ہے۔ اس نزول کذائی کو منزل علیہ سے ایک آن غیر قار بھی جدا ہونا تسلیم نہیں کیا۔ ملاحظہ ہو (دافع الوساوس ص ٢٦ تا ٣٣ ، خزائن ج ٥ ص ایضاً) تو دونوں جبرائیلوں میں مغایرت ثابت ہوئی۔
وجہ پنجم...... نزول وحی کے وقت رسول اللہ ﷺ پر ایک ایسی حالت طاری ہو جاتی تھی جو عکس اور اثر مجوزہ اس شخص کے پڑنے کے وقت کسی پر طاری نہیں ہوتی تو نزول وحی عکس اور اثر اندازی کا غیر ہے۔ عائشہؓ نے کہا کہ سخت سردی میں وحی اترنے کے وقت حضرت ﷺ کو میں نے دیکھا کہ وحی اتر چکنے کے وقت آپ ﷺ کی پیشانی مبارک سے پسینہ جاری ہو جاتا تھا۔ حدیث بخاری ومسلم و عبادہ بن صامتؓ نے کہا کہ وحی اترنے کے وقت حضرت ﷺ کو بہت تکلیف پہنچتی تھی اور آپ کا چہرہ متغیر ہو جاتا تھا۔ (حدیث مسلم مشکوۃ ص ٥٢٢، باب المبعث وبدأ الوحی) اور جو شخص ملائکہ کے لفظ سے قویٰ انسانی مراد لیتا ہے۔ یہ سب دلائل اس پر بھی حجت ہیں۔
اس ساری تقریر سے یقینی طور پر ثابت ہو گیا ہے کہ یہ شخص اپنے من گھڑت فرشتوں کے ماننے کا اظہار کرتا ہے اور جو دراصل فرشتے ہیں۔ ان کے ماننے سے خود بھی انکار کا اشتہار دیتا ہے اور نبی ورسول بن کر ملمع تقریروں سے لوگوں سے بھی انکار کروانا چاہتا ہے اور یہ پہلے بیان ہو چکا ہے کہ سارے آسمانی دینوں کی بنا ملائکہ کی وساطت پر مبنی ہے۔ پھر جو شخص ملائکہ کے وجود کا ہی قائل نہ ہو۔ اس کو کسی آسمانی دین کا قائل ومعترف خیال کرنا کیونکر صحیح ہو سکتا ہے اور ظاہر داریوں
١٩
کے دیگر اسباب ہیں جن کا بیان کرنا اس تحریر کی علت غائی کو مضر خیال کر کے ملتوی رکھا گیا ہے۔ اخیر میں اس امر کا بیان کرنا بھی مجملہ خیر خواہی مخلوق خدا کے ہے کہ جن صاحبوں کو قرآن وحدیث اور بزرگان دین کے مذاہب مستحضر نہ ہوں ان کے ایمان اور روح کو اس شخص کی تحریر کا دیکھنا اور تقریر کا سننا ایسا مضر ہے جیسا انسانوں کے جسم کو زہر قاتل۔ اس کے کلام کے اکثر فقرات دھوکہ بازی اور حیلہ سازی سے مملو ہوتے ہیں کوئی تعجب نہ کرے۔
توضیح المرام کی عبارت منقولہ بالا میں عبارت نمبر ٣ پر دوبارہ نظر ڈالنے کی تکلیف گوارہ کیجئے۔ خدائے پاک اور اس کا رسول ﷺ تو ملائکہ کو اجنحہ یعنی پروں والی مخلوق فرماتے ہیں۔ جن کی شان پرواز ہے اور رسول کریم ﷺ فرماتے ہیں کہ ان کی پیدائش نور سے ہے۔ یہ شخص خاکی انسان کے پاؤں نوری فرشتہ کو لگا ان پاؤں پر ان کو انسان کی چال چلاتا ہے اور پھر قابل تعزیر رائے سے شارع کا اس طرح مقابلہ کرتا ہے کہ ملک الموت کا آن واحد میں امکنہ متباعدہ میں پہنچ سکنا ناممکن ہے۔ یہ کون سی عقل اور نیچر ہے کہ جس چیز کی ماہیت اور حقیقت اور اصلیت معلوم نہ ہو اس کی رفتار کو انسان کی رفتار سے تشبیہ دی جائے اور خدا تعالیٰ اور رسول کریم ﷺ کے کلام کے آگے ایسی چالاکیاں کیا خدا تعالیٰ اور رسول ﷺ کو ماننے والوں کی شان ہے؟ ہرگز نہیں۔
کیا خدا تعالیٰ کی ساری مخلوقات میں سے ملک الموت کی رفتار کو تشبیہ دینے کے واسطے اور کوئی چیز نہ تھی کیا نوری کی حرکت کو نوری حرکت سے جو اس کا اصل ہے تشبیہ دینا ناجائز تھا۔ کیا کواکب اور آفتاب کی کرنیں زمین پر گرنے سے یا بجلی کی رفتار اور چمک سے یا انسانی آنکھ کے شعاع سے یا تار بجلی کی حرکت سے تشبیہ دینے سے کوئی مانع تھا۔ کیا اس تشبیہ دینے کے وقت یہ سب چیزیں ذہن عالی سے بھاگ گئی تھیں۔ بھاگ تو نہیں گئی تھیں مگر فی قلوبہم مرض کچھ نہیں سوجھنے دیتا۔
کیا ملائکہ کے وجود اور افعال و آثار کی نسبت اس شخص کے خیالات نیچر کے موافق ہیں؟ ہرگز نہیں۔
یہ شخص اس سے بھی بڑھ کر ایسی ایسی جرأت کرتا ہے جو ادنیٰ مومن کی شان سے کروڑوں کوس بعید ہے۔ خدا تعالیٰ اور رسول کریم ﷺ کے جس کلام کو چاہتا ہے خلاف واقعہ پیرایہ میں بیان کرکے پیٹ بھر کر تکذیب کر لیتا ہے اور اپنی ایسی عقل کو جو تخمیناً چالیس برس کے عرصہ تک صرف شکم پروری کا کوئی جائز ذریعہ پیدا نہیں کر سکی، جس کو حیوان لایعقل بھی پیدا کر لیتے ہیں۔ خدا پاک اور افضل البشر ﷺ کے کلام کی کسوٹی بنا رکھا۔ اگر اس عاجز رب قدیر نے چاہا تو یکے بعد دیگر ایسی ایسی چار پانچ تحریرات میں اس کی قلعی بخوبی کھل جائے گی۔ ناظرین بھی اس عاجز کے حق میں دعا کریں اور اس کے بعد دوسری بحث متعلق بہ مسئلہ نبوت ورسالت کی امید رکھیں۔ اللہ تعالیٰ آسان کرے۔ آمین ! تمت !
٢٠
لاہور اور قا کے موقع خدمت حضرت مولانا
ائی کو مضر خیال کر کے ملتوی رکھا گیا ہے۔ کے ہے کہ جن صاحبوں کو قرآن وحدیث ن اور روح کو اس شخص کی تحریر کا دیکھنا اور ل۔ اس کے کلام کے اکثر فقرات دھوکہ
نبر ٣ پر دوبارہ نظر ڈالنے کی تکلیف کو گوارہ یعنی پردوں والی مخلوق فرماتے ہیں۔ جن کی پیدائش نور سے ہے۔ یہ شخص خاکی انسان ل چلاتا ہے اور پھر قابل تحریر رائے سے واحد میں مکہ متباعدہ میں پہنچ سکتا ناممکن حقیقت اور اصلیت معلوم نہ ہو اس کی رفتار رسول کریم ﷺ کے کلام کے آگے ایسی ن ہے؟ ہرگز نہیں۔ الموت کی رفتار کو تشبیہ دینے کے واسطے اور س کا اصل ہے، تشبیہ دینا ناجائز تھا۔ کیا ا رفتار اور چمک سے یا انسانی آنکھ کے تھا۔ کیا اس تشبیہ دینے کے وقت یہ سب مگر فی قلوبہم مرض کچھ نہیں سوجھنے دیتا۔ الات نیچر کے موافق ہیں؟ ہرگز نہیں۔ ہے جو ادنیٰ مومن کی شان سے کروڑوں کوس برخلاف واقعہ پیرایہ میں بیان کر کے پیٹ ں کے عرصہ تک صرف شکم پروری کا کوئی لیتے ہیں۔ خدا پاک اور افضل البشر ﷺ ے بعد دیگر ایسی ایسی چار پانچ تحریرات میں ق میں دعا کریں اور اس کے بعد دوسری سان کرے۔ آمین یارب!
مَا كَانَ مُحَمَّدٌ أَبَا أَحَدٍ مِّن رِّجَالِكُمْ وَلَٰكِن رَّسُولَ اللَّهِ وَخَاتَمَ النَّبِيِّينَ
خاتم النبیین
ﷺ
لاہور اور قادیان کے سالانہ جلسہ
کے موقع پر جماعت احمدیہ کی
خدمت میں ہمارا علمی ہدیہ
حضرت مولانا سید نور الحسن شاہ بخاری رحمۃ اللہ علیہ
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
مسیح موعود کی پیشگوئی متعلقہ مصلح موعود کی منصفانہ تحقیق
مرزا قادیانی کی جلیل القدر پیش گوئیوں میں مصلح موعود کے متعلق پیش گوئی ایک عظیم الشان پیش گوئی ہے۔ اس وقت ہمیں بنظر عدل و تحقیق یہ دیکھنا ہے کہ کیا یہ عظیم الشان پیش گوئی پوری ہوئی؟ اور کیا مرزا بشیر الدین محمود واقعی مصلح موعود ہیں؟ جنہوں نے بڑی شدومد سے مصلح موعود ہونے کا دعویٰ کیا ہے۔
اس تحقیق کے لئے طویل بحث کی ضرورت ہے تاکہ ہم کسی صحیح، قطعی اور لاجواب نتیجہ پر پہنچ سکیں۔ گو حسب معمول اس مسئلہ میں بھی مرزا قادیانی پر ’’الہامات ربانی‘‘ کی جھڑی لگ گئی۔ لیکن اس سلسلہ میں سب سے پہلا ارشاد یہ ہے۔
- ......١ ’’پہلی پیش گوئی بالہام اللہ تعالیٰ و اعلامہ عزوجل۔ خدائے رحیم و کریم نے مجھ کو اپنے
الہام سے مخاطب کر کے فرمایا: ’’تجھے بشارت ہو کہ ایک وجیہہ اور پاک لڑکا تجھے دیا جائے گا...... مبارک وہ جو آسمان سے آتا ہے۔ اس کے ساتھ فضل ہے۔ جو اس کے آنے کے ساتھ آئے گا۔ وہ سخت ذہین و فہیم ہوگا اور دل کا حلیم اور علوم ظاہری و باطنی سے پر کیا جائے گا اور وہ تین کو چار کرنے والا ہوگا۔ دوشنبہ ہے مبارک دوشنبہ‘‘
(اشتہار ٢٠ فروری ١٨٨٦ء، مجموعہ اشتہارات ج١ ص١٠١)
- ......٢ اس الہام (مندرجہ اشتہار ٢٠؍فروری ١٨٨٦ء) کے ایک ماہ بعد مرزا قادیانی کا ایک اور
اشتہار شائع ہوتا ہے، اس میں ہے: ’’اس جگہ آنکھیں کھول کر دیکھ لینا چاہئے کہ یہ صرف پیش گوئی ہی نہیں بلکہ ایک عظیم الشان نشان آسمانی ہے۔ جس کو خدائے کریم نے ظاہر فرمایا ہے ہم عام اشتہار دیتے ہیں کہ ابھی تک جو ٢٢؍مارچ ١٨٨٦ء ہے، ہمارے گھر میں کوئی لڑکا بجز پہلے لڑکوں کے جن کی عمر ٢٠، ٢٢ سال سے زیادہ ہے، پیدا نہیں ہوا۔ لیکن ہم جانتے ہیں کہ ایسا لڑکا بموجب وعدہ الٰہی نو برس کے عرصہ تک ضرور پیدا ہوگا جلد ہوخواہ دیر سے، بہرحال اس عرصہ کے اندر پیدا ہو جائے گا۔‘‘
(اشتہار واجب الاظہار مورخہ ٢٢؍مارچ ١٨٨٦ء، مجموعہ اشتہارات ص١١٢، ج١)
- ......٣ ’’واضح ہو کہ اشتہار (٢٢؍مارچ ١٨٨٦ء) پر نکتہ چینی کی گئی ہے کہ ٩ برس کی حد جو پسر موعود
کے لئے بیان کی گئی ہے۔ یہ بڑی گنجائش کی جگہ ہے۔ ایسی لمبی میعاد تک تو کوئی نہ کوئی لڑکا پیدا ہو سکتا ہے۔
٢
اب بعد اشاعت اشتہار (مندرجہ بالا ٢٢؍ مارچ ١٨٨٦ء) دوبارہ اس کے انکشاف کے لئے جناب الٰہی میں توجہ کی گئی تو آج ٨؍ اپریل ١٨٨٦ء میں اللہ جل شانہ کی طرف سے اس عاجز پر اس قدر کھل گیا ہے کہ ایک لڑکا بہت ہی قریب آنے والا ہے۔ جو ایک مدت حمل سے تجاوز نہیں کر سکتا...... چونکہ یہ عاجز ایک بندہ ضعیف مولیٰ کریم جل شانہ کا ہے اس لئے اسی قدر ظاہر کرتا ہے جو منجانب اللہ ظاہر کیا گیا۔ آئندہ اس سے زیادہ منکشف ہوگا وہ بھی شائع کیا جائے گا۔‘‘
(اشتہار صداقت آثار مورخہ ٨؍ اپریل ١٨٨٦ء، مجموعہ اشتہارات ص١١٤، ج١)
خدا کی قدرت سے مرزا قادیانی کے گھر اس حمل سے لڑکے کی بجائے لڑکی ہوئی۔ لوگوں نے آڑے ہاتھوں لیا تو پھر ایک اشتہار میں لکھا۔
٤......’’ایک صاحب لکھتے ہیں کہ تمہاری پیش گوئی جھوٹی نکلی اور دختر پیدا ہوئی اور تم حقیقت میں بڑے فریبی، مکار اور دروغ گو آدمی ہو۔‘‘ بھلا کوئی اس سے پوچھے کہ وہ فقرہ یا لفظ کہاں ہے؟ جو کسی اشتہار میں اس عاجز کے قلم سے نکلا ہے جس کا یہ مطلب ہو کہ لڑکا اسی حمل میں پیدا ہوگا۔ ہاں اس اشتہار (٢٢؍ مارچ ١٨٨٦ء) میں ایک یہ فقرہ ذوالوجوہ درج ہے کہ ’’مدت حمل سے تجاوز نہیں کرے گا۔‘‘ مگر کیا اس قدر فقرہ سے یہ ثابت ہو گیا کہ مدت حمل سے ایام باقی ماندہ حمل موجودہ مراد ہیں۔ کوئی اور مدت مراد نہیں۔ اگر اس فقرہ کے سر پر ’’اس‘‘ کا لفظ ہوتا تو بھی اعتراض کرنے کے لئے کچھ گنجائش نکل سکتی تھی...... دانشمند آدمی سمجھ سکتا ہے کہ کسی ذوالوجوہ فقرے کے معنی کرنے کے وقت سب وہ احتمالات مدنظر رکھنے چاہئیں جو اس فقرہ سے پیدا ہو سکتے ہیں۔ سو فقرہ مذکورہ ایک ذوالوجوہ فقرہ ہے جس کی ٹھیک ٹھیک وہی تشریح ہے جو میر عباس علی شاہ صاحب نے اپنے اشتہار (٨؍ جون ١٨٨٦ء) میں کی۔‘‘
(اشتہار بحق اخیار واشرار یکم ستمبر ١٨٨٦ء مجموعہ اشتہارات ج١ ص١٢٥، ١٢٦)
اب ذرا میر عباس علی شاہ صاحب کا اشتہار بھی دیکھ لینا چاہئے۔
٥......’’پہلا اشتہار جس کو مرزا قادیانی نے ٢٠؍ فروری کو بمقام ہوشیار پور شائع کیا تھا۔ اس میں کوئی تاریخ درج نہیں کہ وہ لڑکا کب اور کس سال پیدا ہوگا۔ دوسرا (اشتہار ٢٢؍ مارچ ١٨٨٦ء) کو مرزا قادیانی کی طرف سے شائع کیا گیا۔ اس میں بتصریح تمام کھول دیا گیا کہ وہ لڑکا نو برس کے
٣
اندر پیدا ہو جائے گا۔ اس میعاد سے تخلف نہیں کرے گا۔ لیکن تیسرا اشتہار جو مرزا قادیانی کی طرف سے ٨؍ اپریل ١٨٨٦ء کو جاری ہوا، اس کی الہامی عبارت ذوی الوجوہ اور کچھ گول گول ہے اور ...... الہامات ربانی کی عبارتیں اس پایہ اور عزت کی ہوتی ہیں جن کے لفظ لفظ پر بحث کرنا چاہئے۔ سو الہامی عبارت میں ”اس“ کا لفظ متروک ہونا صریح بتلا رہا ہے کہ اس جگہ حمل موجودہ مراد نہیں لیا گیا اور اس فقرہ کے دو معنی ہیں۔ تیسرے اور کوئی ہو ہی نہیں سکتے۔ اول یہ کہ یہ مدت موجودہ حمل سے تجاوز نہیں کر سکتا۔ یعنی ٩ برس سے کیونکہ اس خاص لڑکے کے حمل کے لئے وہی مدت موعود ہے (تو پھر لوگوں کی طرف سے نو برس کی لمبی میعاد پر نکتہ چینی کے پیش نظر جناب الٰہی میں مرزا قادیانی کی دوبارہ توجہ کا کیا نتیجہ؟ بخاری) دوسرے یہ معنی کہ مدت معہودہ حمل سے تجاوز نہیں کر سکتا۔ سو مدت معہودہ حمل کی اکثر طبیبوں کے نزدیک ڈھائی برس بلکہ بعض کے نزدیک انتہائی مدت حمل تین برس بھی ہے۔“
(اشتہار واجب الاظہار منجانب سید عباس علی ١٨؍ جون ١٨٨٦ء مجموعہ اشتہارات ج ١ ص ١٢٨)
خدا خدا کر کے مرزا قادیانی کے گھر ”وہ لڑکا“ پیدا ہوا اور مرزا قادیانی نے اشتہار دیا۔
- ٦....... ”اے ناظرین! میں آپ کو بشارت دیتا ہوں کہ وہ لڑکا جس کے تولد کے لئے میں
نے اشتہار ٨؍ اپریل ١٨٨٦ء میں پیش گوئی کی تھی۔ آج ١٦ ذی العقدہ ١٣٠٤ھ مطابق ٧؍ اگست ١٨٨٧ء میں رات کے ڈیڑھ بجے وہ مولود مسعود پیدا ہو گیا۔“
(اشتہار خوشخبری مورخہ ٧؍ اگست ١٨٨٧ء، مجموعہ اشتہارات ج ١ ص ١٤١)
اس پر مسعود و معہود (بشیر احمد) کے بعد ایک مزید لڑکے کا وعدہ ہوتا ہے۔ مرزا قادیانی لکھتا ہے:
ایک اور لڑکا محمود احمد
- ٧....... ”سب ضرورتوں کو خدا تعالیٰ نے پورا کر دیا تھا اولاد بھی عطا کی اور ان میں سے وہ لڑکا
(بشیر احمد۔ بخاری) بھی ہے۔ جو دین کا چراغ ہوگا۔ بلکہ ایک اور لڑکا ہونے کا قریب مدت تک وعدہ دیا جس کا نام محمود احمد ہوگا۔“ (اشتہار ١٥؍ جولائی ١٨٨٨ء، مجموعہ اشتہارات ج ١ ص ١٦٢) خدا کی قدرت دیکھئے کہ وہ معہود موعود بشیر احمد بقضائے الٰہی انتقال کر دیا۔ اس پر مرزا قادیانی نے یوں تحریر کیا۔
- ٨....... ”خدا تعالیٰ نے بعض الہامات میں یہ ہم پر ظاہر کیا تھا کہ یہ لڑکا جو فوت ہو گیا ہے۔
استعدادوں میں اعلیٰ درجہ کا ہے اور دنیوی جذبات بکلی اس کی فطرت سے مسلوب اور دین کی چمک اس میں بھری ہوئی ہے اور روشن فطرت اور عالی گوہر اور صدیقی روح اپنے اندر رکھتا ہے۔ سو جو کچھ خدا تعالیٰ نے اپنے الہامات کے ذریعہ سے اس کی صفات ظاہر کی یہ سب اس کی صفائی استعداد کے متعلق ہے۔ جن کے متعلق ظہور فی الخارج کوئی ضروری نہیں۔“
(سبز اشتہار، مجموعہ اشتہارات ج١ ص١٦٩)
بشیر احمد کے انتقال پر لوگوں نے جو اثر لیا وہ بھی دیکھ لینا چاہئے۔
- الف....... خود مرزا قادیانی مولوی نور الدین کو لکھتے ہیں: ”اس واقعہ سے جس قدر مخالفین کی
زبانیں دراز ہوں گی اور موافقین کے دلوں میں شبہات پیدا ہوں گے۔ اس کا اندازہ نہیں ہو سکتا۔“
(مکتوبات احمدیہ ج٥ نمبر٢، مکتوبات احمد ج٢ ص٧١، طبع جدید مکتوب نمبر٤٧)
- ب....... ”حکیم نور الدین صاحب نے مرزا قادیانی کو لکھا کہ اگر اس وقت میرا اپنا بیٹا مر جاتا تو
میں کچھ پروا نہ کرتا۔ مگر بشیر اول فوت نہ ہوتا اور لوگ اس ابتلاء سے بچ جاتے۔“
- ج....... ”میاں محمد خان نے (مرزا قادیانی) کو لکھا تھا کہ اگر میرا ایک ہزار بیٹا ہوتا اور وہ
میرے سامنے قتل کر دیا جاتا تو مجھے اس کا افسوس نہ ہوتا۔ ہاں بشیر کی وفات سے لوگوں کو ابتلاء نہ آتا۔“
(ارشاد میاں محمود احمد خلیفہ قادیان مندرجہ الفضل ج٨ نمبر١٥)
- د....... ”جب شروع ١٨٨٦ء میں حضرت مسیح موعود کو اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے ایک عظیم
الشان بیٹے کی بشارت دی...... لوگ نہایت شوق کے ساتھ اس پسر موعود کی راہ دیکھنے لگے...... ان دنوں حضور کے ہاں بچہ پیدا ہونے والا تھا۔ مگر اللہ نے بھی ایمان کے رستہ میں ابتلاء رکھے ہیں۔ سو قدرت خدا کہ چند ماہ کے بعد یعنی مئی ١٨٨٨ء میں بچہ پیدا ہوا تو وہ لڑکی تھی۔ اس پر خوش اعتقادوں میں مایوسی اور بد اعتقادوں اور دشمنوں میں ہنسی اور استہزاء کی ایک ایسی لہر اٹھی کہ جس نے ملک میں ایک زلزلہ پیدا کر دیا۔
کچھ عرصہ بعد یعنی اگست ١٨٨٨ء میں حضرت کے ہاں ایک لڑکا پیدا ہوا۔ اس کا نام بشیر احمد رکھا گیا۔ مگر قدرت خدا کہ ایک سال کے بعد یہ لڑکا فوت ہو گیا۔ بس پھر کیا تھا ملک میں
٥
ایک طوفان عظیم برپا ہوا اور سخت زلزلہ آیا کہ ایسا زلزلہ اس سے قبل کبھی نہ آیا تھا۔ نہ اس کے بعد آیا۔ بہر حال اس واقعہ پر ملک میں ایک سخت شور اٹھا اور کئی خوش اعتقادوں کو ایسا دھکا لگا کہ وہ پھر نہ سنبھل سکے۔ اس کے بعد پھر عامۃ الناس میں پسر موعود کی آمد آمد کا اس شد و مد سے انتظار نہیں ہوا۔“ (مخالفین وموافقین کے یہ تاثرات بتا رہے ہیں کہ مرزا قادیانی نے دنیا کو یہ ذہن نشین کر دیا تھا کہ پسر موعود یہی بشیر احمد ہے)
(سیرۃ المہدی حصہ اول ص ٩٣، ٩٥، روایت ١١٥)
اب مرزا قادیانی فرماتے ہیں۔
- ٩...... ”خدا تعالیٰ نے مجھ پر یہ بھی ظاہر کیا کہ ٢٠؍ فروری ١٨٨٦ء کی پیش گوئی حقیقت میں دو
سعید لڑکوں کے پیدا ہونے پر مشتمل تھی اور اس عبارت تک کہ مبارک وہ جو آسمان سے آتا ہے، پہلے بشیر کی نسبت پیش گوئی ہے۔ جو روحانی طور پر نزول رحمت کا موجب ہوا اور اس کے بعد کی عبارت دوسرے بشیر کی نسبت ہے (جو آئندہ پیدا ہوگا)“
(سبز اشتہار مورخہ یکم دسمبر ١٨٨٨ء، خزائن ج ٢ ص ٤٦٣ حاشیہ )
- ١٠...... اس کے دو دن بعد مرزا قادیانی، حکیم نورالدین کو لکھتے ہیں: ”٢٠؍ فروری ١٨٨٦ء کے
اشتہار میں کہ بظاہر ایک لڑکے کی بابت پیش گوئی سمجھی گئی تھی۔ وہ درحقیقت دولڑکوں کی بابت پیش گوئی تھی۔“
(خط مورخہ ٣؍ دسمبر ١٨٨٨ء مکتوبات احمد ج٢ ص ٧٥، طبع جدید مکتوب نمبر ٤٨)
اب یہاں ناظرین کرام ٢٠؍ فروری ١٨٨٦ء کی پیش گوئی جو ہم مضمون کے شروع میں نقل کر چکے ہیں۔ ملاحظہ فرمائیں تو لطف آجائے گا۔ ”ایک وجیہہ اور پاک لڑکا تجھے دیا جائے گا۔ مبارک وہ جو آسمان سے آتا ہے اس کے ساتھ فضل ہے۔ جو اس کے آنے کے ساتھ آئے گا۔“
اب مبارک وہ جو آسمان سے آتا ہے تو ایک لڑکے کے لئے ہے اور اس کے ساتھ فضل ہے۔ دوسرے کے لئے! لیکن چوتھی جماعت کا ایک نالائق طالب علم اگر نادانی سے پوچھ بیٹھے کہ مبارک وہ جو آسمان سے آتا ہے۔ اس کے ساتھ فضل ہے، میں اس کی ضمیر کا مرجع کیا ہے؟ تو کیا جواب ہوگا؟ سوائے اس کے کہ ہم کہہ دیں یہ ادب، یہ زبان دانی، ہندوستانی ”خدا“ اور قادیانی ”نبی“ کا خاصہ ہے۔ اچھے لڑکے کلام خدا اور رسول میں کلام نہیں کیا کرتے۔
ہم یہاں از راہ ہمدردی و خیر خواہی...... تا ہماری دیسی نبوت پر ادبی کم مائیگی اور ناسمجھی
٦
کا الزام عائد نہ ہو۔ اپنے مرزائی دوستوں سے عرض کریں گے کہ وہ ایک مسلسل و مربوط عبارت کو دو ٹکڑے کرنے کی بجائے یہ کہیں کہ ”فضل“ اصطلاحی معنی (برکت) کی بجائے لغوی معنی (زیادتی) میں ہے اور ساتھ بعد کے معنی ہیں۔ اس صورت میں ہر دو مقام پر ”اس“ کی ضمیر کا مرجع وہی رہے گا جو ماقبل میں مذکور ہے اور دوسرے بشیر کے آنے کا ذکر بھی بصراحت نکل آئے گا۔ فہو المراد دیکھئے۔ اس مقبول و معقول تاویل کے پیش کرنے پر بارگاہ خلافت سے ہمارے لئے کیا انعام تجویز ہوتا ہے۔ اگر ہم سے پوچھا جائے تو عرض کریں گے:
کہ رہے چشم خریدار پہ احساں میرا
اس مرحلہ پر موجودہ خلیفہ قادیاں جو مصلح موعود ہونے کے مدعی ہیں، پیدا ہوتے ہیں مگر مرزا قادیانی کا الہام اس سلسلہ میں چونکہ دو تین دفعہ ٹھوکر کھا چکا تھا۔ اس لئے مرزا قادیانی گول مول الفاظ میں تحریر فرماتے ہیں۔
- ١١...... ”آج ١٢؍ جنوری ١٨٨٩ء میں مطابق ٩؍ جمادی الاول ١٣٠٦ھ روز شنبہ اس عاجز
کے گھر میں بفضلہ تعالیٰ ایک لڑکا پیدا ہو گیا ہے۔ کامل انکشاف کے بعد پھر اطلاع دی جائے گی۔ مگر ابھی تک مجھ پر یہ نہیں کھلا کہ یہی لڑکا مصلح موعود اور عمر پانے والا ہے، یا وہ کوئی اور ہے۔“
(مرزا قادیانی کا اشتہار منقول از رسالہ ریویو آف ریلیجنز قادیان ص ١٧٦، ج ٣ نمبر ٥، مجموعہ اشتہارات ج ١ ص ١٩١)
اس کے بعد مرزا قادیانی فرماتے ہیں۔
- ١٢...... ”ایک اور الہام جو ٢٠؍ فروری ١٨٨٦ء میں شائع ہوا تھا اور وہ یہ ہے کہ خدا تین کو چار
کرے گا۔ اس وقت ان تین لڑکوں (محمود، بشیر، شریف) کا جو اب موجود ہیں، نام و نشان نہ تھا۔ اور اس الہام کے معنی یہ تھے کہ تین لڑکے ہوں گے اور پھر ایک اور ہو گا جو تین کو چار کر دے گا۔ سو ایک بڑا حصہ اس کا پورا ہو گیا۔ یعنی خدا نے تین لڑکے مجھ کو اس نکاح سے عطاء کئے جو تینوں موجود ہیں۔ صرف ایک کی انتظار ہے جو تین کو چار کرنے والا ہوگا۔“
(ضمیمہ انجام آتھم ص ١٤، خزائن ج ١١ ص ٢٩٨)
اب دیکھئے وہ چوتھا لڑکا آتا ہے۔ مرزا قادیانی لکھتے ہیں۔
- ١٣...... ”میرا چوتھا لڑکا جس کا نام مبارک احمد ہے۔ اس کی پیش گوئی اشتہار ٢٠؍ فروری
٧
١٨٨٦ء میں کی گئی ہے اور پھر (انجام آتھم ص ١٨٢) میں بتاریخ ١٤؍ستمبر ١٨٨٦ء میں یہ پیش گوئی کی گئی اور پھر یہ پیش گوئی (ضمیمہ انجام آتھم ص ٥٨) میں کی گئی۔ سو خدا تعالیٰ نے میری تصدیق کے لئے اور تمام مخالفوں کی تکذیب کے لئے اس پسر چہارم کی پیش گوئی کو ١٤؍جون ١٨٩٩ء میں جو بمطابق ٤؍صفر ١٣١٧ھ تھی۔ بروز چہار شنبہ پورا کر دیا۔ یعنی وہ مولود مسعود چوتھا لڑکا تاریخ مذکورہ میں پیدا ہو گیا۔“
(تریاق القلوب ص ٤٣، خزائن ج ١٥ ص ٢٢١)
(٢٠؍فروری کے اشتہار والی پیش گوئی ٢٢؍مارچ ١٨٨٦ء کے اعلان کے خلاف نو سال کی بجائے ١٨٩٨ء میں چودھویں سال پوری ہوتی ہے۔ مگر پھر بھی مرزا قادیانی کی تصدیق اور تمام مخالفین کی تکذیب کے لئے اخیر وعدہ الٰہی کے ایفاء میں صرف پانچ سال کا فرق کوئی ایسا بڑا فرق نہیں۔ بہر حال خدا نے ١٤؍جون ١٨٩٩ء کو اپنا وعدہ پورا کر دیا)
”چنانچہ اصل غرض اس رسالہ کی تالیف سے یہی ہے کہ تا وہ عظیم الشان پیش گوئی جس کا وعدہ چار مرتبہ خدا تعالیٰ کی طرف سے ہو چکا تھا۔ اس کی ملک میں اشاعت کی جائے۔ کیونکہ یہ انسان کی جرأت نہیں ہو سکتی کہ یہ منصوبہ سوچے کہ چار لڑکوں کے پیدا ہونے کی پیش گوئی کرے جیسا کہ اشتہار ٢٠؍فروری ١٨٨٦ء میں کی گئی اور پھر ہر ایک لڑکے کے پیدا ہونے سے پہلے اس کے پیدا ہونے کی پیش گوئی کرتا جائے اور اس کے مطابق لڑکے پیدا ہوتے جائیں (لیکن پہلی پیش گوئی پر تو لڑکے کی بجائے لڑکی پیدا ہو) یہاں تک کہ چار کا عدد جو پہلی پیش گوئیوں میں قرار دیا تھا، وہ پورا ہو جائے۔ کیا ممکن ہے کہ خدا تعالیٰ مفتری کی ایسی مسلسل طور پر مدد کرتا جائے کہ ١٨٨٦ء سے لغایت ١٨٩٩ء چودہ سال تک برابر مدد جاری رہے۔ کیا کبھی مفتری کی تائید خدا نے ایسی کی؟ یا صفحہ دنیا میں اس کی کوئی نظیر بھی ہے۔“
(تریاق القلوب ص ٤٣، خزائن ج ١٥ ص ٢٢١، ٢٢٢)
”سو صاحبو! وہ دن آ گیا اور وہ چوتھا لڑکا جس کا ان کتابوں میں چار مرتبہ وعدہ کیا گیا تھا۔ صفر ١٣١٧ ہجری کی چوتھی تاریخ میں بروز چہار شنبہ پیدا ہو گیا۔“
(تریاق القلوب ص ٤٣، خزائن ج ١٥ ص ٢٢٢)
٨؍اپریل ١٨٨٦ء کی پیش گوئی کے خلاف لڑکے کی بجائے لڑکی کا تولد ہونا پھر ٢٠؍ فروری ١٨٨٦ء کی پیش گوئی کے خلاف بشیر کا پیدا ہو کر مر جانا۔ ٨؍اپریل ١٨٨٦ء کی پیش گوئی کے
٨
خلاف ٩ سال کی بجائے ١٤ سال میں اس چو سے وعدہ دیئے جانے کے باوجود اس بے چارے ایسی مسلسل مدد ہے۔ جس کی نظیر صفحہ دنیا پر نہی
اب مرزا قادیانی فرماتے ہیں کہ
١٤...... ”اور اس لڑکے مبارک اح کلام مجھ سے کیا اور مخاطب بھائی سے کہ میرے بھائیو! میں پورے ایک دن کے بعد م اور تیسرا برس وہ ہے جس میں پیدائش ہوئی اور ی مہد میں ہی باتیں کیں۔ مگر اس لڑکے نے پیٹ م مرزا قادیانی سے باتیں کیں۔ کیونکہ یکم جنوری ١٨ اور پھر بعد میں ١٤؍جون ١٨٩٩ء وہ کے لحاظ سے اس نے اسلامی مہینوں میں سے چو ہے کہ ماہ صفر اسلامی مہینوں میں دوسرا مہینہ ہے اور دن کے گھنٹوں میں سے چوتھا گھنٹہ لیا۔“
١...... ”پیدائش سے قبل مبارک احمد کا کلام (٣) ”الہام میں ایک دن اور اس سے مراد دو بر مبارک احمد کا پیٹ میں آجانا۔“ (٥) ”ماہ صفر کا اس ہفتہ کے دنوں میں چوتھا دن ہونا۔“ (٧) ”چار ب
واقعی یہ سات عجائبات عالم ہیں۔ جن اختیار جی چاہتا ہے اور بے ساختہ زبان سے اس ب انبیاء کرام کے وجود گرامی سے شرف بخشا۔ جن کا ا
خوب تصویر بنائی
خلاف ٩ سال کی بجائے ١٤ سال میں اس چوتھے لڑکے کا پیدا ہونا اور چار دفعہ خدا تعالیٰ کی طرف سے وعدہ دیئے جانے کے باوجود اس بے چارے کا زندہ نہ رہنا وغیرہ واقعی خدا تعالیٰ کی طرف سے ایسی مسلسل مدد ہے۔ جس کی نظیر صفحہ دنیا پر نہیں ہے اور ایسی مدد خدا ”نبی“ ہی کی کرتا ہے۔
اب مرزا قادیانی فرماتے ہیں ۔
١٤....... ”اور اس لڑکے مبارک احمد نے پیدائش سے پہلے جنوری ١٨٩٧ء میں بطور الہام یہ کلام مجھ سے کیا اور مخاطب بھائی تھے کہ : ”مجھ میں اور تم میں ایک دن کی میعاد ہے۔ یعنی اے میرے بھائیو ! میں پورے ایک دن کے بعد تمہیں ملوں گا۔ اس جگہ ایک دن سے مراد دو برس تھے اور تیسرا برس وہ ہے جس میں پیدائش ہوئی اور یہ عجیب بات ہے کہ حضرت مسیح موعود نے تو صرف مہد میں ہی باتیں کیں ۔ مگر اس لڑکے نے پیٹ ہی میں دو مرتبہ باتیں کیں ۔ (بلکہ عالم ارواح میں مرزا قادیانی سے باتیں کیں ۔ کیونکہ یکم جنوری ١٨٩٧ء میں وہ بے چارہ پیٹ میں آیا ہی کب تھا ؟)
اور پھر بعد میں ١٤ رجون ١٨٩٩ء وہ پیدا ہوا اور جیسا کہ وہ چوتھا لڑکا تھا ۔ اسی مناسبت کے لحاظ سے اس نے اسلامی مہینوں میں سے چوتھا مہینہ لیا یعنی ماہ صفر ( ایک جاہل مسلمان بھی جانتا ہے کہ ماہ صفر اسلامی مہینوں میں دوسرا مہینہ ہے نہ کہ چوتھا) اور ہفتہ کے دنوں میں سے چوتھا دن لیا اور دن کے گھنٹوں میں سے چوتھا گھنٹہ لیا ۔“ (تریاق القلوب ص ٤١، خزائن ج ١٥ ص ٢١٧، ٢١٨)
١...... ”پیدائش سے قبل مبارک احمد کا کلام ۔“ (٢) ”خطاب باپ سے اور مخاطب بھائی ۔“ (٣) ”الہام میں ایک دن اور اس سے مراد دو برس ۔“ (٤) ”پیدائش سے پورے اڑھائی سال پہلے مبارک احمد کا پیٹ میں آ جانا ۔“ (٥) ”ماہ صفر کا اسلامی مہینوں میں چوتھا مہینہ ہونا ۔“ (٦) ”چہار شنبہ کا ہفتہ کے دنوں میں چوتھا دن ہونا ۔“ (٧) ”چار بجے کا دن کے گھنٹوں میں چوتھا گھنٹہ ہونا ۔“
واقعی یہ سات عجائبات عالم ہیں ۔ جن کے پیش نظر مرزا قادیانی کی نبوت ماننے کو بے اختیار جی چاہتا ہے اور بے ساختہ زبان سے اس ”خدا“ کا شکر ادا ہوتا ہے۔ جس نے ہندوستان کو ایسے انبیاء کرام کے وجود گرامی سے شرف بخشا۔ جن کا ایک ایک ارشاد ہفت عجائبات عالم کا مجموعہ ہے:
خوب تصویر بنائی ہے مرے بہلانے کو
١٥...... مرزا قادیانی فرماتے ہیں: ’’اور عجیب تر یہ کہ چار لڑکوں کے پیدا ہونے کی خبر جو سب سے پہلے اشتہار ٢٠؍فروری ١٨٨٦ء میں دی تھی۔ اس وقت ہر چہار لڑکوں میں سے ایک بھی پیدا نہیں ہوا تھا اور اشتہار مذکور میں خدا تعالیٰ نے صریح طور پر پسر چہارم کا نام مبارک رکھ دیا ہے۔ دیکھو (اشتہار ٢٠؍فروری ١٨٨٦ء ص٣ اور دسری کالم کی سطر ٧)‘‘ موجب لڑکے کا نام مبارک احمد رکھا گیا۔ تب اس نام رکھنے کے بعد ایک دفعہ وہ پیش گوئی ٢٠؍فروری ١٨٨٦ء یاد آ گئی۔‘‘
(تریاق القلوب ص٤٢، خزائن ج١٥ ص٢١٨)
خدا کی قدرت دیکھئے کہ وہ مبارک احمد جو کئی اجتہادی غلطیوں اور متعدد الہامی ٹھوکروں کے بعد ملا تھا، ١٩٠٧ء میں بعمر ٨سال فوت ہو گیا:
صد حیف گر پڑی نگہ انتظار آج
١٦...... خلیفہ محمود کہتے ہیں: ’’حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے جب سنا کہ مبارک فوت ہو گیا ہے تو فرمایا بیشک مبارک احمد سے ہمیں محبت بہت تھی۔ لیکن اس لئے ہمیں محبت تھی کہ ہمیں خیال تھا بعض الہامات اس سے پورے ہونے والے ہیں۔‘‘ (خطبہ جمعہ خلیفہ محمود مندرجہ الفضل ج٢٠ نمبر ٤٧)
مرزا قادیانی کی اس عظیم الشان الہامی پیش گوئی کا انجام خود مرزائیوں کی زبان سے سنئے: ’’حضرت مسیح موعود نے مصلح موعود کی پیش گوئی کو پہلے بشیر اول پر لگایا۔ مگر واقعات نے اس اجتہاد کو غلط ثابت کر دیا کیونکہ وہ بچہ فوت ہو گیا۔ پھر حضور نے اس پیش گوئی کو مبارک احمد پر لگایا اور بار بار مختلف کتابوں میں آپ نے اس اجتہاد کو صریح لفظوں میں لکھ کر شائع فرمایا مگر واقعات نے اس اجتہاد کو بھی غلط ثابت کر دیا۔ کیونکہ وہ بھی فوت ہو گیا۔‘‘
(لاہوری مرزائیوں کا اخبار پیغام صلح ج٢٣ نمبر ٥٦)
اس پر ہم اتنا عرض کریں گے کہ جب ’’پیغام صلح‘‘ نے بمصداق یک نہ شد دو شد، دو غلطیوں کو تسلیم کر لیا تو اسے تیسری غلطی کو بھی مان لینا چاہئے۔ کیونکہ مرزا قادیانی نے مصلح موعود کی پیش گوئی کو بشیر اول سے پہلے بہت ہی قریب ہونے والے لڑکے پر لگایا تھا۔ جو لڑکے کی بجائے
١٠
لڑکی ہو گئی۔ بہرحال وہ نہ شد سہ شد، یہاں ت قادیانی کے ارشاد کے مطابق خدا تعالیٰ نے القلوب ص٤٢، خزائن ج١٥ ص٢١٨) اور مرزا ق مخالفین کی تکذیب قرار دیا اور جگہ جگہ اسے ا شرمندہ تعبیر نہ ہونا صرف ’’اجتہادی غلطی‘‘ ک
بتوں سے ہم نہ پ
ایک اندھا مرید تو جو کہے کہہ سکت کے کذب و بطلان اور افتراء علی اللہ سے تعبیر ک مرزا قادیانی کی ہمت روحانی ا ناکامیوں کے بعد اپنے خدا پر اعتماد و توکل کی
١٧...... ’’خدا کی قدرتوں پر قربان جائی نے یہ الہام کیا: ’’انا نبشرک بغلام حلی ہم تجھے خوش خبری دیتے ہیں۔ جو بمنزلہ مبا ہوگا۔ پس خدا نے نہ چاہا کہ دشمن خوش ہو ا دوسرے لڑکے کی بشارت دی تا کہ یہ سمجھا جا
(اشتہار مورخ
حسرت وافسوس کا مقام ہے کہ پہ پانچواں وعدہ بھی جھوٹا نکلا۔ یہ بشارت بھی پور مرزا قادیانی کے گھر کوئی لڑکا پیدا نہ ہوا۔ چہ جا
جو آرزو ہے اس
اب آرزو یہ ہے
لڑکی ہو گئی۔ بہر حال دو نہ شد سہ شد، یہاں ہم پیغام صلح سے اتنا اور بھی عرض کریں گے کہ جب مرزا قادیانی کے ارشاد کے مطابق خدا تعالیٰ نے صریح طور پر پسر چہارم کا نام مبارک رکھ دیا۔ (تریاق القلوب ص ٤٢، خزائن ج ١٥ ص ٢١٨) اور مرزا قادیانی نے مبارک احمد کی ولادت کو اپنی تصدیق اور مخالفین کی تکذیب قرار دیا اور جگہ جگہ اسے اللہ تعالیٰ کے الہام سے تعبیر کیا۔ تو بایں ہمہ اس خواب کا شرمندہ تعبیر نہ ہونا صرف ”اجتہادی غلطی“ کہا جائے گا؟ سچ ہے:
بتوں سے ہم نہ پھریں ہم سے گو خدا پھر جا
ایک اندھا مرید تو جو کہے کہہ سکتا ہے۔ مگر ایک آزاد محقق تو اسے بہرحال مرزا قادیانی کے کذب و بطلان اور افتراء علی اللہ سے تعبیر کرے گا۔
مرزا قادیانی کی ہمت روحانی اور جرات ایمانی قابل داد ہے کہ اتنی ٹھوکروں اور ناکامیوں کے بعد اپنے خدا پر اعتماد وتوکل کی نظر رکھتے ہیں۔ فرماتے ہیں۔
- ١٧....... ”خدا کی قدرتوں پر قربان جاؤں کہ جب مبارک احمد فوت ہوا۔ ساتھ ہی خدا تعالیٰ
نے یہ الہام کیا: ”انا نبشرك بغلام حليم ينزل منزل المبارك“ یعنی ایک حلیم لڑکے کی ہم تجھے خوش خبری دیتے ہیں۔ جو بمنزلہ مبارک احمد کے ہوگا اور اس کا قائم مقام اور اس کی شبیہ ہوگا۔ پس خدا نے نہ چاہا کہ دشمن خوش ہو اس لئے اس نے مجرد وفات مبارک احمد کے ایک دوسرے لڑکے کی بشارت دی تا کہ یہ سمجھا جائے کہ مبارک احمد فوت نہیں ہوا، بلکہ زندہ ہے۔“
(اشتہار مورخہ ٥ نومبر ١٩٠٧ء، مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ٥٨٧، طبع جدید)
حسرت وافسوس کا مقام ہے کہ پہلے چار وعدوں کی طرح مرزا قادیانی کے ”خدا“ کا یہ پانچواں وعدہ بھی جھوٹا نکلا۔ یہ بشارت بھی پوری نہ ہوئی۔ یہ وار بھی خالی گیا اور مبارک احمد کے بعد مرزا قادیانی کے گھر کوئی لڑکا پیدا نہ ہوا۔ چہ جائیکہ وہ مصلح موعود کا مصداق بنتا۔ بہرحال:
جو آرزو ہے اس کا نتیجہ ہے انفعال
اب آرزو یہ ہے کہ کبھی آرزو نہ ہو
١١
لیکن یہ کیا ضروری ہے کہ ہر آرزو اس دنیا میں پوری ہو۔ جو خدا قیامت کے دن محمدی بیگم سے نکاح کرا سکتا ہے۔ کیا وہ اس دن مبارک احمد کا شبیہ نہیں دے سکتا ؟ ” ان اللہ علی کل شئ قدیر “
نتیجہ ...... ایک غیر جانبدار مبصر اور آزاد محقق جب ٢٠؍ فروری ١٨٨٦ء سے لے کر ٥؍ نومبر ١٩٠٧ء تک کے مرزا قادیانی مسلسل ڈیڑھ دو درجن الہام دیکھتا ہے اور سال دو سال نہیں، برابر بائیس سال یہ حسرت خیز اور غم انگیز داستان سنتا ہے۔ ” تبلیغ رسالت، تریاق القلوب، انجام آتھم وغیرہ مصنفات مرزا کے سینکڑوں صفحات پر پسر موعود کی تفصیلات پڑھتا ہے تو اسے جہاں مرزا قادیانی کی قابل رحم حالت پر ترس آتا ہے۔ وہاں وہ دجل و فریب اور افتراء و تاویل کا شاہکار دیکھ کر پکار اٹھتا ہے:
مرزائی دوستو! دنیا بھر میں ایک انسان پیش کرو جس کا دماغ صحیح ہو اور جو مرزائی بھی نہ ہو اور وہ مرزا قادیانی کی ان تمام تصریحات اور اس حادثہ کی ساری تفصیلات دیکھ کر فیصلہ کر دے کہ مرزا قادیانی کی یہ عظیم الشان پیش گوئی پوری ہوئی۔ ”فان لم تفعلوا ولن تفعلوا فاتقوا النار .......“
گو یہاں صاف طور پر آشکار ہو جاتا ہے کہ بڑے میاں صاحب کی طرح چھوٹے میاں صاحب بھی اپنے دعویٰ مصلح موعود میں سچے نہیں ہیں۔ جب بانس نہ رہا تو بانسری کیا بجے گی؟ تاہم کسی صحبت میں ہم اس اعلان پر مستقل بحث بھی کریں گے۔ انشاء اللہ تعالیٰ!
مخلصانہ اپیل
آخر میں ہم احمدی احباب سے اس قدر ضرور عرض کریں گے کہ یہ روپیہ، پیسہ، جاگیر، جائیداد کا معاملہ نہیں! ایمان و آخرت کا سوال ہے۔ خدارا اپنے مستقبل کی فکر کیجئے اور ٹھنڈے دل سے سوچئے کہ کیا نبی کی عظیم الشان پیش گوئی جھوٹی ہو سکتی ہے یا خدا کا صریح وعدہ صاف طور پر غلط ہو سکتا ہے؟ ہرگز نہیں اور قطعاً نہیں تو کیا ہمارے معزز دوست قبر کی تاریکی اور قیامت کا جانکاہ منظر پیش نظر رکھ کر اپنی ضد، ہٹ دھرمی سے باز آنے سے ہمت کریں گے اور ایک غلط قدم جو غلط فہمی سے اٹھ چکا ہے۔ واپس لینے کی سعادت سے بہرہ اندوز ہوں گے۔ خدا ہمیں صحیح سوچنے اور درست سمجھنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین ! مرزائی دنیا کا خیر اندیش ........ مہتمم مرکز تنظیم اہل سنت
١٢
آنجہانی کے سوا حضرت مولانا
دنیا میں پوری ہو۔ جو خدا قیامت کے دن محمدی کا شبہ نہیں دے سکتا؟ ’’ان الله على كل
٢٠ فروری ١٨٨٦ء سے لے کر ٥ نومبر ١٩٠٧ء بکتا ہے اور سال دو سال نہیں، برابر بائیس سال ت ، تریاق القلوب، انجام آتھم وغیرہ مصنفات ھتا ہے تو اسے جہاں مرزا قادیانی کی قابل رحم اہ و تاویل کا شاہکار دیکھ کر پکار اٹھتا ہے:
ن کرو جس کا دماغ صحیح ہو اور جو مرزائی بھی نہ ہو ہ کی ساری تفصیلات دیکھ کر فیصلہ کر دے کہ مرزا لم تفعلوا ولن تفعلوا فاتقوا النار.......“ ہے کہ بڑے میاں صاحب کی طرح چھوٹے ں ہیں۔ جب بانس نہ رہا تو بانسری کیا بجے گی؟ کریں گے۔ انشاء اللہ تعالیٰ!
رضہ در عرض کریں گے کہ یہ روپیہ، پیسہ، جاگیر، ۔ خدارا اپنے مستقبل کی فکر کیجئے اور ٹھنڈے دل ہو سکتی ہے یا خدا کا صریح وعدہ صاف طور پر غلط رز دوست قبر کی تاریکی اور قیامت کا جانکاہ منظر سے ہمت کریں گے اور ایک غلط قدم جو غلط فہمی روز ہوں گے۔ خدا ہمیں صحیح سوچنے اور درست ا کا خیر اندیش ...... مہتمم مرکز تنظیم اہل سنت
خاتم النبیین لا نبی بعدی
میں آخری نبی ہوں، میرے بعد کوئی نبی نہیں
آنجہانی مرزا قادیانی
کے سولہ سفید جھوٹ
حضرت مولانا خدا بخش شجاعبادی رحمۃ اللہ علیہ
بسم اللہ الرحمن الرحیم
ابتدائیہ
زیر نظر کتابچہ ”مرزا قادیانی کے سولہ جھوٹ“ فاتح ربوہ حضرت مولانا خدا بخش صاحب خطیب جامع مسجد محمدیہ ربوہ (چناب نگر) کا مرتب کردہ ہے۔ مرزا غلام احمد قادیانی ایک مدعی نبوت تھا۔ جس کے متعلق رحمت عالم ﷺ کا واضح ارشاد گرامی موجود ہے۔ ”کذابون، دجالون۔“ کذاب جس کی ہر بات میں کذب ہو۔ قربان جائیں رحمت عالم ﷺ کے، آپ ﷺ کا ارشاد گرامی کس طرح پورا ہو رہا ہے۔ واقعۃً مرزا قادیانی بھی اتنا بڑا کذاب تھا کہ اس کی کذب بیانی کا احاطہ و شمار کوشش کے باوجود نہیں کیا جاسکتا۔ علماء کرام نے مرزا قادیانی کے سینکڑوں جھوٹ لکھے ہیں۔ مگر مولانا نے اس کتابچہ میں صرف سولہ جھوٹ کا انتخاب اس لئے کیا ہے کہ ہر ایک اس کتابچہ کو پڑھ کر یقیناً پکار اٹھے گا کہ واقعۃً مرزا قادیانی سولہ آنے جھوٹا تھا۔
حضرت مولانا خدا بخش مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان کے فاضل اجل خطیب ہیں۔ خوشاب، سرگودھا، بھکر، میاں والی، جھنگ، فیصل آباد، شیخوپورہ اضلاع پرمشتمل ربوہ (چناب نگر) ان کے زیر تبلیغ ہیں۔ ان کے ہمراہ درجن بھر مبلغین ان اضلاع میں تبلیغ اسلام کا فریضہ سرانجام دیتے ہیں۔ عرصہ دراز سے آپ کفر گڑھ ربوہ (چناب نگر) میں صدائے ختم نبوت بلند کر رہے ہیں۔
اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے بیسیوں قادیانی آپ کے دست حق پرست پر اسلام کی سعادت ابدی حاصل کر چکے ہیں۔ خدا کرے کہ ان کا یہ رسالہ بھی متلاشیان حق کے لئے نشان راہ بن جائے۔ آمین! اللہ وسایا ....... خادم ختم نبوت مسلم کالونی ربوہ (چناب نگر) ضلع جھنگ
مرزا قادیانی کے جھوٹ
جھوٹ نمبر ١ ....... ”انبیاء گذشتہ کے کشوف نے اس بات پر مہر لگا دی ہے کہ وہ (مسیح موعود) چودھویں صدی کے سر پر ہوگا اور نیز یہ کہ پنجاب میں ہوگا۔“
(اربعین نمبر ٢ ص ٢٣، خزائن ج ١٧ ص ٤٣٨)
اس فقرے میں مرزا قادیانی نے گذشتہ انبیاء علیہم السلام جن کی تعداد ایک لاکھ چوبیس ہزار ہے، دو باتیں منسوب کی ہیں۔
٢
- ......١ مسیح موعود کا چودھویں صدی میں
- ......٢ پنجاب میں ہونا۔
جہاں تک ہماری معلومات کا حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی تشریف آوری پنجاب میں آنے کی تصریح ہے۔ یہ جھوٹ
جھوٹ نمبر ٢ ....... مرزا قادیانی لکھتا ہے: اس کو قبول نہیں کریں گے۔“ ( آثار کا لفظ کم از کم تین احادیث پر آتا۔ یہ محض مرزا قادیانی کا اپنا اختراع اور جھوٹ
جھوٹ نمبر ٣ ....... مرزا قادیانی لکھتے ہیں: موعود صدی کے سر پر آئے گا اور (٢) چودھویں کی رو سے دو صدیوں میں اشتراک رکھے گا ( خاندان سے اشتراک رکھے گی اور (٦) چوتھی د پیدا ہوگا۔ سو یہ سب نشانیاں ظاہر ہوگئیں۔“ ( احادیث صحیحہ کا لفظ کم از کم تین حد کے لئے (جن پر میں نے نمبر ڈال دیئے ہیں ہے۔ کسی حدیث سے اس کا ثبوت نہیں ملتا۔
جھوٹ نمبر ٤ ....... مرزا قادیانی لکھتا ہے: انبیاء علیہم السلام کی نسبت سوال کیا گیا۔ تو آپ ﷺ گزرے ہیں اور فرمایا: ”کان فی الهند نب میں ایک نبی گزرا جو کالے رنگ کا تھا اس کا نام کا
یہ آنحضرت ﷺ پر سفید جھوٹ اور نہیں ہے۔ سیاہ رنگ کا نبی شاید مرزا قادیانی کو ا
جھوٹ نمبر ٥ ....... مرزا قادیانی لکھتا ہے: میں بھی کبھی خدا تعالیٰ نے کلام کیا ہے۔ تو فرما
- ١...... مسیح موعود کا چودھویں صدی کے سر پر ہونا۔
- ٢...... پنجاب میں ہونا۔
جہاں تک ہماری معلومات کا تعلق ہے۔ گزشتہ انبیاء تو کجا، قرآن وحدیث میں بھی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی تشریف آوری کے لئے چودھویں صدی کا سراغ تجویز نہیں کیا گیا اور نہ پنجاب میں آنے کی تصریح ہے۔ یہ جھوٹ کا سب سے بڑا ریکارڈ ہے۔
جھوٹ نمبر ٢...... مرزا قادیانی لکھتا ہے: ”مسیح موعود کی نسبت تو آثار میں یہ لکھا ہے کہ علماء اس کو قبول نہیں کریں گے۔“
(ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم ص ١٨٦، خزائن ج ٢١ ص ٣٥٧)
آثار کا لفظ کم از کم تین احادیث پر بولا جاتا ہے۔ حالانکہ یہ مضمون کسی حدیث میں نہیں آتا۔ یہ محض مرزا قادیانی کا اپنا اختراع اور جھوٹ ہے۔
جھوٹ نمبر ٣...... مرزا قادیانی لکھتے ہیں: ”ایسا ہی احادیث صحیحہ میں آیا تھا کہ (١) وہ مسیح موعود صدی کے سر پر آئے گا اور (٢) چودھویں صدی کا مجدد ہوگا اور لکھا تھا کہ وہ (٣) اپنی پیدائش کی رو سے دو صدیوں میں اشتراک رکھے گا (٤) اور دو نام پائے گا (٥) اور اس کی پیدائش دو خاندان سے اشتراک رکھے گی اور (٦) چوتھی دو گنا صفت یہ کہ پیدائش میں بھی جوڑے کے طور پر پیدا ہوگا۔ سو یہ سب نشانیاں ظاہر ہوگئیں۔“ (ضمیمہ براہین احمدیہ ص ١٨٨، خزائن ج ٢١ ص ٣٥٨، ٣٥٩)
احادیث صحیحہ کا لفظ کم از کم تین حدیثوں پر بولا جاتا ہے۔ مرزا قادیانی نے چودھویں کے لئے (جن پر میں نے نمبر ڈال دیئے ہیں) احادیث صحیحہ کا حوالہ دیا ہے۔ جو بالکل جھوٹ ہے۔ کسی حدیث سے اس کا ثبوت نہیں ملتا۔
جھوٹ نمبر ٤...... مرزا قادیانی لکھتا ہے: ”ایک مرتبہ حضورﷺ سے دوسرے ممالک کے انبیاء علیہم السلام کی نسبت سوال کیا گیا۔ تو آپﷺ نے یہی فرمایا کہ ہر ملک میں خدا تعالیٰ کے نبی گزرے ہیں اور فرمایا: ”کان فی الھند نبیا اسوداللون اسمہ کاھنا“ یعنی ہندوستان میں ایک نبی گزرا جو کالے رنگ کا تھا اس کا نام کاھنا تھا یعنی کنھیا جس کو کرشن کہتے ہیں۔“
(ضمیمہ چشمہ معرفت ص ١٠، ١١، خزائن ج ٢٣ ص ٣٨٢)
یہ آنحضرتﷺ پر سفید جھوٹ اور خالص افتراء ہے۔ حضورﷺ کا کوئی ارشاد بھی ایسا نہیں ہے۔ سیاہ رنگ کا نبی شاید مرزا قادیانی کو اپنے رنگ کی مناسبت سے یاد آگیا ہوگا۔
جھوٹ نمبر ٥...... مرزا قادیانی لکھتا ہے: ”اور آپﷺ سے پوچھا گیا کہ کیا زبان پارسی میں بھی کبھی خدا تعالیٰ نے کلام کیا ہے۔ تو فرمایا ہاں خدا کا کلام زبان پارسی میں بھی اترا ہے۔ جیسا
٣
کہ وہ اس زبان میں فرماتا ہے: ”ایں مشت خاک را گر نہ بخشم کنم۔“
(ضمیمہ چشمہ معرفت ص ١٠، خزائن ج ٢٣ ص ٣٨٦)
یہ بھی حضور ﷺ پر سفید جھوٹ ہے۔ آپ کی کوئی حدیث ایسی نہیں ملتی جس میں آپ ﷺ نے یہ ارشاد فرمایا ہو۔
جھوٹ نمبر ٦...... مرزا قادیانی لکھتا ہے: ”آنحضرت ﷺ نے فرمایا ہے جب کسی شہر میں وبا نازل ہو تو اس شہر کے لوگوں کو چاہئے کہ بلا توقف اس شہر کو چھوڑ دیں۔“
(اشتہار مریدوں کے لئے ہدایات، مورخہ ١٢ اگست ١٩٠٧ء)
یہ بھی حضور ﷺ پر خالص بہتان ہے۔ آپ کا ایسا کوئی ارشاد نہیں ہے۔
جھوٹ نمبر ٧...... مرزا قادیانی لکھتا ہے: ”افسوس کہ وہ حدیث بھی اس زمانے میں پوری ہوئی جس میں لکھا تھا کہ مسیح کے زمانے کے علماء ان سب لوگوں سے بدتر ہوں گے جو زمین پر رہتے ہیں۔“
(اعجاز احمدی ص ١٣، خزائن ج ١٩ ص ١٢٠)
حضور ﷺ نے کسی حدیث میں بھی مسیح کے زمانے کے علماء کی یہ حالت بیان نہیں فرمائی ایک تو یہ حضور ﷺ پر افتراء ہے اور دوسری طرف علماء امت پر بھی بہتان ہے۔
جھوٹ نمبر ٨...... مرزا قادیانی لکھتا ہے: ”چونکہ حدیث صحیح میں آچکا ہے کہ مہدی موعود کے پاس ایک چھپی ہوئی کتاب ہوگی۔ جس میں اس کے تین سو تیرہ اصحاب کا نام درج ہوگا۔ اس لئے یہ بیان کرنا ضروری ہے کہ وہ پیش گوئی آج پوری ہوگئی۔“
(ضمیمہ انجام آتھم ص ٤٠، خزائن ج ١١ ص ٣٢٤)
چھپی ہوئی کتاب کا مضمون کسی صحیح حدیث میں نہیں ہے۔ اس لئے مرزا قادیانی کا یہ سفید جھوٹ ہے اور لطف یہ ہے کہ یہ من گھڑت حدیث بھی مرزا قادیانی کی کتاب پر صادق نہ آئی۔ کیونکہ مرزا قادیانی کی اس کتاب میں جن تین سو تیرہ اصحاب کے نام درج تھے، ان میں سے کئی مرزا قادیانی کے حلقہ اصحابیت سے نکل گئے۔
جھوٹ نمبر ٩...... مرزا قادیانی لکھتا ہے: ”مگر ضرور تھا کہ وہ مجھے کافر کہتے اور میرا نام دجال رکھتے۔ کیونکہ احادیث صحیحہ میں پہلے سے یہ فرمایا گیا تھا کہ مہدی کو کافر ٹھہرایا جائے گا اور اس وقت کے شریر مولوی اس کو کافر کہیں گے اور ایسا جوش دکھلائیں گے کہ اگر ممکن ہوتا تو اس کو قتل کر ڈالتے۔“
(ضمیمہ انجام آتھم ص ٤٨، خزائن ج ١١ ص ٣٣٢)
یہ بھی مرزا غلام احمد قادیانی نے بہتان باندھے ہیں۔ اس عبارت میں تین باتیں
٤
احادیث صحیحہ کی طرف منسوب کی گئی ہیں آنحضرت ﷺ پر مرزا قادیانی نے یہ جھوٹ
جھوٹ نمبر ١٠...... ”یہ غیر معقول
- ١...... لوگ نماز کے لئے مسجد کی ط
- ٢...... اور جب لوگ قرآن شریف
- ٣...... اور جب عبادت کے لی
متوجہ ہوگا۔
- ٤...... اور شراب پئے گا۔
- ٥...... اور سؤر کا گوشت کھائے گا۔
- ٦...... اور اسلام کے حلال و حرام کی پ
اس عبارت میں مرزا قادیانی یہ ہے کہ مرزا قادیانی نے جن چھ باتوں کا سیدنا حضرت مسیح علیہ السلام کی ذات اقدس کی طرف ایسے قبیح افعال کی نسبت کرنا کسی
جھوٹ نمبر ١١...... ”یورپ کے لوگو تو یہ تھا کہ عیسیٰ علیہ السلام شراب پیا کرتے
اس قسم کی زبان درازی مرزا نوشی کا بہتان جڑ دیا۔
جھوٹ نمبر ١٢...... ”مسیح ایک لڑکی جمال کا تذکرہ کر بیٹھا تو استاد نے اس کو مریم جوان عورتوں سے ملتا تھا اور کس طرح
اس عبارت کے ذریعے دراصل صرف مرزا قادیانی کی آئینہ دار ہو سکتی ہے
جھوٹ نمبر ١٣...... ”ہائے کس کے ک
احادیث صحیحہ کی طرف منسوب کی گئی ہیں۔ احادیث جن کا اطلاق کم از کم تین پر ہوتا ہے۔ گویا آنحضرت ﷺ پر مرزا قادیانی نے ٩ جھوٹ باندھے۔
جھوٹ نمبر ١٠...... ”یہ غیر معقول ہے کہ آنحضرت ﷺ کے بعد کوئی ایسا نبی آنے والا ہے کہ:
- ١...... لوگ نماز کے لئے مسجد کی طرف دوڑیں گے تو وہ کلیسا کی طرف بھاگے گا۔
- ٢...... اور جب لوگ قرآن شریف پڑھیں گے تو وہ انجیل کھول بیٹھے گا۔
- ٣...... اور جب عبادت کے وقت بیت اللہ کی طرف منہ کریں گے تو وہ بیت المقدس کی طرف
متوجہ ہوگا۔
- ٤...... اور شراب پیئے گا۔
- ٥...... اور سؤر کا گوشت کھائے گا۔
- ٦...... اور اسلام کے حلال و حرام کی کچھ پرواہ نہیں کرے گا۔“
(حقیقت الوحی ص ٢٩، خزائن ج ٢٢ ص ٣١)
اس عبارت میں مرزا قادیانی نے سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کی طرف اشارہ کیا ہے۔ واقعہ یہ ہے کہ مرزا قادیانی نے جن چھ باتوں کو ان کی طرف منسوب کرنے کی ناپاک جسارت کی ہے۔ سیدنا حضرت مسیح علیہ السلام کی ذات ایسی ناپاک نسبت سے کہیں بلند و بالا ہے۔ ایک برگزیدہ نبی کی طرف ایسے قبیح افعال کی نسبت کرنا کسی غیر مسلم سے بھی متوقع نہیں۔
جھوٹ نمبر ١١...... ”یورپ کے لوگوں کو جس قدر شراب نے نقصان پہنچایا ہے۔ اس کا سبب تو یہ تھا کہ عیسیٰ علیہ السلام شراب پیا کرتے تھے۔“
(حاشیہ کشتی نوح ص ٦٦، خزائن ج ١٩ ص ٧١)
اس قسم کی زبان درازی مرزا قادیانی ہی کر سکتے ہیں کہ ایک مقدس نبی کے سر شراب نوشی کا بہتان جڑ دیا۔
جھوٹ نمبر ١٢...... ”مسیح ایک لڑکی پر عاشق ہو گیا تھا۔ جب استاد کے سامنے اس کے حسن و جمال کا تذکرہ کر بیٹھا تو استاد نے اس کو عاق کر دیا...... یہ بات پوشیدہ نہیں کہ کس طرح مسیح ابن مریم جوان عورتوں سے ملتا تھا اور کس طرح ایک بازاری عورت سے عطر ملواتا تھا۔“
(الحکم ٣١؍ جنوری ١٩٠٢ء، ملفوظات ج ٣ ص ١٤٧)
اس عبارت کے ذریعے دراصل مرزا قادیانی نے اپنا آئینہ پیش کیا ہے کیونکہ ایسی گندگی صرف مرزا قادیانی کی آئینہ دار ہو سکتی ہے۔
جھوٹ نمبر ١٣...... ”ہائے کس کے آگے یہ ماتم لے جائیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی تین
٥
پیش گوئیاں صاف طور پر جھوٹی نکلیں ۔“
(اعجاز احمدی ص١٤، خزائن ج١٩ص١٢١)
کسی خدا کے سچے نبی اور معصوم رسول کے متعلق صاف جھوٹ تک کی نسبت انتہائی بدبخت اور کذاب انسان کا کام ہی ہو سکتا ہے اور ایسا مفتری شخص قادیان کی منڈی کا بیوپاری مرزا غلام احمد قادیانی نامی ہی ہو سکتا ہے۔
جھوٹ نمبر ١٤...... ”عیسائیوں نے آپ کے بہت سے معجزات لکھے ہیں۔ مگر حق بات یہ ہے کہ آپ سے کوئی معجزہ نہیں ہوا۔ اگر آپ سے کوئی معجزہ ہوا تو وہ معجزہ آپ کا نہیں بلکہ اس تالاب کا معجزہ تھا۔“
(ضمیمہ انجام آتھم ص٦، ٧، خزائن ج١١ص٢٩١)
دیکھئے مرزا قادیانی کو دعویٰ نبوت کے جھوٹے جنون نے کس حد تک شوریدہ سری میں مبتلا کر رکھا ہے کہ ان کو یہاں تک علم نہیں کہ عیسوی معجزات کا انکار خود کلام الٰہی کی تکذیب ہے۔ مگر مرزا قادیانی کو اس سے کیا لگے۔
جھوٹ نمبر ١٥...... ”حضرت مسیح ابن مریم اپنے باپ یوسف کے ساتھ بائیس برس تک نجاری کا کام کرتے رہے اور ظاہر ہے کہ بڑھئی کا کام درحقیقت ایک ایسا کام ہے جس میں کلوں کے ایجاد کرنے اور طرح طرح کی صنعتوں کے بنانے میں عقل تیز ہو جاتی ہے۔“
(ازالہ اوہام ص٣٠٣، خزائن ج٣ص٢٥٤، ٢٥٥)
غور کیجئے کہ مرزا قادیانی نے حضرت مسیح علیہ السلام کی پاکیزہ ذات کو کس طرح بے حیائی اور ڈھٹائی کے ساتھ ایک بڑھئی کا بیٹا قرار دیا اور قرآنی معجزات کو محض نجاری کے ایک کرشمہ کے طور پر پیش کیا۔ اس سے بڑھ کر قرآنی تکذیب کی ناپاک جسارت کیا ہو سکتی ہے؟
جھوٹ نمبر ١٦...... ”اور آپ کی انہی حرکات کی وجہ سے آپ کے حقیقی بھائی آپ سے سخت ناراض رہتے تھے اور ان کو یقین ہو گیا تھا کہ آپ کے دماغ میں ضرور کچھ خلل ہے اور وہ ہمیشہ چاہتے رہے کہ کسی شفاخانے میں آپ کا باقاعدہ علاج ہو شاید اللہ تعالیٰ شفاء بخشے ۔“
(ضمیمہ انجام آتھم ص٦، خزائن ج١١ص٢٩٠)
”یسوع درحقیقت بوجہ بیماری مرگی کے دیوانہ ہو گیا تھا۔“
(حاشیہ ست بچن ص١٧١، خزائن ج١٠ص٢٩٥)
حضرت مسیح علیہ السلام کی طرف مرگی یا دیوانگی اور دماغی خلل کے جیسے امور کی نسبت وہی شخص کر سکتا ہے۔ جو بے چارہ خود ہی ان امراض میں بری طرح جکڑا ہوا ہو۔ ورنہ کسی صاحب وحی پیغمبر کی طرف ایسی نسبت کفر اور گستاخی ہے۔
٦
قادیانی د پانچ سو پانچ ہزار رو مولانا تاج الدین
بسم اللہ الرحمن الرحیم
نحمدہ ونصلی علی رسولہ الکریم
قادیانی دنیا کا چیلنج،
پانچ سوال اور
پانچ ہزار روپیہ نقد انعام
مولانا تاج الدین خان بسمل سندھی رحمۃ اللہ علیہ
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
الحمدللّٰه وحده والصلوٰة والسلام على من لا نبي بعده!
حضرات! نبوت کا سلسلہ سیدنا آدم علیہ السلام سے شروع ہوا اور سید المرسلین شفیع المذنبین خاتم النبیین حضرت محمد ﷺ پر ختم ہوا۔ قرآن پاک میں سے ایک سو آیات اور احادیث نبوی علیٰ صاحبہا الصلوٰۃ والسلام سے دو سو صحیح احادیث یہ ارشاد فرماتی ہیں کہ آنحضور ﷺ کے بعد تاقیامت کوئی ظلی، بروزی، چھوٹا یا بڑا نبی نہیں ہوگا۔ آنحضور ﷺ پر نبوت ختم ہو گئی ہے۔ اس کے بعد نبوت کا دعویٰ کرنے والا دجال، کذاب اور کافر ہے اور اس کو نبی ماننے والا مرتد واجب القتل ہے۔
آج کل فرنگی نبی یعنی انگریزی نبی مرزا غلام احمد قادیانی دجال کا ملک بھر میں انگریز کی معاونت سے چرچا ہو رہا ہے اور سیدھے سادھے مسلمانوں کو مرتد بنانے کی شب و روز کوششیں جاری ہیں اور ہماری حکومت پاکستان اس بابت "صم بکم عمی" بنی ہوئی ہے۔ اس طرف کوئی توجہ دینا تو درکنار، تصور تک نہیں کرتی۔ ہم ذیل میں پانچ سوال مرزا غلام احمد قادیانی دجال کی کتابوں سے اخذ کر کے پیش کرتے ہیں۔ کیا ایسا آدمی نبی بن سکتا ہے؟ اگر مندرجہ ذیل پانچ سوالات کو کوئی مرزائی قادیانی غلط ثابت کرے تو ہم اسے مبلغ پانچ ہزار روپیہ نقد انعام دیں گے۔
قادیانی مرزائی دوستو! اگر تمہارے پاس ان سوالات کے غلط کرنے کے لئے کچھ دلائل ہیں تو آئیے اور ان کو غلط ثابت کر کے انعام حاصل کیجئے۔ اگر ان کو غلط ثابت نہیں کر سکتے تو پاکستان کی کسی بھی عدالت میں مجھ پر مقدمہ چلائیے اور عدالت عالیہ کے فیصلہ کو ہم دونوں ماننے کے لئے تیار ہیں اور اگر تم ان دونوں باتوں میں سے کوئی بھی اختیار کرنے سے قاصر ہو تو پھر صداقت، دیانت اور امانت وانصاف کا تقاضا یہ ہے کہ مرزا قادیانی دجال کا دامن چھوڑ کر محمد رسول اللہ ﷺ کا دامن عافیت پکڑنے میں ایک منٹ کی بھی دیر نہ کریں۔
سوال نمبر ١....... "میں مسلمان ہوں اور ان سب عقائد پر ایمان رکھتا ہوں جو اہل سنت والجماعت مانتے ہیں اور کلمہ طیبہ لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ کا قائل ہوں اور قبلہ کی طرف منہ کر کے نماز پڑھتا ہوں اور نبوت کا مدعی نہیں بلکہ ایسے مدعی کو دائرہ اسلام سے خارج سمجھتا ہوں۔"
(کتاب آسمانی فیصلہ ص ٣، خزائن ج ٤ ص ٣١٣)
اس میں مرزا قادیانی فرماتے ہیں کہ میں نبوت کا دعویٰ کرنے والے کو خارج از اسلام یعنی کافر سمجھتا ہوں۔ پھر کس منہ سے قادیانی مرزا قادیانی کو نبی مانتے ہیں۔ اگر مرزا قادیانی نے یہ کتاب لکھنے کے
٢
بعد نبوت کا دعویٰ کیا ہے تو پھر یہ لکھنا کـ میں سے ایک ضرور جھوٹ ہے۔ کیا قـ اس پر غور و فکر ضرور کریں گے اور حق و صـ
سوال نمبر ٢....... مرزا غلام ص ٣٥٢) میں لکھتے ہیں: ”یا بواجی ! تیرا حیض دیکھے یا کسی پلیدی اور گا۔ جو متواتر ہوں گے تجھ میں
اس میں مرزا قـ حیض مردوں کو آتا ہے یا عور عورتوں کو آتا ہے تو پھر مرزا قادیانی سے مرزا قادیانی عورت ثابت ہو
سوال نمبر ٣....... حضرت عیـ حالت آپ پر اس طرح طاری ہو قوت کا اظہار فرمایا۔ (ٹریکٹ نمبر ٣
مرزا غلام احمد قادیانی میں مرزا قادیانی کے ساتھ خدا تعا کرنے کے لئے کیا کرتا ہے۔
مرزائی حضرات! آ قسم کا بہتان لگانے والا کیا مسلما ذرا ٹھنڈے دل سے مذکورہ کشف
سوال نمبر ٤....... مرزا غلا بینا) میں لکھتے ہیں: ”جو مجھ کو نہ
مرزا قادیانی کا بڑا لڑکا کی تصدیق کی اور وہ مرزا غلام احـ بیٹے کی نماز جنازہ نہ پڑھی۔ اب
بعد نبوت کا دعویٰ کیا ہے تو پھر یہ لکھنا جھوٹ ہوا اور اگر یہ لکھا ہوا سچ ہے تو دعویٰ نبوت جھوٹ ہے۔ دونوں میں سے ایک ضرور جھوٹ ہے۔ کیا جھوٹ بولنے اور لکھنے والا نبی ہو سکتا ہے؟ امید ہے قادیانی حضرات اس پر غور و فکر ضرور کریں گے اور سچ اختیار کرنے میں ہرگز بخل سے کام نہ لیں گے۔ (فصل)
سوال نمبر ٢...... مرزا غلام احمد قادیانی دجال اپنی کتاب (اربعین نمبر ٤ ص ٣٩ خزائن ج ١٧ ص ٤٥٦) میں لکھتے ہیں: ”بابو الٰہی بخش صاحب کی نسبت یہ الہام ہے یعنی بابو الٰہی بخش چاہتا ہے کہ تیرا حیض دیکھے یا کسی پلیدی اور ناپاکی پر اطلاع پائے۔ مگر خدا تعالیٰ تجھے اپنے انعامات دکھائے گا۔ جو متواتر ہوں گے تجھ میں حیض نہیں بلکہ وہ بچہ ہو گیا۔ ایسا بچہ جو بمنزلہ اطفال اللہ کے ہے۔“
(تتمہ حقیقت الوحی ص ١٤٣ خزائن ج ٢٢ ص ٥٨١)
اس میں مرزا قادیانی اپنے حیض کو ظاہر فرما رہے ہیں۔ اب مرزائی صاحبان بتائیں کہ حیض مردوں کو آتا ہے یا عورتوں کو؟ اگر مردوں کو حیض آتا ہے تو اس کی کوئی سند پیش کریں۔ اگر عورتوں کو آتا ہے تو پھر مرزا قادیانی نبی نہ ہوئے۔ کیونکہ عورت نبی ہو ہی نہیں سکتی جب کہ اس الہام سے مرزا قادیانی عورت ثابت ہوتے ہیں۔ (فصل)
سوال نمبر ٣...... حضرت مسیح موعود نے ایک موقع پر اپنی حالت یہ ظاہر فرمائی کہ کشف کی حالت آپ پر اس طرح طاری ہوئی کہ گویا آپ ایک عورت ہیں اور اللہ تعالیٰ نے رجولیت کی قوت کا اظہار فرمایا۔ (ٹریکٹ نمبر ٣٤ اسلامی قربانی ص ١٢ مصنفہ یار محمد قادیانی مطبوعہ ریاض ہند پریس امرتسر)
مرزا غلام احمد قادیانی دجال کے کشف کی حالت پر داد دیجئے۔ گویا کشف کی حالت میں مرزا قادیانی کے ساتھ خدا تعالیٰ نے وہ کام کیا جو مرد اپنی زوجہ کے ساتھ توالد و تناسل قائم کرنے کے لئے کیا کرتا ہے۔
مرزائی حضرات! آپ ذرا انصاف سے بتلائیں کہ آیا خدا تعالیٰ پر (نعوذ باللہ) اس قسم کا بہتان لگانے والا کیا مسلمان رہ سکتا ہے؟ جب مسلمان ہی نہ رہا تو پھر نبی کیسے بن سکتا ہے؟ ذرا ٹھنڈے دل سے مذکورہ کشف کو بار بار پڑھ کر فیصلہ فرمائیں۔ (فصل)
سوال نمبر ٤...... مرزا غلام احمد قادیانی اپنی کتاب (آئینہ کمالات اسلام ص ٥٤٧، خزائن ج ٥ ص ٥٤٧ ایضاً) میں لکھتے ہیں: ”جو مجھ کو نہ مانیں اور میری تصدیق نہ کریں۔ وہ کنجریوں کی اولاد ہیں۔“
مرزا قادیانی کا بڑا لڑکا مرزا فضل احمد آپ پر ایمان نہیں لایا اور نہ اس نے آپ کے دعوے کی تصدیق کی اور وہ مرزا غلام احمد قادیانی دجال کی زندگی میں ہی فوت ہوا اور مرزا قادیانی نے اپنے بیٹے کی نماز جنازہ نہ پڑھی۔ اب مرزائی قادیانی اصحاب انصاف فرمائیں کہ مرزا غلام احمد کی اہلیہ محترمہ
٣
جو مرزائیوں کی اماں جان ہیں، کون ہوئیں اور یہ کون ہوا؟ ہم عرض کریں گے تو مرزائی دنیا ناراض ہو جائے گی۔ کیا یہ دجل نہیں؟ جس کی گفتار و کردار میں ایسا تضاد ہو وہ نبی بن سکتا ہے؟ (ہبل)
سوال نمبر ٥...... مرزا غلام احمد قادیانی دجال اپنی کتاب ( براہین احمدیہ پنجم ص ٩٧، خزائن ج ٢١ ص ١٢٧ اور تتمہ ص ٧٠) میں اپنے بابت تحریر کرتا ہے:
ہوں بشر کی جائے نفرت اور انسانوں کی عار
مرزائیو، قادیانیو! ذرا آپ بشر کی جائے نفرت کی نشان دہی تو فرمائیں۔ ہماری غیرت تشریح کرنے سے قاصر ہے۔ ہر انسان یہ جانتا ہے کہ انسانی بدن میں ایک ہی مقام ہے جس کو دیکھ کر ہر با حیا انسان منہ پھیر لیتا ہے۔ مرزا قادیانی خود اپنی بابت یہ فرماتے ہیں کہ میں آدم زاد نہیں ہوں تو بالکل ظاہر ہے کہ نبی کسی اور جنس سے نہیں ہو سکتا۔ سوائے جنس انسانی کے۔ نبوت تو بہت اونچا مقام ہے۔ مرزا قادیانی تو خود اپنے بقول انسان بھی ثابت نہیں ہوتے۔
جہاں ہمارا چیلنج قادیانیوں کو ہے۔ وہاں ہم اپنی پیاری حکومت سے بھی اپیل کرتے ہیں کہ وہ مرزا قادیانی کی تصنیفات کا جائزہ لے کر حق و انصاف کی روشنی میں فیصلہ صادر فرمائے۔
مرزا غلام احمد قادیانی دجال و کذاب نے اپنی بعض کتابوں میں خدا تعالیٰ کے بھیجے ہوئے نبیوں اور رسولوں کی اور صحابہ کرام و اولیاء اللہ کی سخت توہین و تذلیل کی ہے۔ کیا پاکستان میں ایسے مجرموں کے لئے کوئی قانون نہیں ہے؟ اگر قانون موجود ہے تو پھر اس کو استعمال کرنے میں کیوں گریز کیا جا رہا ہے؟ ہم امید کرتے ہیں کہ اسلام کا دعویٰ کرنے والی حکومت ضرور اس طرف توجہ مبذول فرما کر بزرگان دین کی توہین کرنے والوں پر باز پرس کر کے ان کو کیفر کردار تک پہنچائے گی اور ان کتابوں اور لٹریچر کو ضبط کرے گی۔
نبوت کا سلسلہ ختم ہو چکا ہے؎
”قال النبیﷺ ان النبوة والرسالة قد انقطعت فلا رسول بعدی ولا نبی “ آنحضرتﷺ فرماتے ہیں کہ نبوت اور رسالت کا سلسلہ منقطع ہو چکا ہے۔ پس میرے بعد نہ کوئی نیا رسول آئے گا اور نہ ہی کوئی نیا نبی آسکتا ہے۔
(مسند احمد ترمذی کتاب الرؤیا ص ٥٣ ج ٢)
ظلمت کو آفتاب بنایا نہ جائے گا
٤