احتساب قادیانیت جلد 46 · مولانا محمد عبداللہ احمد پوری
Ahtasab-e-Qadyaniat · Vol. 46 · Maulana Muhammad Abdullah Ahmad Puri
PDF 1

رَدِّ قادیانیت

رسائل

احتساب قادیانیت

جلد ٤٦

عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت

حضوری باغ روڈ ، ملتان - فون : 061-4783486

PDF 2

رد قادیانیت

رسائل

احتساب قادیانیت

٤٦

عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت

صفحہ ٣

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

نام کتاب : احتساب قادیانیت جلد چھیالیس (٤٦) مصنفین : حضرت مولانا محمد عبد اللہ احمد پوریؒ حضرت مولانا عبد الحفیظ حقانی حنفی آگرہ حضرت مولانا ابرار حسین پٹنی حضرت مولانا عبدالقادر سات گڈھی حضرت مولانا قاضی عبدالغفور شاہپوری حضرت مولانا شیر نواب خان قصوری مجددی حضرت مولانا محمد صادق قادری رضوی حضرت مولانا پیر محب اللہ راشدی حضرت مولانا عبدالکریم مباہلہ جناب ملک فتح محمد اعوان صاحب حضرت مولانا ابومنظور محمد نظام الدین قادری جناب قاضی غلام ربانی شمس آبادی

صفحات : ٦٨٨ قیمت : ٤٠٠ روپے مطبع : ناصر زین پریس لاہور طبع اوّل : جولائی ٢٠١٢ء ناشر : عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت حضوری باغ روڈ ملتان Ph: 061-4783486

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

فہرست رسائل مشمولہ ...... احت

عرض مرتب

بالاحادیث والآیات القرآنیہ

مرزائی فرزند علی (١٣٢٩ھ)

مرزا کے ڈھول کا پول

صفحہ ٣

بسم الله الرحمن الرحيم!

احتساب قادیانیت جلد چھیالیس (٤٦)

حضرت مولانا محمد عبد اللہ احمد پوری حضرت مولانا عبد الحفیظ حقانی حنفی آگرہ حضرت مولانا ابرار حسین پٹنی حضرت مولانا عبد القادر سات گڑھی حضرت مولانا قاضی عبد الغفور شاہپوری حضرت مولانا شیر نواب خان قصوری مجددی حضرت مولانا محمد صادق قادری رضوی حضرت مولانا پیر محب اللہ راشدی حضرت مولانا عبد الکریم مباہلہ جناب ملک فتح محمد اعوان صاحب حضرت مولانا ابو منظور محمد نظام الدین قادری جناب قاضی غلام ربانی شمس آبادی

٦٨٨

٤٠٠ روپے

ناشر: حرمین پریس لاہور

جولائی ٢٠١٢ء

عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت حضوری باغ روڈ ملتان

Ph: 061-4783486

بسم الله الرحمن الرحيم!

فہرست رسائل مشمولہ ...... احتساب قادیانیت جلد ٤٦

عرض مرتب حضرت مولانا اللہ وسایا مدظلہ ٤

بالاحادیث والآیات القرآنیہ مولانا عبد القادر سات گڑھی ٣٨٥

مرزائی فرزند علی (١٣٦٩ھ) مولانا شیر نواب خان قصوری مجددی ٤٥٧

مرزا کے ڈھول کا پول مولانا محمد صادق قادری رضوی ٤٨٩

صفحہ ٤

بسم الله الرحمن الرحيم

عرض مرتب

الحمدلله وكفى وسلام على عباده الذين اصطفى امابعد!

اللہ رب العزت کے فضل و احسان سے احتساب قادیانیت جلد چھیالیس (٤٦) پیش خدمت ہے۔

کے رہائشی تھے۔ جامعہ عباسیہ بہاولپور سے عالمیہ کیا۔ شیخ الجامعہ مولانا غلام محمد گھوٹویؒ، حضرت مولانا محمد صادق بہاولپوریؒ، حضرت مولانا عبیداللہ پتافیؒ شیخ الجامعہ جیسے اساتذہ سے آپ نے کسب فیض کیا۔ فراغت کے بعد احمد پور شرقیہ ضلع بہاولپور میں جامعہ عباسیہ کے تحت فاضل ہائی سکول کے ہیڈ ماسٹر رہے۔ بہت ہی ثقہ عالم دین تھے۔ حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانویؒ اور بعد میں حضرت مولانا سعید احمد جلال پوریؒ سے آپ کے بہت ہی محبانہ تعلقات تھے۔ مولانا جلال پوریؒ کے حکم پر وفاق المدارس کے نصاب میں شریک کتاب ”آئینہ قادیانیت“ پر آپ نے نظر ثانی فرمائی تھی۔ آپ کئی کتابوں کے مصنف تھے۔ آپ کی ہر تصنیف گرانمایہ علمی خزانہ ہے۔ آپ کی زیر نظر کتاب ”اسلام اور مرزائیت“ اگست ١٩٨٨ء کا ایڈیشن احتساب قادیانیت کی اس جلد میں شائع کرنے کی سعادت پر اللہ رب العزت کے حضور سجدہ شکر بجالاتا ہوں۔ یادرہے ”اسلام اور مرزائیت“ اگست ١٩٨٨ء کے ایڈیشن میں ہمارے ایک مخدوم زادہ مرحوم کا مقدمہ بھی تھا۔ اس میں کسی وقت یا کسی وجہ سے ردقادیانیت پر کام کرنے والوں کی تفصیلات تو دیں۔ لیکن نامکمل، مثلاً حضرت مولانا قاضی احسان احمد شجاع آبادیؒ، مولانا محمد علی جالندھریؒ، مولانا سید محمد یوسف بنوریؒ، مولانا لال حسین اخترؒ، مولانا مفتی محمودؒ، مولانا محمد حیاتؒ، مولانا احمد علی لاہوریؒ، مولانا عبدالرحمن میانویؒ، مولانا غلام غوث ہزارویؒ، مولانا محمد شریف بہاولپوریؒ، مولانا عنایت اللہ چشتیؒ ایسے کئی حضرات کے نام ہی سرے سے غائب ہیں۔ جن اداروں نے ردقادیانیت پر جانگسل محنت کی ان کے ذکر میں بھی غالباً غیر ارادی طور پر بعض نام ذکر نہ ہوئے۔ یہ تحریر گرانمایہ ہونے کے باوجود اصلاح طلب تھی ورنہ تاریخی طور پر اس کا درج کرنا ٹھیک نہ ہوتا۔ ایک فوت شدہ اپنے مخدوم کی تحریر میں پیوند کاری کی جرأت نہ پاکر سرے سے مقدمہ کو نامکمل ہونے کے باعث شامل نہیں کیا۔

قارئین! احتساب کی تیاری میں بسا اوقات ایسی مشکلات میں گھر جاتا ہوں کہ گویم مشکل است نگویم مشکل تر است کا ماحول درپیش آ اگر شائع نہ کروں تو قابل ملامت کہ ”تاریخ مسخ مشکل کے پہاڑ۔ خیر اسی پر بس کرتا ہوں۔

مولانا محمد عبداللہ صاحب کی تالیف مبارک ہے حصہ سوم باب چہارم میں نزول مسیح علیہ السلام کا ا نے مواخذہ کیا۔ تو جگہ جگہ مرزا قادیانی ملعون کا ر کو بھی شامل کیا گیا ہے۔

ہے۔ دسمبر ١٩٨٨ء میں پہلی بار شائع ہوئی۔ قادیا حق کے نقطہ نظر سے لکھی گئی۔ نمبر ٣،١...... یہ دونو شعبہ نشر و اشاعت سے شائع ہوئیں۔

عبدالحفیظ حقانی حنفی نے ١٩٣٤ء میں یہ کتاب تحریر فر تعارف پر بہت کچھ لکھ دیا ہے۔ اس لئے مجھے اس پ

والصلحاء حضرت مولانا محمد علی مونگیریؒ نے ملعون در باب مسیح قادیانی“ شائع فرمایا۔ (جو احتساب تعالیٰ شانہ نے اس کتاب کو اہل اسلام کے لئے و پڑھ کر مسلمان ہوگئے۔ کتاب کیا شائع ہوئی کہ قادیانیوں نے اس کے تین جواب لکھے۔ ”نصرت مونگیر سے ان تینوں کتابوں کا جواب شائع ہوا۔ قادیانی“ شائع ہوا۔ یہ کتاب احتساب قادیانیت ”القائے ربانی“ کا جواب یہ کتابچہ ہے جو احتس اس کے مرتب مولانا ابرار حسین پٹنی ہیں۔ اپریل سال بعد اب دوبارہ شائع ہورہی ہے۔ ”برق

صفحہ ٣

مشکل است بگویم مشکل تر است کا ماحول در پیش آجاتا ہے۔ مقدمہ شائع کرتا تو نامکمل بلکہ ...... اور اگر شائع نہ کروں تو قابل ملامت کہ ”تاریخ مسخ ہوگئی“، ”ہمارا نام برداشت نہیں“ دونوں طرف مشکل کے پہاڑ۔ خیر اسی پر بس کرتا ہوں۔

مولانا محمد عبداللہ صاحب کی تالیف مبارک ہے۔ مولانا محمد اسحاق سندیلوی کی ”دینی نفسیات“ حصہ سوم باب چہارم میں نزول مسیح علیہ السلام کا انکار کیا گیا ہے۔ اس پر مولانا محمد عبداللہ صاحبؒ نے مواخذہ کیا۔ تو جگہ جگہ مرزا قادیانی ملعون کا رد بھی آگیا۔ احتساب کی اس جلد میں اس کتاب کو بھی شامل کیا گیا ہے۔

ہے۔ دسمبر ١٩٨٨ء میں پہلی بار شائع ہوئی۔ قادیانیوں کے دجل وفریب کے شکار لوگوں کو دعوت حق کے نقطہ نظر سے لکھی گئی۔ نمبر ١،٢...... یہ دونوں کتابیں عالمی مجلس احرار اسلام پاکستان کے شعبہ نشر واشاعت سے شائع ہوئیں۔

عبدالحفیظ حقانی حنفی نے ١٩٣٤ء میں یہ کتاب تحریر فرمائی۔ مصنف نے خود ابتداء میں اس کتاب کے تعارف پر بہت کچھ لکھ دیا ہے۔ اس لئے مجھے اس پر لکھنے کی ضرورت نہیں۔

والصلحاء حضرت مولانا محمد علی مونگیریؒ نے ملعون قادیان مرزا قادیانی کے رد میں ”فیصلہ آسمانی در باب مسیح قادیانی“ شائع فرمایا۔ (جو احتساب قادیانیت کی جلد٧ میں شائع ہو چکی ہے) حق تعالیٰ شانہ نے اس کتاب کو اہل اسلام کے لئے واقعی فیصلہ آسمانی بنا دیا کہ کئی قادیانی اس کتابچہ کو پڑھ کر مسلمان ہوگئے۔ کتاب کیا شائع ہوئی کہ قادیانیوں کے گھروں میں کہرام قائم ہوگیا۔ قادیانیوں نے اس کے تین جواب لکھے۔ ”نصرت یزدانی“، ”برق آسمانی“، ”القاء ربانی“ خانقاہ مونگیر سے ان تینوں کتابوں کا جواب شائع ہوا۔ ”نصرت یزدانی کا جواب تائید ربانی در ہزیمت قادیانی“ شائع ہوا۔ یہ کتاب احتساب قادیانیت کی جلد پینتالیس (٤٥) میں شائع ہو چکی ہے۔ ”القاءے ربانی“ کا جواب یہ کتابچہ ہے جو احتساب قادیانیت کی اس جلد میں شائع ہورہا ہے۔ اس کے مرتب مولانا ابرار حسین پٹنی ہیں۔ اپریل ١٩١٤ء میں یہ کتاب اوّلاً شائع ہوئی۔ اٹھانوے سال بعد اب دوبارہ شائع ہورہی ہے۔ ”برق آسمانی“ کا جواب ”شہاب ثاقب بر خاطف

صفحہ ٧

الملقب بہ صواعق ربانی بر مؤلف برق آسمانی" ہے۔ یہ کتاب ابھی تک دستیاب نہیں ہوئی۔

حضرت مولانا عبدالقادر ساکن مقام سات گڑھ پیرم پیٹ ضلع شمالی ارکاٹ کی تالیف ہے۔ جو شوال ١٣١٣ھ مطابق مارچ ١٨٩٦ء میں مطبع نامی شہر کانپور میں شائع ہوئی۔ دہلی میں مولانا محمد بشیر سہسوانی اور ملعون قادیان کا تحریری مباحثہ ہوا۔ جسے ملعون قادیان نے ”مباحثہ دہلی“ اور مولانا محمد بشیر صاحب نے ”الحق الصریح فی حیات المسیح“ کے نام پر شائع کیا۔ ”الحق الصریح“ احتساب قادیانیت کی جلد ٤٢ میں شائع ہو چکی ہے۔ مباحثہ دہلی میں ملعون قادیان نے جو مزعومہ دلائل پیش کئے اس کتاب میں مولانا عبدالقادر صاحب نے ان پر محاکمہ کیا ہے۔

سرگودھا بعد میں ضلع بنا۔ قیام پاکستان سے قبل مولانا قاضی عبدالغفور ساکن پنجہ براستہ مٹھہ ٹوانہ ضلع شاہ پور نے یہ کتابچہ تحریر فرمایا۔

میں حوالہ جات بعینہ مصنف نے نقل نہیں کئے۔ اپنی طرف سے حوالہ جات کا مفہوم نقل کیا ۔ بہت سارے حوالے خلط ملط کر دیئے ۔اس لئے حوالہ جات میں بہت دقت کا سامنا کرنا پڑے گا۔

یہ کتاب مولانا شیر نواب خان حنفی نقشبندی مجددی قصوری کی مرتب کردہ ہے۔ اس کے نام کے دونوں حصوں میں اس کتاب کا سن اشاعت نکلتا ہے۔ اس طرح اس کا ایک تاریخی نام ”حقیقت حیات المسیح ابن مریم“ ہے۔ یہ کتاب ١٣٢٩ھ مطابق ١٩١١ء میں لکھی گئی ۔اس میں حیات مسیح علیہ السلام کے مسئلہ پر زیادہ زور دیا ہے۔ فرزند علی قادیانی کے قادیانی رسالہ کا یہ کتاب جواب ہے۔ خوب علمی خزانہ ہے۔ ایک سو ایک سال بعد اس کی طباعت ثانی کی اللہ تعالیٰ نے توفیق سے سرفراز فرمایا۔

قادری رضوی فاضل جامعہ رضویہ جھنگ بازار فیصل آباد نے ١٤؍ رمضان ١٣٨٩ھ مطابق ٢٥؍ نومبر ١٩٦٩ء میں تحریر فرمائی۔

راشدی جانشین سادس خانقاہ جھنڈا شریف نزد نیو سعید آباد ضلع حیدرآباد کی مرتب کردہ یہ کتاب

ہے۔ اس کے آخر میں ”ولادت مسیح علیہ السلام“ ک امرتسری ص ٤٣ سے ٤٨٧ کو بمع حاشیہ کے نقل کر د میں مرتب کیا۔ لیکن اس کی اشاعت مئی ٢٠٠٣ء میں

پہلے قادیانی ہوئے۔ پھر آپ نے اسلام قبول ک جلد ٢٧ میں ہم شائع کر چکے ہیں۔ یہ رسالہ بھی ا میں شامل کیا جارہا ہے۔ یہ تاریخی رسالہ ہے۔ آ اسلام ہند امرتسر کے آپ ناظم تبلیغ مقرر ہوئ حیات، اور مولانا عنایت اللہ چشتی کی مختصر ماہان پاکستان بننے سے قبل کا یہ رسالہ ہے۔ لیکن کب شا

لائبریری میں ٥٥ صفحات پر مشتمل ایک قلمی خوشخ ملک فتح محمد ولد الحاج محمد بخش اعوان لکھا ہے۔ ع پہلے ١٩٠٤ء سے ١٩٧٤ء کے درمیان ایک صاح درمیانے قد کے تھے۔ رنگ پکا، عمر ٥٠ سے ک گمان ہے کہ یہ کاپی ان کی کتابت کروائی ہوئی ۔ شائع ہوئی اس کے حوالے سے انہوں نے اس دوستوں نے حضرت امیر شریعت کے خطبات نہیں ۔اس میں حضرت امیر شریعت پر کچھ شع احتساب کی اس جلد میں شامل کر لیا کہ چلو یہ سو اس کتاب کو حضرت امیر شریعت سے ایک نسب اوّل تھے اور عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے بانی ر نقش قدم پر چلنے کی توفیق رفیق فرمائیں۔

میں منتقل ہوئے۔ وہاں وصال ہوا۔ یہ رسالہ آ

صفحہ ٧

ہے ۔ اس کے آخر میں "ولادت مسیح علیہ السلام" کا عنوان قائم کر کے تفسیر ثنائی مصنفہ مولانا ثناء اللہ امرتسری ص ٤٣ تا ٤٨ کو بمع حاشیہ کے نقل کر دیا گیا ہے۔ مولانا محبّ اللہؒ نے اسے نومبر ١٩٨٩ء میں مرتب کیا۔ لیکن اس کی اشاعت مئی ٢٠٠٣ء میں ہوئی۔

پہلے قادیانی ہوئے۔ پھر آپ نے اسلام قبول کیا۔ آپ کی کتب ورسائل احتساب قادیانیت جلد ٢٧ میں ہم شائع کر چکے ہیں۔ یہ رسالہ بھی ان کا شائع کردہ ہے۔ بعد میں ملا۔ اب اس جلد میں شامل کیا جا رہا ہے۔ یہ تاریخی رسالہ ہے۔ آپ نے جب قادیانیت ترک کی تو شعبہ تبلیغ احرار اسلام ہند امرتسر کے آپ ناظم تبلیغ مقرر ہوئے۔ اس رسالہ میں ہمارے استاذ محترم مولانا محمد حیاتؒ ، اور مولانا عنایت اللہ چشتیؒ کی مختصر ماہانہ تبلیغی رپورٹ بھی شامل ہے۔ یہ تو طے ہے کہ پاکستان بننے سے قبل کا یہ رسالہ ہے۔ لیکن کب شائع ہوا یہ کہیں درج نہیں۔

لائبریری میں ٥٥ صفحات پر مشتمل ایک قلمی خوشخط کاتب کی لکھی ہوئی کاپی ملی۔ جس کے ٹائٹل پر ملک فتح محمد ولد الحاج محمد بخش اعوان لکھا ہے۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے کراچی دفتر میں بہت پہلے ١٩٧٠ء سے ١٩٧٤ء کے درمیان ایک صاحب فتح محمد صاحب ہوتے تھے۔ بھارے جسم اور درمیانے قد کے تھے۔ رنگ پکا، رنگ سے کہیں زیادہ خود پکے نظریاتی جماعتی ساتھی تھے۔ غالب گمان ہے کہ یہ کاپی ان کی کتابت کروائی ہوئی ہے۔ حضرت امیر شریعتؒ کی جو تقریر جس اخبار میں شائع ہوئی اس کے حوالے سے انہوں نے اس تقریر کو کاپی میں خوشخط لکھوا لیا۔ نہیں معلوم کہ جن دوستوں نے حضرت امیر شریعتؒ کے خطبات شائع کئے ان میں یہ تقریریں شائع ہوگئی ہیں یا نہیں۔ اس میں حضرت امیر شریعتؒ پر کچھ شعراء کا کلام بھی ہے۔ فقیر نے اس پورے مسودہ کو احتساب کی اس جلد میں شامل کرلیا کہ چلو یہ مسودہ محفوظ ہو جائے گا۔ نیز یہ کہ احتساب قادیانیت کی اس کتاب کو حضرت امیر شریعتؒ سے ایک نسبت بھی حاصل ہو جائے گی۔ کیونکہ وہ ہمارے امیر اوّل تھے اور عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے بانی رہنما، ان کا حق بھی ہے۔ حق تعالیٰ ہم سب کو ان کے نقش قدم پر چلنے کی توفیق رفیق فرمائیں۔

میں منتقل ہوئے۔ وہاں وصال ہوا۔ یہ رسالہ آپ کا مرتب کردہ ہے اور خوب سے خوب تر ہے۔

صفحہ ٨

سیدنا مہدی وسیدنا عیسیٰ علیہم السلام کے ظہور ونزول کے کتب تفاسیر سے حوالہ جات نقل کئے ہیں۔ رسالہ آسان فارسی زبان میں ہے اور خوب ہے۔ ١٢؍دسمبر ١٩٤٦ء کو شمس آباد میں انتقال ہوا۔ وہاں ہی مزار مبارک ہے۔

١٦/٢...... مرزا کی غلطیاں: ملعون قادیان مرزا غلام احمد قادیانی نے اعجاز المسیح، اعجاز احمدی کے نام پر قصیدہ شائع کرکے مقابلہ کے لئے دعوت دی۔ مولانا قاضی غلام ربانی نے مرزا قادیانی کی کتاب اعجاز المسیح سے مرزا قادیانی کی غلطیاں نکال کر مرزا قادیانی کے چیلنج کے غبارہ کو ناکارہ کر دیا۔ مولانا غلام ربانی شمس آبادی ضلع اٹک کا رسالہ ہے۔ یہ دونوں رسائل اس جلد میں شامل کرنے کی سعادت حاصل ہورہی ہے۔

غرض احتساب قادیانیت جلد چھیالیس (٤٦) میں پندرہ کتب ورسائل شامل ہیں۔ ان میں:

...................................................... گویا ١٢ حضرات کے کل ١٦ رسائل و کتب اس جلد میں شامل ہیں۔ فالحمد لله على ذالك!

محتاج دعاء: فقیر اللہ وسایا! حال وارد کراچی

٨؍ رمضان المبارک ١٤٣٣ھ، بمطابق ٢٨؍جولائی ٢٠١٢ء

اسلام

اور

مرزائیت

حضرت مولانا

صفحہ ٨

ام کے ظہور ونزول کے کتب تفاسیر سے حوالہ جات نقل کئے ہیں۔ ہے اور خوب ہے۔ ١٢؍نومبر ١٩٤٦ء کو شمس آباد میں انتقال ہوا۔

ملعون قادیان مرزا غلام احمد قادیانی نے اعجاز المسیح، اعجاز احمدی بلہ کے لئے دعوت دی۔ مولانا قاضی غلام ربانی نے مرزا قادیانی یانی کی غلطیاں نکال کر مرزا قادیانی کے چیلنج کے غبارہ کو ناکارہ کر ی ضلع اٹک کا رسالہ ہے۔ یہ دونوں رسائل اس جلد میں شامل ا ہے۔

ت جلد چھیالیس (٤٦) میں پندرہ کتب ورسائل شامل ہیں ۔ ان میں: اللہ احمد پوری کی ٣ کتب حنفی آگرہ کی ١ کتاب کی ١ کتاب ی گڑھی کی ١ کتاب ر شاہپوری کے ٢ رسائل قصوری مجددی کا ١ رسالہ ی رضوی کا ١ رسالہ ہندی کا ١ رسالہ کا ١ رسالہ ان کا ١ رسالہ الدین قادری ملتانی کا ١ رسالہ شمس آبادی کے ٢ رسائل ......................................... حضرات کے کل ١٦ رسائل وکتب ۔ فالحمدلله على ذالك!

محتاج دعاء: فقیر اللہ وسایا! حال وارد کراچی ٨؍ رمضان المبارک ١٤٣٣ھ، بمطابق ٢٨؍ جولائی ٢٠١٢ء

محمد رسول اللہ

خاتم النبیین

لا نبی بعدی

صلی اللہ علیہ وسلم

اسلام

اور

مرزائیت

حضرت مولانا علامہ محمد عبداللہؒ

صفحہ ١٠

بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

سخن ہائے گفتنی

ادیب شہیر جناب عبدالقدوس انصاری

اٹھارویں صدی عیسوی کے وسط میں برصغیر پاک و ہند کے مسلمان فرمانرواؤں میں سے سراج الدولہ اور اس کے وفادار سپاہی پلاسی کے میدان میں جام شہادت نوش کرتے ہیں۔ اسی صدی کے اخیر میں ”ہماری ترکش کا آخری تیر“ غازی سلطان ٹیپو، انگریز کی چال بازیوں کے نتیجہ میں اپنوں کی بے وفائی کا شکار ہو کر خاک و خون کی نذر ہوتا ہے۔ انیسویں صدی کا آغاز ہوتا ہے تو سفید فام انگریز، شاہجہان اور عالمگیر کے جانشین کی پنشن مقرر کر کے عروس البلاد دہلی کی سلطنت اپنے ہاتھ میں لے لیتا ہے۔ اس دوران میں پنجاب کے سکھ خون مسلم سے ہولی کھیلنا شروع کرتے ہیں۔ شاہ ولی اللہؒ اور شاہ عبدالعزیز دہلویؒ کے جانشین سید احمد بریلویؒ اور شاہ اسماعیل دہلویؒ آگے بڑھتے ہیں۔ لیکن ایسا معلوم ہوتا ہے کہ بالاکوٹ کی سرزمین ان کے خون کی پیاسی تھی۔ کاغان کی وادی فرزندان اسلام کے خون سے لالہ زار بن جاتی ہے اور وہ ہمیشہ کے لئے وہیں زیر زمین محو خواب ہو جاتے ہیں۔ کچھ عرصہ بعد ١٨٥٧ء کا معرکۂ آزادی وقوع میں آتا ہے۔ جس نے رہی سہی کسر نکال دی۔ آزادی کے پروانے کچھ تو میدان کارزار میں کھیت رہے۔ بچے کھچے تو پھانسی کے تختہ پر پہنچے یا کالے پانی کے جیل خانہ میں برصغیر کے شہنشاہ بوڑھے بہادر شاہ ظفر کو جلاوطن ہو کر ایام پیری رنگون کے زندان میں گزارنے پڑے اور لال قلعہ پر برطانیہ کا ترنگا پرچم لہرانے لگا۔

اس طرح پر ایک صدی کا یہ عرصہ اپنی سختیوں اور ہولناکیوں کے لحاظ سے اسلامیان ہند کے لئے قیامت سے کم نہ تھا۔ سیلاب حوادث اپنے اثرات چھوڑ کر گزر گیا۔ ان روح فرسا اور دلگداز واقعات کے بعد اُمت مسلمہ کسی ایسے مسیحا کی منتظر تھی جو اس کے لئے پیام شفاء لاتا جو اس کے زخموں کی مرہم اور دردوں کی دوا مہیا کرتا۔ ایک طرف قوم مسلم کی یہ زبوں حالی اور درماندگی اور دوسری طرف ہم دیکھتے ہیں کہ قادیان تحصیل بٹالہ ضلع گورداسپور میں غلام احمد کے نام سے ایک آدمی اٹھتا ہے۔ اس کے خاندان کی سب سے بڑی منقبت یہ ہے کہ وہ جہاد آزادی میں انگریز کا خدمت گزار رہا۔ ١٨٥٧ء میں بقول مرزا قادیانی اس کے ابا نے پچاس گھوڑوں اور سواروں سے انگریز بہادر کی خدمت کی۔

(مجموعہ اشتہارات ج٣ ص١٣٩)

وہ شخص خود عمر بھر انگریز کا ثنا خواں اور دعا گو رہا۔ اس کی غلامی پر سدا فخر کرتا رہا۔ وہ کشتہ

صفحہ ١١

نیم جان کو آب شفا تو کیا دیتا الٹا اس کے زخموں پر نمک پاشی کرنے لگا۔ اس نے تریاق القلوب (یہ مرزا قادیانی کی اس کتاب کا نام ہے جس کے ایک اقتباس پر پیش نظر کتاب ختم ہورہی ہے) کے نام سے قوم کو زہر ہلاہل پلانا چاہا۔ اس نے آزادی کے مجاہدین کو قزاق، حرامی اور نمک حرام کے القاب سے نوازا۔ اللہ کے برگزیدہ نبیوں اور مقرب بندوں کی تواضع گالیوں سے کی۔ امت مسلمہ کے ہاتھوں کو محمد عربی (ﷺ) کے دامن سے الگ کرنے کی کوشش کی۔ جہاد کو حرام قرار دے کر آقائے مدنی ﷺ کے غلاموں کو انگریز کے قدموں میں ڈال دینے کے لئے ایڑی چوٹی کا زور لگایا۔ مسیح موعود، مہدی اور مجدد کا چکر دے کر دیکھتے دیکھتے انگریز کی سر پرستی میں وہ فرد ایک تحریک کی شکل اختیار کر گیا۔

قادیانی تحریک کے نتائج و ثمرات معلوم کرنا چاہیں تو اس سے زیادہ کچھ نہیں کہ اس کے بانی کا شباب غربت اور افلاس سے گزرا۔ لیکن وہ دنیا سے رخصت ہوا تو اس کے گھر میں دولت کی ریل پیل تھی۔ لنگر خانے کے نام پر آمد و خرچ کی مدات قائم تھیں۔ منارۃ المسیح اور بہشتی مقبرہ کے ناموں پر دھن برس رہا تھا اور اس کے پسماندگان زر و سیم سے کھیل رہے تھے۔

قصہ مختصر مرزا غلام احمد قادیانی گوشہ گمنامی سے نکل کر ایک مکتب خیال کے بانی کی حیثیت سے منصہ شہود پر آئے۔ مجرے چڑھانے والوں اور ان کے آستانہ پر سر نیاز جھکانے والوں کی ایک کھیپ انہیں میسر آ گئی اور یہ کوئی بڑی بات نہیں ہے۔ کیونکہ ہر پکارنے والے کو انسانی گلہ میں سے کچھ بھیڑیں مل جاتی رہی ہیں۔ لیکن جہاں تک مذہبی نقطہ نظر کا تعلق ہے۔ تمام مسلمان علماء، (خواہ وہ حنفی ہوں خواہ اہل حدیث، بریلوی ہوں یا دیوبندی، شیعہ ہوں یا سنی) نے بالاتفاق مرزا قادیانی کی دعوت کا بائیکاٹ کیا اور نہ صرف بائیکاٹ کیا بلکہ اسے دور حاضر کا سب سے بڑا مذہبی فتنہ قرار دیا اور امکانی حد تک ڈٹ کر اس کا مقابلہ کیا۔

حافظ العصر، حجۃ الاسلام، حضرت مولانا محمد انور شاہ صاحب کشمیریؒ کے بارے میں پڑھا بھی ہے اور سنا بھی کہ اخیر عمر میں آپ کو فتنہ مرزائیت کے بارے میں بڑی فکر رہتی تھی۔ آپ ہی کے توجہ دلانے پر علامہ اقبال کو بھی اس فتنہ کے مقابلہ اور استیصال کی فکر لاحق ہوئی۔

حضرت شاہ صاحبؒ بہاولپور کے مشہور مقدمہ مرزائیت ١٩٣١ء، ١٩٣٢ء کے سلسلہ میں یہاں تشریف لائے۔ بیس روز قیام فرمایا۔ ڈیرہ نواب صاحب بھی تشریف لائے اور پھر یہیں سے حضرت بذریعہ گاڑی دیو بند تشریف لے گئے۔ اسٹیشن ڈیرہ نواب صاحب کے ویٹنگ روم میں حضرت مولانا غلام محمد گھوٹویؒ (شیخ الجامعہ) نے آپ کی خدمت میں سفر خرچ پیش کیا تو آپ نے

٣

صفحہ ١٣

ارشاد فرمایا: ”مولانا! میری عمر پڑھنے پڑھانے میں گزری ہے۔ لیکن میں نہیں کہہ سکتا کہ میرا یہ درس تدریس کا عمل اللہ کے ہاں کس حد تک شرف قبولیت حاصل کر سکا۔ نہ معلوم اس میں کتنا ریاء شامل ہوتا تھا اور کتنا حصہ حصول زر (یعنی تنخواہ) کی نیت لے لیتی تھی۔ جب آپ کا خط میرے پاس پہنچا تھا تو اگرچہ میں سخت بیمار تھا۔ تاہم یہ سوچ کر چل پڑا کہ بہاولپور کی عدالت میں محمد مصطفےٰ ﷺ کی طرف سے وکیل بن کر پیش ہوں گا تاکہ حضور اقدس ﷺ کے تاج ختم نبوت چھیننے والوں کا مقابلہ کر سکوں۔ اللہ نے مجھے اس نیک کام کی توفیق بخشی۔ اب میں چاہتا ہوں کہ میرا یہ عمل خالصتاً اللہ کی رضا کے لئے ہو، تاکہ آخرت کے لئے زاد راہ بن سکے۔ مجھے ہدیہ قبول کرنے سے معذور سمجھیں۔“

ان رقت انگیز کلمات سے حضرت نے ہدیہ قبول کرنے سے معذرت فرمادی۔ حاضرین پر ایک قسم کی وجد کی کیفیت طاری ہو گئی۔ خدام اور معتقدین کو اشکبار چھوڑ کر حضرت راہی سفر ہو گئے۔

زبان میں ایک کتاب خصوصیت کے ساتھ کشمیری مسلمانوں کے لئے تصنیف فرمائی۔ یہ کتاب بعد میں مجلس علمی ڈابھیل نے طبع کرائی تھی۔ اس کے مقدمہ میں مفتی عتیق الرحمٰن صاحب لکھتے ہیں۔

حضرت نے انتہائی ضعف کے باوجود کاتب صاحب کے سامنے جو رقت آفریں اور درد انگیز کلمات فرمائے ان میں ایک جملہ یہ بھی تھا: ”مولوی صاحب! اس وقت زندگی کے آخری منازل سے گزر رہا ہوں۔ میرے پاس آخرت کا کوئی ذخیرہ نہیں۔ یہ دو چار تحریریں ہیں جو میرے لئے سامان آخرت ہیں۔“

تھے کہ جب انسان میدان حشر کی سختیوں کی تاب نہ لا کر سخت پریشان ہوں گے اور باری باری اولوالعزم انبیاء علیہم السلام کی خدمت میں حاضر ہو کر ہر ایک سے بارگاہ ذوالجلال میں شفاعت کی درخواست کریں گے تو ہر رسول کو اس کی صفتِ مختصہ کا واسطہ دیں گے۔ مثلاً حضرت ابراہیم علیہ السلام کو ”خلیل اللہ“ ہونے کا۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام کو ”کلیم اللہ“ ہونے کا، اس طرح جب وہ پھر پھرا کر حضرت محمد مصطفےٰ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوں گے تو حضور ﷺ کو ”خاتم النبیین“

١؎ یہ الفاظ حضرت نے از راہِ تواضع ارشاد فرمائے تھے۔ ورنہ تو اللہ والوں کا ہر عمل اللہ کی رضا کے لئے ہوتا ہے۔

ہونے کا واسطہ دے کر شفاعت کے طالب ہوں گے۔ چنانچہ حضور ﷺ اس کے بعد حضرت شاہ صاحبؒ فرماتے تھے کہ اس حدیث کی بناء پر میں کے روز حضور ﷺ کی شفاعت کا مستحق بننا چاہتا ہو اسے عقیدہ ختم نبوت پ کے مقابلہ کے لئے کام کرنا چاہئے۔

ان تین واقعات سے میرا مقصد تحفظ عقیدہ ختم نبوت کی اہمی فریضہ کو سر انجام دینے کے لئے جو بھی اٹھ کھڑا ہو وہ ہمت افزائی کا مستح پیش نظر کتابچہ کی ترتیب و اشاعت کا بیڑا اٹھایا ہے خدا تعالیٰ انہیں جزائے واقعی ایک گراں قدر خدمت سر انجام دی ہے۔

یہ کتابچہ مختصر اور جامع ہے کہ اس کے پڑھنے سے قاری کے خدوخال پوری طرح نکھر کر سامنے آجاتے ہیں۔ مرزا قادیانی کے قلم سے حضرات انبیاء علیہم السلام کے حق میں بخدا اسے پڑھ کر دل لرز جاتا ہے۔ بارے میں ”رقیبانہ چشمک“ کا اظہار انہوں نے اپنے جس لب ولہجہ میں کو دیکھ کر بھی ایک انصاف پسند آدمی حقیقت کو نہ سمجھ سکے۔ مسئلہ ختم نبوت کے بارے میں متنبی قادیان کی ہیرا پھیری کا انکشاف بھی اس کتابچہ میں خ

میں خدا تعالیٰ سے دعا کرتا ہوں کہ وہ اس کتابچہ کو شائع کر نجات اور قارئین کے حق میں ذریعہ ہدایت بنائے۔ واللہ الموفق لما

عبدالقد

٨/ ذیقعدہ ١٣٩٣ھ

انتساب

ان بھٹکے ہوئے انسانوں کے نام جو محض اپنی سادہ لوحی اور ن سے مرزائی تلبیس اور دجل کا شکار ہو کر اپنی آخرت کی زندگ ہیں۔ ”الذین ضل سعیهم فی الحیوۃ الدنیا وهم یح یحسنون صنعا“

میں خود غرض نہیں، میرے آنسو پرکھ کے دیکھ
فکرِ چمن ہے مجھ کو، غمِ آشیاں نہیں

٥

صفحہ ١٤

ہونے کا واسطہ دے کر شفاعت کے طالب ہوں گے۔ چنانچہ حضور ﷺ شفاعت فرمائیں گے۔ اس کے بعد حضرت شاہ صاحبؒ فرماتے تھے کہ اس حدیث کی بناء پر میں کہتا ہوں جو شخص قیامت کے روز حضور ﷺ کی شفاعت کا مستحق بننا چاہتا ہو اسے عقیدہ ختم نبوت کے تحفظ اور فتنہ مرزائیت کے مقابلہ کے لئے کام کرنا چاہئے۔

ان تین واقعات سے میرا مقصد تحفظ عقیدہ ختم نبوت کی اہمیت جتلانا ہے۔ اس مقدس فریضہ کو سر انجام دینے کے لئے جو بھی اٹھ کھڑا ہو وہ ہمت افزائی کا مستحق ہے۔ جن نوجوانوں نے پیش نظر کتابچہ کی ترتیب و اشاعت کا بیڑا اٹھایا ہے خدا تعالیٰ انہیں جزائے خیر دے کہ انہوں نے واقعی ایک گراں قدر خدمت سر انجام دی ہے۔

یہ کتابچہ مختصر اور جامع ہے کہ اس کے پڑھنے سے قاری کے سامنے ”مرزائیت“ کے خدوخال پوری طرح نکھر کر سامنے آجاتے ہیں۔ مرزا قادیانی کے قلم سے جو کچھ نکلا ہے بالخصوص حضرات انبیاء علیہم السلام کے حق میں بخدا اسے پڑھ کر دل لرز جاتا ہے۔ سیدنا مسیح علیہ السلام کے بارے میں ”رقیبانہ چشمک“ کا اظہار انہوں نے اپنے جس لب ولہجہ میں کیا ہے حیرت ہے کہ اس کو دیکھ کر بھی ایک انصاف پسند آدمی حقیقت کو نہ سمجھ سکے۔ مسئلہ ختم نبوت اور نزول مسیح علیہ السلام کے بارے میں خبطی قادیان کی ہیرا پھیری کا انکشاف بھی اس کتابچہ میں خوب کیا گیا ہے۔

میں خدا تعالیٰ سے دعا کرتا ہوں کہ وہ اس کتابچہ کو شائع کنندگان کے حق میں وسیلہ نجات اور قارئین کے حق میں ذریعہ ہدایت بنائے۔ واللہ الموفق لما یحب ویرضی!

عبدالقدوس انصاری ٨ / ذیقعدہ ١٣٩٣ھ ، مطابق ٤ / دسمبر ١٩٧٣ء

انتساب

ان بھٹکے ہوئے انسانوں کے نام جو محض اپنی سادہ لوحی اور ناواقفیت کی وجہ سے مرزائی تلبیس اور دجل کا شکار ہوکر اپنی آخرت کی زندگی برباد کر رہے ہیں۔ ”الذین ضل سعیهم فی الحیوۃ الدنیا و هم یحسبون انهم یحسنون صنعا“

میں خود غرض نہیں، میرے آنسو پرکھ کے دیکھ
فکر چمن ہے مجھ کو، غم آشیاں نہیں

(مصنف)

٥

صفحہ ١٤

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ

حرف آغاز

برادران اسلام! اس پرفتن دور میں جب کہ عقیدہ اور عمل ہر لحاظ سے گمراہی کا دور دورہ ہے، عوام الناس بلکہ بیشتر خواص بھی اسلام کی بنیادی تعلیمات تک سے نا آشنا ہیں۔ ایسے ماحول میں لوگوں کی ناواقفیت اور سادہ لوحی سے فائدہ اٹھاتے ہوئے انہیں دام تزویر میں لے آنا بڑا آسان ہو گیا ہے۔ چنانچہ فرقہ مرزائیہ قادیانی ہوں یا لاہوری کے مبلغ اپنے مشن پر نکلتے ہیں تو اپنے آپ کو سچے مسلمان، دین کے خادم اور مذہب وملت کا دردمند ظاہر کرتے ہیں۔ اگر ان سے مرزائیت کے شجرہ نسب پر گفتگو کی جائے تو یوں لب کشا ہوتے ہیں: ”میاں یہ تو احراریوں اور دیوبندیوں کی شرارت ہے کہ انہوں نے ہمیں خواہ مخواہ بدنام کر رکھا ہے۔ ورنہ ہم کسی نئے مذہب کا نام نہیں لیتے۔ بلکہ ہم تو اسلام ہی کی دعوت دیتے ہیں۔ دیکھئے ہم تمہاری طرح کلمہ پڑھتے ہیں۔ یہی نماز، روزہ وغیرہ مانتے ہیں۔“

اس لئے ایک خالی الذہن اور سادہ لوح آدمی ان کی پر فریب چکنی چپڑی باتوں میں پھنس کر دولت ایمان سے محروم ہو جاتا ہے۔ آئندہ صفحات میں اس بات کی کوشش کی جائے گی کہ تحریک قادیانیت (بلفظ دیگر مرزائیت) کا ایک سرسری جائزہ قارئین کے سامنے پیش کر دیا جائے۔ بنیادی عقائد کے متعلق نہایت آسان انداز میں چند ایک موٹی موٹی باتیں پیش کی جائیں گی۔ جن سے قارئین بخوبی معلوم کر سکیں گے۔ کیا مرزائی مسلمان ہیں یا وہ مسلمانوں سے الگ تھلگ ایک جداگانہ مذہب کے پیروکار اور ایک علیحدہ امت ہیں۔ اخیر میں یہ بھی بتایا جائے گا کہ قادیانیت کا سر چشمہ کیا ہے۔ یہ کیونکر وجود میں آئی۔ اس پودے کو لگانے والا اور اس کو سینچنے والا کون تھا۔ وغیرہ وغیرہ!

قارئین سے درخواست ہے کہ آئندہ اوراق میں اسلامی اور مرزائی عقائد کو دو کالموں کی شکل میں درج کیا گیا ہے۔ مطالعہ کرتے وقت اس بات کا خیال رکھا جائے کہ کہیں کہیں ایک ہی مسئلہ کئی صفحات تک چلا گیا ہے تو پہلے دائیں طرف کا کالم ختم کر لیا جائے۔ اس کے بعد بایاں کالم دیکھا جائے۔

صفحہ ١٥

مسلمانوں اور مرزائیوں کے درمیان مذہبی اختلافات کا بیان

خدا تعالیٰ کی ذات اور صفات کے بارے میں اختلاف

معلوم رہے کہ توحید اسلام کا بنیادی عقیدہ ہے۔ سورہ اخلاص جو بظاہر تعداد الفاظ کی رو سے چھوٹی سی ہے۔ لیکن معانی سے لبریز ہے اور اسی وجہ سے آنحضرت ﷺ نے فرمایا ہے کہ یہ تہائی قرآن کے برابر ہے۔ اس سورہ میں عقیدہ توحید اس طرح مختصر مگر جامع انداز میں بیان فرمایا گیا ہے کہ اس پر دریا در کوزہ کی مثال صادق آتی ہے۔ اب ایک طرف اس سورہ کے ایک ایک جملہ اور دیگر آیات مندرجہ ذیل کو لیجئے اور دوسری طرف مرزائی عقائد کو پڑھئے اور پھر فیصلہ دیجئے کہ کیا مرزائی عقائد کو اسلام سے کوئی نسبت ہے یا دونوں میں بعد المشرقین پایا جاتا ہے۔

اسلامی عقائد

مرزائی عقائد

نہیں ۔"قل ھو اللہ احد (اخلاص)" "اللّٰہ لا الہ الا ھو (آیۃ الکرسی)" "وہ بے مثل و بے مثال ہے۔"لیس کمثلہ شیئ"

خواب میں خود خدا بن گیا تھا۔ "رأیتنی فی المنام عین اللہ وتیقنت اننی ھو"

(آئینہ کمالات اسلام ص ٥٦٤، خزائن ج ٥ ص ایضاً)

میں خود خدا ہوں اور یقین کیا کہ وہی ہوں۔" الوہیت میری رگوں اور پٹھوں میں سرایت کرگئی۔

(کتاب البریہ ص ١٠٣، ١٠٤، خزائن ج ١٣ ص ١٠٣)

واضح رہے کہ نبی کا خواب یا کشف وحی کی حیثیت رکھتا ہے۔

"أنت اسمی الاعلیٰ" یعنی خدا تعالیٰ نے فرمایا تو میرا سب سے بڑا نام ہے۔

(اربعین نمبر ٤ ص ٣٤، خزائن ج ١٧ ص ٤١٣)

ہے نہ پیتا ہے۔ "اللہ الصمد (اخلاص)"

مرزا قادیانی کے نزدیک خدا روزہ بھی رکھتا ہے اور افطار بھی کرتا ہے۔ "افطر واصوم"

٧

صفحہ ١٧

(حقیقت الوحی ص١٠٤، خزائن ج٢٢ص١٠٧)

اور ظاہر ہے کہ افطار کے لئے ماکولات ومشروبات کی ضرورت پیش آتی ہے۔

کسی کی اولاد ہے۔ ”لم یلد ولم یولد (اخلاص)“

صاحبة (انعام:١٠١)“ اس کی اولاد کیونکر ہوسکتی ہے جب کہ اس کی بیوی کوئی نہیں۔

نے مجھے الہام فرمایا ہے کہ ”تو مجھ سے بمنزلہ میرے فرزند کے ہے۔“ ١؎

(حقیقت الوحی ص٨٦، خزائن ج٢٢ص٨٩)

طرف منسوب کرتے ہیں: ”انت من ماء نا وهم من فشل“ اس کا ترجمہ وہ خود ہی کرتے ہیں: ”تو ہمارے پانی سے ہے اور دوسرے لوگ فشل سے۔“

(اربعین نمبر٣ ص٣٤، خزائن ج١٧ص٤٢٤)

ارشاد ہے: ”انت منی وانامنک“ تو مجھ سے ظاہر ہوا اور میں تجھ سے۔

(حقیقت الوحی ص٧٤، خزائن ج٢٢ص٧٧)

١؎ ولدی کا مرکب اضافی قابل غور ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ خدا کی اولاد ہے اور جو حیثیت اس کے نزدیک اس کی اولاد کو حاصل ہے۔ وہی مقام مرزا قادیانی کو بھی حاصل ہے جیسا کہ حدیث شریف میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے حضرت علیؓ سے فرمایا: ”انت منی بمنزلة هارون من موسیٰ“ اگر مرزا قادیانی کے ذہن میں ”ولدیّت“ کا تصور نہیں تھا اور وہ عربی زبان سے بخوبی واقف ہوتے تو الہام کے الفاظ یوں تصنیف فرماتے۔ ”انت منی بمنزلة الولد من والده“ اب تین باتوں میں سے ایک کا اعتراف کرنا پڑے گا یا تو مرزا قادیانی عقیدہ ولدیت کے قائل ہیں یا ان کا الہام منجانب اللہ نہیں ہے۔ بلکہ محض ایجاد بندہ ہے۔ یا خدا کو عربی زبان نہیں آتی۔ (بقیہ حاشیہ اگلے صفحہ پر)

یکن له کفواً احد (اخلاص)“

مرزا قاد کا ہمسر ”انا نو کان ا لڑکے ک کا ظہور (حقیق

آتی ہے اور نہ نیند۔ ”الحی القیوم لا تاخذه سنة ولا نوم (آیة الکرسی)“

مرزا قا ہے اور اور سوتا

اس کے سوا کوئی دوسرا خالق نہیں۔ قرآن مجید میں بار بار اس عقیدہ کا ذکر آیا ہے۔ چند آیات درج ذیل ہیں:

علیم ذالکم الله ربکم لا اله الا هو خالق کل شئ فاعبدوه (الانعام:١٠٢)“

الواحد القهار (الرعد:١٦)“

مرزا ق میں خ اور ایک ہیں۔ صور پیدا ک بمع کہ

(حاشیہ گزشتہ صفحہ) ٢؎ یہ فشل کیا چیز ہے؟ عربی زبان کا لفظ ہے جس کے معنی بزدلی کے ہیں۔ جیسا ”لا تنازعوا فتفشلوا“ میں مراد ہیں۔ مرزا ق سے کیا ہے۔ البتہ (کتاب البریہ ص١٠١) میں اس کا ت عربی کی کون سی لغات میں لکھے ہیں۔ یہ قادیانی ک میں کوئی جدید لغت مرتب ہوئی ہو۔

صفحہ ١٧

یکن لہ کفواً احد (اخلاص)“

مرزا قادیانی بجائے خود ماند، وہ تو اپنے بیٹے کو خدا کا ہمسر قرار دیتے ہیں۔ ان کا الہام ملاحظہ ہو: ”انا نبشرک بغلام مظہر الحق والعلیٰ کان اللہ نزل من السماء“ ہم تجھے ایک لڑکے کی بشارت دیتے ہیں۔ جس کے ساتھ حق کا ظہور ہوگا۔ گویا آسمان سے خدا اترے گا۔

(حقیقت الوحی ص ٩٥، ٩٦، خزائن ج ٢٢ ص ٩٨، ٩٩)

آتی ہے اور نہ نیند۔ ”الحی القیوم لا تاخذہ سنۃ ولا نوم (آیۃ الکرسی)“

مرزا قادیانی کا فرمان ہے۔ خدا نماز بھی پڑھتا ہے اور روزہ بھی رکھتا ہے۔ وہ جاگتا بھی ہے اور سوتا بھی ہے۔

(البشریٰ ج ٢ ص ٧٩)

اس کے سوا کوئی دوسرا خالق نہیں۔ قرآن مجید میں بار بار اس عقیدہ کا ذکر آیا ہے۔ چند آیات درج ذیل ہیں:

علیم ذالکم اللہ ربکم لا الہ الا ھو خالق کل شئ فاعبدوہ

(الانعام:١٠٢)“

الواحد القھار (الرعد:١٦)“

مرزا قادیانی اپنے ایک طویل مکاشفہ میں جس میں وہ اپنا خدا بننا بیان کرتے ہیں، کہتے ہیں: ”اور اس حالت میں میں یوں کہہ رہا تھا کہ ہم ایک نیا نظام اور نیا آسمان اور نئی زمین چاہتے ہیں۔ سو میں نے پہلے تو آسمان اور زمین کو اجمالی صورت میں پیدا کیا۔ پھر میں نے آسمان دنیا کو پیدا کیا اور کہا: ”انا زینا السماء الدنیا بمصابیح“ پھر میں نے کہا اب ہم انسان کو مٹی کے خلاصہ سے پیدا کریں گے۔“

(حاشیہ گزشتہ صفحہ) ٧ یہ فشل کیا چیز ہے؟ ہم سے نہ پوچھئے۔ ہم تو اتنا جانتے ہیں کہ یہ عربی زبان کا لفظ ہے جس کے معنی بزدلی کے ہیں۔ جیسا کہ قرآن پاک میں ”حتی اذ فشلتم“ اور ”لاتنازعوا فتفشلوا“ میں مراد ہیں۔ مرزا قادیانی نے اربعین میں اس لفظ کا ترجمہ فشل ہی سے کیا ہے۔ البتہ (کتاب البریہ ص ١٠١) میں اس کا ترجمہ خشکی کیا ہے۔ رہا یہ کہ فشل کے معنی خشکی، عربی کی کون سی لغات میں لکھے ہیں۔ یہ قادیانی مبلغین سے دریافت کیجئے۔ ممکن ہے کہ قادیان میں کوئی جدید لغت مرتب ہوئی ہو۔

٩

صفحہ ١٨

(ج) ”هل من خلق غیر الله (فاطر: ٣)“ (و) ”الله خالق كل شئ (الزمر: ٦٢)“ (ه) ”ذالكم الله ربكم خالق كل شئ فانی توفكون (المؤمن: ٦١)“

(کتاب البریہ ص ٨٧، خزائن ج ١٣ ص ١٠٥)

معلوم رہے کہ مرزا قادیانی نے اپنا یہ مکاشفہ عیسائیوں کے مقابلہ میں از راہ مباہات یعنی اپنی عظمت شان ظاہر کرنے کیلئے بیان کیا ہے۔

(٧) زمین آسمان اور جو کچھ ان میں ہے۔ سب اللہ کا ہے۔ ”له ما فی السموت وما فی الارض (بقره: ٢٥٥)“

مرزا قادیانی کہتے ہیں کہ خدا تعالیٰ نے مجھے الہام فرمایا ہے۔ ”الارض والسماء معك كما هو معی“ آسمان اور زمین تیرے ساتھ ہیں۔ جیسا کہ وہ میرے ساتھ ہیں۔

(حقیقت الوحی ص ٧٥، خزائن ج ٢٢ ص ٧٨)

(٨) اللہ تعالیٰ کا ہر کام صواب اور درست ہوتا ہے۔ اس سے خطا کا سرزد ہونا ناممکن ہے۔

مرزا قادیانی کا فرمان ہے کہ خدا سے کبھی کبھی خطا بھی ہو جاتی ہے۔ الہام کے لفظ سنئے: ”اخطی واصیب“

(حقیقت الوحی ص ١٠٣، خزائن ج ٢٢ ص ١٠٦)

عقیدہ رسالت میں اختلاف

توحید کے بعد دوسرا بنیادی عقیدہ رسالت ہے۔ اس بارے میں اسلامی عقائد اور مرزائی نظریات کے درمیان موازنہ کرنے کے لئے ہمیں تین پہلوؤں سے غور کرنا ہے۔

اب لیجئے درج ذیل عبارات پڑھئے:

١؎ یہ بات غور طلب ہے کہ ”هو“ ضمیر واحد مذکر یہاں کیسے آگئی ہے۔ جب کہ پیچھے دو چیزیں مذکور ہیں۔ ”الارض“ اور ”السماء“ اور دونوں مؤنث ہیں۔ قاعدہ کے مطابق یہاں ”هما“ آنا چاہئے تھا۔ کیا خدا تعالیٰ عربی زبان کی گرائمر سے ناواقف ہیں یا قادیانی نبی کے ہاں عربی قواعد جداگانہ وضع کی گئی ہے؟

١٠

١٩

مقام انبیاء علیہم السلا

اسلامی عقائد

حضرات انبیاء علیہم السلام کی تعظیم وتکریم کا مسئلہ بڑا ہی نازک ہے۔ سب حضرات اپنی اپنی جگہ پر بڑی شان والے تھے۔ کسی کی شان میں ادنیٰ توہین اور گستاخی بھی کفر ہے۔ قرآن وحدیث کے دلائل اور علماء امت کے اقوال تو ایک طرف رہے۔ خود مرزا غلام احمد قادیانی اپنے دعوؤں کے چکر میں پڑنے سے پہلے لکھتے ہیں: ”مقبولان الہی کی نسبت زبان درازی کرنا نہایت درجہ کی ناپاکی، ناہلی اور ہٹ دھرمی ہے“

(براہین احمدیہ ص ١٠٢، خزائن ج ١ ص ٩٢)

مرزا غلام اور اس ط تک پہنچن کھول کر فردا حضر ان کے د انداز ہے بلکہ کہیں ہیں۔ نعوذ کی ہرزہ

سیدنا حضرت آدم علیہ السلام نسل انسانی کے دادا اور پہلے نبی ہیں۔ ان کا لقب ہے۔ ”صفی الله“ یعنی اللہ کا برگزیدہ ”ان الله اصطفى ادم (آل عمران: ٣٣)“ ”اول الانبیاء ادم“ (کتب عقائد)

مرزا قاد کہ نفسو ان میں مسیح الم لوٹا ہے تفرقہ پ (لم

سیدنا حضرت نوح علیہ السلام اولوالعزم انبیاء میں سے ہیں اور سب سے پہلے تشریعی نبی ہیں۔ ”اول نبی بعثه الله الى اهل الارض (حدیث)“ آپ ساڑھے نو سو سال تک اپنی قوم کو تبلیغ فرماتے رہے۔ لیکن قوم اپنی سرکشی، بت پرستی اور اہل حق کو ایذا رسانی

مرزا قا (الف نشان نشان

(تتمہ ح

(ب)

١١

صفحہ ١٩

کتاب البریہ ص ٧٨، خزائن ج ١٣ ص ١٠٥)

ہے کہ مرزا قادیانی نے اپنا یہ مکاشفہ کے مقابلہ میں ازراہ مباہات یعنی اپنی ت ظاہر کرنے کیلئے بیان کیا ہے۔

کہتے ہیں کہ خدا تعالیٰ نے مجھے ہے۔ ”الارض والسماء معك عنی ”آسمان اور زمین تیرے ساتھ دہ میرے ساتھ ہیں۔

قت الوحی ص ٧٥، خزائن ج ٢٢ ص ٧٨)

کا فرمان ہے کہ خدا سے کبھی بھی خطا ہے۔ الہام کے لفظ سنئے: ”اخطی

قت الوحی ص ١٠٣، خزائن ج ٢٢ ص ١٠٦)

اس بارے میں اسلامی عقائد اور وؤں سے غور کرنا ہے۔

یہاں کیسے آگئی ہے۔ جب کہ مؤنث ہیں۔ قاعدہ کے مطابق ہے ناواقف ہیں یا قادیانی نبی

مقام انبیاء علیہم السلام

اسلامی عقائد

مرزائی عقائد

حضرات انبیاء علیہم السلام کی تعظیم وتکریم کا مسئلہ بڑا ہی نازک ہے۔ سب حضرات اپنی اپنی جگہ پر بڑی شان والے تھے۔ کسی کی شان میں ادنیٰ توہین اور گستاخی بھی کفر ہے۔ قرآن وحدیث کے دلائل اور علماء امت کے اقوال تو ایک طرف رہے۔ خود مرزاغلام احمد قادیانی اپنے دعوؤں کے چکر میں پڑنے سے پہلے لکھتے ہیں: ”مقبولان الٰہی کی نسبت زبان درازی کرنا نہایت درجہ کی ناپاکی، پلیدی اور ہٹ دھرمی ہے۔“

(براہین احمدیہ ص ١٠٢، خزائن ج١ ص٩٢)

مرزا غلام احمد قادیانی کو خود بڑا بننے کا شوق تھا اور اس شوق کی تکمیل میں ان کی وارفتگی یہاں تک پہنچی کہ انہوں نے کسی کی پرواہ نہ کی۔ دل کھول کر اپنی شان میں قصیدہ خوانی کی اور فرداً فرداً حضرات انبیاء علیہم السلام کے نام لے کر ان کے مقابلے میں اپنی فضیلت اور برتری اس انداز سے جتائی کہ ان کا ناقص ہونا ظاہر ہو۔ بلکہ کہیں کہیں تو صریح توہین کے مرتکب ہوئے ہیں۔ نعوذ بالله من ذالك! مرزا قادیانی کی ہرزہ سرائی کے نمونے ملاحظہ ہوں۔

سیدنا حضرت آدم علیہ السلام نسل انسانی کے دادا اور پہلے نبی ہیں۔ ان کا لقب ہے۔ ”صفی اللہ“ یعنی اللہ کا برگزیدہ ”ان الله اصطفیٰ ادم (آل عمران:٣٣)“ ”اول الانبیاء آدم“

(کتب عقائد)

مرزا قادیانی فرماتے ہیں: ”آدم اس لئے آیا کہ نفسوں کو اس دنیا کی زندگی کی طرف بھیجے اور ان میں اختلاف وعداوت کی آگ بھڑکائے۔ مسیح امم اس لئے آیا کہ انہیں دارِ فناء کی طرف لوٹائے اور ان میں سے اختلاف ومخاصمت تفرقہ پراگندگی کو دور کرے۔“

(ضمیمہ خطبہ الہامیہ ص الف، خزائن ج١٦ ص٣٠٨)

سیدنا حضرت نوح علیہ السلام اولوالعزم انبیاء میں سے ہیں اور سب سے پہلے تشریعی نبی ہیں۔ ”اَوّل نبی بعثه الله الیٰ اهل الارض (حدیث)“ آپ ساڑھے نو سو سال تک اپنی قوم کو تبلیغ فرماتے رہے۔ لیکن قوم اپنی سرکشی، بت پرستی اور اہل حق کو ایذا رسانی

مرزا قادیانی کی شیخی ملاحظہ ہو۔ لکھتے ہیں:

نشان دکھلا رہا ہے کہ اگر نوح کے زمانے میں وہ نشان دکھلائے جاتے تو وہ لوگ غرق نہ ہوتے۔

(تتمہ حقیقت الوحی ص ١٣٧، خزائن ج٢٢ ص٥٧٥)

صفحہ ٢١

سے باز نہ آئی تو قانون قدرت نے اپنا کام کیا۔ طوفان کا عذاب آیا اور آپ کے تمام مخالفین غرق ہو گئے۔

کہ اگر وہ ان امتوں کے وقت نشان دکھلائے جاتے جو پانی اور آگ اور ہوا سے ہلاک ہو گئیں تو وہ ہلاک نہ ہوتیں۔“

(دعوت حق ص ١٧، حقیقت الوحی ص ٦٢ خزائن ج ٢٢ ص ٦١٩)

سیدنا حضرت یوسف علیہ السلام

ایک نہایت جلیل القدر نبی ہیں۔ قرآن کریم کی ایک طویل سورت ان کی عظمت شان کو بیان کر رہی ہے۔ حدیث میں ان کے لئے ”الکریم ابن الکریم ابن الکریم ابن الکریم“ کے لفظ آئے ہیں۔ کیونکہ وہ خود نبی۔ ان کے والد نبی ،دادا نبی، پردادا نبی ”صلوٰۃ اللہ وسلامہ علیہم اجمعین“

مرزا قادیانی رقمطراز ہیں۔ ”اس امت کا یوسف یعنی یہ عاجز اسرائیلی یوسف سے بڑھ کر ہے۔ کیونکہ یہ عاجز قید کی دعا کر کے بھی قید سے بچا لیا گیا۔ مگر یوسف بن یعقوب قید میں ڈالا گیا اور اس امت کے یوسف (یعنی مرزاغلام احمد قادیانی) کی بریت کیلئے پچیس برس پہلے ہی خدا نے آپ گواہی دے دی۔ مگر یوسف بن یعقوب اپنی بریت کیلئے انسانی گواہی کا محتاج ہوا۔“

(براہین احمدیہ حصہ پنجم ص ٩٩، خزائن ج ٢١ ص ایضاً)

سیدنا حضرت موسیٰ علیہ السلام

ایک نہایت بلند پایہ رسول ہیں۔ جنہیں اس دنیا میں اللہ تعالیٰ سے ہم کلامی کا شرف حاصل ہوا اور اسی وجہ سے ان کا لقب کلیم اللہ ہے۔ ”وكلم اللہ موسى تكليماً“ (نساء:١٦٤)

مرزا قادیانی کہتے ہیں: ”حضرت موسیٰ کی تورات میں یہ پیش گوئی تھی کہ وہ بنی اسرائیل کو ملک شام میں جہاں دودھ اور شہد کی نہریں بہتی ہیں، پہنچائیں گے مگر یہ پیش گوئی پوری نہ ہوئی۔“

(حقیقت الوحی ص ١٧٧ حاشیہ، خزائن ج ٢٢ ص ١٨٢)

سیدنا حضرت عیسیٰ علیہ السلام

اللہ تعالیٰ کے ان برگزیدہ اور مقرب پیغمبروں میں سے ہیں جن کے واقعات اور حالات قرآن پاک میں بسط سے بیان ہوئے ہیں۔ آپ کا ذکر خیر قرآن کریم کی تیرہ سورتوں میں ٨٤ آیات کے اندر پھیلا ہوا ہے۔ نزول قرآن سے پہلے آپ کے بارے میں دو قومیں گمراہی کا شکار تھیں۔

مرزا غلام احمد قادیانی کے پیش نظر ایک منصوبہ تھا وہ یہ کہ انہیں محدث ،ملہم اور مجدد کے مقامات سے گزر کر نبوت اور رسالت کے عظیم الشان محل میں داخل ہونا تھا۔ اب یہ دیکھ کر کہ نبوت کے محفوظ قلعہ میں پہنچنے کے لئے سیدھا راستہ تو کوئی نہیں ہے۔ کیونکہ اب اس کا دروازہ ہی بند کر دیا گیا۔ ان کی سمجھ میں یہ بات آئی کہ پہلے مسیح

١٢

یہود آپ کی رسالت اور نبوت کے منکر ہو کر آپ کے سخت مخالف تھے۔ آپ کی والدہ ماجدہ حضرت بی بی مریم بتول پر ناجائز تہمت لگاتے تھے۔ ہر دو مقدس ہستیوں کے متعلق بہت سی ناگفتنی باتیں کہتے تھے۔ وغیرہ وغیرہ! دوسری طرف عیسائی آپ کو خدا کا بیٹا مانتے تھے اور صرف آپ کو نہیں بلکہ آپ کی والدہ ماجدہ کو بھی شریک خدائی سمجھتے تھے۔ پھر انہوں نے کفارہ، اور شفاعت کے عقائد گھڑ کر دین کا وہ حلیہ بگاڑا کہ دین حق ایک ناقابل فہم پہیلی بن کر رہ گیا۔ اسلام کے ابتدائی ایام میں مشرکین اور اہل کتاب یہود کے علاوہ عیسائی بھی مسلمانوں سے برسر پیکار تھے۔ ٧ھ میں عیسائیوں کے ساتھ موتہ کی جنگ پیش آئی۔ جس میں تاجدار مدینہ ﷺ کے منہ بولے بیٹے اور محبوب صحابی حضرت اسامہؓ حقیقی چچا زاد بھائی حضرت جعفرؓ اور دربار رسالت کے شاعر خوش نوا حضرت عبداللہ بن رواحہؓ جیسے فرزندان اسلام شہید ہوئے۔ ٩ھ میں غزوہ تبوک پیش آیا۔ جس میں آنحضرت ﷺ اور صحابہ کرامؓ کو ناقابل بیان تکالیف اور مصائب پیش آئیں۔ عیسائیوں کو دعوت مباہلہ دینے کی بھی نوبت آئی۔ اب یہاں پر جھوٹے اور سچے نبی کی نبوتیں ممتاز ہو کر سامنے آتی ہیں۔ حضرت محمد مصطفےٰ ﷺ کے لئے موقعہ تھا کہ عیسائیوں سے

حدیثوں م دوبارہ آمد اس بات ک ثابت کر دیا اسرائیلی ن اور جن ک (یعنی مرز بعد پھر کن اور پھر مسل گئے ۔ چنا قرآنی آ مروڑ کیا گ جملہ علمی ا کامیاب کہ خود کو اس رس مرزا قاد سامرا ب جس میں کدہ پروان اس ر اب سے م عیسائی سمجھ مخالف کتا

١٣

صفحہ ٢١

یہود آپ کی رسالت اور نبوت کے منکر ہو کر آپ کے سخت مخالف تھے۔ آپ کی والدہ ماجدہ حضرت بی بی مریم بتول پر ناجائز تہمت لگاتے تھے۔ ہر دو مقدس ہستیوں کے متعلق بہت سی ناگفتنی باتیں کہتے تھے۔ وغیرہ وغیرہ!

دوسری طرف عیسائی آپ کو خدا کا بیٹا مانتے تھے اور صرف آپ کو نہیں بلکہ آپ کی والدہ ماجدہ کو بھی شریک خدائی سمجھتے تھے۔ پھر انہوں نے کفارہ، اور شفاعت کے عقائد گھڑ کر دین کا وہ حلیہ بگاڑا کہ دین حق ایک ناقابل فہم پہیلی بن کر رہ گیا۔ اسلام کے ابتدائی ایام میں مشرکین اور اہل کتاب یہود کے علاوہ عیسائی بھی مسلمانوں سے برسر پیکار تھے۔ ٧ھ میں عیسائیوں کے ساتھ موتہ کی جنگ پیش آئی۔ جس میں تاجدار مدینہ ﷺ کے منہ بولے بیٹے اور محبوب صحابی حضرت اسامہؓ حقیقی چچازاد بھائی حضرت جعفرؓ اور دربار رسالت کے شاعر خوش نوا حضرت عبداللہ بن رواحہؓ جیسے فرزندان اسلام شہید ہوئے۔ ٩ھ میں غزوہ تبوک پیش آیا۔ جس میں آنحضرت ﷺ اور صحابہ کرامؓ کو ناقابل بیان تکالیف اور مصائب پیش آئیں۔ عیسائیوں کو دعوت مباہلہ دینے کی بھی نوبت آئی۔ اب یہاں پر جھوٹے اور سچے نبی کی نبوتیں ممتاز ہو کر سامنے آتی ہیں۔ حضرت محمد مصطفےٰ ﷺ کے لئے موقعہ تھا کہ عیسائیوں سے

حدیثوں میں حضرت عیسیٰ مسیح علیہ السلام کی دوبارہ آمد کی پیش گوئی موجود ہے۔ اب کوشش اس بات کی کرنی چاہئے کہ کسی نہ کسی طرح یہ ثابت کر دیا جائے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام جو اسرائیلی نبی تھے وہ تو اللہ کو پیارے ہو چکے ہیں اور جن کی آمد کی خبر دی گئی ہے وہ با بدولت (یعنی مرزا قادیانی آنجہانی) ہیں۔ اس کے بعد پھر گنجائش نکل آئے گی کہ پہلے غیر تشریعی اور پھر مستقل نبوت کے دعوے بھی کئے جاسکیں گے۔ چنانچہ انہوں نے تاویل کا ہتھوڑا چلایا۔ قرآنی آیات اور احادیث کی عبارتوں کا توڑ مروڑ کیا۔ نصوص شرعیہ کی تفسیر بالرائے کی، بایں ہمہ علمی لحاظ سے وہ اپنی کوشش میں کس حد تک کامیاب رہے۔ اس کا فیصلہ قارئین آگے چل کر خود کر لیں گے۔

اس رسالہ کے آخیر میں آپ کو معلوم ہوگا کہ مرزا قادیانی کی خانہ ساز نبوت کو برطانوی سامراج کا تحفظ حاصل تھا۔ انگریز کے سیاست کدہ میں یہ پلان تیار ہوا اور اسی کے سایہ میں پروان چڑھا۔ لیکن اب فکر اس بات کی تھی کہ اس راز پر پردہ کیونکر ڈالا جائے تو بڑی ہوشیاری سے کام لیتے ہوئے مرزا قادیانی نے رد عیسائیت کو اپنا مشن ظاہر کیا تاکہ عوام الناس یہ سمجھیں کہ یہ صاحب تو عیسائیت کے سخت مخالف ہیں۔ اس کی تردید میں انہوں نے کتابوں کا انبار لگا دیا ہے اور نتیجتاً ہر طرف سے

١٣

صفحہ ٢٣

تحسین ہونے لگے گی۔ اس لئے مرزا قادیانی نے ایک سوچی سمجھی سکیم کے تحت کام شروع کیا اور پھر قلم کی وہ جولانیاں دکھائیں کہ پناہ بخدا۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی ذات گرامی کی توہین میں کوئی دقیقہ فروگزاشت نہ کیا۔ دشنام دہی اور بہتان پردازی میں انہوں نے یہودیوں کو بھی مات کردیا۔

یوں تو مرزا قادیانی کا قلم سنجیدگی اور متانت سے عاری ہے۔ لیکن خصوصیت کے ساتھ جو سوقیانہ انداز انہوں نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں اختیار کیا ہے اس کو دیکھ کر تو ایک لمحہ کے لئے بھی یہ تصور نہیں کیا جاسکتا کہ یہ شخص اپنے دل کے کسی گوشہ میں اللہ اور اس کے برگزیدہ پیغمبروں کے لئے کوئی محبت اور عقیدت رکھتا ہے۔ ہمیں تو ان کے حوالے نقل کرنا بھی گراں معلوم ہوتا ہے۔ لیکن نقل کفر کفر نہ باشد۔ لیجئے چند حوالے پیش خدمت ہیں۔

انسان تھے۔“

(ضمیمہ انجام آتھم ص ٢٨٨، خزائن ج ١١ ص ٢٨٨)

انتقام لینے کیلئے ان تمام الزامات کی تصدیق فرماتے جو یہود کی طرف سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور ان کی والدہ علیہا السلام پر لگائے جارہے تھے۔ تاکہ نہ رہے بانس نہ بجے بانسری۔ اس طرح پر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی حیثیت جب ایک شریف انسان سے باقی نہ رہتی تو انہیں خدا ماننے کا سوال کیونکر باقی رہتا؟ عیسائیوں کو تبلیغ کے میدان میں شکست دینے کے علاوہ اس طرح یہود کی بھی تالیف قلوب ہوتی اور ان کے اسلام سے قریب تر آنے کے امکانات قوی ہو جاتے۔۔۔۔۔۔ لیکن نبوت صادقہ ہتھکنڈے باز نہیں ہوتی۔ وہ اپنے مدمقابل کے ساتھ اس قسم کی سیاسی چالبازیوں سے نبردآزما نہیں ہوتی۔ اس وجہ سے قرآن کریم نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور ان کی والدہ علیہا السلام کو وہ مقام دیا جس کے وہ اہل تھے۔ ایک طرف یہود کے بہتانات اور مفتریات کی تردید کی دوسری طرف عیسائیوں کے غلط مزعومات کا باطل ہونا واضح کیا۔ باطل کی تردید اور حق کا اثبات کرکے دودھ کا دودھ پانی کا پانی کردیا۔ اب قرآن پاک نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی عظمت اور تقدیس کا بیان کن لفظوں میں کیا ہے۔ سنئے:

جبرائیل علیہ السلام کے ذریعے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو قوت عطاء کی۔ ”أيدناه بروح القدس (بقرہ)“

١٤

(٢ -( ) ) اور ود

نے کتاب اور حکمت تورات اور انجیل کی تعلیم دی تھی۔ ”علمتك الكتاب والحكمة والتوراة والانجيل (مائدہ)“

اللہ تعالیٰ دوسرے انسان کے حوالے نہیں کرتے۔ بلکہ خود ہی انہیں تعلیم دیتے ہیں۔ بعض تعلیمات میں جبرائیل علیہ السلام کا واسطہ ہوتا ہے اور بعض بلا واسطہ جبرائیل، براہ راست ہوتی ہیں۔ اسی سنت اللہ کے مطابق حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی تعلیم بھی ہوئی۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو انجیل دی۔ جس میں ہدایت کا سامان اور نور ہے۔ وہ تورات کی تصدیق کرنے والی ہے۔ یعنی مضامین اس سے ہم آہنگ ہیں نہ کہ اس سے چرائے ہوئے وہ رہنمائی کا ذریعہ اور متقین کے لئے نصیحت ہے۔

”وآتيناه الانجيل فيه هدى ونور ومصدقاً لما بين يديه من التوراة وهدى وموعظة للمتقين (مائدہ:٤٦)“

صفحہ ٢٣

نے کتاب اور حکمت تورات اور انجیل کی تعلیم دی تھی۔ ”علمتك الكتاب والحكمة والتوراة والانجيل (مائده)“

(ضمیمہ انجام آتھم ص ٢٨٨، خزائن ج ١١ ص ٢٨٨)

(ضمیمہ انجام آتھم ص ٢٨٩، خزائن ج ١١ ص ٢٨٩)

تھے۔“

(ضمیمہ انجام آتھم ص ٢٩٠، خزائن ج ١١ ص ایضاً)

اللہ تعالیٰ دوسرے انسان کے حوالے نہیں کرتے۔ بلکہ خود ہی انہیں تعلیم دیتے ہیں۔ بعض تعلیمات میں جبرائیل علیہ السلام کا واسطہ ہوتا ہے اور بعض بلاواسطہ جبرائیل، براہ راست ہوتی ہیں۔ اسی سنة اللہ کے مطابق حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی تعلیم بھی ہوئی۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو انجیل دی۔ جس میں ہدایت کا سامان اور نور ہے۔ وہ تورات کی تصدیق کرنے والی ہے۔ یعنی مضامین اس سے ہم آہنگ ہیں نہ کہ اس سے چرائے ہوئے وہ رہنمائی کا ذریعہ اور متقین کے لئے نصیحت ہے۔ ”وآتيناه الانجيل فيه هدىً ونور ومصدقاً لما بين يديه من التوراة وهدىً وموعظة للمتقين (مائده:٤٦)“

مرزا قادیانی لکھتے ہیں: ”اور نہایت شرم کی بات یہ ہے کہ آپ نے پہاڑی تعلیم کو جو انجیل کا مغز کہلاتی ہے یہودیوں کی کتاب طالمود سے چرا کر لکھا ہے اور پھر ایسا ظاہر ہے کہ گویا یہ میری تعلیم ہے۔ لیکن جب سے چوری پکڑی گئی ہے عیسائی بہت شرمندہ ہیں۔ آپ نے یہ حرکت شاید اس لئے کی ہوگی کہ کسی عمدہ تعلیم کا نمونہ دکھلا کر رسوخ حاصل کریں۔ لیکن آپ کی اس بیجا حرکت سے عیسائیوں کو سخت روسیاہی ہوئی اور پھر افسوس یہ ہے کہ وہ تعلیم بھی عمدہ نہیں۔ عقل اور کانسنس دونوں اس تعلیم کے منہ پر طمانچہ مار رہے ہیں۔ آپ کا ایک یہودی استاد تھا جس سے آپ نے توریت کو سبقاً سبقاً پڑھا ہے۔ معلوم ہوتا ہے کہ یا تو قدرت نے آپ کو زیرکی سے کچھ بہت حصہ نہیں دیا تھا اور یا اس استاد کی شرارت ہے کہ اس نے آپ کو محض سادہ لوح رکھا۔“

(ضمیمہ انجام آتھم ص ٢٩٠، خزائن ج ١١ ص ایضاً)

١٥

صفحہ ٢٥

حاصل ہے کہ بلا واسطہ پدر حضرت جبرائیل علیہ السلام کے ذریعے روح آپ کی والدہ ماجدہ میں پھونکی گئی۔ اسی وجہ سے آپ کا لقب ”روح اللہ“ ہے۔ ”انما المسيح عيسى ابن مريم رسول الله وكلمته القاها الى مريم وروح منه (النساء)“

ہونے کی حیثیت سے نہایت باوقار، اللہ کے مقرب بندے اور مجسم صلاح و تقویٰ تھے۔ ”وجيهاً في الدنيا والاخرة ومن المقربين ويكلم الناس في المهد وكهلا ومن الصالحين (آل عمران: ٤٥)“ ”وزكريا ويحيى وعيسى والياس كل من الصالحين

(انعام: ٨٥)“

”وجعلنی مبارکاً این ما کنت

(مریم: ٣١)“

حتیٰ کہ بہت سے مفسرین نے ”مسیح“ کا معنی بھی برکتوں والا بیان کیا ہے۔

سکے۔ ”کففت بنی اسرائیل عنك

(مائده: ١١٠)“

(ضمیمہ انجام آتھم ص ٢٨٩، خزائن ج ١١ ص ایضاً)

(نعوذ بالله من ذلك)

پیؤ، شرابی، نہ زاہد نہ عابد، نہ حق کا پرستار، متکبر، خود بین، خدائی کا دعویٰ کرنے والا۔“

(نورالقرآن نمبر ٢ ص ٨، خزائن ج ٩ ص ٣٨٧)

کی اکثر عادت تھی۔ ادنیٰ ادنیٰ بات میں غصہ آجاتا تھا۔ اپنے نفس کو جذبات سے نہیں روک سکتے تھے۔ مگر میرے نزدیک آپ کی یہ حرکات جائے افسوس نہیں۔ کیونکہ آپ تو گالیاں دیتے تھے اور یہودی ہاتھ سے کسر نکال لیا کرتے تھے۔ یہ بھی یاد رہے کہ آپ کو کسی قدر جھوٹ بولنے کی بھی عادت تھی۔“

(ضمیمہ انجام آتھم ص ٥، خزائن ج ١١ ص ٢٨٩)

ہاں وہ بھی کروڑہا مقربوں میں سے ایک تھا اور معمولی تھا۔“

(اتمام الحجۃ ص ٣٦، خزائن ج ٨ ص ٣٠٨)

١٦

السلام کو بہت سے معجزات دیئے۔ ”آتینا عیسی ابن مریم البینت“

کئے۔ سورہ آل عمران میں ان معجزات کی تفصیلات موجود ہیں اور مجمل ذکر دوسرے مقامات پر بھی موجود ہے۔

نے آپ کے معجزات کو دیکھ کر کہا تھا کہ یہ تو کھلا ہوا جادو ہے۔ ”فلما جاء هم بالبينت قالوا هذا سحر مبین“ تاریخ اپنے آپ کو دہراتی ہے۔ تقریباً دو ہزار سال بعد معجزات عیسوی کو مرزا قادیانی نے شعبدہ بازی اور جادو قرار دیا۔ قارئین خود اندازہ لگالیں کہ یہودی اور قادیانی نظریات کس حد تک ایک دوسرے سے ہم آہنگ ہیں۔ تعجب ہے کہ جن معجزات کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے خود فرما دیا ہے کہ ہم نے مسیح علیہ السلام کی حقانیت کے دلائل کے طور پر انہیں دیئے تھے اور وہ اللہ کے حکم سے ”باذن الله“ ظہور میں آئے۔ قرآن پر ایمان رکھنے والا آدمی کیونکر ان کا انکار کر سکتا ہے یا انہیں شعبدہ اور مسمریزم قرار دے سکتا ہے؟

آپ کوئی سب ساتھ لکھا جس خیال است اس ہے آپ کا ہاتھ کے سے پر سکتا سکتا

صفحہ ٢٥

السلام کو بہت سے معجزات دیئے۔ ’’آتینا عیسی ابن مریم البینٰت‘‘

کئے۔ سورہ آل عمران میں ان معجزات کی تفصیلات موجود ہیں اور مجمل ذکر دوسرے مقامات پر بھی موجود ہے۔

نے آپ کے معجزات کو دیکھ کر کہا تھا کہ یہ تو کھلا ہوا جادو ہے۔ ’’فلما جاء ھم بالبینٰت قالوا ھذا سحر مبین‘‘ تاریخ اپنے آپ کو دہراتی ہے۔ تقریباً دو ہزار سال بعد معجزات عیسوی کو مرزا قادیانی نے شعبدہ بازی اور جادو قرار دیا۔ قارئین خود اندازہ لگا لیں کہ یہودی اور قادیانی نظریات کس حد تک ایک دوسرے سے ہم آہنگ ہیں۔ تعجب ہے کہ جن معجزات کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے خود فرما دیا ہے کہ ہم نے مسیح علیہ السلام کی حقانیت کے دلائل کے طور پر انہیں دیئے تھے اور وہ اللہ کے حکم سے ’’باذن اللہ‘‘ ظہور میں آئے۔ قرآن پر ایمان رکھنے والا آدمی کیونکر ان کا انکار کر سکتا ہے یا انہیں شعبدہ اور مسمریزم قرار دے سکتا ہے؟

آپ کے لکھے ہیں۔ مگر حق یہ ہے کہ آپ سے کوئی معجزہ نہیں ہوا۔‘‘

(ضمیمہ انجام آتھم ص ٦ ، خزائن ج ١١ ص ٢٩٠)

ساتھ کسی شب کور وغیرہ کو اچھا کیا ہو یا کسی اور ایسی بیماری کا علاج کیا ہو۔ مگر آپ کی بدقسمتی سے اسی زمانہ میں ایک تالاب بھی موجود تھا جس سے بڑے بڑے نشان ظاہر ہوتے تھے۔ خیال ہو سکتا ہے کہ اس تالاب کی مٹی آپ بھی استعمال کرتے ہوں گے۔ اسی تالاب سے آپ کے معجزات کی پوری پوری حقیقت کھلتی ہے اور اسی تالاب نے فیصلہ کر دیا ہے کہ اگر آپ سے کوئی معجزہ بھی ظاہر ہوا تو وہ معجزہ آپ کا نہیں بلکہ اس تالاب کا معجزہ ہے اور آپ کے ہاتھ میں سوا مکر اور فریب کے اور کچھ نہیں تھا۔‘‘

(ضمیمہ انجام آتھم ص ٧ ، خزائن ج ١١ ص ٢٩١)

عیسوی کو مسمریزم کا نتیجہ قرار دیا ہے اور پھر لکھا ہے کہ: ’’یہ عمل ایسا قدر کے لائق نہیں جیسا کہ عوام الناس اس کو خیال کرتے ہیں۔ اگر یہ عاجز اس عمل کو مکروہ اور قابل نفرت نہ سمجھتا تو خدا تعالیٰ کے فضل وتوفیق سے امید قوی رکھتا تھا کہ ان عجوبہ نمائیوں میں حضرت مسیح ابن مریم سے کم نہ رہتا۔‘‘

(ازالۃ اوہام ص ٣٠٩ ، خزائن ج ٣ ص ٢٥٧)

١٧

صفحہ ٢٦

(٧) حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا تعلق ایک اعلیٰ خاندان نبوت سے ہے اور اللہ تعالیٰ کا قانون حضرات انبیاء علیہم السلام کے بارے میں ہمیشہ یہی رہا ہے کہ وہ اعلیٰ حسب نسب سے متعلق ہوتے ہیں۔ بھلا غیرت خداوندی کیونکر گوارا کر سکتی ہے کہ نور نبوت کا حامل نطفہ ایک معصیت آلود رحم مادر میں مکیں ہو۔ اس لئے بخاری شریف کی حدیث ہرقل میں آتا ہے ۔

"وکذالك الرسل تبعث فی احساب قومھا" یعنی پیغمبر اپنی قوم کے بہترین خاندانوں میں سے بھیجے جاتے ہیں۔

لطف کی بات یہ ہے کہ مرزا غلام احمد قادیانی خود بھی کہتے ہیں: "اور ایک صالح کو اس لئے سرزنش نہیں کر سکتے کہ اس کی نسب اعلیٰ نہیں۔ مگر خدا نے اماموں کے لئے چاہا کہ وہ ذونسب ہوں تاکہ لوگوں کو ان کی کمی نسب کا تصور کر کے نفرت پیدا نہ ہو...... اسی طرح خدا کی سنت اس کے نبیوں میں ہے جو قدیم زمانہ سے جاری ہے۔" (اعجاز احمدی ص ٧١، خزائن ج ١٩ص ١٨٣)

سید المرسلین خاتم النبیین حضرت محمدﷺ

مسلمانوں کا عقیدہ ہے کہ جس طرح خدا تعالیٰ اپنی شان الوہیت میں یکتا ہے۔ اسی طرح آنحضرتﷺ اپنی شان رسالت اور مرتبہ ختم نبوت میں لاثانی ہیں۔

حضورﷺ کے کمالات "لا تعد ولا تحصی" ہیں غالب مرحوم نے کیا خوب کہا

مرزا قادیانی کی گوہر فشانی ملاحظہ ہو : " آپ کا خاندان بھی نہایت پاک اور مطہر ہے۔ تین دادیاں اور نانیاں آپ کی زنا کار اور کسبی عورتیں تھیں۔ جن کے خون سے آپ کا وجود ظہور پذیر ہوا۔ آپ کا کنجریوں سے میلان اور صحبت بھی شاید اسی وجہ سے ہو کہ جدی مناسبت درمیان ہے۔ ورنہ کوئی پرہیز گار انسان ایک جوان کنجری کو یہ موقعہ نہیں دے سکتا کہ وہ اس کے سر پر اپنے ناپاک ہاتھ لگا دے اور زنا کاری کی کمائی کا پلید عطر اس کے سر پر ملے اور اپنے بالوں کو اس کے پیروں پر ملے۔ سمجھنے والے سمجھ لیں کہ ایسا انسان کس چلن کا آدمی ہو سکتا ہے۔"

(ضمیمہ انجام آتھم ص ٧، خزائن ج ١١ ص ٢٩١)

حضرت مسیح علیہ السلام کی والدہ ماجدہ حضرت مریم کی پاکدامنی پر قرآن کریم نے مہر تصدیق ثبت کر دی ہے۔ لیکن مرزا قادیانی کی جسارت ملاحظہ ہو کہ ان کی شان میں افتراء پردازی اور بہتان تراشی تک سے نہیں چوکتے ۔ ملاحظہ ہو۔

(چشمہ مسیحی ص ٢٨ ، خزائن ج ٢٠ ص ٣٥٦)

اف رے ظالم !

ناوِک نے تیرے صید نہ چھوڑا زمانے میں حتیٰ کہ قادیان کے قلم کو یہاں بھی کوئی حجاب اور باک محسوس نہ ہوا۔ بڑی ہی دلیری اور بیباکی سے اس کی نوک پر یہ الفاظ آ گئے ۔

منم مسیح زماں، منم کلیم خدا
منم محمد واحمد کہ مجتبیٰ باشد

١٨

صفحہ ٢٧

کی گوہر فشانی ملاحظہ ہو: ”آپ کا نہایت پاک اور مطہر ہے۔ تین نانیاں آپ کی زنا کار اور کسبی ۔ جن کے خون سے آپ کا وجود ۔ آپ کا کنجریوں سے میلان اور پیار اسی وجہ سے ہو کہ جدی مناسبت ۔ ورنہ کوئی پرہیز گار انسان ایک یہ موقعہ نہیں دے سکتا کہ وہ اس ناپاک ہاتھ لگاوے اور زنا کاری عطر اس کے سر پر ملے اور اپنے ہ پیروں پر ملے۔ سمجھنے والے سمجھ اس چلن کا آدمی ہو سکتا ہے۔“

جام آتھم ص ٧، خزائن ج ١١ ص ٢٩١)

السلام کی والدہ ماجدہ حضرت ، پر قرآن کریم نے مہر تصدیق لیکن مرزا قادیانی کی جسارت ماشان میں افتراء پردازی اور سے نہیں چوکتے۔ ملاحظہ ہو۔

حق ص ٢٨، خزائن ج ٢٠ ص ٣٥٦)

کینہ نہ چھوڑا زمانے میں کبھی یہاں بھی کوئی حجاب اور باک سی ہی دلیری اور بیباکی سے نظر آگئے۔ ماں، منم کلیم خدا مہ کہ مجتبیٰ باشد

غالب ثنائے خواجہ بہ یزداں گذاشتیم
کاں ذات پاک مرتبہ دان محمد است

یہ تو ایک رند خراب حال کا کلام ہے۔ ایک عارف کا قول سنئے۔ حضرت مرزا مظہر جان جاناںؒ فرماتے ہیں۔

محمد حامد حمد خدا بس
خدا مدح آفرین مصطفےٰ بس

پھر مسلمانوں کا یہ بھی عقیدہ ہے کہ پوری کائنات کو فیض حضورﷺ کی بدولت پہنچا اور پہنچ رہا ہے۔ حتیٰ کہ انبیاء سابقین علیہم السلام بھی اسی آفتاب نبوت سے مستنیر تھے۔ اسد ملتانی نے محض اظہار عقیدت ہی نہیں کیا بلکہ حقیقت کی ترجمانی کی ہے:

اسد فیوض در مصطفےٰ کا کیا کہنا
بشر کو جو بھی سعادت ملی یہیں سے ملی

اور تا قیام قیامت بنی نوع انسان کی سعادت اور خوش نصیبی حضورﷺ ہی کے قدموں سے وابستہ ہے۔

محمد عربیؐ کآبروئے ہر دو سرا است
کسے کہ خاک درش نیست خاک برسر او

حضورﷺ کی مثال نہ کوئی ہوا ہے نہ ہو سکتا ہے۔

رخ مصطفےٰ ہے وہ آئینہ کہ ایسا دوسرا آئینہ
نہ کسی کی چشم خیال میں، نہ دکان آئینہ ساز میں

حضورﷺ کے فضائل اور کمالات کا کیا کہنا، نہ کسی زبان کو ان کے بیان پر قدرت، نہ کسی قلم کو انشاء کی طاقت، اس لئے مولانا جامیؒ

(تریاق القلوب ص ٦، خزائن ج ١٥ ص ١٣٢)

(ایک غلطی کا ازالہ ص ٦، خزائن ج ١٨ ص ٢١٦)

ظلیت کاملہ کے میں وہ آئینہ ہوں جس میں محمدی شکل اور محمدی نبوت کا کامل انعکاس ہے۔ اگر میں کوئی علیحدہ شخص نبوت کا دعویٰ کرنے والا ہوتا تو خدا تعالیٰ میرا نام محمد اور احمد اور مصطفےٰ اور مجتبےٰ نہ رکھتا بلکہ میں کسی علیحدہ نام سے آتا۔ لیکن خدا نے ہر بات میں وجود محمدی میں مجھے داخل کر دیا۔“

(نزول المسیح ص ٣، خزائن ج ١٨ ص ٣٨١)

مرزا قادیانی کے ایک عقیدت مند نے مرزا قادیانی کی شان میں یہ دو شعر کہے؎

”محمد پھر اتر آئے ہیں ہم میں
اور آگے سے ہیں بڑھ کر اپنی شان میں
محمد دیکھنے ہوں جس نے اکمل
غلام احمد کو دیکھے قادیان میں“

مرزا قادیانی نے اپنے اس نیاز مند کو شاباش دی اور یہ اشعار اپنے پاس رکھ لئے۔ العیاذ باللہ!

(اخبار بدر نمبر ٤٣، ج ٢ ص ١٤، مورخہ ٢٥؍اکتوبر ١٩٠٦ء)

قرآن پاک میں جو آیات آنحضرتﷺ کی مدح اور ثناء کے طور پر آئی ہیں۔ مرزا قادیانی نے وہ تمام آیات اپنے اوپر چسپاں کر دی ہیں۔ چند مثالیں عرض ہیں:

ادنیٰ“ (حقیقت الوحی ص ٧٦، خزائن ج ٢٢ ص ٧٩)

19

صفحہ ٢٨

فرماتے ہیں: ”لا يمكن الثناء كما كان حقہ“ ’بعد از خدا بزرگ توئی قصہ مختصر‘

(حقیقۃ الوحی ص ٧٤، خزائن ج ٢٢ ص ٧٧)

(حقیقۃ الوحی ص ٦٤، خزائن ج ٢٢ ص ٧٣)

لیلاً“ (حقیقۃ الوحی ص ٧٨، خزائن ج ٢٢ ص ٨١)

(حقیقۃ الوحی ص ٨٢، خزائن ج ٢٢ ص ٨٥)

(حقیقۃ الوحی ص ١٠٢، خزائن ج ٢٢ ص ١٠٥)

جمیع حضرات انبیاء علیہم السلام

جو مقدس ہستیاں اللہ کی طرف سے منصب نبوت پر فائز ہوتی ہیں وہ علمی اور عملی کمالات میں یکتائے زمانہ ہوتی ہیں۔ اس لئے ہر نبی، انبیاء سابقین کی مدح کرتا ہوا آیا۔ قرآن پاک کو کھول کر دیکھئے۔ جگہ جگہ ان حضرات کے تذکرے ہیں۔ ان کی پاکیزہ تعلیمات، ان کی پاکیزہ سوانح، ان کے بلند کردار اور ان کے عظیم معجزات کا ذکر ملتا ہے۔ اسی طرح کتب حدیث کو کھنگال کر دیکھا جائے تو پیارے انداز میں ان کی سیرتوں کے چرچے نظر آتے ہیں۔ حتیٰ کہ آقائے نامدار حضرت محمد رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ تم میری تعریف بھی اس انداز سے نہ کرو کہ پہلے انبیاء علیہم السلام میں سے کسی کی تنقیص کا شائبہ پیدا ہو جائے۔ رہ گئے کمالات نبوت تو ایک ہیچمداں انسان

مرزا قادیانی زندگی بھر ٹامک ٹوئیاں مارتے رہے۔ کبھی محدث اور ملہم، کبھی مجدد، کبھی مہدی، کبھی مسیح موعود، کبھی ظلی اور بروزی نبی، کبھی صاحب شریعت اور مستقل نبی، یونہی وہ دعوؤں پہ دعوے کرتے رہے۔ لیکن تائید میں نہ کوئی نقلی دلیل رکھتے تھے نہ عقلی۔ استدلال کے میدان میں وہ اپنے آپ کو بالکل بے سہارا اور بے بس پاتے تھے تو جس طرح ایک کمزور حریف اپنی ناکامی کا احساس کرتے ہوئے طاقت ور حریف کے مقابلے میں خفیف اور ناشائستہ حرکات پر اتر آتا ہے۔ اسی طرح ہم دیکھتے ہیں کہ جب مرزا قادیانی کو اپنا احساس کمتری ہوتا ہے تو وہ بے جا تعلیوں اور بسا اوقات غیر مہذب شیخیوں سے اس کی تلافی کرتے ہیں۔ ان کی اسی کمزوری کا نتیجہ ہے کہ ان کا قلم حضرات انبیاء علیہم السلام کے بارے میں بے لگام نظر آتا

٢٠

کیونکر انہیں حیطۂ بیان میں لاسکتا ہے۔

نہ حسنش غایتی دارد نہ سعدی را سخن پایاں
بمیرد تشنہ مستسقی و دریا ہم چناں باقی

البتہ ہم اس جگہ مرزا قادیانی کی پہلے وقت (یعنی دعویٰ نبوت سے پہلے) کی ایک تحریر نقل کرتے ہیں۔ جس سے مقام نبوت کے علاوہ اس مسئلہ پر بھی کافی روشنی ڈالی گئی ہے کہ حضرات انبیاء علیہم السلام اور دیگر مذہبی رہنماؤں کے بارے میں بدزبانی اور بے ادبی کا شرعاً کیا حکم ہے۔ مرزا قادیانی لکھتے ہیں: ”ایسے شریف لوگ ہر قوم میں کم و بیش موجود ہوتے ہیں جو مفسدانہ اور غیر مہذب تقریروں کو بالطبع پسند نہیں کرتے اور مختلف فرقوں کے بزرگ ہادیوں کو بدی اور بے ادبی سے یاد کرنا پرلے درجے کی خباثت اور شرارت سمجھتے ہیں اور فی الواقع سچ بھی ہے کہ جن مقدسوں کو خدا نے اپنی خاص مصلحت اور ذاتی ارادہ سے مقتداء اور پیشوا قوموں کا بنایا اور جس روشنی کو اس نے دنیا پر چمکا کر ایک عالم کو ان کے ہاتھ سے نور خدا پرستی اور توحید کا بخشا۔ جن کی پرزور تعلیمات سے شرک اور مخلوق پرستی جو ام الخبائث ہے۔ اکثر حصۂ زمین سے معدوم ہوگئی اور درخت ذکر وحدانیت الٰہی کا پھر سوکھ کر اور پھر سرسبز شاداب اور خوشحال ہو گیا اور عمارت خدا پرستی جو گر پڑی تھی۔ پھر اپنے مضبوط چٹانوں پر بنائی گئی۔ جن مقبولوں کو خدا نے اپنے خاص

صفحہ ٢٩

کیونکر انہیں حیطۂ بیان میں لاسکتا ہے۔

نہ حسنش غایتے دارد نہ سعدی را سخن پایاں
بمیرد تشنہ مستسقی و دریا ہم چناں باقی

البتہ ہم اس جگہ مرزا قادیانی کی پہلے وقت (یعنی دعویٰ نبوت سے پہلے) کی ایک تحریر نقل کرتے ہیں۔ جس سے مقام نبوت کے علاوہ اس مسئلہ پر بھی کافی روشنی ڈالی گئی ہے کہ حضرات انبیاء علیہم السلام اور دیگر مذہبی رہنماؤں کے بارے میں بدزبانی اور بے ادبی کا شرعاً کیا حکم ہے۔ مرزا قادیانی لکھتے ہیں: ”ایسے شریف لوگ ہر قوم میں کم وبیش موجود ہوتے ہیں جو مفسدانہ اور غیر مہذب تقریروں کو بالطبع پسند نہیں کرتے اور مختلف فرقوں کے بزرگ ہادیوں کو بدی اور بے ادبی سے یاد کرنا پرلے درجے کی خباثت اور شرارت سمجھتے ہیں اور فی الواقع سچ بھی ہے کہ جن مقدسوں کو خدا نے اپنی خاص مصلحت اور ذاتی ارادہ سے مقتداء اور پیشوا قوموں کا بنایا اور جس روشنی کو اس نے دنیا پر چمکا کر ایک عالم کو ان کے ہاتھ سے نور خدا پرستی اور توحید کا بخشا۔ جن کی پرزور تعلیمات سے شرک اور مخلوق پرستی جو ام الخبائث ہے۔ اکثر حصوں زمین سے معدوم ہوگئی اور درخت ذکر وحدانیت الٰہی کا پھر سوکھ گیا اور پھر سرسبز شاداب اور خوشحال ہو گیا اور عمارت خدا پرستی جو گر پڑی تھی۔ پھر اپنے مضبوط چٹان پر بنائی گئی۔ جن مقبولوں کو خدا نے اپنے خاص

ہے۔ چند نمونے ملاحظہ ہوں:

انبیاء گرچہ بودہ اند بسے
من بعرفان نہ کمترم ز کسے
آنچہ داد است ہر نبی را جام
داد آں جام را مرا بتمام
کم نیم زاں ہمہ بروئے یقین
ہر کہ گوید دروغ ہست لعین

(نزول المسیح ص ٩٩، خزائن ج ١٨ ص ٤٧٧)

انبیاء اگرچہ بہت ہوئے ہیں
میں معرفت میں کسی سے کم نہیں
ہر نبی کو جو ساغر ملا ہے
وہ پورا کا پورا مجھے بھی ملا ہے
میں یقیناً ان سب سے کم نہیں
جو شخص جھوٹ بولتا ہے لعنتی ہے

برابری کا دعویٰ تھا۔ اب ایک قدم آگے چلئے مرزا قادیانی ایک الہام نقل کرتے ہیں: ”آسمان سے کئی تخت اترے پر تیرا تخت سب سے اوپر بچھایا گیا۔“

(حقیقت الوحی ص ٨٩، خزائن ج ٢٢ ص ٩٢)

علیہم السلام کے حق میں کمال درجے کی بد تہذیبی ملاحظہ ہو: ”اس جگہ اکثر گذشتہ نبیوں کی نسبت بہت زیادہ معجزات اور پیش گوئیاں موجود ہیں۔ بلکہ بعض گذشتہ انبیاء علیہم السلام کے معجزات اور پیش گوئیوں کو بکواسات اور پیش

٢١

صفحہ ٣٠

سایہ عاطفت میں لے کر ایسے عجائب طور پر تائید کی کہ وہ کروڑوں مخالفوں سے نہ ڈرے اور نہ تھکے اور نہ گئے۔..... ایسے مقبولان الٰہی کی نسبت زبان درازی کرنا نہایت درجہ کی ناپاکی اور ناہلی اور ہٹ دھری ہے۔..... جو لوگ انبیاء اور رسولوں کی تحقیر کر کے ایسا خیال کرتے ہیں کہ گویا ایک بڑے ثواب کا کام کر رہے ہیں اور ایسے پر تہذیب فقرے لکھتے ہیں کہ جس سے ان کی طینت کی پاکی خوب ظاہر ہوتی ہے۔ میں نے خوب تحقیق کی ہے کہ ان نالائق حرکات کے بھی دو باعث ہیں کہ جب بعض لوگ حکیمانہ اور معقول کلام کا مادہ نہیں رکھتے یا جب کسی اہل حق کے الزام اور افہام سے تنگ آجاتے ہیں اور رک جاتے ہیں تو پھر وہ اپنی پردہ پوشی اسی میں سمجھتے ہیں جو عملی بحث کو شخصی اور شتمی کی طرف منتقل کردیں۔..... اور اگر سچ پوچھو تو ایسوں پر کچھ افسوس نہیں۔ کیونکہ جہالت اور تعصب نے چاروں طرف سے ان کو گھیرا ہوتا ہے۔ نہ خدا کا کچھ خوف ہوتا ہے اور نہ ایمان اور حق اور راستی کی کچھ پرواہ ہوتی ہے اور جبکہ دنیا پر مرے جاتے ہیں تو پھر جب کہ ان کو خدا سے کچھ غرض ہی نہیں اور حیاء سے اور شرم سے کچھ کام ہی نہیں اور سچ کا قبول کرنا کسی طور سے منظور ہی نہیں تو اس حالت میں اگر وہ اوباشانہ باتیں نہ کریں تو اور کیا کریں اور اگر زبان درازی نہ ظاہر کریں تو ان کے ظرف میں اور کیا ہے جو ظاہر

گوئیوں سے کچھ نسبت ہی نہیں اور نیز ان کی پیش گوئیاں اور معجزات اس وقت محض بطور قصوں اور کہانیوں کے ہیں۔ مگر یہ معجزات ہزارہا لوگوں کے لئے واقعات چشم دید ہیں۔..... قصے تو ہندوؤں کے پاس بھی کچھ کم نہیں۔ قصوں کو پیش کرنا تو ایسا ہے جیسا کہ ایک گوبر کا انبار مشک اور عنبر کے مقابل پر۔“

(نزول المسیح ص ٨٢، ٨٤ خزائن ج ١٨ ص ٤٦٠)

پیش خدمت ہے۔ ”یہودیوں اور عیسائیوں اور مسلمانوں پر بباعث ان کے کسی پوشیدہ گناہ کے یہ ابتلا آیا کہ جن راستوں سے وہ اپنے موعود نبیوں کا انتظار کرتے رہے ان راہوں سے نہیں آئے۔ بلکہ چور کی طرح کسی اور راہ سے آگئے۔“

(نزول المسیح ص ٤٦ حاشیہ ، خزائن ج ١٨ ص ٤٢٣)

حضرات انبیاء علیہم السلام کے حق میں ”چور“ کا لفظ استعمال کرنا کیسا ہے؟ اس سوال کا جواب بھی مرزا قادیانی کے اپنے لفظوں میں سن لیجئے: ”بے شک اگر ہم خدا کے پاک نبیوں کو چور اور ڈاکو کہیں تو ہم چوروں اور ڈاکوؤں سے ہزار درجہ بدتر ہیں۔ جن دلوں پر خدا کی کلام مقدس نازل ہوتی رہی ہے۔ اگر وہ دل مقدس نہیں تھے تو ناپاک کو پاک سے کیا نسبت ہے۔“

(براہین احمدیہ ص ١٠٢، خزائن ج ١ ص ٩٤)

اب اس عبارت کے تحت مرزا قادیانی کیا

٢٢

٣١

کریں۔ اگر بولیں تو کیا بولیں۔ اگر لکھیں تو کیا لکھیں۔“ (براہین احمدیہ ص ١٠٣، خزائن ج ١ ص ٩٤)

ہوتا مجھے خدا ہو یعقو ہو میں

مسئلہ عصمت انبیاء

عقیدہ رسالت کے سلسلہ میں دوسرا قابل مسلمانوں کے نزدیک حضرات انبیاء علیہم السلام معصو تفسیر، شروح حدیث اور کتب عقائد میں یہ مسئلہ پور بدر عالم صاحب میرٹھی نے اپنی بے نظیر تصنیف ترجمان ہے۔ اس کا ایک ایمان افروز اور روح پرور اقتباس ہدیہ عصمت ایک ہی حقیقت کے دو اعتبارات سے دو نام بتدریج حاصل ہونے والی نعمتوں میں سے نہیں۔ اگر راہ طے کرنے میں معصیتوں کی ٹھوکریں لگ جائیں ۔ معاملہ براہ راست خدا تعالیٰ کے اجتباء واصطفاء کا آج حضرت مجدد صاحب فرماتے ہیں: ”از میں اور کسی دوسرے کے لئے چلنے میں بڑا فرق ہوتا خود نہیں چلتے کہ بشری ضعف ان کے لئے ٹھوکر بن جا چلتی ہے۔ ارشاد ہوتا ہے: ”اللہ یصطفی من ا یعنی اللہ تعالیٰ کی ذات ہے جو نوع ملکی اور نوع بشری

٢٣

صفحہ ٣١

گویوں سے کچھ نسبت ہی نہیں اور نیز ان کی پیش گوئیاں اور معجزات اس وقت محض بطور قصوں اور کہانیوں کے ہیں۔ مگر یہ معجزات ہزارہا لوگوں کے لئے واقعات چشم دید ہیں ...... قصے تو ہندوؤں کے پاس بھی کچھ کم نہیں۔ قصوں کو پیش کرنا تو ایسا ہے جیسا کہ ایک گوبر کا انبار مشک اور عنبر کے مقابل پر۔"

(نزول المسیح ص ٨٢، ٨٤، خزائن ج ١٨ ص ٤٦٠)

پیش خدمت ہے۔ "یہودیوں اور عیسائیوں اور مسلمانوں پر باعث ان کے کسی پوشیدہ گناہ کے یہ ابتلا آیا کہ جن راستوں سے وہ اپنے موعود نبیوں کا انتظار کرتے رہے ان راہوں سے نہیں آئے۔ بلکہ چور کی طرح کسی اور راہ سے آگئے۔"

(نزول المسیح ص ٤٦ حاشیہ، خزائن ج ١٨ ص ٤١٣)

حضرات انبیاء علیہم السلام کے حق میں "چور" کا لفظ استعمال کرنا کیسا ہے؟ اس سوال کا جواب بھی مرزا قادیانی کے اپنے لفظوں میں سن لیجئے: "بے شک اگر ہم خدا کے پاک نبیوں کو چور اور ڈاکو کہیں تو ہم چوروں اور ڈاکوؤں سے ہزار درجہ بدتر ہیں۔ جن دلوں پر خدا کی کلام مقدس نازل ہوتی رہی ہے۔ اگر وہ دل مقدس نہیں تھے تو ناپاک کو پاک سے کیا نسبت ہے۔"

( براہین احمدیہ ص ١٠٣، خزائن ج ٢١ ص ٩٤)

اب اس عبارت کے تحت مرزا قادیانی کیا

کریں۔ اگر بولیں تو کیا بولیں۔ اگر لکھیں تو کیا لکھیں۔" ( براہین احمدیہ ص ١٠٣، خزائن ج ٢١ ص ٩٤)

ٹھہرے۔ یہ بتانے کی ضرورت نہیں ہے۔

ہوں: "دنیا میں کوئی نبی نہیں گزرا۔ جس کا نام مجھے نہیں دیا گیا۔ سو جیسا کہ براہین احمدیہ میں خدا نے فرمایا ہے کہ میں آدم ہوں، میں نوح ہوں، میں ابراہیم ہوں، میں اسحق ہوں، میں یعقوب ہوں، میں اسماعیل ہوں، میں موسیٰ ہوں، میں داؤد ہوں، میں عیسیٰ بن مریم ہوں، میں محمد ﷺ ہوں، یعنی بروزی طور پر۔"

(تتمہ حقیقت الوحی ص ٨٥، خزائن ج ٢٢ ص ٥٢١)

مسئلہ عصمت انبیاء علیہم السلام

عقیدہ رسالت کے سلسلہ میں دوسرا قابل غور مسئلہ عصمت انبیاء علیہم السلام کا ہے۔ مسلمانوں کے نزدیک حضرات انبیاء علیہم السلام معصوم یعنی گناہوں سے بالکل پاک ہیں۔ کتب تفسیر، شروح حدیث اور کتب عقائد میں یہ مسئلہ پوری تفصیل سے موجود ہے۔ شیخ الحدیث مولانا بدر عالم صاحب میرٹھی نے اپنی بے نظیر تصنیف ترجمان السنہ میں اس مسئلہ پر بڑی بسط سے کلام کیا ہے۔ اس کا ایک ایمان افروز اور روح پرور اقتباس ہدیہ قارئین ہے: "حقیقت یہ ہے کہ نبوت اور عصمت ایک ہی حقیقت کے دو اعتبارات سے دو نام ہیں۔ اس لئے کہ نبوت کسب و ریاضت سے بتدریج حاصل ہونے والی نعمتوں میں سے نہیں۔ اگر ایسا ہوتا تو یہ ممکن تھا کہ نقص سے کمال تک کی راہ طے کرنے میں معصیتوں کی ٹھوکریں لگ جائیں۔ لیکن جہاں کسب و اکتساب کا ذرا دخل نہ ہو اور معاملہ براہ راست خدا تعالیٰ کے اجتباء و اصطفاء کا آ جائے پھر وہاں کسی ٹھوکر کا احتمال کیا ممکن۔"

حضرت مجدد صاحب فرماتے ہیں: "از رفتن تا بردن فرق ظاہر است۔" یعنی خود چلنے میں اور کسی دوسرے کے لئے چلنے میں بڑا فرق ہوتا ہے۔ صفت اجتباء و اصطفاء کے تحت پروردہ خود نہیں چلتے کہ بشری ضعف ان کے لئے ٹھوکر بن جائے۔ یہاں ان کو بچا بچا کر خود قدرت لے چلتی ہے۔ ارشاد ہوتا ہے: "الله يصطفى من الملائكة رسلاً ومن الناس (الحج)" یعنی اللہ تعالیٰ کی ذات ہے جو نوع ملکی اور نوع بشری میں سے اپنی رسالت کے لئے انتخاب براہ

صفحہ ٣٢

راست کو وحی فرماتی ہے۔ ”واصبر لحکم ربک فانک باعیننا (الطور:٤٨) “ اپنے رب کے حکم کے انتظار میں صبر کیجئے۔ آپ تو ہماری نگرانی میں اور ہماری آنکھوں کے سامنے ہیں...... ایک صحیح حدیث میں ہے کہ بندہ عبادات نافلہ کرتے کرتے آخر اس مقام تک جا پہنچتا ہے۔ جہاں رضاء الہی میں وہ اس طرح گم ہو کر رہ جاتا ہے کہ پھر نہ خود اس کی ہستی قائم رہتی ہے اور نہ اس کے اعمال کی بلکہ وہ سب براہ راست حضرت حق سبحانہ کی طرف منسوب ہونے لگتے ہیں۔ وہ سنتا ہے اور دیکھتا ہے تو صرف وہی جو اللہ کی نظر میں پسندیدہ ہو اور ہاتھ بڑھاتا اور قدم اٹھاتا ہے تو صرف اس طرف جدھر حق جل وعلاء کی مرضی ہوتی ہے۔ اب سوچئے کہ اس کی اس طرح گمشدگی کے بعد اس کے اعضاء اور جوارح میں کیا کسی معصیت کے لئے حرکت کرنے کی مجال باقی رہ سکتی ہے ...... جب ان افراد کا حال یہ ہو جن کے کمالات کسب واکتساب کا ثمرہ ہوتے ہیں تو پھر ان اولوالعزم ہستیوں کی عصمت کا پوچھنا کیا ہے۔ جن کو یہ نعمت صفت اجتباء واصطفاء کی بدولت روز ازل ہی سے میسر ہو۔ جن کی عصمت کا اندازہ کرنے کے لئے اتنا کافی ہے کہ جو ان کے نقش قدم پر چل پڑا اس کے اعضاء بھی خدا کی معصیت کے لئے شل ہو گئے۔

(ترجمان السنہ ج ٣ ص ٣٤١، ٣٤٢)

اب ان پاکیزہ اسلامی عقائد کے بالمقابل مرزا غلام احمد قادیانی کے ان ارشادات کو دیکھئے جن میں آپ پڑھ چکے ہیں کہ ان کے نزدیک انبیاء علیہم السلام کا معصوم ہونا ضروری نہیں بلکہ نعوذ باللہ وہ اختلاف ڈالنے والے فسادی، شرابی، چور، کنجریوں کے دلدادہ، فاحشہ عورتوں سے خدمت لینے والے، جھوٹے، بدزبان، شریر، مکار اور شعبدہ باز ہو سکتے ہیں۔ ایک طرف مسلمانوں کا یہ عقیدہ کہ نبوت کوئی کسبی چیز نہیں ہے۔ خالص عطیہ خداوندی ہوتا ہے اور عصمت لازمۂ نبوت ہے۔ کیونکہ انبیاء ہمیشہ اللہ تعالیٰ کے برگزیدہ بندے، منتخب بندے ہوتے ہیں۔ دوسری طرف مرزا قادیانی کے یہ گھناؤنے الزامات ان کی طرف منسوب کرنا۔

بہ بیں تفاوت راہ از کجاست تا بہ کجا

کیا مرزائی عقیدہ نعوذ باللہ خدا تعالیٰ کے انتخاب کو غلط قرار دینے کے مترادف نہیں ہے؟ کیا ایسی ہی ہستیوں کو اللہ تعالیٰ امتوں کے لئے عمل کے نمونے بنا کر بھیجتا ہے۔ جن کی اپنی زندگیاں آلودہ ہیں۔

ہے کوئی بدمست اور کوئی ہے جان بلب
کیا یہی ہے تیرا آب حیات اے ساقی؟

٢٤

صفحہ ٣٣

ہائے افسوس! مرزا قادیانی، منصب نبوت کی رفعت اور نزاکت کو سمجھے ہی نہیں۔ ورنہ تو وہ حضرات انبیاء علیہم السلام کی ارفع و اعلیٰ شان میں اس قسم کی گستاخیاں نہ کرتے۔ وہ اگر قرآن پاک میں غور کرتے تو انہیں پتہ چلتا کہ نبی کا رخ گناہ اور برائی کی طرف ہونا کجا، اگر برائی خود ان کی طرف رخ کرے تو عصمت خداوندی آگے بڑھ کر اسے دور کر دیتی ہے اور نبی کا دامن تقدس داغدار ہونے نہیں پاتا۔ سورۂ یوسف میں ارشاد فرمایا گیا ہے: "کذلک لنصرف عنہ السوء والفحشاء" یوں نہیں کہا گیا "لنصرفہ عن السوء والفحشاء" (یہ ایک علمی نکتہ ہے۔ جس سے اہل علم ہی محظوظ ہو سکتے ہیں اور یہ بھی حضرت مولانا بدر عالم صاحب میرٹھی کے افادات میں سے ہے)

مسئلہ ختم نبوت

عقیدۂ رسالت کے سلسلہ میں تیسرا مسئلہ ختم نبوت کا ہے۔ اس بارے میں مسلمانوں اور مرزائیوں کے عقائد سنئے:

نبوت کا سلسلہ ابوالبشر حضرت آدم علیہ السلام سے جاری ہوا اور حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ پر آکر ختم ہو گیا۔ اب قیامت تک کے لئے پوری انسانی کائنات کے لئے حضور ﷺ ہی کی تعلیمات ذریعہ ہدایت ہیں۔ حضور ﷺ کے بعد یہ سلسلہ قطعی طور پر بند ہو چکا ہے۔ اب کسی قسم کا ظلی، بروزی، تشریعی، غیر تشریعی نبی نہیں آسکتا۔ اس بارے میں کم و بیش ایک سو آیات قرآنیہ، دو سو احادیث اور ہزاروں علمائے وقت کے اقوال موجود ہیں۔ یہاں پر ہم چند دلائل نقل کرتے ہیں۔ قرآن کریم پر مجموعی طور پر نظر ڈالنے سے یہ بات بالکل واضح ہو جاتی ہے کہ آنحضرت ﷺ آخری نبی ہیں اور آپ کے بعد کوئی نبی نہیں آسکتا۔ جس کی تفصیل یہ ہے کہ اللہ جل شانہ، نے آدم علیہ الصلوٰۃ والسلام سے وحی نبوت کے جاری ہونے تک کے سلسلہ کی خبر دی ہے۔ چنانچہ فرمایا جب کہ آدم علیہ السلام معہ اپنی ذریت کے اس دنیا پر لائے گئے تو خداوند تعالیٰ نے اطلاع دی۔ سلسلہ نبوت و ہدایت جاری کیا جاوے گا۔ "فاما یاتینکم منی ہدی فمن تبع ہدای فلا خوف علیہم ولا ہم یحزنون (بقرہ: ٣٨)" یہ ابتداء اور آغاز وحی ہے۔ اس کے بعد نوح علیہ السلام کے زمانہ تک پہنچتے ہیں اور قرآن شریف سے پوچھتے ہیں کہ سلسلہ نبوت جاری ہے یا نہیں۔ جواب ملتا ہے کہ ہاں جاری ہے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے: "ولقد ارسلنا نوحا وابراہیم وجعلنا فی ذریتہما النبوۃ والکتاب (حدید:٢٦)" اس سے معلوم

٢٥

صفحہ ٣٥

ہوا کہ حضرت نوح علیہ السلام کے ذریت میں نبوت کا سلسلہ جاری ہے۔ انبیاء عظام میں سے حضرت ابراہیم خلیل اللہ علیہ الصلوٰۃ والسلام ہیں۔ ان کے زمانہ میں اگر قرآن سے پوچھا جائے کہ سلسلہ نبوت جاری ہے یا نہیں تو جواب ملتا ہے کہ ”و جعلنا فی ذریته النبوة والكتاب (عنکبوت:٢٧)“ یعنی ہم نے اس کی اولاد میں نبوت اور کتاب کو یعنی وحی نبوت کو مقرر فرما دیا ہے۔ یہاں سے یہ پتہ چلا کہ ذریت ابراہیم میں ابھی سلسلہ نبوت جاری ہے۔ اس کے بعد حضرت موسیٰ علیہ السلام کے زمانہ کی طرف نگاہ کی جائے تو قرآن شریف سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے بعد سلسلہ نبوت جاری ہے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ”ولقد آتینا موسى الكتاب وقفينا من بعده بالرسل (بقرہ:٨٧)“ تو اس آیت سے یہ معلوم ہوا کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے بعد سلسلہ نبوت جاری ہے اور کئی رسولوں کے آنے کا وعدہ ہے۔ جیسا کہ لفظ رسل سے ظاہر ہے۔ اس کے بعد حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا وقت آتا ہے تو قرآن کریم سے سوال ہوتا ہے کہ آیا بکثرت انبیاء ابھی آئیں گے یا کیا ہوگا تو خدا تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے: ”واذ قال عيسى ابن مريم يا بنى اسرائيل انى رسول الله اليكم مصدقا لما بين يدى من التوراة ومبشراً برسول يأتى من بعدى اسمه احمد (صف:٦)“ خداوند سبحانہ نے یہاں پر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی زبان پر اسلوب جواب کو بالکل بدل دیا ہے۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام فرماتے ہیں کہ اے بنی اسرائیل میں اللہ کا رسول ہو کر تمہاری طرف آیا ہوں اور مجھ سے پہلے موسیٰ علیہ السلام کی کتاب تورات جو خدا کی طرف سے ان کو عطاء ہوئی ہے اس کی تصدیق کرتا ہوں اور خوشخبری دیتا ہوں ایک رسول کی جو میرے بعد آئے گا۔ نام اس کا ”احمد“ (ﷺ) ہوگا۔ قرآن کریم نے اس سے پہلے فقط عام طور پر رسولوں کے آنے کی خبر دی تھی اور یہاں ایک خاص رسول کی خبر دے کر اس کو نام سے مشخص اور متعین فرما دیا۔ یہ اسلوب اس بات پر صاف دلالت کرتا ہے کہ خداوند تبارک و تعالیٰ احمد ﷺ پر نبوت کو ختم کر رہا ہے اور عام طور پر جو رسولوں کے آنے کا اسلوب تھا اس کو بدل کر ایک خاص معین شخص کے آنے کی اطلاع دیتا ہے۔

اس کے بعد آنحضرت ﷺ کا زمانہ آتا ہے تو قرآن حکیم سے پوچھتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ کے آنے کے بعد سلسلہ نبوت جاری ہے یا بند ہو جاتا ہے۔ قرآن کریم فرماتا ہے کہ : ”ماكان محمد ابا احد من رجالكم ولكن رسول الله وخاتم النبيين وكان الله بكل شيئ عليما. (احزاب:٤٠)“ کہ محمد تمہارے مردوں میں سے کسی کے باپ نہیں۔

٢٦

لیکن وہ میرے رسول ہیں اور خاتم النبیین ہیں (یعنی آ قرآن کریم کے بیسیوں دلائل ختم نبوت نقل کی ہے۔ جس سے بالکل واضح ہو جاتا ہے کہ آ بند ہے۔

اب ہم چند احادیث نقل کرتے ہیں جو س

عاقب (سب سے پیچھے آنے والا) ہوں جس کے بعد

میرے ساتھ قصر نبوت ختم کر دیا گیا ہے اور میرے سا

مجھے تمام مخلوق کی طرف بھیجا گیا ہے اور میرے ساتـ

نسائی ج ١ ص ٨١) ”میں سب سے آخری سب سے آخری مسجد ہے۔

ج ٢ ص ٥٣) ” رسالت اور نبوت کا سلسلہ ختم ہو آئے گا اور نہ نبی۔

سے آخری نبی ہوں اور تم سب سے آخری امت۔

سے پہلے پیغمبر حضرت آدم اور سب سے آخری حضر

سعد ج ١ ص ١٠٧) ” میں ان لوگوں کے لیے میں پالیا اور ان لوگوں کے لئے بھی جو میرے بعد

١؎ یہ دلیل ہم نے بیانات علامہ بانی بسـ ملاحظہ ہو: البیان الحاسم!

صفحہ ٣٥

لیکن وہ میرے رسول ہیں اور خاتم النبیین ہیں (یعنی آخر النبیین)

قرآن کریم کے بیسیوں دلائل ختم نبوت میں سے ہم نے یہاں صرف ایک دلیل ١؎ نقل کی ہے۔ جس سے بالکل واضح ہو جاتا ہے کہ آنحضرتﷺ کے بعد نبوت کا سلسلہ بالکل بند ہے۔

اب ہم چند احادیث نقل کرتے ہیں جو مسئلہ ختم نبوت پر نہایت واضح اور قطعی دلائل ہیں

عاقب (سب سے پیچھے آنے والا) ہوں جس کے بعد کوئی نبی نہیں ہے۔﴾

﴿میرے ساتھ قصر نبوت ختم کر دیا گیا ہے اور میرے ساتھ رسولوں کا سلسلہ ختم کر دیا گیا ۔﴾

﴿مجھے تمام مخلوق کی طرف بھیجا گیا ہے اور میرے ساتھ نبیوں کا سلسلہ ختم کر دیا گیا ۔﴾

نسائي ج ١ ص ٨١)" ﴿میں سب سے آخری نبی ہوں اور میری مسجد (نبیوں کی مساجد میں) سب سے آخری مسجد ہے۔﴾

ج ٢ ص ٥٣)" ﴿رسالت اور نبوت کا سلسلہ ختم ہو گیا ہے۔ اس لئے میرے بعد نہ کوئی رسول آئے گا اور نہ نبی ۔﴾

سے آخری نبی ہوں اور تم سب سے آخری امت ۔﴾

سے پہلے پیغمبر حضرت آدم اور سب سے آخری حضرت محمد مصطفیٰ (ﷺ) ہیں ۔﴾

سعد ج ١ ص ١٠٧)" ﴿میں ان لوگوں کے لئے بھی رسول بن کر آیا ہوں جن کو میں نے زندگی میں پالیا اور ان لوگوں کے لئے بھی جو میرے بعد پیدا ہوں گے ۔﴾

١؎ یہ دلیل ہم نے بیانات علماء ربانی بسلسلہ مقدمہ مرزائیت بہاولپور سے پیش کی ہے۔ ملاحظہ ہو: البیان العاصم! ٢٧

صفحہ ٣٧

(مشکوٰۃ ص ٥٤٨، الفصل الثالث) ”آسمان سے وحی کا آنا بند ہو گیا ہے۔“

کے بعد نبوت کا دعویٰ کرنا کفر ہے۔ (شرح فقہ اکبر ص ٢٠٢، ملاعلی قاری صاحب) میں ہے: ”ودعوی النبوۃ بعد نبينا ﷺ کفر بالاجماع“

ختم نبوت اور مرزا قادیانی

مرزا قادیانی شروع میں وہی عقیدہ رکھتے تھے جو تمام مسلمانان عالم کا ہے وہ ختم نبوت کے قائل تھے۔ چنانچہ ابتدائی زمانہ کی تصانیف میں ختم نبوت کا مسئلہ بڑی وضاحت اور شدومد سے لکھتے رہے۔ اس جگہ ہم چند حوالے ان کی کتاب (ازالہ اوہام) سے نقل کرتے ہیں۔

(ازالہ اوہام ص ٥٣٤، خزائن ج ٣ ص ٣٨٧)

صورتیں ممتنع ہیں۔“

(ازالہ اوہام ص ٥٤٥، خزائن ج ٣ ص ٣٩٣)

(ازالہ اوہام ص ٥٧٥، خزائن ج ٣ ص ٤١٠)

جبرائیل علیہ السلام لاویں اور پھر چپ ہو جاویں۔ یہ امر بھی ختم نبوت کا منافی ہے ...... اور جو آیت خاتم النبیین میں وعدہ کیا گیا ہے اور جو حدیثوں میں بتصریح بیان کیا گیا ہے کہ اب جبرائیل علیہ السلام بعد وفات رسول اللہ ﷺ ہمیشہ کے لئے وحی نبوت کے لانے سے منع کیا گیا ہے۔ یہ تمام باتیں سچ اور صحیح ہیں۔“

(ازالہ اوہام ص ٥٧٨، خزائن ج ٣ ص ٤١٢)

النبيين “ بھی صاف دلالت کر رہی ہے کہ بعد ہمارے نبی ﷺ کے کوئی رسول دنیا میں نہیں آئے گا ...... وحی رسالت تا قیامت منقطع ہے۔

(ازالہ اوہام ص ٦١٤، خزائن ج ٣ ص ٤٣١)

پینترا بدلتا ہے

اس کے بعد انہوں نے رفتہ رفتہ اپنا رخ تبدیل کیا۔ تدریجی ارتقاء کے منازل دیکھئے۔

٢٨

انہوں نے پہلے تو محدث ہونے کا دعویٰ کیا۔ پھر مسیح مو ایجاد کی اور اس بات کو قطعی طور پر بھول گئے کہ وہ پہلے ا ہوسکتا اور امتی نبی نہیں بن سکتا۔ جیسا کہ ازالہ اوہام میں ایک جگہ لکھتے ہیں: ”باوجود امتی ہونے کے کسی طرح رس

لیکن جیسے کیسے ہوتا انہیں اپنا مطلب نکالنا دعویٰ ان الفاظ میں کر دیا۔

”بعد میں جو خدا تعالیٰ کی وحی بارش کی طر عقیدہ پر قائم نہ رہنے دیا اور صریح طور پر مجھے نبی کا خطا نبی اور ایک پہلو سے امتی ...... میں خدا تعالیٰ کی تئیس بر اس کی اس پاک وحی پر ایسا ہی ایمان لاتا ہوں جیسا ک مجھ سے پہلے ہو چکی ہیں۔“

مرزا قادیانی کی آنکھوں کے سامنے نئے منکشف ہوتی گئیں یا تو وحی کا سلسلہ بند کرنے پر زور پڑا: ”وہ مذہب مردار ہے جس میں ہمیشہ کے لئے یقینی

”وہ دین لعنتی اور قابلِ نفرت ہے جو یہ س ترقیات کا انحصار ہے اور وحی الٰہی آگے نہیں پیچھے رہ گئی

(ضمیم

”خدا تعالیٰ کے کلام سے ظاہر ہے یقینی وعدہ دیا گیا ہے۔“

مرزا قادیانی نے ادھر نبی کا امتی ہونا ما پھر کون سی رکاوٹ تھی ترقی کرتے چلے گئے۔ کچھ عر وہ وقت آگیا کہ انہوں نے واشگاف لفظوں میں اعل

”سچا خدا وہی ہے جس نے قادیان میں

٢٩

صفحہ ٣٧

انہوں نے پہلے تو محدث ہونے کا دعویٰ کیا۔ پھر مسیح موعود بنے۔ بعد ازاں امتی نبی کی اصطلاح ایجاد کی اور اس بات کو قطعی طور پر بھول گئے کہ وہ پہلے اپنی کتابوں میں لکھ چکے ہیں کہ نبی امتی نہیں ہوسکتا اور امتی نبی نہیں بن سکتا۔ جیسا کہ ازالۃ اوہام میں کئی مقامات پر اس کی تصریح موجود ہے۔ ایک جگہ لکھتے ہیں: ”باوجود امتی ہونے کے کسی طرح رسول نہیں ہو سکتا۔“

(ازالۃ اوہام ص ٥٧٥، خزائن ج ٣ ص ٤١٠)

لیکن جیسے کیسے ہوتا انہیں اپنا مطلب نکالنا تھا۔ چنانچہ انہوں نے ”امتی نبی“ ہونے کا دعویٰ ان الفاظ میں کر دیا۔

”بعد میں جو خدا تعالیٰ کی وحی بارش کی طرح میرے پر نازل ہوئی اس نے مجھے اس عقیدہ پر قائم نہ رہنے دیا اور صریح طور پر مجھے نبی کا خطاب دیا گیا۔ مگر اس طرح سے ایک پہلو سے نبی اور ایک پہلو سے امتی...... میں خدا تعالیٰ کی تئیس برس کی متواتر وحی کو کیونکر رد کر سکتا ہوں۔ میں اس کی اس پاک وحی پر ایسا ہی ایمان لاتا ہوں جیسا کہ ان تمام خدا کی وحیوں پر ایمان لاتا ہوں جو مجھ سے پہلے ہو چکی ہیں۔“

(حقیقت الوحی ص ١٥٠، خزائن ج ٢٢ ص ١٥٣، ١٥٤)

مرزا قادیانی کی آنکھوں کے سامنے سے حجابات اٹھتے گئے اور نئی نئی راہیں ان پر منکشف ہوتی گئیں یا تو وحی کا سلسلہ بند کرنے پر زور دے رہے تھے یا پھر وقت آ گیا کہ انہیں کہنا پڑا: ”وہ مذہب مردار ہے جس میں ہمیشہ کے لئے یقینی وحی کا سلسلہ جاری نہیں۔“

(نزول المسیح ص ٩١، خزائن ج ١٨ ص ٤٧٩)

”وہ دین لعنتی اور قابل نفرت ہے جو یہ سکھلاتا ہے کہ صرف چند منقولی باتوں پر انسانی ترقیات کا انحصار ہے اور وحی الٰہی آگے نہیں پیچھے رہ گئی ہے۔“

(ضمیمہ براہین احمدیہ ص ١٣٩ حصہ پنجم، خزائن ج ٢١ ص ٣٠٦)

”خدا تعالیٰ کے کلام سے ظاہر ہے یقینی اور قطعی وحی کا قیامت کے دن تک اس امت کو وعدہ دیا گیا ہے۔“

(نزول المسیح ص ١١٠، خزائن ج ١٨ ص ٤٨٨)

مرزا قادیانی نے ادھر نبی کا امتی ہونا مان لیا۔ ادھر وحی کو تا قیامت جاری کرا دیا۔ پس پھر کون سی رکاوٹ تھی ترقی کرتے چلے گئے۔ کچھ عرصہ وہ ظلی اور بروزی کی آڑ لیتے رہے۔ تا اینکہ وہ وقت آ گیا کہ انہوں نے واشگاف لفظوں میں اعلان کر دیا۔

”سچا خدا وہی ہے جس نے قادیان میں اپنا رسول بھیجا۔“

(دافع البلاء ص ١١، خزائن ج ١٨ ص ٢٣١)

٢٩

صفحہ ٣٩

اب گویا جناب مرزا قادیانی مستقل طور پر رسالت مآب بن گئے۔ رہ گیا یہ سوال کہ مستقل رسول کے لئے صاحب شریعت ہونا ضروری ہے تو مرزا قادیانی اپنے آپ کو شریعت کا حامل بھی ثابت کرنے کے لئے تیار ہیں۔

(اربعین نمبر ٣ ص ٧، خزائن ج ١٧ ص ٣٩٢)

یہاں تک پہنچنے کے بعد مرزا قادیانی نے اپنا حق سمجھا کہ وہ تمام ان لوگوں کو جو انہیں مسیح موعود نہیں مانتے کافر قرار دیں۔ چنانچہ وہ فرماتے ہیں: ”کفر دو قسم پر ہے (اوّل) ایک یہ کفر کہ ایک شخص اسلام سے ہی انکار کرتا ہے اور آنحضرت ﷺ کو خدا کا رسول نہیں مانتا۔“ (دوم) دوسرے یہ کفر کہ مثلاً مسیح موعود کو نہیں مانتا۔ اگر غور سے دیکھا جائے تو یہ دونوں تو کفر ایک ہی قسم میں داخل ہیں۔

(حقیقت الوحی ص ١٧٩، خزائن ج ٢٢ ص ١٨٥)

عقیدۂ نزول مسیح علیہ السلام

مناسب بلکہ ضروری معلوم ہوتا ہے کہ یہاں پر ہم تھوڑا سا اس بارے میں بھی بیان کر دیں۔ شیخ الحدیث مولانا بدر عالم میرٹھی کی ترجمان السنۃ اس وقت ہمارے سامنے ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اس موضوع پر جو کچھ انہوں نے تحریر فرمایا ہے اسے پڑھ کر دل سے ان کے حق میں دعا نکلتی ہے کہ ایک ایسا مسئلہ جو سائنسی ترقی کے دور میں ضعیف الایمان آدمی کو شک وشبہ میں ڈال سکتا ہے انہوں نے اس قدر واضح فرما دیا ہے کہ اس کے بعد تمام شکوک وشبہات دور ہو کر دل کو سکون اور اطمینان حاصل ہو جاتا ہے۔ ان کے طویل مقالہ سے ہم جستہ جستہ چند اقتباسات نقل کرتے ہیں۔

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا نزول قیامت کی بڑی علامت ہے اس لئے اس کو عالم کے تعمیری نظم ونسق کی بجائے تخریب عالم کے نظم ونسق پر قیاس کرنا چاہئے

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی حیات طیبہ میں رفع ونزول کی سرگزشت بے شک عجیب تر ہے۔ لیکن اس پر غور کرنے سے قبل سب سے پہلے یہ سوال سامنے رکھنا چاہئے کہ یہ مسئلہ کس دور اور کس شخصیت کے ساتھ متعلق ہے۔ کیونکہ دنیا کے روزمرہ کے معمولی واقعات بھی زمانہ اور شخصیتوں کے اختلاف سے بہت مختلف ہو جاتے ہیں اور ان کی تصدیق وتکذیب میں بڑا فرق پیدا ہو جاتا ہے۔ اسی زمین پر ایک خطہ زمین ایسا بھی ہے جہاں مہینوں کی رات اور مہینوں کا دن ہوتا ہے اور ان ہی سمندروں میں ایک ایسا سمندر بھی ہے جس پر مسافر موسم سرما میں خشکی کی طرح سواریوں پر چلتے ہیں۔ اسی طرح انسانوں کا اختلاف بھی ہے۔۔۔۔ لہذا مسئلہ نزول پر بحث کرنے کے وقت بھی سب سے پہلے اس پر غور کر لینا ضروری ہے کہ یہ واقعہ کس دور اور کس زمانہ سے پھر کس شخصیت سے متعلق ہے۔

٣٠

جب آپ ان دو سوالوں پر محققانہ نظر ڈالیں واقعہ تخریب عالم یعنی قیامت کے واقعات کی ایک کڑ نہیں جو عالم کے تعمیری دور کے واقعات سے ملتا جلتا ہ جو تعمیری دنیا کے بعد کے واقعات سے مختلف ہونے کے تصدیق میں آپ کو تامل کیوں ہے؟ ظاہر ہے کہ جس میں جمع ہونے کا زمانہ قریب آ رہا ہو تو اس سے ذرا قبل پر آ جانا کون سی بڑی بات ہے۔ بلکہ اس طویل گمشدگی جسمانی نشاۃ ثانیہ کے لئے ایک بدیہی اور محکم برہان شان میں ارشاد ہے۔ ”وانہ لعلم للساعۃ () قیامت کی ایک مجسم علامت ہیں۔

اس کے بعد جب آپ اس پر غور کریں وہ شخصیت کسی عام بشری سنت کے تحت کوئی بشر ہے ی کہ وہ صرف عام انسانوں ہی سے نہیں بلکہ جملہ انبی الگ اور سب سے ممتاز خلقت کا بشر ہے۔ جتنے انساں پیدا ہوئے ہیں۔ مگر حضرت عیسیٰ علیہ السلام ایک ای انسانی سے وجود میں آئی ہے۔ پھر اس میں تمثل جبر بھی عجیب تر ہیں۔ ان کے معجزات دیکھئے تو وہ بھی ک حیات میں ملکیہ کا اتنا غلبہ ہے کہ کھانے پینے، رہنے یوں معلوم ہوتا ہے گویا وہ ان سب ضروریات سے ان کی ہجرت کا مرحلہ آتا ہے تو یہاں بھی ان کی شاں ارضی کی بجائے اس عالم کی طرف ہوتی ہے جو ملکوتی کے جس گوشہ پر نظر ڈالئے وہ ملکوتیہ کا ایک مرقعہ نظر عطاء فرمایا ہے وہ بھی سب سے ممتاز ہے اور اس نور خصوصیات اجتماعی طور پر بیک نظر سامنے آ جاتی ہیں میں کوئی ظاہری واسطہ بھی نہ تھا اور جو واسطہ تھا وہ ایس طرف ان کی نسبت میں کوئی فرق نہیں پڑتا۔

٣١

صفحہ ٣٩

جب آپ ان دو سوالوں پر محققانہ نظر ڈالیں گے تو پوری وضاحت سے ثابت ہوگا کہ یہ واقعہ تخریب عالم یعنی قیامت کے واقعات کی ایک کڑی ہے اور تخریب عالم کا ایک واقعہ بھی ایسا نہیں جو عالم کے تعمیری دور کے واقعات سے ملتا جلتا ہو۔ پس اگر تخریب عالم کے وہ سب واقعات جو تعمیری دنیا کے بعد کے واقعات سے مختلف ہونے کے باوجود قابل تصدیق ہیں تو پھر اس واقعہ کی تصدیق میں آپ کو تامل کیوں ہے؟ ظاہر ہے کہ جب تمام مردوں کے زندہ ہو کر ایک میدان میں جمع ہونے کا زمانہ قریب آ رہا ہو تو اس سے ذرا قبل صرف ایک زندہ انسان کا آسمان سے زمین پر آ جانا کون سی بڑی بات ہے۔ بلکہ اس طویل گمشدگی کے بعد یہ آسمانی نزول مجموعہ عالم انسانی کے جسمانی نشاۃ ثانیہ کے لئے ایک بدیہی اور محکم برہان ہے۔ اسی لئے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی شان میں ارشاد ہے۔ ”وانه لعلم للساعة (زخرف: ٦١)“ یعنی حضرت عیسیٰ علیہ السلام قیامت کی ایک مجسم علامت ہیں۔

اس کے بعد جب آپ اس پر غور کریں گے کہ یہ پیش گوئی ہے کس شخصیت کے متعلق، وہ شخصیت کسی عام بشری سنت کے تحت کوئی بشر ہے یا ان سے کچھ الگ ہے تو آپ کو یہی ثابت ہوگا کہ وہ صرف عام انسانوں ہی سے نہیں بلکہ جملہ انبیاء علیہم السلام کی جماعت میں بھی سب سے الگ اور سب سے ممتاز خلقت کا بشر ہے۔ جتنے انسان ہیں، وہ سب ذکور و مونث کی دو صنفوں سے پیدا ہوئے ہیں۔ مگر حضرت عیسیٰ علیہ السلام ایک ایسے انسان ہیں جن کی تخلیق صرف ایک صنف انسانی سے وجود میں آئی ہے۔ پھر اس میں تمثل جبریلی اور نفخہ ملکی اور تکلم فی المہد کے واقعات اور بھی عجیب تر ہیں۔ ان کے معجزات دیکھئے تو وہ بھی کچھ نرالی شان رکھتے ہیں..... ان کے گذشتہ دور حیات میں ملکیہ کا اتنا غلبہ ہے کہ کھانے پینے، رہنے سہنے، شادی و نکاح کا کوئی نظم و نسق ہی نہیں ملتا۔ یوں معلوم ہوتا ہے گویا وہ ان سب ضروریات سے منزہ و مبرا سچ مچ کے ایک فرشتہ ہیں۔ پھر جب ان کی ہجرت کا مرحلہ آتا ہے تو یہاں بھی ان کی شان نرالی نظر آتی ہے۔ یعنی ان کی ہجرت کسی خطۂ ارضی کی بجائے اس عالم کی طرف ہوتی ہے جو ملکوت اور ارواح کا مستقر ہے۔ غرض ان کی حیات کے جس گوشہ پر نظر ڈالئے وہ ملکوتیہ کا ایک مرقعہ نظر آتا ہے۔ یہاں قرآن کریم نے ان کو جو لقب عطاء فرمایا ہے وہ بھی سب سے ممتاز ہے اور اس نوع کا لقب ہے جس سے ان کی زندگی کی یہ سب خصوصیات اجتماعی طور پر ایک نظر سامنے آ جاتی ہیں۔ یعنی روح اللہ اور کلمۃ اللہ اس روح کی آمد میں کوئی ظاہری واسطہ بھی نہ تھا اور جو واسطہ تھا وہ ایسا ہی تھا جس کے موجود ہونے سے عالم قدس کی طرف ان کی نسبت میں کوئی فرق نہیں پڑتا۔

٣١

صفحہ ٤٠

اس میں کوئی شبہ نہیں کہ ایک انسان کا آسمانوں پر زندہ جانا اور زندہ رہنا اور آخر زمانہ میں پھر اسی جسم عنصری کے ساتھ اتر آنا نہ عام انسانوں کی سنت ہے اور نہ زمانہ کے عام واقعات کے موافق ہے۔ لیکن اگر آپ یہ دو باتیں ملحوظ رکھیں کہ یہ تخریب عالم کا ایک مقدمہ ہے اور ہے بھی اس شخصیت کے متعلق جس کے دیگر حالات زندگی بھی عالم کے عام دستور کے موافق نہیں تو پھر بنظر انصاف آپ کو اس میں کوئی تردد نہ ہونا چاہئے۔

مسئلہ نزول کی حیثیت کتب عقائد میں

شروع سے لے کر آج تک کتب عقائد میں اس مسئلہ کو بھی دیگر عقائد کے ساتھ ساتھ ایک عقیدہ ہی شمار کیا گیا ہے۔ حتیٰ کہ محدثین نے جو مؤلفات ترتیب دی ہیں گو ان کو عقائد کی شکل پر مرتب نہیں فرمایا۔ ان کے مقاصد دوسرے ہیں۔ لیکن اس کے باوجود امام مسلم نے جن کی کتاب کو بلحاظ ترتیب بخاری شریف پر بھی فوقیت دی گئی ہے۔ نزول عیسیٰ علیہ السلام کو ابواب ایمان کا ایک جزو قرار دیا ہے۔ پھر یہ کہنا کتنی کوتاہ نظری ہے کہ نزول عیسیٰ علیہ السلام کا مسئلہ چونکہ ایک جزئی مسئلہ ہے۔ اس لئے اس کو عقائد اور ایمانیات کا مقام حاصل نہیں ہو سکتا۔

یہاں ایک عجیب بات یہ ہے کہ ..... نزول عیسیٰ علیہ السلام کا مسئلہ جس میں سلف سے لے کر آج تک ائمہ دین میں سے کسی کا اختلاف ثابت نہیں۔ حتیٰ کہ معتزلہ وہ بھی اس مسئلہ میں جمہور امت کے ساتھ متفق ہیں جیسا کہ زمخشری نے کشاف میں اس کی تصریح کی ہے۔

ابن عطیہ لکھتے ہیں کہ تمام امت مسلمہ کا اس پر اجماع ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام اس وقت آسمان پر زندہ موجود ہیں اور قرب قیامت میں بجسم عنصری پھر تشریف لانے والے ہیں۔ جیسا کہ متواتر حدیثوں سے ثابت ہے۔ دیکھو:

(بحر محیط ج ٢ ص ٤٧٣ ، ترجمان السنۃ ج ٣ ص ٥٢١ تا ٥٢٥)

اب ہم آپ کو یہ بتاتے ہیں کہ اس اہم اسلامی عقیدہ کے سلسلہ میں مرزا قادیانی نے کیونکر ہیرا پھیری سے کام لیا۔

پہلی بات تو یہ ہے کہ مرزا قادیانی فرماتے ہیں کہ جس مسیح کی آمد کا امت کو انتظار ہے اگر تم وہ کسی اور کو مانتے ہو تو اس کا ذکر نہ قرآن میں ہے اور نہ حدیث میں اور پھر نہ یہ کوئی اسلامی عقیدہ ہے۔ نہ اس کا ماننا ضروری ہے۔ چنانچہ وہ لکھتے ہیں:

(ایام صلح ص ١٤٦، خزائن ج ١٤ ص ٣٩٢)

٣٢

صفحہ ٤١

ہمارے دین کے رکنوں میں سے کوئی رکن ہو۔ بلکہ صدہا پیش گوئیوں میں سے یہ ایک پیش گوئی ہے جس کو حقیقت اسلام سے کچھ بھی تعلق نہیں۔

(ازالہ اوہام ص ١٤٠، خزائن ج ٣ ص ١٧١)

لیکن اگر آنے والے مسیح کی سیٹ پر تم اپنا ووٹ ان کے (یعنی مرزا قادیانی) کے حق میں دے دو تو اب وہ اپنی آمد قرآن سے بھی ثابت کر دیں گے اور احادیث سے بھی۔ ارشاد ہوتا ہے:

”ضروری تھا کہ قرآن شریف اور احادیث کی وہ پیش گوئیاں پوری ہوتیں جن میں لکھا تھا کہ مسیح موعود جب ظاہر ہوگا تو اسلامی علماء کے ہاتھ سے دکھ اٹھائے گا۔ وہ اس کو کافر قرار دیں گے اور اس کے قتل کے لئے فتوے دیئے جائیں گے اور اس کی سخت توہین کی جائے گی اور اس کو دائرہ اسلام سے خارج اور دین کا تباہ کرنے والا خیال کیا جائے گا۔“

(اربعین نمبر ٣ ص ١٧، خزائن ج ١٧ ص ٤٠٤)

قادیانی مبلغین سے یہ تو دریافت کیجئے کہ کیوں جناب! یہ پیش گوئیاں قرآن کے کون سے پارہ کی کون سی سورت اور حدیث کی کون سی کتاب کے کون سے باب میں درج ہیں؟

اس کے بعد مرزا قادیانی نے یہ فتویٰ بھی صادر فرمایا کہ جو انہیں مسیح موعود نہ مانے وہ کافر ہے۔

(حقیقت الوحی ص ١٦٣، خزائن ج ٢٢ ص ١٦٧)

دوسری بات یہ ہے کہ ہم یہ دیکھتے ہیں کہ آنے والے مسیح کا تعارف احادیث میں کن علامات کے ساتھ کر دیا گیا ہے اور یہ علامات مرزا قادیانی میں کس حد تک موجود ہیں۔ نتیجہ قارئین کے سپرد ہے۔

علامات مسیح منتظر کا تعارف بروئے احادیث مرزا قادیانی کے کوائف

(١) نام عیسیٰ (علیہ السلام) (مشکوٰۃ شریف ج٢ ص ٤٣٤، باب العلامات بین یدی الساعۃ، بحوالہ مسلم ج ٢ ص ٣٩٣، کتاب الفتن واشراط الساعۃ) غلام احمد

(٢) ولدیت آپ بن باپ پیدا ہوئے۔ والدہ کا نام حضرت مریم ہے۔ باپ کا نام غلام مرتضیٰ، ماں کا نام چراغ بی بی۔

(٣) موجودہ جائے سکونت آسمان (خصائص کبریٰ وسیوطی ج ١ ص ١٢، بحوالہ بیہقی) ”کیف انتم اذا نزل ابن مریم من السماء فيكم“ (کتاب الاسماء والصفات ص ٤٢٤) قادیان تحصیل بٹالہ ضلع گورداسپور صوبہ مشرقی پنجاب

٣٣

صفحہ ٤٢

وہ نازل ہوں گے احادیث میں ہر جگہ نزول کا لفظ آتا ہے زمین پر پیدا ہونے والے کسی آدمی کے لئے نزول کا لفظ کہیں استعمال نہیں ہوا۔

مرزا قادیانی قادیان کے ایک مغل گھرانے میں پیدا ہوئے۔ نزول کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔

شام کے ملک میں شہر دمشق کے مشرق کی طرف سفید مینارہ پر فینزل عند المنارۃ البیضاء شرقی دمشق“ (مسلم ج ٢ ص ٤٠١، باب ذکر الدجال، ابوداؤد ج ٢ ص ١٣٢، باب خروج الدجال، ترمذی ج ٢ ص ٤٩، ابن کثیر ج ٢ ص ٤٠١)

مرزا قادیانی عام دستور کے مطابق شکم مادر سے باہر تشریف لائے۔ کہاں کا دمشق اور کہاں کا منارہ؟

میں ہوگا

حضرت پر زرد رنگ کی دو چادریں ہوں گی۔ اپنے دونوں بازو دو فرشتوں کے بازوؤں پر رکھے ہوئے ہوں گے۔ سر کو جھکائیں گے تو پانی کے قطرے ٹپکنے لگیں گے۔ اوپر اٹھائیں گے تو موتی سے گرتے ہوئے محسوس ہوں گے۔”بين مهرودتين واضعاً كفيه على اجنحة ملكين اذا طأطأ راسه قطر واذا رفعه تحدر منه جمان كاللؤلؤ“ (مسلم ج ٢ ص ٤٠١، باب ذکر الدجال، ابوداؤد ج ٢ ص ١٣٥، باب خروج الدجال)

جب نزول ہی نہیں تو کس شکل کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ کیسی چادریں اور کیسے فرشتے؟

ابن مریم اسرائیلی پیغمبر ابھی زندہ ہیں؟

جی ہاں! یقیناً حضرت عیسیٰ علیہ السلام فوت نہیں ہوئے اور یقیناً وہ قیامت سے پہلے واپس آئیں گے۔ ”ان عيسى لم

مرزا قادیانی اپنا زور یہ ثابت کرنے میں صرف کرتے ہیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام وفات پا چکے ہیں۔ لے

لے انسان کو بسا اوقات ایک غلطی کے نتیجہ میں کئی غلطیوں کا مرتکب ہونا پڑتا ہے۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی وفات کا دعویٰ کر دینے بعد مرزا قادیانی نے چاہا کہ وہ زمین پر کہیں ان کی قبر کی نشاندہی بھی کر دیں۔ چنانچہ کہیں تو وہ بڑے شدومد سے فرماتے ہیں کہ حضرت مسیح کی قبر محلہ خان یار سری نگر کشمیر میں ہے۔ دیکھو: (چشمہ مسیحی ص ٩، خزائن ج ٢٠ ص ٣٤٤، مسیح ہندوستان میں ص ١٤، خزائن ج ١٥ ص ١٤) اور کہیں وہ ان کا مدفن بلاد شام کو بتاتے ہیں۔ (اتمام الحج ص ١٨، خزائن ج ٨ ص ٢٩٦)

يمت وانه راجع ا القيامة“ (تفسیر ا

تشریف آوری کا سب دجال کا قتل کرنا ہے۔ ” الدجال“

کے تمام شعائر مٹا دیں ۔ الصليب ويقتل الخ ج ١ ص ٤٩٠، باب نزول عیسیٰ ص ٢٧، باب نزول عیسیٰ علیہ

السلام کی آمد کے نتائج؟

جنگ ختم ہو جائے گی۔ ”تضع الحرب“ (بخاری ج ١ عیسیٰ علیہ السلام، مسلم ج ١ عیسیٰ علیہ السلام) ”فاذا قتل الدجال اوزارها“

جائے گا۔ مال اس حد تک کہ اس کا لینے والا کوئی ن المال حتى لا يقبله ا

ختم ہو جائے گا۔ بلکہ حی وآشتی سے زندگی بسر کر الشحناء والتباغض

صفحہ ٤٤

کا مرزا قادیانی قادیان کے ایک مغل ائی گھرانے میں پیدا ہوئے۔ نزول کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔

کی مرزا قادیانی عام دستور کے مطابق شکم زہ مادر سے باہر تشریف لائے۔ کہاں کا دمشق اور کہاں کا منارہ؟

جب نزول ہی نہیں تو کس شکل کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ کیسی چادریں اور کیسے فرشتے؟

مرزا قادیانی اپنا زور یہ ثابت کرنے میں صرف کرتے ہیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام وفات پاچکے ہیں۔

بدل کا مرتکب ہونا پڑتا ہے۔ حضرت عیسیٰ علیہ میں پر کہیں ان کی قبر کی نشاندہی بھی کردیں۔ قبر محلہ خان یار سری نگر کشمیر میں ہے۔ دیکھو: خزائن ج ١٥ ص ١٤) اور کہیں وہ ان کا مدفن بلاد

يمت وانه راجع اليكم قبل يوم القيامة“ (تفسیر ابن کثیر ج ٢ ص ٤٠١)

(٨) نزول کا مقصد

(الف) حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی تشریف آوری کا سب سے اہم مقصد دجال کا قتل کرنا ہے۔ ”يقتل الدجال“

(ب) دین صلیبی کو ختم کر دیں گے اور اس کے تمام شعائر مٹا دیں گے۔ ”يكسر الصليب ويقتل الخنزير“ (بخاری ج ١ ص ٤٩٠، باب نزول عیسیٰ علیہ السلام، مسلم ج ١ ص ٨٧، باب نزول عیسیٰ علیہ السلام)

مرزا قادیانی نے دجال سے مراد انگریز لیا ہے۔ وہ عمر بھر اس کو خوشامد کرتے رہے اور اپنے دجال کو اس حالت میں چھوڑ کر چل بسے جب کہ وہ کرۂ ارض پر دندنا رہا تھا۔

مرزا قادیانی دنیا میں تشریف لائے تو دین صلیبی کی پیروکار سامراجی قومیں بلاد اسلامیہ اور دوسرے ملکوں پر مسلط ہوگئیں۔

(٩) حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی آمد کے نتائج؟

(الف) دجال کے ختم ہو جانے کے بعد جنگ ختم ہو جائے گی۔ ”يضع الحرب“ (بخاری ج ١ ص ٤٩٠، باب نزول عیسیٰ علیہ السلام، مسلم ج ١ ص ٨٧، باب نزول عیسیٰ علیہ السلام)

”فاذ قتل الدجال تضع الحرب اوزارها“

(ب) مال کی فراوانی ہوگی۔ جزیہ ختم ہو جائے گا۔ مال اس حد تک عام ہو جائے گا کہ اس کا لینے والا کوئی نہ رہے گا۔ ”يفيض المال حتي لا يقبله احد“

(ج) انسانوں میں باہمی بغض وعناد بالکل ختم ہو جائے گا۔ بلکہ حیوانات تک باہم صلح و آشتی سے زندگی بسر کریں گے۔ ”لتذهبن الشحنا والتباغض والتحاسد“

مرزا قادیانی کی آمد کے بعد اب تک دو عالمی جنگیں لڑی جاچکی ہیں۔ تیسری کے خطرات سر پر منڈلا رہے ہیں۔

اور مرزا قادیانی کے ہاں تو مال کی مانگ ہی اتنی ہے کہ خدا کی پناہ! ایک بہشتی مقبرے کا چکر ہی ختم ہونے میں نہیں آتا۔ ہر وہ شخص جو اس مقبرے میں دفن ہونا چاہے چندہ دے اور پھر اپنی جائیداد کے 1/10 حصہ کی وصیت الگ کرے۔

یہاں یہ عالم ہے کہ گھر گھر میں لڑائی ہے۔ خود مرزا قادیانی کے پیروکاروں میں کتنا اختلاف رونما ہوا، قادیانی، لاہوری، حقیقت پسند، کیا یہ پارٹی بازی محبت اور الفت کا نتیجہ ہے؟

٣٥

صفحہ ٤٥

کا انجام کیا ہوگا؟

ازدواجی زندگی بسر کریں گے۔ ان کی اولاد ہوگی۔ اس کے بعد طبعی وفات پائیں گے۔ آنحضرت ﷺ کے ساتھ دفن ہوں گے اور قیامت کے دن آنحضور ﷺ اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام حضرت ابوبکرؓ اور حضرت عمرؓ کے درمیان اٹھیں گے۔

مرزا قادیانی کی موت شہر لاہور میں ہوئی۔ بذریعہ گاڑی انہیں بٹالہ لے جایا گیا۔ وہاں سے انہیں قادیان لے جاکر بہشتی مقبرہ میں دفن کیا گیا۔

قرآن مجید کے بارے میں اختلاف

اسلامی عقائد

قرآن مجید اللہ کا پاکیزہ کلام ہے۔ جس کے صرف معانی ومضامین ہی نہیں بلکہ الفاظ بھی اللہ تعالیٰ نے حضرت جبرائیل علیہ السلام کے ذریعے آنحضرت ﷺ پر نازل فرمائے۔ ”اِنَّ عَلَیْنَا جَمْعَہٗ وَقُرْاٰنَہٗ (القیامہ:١٧)“ ” وَرَتَّلْنَاہُ تَرْتِیْلًا (الفرقان:٣٢)“ پھر اس پاک کے بہت سے نام ہیں۔ مثلاً فرقان، کتاب، تذکرہ، ہدیٰ، نور، شفاء، رحمت وغیرہ۔ کجا یہ پیارے نام اور کجا مرزا قادیانی کا دیا ہوا نام ”دلالہ“ حوالہ دوسرے کالم میں ملاحظہ ہو۔

مرزائی عقائد

مرزا قادیانی کہتے ہیں:

میرے منہ کی باتیں ہیں۔“ (حقیقت الوحی ص ٨٧، خزائن ج ٢٢ ص ٨٧)

ہے۔“ (نزول المسیح ص ٩٩، خزائن ج ١٨ ص ٤٧٥)

سبحان اللہ! مرزا قادیانی کا ذوق داد دینے کے قابل ہے۔ کلام خداوندی کے لئے کیسا پیارا لفظ استعمال کیا ہے؟ سچ ہے۔ ”الاِناءُ یَتَرَشَّحُ بِمَا فِیْہِ“

کیا ہے۔ (اعجاز احمدی ص ٣١، خزائن ج ١٩ ص ١٤٠)

مرزا قادیانی کی وحی کے متعلق مفصل کلام ایک مستقل عنوان کے تحت آگے آئے گا۔

٣٦

فرشتوں کے بارے

اسلامی عقائد

اسلامی عقیدہ یہ ہے کہ وہ نوری مخلوق ہیں جو گناہوں سے معصوم ہیں۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے مختلف فرائض انہیں تفویض شدہ ہیں۔ حضرات انبیاء علیہم السلام کے پاس وحی لانے کا فریضہ بارگاہ ایزدی کے سب سے مقرب فرشتے جبرائیل علیہ السلام کے سپرد تھا۔ وہی قرآن پاک لاتے رہے۔ ”من کان عدو الجبریل فانہ نزلہ علی قلبک“ (بقرہ: ٩٧)

حضرات اہل بیت کے

اسلامی عقائد

خاتون جنت حضرت سیدہ فاطمۃ الزہراؓ رسول اکرم ﷺ کی سب سے پیاری صاحبزادی ہیں۔ جن کے بارے میں آنحضرت ﷺ کا فرمان ہے کہ وہ بہشتی عورتوں کی سردار ہیں۔

صفحہ ٤٥

کی مرزا قادیانی کی موت شہر لاہور میں ہوئی ۔ بذریعہ گاڑی انہیں بٹالہ لے جایا گیا۔ وہاں سے انہیں قادیان لے جا کر بہشتی مقبرہ میں دفن کیا گیا۔

میں اختلاف

مرزائی عقائد

دیانی کہتے ہیں: ) ”قرآن شریف خدا کی کتاب اور منہ کی باتیں ہیں۔“

(حقیقت الوحی ص ٨٤، خزائن ج ٢٢ ص ٨٧)

خدا کا کلام بندہ اور خدا میں ایک دلالہ

نزول المسیح ص ٩٧، خزائن ج ١٨ ص ٤٧٥)

دا مرزا قادیانی کا ذوق داد دینے کے ۔ کلام خداوندی کے لئے کیسا پیارا اں کیا ہے؟ سچ ہے۔ ”الا نـــــاء بما فیہ“ نے میری وحی میں قرآن کریم کو پیش

(اعجاز احمدی ص ٤١، خزائن ج ١٩ ص ١٤٠)

ئی کی وحی کے متعلق مفصل کلام ایک ان کے تحت آگے آئے گا۔

فرشتوں کے بارے میں اختلاف

اسلامی عقائد

اسلامی عقیدہ یہ ہے کہ وہ نوری مخلوق ہیں جو گناہوں سے معصوم ہے۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے مختلف فرائض انہیں تفویض شدہ ہیں۔ حضرات انبیاء علیہم السلام کے پاس وحی لانے کا فریضہ بارگاہ ایزدی کے سب سے مقرب فرشتے جبرائیل علیہ السلام کے سپرد تھا۔ وہی قرآن پاک لاتے رہے۔ ”من کان عدو لجبريل فانه نزله على قلبك (بقرہ: ٩٧)“

مرزائی عقائد

مثل مشہور ہے: ”جیسے روح ویسے فرشتے۔“ مرزا قادیانی نے اپنے پاس آنے والے فرشتوں کے جو نام بتائے ہیں وہ ہدیہ قارئین ہیں۔

(حقیقت الوحی ص ٣٣٢، خزائن ج ٢٢ ص ٣٤٦)

ایک فرشتہ بیس برس کے خوبصورت نوجوان کی شکل میں دیکھا۔ جس کی صورت مثل انگریزوں کے تھی اور وہ میز کرسی لگائے ہوئے بیٹھا تھا۔“

(تذکرہ ص ٣١، ایڈیشن اوّل، ملفوظات ج ٧ ص ٨٩)

بالکل صحیح ارشاد فرمایا۔ جب مرزا قادیانی کی نبوت کا مبداء فیاض انگریز تھا۔ انہوں نے فرشتے کو اگر انگریز کی شکل میں دیکھ لیا تو کون سی تعجب کی بات ہے؟

حضرات اہل بیت کے بارے میں اختلاف

اسلامی عقائد

خاتون جنت حضرت سیدہ فاطمۃ الزہراؓ رسول اکرم ﷺ کی سب سے پیاری صاحبزادی ہیں۔ جن کے بارے میں آنحضرت ﷺ کا فرمان ہے کہ وہ بہشتی عورتوں کی سردار ہیں۔

مرزائی عقائد

مرزا غلام احمد قادیانی اپنا کشف بیان کرتے ہیں: ”ایک مرتبہ نمازِ مغرب کے بعد عین بیداری میں ایک تھوڑی سی غیبت حس سے جو خفیف سے نشہ سے مشابہ تھی ایک عجیب عالم

٤٧

صفحہ ٤٦

"فاطمة سيدة نساء أهل الجنه"

(مشکوة ج٢ ص٥٦٨، باب مناقب اہل بیت)

پھر بی بی صاحبہ کا پردہ اور حیا اس درجے تک پہنچا ہوا تھا کہ آپ پر کبھی غیر محرم کی نگاہ نہ پڑی تھی۔ اس دنیا سے رخصت ہوئیں تو حجاب کا عالم تھا کہ ان کی وصیت کے مطابق شب کی تاریکی میں ان کا جنازہ اٹھایا گیا۔ علماء بیان کرتے ہیں کہ قیامت کے روز بھی جب آپ کا گزر پل صراط پر سے ہوگا تو اہل محشر کو حکم ہوگا کہ اپنی نگاہیں پست کرلیں۔

حضرت حسن اور حضرت حسینؓ جوانان اہل بہشت کے سردار اور سرور دو جہاں ﷺ کے لاڈلے شہزادے ہیں۔ حدیث شریف میں آتا ہے: "الحسن والحسين سيد اشباب اهل الجنة ان الحسن والحسين هما ريحان من الدنيا" بعض اوقات آنحضرت ﷺ ان دونوں کو اٹھا لیتے اور فرماتے۔ یہ دونوں میرے بیٹے اور میری دختر کے لخت جگر ہیں۔ پھر حضور ان لفظوں میں دعا فرماتے: "اللهم اني احبهما فا احبهما واحب من يحبهما" (مشکوة ج٢ ص٥٧٠،

ترمذی ج٢ ص٢١٨، باب مناقب حسن و حسین)

اے اللہ! میں ان دونوں سے محبت رکھتا ہوں تو بھی ان سے محبت رکھ اور جو شخص (صدق دل سے) ان کے ساتھ محبت رکھتا ہو ان سے بھی محبت رکھ۔

ظاہر ہوا کہ پہلے یک دفعہ چند آدمیوں کے جلد جلد آنے کی آواز آئی۔ جیسی بسرعت چلنے کی حالت میں پاؤں کی جوتی اور موزہ کی آواز آتی ہے۔ پھر اسی وقت پانچ آدمی نہایت وجیہہ اور مقبول اور خوبصورت سامنے آ گئے۔ یعنی جناب پیغمبر خدا ﷺ، حضرت علیؓ وحسنینؓ وفاطمۃ الزہراؓ اور ایک نے ان میں سے اور ایسا یاد پڑتا ہے کہ حضرت فاطمۃ الزہراؓ نے نہایت محبت اور شفقت سے مادر مہربان کی طرح اس عاجز کا سر اپنی ران پر رکھ لیا۔"

(براہین احمدیہ حاشیہ ص٥٠٣، خزائن ج١ ص٥٩٩)

اب فرزندان رسول ﷺ کے بارے میں مرزا قادیانی کی گستاخیاں ملاحظہ ہوں۔ اعجاز احمدی میں کہتے ہیں۔

وقالوا على الحسنين فضل نفسه
اقول نعم والله ربى سيظهر

ترجمہ: اور انہوں نے کہا کہ اس شخص (یعنی مرزا قادیانی) نے امام حسن اور حسین سے اپنے تئیں اچھا سمجھا۔ میں کہتا ہوں کہ ہاں اور میرا خدا عنقریب ظاہر کردے گا۔

(اعجاز احمدی ص٥٢، خزائن ج١٩ص١٦٤)

وشتان ما بينى وبين حسينكم
فانى اؤيد وكل ان وانصر

اور مجھ میں اور تمہارے حسین میں بہت فرق ہے۔ کیونکہ مجھے تو ہر ایک وقت خدا کی تائید اور مدد مل رہی ہے۔

٤٨

مرزا غلام احمد قادیانی کی نگاہوں میں جب مقام نبوت کا کوئی احترام نہیں ہے اور وہ سید الانبیاء ﷺ کی ذات تک حملے کرنے سے نہیں چوکے تو غیر نبی کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ در جگہ جگہ امام عالی مقام سید الشہداء حضرت حسینؓ کا ذکر نہایت تحقیر اور اہانت آمیز انداز میں کرتے ہیں۔ چند حوالے دوسرے کالم میں ملاحظہ ہوں۔

صفحہ ٤٧

مرزا غلام احمد قادیانی کی نگاہوں میں جب مقام نبوت کا کوئی احترام نہیں ہے اور وہ سید الانبیاء ﷺ کی ذات تک حملے کرنے سے نہیں چوکے تو غیر نبی کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ وہ جگہ جگہ امام عالی مقام سید الشہداء حضرت حسینؓ کا ذکر نہایت تحقیر اور اہانت آمیز انداز میں کرتے ہیں۔ چند حوالے دوسرے کالم میں ملاحظہ ہوں۔

واما حسین فاذکروا دشت کربلا
الیٰ ہذہ الایام تبکون فانظروا

مگر حسین پس تم دشت کربلا کو یاد کرلو کہ اب تک تم روتے ہو۔ پس سوچ لو۔

(اعجاز احمدی ص ٦٩، خزائن ج ١٩ ص ١٨١)

فانی قتیل الحب لکن حسینکم
قتیل العدا فالفرق اجلی واظہر

اور میں خدا کا کشتہ ہوں۔ لیکن تمہارا حسین دشمنوں کا کشتہ ہے۔ پس فرق کھلا کھلا اور ظاہر ہے۔ (اعجاز احمدی ص ٨١، خزائن ج ١٩ ص ١٩٣)

مرزا قادیانی (نزول المسیح ص ٤٨، خزائن ج ١٨ ص ٤٢٦) پر لکھتے ہیں: ”ایسا ہی خدا تعالیٰ نے اور اس کے پاک رسولوں نے بھی مسیح موعود کا نام نبی اور رسول رکھا ہے اور تمام خدا کے نبیوں نے اس کی تعریف کی ہے اور اس کو تمام انبیاء کے صفات کاملہ کا مظہر ٹھہرایا ہے۔ اب سوچنے کے لائق ہے کہ امام حسین کو اس سے کیا نسبت ہے۔“

اور اسی (نزول المسیح ص ٩٩، خزائن ج ١٨ ص ٤٧٧) پر ہے؎

کربلائیست سیر ہر آنم
صد حسین است در گریبانم

یعنی تقرب الی اللہ کے جو مقامات حضرت حسینؓ کربلا میں طے کئے۔ میں ہر آن طے کر رہا ہوں اور سینکڑوں حسین میرے گریبان میں موجود ہیں

٣٩

صفحہ ٤٩

پانچ بنیادی ارکان میں اختلاف

مرزائی عقائد

مرزا قادیانی کہتے ہیں: ”میں بار بار اعلان دے چکا ہوں کہ میرے بڑے بڑے اصول پانچ ہیں۔ اوّل یہ کہ خدا تعالیٰ کو واحد لاشریک اور ہر ایک منقصت، موت، بیماری اور لاچاری اور درد اور دکھ اور دوسری نالائق صفات سے پاک سمجھنا۔ دوسرے یہ کہ خدا تعالیٰ کے سلسلہ نبوت کا خاتم اور آخری شریعت لانے والا اور نجات حقیقی کی راہ بتلانے والا حضرت سیدنا و مولانا محمد مصطفیٰ ﷺ کو یقین رکھنا۔ تیسرے یہ کہ دین اسلام کی دعوت محض دلائل عقلیہ اور آسمانی نشانوں سے کرنا اور خیالات غازیانہ اور جہاد اور جنگجوئی کو اس زمانہ کے لئے قطعی طور پر حرام اور ممتنع سمجھنا ہے اور ایسے خیالات کے پابند کو صریح غلطی پر قرار دینا چوتھے یہ کہ اس گورنمنٹ محسنہ کی نسبت جس کے ہم زیر سایہ یعنی گورنمنٹ انگلیشیہ کوئی مفسدانہ خیالات دل میں نہ لانا اور خلوص دل سے اس کی اطاعت میں مشغول رہنا۔ پانچویں یہ کہ بنی نوع سے ہمدردی کرنا اور حتی الوسع ہر ایک شخص کی دنیا اور آخرت کی بہبودی کے لئے کوشش کرتے رہنا اور امن اور صلح کاری کا مؤید ہونا اور نیک اخلاق کو دنیا میں پھیلانا۔ یہ پانچ اصول ہیں جن کی اس جماعت کو تعلیم دی جاتی ہے۔“

(کتاب البریہ ص ٣٢٨، خزائن ج ١٣ ص ایضاً)

اسلامی عقائد

اسلام کی بنیاد پانچ ارکان پر ہے: (اوّل) اس بات کی شہادت دینا کہ اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں اور حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ اللہ کے رسول ہیں۔ (دوم) نماز قائم کرنا۔ (سوم) زکوٰۃ دینا۔ (چہارم) حج کرنا۔ (پنجم) رمضان شریف کے روزے رکھنا۔ بخاری اور مسلم وغیرہ میں روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”بنی الاسلام علی خمس شهادة ان لا اله الا الله واشهد محمد رسول الله واقام الصلوة وايتاء الزکوٰة والحج وصوم رمضان“ (بخاری ج ١ ص ٦، باب قول النبی ﷺ)

ہر عمارت بنیادوں کے علاوہ ستونوں، درودیوار اور چھت وغیرہ پر مشتمل ہوتی ہے۔ پھر بنیادیں تو زمین کے اندر چھپی ہوئی ہوتی ہیں اور پھر انہیں کے مضبوط اور صحیح ہونے پر عمارت کا استحکام موقوف ہے۔ لیکن ظاہری طور پر عمارت کی پختگی ستونوں کے مضبوط ہونے پر موقوف ہوتی ہے۔ جن پر ساری چھت کا دارومدار ہوتا ہے۔ یہی حال یہاں پر ”روحانی منزل“ کا ہے۔ دل سے تصدیق کرنا بنیاد کی حیثیت رکھتا ہے۔ جو اگرچہ نگاہوں سے مستور ہے۔ لیکن عملی زندگی کا تمام تر انحصار اسی پر ہے۔ اس کے بعد اقرار باللسان اور ارکان اربعہ کو ستونوں کی

٤٠

حیثیت حاصل ہے کہ انہی کے درست ہونے پر انسان کا رشتہ اللہ اور اللہ کی مخلوق سے درست رہ سکتا ہے۔ تفصیل کی یہاں گنجائش نہیں ہے۔

مقامات مقدسہ کے بارے

اسلامی عقائد

مسلمانوں کے نزدیک مکہ معظمہ اور مدینہ منورہ دو مقام نہایت مقدس ہیں۔ ان کے بعد بیت المقدس ہے۔ قرآن وحدیث میں ان مقامات کی متعدد فضیلتیں آئی ہیں۔ دنیا کا کوئی حصہ شان اور فضیلت میں ان مقامات کی ہمسری نہیں کر سکتا۔ بالخصوص مدینہ منورہ کا وہ بقعہ مبارک جسے رسول اکرم ﷺ کا مدفن اور مزار ہونے کا شرف حاصل ہے۔ اسے علماء امت نے عرش سے بھی برتر قرار دیا ہے۔ شاعر مشرق نے کہا ہے؎

ادب گاہیست زیر آسمان از عرش نازک تر
نفس گم کردہ می آید جنید و بایزید اینجا

مکہ معظمہ کو اللہ تعالیٰ نے سیدنا ابراہیم علیہ السلام کی دعا کے مطابق ”امن والا شہر“ قرار دیا اور ”البلد الامین“ اس کا نام رکھا۔ اس کا دوسرا نام ”البلد الحرام“ یعنی عزت اور احترام والا شہر ہے۔ اسی میں بیت اللہ واقع ہے جو پورے عالم اسلام کا قبلہ ہے۔ یہی شہر سرور کائنات ﷺ کا مولد ہے۔ مدینہ شریف جس کا پورا نام مدینۃ النبی ﷺ ہے۔ مہبط وحی،

صفحہ ٤٩

حیثیت حاصل ہے کہ انہی کے درست ہونے پر انسان کا رشتہ اللہ اور اللہ کی مخلوق سے درست رہ سکتا ہے۔ تفصیل کی یہاں گنجائش نہیں ہے۔

مقامات مقدسہ کے بارے میں اختلاف

اسلامی عقائد

مسلمانوں کے نزدیک مکہ معظمہ اور مدینہ منورہ دو مقام نہایت مقدس ہیں۔ ان کے بعد بیت المقدس ہے۔ قرآن وحدیث میں ان مقامات کی متعدد فضیلتیں آئی ہیں۔ دنیا کا کوئی حصہ شان اور فضیلت میں ان مقامات کی ہمسری نہیں کر سکتا۔ بالخصوص مدینہ منورہ کا وہ بقعہ مبارک جسے رسول اکرم ﷺ کا مدفن اور مزار ہونے کا شرف حاصل ہے۔ اسے علماء امت نے عرش سے بھی برتر قرار دیا ہے۔ شاعر مشرق نے کہا ہے؎

ادب گاہیست زیر آسمان از عرش نازک تر
نفس گم کردہ مے آید جنید و بایزید اینجا

مکہ معظمہ کو اللہ تعالیٰ نے سیدنا ابراہیم علیہ السلام کی دعا کے مطابق ”امن والا شہر“ قرار دیا اور ”البلد الامین“ اس کا نام رکھا۔ اس کا دوسرا نام ”البلد الحرام“ یعنی عزت اور احترام والا شہر ہے۔ اسی میں بیت اللہ واقع ہے جو پورے عالم اسلام کا قبلہ ہے۔ یہی شہر سرور کائنات ﷺ کا مولد ہے۔ مدینہ شریف جس کا پورا نام مدینۃ النبی ﷺ ہے۔ مہبط وحی،

مرزائی عقائد

مرزائی شریعت کا مسئلہ ملاحظہ ہو۔ ”قادیان کے مقبرہ بہشتی میں وہ روضہ مطہرہ ہے جس میں خدا کے برگزیدہ کا جسم مبارک مدفون ہے۔ مدینہ منورہ کے گنبد خضراء کے انوار کا پورا پورا پرتو اس گنبد پر پڑ رہا ہے اور آپ گویا ان برکات سے حصہ لے سکتے ہیں جو رسول کریم ﷺ کے مرقد منور سے مخصوص ہیں۔ کیا ہی بدقسمت ہیں وہ شخص جو احمدیت کے حج اکبر میں اس تمتع سے محروم رہے۔“ مرزا غلام احمد قادیانی (درثمین اردو ص ٥٢) میں کہتے ہیں؎

زمین قادیان اب محترم ہے
ہجوم خلق سے ارض حرم ہے

بلکہ مرزا قادیانی کے نزدیک تو انگریزی گورنمنٹ کو مکہ معظمہ اور مدینہ منورہ پر بھی فوقیت حاصل ہے۔ وہ لکھتے ہیں: ”سچ اور بالکل سچ یہ بات ہے کہ ہم جس کوشش اور سعی اور امن اور آزادی سے اسلامی وعظ اور نصائح بازاروں میں کوچوں میں گلیوں میں اس ملک میں کر سکتے ہیں اور ہر ایک قوم کو حق پہنچا سکتے ہیں۔ یہ تمام

٤١

صفحہ ٥٠

حضور کا مسکن اور مدفن ہے تو ایسے مقامات کے فضائل کا کیا کہنا۔ لیکن مرزا قادیانی کیونکر حرم کو چھوڑ کر دیر کی طرف رخ کرتے ہیں۔ اس کی تفصیل دوسرے کالم میں ملاحظہ ہو۔

خدمات خاص مکہ معظمہ میں بھی بجا نہیں لا سکتے۔ چہ جائیکہ اور کسی جگہ۔"

(اتمام الحجۃ ص ٢٧، خزائن ج ٨ ص ٣٠٧)

"میں سچ سچ کہتا ہوں کہ جو کچھ ہم پوری آزادی سے اس گورنمنٹ کے تحت میں اشاعت حق کر سکتے ہیں یہ خدمت ہم مکہ معظمہ یا مدینہ منورہ میں بیٹھ کر کبھی ہرگز بجا نہیں لاسکتے۔"

(ازالہ اوہام ص ٥٦ حاشیہ، خزائن ج ٣ ص ١٣٠)

دین کے ایک ایک جز میں اختلاف

قارئین نے مندرجہ بالا حوالہ جات سے اندازہ لگا لیا ہوگا کہ امت مرزائیہ ایک جدا مذہب کی پیروکار ہے اور امت مسلمہ سے ہر معاملہ میں الگ تھلگ ہے۔ مزید اطمینان کے لئے دو حوالے اور ملاحظہ ہوں۔

السلام کے منہ سے نکلے ہوئے الفاظ میرے کانوں میں گونج رہے ہیں۔ آپ نے فرمایا۔ یہ غلط ہے کہ دوسرے لوگوں سے ہمارا اختلاف صرف وفات مسیح اور چند مسائل میں ہے۔ اللہ تعالیٰ کی ذات، رسول کریم، قرآن، نماز، روزہ، حج، زکوٰۃ۔ غرضیکہ آپ نے تفصیل سے بتایا کہ ایک ایک جز میں ہمیں ان سے اختلاف ہے۔"

(اخبار الفضل مورخہ ٣٠؍ جولائی ١٩٣١ء)

اسلام اور ہے۔"

(الفضل قادیان مورخہ ٣١؍ دسمبر ١٩١٣ء)

مرزا قادیانی کی انہی ہدایات اور ان کے خلیفوں کے اس قسم کے ارشادات ہی کا نتیجہ ہے کہ مرزائی اپنے مذہبی فرائض کی ادائیگی، سماجی اور معاشرتی مسائل غرض زندگی کے ہر شعبہ میں مسلمانوں سے الگ تھلگ رہتے ہیں اور یہی ہونا بھی چاہئے۔ کیونکہ انسانیت کی پوری تاریخ یہ بتلاتی ہے کہ نئے رسول کے آنے سے قومیں دو حصوں میں منقسم ہو جاتی رہی ہیں۔

٤٢

صفحہ ٥١

مرزا قادیانی کے وحی کے متعلق چند گذارشات

یوں تو مرزا قادیانی کی وحی کے مختلف کرشمے قارئین کے ملاحظہ سے گذر چکے ہیں۔ لیکن خصوصیت کے ساتھ ہم یہاں چند باتوں کی طرف توجہ دلانا چاہتے ہیں۔

اول یہ کہ قرآن شریف میں آتا ہے: ”وما ارسلنا من رسول الا بلسان قومہ“ ﴿ہم نے جو بھی رسول بھیجا وہ اپنی قوم کی زبان کے ساتھ آیا۔﴾

مرزا قادیانی خود بھی فرماتے ہیں: ”اور یہ بالکل غیر معقول اور بیہودہ امر ہے کہ انسان کی اصل زبان تو کوئی ہو اور الہام اس کو کسی اور زبان میں ہو جس کو وہ سمجھ بھی نہیں سکتا۔“

(چشمہ معرفت ص ٢٠٩، خزائن ج ٢٣ ص ٢١٨)

مرزا قادیانی کی علاقائی زبان پنجابی، برصغیر کے بیشتر حصوں میں بولی جانے والی زبان اردو، لیکن انہیں الہامات ہوتے ہیں۔ عربی، فارسی یا انگریزی میں جب کہ انگریزی الہامات کے معنی معلوم کرنے کے لئے انہیں ہندو لڑکوں تک کا محتاج ہونا پڑتا تھا۔ یہ کیا معاملہ ہے؟

عربی، فارسی، اردو اور انگریزی کا معجون مرکب دیکھنا ہو تو مرزا قادیانی کے الہامات کا مطالعہ کیجئے۔

دوم یہ کہ مرزا قادیانی ایک مقام پر انجیل کے بارے میں لکھتے ہیں: ”انجیل درحقیقت بائبل اور طالمود کی عبارتوں سے ایسی پر ہے کہ ہم لوگ محض قرآن شریف کے ارشاد کی وجہ سے ان پر ایمان لاتے ہیں۔ ورنہ اناجیل کی نسبت بڑے شبہات پیدا ہوتے ہیں۔“

(چشمہ مسیحی ص ٢٩، خزائن ج ٢٠ ص ٣٥٧)

بعینہ یہی کیفیت مرزا قادیانی کے الہامات کی ہے۔ آپ حقیقت الوحی یا حمامتہ البشریٰ وغیرہ کو اٹھا کر دیکھ لیں۔ قرآنی آیات ہی ہیں جنہیں آگے پیچھے مختصر سی ترمیمات کے ساتھ مرزا قادیانی نے اپنے الہامات میں پیش کیا ہے۔ پس چہ فرمائند علماء دین دریں بارہ؟

سوم یہ کہ ایک نبی کے الہامات میں کہیں کہیں پہلی آسمانی کتابوں سے قطعات کا آ جانا تو کوئی بڑی بات نہیں۔ لیکن یہ بات حیرت انگیز ہے کہ مرزا قادیانی کے الہامات میں ریشم کے ساتھ ٹاٹ کے پیوند کی طرح آیات اور احادیث کے بیچوں بیچ کہیں تو سعدی کا کلام جڑا ہوا ہے۔

٤٣

صفحہ ٥٢

کہیں زمانہ قبل از اسلام کے شاعروں کا نمونہ ملاحظہ ہو۔

"زلزلہ کا دھکا" ”عفت الديار محلها ومقامها، تتبعها الرادفه“ پھر بہار
آئی خدا کی بات پھر پوری ہوئی پھر بہار آئی تو آئے صلح کے آنے کے دن ۔

(حقیقت الوحی ص ٩٩، خزائن ج ٢٢ ص ١٠٣،١٠٢)

اول آخر اردو عبارت مرزا قادیانی کے ذہن کی اختراع ہے۔ درمیان میں ایک مصرعہ ایک جاہلی شاعر کا کلام ہے اور ایک قرآن پاک کی آیت۔

چہارم یہ کہ مرزا قادیانی اپنے بارے میں یہ الہام نقل کرتے ہیں: ”وما ينطق عن الهوى ان هو الا وحى يوحى “

(اربعین نمبر ٤ ص ٣٩، خزائن ج ١٧ ص ٤٨٥)

وہ اپنے الہامات کے صرف مضامین ہی نہیں بلکہ الفاظ کو بھی منجانب اللہ بتاتے ہیں۔ پھر جب ہم دیکھتے ہیں کہ ان الہامات میں جگہ جگہ زبان کی غلطیاں ہیں۔ نحوی قوانین کی خلاف ورزی ہے۔ ادب وانشاء کا فقدان ہے تو ہم کیا سمجھیں؟ کلام الملوک ملوک الکلام ایک مشہور جملہ ہے۔ اللہ کا کلام تو فصاحت و بلاغت میں بجائے خود معجزہ ہوتا ہے۔ بندوں سے اس کا مقابلہ ممکن ہی نہیں ہوتا اور یہاں یہ حال ہے کہ فصاحت و بلاغت تو کجا، غلطیوں کی بھرمار ہی اتنی ہے کہ خدا کی پناہ۔ چند نمونے ملاحظہ ہوں۔

اس وقت مرزا قادیانی کی تصنیف (نور الحق حصہ دوم، خزائن ج ٨ ص ١٨٧) ہمارے سامنے ہے۔ اس کا ٹائٹل پیج ہم دیکھ رہے ہیں۔ چلئے اسی کو سامنے رکھ کر ہم بات کرتے ہیں۔

کہ قرآن کریم میں ہے۔ ”اذا جاء نصر الله“

ہونا چاہئے۔

مرتبہ ضمیر واحد مؤنث لائی گئی ہے جو غلط ہے۔ کتاب کا لفظ اردو میں مؤنث ہے۔ لیکن عربی میں مذکر ہے۔ اس لئے ضمیر مذکر آنی چاہئے۔

٤٤

میں بھی طیران فی الہوا آتا ہے۔ ہوا کی املاء بغیر لیکن عربی میں بالہمزہ ہوا آتا ہے۔

طریقے ہیں۔ (١) معرف باللام۔ (٢) مضاف سے کوئی طریقہ بھی ملحوظ نہیں ہے۔

چند نمونے اور بھی ہدیہ قارئین ہیں

عربی ظمان بالظاء ہے نہ کہ بالضاد۔

لایا گیا ہے جو قانون کے لحاظ سے بالکل غلط ہ

قابلیت رکھنا، کی عربی قبول نہیں ہے۔ اس طرز

مقدمہ اور اس سے بری ہو جانے کا مفصل ذکر مما قالوا“ بھی لکھ دیا ہے۔ لیکن بری ہو جان دانی کا راز فاش کر دیا ہے۔ انہیں اس موقع پر آئی۔

پنجم یہ کہ مرزا قادیانی نے بعض ہیں۔ اب یا تو مرزا قادیانی نے دانستہ جھوٹ ہیں۔ بہرحال ”وما ينطق عن الهوى غلط بیانی کی صرف دو مثالیں پیش خدمت ہیں

صفحہ ٥٣

میں بھی طیران فی الہوا آتا ہے۔ ہوا کی املاء بھی غلط ہے۔ اردو میں ہوا بدون ہمزہ لکھا جاتا ہے۔ لیکن عربی میں بالہمزہ ہواء آتا ہے۔

طریقے ہیں۔ (١) معرف باللام ۔ (٢) مضاف ہو کر۔ (٣) من کے ساتھ، اور یہاں ان میں سے کوئی طریقہ بھی ملحوظ نہیں ہے۔

چند نمونے اور بھی ہدیہ قارئین ہیں:

عربی ظمان بالظاء ہے نہ کہ بالضاد۔

لایا گیا ہے جو قانون کے لحاظ سے بالکل غلط ہے۔

قابلیت رکھنا، کی عربی قبول نہیں ہے۔ اس طرح کی عربی انشاء پردازی عجمیت کا نتیجہ ہے۔

مقدمہ اور اس سے بری ہو جانے کا مفصل ذکر کرتے ہیں۔ ٹائٹل پر انہوں نے ”فبرأه الله مما قالوا“ بھی لکھ دیا ہے۔ لیکن بری ہو جانے کی عربی ”بریۃ“ لکھ کر مرزا قادیانی نے اپنی عربی دانی کا راز فاش کر دیا ہے۔ انہیں اس موقع پر قرآن کریم کی آیت ”برأۃ من الله“ بھی یاد نہیں آئی۔

پنجم یہ کہ مرزا قادیانی نے بعض باتیں ایسی لکھ دی ہیں جو بالکل خلاف واقعہ اور غلط ہیں۔ اب یا تو مرزا قادیانی نے دانستہ جھوٹ بولا ہے۔ یا لاعلمی کی وجہ سے وہ ایسی باتیں کہہ گئے ہیں۔ بہرحال ”وما ينطق عن الهوىٰ ان هو الا وحى يوحىٰ“ کی قلعی کھل جاتی ہے۔ غلط بیانی کی صرف دو مثالیں پیش خدمت ہیں۔

٤٥

صفحہ ٥٤

پڑھ چکے ہیں جو مرزا قادیانی نے قرآن وحدیث کی طرف منسوب کی ہیں۔ حالانکہ قرآن کریم اور کتب حدیث میں کہیں ایسی پیش گوئیوں کا ذکر نہیں ہے۔

ہے کہ آسمان سے اس کے آواز آئے گی۔ ”ھذا خلیفۃ اللہ المہدی“ اب سوچو کہ یہ حدیث کس پایہ اور مرتبہ کی ہے جو ایسی کتاب میں درج ہے۔ جو اصح الکتب بعد کتاب اللہ ہے۔“

(شہادۃ القرآن ص ٤١، خزائن ج ٦ ص ٣٣٧)

صحیح بخاری ہر عربی مدرسہ میں اور ہر عالم کے پاس موجود ہے۔ لے کر دیکھ لیجئے کہیں بھی اس حدیث کا نشان نہیں ملے گا۔ مندرجہ بالا پانچ گزارشات سے یہ حقیقت بالکل آشکارا ہو جاتی ہے کہ جن عبارات کو مرزا قادیانی وحی آسمانی اور الہامات خداوندی بنا کر پیش کرتے ہیں ان کا سرچشمہ مرزا قادیانی کا اپنا دماغ ہے۔

مرزائیت کا سنگ بنیاد

محترم قارئین! یہ بات آپ پر بخوبی واضح ہو چکی ہے کہ عقائد اور اعمال غرض دین کے ایک ایک جز میں (بقول مرزا قادیانی) اختلاف کی وجہ سے مرزائی مسلمان تو نہیں ہیں۔ اب آپ مثبت پہلو میں یہ معلوم کرنا چاہتے ہوں گے کہ مرزائیت کا خمیر کیونکر تیار ہوا۔ اس کا پودا کس نے لگایا۔ پھر اس کی نشو و نما کس طرح ہوئی؟ سو معلوم رہے کہ:

١٨٥٧ء کے بعد جب برصغیر پاک و ہند پر انگریز کا قبضہ ہو گیا اور دردمند مسلمان کے مجاہدانہ جذبات وقتاً فوقتاً انگریزی حکومت کے لئے پریشانی کا باعث بنتے تھے تو ١٨٦٩ء میں ایک کمیشن تحقیقات کے لئے لندن سے ہندوستان آیا۔ ١٨٧٠ء میں لندن میں ایک کانفرنس ہوئی جس میں کمیشن نے اپنی رپورٹ پیش کی اور عیسائی مشنری کے جو پادری ہندوستان میں کام کر رہے تھے وہ بھی بطور خاص کانفرنس میں شامل ہوئے اور انہوں نے الگ اپنی رپورٹ پیش کی۔ یہ تمام کارروائی کتابی صورت میں شائع ہوئی۔ کتاب کا نام ہے (The Arrival of British Empire in India.) ”دی ارائیول آف برٹش ایمپائر ان انڈیا“ کمیشن کی رپورٹ کا مندرجہ ذیل اقتباس قابل غور ہے۔

٤٦

صفحہ ٥٥

”مسلمانوں کا مذہبی عقیدہ ہے کہ وہ کسی غیر ملکی حکومت کے زیر سایہ نہیں رہ سکتے اور ان کے لئے غیر ملکی حکومت سے جہاد کرنا ضروری ہے۔ جہاد کے اس تصور سے مسلمانوں میں ایک جوش اور ولولہ ہے اور وہ جہاد کے لئے ہر لمحہ تیار ہیں۔“

پادری صاحبان نے ہندوستانی مسلمانوں کے متعلق انکشاف کیا۔

یہاں کے باشندوں کی بہت بڑی اکثریت پیری مریدی کے رجحانات کی حامل ہے۔ اگر ہم اس وقت کسی ایسے غدار کو ڈھونڈنے میں کامیاب ہو جائیں جو ظلی نبوت کا دعویٰ کرنے کو تیار ہو جائے تو اس کے حلقہ نبوت میں ہزاروں لوگ جوق در جوق شامل ہو جائیں گے۔ لیکن مسلمانوں میں سے اس قسم کے دعوے دار کو تیار کرنا ہی بنیادی کام ہے۔ یہ مشکل حل ہو جائے تو اس شخص کی نبوت کو حکومت کے زیر سایہ پروان چڑھایا جا سکتا ہے۔

ان ہر دو اقتباسات کے ساتھ مندرجہ ذیل حقائق اور واقعات پیش نظر رکھ کر دیانتداری سے سوچئے اور پھر فیصلہ دیجئے کہ مرزائی نبوت کا کاروبار کن محرکات اور عوامل کا نتیجہ ہے۔

مرزا غلام احمد قادیانی کا خاندان انگریز بہادر کا پرانا خدمت گزار اور جاں نثار تھا۔ مرزا قادیانی نے اپنی تصنیفات میں بار بار اس کا ذکر کیا ہے اور غالباً ان کی کوئی تصنیف بھی اس عہد وفاداری کی تجدید سے خالی نہیں ہے۔ مرزا قادیانی اپنی خاندانی خدمات کا ذکر کرتے ہوئے اپنی وفاداری کا یقین اس انداز میں دلاتے ہیں کہ اس سے بڑھ کر کاسہ لیسی اور چاپلوسی متصور نہیں ہو سکتی۔ آج برصغیر کا وہ مسلمان جس کے باپ دادا نے ١٨٥٧ء کے جہاد آزادی میں انگریزوں سے کچھ تعاون کیا تھا۔ تاریخ کو پڑھ کر ندامت محسوس کرتا ہے۔ لیکن مرزا قادیانی ہیں کہ وہ اسی کو طغرائے امتیاز اور سرمایہ افتخار قرار دیتے ہیں۔ آپ پیچھے پڑھ چکے ہیں کہ وہ انگریز کے زیر سایہ مملکت کے کوچوں اور بازاروں کو مکہ مکرمہ اور مدینہ طیبہ سے افضل قرار دیتے ہیں۔ العیاذ باللہ!

مرزا قادیانی ایک جگہ لکھتے ہیں: ”میرا والد مرزا غلام مرتضیٰ گورنمنٹ کی نظر میں وفادار اور خیر خواہ آدمی تھا۔ جن کو دربار گورنری میں کرسی ملتی تھی اور جن کا ذکر مسٹر گرفن صاحب کی تاریخ رئیسان پنجاب میں ہے اور ١٨٥٧ء میں انہوں نے اپنی طاقت سے بڑھ کر سرکار انگریزی کو مدد دی تھی۔ یعنی پچاس سوار اور گھوڑے بہم پہنچا کر عین زمانہ غدر کے وقت سرکار انگریزی کی امداد میں دیئے تھے۔ ان خدمات کی وجہ سے جو چٹھیاں خوشنودی حکام ان کو ملی تھیں۔ مجھے افسوس ہے کہ

٤٧

صفحہ ٥٦

ان میں سے بہت سی گم ہو گئیں۔ مگر تین چٹھیاں جو مدت سے چھپ چکی ہیں۔ ان کی نقلیں حاشیہ میں درج کی گئی ہیں۔ پھر میرے والد صاحب کی وفات کے بعد میرا بڑا بھائی مرزا غلام قادر خدمات سرکاری میں مصروف رہا اور جب تموں کے غدر پر مفسدوں کا سرکار انگریزی کی فوج سے مقابلہ ہوا تو وہ سرکار انگریزی کی طرف سے لڑائی میں شریک تھا۔“

(کتاب البریہ ص ٥٤، خزائن ج ١٣ ص ایضاً)

مرزا قادیانی نے جن تین چٹھیات کا ذکر کیا ہے وہ کتاب کے حاشیہ میں درج ہیں۔

ایک چٹھی مورخہ ١١؍ جون ١٨٤٩ء جے ایم ولسن کمشنر لاہور کی طرف سے مرزا غلام مرتضیٰ کے نام ہے ۔ اس کا یہ جملہ قابل غور ہے۔

"In every respect you may rest assured and satisfied that the British Govt. will never forget your family rights and services which will receive due consideration when a favourable opportunity offers itself."

ترجمہ: بہر حال آپ تسلی اور اطمینان رکھیں کہ انگریزی حکومت آپ کے خاندان کے حقوق اور خدمات کو ہرگز فراموش نہ کرے گی۔ مناسب موقع ملنے پر آپ کے حقوق اور خدمات پر توجہ کی جائے گی۔

ایک اور چٹھی مورخہ ٢٩؍ جون ١٨٧٦ء جو مسٹر رابرٹ ایجرٹن فنانشل کمشنر پنجاب کی طرف سے مرزا غلام احمد قادیانی کے بڑے بھائی مرزا غلام قادر کے نام ہے۔ اس کا درج ذیل جملہ بھی قابل ملاحظہ ہے:

"I will keep in mind the respect and wellfare of your family when a favourable opportunity occures."

ترجمہ: ”ہم کو کسی اچھے موقعہ کے نکلنے پر تمہارے خاندان کی بہتری اور پابجائی کا خیال رہے گا۔“

(کتاب البریہ ص ٥٤، خزائن ج ١٣ ص ایضاً)

٤٨

صفحہ ٥٧

ادھر انگریز کو اپنے سلطنت کے استحکام کے لئے موزوں آدمی کی تلاش تھی جو پیری مریدی کا مشغلہ رکھتا ہو۔ معتقدین کی ایک جماعت اس کے جلو میں ہو اور انگریز کا پکا وفادار اور خیر خواہ ہو۔ ادھر اسے مرزا قادیانی کی خدمات کا پاس خاطر تھا تو اسے اپنے مشن کی تکمیل کے لئے پھر یہی ”ذات گرامی“ موزوں نظر آئی۔ چنانچہ مرزائیت کا پودا کاشت ہوا اور پھر انگریز کے نہاں خانہ سازش میں تیار شدہ پلان کو یوں عمل جامہ پہنایا گیا۔

مرزا قادیانی نے ترتیب وار مہدی، مجدد اور مسیح موعود کے دعوؤں کے بعد اعلان کیا: ”میں خدا کا ظلی اور بروزی طور پر نبی ہوں۔“

(تحفۃ الندوہ ص ٣، خزائن ج ١٩ ص ٩٥)

کچھ عرصے کے بعد مرزا قادیانی نے ایک قدم آگے بڑھایا اور ظلی بروزی کی اصطلاحوں سے بے نیاز ہو کر صاحب شریعت نبی ہونے کا دعویٰ کر دیا۔

(اربعین نمبر ٤ ص ٦، خزائن ج ١٧ ص ٤٣٥)

نبوت کا دعویٰ تو دراصل تمہید تھا۔ اصل مقصود جذبہ جہاد کو ختم کرنا تھا۔ تاکہ انگریزی حکومت کو پائیداری اور استحکام نصیب ہو۔ چنانچہ مرزا قادیانی نے اعلان کیا: ”بعض احمق اور نادان سوال کرتے ہیں کہ اس گورنمنٹ سے جہاد کرنا درست ہے یا نہیں۔ سو یاد رہے کہ یہ سوال ان کا نہایت حماقت کا ہے۔ کیونکہ جس کے احسانات کا شکر کرنا عین فرض اور واجب ہے اس سے جہاد کیسا۔ میں سچ سچ کہتا ہوں کہ محسن کی بدخواہی کرنا ایک حرامی اور بدکار آدمی کا کام ہے سو میرا مذہب جس کو بار بار ظاہر کرتا ہوں یہی ہے کہ اسلام کے دو حصے ہیں۔ ایک یہ کہ خدا تعالیٰ کی اطاعت کریں۔ دوسرے اس سلطنت کی۔“

(شہادۃ القرآن ص ٨٤، خزائن ج ٦ ص ٣٨٠)

صرف یہی نہیں کہ مرزا قادیانی نے آئندہ کے لئے جہاد کو حرام قرار دیا۔ بلکہ ١٨٥٧ء کے جہاد آزادی میں جن لوگوں نے حصہ لیا تھا انہیں بھی مرزا قادیانی نے چور، قزاق اور حرامی قرار دیا۔

(ازالۃ اوہام ص ٧٢٨، خزائن ج ٣ ص ٤٩٠)

١؎ مرزا قادیانی نے لیفٹیننٹ گورنر کے نام اپنے اور اپنی جماعت کے بارے میں جو درخواست دی تھی۔ اس میں اپنا پیشوا اور امام اور پیر ہونا بیان کرتا ہیں۔

(کتاب البریہ ص ٣٤٧، خزائن ج ١٣ ص ایضاً)

٤٩

صفحہ ٥٩

مرزا قادیانی نے اپنی جماعت کے لئے جو پانچ ارکان تجویز کئے ان میں تیسرا رکن جہاد کو حرام سمجھنا قرار دیا۔

(کتاب البریہ ص ٣٢٨، خزائن ج ١٣ص ایضاً)

الغرض مرزا قادیانی نے انگریزی حکومت کی تائید اور جہاد کی ممانعت میں ایڑی چوٹی کا زور خرچ کر دیا۔ چنانچہ وہ نہایت فخریہ انداز میں لکھتے ہیں: ”میں نے ممانعت جہاد اور انگریزی اطاعت کے بارے میں اس قدر کتابیں لکھی ہیں اور اشتہار شائع کئے ہیں کہ اگر وہ رسائل اور کتابیں اکٹھی کی جائیں تو پچاس الماریاں بھر سکتی ہیں۔ میں نے ایسی کتابوں کو تمام ممالک عرب اور مصر اور شام اور کابل اور روم تک پہنچا دیا ہے۔ میری ہمیشہ کوشش رہی ہے کہ مسلمان اس سلطنت کے سچے خیرخواہ ہو جائیں اور مہدی خونی اور مسیح خونی کی بے اصل روایتیں اور جہاد کے جوش دلانے والے مسائل جو احمقوں کے دلوں کو خراب کرتے ہیں۔ ان کے دلوں سے معدوم ہو جائیں۔“

(تریاق القلوب ص ١٥، خزائن ج ١٥ص ١٥٥)

١٨٩٨ء میں مرزا قادیانی نے نواب لیفٹیننٹ گورنر کو جو درخواست دی تھی۔ اس میں ایک مقام پر لکھتے ہیں: ”میں یقین رکھتا ہوں کہ جیسے جیسے میرے مرید بڑھیں گے ویسے ویسے مسئلہ جہاد کے معتقدین کم ہوتے جائیں گے۔ کیونکہ مجھے مسیح اور مہدی مان لینا ہی مسئلہ جہاد کا انکار ہے۔“

اسی درخواست میں مرزا قادیانی آگے جا کر لکھتے ہیں: ”صرف یہ التماس ہے کہ سرکار دولت مدار ...... اس خود کاشتہ پودا کی نسبت نہایت حزم اور احتیاط اور تحقیق اور توجہ سے کام لے اور اپنے ماتحت حکام کو اشارہ فرمائے کہ وہ بھی اس خاندان کی ثابت شدہ وفاداری اور اخلاص کا لحاظ رکھ کر مجھے اور میری جماعت کو ایک خاص عنایت اور مہربانی کی نظر سے دیکھیں۔“

(کتاب البریہ ص ٣٤٧ تا ٣٥٠، خزائن ج ١٣ص ایضاً، تبلیغ رسالت ج ٧ص ١٩، مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ٢١)

مشت نمونہ از خروار ہم نے چند حوالے پیش کر دیئے ہیں۔ ناظرین ان سے بخوبی سمجھ سکتے ہیں کہ مرزائیت کا خمیر کن اجزاء سے تیار ہوا اور اس کا پتلا کیونکر وجود میں آیا۔

٥٠

مرزا قادیانی کا

ہو سکتا ہے کہ کوئی شخص یہ شبہ پیش کرے ک تھے۔ وہ عمر بھر تحریری اور تقریری طور پر عیسائی پادریو حقانیت اور برتری ثابت کرنے کے لئے کتابیں لکھی حکومت کے خیر خواہ اور دعا گو ہوں تو اس بارے میں آپ نے سنی ہوگی۔ ”ہاتھی کے دانت کھانے کے ا مضمون بازی کرتے رہے۔ لیکن انگریزوں کی تائید م نہیں سکتا۔ نہ اتنا بڑا ذخیرہ تصنیفات جو انگریز کی حما بھر سکتی ہیں۔ خرد برد کیا جاسکتا ہے۔

علاوہ ازاں! مرزا قادیانی نے جب بھی ا بدلتے دیکھے تو فوراً انہوں نے سجدہ سہو ادا کیا۔ عذر تقصیر لکھے دست بستہ عرضیاں پیش کیں۔ مرزا قادیانی کی ک موضوع پر بہت سا مواد مل جائے گا۔ (کتاب البریہ درخواستیں موجود ہیں۔ ان کی ایک درخواست مورخہ ٢٠ ملکہ معظمہ شہنشاہ ہندوستان، انگلستان کے عنوان مرزا قادیانی نے (ستارہ قیصریہ، خزائن ج ١٥) تجویز کیا۔ ”حضور گورنمنٹ عالیہ میں ایک عاجزا مرزا قادیانی کی کتاب (تریاق القلوب، خزائن ج ١٥) میں باندھ کر اس کے چند جملے یہاں نقل کرتے ہیں تا کہ قاری لکھا جاتا تھا۔

”بیس برس کی مدت سے میں نے اپنے عربی اور اردو اور انگریزی میں شائع کر رہا ہوں۔ جن م ہے۔ جس کے ترک سے وہ خدا تعالیٰ کے گنہگار ہوں

٥١

صفحہ ٥٩

مرزا قادیانی کا سجدہ سہو

ہو سکتا ہے کہ کوئی شخص یہ شبہ پیش کرے کہ مرزا قادیانی تو عیسائیت کے سخت مخالف تھے۔ وہ عمر بھر تحریری اور تقریری طور پر عیسائی پادریوں سے مناظرے کرتے رہے۔ اسلام کی حقانیت اور برتری ثابت کرنے کے لئے کتابیں لکھتے رہے تو یہ کیسے ممکن ہے کہ وہ انگریزی حکومت کے خیر خواہ اور دعا گو ہوں تو اس بارے میں جواباً ہم عرض کرتے ہیں کہ یہ مشہور مثل تو آپ نے سنی ہو گی۔ ”ہاتھی کے دانت کھانے کے اور دکھانے کے اور“ بے شک مرزا قادیانی مضمون بازی کرتے رہے۔ لیکن انگریزوں کی تائید میں جو کچھ لکھتے رہے اسے اب کوئی چاٹ تو نہیں سکتا۔ نہ اتنا بڑا ذخیرہ تصنیفات جو انگریز کی حمایت میں تیار ہوا اور اس سے پچاس الماریاں بھر سکتی ہیں۔ خرد برد کیا جا سکتا ہے۔

علاوہ ازاں! مرزا قادیانی نے جب بھی اپنی تحریرات کی وجہ سے انگریز بہادر کے تیور بدلتے دیکھے تو فوراً انہوں نے سجدہ سہو ادا کیا۔ عذر تقصیر کے طور پر بڑے بڑے پوسٹر نکالے پمفلٹ لکھے دست بستہ عرضیاں پیش کیں۔ مرزا قادیانی کی کتاب تبلیغ رسالت اٹھا کر دیکھئے آپ کو اس موضوع پر بہت سا مواد مل جائے گا۔ (کتاب البریہ، خزائن ج ١٣) میں بھی ایسے اشتہارات اور درخواستیں موجود ہیں۔ ان کی ایک درخواست مورخہ ٢٠/ اگست ١٨٩٩ء بحضور عالی شان قیصرہ ہند ملکہ معظمہ شہنشاہ ہندوستان، انگلستان کے عنوان سے چھپی ہوئی موجود ہے۔ جس کا نام مرزا قادیانی نے (ستارہ قیصریہ، خزائن ج ١٥) تجویز کیا۔

”حضور گورنمنٹ عالیہ میں ایک عاجزانہ درخواست“ مورخہ ١٧/ ستمبر ١٨٩٩ء مرزا قادیانی کی کتاب (تریاق القلوب، خزائن ج ١٥) میں بطور ضمیمہ شامل ہے۔ ہم اپنے دل پر پتھر باندھ کر اس کے چند جملے یہاں نقل کرتے ہیں تا کہ قارئین اندازہ لگا سکیں کہ ان درخواستوں میں کیا لکھا جاتا تھا۔

”بیس برس کی مدت سے میں نے اپنے دلی جوش سے ایسی کتابیں زبان فارسی اور عربی اور اردو اور انگریزی میں شائع کرتا رہا ہوں۔ جن میں بار بار یہ لکھا گیا ہے کہ مسلمانوں کا فرض ہے۔ جس کے ترک سے وہ خدا تعالیٰ کے گنہگار ہوں گے کہ اس گورنمنٹ کے سچے خیر خواہ اور دلی

صفحہ ٦٠

جاں نثار ہو جائیں اور جہاد اور خونی مہدی وغیرہ ، بیہودہ خیالات سے جو قرآن شریف سے ہرگز ثابت نہیں ہو سکتے۔ دست بردار ہو جائیں ....... یہ وہ بست سالہ میری خدمت ہے۔ جس کی نظیر برٹش انڈیا میں ایک بھی اسلامی خاندان نہیں پیش کر سکتا اور میں اس بات کا بھی اقراری ہوں کہ جب کہ بعض پادریوں اور عیسائی مشنریوں کی تحریر نہایت سخت ہوگئی اور حد اعتدال سے بڑھ گئی اور بالخصوص پرچہ نورافشاں میں جو ایک عیسائی اخبار لدھیانہ سے نکلتا ہے۔ نہایت گندی تحریریں شائع ہوتیں اور ان مؤلفین نے ہمارے نبی ﷺ کی نسبت نعوذ باللہ ایسے الفاظ استعمال کئے کہ یہ شخص ڈاکو تھا، چور تھا ، زنا کار تھا اور صد ہا پرچوں میں یہ شائع کیا کہ یہ شخص اپنی لڑکی پر بدنیتی سے عاشق تھا اور بائیس ہزار جھوٹا تھا اور لوٹ مار کرنا اور خون کرنا اس کا کام تھا تو مجھے ایسی کتابوں اور اخباروں کے پڑھنے سے یہ اندیشہ دل میں پیدا ہوا کہ مبادا مسلمانوں کے دلوں پر جو ایک جوش رکھنے والی قوم ہے ان کلمات کا کوئی سخت اشتعال دینے والا اثر پیدا ہو۔ میں نے ان جوشوں کو ٹھنڈا کرنے کے لئے اپنی صحیح اور پاک نیت سے ہی مناسب سمجھا کہ اس عام جوش کے دبانے کے لئے حکمت عملی یہی ہے کہ ان تحریرات کا کسی قدر سختی سے جواب دیا جائے تو سریع الغضب انسانوں کے جوش فرو ہو جائیں اور ملک میں بدامنی پیدا نہ ہو۔ تب میں نے بمقابلہ ایسی کتابوں کے جن میں کمال سختی سے بدزبانی کی گئی تھی۔ چند ایسی کتابیں لکھیں جن میں کسی قدر بالمقابل سختی تھی۔ کیونکہ میرے کانشنس نے قطعی طور پر مجھے فتویٰ دیا کہ اسلام میں جو بہت سے وحشیانہ جوش والے آدمی موجود ہیں۔ ان کے غیظ و غضب کی آگ بجھانے کے لئے یہ طریق کافی ہو۔ کیونکہ عوض معاوضہ کے بعد کوئی گلہ باقی نہیں رہتا۔ سو یہ میری پیش بینی کی تدبیر صحیح نکلی اور ان کتابوں کا یہ اثر ہوا کہ ہزار ہا مسلمان جو پادری عماد الدین وغیرہ لوگوں کی تیز اور گندی تحریروں سے اشتعال میں آچکے تھے۔ یک دفعہ ان کے اشتعال فرو ہو گئے۔"

(تریاق القلوب ص ٣٣٠ تا ٣٣٣ ، خزائن ج ١٥ ص ٤٨٨ تا ٤٩٣)

اس حوالے کے بعد ہم مزید کچھ کہنے کی ضرورت نہیں سمجھتے۔

قلم ایں جا رسید و سر بشکست

١؎ اچھا؟ جہاد کا قرآن کریم میں کہیں ذکر ہی نہیں ہے؟ مرزا قادیانی کی ”علمی دیانت“ داد دینے کے قابل نہیں ہے؟

٥٢

PDF 62

ت سے جو قرآن شریف سے ہرگز میری خدمت ہے۔ جس کی نظیر اس بات کا بھی اقراری ہوں کہ تی اور حد اعتدال سے بڑھ گئی اور ہے۔ نہایت گندی تحریریں شائع ایسے الفاظ استعمال کئے کہ یہ شخص اپنی لڑکی پر بدنیتی سے عاشق تھا سے ایسی کتابوں اور اخباروں کے تا پر جو ایک جوش رکھنے والی قوم کہ ان جوشوں کو ٹھنڈا کرنے کے کے دہانے کے لئے حکمت عملی غضب انسانوں کے جوش فرو ہو بائیوں کے جن میں کمال سختی سے پہنچی تھی۔ کیونکہ میرے کاشنس ش والے آدمی موجود ہیں۔ ان ے عوض معاوضہ کے بعد کوئی گلہ کا یہ اثر ہوا کہ ہزارہا مسلمان جو میں آ چکے تھے۔ یک دفعہ ان

(خزائن ج ١٥ ص ٣٨٨ تا ٣٩٣)

ے۔ لمصنف رزا قادیانی کی ”علمی دیانت“

خاتم النبيين لا نبي بعدي

میں آخری نبی ہوں میرے بعد کوئی نبی نہیں

عقیدہ

نزول عیسیٰ علیہ السلام

حضرت مولانا علامہ محمد عبداللہ

صفحہ ٣

بسم الله الرحمن الرحیم

الحمد لله وسلام على عباده الذين اصطفى!

حیات ونزول عیسیٰ علیہ السلام، ضروریات دین میں سے ہے۔ اس کا منکر کافر ہے۔

عقیدۂ حیات ونزول عیسیٰ علیہ السلام پر قرآن وسنت کی واضح اور متواتر نصوص موجود ہیں۔

ان واضح اور متواتر نصوص کے ہوتے ہوئے کوئی سلیم الفطرت اس متواتر اور اجماعی عقیدہ کا انکار نہیں کرسکتا۔ ہاں! البتہ غلام ابن غلام، غلام احمد قادیانی علیہ ماعلیہ اور اس کی فکر وسوچ رکھنے والے پڑھے لکھے جاہل اس کی جرأت کرسکتے ہیں۔

پیش نظر عجالہ میں حضرت مخدوم ومکرم علامہ مولانا محمد عبداللہ صاحب دامت برکاتہم نے ایسی ہی فکر وسوچ کے مالک ”عقل مندوں“ کا تعاقب کیا ہے۔ جنہوں نے حضرت مولانا محمد اسحاق صدیقی مرحوم کو ڈھال بنا کر ان کی کتاب ”اظہار حقیقت“ جلد سوم میں انکار نزول مسیح جیسی بے دینی کو سمونے کی ناپاک کوشش کی ہے۔

حضرت مولانا موصوف نے قرآن وسنت کے دلائل کی روشنی میں ان کے شبہات کے تار عنکبوت کو جس خوبصورتی سے توڑا ہے۔ سننے سے نہیں پڑھنے سے تعلق رکھتا ہے۔

حضرت مولانا محمد عبداللہ صاحب ہمارے حضرت شہیدؒ کے دوست، ہمارے مخدوم اور متعدد کتابوں کے مصنف اور بہترین نقاد ومحقق ہیں۔ اللہ تعالیٰ اس کتاب کو مصنف وناشر اور معاونین کی نجات آخرت کا ذریعہ بنائے۔ آمین!

خاکپائے حضرت لدھیانوی شہیدؒ سعید احمد جلال پوریؒ ٢٦ ربیع الثانی ١٤٢٥ھ ٢

بسم الله الرح ابن آدم عجب بوقلموں ہے۔ اگر ماننے ایک ایک پجاری نے کئی کئی معبود بنا لئے۔ برصغ وقت اس نے پینتیس کروڑ معبود تراش رکھے۔ سامنے ہاتھ جوڑ لئے۔ کبھی پانی کے آگے ماتھا ٹیک حشرات الارض تک کو ”الہٰ“ مان لیا۔ بالکل سچ فر ”ومن يشرك بالله فكأنما خر الريح فى مكان سحيق (الحج:٣١)“ ﴿ آسمان سے گر پڑا۔ اسے پرندے اچک لیتے ہ ہے۔﴾

اور نہ ماننے پر آیا تو اسے ساری کائنا چلا۔ نہ اپنے اندر جھانک کر کبھی اس نے دیکھا۔ نے اسے زمین کی پستی سے اٹھا کر اجرام فلکی تک کروں کا باہمی فاصلہ ناپ لیا۔ اس نے فنا ہو ج گاہوں میں بیٹھ کر ستاروں اور سیاروں کا مطالعہ کر رسولوں نے اسے سمجھایا: ”أفي الله شك فاطر تعالیٰ کے بارے میں شک ہے جو کہ آسمانوں اور دھرا۔ اس کی عقل پر پردے پڑے رہے۔ اس کی آ کیونکہ ”لهم قلوب لا يفقهون اذان لا يسمعون بها (الاعراف:١٧٩)“ ﴿جو آنکھیں ایسی ہیں جن سے نہیں دیکھتے اور جن کے عارف رومیؒ فرماتے ہیں:

فلسفی منطقی
خود کجا و
صفحہ ٦٣

بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ ابن آدم عجب بوقلموں ہے۔ اگر ماننے پر آگیا تو شجر و حجر کے سامنے جبین نیاز جھکا دی۔ ایک ایک پجاری نے کئی کئی معبود بنا لئے۔ برصغیر پاک و ہند کی آبادی جب تیس کروڑ تھی۔ اس وقت اس نے تینتیس کروڑ معبود تراش رکھے تھے۔ کبھی ایک ٹانگ پر کھڑے ہو کر سورج کے سامنے ہاتھ جوڑ لئے۔ کبھی پانی کے آگے ماتھا ٹیک دیا۔ شرف انسانیت کو یہاں تک پامال کیا کہ حشرات الارض تک کو ”الٰہ“ مان لیا۔ بالکل سچ فرمایا رب العزت نے: ”ومن يشرك بالله فكأنما خر من السماء فتخطفه الطير او تهوى به الريح فى مكان سحيق (الحج: ٣١)“ ﴿جو شخص اللہ کے ساتھ کسی کو شریک کرے گا تو گویا وہ آسمان سے گر پڑا۔ اسے پرندے اچک لیتے ہیں یا ہوا اسے لے جا کر دور کسی جگہ پھینک دیتی ہے۔﴾

اور نہ ماننے پر آیا تو اسے ساری کائنات کا مشاہدہ کرنے کے باوجود ”خالق“ کا پتہ نہ چلا۔ نہ اپنے اندر جھانک کر کبھی اس نے دیکھا۔ نہ آفاق پر اس نے نظر ڈالی۔ اس کی ترک تازیوں نے اسے زمین کی پستی سے اٹھا کر اجرام فلکی تک پہنچا دیا۔ اس نے نوری سال کا پیمانہ ایجاد کر کے کروں کا باہمی فاصلہ ناپ لیا۔ اس نے فنا ہو جانے والی مخلوق پر ریسرچ میں عمر کھپا دی۔ رصد گاہوں میں بیٹھ کر ستاروں اور سیاروں کا مطالعہ کرتا رہا۔ مگر مادی دنیا سے آگے نہ بڑھ سکا۔ اللہ کے رسولوں نے اسے سمجھایا: ”أفى الله شك فاطر السموت والارض (ابراہیم: ١٠)“ ﴿کیا اللہ تعالیٰ کے بارے میں شک ہے جو کہ آسمانوں اور زمین کا پیدا کرنے والا ہے﴾ مگر اس نے کان نہ دھرا۔ اس کی عقل پر پردے پڑے رہے۔ اس کی آنکھوں پر اندھیرا چھایا رہا۔ کیونکہ ”لهم قلوب لا يفقهون بها ولهم اعين لا يبصرون بها، ولهم اذان لا يسمعون بها (الاعراف: ١٧٩)“ ﴿جن کے دل ایسے ہیں جن سے نہیں سمجھتے اور جن کی آنکھیں ایسی ہیں جن سے نہیں دیکھتے اور جن کے کان ایسے ہیں جن سے نہیں سنتے۔﴾

عارف رومیؒ فرماتے ہیں:

فلسفی چشمی و مرا آگہ نیستی
خود کجا و از کجا و کیستی

٣

صفحہ ٦٥
چوں نہ از خود آگہ اے بے شعور!
پس نباید بر چنیں علمت غرور

یوں جاہلیت قدیمہ کا انسان، شرک کی بھول بھلیوں میں پھنس کر صراط مستقیم سے دور رہ گیا اور جاہلیت جدیدہ کا انسان غفلت کا شکار ہو کر خدا فراموشی اور خدا بے زاری میں مبتلا ہو گیا۔

افراط و تفریط کا یہ سلسلہ دین کے ہر شعبہ میں کارفرما نظر آتا ہے۔ توحید کے بعد رسالت کا مسئلہ سامنے آیا تو کسی کی نگاہ حضرات انبیاء علیہم السلام کی ”بشریت“ تک پہنچ کر رک گئی اور وہ کہہ اٹھا: ”ابشراً منا واحداً نتبعہ (القمر: ٢٤) ”کیا ہم ایسے شخص کا اتباع کریں گے جو ہمارے جنس کا آدمی ہے اور اکیلا ہے“ اور ”انؤمن لبشرين مثلنا (المؤمنون: ٤٧) ”کیا ہم دو ایسے شخصوں پر جو ہماری طرح انسان ہیں ایمان لے آئیں؟“ اور کسی نے ان کی رسالت ونبوت کو ملحوظ رکھا تو بشریت کا مقام پست سمجھتے ہوئے ان کی بشریت کا انکار کر دیا۔

افراط وتفریط کی وجہ سے ظلوم و جہول انسان کی زیادتیوں کی داستان طویل بھی ہے۔ حیرت انگیز اور المناک بھی ! اسی سلسلہ کی ایک کڑی آج کی فرصت میں ہمارا موضوع سخن ہے۔ جس کے لئے ہم قارئین سے چند لمحات زندگی صرف کرنے کی درخواست کرتے ہیں۔

آغاز سخن

اگر آپ نے قرآن مجید پڑھا ہوا ہے اور آپ کی خوش نصیبی نے اس کے معانی، مطالب کو بھی کسی حد تک سمجھنا آسان کر دیا ہے۔ تو آپ ذرا غور کیجئے! سورۂ فاتحہ تو پورے قرآن کریم کا متن ہے۔ اس کے نصف اول میں اللہ تعالیٰ کی حمد وثناء ہے اور نصف آخر میں دعا ہے کہ: ”اے اللہ ہم تجھ ہی سے عبادت (اور ہر نیکی) کی توفیق مانگتے ہیں۔ تو ہمیں اس راستے پر چلا۔ جو سیدھا راستہ ہے۔ ان لوگوں کا راستہ جن پر تیرا انعام ہوا۔ ان لوگوں کے راستے پر نہیں جن پر تیرا غضب ہوا اور ان لوگوں کا جو گمراہ ہو کر رہ گئے۔“

آگے مفسرین حضرات نے بتایا کہ ”مغضوب علیہم“ سے مراد یہود ہیں اور ”الضالین“ سے مراد نصاریٰ ہیں۔

سورۂ فاتحہ سے آگے تیس پاروں میں تقسیم شدہ اللہ کا قرآن ہے جو اپنے زمانہ نزول کے بعد قیامت تک، انسانیت کی فلاح و ہدایت کا نصاب بن کر نازل ہوا۔ بلفظ دیگر یوں سمجھئے کہ

٤

شہ سرخی کے بعد اب تفصیلات کا بیان شروع ہوا۔ قر کرنے کے بعد ماننے یا نہ ماننے کے لحاظ سے تین متقین کے پانچ اوصاف کا ذکر کیا۔ ان میں سے پہلا کیا شامل ہے؟ نہ انسانی عقل کی وہاں تک رسائی علمائے امت اس کا معنی لکھتے ہیں: ”ما غاب عن ہے“ پھر انسانی عقل نے ترقی کرتے کرتے معاملہ تھا وہ اب ”الشہادۃ“ کے کھاتے میں آگیا ہے۔ انسان کی نگاہ صرف نیچے کی زمین، اوپر کی نیلگوں پہنچتی تھی۔ نہ اس نے کبھی نظام شمسی کا لفظ سنا تھا۔ ن آگے بڑھا تو نظام شمسی ( جو ایک مرکز یعنی سورج، مشتمل ہے ) اس کی کہانی سنانے لگا اور آگے بڑھا لگا۔ کہکشاں کے بارے میں وہ یہاں تک کہہ گزرا ہیں اور ایسی کروڑوں کہکشائیں ہیں۔ مگر اللہ کا قرآ جنود ربك الا هو (المدثر: ٣١) ”اور ت جانتا۔“ تین چار انچ مربع کھوپڑی والا انسان ک کو .....! خدا کی باتیں خدا ہی جانے!

ہم قرآن پاک کو پڑھتے ہوئے آگے يؤمنون بما انزل اليك وما انزل من ق رکھتے ہیں اس کتاب پر بھی جو آپ ﷺ کی طر سے پہلے اتاری جا چکی ہیں“

اس ابدی اور سرمدی کتاب ہدایت ایک وہ جو قرآن پاک کے نام سے براہ راست محم آپ ﷺ سے پہلے نازل ہوئی۔ قارئین یاد رکھ ان دو کے علاوہ وحی کی تیسری قسم مانتا ہے تو وہ جاہ اس کے بعد ہمیں متقین کے اوصا

صفحہ ٦٥

سہ حرفی کے بعد اب تفصیلات کا بیان شروع ہوا۔ قرآن کریم نے بانگ دہل لا ریب فیہ کا اعلان کرنے کے بعد ماننے یا نہ ماننے کے لحاظ سے تین گروہوں کا ذکر کیا: متقین، کفار، منافقین۔ پھر متقین کے پانچ اوصاف کا ذکر کیا۔ ان میں سے پہلے نمبر پر ایمان بالغیب ہے۔ اس الغیب میں کیا کیا شامل ہے؟ نہ انسانی عقل کی وہاں تک رسائی ہے۔ نہ حواس کی۔ طلبہ ذرا تفسیروں کو دیکھیں۔ علمائے امت اس کا معنی لکھتے ہیں: ”ما غاب عن الحس والعقل“ ﴿جو حس وعقل سے ماوراء ہے﴾ پھر انسانی عقل نے ترقی کرتے کرتے معاملہ کہیں سے کہیں تک پہنچا دیا۔ جو پہلے ”الغیب“ تھا وہ اب ”الشہادۃ“ کے کھاتے میں آگیا ہے۔ تو ”الغیب“ میں کیا کچھ ہوگا؟ صدیوں پیشتر انسان کی نگاہ صرف نیچے کی زمین، اوپر کی نیلگوں چھت (آسمان)، سورج، چاند اور تاروں تک پہنچتی تھی۔ نہ اس نے کبھی نظام شمسی کا لفظ سنا تھا۔ نہ اس کی تفصیلات اور جزئیات سے واقف تھا۔ آگے بڑھا تو نظام شمسی (جو ایک مرکز یعنی سورج، اس کے ساتھ نو سیاروں اور بتیس چاندوں پر مشتمل ہے) اس کی کہانی سنانے لگا اور آگے بڑھا تو کہکشاؤں کی ایک دنیا کی داستان سنانے لگا۔ کہکشاں کے بارے میں وہ یہاں تک کہہ گزرا کہ ایک کہکشاں میں ہزاروں نظام شمسی شامل ہیں اور ایسی کروڑوں کہکشائیں ہیں۔ مگر اللہ کا قرآن اب بھی ہمیں یہ بتاتا ہے کہ ”و مـا يـعـلـم جــنــود ربـك الا هــو (المدثر:٣١)“ ﴿اور تمہارے رب کے لشکروں کو بجز رب کے کوئی نہیں جانتا۔﴾ تین چار انچ مربع کھوپڑی والا انسان کیا سمجھے قدرت کے بھیدوں اور کائنات کی رموز کو......! خدا کی باتیں خدا ہی جانے!

ہم قرآن پاک کو پڑھتے ہوئے آگے بڑھے تو ہمیں یہ آیت نظر آئی: ”الــــذيــــن يؤمنون بما انزل اليك وما انزل من قبلك (البقرہ:٤)“ ﴿وہ لوگ ایسے ہیں کہ یقین رکھتے ہیں اس کتاب پر بھی جو آپ ﷺ کی طرف اتاری گئی ہے اور ان کتابوں پر بھی جو آپ ﷺ سے پہلے اتاری جاچکی ہیں﴾

اس ابدی اور سرمدی کتاب ہدایت نے وضاحت فرمادی ہے کہ وحی کی دو قسمیں ہیں: ایک وہ جو قرآن پاک کے نام سے براہ راست مخاطب محمد مصطفی ﷺ پر نازل ہوئی۔ اور وہ ایک جو آپ ﷺ سے پہلے نازل ہوئی۔ قارئین یاد رکھیں گے کہ وحی کی یہی دو قسمیں ہیں، اگر کوئی شخص ان دو کے علاوہ وحی کی تیسری قسم مانتا ہے تو وہ جادۂ مستقیمہ سے منحرف ہے۔

اس کے بعد ہمیں متقین کے اوصاف میں یہ الفاظ ملے: ”وبالآخرة هم يوقنون“

٥

صفحہ ٦٧

پھر اس آخرت کے متعدد نام اور بھی قرآن پاک میں آئے ہیں: ”يوم القيامة، يوم الدين، يوم الحساب، يوم النشور، الساعة، القارعة، الحاقة، الواقعة، خافضة، رافعة“ وغیرہ۔

توحید اور رسالت کے ساتھ قیامت بھی اسلام کا بنیادی عقیدہ ہے، اب یہ دنیا کیوں کر ختم ہوگی؟ قیامت سے پہلے کیا کیا حالات اور واقعات پیش آئیں گے۔ کیا کیا تبدیلیاں رونما ہوں گی؟ اس دنیا کے لئے فضا کیونکر ہموار ہوگی پھر آگے کیا ہوگا؟ یہ سوالات ایسے نہیں تھے کہ اللہ کے آخری نبی اور رسول ﷺ اس دنیا سے تشریف لے جاتے اور اپنی امت کو اس انقلاب عظیم کے بارے میں کچھ بتا کر نہ جاتے۔ باپ گھر سے باہر جاتا ہے تو بیٹے کو ہدایات دے کر جاتا ہے۔ کیا رؤف و رحیم پیغمبر ﷺ امت کو بتائے بغیر تشریف لے جاتے؟ (حاشا وکلا)

آج کی پڑھی لکھی دنیا، جس دور کو صنعتی انقلاب کا زمانہ یا Scientific Ages کا نام دیتی ہے۔ بجائے اس کے کہ یہ اسلامی معتقدات کو تقویت پہنچاتا، الٹا وہ حق سے دور ہوتا چلا گیا۔ قرآن کریم نے تسلیم کیا ہے کہ: ”وكانوا مستبصرين“ (ویسے تو وہ لوگ بڑے روشن دماغ تھے) اپنی تمام تر روشن دماغی کے باوجود ان کا حال یہ ہے کہ:

”يعلمون ظاهراً من الحيوة الدنيا وهم عن الآخرة هم غافلون

(الروم: ٧) ”یہ لوگ صرف دنیوی زندگانی کے ظاہر کو جانتے ہیں، اور آخرت سے بے خبر ہیں۔“

لیکن مسلمان، جو قرآن کو اللہ کی کتاب مانتا ہے اور محمد رسول اللہ ﷺ کو اللہ کا آخری رسول، وہ بہر حال مذکورہ بالا بنیادی عقائد کو مانتا اور ان کے مطابق زندگی بسر کرتا ہے۔ اس عقیدہ قیامت یا آخرت کا ایک جزو ہے۔ ”نزول سیدنا مسیح ابن مریم علیہ وعلیٰ امہ السلام۔ یہ عقیدہ کتاب وسنت پر ایمان رکھنے کے باوجود امت مسلمہ کے اس طے شدہ عقیدہ کا انکار کرے۔ مگر ہمیں افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ اس دور میں کچھ لوگ تو از راہ بد نیتی اس کا انکار کر رہے ہیں۔ اور کچھ وہ ہیں جو ہمارے نزدیک دین کے نادان دوست کا کردار ادا کر رہے ہیں وہ یوں سوچتے ہیں کہ اسلامی عقائد کی فہرست میں نہ نزول مسیح کا عقیدہ رہے گا نہ کسی کو مسیح موعود بننے کا موقع ملے گا۔

آپ نے سن رکھا ہوگا کہ آدمی مستحبات کو چھوڑ کر سنن کا تارک ہو جاتا ہے۔ اور سنن کو چھوڑنے کے

٦

بعد واجبات اور فرائض سے محروم ہو جاتا ہے۔ اگر نادانی میں شخص نزول مسیح کا انکار کر سکتا ہے۔ تو کل کو وہ سلسلۂ نبوت کے لئے جھوٹے دعویٰ نبوت کی گنجائش باقی نہ رہے۔

ایک واقعہ

١٩٦٠ء کی دہائی کا واقعہ ہے کہ ایک بزرگ عشق تھا۔ یہی ان کا اوڑھنا بچھونا تھا اور مشن کی حیثیت نے ایک محفل میں بیان فرمایا کہ: ہماری جماعت کے علاقہ میں بلایا گیا۔ اس چک میں صرف دو گھر مسلمانوں نے جلسے میں رکاوٹ پیدا کی۔ جس کی بناء پر داعیان اس لئے مصلحت سے کام لینے کی ضرورت ہے۔ فی الحال لیکن مرزائیت کے بارے میں کچھ نہ کہیں۔ ان کے چنانچہ دن بھر جلسہ کی کارروائی جاری رہی۔ رات کو ہم خواب کا واقعہ اس طرح سے ہے کہ:

میرے سامنے آسمان سے اترے ہیں۔ میں نے پو مریم! اب میں وہ علامات ملانے لگا جو احادیث میں ہیں۔ علامات تو وہ ملتی چلی گئیں۔ میں نے عرض کیا آئے؟ ابھی تو دجال بھی نہیں آیا! فرمایا: جو لوگ مجھے مانتے ہیں اگر وہ بھی میرا زندہ ہونا بیان نہ کریں، تو آؤں تو اور کیا ہو؟ اس کے بعد میری آنکھ کھل گئی جذبات تھے۔ خوشی اس بات کی کہ مجھے حضرت عیسیٰ بات پر کہ ہم نے اپنے مشن کو کیوں چھوڑا؟“

صبح اٹھ کر میں نے مسلمان داعیان کو بل کے مطابق جلسہ کی کارروائی ہوتی رہی۔ مگر ہم مجبور

٧

صفحہ ٦٧

بعد واجبات اور فرائض سے محروم ہو جاتا ہے۔ اگر ناقابل تردید دلائل کے ہوتے ہوئے۔ ایک شخص نزول مسیح کا انکار کر سکتا ہے۔ تو کل کو وہ سلسلہ نبوت کا بھی انکار کر سکتا ہے۔ تا کہ کسی بد بخت کے لئے جھوٹے دعویٰ نبوت کی گنجائش باقی نہ رہے۔

ایک واقعہ

١٩٦٠ء کی دہائی کا واقعہ ہے کہ ایک بزرگ، جنہیں مسئلہ ختم نبوت سے تعلق ہی نہیں عشق تھا۔ یہی ان کا اوڑھنا بچھونا تھا اور مشن کی حیثیت سے یہ ان کا شب و روز کا مشغلہ تھا۔ انہوں نے ایک محفل میں بیان فرمایا کہ: ہماری جماعت کے مبلغین کو ایک مرتبہ پنجاب کے کسی دیہاتی علاقہ میں بلایا گیا۔ اس چک میں صرف دو گھر مسلمانوں کے تھے۔ باقی مرزائیوں کے۔ مرزائیوں نے جلسے میں رکاوٹ پیدا کی۔ جس کی بناء پر داعیان نے ہم لوگوں سے کہا کہ یہ صورتحال ہے۔ اس لئے مصلحت سے کام لینے کی ضرورت ہے۔ فی الحال علماء کرام دینی موضوعات پر وعظ کہیں۔ لیکن مرزائیت کے بارے میں کچھ نہ کہیں۔ ان کے اصرار پر ہم لوگوں نے کہہ دیا کہ: ٹھیک ہے! چنانچہ دن بھر جلسہ کی کارروائی جاری رہی۔ رات کو ہم لوگ سو گئے تو میں نے ایک خواب دیکھا۔ خواب کا واقعہ اس طرح سے ہے کہ:

میرے سامنے آسمان سے اترے ہیں۔ میں نے پوچھا کہ: جناب کا اسم گرامی؟ فرمایا: عیسیٰ ابن مریم ! اب میں وہ علامات ملانے لگا جو احادیث میں آپ کے حلیہ مبارک کے بارے میں آئی ہیں۔ علامات تو وہ ملتی چلی گئیں۔ میں نے عرض کیا: حضرت ! آپ قبل از وقت نہیں تشریف لے آئے؟ ابھی تو دجال بھی نہیں آیا ! فرمایا: جو لوگ مجھے مردہ کہتے ہیں ان کو تو چھوڑو! وہ لوگ مجھے زندہ مانتے ہیں اگر وہ بھی میرا زندہ ہونا بیان نہ کریں، تو پھر اپنی زندگی کا ثبوت دینے کے لئے خود نہ آؤں تو اور کیا ہو؟ اس کے بعد میری آنکھ کھل گئی میرے دل میں خوشی اور ندامت کے ملے جلے جذبات تھے۔ خوشی اس بات کی کہ مجھے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی زیارت ہوئی اور ندامت اس بات پر کہ ہم نے اپنے مشن کو کیوں چھوڑا؟"

صبح اٹھ کر میں نے مسلمان داعیان کو بلایا اور ان سے کہا کہ: کل آپ لوگوں کے کہنے کے مطابق جلسہ کی کارروائی ہوتی رہی۔ مگر ہم مجبور ہیں۔ آج ہم نے مرزائیت پر بولنا ہے۔ آپ

٧

صفحہ ٦٩

لوگ ہمارا ساتھ دیں تو ٹھیک ہے۔ ورنہ ہم آپ کی جلسہ گاہ کو چھوڑ دیں گے۔ ہمیں جہاں جگہ مل جائے گی۔ ہم نے ان عنوانات پر تقریریں کرنی ہیں۔ آپ لوگ چاہیں تو ہم کل کا خرچ بھی آپ کو ادا کرنے کے لئے تیار ہیں۔ کچھ دیر لے دے کے بعد ان لوگوں نے ہم سے اتفاق کر لیا۔ اس کے بعد ہمارے مبلغین نے ختم نبوت وغیرہ پر تقریریں کیں اور میں نے حیات ونزول مسیح علیہ السلام کے موضوع پر تقریر کی۔ بحمد اللہ جلسہ بڑا کامیاب رہا۔ (غالباً یہ بھی فرمایا تھا کہ کئی مرزائی تائب ہوئے)

یہ بزرگ کون ہیں؟ یہ ہیں حضرت مولانا محمد علی جالندھریؒ !

اب سوال یہ ہے کہ کیا یہ صرف حضرت مولانا محمد علی قدس سرہ یا مبلغین ختم نبوت ہی کی ذمہ داری تھی؟ اغیار کو تو چھوڑیئے۔ اگر علم وفضل کے دعویدار، سیدنا مسیح علیہ السلام کے رفع الی السماء تک پہنچ کر آپ کے نزول کا انکار کر دیں تو کیا کتاب وسنت کے ماننے والے خاموش رہیں؟

یہ آگے تفصیل سے بتاؤں گا کہ یہ کون صاحب ہیں۔ بہر حال مسئلہ زیر نظر پر ایک طالب علم کی طرف سے ماحضر قارئین کی خدمت میں پیش ہے۔

ایک توجہ طلب سوال:

یہاں قدرتی طور پر ایک سوال پیدا ہوتا ہے کہ چلئے مان لیا، سیدنا عیسیٰ مسیح ابن مریم علیہ السلام زندہ ہیں اور قیامت کے قریب نازل ہوں گے۔ ہوتے رہیں۔ ہمیں اس پر زیادہ زور دینے اور قیمتی لمحات زندگی صرف کرنے کی کیا ضرورت ہے؟ تو اس کا جواب مختصر الفاظ میں یوں دیا جا سکتا ہے کہ عقائد اور اعمال میں گہرا ربط ہے۔ صحیح عقائد کے ساتھ صحیح اعمال اور غلط عقائد کے ساتھ برے اعمال کا صادر ہونا یقینی ہے۔

دنیا میں دو قسم کے آدمی بستے ہیں۔ اور ہر ایک کی جداگانہ خصوصیات ہیں۔ ایک طبقہ خدا ترس انسانوں کا ہے۔ دوسرا: خدا فراموش، خدا ترس انسانوں کا ذکر اللہ تعالیٰ نے تحسین و ستائش کے انداز میں کیا ہے۔ جیسا کہ قرآن کریم میں ہے:

ہیں۔﴾

جو لوگ یقین رکھنے والے ہیں وہ اس سے ڈرتے ہیں، اور اعتقاد رکھتے ہیں کہ وہ برحق ہیں۔﴾

٨

مشفقون (المعارج:٢٦، ٢٧)“ ﴿اور جو قیا پروردگار کے عذاب سے ڈرنے والے ہیں۔﴾

اس کے بالمقابل جو خدا فراموش انسان ہیں۔ وہ غفلت کی زندگی بسر کرتے ہیں اور وہ 'لا یر واطمأنوا بھا (یونس:٧)“ ﴿جن لوگوں کو زندگی پر راضی ہوگئے ہیں اور اس میں جی لگا بیٹھے ہ زندگی میں خوف خدا اور آخرت کا جواب دہی کا اح معاشرتی زندگی میں۔

رسول اللہ ﷺ، صحابہ کرامؓ کو ہدایت فرما قرآن پاک تہدیدات سے بھرا ہوا ہے۔ قرآنی احک

تو فرق ہے کہ کتابوں میں آپ کو مسائل کی تفصیل ورزی کرو گے تو آخرت کا کتنا وبال ہوگا؟ اس کا جو مجید میں فقہی مسائل پر تھوڑے الفاظ آپ کو ملیں گے پر آپ سورہ طلاق کو پڑھ لیجئے! سورہ مطففین میں ح

”ألا يظن اولئك انهم مبعوثو العالمین (المطففین:٤ تا٦)“ ﴿کیا ان لوگو میں زندہ کر کے اٹھائے جائیں گے۔ جس دن تما گے۔﴾

تو مسائل کے ساتھ جزا و سزا اور آخرت

اب ہر وہ کوشش جو مسلمانوں میں فکر اور ہر وہ سعی جس سے فکر آخرت میں کمی آئے۔ و السلام، وغیرہ ان امور میں سے ہیں۔ جن کا تعلق یوقنون (البقرہ:٤)“ ﴿اور آخرت پر وہ لو

صفحہ ٦٩

مشفقون (المعارج:٢٦، ٢٧)“ اور جو قیامت کے دن کا اعتقاد رکھتے ہیں۔ اور جو اپنے پروردگار کے عذاب سے ڈرنے والے ہیں۔“

اس کے بالمقابل جو خدا فراموش انسان ہیں، ان کے دل و دماغ پر پردے آجاتے ہیں۔ وہ غفلت کی زندگی بسر کرتے ہیں اور وہ ”لا يرجون لقائنا ورضوا بالحيوة الدنيا واطمأنوا بها (يونس:٧)“ ”جن لوگوں کو ہمارے پاس آنے کا کھٹکا نہیں ہے اور وہ دنیوی زندگی پر راضی ہو گئے ہیں اور اس میں جی لگا بیٹھے ہیں“ کا مصداق بنے ہوتے ہیں۔ نہ انفرادی زندگی میں خوف خدا اور آخرت کا جواب دہی کا احساس ان پر اثر انداز ہوتا ہے۔ نہ اجتماعی اور معاشرتی زندگی میں۔

رسول اللہ ﷺ صحابہ کرام کو ہدایت فرمایا کرتے تھے کہ موت کو زیادہ یاد کیا کرو اور خود قرآن پاک تہدیدات سے بھرا ہوا ہے۔ قرآنی انداز بیان اور فقہ کی کتابوں کے انداز تحریر میں یہی تو فرق ہے کہ کتابوں میں آپ کو مسائل کی تفصیل ملے گی۔ لیکن کرو گے تو اجر کیا ملے گا؟ خلاف ورزی کرو گے تو آخرت کا کتنا وبال ہوگا؟ اس کا جواب وہاں نہیں ملے گا؟ اس کے برخلاف قرآن مجید میں فقہی مسائل پر تھوڑے الفاظ آپ کو ملیں گے۔ لیکن تفہیم و تہدید زیادہ ہوگی۔ مثال کے طور پر آپ سورہ طلاق کو پڑھ لیجئے ! سورہ مطففین میں حقوق و فرائض کا ذکر ہوا تو ساتھ ہی فرمایا گیا:

”الا يظن اولئك انهم مبعوثون، ليوم عظيم يوم يقوم الناس لرب العالمين (المطففين:٤ تا ٦)“ ”کیا ان لوگوں کو اس کا یقین نہیں ہے کہ وہ ایک بڑے سخت دن میں زندہ کر کے اٹھائے جائیں گے۔ جس دن تمام آدمی رب العالمین کے سامنے کھڑے ہوں گے۔“

تو مسائل کے ساتھ جزا و سزا اور آخرت کا تصور بہت ضروری ہے۔

اب ہر وہ کوشش جو مسلمانوں میں فکر آخرت پیدا کرے، وہ محمود اور قابل تعریف ہے اور ہر وہ سعی جس سے فکر آخرت میں کمی آئے۔ وہ مذموم ہے۔ تو خروج دجال، نزول سیدنا مسیح علیہ السلام، وغیرہ ان امور میں سے ہیں۔ جن کا تعلق فتنہ عالم سے ہے۔ اس لئے ”بالآخرة هم يوقنون (البقرہ:٤)“ ”اور آخرت پر وہ لوگ یقین رکھتے ہیں۔“ کی تکمیل کے لئے ضروری

٩

صفحہ ٧١

ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے جس طرح ان امور کی نشاندہی فرمائی ہو۔ ان کو ہر وقت ذہن نشین رکھا جائے۔ تاکہ اس سے پہلے کہ سورج مغرب سے طلوع ہو اور توبہ کے دروازے بند ہوں بنی نوع انسان یوم الحساب کی پیشی کے لئے تیار ہو۔

عقیدہ نزول مسیح علیہ السلام کے سلسلہ میں قرآن پاک کا سرسری مطالعہ

گزشتہ صفحات میں آپ پڑھ چکے ہیں کہ افراط و تفریط دونوں صراط مستقیم سے دور ہو جانے کا باعث ہیں۔ سیدنا عیسیٰ مسیح ابن مریم علیہما السلام کے بارے میں دو امتیں اس طرح گمراہ ہوگئیں۔ نصاریٰ افراط کا شکار ہوگئے۔ انہوں نے حضرت عیسیٰ کو اللہ کا بیٹا قرار دے کر نہ صرف انہیں بلکہ ان کی والدہ ماجدہ حضرت بی بی مریم کو بھی ”الہٰ“ بنا دیا۔ اور یہود تفریط میں مبتلا ہو کر العیاذ باللہ! مریم بتول پر بہتان تراشی کرنے لگے۔ خود سیدنا مسیح ابن مریم علیہ السلام کے قتل کے درپے ہوگئے، تفصیل کی یہاں گنجائش نہیں۔ مختصر یہ کہ وہ یہ کہنے لگے کہ ہم نے انہیں سولی پر چڑھا کر مار دیا ہے۔

اب آپ قرآن مجید کو ہاتھ میں لیجئے! اور ان تین سورتوں کو ملا کر پڑھیے:

ان میں سے پہلی سورت میں مختصراً معراج کا واقعہ بیان فرماتے ہوئے رخ قوم بنی اسرائیل کی طرف بدل دیا گیا ہے۔ ان لوگوں کی سرکشی اور مفسدانہ کاوشوں کا ذکر کرنے کے بعد قرآن مجید کی عظمت اور پھر چند اوامر ونواہی کا بیان فرمایا گیا ہے۔ درمیان میں کہیں کہیں عبرت دلانے کے لئے سابقہ امتوں کی تباہی کا ذکر آ گیا ہے۔ اور اختتام اس آیت کریمہ پر ہوا ہے:

لے یہاں پر یہ واضح کر دینا مناسب ہوگا کہ قرآن پاک اصالتاً نہ تو تاریخ کی کتاب ہے۔ نہ جغرافیہ یا سائنس کی۔ ضمناً کوئی قصہ آجائے تو وہ اس کا بیان صرف اس حد تک کرتا ہے کہ اس سے سامعین کو عبرت دلائی جاسکے۔ تا کہ وہ اس سے سبق حاصل کریں۔ تفصیلات کے درپے نہیں ہوتا۔

١٠

"وقل الحمد لله الذى لم يتخذ يكن له ولى من الذل وكبره تكبيرا (بنی اسـ اللہ کے لئے ہیں جو نہ اولاد رکھتا ہے اور نہ اس کا کوئی اس کا کوئی مددگار ہے۔ اور اس کی خوب بڑائیاں بیا

یہ آیت گویا اگلی سورت کے لئے تمہـ مضامین پر غور کیجئے!

رکھا ہے۔ وہ سمجھ میں نہ آنے والی چیز ہے۔ عقیدہ دھندا ہے۔ یا اللہ کا دین؟ یہ وہ عقیدہ ہے جس ۔ کرب واضطراب بنے رہتے تھے۔ جیسا کہ ارشاد

"فلعلك باخع نفسك عـ اسفا (الكهف: ٦) "﴿سو شاید آپ ان کے پیچھے اپنی جان دے دیں گے۔﴾

اللہ کا دین تو دینِ قیم ہے۔ فطرت ایک کا چکر، نہ ایک میں تین کا۔

ہے؟ اس کا بیان آگے آئے گا۔ اب آئیے سور خارق عادت ولادت کے واقعات کسی قدر تفصیـ کی تردید پر ہوا اور نہایت زور دار الفاظ میں۔ فـ

"وقالوا اتخذوا الرحمن يتفطرن منه وتنشق الارض وتخـ ينبغى للرحمن ان يتخذ ولدا. (مر اولاد اختیار کر رکھی ہے۔ تم نے یہ ایسی سخت حـ

صفحہ ٧١

”وقل الحمد لله الذى لم يتخذ ولدا ولم يكن له شريك فى الملك ولم يكن له ولى من الذل وكبره تكبيرا (بنی اسرائیل: ١١١)“ ﴿اور کہہ دیجئے کہ تمام خوبیاں اسی اللہ کے لئے ہیں جو نہ اولاد رکھتا ہے اور نہ اس کا کوئی سلطنت میں شریک ہے اور کمزوری کی وجہ سے اس کا کوئی مددگار ہے۔ اور اس کی خوب بڑائیاں بیان کیا کیجئے۔﴾

یہ آیت گویا اگلی سورت کے لئے تمہید ہے۔ اس کے بعد سورہ کہف آئی، اس کے مضامین پر غور کیجئے!

رکھا ہے۔ وہ سمجھ میں نہ آنے والی چیز ہے۔ عقیدہ ولدیت۔ جس پر دین مسیحی کی بنیاد ہے۔ یہ گورکھ دھندا ہے۔ یا اللہ کا دین؟ یہ وہ عقیدہ ہے جس کے نتیجے کو سوچ سوچ کر اللہ کے محبوبﷺ سراپا کرب و اضطراب بنے رہتے تھے۔ جیسا کہ ارشاد الٰہی ہے:

”فلعلك باخع نفسك على اثارهم ان لم يؤمنوا بهذا الحديث اسفا (الکھف:٦)“ ﴿سو شاید آپ ان کے پیچھے اگر یہ لوگ اس مضمون پر ایمان نہ لائیں تو غم سے اپنی جان دے دیں گے۔﴾

اللہ کا دین تو دین قیم ہے۔ فطرت کے تقاضوں کے عین مطابق، نہ یہاں تین میں ایک کا چکر، نہ ایک میں تین کا۔

ہے؟ اس کا بیان آگے آئے گا۔ اب آئیے سورہ مریم کی طرف! تو اس کے شروع میں دو نبیوں کی خارق عادت ولادت کے واقعات کسی قدر تفصیل سے آئے ہیں اور اس کا اختتام پھر عقیدہ ولدیت کی تردید پر ہوا اور نہایت زور دار الفاظ میں۔ ذرا ان الفاظ پر غور تو کیجئے!

”وقالوا اتخذوا الرحمن ولدا۔ لقد جئتم شيئا ادا۔ تكاد السموات يتفطرن منه وتنشق الارض وتخر الجبال هدا۔ ان دعوا للرحمن ولدا۔ وما ينبغى للرحمن ان يتخذ ولدا۔ (مریم:٨٨ تا ٩٢)“ ﴿اور یہ لوگ کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے اولاد اختیار کر رکھی ہے۔ تم نے یہ ایسی سخت حرکت کی ہے کہ اس کے سبب کچھ بعید نہیں کہ آسمان

١١

صفحہ ٧٣

پھٹ پڑیں اور زمین کے ٹکڑے اڑ جائیں اور پہاڑ ٹوٹ کر گر پڑیں گے۔ اس بات سے کہ یہ لوگ خدا تعالیٰ کی طرف اولاد کی نسبت کرتے ہیں۔ حالانکہ خدا تعالیٰ کی شان نہیں ہے۔ کہ وہ اولاد اختیار کرے۔

غور طلب بات یہ ہے کہ ایک طرف تو عقیدہ ولدیت کی تردید اتنی شدومد کے ساتھ، دوسری طرف یہ حقائق کہ:

کا انتظام۔

پیدائش۔

جن کے نعرہ ”قم باذن الله“ میں اللہ نے یہ تاثیر رکھ دی تھی، کہ مردے زندہ ہو جاتے تھے، ان کا اپنا کیا حال ہوگا؟

اٹھا لینا۔

(مریم: ٣١)“ (اور مجھ کو بابرکت بنایا میں جہاں کہیں بھی ہوں) جب کہ اس قسم کا جملہ اور کسی نبی کی زبان پر نہیں آیا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ زمینی زندگی کے علاوہ کہیں اور بھی آپ کی رہائش ہونی تھی۔

کے علاوہ مجھے اور میری ماں کو بھی خدا مان لو؟ تو اس کے جواب میں آپ کا یہ کہنا: ”وكنت عليهم شهيدا ما دمت فيهم (المائدہ: ١١٧)“ ”میں ان پر مطلع رہا۔ جب تک ان میں رہا۔“ غور کیجئے۔ یوں نہیں کہا: ”ما حييت“ بلکہ یہ کہیں گے: ”جب تک میں ان میں رہا۔“ پھر اس سے آگے یوں نہیں کہا: ”فلما امتنى“ بلکہ کہیں گے: ”فلما توفیتنی“ ان تمام حقائق پر غور کیجئے!

١٢

اگر آپ کہیں فاتر العقل Unbalanced نہیں کا قائل ہونا پڑے گا۔ بعض دوسرے انبیاء علیہم السلام استعمال ہوا ہے۔ حضرت مسیح علیہ السلام کے بارے مـ کہ: وہ مر گئے۔ نادانو! تم اسے کیسے خدا بنائے پھرتے

ایک لمحہ فکریہ!

سورہ مریم سے پہلے اصحاب کہف کا واقعہ کہ چند آدمی ایک مشرک بادشاہ کے ڈر سے اپنا ایما قرآن پاک کے مطابق تین سو نو برس تک وہاں رہ خوراک حاصل کرنے کے لئے ایک آدمی کو شہر روانہ کے ان الفاظ پر غور کیجئے:

”وكذلك اعثرنا عليهم ليعلـ لاريب فيها (الکہف: ٢١)“ ”اور اسی طرح ہم نے لو انہیں معلوم ہو جائے کہ اللہ کا وعدہ سچا ہے اور قیامت مـ

اب اگر کسی شخص کے حواس مختل نہ ہوں، کہ پھر انسانی آبادی میں آ سکتے ہیں جب کہ وہ عام آدمـ انہیں قیامت کی دلیل بنا کر لوگوں کو آگاہ کرنے کـ گرامی کا حال یہ ہو کہ اس کی ولادت بھی عام دستور کے نفخ روح سے ہوئی۔ کلمۃ اللہ اور روح اللہ (القـ ہوئے۔ اگر اللہ رب العزت انہیں ”علم للساعـ ”اينما كنت“ والی بات پوری ہو اور پھر نبی صلعم کے مطابق اس دنیا میں تشریف لے آئیں تو کون سی صرف اس لئے انکار کر دیں کہ کسی مراقی کی کھوپڑی مـ موم کی ناک ہونا چاہئے تھا کہ جدھر چاہا موڑ دیا اور کٹ حجتی۔

آیئے! اپنا عقیدہ محفوظ کرنے کے لئے مجدد کا فرمان سن لیجئے۔

صفحہ ٧٣

اگر آپ کہیں فاتر العقل Unbalanced نہیں ہیں تو لازماً آپ کو حیات مسیح علیہ السلام کا قائل ہونا پڑے گا۔ بعض دوسرے انبیاء علیہم السلام کے بارے میں صاف طور پر ”موت“ کا لفظ استعمال ہوا ہے۔ حضرت مسیح علیہ السلام کے بارے میں قرآن نے کیوں نہیں صاف طور پر کہہ دیا کہ : وہ مرگئے۔ نادانو ! تم اسے کیسے خدا بنائے پھرتے ہو......؟

ایک لمحہ فکریہ!

سورہ مریم سے پہلے اصحاب کہف کا واقعہ بیان ہوا۔ جس کا خلاصہ کچھ اس طرح ہے کہ چند آدمی ایک مشرک بادشاہ کے ڈر سے اپنا ایمان بچا کر ایک غار میں چلے گئے تھے اور قرآن پاک کے مطابق تین سو نو برس تک وہاں رہے۔ اس کے بعد وہ وہاں سے نکل آئے تو خوراک حاصل کرنے کے لئے ایک آدمی کو شہر روانہ کیا۔ یوں ان کا راز کھل گیا۔ اب قرآن کے ان الفاظ پر غور کیجئے :

”وكذالك اعثرنا عليهم ليعلموا ان وعد الله حق وان الساعة لاریب فیھا (الکھف:٢١)“ اور اسی طرح ہم نے لوگوں کو ان کے حالات سے مطلع کر دیا۔ تاکہ انہیں معلوم ہو جائے کہ اللہ کا وعدہ سچا ہے اور قیامت میں کوئی شک نہیں۔

اب اگر کسی شخص کے حواس مختل نہ ہوں۔ تو ذرا سوچئے کہ اصحاب کہف صدیاں گزار کر پھر انسانی آبادی میں آسکتے ہیں جب کہ وہ عام آدمی تھے اور اپنی مرضی سے روپوش ہوئے تھے تو انہیں قیامت کی دلیل بنا کر لوگوں کو آگاہ کرنے کے لئے دوبارہ لایا جاسکتا ہے۔ تو جس ذات گرامی کا حال یہ ہو کہ اس کی ولادت بھی عام دستور کے خلاف، بن باپ محض جبریل علیہ السلام کے نفخ روح سے ہوئی۔ کلمۃ اللہ اور روح اللہ (لقب کہئے یہ نام) اس کے ناموں میں شامل ہوئے۔ اگر اللہ رب العزت انہیں ”علم للساعة“ بنا کر کسی محفوظ مقام میں رکھ لے۔ یوں ”اینما کنت“ والی بات پوری ہو اور پھر نبی صادق المصدوق ﷺ کے بیسیوں ارشادات عالیہ کے مطابق اس دنیا میں تشریف لے آئیں تو کون سی تعجب کی بات ہے؟ کیا ہم اس حقیقت کا صرف اس لئے انکار کردیں کہ کسی مراقی کی کھوپڑی اس کو تسلیم نہیں کرتی ؟ پھر اللہ کا دین تو نہ ہوا یہ موم کی ناک ہوئی جسے جدھر کو چاہو موڑ توڑ کر رکھ دو۔

آیئے ! اپنا عقیدہ محفوظ کرنے کے لئے چودھویں صدی ہجری کے ایک جلیل القدر محدث کا فرمان سن لیجئے۔

صفحہ ٧٤

”دنیا کے روز مرہ واقعات بھی زمانہ اور شخصیتوں کے اختلاف سے بہت مختلف ہو جاتے ہیں اسی زمین پر ایک خطہ ایسا بھی ہے جہاں مہینوں کی رات اور مہینوں کا دن ہوتا ہے۔ اور ان ہی سمندروں میں ایک سمندر ایسا بھی ہے جس پر موسم سرما میں خشکی کی طرح سواریوں پر چلتے ہیں۔ اسی طرح انسانوں کا اختلاف ہے۔ ظاہر ہے کہ شجاعت و طاقت اور دانائی وفرزانگی کے وہ بعید سے بعید کارنامے جو رستم واسفندیار ...... وغیرہ ...... کے حق میں بے تأمل قابل تصدیق سمجھے جاتے ہیں۔ وہ عام انسانوں کے حق میں بمشکل قابل تصدیق ہو سکتے ہیں۔ پس عام انسانوں کے حالات کے لحاظ سے یا صرف اپنے دور اور اپنے زمانہ کے حالات پر قیاس کر کے کسی صحیح واقعہ کا انکار کر دینا کوئی معقول طریقہ نہیں ہے۔ نزول مسیح علیہ السلام کا واقعہ، تخریب عالم یعنی قیامت کے واقعات کی ایک کڑی ہے۔ اور تخریب عالم کا ایک واقعہ بھی ایسا نہیں جو عالم کے تعمیری دور کے واقعات سے ملتا جلتا ہو، اگر تخریب عالم کے وہ سب واقعات تعمیری واقعات سے مختلف ہونے کے باوجود، قابل تصدیق ہیں۔ تو پھر اس ایک واقعہ کی تصدیق میں آپ کو تامل کیوں ہے؟“

(ترجمان السنہ ج ٣ ص ٥٢١، از حضرت مولانا سید محمد بدر عالم )

حضرت والا قدس سرہ کا یہ مقالہ چھیالیس صفحات پر مشتمل ہے۔ احادیث اس کے بعد نقل کی گئی ہیں، نہایت ایمان افروز اور قابل دید مقالہ ہے۔ پھر ص ٥٦٧ سے ٥٩٣ تک احادیث اور ان کی تشریحات چلی گئی ہیں۔ نزول مسیح علیہ السلام کے موضوع پر اردو زبان میں اس سے بہتر کوئی تالیف راقم کی نظر سے نہیں گزری۔

(نوٹ: مولانا بدر عالم کا متذکرہ رسالہ احتساب قادیانیت کی ابتدائی جلدوں میں شائع ہو چکا ہے۔ مرتب! )

ایک بات اور

سورہ کہف اور سورہ مریم کے مضامین میں ایک اور مناسبت بھی ملحوظ رہے کہ اس کے اخیر میں ذوالقرنین کا قصہ آیا ہے وہ کون تھا۔ کسی دور میں تھا؟ یہاں ہمیں اس قصہ سے کوئی سروکار نہیں، ہمیں صرف اتنا کہنا ہے کہ ذوالقرنین جب تعمیر دیوار سے فارغ ہوئے تو انہوں نے کہا تھا۔

١؎ اس قسم کی تحقیق کے لئے طلبہ ”قصص القرآن“ مولانا حفظ الرحمن سیوہاروی، ”ارض القرآن“ حضرت علامہ سید سلیمان ندویؒ وغیرہ کا مطالعہ کریں۔

١٤

صفحہ ٧٥

”فاذا جاء وعد ربی جعله دکاء و كان وعد ربی حقا (الکہف:٩٨) ”﴿پھر جس وقت میرے رب کا وعدہ آوے گا تو اس کو ڈھا کر برابر کر دے گا اور میرے رب کا ہر وعدہ برحق ہے۔﴾

اس کے بعد یاجوج ماجوج نکل پڑیں گے اور پھر نفخ صور ہوگا جس سے قیام قیامت کا آغاز ہوگا۔ خروج یاجوج ماجوج اور نزول مسیح علیہ السلام دونوں ایک ہی سلسلہ کی کڑیاں ہیں۔ یا دونوں کو تسلیم کرو یا پھر دونوں کا انکار کرو۔ علامات قیامت میں دونوں یکجا ذکر فرمائی گئی ہیں۔ دیکھئے کتب حدیث۔

ایک اور توجہ طلب نکتہ

ان اشقیاء کو تو چھوڑیئے جو اللہ کے ایک جلیل القدر رسول کی توہین اور استخفاف تک سے نہیں چوکتے، ہمارا روئے سخن اس وقت ان اہل علم کی طرف ہے، جو ملت اسلامیہ کے افراد بلکہ مقتدر افراد کہلانے کے باوجود نزول سیدنا مسیح علیہ السلام سے انکاری ہیں۔ ہماری سمجھ میں نہیں آتا کہ کتاب وسنت سے واقفیت کے باوجود انہیں انکار کی جرأت کیوں کر ہو گئی؟ آگے چل کر انشاء اللہ ہم ان کے خیالات کا جائزہ لیں گے۔ سردست ہم اس مسئلہ پر مثبت انداز میں گفتگو کر رہے ہیں۔ تو ہم یہاں پر قارئین کو دو باتوں کی طرف توجہ دلانا چاہتے ہیں:

وہ مٹی کی شکل کی ایک چیز بنا کر اس میں پھونک مارتے تو وہ اڑنے والا پرندہ بن جاتا۔ یہ بجا ہے کہ یہ کام ہوتا ”اذن اللہ“ سے تھا۔ قرآن پاک میں دو جگہ اس کا ذکر آیا ہے اور دونوں جگہ ”باذن اللہ“ کی تصریح ہے۔ (آل عمران: ٤٩: ”باذن الله“ مائده: ١١٠: ”باذنی“) بہرحال قرآن پاک کے مطابق یہ حضرت مسیح علیہ السلام کا خصوصی معجزہ تھا۔

رفع الیٰ (یعنی لفظ رفع کا صلہ الیٰ ، حرف جر ) اللہ کی طرف منسوب ہو کر صرف دو دفعہ آیا ہے۔ اس کے علاوہ رفع الیٰ کہیں نہیں آیا۔ اور پھر یہ استعمال بھی اس ذات کے لئے جس کی دنیا میں آمد بھی

١٥

صفحہ ٧٦

غیر معتاد (Unusual) طریقہ سے تھی۔ اگر اس کی زندگی کا باقی حصہ اور زندگی کا اختتام بھی معمول سے ہٹ کر ہو تو کون سی تعجب کی بات ہوگی؟ اگر اللہ تعالیٰ اسے پرواز کی طاقت دے کر کرہ ارض سے غائب کر دے اور پھر کچھ عرصہ بعد وہ اسے زمین پر لے آئے تو عقل اس کو تسلیم کرنے سے انکار کیوں کر کر سکتی ہے؟ خلا بازی کے اس دور میں آپ کی سوچ کیا کہتی ہے؟ عقل خادم ہے۔ نقل مخدوم، عقل کو نقل کے تابع رکھنے کی ضرورت ہے۔ نہ کہ برعکس، ورنہ تو : ”بگڑی ہوئی عقل سے حماقت بہتر !“

حیات و نزول مسیح علیہ السلام کے سلسلہ میں قرآن کریم کا گہرا مطالعہ

شاعر مشرق فرماتے ہیں:

ترے ضمیر پہ جب تک نہ ہو نزول کتاب
گرہ کشا ہے نہ رازی، نہ صاحب کشاف

مہینوں کے پیمانہ کا پابند نہیں ہے۔ اللہ کا قرآن ہی تو ہمیں بتاتا ہے: ”انھم یرونہ بعیداً ونراہ قریباً (المعارج: ٦، ٧) ” یہ لوگ اس دن کو بعید دیکھ رہے ہیں اور ہم اس کو قریب دیکھ رہے ہیں ۔“ تو اس قریب پر کتنا عرصہ گزر چکا ہے؟

”میں اوپر چلا گیا ۔“ وہ تو اللہ تعالیٰ بتا رہے ہیں کہ: ”میں نے اسے اپنے پاس اٹھا لیا ۔“ پھر بھی شک و ارتیاب کی کوئی گنجائش نہیں رہ جاتی ہے؟ چودھویں صدی کے خطیب اعظم حضرت مولانا سید عطاء اللہ شاہ بخاری فرمایا کرتے تھے کہ: ”میرے بھائیو! ﷺ نے یہ کب کہا تھا کہ میں معراج کو گیا وہ تو لے جانے والے نے کہا ہے کہ میں اسے لے گیا اور سادہ انداز بیان میں بھی سمجھو۔ بات

صداقت تسلیم کرلو ورنہ تو جاؤ ۔“

واقعہ یہ ہے کہ کہیں بھی رسول اللہ ﷺ نے بصیغہ معلوم عالم بالا کے سفر کا واقعہ بیان نہیں فرمایا، احادیث معراج پڑھ کر دیکھئے۔ ”اُسْرِیَ بِی ، عُرِجَ بِی “ کے الفاظ آتے ہیں۔ اسی طرح سیدنا عیسیٰ علیہ السلام نے بھی کہیں رفع کی یا نزول کی نسبت اپنی طرف نہیں کی، وہ تو ہمیں آنحضرت ﷺ نے بتایا کہ ”بعثہ اللہ یا یبعث اللہ “

١٦

صفحہ ٧٧

کسی مسئلہ پر آدمی قرآن کریم کا مطالعہ کرے تو پہلے سے کوئی فیصلہ کر کے نہ بیٹھ جائے۔ یہ بھی سچ ہے کہ ان هذا القرآن يهدی للتی هی اقوم (الاسراء:٩) ﴿بلاشبہ یہ قرآن ایسے طریقے کی ہدایت کرتا ہے جو بالکل سیدھا ہے۔﴾ لیکن جو لوگ العیاذ باللہ ! ”لعنهم الله بكفرهم “ کا مصداق بن چکے ہیں۔ ان کی صورتحال دگرگوں ہوتی ہے۔”فلا يؤمنون الا قليلا “جیسے شیخ شیراز فرماتے ہیں:

باراں کہ در لطافت طبعش خلاف نیست
در باغ لالہ روید و در شوره بوم خس

آئیے! ذرا قرآن کریم میں گہرے اتر کر مسئلہ زیر بحث کی تحقیق و جستجو کریں۔ قطع نظر اس سے کہ ”رفع الی اللہ“ یا ”رفع الی السماء“ کہنا اس ذات گرامی سے تعلق رکھتا ہے جو ارضی کم ہے سماوی زیادہ ہے۔ قرآن پاک کے الفاظ یہ ہیں:

”بل رفعه الله اليه وكان الله عزيزاً حكيما. وان من اهل الكتاب الا ليؤمنن به قبل موته ويوم القيامة يكون عليهم شهيدا (النساء:١٥٨،١٥٩) ﴿بلکہ ان کو خدا تعالیٰ نے اپنی طرف اٹھا لیا اور اللہ تعالیٰ بڑے زبردست حکمت والے ہیں اور کوئی شخص اہل کتاب سے نہ رہے گا مگر وہ عیسیٰ علیہ السلام کی اپنے مرنے سے پہلے ضرور تصدیق کرے گا۔ اور قیامت کے روز وہ ان پر گواہی دیں گے۔﴾

ان دو آیتوں کا مطلب سمجھنے سے پہلے ذرا سیاق سباق کو دیکھ لیجئے۔ آپ کو معلوم ہے کہ قرآن کریم، سید الرسل ﷺ کا زندہ جاوید معجزہ ہے۔ سبحان اللہ ! اس کی بلاغت کا کیا ٹھکانا ہے کہ کہیں ایک لفظ بھی تو مہمل اور بے معنی نظر نہیں آیا۔ ہر بات موقع محل کے عین مطابق، گویا انگوٹھی میں نگینہ جڑا ہوا ہے۔ کہیں اللہ تعالیٰ کے قہر و جبروت کا ذکر ہے۔ اس کے مطابق اس کی صفات لائی گئی ہیں۔ کہیں غفران و رحمت کا ذکر ہے تو اس کے مطابق دور جانے کی ضرورت نہیں ہے۔ اسی سورہ نساء کو شروع سے پڑھیے اور دیکھئے۔

میں اللہ سے ڈرتے رہو۔ کیونکہ: ”ان الله كان عليكم رقيبا (النساء:١) ﴿اللہ تم پر نگران ہے اور وہ تمہاری ایک ایک بات سے واقف ہے۔﴾

١٧

صفحہ ٧٩

کر دو تو گواہ کر لو اور یاد رکھو: ”وکفى بالله حسیبا“ ﴿اللہ حساب لینے کے لئے کافی ہے۔﴾ اور وہ کل کو تم سے ایک ایک پائی کا حساب لے سکتا ہے۔

مقرر کردہ حصے ہیں: ”ان الله كان عليماً حكيما“ ﴿وہ مالک بہتر جانتا ہے کہ کس رشتہ دار کو کتنا دینا ہے۔﴾

عبرتناک سزا دو اور اس کے بعد اگر وہ توبہ کر کے نیک کردار بن جائیں تو تم بھی اپنا رویہ بدل لو، کیونکہ: ”ان الله كان تواباً رحيماً“ ﴿بلاشبہ اللہ تعالیٰ توبہ قبول کرنے والے ہیں رحمت والے ہیں۔﴾

خیال تو یہی ہے کہ قرآن پاک کی بلاغت کا پتہ چل گیا ہو گا۔ تاہم تھوڑا سا اور بھی سن لیجئے آگے چل کر اسی سورہ کی درج ذیل آٹھ آیات پر غور کیجئے:

ہے۔ اور وہ کائنات کے ایک ایک ذرہ کا احاطہ کئے ہوئے ہے۔ کیونکہ ”وكان الله بكل شئی محيطا (آیت: ١٢٦)“ ﴿اور اللہ تعالیٰ تمام چیزوں کو احاطہ فرمائے ہوئے ہیں۔﴾

فان الله کان به عليما (آیت: ١٢٧)“ ﴿اور جو نیک کام کرو گے سو بلاشبہ اللہ تعالیٰ اس کو خوب جانتے ہیں۔﴾

خبیرا (آیت: ١٢٨)“ ﴿تو بلاشبہ حق تعالیٰ تمہارے اعمال کی پوری خبر رکھتے ہیں۔﴾

فرمایا: ”فان الله كان غفوراً رحيما (آیت: ١٢٩)“ ﴿تو بلاشبہ اللہ تعالیٰ بڑی رحمت والے ہیں۔﴾

کرے گا۔ کیونکہ ”وكان الله واسعا حكيما (آیت: ١٣٠)“ ﴿اللہ بڑی وسعت والے اور بڑی رحمت والے ہیں۔﴾

١٨

تمہاری ضرورت نہیں ہے۔ ”وكان الله غنياً حـ حاجت مند نہیں خود اپنی ذات میں محمود ہیں۔﴾

تعالیٰ کی ملک ہیں جو چیزیں کہ آسمانوں میں ہیں اور بیان کر کے فرمایا: ”وكفى بالله وكيلا (آیت: ١٣

”وكان الله على ذالك قديرا (آیت: ١٣٣ ہیں۔﴾

ہماری بد قسمتی یہ ہے کہ ہم نے ”آمننـ لیا۔ مگر ہم نے قانون زندگی اللہ کے قرآن کو نہ بنایا اور بین الملی زندگی تک ہم نے کہیں بھی قرآنی ہدایـ اس کی قدرت کے کرشمے سامنے ہیں۔

زبان نے کہہ بھی دیا لـ

اب ہم اپنے مدعا کی طرف لوٹتے یہود کے گیارہ جرائم گنوائے گئے ہیں۔

خلاف ورزی کی۔

پابندی کے باوجود انہوں نے اس روز ماہی گیری کا شـ

جاتی۔

١٩

صفحہ ٧٩

تمہاری ضرورت نہیں ہے۔ ”وكان الله غنياً حمیدا (آیت:١٣١) “﴿اور اللہ تعالیٰ کسی کے حاجت مند نہیں خود اپنی ذات میں محمود ہیں۔﴾

تعالیٰ کی ملک ہیں جو چیزیں کہ آسمانوں میں ہیں اور جو چیزیں کہ زمین میں ہیں۔﴾ کا مالک ہونا بیان کر کے فرمایا: ”وكفى بالله وکیلا (آیت:١٣٢)“ (اللہ تعالیٰ کافی کارساز ہیں۔﴾

”وكان الله على ذالك قديراً (آیت: ١٣٣) “﴿اور اللہ تعالیٰ اس پر پوری قدرت رکھتے ہیں۔﴾

ہماری بدقسمتی یہ ہے کہ ہم نے ”آمنت بالله وملئكته وكتبه ورسله“ پڑھ تو لیا۔ مگر ہم نے قانون زندگی اللہ کے قرآن کو نہ بنایا۔ انفرادی زندگی کے مسائل سے لے کر اجتماعی اور بین الملی زندگی تک ہم نے کہیں بھی قرآنی ہدایت کو سامنے نہ رکھا۔ نتیجتاً اللہ کی بے نیازی اور اس کی قدرت کے کرشمے سامنے ہیں۔

زبان نے کہہ بھی دیا لا الہ تو کیا حاصل؟

اب ہم اپنے مدعا کی طرف لوٹ کر آتے ہیں، اسی سورہ نساء کی آیات: ١٥٣ تا ١٦١ میں یہود کے گیارہ جرائم گنوائے گئے ہیں۔

خلاف ورزی کی۔

پابندی کے باوجود انہوں نے اس روز ماہی گیری کا سلسلہ جاری رکھا۔

جاتی۔

١٩

صفحہ ٨٠

جاتے تھے۔

قوموں کا شیوہ رہا ہے۔)

یہود کے ان جرائم اور کرتوتوں کی وجہ سے ان کے حق میں عذاب الیم کی وعید سنائی گئی۔

(آیت:١٦١)

یہود کے جرائم کی یہ فہرست آپ نے پڑھ لی، درمیان میں جرم نمبر: ٩ کا ذکر ہم نے قصداً چھوڑ دیا تھا۔ یہ بات کچھ تفصیل طلب بھی تھی اور یہی ہمارا اصل موضوع ہے۔ اب اس بارے میں سنئے:

مصلح حتیٰ کہ حضرات انبیاء علیہم السلام بھی انہیں ان جرائم پر ٹوکتے تو وہ مشتعل ہو جاتے۔ آپ ابھی پڑھ چکے ہیں کہ انہوں نے کتنے انبیاء علیہم السلام کو شہید کر دیا تھا۔ سیدنا عیسیٰ علیہ السلام نے فریضہ تبلیغ ادا کرنا شروع کیا، تو وہ بدبخت ان کی والدہ ماجدہ عفیفہ صدیقہ سیدہ مریم علیہا السلام کے حق میں بہتان پردازی پہلے سے کر رہے تھے۔ اب وہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا وجود کیسے برداشت کرتے؟ چنانچہ وہ ان کے قتل کے درپے ہو گئے۔

تفصیل معلوم کرنا چاہیں تو سورہ بنی اسرائیل پارہ: ١٥ کا آغاز پڑھ لیں۔ یہاں قیصر روم کی طرف سے ایک گورنر تعینات تھا۔ یہودیوں نے حضرت مسیح علیہ السلام کے خلاف اس کے ہاں بغاوت اور ملکی حکومت کے خلاف سازش کا مقدمہ دائر کر دیا۔ وہ گورنر دل سے سمجھتا تھا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام اس الزام سے بری ہیں۔ مگر یہود نے ان کے برخلاف سزائے موت کا فیصلہ صادر کرا ہی لیا۔

صفحہ ٨١

علیہ السلام کے ساتھ ہوئی تھی۔ درمیانی تفصیلات ہم اختصار کے پیش نظر حذف کرتے ہیں۔ اب قرآن یہ کہتا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے ساتھ ایسا کوئی واقعہ پیش نہیں آیا۔ نہ وہ سولی پر گئے نہ قتل ہوئے بلکہ : ”رفعہ اللہ الیہ“ اللہ نے انہیں اپنی طرف اٹھا لیا۔ یوں آپ انسانی آبادی سے غائب ہو گئے۔ ہماری ڈکشنری چونکہ محدود الفاظ پر مشتمل ہے۔ ہم ارضی مخلوق کے باشندے اس صورتحال کی تعبیر کے لئے اور کوئی لفظ نہیں بول سکتے۔ سوائے اس کے ہم کہیں کہ: آپ کو آسمان کی طرف اٹھا لیا گیا۔

یہ رفع ترقی درجات کے مترادف نہیں ہے۔ کیونکہ اس میں تو حضرت مسیح علیہ السلام کی کوئی تخصیص نہیں ہے۔

والا ہے۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو اوپر اٹھا لینا نہ تو کچھ مشکل تھا، نہ کسی کو یہ کہنے کی اجازت ہے کہ ایسا کیوں ہوا؟ وہ جانے اُس کا کام! ہو گی اس میں کوئی حکمت، تم کون ہوتے ہو چوں چرا کرنے والے؟ کیونکہ: ”لا يسأل عما يفعل وهم يسألون (الانبیاء:٢٣)“ وہ جو کچھ کرتا ہے اس سے کوئی باز پرس نہیں کر سکتا، اور اوروں سے باز پرس کی جاسکتی ہے۔ کسی مومن صادق کے لئے اس بات کی کوئی گنجائش نہیں ہے کہ وہ کتاب وسنت کے بیان کردہ حقائق کو محض عقلی ڈھکوسلوں سے رد کر دے

آگے بڑھنے سے پہلے قرآن کریم کی بلاغت کی مذکورہ بالا مثالوں کو دوبارہ ذہن میں لائیے اور پھر سوچئے کہ اللہ کے فرمان: ”رفعہ اللہ“ اور ”و کان اللہ عزیزاً حکیما“ میں کیا مناسبت ہے؟ دراصل تو ان آیات میں ذکر تھا یہود کے جرائم کا اور قرآن نے ان کے اس جرم کو زیادہ اہمیت کے ساتھ بیان فرمایا، پھر اس کی پر زور تردید کی، کیا خیال ہے کہ جس چیز کو قرآن پاک اتنی اہمیت دے۔ آج اگر کوئی شخص اس عقیدہ حیات مسیح علیہ السلام کو بے وزن کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ کیا وہ یہود کا پیروکار نہ ہوگا؟

١؎ ہاں! البتہ اگر کوئی طالب علم اس رفع ونزول کی حکمت دریافت کرنا چاہے تو یہ الگ بات ہے۔ اسے چاہئے کہ تفسیر ابن کثیر اور فتح الباری وغیرہ کا مطالعہ کرے۔

٢١

صفحہ ٨٣

ایک شبہ کا ازالہ

ان آیات سے بظاہر یوں لگتا ہے کہ قرآن پاک سیدنا مسیح علیہ السلام کے رفع الی السماء پر زور دیتا ہے۔ مگر ان کے نزول کا کوئی ذکر نہیں کرتا۔ اس سلسلہ میں ایک بات کو ذہن میں رکھیں کہ قرآن پاک کا اپنا انداز بیان ہے، وہ ایک متن کی حیثیت رکھتا ہے، اس کی تشریح اور وضاحت اس ذات گرامی کے سپرد کر دیتا ہے جس پر وہ نازل ہوا، چنانچہ ارشاد ہے ۔

”وانزلنا الیک الذکر لتبین للناس ما نزل الیہم (النحل: ٤٤)“ ﴿اور آپ ﷺ پر بھی یہ قرآن اتارا ہے تاکہ جو مضامین لوگوں کے پاس بھیجے گئے۔ ان کو آپ ﷺ ان سے ظاہر کردیں۔﴾

پھر جہاں تک قیامت کا معاملہ ہے، اللہ تعالیٰ نے اس کو بہت مخفی رکھا ہے، اس راز کو تو کسی پر بھی فاش نہیں کیا کہ وہ کب آئے گی؟ بلکہ جگہ جگہ یہ فرمایا کہ یہ اچانک آئے گی۔ دیکھئے یہ آیات کریمہ:

طرف دیا جاسکتا ہے۔﴾

يجليها لوقتها الا هو، ثقلت فى السموات والارض، لا تاتيكم الا بغتة، يسئلونك كانك حفى عنها، قل انما علمها عند الله (الاعراف: ١٨٧)“ ﴿یہ لوگ آپ ﷺ سے قیامت کے متعلق سوال کرتے ہیں کہ اس کا وقوع کب ہوگا؟ آپ فرما دیجئے کہ اس کا علم صرف میرے رب کے پاس ہے، اس کے وقت پر اس کو سوائے اللہ کے کوئی اور ظاہر نہ کرے گا۔ وہ آسمانوں اور زمین پر بڑا بھاری حادثہ ہوگا۔ وہ تم پر محض اچانک آ پڑے گی۔ وہ آپ سے اس طرح پوچھتے ہیں جیسے گویا آپ اس کی تحقیقات کر چکے ہیں۔ آپ ﷺ فرما دیجئے کہ اس کا علم خاص اللہ ہی کے پاس ہے۔ لیکن اکثر لوگ نہیں مانتے۔﴾

اس تمام تر راز داری کے باوجود کہیں کہیں اجمالی طور پر چند علامات قیامت کا ذکر آ گیا ہے۔ ایک جگہ فرمایا گیا:

”فهل ينظرون الا الساعة ان تأتيهم بغتة، فقد جاء

٢٢

اشراطها (محمد: ١٨)“ ﴿تو کیا وہ قیامت کے ہی منتظر ہیں اور اس کی علامات تو آچکی ہیں۔﴾

چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ کہیں انشقاق قمر کو قر صور سے پہلے خروج یاجوج ماجوج کا بیان فرمایا، کہیں خروج بات کچھ لمبی ہو گئی ہے۔ لیکن مسئلہ زیر بحث مسئلہ کی طرف، تو سنئے۔

جہاں تک نزول مسیح علیہ السلام کی تفصیلات ہیں۔ لیکن قرآن پاک بھی اس بارے میں خاموش سورت ہے۔ اس میں اصل مخاطب کفار مکہ ہیں۔ ضمناً فرمایا:

”وانه لعلم للساعة فلا تمترن بھ سے نہ سنئے۔ امام الہند حضرت شاہ ولی اللہ دہلویؒ فرما اینکہ عیسیٰ نشانه است قیامت را۔ ﴾

امام فخر الدین رازیؒ اس آیت کے تحت ل للساعة) شرط من اشراطها تعلم به“ یعنی حضرت عیسیٰ علیہ السلام، قیامت کی پتہ چلتا ہے۔

قاضی بیضاویؒ تحریر فرماتے ہیں: ”و ان حدوثه او نزوله من اشراط الساعة ﴿حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا پیدا ہونا یا نازل ہونا قی سے قیامت کا قرب معلوم ہو جائے گا۔﴾

ہم تفسیری حوالہ جات کہاں تک دیتے مقام قابل دید ہے۔ چند جملوں کا ترجمہ یوں ہے علیہ السلام کا نازل ہونا ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ ب

صفحہ ٨٣

اشراطها (محمد:١٨)” ﴿تو کیا وہ قیامت کے ہی منتظر ہیں؟ وہ تو اچانک ان کے پاس آجائے گی۔ اور اس کی علامات تو آچکی ہیں۔﴾

چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ کہیں انشقاق قمر کو قرب قیامت کی نشانی بتایا گیا ہے۔ کہیں نفخ صور سے پہلے خروج یاجوج ماجوج کا بیان فرمایا، کہیں خروج دابۃ کا ذکر آگیا۔

بات کچھ لمبی ہو گئی ہے۔ لیکن مسئلہ زیر بحث کو سمجھنے کے لئے یہ ناگزیر تھا۔ اب آئیے اس مسئلہ کی طرف، تو سنئے۔

جہاں تک نزول مسیح علیہ السلام کی تفصیلات کا تعلق ہے وہ تو زیادہ تر احادیث میں ملتی ہیں۔ لیکن قرآن پاک بھی اس بارے میں خاموش نہیں ہے۔ سورۃ الزخرف پارہ: ٢٥ ایک مکی سورت ہے۔ اس میں اصل مخاطب کفار مکہ ہیں۔ ضمناً حضرت مسیح ابن مریم کا ذکر آگیا ہے۔ تو فرمایا:

”وانه لعلم للساعة فلا تمترن بھا (الزخرف:٦١)“ اس آیت کریمہ کا ترجمہ ہم سے نہ سنئے۔ امام الہند حضرت شاہ ولی اللہ دہلوی قدس سرہ اس کا ترجمہ یوں فرماتے ہیں: ﴿وہر آئینہ عیسیٰ نشانہ است قیامت را۔﴾

(فتح الرحمٰن بترجمة القرآن زیر آیت مذکور بالا)

امام فخر الدین رازیؒ اس آیت کے تحت لکھتے ہیں: ”(وانہ) ای عیسیٰ (لعلم للساعة) شرط من اشراطھا تعلم بہ“

(تفسیر کبیر ج ١٤ ص ٢٢٢)

یعنی حضرت عیسیٰ علیہ السلام، قیامت کی نشانیوں میں سے ایک نشانی ہیں جن سے اس کا پتہ چلتا ہے۔

قاضی بیضاویؒ تحریر فرماتے ہیں: ”و انہ وان عیسٰی لعلم للساعة لان حدوثہ او نزولہ من اشراط الساعة یعلم بہ دنوھا

(تفسیر بیضاوی ص ٢٩٤ حصہ ٢)“

﴿حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا پیدا ہونا یا نازل ہونا قیامت کی علامات میں سے ہے کہ ان کے نزول سے قیامت کا قرب معلوم ہو جائے گا۔﴾

ہم تفسیری حوالہ جات کہاں تک دیتے چلے جائیں؟ (تفسیر ابن کثیر ج ٧ ص ٢١٧) کا یہ مقام قابل دید ہے۔ چند جملوں کا ترجمہ یوں ہے: ”اس سے مراد قیامت سے پہلے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا نازل ہونا ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے ایک اور مقام پر ارشاد فرمایا ہے..... دوسری

٢٣

صفحہ ٨٥

قرأت "وانه لعلم للساعة" بھی اس معنی کی تائید کرتی ہے۔ جس کا معنی یہ بنتا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام قیامت کے وقوع کی نشانی اور دلیل ہیں۔ مجاہد تابعی بھی یہی کہتے ہیں کہ قیامت سے پہلے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا تشریف لانا، قیامت کی نشانی ہے۔ ایسا ہی مروی ہے حضرت ابو ہریرہؓ، حضرت ابن عباسؓ (حضرت ابن عباسؓ کی یہ تفسیر مسند احمد (مبوب ج ١٨، ص ٢٦٦) میں بھی موجود ہے) اور تابعین میں سے ابو العالیہ، ابو مالک، عکرمہ، حسن بصری، قتادہ، ضحاک، اور دوسرے حضرات سے۔

رسول اللہ ﷺ سے احادیث تواتر کے ساتھ آئی ہیں کہ قیامت کے دن سے پہلے حضرت عیسیٰ علیہ السلام بحیثیت امام عادل نازل ہوں گے۔

(ابن کثیر ج ٢ ص ٤٧)

شاید یہاں کسی قاری کے دل میں یہ کھٹک پیدا ہو کہ جہاں ان کے رفع الی السماء کا ذکر آیا ہے۔ وہیں ان کے نزول کا ذکر کیوں نہیں آیا؟ اول تو یہ سوال کرنا ہی حماقت ہے۔ ایک جگہ ایک چیز کا بیان ہوا۔ دوسرے مقام پر دوسری چیز کا۔ کسی کو جرح و قدح کا کیا حق پہنچتا ہے؟ تاہم اس کا معقول جواب بھی موجود ہے۔ وہ یہ کہ آپ اوپر آیت: ١٥٨ سورہ نساء کے حوالہ سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے رفع الی السماء کا ذکر پڑھ چکے ہیں۔ اس کے بعد متصل ہی آیت ١٥٩ کو پڑھئے۔ اس کے یہ الفاظ آپ کے سامنے ہیں۔

"وان من اهل الکتب الا لیؤمنن به قبل موتہ" اس کا ترجمہ امام الہند شاہ ولی اللہ دہلوی قدس سرہ یوں فرماتے ہیں: ”نباشد هیچ کس از اهل کتاب، الا، البته ایمان آورد بعیسیٰ پیش از مردن عیسیٰ“

(فتح الرحمٰن)

اور تفسیری فوائد میں فرماتے ہیں: ”مترجم گوید یعنی یهودی که حاضر شوند نزول عیسیٰ را البته ایمان آورند“

(حوالہ بالا)

کتب تفسیر میں یوں تو دو احتمال بھی نقل کئے گئے ہیں۔ جن کی نہ واقعات سے تائید ہوتی ہے۔ نہ کلام کے سیاق و سباق سے، نہ روایات حدیث سے ان کا کوئی ثبوت ملتا ہے۔ نہ قرآن پاک کی دوسری کوئی آیت ان کی حمایت کرتی ہے۔ اس آیت کی صحیح اور بے غبار تفسیر یہی ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کے وقت جو اہل کتاب موجود ہوں گے۔ ان میں سے ہر آدمی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی وفات سے پہلے ان پر ایمان لے آئے گا اور یوں باقی ادیان ختم ہوکر

٢٤

ایک دین اسلام باقی رہ جائے گا۔ یہی تفسیر سیاق و سباق حدیث شریف سے بھی ہوتی ہے۔ اور قرآن پاک کے آہنگ ہے۔

علامہ ابن کثیرؒ، امام تفسیر ابن جریرؒ سے نقل کر

بالصحة القول الاول وهو انه لا یبقی احدا م علیہ السلام الا آمن بہ قبل موت عیسیٰ عل

﴿صحت کے اعتبار سے ان اقوال میں سب سے صحیح پہلا ق کے نزول کے بعد اہل کتاب میں سے کوئی ایسا باقی نہیں ر وفات سے پہلے ضرور ایمان لائے گا۔﴾

اور جہاں تک علامہ ابن کثیرؒ کی ذاتی رائے اسی تفسیر کو برحق اور صحیح قرار دیتے ہیں، دوسری کوئی با

الفاظ یہ ہیں:

"وهذا القول هو الحق کما سنبينہ تعالى وبہ الثقة وعلیہ التکلان۔

(ابن کثیر ج ٢ ص

عنقریب دلیل قطعی سے بیان کریں گے۔ انشاء اللہ۔ اور

اور چند سطور کے بعد فرماتے ہیں:

"ولا شک ان الذی قالہ ابن جری سیاق الایة فی تقریر بطلان ما ادعتہ الیہ من سلم لهم من النصارى الجهلة ذالک ب وانما شبہ لهم فقتلو الشبه وهم لا یتبینو حی وانه سینزل قبل یوم القيامة کما د سنوردها انشاء الله قريبا ...... فاخبرت اهل الکتاب حینئذٍ ولا یتخلف عن التصدی

﴿اس میں کوئی شک نہیں جو کچھ ابن جریرؒ نے فرمایا

٢٥

صفحہ ٨٥

ایک دین اسلام باقی رہ جائے گا۔ یہی تفسیر سیاق و سباق سے مناسبت رکھتی ہے۔ اس کی تائید حدیث شریف سے بھی ہوتی ہے۔ اور قرآن پاک کے دوسرے مقام (الزخرف: ٦١) سے بھی ہم آہنگ ہے۔

علامہ ابن کثیر، امام تفسیر ابن جریر سے نقل کرتے ہیں: ”واولی هذه الاقوال بالصحة القول الاوّل وهو انه لا يبقى احدا من اهل الكتاب بعد نزول عيسى عليه السلام الا أمن به قبل موت عيسى عليه السلام (تفسیر ابن کثیر ج ٢ ص ٤٠٢)“

﴿صحت کے اعتبار سے ان اقوال میں سب سے صحیح پہلا قول ہے اور وہ یہ کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کے بعد اہل کتاب میں سے کوئی ایسا باقی نہیں رہے گا مگر حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر ان کی وفات سے پہلے ضرور ایمان لائے گا۔﴾

اور جہاں تک علامہ ابن کثیر کی ذاتی رائے کا تعلق ہے۔ وہ تو نہایت شد و مد سے اسی تفسیر کو برحق اور صحیح قرار دیتے ہیں، دوسری کوئی بات سننے کے لئے تیار نہیں ہیں۔ ان کے الفاظ یہ ہیں:

”وهذا القول هو الحق كما سنبينه بعد بالدليل القاطع ان شاء الله تعالى وبه الثقة وعليه التكلان. (ابن کثیر ج ٢ ص ٤٠١)“ ﴿اور یہی قول ہی حق ہے جیسا کہ عنقریب دلیل قطعی سے بیان کریں گے۔ انشاء اللہ۔ اور اسی پر اعتماد اور بھروسہ ہے۔﴾

اور چند سطور کے بعد فرماتے ہیں:

”ولا شك ان الذى قاله ابن جرير هو الصحيح، لانه المقصود من سياق الآية فى تقرير بطلان ما ادعته اليهود من قتل عيسى وصلبه وتسليم من سلم لهم من النصارى الجهلة ذالك فاخبر الله انه لم يكن الامر كذالك وانما شبه لهم فقتلو الشبه وهم لا يتبينون ذالك ثم انه رفعه اليه وانه باق حى وانه سينزل قبل يوم القيامة كما دلت عليه الاحاديث المتواترة التى سنوردها ان شاء الله قريبا...... فاخبرت هذه الاية الكريمة انه يؤمن جميع اهل الكتاب حينئذٍ ولا يتخلّف عن التصديق به واحد منهم (ابن کثیر ج ٢ ص ٤٠٢)“

﴿اس میں کوئی شک نہیں جو کچھ ابن جریرؒ نے فرمایا ہے وہی صحیح ہے۔ کیونکہ ان آیات کے سیاق

٢٥

صفحہ ٨٦

وسباق سے یہی مقصود ہے کہ یہود جو دعویٰ کرتے تھے کہ انہوں نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو سولی پر چڑھا کر قتل کر دیا ہے۔ اور نادان نصارٰی میں سے کچھ لوگوں نے اس کو تسلیم کر لیا تو اللہ تعالیٰ نے خبر دی ہے کہ معاملہ اس طرح نہیں ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ان کو شبہ میں ڈال دیا گیا۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے مشابہ ایک انسان کو انہوں نے مار ڈالا اور انہیں اس بات کی حقیقت معلوم نہیں تھی۔ پھر اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو اپنی طرف اٹھا لیا۔ وہ بقی ہیں زندہ ہیں۔ اور یقیناً روز قیامت سے پہلے نازل ہوں گے۔ جیسا کہ احادیث متواترہ سے پتہ چلتا ہے۔ جو انشاء اللہ ہم قریب ہی بیان کریں گے۔ تو اس اس آیت کریمہ نے بتایا کہ اس وقت تمام اہل کتاب ایمان لے آئیں گے اور ان میں سے کوئی بھی پیچھے نہیں رہے گا۔﴾

چند سطور کے بعد پھر بڑے زور دار الفاظ میں اپنے موقف کو دہرایا ہے۔ اور کئی سطریں خرچ کر دی ہیں۔

(حوالہ بالا)

سورہ زخرف میں وہ پھر اس آیت کو تائید میں لا کر آیت : ٦١ ”وانہ لعلم للساعۃ“ کی تفسیر کرتے ہیں۔ !

اس مسئلہ میں حدیث کا سرسری مطالعہ

یہ تو آپ پیچھے سورہ کہف کے حوالہ سے پڑھ چکے ہیں کہ رسول اکرمﷺ عقیدہ ولدیت کے عواقب اور نتائج کو سوچ سوچ کر انتہائی کرب و درد کا سامنا فرماتے تھے، اس کے باوجود ذخیرہ حدیث پر سرسری نظر دوڑانے سے پتہ چل جاتا ہے کہ:

رہے۔ مکی زندگی سے لے کر دنیا سے تشریف لے جانے تک لگا تار اس کا اظہار ہوتا رہا۔

نزول مسیح علیہ السلام کی روایات کی ناقل ہے۔ اتنی بڑی تعداد تو شاید نماز کی تعداد رکعات اور اوقات نماز کی ناقل بھی نہیں ہوگی۔ یہ الگ بات ہے کہ وہ عمل سے تعلق رکھتے تھے۔ اس لئے انہیں تواتر عملی کا درجہ حاصل ہو گیا۔ یہ خالص علم کی بات تھی۔ پھر یہ ان کے زمانہ سے تعلق نہیں رکھتی تھی۔ قیامت سے متعلق ایک پیش گوئی تھی اور بیسیوں صحابہؓ کی روایات اس بارہ میں موجود ہیں۔ تو کیا ہم ان کو نظر انداز کر سکتے ہیں؟

٧٦

صفحہ ٨٧

دیر کی لونڈی تھی۔ موقع محل کے مطابق بات کرنے کا سلیقہ آپؐ سے زیادہ کس کو ہو سکتا تھا؟ اس بات کو ذہن نشین رکھتے ہوئے فرمودات ذیل پر غور کیجئے:

کہتے تھے کہ ہم نے مسیح ابن مریم علیہ السلام کو سولی پر چڑھا کر مار دیا ہے۔ تو ان سے آنحضرت ﷺ نے ارشاد فرمایا:

"ان عیسیٰ لم یمت، وانہ راجع الیکم قبل یوم القیامۃ (تفسیر ابن کثیر ج ٢ ص ٤٠)" ﴿یعنی بات ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام فوت نہیں ہوئے۔ اور وہ قیامت سے پہلے تمہارے پاس لوٹ کر آئیں گے۔﴾

"الستم تعلمون ان ربنا حی لا یموت وان عیسیٰ یاتی علیہ الفناء"

﴿کیا تمہیں معلوم نہیں کہ ہمارا رب تو ہمیشہ زندہ رہنے والا ہے۔ اس پر موت نہیں آئے گی۔ اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر تو موت آنی ہے۔﴾ (یوں نہیں فرمایا کہ وہ فوت ہو چکے ہیں بلکہ زمانہ مستقبل کی خبر دی ۔)

ارشاد فرمایا، کہیں بعث کا۔ اب ہر وہ شخص جسے اللہ نے عقل سلیم دی ہے۔ وہ سوچے تو ایک ہی حقیقت کا اس طرح انداز بدل بدل کر بیان فرمانا یہ حضرت عیسیٰ مسیح ابن مریم (علیہ وعلیٰ امہ السلام) کے بارے میں ہے یا کسی اور کے؟

یہ تو اس مسئلہ میں سرسری بات تھی۔ اب احادیث کی روشنی میں ہم اس مسئلہ کے مختلف اجزاء کو بیان کرتے ہیں۔ مقصد صرف اتنا ہے کہ دین سے بیزاری اور فکر آخرت سے غفلت کے اس دور کا کوئی شخص کل کو بارگاہ ایزدی میں پیش ہو کر یہ نہ کہہ سکے کہ کسی دلیل راہ نے ہماری راہ نمائی نہ کی تھی۔ "وما علینا الا البلاغ"

عقیدہ نزول مسیح علیہ السلام احادیث کی روشنی میں

بموقعہ معراج، حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا اپنے نزول کے بارے میں اطلاع دینا

حضرت عبداللہ بن مسعودؓ سے روایت ہے کہ: ”نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ : معراج کی

٢٧

صفحہ ٨٩

رات کو میری ملاقات حضرت ابراہیم، حضرت موسیٰ اور حضرت عیسیٰ (علیہم السلام) سے ہوئی۔ ان میں قیامت کے متعلق گفتگو ہوئی۔ انہوں نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کی طرف رخ کیا۔ انہوں نے کہا۔ مجھے اس کا کوئی علم نہیں۔ پھر حضرت موسیٰ علیہ السلام کی طرف رخ کیا تو انہوں نے بھی یہی فرمایا کہ مجھے اس کا کوئی علم نہیں۔ پھر بات حضرت عیسیٰ علیہ السلام تک پہنچی تو انہوں نے کہا: یہ تو اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا کہ اس کا وقوع کب ہوگا؟ البتہ میرے رب نے مجھ سے یہ فرمایا ہوا ہے کہ اس سے پہلے دجال نکلے گا۔ میں اتر کر اسے قتل کر دوں گا۔ (فانزل فاقتله) (اس کے بعد خروج یاجوج ماجوج کا ذکر ہے)“

(سنن ابن ماجہ ص٢٩٩، مسند احمد، مسند عبداللہ بن مسعودؓ ج١ ص٣٧٥، تفسیر ابن کثیر ج٢ ص٤٠٦،

تفسیر ابن کثیر ج٣ ص٩٦، فتح الباری ج١٣ ص٨٩، کتاب الفتن)

حافظ ابن کثیر جو آٹھویں صدی کے نامور مفسر، محدث اور مورخ ہیں لکھتے ہیں: ”وانما ردوا الامر الی عیسیٰ علیہ السلام فتکلم علی اشراطها لانه ینزل فی آخر هذه الامة منفذا لاحکام رسول الله ﷺ ویقتل المسیح الدجال....... فاخبر بما علمه الله تعالیٰ به (تفسیر ابن کثیر ج٢ ص١٧٤) ”ان حضرات نے قیامت کا معاملہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی طرف لوٹا دیا۔ اور انہوں نے علامات قیامت کے بارے میں گفتگو فرمائی۔ اس لئے کہ آپ اس امت کے آخر میں نازل ہوں گے۔ رسول اللہ ﷺ کے احکام کو نافذ فرمائیں گے۔ مسیح دجال کو قتل فرمائیں گے....... تو جو کچھ اللہ تعالیٰ نے انہیں بتا رکھا تھا اس کی خبر دے دی۔“

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا نزول کے بعد مسلمانوں کے امیر کے پیچھے نماز پڑھنا

حضرت جابرؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”ینزل عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام فیقول امیر هم تعال فصل لنا فیقول لا ان بعضکم علی بعض امراء تکرمة الله هذه الامة (مسلم شریف ج١ ص٨٧، مسند احمد باب نزول عیسیٰ علیہ السلام ج٢ ص٣٨٤، فتح الباری ج٦ ص٤٩٣، باب نزول عیسیٰ بن مریم علیہ السلام، تفسیر ابن کثیر ج٢ ص٤٠٧، باب نزول عیسیٰ ابن مریم علیہما السلام اور درمنثور میں حضرت عثمان بن ابی العاصؓ سے بھی مروی ہے) ”حضرت عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام اتر کر آئیں گے تو مسلمانوں

کے امیر ان سے کہیں گے تشریف لائیے ہمیں نماز پڑھائیے تو وہ کہیں گے نہیں! اللہ تعالیٰ نے اس امت کو یہ اعزاز بخشا ہے کہ تم میں بعض بعض کے امیر ہیں۔ (اس کا مطلب یہ ہے کہ مسلمانوں کے امیر حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے درخواست کریں گے کہ اے اللہ کے روح اللہ! آگے بڑھ کر نماز پڑھائیے۔ آپ فرمائیں گے: نہیں، اس نماز کی تکبیر ہو چکی ہے۔ نزول مسیح علیہ السلام کے وقت مسلمانوں کا امیر مہدی ہوگا)“

حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ: رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: کیف انتم اذا نزل ابن مریم فیکم وامامکم منکم (بخاری ج١ ص٤٩٠، باب نزول عیسیٰ، مسند احمد ج٢ ص٣٣٦، تفسیر ابن کثیر ج١ ص٥٧٨) ”اس وقت تمہارا کیا حال ہوگا جب ابن مریم تم میں نازل ہوں گے اور تمہارا امام تم میں سے ہوگا۔ (اس وقت تمہاری خوشی اور مسرت کی بات کیسی ہو جائے گی ورنہ تو ہم یہاں موجود ہیں)“

اس کی تشریح نقل کرتے۔

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا حلیہ مبارک

حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے معراج کا واقعہ اور دجال وغیرہ ان الفاظ میں بیان فرمایا: ”لم یکن بینی و بینه نبی (یعنی عیسیٰ) وانه نازل فاذا رایتموه فاعرفوه، رجل مربوع الی الحمرة والبیاض، ینزل بین ممصرتین کان رأسه یقطر وان لم یصبه بلل“ (سنن ابی داؤد ج٢ ص١٣٥، مسند احمد ج٢ ص٢٩٣، تفسیر ابن کثیر ج٢ ص٤٠٥) ”میرے اور عیسیٰ کے درمیان کوئی نبی نہیں۔ وہ اتر کر آئیں گے۔ جب تم انہیں دیکھو تو انہیں پہچان لینا۔ وہ درمیانے قد کے سرخ اور سفیدی کا امتزاج ہوگا۔ ان پر دو رنگ دار کپڑے ہوں گے۔ ان کے سر سے اس طرح پانی ٹپک رہا ہوگا گویا اس سے قطرے ٹپک رہے ہیں۔“

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی ایک صحابیؓ سے ملاقات

حضرت عبداللہ بن عمروؓ: یہ ایک طویل حدیث ہے

٢٨

صفحہ ٨٩

کے امیر ان سے کہیں گے تشریف لائیے ہمیں نماز پڑھائیں۔ تو آپ فرمائیں گے نہیں! اللہ تعالیٰ نے اس امت کو یہ اعزاز بخشا ہے کہ تم میں بعض بعض پر امیر ہیں۔ مسند احمد کے الفاظ اس طرح سے ہیں کہ مسلمانوں کے امیر حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے کہیں گے۔ ”تقدم یا روح اللہ“ ﴿روح اللہ! آگے بڑھ کر نماز پڑھائیے۔﴾ آپ فرمائیں گے تمہارا امام ہی تمہیں نماز پڑھائے۔

نزول مسیح علیہ السلام کے وقت مسلمانوں کا فرماں روا کون ہوگا؟

حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”کیف انتم اذا نزل ابن مریم فیکم وامامکم منکم (بخاری شریف ج١ ص٤٩٠، مسلم شریف ج١ ص٨٧، باب نزول عیسیٰ، مسند احمد ج٢ ص٣٣٦، تفسیر ابن کثیر ج٢ ص٤٠٧)“ ﴿تمہارا کیا حال ہوگا، جب ابن مریم تم میں نازل ہوں گے اور تمہارا امام تم میں سے ہوگا۔﴾

بات لمبی ہو جائے گی ورنہ تو ہم یہاں نوویؒ کی شرح مسلم اور علامہ ابن حجر کی فتح الباری سے اس کی تشریح نقل کرتے۔

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا حلیہ مبارک

حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا حلیہ وغیرہ ان الفاظ میں بیان فرمایا: ”لم یکن بینی وبینہ نبی، وانہ نازل، فاذا رایتموہ فاعرفوہ، رجل مربوع الی الحمرۃ والبیاض، علیہ ثوبان ممصران کان راسہ یقطر وان لم تصبہ بلل“ (سنن ابی داؤد ج٢ ص١٣٥، مسند احمد ج٢ ص٤٣٧، فتح الباری ج٦ ص٤٩٣، تفسیر ابن کثیر ج٢ ص٤٠٥)“ ﴿میرے اور ان کے درمیان کوئی نبی نہیں گزرا اور وہ یقیناً اتر کر آئیں گے۔ جب تم انہیں دیکھو تو انہیں پہچان لینا۔ وہ درمیانے قد کے ہوں گے۔ رنگ سرخی اور سفیدی کا امتزاج ہوگا۔ ان پر دو رنگ دار کپڑے ہوں گے۔ ان کے سر کو اگر چہ تری نہیں لگی ہوگی گویا اس سے قطرے ٹپک رہے ہیں۔﴾

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی ایک صحابیؓ سے صوری مماثلت

حضرت عبداللہ بن عمرؓ: یہ ایک طویل روایت ہے، جس میں مذکور ہے کہ

٢٥

صفحہ ٩١

عبداللہ بن عمرو کے پاس ایک آدمی آیا اور کہنے لگا: جناب! یہ کیا قصہ ہے کہ آپ کہتے ہیں فلاں فلاں وقت تک قیامت قائم ہو جائے گی؟ انہوں نے کہا سبحان اللہ۔ یا لا الہ الا اللہ! مجھے تو یوں خیال آتا ہے کہ کسی سے کوئی حدیث بیان نہ کروں میں نے تو صرف یہ کہا تھا کہ تھوڑے عرصہ بعد تم ایک بہت بڑی بات دیکھو گے۔ یہ ہوگا۔ یہ ہوگا۔ پھر کہا: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا دجال نکلے گا...... ”فيبعث الله عيسى ابن مريم كأنه عروة بن مسعود الثقفى، فيطلبه فيهلكه“ ﴿تو (خروج دجال کے بعد) اللہ تعالیٰ حضرت عیسیٰ علیہ بن مریم علیہ السلام کو مبعوث فرمائیں گے۔ ان کی شکل ایسی ہوگی جس طرح کہ عروہ بن مسعود ثقفی ہیں۔﴾

(صحیح مسلم باب ذکر الدجال ج ٢ ص ٤٠٣، مسند احمد ج ٢ ص ١٦٦)

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کا مقام اور کیفیت

٦...... حدیث نواس بن سمعان

یہ بھی ایک طویل روایت ہے۔ ہم یہاں صرف اتنا بتانا چاہتے ہیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کہاں نزول فرمائیں گے؟ اور کس کیفیت میں؟ تو سنئے!

”ایک روز رسول اللہ ﷺ نے دجال کا ذکر فرمایا: ”فخفض فيه ورفع“ (یعنی ایک لحاظ سے اس کا معاملہ معمولی حیثیت سے پیش کیا اور ایک لحاظ سے اسے بہت اہمیت دی۔ اس کے بعد اس کے کوائف ذرا تفصیل سے بیان فرماتے ہوئے ارشاد فرمایا) ”اذ بعثه١ الله المسيح ابن مريم عليه السلام فينزل عند المنارة البيضاء شرقى دمشق، بين مهرودتين واضعا كفيه على اجنحة ملكين، اذا طاطأ راسه قطر، واذا رفع تحدر منه جمان كاللؤلو...... فيطلبه حتى يدركه عند باب لد فيقتله “

(باب ذكر الدجال مسلم شریف ج ٢ ص ٤٠١، ابن ماجہ ص ٢٩٧، ابوداؤد ج ٢ ص ١١٧، ترمذی ج ٢ ص ٤٨ باب

ماجاء فی فتنۃ الدجال، مسند احمد ج ٤ ص ١٨٣ تفسیر ابن کثیر باب خروج الدجال)

﴿اتنے میں اللہ تعالیٰ حضرت مسیح ابن مریم علیہ السلام کو بھیج دیں گے تو وہ دمشق سے مشرقی جانب سفید منارہ کے پاس اتریں گے۔ زعفرانی رنگ کے دو کپڑوں میں ہوں گے۔ اپنے

١؎ یہ ”بعث“ کا لفظ وہی ہے جو سورہ کہف میں اصحاب کہف کے بارے میں آیا ہے: ”وكذالك بعثناهم “ (آیت ١٩) ان لوگوں کا بعث ہو سکتا ہے۔ تو کیا داعی لوگوں کو تردد بھی حضرت مسیح علیہ السلام کے بارے میں پیش آگیا ہے؟ فیا للعجب!

٣٠

ہاتھ دو فرشتوں پر رکھے ہوئے۔ سر نیچے کریں گے تو اٹھائیں گے تو موتی جیسی چیز گرتی ہوئی نظر آئے گی کے دروازے تک پہنچ کر اسے مل جائیں گے تو اسے قتل

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا مقام نزول

٧...... حدیث اوس بن اوس

حضرت اوس بن اوس ثقفی سے روایت عيسى بن مريم عند المنارة البيضاء شر حرف الیاء) ﴿حضرت عیسیٰ ابن مریم (علیہما السلام اتریں گے۔﴾

حضرت مسیح بن مریم علیہ السلام نازل جواب سنئے!

نزول کے بعد حضرت عیسیٰ علیہ السلام ـ

٨...... حدیث ابو ہریرہ

حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ: بيده ليوشكن ان ينزل فيكم ابن مريم الخنزير ويضع الجزية ويفيض المال

عيسى عليه السلام، صحيح مسلم ج ١ ص ٧ ترمذی ج ٢ ص ٧، مسند احمد ج ٢ ص ٥٣٨ وخروج عيسىٰ) ” قسم ہے اس ذات کی ہے کہ ابن مریم ایک عادل حکمران کی حیثیت سے گے خنزیر کو مار ڈالیں گے جزیہ ختم کردیں گے۔ ہوگا۔﴾

صحاح ستہ میں یہ روایت تھوڑے تھـ حكما مقسطا کہیں امـاماً عادلاً کہیں امـ حضرات نے باب کی مناسبت سے الفاظ کم نقل

صفحہ ٩١

ہاتھ دو فرشتوں پر رکھے ہوئے۔ سر نیچے کریں گے تو قطرے ٹپکتے ہوئے معلوم ہوں گے۔ اوپر اٹھائیں گے تو موتی جیسی چیز گرتی ہوئی نظر آئے گی۔ وہ اس (دجال) کو تلاش کریں گے اور لد کے دروازے تک پہنچ کر اسے مل جائیں گے تو اسے قتل کر دیں گے۔ ﴾

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا مقام نزول

حضرت اوس بن اوس ثقفیؓ سے روایت ہے کہ: نبی اکرمﷺ نے فرمایا: ”ینزل عیسی بن مریم عند المنارة البیضاء شرقی دمشق (جامع صغیر ج ٢ ص ٢٠٦، بحوالہ طبرانی حرف الیاء)“ ﴿حضرت عیسیٰ ابن مریم (علیہما السلام) دمشق سے مشرقی جانب سفید منارہ کے پاس اتریں گے۔﴾

حضرت مسیح بن مریم علیہ السلام نازل ہو کر کیا کیا فرائض سرانجام دیں گے؟ اس کا جواب سنئے!

نزول کے بعد حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے فرائض

حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ: رسول اللہﷺ نے ارشاد فرمایا: ”والذی نفسی بیدہ لیوشکن ان ینزل فیکم ابن مریم حكماً مقسطا فیکسر الصلیب ویقتل الخنزیر ویضع الجزیۃ ویفیض المال (صحیح بخاری ج ١ ص ٤٩٠ باب نزول عیسیٰ علیہ السلام، صحیح مسلم ج ١ ص ٨٧، باب ماجاء فی نزول عیسیٰ علیہ السلام، ترمذی ج ٢ ص ٧، مسند احمد ج ٢ ص ٥٣٨، سنن ابن ماجہ ص ٢٩٩، باب فتنة الدجال وخروج عیسیٰ)“ ﴿ ”قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضے میں میری جان ہے! ضرور ہی قریب ہے کہ ابن مریم ایک عادل حکمران کی حیثیت سے تم میں نازل ہوں گے۔ پھر وہ صلیب کو توڑ دیں گے خنزیر کو مار ڈالیں گے جزیہ ختم کردیں گے۔ مال عام ہو جائے گا کہ اسے قبول کرنے والا نہ ہوگا۔﴾

صحاح ستہ میں یہ روایت تھوڑے تھوڑے لفظی تفاوت کے ساتھ آئی ہے۔ مثلاً کہیں حكما مقسطا کہیں اماما عادلاً کہیں لیوشکن ان ینزل، کہیں لینزلن، کہیں محدثین حضرات نے باب کی مناسبت سے الفاظ کم نقل کئے ہیں اور کہیں زیادہ۔ ایک روایت میں یہ الفاظ

٣١

صفحہ ٩٢

بھی آئے ہیں: "ويهلك الله الملل كلها الا الاسلام ويهلك المسيح الدجال (سنن ابي داؤد ج ٢ ص ١٣٥ باب خروج الدجال، مسند احمد ج ٢ ص ٤٠٦)" اللہ تعالیٰ اس (حضرت عیسیٰ علیہ السلام) کے زمانہ میں دین اسلام کے علاوہ دوسرے تمام مذاہب کو ختم کردیں گے اور حضرت عیسیٰ دجال کو بھی ہلاک کردیں گے۔

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا حج اور عمرہ

حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ: آنحضرت ﷺ نے ارشاد فرمایا: "والذي نفسي بيده! ليهلن ابن مريم بفج الروحاء حاجا او معتمرا او ليثنينهما (صحيح مسلم ج ١ ص ٤٠٨ باب جواز تقصير المعتمر، مسند احمد ج ٢ ص ٥٤٠) " قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ میں میری جان ہے! ابن مریم فجّ الروحاء کے مقام سے احرام باندھیں گے حج کا یا عمرہ کا یا دونوں کا۔

"فج الروحاء " مدینہ منورہ سے مکہ مکرمہ کو جاتے ہوئے بدر کے راستے میں ایک مقام آتا ہے۔

حضرت عیسیٰ علیہ السلام خروج یاجوج وماجوج کے بعد حج فرمائیں گے

حضرت ابو سعید خدریؓ سے روایت ہے کہ: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "ليحجن البيت وليعتمرن بعد خروج ياجوج وماجوج (مسند احمد ج ٣ ص ٩٢، حدیث ٢٣٧)" حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) بیت اللہ کا حج بھی کریں گے اور عمرہ بھی ، یاجوج ماجوج کے بعد۔

دس علامات قیامت، بشمول نزول مسیح علیہ السلام

حضرت حذیفہ بن اسید غفاریؓ بیان کرتے ہیں کہ ہم لوگ رسول اللہ کے بالاخانہ کے سایہ میں بیٹھے ہوئے تھے اور قیامت کا ذکر کر رہے تھے۔ آنحضرت ﷺ نے اوپر سے جھانک کر دیکھا تو ہماری آوازیں اونچی ہونے پر آپ ﷺ نے پوچھا کیا گفتگو کر رہے ہو؟ ہم نے عرض کیا کہ حضور! قیامت کا ذکر کر رہے ہیں۔ تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا:

٣٢

صفحہ ٩٣

”لن تقوم حتى تكون قبلها عشر آيات طلوع الشمس من مغربها وخروج الدابة، وخروج ياجوج وماجوج والدجال وعيسى بن مريم والدخان وثلث خسوف، خسف بالمغرب، وخسف بالمشرق وخسف بجزيرة العرب، وآخر ذالك نار تخرج من قعر عدن تسوق الناس الیٰ المحشر (سنن ابی داؤد ج ٢ ص ١٣٤ باب امارات الساعة، مسلم کتاب الفتن والاشراط الساعة ج ٢ ص ٣٩٣، ترمذی ج ٢ باب ماجاء فی الخسف ص ٤١، ابن ماجه ص ٣٠٤، واللفظ لابی داؤد)“

﴿قیامت نہیں قائم ہوگی جب تک کہ تم اس سے پہلے دس نشانیاں نہ دیکھ لو: سورج کا مغرب کی سمت سے طلوع ہونا، دابۃ الارض کا ظاہر ہونا۔ یاجوج ماجوج کا نکلنا، دجال اور مسیح ابن مریم کا آنا، دھواں اٹھنا، زمین میں دھنس جانے کے تین اہم واقعات کہ: ایک واقعہ مغرب میں پیش آئے گا، ایک مشرق میں، اور ایک جزیرۃ العرب میں۔ آخر میں ایک آگ عدن کے نیچے سے نکلے گی اور لوگوں کو محشر کی طرف لے جائے گی۔﴾

١؎ طلباء کی اطلاع کے لئے عرض ہے کہ کتب حدیث میں ان علامات کی ترتیب مختلف آئی ہے۔ اصل حقیقت یہ ہے کہ قیامت کا تصور ہی روح فرسا ہے۔ حضرات صحابہ کرام ہوں یا بعد کے رواۃ حدیث، وہ اس حیثیت سے ان باتوں کو یاد نہیں کرتے تھے کہ کمرہ امتحان میں بیٹھ کر تحریر کرنا ہے۔ ہر شخص اندازہ لگا سکتا ہے کہ جب دل ودماغ پر دہشت طاری ہو تو اس کے دور رس اثرات کیا کیا نتائج دکھاتے ہیں؟۔

٢؎ اوپر آپ نے سورج کا مغرب سے طلوع ہونا پڑھا ہے۔ حوالہ تو مستحضر نہیں ہے۔ لیکن راقم الحروف نے (غالباً حضرت شیخ الاکبر کا قول) کہیں پڑھا ہے کہ ہر وہ چیز جس کی حرکت مستدیرہ ہو۔ اگر اس کی حرکت روک دی جائے تو وہ چیز پیچھے کو لوٹ آتی ہے۔ اس لئے عقلاً سورج کا مغرب سے طلوع ہونا کچھ بھی بعید نہیں ہے۔ ویسے عالم دنیا کا پورا نظام معطل ہو جائے گا۔ ستارے ٹوٹ کر گر پڑیں گے پہاڑ روئی کے گالوں کی طرح اڑتے ہوئے نظر آئیں گے۔ اجرام فلکی بھی تباہ ہو کر رہ جائیں گے۔ عالم سفلی بھی تہ و بالا ہو جائے گا۔ وغیرہ وغیرہ!

٣٤٣

صفحہ ٩٤

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی وفات، نماز جنازہ اور تدفین

١٢.......حدیث ابو ہریرہؓ

حضرت ابو ہریرہؓ سے رسول اللہ ﷺ کا ایک طویل فرمان نقل کیا گیا ہے، جس میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا حلیہ، فرائض اور ان کے زمانہ کی برکات نقل کرنے کے بعد ارشاد فرمایا گیا ہے: ”ثم يتوفى ويصلى عليه المسلمون ويدفنونه (مسند احمد ج ٢ ص ٤٣٧، سنن ابی داؤد ج ٢ ص ١٣٥ باب خروج الدجال ) ” پھر ان کی وفات ہو جائے گی اور مسلمان ان کی نماز جنازہ ادا کر کے انہیں دفن کریں گے۔﴾

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی ازدواجی زندگی، اولاد اور پھر وفات

١٣.......حدیث ابن عمرؓ

حضرت عبداللہ بن عمرؓ آنحضرت ﷺ کا یہ فرمان بھی نقل فرماتے ہیں کہ: حضرت عیسیٰ علیہ السلام نازل ہو کر شادی کریں گے اور ان کی اولاد بھی ہوگی، پھر وہ فوت ہوں گے اور میرے مقبرہ میں دفن ہوں گے۔ تو میں اور حضرت عیسیٰ، ابو بکرؓ و عمرؓ کے درمیان اٹھیں گے۔

(مشکوۃ شریف باب نزول عیسیٰ ص ٤٨٠ بحوالہ ابن الجوزی)

علامہ سمہودیؒ نے اپنی مشہور کتاب ”وفاء الوفاء باخبار دار المصطفیٰ“ میں اس کی مزید تفصیل بیان کی ہے۔

(دیکھئے وفاء الوفاء ج ٢ ص ٨٨٨)

حضرت شیخ عبدالحق محدث دہلوی قدس سرہ شرح مشکوۃ شریف میں فرماتے ہیں کہ روایات میں آیا ہے کہ مقبرہ شریف کے اندر ایک قبر کی خالی جگہ ہے اور یہ جگہ اور کسی کو میسر نہیں آئی۔ چنانچہ حضرت حسنؓ کو وہاں دفن کرنا چاہا گیا۔ حضرت عائشہ صدیقہؓ بھی رضامند ہو گئیں۔ مگر انہیں وہاں دفن نہ کیا جا سکا۔ ان سے پہلے حضرت عبدالرحمن بن عوفؓ (جو سیدنا حضرت عثمانؓ کے زمانہ میں فوت ہوئے تھے اور زندگی میں ازواج مطہراتؓ کی کفالت فرماتے رہے) ان کے لئے بھی ام المومنین حضرت عائشہؓ رضامند ہو گئی تھیں۔ مگر وہ بھی وہاں دفن نہ ہو سکے۔ پھر جب حضرت عائشہؓ کی وفات کا وقت قریب آیا تو ان سے کہا گیا کہ آپ کو آپ کے حجرہ میں دفن کیا جائے؟ فرمایا: نہیں! مجھے جنت البقیع میں دوسری ازواج مطہراتؓ کے ساتھ دفن کرنا۔ کہتے ہیں کہ حکمت یہی تھی کہ یہ جگہ تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے لئے تھی۔

(اشعۃ اللمعات)

٣٤

صفحہ ٩٥

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا مقام دفن بروئے تورات

١٤.......حدیث عبداللہ ابن سلام

حدیث کے طلبہ کو معلوم ہوگا کہ حضرت عبداللہ بن سلام، یہود کے لاثانی عالم تھے۔ آنحضرتﷺ مدینہ منورہ تشریف لے آئے تو انہوں نے علامات نبوت کو دیکھ کر اسلام قبول کرلیا۔ آپ کی وفات ٤٣ھ میں ہوئی۔ آپ کے بارے میں رسول اللہ نے فرمایا تھا: ”انہ من اہل الجنۃ“

(بخاری ج ١ ص ٥٣٨ باب مناقب عبداللہ بن سلام)

یہی حضرت عبداللہ بن سلام فرماتے ہیں کہ: ”توراۃ میں آنحضرتﷺ کی صفت لکھی ہوئی ہے اور یہ بھی حضرت عیسیٰ علیہ السلام آپ کے ساتھ دفن ہوں گے۔“ (جامع ترمذی ج ٢ ص ٢٠٢)

سند حدیث کے ایک راوی ابو مودودؒ کہتے ہیں کہ روضہ اقدس کے اندر ایک قبر کی جگہ موجود ہے۔

قارئین کرام! آگے بڑھنے سے پہلے انہی حضرت عبداللہ بن سلامؓ کے بارے میں ایک بات اور بھی سن لیں۔

جب سیدنا عثمان بن عفانؓ کے قتل کا ارادہ کیا گیا تو حضرت عبداللہ بن سلامؓ ان کے پاس گئے۔ حضرت عثمانؓ نے پوچھا کیسے آئے؟ جواب دیا: تاکہ آپ کی کوئی مدد کرسکوں! حضرت عثمانؓ نے فرمایا: تو اندر آنے سے بہتر ہے کہ آپ باہر جا کر بلوائیوں کو سمجھائیں! چنانچہ آپ باہر چلے گئے لوگوں سے مخاطب ہو کر فرمایا کہ: ”لوگو میرا نام پہلے کچھ اور تھا۔ رسول اللہﷺ نے میرا نام عبداللہ رکھا، قرآن پاک کی دو آیتیں میرے بارے میں نازل ہوئی تھیں:

”وشہد شاہد من بنی اسرائیل علیٰ مثلہ فآمن واستکبرتم ان اللہ لا یہدی القوم الظالمین (الاحقاف:١٠)“ ﴿اور بنی اسرائیل میں کوئی گواہ اس جیسی کتاب پر گواہی دے کر ایمان لے آوے اور تم تکبر ہی میں رہو۔ بے شک اللہ تعالیٰ بے انصاف لوگوں کو ہدایت نہیں کیا کرتا۔﴾

”قل کفیٰ باللہ شہیداً بینی وبينكم ومن عندہ علم الکتاب (الرعد:٤٣)“ ﴿آپﷺ فرما دیجئے کہ میرے اور تمہارے درمیان اللہ تعالیٰ اور وہ شخص جس کے پاس کتاب کا علم ہے کافی گواہ ہیں۔﴾

دیکھو! اس وقت تک اللہ کی تلوار میان میں ہے۔ فرشتے تمہارے اس شہر میں

٣٥

صفحہ ٩٧

تمہارے ہمسائے ہیں۔ یہ وہ شہر ہے کہ جس میں رسول اللہ ﷺ تشریف لے آئے ۔ تو تم اللہ سے ڈرو اس شخص کے بارے میں۔ اگر تم نے اسے قتل کر دیا تو تم اپنے ہمسایہ فرشتوں کو بھگا دو گے اور اللہ کی وہ تلوار جو اس وقت میان میں ہے ۔ اسے باہر نکال لو گے اور پھر قیامت تک وہ میان میں نہیں جائے گی۔

یہ سن کر بلوائیوں نے کہا: اس یہودی کو بھی قتل کر دو اور عثمان کو بھی قتل کر دو۔ (ترمذی

شریف ج ٢ ص ٢٢٠ باب مناقب عبداللہ بن سلام)

قارئین کرام! پڑھ لیا آپ نے اس روایت کو ، نعوذ باللہ! یہ ملا دو پیازے کی روایت یا کسی ناول سے نقل نہیں کی گئی۔ حدیث کی ایک نہایت معتبر کتاب سے نقل کی گئی ہے۔ اب ذرا تاریخ اسلام کا مطالعہ کیجئے اور دیکھئے کہ توراۃ کے ایک جلیل القدر عالم ، رسول اللہ ﷺ کے فرمان کے مطابق ایک جنتی صحابی ، ائمہ محدثین کے ممدوح ، بلکہ ”من عنده علم الکتاب “ کہہ کر اللہ رب العزت نے جس کو گواہ بنا کر پیش کیا۔ ان کی وہ پیش گوئی کس طرح پوری ہوئی ادھر وہی امام حدیث ، تورات کے حوالہ سے نقل کر رہے ہیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی وفات ہو گی تو وہ آقائے دو جہاں ﷺ کے ساتھ دفن ہوں گے۔ اب قارئین فیصلہ کر لیں کہ وہ سیدنا عبداللہ بن سلام کی بات کو مانیں گے یا اس انشاء پرداز کی جو عقیدہ نزول مسیح علیہ السلام کو یہود اور شیعہ کی سازش کا نتیجہ قرار دیتا ہے؟

آنحضرت ﷺ کا حضرت عیسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام کو سلام بھیجنا

حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: مجھے امید ہے کہ اگر مجھے عمر نے مہلت دی تو میری ملاقات عیسیٰ بن مریم علیہ السلام سے ہو جائے گی۔ اگر میرا وقت پہلے آ گیا تو جو شخص تم (یعنی میری امت) میں سے ان سے ملے۔ انہیں میری طرف سے سلام کہہ

دے۔ (مسند احمد مبوب ج ٣ ص ٨٩)

حضرت ابوہریرہؓ کی وفات کا وقت آیا تو انہوں نے اپنی طرف سے بھی اپنے شاگرد کو سلام دے دیئے۔

یہ حدیث دو سندوں کے ساتھ مسند احمد میں آئی ہے۔ علامہ ہیثمی نے مجمع الزوائد میں اس کو نقل کر کے لکھا ہے کہ یہ حدیث مرفوعاً اور موقوفاً دونوں طرح صحیح ہے اور دونوں کے

٣٦

رجال ، رجال الصحیح ہیں۔

برصغیر پاک و ہند میں علم حدیث کی اشاعت قدس سرہ کی مرہون منت ہے۔ ارشاد فرماتے ہیں: ”و عيسى بن مريم فليقرئه منى السلام “ ایں فقیر آرزوئے تمام دارد کہ اگر ایام حضر کند من باشم، و اگر من آں را نہ در یابم ہر کسے کہ از آنحضرت دریابد ، حرص تمام کند در تبلیغ سلام تا کہ بہ آخر من اتبع الهدی۔ (المقالة الوضيئة فی النصیحہ ص ٢٣١) ﴿حدیث میں منقول ہے کہ تم میں سے جو شخ چاہئے کہ وہ میری طرف سے ان کو سلام پہنچائے ۔ ا عرض کرتا ہے کہ اگر تو مجھے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے آپ ﷺ کا سلام عرض کروں گا۔ اور اگر میں اس وق شخص بھی اس برکت نشان زمانہ کو پائے وہ حضر پہنچانے میں حرص کرے۔ تا کہ ہم آنحضرت ﷺ والسلام على من اتبع الهدی!﴾

ختم نبوت کے ساتھ نزول مسیح علیہ السلام

حضرت ابی امامہ باہلیؓ کی روایت، یہ ای کے چند جملے ہم یہاں نقل کرتے ہیں:

حضرت ابو امامہؓ فرماتے ہیں کہ رسول حصہ دجال کے بارے میں تھا۔ آپ نے ہمیں ا چنانچہ آپؐ کے ارشاد گرامی میں یہ بھی تھا کہ کتیبہ ١ دجال کے فتنہ سے بڑا کوئی فتنہ پیش نہیں آیا ۔ اللہ تا

حماسہ کے قدیم عربی کلام میں کتائب کا لفظ اسی معنی

صفحہ ٩٧

رجال، رجال الصحیح ہیں۔ برصغیر پاک وہند میں علم حدیث کی اشاعت امام الہند حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی قدس سرہ کی مرہون منت ہے۔ ارشاد فرماتے ہیں: ”در حدیث آمدہ است من ادرک منکم عیسی بن مریم فلیقرئہ منی السلام“ ایں فقیر آرزوئے تمام دارد کہ اگر ایام حضرت روح اللہ را دریابد، اول کسے کہ تبلیغ سلام کُند من باشم، واگر من آں را نہ در یافتم ہر کسے کہ از اولاد یا اتباع ایں فقیر زمان بہجت نشان آنحضرت دریابد، حرص تمام کند در تبلیغ سلام تا کتیبہ آخرہ از کتائب محمدیہ ما باشیم، والسلام علی من اتبع الہدیٰ۔ (المقالۃ الوضیئۃ فی النصیحۃ والوصیۃ شامل تفہیمات الہیہ ج ٢ ص٢٣١) ﴿ حدیث میں منقول ہے کہ تم میں سے جو شخص نزول عیسیٰ علیہ السلام کا وقت پائے اسے چاہئے کہ وہ میری طرف سے ان کو سلام پہنچائے۔ اس لئے یہ فقیر بھی ان احادیث کی روشنی میں عرض کرتا ہے کہ اگر تو مجھے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کا زمانہ میسر آگیا تو سب سے پہلے میں آپ ﷺ کا سلام عرض کروں گا۔ اور اگر میں اس وقت نہ ہوا تو اس فقیر کی اولاد اتباع میں سے جو شخص بھی اس برکت نشان زمانہ کو پائے وہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو آنحضرت ﷺ کا سلام پہنچانے میں حرص کرے۔ تاکہ ہم آنحضرت ﷺ کے سپاہیوں کا آخری دستہ بن جائیں۔ والسلام علی من اتبع الھدی! ﴾

ختم نبوت کے ساتھ نزول مسیح علیہ السلام کی تفصیلات

حضرت ابی امامہ باہلیؓ کی روایت، یہ ایک طویل اور نہایت جامع روایت ہے۔ جس کے چند جملے ہم یہاں نقل کرتے ہیں:

حضرت ابو امامہؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں خطبہ دیا اور خطبہ کا زیادہ تر حصہ دجال کے بارے میں تھا۔ آپؐ نے ہمیں اس کے بارے میں بتا کر ہمیں ہوشیار کر دیا۔ چنانچہ آپؐ کے ارشاد گرامی میں یہ بھی تھا کہ جب سے اللہ تعالیٰ نے اولادِ آدم کو پیدا فرمایا ہے دجال کے فتنہ سے بڑا کوئی فتنہ پیش نہیں آیا۔ اللہ تعالیٰ نے جو بھی نبی بھیجا وہ اپنی امت کو ڈراتا

١؎ ”کتیبة“ کے معنی ہیں: فوج یا پولیس کا دستہ۔ اس کی جمع کتائب آتی ہے۔ دیوان حماسہ کے قدیم عربی کلام میں کتائب کا لفظ اسی معنی سے آیا ہے۔

٣٧

صفحہ ٩٨

چلا آیا۔ اور ”انا اخر الانبیاء وانتم اخر الامم“ میں آخری نبی ہوں اور تم آخری امت ہو اور لا محالہ وہ تم میں نمودار ہوگا۔ (آگے سولہ سترہ سطروں میں اس کی تفصیلات چلی گئی ہیں)

اس وقت مسلمانوں کا ایک امام ایک نیک آدمی ہوگا۔ وہ نماز پڑھانے کے لئے آگے بڑھ چکا ہوگا کہ صبح کی نماز کے وقت عیسیٰ بن مریم علیہ السلام نزول فرمائیں گے۔ وہ امام پچھلے پاؤں لوٹ آنا چاہیں گے۔ تاکہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام آگے بڑھ کر نماز پڑھائیں۔ وہ اپنا ہاتھ اس امام کے کندھوں کے درمیان رکھیں گے اور فرمائیں گے۔ تم آگے رہو۔ کیونکہ اس کی اقامت تمہارے لئے کہی گئی ہے۔ تو وہ امام انہیں نماز پڑھائیں گے۔

جب وہ نماز سے فارغ ہو جائیں گے تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام فرمائیں گے۔ (قلعہ کا) دروازہ کھول دو! دروازہ کھول دیا جائے گا تو دجال ستر ہزار یہودیوں کے ساتھ کھڑا ہوا ہوگا۔ ہر یہودی مسلح ہوگا اور طیالسہ میں ہوگا۔ جب دجال آپ کو دیکھے گا تو وہ اس طرح نرم ہو کر پگھل جائے گا جس طرح کہ نمک پانی میں گھل جاتا ہے۔ اب وہ بھاگنا چاہے گا۔ مگر حضرت عیسیٰ علیہ السلام اسے (یہ بتائیں گے) کہ تو میرے حملہ سے بچ نہیں سکتا۔ چنانچہ آپ اس کا تعاقب کریں گے۔ لد شرقی کے پاس اس کو جالیں گے اور اسے قتل کر دیں گے۔ یوں اللہ تعالیٰ یہود کو شکست دیں گے کوئی یہودی، اللہ کی مخلوق میں سے کسی چیز کی پناہ لینے کی کوشش کرے گا تو وہ اسے پناہ نہیں دے گا۔ (سوائے ایک خاردار درخت کے)

(اس کے بعد رسول اللہ ﷺ نے زمانہ خروج دجال میں نماز کے احکام اور مسائل بیان فرمائے) پھر فرمایا کہ یوں عیسیٰ بن مریم علیہ السلام میری امت میں ایک باانصاف حکمران اور عادل فرماں روا ہوں گے۔ آپ صلیب کو توڑ دیں گے۔ خنزیر کو ہلاک کر دیں گے۔ (جزیہ (ٹیکس) معاف کر دیں گے۔ زکوٰۃ کا سلسلہ بند ہو جائے گا۔ انسانوں میں عداوت اور بغض کا خاتمہ ہو جائے گا۔ کوئی زہریلا جانور زہریلا نہ رہے گا۔ یہاں تک کہ کوئی بچی سانپ کو پکڑ لے گی تو وہ نقصان نہیں دے گا۔ بچی اگر شیر کے دانتوں میں ہاتھ ڈال دے گی تو وہ نقصان نہیں دے گا۔ بھیڑیا بکریوں میں رہ کر کتے کی طرح رکھوالی کرے گا۔ زمین امن و آشتی سے بھر جائے گی۔ جس طرح کہ برتن پانی سے بھر جاتا ہے۔ کلمہ ایک رہ جائے گا۔ اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ ہوگی۔ جنگ کا سلسلہ بند ہو جائے گا۔

٣٨

صفحہ ٩٩

امام ابن ماجہؒ فرماتے ہیں کہ میرے استاذ (محمد بن علی ابوالحسن طنافسیؒ) کہتے ہیں کہ میرے استاذ (عبدالرحمن جو راوی حدیث ہیں) فرماتے ہیں کہ یہ حدیث تو مدرس کو دی جائے تا کہ وہ درس گاہ میں بچوں کو پڑھائے۔" (سنن ابن ماجہ ص ٢٩٧، ٢٩٨ باب فتنۃ الدجال وخروج عیسیٰ)

سنن ابی داؤد میں پوری حدیث تو نہیں ہے۔ البتہ ج ٢ ص ٢٣٧ میں اس کے مضمون کی طرف اشارہ کر دیا گیا ہے۔

علامہ ابن حجر عسقلانیؒ نے بھی کہیں کہیں فتح الباری میں اس کے کچھ اجزاء نقل فرمائے ہیں۔ علامہ حافظ ابن کثیرؒ نے اپنی تفسیر میں یہ پوری حدیث نقل فرمائی ہے۔ اور پھر اس کی تائید میں کئی روایات مسلم شریف، مسند احمد اور جامع ترمذی سے نقل کی ہیں۔

(دیکھئے تفسیر ابن کثیر ج ٢ ص ٤٠٧، ٤٠٨)

حقیقت یہ ہے کہ خروج دجال سے لے کر نزول مسیح علیہ السلام اور ان کے دجال کو قتل کرنے تک، اگر اس پوری داستان کو Analyse کیا جائے تو ایک جز کئی کئی صحابہ کرامؓ سے مروی ہے۔ مثلاً دجال کا کانا ہونا کم و بیش چودہ صحابہ سے مروی ہے۔ جن میں یہ کبار صحابہؓ شامل ہیں:

٣٩

صفحہ ١٠١

اسی طرح نزول سیدنا مسیح علیہ السلام کے مختلف کوائف کے بیان کرنے والے حضرات صحابہ کرام کی ایک بڑی جماعت ہے۔ راقم السطور، حدیث کا ایک طالب علم ہونے کی حیثیت سے کم از کم دو درجن صحابہ کے اسماء گرامی گنوا سکتا ہے۔ اور بعض صحابہ کرام سے کئی کئی طرق سے یہ روایات منقول ہیں۔ جب کہ محدثین حضرات کی توجہ زیادہ تر عملی زندگی کے ان مسائل کی طرف تھی۔ جن کے بارے میں آخرت میں جواب دہی کرنا ہوگی۔ اس کے باوجود آپ دیکھئے کہ نماز دین کا ستون ہے۔ مگر اوقات نماز کی روایات کتنے صحابہ کرام سے مروی ہیں۔ فرض نماز کی رکعتوں: فجر ٢، ظہر ٤، عصر ٤، مغرب ٣، عشاء ٤ کے بارے میں کتنے صحابہ کرام کی روایات موجود ہیں؟ اگر وہاں امت کا عملی تواتر معتبر ہے تو وہ اعتقادی مسائل:

ابوداؤد ہو یا ترمذی، سنن نسائی ہو یا ابن ماجہ، سب میں ان کی تفصیلات درج ہیں۔

سیوطیؒ ان کی اہمیت کو بیان کریں۔ بالخصوص مسئلہ نزول مسیح علیہ السلام کی یہ کیفیت ہے کہ:

کر علامہ نسفیؒ اور تفتازانیؒ تک سب اس کو امت اسلامیہ کے عقائد میں درج فرماتے ہیں۔

حسن خانؒ تک، سب احادیث کا تواتر نقل کرتے ہیں۔

دیگر حضرات شد ومد سے ان باتوں کے معتقد ہوں۔

تو سوال یہ ہے کہ کیا پھر بھی کسی واہمی کے لئے عقیدہ نزول سیدنا مسیح علیہ السلام میں شک و شبہ کی گنجائش رہ جاتی ہے؟ کیا کسی کو یہ کہنے کا حق پہنچتا ہے کہ: ”نزول مسیح کا عقیدہ بالکل غلط اور بے بنیاد ہے ۔“

یا پھر یہ تفصیلات معلوم ہو جانے کے بعد کہ:

٤٠

مشرقی جانب اتریں گے۔

فرمائیں گے۔

سے باز آجائیں گے۔ مال کی فراوانی ہو گی لوٹ کھسو

کریں گے۔ یوں دنیا کو پتہ چل جائے گا کہ آقائے

گے تاکہ بنی اسرائیل اور بنو اسماعیل سب ایک ہو جا

میں اس کا کوئی نشان نہیں ملتا۔ شادی کے بعد آپ ک

قیامت کے روز دونوں حضرات، شیخین (یعنی جناب یوں قرآن پاک اور ذخیرہ حدیث میں آئی ہوئی پیشی کیا اب بھی اور کسی کے لئے گنجائش ہونے کا دعویٰ کرے؟ اور اگر کوئی دعویٰ کرے تو ہے؟

سورج گرہن کے موقع پر آنحضرت ﷺ

١٧...... حدیث سمرہؓ بن جندبؓ

حضرت سمرہؓ بن جندبؓ رسول اکر

١؎ شیخین کا لفظ اگر حضرات صحابہ کی جم عمرؓ مراد ہوتے ہیں۔ اگر فقہ حنفی میں یہ لفظ آئے تو گے۔ محدثین کی جماعت میں کسی کے لئے بولا جای

صفحہ ١٠١

مشرقی جانب اتریں گے۔

فرمائیں گے۔

سے باز آ جائیں گے۔ مال کی فراوانی ہوگی لوٹ کھسوٹ کا دور ختم ہو جائے گا۔

کریں گے۔ یوں دنیا کو پتہ چل جائے گا کہ آقائے دو جہاںﷺ نبی الانبیاء بھی ہیں۔

گے تاکہ بنی اسرائیل اور بنو اسماعیل سب ایک ہو جائیں گے۔

میں اس کا کوئی نشان نہیں ملتا۔ شادی کے بعد آپ کی اولاد بھی ہوگی۔

قیامت کے روز دونوں حضرات، شیخین یعنی جناب ابو بکرؓ اور جناب عمرؓ کے درمیان اٹھیں گے۔

یوں قرآن پاک اور ذخیرہ حدیث میں آئی ہوئی پیشین گوئیوں کی تکمیل ہوگی۔

کیا اب بھی اور کسی کے لئے گنجائش رہ جاتی ہے کہ ناحق (Unduly) مسیح موعود ہونے کا دعویٰ کرے؟ اور اگر کوئی دعویٰ کرے تو بدرستی ہوش و حواس، اس کو درست تسلیم کیا جاسکتا ہے؟

سورج گرہن کے موقع پر آنحضرتﷺ کا ایک جامع خطبہ

حضرت سمرہ بن جندبؓ رسول اکرمﷺ کا ایک اہم خطبہ نقل کرتے ہیں: حضرت سمرہ

١؎ شیخین کا لفظ اگر حضرات صحابہ کی جماعت کے لئے آئے تو حضرت ابوبکرؓ اور حضرت عمرؓ مراد ہوتے ہیں۔ اگر فقہ حنفی میں یہ لفظ آئے تو حضرت امام ابو حنیفہؒ اور امام ابو یوسفؒ مراد ہوں گے۔ محدثین کی جماعت میں کسی کے لئے بولا جائے تو حضرت امام بخاریؒ اور امام مسلمؒ ۔

٤١

صفحہ ١٠٣

بن جندب ایک جلیل القدر صحابی ہیں۔ ان کے بارے میں لکھا ہے ”کان من الحفاظ المكثرين من رسول اللہ ﷺ“ (الاکمال) اخیر ٥٩ھ میں بصرہ میں ان کی وفات ہوئی۔ کتب حدیث میں ایک واقعہ درج ہے۔ جو مستدرک حاکم میں ایک جگہ مذکور ہے۔ مگر مسند احمد میں دو جگہ آیا ہے۔

بصرہ کے رہنے والے ایک صاحب ثعلبہ بن عباد (تابعی) کہتے ہیں کہ حضرت سمرہؓ نے جمعہ کے خطبہ میں ایک طویل روایت بیان کی کہ ایک دفعہ میں اور ایک انصاری نوجوان نشانہ بازی کر رہے تھے۔ سورج ابھی دو تین نیزے کے برابر اوپر آیا تھا کہ اسے گرہن لگ گیا سیاہ ہو کر تنومہ (ایک بوٹی کا نام ہے) کی طرح ہو گیا۔ ہم میں سے ایک نے کہا کہ آؤ ہم مسجد کو چلیں۔ سورج کی اس کیفیت کی وجہ سے ضرور رسول اللہ ﷺ کچھ ارشاد فرمائیں گے۔ ہم مسجد گئے تو آپ ﷺ تشریف لا چکے تھے۔ آپ آگے بڑھے۔ آپؐ نے ہمیں طویل قیام سے نماز پڑھائی پھر آپ نے طویل رکوع فرمایا۔

آنحضرت ﷺ کے صاحبزادہ گرامی قدر سیدنا ابراہیم کی وفات ہوئی۔ آپ حضرت ماریہ قبطیہؓ کے بطن سے تھے۔ ذی الحجہ ٨ھ میں ولادت ہوئی۔ اور کم و بیش ڈیڑھ سال کے ہو کر وفات پا گئے۔ اللہ کے محبوب ﷺ نے صاحبزادہ کی وفات پر اشک بہا کر انہیں شہر خموشاں پہنچا دیا۔

بغیر نہیں رہ سکتا۔ صلوٰۃ کسوف کا ذکر تقریباً حدیث شریف کی ہر کتاب میں موجود ہے۔ شیطان بڑا فریب کار ہے وہ بنی آدم کو پھنسانے کے لئے مختلف داؤ پیچ استعمال کرتا ہے۔ بسا اوقات مخلص بن کر انسان کو اس کی قیمتی متاع سے محروم کر دیتا ہے۔ دراصل تاریخ کے ہر اہم واقعہ پر انسان کو سوچنے اور عبرت حاصل کرنے کی ضرورت ہے۔ مشکوٰۃ شریف اسی باب صلوٰۃ الخسوف میں ابو داؤد اور ترمذی کے حوالہ سے ایک روایت موجود ہے۔ ام المومنین (غالباً حضرت صفیہؓ) کا انتقال ہوا۔ سیدنا عبداللہ بن عباسؓ کو اطلاع ملی تو فوراً سجدہ میں چلے گئے۔ ان سے پوچھا گیا تو انہوں نے رسول اللہ ﷺ کا یہ فرمان نقل کیا: ”اذا رايتم اية فاسجدوا“ اور فرمایا: ازواج مطہراتؓ کی وفات سے بڑی نشانی کون سی ہو سکتی ہے؟ رضی اللہ عنہم اجمعین! راقم السطور ایک مقلد حنفی ہے اور اس سلسلہ میں کئی اہم مضامین لکھ چکا ہے۔ مگر یہ عرض کر دینا ضروری سمجھتا ہے کہ طلبہ انہی بحثوں میں نہ الجھ کر رہ جائیں کہ صلوٰۃ الکسوف میں رکوع دو ہیں یا چار یا چھ، حدیث کی روح کو اولین حیثیت دیں۔

٤٢

دوسری رکعت میں بھی آپ نے ایسا ہی کیا۔ آ تھا۔ سلام پھیر کر آپؐ نے اللہ کی حمد و ثناء اور اپنی نبوت کا ذک ”لوگو! میں تمہیں اللہ کا واسطہ دیتا ہوں (سیدا کا اندازہ کیجئے! ساتھ ہی مشکوٰۃ شریف ص ٥٤٦ باب ال روایت بھی پڑھ لیجئے) اگر میں نے اللہ کا پیغام پہنچانے م میں اللہ کا پیغام۔ جس طرح کہ چاہئے۔ پہنچا دوں اور اگر ک پہنچا دیا ہے۔ تو بھی تم مجھے بتا دو۔ کچھ لوگ کھڑے ہو گئے کا پیغام پہنچا دیا ہے آپ نے امت کے ساتھ خیر خواہی فرض ادا فرما دیا ہے پھر وہ چپ ہو گئے۔

تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اما بعد! کچھ لوگ گرہن اور ستاروں کا اپنے اپنے مقام سے ہٹ جانا۔ ز سے پیش آتا ہے۔ مگر یہ جھوٹ ہے۔ درحقیقت یہ اللہ کی ان کے ذریعہ سے اپنے بندوں کو آزماتا ہے۔ وہ دیکھ سے باز آجاتے ہیں؟ اللہ کی قسم! جب سے میں یہاں و آخرت میں کیا پیش آنے والا ہے اور اللہ کی قسم! قیامت تیس کذاب نہ نکل آئیں۔ جن میں سے آخری کانا دجال

مرتبہ آگے بڑھے تھے اور ایک مرتبہ پیچھے ہٹے تھے۔ ص مجھے جنت بھی دکھائی گئی اور دوزخ بھی۔ طلبہ یہاں بھی جنت اور نار دیکھ لی۔ احادیث میں کہیں اریت کا لفظ آ ”جیء بالجنۃ“ اور ”جیء بالنار“ پھر یہ کہ م ہی مان گئے۔ آج کا مادہ پرست Materialist ،

کر کے دعوائے الوہیت پر اتر آئے گا۔

٤٣

صفحہ ١٠٣

دوسری رکعت میں بھی آپ نے ایسا ہی کیا۔ آپ تشہد کے لئے بیٹھے تو سورج کھل چکا تھا۔ سلام پھیر کر آپ نے اللہ کی حمد و ثناء اور اپنی نبوت کا ذکر فرما کر ارشاد فرمایا۔

”لوگو! میں تمہیں اللہ کا واسطہ دیتا ہوں (سید الاولین والآخرین ﷺ کے احساس فرض کا اندازہ کیجئے! ساتھ ہی مشکوٰۃ شریف ص ٤٣٦ باب الامر بالمعروف میں سیدنا ابو بکر صدیق کی روایت بھی پڑھ لیجئے) اگر میں نے اللہ کا پیغام پہنچانے میں کوئی کوتاہی کی ہو تو تم مجھے بتا دو تا کہ میں اللہ کا پیغام۔ جس طرح کہ چاہئے۔ پہنچا دوں اور اگر تم یہ سمجھتے ہو کہ میں نے اپنے رب کا پیغام پہنچا دیا ہے۔ تو بھی تم مجھے بتا دو۔ کچھ لوگ کھڑے ہو گئے اور انہوں نے کہا: حضور! آپ نے رب کا پیغام پہنچا دیا ہے آپ نے امت کے ساتھ خیر خواہی میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ آپ نے اپنا فرض ادا فرما دیا ہے پھر وہ چپ ہو گئے۔

تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اما بعد! کچھ لوگ یہ خیال کرتے ہیں کہ سورج گرہن یا چاند گرہن اور ستاروں کا اپنے اپنے مقام سے ہٹ جانا۔ زمین پر بڑے آدمیوں کے مر جانے کی وجہ سے پیش آتا ہے ١؎ مگر یہ جھوٹ ہے۔ درحقیقت یہ اللہ کی نشانیوں میں سے نشانیاں ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان کے ذریعہ سے اپنے بندوں کو آزماتا ہے۔ وہ دیکھتا ہے کہ بندوں میں سے کون کون گناہوں سے باز آجاتے ہیں؟ اللہ کی قسم! جب سے میں یہاں کھڑا ہوا۔ میں نے دیکھا کہ تمہیں دنیا وآخرت میں کیا پیش آنے والا ہے ٢؎ اور اللہ کی قسم! قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہو گی جب تک کہ تیس کذاب نہ نکل آئیں۔ جن میں سے آخری کانا دجال ہوگا ٣؎ جس کی بائیں آنکھ یوں مٹی ہوئی

١؎ اس روز کچھ لوگوں نے صاحبزادہ حضرت ابراہیم کی وفات کو گہن کا سبب بتایا۔

٢؎ بخاری و مسلم اور دیگر کتب حدیث میں یہاں تک آتا ہے کہ رسول اکرم ﷺ ایک مرتبہ آگے بڑھے تھے اور ایک مرتبہ پیچھے ہٹے تھے۔ صحابہ کے پوچھنے پر ارشاد فرمایا کہ: اسی وقت مجھے جنت بھی دکھائی گئی اور دوزخ بھی۔ طلبہ یہاں بھی یاد رکھیں کہ آقا یوں نہیں فرماتے کہ میں نے جنت اور نار دیکھ لی۔ احادیث میں کہیں اریت کا لفظ آتا ہے۔ کہیں ”عرضت علی“ کہیں ”جیء بالجنۃ“ اور ”جیء بالنار“ پھر یہ کہ صحابہ کرام کا ایمان بالغیب قوی تھا۔ وہ تو سنتے ہی مان گئے۔ آج کا مادہ پرست Materialist, TV ہی سے سبق لے لے۔

٣؎ بعض روایات کے مطابق دجال کے دعوؤں کا آغاز نبوت سے ہوگا اور پھر ترقی کر کے دعوائے الوہیت پر اتر آئے گا۔

٤٣

صفحہ ١٠٥

ہوگی جس طرح کہ فلاں آدمی کی ہے۔ (بات کی وضاحت کے لئے آپ نے ایک آدمی کی طرف اشارہ کیا جو آپ کے اور حضرت عائشہ کے حجرہ کے درمیان بیٹھا ہوا تھا ٧ے) جب وہ نکلے گا تو دعویٰ کرے گا کہ وہ خدا ہے۔ جو اس پر ایمان لائے گا تو اس کا پہلے کا نیک عمل اسے کوئی فائدہ نہ دے گا اور جو اس کی تکذیب کرے گا تو پہلے کا کوئی گناہ اسے نقصان نہ دے گا۔ پھر وہ زمین پر چھا جائے گا۔ اتنے میں حضرت عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام نازل ہوں گے ...... اور اس سے پہلے تم اور بھی کئی چیزیں بڑی اہم دیکھو گے۔ تم آپس میں ایک دوسرے سے پوچھو گے۔ کیا نبی پاک نے اس بارے میں کچھ ارشاد فرمایا تھا؟ پھر پہاڑ اپنی جگہ سے ہٹ جائیں گے اور پھر قیامت قائم ہو جائے گی۔

حضرت ثعلبہ کہتے ہیں: میں دوسرے خطبہ میں پھر پہنچا، حضرت سمرہ نے پھر یہی خطبہ دیا۔ ایک لفظ آگے پیچھے نہیں ہوا۔ مستدرک حاکم میں یہ دونوں قصے خروج دجال اور نزول سیدنا مسیح علیہ السلام یکجا بیان ہیں۔ مسند احمد میں دونوں باتوں کا ذکر الگ الگ ہے۔ (مسند احمد غیر مبوب ج ٥

ص ١٣، ١٦، مسند احمد مبوب ج ٦ ص ١٨٩ تا ١٩٢، حدیث ١٦٩٠، ج ٢٤، ص ٨٢، حدیث ٢١٩)

آمدیم بر سر مطلب۔ تو بات یہ ہو رہی تھی کہ رسول مقبول ﷺ کی عمر کے آخری حصہ میں سورج گرہن کا واقعہ پیش آیا۔ جس پر آپ نے صلوٰۃ کسوف پڑھائی اور ایک گراں قدر خطبہ ارشاد فرمایا۔ جس میں پہلے تو ایک غلط خیال کی تردید فرمائی۔ پھر توبہ اور استغفار کے ساتھ صدقات و خیرات کی تلقین فرمائی۔ اور اس کے بعد خروج دجال اور نزول سیدنا مسیح علیہ السلام کے متعلق پیشین گوئی فرمائی۔ چونکہ یہ دونوں واقعے قیامت کے لئے تمہید کی حیثیت رکھتے ہیں اور کسوف شمس، آج کے سائنسدانوں اور ماہرین جغرافیہ کے بتائے ہوئے نظام شمسی کے معطل ہو جانے (Upset) کی علامت ہے۔ جسے قرآن پاک نے ”اذا الشمس کورت“ سے تعبیر کیا ہے اور حدیث شریف میں ”طلوع الشمس من المغرب“ فرمایا گیا ہے۔ اس مناسبت سے آنحضرت ﷺ نے قیامت کی ان دو اہم نشانیوں کا ذکر فرما دیا۔

٧ے اس تمثیل سے مقصود اس صحابی کی تنقیص ہرگز نہ تھی۔ ممسوح العین ہونے کی وضاحت کے لئے اگر آقا نے ایک غلام کی طرف اشارہ فرما دیا تو کیا خیال ہے۔ سادہ مزاج غلام نے اس کو محسوس کیا ہو گا ؟ ہرگز نہیں!

٤٤

ہم لوگوں کی غفلت شعاری کا یہ عالم ہے گرہن کی پیشگی کی اطلاع پڑھ لیتے ہیں تو ہم اسے تصور کر کے بڑے پریم سے اپنی روز مرہ زندگی میں ضرورت سمجھتے ہیں۔ نہ تو بہ واستغفار ۔ نہ صدقہ وخیر روایات امام ترمذی کے مطابق تقریباً بیس صحابہ کرام خلیفہ راشد سیدنا علی المرتضیٰ، سیدہ عا حضرت ابی بن کعب، سیدنا مغیرہ بن شعبہ، سیدنا م انصاری، سیدنا ابو موسیٰ اشعری، سیدنا سمرہ بن جن بشیر، سیدنا قبیصۃ الہلالی، سیدہ اسماء بنت ابی بکر، ف یہاں ہر ایک بات اور بھی وضاحت ت ایک درجن حضرات صحابہ کرام سے منقول ہے۔ ا کیا ہے۔ بعض نے آگے تفصیل دی ہے کہ کس آ لفظ آیا ہے۔ اور کچھ میں بائیں کا۔ مگر دونوں کی ب ہے کہ بائیں آنکھ تو اس کی مٹی ہوئی ہوگی اور دا دانے کی طرح ابھری ہوئی ہوگی۔

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے ہمراہ جہاد

١٨...... حدیث ثوبان

سیدنا ثوبان رسول اللہ ﷺ کے آزا رہنے والے تھے۔ کہیں اٹھائی گیروں نے انہیں رسول اللہ ﷺ نے انہیں خرید کر آزاد فرما دیا۔ آنحضرت ﷺ کی طرف سے انہیں جنتی ہو ”کاروان جنت“ میں ان کا ذکر موجود ہے۔ یہ حضرت ثوبان ایک جماعت کے اللہ ﷺ نے فرمایا ہے:

صفحہ ١٠٥

ہم لوگوں کی غفلت شعاری کا یہ عالم ہے کہ ہم کبھی اخبارات میں سورج گرہن یا چاند گرہن کی پیشگی کی اطلاع پڑھ لیتے ہیں تو ہم اسے ایک طبعی واقعہ (Physical Event) تصور کر کے بڑے پریم سے اپنی روزمرہ زندگی میں مگن رہتے ہیں۔ نہ اللہ کے در پر جانے کی کوئی ضرورت سمجھتے ہیں۔ نہ توبہ واستغفار۔ نہ صدقہ وخیرات کی۔ حالانکہ غور کیجئے کہ صلوٰۃ الکسوف کی روایات امام ترمذیؒ کے مطابق تقریباً بیس صحابہ کرامؓ سے منقول ہے۔ ان کے نام تو سنئے۔ خلیفہ راشد سیدنا علی المرتضیٰؓ، سیدہ عائشہ صدیقہؓ، سیدنا عبداللہ بن عباسؓ، سید القراء حضرت ابی بن کعبؓ، سیدنا مغیرہ بن شعبہؓ، سیدنا عبداللہ بن عمرؓ، سیدنا ابوبکرؓ، سیدنا جابر بن عبداللہ انصاریؓ، سیدنا ابو موسیٰ اشعریؓ، سیدنا سمرہ بن جندبؓ، سیدنا عبدالرحمٰن بن سمرہؓ، سیدنا نعمان بن بشیرؓ، سیدنا قبیصہ الہلالیؓ، سیدہ اسماء بنت ابی بکرؓ، فھل من مدکر؟

یہاں پر ایک بات اور بھی وضاحت طلب ہے۔ وہ یہ کہ دجال کا کانا ہونا تو کم وبیش ایک درجن حضرات صحابہ کرامؓ سے منقول ہے۔ ان میں سے بعض حضرات نے صرف کانا ہونا بیان کیا ہے۔ بعض نے آگے تفصیل دی ہے کہ کس آنکھ سے کانا ہوگا؟ کچھ روایات میں دائیں آنکھ کا لفظ آیا ہے۔ اور کچھ میں بائیں کا۔ مگر دونوں کی کیفیت مختلف ہے۔ روایات کو ملانے سے پتہ چلتا ہے کہ بائیں آنکھ تو اس کی مٹی ہوئی ہوگی اور دائیں آنکھ بھی عیب دار ہوگی۔ وہ انگور کے چھوٹے دانے کی طرح ابھری ہوئی ہوگی۔

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے ہمراہ جہاد کرنے والوں کی فضیلت

١٨.......حدیث ثوبانؓ

سیدنا ثوبانؓ رسول اللہ ﷺ کے آزاد کردہ غلام تھے۔ دراصل غلام نہیں تھے۔ یمن کے رہنے والے تھے۔ کہیں اٹھائی گیروں نے انہیں اچک لیا تھا۔ اور غلام بنا کر فروخت کر دیا۔ بعد میں رسول اللہ ﷺ نے انہیں خرید کر آزاد فرما دیا۔ عشق رسول مقبول ﷺ میں ڈوبے ہوئے تھے۔ آنحضرت ﷺ کی طرف سے انہیں جنتی ہونے کی بشارت کا صلہ بھی ملا تھا۔ راقم کی کتاب ”کاروان جنت“ میں ان کا ذکر موجود ہے۔

یہ حضرت ثوبانؓ ایک جماعت کے بارے میں بشارت عظمیٰ سناتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے:

٤٥

صفحہ ١٠٧

”عصابتان من امتی حرزهما الله من النار عصابة تغزو الهند. واخرى تكون مع عيسى بن مريم عليه السلام“ (سنن نسائی فضل الجہاد فی البحر ج٢ ص ٥٢، مسند احمد ج ٥ ص ٢٧٨) ﴿ میری امت کے دو گروہ ایسے ہیں، جنہیں اللہ تعالیٰ نے آگ سے آزاد کر دیا ہے۔ ایک وہ گروہ جو ہندوستان جا کر لڑے گا اور ایک وہ گروہ جو حضرت عیسیٰ بن مریم علیہ السلام کے ساتھ ہوگا۔ ﴾

حضرت ابوہریرہؓ بھی فرمایا کرتے تھے کہ رسول اللہ ﷺ نے ہم لوگوں سے ہندوستان کی لڑائی کا وعدہ فرما رکھا تھا۔ اگر مجھے اس میں شرکت نصیب ہوئی تو میں اس میں اپنی جان، مال خرچ کر دوں گا۔ پھر اگر میں اس میں شہید ہو گیا تو میں بہترین شہداء میں سے ہوں گا۔ اور اگر بچ کر آگیا ”فانا المحرر“ تو میں آگ سے آزاد ہو جاؤں گا۔

(سنن نسائی ج ٢ ص ٥٢)

ہم لوگوں کو غازیان ہند کی تعیین کا حق نہیں پہنچتا۔ تاہم قرائن یہ بتاتے ہیں کہ محمد بن قاسم اور اس کے رفقاء مراد ہوں گے کہ ان کی بدولت برصغیر میں اسلام کا فاتحانہ داخلہ ہوا۔ واللہ اعلم ! ( محمد بن قاسم کی سپاہ کی ایک مادی برکت ہمارے سامنے ہے کہ چند ہزار سپاہیوں پر مشتمل یہ سپاہ جب عراق سے سندھ کے علاقہ میں پہنچی تو اس نے دریائے سندھ اور پھر شاید دریائے چناب میں کشتیوں سے سفر کیا۔ کھجور وہ ساتھ لائے تھے۔ جہاں جہاں سے وہ لوگ گزرے اور گٹھلیاں پھینکتے چلے گئے وہاں کھجور کے باغات ہوتے چلے گئے۔ اس سے آگے تیرہ صدیوں میں بھی یہ سلسلہ نہیں پھیلا )

بہر حال وہ لوگ بڑے خوش نصیب ہوں گے جو قیامت کے قریب سیدنا عیسیٰ بن مریم علیہ السلام کے نزول کے وقت آپ کے ہمراہ ہو کر دجالی فتنہ کا قلع قمع کریں گے۔ سبحان اللہ ! رسول اللہ ﷺ نے کن کن مواقع پر اور کیونکر انداز بدل بدل کر ، حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی تشریف آوری کی امت کو اطلاع دے دی۔ پھر بھی کچھ لوگ ”فہم فی ریبہم یترددون“ کا مصداق بن رہے ہیں۔

حضرات صوفیاء کرام اور عقیدہ نزول مسیح علیہ السلام

حضرات صوفیاء کرام قدس اللہ تعالیٰ اسرارہم، بے شک امت مسلمہ کے محسن ہیں۔

٤٦

بالخصوص برصغیر پاک و ہند کے مسلمان تو اکابر مشائخ سلسلہ بار احسان سے کبھی بھی سبکدوش نہیں ہو سکتے۔ جہاں محمد بن غوری جیسے فاتحین، شمس الدین التمش اور عالمگیر جیسے سلاطین گراں بہا احسانات ہیں۔ وہاں ان حضرات کے کارنامے حضرات کی بدولت یہاں کے لوگوں کو اسلام کے مطابق سب پر رحمتیں نازل فرمائے۔

تاہم یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ اکابر صوفیاء کرام منسوب کر دی گئیں۔ جو دین اسلام سے میل نہیں کھاتیں موقع مل گیا۔ اس لئے تو ہمارے بزرگوں نے فرمایا تھا۔

"الاسناد من الدين، لولا الاسناد ترجمہ: ”سند بھی دین کا ایک حصہ ہے۔ اگر سند کی پابندی دیتا۔“

یہ ایک طویل داستان ہے۔ ہم طلبہ کو مشورہ د شعرانی کی کتاب الیواقیت والجواہر کے ابتدائی صفحات مولانا احمد رضا خاں کا رسالہ ”مقال العرفاء“ بھی قابلِ کتابوں کے نام لے کر لکھتے ہیں۔

”اولاً اس کا ثبوت درکار ہے کہ یہ کتابیں حض محض جھوٹ نسبت کر کے چھاپ دی ہیں۔ ثانیاً یہ کتا نہیں۔ علامہ سید احمد حموی غمز العیون والبصائر بشرح الاش سے ناقل۔ "لا يجوز النقل من الكتب الغريبة

وطن عزیز میں ایک شرذمہ قلیلہ ایسا بھی آباد نے) حضرات صوفیاء کرام کے حوالے پیش کر دیتا ہے ہیں۔ عقیدہ نزول مسیح علیہ السلام پر ایک حوالہ پڑھ لیجئے۔

٤٧

صفحہ ١٠٧

بالخصوص برصغیر پاک و ہند کے مسلمان تو اکابر مشائخ سلسلہ چشتیہ، قادریہ، نقشبندیہ، سہروردیہ کے بار احسان سے کبھی بھی سبکدوش نہیں ہو سکتے۔ جہاں محمد بن قاسم، سلطان محمود غزنوی، شہاب الدین غوری جیسے فاتحین، شمس الدین التمش اور عالمگیر جیسے سلاطین کے اس علاقہ کے کلمہ گو مسلمانوں پر گراں بہا احسانات ہیں۔ وہاں ان حضرات کے کارنامے بھی کچھ کم قابل قدر نہیں ہیں کہ انہی حضرات کی بدولت یہاں کے لوگوں کو اسلام کے مطابق زندگی گزارنے کا سلیقہ آیا۔ اللہ تعالیٰ ان سب پر رحمتیں نازل فرمائے۔

تاہم یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ اکابر صوفیاء کرام کی طرف کتابوں میں کچھ ایسی باتیں منسوب کر دی گئیں۔ جو دین اسلام سے میل نہیں کھاتیں۔ بلکہ اعداء اسلام کو من مانی کرنے کا موقع مل گیا۔ اس لئے تو ہمارے بزرگوں نے فرمایا تھا۔

”الاسناد من الدين، لو لا الاسناد لقال من شاء ماشاء“ (خطبہ صحیح مسلم)

ترجمہ: ”سند بھی دین کا ایک حصہ ہے۔ اگر سند کی پابندی نہ ہوتی۔ تو پھر جو جس کے جی میں آتا کہہ دیتا۔“

یہ ایک طویل داستان ہے۔ ہم طلبہ کو مشورہ دیں کہ وہ اس سلسلہ میں علامہ عبد الوہاب شعرانی کی کتاب الیواقیت والجواہر کے ابتدائی صفحات پڑھ کر دیکھیں۔ آنکھیں کھل جاتی ہیں۔ مولانا احمد رضا خاں کا رسالہ ”مقال العرفاء“ بھی قابل دید ہے۔ موصوف ایک اور رسالہ میں چند کتابوں کے نام لے کر لکھتے ہیں۔

”اولاً اس کا ثبوت درکار ہے کہ یہ کتابیں حضرات منسوب الیہم کی ہیں۔ بہت کتابیں محض جھوٹ نسبت کر کے چھاپ دی ہیں۔ ثانیاً یہ کتب غریبہ ہیں اور کتب غریبہ پر اعتماد جائز نہیں۔ علامہ سید احمد حموی غمز العیون والبصائر بشرح الاشباہ والنظائر میں محقق بحر، صاحب بحر الرائق سے ناقل۔ ”لا يجوز النقل من الكتب الغريبة التي لم تشتهر“

(الزبدۃ الزکیہ مطبوعہ نوری کتب خانہ لاہور)

وطن عزیز میں ایک شرذمہ قلیلہ ایسا بھی آباد ہے جو بات بات پر (چاہے بات بنے یا نہ بنے) حضرات صوفیاء کرام کے حوالے پیش کر دیتا ہے۔ دوسرے مسائل تو اس وقت پیش نظر نہیں ہیں۔ عقیدہ نزول مسیح علیہ السلام پر ایک حوالہ پڑھ لیجئے۔

٤٧

صفحہ ١٠٩

علامہ عبدالوہاب شعرانی اپنی مشہور کتاب (الیواقیت والجواہر ج ٢ ص ١٤٢) میں مبحث نمبر ٦٥ کا عنوان قائم کرتے ہیں: ”ان جمیع اشراط الساعۃ التی اخبرنا بھا الشارع حق لا بد ان تقع کلھا قبل قیام الساعۃ “ ﴿قیامت کی تمام وہ علامات، جن کی شارع نے خبر دی ہے برحق اور قیامت سے پہلے واقع ہوکر رہیں گی۔﴾

پھر مبحث کا آغاز کرتے ہوئے ظہور مہدی، خروج دجال، نزول عیسیٰ علیہ السلام، سورج کا مغرب سے طلوع ہونا وغیرہ گنوائے ہیں۔ اسکے بعد ہر ایک کی تفصیل دی ہے۔ چنانچہ نزول سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں لکھا ہے: ”اگر کوئی شخص یہ کہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کی قرآن سے کیا دلیل ہے؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ آپ علیہ السلام کے نزول کی دلیل، اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ”و ان من اھل الکتٰب الا لیؤمنن بہ قبل موتہ “ یعنی جب آپ علیہ السلام نازل ہوں گے اور لوگ آپ پر اتفاق کرلیں گے تو اس وقت اہل کتاب کا ہر فرد آپ پر ایمان لے آئے گا...... (اس کے علاوہ) اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان بھی ہے: ”وانہ لعلم للساعۃ “ ایک قرأت میں علم (عین اور لام کی زبر کے ساتھ) پڑھا گیا ہے: ”انہ “ کی ضمیر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی طرف لوٹ رہی ہے۔ کیونکہ اس سے پیچھے آچکا ہے: ”ولما ضرب ابن مریم مثلا “ آیت کا مطلب یہ ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا نزول قیامت کی نشانی ہے اور حدیث شریف میں دجال کے قصہ میں آیا ہے کہ لوگ نماز میں ہوں گے۔ تو اللہ تعالیٰ حضرت مسیح بن مریم کو بھیجیں گے۔ وہ دمشق سے مشرقی جانب سفید منارہ پر نازل ہوں گے۔ آپ کے سامنے دو جوڑے ہوں گے۔ آپ اپنا ہاتھ دو فرشتوں کے بازؤں پر رکھے ہوئے ہوں گے...... تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا نزول کتاب وسنت سے ثابت ہوگیا۔

١؎ کتابت میں کاتب کی غلطیاں ہیں، اس جگہ لفظ ہے: ”بین یدیہ مھروذتان “ آگے یہ بھی وضاحت کردی گئی ہے کہ اس لفظ کو دال مہملہ یا ذال معجمہ کے ساتھ دونوں طرح پڑھا جاسکتا ہے۔ کتب حدیث میں ”بین مھروذتین “ آیا ہے۔ دیکھئے ترمذی شریف۔ کہیں ”بین ممصرتین “ بھی آیا ہے۔ دونوں کا معنی ایک ہی ہے۔ یعنی آپ ہلکے زرد رنگ کے جوڑے میں ملبوس ہوں گے۔

٤٨

نصاریٰ کہتے ہیں کہ ان کا انسانی جسم تو سولی پر تھا۔ مگر (یہ غلط ہے) اور حق یہ ہے کہ انہیں جسم سمیت ا واجب ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: ”بل رفعہ اللہ الی

علامہ شعرانی نے کہیں کہیں حضرت شیخ محی ا حوالے بھی دیئے ہیں۔ حسن اتفاق کہ پیچھے ہم نے کہیں بارے میں کچھ لکھا تھا الیواقیت والجواہر کو دیکھا تو وہ جگہ ترک کی ارادہ یہ تھا کہ حضرت امام ربانی مجدد الف عبارت یہاں نقل کردوں، مگر مکتوبات شریف اس وقت م جاسکا۔

اس دور میں یہ ایک عجیب رجحان rend) تحقیق اور دور جدید کی اصطلاح ”ریسرچ“ earch) پر کسی رسمی معذرت کی ضرورت نہیں سمجھتے کہ ہر وہ ریسرچ جو فکر آخرت سے غافل کرے۔ جو اللہ اور اس کے رسول رخ ان سے موڑ دے۔ جو قرآن وحدیث کو استعارات وہ کوئی ریسرچ نہیں ہے! بلکہ محض تسویل شیطانی اور فریب راقم السطور ان ”تحقیقات“ سے ناواقف نہیں ہے کہ:

سے بڑا سنت کا کوئی عالم نہیں جانتا۔ امام مالکؒ ان کے الدنیا نظیر “ کچھ نا اہلوں نے انہیں کھاؤ پیو آدمی قرا صاحب نے تو امام زہریؒ کا نام لے کر نزول مسیح علیہ نالائقوں کو یہ تو دیکھنا چاہئے تھا کہ بیسیوں احادیث اس کا نام آتا ہے۔ اچھا تو امام زہریؒ کے بارے میں وہ رسا

٤٩

صفحہ ١٠٩

نصاریٰ کہتے ہیں کہ ان کا انسانی جسم تو سولی پر چڑھ گیا تھا اور لاہوتی جسم اوپر اٹھا لیا گیا تھا۔ مگر (یہ غلط ہے) اور حق یہ ہے کہ انہیں جسم سمیت اوپر اٹھا لیا گیا تھا اور اس پر ایمان لے آنا واجب ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: ’’بل رفعہ اللہ الیہ‘‘

(الیواقیت والجواہر ج ٢ ص ١٤٦، سطر ١٢ تا ٢٠)

علامہ شعرانی نے کہیں کہیں حضرت شیخ محی الدین ابن العربیؒ عرف شیخ الاکبر کے حوالے بھی دیئے ہیں۔ حسن اتفاق کہ پیچھے ہم نے کہیں سورج کے مغرب سے طلوع ہونے کے بارے میں کچھ لکھا تھا الیواقیت والجواہر کو دیکھا تو وہ جگہ حرکت مستدیرہ والی بات بھی مل گئی۔

ارادہ یہ تھا کہ حضرت امام ربانی مجدد الف ثانی کے مکتوبات شریف سے بھی کوئی عبارت یہاں نقل کردوں، مگر مکتوبات شریف اس وقت موجود نہ ہونے کی وجہ سے کوئی حوالہ نہیں دیا جاسکا۔

اس دور میں یہ ایک عجیب رجحان (Trend) چل نکلا ہے کہ بہت سے دینی مسائل تحقیق اور دور جدید کی اصطلاح ”ریسرچ“ (Research) کی نذر ہو جاتے ہیں۔ ہم یہ کہنے پر کسی رسمی معذرت کی ضرورت نہیں سمجھتے کہ ہر وہ ریسرچ جو دینِ قیم کی بنیادوں پر آرے چلائے۔ جو فکرِ آخرت سے غافل کرے۔ جو اللہ اور اس کے رسولﷺ پر ایمان رکھنے کے باوجود، زندگی کا رخ ان سے موڑ دے۔ جو قرآن وحدیث کو استعارات اور تمثیلات کے کھاتوں میں ڈال دے۔ وہ کوئی ریسرچ نہیں ہے! بلکہ محض تسویلِ شیطانی اور فریبِ نفس ہے۔ ’’اعاذنا اللہ منہ‘‘ راقم السطور ان ”تحقیقات“ سے ناواقف نہیں ہے کہ:

سے بڑا سنت کا کوئی عالم نہیں جانتا۔ امام مالکؒ ان کے بارے میں فرماتے ہیں: ’’مالہ فی الدنیا نظیر‘‘ کچھ نااہلوں نے انہیں کھاؤ پیو آدمی قرار دے کر اپنا اعمال نامہ سیاہ کیا ہے۔ ایک صاحب نے تو امام زہریؒ کا نام لے کر نزول مسیح علیہ السلام کی تمام روایات کا انکار کر دیا ہے۔ نالائقوں کو یہ تو دیکھنا چاہئے تھا کہ بیسیوں احادیث اس بارے میں موجود ہیں۔ کیا ہر جگہ امام زہریؒ کا نام آتا ہے۔ اچھا تو امام زہریؒ کے بارے میں وہ راز ہائے سربستہ، جو بقول جاہلوں کے انہیں

٤٩

صفحہ ١١٠-١١١

ناقابل اعتماد ٹھہراتے ہیں۔ کیا یہ راز نہ امام بخاریؒ کو معلوم ہوسکے، نہ مسلم کو، نہ امام مالکؒ کو، نہ امام احمد بن حنبلؒ کو؟

سر خدا کے عابد وعارف بکس نہ گفت
بحیرتم کہ بادہ فروش او کجا شنید

کارروائیوں کا سرچشمہ ان کو ٹھہرا دیا ہے۔ ”فخر المحققین“ کا لکھا ہوا یہ رسالہ ”ابن سبا تاریخ کے آئینے میں“ کے نام سے وطن عزیز میں تقسیم ہوا۔ ہم ان تمام آراء کے بارے میں یہی کہہ سکتے ہیں: ”الله ربنا وربكم، لنا اعمالنا ولكم اعمالكم، لا حجة بيننا وبينكم، الله يجمع بيننا واليه المصير!“

بحث کا دوسرا رخ

اب تک ہمارا انداز گفتگو مثبت رہا، اگرچہ ہم بحث کو زیادہ طول نہیں دے سکتے۔ تاہم: ”مالا يدرك كلّه لا يترك كلّه!“ کے تحت ضرورت محسوس ہوتی ہے کہ دوسرا رخ بھی قارئین کو پیش کردیا جائے۔ اس سلسلہ میں پہلی گزارش تو یہ ہے کہ دین اسلام کا ماخذ اصالتاً دو چیزیں ہیں: قرآن کریم اور حدیث شریف۔

قرآن کریم اپنے بارے میں خود کہتا ہے: ”هدى للناس وبينت من الهدى“

ایک اور مقام پر فرمایا گیا ہے: ”ان هذا القرآن يهدى للتى هى اقوم“

اور رسول اللہ ﷺ اپنی امت کو یہ ہدایت دے گئے کہ میں تم میں دو چیزیں چھوڑے جارہا ہوں، جب تک تم ان دونوں کے پابند رہو گے کبھی گمراہ نہ ہوگے: کتاب اللہ وسنتی!

(مؤطا امام مالک)

خود ائمہ طریقت نے اس سلسلہ میں امت مسلمہ کو یہی تعلیم دی۔ اس وقت چند اقوال ان حضرات کے بھی سن لیجئے۔ تاکہ یہ بات واضح ہوجائے کہ حق و باطل کو پرکھنے کے لئے معیار اور کسوٹی کتاب وسنت ہی ہیں۔

وہ بڑا صاحب کرامات ہے حتیٰ کہ ہوا میں اڑتا ہوا نظر آتا ہے۔ تو تم دھوکے میں نہ آجاؤ۔ جب تک یہ نہ دیکھ لو کہ وہ اوامر ونواہی (شریعہ) کے بارے میں کیا کہتا ہے اور حدود شریعت کی کتنی پابندی

٥٠

کرتا ہے۔ (رسالہ قشیریہ مطبوعہ مصر ص١٨، سطر٢١،٢٢)﴾

حضرت ابو حفص بن حدادؒ فرماتے ہیں کہ: ”من وقت بالكتاب والسنة فلا تعده فى ديوان الر شخص ہر وقت اپنے اعمال اور احوال کو کتاب وسنت کی ق فہرست میں شمار نہ کرنا۔ ﴾

صوفیا کے لئے سرمہ بصیرت ہیں۔ آپؒ فرماتے ہیں:

والسلام“ (رسالہ قشیریہ ص٢٣) ﴿ہدایت کے تمام آنحضرت ﷺ کے نقش قدم پر چلے۔ ﴾

لان علمنا هذا مقيد بالكتب والسنة“ (رسالہ قش کرتا اور اس نے حدیث نہیں لکھی، اسے پیشوا نہ بنایا جا۔ ہے۔ ﴾

کتاب وسنت کا پابند ہے۔ ﴾

ائمہ طریقت کے ان ارشادات عالیہ سے یہ ب الاصول کتاب وسنت ہیں۔ اب اگر کوئی شخص ہمیں کتاب کر قائل کرنا چاہتا ہے۔ تو وہ دیوار میں دے مارنے کے پردازی سے مرعوب کر کے کوئی بات ہم سے منوانا چاہتا ہ لیں کہ وہ اردو اچھی لکھ لیتا ہے؟ ہم گنہگار تو ایک ہی بات ج كتاب الله او سنة رسوله حتى اقول به“

شیخ سعدیؒ بھی اس وقت یاد آگئے ہیں۔ فرما۔

١؎ شاید یہ بات بہت کم لوگوں کو معلوم ہوگی کہ اور اپنے حلقہ میں فتویٰ بھی دیا کرتے تھے دیکھئے رسالہ قشیر

٥١

صفحہ ١١٠

پراز، نہ امام بخاریؒ کو معلوم ہوسکے، نہ مسلم کو، نہ امام مالکؒ کو، نہ امام

ا کے عابد وعارف بکس نہ گفت
م کہ بادہ فروش او کجا شنید

نے سیدنا ابو ہریرہؓ کو ”ابن سبا“ قرار دے کر تمام اسلام دشمن ر دیا ہے۔ ”فخر الفتین“ کا لکھا ہوا یہ رسالہ ”ابن سبا تاریخ کے یز میں تقسیم ہوا۔ ہم ان تمام آراء کے بارے میں یہی کہہ سکتے ہیں: النا ولكم اعمالكم، لا حجة بيننا وبينكم، الله يجمع

گفتگو مثبت رہا، اگرچہ ہم بحث کو زیادہ طول نہیں دے سکتے۔ تاہم: كلّه!“ کے تحت ضرورت محسوس ہوتی ہے کہ دوسرا رخ بھی قارئین یں پہلی گزارش تو یہ ہے کہ دین اسلام کا ماخذ اصالتاً دو چیزیں ہیں:

ے میں خود کہتا ہے: ”هدى للناس وبينت من الهدى“ آگیا ہے: ”ان هذا القرآن يهدي للتي هي اقوم“ نبی امت کو یہ ہدایت دے گئے کہ میں تم میں دو چیزیں چھوڑے ں کے پابند رہو گے کبھی گمراہ نہ ہوگے: کتاب اللہ وسنتی!

(مؤطا امام مالک)

اس سلسلہ میں امت مسلمہ کو یہی تعلیم دی۔ اس وقت چند اقوال کہ یہ بات واضح ہوجائے کہ حق و باطل کو پرکھنے کے لئے معیار اور

قؒ ارشاد فرماتے ہیں جس کا ترجمہ یہ ہے: ﴿تم کسی شخص کو دیکھو کہ ہوا میں اڑتا ہوا نظر آتا ہے۔ تو تم دھوکے میں نہ آجاؤ۔ جب تک ریہ﴾ کے بارے میں کیا کہتا ہے اور حدود شریعت کی کتنی پابندی

٥٠

١١١

کرتا ہے۔ (رسالہ قشیریہ مطبوعہ مصر ص١٨، سطر ٢١، ٢٢)﴾

حضرت ابو حفص بن حدادؒ فرماتے ہیں کہ: ”من لم يزن افعاله واحواله في كل وقت بالكتاب والسنة فلا تعده فى ديوان الرجال“ (رسالہ قشیریہ ص ١٨، سطر ١٣) ﴿جو شخص ہر وقت اپنے اعمال اور احوال کو کتاب وسنت کی ترازو سے نہیں تولتا تو اسے مردوں کی فہرست میں شمار نہ کرنا۔﴾

صوفیا کے لئے سرمہٴ بصیرت ہیں۔ آپؒ فرماتے ہیں:

والسلام“ (رسالہ قشیریہ ص ٢٤) ﴿ہدایت کے تمام راستے بند ہیں، سوائے اس شخص کے جو آنحضرت ﷺ کے نقش قدم پر چلے۔﴾

لان علمنا هذا مقيد بالكتاب والسنة“ (رسالہ قشیریہ ص ٢٥) ﴿جو شخص قرآن پاک یاد نہیں کرتا اور اس نے حدیث نہیں لکھی، اسے پیشوا نہ بنایا جائے۔ کیونکہ ہمارا علم کتاب وسنت کا پابند ہے۔﴾

کتاب وسنت کا پابند ہے۔﴾

ائمہ طریقت کے ان ارشادات عالیہ سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ دین میں اصل الاصول کتاب وسنت ہیں۔ اب اگر کوئی شخص ہمیں کتاب وسنت کے خلاف اپنے الہامات سنا کر قائل کرنا چاہتا ہے۔ تو وہ دیوار میں دے مارنے کے قابل ہیں۔ اگر کوئی شخص ہمیں اپنی انشاء پردازی سے مرعوب کرکے کوئی بات ہم سے منوانا چاہتا ہے۔ تو کیا ہم اس لئے اس کی بات مان لیں کہ وہ اردو اچھی لکھ لیتا ہے؟ ہم گنہگار تو ایک ہی بات جانتے ہیں: ”ایتونی بشیء من كتاب الله او سنة رسوله حتى اقول به“

شیخ سعدیؒ بھی اس وقت یاد آگئے ہیں۔ فرماتے ہیں:

١؎ شاید یہ بات بہت کم لوگوں کو معلوم ہوگی کہ حضرت جنید بغدادیؒ بہت بڑے عالم تھے اور اپنے حلقہ میں فتویٰ بھی دیا کرتے تھے دیکھئے رسالہ قشیریہ ص ٢٤

٥١

صفحہ ١١٣
مپندار سعدی کہ راہ صفا
تواں رفت جز در پے مصطفیٰ ﷺ

شیخ الاسلام ابن تیمیہؒ فرماتے ہیں: ”انترك دین محمدﷺ لرجل طرار جاہ نا؟“

المختصر اس وقت ہمارے سامنے ایک تو وہ شخص ہے۔ جس کی زندگی کا جائزہ لیا جائے تو یہ نتائج سامنے آتے ہیں:

ہوتا ہے۔

سے ماخوذ ہیں۔

سے نہیں چوکتا۔

والحفیظ!

اللہ

ہے کہ وہ جو کچھ کہتا ہے منجانب اللہ نہیں ہے اس کی ذاتی تراش خراش ہے۔ (ان الزامات کی تصدیق کے لئے ضمیمہ دیکھا جائے)

دوسرے صاحب وہ ہیں جو ایک عرصہ تک اہل السنت والجماعت کے ایک مقتدر عالم کی حیثیت سے دین کی خدمت انجام دیتے رہے۔ مگر سمجھ میں نہیں آتا کہ اخیر میں جا کر انہیں کیا ہو گیا کہ وہ پینترا بدلتے چلے گئے اور شدہ شدہ وہ عقیدہ نزول مسیح علیہ السلام کو غلط اور باطل قرار دینے لگے۔ ٥٢

ہمارے نزدیک پہلا شخص تو کفر بواح کا مرتکب ہے۔ المسطور ان کے بارے میں یہی سمجھتا ہے کہ قواطع الص راط سے ہٹ کر یہ شیطان کا شکار ہو گئے۔ وجہ کچھ بھی ہو۔ بہر حال آنج ناب نے یہ نہیں سوچا کہ قرآن وسنت کی رو سے عقیدہ نزول مسیح علیہ السلام کتنی اہمیت رکھتا ہے۔ کیا انہوں نے (عوام کو اس سے غافل کرنے کے لئے) کچھ ایسے افراد ڈھونڈے ہیں جو اس صراطِ مستقیم سے ہٹ گئے۔

انہوں نے کہیں حضرت امام احمد بن حنبلؒ کا واقعہ پڑ ھ رکھا تھا اور فرماتے تھے: ”لا بعد لا بعد“ صاحبزاد ہ پیدا ہوا تو صاحبزادہ (عبداللہ) نے پوچھا: ابا جان! آپ نے یہ کیا فرمایا؟ شیطان میرے پاس آ گیا تھا اور کہنے لگا: ”احمد! تم میری گرفت سے بچ گئے جب تک روح باہر نہیں آجاتی اندیشہ باقی ہے۔“

قارئین محترم! اندازہ لگایا آپ نے؟ راہ حق کو چھوڑنے والوں کے ساتھ ان کے ایک شعر میں ترمیم کر کے کہتا ہے:

یہ شیطان ٹھگ ہے بڑا
آتا ہے سو بھیس بدل

اسی لئے تو قرآن وحدیث میں بار بار صلحا ء کی معیت اختیار کرنے کی تاکید فرمائی گئی ہے۔ قرآن کریم میں: ”اتقوا الله“ کے سا تھ مع الصادقین کا حکم آیا ہے ۔ اور حدیث شریف میں آیا ہے: ”ید الله علی الجماعۃ“ ومن شذ شذ فی النار (اجارنا الله منها) ”اللهم ثبت قلبی علی دی نك“ کی دعا یاد دلاؤں گا۔ قارئین کو ایک دفعہ پھر تکلیف دیتا ہوں کہ سورۃ الفاتحۃ ایک اہم مقام رکھتی ہے اور اس کا ایک نام سورۃ الدعا اور سورۃ تعلیم بھی ہے۔ اس میں یہی طریقہ سکھایا گیا ہے کہ الصراط المستقیم پر چلتے رہنے کی دعا مانگا کرو اور اس پر اللہ کے انعام کئے ہوئے بندے۔ حضرات انبیاء علیہم السلام۔ شہداء اور صلحاء چلتے رہے۔

بہر حال ہم نے ابھی تک ثانی الذکر صاحب کا ن ام نہیں لیا۔ آئیے ان کی تحریر کے اقتباسات ملاحظہ کیجئے۔ ٥٣

صفحہ ١١٣

ہمارے نزدیک پہلا شخص تو کفر بواح کا شکار تھا اور دوسرے صاحب (کم از کم راقم السطور ان کے بارے میں یہی سمجھتا ہے کہ مع الصادقین کی راہ سے ہٹ کر چلنے سے وہ تسویل شیطان کا شکار ہو گئے۔ وجہ کچھ بھی ہو۔ بہر حال آپ گزشتہ اوراق میں پڑھ چکے ہیں کہ کتاب وسنت کی رو سے عقیدہ نزول مسیح علیہ السلام کتنی اہمیت رکھتا ہے۔ مگر شیطان لعین نے (فکر آخرت سے غافل کرنے کے لئے) کچھ ایسے افراد ڈھونڈ لئے جو انشاء پردازی کا زور دکھاتے دکھاتے صراط مستقیم سے ہٹ گئے۔

کہیں حضرت امام احمد بن حنبل کا واقعہ پڑھا تھا کہ وفات سے پہلے۔ ان پر غشی طاری تھی اور فرماتے تھے: ”لا بعد لا بعد“ صاحبزادے پاس کھڑے ہوئے تھے۔ حضرت کو افاقہ ہوا تو صاحبزادہ (عبداللہ) نے پوچھا: ابا جان! آپ یہ کیا فرما رہے تھے؟ فرمایا: بیٹے! شیطان میرے پاس آ گیا تھا اور کہنے لگا: ”احمد! تم میری گرفت سے بچ نکلے۔ میں نے جواباً کہا: ابھی نہیں! جب تک روح باہر نہیں آجاتی اندیشہ باقی ہے۔“

قارئین محترم! اندازہ لگایا آپ نے؟ راقم السطور اقبال مرحوم کی روح سے معذرت کے ساتھ ان کے ایک شعر میں ترمیم کر کے کہتا ہے:

شیطان بڑا عیار ہے
سو بھیس بدل لیتا ہے

اسی لئے تو قرآن وحدیث میں بار بار صلحاء واتقیاء کی جماعت کے ساتھ رہنے کی تاکید فرمائی گئی ہے۔ قرآن کریم میں: ”اتقوا الله“ کے ساتھ ”کونوا مع الصادقین“ کا حکم آیا ہے۔ اور حدیث شریف میں آیا ہے: ”يد الله على الجماعة ومن شذ شذ في النار!“ (اجارنا الله منها) ”اللهم ثبت قلبی علی دینک واهدنی صراطا سويا!“

قارئین کو ایک دفعہ پھر تکلیف دیتا ہوں کہ سورہ فاتحہ، جو قرآن مجید میں متن کی حیثیت رکھتی ہے اور اس کا ایک نام سورۃ الدعا اور سورۃ تعلیم المسئلہ بھی ہے۔ اس میں اللہ سے مانگنے کا طریقہ سکھایا گیا ہے کہ الصراط المستقیم پر چلتے رہنے کی درخواست کرو اور صراط المستقیم وہ ہے جس پر اللہ کے انعام کئے ہوئے بندے۔ حضرات انبیاء علیہم السلام، صدیقین یعنی اولیاء اللہ، شہداء اور صلحاء چلتے رہے۔

ہم نے ابھی تک ثانی الذکر صاحب کا نام نہیں لیا۔ پہلے آپ ان کی تحریر کے چند اقتباسات ملاحظہ کیجئے۔

٥٣

صفحہ ١١٥

ہیں۔ آں محترم کے دوبارہ نزول کا انکار کرتے ہیں۔ لیکن آنحضرت علیہ السلام کے رفع الی السماء کے قائل ہیں...... راقم السطور کا بھی یہی اعتقاد ہے۔"

(ص ٤٦٦)

ہے۔"

(ص ٥٠٢)

موضوع اور جعلی ہیں۔ لیکن یہ حضرات ان کے ضعف کو بھی تسلیم نہیں کرتے۔"

(ص ٥١١)

انہیں نقل کرنے کے الزام سے بری ہیں۔ یہ کس سبائی یا سبائیت نواز کے کرتوت ہیں، اس نے ان کا الحاق ان بزرگوں کی کتابوں میں کردیا۔ یہ روایتیں قرآن مجید کیخلاف ہیں۔"

(ص ٥٢٦)

علیہ السلام کا عقیدہ قطعا بے بنیاد ہے۔ اس کے ثبوت میں پرکاہ اور تار عنکبوت جیسی کوئی بھی دلیل نہیں۔"

(ص ٥٥٤)

کیجئے۔ مسلم معاشرے میں کہیں بھی نزول مسیح کے عقیدے کا چرچا نہیں ملے گا۔

(ص ٥٥٥)

من گھڑت اور جعلی ہیں۔ اہلسنت کی طرف منتقل کردیں اور وہ بھی خروج دجال اور نزول مسیح کے قائل ہوگئے۔ یہود تو ایسے موقع کے منتظر رہتے ہیں۔ انہوں نے پردے کے پیچھے سے ان روایتوں میں ایسے مضامین داخل کردیئے۔ جن سے قرآن کی بعض آیات کی صداقت معاذ اللہ ! مشتبہ ہوجاتی ہے۔ ...... نبی کریم کی عظمت میں معاذ اللہ نقص اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا آنحضرت ﷺ سے افضل اور برتر ہونا ثابت ہوتا ہے۔ ...... نزول مسیح اور خروج دجال کی یہ نام نہاد احادیث و آثار سب کے سب موضوع اور من گھڑت ہیں۔ صحابہ کرامؓ اور نبی کریم ﷺ پر یہ افتراء کسی سبائی کارخانے کے کسی کمرے میں بیٹھ کر تیار کیا گیا ہے۔"

(ص ٥٦١)

شاید قارئین ان حوالہ جات کو پڑھ کر اکتا گئے ہوں مگر ہم انہیں تکلیف دیں گے دو حوالے اور بھی پڑھ لیں:

٥٤

بھی منقول نہیں۔"

ہے اور موطا امام مالک کی ایسی گراں قدر کتاب ملتی ہے بخاری ومسلم کو بھی حاصل نہیں۔ اس کتاب میں امام مالک یہ ہے کہ نبی کریم ﷺ نے بیان فرمایا کہ آنحضرت س کرتے دیکھا۔ انبیاء کا خواب وحی ہوتا ہے۔ اس لئے ی خرق عادت حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے فلسطین سے آک یہ حدیث لکھنے کے باوجود امام مالکؒ نزول اگر نزول مسیح کی ان روایات میں سے جو آج بڑے روایت کا کوئی وجود مسلم معاشرہ کے چھوٹے سے "الشيء بالشيء جزاء" کے نفسیاتی اصول کے اس موقع پر ضرور ذکر فرماتے۔"

یہ حوالہ جات تو قارئین نے ملاحظہ فرمائے ہیں۔ نہ اس کے مصنف کا نام لکھ رہے ہیں۔ تھوڑا ا صاحب کو دھوکہ لگا تو کیوں کر؟ یا یوں کہئے کہ ان کے کے متفق علیہ عقیدہ کے خلاف یوں لکھتے چلے گئے ہیں

قارئین شاید "معتزلہ" کے حالات سے نہیں تھے۔ لیکن ان میں بنیادی خرابی یہ آگئی کہ وہ نق نہیں کہ "عقل" اللہ کی دی ہوئی ایک بے بدل نعم طرح کہ انسان دیکھنے کے لئے آنکھوں کے ساتھ ر اور چراغ وغیرہ کے بغیر رات کی تاریکی میں آنک وسنت کی روشنی کی محتاج ہے۔ ان کی روشنی میں سوچ اس کے بغیر وہ صحیح کام نہیں کرسکے گی۔ یہی خرابی م ہے۔

٥٥

صفحہ ١١٥

بھی منقول نہیں۔“

(ص ٥٥٣)

ہے اور موطا امام مالک کی ایسی گراں قدر کتاب ملتی ہے۔ جو کتب حدیث میں وہ درجہ رکھتی ہے جو بخاری ومسلم کو بھی حاصل نہیں۔ اس کتاب میں امام مالکؒ ایک حدیث لائے ہیں۔ جس کا ماحصل یہ ہے کہ نبی کریم ﷺ نے بیان فرمایا کہ آنحضرتؐ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو کعبہ کا طواف کرتے دیکھا۔ انبیاء کا خواب وحی ہوتا ہے۔ اس لئے واقعہ کی صحت میں کلام نہیں ہو سکتا...... بطور خرق عادت حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے فلسطین سے آکر خانہ کعبہ کا طواف کیا ہوگا۔ یہ حدیث لکھنے کے باوجود امام مالکؒ نزول مسیح علیہ السلام کا کوئی تذکرہ نہیں کرتے۔ اگر نزول مسیح کی ان روایات میں سے جو آج بڑے طمطراق کے ساتھ پیش کی جارہی ہیں کسی روایت کا کوئی وجود مسلم معاشرہ کے چھوٹے سے چھوٹے گوشہ میں بھی ہوتا۔ تو امام مالکؒ ”الشیء بالشیء یذکر“ کے نفسیاتی اصول کے تحت اس روایت کو خواہ وہ حدیث ہوتی یا اثر، اس موقع پر ضرور ذکر فرماتے۔“

(ص ٥٥٥، ٥٥٦)

یہ حوالہ جات تو قارئین نے ملاحظہ فرمالئے۔ مگر ابھی نہ تو ہم کتاب کا حوالہ دے رہے ہیں۔ نہ اس کے مصنف کا نام لکھ رہے ہیں۔ تھوڑا سا انتظار اور فرمائیے۔ پہلے یہ سن لیں کہ ان صاحب کو دھوکہ لگا تو کیوں کر؟ یا یوں کہئے کہ ان کے خیالات میں انقلاب آیا کہ وہ امت مسلمہ کے متفق علیہ عقیدہ کے خلاف یوں لکھتے چلے گئے ہیں۔ تو اس کی وجہ کیا ہے؟

قارئین شاید ”معتزلہ“ کے حالات سے واقف نہ ہوں۔ یہ سب لوگ بدنیت یا بدعمل نہیں تھے۔ لیکن ان میں بنیادی خرابی یہ آگئی کہ وہ نقل کو عقل کے تابع کر دیتے تھے۔ اس میں شک نہیں کہ ”عقل“ اللہ کی دی ہوئی ایک بے بدل نعمت ہے۔ جس طرح کہ سمع اور بصر۔ لیکن جس طرح کہ انسان دیکھنے کے لئے آنکھوں کے ساتھ روشنی کا محتاج ہے کہ سورج، چاند یا کہربائی قمقمے اور چراغ وغیرہ کے بغیر رات کی تاریکی میں آنکھ کچھ نہیں دیکھ سکتی۔ اس طرح عقل بھی کتاب وسنت کی روشنی کی محتاج ہے۔ ان کی روشنی میں سوچ بچار سے انسانی عقل صحیح نتیجہ تک پہنچ سکے گی۔ اس کے بغیر وہ صحیح کام نہیں کرسکے گی۔ یہی خرابی معتزلہ قدیم میں تھی اور یہی فساد معتزلہ جدید میں ہے۔

٥٥

صفحہ ١١٧

زیر بحث مصنف میں بھی یہی بنیادی خرابی پائی جاتی ہے۔ انہوں نے بھی دین کو عقل کی روشنی میں سمجھنے کی کوشش کی۔ آپ اوپر کے حوالہ جات ١ تا ٨ کو پھر پڑھ کر دیکھئے۔ وہ تدریجا آگے بڑھتے چلے گئے اور حوالہ ١٠ کو دیکھئے کہ وہ اپنے خود ساختہ نفسیاتی اصول کے تحت ایک مسلمہ عقیدہ کو رد کر رہے ہیں۔ کاش وہ زندہ ہوتے تو ان سے پوچھا جاتا۔ جناب محترم ! ”نفسیاتی اصول “ آپ نے قرآن کریم کی کس آیت اور حدیث پاک کے کس جملہ سے اخذ کیا ہے؟ آپ محدثین کرام کی کس کس کتاب پر یہ اصول نافذ کریں گے؟ آپ کو صحیح بخاری اور جامع ترمذی وغیرہ میں یہ اصول کہیں نظر آتا ہے؟ قرآن پاک کے کسی ایک رکوع کی نشاندہی کیجئے۔ جہاں آپ اس اصول سے کام لے سکتے ہوں۔ اچھا اب آپ ان عبارات کو پڑھئے۔ یہ بھی مصنف کی اسی کتاب سے لی گئی ہیں:

خار شگافتہ سے لذتِ خلش حاصل کرنے لگے اور شک ہی میں مبتلا رہنا چاہے تو اس کے معنی یہ ہیں کہ اس کی فطرت مسخ ہو چکی ہے۔ ایسا شخص اس مسلے میں علم کا سرمایہ کھو بیٹھتا ہے۔ نئے تصور کی کشتی ساحل پر لگنے نہیں پاتی اور قدیم تصور کی کشتی منجدھار میں ہچکولے کھانے لگتی ہے۔“ (کتاب کا صفحہ ٩٢)

فاسق ہونے کا یقین بڑی مشکل سے آسکتا ہے ..... اس کے بالکل برعکس جو لوگ فاسقانہ ماحول میں رہتے ہیں۔ انہیں بسا اوقات کسی کے تقدس و تقویٰ کی خبر کا یقین نہیں آتا، خواہ آپ کتنے ہی پُر زور طریقہ سے بیان کریں۔“

(ص ٨٥)

میں انسان کی ذاتی پسند یا ذاتی مذاق کا بڑا دخل ہوتا ہے۔ حالانکہ دونوں خبروں کا ذریعہ ایک ہی ہوتا ہے۔“ ملخصا۔

(ص ٤٣)

جمع کر دیا ہے۔ ایسی ہستی پر اعتماد نہ کرنا یقیناً فطرت سے کھلی ہوئی بغاوت ہے۔ انبیاء و مرسلین نے جو خبریں دی ہیں۔ وہ ان کے مشاہدات پر مبنی ہیں۔“

(ص ٦١)

یہ بھی لکھتے ہیں:

جاتی ہیں اور دونوں گمراہ کن ہو سکتے ہیں۔“

(ص: ٥٠)

٥٦

ابھی جو ہم نے پانچ حوالہ جات نقل کئے ہیں یہ ہیں اور ان سے پہلے جو دس حوالہ جات دیئے گئے ہیں۔ وہ گئے ہیں۔ کتاب مصنف کی زندگی میں طبع ہوئی تھی تو اس وقت کا اضافہ ان کی وفات کے بعد ہوا۔ بظاہر حصہ اول اور حصہ نہیں ہیں۔ اور اگر واقعی یہ باب اسی بزرگ کی جنبش قلم کا نتیجہ نے کلمہ محمد مصطفیٰ ﷺ کا پڑھا ہے۔ اسی پر جینا چاہتے اور اسی الخاتمة!“

قارئین نے ملاحظہ فرمایا ہوگا کہ اوپر جو ہم نے ہیں ان میں سے پہلے آٹھ کو الگ لکھا ہے اور پچھلے دو کو الگ ہمیں مزید کچھ لکھنے کی ضرورت نہیں ہے۔ سابقہ اوراق کا مطالعہ گا۔ رہے اقتباس نمبر ٩ اور ١٠ تو ان کے بارے میں ہم کچھ عرض اقتباس نمبر ٩ کو پھر دیکھ لیجئے تعجب ہے کہ شرر ہے۔ چنانچہ اس نے ص ٥٩١ پر اس کتاب کا نام لیا ہے۔ جس توجہ دلائی ہے۔ وہ ”شرح فقہ اکبر“ کے صفحہ ١٣٢ کا حوالہ آگے وہ کھول کر دیکھ لیتے تو انہیں نظر آجاتا کہ حضرت امام ”فقہ اکبر“ حضرت امام ابو حنیفہؒ کی کتاب ہے اور اس کی محدث علامہ علی قاریؒ کی طرف سے ہے۔ تو متن کی عبارت

”وخروج الدجال وياجوج وماجوج ونـزول عـيـسـى عـلـيـه الـسـلام مـن الـسـمـاء وبـ ماوردت بـه الاخـبـار الـصـحـيـحـة حـق کـائن مستقيم “ ”دجال اور یاجوج و ماجوج کا نکلنا، سورج حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا آسمان سے نازل ہونا اور دوسری صحیح وارد ہیں۔ حق ہیں اور ہو کر رہیں گی۔ اور اللہ تعالیٰ جسے فرماتے ہیں۔﴾

اس کی شرح میں علامہ علی قاریؒ فرماتے ہیں:

٥٧

صفحہ ١١٧

ابھی جو ہم نے پانچ حوالہ جات نقل کئے ہیں۔ یہ کتاب کے حصہ اول سے لئے گئے ہیں اور ان سے پہلے جو دس حوالہ جات دیئے گئے ہیں۔ وہ حصہ سوم کے باب چہارم سے نقل کئے گئے ہیں۔ کتاب مصنف کی زندگی میں طبع ہوئی تھی تو اس وقت باب چہارم شامل نہیں تھا۔ اس باب کا اضافہ ان کی وفات کے بعد ہوا۔ بظاہر حصہ اول اور حصہ سوم باب چہارم کی عبارتیں ہم آہنگ نہیں ہیں۔ اور اگر واقعی یہ باب اسی بزرگ کی جنبش قلم کا نتیجہ ہے تو پھر ہم یہ کہنے پر مجبور ہیں کہ ہم نے کلمہ محمد مصطفیٰ ﷺ کا پڑھا ہے۔ اسی پر جینا چاہتے اور اسی پر مرنا۔ ”واللہ نسأل حسن الخاتمة!“

قارئین نے ملاحظہ فرمایا ہوگا کہ اوپر جو ہم نے حصہ چہارم کے دس اقتباسات دیئے ہیں ان میں سے پہلے آٹھ کو الگ لکھا ہے اور پچھلے دو کو الگ، پہلے آٹھ حوالہ جات کی تردید کے لئے ہمیں مزید کچھ لکھنے کی ضرورت نہیں ہے۔ سابقہ اوراق کا مطالعہ انشاء اللہ اس سلسلہ میں کافی رہے گا۔ رہے اقتباس نمبر ٩ اور ١٠ تو ان کے بارے میں ہم کچھ عرض کر دینا ضروری سمجھتے ہیں۔

اقتباس نمبر ٩ کو پھر دیکھ لیجئے تعجب ہے کہ شرح فقہ اکبر کتاب مضمون نگار کے سامنے ہے۔ چنانچہ اس نے ص ٥٩١ پر اس کتاب کا نام لیا ہے۔ اور ایک اصولی بات کی طرف قارئین کو توجہ دلائی ہے۔ وہ ”شرح فقہ اکبر“ کے صفحہ ١٣٣ کا حوالہ دے رہے ہیں۔ ان سے چند صفحات آگے وہ کھول کر دیکھ لیتے تو انہیں نظر آجاتا کہ حضرت امام ابو حنیفہؒ کیا فرماتے ہیں؟ معلوم رہے کہ ”فقہ اکبر“ حضرت امام ابو حنیفہؒ کی کتاب ہے اور اس کی یہ شرح دسویں صدی ہجری کے نامور محدث علامہ علی قاریؒ کی طرف سے ہے۔ تو متن کی عبارت یہ ہے:

”وخروج الدجال ويأجوج ومأجوج وطلوع الشمس من مغربها ونزول عيسىٰ عليه السلام من السماء وسائر علامات يوم القيمة على ما وردت به الاخبار الصحيحة حق كائن والله يهدي من يشاء الى صراط مستقيم“ ﴿دجال اور یاجوج و ماجوج کا نکلنا، سورج کا مغرب کی جانب سے طلوع ہونا اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا آسمان سے نازل ہونا اور دوسری وہ تمام علامات قیامت، جن پر احادیث صحیح وارد ہیں۔ حق ہیں اور ہو کر رہیں گی۔ اور اللہ تعالیٰ جس کو چاہتے ہیں صراط مستقیم کی ہدایت فرماتے ہیں۔﴾

اس کی شرح میں علامہ علی قاریؒ فرماتے ہیں:

٥٧

صفحہ ١٩

"فختم الامام الاعظم معتقده بالهداية الخاصة الخالصة" (شرح فقه اکبر ص ١٤٧، ١٣٦) ﴿پس امام اعظمؒ نے اپنے اعتقاد کو خالص و خاص ہدایت پر ختم فرمایا۔﴾

سیدنا امام ابو حنیفہؒ کی اپنی تصریح کے علاوہ تیسری صدی ہجری کے نامور محدث امام طحاویؒ۔ جو ایک بلند پایہ محدث اور جلیل القدر فقیہ تھے۔ عقائد کے موضوع پر ان کا ایک رسالہ موجود ہے۔ جس کا آغاز وہ ان الفاظ سے فرماتے ہیں:

"هذا بيان اعتقاد اهل السنة والجماعة على مذهب فقهاء الملة ابی حنيفة النعمان بن ثابت الكوفى وابى يوسف يعقوب بن ابراهيم الانصارى وابی عبدالله محمد بن الحسن الشيبانى رضى الله تعالى عنهم اجمعين وما يعتقدون من اصول الدين ويدينون به لرب العالمين" (عقیدہ طحاویہ ص٢ عربی) ﴿یہ اہل السنت والجماعت کے عقائد کا بیان ہے جیسا کہ فقہائے ملت امام ابو حنیفہ نعمان بن ثابت کوفی۔ امام ابو یوسف یعقوب انصاری اور امام ابو عبداللہ محمد بن الحسن الشیبانی (رضی اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین) کا مذہب ہے۔ اور دین میں ان کے بنیادی عقائد ہیں۔ جن کے ساتھ وہ رب العالمین کے پیش ہوں گے۔﴾

اور اختتام کے قریب فرماتے ہیں: "و نؤمن بخروج الدجال ونزول عيسى بن مريم عليه السلام من السماء ونؤمن بطلوع الشمس من مغربها وخروج دابة الارض" (عقیدہ طحاویہ ص ٨ عربی) ﴿ہم ایمان رکھتے ہیں کہ دجال نکلے گا اور حضرت عیسیٰ بن مریم علیہ السلام آسمان سے نازل ہوں گے۔ ہم ایمان رکھتے ہیں کہ سورج مغرب سے طلوع ہوگا اور دابۃ الارض نکلے گا۔﴾

واضح رہے کہ عقائد میں ائمہ احناف اور دیگر ائمہ دین میں کوئی اختلاف نہیں ہے۔ امام طحاویؒ چونکہ فقہی مسائل میں ائمہ احناف کے پیروکار ہیں۔ اس لئے انہوں نے ائمہ ثلاثہ کے اسماء گرامی لکھ دیئے ہیں۔ امام طحاویؒ کے بعد عقائد کے موضوع پر جتنی کتابیں لکھی گئیں۔ سب میں ان علامات قیامت کا ذکر ہے۔ اس کے باوجود اگر کوئی شخص یہ تمنا رکھتا ہو کہ سیدنا امام ابو حنیفہؒ اس کے کان میں آ کر بتائیں یا اپنے ہاتھ سے لکھ کر پرچی اس کے حوالے فرمائیں تو ایسا ہونا ناممکن ہے۔

اب سنئے حوالہ ١٠ کے بارے میں:

٥٨

کہ حضرت امام صاحب نے خود بیٹھ کر ایک مصنّف جو کتاب بھی آپ سنیں گے کہ دوسری صدی میں لکھ نے مرتب کیں۔ چنانچہ حضرت شاہ عبدالعزیز دہ عبدالحئی لکھنویؒ نے التعلیق الممجد میں اس سے بھی سے جس کو مؤطا امام مالک کہا جاتا ہے۔ یہ حضر ترتیب دیا ہوا ہے۔ چنانچہ ہر روایت کے ساتھ ہے۔ یہی کیفیت مؤطا کی ہے۔ جواب مؤطا اما ہے۔

گے کہ اس میں مسند (یعنی باسند) کل روایات ٢ ہیں۔ دوسو سے کچھ اوپر مرسل روایات ہیں۔ اب آپ کی تمنا ضرور پوری ہو جانی چاہئے۔

ہیں۔ چنانچہ اس کا آغاز ہی نماز کے اوقات کے شاید ان صاحب کو معلوم ہو کہ علم ح ہو۔ اسے محدثین کی اصطلاح میں ”جامع“ کہ تفسیر، مناقب، اخلاقیات، غزوات، فتن اور غزوات کا بیان ہے۔ جبکہ کتاب الجہاد موجود ہیں؟ جب یہ ساری باتیں نہیں ہیں۔ جہاد کے حنین کا کوئی ذکر نہیں ہے۔ تو آپ کا نفسیاتی م ہے اور جو کچھ ہے۔ اللہ کی نعمت ہے۔ آپ اس کی جاسکتی ہے۔

کا باب آ گیا ہے اور آیا بھی کس شان سے ۔

صفحہ ١١٩

کہ حضرت امام صاحبؒ نے خود بیٹھ کر ایک مصنف کی حیثیت سے اسے لکھا ہو۔ موطا کے نام سے جو کتاب بھی آپ سنیں گے کہ دوسری صدی میں لکھی گئی تھی۔ یہ سب امام صاحب کے نامور تلامذہ نے مرتب کیں۔ چنانچہ حضرت شاہ عبدالعزیز دہلویؒ نے ایسے پندرہ مجموعے گنوائے ہیں۔ مولانا عبدالحئی لکھنویؒ نے التعلیق الممجد میں اس سے بھی زیادہ لکھے ہیں۔ ان سب میں مطبوعہ مجموعوں میں سے جس کو موطا امام مالک کہا جاتا ہے۔ یہ حضرت امامؒ کے تلمیذ رشید یحییٰ بن یحییٰ مصمودی اندلسی کا ترتیب دیا ہوا ہے۔ چنانچہ ہر روایت کے ساتھ سند لاتے ہوئے پہلے امام مالک کا نام ضرور آتا ہے۔ یہی کیفیت موطا کی ہے۔ جو اب موطا امام محمد کہلاتا ہے۔ دراصل وہ بھی موطا امام مالک ہی ہے۔

گے کہ اس میں مسند (یعنی باسند) کل روایات مرفوعہ (یعنی آنحضرت ﷺ کے ارشاد گرامی چھ سو ہیں۔ دو سو سے کچھ اوپر مرسل روایات ہیں۔ اب کیا خیال ہے آپ کا کہ اس تھوڑی سی تعداد میں آپ کی تمنا ضرور پوری ہو جانی چاہئے۔

ہیں۔ چنانچہ اس کا آغاز ہی نماز کے اوقات کے بیان سے ہوتا ہے۔

شاید ان صاحب کو معلوم ہو کہ علم حدیث کی وہ کتاب جو آٹھ قسم کے عنوانات پر مشتمل ہو۔ اسے محدثین کی اصطلاح میں ”جامع“ کہا جاتا ہے ان آٹھ مباحث میں عقائد، احکام فقہیہ، تفسیر، مناقب، اخلاقیات، غزوات، فتن اور علامات قیامت شامل ہیں۔ کیا موطا شریف میں غزوات کا بیان ہے۔ جبکہ کتاب الجہاد موجود ہے؟ کیا اس میں مناقب ہیں؟ کیا تفسیری روایات ہیں؟ جب یہ ساری باتیں نہیں ہیں۔ جہاد کے مسائل پر حدیثیں موجود ہیں۔ لیکن غزوہ بدر، احد اور حنین کا کوئی ذکر نہیں ہے۔ تو آپ کا نفسیاتی اصول کہاں گیا؟ موطا شریف تو ایک مختصر سا مجموعہ ہے اور جو کچھ ہے۔ اللہ کی نعمت ہے۔ آپ اس سے وہ توقع کیوں کرتے ہیں۔ جو ایک جامع سے کی جا سکتی ہے۔

کا باب آگیا ہے اور آیا بھی کس شان سے ہے؟ اس سند کے ساتھ جو محدثین کے نزدیک اصح

٥٩

صفحہ ١٢١

الاسانید شمار ہوتی ہے۔ حضرت امام مالکؒ اور رسول اللہ ﷺ کے درمیان صرف دو نام آتے ہیں۔ حضرت عبداللہ بن عمر صحابی اور حضرت نافع تابعی۔ کھولئے کتاب کا ص ١٧٢، بسم اللہ کر کے پڑھئے ”مالك عن نافع عن ابن عمر ان رسول الله ﷺ قال ......“ قارئین کا ایمان تازہ کرنے کے لئے اطلاعاً عرض ہے کہ جنت البقیع میں ان تینوں حضرات کے مزارات یکجا ہیں۔ رضی اللہ عنہم۔

ہوتے ہیں۔ (شکر ہے کہ مصنف خود بھی لکھ گئے ہیں کہ انبیاء کے خواب وحی ہوتے ہیں) یہی وجہ ہے کہ سیدنا ابراہیم علیہ السلام اپنے رؤیا کی بناء پر اپنے صاحبزادے سیدنا اسماعیل علیہ السلام کو قربان کرنے کے لئے تیار ہو گئے تھے۔ بہرحال اس اہمیت کو مدنظر رکھتے ہوئے درج ذیل حدیث کو پڑھئے:

”رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”ارانی الليلة عند الكعبة فرايت رجلاً آدم کا حسن ما انت راء من ادم الرجال له لمة کا حسن ما انت راء اللمم قد ر جلها، وهى تقطر ماءً متكئًا على رجلين يطوف بالكعبة۔ فسالت من هذا؟ فقيل لى هذا المسيح ابن مريم ثم اذا انا برجل جعد قطط اعور العين اليمنى كانها عنبة طافية فسالت من هذا؟ فقيل: هذا مسيح الدجال“ (مؤطا امام مالک ص١٧١ باب صفة عیسٰی بن مریم علیہما السلام) ( آج رات میں یوں دیکھتا ہوں کہ میں کعبہ کے پاس ہوں۔ تو میں نے ایک آدمی کو دیکھا جو گندمی رنگ کا۔ مگر نہایت ہی خوبصورت گندمی رنگ کا جو تم نے کبھی دیکھا ہوگا ان کی زلفیں تھیں۔ اتنی خوبصورت جو کبھی تم نے دیکھی ہوگی۔ اس نے انہیں کنگھی کر رکھی تھی یوں معلوم ہوتا تھا کہ ان سے پانی ٹپک رہا ہے۔ دو آدمیوں پر سہارا کئے ہوئے تھا میں نے پوچھا یہ کون ہے؟ جواب ملا: یہ مسیح ابن مریم ہیں! پھر مجھے ایک آدمی گھنگھریالے بالوں والا ملا جو دائیں آنکھ سے کانا تھا گویا اس کی آنکھ انگور کا ابھرا ہوا دانہ ہے۔ میں نے پوچھا: یہ کون ہے؟ بتایا گیا: یہ دجال ہے! ؎١

لے دجال کے ساتھ یہ ذکر نہیں آیا کہ وہ بھی کعبہ شریف کے پاس ملا تھا۔ ادھر اس کا داخلہ بند ہے۔ آنکھ کے کانا ہونے کی تفصیل پیچھے حدیث ١٧ میں گزر چکی ہے۔

٦٠

اب اس حدیث شریف کو پڑھ کر دیکھئے۔ کیا مجھ کوئی بتلائے گا کہ یہ نزول من السماء کا نقشہ ہے یا عیسیٰ علیہ السلام کی سابقہ زندگی کا واقعہ ہے؟ کیا یہ وہی تفصیل نہیں جو معراج کی روایات میں آئی ہے؟ سیدنا مسیح ابن مریم علیہ السلام طواف کر رہے ہیں۔ وہی دو آدمیوں کے درمیان سہارا لئے ہوئے۔ اور پھر دجال کا ذکر ہے۔ وہی حلیہ، وہی نقشہ۔ روایت صحت میں نہایت اعلیٰ درجہ کی۔ تو پھر کوئی شخص یہ کہہ کر کیوں اپنے ایمان کو خطرے میں ڈالے کہ مسیح نے فلسطین سے آکر خانہ کعبہ کا طواف کیا ہوگا۔ کیا آپ Britannica Encyclopedia سے اپنے اس ”خیال“ کا ثبوت پیش کریں گے؟ ایمان کا تقاضا یہی ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ کے ارشادات کے سامنے سر تسلیم خم کر دیں۔ ” یہ بات ہماری سمجھ سے باہر ہے کہ ایک طرف تو یہ اصول مان لیں کہ جب دو خبروں کے حصول کا ذریعہ ایک ہو تو اس کی کوئی وجہ نہیں کہ ایک کو رد کر دیں اور ایک کو مان لیں۔ لے دوسری طرف یہ صاحب حضرت عیسیٰ علیہ السلام ۔ کے بروز کا اقرار کرتے ہیں۔ نزول کو نہیں۔ آخر اس کی کیا وجہ ہے؟ کہیں آپ بھی تو اسی مرض کے مصداق بن رہے ہوں۔ نبی کے پیش کئے ہوئے تصور کو ہم سرے سے اڑا دینا بھی طاقت سے باہر ہے۔ ایک درمیانی راہ نکال کر اپنے تصورات کی آمیزش نبوی تعلیمات میں کرے۔“

قارئین بہت دیر سے ان صفحات کو پڑھ رہے ہوں گے کہ آخر یہ کون صاحب ہوں گے۔ یہ ہیں مولانا محی الدین جن کے یہ اقتباسات دیئے گئے ہیں۔ اس کا نام ہے۔ ”دیباچہ“ کہتے ہیں کہ باب چہارم ان کا لکھا ہوا نہیں ہے۔ یہ کسی افترا پرداز کی سازش ہے۔ زنادقہ اور ملحدین کی طرف سے پہلے بھی ہوتی رہی ہیں ایسی سازشیں بڑے بڑے عالم اور مصنف علامہ عبدالوہاب شعرانیؒ کی ”الیواقیت والجواہر“ میں بھی ایسے ہی عجیب وغریب انکشافات سامنے آئیں گے۔ ایسی ہی کوئی سازش ان کے ساتھ بھی ہوئی ہے۔ اگر مان لیا جائے کہ یہ واقعی ان کا لکھا ہوا ہے تو افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ اخیر عمر میں انہیں

لے دیکھئے پیچھے گزرا ہوا اقتباس نمبر ٣

٦١

صفحہ ١٢١

اب اس حدیث شریف کو پڑھ کر دیکھئے۔ کیا سمجھ میں آتا ہے کہ یہ حضرت مسیح ابن مریم علیہ السلام کی سابقہ زندگی کا واقعہ ہے؟ کیا یہ وہی تفصیل نہیں ہے۔ جو خروج دجال اور نزول مسیح علیہ السلام کی روایات میں آئی ہے؟ سیدنا مسیح ابن مریم علیہ السلام کا وہی حلیہ مبارک، وہی زلفیں، وہی دو آدمیوں کے درمیان سہارا لئے ہوئے۔ اور پھر دجال کا اس موقع پر ذکر اور اس کا بھی تقریباً وہی نقشہ۔ روایت صحت میں نہایت اعلیٰ درجہ کی۔

کوئی شخص یہ کہہ کر کیوں اپنے ایمان کو خطرے میں ڈالتا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے فلسطین سے آ کر خانہ کعبہ کا طواف کیا ہوگا۔ کیا آپ کسی تاریخی کتاب یا انسائیکلو پیڈیا Encyclopedia سے اپنے اس ”خیال“ کا ثبوت پیش کر سکتے ہیں؟ اگر نہیں اور ہرگز نہیں تو ایمان کا تقاضا یہی ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ کے ارشادات عالیہ کو بلا کم و کاست تسلیم کر لیں۔

”یہ بات ہماری سمجھ سے باہر ہے کہ ایک طرف تو یہ صاحب اصول مقرر کرتے ہیں کہ جب دو خبروں کے حصول کا ذریعہ ایک ہو تو اس کی کوئی وجہ نہیں کہ ایک کو تسلیم کر لیا جائے اور دوسری کو نہیں۔ دوسری طرف یہ صاحب حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے ”رفع الی السمآء“ کو تو تسلیم کرتے ہیں۔ نزول کو نہیں۔ آخر اس کی کیا وجہ ہے؟ کہیں یہ بات تو نہیں کہ وہ اپنے اس فرمان کا مصداق بن رہے ہوں۔ نبی کے پیش کئے ہوئے تصور کی ضد قبول کرنا۔ اس کی مرضی کیخلاف ہوتا ہے اور کلیۃً انکار بھی طاقت سے باہر ہے۔ ایک درمیانی راستہ کی تلاش اسے آمادہ کرتی ہے کہ اپنے تصورات کی آمیزش نبوی تعلیمات میں کرے۔“

قارئین بہت دیر سے ان صفحات کو پڑھ رہے ہیں۔ وہ یہ جاننے کے لئے سراپا انتظار ہوں گے کہ آخر یہ کون صاحب ہوں گے۔ یہ ہیں مولانا محمد اسحاق سندیلوی، اور ان کی کتاب جس سے اوپر اقتباسات دیئے گئے ہیں۔ اس کا نام ہے۔ ”دینی نفسیات“ ہم اب بھی یہی خیال کرتے ہیں کہ باب چہارم ان کا لکھا ہوا نہیں ہے۔ یہ کسی افتراء پرداز، دروغ گو، جاہل کا اضافہ ہے۔ ایسی سازشیں زنادقہ اور ملحدین کی طرف سے پہلے بھی ہوتی رہی ہیں۔ دسویں صدی ہجری کے نام ور عالم اور مصنف علامہ عبدالوہاب شعرانیؒ کی ”الیواقیت والجواہر“ ص ٧ پڑھ کر دیکھئے! عجیب وغریب انکشافات سامنے آئیں گے۔ ایسی ہی کوئی سازش یہاں بھی کارفرما ہے۔ اور اگر واقعی یہ ان کا لکھا ہوا ہے تو افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ اخیر عمر میں انہوں نے بہت برا کیا۔

١؎ دیکھئے پیچھے گزرا ہوا اقتباس نمبر ٣

٦١

صفحہ ١٢٣

تفسیر ابن کثیر میں کہیں مرفوعاً ایک حدیث حضرت انسؓ سے آتی ہے: ”لا تعجبوا بأحد حتى تنظروا بم يختم له“ ﴿کسی آدمی کے حال کو اچھا نہ سمجھو۔ یہاں تک کہ انتظار کرو کہ اس کا خاتمہ کیسا ہوا؟ اور دارمی شریف میں سیدنا فاروق اعظمؓ کا فرمان ہے کہ تین چیزیں اسلام کی بنیاد کو ڈھا دیتی ہیں۔﴾

”زلة العالم وجدال المنافق بالكتاب وحكم الائمة المضلين“

(دارمی)

﴿عالم کی لغزش، منافق آدمی کا اللہ کی کتاب کو آڑ بنا کر لڑنا جھگڑنا اور گمراہ کن فرماؤں رواؤں کی حکومت۔﴾

اس لئے بندہ ہر وقت اللہ سے ڈرتا رہے۔ کچھ پتہ نہیں کہ کس وقت وہ تسویلِ شیطانی کا شکار ہو کر منزل سے دور چلا جاتا ہے۔ اس کی واحد تدبیر یہ ہے کہ کونوا مع الصادقین پر عمل پیرا رہے: ”اعاذنا الله من سوء الخاتمة!“

صاحب موصوف کی یہ ترقی معکوس بڑی حیرت انگیز ہے کہ عقیدہ نزولِ مسیح علیہ السلام کے سلسلہ میں انہوں نے مرحلہ وار رجعت قہقری کی حکمت عملی اختیار کی ہے۔ چنانچہ:

عنکبوت کے برابر بھی اس کا کوئی ثبوت نہیں۔

قرار دیا۔

یہ بڑی عجیب بات ہے کہ ”سند“ کو بھی موضوع کہا جائے۔ کیا اصطلاحاتِ حدیث میں ”موضوع سند“ کا لفظ بھی کہیں ملتا ہے؟

قرار دیا۔ کیا اس عقیدہ سے یہود کو کوئی فائدہ پہنچتا ہے؟

اس کی آخری سطور نظر نہیں آتیں۔ مؤطا امام مالک کو دیکھ رہے ہیں۔ مگر بات دماغ میں نہیں گھستی۔

اب ہم سوائے اس کے اور کیا کہہ سکتے ہیں کہ: ”فانها لا تعمى الابصار ولكن

٦٢

تعمى القلوب التى فى الصدور! اللهم اج الآخرة!“

واضح رہے کہ مؤطا امام مالک کی پوری روایت مر ازالۃ اوہام میں ترجمہ سمیت نقل کی ہے۔

راقم السطور نے حضرت امام شافعیؒ کا ایک فرمان قرآن پاک کی صرف ایک سورۃ ”العصر“ ہی نازل ہوئی ہوتی کافی تھی۔ اللہ تعالٰی معاف فرمائے۔ راقم السطور کہتا ہے ”حدیث جبریل“ کی ہے۔ جو کتب حدیث میں سے بخاری اور اربعین نووی تک تمام میں درج ہے۔

یوں تو آنحضرت ﷺ نے اپنے فضائل کے ضمن میں اور محولہ بالا حدیث شریف میں تو یوں معلوم ہوتا ہے کہ علم و آگیا ہے۔ یہ حدیث کی مشہور و معروف کتاب ”مشکوٰۃ شریف ہے۔ واقعہ یوں ہے کہ ایک سائل بارگاہِ نبوتؐ میں حاضر ہو بڑے ادب سے دوزانوں ہو کر بیٹھتا ہے اور سوالات کا سلسل ساتھ کہتا ہے: صَدَّقت۔ صحابہ کرامؓ اس کی یہ روش دیکھ کر حیر ہے۔ سوال کرتا ہے اور جواب کی تصدیق کرتا چلا جاتا ہے آنحضرت ﷺ فرماتے ہیں: کچھ پتہ چلا کہ یہ کون تھا ورسوله اعلم!“ ارشاد فرمایا: یہ جبریل تھے۔ تمہیں تمہار ذرا غور کیجئے! سوال کرنے والے سیدالملائکہ، والے: سیدالانبیاء حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ!

امت تک یہ خیر پہنچانے والے: سیدالمحدثین موافقاً للوحى والكتاب“ یعنی سیدنا عمر بن الخطابؓ سے یہ روایت آئی ہے۔

سوالات کیا ہیں؟ ”ما الايمان“ جواب فرمائے۔ جو علم عقائد کا موضوع ہے۔

٦٣

صفحہ ١٢٣

تعمى القلوب التي في الصدور! اللهم اجرنا من خزى الدنيا وعذاب الآخرة!“

واضح رہے کہ مؤطا امام مالک کی پوری روایت مرزا غلام احمد قادیانی نے بھی اپنی کتاب ازالہ اوہام میں ترجمہ سمیت نقل کی ہے۔

راقم السطور نے حضرت امام شافعیؒ کا ایک فرمان کہیں پڑھا تھا کہ بالفرض والتقدیر! اگر قرآن پاک کی صرف ایک سورۃ ”العصر“ ہی نازل ہوئی ہوتی تو بنی نوع انسان کی ہدایت کے لئے کافی تھی۔ اللہ تعالیٰ معاف فرمائے۔ راقم السطور کہتا ہے کہ ذخیرۂ احادیث میں یہی کیفیت ”حدیث جبریل“ کی ہے۔ جو کتب حدیث میں سے بخاری سے لے کر ریاض الصالحین شریف اور اربعین نووی تک تمام میں درج ہے۔

یوں تو آنحضرت ﷺ نے اپنے فضائل کے ضمن میں ارشاد فرمایا: ”اوتیت جوامع الکلم“ اور محولہ بالا حدیث شریف میں تو یوں معلوم ہوتا ہے کہ علم دین کا عطر اور جوہر (Essense) آگیا ہے۔ یہ حدیث کی مشہور و معروف کتاب ”مشکوٰۃ شریف“ کی کتاب الایمان کی پہلی حدیث ہے۔ واقعہ یوں ہے کہ ایک سائل بارگاہ نبوت میں حاضر ہوتا ہے اور چند سوالات کرتا ہے۔ پہلے بڑے ادب سے دوزانوں ہو کر بیٹھتا ہے اور سوالات کا سلسلہ شروع کرتا ہے۔ جواب سن کر ساتھ ساتھ کہتا ہے: صدقت۔ صحابہ کرامؓ اس کی یہ روش دیکھ کر بڑے ہی حیران ہوتے ہیں کہ عجیب قصہ ہے۔ سوال کرتا ہے اور جواب کی تصدیق کرتا چلا جاتا ہے۔ اور اس کے چلے جانے کے بعد آنحضرت ﷺ فرماتے ہیں: کچھ پتہ چلا کہ یہ کون تھا؟ صحابہ نے حسب عادت کہا: ”اللہ ورسولہ اعلم!“ ارشاد فرمایا: یہ جبریل تھے۔ تمہیں تمہارا دین سکھانے آئے تھے۔

ذرا غور کیجئے! سوال کرنے والے سید الملائکہ، حضرت جبریل علیہ السلام! جواب دینے والے: سید الانبیاء حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ!

امت تک یہ خبر پہنچانے والے: سید المحدثین جن کی شان یہ ہے کہ: ”كان رأيه موافقاً للوحي والكتاب“ یعنی سیدنا عمر بن الخطابؓ۔ نیز کتب حدیث میں اور بھی کئی حضرات سے یہ روایت آئی ہے۔

سوالات کیا ہیں؟ ”ما الایمان“ جواب میں آپؐ نے دین کے بنیادی عقائد بیان فرمائے۔ جو علم عقائد کا موضوع ہے۔

٦٣

صفحہ ١٢٤

”ما الاسلام؟“ جواب میں ارکان خمسہ ارشاد فرمائے گئے جو علم فقہ کا موضوع ہے۔ ”ما الاحسان؟“ جواب میں فرمایا کہ انسان عبادت کرے تو اس کی روحانی اور باطنی کیفیت کیا ہونی چاہئے؟ یہ علم تصوف اور طریقت کا موضوع ہے۔ ہر شخص چونکہ کوئی عمل کرتا ہے تو اس کے نتائج اور معاوضہ کو پیش نظر رکھتا ہے۔ اس وجہ سے چوتھا سوال سید الملائکہ نے یہ کیا کہ: ”متی الساعۃ “ جواب میں ارشاد فرمایا گیا: ”ما المسئول عنھا باعلم من السائل “ پھر کہا: اچھا! اگر اس کے وقت کا تعین نہیں فرما سکتے۔ تو اس کی علامت اور نشانیاں ہی بیان فرما دیجئے۔ رسول اللہ ﷺ نے جواب میں چند ایک علامات ارشاد فرمادیں۔ یہ وہ علامات ہیں جو فناء عالم کے لئے تمہیدی واقعات کی حیثیت رکھتی ہیں۔ ان علامات میں نظام معیشت کے تعطل اور برسر اقتدار طبقہ کے حق گوئی اور حق شنوائی سے محرومی کا بھی ذکر فرمایا۔ ”رایت الصم البکم ملوك الارض “ (آپ دیکھیں گے کہ گونگے بہرے زمین پر بادشاہ ہوں گے۔)

قارئین اپنے گرد و پیش کا جائزہ لیں۔ آج کتنے کلمہ گو مسلمان ہیں۔ جن کے پیش نظر رسول اللہ ﷺ کا یہ ارشاد گرامی ہے اور کتنے بندگان خدا ہیں جو اپنی زندگیاں ان تعلیمات کے سانچے میں ڈھالنے کے لئے تیار ہیں؟ کیا اس غفلت شعار ماحول کو مزید ناواقف اور غافل بنایا جائے؟ کیا نیند کے متوالوں کو مزید نشے کی گولیاں دی جانی چاہئیں؟ ان سے یوں کہا جائے کہ یا صاحب! یہ جو قیامت کی نشانیاں بیان کی جاتی ہیں۔ یہ سب غلط اور باطل ہیں نہ کوئی دجال آئے گا۔ نہ کوئی عیسیٰ مسیح نازل ہوں گے۔ اس سلسلہ کی تمام روایات جعلی اور وضعی ہیں۔ پھر یہ کوئی دین داری تو نہ ہوئی۔ بلکہ اس کافرانہ عقیدہ کی تائید ہوگی۔ کہ: ”ان ھی الا حیاتنا الدنیا، نموت ونحيا وما نحن بمبعوثين “۔

یہاں پر اس بات کی وضاحت کر دینا مناسب ہوگا کہ علامات قیامت دو قسم کی ہیں۔ ایک وہ جو فناء عالم کے لئے تمہیدی واقعات کی حیثیت رکھتی ہیں۔ انہیں محدثین امارات یا اشراط سے تعبیر کرتے ہیں۔ دوسری وہ جو قیامت کے قریب گویا آغاز قیامت کے طور پر نمودار ہوں گی۔ خروج دجال، نزول سیدنا عیسیٰ علیہ السلام۔ طلوع الشمس من المغرب دوسری قسم کی علامات میں سے ہیں۔ محدثین حضرات نے العلامات بین یدی الساعۃ کے عنوان سے تعبیر کیا ہے۔

(دیکھئے مشکوٰۃ شریف ص ٤٦٩ اور ص ٤٧٢)

٦٤

صفحہ ١٢٥

حدیث بالا میں سوال اشراط الساعۃ کے بارے میں تھا۔ اس لئے جواب میں بھی اسی قسم کی باتیں ارشاد فرمائی گئیں۔ موقع محل کے مطابق نہایت بلیغ جواب تھا۔ جہاں دوسری قسم کی علامات کے ذکر کا موقع تھا۔ وہاں رسول اللہ ﷺ نے وہ ارشاد فرمادیں۔

اگر قیامت پر ایمان ہے تو ”بالاخرة هم يوقنون“ کی تکمیل کے لئے دونوں قسم کی علامات کو ماننا ضروری ہوگا۔ ہم نے کلمہ پڑھا ہے ”لا اله الا الله محمد رسول اللہ“ تو جو کچھ اللہ رب العزت نے فرما دیا، وہ بھی عین حق وصواب اور جو اس کے رسول ﷺ نے فرما دیا وہ بھی برحق۔ ”امنا به وصدقنا“ آقائے دو جہاں ﷺ کی تعلیمات، خواہ وہ کتاب اللہ کی شکل میں ہوں۔ خواہ حدیث کی شکل میں۔ دونوں کو ماننا اور ان کے مطابق زندگی بسر کرنا ہی صراطِ مستقیم ہے۔ آپ کی تعلیمات کیخلاف کسی کی کوئی بات سننے کے لئے تیار نہیں ہیں۔

کتب احادیث میں کتاب الفتن کی احادیث پڑھ کر دیکھئے۔ کہیں آپ کو رسول اللہ ﷺ کا یہ فرمان گرامی نظر آئے گا: ”بادروا بالاعمال فتناً كقطع اللیل المظلم“ کہیں یہ الفاظ ملیں گے: ”ان بين يدى الساعة فتنا كقطع اللیل المظلم“ ان ارشادات کی روشنی میں ہم دیکھتے ہیں کہ آج ادھر ادھر بھانت بھانت کی بولیاں بولنے والے موجود ہیں۔ جاہلوں کی تو بات چھوڑیئے۔ بڑے بڑے اسکالرز اور ”مولانا“ کا سابقہ رکھنے والے لوگ اوٹ پٹانگ مارتے ہیں۔ ایک صاحب تیرہ سو سال کے علماء کو غلط قرار دیتے ہوئے ان کے مقابلہ میں ایک مشرک (مسٹر گاندھی) کو صائب الرائی مجتہد ہی قرار دیتے ہیں۔١؎ دوسرے صاحب ڈارون کے نظریہ ارتقاء کو اسلامی نظریہ قرار دیتے ہیں۔٢؎ تیسرے صاحب خروج دجال اور نزول عیسیٰ علیہ السلام کے عقیدہ کو غلط اور باطل قرار دیتے ہیں۔٣؎ فوا اسفاہ!

١؎ یہ ہیں مولانا وحید الدین خاں آف انڈیا، دیکھئے ان کی کتاب ”فکر اسلامی“ مطبوعہ کراچی ص ٤٤، ١٠٣۔

٢؎ میرا اشارہ ہے جناب ڈاکٹر حمید اللہ صاحب کی طرف، جن کی دینی خدمات سر آنکھوں پر۔ لیکن اس مسئلہ میں وہ ٹھوکر کھا گئے۔

٣؎ یہ صاحب اس مضمون میں ہمارا موضوع رہے ہیں۔ یعنی مولانا محمد اسحاق سندیلوی مرحوم۔

صفحہ ١٢٧

قارئین کو یہ مغالطہ نہیں لگنا چاہئے کہ گمراہی صرف ”جہل“ کے راستہ سے آتی ہے۔ بعض اوقات ایسا بھی ہوتا ہے کہ انسان ”أضله الله على علم“ کا مصداق بن جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ اپنی پناہ میں رکھے۔ بچاؤ کا واحد طریقہ یہی ہے کہ انسان کتاب وسنت کو ہدایت کا سرچشمہ سمجھے اور ”کونوا مع الصادقین“ کو زندگی کا قانون (Principle of Life) بنائے۔

اقبال مرحوم کہتے ہیں:

ہست دین مصطفیٰ، دین حیات
شرع او تفسیر آئین حیات

حضرت امام ربانی مجدد الف ثانی کے مکتوبات میں کہیں ایک حدیث شریف پڑھی تھی کہ جب فتنوں کا ظہور ہو اور دین میں نئی نئی باتیں نکالی جانے لگیں تو علم والے پر فرض ہو جاتا ہے کہ وہ اپنے علم کو ظاہر کرے۔ یہ روایت کسی کو سنداً مجروح بھی نظر آتی ہو تب بھی ”تواصوا بالحق“ کا تو ہر مسلمان پابند ہے۔ اور یہ آیت کریمہ بھی قرآن پاک میں موجود ہے:

”ان الذين يكتمون ما انزلنا من البينات والهدى من بعد ما بينه للناس في الكتاب اولئك يلعنهم الله ويلعنهم اللعنون (البقرة:١٥٩)“ ﴿جو لوگ اخفا کرتے ہیں ان مضامین کا جو کہ واضح ہیں اور ہادی ہیں۔ اس حالت کے بعد کہ ہم ان کو کتاب میں عام لوگوں پر ظاہر کر چکے ہوں۔ ایسے لوگوں پر اللہ تعالیٰ بھی لعنت فرماتے ہیں اور لعنت کرنے والے بھی ان پر لعنت بھیجتے ہیں۔﴾

راقم السطور نے کتاب وسنت کے ایک ادنیٰ سے طالب علم ہونے کے باوجود یہ جرات کی ہے کہ مسئلہ زیر تحریر پر چند اوراق سیاہ کر دیئے ہیں۔ اللہ تعالیٰ اپنے اس گنہگار بندے کی حقیر سی جدوجہد کو شرف پذیرائی بخشے۔

”تمت كلمة ربك صدقا وعدلا، لا مبدل لكلمته وهو السميع العليم“

استدراک

اپنی گزارشات کو ختم کرنے سے پہلے ہم چند باتوں کی وضاحت کر دینا ضروری سمجھتے ہیں۔ قارئین توجہ سے ملاحظہ فرمائیں گے۔

٦٦

پہلی وضاحت

جب سیدنا مسیح ابن مریم علیہ السلام نازل ہوں گے تو اس وقت آپ کی نبوت باقی ہو گی یا نہیں؟ اس بارے میں علما ہوں گے۔ لیکن شریعت آپ کی نہیں چلے گی۔ آپ شریعت محمد مطابق فیصلے دیں گے اور اسی کو نافذ فرمائیں گے۔ اس بارے میں کے ان گنت اقوال پیش کئے جا سکتے ہیں۔ اور علمائے امت نے یہ کہتا ہو کہ آپ کی نبوت سلب ہو چکی ہے۔ وہ کفر کا مرتکب ہو خلاف ہے۔ کوئی نبی، نبی بنائے جانے کے بعد مقام نبوت ۔ متعدد مثالیں موجود ہیں کہ نبی ہوتے ہوئے دوسرے نبی کے م السلام نبی تھے۔ لیکن آپ سیدنا موسیٰ کلیم اللہ علیہ السلام کے تابع سیدنا لوط علیہ السلام نبی تھے۔ مگر آپ سیدنا ابراہیم بات ہے کہ سید الانبیاء ﷺ کی تشریف آوری کے بعد ہر قسم کی نب متبوع نبی دوسرا آئے گا۔ نہ کوئی نئے سرے سے منصب نبوت برصغیر پاک و ہند کے ایک نامور فاضل، جو نزول سیدنا مسیح علیہا سبقت قلم سے ان سے یہ جملہ نکل گیا کہ: ”حضرت عیسیٰ کی آم نبوت۔ اس باب میں علمائے امت کا اختلاف ہے۔“

یہ ان کی علمی لغزش ہے۔ اللہ تعالیٰ انہیں معاف فرم او پر عرض کر دی ہے۔ گزشتہ اوراق میں نمبر ٦ پر حضرت نواس کے چند جملے ہم نے نقل کئے ہیں۔ یہ روایت خاصی طویل ہے السلام کے لئے کئی مرتبہ نبی اللہ کا لفظ ہے۔ اس کو پڑھ کر کوئی آپ آمد ثانی کے وقت نبی کے منصب سے معزول ہو چکے ہ سرفراز ہو چکے تھے۔ مگر اب جب آپ تشریف لائیں گے والسلام کے پابند ہوں گے۔

دوسری وضاحت

گزشتہ اوراق میں حدیث مندرجہ ٧ کو دیکھنے

٦٧

صفحہ ١٢٧

پہلی وضاحت

جب سیدنا مسیح ابن مریم علیہ السلام نازل ہوں گے تو ایک سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا اس وقت آپ کی نبوت باقی ہوگی یا نہیں؟ اس بارے میں علمائے امت متفق ہیں کہ آپ نبی تو ہوں گے۔ لیکن شریعت آپ کی نہیں چلے گی۔ آپ شریعت محمدیہ علیٰ صاحبہا الصلوٰۃ والسلام کے مطابق فیصلے دیں گے اور اسی کو نافذ فرمائیں گے۔ اس بارے میں علماء محدثین، مفسرین اور متکلمین کے ان گنت اقوال پیش کئے جاسکتے ہیں۔ اور علمائے امت نے تو یہاں تک فرما دیا ہے کہ جو شخص یہ کہتا ہو کہ آپ کی نبوت سلب ہوچکی ہے۔ وہ کفر کا مرتکب ہوا۔ کیونکہ یہ مسلمہ اسلامی عقیدہ کے خلاف ہے۔ کوئی نبی، نبی بنائے جانے کے بعد مقام نبوت سے معزول نہیں ہوا۔ البتہ اس کی متعدد مثالیں موجود ہیں کہ نبی ہوتے ہوئے دوسرے نبی کے پیروکار رہے۔ مثلاً سیدنا ہارون علیہ السلام نبی تھے۔ لیکن آپ سیدنا موسیٰ کلیم اللہ علیہ السلام کے تابع تھے۔

سیدنا لوط علیہ السلام نبی تھے۔ مگر آپ سیدنا ابراہیم علیہ السلام کے پیروکار تھے۔ یہ الگ بات ہے کہ سید الانبیاء ﷺ کی تشریف آوری کے بعد ہر قسم کی نبوت کا دروازہ بند ہوگیا۔ اب نہ کوئی متبوع نبی دوسرا آئے گا۔ نہ کوئی نئے سرے سے منصب نبوت پر فائز ہوکر بطور تابع آئے گا۔ برصغیر پاک و ہند کے ایک نامور فاضل، جو نزول سیدنا مسیح علیہ السلام کے قائل اور معتقد ہیں۔ کہیں سبقت قلم سے ان سے یہ جملہ نکل گیا کہ: ”حضرت عیسیٰ کی آمد ثانی بصفت نبوت ہوگی یا بلا صفت نبوت۔ اس باب میں علمائے امت کا اختلاف ہے۔“

یہ ان کی علمی لغزش ہے۔ اللہ تعالیٰ انہیں معاف فرمائے۔ حقیقت وہی ہے۔ جو ہم نے اوپر عرض کردی ہے۔ گزشتہ اوراق میں نمبر ٦ پر حضرت نواس بن سمعانؓ سے ایک حدیث مرفوع کے چند جملے ہم نے نقل کئے ہیں۔ یہ روایت خاصی طویل ہے۔ اس میں سیدنا عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام کے لئے کئی مرتبہ نبی اللہ کا لفظ ہے۔ اس کو پڑھ کر کوئی شخص یہ کہنے کی جرات نہیں کرسکتا کہ آپ آمد ثانی کے وقت نبی کے منصب سے معزول ہوچکے ہوں گے۔ آپ منصب نبوت پر پہلے سرفراز ہوچکے تھے۔ مگر اب جب آپ تشریف لائیں گے تو آپ شرع محمدی علیٰ صاحبہ الصلوٰۃ والسلام کے پابند ہوں گے۔

دوسری وضاحت

گزشتہ اوراق میں حدیث مندرجہ: ٧ کو دیکھئے۔ اس میں یہ لکھا ہے کہ سیدنا مسیح ابن

٦٧

صفحہ ١٢٩

مریم علیہ السلام دمشق سے مشرقی جانب سفید منارہ کے پاس اتریں گے۔ آپ غور فرمائیے کہ جس وقت رسول اللہ ﷺ نے یہ پیشین گوئی ارشاد فرمائی تھی اس وقت نہ تو دمشق اسلامی عملداری میں شامل تھا۔ نہ وہاں کوئی سفید منارہ، لیکن اگر کوئی بندہ کلمہ گو ہو کر شک و ارتیاب کی بھول بھلیاں میں بھٹکتا پھرتا ہے۔ تو ہمارے نزدیک وہ مقام نبوت کو سمجھا ہی نہیں۔ وہ اسلامی ادب کا مطالعہ کرے۔ شاید اس کے دل کے پردے دور ہو جائیں۔ ہم پیشین گوئیوں کی چند مثالیں یہاں درج کرتے ہیں۔

تشریف لے جا رہے ہیں۔ سراقہ بن مالک (اس وقت وہ صرف سراقہ تھا۔ حضرت سراقہ غزوہ احد کے بعد بنے رضی اللہ تعالیٰ عنہ) قریش مکہ کے اعلان کردہ انعام کے لالچ میں تعاقب کرتا ہے۔ آپ اس سے فرماتے ہیں: ”سراقہ! اس وقت تیرا کیا حال ہوگا۔ جبکہ شاہ ایران کے سنہری کنگن تجھے پہنائے جائیں گے۔“

اس وقت تو سراقہ سوچ بھی نہیں سکتا ہوگا کہ ایسا بھی کبھی ہوگا۔ لیکن اللہ کی شان! سولہ سال بعد ایران کا دارالسلطنت مدائن فتح ہوا اور غنیمت کا مال سیدنا فاروق اعظم کے سامنے آیا۔ تو محض اللہ کے رسول ﷺ کی پیش گوئی کی تصدیق کے لئے سیدنا فاروق اعظم سمیت صحابہ کرام نے نعرہ تکبیر بلند کیا اور سنہری کنگن حضرت سراقہ کے ہاتھوں میں ڈالے گئے۔

(دیکھئے: استیعاب ابن عبدالبر)

بکواس کرتا پھرتا۔ رسول اللہ ﷺ کو پتہ چلا تو فرمایا: ”ان الارض لا تقبله“ زمین اسے قبول نہیں کرے گی۔ حضرت ابوطلحہ انصاری بدری صحابی ہیں (غالباً آقائے دو جہاں ﷺ کی قبر شریف کی تیاری کی خدمت بھی انہوں نے سرانجام دی تھی) فرماتے ہیں: میں اس شخص کے عزیزوں کے ہاں گیا تو دیکھا اس کا لاشہ باہر پڑا ہے۔ ان لوگوں نے بتایا۔ ہم نے کئی مرتبہ اسے دفن کیا مگر زمین اسے باہر نکال پھینکتی تھی۔

کو فتح کرو گے۔ اس میں قیراط کے نام سے سکہ چلتا ہوگا۔ جب تم اسے فتح کرلو تو وہاں کے لوگوں

٦٨

سے حسن سلوک سے پیش آنا۔ کیونکہ ایک تو ان کا ذمہ ہو قائم ہو جائے گا) دوسرا یہ کہ ان سے قرابت داری اور ص ہاجرہ کی وجہ سے اور صہریت حضرت ماریہ قبطیہ کی وجہ سے برابر زمین پر لڑ رہے ہیں۔ تو وہاں سے چلے جانا۔ حضر دیکھا کہ حضرت شرحبیل بن حسنہ (جلیل القدر صحابی ۔ عبدالرحمن ایک اینٹ کے برابر کی جگہ پر لڑ رہے ہیں تو م

بطور مشتے نمونہ از خروار، ہم نے تین مثالیں ہے کہ لسان نبوت سے نکلی ہوئی پیشین گوئیاں عین حق بجز اس کے کوئی چارہ نہیں کہ وہ خود زبان نبوت (علی سے اس تک پہنچے تو وہ کہہ اٹھے۔ برحق ! ”آمنا بہ وص دمشق، عہد نبوت میں اسلامی عملداری میں البيضاء“ نہیں تھا تو نہ سہی، لیکن ہمارے آقا ایمان بالغیب کی بات اور ایمان کی مضبوطی کی علامت شک و ارتیاب کا کانٹا دل میں کھٹک رہا تھا۔ تو اسے نکا یہ مزید واضح کر دینا ضروری ہے کہ ہم ن

نواس بن سمعان کی روایت نمبر ٦ (بحوالہ مسلم، ترمذ ینزل عيسى بن مريم عليه السلام عند الفاظ موجود ہیں۔ اب اس بارے میں امت مسلمہ

﴿حافظ عماد الدین بن کثیر فرماتے ہیں نزول کے بارے میں زیادہ مشہور یہی ہے (کہ آپ ہوں گے) اور ہمارے زمانہ ٧٤١ھ میں سفید پتھر سے پہلے جو منارہ تھا۔ اسے عیسائیوں نے جلا دیا تھ گیا اور شاید یہ آنحضرت ﷺ کی نبوت کے واضح

١٩

صفحہ ١٢٩

سے حسن سلوک سے پیش آنا۔ کیونکہ ایک تو ان کا ذمہ ہوگا (یعنی ذمی بن جانے کی وجہ سے ان کا حق قائم ہو جائے گا) دوسرا یہ کہ ان سے قرابت داری اور صہریت کا تعلق ہے۔ (قرابت داری سیدہ ہاجرہؓ کی وجہ سے اور صہریت حضرت ماریہ قبطیہؓ کی وجہ سے) جب تو دیکھے کہ دو آدمی ایک اینٹ کے برابر زمین پر لڑ رہے ہیں۔ تو وہاں سے چلے جانا۔ حضرت ابو ذرؓ کہتے ہیں: چنانچہ میں نے بعد میں دیکھا کہ حضرت شرحبیل بن حسنہؓ (جلیل القدر صحابی تھے اور سپہ سالار بھی) کے دو بیٹے ربیعہ اور عبدالرحمٰن ایک اینٹ کے برابر کی جگہ پر لڑ رہے ہیں تو میں وہاں سے چلا گیا۔

(مسلم شریف ج ٢ ص ١٣١)

بطور مشتے نمونہ از خروار، ہم نے تین مثالیں نقل کر کے قارئین کو یہ بتانے کی کوشش کی ہے کہ لسان نبوت سے نکلی ہوئی پیشین گوئیاں عین حق وصواب ہوتی ہیں۔ ایک مسلمان کے لئے بجز اس کے کوئی چارہ نہیں کہ وہ خود زبان نبوت (علیٰ صاحبہا الصلوٰۃ والسلام) سے سنے یا صحیح سند سے اس تک پہنچے تو وہ کہہ اٹھے۔ برحق! ”آمنا بہ وصدقنا“

دمشق، عہد نبوت میں اسلامی عملداری میں نہیں تھا، تو نہ سہی، وہاں قریب ”المنارة البیضاء“ نہیں تھا تو نہ سہی، لیکن ہمارے آقا نے جب یہ فرما دیا تو ایسا ہو کر رہے گا۔ یہ تو تھی ایمان بالغیب کی بات اور ایمان کی مضبوطی کی علامت۔ اب پڑھئے درج ذیل حوالہ اور پہلے کوئی شک و ارتیاب کا کانٹا دل میں کھٹک رہا تھا تو اسے نکال پھینکئے۔

یہ مزید واضح کر دینا ضروری ہے کہ ہم نے یہاں نمبر ٧ کا حوالہ دیا ہے۔ حالانکہ حضرت نواس بن سمعانؓ کی روایت نمبر ٦ (بحوالہ مسلم، ترمذی، ابوداؤد، ابن ماجہ وغیرہ) میں بھی ”ثــــم ینزل عیسیٰ بن مریم علیہ السلام عند المنارة البيضاء شرقی دمشق“ کے الفاظ موجود ہیں۔ اب اس بارے میں امت مسلمہ کے دو جلیل القدر بزرگوں کے فرمان سنئے:

نزول کے بارے میں زیادہ مشہور یہی ہے (کہ آپؑ دمشق کے مشرقی جانب سفید منارہ پر نازل ہوں گے) اور ہمارے زمانہ ٧٤١ھ میں سفید پتھر سے ایک منارہ کی ازسرنو تعمیر ہو چکی ہے۔ اس سے پہلے جو منارہ تھا۔ اسے عیسائیوں نے جلا دیا تھا۔ پھر زیادہ تر انہی کے مال سے موجود منارہ بنایا گیا اور شاید یہ آنحضرت ﷺ کی نبوت کے واضح دلائل میں سے ہوگا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام

٦٩

صفحہ ١٣٠

کے نزول کے لئے منارہ کی تعمیر ۔ اللہ تعالیٰ نے نصاریٰ ہی کے مال سے مقدر فرمادی۔

”(اس عبارت کو نقل کر کے علامہ جلال الدین سیوطیؒ فرماتے ہیں) میں کہتا ہوں کہ بلا شبہ یہ دلائل نبوت میں سے ہے۔“

(مرقاۃ الصعود، حاشیہ سنن ابی داؤد، از علامہ سیوطیؒ، مصباح الزجاجہ، حاشیہ سنن ابن ماجہ از علامہ سیوطیؒ)

مزید وضاحت کے لئے ہم پھر عرض کر دیں کہ سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کا نزول دمشق میں شرقی سمت ہوگا یا دمشق سے شرقی جانب، بہر حال سفید منارہ، آپ علیہ السلام کی آمد سے پہلے موجود ہوگا۔ یوں نہیں ہوگا کہ آپ نازل ہو جائیں گے اور اس کے بعد منارہ تعمیر ہوگا۔ اگر کوئی فرد یا گروہ اس قسم کی بناوٹ کرتا ہے تو ہم اسے ایک ”ڈرامہ“ تو کہہ سکتے ہیں۔ نبی آخر الزمان ﷺ کے فرمان اقدس کی تعمیل یا تعبیر نہیں ہوگی۔

تیسری وضاحت

عقیدہ نزول سیدنا مسیح علیہ السلام کے سلسلہ میں ہم نے چند احادیث نقل کی ہیں۔ ان میں سے نمبر ٨ پر جو روایت آئی ہے اس میں ان فرائض کا ذکر ہے۔ جو آپ علیہ السلام کے نزول کے بعد سرانجام دیں گے۔ کہ آپ صلیب توڑ ڈالیں گے۔ خنزیر کو ہلاک کر دیں گے اور جزیہ وغیرہ کو ختم کر دیں گے۔ کچھ لوگوں نے ان باتوں کا مذاق اڑا کر اپنی شقاوت کا ثبوت دیا ہے۔ اعاذنا اللہ منہ!

ہم اس سلسلہ میں علامہ محقق ابن کثیرؒ کا ایک فرمان نقل کرتے ہیں۔ جس سے اندازہ ہو سکتا ہے کہ قدرت نے سیدنا عیسیٰ مسیح ابن مریم علیہ السلام کو یہ فرائض کیوں تفویض فرمائے؟ فرماتے ہیں:

﴿جب اللہ تعالیٰ نے آپؑ کو آسمان کی طرف اٹھا لیا تو آپؑ کے پیروکار کئی گروہوں میں بٹ گئے۔ کچھ لوگ ایمان پر رہے۔ وہ آپؑ کو اللہ کا بندہ اور رسول مانتے رہے۔ ایک گروہ نے آپؑ کو خدا کا بیٹا قرار دے دیا۔ کچھ نے انہیں خود خدا مان لیا۔ اور وہ ثالث ثلثہ کے قائل ہو گئے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں ان کی یہ گفتگو نقل فرمائی ہے۔ تین سو سال تک معاملہ یوں ہی چلتا رہا۔ اس کے بعد ایک یونانی حکمران قسطنطین نمودار ہوا۔ (کیونکہ اس وقت بیت المقدس پر

٧٠

صفحہ ١٣١

حکومت رومیوں کی تھی۔ ناقل) اس نے دین نصرانیت کو قبول کرلیا۔ اب بعض لوگ تو یہ کہتے ہیں کہ وہ فلسفی مزاج تھا اور اس نے ایک چال کے طور پر مسیحیت کو قبول کیا تھا۔ اور کچھ لوگ کہتے ہیں۔ کہ اس نے ازراہ جہل و نادانی ایسا کیا۔ مگر اس نے دین مسیحی میں کچھ تغیر وتبدیل کر دیا اور کچھ کمی وبیشی۔ ...... اسی کے زمانہ میں خنزیر کو حلال قرار دیا گیا۔ نماز کے لئے قبلہ بجانب مشرق مقرر ہوا...... عبادت خانہ اور گرجوں میں تصویریں لٹکائیں گئیں...... اس طرح دین مسیحی دراصل قسطنطین کا تیار کردہ قانون رہ گیا۔ ﴾

(تفسیر ابن کثیر ج ١ ص ٣٦٦)

علمائے امت اور ائمہ دین کی تشریحات کے مطابق کسر صلیب سے مراد دین مسیحیت کا ابطال ہے۔ صلیب ان لوگوں کا مذہبی شعار ہے۔ جو ان کے تمدن کے ایک ایک شعبہ میں نمایاں ہے۔ لباس میں نمایاں ، رہائشی عمارات میں، گرجا گھروں میں، مصنوعات میں، غرض ہر جگہ نمایاں، عالمی رفاہی تنظیم، جو عوام کی بہبودی کے لئے بنائی گئی تو اس کا نام (ریڈ کراس سوسائٹی) رکھا گیا۔ وہ ٹکٹ یا پرچیاں جاری کریں گے تو ان پر ”صلیب احمر“ کا نشان موجود ہوگا۔ وغیرہ وغیرہ۔ خنزیر کا گوشت آج ان لوگوں کا سب سے من بھاتا کھاجا ہے۔ خنزیر ان کی ایک ایک چیز میں شامل ہے۔ بطور لطیفہ ہم یہاں ایک کہانی درج کرتے ہیں۔

”ایک عرب سے پوچھا گیا تھا: تم کیا کھاتے ہو؟ کہا: اونٹ۔ کیا پیتے ہو؟ جواب: اونٹنی! کیا پہنتے ہو؟ جواب: اونٹ۔ کس میں رہتے ہو؟ جواب اونٹ میں ! پوچھا گیا: وہ کیسے؟ جواب دیا: اونٹ کا گوشت کھاتا ہوں۔ اونٹنی کا دودھ پیتا ہوں۔ اونٹ کی اون سے تیار شدہ لباس پہنتا اور اونٹ کی اون سے تیار شدہ خیمہ میں رہتا ہوں۔“

یہ لطیفہ تو اللہ جانتا ہے۔ یوں ہی کہاوت ہے یا حقیقت؟ مگر اقوام یورپ تو واقعہ یہ ہے کہ ان کی بود و باش کے ایک ایک شعبہ میں خنزیر کارفرما ہے۔ تازہ دودھ ملے گا تو سورنیوں کا۔ گوشت ملے گا تو سوروں کا۔ ڈبوں میں بند گوشت یا خشک دودھ ملے گا تو سوروں کا۔ دانتوں کے برش تک سوروں کے بالوں کے بنے ہوئے ملیں سور کی ہڈیوں کے وہاں آپ کو فارم ملیں گے تو سوروں کے پھر خنزیر دیوثی کا پیکر اور بے غیرتی کا مرقع۔ اس کے آثار آپ کو یورپی اقوام میں نظر آئیں گے۔

٧١

صفحہ ١٣٣

جب سیدنا مسیح ابن مریم علیہ السلام تشریف لاکر ادھر صلیب توڑ ڈالیں گے۔ دوسری طرف تمدن کی اصلاح فرمادیں گے۔ اسلام کے سوا کسی دوسرے دین کو قبول نہیں فرمائیں گے۔ تو اب جزیہ کیوں کر باقی رہ جائے گا۔ پھر آپ کی آمد سے وہ برکات نمودار ہوں گی۔ کہ نہ کوئی بندہ رہے گا۔ نہ بندہ نواز! نہ زکوٰۃ لینے والے مل سکیں گے۔ نہ کوئی گداگر اور بھکاری۔ یوں سیدنا مسیح ابن مریم علیہ السلام اپنی ذمہ داریوں سے عہدہ براہوں گے۔

کمرے میں ٹھنڈک محسوس ہوتی ہو تو آپ اندازہ لگاتے ہیں کہ A/C یا کم از کم پنکھا چل رہا ہے۔ رات کے وقت مکان میں روشنی ہو تو پتہ چلتا ہے کہ بجلی کا بلب یا چراغ جل رہا ہے۔ روشن دان سے دھواں نکلتا ہوا دیکھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ باورچی خانہ میں آگ جل رہی ہے۔ اگر آپ کو نزول سیدنا مسیح علیہ السلام کے نتائج اور آثار نظر آتے ہوں تو آپ بے شک یہ کہنے میں حق بجانب ہوں گے کہ مسیح موعود آچکے ہیں اور جب یہاں حال یہ ہے کہ کفر دندنا رہا ہے۔ برق گرتی ہے تو بے چارے مسلمانوں پر۔ سید الاولین والآخرین ﷺ کی پیشین گوئی پوری ہونے کے لئے فضا ہموار ہو رہی ہے۔ آقائے دو جہاں ﷺ کے ارشادات گرامی کا ایک ایک لفظ پورا ہوکر رہے گا۔ ہم نہیں تو ہماری نسلیں دیکھیں گی اور ضرور دیکھیں گی۔ وہ وقت آئے اور ضرور آئے گا۔ دور نہیں! بہت ہی قریب ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ اس سلسلہ میں ہماری تیاری اور ہمارا Contribution کیا ہوگا؟

چوتھی وضاحت

بعض لوگوں کو اس پر شاید حیرت ہوئی ہو کہ بزرگانِ امت نے احادیث نزول سیدنا مسیح ابن مریم علیہ السلام کو معناً متواتر قرار دیا ہے۔ حقیقت تو یہ ہے کہ کسی مسئلہ پر بالفرض حدیث متواتر نہ ملے۔ مشہور ہو یا خبر واحد ہو لیکن صحیح سند سے ثابت ہو تو صادق الایمان مسلمان کے لئے بجز اس کے کوئی چارہ نہیں کہ وہ دل و جان سے اسے تسلیم کرے۔ تاہم ہم یہاں پر دورِ حاضر کے ایک محقق، جو قبولِ احادیث کے بارے میں بڑے متشدد ہیں۔ ان کے قلم سے نکلے ہوئے چند جملے نقل کرنا چاہتے ہیں۔ شاید کسی طالبِ حق کو فائدہ پہنچ جائے۔ فرماتے ہیں: "واعلم ان احاديث الدجال ونزول عيسى عليه السلام متواترة۔ ٧٢

يجب الايمان بها، ولا تغتر بمن يدعى فيها بهذا العلم، وليس فيهم من تتبع طرقها ولو بذالك ائمة هذا العلم كالحافظ ابن حجر وغ البعض على الكلام فى ماليس من اختصاصه

(تخریج احاديث شرح العقيدة الطحاوية، لل

﴿تمہیں معلوم رہے کہ دجال کے آنے احادیث متواتر ہیں۔ ان پر ایمان لے آنا ضروری ہے ہیں۔ ان کی بات سے دھوکے میں نہ آجانا۔ وہ اس علم نہیں کیا کہ ان احادیث کی سندوں کو دیکھ لیتے۔ اگر کوئ جیسا کہ اس علم کے ائمہ مثلاً حافظ ابن حجر وغیرہ نے افسوس ناک ہے کہ ایک آدمی اس موضوع پر گفتگو شرو ہو، خصوصاً جبکہ معاملہ دین اور عقیدہ کا ہو۔﴾

طلبہ علم کی اطلاع کے لئے عرض ہے کہ عل محقق ناصر الدین البانی نظریاتی لحاظ سے بعض مسائل نظریہ مسئلہ اس نوعیت کا ہے کہ اس میں دونوں بزرگ متف

ضمیمہ

آپ گزشتہ اوراق میں پڑھ چکے ہیں کہ منکر ہے۔ اس کے بارے میں ہم نے آٹھ الزامات وہ شخص کون ہے؟ وہ ہے متنبئ پنجاب مرزا غلام احمد الزامات اس کی تحریروں سے ثابت ہو جائیں تو اک نہیں رہ جاتی اور اس کے بعد سنجیدگی اور متانت اس سخن بنایا جائے۔ بہر حال ان الزامات کی تصدیق۔

١......دروغ گوئی

ایک طرف تو مرزا قادیانی لکھتے ہیں ٧٣

صفحہ ١٣٣

يجب الايمان بها، ولا تغتر بمن يدعى فيها انها احاديث آحاد۔ فانهم جهال بهذا العلم، وليس فيهم من تتبع طرقها ولو فعلها لو جدها متواترة كما شهد بذالك ائمة هذا العلم كالحافظ ابن حجر وغيره۔ ومن الموسف حقا ا يتجرا البعض على الكلام فى ماليس من اختصاصهم لا سيما والامر دين وعقيده“

(تخریج احادیث شرح العقيدة الطحاوية، للمحقق ناصر الدين الالبانی ص ٥٦٥)

﴿تمہیں معلوم رہے کہ دجال کے آنے اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کی احادیث متواتر ہیں۔ ان پر ایمان لے آنا ضروری ہے۔ جو لوگ یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ یہ اخبار آحاد ہیں۔ ان کی بات سے دھوکے میں نہ آجانا۔ وہ اس علم سے نا آشنا ہیں۔ ان میں سے کسی نے اتنا نہیں کیا کہ ان احادیث کی سندوں کو دیکھ لیتے۔ اگر کوئی ایسا کر لیتا تو وہ ان احادیث کو متواتر پاتا۔ جیسا کہ اس علم کے آئمہ مثلاً حافظ ابن حجر وغیرہ نے اس کی تصدیق کی ہے۔ یقیناً یہ بات بڑی افسوس ناک ہے کہ ایک آدمی اس موضوع پر گفتگو شروع کردے۔ جس سے اس کا خاص تعلق نہ ہو۔ خصوصاً جبکہ معاملہ دین اور عقیدہ کا ہو۔﴾

طلبہ علم کی اطلاع کے لئے عرض ہے کہ حلب کے نامور عالم شیخ عبد الفتاح ابو غدہ، اور محقق ناصر الدین البانی نظریاتی لحاظ سے بعض مسائل میں ایک دوسرے کے حریف ہیں۔ لیکن زیر نظر مسئلہ اس نوعیت کا ہے کہ اس میں دونوں بزرگ متفق الرائے ہیں۔

ضمیمہ

آپ گزشتہ اوراق میں پڑھ چکے ہیں کہ ایک شخص جو حیات و نزول مسیح علیہ السلام کا منکر ہے۔ اس کے بارے میں ہم نے آٹھ الزامات نقل کئے ہیں۔ یقیناً آپ سمجھ گئے ہوں گے کہ وہ شخص کون ہے؟ وہ ہے متنبئ پنجاب مرزا غلام احمد قادیانی ۔ سچ تو یہ ہے کہ اگر ہمارے عائد کردہ الزامات اس کی تحریروں سے ثابت ہو جائیں تو اس کے بارے میں مزید کچھ کہنے کی ضرورت باقی نہیں رہ جاتی اور اس کے بعد سنجیدگی اور متانت اس بات کی اجازت ہی نہیں دیتی کہ اسے موضوع سخن بنایا جائے۔ بہرحال ان الزامات کی تصدیق کے لئے آپ دیکھئے۔

ایک طرف تو مرزا قادیانی لکھتے ہیں کہ ”جھوٹ بولنے سے بدتر دنیا میں کوئی کام

٧٣

صفحہ ١٣٥

نہیں ۔“

(حقیقت الوحی ص ٢٦، خزائن ج ٢٢ ص ٤٥٩)

اس کے ساتھ وہ یہ بھی لکھتے ہیں کہ: ”جب ایک بات میں کوئی جھوٹ ثابت ہو جائے۔ تو پھر دوسری باتوں میں اس پر کوئی اعتبار نہیں۔“

(چشمہ معرفت ص ٢٢٢، خزائن ج ٢٣ ص ٢٣١)

دوسری طرف وہ یہ لکھتے ہیں:

آئے گی کہ: ”هذا خليفة الله المهدى“ اب سوچو کہ یہ حدیث کس پایہ اور کس مرتبہ کی ہے۔ جو ایسی کتاب میں درج ہے جو اصح الکتاب بعد کتاب اللہ ہے۔“

(شہادت القرآن ص ٤١، خزائن ج ٦ ص ٣٣٧)

جی! یہ حدیث بخاری کے کون سے باب میں اور کون سے صفحہ پر ہے؟

مجید میں پیش گوئی موجود ہے ....... قرآن شریف نے جو مسیح کے نکلنے کی ١٤٠٠ برس تک مدت ٹھہرائی ہے۔“

(ازالہ اوہام ص ٦٥٥، خزائن ج ٣ ص ٤٦٤)

درج بالا الفاظ کو دیکھئے اور یہ معمہ مرزا قادیانی کے کسی امتی سے حل کرائیے کہ یہ پیشین گوئی کس پارہ کی کون سی آیت میں درج ہے؟

موعود ظاہر ہوگا تو اسلامی علماء کے ہاتھ سے دکھ اٹھائے گا۔ وہ اس کو کافر قرار دیں گے۔ اور اس کے قتل کے لئے فتوے دیئے جائیں گے۔ اور اس کی سخت توہین کی جائے گی۔ اور اس کو دائرہ اسلام سے خارج اور دین کا تباہ کرنے والا خیال کیا جائے گا۔“

(اربعین نمبر ٣ ص ٧١، خزائن ج ١٧ ص ٤٠٤)

١؎ یہ عجیب بات ہے کہ مرزا قادیانی کو جب خود مہدی بننے کا شوق ہوا تو حدیث بھی تراش لی اور اسے منسوب بھی امام بخاریؒ کی طرف کر دیا۔ حالانکہ بخاری شریف، پوری کتاب میں کہیں امام مہدی کے ظہور کا ذکر نہیں ہے اور اگر انہیں مہدی تسلیم نہ کیا جائے۔ تو پھر وہ کہتے ہیں کہ نہ بخاری میں اس کا ذکر ہے۔ نہ مسلم میں۔ چنانچہ یہ حوالہ پڑھئے۔

”میں کہتا ہوں کہ مہدی کی خبریں ضعف سے خالی نہیں ہیں۔ اسی وجہ سے امامین حدیث نے ان کو نہیں لیا۔“

(ازالہ اوہام ص ٥٦٨، خزائن ج ٣ ص ٤٠٦)

٧٤

جی! قرآن شریف کی کون سی آیت میں یہ لکھا ہے؟ اور

گا۔“

(ازالہ اوہام ص

جی! اس آیت کا کوئی نمبر؟ سورت اور پارہ کی نشاندہی

٢...... فحش گوئی کا نمونہ

”جب ہم ١٨٥٧ء کی سوانح کو دیکھتے ہیں اور اس زمانہ ڈالتے ہیں، جنہوں نے عام طور پر مہریں لگا دی تھیں۔ کہ انگریز ندامت میں ڈوب جاتے ہیں کہ یہ کیسے مولوی تھے اور کیسے ان کے فتوے عقل تھی نہ اخلاق۔ نہ انصاف۔ ان لوگوں نے چوروں اور قزاقوں گورنمنٹ پر حملہ کرنا شروع کر دیا۔ اور اسی کا نام جہاد رکھا۔“

(ازالہ اوہام

اس پر یہی کہا جاسکتا ہے: ”الاناء يترشح بما فيه کچھ اس میں ہوتا ہے۔“ زیادہ ہم کچھ نہیں کہنا چاہتے۔

٣...... الہامات میں سرقہ

بہت سے لوگ سوچتے ہوں گے کہ مرزا قادیانی تو بڑا جو ان کی زود نویسی کی دلیل ہیں۔ اب قارئین ان کے الہامات کا کیوں کر صفحوں پر صفحے بھرتے چلے گئے۔“

(حقیقت

یہ مصرعہ دراصل شعر زمانہ جاہلیت (قبل از اسلام) ہے۔

سرانجام جاہل جہنم بود کہ

(حقیقت

یہ شیخ سعدیؒ کی مشہور و درسی کتاب کریما سے نقل کیا گیا

٧٥

صفحہ ١٣٥

جی! قرآن شریف کی کون سی آیت میں یہ لکھا ہے؟ اور احادیث کی کوئی نشاندہی؟

”اس حکیم وعلیم کا قرآن کریم میں یہ فرمانا کہ ١٨٥٠ء میں میرا کلام آسمان پر اٹھایا جائے گا۔“

(ازالۃ اوہام ص٧٣١، حاشیہ خزائن ج٣ ص٤٩٣)

جی! اس آیت کا کوئی نمبر؟ سورت اور پارہ کی نشاندہی؟

٢...... فحش گوئی کا نمونہ

”جب ہم ١٨٥٧ء کی سوانح کو دیکھتے ہیں اور اس زمانہ کے مولویوں کے فتوؤں پر نظر ڈالتے ہیں، جنہوں نے عام طور پر مہریں لگادی تھیں۔ کہ انگریزوں کو قتل کر دینا چاہئے۔ تو ہم بحرِ ندامت میں ڈوب جاتے ہیں کہ یہ کیسے مولوی تھے اور کیسے ان کے فتوے تھے۔ جن میں نہ رحم تھا۔ نہ عقل تھی۔ نہ اخلاق۔ نہ انصاف۔ ان لوگوں نے چوروں اور قزاقوں اور حرامیوں کی طرح اپنی محسن گورنمنٹ پر حملہ کرنا شروع کردیا۔ اور اسی کا نام جہاد رکھا۔“

(ازالۃ اوہام ص٧٢٨، حاشیہ خزائن ج٣ ص٤٩٠)

اس پر یہی کہا جاسکتا ہے: ”الاناء یترشح بمافیه“ ”برتن سے وہی چھلکتا ہے جو کچھ اس میں ہوتا ہے۔“ زیادہ ہم کچھ نہیں کہنا چاہتے۔

٣...... الہامات میں سرقہ

بہت سے لوگ سوچتے ہوں گے کہ مرزا قادیانی تو بڑی بڑی کتابیں لکھ کر چھوڑ گئے ہیں جو ان کی زودنویسی کی دلیل ہیں۔ اب قارئین ان کے الہامات کو دیکھیں اور پھر اندازہ لگائیں کہ وہ کیوں کر صفحوں پر صفحے بھرتے چلے گئے۔

(حقیقت الوحی ص٩٩، خزائن ج٢٢ ص١٠٢)

یہ مصرعہ دراصل شعرِ زمانہ جاہلیت (قبل از اسلام) کے کلام سے حرف بحرف ماخوذ ہے۔

سرانجام جاہل جہنم بود
کہ جاہل نکو عاقبت کم بود

(حقیقت الوحی ص١٠٥، خزائن ج٢٢ ص١٠٨)

یہ شیخ سعدیؒ کی مشہور درسی کتاب کریما سے نقل کیا گیا ہے۔

٧٥

صفحہ ١٣٧

(حقیقت الوحی ص ١٠٥، خزائن ج ٢٢ ص ١٠٨)

یہ دراصل قرآن پاک کی آیت ہے۔ اب اس کا ترجمہ مرزا قادیانی سے سنیے: ”خدا نے بدر میں یعنی چودھویں صدی میں تمہیں ذلت میں پا کر تمہاری مدد کی۔“

(حوالہ بالا)

اب یہ اہل علم سے پوچھا جائے کہ ’بدر‘ کے معنی چودھویں صدی کون سی لغت کی رو سے ہیں؟

ہو گئے۔“

(اعجاز احمدی ص ٢٧، خزائن ج ١٩ ص ١٣١)

”مولوی ثناء اللہ صاحب کو ڈرنا چاہئے کہ ان لعنتوں کے نیچے کچلے نہ جائیں اور وہ لعنتیں یہ ہیں:

”تلك عشرة كاملة“

(اعجاز احمدی ص ٤٥، خزائن ج ١٩ ص ١٤٩)

اپنی کور مغزی پر پردہ ڈال رہے ہیں اور وہ نہ صرف دروغ گو ہیں، بلکہ سخت دروغ گو ہیں۔“

(نزول المسیح ص ٦٦، خزائن ج ١٨ ص ٤٤٤)

رکھ دی۔“

(حاشیہ نزول المسیح ص ٧٠، خزائن ج ١٨ ص ٤٤٨)

”اتانی کتاب من کذوب يزور (١)

٧٦

كتاب خبيث كالعقـ
فسئلت لك الويلات يـ
لعنت بمسلحون فانـ

ترجمہ: مجھے ایک کتاب کذاب کی طرف سـ طرح نیش زن۔ پس میں نے کہا کہ اے گولڑہ کی زمین ہوگئی۔ پس تو قیامت کو ہلاکت میں پڑے گی۔

حضرت والا (مرزا قادیانی) کی کرامت ملاحـ سے تین غلطیاں سرزد ہوئیں۔ اوپر خط کشیدہ الفاظ کو دیکـ ہے۔ ترجمہ مفرد کے صیغہ سے کیا گیا ہے۔ (٣) ارض کا مذکر صیغہ لایا گیا ہے۔ جبکہ پیچھے لعنت اور انت مونث

یہ وہ حضرت عبداللہ بن مسعودؓ ہیں۔ جن کـ تھا: ”کنیف ملئ علما“ اور حضرت حذیفہ بن یمانؓ راز دار نبوت ۔ وہ حضرت عبداللہ بن مسعودؓ کے بارے مـ ”اشبه الناس برسول الله ﷺ دلاً

کے اقوال سن کر جواب دے چکے تھے۔ پہلے کچھ اور خیال تھـ جو نہیں تھا۔“

یہ حضرت ابو ہریرہؓ، وہ جلیل القدر صحابی ہیـ ”ذخیرہ احادیث“ اپنے سینہ میں رکھتے تھے:

فهذا على الاسلام احدى المصائب۔ لدى فـ خدا کے جلال کو اور مجد کو بھلا دیا اور تمہارا درد صرف مـ

٧٧

صفحہ ١٣٧
كتاب خبيث كالعقارب (٢) تابر
فقلت لك الويلات يا ارض جولڑا
لعنت بملعون فانت تدمر (٣)“

ترجمہ: مجھے ایک کتاب کذاب کی طرف سے پہنچی ہے۔ وہ خبیث کتاب اور بچھو کی طرح نیش زن۔ پس میں نے کہا کہ اے گولڑا کی زمین تجھ پر لعنت، تو ملعون کے سبب ملعون ہوگئی۔ پس تو قیامت کو ہلاکت میں پڑے گی۔

(اعجاز احمدی ص٨٤، خزائن ج١٩ ص١٨٨)

حضرت والا (مرزا قادیانی) کی کرامت ملاحظہ ہو کہ ان دو شعروں میں الہامی شخصیت سے تین غلطیاں سرزد ہوئیں۔ اوپر خط کشید الفاظ کو دیکھئے (١) کا ترجمہ ندارد، (٢) جمع کا صیغہ ہے۔ ترجمہ مفرد کے صیغہ سے کیا گیا ہے۔ (٣) ارض کا لفظ عربی زبان میں مونث ہے۔ مگر آگے تدمر مذکر صیغہ لایا گیا ہے۔ جبکہ پیچھے لعنت اور انت مونث ہیں۔

(ازالۃ اوہام ص٥٩٦، خزائن ج٣ ص٤٢٢)

یہ وہ حضرت عبداللہ بن مسعودؓ ہیں۔ جن کے بارے میں سیدنا فاروق اعظمؓ نے فرمایا تھا: ”کنیف ملئ علما“ اور حضرت حذیفہ بن یمانؓ جن کا لقب ہے ”صاحب السر“ یعنی راز دار نبوت۔ وہ حضرت عبداللہ بن مسعودؓ کے بارے میں فرماتے ہیں: ”أشبه الناس برسول اللّٰهﷺ دلّاً وسمتاً وهدياً“

کے اقوال سن کر جو ارد گرد رہتے تھے۔ پہلے کچھ یہ خیال تھا کہ عیسیٰ آسمان پر زندہ ہے جیسا کہ ابوہریرہ جو غبی تھا۔“

(اعجاز احمدی ص٢٣، خزائن ج١٩ ص١٢٧)

یہ حضرت ابوہریرہؓ، وہ جلیل القدر صحابی ہیں۔ جو صحابہ کی جماعت میں سب سے زیادہ ”ذخیرہ احادیث“ اپنے سینہ میں رکھتے تھے:

فهذا على الاسلام احدى المصائب ۔ لدى نفحات المسك قدر مقنطر “ ”تم نے خدا کے جلال کو اور مجد کو بھلا دیا اور تمہارا ورد صرف حسین ہے۔ کیا تو انکار کرتا ہے۔ پس یہ اسلام پر

٧٧

صفحہ ١٣٩

تبصرہ...... کیا موتی پروئے گئے ہیں؟ آپ ”دلالہ“ لغت میں دیکھ لیجئے۔

٧...... اللہ تعالیٰ کی شان میں

(حقیقت الوحی ص٨٦، خزائن ج٢٢ ص٨٩)

لڑکے کی بشارت دیتے ہیں جس سے حق کا ظہور ہوگا۔ گویا اللہ آسمان سے نازل ہوا“

(حقیقت الوحی ص٨٧، خزائن ج٢٢ ص٨٩)

تبصرہ...... اللہ کا قرآن تو یہ کہتا ہے کہ: ”لیس کمثلہ شیئ“ مگر مرزا قادیانی اپنے بیٹے کو اللہ سے تشبیہ دے رہے ہیں۔

ہو کر جواب دوں گا، اپنے ارادہ کو کبھی چھوڑ دوں گا اور کبھی پورا کروں گا۔ میں روزہ بھی رکھوں گا۔“

(حقیقت الوحی ص١٠٣، خزائن ج٢٢ص١٠٦)

تبصرہ...... تعجب ہے کہ اللہ تعالیٰ سے خطا بھی ہوتی ہے؟ (نعوذباللہ)

تبصرہ...... یہاں پر عجیب کا لفظ کتنا فصیح وبلیغ معلوم ہوتا ہے؟

(سیرت المہدی حصہ اول ص١٥٠، مصنفہ بشیر احمد قادیانی)

تبصرہ...... فیلنگ کا لفظ (Feeling) ”وحی الٰہی“ میں استعمال ہورہا ہے، داد دے، نہ دے، الہامی شخصیت کا الہام تو لائق صد ”تحسین“ ہے۔

٨...... تضاد بیانی

اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں ایک معیار مقرر کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے کلام میں کوئی تضاد اور تناقض نہیں ہوتا۔ کلام میں تضاد پایا جانا۔ اس بات کی کھلی دلیل ہے کہ یہ کلام اللہ تعالیٰ سے نازل شدہ نہیں ہے۔ یوں تو مرزا قادیانی کے الہامات اور تحریرات اول سے آخر تک تضاد سے پر ہے۔ بالخصوص سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں ان کے تضادات ملاحظہ فرمائیں۔

٧٩

صفحہ ١٤٩

تبصرہ...... کیا موتی پروئے گئے ہیں؟ آپ ”دلالہ“ کے معنی نہیں جانتے تو کسی لغت میں دیکھ لیجئے۔

٧......اللہ تعالیٰ کی شان میں

(حقیقت الوحی ص ٨٦، خزائن ج ٢٢ ص ٨٩)

لڑکے کی تجھے بشارت دیتے ہیں جس سے حق کا ظہور ہوگا۔ گویا آسمان سے خدا اترا۔“

(حقیقت الوحی ص ٩٥، خزائن ج ٢٢ ص ٩٩، ٩٨)

تبصرہ...... اللہ کا قرآن تو یہ کہتا ہے کہ: ”لیس کمثلہ شیء“ لیکن مرزا قادیانی اپنے بیٹے کو اللہ سے تشبیہ دے رہے ہیں۔

ہو کر جواب دوں گا، اپنے ارادہ کو کبھی چھوڑ دوں گا اور کبھی پورا کروں گا۔ میں افطار کروں گا اور روزہ بھی رکھوں گا۔“

(حقیقت الوحی ص ١٠٣، ١٠٤، خزائن ج ٢٢ ص ١٠٦، ١٠٧)

تبصرہ...... تعجب ہے کہ اللہ تعالیٰ سے خطا بھی ہونے لگی اور وہ افطار بھی کرنے لگا۔

(حقیقت الوحی ص ٧٩، خزائن ج ٢٢ ص ٨٢)

تبصرہ...... یہاں پر عجیب کا لفظ کتنا فصیح وبلیغ معلوم ہو رہا ہے؟

(حقیقت الوحی ص ٩٧، خزائن ج ٢٢ ص ٩٩)

تبصرہ...... فیلنگ کا لفظ (Feeling) ”وحی الٰہی“ میں کیا عجیب لگ رہا ہے؟ کوئی داد دے، نہ دے، الہامی شخصیت کا الہام تو لائق صد ”تحسین“ ہے۔

٨......تضاد بیانی

اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں ایک معیار مقرر کیا ہے کہ وحی الٰہی یا الہامات ربانی میں کوئی تضاد اور تناقض نہیں ہوتا۔ کلام میں تضاد پایا جانا۔ اس بات کی دلیل ہے کہ وہ اللہ کی طرف سے نازل شدہ نہیں ہے۔ یوں تو مرزا قادیانی کے الہامات کا پورا ذخیرہ عجیب وغریب تضادات سے پر ہے۔ بالخصوص سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں ان کے کلام میں جو جو تناقض اور تضاد

٧٩

صفحہ ١٤١

٤...... حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا مدفن

قارئین گزشتہ اوراق میں پڑھ چکے ہیں کہ ہوئے۔ مگر مرزا قادیانی انہیں مار کر ہی دم لینا چاہتے ہی ہو گئے ہیں تو دفن کہاں ہوئے؟ اس کے بارے میں مرزا تضاد بیانی پر داد دیجئے۔

(کشتی نوح ص ٥٣، خزائن ج ١٩ ص ٥٨، استفتاء

ممکن ہے کہ کچھ لوگوں کو یہ وہم ہو کہ مرزا قا بڑے پایہ کے عالم تھے تو اتنی کتابیں تصنیف کر کے چھو رد مرزائیت ہوتا تو ہم تفصیل سے اس کا جواب دیتے۔ م مدنظر رکھ کر کچھ لکھنا چاہتے ہیں۔ ضمناً مرزا قادیانی کا ذک ان کے بارے میں ہم نے دروغ گوئی، ب عائد کئے ہیں اور ان کے ثبوت میں مرزا قادیانی کی تحر لگایا جاسکتا ہے کہ مرزا قادیانی کا تمام تر مشن ایک ڈھ دینے کے سوا کچھ نہیں۔ اگر ان کے جہل پر کچھ لکھا جا طور پر درج ذیل حوالہ دیکھئے اور ان کے علمی حدود اربعہ کا

قیاس کن زگلستان

پہلے ایک حدیث شریف کا پس منظر سمجھ ل فارسی ایک جلیل القدر صحابی تھے۔ ان کے والد ایران می پرستی سے بے زار ہو کر نکلے۔ تو پہلے انہوں نے دین سابقہ کے مطابق آنحضرت ﷺ میں علامات نبوت و واقعہ بھی بڑا عجیب و غریب ہے۔ اور محدثین حضرات ن

٨١

صفحہ ١٤١

(ازالہ اوہام ص ٢٣٠، خزائن ج ٣ ص ٢٢١)

٤...... حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا مدفن

قارئین گزشتہ اوراق میں پڑھ چکے ہیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام ابھی فوت نہیں ہوئے۔ مگر مرزا قادیانی انہیں مار کر ہی دم لینا چاہتے ہیں۔ اب سوال یہ ہے کہ اگر واقعی وہ فوت ہو گئے ہیں تو دفن کہاں ہوئے؟ اس کے بارے میں مرزا قادیانی کے ارشادات پڑھئے۔ اور ان کی تضاد بیانی پر داد دیجئے۔

(ازالہ اوہام ص ٤٧٣، خزائن ج ٣ ص ٣٥٣)

(اتمام الحجۃ ص ٢٧، حاشیہ خزائن ج ٨ ص ٢٩٩)

(کشتی نوح ص ٥٤، خزائن ج ١٩ ص ٥٨، استفتاء مشمولہ حقیقت الوحی ص ٤٩، خزائن ج ٢٢ ص ٦٧٢)

ممکن ہے کہ کچھ لوگوں کو یہ وہم ہو کہ مرزا قادیانی نے بہت سی کتابیں لکھی ہیں۔ آخر وہ بڑے پایہ کے عالم تھے تو اتنی کتابیں تصنیف کر کے چھوڑ گئے ہیں۔ اگر اس وقت ہمارے پیش نظر رد مرزائیت ہوتا تو ہم تفصیل سے اس کا جواب دیتے۔ سردست تو ہم ایک مسلمان عالم کی تحریروں کو مدنظر رکھ کر کچھ لکھنا چاہتے ہیں۔ ضمناً مرزا قادیانی کا ذکر آ گیا۔

ان کے بارے میں ہم نے دروغ گوئی، بدزبانی اور تضاد بیانی وغیرہ کے جو الزامات عائد کئے ہیں اور ان کے ثبوت میں مرزا قادیانی کی تحریریں پیش کر دی ہیں۔ ان سے بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ مرزا قادیانی کا تمام تر مشن ایک ڈھونگ ہے۔ فراڈ ہے۔ اللہ کی مخلوق کو دھوکہ دینے کے سوا کچھ نہیں۔ اگر ان کے جہل پر کچھ لکھا جائے تو بات خاصی لمبی ہو جائے گی۔ نمونہ کے طور پر درج ذیل حوالہ دیکھئے اور ان کے علمی حدود اربعہ کا اندازہ لگا لیجئے۔

قیاس کن زگلستان من بہار مرا

پہلے ایک حدیث شریف کا پس منظر سمجھ لیجئے۔ قارئین جانتے ہیں کہ حضرت سلمان فارسیؓ ایک جلیل القدر صحابی تھے۔ ان کے والد ایران میں ایک آتش کدہ کے انچارج تھے۔ وہ آتش پرستی سے بے زار ہو کر نکلے۔ تو پہلے انہوں نے دین مسیحیت قبول کیا۔ مدینہ منورہ پہنچے تو کتب سابقہ کے مطابق آنحضرت ﷺ میں علامات نبوت دیکھ کر اسلام قبول کر لیا۔ اس کے قبول اسلام کا واقعہ بھی بڑا عجیب وغریب ہے۔ اور محدثین حضرات کے مطابق انہوں نے عمر بھی بہت طویل پائی

٨١

صفحہ ١٤٣

تھی۔ اڑھائی سو سال بلکہ ساڑھے تین سو سال تک عمر بتائی گئی ہے۔ واللہ اعلم! رسول اللہ ﷺ ان کے تجربات زندگی سے بھی فائدہ اٹھاتے تھے۔ غزوہ احزاب کے موقع پر خندق انہی کے مشورہ سے کھودی گئی تھی۔ ان کی شان میں رسول اللہ ﷺ کے کئی فرمان موجود ہیں۔ مثلاً: ایک یہ کہ جنت تین آدمیوں کی مشتاق ہے۔ جن میں سے ایک نام حضرت سلمان فارسیؓ کا ہے۔ محدثین کرامؒ نے آپؓ کے مناقب میں ایک روایت یہ بھی نقل کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ان کے بارے میں ارشاد فرمایا: ”سلمان منا اھل البیت!“ بعض محدثین نے یہ بھی نقل کیا ہے کہ جب غزوہ خندق کے موقع پر خندق کی کھدائی ہونے لگی اور رسول اللہ ﷺ نے کھدائی کے لئے زمین صحابہ کرامؓ میں تقسیم فرمادی۔ تو اس وقت کچھ لوگوں نے آنحضرت ﷺ سے پوچھا کہ: سلمان کس کے ساتھ ہوں گے؟ مہاجرین کے یا انصار کے کس شاخ کے؟ اس کے جواب میں آقا نے اپنے ایک مخلص غلام کو اس اعزاز سے نوازا اور فرمایا کہ: ”سلمان منا اھل البیت!“

اس پس منظر کو ذہن میں رکھئے اور پھر دیکھئے کہ مرزا قادیانی نے اپنے علم و فضل سے کیونکر اس ارشادِ گرامی کا حلیہ بگاڑا۔ العیاذ باللہ!

”میرے خاندان کی نسبت ایک اور وحی الٰہی ہے اور وہ یہ ہے کہ خدا میری نسبت فرماتا ہے۔ سلمان منا اھل البیت (ترجمہ) یعنی یہ عاجز جو دو صلح کی بنیاد ڈالتا ہے ہم میں سے ہے جو اہل بیت ہیں۔ یہ وحی الٰہی اس مشہور واقعہ کی تصدیق کرتی ہے جو بعض دادیاں اس عاجز کی سادات میں سے تھیں۔ اور دو صلح سے مراد یہ ہے کہ خدا نے ارادہ کیا ہے کہ ایک صلح میرے ہاتھ سے اور میرے ذریعہ سے اسلام کے اندرونی فرقوں میں ہوگی اور بہت کچھ تفرقہ اٹھ جائے گا اور دوسری صلح اسلام کے بیرونی دشمنوں کے ساتھ ہوگی کہ بہتوں کو اسلام کی حقانیت کی سمجھ دی جائے گی اور وہ اسلام میں داخل ہو جائیں گے۔ تب خاتمہ ہوگا۔“

(حقیقت الوحی حاشیہ ص ٧٨، خزائن ج ٢٢ ص ٨١)

قارئین کرام! پڑھ لیا آپ نے اس اقتباس کو؟ بتائیے عربی زبان کی کون سی گرامر، عربی ادب کے کس اصول کے تحت یہ تشریح کی گئی ہے؟ اگر پہلا لفظ سلمان ہے تو اس کا ترجمہ ”دو صلح“ کیونکر ہو گیا اور اگر یہ لفظ سلمان بصیغہ تثنیہ ہے۔ تو آگے منا اھل البیت کہنے کی کیا تک بنتی ہے؟ العیاذ باللہ ! ثم العیاذ باللہ! خدا کو بات کرنے کا سلیقہ بھی نہیں ہے۔ واضح رہے کہ مرزا قادیانی نے کتاب کے اسی صفحہ پر اوپر بھی ایک روایت نقل کی ہے۔ جو بالعموم حضرت سلمانؓ ہی کے بارے میں نقل کی جاتی ہے۔ یہ ہیں ٹھیٹھ پنجاب کی ”وحی“ کے کرشمے اس لئے تو یہ مثل بنی ہے ”کہیں کی اینٹ، کہیں کا روڑا، بھان متی نے کنبہ جوڑا۔“

٨٢

قارئین کرام! مرزا قادیانی کے اقوال آپ نے م اس شخص نے؟ بخدا! شرافت سر پیٹ لیتی ہے۔ مشام حواس پڑھنے اور نقل کرنے سے۔ اچھا اب لگے ہاتھوں ان کی کارگز موجود تھے اور احادیث مبارکہ میں انہی کی آمد کی اطلاع دی گئی تک عہدہ برا ہوئے؟ سرسری سا جواب اس سوال کا یہ ہے: ١٩٠٨ء میں مرزا قادیانی اپنے انجام کو پہنچے۔ ان نتیجہ میں وہ مولانا ثناء اللہ امرتسریؒ کی وفات کے منتظر تھے۔ اس طرح سے دبوچ لیا۔ اس کے بعد کیا ہوا؟

لیکن دیکھتے ہی دیکھتے ان کے شعلوں نے پوری دنیا کو اپنی مسلمانوں کی عظیم سلطنت تھی۔ غلط کیا یا صحیح، بہرحال اس نے جنگ میں اتحادیوں (برطانیہ، فرانس، امریکہ اور روس وغیرہ جنگ کے بادل چھٹے تو اتحادیوں نے ترکی سلطنت (خلافت بندی کی۔

برطانوی جرنیل نے اس کامیابی کو صلیبی جنگ کی فتح قرار دیا۔ داخل ہوگئیں تو فتح بغداد کا جشن منایا۔

کہرام برپا کر دیا تھا۔

صلیبی جنگ کا نام دیا۔

والوں نے بڑی ڈھٹائی سے یہودیوں کو فلسطین میں بسایا ١٩٤٥ء) کے بعد ١٩٤٨ء میں اس خطہ میں اسرائیل کی حکومت درد سر بن گئی اور یہ درد مسلسل شدت اختیار کرتا جا رہا ہے۔

٨٣

صفحہ ١٤٣

قارئین کرام! مرزا قادیانی کے اقوال آپ نے ملاحظہ فرمائے۔ کیا گل کترے ہیں۔ اس شخص نے؟ بخدا! شرافت سر پیٹ لیتی ہے۔ مشام حواس کو گھن آتی ہے۔ ان عبارات کے پڑھنے اور نقل کرنے سے۔ اچھا اب لگے ہاتھوں ان کی کارگزاری بھی سن لیجئے کہ اگر واقعی وہ مسیح موعود تھے اور احادیث مبارکہ میں انہی کی آمد کی اطلاع دی گئی تھی۔ تو وہ اپنی ذمہ داریوں سے کہاں تک عہدہ برا ہوئے؟ سرسری سا جواب اس سوال کا یہ ہے:

١٩٠٨ء میں مرزا قادیانی اپنے انجام کو پہنچے۔ ان کے قلم سے نکلی ہوئی بددعا جس کے نتیجہ میں وہ مولانا ثناء اللہ امرتسریؒ کی وفات کے منتظر تھے۔ اس نے مڑ کر مرزا قادیانی کو بہت بری طرح سے دبوچ لیا۔ اس کے بعد کیا ہوا؟

لیکن دیکھتے ہی دیکھتے ان کے شعلوں نے پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ ترکی اس وقت مسلمانوں کی عظیم سلطنت تھی۔ غلط کیا یا صحیح، بہرحال اس نے اس جنگ میں جرمنی کا ساتھ دیا تھا۔ جنگ میں اتحادیوں (برطانیہ، فرانس، امریکہ اور روس وغیرہ کی مشترکہ طاقت) کا پلہ بھاری رہا۔ جنگ کے بادل چھٹے تو اتحادیوں نے ترکی سلطنت (خلافت عثمانیہ) سے انتقام کے لئے منصوبہ بندی کی۔

برطانوی جرنیل نے اس کامیابی کو صلیبی جنگ کی فتح قرار دیا۔ عراق کہ پایہ تخت بغداد میں فوجیں داخل ہوگئیں تو فتح بغداد کا جشن منایا۔

کہرام برپا کر دیا تھا۔

صلیبی جنگ کا نام دیا۔

والوں نے بڑی ڈھٹائی سے یہودیوں کو فلسطین میں بسایا اور دوسری عالمی جنگ (١٩٣٩ء تا ١٩٤٥ء) کے بعد ١٩٤٨ء میں اس خطہ میں اسرائیل کی حکومت قائم کر دی۔ جو عالم اسلام کے لئے درد سر بن گئی اور یہ درد مسلسل شدت اختیار کرتا جارہا ہے۔

٨٣

صفحہ ١٤٤

...... ٢٠٠٣ء میں امریکہ اور برطانیہ کا جو مشترکہ حملہ عراق پر ہوا ہے۔ تو امریکی صدر اور برطانوی وزیر اعظم نے پھر صلیبی جنگ کا نعرہ دہرایا۔ تو سوال یہ ہے کہ ایک آدمی ہوش کے ناخن لے کر بات کرے۔ ایک صدی قبل مسیح موعود ہونے کا جو دعویٰ کیا گیا تھا۔ یہ واقعات اس کی تائید کرتے ہیں یا تردید؟ کیا صلیب ٹوٹ گئی ہے؟ کیا دجال (انگریز) قتل ہو گیا ہے؟ کیا خنزیر صفحہ ہستی سے مٹ گیا ہے؟ سوچئے اور بار بار سوچئے۔

”ان فی ذالك لذكرى لمن كان له قلب او القى السمع وهو شهيد (ق:٣٧)“ ﴿بے شک اس میں، اس آدمی کے لئے نصیحت کا سامان ہے جو سوچنے والا دل رکھتا ہو یا پوری توجہ سے کان لگا کر بات سن لے۔﴾

نوٹ: ہم نے اپنے مقالہ میں مولانا محمد اسحاق سندیلوی کی کتاب ”دینی نفسیات“ کے جدید ایڈیشن سے کچھ اقتباسات نقل کر کے ان کی تردید کی ہے۔ مولانا کی سابقہ تصانیف کے مد نظر ہم نے بھی باور نہیں کیا تھا کہ کتاب کے حصہ سوم کا باب چہارم ان کے قلم سے نکلا ہے۔ چنانچہ دو تین جگہ ہم نے اس تردد اور تامل کا اظہار کیا ہے۔

ماہنامہ ”بینات“ کراچی، اشاعت ماہ ربیع الثانی ١٤٢٤ھ میں حضرت مولانا سعید احمد صاحب جلال پوری زید مجدہم کا ایک مضمون اس سلسلہ میں آیا ہے۔ جس میں انہوں نے بڑے شد ومد سے اس بات کی تردید کی ہے کہ کتاب مذکور کے جدید ایڈیشن کے حصہ سوم باب چہارم میں جو مضمون نزول سیدنا مسیح علیہ السلام کے عنوان سے طبع ہوا ہے۔ یہ مولانا مرحوم کا ہے۔ جزاہم اللہ خیر الجزاء!

ہمیں پہلے بھی ایک حد تک یقین تھا کہ مولانا مرحوم، اس ملحدانہ نظریہ (انکار نزول سیدنا مسیح علیہ السلام) سے بری ہیں، اور اب حضرت مولانا سعید احمد جلال پوری کے تحقیقی مقالہ سے ہماری تائید و توثیق ہوگئی ہے۔

اگر واقعی مضمون کی نسبت مولانا مرحوم کی طرف افتراء اور بددیانتی پر مبنی ہے۔ تو ہم مولانا مرحوم کی روح سے معذرت خواہ ہیں۔ بہر حال یہ مضمون جس کا بھی ہو۔ نہایت ہی بودا، پھسپھسا اور لغو ہے۔ اس سے گمراہ کن نتائج کا اندیشہ تھا۔ ہم نے اپنی بساط کی حد تک ان کی پیش بندی کی ہے۔ اللہ تعالیٰ ہماری اس سعی کو قبول فرمائے۔ آمین یا رب العالمین!

وصلی اللہ تعالیٰ علیٰ حبیبہ سیدنا محمد وعلیٰ آلہ وصحبہ اجمعین!

٨٤

خاتم النبیین

له دعوة ا

حضرت مولانا علام

PDF 146

عراق پر ہوا ہے۔ تو امریکی صدر اور کر بات کرے۔ ایک صدی قبل مسیح تے ہیں یا تردید؟ ں ہو گیا ہے؟ کیا خنزیر صفحہ ہستی سے

ب او القى السمع وهو شهيد سامان ہے جو سوچنے والا دل رکھتا ہو

یلوی کی کتاب ”دینی نفسیات“ کے ۔ مولانا کی سابقہ تصانیف کے مدنظر ان کے قلم سے نکلا ہے۔ چنانچہ دو

١٤٣ھ میں حضرت مولانا سعید احمد ہے۔ جس میں انہوں نے بڑے شد ن کے حصہ سوم باب چہارم میں جو مولانا مرحوم کا ہے۔ جزاهم

اس ملحدانہ نظریہ (انکار نزول سیدنا جلال پوری کے تحقیقی مقالہ سے

انہ اور بددیانتی پر مبنی ہے۔ تو ہم جس کا بھی ہو۔ نہایت ہی بودا، نے اپنی بساط کی حد تک ان کی پیش ارب العالمين! آله وصحبه اجمعين!

خاتم النبیین لَا نَبِیَّ بَعْدِیْ

سیدنا محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم

له دعوة الحق

حضرت مولانا علامہ محمد عبداللہ ؒ

صفحہ ١٤٧

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

انتساب

ان قابل فخر اساتذہ کے نام

جن کے فیضان نظر سے یہ گنہگار علم دین سے بہرہ ور ہوا۔ اور جن سے رشتہ تلمذ ہی اس کے لئے سرمایہ عزت ہے۔ اللہ تعالیٰ جنت الفردوس میں ان کے درجات بلند فرمائے کہ کم و بیش نصف صدی تک انہوں نے قلب پاکستان میں علم کی شمع فروزاں رکھی اور انہی حضرات کی مساعی جمیلہ کی بدولت پورے عالم اسلام میں یہ سعادت عباسی خانوادہ کے زیر نگیں خطہ بہاولپور کو نصیب ہوئی کہ یہاں کی ایک عدالت نے قادیانیوں کے غیر مسلم ہونے کا فیصلہ صادر کیا۔ وللفضل للمتقدم۔

آج اس خطہ کی اسلامی روایات قصہ ہائے پارینہ بن چکی ہیں۔ تاہم:

کسے کہ محرم باد صبا است می داند
کہ باوجود خزاں بوئے یاسمن باقی است

پیش لفظ

نبی اور فلسفی میں کئی لحاظ سے فرق ہوتا ہے۔ ان دونوں میں پہلی وجہ امتیاز تو یہ ہے کہ نبوت کا سرچشمہ وحی آسمانی ہوتی ہے۔ جو علم کا ایک قطعی ذریعہ ہوتی ہے۔ لیکن فلسفہ کا تمام تر دارومدار ظن و تخمین پر ہے۔ نبوت حقائق سے نقاب کشائی کرتی ہے اور فلسفہ نظریات کو پیش کرتا ہے۔ حقائق غیر متبدل ہوتے ہیں۔ لیکن نظریات مرور زمانہ کے ساتھ تبدیل ہوتے رہتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ حضرت آدم علیہ السلام سے حضرت محمدﷺ تک تمام انبیاء کرام کے بنیادی اصول اور ان کے پیغامات یکساں رہے۔ لیکن فلاسفہ کے افکار و خیالات میں ہمیشہ اختلاف پایا جاتا رہا ہے۔

فرق کی دوسری وجہ یہ ہے کہ فلسفہ کا موضوع طبیعیا اور بھی ایک جہاں ہے۔ انسانیت کا کمال اس خاکی پتلے کی آ کرنے میں ہے۔ موت کے بعد انسان پر کیا گزرتی ہے۔ لئے خارج از بحث ہیں۔ اگر کسی فلسفی نے تکلف کر کے مابع بھی ہے تو مضحکہ خیز حد تک اس کا علمی افلاس بہت جلد ظاہر وہیں سے شروع ہوتے ہیں جہاں فلسفہ آ کر رک جاتا ہے آخرت، حشر و نشر، جزا و سزا، جنت و نار وغیرہ نبوت کا اصل متعلقات کا ضمناً کوئی ذکر آ جائے تو دوسری بات ہے ورنہ تو نہیں ہوتا۔

نبی اور فلسفی میں تیسرا اہم فرق یہ ہے کہ فلسفی اپن مانے اس کی بلا سے۔ اسے اپنے نظریہ سے وہ غیر معمولی لگا سے ہوتا ہے۔ نبی اپنے پیغام کو قریہ قریہ اور گھر گھر پہنچانا اپنا کر وہ اپنے آپ کو فارغ نہیں سمجھ لیتا۔ بلکہ اس کی ذمہ دار راستے میں اتنے مصائب و آلام کا سامنا کرنا پڑتا ہے تو وہ آرے چلتے ہیں تو چلنے دو۔ نرم و نازک جسم کو شعلوں کے اقدس کا خون بہتا ہے تو بہنے دو۔ جو ہو سو ہو۔ بہرکیف نبی

موج خوں سر سے گزر ہی کیو
آستانِ یار سے اٹھ

نبی کے پیش نظر دنیا کی چند روزہ زندگی نہیں ہو اور سرمدی زندگی اور وہاں کا دکھ سکھ ہوتا ہے۔ اس لئے ام ہے۔ وہ اسی دھن میں رہتا ہے کہ اللہ کے بندے جو جہنم ک پکڑ کر پیچھے ہٹائے۔ پیغمبر اپنی امت کے حق میں رؤف اخلاص و درد کی تصویر ہوتا ہے۔ سیرت طیبہ کو پڑھ کر دیکھئے اپنے اللہ کے ساتھ محو راز و نیاز ہیں۔ زبان مبارک پر یہ آیہ فانهم عبادك وان تغفرلهم فانك انت العزی

٣

صفحہ ١٤٧

فرق کی دوسری وجہ یہ ہے کہ فلسفہ کا موضوع طبیعیات ہے۔ اس عالم رنگ و بو کے علاوہ اور بھی ایک جہاں ہے۔ انسانیت کا کمال اس خاکی پتلے کی آرائش میں نہیں بلکہ من کی دنیا کو آباد کرنے میں ہے۔ موت کے بعد انسان پر کیا گزرتی ہے۔ یہ اور اس قسم کے دیگر مسائل فلسفی کے لئے خارج از بحث ہیں۔ اگر کسی فلسفی نے تکلف کر کے مابعد الطبیعات میں دخل دینے کی کوشش کی بھی ہے تو مضحکہ خیز حد تک اس کا علمی افلاس بہت جلد ظاہر ہو گیا۔ اس کے برعکس نبوت کے حدود وہیں سے شروع ہوتے ہیں جہاں فلسفہ آ کر رک جاتا ہے۔ چنانچہ حیات بعد الممات، برزخ اور آخرت، حشر ونشر، جزا و سزا، جنت و نار وغیرہ نبوت کا اصل موضوع ہے۔ حیات دنیا اور اس کے متعلقات کا ضمناً کوئی ذکر آ جائے تو دوسری بات ہے ورنہ تو نبی کا روئے سخن براہ راست اس طرف نہیں ہوتا۔

نبی اور فلسفی میں تیسرا اہم فرق یہ ہے کہ فلسفی اپنی بات کہہ دیتا ہے۔ آگے کوئی مانے نہ مانے اس کی بلا سے۔ اسے اپنے نظریہ سے وہ غیر معمولی لگاؤ اور شغف نہیں ہوتا جو نبی کو اپنے پیغام سے ہوتا ہے۔ نبی اپنے پیغام کو قریہ قریہ اور گھر گھر پہنچانا اپنا فرض سمجھتا ہے اور صرف ایک مرتبہ پہنچا کر وہ اپنے آپ کو فارغ نہیں سمجھ لیتا۔ بلکہ اس کی ذمہ داری یہ ہوتی ہے کہ وہ کہے جائے۔ اس راستے میں اسے مصائب و آلام کا سامنا کرنا پڑتا ہے تو وہ انہیں خوش آمدید کہتا ہے۔ سروں سے آرے چلتے ہیں تو چلنے دو۔ نرم و نازک جسم کو شعلوں کے حوالے کیا جاتا ہے تو ہونے دو۔ جسد اقدس کا خون بہتا ہے تو بہنے دو۔ جو ہو سو ہو۔ بہر کیف نبی نے اپنے مشن کو پایہ تکمیل تک پہنچانا ہے:

موج خوں سر سے گزر ہی کیوں نہ جائے
آستان یار سے اٹھ جائیں کیا؟

نبی کے پیش نظر دنیا کی چند روزہ زندگی نہیں ہوتی۔ بلکہ اس کا مطمح نگاہ آخرت کی ابدی اور سرمدی زندگی اور وہاں کا دکھ سکھ ہوتا ہے۔ اس لئے امت کی بے راہ روی اسے بے قرار رکھتی ہے۔ وہ اسی دھن میں رہتا ہے کہ اللہ کے بندے جو جہنم کی طرف بڑھتے جا رہے ہیں۔ انہیں پکڑ پکڑ کر پیچھے ہٹائے۔ پیغمبر اپنی امت کے حق میں رؤف و رحیم ہوتا ہے۔ وہ سوز و گداز کا پیکر اور اخلاص و درد کی تصویر ہوتا ہے۔ سیرت طیبہ کو پڑھ کر دیکھئے، رحمت دو عالم ﷺ شب کی تاریکی میں اپنے اللہ کے ساتھ محو راز و نیاز ہیں۔ زبان مبارک پر یہ آیت کریمہ آ جاتی ہے: ”ان تعذبهم فانهم عبادك وان تغفرلهم فانك انت العزيز الحکیم (مائده: ١١٨)“ (اے

٣

صفحہ ١٤٩

اللہ) اگر تو انہیں عذاب دے تو بیشک یہ تیرے بندے ہیں اور اگر انہیں بخش دے تو تو زبردست اور حکمت والا ہے۔﴿

بس پھر ساری رات اسی آیت کا ورد کرتے ہوئے گزر جاتی ہے۔ ایک مرتبہ حضور ﷺ نے اپنے محبوب صحابی عبداللہ بن مسعودؓ کو قرآن سنانے کی فرمائش کی۔ انہوں نے سورۃ النساء پڑھنا شروع کیا۔ جب اس آیت پر پہنچے: ”فکیف اذا جئنا من کل امة بشهید وجئنا بک علی هؤلا شهیدا (نساء:٤١)“ ﴿اس وقت کیا حال ہوگا جب کہ ہم ہر امت میں سے ایک گواہ لے آئیں گے آپ کو ان سب پر گواہ بنائیں گے۔﴾

تو سرکار کی آنکھوں سے آنسوؤں کی لڑی بندھ گئی۔ شمائل ترمذی میں ایک روایت ہے: ”کان رسول ﷺ متواصل الاحزان دائم الفكرة “ ﴿رسول اللہ ﷺ پیہم ملول خاطر اور ہمیشہ فکر مند رہتے تھے۔﴾

آقائے دو جہاں کو یہ فکر اور ملال کس چیز کا ہوتا تھا؟ منڈی میں بھاؤ کے اتار چڑھاؤ کا؟ زمینداری یا کارخانوں کے چکروں کا؟ مزارعین کی مخالفت یا مزدوروں کی سٹرائیک کا؟ انشورنس یا سیونگ پالیسی کا؟ ملازمت پر ترقی یا جی پی فنڈ اور پنشن کے حسابات کا؟ حاشا وکلا دنیا کے یہ مسائل نگاہ نبوت میں کوئی وقعت نہیں رکھتے۔ پھر یہ کس چیز کا فکر تھا؟

قرآن کریم یہ بتاتا ہے کہ یہ حزن وملال امت کی گمراہی کا تھا جو جان اقدس کو ہلکان کئے جاتا تھا۔ حتیٰ کہ خود اللہ تعالیٰ کو تسلی دینا پڑتی تھی: ”لعلک باخع نفسک الا یکونوا مومنین (الشعراء:٣)“ ﴿شاید آپ اپنے آپ کو بھی ہلاک کردیں گے اس لئے کہ وہ ایمان لانے والے نہیں ہیں۔ اسی طرح: ”لعلک باخع نفسک علی اثارهم ان لم یؤمنوا بهذا الحدیث اسفا (کہف:٦)“ ﴿اگر وہ ایمان نہ لائے تو شاید ان کے پیچھے افسوس میں اپنے آپ کو بھی ہلاک کر دیں گے۔﴾

آج دنیا پر گمراہی اور خدا فراموشی کا ابرسیاہ چھایا ہوا ہے۔ مذہب کو تنگ نظری اور فرسودہ خیالی کا نام دیا جاتا ہے۔ ”مولوی“ بے چارے کو دقیانوس کا خطاب دے کر اس کی بات کو ٹھکرا دیا جاتا ہے۔ اکبر الہ آبادی نے محض تفنن طبع کے طور پر ہی نہیں کہا بلکہ حقیقت کی عکاسی کی ہے کہ:

رقیبوں نے رپٹ جا جا کے لکھوائی ہے تھانے میں
کہ اکبر نام لیتا ہے خدا کا اس زمانے میں

٤

لیکن ”مولوی“ کیا کرے؟ میراث نبوت سے جو بناء پر مجبور ہے کہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کا پیغام امت تک پہنچائے۔ ”کہ یہی جذبہ ہمدردی اور اللہ کی طرف سے باز پرس کا احسا نتیجتاً کچھ باتیں نوک قلم پر آگئیں۔ ”معذرة الی ربکم یقینی ہے کہ آئندہ اوراق کو پڑھ کر کچھ جبینیں شکن آلود و مصنف قارئین سے باادب استدعا کرتا ہے کہ جلدی نہ کیجئ گزارشات پر غور کیجئے۔ کتاب وسنت کی روشنی میں سوچنے

شاید کہ اتر جائے تیرے دل میں

ہر تحریک خواہ مذہبی ہو، خواہ سیاسی، پھر وہ صحیح ہ سب مخلص ہوتے ہیں اور نہ سب غیر مخلص۔ کبھی تو ایسا ہ بڑے دعوؤں اور نعروں کے ساتھ میدان میں آ جاتے ہیں حاصل کرنا ہوتا ہے اور بس۔ کبھی ایسا ہوتا ہے کہ سادہ لوح لوگ ایک تحریک کو خواہ وہ کتنی غلط بنیادوں پر اٹھائی گئی ہ ضرور ہوتے ہیں۔ لیکن ان میں حق و باطل کو پہچاننے اور ہوتی۔ اس لئے وہ شعبدہ باز اور فریب کار عناصر کے دام ت کی خاطر تج کر دیتے ہیں۔ اس طبقہ کی غلط روی اور کم و آخرت کے خسران میں یہ پہلے طبقہ سے کسی طرح کم نہیں دینے کی وجہ سے اس کی حالت زیادہ افسوس ناک ہوتی ہ

احمدیت (اور بلفظ دیگر قادیانیت یا مرزائی فرقہ کی داغ بیل ڈالی گئی۔ جو بقول بانی فرقہ، انگریز کا جن لوگوں نے احمدیت کو قبول کیا ہے۔ ہماری دانست م ہے جن کو دنیوی مفادات اس کے ساتھ رشتہ جوڑ لینے ک گے جو دام ہمرنگ زمیں کا شکار ہو گئے:

چمن کے رنگ وبو نے اس ق
کہ میں نے شوق گل بوسی میں کا

٥

صفحہ ١٤٩

لیکن ”مولوی“ کیا کرے؟ میراث نبوت سے جو تھوڑا بہت حصہ اسے ملا ہے۔ اس کی بناء پر مجبور ہے کہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کا پیغام امت تک پہنچاتا رہے۔ خدائے واحد گواہ ہے کہ یہی جذبہ ہمدردی اور اللہ کی طرف سے باز پرس کا احساس، راقم السطور کے لئے داعی ہوا اور نتیجتاً کچھ باتیں نوک قلم پر آگئیں۔ ”معذرۃ الی ربکم ولعلہم یتقون “ ممکن ہی نہیں بلکہ یقینی ہے کہ آئندہ اوراق کو پڑھ کر کچھ جبینیں شکن آلود ہوں گی۔ کچھ سینے کڑھیں گے۔ لیکن مصنف قارئین سے باادب استدعا کرتا ہے کہ جلدی نہ کیجئے۔ پوری متانت اور سنجیدگی سے اس کی گزارشات پر غور کیجئے۔ کتاب وسنت کی روشنی میں سوچئے:

شاید کہ اتر جائے تیرے دل میں میری بات

ہر تحریک خواہ مذہبی ہو، خواہ سیاسی، پھر وہ صحیح ہو یا غلط، اس کے قبول کرنے والے نہ سب مخلص ہوتے ہیں اور نہ سب غیر مخلص۔ کبھی تو ایسا ہوتا ہے کہ طالع آزما قسم کے لوگ بڑے بڑے دعوؤں اور نعروں کے ساتھ میدان میں آ جاتے ہیں۔ لیکن ان کا مقصود محض وقتی طور پر مفاد حاصل کرنا ہوتا ہے اور بس۔ کبھی ایسا ہوتا ہے کہ سادہ لوح افراد نہایت نیک نیتی اور خلوص کے ساتھ ایک تحریک کو خواہ وہ کتنی غلط بنیادوں پر اٹھائی گئی ہو، اپنا لیتے ہیں۔ وہ ایثار پیشہ اور وفادار تو ضرور ہوتے ہیں۔ لیکن ان میں حق و باطل کو پہچاننے اور نیک وبد میں تمیز کرنے کی صلاحیت نہیں ہوتی۔ اس لئے وہ شعبدہ باز اور فریب کار عناصر کے دام تزویر میں پھنس کر اپنا سب کچھ اس تحریک کی خاطر تج کر دیتے ہیں۔ اس طبقہ کی غلط روی اور گمراہی کا موجب خواہ کچھ ہی ہو۔ لیکن دنیا و آخرت کے خسران میں یہ پہلے طبقہ سے کسی طرح کم نہیں ہوتا۔ بلکہ آخرت کے علاوہ دنیا بھی گنوا دینے کی وجہ سے اس کی حالت زیادہ افسوس ناک ہوتی ہے۔

احمدیت (اور بلفظ دیگر قادیانیت یا مرزائیت) کے نام پر تقریباً ایک صدی پیشتر ایک فرقہ کی داغ بیل ڈالی گئی۔ جو بقول بانی فرقہ، انگریز کا خودکاشتہ پودا ہے۔ گزشتہ ایک صدی میں جن لوگوں نے احمدیت کو قبول کیا ہے۔ ہماری دانست کے مطابق ان میں اکثریت ایسے لوگوں کی ہے جن کو دنیوی مفادات اس کے ساتھ رشتہ جوڑ لینے میں نظر آئے۔ مگر ایسے لوگ بھی یقیناً ہوں گے جو دام ہمرنگ زمیں کا شکار ہو گئے:

چمن کے رنگ وبو نے اس قدر دھوکہ دیا مجھ کو
کہ میں نے شوق گل بوسی میں کانٹوں پر زباں رکھ دی

٥

صفحہ ١٥١

یہی فریب خوردہ طبقہ دراصل آئندہ اوراق میں ہمارا مخاطب ہے۔ اول الذکر گروہ سے اگرچہ ہم مایوس نہیں ہیں۔ کیونکہ اسلام یاس وقنوط کا مخالف ہے:

نومید ہم مباش کہ رندان بادہ نوش
ناگہ بیک خروش بمنزل رسیدہ اند

مگر ہم زیادہ خوش فہم بھی واقع نہیں ہوئے۔ بہرحال اگر پیش نظر کتابچہ کو دیانت داری اور نیک دلی کے ساتھ پڑھا جائے تو ہمیں اللہ سے امید ہے کہ جویائے حق کو منزل تک پہنچنے میں اس سے کافی مدد ملے گی۔ وما ذالك على الله بعزيز

کچھ اتنی دور بھی تو نہیں منزل مراد
لیکن یہ جب کہ چھوٹ چلیں کارواں سے ہم

اگر اللہ کا ایک بندہ بھی باطل کو چھوڑ کر حق کی طرف آگیا تو یہ بات مصنف کے لئے باعث صد مسرت ہو گی۔ وہ سمجھے گا کہ اس کی محنت ٹھکانے لگی۔ ”ان اریـد الا الاصــلاح ما استطعت وما توفيقي الا بالله“

شہزادی زیب النساء کے بارے میں کہیں پڑھا ہے کہ اس کی شاعری کی دھوم مچی تو غالباً ایران کے بادشاہ نے سلطان عالمگیر کو لکھا کہ ہم اس شاعر کو دیکھنا چاہتے ہیں۔ اسے ہمارے پاس بھیج دیا جائے۔ اسے معلوم نہیں تھا کہ وہ سلطان کی لڑکی ہے۔ عالمگیر ناراض ہو کر لڑکی کے پاس پہنچے اور بولے: کیا یہی دن دکھانے کے لئے تم نے شاعری کو اختیار کیا تھا؟ دختر نیک اختر باادب بولی: حضور! ناراض نہ ہوں، اس بادشاہ کے جواب میں یہ شعر لکھ کر بھجوا دیا جائے:

در سخن مخفی منم چوں بوئے گل در برگ گل
ہر کہ دیدن میل دارد ، در سخن بیند مرا

شاعر کے کمالات اور محاسن اس کے کلام میں نظر آئیں یا نہ، اس میں کوئی شک نہیں کہ مقبولان الٰہی ( حضرات انبیاء علیہم السلام اور علماء وصلحاء) کی عظمت ورفعت ان کے اقوال اور افعال سے نظر آ جاتی ہے۔ اگر قارئین اس قاعدہ کو ذہن میں رکھ کر آئندہ اوراق کا مطالعہ کریں گے تو یقیناً وہ اس نتیجہ تک پہنچ جائیں گے کہ بانی فرقہ احمدیہ مرزاغلام احمد قادیانی جس طرح اللہ کے دین کے ساتھ کھیلتے رہے ہیں۔ اس کے پیش نظر انہیں ایک عام مسلمان کی حیثیت بھی نہیں دی جاسکتی، چہ جائیکہ ایک نبی یا مجدد کا مقام دیا جائے۔

١؎ یہ کتاب ٧؍ستمبر ١٩٧٤ء کے تاریخی فیصلے سے پہلے لکھی جا چکی تھی۔

٦

نہ صورت ، نہ سیرت ، نہ خا
محبوب نامش نہا

مصنف نے اپنی افتاد طبع کے مطابق مناظرانہ ف المقدور اجتناب کیا ہے۔ اس کے باوجود اگر کہیں تلخی محسوس کی ضرورت بھی نہیں سمجھتا۔ مرزا قادیانی کا اپنا انداز تحریر ج کہنا غلط نہ ہو گا کہ ایک ناقد کا اس کے بارے میں تسامح سے

چمن میں تلخ نوائی مرز
کہ زہر بھی کرتا ہے کبه

تقریب سخن

مذہب کی ضرورت:

دور حاضر کا انسان جب اپنے گردو پیش پر نظر حیرت انگیز سائنسی ایجادات کو دیکھ کر وہ کچھ دیر کے لئے سے آزادی اور دین سے گلو خلاصی کی امنگیں اٹھتی ہیں۔ اتنی مضبوط ہیں کہ ہر وہ شخص جس کو عقل وخرد سے کچھ حصہ لیتا ہے وہ اپنے آپ کو ان بندشوں کے ساتھ وابستہ رکھنے سے پائیدار تعلق اور مذہب سے گہرا لگاؤ ہی وہ چیز ہے ج انسانی) کو عافیت اور سکون کی لازوال دولت حاصل ہو سکو القلوب“

نہ کلی ہے وجہ نظر کشی، نہ کنول کے
فقط ایک دل کی شگفتگی، سبب

اسی لئے ٹالسٹائی کو کہنا پڑا:

e of life.

یعنی مذہب حیات انسانی کا سرچشمہ ہے۔ س

e love of the world constitute

٧

صفحہ ١٥١
نہ صورت، نہ سیرت ، نہ خالش ، نہ خط
محبوب نامش نہادند غلط

مصنف نے اپنی افتاد طبع کے مطابق مناظرانہ نوک جھونک اور لب ولہجہ کی درشتی سے حتیٰ المقدور اجتناب کیا ہے۔ اس کے باوجود اگر کہیں تلخی محسوس ہو تو مصنف اس کے لئے رسمی معذرت کی ضرورت بھی نہیں سمجھتا۔ مرزا قادیانی کا اپنا انداز تحریر جس قدر گھناؤنا ہے۔ اس کے پیش نظر یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ ایک ناقد کا اس کے بارے میں تسامح سے کام لینا بجائے خود ایک کرامت ہے:

چمن میں تلخ نوائی مری گوارہ کر
کہ زہر بھی کرتا ہے کبھی کار تریاقی

تقریب سخن

مذہب کی ضرورت۔

دورِ حاضر کا انسان جب اپنے گردوپیش پر نظر ڈالتا ہے تو گونا گوں اسباب معیشت اور حیرت انگیز سائنسی ایجادات کو دیکھ کر وہ کچھ دیر کے لئے ٹھٹک جاتا ہے۔ اس کے دل میں مذہب سے آزادی اور دین سے گلوخلاصی کی امنگیں اٹھتی ہیں۔ لیکن دوسری طرف مذہب کی بندشیں بھی اتنی مضبوط ہیں کہ ہر وہ شخص جس کو عقل وخرد سے کچھ حصہ ملا ہے اور وہ اس سے سوچنے سمجھنے کا کام لیتا ہے وہ اپنے آپ کو ان بندشوں کے ساتھ وابستہ رکھنے پر مجبور پاتا ہے اور وہ پکار اٹھتا ہے کہ خدا سے پائیدار تعلق اور مذہب سے گہرا لگاؤ ہی وہ چیز ہے جس کے ذریعے اس طائر لاہوتی (روح انسانی) کو عافیت اور سکون کی لازوال دولت حاصل ہو سکتی ہے۔ ”الا بذكر الله تطمئن القلوب“

نہ کلی ہے وجہ نظر کشی ، نہ کنول کے پھول میں تازگی
فقط ایک دل کی شگفتگی ، سبب نشاط بہار ہے

اسی لئے ٹالسٹائی کو کہنا پڑا:

Faith is the force of life.

یعنی مذہب حیات انسانی کا سر چشمہ ہے۔ سویڈن برگ نے کہا:

Self love and the love of the world constitute hell.

٧

صفحہ ١٥٣

یعنی خدا کو بھلا کر حب نفس اور حب دنیا انسان کے لئے جہنم تیار کرتے ہیں۔

مولانا سعید احمد اکبر آبادی انچارج شعبہ دینیات مسلم یونیورسٹی علی گڑھ ١٩٦٢ء میں وزیٹنگ پروفیسر کی حیثیت سے مونٹریل (کینیڈا) گئے۔ واپسی پر انہوں نے ماہنامہ ”برہان“ دہلی میں اپنے تاثرات کا اظہار کیا۔ ایک اشاعت کے دو اقتباسات ملاحظہ ہوں: ”مونٹریل کا سب سے زیادہ کثیرالاشاعت اور ضخیم اخبار مونٹریل اسٹار ہے۔ اس اخبار کے سنڈے ایڈیشن کے چار صفحے بلا ناغہ بڑی پابندی کے ساتھ خالص مذہبی مضامین و مواعظ کے لئے وقف رہتے ہیں۔ اس کے علاوہ دوسرے اخبارات اور رسائل میں بھی مذہبی مقالات و مضامین برابر شائع ہوتے ہیں۔ یہاں پروٹسٹنٹ کے مقابلہ میں کیتھولک عیسائیوں کی تعداد بہت زیادہ ہے اور یہ لوگ مذہب کے معاملہ میں بڑے کٹر اور سخت ہوتے ہیں۔ پورے ملک میں جگہ جگہ ان کے اپنے سکول ہیں جہاں بچوں اور بچیوں کو مذہبی تعلیم لازمی طور پر دی جاتی ہے۔ اس کے علاوہ یونیورسٹیوں میں ’فیکلٹی آف تھیالوجی‘ کے ماتحت مذہب کی اعلیٰ تعلیم اور ریسرچ کا بندوبست ہے۔ مذہب یہاں کی زندگی میں کتنا دخیل ہے اس کا اندازہ اس سے بھی ہوتا ہے کہ مونٹریل میں بازاروں، سڑکوں اور گلی کوچوں کے نام اکثر و بیشتر کسی بزرگ مذہبی شخصیت اور مقدس پیشوا کے نام پر ہیں ۔“

یورپ اور امریکہ کی یونیورسٹیوں میں جگہ جگہ مستقل شعبہ دینیات (Divinity college) کا اہتمام وانصرام ہے اور یونیورسٹیوں کے احاطہ میں ان کی وہی اہمیت ہے جو سائنس اور آرٹس کے دوسرے شعبوں کی ہے۔ میں نیو یارک میں کولمبیا یونیورسٹی میں گیا تو یہ دیکھ کر حیران رہ گیا کہ یونیورسٹی کے صدر دروازے پر ہی نہایت جلی قلم سے جو عبارت کندہ ہے۔ اس میں لکھا ہوا ہے: یہ یونیورسٹی خدا کے نام کی عظمت قائم کرنے کی غرض سے وجود میں لائی گئی۔ اس طرح کی عبارتیں دوسری یونیورسٹیوں میں لکھی نظر آئیں ۔“

یہ ان قوموں کا حال ہے جو تہذیب نو کی علمبردار اور تمدن جدید کی پیشوا کہلاتی ہیں۔ خدا فراموشی کی عمومی روش کے باوجود مذہب اس حد تک ان کی زندگی میں دخیل ہے۔ بلاد اسلامیہ کا قدم تو اس سلسلہ میں لازماً آگے ہونا چاہئے۔

القصہ! مذہب انسان کی اولین اور بنیادی ضرورت ہے جس کے بغیر کوئی چارہ نہیں۔ مذہب سے گریز کر کے انسان ایک ترقی یافتہ حیوان تو کہلا سکتا ہے جس کا مطمح نظر ”زیستن برائے خوردن“ ہوگا۔ باقی سب خیریت ہے۔

١؎ مقالہ بعنوان مغرب میں مذہب از پروفیسر موصوف

٨

ایک عذر لنگ اور اس کا ازالہ

بعض کوتاہ اندیشوں نے یہ خیال کیا کہ دنیا میں ہے ۔ وہ مذہب کا نتیجہ ہے۔ اس لئے انہوں نے دنیا مذہب“ کے نام سے ایک جداگانہ مذہب کی داغ بیل ڈال دھڑے الگ کر دینا نہیں ہے۔ ضرورت درد کو ختم کرنے ک جس پودے کو خار دار جھاڑی قرار دے کر وہ بیخ و بن سے زارِ عالم میں وہ اپنے ہاتھوں سے لگا رہے ہیں۔ مذہب کی بنیاد ڈال کر مذاہب کے شمار میں اضافہ کر رہے ہیں۔

کثرت مذاہب کی جو الجھن آپ کو پریشان کے لئے یہ طریقہ قطعاً غیر معقول ہے کہ آپ سرے سے رکھنے کے لئے آپ کی روزمرہ کی جو ضروریات ہیں۔ ان ہے۔ پھر ہر ضرورت کی تکمیل کے اسباب اور وسائل بھی و پوشیدنی ضروریات کے سلسلہ میں آپ بازار کا رخ و ملبوسات کے انبار لگے نظر آتے ہیں۔ تو اس وقت آپ لیتے ہیں۔ اپنے مزاج اور پسند کو پیش نظر رکھتے ہیں۔ ا نفاست اور پائیداری کو بھی دیکھتے ہیں۔ وغیرہ وغیرہ ۔ ک کے لے لیتے ہیں۔ اسی طرح علاج معالجہ کے سلسلہ ایلو پیتھک ، ہومیو پیتھک، آیورویدک، بائیو کیمک، یونانی، سامنے آتے ہیں۔ پھر ہر ہر قسم میں کئی کئی افراد اپنی دکا آپ کو سائن بورڈ لگے نظر آتے ہیں۔ تو کیا علاج کے م کے حال پر چھوڑ دیتے ہیں۔ ہرگز نہیں۔ بلکہ صلاح م انتخاب کرنا ہی پڑتا ہے۔

الغرض کثرت میں سے وحدت کا انتخاب مذاہب کی کثرت دیکھ کر گھبراتے کیوں ہیں؟ یہاں بھ کام لیجئے۔ قرآن پاک کو کھول دیکھئے۔ وہ آپ سے

٩

صفحہ ١٥٤

ایک عذر لنگ اور اس کا ازالہ

بعض کوتاہ اندیشوں نے یہ خیال کیا کہ دنیا میں یہ جو ایک خلفشار اور افراتفری نظر آتی ہے۔ وہ مذہب کا نتیجہ ہے۔ اس لئے انہوں نے دنیا کے تمام مشہور مذاہب کی بجائے ”انکار مذہب“ کے نام سے ایک جداگانہ مذہب کی داغ بیل ڈالی۔ وہ نہ سمجھ سکے کہ سر کے درد کا علاج سر کو دھڑ سے الگ کر دینا نہیں ہے۔ ضرورت درد کو ختم کرنے کی ہے نہ کہ سر کو۔ پھر وہ یہ بھی نہ سمجھ سکے کہ جس پودے کو خاردار جھاڑی قرار دے کر وہ بیخ و بن سے اکھاڑ دینا چاہتے ہیں۔ اسی کا پودا کشت زار عالم میں وہ اپنے ہاتھوں سے لگا رہے ہیں۔ مذہب سے انکار کے نام پر ایک جداگانہ مکتب فکر کی بنیاد ڈال کر مذاہب کے شمار میں اضافہ کر رہے ہیں۔

کثرت مذاہب کی جو الجھن آپ کو پریشان کر رہی ہے۔ اس سے رہائی حاصل کرنے کے لئے یہ طریقہ قطعاً غیر معقول ہے کہ آپ سرے سے مذہب کا انکار کر دیں۔ اپنے جسم کو زندہ رکھنے کے لئے آپ کی روزمرہ کی جو ضروریات ہیں۔ ان کی فہرست شیطان کی آنت سے بھی لمبی ہے۔ پھر ہر ضرورت کی تکمیل کے اسباب اور وسائل بھی بہت زیادہ سامنے آتے ہیں۔ مثلاً خوردنی و پوشیدنی ضروریات کے سلسلہ میں آپ بازار کا رخ کرتے ہیں تو دکانوں پر آپ کو ماکولات و ملبوسات کے انبار لگے نظر آتے ہیں۔ تو اس وقت آپ کیا کرتے ہیں؟ یہی نا سوچ بچار سے کام لیتے ہیں۔ اپنے مزاج اور پسند کو پیش نظر رکھتے ہیں۔ اپنی جیب کا بھی خیال رکھتے ہیں۔ مال کی نفاست اور پائیداری کو بھی دیکھتے ہیں۔ وغیرہ وغیرہ۔ پھر جو چیز آپ مناسب سمجھتے ہیں۔ فیصلہ کر کے لے لیتے ہیں۔ اسی طرح علاج معالجہ کے سلسلہ میں بھی آپ کو الجھن پیش آتی ہے۔ ایلو پیتھک، ہومیو پیتھک، آیورویدک، بائیو کیمک، یونانی، دیسی، انگریزی۔ کئی قسم کے طریق علاج سامنے آتے ہیں۔ پھر ہر ہر قسم میں کئی کئی افراد اپنی دکانیں سجائے ہوئے بیٹھے ہیں۔ قدم قدم پر آپ کو سائن بورڈ لگے نظر آتے ہیں۔ تو کیا علاج کے مختلف طور طریقے دیکھ کر اپنے مریض کو اس کے حال پر چھوڑ دیتے ہیں۔ ہرگز نہیں۔ بلکہ صلاح مشورہ اور سوچ بچار کے بعد آپ کو معالج کا انتخاب کرنا ہی پڑتا ہے۔

الغرض کثرت میں سے وحدت کا انتخاب تو آپ کا روزمرہ کا کام ہے۔ پھر آپ مذاہب کی کثرت دیکھ کر گھبراتے کیوں ہیں؟ یہاں بھی وہی نسخہ استعمال کریں۔ تدبر اور تفکر سے کام لیجئے۔ قرآن پاک کو کھول دیکھئے۔ وہ آپ سے اندھا دھند تو اپنی عظمت کا لوہا نہیں منواتا۔

٩

صفحہ ١٥٥

وہ بار بار دعوتِ فکر دیتا ہے: ”افلا تعقلون۔ افلا تتفکرون “ اور اس جیسے جملے جگہ جگہ آپ کو قرآن مجید میں نظر آئیں گے۔ آپ عقل وخرد سے کام لیجئے۔ جو دعوت آپ کے سامنے آئے اس کا تانا بانا دیکھئے۔ اس کے پس وپیش پر نظر دوڑائیے۔ اگر آپ حق کے جویا ہیں تو یقیناً حق و باطل آپ پر واضح ہو جائے گا۔ اگر وہ آپ کو معقول اور مدلل نظر آئے۔ ذہن کو اطمینان اور دل کو سکون مہیا کرے تو اسے قبول کریں ورنہ اسے مسترد کردیں۔ آپ بازار سے آٹھ آنے کی سبزی لیتے ہیں تو پوری طرح دیکھ بھال کر لیتے ہیں۔ مذہب کے بارے میں چشم پوشی اور کوتاہ نظری سے کیوں کام لیں؟

مشہور مروجہ مذاہب اور حق مذہب کی پہچان

دنیا کے متمدن ممالک میں جو مذاہب عام طور پر رائج ہیں اور جن کے پیروکار کروڑوں کی تعداد میں پائے جاتے ہیں۔ وہ یہ پانچ مذاہب ہیں۔ یہودیت، عیسائیت، ہندو دھرم، بدھ مت اور اسلام۔ ہر ایک میں پھر شاخیں درشاخیں چلی گئی ہیں اور اس طرح پر انسانی آبادی ان گنت ٹولیوں اور گروہوں میں بٹ گئی ہے۔ لیکن اصولی طور پر یہی مذاہب خمسہ رائج ہیں۔

کسی مذہب کی حقانیت اور صداقت کیسے معلوم کی جاسکتی ہے؟ وہ کون سی کسوٹی ہے جس پر مذہب کو پرکھ کر ان کا صحیح یا غلط ہونا دریافت کیا جاسکتا ہے؟ اس کا جواب بڑا آسان اور مختصر ہے۔ وہ یہ کہ جو مذہب انسان کی فطرت سے ہم آہنگ اور نوامیس قدرت کا ساتھ دینے والا ہو، وہی سچا مذہب اور دین برحق ہے۔ مثال کے طور پر انسان کا اشرف المخلوقات ہونا روزمرہ کے تجربات اور مشاہدات سے ثابت ہے۔ اب فطرت انسانی کا تقاضا ہے کہ مذہب اسے یہ سرٹیفکیٹ دے کہ:

جہاں ہے تیرے لئے تو نہیں جہاں کے لئے

اس کے برعکس جو مذہب اسے حجر وشجر کی پرستش، شمس وقمر کے آگے سجدہ ریزی یا آب و آتش کے سامنے سر جھکانے کی تعلیم دیتا ہو، وہ مذہب یقیناً فطرت سے باغی اور ناقابل قبول ہے۔ علیٰ ہذا القیاس دوسرے مسائل کو سوچا جاسکتا ہے۔ اب یہ ہمارا تمہارا فرض ہے کہ کسی مذہب کو قبول کرنے اور اس کا دم بھرنے سے پہلے خداداد عقل اور ضابطہ فطرت کی روشنی میں اس کو جانچ اور پرکھ لیں۔

١٠

اسلام کیا ہے؟

یہاں پر ہم یہ سوال زیر بحث نہیں لانا چاہتے کہ دی ہی کیونکر فطرت کا ہم نوا ہے اور دوسرے مذاہب کہاں کہاں بجائے خود ایک تفصیل طلب عنوان ہے۔ البتہ اس وقت ہم ا ہیں کہ مذکورہ بالا مذاہب میں بنیادی اور اہم ترین اصولی ا راستے الگ الگ ہوتے ہیں؟

اس وقت دنیا کی کم وبیش ایک چوتھائی آبادی اسلا محمد رسول الله “ یہ کلمہ ایک مختصر سا جملہ ہے جس کے اس میں خدا کی وحدانیت کا اقرار ہے۔ دوسرا ” محمد رس کی رسالت کا اعتراف پایا جاتا ہے۔ اب یہاں پر یہ سوال پی مقصد بندوں کو اللہ سے جوڑنا ہے۔ تمام انبیاء علیہم السلام توحید کر دنیا میں تشریف لائے تو ایمان لانے کے لئے فقط : ” لا ال دوسرا جز ملانا کیوں ضروری قرار دیا گیا؟ تو اس سوال کا جواب

اگر کسی ملک کا کوئی شہری زبان سے ایک مرتبہ یہ پڑھ دیا کرے کہ: ”میں گواہی دیتا ہوں کہ ..... صاحب میر میں ان کا وفادار رعایا کا ایک فرد ہوں۔“ لیکن وہ اس بات شہری ہونے کی حیثیت سے کن کن قوانین کی پابندی کرنا ہے ذمہ ہے۔ کن چیزوں سے اجتناب اس پر لازم ہے۔ اس کی ا ہیں؟ وغیرہ وغیرہ۔ تو یقیناً ایسے آدمی کا ٹھکانہ یا تو جیل خانہ ہو وہاں رکھا جائے گا جب تک کہ وہ ملکی قوانین کی بالا دستی تسلیم ن نہ ہو۔ بعینہ اسی طرح سمجھ لیجئے کہ دل کے ساتھ ایک اللہ کو اپنا ا اقرار کر لینے سے ایک شخص خدا کا ماننے والا نہیں کہلا سک برخاست، عبادات و عادات، خوردونوش، بود و ماند، غرض زندگ کو احکام خداوندی کی اطاعت کا پابند نہ ٹھہرالے۔

١١

صفحہ ١٥٥

اسلام کیا ہے؟

یہاں پر ہم یہ سوال زیر بحث نہیں لانا چاہتے کہ دوسرے مذاہب کے مقابلہ میں اسلام ہی کیونکر فطرت کا ہم نوا ہے اور دوسرے مذاہب کہاں کہاں فطرت کا ساتھ چھوڑ دیتے ہیں۔ یہ بجائے خود ایک تفصیل طلب عنوان ہے۔ البتہ اس وقت ہم اس نکتہ کی طرف ضرور توجہ دلانا چاہتے ہیں کہ مذکورہ بالا مذاہب میں بنیادی اور اہم ترین اصولی اختلاف کیا ہے؟ کہاں سے ان کے راستے الگ الگ ہوتے ہیں؟

اس وقت دنیا کی کم وبیش ایک چوتھائی آبادی اسلام کا کلمہ پڑھتی ہے: ”لا اله الا الله محمد رسول الله “ یہ کلمہ ایک مختصر سا جملہ ہے جس کے دو جز ہیں۔ ایک : ”لا اله الا الله “ اس میں خدا کی وحدانیت کا اقرار ہے۔ دوسرا ”محمد رسول الله“ جس میں حضرت محمد ﷺ کی رسالت کا اعتراف پایا جاتا ہے۔ اب یہاں پر یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ جب بعثت انبیاء کا اصلی مقصد بندوں کو اللہ سے جوڑنا ہے۔ تمام انبیاء علیہم السلام توحید باری تعالٰی کے علمبردار اور داعی بن کر دنیا میں تشریف لائے تو ایمان لانے کے لئے فقط : ”لا اله الا الله “ پر اکتفاء کیوں نہ کیا گیا؟ دوسرا جز ملانا کیوں ضروری قرار دیا گیا؟ تو اس سوال کا جواب ایک مثال سے سمجھنے کی کوشش کیجئے:

اگر کسی ملک کا کوئی شہری زبان سے ایک مرتبہ نہیں بلکہ ہر روز صبح اٹھ کر ایک تسبیح پوری پڑھ دیا کرے کہ: ”میں گواہی دیتا ہوں کہ ..... صاحب میرے ملک کے والی یا صدر محترم ہیں اور میں ان کا وفادار رعایا کا ایک فرد ہوں ۔“ لیکن وہ اس بات سے بالکل لاتعلق رہے کہ اس کو ایک شہری ہونے کی حیثیت سے کن کن قوانین کی پابندی کرنا ہے۔ کن فرائض کی بجا آوری اس کے ذمہ ہے۔ کن چیزوں سے اجتناب اس پر لازم ہے۔ اس کی انفرادی اور اجتماعی ذمہ داریاں کیا کیا ہیں؟ وغیرہ وغیرہ۔ تو یقیناً ایسے آدمی کا ٹھکانہ یا تو جیل خانہ ہوگا یا پاگل خانہ اور اس وقت تک اسے وہاں رکھا جائے گا جب تک کہ وہ ملکی قوانین کی بالا دستی تسلیم نہ کر لے اور عمال و حکام کا وفادار ثابت نہ ہو۔ بعینہ اسی طرح سمجھ لیجئے کہ دل کے ساتھ ایک اللہ کو اپنا الہ مان لینے اور زبان کے ساتھ اس کا اقرار کر لینے سے ایک شخص خدا کا ماننے والا نہیں کہلا سکتا۔ جب تک کہ وہ اپنی نشست و برخاست، عبادات و عادات، خوردونوش، بود و ماند، غرض زندگی کے ایک ایک شعبہ میں اپنے آپ کو احکام خداوندی کی اطاعت کا پابند نہ ٹھہرالے۔

١١

صفحہ ١٥٧

رہ گئی یہ بات کہ کن کن چیزوں سے اللہ کی رضا اور خوشنودی حاصل ہوتی ہے اور کون کون سی چیزوں سے وہ ناراض ہوتا ہے۔ یعنی اوامر و نواہی، حلال و حرام، جائز و ناجائز کی تفصیلات۔ تو یہ معلوم کرنے کے لئے سلسلۂ نبوت کی ضرورت پیش آتی ہے۔ اگر ہر کہ مہ یہ تمنا کرنے لگے کہ خدا تعالیٰ براہ راست اس سے ہم کلام ہو اور وہ اسے اپنے احکام سے آگاہ کرے تو یقیناً ایسی تمنا کرنے والا دماغی توازن کی خرابی کا مریض ہوگا۔ حضرات انبیاء علیہم السلام ہی وہ مقدس اور برگزیدہ انسان ہوتے ہیں جن کے قلوب نہایت صاف اور پاکیزہ ہوتے ہیں۔ جو وحی الٰہی کے بوجھ کو اٹھانے کے قابل ہوتے ہیں۔ جو عصمت خداوندی کے زیر سایہ رہ کر زندگی گزارتے ہیں اور نتیجتاً ان کا عمل قابل تقلید اور ان کا اتباع باعث نجات ہوتا ہے۔ اسلام یہ کہتا ہے کہ یہ سلسلہ حضرت آدم علیہ السلام سے شروع ہوا اور حضرت محمد ﷺ پر ختم ہوا۔ جس زمانہ میں جو بھی نبی اللہ کی طرف سے مبعوث ہوئے انہی کی پیروی اور اتباع میں اللہ کی فرمانبرداری منحصر ہوگی اور انہی کے نام کا کلمہ پڑھنا ”لا الہ الا اللہ“ کی تفسیر و تشریح قرار پایا۔

حضرت محمد ﷺ کے نبی برحق ہونے کے دلائل کیا ہیں؟ یہاں ان کے بیان کرنے کی ضرورت نہیں۔ صرف یہ بتانا مقصود ہے کہ آج ”لا الہ الا اللہ“ کی حد تک دنیا کی بیشتر آبادی میں چنداں اختلاف نہیں پایا جاتا۔ اسلام اور دوسرے مذاہب میں جو چیز وجہ امتیاز ہے وہ: ”محمد رسول اللہ“ کا عقیدہ ہے۔ کیونکہ اسی نقطہ پر پہنچ کر مسلم اور غیر مسلم کی راہیں جدا جدا ہوجاتی ہیں۔

لیکن مسلمان، اپنی دنیوی فلاح اور اخروی نجات حضرت محمد ﷺ کے قدموں سے وابستہ سمجھتے ہیں۔ حضور ﷺ ہی کی تعلیمات کے مطابق وہ اللہ کی وحدانیت اور اس کی مرضیات و غیر مرضیات پر یقین رکھتے ہیں۔ یہی اسلام کا حاصل ہے اور یہیں سے مسلم اور غیر مسلم کے راستے جدا ہوتے ہیں:

بمصطفیٰ برساں خویش را کہ دیں ہمہ اوست

١٢

اب اگر کوئی شخص محمد ﷺ پر (جیسا کہ حضور ﷺ لاتا تو وہ نہ تو رسول ﷺ کا امتی کہلانے کا حق دار ہے اور نہ خ اور مکائد شیطانی کا شکار ہے اور جس طرح عقیدہ رسالت پر کہنے سے موحد نہیں بن سکتا۔ اسی طرح آنحضرت ﷺ کی بغیر محض ”محمد رسول اللہ“ کہہ دینے سے بھی آدمی اور مرکزی نظریات و افکار میں ایک شخص کی گمراہی آشکارا ہو اسلام کا کلمہ پڑھ دیتا ہے۔ اسے مسلمان قرار دینا نہ تو اس اور رسول ﷺ سے وفاداری اسے برداشت کر سکتی ہے۔

اسلام سے انحراف کی مختلف صورتیں

جیسا کہ عرض کیا جا چکا ہے، اسلام تو محمد ﷺ کے جو اس روحانی رشتہ کو کاٹ دے، خدا اور اس کے بندوں کے انحراف اور اللہ کے دین سے بغاوت کہلائے گی۔ پھر اگر معلوم کرنا چاہیں جو اسلام سے بغاوت قرار دی جاسکتی ہیں،

اول ! یہ کہ محمد ﷺ کی رسالت کا کھلم کھلا انکار ک اور دوسری گمراہ قومیں کھلم کھلا حضور ﷺ کو نبی اور رسول ماننے

دوم ! یہ کہ حضور ﷺ کی رسالت کا اعتراف کر اللہ کے ایلچی بن کر آئے۔ اس کے بندوں تک آسما گویا آپ ﷺ کی حیثیت ایک پوسٹ مین کی سی تھی کہ آسما اللہ سے جاملے۔ اس سے زائد آپ ﷺ کو اللہ کے بندوں من ذالک۔ اس صورت میں اگرچہ کھلم کھلا حضور ﷺ کی نبو کہ باغیانہ مزاج ہونے کی صورت میں یہ صورت پہلی سے سے اس سے بھی زیادہ خطرناک ہے۔

سوم ! یہ کہ حضور ﷺ کی نبوت کے ساتھ آپ اس کے ساتھ حضور ﷺ کی تعلیمات کو من مانی تشریحات ارشادات اور فرامین صدیوں تک جن تشریحات اور وض آئے۔ ان کے برخلاف اپنے نہاں خانہ دماغ سے تعبیرات

١٣

صفحہ ١٥٧

اب اگر کوئی شخص محمدﷺ پر (جیسا کہ حضورﷺ نے اپنے آپ کو پیش کیا) ایمان نہیں لاتا تو وہ نہ تو رسولﷺ کا امتی کہلانے کا حق دار ہے اور نہ خدا کا بندہ۔ بلکہ وہ ہوائے نفسانی کا بندہ اور مکائد شیطانی کا شکار ہے اور جس طرح عقیدہ رسالت پر ایمان لائے بغیر ایک آدمی محض لا الہ کہنے سے موحد نہیں بن سکتا۔ اسی طرح آنحضرتﷺ کی تعلیمات اور تشریحات پر ایمان لائے بغیر محض ”محمد رسول اللہ“ کہہ دینے سے بھی آدمی مسلمان نہیں ہو سکتا اور اگر بنیادی عقائد اور مرکزی نظریات و افکار میں ایک شخص کی گمراہی آشکارا ہو جائے تو محض اس لئے کہ وہ زبان سے اسلام کا کلمہ پڑھ دیتا ہے۔ اسے مسلمان قرار دینا نہ تو اسے مستحسن رواداری کہا جاسکتا ہے اور نہ خدا اور رسولﷺ سے وفاداری اسے برداشت کرسکتی ہے۔

اسلام سے انحراف کی مختلف صورتیں

جیسا کہ عرض کیا جا چکا ہے، اسلام تو محمدﷺ سے وابستگی کا نام ہے۔ اب ہر وہ صورت جو اس روحانی رشتہ کو کاٹ دے، خدا اور اس کے بندوں کے درمیان بعد پیدا کرے، وہ اسلام سے انحراف اور اللہ کے دین سے بغاوت کہلائے گی۔ پھر اگر تلاش و جستجو سے کام لے کر وہ صورتیں معلوم کرنا چاہیں جو اسلام سے بغاوت قرار دی جاسکتی ہیں، تو وہ تین ہیں:

اور دوسری گمراہ قومیں کھلم کھلا حضورﷺ کو نبی اور رسول ماننے سے انکاری ہیں۔

اللہ کے ایلچی بن کر آئے۔ اس کے بندوں تک آپﷺ نے قرآن پہنچا دیا اور بس۔ گویا آپﷺ کی حیثیت ایک پوسٹ مین کی سی تھی کہ آپﷺ اپنا فریضہ سرانجام دے کر اپنے اللہ سے جاملے۔ اس سے زائد آپﷺ کو اللہ کے بندوں سے کوئی تعلق اور واسطہ نہ تھا۔ نعوذ باللہ من ذالک۔ اس صورت میں اگر چہ کھلم کھلا حضورﷺ کی نبوت کا انکار نہیں ہے تاہم حقیقت یہ ہے کہ باغیانہ مزاج ہونے کی صورت میں یہ صورت پہلی سے کسی طرح بھی کم نہیں ہے۔ بلکہ ایک لحاظ سے اس سے بھی زیادہ خطرناک ہے۔

اس کے ساتھ حضورﷺ کی تعلیمات کو من مانی تشریحات کا لبادہ اوڑھا دیا جائے۔ حضورﷺ کے ارشادات اور فرامین صدیوں تک جن تشریحات اور وضاحتوں سے امت میں نقل ہوتے چلے آئے۔ ان کے برخلاف اپنے نہاں خانہ دماغ سے تعبیرات نکالی جائیں۔ ضرورت یا اپنی پسند کے

١٣

صفحہ ١٥٩

مطابق غلط سلط توجیہات کے ذریعے مسلمہ اعتقادات کا انکار کر دیا جائے اور یوں کام نہ چلے تو دیدہ دانستہ بعض چیزیں اپنی طرف سے گھڑ کر اللہ اور رسول ﷺ کی طرف منسوب کر دی جائیں۔ یہ صورت بھی اسلام سے بغاوت کے مترادف ہے اور ان باتوں کے باوجود: ”لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ“ کی رٹ کا سہارا لینا انسان کو انحراف عن الدین کے جرم سے نہیں بچا سکتا۔

پنجاب کی صد سالہ مذہبی انارکی

ہمارے ایک بزرگ فرمایا کرتے تھے کہ پنجاب کا خطہ زرخیز بھی ہے۔ مردم خیز بھی اور فتنہ خیز بھی۔ یہ خطہ ١٨٤٥ء میں انگریزوں کی دست برد کا شکار ہوا اور ١٩٤٧ء تک یہاں برطانوی پرچم لہراتا رہا۔ اس ایک سو سالہ عرصہ میں پنجاب پر کیا گزری؟ اگر مورخ اس کی صرف مذہبی تاریخ لکھنے بیٹھے تو اس کے سامنے جو حالات سامنے آئیں گے۔ وہ ان کی نیرنگیوں کو دیکھ کر ہنسے گا بھی اور افسوس بھی کرے گا۔ ہنسے گا اس لئے کہ وہ دیکھے گا کہ اس خطہ میں جو بھی تحریک اٹھی، وہ صحیح بنیادوں پر اٹھی یا غلط بنیادوں پر، بہر کیف پنجاب کی سرزمین نے اسے ماننے والوں کی ایک اچھی خاصی کھیپ مہیا کی۔ افسوس اس لئے کرے گا کہ یہی وہ بدقسمت خطہ ہے جہاں سے اسلام کے خلاف اور محمد عربی ﷺ سے امت کا رشتہ منقطع کر دینے والی تحریکات اٹھتی رہیں۔ مثال کے طور پر:

مذکورہ بالا تین اقسام کفر میں سے پہلی قسم کے ساتھ تھا۔

کے لئے سستے داموں سپاہی میسر آئے۔ اس بے غیرتی اور مذہبی بے حسی نے پنجاب بلکہ برصغیر کے مسلمانوں کو بدنام کر دیا۔

کے آئمۃ الکفر میں سے تھا۔

نزدیک اسلام سے انحراف کی تیسری قسم میں آتی ہیں۔

اس قسم کی تحریکات ہمارے نزدیک دراصل برطانوی سامراج کے شاخسانے اور انگریز کی اسلام دشمنی کے مظاہرے ہیں۔ آئندہ اوراق میں ہم مرزا غلام احمد قادیانی اور ان کی تحریک کے بارے میں کچھ عرض کرنا چاہتے ہیں۔

١٤

مرزا قادیانی کے دعاوی اور ان کا سنگ بنیاد

اصل قصہ یہ ہے کہ احادیث صحیحہ سے در اسلام کے نزدیک مسلم ہیں:

جائیں گے۔

کی وجہ سے الہامات خداوندی سے مشرف ہوتے رہ ہیں۔

دین کا فریضہ سرانجام دے گا۔

اب مرزا قادیانی یہ کہتے ہیں کہ:

ہے، بلکہ مسیح موعود ہی مہدی ہے۔ لہٰذا مہدی بھی میں ہی ہ

بھی ہوں۔“

ہیں۔“

مرزا قادیانی کے ان دعاوی کے بارے میں سراسر بے بنیاد اور غلط ہیں۔ ہم یہ بھی تسلیم کرنے کے لئے کی بناء پر یہ دعوے کئے تھے۔ بلکہ جیسا کہ آئندہ اوراق می نے دیدہ دانستہ کتاب وسنت کو پس پشت ڈال کر اسلام پ

صفحہ ١٥٩

مرزا قادیانی کے دعاوی اور ان کا سنگ بنیاد

اصل قصہ یہ ہے کہ احادیث صحیحہ سے درج ذیل امور ثابت ہوتے ہیں اور یہ علماء اسلام کے نزدیک مسلم ہیں:

جائیں گے۔

کی وجہ سے الہامات خداوندی سے مشرف ہوتے رہتے ہیں۔ ایسے لوگ ملہم یا محدث کہلاتے ہیں۔

دین کا فریضہ سرانجام دے گا۔

اب مرزا قادیانی یہ کہتے ہیں کہ:

(ازالہ اوہام ص ١٩٠، خزائن ج ٣ ص ١٩٢)

ہے، بلکہ مسیح موعود ہی مہدی ہے۔ لہٰذا مہدی بھی میں ہی ہوں۔“

(خطبہ الہامیہ ص ١٨، خزائن ج ١٦ ص ٥١)

بھی ہوں۔“

(حمامۃ البشریٰ ص ٧٩، خزائن ج ٧ ص ٢٩٧)

ہیں۔“

(ازالہ اوہام ص ١٤٨، خزائن ج ٣ ص ١٧٩)

مرزا قادیانی کے ان دعاوی کے بارے میں ہماری دو ٹوک اور حتمی رائے ہے کہ یہ سراسر بے بنیاد اور غلط ہیں۔ ہم یہ بھی تسلیم کرنے کے لئے تیار نہیں کہ مرزا قادیانی نے کسی غلط فہمی کی بناء پر یہ دعوے کئے تھے۔ بلکہ جیسا کہ آئندہ اوراق میں ہم وضاحت پیش کریں گے۔ انہوں نے دیدہ دانستہ کتاب وسنت کو پس پشت ڈال کر اسلام کے مقابلے میں ایک تحریک اٹھانے کی

١٥

صفحہ ١٦٠

جسارت کی۔ مرزا قادیانی نے یہ تحریک کیوں اٹھائی؟ ہوں گے ان کے مفادات وابستہ اس سے۔ یہ تو ہمارا فرض ہے کہ اللہ نے ہمیں عقل دی ہے اس سے کام لے کر ہم سوچیں سمجھیں۔ اس کا تانا بانا دیکھیں اور پھر اس کے دعوے قبول کرنے کا فیصلہ کریں۔

ایک ضروری وضاحت

شاید اس جگہ قارئین کو یہ خیال گزرے کہ مسلمانوں اور مرزائیوں کے درمیان اصل متنازع فیہ امر، مرزا قادیانی کا دعویٰ نبوت ہے۔ تو ہم نے اسے کیوں نظر انداز کر دیا ہے۔ اس لئے ہم یہ وضاحت کر دینا ضروری سمجھتے ہیں کہ مرزا قادیانی کا دعویٰ نبوت ایک لحاظ سے ثانوی حیثیت رکھتا ہے۔ انہیں بخوبی معلوم تھا کہ قصر نبوت کا دروازہ بند ہو چکا ہے اور اب سیدھے راستے سے نبوت کے محفوظ قلعہ میں داخل ہونا ناممکن ہے۔ تو انہوں نے ”چور دروازہ“ بنا کر اندر گھسنے کی کوشش کی۔ چنانچہ انہوں نے کبھی تو مسیح موعود کی شکل میں نبوت کا روپ دھارا۔ کبھی محدث اور ملہم بن کر۔ پھر جھوٹ کو سچ کر دکھانے کے لئے انہوں نے ظلی اور بروزی وغیرہ اصطلاحات کا سہارا لیا۔ بہر حال ان کے دعویٰ نبوت کی جو اصل بنیاد ہے اب اگر ہم اس بنیاد ہی کو ڈھا دیں تو اس پر تعمیر شدہ عمارت خود بخود نیچے آ گرے گی۔ لہٰذا ہم نے ان کے انہی دعاویٰ کو موضوع بحث بنایا ہے جو مرزائیت کے لئے بنیادی حیثیت رکھتے ہیں۔

کیا مرزا قادیانی مسیح موعود ہیں؟

قادیانی صاحبان کی ایک عام تکنیک ہے کہ ان سے قادیانیت کے موضوع پر گفتگو ہو تو وہ فوراً حیات مسیح علیہ السلام کا مسئلہ زیر بحث لے آتے ہیں اور تمام تر زور یہ ثابت کرنے میں صرف کر دیتے ہیں کہ حضرت عیسیٰ مسیح ابن مریم علیہما السلام جو بنی اسرائیل کی طرف اللہ کے رسول بن کر آئے تھے، وہ وفات پا چکے ہیں۔ قادیانیوں کے نزدیک جو اہمیت اس مسئلہ کو حاصل ہے اس کا اندازہ مرزا بشیر احمد (یہ صاحب مرزا غلام احمد قادیانی کے صاحبزادے ہیں) کے اس قول سے ہوسکتا ہے: ”حضرت مرزا غلام احمد قادیانی بانی سلسلہ احمدیہ کے دعوائے مسیحیت کے راستہ میں سب سے پہلا سوال حضرت مسیح ناصری (بنی اسرائیل) کی وفات کا ہے۔ کیونکہ جب تک یہ ثابت نہ ہو جائے کہ پہلا مسیح فوت ہو چکا ہے۔ اس وقت تک خواہ حضرت مرزا قادیانی کے دعویٰ کی صداقت پر ہزار سورج چڑھا دیا جائے، طبیعت میں ایک گونہ خلجان ضرور رہتا ہے۔ جس منصب کا

١٦

صفحہ ١٦١

یک کیوں اٹھائی؟ ہوں گے ان کے مفادات وابستہ اس سے۔ عقل دی ہے اس سے کام لے کر ہم سوچیں۔ سمجھیں۔ اس کا تانا بانا رنے کا فیصلہ کریں۔

یہ خیال گزرے کہ مسلمانوں اور مرزائیوں کے درمیان اصل نبوت ہے۔ تو ہم نے اسے کیوں نظر انداز کر دیا ہے۔ اس لئے ہیں کہ مرزا قادیانی کا دعویٰ نبوت ایک لحاظ سے ثانوی حیثیت قصر نبوت کا دروازہ بند ہو چکا ہے اور اب سیدھے راستے سے ناممکن ہے۔ تو انہوں نے ”چور دروازہ“ بنا کر اندر گھسنے کی کوشش موعود کی شکل میں نبوت کا روپ دھارا۔ کبھی محدث اور ملہم بن کر۔ کئے انہوں نے ظلی اور بروزی وغیرہ اصطلاحات کا سہارا لیا۔ بہر اس بنیاد ہے اب اگر ہم اس بنیاد ہی کو ڈھا دیں تو اس پر تعمیر شدہ ۔ لہٰذا ہم نے ان کے انہی دعاوی کو موضوع بحث بنایا ہے جو رکھتے ہیں۔

مرزا قادیانی مسیح موعود ہیں؟

یک عام ٹیکنیک ہے کہ ان سے قادیانیت کے موضوع پر گفتگو ہو تو طہ زیر بحث لے آتے ہیں اور تمام تر زور یہ ثابت کرنے میں مسیح ابن مریم علیہما السلام جو بنی اسرائیل کی طرف اللہ کے رسول ہیں۔ قادیانیوں کے نزدیک جو اہمیت اس مسئلہ کو حاصل ہے اس مرزا غلام احمد قادیانی کے صاحبزادے ہیں) کے اس قول سے ئمہ قادیانی بانی سلسلہ احمدیہ کے دعوائے مسیحیت کے راستہ میں صری (بنی اسرائیل) کی وفات کا ہے۔ کیونکہ جب تک یہ ثابت چکا ہے۔ اس وقت تک خواہ حضرت مرزا قادیانی کے دعویٰ کی ئے، طبیعت میں ایک گونہ خلجان ضرور رہتا ہے۔ جس منصب کا

١٦

حضرت مرزا قادیانی کو دعویٰ ہے یعنی مسیحیت، جب تک اس کی کرسی خالی نہ ہو حضرت مرزا قادیانی کی سچائی کے متعلق دل اطمینان نہیں پکڑ سکتا۔ لہٰذا ضروری ہے کہ سب سے پہلے اس روک کو دور کیا جائے۔"

(الحجۃ البالغہ ص ٢)

اس اقتباس سے واضح ہو گیا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی حیات قادیانی مشن کے لئے سدراہ کی حیثیت رکھتی ہے۔ چنانچہ مرزا قادیانی اور ان کے پیروکار اس کو ہٹانے کے لئے ایڑی چوٹی کا زور لگاتے ہیں۔ مرزا قادیانی کی تصنیفات کا کم و بیش چالیس فیصد اسی موضوع پر مشتمل ہے۔ اس بارے میں اہل اسلام کا عقیدہ یہ ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام ہنوز جسمانی حیات کے ساتھ زندہ ہیں اور وہی آنحضرت ﷺ کی پیش گوئی کے مطابق دوبارہ دنیا میں تشریف لے آئیں گے۔ اس موضوع پر علماء اسلام کی چھوٹی بڑی بہت سی کتابیں موجود ہیں۔ ہمارے پیش نظر اس وقت حضرت مسیح علیہ السلام کی حیات ثابت کرنا نہیں ہے۔ بلکہ ہم یہ بتانا چاہتے ہیں کہ بالفرض والتقدیر اگر واقعی حضرت مسیح علیہ السلام وفات پاچکے ہوں اور ”مسیح منتظر“ کی کرسی خالی ہو تب بھی مرزا قادیانی اس پر بیٹھنے کے حق دار نہیں ہیں۔ وہ لاکھ جتن کریں مگر اس منصب کے لئے فٹ نہیں ہیں۔

ایک لمحہ فکریہ

اس جگہ ایک نکتے کی طرف توجہ دلانا مناسب معلوم ہوتا ہے۔ وہ یہ کہ مرزا قادیانی بیک وقت اپنے لئے چار مناصب کے مدعی ہیں: مسیح موعود، مہدی، محدث اور مجدد۔ کیا ان میں سے کوئی منصب ایسا بھی ہے جو امت مسلمہ میں کفر و اسلام کے نام پر تفریق کا موجب ہو سکے؟ ہمارے نزدیک جواب نفی میں ہے۔ آخری دو یعنی محدث اور مجدد تو کوئی ایسے منصب بھی نہیں ہیں جن کے بارے میں باضابطہ دعویٰ کیا جاسکے اور امت کو اس پر ایمان لانے کی دعوت دی جائے۔ دیکھئے علماء کرام نے ابتدائی صدیوں کے مجددین میں حضرت عمر بن عبدالعزیزؒ اور امام شافعیؒ کے نام گنوائے ہیں۔ لیکن کوئی نہیں کہہ سکتا کہ انہوں نے دعوے کر کے اپنے آپ کو منوانے کی کوشش کی۔

اغلب بلکہ یقین ہے کہ زندگی بھر ان حضرات کے دل میں یہ خیال نہ گزرا ہوگا کہ وہ مجدد ہیں۔ یہ دوسری بات ہے کہ بعد میں علماء امت نے ان کے کارناموں کے پیش نظر انہیں مجدد قرار دیا اور پھر کسی نے بھی یہ نہیں کہا کہ اگر ایک آدمی خلیفہ عمر بن عبدالعزیزؒ یا امام شافعیؒ کو مجدد نہیں مانتا تو وہ دائرہ اسلام سے خارج ہو گیا۔ اسی طرح پوری امت محمدیہ میں حضرت عمر فاروقؒ محدثین

١٧

صفحہ ١٦٣

کے سردار ہیں کہ حضور ﷺ نے انہیں محدث اور ملہم قرار دیا۔ لیکن کہیں بھی منقول نہیں کہ جناب فاروقؓ نے لوگوں کو اپنے اس مقام بلند پر ایمان لانے کی دعوت دی ہو۔ حتیٰ کہ اس وقت بھی نہیں جب کہ ٢٦ لاکھ مربع میل کا رقبہ ان کے زیر نگیں تھا اور ان کے رعب خلافت سے قیصر و کسریٰ لرزہ براندام تھے۔

علیٰ ہذا مہدی آخرالزمان کی آمد کا مسئلہ ہے۔ ان کے بارے میں کوئی صحیح یا ضعیف روایت ایسی نہیں ملتی کہ وہ اپنی مہدویت کا دعویٰ کر کے لوگوں کو ایمان لانے کی دعوت دیں گے اور جو نہ مانے گا اسے وہ اسلام سے خارج ٹھہرائیں گے۔

باقی رہا مسئلہ مسیح موعود کا، تو جہاں تک ہم نے اسلامی لٹریچر کا مطالعہ کیا ہے۔ ان کی آمد پر اہل اسلام خود بخود انہیں پہچان لیں گے۔ نصاریٰ منہ کی کھائیں گے۔ وہ اپنے مزعومہ باطل عقیدوں کو چھوڑ کر اسلام کو قبول کرلیں گے۔ جب دجال قتل ہو جائے گا تو یہود بھی اسلام کے حلقہ بگوش ہو جائیں گے۔ اس وقت ایک ہی ملت رہ جائے گی اور یوں حضرت مسیح کی آمد کا مقصد تکمیل کو پہنچے گا۔ اس کے برخلاف ہم مرزا قادیانی کی سوانح حیات پر غور کرتے ہیں تو ہم دیکھتے ہیں کہ ان کی آمد پر یہود ونصاریٰ کا اسلام لے آنا تو بجائے خود ماند، یہاں تو مسلمان کافر ہوئے جارہے ہیں مرزا قادیانی مسیحیت کا دعویٰ کرکے اس پر ایمان لے آنے کی دعوت دیتے ہیں اور جو ایمان نہ لائے اسے وہ کافر ٹھہراتے ہیں (حوالہ آگے آ رہا ہے) اسلامی لٹریچر کچھ کہتا ہے مرزا قادیانی کوئی اور راگ الاپتے ہیں۔ کیا قصہ ہے؟

من چہ مے سرایم وطنبورۂ من چہ مے سراید

پھر ذہن میں ایک اور سوال پیدا ہوتا ہے کہ ایک ایسا دعویٰ جس کے نتائج بعد میں اس حد تک سنگین اور خطرناک شکل میں رونما ہو سکتے تھے کہ کفر و اسلام کے نام پر دو گروہ بن سکتے تھے۔ اس کے متعلق نہ اللہ نے اپنی آخری کتاب میں وضاحت سے فرمایا نہ اللہ کے رسولؐ نے واشگاف لفظوں میں امت کی راہ نمائی فرمادی۔ کیا انبیاء علیہم السلام کا یہی کام ہے کہ وہ امتوں کو بھول بھلیوں میں چھوڑ کر چلے جائیں۔ بالخصوص سید الانبیاء حضرت محمد مصطفےٰ ﷺ جو امت کے بارے میں نہایت رؤف و رحیم تھے، کیا آپ ﷺ کی رافت و رحمت اس بات کو گوارہ کر سکتی ہے کہ آپؐ استعارات و کنایات کی زبان بول کر امت کو امتحان میں ڈال دیں۔ لوگوں کے ایمان استعاروں کی نذر ہوجائیں اور نبوت تماشا دیکھتی رہے؟ حاشا وکلا!

١٨

اگر آپ کو خدا توفیق دے اور ہوش وحواس کی تاریخ بعثت کا مطالعہ کریں تو آپ کو معلوم ہو جائے گا کہ وہ ہیں اور تمام وہ چیزیں جو اسلام کا مدار ہوتی ہیں، انہیں واشگا ہیں ۔ چونکہ ، چنانچہ والی منطق نبوت کی زبان پر نہیں آتی۔ کے منصب پر فائز ہونا تھا اور اس منصب کی وہی حیثیت حضور ﷺ اسے پردہ خفا میں رکھتے نہ یہ صورت پیش آت ارتیاب کا شکار ہے ۔ کہیں وہ کچھ لکھتا ہے اور کہیں کچھ ..... دھندہ نہ بنایا جاتا۔ آخر کیا وجہ تھی کہ:

آنا تو تھا غلام احمد نے ......
آنا تھا چراغ بی بی اور غلام مرتضیٰ کے بیٹے نے ......
آنا تو تھا زمین ہی سے ......
آنا تو قادیان میں ......
آنا تھا دو بیماریوں کے ساتھ ......

علیٰ ہذا القیاس ! دوسری علامات بھی ہیں۔ تو یہ سوچئے۔ مرزا قادیانی کے دعویٰ نے بات کو کہاں سے کہاں بتانا چاہتے ہیں کہ مرزا قادیانی کا دعویٰ مسیحیت کیوں غلط ہ

مرزا قادیانی کی ڈھلمل یقینی

مرزا قادیانی نے ”مسیح موعود“ ہونے کا دعویٰ ندارد۔ پائے چوبیں بے تمکیں ہوتا ہے۔ اس لئے مرزا قا ہیں۔ ایک آدمی ان کی تحریروں کو پڑھ کر حیران رہ جاتا ہے دوسوال قائم کرتے ہیں اور ان کے جوابات مرزا قادیانی پڑھ لیجئے۔

جواب از مرزا قادیانی

”مسیح کے دوبارہ دنیا میں آنے کا قرآن شری

١٩

صفحہ ١٦٣

اگر آپ کو خدا توفیق دے اور ہوش وحواس کی سلامتی سے آپ انبیاء علیہم السلام کی تاریخ بعثت کا مطالعہ کریں تو آپ کو معلوم ہو جائے گا کہ وہ بانگ دہل اپنی نبوت کا اعلان کرتے ہیں اور تمام وہ چیزیں جو اسلام کا مدار ہوتی ہیں، انہیں واشگاف لفظوں میں امت کے پیش کر دیتے ہیں۔ چونکہ، چنانچہ والی منطق نبوت کی زبان پر نہیں آتی۔ اگر واقعی اس امت میں سے کسی نے مسیح کے منصب پر فائز ہونا تھا اور اس منصب کی وہی حیثیت تھی جو مقام نبوت کی ہوتی ہے تو نہ حضورﷺ اسے پردہ خفا میں رکھتے نہ یہ صورت پیش آتی کہ مسیحیت کا دعویدار خود بھی شک و ارتیاب کا شکار ہے۔ کہیں وہ کچھ لکھتا ہے اور کہیں کچھ ..... امت کے ایمان کا مسئلہ اس طرح گورکھ دھندہ نہ بنایا جاتا۔ آخر کیا وجہ تھی کہ:

آنا تو تھا غلام احمد نے ...... بتایا گیا ”عیسیٰ مسیح“ آنا تھا چراغ بی بی اور غلام مرتضیٰ کے بیٹے نے ...... بتایا گیا ”مریم کا بیٹا“ آنا تو تھا زمین ہی سے ...... بتایا گیا کہ ”آسمان سے اترے گا“ آنا تو قادیان میں ...... بتایا گیا ”دمشق میں“ آنا تھا دو بیماریوں کے ساتھ ...... بتایا گیا ”دو چادروں کے ساتھ“

علیٰ ہٰذا القیاس! دوسری علامات بھی ہیں۔ تو یہ مذہب ہوا یا چیستان؟ سوچئے اور بار بار سوچئے۔ مرزا قادیانی کے دعویٰ نے بات کو کہاں سے کہاں تک پہنچا دیا۔ آئیے، اب ہم آپ کو یہ بتانا چاہتے ہیں کہ مرزا قادیانی کا دعویٰ مسیحیت کیوں غلط ہے؟

مرزا قادیانی کی ڈھلمل یقینی

مرزا قادیانی نے ”مسیح موعود“ ہونے کا دعویٰ کرنے کو تو کر دیا۔ لیکن ثبوت میں دلیل ندارد۔ پائے چوبیں بے تمکیں ہوتا ہے۔ اس لئے مرزا قادیانی ڈھلمل یقین اور مذبذب نظر آتے ہیں۔ ایک آدمی ان کی تحریروں کو پڑھ کر حیران رہ جاتا ہے۔ مثال کے طور پر اسی عنوان کے تحت ہم دو سوال قائم کرتے ہیں اور ان کے جوابات مرزا قادیانی کی اپنی کتابوں سے نقل کرتے ہیں۔ آپ پڑھ لیجئے۔

سوال نمبر ١...... کیا مسیح کی آمد کا ذکر قرآن پاک میں موجود ہے؟ جواب از مرزا قادیانی ”مسیح کے دوبارہ دنیا میں آنے کا قرآن شریف میں تو کہیں ذکر نہیں۔“

(ازالہ اوہام ص ٤٧، خزائن ج ٣ ص ١٤١)

١٩

صفحہ ١٦٥

مرزا قادیانی کی دروغ گوئی

یوں تو دروغ گوئی برا وصف ہے ہی۔ لیکن دین کے معاملہ میں غلط بیانی اور دروغ گوئی سے کام لینا اور برا ہے۔ وجہ ظاہر ہے کہ دین کے احکام ہیں۔ اب اگر فی الواقع ایک بات حضورﷺ نے نہیں فرمائی اور کوئی اسے آپ کی طرف منسوب کردے تو وہ دین میں مداخلت کر کے ”شارع“ بننے کی کوشش کرتا ہے اور خدا کا شریک بننا چاہتا ہے۔ اس وجہ سے علماء محدثین نے یہ اصول قائم کیا ہے کہ اگر کسی دفعہ بھی روایت حدیث میں جھوٹ بولنا ثابت ہو جائے تو اس کی ساری روایتیں اور محدثین اس کی روایت کو موضوع (یعنی من گھڑت) قرار دیتے ہیں۔ سوائے اس کے کہ وہ جرم کذب فی الحدیث سے توبہ بھی کرلے۔ تب بھی اس کی روایت قبول نہیں کی جائے گی۔

ایک ایسا شخص جو متعدد کتابوں کا مصنف ہو اور ایک خاص جماعت اسے اپنا مذہبی پیشوا سمجھتی ہے۔ اس پر دروغ گوئی کا الزام لگانا ہمیں بھی پسند نہیں لیکن دین اس سے زیادہ احترام کا مستحق ہے۔ ہم اظہار حقیقت پر مجبور ہیں۔ مرزا قادیانی نے جب ”كيف ما امکن“ مسیح موعود کی کرسی سنبھالنے کا فیصلہ کر لیا تھا تو اس کے لئے وہ ناجائز ذرائع (Unfair means) استعمال کرنے سے بھی گریز نہیں کیا اور دروغ گوئی سے بھی نہ چوکے۔ انہیں یہ بھی یاد نہ رہا کہ حضورﷺ کا ارشاد ہے: ”من کذب علی متعمدا فلیتبوأ مقعدہ من النار“ (بخاری ج١ ص٢١٣) ”جس نے جان بوجھ کر مجھ پر جھوٹ باندھا۔ وہ اپنا ٹھکانہ جہنم میں بنا لے۔“

پھر ان کی یہ زیادتی صرف حدیث تک ہی محدود نہیں رہی بلکہ انہوں نے وہ باتیں منسوب کر دیں جو نہ اللہ نے اپنے نبیﷺ پر نازل کیں اور نہ انہوں نے ہم تک پہنچائیں۔ چند نمونے ملاحظہ ہوں:

بخاری کی وہ حدیثیں جن میں آخری زمانہ میں بعض خلیفوں کی نسبت لکھا ہے کہ آنے والا خلیفہ جس کی نسبت بخاری میں لکھا ہے کہ آسمان سے اس کے لئے آواز آئے گی ھذا خلیفة الله المهدی“ اب سوچو کہ یہ حدیث کس پایہ اور مرتبہ کی ہے جو ایسی کتاب میں درج ہے جو اصح الکتب بعد کتاب اللہ ہے۔“

صفحہ ١٦٦

مرزا قادیانی کی دروغ گوئی

یوں تو دروغ گوئی بری وصف ہے ہی۔ لیکن خاص طور پر حدیث کے سلسلہ میں غلط بیانی اور دروغ گوئی سے کام لینا اور برا ہے۔ وجہ ظاہر ہے کہ حدیث سے دین کے مسائل بنتے ہیں ۔ اب اگر فی الواقع ایک بات حضورﷺ نے نہ فرمائی ہو اور ایک آدمی اسے حضورﷺ کی طرف منسوب کر دے تو وہ دین میں مداخلت کر کے ”دین سازی“ میں اللہ اور اس کے رسول ﷺ کا شریک بننا چاہتا ہے۔ اس وجہ سے علماء محدثین نے یہ قانون بنایا ہے کہ جس شخص کے متعلق ایک دفعہ بھی روایت حدیث میں جھوٹ بولنا ثابت ہو جائے اس کی کوئی روایت قابل قبول نہیں ہو گی اور محدثین اس کی روایت کو موضوع (یعنی من گھڑت ) کا نام دیتے ہیں۔ حتیٰ کہ اگر وہ شخص اس جرم کذب فی الحدیث سے توبہ بھی کرلے۔ تب بھی اس کی کوئی روایت قبول نہیں ہوگی۔

ایک ایسا شخص جو متعدد کتابوں کا مصنف ہے۔ ایک جماعت اسے اپنا مقتداء اور مذہبی پیشوا سمجھتی ہے۔ اس پر دروغ گوئی کا الزام لگانا ہمیں پسند نہیں تھا۔ لیکن کیا کریں کہ اللہ کا دین زیادہ احترام کا مستحق ہے۔ ہم اظہارِ حقیقت پر مجبور ہیں۔ بافسوس ہمیں کہنا پڑتا ہے کہ مرزا قادیانی نے جب ”کیف ما امکن“ مسیح موعود کی کرسی سنبھال لینے کا عزم کر لیا اور پھر یوں کام نہ چلا تو وہ ناجائز ذرائع (Unfair means) استعمال کرنے کے لئے آمادہ ہو گئے۔ حتیٰ کہ وہ صریح دروغ گوئی سے بھی نہ چوکے۔ انہیں یہ بھی یاد نہ رہا کہ آنحضرت ﷺ کا فرمان ہے:

”مَنْ كَذَبَ عَلَیَّ مُتَعَمِّداً فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ (ترمذی ج ٢ ص ٢١٣) ”جس نے جان بوجھ کر مجھ پر جھوٹ بولا وہ اپنا ٹھکانا دوزخ میں بنالے۔“

پھر ان کی یہ زیادتی صرف حدیث تک ہی محدود نہ رہی۔ قرآن پاک کی طرف وہ باتیں منسوب کر دیں جو نہ اللہ نے اپنے نبی ﷺ پر اتاریں، نہ نبی کریم ﷺ نے اپنی امت تک پہنچائیں۔ چند نمونے ملاحظہ ہوں:

بخاری کی وہ حدیثیں جن میں آخری زمانہ میں بعض خلیفوں کی نسبت خبر دی گئی ہے۔ خاص کر وہ خلیفہ جس کی نسبت بخاری میں لکھا ہے کہ آسمان سے اس کے لئے آواز آئے گی کہ ’ھٰذا خلیفة الله المھدی‘ اب سوچو کہ یہ حدیث کس پایہ اور مرتبہ کی ہے جو ایسی کتاب میں درج ہے جو اصح الکتب بعد کتاب اللہ ہے۔“

(شہادۃ القرآن ص ٤١، خزائن ج ٦ ص ٣٣٧)

٢١

صفحہ ١٦٦

بخاری شریف کوئی نایاب کتاب نہیں ہے۔ ہر دینی درس گاہ میں اور ہر عالم کے پاس مل سکتی ہے۔ یہ کتاب ١١٣٠ صفحات پر مشتمل ہے۔ جن میں ٧٢٧٥ حدیثیں درج ہیں۔ کتاب لے کر دیکھ لیجئے، کیا مرزا قادیانی کی محولہ حدیث کا کہیں کوئی نشان ملتا ہے؟

موجود ہے کہ مسیح موعود کے وقت طاعون پڑے گی۔"

(کشتی نوح ص ٥، خزائن ج ١٩ ص ٥)

خوب کہی! یا تو قرآن شریف میں مسیح موعود کا ذکر ہی نہیں تھا یا پھر ان کی آمد کے وقت طاعون کی پیشگوئیاں قرآن سے نکالی جا رہی ہیں۔

ایں چہ بوالعجبی ست

٣ تا ٧ یکمشت پانچ جھوٹ

(اربعین نمبر ٣ ص ١٧، خزائن ج ١٧ ص ٤٠٤)

ہے کوئی جو ہمیں یہ بتا سکے کہ یہ پیشگوئیاں قرآن کریم کے کون سے پارہ، کون سی سورت اور کون سے رکوع میں لکھی ہیں۔ یا حدیث کی کون سی کتاب کے کون سے باب میں درج ہیں؟

سے بدتر اور پلید تر ہوں گے کیونکہ وہ مسیح جیسے راست باز کو کافر اور دجال ٹھہرائیں گے۔"

(ایام الصلح ص ١٦٦، خزائن ج ١٤ ص ٤٠٤)

(اربعین نمبر ٢ ص ٢٦، خزائن ج ١٧ ص ٣٧٢)

"حدیثوں میں آنے والے مسیح موعود کو امتی لکھا ہے۔"

(ایام الصلح ص ١٥٢، خزائن ج ١٤ ص ٣٩٩)

٢٢

صفحہ ١٦٧

"مسلمانوں کے لئے صحیح بخاری نہایت مفید اور متبرک کتاب ہے۔ یہ وہی کتاب ہے جس میں صاف طور پر لکھا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام وفات پاگئے۔"

(کشتی نوح ص ١٠، خزائن ج ١٩ ص ٢٥)

اچھا؟ صاف طور پر لکھا ہے؟ تو پھر آپ کو استعارات اور تمثیلات کا سہارا لینے کی کیا ضرورت تھی؟ اور یہ صاف لکھا ہوا آپ کی نظر سے کب گزرا؟ جب آپ کو معلوم تھا کہ حدیثوں میں صاف لکھا ہوا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام وفات پاگئے اور اب مسیح موعود اسی امت میں سے آئے گا تو پھر کیا وجہ ہے کہ ایک عرصے تک آپ مسلمانوں کے مشہور عقیدہ کے قائل رہے؟

١١....... "اسی طرح سورۃ تحریم میں اشارہ ہے کہ بعض افراد امت کی نسبت فرمایا ہے کہ وہ مریم صدیقہ سے مشابہت رکھیں گے۔"

(کشتی نوح ص ٤٥، خزائن ج ١٩ ص ٤٨)

"اسی واقعہ کو سورۃ تحریم میں بطور پیشگوئی کمال تصریح سے بیان کیا گیا ہے کہ عیسیٰ بن مریم اس امت میں اس طرح پیدا ہوگا کہ پہلے کوئی فرد اس امت کا مریم بنایا جائے گا اور پھر بعد اس کے اس مریم میں عیسیٰ کی روح پھونک دی جائے گی۔" (کشتی نوح ص ٤٥، خزائن ج ١٩ ص ٤٩)

کتنی بے تکی اور غیر معقول بات ہے جو اللہ کی طرف منسوب کی جارہی ہے؟ پھر طرفہ تماشا یہ کہ کہیں تو اسے "اشارہ" قرار دیا جارہا ہے اور کہیں "کمال تصریح"۔ کیا سورۃ تحریم میں اس قسم کا کوئی اشارہ بھی موجود ہے۔ چہ جائیکہ کمال تصریح؟

١٢....... "چودھویں صدی کے سر پر مسیح موعود کا آنا جس قدر حدیثوں سے، قرآن سے، اولیاء کے مکاشفات سے بپایہ ثبوت پہنچتا ہے، حاجت بیان نہیں۔"

(شہادت القرآن ص ٧٠، خزائن ج ٦ ص ٣٦٥)

قرآن وحدیث میں کہاں لکھا ہے کہ مسیح موعود چودھویں صدی کے سر پر آئے گا؟ مرزا قادیانی نے حد کر دی ہے۔ ان کی یہ جرات حیرت انگیز بھی ہے اور افسوس ناک بھی۔ ہم نے مرزا قادیانی کی دروغ گوئی کی ایک درجن مثالیں پیش کی ہیں۔ اب آپ فیصلہ کیجئے کہ یہ کارستانی کسی مذہبی رہنماء کی ہو سکتی ہے یا طالع آزما کی اور ابن الاغراض سیاست دان کی۔ فهل من مدکر؟

مرزا قادیانی کا انوکھا فلسفہ

مرزا قادیانی پہلے مریم پھر ابن مریم کیسے بنے؟ اس سوال کا جواب ہم مرزا قادیانی کے الفاظ میں پیش کرتے ہیں۔ ہمیں یہ بتانے کی ضرورت نہیں ہے کہ مرزا قادیانی کا یہ بیان کتنا مضحکہ

٢٣

صفحہ ١٦٩

خیز اور نامعقول (Unsensible and unreasonable) ہے۔ پڑھئے اور سر دھنئے: ”خدا نے براہین احمدیہ کے تیسرے حصے میں میرا نام مریم رکھا...... دو برس تک صفت مریمیت میں میں نے پرورش پائی اور پردے میں نشو و نما پاتا رہا۔ پھر جب اس پر دو برس گزر گئے تو ...... مریم کی طرح عیسیٰ کی روح مجھ میں نفخ کی گئی اور استعارہ کے رنگ میں مجھے حاملہ ٹھہرایا گیا اور آخر کئی مہینوں کے بعد جو دس مہینے سے زیادہ نہیں...... مجھے مریم سے عیسیٰ بنایا گیا۔ پس اس طور سے میں ابن مریم ٹھہرا۔“

(کشتی نوح ص ٤٧، خزائن ج ١٩ ص ٥٠)

مرزا قادیانی کا یہ بیان خاصا طویل ہے۔ ہم اتنے حصہ پر اکتفا کرتے ہیں:

قیاس کن زگلستان من بہار مرا

اب اگر کوئی یہ پوچھ لے کہ جناب! اگر آپ نے ”ابن مریم“ بننا تھا تو چاہئے یہ تھا کہ جناب کی والدہ ماجدہ میں پہلے مریمی صفات آتیں، نہ کہ آپ میں۔ (یہ دوسری بات ہے کہ آپ کی حقیقی والدہ نہیں تو ان کی کوئی مثیل ہوتیں) وہی حاملہ ہوتیں۔ وہی ”فاجاءھا المخاض“ کا مصداق بنتیں یعنی درد زہ کی مثالی کیفیت سے انہیں واسطہ پڑتا اور پھر انہی سے آپ کا ظہور ہوتا۔ پھر تو شاید کوئی بات بھی بن جاتی۔ لیکن یہ وحدۃ الوجودی فلسفہ، یعنی مولود اور والدہ کا ایک ہونا، نہ حکماء اشراقیین پیش کر سکے ہیں نہ مشائین، ایسی نکتہ سنجی تو نہ علماء اسلام کے حصے میں آئی ہے نہ دانایان یورپ کے۔ بہت ممکن ہے کہ اس اعتراض کے جواب میں قادیانی ٹکسال سے نکلنے والے فضلاء کچھ موشگافیاں کرنے لگیں۔ لیکن ہمارے نزدیک یہ فلسفہ پیغمبرانہ دعوت کے نام پر عقل وخرد کے منہ چڑانے کے مترادف ہے اور بس۔

حدیث شریف میں آیا ہے کہ رسول اکرم ﷺ نے پہیلیوں سے منع فرمایا ہے۔ ”نهی عن الاغلوطات“ اور یہاں یہ حال ہے کہ مرزا قادیانی کی دعوت کی بنیاد ہی پہیلیوں اور لفظی گورکھ دھندوں پر ہے۔ افلا تعقلون؟

مرزا قادیانی کے حافظہ کی خرابی یا ان میں دیانت کی کمی

یوں تو مرزا قادیانی کی کتابوں میں بیسیوں مثالیں پیش کی جاسکتی ہیں کہ وہ ”محمود اثبات“ سے کام لیتے ہیں۔ یعنی ضرورت کے مطابق کبھی تو وہ ایسی چیزوں کا انکار کر دیتے ہیں جو کتاب وسنت میں وارد ہیں یا اقوال علماء سے ثابت ہیں اور کبھی ایسی چیزیں قرآن وحدیث کی طرف منسوب کر دیتے ہیں جو نہ تو اللہ نے کہی ہوتی ہیں اور نہ اس کے رسولؐ نے۔ وہ ایسا کیوں

٢٤

کرتے ہیں؟ یہ ہم سے نہ پوچھئے۔ البتہ اس موقع پر ہم کرتے ہیں۔ جس سے بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے ک دلیری سے کام لیتے ہیں۔ ملاحظہ ہو اور پھر فیصلہ ہم حافظہ بے کار تھا یا ان میں دیانت مفقود تھی؟ بہر حال م

ہیں: ”پھر دجال ایک اور قوم کی طرف جائے گا اور ان

ہیں: ”دجال خدا نہیں کہلائے گا بلکہ خدا تعالیٰ کا قائل

بھی اس سے ظہور میں آئے گا۔“

ازالہ اوہام ١٨٩١ء کی تصنیف ہے۔ اس ”دجال الوہیت کا دعویدار ہوگا۔“ دوسرے حصہ میں جو ١٨٩٣ء کی تصنیف ہے، میں کہتے ہیں: ”ہوگا۔“ ہے۔ افلا تبصرون؟

مرزا قادیانی کی لاعلمی یا تجاہل عارفانہ

مرزا قادیانی نے مسیح موعود کے بارے علامات کا انکار کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے کہ مر ان جان بننے کی کوشش کرتے ہیں۔ بہر کیف وہ ثابت ہو جائیں تو مرزا قادیانی کے دعوائے مسیحیت ملاحظہ ہوں:

کہیں نہیں ہے۔“

(انجام آتھم ص ٤٩، خزائن ج ١١

اب ہم سے حوالہ سنئے: اٹھائیے امام ہیثمی

٢٥

صفحہ ١٦٩

کرتے ہیں؟ یہ ہم سے نہ پوچھئے۔ البتہ اس موقع پر مرزا قادیانی کی تحریروں سے ایک مثال پیش کرتے ہیں۔ جس سے بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ مرزا قادیانی کس حد تک ڈھٹائی اور دیدہ دلیری سے کام لیتے ہیں۔ ملاحظہ ہو اور پھر فیصلہ ہم آپ پر چھوڑتے ہیں کہ کیا مرزا قادیانی کا حافظہ بے کار تھا یا ان میں دیانت مفقود تھی؟ بہر حال دال میں کچھ کالا ضرور ہے۔

الف...... مرزا قادیانی، مسلم شریف کی ایک روایت کا ترجمہ اور تشریح کرتے ہوئے لکھتے ہیں: ”پھر دجال ایک اور قوم کی طرف جائے گا اور اپنی الوہیت کی طرف ان کو دعوت کرے گا۔“

(ازالۃ اوہام ص ٢١٨، خزائن ج ٣ ص ٢٠٨)

ب....... مرزا قادیانی اسی کتاب میں آگے چل کر علامات دجال کے ضمن میں لکھتے ہیں: ”دجال خدا نہیں کہلائے گا بلکہ خدا تعالیٰ کا قائل ہوگا بلکہ بعض انبیاء کا بھی مسلم۔“

(ازالۃ اوہام ص ٧٣٠، خزائن ج ٣ ص ٤٩٣)

ج...... مرزا قادیانی لکھتے ہیں: ”لکھا ہے دجال نبوت کا دعویٰ کرے گا اور نیز خدائی کا دعویٰ بھی اس سے ظہور میں آئے گا۔“

(شہادت القرآن ص ٢٠، خزائن ج ٦ ص ٣١٦)

ازالۃ اوہام ١٨٩١ء کی تصنیف ہے۔ اس کے پہلے حصہ میں مرزا قادیانی لکھتے ہیں: ”دجال الوہیت کا دعویدار ہوگا۔“ دوسرے حصہ میں لکھتے ہیں: ”نہیں ہوگا۔“ پھر شہادت القرآن جو ١٨٩٣ء کی تصنیف ہے، میں کہتے ہیں: ”ہوگا۔“ ..... ”ہے نہیں“ کا یہ چکر کتنا عجیب و غریب ہے۔ افلا تبصرون؟

مرزا قادیانی کی لاعلمی یا تجاہل عارفانہ

مرزا قادیانی نے مسیح موعود کے بارے میں آنحضرت ﷺ کی ارشاد فرمودہ بعض علامات کا انکار کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے کہ مرزا قادیانی کو ان چیزوں کا علم نہیں تھا یا وہ دانستہ ان جان بننے کی کوشش کرتے ہیں۔ بہر کیف وہ علامات اس قسم کی ہیں کہ اگر وہ احادیث سے ثابت ہو جائیں تو مرزا قادیانی کے دعوائے مسیحیت میں کوئی صداقت باقی نہیں رہتی۔ چند مثالیں ملاحظہ ہوں:

پہلی مثال...... مرزا قادیانی ارشاد فرماتے ہیں: ”(مسیح کے) آسمان سے آنے کا لفظ کہیں نہیں ہے۔“ (انجام آتھم ص ١٤٩، خزائن ج ١١ ص ایضاً، چشمہ معرفت ص ٢٢٠، خزائن ج ٢٣ ص ٢٢٩)

اب ہم سے حوالہ سنئے: اٹھائیے امام بیہقیؒ کی کتاب ”الاسماء والصفات“ کھولئے

صفحہ ١٧١

اس کا ص ١٣٠١ اور پڑھئے حدیث: ”اذانزل ابن مريم من السماء فيكم“ کیا آپ کو معلوم ہے کہ ”من السماء“ کے معنی آسمان سے ہیں؟

تفسیر درمنثور میں ابن عباسؓ سے ایک روایت منقول ہے۔ جس میں السماء کی تصریح موجود ہے۔ علاوہ ازاں (مشکوٰۃ شریف ص ٤٨٠) کی ایک روایت جس کی صحت مرزا قادیانی خود بھی تسلیم کرتے ہیں، اس کا ایک جملہ ہے: ”ینزل عیسی الی الارض“ ﴿یعنی حضرت عیسیٰ علیہ السلام زمین پر اتریں گے﴾ اس سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ وہ اس وقت زمین پر نہیں ہیں بلکہ آسمان پر ہیں اور وقت مقررہ پر نزول فرمائیں گے اور حقیقت یہ ہے کہ یہ مرزا قادیانی کی ناواقفیت ہے یا وہ جان بوجھ کر ناواقف بننا چاہتے ہیں ورنہ تو ذخیرہ احادیث سے صاف طور پر معلوم ہوتا ہے کہ مسیح موعود آسمان سے نزول فرمائیں گے اور یہی وجہ ہے کہ علماء امت سب کے سب اس بات کے قائل ہیں۔ تفسیر شرح حدیث اور عقائد کی کوئی مشہور کتاب آپ اٹھا کر دیکھ لیں۔ سب میں نزول مسیح من السماء کی صراحت موجود ہے۔ ہم اگر ان حوالوں کو نقل کرنا چاہیں تو ایک طومار لگ جائے۔ قارئین کی تسلی کے لئے ہم چند عبارتیں نقل کرتے ہیں:

علامہ جاراللہ زمحشری معتزلی متوفی ٥٢٨ء اپنی تفسیر میں آیت کریمہ: ”وان من اهل الکتب الا لیؤمنن به“ کے تحت لکھتے ہیں: ”روی انه ينزل من السماء في اخر الزمان (كشاف ج ١ ص ٥٨٩) “ ﴿حدیث میں آیا ہے کہ وہ اخیر زمانہ میں آسمان سے اتریں گے۔﴾ یہی زمخشری ارشاد ربانی ”انی متوفیک“ کی تفسیر میں لکھتے ہیں:

”وقيل مميتك في وقتك بعد النزول من السماء (كشاف ج ١ ص ٣٦٧) “ ﴿ایک قول یہ ہے کہ متوفیک بمعنی ممیتک ہے یعنی تجھے تیرا وقت آنے پر آسمان سے اترنے کے بعد موت دوں گا۔﴾

آیت کریمہ ”وان من اهل الکتب ..... الخ “ کے تحت لکھتے ہیں:

”وذلك عند نزوله من السماء فی اخرالزمان“ ﴿یہ اس وقت کی بات ہے جبکہ وہ (حضرت عیسیٰ) اخیر زمانہ میں آسمان سے اتر کر آئیں گے۔

٢٦

ذكرناه من تقدير وجود عيسى عليـ سينزل الى الارض قبل يوم القيامة (ابـ یہی ہے جو ہم اوپر بیان کر آئے ہیں کہ حضرت عیسـ آسمان میں زندہ ہیں اور قیامت سے پہلے زمین پر ا

به اهل الملل جميعا (تفسیر بیضاوی ج ١ سے اتریں گے تو سب مذاہب ان پر ایمان لائیں گـ

(الدجال ) يخرج بعد امور ذكرت وان عـ ﴿احادیث نے یہ بات واضح کر دی ہے کہ دجال حضرت عیسیٰ علیہ السلام آسمان سے اترنے کے بعد آ

ص ٤٠٣) ” ﴿یعنی حضرت عیسیٰ علیہ السلام آسمان

بـامـرالله تعالى فى السماء قبل ان ينزل ﴿حضرت مسیح اترنے سے پہلے آسمان ہی پر اللہ تعا شریعت میں سے ان کے لئے جاننا ضروری ہوگا۔﴾

و نـزول عيسى عليه السلام من السمـ علیہ السلام کا آسمان سے اتر کر آنا سورج کے مغرب

ثابت شده است باحادیث صحیح که عیسیٰ علیہ السلام ج ٣ ص ٣٥١) ﴿یقیناً احادیث صحیحہ سے ثابت ہو چکـ زمین پر آئیں گے۔﴾

٢٧

صفحہ ١٧١

ذكرناه من تقدير وجود عيسى عليه السلام وبقاء حياته في السماء وانه سينزل الى الارض قبل يوم القيامة (ابن کثير ج ١ ص ٥٧٧) “ ﴿اس آیت سے مراد یہی ہے جو ہم اوپر بیان کر آئے ہیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا موجود ہونا پختہ بات ہے۔ وہ آسمان میں زندہ ہیں اور قیامت سے پہلے زمین پر اتر آئیں گے۔﴾

به اهل الملل جميعا (تفسیر بیضاوی ج ١ ص ٢١٠) “ ﴿مطلب یہ کہ جب وہ آسمان سے اتریں گے تو سب مذاہب ان پر ایمان لائیں گے۔﴾

(الدجال) يخرج بعد امور ذكرت وان عيسى يقتله بعد ان ينزل من السماء“ ﴿احادیث نے یہ بات واضح کر دی ہے کہ دجال کی آمد چند امور مذکور کے بعد ہوگی اور یہ کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام آسمان سے اترنے کے بعد اسے مار دیں گے۔﴾

ص ٤٠٢) “ ﴿یعنی حضرت عیسیٰ علیہ السلام آسمان سے اتر آئیں گے۔﴾

بامر الله تعالى فى السماء قبل ان ينزل ما يحتاج اليه من علم هذه الشريعة “ ﴿حضرت مسیح اترنے سے پہلے آسمان ہی پر اللہ تعالیٰ کے حکم سے جان چکے ہوں گے کہ جو کچھ اس شریعت میں سے ان کے لئے جاننا ضروری ہوگا۔﴾

و نزول عيسى عليه السلام من السماء قبل ذالك “ ﴿دجال کا آنا اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا آسمان سے اتر کر آنا سورج کے مغرب سے طلوع ہونے سے پہلے ہوگا۔﴾

ثابت شدہ است باحادیث صحیح کہ عیسیٰ علیہ السلام فرودمی آید از آسمان بزمین ۔“ (اشعۃ اللمعات ج ٤ ص ٣٥١) ﴿یقیناً احادیث صحیحہ سے ثابت ہو چکا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام آسمان سے اتر کر زمین پر آئیں گے۔﴾

٢٧

صفحہ ١٧٣

میں اور حضرت ملا علی قاریؒ اس کی شرح میں علامات قیامت کے ضمن میں لکھتے ہیں: ”ونـــزول عيسىٰ عليه السلام من السماء (شرح فقه اكبر ص ١٣٦) ”ایک علامت حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا آسمان سے نازل ہونا ہے۔ ﴾

بن مريم عليه السلام من السماء “ ﴿اور ہم حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے آسمان سے اتر آنے پر ایمان رکھتے ہیں۔﴾

ہیں: ”وما اخبر به النبى عليه السلام من اشراط الساعة من خروج الدجال و دابۃ الارض و نزول عيسىٰ عليه السلام من السماء و طلوع الشمس من مغربها فهو حق (شرح عقائد ص ١٠٠) ”نبی کریم ﷺ نے جن جن علامات قیامت کی خبر دی ہے یعنی دجال کا اور دابۃ الارض کا نکلنا، عیسیٰ علیہ السلام کا آسمان سے اتر کر آنا اور سورج کا مغرب سے طلوع ہونا تو یہ سب برحق ہے۔﴾

ہیں: ”وقد صح فى الحديث ان عيسىٰ عليه السلام ينزل من السماء الى الارض (نبراس ص ٥٨٦) ”یہ بات حدیث شریف سے پایہ ثبوت کو پہنچ چکی ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام آسمان سے زمین پر اتر آئیں گے۔﴾

تفسیر، حدیث، فقہ اور کلام کے ائمہ اور ماہرین کے منقولہ بالا اقوال سے یہ بات نصف النہار کی طرح واضح ہو گئی ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تشریف آوری آسمان سے ہوگی۔

حد تو یہ ہے کہ مرزا قادیانی خود بھی رسالہ تحفۃ الاذہان میں لکھتے ہیں: ”میری بیماری کی نسبت بھی آنحضرت ﷺ نے پیشگوئی کی تھی جو اس طرح وقوع میں آئی کہ آپ نے فرمایا تھا کہ مسیح آسمان پر سے جب اترے گا تو دو زرد چادریں اس نے پہنی ہوں گی۔ سو اس طرح مجھے دو بیماریاں ہیں ۔“

(ملفوظات ج ٨ ص ٤٤٥)

قطع نظر اس سے کہ مرزا قادیانی نے فرمان نبوی ﷺ کی غلط توجیہ کرنے میں کتنی بڑی جسارت سے کام لیا ہے۔ ان کی طرف سے یہ اعتراف تو پایا گیا کہ بموجب حدیث شریف مسیح کی

٢٨

آمد آسمان سے ہوگی۔ پھر بھی اگر وہ انجام آتھم وا لفظ کہیں نہیں ہے تو اس ڈھٹائی اور دروغ گوئی کا کیا

دوسری مثال، مرزا قادیانی لکھتے ہیں : کیا ہے لیکن اگر اس جگہ نزول کے لفظ سے یہ مقصود آئیں گے تو بجائے نزول کے رجوع کہنا چاہئے تھا

(ایام الصلح ص ١٤٦، خزائن

اب آپ تفسیر ابن کثیر اٹھا کر دیکھئے، ا ہیں کہ آنحضرت ﷺ نے یہودیوں سے فرمایا : ” ا قبل يوم القيامة (ابن کثير ج ١ ص ٣٦٦) یقیناً وہ قیامت سے پہلے تمہارے پاس لوٹ کر آ

قادیانیو! آپ نے مرزا قادیانی کا ارش کہ اگر واقعی حدیث میں ”رجوع“ کا لفظ مل جائے آمد ماننی پڑے گی۔ حوالہ ہم نے پیش کر دیا۔ اب نہیں آسکتے۔ بلکہ جیسا کہ امت مسلمہ کا عقیدہ ہے کے لئے مخصوص ہے۔

تیسری مثال: مرزا قادیانی ایک حدی وفات ثابت کرنا چاہتے ہیں۔ ہم شروع میں عرض ہمارے نزدیک خارج از بحث ہے۔ وہ زندہ ہیں چاہتے ہیں کہ مرزا قادیانی نے اپنی مطلب برآری ہیں : ”ایک اور حدیث بھی مسیح ابن مریم کی وفات آنحضرت ﷺ سے پوچھا گیا کہ قیامت کب آ سو برس تک تمام بنی آدم پر قیامت آجائے گی او عرصہ سے کوئی شخص زیادہ زندہ نہیں رہ سکتا۔ اسی بنا فوت ہو گیا کیونکہ مخبر صادق کے کلام میں کذب قیامت سے بھی مسیح کو باہر رکھ دیا ۔“

صفحہ ١٧٣

آمد آسمان سے ہوگی۔ پھر بھی اگر وہ انجام آتھم وغیرہ میں یہ کہتے ہیں کہ مسیح کی آسمان سے آمد کا لفظ کہیں نہیں ہے تو اس ڈھٹائی اور دروغ گوئی کا کیا جواب ہو؟

دوسری مثال، مرزا قادیانی لکھتے ہیں: ”آپ لوگوں کے پاس بجز ایک لفظ نزول کے کیا ہے لیکن اگر اس جگہ نزول کے لفظ سے یہ مقصود تھا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام آسمان سے دوبارہ آئیں گے تو بجائے نزول کے رجوع کہنا چاہئے تھا۔“

(ایام الصلح ص ١٤٦، خزائن ج ١٤ ص ٣٩٢، انجام آتھم ص ١١، خزائن ج ١١ ص ایضاً)

اب آپ تفسیر ابن کثیر اٹھا کر دیکھئے، اس میں دو جگہ علامہ ابن کثیرؒ یہ روایت نقل کرتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ نے یہودیوں سے فرمایا: ”ان عیسیٰ لم یمت وانہ راجع الیکم قبل یوم القیامة (ابن کثیر ج ١ ص ٣٦٦)“ ﴿یقیناً عیسیٰ علیہ السلام فوت نہیں ہوئے اور یقیناً وہ قیامت سے پہلے تمہارے پاس لوٹ کر آنے والے ہیں۔﴾

قادیانیو! آپ نے مرزا قادیانی کا ارشاد پڑھ لیا ہے۔ اس سے اتنا تو آپ نے سمجھ لیا کہ اگر واقعی حدیث میں ”رجوع“ کا لفظ مل جائے تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی آسمان سے دوبارہ آمد ماننی پڑے گی۔ حوالہ ہم نے پیش کر دیا۔ اب تو مان جائیے کہ مسیح موعود کی کرسی پر مرزا قادیانی نہیں آسکتے۔ بلکہ جیسا کہ امت مسلمہ کا عقیدہ ہے۔ وہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام اسرائیلی پیغمبر ہی کے لئے مخصوص ہے۔

تیسری مثال: مرزا قادیانی ایک حدیث کا حوالہ دے کر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی وفات ثابت کرنا چاہتے ہیں۔ ہم شروع میں عرض کر چکے ہیں کہ اس وقت حیات مسیح علیہ السلام ہمارے نزدیک خارج از بحث ہے۔ وہ زندہ ہیں یا نہیں، اس کو چھوڑیئے۔ ہم تو صرف یہ دکھانا چاہتے ہیں کہ مرزا قادیانی نے اپنی مطلب براری کے لئے کیونکر حدیث کا بھرکس نکالا ہے۔ کہتے ہیں: ”ایک اور حدیث بھی مسیح ابن مریم کی وفات ہو جانے پر دلالت کرتی ہے اور وہ یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ سے پوچھا گیا کہ قیامت کب آئے گی؟ تو آپؐ نے فرمایا کہ آج کی تاریخ سے سو برس تک تمام بنی آدم پر قیامت آجائے گی اور یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ سو برس کے عرصہ سے کوئی شخص زیادہ زندہ نہیں رہ سکتا۔ اسی بناء پر اکثر علماء و فقہاء اسی طرف گئے ہیں کہ خضر بھی فوت ہو گیا کیونکہ مخبر صادق کے کلام میں کذب جائز نہیں۔ مگر افسوس کہ ہمارے علماء نے اس قیامت سے بھی مسیح کو باہر رکھ دیا۔“

(ازالۃ الاوہام ص ٢٥٢، خزائن ج ٣ ص ٢٢٧)

٢٩

صفحہ ١٧٥

اس عبارت میں مرزا قادیانی نے جس حدیث کا حوالہ دیا ہے۔ ہم وہ اصل حدیث اور اس کا ترجمہ ان کی اسی کتاب ازالہ اوہام ہی سے نقل کرتے ہیں تاکہ حقیقت معلوم ہو سکے: ”عن جابر قال سمعت النبی ﷺ قبل ان یموت بشهر تسالونی عن الساعة وانما علمها عندالله واقسم بالله ما علی الارض من نفس منفوسة یاتی علیها مائة سنة وهی حیة یومئذ (رواہ مسلم)“ ”روایت ہے کہ جابرؓ سے کہ کہا سنا میں نے پیغمبر خدا حضرت محمد ﷺ سے، فرماتے تھے کہ مہینہ بھر پہلے اپنی وفات سے کہ تم مجھ سے پوچھتے ہو کہ قیامت کب آئے گی اور بجز خدا کے کسی کو اس کا علم نہیں اور میں اللہ تعالیٰ کی قسم کھاتا ہوں کہ روئے زمین پر کوئی ایسا نفس نہیں جو پیدا کیا گیا ہو اور موجود ہو اور پھر آج سے سو برس اس پر گزرے اور وہ زندہ رہے۔“

(ازالہ اوہام ص ٢٨١، خزائن ج ٣ ص ٣٥٨)

آپ حدیث کے لفظ ”علی الارض“ (زمین پر) پر غور کیجئے۔ زبان نبوت سے یہ لفظ کیوں نکلا؟ کیا اتفاقی طور پر زبان پر آ گیا تھا یا حضور کا مقصد ان انسانوں کو اس پیشگوئی سے خارج کرنا تھا جو حضور کے اس فرمان کے وقت زمین پر نہ تھے؟ علماء اسلام کا جواب کتابوں میں موجود ہے۔ حضرت خضر علیہ السلام کے بارے میں تو دو مختلف رائیں پائی جاتی ہیں۔ ایک گروہ ان کی وفات کا قائل ہے اور دوسرا ان کو زندہ مانتا ہے۔ مرزا قادیانی اگر شروح حدیث کو دیکھ لیتے تو انہیں معلوم ہو جاتا کہ جو لوگ حیات خضر کے قائل نہیں۔ انہیں ”علی الارض“ کی بناء پر یہ تاویل کرنا پڑی کہ وہ اس وقت زمین پر موجود نہیں تھے بلکہ کہیں سمندر میں تھے۔ لیکن حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں کوئی اختلاف رائے نہیں ہے بلکہ بالاتفاق علماء امت اٹھائے جانے کے بعد سے دوبارہ آنے تک وہ آسمان کے باشندہ ہیں۔ اس لئے مذکورہ بالا پیشگوئی کا ان سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

”قال الکرمانی لانقض بعیسیٰ علیہ السلام لکونہ فی السماء (فتح الودود)“ (علامہ کرمانی کہتے ہیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی وجہ سے اس پیشگوئی پر کوئی اعتراض وارد نہیں ہوتا کیونکہ وہ تو آسمان میں ہیں۔)

مرزا قادیانی کے دعاوی کے سلسلہ میں ہم براہ راست انہی کی تحریروں کو زیر بحث لا رہے ہیں اور ہمارے نزدیک کسی تحریک کے حسن و قبح کو معلوم کرنے کے لئے بنیادی گر یہی ہے ٣٠

کہ تحریک کے اصل بانی کے اقوال وافعال کا جائزہ لینا چا ایک بات عرض کرنے کی اجازت چاہتے ہیں۔ صاحبزاد حدیث سے وفات مسیح علیہ السلام کا ثبوت پیش کرتے ہو حدیث نقل کرتے ہیں۔ لیکن وہ علی الارض کا لفظ صاف اور کیا کہہ سکتے ہیں کہ اگر صحیح مسلم، سنن ابی داؤد یا مشکوٰۃ شری باوا کی کتاب (ازالہ اوہام) ہی دیکھ لیتے۔ اسی میں انہیں ”ع میں دو روایتیں (ص ٢٨١، خزائن ج ٣ ص ٣٥٨) پر اور ایک ر منقول ہے اور دونوں میں ”علی الارض“ کا لفظ موجو

مسیح موعود کا حلیہ اور مرزا قادیانی

مرزا قادیانی اپنی کتابوں میں بار بار لکھتے ہیں السلام کا رنگ سرخ بیان کیا گیا ہے اور آنے والے مسیح کا والے مسیح کوئی اور ہیں۔ دوسری کتابوں کے علاوہ انہوں متعدد جگہ ذکر کیا ہے۔ ایک مقام پر لکھتے ہیں: ”سوم قرینہ آنے والے مسیح اور اصل مسیح ابن مریم کے حلیہ میں جابجا ہر ایک جگہ جو اصل مسیح ابن مریم کا حلیہ لکھا ہوا ہے۔ اس اور ہر جگہ ایک جو آنے والے مسیح کا حلیہ بقول آنحضرت ﷺ گوں ظاہر کیا ہے۔“

حقیقت یہ ہے کہ یا تو مرزا قادیانی علم حد حدیثوں کو چھپا رہے ہیں۔ جن میں آنے والے مسیح کا ح رہی ہیں کہ آنے والے مسیح وہی ہیں جو بنی اسرائیل میں حقیقت حال بتاتے ہیں اصل مسیح اور آنے والے مسیح کا ح

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا حلیہ

معلوم رہے کہ آنحضرت ﷺ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا حلیہ قصہ معراج کے ضمن (یہ بات فریقین کے نزدیک مسلم ہے کہ معراج کی رات قیام کے س کرا ٣١

صفحہ ١٧٥

کہ تحریک کے اصل بانی کے اقوال وافعال کا جائزہ لینا چاہئے۔ لیکن موقع کی مناسبت سے یہاں ایک بات عرض کرنے کی اجازت چاہتے ہیں۔ صاحبزادہ مرزا بشیر احمد اپنی کتاب الحجۃ البالغہ میں حدیث سے وفات مسیح علیہ السلام کا ثبوت پیش کرتے ہوئے سب سے پہلے صحیح مسلم کی محولہ بالا حدیث نقل کرتے ہیں۔ لیکن وہ علی الارض کا لفظ صاف طور پر ہضم کر گئے ہیں۔ ہم اس کے سوا اور کیا کہہ سکتے ہیں کہ اگر صحیح مسلم، سنن ابی داؤد یا مشکوٰۃ شریف تک ان کی رسائی نہیں تھی تو وہ اپنے باوا کی کتاب (ازالہ اوہام) ہی دیکھ لیتے۔ اسی میں انہیں ”علی الارض“ کا لفظ نظر آجاتا۔ ازالہ میں دو روایتیں (ص٣٨١، خزائن ج٣ ص٣٥٨) پر اور ایک روایت (ص٦٢٤، خزائن ج٣ ص٤٣٧) پر منقول ہے اور دونوں میں ”علی الارض“ کا لفظ موجود ہے۔

مسیح موعود کا حلیہ اور مرزا قادیانی

مرزا قادیانی اپنی کتابوں میں بار بار لکھتے ہیں کہ حدیث شریف میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا رنگ سرخ بیان کیا گیا ہے اور آنے والے مسیح کا گندمی، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ آنے والے مسیح کوئی اور ہیں۔ دوسری کتابوں کے علاوہ انہوں نے ازالہ اوہام میں بھی اپنی اس دلیل کو متعدد جگہ ذکر کیا ہے۔ ایک مقام پر لکھتے ہیں: ”سوم قرینہ جو امام بخاری نے بیان کیا ہے یہ ہے، کہ آنے والے مسیح اور اصل مسیح ابن مریم کے حلیہ میں جابجا التزام کامل کے ساتھ فرق ڈال دیا ہے۔ ہر ایک جگہ جو اصل مسیح ابن مریم کا حلیہ لکھا ہوا ہے۔ اس کے چہرہ کو احمر (یعنی سرخ) بیان کیا ہے اور ہر جگہ ایک جو آنے والے مسیح کا حلیہ بقول آنحضرتﷺ بیان فرمایا ہے۔ اس کے چہرہ کو گندم گوں ظاہر کیا ہے۔“

(ازالہ اوہام ص٩٠٠، خزائن ج٣ ص٥٩٢)

حقیقت یہ ہے کہ یا تو مرزا قادیانی علم حدیث سے کورے ہیں یا وہ دانستہ ان صحیح حدیثوں کو چھپارہے ہیں۔ جن میں آنے والے مسیح کا حلیہ ارشاد فرمایا گیا ہے اور وہ پکار پکار کر کہہ رہی ہیں کہ آنے والے مسیح وہی ہیں جو بنی اسرائیل میں تشریف لائے تھے۔ آئیے ہم آپ کو حقیقت حال بتاتے ہیں اصل مسیح اور آنے والے مسیح کا حلیہ ہم بصورت کالم پیش کرتے ہیں:

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا حلیہ آنے والے مسیح کا حلیہ معلوم رہے کہ آنحضرتﷺ نے حضرت عیسیٰ قیامت کے قریب نازل ہوکر دجال کو قتل کرنے علیہ السلام کا حلیہ قصہ معراج کے ضمن (یہ بات کے سلسلہ میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا تعارف فریقین کے نزدیک مسلم ہے کہ معراج کی رات کرادیا گیا ہے اور یہاں بھی آنحضورﷺ نے

٣١

صفحہ ١٧٧

حضرت عیسیٰ علیہ السلام بنی اسرائیل کے پیغمبر ہی سے ملاقات ہوئی تھی) میں بیان فرمایا ہے۔ ایک تو ان کا قد وقامت اور رنگ بتا کر، دوسرا مزید وضاحت کے لئے اپنے صحابہؓ میں سے ایک آدمی کا نام لے کر فرمایا کہ یہ شکل میں ان سے ملتے جلتے ہیں۔ حضور ﷺ کے ارشادات سنیے:

مربوعا مربوع الخلق الى الحمرة والبياض (بخاری ص ٤٥٩، مسلم ج ١ ص ٩٤ بروایت ابن عباس)“ ”میں نے عیسیٰ علیہ السلام کو دیکھا، وہ میانہ قد آدمی تھے۔ ان کا رنگ سرخی اور سفیدی مائل تھا۔ ”ربعة احمر كانما خرج من ديماس (بخاری ج ١ ص ٤٨٩ بروایت ابی هریرة)“ ”وہ درمیانہ قد کے تھے اور سرخ رنگ کے (مگر خالص سرخ نہیں، بلکہ یوں سمجھئے کہ) گویا وہ ابھی نہا دھو کر حمام سے باہر آئے ہیں۔“

عروة بن مسعود (مسلم ص ٩٥ بروایت عبدالله بن عمر)“ ”شکل وصورت کے لحاظ سے جس کو میں نے ان کے ساتھ زیادہ ملتا جلتا دیکھا، وہ عروہ بن مسعود (ثقفی) ہیں۔

وہی دونوں انداز اختیار فرمائے یعنی ایک تو قد اور رنگ کا بیان فرما دیا، دوسرا ایک آدمی کا ہم شکل ہونا بتا دیا۔ اب الفاظ اور انداز کی یکسانیت ملاحظہ ہو۔ ارشاد فرمایا: ”انی اولی الناس بعيسى بن مريم لانه لم يكن نبي بيني وبينه، وانه نازل فاذا رأيتموه فاعرفوه رجل مربوع الى الحمرة والبياض (ابوداؤد ج ٢ ص ١٣٥، تفسیر ابن کثیر ج ١ ص ٥٧٨ بروایت ابو هريرة) ”یعنی میں لوگوں میں عیسیٰ بن مریم کے سب سے زیادہ قریب ہوں۔ کیونکہ میرے اور ان کے درمیان کوئی نبی نہیں ہوا اور یقینا وہ آنے والے ہیں۔ تو جب تم انہیں دیکھو تو تم انہیں پہچان لینا۔ وہ میانہ قد آدمی ہوں گے۔ ان کا رنگ سرخی اور سفیدی مائل ہوگا۔

”فيبعث الله عيسى بن مريم كانه عروة بن مسعود (مسلم ج ١ ص ٤٠٣ بروایت عبدالله بن عمر) ”تو (خروج دجال کے بعد) اللہ تعالیٰ عیسیٰ بن مریم علیہ السلام کو اتاریں گے گویا وہ شکل وصورت میں عروہ بن مسعود ہیں۔

١؎ ابوداؤد شریف، حدیث کی معتبر ترین کتب صحاح ستہ میں سے ہے اور اسی کتاب میں وہ حدیث ہے جس پر مرزا قادیانی کے دعویٰ مجددیت کا دارو مدار ہے۔ (بقیہ حاشیہ اگلے صفحہ پر)

٣٢

آپ نے دیکھ لیا کہ دونوں جگہ ایک ہی حلیہ او رنگ۔ اسی طرح جس مسیح علیہ السلام سے شب معراج میں م کی شکل عروہ بن مسعود ہی سی تھی اور جو آنے والے ہیں وہ بھ جس مسیح سے آسمانوں پر ملاقات ہوئی تھی۔ وہی قیامت م آنے والے ہیں۔ ایک اور صریح حدیث سے اس کی مزید ت نقل کرتے ہیں: ”معراج کی رات رسول اللہ ﷺ کی ملاقا موسیٰ علیہ السلام اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے ہوئی۔ او گفتگو ہوئی۔ سب سے پہلے باقی حضرات نے حضرت ابراہ معلوم نہیں تھا۔ پھر حضرت موسیٰ علیہ السلام سے پوچھا گیا حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے سوال کیا گیا تو انہوں نے فرمای تو اللہ کے سوا کسی کو معلوم نہیں۔ البتہ اس سے پہلے دجال آ جا چکا ہے کہ میں اتر کر اسے قتل کروں گا۔“

خلاصہ یہ ہے کہ آنے والے مسیح کا جو تعارف ا وہ بالکل وہی ہے جو اسرائیلی مسیح علیہ السلام کا تذکرہ معرا قادیانی کا وہ استدلال جس سے وہ اپنے لئے راہ نکالنا چاہ

باقی رہ گئی بات یہ کہ بعض روایات میں آنے و گیا ہے۔ تو اس کی حقیقت یہ ہے کہ ایک دن آنحضرت ﷺ اور اس ضمن میں اپنا ایک خواب بیان فرمایا۔ جس میں آپ کو بیت اللہ کا طواف کرتے دیکھا تھا۔ تو اس موقع پر آپ نے فرمایا: ”رجل آدم (بخاری ص ٤٨٩)“ ”وہ گند بس یہی روایت ہے جس کو دیکھ کر مرزا ق صاحب، یہاں مسیح کا رنگ دوسری روایات سے مختلف بت

(بقیہ حاشیہ گزشتہ صفحہ) ٢؎ یہ بھی حدیث کی نہایت معت مسلم کو ملا کر صحیحین کہا جاتا ہے۔ خود مرزا قادیانی اس کتا

٣؎ یہ ترجمہ ہم نے نووی کی شرح مسلم ص

٣٣

صفحہ ١٧٧

آپ نے دیکھ لیا کہ دونوں جگہ ایک ہی حلیہ بتایا گیا ہے۔ میانہ قد اور سرخ و سفید رنگ۔ اسی طرح جس مسیح علیہ السلام سے شب معراج میں آنحضرت ﷺ کی ملاقات ہوئی۔ ان کی شکل عروہ بن مسعودؓ کی سی تھی اور جو آنے والے ہیں وہ بھی اسی شکل کے ہیں۔ نتیجہ ظاہر ہے کہ جس مسیح سے آسمانوں پر ملاقات ہوئی تھی۔ وہی قیامت کے قریب دجال کے مارنے کے لئے آنے والے ہیں۔ ایک اور صریح حدیث سے اس کی مزید تائید ہوتی ہے۔ اس کا ترجمہ ہم یہاں نقل کرتے ہیں: ”معراج کی رات رسول اللہ ﷺ کی ملاقات حضرت ابراہیم علیہ السلام، حضرت موسیٰ علیہ السلام اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے ہوئی۔ ان میں قیامت (کے وقت) کے متعلق گفتگو ہوئی۔ سب سے پہلے باقی حضرات نے حضرت ابراہیم علیہ السلام سے دریافت کیا۔ انہیں معلوم نہیں تھا۔ پھر حضرت موسیٰ علیہ السلام سے پوچھا گیا تو وہ بھی نہ جانتے تھے۔ اس کے بعد حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے سوال کیا گیا تو انہوں نے فرمایا کہ حتمی طور پر قیامت کے آنے کا وقت تو اللہ کے سوا کسی کو معلوم نہیں۔ البتہ اس سے پہلے دجال آئے گا اور مجھے (حضرت عیسیٰ کو) یہ بتایا جاچکا ہے کہ میں اتر کر اسے قتل کروں گا۔“

(ابن ماجہ ص ٣٠٩)

خلاصہ یہ ہے کہ آنے والے مسیح کا جو تعارف ان کا حلیہ بتا کر حدیثوں میں کرایا گیا ہے وہ بالکل وہی ہے جو اسرائیلی مسیح علیہ السلام کا تذکرہ معراج کے ضمن میں کرایا گیا ہے۔ لہٰذا مرزا قادیانی کا وہ استدلال جس سے وہ اپنے لئے راہ نکالنا چاہتے تھے، بالکل غلط ہو گیا۔

باقی رہ گئی بات یہ کہ بعض روایات میں آنے والے مسیح علیہ السلام کا چہرہ گندم گوں بتایا گیا ہے۔ تو اس کی حقیقت یہ ہے کہ ایک دن آنحضرت ﷺ نے لوگوں کے سامنے دجال کا ذکر کیا اور اس ضمن میں اپنا ایک خواب بیان فرمایا۔ جس میں آپؐ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو اور دجال کو بیت اللہ کا طواف کرتے دیکھا تھا۔ تو اس موقع پر آپؐ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں فرمایا: ”رجل آدم (بخاری ص ٤٨٩) ”وہ گندم گوں رنگ کے آدمی تھے۔“ پس یہی روایت ہے جس کو دیکھ کر مرزا قادیانی نے آسمان سر پر اٹھا لیا کہ دیکھئے صاحب، یہاں مسیح کا رنگ دوسری روایات سے مختلف بتایا گیا ہے۔ لہٰذا دجال کا قاتل حضرت مسیح

(بقیہ حاشیہ گزشتہ صفحہ) ؎٢ یہ بھی حدیث کی نہایت معتبر کتاب اور بخاری کے ہم پلہ ہے۔ بخاری ومسلم کو ملا کر صحیحین کہا جاتا ہے۔ خود مرزا قادیانی اس کتاب کا معتبر ہونا تسلیم کرتے ہیں۔ دیکھئے

(کشتی نوح ص ٦٠، خزائن ج ١٩ ص ٦٥)

؎٣ یہ ترجمہ ہم نے نووی کی شرح ینزل من السماء کے مدنظر کیا ہے۔

٣٣

صفحہ ١٧٩

یہ رنگ اسرائیلی سے جدا ہے۔ ہم جواباً کہتے ہیں کہ اول تو آپ حدیث کے لفظوں پر غور کریں۔ پورا جملہ یوں ہے: ”رجل آدم كاحسن ماترئ من ادم الرجال (حواله مذكور)“ ﴿وہ (یعنی حضرت عیسیٰ) گندمی رنگ کے تھے جیسا کہ نہایت حسین و جمیل گندمی رنگ کے مرد ہوتے ہیں۔﴾

مطلب یہ ہے کہ آپ علیہ السلام کا چہرہ صباحت کے ساتھ ملاحت کا بہترین امتزاج پیش کرتا تھا۔ یہی توجیہ شارحین حدیث مثلاً امام نووی، علامہ کرمانی وغیرہ نے بیان کی ہے۔ ممکن ہے کہ اس توجیہ کو ”مولویانہ تاویل“ کہہ کر مسترد کر دیا جائے۔ لہٰذا ہم حدیث شریف سے ثابت کرتے ہیں کہ ایک حسین چہرہ بیک وقت گندمی اور سرخ و سفید ہو سکتا ہے۔ لیجئے، سنئے! احادیث میں آنحضرت ﷺ کا رنگ مختلف الفاظ میں بیان کیا گیا ہے۔ یہ الفاظ پڑھئے:

ترمذی بروایت انس)“ ﴿نہ خالص سفید اور نہ گندمی۔﴾

بروایت علیؓ)“ ﴿سفید تھا اور اس میں سرخی ملی ہوئی تھی۔﴾

ملاحت آمیز۔﴾

سفید تھا گویا جسد اقدس چاندی سے ڈھالا گیا ہے۔﴾

دیکھ لیا آپ نے، ایک ہی حسین چہرہ ہے جو جمال کے ساتھ جلال کا بھی مرقع ہے۔ قریب رہنے والے صحابہؓ میں وہ بھی تھے جو اعتراف کرتے تھے کہ ہم آنکھ بھر کر رخ انور کو دیکھ نہیں سکتے تھے اور اگر ہم سے پوچھا جائے تو ہم حلیہ کی تفصیل بیان نہیں کر سکتے۔ کچھ خوش نصیب وہ بھی تھے جنہیں کسی قدر لا حجابی کا تعلق میسر آیا۔ حضرت علیؓ سے زیادہ کوئی قریبی عزیز نہیں۔ ہند بن ابی ہالہ حضور ﷺ کے ربیب ہیں۔ انسؓ بن مالک خادم خاص تھے۔ ابو ہریرہؓ در اقدس پر پڑے رہنے والے غلام تھے۔ ابو الطفیلؓ آٹھ سال تک حاضر خدمت رہے اور صحابہ میں سب سے آخر میں

٣٤

وفات پائے۔ اب ان لوگوں سے پوچھا جاتا تو وہ اپنے ”تصویر جاناں“ پیش کرتے تھے۔ کسی نے ازہر اللون سے کسی نے ”مشرب حمرة“ سے۔ حضرت انسؓ کبھی تو نفی کر دیتے ہیں اور کبھی مثبت انداز میں جواب دینا پڑتا ہے کہنے پر مجبور ہو جاتے ہیں ”اسمر اللون“ یعنی رنگ سکتا ہے کہ یہ مختلف شخصیتوں کے حلیے بیان کئے گئے ہیں ہے تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں کیونکر خلاف ارشادات مختلف مقامات سے تعلق رکھتے ہیں؟ حضور ﷺ تمازت آفتاب کے اثرات، نہ گرد و غبار کے نشانات، طواف کرتے ہوئے دیکھا تو گندمی محسوس ہوا۔

چلیے! اگر یہ جواب بھی آپ کو مطمئن نہیں کر کرتے ہیں۔ مرزا کے ایک ”صحابی“ ڈاکٹر میر محمد اسماعیل شمائل پر لکھا ہوا ہے اور سیرت المہدی مصنف مرزا بشیر احمد اسے بڑے اہتمام کے ساتھ پیش کیا ہے۔ اس مضمون میں بیان کیا گیا ہے: ”آپ کا رنگ گندمی اور نہایت اعلیٰ درجے اور سرخی جھلک مارتی تھی۔“

اگر آپ اس عبارت کا عربی میں ترجمہ کریں سامنے آئیں گے یعنی (١) ”آدم كاحسن ماترئ من والبياض“ ہم قادیانیوں سے پوچھتے ہیں کہ ذکر آدمی کا ہے یا دو کا؟ اگر یہ ایک آدمی کا حلیہ ہے تو بخاری ہی مسیح علیہ السلام نہیں ہو سکتے؟ پھر لطف یہ کہ طواف کعبہ کو دیکھا تھا اس کا نام (عیسیٰ) لقب (مسیح) اور کنیت ( ہے کہ صحابہ کرامؓ کے ذہن میں اسرائیلی پیغمبر کے علاوہ اور کنیت یہی ہوں۔ تو کیونکر کہا جا سکتا ہے کہ ان اسماء و کوئی اور ہیں؟

٣٥

صفحہ ١٧٩

وفات پائے۔ اب ان لوگوں سے पूछा جاتا تو وہ اپنے اپنے ذوق اور اپنی بساط کے مطابق ”تصویر جاناں“ پیش کرتے تھے۔ کسی نے ازہر اللون سے تعبیر کیا۔ کسی نے ”ابيض مليحاً“ اور کسی نے ”مشرب حمرہ“ سے۔ حضرت انسؓ کبھی تو نہ خالص سفید اور نہ گندمی کہہ کر بات ختم کر دیتے ہیں اور کبھی مثبت انداز میں جواب دینا پڑتا ہے تو الفاظ کی تنگ دامانی کو دیکھ کر پھر یہی کہنے پر مجبور ہو جاتے ہیں ”اسمر اللون“ یعنی رنگ گندمی تھا۔ کیا ان روایات کو دیکھ کر کوئی کہہ سکتا ہے کہ یہ مختلف شخصیتوں کے حلیے بیان کئے گئے ہیں؟ اگر یہاں روایات میں تطبیق دی جاسکتی ہے تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں کیونکر نہیں کہا جا سکتا جبکہ وہاں حضورﷺ کے ارشادات مختلف مقامات سے تعلق رکھتے ہیں؟ حضورﷺ نے انہیں عالم بالا میں دیکھا، جہاں نہ تمازت آفتاب کے اثرات، نہ گرد و غبار کے نشانات، تو رنگ سرخ و سفید نظر آیا اور کعبہ کا طواف کرتے ہوئے دیکھا تو گندمی محسوس ہوا۔

چلیے ! اگر یہ جواب بھی آپ کو مطمئن نہیں کر سکا تو ہم قادیانی لٹریچر سے اپنا مدعا ثابت کرتے ہیں۔ مرزا کے ایک ”صحابی“ ڈاکٹر میر محمد اسماعیل کا ایک طویل مضمون مرزا قادیانی کے شمائل پر لکھا ہوا ہے اور سیرت المہدی مصنفہ مرزا بشیر احمد اور حیات طیبہ مصنفہ شیخ عبدالقادر میں اسے بڑے اہتمام کے ساتھ پیش کیا ہے۔ اس مضمون میں مرزا قادیانی کا رنگ ان لفظوں میں بیان کیا گیا ہے: ”آپ کا رنگ گندمی اور نہایت اعلیٰ درجہ کا گندمی تھا۔ یعنی آپ میں ایک نورانیت اور سرخی جھلک مارتی تھی۔“

(حیات طیبہ ص ٤٧١)

اگر آپ اس عبارت کا عربی میں ترجمہ کرنا چاہیں تو بخاری ومسلم کے وہی دو جملے فوراً سامنے آئیں گے یعنی (١) ”آدم كاحسن ماترى من ادم الرجال“ (٢) ”الى الحمرة والبياض“ ہم قادیانیوں سے پوچھتے ہیں کہ ڈاکٹر اسماعیل نے جو حلیہ بیان کیا ہے۔ یہ ایک آدمی کا ہے یا دو کا؟ اگر یہ ایک آدمی کا حلیہ ہے تو بخاری مسلم کے مذکورہ دو جملوں کے مصداق ایک ہی مسیح علیہ السلام نہیں ہو سکتے؟ پھر لطف یہ کہ طواف کعبہ کے قصے میں آنحضرتﷺ نے جس مسیح کو دیکھا تھا اس کا نام (عیسیٰ) لقب (مسیح) اور کنیت (ابن مریم) سب کچھ بتا دیا گیا اور یقینی بات ہے کہ صحابہ کرامؓ کے ذہن میں اسرائیلی پیغمبر کے علاوہ اور کوئی شخصیت نہیں تھی۔ جس کا نام، لقب اور کنیت یہی ہوں۔ تو کیونکر کہا جا سکتا ہے کہ ان اسماء کے ساتھ جس مسیح کی آمد کی خبر دی گئی ہے، وہ کوئی اور ہیں؟

٣٥

صفحہ ١٨١

مرزا قادیانی کا تفسیر بالرائے سے اپنا کام نکالنا

مرزا قادیانی نے اپنے آپ کو مسیح موعود ثابت کرنے کے لئے ایک حربہ تفسیر بالرائے کا استعمال کیا ہے اور خوب اس سے کام لیا ہے۔ شرعاً تفسیر بالرائے کتنا بڑا جرم ہے۔ اس کا اندازہ آنحضرت ﷺ کے اس فرمان سے لگایا جاسکتا ہے کہ: ”من قال فی القرآن برأيه فليتبوأ مقعده من النار (مشکوۃ ص ٣٥)“ ”جس نے محض اپنی رائے سے قرآن کے بارے میں کچھ کہا تو وہ اپنا ٹھکانہ جہنم میں بنالے۔“

افضل ھذہ الامۃ سیدنا ابوبکر صدیقؓ ارشاد فرماتے ہیں: ”نہ مجھے آسمان سایہ دے اور نہ زمین مجھے اپنے اوپر جگہ دے، اگر میں قرآن کے بارے میں محض اپنی رائے سے کچھ کہہ دوں۔“

لیکن مرزا قادیانی بلا دریغ یہ ہتھوڑا چلائے جاتے ہیں۔ چند نمونے ہدیہ قارئین ہیں:

در حقیقت مسیح موعود کے آنے کی طرف ہے اور اس بات کا بیان مقصود ہے کہ ”وہ عین وقت پر آئے گا۔“

(شہادت القرآن ص ٢٤، خزائن ج ٦ ص ٣١٩)

پھر مرزا قادیانی کے دل میں یہ خطرہ گزرا کہ مبادا کوئی ملا، مولوی اعتراض کر دے کہ جناب اس آیت میں تو ”الرسل“ جمع کا لفظ ہے اور آنے والے مسیح تو ایک ہی ہیں۔ دوسرے یہ کہ یہاں تو ”رسل“ کا لفظ آیا ہے اور بقول آپ کے مسیح موعود رسول نہیں ہوگا تو مرزا قادیانی نے اس اعتراض کو رفع کرنے کی یوں کوشش کی: ”اور یاد رہے کہ کلام اللہ میں رسل کا لفظ واحد پر بھی اطلاق پاتا ہے اور غیر رسول پر بھی اطلاق پاتا ہے۔“

(شہادت القرآن ص ٢٤، خزائن ج ٦ ص ٣١٩)

کاش! مرزا قادیانی قرآن وحدیث سے کوئی مثال پیش کر دیتے جہاں ”رسل“ جمع کا صیغہ آیا ہو اور مراد ایک ہی فرد ہو۔ پھر وہ غیر رسول کے لئے استعمال ہورہا ہو؟ جہاں تک ہم جانتے ہیں۔ قرآن مجید میں ”رسل“ کا لفظ ٨٢ مرتبہ آیا ہے اور ان میں سے کوئی ایک مقام بھی ایسا نہیں ہے جہاں ایک رسول یا غیر رسل مراد ہو۔

ممکن ہے کہ مرزا قادیانی اس حد تک عربی گرائمر میں ترمیم کر کے قرآنی الفاظ کو اپنی ڈھب پر لانے میں کامیاب ہو جاتے۔ لیکن ایک خطرے نے انہیں پھر چونکا دیا کہ شاید کوئی کہہ دے کہ صاحب! جس آیت سے آپ مسیح موعود کی آمد ثابت کرنا چاہتے ہیں۔ اس کے بعد متصل

٣٦

ہی فرمایا گیا ہے: ”لأی یوم اجلت لیوم الفصل“ ”رسولوں دن مقرر کیا گیا ہے؟ فیصلے (یعنی قیامت) کا دن“۔

تو یہ تو بات ہی دوسری نکل آئی۔ اس لئے مرزا قادیانی آیات کئی وجوہ کی جامع ہیں۔ جیسا کہ یہ احادیث سے ثابت ہے ک بطن بھی۔ پس اگر رسول قیامت کے میدان میں بھی شہادت کے ل اس مقام میں جو آخری زمانہ (مرزا قادیانی جس چیز کو بنیاد بنا رہے ہی ان علامات کا تعلق بھی قیامت کے روز سے ہے۔ آخری زمانہ سے کر پھر آخر میں یہ بھی فرما دیا کہ اس وقت رسول وقت مقررہ پر صاف طور پر شہادت دے رہے ہیں کہ اس ظلمت کے کمال کے بھیجے گا تا کہ مختلف قوموں کا فیصلہ صادر ہو۔“

(شہادت

گویا آیات بالا کا قیامت کے بارے میں ہونا تو مرز کیسے ہو وہ ان سے مسیح موعود کی آمد بھی ثابت کر کے رہیں گے۔ ب مسیح کی آمد کا تعلق تو دنیا کے ظاہری حالات سے ہو۔ لیکن ان کی سے ثابت کی جائے اور کوئی ہمیں یہ تو سمجھائے کہ اس ظہر او بطن ک

ظہر الف.......رسولوں کو جمع کیا جائے گا۔ رسول نہیں، کھڑا کیا جا۔ ب.......اس پیشگوئی کا ظہور قیامت کے دن ہوگا۔ یہ واقعہ یہیں ج.......رسول اپنی قوموں کے بارے میں اس امتی کا شہادت دینے کے لئے جمع ہوں گے۔ مقابلہ کرنا ہ

یہ حقیقت یہ ہے کہ ان آیات میں قیامت کے روز انبیا کے متعلق ان سے شہادت لئے جانے کا ذکر ہے۔ جیسا کہ قرآن ک تائید کرتی ہیں۔ ایک جگہ فرمایا گیا ہے: ”یوم یجمع الله الرسل تعالیٰ رسولوں کو جمع کرے گا اور ان سے کہے گا تمہاری امتوں نے مرزا قادیانی سینہ زوری اور دھینگا مشتی سے کام نہ لیں تو بات یہیں ختم

٣٧

صفحہ ١٨١

ہی فرمایا گیا ہے: ”لأى يوم اجلت ليوم الفصل“ ”رسولوں کے جمع ہونے کے لئے کون سا دن مقرر کیا گیا ہے؟ فیصلے (یعنی قیامت) کا دن ١؎۔

تو یہ تو بات ہی دوسری نکل آئی۔ اس لئے مرزا قادیانی کہتے ہیں: ”اکثر قرآن کریم کی آیات کئی وجوہ کی جامع ہیں۔ جیسا کہ یہ احادیث سے ثابت ہے کہ قرآن کے لئے ظہر بھی ہے اور بطن بھی۔ پس اگر رسول قیامت کے میدان میں بھی شہادت کے لئے جمع ہوں تو آمنا وصدقنا۔ لیکن اس مقام میں جو آخری زمانہ (مرزا قادیانی جس چیز کو بنیاد بنا رہے ہیں۔ بجائے خود یہی غلط ہے۔ ان علامات کا تعلق بھی قیامت کے روز سے ہے۔ آخری زمانہ سے نہیں) کی ابتر علامات بیان فرما کر پھر آخر میں یہ بھی فرما دیا کہ اس وقت رسول وقت مقررہ پر لائے جائیں گے۔ تو قرائن بینہ صاف طور پر شہادت دے رہے ہیں کہ اس ظلمت کے کمال کے بعد خدا تعالیٰ کسی اپنے مرسل کو بھیجے گا تا کہ مختلف قوموں کا فیصلہ صادر ہو۔“

(شہادت القرآن ص ٢٤، خزائن ج ٦ ص ٣١٩)

گویا آیات بالا کا قیامت کے بارے میں ہونا تو مرزا قادیانی کو بھی تسلیم ہے مگر جیسے کیسے ہو وہ ان سے مسیح موعود کی آمد بھی ثابت کر کے رہیں گے۔ ہماری سمجھ سے یہ بات بالاتر ہے کہ مسیح کی آمد کا تعلق تو دنیا کے ظاہری حالات سے ہو۔ لیکن ان کی آمد قرآن کے ظہر سے نہیں بلکہ بطن سے ثابت کی جائے اور کوئی ہمیں یہ تو سمجھائے کہ اس ظہر اور بطن میں مطابقت کیونکر دی جاسکتی ہے؟

ظہر بطن

الف....... رسولوں کو جمع کیا جائے گا۔ رسول نہیں، بلکہ امت ہی میں سے ایک فرد کو کھڑا کیا جائے گا۔

ب....... اس پیشگوئی کا ظہور قیامت کے دن ہوگا۔ یہ واقعہ یہیں دنیا میں پیش آئے گا۔

ج....... رسول اپنی قوموں کے بارے میں شہادت دینے کے لئے جمع ہوں گے۔ اس امتی کا فریضہ دجال (ایک مفسد گروہ) کا مقابلہ کرنا ہوگا۔

١؎ حقیقت یہ ہے کہ ان آیات میں قیامت کے روز انبیاء علیہم السلام کے لائے جانے اور امتوں کے متعلق ان سے شہادت لئے جانے کا ذکر ہے۔ جیسا کہ قرآن کریم کی دوسری آیات بھی اسی مطلب کی تائید کرتی ہیں۔ ایک جگہ فرمایا گیا ہے: ”يوم يجمع الله الرسل فيقول ماذا اجبتم“ ”جس دن اللہ تعالیٰ رسولوں کو جمع کرے گا اور ان سے کہے گا تمہاری امتوں نے تمہیں کیا جواب دیا..... الخ!“ اب اگر مرزا قادیانی سینہ زوری اور دھینگا مشتی سے کام نہ لیں تو بات یہیں ختم ہو جاتی ہے۔

٣٧

صفحہ ١٨٣

آخر میں یہ بات قابل غور ہے کہ مرزا قادیانی اپنی تمام تر کوشش کے باوجود صرف مسیح کی آمد ثابت کرنا چاہتے ہیں۔ یہ مسئلہ دوسرا ہے کہ وہ آنے والا مسیح مرزا غلام احمد ہے یا کوئی اور؟ ہم تو صرف یہ دکھانا چاہتے ہیں کہ جب مرزا قادیانی نے مسیح کی اسامی (Vacancy) پر خود آنا چاہا تو انہوں نے کن کن حیلوں سے کام لیا؟

نے ان کی ایسی عجیب و غریب تشریحات کی ہیں کہ آدمی داد دیئے بغیر نہیں رہ سکتا۔ مرزا قادیانی کی کتاب ”شہادۃ القرآن“ ہمارے سامنے ہے۔ اس میں تیرہ آیات نقل کی ہیں اور پھر خود تراشیدہ مطالب سے انہیں مسیح موعود کی آمد کے وقت پر چسپاں کیا ہے۔ ذرا ملاحظہ ہو کہ مرزا قادیانی نے ان آیات کو نقل کس ترتیب سے کیا ہے۔

نمبر شمار سورہ کا نام آیت نمبر آیت کا حوالہ ١ الزلزال ٢ اذا زلزلت الارض زلزالها ٢ انشقاق ٥،٤ واذ الارض مدت . والقت مافیها وتخلت ٣ تکویر ٥ واذا العشار عطلت ٤ ایضاً ١١ واذا الصحف نشرت ٥ ایضاً ٦ واذ الوحوش حشرت ٦ انفطار ٤ واذا البحار فجرت ٧ مرسلات ١١ واذا الجبال نسفت ٨ تکویر ٣،٢ اذا الشمس کورت . واذا النجوم انکدرت ٩ انفطار ٣ واذا الکواکب انتثرت ١٠ انشقاق ٢ اذا السماء انشقت ١١ انفطار ٢ اذا السماء انفطرت

١؎ اس جدول میں آیات نمبر مرزا قادیانی کی کتاب سے نقل کئے جارہے ہیں۔ ورنہ تو یہ نمبر ہمارے نزدیک غلط ہیں۔ تورات اور انجیل کے موجودہ نسخوں میں آیات کے نمبر پہلے ہوتے ہیں۔ مرزا قادیانی نے یہ سمجھا کہ قرآن مجید بھی ایسا ہی ہوگا۔ حالانکہ بات یوں نہیں ہے۔ قرآن کریم کے جو مطبوعہ نسخے ہمارے ملک میں موجود ہیں، ان میں آیات پہلے ہوتی ہیں اور نمبر بعد میں۔ عبدہ!

٣٨

ان آیات کی تشریح میں مرزا قادیانی نے کی یہاں گنجائش نہیں ہے۔ البتہ دو باتیں ہم عرض کر نے نقل آیات میں اس طرح الٹ پھیر سے کام لیا ہے یہ ہے کہ اگر وہ ترتیب وار آیات کو نقل کرتے تو پھر لام جاتیں اور مرزا قادیانی کا مقصد مسیح موعود کی آمد کا وق مثال کے طور پر سورۃ تکویر کو لیجئے۔ مرزا قادیانی نے ہیں۔ اگر اس کے بعد وہ تین آیتیں : ”واذا الجحیـ نفس ما احضرت “ ﴿اور جب کہ جنت قریب جائے گا جو کچھ وہ پیش کر چکا ہوگا۔ ﴾ نقل کر دیتے تو سے متعلق ہیں۔ مرزا قادیانی کا بنایا کھیل بگڑ جاتا ٢ تا ٤ آگے پیچھے نقل کی ہیں۔ ترتیب وار لکھتے تو ان بـ جب کہ قبریں اکھاڑی جائیں گی۔﴾ کے الفاظ قا مقصد فوت ہو جاتا۔

توجہ کے قابل دوسری بات یہ ہے کہ مرزا موعود کا پیدا ہونا لیا ہے۔ اس ضمن میں وہ لکھتے ہیں جس کو کلام الٰہی میں نفخ صور کے استعارہ میں بیان کیا مرزا قادیانی کے اس بیان سے معلوم ہـ وقوع میں آنی چاہئیں۔ حالانکہ قرآن مجید صاف طـ بعد نتیجے کے طور پر ” دك الجبال “ ﴿پہاڑ السماء “ ﴿آسمان کا پھٹ جانا﴾ وغیرہ واقعا آئیں گے۔ اسی روز قیامت قائم ہو گی۔ قرآنی الفا واحدة وحملت الارض والجبال فدکـ وانشقت السماء فهی یومئذ واهیة (الـ

٣٩

صفحہ ١٨٣

ان آیات کی تشریح میں مرزا قادیانی نے کیسے کیسے گل کھلائے ہیں۔ ان پر مفصل کلام کی یہاں گنجائش نہیں ہے۔ البتہ دو باتیں ہم عرض کرنا ضروری سمجھتے ہیں۔ ایک یہ کہ مرزا قادیانی نے نقل آیات میں اس طرح الٹ پھیر سے کام لیا ہے جہاں تک ہم سمجھے ہیں۔ اس غلط ملط کی وجہ یہ ہے کہ اگر وہ ترتیب وار آیات کو نقل کرتے تو پھر لا محالہ یہ آیات قیامت کے مناظر کی طرف لے جاتیں اور مرزا قادیانی کا مقصد مسیح موعود کی آمد کا وقت اور علامات کا ثابت کرنا، حاصل نہ ہوتا۔ مثال کے طور پر سورۃ تکویر کو لیجئے۔ مرزا قادیانی نے الٹ پھیر کے ساتھ آیات نمبر ٢ تا ١١ نقل کی ہیں۔ اگر اس کے بعد وہ تین آیتیں: ”واذا الجحيم سعرت ، واذا الجنة ازلفت ، علمت نفس ما احضرت“ ﴿اور جب کہ جنت قریب لائی جائے گی تو اس وقت ہر شخص کو معلوم ہو جائے گا جو کچھ وہ پیش کرچکا ہوگا۔﴾ نقل کردیتے تو قلعی کھل جاتی۔ کیونکہ یہ آیات صریح قیامت سے متعلق ہیں۔ مرزا قادیانی کا بنا بنایا کھیل بگڑ جاتا۔ اسی طرح سورۂ انفطار کی انہوں نے آیات ٢ تا ٤ آگے پیچھے نقل کی ہیں۔ ترتیب وار لکھتے تو ان کے معاً بعد ”واذا القبور بعثرت“ ﴿اور جب کہ قبریں اکھاڑی جائیں گی۔﴾ کے الفاظ قاری کے سامنے آجاتے اور اس سے مرزا کا مقصد فوت ہوجاتا۔

توجہ کے قابل دوسری بات یہ ہے کہ مرزا قادیانی نے ”نفخ صور“ سے مراد مسیح موعود کا پیدا ہونا لیا ہے۔ اس ضمن میں وہ لکھتے ہیں: ”بارھویں علامت مسیح موعود کا پیدا ہونا ہے۔ جس کو کلام الٰہی میں نفخ صور کے استعارہ میں بیان کیا گیا ہے۔“

(شہادت القرآن ص ٢٥، خزائن ج ٦ ص ٣٢١)

مرزا قادیانی کے اس بیان سے معلوم ہوا کہ باقی گیارہ علامات مسیح کی آمد سے پہلے وقوع میں آنی چاہئیں۔ حالانکہ قرآن مجید صاف طور پر بتا رہا ہے کہ نفخ صور پہلے ہوگا اور اس کے بعد نتیجے کے طور پر ”دك الجبال“ ﴿پہاڑوں کا پاش پاش ہونا﴾ اور ”انشقاق السماء“ ﴿آسمان کا پھٹ جانا﴾ وغیرہ واقعات پیش آئیں گے اور جس روز یہ واقعات پیش آئیں گے۔ اسی روز قیامت قائم ہوگی۔ قرآنی الفاظ پڑھ لیجئے: ”فاذا نفخ في الصور نفخة واحدة وحملت الارض والجبال فدكتا دكة واحدة فيومئذ وقعت الواقعة وانشقت السماء فهي يومئذ واهية (الحاقه)“ خلاصہ یہ کہ مرزا قادیانی اپنے مخصوص

٣٩

صفحہ ١٨٥

خیالات کے مطابق آیات قرآنیہ کو توڑ مروڑ کر اپنی مطلب برآری چاہتے ہیں۔ اب ان کے پیروکار مانیں یا نہ مانیں۔ اللہ کے کلام کے ساتھ مرزا قادیانی کا یہ سلوک ہمارے نزدیک ایک جائز کوشش ہرگز نہیں کہلا سکتا۔ بلکہ شریعت اسلامی کی روشنی میں یہ طرزعمل نہایت مذموم اور راہ ہدایت سے بالکل دور ہے۔

علامات مسیح اور مرزا قادیانی

احادیث صحیحہ میں آنے والے مسیح کی جو علامات آئی ہیں۔ ”اسلام اور مرزائیت“ میں انہیں ایک جدول کی صورت میں جمع کر کے ثابت کیا گیا ہے کہ مرزا قادیانی ان علامات کا مصداق قطعا نہیں ہو سکتے۔ مناسب معلوم ہوتا ہے کہ اس جدول کو من وعن یہاں نقل کر دیں۔

علامات مسیح منتظر کا تعارف بروئے احادیث مرزا قادیانی کے کوائف (١) عیسیٰ (علیہ السلام) غلام احمد نام (مشکوٰۃ شریف ص ٤٧٢ بحوالہ مسلم ص ٢٨٠) (٢) آپ بن باپ پیدا ہوئے۔ والدہ کا نام باپ کا نام مرتضی، ماں کا نام چراغ ولدیت حضرت مریم ہے بی بی (٣) آسمان (خصائص کبری و سیوطی ج ١ ص ١٢ بحوالہ قادیان تحصیل بٹالہ ضلع گورداس پور موجودہ بیہقی) ”كيف انتم اذا نزل ابن صوبہ مشرقی پنجاب جائے مريم من السماء فيكم (بيهقى كتاب سکونت الاسماء ص ٣٠١) “

لے مرزا قادیانی کی اس سنت کا اتباع ان کے ماننے والوں نے بھی کیا ہے۔ چنانچہ ان کے صاحبزادے مرزا بشیر احمد نے اپنی کتاب (تبلیغ ہدایت ص ١٠٢) میں مسیح موعود کی پہلی علامت کے طور پر لکھتے ہیں۔ ”وإذا العشار عطلت ، وإذا البحار رجرت ، واذا الصحف نشرت ، واذا النفوس زوجت“ معلوم ہوتا ہے کہ صاحبزادہ صاحب نے قرآن مجید کو دیکھ کر یہ آیات نقل نہیں کیں۔ انہوں نے یا تو اپنے والد بزرگوار سے یہ آیات سنی ہوں گی یا ان کی کسی کتاب میں دیکھی ہوں گی۔ واللہ اعلم!

٤٠

(٤) وہ نازل ہوں گے۔ احادیث میں آمد کیونکر نزول کا لفظ آتا ہے۔ زمین پر پیدا ہو ہوگی؟ والے کسی آدمی کے لئے نزول کا لفظ استعمال نہیں ہوا۔ (٥) نزول شام کے ملک میں شہر دمشق کے مشر کہاں ہوگا طرف سفید منارہ پر ”فینزل عند ال البيضاء شرقي دمشق“ (مسلم ج ٢ ص ٤٠٢، ابو داؤد ج ٢ ص ١٣٥، ترمذی ج ٢ ص ٤٧، ابن کثیر ج ١ ص ٥٨٣) (٦) نزول حضرت پر زرد رنگ کی دو چادریں ہوں کس شکل اپنے دونوں بازو دو فرشتوں کے بازو میں ہوگا رکھے ہوئے ہوں گے۔ سر کو جھکائیں پانی کے قطرے ٹپکنے لگیں گے، اوپر ا گے تو موتی گرتے ہوئے ہوں گے۔ ”بين مهرودتين، و كفيه على اجنحة ملكين اذا راسه، قطر واذا رفعه تحدر منه كاللولو (حوالہ جات مذکور نمبر (٧) کیا جی ہاں۔ یقینا حضرت عیسیٰ علیہ ا واقعی مسیح ابن فوت نہیں ہوئے اور یقینا وہ قیام مریم پہلے واپس نہیں آئیں گے۔ ”اِنَّ

لے انسان کو بسا اوقات ایک غلطی کے نتیج عیسیٰ علیہ السلام کی وفات کا دعویٰ کر دینے کے بعد ا کی نشاندہی بھی کر دیں۔ چنانچہ وہ کہیں تو بڑے شد یار سری نگر کشمیر میں ہے۔ (دیکھو چشمہ مسیحی ص ٩، ح ج ٥ ص ١٢٣) اور کہیں وہ ان کا مدفن بلاد شام کو بتاتے ہیں

٤١

صفحہ ١٨٥

(٤) آمد کیونکر ہوگی؟

وہ نازل ہوں گے۔ احادیث میں جگہ نزول کا لفظ آتا ہے۔ زمین پر پیدا ہونے والے کسی آدمی کے لئے نزول کا لفظ کہیں استعمال نہیں ہوا۔

مرزا قادیانی قادیان کے ایک مغل گھرانے میں پیدا ہوئے۔ نزول کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔

(٥) نزول کہاں ہوگا

شام کے ملک میں شہر دمشق کے مشرق کی طرف سفید منارہ پر ”فينزل عند المنارة البيضاء شرقی دمشق“ (مسلم ج٢ ص٤٠٢، ابوداؤد ج٢ ص١٣٥، ترمذی ج٢ ص٤٧، ابن کثیر ج١ ص٥٨٣)

مرزا قادیانی عام دستور کے مطابق شکم مادر سے باہر تشریف لائے۔ کہاں کا دمشق اور کہاں کا منارہ؟

(٦) نزول کس شکل میں ہوگا

حضرت پر زرد رنگ کی دو چادریں ہوں گی۔ اپنے دونوں بازو دو فرشتوں کے بازوؤں پر رکھے ہوئے ہوں گے۔ سر کو جھکائیں گے تو پانی کے قطرے ٹپکنے لگیں گے اور اوپر اٹھائیں گے تو موتی گرتے ہوئے محسوس ہوں گے۔ ”بين مهرودتين، واضعاً كفيه على اجنحة ملكين اذا طأطأ راسه قطر واذا رفعه تحدر منه جمان كاللولو (حوالہ جات مذکور نمبر ٥)“

جب نزول ہی نہیں تو کسی شکل کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ کیسی چادریں کیسے فرشتے؟

(٧) کیا واقعی مسیح ابن مریم

جی ہاں۔ یقیناً حضرت عیسیٰ علیہ السلام فوت نہیں ہوئے اور یقیناً وہ قیامت سے پہلے واپس آئیں گے۔ ”ان عيسى

مرزا قادیانی اپنا زور یہ ثابت کرنے میں صرف کرتے ہیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام وفات پاچکے ہیں۔

١؎ انسان کو بسا اوقات ایک غلطی کے نتیجہ میں کئی غلطیوں کا مرتکب ہونا پڑتا ہے۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی وفات کا دعویٰ کر دینے کے بعد مرزا قادیانی نے چاہا کہ وہ زمین پر کہیں ان کی قبر کی نشاندہی بھی کردیں۔ چنانچہ وہ کہیں تو بڑے شدومد سے فرماتے ہیں کہ حضرت مسیح کی قبر محلہ خان یار سری نگر کشمیر میں ہے۔ (دیکھو چشمہ مسیحی ص ٩، خزائن ج ٢٠ ص ٣٥٤) اور (ستارہ قیصرہ ص ١٥، خزائن ج ١٥ ص ١٢٤) اور کہیں وہ ان کا مدفن بلاد شام کو بتاتے ہیں۔ (دیکھو اتمام الحجۃ ص ١٨، خزائن ج ٨ ص ٢٩٦)

٤١

صفحہ ١٨٧

اسرائیلی پیغمبر ابھی زندہ ہیں۔

لم يمت وانه راجع اليكم قبل يوم القيامة (تفسير ابن كثير ص ٣٦٦)“

(٨) نزول کا مقصد

(الف) حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی تشریف آوری کا سب سے اہم مقصد دجال کا قتل کرنا ہے۔ ”يقتل الدجال“ (ب) دین صلیبی کو ختم کردیں گے اور اس کے تمام شعائر مٹا دیں گے۔ ”يكسرالصليب ويقتل الخنزير (بخاری ومسلم وغیرہ)“

(الف) مرزا قادیانی نے دجال سے مراد انگریز لیا ہے۔ وہ عمر بھر اس کی خوشامد کرتے رہے اور اپنے دجال کو اس حالت میں چھوڑ کر چل بسے جبکہ وہ کرہ ارض پر دندنا رہا تھا۔ (ب) مرزا قادیانی دنیا میں آئے تو دین صلیبی کے پیروکار سامراجی قوتیں بلاد اسلامیہ اور دوسرے ملکوں پر مسلط ہوگئیں۔

(٩) حضرت عیسیٰ کی آمد کے نتائج

(الف) دجال کے ختم ہوجانے کے بعد جنگ ختم ہو جائے گی۔ ”يضع الحرب واذا قتل الدجال تضع الحرب اوزارها (بخاری ومسلم)“ (ب) مال کی فراوانی ہوگی۔ جزیہ ختم ہو جائے گا۔ مال اس حد تک عام ہو جائے گا کہ اس کا لینے والا کوئی نہ رہے گا۔ ”یفیض المال حتى لا يقبله احد“ (ج) انسانوں میں باہمی بغض و عناد بالکل ختم ہو جائے گا۔ بلکہ حیوانات تک باہم صلح و آشتی سے زندگی بسر کریں گے۔ ”لتذهبن الشحناء والتباغض التحاسد“

مرزا قادیانی کی آمد کے بعد اب تک دو عالمی جنگیں لڑی جاچکی ہیں۔ تیسری کے خطرات سر پر منڈلا رہے ہیں۔ (ب) اور مرزا قادیانی کے ہاں تو مال کی مانگ ہی اتنی ہے کہ خدا کی پناہ! ایک بہشتی مقبرے کا چکر ہی ختم ہونے میں نہیں آتا۔ ہر وہ شخص جو اس مقبرے میں دفن ہونا چاہے، چندا جدا دے اور اپنی جائیداد کے 1/10 حصہ کی وصیت الگ کرے۔ (ج) یہاں یہ عالم ہے کہ گھر گھر میں لڑائی ہے۔ خود مرزا قادیانی کے پیروکاروں میں کتنا اختلاف رونما

٤٤

(١٠) حضرت عیسیٰ مسیح کا انجام کیا ہوگا؟

ازدواجی زندگی بسر کریں گے۔ ان کی ہوگی۔ اس کے بعد طبعی وفات پائیں حضور ﷺ کے ساتھ دفن ہوں اور قیامت کے دن آنحضور ﷺ اور حضـ عیسیٰ علیہ السلام، حضرت ابوبکر صـ اور حضرت عمرؓ کے درمیان اٹھیں گے۔

مرزا قادیانی کی طرف سے علامات مسیح کی

جو شخص قرآنی آیات کی من مانی تفسیر کرتا قواعد اور سب سے بڑھ کر دیانت کا خون کرتا ہے۔ تو نمونہ از خروار ہم قارئین کے پیش کئے دیتے ہیں:

کرتے ہیں: ”ابن مریم بہت سا خزانہ قرآن کریم کا قبول کرتے کرتے تھک جائیں گے اور ”لا يقبله ا طبیعت اپنے اپنے ظرف کے مطابق پر ہو جائے گی ۔“

سبحان اللہ! مرزا قادیانی نے یہ نکتہ خوب علوم ومعارف سے اکتا نے لگیں گی۔ سید الانبیاء ﷺ رہے اور ارشاد فرماتے رہے کہ علم کا بھوکا کبھی سیر نہیں کا دروازہ بند کرنا چاہتے ہیں اور عجیب تر بات ہے کـ جدیدہ کے علم بردار حشر بداماں آئے دن ابھر رہے ہیں ہوئے سائنسی ترقی کو تسلیم کرتے ہیں۔ لیکن دوسری طر تاکہ پوری امت:

یہ ناداں گر گئے سجدے میں

کی تصویر بن جائے۔

٤٣

صفحہ ١٨٧

ہوا۔ قادیانی، لاہوری، حقیقت پسند، کیا یہ پارٹی بازی محبت اور الفت کا نتیجہ ہے؟

(١٠) حضرت عیسیٰ مسیح کا انجام کیا ہوگا؟

ازدواجی زندگی بسر کریں گے۔ ان کی اولاد ہوگی۔ اس کے بعد طبعی وفات پائیں گے۔ حضور ﷺ کے ساتھ دفن ہوں گے اور قیامت کے دن آنحضور ﷺ اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام، حضرت ابوبکر صدیقؓ اور حضرت عمرؓ کے درمیان اٹھیں گے۔

مرزا قادیانی کی موت شہر لاہور میں ہوئی۔ بذریعہ گاڑی انہیں بٹالہ لے جایا گیا۔ وہاں سے نعش قادیان لے جا کر بہشتی مقبرہ میں دفن کیا گیا

مرزا قادیانی کی طرف سے علامات مسیح کی عجیب و غریب تشریحات

جو شخص قرآنی آیات کی من مانی تفسیر کر سکتا ہے۔ اگر وہ احادیث کی تشریح میں لغت قواعد اور سب سے بڑھ کر دیانت کا خون کرتا ہے۔ تو قطعاً کوئی تعجب کی بات نہیں ہے۔ تاہم مشتے نمونہ از خروار ہم قارئین کے پیش کئے دیتے ہیں:

کرتے ہیں: ”ابن مریم بہت سا خزانہ قرآن کریم کا لوگوں میں تقسیم کرے گا۔ یہاں تک کہ لوگ قبول کرتے کرتے تھک جائیں گے اور ”لا یقبلہ احد“ کے مصداق بن جائیں گے اور ہر ایک طبیعت اپنے اپنے ظرف کے مطابق پر ہو جائے گی۔“

(ازالہ اوہام ص ٦٨١ ، خزائن ج ٣ ص ٤٦٧)

سبحان اللہ! مرزا قادیانی نے یہ نکتہ خوب کھولا ہے کہ مسیح موعود کی آمد پر طبیعتیں قرآنی علوم و معارف سے اکتانے لگیں گی۔ سید الانبیاء ﷺ خود تو ”رب زدنی علما“ کی دعا فرماتے رہے اور ارشاد فرماتے رہے کہ علم کا بھوکا کبھی سیر نہیں ہوتا۔ لیکن مرزا قادیانی امت کو شکم سیر سمجھ کر علم کا دروازہ بند کرنا چاہتے ہیں اور عجیب تر بات ہے کہ ادھر سائنسی فنون کا چرچا ہو رہا ہے۔ علوم جدیدہ کے علم بردار حشر بداماں آئے دن ابھر رہے ہیں۔ مرزا قادیانی خود بھی علامات بیان کرتے ہوئے سائنسی ترقی کو تسلیم کرتے ہیں۔ لیکن دوسری طرف وہ قرآنی علوم کو سر بمہر کر دینا چاہتے ہیں تاکہ پوری امت:

یہ ناداں گر گئے سجدے میں جب وقت قیام آیا

کی تصویر بن جائے۔

٤٣

صفحہ ١٨٩

اب وہ (قرآن) ایک جنگی بہادر کی طرح نکلے گا۔ ہاں وہ ایک شیر کی طرح میدان میں آئے گا اور دنیا کے تمام فلسفہ کو کھا جائے گا۔“

(ازالہ اوہام ص ٦٨١، خزائن ج ٣ ص ٤٦٧)

اے کاش! ہم بھی تو دیکھتے کہ مرزا قادیانی نے قرآن کریم کو جو خزانہ لوگوں میں تقسیم کیا ہے۔ ان میں کتنے ہیں جو غزالی اور رازی کی نکتہ سنجی، بیضاوی اور زمحشری کی دقیقہ رسی، بغوی اور سیوطی کی وسعت لے کر سپہر علم پر چمکے ہوں۔ دور نہ جائیے، اسی دور میں حجة الاسلام علامہ انور شاہ، حکیم الامت مولانا اشرف علی تھانوی اور امام الہند مولانا ابوالکلام آزاد تو بڑے پایہ کے لوگ گزرے ہیں۔ شیخ الاسلام علامہ شبیر احمد عثمانی کا علم وفضل اور خطیب الامت سید عطاء اللہ شاہ بخاری کی سحر بیانی تو بہت دور کی بات ہے۔ قادیانی مسیح کے خوشہ چینوں میں کتنے ایسے فاضل ہوئے ہیں جو پروفیسر خالد محمود، مولانا لال حسین اختر یا کم از کم مولانا عبدالرحیم اشعر ہی سے سر ملا سکیں۔ پھر کیا وجہ ہے کہ آئے بھی وہ گئے بھی وہ، ختم فسانہ ہو گیا قادیانی مسیح آ کر واپس چلے گئے۔ لیکن علوم قرآنی کا گنجینہ تقسیم نہیں ہو سکا؟

ہوسکا کہ اسی قرآن میں مال کا لفظ بیسیوں جگہ آیا ہے اور کہیں بھی بمعنی قرآن استعمال نہیں ہوا۔ یہ تشریح سراسر مرزا قادیانی کے ذہن کی اختراع ہے۔

تشریح اور نقل کی گئی ہے، وہ قابل قبول ہے یا نہیں۔ پورا متن یہ ہے:”يفيض المال حتّى لا يقبله احد حتى تكون السجدة الواحدة خيرا من الدنيا وما فيها (بخاري ج ١ ص ٧٩٠)“

مال عام ہو جائے گا حتی کہ اس کو قبول کرنے والا کوئی نہیں رہے گا۔ حتیٰ کہ ایک سجدہ دنیا و مافیہا سے بہتر ہوگا۔

آنحضرت ﷺ کا مقصد یہ فرمانا ہے کہ نزول مسیح کا زمانہ زر طلبی کی بجائے خدا طلبی کا زمانہ ہوگا۔ کجا حضور ﷺ کا یہ ارشاد اور کجا مرزا قادیانی کی وہ تشریح۔

لے مرزا قادیانی نے ازالہ اوہام میں بتایا ہے کہ توفی کے مختلف صیغے قرآن شریف میں چوبیس مقامات پر استعمال ہوئے ہیں۔

٤٤

جائیں گی ان پر سعی نہ کی جائے گی۔﴾

یہ تو ہم تسلیم کرتے ہیں کہ اس پیشگوئی قیامت کے قریب نئی نئی سواریاں وجود میں آئیں ہو جائے گا۔ لیکن مرزا قادیانی کے دماغ کی رسائی ہا تھا کہ مسیح کے وقت میں اونٹ ترک کئے جائیں گے العشار عطلت “ اب یہ لوگ دیکھتے ہیں کہ مکہ ہے۔“

اس سے قطع نظر کہ حجاز میں ریل تیار ہوا ان دولفظوں میں فرق معلوم نہ ہو لیکن ہم یہ دریافت ک مرزا قادیانی نے خواب میں دیکھا تھا یا بیداری میں لائن بچھائی گئی تھی۔ لیکن قادیانی مسیح کی برکت ہول کے بعد یہ منصوبہ ختم ہو گیا اور آج تک پھر کسی نے نام

کوئی سخن پرور یہ نہ کہے کہ چلئے صاحب ہیں۔ پھر بھی مرزا قادیانی کی پیشگوئی پوری ہو گئی۔ گوئی تو پوری ہو گئی ہے۔ لیکن ہمیں تو اعتراض مرزا اب بھی باقی ہے۔ کیونکہ ان کے نزدیک ریل گاڑی ضروری ہے۔ وہ لکھتے ہیں: ”نئی سواری کا استعمال میں آ رہا ہے۔ لیکن یہ پیشگوئی اب خاص طور پر مکہ پوری ہو جائے گی۔ کیونکہ وہ ریل جو دمشق سے شرو آئے گی اور امید ہے کہ بہت جلد اور صرف چند سا سرعت سے ہو رہا ہے اور تعجب نہیں کہ تین سال ک جائے۔“

لے یہ ایک ناخوشگوار تاریخی واقعہ ہے کہ ذ انگریزوں کی فتح یابی پر خوشیاں مناتے رہے۔

٤٥

صفحہ ١٨٩

جائیں گی ان پر سعی نہ کی جائے گی۔

یہ تو ہم تسلیم کرتے ہیں کہ اس پیشگوئی سے مقصود حضور ﷺ کا یہ ظاہر فرمانا ہے کہ قیامت کے قریب نئی نئی سواریاں وجود میں آئیں گی۔ اس وجہ سے اونٹنیوں کا استعمال متروک ہو جائے گا۔ لیکن مرزا قادیانی کے دماغ کی رسائی ملاحظہ ہو۔ لکھتے ہیں: ”یہ بھی احادیث میں آیا تھا کہ مسیح کے وقت میں اونٹ ترک کئے جائیں گے اور قرآن شریف میں بھی وارد تھا کہ ”واذا العشار عطلت“ اب یہ لوگ دیکھتے ہیں کہ مکہ اور مدینہ میں بڑی سرگرمی سے ریل تیار ہورہی ہے۔“

(اربعین نمبر ٣ ص ١٣، خزائن ج ١٧ ص ٣٩٩)

اس سے قطع نظر کہ حجاز میں ریل تیار ہوئی یا ریلوے لائن۔ ممکن ہے کہ مرزا قادیانی کو ان دو لفظوں میں فرق معلوم نہ ہو لیکن ہم یہ دریافت کرنا چاہتے ہیں کہ مکہ معظمہ میں ریل کا تیار ہونا مرزا قادیانی نے خواب میں دیکھا تھا یا بیداری میں؟ ترکوں کے دور میں مدینہ منورہ تک ریلوے لائن بچھائی گئی تھی۔ لیکن قادیانی مسیح کی برکت یوں ظاہر ہوئی کہ ترکی سلطنت ١؎ کا تیا پانچہ ہونے کے بعد یہ منصوبہ ختم ہو گیا اور آج تک پھر کسی نے نام نہیں لیا۔

کوئی سخن پرور یہ نہ کہے کہ چلئے صاحب ریل گاڑی نہیں تو موٹریں اور بسیں تو چل رہی ہیں۔ پھر بھی مرزا قادیانی کی پیشگوئی پوری ہوگئی۔ حقیقت یہ ہے کہ اس طرح پر حدیث کی پیش گوئی تو پوری ہوگئی ہے۔ لیکن ہمیں تو اعتراض مرزا قادیانی کی تشریح و تعبیر پر ہے اور وہ اعتراض اب بھی باقی ہے۔ کیونکہ ان کے نزدیک ریل گاڑی کا تیار ہونا اس پیشین گوئی کی تکمیل کے لئے ضروری ہے۔ وہ لکھتے ہیں: ”نئی سواری کا استعمال اگرچہ بلاد اسلامیہ میں قریباً سو سال سے عمل میں آرہا ہے۔ لیکن یہ پیشگوئی اب خاص طور پر مکہ معظمہ اور مدینہ منورہ کی ریل تیار ہونے سے پوری ہو جائے گی۔ کیونکہ وہ ریل جو دمشق سے شروع ہوکر مدینہ میں آئے گی۔ وہی مکہ معظمہ میں آئے گی اور امید ہے کہ بہت جلد اور صرف چند سال تک یہ کام تمام ہو جائے گا....... یہ کام بڑی سرعت سے ہورہا ہے اور تعجب نہیں کہ تین سال کے اندر اندر یہ ٹکڑا مکہ اور مدینہ کی راہ کا تیار ہو جائے۔“

(تحفہ گولڑویہ ص ٦٤، خزائن ج ١٧ ص ١٩٥)

١؎ یہ ایک ناخوشگوار تاریخی واقعہ ہے کہ قادیانی، ترکوں کی اسلامی سلطنت کے زوال اور انگریزوں کی فتح یابی پر خوشیاں مناتے رہے۔

صفحہ ١٩١

مرزا قادیانی کے اس فرمان پر بہتر برس کا عرصہ گزر چکا ہے اور اس کے پورا ہونے کی کوئی صورت نظر نہیں آرہی۔ بلکہ مدینہ منورہ تک گاڑی کا سلسلہ جو شروع ہو چکا تھا وہ بھی بند ہو گیا۔ بہر حال اگر مکہ اور مدینہ میں ریل کا تیار ہونا ہی مسیح کی آمد کے وقت کی نشانی ہے تو پھر ظاہر ہو گیا کہ مرزا قادیانی مسیح موعود نہیں ہیں۔

ہے ”یتزوج ویولدلہ“ یعنی حضرت عیسیٰ علیہ السلام دنیا میں تشریف لانے کے بعد نکاح بھی کریں گے اور ان کی اولاد بھی ہوگی۔

مرزا قادیانی ادھر مسیح موعود بننے کے لئے جتن کر رہے تھے۔ ادھر وہ محمدی بیگم پر ڈورے ڈال رہے تھے اور اس سلسلہ میں انہوں نے دھمکی، لالچ ہر قسم کے حربوں سے کام لیا۔ چنانچہ آنحضرت ﷺ کی مذکورہ بالا پیشگوئی کو وہ اپنی ذات پر چسپاں کرتے ہوئے لکھتے ہیں: ”یعنی وہ مسیح موعود بیوی کرے گا اور نیز وہ صاحب اولاد ہوگا۔ اب ظاہر ہے کہ تزویج اور اولاد کا ذکر کرنا عام طور پر مقصود نہیں کیونکہ عام طور پر ہر ایک شادی کرتا ہے اور اولاد بھی ہوتی ہے۔ اس میں کچھ خوبی نہیں بلکہ تزویج سے مراد وہ خاص تزویج ہے جو بطور نشان ہوگا اور اولاد سے مراد وہ خاص اولاد ہے جس کی نسبت اس عاجز کی پیش گوئی موجود ہے۔ گویا اس جگہ رسول اللہ ﷺ ان سیاہ دل منکروں کو ان کے شبہات کا جواب دے رہے ہیں اور فرما رہے ہیں کہ یہ باتیں ضرور پوری ہوں گی۔“

(ضمیمہ انجام آتھم ص ٥٣، خزائن ج ١١ ص ٣٣٧ حاشیہ)

پھر مرزا قادیانی بڑی شدومد سے محمدی بیگم کے ساتھ اپنا نکاح ہونے پر یقین کا اظہار کرتے ہوئے لکھتے ہیں: ”سو چاہئے تھا کہ ہمارے نادان مخالف انجام کے منتظر رہتے اور پہلے ہی سے اپنی بدگو ہری ظاہر نہ کرتے ۔ بھلا جس وقت یہ سب باتیں پوری ہو جائیں گی تو کیا اس دن یہ احمق مخالف جیتے ہی رہیں گے اور کیا اس دن یہ تمام لڑنے والے سچائی کی تلوار سے ٹکڑے ٹکڑے نہیں ہو جائیں گے۔ ان بے وقوفوں کو کوئی بھاگنے کی جگہ نہیں ملے گی اور نہایت صفائی سے ناک کٹ جائے گی اور ذلت و رسوائی کے سیاہ داغ ان کے منحوس چہروں کو بندروں اور سوروں کی طرح کر دیں گے۔“

(انجام آتھم ص ٥٣، خزائن ج ١١ ص ٣٣٧)

ا؎ واضح رہے کہ مرفوع الی السماء ہونے سے پہلے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی سوانح حیات میں کسی شادی اور اولاد کا تذکرہ نہیں ملتا۔ اسی لئے حضور ﷺ نے فرما دیا کہ دوبارہ آمد کے بعد وہ ازدواجی زندگی بسر کریں گے اور ذی اولاد ہوں گے۔

٤٦

لیکن بعد کے واقعات نے ثابت کر دیا کہ آنا تھا، نہ آئیں۔ مرزا قادیانی یہ حسرت دل میں لے محمدی بیگم اپنے میاں سلطان محمد کے نکاح میں رہ کر ٨ ويولدله والی پیشگوئی کو تو مرزا قادیانی نے کھینچ تان اس مقصد میں ناکام رہے۔

نادان اور احمق کون ثابت ہوا؟ ناک کس ذلت کے سیاہ داغ کس کے حصے میں آئے؟...... ١ جوابات ہم سے نہ پوچھئے...... قادیانیو ! سوچ لو، فانی

مسیح موعود کی آمد کا وقت

یوں تو مرزا قادیانی کی تحریریں ، تضاد بیانی تذبذب کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ لطف یہ ہے کہ اپنی م اعتماد کے ساتھ کوئی بات نہیں کرتے ۔ بلکہ ان (conscience) کی غمازی کرتی ہے۔ اب اس ہے؟ مرزا قادیانی کی طرف سے دو متضاد جواب درج

”قرآن شریف نے جو مسیح کے نکلنے کی ١٤٠٠ برس تک مدت ٹھہرائی ہے۔ بہت سے اولیاء بھی اپنے مکاشفات کی رو سے اس مدت کو مانتے ہیں۔“

(ازالہ اوہام ص ٧٥، خزائن ج ٣ ص ٤٦٤)

”حضرت مسیح حضرت موسیٰ سے چودہ سو برس بعد آئے ۔“

(شہادت القرآن ص ٦٩، خزائن ج ٦ ص ٣٦٥)

ا؎ محمدی بیگم ایک شریف خاتون تھیں۔ ج مرزا قادیانی نے جو جال پھیلایا تھا۔ اگر اس کے تار کی قلعی کھل جاتی ہے۔ لیکن ایک باغیرت خاتون کے بوجھ معلوم ہوتا ہے۔ جس حد تک مجبوراً ہم نے اس متعلقین سے معذرت خواہ ہیں۔

٤٧

صفحہ ١٩١

لیکن بعد کے واقعات نے ثابت کر دیا کہ محمدی بیگم لے نہ مرزا قادیانی کے نکاح میں نہ تو آنا تھا، نہ آئیں۔ مرزا قادیانی یہ حسرت دل میں لئے ہوئے ١٩٠٨ء میں راہی ملک عدم ہوئے۔ محمدی بیگم اپنے میاں سلطان محمد کے نکاح میں رہ کر ١٩٦٦ء میں فوت ہوئیں۔ معلوم ہوا يتزوج ويولدله والی پیشگوئی کو تو مرزا قادیانی نے کھینچ تان کر کے اپنے اوپر منطبق کرنا چاہا لیکن وہ اپنے اس مقصد میں ناکام رہے۔

نادان اور احمق کون ثابت ہوا؟ ناک کس کی کٹی؟ منحوس چہروں کے مالک کون ہوئے؟ ذلت کے سیاہ داغ کس کے حصے میں آئے؟......اور......کی طرح کون بنے؟ ان سوالوں کے جوابات ہم سے نہ پوچھئے......قادیانیو! سوچ لو، فانٰی تسحرون؟

مسیح موعود کی آمد کا وقت

یوں تو مرزا قادیانی کی تحریریں، تضاد بیانیوں سے پر ہیں۔ وہ ہر مسئلے میں تردد اور تذبذب کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ لطف یہ ہے کہ اپنی مسیحیت کے بارے میں بھی وہ کامل یقین اور اعتماد کے ساتھ کوئی بات نہیں کرتے۔ بلکہ ان کی ہر بات مجرم ضمیر Guilty) (conscience کی غمازی کرتی ہے۔ اب اسی سوال کو لیجئے کہ مسیح موعود کی آمد کا وقت کیا ہے؟ مرزا قادیانی کی طرف سے دو متضاد جواب درج ذیل ہیں۔

"قرآن شریف نے جو مسیح کے نکلنے کی ١٤٠٠ برس تک مدت ٹھہرائی ہے۔ بہت سے اولیاء بھی اپنے مکاشفات کی رو سے اس مدت کو مانتے ہیں۔"

(ازالۃ اوہام ص ٦٧٥، خزائن ج ٣ ص ٤٦٤)

"حضرت مسیح حضرت موسیٰ سے چودہ سو برس بعد آئے۔"

(شہادت القرآن ص ٦٩، خزائن ج ٦ ص ٣٦٥)

"حديث الآيات بعد المائتين" کے یہ معنی ہیں کہ مسیح موعود کا تیرھویں صدی میں ظہور یا پیدائش واقع ہو......علماء کا اسی پر اتفاق ہو گیا ہے کہ "بعد المائتین" سے مراد تیرھویں صدی ہے اور "الآیات" سے مراد آیاتِ کبریٰ ہیں جو ظہور مہدی موعود اور دجال اور یاجوج ماجوج وغیرہ ہیں۔"

(ازالۃ اوہام ص ٦٨٣، خزائن ج ٣ ص ٤٦٨)

لے محمدی بیگم ایک شریف خاتون تھیں۔ حقیقت یہ ہے کہ ان سے نکاح کرنے کے لئے مرزا قادیانی نے جو جال پھیلایا تھا۔ اگر اس کے تار پود بکھر جائیں تو مرزا قادیانی کے ذاتی کردار کی قلعی کھل جاتی ہے۔ لیکن ایک باغیرت خاتون کے بارے میں اس قسم کا تذکرہ ہمارے ذہن پر بوجھ معلوم ہوتا ہے۔ جس حد تک مجبوراً ہم نے اس کا ذکر کیا ہے۔ اس کے لئے ہم مرحومہ کے متعلقین سے معذرت خواہ ہیں۔

٤٧

صفحہ ١٩٣

کچھ سمجھ میں آیا؟ یہ کیا قصہ ہے کہ مرزا قادیانی کبھی تو مسیح موعود کی آمد کا وقت چودہ سو برس بعد بتاتے ہیں اور کبھی بارہ سو برس کے بعد تیرھویں صدی میں؟ اب ذرا مرزا قادیانی کی سوانح عمری پر بھی نظر ڈال لیجئے۔ ان کی پیدائش ان کے اپنے بیان کے مطابق ١٨٣٩ء یا ١٨٤٠ء (کتاب البریہ ص ١٣٦، خزائن ج ١٣ ص ١٧٧ حاشیہ) بمطابق ١٢٥٤ھ یا ١٢٥٥ھ میں ہوئی اور مسیح موعود ہونے کا دعویٰ انہوں نے ١٨٧٠ء بمطابق ١٢٨٦ھ میں کیا۔ چنانچہ وہ اپنی کتاب اربعین مصنفہ ١٩٠٠ء میں لکھتے ہیں: ”یہ دعویٰ منجانب اللہ ہونے اور مکالمات الہیہ کا قریباً تیس برس سے ہے۔“

(اربعین نمبر ٣ ص ٦، خزائن ج ١٧ ص ٣٩١)

ایک اور کتاب میں وہ لکھتے ہیں: ”ٹھیک بارہ سو نوے ١٢٩٠ھ میں خدا تعالیٰ کی طرف سے یہ عاجز شرف مکالمہ ومخاطبہ پاچکا تھا۔“

(حقیقت الوحی ص ٢٠٠، خزائن ج ٢٢ ص ٢٠٨)

کیا پیشگوئی میں ترمیم کی ضرورت اسی لئے پیش آئی تھی کہ مرزا قادیانی کے اپنے دل میں مسیح بننے کا شوق چٹکیاں لے رہا تھا۔ بہر حال آمد اور ظہور خواہ بمعنی پیدائش لیں خواہ بمعنی بعثت۔ مرزا قادیانی کی آمد تیرھویں صدی میں ہوئی۔ تو سوال یہ ہے کہ جب قرآن شریف نے آمد مسیح کی میعاد چودہ سو برس مقرر کی تھی۔ مرزا قادیانی ١٢٨٧ھ یا ١٢٩٠ھ میں آکر مسیح موعود کیونکر ہو سکتے ہیں؟ اور جب مرزا قادیانی بار بار اپنی شان میں مثیل مسیح کا راگ الاپتے رہے ہیں اور ان کی آمد حضرت موسیٰ علیہ السلام سے چودہ سو برس بعد ہوئی تھی۔ تو یہ قبل از وقت کیونکر آگئے؟ وہ مماثلت تامہ کہاں فنا و نابود ہو گئی؟ علاوہ ازیں مرزا قادیانی کا یہ فرمان ریاضی کے کون سے فارمولے پر صحیح اترتا ہے کہ: ”مجھے عین چودھویں صدی کے سر پر جیسا کہ ابن مریم چودھویں صدی کے سر پر آیا تھا، مسیح الزمان کر کے بھیجا۔“

(کشتی نوح ص ٥٠، خزائن ج ١٩ ص ٥٤)

قادیانیوں کو چاہئے کہ یا تو ہمیں تسلی بخش جواب دیں یا پھر اپنے عقائد پر نظر ثانی کریں۔ اس زمانے میں ہر بات کو عقل کی کسوٹی پر پرکھ کر قبول کیا جاتا ہے۔ آخر پڑھے لکھے طبقہ کو کب تک بے وقوف بنایا جاتا رہے گا؟

مرزا قادیانی کی بوقلمونی اور نیرنگی کی دو چار مثالیں ہوں تو حیطہ تحریر میں بھی لائی جا سکیں۔ یہاں تو یہ عالم ہے کہ آوے کا آوہ بگڑا ہوا ہے۔ ایک سے ایک بڑھ کر کرشمہ دیکھنے میں آتا ہے۔ کہاں تک آدمی ان طلسم کاریوں کے نظارے کئے جائے۔ ہم یہاں پر ایک مثال اور پیش کرنا چاہتے ہیں۔ مثل مشہور ہے ”نہ رہے گا بانس، نہ بجے گی بانسری“ مرزا قادیانی نے جب یہ دیکھا کہ

٤٨

مسیح اور مہدی کے بارے میں جو احادیث آئی ہیں۔ مر اور ان کے حالات تیرہ سو سال کے مسلمہ اسلامی عقائ قادیانی نے آؤ دیکھا نہ تاؤ، سرے سے ان حدیثوں کا ا کرتی تھیں۔ چنانچہ وہ لکھتے ہیں: ”مولوی ثناء اللہ صا کا خیال کیوں دل میں آیا۔ آخر وہ حدیثوں سے ہی لیا نہیں کی جاتیں۔ یہ سادہ لوح یا تو افتراء سے ایسا کہتے جواب میں خدا تعالیٰ کی قسم کھا کر بیان کرتے ہیں کہ م قرآن اور وہ وحی ہے جو مجھ پر نازل ہوئی۔ ہاں تائیداً قرآن شریف کے مطابق ہیں اور میری وحی کے معار طرح پھینک دیتے ہیں۔“

ایک اور جگہ وہ اپنے اختیارات (ers ”جو شخص حکم ہو کر آیا ہے اس کا اختیار ہے کہ حدیثوں علم پا کر قبول کرے اور جس ڈھیر کو چاہے خدا سے علم پا

مرزا قادیانی کو یوں بااختیار اور مجاز (ed کے لال کو حق نہیں پہنچتا کہ وہ بخاری، مسلم، ابوداؤد ا مرزا قادیانی اور ان کے پیروکار مانیں یا نہ مانیں، ا چاہتے ہیں کہ کتاب وسنت کی بنیادوں پر جو تصورات مرزا قادیانی کے دعوے ان سے میل نہیں کھاتے ا اللہ ﷺ کو تو چھوڑ سکتے ہیں۔ اسلامی عقائد اور افکار دست بردار ہونے کے لئے تیار نہیں ہیں۔ ہمارا کام

مسیح کی آمد کا تعلق کس کے ساتھ ہے؟

یوں تو گزشتہ اوراق سے آپ کو معلوم

١؎ قرآن کا نام تو مرزا قادیانی نے تکلفاً کی طبع زاد وحی ہے اور بس۔

٤٩

صفحہ ١٩٣

مسیح اور مہدی کے بارے میں جو احادیث آئی ہیں۔ مرزا قادیانی کی ذات ان پر پوری نہیں اترتی اور ان کے حالات تیرہ سوسال کے مسلمہ اسلامی عقائد وافکار سے ہم آہنگ نہیں ہیں۔ تو مرزا قادیانی نے آؤ دیکھا نہ تاؤ، سرے سے ان حدیثوں کا ہی انکار کر دیا جو ان کے دعوؤں کو غلط ثابت کرتی تھیں۔ چنانچہ وہ لکھتے ہیں: ”مولوی ثناء اللہ صاحب کہتے ہیں کہ آپ کو مسیح موعود کی پیشگوئی کا خیال کیوں دل میں آیا۔ آخر وہ حدیثوں سے ہی لیا گیا۔ پھر حدیثوں کی اور علامات کیوں قبول نہیں کی جاتیں۔ یہ سادہ لوح یا تو افتراء سے ایسا کہتے ہیں اور یا محض حماقت سے اور ہم اس کے جواب میں خدا تعالیٰ کی قسم کھا کر بیان کرتے ہیں کہ میرے اس دعویٰ کی حدیث بنیاد نہیں۔ بلکہ قرآن اور وہ وحی ہے جو مجھ پر نازل ہوئی۔ ہاں تائیدی طور پر ہم وہ حدیثیں بھی پیش کرتے ہیں جو قرآن شریف کے مطابق ہیں اور میری وحی کے معارض نہیں اور دوسری حدیثوں کو ہم ردی کی طرح پھینک دیتے ہیں۔“

(اعجاز احمدی ص ٣٠، خزائن ج ١٩ ص ١٤٠)

ایک اور جگہ وہ اپنے اختیارات (Powers) کا بیان ان الفاظ میں کرتے ہیں: ”جو شخص حکم ہو کر آیا ہے اس کا اختیار ہے کہ حدیثوں کے ذخیرہ میں سے جس انبار کو چاہے خدا سے علم پا کر قبول کرے اور جس ڈھیر کو چاہے خدا سے علم پا کر رد کرے۔“

(اربعین نمبر ٣ حاشیہ ص ١٥، خزائن ج ١٧ ص ٤٠١)

مرزا قادیانی کو یوں با اختیار اور مجاز (Authorised) مان لینے کے بعد تو کسی ماں کے لال کو حق نہیں پہنچتا کہ وہ بخاری، مسلم، ابوداؤد اور ترمذی کھول کر ان سے کوئی بات کر سکے۔ مرزا قادیانی اور ان کے پیروکار مانیں یا نہ مانیں، ہمیں اس سے بحث نہیں۔ ہم صرف اتنا کہنا چاہتے ہیں کہ کتاب وسنت کی بنیادوں پر جو تصورات صدیوں سے اسلامی عقائد قرار پا چکے ہیں۔ مرزا قادیانی کے دعوے ان سے میل نہیں کھاتے اور پھر وہ اپنے دعوؤں کی خاطر حدیث رسول اللہ ﷺ کو تو چھوڑ سکتے ہیں۔ اسلامی عقائد اور افکار کو تو قربان کر سکتے ہیں۔ جھوٹے دعوؤں سے دست بردار ہونے کے لئے تیار نہیں ہیں۔ ہمارا کام تو حق و باطل کا سمجھا دینا ہے اور بس۔

مسیح کی آمد کا تعلق کس کے ساتھ ہے؟

یوں تو گزشتہ اوراق سے آپ کو معلوم ہو چکا ہے کہ مسیح کی آمد کا تعلق در اصل اہل

١؎ قرآن کا نام تو مرزا قادیانی نے تکلفاً لیا ہے۔ ورنہ تو ان کے نزدیک اصل معیار ان کی طبع زاد وحی ہے اور بس۔

٤٩

صفحہ ١٩٤

کتاب سے ہے اور اس بارے میں علماء محدثین کی تحریریں تو ایک طرف رہیں، آپ کے مزید اطمینان کے لئے ہم دو تحریریں خود مرزا قادیانی کی نقل کر دیتے ہیں:

صور پھونک کر تمام قوموں کو دین اسلام پر جمع کیا جائے گا۔ یعنی سنت اللہ کے موافق آسمانی نظام قائم ہوگا اور ایک آسمانی مصلح آئے گا۔ درحقیقت اسی مصلح کا نام مسیح موعود ہے۔ کیونکہ جب فتنہ کی بنیاد نصاریٰ کی طرف ہوگی اور خدا تعالیٰ کا بڑا مطلب یہ ہوگا کہ ان کی صلیب کی شان کو توڑے اس لئے جو شخص نصاریٰ کی دعوت کے لئے بھیجا گیا بوجہ رعایت اس قوم کے جو مخاطب ہے، اس کا نام مسیح اور عیسیٰ رکھا گیا۔“

(شہادت القرآن ص ١٦، ١٧، خزائن ج ٦ ص ٣١٢)

ایسا مامور من اللہ بلاشبہ انہیں کی دعوت کے لئے اور انہی کے فیصلہ کے لئے آئے گا۔“

(شہادت القرآن ص ٢٤، خزائن ج ٦ ص ٣٢٠)

جب مسیح موعود کی آمد عیسائیوں کے لئے ہے اور وہی اس کے مخاطب ہیں تو پھر کیا وجہ ہے کہ مرزا قادیانی مسیح موعود کا دعویٰ کر کے مسلمانوں کو دعوت دیتے پھرتے ہیں اور یہ دیکھ کر حیرت میں اضافہ ہو جاتا ہے کہ وہ کسی عامی جاہل آدمی کو نہیں بلکہ بلند پایہ علماء اور محدثین کو نام لے لے کر اپنا مخاطب بناتے ہیں۔ ایک عبارت ملاحظہ ہو۔ مرزا قادیانی اپنی کتاب اربعین (جو ١٩٠٠ء کی تصنیف ہے) میں لکھتے ہیں: ”اس بات کو قریباً نو برس کا عرصہ گزر گیا ہے جب میں دہلی گیا تھا اور میاں نذیر حسین غیر مقلد کو دعوت دین اسلام کی گئی تھی۔“

(اربعین نمبر ٣ ص ١٢، خزائن ج ١٧ ص ٤٠١)

آخر ایک مسلمان، اور صرف مسلمان ہی نہیں بلکہ مسلمانوں کے بہت بڑے پیشوا اور قرآن وحدیث کے مستند عالم کو اسلام کی دعوت دینے کے کیا معنی ہیں؟ آپ جائیے، اپنا کام کیجئے۔ جن لوگوں

١؎ مرزا قادیانی کی دوسری کمزوریوں کے علاوہ ایک بڑی کمزوری یہ ہے کہ ان میں ضبط نفس اور تحمل بالکل نہیں۔ بقول شاعر:

نہ بینی کہ چوں گربہ عاجز شود
برآرد بچنگال چشم پلنگ

علماء کے مقابلہ میں جب وہ استدلال کی حد تک اپنے آپ کو بے چارہ پاتے ہیں تو پھر بے تحاشا گالیوں پر اتر آتے ہیں۔ چنانچہ وہ میاں نذیر حسین صاحب محدث کو خبط الحواس، نالائق، جاہل اور گمراہ وغیرہ کے القاب سے نوازتے ہیں۔ حضرت الشیخ مولانا سید مہر علی شاہ صاحب گولڑوی اور دیگر اکابر کے بارے میں تو اس سے بھی دوقدم آگے چلے گئے ہیں۔

٥٠

صفحہ ١٩٥

کی دعوت کے لئے آپ مامور ہیں۔ انہیں تبلیغ کیجئے۔ اللہ اللہ خیر سلا۔ مسلمانوں سے آپ کا کیا واسطہ؟

مسیح کا فریضہ اور مرزا قادیانی

حدیث کا ہر طالب علم جانتا ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام کی آمد کا اصل مقصد، اہل کتاب (یہود و نصاریٰ) کی اصلاح ہے۔ وہ انہی دو قوموں کے شعائر کو ختم کردیں گے اور ان کو اسلام کے کلمہ پر جمع کریں گے۔ یہود و نصاریٰ دونوں گمراہ ہیں۔ لیکن ان کی گمراہی کی نوعیت مختلف ہے۔ حضور اکرم ﷺ نے فرمایا: ”یہود حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے ساتھ بغض اور عناد کی وجہ سے گمراہ ہوئے اور نصاریٰ ان کے ساتھ محبت میں غلو یعنے حد سے تجاوز کر کے۔“

قصہ یہ کہ جب حضرت عیسیٰ علیہ السلام بنی اسرائیل کی طرف مبعوث ہو کر آئے تو یہودی ان کے سخت مخالف ہو گئے۔ وہ لوگ الٹی کھوپڑیوں کے مالک تھے۔ ایک عرصہ سے ان کا معمول چلا آ رہا تھا کہ وہ اللہ کے برگزیدہ پیغمبروں کے ساتھ بدسلوکی کرتے آ رہے تھے: ”ففريقا كذبتم وفريقا تقتلون“ ﴿ایک گروہ کو جھٹلاتے رہے اور ایک گروہ کو قتل کر دیتے رہے۔﴾

اپنی اس پرانی عادت کے مطابق انہوں نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے بھی معاندانہ سلوک کیا۔ حتیٰ کہ انہوں نے آپ کو گرفتار کرا دیا اور پوری طاقت استعمال کر کے حاکم وقت پیلاطس رومی سے آپ کو تختہ دار پر چڑھانے کا فیصلہ صادر کرا دیا۔ اس کے بعد کیا ہوا؟ اسلامی لٹریچر یہ کہتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت کاملہ کے ساتھ آپ کو آسمان پر اٹھا لیا اور یوں آپ دشمن کی دست برد سے بچ گئے۔

”ماقتلوه وماصلبوه (الى قوله تعالى)“ ﴿نہ انہوں نے ان کو قتل کیا اور نہ سولی دی۔﴾ ”بل رفعه الله اليه (النساء)“ ﴿بلکہ اللہ تعالیٰ نے انہیں اپنی طرف اٹھا لیا۔﴾

لیکن یہود و نصاریٰ دونوں اس بات پر متفق ہیں کہ آپ کو سولی پر چڑھا دیا گیا تھا۔ یہود خوش ہیں کہ ہم نے اپنے ایک حریف کو ٹھکانے لگا دیا اور نصاریٰ خوش ہیں کہ چلتے یوں بنی آدم کی نجات کی سبیل نکل آئی۔ اس طرح پر عقیدہ کفارہ اور شفاعت کی بنیاد پڑی۔

١؎ واضح رہے کہ نصاریٰ کے عقیدہ شفاعت اور اہل اسلام کے عقیدہ شفاعت میں بڑا فرق ہے۔

٥١

صفحہ ١٩٧

اس کے بعد صلیب (سولی) کا نشان جو انگریزی حرف (T) یا جمع کے نشان + سے ملتا جلتا ہے، عیسائی مذہب کا سب سے بڑا شعار بن گیا۔ معاشرتی خرابیوں میں جو اہم ترین خرابی عیسائیوں کا جزو زندگی بن چکی ہے۔ وہ حلال وحرام کی تمیز مٹا دینا حتیٰ کہ خبیث ترین جانور خنزیر کو پالنا اور خوردونوش کی ضروریات اس سے پوری کرنا ہے۔

اب اسلام یہ کہتا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام آسمان سے اتر کر دوبارہ زمین پر تشریف لے آئیں گے۔ ان کی آمد سے اول تو یہود و نصاریٰ کے باطل عقائد کی بنیاد خود بخود ختم ہو جائے گی۔ پھر حضرت عیسیٰ علیہ السلام دجال کو قتل کر دیں گے اور جن یہودیوں نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو طاقت کے ذریعے صلیب دلانا چاہا تھا۔ یوں ان کا سب سے بڑا سرغنہ اور فرمانروا جو اپنی مادی طاقت کے نشہ میں خدائی کا دعوے دار ہوگا۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے ہاتھوں قتل ہو کر واصل جہنم ہوگا۔ اس کی رعایا کے بچے کھچے لوگ اسلام کے سایہ میں پناہ لیں گے۔ اسی طرح آپ صلیب کو توڑ دیں گے اور نتیجتاً دین نصاریٰ کی بیخ کنی ہوگی۔ خنزیر کو مار کر معاشرہ کی اصلاح فرمائیں گے۔ حلت وحرمت کی تمیز کے علاوہ خنزیر کے پالنے سے غیر مسلم خصوصاً قوم نصاریٰ میں جو بے غیرتی اور اخلاقی خرابیاں موجود ہوں گی، وہ ختم ہو جائیں گی اور یوں ”یصیر الملل ملة واحدة“ یعنی متعدد مذاہب کی بجائے ایک ہی مذہب (اسلام) رہ جائے گا، کی پیشین گوئی پایہ تکمیل کو پہنچے گی۔

بہر حال آپ کتب حدیث کھول کر دیکھئے۔ ان میں آپ کو حضرت مسیح موعود کے یہ فرائض منصبی نظر آئیں گے: ”قتل دجال، کسر صلیب، قتل خنزیر“ آئیے، ذرا مرزا قادیانی کے کام کا جائزہ لیں کہ اگر واقعی وہ مسیح موعود تھے تو انہوں نے یہ فرائض کس حد تک سر انجام دیئے اور اگر یہ تین کام اب تک نہیں ہو سکے تو معلوم ہوا کہ آنے والے مسیح کوئی اور ہیں۔

دجالی فتنہ اور مرزا قادیانی

دجالی فتنہ کی اہمیت کا اندازہ لگانے کے لئے آنحضرت ﷺ کا یہ فرمان پڑھئے: ”ابی امامہ باہلی کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں خطبہ دیا اور آپ کے خطبہ کا زیادہ حصہ دجال کے متعلق تھا۔ آپ نے ہمیں اس سے ڈراتے ہوئے فرمایا، جب سے اللہ تعالیٰ نے اولاد آدم کو پیدا کیا ہے، زمین پر دجال کے فتنہ سے کوئی بڑا فتنہ نہیں آیا اور اللہ تعالیٰ نے جو بھی نبی بھیجا، اس نے

٥٢

اپنی امت کو دجال سے ڈرایا اور (سن لو) ”انا اخر الانبیا سے آخری نبی ہوں، تم آخری امت ہو (میرے بعد کسی ن میری بات ذہن نشین کرلو ) وہ تم میں ضرور آکر رہے گا۔“

دجالی فتنے کی اسی اہمیت کے مدنظر رسول کریم ﷺ صـ کا تذکرہ کرتے رہتے تھے۔ چنانچہ آپ یہ سن کر حیران ہـ ہیں جن کے اسماء خروج دجال کے رواۃ ہونے کی حیثیت سـ پیش کئے جاسکتے ہیں۔ حدیث کی دوسری کتابیں اس کے عـ ہے کہ جو فتنہ نگاہ رسالت میں اس درجہ اہم تھا اور صحابہ علیہم الـ کو نقل کر رہی ہے۔ کیا ان تفصیلات کو نظر انداز کر کے ہم دارانہ رائے قائم کر سکتے ہیں؟ قطعاً نہیں۔

دجال کون ہے؟ وہ کن فتنہ سامانیوں کے سا خدا کو گمراہ کرے گا اور انجام کار وہ کس طرح کیفر کردار احادیث کی روشنی میں دیکھے جائیں تو معاملے کی نوعیت مرزا قادیانی پیش کرتے ہیں اور مرزا قادیانی کی تعبیر کو ہے۔ مثال کے طور پر سنیے:

١؎ ذرا ان الفاظ پر غور کیجئے۔ آنحضور ﷺ قسـ آخری نبی ہونے کا اعلان کر رہے ہیں۔ جو لوگ اس حـ ہیں وہ کتنے جاہل یا بددیانت ہیں؟ اللہ انہیں ہدایت دے۔

٢؎ ابوبکر صدیق، عمر بن خطاب، عبداللہ بـ عائشہ صدیقہ، عبداللہ بن عمرو، ابوہریرہ، انس، جابر، سـ جراح، عمرو بن عوف، ابوسعید خدری، نواس بن سمعان، عمران بن حصین، فاطمہ بن قیس، معاذ بن جبل، عبدالـ جثامہ، ابوبکرہ، اسماء، غلتان بن عاصم، محجن ثقفی، اسا کیسان، عثمان بن ابی العاص، ابوامامہ باہلی، عبادہ بن صـ

٥٣

صفحہ ١٩٧

اپنی امت کو دجال سے ڈرایا اور (سن لو) ”انا آخر الانبياء وانتم آخر الامم“ ١؎ (میں سب سے آخری نبی ہوں ، تم آخری امت ہو (میرے بعد کسی نبی نے نہیں آنا کہ وہ کچھ بتا سکے اس لئے میری بات ذہن نشین کرلو) وہ تم میں ضرور آ کر رہے گا ۔“ (سنن ابن ماجہ، باب فتنہ الدجال ص ٣٠٧)

دجالی فتنے کی اسی اہمیت کے مدنظر رسول کریم ﷺ وقتاً فوقتاً صحابہ کرام کے سامنے اس کا تذکرہ کرتے رہتے تھے۔ چنانچہ آپ یہ سن کر حیران ہوں گے کہ تقریباً چالیس ٢؎ کبار صحابہؓ وہ ہیں جن کے اسماء خروج دجال کے رواۃ ہونے کی حیثیت سے مشہور کتب حدیث صحاح ستہ سے پیش کئے جاسکتے ہیں۔ حدیث کی دوسری کتابیں اس کے علاوہ ہیں۔ اب سوچنے کے لائق بات یہ ہے کہ جو فتنہ نگاہ رسالت میں اس درجہ اہم تھا اور صحابہؓ کی ایک بڑی جماعت اس کی جزوی تفصیلات کو نقل کر رہی ہے۔ کیا ان تفصیلات کو نظر انداز کر کے ہم ان کے بارے میں کوئی صحیح اور دیانت دارانہ رائے قائم کر سکتے ہیں؟ قطعاً نہیں۔

دجال کون ہے؟ وہ کن فتنہ سامانیوں کے ساتھ نکلے گا؟ کہاں سے نکلے گا؟ کیونکر مخلوق خدا کو گمراہ کرے گا اور انجام کار وہ کس طرح کیفر کردار کو پہنچے گا؟ اگر ان سوالوں کے جوابات احادیث کی روشنی میں دیکھے جائیں تو معاملے کی نوعیت اس سے بالکل مختلف معلوم ہوتی ہے جو مرزا قادیانی پیش کرتے ہیں اور مرزا قادیانی کی تعمیر کردہ خیالی عمارت دھڑام سے نیچے آ جاتی ہے۔ مثال کے طور پر سنیے:

١؎ ذرا ان الفاظ پر غور کیجئے۔ آنحضور ﷺ کتنی ہی شفقت اور محبت کے انداز میں اپنے آخری نبی ہونے کا اعلان کر رہے ہیں۔ جو لوگ اس حدیث میں (آخر) کا معنی (افضل) کرتے ہیں وہ کتنے جاہل یا بددیانت ہیں؟ اللہ انہیں ہدایت دے۔

٢؎ ابوبکر صدیقؓ، عمر بن خطابؓ، عبداللہ بن مسعودؓ، عبداللہ بن عمرؓ، عبداللہ بن عباسؓ، عائشہ صدیقہؓ، عبداللہ بن عمروؓ، ابوہریرہؓ، انسؓ، جابرؓ، حذیفہ بن یمانؓ، مغیرہ بن شعبہؓ، ابو عبیدہ بن جراحؓ، عمرو بن عوفؓ، ابو سعید خدریؓ، نواس بن سمعانؓ، حذیفہ بن اسیدؓ، نافع بن عتبہؓ، ام شریکؓ، عمران بن حصینؓ، فاطمہ بنت قیسؓ، معاذ بن جبلؓ، عبداللہ بن بسرؓ، عبداللہ بن مغفلؓ، مجمع، صعب بن جثامہؓ، ابوبکرہؓ، اسماءؓ، فلتان بن عاصمؓ، محجن ثقفیؓ، اسامہ بن زیدؓ، سمرہ بن جندبؓ، ابوبرزہ اسلمیؓ، کیسانؓ، عثمان بن ابی العاصؓ، ابو امامہ باہلیؓ، عبادہ بن صامتؓ، ابو درداءؓ، سعد بن ابی وقاصؓ۔

٥٣

صفحہ ١٩٩

قصیر“ (وہ ایک پست قامت آدمی ہوگا) مرزا قادیانی کہتے ہیں کہ دجال سے مراد ایک گروہ ہے۔

نصاریٰ اور پادریوں کو دجال بتاتے ہیں۔

نصاریٰ اور پادری مغرب (یورپ) سے نکل کر ہندوستان وغیرہ پہنچے۔

علیٰ ہذا القیاس دیگر علامات ہیں۔ اب کہاں تک ان کو مفصل بیان کیا جائے۔ بات کو مختصر کرنے کے لئے ہم انداز گفتگو تبدیل کرتے ہیں۔ یہ دیکھتے ہیں کہ چلئے علماء اسلام کے نزدیک جو دجال ہے وہ نہ سہی۔ جس کو مرزا قادیانی دجال ٹھہراتے ہیں، کیا اسے ٹھکانے لگایا جا چکا ہے؟

ہاں! آگے بڑھنے سے پہلے آپ وضاحت سے یہ سن لیں کہ مرزا قادیانی کے نزدیک دجال کون ہے؟ اور ان کی رائے میں خنزیر سے مراد معروف خبیث جانور ہے یا اور کچھ؟ ان سوالوں کے جواب میں ہم مرزا قادیانی کی الہامی تشریحات نقل کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں:

”دوسری علامت خاصہ یہ ہے کہ جب وہ مسیح موعود آئے گا تو صلیب کو توڑے گا اور خنزیروں کو قتل کرے گا اور دجال یک چشم کو قتل کر ڈالے گا اور جس کافر تک اس کے دم کی ہوا پہنچے گی وہ فی الفور مر جائے گا۔ سو اس علامت کی اصل حقیقت جو روحانی طور پر مراد رکھی گئی ہے، یہ ہے کہ مسیح دنیا میں آکر صلیبی مذہب کی شان و شوکت کو اپنے پیروں کے نیچے کچل ڈالے گا اور ان لوگوں کو جن میں خنزیروں کی بے حیائی اور خوکوں کی بے شرمی اور نجاست خواری ہے۔ ان پر دلائل قاطعہ کا ہتھیار چلا کر ان سب کا کام تمام کر دے گا اور وہ لوگ جو صرف دنیا کی آنکھ رکھتے ہیں۔ مگر دین کی آنکھ بکلی ندارد بلکہ ایک بد نما ٹینٹ اس میں لٹکا ہوا ہے۔ ان کو بین حجتوں کی سیف قاطعہ سے ملزم کر کے ان کی منکرانہ ہستی کا خاتمہ کر دے گا اور نہ صرف ایسے یک چشم لوگ بلکہ ہر ایک کافر جو دین محمدی کو بنظر احتقار دیکھتا ہے۔ مسیحی دلائل کے جلالی دم سے روحانی طور پر مارا جائے گا۔ غرض یہ سب عبارتیں استعارہ کے طور پر واقع ہیں۔“

(ازالہ اوہام حاشیہ ص ٨١، خزائن ج ٣ ص ١٤٢)

خصوصیت کے ساتھ دجال کے بارے میں مرزا قادیانی کی الہامی تحقیق ملاحظہ

٥٤

ہو۔ لکھتے ہیں: ”یہ تحقیق شدہ امر ہے اور ہمارا مذہب ہے جو بمقابل خدا تعالیٰ کے اسم اعظم اللہ الحی القیوم کے ہے دجال یہود کو کہہ سکتے ہیں نہ نصاریٰ کے پادریوں کو اور نہ کے لئے بیقرار ہیں۔ ...... اور آخری مظہر شیطان کے اسم ہے۔ وہ قوم ہے جس کا قرآن کے اول میں بھی ذکر ضالین (نصاریٰ ١؎) کا فرقہ ہے۔“

”وہ دجال جس کا حدیثوں میں ذکر ہے جائے گا..... مظہر اتم شیطان کا نصرانیت ہے۔“

”ظاہر ہے کہ یہ کرسچن قوموں اور مسیحی کارروائیاں ہیں اور سحر کے اس کامل درجہ کا نمونہ ہے جو ہے، آدمی سے ظہور پذیر نہیں ہوسکتیں۔ لہٰذا انہیں لوگو معہود ماننا پڑا۔“

مرزا قادیانی ایک مقام پر اپنے کام کی اہمی کا خاص کام کسر صلیب اور قتل دجال اکبر ہے۔“

مرزا قادیانی کے ان اقوال کا خلاصہ یہ ہے پادریوں کا مقابلہ اور صلیبی مذہب کا استیصال ہے بحیثیت مسیح مرزا قادیانی کی دفاعی کارروائیاں۔

مرزا قادیانی کے دجال (قوم نصاریٰ) کی حقیقت ہم یہاں پیش کرتے ہیں:

کے آغاز میں ”ایسٹ انڈیا کمپنی“ کے نام سے ان مسلمان فرمانرواؤں اور تاجروں نے روایتی مہمان نوا

١؎ مرزا قادیانی لکھتے ہیں: ”قرآن شری ضالین سے مراد نصاریٰ ہیں۔“

٥٥

صفحہ ١٩٩

ہو۔ لکھتے ہیں: ”یہ تحقیق شدہ امر ہے اور ہمارا مذہب ہے کہ دراصل دجال شیطان کا اسم اعظم ہے جو بمقابل خدا تعالیٰ کے اسم اعظم اللہ الحی القیوم کے ہے۔ اس تحقیق سے ظاہر ہے کہ نہ حقیقی طور پر دجال یہود کو کہہ سکتے ہیں نہ نصاریٰ کے پادریوں کو اور نہ کسی اور قوم کو...... ہاں شیطان کے اس اسم کے لئے مظاہر ہیں...... اور آخری مظہر شیطان کے اسم دجال کا جو مظہراتم اور اکمل اور خاتم المظاہر ہے۔ وہ قوم ہے جس کا قرآن کے اول میں بھی ذکر ہے اور قرآن کے آخر میں بھی۔ یعنی وہ ضالین (نصاریٰ ١؎) کا فرقہ ہے۔“

(تحفہ گولڑویہ ص١٠٤، خزائن ج١٧ ص٢٦٩)

”وہ دجال جس کا حدیثوں میں ذکر ہے۔ وہ شیطان ہی ہے جو آخر زمانہ میں قتل کیا جائے گا...... مظہر اتم شیطان کا نصرانیت ہے۔“

(حقیقۃ الوحی ص٣٩، خزائن ج٢٢ ص٤١)

”ظاہر ہے کہ یہ کرسچن قوموں اور تثلیث کے حامیوں کی جانب سے وہ ساحرانہ کارروائیاں ہیں اور سحر کے اس کامل درجہ کا نمونہ ہے جو بجز اول درجہ کے دجال کے جو دجال معہود ہے، آدمی سے ظہور پذیر نہیں ہوسکتیں۔ لہٰذا انہیں لوگوں کو جو پادری صاحبوں کا گروہ ہے دجال معہود ماننا پڑا۔“

(ازالۃ اوہام ص٤٩٤، خزائن ج٣ ص٣٦٥)

مرزا قادیانی ایک مقام پر اپنے کام کی اہمیت کا اظہار ان الفاظ میں کرتے ہیں: ”مسیح کا خاص کام کسر صلیب اور قتل دجال اکبر ہے۔“

(انجام آتھم ص٤٧، خزائن ج١١ ص٤٧)

مرزا قادیانی کے ان اقوال کا خلاصہ یہ ہے کہ مسیح موعود کا فرضِ منصبی مسیحیت کا قلع قمع، پادریوں کا مقابلہ اور صلیبی مذہب کا استیصال ہے۔ اب ملاحظہ ہوں دجال کی کارستانیاں اور بحیثیت مسیح مرزا قادیانی کی دفاعی کارروائیاں۔

مرزا قادیانی کے دجال (قوم نصاریٰ) کی کارستانیوں کے سلسلہ میں چند چیزیں جستہ جستہ ہم یہاں پیش کرتے ہیں:

کے آغاز میں ”ایسٹ انڈیا کمپنی“ کے نام سے ان کی ایک تجارتی کمپنی یہاں پہنچی۔ یہاں کے مسلمان فرمانرواؤں اور تاجروں نے روایتی مہمان نوازی کا ثبوت دیا۔ لیکن وہ لوگ بد نیت تھے۔

١؎ مرزا قادیانی لکھتے ہیں: ”قرآن شریف کے نصوص صریحہ سے ثابت ہو گیا ہے کہ ضالین سے مراد نصاریٰ ہیں۔“

(تحفہ گولڑویہ ص٦٧، خزائن ج١٧ ص٢٠٠)

٥٥

صفحہ ٢٠١

تلقین کراتے تھے۔ پادری لوگ پولیس کے کانسٹیبلوں کو ساتھ لے کر ہندوؤں کی کتھاؤں میں جا کر اعتراضات کرتے تھے اور مذہبی بحثیں تھے۔ جس سے لوگوں کو دلی تکلیف پہنچتی تھی۔ اسی طرح چند قوموں کے مذہب میں مداخلت ہوتی تھی۔“

نے مسلمان شہنشاہ سے بنگال کی دیوانی اس شرط پر لی تھی کہ ہم اس کے لیکن جونہی ہم نے اپنے آپ کو طاقت ور پایا۔ اس وعدے کو فراموش کر دیا

”تمام نظام حکومت میں اس قوم کا تناسب جو آج سے سو سال کی اجارہ دار تھی، کم ہوتے ہوتے ایک اور تئیس رہ گیا ہے اور وہ بھی جہاں تناسب کا خاص طور پر خیال رکھا جاتا ہے۔ پریذیڈنسی شہر سے مسلمانوں کا حصہ تقریباً معدوم ہو چکا ہے۔“

”وہ (مسلمان) ہمیں صرف اس بات کا ملزم قرار نہیں دیتے کہ تمام راہیں ان پر مسدود کر دی ہیں۔ بلکہ یہ بھی کہ ہم نے ان کے ہے۔ معلوم نہیں جنوبی بنگال کے مسلمانوں کو کچھ عرصے سے کیوں تو ان کی مذہبی ضروریات سے تدریجاً اغماض کیا۔ پھر ان کو بالکل منکر ہو گئے۔“

اب تک تو دوسروں کے اقوال نقل کئے جاتے رہے ہیں سنئیے۔ کہتے ہیں: ”دجالیت کا طوفان اسی صدی میں پھیلا اور ’غدر‘ کا تماشا بھی اسی صدی میں دیکھا گیا۔ صد ہا اسلامی ریاستیں خاک میں بلندی حاصل کی۔“

(شہادت القرآن

”کیا تم نہیں دیکھتے کہ عیسائی سلطنت تمام دنیا کی ریاستوں نوع کی بلندی ان کو حاصل ہے اور ”من کل حدب ینسلون“ دینی و دنیوی حالت ابتر ہو گئی ہے۔“

(شہادت القرآن

٥٧

صفحہ ٢٠١

تلقین کراتے تھے۔ پادری لوگ پولیس کے کانسٹیبلوں کو ساتھ لے کر مسلمانوں کے وعظوں اور ہندوؤں کی کتھاؤں میں جا کر اعتراضات کرتے تھے اور مذہبی پیشواؤں کی برائی اور ہتک کرتے تھے۔ جس سے لوگوں کو دلی تکلیف پہنچتی تھی۔ اسی طرح چند قوانین جاری کئے گئے۔ جن سے مذہب میں مداخلت ہوتی تھی۔“

(اسباب بغاوت ہند)

نے مسلمان شہنشاہ سے بنگال کی دیوانی اس شرط پر لی تھی کہ ہم اسلامی نظام کو برقرار رکھیں گے۔ لیکن جونہی ہم نے اپنے آپ کو طاقت ور پایا۔ اس وعدے کو فراموش کر دیا۔“

(ہندوستانی مسلمان ص ٢٤٠)

”تمام نظام حکومت میں اس قوم کا تناسب جو آج سے ایک صدی پہلے ساری حکومت کی اجارہ دار تھی ، کم ہوتے ہوتے ایک اور تئیس رہ گیا ہے اور وہ بھی ان گزیٹڈ ملازمتوں میں ہے۔ جہاں تناسب کا خاص طور پر خیال رکھا جاتا ہے۔ پریزیڈنسی شہر کے دفتر کی معمولی ملازمتوں میں مسلمانوں کا حصہ تقریباً معدوم ہو چکا ہے۔“

(ہندوستانی مسلمان ص ٢٤٨)

”وہ (مسلمان) ہمیں صرف اس بات کا ملزم قرار نہیں دیتے کہ ہم نے کامیاب زندگی کی تمام راہیں ان پر مسدود کر دی ہیں۔ بلکہ یہ بھی کہ ہم نے ان کی عاقبت کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔ معلوم نہیں جنوبی بنگال کے مسلمانوں کو کچھ عرصے سے کیوں نظر انداز کر دیا ہے۔ ہم نے اول تو ان کی مذہبی ضروریات سے تدرجاً اغماض کیا۔ پھر ان کو بالکل بھلا دیا اور آخر کار ان سے قطعی منکر ہو گئے۔“

(کتاب مذکور ص ٢٧٥)

اب تک تو دوسروں کے اقوال نقل کئے جاتے رہے ہیں۔ اب خود مرزا قادیانی سے سنیے۔ کہتے ہیں: ”دجالیت کا طوفان اسی صدی میں پھیلا اور ”من كل حدب ينسلون“ کا تماشا بھی اسی صدی میں دیکھا گیا۔ صدہا اسلامی ریاستیں خاک میں مل گئیں اور نصاریٰ نے خوب بلندی حاصل کی۔“

(شہادت القرآن ص ٧١، خزائن ج ٦ ص ٣٦٦)

”کیا تم نہیں دیکھتے کہ عیسائی سلطنت تمام دنیا کی ریاستوں کو نگلتی جاتی ہے اور ہر ایک نوع کی بلندی ان کو حاصل ہے اور ”من كل حدب ينسلون“ کا مصداق ہیں اور اسلام کی دینی و دنیوی حالت ابتر ہو گئی ہے۔“

(شہادت القرآن ص ٧٨، خزائن ج ٦ ص ٣٧٣)

٥٧

صفحہ ٢٠٣

مرزا قادیانی نے جس کو دجال مانا تھا۔ اس کی کارستانیاں اندرونی اور بیرونی شہادتوں سے آپ نے ملاحظہ فرمالیں۔ اب یہ سنیے کہ مرزا قادیانی نے اس کا دفاع کیونکر کیا ہے:

جس نے زمین پر ایسا نظام قائم کیا ہو۔ میں سچ سچ کہتا ہوں کہ جو کچھ ہم پوری آزادی سے اس گورنمنٹ کے تحت میں اشاعت حق کرسکتے ہیں۔ یہ خدمت ہم مکہ یا مدینہ منورہ میں بیٹھ کر بھی ہرگز بجانہیں لاسکتے۔"

(ازالہ اوہام حاشیہ ص٥٢، خزائن ج ٣ ص١٤٠)

یہ لوگ ہمارے محسن ہیں اور سلطنت برطانیہ کے ہمارے سر پر بہت احسان ہیں۔ سخت نادان اور جاہل اور سخت نالائق وہ مسلمان ہے، جو اس گورنمنٹ سے کینہ رکھے۔ اگر ہم ان کا شکر نہ کریں تو پھر ہم خدا تعالیٰ کے بھی ناشکرگزار ہیں۔ کیونکہ ہم نے جو اس گورنمنٹ کے زیر سایہ آرام پایا اور پارہے ہیں۔ وہ آرام ہم کسی اسلامی گورنمنٹ میں بھی نہیں پاسکتے۔ ہرگز نہیں پاسکتے۔"

(ازالہ اوہام ص٥٠٩، خزائن ج ٣ ص٣٧٢)

یہ کہ خدا تعالیٰ کی اطاعت کریں۔ دوسرے اس سلطنت کی...... اگر ہم گورنمنٹ برطانیہ سے سرکشی کریں تو گویا اسلام اور خدا اور رسول سے سرکشی کرتے ہیں۔"

(گورنمنٹ کی توجہ کے لائق مشمولہ شہادت القرآن ص٨٤، خزائن ج٦ ص٣٨٠،٣٨١)

ہے۔ یہ سلطنت مسلمانوں کے لئے آسمانی برکت کا حکم رکھتی ہے۔"

(گورنمنٹ کی توجہ کے لائق ، شہادت القرآن ص١١، خزائن ج٦ ص٣٨٨)

نے ممانعت جہاد اور انگریزی اطاعت کے بارے میں اس قدر کتابیں لکھی ہیں اور اشتہار شائع کئے ہیں کہ اگر وہ رسائل اور کتابیں اکٹھی کی جائیں تو پچاس الماریاں ان سے بھر سکتی ہیں۔ میں نے ایسی کتابوں کو تمام ممالک عرب اور مصر اور شام اور کابل اور روم تک پہنچادیا ہے۔"

(تریاق القلوب ص١٥، خزائن ج١٥ ص١٥٥)

٥٨

کیوں صاحب ! فرمائیے ، مرزا قادیانی پیروں کے نیچے کچل ڈالا ہے یا نہیں؟ خنزیروں جیسے۔ لوگوں کا کام تمام کردیا ہے یا نہیں؟ جو لوگ دین محمدی نے اپنے مسیحی دلائل کے جلالی دم سے انہیں موت کے کی ابلہ فریبی اور شاطرانہ قلابازی داد دینے کے قابل جواب بھی حقائق کو نہیں سمجھ سکتا۔

گزشتہ صفحات میں آپ پڑھ چکے ہیں کہ اکمل نصاریٰ ہیں۔ اب خواہ وہ حکومت کی کرسیوں پر سے ، بہرصورت وہ شیطانیت کے پیکر اور دجال ہ ملاحظہ ہو۔ وہ اپنے بیچ بچاؤ کے لئے ایک اور چال طرف سے صفائی پیش کرتے ہیں اور صرف مذہبی پا ہیں۔ آپ پہلے بھی یہ پڑھ چکے ہیں کہ عیسائیت کو پ تھا۔ مزید برآں ہم چند شہادتیں پیش کرتے ہیں:

کرے۔ چنانچہ سرکاری طور پر لارڈ میکالے کی صدار انگریزی تعلیم کے اجراء کے حق میں فیصلہ دیا۔ میکا جماعت بنانی چاہئے جو ہم میں اور ہماری کروڑوں ر ہونی چاہئے جو خون اور رنگ کے اعتبار سے تو ہندو اعتبار سے انگریز ہو۔"

اختیاری مضمون کے پڑھائی جائے۔ انگریز گورنر مد دیئے اور کہا: ”رفتہ رفتہ کل لڑکے انجیل کے اختیاری اخلاقی ترقی ہوگی۔"

٥٩

صفحہ ٢٠٣

کیوں صاحب! فرمائیے، مرزا قادیانی نے صلیبی مذہب کی شان وشوکت کو اپنے پیروں کے نیچے کچل ڈالا ہے یا نہیں؟ خنزیروں جیسے بے حیا اور خوکوں جیسے بے شرم اور نجاست خوار لوگوں کا کام تمام کر دیا ہے یا نہیں؟ جو لوگ دین محمدی کو بنظر استحقار دیکھنے والے تھے۔ مرزا قادیانی نے اپنے مسیحی دلائل کے جلالی دم سے انہیں موت کے گھاٹ اتار دیا ہے یا نہیں؟...... مرزا قادیانی کی ابلہ فریبی اور شاطرانہ قلابازی داد دینے کے قابل ہے۔ کس قدر نادان اور سادہ لوح ہے۔ وہ جو اب بھی حقائق کو نہیں سمجھ سکتا۔

گزشتہ صفحات میں آپ پڑھ چکے ہیں کہ مرزا قادیانی کے نزدیک شیطان کا مظہر اتم و اکمل نصاریٰ ہیں۔ اب خواہ وہ حکومت کی کرسیوں پر ہوں یا گرجا گھروں میں پادریوں کی حیثیت سے، بہر صورت وہ شیطانیت کے پیکر اور دجال ہیں۔ لیکن مرزا قادیانی کی شاطرانہ قلابازی ملاحظہ ہو۔ وہ اپنے بچ بچاؤ کے لئے ایک اور چال چلتے ہیں۔ کہیں کہیں انگریزی گورنمنٹ کی طرف سے صفائی پیش کرتے ہیں اور صرف مذہبی پادریوں کو دجال مان کر مورد طعن و تشنیع بناتے ہیں۔ آپ پہلے بھی یہ پڑھ چکے ہیں کہ عیسائیت کو پھیلانے میں تمام تر دخل انگریزی گورنمنٹ کا تھا۔ مزید برآں ہم چند شہادتیں پیش کرتے ہیں:

کرے۔ چنانچہ سرکاری طور پر لارڈ میکالے کی صدارت میں ایک کمیٹی تشکیل دی گئی۔ جس نے انگریزی تعلیم کے اجراء کے حق میں فیصلہ دیا۔ میکالے نے اپنی رپورٹ میں لکھا: ”ہمیں ایک ایسی جماعت بنانی چاہئے جو ہم میں اور ہماری کروڑوں رعایا کے درمیان مترجم ہو اور یہ ایسی جماعت ہونی چاہئے جو خون اور رنگ کے اعتبار سے تو ہندوستانی ہو مگر مذاق اور رائے ، الفاظ اور سمجھ کے اعتبار سے انگریز ہو۔“

(روشن مستقبل ص ١٥٠ بحوالہ تاریخ تعلیم از میجر باسو)

اختیاری مضمون کے پڑھائی جائے۔ انگریز گورنر مدراس نے اس کی تائید میں بہت سے دلائل دیئے اور کہا: ”رفتہ رفتہ کل لڑکے انجیل کے اختیاری مضمون کو پڑھنے لگیں گے۔ جس سے ان میں اخلاقی ترقی ہوگی۔“

(روشن مستقبل ص ١٥٢)

٥٩

صفحہ ٢٠٥

وجہ کیا تھی؟ اس کا پتہ ایک اور شہادت سے چلتا ہے۔ سر چارلس ٹریوی لین، جو حکومت ہند کی سب سے بڑی کونسل کا معزز رکن تھا اور بعد میں گورنری کے عہدہ پر فائز ہوا۔ اس نے ٢٨/جون ١٨٥٣ء کو اپنے ایک پارلیمانی بیان میں کہا: ”میرے نزدیک ہمارا اصل اصول یہ ہونا چاہئے کہ لوگوں کو وہ عمدہ تعلیم دی جائے۔ جس کے لئے وہ رضامند ہوں۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ کوئی تعلیم جو مذہب عیسوی پر مبنی نہ ہو وہ ناقص ہے۔ نتیجہ یہ کہ جب ہندوستان کا بڑا حصہ تعلیم یافتہ ہو جائے گا۔ تب ہمارا فرض ہوگا کہ مذہب عیسوی کی تعلیم جاری کریں۔ مگر ہمیں اس امر کی بہت احتیاط کرنی چاہئے کہ فوجوں میں ناراضی نہ پھیل جائے...... میرے نزدیک عیسائی بنانے کے طریقے میں لوگ غلطی کرتے ہیں۔

میرا یقین ہے کہ....... یہاں بھی سب کے سب عیسائی ہو جائیں گے۔ ملک میں مذہب عیسوی کی تعلیم بلا واسطہ پادریوں کے ذریعہ اور بلاواسطہ کتابوں، اخباروں اور ٹریکٹوں سے بات چیت وغیرہ کے ذریعے نفوذ کرے گی حتیٰ کہ عیسوی علوم تمام سوسائٹی میں نفوذ کر جائیں گے۔ تب ہزاروں کی تعداد میں عیسائی ہوا کریں گے۔“

(روشن مستقبل ص ١٥٤ بحوالہ تاریخ تعلیم سید محمود)

ان حوالہ جات سے بالکل ظاہر ہے کہ انگریزی حکومت پادریوں کی مکمل سر پرستی کر رہی تھی اور عیسائیت کو پھیلانا اس کے اولین مقاصد میں شامل تھا اور ١٨٥٧ء کا جو معرکہ وقوع میں آیا تھا اس کے دیگر اسباب کے ساتھ ایک یہ بھی اہم سبب تھا جیسا کہ سرسید کی کتاب اسباب بغاوت ہند کے حوالے سے آپ پہلے پڑھ چکے ہیں۔ مگر مرزا قادیانی کہتے ہیں: ”گورنمنٹ انگریزی کو مذاہب سے کچھ سروکار نہیں۔ اپنے شاہانہ انتظام سے مطلب ہے۔“

(ازالہ اوہام ص ٤٩٠، خزائن ج ٣ ص ٣٦٣)

بالفرض اگر یہ تسلیم کر بھی لیا جائے کہ نصاریٰ سب کے سب نہیں، بلکہ صرف پادریوں کا گروہ ہی دجال ہے۔ تو چلئے یہی دیکھ لیجئے کہ مرزا قادیانی نے پادریوں کا مقابلہ کتنے خلوص اور ایمانداری سے کیا تھا۔ اس سلسلہ میں ہم ایک حوالہ نقل کر چکے ہیں۔ سچ تو یہ ہے کہ اس حوالہ کا نقل کرنا بھی ذوق سلیم پر گراں گزرتا ہے۔ لیکن ”الضرورات تبیح المحظورات“

مرزا قادیانی نے ١٨٩٩ء میں انگریزی حکومت کو ایک درخواست پیش کی تھی۔ جس میں گورنمنٹ سے اپنی وفاداری، اپنی اور اپنے خاندان کی خدمات کا ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں: ”

ہاں میں اس بات کا اقرار کرتا ہوں کہ میں نیک نیتی سـ بھی کیا کرتا ہوں اور ایسا ہی پادریوں کے مقابل پر بھـ میں اس بات کا بھی اقراری ہوں کہ جبکہ بعض پادریوں ہے اور حد اعتدال سے بڑھ گئی ہے اور ان مؤلفین نـ الفاظ استعمال کئے کہ یہ شخص ڈاکو تھا، چور تھا، زنا کار تھـ ایسی کتابوں اور اخباروں کے پڑھنے سے یہ اندیشہ دا جو ایک جوش رکھنے والی قوم ہے، ان کلمات کا کوئی سخـ ان جوشوں کو ٹھنڈا کرنے کے لئے اپنی صحیح اور پاک نـ کے دہانے کے لئے حکمت عملی یہی ہے کہ ان تحریرات الغضب انسانوں کے جوش فرو ہو جائیں اور ملک میں ا ایسی کتابوں کے جن میں کمال سختی سے بدزبانی کی گئی بالمقابل سختی تھی۔ کیونکہ میرے کانشنس نے مجھے قطعی طـ وحشیانہ جوش والے آدمی موجود ہیں۔ ان کے غیظ وغضـ ہوگا۔ کیونکہ عوض معاوضہ کے بعد باقی نہیں رہتا۔ سـ کتابوں کا یہ اثر ہوا کہ ہزارہا مسلمان جو پادری عما سے اشتعال میں آ چکے تھے۔ یک دفعہ ان کے اشتـ مقابل پر جو کچھ وقوع میں آیا یہی ہے کہ حکمت عملی ۔ دعویٰ کرتا ہوں کہ تمام مسلمانوں میں سے اول درجہ مجھے تین باتوں نے خیر خواہی میں اول درجہ بنا دیا ہے اس گورنمنٹ عالیہ کے احسانوں نے۔ (٣) سوم خد

(تر

اس کے بعد مزید کچھ کہنے کی ضرورت نـ ہیں۔ تف ہے مرزا قادیانی کی نبوت پر اور ان کے ہـ

الظالمين

٦١

صفحہ ٢٠٥

ہاں میں اس بات کا اقرار کرتا ہوں کہ میں نیک نیتی سے دوسرے مذاہب کے لوگوں سے مباحثات بھی کیا کرتا ہوں اور ایسا ہی پادریوں کے مقابل پر بھی مباحثات کی کتابیں شائع کرتا رہا ہوں اور میں اس بات کا بھی اقراری ہوں کہ جبکہ بعض پادریوں اور عیسائی مشنریوں کی تحریر نہایت سخت ہو گئی ہے اور حد اعتدال سے بڑھ گئی ہے اور ان مؤلفین نے ہمارے نبی ﷺ کی نسبت نعوذ باللہ ایسے الفاظ استعمال کئے کہ یہ شخص ڈاکو تھا، چور تھا، زنا کار تھا اور صدہا پرچوں میں یہ شائع کیا...... تو مجھے ایسی کتابوں اور اخباروں کے پڑھنے سے یہ اندیشہ دل میں پیدا ہوا کہ مبادہ مسلمانوں کے دلوں پر جو ایک جوش رکھنے والی قوم ہے، ان کلمات کا کوئی سخت اشتعال دینے والا اثر پیدا ہو۔ تب میں نے ان جوشوں کو ٹھنڈا کرنے کے لئے اپنی صحیح اور پاک نیت سے یہی مناسب سمجھا کہ اس عام جوش کے دبانے کے لئے حکمت عملی یہی ہے کہ ان تحریرات کا کسی قدر سختی سے جواب دیا جائے۔ تو سریع الغضب انسانوں کے جوش فرو ہو جائیں اور ملک میں کوئی بے امنی پیدا نہ ہو۔ تب میں نے بمقابل ایسی کتابوں کے جن میں کمال سختی سے بدزبانی کی گئی تھی۔ چند ایسی کتابیں لکھیں جن میں کسی قدر بالمقابل سختی تھی۔ کیونکہ میرے کانشنس نے مجھے قطعی طور پر فتویٰ دے دیا کہ اسلام میں جو بہت سے وحشیانہ جوش والے آدمی موجود ہیں۔ ان کے غیظ وغضب کی آگ بجھانے کے لئے یہ طریق کافی ہوگا۔ کیونکہ عوض معاوضہ کے بعد باقی نہیں رہتا۔ سو یہ میری پیش بینی کی تدبیر صحیح نکلی اور ان کی کتابوں کا یہ اثر ہوا کہ ہزارہا مسلمان جو پادری عماد الدین وغیرہ لوگوں کی تیز اور گندی تحریروں سے اشتعال میں آچکے تھے۔ یک دفعہ ان کے اشتعال فرو ہو گئے...... سو مجھ سے پادریوں کے مقابل پر جو کچھ وقوع میں آیا یہی ہے کہ حکمت عملی سے بعض وحشی مسلمانوں کو خوش کیا گیا اور میں دعویٰ کرتا ہوں کہ تمام مسلمانوں میں سے اول درجہ کا خیر خواہ گورنمنٹ انگریزی کا ہوں۔ کیونکہ مجھے تین باتوں نے خیر خواہی میں اول درجہ بنا دیا ہے۔ (١) اول والد مرحوم کے اثر نے۔ (٢) دوم اس گورنمنٹ عالیہ کے احسانوں نے۔ (٣) سوم خدا تعالیٰ کے الہام نے۔“

(تریاق القلوب ص ١٥ ، روحانی خزائن ج ١٥ ص ٤٨٩ تا ٤٩١)

اس کے بعد مزید کچھ کہنے کی ضرورت باقی نہیں رہتی۔ اس بحث کو ہم یہیں ختم کرتے ہیں۔ تف ہے مرزا قادیانی کی نبوت پر اور ان کے ماننے والوں کے عقلوں پر! الا بعد للقوم الظلمین

٦١

صفحہ ٢٠٧

گزشتہ مباحث کا خلاصہ

احادیث میں تاویلات سے کام لیتے ہیں اور حضرات انبیاء علیہم السلام کے طریق دعوت سے یہ چیز بعید ہے کہ جو عقائد مدار نجات ہوں وہ انہیں اس طرح مبہم انداز میں پیش کریں۔ لہٰذا جس دعویٰ کی بنیاد تاویلات پر ہو وہ ناقابل قبول ہے۔

گے۔ پہلے اپنے ضمیر کو تو مطمئن کرلیں۔

تھی۔

عقل سلیم کے نزدیک قابل قبول نہیں ہے۔

شرعی نصوص میں کمی بیشی کردیتے ہیں۔

نصوص کا انکار کردیتے ہیں۔

اسرائیلی پیغمبر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا تھا۔ لہٰذا معلوم ہوا کہ وہی دوبارہ تشریف لائیں گے۔ مرزا قادیانی مسیح موعود نہیں ہوسکتے۔

کوشش میں کامیابی حاصل نہیں کرسکے۔

ہیں۔ ان کے چند نمونے:

مرزا قادیانی اس سے پہلے آئے لہٰذا وہ مسیح موعود نہیں ہوسکتے۔

٦٢

قادیانی کا مسلمانوں کو دعوت دینا بے معنی ہے۔

ہیں۔ اس کی کارستانیوں کا ذکر اور مرزا قادیانی کی جوابی کا

کیا مرزا قادیانی مہدی آخر

مرزا قادیانی کی شتر مرغانہ پالیسی

مرزا قادیانی کی یہ دوغلی روش نہایت عجیب و بے ثبوت باتوں کو قطعیات کا درجہ دے کر ان پر ایمان امت کے مسلمات اور تواتر کے ساتھ ثابت شدہ حقائق کا مرزا قادیانی نے مسیح موعود کے سلسلہ میں یہی پالیسی ا السلام اسرائیلی پیغمبر کو قرار دیا جائے تو پھر مرزا قادیانی کے کی آمد کا کہیں ذکر ہے اور نہ ان کی آمد کوئی اسلامی عقید موعود بننا چاہا تو پھر انہیں اپنی آمد کے چرچے قرآن مجی صادر فرمایا کہ جو انہیں مسیح نہ مانے وہ کافر ہے۔ یہی د بارے میں دکھائی۔ اگر امت مسلمہ مرزا قادیانی کو چھو ہیں، چھوڑیئے صاحب! ظہور مہدی کا عقیدہ بالکل بے ہیں: ”مہدی کی حدیثوں کا یہ حال ہے کہ کوئی بھی جرح سکتے۔“

لیکن جب مرزا قادیانی خود مہدی آخرالزما یہ کہ وہ صحیح حدیثیں ڈھونڈ ڈھونڈ کر لے آتے ہیں بلکہ قر میں بولتی ہوئی نظر آتی ہیں۔ وہ لکھتے ہیں: ”حدیث صحیح ب چھپی ہوئی کتاب ہوگی۔“

علامات مہدی کے ضمن میں حدیث کے مشہو

٦٣

صفحہ ٢٠٧

قادیانی کا مسلمانوں کو دعوت دینا بے معنی ہے۔

ہیں۔ اس کی کارستانیوں کا ذکر اور مرزا قادیانی کی جوابی کارروائی۔

کیا مرزا قادیانی مہدی آخر الزمان ہیں؟

مرزا قادیانی کی شترمرغانہ پالیسی

مرزا قادیانی کی یہ دوغلی روش نہایت عجیب و غریب ہے کہ وہ اگر ماننے پر آ جائیں تو بے ثبوت باتوں کو قطعیات کا درجہ دے کر ان پر ایمان لے آتے ہیں اور نہ ماننا چاہیں تو پوری امت کے مسلمات اور تواتر کے ساتھ ثابت شدہ حقائق کا انکار کر دیں۔ آپ پہلے پڑھ چکے ہیں کہ مرزا قادیانی نے مسیح موعود کے سلسلہ میں یہی پالیسی اختیار کی۔ اگر مسیح موعود حضرت عیسیٰ علیہ السلام اسرائیلی پیغمبر کو قرار دیا جائے تو پھر مرزا قادیانی کے نزدیک نہ صرف قرآن شریف میں ان کی آمد کا کہیں ذکر ہے اور نہ ان کی آمد کوئی اسلامی عقیدہ ہے۔ لیکن جب مرزا قادیانی نے خود مسیح موعود بننا چاہا تو پھر انہیں اپنی آمد کے چرچے قرآن میں نظر آنے لگے۔ لہٰذا انہوں نے یہ فتویٰ صادر فرمایا کہ جو انہیں مسیح نہ مانے وہ کافر ہے۔ یہی دورخی انہوں نے مہدی آخر الزمان کے بارے میں دکھائی۔ اگر امت مسلمہ مرزا قادیانی کو چھوڑ کر کسی اور کو مہدی قرار دے تو وہ کہتے ہیں، چھوڑیئے صاحب! ظہور مہدی کا عقیدہ بالکل بے دلیل اور بے ثبوت ہے۔ چنانچہ وہ لکھتے ہیں: ”مہدی کی حدیثوں کا یہ حال ہے کہ کوئی بھی جرح سے خالی نہیں اور کسی کو صحیح حدیث نہیں کہہ سکتے۔“

(حقیقت الوحی حاشیہ ص ٤٠٨، خزائن ج ٢٢ ص ٤١٧)

لیکن جب مرزا قادیانی خود مہدی آخر الزمان ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں تو پھر نہ صرف یہ کہ وہ صحیح حدیثیں ڈھونڈ ڈھونڈ کر لے آتے ہیں بلکہ قرآن مجید کی آیات بھی انہیں اپنی تائید میں بولتی ہوئی نظر آتی ہیں۔ وہ لکھتے ہیں: ”حدیث صحیح میں آچکا ہے کہ مہدی موعود کے پاس ایک چھپی ہوئی کتاب ہوگی۔“

(ضمیمہ انجام آتھم ص ٤٠، خزائن ج ١١ ص ٣٢٤)

علامات مہدی کے ضمن میں حدیث کے مشہور عالم دارقطنی نے ایک روایت امام محمد باقرؒ سے ٦٣

صفحہ ٢٠٩

سے نقل کی ہے۔ جس کے بارے میں ہم مفصل گفتگو پھر بھی کریں گے۔ اس کے متعلق مرزا قادیانی تحریر کرتے ہیں: ”شک نہیں کہ یہ حدیث پیغمبر خدا ﷺ کی ہے اور اس حدیث کے لئے اور بھی طریق ہیں جو اس کی صحت پر دلالت کرتے ہیں اور قرآن نے اس کی تصدیق کی ہے۔ پس بجز ملحد فتنہ انگیز کے اور کوئی اس کا انکار نہیں کرے گا اور بجز ظالم کے کوئی مکذب نہ ہوگا۔“

(نور الحق عربی مع اردو ج ٢ ص ١٦، خزائن ج ٨ ص ٢٠٥)

اب آپ یہ سوال قادیان یا ربوہ کے دارالحدیث (اگر کوئی ہو تو) سے کیجئے کہ مرزا قادیانی صحاح ستہ جیسی معتبر کتب حدیث کی روایات کو تو مجروح اور غیر معتبر قرار دیتے ہیں۔ لیکن جو جواہر اسرار جیسی گمنام اور مفقود الخبر کتاب کی روایت یا دار قطنی کی مقطوع السند (جس کی سند رسول اللہ ﷺ تک نہیں ملتی) روایت کو صحیح ٹھہراتے ہیں۔ کس قاعدہ اور ضابطہ کے تحت؟ جواہر الاسرار مرزا قادیانی کے بیان کے مطابق ٨٢٠ھ کی تصنیف ہے اور اللہ ہی جانتا ہے کہ وہ کس علم کی اور کس درجے کی ہے۔ علماء اسلام نے تو یہاں تک احتیاط سے کام لیا ہے کہ علم حدیث کی وہ کتابیں جو شاہ ولی اللہ دہلویؒ کی تقسیم کے مطابق چوتھے طبقہ میں آتی ہیں، ان کی روایات سے بھی استدلال صحیح نہیں ہے۔ چنانچہ وہ فرماتے ہیں: ”فالا نتصار بها غیر صحیح فی معارک العلماء بالحدیث (حجۃ اللہ البالغہ ج ١ ص ١٣٠)“ (علماء حدیث کے معرکۃ الآراء مسائل ہیں۔ ان سے امداد لینا درست نہیں ہے۔)

شاہ عبدالعزیز صاحب محدث دہلویؒ فرماتے ہیں: ”ایں احادیث قابل اعتماد نیستند کہ براثبات عقیدہ یا عملے بآنہا تمسک کردہ شود (عجالہ نافعہ ص ٧)“ (یہ حدیثیں اس قابل نہیں ہیں کہ کسی عقیدہ یا فقہی مسئلہ کے ثابت کرنے میں ان کو بطور دلیل پیش کیا جاسکے۔)

مہدی کے بارے میں مرزا قادیانی کا سفید جھوٹ

مرزا قادیانی کی یہ تکنیک تعجب خیز ہی نہیں، سخت افسوس ناک بھی ہے کہ اپنی بات کو سچا ثابت کرنے کے لئے وہ افتراء پردازی اور دروغ گوئی تک سے نہیں چوکتے۔ دعویٰ مہدویت کے سلسلہ میں ان کا ایک سفید جھوٹ ملاحظہ ہو: ”اگر حدیث کے بیان کا اعتبار ہے تو پہلے ان حدیثوں پر عمل کرنا چاہئے جو صحت اور وثوق میں اس حدیث (کہ خلافت تیس سال تک ہوگی) پر کئی درجہ بڑھی ہوئی ہیں۔ مثلاً صحیح بخاری کی وہ حدیثیں جن میں آخری زمانہ میں بعض

٦٤

خلیفوں کی نسبت خبر دی گئی ہے۔ خاص کر وہ خلیفہ ج اس کی آواز آئے گی کہ ”هذا خلیفۃ اللہ المہد ہے جو ایسی کتاب میں درج ہے جو اصح الکتب بعد کتا

صحیح بخاری کوئی نایاب کتاب نہیں ہے

ہے۔ یہ کتاب ١١٣٠ صفحات پر مشتمل ہے۔ جن میں لیجئے۔ کیا مرزا قادیانی کی محولہ حدیث کا کہیں کوئی نشا اگر آپ نہیں سمجھ سکے تو مرزا قادیانی کی تردید خود ان ضعف سے خالی نہیں ہیں، اسی وجہ سے امامین حدی

جب مرزا قادیانی خود لکھ چکے ہیں کہ روایت نہیں ہے تو پھر ”هذا خلیفۃ اللہ المہدی سچ ہے کہ دروغ گو را حافظہ نباشد۔

ایک ضروری وضاحت

علامہ سعد الدین تفتازانی نے شرح ا پرہاروی نے شرح الشرح موسومہ نبراس میں، اور د مسائل دو قسم کے ہیں۔ ایک وہ جن میں قطعیت او ایسے مسائل میں دلائل بھی قطعی اور یقینی، مثلاً قرآ ہوتے ہیں۔ دوسرے وہ مسائل جو مرتبہ میں ا حدیثیں جو تواتر یا شہرت کی حد تک نہ پہنچی ہوں) س

ظہور مہدی کا مسئلہ بھی اسی دوسری نو اصولی عقائد جن پر اسلام کا دار و مدار ہے، کی سی ہ مسائل کی فہرست سے بالکل خارج کر دینا اور ا کی نذر کر دینا بھی قطعاً غلط ہوگا۔ اس گناہ کی جرأ ناواقف ہو۔ علامہ شوکانی کے بیان کے مطابق ا

٦٥

صفحہ ٢٠٩

خلیفوں کی نسبت خبر دی گئی ہے۔ خاص کر وہ خلیفہ جس کی نسبت بخاری میں لکھا ہے کہ آسمان سے اس کی آواز آئے گی کہ ”هذا خليفة الله المهدی “ اب سوچو کہ یہ حدیث کس پایہ اور مرتبہ کی ہے جو ایسی کتاب میں درج ہے جو اصح الکتب بعد کتاب اللہ ہے۔“

(شہادت القرآن ص ٤١، خزائن ج ٦ ص ٣٣٧)

صحیح بخاری کوئی نایاب کتاب نہیں ہے۔ ہر دینی درس گاہ اور ہر عالم کے ہاں موجود ہے۔ یہ کتاب ١١٣٠ صفحات پر مشتمل ہے۔ جن میں ٧٢٧٥ حدیثیں درج ہیں۔ کتاب لے کر دیکھ لیجئے۔ کیا مرزا قادیانی کی محولہ حدیث کا کہیں کوئی نشان ملتا ہے؟ ...... ہرگز نہیں ملے گا۔ چلئے ، یوں اگر آپ نہیں سمجھ سکے تو مرزا قادیانی کی تردید خود ان کی زبانی سنیے۔ وہ کہتے ہیں: ”مہدی کی خبریں ضعف سے خالی نہیں ہیں ، اسی وجہ سے امامین حدیث ( بخاری و مسلم ) نے ان کو نہیں لیا ۔“

(ازالۃ اوہام ص ٥٦٨، خزائن ج ٣ ص ٤٠٦)

جب مرزا قادیانی خود لکھ چکے ہیں کہ بخاری و مسلم میں مہدی کے بارے میں کوئی روایت نہیں ہے تو پھر ”هذا خليفة الله المهدى “ والی روایت بخاری سے کیونکر نکال لائے؟

سچ ہے کہ دروغ گورا حافظہ نباشد۔

ایک ضروری وضاحت

علامہ سعد الدین تفتازانی نے شرح العقائد النسفیہ میں ، مولانا عبد العزیز صاحب پرہارویؒ نے شرح الشرح موسومہ نبراس میں ، اور دیگر علماء اسلام نے بھی بیان کیا ہے کہ اعتقادی مسائل دو قسم کے ہیں۔ ایک وہ جن میں قطعیت اور یقین کے ساتھ ایمان لانا مطلوب ہوتا ہے۔ ایسے مسائل میں دلائل بھی قطعی اور یقینی ، مثلاً قرآن کی آیت ، حدیث متواتر ، اجماع امت درکار ہوتے ہیں۔ دوسرے وہ مسائل جو مرتبہ میں ان سے فروتر ہوتے ہیں۔ ان میں اخبار آحاد ( وہ حدیثیں جو تواتر یا شہرت کی حد تک نہ پہنچی ہوں ) سے بھی استدلال صحیح ہوگا۔

ظہور مہدی کا مسئلہ بھی اسی دوسری نوعیت کے مسائل سے ہے۔ یہ صحیح ہے کہ اسے اصولی عقائد جن پر اسلام کا دارومدار ہے، کی سی حیثیت تو حاصل نہیں ہے۔ لیکن اسے اعتقادی مسائل کی فہرست سے بالکل خارج کر دینا اور اس کے بارے میں وارد شدہ احادیث کو بے التفاتی کی نذر کر دینا بھی قطعاً غلط ہوگا۔ اس گناہ کی جرأت وہی شخص کر سکتا ہے جو علم حدیث اور عقائد سے ناواقف ہو۔ علامہ شوکانی کے بیان کے مطابق اس بارے میں پچاس مرفوع حدیثیں اور ٢٨ آثار

٦٥

صفحہ ٢١١

صحابہ موجود ہیں۔ حافظ ابن حجرؒ نے فتح الباری شرح بخاری میں امام ربانی نے مکتوبات میں اور مولانا عبدالعزیز پرہاروی نے نبراس میں لکھا ہے کہ مہدی کے بارے میں روایات معنی کے اعتبار سے تواتر تک پہنچ جاتی ہیں۔ (اگر چہ لفظاً وہ اخبار آحاد ہیں ۔ ) تو کیا اتنی روایات کو نظر انداز کرنے کی شرعاً کوئی گنجائش ہے؟

اگر مہدی کے بارے میں نقل شدہ روایات کا ایک گروہ نے غلط استعمال کیا ہے یا اس کی تفصیلات میں کوئی اختلاف رونما ہو گیا ہے تو نہ یہ کوئی علمی طریقہ ہے اور نہ دیانت داری کا تقاضا ہے کہ اصل حقیقت ہی کا انکار کر دیا جائے۔ اگر انکار کی اسی وجہ کو معقول قرار دیا جائے تو پھر دین کے بیسیوں مسائل سے دستبردار ہونا پڑے گا۔

ایک غلط فہمی کا ازالہ

بعض لوگوں (جن میں مرزا غلام احمد قادیانی بھی شامل ہیں) کو یہ غلط فہمی ہوئی ہے کہ حدیث کی دو معتبر ترین کتابوں یعنی صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں آنے والے مہدی کا کوئی ذکر ہی نہیں۔ یہ بات اس حد تک تو صحیح ہے کہ مہدی کے نام سے کوئی روایت ان کتابوں میں نہیں ہے۔ لیکن یہ کہنا بالکل غلط ہے کہ مہدی کے متعلق کوئی بات بھی ان میں نہیں ہے۔ بلکہ ایسی متعدد روایات ان کتابوں میں موجود ہیں۔ جن میں امام مہدی کا اجمالی ذکر یا ان سے متعلق بعض علامات کا بیان ہے۔ آگے یہ روایات آ رہی ہیں۔

اس جگہ مناسب معلوم ہوتا ہے کہ ہم قارئین کو ایک قاعدے سے مطلع کر دیں۔ قرآن و حدیث کا یہ عام دستور ہے کہ ایک چیز ایک مقام پر اجمالاً مذکور ہوتی ہے۔ لیکن دوسری جگہ موقع محل کے لحاظ سے ضرورت کے مطابق اس کی تفصیل آ جاتی ہے۔ چند مثالیں ملاحظہ ہوں :

تكليما (سوره النساء : ١٦٤)“ میں نام کی وضاحت موجود ہے۔

نہیں آیا۔صرف ”مچھلی والا“ کہہ دیا گیا ہے۔ لیکن سورۂ صٰفّٰت میں نام کی تصریح موجود ہے: ”وان يونس لمن المرسلين . اذابق الى الفلك المشحون“

آیا۔ صرف اتنا فرمایا گیا: ”فـقـال لهم رسول الله“ سورۂ ہود اور شعراء وغیرہ میں نام کی

٦٦

صراحت موجود ہے۔

پر تشریف فرما ہوئے اور فرمایا: ”ایک بندے کو اللہ تعالیٰ دنیا کی آرائش میں سے اسے دے یا جو کچھ اس کے (پاس نے اسے چن لیا جو اللہ تعالیٰ کے پاس ہے“ فـاخـتار مـا عـ اور ص ٥٤٨ پر دارمی کے حوالہ سے یہ الفاظ صدیقؓ اس فرمان کو سن کر رونے لگ گئے اور کہا: ”حضور ہوں“ تو لوگ حیران ہو کر کہنے لگے: دیکھو، رسول اللہ ﷺ نے اختیار دیا ہے۔ لیکن اس بزرگ کو کیا ہو گیا ہے کہ رو معلوم ہوا کہ اختیار دیئے ہوئے بندے خود رسول اللہ ﷺ تھے۔ وہ حضورؐ کا مدعا سمجھ گئے تھے اور کوئی نہ سمجھ سکا۔

اسی مشکوٰۃ شریف میں ص ٥٦٨ پر مسلم کے اس میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے حمد وثنا کے بعد فرما کہ میرے رب کا قاصد (یعنی موت کا فرشتہ) میرے جاؤں۔ میں تم میں دو بھاری چیزیں چھوڑے جا رہا ہو اہل بیت۔“

اب دیکھئے کہ منقولہ بالا پہلی روایت مـ اپنے نام کی وضاحت نہیں فرمائی۔ دوسری روایت مـ بخاری و مسلم شریف میں اگرچہ امام مہدی کے نام ہیں جن کے متعلق امام مہدی کے نام کی تصریح حدیـ اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا اور یہ ماننا پڑے گا کہ بخـ موجود ہیں۔

اس جگہ ہم یہ ظاہر کر دینا ضروری سمجھتے ہیـ کسی روایت کا نہ ہونا تو مرزا قادیانی کو کھٹکتا ہے۔ یـ

٦٧

صفحہ ٢١١

صراحت موجود ہے۔

٤....... مشکوٰۃ شریف ص ٥٤٦ میں ایک ”متفق علیہ“ روایت موجود ہے کہ رسول اللہ ﷺ منبر پر تشریف فرما ہوئے اور فرمایا: ”ایک بندے کو اللہ تعالیٰ نے اختیار دیا ہے کہ وہ جو کچھ چاہے اسے دنیا کی آرائش میں سے اسے دے یا جو کچھ اسے (یعنے اللہ) کے پاس ہے اسے چن لے۔ تو اس نے اسے چن لیا جو اللہ تعالیٰ کے پاس ہے ”فاختار ما عنده“

اور ص ٥٤٨ پر دارمی کے حوالہ سے یہ الفاظ منقول ہیں: ”فاختار الاخرۃ“ تو ابوبکر صدیقؓ اس فرمان کو سن کر رونے لگ گئے اور کہا: ”حضور ﷺ ! ہم ماں باپ سمیت آپ پر قربان ہوں“ تو لوگ حیران ہو کر کہنے لگے: دیکھو، رسول اللہ ﷺ تو یوں فرماتے ہیں کہ ایک بندے کو اللہ نے اختیار دیا ہے۔ لیکن اس بزرگ کو کیا ہو گیا ہے کہ رو رہے ہیں اور یوں کہہ رہے ہیں۔ بعد میں معلوم ہوا کہ اختیار دیئے ہوئے بندے خود رسول ﷺ تھے۔ ابوبکرؓ سب سے زیادہ عالم اور دانا تھے۔ وہ حضور ﷺ کا مدعا سمجھ گئے تھے اور کوئی نہ سمجھ سکا۔

اسی مشکوٰۃ شریف میں ص ٥٦٨ پر مسلم کے حوالے سے غدیر خم کے خطبہ کا ذکر آیا ہے تو اس میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے حمد وثنا کے بعد فرمایا: ”میں بھی ایک انسان ہوں اور قریب ہے کہ میرے رب کا قاصد (یعنی موت کا فرشتہ) میرے پاس آجائے اور میں اس کے بلاوے پر چلا جاؤں۔ میں تم میں دو بھاری چیزیں چھوڑے جا رہا ہوں۔ پہلی کتاب اللہ ..... اور دوسری میرے اہلِ بیت۔“

اب دیکھئے کہ منقولہ بالا پہلی روایت میں اجمال ہے۔ وہاں آنحضرت ﷺ نے اپنے نام کی وضاحت نہیں فرمائی۔ دوسری روایت میں وضاحت فرمادی گئی۔ اسی طرح سمجھئے کہ بخاری ومسلم شریف میں اگرچہ امام مہدی کے نام کی تصریح نہیں ہے۔ لیکن ایسی علامات مذکور ہیں جن کے متعلق امام مہدی کے نام کی تصریح حدیث کی دوسری معتبر کتابوں میں آگئی ہے۔ تو اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا اور یہ ماننا پڑے گا کہ بخاری ومسلم میں مہدی کے بارے میں روایات موجود ہیں۔

اس جگہ ہم یہ ظاہر کر دینا ضروری سمجھتے ہیں کہ بخاری ومسلم میں امام مہدی کے نام سے کسی روایت کا نہ ہونا تو مرزا قادیانی کو کھٹکا ہے۔ حالانکہ نام کے بغیر ایک روایت بخاری میں، نو

٦٧

صفحہ ٢١٣

روایات مسلم میں موجود ہیں۔ علاوہ ازیں ابوداؤد و ترمذی اور ابن ماجہ میں متعدد روایات نام کے ساتھ منقول ہیں۔ اس کے برعکس مجدد کے سلسلہ میں صرف ایک روایت ابوداؤد میں آئی ہے۔ نہ بخاری مسلم میں اس کا کوئی نشان ملتا ہے۔ نہ دوسری کتابوں میں۔ وہاں تو مرزا قادیانی نے ایک ہی روایت کو بنیاد بنا کر ایک عمارت کھڑی کر دی ہے اور یہاں یہ حال ہے کہ صحاح ستہ کی بیسیوں روایات پر ان کا دل دماغ مطمئن نہیں ہو سکا۔

یا بایں شورا شوری یا بایں بے نمکی

امام مہدی کا تعارف

آئیے، ہم آپ کو امام مہدی کا پورا تعارف کرادیں تا کہ آپ کو یہ فیصلہ کرنے میں آسانی ہو کہ مرزا غلام احمد قادیانی مہدی آخرالزمان ہو سکتے ہیں یا نہیں۔

نام

آنحضرت ﷺ کے اسم گرامی کے مطابق (محمد) ”یواطی اسمه اسمی“

(ترمذی ج ٢ ص ٤٦، ابو داؤد ج ٢ ص ٢٣٢ بروایت عبداللہ بن مسعودؓ)

ولدیت

آنحضرت ﷺ کے والد ماجد کے نام کے مطابق (عبداللہ) ”واسم ابیہ اسم ابی (ابو داؤد ص ٢٣٢)“

قومیت

سید، فاطمی، حسنی، حوالہ جات ملاحظہ ہوں:

(ابوداؤد بروایت علیؓ) “

١؎ اس روایت کی صحت کو مرزا غلام احمد نے بھی تسلیم کیا ہے۔

(دیکھئے ازالۃ الاوہام ص ١٣٨، خزائن ج ٣ ص ١٧٥)

٦٨

الخدریؓ) “

مولد ومسکن

مدینہ منورہ ”المهدی مولده بالمدينة (فتاـ رجل من اهل المدينة (ابوداؤد ج ٢ ص ٢٣٢) “

حلیہ

فی خده الایمن خال اسود (فتاوى حديثيه بحـ حذيفة) “

ص ٢٣٢)“

الثنايا (فتاوى حديثيه ص ٣٠) “

مقام بیعت

مدینہ منورہ میں حالات خراب ہو جائیں گے، اور وہ بے دریغ مردوں اور خواتین خصوصاً بنی ہاشم کو قتـ کو چھوڑ کر مکہ چلے جائیں گے۔ اہل مکہ انہیں خلافت قبوـ نخواستہ قبول کر لیں گے۔ حجر اسود اور مقام ابراہیم کے درمـ شام کے ابدال اور عراق کے سربرآوردہ لوگ بھی ان سـ وقت صفا کے نزدیک ایک مکان میں ان کی رہائش ہوگی، پھر وہ منبر پر تشریف لائیں گے اور خطبہ دیں گے۔ یہ واقـ فتاویٰ حدیثیہ میں موجود ہیں۔

ایک اہم واقعہ

حضرت امام مہدی کی بیعت ہو جانے کے بـ ٦٩

صفحہ ٢١٣

الخدری)“

مولد ومسکن

مدینہ منورہ ”المهدى مولده بالمدينة (فتاوی حديثيه ص ٣٠) “ ”فيخرج رجل من اهل المدينة (ابوداؤد ج ٢ ص ٢٣٢)“

حلیہ

في خده الايمن خال اسود (فتاوی حديثيه بحواله ابی نعیم، بروایت ابی امامہ و حذیفہ)“

ص ٢٣٢)“

الثنايا (فتاوی حديثيه ص ٣٠)“

مقام بیعت

مدینہ منورہ میں حالات خراب ہو جائیں گے۔ ایک فوج اس پر چڑھائی کرے گی اور وہ بے دریغ مردوں اور خواتین خصوصاً بنی ہاشم کو قتل کرے گی۔ اس لئے محمد مہدی مدینہ کو چھوڑ کر مکہ چلے جائیں گے۔ اہل مکہ انہیں خلافت قبول کرنے پر مجبور کریں گے۔ وہ بادل نخواستہ قبول کر لیں گے۔ حجر اسود اور مقام ابراہیم کے درمیان ان کی بیعت ہوگی۔ اس کے بعد شام کے ابدال اور عراق کے سربہ آوردہ لوگ بھی ان کے پاس جا کر انہیں مجبور کریں گے۔ اس وقت صفا کے نزدیک ایک مکان میں ان کی رہائش ہوگی ۔ جب وہ لوگ بھی بیعت کر لیں گے تو پھر وہ منبر پر تشریف لائیں گے اور خطبہ دیں گے۔ یہ واقعات مختصر ابوداؤد میں اور تفصیل سے فتاویٰ حدیثیہ میں موجود ہیں۔

ایک اہم واقعہ

حضرت امام مہدی کی بیعت ہو جانے کے بعد ایک لشکر ان سے مقابلہ کے لئے شام

٦٩

صفحہ ٢١٥

سے روانہ ہوگا۔ جو ان تک نہ پہنچ سکے گا۔ بلکہ مکہ اور مدینہ کے درمیان بیداء کے میدان میں دھنس جائے گا۔ صرف تھوڑے سے لوگ رہ جائیں گے جو بعد میں واقعہ کی خبر دے سکیں گے۔ اس روایت میں امام مہدی کا نام تو نہیں ہے۔ لیکن امام ابوداؤد نے اسے باب ذکر المہدی میں نقل کیا ہے اور اس روایت کے مختلف اجزاء کو دوسری روایات سے تطبیق دی جائے تو لازماً ماننا پڑتا ہے کہ یہ واقعہ امام مہدی ہی سے تعلق رکھتا ہے۔ علامہ ابن حجر مکی نے بھی امام مہدی کے بارے میں نقل کیا ہے:

حوالہ جات...... (صحیح مسلم ج ٢ ص ٣٨٨ بروایت امہات المومنین حضرت سلمہؓ، حضرت حفصہؓ،

حضرت عائشہؓ، ابوداؤد بروایت ام سلمہؓ، ابن ماجہ ص ٣٠٤ بروایت ام سلمہؓ، حضرت صفیہؓ، فتاویٰ حدیثیہ ص ٣٤)

امام مہدی کا نظام حکومت

اس سلسلہ میں چند باتیں قابل ذکر ہیں:

مالک ہوں گے۔ حدیث شریف میں آیا ہے: ”يملك العرب (ابوداؤد وترمذی)“

ظلم وستم سے بھر چکی ہوگی: ”يملأ الارض قسطاً او عدلا كما ملئت ظلما وجورا (ابوداؤد ج ٢ ص ١٣١)“

قدر وہ اٹھا سکے گا۔ اسے گنے بغیر دے دیں گے۔

مہدی! مجھے کچھ دیجئے، تو وہ جتنا اٹھا سکے گا۔ اس کے کپڑے میں ڈال دیں گے۔

میں بھی مہدی کے نام کی صراحت ہے۔

١؎ پہلے لوگوں کا تو ایمان بالغیب قوی تھا ہی اب اگرچہ ایمان بالغیب اس درجہ قوی نہیں رہا تاہم قدرت نے ظاہری حالات اس قسم کے پیدا کر دیئے ہیں کہ چودہ سو سال پیشتر کی پیشگوئیوں کو توڑ مروڑ کئے بغیر حرف بحرف ماننا پڑتا ہے۔ ممالک اسلامیہ میں دولت کی ریل پیل ہے وہ بتا رہی ہے کہ یہ پیشگوئی پوری ہو کر رہے گی۔

٧٠

بانٹے گا اور اسے شمار نہیں کرے گا...... اور جابرؓ سے رو شمار کئے بغیر مال بھر بھر دے گا۔

ج ٢ ص ٤٦، ابوداؤد ج ٢ ص ٢٣٤، ابن ماجہ ص ٣٠٩) حضر عیسیٰ علیہ السلام کا امام بننا آگے زیر بحث آ رہا ہے۔

اب یہ فیصلہ قارئین خود ہی کر سکتے ہیں احادیث کے مطابق پورا نہیں اترتا، کیا وہ مہدی آخر

اور وہیں سکونت پذیر رہا۔

اندر کو دھنسے ہوئے، آنکھیں چھوٹی اور عیب دار۔ ب

حکومت کی کرسی پر شاید وہ کبھی خواب عاجز اس دنیا کی بادشاہت اور حکومت کے ساتھ ہے۔“

دستر خوان کی فکر میں رہتا تھا (نزول المسیح) اور ملکہ و پرورش پا رہا تھا (نور الحق حصہ اول ص ٤، خزائن ج ٨ ص

دوسروں کو سناتا رہا (تریاق القلوب ص ١٥، خزائن

صفحہ ٢١٥

بانٹے گا اور اسے شمار نہیں کرے گا...... اور جابرؓ سے روایت ہے کہ اخیر امت میں ایک خلیفہ ہوگا جو شمار کئے بغیر مال بھر بھر دے گا۔

ج ٢ ص ٤٦، ابو داؤد ج ٢ ص ٢٣٣، ابن ماجہ ص ٣٠٩) حضرت امام مہدی کا جہاد کرنا اور نماز میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا امام بننا آگے زیر بحث آ رہا ہے۔

اب یہ فیصلہ قارئین خود ہی کر سکتے ہیں کہ ایسا شخص جو کسی پہلو سے بھی مذکورہ بالا احادیث کے مطابق پورا نہیں اترتا، کیا وہ مہدی آخر الزمان ہو سکتا ہے؟

اور وہیں سکونت پذیر رہا۔

اندر کو دھنسے ہوئے، آنکھیں چھوٹی اور عیب دار۔ یہ ہے اس کا حلیہ۔

حکومت کی کرسی پر شاید وہ کبھی خواب میں بھی نہ بیٹھا ہو گا بلکہ وہ اعتراف کرتا ہے: ”یہ عاجز اس دنیا کی بادشاہت اور حکومت کے ساتھ نہیں آیا۔ درویشی اور غربت کے لباس میں آیا ہے۔“

(ازالۃ اوہام ص ٢٠٠، خزائن ج ٣ ص ١٩٧)

دستر خوان کی فکر میں رہتا تھا (نزول المسیح) اور ملکہ وکٹوریہ کے احسان کی بارش اور مہربانی کے مینہ سے پرورش پا رہا تھا (نور الحق حصہ اوّل ص ٤، خزائن ج ٨ ص ٦) وہ دوسروں کی خبر گیری کیا کرتا؟

دوسروں کو سناتا رہا (تریاق القلوب ص ١٥، خزائن ج ١٥ ص ١٥٥) اور انگریزی سلطنت کو مکہ معظمہ

صفحہ ٢١٧

اور مدینہ منورہ سے بڑھ کر جائے امن قرار دیتا رہا۔ (ازالہ اوہام ص ٥٤، خزائن ج ٣ ص ١٤٠ حاشیہ، اتمام الحجہ ص ٢٧، خزائن ج ٨ ص ٢٧٠، تریاق القلوب ص ١٥، خزائن ج ١٥ ص ١٥٦) وہ دنیا کو عدل وانصاف کا مژدہ کیونکر سناتا؟

قادیانیو! کچھ تو ہوش سے کام لو۔ افلا تتذکرون؟

خونی مہدی کا افسانہ

بروئے احادیث صحیحہ مسلمانوں کا عقیدہ ہے کہ اعداء اسلام کے ساتھ جہاد کا سلسلہ قیامت تک جاری رہے گا اور امام مہدی کا ظہور ہوگا تو وہ بھی جہاد فرمائیں گے۔ لیکن مرزا قادیانی کا مشن یہ رہا کہ وہ مسلمانوں کے امام مہدی کو خونی مہدی کا لقب دے کر ہمیشہ اس عقیدے کی تردید کرتے رہے۔ جبکہ اپنی عادت کے مطابق انہوں نے ”خونی مہدی“ کہہ کر ان کا مذاق بھی اڑایا۔ چند حوالے ملاحظہ ہوں:

ممانعت جہاد اور انگریزی اطاعت کے بارے میں اس قدر کتابیں لکھی ہیں اور اشتہار شائع کئے ہیں کہ اگر وہ رسائل اور کتابیں اکٹھی جمع کی جائیں تو پچاس الماریاں بھر سکتی ہیں ...... میری ہمیشہ کوشش رہی ہے کہ مسلمان اس سلطنت کے سچے خیرخواہ ہو جائیں اور مہدی خونی اور مسیح خونی کی بے اصل روایتیں اور جہاد کے جوش دلانے والے مسائل، جو احمقوں کے دلوں کو خراب کرتے ہیں۔ ان کے دلوں سے معدوم ہو جائیں۔“

(تریاق القلوب ص ١٥، خزائن ج ١٥ ص ١٥٥، ١٥٦)

کے معتقدین کم ہوتے جائیں گے۔ کیونکہ مجھے مسیح اور مہدی مان لینا ہی مسئلہ جہاد کا انکار ہے۔“

(کتاب البریہ ص ٣٥، خزائن ج ١٣ ص ٣٣٧)

اب چھوڑ دو جہاد کا اے دوستو خیال دیں کے لئے حرام ہے اب جنگ اور قتال
اب آسمان سے نور خدا کا نزول ہے اب جنگ اور جہاد کا فتویٰ فضول ہے

(ضمیمہ تحفہ گولڑویہ ص ٢٧، خزائن ج ١٧ ص ٧٧)

”اب آسمان سے نورِ خدا کا نزول ہے۔“ کیا مطلب؟ ”جب جہاد درست تھا اور

٧٢

اعلاء کلمۃ اللہ کے لئے قتال ہی ہورہا تھا۔ یعنی عہد رسالت، راشدہ اور اس کے بعد مرزا قادیانی کی آمد تک، کیا اس وقت رہی تھی؟ جاہل آدمی کو بات کرنے کا سلیقہ بھی نہیں ہے۔ بات کہہ گئے ہیں:

جنگ مومن سنت ق
جنگ شاہان جہاں غا

آیئے اس سلسلہ میں کتاب وسنت کے احکام اگر ہم مسئلہ جہاد کے متعلق مفصل گفتگو شرو گی۔ جس کی ان اوراق میں گنجائش نہیں ہے۔ تاہم ”ما لا عرض کر دینا ضروری ہے۔

جو شخص قرآن پاک کو سمجھ سکتا ہے۔ وہ جانتا بڑی سورتیں احکام جہاد کے بارے میں نازل ہوئی ہیں رہیں گے اور آنحضرت ﷺ نے اپنے فرامین سے ان احادیث پیش ہیں:

ارشاد ربانی: ”اذن للذین یقتلون با لقدیر، الذین اخرجوا من دیارهم (الحج: ٣٩، ٤٠) ”وہ لوگ جن کے ساتھ لڑائی کی گئی ہے۔ کیونکہ ان پر بڑا ظلم ہوا ہے اور اللہ یقینا ان کی جنہیں ناحق اپنے گھروں سے نکالا گیا۔ ان کا جرم ا ہمارا رب ہے۔ ﴾

اس فرمان خداوندی سے واضح ہو جاتا ہے کے لئے جوابی کارروائی کے طور پر دی گئی ہے۔ آج وہاں قتال کی اجازت ہوگی۔ قارئین کرام پہلی جنگ رکھیں، ترکی سلطنت کا تیا پانچہ کیونکر ہوا؟ مصر پر انگریز

٧٣

صفحہ ٢١٧

اعلاء کلمتہ اللہ کے لئے قتال ہی ہو رہا تھا۔ یعنی عہد رسالت (علی صاحبہا الصلوٰۃ والسلام) خلافت راشدہ اور اس کے بعد مرزا قادیانی کی آمد تک، کیا اس وقت تک نور خدا کی بجائے ”ظلمت“ برس رہی تھی؟ جاہل آدمی کو بات کرنے کا سلیقہ بھی نہیں ہے۔ اقبال مرحومؒ ایک شعر میں بڑے پتے کی بات کہہ گئے ہیں:

جنگ مومن سنت پیغمبر است
جنگ شاہان جہاں غارتگری است

آئیے اس سلسلہ میں کتاب وسنت کے احکام سن لیں: اگر ہم مسئلہ جہاد کے متعلق مفصل گفتگو شروع کریں تو یقیناً بات بہت لمبی ہو جائے گی۔ جس کی ان اوراق میں گنجائش نہیں ہے۔ تاہم ”ما لا يدرك كله لا يترك كله“ کچھ نہ کچھ عرض کر دینا ضروری ہے۔

جو شخص قرآن پاک کو سمجھ سکتا ہے۔ وہ جانتا ہے کہ چند آیات ہی نہیں بلکہ بعض بڑی بڑی سورتیں احکام جہاد کے بارے میں نازل ہوئی ہیں اور یہ احکام ابدی ہیں جو تاقیامت نافذ رہیں گے اور آنحضرت ﷺ نے اپنے فرامین سے ان کی ابدیت پر مہر لگا دی ہے۔ چند آیات اور احادیث پیش ہیں:

ارشاد ربانی: ”أذن للذين يقتلون بانهم ظلموا ، وان الله على نصرهم لقدير ، الذين اخرجوا من ديارهم بغير حق الا ان يقولوا ربنا الله (الحج: ٣٩، ٤٠) “ ٭ وہ لوگ جن کے ساتھ لڑائی کی جاتی ہے۔ انہیں بھی لڑنے کی اجازت دی گئی ہے۔ کیونکہ ان پر بڑا ظلم ہوا ہے اور اللہ یقیناً ان کی امداد کرنے پر قادر ہے۔ یہ وہی لوگ تو ہیں جنہیں ناحق اپنے گھروں سے نکالا گیا۔ ان کا جرم اس کے سوا کچھ نہ تھا کہ وہ کہتے ہیں، ایک اللہ ہمارا رب ہے۔ ٭

اس فرمان خداوندی سے واضح ہو جاتا ہے کہ شریعت میں قتال کی اجازت ظلم کو روکنے کے لئے جوابی کارروائی کے طور پر دی گئی ہے۔ آج بھی جہاں یہ حالات پائے جائیں گے۔ یقیناً وہاں قتال کی اجازت ہوگی۔ قارئین کرام پہلی جنگ عظیم سے لے کر اب تک کے حالات سامنے رکھیں، ترکی سلطنت کا تیا پانچہ کیونکر ہوا؟ مصر پر انگریزوں کا، شام پر فرانس کا، طرابلس پر اٹلی کا تسلط،

٧٣

صفحہ ٢١٩

ارشاد ربانی: ”وقاتلو هم حتى لا تكون انتهوا فلا عدوان الا على الظلمين (بقرہ:١٩٣) ”

ارشاد نبوی نمبر ١

”لاتزال طائفة من امتى يقاتلون القيامة (مسلم ج ١ ص ٨٧) ” میری امت کا ایک گر کے دن تک وہ رہے گا۔“

ارشاد نبوی نمبر ٢

”الجهاد ما ض مذ بعثني الله الى لا يبطله جور جائر ولا عدل عادل (ابوداؤد ج ١ فرمایا) جہاد کا سلسلہ میری بعثت کے زمانے سے جاری ہے حصہ دجال سے لڑائی کرے گا اور درمیان میں نہ تو کسی ظالم ( نیک کی نیکی۔“

مطلب یہ کہ کوئی بادشاہ اگر فاسق فاجر ہوگا، تب بھی ہوگا، تب بھی بدی اور ظلم کو مٹانے کے لئے جہاد کا سلسلہ قائم ر

ارشاد نبوی نمبر ٣

”لاتزال طائفة من امتى يقاتلون عل هم حتى يقاتل اخرهم المسيح الدجال (ابوداؤد

ان آیات اور احادیث سے بالکل واضح ہو گیا کے وقت تک چراغ مصطفوی سے شرار بولہبی کی ستیزہ کار بھی ہوتا رہے گا۔ اب جو احادیث خاص طور پر امام مہدی سناں لے کر میدان میں آئیں گے ۔ تو ان احادیث کو ”م لئے کہ ان حدیثوں کو تسلیم کرنے سے آپ کے دعوے پر زد کتابوں سے نکال سکتے ہیں اور نہ ان میں آپ کی کوئی تاوی

برو ایں دام بر مرغ
کہ عنقا را بلند است

٧٥

صفحہ ٢١٩

ارشادربانی:” وقاتلو هم حتى لاتكون فتنه ويكون الدين لله فان انتهوا فلا عدوان الا على الظلمين (بقره:١٩٣)“

ارشاد نبوی نمبر ١

”لاتزال طائفة من امتى يقاتلون على الحق ظاهرين الى يوم القيامة (مسلم ج ١ ص ٨٧)“ ﴿ میری امت کا ایک گروہ حق کی خاطر لڑتا رہے گا اور قیامت کے دن تک وہ رہے گا۔﴾

ارشاد نبوی نمبر ٢

”الجهاد ماض مذ بعثنى الله الى ان يقاتل اخر امتى الدجال ، لايبطله جور جائر ولا عدل عادل (ابوداؤد ج ١ ص ٢٥٣)“ ﴿(رسول اللہ ﷺ نے فرمایا) جہاد کا سلسلہ میری بعثت کے زمانے سے جاری ہے۔ یہاں تک کہ میری امت کا آخری حصہ دجال سے لڑائی کرے گا اور درمیان میں نہ تو کسی ظالم ( بادشاہ) کا ظلم اسے ختم کرے گا نہ کسی نیک کی نیکی ۔ ﴾

مطلب یہ کوئی بادشاہ اگر فاسق فاجر ہوگا، تب بھی جہاد ہوتا رہے گا اور کوئی صالح اور متقی ہوگا، تب بھی بدی اور ظلم کو مٹانے کے لئے جہاد کا سلسلہ قائم رہے گا۔

ارشاد نبوی نمبر ٣

”لاتزال طائفة من امتى يقاتلون على الحق ظاهرين على من ناوا هم حتى يقاتل اخرهم المسيح الدجال (ابوداؤد ج ٢ ص ٢٤٨)“

ان آیات اور احادیث سے بالکل واضح ہوگیا کہ جہاد کا حکم ابدی ہے۔ خروج دجال کے وقت تک چراغ مصطفوی سے شرار بولہبی کی ستیزہ کاری کا سلسلہ قائم رہے گا اور اس کا دفاع بھی ہوتا رہے گا۔ اب جو احادیث خاص طور پر امام مہدی کے بارے میں یہ بتاتی ہیں کہ وہ شمشیر و سناں لے کر میدان میں آئیں گے۔ تو ان احادیث کو ”افسانہ“ کیوں قرار دیا جاتا ہے؟ کیا اس لئے کہ ان حدیثوں کو تسلیم کرنے سے آپ کے دعوے پر زد پڑتی ہے؟ آپ ان صریح نصوص کو نہ تو کتابوں سے نکال سکتے ہیں اور نہ ان میں آپ کی کوئی تاویل چل سکتی ہے:

برو ایں دام بر مرغ دگر نہ
کہ عنقا را بلند ہست آشیانہ

٧٥

صفحہ ٢٢١

اس موقع پر یہ بتانا مناسب ہوگا کہ صحیح مسلم (کتاب الفتن) میں چند روایات آئی ہیں جن کا حاصل یہ ہے کہ قیامت سے پہلے مسلمانوں کی کافروں (رومی عیسائیوں) سے خونریز لڑائی ہوگی۔ بہت سے مسلمان شہید ہوں گے۔ بالآخر اللہ تعالیٰ انہیں فتح دے گا۔ ایک ساحلی شہر کراماتی انداز میں فتح ہوگا۔ اسی دوران میں یہ خبر پھیلے گی کہ دجال نکل آیا ہے۔ مسلمان سب کچھ چھوڑ کر میدان جنگ سے اپنے گھروں کو لوٹ آئیں گے۔

(دیکھئے مسلم ج ٢ ص ٣٩٢)

علامہ ابن حجر مکیؒ نے (فتاویٰ حدیثیہ ص ٣٣) میں خطیب کے حوالہ سے ایک حدیث نقل کی ہے۔ اس میں تصریح ہے کہ رومیوں کے ساتھ ہونے والی اس لڑائی کے وقت مسلمانوں کا جو فرمانروا ہوگا۔ وہ آنحضرت ﷺ کی اولاد میں سے اور حضور ﷺ کا ہم نام ہوگا۔ رجل من عترتی یواطی اسمہ اسمی ...... اس روایت سے واضح ہو گیا کہ مسلم کی محولہ بالا روایات کا تعلق امام محمد مہدی سے ہی ہے۔

قصہ مختصر! امام مہدی کے قتال کے بارے میں حدیث کی معتبر ترین کتابوں میں واضح پیشگوئیاں موجود ہیں۔ ان کے باوجود مرزا قادیانی اگر ”خونی مہدی“ کی پھبتی کستے ہیں تو یہ ان کا حصہ ہے۔ اب وہ ہمارے سامنے نہیں ہیں کہ ہم ان سے بات کرتے۔ جو لوگ ان کے پیچھے اندھا دھند چل رہے ہیں۔ ہم ان سے کہتے ہیں کہ وہ عقل و خرد سے کام لیں۔

مہدی کی امامت کا قصہ

تمہیداً اس سلسلہ میں دو باتیں ذکر کر دی جائیں۔ ایک یہ کہ ”امام“ کے لفظی معنی پیشوا کے ہیں۔ اسلامی لٹریچر میں یہ لفظ دو معنوں میں استعمال ہوتا ہے۔ ایک تو وہ جس کے ہاتھ میں مسلمانوں کے دینی اور دنیوی امور کی قیادت ہو۔ دوسرا وہ جس کی اقتداء اور پیروی نماز میں کی جائے۔ علماء اسلام نے ان دونوں معنوں میں فرق ظاہر کرنے کے لئے ”امامت کبریٰ“ اور ”امامت صغریٰ“ کی اصطلاحیں وضع کی ہیں۔

دوسری بات یہ ہے کہ ابتداء اسلام (یعنی دور صحابہؓ) میں خلفاء راشدینؒ جہاں دوسرے ملی اور ملکی امور میں امت کے قائد اور رہنما ہوتے تھے۔ وہاں وہ جمعہ اور عیدین کے علاوہ پنجگانہ نماز میں بھی امامت فرماتے تھے۔ بعد کے خلفاء نے پنجگانہ نماز کی امامت کا اہتمام تو چھوڑ دیا۔ لیکن عیدین وغیرہ کی امامت خود کرتے رہے۔ صدیوں تک بلاد اسلامیہ میں یہی معمول رہا۔ اب آئیے اصل مسئلہ کی طرف! گزشتہ اوراق میں آپ بحوالہ حدیث پڑھ چکے ہیں کہ

٧٦

امام مہدی بلاد عرب کے فرمانروا ہوں گے۔ ”یملك العرب“ پر فائز ہوں گے۔ لیکن ان کی حیثیت تمام دنیا دار بادشاہوں گے اور آنحضرت ﷺ کے نقش قدم پر چلنے والے۔ جی ہے۔ ”یشبہہ فی الخلق“ اس لئے وہ نماز کی امامت ایک نہیں بلکہ متعدد روایات میں یہ مضمون آیا کے وقت امام مہدی نماز پڑھانے کے لئے آگے بڑھ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو دیکھ کر وہ پیچھے کو ہٹ جائیں انہیں کی اقتداء میں ادا فرمائیں گے۔ اس بارے میں آئی

پہلے نقل ہو چکا ہے۔ اسی میں آگے ہے: ”فينزل عيسى تعال صل بنا فيقول لا ان بعضكم على (مسلم ج ١ ص ٨٧) ”تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام نازل سے درخواست کریں گے کہ تشریف لائیے۔ ہمیں نماز دوسرے کے امیر ہو اور اللہ نے اس امت کو یہ اعزاز بخشا کے پیچھے نماز ادا کریں گے)“

اس حدیث میں امام مہدی کے نام کی تصریح میں جلدی نہ کیجئے۔ پہلے یہ سن لیجئے کہ علامہ ابن حجر مکیؒ نے اور اس میں ”امیرہم المہدی“ کی تصریح ہے۔

یہ ہیں: ”قال رسول الله ﷺ: منا المهدى يص ص ٣٣) ”رسول اللہ ﷺ نے فرمایا۔ مہدی ہم میں کے پیچھے نماز پڑھیں گے۔“

١؎ یہ ایک لمبی حدیث کا ٹکڑا ہے جو ابو داؤد اور ...... یواطی اسمہ اسمی مرزا قادیانی نے اپنی کتاب (ازالہ کے اس روایت کی صحت کو تسلیم کر لیا ہے۔

٧٧

صفحہ ٢٢١

امام مہدی بلاد عرب کے فرمانروا ہوں گے۔ ”يملك العرب“ لے اور یوں وہ امامت کبریٰ کے منصب پر فائز ہوں گے۔ لیکن ان کی حیثیت تمام دنیا دار بادشاہوں کی سی نہیں ہوگی بلکہ وہ خلیفہ راشد ہوں گے اور آنحضرت ﷺ کے نقش قدم پر چلنے والے۔ جیسا کہ حدیث شریف میں صراحت آگئی ہے۔ ”يشبهه فى الخلق“ اس لئے وہ نماز کی امامت بھی فرمایا کریں گے۔

ایک نہیں بلکہ متعدد روایات میں یہ مضمون آچکا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کے وقت امام مہدی نماز پڑھانے کے لئے آگے بڑھ چکے ہوں گے اور تکبیر کہی جاچکی ہوگی۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو دیکھ کر وہ پیچھے کو ہٹ جائیں گے۔ لیکن حضرت عیسیٰ علیہ السلام یہ نماز انہیں کی اقتداء میں ادا فرمائیں گے۔ اس بارے میں آئی ہوئی چند احادیث درج ذیل ہیں:

پہلے نقل ہو چکا ہے۔ اسی میں آگے ہے: ”فينزل عيسىٰ بن مريم ﷺ فيقول اميرهم تعال صل بنا فيقول لا ان بعضكم على بعض امراء تكرمة الله هذه الامة (مسلم ج ١ ص ٨٧) ”تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام نزول فرمائیں گے۔ مسلمانوں کے امیر ان سے درخواست کریں گے کہ تشریف لایئے۔ ہمیں نماز پڑھایئے۔ وہ فرمائیں گے نہیں۔ تم ایک دوسرے کے امیر ہو اور اللہ نے اس امت کو یہ اعزاز بخشا ہے (کہ ایک نبی اس امت کے ایک فرد کے پیچھے نماز ادا کریں گے)﴾

اس حدیث میں امام مہدی کے نام کی تصریح نہیں ہے۔ لیکن ٹھہریئے! اعتراض کرنے میں جلدی نہ کیجئے۔ پہلے یہ سن لیجئے کہ علامہ ابن حجر مکیؒ نے ابو نعیم کے حوالہ سے یہ روایت نقل کی ہے اور اس میں ”اميرهم المهدى“ کی تصریح ہے۔

(فتاویٰ حدیثیہ ص ٣٢)

یہ ہیں: ”قال رسول الله ﷺ: منا المهدى يصلى عيسىٰ بن مريم خلفه (فتاویٰ ص ٣٢)“ ﴿رسول اللہ ﷺ نے فرمایا۔ مہدی ہم میں سے ہوں گے اور حضرت عیسیٰ بن مريم ان کے پیچھے نماز پڑھیں گے۔﴾

لے یہ ایک لمبی حدیث کا ٹکڑا ہے جو ابو داؤد اور ترمذی میں آئی ہے۔ اس حدیث کا دوسرا ٹکڑا خود مرزا قادیانی نے اپنی کتاب (ازالہ اوہام ص ١٤٨، خزائن ج ٣ ص ١٧٥) میں نقل کر کے اس روایت کی صحت کو تسلیم کرلیا ہے۔

٧٧

صفحہ ٢٢٣

فبينما هم قد تقدم من يصلي بهم الصبح اذ نزل عليهم عيسى بن مريم الصبح فرجع ذالك الامام ينكص يمشي القهقرى ليتقدم عيسى فيضع عيسى يده بين كتفيه ثم يقول له تقدم فانها لك اقيمت فيصلي بهم امامهم (ابن ماجه ص ٣٠٨) ﴿ان (مسلمانوں) کا امام مہدی ہوگا۔ وہ ایک نیک مرد ہوگا۔ اس دوران میں کہ وہ صبح کی نماز پڑھانے کے لئے آگے بڑھ چکا ہوگا تو حضرت عیسیٰ بن مریم صبح کے وقت تشریف لے آئیں گے۔ وہ امام الٹے پاؤں چل کر پیچھے کو ہٹ جائے گا۔ تاکہ حضرت عیسیٰ آگے بڑھیں تو حضرت عیسیٰ اپنا ہاتھ اس کے کندھوں کے درمیان رکھیں گے اور فرمائیں گے تم آگے بڑھو۔ یہ تکبیر تمہارے لئے کہی گئی ہے تو ان کا اپنا امام انہیں نماز پڑھا دے گا۔﴾

ہے: ”رسول اللہ ﷺ نے فرمایا۔ میری امت کا ایک گروہ حق کی خاطر لڑتا رہے گا۔ حتیٰ کہ صبح کے وقت بیت المقدس میں حضرت عیسیٰ بن مریم علیہما السلام تشریف لے آئیں گے۔ وہ مہدی کے پاس اتریں گے۔ ان سے کہا جائے گا اے اللہ کے نبی! آگے بڑھ کر ہمیں نماز پڑھائیے۔ وہ فرمائیں گے اس امت کے آدمی ایک دوسرے پر امیر ہوتے ہیں۔“

(فتاویٰ حدیثیہ ص ٣٢)

ان روایات سے یہ بات اظہر من الشمس ہو جاتی ہے کہ نزول مسیح علیہ السلام کے وقت مسلمانوں کے امیر اور امام حضرت مہدی ہوں گے۔ ان کے مناقب اور مفاخر میں ایک بات یہ بھی شامل ہوگی کہ اللہ کے ایک پیارے نبی ان کی اقتداء میں نماز ادا فرمائیں۔ اسی مضمون کو ایک روایت میں جسے بخاری اور مسلم دونوں نے نقل کیا ہے یوں تعبیر فرمایا گیا ہے: ”كيف انتم اذا نزل ابن مريم فيكم وامامكم منكم

(بخاری ج ١ ص ٤٩٠، مسلم ج ١ ص ٨٧)

﴿یعنی رسول اللہ ﷺ نے فرمایا۔ اس وقت تمہارا کیا حال ہوگا جب کہ تم میں ابن مریم نازل ہوں گے اور تمہارا امام تم میں سے ہوگا۔﴾

اس حدیث سے دو باتیں واضح ہو جاتی ہیں۔ ایک یہ کہ آنے والے ابن مریم اس امت میں سے نہیں ہیں۔ دوسری یہ کہ جس وقت وہ آئیں گے تو مسلمانوں کے امام اسی امت کے ایک فرد ہوں گے اور دوسری احادیث میں تصریح ہے کہ وہ امام مہدی ہوں گے۔

صحیح مسلم میں بعض راویان حدیث کی مہربانی سے الفاظ میں کچھ تغیر وتبدل ہو گیا ہے۔ حالانکہ صحیح بخاری میں صرف یہی الفاظ آئے ہیں جو اوپر نقل ہو چکے ہیں۔ مسلم میں ان الفاظ کے علاوہ ”فامكم منكم“ اور ”فامكم“ کے الفاظ بھی منقول ہیں۔ ان الفاظ کا یہ مطلب پھر بھی کسی

٧٨

نے بیان نہیں کیا کہ ابن مریم اسی امت میں سے ہوں گے لانے کے بعد تمہاری شریعت کے مطابق حکم چلائیں گے مطلب کے مطابق کسی اسلامی عقیدہ پر زد نہیں پڑتی۔ تا دوسری احادیث سے ہم آہنگ ہو۔ یہی وجہ ہے کہ حافظ ”علامہ طیبی فرماتے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ حضرت عیسیٰ کہ وہ تمہارے دین میں ہوں گے۔ مگر مسلم کی دوسری ہے) اس مطلب کو غلط قرار دیتی ہے۔ اس میں یہ الفاظ نماز پڑھائیے۔ وہ فرمائیں گے نہیں تم ہی ایک دوسرے دیا ہے۔“

امام ابن حجر نے آگے ابن الجوزی کے حوالہ ”اگر حضرت عیسیٰ علیہ السلام آگے بڑھ کر کہا جائے گا کہ کیا وہ نبی آخر الزمان ﷺ کے نائب ہو نئی شریعت کے بانی ہونے کے لحاظ سے۔ اسی لئے وہ من کے فرمان ”لا نبی بعدی“ پر شک و شبہ کی گرد بھی نہ پ خلاصہ یہ کہ دیگر متعدد روایات اور اس روای میں بھی حضرت مہدی کی امامت کا ذکر موجود ہے۔١

بات کا بتنگڑ اور رائی کا پربت بنانا چنداں م جمانا چاہتے ہیں کہ افسانے کو حقیقت یا ہست کو نیست انہیں دیر نہیں لگتی۔ جو کچھ ہم نے دوسری احادیث اور ہے۔ اس سے واضح ہو گیا ہے کہ حدیث شریف ”كيف وامامكم منكم“ میں دراصل امام مہدی کی خبر دی سے کسی نے بھی اس حدیث کو پڑھ کر یہ نہیں کہا کہ آ ہوں گے۔ لیکن مرزا قادیانی کی شاید ہی کوئی کتاب ہو

١؎ ان اوراق سے آپ کو بخوبی معلوم ہو چک صحیح مسلم میں اور ایک روایت صحیح بخاری میں موجود بخاری و مسلم) میں مہدی کے متعلق کوئی روایت نہیں ہ

٧٩

صفحہ ٢٢٣

نے بیان نہیں کیا کہ ابن مریم اسی امت میں سے ہوں گے۔ بلکہ یہ کہا ہے کہ ابن مریم تشریف لانے کے بعد تمہاری شریعت کے مطابق حکم چلائیں گے نہ کہ انجیل کے مطابق ...... اگرچہ اس مطلب کے مطابق کسی اسلامی عقیدہ پر زد نہیں پڑتی۔ تاہم حدیث کی صحیح تشریح وہی ہو سکتی ہے جو دوسری احادیث سے ہم آہنگ ہو۔ یہی وجہ ہے کہ حافظ الامہ امام ابن حجر عسقلانیؒ فرماتے ہیں: ”علامہ طیبیؒ فرماتے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ حضرت عیسیٰ تمہارے امام ہوں گے۔ اس حالت میں کہ وہ تمہارے دین میں ہوں گے۔ مگر مسلم کی دوسری حدیث (جو اس کے بعد متصل ہی منقول ہے) اس مطلب کو غلط قرار دیتی ہے۔ اس میں یہ الفاظ ہیں کہ حضرت عیسیٰ سے کہا جائے گا ہمیں نماز پڑھائیے۔ وہ فرمائیں گے نہیں تم ہی ایک دوسرے کے امام ہو۔ اللہ نے اس امت کو یہ اعزاز دیا ہے۔“

(فتح الباری ج٦ ص٣١٧)

امام ابن حجرؒ نے آگے ابن الجوزیؒ کے حوالہ سے ایک عجیب نکتہ نقل کیا ہے۔ وہ یہ کہ: ”اگر حضرت عیسیٰ علیہ السلام آگے بڑھ کر امامت قبول کر لیں تو دل میں اشکال پیدا ہو جائے گا اور کہا جائے گا کہ کیا وہ نبی آخر الزمانﷺ کے نائب ہونے کی حیثیت سے آگے بڑھے ہیں یا کسی نئی شریعت کے بانی ہونے کے لحاظ سے۔ اسی لئے وہ مقتدی ہو کر نماز ادا کریں گے تاکہ حضورﷺ کے فرمان ”لا نبی بعدی“ پر شک و شبہ کی گرد بھی نہ پڑنے پائے۔“

(فتح الباری ج٦ ص٣١٧)

خلاصہ یہ کہ دیگر متعدد روایات اور اس روایت کے اصل الفاظ کے پیش نظر اس حدیث میں بھی حضرت مہدی کی امامت کا ذکر موجود ہے ١؎۔

بات کا بتنگڑ اور رائی کا پربت بنانا چنداں مشکل نہیں۔ مرزا قادیانی تو ہتھیلی پر سرسوں جمانا چاہتے ہیں کہ افسانے کو حقیقت یا ہست کو نیست اور نیست کو ہست سے تبدیل کر دینے میں انہیں دیر نہیں لگتی۔ جو کچھ ہم نے دوسری احادیث اور علماء امت کے اقوال کی روشنی میں بیان کیا ہے۔ اس سے واضح ہو گیا ہے کہ حدیث شریف ”کیف انتم اذا نزل ابن مریم فیکم وامامکم منکم“ میں دراصل امام مہدی کی خبر دی گئی ہے اور چودہ سو سال کے علماء اسلام میں سے کسی نے بھی اس حدیث کو پڑھ کر یہ نہیں کہا کہ آنے والے مسیح ابن مریم اسی امت میں سے ہوں گے۔ لیکن مرزا قادیانی کی شاید ہی کوئی کتاب ہو گی جس میں انہوں نے اس حدیث کو نقل کر

١؎ ان اوراق سے آپ کو بخوبی معلوم ہو چکا ہے کہ مہدی کے بارے میں متعدد روایات صحیح مسلم میں اور ایک روایت صحیح بخاری میں موجود ہے۔ اب جو شخص یہ کہتا ہے کہ صحیحین (یعنی بخاری و مسلم) میں مہدی کے متعلق کوئی روایت نہیں ہے وہ اپنے جہل کا ثبوت دیتا ہے۔

٧٩

صفحہ ٢٢٤

کے یہ ثابت کرنے کی کوشش نہ کی ہو کہ دیکھئے صاحب! صاف طور پر جتلا دیا ہے کہ وہ آنے والا مسیح اصل مسیح نہیں ہے۔ بلکہ وہ اس امت میں ہوگا۔ مرزا قادیانی نے یہ مطلب نکالنے کے لئے حدیث کے سیاق کو نظر انداز کیا۔ عربی گرائمر کے قواعد کو پس پشت ڈالا۔ چودہ سو سال کے علماء امت کے اقوال کو بالائے طاق رکھا اور سب سے بڑھ کر یہ کہ ذخیرہ احادیث کو چھوڑا۔ ہم اس سلسلہ میں مزید کچھ کہنے کی ضرورت نہیں سمجھتے۔ جو کچھ کہا جا چکا ہے اسی کو سمجھنے کی کوشش کیجئے۔

اس مقام پر ایک سوال پیدا ہوتا ہے کہ صحیح مسلم وغیرہ کی دوسری روایات جو نزول مسیح علیہ السلام کے بارے میں آئی ہیں ان میں فرمایا گیا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام دمشق کے شہر میں شرقی منارہ پر نزول فرمائیں گے۔ لیکن یہاں ابن ماجہ وغیرہ کے حوالوں سے جو روایتیں نقل کی گئی ہیں ان سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ بیت المقدس میں تشریف لائیں گے۔ یہ کیا قصہ ہے؟ اس سوال کا جواب ہم اپنی طرف سے نہیں دیتے۔ بلکہ حضرت ملا علی قاریؒ کا جواب نقل کرتے ہیں ان کی علمی وجاہت قادیانیوں کے ہاں بھی مسلم ہے۔ لیجئے سنئے ! وہ فرماتے ہیں: ”معاملہ کی ترتیب یوں ہوگی کہ پہلے امام مہدی حرمین شریف میں ظاہر ہوں گے۔ پھر وہ بیت المقدس آجائیں گے تو دجال آجائے گا اور اسی حالت میں ان کا محاصرہ کرلے گا۔ اس کے بعد حضرت عیسیٰ علیہ السلام دمشق (شام) کے مشرقی منارہ پر اتریں گے اور دجال سے لڑنے کے لئے روانہ ہوں گے تو وہاں پہنچ کر فوراً ایک ہی وار سے اس کو قتل کردیں گے اور اس کا یہ حال ہوگا کہ جب حضرت عیسیٰ علیہ السلام آسمان سے اتریں گے تو وہ پگھلنے لگ جائے گا جیسا کہ نمک پانی میں پگھل جاتا ہے۔ اس کے بعد حضرت عیسیٰ علیہ السلام امام مہدی سے جاکر ملیں گے۔ اس وقت نماز کی تکبیر ہوچکی ہوگی۔ حضرت مہدی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو آگے بڑھنے کا اشارہ کریں گے تو وہ یہ کہہ کر انکار کردیں گے کہ اس نماز کی تکبیر آپ کے لئے کہی گئی ہے۔ آپ ہی امام بننے کے حقدار ہیں۔ وہ اقتداء کریں گے تاکہ عملاً ظاہر ہوجائے کہ ان کی یہ آمد ہمارے نبی ﷺ کے پیروکار کی حیثیت سے ہوگی۔“

(شرح فقہ اکبر ص ١٤٦)

اس کی مثال یوں سمجھئے جیسا کہ کہا جاتا ہے کہ:

نزول ختم ہوا۔

تو ان دو باتوں میں مطابقت یوں دی جاتی ہے کہ لوح محفوظ سے آسمان دنیا پر قرآن

٨٠

صفحہ ٢٢٥

کریم کا نزول ایک ہی رات میں ہوا۔ آگے آسمان دنیا سے آنحضرت ﷺ پر تھوڑا تھوڑا نازل ہوتا رہا اور ٢٣ سال کے عرصہ میں ختم ہوا۔

اسی طرح سمجھئے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا نزول آسمان سے زمین پر دمشق کے شہر میں اور بعض روایات کے مطابق بوقت نماز عصر ہوگا۔ پھر مسلمانوں کے سربراہ سے ان کی ملاقات بیت المقدس میں نماز فجر کے وقت ہوگی۔

کیا آنے والا ابن مریم اور مہدی دو الگ الگ شخص ہیں یا

ایک ہی شخص کے دو نام ہیں؟

احادیث کی روشنی میں آپ کو معلوم ہو چکا ہے کہ قیامت سے پہلے نزول فرمانے والے ابن مریم ، حضرت مسیح اسرائیلی علیہ السلام ہوں گے اور مہدی ان سے الگ ایک شخصیت کا نام ہے جس کا تعلق اسی امت سے ہوگا۔ پوری امت کے علماء اس پر متفق ہیں اور چودہ سو سال میں ایک عالم کا نام بھی پیش نہیں کیا جاسکتا جو ابن مریم اور مہدی ایک ہی شخص کو قرار دیتا ہو۔ امام ابن حجر عسقلانی، ابوالحسن خسعی سے نقل کرتے ہیں: ”اس بارے میں حدیثیں تواتر کی حد تک پہنچ چکی ہیں کہ امام مہدی اسی امت میں سے ہوں گے اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام ان کے پیچھے نماز پڑھیں گے۔“

(فتح الباری ج٦ ص ٤٩١)

لیکن مرزا قادیانی اپنی کتابوں میں بار بار اس بات پر زور دیتے ہیں کہ آنے والا مسیح ہی مہدی ہے۔ مہدی اور کوئی نہیں ہے۔ اس سلسلہ میں وہ دلیل کے طور پر ابن ماجہ کی ایک روایت پیش کرتے ہیں جس میں یہ لفظ ہیں۔ ’لا مهدی الا عیسیٰ‘ ہم اس حدیث کے بارے میں علامہ جلال الدین سیوطی کے ریمارکس نقل کر دینا کافی سمجھتے ہیں۔ وہ فرماتے ہیں:

....... حافظ ذہبی کہتے ہیں کہ یہ روایت منکر (یعنی مشہور روایات کے برخلاف) ہے۔ اسے اکیلے یونس بن عبد الاعلیٰ نے امام شافعی سے نقل کیا ہے اور ایک روایت کے مطابق یونس نے یوں کہا ہے۔ مجھے بتایا گیا ہے کہ امام شافعی نے یوں نقل کیا ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یونس اور امام شافعی کے درمیان کوئی اور راوی ہے تو یہ روایت منقطع ہوئی۔ لیکن کچھ لوگوں نے یہ نقل کیا ہے کہ یونس کہتے ہیں۔ ہم سے شافعی نے بیان کیا۔ صحیح یہی ہے کہ اس نے خود امام صاحب سے نہیں سنی۔“

حدیث کا تیسرا راوی محمد بن خالد ازدی منکر الحدیث ہے۔ یعنی اس کی روایت قابل قبول نہیں ہوتی اور امام حاکم نے کہا ہے کہ وہ مجہول آدمی ہے۔ اس کا پتہ ہی نہیں کہ کون ہے۔ ابن

٨١

صفحہ ٢٢٦

الصلاح نے بھی اپنی امالی میں اسی طرح کہا ہے۔ البتہ یحییٰ بن معین نے اسے معتبر قرار دیا ہے اور چوتھا راوی ابان بن صالح سچا تو ہے لیکن کہا یہ جاتا ہے کہ اس نے پانچویں راوی حسن سے خود کچھ نہیں سنا۔

ابن الصلاح نے اس حدیث کے بارے میں ایک اور خرابی بھی بیان کی ہے کہ بیہقی نے یہ روایت نقل کی ہے۔ اس میں محمد بن خالد جندی کے بعد ابان بن صالح کا نام نہیں ہے۔ بلکہ ابان بن ابی عیاش کا نام ہے۔ پھر حسن کے بعد انس بن مالک صحابی کا نام نہیں ہے۔ (غرض سند میں کافی گڑبڑ ہے) امام ذہبی کہتے ہیں اب تو بات کھل گئی کہ یہ روایت کسی طرح قابل اعتماد نہیں ہے۔

حدیثیں تواتر کی حد تک پہنچ جاتی ہیں۔ ان کے بہت سے راوی ہیں جو یہ بیان کرتے ہیں کہ وہ حضور ﷺ کے اہل بیت میں سے ہوں گے۔ سات سال حکومت کریں گے۔ زمین کو انصاف سے بھر دیں گے۔ حضرت عیسیٰ بن مریم کے ساتھ مل کر سرزمین فلسطین (بیت المقدس) میں لد کے دروازے پر دجال کو قتل کرنے میں ان سے تعاون کریں گے۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام ان کے پیچھے نماز پڑھیں گے۔ وہ اس امت کے امام ہوں گے۔ محمد بن خالد جندی کے بارے میں اگرچہ کہا جاتا ہے کہ یحییٰ بن معین نے اسے معتبر ٹھہرایا ہے۔ لیکن فن حدیث کے علماء کے نزدیک وہ غیر معروف ہے۔ امام بیہقی کہتے ہیں کہ محمد بن خالد اس کو نقل کرنے میں تنہا ہے۔ حافظ ابو عبداللہ کہتے ہیں وہ ایک نامعلوم آدمی ہے۔ پھر اس کی سند میں بھی اختلاف پایا جاتا ہے۔ آگے ابان بن ابی عیاش والی سند نقل کر کے امام بیہقی نے کہا ہے کہ محمد بن خالد جندی خود مجہول ہے۔ (اس کا استاد) ابان بن ابی عیاش متروک ہے۔ حسن (بصری) تابعی ہیں۔ ان کے آگے صحابی کا نام نہیں ہے۔ لہٰذا یہ روایت منقطع ہے۔ اس کے مقابلے میں مہدی کے متعلق دوسری حدیثیں کہیں زیادہ صحیح سندوں سے منقول ہیں۔

میں نے امام شافعی کو خواب میں دیکھا تو انہوں نے فرمایا۔ مہدی کے بارے میں جو حدیث یونس نے نقل کی ہے وہ جھوٹی ہے۔ نہ یہ میری حدیث ہے نہ میں نے کسی کو سنائی ہے۔ یونس نے سراسر جھوٹ بولا ہے۔

٨٢

٢٢٧

حالانکہ ساری ذمہ داری محمد بن خالد جندی پر آتی ہے۔ وہ ایک ثابت نہیں ہوتا۔ علاوہ ازیں یہ حدیث اور بھی کئی طرح پر منقو الا عیسیٰ “ کا جملہ نہیں ہے۔

جس حدیث کی سند کی علماء نے یوں درگت بنا احادیث کے مقابلہ میں اسے کوئی جگہ دی جائے؟ اسی لئے ا کا ایک حصہ ہے۔ اگر سند کی پوچھ گچھ نہ ہوتی تو پھر جس کی مر اسلامی لٹریچر کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ ج نبوت پیدا ہوئے ہیں۔ اسی طرح مہدویت کے جھوٹے مد کتب ذیل میں بعض مدعیان مہدویت کے دلچسپ تذکرے

ان سب تذکروں کا نقل کرنا تو مشکل ہے۔ ہ طاہر گجراتی کا ایک بیان نقل کر دیتے ہیں۔ تاکہ یہ انداز علماء اسلام کے نزدیک کیا قدر ومنزلت ہے۔

المہدی

امام نووی کہتے ہیں۔ ”مہدی کے لفظی معنے ہ دے۔ اب یہ نام بن چکا ہے اور اس پر اسمیت غالب آ نام بنا ہے۔ زرکشی کہتے ہیں۔ مہدی وہ ہے جو حضرت عی کے پیچھے نماز پڑھے گا۔ دونوں مل کر دجال کو قتل کریں گے عرب عجم کے بادشاہ ہوں گے۔ زمین کو عدل وانصاف س ہوگی۔ ان کی بیعت حجر اسود اور مقام ابراہیم کے درمیان ہ سفیانی سے لڑائی کریں گے۔ ہندوستان کے بادشاہ و وغیرہ“

وہ لوگ کس قدر بے حیاء، کم عقل، بے دین ا ایک کھلونا اور مذاق سمجھ لیا ہے۔ جس طرح کہ سچے اما

٨٣

صفحہ ٢٢٧

حالانکہ ساری ذمہ داری محمد بن خالد جندی پر آتی ہے۔ وہ ایک مجہول آدمی ہے۔ اس کا عادل ہونا ثابت نہیں ہوتا۔ علاوہ ازیں یہ حدیث اور بھی کئی طرح پر منقول ہے۔ لیکن ان میں ”لا المهدی الا عیسیٰ“ کا جملہ نہیں ہے۔

(مصباح الزجاجہ، حاشیہ ابن ماجہ)

جس حدیث کی سند کی علماء نے یوں درگت بنائی ہو۔ کیا وہ بھی اس قابل ہے کہ صحیح احادیث کے مقابلہ میں اسے کوئی جگہ دی جائے؟ اسی لئے ائمہ دین نے فرما دیا ہے کہ سند بھی دین کا ایک حصہ ہے۔ اگر سند کی پوچھ گچھ نہ ہوتی تو پھر جس کی مرضی میں جو کچھ آتا وہ کہہ دیتا۔ (مسلم)

اسلامی لٹریچر کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ جس طرح امت میں جھوٹے دعویداران نبوت پیدا ہوئے ہیں۔ اسی طرح مہدویت کے جھوٹے مدعی بھی وقتاً فوقتاً پیدا ہوتے رہے ہیں۔ کتب ذیل میں بعض مدعیان مہدویت کے دلچسپ تذکرے موجود ہیں۔

ان سب تذکروں کا نقل کرنا تو مشکل ہے۔ البتہ قارئین کی ضیافت کے لئے علامہ طاہر گجراتی کا ایک بیان نقل کر دیتے ہیں۔ تاکہ یہ اندازہ ہوسکے کہ جھوٹے مدعیان مہدویت کی علماء اسلام کے نزدیک کیا قدر و منزلت ہے۔

المہدی

امام نووی کہتے ہیں۔ ”مہدی کے لفظی معنی ہیں وہ شخص جس کو اللہ تعالیٰ حق کی ہدایت دے۔ اب یہ نام بن چکا ہے اور اس پر اسمیت غالب آچکی ہے۔ اسی لئے مہدی آخر الزمان کا نام بنا ہے۔ زرکشی کہتے ہیں۔ مہدی وہ ہے جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے زمانے میں ہوگا۔ ان کے پیچھے نماز پڑھے گا۔ دونوں مل کر دجال کو قتل کریں گے۔ امام مہدی قسطنطنیہ کو فتح کریں گے۔ عرب عجم کے بادشاہ ہوں گے۔ زمین کو عدل وانصاف سے بھر دیں گے۔ ان کی پیدائش مدینہ میں ہوگی۔ ان کی بیعت حجر اسود اور مقام ابراہیم کے درمیان ہوگی اور وہ مجبوراً اسے قبول کریں گے۔ وہ سفیانی سے لڑائی کریں گے۔ ہندوستان کے بادشاہ پابجولاں اس کے پیش ہوں گے۔ وغیرہ وغیرہ“

وہ لوگ کس قدر بے حیاء کم عقل، بے دین اور بددیانت ہیں جنہوں نے اپنے دین کو ایک کھلونا اور مذاق سمجھ لیا ہے۔ جس طرح کہ بچے اینٹ روڑے سے کھیلتے ہیں کہ وہ ایک کو امیر

٨٣

صفحہ ٢٢٩

بنا لیتے ہیں۔ ایک روڑے کو بادشاہ تصور کر لیتے ہیں۔ انہی ڈھیلوں سے ہاتھی اور گھوڑے بنا لیتے ہیں۔ اسی طرح یہ پاگل لوگ ہیں۔ انہوں نے ایک اجنبی مسافر کو مہدی ٹھہرا لیا ہے۔ حالانکہ اس کا دعویٰ بالکل جھوٹا ہے۔ اس کے پاس کوئی دلیل نہیں ہے۔ جاہل آدمی ہے یا ان جان بن جاتا ہے۔ اس نے علم دین اور حقیقت کی بو تک نہیں سونگھی۔ چہ جائیکہ مختلف علوم وفنون اور...... وہ اُن کے سامنے کلام ربانی کے غلط سلط معنی بیان کرتا ہے اور اس طرح پر ان کے ٹھکانے دوزخ میں بنا رہا ہے۔ وہ بیوقوف لوگ ہیں۔ ان کی بے عقلی سے فائدہ اٹھا کر ان کے سامنے بیہودہ اور فاسد نظریات پیش کرتا ہے اور پھر ان کو صحیح ثابت کرنے کے لئے قرآن کی آیتیں پڑھ پڑھ کر سناتا ہے۔ اگر اس کے سامنے احادیث نبویہ ﷺ پیش کی جائیں جن میں مہدی کی علامات آئی ہیں تو وہ کہتا ہے۔ یہ صحیح نہیں ہیں۔ جو حدیث اس کے موافق ہو تو وہ اس کے نزدیک صحیح ہے اور جو مخالف ہو وہ غلط ہے۔ وہ کہتا ہے، ایمان کی چابی میرے ہاتھ میں ہے۔ جو مجھے مہدی مانے گا تو وہ مسلمان ہے اور جو نہ مانے گا تو وہ کافر ہے۔ اپنی ولایت کو سید الانبیاء ﷺ کی نبوت سے بھی بہتر قرار دیتا ہے اور اس بات کو اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب کرتا ہے۔ علماء کو قتل کرنا اور ان سے جزیہ لینا درست سمجھتا ہے۔ اس طرح ان کے دوسرے خرافات ہیں۔ (اپنے لوگوں کو صحابہؓ کے نام دیتے ہیں) کسی کا نام ابوبکر صدیقؓ رکھتے ہیں۔ کسی کا دوسرا۔ ایک گروہ کو مہاجر کہتے ہیں۔ دوسرے کو انصار۔ اسی طرح عائشہ، فاطمہ اور دوسرے نام رکھے ہوئے ہیں۔ بعض نالائقوں نے تو سندھ کے ایک آدمی کو عیسیٰ بنا چھوڑا ہے۔ تو یہ سب شیطان کا کھیل ہے۔

(مجمع البحار)

واضح رہے کہ علامہ طاہر گجراتی وہ بزرگ ہیں جن کا نام قادیانی بڑے احترام سے لیتے ہیں۔ انہوں نے جو کچھ بیان فرمایا ہے اس کے آئینہ میں ذرا مرزا قادیانی کا چہرہ دیکھا جائے تو قادیانیت کی نوک پلک کا بخوبی اندازہ ہو سکتا ہے۔

کیا مرزا قادیانی مجدد ہیں؟

ہمارے نزدیک اس سوال کا دوٹوک (Clear Cut) جواب ہے، نہیں۔ کیوں نہیں؟ یہی ہم آپ کو بتانا چاہتے ہیں۔ سب سے پہلے آپ اس حدیث کے الفاظ سنئے۔ جس کی بناء پر مرزا قادیانی اپنے متعلق مجدد ہونے کے مدعی ہیں۔ حضرت ابو ہریرہؓ راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”ان الله يبعث لهذه الامة على رأس كل مائة سنة من يجدد لها دينها (ابوداؤد: ج٢ ص٢٣٢) “ بے شک اللہ، اس امت کے لئے ہر صدی کے سر پر (ایک

٨٤

یا ایک سے زیادہ) عالم بھیجتا رہے گا۔ جو اس کے دین کی تجدید اس حدیث کے ضمن میں تین الفاظ قابل غور ہیں سر۔ دوسرا ”تجدید دین“ اور تیسرا ”هذه الامة“ اب ان ک

رأس مائة

صدی کے سر سے مراد صدی کا اخیر ہے۔ وہ کیسے سے کرتے ہیں۔ اسی ابوداؤد میں چند ورق بعد ص ٢٣٢ پر ع (یہ روایت ابوداؤد کے علاوہ مسلم ج٢ ص٣١٠ اور ترمذی ج رات رسول اللہ ﷺ نے اخیر عمر میں ہمیں عشاء کی نماز پڑھا رات دیکھ لی یہ اس پے سو سال بعد ”رأس مائة سنة رہے گا۔ جو آج روئے زمین پر موجود ہیں۔ معلوم ہوا کہ صد صدی کا اخیر ہے اور سنئے۔

ابوداؤد کے شارح علامہ ابوالحسن سندھی کہتے ہیں میں سب سے آخر میں فوت ہونے والے ابو الطفیلؓ عامر کے بارے میں جو کچھ کہا گیا ہے۔ وہ یہ ہے کہ وہ ١١٠ھ تک بعد اسی پر صدی ختم ہوتی ہے۔ وھى رأس مائة سنة و

(فتح ابوداؤد) “

علامہ جلال الدین سیوطیؒ مرقاۃ الصعود شرح مستدرک میں اس حدیث (حدیث مجدد) کے بعد امام ذہبی صدی کا اخیر آیا تو اللہ تعالیٰ نے اس امت پر احسان فرمایا اور ابوبکر بزار کہتے ہیں...... امام احمد بن حنبلؒ کے سامنے ا ان کی تعریف کرنے لگے اور حدیث مجدد نقل کرتے ہوئ عبدالعزیزؒ ہوئے اور میں امید کرتا ہوں کہ دوسری بیہقیؒ نے نقل کیا ہے کہ امام احمد بن حنبلؒ نے فرمایا، اللہ ت مقرر کرتا رہے گا جو لوگوں کو نیکی کی تعلیم دے گا اور رسول نے غور کیا تو پہلی صدی کے اخیر میں عمر بن عبدالعزیزؒ اور د شان کے مالک نظر آتے) ہیں۔ فاذا فى رأس الما

٨٥

صفحہ ٢٢٩

یا ایک سے زیادہ) عالم بھیجتا رہے گا۔ جو اس کے دین کی تجدید کرتا رہے گا۔﴾ اس حدیث کے ضمن میں تین الفاظ قابل غور ہیں۔ ایک ”رأس مائة“ یعنی صدی کا سر۔ دوسرا ”تجدید دین“ اور تیسرا ”هذه الامة“ اب ان کے متعلق عرض کرتے ہیں۔

رأس مائة

صدی کے سر سے مراد صدی کا اخیر ہے۔ وہ کیسے؟ لیجئے ہم حدیث کی تشریح حدیث ہی سے کرتے ہیں۔ اُسی ابوداؤد میں چند ورق بعد ص ٤٢٢ پر عبداللہ بن عمر سے روایت منقول ہے۔ (یہ روایت ابوداؤد کے علاوہ مسلم ج ٢ ص ٣١٠ اور ترمذی ج ٢ ص ٤٩ میں بھی موجود ہے) ایک رات رسول اللہ ﷺ نے اخیر عمر میں ہمیں عشاء کی نماز پڑھائی۔ جب سلام پھیرا تو فرمایا تم نے یہ رات دیکھ لی پس یہ سو سال بعد ”رأس مائة سنة “ ان لوگوں میں سے کوئی بھی باقی نہیں رہے گا۔ جو آج روئے زمین پر موجود ہیں۔ معلوم ہوا کہ حدیث بالا میں ”رأس مائة “ سے مراد صدی کا اخیر ہے اور سنئے۔

ابوداؤد کے شارح علامہ ابوالحسن سندھی کہتے ہیں: ”محدثین نے اتفاق کیا ہے کہ صحابہؓ میں سب سے آخر میں فوت ہونے والے ابوالطفیلؒ عامر بن واثلہ ہیں اور زیادہ سے زیادہ ان کے بارے میں جو کچھ کہا گیا ہے۔ وہ یہ ہے کہ وہ ١١٠ھ تک رہے اور آنحضرت ﷺ کے فرمان کے بعد اسی پر صدی ختم ہوتی ہے۔ وهی رأس مائة سنة من مقالته صلى الله عليه وسلم

(فتح ابوداؤد)

علامہ جلال الدین سیوطیؒ مرقاة الصعود شرح ابی داؤد میں فرماتے ہیں: ”امام حاکم مستدرک میں اس حدیث (حدیث مجدد) کے بعد امام زہری (تابعی) سے نقل کرتے ہیں کہ جب صدی کا اخیر آیا تو اللہ تعالیٰ نے اس امت پر احسان فرمایا کہ عمر بن عبدالعزیزؒ کو مجدد بنا کر بھیجا..... اور ابوبکر بزار کہتے ہیں...... امام احمد بن حنبلؒ کے سامنے امام شافعیؒ کا ذکر چل نکلا تو وہ بڑھا چڑھا کر ان کی تعریف کرنے لگے اور حدیث مجدد نقل کرتے ہوئے فرمایا۔ پہلی صدی کے اخیر پر عمر بن عبدالعزیزؒ ہوئے اور میں امید کرتا ہوں کہ دوسری صدی کے اخیر میں امام شافعیؒ ہوں گے اور امام بیہقیؒ نے نقل کیا ہے کہ امام احمد بن حنبلؒ نے فرمایا، اللہ تعالیٰ ہر صدی کے اخیر پر ایک ایسے عالم کو مقرر کرتا رہے گا جو لوگوں کو سنت کی تعلیم دے گا اور رسول اللہ ﷺ سے جھوٹ کو دور کرے گا۔ ہم نے غور کیا تو پہلی صدی کے اخیر میں عمر بن عبدالعزیزؒ اور دوسری صدی کے اخیر میں امام شافعیؒ (اس شان کے مالک نظر آتے) ہیں۔ فاذا فى رأس المائة عمر بن عبدالعزيز وفى رأس

٨٥

صفحہ ٢٣١

المائتين الشافعي“

حضرت شیخ عبدالحق محدث دہلویؒ شرح مشکوٰۃ میں فرماتے ہیں: ”ہر تمامی ہر صدی سال۔“

(اشعۃ اللمعات ج١)

مولانا عبدالحی لکھنویؒ اپنے فتاویٰ میں فرماتے ہیں: ”مراد از رأس مائۃ باتفاق محدثین آخر صدی ست۔“

(مجموعۃ الفتاویٰ ج١ ص ٦٥)

حدیث مرفوع، آثار ائمہ اور اقوال علماء سے یہ بات بالکل پختہ ہوگئی کہ مجدد مائۃ ہمیشہ اخیر صدی میں آیا کرے گا۔ ان کے علاوہ خود مرزا قادیانی سے بھی سن لیجئے۔

(ایام الصلح ص ٧٧، خزائن ج ١٤ ص ٣١٦)

(شہادۃ القرآن ص ٦٥، خزائن ج ٦ ص ٣٦١)

اور اسی کتاب کے (ص ٦٩، خزائن ج ٦ ص ٣٦٥) پر ہے: ”حضرت مسیح حضرت موسیٰ سے چودہ سو برس بعد آئے۔“

اور (ص ٦١، خزائن ج ٦ ص ٣٥٧) پر لکھا ہے: ”حضرت موسیٰ سے حضرت مسیح کا قرباً چودہ سو برس کا فاصلہ تھا۔“

رسول اللہ ﷺ کا فرمان برحق اور سر آنکھوں پر، ائمہ دین اور علماء کے اقوال بجا، اولیاء کرام کے مکاشفات بھی تسلیم، لیکن سب کا حاصل تو یہی ہے کہ چودھویں صدی کے مجدد کو، خواہ مسیح کے رنگ میں آئے خواہ کسی اور رنگ میں۔ چودھویں صدی کے اخیر میں آنا چاہئے تھا۔ گزشتہ اوراق میں مسیح کی آمد کا وقت کے عنوان کے تحت بیان ہو چکا ہے کہ مرزا قادیانی تو تیرہ صدی کے ختم ہونے سے بھی پہلے آگئے تھے۔ ١٢٨٧ھ میں ان کے دعاوی اور دعوت کا سلسلہ شروع ہو گیا تھا۔ اس لئے وہ کسی طرح بھی چودھویں صدی کے مجدد نہیں ہو سکتے۔ وہ مدعی ہیں تو ہوتے رہیں اور ان کے پیروکار انہیں مجدد صدی چہار دہم لکھتے ہیں تو لکھتے رہیں۔ بات بنتی نظر نہیں آتی۔

مرزا قادیانی اور تجدید دین

جہاں تک ہم نے شروح حدیث وغیرہ کو دیکھا ہے۔ تجدید دین کا مطلب یہ ہے کہ اسلام کے مٹے ہوئے نشانات کو زندہ کیا جائے، جن شعائر اللہ کی بے حرمتی اور بے وقاری ہو رہی ہو۔ ان کا احترام دلوں میں پیدا کیا جائے، مردہ سنتوں کا احیاء اور بدعات ومحدثات کا استیصال کیا

٨٦

جائے۔ لوگوں کو فسق و فجور کی تاریکی سے نکال کر صلاح و

چنانچہ جب ہم گذشتہ مجددین کی پاکیزہ زندگیوں پر نگاہ ڈالتے وہ اپنے زندہ جاوید کارناموں کی بدولت مجدد کہلانے کے مستح کی سیرت میں کوئی ایسی چیز نہیں ملتی جو ان کے دعویٰ کی دلیل جس طرح ایک طبیب کے لئے ضروری ہے ک پہلے اس کی بیماری کی پوری تشخیص کرلے۔ ورنہ تو علاج سوء ہے۔ اسی طرح مجدد کی ذمہ داری ہے کہ سب سے پہلے وہ ملت کی نبض پر ہاتھ رکھ کر اس کے ایک ایک عضو رئیس کا جائز لے اور پھر علاج کی تدبیر کرلے۔ مثال کے طور پر پہلی صد دیکھئے۔ انہوں نے دیکھا کہ امت میں فساد کی جڑ وہ ملوکیہ انہوں نے یہیں سے اپنا اصلاحی کام شروع کیا۔ پھر حضر دیکھا کہ یونانی فلسفہ اور ہندوستان کا جوگیانہ فن مسلمانو ہیں۔ انہوں نے سنت کی تدوین اور کتاب وسنت کی اشاع کہ یونانی فلسفہ سے مغلوب ہو کر اقتدار کے تحت نئے ط قرآن کا عقیدہ ٹھونسنے کے لئے ایڑی چوٹی کا زور لگایا ج حنبلؒ ایک درویش بے نوا ہونے کے باوصف سینہ سپر ہو غالب رہا اور باطل سرنگوں۔

آئیے! ذرا ہم بھی تو دیکھیں کہ اس اصول کے مستحق ہے۔ تاریخ کا ہر طالب علم جانتا ہے کہ انیسویں ص طرح ممالک اسلامیہ میں پھیل رہی تھیں اور بقول مرزا رہی تھیں۔ جیسا کہ آپ پہلے پڑھ چکے ہیں۔ انگریزی مسلمانوں کے خون کی ندیاں بہا دیں۔ شاہی بیگمات کو دوسری بات یہ ہے کہ سامراجی اقوام کی

١؎ امام شافعیؒ کے اسی تجدیدی کام ہی کا نتیج نے تدوین حدیث کا گراں مایہ کام سرانجام دیا۔ ان موصوف ہی کے پیروکار اور ہم نوا ہیں۔

٨٧

صفحہ ٢٣١

جائے۔ لوگوں کو فسق و فجور کی تاریکی سے نکال کر صلاح و تقویٰ کی روشنی کی طرف لایا جائے۔ چنانچہ جب ہم گذشتہ مجددین کی پاکیزہ زندگیوں پر نگاہ ڈالتے ہیں تو ہمارا ضمیر پکار اٹھتا ہے کہ واقعی وہ اپنے زندہ جاوید کارناموں کی بدولت مجدد کہلانے کے مستحق ہیں۔ اس کے برخلاف مرزا قادیانی کی سیرت میں کوئی ایسی چیز نہیں ملتی جو ان کے دعویٰ کی دلیل بن سکے۔

جس طرح ایک طبیب کے لئے ضروری ہے کہ وہ مریض کا علاج شروع کرنے سے پہلے اس کی بیماری کی پوری تشخیص کر لے۔ ورنہ تو علاج سودمند ہونے کے بجائے مضر ثابت ہو سکتا ہے۔ اسی طرح مجدد کی ذمہ داری ہے کہ سب سے پہلے وہ امت مسلمہ کے مرض کی تحقیق کر لے۔ ملت کی نبض پر ہاتھ رکھ کر اس کے ایک ایک عضو رئیس کا جائزہ لے۔ مرض کے اسباب و علل پر غور کر لے اور پھر علاج کی تدبیر کر لے۔ مثال کے طور پر پہلی صدی کے مجدد حضرت عمر بن عبدالعزیز کو دیکھئے۔ انہوں نے دیکھا کہ امت میں فساد کی جڑ وہ ملوکیت ہے جو خلافت کی جگہ لے چکی ہے۔ انہوں نے یہیں سے اپنا اصلاحی کام شروع کیا۔ پھر حضرت امام شافعی١ؒ کا زمانہ آیا۔ انہوں نے دیکھا کہ یونانی فلسفہ اور ہندوستان کا جوگیانہ فن مسلمانوں میں گھس کر دین کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔ انہوں نے سنت کی تدوین اور کتاب وسنت کی اشاعت کو اپنی کوششوں کا مرکز و محور ٹھہرایا۔ حتیٰ کہ یونانی فلسفہ سے مغلوب ہو کر اقتدار کے تخت نے مداخلت فی الدین کرنا چاہا۔ لوگوں کو خلق قرآن کا عقیدہ ٹھونسنے کے لئے ایڑی چوٹی کا زور لگایا تو امام شافعیؒ کے تربیت یافتہ شاگرد احمد بن حنبلؒ ایک درویش بے نوا ہونے کے باوصف سینہ سپر ہو گئے۔ جابر حکومت کو منہ کی کھانی پڑی۔ حق غالب رہا اور باطل سرنگوں۔

آئیے! ذرا ہم بھی تو دیکھیں کہ اس اصول کے تحت مرزا قادیانی کی زندگی کس اعزاز کی مستحق ہے۔ تاریخ کا ہر طالب علم جانتا ہے کہ انیسویں صدی عیسوی میں یورپین اقوام ٹڈی دل کی طرح ممالک اسلامیہ میں پھیل رہی تھیں اور بقول مرزا قادیانی وہ دنیا کی اسلامی ریاستوں کو نگل رہی تھیں۔ جیسا کہ آپ پہلے پڑھ چکے ہیں۔ انگریزوں نے ہمارے قومی شعائر کو ملیا میٹ کیا۔ مسلمانوں کے خون کی ندیاں بہادیں۔ شاہی بیگمات کی توہین کی۔

دوسری بات یہ ہے کہ سامراجی اقوام کی دیکھا دیکھی مسلمانوں میں بھی خدا ترسی اور

١؎ امام شافعیؒ کے اسی تجدیدی کام ہی کا نتیجہ ہے کہ بعد میں آنے والے محدثین جنہوں نے تدوین حدیث کا گراں مایہ کام سرانجام دیا۔ ان میں سے اکثر حضرات فروعی مسائل میں امام موصوف ہی کے پیروکار اور ہم نوا ہیں۔

٨٧

صفحہ ٢٣٢

انابت الی اللہ کی جگہ زر طلبی اور دنیا پرستی نے لے لی۔

تیسری خرابی غیروں کی نقالی سے یہ پیدا ہوئی کہ اتباع شریعت کی بجائے ہوائے نفس کا اتباع ہونے لگا اور یوں بدعات کا ایک طویل سلسلہ وجود میں آیا۔

یہ تین امہات فواحش ہیں جو مرزا قادیانی کے وقت میں ملت اسلامیہ کی متاع دین و ایمان کو گھن کی طرح چاٹ رہی تھیں۔ اب مجدد کا فریضہ تھا کہ وہ امت کے ان امراض کا مداوا ڈھونڈ کر اس کے تن مردہ میں ایک نئی روح پھونکتا۔

لیکن اس کے برعکس مرزا قادیانی نے جو کچھ کیا وہ یہ ہے:

کی۔ (کتاب البریہ ص ٧، خزائن ج ١٣ ص ٨) انگریزوں کو اولی الامر قرار دیا۔ (ضرورة الامام ص ٢٣، خزائن ج ١٣ ص ٤٩٣) اس کی سلطنت کو سایہ رحمت اور نعمت خداوندی ٹھہرایا۔ (شہادۃ القرآن ص ٧٩، خزائن ج ٦ ص ٣٧٨) انگریز کی اطاعت کے بارے میں کتابیں لکھ کر پچاس الماریاں بھر دیں۔ (تریاق القلوب ص ١٥، خزائن ج ١٥ ص ١٥٥) ایسی کتابیں ممالک عرب، مصر اور شام وغیرہ میں پھیلائیں۔ (تریاق القلوب ص ١٥، خزائن ج ١٥ ص ١٥٥) انگریزی سلطنت کو مکہ معظمہ اور مدینہ منورہ سے بڑھ کر جائے امن قرار دیا۔ (ازالہ اوہام ص ٥٥، خزائن ج ٣ ص ١٤٠) جن لوگوں نے انگریز کے مقابلہ میں اسلام کی سربلندی کے لئے قربانیاں دیں۔ انہیں چور، حرامی اور قزاق جیسے القاب سے نوازا۔ (شہادۃ القرآن ص ٣، خزائن ج ٦ ص ٣٨٠) حتیٰ کہ انگریز کی جاسوسی کر کے اسے مخالفین کی فہرستیں مہیا کرتے رہے۔ (مجموعہ اشتہارات ج ٢ ص ٢٢٧) کیا اسی کا نام تجدید دین ہے؟ حقیقت یہ ہے کہ انگریز کے حق میں مرزا قادیانی کی خوشامدانہ اور تملق آمیز تحریریں دیکھ کر اقبال کا یہ شعر بے ساختہ زبان پر آتا ہے۔

یہ راز آخر کھل گیا سارے زمانے پر
حمیت نام ہے جس کا گئی تیمور کے گھر سے

(مرزا قادیانی بھی تیموری نسل سے تعلق رکھتے ہیں)

خوشامد، (٢) حضرت مسیح علیہ السلام کی وفات کا ثابت کرنا، (٣) بے جوڑ اور مہمل الہامات، (٤) علماء امت کی تکفیر و تضلیل کے ساتھ ان کا مذاق اڑانا۔ ان چار چیزوں کے علاوہ ان کی کتابوں میں ہدایت کا کوئی سامان نہیں۔ ایسی کوئی تعلیمات نہیں جو بھٹکی ہوئی انسانیت کے لئے

٨٨

٢٣٣

مشعل راہ بنتیں۔ ان کی زندگی کا کوئی پہلو ایسا نہیں جو کاروانِ دو عالم کے بادشاہ (ﷺ) یوں زندگی بسر فرما نہیں ہوتا۔ (شمائل ترمذی) صحابہ کرام میں سے لاڈلے غلام ح طرف توجہ دلاتے ہیں تو حضور ﷺ ارشاد فرماتے ہیں۔ خطا تمہیں یہ بات پسند نہیں ہے کہ ان کے حصے میں دنیا آئے ا وغیرہ) حضور ﷺ اس دنیا سے تشریف لے جاتے ہیں تو اس کبھی نہیں کھائی۔ (صحیح بخاری) غنیمت کا یا ہدایا کا جو مال آ فرما دیتے ہیں۔ اتفاق سے ایک مرتبہ سونے کا کچھ ٹکڑا تقسیم ہو رہی۔ (شمائل ترمذی) اپنے غلاموں میں اعلان فرماتے ہیں ، مال اس کے وارثوں کو ملے گا اور جو کوئی قرضہ چھوڑ کر فوت ہو میں کروں گا۔ (مشکوٰۃ شریف ص ٢٦٣) یہ سیرۃ طیبہ محمد مصطفیٰ ﷺ محمد مصطفیٰ ﷺ کا ظلِ کامل بتاتے ہیں۔

اور ایک گستاخ نے تو یہاں تک کہہ دیا۔

محمد پھر اتر آئے ہیں
اور آگے سے ہیں بڑھ کر اپنی
محمد دیکھنے ہوں جس
غلام احمد کو دیکھے قاد

لیکن مرزا قادیانی کی زندگی میں سیرۃ محمدی کی کو محمد عربی کا تو اس سلسلہ میں نام لینا بھی سوء ادب ہے۔ آقا ۔ بیسیوں مثالیں اسی برصغیر سے پیش کی جاسکتی ہیں۔ جو بقول ا

حکمرانے بے نیاز از
بے کلاہ و بے سپاہ و

کی شان رکھتی ہیں۔ مخدوم عالی مقام سید علی ہجویر چشتی، حضرت بابا فرید گنج شکر، امام ربانی مجدد الف ثانی، شاہ فقر، بے زاد و عتاد، ظاہری ساز و سامان سے بے نیاز رہ کر کام ک

٨٩

صفحہ ٢٣٣

مشعل راہ بنتیں۔ ان کی زندگی کا کوئی پہلو ایسا نہیں جو کاروان گم کردہ راہ کو نشان منزل کا پتہ دیتا۔ دو عالم کے بادشاہ (ﷺ) یوں زندگی بسر فرماتے ہیں کہ ہفتوں گھر میں چولہا گرم نہیں ہوتا۔ (شمائل ترمذی) صحابہ کرام میں سے لاڈلے غلام حضرت عمرؓ حضور ﷺ کو آسودہ زندگی کی طرف توجہ دلاتے ہیں تو حضور ﷺ ارشاد فرماتے ہیں۔ خطاب کے بیٹے! تم یہی سوچنے لگے ہو کیا تمہیں یہ بات پسند نہیں ہے کہ ان کے حصے میں دنیا آئے اور ہمارے حصے میں آخرت؟ (بخاری وغیرہ) حضور ﷺ اس دنیا سے تشریف لے جاتے ہیں تو اس حال میں کہ پیٹ بھر کر جو کی روٹی کبھی نہیں کھائی۔ (صحیح بخاری) غنیمت کا یا ہدایا کا جو مال آتا ہے وہ فوراً اپنے غلاموں میں تقسیم فرما دیتے ہیں۔ اتفاق سے ایک مرتبہ سونے کا کچھ ٹکڑا تقسیم ہونے سے بچ گیا تو شب بھر بے قراری رہی۔ (شمائل ترمذی) اپنے غلاموں میں اعلان فرماتے ہیں۔ جو شخص مال چھوڑ کر فوت ہو تو اس کا مال اس کے وارثوں کو ملے گا اور جو کوئی قرضہ چھوڑ کر فوت ہو تو اس کے قرض کی ادائیگی کا بندوبست میں کروں گا۔ (مشکوٰۃ شریف ص٢٦٣) یہ سیرۃ طیبہ محمد مصطفیٰ ﷺ کی ہے۔ مرزا قادیانی اپنے آپ کو محمد مصطفیٰ ﷺ کا ظل کامل بتاتے ہیں۔

(نزول المسیح ص٣، خزائن ج١٨ ص٣٨١)

اور ایک گستاخ نے تو یہاں تک کہہ دیا۔

محمد پھر اتر آئے ہیں ہم میں
اور آگے سے ہیں بڑھ کر اپنی شان میں
محمد دیکھنے ہوں جس نے اکمل
غلام احمد کو دیکھے قادیاں میں

(اخبار بدر نمبر ٤٣ ، جلد ٢ ص ١٤)

لیکن مرزا قادیانی کی زندگی میں سیرۃ محمدی کی کوئی جھلک نظر نہیں آتی اور خاکم بدہن، محمد عربی ﷺ تو اس سلسلہ میں نام لینا بھی سوء ادب ہے۔ آقائے دو جہاں ﷺ کے غلاموں میں سے بیسیوں مثالیں اسی برصغیر سے پیش کی جاسکتی ہیں۔ جو بقول اقبال ؎

حکمرانے بے نیاز از تخت و تاج
بے کلاہ و بے سپاہ و بے خراج

کی شان رکھتی ہیں۔ مخدوم عالی مقام سید علی ہجویریؒ، خواجہ خواجگان حضرت معین الدین چشتیؒ، حضرت بابا فرید گنج شکرؒ، امام ربانی مجدد الف ثانیؒ، شاہ ولی اللہ محدث دہلویؒ اور ان کے قابل فخر اولاد و احفاد ظاہری ساز و سامان سے بے نیاز رہ کر کام کرتے رہے اور اپنے اپنے وقت میں

٨٩

صفحہ ٢٣٥

انہوں نے ایک عالم کی کایا پلٹ دی۔ خشم اور طیش سے دور رہ کر وہ اللہ کا پیغام اس کے بندوں تک پہنچاتے رہے اور ضرورت ہوئی تو درویش بوریا نشین، سلطان سر بہ آراء سے الجھ بھی گیا۔ کیونکہ؎

باسلاطین درفتد مرد فقیر
از شکوہ بوریا لرزد سریر
قلب او را قوت از جذب وسلوک
پیش سلطان نعرہ او لا ملوک

لیکن یہاں حال یہ ہے کہ بقول محترم عبد القدوس انصاری : " قادیانی تحریک کے نتائج وثمرات معلوم کرنا چاہیں تو اس سے زیادہ کچھ نہیں کہ اس کے بانی کا شباب غربت اور افلاس سے گزرا۔ لیکن وہ دنیا سے رخصت ہوا تو اس کے گھر میں دولت کی ریل پیل تھی۔ لنگر خانے کے نام پر آمد و خرچ کی مدات قائم تھیں۔ منارة المسیح اور بہشتی مقبرہ کے نام پر دھن برس رہا تھا اور اس کے پسماندگان زر و سیم سے کھیل رہے تھے۔"

روپے پیسے کے قصوں کے علاوہ مرزا قادیانی کی دعوت میں اور کچھ تلاش کرنا فضول ہے۔ مرزا قادیانی نہ تو اپنے علمی کارناموں سے کوئی مفید نتیجہ پیدا کر سکے اور نہ ان کی عملی زندگی کوئی عمدہ مثال پیش کر سکی۔

یا چلئے یوں کہہ لیجئے، انہیں ادھر توجہ دینے کا موقع ہی کب ملا تھا؟ وہ تو دجال کو مارتے رہے ، صلیب کو توڑتے رہے اور خنزیر کو قتل کرتے رہے۔ اللہ کے دین کا حلیہ کیونکر بگڑتا رہا۔ کتاب وسنت کا مذاق کیونکر اڑایا جاتا رہا؟ ان باتوں سے مرزا قادیانی کا نہ کوئی واسطہ تھا نہ انہوں نے ادھر رخ کیا۔

خلاصہ یہ کہ حدیث مجدد میں جو "رأس مائة " کا لفظ آیا ہے۔ اس سے قطع نظر اگر مرزا قادیانی کے کام کو دیکھا جائے تو بھی انہیں مجدد نہیں مانا جاسکتا۔ درخت ہمیشہ اپنے پھل سے پہچانا جاتا ہے۔ آپ اگر حنظل کو آم یا سنگترہ، دزد کو پاسبان، سراب کو چشمہ کوثر کا نام دینا چاہتے ہیں تو آپ کی مرضی، عقل سلیم آپ کا ساتھ دینے کے لئے تیار نہیں ہے۔

حدیث مجدد میں ہذہ الامۃ کی قید

حدیث تجدید میں تیسرا غور طلب لفظ "هذه الامة" کا ہے۔ آنحضرت ﷺ نے یہ قید کیوں لگائی۔ اس پر سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے۔ بات یہ ہے کہ پہلی امتوں میں نبوت کا سلسلہ جاری تھا۔ ایک نبی اللہ کو پیارے ہوگئے۔ ان کی جگہ دوسرے نبی نے سنبھال لی۔

٩٠

لیکن حضرت محمد مصطفے ﷺ کی تشریف آوری کے بعد کیونکر چلے؟ اس کے بارے میں آنحضرت ﷺ نے "كانت بنو اسرائيل تسوسه وانه لا نبى بعدى وسيكون خلفاء فيكث ص ١٢٦) "بنی اسرائیل میں سیاست انبیاء کے ہاتھ کے بجائے دوسرا نبی آ گیا۔ یقینا میرے بعد کوئی نبی ہوں گے۔"

"علماء امتي كانبياء بنى اسرا کے نبیوں کی طرح فرائض انجام دیں گے۔"

(مرزا قادیانی بھی اس حدیث کو (حقیقت الو

ان دو حدیثوں سے معلوم ہوا کہ اس امت خلفاء اور علماء کو امت کی سیاسی قیادت اور دینی پیشوائی حدیثوں کے ساتھ "حدیث تجدید" کو ملا کر پڑھئے۔ ت ایک بہت بڑے انقلاب کی خبر دیتا ہے کہ ایک قرن ک تہذیب وتمدن میں فرق آجاتا ہے۔ اسی طرح مذہب اختتام صدی پر ایک ایسا فرد اٹھے جو اپنی جماعت دے۔ حاصل یہ کہ خلفاء یا مجددین کی ضرورت ہی ہ ہم حیران ہیں کہ مرزا قادیانی کس قسم کے مجدد بنتے ہ دعویٰ کرتے ہیں۔ نبوت کا دعویٰ کر کے انہوں نے دعویٰ کر کے نبوت سے فارغ۔

الجھا ہے پاؤں یار کا
لو آپ اپنے دام

حدیث مجدد کے سلسلہ میں ہماری گزارش میں آتا ہے اور مرزا قادیانی ١٩٠٨ء میں فوت ہو دوسرے ان کی سوانح حیات ایسا کوئی کارنامہ پیش بالخصوص جب مرزا قادیانی اپنے آپ کو مسیح کے رنگ

٩١

صفحہ ٢٣٥

لیکن حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی تشریف آوری کے بعد نبوت کا دروازہ بند ہو گیا تو اب امت کا کام کیونکر چلے؟ اس کے بارے میں آنحضرت ﷺ نے ارشاد فرمایا۔

"كانت بنو اسرائيل تسوسهم الانبياء كلما هلك نبى خلفه نبى وانه لا نبي بعدى وسيكون خلفاء فيكثرون (بخاری ج١ ص٤٩١، مسلم ج٢ ص١٢٦)" ﴿بنی اسرائیل میں سیاست انبیاء کے سپرد ہوتی تھی۔ جب ایک نبی فوت ہو گیا۔ اس کے بجائے دوسرا نبی آ گیا۔ یقیناً میرے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا۔ البتہ خلیفے ہوں گے اور بہت ہوں گے۔﴾

"علماء امتى كانبياء بنى اسرائيل" ﴿میری امت کے علماء بنی اسرائیل کے نبیوں کی طرح فرائض انجام دیں گے۔﴾

(مرزا قادیانی بھی اس حدیث کو (حقیقت الوحی ص٢٧، خزائن ج٢٢ ص١٠٠) پر نقل کرتے ہیں)

ان دو حدیثوں سے معلوم ہوا کہ اس امت میں نبوت کا دروازہ بند ہونے کی وجہ سے خلفاء اور علماء کو امت کی سیاسی قیادت اور دینی پیشوائی کے مناصب سنبھالنے ہوں گے۔ اب ان دو حدیثوں کے ساتھ ”حدیث مجدد“ کو ملا کر پڑھئے۔ جس طرح ظاہری طور پر ایک صدی کا گذر جانا ایک بہت بڑے انقلاب کی خبر دیتا ہے کہ ایک قرن ختم ہو جاتا ہے۔ نئی نسل آتی ہے بود و باش اور تہذیب و تمدن میں فرق آ جاتا ہے۔ اسی طرح مذہبی لحاظ سے بھی حالات کا تقاضا ہوتا ہے کہ اختتام صدی پر ایک ایسا فرد اٹھے جو اپنی جماعت کے تعاون سے تجدید دین کا فریضہ سرانجام دے۔ حاصل یہ کہ خلفاء یا مجددین کی ضرورت ہی نبوت کا دروازہ بند ہونے سے پیش آئی ہے۔ ہم حیران ہیں کہ مرزا قادیانی کس قسم کے مجدد بنتے ہیں کہ وہ مجدد کے ساتھ نبی مرسل ہونے کا بھی دعویٰ کرتے ہیں۔ نبوت کا دعویٰ کر کے انہوں نے اپنی مجددیت کو رخصت کر دیا اور مجدد ہونے کا دعویٰ کر کے نبوت سے فارغ۔

الجھا ہے پاؤں یار کا زلف دراز میں
لو آپ اپنے دام میں صیاد آ گیا

حدیث مجدد کے سلسلہ میں ہماری گذارشات کا خلاصہ یہ ہے کہ اوّل تو مجدد اخیر صدی میں آتا ہے اور مرزا قادیانی ١٣٢٦ھ میں فوت ہوئے۔ وہ چودھویں صدی کے مجدد نہیں ہو سکتے۔ دوسرے ان کی سوانح حیات ایسا کوئی کارنامہ پیش نہیں کر سکی جس کو تجدیدی کارنامہ کہا جا سکے۔ بالخصوص جب مرزا قادیانی اپنے آپ کو مسیح کے رنگ کا مجدد کہلاتے ہیں تو پھر ہمیں یہ بھی دیکھنا

٩١

صفحہ ٢٣٧

پڑے گا کہ کیا بحیثیت مسیح وہ اپنے فرائض سے عہدہ برا ہو سکے ہیں۔ اگر نہیں اور یقیناً نہیں ہو سکے تو پھر وہ نہ مسیح نہ مجدد، تیسرے بروئے حدیث اس امت میں کوئی نبی نہیں آسکتا تو مرزا قادیانی کا نبی بن کر مجدد ہونے کا دعویٰ سراسر باطل اور پادر ہوا ہے۔

حدیث تجدید کے سلسلہ میں دو اور غور طلب نکتے

حدیث مجدد کے سلسلہ میں دو اور نکتے قابل غور ہیں۔ ایک یہ کہ اس حدیث کے راوی ہیں۔ حضرت ابو ہریرہؓ اور مرزا قادیانی تو ابو ہریرہؓ کو غبی اور درایت سے خالی قرار دیتے ہیں۔ (اعجاز احمدی ص ١٨، خزائن ج ١٩ ص ١٢٧) پھر ایسی روایت جس کے اکلوتے راوی ابو ہریرہؓ ہیں۔ پر اتنے بڑے دعویٰ کی بنیاد رکھنا کیا یہ علمی ثقاہت کے منافی نہ ہوگا؟ ”کہہ دو تھو تھو، بیٹھا ہوپ، ہوپ“

دوسری غور طلب بات یہ ہے کہ حدیث میں صراحت ہے۔ ”ان الله يبعث“ مجدد تو اللہ کی طرف سے آتا ہے۔ لیکن مرزا قادیانی تو انگریز کا خودکاشتہ پودا ہیں۔ اگر وہ اللہ کی طرف سے آئے تھے تو انگریز کا خودکاشتہ پودا نہیں ہو سکتے اور اگر وہ انگریز کا اپنا لگایا ہوا پودا ہیں تو اللہ کی طرف سے بھیجے ہوئے نہیں ہو سکتے۔ کوئی دانشور اس نکتہ کو حل کر سکے تو ہم اس کے شکرگزار ہوں گے۔

مرزا قادیانی کی دروغ گوئی کی ایک اور مثال

مرزا قادیانی کا کوئی سا دعویٰ لے کر آپ اس کا تجزیہ کیجئے۔ آپ دیکھیں گے کہ اس کو کامیاب بنانے کے لئے دوسری باتوں کے علاوہ مرزا قادیانی کو دروغ گوئی سے بھی کام لینا پڑتا ہے۔ چنانچہ دعویٰ مجددیت کے سلسلہ میں وہ لکھتے ہیں: ”یہ عجیب بات ہے کہ چودھویں صدی کے سر پر جس قدر بجز میرے لوگوں نے مجدد ہونے کے دعوے کئے تھے جیسا کہ نواب صدیق حسن خاں بھوپالی اور مولوی عبدالحئی لکھنوی وہ سب صدی کے اوائل دنوں میں ہی ہلاک ہوگئے اور خدا تعالیٰ کے فضل سے اب تک میں نے صدی کا چہارم حصہ اپنی زندگی میں دیکھ لیا ہے۔“

(تحفہ حقیقت الوحی ص ٣٠، خزائن ج ٢٢ ص ٣٦٢)

نواب صدیق حسن خاں بھوپالی اور مولانا عبدالحئی لکھنوی کے بارے میں یہ کہنا کہ انہوں نے مجدد ہونے کے دعوے کئے تھے۔ سفید جھوٹ اور سراسر غلط ہے۔ ان بزرگوں کی تصنیفات چھپی ہوئی موجود ہیں اور علمی حلقوں میں جانی پہچانی ہوئی ہیں۔ کہیں ان کی طرف سے اس دعوے کا کوئی نشان نہیں ملتا۔

٩٢

کیا مرزا قادیانی

ہماری طرف سے وہی ایک جواب ہے کا جو تصور پیش کرتے ہیں وہ اس تصور سے بالکل م تحریروں سے مستفاد ہوتا ہے۔ مرزا قادیانی کھینچ تان لٹریچر یہ کہتا ہے کہ وہ نبی نہیں ہوتا۔ اب پہلے مرزا قاد

کے لئے ضروری ہے کہ وہ کسی نبی کا مثیل ہو اور خدا نام ہے۔“

(اگر یہ قاعدہ صحیح ہے تو کیا ہمیں کوئی قا المحدثین حضرت عمرؓ کس نبی کے مثیل اور ہم نام ہیں؟

محدثیت ان دونوں رنگوں سے رنگین ہوتی ہے۔“

کے مرسلوں میں داخل ہے۔“

اب سنئے کہ سنت نبوی (حدیث) علیٰ ہ آنے کی نشان دہی کرتی ہے۔ صحیح بخاری کے باب ”لقد كان فى من قبلكم من الامم ناس م

خوبی ہمیں کرشمہ د

کسی میں نبوت کا ایک وصف پایا جانا رؤیائے صادقہ یعنی سچے خواب کو حدیث شریف میں شخص سچے خواب دیکھتا ہو اسے نبی کوئی نہیں کہتا۔ ٹکڑوں کو مرتبہ اور سوجھی کو حلوہ نہیں کہتا۔ جب تک کہ

٩٣

صفحہ ٢٣٧

کیا مرزا قادیانی محدث ہیں؟

ہماری طرف سے وہی ایک جواب ہے کہ بالکل نہیں۔ کیوں؟ اس لئے کہ مرزا محدث کا جو تصور پیش کرتے ہیں وہ اس تصور سے بالکل مختلف ہے جو حدیث شریف اور علماء اسلام کی تحریروں سے مستفاد ہوتا ہے۔ مرزا قادیانی کھینچ تان کر کے محدث کو نبی بنا دیتے ہیں۔ لیکن اسلامی لٹریچر یہ کہتا ہے کہ وہ نبی نہیں ہوتا۔ اب پہلے مرزا قادیانی کے اقوال سنئے۔

کے لئے ضروری ہے کہ وہ کسی نبی کا مثیل ہو اور خدا تعالیٰ کے نزدیک وہی نام پاوے جو اس نبی کا نام ہے۔"

(ازالہ اوہام ص ٥٧٠، خزائن ج ٣ ص ٤٠٧)

(اگر یہ قاعدہ صحیح ہے تو کیا ہمیں کوئی قادیانی عالم بتا سکتے ہیں کہ اس امت میں رأس المحدثین حضرت عمرؓ کس نبی کے مثیل اور ہم نام ہیں؟)

(ازالہ اوہام ص ٤٢٢، خزائن ج ٣ ص ٣٢٠)

محدثیت ان دونوں رنگوں سے رنگین ہوتی ہے۔"

(ازالہ اوہام ص ٥٣٣، خزائن ج ٣ ص ٣٨٦)

کے مرسلوں میں داخل ہے۔"

(ایام الصلح ص ٧٥، خزائن ج ١٤ ص ٣٠٩)

اب سنئے کہ سنت نبوی (حدیث) علیٰ صاحبہا الصلوٰۃ والسلام کس قسم کے محدث کے آنے کی نشان دہی کرتی ہے۔ صحیح بخاری کے باب مناقب عمر میں ہے کہ نبی اکرمﷺ نے فرمایا: "لقد كان في من قبلكم من الامم ناس محدثون فان يك في امتى احد فانه عمر" مرزا قادیانی کو اس بات کا خیال نہیں رہا کہ

خوبی ہمیں کرشمہ ونازو خرام نیست

کسی میں نبوت کا ایک وصف پایا جائے تو وہ نبی نہیں بن جاتا۔ مثال کے طور پر رؤیائے صادقہ یعنی سچے خواب کو حدیث شریف میں نبوت کا چھیالیسواں حصہ فرمایا گیا ہے۔ لیکن جو شخص سچے خواب دیکھتا ہو اسے نبی کوئی نہیں کہتا۔ اس کی مثال ایسے ہے جیسے کوئی شخص آم کے ٹکڑوں کو مربہ اور سوجی کو حلوا نہیں کہتا۔ جب تک کہ اس چیز کے اجزاء مکمل نہ ہو جائیں۔

٩٣

صفحہ ٢٣٩

عمر زاد زكريا...... قال النبي ﷺ قد كان في من قبلكم من بني اسرائيل رجال يكلمون من غير ان يكونوا انبياء فان يك في امتي احد فعمر (بخاری ج ١ ص ٥٢١) ” تم سے پہلی قوموں میں کچھ لوگ محدث ہوتے تھے۔ اگر میری امت میں کوئی ہے تو وہ عمر ہے۔ زکریا نے یہ روایت اضافے کے ساتھ نقل کی ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا تم سے پہلے لوگوں بنی اسرائیل میں ایسے آدمی ہوتے تھے جن سے فرشتے گفتگو کرتے تھے۔ مگر وہ نبی نہیں ہوتے تھے۔ اگر میری امت میں ایسا کوئی آدمی ہے تو وہ عمر ہے۔“

صراحت فرمادی گئی ہے کہ محدث لوگ نبی نہیں ہوتے۔ اس حدیث کی شرح میں حافظ ابن حجرؒ فرماتے ہیں: ”محدث کے معنی میں کئی توجیہیں کی گئی ہیں۔ ایک قول تو یہ ہے کہ اس کا معنی ملہم ہے۔ یہ اکثر علماء کا قول ہے یعنی ایسا آدمی جس کا گمان صحیح ثابت ہوتا ہو۔ ملا اعلیٰ کی طرف سے اس کے دل میں القاء ہوتا ہو...... اور ایک قول یہ ہے کہ محدث بمعنی مکلّم ہے۔ یعنی جس کے نبی ہونے کے بغیر فرشتے اس سے بات کرتے ہوں۔“

(فتح الباری)

معاف کیجئے! ہم ایک مرتبہ پھر یہ کہنے پر مجبور ہیں کہ مرزا قادیانی میں علمی دیانت کا فقدان ہے۔ وہ بسا اوقات نصوص صریحہ سے قطع نظر اور قطع برید تک کر لیتے ہیں۔ چنانچہ بخاری شریف کی محولہ بالا حدیث ان کے علم میں ہے۔ انہوں نے (ازالہ اوہام ص ٦١٤ ، خزائن ج ٣ ص ٦٠٠) میں یہ الفاظ خود نقل کئے ہیں ۔ ” من غیر ان یکونوا انبیاء “ اور اس کا ترجمہ کیا ہے ۔ ” بغیر اس کے کہ وہ نبی ہوں ۔“ اس کے باوجود وہ کہتے ہیں۔ محدث من وجہ نبی ہوتا ہے تو یہ ان کی کھلی بددیانتی ہے۔ بہر حال وہ جو چاہیں کہتے رہیں۔ ہمیں تو ثابت کرنا تھا کہ مرزا قادیانی جس نوعیت کے محدث لانا چاہتے ہیں اس قسم کے محدث کی اسلامی شریعت میں کوئی گنجائش نہیں ہے۔ لہذا ان کا دعویٰ سراسر غلط ہے۔

مرزا قادیانی کی صریح دروغ گوئی

کچھ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ دروغ گوئی مرزا قادیانی کے رگ و ریشہ میں سرایت کئے ہوئے ہے۔ مسیحیت، مہدویت، مجددیت کے دعوے کرتے ہیں تو جھوٹ بولتے ہیں۔ محدث بنتے ہیں تو وہی کرتب دکھاتے ہیں۔ محدث کو نبی بنانے کے لئے ان کا ایک جھوٹ ملاحظہ ہو۔

”مجدد صاحب سرہندی نے اپنے مکتوبات میں لکھا ہے کہ اگر چہ اس امت کے بعض افراد مکالمہ ومخاطبہ الہیہ سے مخصوص ہیں اور قیامت تک مخصوص رہیں گے۔ لیکن جس شخص کو بکثرت اس مکالمہ ومخاطبہ سے مشرف کیا جائے اور بکثرت امور غیبیہ اس پر ظاہر کئے جائیں وہ نبی کہلاتا ٩٤

ہے۔“

ہم دعوے سے کہہ سکتے ہیں کہ حضرت امام مکتوبات میں کہیں بھی یہ عبارت نہیں ہے۔ بلکہ یہ سرا انہوں نے حضرت امام موصوف کے جس فرمان کی طر کے دفتر دوم حصہ ہشتم مکتوب نمبر ٥١ بنام خواجہ محمد صدیق خود بھی اسی مکتوب کا حوالہ اپنی کتاب (ازالہ اوہام ص ٦١٤ اصل کتاب میں یہ عبارت دو کالم کی صورت میں عربی ا عربی عبارت نقل کر کے اس کا اردو ترجمہ کر دیا ہے۔ ہم کرتے ہیں۔

"اعلم ايها الصديق ان كلامه س وذالك لافراد من الانبياء وقد يكون ذالك لم هذا القسم من الكلام مع واحد منهم سمى اللہ جل شانہ کا کسی بشر کے ساتھ کلام کرنا کبھی رو برو او افراد جو خدا تعالیٰ کے ہم کلام ہوتے ہیں وہ خواص انبی بعض ایسے مکمل لوگوں کو ملتا ہے کہ نبی تو نہیں مگر نبیوں جیسا کمال پاتا ہے اس کو محدث بولتے ہیں۔“

مشہور ہے کہ ”دروغ گو را حافظہ نباشد“ وقت اتنا بھی یاد نہ رہا کہ وہ خود پہلے کیا لکھ چکے ہیں۔

مرزا قادیانی کی بڑ

مرزا قادیانی ترنگ میں آکر ایک بڑ ہانکتے کہ جس قدر خدا تعالیٰ نے مجھ سے مکالمہ و مخاطبہ کیا ہ ہیں۔ تیرہ سو برس ہجری میں کسی شخص کو آج تک بجز میر وحی الٰہی اور امور غیبیہ میں اس امت میں سے میں ع

١؎ مرزا قادیانی نے یہ لفظ یوں ہی ”المک ہے۔ حالانکہ اصل کتاب میں لفظ ”الکمل“ ہے جو کہ اسم فاعل کی پوری گردان نہ آتی ہو۔ خیر اس کو چھوڑیئے ٩٥

صفحہ ٢٣٩

ہے۔“

(حقیقت الوحی ص ٣٩٠، خزائن ج ٢٢ ص ٤٠٦)

ہم دعوے سے کہہ سکتے ہیں کہ حضرت امام ربانی مجدد الف ثانی شیخ احمد سرہندیؒ کے مکتوبات میں کہیں بھی یہ عبارت نہیں ہے۔ بلکہ یہ سراسر مرزا قادیانی کا افتراء اور بہتان ہے۔ انہوں نے حضرت امام موصوف کے جس فرمان کی طرف اشارہ کیا ہے وہ مکتوبات مطبوعہ امرتسر کے دفتر دوم حصہ ہفتم مکتوب نمبر ٥١ بنام خواجہ محمد صدیق میں موجود ہے اور لطف یہ کہ مرزا قادیانی خود بھی اسی مکتوب کا حوالہ اپنی کتاب (ازالۃ الاوہام ص ٩١٤، خزائن ج ٣ ص ٦٠٠) میں دے چکے ہیں۔ اصل کتاب میں یہ عبارت دو کالم کی صورت میں عربی اور فارسی زبان میں ہے۔ مرزا قادیانی نے عربی عبارت نقل کر کے اس کا اردو ترجمہ کر دیا ہے۔ ہم اس جگہ مرزا قادیانی کی اپنی کتاب سے نقل کرتے ہیں۔

”اعلم ایھا الصدیق ان کلامہ سبحانہ مع البشر قد یکون شفاھا وذالک لافراد من الانبیاء وقد یکون ذالک لبعض المکمّل ١؎ من متابعیھم واذا کثر ھذا القسم من الکلام مع واحد منھم سمی محدثاً یعنی اے دوست تمہیں معلوم ہو کہ اللہ جل شانہ کا کسی بشر کے ساتھ کلام کرنا کبھی روبرو اور ہم کلامی کے رنگ میں ہوتا ہے اور ایسے افراد جو خدا تعالیٰ کے ہم کلام ہوتے ہیں وہ خواص انبیاء میں سے ہیں اور کبھی یہ ہم کلامی کا مرتبہ بعض ایسے مکمل لوگوں کو ملتا ہے کہ نبی تو نہیں مگر نبیوں کے متبع ہیں اور جو شخص کثرت سے شرف ہم کلامی کا پاتا ہے اس کو محدث بولتے ہیں۔“

(ازالۃ الاوہام ص ٩١٥، خزائن ج ٣ ص ٦٠٠)

مشہور ہے کہ ”دروغ گورا حافظہ نباشد“ مرزا قادیانی کو حقیقت الوحی تصنیف کرتے وقت اتنا بھی یاد نہ رہا کہ وہ خود پہلے کیا لکھ چکے ہیں۔

مرزا قادیانی کی بڑ

مرزا قادیانی ترنگ میں آ کر ایک بڑ ہانکتے ہیں: ”اور یہ بات ایک ثابت شدہ امر ہے کہ جس قدر خدا تعالیٰ نے مجھ سے مکالمہ و مخاطبہ کیا ہے اور جس قدر امور غیبیہ مجھ پر ظاہر فرمائے ہیں۔ تیرہ سو برس ہجری میں کسی شخص کو آج تک بجز میرے یہ نعمت عطا نہیں کی گئی۔۔۔۔۔۔ اس حصہ کثیر وحی الٰہی اور امور غیبیہ میں اس امت میں سے میں ہی ایک فرد مخصوص ہوں اور جس قدر مجھ سے

١؎ مرزا قادیانی نے یہ لفظ یوں ہی ”المکمل“ نقل کیا ہے اور اسی کے مطابق ترجمہ کیا ہے۔ حالانکہ اصل کتاب میں لفظ ”الکمّل“ ہے جو کامل کی جمع تکسیر ہے۔ ممکن ہے مرزا قادیانی کو اسم فاعل کی پوری گردان نہ آتی ہو۔ خیر اس کو چھوڑیئے۔ دانایاں در پئے الفاظ مے روند!

٩٥

صفحہ ٢٤١

پہلے اولیاء اور ابدال اور اقطاب اس امت میں سے گزر چکے ہیں ان کو یہ حصہ کثیر اس نعمت کا نہیں دیا گیا۔ پس اس وجہ سے نبی کا نام پانے کے لئے میں ہی مخصوص کیا گیا اور دوسرے تمام لوگ اس نام کے مستحق نہیں۔“

(حقیقت الوحی ص ٣٩١، خزائن ج ٢٢ ص ٤٠٦)

مرزا قادیانی کی اس بڑ کے ساتھ ہم ان کا یہ جملہ بھی ملا لیتے ہیں: ”میں آخری خلیفہ ہوں۔“

(تحفۃ گولویہ ص ١٨، خزائن ج ١٧ ص ٥٣٣)

تو گویا خلاصہ یہ نکلا کہ مرزا قادیانی کی شان کا محدث اور خلیفہ ساری امت محمدیہ میں نہ ان سے پہلے کوئی ہوا ہے اور نہ آئندہ کوئی ہوگا۔ یہ رتبہ بلند فقط انہیں کے لئے مخصوص (Reserve) تھا؟ سبحان اللہ! یہ منہ اور مسور کی دال۔ First Deserve, Then) (Desire ایسا معلوم ہوتا ہے کہ یا تو مرزا قادیانی میں شیخ چلی کی روح سرایت کر گئی ہے یا ان کے یہ فرمودات اس مرض مراق کا نتیجہ ہیں جس میں وہ مبتلا تھے۔ سنجیدگی سے غور کیجئے کہ:

فاروق اعظم کو بھی یہ منصب نہ مل سکا۔

اپنی جلالت شان کے باوجود اس شان کے مالک نہیں ہیں۔ ایک مرزا قادیانی ہی کی ذات گرامی وحی الٰہی اور منصب نبوت سے مشرف ہوئی؟ ؎

خدا کی شان تو دیکھو کہ مکڑی گنجی
کرے ہمسری بلبل گلشن نوبہاری

پھر کہاں گیا مرزا قادیانی کا یہ کہنا کہ: ”مماثلت تامہ کا اشارہ جو ’ کما استخلف الذین من قبلھم ‘ سے سمجھا جاتا ہے۔ صاف دلالت کر رہا ہے کہ یہ مماثلت مدت ایام خلافت اور خلیفوں کی طرز اصلاح اور طرز ظہور سے متعلق ہے۔ سو یہ بات ظاہر ہے کہ بنی اسرائیل میں

٩٦

خلیفہ اللہ ہونے کا منصب حضرت موسیٰ سے شروع ہو بنی اسرائیل میں رہ کر آخر چودہ سو برس کے پورے ہ ہوا۔“

اب یا تو مماثلت تامہ کا تقاضا پورا کر گنوائیے جو نبی کہلائے جارہے ہوں۔ ورنہ تو آپ کو خو تفعلوا ولن تفعلوا فاتقوا النار التی وقودھا

یکتائے امت کے علمی حدود اربعہ

ادھر مرزا قادیانی پوری امت میں یکتا ا اپنی وسعت علم کے بارے میں شیخیاں بگھارتے ہیں علم سے تہی داماں ہونے میں وہ قاضی ”رطل بوق قارئین ہیں:

باپ پیدائش سے چند دن بعد ہی فوت ہو گیا اور ماں

پرائمری کا طالب علم بھی جانتا ہے کہ آں آپ کی ولادت سے پہلے ایک سفر میں فوت ہو گئے آپ ﷺ کی والدہ ماجدہ کا انتقال ہوا آپ کی عمر حلیمہ کے ہاں مقیم رہے۔ اس کے بعد اپنی والدہ ک کے سفر کو گئیں اور وہیں ابوا کے مقام پر فوت ہو گئ ہے اور افسوسناک بھی۔

ان پیشگوئیوں کی کڑیاں وہ کیونکر ملاتے ہیں۔ محمو کے بارے میں لکھتے ہیں: ”جب ١٣؍جون ١٨٩٩ لڑکے کی مجھ میں روح بولی اور الہام کے طور پر یہ ک واصیبہ “ یعنی اب میرا وقت آگیا اور میں اس پر گروں گا اور پھر اسی کی طرف جاؤں اور اسی لڑ

صفحہ ٢٤١

خلیفۃ اللہ ہونے کا منصب حضرت موسیٰ سے شروع ہوا اور ایک مدت دراز تک نوبت بہ نوبت انبیاء بنی اسرائیل میں رہ کر آخر چودہ سو برس کے پورے ہونے تک حضرت عیسیٰ ابن مریم پر یہ سلسلہ ختم ہوا۔“

(ازالہ اوہام ص ٦٦٩، خزائن ج ٣ ص ٤٦١)

اب یا تو مماثلت تامہ کا تقاضا پورا کرنے کے لئے چودہ سو برس کے محدثین کے نام گنوائیے جو نبی کہلائے جا رہے ہوں۔ ورنہ تو آپ کو اس قسم کی بڑ ہانکنے کا کوئی حق نہیں ہوگا۔ ”فان لم تفعلوا ولن تفعلوا فاتقوا النار التي وقودها الناس والحجارة اعدت للكافرين“

یکتائے امت کے علمی حدود اربعہ

ادھر مرزا قادیانی پوری امت میں یکتا اور بے ہمتا ہونے کے دعوے دار ہیں۔ جگہ جگہ اپنی وسعت علم کے بارے میں شیخیاں بگھارتے ہیں۔ لیکن وہ ایسی غلط باتیں کر جاتے ہیں کہ متاع علم سے تہی داماں ہونے میں وہ قاضی ”رطل بوق“ کو بھی مات کر جاتے ہیں۔ چند مثالیں ہدیہ قارئین ہیں:

باپ پیدائش سے چند دن بعد ہی فوت ہو گیا اور ماں صرف چند ماہ کا بچہ چھوڑ کر مر گئی تھی۔“

(پیغام صلح ص ٣٨، خزائن ج ٢٣ ص ٤٦٥)

پرائمری کا طالبعلم بھی جانتا ہے کہ آنحضرت ﷺ کے والد بزرگوار حضرت عبداللہ آپ کی ولادت سے پہلے ایک سفر میں فوت ہو گئے تھے۔ آپ ابھی شکم مادر میں تھے اور جس وقت آپ ﷺ کی والدہ ماجدہ کا انتقال ہوا آپ کی عمر چھ برس تھی۔ چار سال کی عمر تک تو آپ ﷺ مائی حلیمہ کے ہاں مقیم رہے۔ اس کے بعد اپنی والدہ کے پاس آچکے تھے کہ وہ آپ کو ہمراہ لے کر مدینہ کے سفر کو گئیں اور وہیں ابوا کے مقام پر فوت ہوگئیں۔ مرزا قادیانی کی یہ ناواقفیت حیرت انگیز بھی ہے اور افسوسناک بھی۔

ان پیشگوئیوں کی کڑیاں وہ کیونکر ملاتے ہیں۔ نمونہ ملاحظہ ہو۔ وہ اپنے چوتھے لڑکے مبارک احمد کے بارے میں لکھتے ہیں: ”جب ١٣؍جون ١٨٩٩ء کا دن چڑھا......تو خدا تعالیٰ کی طرف سے اسی لڑکے کی مجھ میں روح بولی اور الہام کے طور پر یہ کلام اس کا میں نے سنا ”انی اسقط من الله واصيبه“ ”یعنی اب میرا وقت آ گیا اور میں اب خدا کی طرف سے اور خدا کے ہاتھوں سے زمین پر گروں گا اور پھر اسی کی طرف جاؤں اور اسی لڑکے نے اسی طرح پیدائش سے پہلے یکم جنوری

٩٧

صفحہ ٢٤٣

١٨٩٧ء میں بطور الہام یہ کلام مجھ سے کیا اور مخاطب بھائی تھے کہ مجھ میں اور تم میں ایک دن کی میعاد ہے۔ یعنی اے میرے بھائیو! میں پورے ایک دن کے بعد تمہیں ملوں گا۔ اس جگہ ایک دن سے مراد دو برس تھے اور تیسرا برس وہ ہے جس میں پیدائش ہوئی اور یہ عجیب بات ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام نے تو صرف مہد میں ہی باتیں کیں۔ مگر اس لڑکے نے پیٹ میں ہی دو مرتبہ باتیں کیں اور پھر بعد اس کے ١٤؍ جون ١٨٩٩ء کو وہ پیدا ہوا اور جیسا کہ وہ چوتھا لڑکا تھا۔ اسی مناسبت کے لحاظ سے اس نے اسلامی مہینوں میں سے چوتھا مہینہ لیا یعنی ماہ صفر اور ہفتہ کے دنوں میں سے چوتھا دن لیا یعنی چار شنبہ اور دن کے گھنٹوں میں سے دوپہر کے بعد چوتھا گھنٹہ لیا اور پیر کے دن اس کا عقیقہ ہوا۔"

(تریاق القلوب ص ٤١، خزائن ج ١٥ ص ٢١٧)

مرزا قادیانی کے اس بیان پر حسب ذیل سوالات وارد ہوتے ہیں:

میں کیسے آگئی؟

تبدیلی کب سے آئی ہے کہ صفر کا مہینہ چوتھا بن گیا ہے؟

کا ہوتا ہے اور رات دس گھنٹوں کی۔ دوپہر کے بعد چوتھا گھنٹہ کیسے ہوا؟ زوال ہونے تک تو سات گھنٹے گزر جاتے ہیں۔

تھا تو عقیقہ منگل کے روز ہونا چاہئے تھا۔ یہ سنت کی خلاف ورزی کیونکر ہوئی؟ کیا الہامی شخصیتیں شرعی پابندیوں سے مستثنیٰ ہوتی ہیں؟

مرزا قادیانی اس شرعی حکم کا فلسفہ ان الفاظ میں بیان کرتے ہیں۔

"اس میں یہی حکمت ہے۔ اگر حمل میں نکاح ہو جائے تو ممکن ہے کہ دوسرے کا بھی

٩٨

نطفہ ٹھہر جائے۔ اس صورت میں نسب ضائع ہو جائے گا کس کس باپ کے ہیں۔"

شکر ہے کہ مرزا قادیانی نے ایک ہی شرعی مس فلسفہ شریعت پر ایک مستقل کتاب لکھ ڈالتے تو نہ معلوم معلوم نہیں تھا کہ ایک دفعہ حمل قرار پا جانے کے بعد رحم میں ہوتا۔ مانا کہ مرزا قادیانی کو شریعت کا علم زیادہ نہیں تھا انہوں نے خود بھی پڑھی ہوئی تھی۔

بسوخت عقل ز حیرت کہ ایں

الہامی شخصیت کے چند بول

مرزا قادیانی کی تعلی ملاحظہ ہو۔ وہ لکھتے ہیں ہے جو میرے لفظ لفظ اور حرف حرف کو زندگی بخشتی ہے۔

"میں زمین کی باتیں نہیں کہتا کیونکہ میں ز جو خدا نے میرے منہ میں ڈالا ہے۔"

"میں اپنی ذاتی طاقت سے کچھ بھی نہیں کر خدا کے بلائے بول نہیں سکتا اور بغیر اس کے دکھانے کے

اب آسمانی روح کے آسمانی بول سنئے۔

اللہ تعالیٰ کا تصور

"قیوم العالمین ایک ایسا وجود اعظم ہے کہ ہر ایک عضو اس کثرت سے ہے کہ تعداد سے خارج او طرح اس وجود اعظم کی تاریں بھی ہیں۔ جو صفحہ ہستی

مقام نبوت

"ایک شخص جو قوم کا چوہڑہ یعنی بھنگی ہے چالیس سال سے یہ خدمت کرتا ہے کہ دو وقت ان

٩٩

صفحہ ٢٤٣

نطفہ ٹھہر جائے۔ اس صورت میں نسب ضائع ہو جائے گا اور یہ پتہ نہیں لگے گا کہ وہ دونوں لڑکے کس کس باپ کے ہیں۔“

(آریہ دھرم ص ١٨، خزائن ج ١٠ص ٢١)

شکر ہے کہ مرزا قادیانی نے ایک ہی شرعی مسئلے کی حکمت بیان کی ہے۔ اگر کہیں وہ فلسفہ شریعت پر ایک مستقل کتاب لکھ ڈالتے تو نہ معلوم وہ کیا کیا گل کھلاتے۔ بندۂ خدا کو یہ بھی معلوم نہیں تھا کہ ایک دفعہ حمل قرار پا جانے کے بعد رحم میں دوسرا نطفہ ٹھہرنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ مانا کہ مرزا قادیانی کو شریعت کا علم زیادہ نہیں تھا۔ طب تو خاندانی میراث ہونے کے علاوہ انہوں نے خود بھی پڑھی ہوئی تھی۔

بسوخت عقل ز حیرت کہ ایں چہ بوالعجبی است

الہامی شخصیت کے چند بول

مرزا قادیانی کی تعلی ملاحظہ ہو۔ وہ لکھتے ہیں: ”میرے اندر ایک آسمانی روح بول رہی ہے جو میرے لفظ لفظ اور حرف حرف کو زندگی بخشتی ہے۔“

(ازالہ اوہام ص ٥٦٣، خزائن ج ٣ ص ٤٠٤)

”میں زمین کی باتیں نہیں کہتا کیونکہ میں زمین سے نہیں ہوں۔ بلکہ میں وہی کہتا ہوں جو خدا نے میرے منہ میں ڈالا ہے۔“

(پیغام صلح ص ٦٣، خزائن ج ٢٣ص ٤٨٥)

”میں اپنی ذاتی طاقت سے کچھ بھی نہیں کر سکتا۔ بلکہ مجھ میں کوئی طاقت نہیں۔ میں بغیر خدا کے بلائے بول نہیں سکتا اور بغیر اس کے دکھانے کے کچھ دیکھ نہیں سکتا۔“

(حقیقت الوحی ص ٢٧٨، خزائن ج ٢٢ ص ٢٩١)

اب آسمانی روح کے آسمانی بول سنئے۔

اللہ تعالیٰ کا تصور

”قیوم العالمین ایک ایسا وجود اعظم ہے کہ جس کے بے شمار ہاتھ اور بے شمار پیر ہیں اور ہر ایک عضو اس کثرت سے ہے کہ تعداد سے خارج اور لا انتہاء عرض و طول رکھتا ہے اور تیندواے کی طرح اس وجود اعظم کی تاریں بھی ہیں۔ جو صفحہ ہستی کے تمام کناروں تک پھیل رہی ہیں۔“

(توضیح المرام ص ٧٥، خزائن ج ٣ ص ٩٠)

مقام نبوت

”ایک شخص جو قوم کا چوہڑہ یعنی بھنگی ہے اور ایک گاؤں کے شریف مسلمانوں کی تیس چالیس سال سے یہ خدمت کرتا ہے کہ دو وقت ان کے گھروں کی گندی نالیوں کو صاف کرنے آتا

٩٩

صفحہ ٢٤٥

ہے اور ان کے پاخانوں کی نجاست اٹھاتا ہے اور ایک دو دفعہ چوری میں پکڑا گیا ہے اور چند دفعہ زنا میں بھی گرفتار ہوکر اس کی رسوائی ہو چکی ہے اور چند سال جیل خانہ میں قید بھی رہ چکا ہے اور چند دفعہ ایسے برے کاموں پر گاؤں کے نمبرداروں نے اس کو جوتے بھی مارے ہیں اور اس کی ماں اور دادیاں اور نانیاں ہمیشہ ایسے ہی نجس کام میں مشغول رہی ہیں اور سب مردار کھاتے اور گوہ اٹھاتے ہیں۔ اب خدا تعالیٰ کی قدرت پر خیال کر کے ممکن تو ہے کہ وہ اپنے کاموں سے تائب ہوکر مسلمان ہو جائے اور پھر یہ بھی ممکن ہے کہ خدا تعالیٰ کا ایسا فضل اس پر ہو کہ وہ رسول اور نبی بھی بن جائے۔“

(تریاق القلوب ص ٢٧، خزائن ج ١٥ ص ٢٨٠،٢٧٩)

قربان جائیے! کیسی تقریر دلپذیر ہے؟
اندھے کو اندھیرے میں بہت دور کی سوجھی

معجزات

مرزا قادیانی اپنے معجزات کا انبیاء سابقین علیہم السلام کے معجزات سے موازنہ ان لفظوں میں کرتے ہیں: ”اس جگہ اکثر گذشتہ نبیوں کی نسبت بہت زیادہ معجزات اور پیش گوئیاں موجود ہیں۔ بلکہ بعض گذشتہ انبیاء علیہم السلام کے معجزات اور پیش گوئیوں کو معجزات اور پیش گوئیوں سے کچھ نسبت ہی نہیں اور نیز ان کی پیش گوئیاں اور معجزات اس وقت محض بطور قصوں اور کہانیوں کے ہیں۔ مگر یہ معجزات ہزارہا لوگوں کے لئے واقعات چشم دید ہیں۔..... قصے تو ہندوؤں کے پاس بھی کچھ کم نہیں۔ قصوں کو پیش کرنا تو ایسا ہے جیسا کہ ایک گوبر کا انبار مشک اور عنبر کے مقابل پر۔“

(نزول المسیح ص ٨٣، ٨٤، خزائن ج ١٨ ص ٤٦٠ تا ٤٦٢)

العیاذ باللہ! کتنی بڑی بکواس ہے؟

حضرات انبیاء علیہم السلام کی ایک مثال

مرزا قادیانی لکھتے ہیں: ”یہودیوں، عیسائیوں اور مسلمانوں پر بباعث ان کے کسی پوشیدہ گناہ کے یہ ابتلاء آیا کہ جن راستوں سے وہ اپنے موعود نبیوں کا انتظار کرتے رہے ان راہوں سے نہیں آئے۔ بلکہ چور کی طرح کسی اور راہ سے آگئے ۔“ نعوذ باللہ!

(نزول المسیح ص ٤٥ حاشیہ، خزائن ج ١٨ ص ٤١٣)

سیدالانبیاء علیہ وعلیہم الصلوٰۃ والسلام سے مقابلہ

مرزا قادیانی اعجاز احمدی میں ایک شعر عربی زبان میں لکھتے ہیں۔ جس کا ترجمہ ان کے

١٠٠

اپنے لفظوں میں درج ذیل ہے: ”اس کے لئے چا چاند اور سورج دونوں کا۔ اب کیا تو انکار کرے گا۔“

معجزہ شق القمر کو خسوف (چاند گرہن )

اپنے لئے دو گرہن ثابت کرنا دوسری توہین ہے۔ کت

حضرت عیسیٰ علیہ السلام

”مسیح تو صرف ایک معمولی سا نبی تھا اس کے علاوہ ضمیمہ انجام آتھم میں انہو القابات سے نوازا گیا ہے۔ یہ وہی برگزیدہ نبی ہیں والآخرة ومن المقربين“ فرمایا گیا ہ مرزا قادیانی کے خرافات کو۔

کلام خداوندی کی حیثیت

”خدا کا کلام بندہ اور خدا میں ایک دلا

مرزا قادیانی کے حسن ذوق کی داد نہ کے کلام کے لئے تشبیہ کیسی پیاری منتخب کی ہے؟

صحابہؓ کی عظمت

”ابوہریرہ غبی تھا اور درایت اچھی نہیں یہ وہی ابوہریرہؓ ہیں جو صحابہؓ کی پوری والے ہیں۔ امام ذہبیؒ انکا تذکرہ شروع کرتے کر لکھتے ہیں: ”كان من اوعية العلم والعبادة“

شان اہل بیت

قصیدہ اعجازیہ (بزبان عربی) میں شعر کہے ہیں۔ جن میں سے بعض کا ترجمہ در فرق ہے۔ کیونکہ مجھے تو ہر وقت خدا کی تائید اور

صفحہ ٢٤٥

اپنے لفظوں میں درج ذیل ہے: ”اس کے لئے چاند کے خسوف کا نشان ظاہر ہوا اور میرے لئے چاند اور سورج دونوں کا۔ اب کیا تو انکار کرے گا۔“

(اعجاز احمدی ص ٧١، خزائن ج ١٩ ص ١٨٣)

معجزہ شق القمر کو خسوف (چاند گرہن) قرار دینا ایک توہین اور پھر ایک کے مقابلہ میں اپنے لئے دو گرہن ثابت کرنا دوسری توہین ہے۔ کتنی بڑی گستاخی ہے۔

حضرت عیسیٰ علیہ السلام

”مسیح تو صرف ایک معمولی سا نبی تھا۔“

(اتمام الحجۃ ص ٢٨، خزائن ج ٨ ص ٣٠٨)

اس کے علاوہ ضمیمہ انجام آتھم میں انہیں نادان، درماندہ، بدزبان اور اس قسم کے دیگر القابات سے نوازا گیا ہے۔ یہ وہی برگزیدہ نبی ہیں جنہیں قرآن پاک میں ”وجيها في الدنيا والآخرة ومن المقربين“ فرمایا گیا ہے۔ اب فیصلہ کیجئے کہ اللہ کے قرآن کو ماننا ہے یا مرزا قادیانی کے خرافات کو۔

کلام خداوندی کی حیثیت

”خدا کا کلام بندہ اور خدا میں ایک دلالہ ہے۔“

(نزول المسیح ص ٩٧، خزائن ج ١٨ ص ٤٧٥)

مرزا قادیانی کے حسن ذوق کی داد نہ دینا یقیناً ناقدری ہوگی۔ پڑھئے اور سر دھنئے کہ اللہ کے کلام کے لئے تشبیہ کیسی پیاری منتخب کی ہے؟

صحابہؓ کی عظمت

”ابوہریرہ غبی تھا اور درایت اچھی نہیں رکھتا تھا۔“

(اعجاز احمدی ص ١٩، خزائن ج ١٩ ص ١٢٧)

یہ وہی ابو ہریرہؓ ہیں جو صحابہؓ کی پوری جماعت میں سب سے زیادہ حدیثیں نقل کرنے والے ہیں۔ امام ذہبیؒ اکابر کا تذکرہ شروع کرتے ہوئے پہلا لفظ لکھتے ہیں: ”الفقيه“ اور آگے چل کر لکھتے ہیں: ”كان من اوعية العلم ومن كبار ائمة الفتوى مع الجلالة والعبادة“

(دیکھئے تذکرۃ الحفاظ)

شان اہل بیتؓ

قصیدہ اعجازیہ (بزبان عربی) میں حضرت حسینؓ کے بارے میں مرزا قادیانی نے کئی شعر کہے ہیں۔ جن میں سے بعض کا ترجمہ درج ذیل ہے: ”مجھ میں اور تمہارے حسین میں بہت فرق ہے۔ کیونکہ مجھے تو ہر وقت خدا کی تائید اور مدد مل رہی ہے۔“

١٠١

صفحہ ٢٤٦

”مگر حسین، پس تم دشت کربلا کو یاد کرلو۔ اب تک تم روتے ہو۔ پس سوچ لو۔“

”اور میں خدا کا کشتہ ہوں۔ لیکن تمہارا حسین دشمنوں کا کشتہ ہے۔ پس فرق کھلا کھلا اور ظاہر ہے۔“

”تم نے خدا کے جلال اور مجد کو بھلا دیا اور تمہارا درد صرف حسین ہے کیا تو انکار کرتا ہے۔“

”پس یہ اسلام پر ایک مصیبت ہے۔ کستوری کی خوشبو کے پاس گوہ کا ڈھیر ہے۔“

(اعجاز احمدی ص ٨٢،٨١، خزائن ج ١٩ ص ١٩٤، ١٩٣)

مرزا قادیانی کی زبان پر غلیظ اور نجس اشیاء کا ذکر اتنی کثرت سے آتا ہے کہ اگر انہیں ”چرکین اعظم“ کا خطاب دیا جائے تو یقیناً موزوں رہے گا۔

حرف آخر

مرزا غلام احمد قادیانی اپنے اللہ کے دربار میں پہنچ چکے ہیں۔ وہ جو کچھ کہتے رہے اور جو کچھ کرتے رہے۔ اس کی جواب دہی خود کر رہے ہوں گے۔ ہمارا روئے سخن ان لوگوں کی طرف ہے جو ان کی پیروکاری میں اپنی عاقبت خراب کر رہے ہیں۔ ”الذین ضل سعیهم فی الحیوة الدنیا وهم یحسبون انهم یحسنون صنعا“ ان کا کیا کرایا سب دنیا میں ہی ضائع ہو جائے گا۔ حالانکہ وہ خیال کر رہے ہیں کہ وہ ٹھیک کام کر رہے ہیں۔

گزشتہ اوراق سے معلوم ہو چکا ہے کہ مرزا قادیانی کے دعوؤں میں حق وصداقت کا کوئی شائبہ نہیں۔ وہ ابلہ فریبی، عیاری، دروغ گوئی اور دھوکہ بازی کے ذلیل حربوں سے کام لیتے رہے۔ ان کی زبان نہایت غلیظ تھی۔ وہ اخلاقی پستی کا شکار تھے۔ مسیح موعود، مہدی، مجدد یا ملہم من اللہ ہونا تو در کنار رہا۔ نہ وہ اتنا علم رکھتے تھے کہ انہیں علماء کی صفوں میں جگہ مل سکے۔ نہ ان کا کردار اونچا تھا کہ انہیں ایک روحانی پیشوا تسلیم کیا جاسکے۔ وہ انگریز کے زلہ ربا تھے اور بس۔ انگریز کے سایہ میں ان کا کاروبار چلتا رہا۔ اب نہ وہ سایہ رہا ہے اور نہ سایہ دار۔ مداری اپنا کھیل دکھا کر چلا گیا ہے۔ تم کب تک اس کی شعبدہ بازیوں کے پیچھے کھوئے رہو گے؟ ظلمت شب کا پردہ چاک ہو چکا ہے۔ کیا اب بھی تم نہیں دیکھ سکتے۔ اللہ تعالیٰ نے تمہیں کان دیئے ہیں کہ سنو۔ آنکھیں دی ہیں کہ دیکھو اور دل و دماغ کی دولت سے نوازا ہے کہ تم سوچو سمجھو۔

”ان السمع والبصر والفؤاد كل اؤلئك كان عنه مسئولا“

١٠٢

خاتم النبیین

لا نبی بعدی

السیوف ا

لقطع الدعاو

مولانا عبدالحفیظ

PDF 248

انا خاتم النبيين لا نبي بعدي

السيوف الكلاميه

لقطع الدعاوى الغلاميه

مولانا عبدالحفیظ حقانی حنفی آگرہ

صفحہ ٢٤٩

بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

الحمدلله الذى بعث نبينا محمداً ببراهين قاطعة وحجج ساطعة ومعجزات ظاهرة وآيات باهرة سيد المرسلين امام الاولين والآخرين حبيب اله العالمين ذالك الرسول الهاشمى الذى كان نبياً وآدم بين الماء والطين لولاه لما خلق السمٰوات والارضين فهو كالعلة الغائية للتكوين انه من آيات ربه الكبرى ومظهر اسمائه الحسنى محمد المصطفى خاتم النبوة والرسالة احمد المجتبى صاحب المقام المحمود والشفاعة

محمد سيد الكونين والثقلين والفريقين من عرب ومن عجم

اللهم صلى عليه صلوة دائمة بعدد كل ذرة مائة الف الف مرة وعلى اله واصحابه اجمعين وعلى عترته الطيبين وعلى جميع اولياء الله لهم التابعين اما بعد!

فقیر درگاہ قادری ابوالاسد محمد عبدالحفیظ انواروی بریلوی عفی عنه وعن والديه وعن جميع المسلمين ابن حضرت افضل الفضلاء استاذ العلماء جناب مولانا حافظ حکیم حاجی محمد عبدالمجید صاحب قادری مقتدائی لازالت شموس علمه طالعة نجوم فضله ساطعة ودام علينا ظله خادم دارالفقہ والحدیث انجمن تبلیغ الاحناف امرتسر اہل اسلام کی خدمات عالیہ میں عرض پرداز ہے کہ اس فقیر سراپا تقصیر کو ١٣١٨ھ ماہ مابین العیدین ذی قعدۃ الحرام کے عشرہ اخیرہ میں اس کے رب رؤف و رحیم تبارک وتعالیٰ نے وجود دنیوی عطا فرمایا۔

والدین کے ذریعہ جسمانی و روحانی تربیت فرمائی اور آج ٢٠ جمادی الاول ١٣٥٤ھ مطابق یکم ستمبر ١٩٣٤ء کو انجمن اہلسنت والجماعت تبلیغ الاحناف امرتسر پنجاب کے دفتر میں یہ کتاب خدمت اسلام واصلاح عقائد اہل اسلام کے لئے لکھنا شروع کی۔

اس اثناء میں قرآن کریم کی تعلیم سے فارغ ہو کر حضرت والد صاحب قبلہ ادام الله علینا ظلہ نے تعلیم دینیات کی توجہ فرمائی اور خود حضرت نے فارسی کی ابتدائی مگر ضروری کتابیں پڑھانے کے بعد عربی شروع کرادی۔ الحمدلله کہ کامل درس نظامی مروج ہندوستان سے معہ دورہ حدیث شریف جبکہ میری عمر ١٧ برس کی تھی۔ حضرت والد صاحب قبلہ ہی کے دست مبارک پر فراغت حاصل کی۔ ٢

اس کے بعد مدرسہ عالیہ نظامیہ دارالعلوم (مسلم یونیورسٹی درجہ (مولانا) کی آخر سال میں شریک ہوا اور حضر الدین عبدالباری صاحب انصاری سے مسلم شریف اور بُ دوبارہ حصول برکت سلسلۂ نظامیہ کی غرض سے سبقاً سبقاً پ تین برس تک مطالعہ کتب میں مصروف رہا۔ کے پاس رہ کر مدرسہ اہلسنت و جماعت مظہر حق واقعہ قصبہ دیتا رہا۔ یہاں تک کہ قصبہ مبارک پور ضلع اعظم گڑھ م سال قیام کیا۔ پھر مدرسہ مظہرالعلوم بنارس میں دو سال قیا مدرسہ نعمانیہ دہلی میں ایک سال حدیث شریف کی خدمت کے فرائض انجام دیتا رہا۔ چنانچہ کئی طلبہ یونیورسٹی لاہو حضرت والد صاحب قبلہ کو اہل بمبئی نے یاد فرمایا اور س اصرار کیا اور مکرمی و مخدومی جناب حاجی علاؤ الدین صاح بمبئی جانے کے ارشاد فرمائے۔

حضرت وہاں تشریف لے گئے۔ مدرسہ مظہر خالی ہو گیا مجبوراً مجھ کو قصور ترک کرنا پڑا اور مدرسہ مظہر ال اپنے ذمہ لی۔ متواتر کئی سال وہاں مقیم رہا اور ایک مستق کہ انہوں نے درس نظامی اور دورہ حدیث سے فقیر کے علی ذالك !

فقیر کو چونکہ تدریس کے ساتھ ساتھ تقریر کا میں اکثر جلسوں میں شرکت کا موقع ہوا۔ اس سلسلہ میں عرس امام اعظم ابو حنیفہ میں جو اپنی شان وشوکت میں بے اسی کے طفیل لاہور مرکزی انجمن حزب الاحناف ہند کے اہل امرتسر کو ایک خاص محبت فقیر سے پیدا مولوی عبد الاسلام صاحب ہمدانی اور جناب بھائی محمد ا غلام قادر صاحب اور جناب حاجی سلطان محمد صاحب گرامی فہرست کے پہلے صفحہ کو زینت دینے کا حق رکھتے ٣

صفحہ ٢٤٩

اس کے بعد مدرسہ عالیہ نظامیہ دارالعلوم فرنگی محل لکھنو میں عربی کی آٹھویں جماعت یعنی درجہ (مولانا) کی آخر سال میں شریک ہوا اور حضرت امام الوقت مولانا مولوی حاجی محمد قیام الدین عبدالباری صاحب انصاریؒ سے مسلم شریف اور شرح چغمینی (علم ہیئت) ان دو کتابوں کا دوبارہ حصول برکت سلسلہ نظامیہ کی غرض سے سبقاً سبقاً درس لیا۔

تین برس تک مطالعہ کتب میں مصروف رہا۔ اس سلسلہ میں حضرت والد صاحب قبلہ کے پاس رہ کر مدرسہ اہلسنت و جماعت منظر حق واقع قصبہ ٹانڈہ ضلع فیض آباد، یوپی میں طلبہ کو درس دیتا رہا۔ یہاں تک کہ قصبہ مبارک پور ضلع اعظم گڑھ میں مدرسہ اشرفیہ کی خدمت کے لئے ایک سال قیام کیا۔ پھر مدرسہ مظہر العلوم بنارس میں دو سال تک عہدہ صدارت پر فائز رہا۔ اس کے بعد مدرسہ نعمانیہ دہلی میں ایک سال حدیث شریف کی خدمت کرتا رہا پھر قصور ضلع لاہور میں انجمن حنفیہ کے فرائض انجام دیتا رہا۔ چنانچہ کئی طلبہ یونیورسٹی لاہور میں بغرض امتحان شریک ہوئے۔ چونکہ حضرت والد صاحب قبلہ کو اہل بمبئی نے یاد فرمایا اور سیٹھ حاجی عبدالرزاق صاحب نے بے حد اصرار کیا اور مکرمی و مخدومی جناب حاجی علاؤ الدین صاحب نے بھی چند مفید اور ضروری مشورے بمبئی جانے کے ارشاد فرمائے۔

حضرت وہاں تشریف لے گئے۔ مدرسہ منظر حق ٹانڈہ جو حضرت ہی کا قائم کردہ ہے۔ خالی ہو گیا مجبوراً مجھ کو قصور ترک کرنا پڑا اور مدرسہ منظر حق کی خدمت جو مجھ پر ایک طرح فرض تھی اپنے ذمہ لی۔ متواتر کئی سال وہاں مقیم رہا اور ایک مستعد جماعت کی خدمت کرتا رہا۔ یہاں تک کہ انہوں نے درس نظامی اور دورہ حدیث سے فقیر کے ہاتھ پر فراغت حاصل کی۔ والحمد للہ على ذلك!

فقیر کو چونکہ تدریس کے ساتھ ساتھ تقریر کا بھی شروع ہی سے شوق تھا۔ اس لئے یوپی میں اکثر جلسوں میں شرکت کا موقع ہوا۔ اس سلسلہ میں قدرت نے امرتسر پہنچایا۔ پانچ سال جلسہ عرس امام اعظم ابو حنیفہ میں جو اپنی شان و شوکت میں بے مثل و بے نظیر ہوتا ہے شریک ہوتا رہا۔ پھر اسی کے طفیل لاہور مرکزی انجمن حزب الاحناف ہند کے جلسہ میں حاضری کا اتفاق ہوا۔

اہل امرتسر کو ایک خاص محبت فقیر سے پیدا ہوئی۔ ان احباب میں خاص طور پر جناب مولوی عبدالسلام صاحب ہمدانی اور جناب بھائی محمد الدین صاحب ٹمبر مرچنٹ اور جناب بابو غلام قادر صاحب اور جناب حاجی سلطان محمد صاحب اور جناب مستری خیر الدین کے اسمائے گرامی فہرست کے پہلے صفحہ کو زینت دینے کا حق رکھتے ہیں۔ باشندگان امرتسر کا اصرار ہوتا رہا کہ تو

٣

صفحہ ٢٥١

امرتسر آجائیں۔ یہاں خدمت دین کی سخت ضرورت ہے۔ میں نے عرض کیا کہ جب تک کہ کوئی باقاعدہ انجمن ہو۔ اس وقت تک کسی منظم طریقہ سے تبلیغ غیر ممکن ہے۔ اس لئے ایک انجمن کی مستحکم بنیاد قائم کی جائے۔ چنانچہ باشندگان امرتسر نے اپنے اس دینی شوق کو اعلیٰ حضرت قبلہ عالم شیخ المشائخ قدوۃ السالکین زبدۃ العارفین حضرت مولانا حافظ حاجی پیر سید جماعت علی شاہ صاحب قبلہ مدظلہ کی خدمت بابرکت میں ظاہر کیا۔ اس انجمن کے قائم کرنے اور اس کے لئے ہر مصیبت کا مقابلہ کرنے میں سب سے پہلا قدم جس نے اٹھایا وہ ہمارے محترم بزرگ جناب صوفی حسین بخش صاحب ہیں۔ مولیٰ تعالیٰ نے ان کو کامیاب فرمایا اور فقیر ١٤ شعبان ١٣٥١ھ کو امرتسر حاضر ہوا۔ مسجد جان محمد مرحوم میں شب برأت کو ایک جلسہ عام منعقد ہوا۔ جس کی کرسی صدارت کو حضرت قبلہ عالم محدث علی پوری دام ظلہ نے عزت بخشی۔ اسی شب کو انجمن تبلیغ الاحناف نے اپنی پوشیدہ برکتوں کے ساتھ قیام فرمایا۔ صبح کو مسجد سکندر خاں مرحوم میں حضرت نے اپنے مبارک ہاتھوں سے فقیر کی دستار بندی فرمائی۔

صبح کو درس قرآن شریف، شام کو درس حدیث شریف شروع کیا۔ اس مقام پر یہ نہیں فراموش کیا جاسکتا کہ مکرمی حاجی عبدالرحمٰن صاحب و حاجی عبدالغنی صاحب متولیان مسجد سکندر خاں مرحوم رئیسان بٹالہ نے نہایت جوش ایمانی، دریا دلی سے اور فقیر سے پانچ برس کے دوستانہ تعلق کی بناء پر انجمن کی مبلغ تیس روپیہ ماہوار سے امداد فرمائی۔ جو بفضلہ تعالیٰ اب تک عطا فرما رہے ہیں۔

اس انجمن کی خدمت کرتے ہوئے آج پونے دو برس ہوئے اس قلیل مدت میں انجمن نے بڑی شہرت حاصل کی۔ پنجاب کے مختلف اضلاع و قرٰی میں تبلیغ کے سلسلہ میں جانا ہوا۔ رب تبارک و تعالیٰ نے فقیر کی تقریر و تحریر کو اپنے حبیب ﷺ کے طفیل بہت مقبول کیا۔ یہاں تک کہ ملتان شریف میں مناظرہ ہوا۔ اس میں خدائے تعالیٰ نے کامیابی عطا فرمائی۔ حضرت پیر مخدوم سید صدر الدین صاحب قبلہ قادری سجادہ نشین آستانہ عالیہ قادریہ نے اپنے دست مبارک سے انعامی تمغہ عطا فرمایا۔

امرتسر میں چونکہ غیر مقلدیت نے بڑا اثر پھیلایا تھا تو سب سے پہلے فقیر نے اس طرف توجہ کی اور اپنے ان بھائیوں کو جو ایک مدت سے صحیح اور سچے مذہب اہلسنت و جماعت کے لئے پیاسے تھے۔ عقائد اہل سنت و جماعت کی تلقین شروع کی اور اسی کے ساتھ ساتھ دوسروں کے عقائد باطلہ کا رد بھی اختیار کیا۔ پھر کیا تھا۔ ایک طرف تو مولوی ثناء اللہ صاحب امرتسری نے اپنی تحریر و تقریر کا دھاوا بول دیا۔ اشتہارات و رسائل کا سلسلہ جاری ہوا۔ بفضلہ تعالیٰ تقریر کا تقریر میں، ٤

تحریر کا تحریر میں رد بلیغ ہوتا رہا۔ یہاں تک کہ اس عرصہ ق فرمائی اور دونوں جماعتیں تقریر و تحریر دونوں ہتھیار چھو سلسلہ میں اہل امرتسر کو عقائد حقہ اہلسنت و جماعت اور فقیر کو بھی اس طرف سے اطمینان ہوا۔ سکون حاصل ہوا

احباب نے تقاضا کیا اور دور دور کے شہروں کوئی کتاب تصنیف ہونی چاہئے۔ فقیر نے خیال کیا کہ پرزے پرزے اڑا دیئے ہیں۔ سینکڑوں رسائل ہزاروں ہیں۔ وہ کونسی ایسی چیز ہے جس کو میں پبلک کے سامنے نہیں گزری۔ ہر پہلو پر یہ نظر ڈالی مگر یہ سوچ کر کہ ممکن ہ کرسکوں جو بالتشریح اب تک پبلک کے سامنے نہ آئے ہوتا ہے۔ شاید ان لوگوں کو جو فقیر کی طرز تحریر و تقریر سے دے سکوں۔ یہ بھی خیال ہوا کہ بد مذہبوں کا رد کرنا ایک کچھ نہ لکھا تو ایک ثواب سے محروم رہوں گا۔ اس طرف سے فائدہ بخشے اور فقیر کا اس خدمت دینیہ کے طفیل ا اسلام کی بجاء لانے پر توفیق عطا فرمائے: ”اِن اُرِیْدُ توفیقی الا بالله عليه توكلت واليه انيب۔

اِن الدين عند الل

یہ امر محتاج بیان نہیں کہ دنیا فانی ہے۔ کہ ہے۔ ہر عیش یہاں کا قصہ و کہانی ہے۔ زندگی چند روزہ دنیا کو چھوڑ کر کسی دوسرے گھر جانا ہے۔ جس خداوند ت مال، اولاد، صحت و عافیت صدہا نعمتیں محض اپنے فض طریق اختیار کریں جس سے وہ راضی و خوش ہو اور ہ فرمائے۔ اس طریق کا نام اسلام ہے یہ ہی خدا کا محبو الاسلام ديناً “ جس کو بندوں کے لئے مقرر ف اسلام۔ کے دامن سے وابستہ ہیں۔ ”اولئك علـ المفلحون“ یہی اسلام مظہر و مزکی دین ہے خدا پ ٥

صفحہ ٢٥١

تقریر کا تحریر میں رد بلیغ ہوتا رہا۔ یہاں تک کہ اس عزیز وحکیم جل وعلا نے بندوں پر فتح و کامیابی عطا فرمائی اور دونوں جماعتیں تقریر و تحریر دونوں ہتھیار چھوڑ کر محاذ جنگ سے پیچھے ہٹ گئیں۔ اس سلسلہ میں اہل امرتسر کو عقائد حقہ اہلسنت و جماعت اور عقائد باطلہ پر پورا پورا عبور حاصل ہو گیا اور فقیر کو بھی اس طرف سے اطمینان ہوا۔ سکون حاصل ہوا۔ فلہ الحمد والمنة!

احباب نے تقاضا کیا اور دور دور کے شہروں سے بھی فرمائش ہوئی کہ رد قادیانیت میں کوئی کتاب تصنیف ہونی چاہئے۔ فقیر نے خیال کیا کہ علمائے پنجاب نے جامۂ قادیانیت کے تو پرزے پرزے اڑا دیئے ہیں۔ سینکڑوں رسائل ہزاروں اشتہارات رد مرزائیت میں شائع ہو چکے ہیں۔ وہ کونسی ایسی چیز ہے جس کو میں پبلک کے سامنے پیش کروں۔ ایک وقت دراز اسی غور وفکر میں گزر گیا۔ ہر پہلو پر یہ نظر ڈالی مگر یہ سوچ کر کہ ممکن ہے کہ چند علمی فوائد اس سلسلہ میں ایسے پیش کر سکوں جو بالتصریح اب تک پبلک کے سامنے نہ آئے ہوں۔ علاوہ اس کے ہر شخص کا طرز تحریر جدا ہوتا ہے۔ شاید ان لوگوں کو جو فقیر کی طرز تحریر و تقریر سے حظ اٹھاتے ہیں۔ اپنے اس انداز سے تسلی دے سکوں۔ یہ بھی خیال ہوا کہ بد مذہبوں کا رد کرنا ایک کار ثواب ہے اور میں نے اس سلسلہ میں کچھ نہ لکھا تو ایک ثواب سے محروم رہوں گا۔ اس طرف اقدام کیا۔ مولیٰ تعالیٰ تمام مسلمانوں کو اس سے فائدہ بخشے اور فقیر کا اس خدمت دینیہ کے طفیل انجام بخیر فرمائے اور آئندہ اسی طرح خدمت اسلام کی بجا لانے پر توفیق عطا فرمائے: ”اِن أريد الا الاصلاح ما استطعت وما توفيقى الا بالله عليه توكلت واليه أنيب.“

ان الدين عند الله الاسلام

یہ امر محتاج بیان نہیں کہ دنیا فانی ہے۔ کل من عليها فان۔ یہاں کی ہر چیز آنی جانی ہے۔ ہر عیش یہاں کا قصہ و کہانی ہے۔ زندگی چند روزہ ہے۔ کل نفس ذائقة الموت۔ آخر اس دنیا کو چھوڑ کر کسی دوسرے گھر جانا ہے۔ جس خداوند تعالیٰ نے ہمیں آنکھیں، ہاتھ، پاؤں، کان، ناک، مال، اولاد، صحت و عافیت صدہا نعمتیں محض اپنے فضل و کرم سے عطا کیں۔ اس کے واسطے ایسا طریق اختیار کریں جس سے وہ راضی و خوش ہو اور دار آخرت میں اس سے زیادہ ابدی نعمتیں عطا فرمائے۔ اس طریق کا نام اسلام ہے یہ ہی خدا کا محبوب و مرضی دین ہے۔ ”ورضيت لكم الاسلام دينا“ جسے بندوں کے لئے مقرر فرمایا۔ فلاح و نجات عقبی کے تمام اصول اسی اسلام کے دامن سے وابستہ ہیں۔ ”اولئك على هدى من ربهم واولئك هم المفلحون“ یہی اسلام مطہر و مزکی دین ہے خدا تک پہنچنے کا اس کے سوا کوئی راستہ نہیں۔ ”ومن

٥

صفحہ ٢٥٣

راستے ہیں مگر ان میں سے ہر ایک راستہ پر شیطان ہے۔ بیان فرمانے کے بعد استشہاداً آیہ کریمہ تلاوت فرمائی: ”وان ہذا صراطی مستقیماً فاتبعوہ“ میرا مستقیم یہی ہے۔ (جو میں نے تم کو تعلیم دیا ہے اس پر چلو۔ اور راستوں کو نظر اٹھا کے بھی نہ دیکھو۔

سرکار رسالت مآب ﷺ کا زمانہ تو وہ مطہر اور مقدس تھا کہ اس میں خیال کرنا بھی گناہ۔ سرکار خود ارشاد فرماتے ہیں: ”خیر القرون قرنی ثم الذین یلونہم“ تمام زمانوں میں بہتر میرا زمانہ ہے۔ اس کے بعد وہ زمانہ پھر جو اس کے متصل یعنی تبع تابعین کا زمانہ۔

یہاں تک کہ فتنے حادث ہوئے ائمہ دین پر ظلم ہوا۔ طرح طرح کے فتنے پیدا ہوا۔ بدعتوں خواہشات نفسانیہ کی طرف میلان بڑھا۔ اور مختلف فرقے پیدا ہوئیں۔ قدریہ، مرجیہ، جبریہ، شیعہ، معتزلہ، وہابیہ، نیچریہ وغیرہ پیدا ہوئیں۔ اسی کی طرف سرکار دوعالم ﷺ نے خود ارشاد بھی فرمایا تھا: ”تفترق امتی علی ثلث وسبعین ملة کلہم فی النار الا واحدة قالوا من ہی یا رسول اللہ قال ما انا علیہ واصحابی (رواہ الترمذی ومشکوٰۃ ص ٣٠) ”میری امت تہتر فرقوں میں بٹ جائے گی کل دوزخ میں ہو جائیں گے۔ مگر ایک فرقہ۔ صحابہؓ نے عرض کیا یا رسول اللہ وہ کونسا فرقہ ہے؟ ارشاد فرمایا جو صحیح طور سے میری سنت پر عمل کرے اور میرے صحابہ کے طریقہ پر“۔

صادق ومصدوق ﷺ نے اس پیشین گوئی سے مسلمانوں کو خبردار کر دیا کہ پرفتن زمانہ میں جبکہ ہر طرف بدعقیدگی کا سیلاب زوروں پر ہوگا اور طرح طرح کے فتنے اٹھیں گے ان میں نجات کا یـ ہی ایک راستہ ہے۔ جس پر میں اور میرے صحابہ ہیں۔ بس یہی ایک محفوظ اور فتنوں کے زہریلے اثر سے محفوظ رہیں گے۔ اس راہ مستقیم پر چلنے والے اللہ تعالیٰ کے نیک بندے اولیاء، اقطاب، ابدال، غوث ہیں۔ باقی اس مذہب کے علاوہ دوسرے مذاہب باطلہ والے اپنی جہالتوں کی وجہ سے ہیں؟ ہر گز نہیں۔

وہابیت وغیر مقلدیت تو اب تقریباً ڈیڑھ سو سال سے ہندوستان میں جنم لیا۔ جب گزشتہ مذاہب باطلہ کو یہ نعمت نصیب نہ ہو سکی تو یہ کیا کر سکتے ہیں۔ دیکھو جتنے مذاہب باطلہ پیدا ہوئے فنا ہو گئے مگر بحمداللہ تعالیٰ یہ

٧

صفحہ ٢٥٣

راستے ہیں مگر ان میں سے ہر ایک راستہ پر شیطان ہے۔ جو اپنی طرف بلاتا ہے۔ اس مضمون کے بیان فرمانے کے بعد استشہاداً آیہ کریمہ تلاوت فرمائی: ”وان ھذا صراطی مستقیما فاتبعوہ“ میرا مستقیم یہی ہے۔ (جو میں نے تم کو تعلیم کیا ۔) اسی راستہ کا اتباع کرو اور دوسرے راستوں کو نظر اٹھا کے بھی نہ دیکھو۔

سرکار رسالت مآب ﷺ کا زمانہ تو وہ مطہر اور پاک زمانہ تھا جس میں اختلاف وتفرق کا خیال کرنا بھی گناہ۔ سرکار خود ارشاد فرماتے ہیں: ”خیر القرون قرنی ثم الذین یلونھم ثم الذین یلونھم“ تمام زمانوں میں بہتر میرا زمانہ ہے۔ پھر جو اس کے متصل یعنی تابعین کا زمانہ، پھر جو اس کے متصل یعنی تبع تابعین کا زمانہ۔

یہاں تک کہ فتنے حادث ہوئے ائمہ دین پر ظلم وتعدی شروع ہوا۔ رایوں میں اختلاف پیدا ہوا۔ بدعتوں خواہشات نفسانیہ کی طرف میلان بڑھا۔ بدعقیدگیاں ظاہر ہوئیں۔ بدمذہبیاں پیدا ہوئیں۔ قدریہ مرجیہ، جبریہ، شیعہ، معتزلہ، وہابیہ، چکڑالویہ، خارجی اور کیا کیا بلائیں پیدا ہوئیں۔ اسی کی طرف سرکار دوعالم ﷺ نے خود ارشاد بھی فرمایا کہ: ”وتفترق امتی علی ثلث وسبعین ملة کلھم فی النار الا واحدة قالو من ھی یا رسول الله قال ما انا علیه واصحابی (رواہ الترمذی ومشكوة ص ٣٠)“ میری امت کے بھی تہتر فرقے ہو جائیں گے۔ کل دوزخ میں ہو جائیں گے۔ مگر ایک فرقہ۔ صحابہؓ نے عرض کیا۔ یا رسول اللہ ! وہ فرقہ ناجیہ کون ہے؟ ارشاد فرمایا جو صحیح طور سے میری سنت پر عمل کرے اور طریقہ صحابہؓ پر چلے۔

صادق ومصدوق ﷺ نے اس پیشین گوئی کے ساتھ ساتھ یہ بھی ارشاد فرما دیا کہ ایسے پر فتن زمانہ میں جبکہ ہر طرف بدعقیدگی کا سیلاب زوروں پر ہو۔ طالب حق و راہ مستقیم کے لئے وہ ہی ایک راستہ ہے۔ جس پر میں اور میرے صحابہ ہیں۔ اسی راستے پر چلنے والے نجات پائیں گے اور فتنوں کے زہر یلے اثر سے محفوظ رہیں گے۔ اس راستہ کا نام مذہب اہل سنت و جماعت ہے۔ اللہ تعالیٰ کے نیک بندے اولیاء اقطاب، ابدال، غوث، مجدد سب اسی مذہب کے پابند تھے۔ اسی مذہب کے علاوہ دوسرے مذاہب باطلہ والے اپنی جماعت میں کیا ایسی بزرگ ہستیاں دکھا سکتے ہیں؟ ہر گز نہیں۔

وہابیت و غیر مقلدیت تو اب تقریباً ڈیڑھ سو برس سے پیدا ہوئی۔ چکڑالویت نے اب جنم لیا۔ جب گزشتہ مذاہب باطلہ کو یہ نعمت نصیب نہ ہوئی۔ تو یہ بے چارے کسی شمار و قطار میں ہیں۔ دیکھو جتنے مذاہب باطلہ پیدا ہوئے فنا ہو گئے اور جو کچھ باقی ہیں وہ بھی نیست و نابود

٧

صفحہ ٢٥٥

ہو جائیں گے۔ مگر مذہب اہلسنت و جماعت جس شان سے شروع ہوا اسی آن بان سے اب تک چلا آ رہا ہے اور قیامت تک اسی شوکت وحشمت سے چلا جائے گا۔ اس مذہب کی جس نے مخالفت کی ذلیل ورسوا ہوا۔ جس نے اس سے اعراض کیا منہ توڑ دیا گیا۔ قاعدہ ہے۔ ”لکل داء دواء“ جب باطل پرستوں نے سر اٹھایا ان کا سر توڑنے کے لئے اسی مذہب سے ایک جماعت ان کے مقابلہ میں اٹھی اور بلا خوف لومة لائم اظہار حق میں دریغ نہ کیا۔ ”لا تزال طائفة من امتى يجاهدون على الحق ولا يخافون لومة لائم“ نبی صادق ومصدوق عليه افضل الصلوۃ والسلام کی یہ بشارت عظیمہ اسی جماعت کے لئے ہے۔

ناظرین کرام! اگر عقائد اہل سنت و جماعت سے تفصیلاً مطلع ہونا چاہتے ہیں تو کتاب معتقد المنتقد شریف مصنفہ اعلیٰ حضرت عظیم البرکہ مولانا فضل رسول صاحب بدایونی اور کتاب تکمیل الایمان مصنفہ حضرت شیخ المحدثین مولانا عبدالحق صاحب محدث دہلوی اور کتاب عقائد الاسلام مصنفہ مولانا عبدالحق صاحب حقانی دہلوی مصنف تفسیر حقانی کا مطالعہ فرمائیں اور اگر یہ کتابیں میسر نہ آئیں تو اعلیٰ حضرت امام اہلسنت مجدد مائتہ حاضرہ مولانا حافظ حاجی قاری شاہ محمد احمد رضا خاں صاحب قادری نوری برکاتی بریلوی کی تصانیف و رسائل کا بغور مطالعہ کریں بلکہ زمانہ حال میں اعلیٰ حضرت ہی کی تصانیف بہت زیادہ مفید ہیں اور اس زمانہ میں جو بدعقیدگیاں پیدا ہوئیں ان کا بلیغ رد انہیں کتابوں میں ملے گا۔

سرکار دو عالم ﷺ کا اپنے غلاموں پر بے حد فضل وکرم

قیامت تک جس قدر فتنے برپا ہونے والے ہیں ان سب کی خبر تاجدار مدینہ سید کونین عالم ماکان وما یکون مطلع علی الغیوب ﷺ نے دے دی اور خاص خاص علامتیں بھی بیان فرمادیں تاکہ مسلمان ایسے فتنوں سے بچتے رہیں۔

حضرت حذیفہؓ فرماتے ہیں: ”والله ما ادری انسی اصحابی ام تناسوا ما ترك رسول الله ﷺ من قائد فتنة الى ان تنقضى الدنيا يبلغ معه ثلاث مائة

فصاعدا الا قد سماه باسمه واسم ابيه واسم قبيلته (رواہ ابوداؤد، مشکوٰۃ ص ٤٦٣)“

قسم رب تبارک و تعالیٰ کی میں نہیں جانتا کہ میری ساتھی بھول گئے یا انہوں نے بھلا دیا۔ قسم ہے اللہ تعالیٰ کی حضور اکرم ﷺ نے قیامت تک جس قدر فتنے ہونے والے ہیں۔ ان سب کے بانیوں کے نام اور ان کے باپوں کے نام اور ان کے قبیلوں کے نام اور جس قدر ان کے متبعین ہوں گے ان کی تعداد جو تین سو اور اس سے زیادہ کی تعداد رکھتے ہیں سب بیان فرما دیا۔

٨

بعض احادیث کے مطالعہ سے پتہ چلتا ہے کے اجمالی اوصاف اور بعض کے بانیوں کے نام بیان فر

قدریہ اور مرجیہ کے بارے میں پیشینگوئی

سرکار ارشاد فرماتے ہیں: ”صنفان من

المرجئة والقدرية (رواہ الترمذی، مشکوٰۃ

ہیں جن کو اسلام سے کچھ حصہ نہیں۔ مرجیہ اور قدریہ۔

اہل قرآن کے بارے

ارشاد ہوتا ہے: ”الا انی اوتیت الق شبعان متكئى على اريكة يقول عليكم بهذ فاحلوه وما وجدتم من حرام فحرموه

(رواہ ابوداؤد عن المقداد، مشکوٰۃ ص ٢٩)

خبردار ہو جاؤ! مجھ کو خدا نے قرآن عطا فر گیا۔ (حدیث شریف) غور سے سنو! عنقریب ایک رہنے والا پیدا ہوگا جس کا مذہب یہ ہوگا کہ بس قرآن کردہ کو حرام جانو۔ حدیث کے حرام وحلال نا قابل

فرماتے ہیں: حالانکہ میرا حرام کیا ہوا حکم میں ایسا ہے ج

لفظ ”شبعان متكئى على الاريك قرآن کی طرف۔

خارجیوں اور رافضیوں کے بارے میں پیش

ارشاد ہوتا ہے: ”اذا رأيتم الذين يس

شرکم (رواہ الترمذی عن ابن عمر، مشکوٰۃ ص ٥٥٤)“

جب تم ایسے لوگوں کو دیکھو جو میرے اصح تو کہو لعنت ہے تم پر پھٹکار ہے تم پر۔

وہابیوں کے بارے میں پیشین گوئی

حضور اکرم ﷺ نے دعا فرمائی: ”اللهم

٩

صفحہ ٢٥٥

بعض احادیث کے مطالعہ سے پتہ چلتا ہے کہ سرکار نے بعض فرقوں کے نام اور بعض کے اجمالی اوصاف اور بعض کے بانیوں کے نام بیان فرمائے ہیں۔

قدریہ اور مرجیہ کے بارے میں پیشینگوئی

سرکار ارشاد فرماتے ہیں: ”صنفان من امتی لیس لھما من الاسلام نصیب المرجئۃ والقدریۃ (رواہ الترمذی، مشکوۃ ص٢٢) ”میری امت میں دو فرقے ایسے ہیں جن کو اسلام سے کچھ حصہ نہیں۔ مرجیہ اور قدریہ۔“

اہل قرآن کے بارے میں پیش گوئی

ارشاد ہوتا ہے: ”الا انی اوتیت القرآن ومثلہ معہ الا یوشک رجل شبعان متکئی علی اریکۃ یقول علیکم بھذا القرآن فما وجدتم فیہ من حلال فاحلوہ وما وجدتم من حرام فحرموہ وان ماحرم رسول اللہ کما حرم اللہ (رواہ ابوداؤد عن المقدام ، مشکوۃ ص٢٩)“

خبردار ہو جاؤ! مجھ کو خدا نے قرآن عطا فرمایا اور اس کے ساتھ ہی اس کی مثل اور بھی دیا گیا۔ (حدیث شریف) غور سے سنو! عنقریب ایک آدمی سیر شدہ عظیم البطن ( پیٹو ) اریکہ پر پڑا رہنے والا پیدا ہوگا جس کا مذہب یہ ہوگا کہ بس قرآن پر عمل کرو۔ اس کے حلال کردہ کو حلال، حرام کردہ کو حرام جانو۔ حدیث کے حرام وحلال نا قابل عمل ہیں۔ یعنی حدیث کوئی چیز نہیں۔ حضور فرماتے ہیں: حالانکہ میرا حرام کیا ہوا حکم میں ایسا ہے جیسے کہ خدا کا حرام کیا ہوا۔

لفظ ”شبعان متکئی علی الاریکہ“ سے اشارہ ہے عبداللہ چکڑالوی بانی اہل قرآن کی طرف۔

خارجیوں اور رافضیوں کے بارے میں پیشین گوئی

ارشاد ہوتا ہے: ”اذا رأیتم الذین یسبون اصحابی فقولو لعنۃ اللہ علی شرکم (رواہ الترمذی عن ابن عمر، مشکوۃ ص٥٥٤)“

جب تم ایسے لوگوں کو دیکھو جو میرے اصحاب کو گالیاں دیتے ہیں۔ (تبرا کرتے ہیں) تو کہو لعنت ہے تم پر پھٹکار ہے تم پر۔

وہابیوں کے بارے میں پیشین گوئی

حضور اکرم ﷺ نے دعا فرمائی: ”اللھم بارک لنا فی شامنا اللھم بارک لنا

صفحہ ٢٥٧

في يمننا قالوا يارسول الله وفى نجدنا قال اللهم بارك لنا في شامنا اللهم بارك لنا في يمننا قالوا يا رسول الله في نجدنا فاظنه قال في الثالثة هناك الزلازل والفتن وبها يطلع قرن الشيطان (رواہ البخاری عن ابن عمر، مشکوۃ ص٥٨٢)“

حضور نے دعا فرمائی کہ پروردگار ملک شام اور ملک یمن میں برکت عطا فرما۔ صحابہ نے عرض کیا۔ یا رسول اللہ ملک نجد کے لئے بھی دعائے برکت فرمائیے۔ حضور نے سکوت فرمایا۔ پھر حضور نے دعا فرمائی۔ پھر صحابہ نے نجد کے لئے فرمایا۔ پھر سکوت فرمایا۔ شاید تیسری دفعہ میں فرمایا۔ نجد میں زلزلے اٹھیں گے اور وہاں سے شیطان کا سینگ نکلے گا۔ یعنی زمین نجد قابل دعائے برکت نہیں۔ چنانچہ محمد بن عبدالوہاب نجدی پیدا ہوا اور جو فتنے برپا کئے دنیا بے خبر نہیں۔

مدعیان نبوت کے بارے میں پیشین گوئی

حضور ارشاد فرماتے ہیں: ”انه سيكون في امتى كذابون ثلثون كلهم يزعمون انه نبي الله وانا خاتم النبيين لا نبى بعدى (رواه ابوداؤد، والترمذي عن ثوبان، مشکوۃ ص٤٦٥)“ دوسری حدیث : ”حتى يبعث دجالون كذابون قريب من ثلثين كلهم يزعم انه رسول الله (رواہ البخاری ومسلم عن ابی ہریرہ، مشکوۃ ص٤٦٥)“

میری امت میں تیس یا قریب قریب ان کے دجال کذاب پیدا ہوں گے۔ ہر شخص اس بات کا مدعی ہوگا کہ میں خدا کا رسول، خدا کا نبی ہوں حالانکہ میں خاتم النبیین ہوں۔ سلسلہ نبوت مجھ پر ختم ہو چکا، میرے بعد کسی کو نبوت نہ ملے گی۔

حضور کی پیشین گوئی کے مطابق یہ تمام فرقے مرجیہ، قدریہ، رافضی، خارجی، وہابی، نجدی، چکڑالوی ظاہر ہوئے جن میں سے بعض موجود ہیں۔

ان تمام فرقوں میں سب سے زیادہ فتنہ انگیز اسلام کی بنیاد کو جڑ سے اکھاڑ دینے والا مدعیان نبوت کا فرقہ ہے۔ جن کو حضور نے دجال و کذاب کے وصف سے متصف فرمایا۔ ایسے مدعی بہت ہی ہو چکے ہیں۔ مسیلمہ کذاب، اسود عنسی، متنبئ وغیرہ وغیرہ۔

اب اس چودھویں صدی میں بھی قادیان ضلع گورداسپور پنجاب میں ایک شخص مسمی غلام احمد پیدا ہوا جس نے نبوت کا دعویٰ کیا۔

خاص مرزا غلام احمد قادیانی کے لئے پیشین گوئی

حضور اکرم ﷺ نے خاص طور پر غلام احمد متنبئ قادیان کے لئے پیشین گوئی فرمائی۔ ارشاد فرماتے ہیں: ”هلكة امتى على يدى غلمة من قريش (رواہ البخاری عن ابی ہریرة، مشکوۃ ص٤٦٢)“

١٠

میری امت کی ہلاکت و بربادی یعنی ان کے پر ہوگا جو اپنے آپ کو قریش سے ظاہر کرے گا۔ یعنی م حضور ﷺ نے غلام احمد قادیانی کے لئے پیشین گوئی فر ، ماں باپ نے رکھا۔ لفظ غلام موجود ہے۔ جس کی طرف اشارہ کرتا ہے اور لفظ من قریش اس کے دعویٰ مہد علیہ الرضوان یقیناً قریش سے ہوں گے۔

مسلمانو ! غلام احمد قادیانی مدعی مہدویت کے ہے۔ اب تو فتنہ قادیانیت میں مبتلا نہ ہو۔ اب تو آنکھیں

ایک شبہ کا ازالہ

شاید کوئی معمولی پڑھا ہوا مرزائی یہ شبہ پیدا شخص پر کیونکر اطلاق ہو سکتا ہے؟ مگر یہ شبہ زبان عربی حیثیت سے واحد اور جمع کا اطلاق جائز ہے۔ اللہ تعالیٰ ف لبعض عدو ولكم فى الارض مستقر ومتاع ا کہا۔ جنت سے تم سب اتر جاؤ، بعض بعض کے دشمن تک ٹھکانا اور فائدہ اٹھانا ہے۔﴾

اس آیت میں مخاطب ایک جماعت ہے۔ مخاطب تھے۔ اس لئے کہ مراد آدم علیہ السلام کے ساتھ اپنے وزیر سے کہتا ہے کہ جاؤ تم لوگ سب یہ کام کرو۔ مخ اسی طرح پیشین گوئی صرف غلام احمد کے لئے ہے اور جم اور اس واسطے سب کو غلام کہا گیا ہے۔ کیونکہ وہ تمام تمثیل متصف ہوں گے۔ ثابت ہوا کہ واحد پر جمع کا صیغہ استع

جناب والا ! کہاں آپ یہ قاعدہ تلاش کر مرزاجی خود اس کو جائز رکھتے ہیں۔ سنئے آیت : ”کتب بعد غلبهم سيغلبون“ کے متعلق لکھتے ہیں۔

”اس وحی الہی میں خدا نے میرا نام رسل ر ہے۔ خدا تعالیٰ نے مجھے انبیاء علیہم السلام کا مظہر ٹھہ

١١

صفحہ ٢٥٧

میری امت کی ہلاکت و بربادی یعنی ان کے ایمانوں کا برباد ہونا ایک غلام کے ہاتھوں پر ہوگا جو اپنے آپ کو قریش سے ظاہر کرے گا۔ یعنی مہدی ہونے کا مدعی ہوگا۔ صاف صراحتاً حضور ﷺ نے غلام احمد قادیانی کے لئے پیشین گوئی فرمائی۔ دیکھو اس کے نام میں، جو اس کے ماں باپ نے رکھا۔ لفظ غلام موجود ہے۔ جس کی طرف حدیث کا لفظ غلمة جو جمع غلام کی ہے۔ اشارہ کرتا ہے اور لفظ من قریش اس کے دعویٰ مہدویت کی خبر دے رہا ہے۔ کیونکہ امام مہدی علیہ الرضوان یقیناً قریش سے ہوں گے۔

مسلمانو! غلام احمد قادیانی مدعی مہدویت کے مہلک ہونے کی کیسی صاف پیشین گوئی ہے۔ اب تو فتنہ قادیانیت میں مبتلا نہ ہو۔ اب تو آنکھیں کھولو اور باطل وحق کی تمیز پیدا کرو۔

ایک شبہ کا ازالہ

شاید کوئی معمولی پڑھا ہوا مرزائی یہ شبہ پیدا کرے کہ لفظ غلمة جمع ہے۔ اس کا ایک شخص پر کیونکر اطلاق ہوسکتا ہے؟ مگر یہ شبہ زبان عربی سے ناواقفیت کی دلیل ہے۔ کسی نہ کسی حیثیت سے واحد اور جمع کا اطلاق جائز ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ”وقلنا اهبطوا بعضكم لبعض عدو ولكم فى الارض مستقر ومتاع الى حين“ ﴿ہم نے آدم علیہ السلام سے کہا۔ جنت سے تم سب اتر جاؤ، بعض بعض کے دشمن ہیں اور تمہارے لئے زمین میں ایک مدت تک ٹھکانا اور فائدہ اٹھانا ہے۔﴾

اس آیت میں مخاطب ایک جماعت ہے۔ حالانکہ اس وقت آدم علیہ السلام بالاصالة مخاطب تھے۔ اس لئے کہ مراد آدم علیہ السلام کے ساتھ ان کی اولاد بھی تھی۔ اسی طرح ایک بادشاہ اپنے وزیر سے کہتا ہے کہ جاؤ تم لوگ سب یہ کام کرو۔ مخاطب صرف وزیر ہے اور مراد تمام ماتحت۔ اسی طرح پیشین گوئی صرف غلام احمد کے لئے ہے اور جمع اس واسطے کہ اس کے تمام متبعین مراد ہیں اور اس واسطے سب کو غلام کہا گیا ہے۔ کیونکہ وہ تمام متبعین اسی غلام کے متبع ہو کر صفت غلامیت سے متصف ہوں گے۔ ثابت ہوا کہ واحد پر جمع کا صیغہ استعمال کیا جا سکتا ہے۔

جناب والا! کہاں آپ یہ قاعدہ تلاش کرتے رہیں گے۔ آپ کے بروزی ظلی سیبویہ مرزا جی خود اس کو جائز رکھتے ہیں۔ سنئے آیت: ”کتب الله لاغلبن انا ورسلی“ اور ”ھم من بعد غلبہم سیغلبون“ کے متعلق لکھتے ہیں ۔

”اس وحی الٰہی میں خدا نے میرا نام رسل رکھا کیونکہ جیسا کہ براہین احمدیہ میں لکھا گیا ہے۔ خدا تعالیٰ نے مجھے انبیاء علیہم السلام کا مظہر ٹھہرایا ہے اور تمام نبیوں کے نام میری طرف

١١

صفحہ ٢٥٩

(حاشیہ حقیقت الوحی ص ٧٢، خزائن ج ٢٢ ص ٧٦)

رسل جمع ہے رسول کی جب لفظ رسل جمع ہو کر واحد پر اطلاق کیا جاسکتا ہے تو لفظ غلمة بھی جمع ہو کر واحد پر اطلاق کیا جاسکتا ہے۔

مرزا جی نے ایک اور وجہ بیان کی کہ چونکہ مجھ کو تمام انبیاء کا مظہر ٹھہرایا ہے۔ اس لئے جمع کا صیغہ میرے لئے آیا۔ یوں ہم بھی کہہ سکتے ہیں کہ چونکہ مرزا قادیانی تمام مدعیان نبوت و کذابان مفسدین کے مظہر ٹھہرائے گئے ہیں، اس لئے غلمة جمع کا صیغہ مرزا قادیانی پر استعمال کیا گیا ہے۔ پس مرزا قادیانی اپنے قائم کردہ اصول کے اعتبار سے ظلی و بروزی مسیلمہ کذاب بھی ہیں۔ اسود عنسی بھی ہیں، متنبتی بھی ہیں، سفاح بھی الیٰ غیر ذالك ۔ یہاں تک کہ ایران کے مدعی نبوت بہاء اللہ بھی ہیں مگر وہ تمام کاذب نبوتیں بعثت اول تھیں۔ مرزا قادیانی ظلی طور پر بعثت ثانیہ رکھتے ہیں۔ اس لئے یہ بعثت اتم واکمل ہے۔ اس واسطے مرزا قادیانی کے نام کے ساتھ پیشین گوئی فرمائی گئی۔

مرزا غلام احمد قادیانی کے دعاوی باطلہ، عقائد فاسدہ، خیالات کاسدہ، دلائل واہیہ ان سب کی تفصیل آگے آتی ہے۔ پہلے ایک مختصر تاریخ مرزا بطور تمہید ذکر کروں۔

مرزا قادیانی کی زندگی کے چند دور

مرزا غلام احمد قادیانی ابن غلام مرتضیٰ ١٨٣٩ء یا ١٨٤٠ء میں پیدا ہوئے۔ جو ١٢٥٥ھ یا ١٢٥٦ھ سے مطابق تھی۔ معمولی مروجہ تعلیم گاؤں میں اور پھر قصبہ قادیان میں حاصل کی اور پھر زمینداری کے کام میں مصروف رہے۔ ١٨٦٤ء سے ١٨٦٨ء تک سیالکوٹ میں سرکاری ملازمت میں داخل رہے۔ کہا جاتا ہے کہ پندرہ روپیہ ماہانہ تنخواہ ملتی تھی اور اسی سلسلہ میں مختاری کا امتحان دیا تھا مگر چونکہ آئندہ کو دعویٰ بہت سے کرنا تھے۔ اس لئے اس امتحان میں فیل ہو گئے۔ پھر ١٨٧٦ء میں ان کے والد کا انتقال ہو گیا اور ان کی زندگی کا نیا دور شروع ہوا اور رد آریت وعیسائیت کی طرف متوجہ ہوئے۔ ١٨٨٠ء میں سب سے پہلی کتاب براہین احمدیہ لکھنا شروع کی۔ جس میں علاوہ رد عیسائیت کے اس امر پر خاص طور پر زور دیا گیا کہ مکالمہ ومخاطب الہیہ کا سلسلہ اس امت میں اب بھی جاری ہے اور اسی ذیل میں اپنی خوابیں، کشوف الہامات کا ذکر کرتے ہوئے اپنے آپ کو ملہم ہونا ثابت کیا ہے۔ انہیں ایام میں یہ بھی ظاہر کیا گیا کہ مرزا چودھویں صدی کے مجدد ہیں۔ چنانچہ یہ دعویٰ بھی مجددیت، براہین احمدیہ میں بھی موجود ہے اور یہ دعویٰ مجددیت صرف براہین احمدیہ تک ہی محدود نہیں بلکہ اس کے ساتھ ایک اشتہار میں ہزار کی تعداد میں الگ شائع کیا۔

١٢

اس زمانہ میں بعض لوگ بیعت کی خواہش ب کرتے رہے کہ مجھے اللہ تعالیٰ کی طرف سے بیعت لینے ک مرزا قادیانی نے اعلان کیا کہ مجھے اللہ تعالیٰ نے بیعت ہے۔ ابھی اس دعویٰ مجددیت کو ڈیڑھ سال ہی گزرا تھا ک شروع ہوا۔ یعنی یہ بھی اعلان کیا کہ مجھ پر یہ ظاہر کیا گیا ہ جس مسیح کی اس امت میں آنے کی پیشین گوئی ہے وہ ا کہ جس مہدی کی اس امت میں آنے کی پیشین گوئی ہ اور براہین سے اسلام کو دنیا میں پھیلائے گا اور ایسے مہد جیسا کہ عام طور پر مشہور ہے۔ غلط ہے۔

نومبر ١٩٠٤ء میں بمقام سیالکوٹ مرزا قادی کو مسلمانوں کے لئے مہدی اور عیسائیوں کے لئے مسیح لئے کرشن کا مظہر بنا کر بھیجا گیا ہے۔ چنانچہ خود لیکچر میں ک

’’راجہ کرشن جیسا کہ میرے پر ظاہر کیا گیا ہے کی نظیر ہندوؤں کے کسی رشی اور اوتار میں نہیں پائی جاتی خدا کی طرف سے روح القدس اترتا تھا۔ (.........) یعنی اوتار پیدا کرے۔ سو یہ وعدہ میرے ظہور سے پورا ہ

اپریل ١٩٠٨ء میں لاہور پہنچے اور اسہال ک ٢٦؍مئی ١٩٠٨ء مطابق ١٣٢٦ھ کو انتقال ہوا اور اگلے دن انتقال کے بعد انجمن کا کام حکیم نور الدین بعد جماعت کے دو حصے ہو گئے۔ ایک فریق کا یہ عقیدہ ہے کہ خواہ وہ انہیں مسلمان ہی نہیں، مجدد اور مسیح بھی منکر ہوں، وہ کافر اور دائرہ اسلام سے خارج ہیں۔ دوس اسلام کے کسی فرقہ سے تعلق رکھتا ہو، مسلمان ہے۔

(مؤلف کہتا ہے کہ دونوں فریق احکام شرع مسئلہ نبوت مرزا قادیانی جو آج کل فریقین

١٣

صفحہ ٢٥٩

اس زمانہ میں بعض لوگ بیعت کی خواہش بھی کرتے تھے مگر مرزا قادیانی یہ کہہ کر انکار کرتے رہے کہ مجھے اللہ تعالیٰ کی طرف سے بیعت لینے کا حکم نہیں ہوا ہے۔ آخر یکم دسمبر ١٨٨٨ء کو مرزا قادیانی نے اعلان کیا کہ مجھے اللہ تعالیٰ نے بیعت لینے کا، ایک جماعت بنانے کا حکم دے دیا ہے۔ ابھی اس دعویٰ مجددیت کو ڈیڑھ سال ہی گزرا تھا کہ ایک تیسرا دور مرزا قادیانی کی زندگی کا شروع ہوا۔ یعنی یہ بھی اعلان کیا کہ مجھ پر یہ ظاہر کیا گیا ہے کہ حضرت عیسیٰ وفات پا گئے اور یہ کہ جس مسیح کی اس امت میں آنے کی پیشین گوئی ہے وہ اسی امت کا مجدد ہوگا اور وہ میں ہوں اور یہ کہ جس مہدی کی اس امت میں آنے کی پیشین گوئی ہے اس سے بھی مراد وہی مسیح ہے۔ جو دلائل اور براہین سے اسلام کو دنیا میں پھیلائے گا اور ایسے مہدی کا آنا جو تلوار سے دین اسلام کو پھیلائے جیسا کہ عام طور پر مشہور ہے۔ غلط ہے۔

نومبر ١٩٠٤ء میں بمقام سیالکوٹ مرزا قادیانی نے ایک اور اعلان کیا کہ جس طرح مجھ کو مسلمانوں کے لئے مہدی اور عیسائیوں کے لئے مسیح بنا کر بھیجا گیا ہے۔ اسی طرح ہندوؤں کے لئے کرشن کا مظہر بنا کر بھیجا گیا ہے۔ چنانچہ خود لیکچر میں کہتے ہیں۔

”راجہ کرشن جیسا کہ میرے پر ظاہر کیا گیا ہے۔ درحقیقت ایک ایسا کامل انسان تھا جس کی نظیر ہندوؤں کے کسی رشی اور اوتار میں نہیں پائی جاتی اور اپنے وقت کا اوتار یعنی نبی تھا۔ جس پر خدا کی طرف سے روح القدس اترتا تھا۔ (..........) خدا کا وعدہ تھا کہ آخر زمانہ میں اس کا بروز یعنی اوتار پیدا کرے۔ سو یہ وعدہ میرے ظہور سے پورا ہوا ۔“

(لیکچر سیالکوٹ ص ٣٣، خزائن ج ٢٠ ص ٢٢٨)

اپریل ١٩٠٨ء میں لاہور پہنچے اور اسہال کی پرانی بیماری سے جو سالہا سال سے تھی۔ ٢٦ مئی ١٩٠٨ء مطابق ١٣٢٦ھ کو انتقال ہوا اور اگلے دن قادیان لاش گئی اور وہیں مدفون ہوئے۔

انتقال کے بعد انجمن کا کام حکیم نور الدین کے ہاتھ میں رہا۔ حکیم جی کے انتقال کے بعد جماعت کے دو حصے ہو گئے۔ ایک فریق کا یہ عقیدہ رہا کہ جن لوگوں نے مرزا قادیانی کی بیعت نہیں کی خواہ وہ انہیں مسلمان ہی نہیں، مجدد اور مسیح بھی مانتے ہوں اور وہ خواہ ان کے نام سے بے خبر ہوں، وہ کافر اور دائرہ اسلام سے خارج ہیں۔ دوسرے فریق کا یہ عقیدہ رہا کہ ہر کلمہ گو خواہ وہ اسلام کے کسی فرقہ سے تعلق رکھتا ہو، مسلمان ہے۔

(مؤلف کہتا ہے کہ دونوں فریق احکام شرع سے محض ناواقف اور حدود اسلام سے نابلد ہیں)

مسئلہ نبوت مرزا قادیانی جو آج کل فریقین کے درمیان اختلاف کا اہم مسئلہ سمجھا جاتا

١٣

صفحہ ٢٦١

ہے۔ درحقیقت اسی مسئلہ تکفیر سے پیدا ہوا۔ چنانچہ اسی بناء پر مارچ ١٩١٤ء میں جماعت مرزائیہ کے دو گروہ ہو گئے۔

فریق اوّل جو مسلمانوں کی تکفیر اور آنحضرت ﷺ کے بعد نبوت کا دروازہ کھلا مانتا ہے۔ اس فریق کا ہیڈ کوارٹر قادیان رہا۔ دوسرے فریق کا ہیڈ کوارٹر لاہور رہا۔ فریق قادیان کی قیادت اس وقت سے مرزا بشیر الدین محمود احمد کے ہاتھ میں ہے اور فریق لاہوری کی قیادت مولوی محمد علی صاحب ایم اے لاہوری کے ہاتھ میں ہے۔

(ملخص حصہ زائد از تحریک احمدیت از ص ٥ تا ص ٣٩)

مولوی محمد علی صاحب لاہوری نے مرزا قادیانی کے کئی دور بیان کئے۔ ملہمیت، مجددیت، مہدویت، مسیحیت، کرشنیت مگر ایک دور نبوت کا وہ بھی مرزا قادیانی کی تصنیفات ہی سے ثابت ہے۔ قصداً یا سہواً حذف کر گئے اور متبعین مرزا پر یہ بھی اتہام لگایا کہ صرف وہ اجزائے نبوت کے قائل ہیں اور مرزا قادیانی کی نبوت کے معترف۔ منشاء یہ کہ مرزا قادیانی نے نبوت کا دعویٰ نہ کیا بلکہ غلط فہمی سے اذناب مرزا نے ان کو نبی سمجھ لیا۔ حالانکہ یہ بالکل غلط، بلکہ مرزا قادیانی نے خود نبوت کا دعویٰ کیا جن سے ان کی تصنیفات مالا مال ہیں، عبارتیں اپنے موقعہ پر انشاء اللہ تعالیٰ نقل کی جائیں گی۔

اس میں شک نہیں کہ مرزا قادیانی کو ابتداء ہی سے نبی بننے کا چسکا پیدا ہو گیا تھا۔ لیکن وہ جانتے تھے کہ اگر پہلے ہی نبوت کا کھلے الفاظ میں دعویٰ کر دیں تو مسلمانوں سے ایک فرد بشر بھی قبول نہ کرے گا۔ ان کو معلوم تھا کہ مسلمانوں میں یہ عقیدہ راسخ ہے کہ حضرت رسول کریم ﷺ کے بعد کوئی نبی نہیں بنایا جائے گا۔ مگر مرزا نے نہایت چالاکی سے اس نبوت کے بنیادی پتھر اپنے الہام نصب کر دیئے تھے کہ کہیں تو اس پر عمارت نبوت کھڑی کر لیں گے۔ براہین احمدیہ وغیرہ میں یہ الہامات موجود ہیں: ”وقال الذين كفروا لست مرسلا قل كفى بالله شهيدا“ ”یٰسین انك لمن المرسلين“ ”اني لا يخاف لدى المرسلون“

(دافع البلاء ص ٦، خزائن ج ١٨ ص ٢٢٧)

”هو الذى ارسل رسوله بالهدىٰ“

(براہین احمدیہ ص ٢٣٩، خزائن ج ١ ص ٢٦٥)

چونکہ یہ قرآن کی آیتیں ہیں۔ مسلمانوں نے دیکھا تو سمجھے کہ یہ تمام آیتیں گزشتہ رسولوں اور حضور اکرم ﷺ کے لئے ہیں۔ مگر پھر بھی یہ خطرہ پیدا ہو گیا تھا۔ مرزا قادیانی نے ان آیتوں کو اپنے الہام میں پیش کیا مگر مقصود صرف یہ تھا کہ کسی زمانہ میں ان آیتوں کو اپنی ہی نبوت میں پیش کروں گا۔ یہاں تک کہ سلسلہ شروع ہو گیا کہ میں محدث ہوں اور محدث بھی من وجہ نبی ہوتا ١٤

ہے۔ تحدیث بھی ایک نبوت کا شعبہ ہے۔ میں مسیح ہوں ان الفاظ پر اکتفا رہا۔ پھر یوں آگے بڑھے کہ میں نبی صحیفوں میں مذکور ہے۔ میں مجازی ہوں، ظلی ہوں، برو پردہ پڑا رہا۔ آخر جب صبر نہ ہو سکا تو بمصداق:

تابکے در پردہ باشی سر

١٩٠١ء میں ایک اشتہار ”ایک غلطی کا ازالہ نبوت کا اعلان کر دیا اور لکھ دیا کہ میری جماعت میری تـ میں ضرور نبی ہوں۔ ملاحظہ ہو:

چند روز ہوئے کہ ایک صاحب پر ایک مخا سے تم نے بیعت کی ہے۔ وہ نبی اور رسول ہونے کا الفاظ سے دیا گیا۔ حالانکہ ایسا جواب صحیح نہیں ہے۔ حـ پر نازل ہوتی ہے۔ اس میں ایسے لفظ رسول اور مرسـ دفعہ پھر کیونکر یہ جواب صحیح ہو سکتا ہے کہ ایسے الفاظ مـ نسبت بھی بہت تصریح و توضیح سے یہ الفاظ موجود ہـ بائیس برس ہوئے۔ یہ الفاظ کچھ تھوڑے نہیں ہیں بـ شائع ہو چکے ہیں۔ ان میں سے ایک وحی اللہ یہ بھی ودين الحق ليظهره على الدين كله (بـ رسول پکارا گیا ہے۔ (۔۔۔) پھر اس کتاب میں رسول الله والذين معه“ اس وحی الہٰی مـ ازالہ ص ٣، ٢، خزائن ج ١٨ ص ٢٠٧، ٢٠٦) میں جبکہ اس طرف سے پا کر بچشم خود دیکھ رہا ہوں کہ صاف طور نام سے کیونکر انکار کر سکتا ہوں۔

حضرات ناظرین نے دیکھ لیا کہ وحی حوالہ دے کر اپنے اوپر محمول کر کے نبی اور رسول نبوت کا خیال تھا مگر چونکہ مرزا قادیانی نے کئی خاموش رہے۔ آخر وہ پردہ اٹھا دیا اور تصریح و توضـ

صفحہ ٢٦١

ہے۔ تحدیث بھی ایک نبوت کا شعبہ ہے۔ میں مسیح ہوں اور مسیح کو نبی کہہ کر پکارا گیا ہے۔ کچھ دنوں ان الفاظ پر اکتفا رہا۔ پھر یوں آگے بڑھے کہ میں نبی ہوں مگر میری نبوت ویسی نہیں جیسے اگلے صحیفوں میں مذکور ہے۔ میں مجازی ہوں، ظلی ہوں، بروزی ہوں، کچھ دنوں تک ان اصطلاحات کا پردہ پڑا رہا۔ آخر جب صبر نہ ہو سکا تو بمصداق:

تابکے در پردہ باشی سربروں آراز حجاب

١٩٠١ء میں ایک اشتہار ”ایک غلطی کا ازالہ“ شائع کر ہی دیا اور صاف لفظوں میں اپنی نبوت کا اعلان کر دیا اور لکھ دیا کہ میری جماعت میری نبوت سے انکار کرنے میں سخت غلطی پر ہے۔ میں ضرور نبی ہوں۔ ملاحظہ ہو:

چند روز ہوئے کہ ایک صاحب پر ایک مخالف کی طرف سے یہ اعتراض پیش ہوا کہ جس سے تم نے بیعت کی ہے۔ وہ نبی اور رسول ہونے کا دعویٰ کرتا ہے اور اس کا جواب محض انکار کے الفاظ سے دیا گیا۔ حالانکہ ایسا جواب صحیح نہیں ہے۔ حق یہ ہے کہ خدا تعالیٰ کی وہ پاک وحی جو میرے پر نازل ہوتی ہے۔ اس میں ایسے لفظ رسول اور مرسل اور نبی کے موجود ہیں نہ ایک دفعہ بلکہ صدہا دفعہ پھر کیونکر یہ جواب صحیح ہو سکتا ہے کہ ایسے الفاظ موجود نہیں ہیں۔ بلکہ اس وقت تو پہلے زمانہ کی نسبت بھی بہت تصریح و توضیح سے یہ الفاظ موجود ہیں اور براہین احمدیہ میں بھی، جس کو طبع ہوئے بائیس برس ہوئے۔ یہ الفاظ کچھ تھوڑے نہیں ہیں۔ چنانچہ وہ مکالمات الہیہ جو براہین احمدیہ میں شائع ہو چکے ہیں۔ ان میں سے ایک وحی اللہ یہ بھی ہے: ”ھو الذی ارسل رسوله بالهدی ودین الحق ليظهره علی الدین كله (دیکھوص ٤٩٨)“ اس میں صاف طور پر اس عاجز کو رسول پکارا گیا ہے۔ (...........) پھر اس کتاب میں ایک مکالمہ کے قریب یہ وحی اللہ ہے: ”محمد رسول اللہ والذین معه“ اس وحی الہی میں میرا نام محمد رکھا گیا اور رسول بھی۔ (ایک غلطی کا ازالہ ص ٢ تا ٤، خزائن ج ١٨ ص ٢٠٦، ٢٠٧) میں جبکہ اس مدت تک ڈیڑھ سو پیشین گوئی کے قریب خدا کی طرف سے پا کر بچشم خود دیکھ رہا ہوں کہ صاف طور پر پوری ہوگئیں تو میں اپنی نسبت نبی یا رسول کے نام سے کیونکر انکار کر سکتا ہوں۔

(اشتہار ایک غلطی کا ازالہ ص ٦، خزائن ج ١٨ ص ٢١٠)

حضرات ناظرین نے دیکھ لیا کہ وہی آیتیں جو براہین احمدیہ میں لکھی تھی اسی کتاب کا حوالہ دے کر اپنے اوپر محمول کر کے نبی اور رسول بننے کا دعویٰ کیا۔ معلوم ہوتا ہے کہ اسی وقت سے نبوت کا خیال تھا مگر چونکہ مرزا قادیانی نے کئی پردے ڈال رکھے تھے۔ اس وجہ سے لوگ بھی خاموش رہے۔ آخر وہ پردہ اٹھا دیا اور تصریح و توضیح کے ساتھ کھلے میدان میں کود پڑے کہ میں بھی

١٥

صفحہ ٢٦٣

ہوں۔ پانچوں سواروں میں۔ لاہوری پارٹی مجازی، ظلی، بروزی، لغوی کے دھوکہ میں رہ گئی اور مرزا قادیانی وہ پہنچے۔ اول تو یہ اصطلاحات ہی بالکل فضول و بے کار۔ شریعت میں کوئی ایسی نبوت نہیں جو ظلی ولی ہو۔ مگر مرزا قادیانی دین ناواقف نئی روشنی پرانی تاریکی والے۔

حضرات کو ان اصطلاحات کی بھول بھلیوں میں پھنساتے رہے جب دیکھا کہ جماعت بالکل اپنے دین سے ناواقف ہے اور جو میں کہتا ہوں اس کے آگے سر تسلیم خم ہے۔ فوراً سایہ وغیرہ دور کر دیا اور بائیس برس کی الہامی عمارت پر نبوت کی عمارت کھڑی کر لی شاباش جے سنگھ بہادر۔

مرزا قادیانی کی زندگی کے یہ چند دور علی سبیل ترقی حاصل ہوئے۔ ملہمیت، مجددیت، مہدویت، مسیحیت، نبوت و رسالت اور انہیں دوروں میں ایک دور کرشنیت ہے اور دوروں میں اور بھی بہت سے مدارج مضمر ہیں جو وقتاً فوقتاً ظاہر ہوتے رہے بلکہ ان تمام دوروں سے بھی آگے ترقی کر گئے ہیں۔ خود کہتے ہیں:

”سو جیسا کہ براہین احمدیہ میں خدا نے فرمایا ہے کہ میں آدم ہوں، میں نوح ہوں، میں ابراہیم ہوں، میں اسحاق ہوں، میں یعقوب ہوں، میں اسماعیل ہوں، میں موسیٰ ہوں، میں داؤد ہوں، میں محمد ہوں، میں احمد ہوں۔“

(تتمہ حقیقت الوحی ص ٨٥، خزائن ج ٢٢ ص ٥٢١)

”میری نسبت بطور استعارہ کے لفظ فرشتہ آگیا ہے اور دانیال نبی نے اپنے کتاب میں میرا نام میکائیل رکھا ہے۔“

(حاشیہ اربعین نمبر ٤ ص ٢٥، خزائن ج ١٧ ص ٤١٣)

مرزا قادیانی کا ایک اور نام سن لیجئے: ”امین الملک جے سنگھ بہادر۔“

(تذکرہ ص ٦٧٢)

ترقیات کی فہرست

سب سے پہلے مرزا قادیانی نے مجددیت کا دعویٰ کیا اور اس کے ثبوت میں اپنے الہامات پیش کرتے رہے۔ پھر مرزا قادیانی کو خیال ہوا کہ حدیثوں میں حضرت مہدی علیہ الرضوان کی تشریف آوری کی خبر ہے اور ان کی آمد کی تاریخ معین نہیں اور وہ بھی آکر اصلاح دین ہی کریں گے۔ لہٰذا مرزا قادیانی نے مہدی ہونے کا بھی دعویٰ کر دیا اور امام مہدی علیہ الرضوان کی تشریف آوری کے وقت کے تمام علامات کو ملیا میٹ کر دیا اور ناجائز تاویلیں کیں۔ پھر مرزا قادیانی کو خیال ہوا کہ جس زمانے میں حضرت امام مہدی علیہ الرضوان موجود ہوں گے وہی زمانہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے آسمان سے نازل ہونے کا ہے۔ لہٰذا عیسیٰ مسیح ہونے کا بھی دعویٰ کر دیا مگر خیال ہوا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام تشریف لائیں گے تو اس زمانہ میں دجال ہوگا۔ دجال کا زمانہ ہوگا پھر یاجوج ماجوج نکلیں گے اور یہاں کوئی چیز نہ پائی گئی تو دجال بھی مرزا قادیانی نے

١٦

بتائے کہ یہ پادریوں کا گروہ ہے۔ کبھی کہہ دیا کہ دجا دجال سے تجارتی کمپنیاں مراد ہیں۔ دجال کی سوار اور اس کے سوا اور کچھ نہیں۔

مگر تعجب یہ ہے کہ دجال کی سواری ص زندگی میں بے شمار ریل پر سفر کرتے رہے اور مرنے لاد کے لائی گئی۔ خدا جانے مرزا قادیانی نے دجال ماجوج کے متعلق کہہ دیا کہ اس سے روس اور انگریز مر الفاسدة ”پھر مرزا قادیانی کو خیال آیا کہ جن حضر وہ اللہ تعالیٰ کے نبی بھی ہیں اور میں نے عیسیٰ ہونے بھی دعویٰ کر دوں۔ مرزا قادیانی کو یہ تو معلوم ہی تھ آنے کے منتظر ہیں تو ان کو کہہ سنایا کہ مہدی مخصوص ک

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا آسمان سے الہام گھڑ لیا کہ مجھ پر وحی آئی ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام اور یہ بھی غور نہ کیا کہ شرک کے کیا معنی ہیں؟ ہر مسلما وصفات میں کسی کو اسی طرح شریک کرنا جیسی اس ک زندہ رکھنے کا عقیدہ رکھنا شرک ہو تو حضرت جبرائیل تک زندہ رہنے کا عقیدہ رکھنا بھی مرزا قادیانی کے ن مبتلا ہوئے۔ مسلمان کا یہ بھی یقین ہے کہ حضور کے تامہ والا نبی نہیں آئے گا۔ ناقص نبی آسکتا ہے۔ اُ متی ہوں۔ یوں کہہ کر ٹالتے رہے مگر مسلمانوں نبوت کی تقسیم نہیں کی یہ ظلی ولی کیسی۔ مرزا قادیانی کہہ دیا کہ میری نبوت کوئی الگ نبوت نہیں۔ میر حلول کر گئے۔ وہ محمد اول ہیں اور میں محمد ثانی ہوں علیحدہ انسان نہیں ہوں بلکہ محمد کی نبوت مجھ ہی کو مل کے لئے تو سب کچھ بن گیا۔ مشرکین رہ گئے تو دعویٰ ک میں حلول کر گئی ہے۔

٧

صفحہ ٢٦٣

بتائے کہ یہ پادریوں کا گروہ ہے۔ کبھی کہہ دیا کہ دجال سے مراد با اقبال قومیں ہیں۔ کسی نے کہا کہ دجال سے تجارتی کمپنیاں مراد ہیں۔ دجال کی سواری بھی مرزا قادیانی کو مل گئی کہ وہ ریل ہی ہے اور اس کے سوا اور کچھ نہیں۔

مگر تعجب یہ ہے کہ دجال کی سواری صرف دجال کے لئے تھی۔ حالانکہ مرزا قادیانی زندگی میں بے شمار ریل پر سفر کرتے رہے اور مرنے کے بعد بھی ان کی لاش اسی دجال کی سواری پر لاد کے لائی گئی۔ خدا جانے مرزا قادیانی نے دجال کی سواری کو کس مصلحت سے اختیار کیا۔ یاجوج ماجوج کے متعلق کہہ دیا کہ اس سے روس اور انگریز مراد ہیں: ”الی غیر ذالك من التاويلات الفاسدة“ پھر مرزا قادیانی کو خیال آیا کہ جن حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی تشریف آوری کی خبر ہے۔ وہ اللہ تعالیٰ کے نبی بھی ہیں اور میں نے عیسیٰ ہونے کا دعویٰ کر ہی دیا ہے۔ لہٰذا نبوت ورسالت کا بھی دعویٰ کردوں۔ مرزا قادیانی کو یہ تو معلوم ہی تھا کہ مسلمان حضرت مہدی علیہ الرضوان کے آنے کے منتظر ہیں تو ان کو کہہ سنایا کہ مہدی مخصوص کا آنا کوئی یقینی امر نہیں۔ بالکل غلط ہے۔

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا آسمان سے تشریف لانے کا بھی مسلمانوں کو یقین ہے تو الہام گھڑ لیا کہ مجھ پر وحی آئی ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام فوت ہو گئے ۔ ان کی حیات کا عقیدہ شرک ہے اور یہ بھی غور نہ کیا کہ شرک کے کیا معنی ہیں؟ ہر مسلمان جانتا ہے کہ شرک کہتے ہیں کہ خدا کی ذات وصفات میں کسی کو اسی طرح شریک کرنا جیسی اس کی ذات وصفات ہیں تو کسی کے مدت مدید تک زندہ رکھنے کا عقیدہ رکھنا شرک ہو تو حضرت جبرائیل علیہ السلام ودیگر ملائکہ کے اب تک اور قیامت تک زندہ رہنے کا عقیدہ رکھنا بھی مرزا قادیانی کے نزدیک شرک ہوا اور خود یہ عقیدہ رکھ کر شرک میں مبتلا ہوئے۔ مسلمان کا یہ بھی یقین ہے کہ حضور کے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا تو کہہ دیا کہ ہاں نبوت تامہ والا نبی نہیں آئے گا۔ ناقص نبی آسکتا ہے۔ اس لئے میں ظلی ہوں، مجازی ہوں، لغوی ہوں، جزئی ہوں۔ یوں کہہ کر ٹالتے رہے مگر مسلمانوں نے سمجھ لیا کہ یہ بالکل دھوکہ ہے۔ شریعت نے نبوت کی تقسیم نہیں کی یہ ظلی ولی کیسی۔ مرزا قادیانی یقیناً نبوت تشریعی کا دعویٰ کرتے ہیں تو آخر میں کہہ دیا کہ میری نبوت کوئی الگ نبوت نہیں۔ میری نبوت حضور ہی کی نبوت ہے۔ حضور مجھ میں حلول کرگئے۔ وہ محمد اول ہیں اور میں محمد ثانی ہوں۔ ان میں فنا ہوکر وہی ہوگیا ہوں۔ میں کوئی علیحدہ انسان نہیں ہوں بلکہ محمد کی نبوت مجھ ہی کومل گئی۔ پھر مرزا قادیانی نے خیال کیا کہ مسلمانوں کے لئے تو سب کچھ بن گیا۔ مشرکین رہ گئے تو دعویٰ کردیا کہ میں کرشن بھی ہوں اور اس کی روح مجھ میں حلول کر گئی ہے۔

١٧

صفحہ ٢٦٥

خیر مرزا قادیانی جو کچھ بھی بنیں، اس سے تو ہمیں بالفعل بحث نہیں۔ دیکھنا یہ ہے کہ مسلمانوں کے مصلح و ہادی رہبر و مرشد ہونے کا کون حق دار ہے؟

یہ امر محتاج بیان نہیں کہ مصلح و ہادی ولی و مرشد کے لئے پہلے یہ ضروری ہے کہ وہ مسلمان ہو اگر ایمان نہیں تو تمام ترقیاں رک جائیں گی۔ ایمان ہی سب سے پہلا زینہ ہے۔ جو تقویٰ و درجات ولایت تک پہنچاتا ہے۔ اگر اس سے قدم پھسلا تو حسرت سے سارے زینوں کو آنکھیں پھاڑ کر دیکھتا رہے گا اور کچھ نہ بنے گا۔ کافر کبھی مسلمانوں کا رہبر نہیں ہو سکتا اور نہ وہ درجات قرب الٰہی حاصل کر سکتا ہے۔

لہٰذا سب سے پہلے ہم کو یہ دیکھنا چاہئے کہ آیا مرزا قادیانی مسلمان بھی ہیں یا نہیں؟ اس پر ہم مفصل بحث کرتے ہیں تاکہ آگے تمام معاملات خود بخود صاف ہو جائیں۔

یہ بھی یادرہے کہ کوئی شخص زبان سے برابر کلمہ توحید پڑھتا رہے۔ دعویٰ اسلام کرتا رہے مگر اس کے ساتھ اسلام میں جن چیزوں کا تسلیم کرنا ضروری ہے۔ اس سے انکار بھی کرتا رہے تو زبان سے ادعائے اسلام مفید نہ ہوگا بلکہ وہ کافر کا کافر ہی رہے گا۔ اسی طرح جو شخص ضروریات دین میں سے تمام چیزوں کو تسلیم کرے۔ صرف ایک چیز کا انکار کر دے۔ تو وہ بھی مسلمان نہ رہے گا۔ اسی طرح جو شخص شریعت کے ساتھ استہزاء کرے۔ خدا کی توہین کرے۔ رسولوں نبیوں کی شان میں گستاخی کرے مسلمان نہ رہے گا۔ اسی طرح جو اپنے آپ کو انبیاء سے افضل جانے۔ کافر ہو جائے گا۔ یہ تمام وہ چیزیں ہیں جس میں کسی کو اختلاف نہ ہوگا۔ یہاں تک کہ سارے فرقے اور ان کی اذناب بھی اس سے انکار نہیں کر سکتے۔

مرزا قادیانی کے اسلام و کفر کی تنقید

اس لئے ہم کو انہیں اصول پر مرزا قادیانی کو پرکھنا چاہئے کہ آیا وہ مسلمان ہیں یا نہیں؟

اور ہر مناظر کو مرزائیوں سے مناظرہ کرنے میں اس کا لحاظ رکھنا چاہئے کہ پہلے مرزا قادیانی کے اسلام و کفر پر بحث کریں۔ انشاء اللہ مناظرہ اسی موضوع پر ختم ہو جائے گا اور مرزائی قیامت تک مرزا قادیانی کا مسلمان ہونا ثابت نہیں کر سکتے۔ اہل سنت و جماعت ثابت کرتے ہیں کہ مرزا قادیانی قانون شرع کے مطابق دائرہ اسلام سے خارج ہیں۔ اس لئے اس کے ثبوت میں وہ عقائد کفریہ و اقوال مردودہ نقل کرتے ہیں۔ جو صرف مرزا قادیانی کی کتابوں میں موجود ہیں۔ غور و انصاف سے ملاحظہ فرمائیں۔

١٨

فہرست عقائد کفریہ و اقوال باطلہ

عقیدہ کفریہ نمبر اول ”دعویٰ الوہیت“

”ورایتنی فی المنام عین اللہ وت

میں دیکھا کہ میں بعینہ خدا ہوں اور میں نے یقین کر لیا ک ان جملوں سے کی جاتی ہے:

”میں نے اپنے جسم کی طرف دیکھا تو میر آنکھ اس کی آنکھ ہیں۔ میرے کان اس کے کان ہیں، میرا کی قدرت قوت کو اپنے نفس میں جوش مارتے ہوئے دیک تھی، الوہیت مجھ پر بہت سخت غالب ہو گئی۔ الوہیت مجھ خدا میرے وجود میں داخل ہو گیا۔“

یہ کلمات کس قدر کفریات پر مشتمل ہیں۔ خلاص

”میں اسی حالت میں تھا کہ کہتا تھا کہ اب ہ زمین بنائیں گے تو میں نے آسمانوں اور زمینوں کو پہل تفریق و ترتیب دی اور میں اپنے آپ کو آسمان و زمین ب آسمان و دنیا کو پیدا کیا اور میں نے کہا: ”انا زینا السما

( )

اس لمبے واقعہ کے ختم پر لکھتے ہیں۔ اس واقعہ کا مقصود ہے اور نہ حلول جیسا کہ حلولیہ کا مذہب ہے، ی

مرزا جی کہتے ہیں کہ نہ یہ وحدۃ الوجود ہے

رہا مرزا قادیانی کا قرب نوافل بتانا، یہ بالکل غلط ہے، سب قرب نوافل کے منافی ہیں۔

قرب نوافل میں یہ کہاں ہے کہ خدا وجو موج مارتی ہے، قرب نوافل میں پہنچنے والا انسان زم مرزا قادیانی کے سوا کوئی قرب نوافل کو نہیں پہنچا۔ حال نے قرب فرائض کا مرتبہ پایا اور ان کی زبان سے حا

١٩

صفحہ ٢٦٥

فہرست عقائد کفریہ واقوال باطلہ مرزا غلام احمد قادیانی

عقیدہ کفریہ نمبر اول ”دعویٰ الوہیت“

”ورایتنی فی المنام عین اللہ وتیقنت اننی ھو“ یعنی میں نے خواب میں دیکھا کہ میں بعینہ خدا ہوں اور میں نے یقین کرلیا کہ میں واقعی وہی ہوں۔ اس مقام کی تفصیل ان جملوں سے کی جاتی ہے:

”میں نے اپنے جسم کی طرف دیکھا تو میرے پاؤں خدا کے ہاتھ پاؤں ہیں۔ میری آنکھ اس کی آنکھ ہیں۔ میرے کان اس کے کان ہیں، میری زبان اس کی زبان ہے۔ میں نے اس کی قدرت قوت کو اپنے نفس میں جوش مارتے ہوئے دیکھا اور الوہیت میری روح میں موج مارتی تھی، الوہیت مجھ پر بہت سخت غالب ہوگئی۔ الوہیت میری رگوں میرے پٹھوں میں گھس گئی ہے۔ خدا میرے وجود میں داخل ہوگیا۔“

(آئینہ کمالات ص ٥٦٤، خزائن ج ٥ ص ایضاً)

یہ کلمات کس قدر کفریات پر مشتمل ہیں۔ خلاصہ ان کا یہ ہوا کہ میں مجسم خدا ہوں.......

”میں اسی حالت میں تھا کہ کہتا تھا کہ اب ہم نظام جدید قائم کریں گے۔ نیا آسمان نئی زمین بنائیں گے تو میں نے آسمانوں اور زمینوں کو پہلے اجمالی صورت میں پیدا کیا۔ پھر میں نے تفریق وترتیب دی اور میں اپنے آپ کو آسمان وزمین کے پیدا کرنے پر قادر سمجھتا تھا۔ پھر میں نے آسمان دنیا کو پیدا کیا اور میں نے کہا: ”انا زینا السماء الدنیا بمصابیح“

(آئینہ کمالات اسلام ص ٥٦٥، خزائن ج ٥ ص ایضاً)

اس سچے واقعہ کے ختم پر لکھتے ہیں۔ اس واقعہ سے ہماری مراد وہ نہیں ہے جو وحدۃ الوجود کا مقصود ہے اور نہ حلول جیسا کہ حلولیہ کا مذہب ہے، یہ کہ اس سے مراد قرب نوافل کا مرتبہ ہے۔

مرزا جی کہتے ہیں کہ نہ یہ وحدۃ الوجود ہے، نہ حلول ہے یعنی بالکل میں ہی خدا ہوں۔

رہا مرزا قادیانی کا قرب نوافل بتانا، یہ بالکل غلط ہے۔ اس لئے کہ واقعہ کے جس قدر الفاظ ہیں وہ سب قرب نوافل کے منافی ہیں۔

قرب نوافل میں یہ کہاں ہے کہ خدا وجود میں داخل ہوجاتا ہے۔ الوہیت روح میں موج مارتی ہے، قرب نوافل میں پہنچنے والا انسان زمین و آسمان بنانے کا کب دعویٰ کرتا ہے؟ کیا مرزا قادیانی کے سوا کوئی قرب نوافل کو نہیں پہنچا۔ حالانکہ بہت بزرگان دین ایسے گزرے جنہوں نے قرب فرائض کا مرتبہ پایا اور ان کی زبان سے حالت سہو میں کبھی ایسے کلمات نہیں نکلے اور اگر

١٩

صفحہ ٢٦٧

مثل حضرت بایزید بسطامی و حضرت منصور نے حالت سکر میں ”انا الحق اور ما اعظم شانی“ کلمات ادا ہوئے لیکن ان کلمات کی ان کو بھی خبر نہیں۔ چنانچہ مریدوں نے حضرت بایزید پر اعتراض کیا۔ جواب دیا کہ اگر میری زبان سے یہ کلمات نکلیں تو مجھ کو قتل کر ڈالو۔ یہ حضرات حالت سکر میں اگر کچھ کہتے تھے تو حالت سہو میں اس کا اعادہ تو درکنار وہ یاد بھی نہیں ہوتا تھا۔ مگر مرزا قادیانی نے اگر بالفرض حالت سکر میں یہ کلمات ادا کئے تو حالت سہو میں ان کا اعادہ جرم ہوا اور خصوصاً اپنے ہاتھ سے تحریر کرنا۔ پس مرزا قادیانی کی حالت کا قیاس ان بزرگان دین کی حالت پر نہیں ہو سکتا۔

چہ نسبت خاك را با عالم پاك

مؤیدات دعویٰ الوہیت

”انت منى وانا منك۔ اے مرزا قادیانی تو مجھ سے میں تجھ سے۔“

(الاستفتاء ص ٨٠، خزائن ج ٢٢ ص ٧٠٦)

”الارض والسماء معك كما هو معی (ایضاً) زمین و آسمان اے مرزا تیرے ساتھ ایسے ہیں جیسے میرے ساتھ ۔ سرك سری“

(الاستفتاء ص ٨١، خزائن ج ٢٢ ص ٧٠٧)

”انت منی“ بمنزلہ توحیدی و تفریدی اے مرزا تو میری توحیدی کا مرتبہ رکھتا ہے۔

مرزا جی کا خدا سے مرتبہ زائد

”یا احمد يتم اسمك ولا يتم اسمى (انجام آتھم ٥٢، خزائن ج ١١ص ایضاً) ”اے مرزا تیرا نام پورا ہو جائے گا اور میرا نام ناقص ہی رہے گا یعنی تو مجھ سے مرتبہ کمال میں بڑھ جائے گا اور میں پیچھے رہ جاؤں گا۔

عقیدہ کفریہ نمبر دوم ”دعویٰ نبوت بعد خاتم النبیین“

اس میں کوئی شک نہیں کہ مرزا غلام احمد قادیانی کرشن چودھویں صدی نے نبوت و رسالت کا بڑے زور سے دعویٰ کیا ہے اور ان کی تمام تصنیفات اس دعویٰ سے مالا مال ہیں۔ اگرچہ بعض میں پردہ ڈال کے شکار کرنا چاہا۔ لیکن بعض کتابوں میں تو صراحت کے ساتھ دعویٰ کر دیا اور اسی عقیدہ پر مرزا قادیانی کی گدی کے مالک خلیفہ محمود صاحب قائم ہیں اور یہ ہے بھی بجا۔ کیونکہ الولد سر لابيه مرزا قادیانی کے کمالات تقدس دعاوی کی حقیقت سے جس قدر ان کے بیٹے واقف ہوں گے۔ کوئی دوسرا نہیں ہو سکتا۔ ممکن ہے کہ مرزا قادیانی نے تحریر کے علاوہ ٢٠

اپنی نبوت کی وہی حقیقت بتائی ہو جو ان کے جانشین بیٹے نے پس شریعت اسلامی نبی کے جو معنی کرتی ہیں یہ مجازی نبی نہیں بلکہ حقیقی نبی ہیں۔ خاتم النبیین کے یہی معنی ہیں کہ کوئی شخص نبی نہ قدم پر چل کر غلامی اختیار نہ کرے اور جب دروازہ نبوت کـ

(الفضل قادیان ٢٤ مئی ١٩١٥ء ص ١١٢) مرزا قادیانی بلحاظ کا منکر کافر ہے۔ (تشحیذ الاذہان ج ٦ ص ١٣٠) جو مرزا قادیانی کو نبی (تشحیذ الاذہان اپریل ١٩١١ء) مرزا قادیانی نے الـ مگر بیعت میں توقف کرتا ہے۔ (الفضل قادیان ٢٩؍جون ١٩١٥ء) میرا مسیح موعود دینا یا امتی ہی گروہ میں سمجھنا گویا آنحضرت کو جو سید المرسلیـ امتیوں میں داخل کرنا ہے۔ جو کفر عظیم ہے اور کفر بعد کفر ۔

لیکن چونکہ اس امت میں سوائے حضرت مسیح نہیں قرار دیا گیا۔ معلوم ہوا کہ رسول بھی صرف مسیح موعود (القول الفصل ص ٣٣) میں حضرت مرزا قادیا کے حقوق کے لحاظ سے وہ ایسی ہی نبوت سے جیسے اور نبیو طریقوں میں فرق ہے۔ پہلے انبیاء نے بلا واسطہ نبوت پایـ

ان تمام عبارتوں سے صاف طریقہ سے معلو حقیقی نبی مانتے ہیں۔ جس طرح کہ حضور سے پہلے انبیاء سے معلوم کیا؟ یہ تو یقینی امر ہے کہ اپنے طرف سے ایجا ان کے دلائل سے اخذ کیا ہے اور اس سے پتہ چلتا ہے جانتے تھے جیسا کہ ان کو ان کی جماعت تصور کرتی ہے۔ مرزا قادیانی نے اپنی نبوت کا نقشہ کھینچا ہے۔ جو عبارت فـ کی ہے۔ اس کو دوبارہ پڑھیں۔ اس میں مرزا قادیانی ـ

٢١

صفحہ ٢٦٧

اپنی نبوت کی وہی حقیقت بتائی ہو جو ان کے جانشین بیٹے نے سمجھی اور ظاہر کی چنانچہ وہ لکھتے ہیں۔

پس شریعت اسلامی نبی کے جو معنی کرتی ہیں۔ اس کے معنی سے حضرت صاحب ہرگز مجازی نبی نہیں بلکہ حقیقی نبی ہیں۔

(حقیقت النبوۃ ص ١٧٤)

خاتم النبیین کے یہی معنی ہیں کہ کوئی شخص نبی نہیں بن سکتا۔ جب تک کہ حضور کے نقش قدم پر چل کر غلامی اختیار نہ کرے اور جب دروازہ نبوت کھلا ہوا ہے تو مسیح موعود ضرور نبی ہیں۔

(ملخصاً حقیقت النبوۃ ص ٢٣٢)

(الفضل قادیان نمبر ١٩١ ص ١١٢) مرزا قادیانی بلحاظ نبوت کے ایسے ہیں جیسے اور پیغمبر اور ان کا منکر کافر ہے۔

(تشحیذ الاذہان ج ٦ ص ١٤٠) جو مرزا قادیانی کو نہیں مانتا اور کافر نہیں کہتا وہ بھی کافر ہے۔

(تشحیذ الاذہان اپریل ١٩١١ء) مرزا قادیانی نے اس کو بھی کافر ٹھہرایا ہے جو سچا تو جانتا ہے۔ مگر بیعت میں توقف کرتا ہے۔

(الفضل قادیان ٢٩ جون ١٩١٥ء) پس مسیح موعود کو امتی نبی تسلیم نہ کرنا اور آپ کو امتی قرار دینا یا امتی ہی گروہ میں سمجھنا گویا آنحضرت کو جو سید المرسلین اور خاتم النبیین ہیں امتی قرار دینا اور امتیوں میں داخل کرنا ہے۔ جو کفر عظیم ہے اور کفر بعد کفر ہے۔

لیکن چونکہ اس امت میں سوائے حضرت مسیح موعود کی جماعت کے آخرین منھم نہیں قرار دیا گیا۔ معلوم ہوا کہ رسول بھی صرف مسیح موعود ہیں۔

(حقیقت النبوۃ ص ٢٣١)

(القول الفصل ص ٣٣) میں حضرت مرزا قادیانی کی نبوت کی نسبت لکھ آیا ہوں کہ نبوت کے حقوق کے لحاظ سے وہ ایسی ہی نبوت ہے جیسے اور نبیوں کی صرف نبوت کے حاصل کرنے کے طریقوں میں فرق ہے۔ پہلے انبیاء نے بلاواسطہ نبوت پائی اور آپ نے بالواسطہ۔

ان تمام عبارتوں سے صاف طریقہ سے معلوم ہو گیا کہ قادیانی مرزا قادیانی کو ویسا ہی حقیقی نبی مانتے ہیں۔ جس طرح کہ حضور سے پہلے انبیاء گزرے۔ آخر یہ انہوں نے عقیدہ کہاں سے معلوم کیا؟ یہ تو یقینی امر ہے کہ اپنے طرف سے ایجاد نہیں کیا۔ بلکہ مرزا قادیانی کی کتابوں اور ان کے دلائل سے اخذ کیا ہے اور اس سے پتہ چلتا ہے کہ مرزا قادیانی بھی اپنے آپ کو ایسا ہی جانتے تھے جیسا کہ ان کو ان کی جماعت تصور کرتی ہے۔ میں وہ عبارتیں پیش کرتا ہوں۔ جس میں مرزا قادیانی نے اپنی نبوت کا نقشہ کھینچا ہے۔ جو عبارت ہم نے اشتہار ”ایک غلطی کا ازالہ“ سے نقل کی ہے۔ اس کو دوبارہ پڑھیں۔ اس میں مرزا قادیانی نے اپنے آپ کو صاف اور صریح الفاظ میں

٢١

صفحہ ٢٦٨

نبی اور رسول قرار دیا ہے اور جس نے ان کی نبوت کو نہیں مانا، اسے جاہل اور بے خبر ٹھہرایا۔ اس اشتہار کو بجنسہ کتاب کے آخر میں نقل کر دیں گے اور مزید وضاحت کے لئے اس کی شرح بھی۔ تاکہ طالب حق اچھی طرح مرزا قادیانی کے طلسم کو سمجھ لے۔ علاوہ اس کے اور عبارتیں ملاحظہ ہوں: ”سچا خدا وہی ہے جس نے قادیان میں اپنا رسول بھیجا۔“

(دافع البلاء ص ١١، خزائن ج ١٨ ص ٢٣١)

قادیان کے متعلق لکھتے ہیں: ”قادیان کو اس کی (طاعون) خوفناک تباہی سے محفوظ رکھے گا۔ کیونکہ یہ اس کے رسول کا تخت گاہ ہے۔“

(دافع البلاء ص ١٠، خزائن ج ١٨ ص ٢٣٠)

”جو شخص نبوت کا دعویٰ کرے گا اس دعوٰی میں ضرور ہے کہ وہ (١) خدا تعالیٰ کی ہستی کا اقرار کرے اور (٢) نیز یہ بھی کہے خدائے تعالیٰ کی طرف سے میرے پر وحی نازل ہوتی ہے اور (٣) نیز خلق اللہ کو وہ کلام سنائے جو اس پر خدا تعالیٰ کی طرف سے نازل ہوا ہے اور (٤) ایک امت بنائے جو اس کو سمجھتی اور اس کتاب کو کتاب اللہ جانتی ہے“

(آئینہ کمالات اسلام ص ٣٤٤، خزائن ج ٥ ص ایضاً)

مرزا قادیانی نے مدعی نبوت کے لئے جو ضروری امور لکھے ہیں جن کے بغیر نبوت کا پایا جانا ممکن نہیں وہ سب مرزا جی کی نبوت میں موجود ہیں۔ (١) مرزا قادیانی ہستی خدا کے مقر بھی ہیں۔ (یعنی بزعم خود) (٢) مرزا قادیانی نے یہ بھی کہا کہ مجھ پر خدا کی طرف سے وحی آتی ہے۔ (٣) مرزا قادیانی نے وہ وحی مخلوق کو سنائی بلکہ کتابوں، رسالوں، اخباروں میں طبع کرائی۔ چنانچہ براہین احمدیہ، حقیقت الوحی، الاستفتاء، انجام آتھم، ازالۃ اوہام، بشریٰ میں وہ وحیاں موجود ہیں۔ (٤) مرزا قادیانی نے امت بھی بنائی اور بیعت نبوت بھی ان سے لی۔

(تحریک احمدیت ص ٨)

آخر یکم دسمبر ١٨٨٨ء کو آپ نے اعلان کیا کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے بیعت لینے اور ایک جماعت تیار کرنے کا مجھے حکم دیا۔ یہ بیعت ایسی نہ تھی جیسے عام طور پر صوفیوں میں مروج ہے بلکہ اس کی غرض اسلام کی حفاظت اور اسلام کی تبلیغ تھی۔

اے صاحب صاف صاف کیوں نہیں کہتے کہ یہ بیعت ارشاد نہیں تھی بلکہ بیعت نبوت و رسالت تھی۔ وہ امت مرزا قادیانی کو نبی بھی جانتی ہے جیسا کہ معلوم ہو چکا اور وہ امت مرزا قادیانی کی وحی کو جمع کر کے کتاب اللہ جانتی ہے بلکہ نمازوں میں اس کے پڑھنے کا حکم دیتی ہے: ”اس لئے اب کے سالانہ جلسہ میں“ جناب میاں محمود صاحب خلیفہ قادیان نے کتاب کی اہمیت کو جتاتے ہوئے خود قادیان میں حضرت مسیح موعود کے الہامات کو جمع کرنے کا حکم دیا اور ساتھ ہی مریدوں کو اس کی تلاوت کے لئے ارشاد فرمایا کہ ان کے قلوب طمانیت اور سکینت حاصل

٢٢

کریں۔“

غرضیکہ نبی کے لئے جس قدر چاہئے کیا وجہ ہے کہ کہا جائے کہ مرزا قادیانی نے دعویٰ ”اوائل میں میرا یہی عقیدہ تھا کہ جو خدا کے بزرگ مقربین سے ہے اور کوئی امر موجب فضیلت قرار دیتا تھا۔ مگر بعد میں جو خدا تعالیٰ کی مجھے اس عقیدہ پر قائم نہ رہنے دیا اور صریح طور پر ”ہمارا دعویٰ ہے کہ ہم رسول اور نبی

یہ مرزا قادیانی کی حیات کا آخری ایـ ”انہیں امور کی کثرت کی وجہ سے ہوں اور اگر میں اس سے (نبوت) انکار کروں رکھتا ہے۔ تو میں کیونکر انکار کر سکتا ہوں۔ میں اِـ دنیا سے گزر جاؤں۔“

(مکتوب

یہ خط مرزا قادیانی نے ٢٣ مئی ٠٨ـ ہوا۔ معلوم ہوا کہ مرتے دم تک اس عقیدہ پر قاـ

موت نے فیصلہ کر دیا کہ مرزا نبی نہ تھے کیونکہ لا کا جہاں انتقال ہوتا ہے وہیں دفن کیا جاتا ہے وقت حدیث پیش فرمائی اور سب صحابہ نے تسلیم اس طرح خدا تعالیٰ نے فیصلہ فرما دیـ

عقیدہ اسلام متعلقہ ختم نبوت

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ”مَا كَانَ مُحَـ وَخَاتَمَ النَّبِيِّينَ (احزاب) ”حضرت محمد صـ اللہ کے رسول ہیں اور آخر نبی ہیں۔

حضور اکرم ﷺ فرماتے ہیں: ”مَـ

صفحہ ٢٦٩

کریں۔“

(اخبار پیغام صلح لاہور ١١ جون ١٩٣٣ء)

غرضیکہ نبی کے لئے جس قدر چاہئے تھا وہ سب مرزا قادیانی کے لئے موجود ہے۔ پھر کیا وجہ ہے کہ کہا جائے کہ مرزا قادیانی نے دعویٰ نبوت نہیں کیا؟ لاہوری پارٹی غور کرے۔

”اوائل میں میرا یہی عقیدہ تھا کہ مجھ کو مسیح ابن مریم سے کیا نسبت ہے؟ وہ نبی ہے اور خدا کے بزرگ مقربین سے ہے اور کوئی امر میری فضیلت کی نسبت ظاہر ہوتا تھا تو میں اس کو جزئی فضیلت قرار دیتا تھا۔ مگر بعد میں جو خدا تعالیٰ کی وحی بارش کی طرح میرے پر نازل ہوئی اس نے مجھے اس عقیدہ پر قائم نہ رہنے دیا اور صریح طور پر نبی کا خطاب مجھے دیا گیا۔“

(حقیقت الوحی ص ١٤٩، ١٥٠، خزائن ج ٢٢ ص ١٥٣، ١٥٤)

”ہمارا دعویٰ ہے کہ ہم رسول اور نبی ہیں۔“

(اخبار البدر قادیان ٥؍ مارچ ١٩٠٨ء، ملفوظات ج ١٠ ص ١٢٧)

یہ مرزا قادیانی کی حیات کا آخری اعلان ہے کیونکہ اسی ١٩٠٨ء ٢٦؍ مئی کو موت ہوئی۔

”انہیں امور کی کثرت کی وجہ سے میرا نام نبی رکھا۔ سو میں خدا کے حکم کے موافق نبی ہوں اور اگر میں اس سے (نبوت) انکار کروں تو میرا گناہ ہوگا اور جس حالت میں خدا میرا نام نبی رکھتا ہے۔ تو میں کیونکر انکار کر سکتا ہوں۔ میں اس (دعویٰ نبوت) پر قائم ہوں اس وقت تک جو اس دنیا سے گزر جاؤں۔“

(مکتوب مرزا ایڈیٹر اخبار عام لاہور کے نام مرزا قادیانی نے خط لکھا)

یہ خط مرزا قادیانی نے ٢٣؍ مئی ١٩٠٨ء کو لکھا اور ٣ دن کے بعد ٢٦؍ مئی ١٩٠٨ء کو انتقال ہوا۔ معلوم ہوا کہ مرتے دم تک اس عقیدہ پر قائم رہے۔ خلاصہ یہ کہ تمام عمر نبی بنتے ہی گزر گیا مگر موت نے فیصلہ کر دیا کہ مرزا نبی نہ تھے کیونکہ لاہور میں انتقال ہوا اور قادیان میں دفن۔ حالانکہ نبی کا جہاں انتقال ہوتا ہے وہیں دفن کیا جاتا ہے۔ اس پر حضرت ابو بکر صدیقؓ کے حضور کے دفن کے وقت حدیث پیش فرمائی اور سب صحابہ نے تسلیم کیا۔ (دیکھو مشکوٰۃ شریف باب وفات النبی ﷺ) اس طرح خدا تعالیٰ نے فیصلہ فرما دیا کہ مرزا ہرگز نبی نہیں ورنہ وہیں دفن ہو جانا تھا۔

عقیدہ اسلام متعلقہ ختم نبوت

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ”ما کان محمد ابا احد من رجالكم ولكن رسول الله وخاتم النبيين (احزاب)“ حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ تم مردوں میں سے کسی کے باپ نہیں لیکن اللہ کے رسول ہیں اور آخر نبی ہیں۔

حضور اکرم ﷺ فرماتے ہیں: ”من قال في القرآن برأيه فليتبوأ مقعده

٢٣

صفحہ ٢٧١

من النار (مشکوۃ ص ٣٥) ”جو شخص قرآن کی تفسیر و معانی اپنی رائے سے بیان کرے وہ اپنا ٹھکانا دوزخ میں تلاش کرے۔ تفسیر قرآن کے وقت اس اصول کو مدنظر رکھتے ہوئے ہم پر فرض ہے کہ قرآن کی وہ تفسیر بیان کریں جو تفاسیر محمد رسول اللہ ﷺ کے خلاف نہیں ہوں۔

یہ امر مسلم ہے کہ قرآن شریف کی سمجھ جیسی حضور اکرم ﷺ کو عطا کی گئی ہے کسی دوسرے کو نہ ملی، نہ مل سکتی ہے۔ حضور پر قرآن نازل ہوا اور حضور نے خوب سمجھا۔

اس لئے یہ قانون ہم کو مجبور کرتا ہے کہ خاتم النبیین کی تفسیر حضور اکرم ﷺ کے فرمودہ کے مطابق ہونا چاہئے۔ دیکھئے سرکار دو عالم افصح العرب والعجم خاتم النبیین کے کیا معنی بیان فرماتے ہیں:

حدیث نمبر: ١

محدث ابو داؤد و امام ترمذیؒ، حضرت ثوبانؓ سے روایت فرماتے ہیں۔ سرکار دو عالم ﷺ فرماتے ہیں: ”وانه سیکون فی امتی کذابون ثلثون کلهم یزعم انه نبی الله وانا خاتم النبیین لا نبی بعدی (ابوداؤد ج٢ ص١٢٧، ترمذی ج٢ ص٤٥، مشکوۃ ص٤٦٥) ”میری امت میں تیس کذاب پیدا ہوں گے۔ جس میں ہر ایک کا دعویٰ ہوگا کہ میں نبی اللہ ہوں۔ حالانکہ میں خاتم النبیین ہوں۔ میرے بعد کوئی نبی نہیں۔ (جس کو نبوت دی جائے گی)

حدیث نمبر: ٢

محدث ابن ماجہ حضرت امامہ باہلیؓ سے باب فتنہ الدجال میں ایک حدیث طویل روایت فرماتے ہیں۔ جس میں سرکار ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”انا آخر الانبیاء وانتم اخر الامم (ابن ماجہ ص٣٠٧) ”میں تمام نبیوں سے پیچھے ہوں۔ تم تمام امتوں سے پیچھے ہو۔ یعنی میرے بعد کوئی نبی نہیں، تمہارے بعد کوئی امت نہیں۔

حدیث نمبر: ٣

محدث ابن ابی حاتم تفسیر میں ابو نعیم دلائل میں حضرت قتادہ سے وہ حضرت حسنؓ سے وہ حضرت ابو ہریرہؓ سے وہ حضور اکرم ﷺ سے روایت فرماتے ہیں کہ حضور ﷺ نے آیت: ”واذ اخذ الله میثاق النبیین“ کی تفسیر میں ارشاد فرمایا ہے: ”کنت اول النبیین فی الخلق وآخرهم فی البعث (خصائص کبریٰ ص٣ ج١) ”میں پیدائش میں سب نبیوں سے اول ہوں اور بعثت میں سب نبیوں سے پیچھے ہوں۔

٢٤

حضور اکرم ﷺ خود اپنی زبان مبارک سے فرماتے ہیں۔ معلوم ہوا کہ حضور نے خاتم کے معنی نبی بعدی سے خاتم کی تفسیر فرمائی جو آخریت کے ہی غرض یہ کہ اس میں شک کی گنجائش نہیں واحادیث میں یہی معنی مراد ہے۔ حضور کی اس تفسیر کے لئے کہ سرکار دو عالم خود اہل زبان ہیں اور وہ جو بیان ہوگا۔ لغت ہے کیا چیز؟ اہل زبان کے الفاظ کے معان اس کی تلاش ناقص ہو سکتی ہے۔ یہ ضروری نہیں کہ لفظ محفوظ کرے۔ فرض کرو کہ کسی لفظ کے معنی جامع اللغ سے خوب واقف ہے وہ کہتا ہے کہ یہ معنی نہیں یہ معنی مرا

حضرت امیر مینائی لکھنویؒ سے کسی نے ایک کہ اس طرح ہے۔ پوچھنے والے نے کہا کیا دلیل ہے دلیل طلب کرتا ہے۔ ہم اہل زبان ہیں جو ہم بتائیں و دلیل کی ضرورت نہیں۔

جب سرکار دو عالم ﷺ لفظ خاتم النبیین بـ حاصل نہیں کہ ہم کوئی حیلہ بہانہ کریں اور کہیں کہ لغت ہے کہ جو حضور نے فرمایا وہی لغت ہے۔ ہاں اگر کوئی جس سے آخریت زمانہ کو کوئی ٹھیس نہ لگے تو مقبول ہو انگوٹھی کے معنی بھی آتے ہیں، مہر کے معنی بھی ہوتے آخریت زمانہ جو حضور ﷺ کی تفسیر ہے اس کیخلاف اس مضمون کی بحث نبوت میں ملاحظہ فرمائیں جو تقریر

دور کیوں جاتے ہو مرزا قادیانی خود لفظ ”جیسا کہ میں ابھی لکھ چکا ہوں میرے ساتھ ایک ل لڑکی پیٹ میں سے نکلی تھی اور بعد اس کے میں نکلا تھا کوئی لڑکا یا لڑکی نہیں ہوا اور میں ان کے لئے خاتم الا

٢٥

صفحہ ٢٧١

حضور اکرم ﷺ خود اپنی زبان مبارک سے لفظ خاتم ادا فرماتے ہیں پھر لفظ آخر ارشاد فرماتے ہیں۔ معلوم ہوا کہ حضور نے خاتم کے معنی آخر بتائے۔ پھر دوسرے طریقہ سے لفظ لا نبی بعدی سے خاتم کی تفسیر فرمائی جو آخریت کے ہی معنی کا مترادف ہے۔

غرض یہ کہ اس میں شک کی گنجائش نہیں رہی کہ خاتم آخر کے معنی میں ہے۔ آیت واحادیث میں یہی معنی مراد ہے۔ حضور کی اس تفسیر نے تلاش کتب لغت سے بھی مستغنی کر دیا۔ اس لئے کہ سرکار دو عالم خود اہل زبان ہیں اور وہ جو بیان فرما دیں گے۔ دوسرے قول سے بہت معتبر ہوگا۔ لغت ہے کیا چیز؟ اہل زبان کے الفاظ کے معانی بیان کرنے سے لغت قاصر ہو سکتی ہے۔ اس کی تلاش ناقص ہو سکتی ہے۔ یہ ضروری نہیں کہ لفظ کے جس قدر معنی ہوں جامع اللغات سب کو محفوظ کرے۔ فرض کرو کہ کسی لفظ کے معنی جامع اللغات نے کچھ لکھے۔ اہل زبان جو اپنی زبان سے خوب واقف ہے وہ کہتا ہے کہ یہ معنی نہیں یہ معنی مراد ہیں تو اہل زبان کا قول تسلیم ہوگا لا غیر!

حضرت امیر مینائی لکھنویؒ سے کسی نے ایک لفظ کے متعلق پوچھا کہ یہ کیونکر ہے؟ فرمایا کہ اس طرح ہے۔ پوچھنے والے نے کہا کیا دلیل ہے؟ نہایت غضب کے ساتھ فرمایا کہ ہم سے دلیل طلب کرتا ہے۔ ہم اہل زبان ہیں جو ہم بتائیں وہ ہی صحیح ہوگا۔ ہمارا بتانا ہی دلیل ہے۔ ہمیں دلیل کی ضرورت نہیں۔

جب سرکار دو عالم ﷺ لفظ خاتم النبیین کے معنی آخر بیان فرما رہے ہیں تو ہم کو کوئی حق حاصل نہیں کہ ہم کوئی حیلہ بہانہ کریں اور کہیں کہ لغت میں تو یہ معنی کہیں نہیں لکھے۔ بلکہ یقین یہ ہے کہ جو حضور نے فرمایا وہی لغت ہے۔ ہاں اگر کوئی اور معنی بھی ہوں اور وہ اس طرح لئے جائیں جس سے آخریت زمانہ کو کوئی ٹھیس نہ لگے تو مقبول ہوں گے۔ ورنہ مردود۔ بعض لوگ کہتے ہیں کہ انگوٹھی کے معنی بھی آتے ہیں، مہر کے معنی بھی ہوتے ہیں۔ اگر خاتم کے یہ معنی لئے جائیں اور آخریت زمانہ جو حضور ﷺ کی تفسیر ہے اس کیخلاف نہ ہو تو کوئی حرج نہ ہوگا ورنہ بے کار۔ تفصیل اس مضمون کی بحث نبوت میں ملاحظہ فرمائیں جو تقریباً کتاب کا حصہ چہارم میں آئے گی۔

دور کیوں جاتے ہو مرزا قادیانی خود لفظ خاتم کو آخر کے معنی میں استعمال کر رہے ہیں:

”جیسا کہ میں ابھی لکھ چکا ہوں میرے ساتھ ایک لڑکی پیدا ہوئی جس کا نام جنت تھا اور پہلے وہ لڑکی پیٹ میں سے نکلی تھی اور بعد اس کے میں نکلا تھا اور میرے بعد میرے والدین کے گھر میں اور کوئی لڑکا یا لڑکی نہیں ہوا اور میں ان کے لئے خاتم الاولاد تھا۔“

(تریاق القلوب ص١٥٧، خزائن ج١٥ ص٤٧٩)

٢٥

صفحہ ٢٧٢

دیکھئے مرزا قادیانی نے خاتم الاولاد کے معنی آخر الاولاد ہی مراد لئے جیسا کہ قرینہ سابق دلالت کرتا ہے۔

حدیث نمبر : ٤

حضرت ابو ہریرہؓ سے امام مسلم روایت فرماتے ہیں کہ سرکار دو عالم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ مجھ کو انبیاء پر چھ فضائل سے فضیلت عطا فرمائی گئی۔ ان فضائل کو بیان فرمانے کے بعد فرماتے ہیں: ”وارسلت الى الخلق كافة“ میں تمام مخلوق کی جانب رسول بنا کر بھیجا گیا۔ ”وختم بی النبیون (مسلم ج ١ ص ١٩٩، مشکوۃ ص ٥١٢) “اور نبی میرے ساتھ ختم کر دیئے گئے۔

اس حدیث میں لفظ خاتم نہیں بلکہ ختم فعل مجہول ہے۔ جو خاتم کے معنی آخر کو متعین کر رہا ہے۔

حدیث نمبر : ٥

حضرت ابو ہریرہؓ سے امام بخاری و مسلم روایت فرماتے ہیں کہ سرکار نے ارشاد فرمایا:

”مثلى ومثل الانبیاء كمثل قصر احسن بنيانه ترك منه موضع لبنة فطاف به النظار يتعجبون من حسن بنيانه الا موضع تلك اللبنة فكنت انا سددت موضع اللبنة ختم بى البنيان وختم بى الرسل وفى رواية فانا اللبنة وانا خاتم النبيين (مشکوۃ ص ٥١١) “میری مثل اور انبیاء کی مثل ایسی ہے جیسے کہ کسی نے محل بنوایا اور خوب بنوایا۔ ایک اینٹ کی جگہ خالی رہ گئی۔ دیکھنے والے گھوم پھر کر دیکھتے ہیں اور خوبی بناء سے تعجب کرتے ہیں۔ مگر اس اینٹ کی جگہ خالی ہونے پر حضور ﷺ فرماتے ہیں۔ میں نے اس اینٹ کی جگہ کو بند کر دیا۔ عمارت کو میں نے کامل کر دیا۔ انبیاء ورسل کا سلسلہ مجھ پر ختم ہو گیا۔

اس حدیث پاک نے لفظ خاتم النبیین کی کیسی واضح تفسیر فرمائی اور تمثیل کے طور پر۔

تاکہ خوب سمجھ میں آجائے۔ اب جب کہ مکان نبوت میں ایک اینٹ کی جگہ خالی تھی وہ حضور ﷺ نے پر فرمادی تو بتاؤ اب کسی روڑے کی ضرورت باقی رہی؟

حدیث نمبر : ٦

حضرت سعد ابن ابی وقاصؓ سے امام بخاری و مسلم روایت فرماتے ہیں کہ حضور ﷺ نے حضرت علیؓ سے فرمایا: ”انت منى بمنزلة هارون من موسى الا انه لا نبى بعدی (بخاری ج ٢ ص ٦٣٣، مسلم ج ٢ ص ٢٧٨، مشکوۃ ص ٥٦٣)“ اے علی کیا تمہیں پسند نہیں کہ تم

٢٦

میرے نزدیک ایسے ہو جیسے حضرت ہارون علی حضرت ہارون نبی تھے۔

امام مسلم کی دوسری روایت میں ہے

من موسى الا انه لا نبوة بعدى “ میرے تم نبی نہیں ہو سکتے۔

حدیث نمبر : ٧

حضرت انس ابن مالکؓ سے مروی

فرمایا: ”ان الرسالة والنبوة قد انقط ص ٥٣) “نبوت و رسالت منقطع ہو چکی ہے میر دیکھئے کس صریح الفاظ سے حضور ﷺ محمود جو اجرائے نبوت کے قائل ہیں۔ ذرا آ طرح مرزا قادیانی کے اجراء کو اس نے منقطع

حدیث نمبر : ٨

محدث ابن ماجہ حضرت ام کرز

”ذهبت النبوة وبقيت المبشر (رویائے صالحہ ) رہ گئے۔

یہ چند احادیث ختم نبوت کے نبوت، ختم رسالت پر دلالت کرتی ہیں اور فردوں کو شامل اور جو خارج وہ بالکل خارج حاضرہ مولانا احمد رضا خاں صاحب کا رسالہ فرمائیں۔

اللہ تعالیٰ و حضرت محمد رسول اللہ عقیدہ ہو گیا کہ حضور اکرم ﷺ باعتبار زمان میں تیرہ سو برس ١٣٠٠ تک تمام علمائے ام شرح فقہ اکبر ملا علی ص ٦٩ میں شرح عقائد نسفی ص ٩٩ میں ہے

صفحہ ٢٧٣

میرے نزدیک ایسے ہو جیسے حضرت ہارون علیہ السلام، حضرت موسیٰ علیہ السلام کے نزدیک مگر حضرت ہارون نبی تھے۔

امام مسلم کی دوسری روایت میں ہے: ”اما ترضیٰ ان تکون بمنزلۃ ھارون من موسیٰ الا انہ لا نبوۃ بعدی“ میرے بعد کوئی نبی نہیں۔ یعنی میرے بعد نبوت نہیں اور تم نبی نہیں ہو سکتے۔

حدیث نمبر:٧

حضرت انس ابن مالکؓ سے محدث ترمذی روایت فرماتے ہیں کہ سید عالم ﷺ نے فرمایا: ”ان الرسالۃ والنبوۃ قد انقطعت فلا رسول بعدی ولا نبی (ترمذی ج٢ ص٥٣)“ نبوت و رسالت منقطع ہوچکی ہے میرے بعد نہ کوئی نبی ہے، نہ کوئی رسول۔

دیکھئے کس صریح الفاظ سے حضور ﷺ سے انقطاع نبوت کا حکم سنایا۔ کہاں ہیں مرزا محمود جو اجرائے نبوت کے قائل ہیں۔ ذرا آنکھیں کھول کر اس لفظ انقطاع کو ملاحظہ فرمائیں کہ کس طرح مرزا قادیانی کے اجراء کو اس نے منقطع کر دیا۔

حدیث نمبر:٨

محدث ابن ماجہ حضرت ام کرزؓ سے روایت فرماتے ہیں کہ سرکار ﷺ نے فرمایا: ”ذھبت النبوۃ وبقیت المبشرات“ نبوت ختم ہوگئی، باقی نہیں رہی۔ صرف مبشرات (رویائے صالحہ) رہ گئے۔

یہ چند احادیث ختم نبوت کے بارے میں ذکر کی گئی ہیں جو صاف صراحتاً انقطاع نبوت، ختم رسالت پر دلالت کرتی ہیں اور بتاتی ہیں کہ خاتم کے معنی آخر ہے اور ایسے آخر کہ تمام فردوں کو شامل اور جو خارج وہ بالکل خارج۔ اگر زیادت تفصیل منظور ہو تو اعلیٰ حضرت مجدد مائۃ حاضرہ مولانا احمد رضا خاں صاحبؒ کا رسالہ جزاء اللہ عدوہ بابائہ ختم النبوۃ مطالعہ فرمائیں۔

اللہ تعالیٰ و حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کے انہیں ارشادات جمیلہ کے مطابق اسلام کا یہ عقیدہ ہو گیا کہ حضور اکرم ﷺ باعتبار زمانہ کے آخری نبی ہیں اور اس عقیدہ کو اپنی اپنی مصنفات میں تیرہ سو برس ١٣٠٠ تک تمام علمائے امت تحریر فرماتے آئے۔

شرح فقہ اکبر ملا علی ص ٦٩ میں ہے: ”اولھم آدم وآخرھم محمدﷺ“

شرح عقائد نسفی ص ٩٩ میں ہے: ”واول الانبیاء آدم وآخرھم محمدﷺ“

٢٧

صفحہ ٢٧٥

مسايرہ مسامرہ ص ٦٦ میں ہے : ”وانه ارسل رسلا أولهم آدم واكرمهم عليه خاتمهم محمدﷺ الذى لا نبى بعده“ تینوں عبارتیں صاف کہہ رہی ہیں کہ سب سے اول انبیاء میں حضرت آدم ہیں اور سب سے آخر حضرت محمدﷺ ، کہ ان کے بعد کوئی نبی نہیں۔

(تکمیل الایمان حضرت شیخ عبدالحق محدث دہلوی ص ٨٠) میں ہے: ”اول پیغمبران آدم علیه السلام وآخر ایشان محمد رسول اللهﷺ“

بقولہ تعالیٰ ولکن رسول اللہ وخاتم النبیین چوں مقصود از بعث آنحضرتﷺ اکمال دین وتتمیم مکارم اخلاق بود بعد از حصول این مقصود بروجه اتم واکمل بعد ازوی احتیاج به پیغمبر دیگر نباشد وباوجود علماء وخلفائے اوکه حاملان دین وحافظان ملت متین اند کفایت بود“ سب سے پہلے حضرت آدم علیہ السلام اور سب انبیاء سے پیچھے حضور اکرمﷺ ہیں کیونکہ خدا فرماتا ہے: ”ولکن رسول الله وخاتم النبیین“ حضرت محقق دوسری وجہ بھی بیان فرماتے ہیں کہ حضورﷺ کو دنیا میں بھیجنے کا مقصود یہ تھا کہ دین کامل ہوجائے، مکارم اخلاق پورے ہوجائیں۔ چنانچہ یہ حکمت پوری ہوچکی۔ جیسا کہ خدا فرماتا ہے: ”اليوم اكملت لكم دينكم واتممت علیکم نعمتی“ حضورﷺ فرماتے ہیں: ”بعثت لاتمم مکارم الاخلاق“ تو اب اس کے بعد دوسرے نبی کی حاجت نہیں اور حضور کی امت میں علماء وخلفاء پیدا ہوتے رہیں گے اور وہ حاملان دین اور محافظان ملت ہوں گے۔ اس لئے کسی نبی جدید کی احتیاج نہیں۔

حضرت محقق نے تو بات صاف ہی فرمادی کہ تکمیل دین ہوچکی لہٰذا نبوت جدیدہ کی اب ضرورت نہیں۔ پس مرزا قادیانی کا اپنے لئے یہ کہنا کہ: ”آخر کار اس کی روحانی فیض رسانی سے اس مسیح موعود کو دنیا میں بھیجا جس کا آنا اسلامی عمارت کی تکمیل کے لئے ضروری تھا۔ (کشتی نوح ص ١٣، خزائن ج ١٩ ص ١٤)“ بالکل غلط اور محض بیکار ہے۔ تکمیل تو ہوچکی اب تکمیل کیسی؟

مسئلہ ختم نبوت کی تکمیل و تصریح جن الفاظ میں کی گئی ہے ان کو آپ نے ملاحظہ فرمالیا۔ جس کا خلاصہ صرف ان الفاظ میں ہے کہ زمانہ کے اعتبار سے حضور سب سے آخری نبی ہیں۔ آپ کے بعد کسی کو نبوت عطا نہ کی جائے گی۔ اب جو شخص اپنے لئے یا دوسرے کے لئے دعویٰ نبوت کرے۔ اس کے احکام بھی سن لیجئے۔ ٢٨

(شرح فقہ اکبر ملا علی قاری ص ٢٠٢) ”دعویٰ بالاجماع“ حضور کے بعد دعویٰ نبوت کرنا اسلام کے ا

(شفا شریف علامہ قاضی عیاض ختم کتاب ص شرح ادعی نبوة احد مع نبينا عليه الصلوة اليهود القائلين بتخصيص رسالة الى الـ الرسل وكأكثر الرافضة القائلين بمشاركة عـ او من ادعى النبوة لنفسه او جوز اكـ مرتبتها كالفلاسفة وغلاة المتصوفة وكفـ وان لم يدع النبوة“ اور اسی طرح کافر ہے جو شخص حضورﷺ کے بعد یا جو اپنے نفس کے لئے مدعی نبوت جائز سمجھے کہ جب مجاہدات و تقویٰ سے صفائی قلب ہو جا کہ مجھ پر وحی آتی ہے اگر چہ مدعی نبوت نہ ہو۔

پھر ان سب کے احکام بیان فرماتے ہیں: مكذبون للنبيﷺ لانه اخبر انه خاتم الـ تعالى انه خاتم النبيين ملتقطاً “ یہ سب کا ہیں اس لئے کہ حضور نے تو یہ خبر دی ہے کہ میں آخری نبی ”ولكن لما اخبر الله تعالى عن يكون الا كما اخبره الله تعالى وهو اخم المسئلة لا ينكرها الا من لا يعتقد نبوتـ صادقا في كل ما اخبر به اذا الحجج التي بها ايضا انه آخر الانبياء في زمانه وبعـ فيه يكون شاكاً فيها ايضا وايضا من موجود وكذا من قال يمكن ان يكون فهـ المعتمد ص ١٠٩)“

جب اللہ تعالیٰ کسی چیز کے متعلق خبر دے خبر دی اور اللہ تعالیٰ نے خبر دی کہ حضورﷺ کے بعد ٢٩

صفحہ ٢٧٥

(شرح فقہ اکبر ملا علی قاری ص١٤٢) ”دعوى النبوة بعد نبيناﷺ كفر بالاجماع“ حضور کے بعد دعوائے نبوت کرنا اسلام کے اجماعی قانون کے مطابق کفر ہے۔

(شفا شریف علامہ قاضی عیاض ختم کتاب ص شرح قاری ص ٥١٨) میں ہے: ”وكذالك من ادعى نبوة احد مع نبينا عليه الصلوة والسلام او بعده كالعيسوية من اليهود القائلين بتخصيص رسالة الى العرب وكالخرمية القائلين بتواتر الرسل وكاكثر الرافضة القائلين بمشاركة على فى الرسالة للنبىﷺ وبعده او من ادعى النبوة لنفسه او جوز اكتسابها والبلوغ بصفاء القلب الى مرتبتها كالفلاسفة وغلاة المتصوفة وكذالك من ادعى منهم انه يوحى اليه وان لم يدع النبوة“ اور اسی طرح کافر ہے جو شخص حضورﷺ کے ساتھ نبوت کا دعویٰ کرے یا حضورﷺ کے بعد یا جو اپنے نفس کے لئے مدعی نبوت ہو جائے یا نبوت کا اکتساب سے حاصل ہونا جائز سمجھے کہ جب مجاہدات وتقویٰ سے صفائی قلب ہو جائے، نبوت مل جاتی ہے۔ یا جو دعویٰ کرے کہ مجھ پر وحی آتی ہے اگر چہ مدعی نبوت نہ ہو۔

پھر ان سب کے احکام بیان فرماتے ہیں: ”فهولاء الطوائف السبع كلهم كفار مكذبون للنبىﷺ لانه اخبر انه خاتم النبيين لا نبى بعده واخبر عن الله تعالى انه خاتم النبيين ملتقطاً“ یہ سب کافر ہیں۔ حضورﷺ کی تکذیب کرنے والے ہیں اس لئے کہ حضور نے تو یہ خبر دی ہے کہ میں آخری ہوں، میرے بعد کسی کو نبوت نہیں ملے گی۔

”ولكن لما اخبر الله تعالى عن شئ ان يكون كذا اولايكون كذا لا يكون الا كما اخبره الله تعالى وهو اخبر انه لا يكون بعده نبى أخر وهذه المسئلة لا ينكرها الا من لا يعتقد نبوته لانه ان كان مصدقاً نبوته اعتقده صادقا فى كل ما اخبر به اذا الحجج التى ثبت بها بطريق التواتر نبوته ثبت بها ايضا انه أخر الانبياء فى زمانه وبعده الى القيامة لا يكون نبى فمن شك فيه يكون شاكاً فيها ايضا وايضا من يقول انه كان نبى بعده او يكون او موجود وكذا من قال يمكن ان يكون فهو كافر (معتقد المنتقد شریف ناقلا عن المعتمد ص١٠٩)“

جب اللہ تعالیٰ کسی چیز کے متعلق خبر دے کہ ایسا ہوگا یا ایسا نہ ہوگا تو ویسا ہی ہوگا جیسا کہ خبر دی اور اللہ تعالیٰ نے خبر دی کہ حضورﷺ کے بعد کسی کو نبوت نہ ملے گی اور یہ مسئلہ ایسا ہے کہ اس

٢٩

صفحہ ٢٧٧

کا انکار وہی کرے گا جو حضور ﷺ کی نبوت کی تصدیق نہیں کرتا۔ اس لئے وہ اگر مصدق ہے تو حضور ﷺ کو ہر خبر میں سچا جانے گا۔ اس لئے کہ وہ دلیلیں جس سے بطریق تواتر حضور ﷺ کی نبوت ثابت ہے۔ انہیں سے یہ ثابت ہے کہ حضور ﷺ کے بعد دروازہ نبوت کا بند ہے۔ پس جس کو اس میں شک ہو یعنی ختم نبوت میں وہ اصل میں حضور ﷺ کی ہی نبوت میں شک کر رہا ہے اور جو شخص یہ کہے کہ حضور ﷺ کے بعد نبی ہے یا ہوگا یا موجود ہے۔ یا ممکن ہے کہ ہو یہ سب کافر ہیں۔

(تفسیر ابن کثیر ج ٨ ص ٨٩) ” فمن رحمة الله تعالى بالعباد ارسال محمد ﷺ اليهم ثم من تشريفه له ختم الانبياء والمرسلين به واكمال الدين الحنيف له وقد اخبر الله تبارك وتعالى فى كتابه ورسوله ﷺ في السنة المتواتر عنه انه لا نبى بعدى ليعلموا ان كل من ادعى هذا المقام بعده فهو كذاب افاك دجال ضال مضل “

اللہ تعالیٰ کی رحمت ہے بندوں پر کہ ان کی طرف حضور ﷺ کو بھیجا۔ پھر شرافت یہ عطا فرمائی کہ نبوت ورسالت کا سلسلہ ان پر ختم فرما دیا۔ دین کو کامل کر دیا۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن میں، حضور ﷺ نے حدیث میں یہ خبر دی کہ آپ کے بعد نبی نہیں تاکہ لوگوں کو معلوم ہو جائے کہ آپ کے بعد جو اس مقام نبوت کا دعویٰ کرے وہ کذاب ہے، فریبی ہے۔ دجال ہے۔ گمراہ اور گمراہ کن ہے۔

(فتاویٰ عالمگیریہ ص ٢٦٣) ”اذا لم يعرف الرجل ان محمداً آخر الانبياء فليس بمسلم“

(الاشباہ والنظائر ص ٤١٦) ”اذا لم يعرف ان محمداً ﷺ آخر الانبياء فليس بمسلم لانه من الضروريات “ جو شخص حضور کے آخر نبی ہونے کا معترف نہ ہو وہ مسلمان نہیں ۔ اس لئے کہ مسئلہ ختم نبوت اس معنی کے اعتبار سے ضروریات دین سے ہے اور ضروریات دین میں سے ایک چیز کا انکار بھی مسلمان نہیں رہنے دیتا۔

بلکہ مرزا قادیانی نے خود کسی وقت میں اس کا اقرار کیا ہے کہ حضور ﷺ کے بعد نبوت کا دعویٰ کرنا کفر ہے۔ ملاحظہ ہو: ”اور یہ مجھے کہاں حق پہنچتا ہے کہ میں ادعاء نبوت کروں اور اسلام سے خارج ہو جاؤں اور قوم کافرین سے جاملوں ۔“

(حمامۃ البشریٰ ص ٧٩، خزائن ج ٧ ص ٢٩٧)

”کیا ایسا بد بخت مفتری جو خود رسالت اور نبوت کا دعویٰ کرتا ہے قرآن شریف پر ایمان رکھ سکتا ہے؟ اور کیا ایسا وہ شخص جو قرآن شریف پر ایمان رکھتا ہے اور آیت ”ولکن رسول

٣٠

الله وخاتم النبيين “ خدا کا کلام یقین رکھتا ہے رسول و نبی ہوں۔“

”ہم بھی مدعی نبوت پر لعنت بھیجتے ہیں۔“

”میں سیدنا ومولانا حضرت محمد رسول اللہ ﷺ نبوت اور رسالت کو کاذب اور کافر جانتا ہوں۔“

(اشـ

کیوں حضرات !

یہ معمہ کیسے حل ہو کہ ایک طرف تو مرزا قاد نبوت کو کافر جانیں۔ اگر یہ سچ ہے تو وہ جھوٹ، یہ جھو یوں آتا ہے کہ مرزا قادیانی نے کیا نبوت کا دعویٰ مگر کـ کہیں یہ بھی لکھ دیا کہ میں ایسے شخص کو کافر جانتا ہوں عوام تو ان اقوال کو دیکھ کر شبہ میں رہیں گے۔

یا یہ کہ جب کافر جانتے تھے اس وقت نبو کفر نہ رہا۔ خیر کچھ بھی ہو قانون شریعت کے مطابق مـ بھی کر لیا۔ خود مدعی نبوت کو کافر کہنا اور دعویٰ نبوت کـ کفر پر دستخط کر دیے۔

مرزائی طبقہ خواہ لاہوری ہو یا قادیانی

ان کے لئے تو یہ متضاد عبارتیں بڑی نہایت ذلیل ورسوا ہوتے ہیں تو ذلت ورسوائی کـ کر دیتے ہیں کہ مرزا قادیانی اس نبوت کا دعویٰ کیا کفر ہے۔ اس قسم کا کفر نہیں۔

کبھی تو کہتے ہیں نبوت تشریعی کا دعویٰ کہتے ہیں کہ مرزا قادیانی بروزی ظلی نبی تھے، شامـ کسبی تھے، نہ وہبی۔ ناقص تھے، نہ کامل، جزئی تھے بہانے کرتے ہیں مگر سب بے کار۔ اس لئے کہ سب الفاظ ہیں جن کے نیچے کوئی معنی نہیں۔ صر وضع کی گئی ہیں۔ کیا کوئی قرآن کی آیت یا کوئی حـ

صفحہ ٢٧٧

الله وخاتم النبیین “ خدا کا کلام یقین رکھتا ہے وہ کہہ سکتا ہے کہ میں بھی آنحضرت کے بعد رسول ونبی ہوں۔“

(انجام آتھم حاشیہ ص ٢٧، خزائن ج ١١ ص ٢٧)

”ہم بھی مدعی نبوت پر لعنت بھیجتے ہیں۔“

(مجموعہ اشتہارات ج ٢ ص ٢٩٧)

”میں سیدنا ومولانا حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کو خاتم المرسلین کے بعد کسی دوسرے مدعی نبوت اور رسالت کو کاذب اور کافر جانتا ہوں۔“

(اشتہار ٢ اکتوبر ١٨٩١ء، مجموعہ اشتہارات ج ١ ص ٢٣٠)

کیوں حضرات !

یہ معمہ کیسے حل ہو کہ ایک طرف تو مرزا قادیانی دعویٰ نبوت کریں۔ دوسری طرف مدعی نبوت کو کافر بنائیں۔ اگر یہ سچ ہے تو وہ جھوٹ ، یہ جھوٹ ہے تو وہ سچ ۔ مگر ہماری سمجھ میں اس کا حل یوں آتا ہے کہ مرزا قادیانی نے کیا نبوت کا دعویٰ مگر مسلمانوں کے فتاویٰ سے ڈرتے ہوئے کہیں کہیں یہ بھی لکھ دیا کہ میں ایسے شخص کو کافر جانتا ہوں تو مولوی اگر بدظن ہو جائیں گے ہو جائیں عوام تو ان اقوال کو دیکھ کر قبضہ میں رہیں گے۔

یا یہ کہ جب کافر جانتے تھے اس وقت نبوت کا دعویٰ نہ کیا اور جب نبوت کا دعویٰ کیا تو وہ کفر نہ رہا۔ خیر کچھ بھی ہو قانون شریعت کے مطابق مرزا قادیانی اقبالی مجرم ہیں کہ جرم کیا اور اقبال بھی کر لیا۔ خود مدعی نبوت کو کافر کہنا اور دعویٰ نبوت کر کے پہلے حکم کے مطابق اپنے ہاتھ سے اپنے کفر پر دستخط کر دیئے ۔

مرزائی طبقہ خواہ لاہوری ہو یا قادیانی

ان کے لئے تو یہ متضاد عبارتیں بڑی مشکل پیش کر دیتی ہیں اور بعض اوقات جب نہایت ذلیل ورسوا ہوتے ہیں تو ذلت ورسوائی کو دور کرنے کے لئے نبوت کی قسمیں شروع کر دیتے ہیں کہ مرزا قادیانی نے اس نبوت کا دعویٰ کیا ہے۔ اس نبوت کا دعویٰ نہیں کیا۔ اس قسم کا دعویٰ کفر ہے۔ اس قسم کا کفر نہیں۔

کبھی تو کہتے ہیں نبوت تشریعی کا دعویٰ کفر ہے اور غیر تشریعی کا دعویٰ کرنا کفر نہیں۔ کبھی کہتے ہیں کہ مرزا قادیانی بروزی ظلی نبی تھے، نہ اصلی ۔ مجازی تھے، نہ حقیقی ۔ لغوی تھے، نہ اصطلاحی ۔ کسبی تھے، نہ وہبی ۔ ناقص تھے، نہ کامل ، جزئی تھے، نہ کلی ۔ فنا فی تھے، نہ بقا فی ۔ غرضیکہ ہزاروں حیلے بہانے کرتے ہیں مگر سب بے کار۔ اس لئے کہ نبوت کی تشریعی قسم کے سوا، اور کوئی قسم نہیں۔ یہ سب الفاظ ہیں جن کے نیچے کوئی معنی نہیں۔ صرف مسلمانوں کو دھوکہ دینے کے لئے یہ اصطلاحیں وضع کی گئی ہیں۔ کیا کوئی قرآن کی آیت یا کوئی حدیث ایسی ہے جس میں نبوت کی اس قدر قسمیں

٣١

صفحہ ٢٧٩

بتائی گئی ہوں؟ ہرگز نہیں۔

بالفرض اگر قسمیں بھی ہوں تو قرآن کریم کا عام طور پر فرمانا کہ سرکار دو عالم ﷺ تمام نبیوں کے آخر ہیں۔ احادیث کے کھلے لفظوں میں فرمانا کہ حضور ﷺ کی ذات کریمہ پر نبوت ختم ہوگئی۔ نبوت منقطع ہوگئی (دیکھو گزری ہوئی حدیثیں) اس امر پر دلالت کرتی ہیں کہ ہر قسم کی نبوت بند ہوگئی۔ نہ ظلی، نہ مجازی، ہندی، نہ حجازی۔ ختم نبوت میں کسی قسم کی نبوت کا استثناء ہی نہیں۔ لطف یہ کہ مرزا قادیانی خود ایک جگہ یہی لکھ چکے ہیں۔ چنانچہ موجودہ خلیفہ قادیان نے بھی حقیقت النبوۃ میں اس کا اقرار کیا ہے۔

(حمامة البشریٰ ص ٢٠، خزائن ج ٧ ص ٢٠٠، مسئلہ ختم النبوۃ)

یہ بات اللہ عزوجل کے اس قول کے مخالف ہے جو آیت ذیل میں ہے: "ما کان محمد ابا احد من رجالکم (الایة)" محمد ﷺ تم میں سے کسی ایک شخص کے باپ تو نہیں مگر اللہ کے رسول اور خاتم النبیین ہیں۔ کیا نہیں جانتے کہ خدا رحیم وکریم نے ہمارے نبی ﷺ کو بغیر کسی استثناء کے خاتم الانبیاء قرار دیا ہے اور ہمارے نبی ﷺ نے بطور تفسیر آیہ مذکور فرمایا ہے کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں اور طالبین حق کے لئے یہ بات واضح ہے۔

اور اللہ تعالیٰ کے اس قول ولکن رسول اللہ وخاتم النبیین میں بھی ارشاد ہے:

پس اگر ہمارے رسول ﷺ اور اللہ کی کتاب قرآن کریم کو تمام آنے والے زمانوں اور ان زمانوں کے لوگوں کے علاج اور دوا کی رو سے مناسبت نہ ہوتی تو اس عظیم الشان نبی کریم کو ان کے علاج کے واسطے قیامت تک ہمیشہ کے لئے ہرگز نہ بھیجتا اور ہمیں محمد ﷺ کے بعد کسی نبی کی حاجت نہیں۔ کیونکہ آپ کی برکات ہر زمانہ پر محیط۔

(حمامة البشریٰ ص ٤٩، خزائن ج ٧ ص ٢٣٣)

مرزا قادیانی ان عبارتوں میں تصریح کر رہے ہیں کہ حضور کے بعد ہر قسم کی نبوت ظلی، مجازی وغیرہ سب بند ہیں اور بلا استثناء حضور خاتم النبیین ہیں۔

پس لاہوری پارٹی کا یہ کہنا کہ مرزا قادیانی ظلی وغیرہ نبی ہیں، بالکل غلط۔ قادیانیوں کا کہنا کہ مرزا قادیانی نبوت غیر تشریعی کے مدعی ہیں، نہ تشریعی کے محض بے کار۔ "علاوہ اس کے مرزا قادیانی نے نبوت تشریعی کا دعویٰ کیا۔"

(دیکھو اربعین نمبر ٤ ص ٦ ، خزائن ج ١٧ ص ٤٣٥)

اور اگر کہو کہ صاحب شریعت افترا کر کے ہلاک ہوتا ہے، نہ ہر ایک مفتری تو اول تو یہ دعویٰ بے دلیل ہے۔ خدا نے افتراء کے ساتھ شریعت کی کوئی قید نہیں لگائی ماسواء اس کے یہ بھی تو سمجھو کہ شریعت کیا چیز ہے؟ جس نے اپنی وحی کے ذریعہ چند امر اور نہی بیان کئے اور اپنی امت

٣٢

کے لئے ایک قانون مقرر کیا، وہی صاحب الشریعہ ہمارے مخالف ملزم ہے۔ کیونکہ میری وحی میں امر بھی للمؤمنین یغضوا من ابصارهم ویحفظ احمدیہ میں درج ہے اور اس میں امر بھی ہے اور نہی بھی اور ایسا ہی میری وحی میں امر بھی ہوتے ہیں اور نہی بھی جس میں نئے احکام ہوں تو یہ باطل ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے صحف ابراهیم و موسی۔ (

خلاصہ اس عبارت کا صرف یہ ہے کہ مرزا جس میں امر و نہی ہو میری وحی میں امر و نہی ہے۔ لہذا

اب آپ دیکھیں کہ مرزا قادیانی نے کی حضور ﷺ کے بعد دونوں قسم کی نبوتیں مسدود ہیں جب حضرت شیخ اکبر محی الدین ابن عربی فرما فمنقطعة وفي نبينا ﷺ قد انقطعت فلا اس قول کی شرح میں دو بزرگوں کے قول

(عارف جامی شرح فصوص الحکم ٢٨٠،٢٧٩)

بالاحکام الشرعية من غير متابعة لـ عليهم الصلوة والسلام او مشرعاً ای مـ بنی اسرائیل"

(علامہ محمود قیصری شرح فصوص الحکم ص ٤٣٢)

كموسى وعيسى ومحمد عليهم الصلوة شريعة من تشريع كانبياء بنی اسرائیل"

تینوں عبارتوں کا خلاصہ یہ ہے کہ حضور تشریعی ، نہ کوئی نبی مستقل ہوگا کہ شریعت لے آئے

(فتوحات مکیہ شریف ص ٧٦ ج ٢) "اسـ

حضور ﷺ کے بعد نبی کا لفظ ہی کسی پر اطلاق کرنا حـ حضرت شیخ اکبر فرماتے ہیں: "فما

٣٣

صفحہ ٢٧٩

کے لئے ایک قانون مقرر کیا، وہی صاحب الشریعت ہو گیا۔ پس اس تعریف کی رو سے بھی ہمارے مخالف ملزم ہے۔ کیونکہ میری وحی میں امر بھی ہیں اور نہی بھی مثلاً یہ الہام :’’قـــــل للمومنين يغضوا من ابصارهم ويحفظوا فروجهم ذالك ازكى لهم ‘‘یہ براہین احمدیہ میں درج ہے اور اس میں امر بھی ہے اور نہی بھی اور اس پر تئیس ٢٣ برس کی مدت بھی گزر گئی اور ایسا ہی میری وحی میں امر بھی ہوتے ہیں اور نہی بھی اور اگر کہو کہ شریعت سے وہ شریعت مراد ہے جس میں نئے احکام ہوں تو یہ باطل ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ان هذا لفى الصحف الاولى صحف ابراهيم وموسىٰ۔

(اربعین نمبر ٤ ص ٧، ٦، خزائن ج ١٧ ص ٤٣٦، ٤٣٥)

خلاصہ اس عبارت کا صرف یہ ہے کہ مرزا قادیانی کہتے ہیں کہ شریعت اس کو کہتے ہیں جس میں امر و نہی ہو میری وحی میں امر و نہی ہے۔ لہٰذا میں صاحب شریعت ہوں۔

اب آپ دیکھیں کہ مرزا قادیانی نے کس طرح نبوت تشریعی کا دعویٰ کیا۔ اسلام میں حضور ﷺ کے بعد دونوں قسم کی نبوتیں مسدود ہیں جیسا کہ ہم بیان کر چکے:

حضرت شیخ اکبر محی الدین ابن عربی فرماتے ہیں: ’’وأما نبوة التشريع والرسالة فمنقطعة وفى نبينا ﷺ قد انقطعت فلا نبى بعده مشرعاً او مشرعاً له‘‘

اس قول کی شرح میں دو بزرگوں کے قول نقل کرتا ہوں۔

(عارف جامی شرح فصوص الحکم ٢٧٩، ٢٨٠) ’’فلا نبى بعده مشرعاً اى آتيا بالاحكام الشرعية من غير متابعة لنبى آخر قبله كموسى وعيسى ومحمد عليهم الصلوة والسلام او مشرعاً اى متبعا لما شرعه النبى المتقدم كانبياء بنى اسرائيل“

(علامہ محمود قیصری شرح فصوص الحکم ص ٤٣٣، ٤٣٤) ’’مشرعاً على صيغة اسم الفاعل كموسى وعيسى ومحمد عليهم الصلوة والسلام او نبيا مشرعا اى داخلا فى شريعة من تشرع كانبياء بنى اسرائيل“

تینوں عبارتوں کا خلاصہ یہ ہے کہ حضور ﷺ کے بعد نہ نبوت تشریعی جاری، نہ نبوت غیر تشریعی، نہ کوئی نبی مستقل ہوگا کہ شریعت لے آئے، نہ نبی جدید بغیر شریعت۔

(فتوحات مکیہ شریف ص ٦ ج ٢) ’’اسم النبى زال بعد رسول الله ﷺ‘‘ حضور ﷺ کے بعد نبی کا لفظ ہی کسی پر اطلاق کرنا جائز نہیں۔

حضرت شیخ اکبر فرماتے ہیں: ’’فما بقى للاولياء بعد ارتفاع النبوة الا

٣٣

صفحہ ٢٨١

التعريفات وانسدت ابواب الاوامر الالهيه والنواهى فمن ادعاها بعد محمد ﷺ فهو مدع شريعة اوحى بها اليه سواه وافق بها شرعنا او خالف

(فتوحات مکیہ ص ٥١، ج ٣)

نبوت مرتفع ہو چکی، امر و نہی کا دروازہ بند ہو گیا جو حضور ﷺ کے بعد یہ دعویٰ کرے کہ میری وحی میں امر بھی ہے، نہی بھی ہے، وہ مدعی شریعت ہے، خواہ وہ وحی ہماری شریعت کے مخالف ہو یا موافق۔ مرزا قادیانی کی عبارت اربعین پڑھنے کے بعد یہ عبارت پڑھیں اور غور کریں کہ مرزا قادیانی نے کس قدر شریعت کے خلاف کیا ہے۔

حضرت امام شعرانی اس عبارت کے ساتھ اس قدر اور اضافہ فرماتے ہیں: ”فان کان مکلفا ضربنا عنقه والاضربنا عنه صفحا

(الیواقیت ص ٣٤ ج٣)“

صاحب شریعت ہونے کا مدعی (جیسے مرزا قادیانی ہیں) اپنی وحی میں امر و نہی بتانے والا (جیسے مرزا قادیانی نے کہا) اگر عاقل ہے تو ارتداداً اس کی گردن اڑا دیں گے اور اگر کوئی پاگل مراقی سودائی ایسی باتیں کرے گا تو مجنون سمجھ کر چھوڑ دیں گے۔

پس مرزا قادیانی کا نبوت تشریعی یا غیر تشریعی کا مدعی ہونا دونوں خلاف اسلام اور مرزا قادیانی ہی کے فتویٰ کے مطابق کفر۔

بعض لوگ اس قسم کی عبارتیں پیش کریں گے کہ مرزا قادیانی نبوت تشریعی کے مدعی نہیں۔ چنانچہ وہ خود لکھتے ہیں: ”میں مستقل طور پر کوئی شریعت لانے والا نہیں ہوں اور نہ میں مستقل طور پر نبی ہوں۔ مگر ان معنوں میں سے کہ میں نے اپنے رسول مقتداء سے باطنی فیوض حاصل کر کے اور اپنے لئے اس کا نام پا کر اس کے واسطے سے خدا کی طرف سے علم غیب پایا ہے۔ رسول و نبی ہوں مگر بغیر کسی جدید شریعت کے۔“

(ایک غلطی کا ازالہ ص ٧، خزائن ج ١٨ ص ٢١٠، ٢١١)

اور میرا یہ قول کہ: ”من نیستم رسول ونیا آورده ام کتاب“ اس کے معنی صرف اس قدر ہیں کہ میں صاحب شریعت نہیں ہوں۔“

(ایک غلطی کا ازالہ ص ٧، خزائن ج ١٨ ص ٢١١)

اس قسم کی اور بھی عبارتیں ہیں جن سے انکار نبوت تشریعی ہوتا ہے مگر یہ عبارتیں پیش کرنا بالکل بے کار ہیں اور مرزا قادیانی کے دھرم کو اور بھی کھوتی ہیں۔ صاحب عقل ان متضاد عبارتوں کو دیکھے گا اور تطابق کی کوئی صورت نہ پائے گا تو یقیناً اس کے متعلق وہی فتویٰ دے گا جو مرزا قادیانی نے دیا ہے۔

”ظاہر ہے کہ ایک دل سے دو تناقض باتیں نکل نہیں سکتیں کیونکہ ایسے طریق سے یا ٣٤

انسان پاگل کہلاتا ہے یا منافق۔“ ”اس شخص کی حالت ایک مخبوط الحواس انسان کلام میں رکھتا ہے۔“ ”جھوٹے کے کلام میں تناقض ضرور ہوتا ہے

(ضمیمہ

مرزائی حضرات کو یہ بھی نہیں معلوم کہ مسلمان کہ ایک شخص عمر بھر مومن رہے تمام ایمانیات کی تصدیق نکل گیا۔ اگر کوئی شخص تیس پینتیس برس اظہار ایمان کر اسلام نہ کی۔ پھر تیس پینتیس برس اظہار ایمان کرتا رہا فائدہ نہ پہنچے گا جب تک خصوصیت سے اس کلمہ کفر سے تو کہ میں نے اپنی بیوی کو طلاق نہیں دی ہے ایک وقت ہوگئیں۔ پھر کہتا رہا کہ میں نے طلاق نہیں دی ہے تو ک گی؟ ہرگز نہیں۔ بلکہ ایسا شخص کاذب شمار کیا جائے گا۔

اسی طرح مرزا قادیانی نے ہزار مرتبہ انکار ک یہ کہہ دیا کہ میں نبی ہوں، صاحب شریعت ہوں۔ تو اب نے کوئی فائدہ نہ پہنچایا۔ ہاں مرزا قادیانی اگر یہ کہہ دے ہونے کا دعویٰ کیا ہے۔ اس سے میں توبہ کرتا ہوں تو ا ليس فليس اور اگر یہ کہا جائے کہ مرزا قادیانی ۔ آفتاب پر خاک ڈالنا ہے۔ کیونکہ مولوی محمد علی لاہو قادیانی نے دعویٰ وحی شریعت کیا ہے۔

یہ تو تشریعی غیر تشریعی کے متعلق گفتگو تھی۔ ا بھی عرض کرتا ہوں کہ ظل و بروز اصل سے ناقص، جزو ک تو کامل سے ناقص ہی ہے۔

تو خلاصہ ان سب کا یہ ہوا کہ جزوی نبی ہ کسبی نبی ہوں۔ یعنی میری نبوت کاملہ تامہ نہیں بلکہ ناق ٣٥

صفحہ ٢٨١

انسان پاگل کہلاتا ہے یا منافق۔"

(ست بچن ص ٣١، خزائن ج ١٠ ص ١٤٣)

”اس شخص کی حالت ایک مخبوط الحواس انسان کی حالت ہے کہ ایک کھلا کھلا تناقض اپنے کلام میں رکھتا ہے۔“

(حقیقت الوحی ص ١٨٤، خزائن ج ٢٢ ص ١٩١)

”جھوٹے کے کلام میں تناقض ضرور ہوتا ہے۔“

(ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ ٥ ص ١١١، خزائن ج ٢١ ص ٢٧٥)

مرزائی حضرات کو یہ بھی نہیں معلوم کہ مسلمان کیونکر کافر ہو جاتا ہے۔ یہی صورت تو ہے کہ ایک شخص عمر بھر مومن رہے تمام ایمانیات کی تصدیق کرے مگر کسی وقت ایک کلمہ کفر کا زبان سے نکل گیا۔ اگر کوئی شخص تیس پینتیس برس اظہار ایمان کرے پھر ایک کفر کیا مگر اس سے توبہ تجدید اسلام نہ کی۔ پھر تیس پینتیس برس اظہار ایمان کرتا رہا تو اس کو اس اظہار ایمان و اقرار سے کوئی فائدہ نہ پہنچے گا جب تک خصوصیت سے اس کلمہ کفر سے توبہ نہ کرے۔ ایک شخص ہے کہ مدتوں کہتا رہا کہ میں نے اپنی بیوی کو طلاق نہیں دی ہے ایک وقت میں تین طلاقیں اس نے دیدیں اور ثابت ہوگئیں۔ پھر کہتا رہا کہ میں نے طلاق نہیں دی ہے تو کیا اس انکار طلاق سے طلاق مرتفع ہو جائے گی؟ ہرگز نہیں۔ بلکہ ایسا شخص کاذب شمار کیا جائے گا۔

اسی طرح مرزا قادیانی نے ہزار مرتبہ انکار کیا کہ مدعی شریعت و نبوت نہیں مگر ایک دفعہ یہ کہہ دیا کہ میں نبی ہوں، صاحب شریعت ہوں۔ تو اپنے ہی قول سے ان پر کفر عائد ہو گیا۔ انکار نے کوئی فائدہ نہ پہنچایا۔ ہاں مرزا قادیانی اگر یہ کہہ دیتے کہ اربعین میں میں نے صاحب شریعت ہونے کا دعویٰ کیا ہے۔ اس سے میں توبہ کرتا ہوں تو البتہ ان کے سر سے الزام ہٹ جاتا۔ واذا لیس فلیس اور اگر یہ کہا جائے کہ مرزا قادیانی نے اربعین میں دعویٰ شریعت نہیں کیا ہے تو یہ آفتاب پر خاک ڈالنا ہے۔ کیونکہ مولوی محمد علی لاہوری خود اس بات کو تسلیم کرتے ہیں کہ مرزا قادیانی نے دعویٰ وحی شریعت کیا ہے۔

(النبوۃ فی الاسلام ص ٣١٤)

یہ تو تشریعی غیر تشریعی کے متعلق گفتگو تھی۔ رہ گیا ظل و بروز نبوت وغیرہ اور اس کے متعلق بھی عرض کرتا ہوں کہ ظل و بروز اصل سے ناقص، جزو کل سے ناقص، کسبی وہبی سے ناقص، ناقص تو کامل سے ناقص ہی ہے۔

تو خلاصہ ان سب کا یہ ہوا کہ جزوی نبی ہوں، بروزی ظلی نبی ہوں، ناقص نبی ہوں، کسبی نبی ہوں۔ یعنی میری نبوت کاملہ تامہ نہیں بلکہ ناقصہ ہے۔

٣٥

صفحہ ٨٣

قادیان کا ناقص نبی

”اور محدث بھی ایک معنی سے نبی ہوتا ہے۔ گو اس کی نبوت تامہ نہیں۔“

(توضیح مرام ص ١٨، خزائن ج ٣ ص ٦٠)

وہ واقعی اور حقیقی طور پر نبوت تامہ کی صفت سے متصف نہیں ہوگا۔ ہاں نبوت ناقصہ اس میں پائی جائے گی۔

(ازالۃ اوہام ص ٥٣٢، خزائن ج ٣ ص ٢٨٦)

اب دیکھنا یہ ہے کہ ناقص نبوت بھی کوئی چیز ہے۔ نبی بھی ناقص ہوا کرتا ہے۔ فقیر کہتا ہے کہ نبوت کو ناقص کہنا نبوت کی ہتک کرنا ہے۔ خدا کی طرف سے جس کو نبوت ملتی ہے وہ ایک ہی ہے۔ کامل، حقیقی، اصلی، تام، غیر کسبی، تمام انبیاء و رسل نفس نبوت و رسالت میں برابر ہیں۔ نبوت کوئی کلی مشکک نہیں کہ کسی میں زیادہ اور کسی میں کم پائی جائے۔ ”لا نفرق بین احد من رسلہ“

(روح البیان ص ٤٩٤ ج٢)

”واعلم ان الانبياء كلهم متساوون في النبوة لان النبوة شئى واحد لا تفاضل فيها“ یقین رکھو کہ تمام انبیاء نفس نبوت میں برابر ہیں کسی میں بحیثیت نبوت کمی زیادتی نہیں۔

(رسالہ ابطال قاسمیہ ص ٢٠)

”الوجه الاول ان الانبياء كلهم مستاوون في نفس النبوة عند السلف والخلف لان النبوة فى الشرع هي الوحى من عند الله تعالى حقيقت بالاحكام الشرعية فاذا كان الامر كذالك كان الانبياء كلهم متساوون فى نفس النبوة “ یقین رکھو کہ تمام انبیاء نفس نبوت میں برابر ہیں۔ کسی میں بحیثیت نبوت کمی زیادتی نہیں۔ نبوت شریعت میں صرف اسی کا نام ہے کہ خدا کی جانب سے احکام شرعیہ کی وحی آنا۔ اسی وجہ سے تمام انبیاء نفس نبوت میں برابر ہیں۔

(شفائے قاضی عیاض و شرح للقاری ج ١ ص ٢٨١)

”والوجه الرابع منه التضيل في حق النبوة والرسالة اى باعتبار اصلهما وحقيقة ما هيتهما فان الانبياء فيها على حد واحد اذ هى اى مادة النبوة والرسالة شئى واحد لا تفاضل فيها فلا يقال نبوة آدم افضل من نبوة غيره“ حق نبوت و رسالت میں کوئی کمی زیادتی نہیں یعنی اصل اور مادہ کے اعتبار سے تمام انبیاء نفس نبوت میں ایک حد پر ہیں۔ اس میں کمی زیادتی نہیں۔ نہیں کہہ سکتے کہ نبوت آدم علیہ السلام غیر کی نبوت سے کامل ہے۔

٣٦

(رسالہ ابطال قاسمیہ ص ٢٠) ”قال الزر الشيخ السنوسي في شرح عقائده ويا الاقل من النبوة والفلان النصيب ا تقتضى ان النبوة مقولة بالتشكيك“ علامہ زرقانی فرماتے ہیں: نفس نبوت ہیں کہ ممنوع ہے یہ کہ کہا جائے کہ فلاں کی نبوت جیسے مجازی، کسبی، ظلی، بروزی، لغوی وغیرہ سے، جو کمی زیادتی کا شبہ ہو۔

علامہ سنوسی کے ان اخیر جملوں نے تو ہوتا ہے کہ علامہ سنوسی لکھتے وقت ان تمام مرزا فسبحن القادر الحکیم۔

قوانین شرع کی تصریحات نے بتا د ایک ہے۔ نبوت تامہ کاملہ حقیقیہ وہبیہ اصلیہ تو ظل کو ہاتھ بھی نہیں لگا سکتے۔ لہٰذا یہ سب قسمیں بالکل

اب ناقص نبی ہونے کے صرف یہ مع نبی بنائے اور ناقص وہ جو خود بخود نبی بن جائے تو بلکہ قادیان کی بستی میں الٹ پھیر کرتے ہوئے اسلام کو ضرورت نہیں۔

ظل و بروز کی بحث تفصیلاً حلول و تناس اکتساب میں آئے گی۔ جزئی، لغوی، مجازی، فنا فی

جزو کل

”کیونکہ وہ بباعث اتباع اور فنا فی ال ہی داخل ہے۔ جیسے جزو کل میں داخل ہوتی ہے۔ ”گو اس کے لئے نبوت تامہ نہیں ۔ بیان کر چکا ہوں وہ صرف ایک جزئی نبوت ہے۔ مولوی محمد علی ایم اے لاہوری ان ج

صفحہ ٢٨٣

(رسالہ ابطال تاسیس ص٢٠) ”قال الزرقانی واما النبوة لا تفاضل فيها قال الشیخ السنوسی فی شرح عقائدہ ویدل علیہ منع ان یقال لفلان النصیب الاقل من النبوة والفلان النصیب الاوفر منھا ونحوہ من العبارات التی تقتضی ان النبوة مقولة بالتشکیک“ علامہ زرقانی فرماتے ہیں: نفس نبوت میں کوئی کمی زیادتی نہیں۔ علامہ سنوسی فرماتے ہیں کہ ممنوع ہے یہ کہ کہا جائے کہ فلاں کی نبوت تام ہے اور فلاں کی ناقص اور اسی قسم کے الفاظ جیسے مجازی، کسبی، ظلی، بروزی، لغوی وغیرہ سے، جن سے معلوم ہو کہ نبوت کلی مشکک ہے جس میں کمی زیادتی کا شبہ ہو۔

علامہ سنوسی کے ان اخیر جملوں نے تو مرزائی تقسیم کو بالکل ملیا میٹ کر دیا اور ایسا معلوم ہوتا ہے کہ علامہ سنوسی لکھتے وقت ان تمام مرزائی لٹریچر کو دیکھ رہے تھے اور رد فرما رہے تھے۔ فسبحن القادر الحکیم۔

قوانین شرع کی تصریحات نے بتا دیا کہ نبوت ناقصہ کوئی چیز نہیں بلکہ نبوت صرف ایک ہے۔ نبوت تامہ کاملہ حقیقیہ وہبیہ اصلیہ تو ظل و بروز مجاز وغیرہ اپنے نقصان کی وجہ سے نبوت کو ہاتھ بھی نہیں لگا سکتے۔ لہٰذا یہ سب قسمیں بالکل بے کار ومحض فضول۔

اب ناقص نبی ہونے کے صرف یہ معنی ہو سکتے ہیں کہ کامل تام نبی تو وہ ہے جس کو خدا نبی بنائے اور ناقص وہ جو خود بخود نبی بن جائے تو مرزا قادیانی ناقص نبی ہیں۔ یعنی خدا نے نہیں بنایا بلکہ قادیان کی بستی میں الٹ پھیر کرتے ہوئے خود نبی بن گئے تو ایسی نبوت ناقصہ خانہ ساز کی اسلام کو ضرورت نہیں۔

ظل و بروز کی بحث تفصیلاً حلول و تناسخ میں ذکر کی جائے گی۔ کسبی وہبی کی بحث بیان اکتساب میں آئے گی۔ جزئی، لغوی، مجازی، فنافی نبوت کو غور سے سنیے۔

جزو کل

”کیونکہ وہ باعث اتباع اور فنافی الرسول ہونے کے جناب ختم المرسلین کے وجود میں ہی داخل ہے۔ جیسے جزو کل میں داخل ہوتی ہے۔“

(ازالۃ اوہام ص٥٧٥، خزائن ج٣ ص٤١٠)

”گو اس کے لئے نبوت تامہ نہیں۔ مگر تاہم جزئی طور پر وہ ایک نبی ہوتا ہے۔ میں ابھی بیان کر چکا ہوں وہ صرف ایک جزئی نبوت ہے۔“

(توضیح مرام ص١٨، خزائن ج٣ ص٦٠)

مولوی محمد علی ایم اے لاہوری ان جملوں کی یوں تفسیر کرتے ہیں۔ گویا فنا فی الرسول کا

٣٧

صفحہ ٢٨٥

مقام درحقیقت یہی ہے کہ تبع ایک جز ہوتا ہے اور متبوع کل اور وہ جز اس کل میں داخل۔ جز، کل میں داخل ہوسکتا ہے۔ مگر کل کل میں داخل نہیں ہوسکتا۔ اس لئے جو نبوت بذریعہ اتباع اور فنا فی الرسل حاصل ہوگی وہ بھی ایک جزئی نبوت ہوگی۔

خدا جانے ایم۔اے صاحب نے کونسی کلاس میں یہ فلسفہ پڑھا ہے کہ نبوت بھی جزو کل ہوتی ہے۔ کیا ساری منطق کے کلیات وجزئیات نبوت ہی کے لئے حاصل کئے تھے۔ افسوس

بری عقل و دانش بباید گریست

خلاصہ یہ کہ حضورﷺ کی نبوت کل ہے اور مرزا کی نبوت جز، اور یہ جز کل میں داخل ہے۔ ہر شخص جانتا ہے کہ کل نام ہے مجموع اجزاء کا۔ تو جب تک تمام اجزاء نہ پائے جائیں گے کل کا وجود متصور نہیں ہو سکتا۔ تو حضورﷺ کی نبوت کل ہو کر نہ پائی جائے گی۔ جب تک اس کے تمام اجزاء نہ پائے جائیں اور ایک جز نبوت کا تیرہ سو برس کے بعد قادیان میں پیدا ہو تو تیرہ سو برس تک حضورﷺ کی نبوت ناقص رہی۔ جب مرزا قادیانی پیدا ہوا تو حضور کی نبوت مکمل ہوئی۔

لا حول ولا قوة الا بالله!

علاوہ بریں ہم بتا چکے ہیں کہ نبوت کلی متواطی ہے جس میں زیادتی و کمی کا احتمال نہیں۔

لغوی نبی

”یہ بھی یاد رہے کہ نبی کے معنی لغت کی رو سے یہ ہیں کہ خدا کی طرف سے اطلاع پا کر غیب کی خبر دینے والا۔ پس جہاں یہ معنی صادق ہوں گے نبی کا لفظ بھی صادق ہوگا۔“

(ایک غلطی کا ازالہ ص٢، خزائن ج١٨ ص٢٠٨)

”سو میں اس وجہ سے نبی کہلاتا ہوں کہ عربی اور عبرانی زبان میں نبی کے معنی ہیں کہ خدا سے الہام پا کر بکثرت پیشین گوئی کرنے والا ۔“

(مکتوب بنام اخبار عام لاہور ٢٣ مئی ١٩٠٨ء)

مولوی محمد علی ایم۔اے لکھتے ہیں: ”حضرت مسیح موعود نے درحقیقت اس امر کے اظہار کے لئے کہ نبی سے وہ مراد نہیں جو قرآن وحدیث نے بیان کیا ہے۔ بلکہ صرف لفظ کے اشتقاق کی رو سے اس کا استعمال دوسری جگہ پر بھی ہو سکتا ہے، اس لفظ کے لغوی معنی پر بار بار زور دیا ہے۔“

(النبوۃ ص٢٧٩)

خلاصہ یہ ہوا کہ مرزا قادیانی اور ان کے مرید کے نزدیک نبی کے معنی لغت میں ہیں: خدا سے وحی والہام پا کر پیشین گوئی کرنے والا، غیب کی خبر دینے والا اور چونکہ میں ایسا کرتا ہوں، لہذا میں لغوی نبی ہوں۔ بالکل غلط سرتاپا جہالت کتب لغت وادب سے بالکلی بے خبری۔ مسلمانوں

٣٨

کو دھوکہ میں ڈالنا۔

لغت کے اعتبار سے لفظ نبی کی تحقیق

نبی اسم فاعل کا صیغہ ہے فعیل کے وزن پر۔ نبا ینبو کے معنی رفعت وشرف تو نبی کے معنی رفیع وشریف صراح باب الواؤ فصل النون میں ہے: ”نبو غیر مہموز وهو فعيل بمعنى مفعول اى انه نبو کے معنی آگاہی وخبر۔ اسی سے مشتق نبا پھر صراح باب الہمزہ فصل النون میں ہے: ”نبأ“ وانباه بمعنى اى اخبر ومنه اخذ النبى بترك ثابت ہوا کہ لغت میں نبی دوسرے اشتقاق اعتبار سے اگر کوئی کسی کے آنے کی خبر دے نبی کہلائے نہ قرآن پڑھا، نہ حدیث ایسے ہی ایم۔اے صاحب بنے ان جاءکم فاسق بنبأ فتبينوا لفظ نبا کے معنی مطلق خبر دینے والے کے معنی مطلق خبر کے ہیں۔

غرضیکہ لغت میں نبا، نبی کے معنی صرف خدا سے الہام وحی پا کر خبر دینا یا دینے والا کی کوئی قید نہیں۔

لغت کے اعتبار سے یہ معنی دکھا دیں تو ایک سوروپیہ انعام

نبی کے اصطلاحی معنی

لغت میں تو نبی کے معنی صرف خبر دینے والا استعمال ہو گا تو کیا معنی ہوں گے؟

”والنبى من او

(شرح فقہ اکبر ص٧٣)

حى الیہ“ نبی اصطلاح شریعت میں اسے کہتے ہیں جو خدا کی طرف سے بھیجا گیا ہو خواہ اس پر کتاب نازل ہوئی یا نہ ہو۔

”النبى م

(مسایرہ علامہ ابن ہمام ص١٩٨)

بعوث الیہ“ نبی وہ انسان ہے جو وحی کی تبلیغ کے لئے مبعوث ہو

”وننقل افع

(معتقد المنتقد شریف ص٨٩)

٣٩

صفحہ ٢٨٥

کو دھوکہ میں ڈالنا۔

لغت کے اعتبار سے لفظ نبی کی تحقیق

نبی اسم فاعل کا صیغہ ہے فعیل کے وزن پر اس کا مصدر ناقص واوی نبو ہے یا مہموز اللام نبا ۔ نبو کے معنی رفعت وشرف تو نبی کے معنی رفیع وشریف۔ صراح باب الواو فصل النون میں ہے: ”نبی پیغامبر وساغ ان یکون منه غیر مهموز وهو فعیل بمعنى مفعول اى انه شرف على الخلق كله“ نبو کے معنی آگاہی وخبر۔ اس سے مشتق ہے: نبا ونبا وانبا ”اخبر“ کے معنی میں صراح باب الہمزہ فصل النون میں ہے: ”نبا آگاهی وخبر ويقال منه نبأ ونبأ وانباء بمعنى اخبر ومنه اخذ النبی بترك الهمزة“ ثابت ہوا کہ لغت میں نبی دوسرے اشتقاق کے اعتبار سے مطلق خبر دینے والا۔ لغوی اعتبار سے اگر کوئی کسی کے آنے کی خبر دے نبی کہلائے گا۔ معلوم ہوتا ہے کہ مرزا قادیانی نے نہ تو قرآن پڑھا، نہ حدیث ایسے ہی ایم۔ اے صاحب نے۔ دیکھو قرآن میں موجود ہے۔ ان جاءکم فاسق بنبأ فتبینوا لفظ نبا کے معنی مطلق خبر اسنادات حدیث میں انباء نباء موجود ہے۔ جس کے معنی مطلق خبر کے ہیں۔

غرضیکہ لغت میں نبا، نبی کے معنی صرف خبر یا خبر دینے والا۔ اس لغوی معنی میں خدا سے الہام وحی پا کر خبر دینا یا دینے والا کی کوئی قید نہیں۔ اگر تمام مرزائی اجمعوا شرکاء کم ہو کر لغت کے اعتبار سے یہ معنی دکھا دیں تو ایک سو روپیہ انعام دیا جائے گا۔

نبی کے اصطلاحی معنی

لغت میں تو نبی کے معنی صرف خبر دینے والا ہوئے۔ اصطلاح شریعت میں جب یہ لفظ استعمال ہوگا تو کیا معنی ہوں گے؟

(شرح فقہ اکبر ص٧٣) ”والنبى من اوحى اليه اعم من ان يؤمر بالتبليغ او لا“ نبی اصطلاح شریعت میں اسے کہتے ہیں جو خدا کی طرف سے وحی پا کر خبر دے، تبلیغ کا حکم ہو یا نہ ہو۔

(مسایرہ علامہ ابن ہمام ص ١٩٨) ”النبی انسان بعثه الله لتبلیغ ما اوحی الیه“ نبی وہ انسان ہے جو وحی کی تبلیغ کے لئے مبعوث ہوا۔

(معتقد المنتقد شریف ص٨٩) ”ونقل الباقلانی عن العز بن عبدالسلام بان

٣٩

صفحہ ٢٨٦

النبوة هى الايحاء وقال السنوسي فى شرح الجزائرية فمرجع النبوة عند اهل الحق الى اصطفاء الله تعالى عبدا من عباده بالوحى اليه فالنبوة اختصاص بسماع وحى من الله بواسطة الملك اودونه“

علامہ لاقانی نے امام ابن عبدالسلام سے نقل کیا ہے کہ نبوۃ اصطلاح میں وحی کا پانا ہے۔

علامہ سنوسی فرماتے ہیں ! نبوت اہل حق کے نزدیک صرف یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ وحی کے لئے اپنے بندوں سے کسی بندے کو چن لے۔ وہ وحی فرشتہ کے واسطے سے ہو یا بلاواسطہ۔

نبوت کے اصطلاحی معنی ہوئے کہ خدا کے جانب سے وحی والہام پا کر خبر دینے والا۔ دونوں معنی آپ کے پیش نظر ہیں۔ اب آپ غور فرمالیں کہ مرزا قادیانی کا یہ کہنا کہ نبی کے معنی لغت میں ہیں خدا سے وحی والہام پا کر غیب کی خبر دینے والا۔ اس لئے میں نبی ہوں۔

یہ اصطلاحی شرعی معنی ہیں یا لغوی معنی؟ پس مرزا قادیانی یقیناً شرعی اصطلاحی نبوت کے مدعی ہیں نہ لغوی کے، اور اگر مطلق خبر ہی کے معنی مرزا قادیانی کے مقصود میں ہوتا تو مرزا قادیانی اپنا نام کاہن یا نجومی یا رمال یا جوتشی رکھ لیتے ۔ مگر ایسا نہ کیا معلوم ہوا کہ حقیقی نبوت کا ادعا ہے جو کفر ہے۔ پس لغوی لغوی کہہ کر شور مچانا مسلمانوں کو دھوکہ دینے کے لئے ہے۔

مجازی نبی

”چنانچہ اس کے مطابق آنے والا مسیح محدث ہونے کی وجہ سے مجازاً نبی بھی ہے۔“

(ازالۃ الاوہام ص٤٣٩، خزائن ج٣ ص٢٨٧)

”اور میرا نام اللہ کی طرف سے نبی رکھا گیا۔ مجاز کے طریق پر نه على وجه الحقيقة “

(الاستفتاء ص٦٥، خزائن ج٢٢ ص٦٨٩)

(حاشیہ نزول المسیح ص٥، خزائن ج١٨ ص٣٨٣) اور مستعار طور پر رسول اور نبی کہا گیا۔“ لفظ کا معنی موضوع لہ میں استعمال حقیقت کہلاتا اور غیر موضوع لہ بشرط عدم شہرت مجاز کہلاتا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ لفظ نبی کے معنی حقیقی جو شریعت کی رو سے ہیں وہ کیا ہیں؟

ہم پہلے بتا چکے ہیں کہ نبی کے حقیقی شرعی معنی یہ ہیں کہ خدا سے وحی والہام پا کر پیشین گوئی کرنے والا۔

(دیکھو عبارت معتقد المنتقد وغیرہ)

مرزا قادیانی بھی یہی کہتے ہیں کہ میرے نبی ہونے کے یہ معنی ہیں کہ خدا سے وحی والہام پا کر پیشین گوئی کرنے والا۔ تو مرزا قادیانی حقیقی معنی کے اعتبار سے مدعی ہوئے۔ نہ مجازی اعتبار سے۔ لہٰذا مرزا قادیانی کا اپنے آپ کو دعویٰ حقیقت کرتے ہوئے مجازی کہنا صریح کذب

٤٠

٨٧

ہے اور مسلمانوں کو دھوکہ دینا ہے۔

پھر اگر مجازی قسم کی نبوت ہوئی تو قرآ اگر ہوتی بھی تو قرآن وحدیث کا عموم اس دروازہ ک

علاوہ بریں مرزا قادیانی نے جو نبوت ہے:

غرضیکہ جس قدر آیتیں انبیاء رسل کے چسپاں کیں۔ اب یہ دیکھنا ہے کہ ان آیتوں میں خ تو معاذ اللہ سب انبیاء مجازی ہوئے اور اگر حقیقی مر سکتے ہیں جب کہ کوئی قرینہ مجاز کا نہیں۔

امتی نبی

مرزا قادیانی نے نبی بننے کے لئے ایک ہے اور جو نبی تھے وہ امتی نہ تھے۔ لہٰذا حضور ﷺ امتی ہوسکتا ہے۔ عبارتیں ملاحظہ ہوں: ”اب بجز م والا نبی کوئی نہیں آسکتا اور بغیر شریعت کے نبی ہو سکا امتی بھی ہوں اور نبی بھی۔“

”آنحضرت ﷺ کی پیروی کی برکت جو امتی بھی ہے اور نبی بھی۔“

”ہاں میں صرف نبی نہیں بلکہ ایک پہلو

”میں بھی نبی ہوں اور امتی بھی۔“

(مکتوب بنام اخبار عام

صفحہ ٢٨٧

ہے اور مسلمانوں کو دھوکہ دینا ہے۔ پھر اگر مجازی قسم کی نبوت ہوئی تو قرآن وحدیث میں ضرور ذکر ہوتا حالانکہ نہیں، اور اگر ہوتی بھی تو قرآن وحدیث کا عموم اس دروازہ کو بھی بند کر رہا ہے۔ نہ کوئی حقیقی ہوگا نہ مجازی۔ علاوہ بریں مرزا قادیانی نے جو نبوت کا دعویٰ کیا وہ اپنی وحی کی بناء پر اور جو وحی آئی وہ ہے:

(براہین احمدیہ ص ٥١٦، خزائن ج ١ ص ٦١٦)

(براہین احمدیہ ص ٢٣٩، خزائن ج ١ ص ٢٦٥)

(دافع البلاء ص ٦، خزائن ج ١٨ ص ٢٢٧)

غرضیکہ جس قدر آیتیں انبیاء ورسل کے لئے ہیں وہ سب اپنے اوپر مرزا قادیانی نے چسپاں کیں۔ اب یہ دیکھنا ہے کہ ان آیتوں میں حقیقی نبوت مراد ہے یا مجازی۔ اگر مجازی مراد ہے تو معاذ اللہ سب انبیاء مجازی ہوئے اور اگر حقیقی مراد ہے تو مرزا قادیانی اپنے لئے کیونکر مجازی ٹھہرا سکتے ہیں جب کہ کوئی قرینہ مجاز کا نہیں۔

امتی نبی

مرزا قادیانی نے نبی بننے کے لئے ایک اور بہانہ تراشا ہے کہ میں ایسا نبی ہوں جو امتی ہے اور جو نبی تھے وہ امتی نہ تھے۔ لہٰذا حضور ﷺ کے بعد کوئی ایسا نبی نہیں ہو سکتا جو امتی نہ ہو۔ ہاں امتی ہو سکتا ہے۔ عبارتیں ملاحظہ ہوں: ”اب بجز محمدی ﷺ نبوت کی سب نبوتیں بند ہیں۔ شریعت والا نبی کوئی نہیں آسکتا اور بغیر شریعت کے نبی ہو سکتا ہے مگر وہی جو پہلے امتی ہو۔ پس اسی بناء پر میں امتی بھی ہوں اور نبی بھی۔“

(تجلیات الہیہ ص ٢٠، خزائن ج ٢٠ ص ٤١٢)

”آنحضرت ﷺ کی پیروی کی برکت سے ہزارہا اولیاء ہوئے ہیں اور ایک وہ بھی ہوا جو امتی بھی ہے اور نبی بھی۔“

(حاشیہ حقیقۃ الوحی ص ٢٨، خزائن ج ٢٢ ص ٣٠)

”ہاں میں صرف نبی نہیں بلکہ ایک پہلو سے نبی اور ایک پہلو سے امتی بھی۔“

(حقیقۃ الوحی ص ١٥٥، خزائن ج ٢٢ ص ١٥٩)

”میں بھی نبی ہوں اور امتی بھی۔“

(مکتوب بنام اخبار عام لاہور ٢٣ مئی ١٩٠٨ء، مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ٥٩٨)

٤١

صفحہ ٢٨٩

ان عبارتوں کو جس لئے میں نے نقل کیا ہے وہ تو بعد میں عرض کروں گا۔ پہلے یہ عرض کروں کہ مرزا قادیانی کے ان جملوں کو غور سے پڑھئے۔ شریعت والا نبی نہیں آسکتا۔ بغیر شریعت نبی آسکتا ہے۔ یہ آپ کو معلوم ہے کہ حضور سے پہلے بہت سے ایسے انبیاء گزرے ہیں جو بلا شریعت تھے۔ مرزا قادیانی کہتے ہیں کہ اس زمانہ میں بھی بلا شریعت نبی ہو سکتے ہیں تو پھر اگلے انبیاء میں اور اس نبی میں فرق کیا ہوا؟ پھر حضورﷺ کا فرمانا: ”لو کان بعدی نبی لکان عمر“ (ترمذی ج ٢ ص ٢٠٩) ”اگر میرے بعد نبی ہوتا تو حضرت عمر ہوتے۔ بالکل بے کار ہو جائے گا۔ اس لئے کہ اگر بلا شریعت کے نبی آسکتے تھے تو حضرت عمر کا نبی ہونا کیا برا تھا اور وہ نبی ہوئے نہیں تو معلوم ہوا کہ بلا شریعت کے بھی نبی نہیں آسکتا اور دونوں قسم کی نبوتیں تشریعی اور غیر تشریعی عموم احادیث و قرآن کے مطابق قول مرزا قادیانی کے بلا استثناء حضور خاتم النبیین ہیں۔ (حمامتہ البشریٰ ص ٢٠، خزائن ج ٧ ص ٢٠٠) بند ہوگئیں۔ لہٰذا مرزا قادیانی نہ تشریعی ہو کر آسکتے ہیں نہ غیر تشریعی۔

اب اصل مقصود کی طرف رجوع کرتا ہوں۔ مرزا قادیانی کہتے ہیں کہ میں امتی ہوں اور نبی ہوں یہ خصوصیت صرف میری ہے۔ دریافت طلب یہ ہے کہ امتی سے کیا مراد ہے؟ ہر شخص جانتا ہے کہ امتی ہر نبی کا وہ ہے جو اس نبی پر ایمان لائے تو اس اعتبار سے جس قدر انبیاء علیہم السلام اور ان کی امتیں گزر چکی ہیں۔ حضور اکرمﷺ کی امت ہیں۔ اس لئے کہ سب حضور کی نبوت و رسالت پر ایمان لائے اور آیت: ”واذا اخذ الله میثاق النبیین“ میں اللہ تعالیٰ نے تمام انبیاء سے حضور پر ایمان لانے کا عہد و پیمان لیا۔ پھر دنیا میں ایمان لانے پر تاکید فرمائی۔

(دیکھو احادیث رسالہ جلی الیقین)

(خصائص کبریٰ علامہ جلال الدین سیوطی ص ١١ ج ٢) تک پڑھ جائیے جس میں اس مضمون پر علامہ تقی الدین سبکی کے کلمات نقل فرمائے ہیں۔ جن کا خلاصہ انہی کے الفاظ میں اس طرح ہے۔ ”حضور کی نبوت ورسالت حضورﷺ کے زمانہ سے قیامت تک ہی خاص نہیں بلکہ پہلے کے لوگوں کو بھی شامل ہے۔ حضورﷺ ان کے بھی نبی ہیں۔ اسی واسطے اللہ تعالیٰ نے ان سے عہد لیا۔ پس حضور کی نبوت ان کے لئے حاصل ہے۔ اسی واسطے حضور نبی الانبیاء ہیں اور سب انبیاء حضور کی امت ہیں۔ اس واسطے سب نبی قیامت کے دن حضور کے پرچم کے نیچے ہوں گے اور اسی واسطے دنیا میں شب معراج حضور کے سب مقتدی ہوئے اور حضور امام۔“ ٤٢

بلکہ مرزا قادیانی خود کہتے ہیں: (ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم ص ١٣٧، خزائن ج ٢١ ص ٣٠٣) ”قرآن شریف سے ثابت ہے کہ ہر ایک نبی آنحضرتﷺ کا امتی ہے جیسا کہ آیت واذ اخذ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ لتؤمنن به ولتنصرنہ پس اس آیت کی رو سے تمام انبیاء آنحضرتﷺ کی امت ہوئے۔“

جب ثابت ہو گیا کہ تمام انبیاء حضورﷺ کی امت ہیں اور ان کی نبوت کا حضورﷺ کی طرف منسوب ہونے سے نبی اور حضور کی طرف نسبت ہونے سے امتی ہونا لازم آیا تو قادیانی کا یہ کہنا کہ یہ خصوصیت میری ہے کہ میں امتی اور نبی ہوں محض غلط اور جھوٹ ہے۔ درحقیقت یہ کہہ کر مسلمانوں کو دھوکہ میں ڈالنا ہے۔

فنا فی الرسول والی نبوت

”کیونکہ وہ باعث اتباع اور فنا فی الرسول کے رسول کہلانے کا مستحق ہو جاتا ہے اور امتی داخل ہے۔ جیسے جز کل میں داخل ہوتی ہے۔“

”مگر سیرت صدیقی کی ایک کھڑکی کھلی ہے جس سے ظلی طور پر ایک مصفیٰ انسان خدا کی راہ سے خدا کے پاس آتا ہے اس پر ظلی طور پر وہی نبوت کی چادر پہنائی جاتی ہے جو حضرت محمدی کی چادر ہے اور یہ نام بحیثیت نبی فنا فی الرسول ہونے کے ہے۔ یعنی اس میں نبوت محمدیہ اور ظلیت اور فنا فی الرسول کا دروازہ کھلا ہے۔“

(ص ٤ حاشیہ ایک غلطی کا ازالہ، خزائن ج ١٨ ص ٢٠٩)

خلاصہ یہ کہ مرتبہ فنا فی الرسول نے نبوت کا دروازہ کھول دیا۔ جو فنا فی الرسول ہوگا وہ نبی ہوگا۔ مرزا قادیانی سے کوئی پوچھے کہ فنا فی اللہ کا بھی کوئی مرتبہ ہے یا نہیں؟ اگر ہے تو آپ کے مطابق اگر کوئی کہے: ”سیرت محمدی کی کھڑکی کھلی ہے جس سے ظلی طور پر ایک مصفیٰ انسان آتا ہے۔ اس پر ظلی طور پر وہی الوہیت کی چادر پہنائی جاتی ہے جو حضرت ربوبیت کی چادر ہے۔ پس فنا فی اللہ سے مجھ کو ملا۔ اس مرتبہ الوہیت کے لئے صراط مستقیم کا دروازہ کھلا ہے۔“

مرزا قادیانی ایسے فنا فی اللہ کو خدا تسلیم کریں گے؟ اگر کریں گے تو یہ صریح شرک ہے اور اگر کہیں تو مرزا قادیانی کی زبانی ایمان کا خاتمہ اور اگر کوئی شخص الوہیت فنا فی اللہ کا انکار کرے تو ہم کہیں گے کہ فنا فی الرسول ہونے سے کوئی نبی ورسول نہیں ہو سکتا۔

مرزا قادیانی کے اس اصول فنائیت پر دعویٰ خدائی اور دعویٰ رسالت بر بنائے الوہیت مرزا قادیانی کے نزدیک بالکل درست ہو جائے گا۔ ٤٣

صفحہ ٢٨٩

بلکہ مرزا قادیانی خود کہتے ہیں:

(ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ ٥ ص ١٣٣، خزائن ج ٢١ ص ٣٠٠)

”قرآن شریف سے ثابت ہے کہ ہر ایک نبی آنحضرت ﷺ کی امت میں داخل ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ لتؤمنن بہ ولتنصرنہ‘ پس اس طرح تمام انبیاء علیہم السلام آنحضرت ﷺ کی امت ہوئے۔“

جب ثابت ہو گیا کہ تمام انبیاء حضور ﷺ کی امت ہیں تو وہ حضرات بھی اپنی امت کی طرف منسوب ہونے سے نبی اور حضور کی طرف نسبت پانے سے امتی ہوئے۔ پھر مرزا قادیانی کا یہ کہنا کہ یہ خصوصیت میری ہے کہ میں امتی اور نبی ہوں بالکل زبردستی اور ہٹ دھرمی ہے اور امتی کہہ کر مسلمانوں کو دھوکہ میں ڈالنا ہے۔

فنا فی الرسول والی نبوت

”کیونکہ وہ باعث اتباع اور فنا فی الرسول ہونے کے جناب ختم المرسلین کے وجود میں داخل ہے۔ جیسے جز کل میں داخل ہوتی ہے۔“

(ازالہ اوہام ص ٥٧٥، خزائن ج ٣ ص ٤٣١)

”مگر سیرت صدیقی کی ایک کھڑکی کھلی ہے یعنی فنا فی الرسول کی پس جو شخص اس کھڑکی کی راہ سے خدا کے پاس آتا ہے اس پر ظلی طور پر وہی نبوت کی چادر پہنائی جاتی ہے۔ جو نبوت محمدی کی چادر ہے اور یہ نام بحیثیت نبی فنا فی الرسول مجھے ملا ہے۔ اس موہبت کے لئے محض بروز اور ظلیت اور فنا فی الرسول کا دروازہ کھلا ہے۔“

(ایک غلطی کا ازالہ ص ٩، خزائن ج ١٨ ص ٢١٠، ٢٠٧)

خلاصہ یہ کہ مرتبہ فنا فی الرسول نے نبوت عطا کی، نبی کا نام ملا، نبوت محمدی کی چادر اوڑھی۔ مرزا قادیانی سے کوئی پوچھے کہ فنا فی اللہ کا بھی ایک مرتبہ ہے۔ مرزا قادیانی کے ان اصول کے مطابق اگر کوئی کہے: ”سیرت محمدی کی کھڑکی کھلی۔ پس اس کھڑکی کی راہ سے خدا کے پاس جو آتا ہے۔ اس پر ظلی طور پر وہی الوہیت کی چادر پہنائی جاتی ہے۔ جو الوہیت خدا ہے اور یہ نام اللہ فنا فی اللہ سے مجھ کو ملا۔ اس مرتبہ الوہیت کے لئے صرف فنا فی اللہ کا دروازہ کھلا ہے۔

مرزا قادیانی ایسے فنا فی اللہ کو خدا تسلیم کریں گے اور اس کو خدا کا نام دیں گے۔ اگر ہاں کہیں تو مرزا قادیانی کی زبانی ایمان کا خاتمہ اور اگر کہیں کہ فنا فی اللہ ہونے سے کوئی خدا نہیں ہو سکتا تو ہم کہیں گے کہ فنا فی الرسول ہونے سے کوئی نبی و رسول نہیں ہو سکتا۔

مرزا قادیانی کے اس اصول فنائیت کے اعتبار سے فرعون، نمرود، شداد وغیرہم کی الوہیت مرزا قادیانی کے نزدیک بالکل درست ہو جائے گی۔ کیونکہ وہ کہہ سکتے ہیں کہ ایسے ہم فنا فی

٤٣

صفحہ ٢٩١

اللہ ہو گئے کہ وہی الوہیت کی چادر ہم کو پہنائی گئی۔ مرزا قادیانی نے بارہا کہا کہ میں اپنے نبی کے کامل اتباع سے، اقتدا سے اس مرتبہ نبوت پر پہنچا۔ معلوم ہوتا ہے کہ اتباع واقتدا نبی بناتا ہے اور یہ حقیقی نبوت نہیں ہوتی بلکہ مجازی ظلی۔

مرزا قادیانی کے اس اصول کے مطابق اگر کوئی اعتراض کرے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے فبھدھم اقتدہ ۔ اے حبیب! انبیاء سابقین کی اقتداء کیجئے۔ واتبع ملۃ ابراھیم حنیفا ۔ اے پیارے! ملت ابراہیمی کا اتباع کیجئے۔ ان آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ حضور ﷺ کو بھی جو نبوت عطا ہوئی وہ انبیائے سابقین کی اقتداء اور حضرت ابراہیم علیہ السلام کی اتباع سے حضور ﷺ کی نبوت بھی حقیقی نہیں ہوئی بلکہ ظلی بروزی جو اقتداء واتباع سے پائی۔ مرزا قادیانی اور مرزائی کیا جواب دیں گے؟ ہرگز کوئی جواب نہیں۔

پھر مرزا قادیانی ایک اور اصول قائم کرتے ہیں کہ حضور کا افاضہ قیامت تک رہے گا۔ حضور اپنے فیضان سے نبی بناتے رہیں گے۔ یہ تعجب ہے کہ حضور کے پہلے نبی آئیں اور حضور کے بعد کوئی نبی نہ ہو تو حضور کے فیضان کی توہین و تنقیص ہوگی۔ چنانچہ وہ خود لکھتے ہیں:

(رسالہ الوصیت ص ١٠، خزائن ج ٢٠ ص ٣١١) ”لیکن یہ نبوت محمدیہ اپنی ذاتی فیض رسانی سے قاصر نہیں۔ بلکہ سب نبوتوں سے زیادہ اس میں فیض ہے۔ اس نبوت کی پیروی خدا تک بہت سہل طریق سے پہنچا دیتی ہے اور اس کی پیروی سے خدا تعالیٰ کی محبت اور اس کے مکالمہ مخاطبہ کا اس سے بڑھ کر انعام مل سکتا ہے۔ جو پہلے ملتا تھا۔ مگر ایسا کامل پیرو صرف نبی نہیں کہلا سکتا۔ کیونکہ نبوت کاملہ تامہ محمدیہ کی میں ہتک ہے۔ ہاں امتی اور نبی دونوں لفظ اجتماعی حالت میں اس پر صادق آسکتے ہیں۔ کیونکہ اس میں نبوت تامہ کاملہ محمدیہ کی ہتک نہیں بلکہ اس نبوت کی چمک اس فیضان سے زیادہ تر ظاہر ہوتی ہے اور جبکہ وہ مکالمہ مخاطبہ اپنی کیفیت اور کمیت کی رو سے کمال درجہ کو پہنچ جائے اور اس میں کوئی کثافت اور کوئی کمی باقی نہ ہو اور کھلے طور پر امور غیبیہ پر مشتمل ہو، تو وہی دوسرے لفظوں میں نبوت کے نام سے موسوم ہوتا ہے۔ جس پر تمام نبیوں کا اتفاق ہے۔ (بالکل غلط ہے اور بہتان ہے کسی نے یہ نہیں کہا کہ صفائی قلب اور کثرت مخاطبہ کے بعد نبوت مل جایا کرتی ہے۔ بلکہ یہ گدھے فلسفیوں کا مذہب ہے کہ وہ نبوت کو کسبی کہتے ہیں کہ جس نے صفائی قلب پیدا کی اور اس سے پیشین گوئیاں کرنے لگا۔ نبی ہو گیا۔ تفصیل اس کی بحث اکتساب میں آتی ہے)

پس یہ ممکن نہ تھا کہ وہ قوم جس کے لئے کہا گیا کنتم خیر امۃ اور جن کے لئے دعا سکھائی گئی ہے کہ: ” اھدنا الصراط المستقیم صراط الذین انعمت علیھم “ ان کے

٤٤

تمام افراد اس مرتبہ عالیہ سے محروم رہے اور کوئی ایک فرد بھی صرف یہی خرابی نہیں تھی کہ امت محمدیہ ناقص اور ناتمام رہتی کو دور کرنے کے لئے دعویٰ نبوت کیا اور پھر خود کہہ دیا کہ میر دور ہوا۔ کیونکہ ناقص ناقص کے نقص کو دور نہیں کر سکتا) اور جیسی مرزائی جماعت۔ بلکہ یہ بھی نقص تھا کہ آنحضرت کی قوت قدسیہ ناقص ٹھہرتی تھی۔

(حقیقت الوحی ص ٩٦، ٩٧، خزائن ج ٢٢ ص ٩٩)

آنحضرت ﷺ کی پیروی کرنے والا اس درجہ کو پہنچا کہ ا نبی۔ کیونکہ اللہ عزوجل نے آنحضرت ﷺ کو صاحب خاتم جو کسی اور نبی کو نہیں دی گئی۔ اسی وجہ سے آپ کا نام خاتم خراش ہے کہ مرزا قادیانی کامل صناع معلوم ہوتے ہیں)

خلاصہ ان دونوں عبارتوں کا یہ ہوا کہ محض اتب نبوت ملی۔ (اس کا رد بحث اکتساب میں دیکھو)

دوسرے یہ کہ اس امت میں اگر نعمت نبوت

(مگر مرزا قادیانی کو قرآن کی آیت یاد نہیں: اللہ اعلم حـ ہے نبوت عطا کرتا ہے۔ زبردستی نبی بننے سے کیا فائدہ اس کی اور بھی ہتک ہوئی۔ کہ امتوں کو نبوت تامہ ملی اور خیـ

تیسرے یہ کہ اگر اس امت میں نبوت نہ ہوتـ قدسیہ کامل نہ ہوتی۔

اگر مرزا قادیانی کا یہی اصول لیا جائے تو اسـ معاذ اللہ توہین ہوئی۔ کیونکہ کوئی کہہ سکتا ہے کہ حضور کا فیـ برس میں حضور کی توجہ روحانی نے ایک ہی نبی قادیان میـ گیا۔ کمال فیضان تو یہ تھا کہ ہر وقت ہر جگہ دو چار نبی ا

”اس حصہ کثیرہ وحی الٰہی اور امور غیبیہ میں اس امت میں قدر مجھ سے پہلے اولیاء اقطاب ابدال اس امت میں گـ نہیں دیا گیا۔ (بالکل غلط جس قدر گزشتہ اولیاء کو یہ حصـ

٤٥

صفحہ ٢٩١

تمام افراد اس مرتبہ عالیہ سے محروم رہتے اور کوئی ایک فرد بھی اس مرتبہ کو نہ پاتا اور ایسی صورت میں صرف یہی خرابی نہیں تھی کہ امت محمدیہ ناقص اور ناتمام رہتی۔ (مگر مرزا قادیانی نے اس نقص امت کو دور کرنے کے لئے دعویٰ نبوت کیا اور پھر خود کہہ دیا کہ میں ناقص نبی ہوں تو امت کا نقص تو نہیں دور ہوا۔ کیونکہ ناقص ناقص کے نقص کو دور نہیں کرسکتا) اور سب کے سب اندھوں کی طرح رہتے جیسی مرزائی جماعت۔ بلکہ یہ بھی نقص تھا کہ آنحضرت کی قوت فیضان پر داغ لگتا تھا اور آپ کی قوت قدسیہ ناقص ٹھہرتی تھی۔

(حقیقت الوحی ص٩٦، ٩٧ بخزائن ج٢٢ ص٩٩، ١٠٠) ”خدا کی مہر نے یہ کام کیا کہ آنحضرت ﷺ کی پیروی کرنے والا اس درجہ کو پہنچا کہ ایک پہلو سے وہ امتی اور ایک پہلو سے نبی۔ کیونکہ اللہ عزوجل نے آنحضرت ﷺ کو صاحب خاتم بنایا۔ یعنی آپ کو افاضہ کمال کی مہر دی جو کسی اور نبی کو نہیں دی گئی۔ اسی وجہ سے آپ کا نام خاتم النبیین ٹھہرا۔ (واللہ کیا دلائل کی تراش خراش ہے کہ مرزا قادیانی کامل صناع معلوم ہوتے ہیں)

خلاصہ ان دونوں عبارتوں کا یہ ہوا کہ محض اتباع تامہ اور اکتساب اعمال صالح سے نبوت ملی۔ (اس کا رد بحث اکتساب میں دیکھو)

دوسرے یہ کہ اس امت میں اگر نعمت نبوت تقسیم نہ کی جاتی تو امت ناقص رہ جاتی۔ (مگر مرزا قادیانی کو قرآن کی آیت یاد نہیں: الله اعلم حيث يجعل رسالته ۔ خدا جس کو چاہتا ہے نبوت عطا کرتا ہے۔ زبردستی نبی بننے سے کیا فائدہ؟ پھر اگر نبوت بھی ملی تو ناقص ہی ملی تو یہ تو اس کی اور بھی ہتک ہوئی۔ کہ امتوں کو نبوت تامہ ملی اور خیر الامم کو نبوت ناقصہ)

تیسرے یہ کہ اگر اس امت میں نبوت نہ ہوتی تو حضور کے فیضان میں کمی آتی اور قوت قدسیہ کامل نہ ہوتی۔

اگر مرزا قادیانی کا یہی اصول لیا جائے تو اس میں حضور ﷺ کی تعریف کہاں ہوئی بلکہ معاذ اللہ توہین ہوئی۔ کیونکہ کوئی کہہ سکتا ہے کہ حضور کا فیضان معاذ اللہ اس قدر ناقص ہے کہ تیرہ سو برس میں حضور کی توجہ روحانی نے ایک ہی نبی قادیان میں تراشا اور چھانٹا پچھلا باقی سب زمانہ خالی گیا۔ کمال فیضان تو یہ تھا کہ ہر وقت ہر جگہ دو چار نبی ہوتے۔ حالانکہ مرزا قادیانی خود کہتے ہیں: ”اس حصہ کثیر وحی الٰہی اور امور غیبیہ میں اس امت میں سے میں ہی ایک فرد مخصوص ہوں اور جس قدر مجھ سے پہلے اولیاء اقطاب ابدال اس امت میں گزر چکے ہیں۔ ان کو یہ حصہ کثیر اس نعمت کا نہیں دیا گیا۔ (بالکل غلط جس قدر گزشتہ اولیاء کو یہ حصہ ملا اس کا عشر عشیر بھی مرزا قادیانی کو خواب

٤٥

صفحہ ٢٩٣

”بلکہ اس کی شفاعت درحقیقت آنحضرت ﷺ کی ”حضور رحمۃ للعالمین ہیں میں بھی رحمۃ للعالمین ( ”حضور کو مقام محمود ملا مجھ کو بھی مقام محمود ملا۔“ (حقیقۃ

افسوس صد افسوس اس دعوٰی مثلیت میں مرزا قادیانی کی ہے اور کیسے کیسے کلمات کفر منہ سے نکلے۔

امام مسلمؒ حضرت عبداللہ بن عمروؓ سے ایک طویل حضور نے فرمایا: ”ولکنی لست کاحد منکم کھیئتکم“ تیسری روایت میں: ”ایکم مثلی“ تم میں کون ہے؟ یہ ہے حضور کا اپنی زبان مبارک سے دعوٰی بے مثیل ہو سکتا ہے؟

شمائل ترمذی میں: حضرت مولائے کائناتؓ فرما ار قبله ولا بعده مثله“

امام مسلم و امام بخاری بھی حضرت انسؓ سے رو بیان ہے کہ ہم نے نہ تو زمانہ گزشتہ میں اور نہ زمانہ آئندہ محمد یہ میں حضور کا مثیل ہو۔

ملا علی قاریؒ اس حدیث کی شرح میں مرقاۃ میں فی جمیع مراتب الکمال خلقا وخلقا فی کل ا بھی کمالات محمدیہ میں کوئی مثیل نہیں۔ کمالات خلقیہ ہوں

حضرت شیخ محقق محدث دہلویؒ اس کے تحت من خصائصه لما اختص به من غاية التوجہ تقيسونی علی احد ولا تقيسوا علی احداً“ یہ میرے خصائص سے ہیں اس لئے کہ مجھ کو ملا جو کسی کو نہیں، مجھ پر کسی کو قیاس نہ کرو، کسی پر مجھ کو قیاس ن

٤٧

صفحہ ٢٩٣

”بلکہ اس کی شفاعت در حقیقت آنحضرت ﷺ کی ہی شفاعت ہے۔“

(دافع البلاء ص ١٣، خزائن ج ١٨ ص ٢٣٣)

”حضور رحمۃ للعالمین ہیں میں بھی رحمۃ للعالمین ہوں۔“

(حقیقت الوحی ص ٨٢، خزائن ج ٢٢ ص ٨٥)

”حضور کو مقام محمود ملا مجھ کو بھی مقام محمود ملا۔“

(حقیقت الوحی ص ١٠٢، الہام، خزائن ج ٢٢ ص ١٠٥)

افسوس صد افسوس اس دعویٰ مثلیت میں مرزا قادیانی نے کس قدر حدیثوں کی مخالفت کی ہے اور کیسے کیسے کلمات کفر منہ سے نکلے۔

امام مسلمؒ حضرت عبداللہ بن عمروؓ سے ایک طویل حدیث روایت فرماتے ہیں: جس میں حضور نے فرمایا: ”ولکنی لست کاحد منکم“ دوسری روایت میں: ”انی لست کھیئتکم“ تیسری روایت میں: ”ایکم مثلی“ تم میں میری مثیل کون؟ تم میں میری ہیات کا کون ہے؟ یہ ہے حضور کا اپنی زبان مبارک سے دعویٰ بے مثلیت۔ پھر کون حضور کے کمالات میں مثیل ہوسکتا ہے؟

شمائل ترمذی میں: حضرت مولائے کائناتؓ سے مروی ہے وہ فرماتے ہیں: ”لم ار قبله ولا بعده مثله“

امام مسلم و امام بخاری بھی حضرت انسؓ سے یہی روایت کرتے ہیں۔ گویا صحابہ کا یہ بیان ہے کہ ہم نے نہ تو زمانہ گزشتہ میں اور نہ زمانہ آئندہ میں ایسا کوئی شخص نہیں دیکھا جو کمالات محمدیہ میں حضور کا مثیل ہو۔

ملا علی قاریؒ اسی حدیث کی شرح میں مرقاۃ میں فرماتے ہیں: ”مثله اى مماثلا له فی جمیع مراتب الکمال خلقا وخلقا فی کل الاحوال“ حضور ﷺ کا کسی حالت میں بھی کمالات محمدیہ میں کوئی مثیل نہیں۔ کمالات خلقیہ ہوں یا خلقیہ۔

حضرت شیخ محقق محدث دہلویؒ اس کے تحت میں لمعات میں فرماتے ہیں: ”وذالك من خصائص لما اختص به من غایة التوجه والحضور والمعرفة والقرب فلا تقیسونى علی احد ولا تقیسوا علی احداً“ یہ میرے خصائص سے ہیں اس لئے کہ مجھ کو توجہ و حضور معرفت وقرب کا وہ انتہائی درجہ ملا جو کسی کو نہیں، مجھ پر کسی کو قیاس نہ کرو، کسی پر مجھ کو قیاس نہ کرو۔

٤٧

صفحہ ٢٩٥

(معتقد المنتقد شریف ص١١٤ (ترجمہ عربی) عبارت کنز الفوائد میں ہے کہ ولی نبی کی مثیل کسی مرتبہ میں نہیں، نبی معصوم ہے سوء خاتمہ سے محفوظ ہے وحی الہی مشاہدہ ملک سے مکرم ہے۔ تبلیغ احکام ارشاد کے نام سے مامور ہے۔ باوجود اس کے ایسے کمالات سے متصف ہوتا ہے۔ جس میں سے ولی کو ایک قطرہ بھی نہیں ملتا یہ ہی مذہب ہے۔ تمام اہلسنت والجماعت کا۔

علامہ قاضی عیاض نے کسی کا ایک شعر نقل کیا ہے۔

هو مثله في الفضل الا انه
لم ياته برسالة جبريل

شاعر کسی کی تعریف کرتا ہے کہ وہ نبی کا مثیل ہے تمام کمالات میں فرق یہ ہے کہ حضرت جبرائیل رسالت لے کر اس کے پاس نہیں آئے۔ (مرزا قادیانی نے یہ بھی کہہ دیا کہ میں کمالات کا مثیل ہوں اور جبرائیل بھی میرے پاس رسالت لے کر آئے ۔ دیکھو بحث وحی ) علامہ خفاجی فرماتے ہیں: اس قول میں بڑی بے ادبی ہے ہر شخص جو اسلام رکھتا ہے وہ ایسی بات منہ سے نہیں نکال سکتا۔ یہ قول بالذات کفر ہے۔ ملا علی قاری فرماتے ہیں: ”ومن المعلوم استحالة وجود مثله بعده“ یہ یقین ہے کہ حضور کے بعد مثیل پایا جانا محالات سے ہے۔

علماء کی تصریحات سے ثابت ہوا کہ کوئی مثیل نہیں ہو سکتا جو یہ کہے کہ میں مثیل نبی ہوں تمام کمالات میں معہ نبوت کے۔ ایسا شخص کافر ہے۔ مرزائی امت ذرا غور سے ان تصریحات علماء اسلام کو دیکھیں اور سمجھیں کہ مثیل محمد یا مثیل نبی کا دعویٰ کیا حیثیت رکھتا ہے؟

ایک قوی شبہ اور اس کا ازالہ

مسئلہ ختم نبوت میں اکثر مرزائیوں کی طرف سے یہ اعتراض ہوتا ہے کہ اگر حضرت عیسیٰ علیہ السلام پھر دوبارہ تشریف لائیں تو ختم نبوت باقی نہیں رہتی۔ کیونکہ حضور کے بعد تو نبی آگئے۔ اس اعتراض کو مختلف عبارتوں میں بیان کیا جاتا ہے۔ جو مرزائی کتب میں موجود ہے۔

مگر مرزائیوں کا یہ اعتراض قلت تدبر، عدم تفہم پر مبنی ہے۔ اگر ذرا غور کریں مسئلہ حل ہو جائے۔ عقائد اہل اسلام کی کتابوں کا مطالعہ سے پتہ چلتا ہے کہ علماء کرام بطور دفع پہلے اس اعتراض کا جواب دے چکے ہیں اور تمام علماء نے اس جواب کو منظور فرمایا۔ اپنی اپنی کتابوں میں درج کیا۔

تمہید ازالہ

دو لفظ غور سے یاد رکھے! حدوث نبی، بقائے نبی۔ حدوث نبی سے مراد یہ ہے کہ حضور

٤٨

کے بعد کسی کو نبی بنایا جانا، نئی نبوت عطا کیا جانا۔ بقائے نبوت کا موجود رہنا اور عمر طویل پانا جو حضور سے پہلے نبی بنائے گئے حضور اکرم ﷺ خاتم النبیین ہیں۔ یعنی حضور کو نبوت عطا نہ کی جائے گی۔ نہ یہ کہ حضور کے بعد کسی کی پچھلی نبوت سلب ہو گئی۔ نبی کی نبوت کبھی سلب نہیں ہوتی۔ وہ ہمیشہ مرتبہ نبوت پر قائم رہتے ہیں۔ حضرت شیخ محقق محدث دہلویؒ معزول نشوند و مرتبہ نبوت ورسالت بعد از موت مسلوب نبوده وایشان حی و باقی اند“

لفظ خاتم کے یہی معنی ہوئے کہ آئندہ کو حد نہیں۔ خاتم کے معنی عربی زبان میں ما یختم بہ یعنی بعد جب مہر کر دیتے ہیں تو کیا معنی ہوتے ہیں؟ یہی تو کہ لکھا جائے گا۔ نہ یہ کہ پہلا مضمون بھی منتفی ہو گیا۔

یہ ہی معنی مرزا غلام احمد قادیانی خود مراد لیتے ہیں ”اور میرے بعد میرے والدین کے گھر میں میں خاتم الاولاد تھا۔“

مرزا قادیانی اپنے آپ کو خاتم الاولاد کہتے ہیں پیدا ہونے کے بعد کوئی پیدا نہ ہوا۔ اس سے یہ تو ثابت نہیں کہ کوئی لڑکا لڑکی باقی نہیں رہا تھا اور یہ خلاف واقعہ ان کے بھائی بہن موجود تھے۔

پس اس طرح خاتم النبیین کے بھی یہی معنی ہوگا۔ نہ یہ معنی کہ گزشتہ نبیوں میں سے کوئی آ بھی نہیں سکتا خلاصہ صرف اس قدر ہے کہ حضور کے بعد جس کو نبوت حضور ﷺ کے پہلے مل چکی ہے وہ بھی نہیں آسکتا مرقات وغیرہ ملاحظہ فرمائیں۔ ہر جگہ یہی معنی يوجد نبی، حضور ﷺ کے بعد نبوت کسی کو نہیں پائے گا۔“

٤٩

صفحہ ٢٩٥

کے بعد کسی کو نبی بنایا جانا، نئی نبوت عطا کیا جانا۔ بقائے نبی سے مراد ہے حضور کے بعد کسی ایسے نبی کا موجود رہنا اور عمر طویل پانا جو حضور سے پہلے نبی بنائے جا چکے ہیں۔

حضور اکرم ﷺ خاتم النبیین ہیں۔ یعنی حدوث نبوت کا دروازہ بند کر دیا گیا۔ اب کسی کو نبوت عطا نہ کی جائے گی۔ نہ یہ کہ حضور کے بعد کسی کی نبوت باقی ہی نہیں رہی۔ معاذ اللہ سب کی نبوت سلب ہو گئی۔ نبی کی نبوت کبھی سلب نہیں ہوتی۔ دنیا سے پردہ فرمانے کے بعد بھی وہ اپنے مرتبہ نبوت پر قائم رہتے ہیں۔ حضرت شیخ محقق محدث دہلویؒ فرماتے ہیں: ”وانبیا معزول نشوند ومرتبہ نبوت ورسالت بعد از موت ہم ثابت است وخود انبیاء را موت نبودہ وایشان حی وباقی اند“

(تکمیل الایمان ص ٨٦)

لفظ خاتم کے یہی معنی ہوئے کہ آئندہ کو حدوث نبوت بند، نہ یہ کہ بقائے نبوت بھی نہیں۔ خاتم کے معنی عربی زبان میں ما یختم بہ یعنی وہ چیز جس سے مہر کی جائے۔ خط لکھنے کے بعد جب مہر کر دیتے ہیں تو کیا معنی ہوتے ہیں؟ یہی تو کہ اب اس مضمون کے بعد کوئی مضمون نہیں لکھا جائے گا۔ نہ یہ کہ پہلا مضمون بھی منتفی ہو گیا۔

یہی معنی مرزا غلام احمد قادیانی خود مراد لیتے ہیں، تریاق القلوب کی عبارت پر غور کرو۔ ”اور میرے بعد میرے والدین کے گھر میں اور کوئی لڑکا لڑکی نہیں ہوا اور میں ان کے لئے خاتم الاولاد تھا۔“

(تریاق القلوب ص ١٥٧، خزائن ج ١٥ ص ٤٧٩)

مرزا قادیانی اپنے آپ کو خاتم الاولاد کہتے ہیں جس کی تفسیر پہلے کرتے ہیں کہ میرے پیدا ہونے کے بعد کوئی پیدا نہ ہوا۔ اس سے یہ تو ثابت نہیں ہوتا کہ جب مرزا قادیانی پیدا ہوئے تھے تو کوئی لڑکا لڑکی باقی نہیں رہا تھا اور یہ خلاف واقعہ بھی ہے۔ کیونکہ مرزا قادیانی کی زندگی میں ان کے بھائی، بہن موجود تھے۔

پس اس طرح خاتم النبیین کے بھی یہی معنی ہیں کہ حضور کے بعد کوئی نبی پیدا نہیں ہوگا۔ نہ یہ معنی کہ گزشتہ نبیوں میں سے کوئی آ بھی نہیں سکے گا۔

خلاصہ صرف اس قدر ہے کہ حضور کے بعد نبوت کسی کو از سر نو تو نہیں ملے گی۔ نہ یہ کہ جس کو نبوت حضور ﷺ سے پہلے مل چکی ہے وہ بھی نہیں آسکتا۔

مرقات وغیرہ ملاحظہ فرمائیں۔ ہر جگہ یہی معنی لکھے ہیں: ”فلا یحدث نبی ولا یوجد نبی“ حضور ﷺ کے بعد نبوت کسی کو نہیں ملے گی۔ حضور ﷺ کے بعد نبوت کوئی نہیں پائے گا۔

(مرقات ج ٥ ص ٥٧٢)

٤٩

صفحہ ٢٩٦

پس حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا حضور کے بعد تشریف لانا کوئی امر ممتنع اور منافی ختم نبوت نہیں ۔ کیونکہ حضورﷺ کے بعد ان کو نبوت عطا نہ کی جائے گی ۔ بلکہ وہ پہلے ہی نبی ہیں اور نبوت ان کو پہلے ہی عطا کی جاچکی ہے ۔ اب جو وہ تشریف لائیں گے شریعت محمد رسول اللہﷺ پر عمل فرمائیں گے ۔ اس کو یوں سمجھ سکتے ہیں کہ ہندوستان میں ایک وائسرائے آیا ۔ پھر تین سال کے بعد دوسرا وائسرائے آیا ۔ لیکن پہلے وائسرائے یہیں رہ گیا ۔ اب پہلا وائسرائے وائسرائے ہونے کی صفت سے موصوف ہے۔ مگر اب وائسرائے ثانی کے احکام کے ماتحت ہوکر رہے گا ۔ نہ اپنی شان حکومت سے ۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام پہلے تشریف لائے اور خلافت الہی کے فرائض سرانجام دیتے رہے ۔ جب حضور اکرمﷺ تشریف لائے ۔ ان کی شریعت منسوخ ہوگئی ۔ اب حضرت عیسیٰ علیہ السلام حضور کے احکام کی اطاعت فرمائیں گے اگر چہ وصف نبوت سے متصف رہیں گے۔ پس حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا تشریف لانا منافی ختم نبوت نہیں ۔

(معتقد المنتقد شریف ص ١١٠) ”وعیسیٰ علیہ السلام نبی قبل فلا یرد“

حاشیہ میں ہے: ”فان ختم النبوۃ اکمالہﷺ بنیانھا فلا ینبا بعد ظہورہﷺ لا ان لا یوجد بعدہ وعندہ ممن نبی قبلہ “ حضرت عیسیٰ علیہ السلام چونکہ پہلے نبوت پاچکے ہیں اس لئے ان کے تشریف لانے سے ختم نبوت پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔ کیونکہ ختم نبوت کے معنی یہ ہیں کہ حضور نے عمارت نبوت مکمل فرمادی۔ پس حضور کے ظہور کے بعد کسی کو نبوت نہیں ملے گی ۔ نہ یہ کہ حضور کے زمانہ میں یا حضور کے بعد وہ نبی بھی موجود نہیں رہ سکتا۔ جس کو پہلے نبوت مل چکی ہے ۔ اس قسم کا مضمون تمام عبارات کتب عقائد میں ملے گا۔

تعجب تو یہ ہے

مرزا قادیانی نے بار ہا کہا حضور کے بعد نہ کوئی نیا نبی آسکتا ہے نہ پرانا ۔ مگر خود نئی نبوت کا دعویٰ کر دیا اور اپنے کہے کو یاد نہ رکھا ۔ مگر کوئی تعجب نہیں ۔ مرزا قادیانی ہاتھ دھو کے پیچھے پڑ گیا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نہیں آئیں گے ۔ اس لئے انہیں یہ کہنا پڑا کہ نہ کوئی نیا نبی آئے گا نہ پرانا ۔ جہاں جہاں انہوں نے یہ لکھا کہ حضور کے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا حضور خاتم النبیین ہیں۔ وہاں صرف عیسیٰ علیہ السلام ۔ کے لئے لکھا ہے کہ وہ نہیں آئیں گے تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے آنے کو روکنے کے لئے خاتم النبیین کے معنی اور کئے اور اپنی نبوت کے لئے اور حالانکہ نہ یہ صحیح، نہ وہ صحیح بلکہ مطابق عقائد اسلام خاتم النبیین کے یہی معنی ہے کہ حضورﷺ کے بعد کسی کو نبوت نہ دی جائے گی اور جس کو پہلے دی گئی ہے اس کا آنا ممکن ہے۔ اس طرح دروازہ نبوت کا بند ہو گیا اور

٥٠

٢٩٧

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا آسمان سے تشریف لانے کا در

دعویٰ خاتم النبیین

بمصداق ’کوزہ چشم حریصاں حقیقت میں خاتم النبیین میں ہوں ۔ (نعوذ باللہ منہ

(الاستفتاء ص ١١، خزائن ج ٢٢ ص ٦٤١، ٦٤٢): ” آخر الزمان من اللہ الرحمان فظہر کما قدر الھندیۃ فوجدھا مستحقۃ لمقر ھذا الخلیفۃ بدء الخلیقۃ فبعث اللہ ادم أخر الزمان لیوصل الأخر بالاول ویتم دائرۃ الدعوۃ ک فان استدار الزمان علی ھیئتہ کما اشار الاخری بنقطۃ الاولیٰ فی ھذہ الارض المبا

خلاصہ اس کا یہ ہے کہ مرزا قادیانی کہتے ہی ہند کو مقدر فرمایا ۔ کیونکہ حضرت آدم اول اسی زمین پر نا آدم آخر ہوں اسی زمین میں مناسبت کے لئے پیدا کیا گ (یعنی آدم علیہ السلام) کے ساتھ وصل کردے اور دعوت آخر نقطہ (مرزا قادیانی) اول نقطہ آدم علیہ السلام کے سا مرزا قادیانی چونکہ مختلف دوروں میں مبتلا ہی دائرہ کی شکل میں پیش کرتے ہیں ۔

دائرہ دعوت الہیہ یعنی نبوت

جماعت انبیاء کرام علیہم السلام حضرت آدم ؑ نقطہ اولیٰ حضرت آدم علیہ السلام ۔ نقطہ آخری مرزا قادیانی ۔

اس دائرہ کو ذرا غور سے ملاحظہ فرمائیں ۔ یہ پہلے نقطہ سے ہوئی جو حضرت آدم علیہ السلام ہیں اور ا قادیانی ہے ۔ اول و آخر کا نقطہ مل کر دائرہ نبوت تمام ہو نبوت ناقص ہی رہ جاتا ۔ مرزا قادیانی نے آکر پورا کیا

٥١

صفحہ ٢٩٧

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا آسمان سے تشریف لانے کا دروازہ کھل گیا۔

دعویٰ خاتم النبیین

بمصداق ”کوزہ چشم حریصاں پر شد“ ختم نبوت کا بھی دعویٰ کر دیا کہ حقیقت میں خاتم النبیین میں ہوں۔ (نعوذ باللہ منہ ذالک)

(الاستفتاء ص ١١، خزائن ج ٢٢ ص ٦٤١، ٦٤٢): ”وكانت هذه الخطة مقدرا له في آخر الزمان من الله الرحمان فظهر كما قدر ذوالامتنان وانه نظر الى البلاد الهندية فوجدها مستحقة لمقر هذا الخليفة لانها كانت مهبط الادم الاول في بدء الخليقة فبعث الله ادم آخر الزمان في تلك الارض اظهارا للمناسبة ليوصل الاخر بالاول ويتم دائرة الدعوة كما هو كان مقتضى الحق والحكمة فالان استدار الزمان على هيئته كما اشار اليه خير البرية ووصلت نقطته الاخرى بنقطة الاولىٰ فى هذه الارض المباركة“

خلاصہ اس کا یہ ہے کہ مرزا قادیانی کہتے ہیں کہ میری پیدائش کے لئے خدا نے زمین ہند کو مقدر فرمایا۔ کیونکہ حضرت آدم اول اسی زمین پر نازل کئے گئے تھے۔ تو خدا نے مجھ کو کہا میں آدم آخر ہوں اسی زمین میں مناسبت کے لئے پیدا کیا تا کہ آخر کو (یعنی مرزا قادیانی کو) اول کے (یعنی آدم علیہ السلام) کے ساتھ وصل کردے اور دعوت الٰہیہ کے دائرہ کو پورا کر دے اور دائرہ کا آخر نقطہ (مرزا قادیانی) اوّل نقطہ آدم علیہ السلام کے ساتھ مل کر دائرہ کو ختم کر دے۔

مرزا قادیانی چونکہ مختلف دعووں میں مبتلا ہیں۔ اس لئے ختم نبوت کے دعویٰ کو بھی ایک دائرہ کی شکل میں پیش کرتے ہیں۔

دائرہ دعوت الٰہیہ یعنی نبوت

جماعت انبیاء کرام علیہم السلام حضرت آدم سے لے کر۔ نقطہ اولیٰ حضرت آدم علیہ السلام۔ نقطہ آخری مرزا قادیانی۔

اس دائرہ کو ذرا غور سے ملاحظہ فرمائیں۔ یہ دائرہ تو نبوت و رسالت کا ہے۔ ابتدا اس کی پہلے نقطہ سے ہوئی جو حضرت آدم علیہ السلام ہیں اور انتہا اس کے آخر کے نقطہ سے ہوئی جو مرزا قادیانی ہے۔ اول و آخر کا نقطہ مل کر دائرہ نبوت تمام ہوا۔ یعنی اگر مرزا قادیانی پیدا نہ ہوتا تو دائرہ نبوت ناقص ہی رہ جاتا۔ مرزا قادیانی نے آکر پورا کیا۔ نہ کہ رسول اللہ ﷺ نے۔ کیونکہ وہ تو نقطہ

٥١

صفحہ ٢٩٨

اولیٰ اور نقطہ آخر کے درمیان ہیں جن کو اتمام دائرہ سے اور ختم نبوت سے کوئی علاقہ نہیں۔

نتیجہ یہ نکلا کہ ابتدائے نبوت حضرت آدم سے ہے اور ختم نبوت مرزا قادیانی پر ہے۔

اقلیدس کے پڑھنے والوں نے بہت سی شکلیں پڑھی ہوں گی مگر ایسی آج تک نہ دیکھی ہوگی جو مرزا قادیانی نے پیش کی ہے۔ لہٰذا ہم اس شکل کا نام شکل مرزائی رکھتے ہیں اور دائرہ ہندسیہ مرزائیہ۔

عقیدہ کفریہ نمبر ٣ ”دعویٰ وحی رسالت“

تمہید: خدا کی بات بندے تک پہنچنے کی متعدد صورتیں ہیں۔ پہلی صورت تو یہ ہے کہ رب تبارک وتعالیٰ بغیر کسی واسطے کے اپنے بندے سے گفتگو فرمائے اور بندہ اپنے جسمی کان سے اس کی آواز کو سنے۔ یہ مرتبہ تو صرف انبیاء کرام علیہم السلام کے لئے ہے۔ جس میں حضرت موسیٰ علیہ السلام اور آقائے نامدارﷺ اس مرتبہ ہم کلامی پر یقیناً فائز ہوچکے اور یہ قسم وحی کی اعلیٰ درجہ کی قسم ہے۔ چونکہ رب تبارک وتعالیٰ نے حضور پر سلسلہ نبوت ختم فرما دیا ہے آپ کے بعد کسی کو نبوت عطا نہ کی جائے گی تو اس قسم کی ہم کلامی کا جو دعویٰ کرے گا وہ قانون اسلام کے مطابق اسلام سے خارج ہوجائے گا۔ اس لئے کہ اس میں ختم نبوت کا انکار ہوتا ہے

شرح عقائد جلالی میں ہے: ”المكالمة شفاها منصب النبوة بل اعلى مراتبها وفيه مخالفة لما هو من ضروريات الدين وهو انهﷺ خاتم النبيين عليه افضل صلوة المصلين“ اللہ عزوجل سے کلام حقیقی منصب نبوت ہے۔ بلکہ اس کے اعلیٰ مراتب میں اعلیٰ مرتبہ ہے اور اس کے دعویٰ کرنے میں بعض ضروریات دین یعنی نبیﷺ کے خاتم النبیین ہونے کا انکار ہے۔

شفاء شریف میں ہے: ”وكذالك من ادعى مجالسة الله تعالى والعروج اليه ومكالمة “ اسی طرح وہ شخص بھی کافر ہے جو اللہ تعالیٰ کے ساتھ ہم نشین، اس تک صعود، اس سے باتیں کرنے کا مدعی ہے۔

(تفسیر عزیزی سورۃ البقرہ ص ٣٢٧) ”منشائے ایں گفتگوئے ایشاں جہل است زیراکہ نمی فہمیدند کہ رتبہ ہم کلامی باخدائے عزوجل بس بلند است ایشاں بہ پایہ اولین آن کہ ایمان است نہ رسیدہ اندو آن رتبہ مختص است بملائکۃ وانبیاء وغیر ایشاں را ہرگز میسر نمی شود پس فرمائش ہم کلامی باخدا گویا فرمائش آنست کہ ما ہمہ را پیغمبران یا فرشتہا سازد“

کفار مکہ نے کہا تھا کہ: ”لولا يكلمنا الله“ ہم سے خدا کیوں نہیں کلام کرتا؟ شاہ

٥٢

صفحہ ٢٩٩

صاحب فرماتے ہیں:

کفار کا طلب مرتبہ ہم کلامی محض جہالت ونادانی پر مبنی ہے۔ انہوں نے یہ نہ سمجھا کہ مرتبہ ہم کلامی ملائکہ وانبیاء کے ساتھ خاص ہے۔ ان کے سواء کسی کو میسر نہیں۔ پس ہم کلامی کی فرمائش کرنے کے یہ معنی ہوئے کہ ہم کو نبی یا فرشتہ خدا کیوں نہیں بناتا۔

(کنز العمال ص ٨٠ ج ٤) ”جب حضور اکرمﷺ نے وصال فرمایا، تو حضرت ابو بکر صدیقؓ نے فرمایا: ”الیوم فقدنا الوحی ومن عند الله عزوجل الکلام“ اب خدا کی وحی اور خدا کا کلام ہمارے لئے مفقود ہو گیا۔“

دوسری قسم یہ ہے کہ حضرت جبرائیل علیہ السلام یا اور فرشتہ خدا کا کلام انبیاء تک پہنچائے۔

حضور اکرمﷺ پر وحی نازل ہونے کی چند کیفیات ہیں۔ اول یہ کہ حضرت کے پاس حضرت جبرائیل علیہ السلام جرس کی آواز سے آتے تھے۔

امام بخاریؒ عائشہؓ سے روایت فرماتے ہیں کہ حارث بن ہشام نے حضورﷺ سے عرض کیا: حضورﷺ آپ پر وحی کیوں کر آتی ہے؟ حضورﷺ فرماتے ہیں کبھی تو مجھ کو گھنٹی کی جھنکار کی طرح آتی ہے اور وہ مجھ سے سب سے زیادہ شدید ہوتی ہے پھر اس کی مجھ سے علیحدگی ہو جاتی ہے اور میں اسے یاد کر لیتا ہوں اور کبھی فرشتہ یعنی جبرائیل علیہ السلام انسان کی شکل میں آتے ہیں اور وہ مجھ سے کلام کرتے ہیں۔

پس میں یاد کر لیتا ہوں۔ حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں میں نے دیکھا کہ سخت سردی کے دن میں اس وحی سے پسینہ آجاتا تھا اور بھی روایتیں آئی ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ نزول وحی کے وقت آپ کی حالت بدل جاتی تھی۔

(دیکھو خصائص کبریٰ ص ١١٨ ج ١)

دوسری کیفیت یہ کہ حضرت جبرائیل علیہ السلام یا اور کوئی فرشتہ بصورت بشری حاضر دربار ہو اور خدا کا کلام پہنچائیں جیسا کہ حدیث بخاری سے معلوم ہوا۔ یہ دونوں کیفیت والی وحی بھی حضرات انبیاء کے لئے مخصوص ہے۔ اسی کو وحی شریعت، وحی نبوت ورسالت بھی کہتے ہیں۔

چونکہ حضور کے بعد کسی کو نبوت وشریعت عطا نہ کی جائے گی۔ اس لئے اس قسم کی وحی کا بھی دعویٰ کفر ہے۔ حدیث اوپر گزر چکی ہے کہ حضرت صدیقؓ فرماتے ہیں کہ آج سے وحی منقطع ہوگئی اور خدا کا کلام مفقود ہو گیا۔

علامہ زرقانی شرح مواہب میں فرماتے ہیں: ”وختم بی النبوۃ ای انغلق باب

٥٣

صفحہ ٣٠١

الوحی الرسالة فلا نبی بعده ”حضور کا فرمان کہ نبوت مجھ پر ختم ہو گئی مراد یہ ہے کہ دروازہ وحی بند ہو گیا اب حضور کے بعد کسی کو نبوت نہ ملے گی۔“

حضرت ام کرز روایت فرماتی ہیں: ”ذهبت النبوة وبقيت المبشرات (رواہ ابن ماجہ)“

ملا علی قاری اس کی شرح میں فرماتے ہیں: علامہ سیوطیؒ نے فرمایا کہ حضور کا مقصد یہ ہے کہ:”ان الوحی منقطع بموتی ولا یبقی ما یعلم منه مما سیکون الی الرؤیا“ وحی میرے وصال سے منقطع ہو گئی۔ اب آئندہ کی خبریں معلوم نہ ہوں گی سوائے رویاۓ صالحہ کے۔

(علامہ قاضی عیاض شفاء شریف ص ٥١٩)”وكذالك من ادعى منهم انه يوحى اليه اى وحياً جلياً لا الهاماً“ایسے ہی وہ شخص بھی کافر ہے جو وحی جلی کا مدعی ہو۔ الہام کا مدعی کافر نہیں۔

علاوہ ان دو قسموں کے الہامات ہیں کشوف میں رویاۓ صالحہ مبشرات کو یہ سب کچھ انبیاء کرام کو عطا فرمائے جاتے ہیں اور اولیاء کرام کو ان دو قسموں کے سوا الہامات وغیرہ سب کچھ عطا کئے جاتے ہیں۔

ہماری بحث اس مقام پر صرف ان دو قسموں سے ہے۔ مکالمہ ومخاطبہ شفاہی اور وحی شریعت یا بہ لفظ دیگر وحی نبوت جس کی دو کیفیتیں ذکر کی گئی ہیں کہ آیا مرزا قادیانی نے اس کا دعویٰ کیا ہے یا نہیں؟ انہیں کی کتابوں سے ہم کو تلاش کرنا چاہئے۔ اچھا ملاحظہ فرمائیں۔

دعویٰ مکالمہ ومخاطبہ شفاہی

اسلامی اصول کی فلاسفی ص ١٣٠، ضمیمہ البشریٰ فی الاسلام ص ٨٠: اگر ایک صالح اور نیک بندہ کو بے حجاب مکالمہ الٰہی شروع ہو جائے اور مخاطبہ مکالمہ کے طور پر ایک کلام روشن لذیذ پر معنی پر حکمت پوری شوکت کے ساتھ اس کو سنائی دے اور کم سے کم بار بار اس کو ایسا اتفاق ہوا ہو کہ خدا میں اور اس میں عین بیداری میں دس مرتبہ سوال و جواب ہوا ہو۔ اس نے سوال کیا خدا نے جواب دیا۔ پھر اس عین بیداری میں اس نے کوئی اور عرض کی اور خدا نے اس کا بھی جواب عطا فرمایا۔

ایسا ہی دس مرتبہ تک خدا میں اور اس میں باتیں ہوتی رہیں۔ الی ان قال تو ایسے شخص کو خدا تعالیٰ کا بہت شکر ادا کرنا چاہئے۔ (ص ١٣١) میں لکھتے ہیں میں بنی نوع پر ظلم کروں گا۔ اگر میں

٥٤

اس وقت ظاہر نہ کروں کہ وہ مقام جس کی میں نے یہ تعریف کی میں نے اس وقت تفصیل بیان کی وہ خدا کی عنایت ہے

(ضمیمہ رسالہ انجام آتھم ص ١٩، خزائن ج ١١ ص ٣٠٤)

تعالیٰ اپنے نبیوں کی طرح اس شخص کو جو فانی النبی ہے مکالمہ میں وہ بندہ جو کلیم اللہ ہو خدا سے گویا آمنے سامنے کا جواب دیتا ہے۔ آگے لکھتے ہیں پس جو شخص اس عاجز مجھ میں نہیں پایا جاتا میں اس کو خدا کی قسم دیتا ہوں کہ ان تم

(ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم ص ٥٦، خزائن ج ٢١ ص ٤٠٢)

عشق اور محبت کے جوش سے ہوتی ہے۔ مومن کی روحا قوت کشف نہایت صاف اور لطیف طور پر پیدا ہو جاتی اور زبان پر وہ کلام نہایت لذیذ اور اجلے طور پر جاری ہو (ایضاً ص ١٣١، خزائن ج ٢١ ص ٢٩٨) ”جبکہ متوا بڑے بڑے نشان میرے لئے ظاہر کرتا ہے اور مجھ سے م

مرزا قادیانی کی یہ چند عبارتیں دعویٰ ہم ک سامنے سوال و جواب ہوتا ہے اور عین بیداری میں وہ ک کر دی گئیں۔ ہم اوپر بیان کر چکے ہیں کہ اس قسم کی ہم کلا دعویٰ وحی شریعت ونبوت اور اس کی دونوں ق

(ضمیمہ تحفہ گولڑویہ ص ١٤، خزائن ج ١٧ ص ٥٨)

جس کو اپنے نبی کریم کے نمونہ پر وحی اللہ پانے میں ٢٣ سلسلہ وحی کا جاری رکھا گیا۔“ صاف تصریح ہے کہ جس طرح حضور ﷺ رہی۔

(حقیقت الوحی ص ١٥٠، خزائن ج ٢٢ ص ١٥٤)

رد کر سکتا ہوں۔ اس کی پاک وحی پر ایسا ہی ایمان لاتا ہ لاتا ہوں۔ جو مجھ سے پہلے ہو چکی ہیں۔ (عبارت بتار رتبہ دے رہا ہے۔ (مؤلف))

٥٥

صفحہ ٣٠١

اس وقت ظاہر نہ کروں کہ وہ مقام جس کی میں نے یہ تعریفیں کیں اور وہ مرتبہ مکالمہ اور مخاطبہ کا جس کی میں نے اس وقت تفصیل بیان کی وہ خدا کی عنایت نے مجھے عنایت فرمایا۔

(ضمیمہ رسالہ انجام آتھم ص ١٩، خزائن ج ١١ ص ٣٠٣) ”مکالمہ الہیہ کی حقیقت یہ ہے کہ خدا تعالیٰ اپنے نبیوں کی طرح اس شخص کو جو فنا فی النبی ہے۔ اپنے کامل مکالمہ کا شرف بخشے اور اس مکالمہ میں وہ بندہ جو کلیم اللہ ہو خدا سے گویا آمنے سامنے باتیں کرتا ہے۔ وہ سوال کرتا ہے، خدا اس کا جواب دیتا ہے۔ آگے لکھتے ہیں پس جو شخص اس عاجز کا مکذب ہو کر پھر یہ دعویٰ کرتا ہے کہ یہ ہنر مجھ میں نہیں پایا جاتا میں اس کو خدا کی قسم دیتا ہوں کہ ان تینوں باتوں میں میرا مقابلہ کرے۔“

(ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم ص ٥٦، خزائن ج ٢١ ص ٢١٤) ”اس طرح اس مرتبہ پر یاد الٰہی جو عشق اور محبت کے جوش سے ہوتی ہے۔ مومن کی روحانی قوتوں کو ترقی دیتی ہے۔ یعنی آنکھ میں قوت کشف نہایت صاف اور لطیف طور پر پیدا ہو جاتی ہے اور کان خدا تعالیٰ کے کلام کو سنتے ہیں اور زبان پر وہ کلام نہایت لذیذ اور اجلے طور پر جاری ہو جاتا ہے۔“

(ایضاً ص ١٣١، خزائن ج ٢١ ص ٢٩٨) ”جبکہ میں دیکھتا ہوں کہ خدا میری دعائیں سنتا اور بڑے بڑے نشان میرے لئے ظاہر کرتا ہے اور مجھ سے ہم کلام ہوتا۔“

مرزا قادیانی کی یہ چند عبارتیں دعویٰ ہم کلام کے متعلق جو اس شان سے کہ آمنے سامنے سوال و جواب ہوتا ہے اور عین بیداری میں وہ کہتا ہے اور میرے کان سنتے ہیں۔ یہاں نقل کردی گئیں۔ ہم اوپر بیان کرچکے ہیں کہ اس قسم کی ہم کلامی کا دعویٰ کفر ہے۔

دعویٰ وحی شریعت و نبوت اور اس کی دونوں کیفیتیں

(ضمیمہ تحفہ گولڑویہ ص ١٤، خزائن ج ١٧ ص ٥٨) ”سو اس امت میں وہ ایک شخص میں ہی ہوں جس کو اپنے نبی کریم کے نمونہ پر وحی اللہ پانے میں ٢٣ برس کی مدت دی گئی اور ٢٣ برس تک یہ سلسلہ وحی کا جاری رکھا گیا۔“

صاف تصریح ہے کہ جس طرح حضور ﷺ پر وحی آتی تھی۔ اسی نمونہ پر مجھ کو بھی وحی آتی رہی۔

(حقیقت الوحی ص ١٥٠، خزائن ج ٢٢ ص ١٥٤) ”میں خدا تعالیٰ کی ٢٣ برس متواتر وحی کو کیونکر رد کرسکتا ہوں۔ اس کی پاک وحی پر ایسا ہی ایمان لاتا ہوں جیسا کہ ان تمام خدا کی وحیوں پر ایمان لاتا ہوں۔ جو مجھ سے پہلے ہوچکی ہیں۔ (عبارت بتارہی ہے کہ مرزا قادیانی اپنی وحی کو وحی قرآنی کا رتبہ دے رہا ہے۔ (مؤلف))“

٥٥

صفحہ ٣٠٣

(حقیقت الوحی ص ١٤٩، خزائن ج ٢٢ ص ١٥٣) ”اسی طرح اوائل میں میرا بھی یہی عقیدہ تھا کہ مجھ کو مسیح ابن مریم سے کیا نسبت ہے وہ نبی ہے اور خدا کے بزرگ مقربین میں سے ہے اور اگر کوئی امر میری فضیلت کی نسبت ظاہر ہوتا تو میں اس کو جزئی فضیلت قرار دیتا تھا۔ مگر بعد میں جو خدا تعالیٰ کی وحی بارش کی طرح میرے پر نازل ہوئی۔ اس نے مجھے اس عقیدہ پر قائم نہ رہنے دیا اور صریح طور پر نبی کا خطاب مجھے دیا گیا۔ مگر اس طرح سے کہ ایک پہلو سے نبی اور ایک پہلو سے امتی۔“

کس قدر صراحت ہے کہ بارش کی طرح وحی سے میرا عقیدہ پھسل گیا اور اس وحی نے نبوت کا خطاب دیا۔ یہ یقینی امر ہے کہ جس وحی کے ذریعے نبی کا خطاب ہے وہ وحی ضرور وحی نبوت ہے اور اس کے مرزا قادیانی مدعی ہوئے۔

(اربعین نمبر ٤ ص ٦، خزائن ج ١٧ ص ٤٣٥) ”جس کی پوری عبارت پہلے نقل کر چکا ہوں۔ اس کے یہ جملے غور سے پڑھیں ۔“

”ماسوا اس کے یہ بھی تو سمجھو کہ شریعت کیا چیز ہے؟ جس نے اپنی وحی کے ذریعہ سے چند امر اور نہی بیان کئے اور اپنی امت کے لئے ایک قانون مقرر کیا وہی صاحب الشریعت ہو گیا۔ پس اس تعریف کی رو سے بھی ہمارے مخالف ملزم ہیں۔ کیونکہ میری وحی میں امر بھی ہے اور نہی بھی ۔ ”الی ان قال“ اور ایسا ہی اب تک میری وحی میں امر بھی ہوتے ہیں اور نہی بھی۔“

مرزا قادیانی کا یہ کلام اپنے مفہوم بتانے میں بہت صاف ہے کہ جس کی وحی میں امر ونہی ہو وہ صاحب شریعت اور میری وحی میں امر ونہی ہیں۔ لہٰذا میں صاحب شریعت ۔ تو مرزا قادیانی صاحب شریعت ہوئے تو ان کی وحی وحی شریعت ونبوت ہوئی۔ یہ ہی دعویٰ وحی شریعت ونبوت ہے جو ہمارا عنوان ہے۔

اس قدر عبارتیں تو میں نے نقل کی ہیں جن سے مطلق یہ ثابت ہے کہ مرزا قادیانی نے وحی نبوت وحی شریعت کا بھی دعویٰ کیا۔ اب وہ عبارات پیش کرتا ہوں ۔ جس سے یہ ثابت ہوگا کہ مرزا قادیانی نے وحی شریعت کی اور وہ دو صورتیں جن صورتوں سے حضور پر وحی آتی تھی جو نبی کے لئے خاص ہیں۔ ان کا بھی دعویٰ کیا ہے۔ سنئے اور ذرا غور سے۔

وحی کی پہلی کیفیت کا دعویٰ

(براہین احمدیہ حصہ سوم ص ٢٢٣ سے ص ٢٥٩، خزائن ج ١ ص ٢٤٧۔٢٨٨) تک مرزا قادیانی نے وحی والہام کی پانچ صورتیں لکھی ہیں ۔ جن کے متعلق اپنا تجربہ بھی ان الفاظ میں لکھا ہے: ”یہ عاجز

٥٦

بفضل اللہ ورحمته ”وکلم“ و اما بنعمة ربك فحدث“ کسی قدر ہے جن سے خود یہ عاجز مشرف ہوا ۔“

آگے لکھتے ہیں : ”چنانچہ وہ بعض الہامات جن کو تفصیل ذیل ہیں۔ صورت اول ختم کرنے کے بعد صورت دوم صورت دوم الہام کی جس کا میں بااعتبار کثرت ہوں ۔ (یعنی وحی حقیقی ) یہ ہے کہ جب خدائے تعالیٰ بندہ کو کسی خود بخود مطلع کرنا چاہتا ہے تو ایک دفعہ ایک بے ہوشی اور ربودگی بالکل اپنی ہستی سے کھویا جاتا ہے۔

اور ایسا اس بے خودی اور ربودگی اور بے ہوشی میں ہے اور نیچے پانی کے چلا جاتا ہے غرض جب بندہ اس حالت سے باہر آتا ہے۔ تو اپنے اندر میں کچھ مشاہدہ کرتا ہے جیسے ایک فرو ہوتی ہے تو ناگہاں اس کو اپنے اندر سے ایک موزون اور لذیذ خلاصہ نقشہ یہ ہے کہ اس کیفیت وحی میں انسان ربودگی بے خودی ہو جاتی ہے۔ اس کے بعد پھر اس کو گونج جیسی ہے اور پھر لطیف کلام محسوس ہوتا ہے۔

اب ہم آپ کو احادیث کی سیر کرائیں!

حضور ﷺ پر نزول وحی کی کیفیت میں یہ الفاظ موجود صلصلة الجرس“ وحی کبھی جھنکار گونج کی آواز میں آتی ہے یغشی علیه نزول وحی کے وقت بے ہوشی کی حالت ہو جاتی کچھ دیر تک نشہ کی بے خودی سی ہو جاتی تھی۔

غور فرمائیں کہ مرزا قادیانی نے جو اپنی وحی کی کیفیت حضور اکرم ﷺ پر طاری ہوتی تھی۔ دونوں کے الفاظ میں قادیانی نے اس قسم کی وحی نبوت کا دعویٰ کیا جو حضور اکرم ﷺ لکھا۔

اس امت میں وہ ایک شخص میں ہی ہوں جس کو میں ٢٣ برس کی مدت دی گئی ۔

٥٧

صفحہ ٣٠٣

بفضل اللہ وبمنہ وبحکم ”واما بنعمة ربك فحدث“ کسی قدر بطور نمونہ ایسے الہامات بیان کر سکتا ہے جن سے خود یہ عاجز مشرف ہوا ۔“

آگے لکھتے ہیں: ”چنانچہ وہ بعض الہامات جن کو اس جگہ لکھنا مناسب سمجھتا ہوں، بہ تفصیل ذیل ہیں۔ صورت اول ختم کرنے کے بعد صورت دوم کا نقشہ کھینچتے ہیں۔“

صورت دوم الہام کی جس کا میں باعتبار کثرت عجائبات کے کامل الہام نام رکھتا ہوں۔ (یعنی وحی حقیقی) یہ ہے کہ جب خدائے تعالیٰ بندہ کو کسی امر غیبی پر بعد دعا اس بندے کے یا خود بخود مطلع کرنا چاہتا ہے تو ایک دفعہ ایک بے ہوشی اور ربودگی اس پر طاری کر دیتا ہے جس سے وہ بالکل اپنی ہستی سے کھویا جاتا ہے۔

اور ایسا اس بے خودی اور ربودگی اور بے ہوشی میں ڈوبتا ہے جیسے کوئی پانی میں غوطہ مارتا ہے اور نیچے پانی کے چلا جاتا ہے غرض جب بندہ اس حالت ربودگی سے جو غوطہ سے بہت مشابہ ہے باہر آتا ہے۔ تو اپنے اندر میں کچھ مشاہدہ کرتا ہے جیسے ایک گونج پڑی ہوتی ہے اور جب وہ گونج فرو ہوتی ہے تو ناگہاں اس کو اپنے اندر سے ایک موزون اور لطیف اور لذیذ کلام محسوس ہو جاتی۔

خلاصہ نقشہ یہ ہے کہ اس کیفیت وحی میں انسان بے ہوش کے قریب ہو جاتا ہے اور ربودگی بے خودی ہو جاتی ہے۔ اس کے بعد پھر اس کو گونج جھنکار صلصلة الجرس معلوم ہوتی ہے اور پھر لطیف کلام محسوس ہوتا ہے۔

اب ہم آپ کو احادیث کی سیر کرائیں!

حضور ﷺ پر نزول وحی کی کیفیت میں یہ الفاظ موجود ہیں: ”احيانا ياتينی مثل صلصلة الجرس“ وحی کبھی جھنکار گونج کی آواز میں آتی ہے۔ اذا نزل عليه الوحى يكاد يغشى عليه نزول وحی کے وقت بے ہوشی کی حالت ہو جاتی تھی۔ ”وقد لذلك ساعة“ ساتھ کچھ دیر تک نشہ کی بے خودی سی ہو جاتی تھی۔

(خصائص کبریٰ ١ ص ١١٨ تا ص ١٢٩)

غور فرمائیں کہ مرزا قادیانی نے جو اپنی وحی کی کیفیت کا نقشہ کھینچا ہے۔ وہی کیفیت وحی کی حضور اکرم ﷺ پر طاری ہوتی تھی۔ دونوں کے الفاظ میں تطابق کرلو۔ صاف ظاہر ہو گیا کہ مرزا قادیانی نے اس قسم کی وحی نبوت کا دعویٰ کیا جو حضور اکرم ﷺ کے لئے ہے۔ اسی واسطے انہوں نے لکھا۔

اس امت میں وہ ایک شخص میں ہی ہوں جس کو اپنے نبی کریم کے نمونہ پر وحی اللہ پانے میں ٢٣ برس کی مدت دی گئی۔

٥٧

صفحہ ٣٠٥

مرزا قادیانی اس قسم کی وحی کا دعویٰ ان الفاظ میں لکھتے ہیں۔ اس الہام کی مثالیں ہمارے پاس بہت ہیں اور وہ الہامی کلمات یہ ہیں۔ پھر عربی کے بے تعداد بے جوڑے جملے لکھ دیتے ہیں جو بالاستیعاب شروع حقیقت الوحی، انجام آتھم میں موجود ہیں جن الہامات کی بناء پر نبوت کا دعویٰ کیا ہے۔

وحی کی دوسری کیفیت کا دعویٰ

ہم اوپر بیان کر چکے ہیں کہ وحی کی دوسری کیفیت یہ ہے کہ حضرت جبرائیل علیہ السلام یا اور کوئی فرشتہ بصورت بشری آ کر خدا کا کلام پہنچا دے۔

مرزا قادیانی نے اس کیفیت کا بھی دعویٰ کیا ہے۔

براہین احمدیہ صفحات مذکور میں الہام کی چوتھی قسم یوں لکھتے ہیں کہ رؤیائے صادقہ میں کوئی امر خدائے تعالیٰ کی طرف سے منکشف ہو جاتا ہے یا یہی کوئی فرشتہ انسان کی شکل میں متمثل ہو کر کوئی غیبی بات بتلاتا ہے۔ یہاں فرشتہ کی شکل انسان میں ہو کر وحی لانے کی کیفیت کا بھی اپنے لئے ثبوت ہے مگر مرزا قادیانی نے یہاں فرشتہ کا نام نہ بتایا کہ وہ کونسا فرشتہ ہے؟ اس امر کی تحقیق کی تو معلوم ہوا کہ حضرت جبرائیل ہی مراد لیتے ہیں۔ کیونکہ مرزا قادیانی کہتے ہیں کہ حضرت جبرائیل میرے پاس آتے تھے۔

(حقیقت الوحی ص١٠٣، خزائن ج٢٢ ص١٠٦) ”جاء نی آئل واختار وادار اصبعہ واشار ان وعد اللہ اتی فطوبی لمن وجد وراثی“

حاشیہ پر مرزا قادیانی آئل کے معنی لکھتے ہیں اس جگہ آئل سے خدا تعالیٰ نے جبرائیل کا نام رکھا ہے اس لئے کہ بار بار رجوع کرتا ہے۔

(حضرت جبرائیل میرے پاس آئے اور نبوت ووحی کے لئے مجھے چن لیا اور انگلی گھما کے لوگوں کی طرف اشارہ کیا کہ اللہ تعالیٰ کا وعدہ یعنی مرزا قادیانی آگیا۔ خوشی ہے اس لئے جس نے مرزا قادیانی کو پالیا اور دیکھ لیا۔ (حفظنا اللہ منہ) ترجمہ تفسیر کے ساتھ ساتھ بیان کر دیا تاکہ لوگوں کو مبہم کلمات سمجھنے میں آسانی ہو۔

مرزا قادیانی صاف کہہ رہے ہیں کہ حضرت جبرائیل وحی لے کر میرے پاس آئے اور مجھ کو ممتاز و پسندیدہ کر لیا۔ چنانچہ وہ وحی جو حضرت جبرائیل لے کر آئے ہیں اس کا ذکر بھی آگے ہے کہ: ”الامراض تشاع والنفوس تضاع“ (بیماریاں پھیلیں گی نفوس ہلاک ہوں گے)

ثابت ہوا کہ مرزا قادیانی نے وحی جبرائیل کا بھی دعویٰ کیا ہے تو لامحالہ یہ وحی وحی

٥٨

شریعت ونبوت ہوئی۔ غرضیکہ مرزا قادیانی ان دونوں کیف مدعی ہیں۔ یہ ہیں اسلام کے قانون میں خروج عن الاسلا

(آئینہ کمالات اسلام ص٣٥٢، خزائن ج٥ ص٣

ادنیٰ درجے کی جو حدیث کہلاتی ہے اس میں شیطان ہے...... مگر فی الفور وحی اکبر جو کلام الٰہی ہے اور وحی متلو کر دیتی ہے۔

(ایام الصلح ص٤١ خلاصہ، خزائن ج١٤ ص٢٧١،٢

توفی کے معنی ایک جگہ پر پورا کر دینے کے لکھ دیئے ہیں کسی غلطی پر مجھے خدا قائم نہیں رکھتا۔“

دونوں عبارتیں بغور ملاحظہ فرمائیے۔ پہلے تو وحی اکبر فی الفور اس غلطی کو دور کر دیتی ہے۔ اپنے لی مجھ کو بھی اس غلطی پر قائم نہیں رکھتا، فوراً دور کر دیتا ہے ہوتی ہے اگر ویسی ہی الہام سے جیسے الہام سے غلط دوسرے کو صحیح بنا دے۔ تو معلوم ہوا کہ مرزا قادیانی ا ہیں۔ وہی مرزا قادیانی کی وحی ادنیٰ کی غلطی دور کرتی تھ

اس میں بھی مرزا قادیانی نے وحی نبوت کا د

بعض مرزائی اس قسم کی عبارتیں مرزا قادیان کے قائل ہیں کہ وحی نبوت بند ہوگئی۔ قیامت تک نہیں مدعی ہوں۔ مگر ان کا یہ عبارتیں پیش کرنا ہمارے مقابل

ایک شخص ایک وقت میں کسی بات کا انکار کرے پھر ا صرف انکار یا اقرار اپنی ضد کو رفع نہیں کر سکتا۔ مثال کے کیا کہ میں نے بی بی کو طلاق نہیں دی پھر ایک وقت کہنے سے طلاق ہوگئی۔ اس اقرار نے انکار کو کوئی فائ نہیں ہوں مگر کسی وقت اس نے کہہ دیا کہ میں کافر ہو

بدیہی ہے کہ کوئی شخص عمر بھر تقویٰ و پرہیزگاری میں آخر عمر میں یا درمیان ہی میں کسی وقت اس نے ایک گ

٥٩

صفحہ ٣٠٥

شریعت ونبوت ہوئی۔ غرضیکہ مرزا قادیانی ان دونوں کیفیتوں کے جو انبیاء کے ساتھ مخصوص ہیں، مدعی ہیں۔ یہ عین اسلام کے قانون میں خروج عن الاسلام ہے جیسا کہ واضح کر چکے ہیں۔

(آئینہ کمالات اسلام ص٣٥٣، خزائن ج٥ ص٣٥٣) کی عبارت کا خلاصہ لکھتا ہوں۔ وحی ادنیٰ درجے کی جو حدیث کہلاتی ہے اس میں شیطان کا دخل ہوتا ہے اور اجتہادی غلطی ہوجاتی ہے۔...... مگر فی الفور وحی اکبر جو کلام الٰہی ہے اور وحی متلو ہے اور مھیمن ہے نبی کو اس غلطی پر متنبہ کردیتی ہے۔

(ایام الصلح ص٤١ حاشیہ، خزائن ج١٤ ص٢٧١، ٢٧٢) ”براہین احمدیہ میں میں نے غلطی سے توفی کے معنی ایک جگہ پر پورا کردینے کے لکھ دیئے ہیں....... وہ میری غلطی ہے گو میں جانتا ہوں کہ کسی غلطی پر مجھے خدا قائم نہیں رکھتا۔“

دونوں عبارتیں بغور ملاحظہ فرمائیے۔ پہلے یہ اصول بتایا کہ نبی کو وحی میں غلطی ہوتی ہے تو وحی اکبر فی الفور اس غلطی کو دور کردیتی ہے۔ اپنے لئے کہا کہ مجھے بھی اجتہادی غلطی لگتی ہے تو خدا مجھ کو بھی اس غلطی پر قائم نہیں رکھتا، فوراً دور کردیتا ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ کس چیز سے غلطی دور ہوتی ہے اگر ویسے ہی الہام سے جیسے الہام سے غلطی لگی ہے۔ تو دونوں برابر پھر صحیح کون؟ جو دوسرے کو صحیح بنا دے۔ تو معلوم ہوا کہ مرزا قادیانی اس وحی کے مدعی ہیں، جس کو وحی نبوت کہتے ہیں۔ وہی مرزا قادیانی کی وحی ادنیٰ کی غلطی دور کرتی تھی۔

اس میں بھی مرزا قادیانی نے وحی نبوت کا دعویٰ کیا۔ وهو المقصود

بعض مرزائی اس قسم کی عبارتیں مرزا قادیانی کی پیش کریں گے۔ کہ مرزا قادیانی خود اس کے قائل ہیں کہ وحی نبوت بند ہوگئی۔ قیامت تک نہیں آئے گی۔ میرا یہ دعویٰ نہیں کہ وحی نبوت کا مدعی ہوں۔ مگر ان کا یہ عبارتیں پیش کرنا ہمارے مقابل میں بالکل بیکار۔ کیونکہ کیا یہ ممکن نہیں کہ ایک شخص ایک وقت میں کسی بات کا انکار کرے پھر اقرار کرے۔ یا اقرار کرے پھر انکار کرے تو صرف انکار یا اقرار اپنی ضد کو رفع نہیں کرسکتا۔ مثال کے طور پر عرض ہے کہ ایک شخص نے عمر بھر انکار کیا کہ میں نے بی بی کو طلاق نہیں دی پھر ایک وقت یہ کہہ دے کہ میں نے طلاق دے دی تو اس کہنے سے طلاق ہوگئی۔ اس اقرار نے انکار کو کوئی فائدہ نہیں پہنچایا۔ ایک شخص کہتا ہے کہ میں کافر نہیں ہوں مگر کسی وقت اس نے کہہ دیا کہ میں کافر ہوں، کافر ہو گیا اور انکار نے فائدہ نہ دیا۔ یہ امر بدیہی ہے کہ کوئی شخص عمر بھر تقویٰ و پرہیزگاری میں صرف کرے۔ ایمان و اسلام پر قائم رہے مگر آخر عمر میں یا درمیان ہی میں کسی وقت اس نے ایک کفر کیا تو ساری عمر کا ایمان غائب ہو گیا۔

٥٩

صفحہ ٣٠٧

اسی طرح مرزا قادیانی نے اگر چہ بار ہا دعویٰ نبوت و رسالت کیا وحی نبوت و شریعت کے مدعی رہے یا اور کوئی خلاف اسلام عقیدہ ظاہر ہوا اور اس نے کھلے الفاظ میں اسی طرح رجوع نہ کیا تو مرزا قادیانی کا انکار یا اپنے عقائد کا جو اسلام کے موافق ہیں۔ اشتہار اس کفر کو نہیں اٹھا سکتا۔ پس ایسی صورت میں وہ تمام عبارات جو مرزائی پیش کریں، بالکل بے کار۔ دیکھئے مرزا قادیانی نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی بہت توہین کی، تو لوگ اعتراض کرتے ہیں کہ مرزا قادیانی نے یہ بہت برا کیا۔ مرزائی مرزا قادیانی کی عبارتیں پیش کرتے ہیں کہ میں نے توہین نہیں کی اور کلمات تعریف ان کی کتاب سے دکھاتے ہیں۔ تو کیا فائدہ ہوگا؟ کیونکہ کلمات توہین تو مرزا قادیانی کی کتابوں میں موجود ہیں۔ اس سے انکار کرنا آفتاب پر خاک ڈالنا ہے۔ ہاں اس وقت ہم مانیں گے جب صراحتاً وہ یہ دکھا دیں کہ ہم نے (مرزا قادیانی) اپنی کتابوں میں بعض بعض جگہ جو خلاف اسلام عقائد لکھ دیئے ہیں۔ ان سے ہم توبہ کرتے ہیں اور از سر نو کلمہ پڑھتے ہیں مگر ایسا کہیں نہیں دکھا سکتے تو کفر بھی مرزا قادیانی کے سر سے نہیں اٹھ سکتا۔

عقیدہ کفریہ نمبر ٤ ”اکتساب نبوت“

اسلام کا یہ عقیدہ ہے کہ نبوت کسبی نہیں بلکہ خداوند رب العزت کا یہ ایک محض فضل و کرم ہے۔ جس پر اس کی نظر کرم ہو جائے۔ منصب نبوت پر فائز کر دے۔ ذالك فضل الله يوتيه من يشاء۔ انبیاء کا گروہ اپنی امتوں کی تکمیل کے لئے آتا ہے وہ خود کاملین کا گروہ ہے مگر ان کو کمال تک پہنچانے والا خود اللہ تعالیٰ ہے۔ وہ کسی دوسرے کی پیروی سے کمال تک نہیں پہنچتے بلکہ صرف موہبت الٰہی سے کمال کو پاتے ہیں۔

اسی کی طرف اشارہ فرمایا ہے ۔ اس آیہ کریمہ میں الله اعلم حيث يجعل رسالته اللہ تعالیٰ جہاں رسالت و نبوت کا منصب عطا فرماتا ہے۔ وہ جانتا ہے۔ پس نبوت کا اکتساب یا کسی کی پیروی سے حاصل ہونا اس آیت اور احادیث کے صاف مفہوم کے خلاف ہے۔ اگر یہ کمال نبوت اکتسابی ہو تو وہ خدا تعالیٰ اور اس کی خلق کے درمیان واسطہ نہیں ہو سکتے۔ معلوم ہوا کہ جس کو خدا بطور موہبت بلا اکتساب آپ کامل کرتا ہے وہ نبی ہوتا ہے۔

نبوت وہی ہے جو براہ راست خدا سے ملتی ہے۔ کسی انسان کی پیروی سے یا اکتساباً جو چیز ملے خواہ وہ کتنا بھی نبوت کے کمالات کے ہم رنگ ہو مگر شرعی نقطہ نگاہ سے ہم اسے نبوت نہیں کہہ سکتے۔

(معتقد المنتقد شریف ص ٨٨) ”واعلم ان الفلاسفة يثبتون النبوة لكن ٦٠

على وجه مخالف بطريق اهل الحق ثم يجزم النبوة لازمة وانها مكتسبة“ فلاسفہ کا عقیدہ بھی ایسا ہے جو اہل حق کے خلاف ہے اور وہ اپنے کفر سے نکلتے نہیں۔ لازم ہے اور اکتساب سے حاصل ہوتی ہے۔ ایسا ہی مسئلہ

شرح مواقف موقف سادس صداول مقصد

من الاشاعرة وغيرهم ان النبي من عباده ارسلتك او بلغت عنى او نحوه لا المكتسبة بالرياضات والمجاهدات ولا بل موهبة من الله سبحنه يختص برحمته من يشاء متعلقه بمشيئته“

نبی اہل حق کے نزدیک وہ ہے جس کو کہہ دے کہ میں نے تجھے بھیجا۔ اس میں ریاضت و مجاہدہ اتباع و اقتداء استعداد ذاتی کی کوئی شرط نہیں بلکہ موہبت الٰہی ہے جو اپنی رحمت سے جس کو چاہتا ہے خاص فرما لیتا ہے۔ اور یہ منصب اپنی طرف سے اور اپنی مشیت سے عطا فرماتا ہے۔

پھر فلاسفہ کا مذہب بھی بیان کر دیا: ”اما النبوة فله خواص ثلث احدها ان يكون له اطلاع على المغيبات“ فلاسفہ کے نزدیک نبی وہ ہے جو غیب کی باتوں پر مطلع ہو۔ اہل حق کے نزدیک نبی کے لئے یہ شرط نہیں۔ ان دونوں عبارتوں سے واضح ہو گیا کہ اہل حق کے نزدیک نبوت محض فضل الٰہی ہے اور فلسفہ والے نبوت کو اکتسابی مانتے ہیں اور یہ کہ جس کو اطلاع علی المغیب ہو وہ نبی ہے۔

امام غزالیؒ معارج القدس میں فرماتے ہیں: ”وليس تنال النبوة بمكسب بل اثرة ربانية فنقول اعلم ان الرسالة من الله تعالى موهبة الهية لا تكتسب بجهد ولا تنال بكسب وهى اجماع من علماء الاسلام“

بلکہ مرزا قادیانی خود اس کے مقر ہیں کہ نبوت اکتسابی نہیں:

(حقیقت الوحی حاشیہ ص ٩٧، خزائن ج ٢٢ ص ١٠٠)

صفحہ ٣٠٧

على وجه مخالف بطريق اهل الحق لم يخرجوا به عن كفرهم فانهم يرون ان النبوة لازمة وانها مكتسبة“ فلاسفہ عقلاً مقام نبوت کا اثبات کرتے ہیں لیکن اس طریق سے جو اہل حق کے خلاف ہے اور وہ اپنے کفر سے دور نہیں رہتے۔ اس لئے کہ وہ کہتے ہیں کہ نبوت لازم ہے اور اکتساب سے حاصل ہوتی ہے۔ ایسا ہی مسایرہ مسامرہ ص ١٩٠ میں مسطور ہے۔

شرح مواقف موقف سادس مرصد اول مقصد اول میں ہے: ”النبی عند اهل الحق من الاشاعرة وغيرهم من قال له البارى تعالى ممن اصطفاه من عباده ارسلتك او بلغهم عنی او نحوه ولا يشترط فيه شرط من الاحوال المكتسبة بالرياضات والمجاهدات ولا استعداد ذاتی كما تزعم الحكما بل الله سبحنه يختص برحمته من يشاء من عباده فالنبوة رحمة وموهبة متعلقه بمشيئته“

نبی اہل حق کے نزدیک وہ ہے جس کو خدا نبوت عطا فرمائے اور اس میں ریاضت ومجاہدہ یا تصفیہ یا استعداد ذاتی کی کوئی شرط نہیں جیسا کہ فلاسفہ کا مذہب ہے۔ بلکہ سبحانہ وتعالیٰ اپنی رحمت سے جس کو چاہتا ہے خاص فرما لیتا ہے۔ پس نبوت صرف وہی ہے جو اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے اور اپنی مشیت سے عطا فرماتا ہے۔

پھر فلاسفہ کا مذہب بھی بیان کر دیا: ”اما الفلاسفة فقالوا النبى من اجتمع فيه خواص ثلث احدها ان يكون له اطلاع على المغيبات“

فلاسفہ کے نزدیک نبی وہ ہے جو غیب کی خبر دے اور پیشین گوئی کرے۔ اہل حق کے نزدیک نبی کے لئے یہ شرط نہیں۔ ان دونوں عبارتوں سے صاف ظاہر ہے کہ اہل اسلام کے نزدیک نبوت محض فضل الٰہی ہے اور فلسفہ والے نبوت کو کسبی جانتے ہیں۔ اسی واسطے انہوں نے کہا کہ جس کو اطلاع علی المغیب ہو وہ نبی ہے۔

امام غزالیؒ معارج القدس میں فرماتے ہیں: ”بیان ان الرسالة خطوة مكتسبة ام اثرة ربانية فنقول اعلم ان الرسالة اثرة علوية وخطوة ربانية وعطية الهية لا يكتسب بجهد ولا ينال بكسب الله اعلم حيث يجعل رسالته“

بلکہ مرزا قادیانی خود اس کے مقر ہیں کہ انبیاء سابقین کی نبوت کسبی نہ تھی۔ چنانچہ لکھتے: (حقیقت الوحی حاشیہ ص ٩٧، خزائن ج ٢٢ ص ١٠٠) ”اور بنی اسرائیل میں بہت نبی آئے مگر

صفحہ ٣٠٩

ان کی نبوت موسیٰ علیہ السلام کی پیروی کا نتیجہ نہ تھا۔ بلکہ وہ نبوتیں براہ راست خدا کی ایک موہبت تھیں۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی پیروی کا اس میں ایک ذرہ کچھ دخل نہ تھا۔ (یہ عبارت کتاب میں نہیں ہے) مگر مرزا قادیانی نے اپنے لئے حصول نبوت کی غرض سے نبوت کو کسبی قرار دیا کہ یہ مرتبہ نبوت کا جو مجھ کو ملا وہ حضور کے کامل اتباع سے شریعت کی اطاعت وفرمانبرداری سے۔ ”اور چونکہ مجھ کو علم غیب دیا گیا، پیشین گوئیاں دی گئی، معجزات دیئے گئے، اس لئے میں بھی نبی ہوں ۔“

غرضیکہ مرزا قادیانی نے بالکل فلاسفہ کی نبوت کے ٹائپ کے مطابق نبوت کا ادعا کیا۔

ملاحظہ ہو: ”مصنفہ مرزا قادیانی مسئلۃ النبوۃ فی الاسلام مگر ایک کھڑکی سیرت صدیقی کی کھلی ہے۔ یعنی فنافی الرسول کی۔ پس جو شخص اس کھڑکی کی راہ سے خدا کے پاس آتا ہے اس پر ظلی طور پر وہی نبوت کی چادر پہنائی جاتی ہے۔ جو نبوت محمدی کی چادر ہے۔“

(ایک غلطی کا ازالہ ص ٣، خزائن ج ١٨ ص ٢٠٧)

اس لئے اس کا (میرا نبی ) ہونا غیرت کی جگہ نہیں اور یہ نام (نبی) بحیثیت فنافی الرسول مجھے ملا۔ (یہی اکتساب ہے۔ (مؤلف)) اور یہ بھی یادرہے کہ نبی کے معنی لغت کے رو سے یہ ہیں کہ خدا کی طرف سے اطلاع پا کر غیب کی خبر دینے والا۔ پس جہاں یہ معنی صادق آئیں گے۔ نبی کا لفظ بھی صادق آئے گا۔ (یہی فلاسفہ کا مذہب ہے۔ (مؤلف)) حاشیہ میں ہے اور آیت انعمت علیہم گواہی دیتی ہے کہ اس مصفی غیب سے یہ امت محروم نہیں اور مصفی غیب حسب منطوق آیت نبوت اور رسالت کو چاہتا ہے اور وہ طریق براہ راست بند ہے۔ اس لئے ماننا پڑتا ہے کہ اس موہبت (علم نبوت و رسالت ) کے لئے محض بروز اور ظلیت اور فنافی الرسول کا دروازہ کھلا ہے۔ (یعنی اکتساب کا جو مذہب فلاسفہ کا ہے۔)

اگر خدا تعالیٰ سے غیب کی خبر پانے والا نبی کا نام نہیں رکھتا تو پھر بتلاؤ، کس نام سے اس کو پکارا جائے۔ (یہی فلاسفہ کہتے ہیں۔) پس جبکہ اس مدت تک ڈیڑھ سو پیشین گوئی کے قریب خدا کی طرف سے پا کر بچشم خود دیکھ چکا ہوں کہ صاف طور پر پوری ہوگئیں تو میں اپنی نسبت نبی یا رسول کے نام سے کیونکر انکار کر سکتا ہوں۔ مگر ان معنوں سے کہ میں اپنے رسول خدا سے باطنی فیوض حاصل کر کے اور اپنے لئے اس کا نام پا کر اس واسطہ سے خدا کی طرف سے علم غیب پایا ہے۔ رسول و نبی ہوں مگر بغیر کسی جدید شریعت کے۔ اس طور پر نبی کہلانے سے میں نے کبھی انکار نہ کیا۔ اب بھی میں ان معنوں سے نبی اور رسول ہونے سے انکار نہیں کرتا۔

(خطبہ الہامیہ ص ١٤، خزائن ج ١٦ ص ١٨١، النبوۃ ص ١١٥) ”یہ امت امت وسط ہے اور

٦٢

ترقیات کے لئے ایسی استعداد رکھتی ہے کہ ممکن ۔ اکتساب نبوت ہے۔“ ( جو فلاسفہ کے موافق اہل اسلا

( کشتی نوح ص ١٥، خزائن ج ١٩ ص ١٦) ”پھر

لقب پاتا ہے وہ ختم نبوت کا خلل انداز نہیں۔“

( مرزا قادیانی کا ریویو ص ٦ وے النبوۃ ص ٢٧٠

ہے کہ کوئی شخص براہ راست مقام نبوت حاصل کرلے نبوت محمدیہ سے مکتسب اور مستفاض ہو یعنی ایسا ہو جہت سے بوجہ اکتساب انوار محمدیہ نبوت کے کمال تک صاف تصریح ہے اور تفسیر بھی فلاسفہ کا مذہب ہے )

( الوصیت ص ١٠، خزائن ج ٢٠ ص ٣١١) ”لیکن

نہیں بلکہ سب نبوتوں سے زیادہ اس میں فیض ہے ا سے پہنچا دیتی ہے۔ پیرو الی ان قال مگر ا دونوں لفظ اجتماعی حالت میں صادق آسکتے ہیں۔ (ا

( الاستفتاء ص ١٦، خزائن ج ٢٢ ص ٦٢٧) ”

ہے جو پہلے صحیفوں میں گزر چکی ہے۔ بلکہ یہ نبوت ا سے بغیر کسی کو نہیں ملتا۔“ (یہی نبوت کسبیہ ہے )

( براہین احمدیہ پنجم ضمیمہ ص ١٨٩، خزائن ج ٢١

امتی ہوا اور پورا عکس نبوت حاصل کرنے سے میرا نا

یہ تمام عبارات وہ ہیں جس سے بوضا مذہب باطل کے مطابق نبوت کو کسبی جانا اور علم واطاعت و پیروی کے بناء پر اپنی استعداد سے ا اسلامی نبی ۔ کیونکہ اسلام نے نبوت کا مرتبہ حاص نہیں۔ اس واسطے جو اکتساب نبوت کا قائل ہو، وہ ا

علامہ قاضی عیاض شفا شریف میں فرماتے اكتسابها اى تحصيل النبوة بالمجاه مرتبتها كالفلاسفة ”یوں ہی کافر ہے وہ شخص

صفحہ ٣٠٩

ترقیات کے لئے ایسی استعداد رکھتی ہے کہ ممکن ہے کہ بعض ان میں سے انبیاء ہو جائیں۔ یہی اکتساب نبوت ہے۔“ ( جو فلاسفہ کے موافق اہل اسلام کے خلاف ۔ (مؤلف))

(کشتی نوح ص ١٥، خزائن ج ١٩ ص ١٦) ”پس جو کامل طور پر مخدوم میں فنا ہو کر خدا سے نبی کا لقب پاتا ہے وہ ختم نبوت کا خلل انداز نہیں۔“

(مرزا قادیانی کا ریویو ص ٦ و ٧ ، النبوۃ ص ١٢٧) ”نبوت گو بغیر شریعت ہو اس طرح پر تو منقطع ہے کہ کوئی شخص براہ راست مقام نبوت حاصل کر سکے لیکن اس طرح پر ممتنع نہیں کہ وہ نبوت چراغ نبوت محمدیہ سے مکتسب اور مستفاض ہو یعنی ایسا صاحب کمال ایک جہت سے تو امتی اور دوسری جہت سے بوجہ اکتساب انوار محمدیہ نبوت کے کمال بھی اپنے اندر رکھتا ہو۔“ (اکتساب نبوت کی کیسی صاف تصریح ہے اور تفسیر بھی فلاسفہ کا مذہب ہے )

(الوصیت ص ١٠، خزائن ج ٢٠ ص ٣١١) ”لیکن یہ نبوت محمدیہ اپنی ذاتی فیض رسانی سے قاصر نہیں بلکہ سب نبوتوں سے زیادہ اس میں فیض ہے اور اس نبوت کی پیروی خدا تک بہت سہل طریق سے پہنچا دیتی ہے۔ پیرو الی ان قال مگر اس کا کامل صرف نبی نہیں کہلا سکتا ہاں امتی اور نبی دونوں لفظ اجتماعی حالت میں صادق آسکتے ہیں۔ (یہ بھی اکتساب ہے )“

(الاستفتاء ص ٦٢، خزائن ج ٢٢ ص ٦٣٧) ”اور کہتا ہے کہ اس نبوت سے وہ نبوت مراد نہیں ہے جو پہلے صحیفوں میں گزر چکی ہے۔ بلکہ یہ نبوت ایک درجہ ہے جو ہمارے نبی خیر الوریٰ کی پیروی سے بغیر کسی کو نہیں ملتا۔“ (یہی نبوت کسبیہ ہے )

(براہین احمدیہ پنجم ضمیمہ ص ١٨٩، خزائن ج ٢١ ص ٣٦٠) ”پس اتباع کامل کی وجہ سے میرا نام امتی ہوا اور پورا عکس نبوت حاصل کرنے سے میرا نام نبی ہو گیا۔“

یہ تمام عبارات وہ ہیں جس سے بوضاحت ثابت ہے کہ مرزا قادیانی نے فلاسفہ کے مذہب باطل کے مطابق نبوت کو کسبی جانا اور علم غیب پانے والے کو نبی سمجھا۔ اسی واسطے اتباع و اطاعت و پیروی کے بناء پر اپنی استعداد سے نبی بن بیٹھے تو مرزا قادیانی فلسفی نبی ہوئے، نہ اسلامی نبی۔ کیونکہ اسلام نے نبوت کا مرتبہ حاصل ہونا جہد و مشقت اتباع و اطاعت پر رکھا ہی نہیں۔ اس واسطے جو اکتساب نبوت کا قائل ہو، وہ اسلام کے قانون میں مجرم کفر قرار دیا گیا۔

علامہ قاضی عیاض شفا شریف میں فرماتے ہیں (ص ٥١٩) معہ شرح: ”او جــــــــــــوز اکتسابہا ای تحصیل النبوۃ بالمجاہدۃ والریاضۃ والبلوغ بصفاء القلب الی مرتبتہا کالفلاسفۃ “ یوں ہی کافر ہے وہ شخص جو حصول نبوت کو ریاضت مجاہدہ کے سبب جائز

٦٣

صفحہ ٣١١

سمجھے اور صفائی قلب کے ذریعہ نبوت تک پہنچنے کو ممکن جانے۔ (معتقد المنتقد شریف ص ٩٩) ”النبوة ليست كسبية خلافا للفلاسفه قال التورفشی اعتقاد حصول النبوة بالكسب كفر “نبوت کسبی نہیں بخلاف مذہب فلاسفہ علامہ تورپشتی فرماتے ہیں کہ حصول نبوت بذریعہ کسب کا اعتقاد کفر ہے۔“ (رسالہ ابطال اغلاط قاسمیہ ص ١٣) ”قال ابن حبان من ذهب الى ان النبوة مكتسبة لا تنقطع والى ان الولى افضل من النبى فهو زنديق يجب قتله لتكذيب القرآن وخاتم النبيين “علامہ ابن حبان فرماتے ہیں جو شخص یہ مذہب رکھتا ہے کہ نبوت کسبی ہے اور ولی افضل ہے نبی سے۔ وہ زندیق واجب القتل ہے۔“

عقیدہ کفریہ نمبر ٥ تناسخ

یہ امر اظہر من الشمس ہے کہ مسئلہ تناسخ اسلام میں باطل ہے۔ اسلام کے کسی فرقہ میں تناسخ کا کوئی قائل نہیں یہاں تک کہ فلاسفہ نے بھی ابطال تناسخ پر کافی دلائل پیش کئے ہیں۔ بلکہ اس وقت جو مذہب ہماری تنقیدات کا نشانہ ہے اس نے بھی تناسخ کے باطل ہونے کا اقرار کیا ہے۔

کتابیں بھی تصنیف کی ہیں مگر یہ سب کچھ آریوں کے مقابل اور اپنے لئے صرف اپنی ذات کے لئے مرزا قادیانی تناسخ کے قائل ہیں۔ تاکہ دعوٰی مسیحیت ونبوت کو چار چاند لگ جائیں۔ حقیقت یہ ہے کہ مرزا قادیانی نے عیسیٰ مسیح اور نبی بن کر تناسخ کے مسئلے کو اسلام میں جگہ دینے کی کوشش کی اور اس مسئلہ تناسخ کے کریکٹ میں عجیب عجیب ہاتھ دکھائے۔ بہت رن کئے۔ لیکن پھر بھی مسیحیت ونبوت کا کپ ہاتھ نہ آیا۔ دعوٰی کرشنیت نے سارے بال آؤٹ کر دیئے۔

تناسخ کیا چیز ہے؟

تناسخ کی چند قسمیں ہیں۔ تفصیل منظور ہو تو ہدیہ سعیدیہ ملاحظہ فرمائیے۔ یہاں ہمارے زیر بحث تناسخ کی صرف ایک قسم ہے یعنی میت کی روح اس کے جسم کو چھوڑ کر دوسرے کے جسم میں چلی جائے۔ مرزا قادیانی نے اپنے تناسخ کو کس طرح حلوے کا نوالہ تصور کیا ہے۔ عبارتیں ملاحظہ ہوں۔

(آئینہ کمالات ص ٢٥٤، خزائن ج ٥ ص ٢٥٤) ”میرے پر کشفاً ظاہر کیا گیا ہے کہ یہ زہر ناک ہوا جو عیسائی قوم سے دنیا میں پھیل گئی۔ حضرت عیسیٰ کو اس کی خبر دی گئی۔ تب ان کی روح روحانی نزول کے لئے حرکت میں آئی اور اس نے جوش میں آکر اور اپنی امت کو ہلاکت کا مفسدہ پرداز

٦٤

پاکر اس نے زمین پر اپنا قائم مقام اور شبیہ (جسمانی وجود اس کو خدائے تعالیٰ کے وعدہ کے موافق ایک شبیہ (جسم) اور سیرت اور روحانیت نازل ہوئی۔ (یعنی مسیح کی روح مسیح میں بغایت اتصال کیا گیا۔ گویا وہ ایک ہی گوہر کے جب ایک ہی روح اس جسم میں ہے)

(آئینہ کمالات اسلام ص ٣٤١ ، خزائن ج ٥ ص ٣٤١)

تعالیٰ نے اس کے جوش کے موافق اس کی مثال کو (یعنی عیسیٰ پہلے کیا گیا تھا۔ ”وعدہ تو یہ تھا کہ حضرت عیسیٰ اپنی روح پاکر نہ ان کی روح مرزا قادیانی کے جسم میں بھیجی جائے گی ۔

(آئینہ کمالات اسلام ص ٣٤٦ ، خزائن ج ٥ ص ایضاً)

حلول ہمیشہ کسی کامل متبع میں ہو کر جلوہ گر ہوتا ہے۔“

(تحفہ قیصریہ ص ٢١، خزائن ج ١٢ ص ٢٧٤)

”میں وہ پر یسوع مسیح کی روح سکونت رکھتی ہے۔“

(انجام آتھم ص ٨٠، خزائن ج ١١ ص ایضاً)

”وہ مسیح در پیرایہ بروز“

(ضمیمہ رسالہ جہاد ص ٤، خزائن ج ١٧ ص ٢٦)

” روحانی شکل میں اور خو، اور طبیعت پر بھیجا گیا ہوں۔“

(تحفہ گولڑویہ ص ٩٩ ، خزائن ج ١٧ ص ٢٥٩)

”م سے پورا کیا جو اپنی خو اور روحانیت کی رو سے گویا آنحضر وہی تھا اور آسمان پر ظلی طور پر آپ کے نام کا شریک تھا

(نزول المسیح ص ٤، حاشیہ، خزائن ج ١٨ ص ٣٨١

محمدی نبوت کی چادر کو بھی ظلی طور پر اپنے پر لے گا اور ا بھی اس کی قبر میں جائے گا تا کہ یہ خیال نہ ہو کہ کوئی ن صورت تناسخ ہے کیونکہ جب روح کسی دوسرے گی اور وہی وجود ہوگا جو پہلے تھا۔) بلکہ بروزی طور پر روح جسم مرزا میں آئی جب تو مرزا قادیانی خاتم الانبیا

٢٥

صفحہ ٣١١

پاکر اس نے زمین پر اپنا قائم مقام اور شبیہ (جسمانی وجود) چاہا جو اس کا ایسا ہم طبع ہو گویا وہی ہو سو اس کو خدائے تعالیٰ کے وعدہ کے موافق ایک شبیہ (جسم) عطا کیا اور اس میں (جسم) مسیح کی ہمت اور سیرت اور روحانیت نازل ہوئی۔ (یعنی مسیح کی روح میرے جسم میں اتر آئی) اور اس میں اور مسیح میں بشدت اتصال کیا گیا۔ گویا وہ ایک ہی گوہر کے دو ٹکڑے بنائے گئے۔“ (ہونا ہی چاہئے جب ایک ہی روح اس جسم میں ہے)

(آئینہ کمالات اسلام ص٣٤١، خزائن ج٥ ص٣٤١) میں اس مضمون کے متعلق ہے۔ ”سو خدا تعالیٰ نے اس کے جوش کے موافق اس کی مثال کو (یعنی جسم کو) دنیا میں بھیجا تا کہ وہ وعدہ پورا ہو جو پہلے کیا گیا تھا۔“ وعدہ تو یہ تھا کہ حضرت عیسیٰ اپنی روح معہ اپنے جسم میں تشریف لائیں گے۔ نہ یہ کہ ان کی روح مرزا قادیانی کے جسم میں بھیجی جائے گی۔

(آئینہ کمالات اسلام ص٣٤٦، خزائن ج٥ ص ایضاً) میں یوں لکھا ہے اور حقیقت محمدیہ کا حلول ہمیشہ کسی کامل متبع میں ہو کر جلوہ گر ہوتا ہے۔“

(تحفہ قیصریہ ص٢١، خزائن ج١٢ ص٢٧٢) ”میں وہ شخص ہوں جس کی روح میں بروز کے طور پر یسوع مسیح کی روح سکونت رکھتی ہے۔“

(انجام آتھم ص٥٠، خزائن ج١١ ص ایضاً) ”و گفت مرا سبحانہ کہ تو کوئی

مسیح در پیرایہ بروز“

(ضمیمہ رسالہ جہاد ص٤، خزائن ج١٧ ص٢٩) ”سو میں وہی اوتار ہوں جو حضرت مسیح کی روحانی شکل میں اور خو، اور طبیعت پر بھیجا گیا ہوں۔“

(تحفہ گولڑویہ ص٩٩، خزائن ج١٧ ص٢٥٩) ”اس خدمت منصبی کو ایک ایسے امتی کے ہاتھ سے پورا کیا جو اپنی خو اور روحانیت کی رو سے گویا آنحضرت کے وجود کا ایک ٹکڑا تھا۔ یا یوں کہو کہ وہی تھا اور آسمان پر ظلی طور پر آپ کے نام کا شریک تھا۔“

(نزول المسیح ص٤، حاشیہ، خزائن ج١٨ ص٣٨١) ”بلکہ جیسا کہ ابتداء سے قرار پا چکا ہے وہ محمدی نبوت کی چادر کو بھی ظلی طور پر اپنے پر لے گا اور اپنی زندگی اسی کے نام پر ظاہر کرے گا اور مر کر بھی اس کی قبر میں جائے گا تا کہ یہ خیال نہ ہو کہ کوئی علیحدہ وجود ہے اور یا علیحدہ رسول آیا۔“ (یہی صورت تناسخ ہے کیونکہ جب روح کسی دوسرے جسم میں آئے گی تو اپنا پہلا نام ہی ظاہر کرے گی اور وہی وجود ہوگا جو پہلے تھا۔) بلکہ بروزی طور پر وہی آیا جو خاتم الانبیاء تھا۔ (یعنی حضور کی روح جسم مرزا میں آئی جب تو مرزا قادیانی خاتم الانبیاء ہوئے) مگر ظلی طور پر اسی راز کے لئے کہا

٦٥

صفحہ ٣١٣

گیا کہ مسیح موعود آنحضرت ﷺ کی قبر میں دفن کیا جائے گا کیونکہ رنگ دوئی اس میں نہیں آیا۔ (دوئی کیوں ہو جب ایک ہی روح ہوئی یہی تو تناسخ ہے ) پھر کیونکر علیحدہ قبر میں تصور کیا جائے۔ (یعنی مرزا قادیانی حضور کی روح کے لئے معاذ اللہ قبر ہے کہ حضور کی روح مرزا قادیانی کے جسم میں جو مثل قبر کے ہے۔ مدفون ہوئی۔ اس خباثت کو دیکھتے چلئے ) دنیا اس نکتہ کو نہیں پہنچانتی ( وہ نہیں سمجھتی کہ میں تناسخ کے طور پر یہ سب کچھ کہہ رہا ہوں۔ اور حقیقت تناسخ کو نہیں پہچانتی کہ یہ جائز ہے ) پھر کہا کہ اس نکتہ کو یاد رکھو کہ میں رسول اور نبی نہیں ہوں۔ یعنی با اعتبار نئی شریعت کے اور نئے دعوے کے اور نئے نام کے۔ (ہونا یہ ہی چاہئے کیونکہ حضور کی روح جب مرزا قادیانی کے جسم میں ہے تو پھر نئی شریعت کیسی؟ نیا دعویٰ کیسا؟ نیا نام کیوں؟ سب پہلا ہی ہے ) اور میں رسول اور نبی ہوں۔ یعنی باعتبار ظلیت کاملہ کے میں وہ آئینہ ہوں جس میں محمدی شکل اور محمدی نبوت کا کامل انعکاس ہے۔ اگر میں کوئی علیحدہ شخص نبوت کا دعویٰ کرنے والا ہوتا تو خدا تعالیٰ میرا نام محمد اور احمد اور مصطفیٰ اور مجتبیٰ نہ رکھتا۔ ( افترا ہے اللہ تعالیٰ پر کہ میرا یہ نام رکھا۔ کہاں لکھا ہے؟ تمہارا نام وہی ہے جو تمہارے باپ نے رکھا غلام احمد ، الہام حجت نہیں )

اس قسم کی بہت سی عبارتیں ہیں جو بخوف تطویل ترک کر دیں اور صرف وہ عبارتیں نقل کیں جو ایک دوسرے کی تفسیر وتوضیح کرتی ہیں۔ ان تمام عبارتوں کا خلاصہ صرف ان الفاظ میں ہے کہ میں ایک جسم ہوں جس میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی روح نے نزول کیا۔ ان کی روح مجھ میں سکونت پذیر ہے۔ حضور اکرم ﷺ کا بھی حلول مجھ میں ہوا۔ میرا نام عیسیٰ محمد احمد خدا نے اس واسطے رکھا کہ میں اور کوئی نہیں ہوں۔ میرے جسم میں ان کی روح ہے جبھی تو میرے نام وہی ہیں جو پہلی مرتبہ ان کے نام تھے۔ میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا اوتار ہوں، بروز ہوں، ظل ہوں۔ مسلمانو ! غور کرو اگر یہ صورت تناسخ نہیں تو اور تناسخ کس قادیانی چڑیا کا نام ہوگا۔

بحث ظل و بروز

مرزا قادیانی نے ایک جگہ تو کہا کہ میں عیسیٰ کا اوتار ہوں۔ دوسری جگہ کہا کہ میں عیسیٰ کا بروز ہوں۔ تیسری جگہ کہا میں ظل ہوں۔ (دیکھو عبارت رسالہ جہاد ص ٤، خزائن ج ١٧ ص ٢٦، قیصریہ ص ٢١، خزائن ج ٢ ص ٢٠٣، انجام آتھم ص ٨٠، خزائن ج ١١ ص ایضاً، نزول المسیح ص ٤، خزائن ج ١٨ ص ٣٨١) اس سے معلوم ہوا کہ اوتار اور بروز وغیرہ الفاظ مترادف ہیں۔ جو اوتار کے معنی وہی ظل و بروز کے معنی۔ بلکہ وہ خود کہتے ہیں:

٦٦

”خدا کا وعدہ تھا کہ آخری زمانہ میں اس کا بروز یعنی اوتار ظہور سے پورا ہوا ۔“ (لیکچر اسلام سیالکوٹ ص ٣٣، خزائن ج ٢٠ ص مرزا قادیانی کی اس تفسیر نے کوئی شک ہی نہیں رکھا کہ بروز و ظل او

اوتار کے معنی

لفظ اوتار ہندی لفظ ہے۔ اس سے اترنا، اتارنا بنایا ہے۔ یہ لفظ ہندوؤں کے یہاں بہت زیادہ استعمال ہوتا ہے۔ اس کسی بڑے پر استعمال کرتے ہیں۔ کیونکہ ان کے یہاں یہ عقیدہ ہستی میں آگیا۔ دوسرے اسلام کی اصطلاح میں حلول کے یہ معنی جیسا کہ حلولیہ کا عقیدہ ہے تو مرزا قادیانی کا یہ کہنا کہ میں عیسیٰ کا اوت قادیانی کا یہی عقیدہ تھا کہ عیسیٰ کی روح میرے جسم میں اتر آئی کے معنی میں ظل و بروز کا استعمال کیا ہے۔ جیسا کہ ان کی تفسیر بتاتی

مرزا قادیانی کا دعویٰ کرشنیت

”ملک

(تتمہ حقیقت الوحی ص ٨٥، خزائن ج ٢٢ ص ٥٢١)

ہے۔ جس کو روپ گوپال بھی کہتے ہیں اس کا نام بھی مجھے لکھ دیا گیا کرشن کے ظہور کا ان دنوں میں انتظار کرتے ہیں وہ کرشن میں ہی ”جم

(لیکچر سیالکوٹ ٢ نومبر ١٩٠٤ء خزائن ج ٢٠ ص ٢٢٨)

ہوں۔ ایسا ہی راجہ کرشن کے رنگ میں بھی ہوں۔ جو ہندو مذ ایک بڑا اوتار تھا یا یوں کہنا چاہئے تھا کہ روحانی حقیقت کی رو (.........) پھر کہا خدا کا وعدہ تھا کہ آخری زمانہ میں اس کا ب وعدہ میرے ظہور سے پورا ہوا۔ (کہاں خدا کا وعدہ قرآن وح (معاذ اللہ) مرزا قادیانی کے اس دعویٰ کرشنیت نے تناسخ کو بہر آریوں کے بقول مرزا قادیانی کرشن کے ظہور کا انت ہوگا اور ان کا عقیدہ تناسخ ہے۔ تو اسی تناسخ کے اصول سے وہ کر اس لئے کہ کرشن خود تناسخ کا قائل تھا اور اس نے خود اپنے دوسر کرشن کا یہ قول موجود ہے۔

٦٧

صفحہ ٣١٣

”خدا کا وعدہ تھا کہ آخری زمانہ میں اس کا بروز یعنی اوتار پیدا کرے، سو یہ وعدہ میرے ظہور سے پورا ہوا ۔“ (لیکچر اسلام سیالکوٹ ص ٣٤، خزائن ج ٢٠ ص ٢٤٩، از تحریک احمدیت ص ٢٧)

مرزا قادیانی کی اس تفسیر نے کوئی شک ہی نہیں رکھا کہ بروز و ظل اوتار کے معنی میں ہے۔

اوتار کے معنی

لفظ اوتار ہندی لفظ ہے۔ اس سے اترنا، اتارنا بنایا گیا ہے۔ جو صبح شام مستعمل ہوتا ہے۔ یہ لفظ ہندوؤں کے یہاں بہت زیادہ استعمال ہوتا ہے۔ اس لفظ کو اپنے عقیدہ کے لحاظ سے کسی بڑے پر استعمال کرتے ہیں۔ کیونکہ ان کے یہاں یہ عقیدہ ہے کہ خدا حلول کر کے اس کی ہستی میں آ گیا۔ دوسرے اسلام کی اصطلاح میں حلول کے یہ معنی بتائے ہیں کہ خدا کی ہستی کا نزول جیسا کہ حلولیہ کا عقیدہ ہے تو مرزا قادیانی کا یہ کہنا کہ میں عیسیٰ کا اوتار ہوں صاف خبر دیتا ہے کہ مرزا قادیانی کا یہی عقیدہ تھا کہ عیسیٰ کی روح میرے جسم میں اتر آئی ہے۔ یہی تناسخ ہے اور اسی اوتار کے معنی میں ظل و بروز کا استعمال کیا ہے۔ جیسا کہ ان کی تفسیر بتائی ہے اس کا بروز یعنی اوتار ۔

مرزا قادیانی کا دعوٰی کرشنیت

(تتمہ حقیقۃ الوحی ص ٨٥، خزائن ج ٢٢ ص ٥٢١) ”ملک ہند میں کرشن نام ایک نبی گزرا ہے۔ جس کو ردر گوپال بھی کہتے ہیں اس کا نام بھی مجھے لکھ دیا گیا ہے پس جیسا کہ آریہ قوم کے لوگ کرشن کے ظہور کا ان دنوں میں انتظار کرتے ہیں وہ کرشن میں ہی ہوں ۔“

(لیکچر سیالکوٹ ٢؍ نومبر ١٩٠٤ء خزائن ج ٢٠ ص ٢٢٨) ”جیسا کہ مسیح ابن مریم کے رنگ میں ہوں۔ ایسا ہی راجہ کرشن کے رنگ میں بھی ہوں۔ جو ہندو مذہب کے تمام اوتاروں میں سے ایک بڑا اوتار تھا یا یوں کہنا چاہئے کہ روحانی حقیقت کی رو سے میں وہی (کرشن) ہوں ۔“

(..........) پھر کہا خدا کا وعدہ تھا کہ آخری زمانہ میں اس کا بروز یعنی اوتار پیدا کرے۔ سو یہ وعدہ میرے ظہور سے پورا ہوا۔ (کہاں خدا کا وعدہ قرآن وحدیث میں؟ یہ خدا پر افتراء ہے۔ (معاذ اللہ)

مرزا قادیانی کے اس دعوٰی کرشنیت نے تناسخ کو بہت واضح کر دیا۔ غور کیجئے!

آریوں کے بقول مرزا قادیانی کرشن کے ظہور کا انتظار کرنا ان کے عقیدہ کے لحاظ سے ہوگا اور ان کا عقیدہ تناسخ ہے۔ تو اسی تناسخ کے اصول سے وہ کرشن کے جنم کو تسلیم کرتے ہیں اور یہ اس لئے کہ کرشن خود تناسخ کا قائل تھا اور اس نے خود اپنے دوسرے جنم کو بتایا ہے۔ چنانچہ گیتا میں کرشن کا یہ قول موجود ہے۔

٦٧

صفحہ ٣١٥
یـدایـدا ہی دھرمیـہ گلانـر بھـوتی بھـارت
ابہیت دہاتم دھرمیـہ تدا تمانم سرجامہم

جب بے دینی کا زور ہوتا ہے تو جنم لیتا ہوں۔ (ص٣٣٩ کاویہ از علامہ آسی مدظلہ امرتسری)

گیتا مترجمہ فیضی ص ١٣٦:

بـقـیـد تـنـاسـخ کـنـد داورش
بـانـواع قـالـب دروں آورش
نـه مـنـتـهـائے مـعـبـود در مـیـرونـد
بـجـسـم سـگ وخـوک در مـیـرونـد

اعمال کی سزا و جزا اس دنیا میں بذریعہ آواگون ملتی ہے۔ یوم الآخرة کوئی نہیں۔

پھر کرشن کہتا ہے ہم گزشتہ جنموں میں بھی پیدا ہوئے تھے اور اگلے جنموں میں بھی پیدا ہوں گے جس طرح انسانی زندگی میں لڑکپن، جوانی، بڑھاپا ہوا کرتا ہے۔ اسی طرح انسان بھی مختلف قالب قبول کرتا ہے اور پھر اس قالب کو چھوڑ دیتا ہے۔ (گیتا اشلوک ١٢، ١٣ ادہائے ٢، مترجمہ دوار کا پرشاد افق) پھر کہا جس طرح انسان پوشاک بدلتا ہے اسی طرح آتما بھی ایک قالب سے دوسرے قالب کو قبول کرتی ہے۔ (اشلوک ٢٢ ادہائے ٢، منقول از قہر یزدانی ص ٧)

گیتا کی ان عبارتوں سے کرشن مذہب کا پتہ چل گیا کہ وہ تناسخ کا قائل تھا اور قیامت کا منکر۔

مرزا قادیانی نے کرشن بن کر تناسخ کا اقرار کر لیا

کرشن تناسخ کا قائل ہوا، مرزا قادیانی کہتا ہے کہ میں وہی کرشن ہوں اس کرشن کا اوتار ہوں تو لامحالہ مرزا قادیانی تناسخ کے قائل ہوئے۔ ورنہ دعویٰ کرشنیت جھوٹا۔ کرشن کہتا ہے کہ میں نے پہلے بھی جنم لیا اور بعد کو بھی جنم لیتا رہوں گا۔ آریا اس کے جنم کا انتظار کرتے ہیں۔

مرزا قادیانی کہتا ہے کہ میں ہی کرشن ہوں تو یقیناً کرشن نے مرزا قادیانی میں جنم لیا تو مرزا قادیانی تناسخ فیہ ہو کر تناسخ کے قائل ہوئے۔ ورنہ کرشن کا دعویٰ غلط کذب محض ہوا۔

شاید کوئی خیال کرے کہ گیتا کوئی معتبر کتاب نہیں ہے جس میں کرشن کی طرف اقرار تناسخ وانکار قیامت کی نسبت کی گئی ہے۔ تو اس کا جواب یہ ہے کہ کسی کے نزدیک معتبر ہو یا نہ ہو مگر مرزا قادیانی کے نزدیک گیتا ضرور معتبر ہے۔ کیونکہ ان پر فوراً ایک الہام ہوتا ہے۔ ”مجھے منجملہ اور الہاموں کی اپنی نسبت ایک یہ بھی الہام ہوا تھا کہ ہے کرشن رودر گوپال تیری مہما گیتا میں لکھی ہے۔

(لیکچر سیالکوٹ ص ٣٣، خزائن ج ٢٠ ص ٢٢٩)

٦٨

مرزا قادیانی کے اس الہام نے بتا دیا کچھ اس میں لکھا ہے وہ صحیح ہے ورنہ یہ الہام مرزا قا ہے تو مرزا قادیانی بھی تناسخ کے معترف ہوئے۔

ایک غلطی کے ازالہ میں تناسخ کے جلوے

اس پر وہی نبوت کی چادر پہنائی جاتی نبی ہونا غیرت کی جگہ نہیں...... اس کا نام آسمان گئے؟) اس کے یہ معنی ہیں کہ محمد کی نبوت محمد کو ہی مل ص ٤، خزائن ج ١٨ ص ٢٠٨) (محمد کی نبوت محمد کو ملنے مرزا قادیانی کے قالب میں آئے۔ ”لیکن اگر کو اتحاد کے اور نفی غیریت کے اسی کا نام پالیا ہو ۔ “ ( یہ اتحاد نفی غیریت کے ساتھ نام وا مرزا قادیانی ہی اس قابل نکلے اور کوئی فرد ایسا قادیانی) اسی محمد ﷺ کی تصویر (یعنی جسم) اور اس يلحقوا بهم ”بروز (تناسخ) کے طور پر مبعو (رومی) قرار دیا گیا ہے۔ (رجسٹری شدہ تناسخ یہی ہے۔) ہے۔ ) یہ عمیق اشارہ ہے اس بات کی طرف کہ اس کی روح کا روپ ہوگا۔ (روح کا روپ تو پوری تصویر ہے۔ مجھے بروزی ( تناسخی) صور میں نہیں ہے بلکہ محمد ﷺ ہے۔ (یعنی اس کی ر اور رسالت کسی دوسرے کے پاس نہیں گئی۔ (تـ جائے۔) محمد کی چیز محمد کے پاس رہی۔ ( کیو تناسخ کی حقیقت ہے۔)

ناظرین! غور فرمائیں کہ مرزا ۔ کے مدعی ہوئے۔ کیا کوئی ذی عقل و ہوش اس نعوذ بالله منه!

صفحہ ٣١٥

مرزا قادیانی کے اس الہام نے بتا دیا کہ گیتا مرزا قادیانی کے نزدیک معتبر ہے اور جو کچھ اس میں لکھا ہے وہ صحیح ہے ورنہ یہ الہام مرزا قادیانی کا غلط ہوا جاتا ہے۔ گیتا میں تناسخ کا اقرار ہے تو مرزا قادیانی بھی تناسخ کے معترف ہوئے۔

ایک غلطی کے ازالہ میں تناسخ کے جلوے

اس پر وہی نبوت کی چادر پہنائی جاتی ہے جو نبوت محمدیہ کی چادر ہے۔ اس لئے اس کا نبی ہونا غیرت کی جگہ نہیں ...... اس کا نام آسمان پر محمد احمد ہے۔ (مرزا قادیانی کب آسمان پر گئے؟ ) اس کے یہ معنی ہیں کہ محمد کی نبوت محمد کو ہی ملی۔ گو بروزی (تناسخ کی) طور پر (ایک غلطی کا ازالہ ص٢، خزائن ج ١٨ ص ٢٠٨) (محمد کی نبوت محمد کو ملنے کے معنی اس وقت صحیح ہو سکتے ہیں کہ حضور کی روح مرزا قادیانی کے قالب میں آئے۔ ”لیکن اگر کوئی شخص اسی خاتم النبیین میں ایسا گم ہو کہ بباعث اتحاد کے اور نفی غیریت کے اسی کا نام پا لیا ہو۔“

(ایک غلطی کا ازالہ ص ٣، خزائن ج ١٨ ص ٢٠٩)

(یہ اتحاد نفی غیریت کے ساتھ نام وہی پانا تناسخ کہلاتا ہے۔ پھر امت محمدیہ میں صرف مرزا قادیانی ہی اس قابل نکلے اور کوئی فرد ایسا نہ ہوا۔ بڑی زبردستی ہے) کیونکہ یہ محمد ثانی (مرزا قادیانی) اسی محمد ﷺ کی تصویر (یعنی جسم ) اور اسی کا نام میں بموجب آیت ”وآخرين منهم لما يلحقوا بهم“ بروز (تناسخ) کے طور پر وہی خاتم الانبیاء ہوں۔ مجھے آنحضرت ﷺ کا ہی وجود (روحی) قرار دیا گیا ہے۔

(رجسٹری شدہ تناسخ یہی ہے۔ ) تو پھر کونسا الگ انسان ہوا۔ (تناسخ میں یہی ہوتا ہے۔) یہ عمیق اشارہ ہے اس بات کی طرف کہ وہ روحانیت کی رو سے اس نبی سے نکلا ہوا ہوگا اور اس کی روح کا روپ ہوگا۔ (روح کا روپ ہی تو تناسخ ہے) وجود بروزی (تناسخی) اپنے اصل کی پوری تصویر ہے۔ مجھے بروزی (تناسخی) صورت نے نبی رسول بنایا۔ میرا نفس (روح) درمیان میں نہیں ہے بلکہ محمد ﷺ ہے۔ (یعنی اس کی روح ) کیا خوب تفسیر ہے تناسخ کی ) پس محمد کی نبوت و رسالت کسی دوسرے کے پاس نہیں گئی۔ (تناسخ میں دوسرا ہوتا ہی نہیں تو دوسرے کے پاس کیوں جائے۔) محمد کی چیز محمد کے پاس رہی۔ ( کیونکہ حضور کی روح مرزا قادیانی کے جسم میں ہے۔ یہی تناسخ کی حقیقت ہے۔)

(ایک غلطی کا ازالہ ص ٥، خزائن ج ١٨ ص ٢٠٩)

ناظرین ! غور فرمائیں کہ مرزا نے کیونکر تناسخ کے طور پر اپنے آپ کو محمد بنایا اور نبوت کے مدعی ہوئے۔ کیا کوئی ذی عقل و ہوش اس قسم کی باتیں کر سکتا ہے۔ اس قسم کی گپ اڑا سکتا ہے۔ نعوذ بالله منه!

٦٩

صفحہ ٣١٧

نوٹ: بین القوسین فقیر کے جملے ہیں باقی مرزا قادیانی کی عبارت جو اشتہار سے التقاطی صورت میں لئے گئے ہیں۔

عقیدہ کفریہ نمبر ٦ حلول

ایک چیز کے دوسرے چیز میں سما جانے اور پیوست ہو جانے کو حلول کہتے ہیں۔ پس جو لوگ کہتے ہیں کہ ممکنات خصوصاً بندہ کامل اللہ کی ذات میں اس طرح مل جاتا ہے جیسا کہ قطرہ دریا میں، یا اولیاء اللہ اور اللہ ایک ہی ہے کیونکہ وہ ان کی ذات میں حلول کرتا ہے اور ان کے اندر سما جاتا ہے۔ سو یہ بالکل غلط ہے اور صاف کفر۔

(عقائد الاسلام ص ٣٣ مؤلف تفسیر حقانی علامہ حقانی دہلوی)

حلول کے متعلق مرزا قادیانی کی عبارتیں

(تجلیات الہیہ ص ١٣، خزائن ج ٢٠ ص ٤٠٤) مرزا قادیانی پر وحی آتی ہے: ”انت منی بمنزلة بروزی وعد الله ان وعد الله لا يبدل“ خدا کہتا ہے۔ اے مرزا تو میرا بروز (اوتار) ہے۔ یہ اللہ کا وعدہ ہے اللہ کا وعدہ بدلتا نہیں۔ بروز عربی کا لفظ ہے۔ اس کا ترجمہ مرزا قادیانی نے یوں کیا ہے۔ خدا کا وعدہ تھا کہ آخری زمانہ میں اس کا بروز یعنی اوتار پیدا کرے سو یہ وعدہ میرے ظہور سے پورا ہوا۔

(لیکچر اسلام سیالکوٹ ص ٣٤، خزائن ج ٢٠ ص ٢٢٩)

مرزا قادیانی کی تفسیر نے بتا دیا کہ بروز کے معنی اوتار کے ہیں تو وحی کا ترجمہ یہ ہوا کہ اے مرزا تو میرا اوتار ہے۔ مشرکین بھی یہی کہتے ہیں کہ رام کرشن لچھمن اور کون کون خدا کے اوتار ہیں۔ اوتار ہنود کے یہاں اس کو کہتے ہیں جس میں خدا حلول کرے۔ خدا اس میں اتر آئے۔ داخل ہو جائے تو لا محالہ مرزا کا اوتار بن کر یہی عقیدہ ہوا کہ اللہ تعالیٰ مجھ میں حلول کئے ہوئے ہیں۔ خدا مجھ میں داخل ہو گیا ہے۔

(حقیقت الوحی ص ٤٤، خزائن ج ٢٢ ص ٤٦)

میں لکھتے ہیں: ”جو اپنی نفسانی حیات سے مر کر خدا تعالیٰ کی ذات کا مظہر اتم ہو جاتے ہیں اور ظلی طور پر خدا تعالیٰ اس کے اندر داخل ہو جاتا ہے۔ ان کی حالت سب سے الگ ہے۔“ کیسے صاف طریقہ سے مرزا قادیانی نے حلول ودخول کا اقرار کر لیا۔

باقی عبارتیں حلول کے متعلق بحث تناسخ میں گزر چکی ہیں۔ ملاحظہ فرمالیں۔ ٧٠

حکم قائل حلول وتناسخ

علامہ قاضی عیاضؒ شفا شریف میں ف ”وكذالك من ادعى مجالسة الله والعر الاشخاص أو قال بتناسخ الارواح في ا کا یا ہم کلامی کا یا تناسخ کا قائل ہو وہ بھی کافر ہے۔

عقیدہ کفریہ نمبر ٧ اثبات

خدا کے لئے اولاد ثابت کرنا

(حقیقت الوحی ص ٨٦، خزائن ج ٢٢ ص ٨٩)

بمنزلة ولدی اے مرزا تو میرے بیٹے کے قائم م مرزا قادیانی نے اس وحی کے مطابق خ شخص جانتا ہے کہ جب کوئی کہے کہ میاں تمہارا مر ہے۔ تو اس نے پہلے اپنے لئے بیٹا ہونے کا اقرا قادیانی نے وحی میں خدا کے بیٹے کو ثابت کرتے ہو خدا کے بیٹے بن گئے۔

”ایک دفعہ بشیر احمد میرا لڑکا آنکھوں ک رہا۔ کچھ فائدہ نہ ہوا۔ تب اس کی اضطراری حالت ہوا ”ابرق طفلی بشیر“ میرے لڑکے بشیر ن

لیجئے مرزا قادیانی نے اس خانہ ساز الہ ”اور جیسا کہ مسیح اور اس عاجز کا مقام سے تعبیر کر سکتے ہیں۔“

خلاصہ یہ کہ مرزا قادیانی خدا کے بی کے نزدیک خدا کے بیٹے ہیں۔ یہودیوں اور نصرا بیٹے اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام خدا کے بیٹے ہیں م الله وقالت النصارى المسيح ابن

صفحہ ٣١٧

حکم قائل حلول و تناسخ

علامہ قاضی عیاضؒ شفا شریف میں ص ٥١٥ آخر کتاب مع شرح فرماتے ہیں: ”وكذالك من ادعى مجالسة الله والعروج اليه ومكالمة او حلوله فى بعض الاشخاص اوقال بتناسخ الارواح فى الاشخاص“ جو شخص خدا کی ہم نشینی یا معراج کا یا ہم کلامی کا یا تناسخ کا قائل ہو وہ بھی کافر ہے۔

عقیدہ کفریہ نمبر ٧ اثبات الولد لله سبحانه

خدا کے لئے اولاد ثابت کرنا

(حقیقت الوحی ص ٨٦ خزائن ج ٢٢ ص ٨٩) مرزا قادیانی پر وحی آتی ہے۔ ”انت منی بمنزلة ولدى اے مرزا تو میرے بیٹے کے قائم مقام ہے۔“

مرزا قادیانی نے اس وحی کے مطابق خدا کے بیٹے ہونے کا اقرار کیا اور خود بیٹا بنا۔ ہر شخص جانتا ہے کہ جب کوئی کہے کہ میاں تمہارا مرتبہ ہمارے نزدیک ہمارے بیٹے کے قائم مقام ہے۔ تو اس نے پہلے اپنے لئے بیٹا ہونے کا اقرار کیا پھر اس کے بیٹے کا قائم مقام بتایا۔ مرزا قادیانی نے وحی میں خدا کے بیٹے ہونے کو ثابت کرتے ہوئے اپنے آپ کو قائم مقام بنایا اس طرح خود خدا کے بیٹے بن گئے۔

”ایک دفعہ بشیر احمد میرا لڑکا آنکھوں کی بیماری سے بیمار ہو گیا اور مدت تک علاج ہوتا رہا۔ کچھ فائدہ نہ ہوا۔ تب اس کی اضطراری حالت دیکھ کر میں نے جناب الٰہی میں دعا کی تو یہ الہام ہوا ”ابرق طفلی بشیر“ میرے لڑکے بشیر نے آنکھیں کھول دیں۔“

(حاشیہ حقیقت الوحی ص ٨٦، خزائن ج ٢٢ ص ٨٩)

لیجئے مرزا قادیانی نے اس خانہ ساز الہام میں اپنے بیٹے بشیر کو خدا کا بیٹا بنا دیا۔

”اور جیسا کہ مسیح اور اس عاجز کا مقام ایسا ہے کہ اس کو استعارہ کے طور پر ابنیت کے لفظ سے تعبیر کر سکتے ہیں۔“

(توضیح مرام ص ٢٧، خزائن ج ٣ ص ٦٤)

خلاصہ یہ کہ مرزا قادیانی خدا کے بیٹے ہیں اور حضرت مسیح علیہ السلام بھی مرزا قادیانی کے نزدیک خدا کے بیٹے ہیں۔ یہودیوں اور نصرانیوں کا بھی یہی مذہب تھا کہ حضرت عزیر خدا کے بیٹے اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام خدا کے بیٹے ہیں۔ خدا فرماتا ہے: ”وقالت اليهود عزير بن الله وقالت النصرى المسيح ابن الله“ خدا ان کا رد فرماتا ہے: ”ذالك قولهم

٧١

صفحہ ٣١٩

بافواههم " یہ ان کافروں کی بکواس ہے۔ ارشاد فرماتا ہے۔ "سبحانه ان يكون له ولد" خدا پاک ہے اس سے کہ اس کے ولد ہو۔

ایک تو کفر اس پر ہٹ دھرمی

مرزا قادیانی کہتے ہیں کہ خدا فرماتا ہے: " فاذكروا الله كذكركم ابائكم او اشد ذكرا " پس تم خدا کی یاد کرو جیسا کہ تم اپنے باپوں کی یاد کرتے ہو۔ پس اس جگہ خدا تعالیٰ کو باپ کے ساتھ تشبیہ دی۔

(حقیقۃ الوحی ص ٦٤، خزائن ج ٢٢ ص ٦٧)

معاذ اللہ کیا تحریف قرآن ہے کہ اس آیت میں خدا کو باپ سے تشبیہ دی۔ ان سے کوئی پوچھے کہ کاف حرف تشبیہ لفظ ذکر پر داخل ہے یا لفظ آباء پر تشبیہ خدا کے ساتھ جب ہوتی جب یہ کہا جاتا الله كابائكم خدا تمہارے باپوں کی طرح ہے۔ حالانکہ کاف حرف تشبیہ ذکر پر داخل ہے۔ جس کا صاف مطلب یہ ہے۔ خدا کا ذکر اس کثرت وشوق سے کرو جیسا کہ تم اپنے باپوں کا ذکر کرتے ہو۔

یہاں ذکر کو ذکر سے تشبیہ دی، نہ کفار کے باپوں کو خدا سے۔ جس کی عربیت کا یہ حال ہو کہ شبہ اور مشبہ بہ کو نہ پہچانتا ہو وہ فصاحت و بلاغت کا مدعی ہو۔ ایک بچہ شرح مائۃ عامل کا جانے والا اس سے زیادہ قابلیت رکھتا ہے۔

اچھا مرزا قادیانی اگر یہی بات ہے تو میں ایک مثال دیتا ہوں خفانہ ہوں۔ کسی کی بی بی شوہر سے کہے کہ میرے ساتھ ایسی محبت کرو جیسی تم میرے بیٹے سے کرتے ہو۔ (وہی مثال ہے۔) تو مرزا قادیانی اس کا اقرار کریں گے کہ اس کی بیوی نے اس کو اپنے بیٹے سے تشبیہ دی۔ یا کوئی اپنی والدہ سے کہے کہ تم ہماری یاد ایسی کرتی ہو جیسے ہماری بیوی۔ تو اس مثال میں کیا اس نے اپنی ماں کو بیوی سے تشبیہ دی۔ لاحول ولا قوۃ الا باللہ عذر گناہ بدتر از گناہ ہے۔

دوسری جگہ مرزا قادیانی کہتے ہیں کہ: خدا نے یہودیوں کا قول نقل کیا کہ: " نحن ابنو الله واحباوہ " یہودی کہتے ہیں کہ ہم خدا کے بیٹے ہیں اور پیارے۔ اس جگہ ابناء کے لفظ کا خدا نے رد نہ کیا کہ تم کفر بکتے ہو بلکہ یہ فرمایا کہ اگر تم خدا کے پیارے ہو تو پھر وہ تمہیں عذاب کیوں دیتا ہے اور ابناء کا دوبارہ ذکر نہیں کیا۔

(حقیقۃ الوحی ص ٦٤، خزائن ج ٢٢ ص ٦٧)

یعنی خدا نے یہود و نصاریٰ کو بیٹا بنانا منظور کیا اس لئے رد نہ کیا۔ استغفر اللہ کیا خدا پر کھلا بہتان ہے کہ خدا نے یہ فرمایا کہ: " اگر تم ہمارے پیارے۔ " یہ آیت کے کس جملہ کا ترجمہ ہے۔ پوری آیت سنو: " وقالت اليهود والنصارى نحن ابنؤا الله واحباؤه قل فلم

٧٢

يعذبكم بذنوبكم " یہود و نصاریٰ نے کہا ہم خدا کے کیوں تمہیں تمہارے گناہوں کی وجہ سے عذاب دیتا ہے۔)۔

کہاں خدا نے فرمایا ہے کہ اگر تم ہمارے پیارے جواب دیتا ہے اور ان کے دونوں دعوؤں بیٹے ہونے اور دوست بیٹے ہو یا پیارے تو پھر تمہیں کیوں عذاب دیتا ہے۔

یہ ہے مرزا قادیانی کی دیانت اور قرآن دانی۔ ن الشيطن " اتنا بڑا مدعی نبوت ہو کر اور اس قدر غلط بیانی۔

عقیدہ کفریہ نمبر ٨ اللہ تعالیٰ کو خاطی بتانا

(حقیقۃ الوحی ص ١٠٣، خزائن ج ٢٢ ص ١٠٧) " مرزا

الرسول اجیب اخطی واصیب. یعنی خدا کہتا ہے ہوں اور جواب دیتا ہوں اور اس جواب میں کبھی خطا کرتا ہو

سبب نزول این وحی

مرزا قادیانی اکثر پیشین گوئی کرتے تھے جو دیتے تھے اور دونوں میں غلطیاں کرتے تھے۔ جو بات گوئیاں جھوٹی نکلتی تھیں۔ لوگ اعتراض کرتے تھے کہ صحیح نہیں ہوتی تو ان کو جواب دینے کے لئے یہ وحی بنا لی خطا کرتا ہے، میری خطا نہیں۔ اپنے آپ کو بچانے ک ونسیان ہر عیب سے پاک ومنزہ ہے۔

مرزا قادیانی نے اور بھی چند جگہ ایسا کیا ہے ک دیا کہ ایسا تو ہو چکا ہے۔ دیکھو نبی نے غلطی کی، فلاں نبی اور انبیاء کرام پر ناجائز حملے کر کے اپنے ایمان کو خراب کیا

کفر نمبر ٩ ، ١٠، ١١

توہین انبیاء و انکار معجزات قرآنی و تفضیل علی

(ازالۃ اوہام ص ٥ ، خزائن ج ٣ ص ١٠٥) " مشائخ

جو طلب کئے جاتے ہیں اس بارے میں ابھی بیان کرو

٧٣

صفحہ ٣١٩

يعذبكم بذنوبكم ” ﴿یہود ونصاریٰ نے کہا ہم خدا کے بیٹے اور پیارے ہیں فرما دیجئے خدا کیوں تمہیں تمہارے گناہوں کی وجہ سے عذاب دیتا ہے۔﴾ کہاں خدا نے فرمایا ہے کہ اگر تم ہمارے پیارے ہو تو کیوں عذاب دیتا ہے بلکہ مطلق جواب دیتا ہے اور ان کے دونوں دعوؤں بیٹے ہونے اور دوست ہونے کا رد کرتا ہے۔ کہ اگر تم ہمارے بیٹے ہو یا پیارے تو پھر تمہیں کیوں عذاب دیتا ہے۔ یہ ہے مرزا قادیانی کی دیانت اور قرآن دانی۔ سچ ہے ”استحوذ عليهم الشيطٰن“ اتنا بڑا مدعی نبوت ہو کر اور اس قدر غلط بیانی۔

عقیدہ کفریہ نمبر ٨ اللہ تعالیٰ کو خاطی بتانا

(حقیقت الوحی ص١٠٣، خزائن ج٢٢ ص١٠٧) ”مرزا قادیانی پر وحی آتی ہے۔ انی مع الرسول اجيب اخطی واصیب۔ یعنی خدا کہتا ہے کہ میں رسول (مرزا قادیانی) کے ساتھ ہوں اور جواب دیتا ہوں اور اس جواب میں کبھی خطا کرتا ہوں کبھی صواب۔“

سبب نزول این وحی

مرزا قادیانی اکثر پیشین گوئی کرتے تھے معترضین کے اعتراضات کے جوابات دیتے تھے اور دونوں میں غلطیاں کرتے تھے۔ جو بات کہتے تھے صحیح نہیں ہوتی تھی، پیشین گوئیاں جھوٹی نکلتی تھیں۔ لوگ اعتراض کرتے تھے کہ آپ کیسے مدعی نبوت ہیں۔ کہ کوئی بات صحیح نہیں ہوتی تو ان کو جواب دینے کے لئے یہ وحی بنائی کہ یارو میں کیا کروں یہ تو خدا ہی ہے جو خطا کرتا ہے، میری خطا نہیں۔ اپنے آپ کو بچانے کے لئے وحی بنائی گئی ورنہ اللہ تعالیٰ خطا ونسیان ہر عیب سے پاک ومنزہ ہے۔

مرزا قادیانی نے اور بھی چند جگہ ایسا کیا ہے کہ لوگوں نے جب اعتراض کیا تو فوراً کہہ دیا کہ ایسا تو ہو چکا ہے۔ دیکھو نبی نے غلطی کی، فلاں نبی کی پیشین گوئی غلط ہوگئی۔ غرضیکہ اپنے لئے اور انبیاء کرام پر ناجائز حملے کر کے اپنے ایمان کو خراب کیا۔

کفر نمبر ٩،١٠،١١

توہین انبیاء وانکار معجزات قرآنی وتفضیل علی الانبیاء

(ازالہ اوہام ص٥، خزائن ج٣ ص١٠٥) ”مشابہت کے لئے مسیح کی پہلی زندگی کے معجزات جو طلب کئے جاتے ہیں اس بارے میں ابھی بیان کر چکا ہوں کہ احیاء جسمانی کچھ چیز نہیں۔ (یعنی

٧٣

صفحہ ٣٢١

حقیقت ظہور میں آسکے ..... اور یہ بات قطعی اور یقینی طو مریم باذن و حکم الٰہی الیسع نبی کی طرح اس عمل الترب میں یہ عمل ایسا قدر کے لائق نہیں جیسا کہ عوام الناس اس کو خیا اور قابل نفرت نہ سمجھتا تو خدا کے فضل وتوفیق سے امید قوی مسیح ابن مریم سے کم نہ رہتا ۔"

اس عبارت میں مرزا قادیانی نے حضرت عیسیٰ اور حضرت المسیح علیہ السلام کے معجزات کو مسمریزم اور شعبدہ بازی بے فائدہ ناقابل قدر مکروہ قابل نفرت بتایا۔ کیا یہ انب مکروہ اور ناقابل نفرت سمجھیں اور اس مکروہ ناقابل نفر تقدس بڑھا ہوا کہ انبیاء کی کچھ حقیقت نہ سمجھی ۔

مرزا قادیانی کیوں مکروہ سمجھتے ہیں؟ ان معجز مشہور ہے کہ لنگور کو انگور نہ ملے تو کہہ کر چل دیا کہ کون ک مفر نہ دکھائی دیا تو کہہ دیا کہ میں اس کو مکروہ جانتا ہوں۔ نعو

( ضمیمہ انجام آتھم ص ٦ ، خزائن ج ١١ ص ٢٩٠) ”م

لکھے ہیں مگر حق بات یہ ہے کہ آپ سے کوئی معجزہ ہے۔...... مؤلف)

( ضمیمہ انجام آتھم ص ٧ ، خزائن ج ١١ ص ٢٩١) ”م

شب کور وغیرہ کو اچھا کیا ہو یا کسی اور ایسی بیماری کا علاج

قرآن کہتا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو ام کرتے تھے۔ مرزا قادیانی کہتے ہیں کہ یہ کوئی شب کور

( ضمیمہ انجام آتھم ص ٧ ، خزائن ج ١١ ص ٢٩١) ”

ہے تین دادیاں اور نانیاں آپ کی زنا کار تھیں اور کسی ظہور پذیر ہوا ۔“

حضرت عیسیٰ روح اللہ و کلمۃ اللہ کے نسب نہیں کہ ان الفاظ کو دہرایا جائے ۔

( ضمیمہ انجام آتھم ص ٨، خزائن ج ١١ ص ٢٩٢) ”پ

٧٥

صفحہ ٣٢١

حقیقت ظہور میں آسکیں..... اور یہ بات قطعی اور یقینی طور پر ثابت ہوچکی ہے۔ کہ حضرت مسیح ابن مریم باذن وحکم الٰہی الیسع نبی کی طرح اس عمل الترب میں کمال رکھتے تھے۔..... مگر یادرکھنا چاہئے کہ یہ عمل اس قدر کے لائق نہیں جیسا کہ عوام الناس اس کو خیال کرتے ہیں۔ اگر یہ عاجز اس عمل کو مکروہ اور قابل نفرت نہ سمجھتا تو خدا کے فضل وتوفیق سے امید قوی رکھتا تھا کہ ان عجوبہ نمائیوں میں حضرت مسیح ابن مریم سے کم نہ رہتا۔‘‘

اس عبارت میں مرزا قادیانی نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور حضرت سلیمان علیہ السلام اور حضرت الیسع علیہ السلام کے معجزات کو مسمریزم اور شعبدہ بازی ، بازی گر کا تماشا بے حقیقت بے سود بے فائدہ ناقابل قدر مکروہ قابل نفرت بتایا۔ کیا یہ انبیاء کی توہین نہیں۔ پھر لطف یہ کہ خود اس کو مکروہ اور قابل نفرت سمجھیں اور اس مکروہ قابل نفرت چیز کو انبیاء کے لئے مانیں۔ اس قدر ۔ تقدس بڑا ہوا کہ انبیاء کی کچھ حقیقت نہ سمجھی۔

مرزا قادیانی کیوں مکروہ سمجھتے ہیں؟ ان معجزات کو کیوں قابل نفرت جانتے ہیں؟ مثل مشہور ہے کہ لنگور کو انگور نہ ملے تو کہہ کے چل دیا کہ کون کھائے کھٹے ہیں۔ مرزا قادیانی میں جب صفر دکھائی دیا تو کہہ دیا کہ میں اس کو مکروہ جانتا ہوں۔ نعوذ باللہ!

(ضمیمہ انجام آتھم ص ٧، خزائن ج ١١ ص ٢٩٠) ’’عیسائیوں نے بہت سے آپ کے معجزات لکھے ہیں مگر حق بات یہ ہے کہ آپ سے کوئی معجزہ صادر نہیں ہوا۔‘‘ (کھلا انکار معجزات ہے۔.....مؤلف)

(ضمیمہ انجام آتھم ص ٧، خزائن ج ١١ ص ٢٩١) ’’ممکن ہے کہ آپ نے معمولی تدبیر کے ساتھ شب کور وغیرہ کو اچھا کیا ہو یا کسی اور ایسی بیماری کا علاج کیا ہو۔‘‘

قرآن کہتا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو ہم نے یہ اعجاز دیا کہ وہ مادر زاد اندھے کو اچھا کرتے تھے۔ مرزا قادیانی کہتے ہیں کہ یہ کوئی شب کور ہوگا کیسا معجزہ کا صاف انکار ہے۔

(ضمیمہ انجام آتھم ص ٧، خزائن ج ١١ ص ٢٩١) ’’آپ کا خاندان بھی نہایت پاک اور مطہر ہے تین دادیاں اور نانیاں آپ کی زنا کار تھیں اور کسبی عورتیں تھیں جن کے خون سے آپ کا وجود ظہور پذیر ہوا۔‘‘

حضرت عیسیٰ روح اللہ وکلمۃ اللہ کے نسب پاک کی کیا توہین کی ہے۔ زبان میں طاقت نہیں کہ ان الفاظ کو دہرایا جائے۔

(ضمیمہ انجام آتھم ص ٨، خزائن ج ١١ ص ٢٩٢) ’’آپ وہی حضرت ہیں جنہوں نے (یہ کلمہ

٧٥

صفحہ ٣٢٣

اس طرح استعمال کرنا عرف میں استہزاء شمار کیا جاتا ہے۔ ) یہ پیشین گوئی بھی کی تھی کہ ابھی یہ تمام لوگ زندہ ہوں گے کہ پھر واپس آجاؤں گا۔ حالانکہ نہ صرف وہ لوگ بلکہ انیس نسلیں ان کے بعد انیس صدیوں میں مرچکیں مگر آپ اب تک تشریف نہ لائے۔ خود تو وفات پاچکے۔“ (بالکل غلط بلکہ وہ حیات ہیں) مگر اس جھوٹی پیشین گوئی کا کلنک اب تک پادریوں کی پیشانی پر باقی ہے۔ (جس طرح مرزائی جماعت کے سینہ پر سلطان محمد کی موت کی غلط پیشین گوئی کا پتھر دھرا ہے)

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی پیشین گوئی کو جھوٹا کہا اور نہ سمجھا کہ جب وہ آسمان سے تشریف لائیں گے تو مرزا قادیانی کی قبر پر تکذیب وافترا کے ہار ڈالے جائیں گے اور مرزائیوں کے چہرے سیاہ ہوجائیں گے۔

(جنگ مقدس ص ١٩٨، خزائن ج ٦ ص ٢٨٠) ”مسیح کا بے باپ پیدا ہونا میری نگاہ میں کچھ عجوبہ نہیں۔ (مرزا قادیانی کی نگاہ ہی نہیں دیکھیں کس چیز سے) حضرت آدم ماں اور باپ دونوں نہیں رکھتے تھے۔ اب قریب برسات آئی ہے، باہر جاکر دیکھئے کتنے کیڑے مکوڑے بغیر ماں باپ کے ہوجاتے ہیں۔

حضرت مسیح علیہ السلام کی پیدائش کو کہا کہ کوئی عجب بات نہیں۔ حالانکہ خدا فرماتا ہے ان مثل عیسیٰ عند الله کمثل آدم پھر ان کی پیدائش کو کس برے طرز سے ادا کیا کہ ان کی پیدائش ایسی ہے جیسے کیڑے مکوڑے کی پیدائش، اگر کوئی مرزا قادیانی کو کہے کہ آپ کی پیدائش ایسی ہے جیسے کیڑے مکوڑے کی تو مرزا قادیانی کو برا نہ لگے گا۔

(ازالہ اوہام ص ٣٠٣، خزائن ج ٣ ص ٢٥٤ حاشیہ) ”حضرت مسیح ابن مریم اپنے باپ یوسف کے ساتھ بائیس برس کی مدت تک نجاری کا کام کرتے رہے۔“

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کلمۃ اللہ روح اللہ تھے۔ ان کا کوئی باپ نہ تھا، نہ حضرت مریم کا کوئی شوہر تھا۔ یوسف کو عیسیٰ علیہ السلام کا باپ بتانا قرآن کے خلاف جو بالکل کفر ہے۔

(انجام آتھم ص ٦٨، خزائن ج ١١ ص ٦٨) ”میں کسی خونی مسیح کے آنے کا قائل نہیں اور نہ خونی مہدی کا منتظر ۔ یعنی جو اہل اسلام حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور حضرت امام مہدیؑ کے منتظر ہیں، وہ خونی ہے۔ خونی اس شخص کو کہتے ہیں جو قتل ناحق کرے تو مطلب یہ ہوا کہ یہ دونوں بزرگ ہستیاں ناحق قتل کریں گے۔ یہی کفر ہے۔ اگر اس سے یہ مراد ہے کہ وہ جہاد فی سبیل اللہ کریں گے۔ اس لئے خونی ہیں تو رسول اللہ ﷺ اور تمام صحابہ کرام جس جس نے جہاد کیا، سب معاذ اللہ ٧٦

خونی قتل ناحق کرنے والے ہوئے، یہ بھی کفر ہے۔ ابتداءالی ہے۔

یہاں تک کہ اپنی امت کو تعلیم کردی کہ مسئلہ کو کسی دوسرے مقام پر واضح کریں گے۔

(ضمیمہ انجام آتھم ص ٥، خزائن ج ١١ ص ٢٨٩)

اور بدزبانی کی اکثر عادت تھی، ادنیٰ ادنیٰ بات میں نہیں سکتے۔“ (معاذ اللہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام تو ضرور تھے۔) چنانچہ یہ ان کے الفاظ ہیں۔ ”او بدذات ”یہودی صفت مولویو۔“ ”اے مردار خوار مولویو گندی روحو۔“ ”مگر میرے نزدیک آپ کی یہ حرکت تھے اور یہودی ہاتھ سے کسر نکالتے تھے۔ یہ بھی عادت تھی۔“

کیسی کھلی اور سخت توہین کے کلمات ہیں

(ضمیمہ انجام آتھم ص ٧، خزائن ج ١١ ص ٢٩١

سے کوئی معجزہ بھی ظاہر ہوا ہو تو وہ معجزہ آپ کا نہیں سوا مکر و فریب کے اور کچھ نہیں تھا۔“

معاذ اللہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو مکر

(مکتوبات احمدیہ ج ٣ ص ٢٨ مجموعہ مکتوبات

انسان کی صفات محمودہ میں سے ہے۔ چڑچڑا ہونا ک خوبی میں داخل نہیں۔ ہاں یہ اعتراض بہت بڑا ترین صفت سے بے نصیب محض ہونے کے باعث عملی نمونہ نہ دے سکے۔“ (معاذ اللہ) حضر نامرد بتایا۔

(ضمیمہ انجام آتھم ص ٤١، خزائن ج ١١ ص

صفحہ ٣٢٤

خونی قتل ناحق کرنے والے ہوئے، یہ بھی کفر ہے۔ مرزا قادیانی نے یہ جہاد کے منسوخ کرنے کی ابتدا ڈالی ہے۔

یہاں تک کہ اپنی امت کو تعلیم کر دی کہ ہماری بناوٹی شریعت میں جہاد حرام ہے۔ اس مسئلہ کو کسی دوسرے مقام پر واضح کریں گے۔

(ضمیمہ انجام آتھم ص ٥، خزائن ج ١١ ص ٢٨٩) ”ہاں آپ کو (عیسیٰ علیہ السلام ) گالیاں دینے اور بدزبانی کی اکثر عادت تھی، ادنیٰ ادنیٰ بات میں غصہ آجاتا تھا۔ اپنے نفس کو جذبات سے روک نہیں سکتے۔“ (معاذ اللہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام تو ایسے ہرگز نہ تھے مگر مرزا قادیانی کے یہ اوصاف ضرور تھے۔ ) چنانچہ یہ ان کے الفاظ ہیں۔ ”او بدذات فرقہ مولویو۔“

(ضمیمہ انجام آتھم ص ٢١، خزائن ج ١١ ص ٢١)

”یہودی صفت مولویو۔“

(ضمیمہ انجام آتھم ص ٤، خزائن ج ١١ ص ٢٨٧)

”اے مردار خوار مولویو گندی روحو۔“

(ضمیمہ انجام آتھم ص ٢١، خزائن ج ١١ ص ٣٠٥)

”مگر میرے نزدیک آپ کی یہ حرکت جائے افسوس نہیں کیونکہ آپ تو گالیاں دیتے تھے اور یہودی ہاتھ سے کسر نکالتے تھے۔ یہ بھی یاد رہے کہ آپ کو کسی قدر جھوٹ بولنے کی بھی عادت تھی۔“

(ضمیمہ انجام آتھم ص ٥، خزائن ج ١١ ص ٢٨٩)

کیسی کھلی اور سخت توہین کے کلمات ہیں، جن کو مسلمان سن کر برداشت نہیں کر سکتے۔

(ضمیمہ انجام آتھم ص ٧، خزائن ج ١١ ص ٢٩١) ”اور اسی تالاب نے فیصلہ کر دیا ہے کہ اگر آپ سے کوئی معجزہ بھی ظاہر ہوا ہو تو وہ معجزہ آپ کا نہیں بلکہ اس تالاب کا معجزہ ہے اور آپ کے ہاتھ میں سوا مکر وفریب کے اور کچھ نہیں تھا۔“

معاذ اللہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو مکار اور فریبی بتایا اور معجزات سے انکار کیا۔

(مکتوبات احمدیہ ج ٣ ص ٢٨ مجموعہ مکتوبات مرزا) ” کیا تمہیں خبر نہیں کہ مردی اور رجولیت انسان کی صفات محمودہ میں سے ہے۔ ہجڑا ہونا کوئی اچھی صفت نہیں ہے جیسے بہرا اور گونگا ہونا کسی خوبی میں داخل نہیں۔ ہاں یہ اعتراض بہت بڑا ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام مردانہ صفت کی اعلیٰ ترین صفت سے بے نصیب محض ہونے کے باعث ازواج سے تہی اور کامل حسن معاشرت کا کوئی عملی نمونہ نہ دے سکے۔“ (معاذ اللہ ) حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو اس دریدہ دہن نے ہجڑا اور نامرد بتایا۔

(ضمیمہ انجام آتھم ص ٤، خزائن ج ١١ ص ٤) ”اور مریم کا بیٹا کوشلیا ( رام چندر کی ماں ) کے

٧٧

صفحہ ٣٢٥

بیٹے (رام چندر) سے کچھ زیادت نہیں رکھتا۔"

کیا بدتہذیبی ہے حضرت عیسیٰ علیہ السلام رام چندر جو ایک مشرک تھا اس سے کچھ زیادہ مرتبہ نہیں رکھتے۔ معاذ اللہ !

(نور الحق ص ٥٠، خزائن ج ٨ ص ٦٨) "كلم الله موسى على جبل وكلم الشيطان عيسىٰ على جبل فانظر الفرق بينهما ان كنت من الناظرين"

حضرت موسیٰ کلیم اللہ تھے اور عیسیٰ علیہ السلام کلیم الشیطان تھے۔ دیکھو کس قدر فرق ہے۔ مسلمان کی زبان میں یہ طاقت نہیں کہ اس طرح عیسیٰ علیہ السلام کی توہین کرے کہ ان کو کلیم الشیطان بتائے۔ نعوذ باللہ منہ!

لیکن جب مرزا قادیانی کے نزدیک حضرت عیسیٰ علیہ السلام معاذ اللہ کلیم الشیطان ہوئے تو مرزا قادیانی مثیل عیسیٰ اور عیسیٰ ابن مریم اور مسیح موعود بن کر کون ہوئے؟ ان کے تمام مقدمات سے خود یہ نتیجہ نکل آیا کہ مرزا قادیانی بھی کلیم الشیطان تھے اور ساری عمر اسی مکالمہ میں گزری۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو جو منہ بھر بھر کر گالیاں دی ہیں۔ گستاخیاں کی ہیں، وہ آپ نے سن لیں اور مرزا قادیانی کے ایمان کا پتہ لگا لیا۔

مرزا قادیانی پر جب اعتراض ہوتا ہے کہ تم نے ایسا کیوں کیا تو فوراً کہہ دیتے ہیں کہ ”ہم نے عیسیٰ علیہ السلام کو نہیں کہا بلکہ یسوع کو کہا جو عیسائیوں نے فرض کر لیا ہے اور یسوع کا قرآن میں کوئی ذکر نہیں۔“

(ضمیمہ انجام آتھم ص ٩، خزائن ج ١١ ص ٢٩٣)

مگر مرزا قادیانی کا یہ حیلہ کام نہیں دے سکتا کیونکہ وہ خود تسلیم کرتے ہیں کہ عیسیٰ اور یسوع ایک ہی ہستی کے نام ہیں:

”دوسرے مسیح ابن مریم جن کو عیسیٰ اور یسوع بھی کہتے ہیں۔“

(توضیح مرام ص ٣، خزائن ج ٣ ص ٥٢)

جب عیسیٰ اور یسوع اور مسیح ایک ہی ہستی کے نام ہوئے تو جس نام سے برا کہو وہ ابن مریم ہی کو گالیاں دینی ہوں گی۔ مرزا قادیانی کا یہ بہانہ بالکل غلط اور اپنے ہی قول سے مردود ٹھہرا۔

کبھی کہہ دیتے ہیں کہ:

انہوں نے ناحق ہمارے نبی ﷺ کو گالیاں دے کر ہمیں آمادہ کیا کہ ان کے یسوع کا کچھ تھوڑا سا حال ان پر ظاہر کریں۔

(ضمیمہ انجام آتھم ص ٨، خزائن ج ١١ ص ٢٩٢)

یہ بہانہ کرنا کہ چونکہ پادریوں نے حضور اکرم ﷺ کو برا کہا تو ہم نے حضرت عیسیٰ علیہ

٧٨

السلام کو برا کہا، ورنہ ایسا نہ کرتے، محض جہالت و نادانی ہے۔ نبی ہیں، ہمیں کب لائق ہے کہ کوئی حضور کو برا کہے تو ہم حضر السلام کو معاذ اللہ برا کہہ دیں۔ مرزا قادیانی خود دوسروں کو نص

”بعض جاہل مسلمان حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی اور خود اس نصیحت پر عمل نہیں کرتے۔ ”أتامـ انفسکم“ اپنی ہی زبان سے جاہل نادان بنتے ہیں۔ دوسر

”اگر ایک مسلمان عیسائی کے عقیدہ پر اعتراض حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی شان اور عظمت کا پاس رکھے۔"

مگر خود عیسائیوں کے ساتھ گفتگو میں حضرت عیس کی فہرست سے نام کٹواتے ہیں۔ لم تقولون ما لا تف نہیں کرتے۔

”ایک

(ازالہ اوہام ص ٦٢٩، خزائن ج ٣ ص ٤٣٩)

کی فتح کے بارے میں پیشین گوئی کی اور وہ جھوٹے نکلے ا ہوئے پھر ان کی پیشین گوئیوں پر حملہ کرنا اور جھوٹا بتانا سخت

اس جملہ کا شان نزول یہ ہے کہ جب مرزا قاد مسلمانوں نے اعتراض شروع کئے تو فوراً کہہ دیا کہ اگر انبیاء پیشین گوئی میں معاذ اللہ جھوٹے ہو چکے۔ اس طرح کے تقدس پر حملہ کیا۔

(ازالہ اوہام ص ٧٥٣، خزائن ج ٣ ص ٥٠٦)

کہ ان کے اجزاء متفرقہ جدا جدا کر کے چار پہاڑیوں پر یہ بھی عمل الترب (شعبدہ بازی) کی طرف اشارہ ہے۔

"

(ازالہ اوہام ص ٧٤٨، خزائن ج ٣ ص ٥٠٣)

مردے زندہ ہو گئے تھے جیسے وہ مردہ جس کا خون بنی اس طور پر زندہ ہونا ہرگز ثابت نہیں۔ بعض کا خیال ہے کہ ح ظاہر کر دے مگر اصل حقیقت یہ ہے کہ یہ طریق عمل التر

٧٩

صفحہ ٣٢٥

السلام کو برا کہا، ورنہ ایسا نہ کرتے محض جہالت و نادانی ہے۔ ہمارے دونوں بزرگ ہیں۔ دونوں نبی ہیں، ہمیں کب لائق ہے کہ کوئی حضور کو برا کہے تو ہم حضرت عیسیٰ علیہ السلام یا حضرت موسیٰ علیہ السلام کو معاذ اللہ برا کہہ دیں۔ مرزا قادیانی خود دوسروں کو نصیحت کرتے ہیں کہ:

”بعض جاہل مسلمان حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی نسبت کچھ سخت الفاظ کہہ دیتے ہیں۔“

(مجموعہ اشتہارات جلد سوم ص ٥٤٣)

اور خود اس نصیحت پر عمل نہیں کرتے۔ ”اتا مرون الناس بالبر وتنسون انفسکم “اپنی ہی زبان سے جاہل نادان بنتے ہیں۔ دوسری جگہ لکھتے ہیں:

”اگر ایک مسلمان عیسائی کے عقیدہ پر اعتراض کرے تو اس کو چاہئے کہ اعتراض میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی شان اور عظمت کا پاس رکھے۔“

(مجموعہ اشتہارات ج ٢ ص ٤٧١)

مگر خود عیسائیوں کے ساتھ گفتگو میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی توہین کر کے مسلمانوں کی فہرست سے نام کٹواتے ہیں۔ لم تقولون ما لا تفعلون ۔ کیوں وہ بات کہتے ہیں جو خود نہیں کرتے۔

(ازالہ اوہام ص ٦٢٩، خزائن ج ٣ ص ٤٤٩) ”ایک بادشاہ کے زمانہ میں چار سو نبی نے اس کی فتح کے بارے میں پیشین گوئی کی اور وہ جھوٹے نکلے اور بادشاہ کو شکست ہوئی۔ نبی تسلیم کرتے ہوئے پھر ان کی پیشین گوئیوں پر حملہ کرنا اور جھوٹا بتانا سخت توہین ہے۔“

اس جملہ کا شان نزول یہ ہے کہ جب مرزا قادیانی کی پیشین گوئیاں بالکل غلط نکلیں اور مسلمانوں نے اعتراض شروع کئے تو فوراً کہہ دیا کہ اگر میری پیشین گوئی غلط نکلی تو کیا ہوا بہت انبیاء پیشین گوئی میں معاذ اللہ جھوٹے ہو چکے۔ اس طرح اپنے تقدس کو جمانے کے لئے دوسروں کے تقدس پر حملہ کیا۔

(ازالہ اوہام ص ٧٥٣، خزائن ج ٣ ص ٥٠٦) ”قرآن کریم میں چار پرندوں کا ذکر لکھا ہے کہ ان کے اجزاء متفرقہ جدا جدا کر کے چار پہاڑوں پر چھوڑ گیا تھا اور پھر وہ بلانے سے آگئے تھے، یہ بھی عمل الترب (شعبدہ بازی) کی طرف اشارہ ہے۔“

(ازالہ اوہام ص ٧٤٨، خزائن ج ٣ ص ٥٠٤) ”قرآن کریم سے ثابت ہوتا ہے کہ بعض مردے زندہ ہو گئے تھے جیسے وہ مردہ جس کا خون بنی اسرائیل نے چھپا لیا تھا۔ اس قصہ سے واقعی طور پر زندہ ہونا ہرگز ثابت نہیں۔ بعض کا خیال ہے کہ صرف دھمکی تھی کہ چور بیدل ہو کر اپنے تئیں ظاہر کر دے مگر اصل حقیقت یہ ہے کہ یہ طریق عمل الترب یعنی مسمریزم کا ایک شعبہ تھا۔“

٧٩

صفحہ ٣٢٧

قرآن کریم نے احیاء اموات کا ذکر کیا اور واقعی طور پر اس کو سرکار دو عالم ﷺ نے بیان فرمایا۔ لیکن مرزا قادیانی نے اس کو بھی بازی گر کا تماشہ بنا دیا۔ قرآن کے معجزات سے انکار کیا۔

حضور اکرم ﷺ کی شان مقدس پر ناپاک حملہ

(ازالہ اوہام ص ٦٩١، خزائن ج ٣ ص ٤٧٣) "اس بناء پر ہم کہہ سکتے ہیں کہ اگر

آنحضرت ﷺ پر ابن مریم اور دجال کی حقیقت کاملہ بوجہ نہ موجود ہونے کسی نمونہ کے ہو بہو منکشف نہ ہوئی ہو اور نہ دجال کے ستر باع گدھے کی اصل کیفیت کھلی ہو اور نہ یاجوج ماجوج کی عمیق تہ تک وحی الہی نے اطلاع دی ہو اور نہ دابۃ الارض کی ماہیت کما ہی ہی ظاہر فرمائی گئی ۔"

سخت تعجب آتا ہے کہ حضور ﷺ نے خود اپنی زبان سے علامات قیامت میں نہایت تفصیل سے بیان فرمائے۔ وہ تو نہ سمجھے کہ کیا ان کی حقیقت ہے مگر مرزا قادیانی ان کی حقیقت سمجھ گئے۔ گویا مرزا قادیانی کا علم حضور کے علم سے زائد ٹھہرا۔ نعوذ باللہ کیا کوئی مسلمان مسلمان ہو کر ایسا توہین کا کلمہ اپنی زبان سے نکال سکتا ہے۔

تفضیل علی الانبیاء

(سراج منیر ص ٤، خزائن ج ١٢ ص ٦) اس کو کیا کہو گے جو کہا گیا: "ھو افضل من بعض

الانبیاء " مرزا قادیانی بعض نبیوں سے افضل ہیں۔ (مرزا قادیانی کا یہ عقیدہ ہوا کہ میں بعض انبیاء سے افضل ہوں)

(دافع البلاء ص ١٣، خزائن ج ١٨ ص ٢٣٣) "خدا نے اس امت میں سے مسیح موعود بھیجا جو

اس پہلے مسیح سے اپنی تمام شان میں بہت بڑھ کر ہے۔" عیسائیوں کا مسیح کیا ہے جو اپنے قرب اور شفاعت کے مرتبہ میں احمد کے غلام (غلام احمد ) سے بھی کم تر ہے۔"

(چشمہ مسیح ص ١٤، خزائن ج ٢٠ ص ٣٥٤) "میں سچ سچ کہتا ہوں کہ اس کی کامل پیروی سے

ایک شخص عیسیٰ سے بڑھ کر بھی ہو سکتا ہے۔ اندھے کہتے ہیں یہ کفر ہے۔ میں کہتا ہوں کہ تم خود ایمان سے بے نصیب ہو۔" دل کے اندھے مراقی کہتے ہیں کہ غیر نبی سے نبی کا افضل ہونا ایمان ہے۔ صحیح الدماغ ہوش مند کہتے ہیں کہ یہ کفر ہے۔"

(تتمہ حقیقت الوحی ص ٢٩، خزائن ج ٢٢ ص ٤٨٣)

ابن مریم کے ذکر کو چھوڑ
اس سے بڑھ کر غلام احمد ہے

حاشیہ: اکثر نادان اس مصرع کو پڑھ کر نفسانی جوش ظاہر کرتے ہیں۔ مگر اس کا

٨٠

مطلب صرف اس قدر ہے کہ امت محمدیہ کا مسیح (یعنی میں عیسیٰ علیہ السلام سے افضل ہے۔ صرف اس قدر مطلب تو ہے جو کفر نہ ہو۔

"مثیل ابن مریم (مرزا قادیانی) ، ابن مریم ہے۔"

"مجھے خبر دی ہے کہ مسیح محمدی مسیح موسوی سے افض (کس نے جناب کو یہ خبر دی؟ ہاں ہاں یاد آ قادیانی پر الہام لانے والے ٹچی ٹچی نے) "اور مجھے قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میرے زمانہ میں ہوتا تو وہ کام جو میں کر سکتا ہوں وہ ہرگز نہ وہ ہرگز نہیں دکھلا سکتا ۔"

بالکل صحیح ہے حضرت عیسیٰ علیہ السلام خدا مکر و فریب دجل وحیلہ، مخالفت قرآن وحدیث، توہین انکار معجزات قرآنی، دعویٰ الوہیت خدا۔ خدا کو خالی ٹھہرا پیشین گوئی کر کے مکان کی توسیع کا چندہ کرنا، بہشتی مقب جہاد کو منسوخ کرنا، کرشن ہونے کا دعویٰ کرنا۔ الٰہی غض مرزا قادیانی نے کیا خدا جانے وہ کون سا نشان ہے جو اس محمدی بیگم کی آس میں عمر گزار دی، خود چل پیشین گوئی کی کہ لا یدخل فی دارہ ۔ میرے گھر ہی کی دونوں رانوں میں گلٹیاں نکلیں۔ اپنی عمر کی پیشین رہوں گا۔ مگر ٧٩ ویں برس میں انتقال ہو گیا۔

کہا تھا کہ سلطان محمد زوج محمدی بیگم کی م قادیانی مر گئے اور وہ ابھی تک زندہ اور وہ اپنی زندگی بند کئے ہیں۔ الی غیر ذالک یہ مرزا قادیانی کے اعلیٰ نشانات وہ نہ دکھلا سکتا۔ بے شک ایسے جھوٹے لام

٨١

صفحہ ٣٢٧

مطلب صرف اس قدر ہے کہ امت محمدیہ کا مسیح (یعنی میں مرزا) امت موسویہ کے مسیح (حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے افضل ہے۔ صرف اس قدر مطلب تو کفر ہے، اس کے سوا اور کونسا مطلب ہے جو کفر نہ ہو۔

”مثیل ابن مریم (مرزا قادیانی)، ابن مریم حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے بڑھ کر ہے۔“

(کشتی نوح ص ١٣، خزائن ج ١٩ ص ١٤)

”مجھے خبر دی ہے کہ مسیح محمدی مسیح موسوی سے افضل ہے۔“

(کشتی نوح ص ١٦، خزائن ج ١٩ ص ١٧)

(کس نے جناب کو یہ خبر دی؟ ہاں ہاں یاد آیا! مرزا قادیانی کے مقرب فرشتے مرزا قادیانی پر الہام لانے والے ٹیچی ٹیچی نے)

”اور مجھے قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ اگر مسیح ابن مریم میرے زمانہ میں ہوتا تو وہ کام جو میں کر سکتا ہوں وہ ہرگز نہ کر سکتا اور وہ نشان جو مجھ سے ظاہر ہوا ہے وہ ہرگز نہیں دکھلا سکتا۔“

(کشتی نوح ص ٥٦، خزائن ج ١٩ ص ٦٠)

بالکل صحیح ہے حضرت عیسیٰ علیہ السلام خدا کے بنائے ہوئے نبی پاک اور مطہر، وہ مکر و فریب دجل وحیلہ، مخالفت قرآن وحدیث، توہین انبیاء و رسل، تنقیص علم مصطفیٰ ﷺ، انکار معجزات قرآنی، دعویٰ الوہیت، خدا کو خاطی ٹھہرانا، حضور کے مقام محمود کو چھیننا، طاعون کی پیشین گوئی کر کے مکان کی توسیع کا چندہ کرنا، بہشتی مقبرہ بنا کر لوگوں سے روپیہ لوٹنا، حکم شریعت جہاد کو منسوخ کرنا، کرشن ہونے کا دعویٰ کرنا۔ الیٰ غیر ذالک یہ سب کچھ نہ کر سکتے تھے۔ جو مرزا قادیانی نے کیا خدا جانے وہ کون سا نشان ہے جو ان سے ظاہر ہوا۔

محمدی بیگم کی آس میں عمر گزار دی، خود چل دیئے مگر وہ نکاح میں نہ آئی۔ طاعون کی پیشین گوئی کی کہ لا یدخل فی دارہ۔ میرے گھر میں گھسے گا ہی نہیں۔ مرزا قادیانی کے سالے ہی کی دونوں رانوں میں گلٹیاں نکلیں۔ اپنی عمر کی پیشین گوئی کی کہ پچھتر یا اس سے زیادہ برس زندہ رہوں گا۔ مگر ٧٤ ویں برس میں انتقال ہو گیا۔

کہا تھا کہ سلطان محمد زوج محمدی بیگم کی موت تقدیر مبرم ہے۔ کبھی نہ ٹلے گی مگر مرزا قادیانی مر گئے اور وہ ابھی تک زندہ اور وہ اپنی طویل خاموش زندگی سے مرزائیوں کا ناطقہ بند کئے ہیں۔ الیٰ غیر ذالک یہ مرزا قادیانی کے اعلیٰ نشانات ہیں جن کے متعلق کہتے ہیں ایسے نشانات وہ نہ دکھلا سکتا۔ بے شک ایسے جھوٹے لایعنی ناقابل اعتبار نشان وہ نہیں دکھلا سکتے۔ پس

٨١

صفحہ ٣٢٩

مرزا قادیانی اس فعل میں اس معنی کے اعتبار سے بالکل سچے ہیں۔

حضور اکرم ﷺ پر فضیلت

”لہ خسف القمر المنیر وان لی خسفا القمران المشرقان اتنکر۔ اس کے (یعنی نبی کریم کے) لئے چاند کے گرہن کا نشان ظاہر ہوا اور میرے لئے چاند اور سورج دونوں (کے گرہن) کا۔ اب کیا تو انکار کرے گا۔“

(اعجاز احمدی ص ٧١، خزائن ج ١٩ ص ١٨٣)

مرزا قادیانی نے اس عبارت میں ایک تو اپنے آپ کو حضور ﷺ پر فضیلت دی، دوسرے حضور ﷺ کے معجزہ شق القمر کو گرہن کے ساتھ تعبیر کیا حالانکہ گرہن اور شق میں فرق عظیم ہے اور گرہن تو عام طور سے ہوا کرتا ہے۔ لہٰذا یہ اعجاز کیسے ہوگا حالانکہ شق القمر حضور ﷺ کے لئے کھلا معجزہ ہے۔

”قرآن شریف کے لئے تین تجلّیات ہیں۔ وہ مصطفیٰ سینہ حضرت محمد ﷺ کے ذریعے سے نازل ہوا اور صحابہؓ کے ذریعے سے اس نے زمین پر اشاعت پائی اور مسیح موعود (مرزا غلام احمد) کے ذریعے بہت سے پوشیدہ اسرار اس کے کھلے۔ (………) آنحضرت ﷺ کے وقت میں اس کے تمام احکام کی تکمیل ہوئی اور صحابہؓ کے وقت میں اس کے ہر پہلو کی اشاعت کی تکمیل ہوئی اور مسیح موعود (مرزا قادیانی) کے وقت میں اس کے روحانی فضائل اور اسرار کے ظہور کی تکمیل ہوئی۔“

(براہین احمدیہ حصہ پنجم ص ٥٢، خزائن ج ٢١ ص ٦٦)

گویا حضور ﷺ کے زمانہ میں فضائل واسرار کوئی نہیں جانتا تھا، نہ اس قدر علم حضور ﷺ کو دیا گیا کہ وہ ان اسرار کے عالم ہوتے۔ یہ سب مرزا قادیانی کو ملا۔ نعوذ باللہ (خطبہ الہامیہ ص ١٧٧،١٧٨، خزائن ج ١٦ ص ٢٦٦،٢٦٧) میں بھی یہی مضمون ہے۔

(اشتہار مرزا غلام احمد ٢٨ مئی ١٩٠٠ء ، مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ٢٩٢) ”غرض اس زمانے کا نام جس میں ہم ہیں زمان البرکات ہے۔ لیکن ہمارے نبی ﷺ کا زمانہ زمانہ التائیدات ودفع الآفات تھا۔“ حضور اکرم ﷺ کا زمانہ برکتوں سے خالی تھا۔ مرزا قادیانی کو یہ زمانہ ملا۔ استغفر اللہ منہ!

حضرت آدم علیہ السلام پر فضیلت

”شیطان نے انہیں بہکایا اور جنتوں سے نکلوایا اور حکومت اس کی طرف لوٹائی گئی اس جنگ وجدال میں آدم کو ذلت ورسوائی نصیب ہوئی اور جنگ کبھی اس رخ اور کبھی اس رخ ہوتی ہے اور رحمٰن کے یہاں پرہیزگاروں کے لئے نیک انجام ہے۔ اس لئے اللہ نے مسیح موعود کو پیدا کیا

٨٢

تاکہ آخر زمانہ میں شیطان کو شکست دے۔“

(ملحقہ

حضرت نوح علیہ السلام پر فضیلت

(تتمہ حقیقت الوحی ص ١٣٧، خزائن ج ٢٢ ص ٥٧٥ سے نشان دکھلا رہا ہے۔ کہ اگر نوح کے زمانہ میں وہ ہوتے۔“

حضرت ابو بکر صدیق ؓ پر فضیلت

(مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ٢٧٨) ”میں وہی م پوچھا گیا کہ کیا وہ حضرت ابو بکر کے درجہ پر ہے؟ تو انہو انبیاء سے بہتر ہے۔“

حضرت علیؓ پر فضیلت

”پرانی خلافت کا جھگڑا چھوڑ دو، اب خلافت تم چھوڑتے ہو اور مردہ علی کی تلاش کرتے ہو۔“

حضرت امام حسینؓ پر فضیلت

”افسوس یہ لوگ نہیں سمجھتے کہ قرآن نے تو ا تک مذکور نہیں۔ ان سے تو حضرت زیدؓ ہی اچھا رہا جس آنحضرت ﷺ کا بیٹا کہنا قرآن شریف کے نص صریح ابا احد من رجالکم “ سے سمجھا جاتا ہے اور ظاہر ہ عورتوں میں سے تو نہیں تھے۔ حق تو یہ ہے کہ ام آنحضرت ﷺ کے بوجہ دختر ہونے کے تھا۔ نہایت

”اور انہوں نے کہا کہ اس شخص نے (مرز تئیں افضل سمجھا۔ میں کہتا ہوں کہ بے شک سمجھا۔“

”اور میں خدا کا کشتہ ہوں لیکن تمہارا حسی ظاہر ہے۔“

(اعجا

”تم نے اس کشتہ حسین سے نجات چاہی

٨٣

صفحہ ٣٢٩

تاکہ آخر زمانہ میں شیطان کو شکست دے۔“

(ملحقہ خطبہ الہامیہ ص ت، خزائن ج ١٦ ص ٣١٢ حاشیہ)

حضرت نوح علیہ السلام پر فضیلت

(تتمہ حقیقۃ الوحی ص ١٣٧، خزائن ج ٢٢ ص ٥٧٥) ”اور خدا تعالیٰ میرے لئے اس کثرت سے نشان دکھلا رہا ہے۔ کہ اگر نوح کے زمانہ میں وہ نشان دکھلائے جاتے تو وہ لوگ غرق نہ ہوتے۔“

حضرت ابوبکر صدیق پر فضیلت

(مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ٢٧٨) ”میں وہی مہدی ہوں جس کی نسبت ابن سیرین سے پوچھا گیا کہ کیا وہ حضرت ابوبکر کے درجہ پر ہے؟ تو انہوں نے جواب دیا کہ ابوبکر تو کیا وہ تو بعض انبیاء سے بہتر ہے۔“

حضرت علی پر فضیلت

”پرانی خلافت کا جھگڑا چھوڑ دو، اب خلافت لو۔ ایک زندہ علی تم میں موجود ہے۔ اس کو تم چھوڑتے ہو اور مردہ علی کی تلاش کرتے ہو۔“

(ملفوظات مرزا قادیانی ج ١ ص ٤٠٠)

حضرت امام حسین پر فضیلت

”افسوس یہ لوگ نہیں سمجھتے کہ قرآن نے تو امام حسین کا نام بھی نہیں دیا بلکہ نام تک مذکور نہیں۔ ان سے تو حضرت زیدؓ ہی اچھا رہا جس کا نام قرآن شریف میں موجود ہے۔ ان کو آنحضرت ﷺ کا بیٹا کہنا قرآن شریف کے نص صریح کے خلاف ہے۔ جیسا کہ: ”ما کان محمد ابا احد من رجالکم“ سے سمجھا جاتا ہے اور ظاہر ہے کہ حضرت امام حسین رجال میں سے تھے، عورتوں میں سے تو نہیں تھے۔ حق تو یہ ہے کہ اس آیت نے اس تعلق کو جو امام حسین کو آنحضرت ﷺ کے بوجہ پسر دختر ہونے کے تھا، نہایت ہی ناچیز کر دیا ہے۔“

(نزول المسیح ص ٤٥، ٤٦، خزائن ج ١٨ ص ٤٢٣)

”اور انہوں نے کہا کہ اس شخص نے (مرزا قادیانی نے) امام حسن اور حسین سے اپنے تئیں افضل سمجھا۔ میں کہتا ہوں کہ بے شک سمجھا۔“

(نزول المسیح ص ٤٢، خزائن ج ١٨ ص ٤٢٣)

”اور میں خدا کا کشتہ ہوں لیکن تمہارا حسین دشمنوں کا کشتہ ہے۔ پس فرق کھلا کھلا اور ظاہر ہے۔“

(اعجاز احمدی ضمیمہ نزول المسیح ص ٨١، خزائن ج ١٩ ص ١٩٣)

”تم نے اس کشتہ حسین سے نجات چاہی کہ جو نومیدی سے مر گیا۔ پس تم کو خدا نے جو

٨٣

صفحہ ٣٣١

غیور ہے ہر ایک مراد سے نومید کیا۔“

(اعجاز احمدی ضمیمہ نزول المسیح ص ٨١، خزائن ج ١٩ ص ١٩٣)

(اعجاز احمدی ضمیمہ نزول المسیح ص ٦٨، خزائن ج ١٩ ص ١٨٠) ”کیا تو اس (حسین کو) تمام دنیا سے زیادہ پرہیز گار سمجھتا ہے اور یہ تو بتاؤ کہ اس سے تمہیں دینی فائدہ کیا پہنچا؟“

مرزا قادیانی کہتے ہیں کہ ہمیں حسین سے کوئی دینی فائدہ نہ پہنچا اور حضرت خواجہ معین الدین اجمیریؒ فرماتے ہیں:

شاہ است حسین بادشاہ است حسین
دین است حسین دیں پناہ است حسین
سرداد وے نداد دست در دست یزید
حقا کہ بنائے لا الہ است حسین

مسلمانوں کس کی بات تسلیم کرو گے مرزا قادیانی کی یا حضرت خواجہؒ کی؟ مرزا قادیانی کا مشہور شعر ہے جو اعلیٰ درجہ کی مرزائی تہذیب کا بیسٹ کپل ہے۔

کربلا ئیست سیر ہر آنم
صد حسین است در گریبانم

یعنی میری ہر آن کی سیر کربلا ہے اور میرے گریبان میں سینکڑوں حسین پڑے ہوئے ہیں۔

مرزا قادیانی کے تیار کردہ نورتن چٹنی

مرزا قادیانی پر وحی لانے والا فرشتہ مسمی بہ ٹچی:

(حقیقت الوحی ص ٣٣٢، خزائن ج ٢٢ ص ٣٤٦: ٥، مارچ ١٩٠٥ء) ”گو میں نے خواب میں دیکھا کہ ایک شخص جو فرشتہ معلوم ہوتا تھا۔ میرے سامنے آیا اور اس نے مجھے بہت سا روپیہ میرے دامن میں ڈال دیا۔ میں نے اس کا نام پوچھا اس نے کہا نام کچھ نہیں۔ (شاید اپنا نام ڈر یا شرم سے نہ بتایا) میں نے کہا آخر کچھ تو نام ہوگا۔ اس نے کہا میرا نام ہے ٹچی ٹچی!“

واہ کیا پیارا اور دلربا نام ہے اور عجیب بات ہے کہ مرزا قادیانی کا فرشتہ جھوٹ بھی بولتا ہے۔ پہلے تو کہا میرا نام کچھ نہیں اور پھر بتا دیا۔ تو کیا ناظرین کو یہ خیال نہ ہوگا کہ جب مرزا قادیانی کا فرشتہ جھوٹ بولنے کا عادی ہے تو جس کے پاس فرشتہ آئے وہ کیسا ہوگا؟ مثل مشہور ہے جیسی روح ویسے فرشتے۔

٨٤

خدا کو مجسم فرض کر سکتے ہیں

(توضیح مرام ص ٧٥، خزائن ج ٣ ص ٩٠) ”ہم وجود اعظم ہے۔ جس کے لئے بے شمار ہاتھ اور بے شمار تعداد سے خارج اور لا انتہا عرض اور طول رکھتا ہے بھی ہیں۔“

خدا بھی مرزا قادیانی سے شرم کرتا ہے۔

(حقیقت الوحی ص ٣٥٦، خزائن ج ٢٢ ص ٣٦٩

نے مجھ کو پکارا ہے کہ ”مرزا“ نہیں کہا بلکہ ”مرزا صاحب ادب سیکھیں اور پھر دوسرا تعجب یہ کہ باوجود اس کے کہ میں میرا نام ظاہر کیا جائے مگر پھر بھی خدا کو میرا نام لینے میرا نام زبان پر لانے سے اس کو روک دیا۔“

لیکن ہمیں یہ تعجب ہے کہ مرزا قادیانی کا خ نام تو خدا نے وحی میں لئے اور مرزا قادیانی کا نام لیتے العلى العظيم“

خاکسار، پپرمُنٹ

(تذکرہ ص ٥٢٧ طبع سوم) حضور (مرزا قادی ایک شیشی دکھائی گئی۔ اس پر لکھا تھا ”خاکسار پپرمُنٹ“ ناقص نبی کے لئے وحی کے جملے بھی ناقص معلوم ہوتا ہے۔

پیشین گوئی پر خدا سے دستخط

(حقیقت الوحی ص ٢٥٥، خزائن ج ٢٢ ص ٢٦٧

نے اپنے ہاتھ سے کئی پیشین گوئیاں لکھیں جن کا یہ مط میں نے وہ کاغذ دستخط کرانے کے لئے خدا تعالیٰ کے س کے سرخی کے قلم سے اس پر دستخط کئے اور دستخط کرنے سیاہی آجاتی ہے تو اس طرح پر جھاڑ دیتے ہیں اور پھر د

٨٥

صفحہ ٣٣١

خدا کو مجسم فرض کر سکتے ہیں

(توضیح مرام ص٧٥، خزائن ج ٣ ص ٩٠)

”ہم فرض کرتے ہیں کہ قیوم العالمین ایک ایسا وجود اعظم ہے۔ جس کے لئے بے شمار ہاتھ اور بے شمار پیر اور ہر ایک عضو اس کثرت سے ہے کہ تعداد سے خارج اور لا انتہا عرض اور طول رکھتا ہے اور تندوں کی طرح اس وجود اعظم کی تاریں بھی ہیں۔“

خدا بھی مرزا قادیانی سے شرم کرتا ہے۔

(حقیقت الوحی ص ٣٥٦، خزائن ج ٢٢ ص ٣٦٩)

”لیکن تعجب کہ کیسے بڑے ادب سے خدا نے مجھ کو پکارا ہے کہ ”مرزا“ نہیں کہا بلکہ ”مرزا صاحب“ کہا ہے۔ چاہئے کہ یہ لوگ خدا تعالیٰ سے ادب سیکھیں اور پھر دوسرا تعجب یہ کہ باوجود اس کے کہ میری طرف سے یہ درخواست تھی کہ الہام میں میرا نام ظاہر کیا جائے مگر پھر بھی خدا کو میرا نام لینے سے شرم دامن گیر ہوئی اور شرم کے غلبہ نے میرا نام زبان پر لانے سے اس کو روک دیا۔“

لیکن ہمیں یہ تعجب ہے کہ مرزا قادیانی کا مرتبہ تمام انبیاء سے بڑھ گیا کہ اوروں کے نام تو خدا نے وحی میں لئے اور مرزا قادیانی کا نام لیتے شرم آئی۔ ”لاحول ولا قوة الا بالله العلی العظیم“

خاکسار پیپرمنٹ

(تذکرہ ص ٥٦٧ طبع سوم)

حضور (مرزا قادیانی) کی طبیعت ناساز تھی۔ حالت کشفی میں ایک شیشی دکھائی گئی۔ اس پر لکھا تھا ”خاکسار پیپرمنٹ“

ناقص نبی کے لئے وحی کے جملے بھی ناقص ہی چاہئیں۔ خاکسار کا لفظ بہت موزوں معلوم ہوتا ہے۔

پیشین گوئی پر خدا سے دستخط

(حقیقت الوحی ص ٢٥٥، خزائن ج ٢٢ ص ٢٦٧)

”مجھے خدا تعالیٰ کی زیارت ہوئی اور میں نے اپنے ہاتھ سے کئی پیشین گوئیاں لکھیں جن کا یہ مطلب تھا کہ ایسے واقعات ہونے چاہئیں تب میں نے وہ کاغذ دستخط کرانے کے لئے خدا تعالیٰ کے سامنے پیش کیا اور اللہ تعالیٰ نے بغیر کسی تامل کے سرخی کے قلم سے اس پر دستخط کئے اور دستخط کرنے کے وقت قلم کو چھڑکا جیسا کہ جب قلم پر زیادہ سیاہی آجاتی ہے تو اس طرح پر جھاڑ دیتے ہیں اور پھر دستخط کر دیئے ...... اور اسی وقت میری آنکھ کھلی

٨٥

صفحہ ٣٣٣

گئی اور اس وقت میاں عبداللہ سنوری مسجد کے حجرے میں میرے پیر دبا رہا تھا کہ اس کے رو برو ٹپ سے سرخی کے قطرے میرے کرتے اور ٹوپی پر بھی گرے۔

ایک غیر آدمی اس راز کو نہیں سمجھے گا اور شک کرے گا....... (کہ شاید یہ اس حیض کے قطرے ہوں جو مرزا قادیانی کو آتا تھا) مگر جس کو روحانی امور کا علم ہو وہ اس میں شک نہیں کر سکتا اور اس نے (عبداللہ نے) میرا کرتہ بطور تبرک اپنے پاس رکھ لیا، جو اب تک اس کے پاس موجود ہے۔

انکار معراج شریف

(ازالہ اوہام ص ٤٧، خزائن ج ٣ ص ١٢٦) ”اس جسم کا کرہ ماہتاب یا کرہ آفتاب تک پہنچنا۔ کس قدر لغو خیال ہے۔“ (ص ٤٧، خزائن ج ٣ ص ١٢٦ حاشیہ) ”سیر معراج شریف اس جسم کثیف کے ساتھ نہیں تھا بلکہ وہ نہایت اعلیٰ درجے کا کشف تھا۔“

حضور اکرم ﷺ کے جسم کو کثیف بتانا کس قدر لغو اور بے ہودہ بات ہے۔ پھر تمام اہل سنت و جماعت کے اس اجماعی مسئلہ میں اختلاف۔

وجہ کیا ہے؟

بات یہ ہے کہ اگر حضور کا بایں جسد عنصری آسمان پر تشریف لے جانا تسلیم کر لیں تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا آسمان پر جانا بلا تردد ثابت ہو جاتا ہے اور اگر یہ ثابت ہو جائے تو پھر مرزا قادیانی مسیح موعود نہیں بن سکتے۔ اس لئے معراج شریف کا انکار کر دیا۔

مرزا قادیانی خدا کے نافرمان ہیں

(الاستفتاء ص ٤١، خزائن ج ٢٢ ص ٦٥٢) اور میں مشتاق ظہور نہ تھا بلکہ مجھ کو یہ پسند تھا کہ مردوں کی طرح پوشیدگی کی زندگی بسر کروں۔ مگر مجھ کو خدا نے دنیا میں زبردستی مسیح موعود اور مجدد اور کیا کیا بننے کے لئے ظاہر کیا حالانکہ میں خدا کے اس فعل سے راضی نہ تھا۔

یہ مرزا قادیانی کی اطاعت الٰہی ہے کہ خدا کہے کہ باہر نکل اور وہ کہیں کہ میں نہیں نکلتا مگر یہ ہو سکتا ہے کہ کامل نبی ایسا نہ کہے گا۔ ناقص نبی نافرمانی کر سکتا ہے اور مرزا قادیانی ناقص ہی تو تھے۔

مرزا قادیانی خدا سے افضل ہیں

(انجام آتھم ص ٥٢، خزائن ج ١١ ص ٥٢) ”اے احمد (مرزا) تیرا نام تام اور کامل ہو جائے گا

٨٦

اور میرا نام ناقص رہے گا۔ تعجب ہے کہ مرزا قادیانی ک ناقص نبی کا نام تو تام ہو جائے گا اور خدا کا نام ناقص رکھے گا“

مرزا قادیانی مقام محمود پر بیٹھنا چاہتے تھے

(الاستفتاء ٨٦، خزائن ج ٢٢ ص ٧١٤) ”اے م حالانکہ حضور فرماتے ہیں کہ مقام محمود صرف

مرزا قادیانی رحمۃ للعالمین بنتے ہیں

(حقیقت الوحی ص ٨٢، خزائن ج ٢٢ ص ٨٥) ”ا اے مرزا ہم نے تجھ کو رحمۃ للعالمین بنا کر بھیجا۔“ حالانک نہیں۔

مرزا قادیانی کا حوض کوثر پر دھاوا

(حقیقت الوحی ص ١٠٢، خزائن ج ٢٢ ص ١٠٥) ” تم کو حوض کوثر کا مالک بنایا۔ حالانکہ حوض کوثر حضور کے احادیث محمد رسول اللہ کی وقعت مرزا قادیان

(اعجاز احمدی ص ٣٠، خزائن ج ١٩ ص ١٤٠) ”او بیان کرتے ہیں کہ میرے اس دعویٰ کی حدیث بنیاد ن ہوئی۔ ہاں تائیدی طور پر ہم وہ حدیثیں بھی پیش کر میری وحی کے معارض نہیں اور دوسری حدیثوں کو (ی ردی کی طرح پھینک دیتے ہیں۔“

خلاصہ یہ ہے کہ جو ہمارے مطلب کی ہیں موضوع و ضعیف اگر مرزا قادیانی کے مطلب کی ہیں اب مدار کار صحت و سقم کا اسناد و احوال راوی نہیں بلکہ

مرزا قادیانی نے افیون استعمال کی ہے

(اخبار الفضل قادیان ٢٩ جولائی ١٩٢٩ء) ”م

٨٧

صفحہ ٣٣٣

اور میرا نام ناقص رہے گا۔ تعجب ہے کہ مرزا قادیانی لغو الہامات کس قدر گڑھنے کے عادی تھے۔ ناقص نبی کا نام تو تام ہو جائے گا اور خدا کا نام ناقص رہے۔ مرزا قادیانی خدا کا نام کامل کرنے آئے تھے یا اپنا؟“

مرزا قادیانی مقام محمود پر بیٹھنا چاہتے تھے

(الاستفتاء ٨٦، خزائن ج ٢٢ ص ٧١٣) ”اے مرزا تجھ کو مقام محمود دیا جائے گا۔“ حالانکہ حضور فرماتے ہیں کہ مقام محمود صرف میرا مقام ہے جو کسی اور کو نہ ملے گا۔

(دیکھو مشکوٰۃ)

مرزا قادیانی رحمۃ للعالمین بنتے ہیں

(حقیقت الوحی ص ٨٢، خزائن ج ٢٢ ص ٨٥) ”وما ارسلنک الا رحمتہ للعالمین اے مرزا ہم نے تجھ کو رحمۃ للعالمین بنا کر بھیجا۔“ حالانکہ یہ صرف حضور کی خصوصیت ہے جو اور کسی کو نہیں۔

(دیکھو خصائص کبریٰ جلد ثانی)

مرزا قادیانی کا حوض کوثر پر دھاوا

(حقیقت الوحی ص ١٠٢، خزائن ج ٢٢ ص ١٠٥) ”انا اعطینک الکوثر۔ اے مرزا ہم نے تم کو حوض کوثر کا مالک بنایا۔ حالانکہ حوض کوثر حضور کے لئے خاص ہے۔“

احادیث محمد رسول اللہ کی وقعت مرزا قادیانی کی نظر میں

(اعجاز احمدی ص ٣٠، خزائن ج ١٩ ص ١٤٠) ”اور ہم اس کے جواب میں خدا تعالیٰ کی قسم کھا کر بیان کرتے ہیں کہ میرے اس دعویٰ کی حدیث بنیاد نہیں بلکہ قرآن اور وحی ہے جو میرے پر نازل ہوئی۔ ہاں تائیدی طور پر ہم وہ حدیثیں بھی پیش کرتے ہیں جو قرآن شریف کے مطابق ہیں اور میری وحی کے معارض نہیں اور دوسری حدیثوں کو (جو مرزا قادیانی کے وحی کے خلاف ہیں) ہم ردی کی طرح پھینک دیتے ہیں۔“

خلاصہ یہ ہے کہ جو ہمارے مطلب کی ہیں۔ قبول کرتے ہیں ورنہ نہیں۔ تو اب حدیث موضوع و ضعیف اگر مرزا قادیانی کے مطلب کی ہیں تو کام دیں گی ورنہ قوی صحیح بھی ہو تو بے کار۔ اب مدار کار صحت و سقم کا اسناد و احوال راوی نہیں بلکہ مرزا قادیانی کی خواہش۔

مرزا قادیانی نے افیون استعمال کی ہے

(اخبار الفضل قادیان ٢٩ جولائی ١٩٢٩ء) ”حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) کہا کرتے

٨٧

صفحہ ٣٣٥

تھے کہ بعض اطباء کے نزدیک افیون نصف طب ہے۔ حضرت مسیح موعود نے تریاق الٰہی دوا خدا تعالیٰ کی ہدایت کے ماتحت بنائی اور اس کا ایک بڑا جز افیون تھا اور یہ دوا کسی قدر اور افیون کی زیادتی کے بعد حضرت خلیفہ اول کو حضور چھ ماہ سے زائد ماہ تک دیتے رہے اور خود بھی وقتاً فوقتاً مختلف امراض کے دوران میں استعمال کرتے رہے۔“

ٹانک وائن (شراب) کا آرڈر

(خطوط مرزا بنام غلام ص ٥ مکتوبات مرزا قادیانی) حکیم محمد حسین قریشی قادیانی کو لکھتے ہیں: ”اس وقت میاں یار محمد بھیجا جاتا ہے۔ آپ اشیاء خوردنی خرید دیں اور بوتل ٹانک وائن کی پلومر کی دکان سے خرید دیں مگر ٹانک وائن چاہئے اس کا لحاظ رہے۔“

ڈاکٹر عزیز احمد صاحب کی معرفت ٹانک وائن کی حقیقت لاہور پلومر کی دکان سے کی گئی۔ ڈاکٹر صاحب جواب دیتے ہیں: ”ٹانک وائن ایک قسم کی طاقتور اور نشہ دینے والی شراب ہے۔ جو ولایت سے سر بند بوتلوں میں آتی ہے۔ اس کی قیمت ٨ میر ہے۔“

(سودائے مرزا ص ٣٩)

شاید افیون اور شراب قادیانی نبوت میں جائز ہو یا مرزا قادیانی اپنے اس الہام کے ماتحت افعل ماشئت فقد غفرت لک۔ اے مرزا جو چاہے سو کر میں نے تجھے بخش دیا ہے۔ مرزا قادیانی ان منشیات کا استعمال کرتے ہوں۔ خیر کچھ بھی سہی مگر نبوت ورسالت بلکہ تقویٰ کے خلاف تو ضرور ہے۔

آمدم بر سر مطلب

مرزا غلام احمد قادیانی کی مصنفہ کتابوں سے ان کے عقائد، ان کے خیالات، ان کے اقوال کا ایک مختصر سا نقشہ آپ حضرات کے سامنے کھینچ دیا گیا ہے۔ ضرورت کے مطابق بعض بعض مسائل کی کافی تحقیق کر دی گئی ہے۔ ان تمام مذکورہ عقائد کو پھر ایک اجمالی نظر سے ملاحظہ فرماتے چلئے۔

(١) دعویٰ الوہیت۔ (٢) اہلبیت۔ (٣) نبوت۔ (٤) مہدویت۔ (٥) مسیحیت۔ (٦) کرشنیت۔ (٧) وحی شریعت۔ (٨) اقرار تناسخ۔ (٩) اقرار (حلول)۔ (١٠) انکار ختم نبوت۔ (١١) اکتساب نبوت۔ (١٢) مکالمہ شقائق۔ (١٣) دعویٰ مماثلت باحضور۔ (١٤) توہین انبیاء۔ (١٥) تفضیل علی الانبیاء۔ (١٦) توہین صحابہ۔ (١٧) انکار معجزات۔ (١٨) حضور کو بے علم کہنا۔ (١٩) خدا کو مجسم فرض کرنا۔ (٢٠) حوض کوثر پر حملہ کرنا۔ (٢١) رحمۃ للعالمین بننا وغیرہ۔ جس

٨٨

کے جزئیات میں سینکڑوں کفریات۔ ان عقائد مذکورہ میں بعض تو کفر ہیں بعض ایسا شخص مسلمان ہونے کا بھی مدعی ہو سکتا ہے؟ چن انصاف فرمالیں۔ قد تبین الرشد من الغی۔ ضرورت تو نہیں کہ اب مرزا قادیانی کے غرض سے اب انشاء اللہ مرزا قادیانی کے ملمعات کو کریں گے۔ یہاں تک تو ہم نے مرزا قادیانی کے نظر ڈالیں اور یہ دیکھیں کہ نبی اور وہ بھی خاتم الانبیا ہو سکتی ہے۔

سیاسیات

(تریاق القلوب ص ١٥، خزائن ج ١٥ ص ١٥٥)

کی تائید اور حمایت میں گزرا ہے اور میں نے ممانع اس قدر کتابیں لکھی ہیں اور اشتہار شائع کئے ہیں ک پچاس الماریاں ان سے بھر سکتی ہیں۔ میری ہمیشہ کو خیر خواہ ہو جائیں اور مہدی خونی اور مسیح خونی کی بے مسائل جو احمقوں کے دل خراب کرتے ہیں ان کے خیر خواہی میں مسئلہ جہاد کو مرزا قادیانی نے بند کرنا چ

(خریہ مرزا، مجموعہ اشتہارات جلد ٣ ص ٢٣)

کر رکھا ہے کہ ایسی کتابیں جن میں جہاد کی مخالفت (مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ٢٧٠) ”میں ال مکہ میں اچھی طرح چلا سکتا ہوں۔ نہ مدینہ میں، نہ (کیونکہ یہ تمام اسلامی سلطنتیں مرزا قادیانی جیسے کر دیں۔ جیسا کہ کابل میں دو قادیانیوں کو قتل کر کابل کو جب مرزا قادیانی نے دعوتی خط بھیجا اور ان ”ایں جابیا“ کہ اے مرزا قادیانی یہاں آجاؤ۔ مگ

٨٩

صفحہ ٣٣٥

کے جزئیات میں سینکڑوں کفریات۔

ان عقائد مذکورہ میں بعض تو کفر ہیں بعض مذہب اہلسنت و جماعت کے خلاف تو کیا ایسا شخص مسلمان ہونے کا بھی مدعی ہوسکتا ہے؟ چہ جائیکہ مجدد وغیرہ۔ ناظرین خود پڑھیں خود انصاف فرمائیں۔ قد تبین الرشد من الغی۔

ضرورت تو نہیں کہ اب مرزا قادیانی کے آئندہ دعاوی پر نظر کی جائے لیکن تحقیق حق کی غرض سے اب انشاء اللہ مرزا قادیانی کے ملہمیت اور مجددیت پر دوسرے حصہ میں مفصل بحث کریں گے۔

یہاں تک تو ہم نے مرزا قادیانی کے مذہبیات نقل کر دیئے۔ اب ذرا سیاست پر نظر ڈالیں اور یہ دیکھیں کہ نبی اور وہ بھی خاتم الانبیاء بننے کا مدعی ہو اس کی ایسی کمزور سیاست ہوسکتی ہے۔

سیاسیات

(تریاق القلوب ص١٥، خزائن ج١٥ ص ١٥٥) ”میری عمر کا اکثر حصہ اس سلطنت انگریزی کی تائید اور حمایت میں گزرا ہے اور میں نے ممانعت جہاد اور انگریزی اطاعت کے بارے میں اس قدر کتابیں لکھی ہیں اور اشتہار شائع کئے ہیں کہ اگر وہ رسائل اور کتابیں اکٹھی کی جائیں تو پچاس الماریاں ان سے بھر سکتی ہیں۔ میری ہمیشہ کوشش رہی ہے کہ مسلمان اس سلطنت کے سچے خیر خواہ ہو جائیں اور مہدی خونی اور مسیح خونی کی بے اصل روایتیں اور جہاد کے جوش دلانے والے مسائل جو احمقوں کے دل خراب کرتے ہیں ان کے دلوں سے معدوم ہو جائیں۔“ (گورنمنٹ کی خیر خواہی میں مسئلہ جہاد کو مرزا قادیانی نے بند کرنا چاہا)

(تحفہ قیصریہ، مجموعہ اشتہارات جلد سوم ص ٢٣٣) ”میں نے بائیس برس سے اپنے ذمہ یہ فرض کر رکھا ہے کہ ایسی کتابیں جن میں جہاد کی مخالفت ہو، اسلامی ممالک میں ضرور بھیج دیا کروں۔“

(مجموعہ اشتہارات ج٣ ص ٢٧٠) ”میں اپنے کام کو (دعویٰ نبوت ومجددیت و مسیحیت) نہ مکہ میں اچھی طرح چلا سکتا ہوں۔ نہ مدینہ میں، نہ روم میں، نہ شام میں، نہ ایران میں، نہ کابل میں (کیونکہ یہ تمام اسلامی سلطنتیں مرزا قادیانی جیسے باطل پرستوں کو دم زدن میں دنیا سے نیست کر دیں۔ جیسا کہ کابل میں دو قادیانیوں کو قتل کر دیا گیا اور اعلیٰ حضرت امیر حبیب اللہ خان والی کابل کو جب مرزا قادیانی نے دعوتی خط بھیجا اور اپنے دعاوی باطلہ کا ذکر کیا تو وہاں سے جواب آیا: ”بیا جاہلا“ کہ اے مرزا قادیانی یہاں آ جاؤ۔ مگر مرزا قادیانی کیوں نہ گئے۔ مجدد ومہدی کو تو اس

٨٩

صفحہ ٣٣٧

قدر ڈرنا نہ چاہئے تھا۔ اس وجہ سے اسلامی سلطنتیں مرزا قادیانی کو خار معلوم ہوتی ہیں) مگر اس گورنمنٹ میں جس کے اقبال کے لئے دعا کرتا ہوں۔ ہاں گورنمنٹ برطانیہ میں آپ کا کام چلے گا۔ کیونکہ اس نے مذہب کی آزادی دے رکھی ہے اور عدم دست اندازی مذہب کا قانون پاس کر دیا ہے۔ اگر اس گورنمنٹ میں کوئی خدائی کا دعویٰ کرے جب بھی گورنمنٹ کو کیا تعلق۔“ (ازالہ اوہام ص ٥٤، خزائن ج ٣ ص ١٣٠) میں بھی یہی مضمون ہے۔

(مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ٤٣٥) ”بار ہا بے اختیار دل میں یہ بھی گزرتا ہے کہ جس گورنمنٹ کی اطاعت اور خدمت گزاری کی نیت سے ہم نے کئی کتابیں مخالفت جہاد اور گورنمنٹ کی اطاعت میں لکھ کر دنیا میں شائع کیں اور کافر وغیرہ اپنے نام رکھوائے۔ اس گورنمنٹ کو اب تک معلوم نہیں کہ ہم دن رات کیا خدمت کر رہے ہیں۔“

(گورنمنٹ نادان نہیں وہ خوب سمجھتی ہے کہ مرزا قادیانی ہماری موافقت میں کافر نہیں کہے جاتے ہیں بلکہ اپنے اسلام کے خلاف عقائد ظاہر کرنے پر کافر کہلائے جاتے ہیں اور جو کچھ آپ خدمت کر رہے ہیں وہ عنقریب ظاہر ہو جائے گا کہ آپ اور آپ کی امت گورنمنٹ کی مخالفت کرے گی یا موافقت)

میں یقین رکھتا ہوں کہ ایک دن یہ گورنمنٹ عالیہ ضرور میری ان خدمات کی قدر کرے گی۔ یعنی کچھ مرتبہ عطا کرے گی۔ خطاب دیگی مگر ایسا نہ ہوا۔

درخواست مرزا قادیانی مندرجہ تبلیغ رسالت ج ٧ ص ١١: مگر افسوس ہے کہ مجھے معلوم ہوتا ہے کہ اس لمبے سلسلہ اٹھارہ برس کی تالیفات کو جن میں بہت سی پر زور تقریریں اطاعت گورنمنٹ کے بارے میں ہیں۔ کبھی ہماری گورنمنٹ محسنہ نے توجہ سے نہیں دیکھا اور کئی مرتبہ میں نے یاد دلایا ہے مگر اس کا اثر محسوس نہیں ہوا۔

یعنی اب تک کوئی مربع زمین مجھ کو نہیں ملی اور نہ کوئی خاص خطاب سے سرفراز فرمایا گیا۔ مسیح موعود اور مہدی اور نبی بننے کے بعد جو نمایاں کام مرزا قادیانی نے کئے وہ اس سیاسی زندگی سے بخوبی معلوم ہوتے ہیں اور یہی زندگی سیاسیانہ نظر سے مرزا قادیانی کے دعویٰ نبوت کاذب ہونے کی مضبوط دلیل ہے، جس کو ہر عاقل سمجھ سکتا ہے۔

امت مرزائیہ غلامیہ کا عقائد نامہ

جس میں یہ بتایا جائے گا کہ متبعین مرزا مرزا قادیانی کو کیا سمجھتے ہیں اور کس مرتبہ پر پہنچاتے ہیں؟

٩٠

افتراق ملت مرزائیہ

اوراق گزشتہ میں آپ نے پڑھا ہوگا کہ مرزا قادیانی، لاہوری اور قادیانی جماعت میں سب سے بڑا ا کے متاخرین بظاہر مرزا قادیانی کو نبی نہیں مانتے اگرچہ ق قادیانی جماعت مرزا قادیانی کو نبی مانتے ہیں اور ویسا ہ ساتھ ساتھ مرزا قادیانی کو دونوں جماعتیں تسلیم کرتی ہ صادق القول جانا اور ان کی بیعت کی۔

ایک عاقل منصف کے لئے

مرزا قادیانی کی امت میں یہ اختلاف اور دعویٰ میں کاذب ہونے کی سب سے بڑی دلیل ہے۔ کیا کوئی بتا سکتا ہے کہ حضرت آدم علیہ السلا جس قدر انبیاء تشریف لائے ان پر ایمان لانے والے کبھی ایسا اختلاف کیا ہے کہ ایک گروہ تو اس کو نبی مان میں کبھی اختلاف نہیں کر سکتے۔ اگرچہ بعض فروعی مسا لئے یہ ایک خاص عبرت ونصیحت حاصل کرنے کا موقع کی نبوت میں اختلاف کریں اس کی نبوت معرض شک قدر قادیانی جماعت نے تصور کر لیا ہے اور حد سے گزر گ

سنئے قادیانی جماعت کے عقائد

(حقیقت النبوۃ ص ٢٢٨ مصنفہ میاں محمود احمد خلی

محض محدثیت ہی جاری نہیں بلکہ اس سے اوپر نبوت کا سلسل طرح ثابت ہے کہ آنحضرت ﷺ کے بعد نبوت کا در سے مل سکتی ہے براہ راست نہیں مل سکتی اور پہلے زمان اتباع سے نہیں مل سکتی تھی۔ کیونکہ وہ اس قدر صاحب ک کا دروازہ علاوہ محدثیت کے امت محمدیہ میں کھلا ثابت قادیانی) نبی اللہ تھے۔“

٩١

صفحہ ٣٣٧

افتراق ملت مرزائیہ

اوراق گزشتہ میں آپ نے پڑھا ہوگا کہ مرزائی جماعت کے دو حصے ہو گئے۔ لاہوری، قادیانی، لاہوری اور قادیانی جماعت میں سب سے بڑا اختلافی مسئلہ نبوت ہے۔ لاہوری جماعت کے متاخرین بظاہر مرزا قادیانی کو نبی نہیں مانتے اگرچہ مجدد، مہدی، مسیح سب کچھ تسلیم کرتے ہیں۔ قادیانی جماعت مرزا قادیانی کو نبی مانتے ہیں اور ویسا ہی جیسے کہ اگلے انبیاء۔ اس اختلاف کے ساتھ ساتھ مرزا قادیانی کو دونوں جماعتیں تسلیم کرتی ہیں۔ چنانچہ ان پر ایمان لائے اور ان کو صادق القول جانا اور ان کی بیعت کی۔

ایک عاقل منصف کے لئے

مرزا قادیانی کی امت میں یہ اختلاف اور پھر وہ بھی نبوت کا اختلاف مرزا قادیانی کے دعویٰ میں کاذب ہونے کی سب سے بڑی دلیل ہے۔ کیا کوئی بتا سکتا ہے کہ حضرت آدم علیہ السلام سے لے کر حضور اکرم ﷺ کے زمانہ تک جس قدر انبیاء تشریف لائے ان پر ایمان لانے والے ان کو صادق القول جاننے والے گروہ نے کبھی ایسا اختلاف کیا ہے کہ ایک گروہ تو اس کو نبی مانے اور دوسرا گروہ نبی نہ مانے۔ نبی کی نبوت میں کبھی اختلاف نہیں کرسکتے۔ اگرچہ بعض فروعی مسائل میں مختلف ہوں۔ قادیانی جماعت کے لئے یہ ایک خاص عبرت ونصیحت حاصل کرنے کا موقع ہے کہ جس نبی کے ماننے والے بعد کو اس کی نبوت میں اختلاف کریں اس کی نبوت معرض شک میں ہو جاتی ہے اور اتنی یقینی نہیں رہتی جس قدر قادیانی جماعت نے تصور کرلیا ہے اور حد سے گزر گئے۔

سنئے قادیانی جماعت کے عقائد

(حقیقت النبوۃ ص ٢٢٨ مصنفہ میاں محمود احمد خلیفہ قادیان) ”آنحضرت ﷺ کی امت میں محدثیت ہی جاری نہیں بلکہ اس سے اوپر نبوت کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ پس یہ بات روز روشن کی طرح ثابت ہے کہ آنحضرت ﷺ کے بعد نبوت کا دروازہ کھلا ہے مگر نبوت صرف آپ کے فیضان سے مل سکتی ہے براہ راست نہیں مل سکتی اور پہلے زمانہ میں نبوت براہ راست مل سکتی تھی کسی نبی کی اتباع سے نہیں مل سکتی تھی۔ کیونکہ وہ اس قدر صاحب کمال نہ تھے جیسے آنحضرت ﷺ اور جبکہ نبوت کا دروازہ علاوہ محدثیت کے امت محمدیہ میں کھلا ثابت ہوگیا تو یہ بھی ثابت ہوگیا کہ مسیح موعود (مرزا قادیانی) نبی اللہ تھے۔“

٩١

صفحہ ٣٣٩

خلیفہ قادیانی کہتے ہیں کہ نبوت صرف حضور کے فیضان سے اور اتباع واقتداء سے مل سکتی ہے۔ اس لئے مرزا قادیانی نبی اللہ ہیں۔

معلوم ہوا کہ نبوت اتباع واقتداء سے مل سکتی ہے تو یہ نبوت تو کسبی ہوئی جس کے فلسفی قائل ہیں، نہ وہبی۔ حالانکہ اسلام میں نبوت کسبی کوئی چیز ہی نہیں۔

(دیکھو عقیدہ کفریہ نمبر ٤ اکتساب نبوت)

پھر یہ کہ حضور کے فیضان سے بنے ہوئے۔ معلوم ہوا کہ ایک نبوت وہ ہے جو خدا عطا فرمائے اور ایک وہ جو نبی عطا کرے حالانکہ عطائے نبوت منصب الوہیت ہے، نہ منصب نبوت، خدا فرماتا ہے: ”الله اعلم حيث يجعل رسالته“ اللہ جانتا ہے کہ کون مستحق نبوت ہے کہ اس کو نبی بنایا جائے۔

اور اگر حضور کے فیضان سے ہی نبوت ملی تو کیا حضور کا فیضان اب تیرہ سو برس کے بعد ظاہر ہوا اور وہ بھی قادیان میں۔ اس سے پہلے کا زمانہ فیضان نبی سے بالکل خالی گیا اور فیضان نے کچھ اثر نہ کیا۔ کم از کم ہر صدی میں ایک نبی اللہ ضرور ہوتا۔ قادیان کے اس اصول سے تو حضور کی سخت ہتک ہوئی۔

یا تیرہ سو برس کے زمانہ میں صحابہ، اولیاء، اقطاب میں کوئی اس قابل نہیں ہوا کہ حضور کے فیضان کو قبول کرتا سوائے مرزا قادیانی اس صورت سے امت محمدیہ ﷺ کی سخت ہتک کی۔

پس جبکہ ثابت ہو گیا کہ حضور ﷺ کے بعد دروازہ نبوت کا بند ہے۔ کسبی نبوت کوئی چیز نہیں۔ نبی کے فیضان کے واسطے سے نبوت نہیں ملتی بلکہ بلاواسطہ خدا کی عطا سے۔ تو یہ بھی ثابت ہو گیا کہ مرزا قادیانی ہرگز نبی اللہ نہ تھے۔

(حقیقت النبوۃ ص ٢٢١)

”حضرت مسیح موعود کا یہ فرمانا کہ رسول اللہ کے افاضہ کا کمال ثابت کرنے کے لئے اللہ تعالیٰ نے مجھے مقام نبوت پر پہنچایا۔ ثابت کرتا ہے کہ آپ کو واقع میں نبی بنا دیا گیا ۔“

مرزا قادیانی کے نبی بننے سے حضور ﷺ کے افاضہ کا کمال نہیں ثابت ہوتا بلکہ معاذ اللہ تنقیص ہوتی ہے کہ کوئی کہہ سکتا ہے کہ حضور ﷺ کا اس قدر افاضہ کمزور تھا کہ صرف تیرہ سو برس میں صرف مرزا قادیانی نبی ہوئے۔ معلوم ہوا کہ کمال افاضہ نبی بنانے کے لئے نہیں بلکہ ولی بنانے کے لئے ثابت ہوا کہ مرزا قادیانی واقع میں نبی نہ تھے اور چونکہ نبوت کا دعویٰ کیا اس لئے نہ ولی ہوئے ، نہ مجدد کچھ بھی نہ ملا۔

٩٢

(حقیقت النبوۃ ص ١٢٨) ”پس ہمارا یہ عقیدہ نبی نہیں گزرا کیونکہ اس وقت تک نبی کی تعریف کسی او

بالکل درست ہے کیونکہ نبی کی تعریف ا نہیں مل سکتی اور جو تعریف فلسفیوں نے کی۔ خانہ ساز قادیانی خانہ ساز کسبی نبی ہیں اور اسلام کو خانہ ساز کس

بلکہ خلیفہ قادیانی کا یہ کہنا غلط ہے کیونکہ ح ہے وہ گھر کی بنائی ہوئی ہے جس کے مدعی کو کاذب آئے اور انہی میں سے مرزا قادیانی ہیں۔

(انوار خلافت ص ٦٥ مصنفہ خلیفہ قادیان نمبر ٢ رکھ دی جائے اور مجھے کہا جائے کہ تم یہ کہو کہ آنحضر کہوں گا تو جھوٹا ہے، کذاب ہے۔ آپ کے بعد نبی

بالکل درست ہے آسکتے ہیں کیا معنی؟ آ پیشین گوئی کی تصدیق کیونکر ہوتی کہ میرے بعد گے۔ ایسے دجالوں کے آنے سے خدا اپنے صادق ہے۔ پس میری گردن کی دونوں طرف تلوار رکھ آسکتا تو میں کہوں گا کہ تو کذاب ہے، جھوٹا ہے۔ آئے۔

(القول الفصل ٣٤) ”میں حضرت مرزا کے حقوق کے لحاظ سے وہ ایسی ہی نبوت ہے جیسے ا

طریقوں میں فرق ہے، پہلے انبیاء نے بلا واسطہ نبو نبوت جس کو ملتی ہے بلا واسطہ ہی ملتی واقتداء و صفائی قلب نبوت نہیں بنتی۔ ایسی نبوت

دیکھو بحث اکتساب نبوت اور اگر ہو بھی تو لفظ خا کر دیا۔ جیسے کہ مرزا قادیانی خود کہہ چکے ہیں۔

(عبارت نقل کر چکے ہیں)

صفحہ ٣٣٩

(حقیقت النبوۃ ص ١٢٨) ”پس ہمارا یہ عقیدہ ہے کہ اس وقت امت محمدیہ میں کوئی اور شخص نبی نہیں گزرا کیونکہ اس وقت تک نبی کی تعریف کسی اور شخص پر صادق نہیں آئی۔“ بالکل درست ہے کیونکہ نبی کی تعریف جو شریعت نے کی اس اعتبار سے کسی کو نبوت نہیں مل سکتی اور جو تعریف فلسفیوں نے کی۔ خانہ ساز نبوت ایجاد کی۔ اس اعتبار سے بے شک مرزا قادیانی خانہ ساز کسبی نبی ہیں اور اسلام کو خانہ ساز کسبی نبی کی ضرورت قطعا نہیں۔ بلکہ خلیفہ قادیانی کا یہ کہنا غلط ہے کیونکہ حضورﷺ نے اپنے بعد جس نبوت کی تعریف کی ہے وہ گھر کی بنائی ہوئی ہے جس کے مدعی کو کاذب دجال فرمایا ہے اور ایسے مدعیان نبوت بہت آئے اور انہی میں سے مرزا قادیانی ہیں۔

(انوار خلافت ص ٦٥ مصنفہ خلیفہ قادیان نمبر ٢) ”اگر میری گردن کے دونوں طرف تلوار بھی رکھ دی جائے اور مجھے کہا جائے کہ تم یہ کہو کہ آنحضرتﷺ کے بعد نبی نہیں آئیں گے۔ میں اسے کہوں گا تو جھوٹا ہے، کذاب ہے۔ آپ کے بعد نبی آسکتے ہیں اور ضرور آسکتے ہیں۔“ بالکل درست ہے آسکتے ہیں کیا معنی؟ مدعیان نبوت آئے اگر نہ آتے تو حضورﷺ کی پیشین گوئی کی تصدیق کیونکر ہوتی کہ میرے بعد بہت سے دجال کذاب مدعیان نبوت آئیں گے۔ ایسے دجالوں کے آنے سے خدا اپنے صادق ومصدوق نبی کی تصدیق تمام عالم پر آشکار فرماتا ہے۔ پس میری گردن کی دونوں طرف تلوار رکھ کر اگر کوئی کہے کہ کذاب مدعی نبوت کوئی نہیں آسکتا تو میں کہوں گا کہ تو کذاب ہے، جھوٹا ہے۔ ایسے دجال کذاب مسیلمہ وغیرہ کی طرح ضرور آئے۔

(القول الفصل ص ٣٢) ”میں حضرت مرزا قادیانی کی نبوت کی نسبت لکھ آیا ہوں کہ نبوت کے حقوق کے لحاظ سے وہ ایسی ہی نبوت ہے جیسے اور نبیوں کی۔ صرف نبوت کے حاصل کرنے کے طریقوں میں فرق ہے، پہلے انبیاء نے بلا واسطہ نبوت پائی اور آپ نے بالواسطہ۔“ نبوت جس کو ملتی ہے بلا واسطہ ہی ملتی ہے بالواسطہ نبوت کوئی نہیں۔ یعنی بواسطہ اتباع و اقتداء و صفائی قلب نبوت نہیں ملتی۔ ایسی نبوت صرف فلسفیوں کے لنگر خانہ میں تقسیم ہوتی ہے۔ دیکھو بحث اکتساب نبوت اور اگر ہو بھی تو لفظ خاتم النبیین کے عموم نے بلا استثناء سب کو مسدود کر دیا۔ جیسے کہ مرزا قادیانی خود کہہ چکے ہیں۔

(دیکھو حمامۃ البشریٰ ص ٢٠، خزائن ج ٧ ص ٢٠٠)

(عبارت نقل کر چکے ہیں)

٩٣

صفحہ ٣٤٠

(حقیقت النبوۃ ص ١٧٤) ”پس شریعت اسلامی نبی کے جو معنی کرتی ہے اس کے معنی سے حضرت صاحب ہرگز مجازی نبی نہیں ہیں بلکہ حقیقی نبی ہیں۔“

چلو چھٹی ملی خلیفہ قادیانی نے ایک ہی ہاتھ میں ظل و بروز لغوی مجازی سارا جھگڑا ہی صاف کر دیا کہ ایک کیل تک باقی نہ رکھی۔

شریعت اسلامی نبی کے جو معنی کرتی ہے اس کے اعتبار سے مرزا قادیانی ہرگز نبی نہیں ہو سکتے۔ چنانچہ وہ خود کہتے ہیں: ”صاحب انصاف طلب کو یاد رکھنا چاہئے کہ اس عاجز نے کبھی اور کسی وقت بھی حقیقی طور پر نبوت یا رسالت کا دعویٰ نہیں کیا۔

(انجام آتھم ص ٢٧، خزائن ج ١١ ص ٢٧ حاشیہ)

حاشا وکلاء مجھے نبوت حقیقی کا ہرگز دعویٰ نہیں ہے۔ (اللہ جل شانہ خوب جانتا ہے کہ اس لفظ نبی سے مراد حقیقی نبوت نہیں ہے ) (اقرار نامہ ٣ فروری ١٨٩٢ء، مجموعہ اشتہارات ج ١ ص ٣١٣) مرزا قادیانی کا انکار کریں، مریدین زبردستی چپکائیں۔ مثل مشہور ہے:

”پیران نمی پرند و مریدان می پرانند“

(کشف الاختلاف محمد سرور شاہ قادیانی ص ٧) حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) رسول اللہ اور نبی اللہ جو کہ اپنی شان میں اسرائیلی مسیح سے کم نہیں اور ہر طرح بڑھ چڑھ کر ہے۔

(تشحیذ الاذہان قادیان نمبر ٨ ج ١٢ ص ١١، ماہ اگست ١٩١٧ء): آنحضرت کے بعد صرف ایک ہی نبی کا ہونا لازم ہے اور بہت سارے انبیاء خدا تعالیٰ کی بہت سی مصلحتوں اور حکمتوں میں رخنہ واقع کرتا ہے۔ حکمتوں میں رخنہ واقع ہونا تو ایک بہانہ ہے بلکہ مقصود یہ ہے کہ اگر یہ کہا جائے کہ مرزا قادیانی کے بعد اور بھی نبی آسکتے ہیں اور کوئی دعویٰ کر دے تو بحکم کل جدید لذیذ کے لوگ ادھر جھک پڑیں۔ پھر خزانہ عامرہ قادیان گھٹنے لگے تو نقصان ہوگا تو دولت مرزائیوں میں ضرور رخنہ واقع ہوگا اس لئے نبوت بند کی جارہی ہے۔

علاوہ اس کے حضور ﷺ کے بعد ایک ہو یا دو سب سے خدا کی حکمت میں رخنہ واقع ہوتا ہے۔ لہٰذا ایک کو بھی نبوت نہیں ملے گی۔

(کلمۃ الفصل صاحبزادہ بشیر قادیانی) ”تو اس صورت میں کیا اس بات میں کوئی شک رہ جاتا ہے کہ قادیان میں اللہ تعالیٰ نے پھر محمد رسول اللہ ﷺ کو اتارا کہ اپنے وعدہ کو پورا کرے۔“

کہاں خدا نے وعدہ کیا اس قدر افتراء علی اللہ پر جرأت!

(قاضی محمد ظہور الدین قادیانی کا شعر مندرجہ اخبار الفضل ج ٢ ص ٤٣)

٩٤

صفحہ ٤٣١
محمد پھر اتر آئے ہیں ہم میں
اور آگے سے ہیں بڑھ کر اپنی شان میں

سبحان اللہ! کیا شاعری کی ٹانگ توڑی ہے۔

بلاوجہ تکفیر مسلمانان

(کلمۃ الفصل) ”اب معاملہ صاف ہے اگر نبی کریم کا انکار کفر ہے تو مسیح موعود کا انکار بھی کفر ہونا چاہئے کیونکہ مسیح موعود نبی کریم سے کوئی الگ چیز نہیں ہے۔ بلکہ وہی ہے۔ (اگر تناسخ کے قائل ہو تو ورنہ نہیں) اگر مسیح موعود کا منکر کافر نہیں تو معاذ اللہ نبی کریم کا منکر بھی کافر نہیں۔“ کیونکہ یہ کس طرح ممکن ہے کہ پہلی بعثت میں آپ کا انکار کفر ہو اور دوسری بعثت میں جس میں بقول حضرت مسیح (مرزا) آپ کی روحانیت اقویٰ اور اکمل اور اشد ہے، آپ کا انکار کفر نہ ہو۔

اس قسم کا استدلال نہ تو بقراط کو آتا تھا نہ سقراط کو۔ اس واسطے ہم کہتے ہیں کہ جماعت مرزائیہ تناسخ وحلول کی ضرور قائل ہے ورنہ بعثت اول اور بقول مرزا بعثت ثانی میں ضرور فرق ہوتا۔

(اخبار الفضل قادیان ١٥ جولائی ١٩١٥ء) میں بھی یہی مضمون اور فتویٰ تکفیر ہے۔

مرزا قادیانی پر درود

(رسالہ درود شریف مصنفہ محمد اسماعیل قادیانی ص ١٣٦) ”حضرت مسیح موعود (مرزا) پر درود بھیجنا بھی اس طرح ضروری ہے جس طرح آنحضرت ﷺ پر بھیجنا از بس ضروری ہے۔ اس رسالہ میں یہ بھی تحریر ہے کہ مرزا قادیانی پر بلا اتباع ذکر نبی ﷺ درود بھیجا جاسکتا ہے۔ حالانکہ یہ تصریحات علمائے اسلام کیخلاف ہے۔“

(خطبہ جمعہ خلیفہ قادیان مندرجہ الفضل ٢٤؍ جولائی ١٩٢٣ء) ”پھر بعد میں آنے والا نبی (مرزا قادیانی) پہلے نبی (حضور) کے لئے بمنزلہ سوراخ کے ہوتا ہے۔ پہلے نبی کے آگے دیوار کھینچ دی جاتی ہے اور کچھ نظر نہیں آتا (ہاں اندھوں گویا مرزائیوں کو) سوائے آنے والے نبی کے ذریعہ دیکھنے کے۔ یہی وجہ ہے کہ اب کوئی قرآن نہیں سوائے اس قرآن کے جو مسیح موعود نے پیش کیا اور کوئی حدیث نہیں سوائے اس حدیث کے جو مسیح موعود کی روشنی میں دکھائی دے۔“

(تتمۃ الاذہان ج ٦ ص ٤، اپریل ١٩٠١ء) ”آپ نے (مرزا قادیانی) نے اس شخص کو بھی جو آپ کو سچا جانتا ہے مگر مزید اطمینان کے لئے اس بیعت میں توقف کرتا ہے۔ کافر ٹھہرایا ہے۔ بلکہ اس کو بھی جو آپ کو دل میں سچا قرار دیتا ہے اور زبانی بھی آپ کا انکار نہیں کرتا لیکن ابھی بیعت میں اسے توقف ہے۔ کافر ٹھہرایا ہے۔“

٩٥

صفحہ ٣٤٣

(آئینہ صداقت ص ٣٥ خلیفہ قادیانی) ”کل مسلمان جو حضرت مسیح موعود کی بیعت میں شامل

نہیں ہوئے خواہ انہوں نے حضرت مسیح موعود کا نام بھی نہیں سنا وہ کافر ہیں اور دائرہ اسلام سے خارج ہیں۔“

یہ عجیب بات ہے کہ جس کو مرزا قادیانی کی خبر بھی نہ پہنچے وہ بھی کافر ہے۔

(انوار خلافت ص ٩٠ خلیفہ قادیانی) ”ہمارا فرض ہے کہ غیر احمدیوں کو مسلمان نہ سمجھیں اور

ان کے پیچھے نماز نہ پڑھیں۔ کیونکہ ہمارے نزدیک وہ خدا تعالیٰ کے ایک نبی کے منکر ہیں۔ یہ دین کا معاملہ ہے اس میں کسی کا اپنا اختیار نہیں کہ کچھ کر سکے۔“

ہم مسلمانوں کا بھی یہی فرض ہے کہ کسی مرزائی کو مسجد میں گھسنے نہ دیں۔ کیونکہ وہ حضور ﷺ کی ختم نبوت کے منکر ہیں اور ایسوں کو ہم مرتد جانتے ہیں۔ ان سے سلام کلام تمام معاملات حرام سخت حرام فلا يقربوا المسجد الحرام حکم قرآن ہے۔ فاياكم واياهم لا يضلونكم فرمان رسول ہے۔ مسلمان یہ دین کا معاملہ ہے اپنا اس میں کوئی اختیار نہیں۔

(انوار خلافت ص ٩٣) ”غیر احمدی مسلمانوں کا جنازہ پڑھنا جائز نہیں حتیٰ کہ غیر احمدی

معصوم بچے کا بھی جنازہ پڑھنا جائز نہیں۔“

مسلمان اپنے جنازہ پر ایسے نجس العقیدہ کو بلانے کب لگے، کب امام بنانے لگے، کیا اپنا جنازہ خراب کریں گے۔ میت کے لئے تو دعائے رحمت کرنا ہے۔ مرزائی کو امام بنا کر عذاب الٰہی کا نزول چاہیں گے اسی واسطے حکم ہے کہ استسقاء کے واسطے جب باہر جائیں تو کافر کو ساتھ نہ لے جائیں ورنہ بجائے رحمت کے زحمت ہوگی۔ اسی طرح کسی مرزائی کو بھی شریک نہ کریں۔

(اخبار الحکم قادیان ٧؍ مئی ١٩٣٤ء) ”جس نے اس زمانہ میں حج فرض ادا کیا ہو کہ آپ کا

دعویٰ پوری طرح شائع ہو چکا اور ملک کے لوگوں پر عموماً اتمام حجت کر دیا گیا اور حضور نے غیر احمدی امام کے پیچھے نماز پڑھنے سے منع فرما دیا تو پھر اس کا حج فرض ادا نہیں ہوا۔“

(حقیقت النبوۃ ص ١٤٤) ”اور گو ان ساری باتوں کے دعویٰ کرتے رہے (مرزا قادیانی)

جس کے پائے جانے سے کوئی شخص نبی ہو جاتا ہے۔ لیکن چونکہ آپ ان شرائط کو نبی کی شرائط نہیں خیال کرتے تھے بلکہ محدث کی شرائط سمجھتے تھے۔ اس لئے اپنے آپ کو محدث ہی کہتے رہے اور نہیں جانتے تھے کہ میں دعویٰ کی کیفیت تو وہ بیان کرتا ہوں جو نبیوں کے سوا اور کسی میں نہیں پائی جاتی اور نبی ہونے سے انکار کرتا ہوں۔ لیکن جب آپ کو معلوم ہوا کہ جو کیفیت اپنے دعویٰ کی آپ شروع سے بیان کرتے چلے آئے ہیں وہ کیفیت نبوت ہے، نہ کہ کیفیت محدثیت ۔ تو آپ نے اپنے نبی

٩٦

ہونے کا اعلان کیا اور جس شخص نے آپ کے نبی ہونے سے ا نکار کیا اس کو کافر ٹھہرایا۔“

(حقیقت النبوۃ ص ١٢١) بار بار کی وحی نے مجھے اس

بات پر قائم کیا ہے کہ جو مجھ کو نبی کہا جا رہا ہے تو یہ محدث کا دوسرا نام نہیں بلکہ یہ تریاق القلوب کے بعد کا زمانہ تھا اور اس عقیدے کے بدل جانے کا (روحانی خزائن ج ١٨) سے معلوم ہوتا ہے جو پہلا تحریری ثبوت ہے۔

اور چونکہ ایک غلطی کا ازالہ ١٩٠١ء میں شائع ہوا اس میں آپ نے (مرزا قادیانی) اپنی نبوت کا اعلان بڑے زور سے کیا ہے۔ اس لئے ماننا پڑتا ہے کہ آپ نے اپنے عقیدہ میں تبدیلی کی ہے۔“

خلیفہ قادیان کے اس تخیل پر لاہوری جماعت کا تبصرہ

(اخبار پیغام صلح ٢٧؍ اپریل ١٩٣٤ء) ”مگر افسوس

کہ میاں محمود احمد کے اس اعلان کے مطابق حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) کی یہ ح حالت آتی ہے جسے توبہ توبہ نقل کفر کفر نباشد نعوذ باللہ، جہل مرکب ہی کہا جا سکتا ہے۔ وہ نبی کی تعریف تو نہ جانتے تھے مگر حالت یہ تھی کہ جہاں کسی نے دعویٰ کیا اور آپ اس کذاب مدعی نبوت پر لعنتیں بھیجتے ۔“

جو شخص ایک بات کو نہیں جانتا اور اس کے غلط ہونے یا صحیح ہونے پر مباہلوں پر اتر آئے۔ اس سے بڑھ کر دنیا میں جہل مرکب اور کیا ہوگا کہ ٢٣ سال تک متواتر وحی آتی رہی مگر آپ کو اس کی خبر نہیں کہ میں نبی ہوں اور باوجود اس لاعلمی کے اپنے لفظوں میں خود اپنے آپ پر لعنتیں بھیجتے رہے۔ ذرا تامل کریں

یہ بھونڈی اور قابل شرم تصویر جو جناب میاں محمود احمد نے اپنے باپ کی کھینچی ہے۔ کیا اس قابل ہے کہ کسی عقل مند آدمی کے سامنے پیش کی جا سکے؟

مگر ہمارا فیصلہ ان دونوں کے خلاف ہے۔ نہ تو ہم مرزا قادیانی کو اس قدر جاہل مانتے ہیں، نہ منکر نبوت جیسا کہ لاہوری کہتے ہیں۔ بلکہ وہ ایک ہوشیار آدمی تھے۔ اگر ان کے بس میں ہوتا تو وہ پہلے دن ہی خدا کی طرف سے نبی بن جاتے۔ لیکن چونکہ نبی بننا تو مشکل نہ تھا، بلکہ اس کا منوانا مشکل تھا اس لئے مرزا قادیانی نے سیاسی چال اختیار کی اور آہستہ آہستہ اپنے مراتب بڑھاتے گئے یہاں تک کہ نبی بن گئے۔

٩٧

صفحہ ٣٤٣

ہونے کا اعلان کیا اور جس شخص نے آپ کے نبی ہونے سے انکار کیا تھا اس کو ڈانٹا کہ جب ہم نبی ہیں تو تم نے کیوں ہماری نبوت سے انکار کیا۔“

(حقیقت النبوۃ ص ١٢٤) بار بار کی وحی نے آپ کی توجہ کو اس طرح پھیر دیا کہ تیس سال سے جو مجھ کو نبی کہا جا رہا ہے تو یہ محدث کا دوسرا نام نہیں بلکہ اس سے نبی ہی مراد ہے اور یہ زمانہ تریاق القلوب کے بعد کا زمانہ تھا اور اس عقیدے کے بدلنے کا پہلا ثبوت اشتہار (ایک غلطی کا ازالہ، خزائن ج ١٨) سے معلوم ہوتا ہے جو پہلا تحریری ثبوت ہے۔

(ص ١١ اور چونکہ ایک غلطی کا ازالہ ١٩٠١ء میں شائع ہوا ہے) ”جس میں آپ نے (مرزا قادیانی) اپنی نبوت کا اعلان بڑے زور سے کیا ہے۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ ١٩٠١ء میں آپ نے اپنے عقیدہ میں تبدیلی کی ہے۔“ (ایک غلطی کا ازالہ ص ١، خزائن ج ١٨ ص ٢٠٧)

خلیفہ قادیان کے اس تخیل پر لاہوری جماعت نے ایک تنقید کی ہے جو ہدیہ ناظرین ہے:

(اخبار پیغام صلح ١٧؍ اپریل ١٩٢٤ء) ”مگر افسوس ہے کہ جناب میاں صاحب کے اس اعلان کے مطابق حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) کی یہ کم علمی اور نادانی ایسی نادانی کے ذیل میں آتی ہے جسے توبہ توبہ نقل کفر کفر نباشد نعوذ باللہ ، جہل مرکب کہتے ہیں کہ باوجود اس بات کے کہ آپ نبی کی تعریف تو نہ جانتے تھے مگر حالت یہ تھی کہ جہاں کسی نے آپ کی طرف دعویٰ نبوت منسوب کیا اور آپ لگے مدعی نبوت پر لعنتیں کرنے۔“

جو شخص ایک بات کو نہیں جانتا اور اس کے علم پر اس قدر اصرار کرے کہ لعنتوں اور مباہلوں پر اتر آئے۔ اس سے بڑھ کر دنیا میں جہل مرکب کا وارث کون ہو سکتا ہے۔ خود نبی ہیں اور خبر سے پتہ نہیں کہ میں نبی ہوں اور باوجود اس لاعلمی اور جہل کے آپ مدعی نبوت پر یا دوسرے لفظوں میں خود اپنے آپ پر لعنتیں بھیجتے رہے۔ ذرا تامل کرتے۔

یہ بھونڈی اور قابل شرم تصویر جو جناب میاں صاحب نے حضرت مسیح موعود کی کھینچی ہے۔ کیا اس قابل ہے کہ کسی عقل مند آدمی کے سامنے پیش کی جاسکے۔

مگر ہمارا فیصلہ ان دونوں کے خلاف ہے۔ نہ تو مرزا قادیانی بے علم تھے جیسا کہ قادیانی جانتے ہیں، نہ منکر نبوت جیسا کہ لاہوری کہتے ہیں۔ بلکہ مرزا قادیانی کو ابتدا ہی سے شوق تھا کہ کسی طرح میں نبی بن جاتا۔ لیکن چونکہ نبی بننا تو مشکل نہ تھا۔ مشکل تھا تسلیم کروانا۔ اس لئے مرزا قادیانی نے سیاسی چال اختیار کی کہ پہلے آریوں اور عیسائیوں کے مقابلہ

٩٧

صفحہ ٣٤٥

میں آئے تا کہ مسلمانوں میں ایک نمایاں شخصیت پیدا ہو جائے۔ چنانچہ مسلمان عزت کرنے لگے پھر مرزا قادیانی کا جب رنگ جما تو ولی بن گئے اور کچھ کچھ الہام ہونے لگے پھر مجدد بن گئے۔ یہاں تک کہ مسیح موعود مہدی ہونے کے مدعی ہوئے اور اس دوران میں جب مرزا قادیانی کی ایک جماعت تیار ہو گئی اور کچھ اعتبار ان پر کافی ہو گیا تو نبوت کا اعلان کر دیا۔

اس صورت میں مرزا قادیانی کا نہ تو جاہل ہونا لازم آتا ہے۔ نہ انکار نبوت۔ بلکہ ایک بہت بڑے مدبر ہونے کا ثبوت ہوتا ہے اور میرے خیال میں جس کو خدا کی طرف سے نبوت نہ ملے بلکہ خود نبی بننا چاہے اس کو ایسی ہی تدبیریں پالیسیاں اختیار کرنا ضروری ہے۔

اس کی مثال یوں ہو سکتی ہے کہ ایک شخص نے چاہا کہ فلاں شخص کی دولت پر قبضہ کرنا چاہئے تو اس نے اس سے جان پہچان پیدا کی۔ پھر دو روپیہ صبح کو قرض لیا شام کو دے آیا۔ دوسرے روز چار لے آیا تیسرے دن دے آیا اور برابر شکوک رفع کرنے کے لئے کہتا رہا کہ میں چور نہیں ہوں، کوئی ڈاکو نہیں ہوں۔ لعنت ہے اس پر جو بدعہدی کرے۔ اس طرح ہیر پھیر کر کے اپنا اعتبار پیدا کر لیا۔ پھر ١٩٠١ء میں پچاس ساٹھ ہزار روپیہ لے آیا اور بیٹھ رہا۔ جب مانگنے کو آئے تو گالیاں سنادیں کہ تو بے ایمان ہے ایسا ویسا ہے۔

(اخبار الفضل ٢٦؍نومبر ١٩١٣ء) ”ہم جیسے خدا تعالیٰ کی دوسری وحیوں میں حضرت اسماعیل، حضرت عیسیٰ، حضرت ادریس علیہم السلام کو نبی پڑھتے ہیں ویسے ہی خدا کی آخری وحی میں مسیح موعود (مرزا قادیانی) کو بھی یا نبی اللہ کے خطاب سے مخاطب دیکھتے ہیں اور اس نبی کے ساتھ کوئی لغوی یا ظلی یا جزوی کا لفظ نہیں پڑھتے کہ اپنے آپ کو خود بخود ایک مجرم فرض کر کے اپنی بریت کا ثبوت ہم دیتے ہیں۔ ایسا ہی بلکہ اس سے بڑھ کر کیونکہ ہم چشم دید گواہ ہیں۔ مسیح موعود کی نبوت کا ثبوت دے سکتے ہیں۔“

یعنی مرزا قادیانی کو نبی کہہ کر پھر ظلی، بروزی، مجازی وغیرہ عنوانات سے تاویل کرنا گویا جرم کر کے بری کرنے کا طریقہ ہے۔ اگر یہی ہے تو مرزا قادیانی نے جہاں جہاں کہا کہ میں ظلی ہوں، بروزی ہوں، مجازی ہوں سب غلط و بے کار ہوا اور خود مجرم بن کر ان تاویلوں سے اپنے آپ کو شریعت کی زد سے بری کرتے رہے۔ یہی تو ہم بھی پہلے سے چیخ رہے ہیں کہ مرزا قادیانی کی یہ تاویلیں صرف مسلمانوں کو دھوکہ دینے کے لئے ہیں۔ ورنہ وہ حقیقی نبوت کے مدعی ہیں۔ بہتر ہوا مرزائیوں نے ظلی، مجازی اتنی نبوتوں کا جھگڑا ہی دور کر دیا اور ہمارے لئے بھی میدان صاف ہو گیا۔

٩٨

(اخبار الفضل ١٩؍اکتوبر ١٩١٧ء) ”(١) ہم قادیانی کو) ایسا ہی رسول مانتے ہیں جیسے کہ پہلے نـ نے محمد مصطفیٰ ﷺ کو حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ بنایا وہی بـ موجود تھی۔ (٣) اس کے (مرزا قادیانی کے) اقوال ہی حجت قوی اور یقینی ہے جیسے کسی اور نبی کا۔“

خلاصہ یہ ہے کہ مرزا قادیانی کی نبوت با نزدیک مرزا قادیانی حضور کے مقابلہ میں کھڑے ہو

مرزا قادیانی کو افضل ٹھہرانا

(حقیقۃ النبوۃ ص ٢٥٦) ”بلکہ تیرہ سو سـ امت محمدی میں کوئی ایسا انسان نہیں گزرا جو آنحضرت کہ حضرت مسیح موعود تھے۔ (مرزا قادیانی)“

بہت بڑے مطیع و فرمانبردار تھے کہ حضور فر نہیں اور مرزا قادیانی کہیں راہ میں نبی ہوں۔ حضور زندہ تشریف لے گئے۔ آخر زمانہ میں نازل ہوں گے ہے اور آسمان سے نازل ہونا بالکل غلط۔ حضور فرمائیں قادیانی کہیں مہدی کا آنا کوئی یقینی امر نہیں۔

حضور فرمائیں کہ دجال فلاں ہے۔ دابۃ ا ہوگا۔ یاجوج و ماجوج فلاں ہیں۔ مرزا قادیانی کہیں صرف میں نے سمجھی۔ یہ اطاعت و فرمانبرداری ہے۔

(حقیقۃ النبوۃ ص ٢٥٧) ”اس کے (آنحـ سے محدثوں کے ایک نے نبوت کا درجہ پایا اور نہ صرف ظلی طور پر حاصل کر کے بعض اولوالعزم نبیوں سے بھی

(تقریر خلیفہ قادیان مندرجہ الفضل ٢٠؍ مئی ٣٤ کہتا ہوں کہ مخالف لاکھ چلائیں کہ فلاں بات سے اللہ کی عزت قائم کرنے کے لئے حضرت عیسیٰ یا او پرواہ نہ ہوگی۔“

٩٩

صفحہ ٣٤٥

(اخبار الفضل ١٦ اکتوبر ١٩١٧ء) ’’(١) ہم بغیر کسی فرق کے بہ لحاظ نبوت انہیں (مرزا قادیانی کو) ایسا ہی رسول مانتے ہیں جیسے کہ پہلے سچے رسول مبعوث ہو چکے ہیں۔ (٢) جس بات نے محمد مصطفیٰ ﷺ کو حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ بنایا وہی بات اس میں (مرزا قادیانی) ہمارے نزدیک موجود تھی۔ (٣) اس کے (مرزا قادیانی کے) اقوال و تصانیف کا ایک ایک لفظ ہمارے لئے ایسا ہی حجت قوی اور یقینی ہے جیسے کسی اور نبی کا۔‘‘

خلاصہ یہ ہے کہ مرزا قادیانی کی نبوت بالکل حضور کے مقابلہ کی نبوت ہے اور ان کے نزدیک مرزا قادیانی حضور کے مقابلہ میں کھڑے ہو رہے ہیں۔

مرزا قادیانی کو افضل ٹھہرانا

(حقیقت النبوۃ ص ٥ ملخصاً) ’’بلکہ تیرہ سو سال میں رسول اللہ کے زمانہ سے آج تک امت محمدی میں کوئی ایسا انسان نہیں گزرا جو آنحضرت کا ایسا فدائی اور ایسا مطیع اور فرمانبردار ہو جیسا کہ حضرت مسیح موعود تھے۔ (مرزا قادیانی)‘‘

بہت بڑے مطیع و فرمانبردار تھے کہ حضور فرمائیں مجھ پر نبوت ختم ہو گئی۔ میرے بعد نبی نہیں اور مرزا قادیانی کہیں واہ میں نبی ہوں۔ حضور فرمائیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام آسمان پر زندہ تشریف لے گئے۔ آخر زمانہ میں نازل ہوں گے۔ مرزا قادیانی کہیں حیات مسیح کا عقیدہ شرک ہے اور آسمان سے نازل ہونا بالکل غلط۔ حضور فرمائیں کہ میری اولاد سے مہدی آئیں گے۔ مرزا قادیانی کہیں مہدی کا آنا کوئی یقینی امر نہیں۔

حضور فرمائیں کہ دجال فلاں ہے۔ دابۃ الارض یہ ہے، طلوع آفتاب مغرب سے یوں ہوگا۔ یاجوج و ماجوج فلاں ہیں۔ مرزا قادیانی کہیں کہ حضور نے ان چیزوں کی حقیقت نہیں سمجھی صرف میں نے سمجھی۔ یہ اطاعت و فرمانبرداری ہے۔

(حقیقت النبوۃ ص ٢٥٧) ’’اس کے (آنحضرت ﷺ کے) شاگردوں میں علاوہ بہت سے محدثوں کے ایک نے نبوت کا درجہ پایا اور نہ صرف یہ کہ نبی بنا بلکہ اپنے مطاع کے کمالات کو ظلی طور پر حاصل کر کے بعض اولوالعزم نبیوں سے بھی آگے نکل گیا۔‘‘

(تقریر خلیفہ قادیان مندرجہ الفضل ٢٠ مئی ١٩٣٣ء) ’’حضرت مسیح موعود کے اتباع میں بھی کہتا ہوں کہ مخالف لاکھ چلائیں کہ فلاں بات سے حضرت عیسیٰ کی ہتک ہوتی ہے۔ اگر رسول اللہ کی عزت قائم کرنے کے لئے حضرت عیسیٰ یا اور کسی کی ہتک ہوتی ہے تو ہمیں ہرگز اس کی پرواہ نہ ہو گی۔‘‘

٩٩

صفحہ ٣٧

ظالم یہ بھی نہیں سمجھتے کہ کسی اور نبی کی ہتک کرنا حضور کی ہتک کرنا ہے۔ اسی واسطے حضور نے فرمایا: ”لا تفضلونى على يونس ابن متی (مشکوٰۃ شریف)“ میری اس طرح حضرت یونس پر عزت نہ بڑھاؤ جس میں میں ان کی تنقیص و ہتک ہو، انبیاء آپس میں سب بھائی بھائی ہیں۔ ایک کی عزت دوسرے کی عزت ہے۔ یہ جائز نہیں کہ کسی کی عزت بڑھانے میں دوسرے کی توہین کرو۔ یہ ہی اعلیٰ درجہ کی حرمان نصیبی اور بے دینی ہے۔ اعاذنا الله منه!

(انوار خلافت ص ١٨) ”میرا یہ عقیدہ ہے کہ یہ آیت (اسمہ احمد ) مسیح موعود (مرزا قادیانی کے) متعلق اور احمد آپ ہی ہیں۔“

(انوار خلافت ص ٣٩) ”غرض یہ دس ثبوت ہیں جن سے ثابت ہوتا ہے کہ حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) بھی احمد تھے اور آپ ہی کی نسبت اس آیت میں پیشین گوئی ہے۔“

(اخبار الفضل ٢، ٥ ستمبر ١٩١٦ء) ”ہم تو ظلی طور پر آپ کو اسمہ احمد والی پیشین گوئی کا مصداق نہیں مانتے بلکہ ہمارے نزدیک آپ اس کے حقیقی مصداق ہیں۔“

حضور اکرم ﷺ خود فرماتے ہیں کہ: ”اس آیت میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے میرے لئے بشارت دی انا بشارة عيسىٰ تمام صحابہ اس کے قائل ہیں۔ تابعین تبع تابعین ائمہ مجتہدین متکلمین صوفیاء کرام سب کا یہی مذہب ہے کہ اس آیت میں حضور تاجدار مدینہ کے لئے بشارت ہے۔ پھر کیسی زبردستی ہے اور کیسا تمام علمائے اسلام کا خلاف ہے کہ اس آیت کو مرزا قادیانی پر محمول کیا جائے۔ آزادی کا زمانہ ہے جو چاہے انسان کہے۔“

(ریویو قادیانی جون ١٩٣٥ء) ”حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی کا) ذہنی ارتقاء آنحضرت سے زیادہ تھا۔ اس زمانہ میں تمدنی ترقی زیادہ ہوئی اور یہ جزئی فضیلت ہے جو حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی کو) آنحضرت پر حاصل ہوئی۔“

(اخبار الفضل قادیان ٢١ ستمبر ١٩١٥ء) ”کے مضمون کا خلاصہ: واذ اخذ الله ميثاق النبیین میں سب نبیوں سے عہد لیا گیا تھا اور حضور سے بھی عہد لیا گیا تھا۔ ثـم جـاء كم رسـول سے مراد مرزا قادیانی ہیں تو مرزا قادیانی کے لئے تمام نبیوں سے بلکہ حضور سے عہد لیا گیا ۔ “معاذ اللہ ! حضور اکرم ﷺ کی کس قدر توہین ہے کہ اگر حضور اس زمانہ میں ہوتے تو مرزا قادیانی پر ایمان لاتے اور ان کی بیعت کرتے تو مرزا قادیانی کا مرتبہ حضور ﷺ سے بھی بڑھ گیا۔ ابـعـد الله عن رحمته قائله ومعتقدهـ

١٠٠

قادیان کی برکتیں

(منصب خلافت ص ٢٣ خلیفہ قادیان) ”مجھ نے کہا ہے اور میرا یقین ہے کہ وہ بالکل درست شخص جو قادیان نہیں آتا کم از کم ہجرت کی خواہش درست ہو قادیان کی نسبت اللہ تعالیٰ نے انہ او مکہ مدینہ والی برکات نازل ہوتی ہیں۔“ حضرت

زمین قادیان
ہجوم خلق سے

جو کچھ تزکیہ نفوس ہوتا ہے اور جو بر حضرات بہتر جانتے ہیں۔ نہ ہمیں تزکیہ نفوس ک برکات سے ہمیں حصہ لینا ہے۔ اس لئے اس کی اس قدر ضرور کہتا ہوں کہ قادیان کی برکتوں میں افیون بھی کھائی اور شراب بھی استعمال کی اور م اور پیپل کا درخت ہے جو پوجا جاتا ہے۔ حرم مکہ سے بت خانہ بھی نہ ہٹایا گیا اور مرزا قادیانی دفن خود فقیر نے قادیان جا کر دیکھا۔ افسوس صد افس

باپ پر بیٹے کا حملہ

مرزا قادیانی کو الہام ہوا ”مکر مہا ان کے لڑکے خلیفہ ثانی قادیانی مہائے تو مار کر دگنا خ کیونکہ خدا کے کرم او کرتے۔“

یہ بالکل بدیہی امر ہے کہ خدا ک ہوتا ہے۔ دماغی امراض جنون، مالیخولیا، مراق ان کی قوت مدرکہ اس شان کی ہو نار فطرتا انبیاء کرام ایسے امراض سے

صفحہ ٣٤٧

قادیان کی برکتیں

(منصب خلافت ص ٢٣ خلیفہ قادیان) ”پھر ایک اور بڑا ذریعہ تزکیہ نفوس کا ہے جو مسیح موعود نے کہا ہے اور میرا یقین ہے کہ وہ بالکل درست ہے۔ ہر ہر حرف اس کا سچا ہے اور وہ یہ ہے کہ ہر شخص جو قادیان نہیں آتا کم از کم ہجرت کی خواہش نہیں رکھتا۔ اس کی نسبت شبہ ہے کہ اس کا ایمان درست ہو قادیان کی نسبت اللہ تعالیٰ نے انه اوی القرية فرمایا۔ یہ بالکل درست ہے کہ یہاں مکہ مدینہ والی برکات نازل ہوتی ہیں۔“ حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) بھی فرماتے تھے۔

زمین قادیان اب محترم ہے
ہجوم خلق سے ارض حرم ہے

جو کچھ تزکیہ نفوس ہوتا ہے اور جو برکات نازل ہوتے ہیں ان کو مجھ سے زیادہ مقامی حضرات بہتر جانتے ہیں۔ نہ ہمیں تزکیہ نفوس کی وہاں کے تصوف کی ضرورت ہے اور نہ وہاں کی برکات سے ہمیں حصہ لینا ہے۔ اس لئے اس کی فہرست بھی ہم کو مرتب کرنے کی ضرورت نہیں۔ مگر اس قدر ضرور کہتا ہوں کہ قادیان کی برکتوں میں سے ایک تو یہ ہے کہ اس کے رہنے والے نبی نے افیون بھی کھائی اور شراب بھی استعمال کی اور مسجد اقصیٰ اور منارۃ المسیح کے متصل ہی ایک بت خانہ اور پیپل کا درخت ہے جو پوجا جاتا ہے۔ حرم محترم کے ہونے کی یہی علامت ہے کہ کعبہ کے نزدیک سے بت خانہ بھی نہ ہٹایا گیا اور مرزا قادیانی دنیا سے چل بسے۔ بت خانہ اب تک موجود ہے جس کو خود فقیر نے قادیان جا کر دیکھا۔ افسوس صد افسوس! العبرة العبرة۔

باپ پر بیٹے کا حملہ

مرزا قادیانی کو الہام ہوا ”کرمہائے تو ما را کرد گستاخ“

(براہین احمدیہ ص ٥٥٥، خزائن ج ١ ص ٦٦٤)

ان کے لڑکے خلیفہ ثانی قادیانی لکھتے ہیں کہ: ”نادان ہے وہ شخص جس نے کہا کہ مہائے تو مار کرد گستاخ کیونکہ خدا کے کرم انسان کو گستاخ نہیں بنایا کرتے اور سرکش نہیں کر دیا کرتے۔“

(الفضل ص ١٢، ٢٣ جنوری ١٩١٧ء)

یہ بالکل بدیہی امر ہے کہ خدا کے نبی ورسول کا دماغ اعلیٰ ہوتا ہے۔ حافظہ نہایت صحیح ہوتا ہے۔ دماغی امراض جنون، مالیخولیا، مراق، مرگی اور ہسٹیریا سے انبیاء کرام پاک ہوتے ہیں۔ ان کی قوت مدرکہ اس شان کی ہونا چاہئے۔ یکاد زیتها یضیئ ولولم تمسسه نار فطرتاً انبیاء کرام ایسے امراض سے معصوم ہوتے ہیں ایک سیکنڈ کے لئے بھی ان امراض کا

١٠١

صفحہ ٣٤٨-٣٤٩

امکان متصور نہیں۔ خدا جانے خدا کی وحی کس وقت آئے لہٰذا ہر وقت ان کی قوت مدرکہ حافظہ عاقلہ قبول فیض الٰہی کے لئے تیار رہنا چاہئے۔ اگر خدا کی وحی آئے اور ادھر مرزا قادیانی کی طرح دورۂ مراق ہسٹریا میں مبتلا ہو گیا تو پھر سب بے کار گیا۔ خدا نے کہا اور بندے نے کیا سنا لوگوں کو بھی خیال ہو گا کہ یہ جو کچھ کہتا ہے شاید دورہ کی حالت میں کچھ گڑبڑ ہو گیا۔

مرزائی صاحبان خود اس کے مقر ہیں: ”اس مرض میں تخیل بڑھ جاتا ہے اور مرگی اور ہسٹیریا والوں کی طرح مریض کو اپنے جذبات اور خیالات پر قابو نہیں رہتا۔“

(رسالہ ریویو اگست ١٩٢٦ء ص ٠٦)

اب ہم کو یہ دیکھنا چاہئے کہ مرزا قادیانی میں ان اصول کے خلاف تو کوئی بات نہیں پائی جاتی ہے۔

مرزا قادیانی میں مراق کے جلوے

”ہم کو سخت تعجب آتا ہے اور ہنسی کہ مرزا قادیانی خود اقرار کرتے ہیں کہ مجھ کو مراق ہے۔“

(تنقید الاذہان جلد ١ نمبر ٢ جون ١٩٠٦ء ص ٥ اخبار بدر قادیان ج ٢ نمبر ٢٣، ٧/ جون ١٩٠٦ء میں

ص ٥) مرزا قادیانی کہتے ہیں:

”دیکھو میری بیماری کی نسبت بھی آنحضرت ﷺ نے پیشین گوئی کی تھی۔ جو اس طرح وقوع میں آئی۔ آپ نے فرمایا تھا کہ مسیح آسمان پر سے جب اترے گا تو دو زرد چادریں اس نے پہنی ہوں گی تو اسی طرح مجھ کو دو بیماریاں ہیں ایک اوپر کے دھڑ کی اور ایک نیچے کے دھڑ کی۔ یعنی مراق اور کثرت بول۔“

(رسالہ ریویو آف ریلیجنز ج ٢٣ نمبر ٤، اپریل ١٩٢٥ء ص ٤٥) ”حضرت اقدس نے فرمایا کہ مجھے

مراق کی بیماری ہے۔“

(اگست ٢٦ء ص ٦) ”مراق کا مرض حضرت مرزا قادیانی کو موروثی نہ تھا۔ بلکہ یہ خارجی

اثرات کے ماتحت پیدا ہوا تھا اور اس کا باعث سخت دماغی محنت تفکرات غم اور سوء ہضم تھا۔ جس کا نتیجہ دماغی ضعف تھا اور جس کا اظہار مراق اور دیگر ضعف کی علامات مثلاً دوران سر کے ذریعہ ہوتا تھا۔ غرضیکہ مرزا قادیانی مرض مراق میں گرفتار تھے۔“

مراق کیا ہے؟

(شرح اسباب ج ١ ص ٧٤) ”مالیخولیا کی ایک قسم ہے جس کو مراق کہتے ہیں۔“

١٠٢

(حدود الامراض ص ٥١) ”شیخ بوعلی سینا نے

مراق کہا جاتا ہے۔“

(بیاض نور الدین جز اول ص ٢١١ مصنفہ حکیم

مالیخولیا جنون کا ایک شعبہ ہے اور مراق مالیخولیا کی ایک پہنچاتی ہے اس لئے مراق کو سر کے امراض میں لکھا گیا نتیجہ یہ ہوا کہ ”مراق مالیخولیا کی ایک قسم

علامات مالیخولیا

کرنے لگتا ہے اور اکثر آئندہ واقعات کی خبر پہلے سے

فرشتہ سمجھتا ہے اور بعض اس سے بھی بڑھ جاتے ہیں

اپنے بعض اتفاقی واقعات کو معجزات قرار دینے لگتے

حکیم نور الدین قادیانی خلیفہ اول مرزا قادیانی

”مالیخولیا کا کوئی مریض خیال کرتا ہے کہ پیغمبر ہوں، کوئی یہ خیال کرتا ہے کہ میں خدا ہوں۔“

مرزا قادیانی نے چونکہ خود اقرار کیا کہ مالیخولیا جنون کی ایک قسم ہے اور اس کی چند علامتیں ملتی ہیں۔ مرزا قادیانی نے علم غیب کا بھی دعویٰ کیا قادیانی نے خدائی کا بھی دعویٰ کیا۔ مرزا قادیانی نے قادیانی نے نبوت ورسالت کا بھی دعویٰ کیا۔

قرین قیاس ہے کہ مرزا قادیانی کی ساری زمانہ تک اس دولت مراق کا نتیجہ ہو۔

اس میں شک نہیں کہ جو شخص مراق میں

١٠٣

صفحہ ٣٤٩

(حدود الامراض ص ٥١) ”شیخ بوعلی سینا نے کہا ہے کہ مانخولیا کی ایک قسم ہے جس کو مانخولیا مراق کہا جاتا ہے۔“

(بیاض نورالدین جز اول ص ٢١١ مصنفہ حکیم نورالدین قادیانی خلیفہ اول مرزا قادیانی) ”چونکہ مانخولیا جنون کا ایک شعبہ ہے اور مراق مانخولیا کی ایک شاخ ہے اور مانخولیا مراقی میں دماغ کو ایذا پہنچاتی ہے اس لئے مراق کو سر کے امراض میں لکھا گیا ہے۔“

نتیجہ یہ ہوا کہ ”مراق مانخولیا کی ایک قسم ہے اور جنون پاگل پنے کا ایک حصہ۔“

علامات مانخولیا

علامت اول ...... ”بعض مریضوں کو یہ فساد اس حد تک پہنچا دیتا ہے کہ وہ علم غیب کا دعویٰ کرنے لگتا ہے اور اکثر آئندہ واقعات کی خبر پہلے سے دے دیتا ہے۔“

(شرح اسباب ج ١ ص ٦٩)

علامت دوم ...... ”بعض مریض مانخولیا میں یہ فساد اس حد تک پہنچتا ہے کہ وہ اپنے آپ کو فرشتہ سمجھتا ہے اور بعض اس سے بھی بڑھ جاتے ہیں اور وہ اپنے آپ کو خدا تعالیٰ سمجھنے لگتا ہے۔“

(شرح اسباب ج ١ ص ٦٩)

علامت سوم ...... ”بعض عالم اس مرض میں مبتلا ہو کر پیغمبری کا دعویٰ کرنے لگتے ہیں اور اپنے بعض اتفاقی واقعات کو معجزات قرار دینے لگتے ہیں۔“

(مخزن حکمت ج ٢ ص ١٣٥٢)

حکیم نورالدین قادیانی خلیفہ اول مرزا قادیانی کیا کہتے ہیں؟

”مانخولیا کا کوئی مریض خیال کرتا ہے کہ میں بادشاہ ہوں، کوئی یہ خیال کرتا ہے کہ میں پیغمبر ہوں، کوئی یہ خیال کرتا ہے کہ میں خدا ہوں۔“

(بیاض نورالدین حصہ اول ص ٢١٢)

مرزا قادیانی نے چونکہ خود اقرار کیا کہ مجھے مراق ہے۔ طبیبوں نے تحقیق کی کہ مراق مانخولیا جنون کی ایک قسم ہے اور اس کی چند علامتیں بھی بیان کیں۔ یہ علامتیں ہم کو مرزا قادیانی میں ملتی ہیں۔ مرزا قادیانی نے علم غیب کا بھی دعویٰ کیا۔ یہ بھی کہا کہ میرا نام میکائیل فرشتہ ہے۔ مرزا قادیانی نے خدائی کا بھی دعویٰ کیا۔ مرزا قادیانی نے یہ بھی کہا کہ میں آریوں کا بادشاہ ہوں۔ مرزا قادیانی نے نبوت ورسالت کا بھی دعویٰ کیا۔

قرین قیاس ہے کہ مرزا قادیانی کی ساری کمائی براہین احمدیہ حصہ اول سے لے کر اخیر زمانہ تک اس دولت مراق کا نتیجہ ہو۔

اس میں شک نہیں کہ جو شخص مراق مانخولیا جنون کا بزبان خود مقر ہو وہ ہرگز نبی نہیں

١٠٣

صفحہ ٣٥٠

ہو سکتا۔ زیادہ ثبوت پیش کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ صرف اس قدر سن لو کہ مرزائی فیصلہ کیا ہے؟

(ریویو بابت اگست ١٩٢٦ء ص ٧،٦)

”ایک مدعی الہام کے متعلق اگر یہ ثابت ہو جائے کہ اس کو ہسٹیریا، مالیخولیا، مرگی کا مرض تھا تو اس کے دعویٰ کی تردید کے لئے پھر کسی اور ضرب کی ضرورت نہیں رہتی۔ کیونکہ ایسی چوٹ جو اس کی صداقت کی عمارت کو بیخ وبن سے اکھیڑ دیتی ہے۔“ ایں خانہ تمام مراق است!

(ریویو اگست ١٩٢٦ء ص١١)

”جب خاندان سے اس کی ابتدا ہو چکی تو پھر اگلی نسل میں بے شک یہ مرض منتقل ہوا۔ چنانچہ حضرت خلیفۃ المسیح ثانی (میاں محمود احمد) نے فرمایا کہ مجھ کو بھی کبھی کبھی مراق کا دورہ ہوتا ہے۔ مسئلہ اجرائے نبوت اسی کا نتیجہ ہے۔“

(اخبار الحکم ١٠؍اگست ١٩٠١ء ص١٤)

”مرزا قادیانی کہتے ہیں میری بیوی کو بھی مراق کی بیماری ہے۔ شاید میاں محمود صاحب کی مراقی ہونے کی یہی وجہ ہے۔“

مراقی کی عزت کیا ہے؟

(کتاب البریہ ص٢٥٦، خزائن ج١٣ ص٢٧٤ کے حاشیہ پر)

”مرزا قادیانی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے آسمان پر جانے کے متعلق لکھتے ہیں۔ ”مگر یہ بات یا تو بالکل جھوٹا منصوبہ یا کسی مراقی عورت کا وہم تھا۔“ یعنی بے اعتبار ہے جب مراقی کی بات قابل اعتبار نہیں تو مرزا قادیانی کے دعاوی کیونکر قابل اعتبار ہو جائیں۔ جبکہ وہ خود اقراری مراقی ہیں۔

منطق کی شکل اول صورت میں یہ قاعدہ ذکر کئے دیتا ہوں۔

صغریٰ...... مرزا قادیانی مراق، مالیخولیا، جنون، ہسٹیریا میں مبتلا ہیں۔ کبریٰ...... اور جو ان امراض میں مبتلا ہے وہ نبی اور رسول نہیں ہو سکتا۔ نتیجہ...... مرزا قادیانی نبی اور رسول نہیں ہو سکتے۔

اثبات

صغریٰ...... مرزا قادیانی نے خود اقرار کیا ہے کہ میں مراق ہسٹیریا میں مبتلا ہوں۔ کبریٰ...... تمام اہل اسلام اطباء بلکہ قادیانی حکیم، ڈاکٹر معترف ہیں کہ ان امراض کا مبتلا نبی نہیں ہو سکتا۔

نتیجہ

خود بخود ظاہر ہے کہ: ”مرزا قادیانی نبی نہیں ہو سکتے۔“

١٠٤

خاتم النبیین

انوار ا

برائے کتا

حقیقت القا

مولانا ابرار

PDF 352

انا خاتم النبیین لا نبی بعدی

صلی اللہ علیہ وعلی آلہ واصحابہ وسلم

انوار ایمانی

برائے کشف

حقیقت القائے قادیانی

مولانا ابرار حسین پٹنی

صفحہ ٣٥٣

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

ضروری اطلاع

فیصلہ آسمانی در باب مسیح قادیانی مؤلفہ علامہ ابواحمد رحمانی ممتع الله المسلمين بطول بقائه کے شائع ہونے سے مسلمانوں کو بہت بڑا فائدہ پہنچا۔ بہت سے مسلمان جو مرزائی دام میں پھنس گئے تھے۔ اس رسالہ کے دیکھنے سے ہدایت یاب ہوئے اور ہورہے ہیں۔

چنانچہ حال ہی میں ایک طالب علم انجمن حمایت اسلام مونگیر کا موسوم بعبد الغفار عالم خواب میں ایک بزرگ کی ہدایت سے سلسلہ مرزائیہ سے تائب ہوا۔ اس کے خواب کا عجیب واقعہ ہے۔ جو بوجہ طوالت مضامین کے اس کے لکھنے کا یہاں پر موقع نہیں اور انشاء اللہ بہت جلد وہ علیحدہ چھپ کر ناظرین کے ملاحظہ میں آئے گا۔

ایسا ہی چند روز ہوئے کہ المشیر مراد آباد میں بھی یہ خبر شائع ہوئی کہ ضلع گیا کے پانچ اشخاص اس رسالہ کے فیض سے راہ راست پر آگئے۔ مرزائی جماعت اس رسالہ کے اثر کو ملک میں پھیلتے ہوئے دیکھ کر چیخ اٹھی اور نہایت ہی غیظ وغضب میں آکر سب وشتم سے بھرے ہوئے رسالے اس کے جواب میں شائع کرنے لگی۔

اس وقت تک مرزائی مشن سے تین رسالے اس کے جواب میں نکل چکے ہیں۔ نصرت یزدانی، برق آسمانی۔ القادر بانی

نصرت یزدانی کا جواب تائید ربانی چھپ کر شائع ہو چکا۔ (احتساب قادیانیت کی ج ٣٥ میں چھپ گیا ہے۔ مرتب) برق آسمانی کا جواب شہاب ثاقب بر خاطف الملقب بہ صواعق ربانی بر مولف برق آسمانی کاذب تیار ہے۔ انشاء اللہ تعالیٰ عنقریب چھپ کر شائع ہوگا۔

القادر بانی کا مدلل و مفصل جواب تو لکھا جارہا ہے۔ سردست ایک مختصر جواب جس سے القادر بانی کی حقیقت منکشف ہو جاتی ہے۔ پیش کیا جاتا ہے۔

ناظرین ذرا انصاف کی نگاہ سے دیکھیں اور سوچیں۔ کہ قادیانی عبد الماجد پورنوی نے ایمانداری، دیانتداری، تقویٰ شعاری راست گفتاری کا کہاں تک خون کیا ہے؟ اور باوجود اس کے اصل باتوں کے جواب میں ناکام کے ناکام ہی رہے۔

تعجب بالائے تعجب یہ ہے کہ تین رسالے تو شائع کر دیئے گئے۔ مگر کسی میں انعامی اشتہار کے شرائط کی پابندی نہیں کی گئی۔ اس سے صاف ثابت ہوتا ہے کہ مذکورہ بالا رسائل کے

مؤلفوں کو خود بھی اپنے اپنے رسالوں پر بھروسہ نہیں کرنے کی کوئی معقول وجہ نہیں ہے اور اگر کسی رسالہ ک گیا ہے۔ تو اس رسالہ پر خلیفہ قادیان نورالدین سے ت ممدوح کے پاس بھیج دیں اور پھر یہ تجویز فریقین ثالث

بس اک نگاہ پر ٹھہرا

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ ال

ان دنوں ایک رسالہ مولوی عبد الماجد صا ہوا ہے۔ جس کا نام القادر بانی بہ تردید فیصلہ ابو احمد رحم غلطی کی کیفیت اس کے نام ہی سے سمجھ سکتے ہیں۔ ی فتنے میں پڑنے کا احتمال ہے۔ اس لئے بحکم الدین ا ان کو اس فتنہ سے بچانے کی غرض سے اس رسالہ کی ت ہے۔ پوری حقیقت تو اس وقت ظاہر ہوگی۔ جب اس ر سردست بطور مشتے نمونہ از خروارے کچھ

ملاحظہ فرمائیے:

یہ نہایت ہی حیرت انگیز بات ہے کہ مرزا متبعین کی بھی یہی عادت ہے۔ کہ اپنے فریق (مخالف کہتے ہیں کہ آیت قطعی الدلالۃ مرفوع متصل صحیح حدی دیتے ہیں تو اپنا کوئی دعویٰ ثابت کرتے ہیں تو بحکم ال کو تنکے کا سہارا۔ کہیں کوئی ذوی الوجوہ آیت یا نا قاب اور کہیں کسی بزرگ کا قول دکھا دیتے ہ قادیانی نے اس رسالہ میں ایسا ہی کیا ہے۔ اب یہ ب مفسرین یا دیگر بزرگوں کے اقوال سے اس رس (مخالف) کو بھی اس قسم کی احادیث اور اقوال سے ا صاف لفظوں میں اقرار کریں اور اگر نہیں ہے تو پ (عبدالماجد قادیانی) نے اپنے رسالہ میں جابجا ح

صفحہ ٣٥٣

مؤلفوں کو خود بھی اپنے اپنے رسالوں پر بھروسہ نہیں ہے۔ ورنہ شرائط محض آسان ہیں۔ پابندی نہ کرنے کی کوئی معقول وجہ نہیں ہے اور اگر کسی رسالہ کی نسبت یہ خیال ہے کہ شرائط کے مطابق لکھا گیا ہے۔ تو اس رسالہ پر خلیفہ قادیان نورالدین سے تصدیق لکھ کر ریمارک لکھانے کے لئے علامہ ممدوح کے پاس بھیج دیں اور پھر بہ تجویز فریقین ثالث مقرر کر کے فیصلہ کرالیں:

بس اک نگاہ پہ ٹھہرا ہے فیصلہ دل کا

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

ان دنوں ایک رسالہ مولوی عبد الماجد صاحب پوربیوی بھاگلپوری (قادیانی) کا شائع ہوا ہے۔ جس کا نام القاء ربانی بتردید فیصلہ ابو احمد رحمانی ہے۔ اہل علم تو اس کے مضامین کی صحت یا غلطی کی کیفیت اس کے نام ہی سے سمجھ سکتے ہیں۔ ہاں سیدھے سادھے مسلمانوں کے اشتباہ اور فتنے میں پڑنے کا احتمال ہے۔ اس لئے بحکم الدين النصيحة عام مسلمانوں کی بہی خواہی اور ان کو اس فتنہ سے بچانے کی غرض سے اس رسالہ کی حقیقت ظاہر کر دینی ضروری اور بہت ضروری ہے۔ پوری حقیقت تو اس وقت ظاہر ہو گی۔ جب اس کا مفصل اور مدلل جواب شائع ہوگا۔

سردست بطور مشتے نمونہ از خروارے کچھ بیان کئے دیتا ہوں۔ ناظرین بہ نظر انصاف ملاحظہ فرمائیے:

یہ نہایت ہی حیرت انگیز بات ہے کہ مرزا قادیانی آنجہانی کی یہ عادت رہی اور ان کے متبعین کی بھی یہی عادت ہے۔ کہ اپنے فریق (مخالف) سے جب دلیل کا مطالبہ کرتے ہیں تو یہ کہتے ہیں کہ آیت قطعی الدلالۃ مرفوع متصل صحیح حدیث پیش کرو اور جب فریق (مخالف) کا جواب دیتے ہیں تو اپنا کوئی دعویٰ ثابت کرتے ہیں تو بحکم الغريق يتشبث بكل حشيش یعنی ڈوبتے کو تنکے کا سہارا۔ کہیں کوئی ذوی الوجوہ آیت یا نا قابل احتجاج حدیث پیش کر دیتے ہیں۔

اور کہیں کسی بزرگ کا قول دکھا دیتے ہیں اگرچہ بلا دلیل ہی ہو۔ بھاگلپوری مولوی قادیانی نے اس رسالہ میں ایسا ہی کیا ہے۔ اب یہ بات قابل سوال ہے کہ جس قسم کی احادیث اور مفسرین یا دیگر بزرگوں کے اقوال سے اس رسالہ میں استدلال کیا گیا ہے۔ ان کے فریق (مخالف) کو بھی اس قسم کی احادیث اور اقوال سے استدلال کرنے کا حق ہے یا نہیں۔ اگر ہے تو صاف لفظوں میں اقرار کریں اور اگر نہیں ہے تو کیوں۔ اس کی کوئی معقول وجہ بتائیں۔ مولوی (عبدالماجد قادیانی) نے اپنے رسالہ میں جابجا حضرت مجدد الف ثانیؒ کے اقوال پیش کئے ہیں۔

٣

صفحہ ٣٥٤

اس لئے میں بھی مجدد صاحب کے اقوال پیش کروں گا۔

بھاگلپوری مولوی قادیانی نے اس رسالہ میں علامہ مؤلف فیصلہ آسمانی پر کوتاہ نظری دروغ گوئی عبارت منقولہ کے آگے پیچھے کی عبارتوں کے حذف کر دینے وغیرہ کا الزام لگانا چاہا ہے اور اس میں ایڑی چوٹی کا زور لگایا ہے۔ مگر نہایت ہی افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ جن جن باتوں کا الزام لگانا چاہتے ہیں۔ اپنے رسالہ میں خود ہی ان باتوں کے مرتکب ہوئے ہیں اور ایسی ایسی بددیانتیاں کی ہیں کہ ایک معمولی مسلمان بھی نہیں کر سکتا۔ چہ جائیکہ ایسا شخص کرے جو مدعی علم ہو اور مسیح موعود کا صحابی یا تابعی بھی ہو۔ تصریحات ذیل ملاحظہ ہوں۔

پہلی بددیانتی

مولوی قادیانی اپنے رسالہ کے صفحہ ٤ میں علمائے اسلام اور مرزا غلام احمد قادیانی آنجہانی کی مخالفت کی حقیقت کی تہہ تک پہنچنے اور اس بات کے ظاہر کرنے کے لئے کہ علمائے اسلام اصل مسیح اور اصلی مہدی علیہما السلام کو بھی نہیں مانیں گے۔ حضرت مجدد الف ثانی کی مکتوبات سے دو عبارتیں نقل کرتے ہیں اور خود ہی ترجمہ کرتے ہیں۔ پہلی عبارت یہ ہے:

نزديك است کہ علمائے ظواهر مجتهدات اورا على نبينا وعليه الصلوٰۃ والسلام از کمال دقت وغموض ماخذ انكار نمايند ومخالف كتاب وسنت دانند (ص ٦٧ مکتوب ٥٥ جلد ثانی) ”نزدیک ہے کہ علمائے ظواہر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے اجتہادی مسائل کو بوجہ باریک اور دقیق ماخذ ہونے کے انکار کریں گے اور مخالف کتاب وسنت کہیں گے ۔“

مکتوبات میں عبارت منقولہ سے ایک سطر پہلے یہ عبارت ہے: وحضرت عیسی علی نبینا وعلیہ الصلوۃ والسلام بعد از نزول کہ متابعت این شریعت خواهد نمود واتباع سنت آن سرور علیہ وعلی آلہ الصلوۃ والسلام خواهد کرد نسخ ایں شریعت مجوز نیست!

اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام نزول کے بعد اس شریعت کی پیروی کریں گے اور آنحضرت ﷺ کی سنت پر عمل کریں گے۔ (اس وجہ سے) کہ اس شریعت کا نسخ جائز نہیں ہے۔

یہ مضمون جس میں ”مجتہدات اورا“ کی ضمیر کا مرجع (حضرت عیسیٰ کا نام) بتصریح موجود ہے۔ کیوں حذف کر دیا گیا؟ اگر یہ عبارت نقل کر دی جاتی تو کیا حقیقت کی تہ تک پہنچنے میں سہولت نہ ہوتی؟

٤

٥

معمولی سمجھ کا آدمی بھی یہ کہہ سکتا ہے مطلب سمجھنے کے لئے اس عبارت کا نقل کرنا ضرو داری ثابت کرنے کے لئے اس عبارت کو حذ عبارت تو مرزا قادیانی آنجہانی کی مسیحیت کے لئے کہ اس میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول عوام پر مرزا قادیانی کی مسیحیت کی حقیقت کھل معلوم نہیں کہ یہ قطع و برید خلیفہ قادیان کہ حضرت مجدد صاحب کے کلام میں نزول عی مراد ہے۔ جیسا کہ آپ نے ایک دوسرے مکتوب ”وحضرت عيسى على نبي نزول خواهد فرموده متابعت الصلوۃ والتسلیمات (مکتوب ٦٧ ص ٧ فرمائیں گے۔ تو حضرت خاتم الرسل ﷺ کے

ہاں علمائے ظواہر سے وہی علماء کیو کیا وہ علماء جو ان کے موافق ہیں۔ علمائے باط حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا انکار کریں گے۔ ج موجود مانتے ہیں۔

کیونکہ ان کے اعتقاد میں حضرت حیات مسیح کے قائل ہیں۔ وہ احادیث کے م لیں گے۔ کیونکہ وہ لوگ تو ان کا انتظار ہی کر ر

دوسری بددیانتی

قادیانی مولوی نے دوسری عبار ست کہ حضرت مهدی در زما واحیائے سنت فرماید عالم مل حسن پنداشته ملحق بدین س ما نموده و اهانت ملت ما فرموده ا

صفحہ ٣٥٥

معمولی سمجھ کا آدمی بھی یہ کہہ سکتا ہے کہ جو عبارت رسالہ میں نقل کی گئی ہے اس کا صحیح مطلب سمجھنے کے لئے اس عبارت کا نقل کرنا ضروری تھا۔ مگر مولوی قادیانی نے اپنی کمال دیانت داری ثابت کرنے کے لئے اس عبارت کو حذف کر دیا۔ غالباً یہ خوف دامن گیر ہوا ہوگا کہ یہ عبارت تو مرزا قادیانی آنجہانی کی مسیحیت کے بنیادی پتھر کے اکھاڑ دینے کیلئے کافی ہے۔ اس لئے کہ اس میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کا ذکر ہے۔ اگر یہ عبارت نقل کر دی جائے گی تو عوام پر مرزا قادیانی کی مسیحیت کی حقیقت کھل جائے گی۔

معلوم نہیں کہ یہ قطع و برید خلیفہ قادیان کے حکم سے کی گئی ہے یا خودرائی سے واضح رہے کہ حضرت مجدد صاحبؒ کے کلام میں نزول عیسیٰ سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا آسمان سے اترنا مراد ہے۔ جیسا کہ آپ نے ایک دوسرے مکتوب میں تصریح فرما دی ہے۔

”و حضرت عیسیٰ علیٰ نبینا و علیہ الصلوٰة والسلام کہ از آسمان نزول خواهد فرمودہ متابعت شریعت خاتم الرسل خواهد نمود علیہم الصلوٰة و التسلیمات (مکتوب ٦٧ ص ٢٧ ج٣) ”حضرت عیسیٰ علیہ السلام آسمان سے نزول فرمائیں گے تو حضرت خاتم الرسل ﷺ کی شریعت کی پیروی کریں گے۔“

ہاں علمائے ظواہر سے وہی علماء کیونکر سمجھے گئے جو مرزا قادیانی آنجہانی کے مخالف ہیں۔ کیا وہ علماء جو ان کے موافق ہیں۔ علمائے باطنیہ ہیں؟ بلکہ قرین قیاس بات تو یہ ہے کہ وہی علمائے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا انکار کریں گے۔ جو ممات مسیح کے قائل ہوکر مرزا غلام احمد قادیانی کو مسیح موعود مانتے ہیں۔

کیونکہ ان کے اعتقاد میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا دوبارہ آنا محال ہے اور وہ علماء جو حیات مسیح کے قائل ہیں۔ وہ احادیث کے مطابق حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا نزول دیکھ کر فوراً مان لیں گے۔ کیونکہ وہ لوگ تو ان کا انتظار ہی کر رہے ہیں۔

دوسری بددیانتی

قادیانی مولوی نے دوسری عبارت جو مکتوبات سے نقل کی ہے۔ یہ ہے: ”ہم منقول ست کہ حضرت مہدی درزمان سلطنت خود چون ترویج دین نماید واحیائے سنت فرماید عالم مدینہ کہ عادت بعمل بدعت گرفتہ بود آنرا حسن پنداشتہ ملحق بدین ساختہ از تعجب گوید کہ این مرد رفع دین ما نمودہ و اہانت ملت ما فرمودہ (ص٢٧٨ مکتوب ٢٥٥ جلد اول)“

٥

صفحہ ٣٥٧

﴿یہ بھی منقول ہے کہ حضرت مہدی اپنے زمانہ سلطنت میں جب دین کی ترویج کریں گے اور احیائے سنت فرماویں گے۔ مدینہ کا ایک عالم کہ بدعت کا عامل ہوگا اور اس کو حسن سمجھ کر دین میں ملحق کئے ہوگا۔ تعجب سے کہے گا کہ یہ شخص یعنی امام مہدی ہمارے دین اسلام کو خراب کرتا ہے اور ہمارے مذہب کو برباد کرتا ہے۔ ﴾

اس عبارت کے بعد ایک جملہ یہ بھی ہے : ” حضرت مهدی امر بکشتن آن عالم فرماید“ ﴿ حضرت مہدی اس عالم کو مار ڈالنے کا حکم فرمائیں گے۔ ﴾

مگر قادیانی مولوی نے اس جملہ سے مرزا قادیانی کی مہدیت کو کشتہ ہوتے ہوئے دیکھ کر اس کو نقل نہیں کیا۔ کیا یہ جملہ حقیقت کی تہ تک پہنچانے میں مدد نہیں کر سکتا تھا۔ یہ کیسی ایمانداری ہے؟ کہ حقیقت کی تہ تک پہنچانے کے لئے جو عبارتیں نقل کی جائیں ان میں سے کسی کا ماسبق اور کسی کا مالحق حذف کر دیا جائے ۔

بہر کیف میں بھی قادیانی مولوی کی اس تجویز کے ساتھ اتفاق کرتا ہوں کہ مذکورہ بالا دونوں عبارتیں حقیقت کی تہ تک پہنچنے میں بہت کچھ مدد کر سکتی ہیں۔ خاص کر دوسری عبارت جس سے یہ باتیں ثابت ہوتی ہیں:

آفتاب نیمروز کی طرح مرزا قادیانی آنجہانی کی مہدویت کی حقیقت منکشف ہو جاتی ہے۔ کیا قادیانی مولوی یہ ثابت کر سکتے ہیں کہ مرزا قادیانی کو سلطنت ملی؟ اور انہوں نے ایک بدعتی عالم کے قتل کا حکم دیا؟ جس نے ان کو مخرب دین کہا تھا؟ اور اگر نہیں ثابت کر سکتے ہیں اور ہرگز نہیں ثابت کر سکتے ۔ تو ان کو اس بات کے ماننے میں کیا عذر ہے؟ کہ ان ہی کے پیش کردہ حوالے کی رو سے مرزا قادیانی کی مہدویت ہوا ہو گئی ۔ فافہم ما قیل !

کیا لطف جو غیر پردہ کھولے
جادو وہ کہ سر پہ چڑھ کے بولے

تیسری بد دیانتی

قادیانی مولوی اپنے رسالے کے ص ١٤٨ میں علامہ مؤلف فیصلہ آسمانی پر حدیث ارجنی ارجنی قطعت دقتی کی نسبت یہ الزام دیتے ہیں کہ : ” پوری حدیث اور سند نقل نہیں کی جس سے معنی

٦

پر روشنی ڈالی جاتی اور راوی کی تنقیح کی جاتی۔ مگر خود بھی اور ایک جمع الجوامع سے نقل کی ہے اور کسی کی سند بیان ن اور ص ٥٨ میں حضرت مجدد صاحب کے مکتوبات کی جلد کی ہے جس میں ایک حدیث بھی ہے۔ اس حدیث کی جو اس حدیث پر ایک سنگین اعتراض کر کے ایک جواب احتجاج ہونا ثابت ہوتا ہے۔ اس کو بھی نقل نہیں کیا۔ مجدد ہیں: ” واین فقیر این نقل را نمی پسند دو ننماید کہ حامل وحی قطعی اوست. و مستقبح می داند مگر آنکہ گویم عصم مخصوص بوحی ست کہ تبلیغ است قسم وحی نیست بلکہ اخبار ست از علمی محل محو واثبات است پس خطاء وا وحی کہ مجرد تبلیغ است فافترقا بین فی الشرع لا الثانی

( مکتوب ٢٢٧ جلد اول ٢

جبرائیل امین پر خطا تجویز نہیں کرتا ہے۔ اس لئے کہ کرنے کو برا جانتا ہے۔ اس کا کوئی جواب نہیں ہو سکت ان کا خطا سے محفوظ رہنا وحی کے ساتھ مخصوص ہے ج بات وحی کی قسم سے نہیں ہے۔ بلکہ یہ ایک علم سے محو و اثبات کا محل ہے۔ پس اس خبر میں خطا کا موقع کو دونوں میں فرق ظاہر ہو گیا۔ جیسا کہ گواہی اور اخبار معتبر ہے اور اخبار میں نہیں۔ “

علاوہ اس کے نفس حدیث ہی میں بعض حقیقت ظاہر ہو رہی ہے۔ مگر قادیانی مولوی نے اس اپنے رسالہ میں جو عبارت نقل کی ہے۔ اس کے بعد

”زیر بستر او مار کلانی یا فت حلوا کو فتہ اند کہ از بسیاری حلوا جل

٧

صفحہ ٣٥٧

پر روشنی ڈالی جاتی اور راوی کی تنقیح کی جاتی۔ مگر خود بھی ص ٥٥ میں ایک حدیث عمدة القاری سے اور ایک جمع الجوامع سے نقل کی ہے اور کسی کی سند بیان نہیں کی۔ جس سے راویوں کی تنقیح کی جاتی اور ص ٥٨ میں حضرت مجدد صاحب کے مکتوبات کی جلد ١ ص ٢٢٢، ٢٢٣ سے ایک طویل عبارت نقل کی ہے جس میں ایک حدیث بھی ہے۔ اس حدیث کی سند بیان کرنا تو در کنار خود مجدد صاحب نے جو اس حدیث پر ایک سنگین اعتراض کر کے ایک جواب دیا ہے۔ جس سے اس حدیث کا ناقابل احتجاج ہونا ثابت ہوتا ہے۔ اس کو بھی نقل نہیں کیا۔ مجدد صاحب اس حدیث کے بارے میں لکھتے ہیں: ”وایں فقیر ایں نقل را نمی پسند دو تجویز خطا بر جبرائیل امین نمی نماید که حامل وحی قطعی اوست. وتجویز خطا برحامل وحی نمودن مستقبح می داند مگر آنکه گویم عصمت وامانت وعدم احتمال خطائے او مخصوص بوحی ست که تبلیغ است از قبل حق سبحانه دریں خبر از قسم وحی نیست بلکه اخبار ست از علمے ومستفاد از لوح محفوظ است که محل محو واثبات است پس خطاء را دریں خبر مجال پیدا شد بخلاف وحی که مجرد تبلیغ است فافترقا بین الشهادة والاخبار فان الاول معتبر فی الشرع لا الثانی (مکتوب ٢٦٧ جلد اول ٢٣٣)“ ”یہ فقیر اس نقل کو پسند نہیں کرتا ہے اور جبرائیل امین پر خطا تجویز نہیں کرتا ہے۔ اس لئے کہ وہ قطعی کا حامل ہے اور حامل وحی پر خطا تجویز کرنے کو برا جانتا ہے۔ اس کا کوئی جواب نہیں ہوسکتا۔ مگر یہ کہ میں کہوں کہ جبرائیل کی امانت اور ان کا خطا سے محفوظ رہنا وحی کے ساتھ مخصوص ہے جو خدا کی طرف سے تبلیغ ہے۔ اس خبر میں کوئی بات وحی کی قسم سے نہیں ہے۔ بلکہ یہ ایک علم سے اخبار ہے اور لوح محفوظ سے مستفاد ہے۔ جو محو و اثبات کا محل ہے۔ پس اس خبر میں خطا کا موقع نکل آیا۔ بخلاف وحی کے جو کہ مجرد تبلیغ ہے۔ پس دونوں میں فرق ظاہر ہو گیا۔ جیسا کہ گواہی اور اخبار میں فرق ہے۔ اس لئے کہ گواہی شریعت میں معتبر ہے اور اخبار میں نہیں۔“

علاوہ اس کے نفس حدیث ہی میں بعض مضامین ایسے ہیں جن سے اس حدیث کی حقیقت ظاہر ہورہی ہے۔ مگر قادیانی مولوی نے اس مضمون کو بھی نقل نہیں کیا۔ قادیانی مولوی نے اپنے رسالہ میں جو عبارت نقل کی ہے۔ اس کے بعد ہی مکتوبات میں یہ عبارت ہے:

”زیر بستر او مار کلانی یافتند که مرده و در درون آن مار آنقدر حلوا کوفته اند که از بسیاری حلوا جان داده است“

٧

صفحہ ٣٥٨

”اس کے بستر کے نیچے ایک مرا ہوا بڑا سانپ پایا لوگوں نے اس سانپ کے پیٹ میں اس قدر حلوا بھرا تھا کہ حلوا کی زیادتی کی وجہ سے وہ مر گیا۔“ اب قادیانی مولوی فرمائیں کہ یہ نظر کی کوتاہی ہے یا دیدہ و دانستہ فریب دہی؟ کیا اس قسم کی روایتوں سے وہ سنت اللہ ثابت کر سکتے ہیں۔ کیا اس روایت کے مضامین حضرت موسیٰ اور ستر ہزار فرشتے والی روایت سے کچھ کم ہیں؟ خوف خدا دل میں رکھ کر جواب دیں اور بطریق محدثین اس روایت کی صحت ثابت کریں۔ ودونہ خرط القتاد!

چوتھی بددیانتی

قادیانی مولوی اپنے رسالہ کے ص ١٠٣ میں علامہ ممدوح پر یہ الزام لگاتے ہیں کہ: ”خدائے قدوس کے اسماء متبرکہ میں مضل کو شمار کرنا ابو احمد صاحب ہی کا اجتہاد ہے۔“ پھر ص ١٠٤ میں لکھتے ہیں ۔”کاش اسمائے الٰہی جو کتب متداولہ مثل جلالین شریف و ترمذی شریف وغیرہ میں مذکور ہیں۔ اسی کو ابو احمد صاحب دیکھ لیتے تو ایسی ٹھوکر نہ کھاتے۔“ میں کہتا ہوں کہ مولوی صاحب جلالین شریف اور ترمذی شریف وغیرہ کا بغور مطالعہ کریں اور یہ بتائیں کہ کیا ان کتابوں میں یہ لکھا ہے کہ اسمائے الٰہی انہیں ناموں میں میں منحصر ہیں؟

کاش قادیانی مولوی بیہقی کی کتاب الاسماء والصفات دیکھ لیتے تو ان کو معلوم ہو جاتا کہ اسمائے الٰہی نودونہ (نانوے) نام ہی میں منحصر نہیں ہیں۔ بلکہ اسمائے الٰہی کا شمار ایک ہزار تک پہنچتا ہے۔ انشاء اللہ تعالیٰ ! اس کی پوری بحث جواب رسالہ میں کی جائے گی۔ سردست مکتوبات مجدد الف ثانی سے ہم یہ دکھلا دیتے ہیں کہ مجدد صاحب نے بھی خدا کا ایک نام مضل بھی لکھا ہے۔

عارفین کاملین کی حالت بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں: چنانچہ اسلام را مستحسن میداند کفر را آنجا نیز حسن می یابد و ہر دورا! مظاہر اسم الہادی واسم المضللہ یافتہ از ہر دو حظ می گردد متلذذ می گردد!

(مکتوب ٣٤ ج سوم ص ٦٤)

ترجمہ...... ”جس طرح اسلام کو مستحسن جانتا ہے کفر کو بھی وہاں حسن پاتا ہے اور دونوں کو خدا کے (دو ناموں) ھادی اور مضل کا مظہر پا کر حظ اور لذت لیتا ہے۔“

مولوی صاحب فرمائیں کہ یہ ان کی کوتاہ نظری ہے یا محض افتراء پردازی۔ افسوس ہے کہ مولوی صاحب پر یہ مصرع پورا پورا صادق آ رہا ہے:

میں الزام ان کو دیتا تھا قصور اپنا نکل آیا

٨

صفحہ ٣٥٩

پانچویں بد دیانتی

قادیانی مولوی اپنے رسالہ کے ص ١٤٤ میں آیت کریمہ لو تقول علینا بعض الاقاویل کے متعلق علامہ ممدوح کے اس بیان کے غلط کرنے کے لئے کہ: ”اس بعض کے لفظ نے جھوٹے متہم کو خارج کر دیا۔“ لکھتے ہیں: ”اب آیت کا مطلب کس قدر صاف ہو گیا کہ قرآن مجید کو اقوال مفتریات جانتے تھے اور اسی کے بارے میں حضور پر نور پر تقوّل کا الزام لگاتے تھے۔“ پھر آگے چل کر لکھتے ہیں: (پس بعض الاقاویل سے بے شک ہذا القرآن مراد ہے۔) جب ہی تو آیت کی ابتداء تنزیل من رب العالمین سے ہوئی۔ افسوس ہے کہ مولوی صاحب علامہ ممدوح کی مخالفت میں ایسے گرتے ہیں کہ اپنے پیر و مرشد مرزا قادیانی کے قول کو بھی بھلا دیتے ہیں۔ یا قصداً نظر انداز کر دیتے ہیں۔ مرزا قادیانی متوفی اپنے خط مورخہ ٤؍ جنوری ١٨٩٣ء میں لکھتے ہیں: ”خدا تعالیٰ تو اپنے نبی کو فرماتا ہے کہ اگر وہ ایک قول بھی اپنی طرف سے بناتا تو اس کی رگ جان قطع کی جاتی ۔“

(آئینہ حق نما ص ١٥٠)

اب قادیانی مولوی یا تو مرزا قادیانی کی ناسمجھی کو تسلیم کریں یا اپنی غلطی بلکہ تحریف کا اقرار کریں۔

قادیانی مولوی کا یہ کہنا ہے کہ : ”جب ہی تو آیت کی ابتداء تنزیل من رب العالمین سے ہوئی۔“ صریح غلطی ہے۔ یا محض بے علمی۔

تنزیل من رب العالمین سے آیت کی ابتداء نہ تو ترکیب الفاظ کے لحاظ سے ہو سکتی ہے اور نہ مضمون کے لحاظ سے۔ اس لئے کہ ترکیب الفاظ کے لحاظ سے تنزیل من رب العالمین ان کی (جو انہ لقول رسول کریم میں مذکور ہے) چوتھی خبر ہے۔ اگر ہو مبتداء محذوف مانیں تو یہ خبر جملہ ہوگی۔ ورنہ مفرد۔ اس آیت کو ما بعد کی آیت کے ساتھ ترکیب الفاظ کے لحاظ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

اور مضمون کی ابتداء: ”فلا اقسم بما تبصرون ومالا تبصرون“ سے ہوئی ہے۔ چونکہ انہ لقول رسول کریم سے یہ شبہ پیدا ہو سکتا تھا کہ یہ کلام الٰہی نہیں ہے۔ اس لئے اس شبہ کے دور کرنے کے لئے صاف لفظ میں فرما دیا گیا۔ کہ تنزیل من رب العالمین یعنی قرآن پروردگار کے یہاں سے نازل کیا گیا۔ جیسا کہ تفسیر ابن کثیر اور تفسیر خازن اور تفسیر کبیر میں لکھا ہے۔ تفسیر کبیر کی عبارت یہ ہے: ”لما قال فیما تقدم انہ لقول رسول کریم اتبعہ بقولہ تنزیل من رب العالمین حتیٰ یزول الاشکال“ (ج ٨ ص ٢٩١) چونکہ پہلے نہ

٩

صفحہ ٣٦١

کہا گیا کہ انه لقول رسول کریم یعنی یہ قرآن رسول کریم کا قول ہے۔ اس سے یہ شبہ پیدا ہوسکتا تھا کہ یہ کلام الہی نہیں ہے۔ اس لئے اس کے بعد یہ فرمایا کہ تنزيل من رب العالمين یعنی یہ قرآن خدا کے یہاں سے نازل کیا گیا ہے۔ تاکہ وہ شبہ زائل ہوجائے۔ ﴾

تفسیر کشاف ص ١٥٢ ج ٢ اور تفسیر مدارک ص ٣٠٤ میں اس طرح ہے: (تنزيل) ”هو تنزيل بيانا لانه قول رسول نزل عليه من رب العالمين “ ﴿وہ تنزیل ہے یہ بیان ہے اس بات کا کہ قرآن رسول کا قول اس معنی کے ہے کہ ان پر اتارا گیا ہے پروردگار عالم کے یہاں سے۔ ﴾

اب کوئی سلیم الذہن عربی دان یہ کہہ سکتا ہے کہ آیت کی ابتداء تنزيل من رب العالمین سے ہوئی ہے؟ ہرگز ہرگز نہیں بلکہ ترکیب الفاظ اور مضمون دونوں کی انتہا تنزيل من رب العالمين پر ہوئی ہے اور ولو تقول علینا سے دوسرا مضمون شروع ہوا ہے جیسا کہ واو استیناف سے ظاہر ہے۔

اور لطف تو یہ ہے کہ مولوی صاحب بعض الاقاویل سے ہذا القرآن مراد ہونے کو اس ابتداء کا سبب ٹھہراتے ہیں۔ ماشاء اللہ کیا تبحر علمی ہے اور کیا قرآن دانی و فہم ماقیل!

گر تو قرآن بدین نمط خوانی
ببری رونق مسلمانی

چھٹی بددیانتی

قادیانی مولوی اپنے رسالہ کے ص ١٤٣، ١٤٤ میں آیہ کریمہ ولو تقول علينا بعض الاقاويل کے متعلق لکھتے ہیں۔

”ناظرین! قرآن مجید کے الفاظ سیاق و سباق سے تو آپ سمجھ چکے۔ اب ہم آپ کو مفسرین کی بھی رائے بتاتے ہیں کہ انہوں نے بھی جلد ہی ہلاک ہونا آیت سے سمجھا ہے۔ تفسیر کشاف سے ہم آئندہ نقل کریں گے۔ یہاں تفسیر کبیر سے نقل کرتے ہیں: ”او قال شيئاً من عنده فنسبة الينا وليس كذالك لو جعلناه بالعقوبة (جلد ١٧ جز ١٧ ص ٧١)“ ﴿یا کچھ اپنی طرف سے کہا اور اس کو میری طرف منسوب کیا اور حالانکہ ایسا نہیں ہے۔ ہم اس کے عذاب کرنے میں جلدی کرتے ہیں۔﴾

اور یہ سمجھنا ان کا بطریق اشارۃ النص ہے۔ کیونکہ آیت کے الفاظ سے ضمناً یہ بات سمجھی جاتی ہے۔ جیسا کہ ہم اوپر بیان کر چکے ہیں۔ میں کہتا ہوں کہ ”لو جعلنا بالعقوبة لا خذناه

١٠

باليمين ثم لقطعنا منه الوتين “ کا خلاصہ سمجھا جاتا ہے۔ اس لئے کہ یہ شرطیہ متصلہ لزومیہ ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اگر ہمارا رسول کچھ بھی افترا کرتا تو فـ یہی مقصود ہے۔ پس جلد ہلاک کیا جانا عبارت النص مولوی صاحب یہ ثابت کریں کہ یہاں پر عبارت الـ کریں کہ یہ بات ( جلد ہلاک ہونا) کن الفاظ سے سے کیا مراد ہے؟ اگر معمولی ہلاکت ہی مراد ہے تو یہ معمولی ہلاکت تو سب اس کے لئے ہے اور اگر کسی خـ کرنی چاہئے۔“

قادیانی مولوی نے الفاظ سیاق و سباق سـ اس کا ترجمہ کر دیا ہے۔ پھر یہ لکھنا ان کا محض فریب نہیں سیاق و سباق سے تو آپ سمجھ چکے۔

ساتویں بددیانتی

قادیانی مولوی اپنے رسالہ کے ص ١٤٨ حال ہے تو بہت افتراء اور کل افتراء کا کیا حال ہوگا اور لئے کہہ سکتے ہیں کہ یہ معنی بطریق اشارۃ النص ثابـ صرف کسی معنی کا تبعا سمجھا جانا معتبر نہیں ہے۔ بلکہ اس جانا چاہئے۔ آیت میں کوئی لفظ ایسا نہیں ہے جس کے ہو۔ کیا یہ صریح بددیانتی نہیں ہے کہ کسی فن کے اصطلاح دھوکا دیا جائے۔ مولوی صاحب نور الانوار کی اس عبار

”اما الاستدلال باشارة النص غير مقصود ولاسيق له النص وليس بظا

ترجمہ :...... استدلال اشارۃ النص کے سا کتاب سے از روئے لغت کے ثابت ہولیکن وہ غیر مـ اور نہ وہ ہر طرح سے ظاہر ہو۔“

١١

صفحہ ٣٦١

باليمين ثم لقطعنا منه الوتين“ کا خلاصہ ہے جلد سزادینا آیت سے تبعاً نہیں بلکہ اصالۃً سمجھا جاتا ہے۔ اس لئے کہ یہ شرطیہ متصلہ لزومیہ ہے۔ جس میں مقدم تالی کو مستلزم ہوتا ہے۔ آیت کا مطلب یہ ہے کہ اگر ہمارا رسول کچھ بھی افترا کرتا تو ہم فوراً اس کو ہلاک کردیتے اور ظاہر کلام سے یہی مقصود ہے۔ پس جلد ہلاک کیا جانا عبارت النص سے ثابت ہوا نہ کہ اشارۃ النص سے۔ ورنہ مولوی صاحب یہ ثابت کریں کہ یہاں پر عبارت النص سے کیا ثابت ہوتا ہے؟ اور یہ بھی ثابت کریں کہ یہ بات (جلد ہلاک ہونا) کن الفاظ سے تبعاً سمجھا جاتا ہے یا یہ بھی بتائیں کہ ہلاکت سے کیا مراد ہے؟ اگر معمولی ہلاکت ہی مراد ہے تو یہ معیار صداقت نہیں ہوسکتی ہے۔ اس لئے کہ معمولی ہلاکت تو سب اسی کے لئے ہے اور اگر کسی خاص قسم کی ہلاک مراد ہے۔ تو اس کی تصریح کرنی چاہئے۔“

قادیانی مولوی نے الفاظ سیاق و سباق کے متعلق کچھ بھی نہیں لکھا۔ آیت لکھ کر صرف اس کا ترجمہ کردیا ہے۔ پھر یہ لکھنا ان کا محض فریب نہیں تو کیا ہے؟ ناظرین! قرآن مجید کے الفاظ سیاق و سباق سے تو آپ سمجھ چکے۔

ساتویں بددیانتی

قادیانی مولوی اپنے رسالہ کے ص ١٣٨ میں لکھتے ہیں: ”کیونکہ کچھ افتراء کا جب یہ حال ہے تو بہت افتراء اور کل افتراء کا کیا حال ہوگا اور چونکہ لفظ سے یہ معنی تبعاً سمجھا جاتا ہے۔ اس لئے کہہ سکتے ہیں کہ یہ معنی بطریق اشارۃ النص ثابت ہے۔“ میں کہتا ہوں کہ اشارۃ النص میں صرف کسی معنی کا تبعاً سمجھا جانا معتبر نہیں ہے۔ بلکہ اس معنی کو نظم کلام سے ازروئے لغت کے سمجھا جانا چاہئے۔ آیت میں کوئی لفظ ایسا نہیں ہے جس کے معنی لغت کے روئے بہت افتراء یا کل افتراء ہو۔ کیا یہ صریح بددیانتی نہیں ہے کہ کسی فن کے اصطلاحی الفاظ کو غلط معنی میں استعمال کر کے لوگوں کو دھوکا دیا جائے۔ مولوی صاحب نورالانوار کی اس عبارت کو پیش نظر رکھ کر جواب دیں۔

”أما الاستدلال باشارة النص فهو العمل بما ثبت بنظمه لغة لكنه غير مقصود ولا سيق له النص وليس بظاهر من كل وجه“

ترجمہ:...... ”استدلال اشارۃ النص کے ساتھ عمل کرنا۔ اس چیز (معنی) کے ساتھ جو نظم کتاب سے ازروئے لغت کے ثابت ہو لیکن وہ غیر مقصود ہو اور نہ اس کے لئے کلام مساق ہوا ہو اور نہ وہ ہر طرح سے ظاہر ہو۔“

١١

صفحہ ٣٦٢

آٹھویں بددیانتی

قادیانی مولوی اپنے رسالہ کے ص ١٢٤ میں لکھتے ہیں: ”اب رہی مدت ٢٣ برس سو اے ناظرین با انصاف یہ کیسی کھلی بات ہے کہ اللہ جل شانہ نے جب آیت میں یہ فرمایا کہ اگر میرا نبی محمد رسول اللہﷺ ہم پر افتراء کرتا اور مفتری علی اللہ ہوتا تو ہم اس کا داہنا ہاتھ پکڑ لیتے پھر رگ جان کاٹ دیتے۔ یعنی جبکہ ہلاک کر دیتے اور آپ جانتے ہیں کہ اس معنی کی صحت حضور پر نور کی وفات پر موقوف ہے۔ چنانچہ جب آپ اپنی طبعی موت سے وصال پا گئے اور رفیق اعلیٰ سے جاملے۔ آیت کے معنی کی صحت ثابت ہوئی اور یہ زمانہ، زمانہ نزول وحی سے ٢٣ برس کا زمانہ تھا تو ہر ذی عقل سلیم الفطرت کا دل اس بات پر گواہی دے گا کہ بے شک زمانہ معیار صداقت ٢٣ ہی برس ہونا چاہئے۔ گویا ٢٣ برس بطریق اقتضاء النص ثابت ہوا۔“

قادیانی مولوی کا یہ بیان بوجوہ باطل ہے۔

معیار صداقت نہیں ہو سکتی۔ اس لئے کہ ٢٣ برس سے کچھ کم مدت مثلاً ٢٢ برس اور چند مہینے کو کوئی ذی شعور جلدی نہیں کہہ سکتا۔

ہو سکتے۔ (نعوذ بالله منه)

آیت کے صحیح معنی معلوم نہیں ہو سکتے اور اس سے لازم آتا ہے کہ خود آنحضرتﷺ نے آیت کا صحیح معنی نہ سمجھا ہو۔ (نعوذ بالله منه)

لئے استدلالاً پیش کی گئی ہے اور یہ ظاہر ہے کہ نبوت کی صداقت کا ثبوت نبی کی زندگی میں ہونا چاہئے اور جب اس کے معنی کی صحت آپکی وفات پر موقوف ہے تو پھر آپ کی زندگی میں یہ دلیل صدق نبوت کیونکر ہو سکتی ہے؟ اور آپ نے یہود و نصاریٰ وغیرہ مخالفین کے مقابلہ میں اس کو کیونکر پیش کیا؟ جو چیز باقتضاء النص ثابت ہوتی ہے۔ وہ نص پر مقدم ہوتی ہے۔ جیسا کہ نورالانوار میں لکھا ہے۔

”اما الثابت باقتضاء النص فما لا يعمل النص الا بشرط تقدمه“

١٢

صفحہ ٣٦٣

ترجمہ..... ”لیکن ثابت باقتضاء النص وہ چیز ہے کہ نص عمل نہیں کرے مگر اس شرط کے ساتھ وہ چیز نص پر مقدم ہو۔“

اور یہ ظاہر ہے کہ زیر بحث آیت میں ٢٣ برس کی مدت کسی طرح نص پر مقدم نہیں ہوسکتی۔ پس یہ کہنا کہ ٢٣ برس کی مدت باقتضاء النص ثابت ہے محض غلط ہے۔

ناظرین! ٢٣ برس کی مدت کا معیار صداقت ہونا تو باطل ہوچکا اور اسی سے یہ بھی ثابت ہوگیا کہ آنحضرت ﷺ کا دعویٰ وحی کے بعد تھوڑی مدت بھی سلامت باکرامت رہنا آپ کی صداقت کے اثبات کے لئے کافی ہے ٢٣ برس کی مدت کی ہرگز ضرورت نہیں۔ اب رہی یہ بات کہ زیر بحث آیت کس کے حق میں ہے؟ تمام مفسرین کا اتفاق ہے کہ تقول کی ضمیر کا مرجع رسول ہے۔ جو ابتدائے آیت ”انه لقول رسول کریم“ میں مذکور ہے اور یہاں پر رسول سے یا جبرائیل مراد ہیں یا آنحضرت ﷺ۔ تفسیر بیضاوی، فتح البیان، خازن، کبیر وغیرہ میں رسول کے متعلق لکھا ہے: ”هو محمد او جبرئيل عليهما السلام“

ترجمہ..... ”رسول سے مراد محمد ﷺ یا جبرائیل علیہما السلام ہیں۔ اگر جبرائیل مراد لئے جائیں۔ تو یہ آیت ما نحن فیہ سے خارج ہوجاتی ہے اور مرزا قادیانی کا استدلال سرے سے ہوا ہوجاتا ہے۔

اور اگر آنحضرت ﷺ مراد لئے جائیں جب بھی مرزا قادیانی کا استدلال غلط ہوجاتا ہے۔ مگر مولوی صاحب تفسیر اتقان سے محمد بن کعب کا یہ قول نقل کرکے:

”ان الاية تنزل فى الرجل ثم تكون عامة (اتقان ثانی ص ١٣٥)“

”بے شک آیت ایک شخص خاص کے بارے میں نازل ہوتی ہے پھر عام ہوتی ہے۔“

اس آیت کو آنحضرت ﷺ کے ساتھ خاص نہیں کرتے ہیں۔ بلکہ عام کرنا چاہتے ہیں۔ میں کہتا ہوں کہ اگر اس کے عموم کو تسلیم بھی کرلیں تو مطلب یہ ہوگا کہ یہ آیت آنحضرت ﷺ کے ساتھ خاص نہیں رہے گی۔ بلکہ آپ کے سوا اور رسولوں کو بھی شامل ہوگی۔ یہ مطلب تو کسی طرح نہیں ہوسکتا کہ رسول اور غیر رسول دونوں کو شامل ہو اور اگر اس کو بھی مان لیں کہ رسول اور غیر رسول دونوں کو شامل ہے۔

جب بھی یہ آیت اس مفتری کے ساتھ خاص نہ ہوگی۔ جو مرزا قادیانی کا ہیرو ہے۔ یعنی جو ”کوئی شخص عمداً اپنی طرف سے بعض کلمات تراش کر یا ایک کتاب بنا کر پھر یہ دعویٰ کرے کہ یہ باتیں خدائے تعالیٰ کی طرف سے ہیں اور اس نے مجھے الہام کیا ہے اور ان باتوں کے بارے میں

لا يعمل النص الا بشرط تقدمه“

١٣

صفحہ ٣٦٥

میرے پر اس کی وحی نازل ہوئی ہے۔ حالانکہ کوئی وحی نازل نہیں ہوئی۔“ ص٩٩ القاء ربانی مرزا قادیانی یا قادیانی مولوی کسی دوسری آیت یا صحیح حدیث تفسیر سے یہ ثابت نہیں کر سکے کہ یہ آیت اسی خاص قسم کی مفتری کے ساتھ خاص ہے۔ جو مدعی نبوت بھی ہو۔ پس مولوی صاحب ہی کے دعویٰ عموم کے رو سے یہ آیت ہر ایک ایسے مفتری کو شامل ہوگی جو تقول علی اللہ کا مصداق ہو اور تقول کے معنی خود مولوی صاحب بیضاوی سے نقل کرتے ہیں: ”سمى الافتراء تقولا“ یعنی افتراء تقول کے نام سے موسوم ہے۔ ”پس تقول علینا کا مطلب یہ ہوا کہ افتریٰ علینا آیت کا مطلب یہ ہوا کہ اگر کوئی شخص افترا کرے ہم پر تو ہم اس کو فوراً ہلاک کر دیں گے۔ اب قادیانی مولوی پر لازم ہے کہ قرآن مجید میں جن جن شخصوں کو مفتری کہا گیا ہے۔ سب کا فی الفور اور جلد ہلاک ہونا ثابت کریں۔ اگر سب مفتریوں کا جلد ہلاک ہونا ثابت نہ کر سکیں تو ان مفتریوں کا ثبوت دیں۔ جو مدعی نبوت ہوئے ہوں۔ صالح بن طریف کی مدت نبوت میں کلام کرنے کی اب ضرورت نہ رہی۔ اس کا اور مسیلمہ کذاب اور اسود عنسی کا فی الفور ہلاک ہونا ثابت کریں۔

میں ڈنکے چوٹ کہتا ہوں کہ مولوی صاحب کیا ان کی جماعت کے سارے علماء مع خلیفہ نورالدین اس بات کو ہرگز ہرگز ثابت نہیں کر سکتے ہیں۔ اس تقریر سے آفتاب نیمروز کے طرح یہ بات ظاہر ہوگئی کہ یہ آیت عام نہیں ہوسکتی۔ بلکہ آنحضرت ﷺ کے ساتھ خاص ہے۔ یا سچے رسولوں کے ساتھ۔

اور یہ کہنا کہ ”دنیا میں صد ہا دوسرے لوگ وہی گناہ کریں تو خدا کو خبر بھی نہ ہو۔ مگر محمد رسول اللہ ﷺ ایسا گناہ خدانخواستہ کریں تو ہلاک کر دیے جائیں۔“ القاء ربانی ١٢٣ عامیانہ استعجاب اور خدائے بزرگ کی شان میں گستاخانہ کلام ہے۔ اللہ تعالیٰ کو سب کی خبر ہے اور خوب خبر ہے اور اس نے اپنی مقدس کتاب میں جو جوامع الکلم ہے۔ ایسے مفتریوں کی سزا صاف لفظوں میں بیان کر دی ہے۔

قال الله تعالى: ”ومن اظلم ممن افترى على الله كذبا او قال اوحى الى ولم يوح اليه شىء ومن قال سانزل مثل ما انزل الله ولو ترى اذا الظالمون فى غمرات الموت والملائكة باسطوا ايديهم اخرجوا انفسكم۔ اليوم تجزون

١٢

عذاب الهون بما كنتم تقولون على الله غير الحق وكنتم عن آياته تستكبرون“

﴿اس سے بڑھ کر کون ظالم ہوسکتا ہے۔ جس نے اللہ پر جھوٹ بولا ہو یا یہ کہے کہ میرے پاس وحی آئی ہے حالانکہ اس پر کوئی وحی نہیں آئی یا کوئی اپنے کمال پر ناز کر کے کہے کہ جس طرح قرآن اللہ نے اتاری ہے۔ ہم بھی ایسی کتاب بنا سکتے ہیں۔ (اپنی زندگی میں تو ایسے لوگ خوب شیخی مارتے ہیں) اگر تو ان ظالموں کا حال مرتے وقت دیکھے کہ موت کی سختیوں میں گرفتار ہوں گے اور فرشتے اپنے ہاتھ بڑھاتے ہوں گے۔ ﴾ (کہ آؤ جان نکلوائیں) اور یہ کہتے ہوں گے کہ اپنی جانوں کو نکالو۔ (مگر وہ مارے خوف کے جان نہ نکالنے دیتے رہے ۔) مگر آج وہ دن ہے کہ تمہارے جھوٹ کی سزا میں تمہیں ذلت کے عذاب میں مبتلا کیا جائے گا۔ کیونکہ خدا کی نشانیوں کو حقیر سمجھتے تھے اور اپنے آپ کو بڑا خیال کرتے تھے۔ اس آیت کے متعلق علامہ ابواحمد رحمانی نے فیصلہ ربانی میں جو دلائل وبراہین سے نہایت ہی تفصیل کر دی ہے اور یہ ثابت کر دکھایا ہے۔ الہام و وحی کا جھوٹا دعویٰ کرنے والوں کو ۔ کلام الہی کے مقابل میں شمار کر کے ان کی حالت بیان کی ہے۔

قادیانی مولوی اس کے جواب میں چند باتیں پیش کرتے ہیں:

حق میں وارد ہوئی ہے۔ (ص ١٢٠) اس کا جواب یہ ہے کہ قادیانی مولوی اتقان سے واقف نہیں یا دیدہ و دانستہ ناواقف بنتے ہیں۔ اتقان میں نے اوپر ذکر کیا ہے کہ: ”ان الاية تنزل فى الرجل ثم تكون عامة فى كل من يعمل بعمله“ بے شک آیت ایک شخص خاص کے بارے میں نازل ہوتی ہے مگر اس کا حکم عام ہوتا ہے۔ پھر اس آیت یا دوسری پیش کردہ آیتوں کے شان نزول میں جو مسیلمہ وغیرہ کا ذکر کرتے ہیں؟ کیا اتقان میں یہ بھی لکھا ہے کہ یہ قاعدہ صرف صحابہ اور مسیلمہ وغیرہ کے لئے ہے یا ثابت کرنے کے لئے بنایا گیا ہے اور آیتوں کے لئے نہیں یہ تو سخت جہالت ہے۔ قادیانی مولوی فتح البیان سے خود ہی نقل کرتے ہیں: ”قال اهل العلم العبرة بعموم اللفظ لا بخصوص

صفحہ ٣٦٥

عذاب الهون بما كنتم تقولون على الله غير الحق وكنتم عن ايته تستكبرون“

﴿ اس سے بڑھ کر کون ظالم ہوسکتا ہے۔ جس نے خدا پر جھوٹ باندھا یا یہ کہا مجھ پر وحی آئی ہے حالانکہ اس پر کوئی وحی نہیں آئی یا کوئی اپنے کمال کے غرہ پر یہ کہے کہ جیسی کتاب رسول پر اتری ہے۔ ہم بھی ایسی کتاب بنا سکتے ہیں۔ (اپنی زندگی میں جو چاہیں کہتے رہیں ) اے مخاطب اگر تو ان ظالموں کا حال مرتے وقت دیکھے کہ موت کی کیسی سختی ان پر ہوگی اور فرشتے ان کی طرف ہاتھ بڑھاتے ہوں گے۔ ﴾

اور یہ کہتے ہوں گے کہ اپنی جانوں کو نکالو۔ (اب تک تو تم نے چین کیا یا جس طرح رہے ۔) مگر آج وہ دن ہے کہ تمہارے جھوٹ کی سزا میں تمہیں ذلت کا عذاب دیا جائے گا تم وہی ہو کہ خدا کی نشانیوں کو حقیر سمجھتے تھے اور اپنے آپ کو بڑا خیال کرتے تھے۔

اس آیت کے متعلق علامہ ابو احمد رحمانی نے فیصلہ آسمانی میں ص ٥٠ لغایت ص ٥٣ تک نہایت ہی تفصیل کر دی ہے اور یہ ثابت کر دکھایا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے مشرکوں کو۔ اہل کتاب کو۔ الہام و وحی کا جھوٹا دعویٰ کرنے والوں کو ۔ کلام الٰہی کے نہماننے والوں کو۔ سب کو ایک طرح ظالموں میں شمار کر کے ان کی حالت بیان کی ہے۔

قادیانی مولوی اس کے جواب میں چند باتیں پیش کرتے ہیں۔

حق میں وارد ہوئی ہے۔ (ص١٢٠)

اس کا جواب یہ ہے کہ قادیانی مولوی اتقان سے سے یہ قاعدہ نقل کرتے ہیں۔ جیسا کہ میں نے اوپر ذکر کیا ہے کہ:

”ان الايه تنزل فى الرجل ثم تكون عامة (ص١٤٥)“ ترجمہ.... ”بے شک آیت ایک شخص خاص کے بارے میں نازل ہوتی ہو پھر عام ہوتی ہے۔“

پھر اس آیت یا دوسری پیش کردہ آیتوں کے جواب میں کس منہ سے شان نزول پیش کرتے ہیں؟ کیا اتقان میں یہ بھی لکھا ہے کہ یہ قاعدہ صرف آیت کریمہ لو تقول علینا کے عموم ثابت کرنے کے لئے بنایا گیا ہے اور آیتوں کے لئے نہیں ہے۔ علاوہ اس کے اس آیت کے متعلق فتح البیان سے خود ہی نقل کرتے ہیں: ”قال اهل العلم قد دخل فى حكم هذه الاية كل

١٥

صفحہ ٣٦٧

من افترى على الله كذباً فى ذالك الزمان وبعده لانه لا يمنع خصوص السبب من عموم الحکم (ص ١٣١) ”ترجمہ..... ”اہل علم نے کہا کہ بے شک اس آیت کے حکم میں کل وہ لوگ جو خدا پر جھوٹ افتراء کرتے ہیں اس زمانہ میں اور بعد اس کے سب داخل ہیں اس لئے کہ خصوص سبب عموم حکم کو منع نہیں کرتا۔“

پھر تفسیر بیضاوی اور جلالین سے شان نزول نقل کرنے کا حجم رسالہ بڑھانے کے سوا اور کیا فائدہ ہے۔ یہ کہنا بھی صحیح نہیں ہے کہ: ”یہ آیت مسیلمہ اسود عنسی، سجاح اور ایسے ہی لوگوں کے حق میں وارد ہوئی ہے۔ اس لئے کہ مسیلمہ وغیرہ کے ایسے وہی لوگ کہلا سکتے ہیں۔ جو جھوٹے مدعیان ہوں حالانکہ اس آیت کے شان نزول میں ان لوگوں کو بھی لکھا ہے۔ جو اپنی طرف سے شرعی احکام بنایا کرتے ہیں۔ گو مدعی نبوت نہ ہوں بیضاوی میں مسیلمہ اسود عنسی کی مثال دینے کے بعد یہ بھی لکھا ہے۔ ”او اختلق احکاماً کعمرو بن لحی ومتابعته “ترجمہ....... ”یا بنائے احکام جیسے عمرو بن لحی اور اسکے متابعت کرنے والے۔“

پھر آگے چل کر ”بما كنتم تقولون على الله غير الحق“ کے متعلق لکھا ہے۔ ”كادعاء الولد والشريك له ودعوى النبوة والوحى كاذباً “ ترجمہ...... ”یعنی خدا پر غیر حق کہنے والے وہ سب لوگ ہیں جو خدا کے لئے بیٹا یا شریک ٹھہرائیں۔ یا جھوٹی نبوت ووحی کا دعویٰ کریں۔“

چونکہ اس عبارت سے یہ بات ثابت ہوتا ہے کہ نصاریٰ مشرکین جھوٹے مدعیان نبوت۔ اپنے جی سے شرعی احکام بنانے والے سب کی سزا ایک ساتھ بیان کی گئی ہے اور اس سے مرزا قادیانی کے دعوے اس خاص قسم کے مفتری کے بارے میں جو ان کا ہیرو ہے۔ خاک میں مل جاتا ہے۔ اس لئے قادیانی مولوی نے اس عبارت کو نظر انداز کر دیا۔ یہ ہے قادیانی مولوی کی دیانتداری۔

کس قدر جلد ہلاک ہوئے تو ہم کو اس معاملہ میں زیادہ لکھنے کی ضرورت نہیں۔“ (ص ١٢١)

اس کا جواب یہ ہے کہ مولوی صاحب کے ناظرین شاید واقف ہوئے ہوں یا مولوی صاحب کا چہرہ دیکھ کر واقف ہو جانے کا اقرار کر لیں۔ مگر مولوی صاحب کی کتاب کے ناظرین ہر گز واقف نہیں ہوئے ہیں۔ اس لئے کہ مولوی صاحب نے اپنے رسالہ میں کہیں یہ ثابت نہیں کیا

١٦

ہے کہ جس طرح کا جلد ہلاک ہونا آیت کا مدلول ہے۔ اس ہلاکت ہوئی۔

ہے کہ اس خاص قسم کا مفتری جلد ہلاک ہو جاتا ہے۔ اس

اس کا جواب یہ ہے کہ اس آیت میں نزول وحی مفتریوں سب کی سزا یکساں بیان کی گئی ہے اور چونکہ جلد نہ تو قرآن مجید اور حدیث شریف سے ثابت ہے اور نہ (جلد ہلاک ہونا) جھوٹے مدعیان وحی کی بھی نہیں ہو سکتی۔

بلکہ ایک دوسری آیت سے صاف ثابت ہوتا ہے قال الله تعالى : ” ان الذين يفترون ع قليل ولهم عذاب اليم (سورہ نحل پارہ ١٤ رکوع ١٦) ”جو ہیں۔ فلاح نہیں پاتے ہیں۔ (ان کے لئے ) تھوڑا سا ناک عذاب ہے۔ ( آخرت میں ) ﴾

ہوئے۔“

اس کا جواب یہ ہے کہ بے شک آیت میں ا ہے کہ اس کے قبل عذاب نہیں ہوا۔ لفظ تو بہت صاف ہے غشاوة “ اگر کسی کو معلوم نہ ہو تو دوسرے پر کیا الزام ہے

گرنہ بیند بروز ش
چشمہ آفتاب را چ

تعجب تو یہ ہے کہ الیوم تجزون کو خود نقل بھی کر میں مفعول پر مقدم ہے اور مفعول کا فعل پر مقدم ہونا تخصی ثابت ہے کہ اسکے قبل عذاب نہیں ہوا۔ کیا عربی کی مختصر طالبعلمی سے تخصیص سمجھی جاتی ہے۔ اب ناظرین ان ہوئی۔ علامہ ممدوح کی یا خود قادیانی مولوی کی؟ اب میں

١٧

صفحہ ٣٦٧

ہے کہ جس طرح کا جلد ہلاک ہونا آیت کا مدلول ہے۔ اس طرح پر مسیلمہ اسود عنسی، عمرو بن لحی کی ہلاکت ہوئی۔

ہے کہ اس خاص قسم کا مفتری جلد ہلاک ہو جاتا ہے۔ اس کے خلاف کون لفظ ہے۔

(ص ١٢١)

اس کا جواب یہ ہے کہ اس آیت میں نزول وحی کے جھوٹے مدعیوں اور دیگر اقسام کے مفتریوں سب کی سزا یکساں بیان کی گئی ہے اور چونکہ جلد ہلاک ہونا دیگر اقسام کے مفتریوں کی سزا نہ تو قرآن مجید اور حدیث شریف سے ثابت ہے اور نہ واقعات ومشاہدات سے اس لئے یہ سزا (جلد ہلاک ہونا) جھوٹے مدعیان وحی کی بھی نہیں ہو سکتی ہے۔ بلکہ ایک دوسری آیت سے صاف ثابت ہوتا ہے کہ مفتریوں کو دنیا میں مہلت دی جاتی ہے۔

قال اللہ تعالیٰ: ”ان الذين يفترون على الله الكذب لا يفلحون متاع قليل ولهم عذاب اليم (سورہ نحل پارہ ١٤ رکوع ١٦)“ بے شک جو اللہ پر جھوٹ بہتان باندھتے ہیں۔ فلاح نہیں پاتے ہیں۔ (ان کے لئے) تھوڑا سا (دنیاوی) فائدہ ہے۔ ان کے لئے درد ناک عذاب ہے۔ (آخرت میں)

ہوئے۔“

(ص ١٢١)

اس کا جواب یہ ہے کہ بے شک آیت میں ایسا لفظ موجود ہے۔ جس سے ثابت ہوتا ہے کہ اس کے قبل عذاب نہیں ہوا۔ لفظ تو بہت صاف ہے۔ مگر بحکم۔ ”علی ابصارهم غشاوة“ اگر کسی کو معلوم نہ ہو تو دوسرے پر کیا الزام ہے۔

گرنہ بیند بروز شب پرہ چشم
چشمۂ آفتاب را چہ گناہ

تعجب تو یہ ہے کہ الیوم تجزون کو خود نقل بھی کرتے ہیں اور اتنا نہیں سمجھتے ہیں کہ اس جملہ میں مفعول بہ مقدم ہے اور مفعول کا فعل پر مقدم ہونا تخصیص پر دلالت کرتا ہے۔ جس سے صاف ثابت ہے کہ اسکے قبل عذاب نہیں ہوا۔ کیا عربی کی مختصرات میں یہ نظر سے نہیں گزرا ہے۔ کہ یوم الجمعہ صمت سے تخصیص سمجھی جاتی ہے۔ اب ناظرین! انصاف کریں کہ کس کی علمی کوتاہی ثابت ہوئی۔ علامہ ممدوح کی یا خود قادیانی مولوی کی؟ اب میں مذکورہ بالا آیت کے متعلق تفسیر فتح العزیز

١٧

صفحہ ٣٦٩

مصنفہ مولانا شاہ عبدالعزیز صاحب محدث دہلویؒ سے چند اقتباسات ذیل میں درج کرتا ہوں۔ جس سے آیت کے صحیح مطلب سمجھنے میں ناظرین کو سہولت ہوگی اور مولوی صاحب کے غلط بیانات کی قلعی بھی کھل جائے گی۔ شاہ صاحب فرماتے ہیں:

بقوت فصاحت وبلاغت خود بعض الاقاویل یعنی بعضی از سخنان که ابعاض آیات باشند زیر که اگر جمیع اقاویل۔ رایا آیات تامه طویله را برمی نسبت اور ادر آنقدر فصیحا وبلغا معارضه کرده خفیف وملزم می ساختند لا خذنا منه بالیمین۔

البتر فی الفور او را هلاک كنیم بایں طریقه که بگیرم ازوی دست راست او را تم لقطعنا منه الوتین ”یعنی“ باز ببریم بشبیر بر رگ دل او را که حیات او بهمان رگ است واور افرصت ندهم ه واین طریق تصویر حال واجب القتل است که بادشاهان بحضور خود اور ا بسیاست میر سانند وجلاد را حکم میفر مایند که او بکشد۔“

وجز ادرست باشد وملازمت بین المقدم والتالی کليةً صادق باشد لازم آید که هچکس بعد از افتراء بر خدازنده نماند حالانکه مفتریان بسیار مثل مسیلمه کذاب واسود عنسی ودیگر متنبیان گذشته اند که طوما رطومار افترا آت برخدا بسته اندوهر گز ایں مواخذه بر آنها جاری نشده۔

جوابش آنست که ضمیر تقول راجع برسول است نه بهر فرد انسانی واگر بالفرض المحال رسول افتراء نماید او را این عقوبت عاجله لازم الوقوع است زیرا که تصدیق او بمعجزات واقع شده است پس او را اگر تعجیل در عقوبت نکنند تلبیس لازم آید که لا یمکن رفعه و آں منافی حکمت است بخلاف غیر رسول که بدون تصدیق معجزه کلام او خرافاتی پیش نیست واضلاتی جائے التباس واشتباه نی آری او را تصدیق بمعجزه از محالات است انتهی۔

١٨

بایں عقوبت گرفتار شود انتهی

”ولو تقول علينا یعنی اگر بفرض محال وہ ( ہم پر افتراء کرے۔ بعض الاقاویل یعنی باتیں جو آیات کہا کہ اگر کل باتیں یا چند پوری اور طویل آیتیں افتراء کرتے معارضہ کر کے اس کو خفیف اور ملزم کردیتے۔ لا خذنا ہلاک کردیتے۔ اس طریقہ پر کہ اس کا داہنا ہاتھ پکڑتے کاٹ دیتے تلوار سے اس کے دل کی رگ کو اس لئے کہ دیتے اور یہ طریقہ اس واجب القتل کے حال کی تصویر ہے ہیں اور جلاد کو حکم کرتے ہیں کہ اس کو مار ڈالے۔“

درمیان ملازمت پوری طرح سے صادق ہے۔ تو لازم بعد زندہ نہ رہے۔ حالانکہ بہت سے مفتری مثل مسیلمہ مدعیان نبوت گزرے ہیں۔ جنہوں نے دفتر کا دفتر خدا نہیں ہوا۔

اس سوال کا جواب یہ ہے کہ تقول کی ضمیر انسان کے طرف نہیں ہے۔ یعنی اگر بفرض محال (سچا سزا کا واقع ہونا لازمی ہے۔ اس لئے کہ اس کی تصدیق جلدی نہ کریں تو ایسا شبہ لازم آئے گا جس کا دور کرنا بخلاف غیر رسول کے۔ (یعنی اگر جھوٹا رسول افتراء کہ اس کی تصدیق معجزہ سے نہیں ہوئی ہے) اور بغیر معجزہ زیادہ وقعت نہیں رکھتا اور اس کے کلام (کے افتراء تصدیق معجزہ سے محال ہے۔“

اگر اس قسم کا افتراء کرے۔ (بعض باتیں اپنی طرف

١٩

صفحہ ٣٦٩

بایں عقوبت گرفتار شود انتہیٰ

”ولو تقول علینا یعنی اگر بفرض محال وہ رسول اپنی فصاحت و بلاغت کی قوت سے ہم پر افتراء کرے۔ بعض الاقاویل یعنی باتیں جو آیات کے ٹکڑے ہوں (بعض باتیں) اس لئے کہا کہ اگر کل باتیں یا چند پوری اور طویل آیتیں افتراء کرتا تو اس قدر ہیں۔ فصحاً و بلغاء معارضہ کر کے اس کو خفیف اور ملزم کر دیتے۔ لا خذنا منہ بالیمین یعنی البتہ فی الفور ہم اسکو ہلاک کر دیتے۔ اس طریقہ پر کہ اس کا داہنا ہاتھ پکڑتے۔ ”ثم لقطعنا منہ الوتین“ یعنی پھر کاٹ دیتے تلوار سے اس کے دل کی رگ کو اس لئے کہ اس رگ سے زندگی ہے اور اس کو فرصت نہ دیتے اور یہ طریقہ اس واجب القتل کے حال کی تصویر ہے۔ جس کو سلاطین اپنے سامنے سزا دیتے ہیں اور جلاد کو حکم کرتے ہیں کہ اس کو مار ڈالے۔“

درمیان ملازمت پوری طرح سے صادق ہے۔ تو لازم آتا ہے کہ کوئی شخص خدا پر افتراء کرنے کے بعد زندہ نہ رہے۔ حالانکہ بہت سے مفتری مثل مسیلمہ کذاب اور اسود عنسی اور دوسرے جھوٹے مدعیان نبوت گزرے ہیں۔ جنہوں نے دفتر کا دفتر خدا پر افتراء کیا ہے اور یہ مؤاخذہ ان پر جاری نہیں ہوا۔

اس سوال کا جواب یہ ہے کہ تقول کی ضمیر (سچے) رسول کی طرف راجع ہے۔ ہر فرد انسان کے طرف نہیں ہے۔ یعنی اگر بفرض محال (سچا) رسول افتراء کرے تو اس کے لئے اس جلد سزا کا واقع ہونا لازمی ہے۔ اس لئے کہ اس کی تصدیق معجزات سے ہوچکی ہے۔ اگر اس کی سزا میں جلدی نہ کریں تو ایسا شبہ لازم آئے گا جس کا دور کرنا ناممکن ہے اور یہ بات حکمت کے منافی ہے۔ بخلاف غیر رسول کے۔ (یعنی اگر جھوٹا رسول افتراء کرے تو اس کے لئے یہ سزا نہیں ہے اس لئے کہ اس کی تصدیق معجزہ سے نہیں ہوئی ہے ) اور بغیر تصدیق معجزہ کے اس کا کلام محض خرافات سے زیادہ وقعت نہیں رکھتا اور اس کے کلام (کے افتراء ہونے) میں کوئی شبہ نہیں ہو سکتا۔ ہاں اس کی تصدیق معجزہ سے محال ہے۔“

اگر اس قسم کا افتراء کرے۔ (بعض باتیں اپنی طرف سے بنا کر اس کو خدا کا کلام کہے۔) تو البتہ اس

١٩

صفحہ ٣٧١

سزا میں گرفتار ہوگا۔ یعنی فی الفور ہلاک ہوگا۔ مذکورہ بالا اقتباسات سے مفصلہ ذیل باتیں ثابت ہوتی ہیں۔

ہیں۔

ہوسکتا ہے اور ان امور کے ثابت ہونے سے قادیانی مولوی کا یہ کہنا کہ بعض الاقاویل سے ھذا القرآن مراد ہے اور یہ آیت سچے اور جھوٹے دونوں قسم کے رسولوں کو شامل ہے اور آیت کے معنی کی صحت کے لئے ٢٣ برس کی مدت معیار ہے اور جھوٹے رسول کے کلام سے سلسلہ رسالت ونبوت مشتبہ ہوجاتا ہے۔ محض لغو اور باطل ہوگیا۔ فالحمد للہ علیٰ ذالك!

نویں بددیانتی

علامہ ممدوح نے آیت کریمہ ”یصیبکم بعض الذی یعدکم“ کے متعلق چند توجیہیں لکھی ہیں۔ منجملہ ان کے ایک یہ ہے کہ یہاں پر بعض کو بمعنی کل لینا چاہئے۔

کیونکہ بعض بمعنی کل بھی آیا ہے۔ قادیانی مولوی، علامہ ممدوح کے اس قول کو غلط ثابت کرنے کے لئے اپنے رسالہ کے ص ٩٠ میں بیضاوی کا یہ قول نقل کرتے ہیں۔

”تفسیر البعض بالکل کقول لبید۔ مردود“ یعنی تفسیر بعض کی کل کے ساتھ جیسا کہ قول لبید میں ہے مردود ہے۔“

اور تفسیر فتح البیان میں میں علامہ ممدوح کے قول کے مطابق اس آیت کے متعلق جو یہ لکھا ہے:

”والبعض قد یستعمل فی لغت العرب بمعنى الکل“

”اور بعض کبھی لغت عرب میں کل کے معنی میں استعمال کیا جاتا ہے۔“

اس کا یہاں پر ذکر تک نہیں کرتے اور اپنی کمال تقویٰ شعاری اور دیانت داری سے صاحب فتح البیان کے اس قول کو بعض الاقاویل کے تحت میں ذکر کرتے ہیں اور بعض بمعنی کل لیتے ہیں۔ میں کہتا ہوں کہ مولوی صاحب فتح البیان والے کے اس قول (والبعض قد یستعمل فی لغة العرب بمعنى الکل) کو صحیح مانتے ہیں یا نہیں؟ اس پر تقدیر اول علامہ ممدوح کے قول کو تسلیم کرلینا ہے اور بیضاوی کا قول پیش کرنا محض لغو ہے اور بر تقدیر ثانی بعض الاقاویل کے تحت میں اس

٢٠

کا ذکر کرنا غلط ہے۔ بلکہ صریح فریب دہی ہے۔ علا میں بھی قادیانی مولوی نے اپنی خوش فہمی کا ثبوت دیـ یہ ہے کہ لبید کے اس قول ۔ ”اَذیْر تَـبَسُّط بعضـ بمعنی کل لینا مردود ہے۔ اس لئے کہ لبید نے یہاں

بلکہ بعض سے اپنی ذات مراد لی ہے

استعمال بمعنی کل صحیح نہیں ہے۔ مولوی صاحب اپنـ بیضاوی تو لبید کے حوالہ سے بعض کے معنی کل کے یہ بھی بتائیں کہ تفسیر بعض کی کہاں کی زبان ہے صاحب کی قوت ممیزہ ایسی سلب ہوگئی ہے کہ معمو آتی ہے۔

دسویں بددیانتی

مذکورہ بالا آیت کی دوسری توجیہ یہ ہے

اس آیت میں اور اس کے مثل دوسر وارد ہیں۔ بعض الذی یعدکم سے دنیاوی عـ وعید ہے۔ علامہ ممدوح نے اس توجیہ کو تنزیہ ربـ موجود ہے۔ اس توجیہ پر نہ تو کوئی اعتراض وار قائم رہ سکتا ہے۔ اس کا جواب تو درکنار قادیانی مـ بیضاوی سے اس کے ماقبل اور مابعد کی عبارتیں ہیں۔ بیضاوی میں ان دونوں قولوں کے درمیان موجود ہے۔

”او یصیبکم مایعدکم من عذا ”رسول جو کچھ دنیوی عذاب کا تم بـ عذاب بعض مواعید ہے۔“ یہ ہیں قادیانی مولوی تلك عشرة كاملة ۔ اب قادیانی مولوی کـ

صفحہ ٣٧١

کا ذکر کرنا غلط ہے۔ بلکہ صریح فریب دہی ہے۔ علاوہ اس کے بیضاوی کی عبارت کے مطلب سمجھنے میں بھی قادیانی مولوی نے اپنی خوش فہمی کا ثبوت دیا ہے۔ اس لئے کہ بیضاوی کے قول کا صحیح مطلب یہ ہے کہ لبید کے اس قول ۔ ”اذ يرتبط بعض النفوس حمامها“ کی مثال دے کر بعض کو بمعنی کل لینا مردود ہے۔ اس لئے کہ لبید نے یہاں پر بعض کو بمعنی کل نہیں لیا ہے۔

بلکہ بعض سے اپنی ذات مراد لی ہے۔ بیضاوی کا ہرگز یہ مطلب نہیں ہے کہ بعض کا استعمال بمعنی کل صحیح نہیں ہے۔ مولوی صاحب اپنی ہی اس فصیح اردو عبارت پر ذرا غور کریں۔ تفسیر بیضاوی تو لبید کے حوالہ سے بعض کے معنی کل کے جو بعضوں نے لکھے ہیں۔ اس کو مردود کہا ہے اور یہ بھی بتائیں کہ تفسیر بعض کی کہاں کی زبان ہے؟ افسوس ہے کہ مخالفت حق کی وجہ سے مولوی صاحب کی قوت ممیزہ ایسی سلب ہو گئی ہے کہ معمولی الفاظ کی تذکیر و تانیث بھی ان کی سمجھ میں نہیں آتی ہے۔

دسویں بدیانتی

مذکورہ بالا آیت کی دوسری توجیہ یہ ہے کہ وعیدیں دو قسم کی ہوتی ہیں۔

اس آیت میں اور اس کے مثل دوسری آیتوں میں جو آنحضرتﷺ کے بارے میں وارد ہیں۔ بعض الذی یعدکم سے دنیاوی عذاب مراد ہے اور ظاہر ہے کہ دنیاوی عذاب بعض وعید ہے۔ علامہ ممدوح نے اس توجیہ کو تنزیہ ربانی میں بیان کیا ہے اور بیضاوی میں بھی یہ توجیہ موجود ہے۔ اس توجیہ پر نہ تو کوئی اعتراض وارد ہوتا ہے اور نہ مرزا قادیانی آنجہانی کا استدلال قائم رہ سکتا ہے۔ اس کا جواب تو درکنار قادیانی مولوی نے اس کا ذکر تک نہیں کیا۔ مولوی صاحب بیضاوی سے اس کے ماقبل اور مابعد کی عبارتیں نقل کرتے ہیں اور درمیان کی عبارت چھوڑ دیتے ہیں۔ بیضاوی میں ان دونوں قولوں کے درمیان جن کو مولوی صاحب نے نقل کیا ہے۔ یہ عبارت موجود ہے۔

”او یصبکم ما یعدکم من عذاب الدنیا وبعض المواعید“

”رسول جو کچھ دنیوی عذاب کا تم سے وعدہ کرتے ہیں وہ تم پر ضرور پہنچے گا اور دنیاوی عذاب بعض مواعید ہے۔“ یہ ہیں قادیانی مولوی کی ایمانداری اور دیانت داری کے دس نمونے۔

تلك عشرة كاملة۔ اب قادیانی مولوی کی اردو دانی اور صریح کذب بیانی ملاحظہ ہو۔

٢١

صفحہ ٣٧٣

(قادیانی مولوی کی اردو دانی) قادیانی مولوی اپنے رسالہ میں جا بجا علامہ ممدوح کی اردو دانی پر منہ آئے ہیں۔ مگر خود ان کی اور ان کے پیر و مرشد مرزا قادیانی آنجہانی کی اردو دانی اسی ایک جملہ سے ظاہر ہوتی ہے۔ جو قادیانی مولوی کے رسالہ کے ص ٢١ میں ہے۔

مرزا قادیانی پیر مہر علی شاہ کے مقابلہ کا ذکر کر کے اپنی نسبت لکھتے ہیں ۔ ”لیکن بعد اس کے ان کو میری نسبت بکثرت روایتیں پہنچ گئیں۔ کہ اس شخص کی قلم، عربی نویسی میں دریا کی طرح چل رہی ہے۔“ مذکر کو مونث سمجھنا الٹی سمجھ نہیں ہے تو کیا ہے؟ اردو خواں بچے بھی جانتے ہیں کہ قلم مذکر ہے۔ مگر پنجابی سلطان القلم اس کو مونث بتا رہے ہیں۔

اور ان کے ایک بنگالی ایڈووکیٹ نہایت ہی دلیری سے اس کو نقل کرتے ہیں اور لطف یہ ہے کہ ایسے شخص کی اردو دانی پر حملہ کرتے ہیں۔ جو اردو کی دارالسلطنت کے قریب کا رہنے والا ہے اور اہل زبان ہونے کا دعویٰ کر سکتا ہے۔

مولوی صاحب ذرا دیوان ذوق اٹھا کر دیکھیں۔ ردیف الالف میں پہلا شعر یہ ہے۔

ہوا حمد خدا میں دل جو مصروف رقم میرا
الف الحمد کا سا بن گیا گویا قلم میرا

نہیں معلوم یہ ٹھوکر کس کو لگی ہے؟ مولوی صاحب کو یا مرزا قادیانی کو؟

مولوی صاحب اپنے رسالہ کے ص ١٤٣ میں لکھتے ہیں: ”مگر ناظرین یہ ٹھوکر بوجہ کمی غور کے۔ لفظ نقول اور اقاویل سے حاصل ہوئی ہے۔“

پیارے ناظرین!

ذرا قادیانی مولوی سے دریافت کیجئے کہ ٹھوکر حاصل ہوئی کہاں کا محاورہ ہے؟ دہلی کا یا لکھنؤ کا۔ گورداسپور کا یا بھاگلپور کا۔ شرم۔ شرم۔ شرم۔

مولوی صاحب شکایت کرتے ہیں کہ علامہ ابو احمد رحمانی نے مرزا قادیانی کی عربی عبارتوں میں صرفی نحوی اور فصاحت و بلاغت کی رو سے دو چار غلطیاں بھی نہیں دکھائیں۔ جواباً گزارش ہے کہ آپ گھبرائیں نہیں۔ عنقریب ایسے رسالے شائع ہوں گے۔ جن میں مرزا قادیانی کی عربی دانی ، فارسی دانی اردو دانی کی قلعی کھولی جائے گی اور ان کے علمی مبلغ پر پوری روشنی ڈالی جائے گی۔ انشاء اللہ تعالیٰ

ابتدائے عشق ہے روتا ہے کیوں
آگے آگے دیکھیے ہوتا ہے کیا

٢٢

مولوی صاحب کا سفید جھوٹ

مولوی صاحب اپنے رسالہ کے ص ٢٢ میں احمد بیگ لکھتے ہیں اور شیخ بٹالوی ایسا معاند بھی مان گیا کہ پوری ہوئی ۔ لکھا ہے کہ اگر چہ یہ پیشین گوئی پوری ہو گئی مگر یہ الہام سے نہیں سے کی گئی ۔ حالانکہ یہ محض جھوٹ ہے۔ شیخ ممدوح نے تو اس جرح کر کے اس کو مجروح اور زنیم نسل بلکہ مردہ کر دیا ہے اور پیـ کے پورے ہونے کو نہیں مانا ہے۔ چنانچہ وہ لکھتے ہیں نمبر ٢ میں کے پورے ہونے کا صاحب اشاعۃ السنہ نے اعتراف کر لیا ہـ گویم بروئے تو کا مصداق۔ قادیانی سچا ہے تو بتادے کہ صا میں مرقوم ہے۔

نمبر ٢ میں تو اس کے وقوع سے لاعلمی ظاہر کی گئی ہے

چونکہ مرزا قادیانی صحیح نقل نہیں کر سکے اور ان کا جھـ مولوی صاحب اپنے کو اور نیز مرزا قادیانی کو سچا ثابت کرنا چا صفحہ کا پتہ بتا دیں۔ ورنہ مرزا قادیانی کو اذا حدث کذب کا مـ حدیث پر غور کریں۔ ”کفى بالمرء كذبا ان یحدث بمـ ہونے کے لئے یہ کافی ہے کہ جو بات سنے (بلا تحقیق ) اس کو بیا

قادیانی مولوی کا سیاہ جھوٹ

قادیانی مولوی صفحہ مذکور میں علامہ ممدوح کی نسبـ کو صرف عظیم الشان نشان کہتے ہیں۔ ناظرین کو دھوکہ دیا جارہـ میں کہتا ہوں کہ مولوی صاحب کا یہ کہنا محض جھو نکاح والی پیشین گوئی کو صرف عظیم الشان نشان نہیں کہا ہے نشان کہا ہے۔ چنانچہ مرزا قادیانی کے اس قول ۔ ”وہ پیشیـ ہے۔ بہت ہی عظیم الشان ہے“ کے متعلق یہ لکھا ہے کہ: ”اور کو عظیم الشان نہیں کہتے بلکہ اس کے لئے بڑی عظمت کا ہو میں تین درجے ہو سکتے ہیں۔ اس کے ادنیٰ درجے کو عظیم الـ

٢٣

صفحہ ٣٧٣

مولوی صاحب کا سفید جھوٹ

مولوی صاحب اپنے رسالہ کے ص ٢٢ میں احمد بیگ کی موت والی پیشین گوئی کی نسبت لکھتے ہیں اور شیخ بٹالوی ایسا معاند بھی مان گیا کہ پوری ہوئی۔ چنانچہ اس نے پرچہ اشاعۃ السنہ میں لکھا ہے کہ اگرچہ یہ پیشین گوئی پوری ہوگئی مگر یہ الہام سے نہیں بلکہ علم رمل یا نجوم وغیرہ کے ذریعہ سے کی گئی۔ حالانکہ یہ محض جھوٹ ہے۔ شیخ ممدوح نے تو اس پیشین گوئی پر پچاسی ٨٥ سوالات جرح کر کے اس کو مجروح اور زنیم نسل بلکہ مردہ کر دیا ہے اور ہرگز ہرگز انہوں نے اس پیشین گوئی کے پورے ہونے کو نہیں مانا ہے۔ چنانچہ وہ لکھتے ہیں نمبر ٢ میں جو قادیانی نے کہا ہے کہ پہلے حصہ کے پورے ہونے کا صاحب اشاعۃ السنہ نے اعتراف کر لیا ہے۔ یہ بھی سفید جھوٹ ہے اور دروغ گوئم بہ روئے تو کا مصداق۔ قادیانی سچا ہے تو بتاوے کہ صاحب اشاعۃ السنہ کا اعتراف کس صفحہ میں مرقوم ہے۔

(اشاعۃ السنہ ص ٣٩ ج ١٥)

نمبر ٢ میں تو اس کے وقوع سے لاعلمی ظاہر کی گئی ہے۔ دیکھو (اشاعۃ السنۃ نمبر ٦ ج ١٦ ص ١٩١) چونکہ مرزا قادیانی صحیح نقل نہیں کرسکے اور ان کا جھوٹ دنیا پر ظاہر ہو چکا تھا۔ اس لئے مولوی صاحب اپنے کو اور نیز مرزا قادیانی کو سچا ثابت کرنا چاہتے ہیں۔ تو اشاعۃ السنۃ کی جلد نمبر صفحہ کا پتہ بتادیں۔ ورنہ مرزا قادیانی کو اذا حدث کذب کا مصداق سمجھیں گے اور اپنی نسبت اس حدیث پر غور کریں۔ "کفی بالمرء کذبا ان یحدث بکل ما سمع“ انسان کے جھوٹے ہونے کے لئے یہ کافی ہے کہ جو بات سنے (بلا تحقیق) اس کو بیان کرے۔

قادیانی مولوی کا سیاہ جھوٹ

قادیانی مولوی صفحہ مذکور میں علامہ ممدوح کی نسبت لکھتے ہیں: ”نکاح والی پیشین گوئی کو صرف عظیم الشان نشان کہتے ہیں۔ ناظرین کو دھوکہ دیا جارہا ہے۔“

میں کہتا ہوں کہ مولوی صاحب کا یہ کہنا محض جھوٹ ہے۔ ہرگز ہرگز علامہ ممدوح نے نکاح والی پیشین گوئی کو صرف عظیم الشان نشان نہیں کہا ہے۔ بلکہ انہوں نے بہت ہی عظیم الشان نشان کہا ہے۔ چنانچہ مرزا قادیانی کے اس قول ۔ ”وہ پیشین گوئی جو مسلمان قوم سے تعلق رکھتی ہے۔ بہت ہی عظیم الشان ہے“ کے متعلق یہ لکھا ہے کہ: ”اردو کے محاورہ میں معمولی عظمت کی شے کو عظیم الشان نہیں کہتے بلکہ اس کے لئے بڑی عظمت کا ہونا ضروری ہے۔ اب اس بڑی عظمت میں تین درجے ہوسکتے ہیں۔ اس کے ادنیٰ درجے کو عظیم الشان کہیں گے۔ متوسط درجے کو بہت

٢٣

صفحہ ٣٧٥

عظیم الشان کہیں گے اور سب سے اوّل درجہ کو بہت ہی عظیم الشان کہیں گے مرزا قادیانی نے اس نشان کے لئے یہی لفظ لکھا ہے۔“

(دیکھو فیصلہ آسمانی حصہ دوم ص ٨)

قادیانی مولوی نے مرزا قادیانی کا اپنی چھ پیشین گوئیوں کو عظیم الشان نشان کہنا ثابت کیا ہے۔ مگر یہ ثابت نہ کر سکے کہ مرزا قادیانی نے نکاح والی پیشین گوئی کے سوا اور کسی پیشین گوئی کو بھی بہت ہی عظیم الشان نشان کہا ہے؟

پھر علامہ ممدوح پر دھوکہ دینے کا الزام لگانا جھوٹ نہیں ہے تو کیا ہے؟ یہ ہے قادیانی مولوی کے سیاہ جھوٹ میں ایک دوسرا سیاہ جھوٹ۔

قادیانی مولوی کی تحقیق کی رو سے مرزا قادیانی کا جھوٹ

قادیانی مولوی اپنے رسالہ ص ٣٣ میں لکھتے ہیں۔ ”ابو احمد صاحب کا یہ لکھنا کہ اولاد کا کفو باپ کے لحاظ سے ہوتا ہے۔ نکاح ہونے پر مرزا قادیانی کا لڑکا غیر کفو میں گیا اور محمدی بیگم کی لڑکی غیر کفو میں آئی بالکل جھوٹ اور افتراء ہے۔“ ہرگز اسلامی تحقیق یہ نہیں ہے۔ ماں باپ کے لحاظ سے بھی ہے مگر صرف یہی نہیں ہے۔

پھر فتاوے اور درمختار اور ہدایہ سے یہ دکھلاتے ہیں کہ عجم میں اسلام، دین، مال، حرفے، پیشے وغیرہ میں بھی کفو کا اعتبار کیا جاتا ہے۔

میں کہتا ہوں کہ باپ کے لحاظ سے کفو کا ہونا مان کر علامہ ممدوح پر کذب وافتراء کا الزام لگانا صریح فریب دہی ہے۔ یا سمجھ کی کوتاہی اور کفو میں حریت اسلام وغیرہ کے معتبر ہونے کو پیش کرنا مرزا قادیانی کو جھوٹا ثابت کرنا ہے۔ اس لئے کہ مرزا قادیانی کہتا ہے۔ لوٹانے کا مطلب یہ ہے کہ: ”وہ لڑکی غیر کفو میں چلی گئی ہے۔ یعنی اس کا نکاح غیر کفو میں ہوا ہے۔ اب لوٹ کر کفو میں آئے گی۔ یعنی میرے نکاح میں۔ میں اس کا کفو ہوں۔“

اب قادیانی مولوی بتلائیں اسلامی تحقیق کی رو سے سلطان محمد اس لڑکی کا کفو ہے یا نہیں۔ اگر ہے اور ضرور ہے تو مرزا قادیانی اس قول میں جھوٹے ہوئے یا نہیں؟ کہ اس کا نکاح غیر کفو میں ہوا ہے۔ الحمد للہ! کہ قادیانی مولوی کی تحقیق کی رو سے بھی مرزا قادیانی جھوٹے ثابت ہوئے۔ وهو المطلوب!

قادیانی مولوی کی ناکامی

قادیانی مولوی نے پیشین گوئیوں اور الہام ووحی کے بارے میں پانچ منہاج نبوت قائم کئے ہیں۔ ان کے ثبوت میں جس کید ودجل سے کام لیا ہے اور جس طرح کی روایتوں سے

٢٤

استدلال کیا ہے۔ ان کی پوری حقیقت تو انشاء اللہ تعا وقت ہم صرف یہ دریافت کرنا چاہتے ہیں کہ ان پانچوں ہوا کہ کسی نبی نے اپنی کسی پیشین گوئی کو اپنی صداقت لوگوں کو اس کے پورے ہونے کا انتظار کرنے کو کہا ہو ہوئی یا ثابت ہو کہ کسی نبی نے اس طرح پیشین گوئی ک اور جب وہ شخص اس مدت میں نہ مرا تو یہ کہا ہو کہ اسکا می حیات میں نہ مرے تو میں جھوٹا ہوں۔ ہر ایک بد سے ب معیار مقرر کرتا ہوں۔ میں نے جب تک اپنے رب سے

”یقیناً سمجھو کہ یہ خدا کا سچا وعدہ ہے۔ وہی پیش گوئی کو خدائے بزرگ نے کسی وجہ سے پوری نہیں صاحب نے ١٦٦ صفحے سیاہ کر ڈالے ہیں۔ مگر اس مضم تقریباً محال ہے۔ کسی بزرگ کے قول سے بھی یہ ثاب یا ان کی جماعت کے ان سے کوئی بڑے عالم بھی قیام

بعضهم لبعض ظهيرا!

اور جب تک اس مضمون کو ثابت نہ کریں بلکہ اپنے اقرار سے جھوٹے اور ہر ایک بد سے بدتر کہلا باقرارہ۔ ایک مسلمہ قاعدہ ہے۔

ناظرین نے ہمارے مذکور بالا بیانات س کا رسالہ بددیانتیوں اور دروغ گوئیوں کا اچھا خاصہ صاحب فیصلہ آسمانی کی اصل باتوں کا جواب کچھ بھی نہ غلط اور محض غلط ہے۔ سنئے! اور ذرا توجہ کے ساتھ سنئے

اس زیر بحث پیشین گوئی میں تین باتیں ز

٢٥

صفحہ ٣٧٥

استدلال کیا ہے۔ ان کی پوری حقیقت تو انشاء اللہ تعالیٰ جواب رسالہ میں کھولی جائے گی۔ اس وقت ہم صرف یہ دریافت کرنا چاہتے ہیں کہ ان پانچوں منہاج نبوت میں سے کسی سے بھی یہ ثابت ہوا کہ کسی نبی نے اپنی کسی پیشین گوئی کو اپنی صداقت کا بہت ہی عظیم الشان نشان قرار دیا ہو اور لوگوں کو اس کے پورے ہونے کا انتظار کرنے کو کہا ہو اور پھر کسی وجہ سے وہ پیشین گوئی پوری نہیں ہوئی یا ثابت ہو کہ کسی نبی نے اس طرح پیشین گوئی کی ہو کہ فلاں شخص اتنی مدت میں مر جائے گا اور جب وہ شخص اس مدت میں نہ مرا تو یہ کہا ہو کہ اسکا میری حیات میں مرنا ضروری ہے۔ اگر میری حیات میں نہ مرے تو میں جھوٹا ہوں۔ ہر ایک بد سے بدتر ہوں۔ میں اس کو اپنے صدق وکذب کا معیار مقرر کرتا ہوں۔ میں نے جب تک اپنے رب سے خبر نہیں پائی۔ اس بات کو نہیں کہا۔

”یقیناً سمجھو کہ یہ خدا کا سچا وعدہ ہے۔ وہی خدا جس کی باتیں نہیں ٹلتیں۔ پھر ایسی مؤکد پیش گوئی کو خدائے بزرگ نے کسی وجہ سے پوری نہیں کی ہو ۔“ میں بآواز بلند کہتا ہوں کہ مولوی صاحب نے ١٦٦ صفحے سیاہ کر ڈالے ہیں۔ مگر اس مضمون کو قرآن مجید اور صحیح حدیث ثابت کرنا تو تقریباً محال ہے۔ کسی بزرگ کے قول سے بھی یہ ثابت نہ کر سکے اور انشاء اللہ تعالیٰ مولوی صاحب یا ان کی جماعت کے ان سے کوئی بڑے عالم بھی قیامت تک ثابت نہ کرسکیں گے۔ ولو کان بعضهم لبعض ظهیرا!

اور جب تک اس مضمون کو ثابت نہ کریں گے۔ مرزا قادیانی صادق نہیں سمجھے جاسکتے۔ بلکہ اپنے اقرار سے جھوٹے اور ہر ایک بد سے بدتر کہلانے کے مستحق رہیں گے۔ المرء یؤخذ باقراره ۔ ایک مسلمہ قاعدہ ہے۔

ناظرین نے ہمارے مذکور بالا بیانات سے یہ اچھی طرح سمجھ لیا ہوگا کہ مولوی صاحب کا رسالہ بددیانتیوں اور دروغ گوئیوں کا اچھا خاصہ مجموعہ ہے۔ اب میں یہ دکھلاتا ہوں کہ مولوی صاحب فیصلہ آسمانی کی اصل باتوں کا جواب کچھ بھی نہیں دے سکتے اور جو کچھ انہوں نے لکھا ہے۔ غلط اور محض غلط ہے۔ سنئے ! اور ذرا توجہ کے ساتھ سنئے !

اس زیر بحث پیشین گوئی میں تین باتیں زیادہ تر قابل توجہ ہیں۔

٢٥

صفحہ ٣٧٧

احمد بیگ کی موت پیشین گوئی کے مطابق واقع ہوئی۔ علامہ مؤلف فیصلہ آسمانی نے اس پر یہ اعتراض کیا ہے کہ اردو کے محاورہ کے موافق اگر احمد بیگ دو سال کے بعد تین سال کے اندر مرتا اس وقت یہ کہنا صحیح ہو سکتا تھا۔ کہ پیشین گوئی کے مطابق اس کی موت ہوئی اور جب دو چار یا چھ مہینہ میں مر گیا تو کوئی فہمیدہ محاورہ دان منصف مزاج نہیں کہہ سکتا کہ پیشین گوئی کے مطابق مرا۔

قادیانی مولوی نے اس اعتراض کا کوئی جواب نہیں دیا۔ صرف یہ کہہ کر ٹال دیا۔ کہ آپ کے بیان کے مطابق تو اگر ایک سال بھی کہا جاتا تو بھی پیشین گوئی کے مطابق موت نہیں ہوئی۔

کیونکہ آپ کے محاورہ میں دو چار یا چھ ماہ کی پیشین گوئی صحیح نہ ہوگی۔ جب تک یہ نہ کہا جائے کہ چار مہینے چھ مہینے یا دس مہینے کے اندر مر جائے گا۔ آپ ناحق ایک سال کو صحیح قرار دیتے ہیں۔ میں کہتا ہوں اولاً مولوی صاحب کا یہ کہنا محض جھوٹ ہے کہ آپ کے محاورہ میں دو چار یا چھ ماہ کی پیشین گوئی صحیح نہ ہوگی۔

جب تک یہ نہ کہا جائے کہ چار مہینے چھ مہینے یا دس مہینے کے اندر مر جائے گا۔ اس لئے کہ علامہ ممدوح نے کہیں ایسا نہیں کیا ہے۔ مولوی صاحب اگر سچے ہیں ۔ تو تصحیح نقل کریں۔ ثانیاً بمجرد اس کہہ دینے سے کہ ایک سال کو صحیح قرار دینے سے تین سال کا کہنا صحیح ہو گیا۔ اعتراض کا جواب کیونکر ہوا؟

افسوس ہے کہ مولوی صاحب نے یہ نہیں سمجھا کہ اعتراض محاورہ کے لحاظ سے ہے۔ لفظی معنی کے لحاظ سے نہیں ہے۔ اس کا حقیقی جواب تو یہ تھا کہ کسی اہل زبان کے کلام سے اعتراض کا غلط ہونا ثابت کرتے ، مگر ایسا نہیں کر سکے۔

علاوہ اس کے ایک متوسط ذہن کا آدمی بھی اس بات کو سمجھ سکتا ہے کہ مذکورہ بالا پیشین گوئی میں مرزا قادیانی نے داماد احمد بیگ کی موت کی میعاد ڈھائی برس اور احمد بیگ کی موت کی میعاد تین برس مقرر کی ہے۔ ڈھائی سال اور تین سال کا فرق یہ ثابت کر رہا ہے کہ داماد احمد بیگ کی موت پہلے ہوگی اور احمد بیگ کی موت اس کے بعد۔

مگر واقعہ اس کے خلاف ہوا کہ احمد بیگ پہلے مر گیا اور اس کا داماد ہنوز زندہ ہے۔ اب کون شخص کہہ سکتا ہے کہ احمد بیگ کی موت پیشین گوئی کے مطابق واقع ہوئی؟ الا من سفه نفسه۔

٢٦

ہاں یہ بات بھی قابل لحاظ ہے کہ مولوی محمد حسین کی جرح کا مولوی صاحب نے بھی اپنے رسالہ میں ذکر کیا ہے۔ ان کے متبعین میں سے کسی نے ان کے جوابات بھی دیئے ہیں احمد بیگ کی موت کو پیشین گوئی کے مطابق کہنا کیوں کر صحیح ہو سکتا ہے۔

پر اعتراضات کی بوچھاڑ پڑنے لگی۔ تب مرزا قادیانی نے جواب کہ اس کے داماد کے دل پر شدید خوف و ہراس وارد ہو گیا اور عذاب کو دوسرے موقع پر ٹال دیا۔

علامہ ممدوح نے اس جواب کو بھی غلط ثابت کر دیا سنت اللہ یہ ہے کہ ڈر جانے سے عذاب ٹل جاتا ہے۔ امر اوّل و ہراس سے اس کی ( سلطان محمد کی ) ایسی حالت ہوگئی تھی۔ جس طبعی اقتضاء یہ تھا کہ بے اختیار وہ مرزا قادیانی کے پاس آ کر گرتا کسی وقت ایسا نہیں کیا۔ بلکہ اب تک وہ ان کا منکر اور برا کہنے

علامہ ممدوح کے اس جواب کی تصدیق خود سلطان انہوں نے مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی کے سوالات کے لکھتے ہیں ۔

”مرزا صاحب کو میں جھوٹا اور دروغگو جانتا تھا ہوں۔ خدا کا ہر وقت شکر گزار ہوں۔ سلطان محمد بقلم خود “

چونکہ قادیانی مولوی نے سلطان محمد کا جو خط مضامین تو ایسے ہیں ۔ جس سے مرزا قادیانی کا جھوٹا ہونا ثابت میں ہم اس کو ثابت کر کے دکھائیں گے۔

امر دوم کے ثبوت میں یہ لکھا ہے کہ بغیر ایمان (اگر ہوا بھی ہو ) وعید نہیں ٹل سکتی ۔ اس پر قرآن شریف اور میں صاف ارشاد ہے :

”لا يرد بأسنا عن القوم المجرمين عذاب ٹلتا نہیں ہے۔ ﴿

٢٧

صفحہ ٣٧٧

ہاں یہ بات بھی قابل لحاظ ہے کہ مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی کے پچاسی سوالات جرح کا مولوی صاحب نے بھی اپنے رسالہ میں ذکر کیا ہے۔ مگر یہ نہیں بتایا کہ مرزا قادیانی نے یا ان کے متبعین میں سے کسی نے ان کے جوابات بھی دیئے ہیں۔ پھر بغیر جوابات ان کے احمد بیگ کی موت کو پیشین گوئی کے مطابق کہنا کیوں کر صحیح ہو سکتا ہے۔

پر اعتراضات کی بوچھاڑ پڑنے لگی۔ تب مرزا قادیانی نے جواب دیا کہ احمد بیگ کی موت کی وجہ سے اس کے داماد کے دل پر شدید خوف و ہراس وارد ہو گیا اور خدا نے اپنی سنت کے مطابق تاریخ عذاب کو دوسرے موقع پر ٹال دیا۔

علامہ ممدوح نے اس جواب کو بھی غلط ثابت کر دیا ہے کہ نہ تو داماد احمد بیگ ڈرا اور نہ سنت اللہ یہ ہے کہ ڈر جانے سے عذاب ٹل جاتا ہے۔ امر اوّل کے ثبوت میں یہ لکھا ہے کہ اگر خوف و ہراس سے اس کی (سلطان محمد کی) ایسی حالت ہو گئی تھی۔ جیسا کہ مرزا قادیانی نے بیان کی ہے تو طبعی اقتضاء یہ تھا کہ بے اختیار وہ مرزا قادیانی کے پاس آ کر توبہ کرتا اور بیعت کر لیتا۔ مگر اس نے تو کسی وقت ایسا نہیں کیا۔ بلکہ اب تک وہ ان کا منکر اور برا کہنے والا موجود ہے۔

علامہ ممدوح کے اس جواب کی تصدیق خود سلطان محمد کے اس خط سے ہوتی ہے جو انہوں نے مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی کے سوالات کے جواب میں لکھا ہے۔ چنانچہ سلطان محمد لکھتے ہیں۔

”مرزا صاحب کو میں جھوٹا اور دروغگو جانتا تھا اور جانتا ہوں اور میں مسلمان آدمی ہوں۔ خدا کا ہر وقت شکر گزار ہوں۔ سلطان محمد بقلم خود۔“

(دیکھو اشاعۃ السنۃ نمبر ٦ جلد ١٦ ص ١٩١)

پوریوی قادیانی مولوی نے سلطان محمد کا جو خط اپنے رسالہ میں پیش کیا ہے۔ اس کے مضامین تو ایسے ہیں۔ جس سے مرزا قادیانی کا جھوٹا ہونا ثابت ہے۔ انشاء اللہ تعالیٰ جواب رسالہ میں ہم اس کو ثابت کر کے دکھائیں گے۔

امر دوم کے ثبوت میں یہ لکھا ہے کہ بغیر ایمان لائے فقط خوف سے یا دلی خیال سے (اگر ہوا بھی ہو) وعید نہیں ٹل سکتی۔ اس پر قرآن شریف اور حدیث صحیح دونوں شاہد ہیں۔ قرآن مجید میں صاف ارشاد ہے:

”لا يرد باسنا عن القوم المجرمين (یوسف:رکوع ١٢)“ ﴿مجرموں سے ہمارا عذاب ٹلتا نہیں ہے۔﴾

٢٧

صفحہ ٣٧٩

منکر نبوت بڑا مجرم ہے اور جب اس کے لئے کوئی وعید کر دی گئی تو جب تک وہ مجرم ہے یعنی ایمان نہیں لایا اس سے وہ وعید نہیں ٹل سکتی ۔ صحیح بخاری میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے امیہ بن خلف کو مارے جانے کی پیشین گوئی کی تھی اور اس کی وجہ سے وہ نہایت خوف زدہ ہو گیا تھا۔ چنانچہ بخاری کے یہ الفاظ ہیں ۔”ففزع لذلك اميه فزعاً شديداً “مگر اس کی وجہ سے وعید نہیں ٹلی اور پوری ہو کر رہی ۔ مولوی صاحب نے اس کا کوئی جواب نہیں دیا۔

مخالفین کے اعتراضات سے عاجز آکر مرزا قادیانی نے (انجام آتھم ص ٣١، خزائن ج ١١ ص٣١) میں پہلے یہ لکھا کہ:

انتظار کرو اور اگر میں جھوٹا ہوں تو یہ پیشین گوئی پوری نہ ہوگی اور میری موت آجائے گی اور اگر میں سچا ہوں تو خدائے تعالیٰ ضرور اس کو بھی ایسا ہی پوری کرے گا جیسا کہ احمد بیگ اور آتھم کی پیشین گوئی پوری ہوئی۔ اصل مدعا تو نفس مفہوم ہے اور وقتوں میں تو کبھی استعارات کو بھی دخل ہو جاتا ہے۔ یہاں تک کہ بائیبل کی بعض پیشین گوئیوں میں دنوں کے سال بنائے گئے جو بات خدا کی طرف سے ٹھہر چکی ہے۔ اس کو کوئی روک نہیں سکتا ۔“

اس قول میں مرزا قادیانی نے داماد احمد بیگ کی موت کا اپنی حیات میں ہونا ضروری بتایا ہے اور اس میں کوئی شرط نہیں لگائی ہے۔ بلکہ یہ کہہ کر کہ یہ تقدیر مبرم ہے جو بات خدا کی طرف سے ٹھہر چکی ہے۔ اس کو کوئی روک نہیں سکتا ۔ شرط کی نفی کر دی ہے۔ پھر یہ لکھا۔

اس کے بعد جو میعاد خدائے تعالیٰ مقرر کرے۔ اگر اس سے اس کی موت تجاوز کرے تو میں جھوٹا ہوں۔“

(انجام آتھم ص ٣٢، خزائن ج ١١ ص٣٢)

اس قول میں مرزا قادیانی اشتہار تکذیب دلوانے پر خدا کی طرف سے ایک جدید میعاد مقرر کرنے کا وعدہ کرتے ہیں اور اس جدید میعاد سے اس کی موت کے تجاوز کرنے پر بھی اپنے کو جھوٹا قرار دیتے ہیں۔ اسی دوسرے قول کے بعد مرزا قادیانی یہ بھی لکھتے ہیں ۔” اور ضرور ہے کہ یہ وعید کی موت اس سے تھمی رہے۔ جب تک وہ گھڑی آجائے کہ اس کو بے باک کر دے ۔“ (صفحہ ایضاً) ادنیٰ اردو دان بھی سمجھ سکتا ہے کہ یہ وعید کی موت کا اشارہ اس وعیدی موت کی طرف ہے جو جدید میعاد مقرر کرنے پر موقوف ہو ۔

٢٨

کیونکہ یہ عبارت مرزا قادیانی کے دوسرے قول یہ کا لفظ اسم اشارہ مشارالیہ قریب کے لئے ہے۔ ہرگز ہرگز نہیں ہو سکتا۔ پھر مرزا قادیانی یہ لکھتے ہیں۔

دلاؤ! اور خدا کی قدرت کا تماشا دیکھو۔“

اب مطلع صاف ہے کہ جلدی فیصلہ کرانے ہے اور جلدی نہیں کرنے کی صورت میں اشتہار تکذیب د قول کے رو سے مرزا قادیانی کی حیات کا انتظار کرنا ہوگا۔

مولوی صاحب اپنی کمال دیانت سے یا ذہانت ہیں ۔”اس حاشیہ میں پہلی عبارت جس کو ابو احمد رحمانی و عبارت ہے۔ جس کا صاف مطلب یہی ہے کہ اگر آپ سچ بے باکی ظاہر کرے۔ پھر اگر وہ حضرت مسیح موعود کے سام جھوٹے ہوں گے۔“

میں کہتا ہوں کہ یہ فقط قادیانی مولوی کی زبانی صاف مطلب وہ ہوتا جو مولوی صاحب کہتے ہیں ۔ سیاق و کی عبارت کا وہی ہے جو میں نے بیان کیا ہے۔ کیونکہ اشتہ لئے ہے۔ اس کو مرزا قادیانی کے اس قول کے ساتھ کوئی بیگ کی تقدیر مبرم ہے۔ اس کی انتظار کرو۔

اور علی السبیل التنزل اگر ہم یہ مان لیں کہ م موت واقع ہونے کے لئے اس کا بے باک ہونا اور اش مرزا قادیانی کا ذب اور ہر ایک بد سے بدتر ہونے سے ب کی حیات میں اس کا بے باک ہونا اور تکذیب کرنا خو مرزا قادیانی انجام آتھم میں لکھتے ہیں:

انهم قد مالوا الى سيرهم الاولى

٢٩

صفحہ ٣٧٩

کیونکہ یہ عبارت مرزا قادیانی کے دوسرے قول کے تین ہی سطر بعد ہے اور ظاہر ہے کہ یہ کا لفظ اسم اشارہ مشار الیہ قریب کے لئے ہے۔ ہرگز ہرگز یہ کا اشارہ قول اول کی طرف جو بعید ہے نہیں ہو سکتا۔ پھر مرزا قادیانی یہ لکھتے ہیں۔

دلواؤ اور خدا کی قدرت کا تماشا دیکھو۔“

(ایضاحاشیہ)

اب مطلع صاف ہے کہ جلدی فیصلہ کرانے کے لئے اشتہار تکذیب وغیرہ کی ضرورت ہے اور جلدی نہیں کرنے کی صورت میں اشتہار تکذیب وغیرہ کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ بلکہ پہلے قول کے رو سے مرزا قادیانی کی حیات کا انتظار کرنا ہوگا۔

مولوی صاحب اپنی کمال دیانت سے یا ذہانت سے اپنے رسالہ کے ص٤١ میں لکھتے ہیں۔ ”اس حاشیہ میں پہلی عبارت جس کو ابو احمد رحمانی صاحب نے نقل کیا ہے۔ اس کے بعد یہ عبارت ہے۔ جس کا صاف مطلب یہی ہے کہ اگر آپ کی زندگی میں وہ تکذیب کا اشتہار دے اور بے باکی ظاہر کرے۔ پھر اگر وہ حضرت مسیح موعود کے سامنے نہ مر جائے تو البتہ حضرت (معاذ اللہ ) جھوٹے ہوں گے۔“

میں کہتا ہوں کہ یہ فقط قادیانی مولوی کی زبان کی صفائی ہے۔ مرزا قادیانی کی عبارت کا صاف مطلب وہ ہوتا جو مولوی صاحب کہتے ہیں۔ سیاہ جھوٹ ہے۔ بلکہ صاف اور صحیح مطلب ان کی عبارت کا وہی ہے جو میں نے بیان کیا ہے۔ کیونکہ اشتہار تکذیب وغیرہ جلدی فیصلہ کرانے کے لئے ہے۔ اس کو مرزا قادیانی کے اس قول کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے کہ نفس پیشین گوئی داماد احمد بیگ کی تقدیر مبرم ہے۔ اس کی انتظار کرو۔

اور علی السبیل التنزل اگر ہم یہ مان لیں کہ مرزا قادیانی کی حیات میں داماد احمد بیگ کی موت واقع ہونے کے لئے اس کا بے باک ہونا اور اشتہار تکذیب دینا ضروری ہے۔ جب بھی مرزا قادیانی کاذب اور ہر ایک بد سے بدتر ہونے سے بچ نہیں سکتے ہیں۔ اس لئے کہ مرزا قادیانی کی حیات میں اس کا بے باک ہونا اور تکذیب کرنا خود مرزا قادیانی ہی کے کلام سے ثابت ہے۔ مرزا قادیانی انجام آتھم میں لکھتے ہیں:

انھم قد مالوا الی سیرھم الاولی وقد قست قلوبھم کما ھی عادۃ

٢٩

صفحہ ٣٨١

النوكى ونسو ايام الفزع وعادو الى التكذيب والطغوى!

(انجام آتھم ص ٢٢٤، خزائن ج ١١ ص ایضا)

میں دیکھتا ہوں کہ ان کو اپنی پہلی عادتوں کی طرف مائل ہو گئے ہیں اور ان کے دل سخت ہو گئے ہیں۔ جیسا کہ جاہلوں کی عادت ہے اور خوف کے دنوں کو بھول گئے اور پھر تکذیب اور سرکشی کی طرف عود کر گئے۔

اس تکذیب اور سرکشی کی اس قدر شہرت ہوئی کہ مرزا قادیانی کو اس کی خبر ہو گئی اور انہوں نے اس کو یہاں تک یقین کیا کہ اپنی کتاب میں لکھ کر شائع بھی کر دیا اور اشتہار سے جو مقصود تھا حاصل ہو گیا۔ مگر مرزا قادیانی نے نہ تو خدا سے جدید میعاد مقرر کرائی اور نہ داماد احمد بیگ ان کی زندگی میں مرا۔ بلکہ خود مرزا قادیانی بھی اس کی زندگی میں مر گئے۔

قادیانی مولوی نے مرزا قادیانی کی عبارت کا جو صاف مطلب بیان کیا ہے۔ اس کے رو سے بھی مرزا قادیانی نہایت ہی صفائی کے ساتھ کاذب ثابت ہو گئے۔ فالحمد لله على ذالك!

تاکیدی الہامات ہیں۔ منجملہ ان کے ایک یہ ہے۔ کہ خدا تعالیٰ نے اس لڑکی کے ہر ایک مانع کو دور کرنے کے بعد انجام کار اس عاجز کے نکاح میں لائے گا۔

(مجموعہ اشتہارات ج ١ ص ١٥٨)

ایک زمانہ دراز تک مرزا قادیانی کو اس نکاح ہونے کا یقین رہا۔ یہاں تک کہ جب عدالت میں سوال کیا گیا کہ آپ کو امید ہے کہ نکاح ہوگا؟ تو مرزا قادیانی نے جواب دیا کہ : ”امید کیسی مجھ کو تو یقین کامل ہے۔ کیونکہ خدا کا کلام ہے۔“ پھر جب مرزا قادیانی کو مایوسی ہوئی تو مرزا قادیانی نے حقیقت الوحی میں یہ لکھا کہ: ”اس نکاح کے ظہور کے لئے جو آسمان پر پڑھا گیا خدا کی طرف سے ایک شرط بھی تھی جو اسی وقت شائع کی گئی تھی اور وہ یہ کہ: ايتها المراة توبى توبى فان البلاء على عقبك ۔ پس جب ان لوگوں نے اس شرط کو پورا کر دیا تو نکاح فسخ ہو گیا یا تاخیر میں پڑ گیا۔“

(حقیقت الوحی ص ١٣٢، خزائن ج ٢٢ ص ٥٧٠)

علامہ ممدوح نے اس جواب پر متعدد اعتراضات مختلف پہلوؤں سے کئے ہیں۔ منجملہ ان کے ایک یہ ہے کہ یہ جملہ باعتبار عربی الفاظ اور ترکیب کے شرط نہیں ہو سکتا۔ کیونکہ اس میں کوئی

٣٠

حرف شرط نہیں ہے اور اگر اس جملہ کا شرط ہونا مان لیں تو میں خطاب احمد بیگ کی خوش دامن کو ہے اور اس نے توبہ مند کے توبہ کرنے سے (اگر توبہ کرنا ثابت بھی ہو جائے تو لیا جائے کہ شرط پوری ہو گئی تو مشروط یعنی نکاح کا ظہور ہو وجد الشرط وجد المشروط ۔ مرزا قادیانی اس کو کو پورا کر دیا تو نکاح فسخ ہو گیا۔ یا تاخیر میں پڑ گیا۔ یعنی قاعدہ فات المشروط صادق آیا۔

قادیانی مولوی نے اس علمی اعتراض کا کوئی جواب از آسمان و جواب از ریسمان کا مصداق ہے۔ مولوی صاحب ہیں: ” محمدی بیگم کا نکاح چونکہ اس کے شوہر کے مرنے پر موقوف تک وہ شوخ اور بے باک اور مکذب نہ ہوا۔ اس لئے یہ قیاس ناظرین! ذرا انصاف کے ساتھ غور کیجئے کہ اس اعتراض تو یہ ہے کہ تو بی توبی والا جملہ شرط نہیں ہو سکتا ہے اور اگر پوری ہوئی تو نکاح کا ظہور ہونا چاہئے۔ علمی قاعدہ رو سے جملہ مذکورہ کا شرط ہونا ثابت کرتے پھر اس شرط میں کرتے۔

مگر افسوس ہے کہ مولوی صاحب باوجود دعویٰ سکے اور عوام کو فریب دینے کے لئے ایک مہمل جواب دیا محمدی بیگم کا نکاح اس کے شوہر کے مرنے پر ہرگز ہرگز موقوف خلع کی صورت بھی موجود ہے۔ اگر سلطان محمد احمد بیگ کو اور اس کو اپنی جان کا خوف ہوتا تو فطرتی تقاضا یہ تھا کہ طلاق دے دیتا اور اس وقت وہ بلا تکلف مرزا قادیانی کے یا اگر مرزا قادیانی کی کچھ بھی عظمت محمدی بیگم ہوتی تو وہ خلع کرا کے مرزا قادیانی کے نکاح میں چلی آتی

٣١

صفحہ ٣٨١

حرف شرط نہیں ہے اور اگر اس جملہ کا شرط ہونا مان لیں تو یہ شرط پوری نہیں ہوئی۔ کیونکہ اس جملہ میں خطاب احمد بیگ کی خوش دامن کو ہے اور اس نے تو بہ نہیں کی اور اس کے کسی دوسرے قرابت مند کے توبہ کرنے سے (اگر تو بہ کرنا ثابت بھی ہو جائے ۔) شرط پوری نہیں ہو سکتی اور اگر یہ بھی مان لیا جائے کہ شرط پوری ہوگئی تو مشروط یعنی نکاح کا ظہور ہونا چاہئے۔ کیونکہ قاعدہ یہ ہے کہ: اذا وجد الشرط وجد المشروط ۔ مرزا قادیانی اس کا الٹا کہتے ہیں کہ جب ان لوگوں نے شرط کو پورا کر دیا تو نکاح فسخ ہو گیا۔ یا تاخیر میں پڑ گیا۔ یعنی قاعدہ کے خلاف اذا وجد الشرط فات المشروط صادق آیا۔

قادیانی مولوی نے اس علمی اعتراض کا کوئی جواب نہیں دیا اور جو جواب دیا ہے۔ سوال از آسمان و جواب از ریسمان کا مصداق ہے۔ مولوی صاحب اپنے رسالہ کے ص ٤٨ میں لکھتے ہیں: ”محمدی بیگم کا نکاح چونکہ اس کے شوہر کے مرنے پر موقوف تھا اور حضرت مسیح موعود کی وفات تک وہ شوخ اور بے باک اور مکذب نہ ہوا۔ اس لئے یہ نکاح مطابق پیشین گوئی کے فسخ ہو گیا۔“

ناظرین! ذرا انصاف کے ساتھ غور کیجئے کہ اعتراض کیا ہے اور جواب کیا دیا جاتا ہے۔ اعتراض تو یہ ہے کہ تو بی تو بی والا جملہ شرط نہیں ہو سکتا ہے اور اگر شرط ہے تو یہ شرط پوری نہیں ہوئی اور اگر پوری ہوئی تو نکاح کا ظہور ہونا چاہئے۔ علمی قاعدہ سے اس کا جواب تو یہ تھا کہ عربی قاعدہ کی رو سے جملہ مذکورہ کا شرط ہونا ثابت کرتے پھر اس شرط کے پورا ہونے کا دکھلاتے پھر نکاح کا ظہور کرتے۔

مگر افسوس ہے کہ مولوی صاحب باوجود دعوئی قابلیت کے اپنا علمی جوہر کچھ بھی نہیں دکھا سکے اور عوام کو فریب دینے کے لئے ایک مہمل جواب دے دیا جو از سرتا پا غلط ہے۔ اس لئے کہ محمدی بیگم کا نکاح اس کے شوہر کے مرنے پر ہرگز ہرگز موقوف نہ تھا۔ اسلامی شریعت میں طلاق اور خلع کی صورت بھی موجود ہے۔ اگر سلطان محمد احمد بیگ کی موت کی وجہ سے پیشین گوئی سے ڈر جاتا اور اس کو اپنی جان کا خوف ہوتا تو فطری تقاضا یہ تھا کہ وہ اپنی جان بچانے کے لئے اپنی بی بی کو طلاق دے دیتا اور اس وقت وہ بلا تکلف مرزا قادیانی کے نکاح میں آسکتی تھی۔

یا اگر مرزا قادیانی کی کچھ بھی عظمت محمدی بیگم یا اس کے خاندان والوں کے دل میں ہوتی تو وہ خلع کرا کے مرزا قادیانی کے نکاح میں چلی آتی جو حسب الہامات مرزا قادیانی بہت کچھ

٣١

صفحہ ٣٨٣

اس کے حق میں باعث برکت ہوتا۔

مگر کچھ بھی نہ ہوا اور یہ کہنا بھی محض جھوٹ ہے کہ مسیح موعود کی وفات تک وہ شوخ اور بے باک اور مکذب نہ ہوا۔ اس لئے کہ میں خود مرزا قادیانی کے کلام سے ابھی ثابت کر آیا ہوں کہ اس نے مرزا قادیانی کی حیات میں دوبارہ سرکشی اور تکذیب کی اور مرزا قادیانی کو اس کی خبر بھی ہوئی۔ یہاں تک کہ انہوں نے اپنی کتاب میں لکھ کر شائع بھی کر دیا۔ پھر یہ کہنا کہ اس لئے یہ نکاح بھی مطابق پیشین گوئی کے فسخ ہو گیا۔ محض لغو اور بے ہودہ بات ہے۔

مرزا قادیانی اس پیشین گوئی کو حضرت یونس علیٰ نبینا وعلیہ الصلوٰۃ والسلام کی پیشینگوئی کے ہم شکل کہتے رہے اور ان کے متبعین بھی کہتے ہیں۔ مولوی صاحب نے بھی اس بات کے ثابت کرنے میں بڑی جان کاہی سے کام لیا ہے۔ مگر افسوس ہے کہ قرآن مجید کی کسی آیت سے یا کسی مرفوع متصل صحیح حدیث سے یہ ثابت نہ کر سکے کہ حضرت یونس علیہ السلام نے تعین مدت کے ساتھ وعدہ عذاب کیا تھا اور نہ یہ ثابت کر سکے کہ عذاب نہیں آیا اور جو روایتیں پیش کی ہیں کسی کی سند نہیں بیان کی جس سے راویوں کی تنقیح کی جائے۔

اور اقوال مفسرین معارضہ سے خالی نہیں ہیں۔ اس لئے کہ اسی قسم کی دوسری روایات اور اقوال مفسرین سے ہم مفصلہ ذیل باتوں کے ثابت کرنے کے لئے تیار ہیں۔

السلام پر ایمان لے آئے۔

کر دیا۔

کی قوم کے ساتھ مخصوص تھا۔ مرزا قادیانی کی زیر بحث پیشین گوئی میں ان باتوں میں سے کوئی بات نہیں پائی گئی۔ اس لئے یہ پیشین گوئی حضرت یونس کے قصہ کے ہم شکل نہیں ہو سکتی ہے۔ مرزا

٣٦

قادیانی نے سلطان محمد کی موت کی میعاد پہلے ڈھائی حیات میں اس کی موت کے ہونے کو ضروری بتایا اور کا اقرار کیا۔ پھر جلد فیصلہ کرانے کے لئے اشتہار بھ طرف سے جدید میعاد مقرر کرانے کا وعدہ کیا اور اس جھوٹے ہونے کا اقرار کیا۔ پھر اس کی تکذیب کا اقرا مقرر کرائی اور نہ ان کی حیات میں اس کی موت آئی زندہ موجود ہے۔

اب میں قادیانی مولوی کو چیلنج دیتا ہوں ک نے پہلے معین میعاد مقرر کی تھی۔ جس طرح مرزا قاد میعاد ٹھہرایا اور غلط ہونے پر اپنے جھوٹے ہونے کا اق تکذیب کرے اور جدید میعاد مقرر کی جائے گی اور ا جھوٹے ہونے کا اقرار کیا۔ پھر قوم کے دوبارہ تکذی کی حیات میں قوم پر موعود عذاب آیا۔ پھر خود انتقال طرح پر ثابت کر دیں تو مجھ سے مبلغ سو روپے انعام گوئی حضرت یونس علیہ السلام کے قصہ کے ہم شکل محض غلط اور باطل بلکہ محض فریب اور دجل ہے۔

قادیانی مولوی نے لکھا ہے کہ فیصلہ آس خطوط شائع کریں گے اور شہادت آسمانی کا بھی ج جس قسم کے خطوط مرزا قادیانی کے پیش کئے گئے ہ کے پاس ہیں تو بلا تکلف شائع کریں۔ ورنہ معمو نہیں ہو سکتا۔

اور دوم کی نسبت گزارش ہے کہ حضر شہادت آسمانی کا جواب لکھیں۔ مجدد صاحب فرما اصحاب کہف اعوان حضرت مہد

٣

صفحہ ٣٨٣

قادیانی نے سلطان محمد کی موت کی میعاد پہلے ڈھائی برس مقرر کی اور وہ میعاد ختم ہوگئی۔ تب اپنی حیات میں اس کی موت کے ہونے کو ضروری بتایا اور بہر تقدیر نہیں ہونے کے اپنے جھوٹے ہونے کا اقرار کیا۔ پھر جلد فیصلہ کرانے کے لئے اشتہار تکذیب دلوانے پر اس کی موت کے لئے خدا کی طرف سے جدید میعاد مقرر کرانے کا وعدہ کیا اور اس جدید میعاد میں اس کے نہیں مرنے پر بھی اپنے جھوٹے ہونے کا اقرار کیا۔ پھر اس کی تکذیب کا اقرار بھی کیا مگر نہ تو خدا کی طرف سے جدید میعاد مقرر کرائی اور نہ ان کی حیات میں اس کی موت آئی بلکہ خود اس کی حیات میں مر گئے اور وہ ہنوز زندہ موجود ہے۔

اب میں قادیانی مولوی کو چیلنج دیتا ہوں کہ وہ یہ ثابت کریں کہ حضرت یونس علیہ السلام نے پہلے معین میعاد مقرر کی تھی۔ جس طرح مرزا قادیانی نے کی۔ وہ پوری نہ ہوئی تو اپنی حیات کو میعاد ٹھہرایا اور غلط ہونے پر اپنے جھوٹے ہونے کا اقرار کیا۔ پھر فیصلہ کا یہ طریق بتایا کہ قوم دوبارہ تکذیب کرے اور جدید میعاد مقرر کی جائے گی اور اس جدید میعاد میں عذاب نہیں آنے پر بھی اپنے جھوٹے ہونے کا اقرار کیا۔ پھر قوم کے دوبارہ تکذیب کا اقرار کیا مگر نہ جدید میعاد مقرر کی اور نہ ان کی حیات میں قوم پر موعود عذاب آیا۔ پھر خود انتقال کر گئے اور قوم عذاب سے محفوظ رہ گئی۔ اگر اس طرح پر ثابت کر دیں تو مجھ سے مبلغ سو روپے انعام لیں۔ ورنہ اس بات کا اقرار کریں کہ یہ پیشین گوئی حضرت یونس علیہ السلام کے قصہ کے ہم شکل نہیں ہے اور مرزا قادیانی کا اس کو ہم شکل کہنا محض غلط اور باطل بلکہ محض فریب اور دجل ہے۔

قادیانی مولوی نے لکھا ہے کہ فیصلہ آسمانی حصہ اول کے جواب میں علامہ ممدوح کے خطوط شائع کریں گے اور شہادت آسمانی کا بھی جواب لکھیں گے۔ اول کی نسبت گزارش ہے کہ جس قسم کے خطوط مرزا قادیانی کے پیش کئے گئے ہیں۔ اگر علامہ ممدوح کے اسی قسم کے خطوط آپ کے پاس ہیں تو بلا تکلف شائع کریں۔ ورنہ معمولی خطوط پر نکتہ چینی کرنے سے حصہ اول کا جواب نہیں ہوسکتا۔

اور دوم کی نسبت گزارش ہے کہ حضرت مجدد الف ثانی کے اس مضمون کو پیش نظر رکھ کر شہادت آسمانی کا جواب لکھیں۔ مجدد صاحب فرماتے ہیں : ”در حدیث آمدہ است کہ اصحاب کہف اعوان حضرت مہدی علیہ السلام خواهند بود و حضرت

٣٣

صفحہ ٣٨٤

عیسٰی علی نبینا علیہ الصلوٰۃ والسلام درزمان وے نزول خواهند کرد و او موافقت خواهد کرد با حضرت عیسٰی علٰی نبینا وعلیہ الصلوٰۃ والسلام درقتال دجال ودرزمان ظہور سلطنت او در چهار دهم شهر رمضان کسوف شمس خواهد شد ودر اول آن ماه خسوف قمر برخلاف عادت زمان برخلاف حساب منجمان۔ بنظر انصاف باید دید که این علامات دراں شخص میت بوده است یانے؟‘‘

(مکتوب ٧٦ ج ثانی ص ١٤٧)

”حدیث میں آیا ہے کہ اصحاب کہف حضرت مہدی کے مددگار ہوں گے اور حضرت عیسٰی علیہ السلام ان کے زمانہ میں نزول کریں گے اور وہ مہدی دجال کی لڑائی میں حضرت عیسٰی علیہ السلام کی موافقت کریں گے اور ان کے (مہدی) کی سلطنت کے ظہور کے زمانہ میں چودھویں شہر رمضان کو سورج گرہن ہوگا اور اسی مہینہ کی پہلی کو چاند گرہن ہوگا۔ زمانہ کی عادت کے خلاف نجومیوں کے حساب کے خلاف۔ انصاف کی نظر سے دیکھنا چاہئے کہ یہ علامتیں اس مردہ شخص میں پائی گئیں ہیں یا نہیں۔ (جس نے مہدی موعود ہونے کا دعویٰ کیا تھا)‘‘

مذکورہ بالا عبارت سے دو باتیں ثابت ہوتی ہیں:

غلط ہو گیا کہ ہم ہی عیسیٰ بھی ہیں اور مہدی بھی۔

ہوگا اور سورج گرہن چودھویں رمضان کو۔ اس سے مرزا قادیانی کا یہ قول باطل ہو گیا کہ چاند گرہن تیرہویں کو ہوگا اور سورج گرہن اٹھائیس تاریخ کو۔

دیکھنا ہے کہ مولوی صاحب اور ان کے امام ومطاع خلیفہ جی نور الدین مجدد صاحب کے اس قول کا کیا جواب دیتے ہیں؟

هذا ما اوردنا ايراده فی هذا المختصر واخر دعوانا ان الحمد لله رب العلمین والصلوٰۃ والسلام علی سید المرسلین محمد والہ واصحابہ اجمعین۔ فقط!

☆........................☆

٣٤

رد الشبهات ال

بالاحادیث والآی

مولانا عبد القادر

PDF 386

خاتم النبيين لا نبي بعدي

میں آخری نبی ہوں، میرے بعد کوئی نبی نہیں۔

رد الشبهات القاديانيه

بالاحاديث والآيات القرآنيه

مولانا عبدالقادر سات گڑھی

صفحہ ٣٨٦

بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

الحمدلله رب العالمين والصلوة والسلام على رسوله امام الهاديين وعلى آله واصحابه افضل المهديين۔ اما بعد!

دین دار، دین کے غم خوار، بھائیوں کو معلوم ہو کہ یہ آخر زمانہ ہے۔ اس میں تازہ تازہ فتنے دین میں برپا ہونا ضروری ہے۔ سو ان دنوں ان کا ظہور ہے۔ پس جس کو اپنا ایمان پیارا ہے اور اس کو بچانا منظور ہے تو اس پر واجب ہے کہ وہ اعتقاد وعمل میں سلف کا تابع رہے اور ان کی ہی راہ پر چلے۔

اور ہر مکار کی بات پر فریفتہ نہ ہو جائے اور ہر بناوٹ پر شیفتہ نہ رہے۔ پرانا فتنہ اہل سنت میں ملاحدہ و جودیہ کی طرف سے تھا، سو تھا۔ علاوہ اس کے نیچریوں کی طرف سے شروع ہوا پھر اب قادیانیوں کی طرف سے خدا حافظ عوام کا، اب یہ فقیر عبدالقادر بن قاضی شیخ احمد عفی اللہ عنہما، مرزا غلام احمد قادیانی کا رد جو عیسیٰ علیہ السلام کی موت کا قائل ہے اور اس باب میں اس نے کئی رسائل لکھے ہیں۔ شروع کرتا ہے اور اس کے دلائل کے جوابات بہت عمدہ طور پر بحولہ تعالٰی وقوتہ لکھتا ہے۔

اور نام اس رسالہ کا ”رد الشبهات القاديانيه بالاحاديث والآيات القرآنیہ“ رکھا گیا ہے۔ اب ہم زندہ رہنا عیسیٰ علیہ السلام کا اور نازل ہونا ان کا آسمان سے آخر زمانے میں واسطے قتل دجال کے ان ہر دو باب میں گفتگو کرتے ہیں اور حیات اور نزول کو آپ کے، بدلائل آیات قرآن واحادیث صحیحہ رسول رحمان ثابت کرتے ہیں۔

بحولہ تعالٰی وقوتہ ہم یہاں تین آیتوں سے قرآن مجید کی عدم ممات واثبات حیات عیسیٰ علیہ السلام کرتے ہیں۔ پہلی آیت جو بلاشبہ محکم اور نص صریح اس بات پر ہے۔ آیت: ”وقولهم انا قتلنا المسيح عيسى ابن مريم رسول الله وما قتلوه وما صلبوه ولكن شبه لهم وان الذين اختلفوا فيه لفى شك منه مالهم به من علم الا اتباع الظن وما قتلوه يقينا بل رفعه الله اليه وكان الله عزيزاً حكيما (نساء:١٥٧، ١٥٨)“

﴿عذاب میں پکڑا ہم نے یہود کو یا لعنت کی ہم نے ان کو مذکور باتوں کے سبب سے اور بسبب کہنے ان کے کہ مقرر ہم نے مار ڈالا مسیح عیسیٰ بن مریم کو جو رسول، اللہ کا ہے اور نہیں مار ڈالا انہوں نے اس کو یعنی عیسیٰ علیہ السلام کو، اور نہ ہی سولی دی انہوں نے اس کو، لیکن شبیہ بنایا گیا واسطے

٢

صفحہ ٣٨٧

ان کے یعنی اللہ نے کسی کو عیسیٰ علیہ السلام کا شبیہ بنا دیا تو اس کو انہوں نے مار ڈالا اور سولی دی اور مقرر وہ لوگ کہ جنہوں نے اختلاف کیا عیسیٰ علیہ السلام کے باب میں البتہ وہ شک میں ہیں۔ اس کے قتل سے (کیونکہ بعضوں نے کہا کہ یہی عیسیٰ ہے اور بعضوں نے کہا نہیں کیونکہ چہرہ مقتول کا چہرہ عیسیٰ کا ہے نہ جسد) اور نہیں واسطے ان کے اس پر کچھ یقین مگر پیروی گمان کی اور نہیں قتل کیا انہوں نے اس کو یقیناً بلکہ اوپر اٹھا لیا اللہ نے اس کو طرف اپنے (یعنی آسمان پر اٹھا لیا) اور ہے اللہ غالب حکمت والا۔﴾

یہ آیت دلالت کرتی ہے قطعی دلالت کہ عیسیٰ علیہ السلام زندہ باجسد آسمان پر اٹھائے گئے۔ کیونکہ جب اللہ نے آپ کے مارے جانے اور سولی پر چڑھائے جانے کی صاف نفی کی تو آپ کا مرنا ثابت نہ ہوا۔ زندہ رہنا ہی ثابت ہوا۔ پھر جب آپ کا اوپر کو اٹھائے جانا ثابت ہوا اور اس آیت سے قول وہب کہ اللہ نے عیسیٰ علیہ السلام کو تین ساعت یا تین روز موت دیکر بعدہ زندہ کر کے اپنی طرف اٹھا لیا اور قول محمد بن اسحاق کہ سات ساعت تک موت دے کر پھر زندہ کر کے اپنی طرف اٹھا لیا۔

جیسا کہ یہ دونوں قول تفسیر بغوی اور تفسیر کبیر وغیرہما میں لائے گئے ہیں۔ رد ہو جاتے ہیں۔ شاید یہ ہر دو قول نصارٰی سے لئے گئے ہوں گے۔ اس بات پر کوئی آیت وحدیث دلالت نہیں کرتی ہے۔ پس مرزا قادیانی اور ان کے اتباع جو کہتے ہیں کہ عیسیٰ علیہ السلام کے رفع سے مراد آپ کو اوپر اٹھا لینے سے مراد آپکی روح کا رفع مراد ہے۔ صاف غلط اور بڑی جہالت کی بات ہے۔

کیونکہ فقط روح کے رفع سے قتل اور سولی ہر دو ثابت رہ جاتی ہیں۔ اس لئے کہ رفع روح کا بعد مارے جانے کے ہوتا ہے اور سولی پر چڑھانا جسد کے ساتھ متعلق ہے۔ فقط روح کو اوپر اٹھا لینے سے سولی کی نفی ہرگز ثابت نہیں ہو سکتی۔ حالانکہ خدائے تعالیٰ نے ان دونوں باتوں کی یعنی مارے جانے اور سولی دیئے جانے کی صاف نفی کر دی اور مکرر نفی قتل کو بیان کیا اور لفظ یقیناً سے اس کو مؤکد کر دیا اور ساتھ اس کے یہود کے مکر پر اپنے مکر کا غلبہ اور اپنی حکمت اور پختہ کاری بھی بیان کر دی تو یہ عیسیٰ علیہ السلام کے زندہ با جسد آسمان پر اٹھائے جانے پر نص صریح ہونے سے دلیل قطعی ہو گئی۔

پس اس کے منکر پر اطلاق کفر کا بے شک درست ہو سکتا ہے۔ حافظ الحدیث قاضی عیاضؒ نے اپنی شفاء کے آخر فصل مقالات کفر میں لکھا ہے: "وكذالك وقع الاجماع على

٣

صفحہ ٣٨٩

تكفير كل من دافع نص الكتاب " يعنى اس طرح اجماع ہوا ہے تکفیر پر ہر ایک اس شخص کے جس نے دفع کیا نص کو قرآن مجید کے۔ یعنی جو بات نص قرآن سے ثابت ہوئی اس کو دفع کیا اور انکار کیا تو وہ شخص کافر ہے اجماع سے۔ باوجود اس توضیح کے پھر ابن عباسؓ کی تفسیر بھی جو امام المفسرین سلف اور خلف کے ہیں۔ لا کے بتلاتا ہوں تاولوں کو اور زیادہ تشفی ہو جائے کہ آیت مذکور اس بات پر نص ہے۔

تفسیر فتح البیان میں ہے: ”اخرج سعيد ابن منصور ونسائى وابن ابى حاتم وابن مردويه عن ابن عباس قال لما اراد الله ان يرفع عيسى الى السماء خرج الى اصحابه وفى البيت اثنا عشر رجلا من الحواريين فخرج عليهم من عين فى البيت ورأسه يقطرماء فقال ان منكم من يكفر بى اثنا عشر مرة بعد ان أمن بي ثم قال أيكم يلقى عليه شبهي فيقتل مكانى فيكون معي فى درجتي فقام شاب من احدثهم سناً فقال له اجلس ثم عاد عليهم ثم قام الشاب فقال اجلس ثم اعاد عليهم فقام الشاب فقال انا فقال انت ذاك فالقى عليه شبه عيسى ورفع عيسى من روزنة فى البيت الى السماء قال وجاء الطلب من يهود فاخذو الشبه فقتلوه ثم صلبوه الحديث قال قال ابن كثير بعد ان ساقه بهذا اللفظ عند ابى حاتم قال حدثنا احمد بن سنان ثنا ابو معاوية عن الاعمش عن المنهال بن عمرو عن سعيد بن جبير عن ابن عباس فذكره وهذا اسناد صحيح الى ابن عباس وصدق ابن كثير فهولاء كلهم من رجال الصحيح انتهى“

نکالا یعنی روایت کی سعید بن منصور اور نسائی اور ابن ابی حاتم اور ابن مردویہ نے ابن عباسؓ سے کہا انہوں نے جب ارادہ کیا اللہ نے یہ کہ اٹھائے عیسیٰ علیہ السلام کو طرف آسمان کے، نکلے حضرت عیسیٰ علیہ السلام اپنے یاروں کی طرف اس حال میں کہ گھر میں بارہ ١٢ مرد تھے حواریوں سے پس نکلے ان پر ایک چشمہ سے جو اس گھر میں تھا۔ یعنی نہا کر اس حال میں کہ سر ان کا قطرے ٹپکاتا تھا پانی کے، پس فرمایا کہ تحقیق تم میں سے ایک مرد وہ ہے کہ منکر ہو جائے گا میرے سے بارہ مرتبہ بعد اس کے کہ ایمان لایا مجھ پر، پھر فرمایا کہ کون ہے تم میں کہ ڈالی جائے اس پر شباہت میری پر قتل کیا جائے وہ میری جگہ پس رہے گا وہ ساتھ میرے میرے درجے میں یعنی جنت میں۔ پس کھڑا ہوا ایک جوان ان سب سے کم عمر کا پس فرمایا حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے اس کو تو بیٹھ جا پھر

اعادہ کیا انہوں نے اسی بات کا ان حواریوں پر پھر اٹھ کھڑے علیہ السلام نے فرمایا تو وہی ہے۔ یعنی میرے ساتھ جن عیسیٰ علیہ السلام کی اور اٹھائے گئے عیسیٰ علیہ السلام ایک کہا ابن عباسؓ نے اور آئے تلاش کرنے والے عیسیٰ نے اسی شبیہ کو پس مار ڈالا انہوں نے اس کو پھر سولی پر نے ، ابن کثیر نے بعد لانے اس اثر ابن عباسؓ کو اس ل بن سنان ثنا ابو معاویہ عن الاعمش عن المنہال بن عمرو عن صحیح ہے۔ ابن عباسؓ تک صاحب فتح البیان کہتے ہیں اس حدیث کے سب کے سب رجال صحیح بخاری کے ہیں

نسائی کی روایت ابن عباسؓ سے اس طرح وامه فدعا عليهم فمسخهم الله قردة و لاصحابه ايكم يرضى ان يلقى الله شبهی رجل منهم انا فالقى الله عليه شبه فقتل و

ایک جماعت نے یہود کی گالیاں دیں علیہ السلام نے بددعا کی ان پر، سو اللہ نے اس جماع ہو گئے یہود قتل کرنے پر عیسیٰ علیہ السلام کے، پس الف کو طرف آسمان کے اور پاک کر دے اس کو صحبت نا اپنے یاروں سے کون راضی ہوتا ہے۔ تم میں سے ا جائے اور سولی پر چڑھایا جائے اور داخل ہو جائے میں راضی ہوں پس اللہ تعالیٰ نے اس پر عیسیٰ علیہ چڑھایا گیا۔

آخر حدیث تک نقل کیا اس کو مولوی عب ”فتویٰ ختم نبوت“ میں شائع ہو گیا ہے۔ مرتب) علیہ السلام بغیر مارے جانے اور سولی دیئے جائے مطلب صاف کھل گیا اور یہ حدیث ابن عباسؓ اللہ ﷺ سے سنی ہوئی بات نہ ہے۔ کیونکہ اس قصے

٤

صفحہ ٣٨٩

اعادہ کیا انہوں نے اسی بات کا ان حواریوں پر پھر اٹھ کھڑا ہوا وہی جوان اور کہا میں ہوں۔ تب عیسیٰ علیہ السلام نے فرمایا تو وہی ہے۔ یعنی میرے ساتھ جنت میں رہنے والا پس ڈالی گئی اس پر شباہت عیسیٰ علیہ السلام کی اور اٹھائے گئے عیسیٰ علیہ السلام ایک روشندان سے گھر کے، طرف آسمان کے، کہا ابن عباسؓ نے اور آئے تلاش کرنے والے عیسیٰ علیہ السلام کے یہود سے، پس پکڑ لیا انہوں نے اسی شبیہ کو پس مار ڈالا انہوں نے اس کو پھر سولی پر چڑھا دیا۔ اس کو الحدیث کہا صاحب فتح البیان نے، ابن کثیر نے بعد لانے اس اثر ابن عباسؓ کو اس لفظ سے ابن ابی حاتم کی اسناد سے جو حدثنا احمد بن سنان ثنا ابو معاویہ عن الاعمش عن المنہال بن عمرو عن سعید بن جبیر عن ابن عباسؓ ہے۔ کہا یہ اسناد صحیح ہے۔ ابن عباسؓ تک صاحب فتح البیان کہتے ہیں ابن کثیر نے سچ کہا کیونکہ رجال یعنی راوی اس حدیث کے سب کے سب رجال صحیح بخاری کے ہیں۔ ﴾

نسائی کی روایت ابن عباسؓ سے اس طرح ہے: ”ان رهطا من اليهود سبوه وامه فدعا عليهم فمسخهم الله قردة وخنازير فاجتمعت اليهود فقال لاصحابه ايكم يرضى أن يلقى عليه شبهی فیقتل ويصلب ويدخل الجنة فقال رجل منهم انا فالقى الله عليه شبهه فقتل وصلب الحديث“

﴿ ایک جماعت نے یہود کی گالیاں دیں عیسیٰ علیہ السلام کو اور ان کی ماں کو۔ پس عیسیٰ علیہ السلام نے بددعا کی ان پر، سو اللہ نے اس جماعت کو مسخ کر کے بندر اور سور بنا دیئے۔ پس جمع ہو گئے یہود قتل کرنے پر عیسیٰ علیہ السلام کے، پس اللہ نے خبر دی عیسیٰ علیہ السلام کو کہ اٹھا لے وہ اس کو طرف آسمان کے اور پاک کر دے اس کو صحبت ناپاک سے یہود کی۔ پس کہا عیسیٰ علیہ السلام نے اپنے یاروں سے کون راضی ہوتا ہے تم میں سے کہ ڈالی جائے اس پر شباہت میری پس وہ قتل کیا جائے اور سولی پر چڑھایا جائے اور داخل ہو جائے وہ جنت میں۔ پس ایک مرد نے ان میں سے کہا میں راضی ہوں پس اللہ تعالیٰ نے اس پر عیسیٰ علیہ السلام کی شباہت ڈالی پس وہ مارا گیا اور سولی پر چڑھایا گیا۔ ﴾

آخر حدیث تک نقل کیا اس کو مولوی عبید اللہ قاضی مدراس نے اپنے فتاویٰ میں (یہ فتاویٰ ”فتاویٰ ختم نبوت“ میں شائع ہو گیا ہے۔ مرتب) اس اثر ابن عباسؓ سے صاف ظاہر ہو گیا کہ عیسیٰ علیہ السلام بغیر مارے جانے اور سولی دیئے جانے کے آسمان پر زندہ اٹھائے گئے۔ اس آیت کا مطلب صاف کھل گیا اور یہ حدیث ابن عباسؓ کی حکم مرفوع حدیث کا رکھتی ہے۔ یعنی رسول اللہ ﷺ سے سنی ہوئی بات ہی ہے۔ کیونکہ اس قصے میں رائے اور اجتہاد کو کچھ دخل نہیں اور اس قصے کو

٥

صفحہ ٣٩٠

اہل کتاب یعنی یہود و نصاریٰ سے لینے کا وہم بھی صحیح نہیں ہو سکتا ہے۔ کیونکہ یہ قصہ مذکور ان دونوں فرقوں کے اعتقاد کے برخلاف ہے۔ واللہ اعلم۔ دوسری آیت: ”وان من اھل الکتاب الا لیؤمنن بہ قبل موتہ ویوم القیٰمۃ یکون علیھم شھیدا “ ﴿ نہیں کوئی اہل کتاب سے مگر البتہ ایمان لائے گا عیسیٰ علیہ السلام پر ان کی موت سے پہلے اور ہو گا وہ عیسیٰ گواہی دینے والا قیامت کے روز اوپر ان کے۔ ﴾

استدلال اس آیت سے اس طرح پر ہے کہ یہ آیت بعد آیت مذکور کے متصل بلا فاصلہ آئی ہے۔ اس آیت کی ضمیر قبل موتہ میں مفسرین کے دو قول آئے ہیں۔ ایک یہ کہ اس ضمیر کو عیسیٰ علیہ السلام کی طرف پھیرتے ہیں۔ یعنی آگے موت عیسیٰ علیہ السلام کے کہتے ہیں۔ دوسرا یہ کہ اس ضمیر کو کتابی کی طرف پھیرتے ہیں۔

یعنی آگے مرنے اس کتابی کے کہتے ہیں۔ بہر دو صورت ہمارا مطلب جو اثبات حیات عیسیٰ علیہ السلام ہے۔ ثابت ہوتا ہے۔ پہلی صورت میں یعنی ضمیر قبل موتہ کی عیسیٰ علیہ السلام کی طرف پھیرنے کی صورت میں مطلب ہمارا صاف قطعاً و یقیناً ثابت ہو جاتا ہے۔

کیونکہ تب معنی یہ ہوتے ہیں۔ نہیں کوئی اہل کتاب سے مگر ایمان لائے گا عیسیٰ علیہ السلام پر آگے موت ان کی کے۔ پس اس سے صاف ثابت ہوتا ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام ابھی مرے نہیں، زندہ ہیں۔

پھر آئندہ دنیا میں آئیں گے اس وقت کے سب اہل کتاب ان پر ایمان لائیں گے۔ تب عیسیٰ علیہ السلام وفات پائیں گے۔ یہی بات صحیح ہے۔ کیونکہ اس بات کی تائید کرنے والی بہت سی صحیح حدیثیں اور اقوال صحابہ وغیرہ ہم ہیں۔ چنانچہ تواتر کے قریب آئے ہیں۔ دوسری صورت جو قبل موتہ کی ضمیر کو ہر فرد اہل کتاب کی طرف پھیریں تو اگرچہ اس پر کئی اشکالات وارد ہوتی ہیں۔ ازاں جملہ یہ کہ وہ ایمان مقبول ہے یا غیر مقبول۔ اگر غیر مقبول ہے تو وہ ایمان ہوا جو وقت میں دیکھنے موت کے ہوتا ہے۔

پس اس پر قبل کے لفظ کی دلالت متعین نہیں ہو سکتی۔ بسبب شامل رہنے لفظ قبل کے کل زمانہ حیات پر اس کے بلکہ اس زمانہ کے واسطے عند موتہ یا حین موتہ یا وقت موتہ ہونا چاہئے اور اگر وہ ایمان مقبول ہے تو قبل کا لفظ بیکار ٹھہرتا ہے۔ کیونکہ جو ایمان لاتا ہے۔ قبل موت کے ہی ایمان لاتا ہے۔ پس قبل کا لفظ بے کار و غیر مفید رہتا ہے۔ یہ خلاف بلاغت و فصاحت ہے۔ سو اس کے اس طرح کا ایمان ہر کتابی سے غیر واقع ہے۔

٦

صفحہ ٣٩١

سلف وخلف سے کوئی اس بات کا قائل نہیں۔ غرض بہر دوصورت ہمارا مقصود حاصل ہو جاتا ہے۔ کیونکہ جب ہر فرد اہل کتاب کا قبل موت اپنے عیسیٰ علیہ السلام پر ایمان لانا تسلیم کیا جائے تو بھی ایمان صحیح ہونا ضرور ہے۔ تا اطلاق ایمان کا اس پر صحیح ہو اگرچہ وہ ایمان غیر مقبول بھی ہو بسبب ہونے اس ایمان کے ایمان باس پس ایسے ایمان کے لئے ضرور ہے کہ وہ جاننے اور اقرار کرے کہ عیسیٰ علیہ السلام بندہ خدا تھے اور رسول اس کے وہ نہ خدا تھے اور نہ خدا کے بیٹے تھے اور نہ ہی وہ مارے گئے ہاتھ سے یہودیوں کے اور نہ سولی پر چڑھائے گئے بلکہ وہ بغیر مرنے کے زندہ با جسد آسمان پر اٹھائے گئے۔

جیسا کہ ان باتوں پر پہلی آیت دلالت صریح کرتی ہے۔ پس اس طرح کے ایمان سے ہمارا مقصود جو عیسیٰ علیہ السلام کا نہ مرنا اور زندہ رہنا ہے پورا ہو جاتا ہے۔ گو ضمیر قبل موتہ کی اہل کتاب کی طرف ہی پھیری جائے اور اس آیت میں اشارہ ہے طرف اس بات کے کہ پھر عیسیٰ علیہ السلام دنیا میں نازل ہونے والے ہیں۔ کیونکہ مرنا ان کا باقی ہے تو دنیا میں آنا بھی ضروری ہے۔ کیونکہ وہی جائے موت ہے۔ اس بات کو تائید دیتی ہے۔

حدیث (بخاری ج ١ ص ٤٩٠ ،مسلم ج ١ ص ٨٧) کی: ”وعن ابی ھریرة قال قال رسول الله ﷺ والذی نفسی بیده لیوشکن ان ینزل فیکم ابن مریم حكما عدلا فیکسر الصلیب ویقتل الخنزیر ویضع الجزیة ویفیض المال حتی لا یقبله احد حتی تکون السجدة الواحدة خیر من الدنیا وما فیها ثم یقول ابو ھریرة فاقرؤا ان شئتم وان من اھل الکتاب الا لیؤمنن بہ قبل موتہ متفق علیہ کذا فی المشکوة“

﴿روایت ہے ابو ہریرہؓ سے کہ انہوں نے کہا فرمایا رسول اللہ ﷺ نے قسم ہے اس کی جس کے قبضے میں میری جان ہے۔ البتہ قریب ہے کہ اترے گا تمہارے درمیان بیٹا مریم کا یعنی عیسیٰ علیہ السلام حاکم عادل ہو کر ، پھر توڑ ڈالے گا صلیب کو اور مار ڈالے گا جنس سور کو یعنی حکم کرے گا اس کا اور موقوف کر دے گا جزیہ لینا کافروں سے ، یعنی سوائے اسلام کے جزیہ قبول نہ کرے گا اور ابل جائے گا مال یہاں تک کہ نہ قبول کرے گا اس کو کوئی یہاں تک کہ ہو گا ایک سجدہ بہتر دنیا وما فیہا سے پھر کہتے تھے ابو ہریرہؓ پڑھ لو تم اگر چاہو تم آیت: ”وان من اھل الکتاب الا لیؤمنن بہ قبل موتہ“ کو یعنی اور نہیں ہو گا اہل کتاب میں سے کوئی مگر البتہ وہ ایمان لائے گا عیسیٰ علیہ السلام پر آگے مرنے ان کے کہ یہ حدیث متفق علیہ ہے یعنی بخاری اور مسلم کا اس پر اتفاق

٧

صفحہ ٣٩٢

ہے ۔ ؎١ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ابو ہریرہ کے پاس بلاشبہ یہ بات ثابت تھی کہ ضمیر قبل موتہ کی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی طرف ہی پھرتی ہے اور حضرت ﷺ کا قسمیہ فرمانا کہ عیسیٰ علیہ السلام تمہارے درمیان اتر آئیں گے ۔ صاف دلالت کرتا ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام آسمان پر زندہ ہیں۔ موت جو ہر نفس کو لابد ہے۔ وہ ان پر باقی ہے۔

پھر دنیا میں آکر مریں گے اس لئے ابو ہریرہؓ نے کہا کہ اگر تم کو اس حدیث کی اس بات میں شک ہو تو آیت مذکور کو جو عیسیٰ علیہ السلام کے زندہ رہنے پر صاف دلالت کرتی ہے۔ پڑھ لو مراد یہ کہ یہ حدیث اس آیت کی تفسیر اور تفصیل کے طور پر وارد ہے اور امام نووی نے شرح صحیح مسلم میں تحت میں حدیث مذکور کے کہا کہ: ”فـفـیـه دلالة ظاهرة على ان مذهب ابی هریرة فی الآية ان الضمیر فی موته یعود علی عیسٰی علیہ السلام“

؎٢ پس اس قول ابو ہریرہ میں دلالت ظاہر ہے اس بات پر کہ بے شک مذہب ابو ہریرہؓ کا آیت مذکور میں یہ ہے کہ بے شک ضمیر موتہ میں پلٹتی ہے عیسیٰ علیہ السلام پر ۔ ؎٣

اور مولوی محمد بشیر صاحب نے اپنی کتاب حق الصریح میں تفسیر ابن کثیر سے نقل کیا ۔ ”قال ابن ابی حاتم حدثنا ابن بشار حدثنا عبدالرحمٰن عن سفیان عن ابی حصین عن سعید بن جبیر عن ابن عباسؓ وان من اهل الکتاب الّا لیؤمنن به قبل موته قال قبل موت عیسٰی ابن مریم علیھما السلام وقال العوفی عن ابن عباسؓ مثل ذلک قال ابو مالک فی قوله الا لیؤمنن به قبل موته قال ذالك عند نزول عیسیٰ ابن مریم علیهما السلام لا یبقی احد من اهل الکتاب الا یؤمن به“

حاصل معنے یہ ہے کہ ابن ابی حاتم نے ساتھ اسناد متصل کے ابن عباسؓ سے روایت کی کہ انہوں نے آیت مذکور کی تفسیر میں کہا قبل موتہ سے قبل موت عیسیٰ بن مریم علیہ السلام ہے اور عوفی نے ابن عباس سے مانند اس کے روایت کی اور ابو مالک نے الا لیؤمنن به قبل موته میں کہا کہ یہ ایمان لانا وقت میں نازل ہونے عیسیٰ علیہ السلام کے ہوگا کہ کوئی ایک اہل کتاب سے باقی نہ رہے گا۔

مگر ایمان لائے گا عیسیٰ علیہ السلام پر اور امام جلال الدین سیوطیؒ نے تفسیر اکلیل میں تحت میں آیت مذکورہ کے کہا: ”فیه نزول عیسٰی علیه السلام اخرجه الحکم عن ابن عباسؓ “ ؎٤ اس قول خدا میں ثابت ہے نازل ہونا عیسیٰ علیہ السلام کا روایت کیا اس قول کو حاکم نے ابن عباسؓ سے ۔ ؎٥

٨

صفحہ ٣٩٣

اور مولوی عبیداللہ صاحب قاضی مدراس نے اپنے فتویٰ میں جو رد میں اقوال ضلالت اشتمال مرزا قادیانی کے ہے۔ اس اثر ابن عباسؓ کو لا کے کہا، اور حاکم نے کہا یہ حدیث صحیح ہے۔ بخاری اور مسلم کی شرط پر اور مولوی محمد بشیر صاحب نے اپنی کتاب حق الصریح میں تفسیر ابن کثیر سے نقل کیا ۔ ”قال ابن جریر حدثنی یعقوب حدثنا ابن علیة حدثنا ابو رجاء عن الحسن وان من اھل الکتاب الا لیؤمنن بہ قبل موتہ قال قبل موت عیسی واللہ انہ لحی الان عنداللہ ولکن اذا نزل آمنوا بہ اجمعون“

﴿روایت کی ابن جریر نے ساتھ اسناد مذکور کے حسن بصری سے کہ انہوں نے تفسیر میں ”وان من اھل الکتاب الا لیؤمنن بہ قبل موتہ“ کے کہا قبل موت عیسیٰ علیہ السلام۔ یعنی ضمیر قبل موتہ کی راجع ہے طرف عیسیٰ کے اور قسم ہے اللہ کی بے شک وہ عیسیٰ زندہ ہیں اب نزدیک اللہ کے ولیکن جب وہ نازل ہوں گے ایمان لائیں گے ان پر سب اہل کتاب۔﴾

اور تفسیر سے نقل کیا کہ ابن کثیر نے کہا: ”وقال ابن ابی حاتم حدثنا ابی حدثنا علی بن عثمان اللاحقی حدثنا جویریة بن بشیر قال سمعت رجلاً قال للحسن یاابا سعید قول اللہ عزوجل وان من اھل الکتاب الا لیؤمنن بہ قبل موتہ قال قبل موت عیسیٰ ان اللہ رفع الیہ عیسیٰ وھو باعثہ قبل یوم القیمۃ مقاماً یؤمنن بہ البر والفاجر وکذا قال قتادة وعبد الرحمن بن زید بن اسلم وغیر واحد وھذا القول ھو الحق کما سنبينہ بعدہ بالدلیل القاطع ان شآء اللہ“

﴿اور کہا ابن ابی حاتم نے حدیث بیان کی کہ ہمارے سے میرے باپ نے کہا انہوں نے حدیث بیان کی ہمارے سے علی بن عثمان لاحقی نے انہوں نے کہا حدیث بیان کی ہمارے سے جویریہ بن بشیر نے انہوں نے کہا سنا میں نے ایک مرد سے کہ انہوں نے کہا حسن بصری کو تفسیر آیۃ قول خدائے عزوجل وان من اھل الکتاب الا لیؤمنن بہ قبل موتہ کی۔ حسن بصری نے کہا کہ قبل موتہ سے مراد قبل موت عیسیٰ علیہ السلام ہے۔ بے شک اللہ تعالیٰ نے اٹھا لیا طرف اپنے عیسیٰ علیہ السلام کو اور وہ بھیجنے والا ہے ان کو آگے قیامت کے ایسے مقام پر کہ ایمان لائے گا اس پر نیک اور بد ابن کثیر کہتے ہیں اسی طرح کہا قتادہ اور عبدالرحمٰن بن زید بن اسلم اور بہت سے اہل علم نے جیسا کہ ہم قریب بیان کردیں گے اس کو ساتھ دلیل قاطع کہ انشاء اللہ تعالیٰ۔﴾

اور بھی مولوی محمد بشیر نے حق الصریح کے بتیسویں صفحے کے حاشیہ میں تفسیر فتح البیان

٩

صفحہ ٣٩٥

سے نقل کیا۔ ”ذهب كثير من التابعين فمن بعدهم الى ان المراد قبل موت عیسیٰ“ بہت سے تابعین پھر ان کے بعد کے لوگ گئے ہیں۔ طرف اس بات کے کہ بے شک مراد قبل موت سے عیسیٰ علیہ السلام میں۔ ﴿

یعنی ضمیر موتہ کی طرف عیسیٰ علیہ السلام کے پھرتی ہے نہ طرف کتابی کے اور بھی مولوی صاحب مذکور نے فتح الباری سے نقل کیا۔ ”ونقله عن اكثر اهل العلم ورجحه ابن جرير وغيره“ ﴿نقل کیا اس مذہب کو یعنی قبل موتہ سے مراد قبل موت عیسیٰ ہونے کے مذہب کو اکثر اہل علم سے اور اسی کو ترجیح دیا ابن جریر وغیرہ نے۔ ﴿

ان سب باتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ امام نووی نے شرح صحیح مسلم میں ”ذهب كثيرون او الاكثرون الى ان الضمير يعود على الكتابي“ جو کہا غیر صحیح ہے یا مراد اس کثیروں واکثروں سے متاخرین کے مفسرین ہیں۔ نہ سلف کے غرض ضمیر کتابی کے طرف پھیرنے کی تقدیر میں بھی ہمارے مطلب میں کچھ خلل نہیں آتا۔ ہمارا مطلب بہر دو صورت برآتا ہے۔ جیسا کہ ہم نے آگے بیان کر دیا ہے۔

اور وہ جو مرزا غلام احمد قادیانی اپنی تحریر سوم وغیرہ میں جو مولوی محمد بشیر صاحب کے ساتھ ہوئی تھی۔ اس میں ابن عباسؓ سے روایت کی سو اس کا حاصل یہ ہے کہ انہوں نے ضمیر قبل موتہ کی طرف کتابی کے پھیری ہے اور کہا کہ ہر کتابی اپنی موت کے وقت عیسیٰ علیہ السلام پر ایمان لائے گا۔

سو اس روایت کے سب طریق میں ضعف ہے جیسا کہ مولوی محمد بشیر صاحب نے اپنی کتاب حق الصریح میں جو رد میں مرزا قادیانی کے بنی ہے۔ واضح طور پر بیان کر دیا ہے۔ من شاء فلینظر الیہ، سواء اس کے اس روایت کے معارض ان ہی کی وہ روایتیں ہیں کہ جن کو آگے بیان کر دیا ہے اور وہ روایتیں صحیح بھی ہیں۔ پس دوسری روایت ابن عباسؓ کی غیر صحیح رہنے سے اور ان کی ہی صحیح روایتیں جو مؤید بحدیث صحیح اور اقوال سلف ہیں۔ ان کے معارض بھی ہونے سے قابل سند کے ہرگز نہیں ہو سکتی ہے۔ اگر فرضاً قابل سند ہو تو بھی ہمارے مطلب کے منافی نہیں ہو سکتی۔ جیسا کہ ہم نے ابھی قریب بیان اس کا کر دیا۔

تیسری آیت سورہ آل عمران کی ”ويكلم الناس في المهد وكهلاً ومن الصالحين (آل عمران:٤٦)“ ﴿اور وہ عیسیٰ بات کرے گا لوگوں سے گہوارے میں اور ادھیڑ ہو کر اور وہ صالحین سے ہے۔ ﴿

١٠

استدلال اس آیت سے اوپر زندہ رہنے کے دنیا میں اس طرح پر ہے کہ اس آیت میں عیسیٰ ثابت ہے اور وقت میں اٹھائے جانے ان کے طرف اکثر مفسرین خلف و سلف کا اتفاق معلوم ہوتا ہے۔ پھر ہوا کہ عیسیٰ علیہ السلام دنیا میں پھر نازل ہو کر ادھیڑ ہو

اس بات پر چند تفسیروں کے اقوال سنئے صحابہؓ و غیرہم جو نازل ہونے حضرت عیسیٰ علیہ السلا

تفسیر معالم التنزیل میں تحت آیت: ”اذ قال الل ”قيل للحسين هل تجد نزول عيسى وهو لم يكتهل في الدنيا وانما معناه و حسین بن فضل سے پوچھا کہ تم پاتے ہو نازل ہونا تعالیٰ وکھلا ہے اور وہ عیسیٰ علیہ السلام ادھیڑ نہ وہ ادھیڑ ہوگا بعد نازل ہونے اس کے کے آسمان ۔

اور مولوی محمد بشیر نے حق الصریح میں تم انه عليه السلام سينزل من السماء لا ابن عباس ارسله الله تعالى وهوا ابن شهرا ثم رفعه الله تعالى اليه“ ﴿اسی لفظ قریب نازل ہونے پر آسمان سے کیونکہ عیسیٰ علیہ ہونے کے۔ ابن عباسؓ نے کہا اللہ تعالیٰ نے رس کے تھے اور ٹھہرے رہے۔ اپنی رسالت میں تیس نے ان کو طرف اپنے۔ ﴿

اور تفسیر کبیر سے نقل کیا: ”قال الس في انه عليه السلام سينزل الى الار میں نص ہے۔ اس باب میں کہ مقررہ وہ عیسیٰ علیہ

اور بیضاوی سے نقل کیا: ”وبہ است التکهل“ ﴿اور اسی لفظ کہل سے استدلال کیا

صفحہ ٣٩٥

استدلال اس آیت سے اوپر زندہ رہنے عیسیٰ علیہ السلام کے اور پھر نازل ہونے ان کے دنیا میں اس طرح پر ہے کہ اس آیت میں عیسیٰ علیہ السلام کا ادھیڑ ہوکر لوگوں سے بات کرنا ثابت ہے اور وقت میں اٹھائے جانے ان کے طرف آسمان کے جوان تھے نہ ادھیڑ، اس بات پر اکثر مفسرین جملہ تواریخ کا اتفاق معلوم ہوتا ہے۔ پس جب خدا کلام میں خطا کا احتمال نہیں تو معلوم ہوا کہ عیسیٰ علیہ السلام دنیا میں پھر نازل ہوکر ادھیڑ ہوکر مریں گے۔

اس بات پر چند تفسیروں کے اقوال سنئے نمونہ از خروارے بتلائے بعدہ احادیث واقوال صحابہؓ وغیرہم جو نازل ہونے حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر دلالت کرتے ہیں۔ لا کے بتلاتا ہوں۔ تفسیر معالم التنزیل میں تحت آیت:”اذ قال الله يا عيسى انى متوفيك“ کے ہے۔ ”قيل للحسين هل تجد نزول عيسى فى القرآن قال نعم قوله تعالى وكهلاً وهو لم يكتهل فى الدنيا وانما معناه وكهلا بعد نزول من السماء“ کسی نے حسین بن فضل سے پوچھا کہ تم پاتے ہو نازل ہونا عیسیٰ علیہ السلام کا قرآن میں کہا ہاں وہ قوله تعالیٰ وکہلاً ہے اور وہ عیسیٰ علیہ السلام ادھیڑ نہ ہوا تھا۔ دنیا میں اور نہیں ہے۔ معنی اس کا مگر یہ کہ وہ ادھیڑ ہوگا بعد نازل ہونے اس کے کے آسمان سے۔ ﴾

اور مولوی محمد بشیر نے حق الصریح میں تفسیر ابو السعود سے نقل کیا: ”وبه استدل على انه عليه السلام سينزل من السماء لانه عليه السلام رفع قبل التكهل۔ قال ابن عباس ارسله الله تعالى وهو ابن ثلاثين سنة ومكث فى رسالته ثلاثين شهراً ثم رفعه الله تعالى اليه“ اسی لفظ کہل سے دلیل لی جاتی ہے۔ عیسیٰ علیہ السلام کے قریب نازل ہونے پر آسمان سے کیونکہ عیسیٰ علیہ السلام اٹھائے گئے طرف آسمان کے آگے ادھیڑ ہونے کے۔ ابن عباسؓ نے کہا اللہ تعالیٰ نے رسالت دی عیسیٰ علیہ السلام کو اسوقت وہ تیس سال کے تھے اور ٹھہرے رہے۔ اپنی رسالت میں تیس ٣٠ مہینے یعنی اڑھائی برس پھر اٹھا لیا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو طرف اپنے۔ ﴾

اور تفسیر کبیر سے نقل کیا: ”قال الحسين بن الفضل وفى هذه الاية نص فى انه عليه السلام سينزل الى الارض“ کہا حسین بن الفضل نے اور اس آیت میں نص ہے۔ اس باب میں کہ مقرر وہ عیسیٰ علیہ السلام قریب اتریں گے طرف زمیں کے۔ ﴾

اور بیضاوی سے نقل کیا: ”وبه استدل على انه سينزل فانه رفع قبل التكهل“ اور اسی لفظ کہل سے استدلال کیا جاتا ہے۔ اس بات پر کہ وہ عیسیٰ قریب اتریں گے

١١

صفحہ ٣٩٦

اس لئے کہ وہ اٹھائے گئے طرف آسمان کے آگے اور عاجز ہونے کے۔ ﴿

اب ہم چند احادیث و آثار کو جو عیسیٰ علیہ السلام کے آسمان سے نازل ہونے پر نص صریح ہیں۔ وارد کرتے ہیں: ” وعن ابى هريرة قال قال رسول الله ﷺ والذى نفسى بيده ليوشكن ان ينزل فيكم ابن مريم حكماً عدلاً فيكسر الصليب ويقتل الخنزير ويضع الجزية ويفيض المال حتى لا يقبله احد حتى تكون السجدة الواحدة خير من الدنيا ومافيها ثم يقول ابو هريرة فاقرؤا ان شئتم وان من اهل الكتاب الا ليؤمنن به قبل موته متفق عليه (بخاری ج ١ ص ٤٩٠)“

اس کا قریب گزر چکا اور بھی اس میں ہے۔ وہ ”وعنه قال قال رسول الله ﷺ ينزلن ابن مريم حكماً عادلاً فليكسرن الصليب وليقتلن الخنزير وليضعن الجزية وليتركن القلاص فلا يسعى عليها ولتذهبن الشحنا والتباغض والتحاسد وليدعون الى المال فلا تقبله احد (مسلم ج ١ ص ٨٧)“ ﴿ روایت ہے وہی ابو ہریرہ سے کہا کہ فرمایا رسول اللہ ﷺ نے قسم ہے اللہ کی البتہ اتریں گے یعنی آسمان سے بیٹے مریم کے حاکم عادل ہو کر پھر البتہ توڑ ڈالیں گے صلیب کو نصاریٰ کی اور البتہ مار ڈالیں گے جنس سور کو اور البتہ موقوف کردیں گے جزیہ لینا اور چھوڑی جائیں گی اس وقت جوان اونٹ پر نہ ان پر سفر کریں گے اور نہ دوسرا کام اور البتہ جاتی رہے گی دلوں سے دشمنی اور عداوت اور حسد با یک دیگر اور لوگ بلائے جائیں گے مال کے لینے کے لئے پس نہ قبول کرے گا۔ کوئی اس کو روایت کیا اس حدیث کو مسلم نے اور اسی مشکوۃ ص ٤٨٠ میں وہی ابو ہریرہ سے بخاری اور مسلم کی روایت سے لایا ہے۔ ﴿ کہ حضرت ﷺ نے فرمایا: ”كيف انتم اذا نزل ابن مريم فيكم وامامكم منكم “ ﴿ کس طرح ہو تم یعنی کیا اچھا حال ہوگا تمہارا جب نازل ہوگا ابن مریم یعنی عیسیٰ علیہ السلام تمہارے درمیان اور امام تمہارا تم میں سے ہوگا یعنی مہدی علیہ السلام۔ ﴿

اور بھی (صحیح مسلم ج ١ ص ٨٧) میں جابر بن عبداللہ سے مروی ہے: ”سمعت النبي ﷺ يقول لا تزال طائفة من امتى يقاتلون الحق ظاهرين الى يوم القيمة فينزل عيسى بن مريم فيقول أميرهم تعال صلى لنا فيقول لا ان بعضكم على بعض امراء تكرمة الله هذه الامة “ ﴿ کہا جابر بن عبداللہ نے سنا میں نے رسول اللہ ﷺ سے کہتے ہوئے ہمیشہ رہے گی ایک جماعت (ٹکڑی) میری امت کی جنگ کرتی ہوئی حق پر در حالیکہ غالب رہنے والی ہے۔ (یعنی مخالف پر ) روز قیامت تک، پھر اترے گا۔ عیسیٰ ١٢

٣٩٧ بیٹا مریم کا پس کہے گا امیر ان کا (یعنی امیر مسلمانوں ہمارے لئے نماز پڑھائیے۔ تب عیسیٰ علیہ السلام فرمائیں بے شک بعض تم میں کے بعض پر امیر ہیں۔ (یعنی امیر ہے اس امت کو۔ ﴿

اور بھی (صحیح مسلم ج ٢ ص ٤٠٠) میں نواس بن ذکر دجال اور یاجوج ماجوج کا ہے۔ یہ بھی آیا ہے: ”اذ عـنـد المـنـارة البيضاء شرقى دمشق بين مه ملكـيـن “ ﴿ ناگاہ بھیجے گا اللہ تعالیٰ مسیح بن مریم کو یعنی مینار پاس جو شرقی طرف شہر دمشق کے ہوگا۔ درمیان رکھے ہوئے بازؤں پر دو فرشتوں کے۔ ﴿

اور (سنن ابوداؤد ج ٢ ص ١٣٥) میں ابو ہریرہ سے روایت کی کہ حضرت ﷺ نے فرمایا: ”ليـس بيـن نـازل فـاذا رأيـتـمـوه فـاعـرفـوه رجـل مـربـوع كـأن رأسه يقطروان لم يصبه بلل يقاتل الن ويـقـتـل الخنزير ويضع الجزية ويهلك ويهلك المسيح الدجال فيمكث في الارض عليه المسلمون “ ﴿ نہیں درمیان میرے اور عیسیٰ ہونے والا ہے یعنی دنیا میں پس جب دیکھو تم اس کو تو ایک مرد ہے میانہ قد اور رنگ اسکا سفید سرخی مائل دو رنگ کے (یعنی اس وقت عیسیٰ علیہ السلام کا یہ لباس گے۔ اگر چہ اس کو تری نہیں پہنچی پھر جنگ کرے گا کا صلیب کو اور مار ڈالے گا سور کو اور موقوف کردے گا کہ ان سے جزیہ لینا قبول نہ کرے گا۔ ) اور ہلاک دینوں کو سوائے دین اسلام کے اور ہلاک کر دے گا مر برس پھر انتقال کرے گا تو مسلمان اس پر نماز پڑھیں اور یہ حدیث بھی صحیح ہے کوئی راوی اس کا ١٣

صفحہ ٣٩٧

بیٹا مریم کا پس کہے گا امیر ان کا (یعنی امیر مسلمانوں کا مہدی موعود) عیسیٰ علیہ السلام کو آئیے ہمارے لئے نماز پڑھائیے۔ تب عیسیٰ علیہ السلام فرمائیں گے، نہیں (یعنی میں نہیں نماز پڑھواتا) بے شک بعض تم میں کے بعض پر امیر ہیں۔ (یعنی امیر کو نماز پڑھانا چاہئے) یہ بزرگی دینی اللہ کی ہے اس امت کو۔

اور بھی (صحیح مسلم ج ٢ ص ٤٠٠) میں نواس بن سمعانؓ کی حدیث طویل میں کہ جس میں ذکر دجال اور یاجوج ماجوج کا ہے۔ یہ بھی آیا ہے: ”اذ بعث الله المسيح بن مريم فينزل عند المنارة البيضاء شرقى دمشق بين مهرودتين واضعا كفيه على اجنحة ملکین“ ﴿ناگاہ بھیجے گا اللہ تعالیٰ مسیح بن مریم کو یعنی عیسیٰ علیہ السلام کو پس اتریں گے، عیسیٰ سفید مینار پاس جو شرقی طرف شہر دمشق کے ہوگا۔ درمیان دو زرد رنگین کپڑوں کے، اپنے دونوں ہاتھ رکھے ہوئے بازؤں پر دو فرشتوں کے۔﴾

اور (سنن ابوداؤد ج ٢ ص ١٣٥) میں ابو ہریرہؓ سے مروی ہے کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے روایت کی کہ حضرت ﷺ نے فرمایا: ”ليس بينى وبينه “ یعنی عیسیٰ علیہ السلام نبی ”وانه نازل فاذا رأيتموه فاعرفوه رجل مربوع الحمرة والبياض بين ممصرتين كأن راسه يقطر وان لم يصبه بلل يقاتل الناس على الاسلام فيدق الصليب ويقتل الخنزير ويضع الجزية ويهلك الله فى زمانه الملل كلها الا الاسلام ويهلك المسيح الدجال فيمكث فى الارض اربعين سنة ثم يتوفى فيصلى عليه المسلمون “ ﴿نہیں درمیان میرے اور عیسیٰ علیہ السلام کے کوئی نبی اور بے شک وہ نازل ہونے والا ہے یعنی دنیا میں پس جب دیکھو تم اس کو تو پہچانو اس کو (یعنی اس علامت سے) کہ وہ ایک مرد ہے میانہ قد اور رنگ اسکا سفید سرخی مائل رہے گا اور اترے گا وہ درمیان دو کپڑے زرد رنگ کے (یعنی اس وقت عیسیٰ علیہ السلام کا یہ لباس رہے گا اور سر سے اس کے قطرے ٹپکتے ہوں گے۔ اگرچہ اس کو تری نہیں پہنچی پھر جنگ کرے گا کافروں سے اسلام لانے پر، پس توڑ ڈالے گا صلیب کو اور مار ڈالے گا سور کو اور موقوف کردے گا جزیہ لینا کافروں سے۔ (یعنی سوائے اسلام کے ان سے جزیہ لینا قبول نہ کرے گا۔) اور ہلاک کردے گا اللہ تعالیٰ اس کے زمانہ میں سب دینوں کو سوائے دین اسلام کے اور ہلاک کردے گا مسیح دجال کو پس ٹھہرا رہے گا دنیا میں چالیس ٤٠ برس پھر انتقال کرے گا تو مسلمان اس پر نماز پڑھیں گے۔﴾

اور یہ حدیث بھی صحیح ہے کوئی راوی اس کا ضعیف نہیں اور مولوی محمد بشیر نے حق الصریح

١٣

صفحہ ٣٩٨

میں کہا: ”قال الحافظ فى الفتح وروى احمد وابو داؤد باسناد صحيح من طريق عبدالرحمن بن آدم عن ابی هريرة مثله مرفوعا وفى هذا الحديث ينزل عيسى وعليه ثوبان ممصران فيدق الصليب ويقتل الخنزير ويضع الجزية ويدعو الناس الى الاسلام ويهلك الله فى زمانه الملل كلها الا الاسلام وتقع الامنة فى الارض حتى ترتع الاسود مع الابل وتلعب الصبيان بالحيات وقال فى آخره ثم يتوفى ويصلى عليه المسلمون“ ﴿کہا حافظ الحدیث امام ابن حجر عسقلانی نے فتح الباری میں روایت کی امام احمد اور ابوداؤد نے ساتھ اسناد صحیح کی طریق سے عبدالرحمن بن آدم کی ابو ہریرہؓ سے مرفوعاً اور اس حدیث میں ہے اتریں گے ۔عیسیٰ علیہ السلام اس حال میں کہ ان پر دو کپڑے رہیں گے۔ خفیف زرد رنگ کے پس توڑیں گے صلیب کو نصاریٰ کی اور مار ڈالیں گے سوروں کو اور موقوف کردیں گے جزیہ لینا اور دعوت دیں گے لوگوں کو طرف دین اسلام کے اور ہلاک و برباد کردے گا۔ اللہ تعالیٰ ان کے زمانے میں سب دین وملت کو سوائے دین اسلام کے اور ان کے وقت ایسا امن دنیا میں واقع ہوگا کہ شیر اور اونٹ مل کر چریں گے اور بچے ساتھ سانپوں کے کھیلیں گے اور کہا آخر میں اس حدیث کے پھر انتقال کریں گے۔ عیسیٰ علیہ السلام اور نماز جنازہ پڑھیں گے ان پر مسلمان۔﴾

اور جامع الصغیر میں ہے کہ حضرت ﷺ نے فرمایا: ”ینزل عيسى ابن مريم عند المنارة البيضاء شرقى دمشق طب عن اوس بن اوس“ ﴿اتریں گے عیسیٰ ابن مریم (یعنی آسمان سے آخر زمانے میں) نزدیک منارہ سفید کی جو دمشق کے مشرقی جانب میں ہوگا۔ روایت کیا اس حدیث کو طبرانی نے اوس بن اوس سے۔﴾

اور مولوی محمد بشیر نے حق الصریح میں تفسیر ابن کثیر سے نقل کیا: ”وقال ابن ابی حاتم حدثنا ابی حدثنا احمد بن عبدالرحمن حدثنا عبدالله بن ابى جعفر عن ابيه حدثنا الربيع بن انس عن الحسن انه قال قال رسول الله ﷺ لليهود ان عيسى لم يمت وانه راجع اليكم قبل يوم القيٰمة“ ﴿کہا ابن ابی حاتم نے اس مذکور اسناد سے کہا حسن بصری نے فرمایا رسول اللہ ﷺ نے یہود کو تحقیق عیسیٰ نہیں مرا اور بے شک وہ پلٹ کر آنے والا ہے تمہاری طرف آگے قیامت کے۔﴾

اگر کوئی یوں کہے کہ یہ حدیث مرسل ہے۔ قابل حجت نہیں۔ اس کا جواب یہ ہے کہ ان صاحب موصوف یوں دیتے ہیں کہ اس مرسل کی تقویت چند طرح پر ہوسکتی ہے۔ اول یہ کہ حسن

١٤

صفحہ ٣٩٩

بصری نے قسم کھا کر یہ بات کہی ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام زندہ ہیں۔ تفسیر ابن کثیر میں ہے: ”قال ابن جریر حدثنی یعقوب حدثنا ابن علیة حدثنا ابو رجاء عن الحسن وان من اهل الکتاب الا لیؤمنن به قبل موت عیسیٰ والله انه لحی الان عندالله ولکن اذا نزل آمنوا به اجمعون“ ﴿کہا ابن جریر نے ساتھ اسناد مذکور کے حسن بصری سے تفسیر میں آیت مذکور کی مراد قبل موتہ سے آگے موت عیسیٰ علیہ السلام کی ہے۔ قسم ہے اللہ کی بے شک وہ عیسیٰ زندہ ہیں۔ اب نزدیک اللہ کے ولیکن جب وہ نازل ہوں گے ایمان لائیں گے ان پر اہل کتاب سب۔﴾

پھر کہا پس معلوم ہوا کہ یہ مرسل حسن کے نزدیک قوی ہے۔ وگرنہ قسم نہ کھاتے اور یحییٰ کا خلاصہ میں ہے: ”قال ابو زرعة کل شیء قال الحسن قال رسول اللہ ﷺ وجدت له اصلا ما خلا اربعة احادیث“ ﴿ابو زرعہ نے کہا جس حدیث کو حسن بصری نے قال رسول اللہ ﷺ کہا پائی میں نے اس کے لئے اصل مگر چہار حدیثیں۔﴾

یعنی ان کی اصل میں نے نہیں پائی۔ اقول ملخصاً میں کہتا ہوں یہ ساری تقویت مرسل حسن بصری وغیرہ کے واسطے اہلحدیث کی کیا حاجت کیونکہ حنفیہ کے ہاں مطلق مرسل کہ مرسل اس کا ثقہ ہو اور قرن ثانی یا ثالث سے ہو حجت ہے۔ بلکہ وہ فوق مسند ہے یہ بات تو اصول حنفیہ میں مسلمہ ہے۔ میں یہاں فقط دو کتاب اصول سے جو پرانی اور معتبر ہیں نقل کرتا ہوں۔ اصول حسامی میں ہے: ” فالمرسل من الصحابی محمول علی السماع ومن القرن الثانی والثالث علی انه وضح له الامر واستبان له الاسناد وهو فوق المسند“ ﴿پس مرسل حدیث صحابی سے وہ محمول ہے سننے پر (یعنی رسول اللہ ﷺ سے سننے پر محمول ہے۔) اور مرسل تابعین اور تبع تابعین کی سو وہ محمول ہے۔ اس بات پر کہ ظاہر ہوا ہو حال اس حدیث کا اور ظاہر ہوئی ہو واسطے اس ارسال کرنے والے کے اسناد اس حدیث کی اور وہ مرسل یعنی اس طرح کی مرسل حدیث بڑھ کر ہے مسند سے۔﴾

اور توضیح میں ہے ”ومرسل القرن الثانی والثالث لا یقبل عند الشافعی الا ان یثبت اتصاله من طریق اخر ویقبل عندنا وعند مالک وهو فوق المسند“ ﴿اور مرسل حدیث قرن ثانی اور ثالث کی یعنی تابعین و تبع تابعین کی مقبول نہیں نزدیک شافعی کے مگر یہ کہ ثابت ہووے اتصال اس کا دوسری طریق سے اور نزدیک ہمارے اور نزدیک امام مالک کے وہ مرسل مقبول ہے اور وہ بڑھ کر ہے مسند سے۔﴾

١٥

صفحہ ٤٠١

اور آثار صحابہ و تابعین کے یعنی اقوال ابو ہریرہ اور ابن عباسؓ اور ابو مالکؓ اور حسن بصریؒ وغیرہم کے تحت میں بیان پچھلی دو آیت کے گزر چکے۔ اعادہ کی حاجت نہیں۔ پس اس قدر قوت کے ساتھ جو بات دین کی ثابت ہو اس کے ماننے کی اہل ایمان کو کس قدر ضرورت ہے اور اس کے نہ ماننے میں کس قدر خرابی دین و ایمان کی متصور ہے۔ سو ادنیٰ مومن پر بھی پوشیدہ نہ ہوگی۔

قطع نظر اگلے دلائل قطعی وظنی آیات واحادیث وغیرہا کی فقط اس حدیث مرسل کو حسن بصری کی مرزا قادیانی اور ان کی اتباع کو ماننا ہی ضرور ہوا کیونکہ وہ حنفی کہلاتے ہیں۔ پس اپنا دعویٰ جو عیسیٰ علیہ السلام کے زندہ نہ رہنے کا کر رہے ہیں۔ چھوڑ دینا اور ان کی حیات کی اور پھر دنیا میں نازل ہونے کے۔ قائل ہو جانا ضروری ہے۔ وگرنہ ضدی جہلاء میں شمار کئے جائیں گے۔ دیگر مرزا قادیانی نے آیت بل رفعہ اللہ کی استدلال پر اور آیت دکھلا جو شبہے اور اعتراض اپنی تحریرات میں کئے ہیں۔

اور وہ کتاب حق الصریح میں مندرج ہیں۔ لکھ کر ان کے جوابات شافی طور بحولہ تعالیٰ وقوتہ دیتا ہوں تا اس کے ضمن میں ان کی دونوں دلائل ایک آیت سورہ آل عمران کی ”واذ قال اللہ یا عیسیٰ انی متوفیک ورافعک الیٰ ومطہرک من الذین کفروا“ اور دوسری آیت سورہ مائدہ کی ”فلما توفیتنی انت الرقیب علیہم“ کا جواب بھی حاصل ہوجائے۔ قول مرزا غلام احمد قادیانی جو کتاب حق الصریح کے ص ٤٥ میں مندرج ہے۔ تیسری دلیل آپ نے یہ پیش کی ہے۔ سورہ نساء میں ہے ”وما قتلوہ یقیناً بل رفعہ اللہ وکان اللہ عزیزاً حکیماً“ آپ اس میں بھی قبول کرتے ہیں کہ آیت قطعیۃ الدلالۃ نہیں مگر باوجود اس کے آپ کے دل میں یہ خیال ہے کہ اس رفع سے رفع مع الجسد مراد ہے۔ کیونکہ ”وما قتلوہ وما صلبوہ“ کی ضمیر کا مرجع قطعاً روح مع الجسد ہے لہٰذا بل رفعہ کی ضمیر کا مرجع بھی روح مع الجسد ہے۔ لیکن حضرت آپ کی یہ سخت غلطی ہے۔

١...... قول! مولوی محمد بشیر صاحب کو اگرچہ اگلی تحریر کے وقت میں اس آیت کی قطعیۃ الدلالۃ بالذات ہونے میں تردد تھا۔ پھر جب اللہ نے ان پر کھول دیا تو نویں صفحے میں حق الصریح کی کہا۔ اگر چہ خاکسار نے تحریر اول میں غیر قطعیۃ الدلالۃ لکھا ہے۔ مگر اب میری رائے یہ ہے کہ یہ آیت قطعیۃ الدلالۃ ہے حیات مسیح علیہ السلام پر۔

پس اعتراض مرزا کا باطل ہوگیا۔ دیگر مرزا قادیانی نے اس استدلال مذکور کا مولوی صاحب کے کچھ جواب نہ دیا کیونکہ ان کو ضرور تھا کہ اس استدلال کا ابطال کر دیتے وگرنہ ان

١٦

کے قول کو صحیح وحق مان لیتے۔ پس بغیر ابطال اس سخت غلطی ہے۔ بڑی زبردستی کی بات ہے اور ا درجہ کی ہے۔ کیونکہ یہ آیت نہ ذوالوجوہ ہے اور اختلاف ہے۔

قولہ ..... بلا فصل نفی قتل اور نفی مصلوبیت سے صر اللہ جل شانہ نے مصلوب ہونے سے بچالیا۔

اقول ..... قتل اور مصلوب ہونے سے بچالیا کیو سو اس کا سبب یہی معلوم ہوتا ہے کہ قتل سے بھی ہو جاتی ہے وہ ان کی مطلب اور مدعا کے خلاف ۔

مرزا قادیانی اس قول کو اپنا جواب استدلال مولو ہے۔ کیونکہ مولوی صاحب کے اس استدلال ک چڑھانے سے عیسیٰ علیہ السلام کو بچا لیا تو عیسیٰ علیہ پھر اس کے ساتھ ان کا رفع طرف اپنے فرمایا تو و اپنی طرف اٹھا لیا۔ پس اس سے زیادہ بصراحت پھر یہ بات غلط کیسے ہوئی۔ بلکہ مرزا قادیانی کا اعتر

قولہ ..... بلا فصل اور آیت ”بل رفعہ اللّ دوسری آیت میں ہو چکا ہے اور اس آیت کو کیو چاہئے۔ جس میں رفع کا وعدہ ہوا تھا اور وہ آیت الی (آل عمران:٥٥) ”حضرت اس رافع ہے جو آیت ”بل رفعہ اللہ الیہ“ میں پورا ک

اب آپ وعدہ کی آیت پر نظر ڈال الفور آپ کو نظر آجائے گا کہ اس سے پہلے ”انی سے جس میں ایک وعدہ کی آیت اور ایک ایفاء سے وعدہ تھا اسی طرز سے وہ پورا ہونا چاہئے تھا ی

یعنی وعدہ یہ تھا کہ اے عیسیٰ میں ہوں۔ اس سے صاف کھل گیا کہ ان کی روح

صفحہ ٤٠١

کے قول کو صحیح وحق مان لیتے۔ پس بغیر ابطال اس کے مرزا قادیانی کا یہ کہنا لیکن حضرت آپ کی سخت غلطی ہے۔ بڑی زبردستی کی بات ہے اور اس فقیر کے نزدیک یہ آیت اس باب میں اول درجہ کی ہے۔ کیونکہ یہ آیت نہ ذوالوجوہ ہے اور نہ کسی کا سلف وخلف کے مفسرین سے اس میں اختلاف ہے۔

قولہ ...... بلافصل نفی قتل اور نفی مصلوبیت سے صرف یہ مدعا اللہ جل شانہ کا ہے کہ مسیح علیہ السلام کو اللہ جل شانہ نے مصلوب ہونے سے بچالیا۔

اقول ...... قتل اور مصلوب ہونے سے بچالیا کہنا ضرور تھا سو مرزا قادیانی نے قتل کو حذف کردیا۔ سو اس کا سبب یہی معلوم ہوتا ہے کہ قتل سے بھی بچالیا۔ کہنے سے حیات عیسیٰ علیہ السلام کی ثابت ہوجاتی ہے وہ ان کی مطلب اور مدعا کے خلاف ہے۔”نعوذ بالله من هذه الخيانة“اگر مرزا قادیانی اس قول کو اپنا جواب استدلال مولوی صاحب مذکور کا سمجھتے ہیں تو یہ ان کی سخت غلطی ہے۔ کیونکہ مولوی صاحب کے اس استدلال کا خلاصہ یہ ہے کہ جب خدا نے قتل اور سولی پر چڑھانے سے عیسیٰ علیہ السلام کو بچا لیا تو عیسیٰ علیہ السلام کا بجسم وجان سلامت رہنا ثابت ہوگیا۔ پھر اس کے ساتھ ان کا رفع طرف اپنے فرمایا تو صاف ثابت ہو گیا ہے کہ ان کو ساتھ جسم وجان کے اپنی طرف اٹھا لیا۔ پس اس سے زیادہ بصراحت تمام عیسیٰ علیہ السلام کی حیات کا ثبوت اور کیا ہوگا۔ پھر یہ بات غلط کیسے ہوئی۔ بلکہ مرزا قادیانی کا اس کو غلط کہنا سخت غلط اور نہایت بے جا ہے۔

قولہ ...... بلافصل اور آیت”بل رفعه الله اليه“اسی وعدہ کو ایفاء کی طرف اشارہ ہے۔ جو دوسری آیت میں ہو چکا ہے اور اس آیت کو ٹھیک ٹھیک معنی سمجھنے کے لئے اس آیت کو بغور پڑھنا چاہئے۔ جس میں رفع کا وعدہ ہوا تھا اور وہ آیت یہ ہے:”يا عيسى اني متوفيك ورافعك الیٰ (آل عمران:٥٥)“حضرت اس رافعک الیٰ میں جو رفع کا وعدہ دیا گیا تھا۔ یہ وہی وعدہ ہے جو آیت ”بل رفعه الله اليه“میں پورا کیا گیا۔

اب آپ وعدہ کی آیت پر نظر ڈال کر دیکھئے کہ اس کے پہلے کونسا لفظ موجود ہے۔ فی الفور آپ کو نظر آجائے گا کہ اس سے پہلے”انی متوفیک“ہے اب ان دونوں آیتوں کے ملانے سے جس میں ایک وعدہ کی آیت اور ایک ایفاء وعدہ کی آیت ہے۔ آپ پر کھل جائے گا کہ جس طرز سے وعدہ تھا اسی طرز سے وہ پورا ہونا چاہئے تھا۔

یعنی وعدہ یہ تھا کہ اے عیسیٰ میں تجھے مارنے والا ہوں اور اپنی طرف اٹھانے والا ہوں۔ اس سے صاف کھل گیا کہ ان کی روح اٹھائی گئی ہے۔ کیونکہ موت کے بعد روح ہی اٹھائی

١٧

صفحہ ٤٠٢

جاتی ہے نہ کہ جسم ۔ انتہی۔

اقول ...... اس تقریر میں مرزا قادیانی نے بڑی محنت اٹھائی اور اپنی نظر دقیق بہت دوڑائی با ایں ہمہ وہ نظر ذرہ وہ تحقیق تک نہ پہنچی بسبب کور ہونے اس کے کہ کیونکہ انہوں نے انی متوفیک کے ماقبل کی آیت پر جو ” ومکروا ومکر الله والله خیر المکرین (آل عمران : ٥٤) “ ہے اور اس قصہ کے ساتھ متعلق ہے۔ نظر نہ ڈالی کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ یہود نے مکر کیا اور اللہ نے بھی مکر کیا اور اللہ نیک تر ہے مکر کرنے والوں کا۔ یعنی اللہ کا مکر قوی تر ہے۔ کوئی اس کو پھیرنے والا نہیں۔

یہود کا مکر یہی تھا کہ انہوں نے چاہا کہ عیسیٰ علیہ السلام کو حالت غفلت میں ناگاہ مار ڈالیں تا بھاگنے نہ پاوے سو انہوں نے ایسی ہی تجویز کی۔ اللہ نے ان کی اس تجویز سے عیسیٰ علیہ السلام کو خبر دار کر دیا اور ان کی تسلی کے لئے یہ فرمایا: ”عیسیٰ انی متوفیک ورافعك الیٰ (آل عمران: ٥٥)“ اگر اس متوفیک کے معنی اس طرح کہے جائیں جیسا کہ مرزا قادیانی اور ان کے اتباع کہتے ہیں۔ یعنی اے عیسیٰ میں تجھ کو اب مار ڈالنے والا ہوں اور تیری روح کو اپنی طرف اٹھا لینے والا ہوں۔ یہ ہرگز درست نہ ہوگا کیونکہ اس بات سے عیسیٰ علیہ السلام کو ان کے مکر کی آفت سے جو موت کی دہشت ہے کیا تسلی حاصل ہو سکتی ہے؟ بلکہ اس بات سے اور وحشت ان کی بڑھ جائے گی اور پھر اس سے یہودیوں کے مکر کا کیا رد نکلتا ہے؟ بلکہ اس سے یہودیوں کی مراد ہی حاصل ہوتی ہے۔

کیونکہ وہ بھی تو عیسیٰ علیہ السلام کی موت کے ہر طرح خواہاں تھے کسی طور سے ہو ان کا مرجانا ہی یہود چاہتے تھے۔ دیگر اس کام سے یعنی خدائے تعالیٰ کی بالفعل عیسیٰ علیہ السلام کو مار ڈالنے سے یہود کے مراد کا کیا خلاف ہوا اور ان کے مکر کا کیا رد نکلا اور اپنا مکر ان پر کیا چلایا جو آپ کو خیر الماکرین کہا۔

پس ”انی متوفیک“ میں معنی میں تجھ کو اب مار ڈالنے والا ہوں کہنا درست نہ ہوا تو اس کے دوسرے معنی کہنا ضرور ہوئے۔ ایسے معنے کہ دوسری آیتوں کی قطعی معنوں کے ساتھ مخالف نہ پڑیں۔

اس کی کئی صورتیں ہیں ایک یہ کہ معنے متوفیک میں یوں کہیں۔ ”ای انی مستوفٍ اجلك ومتمم عمرك حتى تبلغ الكهولة وانى رافعك اليّ الآن من غير قتل وصلب بايديهم“ یعنی میں تیری اجل اور عمر کو پوری کرنے والا ہوں۔ تا پہنچے تو ادھیڑ عمر کو اور بالفعل میں تجھ کو اپنی طرف اٹھا لینے والا ہوں بغیر قتل اور سولی کے ہاتھوں سے یہود کی اس معنے کو آیت

١٨

وکہلا کے ساتھ موافقت بھی ہوتی ہے۔ کیونکہ ثابت ہے۔

اور ان کو مکر سے پوری تسلی بھی حاصل ہے۔ مصباح المنیر میں ہے۔ ” وتوفيته واستوفيته کے معنی ہیں اور صراح میں ہے استیفا وتوفی تمام گرفتن کے معنی یعنی میں تجھ کو قبض کرنے والا ہوں۔ پورا وافیاً“ ہیں۔ یعنی ایک چیز کا پورا لے لینا اگرا سمجھنے کی گنجائش نکلتی کہ فقط روح عیسیٰ علیہ السلا مومنوں کی روح اٹھائی جاتی ہیں۔

تب یہ بات موت عیسیٰ کی نفی جو نص اس لئے اللہ نے متوفیک بھی اس کے آگے فرما پورا با جسد و جان اٹھا لیا۔ امام رازی نے بھی تفسی اس کو بھی بیان کیا ہے اور یہ معنی لغت اور محاور موجود ہیں۔

صراح میں ہے تو فی تمام گرفتن حق عرب وفانی فلاں دراہمی فتوفیتہا منہ یعنی فلاں پورے درہم اس سے قبض کر لئے اور شواہد قرآ

يوماً ترجعون فيه الى الله ثم ت ڈرو تم اس روز سے کہ پھیرے جاؤ گے تم ا نے کمایا اور ان پر ظلم نہ ہوگا۔ ﴾

اور سورہ آل عمران : ١٦١، جزء لن تنا وهم لا يظلمون“ پھر پوری ملے گی ہر

اور اسی سورہ میں ہے : ” وانما نہیں کہ تم پورے دیئے جاؤ گے اپنا اجر روز قیام

اور سورہ نحل : ١١١ میں ہے : ” وتو یعنی پوری دی جائے گی ہر جان کو جز ا اس کی

صفحہ ٤٠٣

وکہلا کے ساتھ موافقت بھی ہوتی ہے۔ کیونکہ اس آیت میں ادھیڑ عمر تک عیسیٰ علیہ السلام کا پہنچنا ثابت ہے۔

اور ان کو مکر سے پوری تسلی بھی حاصل ہوتی ہے اور متوفی کے معنی متوفی ہونے ثابت ہے۔ مصباح المنیر میں ہے۔” وتوفیتہ واستوفیتہ “ یعنی توفیۃ اور استوفیۃ کے ایک ایک معنی ہیں اور صراح میں ہے استیفا وتوفی تمام گرفتن حق۔ دوسری صورت یہ کہ معنے متوفیک کے قبض کے ہیں یعنی میں تجھ کو قبض کرنے والا ہوں۔ پورا یعنی باجسم کیونکہ توفی کے لغوی معنی ”اخذ الشئ وافیاً “ ہیں۔ یعنی ایک چیز کا پورا لے لینا اگر اللہ تعالیٰ فقط رافعک الیٰ کہتا تو بعض لوگوں کو یوں سمجھنے کی گنجائش نکلتی کہ فقط روح عیسیٰ علیہ السلام کی طرف اٹھائی گئی نہ باجسد جیسا کہ دوسرے مومنوں کی روح اٹھائی جاتی ہیں۔

تب یہ بات موت عیسیٰ کی نفی جو نص قرآن سے ثابت ہے۔ اس کے معارض پڑتی۔ اس لئے اللہ نے متوفیک بھی اس کے آگے فرمایا تا دلالت کرے یہ کلام کہ عیسیٰ علیہ السلام کو اللہ نے پورا باجسد و جان اٹھا لیا۔ امام رازی نے بھی تفسیر کبیر میں کئی وجوہ بیان کیے ہیں۔سو چھٹویں وجہ میں اس کو بھی بیان کیا ہے اور یہ معنی لغت اور محاورہ عرب کے بھی برابر ہیں اور اس پر شواہد قرآنی بھی موجود ہیں۔

صراح میں ہے توفی تمام گرفتن حق اور منتخب اللغات میں ہے توفی تمام بستاندن اور قول عرب وفانی فلاں دراہمی فتوفیتھا منہ یعنی فلاں نے میرے پورے درہم دے دیئے۔ پس میں نے پورے درہم اس سے قبض کر لئے اور شواہد قرآنی سورہ بقر :٢٨١ ، جزء تلک الرسل میں ہے: ”واتقوا

یوماً ترجعون فیہ الی اللہ ثم توفی کل نفس ما کسبت وہم لا یظلمون“

﴿ڈرو تم اس روز سے کہ پھیرے جاؤ گے تم اس روز طرف اللہ کے پھر پورا ملے گا ہر جان کو جو اس نے کمایا اور ان پر ظلم نہ ہوگا۔﴾

اور سورہ آل عمران : ١٦١ ، جزء لن تنالوا میں ہے ”ثم توفی کل نفس ما کسبت وہم لا یظلمون“ ﴿پھر پوری ملے گی ہر جان کو اس کی کمائی اور ان پر ظلم نہ ہوگا۔﴾

اور اسی سورہ میں ہے: ”وانما توفون اجورکم یوم القیمۃ“ یعنی سو اس کے نہیں کہ تم پورا دیئے جاؤ گے اپنا اجر روز قیامت میں۔

اور سورہ نحل : ١١١ میں ہے: ”وتوفی کل نفس ما عملت وہم لا یظلمون“ یعنی پوری دی جائے گی ہر جان کو جزا اس کے عمل کی اور ان پر ظلم نہ ہوگا۔

١٩

صفحہ ٤٠٤

پس یہ معنی جو ہم نے دوسری صورت میں بیان کئے ۔ بلا شک صحیح ٹھہرے اور اس سے ان کے استدلال کی آیت ”فلما توفیتنی كنت انت الرقيب عليهم “ کا بھی جواب نکل سکتا ہے۔ یعنی نظر بایں معنی تفسیر اس کی یوں ہو سکتی ہے ۔ ”ای فلما قبضتنی ای کاملا ای اخذتنی مع الجسد بلا صعود اليك وجعلتنی كالميت في الغيبوبة عن الناس كنت انت الرقيب عليهم “ ﴿ یعنی پھر جب تو نے قبض کر لیا مجھ کو پورا یعنی ساتھ جسم و روح کے اٹھا لیا اور کر دیا مجھ کو مانند میت کے غایب رہنے میں لوگوں سے تو ہی تھا نگہبان ان پر یعنی بنی اسرائیل کا حال تو ہی جانتا تھا۔ ﴾

تیسری صورت یہ کہ متوفیک میں معنی ممیتک ہی کے لیں۔ جیسا کہ ابن عباسؓ سے نقل کرتے ہیں، اگر چہ وہ روایت ضعیف بھی ہو۔ لیکن اس کا مطلب یوں سمجھنا ضروری ہے : ”انی متوفيك اى انى مميتك بعد النزول فى اخر الزمان ورافعك الى الان من غير موت“ ﴿یعنی میں تجھ کو موت دینے والا ہوں بعد نازل ہونے تیرے کے آخر زمانہ میں اور اب میں تجھ کو اٹھا لینے والا ہوں طرف اپنے یعنی آسمان پر بغیر موت کے۔﴾

اس معنی کو احادیث نزول جو مذکور ہو چکیں۔ قوت دیتی ہیں اور یہ معنی موافق آیت وکہلا کے بھی ہیں اور اس میں مخالف کو جائے اعتراض بھی نہیں۔ کیونکہ متوفی اسم فاعل ہے۔ دلالت اس کی زمانہ حال و استقبال دونوں پر ہو سکتی ہے۔ ویسا ہی صیغہ رافع بھی اسم فاعل ہے۔ اس کا بھی وہی حال ہے اور واؤ واسطے جمع کے ہے۔ نہ واسطے ترتیب کے تا مارنا ہی مقدم ہونا ۔ ضرور ہو پس متوفیک میں استقبال کے معنی اور رافعک میں حال کے معنے بے شک صحیح ہو سکتے ہیں۔

یعنی میں تجھ کو آئندہ مارنے والا ہوں اور اب تجھ کو بسلامتی جسم و جان اپنی طرف اٹھا لینے والا ہوں تا یہود کا مکر تجھ پر نہ چلے۔ پس اس میں تسلی کامل عیسیٰ کو حاصل ہوتی ہے اور آیت میں جو وعدہ اٹھا لینے کا ہوا اسی وقت اس کا وفا ہو چکا یعنی اسی اعلام کے بعد اسی روز اٹھا لیا جیسا کہ اس بات پر ابن عباسؓ کا قول مذکور صاف دلالت کرتا ہے۔ پس آیت ”بل رفعه الله اليه “ کی اس بات پر خبر دیتی ہے اور یہود کے زعم کا رد کرتی ہے۔

یعنی یہودیوں نے عیسیٰ علیہ السلام کو نہ مار ڈالا اور نہ سولی دی ۔ بلکہ اللہ نے اس کو پورا باجسم و جان اپنی طرف اٹھا لیا اور یہودیوں کے مکر کو باطل کر دیا اس طور سے کہ انہوں نے جس کو قتل کیا اور سولی دی وہ عیسیٰ نہ تھا بلکہ وہ شبیہ عیسیٰ تھا۔ خدا کا مکر یہی تھا کہ ان کا مکر چلنے نہ دیا اور ان کو شک و اختلاف میں ڈال دیا کوئی تو کہتا ہے کہ ہم نے عیسیٰ علیہ السلام کو ہی مار ڈالا کوئی کہتا نہیں

٢٠

صفحہ ٤٠٥

کیونکہ چہرہ مقتول کا چہرہ عیسیٰ کا ہے نہ جسد۔

اور وہ جو مرزا قادیانی نے کہا ان دونوں آیتوں کے ملانے سے کہ جن میں ایک وعدہ کی آیت اور ایک ایفائے وعدہ کی آیت ہے۔ آپ پر کھل جائے گا الی آخرہ یہ بات اس وقت صحیح ہوتی کہ توفی کے معنے موت ہی کے ہوتے اور یہی رافعک پر فاء یا ثم آیا ہوتا کیونکہ فاء اور ثم واسطے ترتیب کے ہے نہ واؤ۔

پس جب یہ دونوں بات نہیں تو پھر مرزا کا جزم کرنا مقدم ہونے پر موت کے رفع پر کس طرح صحیح ہو سکے ہرگز نہیں اور ہم نے جو کہا یہ بات اس وقت صحیح ہوتی کہ توفی کے معنی موت ہی کے ہوتے سو وہ اس لئے ہے کہ توفی کے معنی نیند کے بھی ہوتے ہیں؛ اور یہی معنی اکثر مفسرین متقدمین کے نزدیک مراد ہیں جیسا کہ ابن کثیر کی تفسیر سے قاضی عبید اللہ صاحب نے اپنے فتویٰ میں نقل کیا:

"وقال الاکثرون المراد بالوفاۃ ھنا النوم کما قال الله تعالیٰ وھو الذی یتوفکم باللیل الآیۃ وقال الله یتوفی الانفس حین موتھا والتی لم تمت فی منامھا الآیۃ" پس جب ان دونوں آیتوں کی سند سے اکثر مفسرین نے کہ جن میں حسن بصری اور ربیع ابن انس بھی ہیں۔ یہاں توفی سے مراد نیند لی ہے تو مرزا قادیانی کا ان کے خلاف میں موت ہی کے معنی مراد لینا کیوں کر صحیح ہو سکے گا یہ بات کسی عالم عاقل پر پوشیدہ نہ ہوگی۔

پس اس تحریر سے ہماری صاف ان کے دعویٰ کا بطلان ظاہر ہو چکا اور وہ جو انہوں نے اپنی تیسری تحریر میں کہا یہ بات ظاہر ہے کہ موت اور رفع میں ایک ترتیب طبعی واقع ہے۔ ہر ایک مومن پہلے فوت ہوتا پھر اس کا رفع ہے۔ اسی ترتیب طبعی پر یہ ترتیب وضعی آیت کی دلالت کر رہی ہے۔ کہ پہلے متوفیک فرمایا اور پھر بعد اس کے رافعک کہا۔

اقول...... یہ مرزا قادیانی کا وہم ہے کیونکہ درمیان موت و رفع کے اگر ترتیب طبعی ہوتی تو خصوصیت مومن کی نہ رہتی کیونکہ طبعی لوازم میں مؤمن و کافر کا فرق نہیں پس اس سے آیت میں ترتیب وضعی جو بتائی وہ بھی باطل ہو چکی ہے۔ غرض ہماری اس تحریر سے ان کے دعوے کا بطلان ظاہر ہو چکا۔ پس عیسیٰ علیہ السلام کا زندہ طرف آسمان کے اٹھائے جانے میں اور قریب قیامت کے پھر آسمان سے دمشق کی شرقی سفید منارہ کے پاس دو ملک کے بازوؤں پر اپنے ہاتھ رکھے ہوئے اترنے میں۔ جیسا کہ آگے صحیح حدیثوں سے تفصیل گزر چکا۔ کچھ شک نہ رہا۔

قولہ...... وسوسہ مرزا قادیانی کا تحریر اول میں جیسا کہ حق الصریح میں لایا گیا ہے دوسری دلیل آپ نے یہ پیش کی ہے: "ویکلم الناس فی المھد وکھلاً" اور آپ کھل کے لفظ سے

٢١

صفحہ ٤٠٦

درمیان عمر کا آدمی مراد لیتے ہیں۔ مگر یہ صحیح نہیں ہے۔

اقول: بے شک صحیح ہے بلکہ مرزا قادیانی کا اس کو صحیح نہیں کہنا غیر صحیح ہے کیونکہ مولوی محمد بشیر صاحب کی اس مراد کی صحت پر کتب لغات کی گواہی دیتی ہیں۔ مولوی محمد بشیر نے اپنی کتاب حق الصریح میں صحاح جوہری اور قاموس سے نقل کیا: ”الکہل من وخطہ الشیب ورئیت لہ بجالہ“ یعنی کہل وہ مرد ہے کہ جس کے بالوں میں بوڑھا پن یعنی سپیدی مخلوط ہو۔ یعنی دومویہ رہے اور دیکھی جائے اس کے لئے بزرگی۔

یعنی لوگ اس کو بزرگی کی نظر سے دیکھیں۔ کیونکہ اس عمر میں آدمی اپنے پہلے کام چھوڑ کر بردباری وحلم اختیار کرتا ہے۔ صراح میں ہے کہل مردمیانہ سال اور منتخب اللغات میں ہے، کہل بالفتح مردمیانہ سال اور کشف اللغات میں بھی کہل بفتح مردمیانہ سال و نیم پیر اور غیاث میں ہے۔ کہل بالفتح مردمیانہ سال یعنی میان جوانی و پیری باشد اور کتاب التکبیر میں ہے۔

”ثم یصیر صملاً إلى اربعین سنة ثم یصیر کہلا الى خمسین سنة ثم یصیر شیخاً الى ثمانین سنة“ پھر ہو جاتا ہے۔ مرد تیس برس کے بعد صمل چالیس برس تک پھر ہو جاتا ہے۔ چالیس برس سے کہل پچاس تک پھر ہو جاتا ہے۔ پچاس برس سے شیخ یعنی بوڑھا اسی برس تک۔ ﴿

اور مصباح المنیر میں لکھا ہے: ”شب الصبی یشب من باب ضرب شبابا وشبیبة وہو شاب وذالک قبیل الکہولة“ جوان ہوا بچہ یا جوان ہوگا یہ باب سے ضرب یضرب کے ہی مصدر اس کا شباب و شبیبہ ہے اور اسم فاعل اسکا شاب ہے۔ یعنی جوانی رکھنے والا اور یہ عمر پہلے عمر کہولت کی ہے۔ ﴿

یعنی جوانی کے بعد کہل یعنی ادھیڑ ہوتا ہے۔ پس جب عیسیٰ علیہ السلام کو صحیح قول کے رو سے تینتیس سال کے اندر اللہ نے اٹھا لیا تو جوانی میں اٹھا لینا ثابت ہوا۔ پس کہولت یعنی ادھیڑ ہونا ان کے لئے باقی رہا۔

قولہ...... بلافصل صحیح بخاری میں دیکھیے جو کتاب اللہ کے بعد اصح الکتب ہے۔ اس میں کہل کے معنے جوان مضبوط کے لکھے ہیں اور یہی معنے قاموس اور تفسیر کشاف وغیرہ میں موجود ہیں۔ انتہی

اقول...... اس کی جواب میں مولوی محمد بشیر نے یہ لکھا اس کا جواب خاکسار کی طرف سے یہ ہوا کہ صحیح بخاری میں تو یہ ہے۔

”قال مجاہد الکہل الحلیم“ جوان مضبوط اس سے کس طرح سمجھا جاتا ہے؟ اس

٢٢

صفحہ ٤٠٧

کا جواب مرزا قادیانی نے یہ دیا کہ حلیم وہ ہے جو مبلغ الحلم کا مصداق ہو اور جو حلم کے زمانہ تک پہنچے وہ جوان مضبوط ہی ہوتا ہے۔ جواب اس کا خاکسار کی طرف سے یہ ہوا کہ یہ حصر غیر مسلم ہے کیونکہ حلیم قرآن مجید میں صفت غلام کی آئی ہے۔ فرمایا اللہ تعالیٰ نے: ”فبشرناہ بغلام حلیم“ اور غلام کے معنی کودک صغیر کے ہیں۔ ”کما فی الصراح“ پس محتمل ہے کہ حلیم...... پر ماخوذ ہو حلم سے جو آہستگی اور بردباری کے معنے میں ہے۔ اس کا جواب مرزا قادیانی نے کچھ نہیں دیا۔

یہ فقیر کہتا ہے کہ حلم بالکسر جو آہستگی اور بردباری کے معنے میں ہے۔ اس کا اسم فاعل حلیم ہے۔ یعنی بردباری رکھنے والا اور حلم بضمتین جو بالغ خواب دیکھنے کے معنے میں ہے۔ جیسا کہ قرآن مجید میں ہے۔ ”واذا بلغ الاطفال منکم الحلم فلیستا ذنوا“ یعنی جب پہنچیں لڑکے تم میں سے بلوغ کو۔

اور شاہ ولی اللہ دہلوی نے ترجمہ اس کا بحد احتلام لکھا ہے۔ غرض اسم فاعل اسکا محتلم اور حالم ہے۔ کتاب معتکر میں لکھا ہے: ”فاذا قارب الاحتلام فهو مراهق واذا بلغ الحلم فهو محتلم وحالم“ ”جب قریب ہوتا ہے کودک انزال کے یعنی بالغ ہونے کے قریب ہوتا ہے۔ تو وہ مراحق ہے۔ یعنی اس کو مراحق کہتے ہیں۔ پھر جب وہ پہنچ جاتا ہے۔ حلم کو یعنی خواب جماع دیکھنے اور انزال کرنے کی عمر کو پس اس کو محتلم اور حالم کہتے ہیں۔“

پس مرزا قادیانی نے جو کہا حلیم وہ ہے جو مبلغ الحلم کا مصداق ہو۔ صاف غلط ہے۔ کیونکہ اس کو محتلم اور حالم کہتے ہیں نہ حلیم یہ بات اہل علم پر جو محاورہ عرب سے واقف ہیں پوشیدہ نہیں۔

اور مجاہد نے معنی کہل کے حلیم کہے سو شاید اسی اعتبار سے کہے کہ جب آدمی ادھیڑ ہوتا ہے۔ اکثر ہے کہ وہ حلیم ہوتا ہے۔ یعنی بردبار ہے۔ جوانی میں جو تند مزاج اور جلد غصے میں آتا ہے اور بے تامل و تدبر کوئی کام کر دیتا ہے۔ جب ادھیڑ ہوتا ہے۔ یہ سب چھوڑ دیتا ہے۔ اس لئے لوگ بزرگی کی نظر سے دیکھتے ہیں اور اس عمر میں بدن کی مضبوطی میں تھوڑا ڈھیلا پن آتا ہے۔ مرزا قادیانی نے حلیم کے معنی جوان مضبوط جو کہے حلیم کے الٹے معنی کہے۔ غرض مولوی محمد بشیر صاحب نے فتح الباری کی اور شرح قسطلانی کی اور قاموس اور تفسیر کشاف کی عبارتیں لکھیں۔ ان عبارات سے صاف ظاہر ہے کہ کہل کے معنی جوان مضبوط کے نہ صحیح بخاری میں ہیں اور نہ قاموس میں اور نہ کشاف میں۔

اس سے معلوم ہوتا ہے کہ مرزا قادیانی اپنی بات بنانے کے لئے کبھی کبھی جھوٹ بھی استعمال کرتے ہیں۔ یہ بہت نازیبا بات ہے۔

٢٣

صفحہ ٤٠٩

قولہ ...... بلافصل اور سیاق و سباق آیات کا بھی انہیں معنوں کے چاہتا ہے کیونکہ اللہ جل شانہ کا اس کلام سے مطلب یہ ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام بن مریم نے خردسالی کے زمانہ میں کلام کر کے اپنی نبی ہونے کا اظہار کیا۔ پھر ایسا ہی جوانی میں بھر کر اور مبعوث ہو کر اپنی نبوت کا اظہار کرے گا۔ سو کلام سے مراد خاص کلام ہے۔ جو حضرت مسیح علیہ السلام نے ان یہودیوں سے کیا تھا۔ جو بے جا الزام ان کی والدہ پر لگاتے تھے اور جمع ہو کر آئے تھے مریم تو نے یہ کیا کام کیا۔

پس یہی معنی منشاء کلام الہی کے مطابق ہیں اگر ادھیڑ عمر کے زمانہ کا کلام مراد ہوتا تو اس میں یہ آیت نعوذ باللہ لغو ٹھہرتی گویا اس کے یہ معنی ہوتے کہ مسیح نے خردسالی میں کلام کیا اور پھر پیرانہ سالی کے قریب پہنچ کر کلام کرے گا اور درمیان کی عمر میں بے زبان رہے گا۔

اقول ...... سیاق و سباق آیات کا بھی انہیں معنوں کو چاہتا ہو۔ ورنہ تم نے جو کہا مجرد دعویٰ ہے یا وہم اور کہا وہ جو کہا پھر ایسا ہی جوانی میں بھر کر اور مبعوث ہو کر اپنی نبوت کا اظہار کرے گا ...... الخ۔ غیر صحیح ہے اور بے دلیل بات کیونکہ عیسیٰ علیہ السلام نے جھولے میں سے جو بات کی اس میں یہود کے الزام باطل کا رد و دفع کیا تھا یہ بات سورہ مریم میں صاف مذکورہ ہے۔ یہود کے الزام کا دفع کہولت کی کلام تک موقوف رہنا عقل ونقل کے صاف خلاف ہے اور سلف وخلف میں سے کوئی اس کا قائل نہیں اور وہ جو انہوں نے کہا اگر ادھیڑ عمر کے زمانہ کا کلام ہوتا تو اس صورت میں یہ آیت نعوذ باللہ لغو ٹھہرتی الی آخرہ یہ بھی باطل ہے۔

کیونکہ یہ بے جا اشکال کہل کے معنے جوانی لیں تو بھی اس وقت کے کلام پر بھی بعینہ وارد ہوتا ہے۔ اس طور سے کہ خردسالی میں کلام کیا پھر جوانی میں بھر کر کلام کرے گا اور اس کے درمیان بے زبان رہے گا واہ اچھا اعتراض کہ جس سے آپ کا قول بھی الٹ پلٹ ہو جاتا ہے۔ سو اس کی آپ کو خبر ہی نہیں اور مرزا قادیانی یہ کلام ایسا ہے جیسا کہ سورہ مریم میں اللہ نے ” حاکیاً عن عیسیٰ علیہ السلام فرمایا والسلام علیٰ یوم ولدت ویوم اموت ویوم ابعث حیاً “ یعنی سلام یا سلامتی ہے مجھ پر جس دن پیدا ہوا میں اور جس دن مروں گا اور جس دن اٹھوں گا میں زندہ ہو کر۔

کیا اس کلام سے پیدائش کے روز اور موت کے روز اور زندہ ہو کر اٹھنے کے روز کے سوا سلام خدا کا یا سلامتی نہ ہونا ان کے لئے یعنی عیسیٰ کے لئے ثابت ہو سکتا ہے؟ ہرگز نہیں بلکہ مراد اس سے سلامتی کا دوام ہے۔ تا یوم البعث اسی طرح اس آیت میں کلام کا دوام مراد ہے۔ تا زمان کہل، واللہ اعلم !

٢٤

جب ہمارے دلائل کے متعلق جو ان کی ب تعالیٰ فراغت حاصل ہو چکی تو اب فقیر مرزا قادیانی س ہوتا ہے۔ مرزا قادیانی نے اپنی تحریر سوم میں لکھا ہے جواب بھی بتفصیل وتطویل اپنی تحریر چہارم میں دیا۔ لی قول ...... مرزا قادیانی حق الصریح کے صفحہ ٩٤ میں ف السلام ابن مریم کی وفات پر دلائل لکھے جاتے ہیں۔

واضح ہو کہ قرآن کریم میں ”یا عیسیٰ ا قرآن کریم کی عموم محاورہ پر نظر ڈالنے سے قطعی اور یقی توفی کا لفظ قبض روح کے معنوں میں مستعمل ہوا ہے ا ہوتا ہے۔

دو جگہ قرآن میں وہ قبض روح بھی مراد ن جگہ قرینہ قائم کر دیا ہے۔ جس سے سمجھا گیا ہے کہ حقیق پھر دو تین سطروں کے بعد کہا بہر حال ت معنوں میں ہی آیا ہے اور احادیث میں ان تمام مواق کو انسان کی نسبت استعمال کیا ہے۔ جا بجا موت کے ل موت کے لئے قطعیۃ الدلالۃ ہو گیا۔

اقول ...... مرزا قادیانی نے ( تمام قرآن میں توفی ک ہے ) جو کہا صاف غلط ہے۔ کیونکہ بہت سی جگہ قرآن جیسا کہ سورہ بقرہ میں اور آل عمران میں ہے: ”ثم ت سورہ میں ہے ”وانما توفون اجورکم یوم الق نفس ما عملت“ ان سب آیتوں میں موت اور قب

یہاں معنے توفی کے پورا دیا جانا یا لینا مرا کے حقیقی و اصلی ہیں نہ قبض روح و موت کے جیسا ک کالغت کی کتابوں سے ثابت کر دیا ہے۔ پس مرزا ق معنے جو کہے صاف غلط ہے۔

٢٥

صفحہ ٤٠٩

جب ہمارے دلائل کے متعلق جو ان کے شبہے وغیرہ تھے۔ ان کے جوابات سے بفضلہ تعالیٰ فراغت حاصل ہوچکی تو اب فقیر مرزا قادیانی کے دعویٰ دلیلوں کے جوابات کی طرف رجوع ہوتا ہے۔ مرزا قادیانی نے اپنی تحریر سوم میں لکھا ہے۔ سو مولوی محمد بشیر صاحب نے نقل کر کے ان کا جواب بھی بتفصیل و تطویل اپنی تحریر چہارم میں دیا۔ لیکن فقیر بھی بطور مختصر کچھ لکھتا ہے۔

قول...... مرزا قادیانی حق الصریح کے صفحہ ٩٤ میں اب بعد اس کے کسی قدر بطور نمونہ مسیح علیہ السلام ابن مریم کی وفات پر دلائل لکھے جاتے ہیں۔

واضح ہو کہ قرآن کریم میں ”یا عیسیٰ انی متوفیک ورافعک الیّ“ موجود ہے قرآن کریم کی عموم محاورہ پر نظر ڈالنے سے قطعی اور یقینی طور پر ثابت ہوتا ہے کہ تمام قرآن کریم میں توفی کا لفظ قبض روح کے معنوں میں مستعمل ہوا ہے۔ یعنی اس قبض روح میں جو موت کے وقت ہوتا ہے۔

دو جگہ قرآن میں وہ قبض روح بھی مراد لیا ہے جو نیند کی حالت میں ہوتا ہے۔ لیکن اس جگہ قرینہ قائم کر دیا ہے۔ جس سے سمجھا گیا ہے کہ حقیقی معنی توفی کے موت ہی ہیں۔

پھر دو تین سطروں کے بعد کہا بہر حال جبکہ تمام قرآن میں لفظ توفی کا قبض روح کی معنوں میں ہی آیا ہے اور احادیث میں ان تمام مواضع میں جو خدائے تعالیٰ کو فاعل ٹھہرا کر اس لفظ کو انسان کی نسبت استعمال کیا ہے۔ جا بجا موت کے ہی معنے کئے ہیں تو بلا شبہ یہ لفظ قبض روح اور موت کے لئے قطعیۃ الدلالۃ ہو گیا۔

اقول...... مرزا قادیانی نے (تمام قرآن میں توفی کا لفظ قبض روح کے معنوں میں ہی مستعمل ہوا ہے) جو کہا صاف غلط ہے۔ کیونکہ بہت سی جگہ قرآن مجید میں دوسرے معنوں سے بھی آیا ہے۔ جیسا کہ سورہ بقرہ میں اور آل عمران میں ہے: ”ثم توفیٰ کل نفس ما کسبت“ اور اسی سورہ میں ہے ”و انما توفون اجورکم یوم القیمۃ“ اور سورہ نحل میں ہے۔ ” وتوفی کل نفس ما عملت“ ان سب آیتوں میں موت اور قبض روح کے معنی ہرگز نہیں ہو سکتے۔

یہاں معنے توفی کے پورا دیا جانا یا لینا مراد ہے۔ جیسا کہ قریب گزر چکا اور یہی معنے توفی کے حقیقی واصلی ہیں نہ قبض روح وموت کے جیسا کہ ہم نے ماسبق میں توفی کے معنے پورا لینا حق کا لغت کی کتابوں سے ثابت کر دیا ہے۔ پس مرزا قادیانی نے قبض روح اور موت توفی کے حقیقی معنے جو کہے صاف غلط ہے۔

٢٥

صفحہ ٤١١

جب مرزا قادیانی اس دعوٰی میں جھوٹے نکلے تو احادیث میں جو دعوٰی کیا ہے۔ اس کو بھی اس پر قیاس کر لیں۔ پس ہماری اس تحریر سے قول ان کا بلاشبہ بہ لفظ قبض روح اور موت مراد لیے۔ قطعیۃ الدلالۃ ہو گیا جو ہے باطل اور غلط ٹھہرا مرزا قادیانی ایسا جھوٹ بول کر بعض عوام کالانعام کو گمراہ کر کے آپ خدا کے پاس ماخوذ ہو جانے میں اور اہل علم اور اہل دین کے نزدیک رسوا اور فضیحت ہونے میں کیا فائدہ سمجھتے ہوں گے؟ مجھے اس سے بڑی حیرت ہے۔

قولہ: بلافصل اور بخاری جو اصح الکتب ہے۔ اس میں ہے تفسیر فلما توفیتنی کی تقریب میں متوفیک کے معنی ممیتک لکھا ہے۔

اقول: صحیح بخاری جو اصح الکتب ہے۔ وہ حق ہے۔ لیکن مراد اس سے وہ احادیث مرفوعہ ہیں۔ جن کو سند کے ساتھ بخاری اپنی صحیح میں لائے ہیں۔ نہ وہ احادیث جو اس میں تعلیقاً مذکور ہیں۔ ویسا ہی آثار صحابہ وغیرہم امام سخاوی کی فتح المغیث سے مولوی محمد بشیر صاحب نے نقل کیا: ”وما تقدم تائید حمل قول البخاری ما ادخلت فی کتاب ھذا الا ما صح علی مقصود به وهو الاحادیث الصحیحة المسندة دون التعالیق والاثار الموقوفة علی الصحابة فمن بعدهم “ اور اس کلام سے جو آگے گزرا تائید ہوتی ہے حمل کرنے کی۔ قول بخاری وہ جو انہوں نے کہا نہیں داخل کی میں نے اپنے اس کتاب میں مگر وہی حدیثیں جو صحت کو پہنچیں۔ مقصود پر بخاری کے اس قول سے یعنی مقصود ان کا اس قول سے وہی صحیح حدیثیں ہیں جو ساتھ اسناد کے وہ لائے ہیں نہ کہ وہ حدیثیں جن کو تعلیقاً ذکر کیا یعنی بے اسناد ذکر کیا اور آثار صحابہ وغیرہم کے جو بعد ان کے ہیں۔

پس آثار صحابہ خصوصاً جو تعلیقاً اس میں مذکور ہیں۔ اس قول میں داخل نہیں ہو سکتے۔ پس قول ابن عباس جو ممیتک ہے۔ قول صحابی بھی ہے۔ علاوہ اس کے تعلیقاً مذکور یعنی بخاری کے قول ہیں۔

پس اصح الکتب میں داخل نہیں ہو سکتا ہے۔ سوا اس کے مولوی محمد بشیر صاحب نے اپنی کتاب حق الصریح میں اس قول کا ضعف بوجہ احسن ثابت کر کے اس کے معارض ان ہی ابن عباس کا قول صحیح اسناد سے لا کے بتلایا ہے۔ شک ہو تو اس میں دیکھ لیں۔

قولہ...... بلافصل اور یہ بات ظاہر ہے کہ موت اور رفع میں ایک ترتیب واقع ہے۔ ہر ایک مومن پہلے فوت ہوتا ہے۔ پھر اس کا رفع ہوتا ہے۔ اس ترتیب طبعی پر یہ ترتیب وضعی آیت کی دلالت کر رہی ہے۔ کہ پہلے انی متوفیک فرمایا اور پھر بعد اس کے رافعک کہا۔

٢٦

اقول...... یہ مرزا قادیانی کا وہم غلط ہے کیونکہ موت مومن کی نہ رہتی کیونکہ طبعی لوازم میں مومن اور کافر کا وضعی انہوں نے ثابت کی اس کے ساتھ وہ بھی ڈھے

قولہ...... دوسری دلیل مسیح علیہ السلام کی وفات پ جس کو امام بخاری اپنی کتاب التفسیر میں اسی غرض س توفیتنی کے معنے لما امتنی ہیں اور نیز اہل عر متوفیک کے ممیتک کی بھی روایت لائی ہیں۔ تا متوفیک کے معنی ابن عباس نے ظاہر فرمائے ہیں۔ ال آدمی بھی سمجھ سکتا ہے کہ توفیتنی کے معنے وفات ہے تو ن نبی ﷺ فوت ہو گئے ہیں اور مدینہ منورہ میں آپ کا وہی لفظ فلما توفیتنی کا حدیث بخاری میں اپنے لئے ا کیا ہے جیسا کہ وہ حضرت عیسیٰ کے حق میں مستعمل ہ کہ آنحضرت ﷺ وفات پاگئے ایسا ہی حضرت مسیح عل

اقول...... اس کا جواب مولوی محمد بشیر صاحب نے آپ نے بڑا مغالطہ کھایا یا دیا ہے۔ بیان اس کا یہ ہے العبد الصالح وكنت عليهم شهيدا ف الرقيب عليهم “ یہاں کاف تشبیہ ہے جو مغایرت پر دلالت كما قال العبد الصالح “ تو استدلال آپ کا داخل کیا تو یہ دلیل مغیرت ہوئی۔ معلوم ہوا کہ حضرت مشابہت تو ہے۔ مگر عین نہیں ہے۔ حضرت عیسیٰ کی تو بطور موت۔

سبحان اللہ! اللہ تعالیٰ نے حضرت کی زبا میں شبہ کرنے والوں کی شبہ کا استحصال کلی ہو گیا۔ ”ال عبارتا کافیہ “ دیکھو اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ

٢٧

صفحہ ٤١١

اقول ...... یہ مرزا قادیانی کا وہم غلط ہے کیونکہ موت اور رفع میں ترتیب طبعی ہوتی تو خصوصیت مومن کی نہ رہتی کیونکہ طبعی لوازم میں مومن اور کافر کا فرق نہیں۔ پس اس بناء پر آیت میں جو ترتیب وضعی انہوں نے ثابت کی اس کے ساتھ وہ بھی ڈھے گئی۔

قولہ ...... دوسری دلیل مسیح علیہ السلام کی وفات پر خود جناب رسول اللہ ﷺ کی حدیث ہے۔ جس کو امام بخاری اپنی کتاب التفسیر میں اسی غرض سے لائے ہیں کہ تا یہ ظاہر کریں کہ فلما توفیتنی کے معنے لما امتنی ہیں اور نیز اسی غرض سے اس موقع پر ابن عباسؓ کی روایت سے متوفیک کے ممیتک کی بھی روایت لائے ہیں۔ تا ظاہر کریں کہ لما توفیتنی کے وہی معنے ہیں جو ان متوفیک کے معنی ابن عباسؓ نے ظاہر فرمائے ہیں۔ اس مقام پر بخاری کو غور سے دیکھ کر ادنیٰ درجہ کا آدمی بھی سمجھ سکتا ہے کہ توفیتنی کے معنے امتنی ہے تو نے مجھے مار دیا اس میں تو کچھ شبہ نہیں کہ ہمارے نبی ﷺ فوت ہو گئے ہیں اور مدینہ منورہ میں آپ کا مزار موجود ہے۔ پھر جبکہ آنحضرت ﷺ نے وہی لفظ فلما توفیتنی کا حدیث بخاری میں اپنے لئے اختیار کیا ہے اور اپنے حق میں ویسا ہی استعمال کیا ہے جیسا کہ وہ حضرت عیسیٰ کے حق میں مستعمل تھا تو اس بات کو سمجھنے میں کچھ کسر رہ گئی کہ جیسا کہ آنحضرت ﷺ وفات پا گئے ایسا ہی حضرت مسیح علیہ السلام بن مریم بھی وفات پاگئے۔

اقول ...... اس کا جواب مولوی محمد بشیر صاحب نے اپنی تحریر چہارم میں یوں دیا ۔ ”اس مقام پر تو آپ نے بڑا مغالطہ کھایا یا دیا ہے۔ بیان اس کا یہ ہے کہ لفظ صحیح بخاری کا یہ ہے۔ فاقول كما قال العبد الصالح وكنت عليهم شهيدا مادمت فيهم فلما توفيتني كنت انت الرقيب عليهم“

یہاں کاف تشبیہ ہے جو مغایرت پر دلالت کرتا ہے اگر حضرت یوں فرماتے : ”فاقول ما قال العبد الصالح“ تو استدلال آپ کا درست ہوتا جب حضرت نے کاف تشبیہ اس پر داخل کیا تو یہ دلیل مغایرت ہوئی۔ معلوم ہوا کہ حضرت ﷺ کی توفی اور حضرت عیسیٰ کی توفی میں ایک مشابہت تو ہے۔ مگر عین نہیں ہے۔ حضرت عیسیٰ کی توفی تو بطور اصعاد ہوئی اور حضرت ﷺ کی توفی بطور موت ۔

سبحان اللہ ! اللہ تعالیٰ نے حضرت کی زبان سے کیسا لفظ نکلوایا کہ جس سے حیات مسیح میں شبہ کرنے والوں کی شبہ کا استیصال کلی ہو گیا ۔ ”الحمد لله على ذالك حمداً كثيرا طيباً مباركاً فيه“ دیکھو اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ کے قول سورہ مائدہ میں یوں حکایت کی ہے۔

٢٧

صفحہ ٤١٢

”ماقلت لهم الا ما امرتنى به ان اعبدوا الله ربی وربکم“ یہاں حضرت عیسیٰ نے کما امرتنی نہیں کہا۔ پس معلوم ہوا کہ ما امرتنی اور کما امرتنی میں فرق ہے۔ ایسا ہی ”مــــا قــــال العبد الصالح“ اور ”کما قال العبد الصالح“ میں فرق ہے۔ ”ومن لم یفرق بینهما فقد اخطأ خطأ فاحشاً“ پس استدلال آپ کا ”اوهن من بیت العنکبوت“ نکلا۔ الحمد لله على ذالك۔“ یہ فقیر کہتا ہے کہ مقصود اس قول سے حضرت ﷺ کو تشبیہ دینا ہے۔ اپنے عدم علم کے حال سے اپنی امت کے بعد مفارقت اپنے ساتھ، عدم علم عیسیٰ علیہ السلام کا حال پس ان کی امت کی بعد مفارقت ان کی کے مقصود اس قول سے یہ کہنا نہیں کہ میں مر گیا ہوں۔ جیسا کہ عیسیٰ مر گئے۔ یعنی یہاں اپنی موت کی تشبیہ عیسیٰ علیہ السلام کی موت کے ساتھ دینا مقصود نہیں۔ وجہ تشبیہ اس تشبیہ میں مفارقت اور غیوبت ہے۔

اگر چہ سبب اور طور مفارقت و غیوبت کا جدا ہے۔ تفسیر اس کی یوں ہے: ”ای فلما اخذتنی وقبضتنی بالاماتة وفارقتنی وغیبتنی عن امتی کما اخذته وقبضته بالرفع والاصعاد الیک وفارقته وغیبته عن امته فاقول کما قال ای عیسیٰ علیہ السلام لانی انا وعیسیٰ سواء فی عدم العلم بحال الامة بعد مفارقتهم“ کیونکہ معنے توفی اخذ الشی قبض الشی ہے۔

امام جلال الدین سیوطی نے کتاب شرح الصدور کے باب مقر الارواح میں سلطان العلماء عز الدین بن عبد السلام کے امالیہ سے نقل کیا کہ انہوں نے ”الله یتوفی الانفس حین موتھا“ کی تفسیر میں کہا ”ای یاخذوها وافیه من الاجساد“ یعنی اللہ تعالیٰ پکڑ لیتا ہے۔ ارواح کو ان کی موت کے وقت پورا پکڑ لیتا اجساد سے ان کے۔

اس سے معنی متوفی کے پکڑ لینا ہوتا ہے۔ تو یہ بات ہماری تفسیر کے موافق ہوئی ہماری بات کی صحت پر یہ بات بھی دلالت کرتی ہے کہ حضرت ﷺ یہ اس وقت کہیں گے کہ جب محشر میں آپ کی امت کے کئی مردوں کو پکڑے ہوئے بائیں طرف لے جائیں گے یعنی طرف دوزخ کے لے جائیں گے۔ تب حضرت ﷺ فرمائیں گے۔ یارب یہ میرے چھوٹے اصحاب ہیں۔ پس کہا جائے گا۔ ٢٨

٤١٣ حضرت ﷺ کو کہ تم نہیں جانتے کہ انہو کہوں گا میں جیسا کہ بندہ صالح یعنی عیسیٰ علیہ السلام کی یہ ہے: ”وانه یجاء برجال من امتی فیو اصحابی فیقال انک لا تدری ما احدثو الحدیث“ کیونکہ موت کی تشبیہ سے یہاں کچھ علاق مفارقت بیان کر دینا ہے۔ جیسا کہ حضرت عیسیٰ علیہ ال پھر یہ حدیث موت عیسیٰ علیہ السلام کے لئے دلیل نہی لئے ہوا۔

دیگر اس حدیث سے ان کی یہ بات کیو نزول عیسیٰ علیہ السلام پر نص صریح ہیں۔ اس حد معارض پڑی ہیں کیونکہ وہی حدیثیں حیات عیسیٰ ع ہویں۔ جیسا کہ پہلے مذکور ہو چکی ہیں۔ دیگر اگر جاوے تو وہی موت مانی جانی ضروری ہے کہ جس اس کے سوا عیسیٰ علیہ السلام کے لئے ع طور کی موت کا کوئی قائل نہیں اور اس موت کا جس قتلوہ یقیناً“ صاف رد کرتا ہے اور ان کو جھٹلاتا

پس اگر مرزا قادیانی یہود و نصاریٰ کے بخوشی ہم میں سے خارج ہو کر یہود و نصاریٰ میں د یقین جانیں تو اس موت کی نفی کریں۔ پھر مسلمانو علیہ السلام کے قائل اور اپنے باطل کو چھوڑ کر حق کی اور وہ جو انہوں نے کہا کہ بخاری اس ہو کہ ”فلما توفیتنی“ کے معنی ”فلما امتنی“ ہ یہ بات غیر صحیح ہے بلکہ کذب صریح ہ جیسا کہ ہم نے ابھی بیان کر دیا ہے۔ بلکہ غرض ب

صفحہ ٤١٤

حضرت ﷺ کو کہ تم نہیں جانتے کہ انہوں نے کیا احداث کیا ہے۔ بعد تمہارے پس کہوں گا میں جیسا کہ بندہ صالح یعنی عیسیٰ علیہ السلام نے کہا کہ اصل عبارت اس حدیث صحیح بخاری کی یہ ہے: ”وانه يجاء برجال من امتى فيؤخذ بهم ذات الشمال فاقول يا رب اصحابى فيقال انك لا تدرى ما احدثو بعدك فاقول كما قال العبد الصالح الحديث“

کیونکہ موت کی تشبیہ سے یہاں کچھ علاقہ نہیں مقصود یہاں اپنا عدم علم بحال امت بعد مفارقت بیان کر دینا ہے۔ جیسا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے بیان کیا۔ پس جب بات یوں ہے تو پھر یہ حدیث موت عیسیٰ علیہ السلام کے لئے دلیل نہیں ہو سکتی۔ کیونکہ سیاق اس کا دوسری بات کے لئے ہوا۔

دیگر اس حدیث سے ان کی یہ بات کیونکر ثابت ہو سکے گی کہ دوسری کئی صحیح حدیثیں جو نزول عیسیٰ علیہ السلام پر نص صریح ہیں۔ اس حدیث کے ان کے معنے کے تسلیم کی صورت میں معارض پڑی ہیں کیونکہ وہی حدیثیں حیات عیسیٰ پر اور بعد نزول ان کی وفات پر نصوص صریحہ ہوئیں۔ جیسا کہ پہلے مذکور ہو چکی ہیں۔ دیگر اگر اس حدیث سے موت عیسیٰ علیہ السلام کی مانی جاوے تو وہی موت مانی جانی ضروری ہے کہ جس کے یہود و نصاریٰ قائل ہیں۔

اس کے سوا عیسیٰ علیہ السلام کے لئے عیسیٰ علیہ السلام کے زمانہ سے آج تک دوسرے طور کی موت کا کوئی قائل نہیں اور اس موت کا جس کے یہود و نصاریٰ قائل ہیں نص قرآن ”وما قتلوه يقيناً“ صاف رد کرتا ہے اور ان کو جھٹلاتا ہے۔

پس اگر مرزا قادیانی یہود و نصاریٰ کے دعوے کو بحال رکھیں اور اس کے قائل رہیں تو بخوشی ہم میں سے خارج ہو کر یہود و نصاریٰ میں داخل رہیں اور اگر قرآن کی بات کو سچ مانیں اسی کو یقین جانیں تو اس موت کی نفی کریں۔ پھر مسلمانوں میں داخل رہیں۔ لیکن اس وقت حیات عیسیٰ علیہ السلام کے قائل اور اپنے باطل کو چھوڑ کر حق کی طرف مائل ہونا ضروری پڑتا ہے۔

اور وہ جو انہوں نے کہا کہ بخاری اس جگہ اس حدیث کو لایا سو اسی غرض سے لایا تا کہ معلوم ہو کہ ”فلما توفیتنی“ کے معنی ”فلما امتنی“ ہیں یعنی موت عیسیٰ کی ثابت کرنا مقصد ہے۔

یہ بات غیر صحیح ہے بلکہ کذب صریح کیونکہ اس سے نتیجہ فائدہ بخش کچھ حاصل نہیں ہوتا۔ جیسا کہ ہم نے ابھی بیان کر دیا ہے۔ بلکہ غرض بخاری وہی ہے جو ہم نے کہا اور سیاق حدیث کا بھی

٢٩

صفحہ ٤١٤

اسی پر دلالت کرتا ہے کما لا یخفی اور وہ جو انہوں نے کہا قول ابن عباس جو متوفیک ممیتک ہے۔ بخاری کا اس جگہ لانا اسی غرض پر دلالت کرتا ہے۔ یہ تو بہت ہی پوچ اور بودی بات ہے۔ کیونکہ یہ قول ابن عباس کا تحت میں اس آیت اور حدیث کے نہیں تا ان کی بات کو کچھ لگاؤ ہوتا۔ بلکہ وہ قول اس حدیث کے کئی احادیث واقوال کے بعد مذکور ہے۔ اس حدیث سے بالکل بے تعلق ہے۔ ”ناظرین بخاری پر یہ بات پوشیدہ نہیں باوجود اس کے انہوں نے کہا اس مقام پر بخاری کو غور سے دیکھ کر ادنیٰ درجے کا آدمی بھی سمجھ سکتا ہے کہ توفیتنی کے معنی امتنی ہیں تو نے مجھے مار دیا۔ بڑی جرأت کی بات ہے کہ جھوٹ میں ایسی دلیری کرتے ہیں کہ ہم کو حیرت میں ڈالتے ہیں:

چہ دلاورست دزدی کہ بکف چراغ دارد

اور قسطلانی سے جو انہوں نے نقل کیا اگر سچ ہو تو بھی توجیہ بے ربط ہونے سے مقبول نہیں ہو سکتی۔

اس کے علاوہ قول ابن عباس کا ضعف اور اس کے معارض انہیں کا قول صحیح اسناد کے ساتھ ہونا قریب ہم نے بیان کر دیا ہے۔ دیکھ لیں پس استدلال مرزا قادیانی کا موت پر عیسیٰ علیہ السلام کے اس حدیث واثر سے بھی ثابت نہ رہا باطل ہو چکا۔ ”الحمدللہ“

قولہ ...... اب جب کہ اصح الکتب کی حدیث مرفوع متصل سے جس کے آپ طالب تھے۔ حضرت عیسیٰ کی وفات ثابت ہے اور قرآن کی قطعیۃ الدلالۃ کی شہادت اس کے ساتھ متفق ہوگئی اور ابن عباس صحابی نے بھی موت مسیح کا اظہار کر دیا۔ اس دوہرے ثبوت کے بعد اور کس ثبوت کی حاجت ہے۔ میں اس جگہ اور دلائل لکھنا نہیں چاہتا۔

اقول ...... ناظرین ! باتمکین اہل دین پر پوشیدہ نہیں کہ ان کی ان تینوں دلیلوں کا جواب باصواب بفضلہ تعالیٰ ابھی دے دیا ہے اور آگے یعنی شروع رسالہ میں تین آیتوں سے قرآن مجید کی اور کئی احادیث صحیحہ سے اور اقوال صحابہ سے جن میں ابن عباس بھی داخل ہیں اور اقوال سلف صالحین اور مفسرین سے عیسیٰ علیہ السلام کا زندہ آسمان پر اٹھائے جانا اور آخر زمانہ میں آسمان سے نازل ہو کر اور دجال کو قتل کرنا پھر بعد اس کے آپ کا وفات پانا جو یہ سب باتیں مرزا قادیانی کے خلاف میں ہم نے ثابت کر دی ہیں۔ اس سے بڑھ کر عقل مند ایمان والوں کو تیقن اور تشفی کے واسطے اور کیا چاہئے؟ پس یہاں ہم بھی اس سے زیادہ دلائل لکھنا نہیں چاہتے ہیں۔ ”والله یهدی من یشآء الیٰ صراط مستقیم“ ماہ شوال ١٣١٣ھ

٣٠

خاتم النبیین

مباحثہ راولپنڈی

تحفہ

الحنفیہ

فی

تردید

عقائد

مرزائیہ

مولانا قاضی عبدال

PDF 416

انا خاتم النبیین لا نبی بعدی

میں آخری نبی ہوں، میرے بعد کوئی نبی نہیں ۔

تحفہ العلماء

فی

تردید مرزا

تحریف مرزا

مولانا قاضی عبدالغفور شاہپوری

صفحہ ٤١٧

بسم الله الرحمن الرحيم

مسمياً حامداً ومصلياً مسلماً، اما بعد!

اعداء دین اسلام کے یہود و نصاریٰ۔ کفار مشرکین اور مدعیان اسلام بہت سے اعدائے دین گزرے ہیں۔ جنہوں نے اسلام کی قندیل یعنی (لالٹین، سراج) بجھانے کی کوشش کی، مگر خدائے تعالیٰ جل شانہٗ اس دین کا محافظ تھا، ہے اور محافظ رہے گا: ”انا نحن نزلنا الذكر وانا له لحافظون“ ”ہم نے ہی قرآن کو اتارا اور ہم ہی اس کے محافظ ہیں۔“

اور بہت سے لوگ اسلام کے دشمن، خدا تعالیٰ کے نور یعنی دین کو اپنے منہ سے بجھانا چاہتے ہیں لیکن اللہ تعالیٰ اپنا نور کامل یعنی پورا کرنا چاہتا ہے۔ اگرچہ کافر لوگ برا منائیں۔ ”يريدون ان يطفؤا نور بافواههم ويابى الله الا ان يتم نوره ولو كره الكافرون (توبہ:٣٢)“ طرح طرح کی عداوتیں اور دھوکہ بازیاں اعدائے دین نے اسلام کے ساتھ کیں۔

یہودیوں نے اپنے ہاتھوں سے لکھ کر خدا کی طرف اس نوشت کو منسوب کیا۔ اسی لئے اللہ تعالیٰ نے ان کی سزا تجویز فرمائی ان کے لئے خرابی اور جہنمی ہونے کی خبر دی: ”فويل لهم مما كتبت ايديهم وويل لهم مما يكسبون“ ”اور دلیری اتنی کہ اس نوشت دستی کو خدا تعالیٰ کی طرف منسوب کرنا کیسی بے حیائی ہے؟

خدا تعالیٰ نے ان کی سزا یوں بیان فرمائی: ”فويل للذين يكتبون الكتاب بايديهم ثم يقولون هذا من عند الله يشتروا به ثمناً قليلا (بقرہ:٧٩)“ ”اپنی کمائی کے لئے یہ کرتوت کرتے ہیں۔ اسلام آنے کے بعد بھی کئی مرتد ایسی کرتوت کرتے رہے۔ چنانچہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے خبر دی کہ میرے بعد تیس دجال یعنی جھوٹے نبی آئیں گے۔ ان میں سے ایک مرزا غلام احمد قادیانی کذاب و دجال آیا۔

جس کی تشریح ”الذكر الحکیم“ میں ڈاکٹر عبدالحکیم خان نے خوب لکھی ہے۔ شریر، مکار، کذاب، مفتری وغیرہ ثابت کیا۔ ایسا ہی مرزا نے دعویٰ کیا کہ مجھ پر وحی آتی ہے۔ خدا مجھ سے ہم کلام ہوتا ہے۔ جیسا کہ الذکر الحکیم حصہ نمبر ٢ میں گزرا۔ خدا تعالیٰ نے ایسے مفتری کی تردید فرمائی

٢

ہے کہ اس سے بڑا ظالم کون ہے جو اللہ تعالیٰ پر افتراء (جھوٹ) پر وحی آتی ہے۔ حالانکہ اس پر کوئی وحی نہیں ہوئی اور کہتا ہے کہ اتاری میں بھی اتار سکتا ہوں۔

”ومن اظلم ممن افترى على الله ک اليه شئ ومن قال سانزل مثل ما انزل الله (ان تحریف کی جیسی یہودی کرتے تھے۔ اپنی جگہ سے کلمات بدلا نوشت پہنچے تو اس کو مانو اور اگر اس کے خلاف ہو تو ہرگز نہ تاویلات بعیدہ سے کام لیا۔

”جو میرے علماء کی بات نہ مانو۔ خدا تعالیٰ اس ک فرماتا ہے: ”يحرفون الكلم من بعد مواضعه يقول وان لم توتوه فاحذروا (مائدہ:٤١)“ خدا تعالیٰ جس کو فتنے میں ڈالنا چاہے، آپ کا کچھ اختیار نہیں۔

آپ اس کا کچھ نہیں کر سکتے۔ ایسے لوگوں کے دلوں ک عذاب ہے ۔ ”ومن يرد الله فتنة فلن تملك له من الل ان يطهر قلوبهم لهم في الدنيا خزي ولهم في الآخ ایسے ہی مرزے کا دل ناپاک تھا۔ خدا تعالیٰ نے اس کے لئے دارین میں عذاب لکھ دیا تو ہمارے اختیار کی بات مرزا دجال نے تو نبی بننے کا دعویٰ کیا اور میں نے شخص کو دیکھا جس کو لوگ رب کہتے تھے اور سبز جھنڈا لیے مردود اسلام کے دشمن ہو گزرے۔

خدا تعالیٰ نے دین متین کی تکمیل اور رضا اپنے ذم واتممت عليكم نعمتي ورضيت لكم الاسلام دین منصوبے باندھے کہ لوگ میرے داؤ میں آئیں۔ ان کے کچھ تھا ہی نہیں۔ اگر دہریہ نہ ہوتا۔ تو اسلام کا قدرے نور بھی یہ تحریف کا پہلا ثبوت ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام مر گیا۔ میں اس ک

٣

صفحہ ٤١٧

ہے کہ اس سے بڑا ظالم کون ہے جو اللہ تعالیٰ پر افتراء (جھوٹ، بہتان) باندھے یا یوں کہے کہ مجھ پر وحی آتی ہے۔ حالانکہ اس پر کوئی وحی نہیں ہوئی اور کہتا ہے یعنی دعویٰ کرتا ہے کہ جیسے خدا نے وحی اتاری میں بھی اتار سکتا ہوں۔

”ومن اظلم ممن افترى على الله كذبا او قال اوحى الى ولم يوح اليه شى ومن قال سانزل مثل ما انزل الله (انعام:٩٣)“ اس مرزا قادیانی نے وہ تحریف کی جیسی یہودی کرتے تھے۔ اپنی جگہ سے کلمات بدلا کر یہ تاویلات کرتے کہ اگر تم کو میری نوشت پہنچے تو اس کو مانو اور اگر اس کے خلاف ہو تو ہرگز نہ مانو۔ مرزے نے بھی ایسا ہی کیا۔ تاویلات بعیدہ سے کام لیا۔

”بجز میرے علماء کی بات نہ مانو۔ خدا تعالیٰ اس کی شہادت کے لئے یہود کی یوں تردید فرماتا ہے: ”يحرفون الكلم من بعد مواضعه يقولون ان اوتيتم هذا فخذوه وان لم توتوه فاحذروا (مائده:٤١)“ خدا تعالیٰ ان کی قلعی یوں کھولتا ہے۔ کہ خدا تعالیٰ جس کو فتنے میں ڈالنا چاہے۔ آپ کا کچھ اختیار نہیں۔

آپ اس کا کچھ نہیں کر سکتے۔ ایسے لوگوں کے دلوں کو اللہ پاک نہیں کرتا۔ ان کے لئے بڑا عذاب ہے۔ ”ومن يرد الله فتنة فلن تملك له من الله شيئاً اولئك الذين لم يرد الله ان يطهر قلوبهم لهم فى الدنيا خزى ولهم فى الآخرة عذاب عظيم (مائده:٤١)“

ایسے ہی مرزے کا دل ناپاک تھا۔ خدا تعالیٰ نے اس کے دل اور وجود کو پاک نہ کیا اور اس کے لئے دارین میں عذاب لکھ دیا تو ہمارے اختیار کی بات نہیں۔

مرزا دجال نے تو نبی بننے کا دعویٰ کیا اور میں نے پاک پتن شریف کے اسٹیشن پر ایک شخص کو دیکھا جس کو لوگ رب کہتے تھے اور سبز جھنڈا لئے اس کے پیچھے جارہے تھے۔ ایسے کئی مردود اسلام کے دشمن ہو گزرے۔

خدا تعالیٰ نے دین متین کی تکمیل اور رضا اپنے ذمہ لی ”اليوم اكملت لكم دينكم واتممت عليكم نعمتى ورضيت لكم الاسلام دينا (مائده:٣)“ مرزا کذاب نے ایسے منصوبے باندھے کہ لوگ میرے داؤ میں آئیں۔ ان کے دین و دنیا پر قابو پاؤں۔ خدا کا خوف تو کچھ تھا ہی نہیں۔ اگر دہریہ نہ ہوتا۔ تو اسلام کا قدرے نور بھی اپنے اندر پاتا اور اتنی بے ایمانی نہ کرتا۔ یہ تحریف کا پہلا ثبوت ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام مر گیا۔ میں اس کا مثیل اور بروزی و ظلی ہوں۔

٣

صفحہ ٤١٩

یہ آیت پیش کی: ”اذ قال الله یا عیسیٰ انی متوفیک ورافعک الی (آل عمران: ٥٥)“ جب اللہ نے کہا اے عیسیٰ! میں نے تم کو فوت کیا اور اپنی طرف بلا لیا۔ تو اس محرف بے وقوف سے یہ کوئی نہیں پوچھتا کہ قال بمعنی ماضی ہے۔ یا بمعنی مضارع، اگر بمعنی مضارع ہو تو معنی صحیح ہو سکتا ہے۔ کہ آئندہ میں تجھ سے سوالات بروز قیامت کروں گا تو ابھی موت صادق و ثابت نہیں اور مرزا کا دعویٰ ہے کہ عیسیٰ مر گیا ہے اور دوسرا یہ کہ متوفیک ورافعک دونوں اسم فاعل کے صیغہ ہیں اور اسم فاعل حال اور مستقبل کا مقتضی ہے نہ ماضی کے لئے۔ تو ابھی تک عیسیٰ علیہ السلام فوت نہیں ہوئے زندہ ہیں۔

اور یہ بھی لازم آتا ہے کہ: ”انت قلت للناس (مائدہ: ١١٦)“ یہ بھی قیامت کو فیصلہ ہوگا اور ساتھ ہی یہ بات بھی ہے کہ قال بمعنی یقول کئی مقامات پر آیا ہے۔

”قالوا هذا الذی رزقنا من قبل اور ونادى اصحاب الاعراف اور نادى اصحاب النار اور نادو اصحاب الجنة وقالوا ان الله حرمها“ یہ سب صیغے ماضی کے ہیں۔ محض مرزا کی چالاکی ہے کہ اذ قال اللہ میں قال کو ماضی کے معنی میں استعمال کرتا ہے۔ حالانکہ جلالین میں اذ قال اللہ کو یقول اللہ صاف مسطور ہے جو قیامت کا واقعہ بیان ہو رہا ہے کہ قیامت میں اللہ تعالیٰ عیسیٰ سے سوال کرے گا۔

”کمالین قال“ کو بمعنی مضارع بیان کیا اور تمثیل ونادیٰ اصحاب الجنۃ وغیرہ کی بیان کی اور اذ بمعنی اذا بھی آتا ہے۔ ”ولو تریٰ اذ فزعوا فلا فوت (السبا: ٥١)“ اور تفسیر جلالین میں اس واقعہ کی تصریح فرمائی: ”اذ قال الله ”ای یقول یعیسیٰ فی یوم القيامة توبیخی لقومہ“ اللہ تعالیٰ عیسیٰ علیہ السلام کی قوم کو تنبیہ کرنے کے لئے عیسیٰ علیہ السلام سے گفتگو فرمائے گا۔

مگر مرزا نے عیسیٰ علیہ السلام کی موت ثابت کرنے کے لئے قال کو بمعنی ماضی لیا۔ اگر بالفرض بمعنی موت کے زمانہ ماضی میں مراد لئے جائیں تو مرزا کو اس سے کیا فائدہ؟ مرزے کو عیسیٰ بننے کون دیتا ہے اور وہ کیسے عیسیٰ بن سکتا ہے؟ عیسیٰ علیہ السلام تو بن باپ تھے اور مرزا کا باپ ہے۔ کونسی مشابہت پائی گئی؟ اس میں مشبہ، مشبہ بہ، وجہ شبہ کونسی پائی گئی۔

جب اس تاویل میں مرزا ناکام رہا (ٹیڑھے دل والے ہمیشہ ناکام رہا کرتے ہیں۔) قرآن مجید سے تحریف کے طور پر سند پکڑنی شروع کی۔ جملہ مفسرین ومحدثین ومورخین واہل سیر

٤

نے وفات مسیح پر اتفاق کیا۔ ”لعنة الله على الكاذبين“ اور جھک ماری کہ قرآن سے وفات عیسیٰ میں نے ثابت و تفریح طبع کے لئے چند امثلہ تحریر کرتا ہوں۔

مرزا نے (تحفہ غزنویہ ص ٢٠، خزائن ج ١٥ ص ٥٣٩) وفات مسیح ثابت کرنے کی ناکام کوشش کی ہے۔ چنانچہ بصیرت اور علم بصیرت سے حصہ رکھتا ہے۔ یہی معنے لکھے ہ ”قدخلت من قبله الرسل “ یعنی مضت ومات سے گزر گئے اور مر گئے اور الف لام سے اس بات کا اشارہ نہیں رہا ایسا ہی تفسیر الرحمن، تیسیر المنان، جامع البیان بیضاوی، جمل فتوحات الہیہ، زیر آیت وما محمد الا رسول ہیں۔ اب دیکھو کس قدر ثبوت موت مسیح پر روز روشن ہو گئے ہیں۔ مسیح بھی فوت ہو گئے۔ ہزار روپیہ اسی شخص کے ثابت کردے۔“

اقول ....... مرزا نے کتنی بڑی چالاکی سے تمام جہان کو

کی طرف جاتے ہیں۔ خلوا بمعنے جانا ہے مرنا نہیں۔

ہیں، موت کے نہیں۔ اسی طرح قرآن مجید میں

کے نہیں تو مرزا نے کیونکر تخصیص مرنے کی کی اور جس بلکہ بجائے ایفائے وعدہ ایک اور علت نکالی کہ آیت ” فوت ہو گئے ہیں۔ کیونکہ متوفيك اور توفیتنی م عیسیٰ فوت ہو گیا ہے۔

اقول ...... توفی کے معنی کے متعلق مرزا نے (تحفہ غزن کے معنی ہر جگہ قرآن شریف میں موت کے ہیں نہ کہ

٥

صفحہ ٤١٩

نے وفات مسیح پر اتفاق کیا۔ ”لعنۃ اللہ علی الکاذبین“ ایسا بے سروپا مرزا نے جھوٹ بک دیا اور جھک ماری کہ قرآن سے وفات عیسیٰ میں نے ثابت کی۔ حضرت علماء کرام کی تسلی واطمینان وتفریح طبع کے لئے چند امثلہ تحریر کرتا ہوں۔

مرزا نے (تحفہ غزنویہ ص ٤٠، خزائن ج ١٥ ص ٥٧٦) میں چند تفسیروں کے حوالے سے وفات مسیح ثابت کرنے کی ناکام کوشش کی ہے۔ چنانچہ لکھتا ہے کہ ”ہر ایک محقق مفسر جو عقل اور بصیرت اور علم عربیت سے حصہ رکھتا ہے۔ یہی معنے لکھتا ہے۔ دیکھو تفسیر مظہری ص ٢٨٥ زیر آیت ”قد خلت من قبلہ الرسل“ یعنی مضت وماتت من قبلہ الرسل یعنی پہلے نبی دنیا سے گزر گئے اور مر گئے اور الف لام سے اس بات کا اشارہ ہے کہ کوئی ان میں سے موت سے خالی نہیں رہا ایسا ہی تبصیر الرحمٰن، تیسیر المنان، جامع البیان، غایۃ القاضی، کفایۃ الراضی حاشیہ قاضی بیضاوی، جمل فتوحات الہیہ، زیر آیت وما محمد الا رسول تمام تفاسیر میں خلت کے معنے موت کے ہیں۔ اب دیکھو کس قدر ثبوت موت مسیح پر روز روشن کی طرح ثابت ہیں کہ جیسے تمام انبیاء فوت ہو گئے ہیں۔ مسیح بھی فوت ہو گئے۔ ہزار روپیہ اسی شخص کو انعام دوں گا۔ جو خلت کے معنے بغیر موت کے ثابت کر دے۔“

(تحفہ غزنویہ ص ٤٠، خزائن ج ١٥ ص ٥٧٦)

اقول...... مرزا نے کتنی بڑی چالاکی سے تمام جہان کی آنکھوں میں دھول ڈالنی چاہی۔

کی طرف جاتے ہیں۔ خلوا بمعنے جانا ہے مرنا نہیں۔

ہیں، موت کے نہیں۔ اسی طرح قرآن مجید میں

کے نہیں تو مرزا نے کیونکر تخصیص مرنے کی کی اور جب ہزار روپیہ کا وعدہ کیا تو ایفاء وعدہ ضروری تھا بلکہ بجائے ایفائے وعدہ ایک اور علت نکالی کہ آیت ”فلما توفیتنی“ دلالت کرتی ہے کہ عیسیٰ فوت ہو گئے ہیں۔ کیونکہ متوفیک اور توفیتنی میں جو لفظ توفی ہے۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ عیسیٰ فوت ہو گیا ہے۔

اقول...... توفی کے معنی کے متعلق مرزا نے (تحفہ غزنویہ ص ٤١، خزائن ج ١٥ ص ٥٦٢) میں لکھا کہ توفی کے معنی ہر جگہ قرآن شریف میں موت کے ہیں نہ کہ غیر۔ ہر جگہ قبض روح کے معنی ہیں۔

٥

صفحہ ٤٢٠

اقول ....... توفیت کل نفس ما کسبت کے کیا معنی ہوں گے۔ وتوفیٰ کل نفس عملت کا کیا معنی ہوگا۔ یہاں تو یہ مطلب ہے کہ ہر نفس اپنا کیا پورا پائے گا۔ یہ کہاں کہ ہر نفس اپنی کمائی میں مر جائے گا۔

پھر یہ مرزا ڈھیٹ تحفہ ص ٣١، خزائن ج ١٥ ص ٥٦٢ میں لکھتا ہے۔ ”تمام حدیثوں میں بھی توفّی بمعنی قبض روح آیا ہے ۔“ بالکل غلط اور مغالطہ اور جھوٹ سے کام لیا۔ کتب تفاسیر کی عبارت سے بہت طول ہو جائے گا۔ میں نے کتب تفاسیر کا مطالعہ کر کے سب کا حوالہ لکھ دیا کہ مرزے نے عیسیٰ علیہ السلام کی وفات کے غلط معنی اختیار کئے۔ تفاسیر کے حوالہ جات ملاحظہ ہوں:

طرف قبض کیا یعنی اٹھایا آسمان کی طرف) (جلالین)

الصلوٰۃ والسلام بمعہ جسم شریف وروح آسمان پر تشریف لے گئے۔ اسی طرح (تفسیر ابن جریر ص ٣٩، ج ٢٥، ابن کثیر ص ١٨ ج ٩ ص ١١٤، ١٩٠، درمنثور ص ٢٠ ج ٦ فتح البیان ص ٣١١، ٣١٢ ج ٨، ترجمان القرآن ص ٤٧ ج ١٣ مواہب الرحمٰن ص ٢٥) اب مرزائی دریافت کرتا ہے کہ اچھا تم نے بل رفعہ اللہ کو تو ثابت کیا۔ مگر مسیح علیہ السلام کے زمیں پہ واپس آنے کا کیا ثبوت ہے۔ آئیں گے بھی یا نہیں۔ کہاں لکھا ہے کہ وہ واپس آئیں گے۔

”اقول بالله التوفيق“ اسحاق بن بشیر اور ابن عساکر نے ابن عباسؓ سے ”انی متوفيك ورافعك الىٰ ثُم متوفيك في آخر الزمان“ ﴿تم کو آسمان کی طرف بلا کر پھر آخر زمانہ میں اتار کر فوت کروں گا۔﴾ یہ معنے اور تفسیر فرمائی (شمس الاسلام بھیرہ مئی ١٩٣٩ء) تفسیر ابن جریر ج ٢٨ ص ٥٦، تفسیر ابن کثیر ج ٣ ص ٢٢٨ وج ٩ ص ٤٥١، درمنثور ج ٢ ص ٢٣٨، فتح البیان ج ٢

٦

ص ٣٤٢، ٣٤٣، ترجمان القرآن ج ٢ ص ٧٨ ایضاً ص ٣٨، ٣٩، مواہب الرحمٰن ج ٣ ص ٢٠١ ایضاً، انسان عیسیٰ علیہ السلام کے آسمان پر جانے اور زندہ جسمی طور پر جانا ثابت کرے تو ہزار رو پھر مرزا نے اپنے تحفہ غزنویہ ص ٢٤ تحقیق کی رو سے آپ سمجھ سکتے ہیں۔ (غزنویہ نہیں بولا۔ میں آپ کو ہزار روپیہ بطور انعام حدیث قوی یا ضعیف یا موضوع یا کسی قول ص خطبات سے یا دواوین یا اشعار یا اسلامی فصحا معنی میں یہ بھی داخل ہے کہ کوئی شخص معہ جسم م اقول ...... ثبوت تو اس شخص کے سامنے پی خواہشمند ہو یا ارادہ رکھتا ہو۔ جس کی نیت ق ناحق مقصود نہیں ہوتا۔ بلکہ وہ اپنے دعوٰی کو ثا طرح میں کامیاب ہو جاؤں۔ مگر خیر اگر آپ اختیار کرے گا۔ لہٰذا میں اظہار کے لئے تیار

نے مجھے آسمان پر بلا لیا۔ یعنی ”قبضتنی ب

عیسی رفع الی السماء صارت ح خازن میں جواب دیا کہ عیسائیوں کا خیال ت جواب یوں دیا کہ ”فاخبر الله انه رفعه بجسم آسمان پر اٹھایا۔

جب تو نے مجھے آسمان کی طرف اٹھا لیا۔ س اتنا زیادہ ہے کہ جس مکان میں عیسیٰ علیہ ال

صفحہ ٤٢١

ص ٣٤٢، ٣٤٣، ترجمان القرآن ج ٢ ص ٧٨ ایضاً ج ٥ ص ٤٠٤، مواہب الرحمٰن ج ٦ ص ١٩، کبیر ، معالم ج ٦ ص ٣٨، ٣٩، مواہب الرحمٰن ج ٣ ص ٢٠١ ایضاً، ج ٢٨ ص ٣٨٢، ٣٨٣ باوجود ان دلائل کے پھر ڈھیٹ انسان عیسیٰ علیہ السلام کے آسمان پر جانے اور واپس آنے کا منکر ہو کر دعویٰ کرے کہ اگر کوئی شخص زندہ جسمی طور پر جانا ثابت کرے تو ہزار سے ٢٠ ہزار تک انعام پانے کا مستحق ہے۔

پھر مرزا نے اپنے تحفہ غزنویہ ص ٤٤ وخزائن ج ١٥ ص ٥٧٦ میں لکھا ہے۔ ”اب اس تمام تحقیق کی رو سے آپ سمجھ سکتے ہیں۔ (غزنوی صاحب) کہ میں نے ان معنوں میں کوئی جھوٹ نہیں بولا۔ میں آپ کو ہزار روپیہ بطور انعام دیتا ہوں کہ اگر آپ قرآن شریف کی کسی آیت یا کسی حدیث قوی یا ضعیف یا موضوع یا کسی قول صحابی یا کسی دوسرے امام کے قول سے یا جاہلیت کے خطبات سے یا دواوین یا اشعار یا اسلامی فصحاء کے یا کسی نظم یا نثر سے یہ ثابت کر سکے کہ توفی کے معنی میں یہ بھی داخل ہے کہ کوئی شخص معہ جسم عنصری آسمان پر چلا جائے......الخ۔

اقول.... ثبوت تو اس شخص کے سامنے پیش کیا جائے کہ اس میں انصاف ہو یا تسلیم کرنے کا خواہشمند ہو یا ارادہ رکھتا ہو۔ جس کی نیت ہی زیغ (کجی۔ ٹیڑھا پن) کی طالب ہو اس کو حق اور ناحق مقصود نہیں ہوتا۔ بلکہ وہ اپنے دعویٰ کو ثابت کرنے کے درپے اور خواہاں ہوتا ہے کہ کسی نہ کسی طرح میں کامیاب ہو جاؤں۔ مگر خیر اگر آپ نہ مانیں گے تو کوئی اہل حق وانصاف راہ راست کو اختیار کرے گا۔ لہٰذا میں اظہار کے لئے تیار ہوں۔

نے مجھے آسمان پر بلا لیا۔ یعنی ”قبضتنی بالرفع الی السماء“

عیسی رفع الی السماء صارت حالته كحالة الملائكة “ عیسائیوں کے رد کے لئے خازن میں جواب دیا کہ عیسائیوں کا خیال تھا کہ عیسیٰ کا صرف روح آسمان پر گیا جسد اطہر نہیں گیا۔ جواب یوں دیا کہ ”فاخبر الله انه رفعه بتمامه الى السماء بروحه وجسده “ روح مع الجسم آسمان پر اٹھایا۔

جب تو نے مجھے آسمان کی طرف اٹھا لیا۔ سب تفاسیر کا مطلب ایک ہے۔ روح البیان میں صرف اتنا زیادہ ہے کہ جس مکان میں عیسیٰ علیہ السلام کو یہود نے بند کر رکھا تھا۔ اس کے روشن دان سے

٧

صفحہ ٤٢٣

جبرائیل علیہ السلام نے عیسیٰ کو نکالا اور آسمان پر لے گئے ۔ ”فرفعه جبريل من تلك الروزنة الى السماء“

ہوگئیں۔ پہلے انسی صفت تھی۔ اب ملکوتی یعنی ملائکہ والی صفت بھی آگئی ۔ وہ ملائکہ کے ساتھ اڑ گئے۔

اقول : جو خدا ملائکہ اور طیور کو بے پر اور پروں سے اڑانے پر قادر ہے وہی عیسیٰ کو بے پر کے اڑا سکتا ہے۔

روح البیان میں ہے۔ ”رفعه اى عيسى وطار مع الملائكة فهو معهم حول العرش وكان انسا ملكيا سمائيا ارضيا فلما توفتني۔ اى قبضتنى الى السماء وانا حی “ ” اکسیر اعظم میں ہے کہ ”تحت وكأن الله عزيزاً حكيماً “ کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا آسمان کی طرف اٹھایا جانا قرآن مجید کے لفظوں سے اچھی طرح ثابت ہے۔

تفسیر حقانی بحوالہ بیضاوی میں تجھ کو زمین سے قبضے میں لا کر آسمان پر پہنچا دیتا ہوں ۔

تفسیر مظہری میں ہے ۔ اذ قال اللہ یا عیسیٰ جبکہ عیسیٰ کو آسمان پر اٹھایا۔ ”رفعه الى السماء “ تفسیر حسینی میں ہے۔

اے عیسیٰ گیرانده توام ازیں جهاں

تفسیر عباسی میں ہے۔ اے عیسیٰ ! بعد نزول کے قبض کروں گا۔ یعنی ماروں گا۔ ”ثم متوفيك قابضك بعد النزول “ تفسیر عباسی میں ہے۔ کہ عیسیٰ علیہ السلام کا نزول قیامت کی نشانی ہے ۔ ”وانه لعلم للساعة“ خلاصة التفاسير ۔ بحث ”ومكر الله“ میں ہے۔ آپ کو ایک روزن سے ملائکہ آسمان پر اٹھا لیں گے۔ ”خلاصة التفاسیر تحت وان من اهل الكتاب الا ليؤمنن به “ ہے کہ جب امام مہدی آئیں گے اور عیسیٰ آسمان سے اتریں گے تو مخالفین مسخ کر دیئے جائیں گے ۔ روح البیان میں ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام ایک عرب عورت سے بیاہ کریں گے۔ پھر ان کی اولاد ہوگی ۔ پھر فوت ہوں گے۔

تو مسلمانوں کی جماعت ان کی نماز جنازہ پڑھے گی ۔ ”ويزوج امرة من العرب وتلامنه ثم يموت بعدما يعيش اربعين سنة من نزوله فيصلى عليه المسلمون “ کشاف میں ہے کہ تم کو اپنے قبضے میں رکھوں گا۔ یہود کو تم پر غالب نہ ہونے دوں گا۔ تفسیر سبحانی میں ہے کہ اکثر مفسرین کا یہ قول ہے کہ آسمان پر جاتے وقت عیسیٰ علیہ السلام کی عمر

٨

٣٣ سال کی تھی۔ بقیہ عمر آسمان سے واپس آکر پوری کریں کہ عیسیٰ علیہ السلام بجسد عنصری آسمان پر تشریف لے لائیں گے ۔ جیسے تفسیر جلالین حاشیہ جلالین میں ہے :

تحت ”وانه لعلم للساعة “ اللہ تعالیٰ فرماتا قرب میں جمع کرے گا ۔ ”يجمع عيسى والمهدى متوفيك “ میں تمہاری عمر پوری کرنے والا ہوں۔ اس قدرت نہ ہونے دوں گا کہ وہ تجھ کو قتل کر سکیں ۔ بلکہ تجھ کو تمہاری قرارگاہ بناؤں گا اور تمہاری میں حفاظت کروں گا ہونے دوں گا ۔ ”متوفيك اى متمم عمرك فحينئذ اى يقتلوك بل انا رافعك الى سمائى و تمكنوا من قتلك “ پھر فرماتے ہیں ۔ ”هذا تاويل م

تفسیر کبیر میں یہ بھی ہے کہ اس سے ثابت ہے کہ عیسیٰ تشریف لائیں گے ۔ وہ دجال کو قتل کریں گے

ثبت الدليل انه حى وورد الخبر عن النبى انه تعالى متوفاه بعد ذالك ينزل الى الارض وكما فی

(ابن ماجہ ص ٢٩٩) میں ہے کہ قیامت قائم نہ ہوگی جب تقوم الساعة حتى ينزل عيسى ابن مريم “

ابن مریم نازل ہوں گے ۔ ”ثم نزل عيسى ابن دمشق الحديث “ (صحیح مسلم ج٢ ص٣٩٣) میں ہے ۔

دس نشانیوں قیامت میں سے ایک نشان عیسیٰ

عيسى بن مريم (مشكوة ص ٤٨٠) ”میں مہدی آسمان سے اتر کر نکاح کریں گے ۔ ان کی اولاد ہوگی ۔ قبر کے پاس دفن ہوں گے ۔ میں اور عیسیٰ ایک مقبرہ سے

گے۔ ابن جوزی نے روایت کیا: ”المشكوة عن عب ينزل عيسى ابن مريم الى الارض فيتزو

٩

صفحہ ٤٢٤

٣٣ سال کی تھی۔ بقیہ عمر آسمان سے واپس آ کر پوری کریں گے اور بہت سی تفاسیر ثابت کر چکی ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام بجسد عنصری آسمان پر تشریف لے گئے اور قرب قیامت میں واپس تشریف لائیں گے۔ جیسے تفسیر جلالین حاشیہ جلالین میں ہے:

تحت ”وانه لعلم للساعة“ اللہ تعالیٰ عیسیٰ علیہ السلام اور امام مہدیؑ کو قیامت کے قرب میں جمع کرے گا۔ ”يجمع عیسٰی والمهدیٰ .....الخ“ اور تفسیر کبیر میں ہے: تحت ”انی متوفيك“ میں تمہاری عمر پوری کرنے والا ہوں۔ اس کے بعد تم کو فوت کروں گا۔ یہودیوں کی قدرت نہ ہونے دوں گا کہ وہ تجھ کو قتل کر سکیں۔ بلکہ تجھ کو آسمان کی طرف اٹھاؤں گا اور فرشتوں میں تمہاری قرارگاہ بناؤں گا اور تمہاری حفاظت کروں گا اور تجھے یہودیوں کے ہاتھوں سے قتل نہ ہونے دوں گا۔ ”متوفيك اى متمم عمرك فحينئذ اتوفاك فلا اتركهم حتى يقتلون اى يقتلوك بل انا رافعك الى سمائى ومقرك بملائكتى واصونك عن ان تمكنوا من قتلك“ پھر فرماتے ہیں۔ ”هذا تاويل حسن“

تفسیر کبیر میں یہ بھی ہے کہ اس سے ثابت ہوا کہ عیسیٰ زندہ ہیں۔ حدیث شریف میں ہے کہ عیسیٰ تشریف لائیں گے۔ وہ دجال کو قتل کریں گے۔ اس کے بعد فوت ہوں گے۔ ”وقد ثبت الدليل انه حى وورد الخبر عن النبى ﷺ انه ينزل ويقتل الدجال ثم انه تعالى يتوفاه بعد ذالك زلالين وكمالين“ اور تفسیر جلالین پر کمالین میں لکھا ہے۔ (ابن ماجہ ص ٢٩٩) میں ہے کہ قیامت قائم نہ ہوگی جب تک عیسیٰ ابن مریم نہ اتر آئیں گے۔ ”لا تقوم الساعة حتى ينزل عيسى ابن مريم“ اور ابوداؤد (ج ٢ ص ١٣٥) میں ہے۔ پھر عیسیٰ ابن مریم نازل ہوں گے۔ ”ثم نزل عيسى ابن مريم عند منارة البيضاء شرقى دمشق الحديث“ (صحیح مسلم ج٢ ص٣٩٣) میں ہے۔

دس نشانیوں قیامت میں سے ایک نشان عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کا ہے۔ ”ونزول عيسى بن مريم (مشكوة ص ٤٨٠)“ میں عبداللہ بن عمرؓ سے روایت ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام آسمان سے اتر کر نکاح کریں گے۔ ان کی اولاد ہوگی۔ ٤٥ سال کے بعد فوت ہوں گے اور میری قبر کے پاس دفن ہوں گے۔ میں اور عیسیٰ ایک مقبرہ سے۔ ابوبکر اور عمر کی قبر کے درمیان سے اٹھیں گے۔ ابن جوزی نے روایت کیا: ”المشكوة عن عبدالله بن عمرؓ قال رسول الله ﷺ ينزل عيسى ابن مريم الى الارض فيتزوج ويولد ويمكث خمسا واربعين

٩

صفحہ ٤٢٥

سنة ثم يموت فيدفن معى فى قبرى فاقوم اناو عيسى ابن مريم من قبر واحد بين ابى بكر وعمر (رواه ابن الجوزى، مشكوة ص٤٨٠)“

اور عقائد نسفی اور اس کی شرح میں حدیث نقل کی گئی۔ اس میں عیسیٰ علیہ السلام کا آسمان سے اترنا ثابت ہے۔ ”فی عقائد النسفى وشرحه.....ونـزول عيسى من السماء الحديث“ (شرح فقہ اکبر ص ١٤٦) میں نزول عیسیٰ آسمان سے منقول کیا ہے: ”كـمـا قـال الله وانه لعلم للساعة وان من اهل الكتب الا ليؤمنن به قبل موته۔ ای قبل عيسى بعد نزوله عند قيام الساعة فيصير ملل واحد“

حاصل کلام یہ ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام کا آسمان سے نازل ہونا اور ان کی زندگی احادیث صحیحہ سے ثابت ہے۔ ان کا منکر بدعتی ہے اور اس کے قول کا کچھ اعتبار نہیں۔ ہمیں جمہور علماء کرام کی تابعداری لازم ہے۔ اس لئے کہ ہمارے زمانہ کے بعض اشخاص عیسیٰ علیہ السلام کی حیاتی اور آسمان سے اترنے کے منکر ہیں اور وہ خود عیسیٰ بننے کے مدعی ہیں اور ان کی غرض لوگوں کو گمراہ کرنا ہے۔ وہ خود مبتدع ضال مضل ہیں اور جو ان کا متبع ہے۔ وہ بھی گمراہ ہے۔ کمالین

”فـالـحـاصل ان نزول عيسى او حـيـاتـه ثابت بأحاديث الصحاح وغيره فـمـنـكـرهـا مـن اهـل الـبـدعة ولا اعتبار فـيـه قول البعض ولنا اتباع جمهور المفسرين والعقائد الاسلامية والاحاديث ولقد أطنبنا الكلام فيه لان بعض اهل زمـانـنـا ينكر لـحـيـاة عيسى ونزول من السماء ويدعوا لنفسه انه عيسى وغـرضـه مـن هـذا اغواء العوام فهو ضال مبتدع كذاب ومن أتبع به فهو الغوى فى هذا الحكم كمالين“

ناظرین! ملاحظہ فرمائیں کہ مرزا اور اس کے متبعین کس قدر مکار و غدار ہیں کہ مرزا نے تو ایک ہزار روپیہ اس کے دعوٰی کو غلط ثابت کرنے والے کو انعام دینے کا وعدہ کیا اور ان کے متبعین عبداللہ، الہ دین سکندر آبادی کتاب ”احمدیت کے متعلق پانچ سوالات“ ص ٢٧ پر لکھ کر غیر مسلم کے لئے بیس ٢٠ ہزار روپے انعام اور اہل اسلام کے لئے بیس ٢٠ ہزار اور مولوی ثناء اللہ صاحب مرحوم کے لئے ٢١ ہزار اور مولوی محمد علی کے لئے ٢٥ ہزار روپے انعام مقرر کئے جو ثابت کر دے کہ مرزا قادیانی اس صدی کے مجدد نہیں۔ مرزا اور اس کے چیلے کئی عذرات اور بہانے و حیلے سچا بننے کے لئے بنایا کرتے ہیں۔ جیسے مرزا نے (تحفہ غزنویہ ص ٣٣، ج ١٥ ص ٥٧٦) میں لکھا ہے کہ : ”کوئی شخص ١٠

عیسیٰ علیہ السلام کو مع جسم عنصری ثابت کرے تو ہزار مرزا ایسا چالاک تھا کہ ایک معمہ ایسا چھو نکلنے کون دیتا ہے؟ اس نے دو حربے اختیار کئے، السلام کی فوتیدگی کی وہ آیات جمع کیں جن سے تو مرادی موت کے لیتا ہے۔ حالانکہ توفی سے ہر مقام

نے کمائے ہیں۔ اس کی جزا و سزا دیئے جاؤ گے۔ ) يـظـلـمـون (آل عمران:٢٥) ”کیا تمہارے اعمال

وعملوا الصلحت فيوفيهم اجورهم وا کیا یوفیھم کے معنے موت کے کئے جائیں گے کہ قبا تحریر مرزا حاشا و کلا۔

کمائی کا عوض دیا جائے گا۔ کیا مرزے کی تحریر کے م قرآن مجید میں کئی مقام ہیں۔ جہاں چالاکی دیکھو کہ توفی سے عیسیٰ علیہ السلام کا رفع آسما الحمد شریف سورہ فاتحہ سے رفع جسمانی ثابت کرو۔ کہ و رافعك الی وغیرہ کا کئی مقامات پر آیات قرآ کا یہ ہے کہ قد خلت سے رفع عیسیٰ جسمانی ثابت کر ورنہ خلت کے معنی موت کے کرنا کما غزنوی ص ٤١، خزائن ج ١٥ ص ٥٧٤ طبعس) میں لکھتا ہے کے معنی موت کے ہیں۔ جیسے اور انبیاء فوت ہو نبی فوت ہوئے تو عیسیٰ علیہ السلام بھی فوت ہو موت مرا۔ اس لئے کہ مراتو سہی۔ ایسے ہی جو مر انبیاء علیہم السلام کی موت کیساتھ عیسیٰ

صفحہ ٤٢٥

عیسیٰ علیہ السلام کو مع جسم عنصری ثابت کرے تو ہزار روپیہ انعام دوں گا۔‘‘ مرزا ایسا چالاک تھا کہ ایک معمہ ایسا پیچیدہ ڈال کر داؤں سے نکلنا چاہتا ہے۔ مگر اسے نکلنے کون دیتا ہے؟ اس نے دو حربے اختیار کئے۔ ایک توفی اور دوسرا خلت۔ توفی میں عیسیٰ علیہ السلام کی فوتیدگی کی وہ آیات جمع کیں جن سے توفی نکلتا ہے۔ ان تمام آیات سے توفی کے معنی مرادی موت کے لیتا ہے۔ حالانکہ توفی سے ہر مقام پر موت مراد نہیں۔

نے کمائے ہیں۔ اس کی جزاء سزا دیئے جاؤ گے۔ ) ”ثم توفى كل نفس ما كسبت وهم يظلمون (آل عمران:٢٥)‘‘ کیا تمہارے اعمال مر جائیں گے۔ جیسا کہ مرزا نے سمجھا۔

وعملوا الصلحت فيوفيهم اجورهم والله لا يحب الظلمين (آل عمران:٥٧)“ کیا یوفیھم کے معنے موت کے کئے جائیں گے کہ قیامت میں مؤمنوں کے عمل مر جائیں گے۔ تحت تحریر مرزا حاشاء وکلا۔

کمائی کا عوض دیا جائے گا۔ کیا مرزے کی تحریر کے مطابق ہر شخص کی کمائی مرجائے گی۔ حاشاء وکلا۔

قرآن مجید میں کئی مقام ہیں۔ جہاں توفی کے مختلف معانی آئے ہیں۔ مرزے کی چالاکی دیکھو کہ توفی سے عیسیٰ علیہ السلام کا رفع آسمانی جسمانی ثابت کرو۔ یہ تو ایسا ہے کہ مرزا کہے کہ الحمد شریف سورہ فاتحہ سے رفع جسمانی ثابت کرو۔ اگر ثابت ہے تو اپنے مقام پر ان آیات سے جیسا کہ ورافعک الی وغیرہ کا کئی مقامات پر آیات قرآنی و تفاسیر سے ثابت کیا گیا۔ دوسرا حربہ مرزے کا یہ ہے کہ قد خلت سے رفع عیسیٰ جسمانی ثابت کرو۔ محض فضول اور یاوہ گوئی اور بے ایمانی ہے۔

ویسے خلت کے معنی موت کے کرنا کمال بے انصافی و بے حیائی ہے۔ جیسے کہ مرزا (تحفہ غزنوی ص ٢١، خزائن ج ١٥ ص ٥٧٢ ملخص) میں لکھتا ہے کہ ”قد خلت من قبله الرسل“ یہاں خلت کے معنی موت کے ہیں۔ جیسے اور انبیاء فوت ہوئے۔ ہمارے نبی ﷺ بھی فوت ہوئے۔ جب نبی فوت ہوئے تو عیسیٰ علیہ السلام بھی فوت ہوئے۔ مرزا عجب بیوقوف آدمی تھا۔ زید صلیب کی موت مرا۔ اس لئے کہ مرا تو سہی۔ ایسے ہی جو مر جائے صلیب کی موت مرتا ہے۔

انبیاء علیہم السلام کی موت کیساتھ عیسیٰ علیہ السلام کی وفات کا کیا تعلق ہے؟ اللہ تعالیٰ خبر

١١

صفحہ ٤٢٦

دیتا ہے کہ: ”وما قتلوه وما صلبوه ولكن شبه لهم وما قتلوه يقينا بل رفعه الله اليه (النساء: ١٥٧)“

موت جسم پر واقع ہوتی ہے۔ صرف روح پر صادق نہیں آتی اور نہ قتل صرف روح پر صادق آتا ہے۔ یہ بیوقوف، عیسیٰ علیہ السلام کی حیات ممات کا تذکرہ ان آیات کے ساتھ ثابت نہیں کرتا۔ بلکہ ”قد خلت من قبله الرسل“ کے ساتھ کرتا ہے۔ اگر بالفرض خلت کا معنی موت ہی لیا جائے تو اس سے عیسیٰ علیہ السلام کا کیا تعلق۔ نہ سیاق نہ سباق۔ وہاں جنگ کا ذکر ہو رہا ہے۔ جنگ احد کا واقعہ ہے۔ وہاں عیسیٰ علیہ السلام کا ذکر ہی نہیں۔ خواہ مخواہ خلت کی آڑ میں مسیح علیہ السلام کی موت مراد لینا محض مرزے کے پاگل ہونے کی یا ملحد ہونے کی علامت ہے۔

علاوہ ازیں خلت کے معنی ہر جگہ مرنے کے بھی نہیں۔ جیسے ”واذا خلوا الى شياطينهم“ ﴿جب وہ منافق اپنے شیطانوں یعنی رئیسوں کی طرف جاتے تو یہ کہتے۔﴾ کیا کوئی عقلمند یہ کہے گا کہ شیطان کے پاس جا مرتے ہیں۔ پھر ان سے کہتے ہیں۔

خلت کے معنی بھی موت کے ہیں۔

اب مرزا نے شدومد سے زور دیکر کہا کہ کوئی صحیح حدیث یا قوی یا ضعیف یا وضعی عیسیٰ کے آسمان پر جانے کی شاہد نہیں۔

اب ناظرین! بنظر انصاف دیکھیں۔ غور سے ملاحظہ فرمائیں کہ مرزے کا دعویٰ بار بار یہی تقاضا کرتا ہے کہ کسی آیت یا حدیث یا قول سے ثابت کر دکھاؤ کہ عیسیٰ علیہ السلام بجسد عنصری آسمان پر گئے اور پھر آئیں گے تو میں مان لوں گا۔ (تحفہ غزنویہ) اور ایک ہزار روپیہ انعام دوں گا۔ اب ملاحظہ ہوں حوالہ جات کتب احادیث۔

(نزول عیسیٰ یعنی بخاری ص ٤٥١ ج ٧)

مروی ہے کہ تم میں ابن مریم اتریں گے۔ ”ان ینزل فیکم ابن مریم“

١٢

تیاری ہوگی۔ تو عیسیٰ علیہ السلام اتریں گے۔ ”اذا اقتر

ہوں گی۔ جن میں سے ایک علامت نزول عیسیٰ علی و نزول عیسیٰ بن مریم)

السلام ان کو قتل کریں گے۔ ”ینزل عیسیٰ بقتل

السلام نازل ہوں گے۔ ”ینزل عیسیٰ ابن م

فرشتوں کے کندھوں پر ہاتھ رکھے ہوئے نازل ہوں عليه الصلوة والسلام فينزل عن مهرودتين واضعاً كفيه على اجنحة ملک

علیہ السلام کو اس کے قتل کے لئے بھیجے گا۔ ”فبعث

میرے اور عیسیٰ کے درمیان کوئی نبی نہ ہوگا۔ ان ک ہوں گے۔ ان کے فوت ہونے کے بعد لوگ ان ک وبينه نبى يعنى عيسى عليه السلام وا

میں دجال کو قتل کریں گے۔ ”يقتل ابن مری حصین اور نافع بن عقبہ وابو برزہ وحذیفہ بن اسید وابو ہری وعبداللہ ابن عمرو سمرہ بن جندب ونواس بن سمعان وعمرو ب سب شاہد ہیں)

صفحہ ٤٢٧

تیاری ہوگی۔ تو عیسیٰ علیہ السلام اتریں گے۔ ”اذا اقیمت الصلوٰة ینزل عیسیٰ ابن مریم“

ہوں گی۔ جن میں سے ایک علامت نزول عیسیٰ علیہ السلام ہے۔ (حذیفہ بن اسید غفاری راوی ونزول عیسیٰ بن مریم)

السلام ان کو قتل کریں گے۔ ”ینزل عیسیٰ بقتله“

السلام نازل ہوں گے۔ ”ینزل عیسیٰ ابن مریم “ (مسند امام احمد، صحیح مسلم، جامع ترمذی، سنن ابن ماجہ، مطولاً، سنن ابی داؤد مختصراً)۔ اس وقت اللہ تعالیٰ عیسیٰ بن مریم علیہ السلام کو دمشقی سفید منار پر دو فرشتوں کے کندھوں پر ہاتھ رکھے ہوئے نازل ہوں گے۔ ”اذا بعث اللّٰہ المسیح ابن مریم علیہ الصلوٰة والسلام فینزل عند المنارة البیضاء شرقی دمشق بین مھرودتین واضعاً کفیه علی اجنحة ملکین اذا طأطأ راسه (الحدیث)“

علیہ السلام کو اس کے قتل کے لئے بھیجے گا۔ ”فبعث اللّٰہ عیسیٰ ابن مریم فیطلبه ویهلکه“

میرے اور عیسیٰ کے درمیان کوئی نبی نہ ہوگا۔ ان کا حلیہ یہ ہوگا۔ چوڑا چہرہ۔ گندمی سفید رنگ نازل ہوں گے۔ ان کے فوت ہونے کے بعد لوگ ان کا جنازہ پڑھیں گے۔ ”الحدیث لیس بینی وبینه نبی یعنی عیسیٰ علیه السلام وانه نازل“ حدیث طویل مذکور ہے۔

میں دجال کو قتل کریں گے۔ ”یقتل ابن مریم الدجال بباب لد“ (اس حدیث کے عمران بن حصین اور نافع بن عقبہ وابو برزہ وحذیفہ بن اسید وابو ہریرہؓ و کیسانؓ وعثمان بن ابی العاص وجابر وابوامامہ وابن مسعود وعبداللہ ابن عمرو سمرہ بن جندب ونواس بن سمعان وعمرو بن عوف وحذیفہ بن الیمان صحابہ کرام رضوان اللہ اجمعین سب شاہد ہیں)

١٣

صفحہ ٤٢٩

١٣.......

صحیح ابن خزیمہ، سنن ابن ماجہ ومستدرک حاکم و مجمع مختارہ میں حضرت ابو امامہ باہلیؓ سے حدیث طویل مذکور ہے۔ جس میں حضرت مہدی نماز صبح کی پڑھاتے ہوں گے کہ عیسیٰ علیہ السلام ابن مریم نازل ہوں گے۔ ”فبينا هم قد تقدم امامهم يصلى بهم الصبح اذ نزل عليهم عيسى بن مريم الصبح“

١٤.......

سنن ابن ماجہ میں حضرت عبداللہ بن مسعودؓ سے معراج کے واقعہ میں یوں مروی ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام نے فرمایا کہ مجھے قیامت کے وقت کے متعلق اللہ تعالیٰ نے خبر دی ہے کہ میں دجال کو قتل کروں گا۔ ”فانزل فاقتله“

١٥.......

امام احمد مسند میں اور طبرانی معجم کبیر میں اور رویانی مسند میں اور ضیاء مجمع مختارہ میں حضرت سمرہ بن جندب سے حدیث روایت کرتے ہیں کہ عیسیٰ ابن مریم مغرب کی طرف سے حضور علیہ السلام کے مذہب کی تائید اور دجال کے قتل کرنے کے لئے تشریف لائیں گے۔ ”ثم یجیئ عیسى ابن مريم من قبل المغرب مصدقا بمحمد ﷺ وعلى ملته فيقتل الدجال.......الخ (حدیث)“

١٦.......

معجم کبیر میں عبداللہ بن مغفل، دجال تم میں رہے گا۔ جب تک خدا چاہے گا پھر عیسیٰ علیہ السلام تشریف لائیں گے۔ اس وقت ہمارے امام مہدی ہوں گے۔ ”يلبث فيكم ما شاء الله ثم ينزل عيسى ابن مريم (الحديث)“

١٧.......

مسند امام احمد وصحیح ابن خزیمہ ومسند ابی یعلی ومستدرک حاکم ومختارہ مقدسی میں حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے حدیث مروی ہے کہ جب دجال مسلمان پر ظلم کرے گا۔ تو عیسیٰ سحر کے وقت لوگوں کو پکاریں گے۔ لوگوں تم کو کیا ہوگیا کہ تم خبیث کذاب کی طرف جاتے ہو۔ ”ایھا الناس ما يمنعكم ان تخرجوا الى كذاب الخبيث“

١٨.......

کتاب الفتن میں نعیم بن حماد، حذیفہ بن الیمان سے حدیث مروی ہے۔ پہلے دجال آئے گا۔ پھر عیسیٰ علیہ السلام تشریف لائیں گے۔ ”قال الدجال ثم يجئ عيسى“

١٩.......

طبرانی کبیر میں اوس بن اوسؓ، حضرت عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام دمشق کے سفید منارہ مشرقی سے اتریں گے۔ ”ينزل عيسى ابن مريم عند المنارة البيضاء شرقى“

٢٠.......

مستدرک میں حاکم نے ابو ہریرہؓ سے حدیث روایت کی کہ عیسیٰ علیہ السلام عدل

١٤

وانصاف کے لئے دنیا میں تشریف لائیں گے۔ میری ق جواب دوں گا۔ ”ینزل عيسى ابن مریم حـ حتى يسلم على وارد عليه“

٢١.......

صحیح ابن خزیمہ ومستدرک میں حضرت انسؓ دو آدمی عیسیٰ علیہ السلام کا قتل کرنا دجال کو دیکھیں گے۔ ” ان انه قتل عيسى ابن مريم الدجال“ و السلام مراد ہیں۔ ”في حاشية التيسير في شر

٢٢.......

حکیم ترمذی نوادر الاصول میں اور حاکم مسـ نقل فرماتے ہیں کہ جس کا میں اول نبی ہوں گا اور عیسیٰ لن تهلك امة انا اولها وعيسى بن مريم آخره

٢٣.......

ابو داؤد اور طیالسی۔ ابو ہریرہؓ نے حدیث غالب نہیں ہوگا۔ ”لم يسلط على الدجال احد

٢٤.......

مسند احمد وسنن نسائی ومجمع مختارہ میں ثوبانؓ تعالیٰ آگ سے محفوظ رکھے گا۔ ایک جو کفار ہند پر جہـ کے ہمراہ ہو کر دجال کو قتل کریں گے۔ ”عصابتان النار عصابة تغزو الهند وعصابة تكون مـ

٢٥.......

ابونعیم حلیہ میں اور ابو سعید نقاش فوائد ا ہیں بڑے خوش قسمت ہیں جو بعد از عیسیٰ ابن مریم رہـ بعد المسيح (ابن مريم)“

٢٦.......

مسند الفردوس میں ابو ہریرہؓ سے حدیث مرد اور چار سو عورتوں (پاک) لوگوں پر عیسیٰ علیہ السلا مريم على ثمان مائة رجل واربع مائة امراة خيـ

٢٧.......

حضرت کیسان سے امام رازی وابن عسـ دادا سے حدیث نقل کرتے ہیں کہ دمشق کے شرقی در

١٥

صفحہ ٤٢٩

وانصاف کے لئے دنیا میں تشریف لائیں گے۔ میری قبر پر مجھے سلام کریں گے اور میں ان کو سلام کا جواب دوں گا۔ ”ينزل عيسى ابن مريم حكما و اماما مقسطا وليأتين قبرى حتى يسلم عليّ ولاردن عليه“

دو آدمی عیسیٰ علیہ السلام کا قتل کرنا دجال کو دیکھیں گے۔ ”سيدرك رجلان من أمتى ويشهد ان انه قتل عيسىٰ ابن مريم الدجال “ وہ دو مرد خضر علیہ السلام اور حضرت الیاس علیہ السلام مراد ہیں۔ ”في حاشية التيسير في شرح جامع الصغير“

نقل فرماتے ہیں کہ جس کا میں اول نبی ہوں گا اور عیسیٰ اخیری نبی ہوں گے۔ ”لن يخز الله تعالى امته انا اولها وعيسى بن مريم آخرها“

غالب نہیں ہوگا۔ ”لم يسلط على الدجال احد الا عيسىٰ ابن مريم“

تعالیٰ آگ سے محفوظ رکھے گا۔ ایک جو کفار ہند پر جہاد کریں گے اور دوسرے وہ جو عیسیٰ علیہ السلام کے ہمراہ ہو کر دجال کو قتل کریں گے۔ ”عصابتان من أمتى أحرزهما الله تعالى من النار عصابة تغزو الهند وعصابة تكون مع عيسىٰ ابن مريم“

ہیں بڑے خوش قسمت ہیں جو بعد از عیسیٰ ابن مریم رہیں گے۔ حدیث طویل ہے ”طوبى بعيش بعد المسيح (ابن مريم)“

مرد اور چار سو عورتوں (نیک) لوگوں پر عیسیٰ علیہ السلام نزول فرمائیں گے۔ ”ينزل عيسى ابن مريم على ثمان مائة رجل واربع مائة امراة خير من على الارض“

دادا سے حدیث نقل کرتے ہیں کہ دمشق کے شرقی دروازہ کے سفید منارہ پر چھ گھڑی دن چڑھے دو

١٥

صفحہ ٤٣١

چادریں پہنے اتریں گے۔ ”ینزل عیسیٰ ابن مریم عندنا دمشق عند المنارة البیضاء لست ساعات من النھار“

ملاقات کروں گا۔ ”انی لارجوا...... انی القی عیسیٰ ابن مریم الحدیث“

السلام زمین پر اتر کر شادی نکاح کریں گے۔ ان سے اولاد ہوگی۔ ٤٥ برس رہ کر فوت ہوں گے اور میرے مقبرہ میں دفن ہوں گے۔ ”ینزل عیسیٰ بن مریم الی الارض یتزوج ویولدلہ ویمکث خمس واربعین سنة ثم یموت فیدفن معی فی قبری (الحدیث)“ پھر اسی مقبرہ سے اٹھیں گے۔

عمرؓ نے ابن صیاد کو دجال سمجھ کر قتل کرنا چاہا تھا مگر حضور ﷺ نے فرمایا کہ دجال کو عیسیٰ علیہ السلام ہی قتل کریں گے۔ ”فلست صاحبہ (اے صاحب قتل) ”انما صاحبہ یعنی قاتلہ عیسیٰ بن مریم “

عیسیٰ کا نزول ہے۔ جبکہ یاجوج ماجوج کی قوم لوگوں کو تباہ کرنے لگے گی تو لوگ بے قرار ہوکر بیت المقدس طور سینا و دیگر مقامات میں دعا کرنے لگیں گے۔ پھر عیسیٰ علیہ السلام دعا مانگیں گے تو اللہ تعالیٰ ایک کیڑا نغف نامی ان میں بھیجے گا۔ وہ کیڑے سب کو تباہ کریں گے: ”ثم ان عیسیٰ یرفع یدیہ الی السماء ویؤمن المسلمون فیبعث اللہ علیھم دابة یقال النغف (الحدیث)“

عباسؓ سے حدیث بیان کی ہے کہ جس امت کا میں اول ہوں۔ آخر عیسیٰ بن مریم ہوں اور درمیان مہدی میرے اہل بیت سے ہوں وہ کیسے ہلاک ہوسکتی ہے؟

سے ہوں گے جن کی اقتدا عیسیٰ کریں گے۔ ”منا الذی یصلی عیسیٰ ابن مریم خلفہ“

١٦

اولاد اس پر ختم ہوگی۔ جس کے پیچھے عیسیٰ نماز پڑھیں گے

کہ جب دجال نکلے گا تو ستر ہزار اس کے ہمراہ یہودی ہو عیسیٰ تشریف لائیں گے۔ وہ دین میں سعی کریں گے ”فعند ذالك یزل اخی عیسیٰ ابن مر فیکون الناس علی ملة واحد“

رہے گی حتیٰ کہ وہ خلافت عیسیٰ ابن مریم کے سپرد کردیں یرفعوہ الی عیسیٰ ابن مریم“

پہلو دفن ہونے کی اجازت چاہی۔ لیکن حضور نے اجـ شیخینؓ اور عیسیٰ ابن مریم ہوں گے۔ ”بذالك الموحـ بکر وعمر وعیسیٰ ابن مریم“

المقدس میں ایک لاکھ عورتیں ٢٤ ہزار مرد جنگی محصور ہو تشریف لائیں گے۔ ”فاذا اصبح عیسیٰ ظہرا

(اور موت کے بعد) ضرور میری قبر میں دفن ہوں ۔ ضرور جواب دوں گا: ”والذی نفسی بیدہ ینز قبری فقال یا محمد لا جیبنہ“

بہترین ہیں۔ اول حضور علیہ السلام اور آخر عیسیٰ ابن مریم اولھا رسول اللہ وآخرھا عیسیٰ ابن مریم

١٧

صفحہ ٤٣١

اولاد اس پر ختم ہوگی۔ جس کے پیچھے عیسیٰ نماز پڑھیں گے۔‘‘

کہ جب دجال نکلے گا تو ستر ہزار اس کے ہمراہ یہودی ہوں گے تو اس وقت کوہ افیق پر میرے بھائی عیسیٰ تشریف لائیں گے۔ وہ دین میں سعی کریں گے۔ پھر دجال کو قتل کریں گے۔ الحدیث مختصراً ”فعند ذالك ينزل اخي عيسىٰ ابن مريم من السماء علىٰ جبل افيق...... فيكون الناس علىٰ ملة واحد“

رہے گی حتیٰ کہ وہ خلافت عیسیٰ ابن مریم کے سپرد کر دیں گے۔ ”لم يزل هذا الامر فيهم حتّیٰ يرفعوه الىٰ عيسىٰ ابن مريم“

پہلو دفن ہونے کی اجازت چاہی۔ لیکن حضور نے اجازت نہ فرمائی بلکہ فرمایا کہ میرے ہم پہلو شیخینؓ اور عیسیٰ ابن مریم ہوں گے۔ ”بذالك الموضع ما فيه الا موضع قبري وقبر ابي بكر وعمر وعيسىٰ ابن مريم“

المقدس میں ایک لاکھ عورتیں ٢٤ ہزار مرد جنگی محصور ہوں گے۔ تو علی الصباح عیسیٰ علیہ السلام ان پر تشریف لائیں گے۔ ”فاذا اصبح عيسىٰ ظهرا بينهم“

(اور موت کے بعد) ضرور میری قبر میں دفن ہوں گے اور اگر میری قبر پر مجھے پکاریں گے تو میں ضرور جواب دوں گا: ”والذي نفسى بيده ينزلن عيسىٰ ابن مريم ثم لئن قام علىٰ قبري فقال يا محمد لاجيبنه“

بہترین ہیں۔ اول حضور علیہ السلام اور آخر عیسیٰ ابن مریم ”خير هذا الامة اولها وآخرها۔ اولها رسول الله وآخرها عيسىٰ ابن مريم“

١٧

صفحہ ٤٣٣

اور عیسیٰ علیہ السلام کی تدفین حضور کے ساتھ تورات میں مکتوب ہے۔ "مکتوب فی التوراة صفته محمدﷺ وعیسیٰ یدفن معه" مرقات اور طیبی نے اس کی تصدیق کی ہے۔

نمازیں، جمعہ قائم فرمائیں گے۔ حج وعمرہ کریں گے۔ گویا کہ ان کی سواریاں دیکھ رہا ہوں۔ "لیهبطن عیسیٰ ابن مریم یصلی الصلوٰة ولجمعه الجمع"

تشریف نہ لائیں گے قیامت قائم نہ ہوگی۔ "لا تقوم الساعة حتٰی نزل عیسٰی ابن مریم یقتل الدجال الحدیث"

ہوگی۔ عیسیٰ عدل فرمائیں گے۔ مقدمات انہیں کے سپرد ہوں گے۔ "ان المسیح ابن مریم خارج یوم القیامة ولیستفته الناس عمن سواه"

قسطنطنیہ رومیہ کو فتح کریں گے۔ پھر دجال نکلے گا تو آسمان سے مسلمان سنیں گے کہ تمہیں مبارک ہو۔ تمہارا فریادرس عیسیٰ علیہ السلام ابن مریم تشریف لائے۔ اب کسی کو لائق نہیں کہ نماز پڑھائے۔

پس امام مہدی صاحب نماز پڑھائیں گے اور عیسیٰ ان کو اقتداء فرمائیں گے۔ "فیصلٰی امیر المومنین ویصلٰی عیسٰی خلفه" مطلب یہ ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام کی عمر تشریف آوری کے بعد ٤٥ پینتالیس برس احادیث سے ثابت ہے۔ عجب ہے کہ مرزا دل کا اندھا لوگوں کو اندھا کرنا چاہتا ہے۔ مگر آنکھوں کا اندھا نہ تھا۔ دل کا اندھا تھا۔ "فانها لا تعمٰی لا بصار ولکن القلوب التی فی الصدور" وہ اور اس کے چیلے کیسے دھوکے باز ہیں قرآن وحدیث تواتر، صحیح، ضعیف، وضعی کسی حدیث سے عیسیٰ علیہ السلام کا رفع جسمانی آسمانی ثابت کرے۔ ایک ہزار سے لے کر پچیس ہزار تک کا اعلان و چیلنج دینا کیسی بے ایمانی و دھوکہ ہے اور اپنے ڈیفنس یعنی بچاؤ کے لئے کئی طرح کے ڈھنگ کھیلے۔ جیسی طبائع دیکھیں ویسی چال چلے۔ سادہ لوگوں کو تو انجان سیٹھیا حرا مڑی بن کر دھوکہ دیا۔ حضرت صاحب (مرزا قادیانی) ایسے سادے (بے وقوف) تھے کہ جوتی پہننے میں اور کپڑے پہننے میں تمیز نہ رکھ سکتے۔ یعنی اتنے سادے (بے

١٨

وقوف) تھے کہ انہیں سیدھے الٹے کا پتہ نہ لگتا تھا کہ کے علوم اور حکمت کو کب سیدھا چلا سکتے تھے اور جو و دجال پسند صفت دیکھتے تو ویسے سانگ بناتے۔ مثلاً عیسیٰ علیہ السلام آسمان سے دو چادریں رنگیں ہوئے ہوگا۔ اونی چادریں ہونگی یا سوتی یا پشمینہ کی اور وہ کس اور وہاں سوئی تاگا اور مشینیں رکھی ہوئی ہیں۔ ارے سلا سلایا بھیجا تو جس مشین سے سلا ہوا چولہ آیا اسی مشین

دیکھو نانک کا چولہ اور ست بچن میں طبیعت خوش کرنے کے لئے خسوف اور کسوف کا مسئلہ والوں کو اسی تمثیل سے خوش کرنا۔ غرضیکہ جو ڈھنگ قابو کرنا اور اپنے مطلب کے لئے جس حدیث کو من گھڑت

چاہے ابوداؤد کی حدیث ہی ہو جیسے "آیـ دینھـــــــا" کو ابوداؤد نے بیان کیا۔ سند میں سلیمان مجہول۔ دوسرا راوی وہب ابن منبہ مجہول ہے۔ مرزے والوں نے لیا۔ اسی طرح اپنی مرضی کے خلاف جو صحاح ستہ کی حدیث کیوں نہ ہو۔ جیسے کہ مرزا نے اپنے اپنے آپ کو مہدی ثابت کرنے کے لئے سورج گرہن

حالانکہ صحیحین میں حدیث ہے کہ کسی ہوا کرتے جبکہ حضرت ابراہیم صاحبزادہ رسول فرمائی۔ چونکہ مرزے کے مفید مطلب یہ حدیث معجزہ شق القمر تھا اور میرے لئے رمضان شریف گواہی کیلئے آئے۔

اس حدیث "لا ینکسفان الشمس قطنی کی حدیث جس میں اپنی مہدیت ثابت کرنے

صفحہ ٤٣٤

وقوف) تھے کہ انہیں سیدھے الٹے کا پتہ نہ لگتا تھا کہ یہ جوتی یا کپڑا، سیدھا ہے یا الٹا تو نبوت اور اس کے علوم اور حکمت کو کب سیدھا چلا سکتے تھے اور حضرت جی (مرزا قادیانی) مخبطی طبیعت بھانڈ و دجال پسند صفت دیکھتے تو ویسے سانگ بناتے۔

مثلاً عیسیٰ علیہ السلام آسمان سے دو چادریں رنگیں میں اتریں گے۔ تو وہ کیسی ہوں گی ان کا رنگ کیا ہوگا۔ اونی چادریں ہونگی یا سوتی یا پشمینہ کی اور وہ کس نے سی ہوں گی۔ کیا آسمان پر درزی خانہ ہے اور وہاں سوئی تاگا اور مشینیں رکھی ہوئی ہیں۔ ارے بے وقوف جس خدا تعالیٰ نے گورونانک کا چولا سلا سلایا بھیجا تو جس مشین سے سلا ہوا چولہ آیا اسی مشین سے وہ چادریں بھی سلائی گئیں۔

دیکھو نانک کا چولہ اور ست بچن میں مرزا نے لکھا ہے اور فلسفی اور سائنسدانوں کی طبیعت خوش کرنے کے لئے خسوف اور کسوف کا مسئلہ چھیڑ کر معتقدین کو خوش کرنا۔ کہیں زنانہ خیال والوں کو اسی تمثیل سے خوش کرنا۔ غرضیکہ جو ڈھنگ چلتا دیکھا تو اسی ڈھنگ میں اس کو خوش کرکے قابو کرنا اور اپنے مطلب کے لئے جس حدیث کو مفید پانا قبول کر لینا۔

چاہے ابو داؤد کی حدیث ہی ہو جیسے ”ان الله يبعث على راس مأة من يجدها دینها“ کو اور نے بیان کیا۔ سو سات سلیمان راوی مذکور ہیں۔ ایک ان میں سلیمان ابن داؤد مجہول۔ دوسرا راوی وہب ابن منبہ مجہول ہے۔ نمبر ٢ سو ابو داؤد کے اس حدیث کے ائمہ صحاح ستوں والوں نے لیا۔ اسی طرح اپنی مرضی کے خلاف جو حدیث مرزائی پائیں۔ اس کو نہیں مانتے۔ اگرچہ صحاح ستہ کی حدیث کیوں نہ ہو۔ جیسے کہ مرزا نے اپنے مہدی ہونے کے نشان بحوالہ حدیث دار قطنی اپنے آپ کو مہدی ثابت کرنے کے لئے سورج گرہن اور چاند گرہن والی حدیث پیش کی۔

حالانکہ صحیحین میں حدیث ہے کہ کسی کی موت کے لئے سورج گرہن و چاند گرہن نہیں ہوا کرتے جبکہ حضرت ابراہیم صاحبزادہ رسول اللہ ﷺ نے انتقال فرمایا۔ حضور نے یہ حدیث فرمائی۔ چونکہ مرزے کے مفید مطلب یہ حدیث نہ تھی کہ مرزے کا دعویٰ تھا کہ حضور کا نشان صرف معجزہ شق القمر تھا اور میرے لئے رمضان شریف میں سورج گرہن اور چاند گرہن میرے معجزہ کی گواہی کیلئے آئے۔

اس حدیث ”لا ينكسفان الشمس والقمر لاحدهما“ کو نہ مانا اور مرزا نے دار قطنی کی حدیث جس میں اپنی مہدیت ثابت کرنا چاہتا تھا۔ حالانکہ دار قطنی تیسرے طبقہ کی حدیث

١٩

صفحہ ٤٣٤

کی کتاب اور ضعیف ہے اور اس کی روایت میں راوی عمرو بن شمر ہے اور یہ راوی محدثین کے نزدیک واہی اور کذاب ہے۔ مرزا چونکہ واہی وکذاب تھا۔ اس لئے اس کو راوی بھی واہی اور کذاب پسند آتے تھے اور کتابیں ضعفا سے پسند کرتا تھا کہ خود ضعیف بلکہ واہی وکذاب تھا۔ غرضیکہ اپنا داؤ جیسے چلتا دیکھا ویسا چلاتا تھا۔ نعوذ بالله من ذالك!

امید کہ ناظرین کی نظر سے مرزا کی دروغ گوئی ظاہر ہوگئی ہوگی۔ مگر یہ جماعت ایسی ڈھیٹ ہے کہ چاہے جھوٹے بنتے جائیں۔ مگر مانتے نہیں بلکہ جھوٹ پر زیادہ دلیر ہوتے ہیں۔ اپنی جماعت کی کثرت اور غلبہ بیان کئے جاتے ہیں۔ حالانکہ چاروں طرف سے جوت پیزار ان کے سر پر برستا رہتا ہے۔

عرب سے عجم تک اگرچہ ہند جماعتیں اعتقاد میں آپس میں متفق نہیں۔ مرزائیوں کے کفر میں متحد ہیں۔ اگر ناظرین کو شک ہو تو شیعہ وسنی، بریلوی ودیوبندی عرب وعجم سے، احرار وخاکسار سے، فقہاء ومحدثین سے فتویٰ طلب کرکے دیکھ لیں۔ کچھ تو میں نے کمالین سے مرزے کے متعلق لکھا ہے اور کچھ حاضر خدمت کرتا ہوں۔

حضرات دیوبندیوں اور بریلویوں اور مولوی ثناء اللہ صاحب مرحوم ودیگر احرار وغیرہ مصنفین کی کتب مطبوعہ موجود ہیں۔ ملاحظہ فرماسکتے ہیں۔ علمائے مکہ معظمہ ومدینہ منورہ کے فتاویٰ مسمی خلاصہ فتاویٰ حرمین شریفین کے کافی وبس ہیں۔ خلاصہ فتاویٰ ص٧٦ اور حسام الحرمین ص٨ اور علماء امرتسر کی یہ عبارت ہے: ”شخص مذکور بباعث فساد عقیدہ کفر کو پہنچ جائے گا۔“

غرض جس طرف سے استفتاء مانگیں گے۔ مرزا قادیانی کو کافر پائیں گے۔ ایسے ہی ان کے متبعین ہیں۔

یہ چند اقوال اطمینان قلب علماء کرام کے لئے لکھے گئے۔ ورنہ مرزا قادیانی کی اپنی تحریر سے مرزا قادیانی کا کفر ثابت ہوتا ہے۔

٢٠

PDF 436

عمرو بن شمر ہے اور یہ راوی محدثین کے ب تھا۔ اس لئے اس کو راوی بھی واہی اور ا تھا کہ خود ضعیف بلکہ واہی وکذاب تھا۔

ہ من ذالك! کوئی ظاہر ہوگئی ہوگی۔ مگر یہ جماعت ایسی ں بلکہ جھوٹ پر زیادہ دلیر ہوتے ہیں۔ اپنی ے چاروں طرف سے جوت پیزار ان کے

و میں آپس میں متفق نہیں۔ مرزائیوں کے نی، بریلوی و دیوبندی عرب وعجم سے، کے دیکھ لیں۔ کچھ تو میں نے کمالین سے

ثناء اللہ صاحب مرحوم و دیگر احرار وغیرہ ۔ علمائے مکہ معظمہ و مدینہ منورہ کے فتاویٰ حصہ فتاویٰ ص ٧٦ اور حسام الحرمین ص ٨ عقیدہ کفر کو پہنچ جائے گا۔‘‘ دالجبار بن عبداللہ الغزنوی ومحمد یوسف غلام محی الدین مقر العباد خدا بخش امام مسجد خیر الدین

زا قادیانی کو کافر پائیں گے۔ ایسے ہی

لکھے گئے۔ ورنہ مرزا قادیانی کی اپنی تحریر

خاتم النبیین لا نبی بعدی

اکاذیب مرزا

مولانا قاضی عبدالغفور شاہپوری

صفحہ ٤٣٧

بسم الله الرحمن الرحيم

اما بعد! اس خاکسار نے وعدہ کیا تھا کہ بعد از رمضان المبارک تعارف مرزا لکھوں گا۔ پس ایفائے عہد کرتے ہوئے دوسرا حصہ مسلمانوں کے دین وعقائد کی حفاظت کے لئے بعونہ تعالیٰ شروع کرتا ہوں۔ اللہ تعالیٰ پایہ تکمیل کو پہنچا کر باعث حفاظت عقائد عوام الناس بنائے۔ آمین!

مرزا قادیانی نے جھوٹ بولنے میں ابنائے زمان بلکہ متقدمین متاخرین سے سبقت لے گیا ہے۔ مرزا قادیانی کا دعویٰ ہے کہ مجھے الہام ہوتا ہے۔ یہ دعویٰ بلا دلیل و بلا ثبوت ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ”ومن اظلم ممن افترى على الله كذبا اوقال اوحى الى ولم يوح اليه شىء ومن قال سانزل مثل ما انزل الله (انعام: ٩٣)“ میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا اس (شخص) سے بڑا ظالم کون ہے جو اللہ تعالیٰ پر جھوٹ باندھے یا یوں کہے کہ مجھ پر وحی نازل ہوئی۔ حالانکہ اس پر کچھ نازل نہ ہوا۔

نبی کونسا شاہد اور کتاب آسمانی کون سی شاہد ہے۔ مثال کے طور پر انبیاء علیہم السلام کا ذکر خیر سابقہ کتب اور صحائف میں موجود ہے۔ مرزا قادیانی کی نبوت پر کون شاہد ہے۔

نبوت کذب و افتریٰ خاص ہے اور تاویل وتعبیر محض فریب ہے۔

کذب وافتراء ہے۔ زبانی دعویٰ کرتے ہیں کہ روحانی معاملہ مراد ہے۔ کہ بل رفعہ اللہ سے روح مراد ہے۔ مگر یہاں جسم مع روح کا واقعہ بیان ہے۔ صرف روح کا کوئی تعلق و ذکر نہیں۔

ثبوت نہیں) ان کی تفصیل آئندہ مذکور ہوگی۔ انشاء اللہ تعالیٰ محمد علی لاہوری نے اپنی تفسیر میں مرزا قادیانی کی نبوت کی تردید کی ہے۔ وہاں دیکھو:

٢

کا ہو مسیلمہ کذاب جیسے آنے والے جھوٹے نبیوں کے ہے۔ سب پر ظالم کا اطلاق آیا ہے۔ (اسود عنسی وغیرہ گیا۔ دوسرے جھوٹے نبیوں نے اپنے مطلب کے لی نے دوسرے انبیاء کی توہین نہیں کی۔ نہ اتنی بے حیائی کی علیہ ماعلیہ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی والدہ صدیقہ نمونہ چند گستاخیاں اور کذب مرزا قادیانی کے تعارف قادیانی نے اپنے اوپر قیاس کر کے خدا تعالیٰ کے ذمہ بھ

پیشین گوئیاں کھلوائیں۔

(ازالہ اوہام ص ٦٢٩، خزائن ج ٣ ص ٤٣٩)

”وہ خدا جس نے ایک فتنہ گر کو اپنا رسول ”وہ خدا جس نے اپنا سب سے پیارا بھیجا۔“

سے محمدی بیگم کا مطالبہ شروع کیا۔ بلکہ اسے اپنی منکو والی مرزا قادیانی کے جیتے جی دوسرے کے بغل م اسی حسرت میں غمگین اور ذلیل وخوار و بدنام رہا۔ م کہ دو اڑھائی برس میں مرجائے گا۔ مگر مرزا قادیان چلتا بنا۔ سلطان محمد کی اولاد ہوئی اور مرزا قادیانی ہ

مرزا قادیانی نے خدا تعالیٰ پر کیا ک

صفحہ ٤٣٧

کا ہو مسیلمہ کذاب جیسے آنے والے جھوٹے نبیوں کے متعلق جن میں سے ایک مرزا قادیانی بھی ہے۔ سب پر ظالم کا اطلاق آیا ہے۔ (اسود عنسی وغیرہ پر ) مرزا قادیانی تو سب سے سبقت لے گیا۔ دوسرے جھوٹے نبیوں نے اپنے مطلب کے لئے صرف دعوائے نبوت (نا جائز کیا) کیا کسی نے دوسرے انبیاء کی توہین نہیں کی۔ نہ اتنی بے حیائی کی کہ کسی نبی کی توہین کی ہو۔ جیسے مرزا قادیانی علیہ ماعلیہ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی والدہ صدیقہ اور عیسیٰ علیہ السلام کی توہین کی۔ جیسے کہ بطور نمونہ چند گستاخیاں اور کذب مرزا قادیانی کے تعارف نمبر ١ میں گزریں بطور نمونہ دوسرے حصہ مرزا قادیانی نے اپنے اوپر قیاس کر کے خدا تعالیٰ کے ذمہ بھی کذب تھوپنے سے باز نہ آیا۔

پیشین گوئیاں دکھلائیں۔

(ازالہ اوہام ص ٦٢٩، خزائن ج ٣ ص ٤٣٩)

بنایا جس کی نبوت پر اصلا دلیل نہیں۔“

(اعجاز احمدی ص ١٣، خزائن ج ١٩ ص ١٢٠)

(نزول المسیح ص ١٢، خزائن ج ١٨ ص ١٢٠)

(دیکھو مواہب الرحمن ص ١٣١، خزائن ج ١٩ ص ٢٢١)

”وہ خدا جس نے ایک غنڈہ کو اپنا رسول کر کے بھیجا۔“

(قادیانی مذہب ص ٤٢٧)

”وہ خدا جس نے اپنا سب سے پیارا بروزی نبی خاتم النبیین دوبارہ قادیان میں بھیجا۔“

(دافع البلاء ص ١٣، خزائن ج ١٨ ص ٢٣١)

سے محمدی بیگم کا مطالبہ شروع کیا۔ بلکہ اسے اپنی منکوحہ کا اشتہار چھپوا دیا۔ پس اس کی جورو آسمانی نکاح والی مرزا قادیانی کے جیتے جی دوسرے کے بغل میں مرزے کے مرتے دم تک رہی۔ مرزا قادیانی اسی حسرت میں غمگین اور ذلیل و خوار و بدنام رہا۔ محمدی بیگم کی والدہ اور والد کو عذاب الہی کی دھمکی دی کہ دو اڑھائی برس میں مر جائے گا۔ مگر مرزا قادیانی جھوٹا ثابت ہوا کہ سلطان محمد کے ہوتے ہوئے چلتا بنا۔ سلطان محمد کی اولاد ہوئی اور مرزا قادیانی ہزاروں ارمان لے کر قبر میں جا لیٹا۔

مرزا قادیانی نے خدا تعالیٰ پر کیا کیا افتراء باندھے۔ نہ خدا کا خوف نہ مرنے کا نہ

صفحہ ٤٣٩

سکرات کا نہ حشر کا اور نہ آخرت کا خوف تھا۔ بھلا خوف تو تب ہو کہ مرزا قادیانی کا ایمان خدا پر ہوتا آئینہ مرزا قادیانی میں ہے کہ مرزا قادیانی دہریہ تھا۔ سرے سے خدا کو مانتا ہی نہ تھا۔ اس کا قرینہ ثبوت یہ ہے کہ اس نے انبیاء علیہم السلام کی توہین سے خوف نہ کھایا۔ اگر شریعت کو حق جانتا۔ بانیان شرع انبیاء علیہم السلام اور اہلبیت کرام کی توہین نہ کرتا۔ ”نعوذ بالله من ذالك“

مرزا قادیانی مفتری کذاب (ضمیمہ انجام آتھم ص ٥٣، خزائن ج ١١ ص ٣٣٧) میں اس آسمانی محمدی بیگم کے نکاح کی پیش گوئی کے متعلق لکھتا ہے: ”اس پیش گوئی کی تصدیق کے لئے جناب رسول خدا ﷺ نے بھی پہلے ایک پیشین گوئی فرمائی کہ: ”يتزوج ويولدله “ لیکن چونکہ نہ مرزا قادیانی کا محمدی بیگم سے نکاح (زمینی و آسمانی ) ہوا نہ اس سے اولاد ہوئی: ”من كذب على متعمداً فليتبوأ مقعده من النار “ پیغمبر پر جھوٹ باندھ کر خود خوار بنا۔ پیغمبر صاحب نے مجھے نکاح کی بشارت دی۔

مرزا قادیانی کو کئی طرح کے الہام ہوتے تھے۔ اردو، فارسی، عربی ہر طرح کے الہام ہوتے۔ محمدی بیگم کے والدین جو مرعوب نہ ہوئے تو لگا اس کے خاوند یعنی محمدی بیگم کے خاوند کی طرف عربی میں لکھ بھیجا: ”كذاك يموت بعلها “ (میرے رب نے مجھے آگاہ کیا ہے کہ ہم اس کے خاوند کو ہلاک کرنے والے ہیں ۔ ) (آئینہ کمالات ص ٥٧٣، خزائن ج ٥ ص ایضاً) ایسے فضول الہام براہین احمدیہ وغیرہ میں بہت سی باتیں درج ہیں۔

مکر اور چالاکی مرزا قادیانی نے کی۔ (آسمانی فیصلہ ص ٤٠، خزائن ج ٤ ص ٣٥٠) ایک عربی الہام محمدی بیگم کے نکاح کے متعلق یوں لکھتا ہے: ”تجھ سے پوچھتے ہیں کہ کیا یہ سچ بات ہے۔ (نکاح) کہہ ہاں مجھے اپنے رب کی قسم ہے کہ یہ سچ ہے اور تم اس بات کو وقوع میں آنے سے نہیں روک سکتے۔ ہم نے خود تیرا اس سے عقد باندھ دیا ہے۔ میری باتوں کو کوئی بدل نہیں سکتا اور نشان دیکھ کر منہ پھیر لیں گے اور قبول نہیں کریں گے اور کہیں گے کہ یہ کوئی فریب یا پکا جادو ہے۔“

اپنی اس بات کو پختہ کرنے کے لئے (استفتاء ص ٣، خزائن ج ١٢ ص ١١١) پر مرزا قادیانی لکھتا ہے ۔ ”چونکہ مجھے اللہ تعالیٰ کے وعدوں پر پورا وثوق تھا کہ قرآن بھرا پڑا ہے: ”الله لا يخلف الميعاد، لا يخلف الله وعده انك لا تخلف الميعاد “ تو میرا نکاح خدا کا پڑھا ہوا ہے۔ کہیں زائل نہیں ہوسکتا۔

٤

محمدی بیگم ضرور تیرے گھر آئے گی اور پھر قادیانی کو ہر طرف سے جھوٹ اور ذلت اور بدنامی کے ”يمحو الله ما يشاء ويثبت“ کی آڑ میں جا چھ کے پیچھے پڑے مگر اپنی بہو عزت بی بی بھی ضائع کر بیٹھے ہے کہ اگر مرزا احمد بیگ محمدی بیگم کا غیر کے ساتھ نکاح میرے بیٹے کی زوجہ کو تین طلاق ہیں۔ مگر مرزا احمد بیگ کر دیا۔ پھر مرزا قادیانی کی بہو عزت بی بی مطلقہ ٣ طلاق میں رکھنا حرام ہے۔

(الصارم الربانی ص ٥٠) مصنفہ مولانا حضر

پر تحریر فرمایا۔ مرزا قادیانی کے رشتہ دار نے مرزا قادیان بیگم سلطان محمد خان کو بیاہ دی مرزا قادیانی چیختے چلا جائے گا اور محمدی بیگم میرے قبضے میں آجائے گی۔

مگر وہ مغل سلطان محمد ایسا کڑا پٹھان تھا دبائے رہا۔ سلطان محمد خان کا بال بیکا نہ ہوا۔ بلکہ مرزا قبضے میں دیکھتے رہے۔ مگر بے غیرتی کی زندگی گزاری اس نے قرآن میں تحریف کی مگر کون چلنے دیتا۔

(ضمیمہ انجام آتھم ص ٥٣، خزائن ج ١١ ص ٣٣

قادیانی زور دیتا ہے۔ ”کیا اس دن یہ احمق (علماء معتر کیا اس دن سچائی کی تلوار سے ٹکڑے ٹکڑے نہیں ہ خزائن ١١ ص ٣٠٩) (محمدی بیگم کے نکاح نہ ہونے میں رہے ہیں۔ تمام مخالفوں کا منہ کالا ہوا اور مخالفوں پر ا سکتے ۔“ (ضمیمہ انجام آتھم ص ٣٥، خزائن ج ١١ ص ٣١٩) میں

”اب پھر علماء نے اسی بحث کو چھیڑا بافیصل بعد) انکار کرنا محض شرارت اور بے ایمانی ہے۔“ بح

٥

صفحہ ٤٣٩

محمدی بیگم ضرور تیرے گھر آئے گی اور بچہ دے گی۔ وہ خدا ہمارا وعدوں کا سچا۔ پس مرزا قادیانی کو ہر طرف سے جھوٹ اور ذلت اور بدنامی کے پیغام پہنچے۔ قرآن کی تحریف شروع کر دی: ”یمحو الله ما یشاء و یثبت “ کی آڑ میں جا چھپا اور سنئے مرزا قادیانی بے چارے محمدی بیگم کے پیچھے پڑے مگر اپنی بہو عزت بی بی بھی ضائع کر بیٹھے۔ (نکاح مرزا ص١٢، کلمہ فضل رحمانی ص١٢٧) میں ہے کہ اگر مرزا احمد بیگ محمدی بیگم کا غیر کے ساتھ نکاح کرنے سے باز نہ آیا تو اس روز عزت بی بی میرے بیٹے کی زوجہ کو تین طلاق ہیں۔ مگر مرزا احمد بیگ نے محمدی بیگم کا سلطان محمد کے ساتھ نکاح کر دیا۔ پھر مرزا قادیانی کی بہو عزت بی بی مطلقہ ٣ طلاق اس نے اپنے گھر میں رکھی جو شرعاً اس کا گھر میں رکھنا حرام ہے۔

(الصارم الربانی ص٥٠) مصنفہ مولانا حضرت حامد رضا خان صاحب بریلوی نے حاشیہ پر تحریر فرمایا۔ مرزا قادیانی کے رشتہ دار نے مرزا قادیانی کی ایک نہ سنی اور ان کی منکوحہ آسمانی محمدی بیگم سلطان محمد خان کو بیاہ دی مرزا قادیانی چیختے چلاتے رہے کہ سلطان محمد تین سال کے اندر مر جائے گا اور محمدی بیگم میرے قبضے میں آجائے گی۔

مگر وہ مغل سلطان محمد ایسا کڑا پٹھان تھا کہ مرزا قادیانی کی آسمانی منکوحہ بغل میں دبائے رہا۔ سلطان محمد خان کا بال بیکا نہ ہوا۔ بلکہ مرزا قادیانی بے غیرت ہو کر اپنی جورو کو غیر کے قبضے میں دیکھتے رہے۔ مگر بے غیرتی کی زندگی گزاری۔ ایسی بے غیرتی سے تو موت بہتر ہے۔ مگر اس نے قرآن میں تحریف کی مگر کون چلنے دیتا۔

(ضمیمہ انجام آتھم ص٥٣، خزائن ج١١ ص٣٣٧) میں محمدی بیگم کی آسمانی صداقت پر مرزا قادیانی زور دیتا ہے۔ ”کیا اس دن یہ احمق (علماء معترض نکاح محمد بیگم کے لئے ) جیتے رہیں گے۔ کیا اس دن سچائی کی تلوار سے ٹکڑے ٹکڑے نہیں ہو جائیں گے ۔“ پھر (ضمیمہ انجام آتھم ص٢٥، خزائن ١١ ص٣٠٩) (محمدی بیگم کے نکاح نہ ہونے میں) ”جھوٹے ہیں اور کتوں کی طرح مردار کھا رہے ہیں۔ تمام مخالفوں کا منہ کالا ہوا اور مخالفوں پر اور کذابوں پر وہ لعنت پڑی جو اب دم نہیں مار سکتے۔“ (ضمیمہ انجام آتھم ص٣٥، خزائن ج١١ ص٣١٩) میں ہے۔

”اب پھر علماء نے اسی بحث کو چھیڑا یا فیصلہ شدہ بات سے (نکاح کے منعقد ہونے کے بعد) انکار کرنا محض شرارت اور بے ایمانی ہے۔“ پھر (ضمیمہ انجام آتھم ص٥٠، خزائن ج١١ ص٣٣٣)

٥

صفحہ ٤٤٠

میں ہے۔ ”مگر تم نے حق چھپانے (محمدی بیگم والے نکاح کے اظہار کے لئے۔ ) یہ جھوٹ کا گوہ کھایا۔“ (کہ نکاح نہیں ہوا اور نہ ہوگا)

”پس اے بدذات خبیث اب تیرا جھوٹ پکڑا گیا وہ بدذات خود جھوٹا اور بے ایمان ہے۔ کیا تمہارے مخالف نادان پہلے ہی سے اپنی بدگوہری ظاہر کرتے رہیں گے۔ کیا اس دن (جس دن محمدی بیگم کا ڈولہ مرزا قادیانی کے گھر آئے گا) یہ احمق مخالف جیتے رہیں گے۔ کیا اس دن سچائی کی تلوار سے ٹکڑے ٹکڑے نہیں ہو جائیں گے۔ نہایت صفائی سے ناک کٹ جائے گی اور ذلت و سیاہ داغ ان کے منحوس چہروں کو بندروں اور سوروں کی طرح نہ کر دیں گے۔“ (ضمیمہ انجام آتھم ص ٥٣) الغرض مختصر یہ کہ مرزا قادیانی نے کہا کہ جس دن سلطان محمد بیگ شوہر محمدی بیگم فوت ہو جائے گا اور محمدی بیگم میرے گھر میں آ جائے گی۔ اس دن محمدی بیگم کے نکاح کے مذاق اڑانے والوں کا چہرہ بندر اور سور کا سا ہو جائے گا اور ان کی ناک کٹ جائے گی۔

پس ناظرین! منصف مزاج بنظر انصاف غور فرمائیں کہ آیا محمدی بیگم مرزا قادیانی کے گھر میں آئی؟ کیا مرزا قادیانی کامیاب ہوا؟ ہرگز نہیں۔

پس محمدی بیگم مرزا قادیانی کے گھر نہ آئی تو کس کا ناک کٹا اور کس کا چہرہ بندروں اور سور کے ہونے کا حقدار ہے اور کون گوہ خور خبیث ہوا؟ (ضمیمہ انجام آتھم ص ٥٣، خزائن ج ١١ ص ٣٣٧)

ہم بتائیں کہ کون مستحق ہوا۔ قادیانی جماعت کا نبی مرزا قادیانی علیہ ما علیہ مستحق ہوئے۔ محمدی بیگم کے نکاح کا قصہ ختم کرتا ہوں کہ طول پکڑ جائے گا۔

مرزا قادیانی کے اور اکاذیب درج رسالہ کر کے اہل اسلام کو آگاہ کرتا ہوں۔ تاکہ مرزا قادیانی کے فریب میں آکر مرزا قادیانی کے شکار میں پھنس کر راہ راست سے بھٹک نہ جائیں۔

غزنوی و ڈاکٹر عبدالحکیم و مولوی ابراہیم کے مرنے کی خبر دی کہ وہ میری موجودگی میں مر جائیں گے۔ حالانکہ مرزا قادیانی ان سب کی موجودگی میں پہلے زیر زمین دفن ہو گیا۔ یہ لوگ اس کے بعد فوت ہوئے اور بعض لوگ اب تک زندہ موجود ہیں۔ جیسے مولوی ابراہیم سیالکوٹی تاحال زندہ موجود ہیں۔

عبدالحکیم خان جو بیس سال سے مرید تھا۔ اس نے مرزا قادیانی کی حقیقت کھولی تو مرزا قادیانی نے

٦

صفحہ ٤٤١

بددعا کی کہ: ”یہ مر جائے گا۔“

مگر ڈاکٹر صاحب زندہ رہے اور مرزا قادیانی مر گیا۔ مرزا قادیانی نے بددعا کیوں دی اور کس لئے دی؟ وہ اس لئے بددعا دی کہ ڈاکٹر صاحب عبدالحکیم خان نے مرزا قادیانی کو بذریعہ مولوی نور الدین ایک خاص خط لکھا۔ جس میں مرزا قادیانی کو مکار شریر جھوٹا فریبی لکھا۔ جھوٹی قسمیں کھانے والا لکھا۔ (حقیقت الوحی) میں مرزا قادیانی نے یوں تحریر کیا:

”نحمدہ ونصلی علیٰ رسولہ الکریم

اس امر سے اکثر لوگ واقف ہوں گے۔ کہ ڈاکٹر عبدالحکیم خان صاحب جو تخمیناً ٢٠ برس تک مرید رہے چند دنوں سے مجھ سے برگشتہ ہوکر سخت مخالف ہو گئے ہیں اور اپنے رسالہ المسیح الدجال میں میرا نام کذاب، مکار، شیطان، دجال، شریر، حرام خور رکھا ہے اور مجھے خائن، شکم پرست، نفس پرست، مفسد، مفتری، خدا پر افترا بنانے والا قرار دیا ہے۔ جہاں کے عیب جب سے دنیا پیدا ہوئی سب عیوب مجھ پر جڑے۔ بلکہ پنجاب میں دورہ کر کے علی الاعلان میری عیب جوئی و نکتہ چینی کی۔ اس نے مجھے شیطان سے بدتر قرار دے کر مجھ پر ہنسی اڑائی ہے۔ لہٰذا میں نے اس کو بددعا کی کہ تین سال کے اندر عبدالحکیم خان مر جائے گا۔ (مگر بے چارہ مرزا عبدالحکیم کی جگہ خود مر گیا۔) بلکہ عبدالحکیم نے گالیاں دینے کے بعد لکھا کہ ١٢؍جولائی ١٩٠٦ء کو اس شخص (مرزا قادیانی کے) مرنے کی خبر مجھے دی گئی ہے۔ پس مرزا قادیانی نے کہا کہ میں بھی عبدالحکیم کے مرنے کی خبر دیتا ہوں کہ عبدالحکیم تین سال کے اندر مر جائے گا۔ (مگر صاف جھوٹ) کہ مرزا قادیانی خود اس عرصہ کے اندر مر گیا۔

جب ڈاکٹر صاحب نے مرزا قادیانی کی موت کا الہام لکھا تھا۔ مرزا قادیانی نے جواب میں لکھا کہ معمولی تھرڈ کلاس کے الہام تو ہر کسی کو ہوتے ہیں۔ مگر ایسے الہام سچے نہیں۔ بلکہ سچے الہام تو جیسے میرے الہام ہوتے ہیں۔ غصے کی آگ بھڑکنے کے بعد پس مرزا قادیانی نے

فرمایا کہ: ”اگر میں ایسا ہوں کہ جیسے عبدالحکیم نے میری نسبت ظاہر کیا۔ تو میں امید رکھتا ہوں کہ خدا مجھ کو ایسی ذلت کی موت نہیں دے گا کہ میرے آگے بھی لعنت ہو اور پیچھے بھی لعنت ہو۔“

پس ڈاکٹر صاحب کا الہام سچا ہوا کہ مرزا قادیانی (لعنت کی موت یعنی دستوں کی مرض سے) ہی تین سال کی میعاد کے اندر ٢٦؍مئی ١٩٠٨ء کو فوت ہوئے اور ڈاکٹر صاحب بارہ

٧

صفحہ ٤٤٣

سال بعد یکم جولائی ١٩٣٠ء میں فوت ہوئے۔ یہ دعویٰ مرزا قادیانی کا جھوٹا ثابت ہوا۔ جس کی نسبت قسمیہ بیان کرتا تھا کہ میرا الہام سچا ہے اور ڈاکٹر کا الہام جھوٹا ہے۔

مرزا قادیانی کا حقیقت الوحی والا عربی الہام جھوٹا و غلط نکلا اور ڈاکٹر صاحب نے مولوی نورالدین کے ذریعے مرزا قادیانی کو اطلاع دی تھی کہ ١٢؍ جولائی ١٩٠٦ء کو خدا تعالیٰ نے بذریعہ الہام ڈاکٹر صاحب کو مرزا قادیانی کی موت کی خبر دی تھی۔ سو وہ ایسی ہوئی اور ڈاکٹر صاحب نے مرزا قادیانی کو لکھا تھا کہ آپ اپنے گناہوں اور افترا سے تائب ہو جائیں تو شاید آپ کی توبہ کی وجہ سے عذاب الٰہی ٹل جائے اور آپ کی عمر دراز ہو جائے۔ مگر مرزا قادیانی تائب نہ ہوا۔ لہٰذا خدا تعالیٰ نے مرزا قادیانی کی عمر اور گھٹا دی۔

آپ ١٤؍ اگست ١٩٠٨ء تک ہلاک ہو جائیں گے۔ مگر مرزا قادیانی نے جواب لکھا کہ (چشمہ معرفت کے ص ٣٢١، خزائن ج ٢٣ ص ٣٣٦) میں جواب یوں لکھا کہ: ”ایسا ہی کئی اور دشمن میرے مقابل کھڑے ہوئے۔ جن کا نام و نشان نہ رہا۔ ہاں آخری دشمن ایک اور پیدا ہوا جس کا نام عبدالحکیم خان ہے۔ خدا اس کو ذلیل و ہلاک کرے گا اور میں اس کے شر سے محفوظ رہوں گا۔“ پس یہ بھی مرزا قادیانی کا جھوٹ ثابت ہوا۔ مرزا عبدالحکیم خان سے بارہ ١٢ سال پہلے مر گیا۔ مرزا قادیانی کا کذب دیکھئے۔

کا دیا ہوا غلط اور جھوٹا ثابت ہوا۔

مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ٥٧٨، یکم ربیع الاول ١٣٢٥ھ میں مرزا قادیانی نے مولوی ثناء اللہ صاحب کو بددعا کی کہ: ”خداوند مجھے مولوی ثناء اللہ امرت سری مفتری و مفسد کذاب کہتا ہے اگر وہ سچا ہے تو مجھے اس کے جیتے جی عذاب میں مبتلا کر کے ہلاک کر دے۔ ہیضہ یا طاعون یا کسی مہلک امراض سے مجھے تباہ کر اور اگر ثناء اللہ جھوٹ کہتا ہے۔ تو اس کو اپنے مہلک امراض میں میرے جیتے جی ہلاک کر۔“ پس مرزا قادیانی بڑا جھوٹا ثابت ہوا اور مولوی ثناء اللہ صاحب ١٩٤٩ء تک زندہ رہے۔

دعویٰ سے کہا کہ مولوی محمد حسین بٹالوی میری موجودگی میں مرے گا۔ مگر مولوی محمد حسین صاحب

٨

٢٩ جنوری ١٩٢٠ء میں فوت ہوئے۔ مرزا قادیانی فوت ہوئے۔

میری موجودگی اور میری زندگی میں ابراہیم مرے رہے اور مرزا جھوٹا ثابت ہوا۔ مرزا قادیانی کے غ (پس مرزا قادیانی نے کتنے جھوٹ بولے اور کتنی مر

ساتھ مباہلہ کیا تو مولوی صاحب کا بال بیکا نہ ہوا ا فوت ہو گیا۔ تو مرزا قادیانی نے (انجام آتھم ضمیمہ ص نے مباہلہ کبھی نہیں کیا۔ یعنی میں نے کبھی درخواس (نزول المسیح ص ٤١٩، خزائن ج ١٨ ص ٥٧٢) میں مرزا ق مباہلے کے لئے بلایا گیا تھا۔‘ اس کا قول کب معتبر

کے مرنے کے لئے کی تھی۔ کل مذاہب والے آدم قادیانی نے (نزول المسیح ص ١٦٣، خزائن ج ١٨ ص ٤ نشان ہے۔ جو بہت صفائی سے پورا ہوا۔ (حقیقت نے لکھا ہے کہ: ”اصل مدعا تو یہ تھا کہ کاذب صا خزائن ج ١٨ ص ٥٤٧) مگر مرزا قادیانی کا مدعا پورا نہ گوئی کی تھی۔

آتھم ضرور مر جائے گا۔ مگر جب مرزا قادیانی کی م آتھم نہ مرا تو مرزا قادیانی نے تاویل کی کہ آتھم دل بچ گیا۔ جھوٹ اور صاف جھوٹ ہے۔ کہ اس ب ہے۔ بلکہ ٦ ستمبر کو آتھم کی صداقت اور مرزا قادیا

صفحہ ٤٤٣

٢٩؍جنوری ١٩٢٠ء میں فوت ہوئے۔ مرزا قادیانی کے مرنے کے بعد ١٢ سال گزرنے کے بعد فوت ہوئے۔

٧...... کذب مرزا قادیانی کا ساتواں جھوٹ مولوی ابراہیم صاحب سیالکوٹی کو بددعا کی کہ میری موجودگی اور میری زندگی میں ابراہیم مرے گا۔ مگر مولوی ابراہیم صاحب ١٩٥١ء تک بخیریت رہے اور مرزا جھوٹا ثابت ہوا۔ مرزا قادیانی کے نزدیک جھوٹ بولنا گناہ ہے اور گوہ کھانا ہے۔ (پس مرزا قادیانی نے کتنے جھوٹ بولے اور کتنی مرتبہ گوہ کھایا)

٨...... مرزا قادیانی جھوٹ سے بہت کام نکالا کرتا تھا۔ چنانچہ مولوی عبدالحق غزنوی کے ساتھ مباہلہ کیا تو مولوی صاحب کا بال بیکا نہ ہوا۔ الٹا آپ کا (مرزا قادیانی کا) ایک فرزند دلبند فوت ہو گیا۔ تو مرزا قادیانی نے (انجام آتھم ضمیمہ ص ٢١، خزائن ج ١١ ص ٣٠٥ ملخص) میں لکھا ہے کہ میں نے مباہلہ کبھی نہیں کیا۔ یعنی میں نے کبھی درخواست اور نہ کبھی اس طرف توجہ کی مگر جھوٹ دیکھو۔ (نزول المسیح ص ١٩٤، خزائن ج ١٨ ص ٥٧٢) میں مرزا قادیانی نے لکھا ہے کہ: ”صدہا مخالف مولویوں کو مباہلے کے لئے بلایا گیا تھا۔“ اس کا قول کب معتبر ہو سکتا ہے۔ کبھی کچھ اور کبھی کچھ لکھ دیتا ہے۔

٩...... مرزا قادیانی کی بے حیائی اور جھوٹ ڈپٹی آتھم والی پیش گوئی جو مرزا قادیانی نے اس کے مرنے کے لئے کی تھی۔ کل مذاہب والے آدمیوں کے اور واقع کیخلاف اور جھوٹی نکلی کہ مرزا قادیانی نے (نزول المسیح ص ١٦٤، خزائن ج ١٨ ص ٥٤١) میں لکھا کہ آتھم کی موت کا ایک عظیم الشان نشان ہے۔ جو بہت صفائی سے پورا ہوا۔ (حقیقت الوحی ص ٢١٢، خزائن ج ٢٢ ص ٢٢١) پھر مرزا قادیانی نے لکھا ہے کہ: ”اصل مدعا تو یہ تھا کہ کاذب صادق کی زندگی میں مرے گا۔ (نزول المسیح ص ١٦٩، خزائن ج ١٨ ص ٥٤٧) مگر مرزا قادیانی کا مدعا پورا نہ ہوا کہ تاریخ متعین پر جو کہ مرزا قادیانی نے پیش گوئی کی تھی۔

١٠...... مرزا قادیانی کا دسواں جھوٹ یہ نکلا کہ مرزا قادیانی نے کہا کہ آج سے ١٥ ماہ کے بعد آتھم ضرور مر جائے گا۔ مگر جب مرزا قادیانی کی میعاد مقرر کردہ ٦؍ستمبر گزر گئی ١٥؍ماہ ختم ہو گئے اور آتھم نہ مرا تو مرزا قادیانی نے تاویل کی کہ آتھم دل میں ڈر گیا اور تائب ہو گیا۔ اسی لئے موت سے بچ گیا۔ جھوٹ اور صاف جھوٹ ہے۔ کہ اس کے تائب ہونے کا ثبوت مرزا قادیانی کے ذمہ ہے۔ بلکہ ٦؍ستمبر کو آتھم کی صداقت اور مرزا قادیانی کے کذب بیانی پر خوشی منائی گئی۔ جو عیسائیوں

٩

صفحہ ٤٤٤

نے کی۔ خلق خدا نے شوق سے اس بددعا کے نتیجہ کا انتظار کیا۔ یہاں تک کہ ٥ ستمبر ١٨٩٤ء (جو آتھم کی وفات کا مرزا قادیانی نے الہام اتارا تھا۔) آ پہنچا۔ یہ میعاد مرزا قادیانی کی ١٥؍ماہ کی بتائی ہوئی ختم ہوئی۔ اس دن عیسائیوں نے پادری عبداللہ ڈپٹی آتھم کے گلے میں ہار ڈالے اور ہاتھی پر آتھم کو سوار کر کے جلوس نکالا اور ہندوستان بھر میں فرضی مرزا قادیانی ایک بروزی بنا کر اس کا منہ کالا کر کے اسے ریچھ کی طرح نچایا۔ الہامات مرزا ص ٢٨، ٣٠ سے نقل کئے جاتے ہیں۔ وہ شعر یہ تھے:

ارے سن او رسول قادیانی
لعین و بے حیا شیطان ثانی
نچاوے ریچھ کو جیسے قلندر
یہ کہہ کہہ کر تیری مر جائے نانی
نچاویں تجھ کو بھی اک ناچ ایسا
یہی مصمم اب دل میں ہم نے ٹھانی

عبداللہ آتھم دو برس کے بعد ١٨٩٦ء میں بقضائے الہی فوت ہوا۔

مرزا قادیانی کا منہ کالا ہوا۔ اس کے الہام کے مطابق آتھم نہ مرا۔ مرزا قادیانی کا جھوٹ ثابت ہو گیا۔ پس چند روز تو شرمندگی اور رنج کے مارے باہر نہ نکلا۔ آخر اس کی تاویل کی کہ آتھم مقررہ تاریخ پر مارا جاتا مگر اس نے ستر آدمیوں کے سامنے توبہ کی اور اس عذاب سے بچ گیا۔ مرزا قادیانی سے دریافت کرنا یہ ہے کہ وہ ستر آدمی کون تھے؟ جن کے سامنے آتھم نے توبہ کی اور پندرہ ماہ کے اندر مرزا قادیانی نے توبہ نامہ مشتہر کیوں نہ کیا کہ آتھم نے توبہ کی ہے۔ اب اس کو عذاب نہ آئے گا۔ مگر مرزا قادیانی جھوٹوں کا ٹھیکیدار کب اس جھوٹی بدنامی سے بچ سکتا تھا۔ مرزا قادیانی نے (جنگ مقدس ص ٢١٠ وص ٢١١، خزائن ج ٦ ص ٢٩٢، ٢٩٣) میں یہ پیش گوئی آتھم کے متعلق کی تھی۔ قولہ (وحی مرزا قادیانی) ”میں اس وقت اقرار کرتا ہوں۔ کہ اگر یہ پیش گوئی جھوٹی نکلی۔ یعنی وہ پندرہ ماہ کے اندر نہ مرا اس کو سزائے موت ہاویہ میں نہ پڑے تو میں اللہ جل شانہ کی قسم کھا کر کہتا ہوں زمین آسمان ٹل جائیں گے۔ مگر اس کی باتیں نہ ٹلیں گی۔ اگر آتھم ١٥ماہ کے اندر نہ مرے تو مجھے ذلیل کیا جائے۔ رو سیاہ کیا جائے۔ میرے گلے میں رسہ ڈالا جائے۔ میں پھانسی دیا جاؤں۔

١٠

٥ میرے لئے سولی تیار کی جائے اور تمام شیطانوں جائے۔ ” وباللہ التوفیق “ خدا تعالیٰ نے م اور شیطانوں سے ہوا۔

مرزا قادیانی ایسا گستاخ تھا۔ عیسیٰ علیہ بلکہ ان کی توہین کی کوشش کرتا تھا۔ جنگ مقدس ص بن باپ پیدا ہوا۔ برسات میں کیڑے مکوڑے ک پیدا ہوا تو کیا ہوا؟ اس زمانہ میں کل چرند پرند بن

”الہام“ کذبات نمبر وار مرزا قاد

گردن اڑاتے تھے۔ یہ ان کی خصلت ہے۔ اس پرور۔ ان کی لائف اور مرزا قادیانی کی لائف کا خوراک منصف اندازہ سے معلوم ہو سکتا ہے۔

اہانت کرے۔ میں اس کی اہانت کرنے والا ہوں عبدالحق صاحبان حتیٰ کہ مکہ معظمہ کے علماء کرام تک پر دیئے مگر اس کو شرم نہ آئی۔

کہ انبیاء علیہم السلام اور اولیاء کرام اور علمائے عظام

برکت چاہیں گے۔“ (حقیقت الوحی ص ٩٤، خزائن بڑی عزت کی۔ ڈپٹی کمشنر مسٹر ڈگلس نے ٢٠ روپیہ غصہ اور اشتعال دلانے والے رسالے لکھے ہیں نہیں بچے گا۔ (کتاب البریہ

صفحہ ٤٤٥

میرے لئے سولی تیار کی جائے اور تمام شیطانوں بدکاروں اور لعنتوں سے زیادہ مجھے لعنتی قرار دیا جائے۔ ” وبالله التوفیق “ خدا تعالیٰ نے مرزا قادیانی کی یہ دعا قبول کر لی۔ لعنتی اور بدکاروں اور شیطانوں سے ہوا۔

مرزا قادیانی ایسا گستاخ تھا۔ عیسیٰ علیہ السلام کے بن باپ پیدا ہونے کو حقیر سمجھتا تھا۔ بلکہ ان کی توہین کی کوشش کرتا تھا۔ جنگ مقدس ص ١٩٩، خزائن ج ٦ ص ٢٨١ پر لکھتا ہے کہ مسیح اگر بن باپ پیدا ہوا۔ برسات میں کیڑے مکوڑے کتنے بن باپ پیدا ہوتے ہیں۔ اگر مسیح بن باپ پیدا ہوا تو کیا ہوا؟ اس زمانہ میں کئی چرند پرند بن باپ پیدا ہوتے تھے۔

”الہام“ کذبات نمبر وار مرزا قادیانی کے ارشادات جو الہام ہوئے

گردن اڑاتے تھے۔ یہ ان کی خصلت ہے۔ اب میں بتاتا ہوں۔ وہ غریب پرور تھے۔ یہ شکم پرور۔ ان کی لائف اور مرزا قادیانی کی لائف کا مقابلہ کرنے سے پتہ چلتا ہے۔ ان کا لباس اور خوراک منصف اندازہ سے معلوم ہو سکتا ہے۔

اہانت کرے۔ میں اس کی اہانت کرنے والا ہوں۔ پس صاف جھوٹ مولوی ثناء اللہ، محمد حسین، عبدالحق صاحبان حتیٰ کہ مکہ معظمہ کے علماء کرام تک مرزا قادیانی کی تکفیر کے فتوے اس کے کرتوتوں پر دیئے مگر اس کو شرم نہ آئی۔

کہ انبیاء علیہم السلام اور اولیاء کرام اور علمائے عظام کی توہین سے اس کی تصانیف شاہد ہیں۔

برکت چاہیں گے۔“ (حقیقۃ الوحی ص ٩٢، خزائن ج ٢٢ ص ١٠٠) اچھی برکت ہوئی اور بادشاہوں نے بڑی عزت کی۔ ڈپٹی کمشنر مسٹر ڈگلس نے ٢٠ ستمبر ١٨٩٧ء میں مرزا قادیانی کو دھمکی دی کہ تم نے غصہ اور اشتعال دلانے والے رسالے لکھے ہیں۔ میانہ روی اختیار کرو۔ ورنہ قانون کی زد سے نہیں بچے گا۔

(کتاب البریہ ص ١ ملحقہ اشتہار واجب الاظہار، خزائن ج ١٣ ص ١٠٣ ملخص)

١١

صفحہ ٤٤٧

اقول عرش کی تعریف تو اظہر من الشمس ہے کہ عرش پر محمدی بیگم کا نکاح مرزا قادیانی کے ساتھ خدا تعالیٰ نے خود پڑھا۔ فرشتے گواہ ہوئے۔ پھر محمدی بیگم سلطان محمد کو دیدی تعریف میں کیا کسر رہ گئی۔

٨٥ یا ٧٥ کے درمیان سمجھو۔ پس یہ بھی جھوٹ کہ مرزا قادیانی ١٨٤٠ء میں پیدا ہوئے اور ١٩٠٨ء میں فوت ہوئے۔ اس حساب سے ٦٨ سال زندہ رہے۔ (کتاب البریہ ص ١٣٦ حاشیہ، خزائن ج ١٣ ص ١٧٧) ١٨٣٩ء میں عمر ٦٨ یا ٦٩ سال ہوئی۔ بارہ سال الہام کی رو سے عمر کم ہوئی تو جھوٹ صریح ہوا۔

ص ٥٩٥، طبع سوم) پس شکر ہے کہ خدا نے بڑی مدت کے بعد مرزا قادیانی کو پہچان لیا۔

تمہارے اہل کے ساتھ ہوں۔ (تذکرہ ص ٥١٤) یہ تو جھوٹ ہے کہ مرزا قادیانی تو محمدی بیگم چاہتے تھے۔ مگر خدا نے نہ چاہا تو یہ الہام غلط ثابت ہوا۔

طبع سوم) مگر یہ بھی جھوٹ ہے ” وما تشاؤن الا ان یشاء اللہ “ مرزا قادیانی کی تمنا ٨٥ برس عمر والی دل میں رہی۔ ملک الموت صاحب نے مرزا قادیانی کی روح قبض کر لی اور ان کے اعداء مولوی ثناء اللہ سے مولوی ابراہیم صاحب تک مہلت دے رکھی تا کہ مرزا خوب جھوٹا پایا جائے۔

ہے۔ مرزا قادیانی کی کو طلاق ہوگئی۔ (نکاح مرزا ص ١٢ کلمہ فضل رحمانی ص ١٢٧) تو مرزا نہ ادھر کے رہے نہ ادھر کے نہ محمدی بیگم ملی اور عزت بی بی بہو بھی گم ہو گئی۔ باوجود اس بات کے مرزا قادیانی کے بیٹے نے پھر عزت بی بی کو بغیر حلالہ رکھا۔ بیٹا عاق ہو گیا اور لوگ چندہ واپس مانگنے لگ گئے کیونکہ مرزا قادیانی کے شرائط کڑے تھے۔ ملاحظہ فرمائیے:

١٢

کہ چھری سے مارا گیا۔ جو کہ انسانی عذاب تھا۔ نہ کہ آس تھا مگر غلط ثابت ہوا۔

خاوند اڑھائی سال کے اندر مر جائے گا۔ سو یہ بھی جھوٹ محمد مرزا قادیانی کے بعد تک زندہ رہا۔ جب مرزا کو لوگو صداقت کے لئے اشتہار ١٠ جولائی ١٨٨٨ء کو دیا۔ ک گی۔ میری تقدیر نہیں بدلے گی۔ ” لا تبدیل لكلمات قصبہ پٹی ضلع لاہور میں مرزا سلطان احمد کی زوجیت میں حیائی یہ ہے کہ مرزائی مدعی ہیں کہ محمدی بیگم مرزا قادی (احمدی حصہ ب) بھلا بے حیا کو کیا پرواہ ہے۔ اس کی تفصیل

پھر مرزائیوں نے مباحثہ انعامی ٣٠٠ روپ ١١؍ اپریل ١٩١٢ء میں مرزائیوں سے وصول کیا اور ان کو قادیان رکھا۔ پھر ١٥؍ اپریل ١٩٠٧ء میں مباہلہ کی دعو مولوی ثناء اللہ صاحب ١٩٥٠ء تک زندہ رہے۔

(تذکرہ ص ٦٦٦)

(مٹی میں ہیضہ سے مرا)

(خدا ایسا ذلت کا اٹھانا کسی کو نصیب نہ کرے)

١٣

صفحہ ٤٤٤

(ماخوذ از ڈائری احمد بک)

کہ چھری سے مارا گیا۔ جو کہ انسانی عذاب تھا۔ نہ کہ آسمانی، چھ برس کے اندر آسمانی عذاب کا الہام تھا مگر غلط ثابت ہوا۔

خاوند اڑھائی سال کے اندر مر جائے گا۔ سو یہ بھی جھوٹ ہے۔ مرزا قادیانی پہلے مرا اور مرزا سلطان محمد مرزا قادیانی کے بعد تک زندہ رہا۔ جب مرزا کو لوگوں نے طعنہ دیا اور شرمندہ کیا تو مرزا نے اپنی صداقت کے لئے اشتہار ١٠؍جولائی ١٨٨٨ء کو دیا۔ کہ محمدی بیگم میری ہے اور میرے پاس آئے گی۔ میری تقدیر نہیں بدلے گی۔ ”لا تبدیل لکلمات اللہ“ (مجموعہ اشتہارات ج ١ ص ١٥٨) بعدہ قصبہ پٹی ضلع لاہور میں مرزا سلطان احمد کی زوجیت میں ٢٤؍مارچ ١٩٣٤ء تک رہی۔ پھر ان کی بے حیائی یہ ہے کہ مرزائی مدعی ہیں کہ محمدی بیگم مرزا قادیانی کی زوجیت میں آئی۔ (مکمل پاکٹ بک احمدی حصہ ب) بھلا بے حیا کو کیا پرواہ ہے۔ اس کی تفصیل نکاح مرزا میں دیکھو۔

پھر مرزائیوں نے مباحثہ انعامی ٣٠٠ روپے کا اشتہار دیا۔ پس مولوی ثناء اللہ نے ١١؍اپریل ١٩٠٢ء میں مرزائیوں سے وصول کیا اور ان کو نہایت شرمندہ کیا۔ جس کا نام رسالہ فاتح قادیان رکھا۔ پھر ١٥؍اپریل ١٩٠٧ء میں مباہلہ کی دعوت دی گئی۔ مگر آخر مرزا قادیانی مر گیا اور مولوی ثناء اللہ صاحب ١٩٤٨ء تک زندہ رہے۔

(ثنائی پاکٹ بک ص ٨٠)

(تذکرہ ص ٦٦، طبع سوم، کتاب البریہ ص ٧٥، خزائن ج ١٣ ص ١٠١)

(مٹی میں ہیضہ سے مرا)

(حقیقت الوحی ص ٨٤، خزائن ج ٢٢ ص ٨٧)

(خدا ایسا ذلت کا اٹھانا کسی کو نصیب نہ کرے جیسے مرزا کو)

(تذکرہ ص ١٣١، طبع سوم)

١٤٣

صفحہ ٤٤٩

میں تجھے عزت دوں گا۔

(تذکرہ ص ٣١١، طبع سوم)

(اچھی عزت ملی کہ دشمنوں کے ذلت سے چل بسا)

(کتاب البریہ ص ٧٦، خزائن ج ١٣ ص ١٠٢)

(تبھی مرزا جلد مر گیا)

(کتاب البریہ ص ٧٦، خزائن ج ١٣ ص ١٠٢)

(عرب تک کے علماء سے فتوے مرزا قادیانی کے کفر کے صادر ہونا روح کی عمدہ نشانی ہے)

(تذکرہ ص ٣٣٦، طبع سوم)

(حقیقت الوحی ص ٧١، خزائن ج ٢٢ ص ٧٤)

(جب مرزا قادیانی کا دین ہی نہیں تو قوت کس کو دے گا)

(کتاب البریہ ص ٧٧، خزائن ج ١٣ ص ١٠٢)

(غلط بلکہ تمہارے سبب جہنم رسید ہوئے)

(حقیقت الوحی ص ٧٩، خزائن ج ٢٢ ص ٨٢، کتاب البریہ ص ٧٧، خزائن ج ١٣ ص ١٠٢)

میں نے تیری بزرگی کا درخت اپنے ہاتھ سے لگایا۔ تجھے لوگوں کا امام بناؤں گا۔ (بے شک گمراہی میں پورا امام تھا)

آسمان بندھے تھے ہم نے دونوں کو کھول دیا۔

(کتاب البریہ ص ٧٧، خزائن ج ١٣ ص ١٠٣)

(یہ بھی شکر ہے ورنہ مخلوق بھی بندھ جاتی)

مقربین سے ہے۔ (حقیقت الوحی ص ٧٩، خزائن ج ٢٢ ص ٨٢) (یہ قرآن کی تحریف شروع کر دی)

١٤

عیسیٰ بن بیٹھے۔ ادھر عیسیٰ علیہ السلام کو گالی اور ادھر مثل

(بے وقوف پنجابی کو صحیح اردو بھی نہیں آتی)

(اپنے منہ میاں مٹھو مرزا قادیانی کا کام دنیا میں نذیر آیا مگر اسے لوگوں نے قبول نہ (کیوں قبول کرتے بے حیا اور کاذب کو)

(کفر والی اور تکذیب والی عزت ملی)

اور تیرا ذکر بلند کروں گا (ہاں بدنامی اور ڈالوں گا۔ (سب دنیا کو معلوم ہے)

درست کر دے گا اور تیری ساری مرادیں تجھے دے گا۔

(حقیقت الوحی ص ٨٧، خزائن ج ٢٢ ص ٨٦، ٨٧) (ایک

مرادیں پوری کرے گا۔ مولوی ثناء اللہ ، محمد حسین ، قادیانی کے جلانے والے اور اس کو جھوٹا کرنے کے۔

حکم کے واسطے۔

(سب بکواس، جھوٹ ”لعنۃ اللہ علی

روح مجھ پر محیط ہو گئی اور میرے جسم پر مستولی ہو گئی کہ میں

١٥

صفحہ ٤٤٩

عیسیٰ بن بیٹھے۔ ادھر عیسیٰ علیہ السلام کو گالی اور ادھر مثل عیسیٰ

(کتاب البریہ ص ٧٧، خزائن ج ١٣ ص ١٠٣)

(بے وقوف پنجابی کو صحیح اردو بھی نہیں آتی۔ بجائے تجھ پر تیرے لکھتا ہے)

(کتاب البریہ ص ٧٧، خزائن ج ١٣ ص ١٠٣)

(اپنے منہ میاں مٹھو مرزا قادیانی کا کام تھا)

دنیا میں نذیر آیا مگر اسے لوگوں نے قبول نہ کیا۔

(کتاب البریہ ص ٧٧، خزائن ج ١٣ ص ١٠٣)

(کیوں قبول کرتے بے حیا اور کاذب کو کون قبول کرتا ہے)

(ازالہ اوہام ص ٤٣٤، خزائن ج ٣ ص ٤٤٤)

(کفر والی اور تکذیب والی عزت ملی)

اور تیرا ذکر بلند کروں گا (ہاں بدنامی اور لعنت کے ساتھ) اور تیری محبت دلوں میں ڈالوں گا۔ (سب دنیا کو معلوم ہے)

(ازالہ اوہام ص ٤٣٣، خزائن ج ٣ ص ٤٤٤)

درست کردے گا اور تیری ساری مرادیں تجھے دے گا۔

(ازالہ اوہام ص ٤٣٣، خزائن ج ٣ ص ٤٤٤)

(حقیقت الوحی ص ٨٧، خزائن ج ٢٢ ص ٨٦، ٨٧) (ایک مراد محمدی بیگم والی تو خدا نے پوری نہ کی اور کونسی مرادیں پوری کرے گا۔ مولوی ثناء اللہ، محمد حسین، عبدالحق، احمد بیگ مرزا سلطان احمد سب مرزا قادیانی کے جلانے والے اور اس کو جھوٹا کرنے کے لئے تھے اور کون سی مرادیں پوری ہوں گی؟

حکم کے واسطے۔

(حقیقت الوحی ص ٨٢، ٨٣، خزائن ج ٢٢ ص ٨٦، ٨٧)

(سب بکواس، جھوٹ ”لعنة الله علی الکاذبین“)

روح مجھ پر محیط ہو گئی اور میرے جسم پر مستولی ہو گئی کہ اپنے وجود میں مجھے پنہاں کر لیا۔ خدا کے اعضاء

١٥

صفحہ ٤٥١

کے اندر میں ایسا دھنس گیا اور اس میں محو ہو گیا۔ اس کی الوہیت مجھ میں موجزن ہے۔ اس حالت میں میں کہہ رہا تھا کہ زمین کو آسمان نیا بنانا چاہتے ہیں۔ سو میں نے پہلے تو آسمان و زمین کو اجمالی صورت میں پیدا کیا۔ پھر میں نے منشاء حق کے موافق مناسب تفریق کی اور میں دیکھتا ہوں کہ اس کی خلق پر میں قادر ہوں۔ پھر میں نے آسمان دنیا کو پیدا کیا۔ (کتاب البریہ ص ٨٥ تا ٨٧، خزائن ج ١٣ ص ١٠٣، ١٠٥) مصنفہ مرزا قادیانی سے آخر تک ملاحظہ فرمائیں۔ بلکہ اس سے آگے بھی ملاحظہ ہو۔

اپنے چہرہ سے پردہ اٹھا کر باتیں کرتا ہے۔ مجھ سے کہتا ہے کہ لوگوں کو ہم نے خشکی سے پیدا کیا اور تجھ کو اپنے پانی سے پیدا کیا۔ مجھے اس نے کن فیکون کے اختیارات دے رکھے ہیں۔ مجھے خدا کہتا ہے کہ میں عرش پر بیٹھا تیری تعریف کرتا ہوں۔ زمین و آسمان تیرے لئے بنائے ہیں۔ وہ تیرے ساتھ ہیں۔ جیسے میرے ساتھ۔

(آئینہ کمالات ص ٥٤٥، خزائن ج ٥ ص ٥٤٥)

الله على الكاذبين“

کربلا ایست سیر ہر آنم
صد حسین است در گریبانم

(نزول المسیح ص ٩٩، خزائن ج ١٨ ص ٤٧٧)

(ایسے خبیث کے نزدیک حسین کیا ہیں)

(نزول المسیح ص ٤٨، خزائن ج ١٨ ص ٤٧٧)

زندہ شد ہر نبی با آمدنم
ہر رسولے نہاں بپیراہنم

(نزول المسیح ص ١٠٠، خزائن ج ١٨ ص ٤٧٨)

١٦

آنچہ دادند ہر ا
دادو آں جام رامـ

کہ عیسیٰ جھوٹ بولتے تھے۔ خود جھوٹا ہوا) اور علی سے تو وہ میری تعظیم کرتا اولاد علی کو میری تعظیم لازم ہے۔ (خبط احمدیہ ص ٣٥٠) مصنفہ لیکھرام) مرزا قادیانی کا دعویٰ اور خادموں میں ہوں۔ میں دیکھتا ہوں کہ صدہا سید ہیں۔

(ایسے خبیث کو سرور دو عالم ﷺ اپنے سا

(بلادلیل جھوٹا دعویٰ ہے)

١٧

صفحہ ٤٥١
آنچہ دادند ہر نبی را جام
داد آن جــــــام را مـــــرا بتمــــــام

(نزول المسیح ص٩٩، خزائن ج١٨ص٤٧٧)

(دافع البلاء ص ١٣، ١٤، خزائن ج ١٨ص ٢٣٣)

(دافع البلاء ص ١٣، خزائن ج ١٨ص ٢٣٣)

کہ عیسیٰ جھوٹ بولتے تھے۔ خود جھوٹا ہوا) اور علی سے کچھ کم میرے پر فضل نہیں کیا۔ اگر علی زندہ ہوتا تو وہ میری تعظیم کرتا اور اولاد علی کو میری تعظیم لازم ہے۔ ورنہ میری تعظیم بغیر سید ہونا کسی کام کا نہیں۔ (خبط احمدیہ ص ٣٥٠ مصنفہ لیکھرام) مرزا قادیانی کا دعویٰ ہے کہ سید کی نشانی یہ ہے کہ میرے غلاموں اور خادموں میں ہوں۔ میں دیکھتا ہوں کہ صد ہا سید نیک بخت میری کفش برداری میں فخر کرتے ہیں۔

(آئینہ کمالات اسلام ص٩٠، خزائن ج ٥ ص ٩٠)

(جنگ مقدس ص ١٤١، خزائن ج ٦ص ٢٢٣)

(ایسے خبیث کو سرور دوعالمﷺ اپنے سامنے آنے کی اجازت کب دے سکتے ہیں)

(حقیقت الوحی ص ١٦٣، خزائن ج ٢٢ص ١٦٨)

(بلا دلیل جھوٹا دعویٰ ہے)

(حقیقت الوحی ص ١٦٣، خزائن ج ٢٢ص ١٦٨)

(آئینہ کمالات ص ٣٦، خزائن ج ٦ص ایضاً)

(حقیقت الوحی ص ٧٢، خزائن ج ٢٢ص ٢٥٩)

١٧

صفحہ ٤٥٢

(مگر مولوی ثناءاللہ نے اس کی تکذیب کی)

جھوٹا ہوں تو مجھے سزائے موت یا اس سے بڑی سزا ہو۔ مرزا دہریہ تھا۔ اس کا دین مذہب کوئی نہ تھا۔ یہ نبوت کیسی جانتا تھا کافروں کی طرح سزاوار۔ "قالو اللهم ان كان هذا هو الحق فامطر علينا حجارة" کافر لوگ کہتے تھے کہ اگر یہ اسلام سچا مذہب ہے۔ تو ہم پر پتھروں کا مینہ برسا۔ وہ بے ایمان تھے۔ خدا اور رسول کو نہ مانتے تھے۔ نبی بددعا طلب کرتے تھے۔ ایسے ہی مرزا بے ایمان ہے۔ خدا تعالیٰ کا خوف نہ تھا۔ اسی لئے مسلمانوں پر غلبہ حاصل کرنے کے لئے ایسی دعائیں مانگتا تھا۔

کوشش کرتا تھا۔ (مگر اس بے ایمان کا قرآن مجید منہ کالا کرتا ہے) مجھے کسی آدمی نے مس کیا اور نہ میں بدکار ہوں۔

(انجام آتھم ص ٧، خزائن ج ١١ ص ٢٩١)

(مگر بے حیاء کو شرم نہیں کہ جب عیسیٰ علیہ السلام کے والد نہ تھے تو دادیاں کہاں سے آگئیں)

(نزول المسیح ص ٨٣، خزائن ج ١٨ ص ٤٧١)

(مرزا کے بغیر کون گواہ ہے)

(ضمیمہ انجام آتھم ص ٥، خزائن ج ١١ ص ٢٨٩)

(تو بھی اسی لئے جھوٹ بولتا ہے کہ میں بھی اپنے جھوٹ بولنے کی سند پیش کروں کہ میں بھی بمثل عیسیٰ ہوں)

(ضمیمہ انجام آتھم ص ٩، خزائن ج ١١ ص ٢٩٣)

(جو خود ناپاک ہوتا ہے وہ دوسروں کو بھی ناپاک جانتا ہے)

١٨

(نبی جی پر مرا۔ اٹھے گا بھی مٹی سے )

"لعنة الله على الكاذبين"

(تتمہ حقیقت ال

(گویا براہین احمدی خدا کی کتاب

(ازالہ غلطی ص ٢، خز

منکر ہوا)

(گویا معجزہ کو مرزا قادیانی نے کرت

(گویا معجزہ کا منکر ہوا)

(دروغ گو را حافظ نباش

(آئینہ کمالات ص ٢٠٢، خزائن ج ٥ ص ٢٠٢) بھول

صفحہ ٤٥٣

(حقیقت الوحی ص١٠٢،خزائن ج٢٢ص١٠٥)

(نبی مٹی پر مرا۔ اٹھے گا بھی مٹی سے)

(حقیقت الوحی ص٤٦،خزائن ج٢٢ص٤٨ملخص)

”لعنۃ اللہ علی الکاذبین“

(تتمہ حقیقت الوحی ص٨٤،خزائن ج٢٢ص٥٢١،سرمہ چشمہ آریہ ص٢٠٢)

(گویا براہین احمدی خدا کی کتاب ہے)

(ازالہ غلطی ص٢،خزائن ج١٨ص٢٠٦،براہین احمدی ص٣٩٨حاشیہ ص٣٠٢)

(اعجاز احمدی ص٧،خزائن ج١٩ص١١٣)

(ازالہ ص٨١حصہ اول دلیل کی ہے،خزائن ج٣ص١٤٢)

(لہٰذا مرزا قادیانی آنحضرت کے معراج کا

منکر ہوا)

(نشان آسمانی ص٤٣،خزائن ج٤ص٣٩٢)

(گویا معجزہ کو مرزا قادیانی نے کرتب جانا)

(آئینہ کمالات ص٢٠٢،خزائن ج٥ص٢٠٢)

(گویا معجزہ کا منکر ہوا)

(تحفہ گولڑویہ ص٧٠،خزائن ج١٧ص٢٠٧)

(دروغ گو را حافظ نباشد) بھول گیا جس میں تین لاکھ معجزات کا اقرار کر کے (آئینہ کمالات ص٢٠٢،خزائن ج٥ص٢٠٢) بھول گیا۔

١٩

صفحہ ٤٥٥

(ازالہ اوہام ص ٤١٣، خزائن ج ٣ ص ٣١٤)

کر دیا)

(ازالہ اوہام ص ٤٥٩، خزائن ج ٣ ص ٣٣٥ ملخص)

(آئینہ کمالات ص ٥٥١، خزائن ج ٥ ص ٥٥٠)

(آئینہ کمالات ص ٣٨٢، خزائن ج ٥ ص ایضاً)

(محمدی بیگم والا قصہ نہ بتایا۔ کہ میں تم کو شرمندہ کروں گا۔ تم کو نہیں دوں گا۔ سلطان محمد کو دوں گا)

(نزول المسیح ص ٩٤، خزائن ج ١٨ ص ٤٧٢)

(محمدی بیگم والا الہام)

(آئینہ کمالات ص ٤٥٥، خزائن ج ٥ ص ایضاً)

(پھر محمدی بیگم والی بات کیوں چھپا رکھی؟)

کر تاویل کر دی۔

(حقیقت الوحی ص ١٤٩، خزائن ج ٢٢ ص ١٥٣)

کے شبہات دور فرما رہے ہیں۔ (حاشیہ ضمیمہ انجام آتھم ص ٥٣، خزائن ج ١١ ص ٣٣٧) (جھوٹ بڑا جھوٹ)

میں اللہ نے مجھے بشارت دی ہے کہ میں نے تیرے تضرعات اور دعاؤں کو سنا۔ تحقیق میں تجھے عطا کروں گا جو کچھ تو نے مانگا اور تو نعمت دیوں گیوں سے ہے۔ (کیسا بے ڈھب ترجمہ ہے جو جاہلوں سے بھی کمتر ہے۔) تو نے نہیں سمجھا میں نے تجھے کیا دکھایا ہے۔ رحمت، فضل اور قرب اور

٢٠

فتح و ظفر۔ پس سلامتی ہو تجھ پر تو ظفریابوں سے ہے۔ میں ۔ اس کا نام عمانویل ہوگا اور بشیر ہوگا۔ خوبصورت، عقلمند اور مقر آئے گا اور اس کے نازل ہونے سے خدا کا فضل نازل ہوگا۔ اور پاکوں سے ہے۔ اس سے برکتیں ظاہر ہوں گی۔ خلقت نصرت کرے گا۔ ترقی کرے گا اور بلند ہوگا اور عروج پاوے علاج کرے گا۔ اس کے انفاس سے شفا ہوگی اور میری نشانہ کی تائید ہوگا۔ میں فضل مبین ہوں گا۔ تیرے ساتھ رہوں گا اور باطل کا فور ہوگا۔ میری قدرت کی تجلی کرے گا۔ میری عقل گا۔ اہل قبور کو کھڑا کرے گا کہ وہ میری شہادت دیں گے۔ تجھے ایک لڑکا تمہاری نسل سے ذہین عطا کیا جائے گا۔ وہ ہ ہر قسم کے عیب و میل کچیل سے پاک طیب کلمتہ اللہ بزرگ علیم وحلیم وسلیم ہوگا۔ روح الامین مسیح نفس ہوگا۔ دوشنبہ مبا مظہر جلال مظہر شفا۔ مظہر نور، اعظم مشام، زمین کے کناروں مفضيا تبارك الله احسن الخالقين ‘‘دیکھئے انق ہو کر زیر زمین دفن ہو گیا۔ الحمد اللہ کہ خدا نے اسے سنبھال لی کی طرح یہ شخص ہوتا مگر شکر ہے مر گیا۔ مرزا اپنی بی بی جو ک الہام بنا لیا کرتا تھا۔

نہیں۔ بلکہ عرب وعجم سے مرزا قادیانی کے تکفر کے فتوے نہیں ڈھیٹ ہیں)

رہے ہیں کہ ہزاروں آریہ موجود ہیں) (ق

الميعاد‘‘)

٢١

صفحہ ٤٥٥

فتح وظفر۔ پس سلامتی ہو تجھ پر تو ظفر یابوں سے ہے۔ میں تجھے ایک لڑکے کی بشارت دیتا ہوں۔

(ازالۃ الاوہام ص ٤١٣، خزائن ج ٣ ص ٣١٤)

اس کا نام عمانوایل ہوگا اور بشیر ہوگا۔ خوبصورت، طاہر اور مطہر اور مقربوں میں سے ہوگا۔ آسمان سے

اس نے مرزا قادیانی پر حملہ کر کے اسے ہلاک

آئے گا اور اس کے نازل ہونے سے خدا کا فضل نازل ہوگا۔ وہ نور ہے۔ مبارک ہے اور طیب ہے

وتا ہوں۔

اور پاکوں سے ہے۔ اس سے برکتیں ظاہر ہوں گی۔ خلقت کو طیب چیزیں کھلائے گا اور اس کی نصرت کرے گا۔ ترقی کرے گا اور بلند ہوگا اور عروج پاوے گا اور اونچا ہوگا اور ایک بیمار مریض کا

(ازالۃ الاوہام ص ٤٥٩، خزائن ج ٣ ص ٣٤٥ ملخص)

علاج کرے گا۔ اس کے انفاس سے شفا ہوگی اور میری نشانیوں سے ایک نشانی ہوگا اور میری نشانی

(آئینہ کمالات ص ٥٥١، خزائن ج ٥ ص ٥٥٠)

کی تائید ہوگا۔ مظہر فضل مبین ہوگا۔ خدا تیرے ساتھ ہوگا۔ اس بچے کے آنے سے حق ظاہر ہوگا

بتا دیئے۔

اور باطل کافور ہوگا۔ میری قدرت کی تجلی کرے گا۔ میری عظمت کو ظاہر کرے گا۔ دین کو بلند کرے

(آئینہ کمالات ص ٣٨٢، خزائن ج ٥ ص ایضاً)

گا۔ اہل قبور کو کھڑا کرے گا کہ وہ میری شہادت دیں گے۔ تا مجرموں کی راہ ظاہر ہو جائے گی۔

ہ کروں گا۔ تم کو نہیں دوں گا۔ سلطان محمد کو

تجھے ایک لڑکا تمہاری نسل سے ذہین عطا کیا جائے گا۔ وہ ہمارے معزز مکرم بندوں سے ہوگا۔ وہ

ہے پچاس مرتبہ پکاروں۔

ہر قسم کے عیب ومیل کچیل سے پاک طیب کلمتہ اللہ بزرگ کلمات سے پیدا ہوگا۔ فہیم وذہین حسین علیم وحلیم وسیم ہوگا۔ روح الامین مسیح نفس ہوگا۔ دوشنبہ ہے مبارک دوشنبہ۔ فرزند دلبند گرامی ارجمند

(نزول المسیح ص ٩٢، خزائن ج ١٨ ص ٤٧٢)

مظہر جلال مظہر جمال۔ ومظہر حق والعلا کان اللہ نزل من السماء۔ زمین کے کناروں تک شہرت پائے گا۔ ”وکان امره

(آئینہ کمالات ص ٤٥٥، خزائن ج ٥ ص ایضاً)

مقضیا تبارك الله احسن الخالقین“ دیکھئے اتنا بڑا جھوٹ کہ وہ لڑکا ایک سال چار ماہ کا

نے کا اقرار کیا مگر اپنی اجتہادی غلطی مان

ہو کر زیر زمین دفن ہو گیا۔ الحمد اللہ کہ خدا نے اسے سنبھال لیا اگر زندہ رہتا تو الولد سرلابیہ باپ منحوس

(حقیقت الوحی ص ١٤٩، خزائن ج ٢٢ ص ١٥٣)

کی طرح یہ انحس ہوتا مگر شکر ہے مر گیا۔ مرزا اپنی بی بی جو کہ والدہ بشیر تھی اس کی درخواست پر ایسے

نے فرمائی ہے۔ آپ میرے دشمنوں

الہام بنا لیا کرتا تھا۔

(ص٥٦، خزائن ج ١١ ص ٣٣٧) (جھوٹ بڑا

نہیں ڈھیٹ ہیں)

نہیں ۔ بلکہ عرب و عجم سے مرزا قادیانی کے کفر کے فتوے جاری ہیں۔ مگر ان کی بے حیائی کی انتہا

(آئینہ کمالات ص ٥٧٧، خزائن ج ٥ ص ایضاً)

ت اور دعاؤں کو سنا۔ تحقیق میں تجھے عطا

رہے ہیں کہ ہزاروں آریہ موجود ہیں)

(تتمہ حقیقۃ الوحی ص ١٥٩، خزائن ج ٢٢ ص ٦٠٩)

ہے۔ (کیسا بے ڈھب ترجمہ ہے جو

دکھایا ہے۔ رحمت، فضل اور قرب اور

المیعاد“)

٢١

صفحہ ٤٥٦

ص٩١) (تحریف قرآن میں سبقت لے گیا)

(دروغ گورا حافظہ نباشد)

کلام ہوتا ہے۔ پھر پردہ کی مسخری بھی کرتا ہے کہ خدا کے چہرہ پر جو پردہ ہے وہ کس چیز کا ہے۔ وہ ٹاٹ کا ہے یا پٹی کا ہے کیا چیز ہے؟ اور چادریں جو عیسیٰ کے اترتے وقت پہنے ہوں گے۔ اونی ہوں گے یا سوتی یا ریشمی۔ (آئینہ کمالات ص١٧٠،خزائن ج ٥ ص ١٧٠) اور عیسیٰ علیہ السلام کی زندگی آسمانی کیسی ہے۔ خرچ، خوراک، بوریا بسترہ کہاں سے آتا ہے وغیرہ۔ ذالک یہ تمسخر دین سے کفر نہیں تو کیا ۔ ہم کہتے ہیں کہ نانک کا چولہ جس کارخانہ سے بنا ہوا آسمان سے آیا ہے۔ اسی کارخانے سے عیسیٰ علیہ السلام کی آسائش کا سامان بن کر آیا اور جس آسمان سے مائدہ تیار ہو کر آیا۔ اسی باورچی خانہ سے عیسیٰ علیہ السلام کا کھانا بھی آتا ہے۔ غرضیکہ بے دین تمسخر اور کفریات سے باز نہ آیا۔ چونکہ دہریہ تھا، لہٰذا اس کو حیاء بھی نہ تھا۔

(مگر مرزا قادیانی کے کفر میں)

کی مکاری دیکھو، اگر خدا کا ماننے والا مرزا قادیانی ہوتا اور دہریہ نہ ہوتا تو ان قریش مکہ کی طرح جنہوں نے بارش پتھروں کی مانگی۔ ان كان ھو الحق من عندك فامطر علينا حجارة)

خزائن ج ٢٢ص٣٥١) (مرزا عورت تھا) مدت تک میرا نام مریم رہا۔ بعد کو مرزا قادیانی بن گیا۔

(ازالہ اوہام ص ١٧٣) (ایسے پاگل کا کیا اعتبار ہے کہ عقل مختل ہے)

زمانہ میں رہا)

٢٢

PDF 458

خاتم النبیین لا نبی بعدی

بجز ذات پاکش دگر را نبی ندانم کہ ہست او رسول اللہ و خاتم النبیین

نیام ذوالفقار علیؓ

(١٣٢٩ھ)

بر گردن خاطئ مرزائی فرزند علیؓ

(١٣٢٩ھ)

مولانا شیر نواب خان قصوری مجددی

صفحہ ٤٥٩

بسم الله الرحمن الرحيم

نحمده ونصلی ونسلم على رسوله الكريم الرحيم . الحمد لله رب العالمين والعاقبة للمتقين والصلوة والسلام على محمد خاتم النبيين واله واصحابه واهل بيته وذرياته واتباعه اجمعين برحمتك يا ارحم الراحمين . اما بعد!

آج ہم نے ایک رسالہ ”فرزند علی“ نام کا دیکھا جو کمیٹی قادیان سے پاس ہو کر رفاہ عام پریس لاہور میں طبع ہوا۔ جس کی اصل کیفیت وعظ مولوی حافظ محمد ابراہیم صاحب سیالکوٹی کی ہم کو اچھی طرح معلوم ہے جو فیروز پور میں ہمارے روبرو وقوع میں آئی تھی۔ یقین ہے کہ مولوی صاحب نے اس رسالہ کو ملاحظہ فرمایا ہوگا اور اس کا جواب اگر مناسب سمجھا ہوگا دیا ہوگا۔ کیونکہ ایسے جوابات پہلے بہت ہو چکے ہوئے ہیں۔ لیکن دو باتوں کا جواب جو اس رسالہ میں بڑی تعلی اور دعوے و چیلنج کے لفظوں میں ظاہر کیا گیا ہے۔

مختصر طور پر عوام کے فائدہ کے لئے لکھا جاتا ہے۔ (خواص اس سے مستغنی ہیں) آپ ملاحظہ فرمائیں گے کہ مرزائیوں نے مخالفت میں آکر ایسی سرگرمی کی ہے کہ وہ علم قرآن شریف و تفاسیر واحادیث شریف کو خیر باد کہہ چکے ہیں۔ جو قولہ اور اقول کے الفاظ سے ظاہر ہوگا۔ وهو هذا!

اول قولہ...... میں مانتا ہوں کہ توفی کا لفظ ایک سے زیادہ معنے رکھتا ہے۔ مگر ہمارا دعویٰ ہے کہ قرآن کریم میں یہ لفظ صرف دو ہی معنوں میں مستعمل ہوا ہے، ایک موت اور دوسرے نیند۔

اس کے بعد ہمارا دعویٰ ہے کہ توفی کے معنی نیند لینے کے لئے قرینے کی ضرورت ہے۔ اگر قرینے سے نیند ظاہر نہ ہوتی ہو تو اس لفظ کے معنی قطعا موت کے ہوتے ہیں۔“

(بلفظہ ص ٤ سطر ١٣)

اقول ....... وبالله التوفيق، سبحان الله ! آپ کی قرآن دانی اور قرآن فہمی کہ توفی کے معنی قرآن شریف میں صرف موت اور نیند کے ہیں۔ اگر قرینے سے نیند نہ ہو تو قطعاً موت کے ہوں گے اور یہ دعاوی آپ کے بڑے زور اور تعلی کے ہیں۔ جو مخالف قرآن کریم ہیں۔ دیکھئے آیات ذیل قرآن شریف میں لفظ توفی کے کیا معنی ہیں؟ ہاں موت اور نیند کے ہرگز نہیں:

٢

کے دن پورا پورا بدلہ دیا جائے گا۔

پورا پورا بدلہ ہر شخص کو دیا جائے گا جو اس نے عمل کیا۔

پھر پورا پورا دیا جائے۔ ہر اس شخص کو جو اس نے کیا۔

اس نے عمل کیا ہے۔

عمران:١٨٥)“ ٢؎

ان پانچ آیات مندرجہ بالا میں لفظ ہائے توفی، توفون، توفی مستعمل ہیں۔ جن کے معنی میں نہ نیند کے معنی ہیں نہ موت کے۔ اب فرمائیے آپ کا یہ دعویٰ کہ قرآن شریف میں یہ لفظ دو ہی معنوں میں آیا ہے؟ سراسر جھوٹ اور دھوکا اور افتراء علی اللہ ہے۔ جس کی نسبت اب ہم کو اپنے پاس سے زیادہ لکھنے کی ضرورت نہیں۔ ناظرین آپ کے دعوے کو پرکھ لیں گے۔ اور آیات مندرجہ بالا سے یہ بھی صاف ظاہر ہے کہ جو آیات لکھی گئی ہیں ان کو پورا پورا پڑھیں۔ ١؎

١؎ ایسی کثرت سے آیات قرآن شریف میں ہیں۔ ہم نے صرف پانچ ہی لکھی ہیں۔

٢؎ ہر ایک آدمی موت کا ذائقہ چکھے گا اور قیامت کے دن پورا پورا بدلہ دیا جائے گا۔ (اس آیت میں خداوند کریم نے لفظ موت کے لئے موت ہی کا لفظ استعمال کیا ہے جس کے حقیقی معنی موت ہی ہیں اور توفی کے معنی پورا پورا بدلہ دینے کے ہیں۔ پس اگر توفی کے معنی موت کے ہوتے تو اس جگہ دونوں کو جمع نہ کیا جاتا )

٣

صفحہ ٤٥٩

ان پانچ آیات مندرجہ بالا میں لفظ خاص توفی کا درج ہے۔ لیکن ان پانچوں آیتوں میں نہ نیند کے معنی ہیں نہ موت کے۔ اب فرمائیے آپ کی ہمہ دانی اور قرآن دانی کا دعویٰ محض غلط نہیں ہوا؟ بلکہ سراسر جھوٹ اور دھوکا اور افترا علیٰ اللہ کا موجب ثابت ہوا۔ ہم کو اپنی طرف سے زیادہ لکھنے کی ضرورت نہیں۔ ناظرین آپ کے دعوے کی تردید کافی طور پر خود سمجھ لیں گے۔ اس سے یہ بھی صاف ظاہر ہے کہ جو آیات لکھی گئی ہیں ان کو یہ قرینہ نیند کا قطعاً نہیں ہے۔

١؎ ایسی کثرت سے آیات قرآن شریف میں موجود ہیں مثلاً "وانا لموفوهم نصيبهم غير منقوص (هود: ١٠٩)"

٢؎ ہر ایک آدمی موت کا ذائقہ چکھے گا اور یہ ضرور ہے کہ تم کو پورا پورا بدلہ قیامت کے دن دیا جائے گا۔ (اس آیت میں خداوند کریم نے لفظ موت اور توفی دونوں فرمائے۔ لیکن موت کے حقیقی معنی موت ہی ہیں اور توفی کے معنی پورا پورا بدلہ دیا جانا ہے۔ اگر توفی کے معنی موت ہوتے تو اس جگہ دونوں کو جمع نہ کیا جاتا)

٣

صفحہ ٤٦١

اس صورت میں حسب دعویٰ مرزائیاں ان آیتوں میں توفی کے معنی قطعاً موت کے ہونے چاہیے تھے۔ مگر افسوس وہ بات ہی نہیں۔ جب ایسے ایسے مرزائی فاضل دعوے کرنے لگ جائیں تو کیوں نہ ”نہ لکھے نہ پڑھے نام محمد فاضل۔“

اگر ہوتا زمانہ میں حصول علم بے محنت
تو اک جاہل کتابیں سب کی سب دھو دھو کے پی جاتا

لیجئے! دعویٰ آپ کا آیاتِ قرآنی سے ہی مردود ہو گیا۔ احادیث کے لکھنے کی ضرورت نہیں رہی۔

ہاں ! اگر یہ کہا جائے کہ توفی کے معنی موت کے بھی ہیں۔ مانا مجازاً قرینے سے موت کے معنوں میں بھی توفی کا استعمال ہے، لیکن حقیقتاً موت کے معنوں میں نہیں ہے۔ کیونکہ لفظ حیات کے مقابلہ میں لفظ موت ہے، لفظ وفات نہیں ہے اور لفظ موت کی ضد میں لفظ حیات ہے، اور یہی تمام قرآن شریف میں ہے۔ جیسے اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے کلام پاک میں فرماتا ہے:

تشعرون (البقرة: ١٥٤)“

يرزقون (آل عمران: ١٦٩)“

نہیں)

٤

"تلك عشرة كاملة“ یہ دس آیات پا ہے یا حیات کی ضد ممات ہے۔ جیسے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے

پس قرآن کریم سے ثابت ہے کہ حیات ک یا وفات نہیں۔ بلکہ فوت کے معنی قرآن شریف میں گ فرماتا ہے: ”ولو ترى اذ فزعوا فلافوت و ﴿اور کاش تو دیکھے جب وہ گھبرائیں گے، پھر بھاگ پکڑے جائیں گے۔﴾

یہاں کلام الٰہی سے فوت کے معنی بھاگ ج ہیں۔ پس آیت شریفہ ”یٰعیسیٰ انی متوفیک و ر اللہ تعالیٰ نے) اے عیسیٰ ! تحقیق میں تجھ کو کسی طرح م اور اپنی طرف (بآسمان) اٹھانے والا ہوں۔

پس جیسے قرآن شریف کی ابتدائی آیتوں س حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے قتل کی تدبیر اور مشورہ کیا ہ یہ نیک تدبیر فرمائی کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو ان ک ہی نہ ہوئی۔ جیسے دوسری آیات وما قتلوه وما اليه سے صاف ظاہر ہے۔

خلاصہ یہ ہے کہ توفی کے معنی حق موت۔ خداوند کریم کے حکم اور علم میں یہ بات پہلے ہ ہو جائیں گے جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی نسبت م آسمان پر اٹھائی گئی، جسم نہیں اٹھایا گیا ۔“ وہ اپنے الجھا پھر سر سید احمد خان صاحب نے اور پھر مرزا قادیانی

٥

صفحہ ٤٦١

”تلك عشرة كاملة“ یہ دس آیات پاک صاف فرما رہی ہیں کہ حیات کی ضد موت ہے یا حیات کی ضد ممات ہے۔ جیسے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔

پس قرآن کریم سے ثابت ہے کہ حیات کے مقابلہ میں موت یا ممات ہے۔ لیکن فوت یا وفات نہیں۔ بلکہ فوت کے معنی قرآن شریف میں کسی طرح بچ جانے کے ہیں۔ جیسے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ”ولو ترى اذ فزعوا فلافوت واخذوا من مكان قريب (سباء:٥١)“ ﴿اور کاش تو دیکھے جب وہ گھبرائیں گے، پھر بھاگنے سے نہیں بچ سکیں گے اور نزدیک جگہ سے پکڑے جائیں گے۔﴾

یہاں کلام الہی سے فوت کے معنی بھاگ کر یا اور کسی طرح بچنے یا اپنی جان بچانے کے ہیں۔ پس آیت شریفہ ”یٰعیسی انی متوفیک ورافعك الیٰ“ کے معنے یہ ہوئے: (جب فرمایا اللہ تعالیٰ نے) اے عیسیٰ! تحقیق میں تجھ کو کسی طرح سے (تیرے دشمنوں سے) بچانے والا ہوں اور اپنی طرف (بآسمان) اٹھانے والا ہوں۔

پس جیسے قرآن شریف کی ابتدائی آیتوں سے معلوم ہو رہا ہے کہ کفار نے مکر کیا۔ یعنی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے قتل کی تدبیر اور مشورہ کیا تھا، ایسا ہی اللہ تعالیٰ نے جو خیر الماکرین ہے، یہ نیک تدبیر فرمائی کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو ان کی دستبرد سے بچا لیا اور سولی تک پہنچنے کی نوبت ہی نہ ہوئی۔ جیسے دوسری آیات وما قتلوه وما صلبوه اور وما قتلوه بل رفعه الله الیه سے صاف ظاہر ہے۔

خلاصہ یہ ہے کہ توفی کے معنی حقیقتاً کسی چیز یا کسی شخص کو پورا پورا اخذ کرنا ہے، نہ موت۔ خداوند کریم کے حکم اور علم میں یہ بات پہلے ہی سے تھی کہ بعض گمراہ لوگ کبھی ایسے بھی پیدا ہو جائیں گے جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی نسبت موت کا گمان کر کے کہیں گے کہ: ”ان کی روح آسمان پر اٹھائی گئی، جسم نہیں اٹھایا گیا ۔“ وہ اپنے ایمان کو خراب کریں گے۔ جیسے پہلے معتزلہ نے اور پھر سرسید احمد خان صاحب نے اور پھر مرزا قادیانی نے ان کی تقلید کی، اس لئے اللہ تبارک وتعالیٰ

٥

صفحہ ٤٦٣

نے لفظ توفی یا متوفی کا حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو آسمان پر مع جسم و روح لے جانے کی بابت فرمایا۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو لفظ موتی یا ممیت کا فرماتا جس کے معنی حقیقتاً بلاشبہ موت کے ہوتے ، اس کی تائید میں تفسیر کبیر کی الہامی عبارت مزید اطمینان کے لئے لکھی جاتی ہے۔ وھو ھذا !

"ان التوفی اخذا الشئ وافيا ولما علم الله ان من الناس من يخطر بباله ان الذى رفعه الله هو روحه لا جسده ذكر هذا الكلام ليدل على انه عليه الصلوة والسلام رفع بتمامه الى السماء بروحه وجسده (التفسیر الکبیر ج ٨ ص ٢٣٧)“

(تفسیر کبیر ج ٨ ص ١٨١) ﴿تحقیق توفی کے معنی کسی چیز کو بکلیہ لے لینا ہے اور چونکہ خدا کے علم میں تھا کہ کسی زمانہ کے گمراہ کے دل میں یہ خطرہ پیدا ہو گا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی روح کو آسمان پر اٹھایا تھا جسم کو نہیں اٹھایا تھا۔ اسلئے اللہ تعالیٰ نے کلمہ (متوفیک) کا فرمایا، تاکہ اس بات کو دلیل سے ثابت کرے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو مع جسم اور روح کے بتمامہ آسمان پر اٹھایا تھا۔﴾

یہ ہیں خداوند کریم کے اعجازی احکام کہ پہلے ہی سے گمراہ لوگوں کے خطروں اور وسوسوں کا جواب اپنے کلام پاک میں رکھ دیا ، تاکہ جس زمانہ میں یہ لوگ پیدا ہوں ان پر حجت ہو اور ایمانداروں کو تقویت حاصل ہو۔ یہ کرامت ہے حضرت فخر الدین رازی علیہ الرحمہ کی۔

توفی کے معنی جو خود مرزا قادیانی اور حکیم نورالدین خلیفہ مرزا قادیانی نے لکھے ہیں

اب ہم مرزائیوں کے مزید اطمینان اور ایمان کے لئے جو ان کے قرآن ( براہین احمدیہ ص ٥٤٠، خزائن ج ١ ص ٦٢٠) میں مرزا قادیانی نے متوفی کے خود معنی لکھے ہیں ، لکھ دیتے ہیں، تاکہ ان کا یہ دعویٰ کہ توفی کے معنی قرآن شریف میں موت اور نیند کے سوا اور کوئی نہیں ، مردہ ہو جائے ۔ وھو ھذا!

مرزا قادیانی خود یہاں متوفی کے معنی ”پوری نعمت دوں گا“ لکھتے ہیں۔ اب بقول مرزائیاں وفرزند علی مرزائی ومرزا قادیانی یہ معنے خلاف قرآن مجید کر رہے ہیں۔ اس کے علاوہ مرزا قادیانی کے فاضل بزرگ اور اس وقت خلیفہ مستقل متوفی کے معنی اپنی کتاب ”تصدیق براہین احمدیہ“ میں اس طرح لکھتے ہیں : ”اذ قال الله يا عيسى اني متوفيك ورافعك الى“ ﴿جب اللہ نے فرمایا: اے عیسیٰ! میں لینے والا ہوں تجھ کو اور بلند کرنے والا ہوں اپنی طرف۔﴾ ( بلفظہ تصدیق براہین احمدیہ ص ٨)

١؎ رسم الخط قرآنی یعیسیٰ ہے۔ منہ

٦

ملاحظہ فرمائیے! مرزا قادیانی خود اور ان کے خلی دوں گا اور لینے والا ہوں ۔“ لکھتے ہیں۔ حسب قول فرزند علی تو گویا آپ کا مرزا قادیانی اور ان کے خلیفہ پر بھی کریم کے برخلاف معنی کرتے ہیں۔

اس سے یہ بات بھی ثابت ہوئی کہ جب مرزا مسلمانی عقائد کے مطابق ایمان رکھتے تھے تو یہی معنے کر احمدیہ کے ص ٤٩٨، ٥٠٥، خزائن ج ١ ص ٥٩٣، ٦٠١) میں حضرت میں تشریف لانا لکھتے ہیں ، مگر اب اس پر ایمان نہیں۔

پس ثابت ہوا کہ توفی کے معنی قرآن کریم ”پورا پورا لینا یا دینا ، پوری نعمت دینا لینے والا ہوں“ کے بھی پورا پورا لینے کے ہیں اور موت کے معنی ہرگز نہیں۔ فھو المر

دوم (مرزا قادیانی کا چیلنج)

قولہ ...... غرض ان لوگوں نے یہ عقیدہ اختیار کر کے چا ہے۔ اگر پوچھا جائے کہ اس بات کا ثبوت کیا ہے کہ حضرت ساتھ آسمان پر چڑھ گئے تھے تو نہ کوئی آیت پیش کر سکتے ہیں نزول کے لفظ کے ساتھ اپنی طرف سے آسمان کا لفظ ملا کر عوا حدیث مرفوع متصل میں آسمان کا لفظ پایا نہیں جاتا اور نزول لئے آتا ہے اور نزول مسافر کو کہتے ہیں۔

چنانچہ ہمارے ملک کا بھی یہی محاورہ ہے کہ ادھر ہیں کہ آپ کہاں اترے ہیں؟ اور اس بول چال میں کوئی بھی اترا ہے۔

اگر اسلام کے تمام فرقوں کی حدیث کی کتابیں جو حدیث بھی ایسی نہ پاؤ گے جس میں یہ لکھا ہو کہ حضرت عیسیٰ پر چلے گئے تھے اور پھر کسی زمانہ میں زمین کی طرف واپس آئے اگر کوئی ایسی حدیث پیش کرے تو ہم ایسے شخص

٧

صفحہ ٤٦٣

ملاحظہ فرمائیے ! مرزا قادیانی خود اور ان کے خلیفہ نور الدین متوفی کے معنے ”پوری نعمت دوں گا اور لینے والا ہوں ۔“ لکھتے ہیں۔ حسب قول فرزند علی قادیانی نیند اور موت کے نہیں لکھتے۔ تو گویا آپ کا مرزا قادیانی اور ان کے خلیفہ پر بھی ایمان نہیں ، اس لئے کہ وہ بھی قرآن کریم کے برخلاف معنی کرتے ہیں۔

اس سے یہ بات بھی ثابت ہوئی کہ جب مرزا قادیانی اور ان کے خلیفہ قرآن کریم پر مسلمانی عقائد کے مطابق ایمان رکھتے تھے تو یہی معنے کرتے اور لکھتے تھے اور اسی وجہ سے (براہین احمدیہ کے ص ٤٩٨، ٥٠٥، خزائن ج ١ ص ٥٩٣، ٦٠١) میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا زندہ ہونا ، دوبارہ دنیا میں تشریف لانا لکھتے ہیں ، مگر اب اس پر ایمان نہیں ۔

پس ثابت ہوا کہ توفنی کے معنی قرآن کریم میں صرف موت اور نیند کے نہیں ، بلکہ ” پورا پورا لینا یا دینا ، پوری نعمت دینا لینے والا ہوں“ کے بھی ہیں اور دراصل حقیقی معنے کسی شئی کے پورا پورا لینے کے ہیں اور موت کے معنی ہرگز نہیں ۔ فھو المراد!

دوم (مرزا قادیانی کا چیلنج)

قولہ ..... غرض ان لوگوں نے یہ عقیدہ اختیار کر کے چار طور سے قرآن شریف کی مخالفت کی ہے۔ اگر پوچھا جائے کہ اس بات کا ثبوت کیا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام اپنے جسم عنصری کے ساتھ آسمان پر چڑھ گئے تھے تو نہ کوئی آیت پیش کر سکتے ہیں اور نہ کوئی حدیث دکھا سکتے ہیں۔ صرف نزول کے لفظ کے ساتھ اپنی طرف سے آسمان کا لفظ ملا کر عوام کو دھوکہ دیتے ہیں۔ مگر یاد رہے کہ کسی حدیث مرفوع متصل میں آسمان کا لفظ پایا نہیں جاتا اور نزول کا لفظ محاورات عرب میں مسافر کے لئے آتا ہے اور نزیل مسافر کو کہتے ہیں ۔

چنانچہ ہمارے ملک کا بھی یہی محاورہ ہے کہ ادب کے طور پر کسی وارد شہر کو پوچھا کرتے ہیں کہ آپ کہاں اترے ہیں ؟ اور اس بول چال میں کوئی بھی یہ خیال نہیں کرتا کہ یہ شخص آسمان سے اترا ہے۔

اگر اسلام کے تمام فرقوں کی حدیث کی کتابیں تلاش کرو تو صحیح حدیث تو کیا ، کوئی وضعی حدیث بھی ایسی نہ پاؤ گے جس میں یہ لکھا ہو کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام جسم عنصری کے ساتھ آسمان پر چلے گئے تھے اور پھر کسی زمانہ میں زمین کی طرف واپس آئیں گے ۔

اگر کوئی ایسی حدیث پیش کرے تو ہم ایسے شخص کو بیس ہزار روپیہ تک تاوان دے سکتے

٧

صفحہ ٤٦٤

ہیں اور توبہ کرنا اور تمام اپنی کتابوں کا جلا دینا علاوہ ہوگا۔ جس طرح چاہیں تسلی کر لیں۔“

قول فرزند علی

اس چیلنج کا جواب نہ آج تک کسی نے دیا ہے اور نہ آئندہ کسی سے امید ہے۔ یہ اتمام حجت کے لئے کافی ہے۔

(بلفظہ صفحہ ٥١)

اقول

وباللہ التوفیق ! مرزا قادیانی کے اس چیلنج میں آٹھ باتیں ہیں، جن کا جواب جداگانہ قولہ اور اقول کے لفظ کے ساتھ لکھا جاتا ہے، تا کہ مرزائیوں کو مرزا قادیانی کے چیلنج یا تحدی اور تعلی کی کیفیت پوری پوری معلوم ہو جائے اور خدا کسی کو ہدایت بخشے۔

قولہ

اقول

چار طور سے جو قرآن شریف کی مخالفت کی ہے، وہ بیان نہیں کی۔ مخالفت مرزائی خود کرتے ہیں اور مسلمانوں پر الزام لگاتے ہیں۔

قولہ

آسمان پر چڑھ گئے تو نہ کوئی آیت پیش کر سکتے ہیں اور نہ۔

اقول

نہایت افسوس کی بات ہے کہ مسلمانوں کو تو کئی آیات قرآن شریف میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے رفع الی السماء اور نزول من السماء کی ملیں اور مرزائیوں کو نہ ملیں۔ یہ ان کی بد نصیبی کی بات ہے۔ وہ آیات جن سے تمام ( بجز چند معتزلہ اور جہمیہ فرقہ کے ) مسلمانوں نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا مع جسم عنصری آسمان پر لے جانا اور پھر قریب قبل قیامت کے نزول فرمانا سمجھا ہے، یعنی حضرت رسول اکرم ﷺ سے لے کر صحابہ کرام اور تابعین و تبع تابعین اور علمائے ربانیین متقدمین و متاخرین وصوفیائے عظام اس عقیدہ پر ہیں، وہ آیات حسب ذیل ہیں:

(النساء: ١٥٧، ١٥٨) “

٨

صفحہ ٤٦٥

(النساء:١٧٢)"

(الزخرف:٦١)"

انت الرقیب علیھم وانت علیٰ کل شیءٍ شھید (المائدۃ:١١٧)"

"تلك عشرة كاملة" یہ دس آیات ہیں جن کو مسلمان پیش کرتے آئے ہیں اور پیش کرتے ہیں اور کرتے رہیں گے۔ لیکن مرزا قادیانی کی طرف سے کتنے بڑے کذب کا استعمال ہے کہ مسلمان لوگ کوئی آیت پیش نہیں کر سکتے۔ مراد مرزا قادیانی کی بغرض دھوکا دہی یہ ہے کہ قرآن شریف میں کوئی آیت ہی نہیں لا حول ولا قوۃ ! انہیں مندرجہ بالا آیات پر جب مرزا قادیانی ایمان رکھتے تھے تو اپنی الہامی کتاب براہین احمدیہ میں لکھ دیا تھا کہ حضرت مسیح علیہ السلام دوبارہ دنیا میں تشریف لائیں گے ۔ اب وہ ایمان سلب ہو گیا۔ العیاذ باللہ!

قولہ

اقول

مرزا قادیانی کتنا بڑا غضب اور دن کے وقت آفتاب کا انکار کرتا ہے۔ حالانکہ کثرت سے احادیث بالعموم اور صحیحین اور صحاح ستہ کی بالخصوص دیکھ چکے ہیں۔ مگر اب ایمان نہیں لاتے۔ اول ہم مرزا قادیانی ہی کی تحریرات اور عقائد کو پیش کرتے ہیں، جن میں وہ احادیث کے موجود ہونے کا انکار نہیں کر سکے، بلکہ اقبالی ہیں۔

٩

صفحہ ٤٦٧

مرزا جی کے وہ اقوال جن میں حضرت مسیح علیہ السلام کی حیات اور صعود الی السماء اور نزول من السماء کے بارے میں احادیث ہونے کا اقرار ہے:

اخبار کی کتابوں کی رو سے جن نبیوں کا اسی وجود عنصری کے ساتھ آسمان پر جانا تصور کیا گیا ہے۔ وہ دو نبی ہیں۔ ایک یوحنا جس کا نام ایلیا اور ادریس بھی ہے اور دوسرے مسیح ابن مریم جس کو عیسیٰ اور یسوع بھی کہتے ہیں۔ ان دونوں نبیوں کی نسبت عہد قدیم اور جدید کے بعض صحیفے بیان کر رہے ہیں کہ وہ دونوں آسمان کی طرف اٹھائے گئے اور پھر کسی زمانہ میں زمین پر اتریں گے اور تم ان کو آسمان سے آتے دیکھو گے۔ انہیں کتابوں کے کسی قدر ملتے جلتے الفاظ احادیث نبویہ میں بھی پائے جاتے ہیں ۔“

(توضیح مرام ص ١، خزائن ج ٣ ص ٥١ ملخص)

نزدیک ممکن ہے کہ آئندہ زمانوں میں میرے جیسے دس ہزار بھی مثیل مسیح آجائیں...... یہ کچھ میرا ہی خیال نہیں...... بلکہ احادیث نبویہ کا بھی یہی منشاء ہے...... ممکن اور بالکل ممکن ہے کہ کسی زمانہ میں کوئی ایسا مسیح بھی آجائے، جس پر حدیثوں کے بعض ظاہری الفاظ صادق آسکیں ۔“

(ازالہ اوہام ص ١٩٩، خزائن ج ٣ ص ١٩٧)

حدیث میں خبر دی گئی ہے۔ کیونکہ براہین میں صاف طور پر اس بات کا تذکرہ کر دیا گیا تھا کہ یہ عاجز روحانی طور پر وہ مسیح موعود ہے، جس کی اللہ (قرآن) اور رسول (حدیث) نے پہلے سے خبر کر رکھی ہے۔“

(ازالہ اوہام ص ٢٦١، خزائن ج ٣ ص ٢٣١)

ہے اور ممکن ہے کہ ظاہر جلال واقبال کے ساتھ ہی آوے اور ممکن ہے کہ اول وہ دمشق میں ہی نازل ہو۔“

(ازالہ اوہام ص ٢٩٥، خزائن ج ٣ ص ٢٥١)

ملاحظہ فرمائیے! مرزا قادیانی خود چار جگہ پر اقرار کر چکے ہیں کہ قرآن اور احادیث سے پایا جاتا ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام آسمان پر تشریف لے گئے اور واپس پھر نزول فرمائیں گے تو میں صرف روحانی اور مجازی طور پر مثیل مسیح ہوں اور میرے جیسے دس ہزار تک مسیح کا آجانا ١٠

ممکن ہے۔ لیکن مسیح علیہ السلام ابن مریم کا بھی تشریف لا اور اقبال سے ہے، ممکن ہے۔ میں اس کا انکار نہیں کرتا۔ مگر افسوس یہاں پر مرزا جی کہتے ہیں کہ مسلم دکھلا نہیں سکتے۔

قولہ

ہیں، مگر یاد رہے کہ کسی حدیث مرفوع متصل میں آسمان کی

اقول

مرزا قادیانی کا خیال ہے کہ جس حدیث شریف اس نزول سے نزول از آسمان نہیں سمجھا جاتا۔ مگر اس کی نہیں ہوتی، جیسے کہ ہم قرآن شریف اور احادیث شریفہ نزول من السماء ہی ہے۔

آیات قرآن شریف جن میں لفظ نزول ا

میں قرآن (آسمان سے) نازل ہوا۔﴾

نہ ہوا۔﴾

تیرے پر اترا ہے (آسمان سے) لوگوں کو پہنچا دے۔﴾

اللہ پر ایمان لائے اور جو کچھ ہمارے پر اترا۔﴾

سے) سے نازل کی۔﴾

١١

صفحہ ٤٦٧

ممکن ہے۔ لیکن مسیح علیہ السلام ابن مریم کا بھی تشریف لانا جو قرآن اور احادیث میں ظاہری جلال اور اقبال سے ہے، ممکن ہے۔ میں اس کا انکار نہیں کرتا۔ مگر افسوس یہاں پر مرزائی کہتے ہیں کہ مسلمان لوگ کوئی حدیث بھی اس بارے میں دکھلا نہیں سکتے۔

قولہ

ہیں، مگر یاد رہے کہ کسی حدیث مرفوع متصل میں آسمان کا لفظ پایا نہیں جاتا۔

اقول

مرزا قادیانی کا خیال ہے کہ جس حدیث شریف میں نزول کے ساتھ آسمان کا لفظ نہ ہو، اس نزول سے نزول از آسمان نہیں سمجھا جاتا۔ مگر اس خیال کی تصدیق یا تائید قرآن شریف سے نہیں ہوتی، جیسے کہ ہم قرآن شریف اور احادیث شریف سے دکھلاتے ہیں کہ لفظ نزول سے مراد نزول من السماء ہی ہے۔

آیات قرآن شریف جن میں لفظ نزول سے نزول از آسمان مراد ہے

میں قرآن (آسمان سے) نازل ہوا۔﴾

نہ ہوا۔﴾

تیرے پر اترا ہے (آسمان سے) لوگوں کو پہنچا دے۔﴾

اللہ پر ایمان لائے اور جو کچھ ہمارے پر اترا۔﴾

سے) سے نازل کی۔﴾

١١

صفحہ ٤٦٩

سے) اس پر پانی۔﴾

پہاڑ پر اتارتے۔﴾

زبان میں اتارا۔﴾

کو اتارا۔﴾

ہے جو ناامیدی کے بعد نزول باراں کرتا ہے۔﴾

قرآن شریف میں کثرت سے آیات موجود ہیں جن میں نزول کا لفظ ہے، مگر آسمان کا لفظ ان کے ساتھ نہیں، لیکن مراد اور معنے نزول از آسمان کے ہی ہیں۔ اب چند احادیث بھی نقل کی جاتی ہیں جن میں نزول کا لفظ تو ہے مگر آسمان کا لفظ شامل نہیں۔ مگر مراد اور ان کے معنی نزول از آسمان کے ہی ہیں۔

احادیث جن میں لفظ نزول ہے اور اس سے نزول از آسمان مراد ہے

﴿قرآن شریف نہایت جلالت سے اتارا۔﴾

ص٢٤٣)" ﴿قرآن شریف تین حرفوں پر اتارا۔﴾

الكبير ج٨ ص٢٠١)" ﴿قرآن شریف مکہ مدینہ اور شام میں اترا۔﴾

خروج الدجال ج٢ ص٢٣٧)" ﴿عیسیٰ علیہ السلام شرقی دمشق کے سفید منارہ پر اتریں گے۔﴾ ١٢

عبدالرحمن عن ابی هريرة ج١ ص٣٣١)" ﴿ رہیں گے۔﴾

طبع دار السلف رياض)" ﴿میرے پر جبرائیل علیہ السلا

سے نازل ہوئی۔﴾

پس اسی طرح احادیث صحیحہ سنن و صحاح ستـ سے مراد نزول از آسمان ہی ہے۔ مثلاً:

عدلاً (صحيح بخاری ج١ ص٤٩٠، باب نزول ﴿حضرت رسول اکرمﷺ نے فرمایا ہے کہ قسم ہے مجھ کو ہے۔ بلاشبہ ابن مریم (حضرت عیسیٰ علیہ السلام تمہارے مـ

ص٤٩٠، باب نزول عيسى بن مريم عليهما السلا تمہارا کیا حال ہوگا، جبکہ ابن مریم (عیسیٰ علیہ السلام) تمـ امام (یعنی امام مہدی علیہ الرضوان) تمہارے میں موجود

ص٤٨٢، حديث نمبر ١٠٢٦٦)" ﴿فرمایا حضر اترے گا عادل اور حکم اور منصف ہو کر۔﴾

ص٢٣٧، باب خراج الدجال)" ﴿آنحضرتﷺ بیچ میں کوئی نبی نہیں ہے اور وہ اترنے والے ہیں۔﴾

﴿جب حضرت عیسیٰ علیہ السلام زمین پر اتریں گے۔﴾ ١٣

صفحہ ٤٦٩

عبدالرحمن عن ابی ھریرة ج ١ ص ٣٣١)“ ﴿عیسیٰ علیہ السلام نزول کے بعد چالیس سال رہیں گے۔﴾

طبع دار السلف ریاض)“ ﴿میرے پر جبرائیل علیہ السلام جنت سے میوے لے کر اترے۔﴾

سے نازل ہوئی۔﴾

پس اسی طرح احادیث صحیحہ صحیحین وصحاح ستہ وغیرہم کتب احادیث میں لفظ نزول سے مراد نزول از آسمان ہی ہے۔ مثلاً:

عدلاً (صحیح بخاری ج ١ ص ٤٩٠، باب نزول عیسٰی بن مریم علیہما السلام)“ ﴿حضرت رسول اکرم ﷺ نے فرمایا ہے کہ قسم ہے مجھ کو اس خدا کی جس کے قبضہ میں میری جان ہے۔ بلاشبہ ابن مریم (حضرت عیسیٰ علیہ السلام) تمہارے میں اتریں گے حکم اور عدل ہوکر۔﴾

ص ٤٩٠، باب نزول عیسٰی بن مریم علیہما السلام) “ ﴿آنحضرت ﷺ نے فرمایا ہے کہ تمہارا کیا حال ہوگا، جبکہ ابن مریم (عیسیٰ علیہ السلام) تمہارے میں اتریں گے اور اس وقت ایک امام (یعنی امام مہدی علیہ الرضوان) تمہارے میں موجود ہوگا۔﴾

ص ٤٨٢، حدیث نمبر ١٠٢٦٦) “ ﴿فرمایا حضرت ﷺ نے ابن مریم (عیسیٰ علیہ السلام) اترے گا عادل اور حکم اور منصف ہوکر۔﴾

ص ٢٣٧، باب خراج الدجال) “ ﴿آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ میرے اور عیسیٰ علیہ السلام کے بیچ میں کوئی نبی نہیں ہے اور وہ اترنے والے ہیں۔﴾

﴿جب حضرت عیسیٰ علیہ السلام زمین پر اتریں گے۔﴾

١٣

صفحہ ٤٧٠

توضیح

یہ یاد رکھنا چاہئے کہ جب مسلمانوں کا ایمان آیات اور احادیث سے مسلمہ اور متفقہ اجماعیہ طور پر ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام اس وقت آسمان پر زندہ موجود ہیں اور قریب قیامت کے زمین پر اتریں گے تو نزول کے ساتھ آسمان کے لفظ کے لگانے کی ضرورت نہیں ہے۔ پس یہ تمام عذرات کی تردید کے لئے ہم وہ احادیث صحیحہ بھی درج کرتے ہیں، جن میں رفع اور نزول حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے ساتھ لفظ السماء (آسمان) اور الارض (زمین) کا بھی موجود ہے۔ خدا کرے مرزائی ایمان لے آئیں اور مرزا قادیانی کے چیلنج اور دعاؤں کو جھوٹ اور کذب جان کر توبہ کریں۔ وھو ھذا!

فمسخهم الله تعالى قردة وخنازير فاجتمعت اليهود على قتله فاخبره الله بأنه يرفعه الى السماء (سنن تفسير بيضاوى ج٢ ص٢٧٧ بحواله نسائى)“

انزل ابن مريم من السماء فيكم وامامكم منكم (صحيح ابن حبان ج١٥ ص٢٣، ذكر الخبر الدال على أن الدجال لايفتتن)“ ﴿حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ فرمایا رسول اللہ ﷺ نے کیا حالت ہوگی تمہاری جب ابن مریم (عیسیٰ علیہ السلام) تم میں آسمان سے اتریں گے اور تمہارا امام بھی (امام مہدی علیہ السلام) تم میں موجود ہوگا۔﴾

”فعند ذالك ينزل اخى عيسى ابن مريم من السماء (كنز العمال ج١٤ ص٦١٩، نزول عیسىٰ علیہ السلام)“ ﴿آنحضرت ﷺ نے فرمایا: جب میرے بھائی عیسیٰ علیہ السلام ابن مریم آسمان سے اتریں گے۔﴾

مکیه)“ ﴿یعنی فی الواقع حضرت عیسیٰ علیہ السلام اس وقت نہیں مرے، بلکہ خدا نے ان کو آسمان پر اٹھا لیا ہے۔﴾

الصلوة والسلام اذا نزل فى الارض (الحديث طويل اليواقيت والجواهر

١٤

ص ١٧٤) ”اس حدیث میں حضرت عیسیٰ علیہ الـ السلام حضرت رسول اکرم ﷺ کے نائب ہیں۔

ينزل عيسى ابن مريم الى الارض فيمـ ﴿فرمایا آنحضرت ﷺ نے عیسیٰ علیہ اتریں گے اور چالیس سال تک آدمیوں میں رہیں

ص ٢٣٧، باب خروج الدجال)“ حضرت عیسیٰ علیہ السلام دمشق کے شـ

يمت وانه راجع اليكم قبل يوم القيـ ص ٦٨ پر مفصل درج ہے۔)“ ﴿یعنی حضرت حسـ یہود سے فرمایا کہ عیسیٰ علیہ السلام ابھی نہیں مرے واپس آنے والے ہیں۔﴾

توضیح

اس حدیث میں لفظ راجع ا جب کوئی شخص ایک جگہ سے چلا جائے اور پھر مثلاً مرزا قادیانی دہلی سے واپس تشریف لـ میں ہے، کیونکہ قادیان سے گئے تھے قادیان مـ نہ گئے۔ مراد یہ کہ قادیان واپس نہ گئے۔ غرض لفظ نہیں بولا جاتا۔

مريم الى الارض فيزوج ويولد ويمـ معى فى قبرى (اے فى مقبرتى) و في قبر واحد بين ابى بكر وعمر (

صفحہ ٤٧١

ص ١٧٤) ”اس حدیث میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا زمین پر اترنا درج ہے۔ (تمام انبیاء علیہم السلام حضرت رسول اکرم ﷺ کے نائب ہیں۔

ششم ....... ”اخرج الطبرانی وابن عساکر عن ابی ہریرۃ ان رسول ﷺ قال ینزل عیسیٰ ابن مریم الی الارض فیمکث فی الناس اربعین سنۃ (درمنثور)“ فرمایا آنحضرت ﷺ نے عیسیٰ علیہ السلام بن مریم فرشتوں میں سے نکل کر زمین پر اتریں گے اور چالیس سال تک آدمیوں میں رہیں گے۔

ہفتم ...... ”ینزل عیسیٰ عند المنارۃ البیضاء شرقی دمشق (سنن ابی داؤد ج٢ ص ٢٣٧، باب خروج الدجال)“ حضرت عیسیٰ علیہ السلام دمشق کے شرقی سفید منارہ پر اتریں گے۔

ہشتم ....... ”عن الحسن البصری قال رسول اللہ ﷺ للیہود ان عیسیٰ لم یمت وانہ راجع الیکم قبل یوم القیامۃ (الحدیث طویل، ابن کثیر، درمنثور، شمس الہدایہ کے ص ٦٨ پر مفصل درج ہے۔)“ ﴿یعنی حضرت حسن بصریؒ سے روایت ہے کہ رسول اکرم ﷺ نے یہود سے فرمایا کہ عیسیٰ علیہ السلام ابھی نہیں مرے ہیں اور واقعی قیامت سے پہلے وہ (آسمان سے) واپس آنے والے ہیں۔﴾

توضیح

اس حدیث میں لفظ راجع (واپس آنے والا) بتلا رہا ہے اور عام فہم محاورہ ہے کہ جب کوئی شخص ایک جگہ سے چلا جائے اور پھر واپس اسی جگہ آ جائے تو وہاں یہ لفظ بولا جاتا ہے۔ مثلاً مرزا قادیانی دہلی سے واپس تشریف لے آئے۔ یہاں قادیان گاؤں محذوف ہے اور ذہن میں ہے، کیونکہ قادیان سے گئے تھے قادیان میں آگئے۔ یا یہ مرزا قادیانی لاہور گئے، مگر زندہ واپس نہ گئے۔ مراد یہ کہ قادیان واپس نہ گئے۔ غرض یہ کہ جب تک کوئی کہیں نہ جائے، تب تک واپسی کا لفظ نہیں بولا جاتا۔

نہم ....... ”عن عبداللہ بن عمرؓ قال قال رسول اللہ ﷺ ینزل عیسیٰ ابن مریم الی الارض فیزوج ویولد ویمکث خمساً واربعین سنۃ ثم یموت فیدفن معی فی قبری (اے فی مقبرتی) وعبر عنہا بالقبر لقرب قبرہ بقبرہ فکانما فی قبر واحد بین ابی بکرٍ وعمرؓ (رواہ ابن جوزی فی کتاب الوفاء مشکوۃ ص ٤٨،

١٥

صفحہ ٤٧٣

اقول

ہمارے ملک کا محاورہ یہ بھی ہے کہ وارد شہر کو کہاں تشریف رکھتے ہیں؟ یا آپ کہاں ٹھہرے ہوئے آپ کہاں آرام فرماتے ہیں؟ وغیرہ وغیرہ۔

علاوہ اس کے یہ بھی محاورہ ہے کہ جب نزول باراں شروع ہو گیا یا موسلا دھار بارش اتر آ رحمت اترتے ہیں۔ ہماری ہدایت کے لئے خداوند کری ہر کوئی یہی سمجھتا ہے کہ بارش، رحمت، فرشتے، قرآن شر بول چال میں کوئی بھی یہ خیال نہیں کرتا کہ بارش زمین کے بیچ میں سے اترے ہیں۔

قولہ

حدیث بھی ایسی نہ پاؤ گے کہ جس میں یہ لکھا ہو کہ حضر گئے تھے اور پھر کسی زمانہ میں زمین کی طرف واپس آئیں

اقول

مرزا قادیانی کا یہ کہنا پرلے درجہ کا کذب احادیث صحیحہ رفع اور نزول لکھی جا چکی ہیں، جن کی تائی کے مدت تک قائل رہے ہیں، لیکن دو تین احادیث آ اسلامیہ ایمان رکھتے ہیں، سواء بعض معتزلہ، جہمیہ کے۔

١...... حدیث شریف

’’اخرج سعيد بن منصور والنسائ عن ابن عباس قال لما اراد الله ان يرفع عي وفى البيت اثنى عشر رجلا من الحوا وراسه تقطر ماء فقال ان منكم من ينكرني قال ايكم القی علیه شبهتی فیقتل مکانی و

١٧

صفحہ ٤٧٣

اقول

ہمارے ملک کا محاورہ یہ بھی ہے کہ وارد شہر کو ادب کے طور پر پوچھا کرتے ہیں کہ آپ کہاں تشریف رکھتے ہیں؟ یا آپ کہاں ٹھہرے ہوئے ہیں؟ یا آپ کہاں اقامت پذیر ہیں؟ یا آپ کہاں آرام فرماتے ہیں؟ وغیرہ وغیرہ۔

علاوہ اس کے یہ بھی محاورہ ہے کہ جب میں اپنے مکان سے باہر نکلا، اسی وقت نزول باراں شروع ہو گیا یا موسلا دھار بارش اتر آئی۔ جہاں ذکر الٰہی ہوتا ہے وہاں ملائکہ رحمت اترتے ہیں۔ ہماری ہدایت کے لئے خداوند کریم نے قرآن شریف کو اتارا ہے۔ اس جگہ ہر کوئی یہی سمجھتا ہے کہ بارش، رحمت، فرشتے، قرآن شریف آسمان پر سے ہی اترے ہیں۔ اس بول چال میں کوئی بھی یہ خیال نہیں کرتا کہ بارش زمین سے نکلی ہے یا فرشتے اور رحمت زمین کے بیچ میں سے اترے ہیں۔

قولہ

حدیث بھی ایسی نہ پاؤ گے کہ جس میں یہ لکھا ہو کہ حضرت عیسیٰ جسم عنصری کے ساتھ آسمان پر چلے گئے تھے اور پھر کسی زمانہ میں زمین کی طرف واپس آئیں گے۔

اقول

مرزا قادیانی کا یہ کہنا پرلے درجہ کا کذب ہے۔ حالانکہ پہلے اس میں چند آیات اور احادیث صحیحہ رفع اور نزول لکھی جا چکی ہیں، جن کی تائید خود موصوف بحیات و نزول حضرت عیسیٰ علیہ السلام ایک مدت تک قائل رہے ہیں، لیکن دو تین احادیث صحیحہ اور بھی لکھی جاتی ہیں، جن پر تمام فرق اسلامیہ ایمان رکھتے ہیں، سواء بعض معتزلہ، جہمیہ کے۔ وهو ھٰذا!

”أخرج سعید بن منصور والنسائی وابن ابی حاتم وابن مردویہ عن ابن عباس قال لما اراد اللہ ان یرفع عیسی الی السماء خرج الی اصحابہ وفی البیت اثنی عشر رجلا من الحواریین فخرج علیہم من عین البیت وراسہ تقطر ماء فقال ان منکم من ینکرنی اثنی عشر مرۃ بعد ان آمن بی ثم قال ایکم القی علیہ شبهی فیقتل مکانی ویکون معی فی درجتی فقام شاب

١٧

صفحہ ٤٧٤

من احدثهم سنا فقال له اجلس ثم اعاد عليهم فقام شاب فقال ذالك فالقى شبه عيسى ورفع عيسى من روزنة فى البيت الى السماء قال وجاء الطلب من يهود فاخذوا الشبه فقتلوه ثم صلبوه فكفربه بعضهم اثنتى عشرة مرة بعد ان آمن به الى اخر القصة قال ابن كثير قال حدثنا احمد بن سنان حدثنا ابو معاوية عن الاعمش عن مناهيل ابن عمرو عن سعيد بن زيد عن ابن عباس نذكره وهذا اسناد صحيح (تفسیر ابن کثیر ج ٢ ص ٤٠٩، سعید بن

منصور، نسائی، ابن ابی حاتم، ابن مردویہ)

٭ روایت کی سعید بن منصور، نسائی، ابن ابی حاتم، اور ابن مردویہ نے ابن عباسؓ سے کہا کہ جب اللہ تعالیٰ نے آسمان پر عیسیٰ علیہ السلام کے اٹھا لینے کا ارادہ کیا۔ آپ اپنے صحابہ کی طرف نکلے اور گھر میں بارہ حواری موجود تھے۔ پس نکلے گھر میں سے اور ان کے سر سے پانی ٹپکتا تھا۔ فرمایا بعض تم میں سے بارہ مرتبہ میرا انکار کرے گا ایمان لانے کے بعد، پھر فرمایا تم میں کسی کی صورت میرے جیسی ہو جائے تا کہ میری جگہ قتل کیا جائے اور میرے ہمراہ درجہ میں ہو۔ ایک نو عمر نوجوان ان میں کھڑا ہوا، حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے اس کو فرمایا تو بیٹھا رہ۔ مکرر یہ جملہ فرمایا اور وہی جوان اٹھا، پس فرمایا تو ہی وہ شخص ہے، یعنی لائق ہے۔ پس وہ جوان حضرت عیسیٰ کی صورت میں بن گیا اور حضرت ایک روزن گھر کے سے آسمان کی طرف اٹھائے گئے۔ ابن عباسؓ نے کہا کہ یہود طلب کرنے آئے اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے ہمشکل کو پایا اور اس کو قتل کیا اور پھر اس کو سولی پر چڑھایا اور بعض نے ان میں سے ایمان لانے کے بعد بارہ مرتبہ انکار کیا۔ کہا ابن کثیر نے حدیث بیان کی کہ ہم سے احمد بن سنان نے ان سے حدیث بیان کی ابو معاویہ نے اعمش سے وہ مناہیل بن عمرو سے وہ سعید بن زید سے وہ ابن عباسؓ سے، پس ذکر کیا اسکا اور یہ حدیث ابن عباسؓ کی صحیح ہے۔ ابن کثیر نے سچ کہا ہے کہ یہ سب راوی صحیح کے رجال ہیں۔

٢......حدیث شریف

یہ دوسری حدیث نہایت طویل فتوحات مکیہ میں حضرت شیخ اکبر علیہ الرحمۃ نے اور حضرت ابولیث سمرقندی علیہ الرحمۃ نے تنبیہ الغافلین عربی کے ص ٢٩٦ میں مرفوعاً حضرت ابن عمرؓ سے نقل کی ہے، جو اس طرح پر شروع ہوتی ہے: ”مرفوعاً عن ابن عمرؓ قال كتب عمرؓ ابن الخطاب الى سعد بن وقاص وهو بالقادسية ان وجد نضلة بن معاوية الانصارى الى حلوان العراق (تنبيه الغافلين ص ٢٩٦)“ ١٨

﴿ حدیث شریف کا پورا عام فہم تر

عمر بن الخطاب نے سعد بن وقاص کی طرف لکـ تاکہ اس کے گردونواح میں غنیمت کا مال جماعت مجاہدین کے ساتھ۔ ان لوگوں نے لے کر واپس ہوئے، آفتاب غروب ہونے کے کنارہ ٹھہرایا اور خود کھڑے ہو کر اذان دی جب ”الله اكبر الله اكبر اے نضلہ! تو نے خدا کی بڑی اور بہت بڑائی تو اسی مجیب نے جواب میں کہا کہ اے نضلہ ان محمد رسول الله “ کہا تو اس شخص بشارت ہم کو عیسیٰ بن مریم نے دی تھی اور ہـ قائم ہوگی۔

پھر نضلہ نے ”حی علی الصـ کے لئے جس نے ہمیشہ نماز ادا کی۔ پھر نضلہ جواب دیا کہ جس شخص نے محمد ﷺ کی اطا ”الله اکبر الله اكبر“ کہا تو وہی پہلا جـ نضلہ نے ”لا اله الا الله اخلاص کو پورا کیا۔ تمہارے بدن کو خداوند کـ ہوئے تو صحابہ کرامؓ نے کھڑے ہو کر دریا فرشتہ یا جن یا انسان؟ جیسے اپنی آواز آپ واسطے کہ ہم خدا اور اس کے رسول اور نائب اور ایک شخص باہر نکل آیا، جس کا سر مبارک اور ان پر دو صوف کے پرانے کپڑے تھے وبركاته“ کہا، ہم نے ”وعلیكم دریافت کیا کہ آپ کون ہیں؟ فرمایا کہ زر

صفحہ ٤٧٥

حدیث شریف کا پورا عام فہم ترجمہ اس طرح پر ہے۔ فرمایا ابن عمرؓ نے کہ میرے والد عمر بن الخطاب نے سعدؓ بن وقاص کی طرف لکھا کہ نضلہ انصاری کو حلوان عراق کی طرف روانہ کرو، تاکہ اس کے گردونواح میں غنیمت کا مال جمع کریں۔ پس روانہ کیا سعدؓ نے نضلہ انصاری کو جماعت مجاہدین کے ساتھ۔ ان لوگوں نے وہاں پہنچ کر بہت مال غنیمت حاصل کیا اور ان سب کو لے کر واپس ہوئے، آفتاب غروب ہونے کے قریب تھا۔ پس نضلہ نے گھبرا کر ان سب کو پہاڑ کے کنارہ ٹھہرایا اور خود کھڑے ہو کر اذان دینی شروع کی۔

جب ”اللہ اکبر اللہ اکبر“ کہا تو پہاڑ کے اندر سے ایک مجیب نے جواب دیا کہ اے نضلہ! تو نے خدا کی بڑی اور بہت بڑائی کی، پھر نضلہ نے ”اشہد ان لا الہ الا اللہ“ کہا تو اسی مجیب نے جواب میں کہا کہ اے نضلہ! یہ اخلاص کا کلمہ ہے اور جس وقت نضلہ نے ”اشہد ان محمد رسول اللہ“ کہا تو اس شخص نے جواب دیا کہ یہ نام پاک اس ذات کا ہے، جس کی بشارت ہم کو عیسیٰ بن مریم نے دی تھی اور یہ بھی فرمایا تھا کہ اس نبی کی امت کے اخیر میں قیامت قائم ہوگی۔

پھر نضلہ نے ”حی علی الصلوٰۃ“ کہا تو مجیب نے فرمایا کہ خوش خبری ہے اس شخص کے لئے جس نے ہمیشہ نماز ادا کی۔ پھر نضلہ نے جب ”حی علی الفلاح“ کہا تو مجیب نے جواب دیا کہ جس شخص نے محمد ﷺ کی اطاعت کی اس شخص نے نجات پائی۔ پھر جب نضلہ نے ”اللہ اکبر اللہ اکبر“ کہا تو وہی پہلا جواب مجیب نے دیا۔

نضلہ نے ”لا الہ الا اللہ“ پر اذان ختم کی تو مجیب نے فرمایا کہ اے نضلہ! تم نے اخلاص کو پورا کیا۔ تمہارے بدن کو خداوند کریم نے آگ پر حرام کیا۔ جب نضلہ اذان سے فارغ ہوئے تو صحابہ کرامؓ نے کھڑے ہو کر دریافت کرنا شروع کیا کہ اے صاحب! آپ کون ہیں؟ فرشتہ یا جن یا انسان؟ جیسے اپنی آواز آپ نے ہم کو سنائی ہے، اسی طرح اپنے آپ کو دکھلائیے، اس واسطے کہ ہم خدا اور اس کے رسول اور نائب رسول عمر ابن الخطابؓ کی جماعت ہیں۔ پس پہاڑ پھٹا اور ایک شخص باہر نکل آیا، جس کا سر مبارک بہت بڑا چکی کے برابر تھا اور سر داڑھی کے بال سفید تھے اور ان پر دو صوف کے پرانے کپڑے تھے۔ انہوں نے ”السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ“ کہا، ہم نے ”وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ“ جواب دیا اور دریافت کیا کہ آپ کون ہیں؟ فرمایا کہ زریب بن برثملا وصی عیسیٰ بن مریم ہوں۔ مجھ کو عیسیٰ علیہ

١٩

صفحہ ٤٧٧

السلام نے اس پہاڑ پر ٹھہرایا ہے اور اپنے نزول من السماء تک میری درازیِ عمر کے لئے دعا فرمائی، جب وہ اتریں گے تو خنزیر کو قتل کریں گے اور صلیب کو توڑیں گے اور نصاریٰ کے اختراع سے بیزار ہوں گے۔

پھر دریافت فرمایا کہ وہ نبی صادق ﷺ بالفعل کس حال میں ہیں؟ ہم نے عرض کی کہ آپ ﷺ کا وصال ہو گیا ہے۔ اس وقت بہت روئے، یہاں تک کہ آنسوؤں سے تمام داڑھی تر ہوگئی۔ پھر پوچھا کہ ان کے بعد کون تم میں خلیفہ ہوا؟ ہم نے جواب دیا کہ حضرت ابوبکرؓ۔ پھر فرمایا کہ وہ کیا کرتے ہیں؟ ہم نے کہا کہ وہ بھی انتقال فرما گئے ہیں۔ پھر فرمایا ان کے بعد کون تم میں خلیفہ ہیں؟ ہم نے کہا کہ عمرؓ۔ پھر فرمایا محمد ﷺ کی زیارت مجھے میسر نہیں ہوئی، پس تم لوگ میرا سلام عمرؓ کو پہنچا دینا اور کہنا کہ اے عمرؓ! عدل اور انصاف کر اس واسطے کہ قیامت قریب آگئی ہے اور یہ واقعات جو میں تم سے بیان کروں گا، ان سے عمرؓ کو خبردار کرنا اور کہنا کہ اے عمرؓ! جس وقت یہ خصلتیں محمد ﷺ کی امت میں ظاہر ہو جائیں تو کنارہ کشی کے سوا چارہ نہیں۔ یعنی جس وقت مرد مردوں سے بے پرواہ ہوں اور عورت عورتوں سے اور اپنے خلاف منصب کے ہوں گے۔ ادنیٰ نسب والے آپ کو اعلیٰ کی طرف منسوب کریں اور بڑے چھوٹوں پر رحم نہ کریں اور چھوٹے بڑوں کی عزت اور توقیر چھوڑ دیں اور امر بالمعروف اس طرح متروک ہو جائے کہ کوئی اس کے ساتھ مامور نہ کیا جائے اور نہی عن المنکر چھوڑنے لگ جائیں کہ بدکار ان میں سے نہ روکیں اور ان کے عالم علم کی تعلیم بغرض حصول دنیا کریں اور کم بارش ہو اور جھوٹے بندے منبر بنائیں۔ قرآن مجید کو نقری اور طلائی کریں اور مسجدوں کی از حد زینت کریں اور رشوت کا بازار گرم کریں اور بڑے بڑے پختہ مکان بنائیں۔ خواہشات کی اتباع کریں اور دین کو دنیا کے بدلے بیچیں اور خون ریزیاں کریں۔ صلہ رحمی منقطع ہو جائے اور حکم فروخت کیا جائے۔ بیاج کھایا جائے اور حکومت فخر ہو جائے اور دولت مندی عزت بن جائے۔ ادنیٰ شخص کی تعظیم اعلیٰ کریں اور عورتیں زین پر سوار ہوں۔ یہ باتیں کہہ کر ہم سے غائب ہو گئے۔

پس اس واقعہ کو ثعلبہ نے سعدؓ کی طرف لکھا اور سعدؓ نے حضرت عمرؓ کی طرف تحریر کیا۔ پھر حضرت عمرؓ نے سعدؓ کو لکھا کہ تم اپنے ہمراہیوں کو ساتھ لے کر پہاڑ کے پاس اترو۔ جس وقت ان سے ملو تو میرا سلام ان کو پہنچاؤ، اس واسطے کہ رسول خدا ﷺ نے فرمایا ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام کے بعض وصی عراق کے پہاڑوں میں اترے ہوئے ہیں۔

٢٠

پس سعدؓ چار ہزار مہاجرین اور انصار چالیس روز تک ہر نماز کے وقت اذان کہتے رہے اسی حدیث کو حضرت ابن عباسؓ کی رو حدیثیں مرفوع ہیں اور حضرت ثعلبہؓ تین سو سوار لے تشریف لے گئے تھے۔ جب ان صحابہ کرامؓ کی ملاق حکم حضرت عمرؓ چار ہزار صحابہؓ کے ساتھ پھر اسی پہا عیسیٰ علیہ السلام گئے اور حدیث حضرت ابن عبا سے سن کر فرمائی۔ اس صورت میں بھی یہ حدیث م نے کئی بار قرآن شریف آنحضرت ﷺ کو سنایا اور بغیر تحقیق ہو جانے کے آگے نہیں پڑھتے تھے۔

دو مرتبہ حضرت جبرائیل علیہ السلام تفسیر و حکمت کی ان کے حق میں فرمائی اور آپ کا ا برابر اور کسی کو نہیں تھا اور آنحضرت ﷺ کے چچا زا پس یاد رہے کہ یہ امر اجتہادی نہیں،

جس کو مولوی محمد احسن امروہی قادیانی اپنی کتاب گویا یہ دو حدیثیں مرفوع پیش کی جاتی ہیں تاکہ ہو جائے اور چار ہزار تک صحابہ کرامؓ کا اجماع ہما نزول من السماء کی نسبت ثابت ہو جائے۔ فھو

حضرت عیسیٰ علیہ السلا

اب ہم تمام مسلمانوں کا اجماع اور ا ہو جائے کہ مسلمانوں کا عقیدہ اجماعیہ اتفاقیہ کیا میں سے ہیں؟

.......١ وہ مرفوع حدیث حضرت عمر ابن الخ اپنی کتاب فتوحات مکیہ کے باب ٣٦ میں اور الغافلین کے ص ٢٩٦ میں اور ازالۃ الخفاء میں حض

صفحہ ٤٧٧

پس سعد چار ہزار مہاجرین اور انصار کے ہمراہ اس پہاڑ کے قریب اترے...... اور چالیس روز تک ہر نماز کے وقت اذان کہتے رہے، مگر ملاقات نہ ہوئی۔

اسی حدیث کو حضرت ابن عباسؓ کی روایت سے ازالۃ الخفاء میں بھی لکھا ہے۔ دونوں حدیثیں مرفوع ہیں اور حضرت ثعلبہؓ عین موسوار کے ساتھ حصول مال غنیمت کے لئے پہاڑ کی طرف تشریف لے گئے تھے۔ جب ان صحابہ کرام کی ملاقات زریب بن برثملہ سے ہوئی تو پھر بموجب حکم حضرت عمرؓ چار ہزار صحابہؓ کے ساتھ پھر اسی پہاڑ پر بغرض ملاقات زریب بن برثملہ وصی حضرت عیسیٰ علیہ السلام گئے اور حدیث حضرت ابن عباسؓ قیاسی نہیں ہے، بلکہ حضرت رسول اکرم ﷺ سے سن کر فرمائی۔ اس صورت میں بھی یہ حدیث مرفوع کے حکم میں ہے۔ کیونکہ حضرت ابن عباسؓ نے کئی بار قرآن شریف آنحضرت ﷺ کو سنایا اور ہمیشہ آیت آیت پر استفسار عرض کرتے تھے اور بغیر تحقیق ہو جانے کے آگے نہیں پڑھتے تھے۔

(دیکھو مقدمہ تفسیر ابن کثیر)

دو مرتبہ حضرت جبرائیل علیہ السلام کو بھی حضرت ابن عباسؓ نے دیکھا اور دعا تفسیر و حکمت کی ان کے حق میں فرمائی اور آپ کا خطاب حبر الامت تھا، علم تفسیر قرآن کریم ان کے برابر اور کسی کو نہیں تھا اور آنحضرت ﷺ کے چچازاد بھائی تھے۔

پس یاد رہے کہ یہ امر اجتہادی نہیں، بلکہ حضرت رسول کریم ﷺ سے تحقیق شدہ ہے۔ جس کو مولوی محمد احسن امروہی قادیانی اپنی کتاب مسک العارف کے ص ٢٧ میں تسلیم کر چکے ہیں۔ گویا یہ دو حدیثیں مرفوع پیش کی جاتی ہیں تاکہ مرزا قادیانی کا چیلنج بھی ٹوٹ کر ٹکڑے ٹکڑے ہو جائے اور چار ہزار تک صحابہ کرام کا اجماع بھی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے رفع الی السماء اور نزول من السماء کی نسبت ثابت ہو جائے۔ فھو المراد!

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی حیات پر اجماع

اب ہم تمام مسلمانوں کا اجماع اور اتفاق اس مسئلہ مذکور پر ظاہر کرتے ہیں، تاکہ معلوم ہو جائے کہ مسلمانوں کا عقیدہ اجماعیہ اتفاقیہ کیا ہے اور مرزائیوں کا عقیدہ کیا ہے اور وہ کس گروہ میں سے ہیں؟

اپنی کتاب فتوحات مکیہ کے باب ٣٦ میں اور حضرت ابواللیث سمرقندیؒ نے اپنی کتاب تنبیہ الغافلین کے ص ٢٩٦ میں اور ازالۃ الخفاء میں حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلویؒ نے تحریر فرمایا ہے۔

٢١

صفحہ ٤٧٩

ثابت ہے کہ پہلے حضرت ثعلبہ مع تین سو صحابہ کے پہاڑ حلوان عراق پر حضرت زریب بن برثلا وصی حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے ملاقات کی اور جو گفتگو حضرت زریب بن برثلا نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے آسمان پر تشریف لے جانے اور واپس تشریف لانے کی فرمائی تھی اس کو قبول کیا، کسی ایک نے بھی انکار نہیں کیا۔ پھر اس کی خبر امیر المومنین حضرت عمر خلیفہ برحق حضرت رسول ﷺ کو دی گئی۔ انہوں نے اس بات کو تصدیق کر کے چار ہزار صحابہ کرام کو پھر اسی پہاڑ کی طرف زریب بن برثلا کی ملاقات کے لئے بھیجا ہے اور اپنا السلام علیکم کہلا بھیجا اور ذرہ بھر بھی کوئی شبہ اور وہم نہ کیا۔ اس سے صاف ثابت ہے کہ تین سو صحابہ نے حضرت زریب بن برثلا کو بچشم خود دیکھا اور ملاقات کر کے بات چیت کی اور ان کی گفتگو کو تسلیم کیا اور پھر حضرت عمر نے چار ہزار صحابہ کو اس پہاڑ پر بلا کسی شک وشبہ کے بھیجا۔

ان میں سے کسی ایک فرد نے بھی نہیں فرمایا کہ ہم حضرت رسول اکرم ﷺ سے سنتے رہے ہیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام فوت ہو چکے ہیں اور وہ قریب قیامت کے آسمان سے نزول نہیں فرمائیں گے، بلکہ بجائے ان کے کوئی شخص زمین پر پیدا ہوگا۔ پس یقیناً ثابت ہو گیا کہ چار ہزار تین سو صحابہ معہ حضرت خلیفۃ الرسول ﷺ اس عقیدہ پر تھے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام بجسدہ آسمان پر اٹھائے گئے تھے اور قیامت سے پہلے دوبارہ دنیا میں تشریف لائیں گے اور یہ ضرور ہے کہ یہ عقیدہ اجماعیہ تمام صحابہ کرام کا بموجب آیات قرآنی اور اشارات حضرت خاتم النبیین والمرسلین جناب حبیب رب العالمین محمد مصطفیٰ ﷺ کے تھا اور آنحضرت ﷺ جن پر نزول قرآن شریف بذریعہ وحی جبرائیل علیہ السلام ہوا حکم خداوندی کے کامل واکمل واتم فہمید رکھنے والے تھے۔ جو کچھ حکم خداوندی تھا اسی پر اجماع ہوا، پس فارق اجماع کی رہائش جہنم ہے۔ اب تو مرزائیوں کو توبہ کرنی چاہئے۔

الدجال وياجوج وماجوج وطلوع الشمس من المغرب ونزول عيسى عليه السلام من السماء وسائر علامات يوم القيامة على ماوردت الاخبار الصحيحة حق كائن (فقه اكبر ص ١٠٨)‘‘ یعنی علامات قیامت، خروج دجال اور یاجوج ماجوج، آفتاب کا مغرب سے نکلنا اور آسمان پر سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا اترنا، جو احادیث صحیحہ میں ہے وہ سچ ہے اور ہونے والا ہے۔ ؎ اسی عقیدہ پر تمام مالکی اور شافعی اور حنبلی ہیں۔ اجماع ثابت ہے۔

٢٢

الاحادیث وانعقد عليه الاجماع‘‘ یعنی حضر گے) ہمارے نبی ﷺ کی شرع کے مطابق حکم کریں گے قائم ہوا ہے۔

الاحاديث المتواترة‘‘

یعنی اس میں کسی کو خلاف نہیں کہ حضرت عیـ اتریں گے۔ (اجماع ہو گیا)

صحيح عند اهل السنة للاحاديث الـ والجهمیة (صحیح مسلم ج٢ ص٤٠٢ حاشیہ نوویؒ)‘‘ یعنی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا آسمان سے اتـ نزدیک حق ہے اور صحیح ہے۔ کیونکہ اس بارے میں احادیـ اس کے منکر ہیں۔

میں قرآن شریف سے کیا ہے؟ تو اس کو کہنا چاہئے کہ قرآ اهل الكتب الا ليؤمنن به قبل موته اے حیوة المعتزلة والفلاسفة واليهود والنصاریٰ عـ (الیواقیت والجواہر ص٢٩١)‘‘ یعنی کوئی اہل کتاب میں سے بـ سے مرنے سے پہلے ایمان نہ لے آئے گا۔ (اس بات خاکی کے ساتھ آسمان پر زندہ اٹھائے گئے تھے۔) اسی ونصاریٰ نے اس بات کا انکار کیا ہے کہ وہ یعنی حضرت عیـ نہیں گئے۔

٢٣

صفحہ ٤٧٩

الاحاديث وانعقد عليه الاجماع" یعنی حضرت عیسیٰ علیہ السلام (جب آسمان پر اتریں گے) ہمارے نبی ﷺ کی شرع کے مطابق حکم کریں گے۔ یہی احادیث میں ہے اور اسی پر اجماع قائم ہوا ہے۔

(کتاب الاعلام مصنفہ حضرت امام سیوطیؒ)

الاحاديث المتواترة"

(فتح البیان ج ٢ ص ٣٤٢)

یعنی اس میں کسی کو خلاف نہیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام آخر زمانہ میں آسمان سے اتریں گے۔ (اجماع ہو گیا)

صحيح عند اهل السنة للاحاديث الصحيحة وانكر بعض المعتزلة والجهمية (صحیح مسلم ج ٢ ص ٤٠٣ حاشیہ نوویؒ)" یعنی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا آسمان سے اترنا اور انکا دجال کو قتل کرنا اہل سنت کے نزدیک حق ہے اور صحیح ہے۔ کیونکہ اس بارے میں احادیث صحیحہ وارد ہیں۔...... بعض معتزلہ اور جہمیہ اس کے منکر ہیں۔

میں قرآن شریف سے کیا ہے؟ تو اس کو کہنا چاہئے کہ قرآن شریف کی یہ آیت ہے: "وان من اهل الکتب الا ليؤمنن به قبل موته اى حين ينزل ويجتمعون عليه وانكرت المعتزلة والفلاسفة واليهود والنصارىٰ عروجه بجسده الى السماء...... الخ (الیواقیت والجواہر ص ٢٩١)" یعنی کوئی اہل کتاب میں سے باقی نہ رہے گا کہ جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے مرنے سے پہلے ایمان نہ لے آئے گا۔ (اس بات پر کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام ضرور اسی جسم خاکی کے ساتھ آسمان پر زندہ اٹھائے گئے تھے۔) اسی پر اجماع ہو گیا۔ البتہ معتزلہ، فلاسفہ و یہود ونصاریٰ نے اس بات کا انکار کیا ہے کہ وہ یعنی حضرت عیسیٰ علیہ السلام مع جسم عنصری کے آسمان پر نہیں گئے۔

٢٣

صفحہ ٤٨١

تعالیٰ بل رفعه الله الیه. (الیواقیت والجواہر ص٣٩١) ”یعنی یہ بالکل سچ ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام مع جسم کے آسمان پر اٹھائے گئے اور اس بات پر ایمان لانا فرض و واجب ہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے حق میں فرمایا ہے۔ ”بل رفعه الله إليه“ اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو اپنی طرف اٹھا لیا تھا۔

انجیل برنباس سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی حیات الی الآن

اور آسمان پر سے نزول فرمانا

اب ہم مرزائیوں کی مزید تسلی کے لئے علاوہ اجماع مسلمانوں کے انجیل برنباس کے چند حوالوں سے دکھاتے ہیں۔ (جن سے مسلمانوں کے مذہب کی تائید ہوتی ہے اور یہ انجیل برنباس وہ انجیل حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی ہے، جس کی تصدیق مسٹر سیل جارج صاحب وغیرہ مترجمان قرآن شریف و دیگر علمائے مسیح نے کی ہے اور مرزا صاحب نے اپنی کتاب ”مسیح ہندوستان میں“ کے (ص١٨، ١٩، خزائن ج١٥ ص٢١، ٢٠ اور سرمہ چشم آریہ کے ص٢٣٩ سے ٢٤٣ تک کے حاشیہ، خزائن ج٢ ص٢٨٧ تا ٢٩٠) میں مفصل طور پر تصدیق کی ہے اور اس کتاب پر ایمان رکھتے ہیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام اس وقت آسمان پر زندہ موجود ہیں اور قیامت سے پہلے اتریں گے اور دیگر حالات:

چلے جانے کے بعد میری انجیل کے حق کو شیطان کے کام سے باطل کر دیں گے۔ مگر میں خاتمہ دنیا سے پہلے واپس آؤں گا اور میرے ساتھ اخنوخ اور ایلیا ہونگے اور ہم سب ان شریروں پر گواہی دیں گے، جس کی آخرت پر لعنت کی گئی ہوگی۔ (بلفظہ فصل ٥٢ ص ١٨٢ انجیل برنباس)

یسوع نے جواب دیا کہ اس کے بعد خدا کی طرف سے بھیجے ہوئے سچے نبی کوئی نہیں آئیں گے۔ مگر جھوٹے نبیوں کی بڑی تعداد آئے گی اور یہی بات مجھے رنج دیتی ہے۔ (بلفظہ فصل ٩٧ ص ١٤٥)

١ ؎ علاوہ اس کے اس برنباس انجیل کا ذکر مرزائی ریویو آف ریلیجن ماہ جنوری ١٩١٨ء کے آخر پر تفصیلاً لکھا ہوا ہے۔ منہ

٢٤

یہاں تک کہ اسکو ہر ایک یہی خیال کرے گا کہ میں ہوں۔ ( آئے گا وہ اس بدنامی کے دھبے کو مجھ سے دور کرے گا۔ (٨ نے مسیحا کی حقیقت کا اقرار کیا ہے۔

مجھ کو چھڑا لے گا ان کے ہاتھوں سے اور مجھے دنیا سے اٹھا لے

میں جانتا ہوں کہ میں دنیا کے ختم ہونے تک زندہ رکھا جاؤں

رسول کی امت میں ہونا نصیب فرما۔ (١٥) اور نہ فقط مجھ کو ب عطا فرمایا ہے، مع ان سارے لوگوں کے جو آگے چل کر م گے۔ (حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی دعا قبول ہوگئی)

نے ایک بھاری جماعت کا نزدیک آنا سنا۔ (٢) تب اسی گیارہوں شاگرد سورہے تھے۔ (٣) پس جب کہ اللہ نے جبرائیل اور میکائیل اور رفائیل اور اوریل کو حکم دیا کہ یسوع فرشتے آئے اور یسوع کو دکھن کی طرف دکھائی دینے والی اٹھالے گئے اور اسے تیسرے آسمان میں ان فرشتوں کی کرتے رہیں گے۔

(٢) اور شاگرد سب کے سب سورہے تھے، تب اللہ نے اور چہرہ میں بدل کر یسوع کے مشابہ ہوگیا، یہاں تک کہ ہے۔

کہا تھا ازیں قبیل کہ وہ دنیا سے اٹھا لیا جائے گا اور یہ ک

٢٥

صفحہ ٤٨١

یہاں تک کہ اسکو ہر ایک یہی خیال کرے گا کہ میں ہوں۔(١٦) مگر جب مقدس محمد رسول اللہ ﷺ آئے گا وہ اس بدنامی کے دھبے کو مجھ سے دور کرے گا۔(١٨) اور البتہ یہ اس لئے کرے گا کہ میں نے مسیا کی حقیقت کا اقرار کیا ہے۔

(بلفظہ فصل ١١٢ ص ١٦٧)

مجھ کو چھڑا لے گا ان کے ہاتھوں سے اور مجھے دنیا سے اٹھا لے گا۔

(بلفظہ فصل ١٣٩ ص ٢٠٧)

میں جانتا ہوں کہ میں دنیا کے ختم ہونے تک زندہ رکھا جاؤں گا۔

(بلفظہ فصل ١٤٠ ص ٢٠٨)

رسول کی امت میں ہونا نصیب فرما۔(١٥) اور نہ فقط مجھ کو بلکہ ان سبھوں کو بھی جنہوں کہ تو نے مجھے عطا فرمایا ہے، مع ان سارے لوگوں کے جو آگے چل کر ان کی ہدایت کے واسطے ایمان لائیں گے۔(حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی دعا قبول ہوگئی)

(بلفظہ فصل ٢١٢ ص ٢٩٤)

نے ایک بھاری جماعت کا نزدیک آنا سنا۔ (٢) تب اسی لئے وہ ڈر کر گھر میں چلا گیا۔ (٣) اور گیارہوں شاگرد سورہے تھے۔ (٤) پس جب کہ اللہ نے اپنے بندہ پر خطرہ کو دیکھا اپنے سفیروں جبرائیل اور میکائیل اور رقائیل اور اوریل کو حکم دیا کہ یسوع کو دنیا سے لے لیں۔(٥) تب پاک فرشتے آئے اور یسوع کو دکھن کی طرف دکھائی دینے والی کھڑکی سے لے لیا۔(٦) پس وہ اس کو اٹھا لے گئے اور اسے تیسرے آسمان میں ان فرشتوں کی صحبت میں رکھ دیا جو ابد تک اللہ کی تسبیح کرتے رہیں گے۔

(بلفظہ فصل ٢١٥ ص ٢٩٦)

(٢) اور شاگرد سب کے سب سو رہے تھے، تب اللہ نے ایک عجیب کام کیا۔(٣) پس یہودا بولی اور چہرہ میں بدل کر یسوع کے مشابہ ہو گیا، یہاں تک کہ ہم لوگوں نے اعتقاد کیا کہ وہی یسوع ہے۔

(بلفظہ فصل ٢١٦ ص ٢٩٧)

کہا تھا ازیں قبیل کہ وہ دنیا سے اٹھا لیا جائے گا اور یہ کہ دوسرا شخص اس کے نام سے عذاب دیا

٢٥

صفحہ ٤٨٢

جائے گا اور یہ کہ وہ دنیا کے خاتمہ ہونے کے قریب تک نہ مرے گا۔

(بلفظہ فصل ٢١٧،ص٢٩٩)

١٠...... میں سچ کہتا ہوں کہ یہودا کی آواز، اس کا چہرہ، اس صورت یسوع سے مشابہ ہونے میں اس حد تک پہنچ گئی تھی کہ یسوع کے سب ہی شاگردوں اور ایمان لانے والوں نے اس کو یسوع ہی سمجھا۔

(بلفظہ فصل ٢١٧،ص٣٠٢)

١١...... یسوع نے جواب میں کہا کہ اے برنباس! تو مجھ کو سچا مان کہ اللہ ہر خطاء خواہ وہ کتنی ہی ہلکی کیوں نہ ہو بڑی سزا دیا کرتا ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ گناہ سے غضبناک ہوتا ہے۔ (٨١) پس اسی لئے جبکہ میری اور میرے ان وفادار شاگردوں نے جو کہ میرے ساتھ تھے، مجھ سے دنیاوی محبت کی۔ نیک کردار خدا نے اس محبت پر موجود رنج کے ساتھ سزا دینے کا ارادہ کیا، تاکہ اس پر دوزخ کی آگ کے ساتھ سزا دہی نہ کی جائے۔ (١٩) پس جبکہ آدمیوں نے مجھ کو اللہ اور اللہ کا بیٹا کہا تھا، مگر یہ کہ میں خود دنیا میں بے گناہ تھا، اس لئے اللہ نے ارادہ کیا کہ اس دنیا میں آدمی یہودا کی موت سے مجھ سے ٹھٹھا کریں، یہ خیال کر کے وہ میں ہی ہوں جو کہ صلیب پر مرا ہوں تاکہ قیامت کے دن میں شیطان مجھ سے ٹھٹھہ نہ کریں۔ (٣٠) اور یہ بدنامی اس وقت تک باقی رہے گی محمد رسول اللہ ﷺ جو کہ آتے ہی اس فریب کو ان لوگوں پر کھول دے گا جو کہ اللہ کی شریعت پر ایمان لائیں گے۔

(بلفظہ فصل ٢٢٠،ص٣٠٦)

توریت و زبور و اناجیل مروجہ سے حیات الی الآں بر آسمان حضرت

عیسیٰ علیہ السلام کا ثبوت

١...... توریت

اے میرے بیٹے! میری شریعت کو فراموش نہ کر۔ تیرا دل میرے حکموں کو حفظ کرے کہ وہ عمر کی درازی اور پیری اور سلامتی تجھ کو بخشیں گے۔

(بلفظہ امثال باب ٣ آیت ١، ٢، پیشگوئی)

٢...... زبور

اس نے تجھ سے زندگی چاہی اور تو نے اس کو عمر کی درازی ابد تک بخشی۔

(بلفظہ زبور ٢١، آیت ٤)

٣...... زبور

اور اس لئے کہ اس نے مجھ سے دل لگایا، میں اسے نجات دوں گا اور میں اسے اونچے پر بٹھاؤں گا کہ اس نے میرا نام پہچانا۔ وہ مجھے پکارے گا اور میں اسے جواب دوں گا۔ اس کے دکھ

٢٦

٤٨٣ اٹھانے کے وقت میں اس کے ساتھ ہوں گا۔ میں اسے عمر کی درازی سے سیر کروں گا اور اپنی نجات اسے

توضیح

اس پیش گوئی کے مطابق خدا تعالیٰ نے عزت کے ساتھ اونچے آسمان پر بٹھایا اور عمر کی د گا۔ (پیشگوئی)

٤...... زبور

میں بہتوں کے بیچ اس کی حمد گاؤں گا او اس کو ان سے جو اس کی جان پر فتویٰ دیتے ہیں رہا ا

٥...... انجیل

اور وہ یہ کہہ کر ان کے دیکھتے ہوئے سے چھپا لیا اور اس کے جاتے ہوئے جب وہ آ پوشاک پہنے ان کے پاس کھڑے تھے اور کہنے طرف دیکھتے ہو؟ یہی یسوع جو تمہارے پاس سے نے اسے آسمان کو جاتے دیکھا پھر آوے گا۔

٦...... انجیل

پس تو بہ کرو اور متوجہ ہو کر تمہارے گ تازگی بخش ایام آئیں اور یسوع مسیح کو پھر بھیج ہوئی، ضرور ہے کہ آسمان اسی لئے رہے۔ اسی سب پاک نبیوں کی زبانی شروع سے کیا۔

توریت اور انجیل سے حضرت عی

پر اتارنے کے مطابق آی

١...... توریت

میں نے رات کی رویتوں کے و

صفحہ ٤٨٣

اٹھانے کے وقت میں اس کے ساتھ ہوں گا۔ میں اسے چھڑاؤں گا اور اسے عزت دوں گا۔ میں اسے عمر کی درازی سے سیر کروں گا اور اپنی نجات اسے دکھاؤں گا۔

(بلفظہ زبور ٩١، آیت ١٥، ١٦)

توضیح

اس پیش گوئی کے مطابق خدا تعالیٰ نے حضرت مسیح علیہ السلام کو تکلیفوں سے چھڑایا اور عزت کے ساتھ اونچے آسمان پر بٹھایا اور عمر کی درازی سے سیر کیا اور آخر کو نجات ابدی دے گا۔ (پیشگوئی)

٤....... زبور

میں بہتوں کے بیچ اس کی حمد گاؤں گا، کیونکہ وہ مسکین کے داہنے ہاتھ پر کھڑا ہے، تا کہ اس کو ان سے جو اس کی جان پر فتویٰ دیتے ہیں رہائی دیں۔

(بلفظہ زبور ١٠٩، آیت ٣١)

٥....... انجیل

اور وہ یہ کہہ کر ان کے دیکھتے ہوئے اوپر اٹھایا گیا اور بدلی نے اسے ان کی نظروں سے چھپا لیا اور اس کے جاتے ہوئے جب وہ آسمان کی طرف تک رہے تھے۔ دیکھو دو مرد سفید پوشاک پہنے ان کے پاس کھڑے تھے اور کہنے لگے اے جلیلی مردو! تم کیوں کھڑے آسمان کی طرف دیکھتے ہو؟ یہی یسوع جو تمہارے پاس سے آسمان پر اٹھایا گیا ہے، اسی طرح جس طرح تم نے اسے آسمان کو جاتے دیکھا پھر آوے گا۔

(بلفظہ رسولوں کے اعمال، باب اول آیت ٩، ١٠، ١١)

٦....... انجیل

پس توبہ کرو اور متوجہ ہو کر تمہارے گناہ مٹائے جائیں تاکہ خداوند کریم کے حضور سے تازگی بخش ایام آئیں اور یسوع مسیح کو پھر بھیجے، جس کی منادی تم لوگوں کے لئے آگے سے ہوئی، ضرور ہے کہ آسمان اسے لئے رہے۔ اسی وقت تک کہ سب چیزیں جن کا ذکر خدا نے اپنے سب پاک نبیوں کی زبانی شروع سے کیا۔

(بلفظہ اعمال باب ٣، آیت ١٩، ٢٠، ٢١)

توریت اور انجیل سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا آسمان پر سے زمین

پر اتارنے کے مطابق آیات و احادیث کے ثبوت

١....... توریت

میں نے رات کی رویتوں کے وسیلے دیکھا اور کیا دیکھتا ہوں کہ ایک آدم زاد کی مانند

٢٧

صفحہ ٨٥

آسمان کے بادلوں کے ساتھ آیا اور قدیم الایام (امام مہدی علیہ السلام) تک پہنچا۔

(بلفظہ دانیال

باب ٧، آیت ١٣)

٢...... انجیل متی

اور جب وہ زیتون کے پہاڑ پر بیٹھا تھا اس کے شاگردوں نے خلوت میں آ کر اس کے پاس آ کے کہا کہ ہم سب کو یہ کب ہوگا اور تیرے آنے کا اور زمانہ کے آخر ہونے کا نشان کیا ہے؟ تب یسوع نے جواب میں ان سے کہا خبردار! کوئی تمہیں گمراہ نہ کرے، کیونکہ بہتیرے میرے نام پر آئیں گے اور کہیں گے کہ میں مسیح ہوں اور ان کو گمراہ کریں گے۔

٢٣...... اگر کوئی تم سے کہے کہ دیکھو مسیح یہاں یا وہاں ہے تو اسے نہ ماننا، کیونکہ جھوٹے مسیح اور جھوٹے نبی آئیں گے۔ (٢٦) پس اگر وہ تمہیں کہیں کہ وہ مسیح بیابان میں ہے تو باہر نہ جاؤ۔ یا کہ دیکھو وہ کوٹھڑی میں ہے تو نہ مانو، کیونکہ جیسے بجلی پورب سے کوندھ کے پچھم تک چمکتی ہے، ویسا ہی ابن آدم کا آنا ہوگا۔

(بلفظہ انجیل متی باب ٢٤)

٣...... انجیل مرقس

کل مضمون مطابق انجیل متی کے ہے کہ جھوٹے مسیح پیدا ہوں گے اور آیت ٢٦ اس وقت ابن آدم کو بادلوں پر بڑی قدرت اور جلال کے ساتھ آتے دیکھیں گے۔

(بلفظہ باب ١٣)

٤...... انجیل لوقا

اور تب لوگ ابن آدم کو بدلی میں قدرت اور بڑے جلال کے ساتھ آتے دیکھیں گے۔

(بلفظہ باب ٢١ آیت ٢٧)

پس ان تمام کتب بائبل میں اور بھی کثرت سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا آسمان پر تشریف لے جانا اور بحکم خداوند کریم قریب قیامت کو تشریف واپس لانا درج ہے اور یہی قرآن شریف اور اجماع امت سے ثابت ہے۔ اسی وجہ سے مرزا قادیانی اپنے توضیح مرام میں لکھا تھا کہ: ”بائبل اور ہماری احادیث اور اخبار کی کتابوں میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا اسی وجود عنصری کے ساتھ آسمان پر جانا تصور کیا گیا ہے۔“

(دیکھو ص ٣)

الحمدللہ ! مرزا قادیانی اور مرزائیوں کے چیلنج توڑنے کے لئے احادیث صحیحہ مرفوعہ متواترہ اجماعیہ نقل کر دی گئی ہیں۔ علاوہ اس کے انجیل برنباس و تورات واناجیل مروجہ سے بھی مفصل طور پر ثابت کر دیا گیا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام اس وقت زندہ آسمان پر موجود ہیں اور

٢٨

قریب قیامت کو زمین پر نزول فرمائیں گے اور مطہرہ حضرت رسول اکرم ﷺ میں دفن ہوں گے احادیث واخبار سے بخوبی ثابت ہے۔

اب ہم خارق اجماع کی وعید بھی صر تا کہ اس پر حجت نہ ہو۔ اللہ تبارک وتعالیٰ فرماتا تبين له الهدى ويتبع غير سبيل المؤم مصيرا (النساء: ١١٥) ” جس شخص نے خ کو ظاہر ہوگئی اور چلا اس راہ پر جو مومنوں اور مسل وہ پھرا ہے اور اس کو جہنم میں پہنچائیں گے اور وہ دیکھئے! اس میں مرزا قادیانی اور مر پوری پوری ثابت ہے اور تمام مسلمانوں کے راہ و تبع تابعین ائمہ اربعہ مجتہدین ومحدثین اجمعین و کلہم اجمعین کے طریق مستقیم سے بھی دور اور نفو وساءت مصیرا کے نیچے صاف صاف ہیں ۔

اس پر خداوند کریم نے اپنی قدرت ک وہ یہ ہے کہ اس آیت شریفہ ویہ کے اعداد جمل قادیانی کے اعداد جمل (جو اس وعید کے مستحق پورے تیرہ سو چھبیس ١٣٢٦ ہوتے ہیں جو مرزا م پورے پورے مصداق مرزا قادیانی اور احمدی ہیں

مرزائیو، احمدیو، قادیانیو! اب بھی بن جاؤ، اللہ تعالیٰ تمہارے پر رحم کرے۔

قول: ٨...... اگر کوئی ایسی حدیث پیش کرے ہیں اور تو بہ کرنا اور اپنی کتابوں کو جلا دینا اس انتهى كلام المرزا !

صفحہ ٤٨٥

قریب قیامت کو زمین پر نزول فرمائیں گے اور پھر اپنے وقت پر ارتحال فرمائیں گے اور روضۂ مطہرہ حضرت رسول اکرمﷺ میں دفن ہوں گے۔ اس وقت تک قبر کے لئے جگہ موجود ہے۔ احادیث واخبار سے بخوبی ثابت ہے۔

اب ہم خارق اجماع کی وعید بھی صرف قرآن شریف سے ہی نکال کر پیش کرتے ہیں تاکہ اس پر حجت نہ ہو۔ اللہ تبارک وتعالیٰ فرماتا ہے:۔ ”ومن يشاقق الرسول من بعد ما تبين له الهدى ويتبع غير سبيل المؤمنين نوله ماتولى ونصله جهنم وساءت مصيرا (النساء:١١٥)“ ﴿جس شخص نے مخالفت کی رسولﷺ کی بعد اس کے کہ ہدایت اس کو ظاہر ہوگئی اور چلا اس راہ پر جو مومنوں اور مسلمانوں کی نہیں ہے۔ تو پھیر دیں گے ہم اس کو جدھر وہ پھرا ہے اور اس کو جہنم میں پہنچائیں گے اور وہ بری جگہ ہے۔﴾

دیکھئے! اس میں مرزا قادیانی اور مرزائیوں کی مخالفت حضرت رسول اکرمﷺ سے پوری پوری ثابت ہے اور تمام مسلمانوں کے راہ کی بھی سخت مخالفت ہے، حتیٰ کہ صحابہ کرامؓ وتابعین وتبع تابعین ائمہ اربعہ مجتہدین ومحدثین اجمعین وعلماء کرام وصوفیائے عظام اربعہ سلاسل علیہم الرحمۃ کلہم اجمعین کے طریق مستقیم سے بھی دور اور نفور ہیں، پس اس وعید الٰہی ونصله جهنم وساءت مصیرا کے نیچے صاف صاف ہیں۔

اس پر خداوند کریم نے اپنی قدرت کاملہ سے راقم کو ایک نکتہ بھی بطور الہام یا القاء سمجھایا۔ وہ یہ ہے کہ اس آیت شریفہ وعید کے اعداد جمل ١٠٨٧ (ایک ہزار ستاسی ہیں) جب ان میں احمدی قادیانی کے اعداد جمل (جو اس وعید کے مستحق ہیں) ٢٣٩ دوسو انتالیس اور شامل کئے جائیں تو پورے تیرہ سو چھبیس ١٣٢٦ ہوتے ہیں جو مرزا صاحب کی سن وفات کی تاریخ ہے، پس اس وعید کے پورے پورے مصداق مرزا قادیانی اور احمدی ہیں۔ اللہ غنی کیسا اچھا خدائی نشان ہے۔

مرزائیو، احمدیو، قادیانیو! اب بھی توبہ کا وقت ہے، گمراہی اور ارتداد کو چھوڑ کر مسلمان بن جاؤ، اللہ تعالیٰ تمہارے پر رحم کرے۔

قولہ : ٨...... اگر کوئی ایسی حدیث پیش کرے تو ہم ایسے شخص کو بیس ہزار روپیہ تک تاوان دے سکتے ہیں اور توبہ کرنا اور اپنی کتابوں کو جلا دینا اس کے علاوہ ہوگا۔ جس طرح چاہیں اپنی تسلی کر لیں۔ انتهی کلام المرزا !

٢٩

صفحہ ٤٨٧

اقول ...... احادیث صحیحہ مرفوعہ ہم نقل کر چکے ہیں۔ لائے کون اپنے باپ کا بیٹا پکا فدائی مرزائی ہے، جو مرزا قادیانی کے وعدے کو پورا کرے؟ مرزا قادیانی نے اپنے زندگی میں بہتیری اس قسم کی شرطیں لگائیں ، لیکن ایک بھی پوری نہ کی۔ اب میاں فرزند علی کو پوری کرنی چاہئے ، ورنہ ہم نے سمجھا ہوا ہے کہ جھوٹوں کے وعدے جھوٹے ہی ہوا کرتے ہیں۔ اوفوا بالعقود !حکم خداوندی کی تعمیل کرنا مسلمانوں کا کام ہے۔

مرزا قادیانی وعید مندرجہ بالا کے مطابق اپنی جگہ جابسے۔ اب شرط کا روپیہ کون دے؟ وعدہ ایفا کون کرے؟ کتابوں کو جلائے تو یہ کون کرے؟ اس کی تسلی کون کرے؟ مرزا جیو ! اگر خدا کا خوف ہے اور حضرت خاتم النبیین ﷺ کی عظمت دل میں رکھتے ہو تو اس کی تعمیل صدق سے کرو۔ شرط کا روپیہ ہم نے تم کو معاف کیا۔ باقی کتابیں تو جلا ڈالو۔ توبہ تو آسان امر ہے، اس کو ہی سچے دل سے کرو۔

قول فرزند علی

اس چیلنج کا جواب نہ آج تک کسی نے دیا ہے اور نہ آئندہ کسی سے امید ہے۔ یہ اتمام حجت کے لئے کافی ہے۔

اقول ...... بیت

ھر آن کرمیکہ در سنگ نہان است
زمین و آسمان اوہمان است

کسی نے ایک چاہ کے مینڈک سے پوچھا کہ بتلاؤ سمندر کتنا بڑا ہوتا ہے؟ مینڈک نے ایک دو پھدکیاں ادھر ادھر لگا کر کہا کہ اتنا بڑا ہوگا ، لیکن چاہ کے دائرہ کے برابر نہیں۔ چونکہ مینڈک نے سمندر کبھی دیکھا بھی تھا، اس لئے اس نے سمندر کو چاہ سے بڑا نہ سمجھا۔ یہی حالت فرزند علی اور دیگر مرزائیوں کی ہے۔

انہوں نے سوائے تحریرات واشتہارات مرزا قادیانی کے اور کچھ نہیں دیکھا اور نہ اس چاہ محدود بدائرہ سے باہر کی ہوا کھائی ہے، اس لئے ان کو مرزا قادیانی کی ہی تحریر سمندر سے بڑی نظر آئی ۔ تو ہم ان کی وسعت نظری کی تشحیذ کے لئے بتاتے ہیں کہ کتنی دفعہ یہ چیلنج مرزائیہ بری طرح ٹوٹ کر ریزے ریزے ہو چکا ہے اور مرزا جی کے دم میں دم نہیں رہا تھا۔ لیکن مرزا قادیانی کو معلوم

٣٠

تھا کہ ہمارے مرزائی چاہ کے مینڈک ہیں، ان کو پھڑکا نہ دوں کہ پتہ چلے گا کہ اس بحث حیات و ہے۔ اسی پر میاں فرزند علی اور دیگر مرزائی بھی پھدک توڑنے والی اور ناقض ادعاء مرزا جی تصنیف ہو چکی

پہلی کتاب: شفاء للناس

تصنیف: مولانا محمد عبداللہ صاحب شر میں طبع ہوئی، جس میں اعلام الناس مؤلفہ مولوی محمد

دوسری کتاب: الحق الصریح فی اثبات ح

تصنیف: مولانا مولوی محمد بشیر صاب بمقام دہلی ١٣٠٩ھ کو مرزا غلام احمد قادیانی سے مب میں بے دم ہو کر پہنچ گیا اور تمام چیلنج خاک میں مل گ

تیسری کتاب: ایراد الحق الصریح بہ اثبا

تصنیف: مولانا مولوی محمد اسحاق صا میں طبع ہو کر شائع ہوئی۔ یہ مناظرہ بھی مرزا قادیا میں دہلی کے مناظرہ کے بعد ایک ہی ماہ میں ہوا اختیار کر کے چلے گئے۔

چوتھی کتاب: الہام الصحیح فی اثبات حیا

تصنیف: حضرت مولانا غلام رسول ١٣١١ھ مطبع روز بازار امرتسر میں طبع ہو کر شائع ہ چیلنج کی ایسی خبر لی کہ قلعی کی طرح پگھل گئے۔

اور مرزائی پہلے کسی استاد سے اس کتاب کو سبقاً کے طور پر پڑھ جائے گا۔ اٹھارہ سال ہو گئے، مگر نے اب تک کوئی جواب نہ دیا۔

صفحہ ٤٨٧

تھا کہ ہمارے مرزائی چاہ کے مینڈک ہیں، ان کو پتہ ہی نہیں کہ باہر بھی کچھ دنیا آباد ہے۔ چلو بڑ ہانک دو کس کو پتہ چلے گا کہ اس بحث حیات و ممات عیسیٰ علیہ السلام میں ہماری کرکری ہو چکی ہے۔ اسی پر میاں فرزند علی اور دیگر مرزائی بھی پھدکیاں لگانے لگ گئے۔ حسب ذیل کتب چیلنج کو توڑنے والی اور ناقض ادعاء مرزا جی تصنیف ہو چکی ہیں، جن کی مرزائیوں کو مطلق خبر نہیں۔

پہلی کتاب: شفاء للناس

تصنیف: مولانا محمد عبداللہ صاحب شاہ جہان پوری جو ١٣٠٩ء میں مطبع انصاری دہلی میں طبع ہوئی، جس میں اعلام الناس مؤلفہ مولوی محمد احسن امروہی کی تردید بوجہ احسن ہو چکی ہے۔

دوسری کتاب: الحق الصریح فی اثبات حیات المسیح

تصنیف: مولانا مولوی محمد بشیر صاحب سہسوانی جس میں وہ مناظرہ درج ہے، جو بمقام دہلی ١٣٠٩ھ کو مرزا غلام احمد قادیانی سے ہوا اور مرزا قادیانی مناظرہ سے فرار ہو کر قادیان میں بے دم ہو کر پہنچ گیا اور تمام چیلنج خاک میں مل گئے۔

تیسری کتاب: ایراد الحق الصریح بہ اثبات حیات المسیح

تصنیف: مولانا مولوی محمد اسحاق صاحب پٹیالوی، ١٣٠٩ھ میں مطبع نظامی لدھیانہ میں طبع ہو کر شائع ہوئی۔ یہ مناظرہ بھی مرزا قادیانی کا پٹیالہ میں اسی حیات ممات عیسیٰ علیہ السلام میں دہلی کے مناظرہ کے بعد ایک ہی ماہ میں ہوا۔ لیکن مرزا قادیانی بہت بری طرح پہلوئے فرار اختیار کر کے چلے گئے۔

چوتھی کتاب: بالہام الصحیح فی اثبات حیات المسیح عربی

تصنیف: حضرت مولانا غلام رسول صاحب فاضل امرتسری نقشبندی مجددی نوری ١٣١١ھ مطبع روز بازار امرتسر میں طبع ہو کر شائع ہوئی۔ فاضل بزرگ نے مرزا قادیانی کے دعوائے چیلنج کی ایسی خبر لی کہ قلعی کی طرح پگھل گئے۔ اس کے اخیر پر اعلان دیا گیا کہ مرزا قادیانی یا کوئی اور مرزائی پہلے کسی استاد سے اس کتاب کو سبقاً پڑھیں۔ اگر جواب دیں تو ایک ہزار روپیہ انعام کے طور پر دیا جائے گا۔ اٹھارہ سال ہو گئے، مگر افسوس نہ تو خود مرزا قادیانی اور نہ کسی اس کے حواری نے اب تک کوئی جواب دیا۔

٣١

صفحہ ٤٨٨

پانچویں کتاب: شمس الہدایہ فی اثبات حیات المسیح

تصنیف: حضرت زبدۃ المحققین ورئیس العارفین مولانا پیر مہر علی شاہ صاحب ادام اللہ فیوضہم گولڑہ شریف ہے جو ١٣١٧ھ میں مطبع مصطفائی لاہور میں طبع ہو کر شائع ہوئی۔ اس کتاب پر محمد احسن امروہی مرزائی نے کچھ ہرزہ سرائی کی، مگر پھر حضرت پیر صاحب موصوف و ممدوح نے ایک ایسی کتاب مبسوط لکھ دی جس کا نام۔

چھٹی کتاب سیف چشتیائی یعنی حجۃ اللہ البالغہ علی شمس البازغۃ ہے

یہ کتاب مطبع مصطفائی لاہور میں ١٣٢٢ھ میں شائع ہوئی اور حضرت مصنف نے مفت تقسیم فرمائی۔ مرزا قادیانی اور مرزائی دم بخود ہو کر رہ گئے۔ لائیے! ان کتابوں کے جواب دکھلائیے، اگر آپ سچے ہیں، مگر ہرگز دکھلا نہیں سکیں گے۔ نہایت افسوس کی بات ہے کہ مرزا قادیانی کا ایک بوسیدہ چیلنج لا کر دکھلا دیا اور یہ دھوکا دیا کہ کسی نے اس کا جواب آج تک نہیں دیا۔ جھوٹ بھی ہو تو ایسا ہی ہو کہ کمال تک پہنچ جائے۔

کسب کمال کن کہ عزیز جہاں شوی

لومیاں فرزند علی!

اور کمیٹی سے اس رسالہ (فرزند علی) کو لکھنے والو! اب تم پر ایسی اتمام حجت ہو گئی ہے کہ تم قیامت تک بھی سر نہیں اٹھا سکو گے۔ نہ اب تک ان کتابوں کے جواب تم سے ہوئے اور نہ آئندہ ہو سکیں گے۔ خواہ سارے مرزائی جمع ہو کر بھی ناخنوں تک زور لگائیں اور سینکڑوں کتابیں اس فرقہ مرتدہ کی تردید میں ہو چکی ہیں، مگر کچھ نہیں:

بے حیا باش ہر آنچه خواہی کن

ہمارا ارادہ اس کے لکھنے کا صرف یہ ہے کہ آپ لوگوں کی سمجھ میں کسی طرح سے یہ آجائے کہ فی الواقع تم لوگ اسلام سے پھر گئے ہو اور ہمارے بھائی مسلمان بھی سمجھ لیں کہ واقعی آپ لوگ اسلام سے نکل گئے ہیں اور توبہ نصوحا سے پھر اسلام میں داخل ہو سکتے ہیں۔ اللہ تبارک وتعالیٰ اپنا رحم کرے: ”ربنا لا تزغ قلوبنا بعد اذ هديتنا وهب لنا من لدنك رحمة انك انت الوهاب وصلى الله تعالى على خير خلقه محمد واله واصحابه واتباعه اجمعين برحمتك يا ارحم الراحمين“

شیر نواب خان حنفی نقشبندی مجددی عفی عنہ قصوری فیروز پور یکم اپریل ١٩١١ء مطابق یکم ربیع الثانی ١٣٢٩ھ

٣٢

بسم اللہ الرحمن الرحیم

طریقہ مناظرہ

المعروف

دھول کا

صفحہ ٤٨٨

ت حیات المسیح

ئیس العارفین مولانا پیر مہر علی شاہ صاحب ادام اللہ صطفائی لاہور میں طبع ہو کر شائع ہوئی۔ اس کتاب پر دیا، مگر پھر حضرت پیر صاحب موصوف وممدوح نے

ئد البالغۃ علی شمس البازغۃ ہے ١٣١ھ میں شائع ہوئی اور حضرت مصنف نے مفت د ہو کر رہ گئے۔ لائیے ! ان کتابوں کے جواب سکیں گے۔ نہایت افسوس کی بات ہے کہ مرزا لگا دیا کہ کسی نے اس کا جواب آج تک نہیں دیا۔

عزیز جہان شوی

لکھنے والو! اب تم پر ایسی اتمام حجت ہو گئی ہے کہ تم ان کتابوں کے جواب تم سے ہوئے اور نہ آئندہ وں تک زور لگا ئیں اور سینکڑوں کتابیں اس فرقہ

آنچه خواهی کن

ہے کہ آپ لوگوں کی سمجھ میں کسی طرح سے یہ و اور ہمارے بھائی مسلمان بھی سمجھ لیں کہ واقعی ے پھر اسلام میں داخل ہو سکتے ہیں۔ اللہ تبارک د اذ هديتنا وهب لنا من لدنك رحمة على خير خلقه محمد وآله واصحابه مین“ علی نقشبندی مجددی عفی عنہ قصوری فیروز پور ١٩١١ء مطابق یکم ربیع الثانی ١٣٢٩ھ

انا خاتم النبیین لا نبی بعدی

طریقہ مناظرہ مرزائیت

المعروف مرزا کے

ڈھول کا پول

مولانا محمد صادق قادری رضوی

صفحہ ٩١

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

"الحمد لله وحده والصلوٰۃ والسلام علیٰ من لا نبی بعدہ"

بندہ کو کچھ طالب علمی کے زمانہ میں مرزائیوں کی کتب بینی کا موقع ملا اور چند ایک مرزائی مبلغوں سے مناظرانہ گفتگو بھی ہوئی جس سے بندہ کے پاس مرزا غلام احمد قادیانی کے کذب پر دلائل قاطعہ کا ایک ذخیرہ جمع ہو گیا اور دوست احباب جن کو بندہ کے حالات سے آگاہی تھی۔ وقتاً فوقتاً استفادہ حاصل کرتے رہے۔ پھر دوست احباب کے شدت شوق اور تبلیغ دین کو مد نظر رکھتے ہوئے بندہ نے ان دلائل کو ایک رسالہ کی شکل دینی چاہی مگر کم فرصتی کی وجہ سے اس کو ترتیب نہ دے سکا اب رمضان شریف کے ماہ مبارک میں کچھ فرصت ملی تو دل میں خیال آیا کہ اس رسالہ کو ترتیب دی جائے تو شاید یہی رسالہ بارگاہ نبوت میں منظور ومقبول ہو کر قیامت میں ذریعہ نجات بن جائے۔

تو قارئین سے گزارش ہے کہ ہر کاذب شخص کے پاس کچھ مکر و فریب ہوتے ہیں جن کی وجہ سے عوام الناس کو اپنے جال میں پھنسا لیتا ہے۔ جیسے کہ میں مثال کے طور پر ایک ایسے مکار شخص کا واقعہ نقل کرتا ہوں تا کہ آئندہ کے لئے آپ ہوشیار ہو جائیں۔ یہ واقعہ اسحاق اخرس مغربی کا ہے۔

اسحاق اخرس ملک مغرب کا رہنے والا تھا۔ اہل عرب کی اصطلاح میں مغرب شمالی افریقہ کے اس حصہ کا نام ہے جس میں مراکش تیونس الجزائر وغیرہ ممالک داخل ہیں۔ اسحاق ١٣٥ اصفہان میں ظاہر ہوا۔ ان ایام میں ممالک اسلامیہ پر خلیفہ سفاح عباسی کا پرچم اقبال لہرا رہا تھا۔ اہل سیر نے اس کی دکان آرائی کی کیفیت اسی طرح لکھی ہے کہ پہلے اس نے صحف آسمانی، قرآن، تورات، انجیل، زبور کی تعلیم حاصل کی پھر جمیع علوم رسمیہ کی تکمیل کی زمانہ دراز تک مختلف زبانیں سیکھتا رہا مختلف قسم کی صناعوں اور شعبدہ بازیوں میں مہارت پیدا کی اور ہر طرح سے با کمال اور بالغ النظر ہو کر اصفہان آیا۔

کامل دس سال تک گونگا بنا رہا

اصفہان پہنچ کر ایک عربی مدرسہ میں قیام کیا اور یہاں ایک تنگ و تاریک کوٹھری میں پورے دس برس تک ایک عزلت میں پڑا رہا۔ یہاں اس نے اپنی زبان پر ایسی مہر سکوت لگائے رکھی کہ ہر شخص اسے گونگا یقین کرتا تھا۔ اس شخص نے اپنی نام نہاد جہالت و بے علمی اور تصنع آمیز

٢

عدم گویائی کو اس اثبات واستقلال کے ساتھ نبھایا تک نہ ہوا کہ اس کی زبان کو بھی قوت گویائی ہے یکتائے روزگار ہے۔

اسی بناء پر اخرس یعنی گونگے کے لقب کرتا ہر شخص سے اس کا رابطہ مودت وشناسائی قا اشاروں سے تھوڑا بہت مذاق کر کے تفریح طبع نہ ک وہ وقت آگیا جب کہ مہر سکوت توڑے اور کشور ق اس نے نہایت راز داری کے ساتھ ایک نہایت نقی کہ اگر کوئی شخص اسے چہرے پر مل لے تو اس درج کے نورانی طلعت کے دیکھنے کی تاب نہ لا سکے۔ بھی تیار کر لیں۔

اس کے بعد ایک رات جب کہ تمام اپنے چہرہ پر ملا اور شمعیں جلا کر اپنے سامنے رکھ د اور چمک دمک پیدا ہوئی کہ آنکھیں خیرہ ہوتی تھی کیا کہ مدرسہ کے تمام مکیں جاگ اٹھے۔ جب ہو گیا اور ایسی خوش الحانی اور تجوید کے ساتھ بآو عش عش کر گئے۔

صدرالمدرسین اور قاضی شہر کی بدحواسی

جب مدرسہ کے معلمین اور طلباء گویائی کے ساتھ اسے اعلیٰ درجہ کی فصاحت او چہرہ بھی ایسا درخشاں ہے کہ نگاہ نہیں ٹھہرتی۔ تو ا خصوصاً صدر مدرس صاحب تو بال درجہ علم وعمل اور صلاح وتقویٰ میں عدیم المثال نہایت سادہ لوح واقع ہوئے تھے۔ ١

وہ بڑی خوش اعتقادی سے فرمانے کہ اس کرشمہ قدرت کا مشاہدہ کر لیں۔ اب

صفحہ ٤٩١

عدم گویائی کو اس اثبات واستقلال کے ساتھ نبھایا کہ دس سال کی طویل مدت میں کسی کو وہم وگمان تک نہ ہوا کہ اس کی زبان کو بھی قوت گویائی سے کچھ حصہ ملا ہے۔ یا یہ شخص ایک علامہ دہر اور یکتائے روزگار ہے۔

اسی بناء پر اخرس یعنی گونگے کے لقب سے مشہور ہو گیا۔ ہمیشہ اشاروں سے اظہار مدعا کرتا ہر شخص سے اس کا رابطہ مودت و شناسائی قائم تھا۔ کوئی بڑا چھوٹا ایسا نہ ہوگا جو اس کے ساتھ اشاروں سے تھوڑا بہت مذاق کر کے تفریح طبع نہ کر لیتا ہو۔ اتنی صبر آزما مدت گزار لینے کے بعد آخر وہ وقت آگیا جب کہ مہر سکوت توڑ دے اور کشور قلوب پر اپنی قابلیت اور نطق گوئی کا سکہ بٹھا دے۔ اس نے نہایت راز داری کے ساتھ ایک نہایت نفیس قسم کا روغن تیار کیا۔ اس روغن میں یہ صنعت تھی کہ اگر کوئی شخص اسے چہرے پر مل لے تو اس درجہ حسن و تجلی پیدا ہو کہ کوئی شخص شدت انوار سے اس کے نورانی طلعت کے دیکھنے کی تاب نہ لا سکے۔ اسی طرح اس نے خاص قسم کی دو رنگ دار شمعیں بھی تیار کر لیں۔

اس کے بعد ایک رات جب کہ تمام لوگ محو خواب واستراحت تھے اس نے وہ روغن اپنے چہرہ پر ملا اور شمعیں جلا کر اپنے سامنے رکھ دیں۔ ان کی روشنی میں چہرہ پر ایسی رعنائی اور دلفریبی اور چمک دمک پیدا ہوئی کہ آنکھیں خیرہ ہوتی تھیں۔ اس کے بعد اس نے اس زور سے چیخنا شروع کیا کہ مدرسہ کے تمام مکیں جاگ اٹھے۔ جب لوگ اس کے پاس آئے تو اٹھ کر نماز میں مشغول ہو گیا اور ایسی خوش الحانی اور تجوید کے ساتھ بآواز بلند قرآن پڑھنے لگا کہ بڑے بڑے قاری بھی عش عش کر گئے۔

صدرالمدرسین اور قاضی شہر کی بدحواسی

جب مدرسہ کے معلمین اور طلباء نے دیکھا کہ مادر زاد گونگا باتیں کر رہا ہے اور قوت گویائی کے ساتھ اسے اعلیٰ درجہ کی فصاحت اور فن قرأت و تجوید کا کمال بھی بخشا گیا ہے اور اس کا چہرہ بھی ایسا درخشاں ہے کہ نگاہ نہیں ٹھہرتی۔ تو لوگ سخت حیرت زدہ ہوئے۔

خصوصاً صدر مدرس صاحب تو بالکل قوائے عقلیہ کھو بیٹھے۔ صدر مدرس صاحب جس درجہ علم وعمل اور صلاح وتقویٰ میں عدیم المثال تھے اسی قدر اہل زمانہ کی عیاریوں سے نا آشنا اور نہایت سادہ لوح واقع ہوئے تھے۔

وہ بڑی خوش اعتقادی سے فرمانے لگے کیا اچھا ہو۔ اگر عمائد شہر بھی خدائے قادر وتوانا کے اس کرشمہ قدرت کا مشاہدہ کر لیں۔ اب اہل مدرسہ نے صدر مدرس کی قیادت میں اس غرض

٣

صفحہ ٤٩٣

سے شہر کا رخ کیا کہ اعیان شہر کو بھی خداوند عالم کی قدرت قاہرہ کا یہ جلوہ دکھائیں۔ شہر پناہ کے دروازہ پر آئے تو اس کو مقفل پایا۔ چابی حاصل کرنے کی کوشش کی لیکن ناکام رہے۔ ان لوگوں پر خوش اعتقادی اور گرم جوشی کا بھوت اس درجہ کا سوار تھا کہ شہر کا مقفل دروازہ اور اس کی سنگین دیواریں بھی ان کی راہ میں حائل نہ ہو سکیں۔ کسی نہ کسی تدبیر سے شہر میں داخل ہو گئے۔ اب صدر مدرس صاحب تو آگے آگے جارہے تھے اور دوسرے مولوی حضرات اور ان کے تلامذہ پیچھے پیچھے سب سے پہلے قاضی شہر کے مکان پر پہنچے۔

قاضی رات کے وقت اس غیر معمولی ازدحام اور اس کا شور و پکار سن کر مضطربانہ گھر سے نکلے اور ماجرا دریافت کیا۔ بد نصیبی سے قاضی صاحب بھی پیرایہ حزم اور دور اندیشی سے عاری تھے۔ انہوں نے آؤ دیکھا نہ تاؤ سب مجمع کو ساتھ لے کر جھٹ وزیر اعظم کے در دولت پر جا پہنچے اور دروازہ کھٹکھٹانا شروع کیا۔ وزیر باتدبیر نے ان کی رام کہانی سن کر کہا کہ ابھی رات کا وقت ہے۔ آپ لوگ جا کر اپنی اپنی جگہ آرام کریں، دن کو دیکھا جائے گا۔ کہ ایسی بزرگ ہستی کی عظمت شان کے مطابق کیا کارروائی مناسب ہوگی۔ غرض شہر میں ہلڑ مچ گیا۔ باوجود ظلمت شب کے لوگ جوق در جوق چلے آرہے تھے اور خوش اعتقادوں نے ایک ہنگامہ برپا کر رکھا تھا۔ قاضی صاحب رؤسائے شہر کو ساتھ لے کر اس بزرگ ہستی کا جمال مبارک دیکھنے کے لئے مدرسہ میں آئے مگر دروازہ کو مقفل پایا۔ اسحاق اندر ہی تھا۔

قاضی صاحب نے نیچے سے پکار کر کہا حضرت والا! آپ کو اسی خدائے ذوالجلال کی قسم جس نے اس کرامت و منصب جلیل سے نوازا۔ دروازہ کھولئے اور مشتاقان جمال کو شرف دیدار سے مشرف فرمائیے۔ یہ سن کر اسحاق بول اٹھا۔ اے قفل کھل جا اور ساتھ ہی کسی حکمت عملی سے کنجی کے بغیر قفل کھول دیا۔ قفل کے گرنے کی آواز سن کر لوگوں کی خوش اعتقادی اور بھی دو آتشہ ہوگئی۔ لوگ بزرگ کے رعب سے ترساں ولرزاں تھے۔ دروازہ کھلنے پر سب لوگ اسحاق کے روبرو نہایت مؤدب ہو کر جا بیٹھے۔ قاضی صاحب نے نیاز مندانہ لہجہ میں التماس کی کہ حضور والا! سارا شہر اس قدرت خداوندی پر متحیر ہے۔ اگر حقیقت حال کا چہرہ کسی قدر بے نقاب فرمایا جائے تو بڑی نوازش ہوگی۔

اسحاق کی ظلی بروزی نبوت

اسحاق جو اس وقت کا پہلے ہی منتظر تھا نہایت ریا کارانہ لہجہ میں بولا کہ چالیس روز پیشتر ہی فیضان کے کچھ آثار نظر آنے لگے تھے۔ آخر دن بدن القائے الٰہی کا سرچشمہ موجیں مارنے لگا۔

٤

حتیٰ کہ آج رات خدائے قدوس نے اپنے فضل مخصو دیں کہ مجھ سے پہلے لاکھوں رہروان منزل اس کے اسرار و حقائق منکشف فرمائے جن کا زبان پر لانا مذھ کہنے کا مجاز ہوں کہ آج رات دو فرشتے حوض کوثر کا سے غسل دیا اور کہنے لگے "السلام عليك يا نبي واللہ اعلم یہ کیا ابتلاء ہے۔ ایک فرشتہ بزبان فصیح یوں الله الازلی " "اے اللہ کے نبی بسم اللہ کہہ کر نو میں بسم اللہ الازلی کا ورد کرتا رہا۔ فرشتے نے ایک سف وہ چیز کیا تھی البتہ اتنا جانتا ہوں کہ وہ شہد سے زیادہ ش زیادہ ٹھنڈی تھی۔

اس نعمت خداوندی کا حلق سے نیچے اترنا یہ کلمہ نکلا : "اشهد ان لا اله الا الله واشهد ان کہا کہ محمد ﷺ کی طرح تم بھی رسول اللہ ہو۔ میں ۔ مجھے اس سے سخت حیرت ہے۔ بلکہ میں تو غرق خجا خدائے قدوس نے تمھیں اس قوم کے لئے نبی مبعو سیدنا محمد ﷺ روحی فداہ کو خاتم الانبیاء قرار دیا ہے او کے لئے بند کر دیا ہے۔

اب میری نبوت کیا معنی رکھتی ہے؟ کے حیثیت رکھتی ہے اور تمہاری بالتبع ظلی بروزی ہے۔ م نبوت اور خاتم الانبیاء کے بعد ظلی بروزی نبی بننے پر واقعہ تواریخ میں پڑھ کر مستفیض ہوا ہے۔ ورنہ اس کہیں وجود نہیں پایا جاتا بلکہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نبي بعدی " "یعنی میں آخری نبی ہوں میرے بع اور ارشاد فرمایا "لو كان بعدی نب نبوت پر فائز ہوتا تو وہ حضرت عمرؓ ہوتے۔ " تو ان نبوت شیطانی مکر و فریب اور اپنے استاد کی پیروی

٥

صفحہ ٤٩٣

حتی کہ آج رات خدائے قدوس نے اپنے فضل مخصوص سے اس عاجز پر علم و عمل کی وہ راہیں کھول دیں کہ مجھ سے پہلے لاکھوں رہروان منزل اس کے خیال اور تصور سے بھی محروم رہے تھے اور وہ اسرار و حقائق منکشف فرمائے جن کا زبان پر لانا مذہب و طریقت میں ممنوع ہے۔ البتہ مختصراً اتنا کہنے کا مجاز ہوں کہ آج رات دو فرشتے حوض کوثر کا پانی لے کر میرے پاس آئے مجھے اپنے ہاتھ سے غسل دیا اور کہنے لگے ”السلام عليك يا نبي الله“ مجھے جواب میں تأمل ہوا اور گھبرایا کہ واللہ اعلم یہ کیا ابتلاء ہے۔ ایک فرشتہ بزبان فصیح یوں گویا ہوئے ”يا نبي الله، افتح فاك باسم الله الازلی“ ”اے اللہ کے نبی بسم اللہ کہہ کر ذرا منہ کھولئے۔“ میں نے منہ کھول دیا اور دل میں بسم اللہ الازلی کا ورد کرتا رہا۔ فرشتے نے ایک سفید سی چیز میرے منہ میں رکھ دی یہ تو معلوم نہیں وہ چیز کیا تھی البتہ اتنا جانتا ہوں کہ وہ شہد سے زیادہ شیریں مشک سے زیادہ خوشبودار اور برف سے زیادہ ٹھنڈی تھی۔

اس نعمت خداوندی کا حلق سے نیچے اترنا تھا کہ میری زبان گویا ہو گئی اور میرے منہ سے یہ کلمہ نکلا: ”اشهد ان لا اله الا الله واشهد ان محمد رسول الله“ یہ سن کر فرشتوں نے کہا کہ محمد ﷺ کی طرح تم بھی رسول اللہ ہو۔ میں نے کہا میرے دوستو تم یہ کیسی بات کہہ رہے ہو۔ مجھے اس سے سخت حیرت ہے۔ بلکہ میں تو غرق خجالت میں ڈوبا جاتا ہوں۔ فرشتے کہنے لگے خدائے قدوس نے تمہیں اس قوم کے لئے نبی مبعوث فرمایا ہے۔ میں نے کہا جناب باری نے تو سیدنا محمد ﷺ روحی فداہ کو خاتم الانبیاء قرار دیا ہے اور آپ کی ذات اقدس پر نبوت کا سلسلہ ہمیشہ کے لئے بند کر دیا ہے۔

اب میری نبوت کیا معنی رکھتی ہے؟ کہنے لگے درست ہے مگر محمد ﷺ کی نبوت مستقل حیثیت رکھتی ہے اور تمہاری بالتبع ظلی بروزی ہے۔ معلوم ہوتا ہے کہ مرزا غلام قادیانی نے انقطاع نبوت اور خاتم الانبیاء کے بعد ظلی بروزی نبی بننے میں اسحاق اخرس کی شاگردی کی ہے اور اس کا واقعہ تواریخ میں پڑھ کر مستفیض ہوا ہے۔ ورنہ اس کا قرآن و حدیث اور اقوال سلف صالحین میں کہیں وجود نہیں پایا جاتا بلکہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے ارشاد فرمایا: ”انا خاتم النبیین لا نبی بعدی“ ”یعنی میں آخری نبی ہوں میرے بعد کوئی نبی پیدا نہیں ہوگا۔“ اور ارشاد فرمایا ”لو کان بعدی نبی لکان عمر“ ”اگر میرے بعد کوئی مرتبہ نبوت پر فائز ہوتا تو وہ حضرت عمرؓ ہوتے۔“ تو ان احادیث مبارکہ سے معلوم ہوا کہ مرزا کا دعویٰ نبوت شیطانی مکر و فریب اور اپنے استاد کی پیروی کے علاوہ اور کچھ نہ تھا۔ آئیے اسحاق اخرس کا

٥

صفحہ ٤٩٤

واقعہ اور سنئے تا کہ مکاروں کے مکر آپ پر واضح ہو جائیں۔

اسحاق کے معجزات

اس کے بعد اسحاق نے حاضرین سے یہ بیان کیا کہ جب ملائکہ نے مجھے ظلی و بروزی نبوت کا منصب تفویض فرمایا تو میں اپنی معذوری ظاہر کرنے لگا اور کہا دوستو! میرے لئے تو نبوت کا دعویٰ بہت سی مشکلات سے لبریز ہے۔ کیونکہ بوجہ معجزہ نہ رکھنے کے کوئی شخص میری تصدیق نہ کرے گا۔ فرشتوں نے کہا وہ قادر مطلق جس نے تجھے گونگا پیدا کر کے متکلم اور فصیح و بلیغ بنا دیا۔ خود لوگوں کے دلوں میں تمہاری تصدیق کا جذبہ پیدا کرے گا۔ یہاں تک کہ زمین و آسمان تمہاری تصدیق کے لئے کھڑے ہو جائیں گے۔

لیکن میں نے ایسی خشک نبوت کے قبول کرنے سے انکار کر دیا اور اس بات پر مصر ہوا کہ کوئی معجزہ ضرور چاہئے۔ جب میرا اصرار حد سے گزر گیا تو فرشتے کہنے لگے اچھا معجزات بھی لیجئے۔ جتنی آسمانی کتابیں انبیاء پر نازل ہوئیں تمہیں ان سب کا علم دیا گیا۔ مزید براں کئی ایک زبانیں اور کئی رسم الخط تمہیں عطا کئے۔ اس کے بعد فرشتے کہنے لگے کہ قرآن پڑھو۔ میں نے جس ترتیب سے قرآن نازل ہوا تھا پڑھ کر سنا دیا۔

انجیل پڑھوائی وہ بھی سنا دی۔ پھر تورات زبور اور دوسرے آسمانی صحیفے پڑھنے کو کہا وہ بھی سنا دیئے۔ مگر میرے قلب منور پر جو ان کتب مقدسہ کا القاء ہوا تو اس میں کسی تحریف تصحیف اور اختلاف قرأت کا کوئی شائبہ نہ تھا بلکہ جس طرح ان کی تنزیل ہوئی تھی۔ اسی طرح یہ بے کم و کاست میرے دل پر القاء کی گئیں۔ چنانچہ فرشتوں نے فوراً اس کی تصدیق کر دی۔ ملائکہ نے صحف سماویہ کی قرأت سن کر مجھ سے کہا: ”قم فانذر الناس“ ﴿اب کمر ہمت باندھ لو اور لوگوں کو غضب الٰہی سے ڈراؤ۔﴾ یہ کہہ کر فرشتے رخصت ہو گئے اور میں جھٹ نماز اور ذکر الٰہی میں مصروف ہو گیا۔

آج رات سے جن انوار و تجلیات کا میرے دل پر ہجوم ہے۔ زبان اس کی شرح سے قاصر ہے۔ غالباً ان انوار کے کچھ اسرار میرے چہرے پر بھی نمایاں ہو گئے ہوں گے۔ یہ تو میری سرگزشت تھی اب میں تم لوگوں کو متنبہ کرنا چاہتا ہوں کہ جو شخص خدا پر اور محمد رسول اللہ ﷺ پر اور مجھ پر ایمان لایا اس نے فلاح وراست گاری پائی اور جس نے میری نبوت سے انکار کیا اس نے سیدنا محمد ﷺ کی شریعت کو بے کار کر دیا۔ ایسا منکر ابدالاباد جہنم کا ایندھن بنارہے گا۔

عساکر خلافت سے معرکہ آرائیاں

عوام کا معمول ہے کہ جونہی نفس امارہ کے کسی پجاری نے اپنے دجالی تقدس کی ڈفلی

٦

بجانی شروع کی اس پر پروانہ وار گرنے لگے ہزار ہا آدمی نقد ایمان اس کی نذر کر بیٹھے اور جہ گئے۔ حامیان شریعت نے گم کردگان راہ کو بہت سمجھایا لیکن عقیدت مندوں کی خوش اعـ تقادی نے انہیں راہ راست پر آنے نہ دیا۔

آخر اس شخص کی قوت اور جمعیت دیکھ کر اسے حکومت کی ہوس پیدا ہوگئی۔ چنانچہ خلیفہ ابو جعفر منصو ر نے اس پر اور اس کے توابع پر قبضہ کر لیا۔ بڑے بڑے سردار مارے گئے اور اسحاق مارا گیا۔ کہتے ہیں کہ اس کے پیروکا

حضرات! دیکھا آپ نے اسحاق کے عنقریب انشاء اللہ مرزا غلام احمد قادیانی کی ذریت کا بھی یہی حشر ہوگا۔ کاش مرزائی اس رسالہ کو اگر تعصب کی پٹی آنکھو ں سے اتار کر پڑھیں تو ہدایت کا راستہ پا جائیں گے۔

مرزا قادیانی

کتب مرزا سے جھوٹ کی حقیقت یعنی جھو

تصویر کا پہلا رخ

اعتبار نہیں رہتا۔“

نوٹ : ان مذکورہ بالا مرزا غلام ا

صفحہ ٤٩٥

لٹانی شروع کی اس پر پروانہ وار گرنے لگے۔ اسحاق کی تقریر سن کر عوام کا پائے ایمان ڈگمگا گیا اور ہزار ہا آدمی نقد ایمان اس کی نذر کر بیٹھے اور جن لوگوں کا دل نور ایمان سے متجلی تھا وہ بیزار ہو کر چلے گئے۔ حامیان شریعت نے گم کردگان راہ کو بہت سمجھایا کہ آخر یہ دجال کذاب اور راہزن دین و ایمان ہے۔ لیکن عقیدت مندوں کی خوش اعتقادی میں ذرا فرق نہ آیا۔ بلکہ جوں جوں علمائے حق انہیں راہ راست پر لانے کی کوشش کرتے تھے۔ ان کا جنون خوش اعتقادی اور زیادہ بڑھتا تھا۔

آخر اس شخص کی قوت اور جمعیت یہاں تک ترقی کر گئی کہ اس کے دل میں ملک گیری کی ہوس پیدا ہوگئی۔ چنانچہ خلیفہ ابو جعفر منصور عباسی کے عمال کو مقہور اور مغلوب کر کے بصرہ عمان اور ان کے توابع پر قبضہ کرلیا۔ بڑے بڑے معرکے ہوئے آخر عساکر خلافت مظفر و منصور ہوئے اور اسحاق مارا گیا۔ کہتے ہیں کہ اس کے پیرو کار اب تک عمان میں پائے جاتے ہیں۔

حضرات! دیکھا ہے مرزا سے پہلے بھی کتنے مکر و فریب والے گزر چکے ہیں۔ اب عنقریب انشاء اللہ مرزا غلام احمد قادیانی کی نبوت کا پردہ بھی چاک کر دیا جائے گا۔ امید ہے کہ مرزائی اس رسالہ کو اگر تعصب کی پٹی آنکھوں سے اتار کر پڑھیں تو خدا کے فضل وکرم سے ضرور ہدایت کا راستہ پا جائیں گے۔

مرزا قادیانی کے ڈھول کا پول

کتب مرزا سے جھوٹ کی حقیقت یعنی جھوٹ کے بارے میں مرزا قادیانی کا فتویٰ

تصویر کا پہلا رخ

(ضمیمہ تحفہ گولڑویہ ص ١٣، خزائن ج ١٧ ص ٥٦)

(تتمہ حقیقت الوحی ص ٢٧، خزائن ج ٢٢ ص ٤٥٩)

(ضمیمہ انجام آتھم ص ٥٩، خزائن ج ١١ ص ٣٤٣)

(شحنہ حق ص ٦٠، خزائن ج ٢ ص ٣٨٦)

اعتبار نہیں رہتا۔“

(چشمہ معرفت ص ٢٢٢، خزائن ج ٢٣ ص ٢٣١)

نوٹ: ان مذکورہ بالا مرزا غلام احمد قادیانی کی عبارات سے واضح ہے کہ مرزا قادیانی

٧

صفحہ ٤٩٦

کے نزدیک جھوٹ بولنا مرتد ہونے سے کم نہیں یعنی جب کوئی جھوٹ بولتا ہے تو مرتد ہو جاتا ہے۔ تو جب بھی مرزائی جھوٹ بولے گا تو گویا وہ اپنا دین چھوڑ گیا ہے اور جھوٹ بولنے سے بدتر دنیا میں کوئی کام نہیں اور تکلف سے جھوٹ بولنا گوں کھاتا ہے اور کنجر جو ولد الزنا کہلاتے ہیں وہ بھی جھوٹ بولتے شرماتے ہیں۔ یعنی جھوٹ بولنے والا ولد الزناء سے بدتر ہے اور جب کوئی ایک بات میں جھوٹا ہو گیا تو اس کی سب باتوں سے اعتبار اٹھ جائے گا۔ لہٰذا مرزائیوں کو یا مرزا غلام احمد قادیانی کو ویسے تو صرف ایک ہی بات میں جھوٹا ثابت کر دینا اس کے فتوؤں کے اعتبار سے کافی ہے۔ لیکن ہم تسکین قلب اور احقاق حق اور حق و باطل کو واضح اور عیاں اور روز روشن کی طرح چمکانے کے لئے مرزاغلام احمد قادیانی کے متعدد جھوٹ نقل کرتے ہیں۔ غور و فکر سے ملاحظہ فرمائیں۔

تصویر کا دوسرا رخ...... یعنی مرزاغلام احمد قادیانی کے جھوٹ

(ایک ہی عبارت میں چار جھوٹ)

”اور یہ یاد رہے کہ قرآن شریف میں بلکہ تورات کے بعض صحیفوں میں یہ خبر موجود ہے کہ مسیح موعود کے وقت طاعون پڑے گا بلکہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بھی انجیل میں خبر دی ہے اور ممکن نہیں کہ نبیوں کی پیش گوئیاں ٹل جائیں اور حاشیہ پر لکھا ہے کہ مسیح موعود کے وقت طاعون کا پڑنا بائبل کی ذیل کتابوں میں موجود ہے۔

(زکریا ب ١٤ آیت ١٢، انجیل متی ب ٢٤ آیت ٢٣، مکاشفات ب ٢٨ آیت ٢٢، کشتی نوح ص ٥، خزائن ج ١٩ ص ٥)

نوٹ: اس جگہ اکٹھے چار جھوٹ بولے ہیں۔

جھوٹ نمبر : ١

قرآن پاک میں کسی آیت مبارک میں یہ موجود نہیں کہ مسیح موعود کے وقت طاعون پڑے گا۔ جو شخص اللہ تعالیٰ پر افتراء کرنے سے بھی نہیں شرماتا تو اس کی دوسری باتوں کا کیا اعتبار ہوگا اور ہم اس کو ایک اچھا آدمی کیسے تصور کر سکتے ہیں؟ خدا تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے ۔ ”ومن اظلم ممن افتریٰ علی اللّٰہ کذباً أو کذب بآیتہ انہ لا یفلح الظالمون“ اور اس شخص سے بڑا ظالم کون ہے جو اللہ تعالیٰ پر جھوٹ افتراء باندھتا ہے یا اس کی آیتوں کو جھٹلاتا ہے۔ بے شک وہ ظالم کامیاب نہیں ہوں گے۔

اور دوسری جگہ تو اس سے بھی زیادہ تفصیل سے فرمایا ہے جس کا مرزا غلام احمد قادیانی خوب مصداق بن سکتا ہے ۔ ”ومن أظلم ممن افتریٰ علی اللّٰہ کذباً او قال أوحیٰ الیَّ ولم يوح اليه شیء“ اس سے زیادہ کون ظالم ہے جو اللہ تعالیٰ پر جھوٹ افتراء باندھتا ہے اور

٨

کہتا ہے کہ میری طرف وحی کی جاتی ہے اور حالا ارشاد باری تعالیٰ ہے: ”لعنة الله على الـ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے ارشاد فرمایا : ”آيۃ اخلف واذا اوتمن خان (بخاری شریف باب تمام کتب میں اور مشکوٰۃ شریف میں بھی موجود

کرے گا تو خلاف ورزی کرے گا اور جب اما اور جس کو قرآن پاک کا ترجمہ آتا ہے اور اگر کوئی مرزائی یہ قرآن پاک سے ثابـ

جھوٹ نمبر : ٢

(زکریا ب ١٤ آیت ١٢) میں بھی یہ عبا

جھوٹ نمبر : ٣

تیسرا حوالہ جو انجیل متی ب ٢٤ آیـ وہاں تو عجیب لکھا ہوا ہے ہم اس کو نقل کرتے کریں۔ ملاحظہ ہو۔ عبارت انجیل : ” بہت سـ مسیح اٹھ کھڑے ہوں گے اور ایسے بڑے نشان بھی گمراہ کر لیں گے ۔“ مرزا غلام احمد پر

”فاعتبروا يا اولى الابصار“

جھوٹ نمبر : ٤

(مکاشفات ب ٢٢ آیت ٨) میں بھی ہی حوالہ میں ثابت ہو گئے ۔ پہلے مرزا کے فرمائیں کہ مرزا کے چار جھوٹ ایک ہی عبا رو سے کیا ہوا اور کیا بنا اور کیا ٹھہرا اور مرزا سے

جھوٹ نمبر : ٥

”اگر حدیث کے بیان پر اعتبا

صفحہ ٤٩٧

کہتا ہے کہ میری طرف وحی کی جاتی ہے اور حالانکہ اس کی طرف کچھ وحی نہیں کی ہوتی۔﴾ ایک جگہ ارشاد باری تعالیٰ ہے: ”لعنۃ اللہ علی الکاذبین“ ﴿جھوٹوں پر خدا کی لعنت ہے۔﴾ اور حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے ارشاد فرمایا: ”آیۃ المنافق ثلث اذا حدث کذب واذا وعد خلف واذا اؤتمن خان (بخاری شریف باب علامۃ المنافق ص ١٠)“ نیز حدیث شریف صحاح ستہ کی تمام کتب میں اور مشکوٰۃ شریف میں بھی موجود ہے: ﴿منافق کی تین نشانیاں ہیں۔ جب گفتگو کرے گا جھوٹ بولے گا اور جب وعدہ کرے گا تو خلاف ورزی کرے گا اور جب امانت رکھی جائے گی تو خیانت کرے گا۔﴾ اور جس کو قرآن پاک کا ترجمہ آتا ہے۔ اس پر واضح بات ہے کہ یہ قرآن پاک پر افتراء ہے اور اگر کوئی مرزائی یہ قرآن پاک سے ثابت کردے تو فقیر پانچ صد روپیہ انعام دے گا۔

جھوٹ نمبر :٢

(ذکر باب ١٤ آیت ١٢) میں بھی یہ عبارت نہیں پائی جاتی لہٰذا یہ بھی جھوٹا ہوا۔

جھوٹ نمبر :٣

تیسرا حوالہ جو انجیل متی ب٢٤ آیت نمبر ٢٤ کا لکھا ہے یہ حوالہ بھی سراسر غلط ہے۔ بلکہ وہاں تو عجیب لکھا ہوا ہے ہم اس کو نقل کرتے ہیں تاکہ مرزائی اس عبارت کو پڑھ کر عبرت حاصل کریں۔ ملاحظہ ہو۔ عبارت انجیل: ”بہت سے جھوٹے نبی اٹھ کھڑے ہوں گے۔ کیونکہ جھوٹے مسیح اٹھ کھڑے ہوں گے اور ایسے بڑے نشان و عجیب کام دکھائیں گے کہ اگر ممکن ہو تو برگزیدوں کو بھی گمراہ کرلیں گے۔“ مرزا غلام احمد پر یہ انجیل کی مبارک آیت خوب صادق آتی ہے۔ ”فاعتبروا یااولی الابصار“

جھوٹ نمبر :٤

(مکاشفات ب ٢٢ آیت ٨) میں بھی یہ عبارت نہیں پائی جاتی تو یہ پورے چار جھوٹ ایک ہی حوالہ میں ثابت ہوگئے۔ پہلے مرزا کے جھوٹ کی بابت فتوؤں کو دوبارہ ملاحظہ فرما کر خود فیصلہ فرمائیں کہ مرزا کے چار جھوٹ ایک ہی عبارت میں ثابت ہوگئے ہیں۔ اب مرزا اپنے فتوؤں کی رو سے کیا ہوا اور کیا بنا اور کیا ٹھہرا اور مرزا نے کیا کھایا؟

جھوٹ نمبر :٥

”اگر حدیث کے بیان پر اعتبار ہے تو پہلے ان حدیثوں پر عمل کرنا چاہئے جو صحت

٩

صفحہ ٤٩٨

دو طرق میں اس حدیث سے کئی درجہ بڑھی ہوئی ہیں۔ مثلاً صحیح بخاری کی وہ حدیثیں جن میں آخری زمانہ کے بعض خلیفوں کی نسبت خبر دی گئی ہے۔ خاص کر وہ خلیفہ جس کی نسبت بخاری شریف میں لکھا ہے کہ آسمان سے اس کے لئے آواز آئے گی کہ ”هٰذا خليفة الله المهدي“ سوچو کہ یہ حدیث کس پایہ اور مرتبہ کی ہے جو اس کتاب میں درج ہے۔ جو اصح الکتب بعد کتاب اللہ کے ہے۔“

(شہادۃ القرآن ص ٤٠، خزائن ج ٦ ص ٣٣٧)

نوٹ: یہ حدیث بخاری شریف میں نہیں ہے اور مرزا غلام احمد بخاری شریف کی مذکورہ حدیث شریف ”علامة المنافق ثلث اذا حدث كذب (الحديث)“ ﴿منافق کی تین علامتیں ہیں جب گفتگو کرے گا جھوٹ بولے گا۔﴾ کا مصداق بن رہا ہے۔

جھوٹ نمبر: ٦

”آنحضرت ﷺ سے پوچھا گیا کہ قیامت کب آئے گی تو آپ نے فرمایا کہ آج کی تاریخ سے سو برس تک تمام بنی آدم پر قیامت آجائے گی۔“

(ازالۃ الاوہام ص ٢٥٣، خزائن ج ٣ ص ٢٢٧)

نوٹ: یہ آپ پڑھتے ہی سمجھ گئے ہوں گے کہ کیسا سفید جھوٹ ہے اور حضور ﷺ پر افتراء ہے اور اس کا یہ مقصد ہے کہ قیامت اب نہیں آئے گی۔ اس لئے مرزائیوں نے جنت و دوزخ دنیا میں ہی بنالی ہے۔ قارئین کرام! آپ بتائیں کہ جنہیں یہ بھی خبر نہیں کہ ہم جہان فانی میں ہیں یا جہان باقی میں ہیں اور جنہوں نے جہان فانی کو ہی باقی سمجھ لیا ہے اور جنت و دوزخ دنیا میں ہی تیار کر لی ہے۔ کیا یہ صریح قیامت کا انکار نہیں ہے اور جس کا قیامت پر اعتبار نہ ہو تو وہ مسلمان کہلانے کا حق دار ہے کچھ بھی اگر انصاف کرے تو ضرور کہنا پڑے گا کہ سچا پکا کافر ہے اور بندہ کی دعا ہے کہ مولا تعالیٰ ہمیں ایسی بناوٹی باتوں اور قرآن مجید اور حدیث شریف پر افتراء باندھنے سے محفوظ رکھے۔ آمین!

جھوٹ نمبر: ٧

”اولیاء گزشتہ کے کشوف نے اس بات پر قطعی مہر لگا دی ہے کہ وہ چودھویں صدی کے سر پر پیدا ہوگا اور نیز یہ پنجاب میں ہوگا۔“

(اربعین نمبر ٢ ص ٢٣، خزائن ج ١٧ ص ٣٧١)

نوٹ: یہ سراسر جھوٹ اور انبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام کی ذات گرامی پر افتراء ہے اور یہ کسی قرآن پاک کی آیت کا ترجمہ نہیں۔ کسی تفسیر میں نہیں اور کسی حدیث شریف میں بھی نہیں ہے کہ مسیح موعود چودھویں صدی کے سر پر پیدا ہوگا اور نیز پنجاب میں ہوگا۔ آپ جلدی جلدی مرزا غلام احمد قادیانی کے جھوٹ شمار کرتے جائیں اور عبارت میں غور کرتے جائیں۔ کہ کیا کچھ لکھا ہے۔

١٠

صفحہ ٤٩

جھوٹ نمبر: ٨

"آنحضرتﷺ فرماتے ہیں کہ مسیح موعود میری قبر میں دفن ہوگا یعنی وہ میں ہی ہوں۔"

(کشتی نوح ص ١٥، خزائن ج ١٩ ص ١٦)

نوٹ : قارئین کرام پر تو واضح بات ہے اور آپ خود سمجھ گئے ہوں اور اوپر جو حدیث شریف نقل کی ہے کہ آنحضرتﷺ فرماتے ہیں کہ مسیح موعود میری قبر میں دفن ہوگا۔ یہ تو جیسا لکھا ہے صحیح ہے اور حضورﷺ کے روضہ انور میں عیسیٰ علیہ السلام کے لئے ایک طرف جگہ خالی ہے اور عیسیٰ علیہ السلام کی قبر انور وہاں ہی ہوگی جیسا کہ مرزائیوں کی ایک اور کتاب (احمدیہ پاکٹ بک ص٤٨٢) پر لکھا ہے ۔ عیسیٰ علیہ السلام اپنی عمر کا زمانہ گزار کر حج کرنے جائیں گے اور آنحضرتﷺ کے حجرہ میں دفن کیا جائے گا اور نیز (برحاشیہ مشکوٰۃ شریف مجتبائی ص٥ کتاب الفتن) "وقد جاء ان عيسى عليه السلام بعد لبثه فى الارض يحج ويعود فيموت بين مكة والمدينة فيحمل الى المدينة فيدفن فى الحجرة الشريفة " اور تحقیق آیا ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام زمین پر ٹھہرنے کے بعد حج کریں گے اور حجرہ شریفہ یعنی حضور اکرمﷺ کے روضہ انور میں مدفون ہوں گے۔

لیکن حدیث شریف کے آخر میں اس نے جو ملایا ہے کہ (وہ میں ہی ہوں) یہ سیاہ جھوٹ ہے۔ اچھا آپ ہی انصاف سے بتائیں کہ اس حدیث شریف ( آنحضرتﷺ فرماتے ہیں کہ مسیح موعود میری قبر میں دفن ہوگا ۔ ) کا مصداق ہے اور کیا مرزا غلام احمد قادیانی دفن کیا گیا ہے حضور علیہ السلام کی قبر میں، اور کیا اس حدیث شریف کے آخر میں مرزا غلام احمد کا یہ کہنا (یعنی وہ میں ہی ہوں) درست ہے یا کہ نہیں۔ اگر درست ہو تو مرزا قادیان میں دفن ہوا ہے لہٰذا اس کا یہ دعویٰ غلط ہے اور اگر جھوٹ کہو تو یہی ہمارا مدعا ہے کہ مرزا غلام احمد کذاب و دجال ہے۔

جھوٹ نمبر: ٩

"ہم مکہ میں مریں گے یا مدینہ میں۔"

(البشریٰ ج ٢ ص ٢٥)

نوٹ : اس عبارت میں کیسے واضح طور پر لکھا ہے کہ (ہم مکہ میں مریں گے یا مدینہ میں) اور حقیقت یہ ہے کہ مرزا غلام احمد کو دستوں کی بیماری لگی اور لاہور میں علاج ہو رہا تھا اور ایک طرف ٹٹی بیٹھنے کا انتظام کیا ہوا تھا۔ مرزا ٹٹی بیٹھا تو وہیں پر مر گیا اور پھر قادیان میں لا کر دفن کر دیا گیا۔

(دیکھئے سیرۃ المہدی ج ٣ ص ١٣٩) پر لکھا ہے : "حضور لاہور جا کر بیمار ہو گئے اور دستوں

١١

صفحہ ٥٠٠

کی بیماری سے آخر مئی ١٩٠٨ء میں اس دارفانی سے رحلت فرما گئے۔“

دیکھا ہے گستاخ انبیاء کرام کو اللہ تعالیٰ نے اتنی بھی مہلت نہیں دی کہ ٹٹی خانہ سے اٹھ کر کسی پاکیزہ جگہ پر ہی جان نکلے اور کہاں یہ کہنا کہ ہم مکہ میں مریں گے یا مدینہ میں۔ اگر تو مسلمانوں کا مکہ شریف یا مدینہ شریف مراد ہے پھر تو یہ ہر ایک جانتا ہے کہ جھوٹ ہے اور اگر مرزائیوں نے یہ خاص اصطلاح کا مصداق کچھ اور بنایا ہے۔ (العیاذ باللہ منہ ذالک) تو آپ سچا تو کہہ سکتے ہیں مگر ایمان والا حرمین طیبین کی اتنی گستاخی نہیں کرسکتا اور مرزائی اپنے آپ کو کافر سمجھیں تو گستاخ بنتے رہیں ورنہ ایسے جھوٹے مرزا غلام احمد قادیانی کے عقائد سے توبہ کریں اور نارِ جہنم سے بچ جائیں۔ اللہ تعالیٰ جل شانہ تمام مسلمانوں کو ایسے جھوٹے دین سے بچائے۔ آمین!

جھوٹ نمبر: ١٠

”ہمارے نبی ﷺ کو بعض پیشین گوئیوں میں خدا کر کے پکارا گیا ہے۔“

(حقیقت الوحی ص ٦٤، خزائن ج ٢٢ ص ٦٦)

نوٹ: یہ سراسر جھوٹ اور غلط ہے۔ ہمارے حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام تو نورانی بشر میں خدا تو اللہ وحدہ لاشریک ہے۔ اگر دو خدا ہو جائیں تو پھر توحید کا کیا مطلب بنے گا۔ قل ھو اللہ احد کا کیا مطلب ہوگا؟۔ دراصل مرزا قادیانی سے ایسے بہت سے دعاوی شرکیہ سرزد ہوئے ہیں۔ جس کی بناء پر اس نے حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی طرف ایسی بات منسوب کی ہے۔ انشاء اللہ ہم ان دعاوی میں سے آگے جا کر کچھ نقل کریں گے۔

جھوٹ نمبر: ١١

”آنحضرت ﷺ نے آنے والے مسیح کو ایک امتی ٹھہرایا اور خانہ کعبہ کا طواف کرتے اس کو دیکھا۔“

(ازالہ اوہام ص ٤٠٩، خزائن ج ٣ ص ٣١٢)

نوٹ: دیکھیں جھوٹ نمبر ٨ میں مرزا غلام احمد قادیانی نے اپنے آپ کو مسیح موعود لکھا ہے اور اس جگہ اس نے خود ہی حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی حدیث شریف نقل کی ہے کہ مسیح موعود کو حضور ﷺ نے اپنا امتی ٹھہرایا اور خانہ کعبہ کا طواف کرتے دیکھا۔ یاد رکھیں انبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام کی خوابیں بھی اللہ تعالیٰ کی وحی ہوتی ہیں اور مرزا غلام احمد چونکہ جھوٹا ، مدعی مسیح تھا۔ اس لئے اس کو اللہ تعالیٰ نے اس شہر پاک میں داخل ہونے ہی نہ دیا۔ معلوم ہوا کہ یہ اپنے دعویٰ میں جھوٹا ہے اور ہم جھوٹ نمبر ٨ کے تحت میں حدیث شریف نقل کر چکے ہیں۔ (کہ عیسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام یعنی مسیح موعود ) زمین میں اترنے کے بعد حج کریں گے۔ مگر مرزا قادیانی نے حج نہیں کیا۔

١٢

ملاحظہ ہو! (سیرت المہدی ص سے بیان کیا کہ حضرت مسیح موعود نے کوئی نہیں پڑھتے تھے۔“ نیز وہاں حدیث پاک شریف کے درمیان فوت ہوں گے اور مد میں دفن کئے جائیں گے۔ مگر غلام احمد لاہو قول مذکورہ کے تحت بھی جھوٹا ہے اور یہ حد اور ڈاکٹر اسماعیل بیان کرتا ہے کہ مرزا عالم ﷺ کی سنت ہے۔ یہ مسلمانوں کے لئے اور ڈاکٹر اسماعیل نے یہ بھی کہا ہے کہ عبادت کو چھڑوانے کے لئے آتا ہے نہ کہ کے لئے آتا ہے۔ جھوٹے نبی کی سیرت ا

جھوٹ نمبر: ١٢...... تصویر کا پہلا پ

”وہ قادر خدا قادیان کو طاعو محفوظ رکھی گئی ہے کہ خدا کا رسول اور فرس ہے کہ وہ دونوں پہلو پورے ہو گئے ۔ یع طرف باوجود اس کے قادیان کے چارو مگر قادیان طاعون سے پاک ہے۔“

نوٹ : معلوم ہوتا ہے کہ مرز ٹھہرایا ہے وہ اللہ تعالیٰ نے تمام کی تمام السلام کے شہر کی برابری کا دعویٰ بھی ک الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا: ”الا انقـ والدجال (مسلم شریف ص ٤٢٤)“ و داخل نہیں ہوگا۔ بحوالہ مذکورہ میں مرز اور رسول ہونے کی دلیل بنایا ہے۔ م قادیان میں طاعون پڑا ہے۔

صفحہ ٥٠١

ملاحظہ ہو! (سیرت المہدی ص ١١٩ ج ٣) ”ڈاکٹر محمد اسماعیل خان صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ حضرت مسیح موعود نے کوئی حج نہیں کیا اور اعتکاف نہیں کیا تسبیح نہیں رکھی، وظائف نہیں پڑھتے تھے۔“ نیز وہاں حدیث پاک میں آیا ہے کہ مسیح موعود ؑ بمکہ اور مدینہ شریف کے درمیان فوت ہوں گے اور مدینہ شریف میں لاکر حجرہ شریف یعنی روضہ انور حضور ﷺ میں دفن کئے جائیں گے۔ مگر غلام احمد لاہور مرا اور قادیان میں دفن ہوا تو اس بات میں مرزا اپنے قول مذکورہ کے تحت بھی جھوٹا ہے اور یہ حدیث مذکورہ بھی اس کے جھوٹے پر نمایاں دلالت کرتی ہے اور ڈاکٹر اسماعیل بیان کرتا ہے کہ مرزا نے اعتکاف نہیں کیا ٹھیک ہے۔ اعتکاف تو سرور دو عالم ﷺ کی سنت ہے۔ یہ مسلمانوں کے لئے ہے نہ کہ شیطان کے پیروکار اور کذاب و دجال کے لئے اور ڈاکٹر اسماعیل نے یہ بھی کہا ہے کہ تسبیح نہیں رکھی وظائف نہیں پڑھے۔ کیوں نہیں شیطان تو عبادت کو چھڑوانے کے لئے آتا ہے نہ کہ خود عبادت کرنے اور دوسروں کو عبادت کا طریقہ بتانے کے لئے آتا ہے۔ جھوٹے نبی کی سیرت اور کذب بیانی ”فاعتبروا یاولی الابصار“

جھوٹ نمبر: ١٢..... تصویر کا پہلا رخ

”وہ قادر خدا قادیان کو طاعون کی تباہی سے محفوظ رکھے گا ، تاہم سمجھو کہ قادیان اس لئے محفوظ رکھی گئی ہے کہ خدا کا رسول اور فرستادہ قادیان میں تھا۔ اب دیکھو تین برس سے ثابت ہو رہا ہے کہ وہ دونوں پہلو پورے ہوگئے۔ یعنی ایک طرف تمام پنجاب میں طاعون پھیل گیا اور دوسری طرف باوجود اس کے قادیان کے چاروں طرف دو دو میل کے فاصلہ پر طاعون کا زور ہورہا ہے۔ مگر قادیان طاعون سے پاک ہے۔“

(دافع البلاء ص ٥ ،خزائن ج ١٨ ص ٢٣٦)

نوٹ: معلوم ہوتا ہے کہ مرزا غلام احمد قادیانی نے جس شئی کو بھی اپنی صداقت کی دلیل ٹھہرایا ہے وہ اللہ تعالیٰ نے تمام کی تمام توڑ پھوڑ دی ہیں۔ اس حوالہ میں دراصل اس نے حضور علیہ السلام کے شہر کی برابری کا دعویٰ بھی کیا ہے کہ قادیان میں طاعون نہیں پڑے گی جیسے حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا: ”علی انقـاب المدينة ملئكة لا يدخلها الطاعون والدجال (مسلم شریف ص ٤٣٢)“ کہ خبردار مدینہ کے اردگرد فرشتے ہیں اس میں طاعون اور دجال داخل نہیں ہوگا۔ یہ حوالہ مذکورہ میں مرزا غلام احمد نے طاعون کا قادیان میں نہ پڑنا اپنی صداقت کی اور رسول ہونے کی دلیل بنایا ہے۔ مگر ہم مرزا قادیانی کے اقوال ہی سے ثابت کرتے ہیں کہ قادیان میں طاعون پڑا ہے۔

١٣

صفحہ ٥٠٢

تصویر کا دوسرا رخ

(حقیقت الوحی ص ٢٥٣، خزائن ج ٢٢ ص ٢٦٥)

(حقیقت الوحی ص ٢٣٢، خزائن ج ٢٢ ص ٢٤٤)

احمد بیمار ہوا۔" (حاشیہ حقیقت الوحی ص ٨٢، خزائن ج ٢٢ ص ٨٧)

نوٹ: عقلمندوں پر مرزا کی صداقت خوب واضح اور روز روشن کی طرح عیاں ہو چکی ہوگی۔ اس نے قادیان میں طاعون کا نہ آنا اپنی سچائی اور رسالت کا معیار بنایا تھا۔ اب مرزا قادیانی کی کتاب مذکورہ کے تین حوالوں سے ثابت ہو چکا ہے کہ قادیان میں طاعون صرف آئی ہی نہیں بلکہ طاعون کا زور بھی رہا ہے اور مرزا قادیانی کا لڑکا محمد شریف بھی بیمار ہوا۔ بتائیے! اب اس کی صداقت اور رسالت کہاں گئی ہے؟ "وما علينا الا البلاغ" ہم تو اپنا فریضہ تبلیغ سر انجام دے رہے ہیں آگے کوئی سمجھے یا نہ سمجھے اس کی مرضی ہے۔

مرزا غلام احمد قادیانی کے صدق وکذب کا معیار

پیشین گوئی سے بڑھ کر اور کوئی محک امتحان نہیں ہوسکتا۔" (آئینہ کمالات ص ٢٨٨، خزائن ج ٥ ص ٢٨٨)

پیش کیا جاتا ہے وہ ایک خاص طور کی روشنی اپنے اندر رکھتی ہیں اور ملہم لوگ حضرت احدیت میں توجہ کر کے ان کا زیادہ تر انکشاف کر لیتے ہیں۔" (ازالۃ اوہام ص ٤٠٤، خزائن ج ٣ ص ٣٠٩)

پیشین گوئیوں میں جھوٹا نکلنا تمام رسوائیوں سے بڑھ کر رسوائی ہے۔"

(آئینہ کمالات اسلام ص ٣، خزائن ج ٥ ص ٦٥٠)

نوٹ: اب ان تینوں اصولوں کے بعد ہم کہتے ہیں کہ قادیانی کوئی ایک پیشین گوئی پیش کریں جس کو مخالفوں کے سامنے بطور دعویٰ کے پیش کیا ہو اور اسے اپنے صدق وکذب کا معیار ٹھہرایا ہو اور پوری ہوئی ہو۔ ہم دعویٰ سے کہتے ہیں کہ مرزا قادیانی کی وہ تمام پیشین گوئیاں جن کو اس نے اپنی صداقت کا معیار بنایا ہے اور بطور دعویٰ کے پیش کیں ہیں۔ ان میں سے ایک بھی پوری

١٤

صفحہ ٥٠٣

نہیں ہوئی اور مرزا غلام احمد بقول اپنے رسوا ہوا۔

جیسا کہ ہم نے اصول نمبر ٣ میں مرزا کی عبارت نقل کی ہے کہ (باوجود میرے اس اقرار کے یہ بات بھی ظاہر ہے کہ انسان کا اپنی پیشین گوئیوں میں جھوٹا نکلنا تمام رسوائیوں سے بڑھ کر رسوائی ہے۔) اس سے ثابت ہوا کہ اس کی رسوائی کے لئے یہی کافی ہے کہ اپنی پیشین گوئیوں میں وہ جھوٹا ہو جائے۔ تو ہم دو پیشین گوئیاں مرزا غلام احمد کے جھوٹ نمبر ١٨ اور ١٢ کے تحت جھوٹی ثابت کر آئے ہیں اور آگے دیکھئے کیا بنتا ہے۔ ملاحظہ فرمائیں ہم مرزا قادیانی کی جھوٹی پیشین گوئیوں میں سے چند ایک پیشین گوئیاں نقل کرتے ہیں جو سراسر جھوٹی نکلی ہیں۔

تصویر کا دوسرا رخ...... پیشین گوئی نمبر ٣

”اور آج رات جو مجھ پر کھلا ہے وہ یہ ہے کہ جب میں نے بہت تضرع اور ابتہال سے جناب الٰہی میں دعا کی کہ تو اس امر میں فیصلہ کر اور ہم عاجز بندے ہیں تیرے فیصلہ کے سوا کچھ نہیں کر سکتے۔ اس نے مجھے یہ نشان بشارت کے طور پر دیا کہ اس بحث میں دونوں فریقوں میں سے جو عمداً جھوٹ کو اختیار کر رہا ہے اور سچے خدا کو چھوڑ رہا ہے اور عاجز انسان کو خدا بنا رہا ہے وہ انہی دنوں مباحثہ کے لحاظ سے یعنی فی دن ایک مہینہ یعنی ١٥ ماہ تک حاویہ میں گرایا جائے گا اور اس کو سخت ذلت پہنچے گی۔ بشرطیکہ حق کی طرف رجوع نہ کرے اور جو شخص سچ پر ہے اس سے عزت ظاہر ہوگی اور اس وقت جب پیشین گوئی ظہور میں آئے گی۔ بعض اندھے سجاکھے بن جائیں گے اور بعض لنگڑے چلنے لگیں گے اور بعض بہرے سننے لگیں گے۔ اس طرح پر جس طرح اللہ تعالیٰ نے ارادہ فرمایا ہے۔ سو الحمد للہ کہ اگر یہ پیشین گوئی اللہ تعالیٰ کی طرف سے ظہور نہ فرماتی تو ہمارے یہ پندرہ دن ضائع گئے تھے...... میں اس وقت یہ اقرار کرتا ہوں اگر یہ پیشین گوئی جھوٹی نکلی۔ یعنی وہ فریق جو خدا تعالیٰ کے نزدیک جھوٹ پر ہے وہ پندرہ ماہ کے عرصہ میں آج کی تاریخ سے سزائے موت حاویہ میں نہ پڑے تو میں ہر ایک سزا اٹھانے کے لئے تیار ہوں مجھ کو ذلیل کیا جائے۔ روسیاہ کیا جائے۔ میرے گلے میں رسہ ڈال دیا جائے۔ مجھ کو پھانسی دی جائے۔ ہر ایک بات کے لئے تیار ہوں۔ اور میں اللہ جل شانہ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ ضرور وہ ایسا ہی کرے گا۔ ضرور کرے گا۔ ضرور کرے گا۔ زمین آسمان ٹل جاویں پر اس کی باتیں نہ ٹلیں......... اگر میں جھوٹا ہوں میرے لئے سولی تیار رکھو اور تمام شیطانوں اور بدکاروں اور لعنتیوں سے زیادہ لعنتی مجھے قرار دو۔“

(جنگ مقدس ص ٢٠٩، ٢١٠ خزائن ج ٦ ص ٢٩١)

١٥

صفحہ ٥٠٥

نوٹ: عبداللہ آتھم عیسائی کے ساتھ مرزا غلام احمد کا مناظرہ ہوا اور یہ لگاتار پندرہ دن تک ہوتا رہا جس میں مرزا غلام احمد بہت ذلیل وخوار ہوا پھر اپنی ذلت کو چھپانے کے لئے اس نے یہ پیشین گوئی دی جس کا خلاصہ یہ ہے کہ عبداللہ آتھم پندرہ ماہ کے اندر مرجائے گا اور اس دن نابینا، بینا اور بہرے، سننے والے اور لنگڑے، چلنے والے ہو جائیں گے اور اس کو پختہ اور موکد کرنے کے لئے یہ کہا کہ اگر ایسا نہ ہوا تو مجھے ذلیل کیا جائے۔ میرے گلے میں رسہ ڈال دیا جائے مجھ کو پھانسی دی جائے۔ ہر ایک بات کے لئے تیار ہوں اور میں اللہ جل شانہ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ ضرور ایسا کرے گا۔ زمین و آسمان ٹل جائیں پر اس کی باتیں نہ ٹلیں گی اگر میں جھوٹا ہوں تو میرے لئے سولی تیار رکھو اور تمام شیاطین اور بدکاروں لعنتیوں سے زیادہ لعنتی مجھے قرار دو۔

ناظرین کرام! غور سے پڑھنا کیسی ٹھوس اور مؤکد پیشین گوئی کی ہے جس میں اس کے عدم کا تصور ہی نہیں آتا اور اللہ تعالیٰ کی قسمیں کھا کر کہا ہے۔ اب ہم سوال کرتے ہیں کہ کیا یہ پیشین گوئی پوری ہوئی ہے یا نہیں؟ تو یہ ظاہر ہے کہ پوری نہیں ہوئی۔ لہٰذا مرزا غلام احمد بقول خود تمام مذکورہ الفاظ کا مستحق ہوا۔ نیز مرزا کی اس پیشین گوئی کی طرف سے مختلف جواب دیتے ہیں جو حسب ذیل نقل کرتا ہوں۔

مرزائی عذر نمبر: ١

”عبداللہ آتھم نے اس مجلس میں ستر آدمیوں کے سامنے توبہ کر لی تھی۔“

(حقیقت الوحی ص ٢٠٧ حاشیہ، خزائن ج ٢٢ ص ٢١٦)

ابو المنصور: اگر اس نے اس وقت رجوع کر لیا تھا تو مرزا کو اسی مجلس میں اعلان کر دینا چاہئے تھا کہ چونکہ اس نے رجوع کر لیا ہے اس لئے میری پیشین گوئی میں کوئی حرج نہ ہوگا۔ حالانکہ مرزا غلام احمد کو بعد میں بھی یقین تھا کہ یہ ضرور پوری ہو کر رہے گی۔ تب ہی تو وظیفے کرائے اور رو رو کر تضرع اور زاری سے دعائیں کیں۔ مگر پھر بھی کچھ نہ بنا۔ ملاحظہ ہو!

(نمبر ٣٩٣ سیرت المہدی حصہ اول ص ٧٨) ”پیر سراج الحق نعمانی نے مجھ سے بیان کیا جب آتھم کی پیشین گوئی کی میعاد قریب آئی تو اہلیہ حضرت مولوی نور الدین نے خواب میں دیکھا ان سے کوئی کہتا ہے کہ ایک ہزار ماش کے دانے پر ایک ہزار دفعہ سورۃ الم تر کیف پڑھنی چاہئے اور پھر ان کو کہیں کنویں میں ڈال دیا جائے اور پھر واپس منہ پھیر کر دیکھا نہ جائے۔ خواب حضرت خلیفہ اوّل نے مرزا قادیانی کی خدمت میں عرض کیا۔ حضرت علیہ الرحمۃ نے فرمایا کہ اس خواب کو ظاہر میں پورا کر دینا چاہئے۔ جب آتھم کی میعاد کا ایک دن باقی رہ گیا تو حضرت مسیح موعود نے مجھ سے

١٦

اور میاں حامد علی مرحوم سے فرمایا کہ اتنے چنے لے آؤ۔

نوٹ: اگر رجوع ہو چکا تو اتنا واویلا کر

٢٠؍ جولائی ١٩٦٠ء مرزا محمود اس کے جواب میں کہ تیـ حضرت صاحب (یعنی مرزا غلام احمد) کی بھی تو پوری ذکر کیا ہے کہ: ”پھر آتھم کے متعلق پیشین گوئی کے و نہیں ہے۔ میں اس وقت چھوٹا بچہ تھا اور میری عمر ہے۔ جب آتھم کی پیشین گوئی کا آخری دن تھا تو کتنے نے تو محرم کا ماتم بھی کبھی اتنا سخت نہیں دیکھا۔ حضر دعا میں مشغول تھے۔“

مرزائی عذر نمبر: ٢

”فریق سے مراد ایک عبداللہ آتھم نہیں بـ

ابو المنصور:

نہیں کی، بلکہ اپنے مذہب پر اڑے رہے ہیں۔

ہے۔“ (کتاب البریہ ص ١٨٨، خزائن ج ١٣ ص ٢٠٦) ”آ کی تھی اگر رجوع بحق نہیں کرے گا تو مرجائے گا۔ مـ اس کے واسطے کی تھی کل متعلقین مباحثہ کی بابت پیشیـ

مرزائی عذر نمبر: ٣

”عبداللہ آتھم نے دل سے رجوع کر لیـ

ابو المنصور: یہ بالکل افتراء ہے اور کفر پندرہ ماہ کے اندر رجوع کیا تھا یا کہ پندرہ ماہ کی میعاد کیوں نہیں کیا اور اتنا پریشان ہو ہو کر اور رو رو کر دعـ کیا ہے تو مرزا کی پیشین گوئی کی مدت تو گزر گئی۔ مـ

صفحہ ٥٠٥

اور میاں حامد علی مرحوم سے فرمایا کہ اتنے چنے لے آؤ۔“

نوٹ : اگر رجوع ہو چکا تو اتنا واویلا کرنے سے منع کیوں نہیں کیا۔ (دیکھو الفضل ٢٠ جولائی ١٩٢٠ مرزا محمود اس کے جواب میں کہ تیری دعائیں پوری نہیں ہوتیں۔ لکھتا ہے کہ حضرت صاحب ( یعنی مرزا غلام احمد ) کی بھی تو پوری نہیں ہوئیں۔ چنانچہ ذکر کرتے کرتے یہ بھی ذکر کیا ہے کہ: ”پھر آتھم کے متعلق پیشین گوئی کے وقت جماعت کی جو حالت تھی وہ ہم سے مخفی نہیں ہے۔ میں اس وقت چھوٹا بچہ تھا اور میری عمر پانچ سال کی تھی۔ مگر وہ نظارہ مجھے خوب یاد ہے۔ جب آتھم کی پیشین گوئی کا آخری دن تھا تو کتنے کرب واضطراب سے دعائیں کی گئیں میں نے تو محرم کا ماتم بھی کبھی اتنا سخت نہیں دیکھا۔ حضرت مسیح موعود ( مرزا غلام قادیانی ) ایک طرف دعا میں مشغول تھے۔“

مرزائی عذر نمبر : ٢

”فریق سے مراد ایک عبداللہ آتھم نہیں۔ تمام عیسائی ہیں۔“

(انوار الاسلام ص ٢، ٨، خزائن ج ٩ ص ٢)

ابو المنصور:

نہیں کیا بلکہ اپنے مذہب پر اڑے رہے ہیں۔

ہے۔“ (کتاب البریہ ص ١٨٨، خزائن ج ١٣ ص ٢٠٦) ”عبداللہ آتھم کے متعلق ہم نے شرطیہ پیشین گوئی کی تھی اگر رجوع بحق نہیں کرے گا تو مر جائے گا۔ عبداللہ آتھم کی درخواست پر یہ پیشین گوئی صرف اس کے واسطے کی تھی کل متعلقین مباحثہ کی بابت پیشین گوئی نہ تھی۔“

مرزائی عذر نمبر : ٣

”عبداللہ آتھم نے دل سے رجوع کر لیا تھا اس لئے ہلاک نہیں ہوا۔“

(انوار الاسلام ص ٢، خزائن ج ٩ ص ٢)

ابو المنصور: یہ بالکل افتراء ہے اور کذب بیانی ہے۔ سوال یہ ہے کہ عبداللہ آتھم نے پندرہ ماہ کے اندر رجوع کیا تھا یا کہ پندرہ ماہ کی میعاد کے بعد، اگر پہلے کیا تو مرزا قادیانی نے اعلان کیوں نہیں کیا اور اتنا پریشان ہو ہو کر اور رو رو کر دعائیں کیوں کرتا رہا۔ اگر پندرہ ماہ کے بعد رجوع کیا ہے تو مرزا کی پیشین گوئی کی مدت تو گزر گئی۔ معلوم ہوا کہ مرزا سراسر جھوٹا اور کذاب ہے۔

١٧

صفحہ ٥٠٧

مرزائی عذر نمبر : ٤

”اگر آتھم نے رجوع نہیں کیا تھا تو اس نے قسم کیوں نہیں کھائی جب کہ مرزا نے کہا تھا کہ اگر تو سچا ہے تو قسم اٹھا ۔“

ابو المنصور: عیسائیوں کے نزدیک سچی قسم اٹھانا بھی ناجائز ہے۔ جیسا کہ خود مرزا قادیانی نے لکھا ہے: (کشتی نوح ص ٢٧، خزائن ج ١٩ ص ٢٩) ”قرآن تمہیں انجیل کی طرح یہ نہیں کہتا کہ ہرگز قسم نہ کھا بلکہ بیہودہ قسموں سے تمہیں روکتا ہے۔“ (نیز دیکھو انجیل متی پ ٥ آیت نمبر ٣٣، ٣٤) (لیکن میں قسم کھا کر کہتا ہوں کہ بالکل قسم نہ کھانا) عبداللہ آتھم کا قسم سے انکار اپنے مذہب کی بناء پر تھا۔ جیسا کہ عبداللہ آتھم نے مرزا کو کہا تھا کہ مرزا خوک کا گوشت کھا کر ثابت کرے کہ وہ مسلمان ہے تو مرزا غلام احمد نے اپنے مذہب کی بناء پر خوک (سور) کا گوشت کھانے سے انکار کر دیا تھا۔ (دیکھو کتاب البریہ ص ١٧٨، خزائن ج ١٣ ص ١٩٦) مرزا خوک کا گوشت کھا کر ثابت کرے کہ وہ مسلمان ہے کیونکہ مسلمان اسے مسلمان نہیں مانتے۔ دیکھئے جیسے مرزا قادیانی سور کا گوشت کھا کر اپنے مذہب کا ثبوت نہیں دے سکتا۔ اسی طرح عبداللہ آتھم قسم کھا کر اپنے عدم رجوع کا ثبوت نہیں دے سکتا۔ مولوی ثناء اللہ کے ساتھ مناظرہ ہوا جس میں مرزا خوب رسوا ہوا اس رسوائی کو چھپانے کے لئے یہ پیشین گوئی نکال ماری جو جھوٹی نکلی۔

پیشین گوئی نمبر : ٤

”اور واضح رہے کہ مولوی ثناء اللہ کے ذریعے سے عنقریب نشان میرے ظاہر ہوں گے۔ اول وہ قادیان میں تمام پیشین گوئیوں کی پڑتال کے لئے میرے پاس ہر گز نہیں آئیں گے اور سچی پیشین گوئیوں کا اپنی قلم سے تصدیق کرنا ان کے لئے موت ہو گی اگر اس چیلنج پر وہ مستعد ہوں کہ کاذب صادق سے پہلے مر جائے تو ضرور پہلے مریں گے اور سب سے پہلے اس اردو مضمون اور عربی قصیدہ کے مقابلہ سے عاجز رہ کر جلد تر ان کی روسیاہی ثابت ہو جائے گی۔“

(ضمیمہ نزول مسیح ص ٣٨، خزائن ج ١٩ ص ١٤٨)

نوٹ : مرزا کے تینوں جھوٹ ثابت ہو چکے۔

میں نہ آسکا۔“

مرزا مولوی ثناء اللہ کی زندگی ہی میں مر گیا۔“

١٨

مرزا نہ کر سکا۔“ اور یہ ہے جھوٹے نبی کی حقیقت کہ صر پھر مولوی ثناء اللہ نے مقابلے میں ایک قصیدہ شائع کی نیز مرزا ان کی ایک غلطی بھی ثابت نہ کر سکا اور لطف ی گیا اور اہلحدیث اخبار میں چھپا۔ مرزا کی کئی پیشین ہوئیں۔ ذرا پیچھے مرزا غلام احمد کے صدق و کذب ک شخصیت تم پر اچھے طریقہ سے واضح ہو جائے۔

مرزائی عذر

”یہ دعائیں نہ تھیں بلکہ مباہلہ تھا اور مبا قادیانی اکیلے تھے لہٰذا مباہلہ منعقد نہ ہوا۔ مرزا قادیا حرج لازم نہیں آتا۔“

ابو المنصور:

کی اور کہا کہ جو چاہے مولوی ثناء اللہ اس کے نیچے آ فیصلہ ہے۔ مرقوم ١٠؍ اپریل ١٩٠٧ء بالآخر مولوی ص کو اپنے پرچے میں چھاپ دیں اور جو چاہیں اس ہے۔

نوٹ: اب اس میں یہ شرط نہیں کہ اگر ایک دعا ہے اور مولوی ثناء اللہ کو اختیار ہے جو چاہ چنانچہ ہو بھی گئی اور اپنی ہی دعا سے مرزا جو اس اش سے ہلاک ہوگا۔

مناظرہ ہوا اور تین تین صد روپیہ ہر ایک فریق ن شکست کھا گیا اور مولوی ثناء اللہ کو چھ صد روپیہ مل گ

١٩٠٢ء میں مباہلہ نہ کرنے کا معاہدہ کر لیا تھا تو

صفحہ ٥٠٧

مرزا نہ کر سکا۔“ اور یہ ہے جھوٹے نبی کی حقیقت کہ صرفی، نحوی، عروضی غلطیاں قصیدہ میں کرتا رہا۔ پھر مولوی ثناء اللہ نے مقابلے میں ایک قصیدہ شائع کیا جو الہامات مرزا کے ص ١٠٣ پر موجود ہے۔ نیز مرزا ان کی ایک غلطی بھی ثابت نہ کر سکا اور لطف کی بات یہ ہے کہ مرزا کی مقرر میعاد کے اندر لکھا گیا اور اہلحدیث اخبار میں چھپا۔ مرزا کی کئی پیشین گوئیاں الکذب فوق الکذب من الکذب ثابت ہوئیں۔ ذرا پیچھے مرزا غلام احمد کے صدق و کذب کے معیار دوبارہ پڑھ لیں تا کہ مرزا غلام احمد کی شخصیت تم پر اچھے طریقہ سے واضح ہو جائے۔

مرزائی عذر

”یہ دعائیں نہ تھیں بلکہ مباہلہ تھا اور مباہلہ میں طرفین ہوتے ہیں۔ لہٰذا یہاں پر مرزا قادیانی اکیلے تھے لہٰذا مباہلہ منعقد نہ ہوا۔ مرزا قادیانی کے مولوی ثناء اللہ سے پہلے مرنے میں کوئی حرج لازم نہیں آتا۔“

ابو المنصور:

کی اور کہا کہ جو چاہے مولوی ثناء اللہ اس کے نیچے لکھ دے مولوی ثناء اللہ صاحب کے ساتھ آخری فیصلہ ہے۔ مرقوم ١٥ اپریل ١٩٠٧ء بالآخر مولوی صاحب سے التماس ہے کہ وہ میرے اس مضمون کو اپنے پرچے میں چھاپ دیں اور جو چاہیں اس کے نیچے لکھ دیں۔ اب فیصلہ خدا کے ہاتھ میں ہے۔

(مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ٥٧٩)

نوٹ: اب اس میں یہ شرط نہیں کہ اگر وہ نہیں لکھیں گے تو یہ دعا نہیں رہے گی بلکہ یہ ایک دعا ہے اور مولوی ثناء اللہ کو اختیار ہے جو چاہیں لکھیں۔ دعا جھوٹے کے حق میں قبول ہوگی۔ چنانچہ ہو بھی گئی اور اپنی ہی دعا سے مرا جو اس اشتہار میں مرقوم تھی کہ طاعون سے یا ہیضہ وغیرہ سے ہلاک ہوگا۔

مناظرہ ہوا اور تین تین صد روپیہ ہر ایک فریق نے بچن سنگھ ثالث کے پاس رکھا تو قاسم علی مرزائی شکست کھا گیا اور مولوی ثناء اللہ کو چھ صد روپیہ مل گیا۔

١٩٠٢ء میں مباہلہ نہ کرنے کا معاہدہ کر لیا تھا تو پھر آخری فیصلہ میں مباہلہ کیونکر مراد ہو سکتا ہے۔

١٩

صفحہ ٥٠٨

ملاحظہ ہو، (ضمیمہ نزول مسیح ص ١٤، خزائن ج ١٩ ص ١٢٦) ”لیکن ہم موت کے مباہلہ میں اپنی طرف سے کوئی چیلنج نہیں کر سکتے کیونکہ حکومت کا معاہدہ ایسے چیلنج سے ہمیں مانع ہے۔“ نوٹ: ناظرین دیکھا آپ نے مرزا غلام احمد جگہ جگہ کیسے ذلیل و خوار ہوتا رہا ہے۔ اگر عیسائیوں سے مناظرہ کیا تو بھی شکست اور اگر دوسروں سے کیا تو بھی شکست اور اگر پیشین گوئی دے بیٹھا تو وہ بھی جھوٹی نکلی خدا جانے کیسی بے شرمی سے لوگوں کے سامنے منہ نکالتا ہوگا۔

پیشین گوئی نمبر: ٥

”آج ٧/ اپریل ١٨٨٦ء میں اللہ جل شانہ کی طرف سے اس عاجز پر اس قدر کھل گیا کہ ایک لڑکا بہت ہی قریب ہونے والا ہے جو مدت ایک حمل سے تجاوز نہیں کر سکتا۔“ (مجموعہ اشتہارات ج ١ ص ١١٧) اس الہام سے ظاہر ہے کہ غالباً ایک لڑکا ابھی ہونے والا ہے یا بالضرور اس کے قریب حمل میں۔“ (ایضاً)

نوٹ: مذکورہ تحریر مرزا جس کو ہم نے دو حصوں میں تقسیم کر کے نقل کیا ہے۔ اس کے پہلے حصے میں ایک مدت حمل کے اندر ایک لڑکے کی ولادت الہام سے لکھی ہے اور دوسرے حصہ میں پھر اسے گول مول رکھنے کے لئے یہ لفظ لکھے ہیں (ایک لڑکا ابھی ہونے والا ہے یا اس کے قریب حمل میں) یہ ہے جھوٹے کا جھوٹ الہام اور کیسے صریح الہام میں اپنی عبارت کو گول مول بنا لیا ہے۔ مگر لڑکے بجائے لڑکی پیدا ہوئی۔ اس میں کچھ اعتراض و جواب بھی ہیں ہم طوالت کی وجہ سے نظر انداز کرتے ہیں۔

پیشین گوئی نمبر: ٦

(اشتہار ٢٠/ فروری ١٨٨٦ء حاشیہ) پر ایک پیشین گوئی مرزے نے یہ کی تھی: ”خداوند کریم نے مجھے بشارت دے کر کہا کہ خواتین مبارکہ سے جن میں تو بعض کو اس اشتہار کے بعد پائے گا۔ تیری نسل بہت ہوگی۔“

(مجموعہ اشتہارات ج ١ ص ١٠٢)

نیز ایسا ہی اشتہار محکمہ اخبار واشتہار میں لکھا ہے: ”اس عاجز نے ٢٠/ فروری ١٨٨٦ء کے اشتہار میں یہ پیشین گوئی خدا تعالیٰ کی طرف سے بیان کی تھی کہ اس نے مجھے بشارت دے کر کہا تھا کہ بعض بابرکت عورتیں اس اشتہار کے بعد بھی تیرے نکاح میں آئیں گی اور ان سے اولاد پیدا ہوگی۔“

(مجموعہ اشتہارات ج ١ ص ١٣٠)

نوٹ: ١٨٨٦ء کے بعد مرزا کے نکاح میں خواتین چھوڑ کر ایک خاتون بھی نہیں آئی اور ان سے جو اولاد پیدا ہونی تھی وہ معلوم نہیں کہاں رکی ہوئی ہے۔ ٢٠

٩

پیشین گوئی نمبر: ٧

مرزا غلام احمد کی عادت تھی کہ جب کسی طرح ایک دفعہ اپنے ایک مرید میاں منظور احمد کی دے دی ملاحظہ ہو۔ ”دیکھا کہ منظور محمد صاحب کے ہاں لڑکے کا کیا نام رکھا جائے تب خواب سے حالت فرمایا کئی آدمیوں کے واسطے دعا کی جاتی ہے۔ اشارہ ہے۔“ نیز مرزا نے اس گول مول الہام میں اگر منظور محمد کے گھر لڑکا پیدا ہوا تو چاندی کھری چسپاں کر دیں گے۔ لیکن خدا تعالیٰ کو مرزا کی رسوائی ٤ ماہ بعد مرزا کے قلم سے یہ تحریر کرا دیا۔ ملاحظہ معلوم ہوا کہ میاں منظور محمد صاحب کے گھر یعنی جس کے دو نام ہوں گے۔ بشیر الدولہ، عالم کباب بشیر الدولہ سے مراد ہماری دولت اور اقبال کے ہے کہ اس کے پیدا ہونے سے چند ماہ بعد تک یا پر ایک سخت تباہی آئے گی گویا دنیا کا خاتمہ ہو جائے کے سرکش لوگوں کے لئے کچھ اور مہلت منظور ہے میں پیدا ہوگا۔ مگر ضرور ہوگا کیونکہ وہ خدا کا نشان اگر چہ یہ عبارت بھی فریب کا مرقع ہے منظور محمد کے گھر عالم کباب ضرور پیدا ہوگا۔ جو خدا اس الہام بازی کا نتیجہ یہ نکلا کہ اس کے ایک ماہ ١٩٠٦ء کو لڑکی پیدا ہوئی۔ اس کے بعد کوئی لڑکا نہیں بناسپتی الہامات کا بھانڈہ پھوٹ گیا۔ ملاحظہ ہو ”اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے کہ یہ پیش گوئی کب اور کا وقوعہ اس کے ذریعے فرمایا تھا مگر چونکہ مرزا

صفحہ ٥٠٩

پیشین گوئی نمبر: ٧

مرزا غلام احمد کی عادت تھی کہ جب کسی عورت کو حاملہ دیکھ لیتا تو فوراً الہام جڑ دیتا۔ اسی طرح ایک دفعہ اپنے ایک مرید میاں منظور احمد کی اہلیہ کو حاملہ دیکھا تو بکمال غیب دانی پیش گوئی دے دی ملاحظہ ہو۔

”دیکھا کہ منظور محمد صاحب کے ہاں لڑکا پیدا ہوا ہے۔ دریافت کرتے ہیں کہ اس لڑکے کا کیا نام رکھا جائے تب خواب سے حالت الہام کی طرف چلی گئی اور معلوم ہوا کہ بشیر الدولہ فرمایا کئی آدمیوں کے واسطے دعا کی جاتی ہے۔ معلوم نہیں کہ منظور محمد کے لفظ سے کس کی طرف اشارہ ہے۔“

(تذکرہ ص )

نیز مرزا نے اس گول مول الہام میں عجیب فریب سے کام لیا ہے۔ مطلب یہ کہ بندہ اگر منظور محمد کے گھر لڑکا پیدا ہوا تو چاندی کھری ہے۔ کہہ دیں گے کہ یہی مراد تھا ورنہ کسی اور پر چسپاں کردیں گے۔ لیکن خدا تعالیٰ کو مرزا کی رسوائی منظور تھی اس لئے اس الہام کے قریباً سات ماہ بعد مرزا کے قلم سے یہ تحریر کرادیا۔ ملاحظہ ہو عبارت مرزا: ”جون ١٩٠٦ء بذریعہ الہام یہ معلوم ہوا کہ میاں منظور محمد صاحب کے گھر یعنی محمدی بیگم (یعنی زوجہ منظور محمد ) کا ایک لڑکا پیدا ہوگا جس کے دو نام ہوں گے۔ بشیر الدولہ، عالم کباب، یہ دونوں نام بذریعہ الہام الہی معلوم ہوئے۔ بشیر الدولہ سے مراد ہماری دولت اور اقبال کے لئے بشارت دینے والا ۔ عالم کباب سے یہ مراد ہے کہ اس کے پیدا ہونے سے چند ماہ بعد تک یا جب تک کہ وہ اپنی برائی بھلائی شناخت کرے دنیا پر ایک سخت تباہی آئے گی گویا دنیا کا خاتمہ ہو جائے گا۔ خدا کے الہام سے معلوم ہوتا ہے کہ اگر دنیا کے سرکش لوگوں کے لئے کچھ اور مہلت منظور ہے تب بالفعل لڑکا نہیں لڑکی پیدا ہوگی اور وہ لڑکا بعد میں پیدا ہوگا۔ مگر ضرور ہوگا کیونکہ وہ خدا کا نشان ہے۔“

(ملخص ریویو ماہ جون ١٩٠٦ء ورق آخر)

اگر چہ یہ عبارت بھی فریب کا مرقع ہے۔ تاہم اتنا معاملہ بالکل عیاں ہو گیا ہے کہ میاں منظور محمد کے گھر عالم کباب ضرور پیدا ہوگا۔ جو خدا کا نشان ہے اور مرزا کے اقبال کا شاہد ہوگا۔ لیکن اس الہام بازی کا نتیجہ یہ نکلا کہ اس کے ایک ماہ دس دن بعد میاں منظور کے گھر مورخہ ١٧ جولائی ١٩٠٦ء کو لڑکی پیدا ہوئی۔ اس کے بعد کوئی لڑکا نہیں ہوا۔ حتیٰ کہ محمدی بیگم کا انتقال ہو گیا اور مرزا کے بناسپتی الہامات کا بھانڈہ پھوٹ گیا۔ ملاحظہ ہو مرزا کا مرید اس پیشینگوئی کو نقل کر کے لکھتا ہے: ”اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے کہ یہ پیش گوئی کب اور کس رنگ میں پوری ہوگی گو حضرت اقدس نے اس کا وقوع محمدی بیگم کے ذریعے فرمایا تھا مگر چونکہ وہ فوت ہو چکی ہے۔ اس لئے اب نام کی تخصیص

٢١

صفحہ ٥١٠

رہی بہرحال یہ پیش گوئی متشابہات سے ہے۔“

(البشریٰ ج ٢ ص ١١٦)

پیش گوئی نمبر: ٨

ماہ جنوری ١٩٠٣ء میں جب کہ مرزا قادیانی کی بیوی حاملہ تھی مرزا غلام احمد اپنی کتاب (مواہب الرحمٰن ص ١٣٩، خزائن ج ١٩ ص ٣٦٠) میں یہ پیش گوئی کی جو سراسر جھوٹی نکلی۔ ملاحظہ ہو عبارت: ”الحمد للہ الذی وھب لی علی الکبر اربعۃ من البنین وبشرنی بخامس۔ سب تعریف خدا کو ہے جس نے مجھے بڑھاپے میں چار لڑکے دیئے اور پانچویں کی بشارت دی۔“

نوٹ: اس حمل سے مرزا کے گھر ٢٨؍ جنوری ١٩٠٣ء کو ایک لڑکی پیدا ہوئی جو صرف چند ماہ عمر پا کر فوت ہو گئی۔

(دیکھو اخبار الحکم ٣؍دسمبر ١٩٠٣ء)

قادیانی عذر اس سے مراد پوتا ہے جو محمود احمد کے گھر ساڑھے چار برس بعد پیدا ہوا ہے۔ جس کا نام نصیر الدین احمد ہے۔

ابو المنصور: پیش گوئی میں پانچویں کی تصریح ظاہر کر رہی ہے کہ وہ لڑکا مرزا کا ہوگا ورنہ پوتے کو پانچواں کہنا چہ معنی دارد بحالیکہ پوتے کئی ایک ہیں۔ معلوم ہوا کہ یہ پیش گوئی جھوٹی ہے۔ جو مرزا کے کذب پر دلالت کرتی ہے۔

پیش گوئی نمبر: ٩

مئی ١٩٠٣ء میں مرزا قادیانی کی بیوی حاملہ تھی۔ جلدی سے الہام تراش مارا جو جھوٹا نکلا۔ ملاحظہ ہو: ”فرزند گرامی، شوخ و شنگ لڑکا پیدا ہوگا۔“

(تذکرہ طبع سوم ص ٥١٣)

نوٹ: اس الہام کے ایک ماہ بعد مورخہ ٢٣ جون ٣ء کو لڑکی پیدا ہوئی جس کا نام امۃ الحفیظ رکھا۔ (حقیقت الوحی ص ٢١٨، خزائن ج ٢٢ ص ٢٢٨) مگر وہ شوخ و شنگ لڑکا نہ اس حمل سے پیدا ہوا نہ اس کے بعد کسی حمل سے پیدا ہوا۔

پیش گوئی نمبر: ١٠

مرزا قادیانی نے ایک پیش گوئی مولانا محمد حسین صاحب بٹالوی کے متعلق بھی کی تھی جو پوری نہ ہوئی۔ پہلے تو ١٨٩٧ء میں ایک گول مول پیش گوئی کی۔ ملاحظہ ہو: ”مگر مجھے معلوم نہیں کہ ایمان (محمد حسین کا) فرعون کی طرح صرف اسی قدر ہوگا کہ آمنت بالذی آمنت بہ بنو اسرائیل یا پرہیز گار لوگوں کی طرح۔“

(استفتاء ص ٢٦ بر حاشیہ، خزائن ج ١٢ ص ١٣٠)

٢٢

صفحہ ٥١١

لیکن اللہ تعالیٰ نے مرزا کذاب ومفتری اور دجال کو رسوا کروانا تھا اس لئے مرزا سے صاف طور پر محمد حسین کا ایمان لانا لکھوالیا۔ ملاحظہ ہو عبارت مرزا: ”ہم اس کے ایمان سے ناامید نہیں ہوئے بلکہ امید بہت ہے۔ اسی طرح خدا کی وحی خبر دے رہی ہے۔......

(اے مرزا!) تجھ پر خدا تعالیٰ تیرے دوست محمد حسین کا مقسوم ظاہر کردے گا۔ سعید ہے۔ پس روز مقدار اس کو فراموش نہیں کرے گا اور خدا کے ہاتھوں سے زندہ کیا جائے گا اور خدا قادر ہے اور رشد کا زمانہ آئے گا اور گناہ بخش دیا جائے گا۔ پس پاکیزگی اور طہارت کا پانی اسے پلائیں گے اور نسیم صبا خوشبو لائے گی اور معطر کردے گی۔ میرا کلام سچا ہے میرے خدا کا قول ہے۔ جو شخص تم میں سے زندہ رہے گا دیکھ لے گا۔“

(اعجاز احمدی ص ٥٠، ٥١، خزائن ج ١٩ص ١٦٢)

نوٹ: ان الفاظ مرقومہ بالا سے صاف عیاں ہے کہ مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی ایک نہ ایک دن ضرور مرزا پر ایمان لائیں گے۔ حالانکہ یہ پیش گوئی بالکل غلط اور سراسر باطل نکلی مرزا نے اس پیش گوئی کو اللہ تعالیٰ کی وحی گردانا ہے اور اللہ تعالیٰ پر افترا باندھا ہے۔

حضرات! مرزا غلام احمد کی پیش گوئیاں بے شمار غلط ثابت ہوئی ہیں۔ جن میں سے ہم نے نمونہ کے طور پر چند نقل کردی ہیں۔ سمجھنے والے کے لئے مرزا کے فتوٰی کے مطابق ایک پیش گوئی میں جھوٹا ثابت کردینا ہی کافی ہے۔ لیکن: ”تلک عشرۃ کاملۃ “ یہ پوری دس جھوٹی پیش گوئیاں ہم نقل کر چکے ہیں: ”العاقل تکفیہ الاشارۃ“ عاقل را اشارہ کافیست!

مرزا غلام احمد قادیانی کا گالیوں کے بارے میں فتویٰ

تصویر کا پہلا رخ

(کشتی نوح ص ١١، خزائن ج ١٩ص ١٠)

ہے۔“

(قادیان کے آریہ اور ہم ص ٦١، خزائن ج ٢٠ص ٤٥٨)

(ضمیمہ اربعین نمبر ٤ ص ٥، خزائن ج ١٧ص ٤٧١)

(ست بچن ص ٢١، خزائن ج ١٠ص ١٣٣)

نوٹ: مرزا غلام احمد کی گالیوں کی مجموعی تعداد پونے تین صد کے قریب ہے۔ تفصیل کے لئے دیکھو مغلظات مرزا مصنفہ مولوی نور محمد (یہ کتاب احتساب قادیانیت کی جلد ١٧ میں چھپ

٢٣

صفحہ ٥١٣

چکی ہے۔ مرتب) لیکن ہم نمونے کے طور پر چند گالیاں یہاں نقل کرتے ہیں۔ ملاحظہ ہوں۔

تصویر کا دوسرا رخ ...... پیروں کو گالیاں

سب شیاطین الانس ہیں۔“

(ضمیمہ انجام آتھم ص ١٧، ١٨، خزائن ج ١١ ص ٣٠٢)

ہیں ورنہ صرف دروغ گو بلکہ سخت دروغ گو ہیں۔“

(نزول المسیح ص ٦٦، خزائن ج ١٨ ص ٤٣٤)

(حاشیہ نزول المسیح ص ٧٠، خزائن ج ١٨ ص ٤٣٨)

علماء کو گالیاں

”اے بدبخت مفتریو!...... نہ معلوم وحشی فرقہ کیوں شرم و حیا سے کام نہیں لیتا۔“

(ضمیمہ انجام آتھم ص ٥١، خزائن ج ١١ ص ٣٣٢)

(اشتہار انعامی تین ہزار ص ٥، مجموعہ اشتہارات ج ٢ ص ٦٩)

(انجام آتھم ص ٢١، خزائن ج ١١ ص ٢١)

سب جانوروں میں سب سے زیادہ پلید اور کراہت کے لائق ، خنزیر سے زیادہ پلید وہ لوگ ہیں .......... اے مردار خور مولویو اور گندی روحو! .......... اے اندھیرے کیڑو۔“

(ضمیمہ انجام آتھم ص ٢١، خزائن ج ١١ ص ٣٠٥)

نطفہ بدگو ہے اور خبیث اور مفسد جھوٹ کو طمع کرنے والا منحوس ہے۔ جس کا نام جاہلوں نے سعد اللہ رکھا ہے۔ ...... خیرالناس ایک خبیث گھوڑا ہے۔ اے حرامی لڑکے۔“

(تتمہ حقیقت الوحی ص ١٤، ١٥، خزائن ج ٢٢ ص ٤٤٥، ضمیمہ انجام آتھم، خزائن ج ١١ ص ٢٨١)

(ص ٤٨١) پر یہ لکھا ہے کہ اے نسل بدکاراں ان کے علاوہ آئینہ کمالات، انجام آتھم، براہین احمدیہ، مواہب الرحمٰن اور ازالۃ اوہام وغیرہ رنگین و مرصع گالیوں سے بھری ہوئی ہیں جو مرزا کی اخلاقی تصویر کو برہنہ اور بے نقاب کر دیتی ہے۔

٢٤

عوام کو گالیاں

مرزا غلام احمد قادیانی لکھتا ہے:

میرے مخالف جنگلوں کے سور ہیں اور ان کی عورتیں کتیا

معار فها ويقبلني ويصدق دعوتى الا ذري نگاہوں سے دیکھتا ہے اور ان کے معارف سے فائ دعوت کی تصدیق کرتا ہے۔ سوائے بدکار عورتوں کی او

لطیفہ عجیبہ

مرزا غلام احمد کا بڑا لڑکا فضل احمد مرزا پر ہو گیا تھا اور مرزا غلام احمد قادیانی نے اس کا جنازہ پ فتویٰ مذکورہ جو عوام کو گالیوں کے تحت درج ہے۔ مرز اگر آپ نہیں سمجھے تو ہم بتا دیتے ہیں۔

محبت کی نگاہ سے نہیں دیکھا تو مرزا کے فتویٰ کے مط کی اولاد) اور خنازیر الفلاء (یعنی جنگلوں کے سؤر) بیوی کتنیوں سے بدتر اور بدکار اور کنجری ٹھہری۔ تو یہ اور کافرہ ہو سکتی ہیں۔ جیسا کہ نوح اور لوط علیہما الصلوٰ فرمایا ہے: ”فخانتا هما فی الدین ای لافی امراة نبي قط“ (پ ٢٨، رکوع ٢٠، تفسیر الصاوی نوح اور لوط علیہما الصلاۃ والسلام کی بیوی نے دین نہیں کیا) اس لئے کہ ابن عباسؓ سے روایت ہے ک ناظرین! غور کریں کسی بھی نبی کی بیو غلام احمد کے اپنے فتویٰ کے مطابق کنجری اور بد میں جھوٹا ہے۔

صفحہ ٥١٣

عوام کو گالیاں

مرزاغلام احمد قادیانی لکھتا ہے:

میرے مخالف جنگلوں کے سور ہیں اور ان کی عورتیں کتیوں سے بڑھ کر ہیں۔“

(نجم الہدیٰ ص١٠، خزائن ج١٤ ص٥٣)

معارفها ويقبلني ويصدق دعوتى الا ذرية البغايا۔ میری کتابوں کو ہر مسلمان محبت کی نگاہوں سے دیکھتا ہے اور ان کے معارف سے فائدہ اٹھاتا ہے اور مجھے قبول کرتا ہے اور میری دعوت کی تصدیق کرتا ہے۔ سوائے بدکار عورتوں کی اولاد کے۔“

(آئینہ کمالات ص٥٤٧، خزائن ج٥ ص٥٤٧)

لطیفہ عجیبہ

مرزاغلام احمد کا بڑا لڑکا فضل احمد مرزا پر ایمان نہیں لایا اور مرزا کی زندگی میں ہی فوت ہو گیا تھا اور مرزاغلام احمد قادیانی نے اس کا جنازہ بھی نہیں پڑھا تو اس کا آپ خود فیصلہ کریں کہ اس فتویٰ مذکورہ جو عوام کو گالیوں کے تحت درج ہے۔ مرزا کا یہ لڑکا کیا بنا اور مرزا کی بیوی کیا بنی۔

اگر آپ نہیں سمجھے تو ہم بتا دیتے ہیں۔ اس نے مرزا کی کتابوں کی تصدیق نہیں کی اور محبت کی نگاہ سے نہیں دیکھا تو مرزا کے فتویٰ کے مطابق وہ ذریۃ البغایا (یعنی کنجریوں یا بدکار عورتوں کی اولاد) اور خنازیر الفلاء (یعنی جنگلوں کے سؤر) ٹھہرا (العیاذ باللہ) اور اس کی والدہ یعنی مرزا کی بیوی کتیوں سے بدتر اور بدکار اور کنجری ٹھہری۔ تو یہ مسلم بات ہے کہ انبیاء کی عورتیں زانی نہیں ہوتیں اور کافرہ ہو سکتی ہیں۔ جیسا کہ نوح اور لوط علیہما الصلوٰۃ والسلام کی بیویوں کے متعلق مفسرین نے ارشاد فرمایا ہے: ”فخانتاهما فى الدين اى لافی الزنا، لما ورد عن ابن عباس انه مازنت امراة نبى قط“ (پ٢٨ رکوع٢٠، التفسیر الصاوی الجلالین) ”پس ان دونوں نے خیانت کی (یعنی نوح اور لوط علیہما الصلوٰۃ والسلام کی بیوی نے دین میں، زنا میں نہیں (یعنی دونوں نے کفر کیا ہے زنا نہیں کیا) اس لئے کہ ابن عباسؓ سے روایت ہے کہ کسی نبی کی بیوی نے کبھی زنا نہیں کیا۔“

ناظرین! غور کریں کسی بھی نبی کی بیوی نے زنا نہیں کیا اور مرزاغلام احمد کی بیوی مرزا غلام احمد کے اپنے فتویٰ کے مطابق کنجری اور بدکار عورت ہوئی۔ معلوم ہوا کہ یہ نبوت کے دعویٰ میں جھوٹا ہے۔

٢٥

صفحہ ٥١٥

مرزائی عذر

”ذریۃ البغایا کا معنی کنجریوں کی اولاد نہیں بلکہ سرکش لوگ مراد ہیں۔“

ابو المنصور:

جواب نمبر ١...... یہ بالکل ہی غلط ہے مرزا غلام احمد نے خود مندرجہ ذیل کتب میں اس لفظ کا معنی کنجریوں کا بیٹا۔ (انجام آتھم ص ٢٨١، خزائن ج ١١ ص ٢٨٢) خراب عورتوں اور دجال کی نسل۔ (نور الحق ص ١٢٣ حصہ اول، خزائن ج ٨ ص ١٦٣) بازاری عورتیں۔ (خطبہ الہامیہ ص ١٧، خزائن ج ١٦ ص ٤٩) پر کیا ہے۔

نیز قرآن پاک میں ہے: یہودیوں نے مریم کو عیسیٰ علیہ السلام کی ولادت کے بعد کہا تھا ”وما كانت امك بغيا“ تیری ماں زنا کار اور بدکار نہ تھی۔

جواب نمبر ٢...... اگر یہ گالی نہیں تو ہم کہتے ہیں کہ جو مرزا غلام احمد پر ایمان لایا یا لائے گا وہ ذریۃ البغایا ہے۔ بتائیے کیا خیال ہے۔ کوئی تکلیف تو نہیں ہوئی اور ہونی بھی نہیں چاہئے بلکہ وہ ہم کو دعائیں دیں اس لئے کہ مرزا غلام احمد نے لکھا ہے:

گالیاں سن کر دعا دو پا کے دکھ آرام دو
کبر کی عادت جو دیکھو تم دکھاؤ انکسار!
تم نہ گھبراؤ مگر وہ گالیاں دیں ہر گھڑی
چھوڑ دو ان کو چھپوائیں وہ ایسے اشتہار

(در ثمین ص ٨٤، خزائن ج ٢١ ص ١٤٤)

نوٹ: فقیر نے جو ماقبل مرزا غلام احمد کی گالیاں تین سرخیوں کے تحت (١...... پیروں کو گالیاں۔ ٢...... علماء کو گالیاں۔ ٣...... عوام کو گالیاں) نقل کی ہیں اس میں آپ نے خوب پڑھ لیا ہوگا۔ کتنی بدزبانی اور بے لگامی سے کام لیا گیا ہے اور کیسی بے ہودہ بکواس کی ہے۔ مثلاً مولویت کے شتر مرغ، شیاطین الانس، کوڑ مغز، بدبخت، مفتریو، وحشی فرقہ، کیوں شرم سے کام نہیں لیتا۔ بے ایمانو، نیم عیسائیو، دجال کے ہمراہیو، اے بدذات فرقہ مولویو، بعض خبیث طبع مولوی، یہودیت کا خمیر اپنے اندر رکھتے ہیں۔ خنزیر سے زیادہ پلید، اے مردار خور مولوی اور گندی روحو، اے اندھیرے کے کیڑو، شیطان ملعون سفیہون کا نطفہ، بدگو، منحوس، نسل بدکاران، جنگلوں کے سور، کتیوں کی اولاد، ذریۃ البغایا وغیرہ لکھا ہے۔

٢٦

اب ذرا مرزا قادیانی کے وہ اقوال سا کے بارے میں فتویٰ) کے عنوان کے تحت درج کیا یعنی (گالی دینا اور بدزبانی طریق شرف ہے۔ جس دل میں یہ نجاست بیت الخلاء وہی ہے اب مرزا غلام احمد اپنے اقوال کے مطابق کیا بنا اور

مرزائی عذر

”مرزا قادیانی نے جوابی طور پر گالیاں ابو المنصور: یہ عذر بالکل غلط ہے کیونک کسی کو گالی نہیں دی۔ (مواہب الرحمٰن ص ١٨، خزائن نے اس سے پہلے (نوٹ) میں نقل کیا ہے۔ اگر و کے سزاوار ولائق مرزا غلام احمد قادیانی اور اس کے

مرزا غلام احمد قادیانی کا انبیاء علیؑ

تصویر کا پہلا رخ

انبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام کی توہین کر

دیتا ہے۔“

نوٹ: ان تین حوالوں کے باوجو انبیاء کی توہین کی ہے۔ اس کو کوئی حلیم سے حلیم خصوصاً حضرت عیسیٰ روح اللہ اور کلمۃ اللہ علی صدیقہ حضرت مریم کی شانِ اقدس میں تو وہ مسلمانوں کے دل ہل جاتے ہیں۔ مگر ضرور سے کچھ بطور نمونہ ذکر کئے جائیں۔

صفحہ ٥١٥

اب ذرا مرزا قادیانی کے وہ اقوال سامنے رکھیں جن کو ہم نے (مرزا غلام احمد کی گالیوں کے بارے میں فتویٰ) کے عنوان کے تحت درج کیا ہے۔ یعنی (گالی دینا اور بدزبانی طریق شرافت نہیں۔ بدتر ہر ایک بد سے وہ ہے جو بدزبان ہے۔ جس دل میں یہ نجاست بیت الخلاء وہی ہے۔ گالیاں دینا کمینوں اور سفلہوں کا کام ہے) بتاؤ اب مرزا غلام احمد اپنے اقوال کے مطابق کیا بنا اور کیسا ہوا؟ اوروں کو نصیحت اور خود میاں فضیحت۔

مرزائی عذر

”مرزا قادیانی نے جوابی طور پر گالیاں دی ہیں اور یہ سخت کلامی ہے۔ گالیاں نہیں ہیں۔“ ابو المنصور: یہ عذر بالکل غلط ہے کیونکہ مرزا نے خود لکھا ہے۔ (میں نے جوابی طور پر بھی کسی کو گالی نہیں دی۔ (مواہب الرحمٰن ص ١٨، خزائن ج ١٩ ص ٢٣٦) اور ناظرین پر واضح ہے کہ جو ہم نے اس سے پہلے (نوٹ) میں نقل کیا ہے۔ اگر وہ گالیاں نہیں ہیں تو ہم کہتے ہیں کہ ان سب الفاظ کے سزاوار ولائق مرزا غلام احمد قادیانی اور اس کے امتی ہیں۔ کیسا کوئی تکلیف تو نہیں ہوگی؟

مرزا غلام احمد قادیانی کا انبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام کی توہین کرنا

تصویر کا پہلا رخ

انبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام کی توہین کرنے والے کے متعلق مرزا قادیانی کا فتویٰ:

(خاتمہ چشمہ معرفت ص ١٢، خزائن ج ٢٣ ص ٣٩٠)

دیتا ہے۔“

(ملفوظات ج ١٠ ص ٤٠٩)

(سیرت المہدی حصہ سوم ص ١١٥ روایت نمبر ٦٦٤)

نوٹ: ان تین حوالوں کے باوجود مرزا قادیانی نے جو دریدہ دہنی سے کام لیا ہے اور انبیاء کی توہین کی ہے۔ اس کو کوئی حلیم سے حلیم شخص بھی برداشت نہیں کر سکتا۔ بشرطیکہ ایماندار ہو۔ خصوصاً حضرت عیسیٰ روح اللہ اور کلمۃ اللہ علیہ الصلوٰۃ والسلام اور ان کی والدہ ماجدہ طیبہ طاہرہ صدیقہ حضرت مریمؑ کی شان اقدس میں تو وہ کلمات بیہودہ استعمال کئے ہیں جن کے ذکر سے مسلمانوں کے دل ہل جاتے ہیں۔ مگر ضرورت زمانہ مجبور کر رہی ہے کہ لوگوں کے سامنے ان میں سے کچھ بطور نمونہ ذکر کئے جائیں۔

٢٧

صفحہ ٥١٧

ویسے تو خود مدعی نبوت بننا کافر ہونے اور ابدالاباد جہنم میں رہنے کے لئے کافی تھا کہ قرآن کا انکار اور حضور خاتم النبیین ﷺ کو خاتم النبیین نہ ماننا ہے۔ مگر اس نے اتنی ہی بات پر اکتفاء نہ کیا بلکہ انبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام کی تکذیب و توہین کا وبال بھی اپنے سر لیا اور یہ صدہا کفر کا مجموعہ ہے کہ ہر نبی کی تکذیب مستقلاً کفر ہے۔ جیسا کہ مرزا کا قول ہے:

(اسلام میں کسی نبی کی تحقیر کرنا کفر ہے۔) اور اگرچہ باقی انبیاء و دیگر ضروریات کا قائل بنتا ہو بلکہ علماء نے تصریح کی ہے کہ کسی نبی کی تکذیب سے سب کی تکذیب ہے۔

جیسا کہ آیت مبارکہ شاہد ہے: ”کذبت قوم نوح ن المرسلین“ یہاں نوح علیہ الصلوٰۃ والسلام کی قوم نے صرف نوح علیہ الصلوٰۃ والسلام کو جھٹلایا تھا مگر اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے کہ نوح علیہ الصلوٰۃ والسلام کی قوم نے مرسلین (رسل) کو جھٹلایا مرزا نے تو صدہا انبیاء کی تکذیب کی ہے اور اپنے کو نبی بہتر بنایا۔

ایسے شخص اور اس کے متبعین کے کافر ہونے میں مسلمانوں کو ہرگز شک نہیں ہو سکتا۔ بلکہ ایسے کی تکفیر میں اس کے اقوال پر مطلع ہو کر جو شک کرے خود کافر ہو جاتا ہے۔ اب اس کے اقوال ہم (قابل یاد غور) عنوان کے بعد نقل کرتے ہیں۔

قابل یاد غور

مرزا قادیانی کی عبارت میں جہاں کہیں مسیح، یسوع، عیسیٰ لفظ آئے گا ان تینوں سے مراد عیسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام ہی ہوں گے اور یہ تینوں آپ کے نام ہیں۔ جیسا کہ مرزا غلام احمد نے تحریر کیا ہے:

آسمان پر جانا متصور کیا جاتا ہے۔ وہ دو نبی ہیں ایک یوحنا جس کا نام ایلیا اور ادریس بھی ہے۔ دوسرے مسیح بن مریم جن کو عیسیٰ اور یسوع بھی کہتے ہیں۔“

(توضیح المرام ص ٣، خزائن ج ٣ ص ٥٢)

یعنی عیسیٰ ابن مریم ہے۔“

(تحفہ گولڑویہ ص ١٢٠، خزائن ج ١٧ ص ٢٩٩)

تصویر کا دوسرا رخ...... توہین عیسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام

کر بیٹھا تو استاد نے اس کو عاق کر دیا۔ یہ بات پوشیدہ نہیں کہ کس طرح وہ مسیح ابن مریم نوجوان عورتوں سے ملتا تھا اور کس طرح ایک بازاری عورت سے عطر ملواتا تھا۔“

(الحکم ٢١؍ فروری ١٩٠١ء)

٢٨

ہوتی۔ بلکہ یحییٰ نبی کو اس پر ایک فضیلت ہے کیونکہ وہ فاحشہ عورت نے اپنی کمائی کے مال سے اس کے سر پر کے بدن کو چھوا تھا یا کوئی بے تعلق جوان عورت اس قرآن میں یحییٰ کا نام حصوراً رکھا مگر مسیح کا نام نہ رکھا تھے۔“

یہودی بزرگوں کو ولد الحرام تک کہہ دیا اور ہر ایک وعظ برے نام رکھے۔“

نہایت پاک اور مطہر ہے۔ تین دادیاں اور نانیاں خون سے آپ کا وجود ظہور پذیر ہوا۔ مگر یہ بھی خدا میلان اور صحبت بھی شاید اسی وجہ سے ہو کہ جدی من انسان کس چال چلن کا آدمی ہو سکتا ہے۔“ استغف

نوٹ: ناظرین آپ نے خوب پڑھ ل برگزیدہ رسول ہیں۔ جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ ایدنا بروح القدس ﴿ہم نے عیسیٰ علیہ السلام طاقت دی۔﴾ جن کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے ہر وق شان میں کیسی گستاخیاں ہیں؟

مثلاً لڑکی پر عاشق ہونا، نوجوان عو الصلوٰۃ والسلام کا کوئی استاد ہی نہیں ہوتا) اور ب ولد الحرام کہنا، سخت سخت گالیاں دینا اور برے تین نانیاں آپ کی زنا کار تھیں۔ (حالانکہ قرآ بغیر باپ کے پیدا ہوئے ہیں) جب باپ نہیں

صفحہ ٥١٧

ہوتی۔ بلکہ یحییٰ نبی کو اس پر ایک فضیلت ہے کیونکہ وہ شراب نہیں پیتا تھا اور کبھی نہیں سنا گیا کہ کسی فاحشہ عورت نے اپنی کمائی کے مال سے اس کے سر پر عطر ملا تھا یا ہاتھوں اور سر کے بالوں سے اس کے بدن کو چھوا تھا یا کوئی بے تعلق جوان عورت اس کی خدمت کرتی تھی۔ اس وجہ سے خدا نے قرآن میں یحییٰ کا نام حصور رکھا مگر مسیح کا نام نہ رکھا کیونکہ ایسے قصے اس نام کے رکھنے سے مانع تھے۔“

(دافع البلاء ص ١٤، خزائن ج ١٨ ص ٢٢٠)

یہودی بزرگوں کو ولد الحرام تک کہہ دیا اور ہر ایک وعظ میں یہودی علماء کو سخت گالیاں دیں اور برے برے نام رکھے۔“

(چشمہ مسیحی ص ٩، خزائن ج ٢٠ ص ٣٣٦)

نہایت پاک اور مطہر ہے۔ تین دادیاں اور نانیاں آپ کی زنا کار اور کسبی عورتیں تھیں۔ جن کے خون سے آپ کا وجود ظہور پذیر ہوا۔ مگر یہ بھی خدائی کے لئے ایک شرط ہوگی آپ کا کنجریوں سے میلان اور صحبت بھی شاید اسی وجہ سے ہو کہ جدی مناسبت درمیان ہے۔ سمجھنے والے سمجھ لیں کہ ایسا انسان کس چال چلن کا آدمی ہو سکتا ہے۔“ استغفر الله هذا بهتان عظيم!

(انجام آتھم ص ٧ حاشیہ، خزائن ج ١١ ص ٢٩١)

نوٹ: ناظرین آپ نے خوب پڑھ لیا ہوگا کہ عیسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام جو اللہ تعالیٰ کے برگزیدہ رسول ہیں۔ جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ قرآن پاک میں کلمۃ اللہ اور روح اللہ اور اید نا بروح القدس ﴿ہم نے عیسیٰ علیہ السلام کو روح القدس یعنی جبرائیل علیہ السلام کے ساتھ طاقت دی ہے۔﴾ جن کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے ہر وقت جبرائیل علیہ السلام کو مدد کے لئے رکھا۔ ان کی شان میں کیسی گستاخیاں ہیں؟

مثلاً لڑکی پر عاشق ہونا، نوجوان عورتوں سے ملنا، عاق استاد ہونا، (حالانکہ انبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام کا کوئی استاد ہی نہیں ہوتا) اور بازاری عورتوں سے عطر ملوانا۔ شراب پینا۔ فاحشہ کو ولد الحرام کہنا، سخت سخت گالیاں دینا اور برے برے نام رکھنا، مکر وفریب کا ہونا، تین دادیاں اور تین نانیاں آپ کی زنا کار تھیں۔ (حالانکہ قرآن پاک سے ثابت ہے کہ عیسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام بغیر باپ کے پیدا ہوئے ہیں) جب باپ نہیں تو دادیاں کیسے ہو سکتی ہیں؟ اس لئے اللہ تعالیٰ قرآن

٢٩

صفحہ ٥١٩

پاک میں عیسیٰ ابن مریم فرمایا ہے۔ حالانکہ اولاد باپ کی طرف منسوب ہوتی ہے۔ جیسے یہ آیت شاہد ہے: ”علی المولودلہ رزقھن وکسوتھن“ مگر عیسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام کا کوئی باپ نہ تھا۔ اس لئے والدہ طیبہ طاہرہ کی طرف منسوب کر دیا۔

جیسا کہ آپ کی پیدائش کی مثال حضرت آدم علیہ السلام جیسی قرآن پاک نے بیان فرمائی ہے۔ ”ان مثل عیسیٰ عند اللہ کمثل آدم خلقہ من تراب ثم قال لہ کن فیکون (پ٣،رکوع١٣)“ ﴿ بے شک عیسیٰ علیہ السلام کی مثال حضرت آدم علیہ السلام جیسی ہے۔ آدم علیہ السلام کو مٹی سے پیدا کیا پھر کہا اس کو ہو جا تو وہ ہو گیا۔ ﴾

یعنی جیسے آدم علیہ السلام بغیر باپ کے پیدا ہوئے جیسا کہ اس آیت مبارکہ سے بھی پتہ چلتا ہے اور یہ آیت قابل حفظ ہے: ”اذ قالت الملائکۃ یمریم ان اللہ یبشرک بکلمۃ منہ اسمہ المسیح عیسیٰ ابن مریم وجیھا فی الدنیا والآخرۃ ومن المقربین ویکلم الناس فی المھد وکھلاً ومن الصلحین، قالت رب انی یکون لی ولد ولم یمسسنی بشر، قال کذلک اللہ یخلق ما یشآء واذا قضیٰ امرا فانما یقول لہ کن فیکون (پ٣،رکوع١٣)“ ﴿اور یاد کرو جب فرشتوں نے کہا کہ اے مریم اللہ تعالیٰ تجھے بشارت دیتا ہے اپنے پاس سے ایک کلمہ کی جس کا نام مسیح عیسیٰ ابن مریم ہے اور عزت والا ہوگا دنیا و آخرت میں قرب والا اور لوگوں سے کلام کرے گا گہوارے میں اور پکی عمر میں صالحین میں سے ہوگا۔ بولی اے میرے رب میرے بچہ کہاں سے ہوگا؟ مجھ کو کسی شخص نے ہاتھ تک نہیں لگایا۔ فرمایا اللہ تعالیٰ یونہی پیدا کرتا ہے۔ جو چاہے۔ جب کسی کام کا حکم فرماتا ہے تو اس سے یہی کہتا ہے کہ ہو جا۔ وہ فوراً ہو جاتا ہے۔﴾

دیکھئے اس آیت کے ترجمہ کو اگر آپ خوب سمجھ لیں تو مرزا قادیانی کی آنے والی اور گزشتہ تمام عبارتیں جو عیسیٰ علیہ السلام کی شان میں گستاخانہ لکھی گئی ہیں۔ سب آپ پر واضح ہو جائیں گی۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے عیسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام کی شان میں وجیہا یعنی باعزت اور مرتبہ والے اور قرب والے اور نیکو کار کے لفظ استعمال کئے ہیں اور بتایا ہے کہ آپ بچپن میں گفتگو کریں گے۔

پکی عمر میں بھی (یعنی آسمانوں سے آکر گفتگو کرنا کیونکہ آپ اس عمر سے پہلے ہی آسمان پر اٹھائے گئے تھے) اور آپ مرزا کے اقوال بھی آپ کی شان میں پڑھ چکے ہیں اور پڑھ بھی لیں

٣٠

گے۔ نیز اس آیت میں پیدائش کا واقعہ بھی بیان کیا ہے بچہ پیدا ہوگا اور ایسا ہوگا تو حضرت مریم علیہا السلام فرماتی بغیر باپ کے بچہ کیسے پیدا ہوگا؟ تو فرشتے کہتے ہیں آ ہوگا اور اللہ تعالیٰ جس شے کو چاہتا ہے تو کہتا ہے ہو جا قادیانی نے دادیاں تک بھی صبر نہیں کیا بلکہ عیسیٰ علیہ ا ملاحظہ ہو: ”یسوع مسیح کے چار بھائی اور دو بہنیں تھیں۔ حقیقی بھائی بہنیں تھیں۔ یعنی یوسف اور مریم کی اولاد تھے

خراب چال چلن۔“

خدائی کا دعویٰ کرنے والا تھا۔“

(مکتوبا

”کبھی آپ کو شیطانی الہام بھی ہوتے تھے

نوٹ: یہاں مرزا غلام احمد نے عیسیٰ علیہ ا کہ آپ کو کبھی شیطانی الہام بھی ہوتے تھے۔ مسلمانو ہے۔ خدا تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے: ”تنزل علی کل ا سخت گنہگار پر شیطان اترتے ہیں۔ ﴿اور ایک نبی جس کلمات کہنے والا کیسا شخص ہوگا؟

کسی نبی میں نہیں پائی جاتیں۔“

رسول اس درماندہ انسان کی پیشین گوئیاں کیا تھیں گے۔...... اس نادان اسرائیلی نے ان معمولی باتوں کا

٣١

صفحہ ٥١٩

گے۔ نیز اس آیت میں پیدائش کا واقعہ بھی بیان کیا ہے۔ فرشتہ آ کر خوشخبری دیتے ہیں کہ آپ کے بچہ پیدا ہوگا اور ایسا ہوگا تو حضرت مریم علیہا السلام فرماتی ہیں کہ مجھے تو کسی شخص نے چھوا تک نہیں تو بغیر باپ کے بچہ کیسے پیدا ہوگا؟ تو فرشتے کہتے ہیں آپ کے یوں ہی یعنی بغیر باپ کے بچہ پیدا ہوگا اور اللہ تعالیٰ جس شے کو چاہتا ہے تو کہتا ہے ہو جا۔ تو وہ فوراً ہو جاتی ہے۔ نیز مرزا غلام احمد قادیانی نے دادیاں تک بھی صبر نہیں کیا بلکہ عیسیٰ علیہ السلام کے بہن بھائی بھی ثابت کئے ہیں۔ ملاحظہ ہو: ”یسوع مسیح کے چار بھائی اور دو بہنیں تھیں۔ یہ سب یسوع (یعنی عیسیٰ علیہ السلام) کے حقیقی بھائی بہنیں تھیں۔ یعنی یوسف اور مریم کی اولاد تھے۔“

(کشتی نوح ص١٦، خزائن ج١٩ ص١٨)

خراب چال چلن۔“

(حاشیہ ست بچن ص١٦٠، خزائن ج١٠ ص٢٩٦)

خدائی کا دعویٰ کرنے والا تھا۔“

(مکتوبات احمدیہ نمبر ٣ ص٢٣، ٢٤، خزائن ج١١ ص٢٨٧)

(اعجاز احمدی ص١٤، خزائن ج١٩ ص١٣١)

”کبھی آپ کو شیطانی الہام بھی ہوتے تھے۔“

(اعجاز احمدی ص٢٤، خزائن ج١٩ ص١٣٣)

نوٹ: یہاں مرزا غلام احمد نے عیسیٰ علیہ السلام کی نبوت کا صریحاً انکار کیا ہے اور کہا ہے کہ آپ کو کبھی شیطانی الہام بھی ہوتے تھے۔ مسلمانوں تمہیں معلوم ہے شیطانی الہام کس پر ہوتا ہے۔ خدا تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے: ”تنزل علی کل افاک اثیم“ ﴿بڑے بہتان والے جھوٹے سخت گنہگار پر شیطان اترتے ہیں۔﴾ اور ایک نبی جلیل الشان عظیم البرہان کے بارے میں ایسے کلمات کہنے والا کیسا شخص ہوگا؟

کسی نبی میں نہیں پائی جاتیں۔“

(اعجاز احمدی ص٢٥، خزائن ج١٩ ص١٣٥)

رسول اس درماندہ انسان کی پیشین گوئیاں کیا تھیں صرف یہی کہ زلزلے آئیں گے قحط پڑیں گے۔۔۔۔۔ اس نادان اسرائیلی نے ان معمولی باتوں کا نام پیشین گوئی رکھا۔“

(حاشیہ ضمیمہ انجام آتھم ص٥، خزائن ج١١ ص٢٨٩)

٣١

صفحہ ٥٢١

کو بیماری نہ سمجھتے تھے۔ جن کا آسیب خیال کرتے تھے ہاں آپ کو گالیاں دینی اور بدزبانی کی عادت تھی ........... یہ بھی یاد رہے کہ آپ کو کسی قدر جھوٹ بولنے کی بھی عادت تھی۔“

(ضمیمہ انجام آتھم ص ٥، ٦ کا حاشیہ ، خزائن ج ١١ ص ٢٨٩)

(حاشیہ ست بچن ص ١٢٩، خزائن ج ١٠ ص ٢٩٥)

اعتراض رکھتے ہیں کہ ہم بھی جواب میں حیران ہیں۔ بغیر اس کے کہ یہ کہہ دیں کہ ضرور عیسیٰ نبی ہے۔ کیونکہ قرآن نے اس کو نبی قرار دیا اور کوئی دلیل ان کی نبوت پر قائم نہیں ہو سکتی۔ بلکہ ابطال نبوت پر کئی دلائل قائم ہیں۔“

(اعجاز احمدی ص ١٣، خزائن ج ١٩ ص ١٢٠)

نوٹ: اس کلام میں یہودیوں کے اعتراض صحیح ہونا بتایا ہے اور قرآن مجید پر بھی ساتھ لگے یہ اعتراض جما دیا کہ قرآن ایسی بات کی تعلیم دے رہا ہے۔ جس کے بطلان پر دلائل قائم ہیں۔ (العیاذ باللہ من ذالک)

(اعجاز احمدی ص ٢٤، خزائن ج ١٩ ص ١٣٣)

کسی طرح ان کو دفع نہیں کر سکتے۔“

(اعجاز احمدی ص ١٤، خزائن ج ١٩ ص ١٢١)

گوئیاں صاف طور پر جھوٹی نکلیں۔“

(اعجاز احمدی ص ١٤، خزائن ج ١٩ ص ١٢١)

سے البتہ اچھا تھا۔ اللہ تعالیٰ اعلم مگر وہ حقیقی منجی نہ تھا۔ ... منجی وہ ہے جو حجاز میں پیدا ہوا تھا اور اب بھی آیا مگر بروز کے طور پر خاکسار غلام احمد قادیان ......... (برحاشیہ ص ٢١٩) یہ ہمارا ایمان نیک ظنی کے طور پر ہے ورنہ ممکن ہے کہ عیسیٰ کے وقت میں بھی بعض راست باز اپنی راست بازی میں عیسیٰ سے بھی اعلیٰ ہو۔“

(دافع البلاء ٹائٹل پیج ص ٣، خزائن ج ١٨ ص ٢١٩ ، ٢٢٠)

اس امت میں سے مسیح موعود بھیجا جو اس سے پہلے مسیح سے اپنی تمام شان میں بہت بڑھ کر ہے اور

٣٢

اس نے اس دوسرے مسیح کا نام غلام احمد رکھا۔“

سے بڑھ کر ہے۔“

بہت بڑھ کر ہے اور اس نے اس دوسرے مسیح کا نام غ مسیح کیسا خدا ہے جو اس احمد کے ادنیٰ غلام سے بھی کم قرب اور شفاعت کے مرتبہ میں احمد کے غلام سے بھی

غلام احمد ہے۔ یعنی احمد کا غلام

ابن مریم کے
اس سے بہتر

یہ باتیں شاعرانہ نہیں بلکہ واقعی ہیں اور ا بڑھ کر میرے ساتھ نہ ہو تو میں جھوٹا ہوں۔“

میرے زمانہ میں ہوتا تو وہ کام جو میں کر سکتا ہوں ہو رہے ہیں وہ ہرگز دکھلا نہ سکتا۔“

نوٹ: حضرات! آپ نے مرزا غلام ا میں بکواس اور گالیاں پڑھ لی ہوں گی اور اس کے

٣٣

صفحہ ٥٢١

وئی تھی آپ جاہل عورتوں کی طرح مرگی ں آپ کو گالیاں دینی اور بدزبانی کی لڑنے کی بھی عادت تھی ۔"

آتھم ص ٥، ٦ کا حاشیہ، خزائن ج ١١ ص ٢٨٩)

گیا تھا۔"

شیہ ست بچن ص ١٦٩، خزائن ج ١٠ ص ٢٩٥)

شین گوئیوں کے بارے میں ایسے قوی اس کے کہ یہ کہہ دیں کہ ضرور عیسیٰ نبی ا نبوت پر قائم نہیں ہو سکتی۔ بلکہ ابطال

(اعجاز احمدی ص ١٣، خزائن ج ١٩ ص ١٢٠)

و بتلایا ہے اور قرآن مجید پر بھی ساتھ ہا ہے۔ جس کے بطلان پر دلائل قائم گوئیاں غلطی سے پر ہیں۔"

(اعجاز احمدی ص ٢٤، خزائن ج ١٩ ص ١٣٣)

ا پر یہود کے سخت اعتراض ہیں جو ہم

(اعجاز احمدی ص ١٤، خزائن ج ١٩ ص ١٢١)

ضرت عیسیٰ علیہ السلام کی تین پیشین

(اعجاز احمدی ص ١٤، خزائن ج ١٩ ص ١٢١)

تے ہیں کہ اپنے زمانہ کے اکثر لوگوں ہے جو حجاز میں پیدا ہوا تھا اور اب بھی اشیہ ص ٢١٩) یہ ہمارا بیان نیک ظنی کے ی باز اپنی راست بازی میں عیسیٰ سے

ٹائٹل پیج ص ٣، خزائن ج ١٨ ص ٢١٩، ٢٢٠)

۔ (عیسائیوں کے نزدیک) خدا نے ں تمام شان میں بہت بڑھ کر ہے اور

اس نے اس دوسرے مسیح کا نام غلام احمد رکھا۔"

(دافع البلاء ص ١٣، خزائن ج ١٨ ص ٢٣٣)

سے بڑھ کر ہے۔"

(دافع البلاء ص ١٣، خزائن ج ١٨ ص ٢٣٣)

بہت بڑھ کر ہے اور اس نے اس دوسرے مسیح کا نام غلام احمد رکھا۔ تا کہ یہ اشارہ ہو کہ عیسائیوں کا مسیح کیسا خدا ہے جو اس احمد کے ادنیٰ غلام سے بھی مقابلہ نہیں کر سکتا۔ یعنی وہ کیسا مسیح ہے جو اپنے قرب اور شفاعت کے مرتبہ میں احمد کے غلام سے بھی کمتر ہے۔"

(دافع البلاء ص ١٣، ١٤، خزائن ج ١٨ ص ٢٣٣)

(کشتی نوح ص ١٣، خزائن ج ١٩ ص ١٤)

(کشتی نوح ص ١٦، خزائن ج ١٩ ص ١٧)

غلام احمد ہے۔ یعنی احمد کا غلام

ابن مریم کے ذکر کو چھوڑو
اس سے بہتر غلام احمد ہے

یہ باتیں شاعرانہ نہیں بلکہ واقعی ہیں اور اگر تجربہ کی رو سے خدا کی تائید مسیح ابن مریم سے بڑھ کر میرے ساتھ نہ ہو تو میں جھوٹا ہوں۔"

(دافع البلاء ص ٢٠، خزائن ج ١٨ ص ٢٤٠)

(انجام آتھم ص ٤١، خزائن ج ١١ ص ٤١)

میرے زمانہ میں ہوتا تو وہ کام جو میں کر سکتا ہوں وہ ہرگز نہ کر سکتا اور وہ نشان جو مجھ سے ظاہر ہو رہے ہیں وہ ہرگز دکھلا نہ سکتا۔"

(کشتی نوح ص ٥٦، خزائن ج ١٩ ص ٦٠)

نوٹ: حضرات! آپ نے مرزا غلام احمد کی ایک سے آٹھ تک عیسیٰ علیہ السلام کی شان میں بکواس اور گالیاں پڑھ لی ہوں گی اور اس کے بعد ٩ سے لے کر ١٦ تک دیکھا ہو گا کہ عیسیٰ علیہ

٣٣

صفحہ ٢٣

السلام کی شان میں کیسے تنقیص کی ہے اور بکواس بکی ہے اور ١٥ سے لے کر ٢٥ تک وہ اقوال بھی ملاحظہ کئے ہوں گے کہ جن میں اپنے آپ کو عیسیٰ علیہ السلام سے اچھا اور بہتر گردانا ہے اور پھر کمال یہ ہے کہ معاذ اللہ اپنی بازاری رنگین گالیوں اور توہین آمیز کلمات کو خدا کی طرف سے وحی اور الہام بنا رہا ہے۔ کیونکہ اس کا دعویٰ ہے کہ میں جو کچھ کہتا ہوں وہ منجانب اللہ ہوتا ہے اور میری ہر بات وحی الٰہی ہوتی ہے۔ ملاحظہ ہو:

(اربعین نمبر ٣ ص ٣٧، خزائن ج ١٧ ص ٤٢٧)

سمجھتے۔“

(ازالہ ص ١٩٨، خزائن ج ٣ ص ١٩٧)

کے ساتھ ہوتا ہے۔“

(آئینہ کمالات اسلام ص ٩٤، ٩٣، خزائن ج ٥ ص ٩٣، ٩٤)

نیز ان حوالہ جات سے معلوم ہوا کہ مرزا کی فحش کلامی اور رنگین گالیاں جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی شان میں مرزا بدبخت نے بکی ہیں۔ معاذ اللہ ثم معاذ اللہ تمام خدا کی طرف سے ہیں۔ ہٰذا افتراء عظیم!

مرزائی عذر

”یہ سخت کلامی عیسائیوں سے التزامی اور جوابی طور پر کی گئی ہے۔“ ابوالمنصور: یہ بالکل اور سراسر غلط ہے۔ پہلے عبارات دوبارہ پڑھ لیں جن سے پتہ چل جائے اور نیز مرزا نے لکھا ہے:

(مواہب الرحمٰن ص ١٨، خزائن ج ١٩ ص ٢٣٦)

نیز مرزا غلام احمد قادیانی کی اپنی تعلیم تو یہ ہے کہ:

(نسیم دعوت ص ٥، خزائن ج ١٩ ص ٣٦٥)

(کشتی نوح ص ١١، خزائن ج ١٩ ص ١١)

شاید یہ قول کہ کسی کو گالی مت دو گو وہ گالیاں دیتا ہو اس لئے لکھا ہے کہ مرزا غلام احمد انبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام کو گالیاں دیتے دیتے تھک گیا ہو اور تھک ہار ہانپ کر یہ کہہ دیا ہو ورنہ مرزا غلام احمد نے شاید ہی کوئی نبی یا ولی یا صحابی چھوڑا ہو جس کو برا بھلا نہ کہا ہو اور اس کی گالیاں چند ایک ہم پہلے بھی نقل کر آئے ہیں۔

٣٤

آدم علیہ السلام کی توہین

”میں توام پیدا ہونے کی وجہ سے حضر نسبت کہا گیا تھا کہ وہ جوڑا یعنی توام پیدا ہوگا۔ پر ایک ہی وقت میں اسی طرح میری پیدائش ہوئی کہ میں پیدا ہوا ۔“

یہ سراسر جھوٹ ہے کہ آدم علیہ السلام آدم علیہ السلام تو مٹی سے بنائے گئے ہیں۔ جیسے کہ ق خلقته من طين “ ﴿شیطان کہتا ہے مجھے تو اس پیدا کیا تو میں اس سے بہتر ہوں۔﴾

نوٹ: نیز مرزا کے اس قول سے م مرزا قادیانی ماں باپ کے ذریعے پیدا ہوا ہے اک پیدا ہوئے۔ حالانکہ قرآن پاک اور احادیث مبار سے پیدا کیا ہے۔ مرزائی بتائیں کہ اگر مرزا کے قو کون تھے؟

حضرت موسیٰ علیہ السلام کی توہین

حضرت نوح علیہ السلام کی توہین

”اور خدا تعالیٰ نے میرے لئے اس ق میں وہ نشان دکھلائے جاتے تو وہ لوگ غرق نہ ہوت

انبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام کی توہین

”بعض گذشتہ انبیاء علیہم السلام کے

٥

صفحہ ٥٢٤

آدم علیہ السلام کی توہین

”میں توام پیدا ہونے کی وجہ سے حضرت آدم علیہ السلام کے مشابہ ہوں ..... آدم کی نسبت کہا گیا تھا کہ وہ جوڑا یعنی توام پیدا ہوگا۔ پہلے لڑکی نکلے گی۔ بعد اس کے وہ آدم پیدا ہوگا۔ ایک ہی وقت میں اسی طرح میری پیدائش ہوئی کہ جمعہ کی صبح کو میں توام پیدا ہوا اول لڑکی اور بعدہ میں پیدا ہوا۔“

(تذکرہ الشہادتین ص ٣٣،خزائن ج ٢٠ص ٣٥)

یہ سراسر جھوٹ ہے کہ آدم علیہ السلام کے متعلق کہا گیا ہو کہ وہ توام پیدا ہوں گے بلکہ آدم علیہ السلام تو مٹی سے بنائے گئے ہیں۔ جیسے کہ قرآن پاک میں ہے۔”خلقتنی من نار و خلقته من طين“ شیطان کہتا ہے مجھے تو اے پروردگار آگ سے پیدا کیا اور آدم کو مٹی سے پیدا کیا تو میں اس سے بہتر ہوں۔ ﴾

نوٹ: نیز مرزا کے اس قول سے ظاہر ہے کہ مرزائیوں کے نزدیک جس طرح مرزا قادیانی ماں باپ کے ذریعے پیدا ہوا ہے اسی طرح آدم علیہ السلام بھی ماں باپ کے ذریعے پیدا ہوئے۔ حالانکہ قرآن پاک اور احادیث مبارکہ شاہد ہیں کہ آدم علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے مٹی سے پیدا کیا ہے۔ مرزائی بتائیں کہ اگر مرزا کے قول کو تسلیم کیا جائے تو آدم علیہ السلام کے والدین کون تھے؟

حضرت موسیٰ علیہ السلام کی توہین

(کشتی ص ١٣،خزائن ج ١٩ص ١٤)

(کشتی ص ١٦،خزائن ج ١٩ص ١٧)

حضرت نوح علیہ السلام کی توہین

”اور خدا تعالیٰ نے میرے لئے اس کثرت سے نشان دکھلا رہا ہے اگر نوح کے زمانہ میں وہ نشان دکھلائے جاتے تو وہ لوگ غرق نہ ہوتے۔“

(تتمہ حقیقت الوحی ص ١٣٧،خزائن ج ٢٢ص ٥٧٥)

انبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام کی توہین

”بعض گذشتہ انبیاء علیہم السلام کے معجزات اور پیشین گوئیوں کو ان (مرزا غلام احمد

٣٥

صفحہ ٥٢٥

قادیانی) کے معجزات اور پیش گوئیوں سے کچھ نسبت نہیں۔“

(نزول المسیح ص ٨٢، خزائن ج ١٨ ص ٤٦٠)

نوٹ: ناظرین کرام نے ان حوالہ جات سے خوب دیکھ لیا ہوگا کہ اس اخبث الناس مکار ملعون نے تقریباً ہر نبی سے بڑھ کر ہونے کا دعویٰ کیا ہے اور اپنی پیشین گوئیوں کی خوب تعریف کی ہے۔ ناظرین سے گزارش ہے کہ ماقبل (مرزا غلام احمد قادیانی کے صدق و کذب کا معیار) بھی اگر نہیں پڑھا تو پڑھ کر دیکھ لیں تاکہ آپ پر مرزا کے معجزات اور پیشین گوئیاں بھی عیاں ہو جائیں۔

صحابہ کرام علیہم الرضوان کی توہین

(براہین احمدیہ ج ٥ ص ١٢٠، خزائن ج ٢١ ص ٢٨٥)

(اعجاز احمدی ص ١٨، خزائن ج ١٩ ص ١٢٧)

نوٹ: مرزا غلام احمد کے اقوال بھی دیکھئے اور حضور سرور کائنات رحمتہ اللعالمین ﷺ کی احادیث مبارکہ بھی ملاحظہ فرمائیں۔ آپ اپنے صحابہؓ کی کیسے تعریف فرماتے ہیں۔ فرمایا: ”اصحابی کالنجوم بايهم اقتديتم اهتديتم (مشکوٰة)“ ﴿میرے صحابہ ستاروں کی مانند ہیں جس کی چاہے پیروی کر لو ہدایت پا جاؤ گے۔﴾

اور مرزا لعین کہتا ہے کہ بعض نادان صحابہ جن کو درائت سے کچھ حاصل نہ تھا۔ نـعـوذ بالله من ذالك ! ذرا انصاف سے بتانا نادان کی پیروی کرنے سے انسان ہدایت پا جائے گا؟ اور کیا سرور دو عالم نادان کی پیروی کرنے کی تعلیم دے رہے ہیں؟

”لا تسبوا اصحابى فلو ان احدكم انفق مثل احد ذهب ما بلغ مد احدهم ولا نصيفه متفق عليه“ ﴿میرے صحابی کو گالیاں نہ دو اگر تم میں سے کوئی احد پہاڑ جتنا سونا اللہ کے راستہ میں خرچ کر ڈالے تو ان کی ایک مٹھی بھر صدقہ کو نہیں پہنچ سکتا بلکہ مٹھی کے نصف کے نصف کو بھی نہیں پہنچ سکتا۔﴾

مشکوٰة شریف: ”خیر امتی قرنی ثم الذين يلونهم ثم الذين يلونهم“ ﴿میری بہتر امت وہ ہے جو میرے زمانہ میں ہے پھر جو ان کے ساتھ ملے ہوں پھر جو ان کے ساتھیوں کے ساتھ ملے ہوں۔﴾

بخاری شریف: ”عن جابر عن النبی ﷺ قال لم تمس النار مسلما رأنی او من رانی“ ﴿حضرت جابرؓ راوی ہیں فرمایا حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے نہیں چھوئے

گی آگ جس مسلمان نے مجھے دیکھ لیا یا میرے دیکھے ترمذی شریف: ”اذا رايتم الذين على شركم“ ﴿جب تم ان لوگوں کو دیکھو جو صحابہ بدکلامی پر۔﴾

اور حضرت ابو ہریرہؓ کی شان میں اشعۃ ”اسلام آورده در سال خیبر کہ س را بآنحضرت بعد از ملازمت کرد بسیری شكم وبود از احفظ صحابہ صاحب صيام وقيام وذكر وتسبيح ( اسلام لائے جو ہجرت سے ساتواں سال ہے اور آپ سے طلب علم میں مشغول رہے۔ آپ قانع آپ حافظ متین ثبت ذکی متفنن صاحب صیام و قیا نیز حضرت ابو ہریرہؓ کو مرزا بے ایمان محدث دہلوی کا قول اشعۃ اللمعات میں پڑھ اور ذکی متفنن لکھ چکے ہیں۔ اب بتائیں کہ علماء خردماغ مرزا؟ پھر اس پر ہی صبر نہیں کیا بلکہ حضرت

حضرت امام حسینؓ کی توہین

ہوں کہ آج تم میں ایک حسین سے بڑھ کر ہے۔“

اور سو حسین میرے گریبان میں ہیں۔“

نوٹ: ان عبارتوں میں حضرت امام معلیٰ میری ہر آن سیر گاہ ہے اور میری بغل میں س اب ذرا حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام آپ پر واضح ہو جائے: ”قال لعلى و فـا حاربهم وسلم من سالمهم“ ﴿حضور علیہ

صفحہ ٥٢٥

گی آگ جس مسلمان نے مجھے دیکھ لیا یا میرے دیکھنے والے کو دیکھ لیا۔ ﴾ ترمذی شریف: ”اذا رايتم الذين يسبون اصحابي فقولوا لعنة الله على شركم “ ﴿ جب تم ان لوگوں کو دیکھو جو صحابہ کرام کو گالیاں دیتے ہیں تم کہو لعنت ہے تمہاری بدکلامی پر۔ ﴾

اور حضرت ابو ہریرہ کی شان میں اشعۃ اللمعات شرح مشکوٰۃ ص ٤٥ پر لکھا ہے۔۔۔۔۔۔ ”اسلام آورده در سال خیبر که سال هفتم از هجرت وحاضر شداں، را باّنحضرت بعد از ملازمت کرد و مواظبت نمود برطلب علم قانع شد بسیری شکم وبود از احفظ صحابہ وبود حافظ متین ثبت ذکی متقن صاحب صيام وقيام وذکر و تسبيح وتهليل“ ﴿حضرت ابو ہریرہؓ فتح خیبر کے سال اسلام لائے جو ہجرت سے ساتواں سال ہے اور حضور ﷺ کی خدمت میں ہمیشہ رہے اور ہمیشہ آپ سے طلب علم میں مشغول رہے۔ آپ قانع اور صحابہ کرام میں سے زیادہ حافظہ رکھتے تھے۔ آپ حافظ متین ثبت ذکی متقن صاحب صیام و قیام و ذکر تسبیح و تہلیل تھے۔﴾

نیز حضرت ابو ہریرہؓ کو مرزا بے ایمان لعین نے غبی لکھا ہے اور آپ شیخ محقق عبدالحق محدث دہلوی کا قول اشعۃ اللمعات میں پڑھ چکے ہیں کہ اس میں احفظ صحابہ پختہ حافظے والے اور ذکی متقن لکھ چکے ہیں۔ اب بتائیں کہ علماء حق درست لکھ گئے ہیں یا یہ جو چودھویں صدی کا خردماغ مرزا؟ پھر اس پر ہی صبر نہیں کیا بلکہ حضرت امام حسینؓ کی بھی توہین کی ہے۔

حضرت امام حسینؓ کی توہین

ہوں کہ آج تم میں ایک حسین سے بڑھ کر ہے۔“

(دافع البلاء ص ١٣، خزائن ج ١٨ ص ٢٣٣)

اور سو حسین میرے گریبان میں ہیں۔“

(نزول المسیح ص ٩٩، خزائن ج ١٨ ص ٤٧٧)

نوٹ: ان عبارتوں میں حضرت امام حسینؓ سے بہتری کا دعویٰ کیا ہے اور کہا ہے کہ کربلا معلیٰ میری ہر آن سیر گاہ ہے اور میری بغل میں سو حسین ہیں۔ معاذ اللہ!

اب ذرا حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے ارشادات بھی سنیں۔ تا کہ امام حسینؓ کی شان آپ پر واضح ہو جائے: ”قال لعلیٍّ وفاطمۃَ والحسنِ والحسینِ انا حرب من حاربہم وسلم من سالمہم “ ﴿ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے حضرت علیؓ، فاطمہؓ، حسنؓ و حسینؓ

٣٧

صفحہ ٥٢٧

کے بارے میں فرمایا جو ان سے لڑنے والا ہو میں اس سے لڑوں گا اور جو ان سے صلح کرے میں اس سے صلح کروں گا۔ (ترمذی)

” عن سلمة قالت دخلت على ام سلمة وهى تبكى فقلت ما يبكيك قالت رئيت رسول الله ﷺ تعنى فى المنام وعلى راسه ولحيته التراب فقلت ما لك يا رسول الله قال شهدت قتل حسين آنفاً “ (حضرت سلمیٰؓ سے روایت ہے کہا میں داخل ہوئی ام سلمہؓ پر درآنحالیکہ وہ رو رہی تھیں تو میں نے عرض کیا کیوں روتی ہو۔ فرمایا میں نے رسول اللہ ﷺ کو خواب میں دیکھا ہے کہ آپ کے سر اور داڑھی مبارک پر غبار ہے تو میں نے عرض کیا کہ یہ کیا ہوا تو آپ ﷺ نے فرمایا میں ابھی امام حسینؓ کی قتل گاہ کربلا سے آیا ہوں۔ (ترمذی)

” عن يعلىٰ بن مرة قال قال رسول الله ﷺ حسين منى وانا من حسين احب الله من احب حسيناً حسين سبط من الاسباط “ (یعلیٰ بن مرہ سے روایت ہے کہا فرمایا رسول اللہ ﷺ نے حسین مجھ سے ہے اور میں حسین سے ہوں۔ اللہ تعالیٰ اس سے محبت رکھتا ہے جو حسین سے محبت رکھے حسین میری اولاد میں سے ہے۔ (ترمذی)

”بان فاطمة سيدة نساء اهل الجنة وان الحسن والحسين سيد الشباب اهل الجنة“ (بے شک فاطمۃ الزہرا جنت کی عورتوں کی سردار ہیں اور حسن حسین دونوں نوجوان جنتیوں کے سردار ہیں۔ (ترمذی)

”الا ان مثل اهل بيتي فيكم سفينة نوح من ركبها نجا ومن تخلف عنها هلك (مشکوۃ شریف) “ خبردار میرے اہل بیت تم میں نوح علیہ السلام کی کشتی کی مانند ہے جو اس میں سوار ہو گیا نجات پا گیا اور جو پیچھے رہ گیا وہ ہلاک ہو گیا۔

نوٹ: آپ کی شان میں احادیث کثیرہ وارد ہیں نمونہ کے طور پر چند ایک احادیث لکھ دی ہیں۔ تشریح کرنے میں کلام کے لمبی ہونے کا خطرہ تھا اس لئے صرف ترجمہ پر اکتفا کیا جاتا ہے۔ مگر ان احادیث مبارکہ میں خوب ٹھہرے کام لیں۔

آنحضرت ﷺ کی توہین

”آنحضرت ﷺ کے معجزات صرف تین ہزار ہوئے“

(تحفہ گولڑویہ ص ٤٠، خزائن ج ١٧ ص ١٥٣)

٣٨

نوٹ: مرزا غلام احمد قادیانی نے حضور پر نور ہزار بتائے ہیں اور اپنے معجزات (تتمہ حقیقت الوحی ص ١٣٧ ہیں۔ بتائیے یہ کتنی بڑی گستاخی اور بکواس ہے۔ بلکہ مر ہے کہ میرے نشان (یعنی معجزے) دس لاکھ سے بھی ص ١٠٧) پر اس سے بھی زیادہ بتائے ہیں۔ شاید کوئی احم بلکہ مرزا غلام احمد کے نزدیک معجزہ اور نشان ایک ہی بات ص ٦٠) معجزہ اور نشان ایک ہوتا ہے۔

تصدیق کے لئے سورج اور چاند دونوں پیش کرتا ہے۔ بکہ تھا اس کا بالکل انکار کر دیا ہے جیسا کہ انشاء اللہ عنقریب آئے وان لى خسفا القمران المشرقان أتنكر ” (بحر لئے سورج اور چاند دونوں بے نور ہو گئے تو کیا انکار کرتا ہے

نوٹ: ان مذکورہ حوالوں سے ظاہر ہے کہ مر بھی شرف و بزرگی میں کئی گنا زیادہ اپنے آپ کو سمجھتا ہے ابدالاباد تک اللہ تعالیٰ کی کروڑ ہا لعنتیں برسیں۔

رہا۔ کیونکہ مناسب حد تک وہ جلال ظاہر ہو چکا۔ اب احمد کے رنگ میں ہو کر میں ہوں۔“

نوٹ: اس تحریر سے معلوم ہوا مرزا غلام احم سے انکار کر کے اپنی نبوت اور دین کو مستقل سمجھ لیا ہے ناظرین خوب سمجھ گئے ہوں گے کہ یہ کتنی بڑی گستاخی ہے۔

حضرت مسیح کے دوبارہ آنے کا انتظار کر رہے ہیں مگر ق آنے کی بشارت دیتا ہے۔ کیونکہ افاضہ بغیر بعث کے غیر

٣٩

صفحہ ٥٢٧

نوٹ : مرزا غلام احمد قادیانی نے حضور پرنور شافع یوم النشور کے معجزات تو صرف تین ہزار بتائے ہیں اور اپنے معجزات (تحفہ حقیقت الوحی ص ٢٨، خزائن ج ٢٢ ص ٧٠) میں تین لاکھ بتائے ہیں۔ بتائیے یہ کتنی بڑی گستاخی اور بکواس ہے۔ بلکہ براہین احمدیہ ص ٥٦، خزائن ج ٢١ ص ٧٢ میں لکھا ہے کہ میرے نشان (یعنی معجزے) دس لاکھ سے بھی زائد ہیں۔ (اعجاز احمدی ص ٧١، خزائن ج ١٩ ص ١٠٧) پر اس سے بھی زیادہ بتائے ہیں۔ شاید کوئی اعتراض کرے کہ معجزہ اور نشان دو نام ہیں بلکہ مرزا غلام احمد کے نزدیک معجزہ اور نشان ایک ہی بات ہے دیکھو (نصرۃ الحق ص ٤٧، خزائن ج ٢١ ص ٦٠) معجزہ اور نشان ایک ہوتا ہے۔

تصدیق کے لئے سورج اور چاند دونوں پیش کرتا ہے۔ بلکہ ایک جگہ جو حضور ﷺ کے لئے شق قمر ہوا تھا اس کا بالکل انکار کر دیا ہے جیسا کہ انشاء اللہ عنقریب آئے گا۔ لَہٗ خَسَفَ الْقَمَرُ الْمُنِیْرُ وَاِنْ لِّیْ غَسَا الْقَمَرَانِ الْمُشْرِقَانِ اَتُنْکِرُ " (یعنی آپ کے لئے چاند کو گرہن لگا اور میرے لئے سورج اور چاند دونوں بے نور ہو گئے تو کیا انکار کرتا ہے ) (اعجاز احمدی ص ٧١، خزائن ج ١٩ ص ١٨٣)

نوٹ: ان مذکورہ حوالوں سے ظاہر ہے کہ مرزا امتی نبی بننے کی بجائے حضور ﷺ سے بھی شرف و بزرگی میں کئی گنا زیادہ اپنے آپ کو سمجھتا ہے۔ نعوذ باللہ! ایسے گستاخ شقی القلب پر ابدا الاباد تک اللہ تعالیٰ کی کروڑہا لعنتیں برسیں۔

نہیں۔ کیونکہ مناسب حد تک وہ جلال ظاہر ہو چکا۔ اب چاند کی ٹھنڈی روشنی کی ضرورت ہے اور وہ احمد کے رنگ میں ہو کر میں ہوں۔“

(اربعین احمدیہ ج ٤ ص ١٤، خزائن ج ١٧ ص ٤٣٥)

نوٹ: اس تحریر سے معلوم ہوا مرزا غلام احمد نے حضور ﷺ کی ختم نبوت اور شریعت سے انکار کر کے اپنی نبوت اور دین کو مستقل سمجھ لیا ہے اور اب شریعت محمدیہ کی ضرورت نہیں ناظرین خوب سمجھ گئے ہوں گے کہ یہ کتنی بڑی گستاخی ہے۔

حضرت مسیح کے دوبارہ آنے کا انتظار کر رہے ہیں مگر قرآن شریف ہمارے نبی ﷺ کے دوبارہ آنے کی بشارت دیتا ہے۔ کیونکہ اقامۃ بغیر بعث کے غیر ممکن ہے۔“

(تحفہ گولڑویہ ص ٩٤، خزائن ج ١٧ ص ٢٤٩ حاشیہ)

٣٩

صفحہ ٢٩

نوٹ: حضرت مسیح علیہ السلام (عیسیٰ) کے نزول کا جو ساڑھے تیرہ سو سال سے زیادہ سالوں کا مسلمانوں میں عقیدہ چلا آ رہا ہے اور اس بارے میں کثیر تعداد احادیث وارد ہیں اور مرزا غلام احمد کا پہلے یہی عقیدہ تھا جیسا کہ انشاء اللہ ہم شرک کی بحث میں آگے جا کر بیان کریں گے۔ اس عقیدہ سے فرار ہو کر ایک نیا عقیدہ گھڑ لیا ہے۔ وہ یہ کہ حضور ﷺ حیات ظاہری کے ساتھ دوبارہ دنیا میں تشریف لائیں گے۔

اس بات کا قرآن پاک پر بھی افترا باندھا ہے کہ یہ بشارت قرآن پاک دیتا ہے۔ حالانکہ قرآن پاک تفاسیر واحادیث اور بزرگان متقدمین اور متاخرین کے اقوال میں کہیں یہ نہیں ملتا اور نہ ملے گا مرزا غلام احمد پر یہ محاورہ کیسا اچھا چسپاں ہوتا ہے۔ خدا جب دین لیتا ہے تو عقل بھی چھین لیتا ہے۔

روضہ آدم کا جو تھا نامکمل اب تلک
میرے آنے سے ہوا کامل بجملہ برگ وبار

(درثمین اردو ص ٨٤، براہین احمدیہ ص ١٤، خزائن ج ٢١ ص ١٤٤)

آدم نیز احمد مختار در بزم جامہ ہمہ ابرار

(نزول المسیح ٩٩، خزائن ج ١٨ ص ٤٧٧)

میں کبھی آدم، کبھی موسیٰ کبھی یعقوب ہوں
نیز ابراہیم ہوں نسلیں ہیں میری بے شمار

(درثمین اردو ص ٧٤، براہین احمدیہ حصہ ٥ ص ١٠٣، خزائن ج ٢١ ص ١٣٣)

نوٹ:

روضہ آدم کا جو تھا نامکمل اب تلک
میرے آنے سے ہوا کامل بجملہ برگ وبار

اس شعر میں حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی ختم نبوت کا انکار کیا ہے اور اپنے آپ کو ختم نبوت کا مدعی بنا رہا ہے جو شان رسالت میں کھلی گستاخی ہے اور آگے کبھی اپنے آپ کو احمد مختار بناتا ہے کبھی کچھ کبھی کچھ آخر تھک کر کہہ دیا کہ میری نسلیں ہیں بے شمار۔ آپ جانتے ہیں کہ ہر ایک کی نسل تو ایک ہی ہوتی ہے۔ دوغلہ کوئی ہی ہوتا ہے۔ مگر مرزا دوغلہ سے بھی بڑھا ہوا ہے اور آپ جانتے ہیں کہ زیادہ نسلوں والا حرامی ہوتا ہے۔ العاقل تكفيه الاشارة!

٤٠

قرآن کریم کی توہین

اور ان میں پھونک مار کر سچ مچ کا جانور بنا دیا کرتا

کوئی معجزہ نہیں ہوا۔ اگر آپ سے کوئی معجزہ ظاہر (یعنی مرزا غلام احمد قادیانی) کا معجزہ تھا۔“

نوٹ: ان دو مذکورہ حوالوں میں مرزا نے پرند بنانا عمل التنویم اور مسمریزم لکھا ہے اور اس بات میں صراحتاً قرآن پاک کی تکذیب کی ہے السلام کے معجزات دیئے ہیں۔ ملاحظہ ہو آیت:

”انی قد جئتكم باية من فانفخ فيه فيكون طيراً باذن الله وابر الله وانبئكم بما تاكلون وما تدخر كنتم مؤمنين“ (عیسیٰ علیہ السلام نے فر معجزہ لایا ہوں کہ میں تمہارے لئے مٹی کے ایک مارتا ہوں تو وہ فوراً پرند ہو جاتا ہے۔ اللہ کے حکم درست کر دیتا ہوں اور میں اللہ کے حکم سے مرد دیتا ہوں جو تم کھا کر آتے ہو اور جو تم اپنے گھر میں تمہارے لئے نشانی ہے اگر تم ایماندار ہو۔

نیز اس آیت مبارکہ میں عیسیٰ علیہ طرف سے نشانی لے کر آیا ہوں۔ پھر اللہ تعالیٰ مٹی کے پرند بنا کر اڑانا، مادر زاد اندھوں کو، ا زندہ کرنا، اور غیب کی خبریں دینا، اور ساتھ ہی لاية لكم ان كنتم المؤمنين“ (یعنی ا اگر کوئی ایماندار نہ ہو تو نہ مانے)

صفحہ ٥٢٩

قرآن کریم کی توہین

اور ان میں پھونک مار کر سچ مچ کا جانور بنا دیا کرتا تھا بلکہ صرف عمل التراب (مسمریزم) تھا۔“

(حاشیہ ازالہ اوہام ص ٣٢٢، خزائن ج ٣ ص ٢٦٣)

کوئی معجزہ نہیں ہوا۔ اگر آپ سے کوئی معجزہ ظاہر بھی ہوا وہ آپ کا معجزہ نہیں تھا۔ بلکہ اس تالاب (یعنی مرزا غلام احمد قادیانی) کا معجزہ تھا۔“

(ضمیمہ انجام آتھم ص ٦، ٧، خزائن ج ١١ ص ٢٩٠، ٢٩١)

نوٹ: ان دو مذکورہ حوالوں میں مرزا غلام احمد نے عیسیٰ علیہ الصلوۃ والسلام کا معجزہ مٹی کے پرند بنانا عمل التراب اور مسمریزم لکھا ہے اور نیز لکھا کہ آپ سے کوئی معجزہ سرزد نہیں ہوا۔ اس بات میں صراحتاً قرآن پاک کی تکذیب کی ہے کیونکہ قرآن پاک فرماتا ہے کہ ہم نے عیسیٰ علیہ السلام کے معجزات دیئے ہیں۔ ملاحظہ ہو آیت:

”انی قد جئتكم باية من ربكم اني اخلق من الطين كهيئة الطير فانفخ فيه فيكون طيراً باذن الله وابرى الاكمه والابرص واحي الموتى باذن الله وانبئكم بما تاكلون وما تدخرون في بيوتكم ان في ذالك لاية لكم ان كنتم مؤمنين“ ﴿عیسیٰ علیہ السلام نے فرمایا میں تمہارے رب کے پاس سے ایک نشانی یعنی معجزہ لایا ہوں کہ میں تمہارے لئے مٹی کے ایک پرند کی تصویر بناتا ہوں۔ پھر میں اس میں پھونک مارتا ہوں تو وہ فوراً پرند ہو جاتا ہے۔ اللہ کے حکم سے اور میں مادر زاد اندھوں اور سفید داغ والوں کو درست کر دیتا ہوں اور میں اللہ کے حکم سے مردے کو زندہ کر دیتا ہوں اور میں تمہیں ان اشیاء کی خبر دیتا ہوں جو تم کھا کر آتے ہو اور جو تم اپنے گھروں میں جمع کرتے ہو۔ بے شک ان باتوں معجزوں میں تمہارے لئے نشانی ہے اگر تم ایماندار ہو۔“

نیز اس آیت مبارکہ میں عیسیٰ علیہ السلام فرماتے ہیں کہ میں تمہارے پاس اللہ تعالیٰ کی طرف سے نشانی لے کر آیا ہوں۔ پھر اللہ تعالیٰ نے اس آیت مبارکہ میں پانچ معجزے ذکر فرمائے۔ مٹی کے پرند بنا کر اڑانا، مادر زاد اندھوں کو، اور برص کی بیماری والوں کو درست کر دینا، اور مردے زندہ کرنا، اور غیب کی خبریں دینا، اور ساتھ ہی اللہ تعالیٰ نے اعلان فرما دیا کہ: ”ان فی ذالك لاية لكم ان كنتم مؤمنين“ ”یعنی اگر ایماندار ہو تو ان معجزوں میں تمہارے لئے نشانی ہے اگر کوئی ایماندار نہ ہو تو نہ مانے“

٤١

صفحہ ٥٣٠

تو اس آیت سے معلوم ہوا کہ عیسیٰ علیہ السلام کے معجزات سے انکار کرنا ایمان سے ہاتھ دھونا ہے۔ جیسا کہ مرزا غلام احمد نے ایمان سے ہاتھ دھوئے اور کفر کے جال میں پھنسا اور لوگوں کے لئے بھی کفر کا جال بچھایا جیسا کہ اس آیت (٢) سے بھی واضح ہے۔

”واذ تخلق من الطين كهيئة الطير باذنى فتنفخ فيها فتكون طيراً باذنى وتبرئ الاكمه والابرص باذنى واذ تخرج الموتى باذنی واذا كففت بنى اسرائيل عنك اذا جئتهم بالبينت فقال الذين كفروا منهم ان هذا الا سحر مبين (ع ٥)“ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے یاد کر جب تو (عیسیٰ علیہ السلام) مٹی سے پرندے کی مانند تصویر میرے حکم سے بناتا اور اس میں پھونک مارتا تھا تو وہ میرے حکم سے اڑنے لگتا تھا اور میرے حکم سے مادر زاد اندھوں اور سفید داغ والوں کو درست کر دیتا تھا اور جب تو میرے حکم سے مردوں کو زندہ کر دیتا تھا اور جب میں نے تجھ سے بنی اسرائیل کو روکا جب تو ان کے پاس روشن نشانیاں (یعنی معجزات) لے کر آیا تو ان میں سے کافر بولے کہ نہیں ہے یہ مگر کھلا جادو۔ ﴿

قابل یاد بات یہ ہے کہ اس آیت میں پہلے تو اللہ تعالیٰ نے عیسیٰ علیہ السلام کے معجزات ذکر فرمائے پھر اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ”اذا جئتهم“ الآیہ۔ یعنی جب تو ان کے پاس واضح نشانیاں یعنی معجزات لے کر آیا تو کافروں نے معجزات کا انکار کر کے اس کو کھلا جادو کہا تو معلوم ہوا کہ عیسیٰ علیہ السلام کے معجزات کو جادو مسمریزم کہنا کافروں کا کام ہے۔ جیسا کہ مرزا غلام احمد قادیانی کا شیوہ ہے۔

حضرات! مضمون طویل ہوتا ہے۔ اس لئے آیت کے ترجمہ پر ہی اکتفاء کرتا ہوں۔ اگر عیسیٰ علیہ السلام کے معجزات تفصیل سے دیکھنے ہوں تو آیات مبارکہ کی تفسیر دیکھیں۔ اس مختصر میں تفصیل کی گنجائش نہیں ہے۔

خدا تعالیٰ کی توہین

مرزا غلام احمد قادیانی کو بھی تسلیم ہے کہ تمام مسلمانوں کا عقیدہ ہے کہ وحی رسالت قیامت تک منقطع ہے جیسا کہ ازالۃ الاوہام ص ٦١٤ ، خزائن ج ٣ ص ٤٣٢ پر لکھا ہے۔ ملاحظہ ہو عبارت مرزا غلام احمد : ”تمام مسلمانوں کا عقیدہ ہے کہ وحی رسالت تا بہ قیامت منقطع ہے ۔“ لیکن پھر بھی اپنے پر وحی ثابت کرنے کے لئے یہ گستاخانہ اعتراض کرتا ہے۔ ملاحظہ ہو: ”کوئی عقلمند اس بات کو قبول نہیں کر سکتا ہے کہ اس زمانہ میں خدا سنتا تو ہے مگر بولتا نہیں پھر اس کے بعد سوال ہوگا کہ کیوں نہیں بولتا؟ کیا زبان پر کوئی مرض لاحق ہو گیا ہے؟۔“

(براہین احمدیہ ص ١٤٥، خزائن ج ١ ص ٢٦٢)

٤٢

مرزائی بتائیں!

مرزائیوں کا خدا کیسا ہے؟

واصیب (حقیقۃ الوحی ص ١٠٣، خزائن ج ٢٢ آؤں گا میں جواب دیتا ہوں اور میں غلطی بھ

سبحان اللہ! جن کا خدا ہاتھی کا ہوگی؟ فتدبر

مرزا غلام احم

خزائن ج ٥ ص ٥٦٢) میں نے خواب میں وی

ہوں۔“

توحید وتفرید۔“

صفحہ ٥٣١

مرزائی بتائیں!

مرزائیوں کا خدا کیسا ہے؟

واصيب (حقیقت الوحی ص ١٠٣، خزائن ج ٢٢ ص ١٠٦) میں فوجوں کے ساتھ ہوں تیرے پاس اچانک آؤں گا میں جواب دیتا ہوں اور میں غلطی بھی کر لیتا ہوں اور ٹھیک بھی کرتا ہوں۔“

(براہین احمدیہ ص ٥٥٦، خزائن ج ٢١ ص ٦٦٣)

سبحان اللہ! جن کا خدا ہاتھی کا دانت ہو اور غلطی بھی کر لیتا ہو تو ان کی اپنی کیفیت کیا ہو گی؟ فتدبر

مرزا غلام احمد قادیانی کا خدائی دعویٰ

خزائن ج ٥ ص ٥٦٤) میں نے خواب میں دیکھا کہ میں خدا ہوں اور یقین کیا کہ وہی ہوں۔“

ہوں۔“

(کتاب البریہ ص ٨٥، خزائن ج ١٣ ص ١٠٣)

توحید و تفرید۔“

(حقیقت الوحی ص ٨٦، خزائن ج ٢٢ ص ٨٩)

٤٣

صفحہ ٥٣٢

مرزا غلام احمد قادیانی کا ابن اللہ ہونے کا دعویٰ

"انت بمنزلۃ اولادی تو مجھ سے بمنزلہ میری اولاد کے ہے۔"

(تتمہ حقیقت الوحی ص١٣٢، خزائن ج٢٢ ص٥٨١، دافع البلاء ص٦، خزائن ج١٨ ص٢٢٧)

"انی معک اسمع یا ولدی میں تیرے ساتھ ہوں میرے بیٹے سن۔"

(البشریٰ ص٤٩)

"انت منی بمنزلۃ ولدی تو مجھ سے بمنزلہ فرزند کے ہے۔"

(حقیقت الوحی ص٨٦، خزائن ج٢٢ ص٨٩)

"انت من مآء نا وهم من فشل تو ہمارے پانی سے ہے اور لوگ عورت کے پانی سے ہیں۔"

(اربعین نمبر٣ ص٣٤، خزائن ج١٧ ص٤٢٣)

"انت من مآء نا وهم من فشل تو ہمارے پانی سے ہے اور لوگ فشل سے۔"

(انجام آتھم ص٥٥، خزائن ج١١ ص ایضاً)

”یا قمر یا شمس انت منی وانا منك “ اے چاند اور اے سورج تو مجھ سے ہے اور میں تجھ سے ہوں۔ وحی الٰہی ایک دفعہ مجھے اللہ تعالیٰ نے چاند قرار دیا اور اپنا نام سورج رکھا اس سے یہ مطلب ہے کہ جس طرح چاند کا نور سورج سے فیض یاب اور مستفاد ہوتا ہے۔ اسی طرح میرا نور اللہ تعالیٰ سے فیض یاب اور مستفاد ہے۔ پھر دوسری دفعہ اللہ تعالیٰ نے اپنا نام چاند رکھا اور مجھے سورج کہہ کر پکارا۔"

(تجلیات الٰہیہ ص٥، خزائن ج٢٠ ص٣٩٧)

مرزائی! تو مجھ سے ہے اور میں تجھ سے ہونے کا مطلب بتائیں۔

دوسری دفعہ اللہ تعالیٰ نے اپنا نام چاند اور مرزا کا نام سورج کیوں رکھا۔ کیا اللہ تعالیٰ بھی مرزا غلام احمد کی طرح مرزا غلام احمد سے فیض یاب ہوتا تھا؟

مرزا غلام احمد قادیانی کا خالق ہونے کا دعویٰ

ہم ایک نیا نظام نیا آسمان اور نئی زمین چاہتے ہیں۔ میں نے پہلے تو آسمان زمین کو اجمالی صورت میں پیدا کیا۔ جس میں کہ ترتیب اور تفریق نہ تھی۔ پھر میں نے منشاء حق کے مطابق اس کی ترتیب اور تفریق کی اور میں دیکھتا تھا کہ میں اس کے خلق پر قادر ہوں اور پھر میں نے

٤٤

صفحہ ٥٣٣

آسمان دنیا کو پیدا کیا اور ”انا زینا السماء الدنیا بمصابیح“ (بے شک ہم نے آسمان دنیا کو ستاروں کے ساتھ مزین کیا) پھر میں نے کہا کہ اب ہم انسان کو مٹی کے خلاصہ سے پیدا کریں گے۔

پھر میری حالت کشف سے الہام کی طرف منتقل ہوگئی اور میری زبان پر جاری ہوا: ”اردت ان استخلف فخلقت آدم انا خلقنا الانسان فی احسن تقویم“ (میں نے ارادہ کیا کہ خلیفہ بناؤں تو میں نے آدم کو پیدا کیا بے شک ہم نے انسان کو اچھے ڈھانچے میں پیدا کیا ہے)

(مکاشفات ص١٠ کتاب البریہ ص٨٧، خزائن ج١٣ ص١٠٥)

مرزا غلام احمد نے بقول خود شرک عظیم کیا

تصویر کا پہلا رخ

”فمن سوء الادب ان یقال ان عیسیٰ ما مات ان ھو الا شرک عظیم یاکل الحسنات ویخاف الحصاة بل ھو توفی کمثل اخوانہ (ضمیمہ حقیقت الوحی الاستفتاء ص٣٩، خزائن ج٢٢ ص٦٦٠) ”پس یہ سوء ادب سے ہے کہ کہا جائے کہ عیسیٰ علیہ السلام ابھی تک فوت نہیں ہوئے۔ نہیں ہے یہ مگر شرک عظیم جو نیکیوں کو کھا جاتا ہے۔ عقل مند اس سے خوف کرتا ہے۔ بلکہ وہ بھائیوں کی طرح فوت ہو چکے ہیں۔“

تصویر کا دوسرا رخ

”پھر میں تقریباً بارہ برس تک جو ایک زمانہ دراز ہے بالکل اس سے بے خبر اور غافل رہا کہ خدا نے مجھے بڑی شدومد سے براہین میں مسیح موعود قرار دیا ہے اور میں حضرت عیسیٰ کی آمد ثانی کے رسمی عقیدہ پر جما رہا۔ جب بارہ برس گزر گئے تب وہ وقت آگیا کہ میرے پر اصل حقیقت کھول دی جائے تب تواتر سے اس بارے میں الہامات شروع ہوئے کہ تو ہی موعود ہے۔“

(اعجاز احمدی ص٧، خزائن ج١٩ ص١١٣)

خلاصہ مرزا غلام احمد قادیانی کو چالیس سال کے بعد الہامات شروع ہوئے اور بارہ سال تک باوجود الہامات کے اس عقیدہ پر جما رہا جس کو شرک عظیم کہہ رہا ہے۔ تو ثابت ہوا کہ صرف ٥٢ برس مرزا غلام احمد نے شرک عظیم کیا ہے۔

نتیجہ ما سبق

ان تمام مذکورہ باتوں سے مرزا غلام احمد قادیانی کا مشرک ہونا اظہر من الشمس ہے۔

٤٥

صفحہ ٣٥

مثلاً مرزا قادیانی کا خدائی دعویٰ، مرزا غلام احمد قادیانی کا ابن اللہ ہونے کا دعویٰ، مرزا غلام احمد قادیانی کے خالق ہونے کا دعویٰ، مرزا غلام احمد قادیانی نے بقول خود شرک عظیم کیا اور مشرک کا حکم اللہ تعالیٰ قرآن پاک میں یوں بیان فرماتا ہے:

"ان اللہ لا یغفر ان یشرک بہ ویغفر مادون ذالك بے شک اللہ تعالیٰ مشرک کو نہیں بخشے گا اور اس کے علاوہ جس کو چاہے بخش دے۔"

مرزائی بتائیں!

جن کا نبی باون سال تک شرک عظیم میں مبتلا رہا ہو تو اس کے امتیوں کو اس کی سنت پر عمل کرنے کے لئے کتنے سال شرک کرنا چاہئے جن امت کا نبی ایسا گمراہ ہو تو اس کے امتی کیا ہدایت پائیں گے؟

انگریز کی اطاعت میں مرزا غلام احمد کا جہاد کو ممنوع قرار دینا

کہ اگر وہ اکٹھی کی جائیں تو پچاس الماریاں ان سے بھر سکتی ہیں۔ میں نے ایسی کتابوں کو تمام ممالک عرب، مصر اور شام اور کابل اور روم تک پہنچا دیا ہے۔ میری ہمیشہ یہ کوشش رہی ہے کہ مسلمان اس سلطنت کے سچے خیرخواہ ہو جائیں اور مہدی خونی اور مسیح خونی کی بے اصل روایتیں اور جہاد کے جوش دلانے والے مسائل جو احمقوں کے دلوں کو خراب کرتے ہیں ان کے دلوں سے معدوم ہو جائیں۔“

(تریاق القلوب ص ١٥، خزائن ج ١٥ ص ١٥٥، ١٥٦)

برس کی عمر تک پہنچا ہوں اپنی زبان اور قلم سے اہم کام میں مشغول ہوں تاکہ مسلمانوں کے دلوں کو گورنمنٹ انگلشیہ کی سچی محبت اور خیرخواہی اور ہمدردی کی طرف پھیروں اور ان کے بعض کم فہموں کے دلوں سے غلط خیال جہاد وغیرہ کے دور کروں جو دلی صفائی اور مخلصانہ تعلقات سے روکتے ہیں۔“

(تبلیغ رسالت ج ٧ ص ١١، مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ١١)

ہوتے جائیں گے۔ کیونکہ مجھے مسیح اور مہدی مان لینا ہی مسئلہ جہاد کا انکار کرنا ہے۔“

(تبلیغ رسالت ج ٧ ص ١٧، مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ١٩)

٤٦

خیالات کے روکنے کے لئے برابر سترہ سال تک کیا اسی کام کی اور خدمت نمایاں کی اور اس مدت م کوئی نظیر ہے۔“

ہزار کے قریب کتابیں اور رسائل اور اشتہارات چ اس مضمون کے شائع کئے۔... جس کا نتیجہ یہ ہوا ک چھوڑ دیئے جو نافہم ملاؤں کی تعلیم سے ان کے دلو آئی ہے کہ مجھے اس بات پر فخر ہے کہ برٹش انڈیا م دکھلا نہیں سکا۔“

تین باتوں نے اوّل درجہ کا خیرخواہ بنا دیا ہے۔ ا کے احسانوں نے تیسرے خدا تعالیٰ کے الہام ن

برٹش گورنمنٹ کی نظر میں ایک وفادار اور خیرخواہ ذکر مسٹر گریفن صاحب کی تاریخ رئیسان پنجاب سے بڑھ کر سرکار انگریزی کو مدد دی تھی۔ یعنی پ وقت سرکار انگریزی کی امداد میں دیئے تھے۔“

نوٹ: دیکھئے مرزا غلام احمد قادیانی انگریزوں کے نمک خوار ہیں اور ان کے حق میں کہ انگریزوں کیخلاف بغاوت تو کجا اپنے دل میں یہ ہے۔

سلسلہ سے مراد مرزائیت کا ڈھونگ محض انگریزوں سے وفاداری ہے۔ نعوذ باللہ انگریزی حکومت سے دنیاوی منافع حاصل کرنا کی حمایت کے لئے وقف رکھتے تھے اور اسی ب اور پوری زندگی زور لگاتے رہے کہ مسلمانوں

صفحہ ٥٣٥

خیالات کے روکنے کے لئے برابر سترہ سال تک پورے جوش سے پوری استقامت سے کام لیا کیا اسی کام کی اور خدمت نمایاں کی اور اس مدت دراز کی دوسرے مسلمانوں جو میرے مخالف ہیں کوئی نظیر ہے۔‘‘

(کتاب البریہ ص ٨، خزائن ج ١٣ص ٨)

......٥ ”مجھ سے سرکار انگریزی کے حق میں جو خدمت ہوئی ہے وہ یہ تھی کہ میں نے پچاس ہزار کے قریب کتابیں اور رسائل اور اشتہارات چھپوا کر اس ملک اور نیز دوسرے بلاد اسلامیہ میں اس مضمون کے شائع کئے ...... جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ لاکھوں انسانوں نے جہاد کے وہ غلط خیالات چھوڑ دیئے جو نافہم ملاؤں کی تعلیم سے ان کے دلوں میں تھے یہ ایک ایسی خدمت مجھ سے ظہور میں آئی ہے کہ مجھے اس بات پر فخر ہے کہ برٹش انڈیا کے تمام مسلمانوں میں سے اس کی نظیر کوئی مسلمان دکھلا نہیں سکا۔‘‘

(ستارہ قیصرہ ص ٣، خزائن ج ١٥ص ١١٤)

......٦ ”میں تمام مسلمانوں میں سے اوّل درجہ کا خیر خواہ گورنمنٹ انگریزی کا ہوں کیونکہ مجھے تین باتوں نے اوّل درجہ کا خیر خواہ بنا دیا ہے۔ اوّل والد مرحوم کے اثر نے دوم اس گورنمنٹ عالیہ کے احسانوں نے تیسرے خدا تعالیٰ کے الہام نے۔‘‘

(تریاق القلوب ص ٣٠، خزائن ج ١٥ص ٤٩١)

......٧ ”میں ایک ایسے خاندان سے ہوں جو اس گورنمنٹ کا پکا خیر خواہ ہے۔ میرے والد غلام مرتضیٰ گورنمنٹ کی نظر میں ایک وفادار اور خیر خواہ آدمی تھا جن کو دربار گورنری میں کرسی ملتی تھی اور جن کا ذکر مسٹر گریفن صاحب کی تاریخ رئیسان پنجاب میں ہے اور ١٨٥٧ء میں انہوں نے اپنی طاقت سے بڑھ کر سرکار انگریزی کو مدد دی تھی۔ یعنی پچاس سوار اور گھوڑے بہم پہنچا کر عین زمانہ غدر کے وقت سرکار انگریزی کی امداد میں دیئے تھے۔‘‘

(کتاب البریہ، خزائن ج ١٣ص ٤)

نوٹ : دیکھئے مرزا غلام احمد قادیانی نے صاف صاف کہہ دیا کہ ہم تو اپنے آقا ولی نعمت انگریزوں کے نمک خوار ہیں اور ان کے حق میں خدمت ضرور ادا کریں گے۔ جس کی صورت یہ ہے کہ انگریزوں کیخلاف بغاوت تو کجا اپنے دل میں برائی بھی نہ لانا اور ہمارے اس سلسلہ کا مقصد بھی یہ ہے۔

سلسلہ سے مراد مرزائیت کا ڈھونگ ہے۔ یعنی مجھ پر ایمان لانے کا مقصد صرف اور محض انگریزوں سے وفاداری ہے۔ نعوذ باللہ من ذالک چونکہ مرزا غلام احمد قادیانی انگریز اور انگریزی حکومت سے دنیاوی منافع حاصل کرتا تھا تو خود اور اپنے ماننے والوں کو ہر وقت انگریزوں کی حمایت کے لئے وقف رکھتے تھے اور اسی لئے انگریزوں کیخلاف جہاد کو ممنوع قرار دے دیا تھا اور پوری زندگی زور لگاتے رہے کہ مسلمانوں کے دلوں سے انگریز اور انگریزی حکومت کیخلاف جو

٤٧

صفحہ ٥٣٧

جہاد کا جذبہ پیدا ہو چکا ہے۔ اس کو ختم کر دیا جائے اور ہر اس چیز کی مخالفت مرزا غلام احمد کرنا فرض سمجھتا تھا جس کے ذریعے یہ خدشہ ہو کہ اس بات سے انگریزوں کو نقصان پہنچے گا یا انگریزوں کو ہندوستان چھوڑنا پڑے گا۔

حکومت پاکستان کو مطلع کیا جاتا ہے کہ چونکہ مرزائیوں کے نزدیک جہاد کرنا بالکل ناجائز ہے اور یہ دراصل انگریزوں کے جاسوس ہیں۔ جیسا کہ ماقبل ہم سات حوالہ جات سے ثابت کر چکے ہیں۔ اس لئے ان کو کسی عہدہ پر فائز نہ کیا جائے ورنہ یہ کسی وقت پاکستان کو عین وقت پر زبردست نقصان پہنچائیں گے۔ جیسا کہ پاکستان اور ہندوستان کی تقسیم کے موقع پر اور اس سے پہلے مسلمانوں کو پہنچا چکے ہیں۔

مرزا غلام احمد قادیانی کے اعمال و کردار

تصویر کا پہلا رخ

”مولوی شیر علی صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ عورتوں کو چھونا جائز نہیں۔“

”ایک دفعہ ڈاکٹر محمد اسماعیل خان صاحب نے حضرت مسیح موعود (مرزا غلام احمد ) سے عرض کیا کہ میرے ساتھ شفاخانہ میں ایک انگریز لیڈی کام کرتی ہے۔ وہ ایک بوڑھی عورت ہے۔ کبھی کبھی میرے ساتھ مصافحہ کرتی ہے۔ اس کا کیا حکم ہے۔ حضرت صاحب نے فرمایا یہ تو جائز نہیں۔ آپ کو عذر کر دینا چاہئے تھا کہ ہمارے مذہب میں یہ جائز نہیں ہے۔“

(سیرت المہدی ص٧٦ ج٣)

تصویر کا دوسرا رخ ...... دوشیزہ لڑکی سے پاؤں دبوانا

”حضور (مرزا غلام احمد ) کو مرحومہ کی خدمت حضور کے پاؤں دبانے کی بہت پسند تھی۔“ (الفضل ٢٠ مارچ ١٩٢٨ء) مرحومہ کا نام عائشہ تھا جو کنواری اور دوشیزہ تھی چودہ سال کی عمر میں مرزا قادیانی کی خدمت میں بھیجی گئی تھی۔

غیر محرم عورتوں کا پہرہ

”مائی رسول بی بی صاحبہ بیوہ حامد علی مرحوم نے بواسطہ مولوی عبدالرحمن صاحب جٹ مولوی فاضل نے مجھ سے بیان کیا کہ میں حضرت مسیح موعود (مرزا غلام احمد ) کے وقت میں میں اور اہلیہ بابو شاہ دین رات کو پہرہ دیتی تھیں۔“

(سیرت المہدی ج ٣ ص ٢١٣ مطبوعہ ١٩٣٩ء)

٤٨

تصویر کا پہلا رخ...... انبیاء کو احتلام نہیں ہوتا

الشيطان نعصمن منه تكريماً له ﷺ كما اصحابنا بحث فى الدرس منع وقوع الاحتلا يطعن غيره لا يقظة ولا نوماً والشيطان ص ٢٤) مجھے معلوم ہوا کہ ازواج مطہرات نبی کریم ﷺ شیطان کی طرف سے ہوتا ہے اور ان کو اللہ تعالیٰ نے حضو محفوظ فرمایا ہے۔ جیسا کہ حضور ﷺ اس سے محفوظ ہیں اصحاب نے درس میں احتلام کے ناواقع ہونے پر بحث ہر وقت آپ کی فرمانبرداری میں رہتی ہیں۔ اس لئے شیطان میری صورت نہیں بن سکتا۔“

مرزا کا قول انبیاء کو احتلام نہیں ہوتا

قادیانی ) فرمایا کہ چونکہ انبیاء سوتے جاگتے پاکیزہ خیا خیالوں کو دل میں آنے نہیں دیتے اس لئے ان کو خواب م

تصویر کا دوسرا رخ ...... مرزا کو احتلام ہو گیا

”ڈاکٹر محمد اسماعیل خان صاحب نے مجھ میاں حامد علی مرحوم کی روایت ہے کہ ایک سفر میں حضو ہو گیا۔“

نوٹ : یہ ہیں مرزائیوں کے نبی کے کردار سے بھی ہاتھ ملانا ہمارے مذہب میں منع ہے۔ خود نو جوا محرموں سے رات کو پہرے دلواتا رہا ہے اور خود کہتا ہ جاگتے پاکیزہ خیالات کے سوا کچھ نہیں رکھتے اور ناپاک خ نبوت کا دعویٰ کر کے ناپاک خیال دل میں رکھتا ہے۔ ان

٤٩

صفحہ ٥٣٧

تصویر کا پہلا رخ ...... انبیاء کو احتلام نہیں ہوتا

الشيطان يعصمن منه تكريماً له ﷺ كما عصم هو منه ثم بلغني ان بعض اصحابنا بحث في الدرس منع وقوع الاحتلام من ازواج النبى ﷺ لا نهن لا يطعن غيره لا يقظة ولا نوماً والشيطان لا يتمثل به ﷺ (برحاشیہ نسائی مجتبائی ص٤٢) مجھے معلوم ہوا کہ ازواج مطہرات نبی کریم ﷺ کو احتلام نہیں ہوتا اس لئے کہ احتلام شیطان کی طرف سے ہوتا ہے اور ان کو اللہ تعالیٰ نے حضور ﷺ کی تکریم شان کی خاطر اس سے محفوظ فرمایا ہے۔ جیسا کہ حضور ﷺ اس سے محفوظ ہیں پھر مجھے یہ بات پہنچی کہ ہمارے بعض اصحاب نے درس میں احتلام کے ناواقع ہونے پر بحث کی کیونکہ ازواج نبی ﷺ جاگتی اور سوتی ہر وقت آپ کی فرمانبرداری میں رہتی ہیں۔ اس لئے ان کو احتلام نہیں ہوتا اور آپ نے فرمایا شیطان میری صورت نہیں بن سکتا۔“

مرزا کا قول انبیاء کو احتلام نہیں ہوتا

قادیانی) فرمایا کہ چونکہ انبیاء سوتے جاگتے پاکیزہ خیالوں کے سوا کچھ نہیں رکھتے اور ناپاک خیالوں کو دل میں آنے نہیں دیتے اس لئے ان کو خواب میں بھی احتلام نہیں ہوتا۔“

(سیرۃ المہدی ج١ ص١٥٧)

تصویر کا دوسرا رخ ...... مرزا کو احتلام ہو گیا

”ڈاکٹر محمد اسماعیل خان صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ حضرت صاحب کے خادم میاں حامد علی مرحوم کی روایت ہے کہ ایک سفر میں حضرت صاحب (مرزا غلام احمد) کو احتلام ہو گیا۔“

(سیرۃ المہدی ج٣ ص٢٤٢)

نوٹ: یہ ہیں مرزائیوں کے نبی کے کردار ڈاکٹر محمد اسماعیل کو کہتا ہے کہ بوڑھی عورتوں سے بھی ہاتھ ملانا ہمارے مذہب میں منع ہے۔ خود نوجوان لڑکیوں سے پاؤں دبواتا ہے اور غیر محرموں سے رات کو پہرے دلواتا رہا ہے اور خود کہتا ہے کہ نبی کو احتلام نہیں ہوتا کیونکہ یہ سوتے جاگتے پاکیزہ خیالات کے سوا کچھ نہیں رکھتے اور ناپاک خیالوں کو دل میں آنے نہیں دیتے اور خود نبوت کا دعویٰ کر کے ناپاک خیال دل میں رکھتا ہے۔ اس لئے اس کو احتلام ہوا ہے۔ سچ ہے اوروں

٤٩

صفحہ ٥٣٨

کو نصیحت خود میاں فضیحت۔

مرزا غلام احمد نے روزے چھوڑ دیئے

”جب مسیح موعود (مرزا غلام احمد) کو دورے پڑنے لگے تو اس سال آپ نے سارے رمضان کے روزے نہیں رکھے اور فدیہ دے دیا اور دوسرا رمضان آیا تو آپ نے روزے رکھنے شروع کئے۔ مگر آٹھ نو روزے رکھے تھے پھر دورہ ہوا اس لئے باقی روزے چھوڑ دیئے۔ اسی طرح تیسرے رمضان میں ہوا۔“

(سیرت المہدی ص ٦٦ ج ١)

مرزا غلام احمد کو حیض اور بچہ

کسی ناپاکی پر اطلاع پائے اب تجھ میں وہ حیض نہیں۔ بلکہ بچہ ہو گیا ہے جو بمنزلہ اطفال کے ہے۔“

(اربعین ٤ ص ١٩ بر حاشیہ خزائن ج ١٧ ص ٤٥٢، تتمہ حقیقت الوحی ص ١٤٣، خزائن ج ٢٢ ص ٥٨١)

مرزائی بتائیں کہ مرزا مرد تھا یا کہ عورت کیونکہ حیض عورتوں کو آتا ہے اور حیض اس خون کو کہتے ہیں جو عورتوں کو ہر ماہ بعد چند روز آتا ہے۔ ان دنوں میں عورت کو نماز معاف ہے۔ روزے بھی نہیں رکھ سکتی بلکہ روزے دوسرے دنوں میں قضا کرے گی اور ان حیض کے دنوں میں قرآن کا پڑھنا اور چھونا عورت کے لئے حرام ہوتا ہے اور عورت مسجد میں بھی ان ایام میں داخل نہیں ہو سکتی اور اس کے ساتھ ان دنوں میں جماع بھی ناجائز و حرام ہے اور حیض عورتوں کا خاصہ ہے۔ مرد کو نہیں آتا مگر مرزا قادیانی کہتا ہے کہ مجھے حیض آتا ہے اس پر بھی بس نہیں بلکہ حمل اور بچے تک لکھ مارا ہے۔ ملاحظہ ہو:

مرزا قادیانی کو حمل

”میرا نام مریم رکھا گیا اور عیسٰی کی روح مجھ میں نفخ کی گئی اور استعارہ کے رنگ میں حاملہ ٹھہرایا گیا۔ آخر کئی ماہ کے بعد جو دس مہینہ سے زیادہ نہیں مجھے مریم سے عیسٰی بنایا گیا۔ بس اس طور سے میں ابن مریم ٹھہرا۔“

(کشتی نوح ص ٤٦، ٤٧، خزائن ج ١٩ ص ٥٠)

مرزائی بتائیں!

جب مرزا مریم بن گیا تو اس وقت مرد تھا یا عورت اگر عورت تھی تو خدا تعالیٰ نے کسی عورت کو نبوت نہیں دی۔ اگر مرد تھا تو حاملہ کیوں ہوگا اور پھر جب مریم سے عیسٰی بنا تو وہ جو پہلے حاملہ میں بچہ لکھا ہے اور اس حوالہ میں حمل لکھا ہے وہ کہاں گیا؟

٥٠

ایک پہیلی

کرم خاکی ہوں م
ہوں بشر کی جائے

آپ خوب سوچ کر بتائیں دعویٰ کیا ہے؟ جواب: پنجابی میں اسے گوں کا

عصمت انبیاء بقول مرزا

”نبی کی عصمت ایک اجماعی ع

مرزا معصوم نہیں بقول خود

”لیکن افسوس ہے کہ بتالوی ص مجھے اور نہ کسی انسان کو بعد انبیاء کے معصوم کیوں نہیں مرزا غلام احمد معصو شمار انبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام کی توہین کی۔ بھی گستاخی کی ہے اور قرآن پاک کی تو ہی مفہوم کچھ کا کچھ بنا لیا اور ٥٢ سال تک شرک اور ابن اللہ اپنے آپ کو بنایا اور نوجوان عو ہیں۔ لیکن ان تمام گناہوں کے باوجود فاعتبروایا اولی الباب۔

ملازمت

مرزا غلام احمد قادیانی نے سیا ج ٢ ص ١٥٠) پر ایام ملازمت ١٨٦٤ء سے یہی شان ہونی چاہئے کہ انگریز کافر کی غلام

صفحہ ٥٣٩

ایک پہیلی

کرم خاکی ہوں میرے پیارے نہ آدم زاد ہوں
ہوں بشر کی جائے نفرت اور انسانوں کی عار ہوں

(براہین احمدیہ ج ٥ ص ٩٦، خزائن ج ٢١ ص ١٢٧، درثمین ص ٦٩)

آپ خوب سوچ کر بتائیں وہ کیا چیز ہے جس کا مرزا غلام احمد نے اس شعر میں دعویٰ کیا ہے؟

جواب: پنجابی میں اسے گوں کا کیڑا یعنی چاموڑاں کہتے ہیں۔

عصمت انبیاء بقول مرزا

”نبی کی عصمت ایک اجماعی عقیدہ ہے نبی کے لئے معصوم ہونا ضروری ہے۔“

(سیرت المہدی ج ٣ ص ١١٥)

مرزا معصوم نہیں بقول خود

”لیکن افسوس ہے کہ بٹالوی صاحب (یعنی مولوی محمد حسین بٹالوی) نے یہ نہ سمجھا کہ نہ مجھے اور نہ کسی انسان کو بعد انبیاء کے معصوم ہونے کا دعویٰ ہے۔“

(کرامات الصادقین ص ٥، خزائن ج ٧ ص ٤٧)

کیوں نہیں مرزا غلام احمد معصوم ہونے کا دعویٰ کس طرح کر سکتا ہے جبکہ اس نے بے شمار انبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام کی توہین کی ہے اور حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام اور اللہ تعالیٰ کی شان میں بھی گستاخی کی ہے اور قرآن پاک کی توہین کی ہے۔ کیونکہ بہت صریح آیت کا انکار کیا اور بعض کا مفہوم کچھ کا کچھ بنالیا اور ٥٢ سال تک شرک عظیم میں بقول خود پھنسا رہا اور الوہیت کے دعوے کئے اور ابن اللہ اپنے آپ کو بنایا اور نوجوان عورتوں سے پاؤں دبواتا رہا یہ تمام باتیں ہم بیان کر آئے ہیں۔ لیکن ان تمام گناہوں کے باوجود مرزا قادیانی اپنی بناسپتی نبوت کا ڈھول بجاتا رہا ہے۔ فاعتبروا یا اولی الالباب۔

ملازمت

مرزا غلام احمد قادیانی نے سیالکوٹ میں چار سال کی ملازمت کی۔ (دیکھئے سیرت المہدی ج ٢ ص ١٥٠) پر ایام ملازمت ١٨٦٤ء سے ١٨٦٨ء تک بتایا ہے۔ کیوں نہیں جھوٹے مدعی نبوت کی یہی شان ہونی چاہئے کہ انگریز کافر کی غلامی اختیار کرے۔

٥١

صفحہ ٥٤١

مرزا کے عربی اردو انگریزی فارسی کے اساتذہ

نوٹ: کسی نبی نے بھی کسی دنیا دار سے دنیاوی علم نہیں سیکھا اور مرزا قادیانی نے دنیا داروں سے علم حاصل کر کے اپنی الہامی لٹھ لے کر شور کرنا شروع کر دیا۔ ملاحظہ ہو مرزا قادیانی کے اساتذہ:

خیال سے آپ کے لئے ایک فارسی خوان اتالیق ملازم رکھا جس بزرگ کا نام فضل الٰہی تھا۔ پھر جب دس برس کی عمر ہوئی تو ایک عربی خوان مولوی آپ کی تعلیم و تربیت کے لئے مقرر کئے گئے۔ ان کا نام گل علی شاہ تھا۔“

(مرزا قادیانی کے مختصر حالات مرتبہ معراج دین ص ٦٣)

بھائیوں کو پڑھایا کرتے تھے۔“

(سیرت المہدی ج ٣ ص ١٥٢)

نے بھی انگریزی شروع کی اور دو کتابیں انگریزی کی پڑھیں۔“

(سیرت المہدی ج ١ ص ١٥٥)

(دافع البلاء ص ٣، خزائن ج ١٨ ص ٢٣٣)

حضرات! بناسپتی نبوت کے لئے تعلیم کا ہونا تو ضروری ہے خواہ استاد شیعہ ہی بنانا پڑے کیونکہ تعلیم کے بغیر عربی، اردو، انگریزی، فارسی کے خود ساختہ الہام انسان کیسے بنا سکتا ہے؟ اس لئے تعلیم کی ضرورت ہے۔

پانچ اور پچاس کی کہانی

حضرات غور فرمائیں! سب سے پہلے میں ایک بالکل سیدھی اور سادی لیکن اہم اور واضح بات پیش کرتا ہوں جس کو تم میں سے ہر شخص بغیر کسی منطق فلسفے کی مدد کے خوب سمجھ لے گا وہ یہ کہ اگر کوئی نوجوان اپنے والد بزرگوار کو ٥٠ روپے دے اور اس کا والد مکرم یہ فرمائے کہ یہ پچاس روپے میں تمہیں لوٹا دوں گا۔ سعادت مند بیٹا روپے کی واپسی کا مطالبہ تو شدت سے نہ کرے۔ لیکن جب کبھی باہمی حساب کتاب کا مرحلہ پیش آئے تو وہ عرض کرے کہ ابا جان وہ پچاس روپے بھی تھے والد بزرگوار ہر موقع پر بات کا رخ بدل دیں اور بیٹے کو ٹال دیں۔ آخر ایک دن وہ غصے میں آئیں پہلے تو اپنے بیٹے کو برا بھلا کہیں پھر فرمائیں: ارے

٥٤

نالائق! یہ لو اپنی رقم جس کا مطالبہ تم کئی سال سے کر رہے ہو اور یہ فرمانے کے بعد وہ صرف پانچ روپے اپنے بیٹے کو بیٹا: یہ کیا؟ میں نے تو آپ کو حسب ارشاد ٥٠ روپے دئیے رہے ہیں۔

والد محترم: غصے سے لال پیلے ہو کر فرمائیں: کہ پانچ اور پچاس میں سوائے نقطے کے کیا فرق ہے۔ بیوقوف پچاس کا حساب صاف ہوا کیا تم نہیں جانتے کہ نقطے کی تو کوئی

حضرات! ایمانداری سے بتائیے کہ اس وقت ہوگی۔ مانا کہ باپ کے بارے میں جذبات یہی ہونے ہی نہ کیا جائے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ اگر حساب ہوا ہے تو روپے ادا کرنے سے پچاس ادا ہو گئے اور وہ بھی اس بنا پر ہے اور نقطے بے حقیقت محض صفر ہوتے ہیں۔ کیا اسے کوئی بیٹے کے مابین نہیں، گاہک اور دکاندار، قرض خواہ اور قرض وہاں کوئی شخص یہ فلسفہ بھگارے کہ میں نے لیا تو پانچ ہزار تین نقطوں کے کیا فرق ہے؟ تو خدارا غور کیجئے ایسے شخص جائے گا اور چاہے وہ ہزار بار دوسروں کو قرض ٹھیک ٹھیک شرافت و صداقت کا مظاہرہ بھی کر چکا ہو۔

تنہا یہ ایک واقعہ کہ اس نے پانچ ہزار یا صرف ادا کر دینے سے حساب بے باک ہونے کا اعلان کر دیا اور درست مانا جائے۔ تو کیا کوئی ہوش مند انسان اسے دیانتدار ہو۔ کہیں درس قرآن دے رہا ہو۔ کہیں وعظ کر رہا ہو تو باوجود اس کے پیچھے نماز ادا کرنا پسند کرے گا اور اس بات دینی جذبے سے متاثر ہوگا؟

حضرات سنئے پانچ اور پچاس کی کہانی

اس مذکورہ تقریر کو سامنے رکھئے اور پھر سنئے

٥٣

صفحہ ٥٤١

نالائق! یہ لو اپنی رقم جس کا مطالبہ تم کئی سال سے کر رہے ہو اور تم نے مدت سے پریشان کر رکھا ہے اور یہ فرمانے کے بعد وہ صرف پانچ روپے اپنے بیٹے کے ہاتھ میں تھمادیں۔ بیٹا عرض کرے ابا جان یہ کیا؟ میں نے تو آپ کو حسب ارشاد ٥٠ روپے دیئے تھے اور آپ صرف پانچ روپے عطا فرما رہے ہیں۔

والد محترم: غصے سے لال پیلے ہو کر فرمائیں: نالائق کہیں کا۔ کیا تجھے اتنا بھی شعور نہیں کہ پانچ اور پچاس میں سوائے نقطہ کے کیا فرق ہے۔ میں نے پچاس لئے تو پانچ ادا کر دینے سے پچاس کا حساب صاف ہوا کیا تم نہیں جانتے کہ نقطے کی تو کوئی حیثیت نہیں ہوتی۔

حضرات! ایمانداری سے بتائیے کہ اس وقت اس سعادت مند بیٹے پر کیا گزری ہوگی۔ مانا کہ باپ کے بارے میں جذبات یہی ہونے چاہئیں کہ ان سے حساب و کتاب کا تقاضا ہی نہ کیا جائے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ اگر حساب ہوا ہے اور لین دین طے پایا ہے تو یہ فلسفہ کہ پانچ روپے ادا کرنے سے پچاس ادا ہو گئے اور وہ بھی اس بناء پر کہ پانچ اور پچاس میں صرف نقطہ کا فرق ہے اور نقطے بے حقیقت محض صفر ہوتے ہیں۔ کیا اسے کوئی شخص باور کر سکتا ہے اور اگر یہ معاملہ باپ بیٹے کے مابین نہیں، گاہک اور دکاندار، قرض خواہ اور قرض لینے والے اور بینک کے مابین ہو اور وہاں کوئی شخص یہ فلسفہ بھگارے کہ میں نے لیا تو پانچ ہزار روپے قرض تھا مگر ٥ ہزار روپے میں بجز دو تین نقطوں کے کیا فرق ہے؟ تو خدارا غور کیجئے ایسے شخص کی دیانت کے بارے میں کیا فیصلہ کیا جائے گا اور چاہے وہ ہزار بار دوسروں کو قرض ٹھیک ٹھیک ادا کر چکا ہو اور بہت سے معاملات میں شرافت و صداقت کا مظاہرہ بھی کر چکا ہو۔

تنہا یہ ایک واقعہ کہ اس نے پانچ ہزار یا صرف پچاس روپے لے کر صرف پانچ روپے ادا کر دینے سے حساب بے باک ہونے کا اعلان کر دیا اور اس پر اصرار کہ وہ جو کچھ کر رہا ہے۔ اسے درست مانا جائے۔ تو کیا کوئی ہوش مند انسان اسے دیانت دار تسلیم کر لے گا اور اگر یہ شخص امام مسجد ہو۔ کہیں درس قرآن دے رہا ہو۔ کہیں وعظ کر رہا ہو تو کون دیانت دار ہوگا جو خود گنہگار ہونے کے باوجود اس کے پیچھے نماز ادا کرنا پسند کرے گا اور اس کے وعظ اور اس کی دینی خدمات اور اس کے دینی جذبے سے متاثر ہوگا؟

حضرات سنئے پانچ اور پچاس کی کہانی مرزا قادیانی کی زبانی

اس مذکورہ تقریر کو سامنے رکھئے اور پھر سنئے کہ مرزا قادیانی نے جب تبلیغی میدان میں

٥٣

صفحہ ٤٣

قدم رکھا تو اس نے اعلان کیا کہ صداقت اسلام پر میں ایک کتاب لکھنا چاہتا ہوں۔ جس کے پچاس جزو ہوں گے اور ان پچاس اجزاء کے حساب سے انہوں نے لوگوں سے اس کتاب کی پیشگی وصول کی۔ پھر مرزا غلام احمد نے کتاب کا پہلا جزو براہین احمدیہ حصہ اول کی صورت میں شائع کیا ایک طویل مدت تقریباً ٢٠ سال کے عرصے میں اس نے تین جزو کتاب کے اور چھاپے جو پیشگی قیمت ادا کرنے والوں کو بھیجے اس دوران لوگوں نے اس سے بار ہا مطالبہ کیا کہ وہ حسب وعدہ پچاس جزو اس کتاب کے پورے کرے مگر وہ ایسا نہ کر سکا بالآخر مرزا نے براہین احمدیہ کا پانچواں جزو شائع کیا جن لوگوں نے ان سے بار بار تقاضا کیا تھا ان سے سخت سست گفتگو کے بعد مرزا غلام احمد نے کہا: ”پہلے پچاس حصے لکھنے کا ارادہ تھا مگر پچاس سے پانچ پر اکتفا کیا گیا اور چونکہ پچاس اور پانچ کے عدد میں صرف ایک نقطے کا فرق ہے۔ اس لئے پانچ حصوں سے وہ وعدہ پورا ہو گیا۔“

(دیباچہ براہین احمدیہ ص ٧، خزائن ج ٢١ ص ٩)

اے مرزائیو! خدا کے لئے اپنی آخرت اور خوف خدا کو سامنے رکھ کر ذرا انصاف سے یہ بتاؤ کہ مرزا غلام احمد کا یہ کہنا کہ پانچ اور پچاس میں صرف ایک نقطے کا ہی فرق ہے۔ دیانت وامانت اور صداقت وحق شناسی کے اعتبار سے کیا حیثیت رکھتا ہے؟ کیا نبی اسی سیرت اور کردار کے ہوا کرتے ہیں؟ اور کیا یہ مکارانہ کلام نہیں ہے؟

مرزائی عذر

اگر اللہ تعالیٰ پانچ نمازوں کو پچاس میں شمار کر سکتے ہیں تو مرزا غلام احمد کے لئے کیوں جائز نہیں کہ وہ پانچ کو پچاس قرار دے کر حساب بے باق کر دیں؟

ابوالمنصور :

ثبوت ہے۔ مگر پچاس وصول کر کے جو شخص پانچ پر ٹرخا دے کیا اس کے بارے میں بھی یہی رائے قائم کی جائے گی؟ یا یہ کہ وہ دھوکے سے کام لے رہا ہے اور امانت و دیانت سے محروم ہے؟

کے ہاتھ میں تھما دے اور پانچ اور پچاس میں صرف نقطے کا فرق کہہ کر ان کی دکان سے چلتا بنے اور یہ بھی بڑبڑاتا جائے کہ جب خدا نے پانچ نمازوں پر پچاس کے ثواب کا وعدہ کیا ہے تو کیا وجہ ہے کہ میرے پانچ روپے پچاس شمار نہیں کئے جا سکتے؟ مجھے یقین ہے کہ ان قادیانیوں کو اس وقت اپنے اس عذر کا صحیح جواب سمجھ میں آجائے گا۔

٥٤

جھوٹے اور سچے م

اگر جھوٹے اور سچے مرزائی کی پہچان ک پچاس روپے کا سامان خرید لیں اور پھر اس کو صرف زیادہ کا مطالبہ نہ کیا تو وہ سچا مرزائی ہے۔ کیونکہ مر کچھ فرق نہیں) اور نقطہ بے حقیقت اور صفر محض ہو باقی ہو گیا اور اگر وہ پورے پچاس روپے کا مطا کہیں کہ وہ اپنے نبی کی تعلیم پر عمل کرے اور پانچ پہنچا دے ورنہ ایسے مذہب سے توبہ کرے۔

مرزا غلام احمد کے

دروغ گو را ح

تصویر کا پہلا رخ ....... میرے انکار سے ک

دجال نہیں ہو سکتا۔“

کے رکنوں میں سے کوئی رکن ہو۔ بلکہ صدہا پیشین گو اسلام سے کچھ بھی تعلق نہیں۔ جس زمانہ تک یہ پیش ناقص نہیں تھا اور جب بیان کی گئی تو اس سے اسلام

پہلے تھیں۔ وہی رسول مقبول ﷺ ہیں جو پہلے تھے سے کوئی بات چھوڑنی نہیں پڑی جس سے اس و گراں اور قابل احتیاط ہوتا جب کہ اس کے ساتھ حالت دوسرے مسلمانوں سے کچھ فرق رکھتی۔“

نوٹ : مرزا کا دعویٰ تھا کہ میں مسیح موع

٥

صفحہ ٥٤٣

جھوٹے اور سچے مرزائی کی پہچان

اگر جھوٹے اور سچے مرزائی کی پہچان کرنی ہو تو اس سے پچاس روپے قرض لے لیں یا پچاس روپے کا سامان خرید لیں اور پھر اس کو صرف پانچ روپے ادا کر دیں اگر وہ خاموش ہو گیا اور زیادہ کا مطالبہ نہ کیا تو وہ سچا مرزائی ہے۔ کیونکہ مرزا کہتا ہے (پانچ اور پچاس میں سوائے نقطہ کے کچھ فرق نہیں) اور نقطہ بے حقیقت اور صفر محض ہوتا ہے۔ لہٰذا پانچ دینے سے پچاس کا حساب بے باق ہو گیا اور اگر وہ پورے پچاس روپے کا مطالبہ کرے تو سمجھو وہ جھوٹا مرزائی ہے۔ آپ اس کو کہیں کہ وہ اپنے نبی کی تعلیم پر عمل کرے اور پانچ روپے لے کر باقی کا اپنے پیشوا کی روح کو ثواب پہنچا دے ورنہ ایسے مذہب سے توبہ کرے۔

مرزا غلام احمد کے اقوال میں تناقض

دروغ گو را حافظہ نیست

تصویر کا پہلا رخ...... میرے انکار سے کوئی کافر نہیں ہوتا

دجال نہیں ہو سکتا۔“

(تریاق القلوب، خزائن ج ١٥ ص ٤٣٢)

کے رکنوں میں سے کوئی رکن ہو۔ بلکہ صدہا پیشین گوئیوں میں سے ایک پیش گوئی ہے جس کو حقیقت اسلام سے کچھ بھی تعلق نہیں۔ جس زمانہ تک یہ پیش گوئی بیان نہیں کی گئی تھی اس زمانہ تک اسلام کچھ ناقص نہیں تھا اور جب بیان کی گئی تو اس سے اسلام کچھ کامل نہیں ہو گیا۔“

(ازالہ اوہام ص ١٤٠، خزائن ج ٣ ص ١٧١)

پہلے تھیں۔ وہی رسول مقبول ﷺ ہیں جو پہلے تھے۔ وہی کتاب کریم ہے جو پہلی تھی اصل دین میں سے کوئی بات چھوڑی نہیں پڑی جس سے اس قدر حیرانی ہو۔ مسیح موعود کا دعویٰ اس حالت میں گراں اور قابلِ احتیاط ہوتا جب کہ اس کے ساتھ کچھ دین کے احکام کی کمی بیشی ہوتی اور ہماری عملی حالت دوسرے مسلمانوں سے کچھ فرق رکھتی۔“

(آئینہ کمالات ص ٣٣٩، خزائن ج ٥ ص ٣٣٩)

نوٹ : مرزا کا دعویٰ تھا کہ میں مسیح موعود ہوں جس کے متعلق رسول کریم ﷺ نے وعدہ

٥٥

صفحہ ٥٤٥

دیا کہ وہ آئے گا۔ عبارت بالا میں مرزا صاف صاف مانتا ہے کہ مسیح موعود کا اقرار ایمانیات میں داخل نہیں کوئی شخص میرے انکار کی وجہ سے کافر نہیں ہوتا۔ لیکن اس کے خلاف اقوال بھی ملاحظہ فرمائیں اور بتائیں کون سے اقوال جھوٹے ہیں اور کون سے سچے؟

میرا منکر جہنمی کافر غیر ناجی ہے

تصویر کا دوسرا رخ

ہے۔“

(مکتوب مرزا بنام ڈاکٹر عبدالحکیم مندرجہ الذکر الحکیم ص ٢٤، ص ٢٣، مصدقہ در حقیقت الوحی ص ١٦٣، خزائن ج ٢٢ ص ١٦٧)

کی نافرمانی کرنے والا اور جہنمی ہے۔“

(مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ٢٧٥)

گوئی موجود ہے۔“

(حقیقت الوحی ص ١٦٣، خزائن ج ٢٢ ص ١٦٨)

تمام انسانوں کے لئے اس کو مدار نجات ٹھہرایا۔“

(اربعین نمبر ٤ ص ٦ حاشیہ، خزائن ج ١٧ ص ٤٣٥)

دروغ گو را حافظہ نیست

مسیح ابن مریم دوبارہ نازل ہوگا

تصویر کا پہلا رخ ” هو الذی ارسل رسوله بالھدیٰ“ یہ آیت جسمانی اور سیاست ملکی کے طور پر حضرت مسیح کے حق میں پیش گوئی ہے اور جس غلبہ کاملہ دین اسلام کا وعدہ دیا گیا ہے۔ وہ مسیح کے ذریعہ ظہور میں آئے گا۔ مسیح دوبارہ اس دنیا میں تشریف لائیں گے۔ ان کے ہاتھ سے اسلام جمیع آفاق میں پھیل جائے گا۔“

(حاشیہ براہین احمدیہ ص ٤٩٨، ٤٩٩، خزائن ج ١ ص ٥٩٣)

اس کے خلاف تصویر کا دوسرا رخ

ہے۔“

(ازالہ اوہام ص ١٤٢، خزائن ج ٣ ص ١٧٢)

٥٦

خلاصہ مقدم الذکر تحریر میں از روئے قرآن الذکر عبارت میں از روئے قرآن انکار کیا گیا ہے۔

لعنت ہے مفتری پر خدا
عزت نہیں ذرا بھی اس

بقول مرزا الہام ملہم کی اپنی زبا

تصویر کا پہلا رخ ”دوسرے مقام پر اللہ تعالیٰ نے بوضاحت جعلنا قرآناً عجمیا لقالوا لولا فصلت ایتہ اوپری زبان میں بناتے تو کفار معترض ہوتے کہ اس کی بات ہے کہ عجمی الہام اور عربی مخاطب یہ آیت صاف ثبو مادری زبان مبنی ہوتا ہے۔“

مرزا کو بعض الہام مادری زبا

تصویر کا دوسرا رخ ”بعض الہامات مجھے ان زبانوں میں ہو انگریزی یا سنسکرت یا عبرانی وغیرہ۔“ پس معلوم ہوا کہ مرزا کو بقول خود الہام اعج مخاطبوں کی مادری زبان میں ہوتا ہے اور مرزا غلام ہوئے ہیں جن کی مجھے کچھ واقفیت نہیں۔ بلکہ یہ الہام

٥٧

صفحہ ٥٤٥

(ایام الصلح ص ١٤٦، خزائن ج ١٤ ص ٣٩٢)

خلاصہ مقدم الذکر تحریر میں از روئے قرآن مسیح ابن مریم کی دوبارہ آمد بتائی اور موخر الذکر عبارت میں از روئے قرآن انکار کیا اس سے۔

زبانی سنو شعر:

لعنت ہے مفتری پر خدا کی کتاب میں
عزت نہیں ذرا بھی اس کی جناب میں

(براہین احمدیہ حصہ پنجم ص ١١، خزائن ج ٢١ ص ٤١)

بقول مرزا الہام ملہم کی اپنی زبان میں ہوتے ہیں

تصویر کا پہلا رخ

”دوسرے مقام پر اللہ تعالیٰ نے بوضاحت فرمایا ہے۔ (سورہ حم سجدہ پ ٢٥) ”ولــــو جعلنا قرآناً عجمیا لقالوا لولا فصلت ایتہ ء اعجمی وعربی“ اگر ہم اس قرآن کو اوپری زبان میں بناتے تو کفار معترض ہوتے کہ اس کی آیات کھول کر کیوں نہ بیان کی گئیں۔ یہ کیا بات ہے کہ عجمی الہام اور عربی مخاطب یہ آیت صاف ثبوت ہے اس امر کا کہ الہام الہی مخاطبوں کی مادری زبان میں ہوتا ہے۔“

(چشمہ معرفت ص ٢٠٩، خزائن ج ٢٣ ص ٢١٨)

مرزا کو بعض الہام مادری زبان میں نہیں ہوئے

تصویر کا دوسرا رخ

”بعض الہامات مجھے ان زبانوں میں ہوئے ہیں جن سے مجھے کچھ واقفیت نہیں جیسے انگریزی یا سنسکرت یا عبرانی وغیرہ۔“

(نزول المسیح ص ٥٧، خزائن ج ١٨ ص ٤٣٥)

پس معلوم ہوا کہ مرزا کو بقول خود الہام الہی نہیں ہوا کیونکہ الہام الہی تو مرزا کہتا ہے کہ مخاطبوں کی مادری زبان میں ہوتا ہے اور مرزا غلام احمد بتاتا ہے کہ مجھے ان زبانوں میں الہام ہوئے ہیں جن کی مجھے کچھ واقفیت نہیں۔ بلکہ یہ الہام شیطانی ہے جو ایک شیطان مدعی نبوت پر

٥٧

صفحہ ٥٤٧

ہوتے ہیں۔ کیونکہ جس الہام کو ملہم نہ سمجھ سکے یہ الہام لغو اور بے ہودہ ہے اور تکلیف مالا یطاق ہے اور خدا تعالیٰ کا الہام اس سے منزہ ہے۔ فتدبروا۔

مرزا بقول خود نبی نہیں ہے

تصویر کا پہلا رخ

(انجام آتھم ص ٢٨، خزائن ج ١١ ص ٢٨)

ہیں ۔“

(مجموعہ اشتہارات ج ٢ ص ٢٩٧)

(فیصلہ آسمانی ص ٣، خزائن ج ٣ ص ٣١٤)

آسکتا۔ اس لئے اس شریعت میں نبی کے قائم مقام محدث رکھے گئے ہیں۔“

(شہادۃ القرآن ص ٢٨، خزائن ج ٦ ص ٣٢٤)

طور پر اور اسی مانند قائم کیا گیا ہے جو حضرت موسیٰ کی شریعت میں قائم تھا۔ صرف اس قدر لفظی فرق رہا کہ اس وقت تائید دین عیسوی کے لئے نبی آتے تھے اور اب محدث آتے ہیں۔“

(ملخصاً بلفظہ شہادۃ القرآن ص ٦١ ، خزائن ج ٦ ص ٣٥٦)

مرزا کا دعویٰ نبوت

تصویر کا دوسرا رخ

بچشم خود دیکھ چکا ہوں کہ صاف طور پر پوری ہوگئیں تو میں اپنی نسبت نبی یا رسول کے نام سے کیونکر انکار کرسکتا ہوں اور جبکہ خود خدائے تعالیٰ نے یہ نام میرے رکھے ہیں تو میں کیونکر رد کردوں۔“

(ایک غلطی کا ازالہ ص ٦، خزائن ج ١٨ ص ٢١٠)

٥٨

سے مسمیٰ ہو کر میں رسول بھی ہوں اور نبی بھی ہوں۔“

محبت کے آئینہ کے ذریعے سے وہی نام پایا اگر کوئی تعالیٰ نے مجھے میرا نام نبی ورسول رکھا ہے۔ تو یہ امتی ہونے سے خدا کی مہر نہیں ٹوٹتی۔“

اخلاق کے ساتھ بھیجا۔“

مرزا بقول خو

مرزا غلام احمد قادیانی نے مدعی نبوت ک مسیلمہ کذاب کا بھائی، کافر وخبیث کہتا ہوں اور اس دائرہ اسلام سے خارج جانتا ہوں۔ جیسا کہ ہم تصو اور تصویر کے دوسرے رخ میں مرزا کا دعویٰ نبوت م اپنے اقوال سے کیا ٹھہرا؟

نوٹ : چونکہ نبوت کا مسئلہ مرزائی بہا عبارتیں ایک دوسرے کیخلاف ہیں۔ کسی میں ظلی کہیں تشریعی کا انکار کہیں بروزی نبوت کا اقرار ا کہیں دعویٰ مسیحیت وغیرہ منافقانہ چال سے کام لاہوری پارٹی جو مرزا کو مجدد جانتی ہے اور مرزا کی کو نبی مانتی ہے اور انکار کرنے والے کو کافر گرد گنجائش نہیں ہے۔ انشاء اللہ دوسرے حصہ میں مختص عبرتناک مباہلہ نقل کر کے اپنے مضمون کو ختم کرتا ہ

مباہلہ کی

مباہلہ اسلام میں حق و باطل کے فیص سمجھانے کے باوجود اپنی ضد اور ہٹ دھرمی سے جاتا ہے۔ شریعت میں اس کی صورت یہ ہے کہ فر

صفحہ ٥٤٧

سے مسمی ہو کر میں رسول بھی ہوں اور نبی بھی ہوں۔“

(ایک غلطی کا ازالہ ص ٧، خزائن ج ١٨ ص ٢١١)

محبت کے آئینہ کے ذریعے سے وہی نام پایا اگر کوئی شخص اس وحی الٰہی پر ناراض ہو کہ کیوں خدائے تعالیٰ نے مجھے میرا نام نبی و رسول رکھا ہے۔ تو یہ اس کی حماقت ہے۔ کیونکہ میرے نبی اور رسول ہونے سے خدا کی مہر نہیں ٹوٹتی۔“

(ایک غلطی کا ازالہ ص ٧، خزائن ج ١٨ ص ٢١١)

اخلاق کے ساتھ بھیجا۔“

(اربعین ج ٣ ص ٣٦، خزائن ج ١٧ ص ٤٢٦)

مرزا بقول خود کیا ٹھہرا

مرزا غلام احمد قادیانی نے مدعی نبوت کے بارے میں خود کہا ہے کہ میں مدعی نبوت کو مسیلمہ کذاب کا بھائی، کافر و خبیث کہتا ہوں اور اس پر لعنت بھیجتا ہے اور کہا ہے کہ میں مدعی نبوت کو دائرہ اسلام سے خارج جانتا ہوں۔ جیسا کہ ہم تصویر کے پہلے رخ میں حوالہ جات نقل کر آئے ہیں اور تصویر کے دوسرے رخ میں مرزا کا دعویٰ نبوت بھی نقل کر آئے ہیں۔ اب مرزائی بتائیں کہ مرزا اپنے اقوال سے کیا ٹھہرا؟

نوٹ: چونکہ نبوت کا مسئلہ مرزائی بہت لمبا لے جاتے ہیں اور مرزا کی ایسی بہت سی عبارتیں ایک دوسرے کیخلاف ہیں۔ کسی میں ظلی نبوت کا اقرار کسی میں تشریعی نبوت کا اقرار اور کہیں تشریعی کا انکار کہیں بروزی نبوت کا اقرار اور کہیں سراپا نبوت کا انکار اور دعویٰ مجددیت اور کہیں دعویٰ مسیحیت وغیرہ منافقانہ چال سے کام لیا گیا ہے۔ حتیٰ کہ مرزائیو کے دو گروہ ہیں ایک لاہوری پارٹی جو مرزا کو مجدد جانتی ہے اور مرزا کی نبوت سے انکار کرتی ہے اور ربوہ والی پارٹی مرزا کو نبی مانتی ہے اور انکار کرنے والے کو کافر گردانتی ہے۔ اس لئے اس مختصر میں بحث نبوت کی گنجائش نہیں ہے۔ انشاء اللہ دوسرے حصہ میں ختم نبوت کا مفصل بیان کیا جائے گا اور اب میں ایک عبرتناک مباہلہ نقل کر کے اپنے مضمون کو ختم کرتا ہوں۔

مباہلہ کی حقیقت

مباہلہ اسلام میں حق و باطل کے فیصلہ کا آخری طریقہ ہے جب کوئی گمراہ ہر طرح سمجھانے کے باوجود اپنی ضد اور ہٹ دھرمی سے باز نہ آئے تو اس سے مباہلہ کے ذریعے فیصلہ کیا جاتا ہے۔ شریعت میں اس کی صورت یہ ہے کہ فریقین اپنے اہل وعیال کے ہمراہ ایک کھلے میدان

٥٩

صفحہ ٥٤٩

میں اکھٹے ہو کر نہایت تضرع اور عاجزی سے اللہ کے حضور میں دعا کریں کہ اے سمیع و بصیر اور قادر مطلق ہم میں سے جو باطل اور جھوٹ پر ہے اس پر اپنا غضب اور عذاب نازل فرما اور اسے سچے کی زندگی میں نیست و نابود کرتا کہ دوسروں کے لئے باعث عبرت ہو۔ جیسا کہ خود مرزا تحریر کرتا ہے:

”مباہلہ کے معنی لغت عرب کی رو سے نیز شرعی اصطلاح کی رو سے یہ ہیں کہ دونوں فریق مخالف ایک دوسرے کے لئے عذاب اور خدا کی لعنت چاہیں ۔“

(اربعین نمبر ٢، ص ٢٩، خزائن ج ١٧ ص ٤٢٧)

مرزائیوں کے ساتھ مباہلہ

یہ مباہلہ ضلع ہزارہ میں بھگلہ کے مقام پر ہوا ہے جس کی روئیداد مولوی عبداللطیف صاحب یوں لکھتے ہیں کہ: ”میں ١٩٣٩ء میں تعلیم سے فارغ ہو کر تین چار سال مختلف مقامات پر ضلع ہوشیار پور وغیرہ میں درس وتدریس کرتا رہا ١٩٤٢ء کو گھر پر آگیا ہمارے گاؤں میں سید عبدالرحیم شاہ وغیرہ مرزائی تھے۔

وقتاً فوقتاً مختلف موضوع پر گفتگو ہو جایا کرتی تھی اور کئی دنوں تک جاری رہتی۔ اکثر بات چیت ان کی حیات وممات عیسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام پر ہوا کرتی۔ بالآخر تنگ آ کر انہوں نے دعوت مباہلہ دے دی میں نے بطیب خاطر اس کو قبول کیا اور مولانا کریم عبداللہ صاحب اور مولانا عبدالجلیل صاحب جو کہ پاس والی بستیوں میں مقیم تھے۔ شریک کر کے مورخہ ٢٦؍ فروری ١٩٤٣ء بروز جمعہ مقرر کر دی۔ اس تاریخ مقررہ پر علاقہ کے تمام لوگ تین چار گاؤں کے جمع ہو گئے۔ یہ ایک تاریخی اجتماع تھا جس میں حق و باطل کو واضح کرنے کا یہ طریقہ عمل میں لایا جانے والا تھا۔ جو اس سے پہلے اس ملک میں کبھی نہیں ہوا تھا۔ یہ اجتماع بھی ایسی جگہ ہوا جو علاقہ میں مقدس اور محترم زیارت شہید غازی بابا کے نام سے مشہور ہے۔ یہ اجتماع مباہلہ مورخہ ٢٦؍ فروری ١٩٤٣ء بروز جمعہ ہوا۔ اس موقع پر مولوی کریم عبداللہ صاحب نے جو ہمارے علاقہ کے جید علماء میں سے شمار کئے جاتے تھے۔ کھڑے ہوئے لوگوں کو اس اجتماع کی غرض اور مباہلہ کی حقیقت اور فریق مخالف کے نام جو مباہلہ میں شریک ہونے والے تھے اور اپنے مباہلین کے نام بھی گن کر بتائے نام مباہلین ہر دو فریق:

نام مسلم نام مرزائی مولانا کریم عبداللہ صاحب امام مسجد سکھ حار سید عبدالرحیم شاہ صاحب

٦٠

مولانا عبدالجلیل صاحب امام مسجد ملہ شیشہ مولانا عبداللطیف صاحب بھگلہ

ہمارا عقیدہ ہے کہ نبوت حضرت نبی کریم ﷺ پر دعویٰ کرے وہ خارج از اسلام ہے اور ہمارا عقیدہ ہے حضرت عی قرب قیامت آسمان سے اتریں گے اور ہمارے فریق مخالف اور عیسیٰ علیہ السلام فوت ہو گئے ہیں۔ ہم کہتے ہیں ہمارا عقیدہ ہے کہ ہمارا ٹھیک ہے۔ آج ہم اس لئے جمع ہوئے ہیں کہ الل کی بارگاہ عالی میں سب مل کر نہایت عاجزی اور تضرع اختیا فریق سے جو باطل پر ہے اپنی طرف سے کوئی عذاب بصور واقع ہو، نازل فرمائے۔

چنانچہ تمام لوگوں نے ننگے سر ہو کر دعا شروع کر دی یہ تقریباً ٢٠ منٹ تک دعا ہوتی رہی۔ دعا کے دوران میں ہی ای گر پڑا۔ دوسرے مرزائی نے اس کو ہوش میں لا کھڑا کیا۔ دوس اے لوگوں میری تو دعا ہے کہ خدا تعالیٰ جھوٹے کو پاگل کر د کون صادق ہے اور کون جھوٹا ہے اور پسماندگان اس سے عبر

خدائی فیصلہ کی داستان سنیں: عبدالرحیم دکاندار نے تباہی مچانی شروع کر دی۔ ہمارے قریب پڑوس جنگل میں ای کیمپ کے اندر بغیر اجازت شور مچانا شروع کر دیا۔ انہوں نے دنوں تک جیل میں رہا۔ بیان کرتا ہے کہ میں نے مرزا قادی جس کی وجہ سے میں مرزائی عقیدہ سے تائب ہوا۔

اب زندہ ہے اور تندرست ہے۔ ہمارے گاؤں مرزائیوں کے خلاف تقریر بھی کرتا رہتا ہے اور بڑا نماز گزار ہے اور اب دوسرے مرزائی غلام حیدر کا حال سنئے غلام ٢٦؍ مارچ ١٩٤٣ء بروز جمعہ کو سگے بھتیجوں نے معمولی بند کیونکہ قاتل اس کے بھتیجے تھے جن کو غلام حیدر کے ساتھ کوئی پرورش کرتا تھا۔

٦١

صفحہ ٥٤٩

مولانا عبدالجلیل صاحب امام مسجد عطر شیشہ غلام حیدر صاحب منشی والا مولانا عبداللطیف صاحب بھنگہ عبدالرحیم صاحب

ہمارا عقیدہ ہے کہ نبوت حضرت نبی کریم ﷺ پر ختم ہو گئی آپ کے بعد جو نئی نبوت کا دعویٰ کرے وہ خارج از اسلام ہے اور ہمارا عقیدہ ہے حضرت عیسیٰ علیہ السلام آسمان پر زندہ ہیں اور قرب قیامت آسمان سے اتریں گے اور ہمارے فریق مخالف کا عقیدہ ہے کہ مرزا قادیانی نبی ہے اور عیسیٰ علیہ السلام فوت ہو گئے ہیں۔ ہم کہتے ہیں ہمارا عقیدہ درست اور ٹھیک ہے اور مخالف کہتا ہے کہ ہمارا ٹھیک ہے۔ آج ہم اس لئے جمع ہوئے ہیں کہ دلائل کی دنیا سے آگے چلیں اور اللہ تعالیٰ کی بارگاہ عالی میں سب مل کر نہایت عاجزی اور تضرع اخلاص سے دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ ہم دو فریق سے جو باطل پر ہے اپنی طرف سے کوئی عذاب بصورت ہلاکت وغیرہ ایک سال کے اندر واقع ہو، نازل فرمائے۔

چنانچہ تمام لوگوں نے ننگے سر ہو کر دعا شروع کر دی اور آمین آمین کی آواز بلند ہوتی رہی۔ تقریباً ٢٠ منٹ تک دعا ہوتی رہی۔ دعا کے دوران میں ہی ایک مرزائی غلام حیدر غشی سے مجمع میں گر پڑا۔ دوسرے مرزائی نے اس کو ہوش میں لا کھڑا کیا۔ دوسرے مرزائی عبدالرحیم دکاندار نے کہا اے لوگوں میری تو دعا ہے کہ خدا تعالیٰ جھوٹے کو پاگل کر دے۔ تمام لوگ اس کا تماشا دیکھیں کہ کون صادق ہے اور کون جھوٹا ہے اور پسماندگان اس سے عبرت پکڑیں۔

خدائی فیصلہ کی داستان سنیں: عبدالرحیم دکاندار ایک ماہ بعد پاگل ہو گیا۔ سر ننگے ہائی تباہی مچانی شروع کر دی۔ ہمارے قریب پڑوس جنگل میں فوج پڑی تھی ان کے ہاں دفتروں اور کیمپ کے اندر بغیر اجازت شور مچانا شروع کر دیا۔ انہوں نے پکڑ کر پولیس کے حوالے کر دیا۔ کافی دنوں تک جیل میں رہا۔ بیان کرتا ہے کہ میں نے مرزا قادیانی کو خواب میں سور کی شکل میں دیکھا جس کی وجہ سے میں مرزائی عقیدہ سے تائب ہوا۔

اب زندہ ہے اور تندرست ہے۔ ہمارے گاؤں میں کریانہ کی دکان کرتا ہے۔ کبھی کبھی مرزائیوں کے خلاف تقریر بھی کرتا رہتا ہے اور بڑا نماز گزار ہے اور اذان دینے کا اس کو بہت شوق ، ہے اور اب دوسرے مرزائی غلام حیدر کا حال سنئے غلام حیدر کو مباہلہ کے ایک ماہ بعد مورخہ ٢٦؍ مارچ ١٩٣٣ء بروز جمعہ کو سگے بھتیجوں نے معمولی بند کے جھگڑے کی بنا پر اسی دن قتل کر دیا۔ کیونکہ قاتل اس کے بھتیجے تھے جن کو غلام حیدر کے ساتھ کوئی رنجش سابقہ نہ تھی۔ بلکہ غلام حیدر ان کی پرورش کرتا تھا۔

٦١

صفحہ ٥٥٠

غلام حیدر کی اپنی اولاد وغیرہ نہ تھی۔ پولیس نے قاتلوں کو سیشن کے سپرد کر دیا۔ لوگ بھاگے بھاگے میرے پاس آئے اور کہنے لگے کہ آپ اپنے مباہلہ کا بیان شائع کر دیں اور ایک درخواست سیشن جج کی عدالت میں پیش کر دیں کہ مقتول سے ہمارا مباہلہ ہوا تھا۔ اس کا قتل ہمارے مباہلہ کی صداقت کیوجہ سے ہوا تا کہ قاتلوں کی سزا میں تخفیف ہو۔ میں نے ان کو جواب دیا کہ میں اپنی مشہوری اور لوگوں کی واہ واہ نہیں چاہتا۔ اگر خدا نے میرے مباہلہ کی صداقت کی وجہ سے غلام حیدر کو اس کے بھتیجوں سے قتل کرایا ہے تو وہ خدا عدالت سیشن میں بیان دے اور مضمون بغیر شائع کئے ان کو رہا کر دے گا۔ تم قدرت کا تماشا دیکھو۔

چنانچہ چند مہینوں کے بعد سیشن جج نے قاتلوں کو بغیر سزا اور جرم وغیرہ کے رہا کر دیا اور قاتلوں کو ایک دن کی بھی سزا نہیں ہوئی۔ غلام حیدر کے قاتل اب تک زندہ ہیں اور اپنی زمینداری کرتے ہیں۔ خدا کی قدرت اس سال ہم تینوں مولویوں کے سر میں بھی درد نہیں ہوا بلکہ پہلے سالوں سے اس سال صحت اچھی رہی تھی۔ حق و باطل ظاہر ہو گیا۔ لیکن بدبخت سیاہ قلب عبدالرحیم نے اپنی آنکھوں سے ان واقعات کو دیکھا لیکن اپنے عقیدہ سے تائب نہ ہوا۔

یہ بیان کرتا ہے کہ یہ شکست ہماری مباہلہ کی صداقت کی وجہ سے نہیں ہوئی۔ بلکہ خلیفہ کے بغیر اجازت سے یہ مباہلہ کیا اس کی نافرمانی کی وجہ سے یہ سزا ہمیں ملی۔ مباہلہ کی صداقت کی وجہ سے نہیں۔ میں نے ان سے کہا کہ اور اب کہتا رہتا ہوں کہ ہر مرزائی کو میرا چیلنج ہے کہ جس وقت اس کا جی چاہے خلیفہ سے اجازت لے کر میرے ساتھ مباہلہ کر سکتا ہے۔ سید عبدالرحیم کو ہر چند میں نے کہا کہ خلیفہ سے اجازت لے لو اور مباہلہ کے میدان میں آؤ۔ لیکن وہ اس بات پر آمادہ ہی نہیں ہوتا اور اب وہ مباہلہ کرنے سے گریز کرتا ہے۔ دل میں سچائی قبول کر چکا ہے۔ لیکن ہٹ دھرمی کی وجہ سے انکاری ہے۔ مباہلہ کے بعد ان سے کلام کرنی میں نے بہت کم کر دی ہے جو شخص خدائی فیصلہ پر راضی نہ ہو اس سے دردسری کرنا فضول سمجھتا ہوں۔ وما علینا الا البلاغ !

الحمد لله ! مرزا قادیانی کے ڈھول کا پول حصہ اول ماہ رمضان المبارک مورخہ ١٤ رمضان المبارک ١٣٨٩ء تک پایہ تکمیل کو پہنچ گیا۔ خدا تعالیٰ اسے پڑھنے والوں کو نفع بخشے اور گمراہوں کو ہدایت عطا فرمائے۔ آمین ثم آمین یارب العالمین برحمتک یا ارحم الراحمین!

دعا گو مؤلف!

فقیر ابوالمنصور محمد صادق قادری چشتی رضوی فاضل جامعہ رضویہ جھنگ بازار لائل پور!

٦٢

نحمدہ و نصلی علی رسولہ الکریم

کیا

حضرت

کے والد

مولانا پیر محب اللہ

PDF 552

لکوں کو سیشن کے سپرد کر دیا۔ لوگ مباہلہ کا بیان شائع کر دیں اور ایک سے ہمارا مباہلہ ہوا تھا۔ اُس کا قتل خفیف ہو۔ میں نے ان کو جواب دیا نے میرے مباہلہ کی صداقت کی وجہ ی سیشن میں بیان دیے اور مضمون

سزا اور جرم وغیرہ کے رہا کر دیا اور تک زندہ ہیں اور اپنی زمینداری سر میں بھی درد نہیں ہوا بلکہ پہلے لیکن بدبخت سیاہ قلب عبدالرحیم ب نہ ہوا۔ کی وجہ سے نہیں ہوئی۔ بلکہ خلیفہ ہمیں ملی۔ مباہلہ کی صداقت کی ذاتی کو میرا چیلنج ہے کہ جس وقت ہے۔ سید عبدالرحیم کو ہر چند میں یکن وہ اس بات پر آمادہ ہی نہیں کر چکا ہے۔ لیکن ہٹ دھرمی کی ہمت کم کر دی ہے جو شخص خدائی ینا الا البلاغ! ضان المبارک سنه ١٤ رمضان والوں کو نفع بخشے اور گمراہوں کو ک یا ارحم الراحمین!

رضویہ جھنگ بازار لائل پور!

انا خاتم النبیین لا نبی بعدی

صلی اللہ علیہ وعلیٰ آلہ واصحابہ وبارک وسلم

کیا

حضرت عیسیٰ علیہ السلام

کے والد تھے؟

مولانا پیر محبّ اللہ شاہ راشدی

صفحہ ٥٥٣

بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

"الحمد لله الواحد القهار: الذى يخلق ما يشاء ويختار، فخلق آدم بغير اب وام وخلق عيسى من ام بغير اب وكل شئى عنده بمقدار، ثم خلق سائر بنى آدم من ابوين فجعلهم ذوى النسب والاصهار، ان فى ذالك لعبرة لاولى الابصار، فمن آمن بعلم الله المحيط بكل شئى وقدرته الكاملة فهو المومن حقا ومن انكر قوته الشاملة وقدرته الكاملة فهو الكاذب الكفار، والصلوة والسلام على سيدنا محمد ن الذى جعله الله اماما للناس كافة الى يوم القيامة فالذين آمنوا به وعزروه ونصروه واتبعوا النور الذى انزل معه اولائك هم المفلحون الابرار، والذين عاندوه وخالفوا محجته اللاحبة واتبعوا غير سبيل المومنين اولئك هم الاشقياء والهالكون الفجار، وعلى آله واصحابه الذين سلكوا طريق المصطفى على الصفا واهتدوا بهديه وائتسوا بأسوته فى كل قول وفعل وامرو كل شان من شئون الحياة دابا بالليل والنهار، نسائل الله ان يوفقنا للسلوك على طريقتهم والاهتداء بهديهم ويحشرنا فى زمرة هؤلاء الصلحاء والاخيار يوم يحصل مافى الصدور وتبلى خفايا الضمائر والاسرار"

وجہ تالیف

اما بعد ! راقم الحروف کے پاس ایک سوال آیا ہے کہ ایک آدمی کہتا ہے کہ کتاب وسنت میں کہیں بھی نہیں آیا کہ حضرت عیسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام کا باپ نہیں تھا۔ (یعنی اس شخص کا نظریہ یہ ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام کا باپ تھا۔) کیا یہ صحیح ہے؟ اور کیا ایسے عقیدہ رکھنے والے کے پیچھے نماز پڑھی جاسکتی ہے؟

الجواب بعون الكريم الوهاب ....... جہاں تک میرا مبلغ علم ہے تو اہل اسلام کے کسی مکتب فکر والوں میں کسی کا یہ عقیدہ نہیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام کے کوئی والد تھے، بلکہ سب اس بات پر متفق ہیں کہ ان کو اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت کاملہ سے صرف ان کی والدہ حضرت مریم علیہا السلام کے بطن مبارک سے پیدا کیا تھا، البتہ ہمارے ملک میں پہلے پہلے اس خیال کا اظہار قادیانیوں کے پیشوا آنجہانی مرزا غلام احمد قادیانی نے کیا تھا کہ حضرت عیسیٰ علیہ ٢

الصلوٰۃ والسلام کے والد تھے یا پھر حضرت مریم علیہا السلام پر جو قطعی کافر ہیں، اسی طرح پرویزی خیالات کے حامل (اور لوگوں میں بھی یہی خیال مروج ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ الصلوٰۃ بھی اسلام میں کوئی حصہ نہیں۔

اب ذیل میں اہل اسلام کے صحیح عقیدہ کے دلائل مل

عیسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام کی بغیر باپ کے

بارے میں الوہیت، ابنیت، تثلیث کا عقیدہ رائج تھا۔ وہ ( بغیر والد کے پیدا ہونے کے قائل تھے۔ اور اسی سے وہ ان ک قرآن کریم نے ان کے اس عقیدہ کی تو جابجا تردید فرمائی کہ ج تھے یا اللہ کے بیٹے تھے۔ اسی طرح تثلیث کا بھی متعدد مواضع بھی عیسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام کے بن والد پیدا ہونے کی تردی عیسیٰ علیہ السلام وغیرہ کے عقیدہ کی بنیاد ہی ان کے بن والد پی جیسا کہ عیسائی مذہب سے واقف حضرات جانت علیہ السلام کے کوئی والد تھے تو اللہ تعالیٰ ان کے اس غلط عقید حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا تو فلاں والد تھا، جڑ سے اکھاڑ دیت دوسرے دلائل جو قرآن کریم میں جابجا بکھرے ہوئے ہیں ا کہیں بیان فرمایا گیا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور اس کی

”کانا یأکلان الطعام“ ﴿وہ دونوں کھانا کھ

کہیں خود حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی زبانی اپنے

”قال انی عبدالله“ ﴿میں اللہ کا بندہ ہو

کہیں ان کا اپنی والدہ کے بطن سے پیدائش کا ذک

”قالت رب انی یکون لی ولد ولم ی

يخلق ما يشاء“ ﴿مریم کہنے لگی میرے رب! میرے ہا تک نہیں۔ اللہ نے جواب دیا ایسا ہی ہوگا۔ اللہ جو چاہتا ہے پ ٣

صفحہ ٥٥٣

الصلوٰۃ والسلام کے والد تھے یا پھر حضرت مریم علیہا السلام پر معاذ اللہ فاحشہ کا الزام لگایا اور قادیانی قطعی کافر ہیں، اسی طرح پرویزی خیالات کے حامل (اور سرسید احمد خان کی فکر کے علمبردار ) لوگوں میں بھی یہی خیال مروج ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام کے والد تھے اور ان لوگوں کا بھی اسلام میں کوئی حصہ نہیں۔

اب ذیل میں اہل اسلام کے صحیح عقیدہ کے دلائل ملاحظہ فرمائیں:

عیسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام کی بغیر باپ کے پیدائش پر پہلی دلیل

بارے میں الوہیت، ابنیت، تثلیث کا عقیدہ رائج تھا۔ وہ (عیسائی) حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بغیر والد کے پیدا ہونے کے قائل تھے۔ اور اسی سے وہ ان کی الوہیت اور ابنیت کے قائل تھے۔ قرآن کریم نے ان کے اس عقیدہ کی تو جابجا تردید فرمائی کہ حضرت عیسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام خود اللہ تھے یا اللہ کے بیٹے تھے۔ اسی طرح تثلیث کا بھی متعدد مواضع میں ابطال فرمایا لیکن کسی ایک جگہ پر بھی عیسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام کے بن والد پیدا ہونے کی تردید نہیں کی حالانکہ عیسائیوں میں ابنیت عیسیٰ علیہ السلام وغیرہ کے عقیدہ کی بنیاد ہی ان کے بن والد پیدا ہونے والی بات تھی۔

جیسا کہ عیسائی مذہب سے واقف حضرات جانتے ہیں، لہٰذا اگر فی الواقع حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے کوئی والد تھے تو اللہ تعالیٰ ان کے اس غلط عقیدہ کو صرف یہ چند الفاظ بیان فرما کر کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا تو فلاں والد تھا، جڑ سے اکھاڑ دیتا۔ ان کی الوہیت کے ابطال کے لئے دوسرے دلائل جو قرآن کریم میں جابجا بکھرے ہوئے ہیں کے بیان کی چنداں ضرورت نہ پڑتی۔ کہیں بیان فرمایا گیا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور اس کی والدہ کھانا کھاتے تھے۔

”کانا یاکلان الطعام“ ﴿وہ دونوں کھانا کھاتے تھے۔ (المائدہ: ٧٥)﴾

کہیں خود حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی زبانی اپنے بندہ ہونے کا اقرار مذکور ہے:

”قال انی عبدالله“ ﴿میں اللہ کا بندہ ہوں (مریم: ٣٠)﴾

کہیں ان کا اپنی والدہ کے بطن سے پیدائش کا ذکر ہے۔

”قالت رب انی یکون لی ولد ولم یمسسنی بشر ط قال کذالك اللہ یخلق ما یشاء“ ﴿مریم کہنے لگی میرے رب! میرے ہاں بچہ کیسے ہوگا جبکہ مجھے کسی آدمی نے چھوا تک نہیں۔ اللہ نے جواب دیا ایسا ہی ہوگا۔ اللہ جو چاہتا ہے پیدا کرتا ہے۔ (آل عمران: ٤٧)﴾

٣

صفحہ ٥٥٥

وغیرہ وغیرہ لیکن یہ کتنی عجیب بات ہے کہ اس نے ایک جگہ بھی ان کے والد کا ذکر نہ فرمایا۔ حالانکہ ان کے والد کا ذکر ان سب سے زیادہ ان کی الوہیت کے ابطال کے لئے مؤثر اور وزنی دلیل ہوتا۔ کیا اس سے صاف طور پر واضح نہیں ہوتا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بن والد پیدا ہونے سے قرآن کریم کو انکار نہیں؟

حکم ربی انکار کیوں؟

”المسیح ابن مریم“، ”عیسیٰ ابن مریم“ کہا گیا ہے۔ کہیں بھی ”المسیح“ ”بن فلاں یا عیسیٰ بن فلاں نہیں کہا گیا کیوں؟۔ حالانکہ قرآن کریم میں حکم ہے کہ: ”ادعوهم لآبآئهم هو اقسط عند الله“ ﴿یہی بات اللہ تعالیٰ کے نزدیک انصاف کی بات ہے۔ یعنی لوگوں کو ان کے اپنے باپوں کی طرف منسوب کرو۔ (احزاب: ٥)﴾

ادھر اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے پھر وہ خود حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو ہر جگہ ان کی والدہ محترمہ مریم علیہا السلام کی طرف ہی منسوب کرتا رہا ہے کیا والد کی طرف منسوب کرنے میں کوئی قباحت تھی؟

اس کا جواب کسی عقل مند اہل علم کے پاس اس کے سوائے کچھ اور نہیں کہ چونکہ فی الواقع ان کا کوئی والد ہی نہ تھا اس لئے ان کو والدہ محترمہ کی طرف ہی منسوب کیا۔

حضرت جبرائیل امین علیہ الصلوٰۃ والسلام کی بشارت

پ ١٦) میں دیکھئے۔ حضرت جبرائیل الروح الامین علیہ السلام مریم صدیقہ علیہا السلام کے پاس ایک کامل نوجوان انسان کی صورت میں تشریف لاتے ہیں۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے: ”فاتخذت من دونهم حجاباً فارسلنا اليها روحنا فتمثل لها بشراً سوياً“ ﴿اور پردہ ڈال کر ان سے چھپ گئیں تو ہم نے اس کی طرف اپنی روح (فرشتہ) کو بھیجا جو ایک انسان کی شکل میں مریم کے سامنے آگیا۔ (مریم: ١٧)﴾

اب حضرت مریم علیہا السلام اپنی خلوت گاہ میں ایک نوجوان مرد کو اپنے سامنے دیکھ کر گھبرا گئیں اور بولیں: ”قالت انی اعوذ بالرحمن منك ان كنت تقياً“ ﴿وہ (مریم) بولی اگر تمہیں کچھ اللہ کا خوف ہے تو میں تم سے اللہ کی پناہ مانگتی ہوں۔ (مریم: ١٨)﴾

٤

تو اس پر اللہ سبحانہ وتعالیٰ کے فرستادہ الروح الامین نے رسول ربك لاهب لك غلماً زكياً“ ﴿(ڈرو نہیں) میں تو ت ہوں تاکہ تجھے (اللہ کے حکم سے) ایک پاکیزہ صورت وسیرت فرز

حضرت ابراہیم و حضرت زکریا علیہم السلام کا واقعہ

آگے بڑھنے سے قبل اس بات پر بھی غور کیجئے کہ اگر م بھی عام انسانوں کی طرح ماں اور باپ سے ہوئی تھی تو اس کے خوشخبری کو لے کر ان کی والدہ محترمہ کے پاس آنے کی کیا ضر فرشتوں کے واسطے سے آنا قرآن کریم میں مریم صدیقہ علیہا السل علیہ السلام اور حضرت ابراہیم علیہ السلام کے پاس آنے کا ذکر ہے پاس حضرت اسحق علیہ السلام کے پیدائش کی بشارت لیکر آئے ۔ علیہ السلام شیخوخة (بڑھاپے) کی حالت میں تھے اور ان کی و بانجھ تھیں۔ اسی طرح حضرت زکریا علیہ السلام کے پاس بھی پیدائش کی بشارت لے کر آئے تھے اور زکریا علیہ السلام بھی پیرا کی زوجہ محترمہ بھی بانجھ تھی تو ان حالات میں فرشتوں کا ان کے لے کر آنا قرین عقل و قیاس معلوم ہوتا ہے۔ کیونکہ عام حالات حالت میں اولاد نہیں ہوا کرتی۔ لہٰذا یہ واقعات چونکہ محض اللہ سب اس لئے اس بشارت کو فرشتے لے کر آئے۔ یہی وجہ ہے کہ ان تعجب کا اظہار کیا۔ لیکن فرشتوں نے بتایا کہ یہ بشارت اللہ سبحا کی قدرت کاملہ سے یہ کچھ بعید نہیں۔ ورنہ اگر عام حالات میں بشارت لے کر فرشتے بھی آتے رہتے تو قرآن کریم میں حضر ذبیح اللہ بننے کا شرف حاصل ہونا تھا اور جن کی ذریت سے خاتم ولادت با سعادت مقدر تھی، یعنی ایسے برگزیدہ اور صابر پیغمبر کی واسطے سے ابراہیم علیہ السلام کے پاس آنے کا ضرور ذکر ہوتا۔

حضرت مریم علیہا السلام کا سوال؟

خلاصہ کلام! جبرائیل علیہ السلام کا خاص طور پر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی ولادت کی بشارت پہنچانا واضح طو

٥

صفحہ ٥٥٥

تو اس پر اللہ سبحانہ وتعالیٰ کے فرستادہ الروح الامین نے فرمایا کہ:”قال انما انا رسول ربك لاهب لك غلماً زكيا“ ﴿ (ڈرو نہیں) میں تو تیرے رب کی طرف سے بھیجا ہوا ہوں تا کہ تجھے (اللہ کے حکم سے) ایک پاکیزہ صورت و سیرت فرزند عطا کروں۔ (مریم:١٩) ﴾

حضرت ابراہیم وحضرت زکریا علیہم السلام کا واقعہ

آگے بڑھنے سے قبل اس بات پر بھی غور کیجئے کہ اگر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی ولادت بھی عام انسانوں کی طرح ماں اور باپ سے ہوئی تھی تو اس کے لئے فرشتوں کا خاص طور پر اس خوشخبری کو لے کر ان کی والدہ محترمہ کے پاس آنے کی کیا ضرورت تھی؟ اس قسم کی خوشخبری کا فرشتوں کے واسطے سے آنا قرآن کریم میں مریم صدیقہ علیہا السلام کے علاوہ صرف حضرت زکریا علیہ السلام اور حضرت ابراہیم علیہ السلام کے پاس آنے کا ذکر ہے۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے پاس حضرت اسحق علیہ السلام کی پیدائش کی بشارت لیکر آئے تھے۔ اس وقت حضرت ابراہیم علیہ السلام شيخوخة (بڑھاپے) کی حالت میں تھے اور ان کی زوجہ محترمہ حضرت سارہ علیہا السلام بانجھ تھیں۔ اسی طرح حضرت زکریا علیہ السلام کے پاس بھی فرشتے حضرت یحییٰ علیہ السلام کی پیدائش کی بشارت لے کر آئے تھے اور زکریا علیہ السلام بھی پیرانہ سالی کی آخری حد پر تھے اور ان کی زوجہ محترمہ بھی بانجھ تھی تو ان حالات میں فرشتوں کا ان کے ہاں فرزند کی پیدائش کی بشارت لے کر آنا قرین عقل وقیاس معلوم ہوتا ہے۔ کیونکہ عام حالات میں اس عمر میں اور بانجھ پن کی حالت میں اولاد نہیں ہوا کرتی۔ لہٰذا یہ واقعات چونکہ محض اللہ سبحانہ وتعالیٰ کی قدرت کا کرشمہ تھے اس لئے اس بشارت کو فرشتے لے کر آئے۔ یہی وجہ ہے کہ ان دونوں پیغمبروں نے اس بشارت پر تعجب کا اظہار کیا۔ لیکن فرشتوں نے بتایا کہ یہ بشارت اللہ سبحانہ وتعالیٰ کی جانب سے ہے اور اس کی قدرت کاملہ سے یہ کچھ بعید نہیں۔ ورنہ اگر عام حالات میں کسی عالی مرتبت ہستی کے تولد کی بشارت لے کر فرشتے بھی آتے رہتے تو قرآن کریم میں حضرت اسمعیل علیہ الصلوٰۃ والسلام جن کو ذبیح اللہ بننے کا شرف حاصل ہونا تھا اور جن کی ذریت سے خاتم النبیین جیسی بابرکت ہستی ﷺ کی ولادت با سعادت مقدر تھی، یعنی ایسے برگزیدہ اور صابر پیغمبر کی ولادت کی بشارت کا فرشتوں کے واسطے سے ابراہیم علیہ السلام کے پاس آنے کا ضرور ذکر ہوتا۔

حضرت مریم علیہا السلام کا سوال؟

خلاصہ کلام ! جبرائیل علیہ السلام کا خاص طور پر مریم صدیقہ علیہا السلام کے پاس حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی ولادت کی بشارت پہنچانا واضح طور پر اس حقیقت کی طرف نشان دہی

٥

صفحہ ٥٥٧

کر رہا ہے کہ اس بابرکت ہستی کا تولد عام انسانوں کی پیدائش اور اس سلسلہ میں جو اسباب وعلل عام حالات میں ہوتے ہیں یا ہونے چاہئیں اس سے بالکل مختلف ہوگا اور وہ محض اللہ کی قدرت کاملہ کا کرشمہ ہوگا اس نمایاں حقیقت سے کوئی صاحب عقل سلیم انکار نہیں کر سکتا۔

پھر آگے پڑھئے جبرائیل علیہ السلام کے جواب پر پھر مریم صدیقہ علیہا السلام نے فرمایا: "قالت انى يكون لى غلام ولم يمسسنى بشر ولم اك بغيا" ﴿کہ مجھے فرزند کیسے ہوگا حالانکہ مجھے نہ کسی مرد نے چھوا ہے اور نہ ہی میں فاحشہ عورت ہوں؟ (مریم:٢٠)﴾

اب آپ دیکھیں کہ الروح الامین نے اس کا جواب کیا دیا؟ مذکورہ بالا صفحات میں جو کچھ تحریر کیا گیا ہے اس سے قطع نظر صرف اس سوال کے جواب میں جو کچھ کہا گیا ہے وہی ہماری آنکھیں کھولنے کے لئے کافی ہے۔ اگر بالفرض حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے کوئی والد ہوتے تو اللہ کا فرشتہ محترمہ بی بی صاحبہ علیہا السلام کو یہ جواب دیتا کہ بس اس طرح کہ تمہارا نکاح فلاں یا فلاں سے ہوگا پھر اس سے اس مبارک فرزند کی ولادت ہوگی۔ لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ اس اللہ سبحانہ وتعالیٰ کے فرشتے نے اس قسم کا جواب تو درکنار اس کی طرف اشارہ بھی نہ کیا بلکہ فرمایا: "قال كذالك قال ربك هو على هين ولنجعله آية للناس ورحمة منا وكان امراً مقضياً" ﴿وہ بولے ہاں! ایسا ہی ہوگا تمہارے رب نے فرمایا ہے کہ میرے لئے یہ سہل ہے اور اس لئے بھی کہ ہم اسے لوگوں کے لئے ایک نشانی اور اپنی طرف سے رحمت بنائیں اور یہ کام ہو کے رہے گا۔ (مریم:٢١)﴾

”یعنی یہ بشارت میں اپنی طرف سے تھوڑی دے رہا ہوں، بلکہ میں تو فرستادہ دربار الٰہی ہوں اور ان ہی کا پیغام لے کر آیا ہوں، اور اسی رب نے ہی یہ فرمایا ہے کہ میرے لئے یہ بالکل آسان ہے اور یہ اس لئے بھی کہ اس نومولود بابرکت ہستی کو اپنی قدرت کا ایک نشان بناؤں جو میری طرف سے میرے بندوں پر رحمت بنے گا۔ اور یہ بات اللہ کے نزدیک طے شدہ ہے۔

”یعنی اس میں تخلف کا امکان بھی نہیں۔“ اب اس جواب پر انصاف سے غور فرمائیں۔

اگر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی پیدائش والد سے ہونا تھی تو جبرائیل امین کے اس جواب کی کیا تک ہے؟

وہ تو فرما دیتے کہ بس! تمہارا نکاح ہوگا اور آپ کے ہاں یہ بابرکت بیٹا پیدا ہوگا۔ ان کا یہ فرمانا کہ یہ بشارت میں اللہ کی طرف سے لایا ہوں اور اللہ فرماتا ہے کہ یہ میرے لئے آسان ہے وغیرہ کا یہاں کوئی مطلب نہیں بنتا۔

صفحہ ٥٥٧

ماں اور باپ سے پیدا ہونا کوئی عجیب بات نہ تھی بے شمار لا تعداد انسان اس طرح پیدا ہو چکے تھے اور یہ نمونہ حضرت مریم علیہا السلام بھی مشاہدہ کر چکی تھی۔ اس میں کونسا استبعاد تھا کہ اللہ سبحانہ وتعالیٰ کو یہ کہنا پڑے کہ یہ بات میرے لئے آسان ہے۔ ماں اور باپ سے سلسلہ تناسل تو ہزاروں سال سے چلا آ رہا تھا اس پر نہ تو خود حضرت مریم علیہا السلام کو تعجب ہوتا اور نہ ہی روح الامین کو اللہ سبحانہ وتعالیٰ کے اس پیغام دینے کی ضرورت ہوتی۔ اسی سورت میں اس واقعہ سے قبل حضرت زکریا علیہ السلام کا واقعہ مذکور ہے۔ اس کو بھی جب یہ خوش خبری ملی کہ ان کے ہاں بھی بیٹا ہونے والا ہے تو انہوں نے بھی تعجب کا اظہار فرمایا کیونکہ وہ خود تو پیرانہ سالی کی آخری سرحد پر پہنچ چکے تھے۔

”وقد بلغت من الکبر عتیا (مریم:٨) ”اور میں بڑھاپے کی انتہا کو پہنچ چکا ہوں۔﴾

اور ان کی زوجہ محترمہ بانجھ تھیں لہٰذا ان کا تعجب کا اظہار بالکل برحق ہے اور اس تعجب پر ملائکہ علیہم السلام نے بھی یہی جواب دیا تھا کہ:

”قال کذالک قال ربک ہو علی ہین (مریم:٩) ”اللہ نے فرمایا ہاں ایسے ہی ہوگا، تیرا رب یہ کہہ رہا ہے کہ یہ میرے لئے سہل ہے۔﴾

یعنی ”یہ بشارت ہم اپنی طرف سے نہیں دے رہے بلکہ اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے ہی ایسا فرمایا ہے کہ اس طرح ہوگا اور میرے لئے یہ آسان ہے۔“ یعنی بوڑھے اور بانجھ سے اولاد کی تخلیق اللہ سبحانہ وتعالیٰ کے لئے کوئی مشکل بات نہیں گو ہمارے لئے یہ بات واقعتاً تعجب انگیز ہے۔ عام حالات میں ایسے بوڑھے اور بانجھ ماں باپ سے اولاد پیدا نہیں ہوا کرتی۔ لیکن سبحانہ وتعالیٰ جو خلاق علیم ہے۔ اس کے لئے اس میں کوئی مشکل نہیں۔ لہٰذا حضرت مریم علیہا السلام کو جبرئیل امین نے جو یہ بتایا کہ یہ بشارت اللہ سبحانہ وتعالیٰ کی جانب سے ہے اور اس خالقِ بے مثل کے لئے یہ بالکل آسان ہے۔ یعنی وہ جس طرح ماں باپ سے اولاد پیدا کرتا ہے۔ اسی طرح بغیر باپ کے پیدا کرنے پر بھی قادر ہے پھر اس پر تعجب کیا اور حیرت کیسی؟

حضرت آدم علیہ الصلوٰۃ والسلام کی مثال

اور یہی وجہ ہے کہ (آل عمران:٥٩) میں یہ آیت مذکور ہے۔

”ان مثل عیسیٰ عند اللہ کمثل آدم خلقہ من تراب ثم قال لہ کن

٧

صفحہ ٥٥٩

فيكون ”بلاشبہ اللہ کے ہاں عیسیٰ کی مثال آدم جیسی ہے۔ جسے مٹی سے پیدا کیا۔ پھر اسے حکم دیا کہ ہو جا تو وہ ہو گیا۔“

یعنی عیسیٰ علیہ السلام کی پیدائش (بن والد ) اسی طرح ہے جس طرح اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے حضرت آدم علیہ السلام کو مٹی سے پیدا کیا پھر اس کو کہا کہ تو انسان بن جا تو وہ انسان بن گیا۔

اس آیت کریمہ کا پس منظر نگاہ میں رکھیں تو حقیقت حال نمایاں ہو جائے گی۔ اصل بات یہ تھی کہ نجران کے عیسائی آنحضرت ﷺ کے پاس مقابلہ ومناظرہ کے لئے آئے تھے تو آپ ﷺ نے انہیں بتا دیا کہ تم جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی الوہیت یا ابنیت کے قائل ہو، سو یہ بالکل غلط ہے۔ اللہ تعالیٰ کی یہ شان نہیں کہ اس کا کوئی الوہیت میں شریک ہو یا مخلوق میں کوئی اس کا بیٹا ہو، ہاں تم جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بن والد پیدا ہونے کو اس کی الوہیت وغیرہ پر دلیل لاتے ہو تو یہ بھی صحیح نہیں، کیونکہ اگر اس طرح بن باپ پیدا ہونے والا الوہیت کے مرتبہ پر پہنچ جاتا ہے تو حضرت آدم علیہ السلام جو ماں اور باپ دونوں کے بغیر پیدا ہوئے تھے وہ بطریق الاولیٰ الوہیت کی سرحد میں داخل ہو جاتا حالانکہ آپ بھی انہیں مخلوق اور اللہ کا بندہ ہی قرار دیتے ہیں۔ تو جب ماں اور باپ کے بغیر پیدا ہونے والا اللہ نہیں بن سکا تو جو صرف ماں سے پیدا ہوا وہ کیسے اللہ بن گیا؟ اب آپ سوچیں کہ اس موقع پر نجران کے عیسائیوں کے بالکلیہ زبان بندی کے لئے اللہ سبحانہ وتعالیٰ کا صرف یہ فرما دینا کافی ہوتا کہ تم ان کو ابن اللہ وغیرہ کہتے ہو لیکن وہ تو فلاں یا فلاں کا بیٹا تھا پھر وہ اللہ سبحانہ وتعالیٰ کا بیٹا کیسے بنا؟

لیکن اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے گمراہی میں پڑے ہوئے ان عیسائیوں کو یہ قطعاً نہیں کہا بلکہ ان کی یہ بات تسلیم کی کہ وہ (حضرت عیسیٰ علیہ السلام) فی الحقیقت بغیر والد کے پیدا ہوئے تھے۔ لیکن یہ اللہ سبحانہ وتعالیٰ کی قدرت کاملہ تھی جس نے ان کو صرف ماں سے جنم دیا اور یہ بعینہ اس طرح کہ ان سے ہزاروں برس پہلے اپنی قدرت کاملہ سے ابوالبشر آدم علیہ السلام کو ماں اور باپ کے بغیر پیدا کر چکا تھا۔ جب آدم علیہ السلام کو ماں اور باپ کے بغیر پیدا ہونے پر تم کوئی تعجب لاحق نہیں ہوتا تو صرف ماں سے پیدا ہونے والے کے متعلق یہ تعجب و حیرانی کیوں؟

اب قارئین کرام خود فیصلہ کریں کہ اگر عیسیٰ علیہ السلام ماں باپ دونوں سے پیدا ہوئے تھے تو اللہ تعالیٰ کا ان کی پیدائش کو آدم علیہ السلام کی پیدائش سے تشبیہ کا کیا مطلب بنے گا؟ یہ تشبیہ تب ہی صحیح بن سکتی ہے۔ جب حضرت عیسیٰ علیہ السلام بن والد محض اللہ سبحانہ وتعالیٰ کی قدرت کاملہ

٨

سے پیدا ہوئے۔ جیسا کہ آدم علیہ السلام بغیر ماں و باپ ہوئے۔ ورنہ ماں اور باپ دونوں سے تولد کی آدم علیہ السلا نہیں۔ کیا یہ برہان قاطع نہیں اپنے مدعا پر؟ انصاف شرط ہے اور پھر اسی سورہ آل عمران میں ا ”فَمَنْ حَاجَّكَ فِيْهِ مِنْ بَعْدِ مَا جَاءَكَ م نَا وَاَبْنَاءَكُمْ وَنِسَاءَنَا وَنِسَاءَكُمْ وَاَنْفُسَنَا وَاَنْفُسَكُ عَلَی الْکٰذِبِیْنَ “ (پھر اگر کوئی علم (وحی) آجانے کے بعد تو آپ اسے کہئے، آؤ ہم اور تم اپنے اپنے بچوں کو اور بیویوں گڑ گڑا کر دعا کریں کہ جو جھوٹا ہو، اس پر اللہ کی لعنت ہو۔ (آ

یعنی اس قاطع برہان کے بعد بھی یہ سیدھی راہ نہ مناظرہ کریں اور حق کے سامنے اذعان کرنے پر آمادہ نہ ہو مباہلہ کریں اور اللہ سبحانہ وتعالیٰ سے دعا کریں کہ جھوٹے پر نجران کے عیسائی جزیہ دینے پر راضی ہو گئے اور بغیر مباہلہ کے

اگر در خانہ کس است يك ح

ضدی اور میں نہ مانوں کی رٹ لگانے والے کا ک

الروح الامین علیہ السلام کا پھونک مارنا

بشارت دے کر چلے جاتے اور بعد میں ان کا نکاح کا ذکر کے بعد متصل ہی مریم علیہا السلام کو حمل ہو گیا تھا اور اس پر ق آتی ہے: ”فَحَمَلَتْهُ فَانْتَبَذَتْ بِهٖ مَكَانًا قَصِيًّا “ وہ اس حالت میں ایک دور مکان میں علیحدہ جا بیٹھیں ۔ (م

یعنی ” پھر اس وقت مریم علیہا السلام نے عیسیٰ ع کو حمل ہو گیا، اور وہ اس حمل کو لے کر کہیں دور دور مکان کی سے پتا چلتا ہے کہ آیت کریمہ پر فاء (فحملته) داخل ہے

٩

صفحہ ٥٥٩

سے پیدا ہوئے۔ جیسا کہ آدم علیہ السلام بغیر ماں و باپ اللہ سبحانہ وتعالیٰ کی قدرت سے پیدا ہوئے۔ ورنہ ماں اور باپ دونوں سے تولد کی آدم علیہ الصلوٰۃ والسلام کی پیدائش سے کوئی نسبت نہیں ۔ کیا یہ برہان قاطع نہیں اپنے مدعا پر؟

انصاف شرط ہے اور پھر اسی سورہ آل عمران میں اس آیت کریمہ کے بعد یہ فرمایا: "فمن حاجك فيه من بعد ما جائك من العلم فقل تعالوا ندع ابناء ناوابنائكم ونسائنا ونسائكم وانفسنا وانفسكم ثم نبتهل فنجعل لعنت الله على الكذبين" ﴿پھر اگر کوئی علم (وحی) آجانے کے بعد اس بارے میں آپ سے جھگڑا کرے تو آپ اسے کہئے ، آؤ ہم اور تم اپنے اپنے بچوں کو اور بیویوں کو بلالیں اور خود بھی حاضر ہو کر اللہ سے گڑگڑا کر دعا کریں کہ جو جھوٹا ہو، اس پر اللہ کی لعنت ہو۔ (آل عمران: ٦١)﴾

یعنی اس قاطع برہان کے بعد بھی یہ سیدھی راہ سے ہٹے ہوئے لوگ تم سے مباحثہ ومناظرہ کریں اور حق کے سامنے اذعان کرنے پر آمادہ نہ ہوں تو انہیں کہو آؤ اب ہم دونوں فریق مباہلہ کریں اور اللہ سبحانہ وتعالیٰ سے دعا کریں کہ جھوٹے پر لعنت ہو۔ یہ مباہلہ کی دعوت سن کر وہ نجران کے عیسائی جزیہ دینے پر راضی ہو گئے اور بغیر مباہلہ کئے واپس ہو گئے ۔

اگر درخانہ کس است يك حرف بس است

ضدی اور میں نہ مانوں کی رٹ لگانے والے کا کوئی علاج انسان کے پاس نہیں ہے۔

الروح الامین علیہ السلام کا پھونک مارنا

٤...... اگر عیسیٰ علیہ السلام ماں اور باپ دونوں سے پیدا ہونے والے تھے تو جبرائیل امین یہ بشارت دے کر چلے جاتے اور بعد میں ان کا نکاح کا ذکر آتا۔ لیکن ایسا ہر گز نہیں بلکہ اسی بشارت کے بعد متصل ہی مریم علیہا السلام کو حمل ہو گیا تھا اور اس پر بشارت کے بعد متصل ہی یہ آیت کریمہ آتی ہے:

"فحملته فانتبذت به مكاناً قصيّاً" ﴿چنانچہ مریم کو اس بچے کا حمل ٹھہر گیا تو وہ اس حالت میں ایک دور مکان میں علیحدہ جا بیٹھیں ۔ (مریم: ٢٢)﴾

یعنی "پھر اس وقت مریم علیہا السلام نے عیسیٰ علیہ السلام کو اپنے بطن میں اٹھا لیا یعنی ان کو حمل ہو گیا، اور وہ اس حمل کو لے کر کہیں دور مکان کی طرف لے گئی۔ یہ اسی وقت کا ترجمہ اس سے نکلتا ہے کہ آیت کریمہ پر فاء (فحملته) داخل ہے اور علوم عربیہ کے قوانین کے بموجب فاء

٩

صفحہ ٦١

میں تراخی یا مہلت نہیں ہوا کرتی صرف ترتیب ہوتی ہے۔ یعنی حمل ترتیب کے لحاظ سے تو اس بشارت وسوال و جواب کے بعد ہوا لیکن یہ متصل ہی ہوا، اس میں کوئی زیادہ دیر یا مہلت نہ تھی، اگر نکاح کے بعد یہ قصہ ہوتا تو اس میں کافی مدت درمیان میں حائل ہوتی۔ اس پر یہ حقیقت بھی دلالت کرتی ہے کہ یہ حمل جبرئیل امین علیہ السلام کی پھونک سے جو انہوں نے مریم علیہا السلام کی جیب (گریبان) میں دی تھی ہوا تھا۔ جیسا کہ تفاسیر کی روایات میں آتا ہے اور قرآن کریم میں سورہ انبیاء میں تو اس طرح آتا ہے۔

"والتي احصنت فرجها فنفخنا فيها من روحنا (الانبياء: ٩١) ”اور وہ پاکدامن عورت جس نے اپنی عصمت کی حفاظت کی تھی پھر ہم نے اپنی روح سے ان کے اندر پھونکا۔“

یعنی اور جس نے پاک دامنی اختیار کی اس میں ہم نے اپنی روح پھونکی، اس آیت میں فیھا میں جو ضمیر (ھــــا) ہے یہ مریم علیہا السلام کی طرف لوٹتا ہے۔ لیکن اس طرح نفخ روح تو سب مولودوں میں اللہ تعالٰی کی طرف سے ہوتا ہے۔ اس میں مریم علیہا السلام کی کوئی خصوصیت نہیں لیکن سورہ التحریم میں یہ آیت اس طرح ہے:

" ومريم ابنت عمران التي احصنت فرجها فنفخنا فيه من روحنا (التحريم: ١٢) ”اور مریم بنت عمران کی بھی (مثال ہے) جس نے اپنی عصمت کی حفاظت کی، پھر ہم نے اس کے اندر اپنی روح پھونک دی۔“

یہاں (فیــــــــــہ) کا ضمیر جیب کی طرف لوٹتا ہے اور جیب سے مراد گریبان ہے۔ احصان الجیب، کنایہ ہے پاک دامنی سے یعنی ایسی پاک باز عورت کہ اس نے اپنے گریبان تک بھی کسی کو ہاتھ لگانے نہیں دیا تھا۔ بہرحال تو پھر ہم نے اس مریم کے گریبان میں اپنی روح پھونکی۔ یہ آیت کریمہ واضح کر دیتی ہے کہ یہ تصرف (روح پھونکنا) جبرئیل امین علیہ السلام کی جانب سے تھا۔ کیونکہ اللہ سبحانہ وتعالیٰ خود کسی میں پھونک مارنے کا تو تصور بھی نہیں کیا جاسکتا۔ کیونکہ اللہ سبحانہ وتعالیٰ کی ذات ایسی باتوں سے پاک ہے۔ ہاں نفخ کی نسبت اللہ سبحانہ وتعالیٰ کی طرف اس لئے ہے کہ جبرائیل امین نے یہ پھونک اللہ سبحانہ وتعالیٰ کے حکم سے ہی ماری تھی اور اس کے بہت سے امثلہ ہیں مثلاً: سورہ ذاریات: ٣٢، ٣٣ میں ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے آئے ہوئے فرشتوں سے دریافت فرمایا کہ تمہارے آنے کا کیا مقصد ہے تو انہوں نے جواب دیا:

١٠

”انا ارسلنا الى قوم مجرمين. لنرسل مجرمین کی طرف بھیجے گئے ہیں تا کہ ان پر مٹی کے سبحانہ وتعالیٰ نے اپنی طرف منسوب فرمایا۔ ارشاد عاليها سا فلها وامطرنا عليها حجارة جب ہمارا حکم آ گیا تو ہم نے اس آبادی کے اوپر تہ بہ تہ پتھر برسائے ۔“

اسی طرح سورہ حجر میں بھی اس فعل کو ”وامطرنا عليهم حجارة من پتھر برسائے ۔“

یہ اس لئے کہ فرشتوں نے جو پتھر بھی برسائے تھے۔ مقصد یہ کہ حمل جبرئیل امین کی پھونک کے حکم سے مریم علیہا السلام کی جیب (گریبان) جبرائیل علیہ السلام کا یہ تصرف بھی اس پر وضاحت نہیں ہوا تھا اگر نکاح ہوا ہوتا تو جبرائیل امین علیہ علیہ السلام کا یہ فرمانا : ” لا هب لك غلما زكيا آپ کو اللہ سبحانہ وتعالیٰ کے حکم سے ایک پاکیزہ بچہ ....... اگر یہ ان کا تصرف اللہ سبحانہ وتعالیٰ پھر یہ بات بھی قابل غور ہے کہ مریم علیہا السلام چلی گئی؟ کیا نکاح کرنا کوئی ناجائز بات تھی کہ بھاگنا ضروری تھا۔ ہاں بغیر باپ (بچہ ) پیدا ہونا یہ بات وہ اسی جگہ پر رہتی تو وہ لوگ اس کی زندگی ہی وبال ساتھ رہنا نصیب نہ ہوتا۔ کیا پتہ وہ لوگ کیا اقدام آتا ہے کہ ان کو بہرحال وضع حمل تک تو کہیں تھا۔ تاکہ وضع حمل تو خیریت سے ہو پھر جو اللہ سے

حضرت مریم علیہا السلام کی پریشانی :

٥....... وضع حمل کے وقت جب مریم علیہا

صفحہ ٥٦١

"انا ارسلنا الی قوم مجرمین۔ لنرسل علیہم حجارة من طین" ﴿ہم قوم کے مجرمین کی طرف بھیجے گئے ہیں تاکہ ان پر مٹی کے پتھر برسائیں۔﴾ لیکن دوسری جگہ اس فعل کو اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے اپنی طرف منسوب فرمایا۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے: ”فلما جآء امرنا جعلنا عالیہا سافلہا وامطرنا علیہا حجارة من سجیل منضود (ہود: ٨٢) “ ﴿پھر جب ہمارا حکم آگیا تو ہم نے اس آبادی کے اوپر کے حصہ کو نچلا حصہ بنا دیا۔ پھر ان پر کنکر کی قسم کے تہ بہ تہ پتھر برسائے۔﴾

اسی طرح سورہ حجر میں بھی اس فعل کو اپنی طرف منسوب فرمایا۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے: ”وامطرنا علیہم حجارة من سجیل (حجر: ٧٤)“ ﴿اور ان پر کنکر قسم کے پتھر برسائے۔﴾

یہ اس لئے کہ فرشتوں نے جو پتھر ان پر برسائے وہ اللہ سبحانہ وتعالیٰ کے حکم ہی سے برسائے تھے۔ مقصد یہ کہ حمل جبرئیل امین کی پھونک سے قرار پا گیا جو انہوں نے اللہ سبحانہ وتعالیٰ کے حکم سے مریم علیہا السلام کی جیب (گریبان) میں پھونکی تھی اور تفاسیر کی روایات صحیح ہو گئیں اور جبرائیل علیہ السلام کا یہ تصرف بھی اس پر وضاحت کے ساتھ دال ہے۔ کہ مریم علیہا السلام کا نکاح نہیں ہوا تھا اگر نکاح ہوا ہوتا تو جبرائیل امین کے اس نفخ روح کی کوئی ضرورت نہ تھی اور جبرائیل علیہ السلام کا یہ فرمانا : ”لاہب لک غلما زکیا (مریم: ١٩) “ ﴿میں اس لئے آیا ہوں کہ میں آپ کو اللہ سبحانہ وتعالیٰ کے حکم سے ایک پاکیزہ صفت فرزند عطا کروں۔﴾

اگر یہ ان کا تصرف اللہ سبحانہ وتعالیٰ کے حکم سے نہ ہوتا تو ایسا فرمانا کوئی معنی نہیں رکھتا۔ پھر یہ بات بھی قابل غور ہے کہ مریم علیہا السلام حمل قرار پا جانے کے بعد دور دراز مکان پر کیوں چلی گئی؟ کیا نکاح کرنا کوئی ناجائز بات تھی کہ جس کو چھپانے کے لئے کسی اور دوسری جگہ چلا جانا ضروری تھا۔ ہاں بغیر باپ (بچہ) پیدا ہونا یہ بات بظاہر قابل اعتراض بات تھی اور اسی حالت میں وہ اسی جگہ پر رہتی تو وہ لوگ اس کی زندگی ہی دوبھر کر دیتے۔ اور ان کو وضع حمل تک وہاں چین کے ساتھ رہنا نصیب نہ ہوتا۔ کیا پتہ وہ لوگ کیا اقدام کرتے۔ اس لئے یہ بالکل قرین عقل وقیاس نظر آتا ہے کہ ان کو بہر حال وضع حمل تک تو کہیں اور جگہ ان سے بالکل الگ تھلگ جا کر رہنا چاہئے تھا۔ تاکہ وضع حمل تو خیریت سے ہو پھر جو اللہ سبحانہ وتعالیٰ کی مرضی ہوگی اسی طرح ہوگا۔

حضرت مریم علیہا السلام کی پریشانی

11

صفحہ ٥٦٣

پریشان ہوتیں اور کہا کاش میں اس سے پیشتر ہی مر جاتی اور بھولی بسری ہو جاتی تا کہ کوئی میری یہ حالت نہ دیکھ سکتا۔ اس پر بھی ان سے کہا گیا کہ تم نہ ڈرو اور نہ غم ہی کرو..... اگر کوئی آدمی ملے تو کہہ دینا کہ میں نے اللہ سبحانہ وتعالیٰ کے لئے روزہ کی نذر کی ہے۔ اس لئے آج کسی سے بات نہیں کروں گی۔ (یعنی باقی معاملہ کو ہم خود نمٹ لیں گے ۔ ) اگر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے والد ہوتے تو نہ ہی مریم علیہا السلام کو اس قسم کی کوئی پریشانی لاحق ہوتی اور نہ ہی انہیں لوگوں کے کہنے پر خاموش رہنے کا امر ہوتا بلکہ انہیں امر ہوتا کہ وہ کہہ دے کہ کوئی بات نہیں لو یہ میرا شوہر ہے۔ میں نے کوئی غلط یا ناجائز بات نہیں کی۔ کیا یہ واضح دلیل نہیں اس بات کی کہ عیسیٰ علیہ السلام کے کوئی والد نہ تھے؟

یہودیوں کا بہتان

اب حضرت مریم علیہا السلام اپنے نومولود بابرکت بچہ کو اٹھائے ہوئے اپنی قوم کے پاس آئی تو انہوں نے کہا: ”یٰمریم لقد جئت شيئاً فريا ياخت هرون ما كان ابوك امرا سوء وما كانت امك بغيا (مريم: ٢٧، ٢٨) “اے مریم تو نہایت سنگین اور بہت بڑی برائی لائی ہو۔ تمہارا والد تو برا آدمی نہ تھا۔ اور نہ ہی تیری ماں فاحشہ تھی۔

اس سے ظاہر ہے کہ مریم صدیقہ علیہا السلام پر ان کی قوم نے فاحشہ (زنا) کا الزام لگایا تھا، اور یہی وجہ ہے کہ انہوں نے ان کو اپنے مادر و پدر کا حوالہ دیا کہ وہ دونوں تو نہایت نیک تھے۔ انہوں نے تو کوئی برائی نہیں کی تھی تو اتنے سنگین کام کرنے پر کس طرح آمادہ ہوئی۔ یعنی جس کے خاندان کے سب افراد نیک اور صالح ہوں اور ان میں برائی نام کی بھی نہ ہو ان کی بیٹی اگر ایسا سنگین کام کرے تو بڑی عجیب وافسوس کی بات ہے۔ اور اسی سورۃ نساء میں اس طرح واضح فرمایا: ”وبكفرهم وقولهم على مريم بهتانا عظيماً (النساء: ١٥٦)“ یعنی ان یہودیوں نے مریم علیہ السلام پر بڑا بہتان لگایا۔

اچھا تو اس الزام سے بچنے کے لئے مریم علیہا السلام نے کیا کیا؟

حضرت مریم صدیقہ علیہا السلام کا جواب

قرآن عظیم فرماتا ہے۔ ”فاشارت الیہ (مريم: ٢٩)“ یعنی مریم نے ان کی اس بات کا جواب اس طرح دیا کہ صرف بچہ کی طرف اشارہ کر دیا۔ انہوں نے کہا ایسے بچے سے ہم کیا بات کریں جو جھولے میں جھولنے والا ہو یعنی بہت صغیر ہے۔ (وہ تو بات کر بھی نہیں سکتا۔ ) ہر منصف مزاج یہ سوچ لے کہ اگر مریم علیہا السلام کا شوہر تھا جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے والد تھے، ١٢

تو کیا بچہ کی طرف اشارہ کر کے جواب دینے کی کیا تک الزام محض بہتان ہے۔ میں نے کوئی برائی نہیں کی بلکہ سے یہ بچہ پیدا ہوا ہے اور بات ختم ہو جاتی۔ اگر کوئی اس لئے انہوں نے اس کو چھپایا۔ لیکن یہ بھی سراسر غل مریم علیہ السلام کو اپنے بہتان کے اظہار پر تو ضرور کریم بھی اس کا ذکر کرتا اس سے زیادہ سے زیادہ یہ ہ السلام سے بائیکاٹ کر لیتے۔ ان کو اپنے کنبے سے نک کر دیتے اور پھر وہیں جا کر الگ تھلگ رہتی جہاں ا لیکن ان پر جو بہتان عظیم لگایا گیا تھا وہ یک سر ختم ہ نازک موقع پر بھی محترمہ بی بی صاحبہ علیہا السلام حضر نہیں کرتی، بلکہ نوزائیدہ بچہ کی طرف اشارہ کرتی ہے ان سے اس سنگین بات کی صفائی طلب کر رہے ہیں میں گویائی کی کوئی طاقت نہیں!

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا باتیں کرنا

اس پر یہ بابرکت بچہ (حضرت عیسیٰ علیہ کے حکم سے بولنے لگا لیکن انہوں نے بھی اپنی پوری غلط اور ناروا الزام لگا رہے ہیں۔ میرا تو والد ہے۔ جائز شوہر ہے۔ بلکہ انہوں نے اول تو اپنے متعلق اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے ان کو کتاب دی ہے اور ان کو نبی ہوں اور مجھے نماز کی اقامت و ایتاء الزکوۃ کی ہدای اگر ان کے والد تھے تو ان باتوں کے س اشارہ بھی ذکر نہیں کیا۔ آخر کیوں؟

جب اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے اتنا عظیم الشا بھی کہلوا لیتا کہ واقعتا ان کے جائز والد ہے اس سے

پھر اس مبارک بچہ نے فرمایا ”وبرا ب ١٣

صفحہ ٥٦٣

تو کیا بچہ کی طرف اشارہ کر کے جواب دینے کی کیا تک تھی؟ بلکہ وہ صاف کہہ دیتی کہ مجھ پر فاحشہ کا الزام محض بہتان ہے۔ میں نے کوئی برائی نہیں کی بلکہ میں نے نکاح کیا ہے اور یہ میرا شوہر ہے اس سے یہ بچہ پیدا ہوا ہے اور بات ختم ہو جاتی۔ اگر کوئی کہے کہ اس شوہر سے قوم کے افراد ناراض تھے اس لئے انہوں نے اس کو چھپایا۔ لیکن یہ بھی سراسر فضول اور باطل ہے۔ کیونکہ اگر ایسا ہوتا تو بھی مریم علیہ السلام کو اپنے بہتان کے اظہار پر تو ضرور اپنے اس شوہر کو ظاہر کرنا چاہئے تھا اور قرآن کریم بھی اس کا ذکر کرتا اس سے زیادہ سے زیادہ یہ ہوتا کہ اگر قوم ان سے ناراض ہوتی تو مریم علیہا السلام سے بائیکاٹ کر لیتے۔ ان کو اپنے کنبے سے نکال دیتے یا ان سے اپنے سارے تعلقات ختم کر دیتے اور پھر وہیں جا کر الگ تھلگ رہتی جہاں وضع حمل سے پہلے جا کر سکونت پذیر ہوئی تھی۔ لیکن ان پر جو بہتان عظیم لگایا گیا تھا وہ یکسر ختم ہو جاتا لیکن آپ دیکھ رہے ہیں کہ اس انتہائی نازک موقع پر بھی محترمہ بی بی صاحبہ علیہا السلام حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے والد اپنے شوہر کا ذکر نہیں کرتی، بلکہ نوزائیدہ بچہ کی طرف اشارہ کرتی ہے۔ جس سے اس قوم کو اور بھی تعجب ہوا کہ ہم تو ان سے اس سنگین بات کی صفائی طلب کر رہے ہیں اور یہ اس بچہ کی طرف اشارہ کر رہی ہے جس میں گویائی کی کوئی طاقت نہیں!

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا باتیں کرنا

کے حکم سے بولنے لگا لیکن انہوں نے کبھی اپنی پوری بات میں یہ نہیں کہا کہ آپ میری والدہ مطہرہ پر غلط اور ناروا الزام لگا رہے ہیں۔ میرا تو والد ہے۔ جس کا نام فلاں ہے اور وہ میری والدہ محترمہ کا جائز شوہر ہے۔ بلکہ انہوں نے اول تو اپنے متعلق یہ بتایا کہ وہ اللہ سبحانہ وتعالیٰ کے بندے ہیں۔ اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے ان کو کتاب دی ہے اور ان کو نبی بنایا ہے۔ مجھے بابرکت بنایا ہے۔ جہاں بھی ہوں اور مجھے نماز کی اقامت وایتاء الزکوٰۃ کی ہدایت کی ہے۔ جب تک زندہ رہوں۔

اگر ان کے والد تھے تو ان باتوں کے ساتھ اس کا بھی لازمی طور پر ذکر کرتے مگر اس کا اشارہ بھی ذکر نہیں کیا۔ آخر کیوں؟

جب اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے اتنا عظیم الشان معجزہ دکھایا تو ساتھ ہی اس مبارک بچہ سے یہ بھی کہلوا لیتا کہ واقعی ان کے جائز والد ہے اس سے قطعی اعراض کس لئے؟

١٣

صفحہ ٥٦٥

والدہ محترمہ سے نیکی کرنے والا بنایا۔ (مریم: ٣٢)

اگر ان کے والد ہوتے تو انہوں نے اپنے متعلق صرف والدہ محترمہ سے نیکی کرنے پر اکتفاء کیوں کیا؟ کیا انبیاء علیہم السلام اپنے آباء سے نیکی کرنے والے نہیں ہوتے؟ اسی سورۃ میں پہلے رکوع میں حضرت زکریا علیہ السلام کا قصہ ہے اس میں حضرت یحییٰ علیہ السلام، حضرت زکریا علیہ السلام کا فرزند کے متعلق یہ وارد ہے کہ: ”وبرا بوالدیہ (مریم: ١٤) “ یعنی یحییٰ علیہ السلام اپنے والدین (ماں اور باپ) سے نیکی کرنے والے تھے۔

لہذا اگر بالفرض عیسیٰ علیہ السلام کے والد تھے تو ان کو بالضرورت یہ فرمانا چاہئے تھا۔

”وبرا بوالدیی “ اور اللہ تعالیٰ نے مجھے اپنی ماں اور باپ دونوں سے نیکی کرنے والا بنایا ہے اور صرف والدہ محترمہ پر اکتفاء نہ فرماتے۔

اللہ تبارک وتعالیٰ کا امر (کن فیکون)

عيسى ابن مريم قول الحق الذى فيه يمترون۔ ما كان لله ان يتخذ من ولد سبحانه اذا قضى امرا فانما يقول لہ کن فیکون (مریم: ٣٤، ٣٥) “ ﴿یعنی یہی ہے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے متعلق وہ حق اور سچی بات جس کے بارے میں یہ شک کر رہے ہیں۔ اللہ کی یہ شان ہی نہیں کہ وہ کسی کو اپنا بیٹا بنائے وہ ان سب خامیوں سے پاک ہے جب کسی کام کے کرنے کا فیصلہ فرماتا ہے تو اس کو کہتا ہے کہ ہو جا وہ ہو جاتا ہے۔﴾

یعنی اس سارے قصہ کا حاصل یہ ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نہ تو اللہ تھے اور نہ اللہ کے بیٹے تھے، بلکہ اللہ کے بندہ اور نبی تھے جو اللہ سبحانہ وتعالیٰ کی قدرت کاملہ سے بغیر والد صرف اپنی والدہ محترمہ مریم علیہ السلام سے پیدا ہوئے اور اسی وجہ سے یہ گمراہ لوگ ان کے بارے میں شک میں پڑ گئے ہیں، حالانکہ اللہ سبحانہ وتعالیٰ کے لئے یہ کوئی مشکل بات نہیں ہے۔ کسی بات یا چیز کے وجود میں آنے کے لئے اللہ سبحانہ وتعالیٰ کا ”کن“ کا امر کافی ہے۔ لہٰذا اس نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی پیدائش میں بھی اپنی قدرت کاملہ سے کام لیا اور مریم علیہا السلام کی طرف اپنے اس کلمہ (کن) کو متوجہ کیا اور ان کے بطن میں حمل قرار پا گیا۔ اس لئے جس کو اللہ سبحانہ وتعالیٰ کی قدرت کاملہ پر ایمان ہو اس کے لئے تو اس میں کوئی اچھوتی بات نہیں۔ اب ہر عقل سلیم والا آدمی سوچ سکتا ہے کہ جب حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی الوہیت یا ابنیت والے عقیدہ کو ختم کرنے کے لئے

١٤

صرف یہ کافی تھا کہ اللہ سبحانہ وتعالیٰ فرما دیتا کہ اے عیسائیو تم علیہ السلام کے تو والد تھے پھر وہ اللہ سبحانہ وتعالیٰ کے بیٹے کس طر (جو اصل گمراہی والے عقیدہ کو جڑ سے کاٹ دیتی) کے بجائے اپنی قدرت کاملہ کا اظہار وغیرہ وغیرہ کی طرف قرآن حکیم کا رخ برہان نہیں کہ فی الحقیقت حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے والد نہ تھ کہ جب ابتداء میں اللہ سبحانہ وتعالیٰ کا بھیجا ہوا فرشتہ مریم علیہا ال وہ اگر صرف ایک با برکت ہستی کے پیدائش کی بشارت دینے کر چلا جاتا لیکن ایسا نہیں ہوا بلکہ مریم علیہا السلام کے دریاف ہوگا؟ تو اس وقت بھی اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے یہی الفاظ فرمائے آیت کریمہ ہے: ”قال كذالك الله يخلق ما يشاء اذا فیکون (آل عمران: ٤٧) “ ﴿یعنی اللہ سبحانہ وتعالیٰ اس ہے۔ وہ جب کسی بات کا فیصلہ کرتا ہے تو اس کو امر فرماتا ہے کہ اور یہاں سورہ مریم میں قصہ کے اختتام پر بھی ہو بات نہیں وہ صرف کن سے امر کرتا ہے اور وہ ہو جاتا ہے۔ لئے آئے تھے تب بھی اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے یہی الفاظ ان کو سن اس سے پہلے یہ بات گزر چکی ہے۔ بہر حال قرآن کریم میں ج پیدائش کا ذکر آتا ہے۔ یا ان کے بارے میں الوہیت یا ابنیت اللہ سبحانہ وتعالیٰ یہی فرماتا ہے حالانکہ اگر بالفرض حضرت عیس کے حالات کا تقاضا تو یہ تھا کہ فوراً کہہ دیا جاتا کہ ان کے تو ب نہیں ہو سکتے اس کے بجائے ہر جگہ اپنی قدرت کاملہ کا ذکر زیادہ واضح ہو سکتی ہے؟

حضرت عیسیٰ وحضرت مریم علیہما السلام کی معبودیت

فرمائے گا کہ:

”واذ قال الله يعيسى ابن مريم ءانت

١٥

صفحہ ٥٦٥

صرف یہ کافی تھا کہ اللہ سبحانہ وتعالیٰ فرما دیتا کہ اے عیسائیو تم کدھر کو چلے جارہے ہو؟ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے تو والد تھے پھر وہ اللہ سبحانہ وتعالیٰ کے بیٹے کس طرح بن گئے؟ لیکن اس مختصر سی بات (جو اصل گمراہی والے عقیدہ کو جڑ سے کاٹ دیتی) کے بجائے اتنا مفصل قصہ ان کی ولادت اور اپنی قدرت کاملہ کا اظہار وغیرہ وغیرہ کی طرف قرآن حکیم کا رخ ہمارے لئے یہ واضح دلیل اور قاطع برہان نہیں کہ فی الحقیقت حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے والد نہ تھے؟ اس حقیقت کو بھی پیش نظر رکھیں کہ جب ابتداء میں اللہ سبحانہ وتعالیٰ کا بھیجا ہوا فرشتہ مریم علیہا السلام کے پاس بشارت لے کر آیا تھا وہ اگر صرف ایک بابرکت ہستی کے پیدائش کی بشارت دینے آیا تھا، تو بس صرف یہ بشارت دے کر چلا جاتا لیکن ایسا نہیں ہوا بلکہ مریم علیہا السلام کے دریافت کرنے پر کہ بن باپ فرزند کیسے ہوگا؟ تو اس وقت بھی اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے یہی الفاظ فرمائے تھے جیسا کہ سورہ آل عمران میں یہ آیت کریمہ ہے: ”قال كذالك الله يخلق ما يشاء اذا قضى امراً فانما يقول له كن فيكون (آل عمران:٤٧)“ ﴿یعنی اللہ سبحانہ وتعالیٰ اسی طرح اپنی قدرت سے پیدا کرتا رہتا ہے۔ وہ جب کسی بات کا فیصلہ کرتا ہے تو اس کو امر فرماتا ہے کہ ہو جا تو وہ ہو جاتا ہے۔﴾

اور یہاں سورہ مریم میں قصہ کے اختتام پر بھی یہی فرمایا کہ اللہ کے لئے یہ کوئی مشکل بات نہیں وہ صرف كن سے امر کرتا ہے اور وہ ہو جاتا ہے۔ اور جب نجران کے عیسائی مقابلہ کے لئے آئے تھے تب بھی اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے یہی الفاظ ان کو سنانے کے لئے اتارے تھے۔ جیسا کہ اس سے پہلے یہ بات گزر چکی ہے۔ بہرحال قرآن کریم میں جس جگہ بھی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی پیدائش کا ذکر آتا ہے۔ یا ان کے بارے میں الوہیت یا ابنیت کے عقیدہ کا ابطال مقصود ہوتا ہے تو اللہ سبحانہ وتعالیٰ یہی فرماتا ہے حالانکہ اگر بالفرض حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے والد تھے تو اس وقت کے حالات کا تقاضا تو یہ تھا کہ فوراً کہہ دیا جاتا کہ ان کے تو والد تھے۔ وہ اللہ سبحانہ وتعالیٰ کے بیٹے نہیں ہو سکتے اس کے بجائے ہر جگہ اپنی قدرت کاملہ کا ذکر نہ کیا جاتا۔ کیا اس سے بھی کوئی بات زیادہ واضح ہو سکتی ہے؟

حضرت عیسیٰ و حضرت مریم علیہما السلام کی معبودیت کا رد

فرمائے گا کہ:

”واذ قال الله يعيسى ابن مريم ءانت قلت للناس اتخذونى وامى

١٥

صفحہ ٥٦٧

الهين من دون الله ”اے مریم کے بیٹے عیسیٰ علیہ السلام! کیا تو نے لوگوں کو (دنیا میں) کہا تھا کہ مجھے اور میری والدہ کو الہ (معبود) بنالو؟“ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ گمراہ لوگوں نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے ساتھ ان کی والدہ محترمہ علیہا السلام کو بھی الہ (معبود) بنالیا تھا۔ لہٰذا اگر ان کے شوہر تھے تو اللہ سبحانہ وتعالیٰ اپنے کلام پاک میں اس عقیدہ کو ضرور اس طرح رد کرتا کہ مریم کا تو شوہر تھا پھر جو عورت ایک مرد کے ماتحت ہو وہ معبود کیسے بن سکتی ہے؟۔ لیکن اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے ایسا کہیں نہیں فرمایا حالانکہ مریم علیہا السلام کے بارے میں الوہیت کا عقیدہ بغیر شوہر کے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی پیدائش والی بات سے نکلا تھا۔ لہٰذا حالات کا یہی تقاضا تھا کہ اس عقیدہ کو بھی یہ کہہ کر جڑ سے کاٹ دیا جاتا کہ مریم کا تو شوہر تھا۔ اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے قرآن عظیم میں بہت سے دلائل سے ان دونوں ماں اور بیٹے کی الوہیت کا ابطال فرمایا لیکن کسی ایک جگہ بھی (حضرت عیسیٰ علیہ السلام) کے والد اور مریم کے شوہر کا ذکر نہیں ہے۔ (تلك عشرة كاملة)

اجماع امت

ان براہین قاطعہ کے مدنظر پوری امت مسلمہ کا اس (بات) پر اجماع ہے، کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام بغیر والد اللہ سبحانہ وتعالیٰ کی قدرت کاملہ سے صرف اپنی والدہ مطہرہ مریم علیہا السلام سے پیدا ہوئے اور یہی سبیل المومنین (مومنوں کا راستہ) ہے۔ لہٰذا اس سے جو بھی انحراف کرے گا وہ مومن و مسلم ہرگز نہیں ہوسکتا۔ لہٰذا جو شخص ایسا عقیدہ رکھے وہ مسلمان نہیں اس لئے ان کی اقتداء میں نماز ہرگز جائز نہیں ہو سکتی۔ ھذا ما عندي والعلم عند الله العلام وهو اعلم بالصواب وآخر دعوانا ان الحمد لله رب العالمين وصلى الله على خير خلقه سيدنا محمد وآله واصحابه اجمعين وبارك وسلم!

وانا احقر العباد محب الله شاہ راشدی عفا اللہ عنہ عشية يوم الاحد ١٢ ربیع الثانی ١٤١٠ھ ..... المطابق ١٩٨٩/١١/١٢

ولادت سیدنا عیسیٰ علیہ السلام

”اذ قالت الملئكة“ ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ ایک ایسے بزرگ اور پاک آدمی کی پیدائش کا اجمالی بیان کرتا ہے کہ جس کی پیدائش، وفات بلکہ کل زندگی کے واقعات میں لوگوں کی مختلف رائیں ہو رہی ہیں۔ عموماً ہر ایک شخص سے یہ معاملہ تو ہوتا ہے کہ اس کے دوست و دشمن کی

١٦

آراء مختلف ہوتی ہیں۔ مگر یہ بزرگ (سیدنا عیسیٰ علیہ السلام) ا ہیں، یہود ان کے دشمن (بلکہ دراصل اپنے دشمن) تھے۔ ان کی اصل عداوت کی فرع اور اسی شاخ کا ثمر ہے۔ مگر ان کے نادا آپ کی نسبت دراصل مخالفانہ ہی رائے لگائی جس کا ذکر اوپ مسئلہ (بے باپ ولادت) کے لئے یہ حاشیہ تجویز ہوا ہے۔ اس ل ہیں۔ گو ان کے اتفاق کی بنا مختلف ہی کیوں نہ ہو آپ کے مخالف باپ (حقیقی) مانتے ہیں کہ وہ جناب کی پیدائش بدگمانی او ہیں۔ عیسائیوں نے جناب والا کی نسبت عجیب عجیب بعیدانہ قیا تو ان کے ہاں عام طور پر زبان زد ہے۔ باپ کے ہونے کے تک اس امر کے قائل ہیں کہ مسیح بے باپ پیدا ہوئے تھے۔ مگر مرحوم نے اس سے انکار کیا ہے۔ فرماتے ہیں کہ: وہ بے باپ باپ دونوں سے پیدا ہوئے تھے۔ اس لئے اس حاشیہ میں ہم سے بحث کریں گے۔ ایک ان آیات سے جن میں مسیح کی ولا شہادتوں سے کریں گے جن کو سید صاحب بھی کسی قدر معتبر جا یوں فرمایا:

”اذ قالت الملئكة يمريم ان الله يبش عيسى ابن مريم وجيها فى الدنيا والاخرة ومن المهد وكهلاً ومن الصلحين قالت رب انى يكو قال كذالك الله يخلق ما يشاء اذا قضى امرا ف

عمران: ٤٥ تا ٤٧) ”جب فرشتے نے کہا اے مریم بے لڑکے کی خوشخبری دیتا ہے جس کا نام عیسیٰ مسیح مریم کا بیٹا دنیا او مقربوں سے ہوگا اور لوگوں سے گہوارہ اور بڑھاپے میں کلام کر ہوگا۔ مریم علیہا السلام نے کہا اے میرے رب مجھے کس طرح ہاتھ نہیں لگایا۔ فرشتے نے کہا تو ایسی ہے۔ اللہ جو چاہتا ہے چاہتا ہے تو اسے اتنا ہی کہہ دیتا ہے کہ ہو جا پس وہ ہو جاتی ہے

دوسری جگہ سورہ مریم میں اس سے بھی کسی قدر مفص

١٧

صفحہ ٥٦٧

آراء مختلف ہوتی ہیں۔ مگر یہ بزرگ (سیدنا عیسیٰ علیہ السلام) اس بات میں بھی سب سے نرالے ہیں، یہود ان کے دشمن (بلکہ دراصل اپنے دشمن) تھے۔ ان کی رائے ان کی نسبت مخالفانہ تو اسی اصل عداوت کی فرع اور اسی شاخ کا ثمر ہے۔ مگر ان کے نادان دوستوں (عیسائیوں) نے بھی آپ کی نسبت دراصل مخالفانہ ہی رائے لگائی جس کا ذکر اپنے موقع پر آئے گا۔ طرفہ یہ کہ جب مسئلہ (بے باپ ولادت) کے لئے یہ حاشیہ تجویز ہوا ہے۔ اس میں سب کے سب یک زبان متفق ہیں۔ گو ان کے اتفاق کی بنا مختلف ہی کیوں نہ ہو آپ کے مخالف یہود تو اس حیثیت سے آپ کو بے باپ (حقیقی) مانتے ہیں کہ وہ جناب کی پیدائش بدگمانی اور گستاخی سے ناجائز طور کی کہتے ہیں۔ عیسائیوں نے جناب والا کی نسبت عجیب عجیب بعیدانہ قیاس باتیں گھڑی ہیں اللہ اور اللہ کا بیٹا تو ان کے ہاں عام طور پر زبان زد ہے۔ باپ کے ہونے کے وہ بھی زمانہ شروع اسلام سے آج تک اس امر کے قائل ہیں کہ مسیح بے باپ پیدا ہوئے تھے۔ مگر اس زمانہ اخیر میں سرسید احمد خان مرحوم نے اس سے انکار کیا ہے۔ فرماتے ہیں کہ: وہ بے باپ نہ تھے بلکہ مثل دیگر بچوں کے ماں باپ دونوں سے پیدا ہوئے تھے۔ اس لئے اس حاشیہ میں ہم مسیح کی ولادت کے متعلق دو طرح سے بحث کریں گے۔ ایک ان آیات سے جن میں مسیح کی ولادت مذکور ہے۔ دوسری ان بیرونی شہادتوں سے کریں گے جن کو سید صاحب بھی کسی قدر معتبر جانتے ہیں۔ اسی سورہ آل عمران میں یوں فرمایا:

"اذ قالت الملئكة يمريم ان الله يبشرك بكلمة منه اسمه المسيح عيسى ابن مريم وجيها فى الدنيا والاخرة ومن المقربين ويكلم الناس فى المهد وكهلا ومن الصلحين قالت رب انى يكون لى ولد ولم يمسسنى بشر قال كذالك الله يخلق ما يشاء اذا قضى امرا فانما يقول له كن فيكون (آل عمران:٤٥ تا ٤٧)" ﴿جب فرشتے نے کہا اے مریم بے شک اللہ تجھے اپنی طرف سے ایک لڑکے کی خوشخبری دیتا ہے جس کا نام عیسیٰ مسیح مریم کا بیٹا دنیا اور آخرت میں معزز اور (اللہ کے) مقربوں سے ہوگا اور لوگوں سے گہوارہ اور بڑھاپے میں کلام کرے گا اور وہ نیکو کاروں میں سے ہوگا۔ مریم علیہا السلام نے کہا اے میرے رب مجھے کس طرح سے لڑکا ہوگا حالانکہ مجھے کسی بشر نے ہاتھ نہیں لگایا۔ فرشتے نے کہا یوں ہی ہے۔ اللہ جو چاہتا ہے کر دیتا ہے۔ جب کسی چیز کو پیدا کرنا چاہتا ہے تو اسے اتنا ہی کہہ دیتا ہے کہ ہو جا پس وہ ہو جاتی ہے۔﴾

دوسری جگہ سورہ مریم میں اس سے بھی کسی قدر مفصل بیان ہے: ”واذكر فى الكتب

١٧

صفحہ ٥٦٨

مريم اذا انتبذت من اهلها مكانا شرقيا. فاتخذت من دونهم حجابا فارسلنا اليها روحنا فتمثل لها بشراً سوياً. قالت انى اعوذ بالرحمن منك ان كنت تقياً قال انما انا رسول ربك لاهب لك غلماً زكيا. قالت انى يكون لى غلام ولم يمسسنى بشر ولم اك بغيا. قال كذالك قال ربك هو على هين ولنجعله آية للناس ورحمة منا وكان امراً مقضيا. فحملته فانتبذت به مكانا قصيا. فاجآءها المخاض الى جذع النخلة قالت يلیتنی مت قبل هذا وكنت نسيا منسيا. فناداها من تحتها الا تحزني قد جعل ربك تحتك سريا. وهزى اليك بجذع النخلة تسقط عليك رطباً جنيا. فكلى واشربى وقرى عينا فاما ترين من البشر احدا فقولى انى نذرت للرحمن صوماً فلن اكلم اليوم انسياً

(مريم:١٦تا٢٦) ”مریم کا ذکر کتاب میں بیان کر جس وقت وہ اپنے گھر والوں سے مشرق کی جانب ہوگئی اور ان سے دور ایک پردہ اس نے بنالیا۔ پس اسی حال میں ہم نے اپنا رسول (جبرائیل) اس کی طرف بھیجا۔ وہ کامل آدمی کی شکل میں اس کے سامنے آیا وہ (مریم بچاری پاک دامنی کے) اس سے بولی کہ میں تجھ سے اللہ کی پناہ میں ہوں۔ (یعنی تیرے سامنے آنے کو پسند نہیں کرتی۔) اگر تو نیک ہے تو آگے سے ہٹ جا وہ بولا میں آدمی نہیں بلکہ تیرے رب کا قاصد ہوں کہ تجھے ایک لڑکا ہونے کی خبر دوں۔ مریم نے کہا مجھے لڑکا کیسے ہوگا حالانکہ مجھے نہ تو خاوند نے چھوا ہے اور نہ ہی میں بدکار ہوں۔ فرشتے نے کہا تو ایسا ہی ہے تیرے رب نے کہا کہ مجھ پر یہ کام آسان ہے اور ہم ایسا ہی کریں گے تاکہ اس کو لوگوں کے لئے نشانی اور اپنی رحمت بنا دیں اور یہ کام طے ہوا ہے۔ پس مریم حاملہ ہوئی پھر وہ دور کی جگہ میں چلی گئی پھر دردزہ کی وجہ سے درخت کھجور کے پاس آئی تو بولی ہائے افسوس میں اس سے پہلے ہی مرکر بھولی بسری ہوجاتی پس فرشتے نے اسے اس سے نچلے مکان سے پکارا کہ غم نہ کر تیرے رب نے (تیرے لئے) تیرے نیچے نہر جاری کردی ہے اور اپنی طرف کھجور کے تنے کو ہلا وہ تجھ پر تر و تازہ کھجور گرائے گی پھر تو کھا اور پانی پیو اور خوش رہو۔ اگر کسی آدمی کو دیکھے تو اشارہ سے کہہ دینا کہ میں نے اللہ کے لئے منہ بند رکھنے کی نذر مانی ہے۔ پس میں آج تمام دن کسی سے نہ بولوں گی یہ سب باتیں اشارہ سے کہو۔“

سورہ آل عمران میں صرف اسی قدر اشارہ ہے: ”ان مثل عيسى عند الله كمثل ادم خلقه من تراب ثم قال له كن فيكون (آل عمران:٥٩) ”سچ اللہ کے نزدیک آدم کی طرح ہے جس کو مٹی سے بنا کر ہو جا کہا وہ ہو گیا۔“

١٨

صفحہ ٥٦٩

ان آیات کریمہ پر کوئی حاشیہ لگانے کی حاجت نہیں اردو ترجمہ جو لفظی ترجمہ ہے ان کا مطلب صاف بتا رہا ہے۔ پس جو مطلب ناظرین اردو سے سمجھے ہوں گے وہی مطلب عرب کے فصیح و بلیغ باشندے قرآن مجید کا سمجھتے تھے۔ ہمارے خیال میں یہ مسئلہ (ولادت مسیح) بعد بیان ان آیات کے ناظرین کے فہم وفراست اور انصاف پر چھوڑنے کے لائق ہے۔ لیکن اس خیال سے کہ سید صاحب یا ان کے دوست رنجیدہ نہ ہوں کہ ہمارے عذرات قوم تک نہیں پہنچائے۔ اس لئے کسی قدر شرح کر کے آپ کے عذرات (رکیکہ ) مع جوابات معروض ہوں گے۔

پہلی اور دوسری آیات اس امر پر متفق اور یک زبان ہیں کہ مریم علیہا السلام نے لڑکے کی خوشخبری سن کر اسے اپنے مناسب حال نہیں سمجھا بلکہ سخت لفظوں میں اس سے انکار کیا اور استعجاب بتلایا کہ مجھ جیسی کو لڑکا کہاں سے ہو سکتا ہے۔ جس کو کسی مرد نے نہیں چھوا (درصورت حل متعارف) ہونے کے (جیسا کہ سید صاحب کا خیال ہے) فرشتے کی طرف سے یا اللہ کی جانب سے آپ کو یہ جواب ملتا کہ اللہ پر یہ کام آسان ہے۔ داناؤں کی توجہ چاہتا ہے۔ ہاں اگر یہ جواب فرشتے کی طرف سے ہوتا کہ گو ابھی تک مرد نے تجھے نہیں چھوا لیکن چھونا ممکن ہے تو اس سے حضرت مریم کو تسلی ہو جاتی اور سید صاحب کو بھی متعدد صفحات لکھنے کی تکلیف نہ ہوتی۔ اب جائے غور ہے کہ بجائے اس جواب کے یہ جواب دینا کہ بے شک تو ایسی ہے لیکن اللہ جو چاہتا ہے پیدا کرتا ہے۔ پھر اسی پر بس نہیں بلکہ اس کو بھی مدلل اور مفصل کر کے بیان کیا کہ اللہ جب کبھی کسی چیز کا ہونا چاہتا ہے تو اسے صرف اتنا ہی کہتا ہے کہ ہو جا پس وہ ہو جاتی ہے۔ اگر سید صاحب کا خیال (کہ مسیح بطریق متعارف پیدا ہوئے تھے، ٹھیک ہو تو کوئی شک نہیں کہ یہ جواب طول طویل مریم کے استبعاد کے متعلق نہیں ہو سکتا۔) بلکہ سوال ”از آسمان جواب از ریسمان“ کا مصداق ہے۔ پھر مریم کے بچہ کو اٹھا لانے کے وقت قوم کا طعن مطعن شروع کرنا اور طعن میں ایسے الفاظ بولنا جو اس پاک دامن (عورت) کی عصمت میں خلل انداز ہوں یعنی نہ تیرا باپ زانی تھا نہ تیری ماں بدکار زانیہ تھی۔“ صاف ثابت کرتا ہے کہ حضرت مسیح کی ولادت کے وقت یہودیوں کا گمان فاسد ناجائز طور پر مولود پیدا ہونے کا تھا۔ جس کو حضرت مسیح نے اپنے جواب میں دفع کیا کہ میں اللہ کا نبی ہوں۔ مجھے اس نے کتاب دی ہے۔ اس لئے کہ بموجب کتب (کتاب استثناء ٢٣ کی ٢ آیت) بنی اسرائیل حرامی بچہ دس پشت تک اللہ کا نبی نہیں ہو سکتا۔ میں جب نبی ہوں تو حرامی کیسے ہو سکتا

١٩

صفحہ ٥٧١

ہوں۔ افسوس کہ سید صاحب نے اس جواب پر غور نہیں کیا اس لئے جھٹ سے اعتراض جما دیا کہ: ”اگر اس وقت یہودیوں کی مراد اس سے تہمت بدنسبت حضرت مریم کے اور ناجائز مولود ہونے کی نسبت حضرت عیسیٰ کی ہوتی تو ضرور حضرت عیسیٰ اپنے جواب میں اپنی اور اپنی ماں کی بریت اس تہمت سے ظاہر کرتے۔“

(ج دوم ص ٣٧، ٣٨ طبع جدید ص ٣٣)

ہم نے بتلادیا ہے کہ حضرت مسیح نے اپنی ماں کی بریت عمدہ طرح سے فرمائی ہے۔ سید صاحب نے ہمارے پہلے طریق استدلال (یعنی عدم مطابقت سوال بجواب) کی طرف تو خیال ہی نہیں کیا تھا اور اس امر پر شاید غور کرنے کا انہیں اتفاق ہی نہیں ہوا اگر ہوتا تو غالباً تصویر کا رخ دوسرا ہوتا البتہ دوسری طرز استدلال کی طرف کسی قدر متوجہ ہو کر فرمایا ہے۔ یہودیوں کے اس قول سے بھی ”یامریم لقد جئت شيئاً فريا ياخت هرون ما كان ابوك امراء سوء وما كانت امك بغيا“ حضرت عیسیٰ کے بن باپ کے پیدا ہونے پر استدلال نہیں ہو سکتا اس لئے۔ کہ اس زمانہ میں جبکہ یہودیوں نے حضرت مریم سے یہ بات کہی کوئی بھی مریم پر بدکاری کی تہمت نہیں کرتا تھا۔

(طبع جدید ص ٣٢ ج ٢)

سید صاحب کو ایسی غفلت مناسب نہ تھی ص ٢٨ طبع جدید ص ٢٠ پر آپ خود مانتے ہیں کہ ”یہی وجہ ہے کہ یہودیوں نے نعوذ باللہ حضرت مریم پر جو بہتان باندھا تھا وہ یوسف کے ساتھ نہ تھا بلکہ پیٹرا نامی کے ساتھ منسوب کیا تھا کیونکہ یوسف ان کے شرعی شوہر ہو چکے تھے۔“ ص ٢٠ کچھ دور نہیں تھا یہاں پر آپ کا اس کو بھول جانا کلام الٰہی ”لکیلا یعلم من بعد علم شيئاً “ (بوڑھے جلد ہی بھول جاتے ہیں۔ منہ) کی تصدیق ہے اگر فرما دیں کہ ص ٢٠ کی عبارت ولادت کے متعلق ہے اور ص ٣٢ پر جو انکار ہے وہ اس وقت کے متعلق ہے جب حضرت مریم علیہا السلام کو اٹھالائی تھیں۔ دونوں عبارتیں مجھے یاد ہیں میں بھولا نہیں ہمارا مدعا بھی یہی ہے کہ وقت ولادت یہودیوں نے مریم پر تہمت لگائی تھی جس سے ثابت ہوتا ہے کہ:

حضرت مسیح ان کے نزدیک ناجائز مولود تھے جس سے ہمارا دعویٰ (بے باپ ولادت مسیح) تقویت پذیر ہے۔ آپ کا فرمانا کہ نہ اس آیت میں اس قسم کی تہمت کا اشارہ ہے۔ حیرت افزا ہے۔ کاش آپ اس ”آیت“ کی بجائے ”قرآن میں“ کا لفظ لکھ دیتے تو مدت فیصلہ ہو جاتا کوئی مخالف آپ کے سامنے : ”وقولهم على مريم بهتاناً عظيماً (النساء:١٥٦)“ پیش نہ

٢٠

کرسکتا۔ سید صاحب ابھی بھی موقعہ ہے معاملہ طے کریں

مٹا نہ رہنے دے جھگڑے
رکے ہیں ہاتھ ابھی ہے

آپ فرماتے ہیں ”فری“ کے معنی بدی وغیرہ نے مراد لی ہوگی۔ ”شيئاً عظيماً منكراً “ مگر اس ۔ السلام کی نسبت ناجائز مولود ہونے کی تہمت کی تھی لازم کیونکہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے جواب میں اس تہمت ۔

بے شک کہا ملاحظہ ہو ا ص٢٧ تفسیر ثنائی جلد قدیمہ مطلب سے تجاہل عارفانہ کرگئے ہیں ”فری“ کے نالائقوں کے صریح الفاظ سے اسے مریم تیرا باپ زانی نـ (بقول سید صاحب) اوپر کہاں سے لے آئی۔ کیا اس قو نسبت کہے یا کہتے سنا۔ یہودیوں کے یہ الفاظ کہنے کی وجہ ”جب انہوں (حضرت مسیح) نے بیت المقـ بات پر یہودی ناراض ہوئے اور انہوں نے آکر حضرت نیک تھے تو نے یہ کیسا عجیب یعنی بد مذہب لڑکا جنا ہے حضر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو اٹھا لائیں (گود میں یا کندھوں پـ عبدالله اتنى الكتب وجعلنی نبيا (مریم:٣٠)

افسوس سید صاحب! یہ مسئلہ حل نہ ہوگا جب کے متبادل ترجمہ کو تسلیم نہ کریں گے۔ جو واقعی قابل تسلیم ہوتا ہے کہ یہودیوں کی بدزبانی سے پہلے بضد حضرت مریـ سے ظاہر ہے کہ مریم کا بچہ کو اٹھا کر لانا پہلے ہے اور یہودیو ہیں۔ میں بھولا نہیں ہمارا دعویٰ بھی یہی۔ دیکھو تو کیا وضاحـ ”فاتت به قومها تحمله قالوا یمریم

٢١

صفحہ ٥٧١

کر سکتا۔ سید صاحب ابھی بھی موقعہ ہے معاملہ طے کریں:

مٹا نہ رہنے دے جھگڑے کو مار تو باقی
رکے ہیں ہاتھ ابھی ہے رگ گلو باقی

آپ فرماتے ہیں ”فری“ کے معنی بدیع و عجیب کے ہیں۔ اس لفظ سے غالباً یہودیوں نے مراد لی ہو گی۔ ”شیئاً عظیماً منكراً“ مگر اس سے یہ بات کہ انہوں نے حضرت مریم علیہا السلام کی نسبت ناجائز مولود ہونے کی تہمت کی تھی لازم نہیں ہوتی بلکہ قرینہ اس کے برخلاف ہے کیونکہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے جواب میں اس تہمت سے بری ہونے کا کوئی لفظ بھی نہیں کہا۔

(ص ٤٧ طبع جدید ص ٣٢)

بے شک کہا ملاحظہ ہو ص ٢٧ تفسیر ثنائی جلد ہذا۔ اس جواب میں بھی حسب عادت قدیمہ مطلب سے تجاہل عارفانہ کر گئے ہیں ”فری“ کے معنی کرنے میں وقت کھو دیا۔ حالانکہ ان نالائقوں کے صریح الفاظ سے اے مریم تیرا باپ زانی نہ تھا تیری ماں زانیہ بدکار نہ تھی تو ایسا لڑکا (بقول سید صاحب) اوپر کہاں سے لے آئی۔ کیا اس قدر مغلظ الفاظ کسی نے اپنی بیگانی لڑکی کی نسبت کہے یا کہتے سنا۔ یہودیوں کے یہ الفاظ کہنے کی وجہ سرسید یوں بیان کرتے ہیں:

”جب انہوں (حضرت مسیح) نے بیت المقدس میں یہودی عالموں سے گفتگو کی اس بات پر یہودی ناراض ہوئے اور انہوں نے آ کر حضرت مریم سے کہا کہ تیرے ماں باپ تو بڑے نیک تھے تو نے یہ کیسا عجیب یعنی بد مذہب لڑکا جنا ہے حضرت مریم نے خود اس کا جواب نہیں دیا اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو اٹھا لائیں (گود میں یا کندھوں پر) اس وقت انہوں نے کہا: ”اني عبدالله اتنی الکتب وجعلنی نبیا (مریم: ٣٠)“

(طبع ص ٤٦)

افسوس سید صاحب! یہ مسئلہ حل نہ ہوگا جب تک آپ صحیح الفاظ کو نہ لیں گے۔ اور ان کے متبادل ترجمہ کو تسلیم نہ کریں گے۔ جو واقعی قابل تسلیم ہے۔ آپ کے بیان مذکورہ بالا سے معلوم ہوتا ہے کہ یہودیوں کی بدزبانی سے پہلے نہیں حضرت مریم مسیح کو اٹھا لائیں مگر قرآن کریم کے بیان سے ظاہر ہے کہ مریم کا بچہ کو اٹھا کر لانا پہلے ہے اور یہودیوں کے طعنے بعد دونوں عبارتیں مجھے یاد ہیں۔ میں بھولا نہیں ہمارا مدعا بھی یہی۔ دیکھو تو کیا وضاحت سے ارشاد ہے کہ:

”فاتت به قومها تحمله قالوا يمريم لقد جئت شيئاً فرياً“ پس اس

٢١

صفحہ ٥٧٢

مسیح کو اٹھا کر اپنی قوم کے پاس لائی تو بولے کہ اے مریم تو عجیب چیز لائی ہے۔ پھر سید صاحب ان باتوں سے بجز اس کے کہ علماء میں ہنسی ہو کیا فائدہ آپ اپنا عندیہ کیوں نہیں کہہ دیتے کہ اس کھینچ تان سے آپ کا مطلب کیا ہے کہ جہاں آپ کو کچھ نہیں سوجھتا وہاں خواب میں چلے جاتے ہیں۔

چنانچہ حضرت مریم کی فرشتے سے گفتگو کو جو آپ کے مذہب کے خلاف تھی (کیونکہ فرشتوں کے وجود خارجی سے آپ منکر ہیں) خواب میں واقعہ بتلایا ہے اور اس کی نسبت یوں ارشاد فرمایا ہے کہ: ”سورہ مریم میں حضرت مریم علیہا السلام کی رویا (خواب) کا واقعہ بیان ہوا ہے کہ انہوں نے انسان کی صورت دیکھی جس نے کہا میں اللہ کا بھیجا ہوا ہوں تا کہ تم کو بیٹا دوں۔“

(تفسیر جدید ص ٤١)

جناب! خواب کس لفظ کا ترجمہ ہے؟ اسی برتے پر آپ علماء کو یہودیوں کے مقلد شہوت پرست زاہد، کوڑھ مغز ملا وغیرہ وغیرہ الفاظ بخشا کرتے ہیں:

اللہ رے ایسے حسن پہ یہ بے نیازیاں
بندہ نواز آپ کسی کے خدا نہیں

آپ ہی بتلادیں کہ اگر کسی صحیح روایت کے اعتبار پر بات کہنے سے یہودیوں کا مقلد بننا لازم آتا ہے تو بے ثبوت بات کہنے پر کس کا؟ خیر اس کا فیصلہ تو ہم آپ کے جدامجد (فداہ ابی وامی) کے روبرو کرائیں گے انشاء اللہ۔ اب ہم مسئلہ (ولادت مسیح) کے متعلق بیرونی شہادتیں دریافت کرتے ہیں اس میں تو کچھ شک نہیں کہ یہود و نصاریٰ اور مسلمان سب کے سب اس امر پر متفق ہیں کہ حضرت مسیح بے باپ ہیں۔ اور مسلمانوں کی نسبت تو آپ بھی تسلیم کرتے ہیں کہ عیسائی اور مسلمان دونوں خیال کرتے ہیں کہ حضرت عیسیٰ صرف اللہ کے حکم سے عام انسانی پیدائش کے برخلاف بغیر باپ پیدا ہوئے تھے۔

(ص ٢٤ ج ٢ طبع ١٥)

رہے یہودی سو ان کی بابت قرآن سے ثابت ہے کہ مسیح کی ولادت کو کیسے مغلظ الفاظ سے بیان کرتے تھے۔ پس حضرت مسیح کے حالات دیکھنے والے یہود و نصاریٰ دونوں قومیں جو ان کے حالات کو تحقیق کرنے میں ہم سے زیادہ مشغول تھیں۔ (گو اغراض ان کی مختلف ہوں یہود بوجہ عداوت اور نصاریٰ بوجہ عقیدت) ان دونوں کا اس امر پر اتفاق ہونا کہ جناب مسیح کا باپ نہیں قابل غور نہیں۔ اس اتفاق کی تائید ان کی کتابوں سے بھی ہوتی ہے۔ انجیل متیٰ میں صاف بیان ہے:

٢٢

صفحہ ٥٧٣

اب یسوع مسیح کی پیدائش یوں ہوئی کہ جب اس کی ماں مریم کی منگنی یوسف کے ساتھ ہوئی تو ان کے اکٹھا آنے سے پہلے وہ روح القدس سے حاملہ پائی گئیں۔ تب اس کے شوہر یوسف نے جو راست باز تھا اور نہ چاہا کہ اسے تشہیر کرے ارادہ کیا کہ اسے چپکے سے چھوڑ دے۔ وہ ان باتوں کی سوچ ہی میں تھا کہ دیکھو اللہ تعالیٰ کے فرشتے نے اس پر خواب میں ظاہر ہو کر کہا کہ اے یوسف ابن داؤد اپنی جورو (بیوی) مریم کو اپنے یہاں لے آنے سے مت ڈر کیونکہ جو اس کے رحم میں ہے سو روح القدس سے ہے۔

(انجیل متی باب اول درس ١٨)

انجیل لوقا میں یوں مذکور ہے: ”اور چھٹے مہینے جبرائیل فرشتہ اللہ کی طرف سے جلیل کے ایک شہر میں جس کا نام ناصرت تھا بھیجا گیا ایک کنواری کے پاس جس کی یوسف نامی مرد سے جو داؤد کے گھرانے سے تھا منگنی ہوئی تھی اور اس کنواری کا نام مریم تھا اس فرشتے نے اس (کے) پاس اندر آکے کہا کہ اے پسندیدہ سلام اللہ تعالیٰ تیرے ساتھ تو عورتوں میں مبارک ہے۔ پر وہ اسے دیکھ کر گھبرائی اور سوچنے لگی کہ یہ کیسا سلام ہے۔ تب فرشتے نے اس سے کہا کہ اے مریم مت ڈر کہ تو نے اللہ کے حضور میں فضل پایا اور دیکھ تو حاملہ ہوگی اور بیٹا جنے گی اور اس کا نام ’’یسوع‘‘ رکھے گی وہ بزرگ ہوگا اور اللہ تعالیٰ کا بیٹا (نیک بندہ) کہلائے گا۔ (یہ ایک انجیلی محاورہ ہے کہ نیک بندوں کو اللہ کے فرزند کہا جاتا ہے۔)

(انجیل متی ٥ باب ٩ منہ)

اور اللہ تعالیٰ اس کے باپ داؤد کا تخت اسے دے گا اور وہ سدا یعقوب کے گھرانے کی بادشاہت کرے گا۔ اور اس کی بادشاہت کا آخر نہ ہوگا۔ تب مریم نے فرشتے سے کہا یہ کیونکر ہوگا جس حال میں میں مرد کو نہیں جانتی فرشتے نے جواب میں اس سے کہا مریم کہ روح القدس تجھ پر اترے گا اور اللہ تعالیٰ کی قدرت کا سایہ تجھ پر ہوگا اس سبب سے وہ قدوس بھی جو پیدا ہوگا اللہ کا بیٹا کہلائے گا۔

(انجیل لوقا باب اول درس ٢٦)

اس صاف اور سیدھے بیان انجیل کو بھی سید صاحب نے ٹیڑھا بنانا چاہا۔ آپ فرماتے ہیں ۔”اس بات کو خود حواری حضرت عیسیٰ کے اور تمام عیسائی تسلیم کرتے ہیں کہ حضرت مریم علیہا السلام کا خطبہ یوسف سے تھا۔ یہودیوں کے ہاں خطبہ کا یہ دستور تھا کہ شوہر اور زوجہ میں اقرار ہو جاتا کہ اس قدر میعاد کے بعد شادی کریں گے۔ یہ معاہدے حقیقت میں عقد نکاح تھے۔ زوجہ کا گھر میں لانا باقی رہ جاتا تھا۔ یہودیوں کے ہاں اس رسم کے ادا ہونے کے بعد مرد اور عورت باہم

٢٣

صفحہ ٥٧٥

شوہر اور زوجہ ہوجاتے تھے۔ یہاں تک کہ اگر بعد اس رسم کے اور قبل رخصت کرنے کے ان دونوں میں اولاد پیدا ہو تو وہ ناجائز اولاد تصور نہیں ہوتی تھی۔ شاید خلاف رسم بات ہونے سے معیوب گنی جاتی ہوگی اور دونوں کو ایک شرم اور خجالت کا باعث ہوگی۔

(خلاصہ ص ٢٧ طبع جدید ص ١٩)

جس سے آپ نے یہ نتیجہ نکالا کہ ”پس کوئی وجہ اس بات کے خیال کرنے کی نہیں کہ یوسف فی الواقع حضرت مسیح کے باپ نہ تھے۔ متی کی انجیل میں جو یہ لکھا ہے کہ ”یوسف نے جب دیکھا کہ مریم حاملہ ہیں تو ان کو چھوڑ دینے کا ارادہ کیا اگر یہ بیان (متی کا) تسلیم کیا جائے تو اس کا سبب صرف یہی ہو سکتا ہے کہ عام رسم کے برخلاف حاملہ ہو جانے سے یوسف کو رنج اور خجالت ہوئی ہوگی۔

(ج ٢ ص ٢٨ طبع جدید ص ٢٠)

جناب سید صاحب اب ایسی باتوں سے کیا فائدہ یوں تو ہم نے بھی ٹھیکہ نہیں لیا کہ آپ کو خاموش ہی کرا کے رہیں گے مگر آخر جہاں تک آپ کے جد امجد (فداہ روحی) کی محبت کا ہمیں جوش ہے۔ آپ کی حق ادائی کریں گے گو کسی استاد کا قول ہے:

ملاں آں باشد کہ چپ نہ شود

صحیح ہے بھلا حضرت ! اگر مریم علیہا السلام کو خلاف رسم حمل تھا اور وہ حمل شرعاً درست تھا اور بالکل بے عیب تھا جیسا آپ بھی ص ٢٧ پر تسلیم کر آئے ہیں تو یوسف اس پر اس قدر رنجیدہ کیوں ہوا کہ اس بے چاری حاملہ کو چھوڑنے پر کمر بستہ ہوگیا۔ آخر وہ اتنا تو جانتا ہوگا کہ یہ کرتوت ساری میری ہے۔ بالفرض اگر اس کو خلاف رسم حمل ہونے سے شرم تھی تو فرشتے نے خواب میں آکر اس کی کیا تسلی کی کہ اے یوسف ابن داؤد اپنی جورو مریم کو یہاں لے آنے سے مت ڈر کیونکہ جو اس کے رحم میں ہے سو روح القدس سے ہے۔

(متی باب ١ آیت ٢٠)

کیا اس سے وہ حمل جو خلاف رسم سے ہوا تھا موافق رسم ہو گیا ایسے فرشتے کو یوسف خواب ہی میں جواب دیتا کہ حضرت جس خجالت کی وجہ سے میں اسے چھوڑتا ہوں وہ روح القدس سے حاملہ ہونے سے تو نہیں جاسکتی۔ میں تو اس لئے چھوڑتا ہوں کہ خلاف رسم حمل ہے میری رسومات متعلقہ شادی ابھی باقی ہے۔ میں روح القدس کو کیا کروں میں اس شرم کے مارے پانی پانی ہوئے جاتا ہوں آپ مجھے روح القدس کا راگ سنائے جاتے ہیں۔ افسوس! سید صاحب نے جیسا حضرت مریم کے سوال: ”انی یکون لی غلام“ کے جواب ”کذالک اللہ یخلق ما

٢٤

یشاء“ پر غور نہیں فرمایا۔ اسی طرح اس پر بھی تدبر بحوالہ انجیل متی ولوقا مصر ہیں کہ مسیح کو ابن داؤد ابن ابراہیمی ذریت سے ہونا ثابت ہے۔ (ص ٢٥) نہیں مـ ضعیف احتمالات کیا مفید ہوسکتے ہیں۔ سید صاحب ! ا اشارہ وغیرہ پر مقدم ہوتی ہے۔ فافہم جس کو دوسرے سے ایسی تاویلات پر مقدم ہوتا ہے۔

پس جب کہ صریح بیان انجیلی اور قرآنی و کہ مسیح علیہ السلام بے باپ تھے تو ایسی تاویلات ر نواسے کو بھی بیٹا کہا گیا ہے۔ جہاں مباہلہ کا حکم ہوتا ہے تمہارے بیٹے اور اپنی عورتیں اور تمہاری عورتیں بلا کر مـ نواسوں کو بلا کر مباہلہ کرنا چاہا تھا اور سیدنا امام حسن کو کے طفیل اللہ تعالیٰ مسلمانوں کے دو گروہوں میں صلح کر کیا امام حسن آنحضرت ﷺ کے بیٹے تھے نہیں نواسے مسیح کو ابن داؤد یا ابن ابراہیم کہا گیا ہے تو مریم کی وجـ جانتے ہیں جب ہی تو یہ عذر کرتے ہیں کہ ”یہودی شر ہوسکتا۔ دوسرے یہ کہ حضرت مریم کا داؤد کی نسل سے ہـ گو یہ بھی اس صفحہ پر تسلیم ہے کہ ”حضرت کی رشتہ دار تھیں اور الیشبع ہارون کی بیٹی تھیں مگر نہ یہ معلـ معلوم کہ ہارون کس کی اولاد تھے۔“

حضرت ! ان باتوں سے بجز اس کے کہ ا ہمیں انہیں اناجیل مروجہ میں صاف اور صریح الفاظ مے متفقہ علیہ عقیدہ اسی پر ہونا ثابت ہے تو پھر ایسے ویسے کے رد کرنے کو صرف اسی قدر کافی ہے کہ یوسف داؤد

٢٥

صفحہ ٥٧٥

يَشَاءُ ۔“ پر غور نہیں فرمایا۔ اسی طرح اس پر بھی تدبر سے کام نہیں لیا۔ اس امر پر بھی سید صاحب بحوالہ انجیل متی ولوقا مصر ہیں کہ مسیح کو ابن داؤد ابن ابراہیم کہا گیا ہے۔ ص٢٤ اور قرآن میں ابراہیمی ذریت سے ہونا ثابت ہے۔ (ص ٢٥) نہیں معلوم ایسے صریح بیانات کے مقابلہ میں ایسے ضعیف احتمالات کیا مفید ہوسکتے ہیں۔ سید صاحب! اصول شاشی میں بھی لکھا ہے کہ عبارات النص اشارہ وغیرہ پر مقدم ہوتی ہے۔ فافہم جس کو دوسرے لفظوں میں یوں کہیں کہ صریح بیان ہر طرح سے ایسی تاویلات پر مقدم ہوتا ہے۔

پس جب کہ صریح بیان انجیلی اور قرآنی دونوں اس پر (بشرطیکہ انصاف ہو) متفق ہیں کہ مسیح علیہ السلام بے باپ تھے تو ایسی تاویلات رکیکہ کی کیا قدر ہوگی حالانکہ قرآن کریم میں نواسے کو بھی بیٹا کہا گیا ہے۔ جہاں مباہلہ کا حکم ہوتا ہے کہ تو ان سے کہہ دے کہ آؤ ہم اپنے بیٹے اور تمہارے بیٹے اور اپنی عورتیں اور تمہاری عورتیں بلا کر مباہلہ کریں۔ جس پر آنحضرتﷺ نے اپنے نواسوں کو بلا کر مباہلہ کرنا چاہا تھا اور سیدنا امام حسنؓ کو حضور نے اٹھا کر فرمایا تھا کہ میرے اس بیٹے کے طفیل اللہ تعالیٰ مسلمانوں کے دو گروہوں میں صلح کرائے گا۔ (بخاری کتاب الفتن ج٢ ص ١٠٥٣) تو کیا امام حسنؓ آنحضرتﷺ کے بیٹے تھے نہیں نواسے کو بھی عام طور پر بیٹا کہا جاتا ہے۔ پس حضرت مسیح کو ابن داؤد یا ابن ابراہیم کہا گیا ہے تو مریم کی وجہ سے کہا ہوگا۔ غالباً آپ بھی اس محاورہ کو صحیح جانتے ہیں جب ہی تو یہ عذر کرتے ہیں کہ ”یہودی شریعت میں عورت کی طرف سے نسب قائم نہیں ہو سکتا۔ دوسرے یہ کہ حضرت مریم کا داؤد کی نسل سے ہونا ثابت نہیں۔

(ص ٢٥)

گو یہ بھی اس صفحہ پر تسلیم ہے کہ ”حضرت مریم حضرت زکریا علیہ السلام کی بیوی الیشبع کی رشتہ دار تھیں اور الیشبع ہارون کی بیٹی تھیں مگر نہ یہ معلوم ہے مریم اور الیشبع میں کیا رشتہ تھا اور نہ یہ معلوم کہ ہارون کس کی اولاد تھے۔“

(ص ٢٥)

حضرت! ان باتوں سے بجز اس کے کہ ڈوبتے کو تنکے کا سہارا ہو کیا ہو سکتا ہے۔ جب ہمیں انہیں اناجیل مروجہ میں صاف اور صریح الفاظ میں حضرت مسیح کا بے باپ ہونا اور عیسائیوں کا متفقہ علیہ عقیدہ اسی پر ہونا ثابت ہے تو پھر ایسے ویسے بعید از قیاس احتمالات کو کون سن سکے گا۔ ان کے رد کرنے کو صرف اسی قدر کافی ہے کہ یوسف داؤد کے گھرانے سے تھا۔

(دیکھو انجیل لوقا باب اول فقرہ ٢٧)

٢٥

صفحہ ٥٧٧

جب یوسف داؤد کے گھرانے سے تھا تو غالباً مریم بھی اسی خاندان سے ہوں گی جب تک کہ کسی قولِ دلیل سے ثابت نہیں ہو کہ مریم خاندانِ داؤدی یا اسرائیلی سے نہیں تھی اسی قدر کافی ہے۔

ہاں! آپ کا اس فقرہ انجیل پر جیسا کہ گمان تھا وہ (مسیح) یوسف کا بیٹا تھا۔ (لوقا باب ٣ درس ٢٣) نظر ڈالنا بھی حیرت بخش ہے جبکہ یہی لوقا صاف الفاظ میں مسیح کی ولادت بے باپ لکھتا ہے تو پھر ایسے محاورات سے کیا نتیجہ۔ علاوہ اس کے ہو سکتا ہے کہ یہ بیان ان کا اس پر مبنی ہو کہ مسیح بعد ولادت اس کے گھر میں رہے جیسا کہ ربیب کو بیٹا کہہ دیا کرتے ہیں۔ افسوس ہے کہ سید صاحب اس مسئلہ میں اہل معانی کا قاعدہ بھی بھول گئے کہ موجد اگر انبت الربیع البقل کہے تو اس میں نسبت مجازی ہے۔

اس مسئلہ (ولادت مسیح) پر سید صاحب کے ہم خیال ان آیات سے بھی استدلال کیا کرتے ہیں جن میں انسان کی پیدائش کی ابتداء نطفہ سے بیان ہوئی ہے مگر بعد غور دیکھیں تو یہ استدلال: "أولم ير الانسان أنا خلقنه من نطفة (یسین:٧٧)" ﴿ کیا انسان دیکھتا نہیں کہ ہم نے اسے نطفہ سے پیدا کیا۔﴾ "فلينظر الانسان مما خلق۔ خلق من ماء دافق (الطارق:٥، ٦)" ﴿ لہذا انسان کو دیکھنا چاہئے کہ وہ کس چیز سے پیدا کیا گیا ہے۔ وہ اچھل کر نکلنے والے پانی سے پیدا کیا گیا ہے۔ ﴾ بھی ضعیف ہے اس لئے کہ ان آیات میں قضیہ کلیہ نہیں بلکہ مہملہ ہے جس میں کل افراد پر حکم ضروری نہیں جس کو دوسرے لفظوں میں یوں کہیں کہ ان آیتوں میں سب انسانوں کی پیدائش کا ذکر نہیں۔ بلکہ اکثر کا ہے، قرینہ اس کا یہ ہے کہ اس پیدائش کے بیان سے متصل ہی انسان کی ناشکری، غرور، تکبر، گردن کشی کا بیان عموماً مذکور ہوتا ہے۔ جو اکثر افراد انسان میں تو ہے کل میں نہیں بالخصوص حضرات انبیاء اور مسیح علیہم السلام کو تو ان سے کوسوں دوری ہے۔ پس ان آیتوں سے تمام افراد انسان کی پیدائش کا نطفہ سے ثبوت دینا گو یہ کل انبیاء کی نسبت یا کم سے کم مسیح کی نسبت ان کے گناہوں کا گمان کرنا ہے جو ان آیتوں میں بیان ہے۔ علاوہ اس کے اگر سب افراد پر بھی حکم ہو تو اس اجمالی بیان سے دوسری آیت مسیح کو نکال سکتی ہے۔ جیسا کہ عام مخصوص البعض کا قاعدہ ہے۔ مثلاً ایک آیت میں فرمایا کہ: "والذین یتوفون منکم ویذرون ازواجاً یتربصن ٢٦

بانفسهن اربعة اشهر وعشراً

(البقره: ٢٣٤)

مہینے دس روز ٹھہر کر دوسرا خاوند کر سکتی ہیں۔ ﴾ دوسری آیت میں فرمایا: "واولات الاحمال (الطلاق:٤) " ﴿ حاملہ عورت بعد جننے کے نکاح کر سکتی خواہ وہ بعد مرنے خاوند کی ایک گھڑی بعد مطابق اس کو چار مہینے دس روز کی عدت بیٹھ کر نکاح کرنا آیت میں "حاملہ کا خصوصی سے ذکر آچکا ہے۔" اس لیے دوسری آیت سے غفلت ہے۔ اس قسم کی کئی ایک مثالیں محاورہ میں ہوتی ہیں۔ پس جیسا کہ ان دونوں آیتوں میں ہیں کہ پہلے عام فہم سے حاملہ کو نکال کر دوسری آیت میں لانے سے دوسری سے انکار لازم نہ آئے اسی طرح ہوں ان آیتوں سے (درصورت تسلیم عموم) مسیح کی پیدائش دوسری کا انکار لازم آئے گا۔ سید صاحب اور ان کے ہے جو مسیح کی ولادت بے باپ کے قائل ہیں اور اس اس طرح بے باپ ہی مانتے چلے آئے ہیں مگر (بقول نہیں ۔ حضرت ! ثابت تو روز روشن کی طرح ہے۔" نہیں یا انصاف نہیں۔

سرسید نے جیسا مسیح کے بن باپ ہونے (چھوٹی عمر میں بولنے) سے بھی منکر ہوئے۔ کیونکہ سپر نیچر (خلاف عادت) کے استحالہ کے فرع ہیں آمنا ”قرآن مجید سے ثابت نہیں ہوتا کہ حضرت حسب فطرت انسانی کوئی بچہ کلام نہیں کرتا کلام کیا تھا من کان فی المھد صبیا ”اس میں لفظ کان کا کیونکہ کلام کریں جو مہد میں تھا یعنی کم عمر لڑکا ہماری گفتگو ٢٧

صفحہ ٥٧٧

بانفسهن اربعة اشهر وعشراً (البقره: ٢٣٤) ”جن عورتوں کے خاوند مر جائیں وہ چار مہینے دس روز ٹھہر کر دوسرا خاوند کر سکتی ہیں۔“

دوسری آیت میں فرمایا: ”واولات الاحمال اجلهن ان يضعن حملهن (الطلاق: ٤) ”حاملہ عورت بعد جننے کے نکاح کر سکتی ہے۔“

خواہ وہ بعد مرنے خاوند کی ایک گھڑی بعد جنے خواہ نو مہینے بعد حالانکہ پہلی آیت کے مطابق اس کو چار مہینے دس روز کی عدت بیٹھ کر نکاح کی اجازت چاہئے تھی مگر ایسا نہیں کیونکہ دوسری آیت میں ”حاملہ کا خصوصیت سے ذکر آچکا ہے۔“ اس لئے پہلی آیت کے ذیل میں اس کو لانا گویا دوسری آیت سے غفلت ہے۔ اس قسم کی کئی ایک مثالیں قرآن شریف میں بلکہ ہر ایک کتاب اور محاورہ میں ہوتی ہیں۔ پس جیسا کہ ان دونوں آیتوں کو ماننے والے دونوں پر اس طرح عمل کرتے ہیں کہ پہلے عام حکم سے حاملہ کو نکال کر دوسری آیت کے ذیل میں لاتے ہیں تاکہ ایک ہی کے ذیل میں لانے سے دوسری سے انکار لازم نہ آئے اسی طرح ہم لوگوں کو جو سارے قرآن کو صحیح مانتے ہوں ان آیتوں سے (درصورت تسلیم عموم) مسیح کی پیدائش کو خاص کرنا ہوگا۔ ورنہ ایک ماننے سے دوسری کا انکار لازم آئے گا۔ سید صاحب اور ان کے حواریوں سے بڑھ کر ان حضرات سے تعجب ہے جو مسیح کی ولادت بے باپ کے قائل ہیں اور اس امر کو بھی مانتے ہیں کہ سب مسلمان سلفاً خلفاً اس طرح بے باپ ہی مانتے چلے آئے ہیں مگر (بقول ان کے) قرآن میں بے باپ ہونا ثابت نہیں۔ حضرت! ثابت تو روز روشن کی طرح ہے۔ ”آفتاب آمد دلیل آفتاب“ مگر یوں کہئے کہ غور نہیں یا انصاف نہیں۔

سرسید نے جیسا مسیح کے بن باپ ہونے سے انکار کیا ویسے ہی ان کے کلام فی المہد (چھوٹی عمر میں بولنے) سے بھی منکر ہوئے۔ کیوں نہ ہو۔ دونوں انکار ہی ایک ہی ماں باپ کے توام ہیں یعنی سپر نیچر (خلاف عادت) کے استحالہ کے فرع ہیں آپ سورہ مریم کی آیت پر غور کرتے ہیں کہ: ”قرآن مجید سے ثابت نہیں ہوتا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے ایسی عمر میں جس میں حسب فطرت انسانی کوئی بچہ کلام نہیں کرتا کلام کیا تھا۔ قرآن مجید کے یہ لفظ ہیں۔ ”كيف نكلم من كان في المهد صبيا “ اس میں لفظ کان کا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ ایک ایسے سے ہم کیونکر کلام کریں جو مہد میں تھا یعنی کم عمر لڑکا ہماری گفتگو کے لائق نہیں۔ یہ اسی طرح کا محاورہ ہے

٢٧

صفحہ ٥٧٩

جیسے کہ ہمارے محاورہ میں ایک بڑا شخص ایک کم عمر لڑکے کی نسبت کہے کہ ”ابھی ہونٹ پر سے تو اس کے دودھ بھی نہیں سوکھا کہ یہ ہم سے مباحثہ کے لائق ہے۔“

(تفسیر احمدی ج ٢ ص ٣٧)

سید صاحب کے اس امر کی تو ہم داد دیتے ہیں اور واقعی ہے بھی قابل داد کہ اپنے اصول نیچر کو بھولتے نہیں بلکہ جہاں تک ہو سکے دوسروں کو ان کی بات بھلانے کی کوشش کرتے ہیں مگر آخر وہی مثل صادق آجاتی ہے۔ ”بکرے کی ماں کب تک خیر منائے گی۔“ آپ سورہ مریم میں ناحق تکلیف کرنے چلے گئے۔ اسی سورہ آل عمران میں جس کا حاشیہ لکھنے کو بیٹھے ہیں غور فرماتے تو ”کان یکون“ کی گردان سے مخلصی ہوتی دیکھتے تو کس وضاحت سے بیان ہے۔ ”ویکلم الناس فی المهد وكهلاً“ اس آیت کا ترجمہ اور کسی کا کیا ہوا تو آپ کاہے کو مانیں گے آپ ہی کی تفسیر سے جو خود بدولت کے قلم سے نکلا ہے۔ پیش کرتا ہوں۔ (مسیح) کلام کرے گا لوگوں سے گہوارہ میں اور بڑھاپے میں ”اسی کے مقام“ کو آپ نے خطوط واحدانی ڈال کر (یعنی بچپنے میں) لکھ دیا ہے۔ (دیکھو ص ٢١) حضرت اسی وجہ سے تو نحویوں نے اس ”کان“ کو ربط بتلایا ہے۔

دیکھو شرح ملا جامی اور شرح الشرح:

علاوہ اس کے اس آیت ”من كان في المهد صبيًا“ کو آپ کے دعویٰ سے کیا تعلق؟ آپ تو اس واقعہ کو اس وقت سے متعلق کرتے ہیں جس وقت حضرت مسیح بڑے ہو کر وعظ گوئی کے لائق ہو چکے تھے اس وقت یہودیوں نے مریم کو کہا تھا کہ ہم اس لڑکے سے کیوں کر بولیں جو گہوارہ میں کھیلا کرتا تھا۔ (ج ٢ ص ٣٢ طبع جدید ص ٣١) مگر اللہ ہی کا کلام ”ویکلم الناس فی المهد“ میں نہ تو (کان) ہے نہ (یکون) بلکہ صاف ترجمہ ہے کہ مسیح لوگوں کے ساتھ بولے گا گہوارے میں اور بڑھاپے میں ہمارا استدلال تو اس کلام سے ہے اس سے نہیں۔ پس اس کے جواب میں اس کا پیش کرنا کیا مفید ہو سکتا ہے۔ آپ اس امر کی بابت بھی بار بار سوال کرتے کہ (مسیح کو) بن باپ پیدا کرنے میں حکمت الہی کیا ہو سکتی ہے؟ (ص ٢٣)

آپ کے اس سوال سے مجھے بادشاہ اکبر کے دربار کا ایک واقعہ یاد آیا، ایک دفعہ مجمع علماء میں کسی صاحب فضل سے دوسرے کسی صاحب نے سوال کیا کہ موسیٰ کیا صیغہ ہے۔ وہ بے چارہ خاموش رہ کر دوسرے روز دربار میں حاضر نہ ہوا اکبر نے اسے بلا کر عدم حاضری کی وجہ دریافت کی تو بولا بندہ نواز آج تو اس نے موسیٰ کا صیغہ پوچھا ہے کل کو عیسیٰ کا پوچھے گا۔ سو اسی

٢٨

طرح آپ کے ان سوالات سے ہم ڈرتے ہیں کہ شاید آپ دونوں آنکھیں سامنے کیوں لگائیں؟ ایک آگے ہوتی پیچھے سے بہ نسبت حال کے دگنا فائدہ ہوتا ہے۔ حضرت من، اللہ ایسا کیوں کیا؟ ہاں جس قدر وہ بتلا دے اس قدر ہم بھی کہہ ”لا یحیطون بشيئى من علمه الا بما شاء (البقر

پس جب ہم اس غرض سے کہ اس امر کے متعلق پر غور کرتے ہیں تو اس قدر پتہ چلتا ہے۔ ”ولنجعله آية لـ نشانی بنائیں گے اس کے مقابلہ میں آپ کا عذر کہ جب کـ تناسل کے عادتاً پیدا کرتا ہے۔ اور حضرت آدم کو بے ماں و با صرف بے باپ کرنے میں اس سے زیادہ قدرت کاملہ کا اظہا تار عنکبوت سے بھی ضعیف ہے آپ نے یہ خیا جاری کرنے اس سلسلۂ کائنات کے بھی اللہ اس کے انـ حیوانات بغیر توالد تناسل کے پیدا ہوتے ہیں تو ان کے لئـ حضرت آدم علیہ السلام کی پیدائش بھی ابتداء عالم میں تھی ا اس پر آپ کا یہ شبہ کہ: ”اگر خیال کیا جائے کہ صرف ماں سـ کاملہ تھا کے لئے ایک امر بین اور ایسا ظاہر ہونا چاہئے کہ جس مولود کا پیدا ہونا ایک ایسا امر خفی ہے جس کی نسبت یہ نہیں کـ کیا گیا ہے۔“

بالکل اس کے مشابہ ہے جیسا کہ اکثر لوگ کہا کـ ہیں اور نہ ہی وہ اپنے مذہب کو قابل پذیرائی جانتے ہیں، بـ یہ نیا مذہب بنارکھا ہے اس لئے شبہ ہو تو کسی ایسے امر میں ہو شبہات جو رفع ہوتے ہوتے قرآن کو بھی مرفوع کر جائیں قومی جوش اور ہائی ایجوکیشن کے نعرے سننے والے اس امر کے لئے تجدید مذہب نہیں کیا بلکہ دراصل آپ کی تحقیق

٢٩

صفحہ ٥٧٩

طرح آپ کے ان سوالات سے ہم ڈرتے ہیں کہ شاید آپ یہ بھی نہ دریافت کریں کہ اللہ نے دونوں آنکھیں سامنے کیوں لگائیں؟ ایک آگے ہوتی پیچھے تا کہ دونوں طرف کی چیزیں دیکھنے سے بہ نسبت حال کے دگنا فائدہ ہوتا ہے۔ حضرت من، اللہ کے اسرار اللہ ہی جانتا ہے کہ اس نے ایسا کیوں کیا؟ ہاں جس قدر وہ بتلا دے اس قدر ہم بھی کہہ سکتے ہیں کہ سچ ہے اور بالکل سچ ہے: ”لا یحیطون بشیئ من علمہ الا بما شآء (البقرہ:٢٥٥)“

پس جب ہم اس غرض سے کہ اس امر کے متعلق اللہ کی بتلائی ہوئی وجہ کیا ہے۔ کلام الٰہی پر غور کرتے ہیں تو اس قدر پتہ چلتا ہے۔ ”ولنجعلہ آیۃ للناس“ مزید تا کہ ہم اس (مسیح) کو نشانی بنائیں۔ اس کے مقابلہ میں آپ کا عذر کہ جب کہ اللہ تعالیٰ اقسام حیوانات کو بغیر توالد تناسل کے عادتاً پیدا کرتا ہے۔ اور حضرت آدم کو بے ماں و باپ کے پیدا کیا تھا تو حضرت عیسیٰ کے صرف بے باپ کرنے میں اس سے زیادہ قدرت کاملہ کا اظہار نہ تھا۔

(ج٢ ص ٢٣)

تار عنکبوت سے بھی ضعیف ہے آپ نے یہ خیال نہ فرمایا کہ اس امر کی نشانی کے بعد جاری کرنے اس سلسلہ کائنات کے بھی اللہ اس کے الٹ کرنے پر قادر ہے۔ پس اگر اقسام حیوانات بغیر توالد تناسل کے پیدا ہوتے ہیں تو ان کے لئے وہی سلسلہ پیدائش مقرر کر رکھا ہے اور حضرت آدم علیہ السلام کی پیدائش بھی ابتداء عالم میں تھی اس لئے وہ بھی خرق عادت نہیں ہو سکتی اس پر آپ کا یہ شبہ کہ: ”اگر خیال کیا جائے کہ صرف ماں سے پیدا کرنا دوسرے طور پر اظہار قدرت کاملہ تھا کے لئے ایک امر بین اور ایسا ظاہر ہونا چاہئے کہ جس میں کسی کو شبہ نہ رہے۔ بن باپ کے مولود کا پیدا ہونا ایک ایسا امر مخفی ہے جس کی نسبت یہ نہیں کہا جا سکتا کہ اظہار قدرت کاملہ کے لئے کیا گیا ہے۔“

(ج٢ ص ٢٣)

بالکل اس کے مشابہ ہے جیسا کہ اکثر لوگ کہا کرتے ہیں کہ سید صاحب کو نہ تو کوئی شبہ ہے اور نہ ہی وہ اپنے مذہب کو قابل پذیرائی جانتے ہیں بلکہ انہوں نے خواہ مخواہ ایک تماشہ دیکھنے کو یہ نیا مذہب بنا رکھا ہے اس لئے شبہ ہو تو کسی ایسے امر میں جو کسی محاورہ زبان سے رفع ہو سکے نہ ایسے شبہات جو رفع ہوتے ہوتے قرآن کو بھی مرفوع کر جائیں۔ پس جیسا کہ آپ کی دیانتداری اور قومی جوش اور ہائی ایجوکیشن کے نعرے سننے والے اس امر کو جانتے ہیں کہ آپ نے اسلام میں کھیل کے لئے تجدید مذہب نہیں کیا بلکہ دراصل آپ کی تحقیق ہی ہے ایسا ہی مریم صدیقہ کے حالات

٢٩

صفحہ ٥٨١

دیکھنے والے اور اس کی عفت کو جاننے والے اس قدر جانتے تھے کہ نہ تو مریم کا خاوند ہے اور نہ وہ فاحشہ ہے پھر ایسی عفیفہ لڑکی کو جو بچہ پیدا ہوا ہو تو ضرور ہے کہ بے باپ کے ہوگا یہی وجہ ہے کہ بد اندیشوں کو بجز اس کے نہ سوجھا کہ مریم علیہا السلام کو تہمت میں ملوث کیا۔ پھر بعد دیکھنے کمالات مسیح کے شبہ جاتا رہا۔ اصل یہ ہے کہ سید صاحب چونکہ سپر نیچرل (خلاف عادت) محال سمجھتے ہیں اس لئے جہاں کہیں کوئی بات سپر نیچرل ہو اس کی تاویل میں ہاتھ اور پاؤں مارنے شروع کر دیتے ہیں۔ حالانکہ خود ہی فرماتے ہیں کہ: ”یہ بات سچ ہے کہ تمام قوانین قدرت ہم کو معلوم نہیں ہیں اور جو معلوم ہیں وہ نہایت قلیل ہیں اور ان کا علم پورا نہیں بلکہ ناقص ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ جب کوئی عجیب واقعہ ہو اور اس کے وقوع کا کافی ثبوت بھی موجود ہو اور اس کا وقوع معلومہ قانون قدرت کے مطابق بھی نہ ہو سکتا ہو اور یہ بھی تسلیم کر لیا جائے کہ بغیر دھوکہ بغیر فریب کے فی الواقع واقعہ ہوا ہے تو یہ تسلیم کرنا پڑے گا کہ بلاشبہ اس کے وقوع کے لئے کوئی قانون قدرت ہے۔ مگر ہم کو اس کا علم نہیں۔

(ج ٢ ص ٣٤)

ثبوت کے لئے آیات قرآنی بشرط انصاف ملاحظہ ہوں زمانہ حال کے منکرین سپر نیچرل کے لئے ایک واقعہ کا بیان شاید دلچسپی سے خالی نہ ہوگا۔ پیسہ اخبار لاہور ٢٨ نومبر ١٨٩٦ء میں بعنوان، مرغی سے مرغا، یہ خبر لگی تھی کہ: ”موضع آسا پور ضلع دربھنگہ میں ایک شخص گوہر خان کے یہاں عرصہ سے ایک مرغی تھی چند انڈے دیے اور بچے نکالے ایک دفعہ اس کے سر پر تاج مرغی جسے ہندی میں مور کہتے ہیں۔ بڑھنا شروع ہوا اور معمول سے زیادہ تجاوز کر گیا۔ تب اس نے بانگ مثل مرغوں کے دینا شروع کیا اب مرغیوں سے جفت کرتا ہے۔ مختصر یہ کہ مرغی سے مرغا بن گیا۔“

(رقم خریدار ١٢٨٧٢)

اس خبر کی تحقیق کی کہ کہیں بازاری گپ نہ ہو راقم نے خبر کا پتہ دفتر اخبار مذکور سے معلوم کر کے خط لکھا کہ معتبر آدمیوں کی تحریر جنہوں نے اس واقعہ کو بچشم خود دیکھا ہو مع دستخط میرے پاس بھجوا دیں۔ جس کے جواب میں صاحب مضمون کو خط پہنچا جو ذیل میں درج ہے: ”مولوی صاحب سر چشمہ فیض و کرم مد افضالہ وعلیکم السلام آپ نے اس خبر کی جو میں نے ٢٨ نومبر ١٨٩٦ء کے پیسہ اخبار میں دی ہے۔ تصدیق طلب فرمائی ہے۔ میں اس جگہ کلکتہ میں ہوں اور اس امر کے جائے وقوع یعنی اپنے مکان شہر دربھنگہ سے تین سو میل کے بعد پر

٣٠

ہوں۔ ایسی حالت میں مجھ سے فوراً انجام ہونا آپ کے حکم ہوں کہ کچھ دنوں بعد ضرور اس خبر کی تصدیق آپ کی خوا گا۔“ خادم محمد جلیل نمبر ٧ پگوڈا اسٹریٹ کلکتہ،“

اس کے بعد راقم خبر کی کوشش سے واقعہ دیکھنے و

مخدوم مکرم جناب مولانا صاحب مدظلہ العالی !

السلام عليكم وعلى من لديكم ! الحمد بھنگہ مدرس مدرسہ تاج المدارس ہوں۔ اتفاقاً ماہ ربیع الا بمقام آساپور ضلع دربھنگہ پہنچا۔ قبل پہنچنے کے اثنائے راہ م مرغ ہوگئی ہے۔ کچھ خیال نہ کیا افواہ کو لغو سمجھا۔ جب بمق صانع مطلق نمودار اپنی آنکھوں سے دیکھا ایک پرندہ ہے۔ ہندی مور سے ایک گرہ دیکھی اور بانگ دینا جو خاصہ مرغا ہوئے دیکھا۔ جناب ! یہ وہ مرغی ہے جس نے تین بار بیضہ یقین کامل اس کے دیکھتے ہی ہو جاتا ہے کہ یہ مرغی ہے اور توجیہ احقر نے کیں۔ لیکن اس کے دلائل ایسے قوی ہیں ک توجیہات اور تاویلات سے مقصود تھا کہ کہیں دھوکہ نہ ہو گیا یہ کہ سر مو اس میں کلام نہیں حسب الطلب مالک مرغی وہ کے پشت پر ثبت ہیں روانہ خدمت عالی کرتا ہوں۔ والسلا فقیر محمد اسحاق مدرس مدرسہ تاج المدارس تاج مرغی مرغا ہو گیا، العبد محمد رمضان خان بقلم خو مرغی ) امید علی خان پسر گوہر خان ، کی ایک دستخط گجراتی کسی سے پڑھے نہ گئے۔

فروری ١٩٣٢ء میں ایک واقعہ ظہور پذیر ہو شہرت حاصل کی تھی یہاں ہم اخبار حمایت اسلام لاہ العقول واقعہ“

٣١

صفحہ ٥٨١

ہوں۔ ایسی حالت میں مجھ سے فوراً انجام ہونا آپ کے حکم کا محال ہے۔ لیکن اس بات کا وعدہ کرتا ہوں کہ کچھ دنوں بعد ضرور اس خبر کی تصدیق آپ کی خواہش کے مطابق آپ کے پاس بھجواؤں گا۔ ”خادم محمد جلیل نمبر ٧ پگوڈا اسٹریٹ کلکتہ ٦“ اس کے بعد راقم خبر کی کوشش سے واقعہ دیکھنے والوں کا دستخطی خط پہنچا۔

مخدوم مکرم جناب مولانا صاحب مدظلہ العالی!

السلام عليكم وعلى من لديكم ! الحمد للہ مزاج مبارک میں بمقام جالہ ضلع در بھنگہ مدرس مدرسہ تاج المدارس ہوں۔ اتفاقاً بماہ ربیع الثانی ١٣١٤ھ مدرسہ سے رخصت لے کر بمقام آسامپور ضلع دربھنگہ پہنچا۔ قبل پہنچنے کے اثنائے راہ میں سنا کہ بھائی گوہر خان کی ایک مرغی مرغ ہوگئی ہے۔ کچھ خیال نہ کیا افواہ کو لغو سمجھا۔ جب بھائی موصوف کے مکان پر پہنچا۔ قدرت صانع مطلق نمودار اپنی آنکھوں سے دیکھا ایک پرند ہے۔ ہیئت بجنسہ مرغی کی مور اور طوق جس کی ہندی مور سے ایک گرہ دیکھی اور بانگ دینا جو خاصہ مرغ کا ہے اس سے بارہا سنا اور جفتی کرتے ہوئے دیکھا۔ جناب! یہ وہ مرغی ہے جس نے تین بار بیضے دیئے اور اس کے بچے ہوئے۔ اگرچہ یقین کامل اس کے دیکھتے ہی ہو جاتا ہے کہ یہ مرغی ہے اور مرغ بھی ہے۔ تاہم بیسیوں تاویل اور توجیہ احقر نے کیں۔ لیکن اس کے دلائل ایسے قوی ہیں کہ لامحالہ کہنا پڑتا ہے کہ امر واقعی ہے اور توجیہات اور تاویلات سے مقصود تھا کہ کہیں دھوکہ نہ ہو گیا ہو۔ مثلاً اسی صورت کا مرغ رہا ہو خلاصہ یہ کہ سرمو اس میں کلام نہیں حسب الطلب مالک مرغی و چند اشخاص نمازی عادل کے دستخط بقلم ان کے پشت پر ثبت ہیں روانہ خدمت عالی کرتا ہوں۔ والسلام !

فقیر محمد اسحاق مدرس مدرسہ تاج المدارس تاریخ ٢٢/ رجب ١٣١٤ھ مرغی مرغا ہو گیا، العبد محمد رمضان خان بقلم گلزار خان، العبد ظہور خان، گوہر خان مالک مرغی ) امید علی خان پسر گوہر خان، کئی ایک دستخط گجراتی یا کسی دوسری اجنبی زبان میں ہیں جو یہاں کسی سے پڑھے نہ گئے۔

فروری ١٩٣٢ء میں ایک واقعہ ظہور پذیر ہوا جس نے پنجاب کے اخباروں میں بڑی شہرت حاصل کی تھی یہاں ہم اخبار حمایت اسلام لاہور کے الفاظ نقل کرتے ہیں۔ ”ایک محیر العقول واقعہ“

٣١

صفحہ ٥٨٣

ایک سترہ سالہ طالب علم لڑکی بن گیا۔ لاہور ٢٦ فروری (١٩٤٢ء)، میو ہسپتال میں ایک حیرت انگیز مریض زیر علاج ہے۔ ایک نوجوان طالب علم مرد کے اوصاف کھو کر عورت بن رہا ہے۔ واقعہ یوں بیان کیا جاتا ہے کہ خالصہ کالج امرتسر کا ایک طالب علم جس کی عمر اس وقت ١٧ سال کے قریب ہے مردانہ نشانات کھو کر عورتوں کے نشانات پارہا ہے۔ کچھ عرصہ ہوا اس کے جسم میں درد ہونا شروع ہوا اور رفتہ رفتہ اس کے فوطے گھلنے شروع ہوئے حتیٰ کہ گولیاں معدوم ہوگئیں۔ تھوڑے عرصہ کے بعد عضو مخصوص گھٹنا شروع ہوا گھٹتے گھٹتے اس کا بھی نشان باقی نہ رہا۔ پھر چھاتی میں درد شروع ہوا اور تھوڑی دیر کے بعد اس لڑکے کی چھاتی اس طرح ابھر آئی جیسی عورتوں کی ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ اس کی نقل و حرکت بھی عورتوں جیسی ہوتی گئیں۔ اب اسے اس غرض کے لئے ہسپتال لایا گیا اور کرنل ہار پر نیس انچارج میوہسپتال کے سامنے پیش کیا گیا۔ انہوں نے بھی اس حیرت انگیز مریض کا معائنہ کیا۔ والدین کو فکر دامن گیر ہوئی کہ کہیں ان کا نور نظر لڑکی نہ بن جائے کیونکہ جہاں اس کے تمام اعضاء عورتوں جیسے ہورہے تھے وہاں اس کی داڑھی کے بال بھی نہیں اگے۔ کرنل ہار پر نیس نے مریض کا معائنہ کیا اور دوا لے کر چلا گیا۔ کرنل صاحب کے خیال میں اس مرض کا نام (Fotib-Spnilowss) ہے۔ جس سے مرد عورت بن جاتا ہے۔ اس مرض کی ابتداء پہلے یورپ سے ہوئی اور یہاں سے امریکہ پہنچی۔ شمالی ہند میں پہلا موقع ہے اور میوہسپتال میں اس سے پیشتر ایسا مریض کوئی نہیں آیا۔

(حمایت اسلام لاہور ٣ مارچ ١٩٤٢ء ص ٥)

قدرت کاملہ اس قسم کے واقعات کبھی کبھار دکھاتی رہتی ہے تا کہ لوگ اللہ کی قدرت کاملہ پر ایمان لائیں۔ بالآخر ہم سید صاحب ہی کی تحریرات سے اپنی رائے کی تائید نقل کر کے حاشیہ کو ختم کرتے ہیں اس میں کچھ شک نہیں ہو سکتا کہ پہلی ہی صدی میں حضرت مسیح علیہ السلام کے باپ میں اختلاف شروع ہوا اور یہ اختلاف ہونا ضروری تھا۔ پیدائش اور بناوٹ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی ایسی تھی وہ خود اس اختلاف کا ہونا چاہتے تھے۔ جو شخص ان کی ظاہری صورت کو دیکھتا تھا وہ یقین جانتا کہ وہ انسان ہیں، وہ ابن مریم ہیں اور جب یہ خیال کرتا کہ وہ کسی ظاہری سبب سے پیدا نہیں ہوئے تو وہ یقین کرتا تھا کہ وہ روح ہیں اور یہ ظاہری انسانی صورت صرف اس سبب حاصل ہوئی ہے کہ جبرائیل فرشتہ اللہ کا انسان کی صورت میں اللہ کا پیغام مریم کے پاس لے کر آیا۔ اگر وہ

٣٦

کسی اور صورت میں لے کر آتا تو بلا شبہ حضرت عیسیٰ اسے ان کے اس مقتدرانہ معجزہ کو دیکھتا تھا کہ مردوں کو زندہ کرتے کا حقیقی بیٹا کہتا تھا۔ پس جس شخص نے ان کی ظاہری صورت اور جس نے انسانی صورت بننے کی وجہ پر خیال کیا اس نے کے معجزہ پر نظر کی اس نے اللہ اور ابن اللہ جانا اور جس نے اور روح اللہ مانا اور ان سب چیزوں کو اللہ واحد سے جانا

اس درس میں جو یہ لکھا ہے کہ (اس سے پہلے ہوتا کہ بعد اس کے حضرت مریم یوسف سے ہمبستر ہوئیں ہونا پایا نہیں جاتا۔ بلکہ بتقدیس اور اس بزرگی کے جو مریم کو مرحمت فرمائی تھی۔ یوسف نے حضرت مریم کا احترام متی نے اس درس میں سے اس فقرہ کو کہ (قبل اس باہم نکال ڈالا تھا کہ حضرت مریم کی ہمیشہ کی دوشیزگی پر کچھ ”جب یہ واقعہ یوسف کو معلوم ہوا تو نہایت عجوبہ طریقے سے ہوا تھا کہ انسان کی سمجھ سے باہر تھا اس نے اس کو مشہور کرنا نہ چاہا۔ کیونکہ اگر یہ کے دل میں وہم ہوتا تو یہودی شریعت کے بموجب جاتی۔ اس لئے یوسف نے چاہا کہ چپ چاپ اسے مریم کی ستھرائی اور برگزیدگی ظاہر کرنے کو یوسف کے پاس بھیجا اور فرشتے نے کہا کہ تو مریم روح القدس سے حاملہ ہے۔ اس الہام سے یوسف تقدس کا اس کو یقین ہوا اور اس نے اس کو اپنے پاس رکھا

اس درس انجیل متی باب ١ درس ٢٢ کی طرف سے پیدا ہوا لکھا ہے۔ (منہ) متن میں وہ عبری لفظ جس

٤٣

صفحہ ٥٨٣

کسی اور صورت میں لے کر آتا تو بلاشبہ حضرت عیسیٰ اسی صورت میں پیدا ہوتے اور جب کوئی شخص ان کے اس مقتدرانہ معجزہ کو دیکھتا تو کہ مردوں کو زندہ کرتے ہیں جو اللہ کا کام ہے تو ان کو اللہ اور اللہ کا حقیقی بیٹا کہتا تھا۔ پس جس شخص نے ان کی ظاہری صورت پر نظر کی اس نے ان کو نرا انسان جانا اور جس نے انسانی صورت بننے کی وجہ پر خیال کیا اس نے ان کو صرف روح جانا اور جس نے ان کے معجزہ پر نظر کی اس نے اللہ اور ابن اللہ جانا اور جس نے سب پر نظر کی اس نے رسول اور کلمۃ اللہ اور روح اللہ مانا اور ان سب چیزوں کو اللہ واحد سے جانا اور سب کو ایک مانا۔

(تصانیف احمدیہ ج٢ ص٤)

اس درس میں جو یہ لکھا ہے کہ (اس سے پہلے کہ وہ ہم بستر ہو) اس سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ بعد اس کے حضرت مریم یوسف سے ہمبستر ہوئی ہوں کیونکہ منگنی کے بعد حضرت مریم کا بیاہ ہونا پایا نہیں جاتا۔ بلکہ بتقدیس اور اس بزرگی کے جو اللہ تعالیٰ نے اس اعجازی حمل سے حضرت مریم کو مرحمت فرمائی تھی۔ یوسف نے حضرت مریم کا ادب کیا اور بیاہ سے باز رہا۔ چنانچہ بعض علماء مسیحی نے اس درس میں سے اس فقرہ کو کہ (قبل اس کے ہمبستر ہوں) بعض نسخوں میں سے قصداً نکال ڈالا تھا کہ حضرت مریم کی ہمیشہ کی دوشیزگی پر کچھ شبہ نہ رہے۔

(تصانیف احمدیہ ج٢ ص٣٨٠)

”جب یہ واقعہ یوسف کو معلوم ہوا تو نہایت متعجب ہوا کیونکہ حضرت مریم کا حمل ایسے عجوبہ طریقہ سے ہوا تھا کہ انسان کی سمجھ سے باہر تھا مگر یوسف نے اپنی نیکی اور بردباری اور سرتاپا خوبی سے اس کا مشہور کرنا نہ چاہا۔ کیونکہ اگر یہ بات اس طرح پر ہوتی جس طرح کہ یوسف کے دل میں وہم ہوا تھا تو یہودی شریعت کے بموجب حضرت مریم کو سنگسار کرنے کی سزا دی جاتی۔ اس لئے یوسف نے چاہا کہ چپ چپاتے اس منگنی کو چھوڑ دے۔ مگر اللہ تعالیٰ نے حضرت مریم کی ستھرائی اور برگزیدگی ظاہر کرنے اور یوسف کا دل کا شک مٹانے کو اپنا فرشتہ خواب میں یوسف (کے) پاس بھیجا اور فرشتے نے کہا کہ تو مریم کو مت چھوڑ اور کچھ اندیشہ مت کر کیونکہ وہ روح القدس سے حاملہ ہے۔ اس الہام سے یوسف کے دل کا شک مٹ گیا اور حضرت مریم کے تقدس کا اس کو یقین ہوا اور اس نے اس کو اپنے پاس رہنے دیا۔

(تصانیف احمدیہ ج٢ ص٣٩)

اس درس میں انجیل متی باب ١ آیت ٢٢ کی طرف اشارہ ہے۔ جس میں حضرت مسیح کو کنواری سے پیدا ہوا لکھا ہے۔ (متن) میں وہ عبری لفظ جس کے معنی کنواری کے لئے ہیں۔ (علمہ) ہے مگر

٣٣

صفحہ ٥٨٤

یہودی اس پر تکرار کرتے ہیں اور وہ جوان عورت کے معنے بتاتے ہیں اور ترجمہ اکیوئلا میں بھی ہے جو ١٢٩ء میں ہوا اور ترجمہ تھیوڈوشن میں بھی جو ١٧٥ء میں ہوا۔ ترجمہ سمیقن میں جو ٢٠٠ء میں ہوا۔ اس کا ترجمہ جوان عورت کیا ہے اور بائبل میں بھی بعض لوگوں نے صرف ایک جگہ جوان عورت کے معنے کیے ہیں۔ مگر یہ تکرار یہودیوں کی درست نہیں ہے۔ اصلی معنے اس لفظ کے (پوشیدہ) کے ہیں اور جو کہ یہودی اپنی لڑکیوں کو لوگوں سے چھپاتے تھے اس لئے یہ لفظ کنواری لڑکی کے معنی میں بولا جاتا تھا۔ چنانچہ کتب عہد عتیق میں کئی جگہ یہ لفظ آیا ہے اور اس کے معنی کنواری کے ہیں لیکن اگر کہیں ایسا قرینہ ہو کہ اس کے سبب جوان عورت سمجھی جائے تو اصلی استعمال سے پھیر کر بطور مجاز جوان عورت کے معنی لیتے ہیں۔ مگر اس درس میں کوئی ایسا قرینہ نہیں بلکہ خلاف اس کے قرینہ ہے کیونکہ اشعیاہ نبی نے معجزہ بتایا ہے اور معجزہ جب ہی ہوتا ہے جب کنواری بیٹا جنے۔ اس لئے اس جگہ بلاشبہ کنواری کے معنی ہیں نہ (علمہ) یعنی جوان عورت کے اور کچھ شبہ نہیں کہ ان پہلے تینوں مترجموں نے اس کے ترجمہ میں غلطی کی چنانچہ سپٹوایجنٹ میں جس کو بہتر علماء یہود نے مل کر ترجمہ کیا اس لفظ کا اس مقام پر کنواری ترجمہ کیا ہے۔

(تصانیف احمدیہ ج ٢ ص ٤٠)

”غرض کہ ایسا زمانہ آ گیا تھا کہ روحانی تقدس کسی میں نہیں تھا۔ اس لئے ضرور تھا کہ کوئی ایسا شخص پیدا ہوتا جو روحانی تقدس اور روحانی روشنی لوگوں کو سکھائے پھر وہ کوئی ہو سکتا تھا مگر وہ جو صرف روح سے پیدا ہوا ہو نہ کسی ظاہری سبب چنانچہ اس روحانی روشنی کے چمکانے کو حضرت مسیح علیہ السلام صرف روح اللہ سے پیدا ہوئے۔

(تصانیف احمدیہ ج ٢ ص ٢)

پس اب ہم سید صاحب کے بیانات کے بعد اہل مذاق کے انصاف پر بھروسہ کر کے حاشیہ کو ختم کرتے ہیں۔

واللہ یقول الحق وھو یھدی السبیل منہ! ماخوذ تفسیر ثنائی مفسر شیخ الاسلام حضرت مولانا ثناء اللہ امرتسریؒ ص ٧٤٤ تا ٧٤٨...... مطبوعہ ثنائی اکادمی، لاہور، پاکستان

☆............................☆

٣٤

قال النبی صلی اللہ علیہ وسلم انا خاتم النبیین لا نبی بعدی

کیا قادیانی

مناظر

قبول کیا جا

مولانا عبدالکر

PDF 586

خاتم النبیین لا نبی بعدی

میں آخری نبی ہوں، میرے بعد کوئی نبی نہیں

کیا قادیان میں

مناظرہ

قبول کیا جائے گا؟

مولانا عبدالکریم مباہلہ

صفحہ ٥٨٦

بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ

شعبہ تبلیغ احرار اسلام کی تبلیغی خدمات

ممبران و معاونین شعبہ تبلیغ کے لئے یہ امر باعث مسرت ہوگا کہ بفضلہ تعالیٰ اب شعبہ تبلیغ برادران اسلام کی اس خدمت کے قابل ہو گیا ہے۔ کہ انہیں تبلیغی جلسوں کے انعقاد میں پیش آنے والی تکالیف سے نجات دلائے۔

کسی جلسہ کے انعقاد کے لئے کن مصائب کا سامنا ہوتا ہے۔ اس کا اندازہ وہی اصحاب کر سکتے ہیں جنہوں نے کبھی یہ کام سرانجام دیا ہو۔ ایک ایک مبلغ کی تلاش میں وفد سفر کر رہا ہے۔ اگر مبلغ صاحب اپنی جائے رہائش پر مل گئے تو فبہا ورنہ سفر مسلسل جاری ہے۔ خط و کتابت ہورہی ہے۔ تار پر تار دیئے جارہے ہیں۔ غرضیکہ مبلغین مہیا کرنے پر ایک کثیر رقم صرف ہوجاتی ہے۔ مگر پھر بھی اکثر مقامات پر ناکامی اور مایوسی ہوتی ہے۔

شعبہ تبلیغ احرار اسلام ہند کی بدولت آپ حضرات ایک پوسٹ کارڈ کے ذریعہ اپنے جلسہ کے لئے مبلغین کا بآسانی انتظام فرما سکتے ہیں۔ بشرطیکہ جلسہ کی تاریخوں کا اعلان ہمارے دفتر کی منظوری سے کیا جائے۔ خادم ! جنرل سیکرٹری شعبہ تبلیغ احرار اسلام ہند، امرتسر

مسلمانوں کی حقیقی خدمت

آج جس دور سے ہم گزر رہے ہیں۔ اس کی اہم ترین ضرورت اور مسلمانوں کی سچی خدمت یہ ہے کہ ہم مسلمانوں کو اتفاق و اتحاد کی تلقین کریں اور انہیں بتائیں کہ اسلام کی سربلندی اور مسلمانوں کی کامیابی آپس کے اتحاد میں مضمر ہے۔

دشمن اسلام قوموں نے مسلمانوں کو کمزور کرنے کا جو حربہ اختیار کر رکھا ہے وہ پھوٹ اور افتراق ہے۔ کہیں سیاسی مسائل کے اختلاف کی بناء پر افتراق پیدا کیا جارہا ہے کہیں نئی نبوت یا امارت کے ذریعے مسلمانوں کا شیرازہ بکھیرنے اور ان کی اجتماعی طاقت کو کمزور کرنے کی راہیں

٢

اختیار کی جارہی ہیں۔ غرضیکہ مسلمانوں حربے استعمال کر رہا ہے۔ ان حالات صرف یہ کہ انہیں ان کی گزشتہ تاریخ یاد واتفاق اپنی نظیر آپ تھا۔ اختلاف رائے نہ کبھی دور ہو ہے۔ جہاں تک آپس کی محبت میں فرق نے بعض مسائل میں اختلاف کیا۔ مگر ا ہوتا تھا۔

اسلام کے سچے شیدائیو کرنے کی کوشش کرو کہ یہی ہماری دولت کی گئی۔ کھرے کھوٹے میں تمیز پیدا اختلاف کے راستے پیدا کرتے نظر آئیں کے لباس میں افتراق پیدا کرنے سے کے آلہ کار ہیں۔ جن کا مقصد مسلمانوں اہل حق کی تعداد کو مسلمانوں کی اتحاد و اتفاق کی تلقین ا ہم اسلام اور مسلمانوں کی حقیقی خدمت

کارکنان شعبہ تبلیغ احرار بند ہوچکی ہے۔ اسلام اور مرزائیت کا ضرورت محسوس نہیں کی جاتی۔ یہ امر اور مسلمانوں کے شیرازہ کو بکھیرنے

صفحہ ٥٨٧

اختیار کی جارہی ہیں۔ غرضیکہ مسلمانوں کے دماغ کو منتشر کرنے کے لئے دشمن مختلف وسائل اور حربے استعمال کر رہا ہے۔ ان حالات میں ہمدردان اسلام کا اگر کوئی مفید اقدام ہو سکتا ہے تو صرف یہ کہ انہیں ان کی گزشتہ تاریخ یاد دلائی جائے۔ جبکہ اختلاف رائے کے باوجود آپس کا اتحاد واتفاق اپنی نظیر آپ تھا۔

اختلاف رائے نہ کبھی دور ہوا نہ ہو سکتا ہے۔ مگر اس اختلاف کی بھی اس حد تک اجازت ہے۔ جہاں تک آپس کی محبت میں فرق نہ آئے وہ اختلاف اس قسم کا ہونا چاہئے جیسے ہمارے آئمہ نے بعض مسائل میں اختلاف کیا۔ مگر ان کا اختلاف کسی رنجش، بغض، کینہ، لڑائی فساد پر ہرگز منتج نہ ہوتا تھا۔

اسلام کے سچے شیدائیو! وقت کی نزاکت کو محسوس کرو اور آپس میں اتفاق و اتحاد پیدا کرنے کی کوشش کرو کہ یہی ہماری دولت تھی جو ہمیں بانی اسلام علیہ الصلوٰۃ والسلام کے ذریعے عطا کی گئی۔ کھرے کھوٹے میں تمیز پیدا کرو۔ دوست اور دشمن میں فرق کرنا سیکھو۔ جو لوگ ہمیشہ اختلاف کے راستے پیدا کرتے نظر آئیں۔ جو لوگ قوم کی حالت پر ترس نہ کھائیں۔ جو لوگ اسلام کے لباس میں افتراق پیدا کرنے سے باز نہ رہیں۔ انہیں ان کے حال پر چھوڑ دو اور سمجھ لو کہ وہ دشمن کے آلہ کار ہیں۔ جن کا مقصد مسلمانوں میں اختلاف کی خلیج وسیع کرنے کے سوا اور کچھ نہیں ہے۔

اہل حق کی تعداد کچھ کم نہیں۔ اگر یہی دیندار طبقہ اپنے فرض کا احساس کرے اور مسلمانوں کی اتحاد واتفاق کی تلقین اپنا تبلیغی مشن قرار دے کر اس خدمت میں مصروف ہو جائے تو ہم اسلام اور مسلمانوں کی حقیقی خدمت سرانجام دے سکتے ہیں۔ عبد الکریم مباہلہ

مناظرہ

کارکنان شعبہ تبلیغ احرار اسلام ہند کی سرگرم تبلیغی کوششوں سے مرزائیت کی اشاعت بند ہو چکی ہے۔ اسلام اور مرزائیت کا فرق پبلک پر اتنا نمایاں ہو چکا ہے کہ آج کسی بحث و تمحیص کی ضرورت محسوس نہیں کی جاتی۔ یہ امر اب بالکل صاف ہو چکا ہے کہ مرزائیت ایک فتنہ ہے جو اسلام اور مسلمانوں کے شیرازہ کو بکھیرنے کے لئے پیدا ہوا اور ہر مسلمان کا فرض ہے کہ خود اس فتنہ سے

صفحہ ٥٨٩

محفوظ رہے اور دوسروں کو اس کے بداثرات سے بچائے۔

بالخصوص جس دن سے قادیان میں اپنی عمریں گزارنے والے قادیانیت کے مبلغ مرزائیت سے تائب ہونے شروع ہوئے مرزائیت کی حقیقت خود بخود اتنی بے نقاب ہوگئی کہ آج مرزائیت کا نام سامنے آتے ہی قادیان کے تمام حالات آنکھوں کے سامنے آجاتے ہیں۔

کارکنان مباہلہ مرزائیت سے تائب ہوئے۔ انہوں نے مرزائیت پر کیا اعتراضات کئے؟ قادیان کے سربستہ رازوں کا کیونکر انکشاف کیا یہ امور اب محتاج بیان نہیں۔ مرزائیوں نے ان مجاہدین کے مقابلہ میں جو ہتھیار استعمال کئے وہ بھی مرزائیت کی حقیقت آشکار کرنے کا باعث ثابت ہوئے۔ ابھی تھوڑے دنوں کی بات ہے کہ مرزائی سکول کے ہیڈ ماسٹر خلیفہ قادیان کے خاص راز دان، سفید ریش بزرگ شیخ عبدالرحمن صاحب مصری بی اے خلیفہ قادیان سے علیحدہ ہو گئے۔ منشی فخر الدین صاحب ملتانی، حکیم عبدالعزیز صاحب، عبدالرب صاحب برہم، قریشی محمد صادق صاحب نسیم بی اے وغیرہ ہم کئی اور اصحاب بھی مرزا محمود کی بیعت سے علیحدہ ہو گئے ان لوگوں نے کن وجوہ پر علیحدگی اختیار کی۔ اس کی پکار عدالتوں تک پہنچ چکی ہے۔ ان اصحاب میں سے منشی فخر الدین صاحب ملتانی قتل ہو چکے ہیں اور باقی لوگوں کی زندگی جن خطرات سے گزر رہی ہے۔ اس کا اندازہ بآسانی کیا جاسکتا ہے۔

ان حالات نے مرزائیت کو نیم مردہ بنا دیا اور کوئی مرزائی مسلمانوں کے سامنے منہ کرنے کے قابل نہ رہا۔ مناظرہ و مباحثہ کا وہ ہتھیار جو مرزائیوں نے ابتداء سے اختیار کر رکھا تھا۔ کند ہو گیا۔ سادہ لوح مسلمانوں کو اپنے دام تزویر میں لانے کے تمام حربے بے کار ہو گئے۔ کیونکہ اب مرزائیوں کی تمام تر تبلیغ کا یہ جواب کافی ہے کہ اگر تم میں سچائی ہے تو ۔

جناب شیخ عبدالرحمن صاحب مصری سے مناظرہ ومباحثہ کرلو۔ جوں ہی مرزائیوں کو معلوم ہوگا کہ مسلمان مصری صاحب کے واقعات سے واقف ہیں تو ان کی مجال نہیں کہ کسی مناظرہ یا مباحثہ کا نام لیں۔ بس اسی پر ان کی تبلیغ ختم ہو جائے گی۔

٤

مبلغین کی رپورٹ

ہمیں اپنے مبلغین کی رپورٹ سے معلو اور حالات سے واقف پبلک کو تو اپنی تبلیغ سے مستثنیٰ ک جہاں سادہ لوح لوگوں کو نہ فخر الدین ملتانی کے کفر ک اعتراضات معلوم ہیں۔ ان لوگوں کو مرزائی حسب عاد ہیں کہ وہ ایک مناظرہ یا مباحثہ کا انتظام کر دیں۔ اس ط تک ضروری ہدایات پہنچائیں۔

مناظرہ کا جال

بھی کوئی مذہبی تحریک ہے۔ اور یہ حربہ وہاں استعمال ک کی کوئی صورت نظر نہ آئے۔ یعنی جہاں مرزائی اتنی قلی گوارا نہ کرے۔ وہاں وہ میدانِ مناظرہ گرم کر قادیان ایک ایسا گاؤں ہے جہاں مرزائیوں کی اکث ہے۔ مسلمانوں کے علماء بارہا مرزائیوں کو چیلنج کر چکے کریں۔ مگر مرزائی نہ تو شیخ عبدالرحمن صاحب مصر مسلمان علماء کا چیلنج انہیں منظور ہے۔ اس طرزِ عمل مرزائیوں سے مطالبہ کرنا چاہئے کہ ہر گاؤں میں م اخراجات کی بجائے کیوں نہ ایک فیصلہ کن مناظرہ ثالث اپنا فیصلہ صادر کر دیں اور ہر روز کا جھگڑا ختم سے عالم گفتگو کرتے ہیں جن کی عالمانہ باتوں کو س نہیں۔ اس لئے یہ جھگڑا بغیر ثالثوں کے طے نہی چاہئے اگر مرزائی قادیان میں مناظرہ قبول نہیں ک جہاں مسلمانوں کی اکثریت ہے۔ مرزائیوں کی تبل ختم ہو جائے گی۔

صفحہ ٥٨٩

مبلغین کی رپورٹ

ہمیں اپنے مبلغین کی رپورٹ سے معلوم ہوا ہے کہ مرزائیوں نے شہروں کی اخبار بین اور حالات سے واقف پبلک کو تو اپنی تبلیغ سے مستثنیٰ کر دیا ہے مگر اب دیہات کا رخ کیا گیا ہے۔ جہاں سادہ لوح لوگوں کو نہ فخر الدین ملتانی کے قتل کا واقعہ معلوم ہے، نہ مصری صاحب کے اعتراضات معلوم ہیں۔ ان لوگوں کو مرزائی حسب عادت اس بات پر آمادہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ وہ ایک مناظرہ یا مباحثہ کا انتظام کردیں۔ اس لئے ضروری ہے کہ ہم اس معاملہ میں ناظرین تک ضروری ہدایات پہنچائیں۔

مناظرہ کا جال

بھی کوئی مذہبی تحریک ہے۔ اور یہ حربہ وہاں استعمال کیا جاتا ہے کہ جہاں مرزائیوں کو اپنی تبلیغ یا لکچر کی کوئی صورت نظر نہ آئے۔ یعنی جہاں مرزائی اتنی کم تعداد میں ہوں کہ کوئی ان کی بات بھی سننا گوارا نہ کرے۔ وہاں وہ میدان مناظرہ گرم کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ پنجاب میں صرف قادیان ایک ایسا گاؤں ہے جہاں مرزائیوں کی اکثریت ہے۔ اس جگہ ان کا سالانہ جلسہ بھی ہوتا ہے۔ مسلمانوں کے علماء بارہا مرزائیوں کو چیلنج کر چکے ہیں کہ وہ قادیان میں مناظرہ اور مباحثہ قبول کریں۔ مگر مرزائی نہ تو شیخ عبدالرحمن صاحب مصری سے کسی مسئلہ پر مناظرہ قبول کرتے ہیں نہ مسلمان علماء کا چیلنج انہیں منظور ہے۔ اس طرز عمل سے مسلمانوں کو سبق سیکھنا چاہئے اور انہیں مرزائیوں سے مطالبہ کرنا چاہئے کہ ہر گاؤں میں علیحدہ علیحدہ مناظرہ اور علماء کو دعوت دینے کے اخراجات کی بجائے کیوں نہ ایک فیصلہ کن مناظرہ قادیان میں ہو جائے۔ جس میں مسلمہ فریقین ثالث اپنا فیصلہ صادر کردیں اور ہر روز کا جھگڑا ختم ہو جائے۔ مناظرہ اور مباحثہ میں ہر دو اطراف سے عالم گفتگو کرتے ہیں جن کی عالمانہ باتوں کو سن کر فیصلہ دینا ان لوگوں کا کام نہیں جو خود عالم نہیں۔ اس لئے یہ جھگڑا بغیر ثالثوں کے طے نہیں ہو سکتا۔ اور یہ مناظرہ ہونا بھی قادیان میں چاہئے اگر مرزائی قادیان میں مناظرہ قبول نہیں کر سکتے تو مسلمانوں کو بھی حق ہے کہ ہر شہر میں جہاں مسلمانوں کی اکثریت ہے۔ مرزائیوں کی تبلیغ کیلئے کوئی میدان پیدا نہ کریں۔

٥

صفحہ ٥٩١

ضرورت نہیں۔ مسلمانوں کو مسئلہ ختم نبوت پر اس درجہ یقین کامل ہے کہ اسے یہ ضرورت ہی نہیں کہ اب کسی نئے نبی کے متعلق یا اس سے تعلق رکھنے والے مسائل پر کوئی بحث و تمحیص کرے۔

تردید مناظرہ سے ہی ہو سکتی ہے تو وہ یہ معاملہ شعبہ تبلیغ احرار اسلام ہند امرتسر کے سپرد کر دیا کریں۔ شرائط مناظرہ بھی شعبہ تبلیغ کا نمائندہ طے کرے گا اور تاریخوں کا تعین بھی وہی۔ پھر آپ دیکھیں گے کہ مرزائی مناظرہ کرتے ہیں یا اس میدان سے بھاگتے ہیں۔ دراصل مرزائی اس تلاش میں ہوتے ہیں کہ سادہ لوح اور سیدھے سادھے مسلمانوں سے مناظرہ اور تاریخیں طے کرلیں۔ بالفرض مسلمانوں کو اگر بروقت کوئی مناظر نہ مل سکے تو مرزائیوں کو ڈینگیں مارنے کا موقع مل جائے۔ اس لئے ہم ممبران و معاونین شعبہ تبلیغ احرار اسلام کی معرفت تمام مسلمانوں تک یہ پیغام پہنچاتے ہیں۔ کہ اول تو کسی مسلمان کو اپنے عقائد پر کوئی شبہ نہیں جو ہمیں کسی مسئلہ پر مناظرہ کی ضرورت ہو۔

بالخصوص جبکہ مرزائیت کی اشاعت میں اپنی داڑھیاں سفید کرانے والے ان سے علیحدگی اختیار کر رہے ہیں۔ مرزائیوں سے مناظرہ ہی فضول ہے۔ لیکن اگر کسی جگہ اس کی ضرورت ہی محسوس کی جائے تو یہ کام شعبہ تبلیغ کے سپرد کر دیا جائے۔ جس کے لائق مبلغ میدان مناظرہ میں ایسے دلائل دیں کہ مرزائی دوبارہ اس گاؤں میں تبلیغ کی جرات نہ کریں گے۔ یہ کام ایک نظام چاہتا ہے۔ ضروری ہے کہ مسلمان اپنے تبلیغی نظام سے فائدہ اٹھائیں۔ یہ بھی سنا گیا ہے کہ مرزائی بعض جگہ مسلمانوں میں اپنا کوئی ایجنٹ بھی تلاش کرتے رہتے ہیں جو مسلمانوں کا نمائندہ بن کر میدان مناظرہ گرم کر دیتا ہے اور کوئی ایسا آدمی مقابلہ میں کھڑا کر دیا جاتا ہے جو مرزائیت سے واقف نہیں ہوتا اور اس طریق سے مرزائیت کی تبلیغ کی جاتی ہے۔ مسلمانوں کو ایسے اشخاص کے دھوکہ میں ہرگز نہ آنا چاہئے اور اس سلسلہ میں ہم نے جو کچھ لکھا ہے۔ اس کو ذہن نشین کر لیا جائے۔

جنرل سیکرٹری شعبہ تبلیغ احرار اسلام ہند امرتسر

٦

مکتوب قادیان

از جناب مولانا عنایت ال

ماہ زیر رپورٹ میں زیر اہتمام شعبہ تبلیغ ہوئے۔ بعض جلسوں میں حکیم عبدالعزیز صاحب، صاحب نے بھی تقاریر کیں اور نظام خلافت قادیان پر مرزائی پبلک پر رعب ڈالنے کے لئے قو مرزائیوں کو خود ان کے گھر سے ہر بات کا جواب دلای پرہیز گاری کے لئے خاص شہرت رکھتے ہیں) نے مر کو جرات ہو تو ان کا مقابلہ کریں۔

اس ماہ کا اہم واقعہ یہ ہے کہ ایک عرصہ س کے قبرستان کے متعلق جاری ہے اس کے سلسلہ میں چار مقامات پر زمین کھدوائی۔ چاروں مقامات س حرکات مبارک ہوں۔

رپورٹ

از جناب مولانا محمد

موجودہ دور اس قدر نازک جارہا ہے کہ کہ ان سے فتنہ و فساد کے سوا کچھ بن نہیں پڑتا۔ سف گاؤں ہے جہاں مرزائی ٥، ٤ سے زیادہ نہیں ہ اکثریت ہے۔ مرزائیوں نے وہاں جلسہ کا اعلان ک پر پیش کر کے مسلمانوں کی دل آزاری کی۔

اندرین حالات مسلمانوں نے بھی جل سنکھتروی، مولانا لال حسین اختر صاحب حافظ ا

صفحہ ٥٩١

مکتوب قادیان

از جناب مولانا عنایت اللہ صاحب چشتی

ماہ زیر رپورٹ میں زیر اہتمام شعبہ تبلیغ احرار اسلام قادیان متعدد تبلیغی جلسے منعقد ہوئے۔ بعض جلسوں میں حکیم عبدالعزیز صاحب مولوی محمد صالح صاحب، صوفی محمد اسماعیل صاحب نے بھی تقاریر کیں اور نظام خلافت قادیان پر شرعی نکتہ چینی کی۔

مرزائی پبلک پر رعب ڈالنے کے لئے قبولیت دعا کی بڑ بھی ہانکا کرتے ہیں۔ قدرت مرزائیوں کو خود ان کے گھر سے ہر بات کا جواب دلا رہی ہے۔ صوفی محمد اسماعیل صاحب (جو اپنی پرہیزگاری کے لئے خاص شہرت رکھتے ہیں) نے مرزائیوں کو چیلنج کیا ہے کہ قبولیت دعا میں اگر کسی کو جرات ہو تو ان کا مقابلہ کریں۔

اس ماہ کا اہم واقعہ یہ ہے کہ ایک عرصہ سے جو مقدمہ مرزائیوں کی طرف سے مسلمانوں کے قبرستان کے متعلق جاری ہے اس کے سلسلہ میں عدالت نے ایک کمیشن جاری کیا۔ کمیشن نے چار مقامات پر زمین کھدوائی۔ چاروں مقامات سے مردے برآمد ہوئے۔ مرزائیوں کو ان کی یہ حرکات مبارک ہوں۔

رپورٹ

از جناب مولانا محمد حیات صاحب

موجودہ دور اس قدر نازک جا رہا ہے کہ ہر شخص امن کا متلاشی ہے۔ مگر ایک مرزائی ہیں کہ ان سے فتنہ و فساد کے سوا کچھ بن نہیں پڑتا۔ موضع غازی کوٹ گورداسپور سے متصل ایک مشہور گاؤں ہے جہاں مرزائی ٤، ٥ سے زیادہ نہیں۔ اس گاؤں میں اور علاقہ بھر میں مسلمانوں کی اکثریت ہے۔ مرزائیوں نے وہاں جلسہ کا اعلان کر دیا اور مسلمانوں کے عقائد کو من گھڑت طریق پر پیش کر کے مسلمانوں کی دل آزاری کی۔

اندرین حالات مسلمانوں نے بھی جوابی جلسہ منعقد کیا۔ مولانا حافظ محمد شفیع صاحب سنگھروی، مولانا لال حسین اختر صاحب حافظ اسلام الدین صاحب مولانا مظہر الدین صاحب

٧

صفحہ ٥٩٢

مولانا عنایت اللہ صاحب چشتی، خان شریف حسن خاں صاحب، بی اے ایل ایل بی وکیل تشریف لے آئے۔ مرزائیوں کو مرزا محمود کی روحانیت پر مناظرہ کا چیلنج دیا گیا مگر مرزائیوں کو مقابلہ کی جرأت نہ ہوئی۔

بالآخر ختم نبوت و دیگر مسائل پر مناظرہ ہوا۔ مرزائیوں کو اتنی ذلت اور شکست ہوئی کہ انہیں منہ چھپانا مشکل ہو گیا۔ الحمد للہ کہ علاقہ بھر میں مرزائیت کی حقیقت بے نقاب ہو گئی۔

شہر بٹالہ اور مرزائی

بٹالہ وہ مقام ہے جہاں کی پبلک مرزائیت کی چالوں سے خوب واقف ہے۔ جہاں مرزائیوں کا کوئی دھوکہ اور فریب کامیاب نہیں ہو سکتا۔ یہی وہ مقام ہے جہاں حاجی محمد حسین ایک مرزائی کے ہاتھوں شہید ہوئے۔ اسی شہر میں مرزائیوں کے اکثر مقدمات ہوتے ہیں۔ جن میں مرزائیوں کی نام نہاد سچائی، صداقت پبلک میں نمایاں ہو جاتی ہے۔

یہی وہ مقام ہے جہاں مرزا محمود کے مرید خاص شیخ عبدالرحمن صاحب مصری کا مقدمہ زیر سماعت رہا اور قادیان کے حالات پبلک کے سامنے آئے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں گزشتہ دنوں قادیان کے ایک مسلمان مردہ کی لاش دفن کرنے کے لئے پیدل لائی گئی۔ جس کو مرزائیوں نے مسلمانوں کے قدیمی قبرستان میں دفن ہونے سے روک دیا تھا۔

غرضیکہ یہ شہر قادیان کے تقدس، پرہیز گاری ، ظلم و ستم اسلام دشمنی سے بوجہ قرب قادیان اس قدر واقف ہے کہ یہاں کی پبلک کو مرزائیت کے متعلق کبھی سوچنے کی ضرورت ہی محسوس نہیں ہوئی۔

مناظرہ کا ڈھونگ

بٹالہ جیسے شہر میں کبھی بھی مرزائیت کی نشر و اشاعت کا موقعہ میسر نہ آنے پر مرزائیوں نے مناظرہ کا حربہ استعمال کرنے کی ٹھانی مگر وہ جانتے تھے کہ یہاں کی پبلک تو قادیان کے تمام حالات سے واقف ہے۔ اسی شہر میں کارکنان مباہلہ کے مقدمات ہوئے۔ اسی جگہ شیخ عبدالرحمن صاحب مصری حکیم عبدالعزیز صاحب کے مقدمات ہوئے۔ ان لوگوں پر ہمارے مصنوعی وعظ کیا اثر کر سکتے ہیں؟ مگر تاہم کوشش ضروری ہے۔ شاید کوئی سادہ لوح ہمارے جال کا شکار ہو جائے۔

٨

٣ چنانچہ وہ چار سادہ لوح اشخاص تلاش کئے گئے۔ بھی مرزائیوں نے اپنے خرچ سے شائع کیا۔ مگ دیکھا گیا۔ صرف مرزائیوں میں راز داری سے نہیں پڑھتا۔) میں مرزائیوں کو بٹالہ میں جمع ہو اس اشتہار کا جو آج دستیاب ہوا ہے بطور نمونہ درج کرنا ضروری ہے۔

حنفیوں اور احمدیوں

اہل حق کا دوستو طا

حنفیوں اور احمدیوں کے پیار کا اظہا مسلمان مردہ کی لاش کو مسلمانوں کے قبرستان میں لاکر دفن کریں۔ مسلمانوں کے قبرستان قادیان کے حنفیوں سے بائیکاٹ ہو۔ ہر روز بٹالوی سے بھی پیار کا ثبوت دیا جائے۔ قادیان ایڑی چوٹی کا زور لگایا جائے اور بٹالہ کے صرف صرف یہی ایک بات مرزائی چال مسلمانان بٹالہ کو عین وقت پر اس اسلام ہند امرت سر سے محترم مولانا عبدالغفار آپ کی تشریف آوری پر فوراً مرز روز روز کے مناظروں کے بجائے قادیان میں اخراجات سفر برداشت کرنے کی بھی تکلیف بس اس اشتہار کا شائع ہونا تھا کہ امداد طلب کرنے اور شہر سے باہر ایک کھیت

صفحہ ٥٩٣

چنانچہ وہ چار سادہ لوح اشخاص تلاش کئے گئے۔ جن سے کسی پرائیویٹ جگہ شرائط طے کر کے اشتہار بھی مرزائیوں نے اپنے خرچ سے شائع کیا۔ مگر ہوشیاری یہ کی گئی کہ ایک اشتہار بھی بٹالہ میں نہ دیکھا گیا۔ صرف مرزائیوں میں راز داری سے تقسیم کیا گیا یا مرزائی اخبار۔ (جس کو کوئی مسلمان نہیں پڑھتا۔) میں مرزائیوں کو بٹالہ میں جمع ہونے کی اپیل کی گئی۔

اس اشتہار کا جو آج دستیاب ہوا ہے ایک شعر جس سے مرزائی اشتہار شروع ہوتا ہے۔ بطور نمونہ درج کرنا ضروری ہے۔

حنفیوں اور احمدیوں کی پیارو بحث ہے
اہل حق کا دوستو ظاہر نشاں ہونے کو ہے

حنفیوں اور احمدیوں کے پیار کا اظہار ہے؟ اللہ اللہ اس پیار کے کیا کہنے۔ قادیان میں مسلمان مردہ کی لاش کو مسلمانوں کے قبرستان میں دفنانے کی اجازت نہیں۔ حنفی لاش کو پیدل بٹالہ میں لاکر دفن کریں۔ مسلمانوں کے قبرستان کی زمین کھدوا کر مردوں کی بے حرمتی کی جائے۔ قادیان کے حنفیوں سے بائیکاٹ ہو۔ ہر روز پیار ومحبت کا ثبوت دیا جائے۔ حتیٰ کہ حاجی محمد حسین بٹالوی سے بھی پیار کا ثبوت دیا جائے۔ قادیان میں مسلمانوں کے تبلیغی جلسہ کی ممانعت کے لئے ایڑی چوٹی کا زور لگایا جائے اور بٹالہ کے صرف چار حنفیوں سے پیار ومحبت کا اظہار کیا جائے۔ صرف یہی ایک بات مرزائی چال کو بے نقاب کرنے کے لئے کافی ہے۔

مسلمانان بٹالہ کو عین وقت پر اس مناظرہ کی ساز باز کا علم ہوا۔ مرکزی شعبہ تبلیغ احرار اسلام ہند امرت سر سے محترم مولانا عبدالغفار صاحب غزنوی کو دعوت دی گئی۔

آپ کی تشریف آوری پر فوراً مرزائیوں کو مناظرہ کا چیلنج دیا گیا اور ان سے کہا گیا کہ روز روز کے مناظروں کے بجائے قادیان میں فیصلہ کن مناظرہ قبول کرو۔ اس صورت میں تمہیں اخراجات سفر برداشت کرنے کی بھی تکلیف نہ ہوگی۔

بس اس اشتہار کا شائع ہونا تھا کہ مرزائی اپنی سکیم میں ناکام ہوگئے۔ بالآخر پولیس کی امداد طلب کرنے اور شہر سے باہر ایک کھیت میں جمع ہو کر شہر میں فساد پیدا کرنے کی راہیں سوچنے

٩

صفحہ ٥٩٤

لگے۔ چنانچہ مرزائی لاٹھیوں وغیرہ سے مسلح ہوکر شہر میں اس نیت سے گزرے کہ کوئی فساد ہو جائے۔ مگر انہیں اس میں بھی کامیابی نہ ہوئی۔ ماہرین مرزائیت نے شہر پر کنٹرول کرلیا اور کوئی فساد رونما نہ ہونے دیا اور اپنے کامیاب جلسوں کے ذریعے مرزائی چالوں کو بے نقاب کردیا۔

ہم نے یہ رپورٹ اس لئے ارسال کی ہے تا کہ دوسرے مقامات کے مسلمان بھی مرزائی چالوں سے واقف ہوں۔ ہمیں افسوس ہے کہ حکام ضلع نے بھی اس نازک دور میں جبکہ ہر شخص امن کا متلاشی ہے۔ اپنی ذمہ داریوں کو محسوس نہیں کیا۔

اگر آج بٹالہ میں جہاں مرزائی انتہائی اقلیت میں ہے۔ مرزائیوں کو مسلح ہوکر جمع ہونے کی اجازت دی گئی تو مسلمانوں کو بھی یہ حق دیا جائے کہ قادیان میں اپنا تبلیغی جلسہ منعقد کرسکیں۔ ذیل میں اس چیلنج کا اقتباس نقل کرتا ہوں جو مسلمانان بٹالہ کی طرف سے شائع کیا گیا تھا جس کو دیکھتے ہی مرزائی بھاگ گئے۔ نہ کوئی جواب دیا نہ دے سکیں گے۔

چیلنج

نہایت حیرت کا مقام ہے کہ مرزائی امت نے کمال ہوشیاری کے ساتھ بٹالہ کے بعض سادہ لوح مسلمانوں کو دجل وفریب میں لاکر مناظرہ کی آڑ میں پبلک جلسہ کرنے کی بے سود کوشش کی ہے۔ ہم نہایت ذمہ داری کے ساتھ تمام مرزائی امت کو مناظرہ کا کھلا چیلنج دیتے ہیں اور اس چیلنج کے ساتھ یہ بھی سہولت دینے کے لئے تیار ہیں کہ مناظرہ خاص قادیان میں ہوگا تاکہ امت مرزائی کو کسی قسم کی پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

کوئی ہے جو میدان میں آئے!

سیکرٹری شعبہ تبلیغ مجلس احرار اسلام بٹالہ

۞ …… ۞ …… ۞

١٠

خاتم النبیین

میں آخری نبی ہوں

سید عطاء اللہ شاہ

باطل شکن

مجاہدانہ ترانے

جناب ملک

PDF 596

خاتم النبیین لا نبی بعدی

میں آخری نبی ہوں، میرے بعد کوئی نبی نہیں۔

سید عطاء اللہ شاہ بخاری کی

باطل شکن

مجاہدانہ تقریریں

جناب ملک فتح محمد اعوان

صفحہ ٥٩٧

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ نحمده ونصلى على رسوله الكريم . اما بعد !

عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی لائبریری سے یا پتہ نہیں کہاں سے فقیر کو ایک کاپی ملی۔ جس پر ملک فتح محمد ولد الحاج محمد بخش اعوان درج ہے۔ اس کا معنی ہے کہ یہ کاپی ان کی ملکیت ہے۔ اس میں حضرت امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ کی سات تقاریر درج ہیں۔ اس میں بعض تو وہ ہیں جو شائع شدہ ہیں۔ جس اخبار میں چھپی ان کا حوالہ درج ہے۔ بعض کے حوالے درج نہیں۔ اس کو خوش خطی سے لکھنے والے صاحب آخر میں ابوالحفیظ رحمانی، سنی چشتی، بھکر وانی درج ہے۔ اس میں بعض، اکثر یا تمام حضرت امیر شریعتؒ کے خطبات میں شائع شدہ ہیں۔ تاہم اس خیال سے کہ شاید کوئی نئی چیز ہو۔ یا یہ کہ اس کتابچہ سے احتساب قادیانیت کو سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ سے ایک نسبت حاصل ہو جائے۔ فقیر اس کو بھی احتساب کی اسی جلد کا حصہ بنا رہا ہے۔ (فقیر مرتب)

تقریر بخاری روز نامہ آزاد لاہور نمبر ١

یوم یکشنبہ یکم ستمبر ١٩٤٦ء مطابق ٣؍ شوال المکرم ١٣٦٥ھ

آج مورخہ یکم ستمبر کو لاہور میں ایک پبلک جلسہ زیر صدارت شیخ فیروز الدین صاحب منعقد ہوا جس میں تقریباً تیس ہزار سے زائد کی حاضری تھی اور باقاعدہ لاؤڈ سپیکر کا انتظام تھا۔ ٩ بجے رات تلاوت قرآن مجید سے جلسہ کا افتتاح ہوا اس کے بعد مرزا غلام نبی صاحب جانباز نے ایک انقلابی نظم پڑھی۔ آپ کے بعد شیخ حسام الدین صاحب نے صلح کانفرنس کے پس منظر پر سیر حاصل تبصرہ فرمایا اور نیز جنگ عالمگیر کی خونچکاں داستاں اور جنگ کے مقاصد کو زیر بحث لایا گیا۔ آپ نے تقریر کرتے ہوئے فرمایا کہ: ”دنیا کو ایک نئی جنگ کے لئے تیار کیا جارہا ہے۔ وہ جنگ یورپ میں نہیں بلکہ غریب مسلمانوں کی بستی فلسطین و سوڈان کو آئندہ جنگ کا مرکز بنایا جارہا ہے اور ہر وہ مصیبت جو آسمان سے اتر رہی ہے مسلمان کے گھر کو تلاش کر رہی ہے۔ برطانیہ سرکاری طور پر اعلان کر چکا ہے کہ یہودی اب فلسطین میں داخل نہیں کئے جائیں گے لیکن اب امریکہ اعلان کرتا ہے کہ ایک لاکھ یہودیوں کے داخلہ کا انتظام ہونا چاہئے۔ آج ان باتوں کو سامنے رکھ کر اٹلانٹک چارٹر کے تمام دعوے حرف غلط ثابت ہو رہے ہیں۔ مزید آپ نے فرمایا: ”یہ حکومتیں جولائی کے دوران میں کمزور قوموں کو بقاء آزادی کے لئے بآواز بلند پکار رہی تھیں نے آج جنگ کے ختم ہوتے ہی اس کو پس پشت ڈال دیا گیا ہے۔ ان کا حق تھا کہ وہ اٹلانٹک چارٹر کے ماتحت تمام کمزور قوموں

٢

کو حق آزادی دیتے۔ لیکن اب ان کی یہ حالت ہے کہ ان میں رہا اور اب فیصلہ کی کوئی صورت نظر نہیں آتی۔ آپ نے صلح ہوئے فرمایا کہ معلوم نہیں ہندوستان کو کیا جواب دیں گے۔ لیک ہے اور تمام وعدے بین الاقوامی سیاست کے ماتحت ہورہ ہندوستان کو راضی کیا جائے۔

اس کے بعد یک لخت فضا نعروں سے گونج اٹھی شاہ صاحب سٹیج پر تشریف فرما ہوئے۔ آپ کی تشریف آور المنعم نے تلاوت قرآن مجید کی جس کو حضرات سامعین نے مسرت کیا اور دعا کی گئی کہ خداوند کریم ان کی عمر دراز کر فرمائے۔ اس کے بعد حضرت امیر شریعت سید عطاء اللہ بخار آپ نے خطبہ مسنونہ پڑھنے کے بعد حسب ذیل آیت سے

”وان کادوا لیفتنونک عن الذی

برادران عزیز، معزز و محترم خواتین آج کافی عرصہ کے بعد آ بھی اس قابل نہیں ہوں کہ آپ کے سامنے تقریر کر سکوں۔ میں مبتلا پڑا ہوں۔ اسی اثناء میں ماہ رمضان المبارک آگیا مشغولی ہو گیا۔

روزہ ایک ایسا فرض ہے کہ جس کی اہمیت ا بجالانا بہت اہم ہے۔ مجھے اس سے بچپن ہی سے محبت کے پورا کرنے میں کبھی بھی کوتاہی نہیں کی ، ماہ رمضان اعلان کر دیا گیا اور کوئی فرصت نہ ملی کہ میں اپنے جسم خا تقریر کرنا میرے لئے آسان نہیں۔ حالانکہ تقریر میری ف بہت آسان ہے۔ لیکن میرے نزدیک آج کل تقری جماعت کارکن ہو اور ذمہ داری محسوس کرے۔ میں سمجھ میں ذمہ دار ہوں۔

آپ نے تقریر کرتے ہوئے فرمایا کہ آئن

٣

صفحہ ٥٩٧

کو حق آزادی دیتے۔ لیکن اب ان کی یہ حالت ہے کہ ان میں سے ہر ایک کو دوسرے پر اعتبار نہیں رہا اور اب فیصلہ کی کوئی صورت نظر نہیں آئی۔ آپ نے صلح کانفرنس کے پس منظر پر تبصرہ کرتے ہوئے فرمایا کہ معلوم نہیں ہندوستان کو کیا جواب دیں گے۔ لیکن وقت بہت تیزی کے ساتھ بدل رہا ہے اور تمام وعدے بین الاقوامی سیاست کے ماتحت ہورہے ہیں اور کوشش کی جارہی ہے کہ ہندوستان کو راضی کیا جائے۔

اس کے بعد یک لخت فضا نعروں سے گونج اٹھی اور حضرت امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ صاحب سٹیج پر تشریف فرما ہوئے۔ آپ کی تشریف آوری کے بعد آپ کے صاحبزادے عطاء المنعم نے تلاوت قرآن مجید کی جس کو حضرات سامعین نے بڑی دلچسپی و توجہ سے سنا اور اظہار مسرت کیا اور دعا کی گئی کہ خداوند کریم ان کی عمر دراز کرے اور عالم باعمل بننے کی توفیق عطا فرمائے۔ اس کے بعد حضرت امیر شریعت سید عطاء اللہ بخاری تقریر کرنے کے لئے کھڑے ہوئے آپ نے خطبہ مسنونہ پڑھنے کے بعد حسب ذیل آیت سے اپنی تقریر کا آغاز فرمایا:

”وان یکادو لیفتنونك عن الذی اوحینا...... الخ (بنی اسرائیل ٧٣)“

برادران عزیز، معزز و محترم خواتین آج کافی عرصہ کے بعد آپ کی زیارت کا موقعہ ملا ہے۔ میں آج بھی اس قابل نہیں ہوں کہ آپ کے سامنے تقریر کر سکوں۔ جون کے مہینہ سے میں جسمانی تکالیف میں مبتلا پڑا ہوں۔ اسی اثناء میں ماہ رمضان المبارک آگیا اور میں فرض خداوندی کے بجالانے میں مشغول ہو گیا۔

روزہ ایک ایسا فرض ہے کہ جس کی اہمیت اسلام میں بہت زیادہ ہے اور اس فرض کا بجالانا بہت اہم ہے۔ مجھے اس سے بچپن ہی سے محبت ہے۔ اس لئے میں نے آج تک اس فرض کے پورا کرنے میں کبھی بھی کوتاہی نہیں کی۔ ماہ رمضان کے اختتام کے بعد فورا ہی میری تقریر کا اعلان کر دیا گیا اور کوئی فرصت نہ ملی کہ میں اپنے جسم خاکی کی کچھ مدد کر سکوں۔ موجودہ وقت میں تقریر کرنا میرے لئے آسان نہیں۔ حالانکہ تقریر میری فطرت ہو گئی ہے۔ بایں ہمہ اوروں کے لئے بہت آسان ہے۔ لیکن میرے نزدیک آج کل تقریر ایک بہت بڑا بوجھ ہے۔ خصوصاً جو کسی جماعت کا رکن ہو اور ذمہ داری محسوس کرے۔ میں سمجھتا ہوں کہ میں جو کہوں اور ساتھی کر گزریں تو میں ذمہ دار ہوں۔

آپ نے تقریر کرتے ہوئے فرمایا کہ آپ لوگ میری زندگی کے گواہ ہیں کہ تیس برس

٣

صفحہ ٥٩٨

کی مدت میں سینکڑوں دفعہ آپ کی خدمت کرنے کا موقع ملا اگر وہ تمام ساعتیں گن لی جائیں۔ کئی مہینے بن جاتے ہیں۔ بدقسمتی سے سمجھنا اور سمجھانا ہمارا کام رہ گیا ہے۔ سننا اور چلے جانا آپ کا کام ہے۔ بے شک یہ ایک بہت بڑا کام ہے جو کہ انبیاء کرام کیا کرتے تھے۔ لیکن ماننے والوں کا حال وہاں بھی ایسا ہی تھا۔ اسی موضوع پر تبصرہ کرتے ہوئے آپ نے فرمایا کہ پیغمبر ہر قسم کے گناہوں سے معصوم ہوتا ہے۔ لیکن آپ کو معلوم ہے کہ قرآن مجید میں بارہا ”یقتلون الانبیاء بغیر الحق، یقتلون النبیین بغیر الحق (بقرہ ٦١)“ کا لفظ آیا ہے۔ بقول بعض مفسرین کے ستر ستر پیغمبر بیک وقت قتل ہوتے رہے۔ آپ لوگ کہتے ہیں کہ ہماری بات نہ مانو گے تو قتل کردیں گے۔ تم ہی بتاؤ اگر ہم ایسے گنہگاروں کو قتل کر دیا گیا تو پھر کون مانے گا۔ یہ وقت بہت بڑی ذمہ داری کا وقت ہے۔

دل تو یہ چاہتا ہے کہ نماز صبح یہاں ہی پڑھوں لیکن دل کی فوج نہیں مانتی۔ (آپ نے اپنے اعضاء کی حالت بیان کرتے ہوئے یہ جملہ ادا کیا) مزید آپ نے فرمایا کہ دل بادشاہ ہے اور دماغ وزیر اور باقی اعضاء رعایا، بادشاہ کی رعایا بغاوت کر بیٹھی ہے۔ میری صحت برباد ہوچکی ہے۔ مجھ میں زیادہ دیر بولنے کی طاقت نہیں۔ آپ نے اپنی موجودہ پالیسی کی وضاحت کرتے ہوئے فرمایا کہ یہ ہمارا علیٰ وجہ البصیرت فیصلہ ہے کہ تشدد کامیاب نہیں ہوسکتا اور میں صاف کہتا ہوں کہ جو لوگ عدم تشدد کو چھوڑ کر تشدد اختیار کریں گے۔

ہمارا راستہ اس سے جدا ہے۔ اس پر بعض گوشوں کے لیگی نوجوان بھنا اٹھے اور شور مچانے لگے اور تقریباً پندرہ بیس منٹ تک پاکستانی نعرے لگانے کے علاوہ چرند و پرند کی بولیاں بولتے رہے۔ حضرت شاہ صاحب نے انہیں محبت سے خاموش رہنے کی تلقین کی اور فرمایا کہ کیا تم لوگ گواہ نہیں ہو کہ راجہ غضنفر علی نے گزشتہ رات ہم کو دعوت دی ہے۔ کیا دعوت کا یہی طریقہ ہے آپ نے ان شور کرنے والوں کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا کہ ان لوگوں کا ظاہر کچھ ہے۔ باطن کچھ۔ تم لوگوں کو کیا معلوم تھا کہ میں کیا کہنا چاہتا تھا۔ بگڑے ہوئے نوجوان اس پر بھی نہ مانے اور غوغا مچاتے رہے۔ حتیٰ کہ جس حصے میں عورتیں بیٹھی تھیں ان پر سنگ ریزے پھینکے۔ جب معاملہ حد سے بڑھ گیا تو آغا شورش کاشمیری اٹھے اور کہا کہ پولیس یہ سب کچھ دیکھ رہی ہے اور اس کا ایک حصہ اپنے لیگی ذہن کی بناء پر خاموش تماشائی بنا ہوا ہے۔ یہ انتہائی افسوس ناک چیز ہے۔ ہم نے ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ صاحب کے ایماء پر پرامن اور آئین کی حدود کی پابندی کی اور ہمارے نزدیک

٤

اس وقت ملک کا امن سب سے زیادہ مقدم ہے ہے۔ میں پولیس کو کہتا ہوں کہ وہ امن عامہ احرار رضا کار بہتر طور پر انتظام کرنا جانتے ہ روک سکتی۔ آپ نے مزید کہا کہ یہ غنڈہ عنص احمد جیسا سلوک کرنا چاہتا ہے۔ لیکن میں ا سے بخوبی آگاہ ہیں اور وہ اللہ کی رحمت و ک ہیں۔ آپ نے مزید بتایا کہ جولوگ یہ آوا ہمارا پیغام ہے کہ وہ سروں کی بازی لگا ئیں ہیں۔ لیکن ہندو سے لڑنا ہمارا شعار نہیں۔ ی

رضا کاروں نے چند منٹوں م صاحب ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ پولیس بھی شور س اور جلسہ کی فضا بالکل پرامن ہوگئی اور ہزا خیالات سنتے رہے۔ حضرت شاہ صاحب موجودہ پالیسی پر نکتہ چینی کرتے ہوئے کہا ہمارے ساتھ شریک ہو جاؤ کیا یہ ڈائریکٹ جب کہ ملک معظم بھی قیصر ہند کا خطاب و

آپ نے مسلم لیگی غوغا ئیں دیکھا کہ جن لوگوں نے ہم کو دعوت دی آ کہ ہم نے بار بار استدعا کی کہ آرام سے تھا۔ خود تو یہ لوگ نعرے لگا کر چلے گئے آپ نے فرمایا کہ بتاؤ مسلمانو اب ہما ہی کریں اور آخر میں وہ خود بھاگ نکلیں یا ان ڈائریکٹ ایکشن آپ نے کلکتہ وزارت لیگ کی فوج اور پولیس تمام وغارت ہو چکا تو ہائی کمان نے فیصلہ کی

صفحہ ٥٩٩

اس وقت ملک کا امن سب سے زیادہ مقدم ہے۔ لیکن اس کا نتیجہ یہ ہے کہ ہمارا جلسہ خراب کیا جا رہا ہے۔ میں پولیس کو کہتا ہوں کہ وہ امن عامہ کے تقاضے کو ملحوظ رکھتے ہوئے ان کا انتظام کریں ورنہ احرار رضا کار بہتر طور پر انتظام کرنا جانتے ہیں اور انہیں حفاظت خود اختیاری سے کوئی طاقت نہیں روک سکتی۔ آپ نے مزید کہا کہ یہ غنڈہ عنصر ہر اختلاف رائے رکھنے والے کے ساتھ سر شفاعت احمد جیسا سلوک کرنا چاہتا ہے۔ لیکن میں انہیں بتائے دیتا ہوں کہ احرار والے دفاع کے طریقوں سے بخوبی آگاہ ہیں اور وہ اللہ کی رحمت و کرم کے آسرے اپنی زندگی بچانے کے ہنر سے واقف ہیں۔ آپ نے مزید بتایا کہ جو لوگ یہ آواز اٹھاتے ہیں کہ ہمیں ان سے ملنا چاہئے۔ ان کے نام ہمارا پیغام ہے کہ وہ سروں کی بازی لگائیں تو ہمارے سر بھی برطانوی سامراج کے خلاف حاضر ہیں۔ لیکن ہندو سے لڑنا ہمارا شعار نہیں۔ یہ فرقہ وارانہ فساد غلط ہے۔

رضا کاروں نے چند منٹوں میں شور و شغب پر قابو پالیا۔ اتنے میں ملک قطب خان صاحب ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ پولیس بھی شور سن کر آگئے اور آپ نے اپنے حسن تدبر سے فضا پر قابو پالیا اور جلسہ کی فضا بالکل پر امن ہو گئی اور ہزاروں انسان ہمہ تن گوش بنے۔ حضرت شاہ صاحب کے خیالات سنتے رہے۔ حضرت شاہ صاحب نے اس مختصر وقفہ کے بعد فرمایا۔ آپ نے مسلم لیگ کی موجودہ پالیسی پر نکتہ چینی کرتے ہوئے کہا کہ آج تم کہہ رہے ہو کہ ہم ڈائریکٹ ایکشن کر رہے ہیں ہمارے ساتھ شریک ہو جاؤ کیا یہ ڈائریکٹ ایکشن ہے؟ خطابات کی واپسی اور پھر اس زمانے میں جب کہ ملک معظم بھی قیصر ہند کا خطاب واپس کر رہا ہے۔

آپ نے مسلم لیگی غوغائیوں کی امروزہ حرکت پر تبصرہ کرتے ہوئے فرمایا کہ آپ نے دیکھا کہ جن لوگوں نے ہم کو دعوت دی کہ ہمارے ساتھ شریک ہو جاؤ۔ ان کی خود اپنی حالت کیا ہے کہ ہم نے بار بار استدعا کی کہ آرام سے بیٹھ جائیں۔ لیکن کسی نے نہ سنی۔ آخر کار نتیجہ وہی ہوا جو ہونا تھا۔ خود تو یہ لوگ نعرے لگا کر چلے گئے۔ لیکن ہمارے سالار اور تین رضا کاروں کو گرفتار کروا گئے۔ آپ نے فرمایا کہ بتاؤ مسلمانو اب ہماری کیا پوزیشن ہے؟ ہم لیگ میں چلے جائیں اور یہ لوگ ایسا ہی کریں اور آخر میں وہ خود بھاگ نکلیں تو پھر کیا حالت ہو گی اب خود تم ہی بتاؤ کہ یہ ڈائریکٹ ایکشن یا ان ڈائریکٹ ایکشن آپ نے کلکتہ کے واقعات پر تفصیلی تبصرہ کرتے ہوئے فرمایا کہ بنگال میں وزارت لیگ کی فوج اور پولیس تمام لیگ کی اور اس قدر انسانی خون کی ارزانی جب خوب قتل وغارت ہو چکا تو ہائی کمان نے فیصلہ کیا کہ جن لوگوں نے زیادتی کی ہے ان کو سزا ملنی چاہئے۔

٥

صفحہ ٦٠١

اب بتاؤ اس خون کا ذمہ دار کون ہے؟ آپ نے موجودہ فرقہ وارانہ کشمکش پر افسوس کرتے ہوئے فرمایا کہ جب تحقیق ہوگی تو معلوم ہو جائے گا کہ گولی سے مرنے والوں کی تعداد بہ نسبت دوسروں کے زیادہ ہے آپ نے غوغائیوں کا حسن تکرار کے طور پر ذکر کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایک رات کو دعوت ہے کہ آجاؤ اور دوسری رات کو اذن ہے کہ مار دو۔ پاکستانی جدوجہد پر آپ نے روشنی ڈالتے ہوئے فرمایا کہ لوگ چھ سال تک کہتے رہے کہ مسلم انڈیا، ہندو انڈیا، دو مرکز اور دو قومیں اور آخر میں یہ فیصلہ کیا ایک مرکز ایک قوم اور اسی کانگریس سے مل کر حکومت چلانا۔ آپ نے راجہ غضنفر علی کی شمولیت پر تبصرہ کرتے ہوئے فرمایا کہ پہلے ہم کو دعوت دینے والو تم اپنے برے عقیدوں سے توبہ کر کے ہمارے ساتھ شریک ہو جاؤ وہ لوگ جنہوں نے ابوبکرؓ کو مسلمان نہ مانا، عمرؓ کو کافر کہا اور حضرت عائشہؓ کا بت بنا کر آپ کی توہین کی، ہم ان کے ساتھ کیسے شریک ہو جائیں؟ آپ نے کلکتہ کے حالات پر روشنی ڈالتے ہوئے فرمایا کہ جب میں کلکتہ کا تصور کرتا ہوں تو میرے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔

خدا کا ہزار ہزار شکر کرتا ہوں کہ یہاں پنجاب میں امن ہے۔ میں نے مقامی لیگ کے اشتہار ١٦ اگست کے مظاہرے کے متعلق پڑھے کہ یہ مظاہرہ نیم عسکری کی طرح ہو لیکن کلکتہ میں تو یہ بادِ سموم سے بھی بڑھ گیا۔ آپ نے فرمایا کہ اسلام میں ایک چیز ایسی ہے جس پر سب کچھ قربان ہوسکتا ہے۔ وہ مبارک چیز ہے۔ قرآن مجید اور قرآن غریبوں کے لئے ہے۔ آپ نے فرمایا کہ میری ایک عینک ہے جس کے دوشیشے ہیں ایک قرآن مجید اور دوسرا حدیث نبی اکرمﷺ اگر ایک کو اتار دوں تو میں اندھا ہوں ۔ آپ نے مزید وضاحت سے فرمایا کہ ١٩١٩ء میں جب ہندوستان کے مسلم علماء وزعما نے ملکی معاملات پر غور کیا اور سوچا کہ طریق کار کیا ہوگا تو متفقہ طور پر فیصلہ کیا کہ کوئی قوم تشدد کے ساتھ کامیاب نہیں ہو سکتی۔ تب تمام جماعتوں، کانگریس، جمعیت وغیرہ کا بھی یہی فیصلہ تھا اور ہماری جماعت نے بھی یہی فیصلہ کیا اور بیس برس سے اس پر قائم ہیں۔ آپ نے فرمایا کہ ہر تحریک تشدد سے تباہ ہوئی۔

جب تک انگریز ہندوستان میں موجود ہے۔ وہ شخص دشمن ہے بنی نوع انسان کا اور ہر انسانی آبادی کا اور قصبہ کا جو در پردہ کہتا ہے کہ تشدد کا طریقہ اختیار کرو۔ نیز آپ نے موجودہ سیاست پر نکتہ چینی کرتے ہوئے فرمایا کہ انگریزوں کے ہاں دماغ بادشاہ ہے اور دل وزیر اس لئے کہ ہم سب کے اوپر ہے آج کل بھی یہی حالت ہے کہ جو سب کے اوپر چڑھ کر بیٹھ جائے وہی

٦

بادشاہ ہے۔ آپ نے معاملہ کی صراحت کرتے ہوئے فرما ساتھ انصاف کرے۔ اگر انصاف نہیں کرے گا تو نتیجہ لازمی موجودہ حالات پر تبصرہ کرتے ہوئے فرمایا کہ یہ جلسہ مسلم ہے۔ لیکن میں اخبارات کے ذریعہ سے ہندوؤں کو یہ پغا آجائیں اور کسی ایسی حرکت نازیبا کے مرتکب نہ ہوں جس فرمایا کہ میں اپنے تمام رضا کاروں اور ممبروں کو حکم دیتا ہوں اور باقی دوسرے اصحاب سے بھی عاجزانہ درخواست ہے کہ اس وقت ملک کے اندر یورپ کے ممبروں نے جو فضا پیدا آپ نے فرمایا کہ یہ جو کچھ ہو رہا ہے حکومت برطانیہ ہم پر کچھ کیا بھی نہیں بلکہ بین الاقوامی حالات نے ان کو مجبور کر جائے اگر آج بین الاقوامی حالات درست ہو جائیں تمام

تقریر بخاریؒ

میں قبرستان میں اذان د

ملتان میں ( آزاد لاہور ٢٠ اپریل ١٩٣٨ء )

متن:-

الحمد لله وكفى وسلام على ع الرسل وخاتم الانبياء ﷺ !

میرے بزرگو اور عزیزو! ایک سال کا عرصہ ہ میں فروری کے آخر میں ڈیرہ غازیخان گیا پھر وہاں سے ہوئی۔ جو میرے کانوں تک پہنچی اور میں نے اپنے دوستو ویسے تو میں چار برس سے یہاں معاملہ بگڑا ہوا دیکھ رہا اپنے عزیزوں کو اس طرف توجہ دلائی۔ چنانچہ جو بات دل میں تھی وہ زباں پر آگئی اور جب وہاں گیا تو دیکھا کہ وہاں اسمبلی ہال میں کفر

٧

صفحہ ٦٠١

بادشاہ ہے۔ آپ نے معاملہ کی صراحت کرتے ہوئے فرمایا کہ بادشاہ کا کام ہے اپنی رعایا کے ساتھ انصاف کرے۔ اگر انصاف نہیں کرے گا تو نتیجہ لازماً بغاوت ہے۔ اس کے بعد آپ نے موجودہ حالات پر تبصرہ کرتے ہوئے فرمایا کہ یہ جلسہ مسلمانوں کا ہے اور دعوت بھی مسلمانوں کو ہے۔ لیکن میں اخبارات کے ذریعہ سے ہندوؤں کو یہ پہنچا دینا چاہتا ہوں کہ وہ بھی تکبر میں نہ آجائیں اور کسی ایسی حرکت نازیبا کے مرتکب نہ ہوں جس سے کہ امن عامہ کو خطرہ ہو۔ آپ نے فرمایا کہ میں اپنے تمام رضا کاروں اور ممبروں کو حکم دیتا ہوں اور ہمدردوں سے بھی عرض کرتا ہوں اور باقی دوسرے اصحاب سے بھی عاجزانہ درخواست ہے کہ وہ عدم تشدد سے کام لیں۔ اس لئے کہ اس وقت ملک کے اندر یورپ کے ممبروں نے جو فضا پیدا کی ہے وہ نہایت خطرناک ہے۔ مزید آپ نے فرمایا کہ یہ جو کچھ ہو رہا ہے حکومت برطانیہ ہم پر کوئی احسان نہیں کر رہی ہے اور ابھی تک کچھ کیا بھی نہیں بلکہ بین الاقوامی حالات نے ان کو مجبور کر دیا ہے کہ ہندوستان کے ساتھ صلح کر لی جائے اگر آج بین الاقوامی حالات درست ہو جائیں تمام وعدے یکسر ختم ہو جائیں۔

تقریر بخاری نمبر ٢

میں قبرستان میں اذان دے رہا ہوں

(آزاد لاہور ٢٠ اپریل ١٩٣٨ء) ملتان میں سید عطاء اللہ شاہ بخاری کی تقریر کا پورا متن۔

الحمد للہ وکفٰی وسلام علٰی عبادہ الذین اصطفٰی وعلٰی سید الرسل وخاتم الانبیاء ﷺ !

میرے بزرگو اور عزیزو! ایک سال کا عرصہ ہو گیا کہ میں نے کسی مجمع میں تقریر نہیں کی میں فروری کے آخر میں ڈیرہ غازیخان گیا پھر وہاں سے ملتان آیا۔ شب کو ایک تقریر کسی ہندو کی ہوئی۔ جو میرے کانوں تک پہنچی اور میں نے اپنے دوستوں سے کہا کہ خبردار رہو معاملہ بگڑ گیا ہے۔ ویسے تو میں چار برس سے یہاں معاملہ بگڑا ہوا دیکھ رہا تھا مگر اس وقت میں نے اپنے دوستوں کو اپنے عزیزوں کو اس طرف توجہ دلائی۔

چنانچہ جو بات دل میں تھی وہ زباں پر آ گئی۔ یہاں سے ٥ بجے کی ریل سے لاہور پہنچا اور جب وہاں گیا تو دیکھا کہ وہاں اسمبلی ہال میں کفر و اسلام کی ٹکر ہو چکی تھی۔ ایک طرف فیروز

٧

صفحہ ٣

خان نون غالباً فیروز خان نون ہی تھے۔ وہاں تو ایک طرف فیروز خان نون اور اس کی پارٹی اسمبلی کے ممبر تھے اور دوسری طرف تارا سنگھ اور اس کی پارٹی نا جانے اندر کیا ہوا جب وہ دروازے سے باہر نکلے تو زندہ باد اور مردہ باد کے دو نعرے تھے۔ کسی مسلمان ممبر نے مجھے اس کا نام بھول گیا ہے۔ کیونکہ اب میرا حافظہ کمزور ہو چلا ہے۔ اس نے پاکستان زندہ باد کا نعرہ لگایا اور اس طرف تارا سنگھ نے تلوار میان سے کھینچ لی اور مردہ باد کا نعرہ لگایا۔ جب دوسری جانب دیکھا تو اس کی تلوار کا جواب سگریٹ تھا، میں ہوتا تو قصہ مختصر کر دیتا نہ تارا سنگھ ہوتا اور نہ دوسری بار مردہ باد کا نعرہ لگتا۔ چاہے میری یہ بڑ سمجھا جائے۔ مگر ہوتا ایسا ہی کیونکہ مرد کے ہاتھوں میں سوٹا بھی تلوار ہے اور نامرد کے ہاتھ میں تلوار بھی نیام بن جاتی ہے۔ جب میں نے یہ معاملہ سنا تو دفتر والوں سے کہا ہوشیار ہو جاؤ خطرہ ہے اور تم اپنے بچاؤ کا کام شروع کردو۔ میں دفتر میں بیٹھ گیا لوگ آنے جانے لگے۔ خیر وہ تو دفتر تھا گھر میں بھی یونہی تانتا لگا رہتا تھا۔ لیگی اور احرار آنے لگے اور وہ بھی آئے جو نہ ادھر کے تھے اور نہ ادھر کے۔ نہ الاذی نہ الاذی یعنی وہ:

چلو تم ادھر کو ہوا ہو جدھر کی

ایسے لوگ بھی ہوا کرتے ہیں نا۔ کچھ اس پر تنقید کر دی کچھ اس پر۔ کسی نے پوچھا بھائی کیا کرتے ہو تو کہا ملازم ہوں چنانچہ ایسے لوگ بھی دفتر میں آئے مجھے سبھی سے پیار ہے جب سے ہوش سنبھالا بس اپنا ایک دشمن سمجھا اور اس دشمن نے بھی مجھے اپنا ایک ہی دشمن سمجھا۔ بس ایک دشمن۔ انگریز میں اس کا دشمن اور وہ میرا دشمن، اپنے دوست کا دشمن جب محشر کے دن اٹھوں گا تو میرے پلے میں یہی ایک عمل ہوگا کہ میرے اللہ میں تیرے دشمن کا دشمن تھا۔ ہاں تو لیگی بھی ملنے آئے میں نے لیگیوں سے کہا کہ پالیسی غلط ہورہی ہے۔

خیال کرو، مگر وہاں حکم تھا چپ رہو چپ، اور اس چپ چپ میں پٹ گئے۔ میں جو بات سچ جانتا ہوں برملا کہہ دیتا ہوں۔ چنانچہ پچھلی تیس سالہ زندگی میں بھی جو خدا نے بولنے کی توفیق دی تو یہی عادت ساتھ رہی جو حق جانا وہ آپ سے کہا۔ بات آپ کی سمجھ میں آتی نہیں ہے اور گالیاں مجھے دیتے ہو۔ وہ خواجہ فرید صاحب چشتی خاندان میں سے ہیں تو آپ کے ہاں ایک ”غازی مرید آئے۔ پیر بھی ایسے کہ ایک تو صوفی پھر اپنا مذہب حنفی اور اس پر قیامت کے شاعر تھے، اور ایسے شاعر کے اگر شیراز میں حافظ کا میخانہ ابھی تک پرجوش ہے تو فرید کا بتکدہ آباد ہی آباد ہے۔ خود شاعر تھے اور جانتے تھے کہ شاعر کی ریس ہوتی ہے۔ ابھی جانباز نے جو نظم پڑھی جس میں

٨

اثر تھا اس میں جو لے اور ترنم ہے اور پھر دیکھ دنیا جہاں کی بیماریاں مجھے لاحق ہیں تو ابھی کی جو بیٹھے ہوں گے کہ بس صبح جاکر اس پر غزل لکھنا ہے

ریس ہوتی ہے نا بولنے، چپ رہنے ان سب میں۔ مگر پھر اس میں بھی فرق پڑ جاتا ہے کہ مرید نے مؤدبانہ گزارش کی بس یونہی بے تکا یا شعر وہ بھی لکھتا ہے اور اچھے شعر ہوتے ہیں۔ کہ جس کو تمہارے شعر تخلص دیتے ہیں وہ سوز وہ آہ جواب تو انہیں کے منہ سے سجتا ہے۔ ڈرتا ہوں بنتی۔ لطف تو تب ہے کہ انہی کی زبان سے دوسرے اس سے محروم رہ جائیں گے۔

اب خواجہ خود بھی شکاری تھا، اگر عارضہ لاحق ہے۔ پر میری آرزو یہ ہے جو بار شکاری نے کہا۔ سوہنڑا شعر آہداتے اووی بے نہیں۔ خواجہ نے جواب دیا کہ اک پکڑے شکـ بھونکدن یعنی ایک تو وہ ہیں جو شکار کو دیکھ کر بھونکنا شروع کر دیتے ہیں۔ پر معلوم ایسا ہوتا ہوتی ہے۔ دوڑتا ہے کودتا ہے۔ پھدکتا ہے، ہے کہ اپنے مالک کو اس کی خبر کروں اور دوسرا آسمان کی طرف کر کے بھونکنا شروع کر دیتا ہے تقلید میں بھونکنا شروع کر دیتا ہے تو اس طر تمہارے در پر بھونکا کل جیسے دروازے پر گیا میں نے رضا کاروں سے کہا دوستوں کو جمع کر

رضا کاروں کو سمجھایا کہ یوں انتظـ اپنی ہی کہے جاتا ہے۔ نہ آئے تو نہ آئے جو

صفحہ ٦٠٣

ابھی تھا ابھی میں جو لے اور ترنم ہے اور پھر دیکھئے کہ بدقسمتی سے مجھے بھی اسی کی بیماری ہے۔ تمام دنیا جہاں کی بیماریاں مجھے لاحق ہیں تو ابھی کی جو قیامت خیز لے ہے۔ اس پر کئی شاعر ابھی سوچ کر بیٹھے ہوں گے کہ بس صبح جا کر اس پر غزل لکھنا ہے:

ریس ہوتی ہے نابولنے، چپ رہنے، نشست و برخاست، لکھنے پڑھنے، چلنے دوڑنے،

ان سب میں۔ مگر پھر اس میں بھی فرق پڑ جاتا ہے اور سننے میں اور فرق پڑ جاتا ہے تو میں کہہ رہا تھا کہ مرید نے مؤدبانہ گزارش کی بس یونہی بے تکلفی تھی کہ شعر آپ بھی لکھتے ہیں۔ مگر فلاں شاعر ہے ناشعر وہ بھی لکھتا ہے اور اچھے شعر ہوتے ہیں۔ لیکن یا خواجہ جو سوز جو آگ تمہارے شعروں میں ہے جس کو تمہارے شعر جلا دیتے ہیں وہ سوز وہ آگ اس میں نہیں۔ اب جو خواجہ نے جواب دیا وہ جواب تو انہیں کے منہ سے سجتا ہے۔ ڈرتا ہوں کہیں گستاخی نہ ہو جائے پر اگر نقل کروں تو بات نہیں بنتی۔ لطف تو تب ہے کہ انہی کی زبان سے بیاں کروں مگر اس سے ملتانیوں کو حظ آئے گا اور دوسرے اس سے محروم رہ جائیں گے۔

اب خواجہ خود بھی شکاری تھا، اگر مجھے کچھ سمجھانے کی بیماری سی ہے اور تمہیں نہ سمجھنے کا عارضہ لاحق ہے۔ پر میری آرزو یہ ہے جو بات سنو سمجھ لو پھر اس پر عمل کرو یا نہ کرو، لیکن سمجھ لو تو شکاری نے کہا۔ سوہنڑا شعر آہدا تے او وی ہے پر تیرے شعراں وچ جیہڑا سوز ہے نا اوتھاں کائی نہیں۔ خواجہ نے جواب دیا کہ اک کتے شکار کوں دیکھ کے بھونکدن اتے ڈوجھے بھونکدیاں کوں دیکھ کے بھونکدن یعنی ایک تو وہ ہیں جو شکار کو دیکھ کر بھونکتے ہیں اور دوسرے وہ ہیں جو دیکھ کر دوسروں کو بھونکنا شروع کر دیتے ہیں۔ پر معلوم ایسا ہوتا ہے جو اپنی آنکھوں سے دیکھتا ہے جس کی جان پر بنی ہوتی ہے۔ دوڑتا ہے کودتا ہے۔ پھدکتا ہے، پھڑکتا ہے دوڑتا ہے کہ اس سے لپٹ جاؤں۔ بھونکتا ہے کہ اپنے مالک کو اس کی خبر کروں اور دوسرا ادھر سڑک کے سرے پر دم کو چڈوں میں دے۔ وہاں آسمان کی طرف کر کے بھونکنا شروع کر دیتا ہے۔ یعنی ایک شکار کو دیکھ کر بھونکتا ہے اور دوسرا اس کی تقلید میں بھونکنا شروع کر دیتا ہے تو اس طرح میری جان پر بنی ہوئی تھی۔ میں دیکھ رہا تھا شکار کو اور تمہارے در پر بھونکا کل جیسے دروازے پر گیا اس نے لاٹھی رسید کی بے ایمان سونے نہیں دیتا آخر میں نے رضا کاروں سے کہا دوستوں کو جمع کیا اور کہا جو تم سوچ رہے ہو وہ یوں نہ ہوگا۔

رضا کاروں کو سمجھایا کہ یوں انتظام کر لو پر اس دل کو کون سمجھائے۔ میری تو سنتا ہی نہیں اپنی ہی بکے جاتا ہے۔ نہ آئے تو نہ آئے جب آجاتا ہے تو بے محابا آتا ہے۔ کہا گیا کہ چپ رہو

٩

صفحہ ٦٠٤

جب کل وزارت بنے گی اور اسی میں پٹ گئے جو ہونا تھا وہ تو ہوا اور جو نہ ہونا تھا وہ بھی ہوا۔ میرے بال بچے امرت سر میں تھے۔ ان کے پاس حفاظت کے لئے کوئی آدمی نہ تھا۔ میں ادھر لاہور میں تھا۔ تین دن لاہور رہا۔ پانچ کو امرتسر دو بجے شام پہنچا۔ بس پہنچا ہی تھا کہ فساد شروع ہو گیا اور چار بجے تک دھما دھم تھی۔ میں وہاں گھر گیا گزری جیسے گزری کچھ دنوں کے بعد لاہور آیا۔ تدبیروں سے زیادہ وقت مشوروں میں گزرا۔ میری صحت خراب ہو گئی۔ کیونکہ اجڑتے دیکھی حسین وجمیل دنیا۔ دلکش و دلفریب دنیا، نیک دنیا، اچھی دنیا، ہری دنیا، رعنا دنیا، جوان دنیا، بزرگ دنیا، بیویاں، عصمت مآب، بیٹیاں سب اجڑے اور ہم سب کے ساتھ اجڑے وہ اجڑے تو میں بھی اجڑا اور سب ایک ساتھ اجڑے۔ بس اس کے بعد پھر بھولا نہیں ٢٦ کی رات کو میں ریل سے ملتان پہنچا کس حال میں پہنچا کیسے بتاؤں؟

اگر کسی کا حال مجھ سے بہتر ہو تو سناویں۔ اللہ جانے کیا کس پر گزری ١٢ بجے سے لے کر صبح تک پڑا رہا سویرے مظفر گڑھ روانہ ہوا اور وہاں سے خان گڑھ چلا گیا۔ چھبیس تاریخ کے بعد ایک ہفتہ ہوا کہ گھر سے نکلا اب سے پہلے کبھی نہ نکلا اور نہ اب سے پہلے کہیں تقریر کی اس وقت یہاں سزا کے طور پر کھڑا ہوں۔ رضا کاروں نے مجھے سزا دی ہے اور میں نے اس سزا کو قبول کر لیا ہے۔ تقریر کا ارادہ نہ تھا اور نہ ہے۔ بس یونہی ایک دو باتیں کرنے آیا ہوں صحت تباہ ہو گئی ہے اور ساری بات صحت پر ہے اور اس کی وجہ؟ بس نہ پوچھو۔ دیکھنے کو بوڑھا ہوں آپ کے درمیان مگر کفر کے لئے ویسے ہی توانا ہوں۔ کفر کے لئے مجھے کسی ماں نے آج تک نہیں جنا۔ یہ ضعف یہ بیماری ادھر کمزور اور جب جی چاہا پکڑ کر میدان میں چھوڑ دو تم دعا دو پھر بھی خوش بد دعا دو تب بھی خوش گالیاں دو تب بھی خوش۔ ہم تو اس میں خوش ہیں جس میں آپ کی خوشی ہے۔ ہماری اپنی تو کوئی خوشی رہی ہی نہیں بھلا میاں اب تو اپنا یہ مسلک ہے اللہ کو خوش کروں یا نہ کروں پر تم کو ناراض نہ کروں۔ ایک میں اگر اس لئے جہنم میں چلا گیا تو کیا ہوا پر میرے جانے سے تم تو خوش رہتے ہو نا بھئی یہ تو سیدھی سی بات ہے اگر ایک شخص کے جہنم میں جانے سے باقی بچ جائیں تو ایسا کام تو سبحان اللہ ، ہم یہ سمجھیں گے کہ یہ بھی تیرے لئے کر دیا، الغرض یہاں آیا مولانا غلام غوث تک تو میرے حوصلے بحال رہے مگر ماسٹر جی نے کچومر نکال دیا۔ میرا دل ایسے واقعات سے کمزور ہو جاتا ہے کچھ بیماریوں کی وجہ سے اور کچھ ایسی یاد کی وجہ سے وہی نقشے وہی گلیاں وہی زمانہ وہی کوچے جب یاد آتے ہیں تو دل بیٹھنے لگتا ہے۔ ١٠

صفحہ ٦٠٥

خدا شاہد ہے کہ میں بادل نخواستہ اٹھ کر آیا ہوں اس ڈر سے کہ رضا کار ناراض نہ ہو جائیں ورنہ ماسٹر جی نے بھی ختم کر دیا۔ سچ میں یہ کہہ دوں کہ ہماری زندگی بھر یہی طریقہ رہا کہ ہم تقریریں کوئی داد وصول کرنے کے لئے نہیں کرتے اور نہ ہی کسی لطف یا حظ اٹھانے کے لئے بلکہ اس کیلئے کہ آپ ہماری تقریر پر سوچیں ۔ جب کسی جلسہ میں ہم آئے۔ کسی نے کام کی بات کہہ دی۔ جلسہ اسی پر ختم ہو گیا۔ یہ نہ ہوا کہ اچھا کہہ گیا پھر برا کہہ دیا۔ پس جب کسی نے پتے کی بات کہی اور کام اسی پر ختم اور سچ پوچھو تو جانباز کی نظم کے بعد جلسہ ختم کر دینا چاہئے تھا مگر یہ جو پیچھے آگے کھڑے ہیں نا سرخ پوش ان کا ڈر تھا۔ ان کی منتیں کیں ان کی سماجتیں کیں کہ مجھے چھوڑ دو۔ میں نہیں بول سکتا۔ خدا معلوم کوئی ایسا وقت آجائے کہ خود بول اٹھوں مگر ان کو سمجھائے کون؟

جی کی بات ہے اب وہ بولنے نہیں دیتا۔ تیس سال بولتا رہا اور اب خدا سے دعا ہے جس نے تیس سال بولنے کی توفیق عطا کی اب نہ بلوائے میں تو آتا بھی نہ تھا۔ کیا کروں مجبور ہوں اب ایک ہفتے تک کی مدت تو آرام سے نہ کٹے گی ۔ ابھی جو مولانا غلام غوث اور ماسٹر جی آپ کے سامنے کہہ گئے مجھے بے چین کرنے کے لئے اتنا کافی ہے تم (آہ سرد بھر کر) تم کہہ کر بھی بھول جاتے ہو اور اپنا یہ حال ہے کہ نہ کہا بھولتا ہے اور نہ کسی کا سنا بھولتا ہے۔ اب اس کا کیا جواب کنگھی تو میری جیب میں بھی ہے جب جی چاہتا ہے سر میں پھیر لیتا ہوں۔ سر میں گو تم نے بال نہیں چھوڑے، بہت کم رہ گئے ہیں۔ اگر دو چار دن زندہ رہا اور یہی بدعادت بھی رہی تو انشاء اللہ ایک بال بھی باقی نہیں رہے گا ...... ہاں ...... (آہ سرد بھر کر) تم جیتے رہو۔ ہمارا کیا پوچھنا فقیرانہ آئے صدا کر چلے اور اس کا فیصلہ تو وہاں ہوگا۔ میدان قیامت میں جہاں سیاہ اور سفید چہرے الگ الگ کر دیئے جائیں گے۔ بہر حال ۔ اب میں کیا کہوں قرآن کے چار جملے ہیں ۔ مجھے یہی آتا ہے اور وہ تمہیں پسند نہیں ۔ جو تم چاہتے ہو وہ میرے پاس نہیں ۔ کوئی نئی بات نہیں وہی ایک بات اسی کتاب کی بات جسے آج کل کی زبان میں فرسودہ نظام کہا جاتا ہے۔ جب ہم کہتے ہیں نا کہ فٹ نہیں آتا تو پھر یہ لا الہ الا اللہ فٹ آتا ہے؟ یہ نکاح، یہ طلاق، یہ شادی، یہ قربانیاں، یہ مسجد، یہ نماز، یہ کیسے فٹ آئیں پھر تو سرے سے چلو کہ یہ بیت اللہ ہی سرے سے فٹ نہیں نہ وجود باری تعالیٰ ہے نہ کوئی نبی ہے نا وحی ہے نہ نزول ہے۔ آنا ہے تو سیدھا آؤ۔ یہ منافقت نہ کرو۔ جو کہنا ہے صاف صاف کہو۔ کہتا ہے تو یوں کہو نہ کوئی نبی ہے نہ وحی ہے نہ کتاب ہے۔

سیدھی بات! یہ فرسودہ نظام ہے تم نے اسے گھسا ہی کب ہے جو یہ فرسودہ ہو گیا ہے۔ تم

١١

صفحہ ٦٠٧

کب اس کے قریب گئے ہو تم نے اس کا چہرہ دیکھا ہی کب ہے؟ ساری عمر صاحب کے دفتر میں جھک ماری اور شام کو کہا کہ اسلام فٹ نہیں آتا۔ ارے کم بخت تو اسلام پر فٹ نہیں آتا تیری فطرت اس پر فٹ نہیں بیٹھتی۔ مجھ سے پوچھو۔ میں کہتا ہوں قرآن میری مرضی کے مطابق اترا حسن میرے ہی عشق کے لئے پیدا ہوا میری فطرت اسلام کے مطابق ہے۔ مجھے کوئی اجنبی کی بات گراں نہیں گزرتی کوئی چیز ثقیل معلوم نہیں ہوتی ، کیوں، اس لئے کہ دوسرے مذاہب کا انبار میرے سامنے ہے۔ اگر اس انبار میں پھنس جاتا تو میرا کچومر نکل جاتا۔ بھائی میرے پاس تو وہی ہے۔ جو جامہ فٹ نہیں آتا کتر بیونت میں نہیں کر سکتا۔ ہاں کر سکتا ہوں کہ آپ کی کتر بیونت کر کے فٹ کر دوں۔ لنگڑا، لولا، کُبڑا، جس کا گھٹنا ٹوٹا ہوا، ٹخنہ نکلا ہوا، گردن پر رسولی، پیٹھ کُبڑی، جاتا ہے درزی کے پاس اور کہتا ہے کہ یہ سوٹ میرے فٹ نہیں آتا ارے اس پر وہ فٹ کیسے آئے بات تب ہے کہ رسولی کا کروا اپریشن، گھٹنا کو ٹھوک بجا کروں سیدھا، کُبڑی پیٹھ پر ماروں لات اور وہ ہو جائے سیدھی۔ دیکھوں کہ وہ سوٹ فٹ آتا ہے یا نہیں۔ نعرے لگتے ہیں۔ امیر شریعت زندہ باد۔ دیکھئے میری تقریر میں اس قسم کے نعرے نہ لگایئے۔ میں دونوں سے بے نیاز ہو چکا ہوں، نہ مردہ باد کے قابل ہوں نہ زندہ باد کے لائق۔ مردوں کی زندہ باد تو ہے نہیں۔ یہاں ہے مردوں کی زندہ باد تم میں آتا ہوں تو ایسا معلوم ہوتا ہے کہ قبرستان میں آذان دے رہا ہوں۔

میں اضطراری طور پر چپ نہیں سوچ سمجھ کر چپ ہوں۔ تیس سال چیختا رہا۔ اب آرزو ہے کہ نہ بولوں طبیعت پر خدا نے اپنا اختیار دیا ہے جی چاہتا ہے۔ چپ رہوں۔ یہاں تو چند نوجوانوں کی دلداری کے لئے آگیا۔ نہ ماسٹر کے کہنے پر آیا ہوں نہ ورکنگ کمیٹی کے دباؤ سے بلکہ ان رضا کاروں کے دباؤ سے جنہیں مجھ سے محبت ہے۔ انہوں نے بے حد محنت کی ان میں ایک اچھا محنتی لڑکا عبدالحی ہے۔ یہ نوجوان میرے کام نہیں آئیں گے بلکہ آگے چل کر تمہارے کام آئیں گے۔ بس بات اتنی ہے اگر تم میں ان سے کام لینے کا سلیقہ ہو سب چیزیں گھر میں موجود اور بیوی ہو پھوہڑ پکانے کا سلیقہ نہ آتا ہو تو پھر سب سامان رائیگاں۔ مجھے صرف ان کی دلداری مقصود، ورنہ میں ختم ہو چکا۔ اگر اب اپنی طرف سے کچھ کہوں تو منہ میں میرے خاک جھونک دو۔ ویسے یہاں کی مٹی بھی تو پاک ہے۔ جگر گوشے آل رسول کے دفن ہیں۔ میری نظر ادھر نہیں جاتی۔ خدا جانے مجھے اوپر دکھائی نہیں دیتا یا دید کمزور ہے۔ بہر کیف بات پرانی ہے وہ ادھر دور سے آنے والی آواز ”یاایها الذین آمنوا اجتنبوا کثیرا من الظن“ اے میرے ماننے والو اے میرے

بھیجے ہوئے پیغمبر محمد رسول اللہ نبیوں کے سردار آخری نبی کے الظن ” شک اور بدگوئی سے بچو۔ “ ان بعض الظن گوئی کرنا گناہ ہے۔ پھر ترجمہ اگر غلط ہو تو ابھی اٹھ کر کہہ د ترجمہ صحیح ہو تو پھر میں کیا کہوں کوئی اگر آنکھیں بند کرلے باہ نہیں ہے تو اسے میں کیسے سمجھاؤں کہ سورج ہے۔

جس کا جی چاہے مان لے جس کا جی چاہے نہ ما اجتنبوا کثیراً من الظن (الحجرات:١٢) ” یہ میں بیان ک کچھ نہیں کیا اس کا کہا دہرا رہا ہوں جس کا نام پانچ نمازوں م اٹھاتے ہو جس کا کلمہ پڑھ پڑھ کر قبر پر پھونکتے ہو جس کا ثو حکم ہے۔ نہ تیرے ابا کا نہ سب کے ابا کا حکم ہے۔ لفظ اُگلو ہے۔ زبان کسی کی ہے۔ بات آخری ہے۔ اس کے بعد ختم ح والو۔ ”اجتنبوا کثیرا من الظن (الحجرات:١٢) “ بہ شک گناہ کے درجے تک پہنچ جاتا ہے۔ دو جملے آگئے اب ذ ” اور جاسوسی نہ کرو۔ “ دوستو ہمیں جاسوسوں کی ایک تلاش میں رہنا۔ فلاں شخص گھر سے باہر کیوں جاتا ہے کہا کوئی عیب ملے تو فرماتے ہیں اپنی قوم کی جاسوسی نہ کرو اپنی جاسوسی۔ تین جملے ۔ اب آگے ”ولا یغتب بعضکم بع کسی کی پیٹھ پیچھے برائی نہ کرو یہ ہوئے چار جملے

آمنوا ان جاء کم فاسق بنباء فتبینوا (الحجر میرے بھیجے ہوئے پیغمبر آخری نبی پر ایمان لانے والو اگر میں غیر معتبر ہے جو شرعی نقطہ نگاہ سے اعتبار کے قابل ہے ڈاکو، نسلاً بعد نسل جھوٹ جسے وراثت میں ملے وہ بڑا معتب فتبینوا ”فاسق کہتے ہیں۔ سرکش کو عرب وہاں بھی ف پکڑے آگے کھینچ رہا ہو اور بکری رسے میں سے سر نکال کر فارسی میں اس کا ترجمہ سرکش بہت خوب ہے

١٣

صفحہ ٦٠٧

بھیجے ہوئے پیغمبر محمد رسول اللہ نبیوں کے سردار آخری نبی کے ماننے والے ”اجتنبوا کثیرا من الظن“ ﴿شک اور بدگوئی سے بچو۔﴾ ”ان بعض الظن اثم“ ﴿کیونکہ بہت شک کرنا اور بد گوئی کرنا گناہ ہے۔﴾ ترجمہ اگر غلط ہو تو ابھی اٹھ کر کہہ دو۔ اپنی طرف سے کچھ نہیں ملا رہا اگر ترجمہ صحیح ہو تو پھر میں کیا کہوں کوئی اگر آنکھیں بند کرلے باہر دھوپ میں کھڑے ہو کر کہے کہ سورج نہیں ہے تو اسے میں کیسے سمجھاؤں کہ سورج ہے۔

جس کا جی چاہے مان لے جس کا جی چاہے نہ مانے ”یا ایھا الذین آمنوا اجتنبوا کثیرا من الظن (الحجرات:١٢)“ یہ میں بیان کر رہا ہوں۔ بیان دے نہیں رہا میں نے کچھ نہیں کیا اس کا کہا دہرا رہا ہوں جس کا نام پانچ نمازوں میں لیتے ہو۔ جس کی قسمیں کچہری میں اٹھاتے ہو جس کا کلمہ پڑھ پڑھ کر قبر پر پھونکتے ہو جس کا ثواب مردوں کو بخشتے ہو۔ یہ نہ میرے ابا کا حکم ہے۔ نہ تیرے ابا کا نہ سب کے ابا کا حکم ہے۔ لفظ انہیں کے ہیں زبان میری ہے۔ حکم کسی کا ہے۔ زبان کسی کی ہے۔ بات آخری ہے۔ اس کے بعد ختم ”یا ایھا الذین آمنوا“ اے ایمان والو۔ ”اجتنبوا کثیرا من الظن (الحجرات:١٢)“ ﴿بہت شک کرنے سے بچو۔﴾ بعض اوقات شک گناہ کے درجے تک پہنچ جاتا ہے۔ دو جملے آگئے اب ذرا آگے چلو۔ ”و لا تجسسوا“ ﴿اور جاسوسی نہ کرو۔﴾ دو قسمیں ہیں جاسوسوں کی ایک تو ہے شخصی جاسوسی۔ دوسروں کے عیب تلاش میں رہنا۔ فلاں شخص گھر سے باہر کیوں جاتا ہے کہاں جاتا ہے۔ گویا ٹوہ میں رہنا کہ اس کا کوئی عیب ملے تو فرماتے ہیں اپنی قوم کی جاسوسی نہ کرو اپنی باتیں غیروں کو نہ پہنچاؤ۔ یہ ہے جماعتی جاسوسی۔ تین جملے ۔ اب آگے ”و لا یغتب بعضکم بعضاً“

کسی کی پیٹھ پیچھے برائی نہ کرو یہ ہوئے چار جملے دوسری جگہ ہے۔ ”یا ایھا الذین آمنوا ان جاء کم فاسق بنباء فتبینوا (الحجرات:١٢)“ اے مجھ پر یقین کرنے والو اور میرے بھیجے ہوئے پیغمبر آخری نبی پر ایمان لانے والو اگر کوئی ایسا آدمی تمہیں خبر دے جو شریعت میں غیر معتبر ہے جو شرعی نقطہ نگاہ سے اعتبار کے قابل ہے جیسے ہم کہتے ہیں نا او وڈا معتبر اے جہان دا کوڑا نسلاً بعد نسل جھوٹ جسے وراثت میں ملے وہ بڑا معتبر ہے۔ ”جاء کم فاسق بنباء فتبینوا“ فاسق کہتے ہیں۔ سرکش کو عرب وہاں بھی فسق بولتے ہیں جب کوئی شخص بکری کا رسہ پکڑے آگے کھینچ رہا ہو اور بکری رسے میں سے سر نکال کر بھاگ جائے تو اسے فسق کہیں گے۔

فارسی میں اس کا ترجمہ سرکش بہت خوب ہے۔ یعنی سر کھینچ لینے والا ”ان جاءکم

١٣

صفحہ ٦٠٨

فاسق بنباء فتبينوا“ جب کوئی ایسا آدمی تمہارے سامنے خبر لائے جس کا اعتبار قانون اسلامی میں نہیں تو خبر کی پڑتال کر لو۔ جانچ لو۔ بد اعتمادی کی بات نہیں بلکہ شک کی بات ہے۔ پڑتال کر لو آیا صحیح ہے یا غلط یہ ہوئے پانچ جملے اس کتاب کے جو ہائے اب ردی ہو گئی ہے۔ جسے اب کوئی پوچھتا نہیں جو اب فٹ نہیں آتی کسی پر اور وہ مجھ پر ایسی فٹ آتی ہے۔ خدا رکھے گنہگار تو بڑا ہوں۔ گندا ہوں، مگر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ابھی یہ اتری ہے اور ابھی مجھ تک پہنچی۔ بس اپنے دل کی بات ہے تم اپنی جگہ پر لاچار ہو میں اپنی جگہ پر مجبور ہوں مگر بات تھوڑی سی آشنائی کی ہے مجھے ان سے تھوڑی سی آشنائی ہے جس سے تمہاری آشنائی ہے۔ اس سے آپ نا آشنا ہیں آپ کو اپنے آشناؤں پر فخر ہے کہ میرا بھائی ایسا، میری بیوی ایسی ہے، میرا ابا ایسا، میرا دادا ایسا، میرا پردادا ایسے غنڈوں کو بھی اپنے آشناؤں پر فخر ہوا کرتا ہے ایک غنڈا کہتا ہے کہ ارے میرا باپ ایسا چور ایسا چور ایسا چور کہ ستر سال جیل کاٹی تو پھر چور کا چور میں اس کا بیٹا ہوں اس کا بیٹا بدمعاش کو دیکھو آٹھ گھنٹے سپاہی کی مار کھاتا ہے اور کہتا ہے ابھی تھکا نہیں آجاؤ پھر مولا علی کے میدان میں مار کھا رہا ہے اور نیچے سے کہہ رہا ہے کہ تم لوگوں کو مارنا نہیں آتا۔

ذرا سونا دو میرے ہاتھ میں اور پھر دیکھو اپنی حالت اب اس خلیج کو کون پاٹے مجھے اس سے محبت ہو گئی اور مجھے اب اس جیسی اور کوئی کتاب ہی دکھائی نہیں دیتی۔ جب پڑھوں سدا سہاگ جب پڑھوں سدا سہاگ۔ میں نے پانچ جملے اس کتاب کے آپ کے سامنے پڑھے ان پانچ جملوں میں اخیر کا جملہ جو پڑھا ہے وہ ہے: ”يا ايها الذين آمنوا ان جائكم فاسق بنباء فتبينوا“ کہ جو شرعی قانون میں غیر معتبر ہو اس کی بات پر ذرا تامل کرو پھر یاد رکھنا فاسق کے معنے سرکش ذرا اور سمجھانے کے لئے ایک مثال لیتا ہوں۔ اس امرتسر میں پڑھا کرتا تھا جہاں اب کوئی اذان دینے والا نہیں رہا۔ اس خیر الدین کی مسجد میں ١٦ برس کی عمر سے لے کر ٢١ برس تک پڑھتا رہا اور ساتھ ہی اس مسجد کے سبز منڈی تھی اس زمانے میں مجھے سنگتروں سے خاص رغبت تھی۔ ایک وجہ تو اس کی یہ تھی کہ میرا مزاج اس وقت صفراوی تھا اور دوسری وجہ یہ تھی کہ سنگترے سستے تھے۔ پیسے پیسے ایک یا پیسے کے دو دو ملتے تھے۔ طالب علم تھا پڑھ کر جو نکلا سبز منڈی سے گزر رہا تھا۔ سنگتروں کی بہار دیکھ رہا تھا۔ ٹوکرے بھرے پڑے تھے آخر کب تک دیکھتا جی للچا ہی تو گیا ایسے میں کون صبر کرے۔ سنگترہ ایک کھڑے کھڑے چھیلا اور قاش منہ میں ڈالی اور میری پیٹھ پر ایک ہاتھ پڑا اور ایک بڑھی آواز آئی حافظ جی بازار میں کھڑے ہو کر کھاتے ہو تمہاری شہادت شرع میں نہیں ١٤

صفحہ ٦٠٩

ہو سکتی۔ مڑ کر جو دیکھا تو میرے استاذ نور الدین تھے بس جو چھٹانک منہ میں ڈالی وہ وہاں رہی اور مسئلہ سمجھ میں آگیا کہ فاسق کسے کہتے ہیں۔ دیکھا آپ نے اسلام انسان کو کس وقار کس بلندی پر لے جاتا ہے۔ آپ کہتے ہیں کہ آج کل فٹ نہیں آتا۔ ارے بھینسے پر کیسے فٹ آئے۔ گدھے پر کیسے فٹ آئے۔ الو کے پٹھے پر کیسے فٹ آئے یہ تو انسانوں پر فٹ آتا ہے۔ دیکھو تو سہی کہاں بلند کیا اسلام نے انسان کے وقار کو جو بازار میں کھڑا ہو کر کھائے وہ معتبر نہیں۔ چھورا ہے چھورا اور یہاں یہ حال ایک دکان سے دال کھائی دوسری سے بیر اٹھا لئے تیسری سے لوکاٹھیاں کھائیں۔ چوتھی سے شربت پیا اور چلتے چلتے بازار کا صفایا ہو رہا ہے۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ایک بھینسا یا سانڈھ ہے کہ ہر دکان پر منہ مارتا چلا جا رہا ہے۔ میں اللہ کو کیسے نہ مانوں میں خود اس کے وجود کی دلیل ہوں۔ جس نے مجھ جیسی ایڈی وڈی...... قیامت پیدا کر دی اور وہ بھی اس طرح کہ میرے بنانے میں محنت نہ کی بلکہ کہا ہو اور میں وجود میں آگیا تو اس آیت کے ماتحت میں کہہ رہا تھا ذرا کان لگا کر سننا بلکہ پتے کی بات ہے۔ ”ان جائکم فاسق بنباء فتبینوا“ اگر ایسا شخص جو شریعت میں معتبر نہیں تمہارے پاس خبر لائے تو وہ قابل اعتبار نہیں اور اگر ایسا نہیں کرو گے تو سن لو ارشاد ہوتا ہے۔ ”ان تصیبوا قوماً بجهالة فتصبحوا على ما فعلتم ندمين (حجرات: ٦)“ ایسا نہ ہو۔ دیکھنا کہیں ایسے غلط کار آدمی کی بات نہ مان لو اور کسی پر حملہ کر بیٹھو۔

کسی قوم پر حملہ کر بیٹھو اور نتیجے کے طور پر تمہیں پچھتانا پڑے۔ پہلے ہی سے سوچ لو ایک بات کا نتیجہ یہ بتایا اور باقی کا نتیجہ ”ایحب احدکم ان ياكل لحم اخيه ميتا فكرهتموه “ شک نہ کرو۔ بدگمانی نہ کرو، کسی کے عیبوں کی تلاش میں نہ پڑو قوم کی پیٹھ پیچھے برائی نہ کرو۔ کیا تم میں سے کوئی آدمی پسند کرے گا اپنے مرے ہوئے بھائی کا گوشت نوچے اگر ایسی تمہیں پسند ہے تو پھر جو مرضی آئے کرو۔ ”يا قومنا اجيبوا داعيا الى الله وامنوا “ اے میری قوم جو اللہ کی طرف سے آیا ہے۔ اس کی پکار کو سن لو اس کی پکار کو قبول کر لو۔ ہر وہ بات جو اللہ کی طرف سے آئی ہو جیسا کہ ابھی میں نے پانچ باتیں اللہ کی بیان کی ہیں جو تاجدار مدینہ ﷺ کے منہ سے نکلی ہیں۔ ایک شعر ہے میرا:

سی پارہ کلام الہی خدا گواہ
او ہم عبارتی ز زبان محمد است

میاں یہ سی پارہ بھی تو انہیں کے منہ سے نکلا ہے۔ ان کے دہاں مبارک اور ان کی زبان

١٥

صفحہ ٦١٠

مبارک کا تحفہ ہے۔ اگر آپ صرف ان پانچ باتوں پر عمل کرلیں گے جو میں نے ابھی عرض کیں تو میں گنہگار اور کیا کہوں اگر تم کسی مصیبت میں پھنسو تو (میرے منہ وچ سواہ (راکھ) پاویں) یا اگر مرجاؤں تو قبر پر آکر درے مارنا جو شرعی لحاظ سے معتبر ہو۔ اس بات کی پڑتال کرو اور بدگمانی اتنی نہ کرو۔ کیا کہوں بدگمانی اس لعنتی زبان میں کہتے ہیں۔ پروپیگنڈا۔ یعنی بدگمانی پھیلاؤ۔ کوڑ مارو (جھوٹ بولو) آکھیا۔ زور نال کوڑ مارو اتنا کوڑ مارو اتنا کوڑ مارو کہ اوڑک سچ لگے۔ اے کاش وہ کہتا کہ اتنا سچ بولو اتنا سچ بولو کہ دنیا میں جھوٹ کا وجود ہی نہ رہے۔ میں پھر تیسری بار کہتا ہوں۔ ”یا ایھا الذین آمنوا اجتنبوا کثیراً من الظن ان بعض الظن اثم ولا تجسسوا“ یہ پانچ باتیں اپنی گرہ میں باندھ لو جیب میں ڈال لو (آہ سرد کھینچ کر۔)

طوفان نوح لانے سے کیا ہوگا فائدہ
دو حرف بھی بہت ہیں اگر کچھ اثر کریں

اس سے زیادہ کچھ عرض نہیں کر سکتا۔ اب معافی چاہتا ہوں میں اتنا کہہ کر بھی ختم ہو گیا جو مولانا غلام غوث نے کہا اور ماسٹر جی نے کہا کہ آج رات جا کر اس پر غور کرنا وہ غور کرنے کی باتیں ہیں مگر بھول جاؤ گے۔ اللہ جانے میں آپ سے اتنا مایوس کیوں ہو چکا ہوں جو ماسٹر جی نے کہا جو مولانا غلام غوث نے کہا اس پر سوچو میں تو ٹوٹی پھوٹی ہڈیوں کا ڈھانچہ ہوں یونہی خالی ہاتھ نہ جاؤ اور میرے لئے دعا کرو۔ اے اللہ تیس سال...... اب تک بہت بلوایا اب توفیق دے چپ رہنے کی اب تک بولنے کی توفیق تو نے عطا کی۔

تقریر بخاری نمبر ٣

ہفت روزہ حکومت کراچی ٢١ ستمبر ١٩٥٢ء عقیدہ ختم نبوت کا علم بردار۔ پاکستان کے بوڑھے مجاہد امیر شریعت مولانا سید عطاء اللہ شاہ بخاری کا فلک شگاف نعرہ۔ میں دعوے کے ساتھ اعلان کرتا ہوں ملک میں بدامنی اور انتشار پھیلانے کے ذمہ دار وہ لوگ ہیں جو وزارت کی گدیوں پر فائز ہیں۔ فدایانِ ختم نبوت ناموسِ محمد ﷺ اور تحفظِ پاکستان کے لئے لیاقت علی خان کی طرح اپنے خون کا آخری قطرہ بہانے کو تیار ہیں۔ ہم جو کہتے ہیں، کرتے ہیں۔ یاد رکھو ایک ایک احراری کٹ جائے گا اس کی لاش کے ٹکڑے ٹکڑے ہو جائیں گے ناموسِ محمد ﷺ پر کسی بدبخت کو انگلی اٹھانے کی اجازت نہیں دے گا جو حکومت ختم نبوت کے سلسلہ میں مسلمانوں کے مطالبات تسلیم نہ کرے گی ہم اس کی مخالفت سے باز نہیں آئیں گے۔

١٦

صفحہ ٦١١

مظفرآباد...... شمع رسالت کے ایک لاکھ سے زائد پروانوں کے ایک عظیم الشان اجتماع میں نعرہ ہائے ختم نبوت زندہ باد کے درمیان حضرت امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاری نے اپنے مخصوص انداز میں تقریر شروع کی انہوں نے مرزائیوں کے دجل وتلبیس کے تار پود بکھیرتے ہوئے فرمایا کہ قادیانی نبی کے امتیوں نے ربوہ (چناب نگر) میں ایک متوازی حکومت قائم کر رکھی ہے اور ان کے اس نظام کے تحت ربوہ (چناب نگر) میں اسلحہ تیار ہو رہا ہے۔ زمین دوز قلعے تعمیر ہو رہے ہیں۔ اپنی الگ عدالتیں قائم کی گئی ہیں جن میں مجرموں کو سزائیں دی جاتی ہیں اور نظر بندی کی سزاؤں کے علاوہ جرمانے بھی وصول کئے جاتے ہیں۔ ان عدالتوں میں باقاعدہ مقدمات سنے جاتے ہیں بعض قومی مجرموں کی جائیدادیں بھی ضبط کی جاتی ہیں۔ دریائے چناب کے کنارے ربوہ (چناب نگر) کو ایک قلعہ بند شہر بنایا جا رہا ہے۔ آپ نے تقریر جاری رکھتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی آزاد حکومت میں اس متوازی حکومت کا قیام نا قابل برداشت ہے۔ انہوں نے اس پر اظہار افسوس کیا کہ ارباب حکومت سب کچھ دیکھتے ہوئے بھی خاموش ہیں آخر یہ کیا ماجرا ہے۔ شاہ صاحب نے تقریر کرتے ہوئے کہا کہ ہم اپنے ملک میں اندھیر گردی کو کبھی برداشت نہیں کرسکتے۔

حضرت امیر شریعت سید بخاری نے اپنی وجدانی کیفیات میں ختم نبوت کے مسئلے پر تقریر کرتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ میں حکومت کے بست و کشاد اور مسلمانوں سے کہوں گا کہ وہ لاہور میں بیٹھ کر ان حالات سے بے خبر نہ رہیں جو بڑی سرعت کے ساتھ ایسا رخ اختیار کر رہے ہیں جس سے بعد میں ہمارے لئے نمٹنا مشکل ہو جائے گا۔ میں پوچھتا ہوں کہ آپ سے کتنے ایسے لوگ ہیں جو یہ جانتے ہیں کہ ربوہ (چناب نگر) نبی کے ماننے والے ان دنوں کیا لکھ رہے ہیں۔ ان کا لٹریچر کس ڈگر پر شائع ہو رہا ہے۔ ان کے ترجمان الفضل کی ان تحریروں اور مقالات پر بھی نگاہ رکھتے ہوں؟ جن کے بین السطور میں انتقام، خون فساد بغاوت کے آثار پائے جا رہے ہیں۔ مجھے میرا ملک بے حد عزیز ہے۔ اگر اس کے استقلال کے لئے بخاری کا خون بھی کام آجائے تو عین سعادت ہوگی۔ لیکن میں پوچھتا ہوں کہ میرے عزیز ملک پر حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی ناموس کے دشمن کیوں چھا رہے ہیں۔ سرور کائنات خاتم المرسلین ﷺ پر حملے کرنے والے میرے ملک کی کلیدی آسامیوں پر بیٹھے میرے ملک کو تباہی کے گڑھے میں ڈالنے کے منصوبے تیار کرتے رہے ہیں مجھے بتاؤ ایسا کیوں ہے۔ کیا مجھے اپنے وطن عزیز کے استقلال کے لئے اسے برداشت

١٧

صفحہ ٦١٢

کر لینا چاہئے؟ مجھے بتایا جائے کہ میری حکومت دشمن کی ریشہ دوانیوں اور کارستانیوں سے بے خبر کیوں ہے؟ اگر وہ مرزائی فرقہ کی ہر حرکت کو جانتی ہے اور اس کی نگاہ میں ہے تو مجھے بتایا جائے کہ ربوہ (چناب نگر) میں جو کچھ ہورہا ہے اس کے خلاف کوئی تحقیقات کیوں نہیں کی گئی۔ مجھے کہنے دیجئے کہ اگر آپ حکومت کرنا چاہتے ہیں تو باخبر رہ کر حکومت کیجئے اور اگر درویشی اختیار کرنے کا ارادہ ہے تو دونوں جہاں سے بے خبر ہو جائیے۔ آپ نے تقریر جاری رکھتے ہوئے فرمایا کہ ابھی تک ہم مکمل طور پر آزاد نہیں ہوئے ، ہم ابھی تک ڈومینین ہیں۔ کچھ عرصہ پیشتر ہم ایک آدمی کے وفا دار نمائندے تھے۔ مگر اللہ کی شان ہے کہ ہم آج ایک عورت کے وفادار نمائندے ہیں۔ خدا کرے ہماری گورنر جنرلی کا دور جلد گزر جائے اور ہم بھی ایک بہادر اور آزاد ملک کہلاسکیں۔

آپ نے فرمایا کہ جب میں محسوس کرتا ہوں کہ پاکستان میں اب بھی کفر کا قانون ہے۔ ابھی وہی تعزیرات پاکستان ہے۔ وہی پولیس ایکٹ اور وہی پرانی ڈگر تو میرا کلیجہ خون ہو جاتا ہے۔ ہمیں جلد سے جلد اس نام نہاد دولت مشترکہ سے اپنا رشتہ توڑ کر اپنی کامل ومکمل آزادی کا اعلان کرنا ہوگا۔ شاہ صاحب نے سلسلہ کلام جاری رکھتے ہوئے میاں ممتاز دولتانہ وزیر اعلیٰ پنجاب سے بزرگانہ انداز میں شکوہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ غضب یہ ہے کہ میرا ہونہار وزیر اعظم ہر بار یہ کیوں کہتا ہے قادیانی اور احراریوں کا یہ جھگڑا آپس کا ہے میں کیونکر بتاؤں کہ یہ جھگڑا احراری اور قادیانی کا نہیں ، یہ مرزائی اور کملی والے کے پجاریوں کا مسئلہ ہے۔ میں حیران ہوں کہ اسے محض ہمارے نام سے منسوب کیوں کیا جاتا ہے۔ میں اس مرحلہ پر کہنا چاہتا ہوں کہ اگر یہ تمہارے نزدیک مجلس عمل کا مسئلہ مسلمانان عالم کا سوال نہیں اور یہ محض احراریوں کا مسئلہ ہے تو سن لو۔ کہ میں اسے اپنے لئے اس میں سعادت محسوس کرتا ہوں کہ ایک ایک احراری ختم ہو جائے گا۔ مگر مصطفیٰ ﷺ اور ناموس رسالت پر کسی بد بخت کو انگلی اٹھانے کی اجازت نہیں دے گا۔ لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ احراری فتنہ فساد خون ریزی سے اپنے مقاصد کی تکمیل چاہتے ہیں۔ میں اور میرے رفیقان کار ہزار بار اس جذبہ کی مذمت کر چکے ہیں جو خون ریزی کے جذبے ابھارے اور اس ملک کے امن کو پارہ پارہ کرنے کا موجب ہے۔

شاہ صاحب نے فرمایا کہ ہم پر الزام لگایا جاتا ہے کہ ہم الیکشن لڑنا چاہتے ہیں۔ ہم اس لئے میدان میں آئے ہیں کہ مسلم لیگ کو ختم کیا جاسکے۔ میں یہ بکواس سنتے سنتے تھک گیا ہوں۔ میں یہ اعلان کرتا ہوں کہ مجلس احرار کا کوئی کارکن اپنے جماعتی ٹکٹ پر انڈی پنڈنٹ یا کسی اور ٹکٹ پر کسی

١٨

٦١٣

صورت کبھی الیکشن میں حصہ نہیں لے گا۔ میں یہ مجلس احرار کے کسی کارکن کو کبھی ٹکٹ دیا تو میں پہ آخری کوشش کروں گا۔ آپ نے فرمایا کہ اگر آقا کبھی آپ سے بات بھی نہ کرتے اور آج اسی کو جانا پڑتا ہے۔ تمہارے سامنے جھکنا پڑ رہا ہے۔ تمہارے سامنے جھک جائیں گے۔ ایک ایک گڑگڑائے گا تاکہ ہر طریقہ استعمال کر کے تمہاری ہوں کہ بدگمانی کرنے سے باز آ جاؤ۔ نہیں اور تو کہ ہم تمہارے مقابلے میں نہیں آئیں گے تم کو ق

ہزاروں آفتیں سنگ
مگر مردان حق آگا
وہ تو یوں دیوانوں پ
کبھی بھولے سے بھی

شان

قربانی و ایثار
ایمان کے گلزار
یہ ایک حریفوں
واللہ زبان اس
گفتار کی گرمی
چاہے تو غلامی
اے قافلہ ملت
جذبوں میں مچلتی
ہیں کوثر تسنیم
لہجہ میں تڑپتی
صفحہ ٦١٣

صورت کبھی الیکشن میں حصہ نہیں لے گا۔ میں یہاں تک کہہ دینا چاہتا ہوں کہ اگر مسلم لیگ نے مجلس احرار کے کسی کارکن کو بھی ٹکٹ دیا تو میں پہلا شخص ہوں گا جو اسے ناکام کرنے کے لئے اپنی آخری کوشش کروں گا۔ آپ نے فرمایا کہ اگر آقائے نامدارﷺ کا نام درمیان میں نہ ہوتا تو ہم کبھی آپ سے بات بھی نہ کرتے اور آج اسی کملی والےﷺ کے صدقے تمہارے آستانوں پر جانا پڑتا ہے۔ تمہارے سامنے جھکنا پڑ رہا ہے۔ یاد رکھو کہ محمدﷺ کی ناموس کو بچانے کے لئے ہم تمہارے سامنے جھک جائیں گے۔ ایک ایک مسلمان تمہارے آستانوں پر جھک جائے گا گڑگڑائے گا تا کہ ہر طریقہ استعمال کر کے تمہاری مدد حاصل کرے گا۔ میں تم سے درخواست کرتا ہوں کہ بدگمانی کرنے سے باز آ جاؤ۔ تمہیں اور تمہاری بڑائی کو یہ فعل زیب نہیں دیتا ہم پر یقین کرو کہ ہم تمہارے مقابلے میں نہیں آئیں گے تم کو ہم ایسے مخلص رفیق نہیں مل سکیں گے۔

رباعی

ہزاروں آفتیں سنگ مزاحم بن کے آتی ہیں
مگر مردان حق آگاہ کچھ پرواہ نہیں کرتے
وہ توپوں کے دہانوں پر بھی سچی بات کہتے ہیں
کبھی بھولے سے بھی انجام کو دیکھا نہیں کرتے

شان بخاری

قربانی و ایثار کی تفسیر بخاری
ایمان کے گلزار کی ہے باد بہاری
یہ ایک حریفوں کے ہزاروں پہ ہے بھاری
واللہ زبان اس کی ہے شمشیر دو دھاری
گفتار کی گرمی سے خیالات بدل دے
چاہے تو غلامی کی روایات بدل دے
اے قافلہ ملت بیضاء کے عناں گیر
جذبوں میں مچلتی ہے تیرے جرات شبیر
ہیں کوثر تسنیم کی موجیں تیری تقریر
لہجہ میں تڑپتی ہے تیرے برش شمشیر

١٩

صفحہ ١٥
روشن ہوئی یہ بات تیرے حسن عمل سے
ڈرتے نہیں توحید کے فرزند اجل سے
فطرت تیری دامان شجاعت میں پلی ہے
جرأت تیری احرار کا عنوان جلی ہے
غیرت تیری ایمان کے سانچے میں ڈھلی ہے
لاریب کہ تو لخت جگر ابن علی ہے

شورش کاشمیری

ارشادات بخاری

اک چست فقرہ کس کے بخاری نے کس دیا
ڈھیلا پن آگیا جو مسلمان کی چول میں
حریت ضمیر کا ڈنکا بجا دیا
ہندوستان کے عرض میں اور اس کے طول میں
ارکان دین ہیں بستہ آزادی وطن
یہ سب فروغ آگئے ایک اس اصول میں
کانوں میں گونجتے ہیں بخاری کے زمزمے
بلبل چہک رہا ہے ریاض رسول میں
کہہ دو یہ اس سے تم کو ”خودی“ کا جو درس دے
رکھا ہی کیا ہے تیری فعولن فعول میں

مولانا ظفر علی خاں

جس زمین پر ہو عطا اللہ کا نقش قدم
ذرہ ذرہ اس زمین کا آسمان پیدا کرے
کار فرما اس کی ہمت ہو تو دل سوختہ
اپنی مشت خاک سے اپنا جہاں پیدا کرے
ابر رحمت بن کے برسے آرزو کی کشت پر
حسرتوں کی آگ دل میں وہ دھواں پیدا کرے

مولانا انعام اللہ خاں ناصر حسن پوری

٢٠

تقریر بخار

نوائے پاکستان لاہور جمعہ ١٧ جون ١٩٥ نے قائد اعظم کا جنازہ یہ سمجھ کر نہیں پڑھا تھا کہ وہ ہے کوئی سیاسی مقصد نہیں ہے۔ لائل پور کی چار روزہ ہوئے۔ امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاری کا قاط اپنے نامہ نگار سے.........! خطبہ مسن حسن اتفاق ہے کہ آج ہم میں حضرت مولانا محمد ع تقریر سے سعادت حاصل کرنے آیا ہوں۔ مجھے آ جس دھندے کو ہم لیکر بیٹھے ہیں یہ ہے کیا چیز۔ مڑ چھت ٹپکنے لگی تو وہ اپنے مکان کو لیپنے لگے۔ مکان لیپ کر فارغ ہوئے تو دیکھا تو معلوم ہوا کہ ہمسای یہ آج کی نئی بات نہیں ہے۔ چودہ سو ب کی آبادی میں مسلمان تقریباً ٧٥ کروڑ ہیں۔ حضو خاک ہو گئے۔ ان میں کتنے صحابی، تابعی، ولی، غو امت کے اولیاء لاکھوں صحابہ یہ سب عقیدے پر ب کوئی ماں نہیں ہے جو نبی جنتی۔ اللہ ایک ہے وہ کسی عقیدہ ہے۔ آمنہ کا بیٹا، عبداللہ کے گھر کا چاند، عم داماد، عثمان کا خسر، حسنین کا نانا فاطمہ کے ابا، جو اجالا جن کے بعد کوئی نبی نہیں ستر کروڑ مسلمان ا صاحب فکر وعقل، صاحب علم وہمت، صاحب فہم سب اسی عقیدہ پر قائم ہیں۔ اللہ نے فرمایا ہم نے آپ ﷺ کو خا والا بنا کر بھیجا ہے اور فرمایا کہ نبی کہے اے آدمیو! جب بھی ہو زمین پر چاند پر مریخ پر مشرق میں مغر

صفحہ ٦١٥

تقریر بخاری نمبر: ٤

نوائے پاکستان لاہور جمعہ ١٧؍جون ١٩٥٥ء ٢٣؍شوال المکرم ١٣٧٤ھ۔ ظفر اللہ خان نے قائد اعظم کا جنازہ یہ سمجھ کر نہیں پڑھا تھا کہ وہ انہیں کافر سمجھتا تھا۔ تحریک ختم نبوت ہمارا عقیدہ ہے کوئی سیاسی مقصد نہیں ہے۔ لائل پور کی چار روزہ تبلیغی کانفرنس میں تین لاکھ سے زائد افراد شامل ہوئے۔ امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاری کا فاضلانہ خطبہ!

اپنے نامہ نگار سے ............! خطبہ مسنونہ کے بعد حضرت امیر شریعت نے فرمایا کہ یہ حسن اتفاق ہے کہ آج ہم میں حضرت مولانا محمد عبد اللہ صاحب درخواستی موجود ہیں تو میں آپ کی تقریر سے سعادت حاصل کرنے آیا ہوں۔ مجھے آپ سے تین باتیں کہنا ہیں۔ پہلی بات یہ ہے کہ جس دھندے کو ہم لیکر بیٹھے ہیں یہ ہے کیا چیز۔ مثال کے طور پر عرض کرتا ہوں کہ کسی کے مکان کی چھت ٹپکنے لگی تو وہ اپنے مکان کو لیپنے لگے۔ مکان کی پچھلی طرف سے لیپنا شروع کیا۔ جب لیپ لاپ کر فارغ ہوئے تو دیکھا تو معلوم ہوا کہ ہمسائیوں کا مکان لیپ گیا ہے۔

یہ آج کی نئی بات نہیں ہے۔ چودہ سو برس سے امت اس پر ڈٹی ہوئی ہے اس وقت دنیا کی آبادی میں مسلمان تقریباً ٧٥ کروڑ ہیں۔ حضور ﷺ کے عہد سے لیکر اس وقت تک کتنے پیوند خاک ہوگئے۔ ان میں کتنے صحابی، تابعی، ولی، غوث، قطب، فقیہ، امام اور بزرگ گزرے تمام امت کے اولیاء لاکھوں صحابہ یہ سب عقیدے پر ڈٹے رہے حضور ﷺ کے بعد نبوت کسی کو نہیں ملی کوئی ماں نہیں ہے جو نبی جنے۔ اللہ ایک ہے وہ کسی کا محتاج نہیں ہم سب اس کے محتاج ہیں یہ بنیادی عقیدہ ہے۔ آمنہ کا بیٹا، عبداللہ کے گھر کا چاند، عبدالمطلب کا پوتا، صدیق اکبرؓ اور عمر بن الخطابؓ کا داماد، عثمانؓ کا خسر، حسنینؓ کا نانا فاطمہؓ کے ابا، جن کا نام نامی محمد ﷺ جن کے نام سے دو جگ کا اجالا جن کے بعد کوئی نبی نہیں ستر کروڑ مسلمان اس وقت کھڑے ہیں اور اربوں پیوند خاک ہوگئے صاحب فکر و عقل، صاحب علم و ہمت، صاحب فہم و فراست پیدا ہوئے اور پیوند خاک ہوگئے۔ وہ سب اسی عقیدہ پر قائم ہیں۔

اللہ نے فرمایا ہم نے آپ ﷺ کو تمام آدمیوں کے لئے خوشخبری سنانے اور ڈر سنانے والا بنا کر بھیجا ہے اور فرمایا کہ نبی کہئے اے آدمیوں جہاں کہیں بھی ہو اور جس زمانے میں بھی ہو اور جب بھی ہو زمین پر چاند پر مریخ پر مشرق میں مغرب میں نیچے اوپر تحت الثریٰ میں اعلان کر دیجئے

٢١

صفحہ ٦١٦

اے نبی ﷺ کہہ دیں کہ میں تم سب کی طرف پیغمبر بن کر آیا ہوں۔ جی چاہے مانو جی چاہے نہ مانو یہ ہے اصلی عقیدہ۔ اب قرآن پاک میں خاتم النبیین کی آیت نہ بھی ہو۔ پھر بھی یہ لفظ کافی تھا۔ عقیدہ عقد سے ہے اور عقد کہتے ہیں دل کی گرہ کو قرآن پاک کے سینہ بسینہ حضور ﷺ سے صحابہ تک پڑھتے پڑھاتے ہمیں وراثت میں ملا عقیدے کے بغیر عمل نہیں ہوتا۔ برا ہو یا بھلا اور عشق کا نام عقیدہ ہے۔ نماز کی فوقیت دل میں نہ ہو تو وضو کیوں کرے توحید بڑی چیز ہے اس کی ، لیکن ختم نبوت نکال دو یہ بھی کچھ نہیں رہتی ماننے کو تو لوگ خدا کو مانتے تھے۔ چاہے عیسائی عیسیٰ علیہ السلام کو اللہ کا بیٹا اور یہود عزیر علیہ السلام کو خدا کا بیٹا کعبہ میں تین سو ساٹھ خدا رکھے تھے اور ننگے ہو کر طواف کعبہ کرتے تھے۔ جب اللہ کی رحمت جوش میں آئی تو اللہ کے گھر میں چاند نکلا۔ کعبہ میں جھاڑو دی اللہ کا نام بلند کیا اور فرمایا کہ تم یوں کیوں بڑھ چڑھ کر ان کو خدا بناتے ہو۔

اگر نبی بدل گیا تو خدا نہیں رہے گا۔ پنجاب میں ایک شخص کہتا ہے کہ اللہ میاں میرے ساتھ سوئے۔ میرے ساتھ رجولیت کا اظہار کیا۔ یہ بھلا خدا ہے پھر کہتا ہے حمل ہو گیا۔ پھر میں ہی پیدا ہو گیا۔ نبوت کا مقام تو بہت ہی بڑا مقام ہے ذرا کیریکٹر تو دیکھو حیا کے مارے کبھی نگاہ نہیں اٹھی میرے مرشد حضرت مولانا عبدالقادر رائے پوری دس سال کے بعد ضلع سرگودھا میں اپنے گھر آئے تو اپنی بڑی حقیقی ہمشیرہ کو نہ پہچانا جب تک کہ انہوں نے بات نہیں کی۔

حضرت مولانا فرماتے تھے کہ بچپن ہی سے میں نے نظر اٹھا کر نہیں دیکھا۔ یہ شرم و حیا کی بات ہے۔ ہم خدا کو جانتے نہیں محمد ﷺ کو جانتے ابو جہل صدیق اکبرؓ کے پاس گیا اور کہا کہ کبھی کوئی آسمان پر گیا ہے۔ صدیق اکبرؓ نے فرمایا نہیں۔ ابو جہل نے کہا کہ تیرا یار کہتا ہے کہ میں وہاں سے ہو کر آیا ہوں۔ صدیق اکبرؓ نے فرمایا تو وہ سچ ہے اس نے کبھی جھوٹ نہیں کہا۔ یہ مجلس تحفظ ختم نبوت کوئی ہنگامی تحریک یا ایجی ٹیشن نہیں ہے۔ یہ ایک تبلیغی اور دینی جماعت ہے اور ہم اسے بقائے دوام دینے کے خواہش مند ہیں۔ تیرہ سال کی بات کہ ایک آدمی کی وساطت سے مرزائی عرب شریف چلا گیا اور مدینہ منورہ جا کر مرزا کی نبوت کی تبلیغ کی۔ میں اس شخص کا نام نہیں لیتا جس کی وساطت سے مرزائی گیا میں نے اس سے آج تک کلام نہیں کی اور نہ کروں گا۔ یہ مرزائیوں کا تبلیغی نظام ہوتا ہے۔ میں اکتوبر ١٩٢٣ء میں رہا ہو کر امرتسر آیا تو معلوم ہوا کہ مولوی نور احمد سرحدی نے قادیان میں جلسہ کیا بہت سے علمائے کرام آئے اور وعظ کر کے چلے گئے۔

مرزائیوں نے رات کو شب خوں مارا تب سے ہم نے فکری یہ انفرادی تبلیغ جماعتی تنظیم

٢٢

٦١٧ کے مقابلہ میں کچھ نہیں۔ جماعت کا مقابلہ جماعت سے حضور ﷺ کو مٹانے کا نظام بن رہا ہے۔ تب سے جماعت تعلق ملک کے سیاسی معاملات سے نہیں تھا۔ اسلام کی بنیا نے یہ فرمایا: ”لا نبی بعدی ولا رسول بعدی“ ا تک اور آج سے لے کر حشر کے گرم ہونے تک کوئی نہیں ہیں۔ اس کا کسی ملکی معاملات سے کوئی تعلق نہیں۔ بعض جھک گئے جب تم انگریز حکومت کے سامنے جھکے دبے جھک گئے تو کیا ہوا۔ ارے میرے اپنے ساتھ چھوڑ گ چاہے جائیں لیکن ادھر بھی توجہ رکھیں یہ حضور ﷺ کے نا بات نہیں آئی تو ظفر اللہ ہی سے سمجھ لو وہ وائسرائے کی ا خارجہ پاکستان تک جہاں جہاں رہے۔ لیکن کبھی قادیانی

مولوی محمد اسحاق ایبٹ آبادی نے جب ظفر کیوں نہ پڑھا تو اس نے کہا کہ میں اسے مسلمان نہیں کہ یا مسلمان حکومت کا کافر نوکر سمجھ لو آپ کو اپنی سرکار کا ملا ہے۔ سو دفعہ جاؤ عوامی لیگ میں یا مسلم لیگ میں یا کہی کی طرف بھی نگاہ کرم ڈالتے رہئے۔

مرزا بشیر نے کبھی الیکشن نہیں لڑا۔ لیکن کسی کرنسی لے کر ولایت چلا گیا فاروقی جو اس وقت یونس سیکرٹری تھے میں سندھ گیا اور جہاں گیا نوٹس میرے پڑی اور کبھی مسجد میں، مسلم لیگ کی حکومت کا مرزائی پابندی عائد کر رہا ہے۔ لیکن ربوے کی یاد نہیں چھوڑتا ہے۔ ختم نبوت سمجھی ہے۔ میرے ابا کی نہیں۔ ملکی مع دعا ہے کہ مجلس تحفظ ختم نبوت قیامت تک رہے۔ کفر کا حضور ﷺ تشریف لائے تب سے مسیلمہ کذاب پیدا نے سات سو حافظ قرآن صحابہ کو ختم نبوت کی خاطر شہ

٢٣

صفحہ ٦١٧

کے مقابلہ میں کچھ نہیں ۔ جماعت کا مقابلہ جماعت سے ہونا چاہئے ۔ ١٩٢٥ء میں ہم نے سوچا حضور ﷺ کو مٹانے کا نظام بن رہا ہے ۔ تب سے جماعت بنی اور اس کا شعبہ تبلیغ مقرر ہوا جس کا تعلق ملک کے سیاسی معاملات سے نہیں تھا۔ اسلام کی بنیاد مسئلہ ختم نبوت پر ہے۔ جب حضور ﷺ نے یہ فرمایا : ”لا نبی بعدی ولا رسول بعدی ولا امۃ بعدکم“ شروع سے لے کر آج تک اور آج سے لے کر حشر کے گرم ہونے تک کوئی نہیں جو یہ عقیدہ بدل سکے۔ ہم اس کو لے کر بیٹھے ہیں۔ اس کا کسی ملکی معاملات سے کوئی تعلق نہیں۔ بعض لوگوں کو شک ہے کہ حکومت کے سامنے جھک گئے جب تم انگریز حکومت کے سامنے جھکے دبے رہے تو ہم اگر مسلمان حکومت کے سامنے جھک گئے تو کیا ہوا۔ ارے میرے اپنے ساتھ چھوڑ گئے ۔ کسی کو کیا کہوں ؟ آپ کسی پارٹی میں چاہے جائیں لیکن ادھر بھی توجہ رکھیں یہ حضور ﷺ کے نام کا مدرسہ ہے۔ اگر آپ کی سمجھ میں میری بات نہیں آئی تو ظفر اللہ ہی سے سمجھ لو وہ وائسرائے کی ایگزیکٹو کونسل کی ممبری سے لے کر وزارت خارجہ پاکستان تک جہاں جہاں رہے۔ لیکن کبھی قادیان کو نہیں چھوڑا۔

مولوی محمد اسحاق ایبٹ آبادی نے جب ظفر اللہ سے پوچھا کہ تم نے قائد اعظم کا جنازہ کیوں نہ پڑھا تو اس نے کہا کہ میں اسے مسلمان نہیں سمجھتا تھا۔ تم مجھے کافر حکومت کا مسلمان ملازم یا مسلمان حکومت کا کافر نوکر سمجھ لو آپ کو اپنی سرکار کا ملازم ہو کر تحفظ ختم نبوت سے شرم کیوں آتی ہے۔ سو دفعہ جاؤ عوامی لیگ میں یا مسلم لیگ میں یا کہیں اور تمہاری جوانیوں کا صدقہ تحفظ ختم نبوت کی طرف بھی نگاہ کرم ڈالتے رہئے۔

مرزا بشیر نے کبھی الیکشن نہیں لڑا۔ لیکن کسی مرزائی نے انہیں نہیں چھوڑا چھ لاکھ روپیہ کی کرنسی لے کر ولایت چلا گیا فاروقی جو اس وقت یونٹ کے چیف سیکرٹری ہیں۔ سندھ کے چیف سیکرٹری تھے میں سندھ گیا اور جہاں گیا نوٹس میرے پیچھے ہوتے تھے۔ کبھی کسی کی حویلی تقریر کرنا پڑی اور کبھی مسجد میں، مسلم لیگ کی حکومت کا مرزائی نوکر۔ عطاء اللہ کے ختم نبوت کے جلسوں پر پابندی عائد کر رہا ہے۔ لیکن ربوے کی یاد نہیں چھوڑتا مرزا بشیر الدین تو اپنے ابا کی نبوت منوا رہا ہے۔ ختم نبوت سانجھی ہے۔ میرے ابا کی نہیں۔ ملکی معاملات میں ہمارا کوئی لین دین نہیں۔ میری دعا ہے کہ مجلس تحفظ ختم نبوت قیامت تک رہے۔ کفر کا یہ پروگرام کوئی آج کا نہیں ہے۔ جب سے حضور ﷺ تشریف لائے تب سے مسیلمہ کذاب پیدا ہونے شروع ہوئے۔ حضرت ابوبکر صدیقؓ نے سات سو حافظ قرآن صحابہ کو ختم نبوت کی خاطر شہید کرا دیا۔ کہتے ہیں نتیجہ نہیں نکلا۔ ارے نتیجہ

٢٣

صفحہ ٦١٩

نکل آیا۔ راولپنڈی کے سیشن جج کا فیصلہ دیکھئے۔ محمد اکبر کا لکھا ہوا۔ جو کچھ ہوا۔ میں ذمہ دار ہوں غلط ہوا یا صحیح ذمہ داری میرے سر ہے۔ ارے میں مودودی نہیں ہوں۔ بد دیانت نہیں ہوں۔ مجلس عمل کے اجلاس کراچی میں مودودی صاحب میرے زانوں کے ساتھ زانو ملائے بیٹھے تھے۔ ریزولیوشن میرے جانے سے پہلے پاس ہو چکا تھا۔ میں کہتا ہوں میں کیا کروں کتابوں اور لٹریچر کو۔ فیصلہ ہوا یا نہ ہو ” پلے کارڈ“ لے کر خواجہ کی خدمت میں جائیں میں اس سے پہلے اجلاس میں نہیں گیا تھا۔ دوسرے دن (مولانا) محمد علی (جالندھری) میرے پاس آئے اور کہا کہ آج تو چلو میں نے کہا جو پاس کرنا ہے کر لو میں عمل کرلوں گا۔ جب گیا داؤد غزنوی کے پاس بیٹھا۔ مودودی بھی پاس بیٹھے تھے۔ انہوں نے مجھے اپنے دائیں طرف جگہ دی۔ ریزولیوشن پاس ہو چکا تھا۔ (مولانا) محمد علی (جالندھری) خاص لوگوں کے دستخط کرا رہے تھے۔ میرا نام بھی لکھا اور ان کا بھی لکھوایا۔ آج وہ کہتے ہیں میں تحریک میں شامل نہیں تھا۔ میں کہتا ہوں شامل تھا۔ اگر مودودی شامل نہیں تھے تو میں ان سے حلفیہ بیان کا مطالبہ نہیں کرتا بلکہ صرف یہ مطالبہ کرتا ہوں کہ وہ اپنے لڑکوں کے سروں پر ہاتھ رکھ کر اعلان کردیں۔ میں ذمہ دار ہوں۔ میں شامل تھا جو شامل تھا اس نے سال کاٹی جو شامل نہیں تھا اس نے دو سال کاٹی۔

جب میں رہا ہوا تو ڈیوڑھی میں آکر کہا کہ جنہوں نے تقریریں کیں وہ رہا ہوئے اور جنہوں نے سر ہلایا وہ پھنسے رہے۔ یہ ہے دیانت؟ ہزاروں شہید ہوئے بیسیوں کے سہاگ لٹے۔ کئی یتیم ہوئے۔ کئی اجڑ گئے۔ (آسمان کی طرف دیکھتے ہوئے ۔ ) اللہ میں ذمہ دار ہوں قیامت کے دن بھی ذمہ دار ہوں اور آج بھی ذمہ دار یہ سب تیرے نبی ﷺ کے نام کی خاطر کیا تھا۔ ہزاروں کو مروا کر کہوں کہ میں شامل نہیں تھا۔ کیا یہی دین ہے؟ کیا کروں علم اور ادب کو میرا کلیجہ پھٹتا ہے۔ میں بولنے پہ آؤں تو ادھار کیوں رکھوں۔

ارے تم سے کافر گلیلو ہی اچھا تھا جس نے زہر کا پیالہ پی لیا تھا۔ جو ہوتا ہے ہولے نبوت ختم ہے اللہ تعالیٰ ہم سے غلط قدم نہ اٹھوائے۔ جیل میں میں نے کیا بیان نہیں لکھایا سلطان احمد کے دستخط موجود ہیں جب کہا تو کہنے لگے میں اصلاح کے لئے گیا تھا۔ خدا میری لاج رکھے جو کیا ہے اس پر قائم رکھے۔ شہر شہر، قصبہ قصبہ، صوبہ صوبہ، جہاں جہاں یہ زہر گیا ہے۔ تعاون کرو کہ تریاق بھیجیں اگر کوئی رائی جتنا بھی سیاسی مفروضہ ہو تو خدا تباہ کرے اور اگر نہیں تو خدا ہمیں برکت دے۔ سوا دو بجے جلسہ ختم ہوا۔ ختم نبوت زندہ باد!

٢٤

انوار ختم نبو

(حاجی یوسف

لگا ہے یہ دربار
عجب ہے یہ گلزار
چمک اٹھے انوار
کھلے دل پہ اسرار
مسلمان کے ایمان
کرے دل سے اقر
ہوئی خارج اسلام
کیا جس نے انکا
زمانے میں بدنام
جو ثابت ہوا غدار
وہی مکتب فکر ہے
جو ہو محو افکار
محافظ ہیں ناموس
یہ ہے شان احرا
محمد کی عزت پہ ک
ہے یہ جیش جما
امیر شریعت کی آمد
ہوا گرم بازار
مجاہد ہے، غازی ہے
ہر ایک سپہ سالا
سر اپنے کو جو
بنے گا وہ معما
شفاعت کا حقدار
بنا جو رضا کار

٢٥

صفحہ ٦١٩

انوار ختم نبوت

(حاجی یوسف زئی)

لگا ہے یہ دربار ختم نبوت
عجب ہے یہ گلزار ختم نبوت
چمک اٹھے انوار ختم نبوت
کھلے دل پہ اسرار ختم نبوت
مسلمان کے ایمان کی شرط اول
کرے دل سے اقرار ختم نبوت
ہوئی خارج اسلام سے وہ جماعت
کیا جس نے انکار ختم نبوت
زمانے میں بدنام ہوگا بشر وہ
جو ثابت ہوا غدار ختم نبوت
وہی مکتب فکر ہے سب سے افضل
جو ہو محو افکار ختم نبوت
محافظ ہیں ناموس ختم الرسل کے
یہ ہے شان احرار ختم نبوت
محمد کی عزت پہ کٹ مرنے والا
ہے یہ جیش جرار ختم نبوت
امیر شریعت کی آمد کے باعث
ہوا گرم بازار ختم نبوت
مجاہد ہے، غازی ہے، زندہ ولی ہے
ہر ایک سپہ سالار ختم نبوت
سر اپنے کو جو سنگ بنیاد سمجھے
بنے گا وہ معمار ختم نبوت
شفاعت کا حقدار حاجی وہ ہوگا
بنا جو رضا کار ختم نبوت

٢٥

صفحہ ٦٢١

تقریر بخاری نمبر ٥

روز نامہ نوائے پاکستان لاہور ١٨؍ فروری ١٩٥٦ء، ١٥؍ رجب المرجب ١٣٧٥ھ۔ اگر کسی نے نبوت کا دعویٰ کیا تو ہم سنت حضرت ابو بکر صدیقؓ کو دہرائیں گے۔ میں نے اپنی زندگی میں مودودی سے بڑھ کر جھوٹا اور داؤد غزنوی سے زیادہ غلط بیان نہیں دیکھا حکومت سے شہداء تحریک ختم نبوت کے پسماندگان کے مالی و جانی نقصان کی تلافی کرنے کا مطالبہ۔ حضرت مولانا ابو الحسنات محمد احمد قادری صدر مجلس عمل کے پہاڑ اور قوی ہیرو ہیں۔

امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ صاحب بخاری نے اپنی تقریر کا آغاز کرتے ہوئے فرمایا۔ تو میں ایک مظلوم کا مظلوم کارکن ہوں۔ آپ نے کہا کہ ہم نے کسی پر ظلم نہیں کیا اور نہ ہی ہم نے کسی کا کچھ بگاڑا ہے۔ لیکن ہم غریبوں پر ہر کسی نے ظلم کیا اور کر رہے ہیں۔ شاہ صاحب نے مزید کہا کہ کون کہتا ہے کہ انگریز چلا گیا۔ انگریز گیا نہیں بلکہ موجود ہے۔ آپ نے کہا کہ جب انگریز ہمارے سامنے تھا تو اس وقت اس نے اس قدر ظلم نہیں کیا تھا۔ جیسا کہ اب ہم پر ظلم ہو رہا ہے۔ یہ کہنے میں میں ہرگز تأمل نہ کروں گا کہ اس نے ہم پر ظلم نہیں کیا اس نے صرف اپنے قانون کے مطابق ہم کو سزا دی اور اس کے برعکس ہماری اسلامی حکومت نے ہم پر جرم ثابت کرنا تو ایک طرف ہم پر الزام نہیں لگایا اور اس کی سب سے بڑی عدالت عالیہ نے ہم کو باعزت بری کر دیا۔ مولانا صاحب نے مزید کہا کہ ہم مدتوں سے بری نہیں ہوئے۔ ہم نے کسی سے معافی نہیں مانگی۔ آپ نے کہا جنھوں نے معافی مانگی ان کو دو سال سزا ملی اور ہم کو صرف ایک سال سزا ہوئی ہم سب کو کراچی میں نظر بند کر دیا گیا تھا اور جب ہم رہا ہوئے تو قانون کے مطابق رہا ہوئے۔ ہم پر کسی کا احسان نہیں ہے۔ شاہ صاحب نے کہا کہ حکومت کے علاوہ جن لوگوں نے ہم کو ستایا وہ ایک الگ داستان ہے۔

آپ نے کہا میں حقائق پیش کروں گا۔ فیصلہ کرنا آپ کا کام ہے۔ شاہ صاحب نے مرزا غلام قادیانی کا ایک خط لوگوں کو پڑھ کر سنایا جو کہ مرزا قادیانی نے ملکہ وکٹوریہ کو ٢٠ اگست ١٨٨٩ء میں لکھا تھا اور کہا کہ یہ ہیں مرزائیوں کے نبی کے کرتوت! آپ نے کہا کہ مسلمانو تم اس غلط فہمی میں نہ رہو کہ ہم ایک ہی مسئلے کو لے کر اٹھے ہیں بعض نادان یہ کہتے ہیں کہ جب دستور اسلامی بن جائے گا تو سب مسئلے حل ہو جائیں گے۔ آپ نے مزید فرمایا کہ اب بھی مولویوں میں

٢٦

جاسوس موجود ہیں۔ مجلس عمل میں سب سے پہلے پہلے تھے۔ لیکن ہم پہلے رہا ہوئے اور وہ بعد میں ر نے ایک آیت لوگوں کے سامنے تلاوت کی اور فرما دریافت کریں جو کہ نئی نئی تفاسیر تالیف کرتا پھرتا ہ زیادہ مستند ہیں۔ امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخار گا تو ہم سنت حضرت ابو بکر صدیقؓ کو پورا کریں گے

مولانا نے فرمایا کہ میں مودودی نہیں ہ کی قرارداد خان بہادر اللہ بخش کے مکان میں پاس کراچی سے احتشام الحق اور مولانا داؤد غزنوی اور صاحب بخاری نے داؤد غزنوی کی قلابازیوں کا رہے تھے اور داؤد غزنوی باہر بیٹھے آرام کر رہے ہ میں مولانا عطاء اللہ شاہ بخاری سے مل کر آیا ہوں اس لئے اب تحریک بند کر دو۔ شاہ صاحب نے ہے۔ آپ نے مزید کہا کہ میں نے کوئی بیان نہیں تحریک کو بند کر دیا جائے۔ آپ نے کہا کہ میرے نظر بند تھا نہ کسی سے ملاقات کر سکتا تھا اور نہ ہی و سکتا (مولوی مودودی) آپ نے اپنی مظلومی کا ذک پر کچھ نہیں کہوں گا انہوں نے متعہ کو کیوں جائز کرا کے تختہ پر سوار آدمی اپنی سگی بہن کے ساتھ نکاح کر ہے کہ وہ بغیر نکاح کے رہ نہیں سکتا۔ میں یہ کہوں گا مدد کرے گی۔ مولانا سید عطاء اللہ شاہ بخاری نے میں جو بیان دیا ہے اس نے ارشاد فرمایا ہے کہ داری چار فریقوں پر برابر تقسیم ہوتی ہے۔ ایک ڈائریکٹ ایکشن کا راستہ دکھایا حالانکہ یہ بالکل غ منوانے کے لئے انہی ذرائع کے امکانات ابھی با

صفحہ ٦٢١

جاسوس موجود ہیں۔ مجلس عمل میں سب سے پہلے اور رپورٹ لکھوانے والوں میں بھی سب سے پہلے تھے۔ لیکن ہم پہلے رہا ہوئے اور وہ بعد میں۔ مسیلمہ کذاب کا ذکر کرتے ہوئے شاہ صاحب نے ایک آیت لوگوں کے سامنے تلاوت کی اور فرمایا کہ اس کا ترجمہ مولوی مودودی صاحب سے دریافت کریں جو کہ نئی نئی تفاسیر تالیف کرتا پھرتا ہے۔ اور جو کہ چودہ سو سال کے مسلمانوں سے زیادہ مستند ہیں۔ امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاری نے کہا کہ جب بھی کوئی نبوت کا دعویٰ کرے گا تو ہم سنت حضرت ابوبکر صدیقؓ کو پورا کریں گے۔

مولانا نے فرمایا کہ میں مودودی نہیں ہوں کہ اس میں شامل نہیں تھا جب راست اقدام کی قرارداد خان بہادر اللہ بخش کے مکان میں پاس ہوئی تو اس میں بنگال کے اطہر علی اور مظہر علی کراچی سے احتشام الحق اور مولانا داؤد غزنوی اور مودودی بھی شامل تھے۔ مولانا سید عطاء اللہ شاہ صاحب بخاری نے داؤد غزنوی کی قلابازیوں کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ ہم سکھر جیل میں سڑ رہے تھے اور داؤد غزنوی باہر بیٹھے آرام کر رہے تھے کہ انہوں نے بیان دے دیا کہ میں سکھر جیل میں مولانا عطاء اللہ شاہ بخاری سے مل کر آیا ہوں اور انہوں نے کہا کہ اب وزارت بدل گئی ہے۔ اس لئے اب تحریک بند کر دو۔ شاہ صاحب نے فرمایا کہ کون مردود ملا ہے اور کس مردود سے ملا ہے۔ آپ نے مزید کہا کہ میں نے کوئی بیان نہیں دیا تھا کہ وزارت بدل گئی ہے۔ اس لئے اب تحریک کو بند کر دیا جائے۔ آپ نے کہا کہ میرے بیان دینے کا سوال پیدا نہیں ہوتا کیونکہ میں تو نظر بند تھا نہ کسی سے ملاقات کر سکتا تھا اور نہ ہی داؤد غزنوی مجھ سے ملا۔ میں ہرگز ہرگز یہ نہیں کہہ سکتا (مولوی مودودی) آپ نے اپنی مظلومی کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ مودودی کے مذہبی عقائد پر کچھ نہیں کہوں گا انہوں نے متعہ کو کیوں جائز کر دیا ہے اور نہ ہی اس پر بحث کروں گا کہ ایک جہاز کے تختہ پر سوار آدمی اپنی سگی بہن کے ساتھ نکاح کرے۔ مولانا نے کہا اس کو اتنا ہی جنوں سوار ہو گیا ہے کہ وہ بغیر نکاح کے رہ نہیں سکتا۔ میں یہ کہوں گا کہ وہ اس کو اپنی ماں بنائے اور قدرت اس کی خود مدد کرے گی۔ مولانا سید عطاء اللہ شاہ بخاری نے کہا کہ مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی نے عدالت میں جو بیان دیا ہے اس میں ارشاد فرمایا ہے کہ میرے نزدیک ان اضطرابات اور ہنگامہ کی ذمہ داری چار فریقوں پر برابر تقسیم ہوتی ہے۔ ایک قادیانی اور وہ جماعتیں جنہوں نے لوگوں کو ڈائریکٹ ایکشن کا راستہ دکھایا حالانکہ یہ بالکل بے موقع اور غیر ضروری تھا اور یہاں کے مطالبہ کو منوانے کے لئے انہی ذرائع کے امکانات ابھی ختم نہیں ہوئے تھے۔

٢٧

صفحہ ٦٢٣

مرکزی وزارت، ٤ صوبائی وزارت ان چاروں فریقوں میں سے کسی کا گناہ بھی دوسرے سے کم نہیں ہے اور یہ سب اس کے مستحق ہیں۔ کہ ان پر مقدمہ چلایا جائے۔ امیر شریعت نے مزید فرمایا کہ مقدمہ چلاؤ اور ضرور چلاؤ اگر میں پھانسی لگوں گا تو تم بھی نہ بچ سکو گے۔ اس کے بعد شاہ صاحب عوام سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کیا میں یہ تحریک ختم کردوں تو لوگوں نے بلند آواز سے کہا کہ ہرگز نہیں۔

شاہ صاحب نے اپنی تقریر کو جاری رکھتے ہوئے فرمایا کہ مجھ پر دوسرا ظلم یہ کیا گیا کہ میں نے سرداہے لائل پور کے جلسہ میں یہ کہہ دیا کہ میں مودودی نہیں ہوں کہ یہ کہہ دوں کہ میں تحریک میں شامل نہیں تھا اور میں اپنا اور اپنی جماعت کا ذمہ دار اب بھی ہوں اور آئندہ بھی ہوں گا۔ میرا دھڑا رسول کا دھڑا ہے۔ آپ نے ایک خط لوگوں کے سامنے جو کہ مودودی کا تھا پڑھ کر سنایا جس میں مذکور تھا کہ دوسرے روز مولانا ابوالحسنات صدر مجلس نے اعلان فرمایا کہ یہ کنونشن صرف تحفظ ختم نبوت کے لئے بلائی گئی تھی اور اس میں اس کے علاوہ کوئی دوسرا مسئلہ پیش نہیں کیا جاسکتا۔ میں نے یہ محسوس کیا کہ اصل سوال تحفظ ختم نبوت کا نہیں بلکہ نام اور وزارت کا ہے۔ میں نے یہ بھی محسوس کیا ہے۔ مجھ کو اس سے الگ ہو جانا چاہئے۔ لیکن پھر میں نے سوچا کہ اس وقت اگر میں الگ ہو گیا تو میں صرف اپنی ذات ہی کو ان کے مکر سے بچاسکوں گا۔ شاہ صاحب نے مندرجہ بالا خط پر تبصرہ کرتے ہوئے فرمایا کہ یہ شخص بہت جھوٹا ہے میں نے اپنی زندگی میں اس سے بڑا جھوٹا کوئی نہیں دیکھا۔ دوران تقریر ایک صاحب نے کہا کہ یہ منافق ہے۔ شاہ صاحب نے کہا کہ آپ خاموش رہیں جس پر گزری ہے۔ وہ بولے گا۔ آپ نے کہا کہ لعنت ہو خدا کی جو جھوٹ بولے۔ ہم کو ایسے ایسے کذابوں سے واسطہ پڑا ہے میں قسم کھا کر کہتا ہوں کہ اگر میں گولی کھاتا تو میں بہت خوش ہوتا۔ آپ نے کہا کہ حضرت ابوبکر صدیق حضرت عمر فاروق حضرت عثمان غنی اور حضرت علی و حضرت طلحہ رضوان اللہ علیہم نے سینکڑوں حفاظ قرآن کو شہید کرا کر ختم نبوت کو زندہ کیا۔ شاہ صاحب نے کہا کہ ہم مرنے کے لئے پیدا ہوئے ہیں ہم کسی کی نبوت کو ہرگز ہرگز نہیں چلنے دیں گے۔ اگر محمد ﷺ کا وجود نہیں اور وہ خاتم نہیں تو ہم خدا ہی کو ماننے کے لئے تیار نہیں۔ آپ نے مودودی کی کذب بیانی کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ یہ کذاب دستور اسلامی خاک بنائے گا۔

چہرہ احرار پر ہے تو درخشاں آفتاب
تیری تقریروں نے پیدا کردیا ہے انقلاب
قوم کی خاطر تجھے منظور ہے قید وبلا
دھر میں پیدا نہ ہوگا حشر تک تیرا جواب

٢٨

تقریر بخاری نمبر ١

ہفت روزہ نظام نو مورخہ ١٢ مارچ ١٩٥٥ء بروز میں انقلاب نظام دین کو درہم برہم کر دیتا ہے۔

بخاری کی یاد میں

آج بھی جب ذہن ماضی کی طرف پلٹ جاتا ہے کش چہرہ سامنے آجاتا ہے اور اس کے ساتھ وہ سب رنگینیاں وابستہ تھیں کل بخاری کی یاد شدت اختیار کرگئی۔ مندرجہ ذیل اشعار

آتا ہے بہت محرم اسرار وفا یاد ہے
برباد محبت ہے ہر اک حال میں برباد بے کس
باہر بھی قفس سے نہیں چین اہلِ چمن کو مغموم
زخمی ہے جگر ہونٹ میں مجبور تبسم پابند
تقدیر سے رہنے کو ملا گھر بھی تو ایسا جس
نالوں میں ہو پیدا کشش و جذب اثر کیوں سینوں
دنیا میں تباہی کے سوا کچھ نہیں انور شاید

انجمن حمایت اسلام کے عظیم الشان اجتماع میں

آج رات انجمن حمایت اسلام لاہور کے اٹھانو میں حضرت امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاری کی تقریر تھی م میاں ممتاز محمد دولتانہ کا انتخاب کیا گیا تھا۔ غالباً یہ پہلا موقع وزیر اعلیٰ کے زیر صدارت تقریر فرما رہے تھے۔ اس بوڑھے جرنیل کے ارشادات سننے کے لئے اسلام کے وسیع میدان میں قدم بڑھا رہے تھے۔ اجلاس ش حاضرین سے کھچا کھچ بھر گیا۔ لیکن لوگوں کی آمد کا سلسلہ ابھ اضطراب تھا شاہ جی کو سننے کا، اس لئے کہ شاہ جی ایک لم تھے۔ شاہ جی کے سحر خطابت نے دلوں کو مسحور کر رکھا ہے۔

٢٩

صفحہ ٦٢٣

تقریر بخاری نمبر ٦

ہفت روزہ نظام نو مورخہ ١٢/ مارچ ١٩٥٥ء بروز ہفتہ بخاری نمبر (آزاد) بنیادی عقائد میں انقلاب نظام دین کو درہم برہم کر دیتا ہے۔

بخاری کی یاد میں

آج بھی جب ذہن ماضی کی طرف پلٹ جاتا ہے تو دھندلے تصورات میں بخاری کا دل کش چہرہ سامنے آ جاتا ہے اور اس کے ساتھ وہ سب رنگینیاں عود کر آتی ہیں جو بخاری کی ذات سے وابستہ تھیں کل بخاری کی یاد شدت اختیار کر گئی۔ مندرجہ ذیل اشعار اسی شدت احساس کا نتیجہ ہیں۔

آتا ہے بہت محرم اسرار وفا یاد ہے جس کی کہانی ہمہ افتاد در افتاد
برباد محبت ہے ہر اک حال میں برباد بے کیف عنایت ہو کہ بے داد پہ بے داد
باہر بھی قفس سے نہیں چین اہل چمن کو مصروف نوازش ہے ابھی فطرت صیاد
زخمی ہے جگر ہونٹ میں مجبور تبسم پابند کے پابند ہیں آزاد کے آزاد
تقدیر سے رہنے کو ملا گھر بھی تو ایسا جس کے در و دیوار سے بیزار ہے بنیاد
نالوں میں ہو پیدا کشش و جذب اثر کیوں سینوں میں نہیں ولولہ طبع جنوں زاد
دنیا میں تباہی کے سوا کچھ نہیں انور شاید عمل خیر کی محشر میں ملے داد

انور صابری

انجمن حمایت اسلام کے عظیم الشان اجتماع میں بخاری کی سحر آفریں تقریر

آج رات انجمن حمایت اسلام لاہور کے اٹھانوے اجلاس کی آخری نشست تھی جس میں حضرت امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاری کی تقریر تھی صدارت کے لئے پنجاب کے وزیر اعلیٰ میاں ممتاز محمد دولتانہ کا انتخاب کیا گیا تھا۔ غالباً یہ پہلا موقع تھا کہ حضرت امیر شریعت ایک صوبائی وزیر اعلیٰ کے زیر صدارت تقریر فرما رہے تھے۔

اس بوڑھے جرنیل کے ارشادات سننے کے لئے سرشام ہی لوگ جوق در جوق حمایت اسلام کے وسیع میدان میں قدم بڑھا رہے تھے۔ اجلاس شروع ہونے تک یہ حال تھا کہ پنڈال حاضرین سے کھچا کھچ بھر گیا۔ لیکن لوگوں کی آمد کا سلسلہ ابھی جاری تھا۔ عوام میں ایک شوق تھا، اضطراب تھا شاہ جی کو سننے کا، اس لئے کہ شاہ جی ایک لمبے عرصے کے بعد لاہور تشریف لائے تھے۔ شاہ جی کے سحر خطابت نے دلوں کو مسحور کر رکھا ہے۔

٢٩

صفحہ ٦٢٥

سوا دس بجے کے قریب جب اللہ کے اس بے باک شیر نے پنڈال میں قدم رکھا تو فضا نعرہ ہائے تکبیر۔ امیر شریعت زندہ باد، تاج و تخت ختم نبوت زندہ باد کے فلک شگاف نعروں سے گونج اٹھی۔ پنڈال میں ایک زندگی آگئی۔ شاہ جی ایک شان بے نیازی کے ساتھ عقیدت مندوں کے حلقہ میں سٹیج پر بڑھ رہے تھے اور عوام کی مشتاق نگاہیں کہہ رہی تھیں۔ اے شمع نبوت کے پروانے تجھ پر خدا کی ہزار ہزار برکتیں اور رحمتیں نازل ہوں۔ پریس گیلری کے ایک معزز رکن نے کہا، اگر شاہ جی کو اپنی قوت کا احساس ہو تو وہ دنیا میں انقلاب لا سکتے ہیں۔ جب حضرت شاہ صاحب سٹیج پر پہنچے تو وزیر اعلیٰ میاں ممتاز محمد خان دولتانہ نے اٹھ کر سلام علیکم لی اور شاہ جی کے ہونٹوں پر ایک مسکراہٹ پھیل گئی۔ ساڑھے دس بجے شاہ صاحب تقریر کے لئے اٹھے جب آپ نے اپنے مخصوص حجازی لہجے میں اور درد کے ڈوبے ہوئے انداز میں خطبہ مسنونہ شروع کیا تو فضا میں سکون چھا گیا۔ یوں محسوس ہوتا تھا کہ ارض و سما کی تمام قوتیں اس کلام برحق کے تاثیر میں ڈوب گئی ہیں۔ کلام پاک کی تاثیر اور بخاری کا ساحرانہ انداز۔ عوام بت بنے بیٹھے تھے۔

خطبہ مسنونہ کے بعد آپ نے فرمایا صدر محترم، بزرگانِ ملت، معزز و مکرم خواتین، مجھے کافی عرصہ سے علم ہے کہ انجمن حمایتہ الاسلام ایک تعلیمی ادارہ ہے اس کی ملی خدمات بے حد وسیع ہیں۔ گو مجھے آج سے پہلے یہ سعادت نصیب نہیں ہوئی کہ اس انجمن کے کسی جلسہ میں تقریر کروں۔ اس لئے کہ میرے لئے تو دہلی دروازہ کا باغ مخصوص ہو کر رہ گیا ہے۔ بارہ چودہ برس سے اسی پنڈال میں کھڑے ہو کر آپ کو قرآن سناتا رہا ہوں یہ تو مسلم لیگ کا صدقہ ہے کہ آج اس ملی ادارہ کے پلیٹ فارم پر کھڑا ہوں ورنہ تم کہاں اور ہم کہاں۔

ہاں ہار ماننی کیوں نہ، شریف بہادروں کا کام ہے شکست قبول کرنے والے کو گلے لگائے۔ اختلاف دلوں کا نہیں دماغوں کا تھا ہم نے دیانتداری کے ساتھ اختلاف کیا تھا۔ مسلم لیگ خلوص قلب کے ساتھ ایک ذہن کے ساتھ کام کرتی رہی ہم نے عقل و فکر کی روشنی میں ایک الگ راستہ تجویز کیا قوم نے ایک قبول کیا دوسرا مسترد کر دیا اور جس کو رد کیا اس کو گلے لگایا۔ کہ شریفوں کا یہی کام ہے۔ خدا کرے بہادر کمینہ نہ ہو اور خدا کرے کہ کمینہ بہادر نہ ہو، لاہور والو! پرانی بات کہتا ہوں۔ ویسے شکل وصورت سے بھی ہم پرانے ہی ہیں نیو کٹ تو ہیں نہیں اس لئے کسی نئی بات کی توقع مت رکھو پرانی بات کہوں گا وہی بات جو آج سے ساڑھے تیرہ سو برس فاراں کی چوٹیوں پر کہی گئی تھیں میں بے محل گفتگو کرنے کا عادی نہیں۔ یہ علمی ادارہ ہے۔ اس لئے یہاں علمی

٣٠

بات ہونی چاہئے میں کوئی محاکماتی بحث نہیں کروں سیاست کا لفظ قرآن میں متروک ہے۔

حدیث شریف میں ملتا نہیں ہاں بنیاد رکھئے پالٹکس کہا جاتا ہے۔ لیکن مجھے یہ ترجمہ پسند نہیں۔ شا یہاں وہ ترجمہ بتاؤں نہیں۔ مذہب میں تین چیزیں ہ بات کروں گا۔ الحمد للہ کہ میں آج بھی طالب علم ہوں م ہے کہ جب میں اس دنیا سے جاؤں تو بھی ایک طالب بات کروں گا۔ ہاں ذرا ذائقہ بدلنے کے لئے ادھر او ذائقہ بدلنے کے لئے۔ ہاں تو میں کہہ رہا تھا کہ مذہب معاملات ......!

اعتقادات اور عبادات کی سب کی سب ا سے لے کر گدا گری تک سب سے معاملات ہیں اور ب تو آج معاملات کو چھوڑ کر دین کی اور علم کی بات کرنا م محسوس نہیں کرتا۔ خدا نے اتنی استطاعت ضرور دی ہوں۔ چنانچہ آج علمی بات ہوگی۔ میں نے آپ کے ہے کہ ان آیات کو آپ کے ذہن نشین کرا جاؤں پھر می ساتھ نہیں دیتی:

امیر جمع ہیں احباب
کہ التفات دل دوستا

میں نے جو سورہ تلاوت کی ہے۔ سورۃ قا از کم بتیس مرتبہ پڑھتا ہے۔ اب بد قسمتی ملاحظہ ہو کہ غیر نمازی! بہر حال نمازی مسلمان ان آیات کو بتیس م مقام ہے کہ نہ امام کو اس کے معنوں کا پتہ ہے نہ مقتد سے ہماری بے توجہی خوفناک حد تک بڑھتی جاتی ہے

پتہ پتہ بوٹا بوٹا حال
جانے نہ جانے گل ہی نہ جانے

٣١

صفحہ ٦٢٥

بات ہونی چاہئے میں کوئی معاملاتی بحث نہیں کروں گا۔ معاملاتی سے میری مراد سیاسی ہے۔ سیاست کا لفظ قرآن میں متروک ہے۔

حدیث شریف میں ملتا نہیں ہاں بنیاد رکھنے کے معنوں میں ضرور آیا ہے۔ انگریزی میں پالٹکس کہا جاتا ہے۔ لیکن مجھے یہ ترجمہ پسند نہیں۔ شاید میرا ترجمہ صحیح ہو یہ الگ بات ہے کہ میں یہاں وہ ترجمہ بتاؤں نہیں۔ مذہب میں تین چیزیں ہیں میں ان پر ایک طالب علم کی حیثیت سے بات کروں گا۔ الحمد للہ کہ میں آج بھی طالب علم ہوں علم سے میری طبیعت سیر نہیں ہوتی۔ میری دعا ہے کہ جب میں اس دنیا سے جاؤں تو بھی ایک طالب علم کی حیثیت سے جاؤں۔ میں طالب علمانہ بات کروں گا۔ ہاں ذرا ذائقہ بدلنے کے لئے ادھر ادھر سے کچھ کھا لیا کرتے ہیں لیکن محض منہ کا ذائقہ بدلنے کے لئے۔ ہاں تو میں کہہ رہا تھا کہ مذہب میں تین چیزیں ہیں۔ اعتقادات عبادات، معاملات ......!

اعتقادات اور عبادات کی سب کی سب چیزیں معاملات کے تحت آتی ہیں۔ شہنشاہی سے لے کر گداگری تک سب کے سب معاملات ہیں اور سیاست بھی اس زمرے میں شامل ہے۔ میں تو آج معاملات کو چھوڑ کر دین کی اور علم کی بات کرنا چاہتا ہوں۔ خدا کا شکر ہے کہ میں ذہنًا افلاس محسوس نہیں کرتا۔ خدا نے اتنی استطاعت ضرور دی ہے کہ ہر موضوع پر بے تکلف گفتگو کر سکتا ہوں۔ چنانچہ آج علمی بات ہوگی۔ میں نے آپ کے سامنے چند آیات تلاوت کی ہیں۔ جی چاہتا ہے کہ ان آیات کو آپ کے ذہن نشین کرا جاؤں پھر موقع ملے نہ ملے میں بوڑھا ہو چکا ہوں۔ صحت ساتھ نہیں دیتی:

امیر مجمع ہیں احباب درد دل کہہ لے
کہ التفات دل دوستاں رہے نہ رہے

میں نے جو سورہ تلاوت کی ہے۔ سورۃ فاتحہ کہلاتی ہے۔ نمازی مسلمان دن میں اسے کم از کم بتیس مرتبہ پڑھتا ہے۔ اب بدقسمتی ملاحظہ ہو کہ مسلمانوں کی بھی تقسیم شروع ہوگئی۔ نمازی اور غیر نمازی! بہرحال نمازی مسلمان ان آیات کو بتیس دفعہ دن میں پڑھتا ہے۔ لیکن کس قدر افسوس کا مقام ہے کہ نہ امام کو اس کے معنوں کا پتہ ہے نہ مقتدی کو۔ حقیقت یہ ہے کہ قرآن حکیم و فرقان حمید سے ہماری بے توجہی خوفناک حد تک بڑھتی جاتی ہے۔ بالکل ناواقفیت اور نا آشنائی کیا کہوں:

پتہ پتہ بوٹا بوٹا حال ہمارا جانے ہے
جانے نہ جانے گل ہی نہ جانے باغ تو سارا جانے ہے

٣١

صفحہ ٦٢٦

آج ٩٩ فیصد نہیں بلکہ ہزار میں سے ٩٩٩ مسلمان اس کتاب سے ناواقف اور بے خبر ہیں اور اس مقدس صحیفہ کو جسے زندگی کے ہر گوشے میں رہنمائی کے لئے بھیجا تھا۔ بے نیازی اور تغافل کا شکار بنا رہے ہیں۔ آپ اس کو گستاخی پر محمول نہ کریں۔ یہ احوال واقعی ہے اور ان سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔ بہر حال یہ بحث کہ نمازی کون ہے اور بے نماز کون؟ یہ ایک الگ چیز ہے میرا روئے سخن ان کی طرف ہے جو اللہ کی دی ہوئی عقل اور فہم سے اللہ کو برحق مانتے اور جانتے ہیں۔ مجھے ان سے کوئی واسطہ نہیں جو سرے سے اللہ کے وجود کے قائل نہیں اور نہ شرعاً مجھ پر یہ چیز عائد ہی ہوتی ہے کہ میں لوگوں کو اللہ کا قائل کراتا پھروں۔ کیونکہ جب اللہ تعالیٰ منانے پر آتا ہے تو وہ ایسا مناتا ہے کہ بس مانتے ہی بنتی ہے۔ ہم نے اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ وہ عظیم قوتیں جو کل تک یہ کہتی پھرتی تھیں کہ:

WE HAVE KICKED GOD OUT OF ALL CHURCH

ہم نے خدا کو اپنے بوٹ کی ٹھوکروں سے تمام کلیساؤں سے نکال دیا ہے۔ لفظ KICK پر غور فرمائیے کس قدر سختی سے نکالا گیا۔ لیکن ایک وقت وہ بھی آیا کہ انہیں کلیساؤں میں جہاں سے خدا کو نکالا گیا ہے۔ نہایت خشوع خضوع سے دعائیں مانگی گئیں کہ اے آسمان سے روٹی دینے والے ہمارے حال پر رحم فرما اور دشمنوں کے مقابلہ پر ہمیں فتح دے۔ میرے طالب علم بچو! میں تم سے کہتا ہوں کہ اگر دونوں جہان میں فتح و نصرت حاصل کرنا چاہتے ہو تو آؤ۔ قرآن پڑھو اور اس پر عمل کر کے دیکھو۔ پھر دیکھو کہ دونوں جہاں کی رحمتیں کس طرح تم پر سایہ فگن ہوتی ہیں۔ ایک دفعہ حضرت مولانا سید انور شاہ صاحب، نور اللہ مرقدہ مدرسہ میں چل پھر رہے تھے۔ کہ ایک طالب علم کو دیکھا جو فلسفہ کی کتاب جانفشانی اور محنت سے پڑھ رہا تھا آپ نے فرمایا کاش قرآن کو سمجھنے کے لئے اتنی محنت کی جاتی۔ یقین کیجئے جب آپ قرآن حکیم سے بے نیازی کا سلوک کریں گے تو آپ کہیں کے نہیں رہیں گے۔ یہی مقدس و مطہر کتاب رشد و ہدایت کا سرچشمہ ہے۔ لیکن آج مسلمان کی زندگی کے اسی خدائی پروگرام کو گلدستہ طاق نسیاں رکھا گیا ہے۔ آپ نے سورہ فاتحہ کی تفسیر کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ میرا موضوع ہے۔ عصمت انبیاء اور میں سورہ فاتحہ کی آخری آیات کی روشنی میں اسے بیان کرنا چاہتا ہوں۔

جہاں فرمایا گیا ہے کہ اے اللہ ہمیں سیدھی راہ پر ان مقتدر ہستیوں کی راہ پر جن پر ہمیشہ تیرا انعام واکرام ہوتا رہا۔ جن پر کبھی تیرا غضب نازل نہیں ہوا اور جو کبھی بھی راہ راست سے نہیں

٣٦

بھٹکے یہ صاف اور واضح طور پر انبیاء کرام کے متعل نبی کے علاوہ اور کوئی شخص معصوم نہیں ہو سکتا۔” قدم آگے بڑھ کر کہتا ہوں کہ اللہ کی ربوبیت اور کیونکہ محمد ﷺ کی نبوت کی ابدیت ہی اللہ کی ر ہے؟ ہم کیسے یقین کرتے کہ ایسی بھی کوئی ہ اللہ ﷺ کو دیکھا ہے جنہوں نے ہمیں بتایا ہے بھائی اعتماد کی ہی تو ساری بات ہے اگر اعتماد نہ یہاں جملہ معترضہ کے طور پر ایک اور اعتماد سے کام لیجئے مسلم لیگ جس کی خاطر ہو؟ لاکھوں انسانوں کی جانیں اور عصمتوں کی کیا ارادہ ہے؟ اس سے آگے تو کوئی ٹھکانا ہی درجہ حاصل نہیں کر سکتی جو مسلم لیگ کو حاصل ہے بنیادی عقائد کی تبدیلی سے سارا نبوت کھڑی کرتے ہو تو یقین کرو کہ تمہاری نہ د

خشت اول چوں
تا ثریا م

وقت کی قلت کا شکوہ کرتے ہو۔۔ کے ساتھ بیان کرتا کیونکہ یہ مسلمانوں کی حیا ہے۔ لیکن کیا کروں پڑھی لکھی دنیا کو زیادہ دیر اٹھا رکھتا ہوں:

شب وصال بہت
کہ جوڑ دے کو

اس کے بعد شاہ صاحب نے دع نعرہ تکبیر اسلام زندہ باد، پاکستان زندہ درمیان ختم ہوا۔

صفحہ ٦٢٧

بحث یہ صاف اور واضح طور پر انبیاء کرام کے متعلق ہے۔ جن کے لئے معصومیت لازمی شرط ہے اور نبی کے علاوہ اور کوئی شخص معصوم نہیں ہو سکتا: ”مسلمانو آج میں کھل کر ایک بات کہتا ہوں بلکہ ایک قدم آگے بڑھ کر کہتا ہوں کہ اللہ کی ربوبیت اس وقت تک قائم ہے جب تک محمد کی نبوت قائم ہے۔ کیونکہ محمد ﷺ کی نبوت کی ابدیت ہی اللہ کی ربوبیت کی مظہر ہے۔ ہم میں سے کسی نے خدا کو دیکھا ہے؟ ہم کیسے یقین کرتے کہ ایسی بھی کوئی ہستی ہے جسے خدا کہتے ہیں۔ ہاں ہم نے محمد رسول اللہ ﷺ کو دیکھا ہے جنہوں نے ہمیں بتایا ہے کہ خدا بھی ہے ہمیں تو اعتماد ہے اس بلند شخصیت پر بھائی اعتماد کی ہی تو ساری بات ہے اگر اعتماد نہ ہو تو سارا کھیل ہی چوپٹ ہے۔“

یہاں جملہ معترضہ کے طور پر ایک بات اور بھی سن لیجئے۔ وقت کی نزاکت کو پہچانئے اور اعتماد سے کام لیجئے مسلم لیگ جس کی خاطر تمام جماعتوں کو مٹایا اب اسے مٹا کر کیا کرنا چاہتے ہو؟ لاکھوں انسانوں کی جانیں اور عصمتوں کی قربانی دے کر واہگہ کے اس پار ٹھکانا بنایا ہے۔ اب کیا ارادہ ہے؟ اس سے آگے تو کوئی ٹھکانا ہی نہیں ہے۔ بے اعتمادی اچھی نہیں نئی نئی جماعتیں وہ درجہ حاصل نہیں کر سکتیں جو مسلم لیگ کو حاصل ہے ہوش سے سن لو۔

بنیادی عقائد کی تبدیلی سے سارا نظام دین ہی درہم برہم ہو جاتا ہے۔ اگر آج نئی نبوت کھڑی کرتے ہو تو یقین کرو کہ تمہاری نہ دنیا میں فلاح ہے اور نہ دین میں:

خشت اول چوں نہد معمار کج
تا ثریا می رود دیوار کج

وقت کی قلت کا شکوہ کرتے ہوئے آپ نے فرمایا کہ میں اس مسئلہ کو پوری وضاحت کے ساتھ بیان کرتا کیونکہ یہ مسلمانوں کی حیات و موت کا مسئلہ ہے۔ دین اسلام کا اہم ترین مسئلہ ہے۔ لیکن کیا کروں پڑھی لکھی دنیا کو زیادہ دیر تک بٹھانا نہیں چاہئے اس لئے پھر کسی صحبت کے لئے اٹھا رکھتا ہوں:

شب وصال بہت کم ہے آسمان سے کہو
کہ جوڑ دے کوئی ٹکڑا شب جدائی کا

اس کے بعد شاہ صاحب نے دعا فرمائی اور جلسہ ساڑھے بارہ بجے بخیر و عافیت نعرہ ہائے تکبیر اسلام زندہ باد، پاکستان زندہ باد، امیر شریعت زندہ باد ختم نبوت زندہ باد کے درمیان ختم ہوا۔

٣٣

صفحہ ٦٢٩

تقریر بخاری نمبر ٧

میری تمنا ہے کہ میں ریڈیو کے ذریعے تمام دنیا کو قرآن سناؤں۔ دنیا کی جو چیز قرآن پاک سے الگ کرے اسے آگ لگا کر راکھ کر دوں۔ حضرت امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ صاحب بخاری مدظلہ!

جناب صدر محترم: میرے بزرگو، عزیز بھائیو اور معزز خواتین پرسوں آپ حضرات کے سامنے میں نے چند الفاظ اشارۃً کہے تھے کہ جس مسئلہ کو ہم لوگ بیان کر رہے ہیں ملتان کی اس کانفرنس کے اجلاس میں اور اس کے علاوہ پاکستان کے مختلف مقامات پر جلسہ کے ذریعہ اعتقادات کے متعلق بہت کم کہا جاتا ہے اور اعمال کی طرف زیادہ توجہ دی جاتی ہے۔ آج آپ دعا فرمائیں۔ انشاء اللہ العزیز عقیدے کے متعلق کچھ بیان کروں گا۔ مجھے شرم محسوس ہوتی ہے کہ ایسے اکابر کی موجودگی میں کیا عرض کروں۔ اگر برسوں تک ان حضرات کی جوتیاں سیدھی کرتا رہوں تو بھی اس قابل نہیں ہو سکتا مگر جب یہ حضرات خود ارشاد فرمائیں اور پھر مجھ جیسے ادنیٰ طالب علم کو حکم فرمائیں تو شرم سار ہوتا ہوں۔ خدا کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ ایسے اکابر علماء نے مجھے نوازا ہے اور معروضات سنکر مجھے سند بخشی ہے۔ فالحمد لله علیٰ احسانه!

حضرات! اس سے قبل ملتان میں اجمالی طور پر مجھے موقع ملا تھا۔ دل کھول کر نہ تب بیان کر سکا۔ نہ آج بیان کر سکتا ہوں آپ بزرگوں کی دعاؤں کے طفیل اس نصف شب میں اب ناتوانی کی حالت میں آپ کے سامنے ہوں۔ دعا فرماتے رہئے کہ اللہ تعالیٰ کچھ بیان کرنے کی توفیق عطا کرے۔ اسلام ان چیزوں کا احاطہ اور مجموعہ ہے۔ اعتقادات، عبادات اور معاملات اسلام میں سب سے پہلا درجہ اعتقادات کو ہے۔ اس لئے تو اللہ تبارک و تعالیٰ نے قرآن پاک میں ارشاد فرمایا: ”لیس البر ان تولوا وجوهكم قبل المشرق والمغرب ولكن البر من آمن بالله واليوم الاخر والملئكة والكتب والنبيين“ (یہ کوئی بڑی نیکی نہیں ہے کہ تم اپنے چہروں کو پھراؤ پورب کی طرف یا پچھم کی طرف بلکہ سب سے بڑی نیکی یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ آخرت کے دن اور فرشتوں اور کتاب اور تمام نبیوں کے ساتھ ایمان لائے۔) اس آیت کریمہ میں سب سے زیادہ عقائد اور یقین کو درست کیا ہے۔

٣٤

کیونکہ جب تک کوئی یقین نہ ہو اس و قدوس کے وجود کا قائل نہیں۔ حساب و کتاب کا دن دماغ میں موجود نہیں ہے کہ کوئی ایسا دن بھی آئے گا علیہم السلام کو تسلیم ہی نہیں کرتا۔ اب ایسا شخص عملی ط حقیقت ہے کہ دنیا میں کوئی ہاتھ حرکت نہیں کر سکتا۔ ج

عقیدہ یہ ایک عربی لفظ ہے جسے یقین یا گا پڑ جائے دل کا خیال ہے جیسا بھی آجائے یوں سمجھ عورت کو اپنے گھر لاتے ہیں۔ اب اگر وہ عورت آئ کر دے شاید میں یہاں رہوں گی۔ تو فرمائیے وہ گ گھر میں آنے والی عورت پہلے ہی دن یہ فیصلہ کر لے یہیں رہنا ہے۔ بس اسی فیصلہ کا نام عقیدہ ہے تو اِ چاہے کتنی عظیم الشان عمارت کھڑی کر لیں جب تک رہنا ناممکن ہے۔ عمارت وہی قائم رہے گی جس کی ب

آپ حضرات نے دیکھے ہیں۔ اگر ان درختوں کی ج پر کھڑا رہ سکتا ہے۔ درخت کی جڑ اس کی بنیاد ہے۔ ہے۔ جن لوگوں نے سیلاب زدہ علاقوں کا معائنہ ف پر ایسے درخت کھڑے رہ جاتے ہیں جن کی صرف مٹی اٹھ جاتی ہے اور ننگی جڑوں کو دیکھ کر ہم یوں خیا گا۔ مگر وہ اپنے مقام پر بدستور کھڑا رہتا ہے۔ اس ک

اب شاید آپ اچھی طرح سمجھ گئے ہو ہیں اعمال کی حضرت مولانا سید محمد انور شاہ صاحب کی بیماری لگ جائے پھر اس کو جتنی اعلیٰ سے اعلیٰ اد لگتا چلا جائے گا۔ پھر مرض بڑھتا رہے گا کم نہیں ہو

٣٥

صفحہ ٦٢٩

کیونکہ جب تک کوئی یقین نہ ہو اس وقت تک عملی قدم اٹھ نہیں سکتا جو شخص خداوند قدوس کے وجود کا قائل نہیں۔ حساب و کتاب کا دن مانتا نہیں اس آخری دن کا خیال ہی اس کے دماغ میں موجود نہیں ہے کہ کوئی ایسا دن بھی آئے گا جس کے بعد کوئی دن نہ ہوگا۔ ملائکہ اور انبیاء علیہم السلام کو تسلیم ہی نہیں کرتا۔ اب ایسا شخص عملی زندگی کیسے درست کر سکتا ہے؟ یہ ایک نفسیاتی حقیقت ہے کہ دنیا میں کوئی ہاتھ حرکت نہیں کر سکتا۔ جب تک اس کے پیچھے کوئی عقیدہ موجود نہ ہو۔

عقیدہ یہ ایک عربی لفظ ہے جسے یقین یا گانٹھ کہہ لیجئے۔ عقیدہ ایک دل کی گرہ ہے جسے بھی پڑ جائے دل کا خیال ہے جیسا بھی آجائے یوں سمجھئے! آپ اپنے بچے کی شادی کرتے ہیں اس کی عورت کو اپنے گھر لاتے ہیں۔ اب اگر وہ عورت آپ کے گھر آنے کے بعد یہ خیال کرنا شروع کر دے شاید میں یہاں رہوں گی۔ تو فرمائیے وہ گھر آباد رہ سکتا ہے؟ گھر وہی آباد ہوتا ہے جس گھر میں آنے والی عورت پہلے ہی دن یہ فیصلہ کرلے کہ اب تو میں اس گھر کی ہو رہوں گی مجھے اب یہیں رہنا ہے۔ بس اسی فیصلہ کا نام عقیدہ ہے تو اس صورت میں عقیدہ بنیاد ہو گیا ہر عمل کا، آپ چاہے کتنی عظیم الشان عمارت کھڑی کر لیں جب تک بنیاد کمزور ہوگی اس وقت تک عمارت کا کھڑا رہنا ناممکن ہے۔ عمارت وہی قائم رہے گی جس کی بنیاد مضبوط اور مستحکم ہوگی۔ بڑے بڑے درخت آپ حضرات نے دیکھے ہیں۔ اگر ان درختوں کی جڑیں کاٹ دی جائیں تو کیا درخت اپنے پاؤں پر کھڑا رہ سکتا ہے۔ درخت کی جڑ اس کی بنیاد ہے۔ اگر وہ ختم ہو جائے تو سارا درخت فوراً گر جاتا ہے۔ جن لوگوں نے سیلاب زدہ علاقوں کا معائنہ فرمایا ہے انہوں نے دیکھا ہوگا کہ بعض مقامات پر ایسے درخت کھڑے رہ جاتے ہیں جن کی صرف جڑیں نظر آرہی ہوتی ہیں۔ چاروں طرف سے مٹی اٹھ جاتی ہے اور ننگی جڑوں کو دیکھ کر ہم یوں خیال کرتے ہیں شاید یہ درخت اب کھڑا نہ رہ سکے گا۔ مگر وہ اپنے مقام پر بدستور کھڑا رہتا ہے۔ اس کی جڑیں مضبوط ہوتی ہیں۔

اب شاید آپ اچھی طرح سمجھ گئے ہوں گے کہ ایسے ہی اعتقادات بنیادیں اور جڑیں ہیں اعمال کی حضرت مولانا سید محمد انور شاہ صاحب قدس نے ایک دفعہ فرمایا کہ جب آدمی کو کوڑھ کی بیماری لگ جائے پھر اس کو جتنی اعلیٰ سے اعلیٰ اور اچھی سے اچھی غذائیں دی جائیں اس کا بدن گھلتا چلا جائے گا۔ پھر مرض بڑھتا رہے گا کم نہیں ہوگا۔ یہ طب کا ایک متفقہ علیہ مسئلہ ہے کہ اس مرض

٣٥

صفحہ ٦٣٠

کی اس صورت کبھی بھی اصلاح نہ ہوگی ایسے ہی جس آدمی کا عقیدہ خراب ہو جائے۔ بس سمجھ لیجئے کہ اس کی روح کو کوڑھ لگ گیا ہے۔ اب چاہے کتنے اچھے عمل کرتا رہے۔ اصلاح نہ ہو سکے گی اور یونہی دوزخ کے قریب ہوتا چلا جائے گا۔

ہندوستان میں ایک بہت بڑی قوم ہندو بھی آباد ہے وہ رات دن خیرات، دان اور پن کرتے ہیں ان کے اعمال کا صلہ کیوں نہیں ملتا۔ اس لئے کہ وہ مشرک ہیں۔ کہیں آگ کی پوجا کرتے ہیں۔ کہیں پانی اور مورتیوں کی کروڑوں انسان ہیں جو مورتیوں کی شرمگاہوں کو سجدہ کرتے ہیں۔ ان کو حل مشکلات خیال کرتے ہیں وہ ان کے ہاں فتح و نصرت کے مالک ہیں۔ ان سے اولادیں مانگی جاتی ہیں۔ پھر ان پر چڑھاوے بھی چڑھائے جاتے ہیں۔ لاکھوں روپیہ یونہی برباد کیا جاتا ہے۔ آخر انہیں بھی اس کا کچھ صلہ ملتا ہے۔ ان کا صلہ اس لئے نہیں مل سکتا کہ ان کا عقیدہ غلط ہے۔ وہ خالق کائنات کو اس طرح نہیں مانتے جس طرح ماننے اور تسلیم کرنے کا حق ہے۔ در اصل ان کی روح کو کوڑھ لگ گیا ہے۔ اب چاہے دان اور پن کرتے ہوئے اربوں روپیہ خرچ کر جائیں۔ انہیں اس کا صلہ ملنے کا نہیں عقائد کا درست ہونا بنیاد اور جڑ ہے عمل کی۔

قرآن مجید کے متعلق

حضرات اب یہ معلوم کرنا ہے کہ نفس کتاب کے متعلق مسلمانوں کا کیا عقیدہ ہونا چاہئے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ اپنی مقدس کتاب قرآن مجید میں ارشاد فرماتا ہے کہ وہ کتاب جو میں نے اتاری ہے اس کے ساتھ مسلمان یہ عقیدہ رکھیں۔ حضرات یہ کوئی میری شاعری نہیں میرا بیان نہیں بلکہ یہ خداوند عالم کا کلام ہے۔ فرمایا : ”الم ٠ ذالك الكتاب لاريب فيه هدى للمتقین “ یعنی یہ کتاب جو محمد رسول اللہ ﷺ پر اتاری گئی ہے اس کتاب میں کوئی بھی شک نہیں۔ یہ کتاب سراسر ہدایت ہے۔ ان لوگوں کے لئے جو پرہیز گار ہیں اور اللہ سے ڈرتے ہیں اس آیت کریمہ میں تمام شبہات منزل اور منزل الیہ دونوں کی طرف ہو سکتے تھے وہ دور کر دیئے اور صاف صاف لفظوں میں فرما دیا کہ اس کتاب و قرآن مجید میں کسی قسم کا شبہ نہ منزل کی طرف سے ہے اور نہ منزل الیہ کی طرف سے۔ کیونکہ اس کتاب میں شبہ سارے دین میں شبہ کا موجب بنتا ہے۔ پھر دین کہاں؟ شبہات سے دین منہدم ہو جاتا ہے۔ اس سے تو ایک اینٹ باقی نہیں رہ سکتی۔ دین کی ساری عمارت مسمار ہو کر رہ جاتی ہے۔ کتاب تو خود اپنے منہ سے بولتی اور جواب

٣٦

٣١ دیتی ہے۔ ”هذا كتبنا ينطق بالحق“ بکھیرنے، حفاظت کرنے والے، جمع کرنے و انسان کو کوئی دسترس نہیں۔

نزول قرآن

جہاں کتاب نے اپنے ہمیشہ حق ہو واقعہ بھی بیان کرتا ہے۔ ”تنزيل من رب ال دونوں جہاں کے پروردگار کی طرف سے پھر آ ہوئی ہوں۔ ”نزل به الروح الامين على المنذرين شوریٰ ١٩٤)“ یعنی مجھے ایک امانت و دل پر تا کہ آپ دونوں جہانوں کو ڈر سنائیں۔ اللہ دور کر دیا کہ فرشتے نے یہ خیانت نہیں کی کہ نازل یہ نہیں بلکہ فرشتہ امین ہے۔

اس لئے وہ امانت جس کی طرف بھیجی کہ جو کتاب ہم نے آپ ﷺ پر نازل کی ہے۔ ا نحن نزلنا الذكر وانا له لحافظون (١) حفاظت کریں گے۔ یہ کلام ہمارا کلام ہے یہ با آپ پر قرآن ایک ہی دفعہ نہیں اتارا بلکہ آہستہ آ حصہ حصہ، تھوڑا تھوڑا، رکوع رکوع، کبھی کہیں کبھی کہی کبھی حضرت عائشہ صدیقہؓ کے سامنے بیٹھے، کبھی کبھی پہاڑوں کی چوٹیوں پر کبھی راہ چلتے، کبھی او اتارا، آہستہ آہستہ اتارا تا کہ ساتھ ساتھ عملی پروگر پر قرآن پاک کی ضرورت پیش آتی رہی ہم اتار مقابل کہ جواب دینے کے لئے آیات نازل کیں

صفحہ ٦٣١

دیتی ہے۔ ”ہذا کتبنا ینطق بالحق“ یہ کتاب حق بولتی ہے اس کتاب کو اتارنے والے، بکھیرنے، حفاظت کرنے والے، جمع کرنے والے، خود اللہ تعالیٰ آپ ہیں اس معاملہ میں کسی انسان کو کوئی دسترس نہیں۔

نزول قرآن

جہاں کتاب نے اپنے ہمیشہ حق ہونے کا ذکر کیا۔ وہاں کتاب اپنے نازل ہونے کا واقعہ بھی بیان کرتا ہے۔ ”تنزيل من رب العلمین (واقعہ: ٨٠)“ نازل کی گئی یہ کتاب اس دونوں جہاں کے پروردگار کی طرف سے پھر آگے بیان کیا کہ مجھے کون لے کر آیا اور کس پر نازل ہوئی ہوں۔ ”نزل بہ الروح الامین علیٰ قلبك لتکون نذیر اللعلمين (لتکون من المنذرین شوری ١٩٣)“ یعنی مجھے ایک امانت دار فرشتہ لے کر آیا اور نازل ہوئی آپ ﷺ کے دل پر تاکہ آپ دونوں جہانوں کو ڈر سنائیں۔ اللہ اللہ۔ فرشتے کے ساتھ امین کی قید لگا دی اور یہ شبہ دور کر دیا کہ فرشتے نے یہ خیانت نہیں کی کہ نازل تو ہونا تھی کسی اور پر اور نازل ہو گیا (محمد ﷺ پر یہ نہیں بلکہ فرشتہ امین ہے۔

اس لئے وہ امانت جس کی طرف بھیجی گئی تھی اس کے سپرد کی ہے پھر آگے خود بیان فرمایا کہ جو کتاب ہم نے آپ ﷺ پر نازل کی ہے۔ اس کی حفاظت کی آپ ﷺ فکر نہ کریں۔ ”انا نحن نزلنا الذکر وانله لحفظون (الحجر: ٩)“ ہم نے یہ کتاب اتاری اب ہم خود اس کی حفاظت کریں گے۔ یہ کلام ہمارا کلام ہے یہ بات ہماری بات ہے۔ آپ تو صرف بولتے ہیں۔ آپ پر قرآن ایک ہی دفعہ نہیں اتارا بلکہ آہستہ آہستہ اتارا گیا۔ قرآن مجید کو آیت آیت، لفظ لفظ، حصہ حصہ، جزاً بجزاً، رکوع رکوع، کبھی کہیں کبھی کہیں، کبھی محراب میں تو کبھی ممبر پر کبھی میدان میں تو کبھی حضرت عائشہ صدیقہ کے سامنے بیٹھے، کبھی فاطمۃ الزہرا کے دروازہ پر کبھی غاروں کے اندر کبھی پہاڑوں کی چوٹیوں پر کبھی راہ چلتے، کبھی اونٹنی پر غرضیکہ مختلف مقامات اور مختلف اوقات میں اتارا، آہستہ آہستہ اتارا تاکہ ساتھ ساتھ عملی پروگرام بھی چلتا رہے۔ جہاں جہاں اور جس جس موقع پر قرآن پاک کی ضرورت پیش آتی رہی ہم اتارتے رہے کبھی حقیقت کو نکھارنے کے لئے کبھی مد مقابل کو جواب دینے کے لئے آیات نازل کیں۔ کیا حق ہے کسی انسان کو جس کو رب بکھیرے وہ

٣٧

صفحہ ٦٣٢

اس کو جمع کرے یہ حق تو اسی ذات کو حاصل ہے جو اسے پھیلائے وہی سمیٹے اور فرمایا: ”فامنوا بالله ورسوله النور الذى انزلنا والله بما تعملون خبير۔ يوم يجمعكم ليوم الجمع ذالك يوم التغابن“ پس ایمان لاؤ اللہ اور اس کے رسول اور اس نور کے ساتھ جو اس نے نازل فرمایا اور اللہ تعالیٰ اس سے باخبر ہے جو تم عمل کرتے ہو جب اکٹھے ہونے والے دن تمہیں جمع کیا جائے گا وہی دن ہار جیت کا دن ہوگا۔

اشاعت قرآن

آج یہاں قاضی احسان احمد صاحب نے روس کی چھپی ہوئی ایک کتاب دی جس کا نام شائد ”اسٹالین“ ہے۔ قاضی صاحب نے اس کی طباعت و کتابت کی خوبیوں اور اس کی دلکشی و دلفریبی کی قصیدہ خوانی بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ شاہ جی ملاحظہ فرمائیے۔ باوجود ان تمام خوبیوں کے قیمت صرف سوا روپیہ ہے۔ میں کہتا ہوں کہ یہ کوئی کمال ہی نہیں ہے۔ اسٹالین کی حکومت، اپنی سیاہی، اپنی قلم، اپنا کاغذ، اپنا پریس، ملازمین اور کارندے اپنے غرضیکہ اس سلسلہ کے وہ تمام سامان مہیا وہ جو چاہے اور جس طرح چاہے شائع کراسکتا ہے۔ اسے تو یہ کتاب دنیا کو مفت تقسیم کرنا چاہئے یہ قیمت رکھ کر تو اس نے تمام خوبیوں پر پانی پھیر دیا ہے۔ اسٹالین کا یہ کوئی کمال نہیں۔ کمال اور خوبی ملاحظہ کرنی ہو تو قرآن مجید کی تاریخ پر غور فرمائیں۔ وہاں نہ قلم، نہ سیاہی، نہ دوات، نہ کاغذ، نہ پریس، نہ کوئی عملہ نہ حکومت اور نہ ہی دنیاوی ساز و سامان موجود ہے جس کے بل بوتے پر قرآن مجید کی اشاعت کا اہتمام کیا جاسکے۔ لیکن وہ قرآن پاک آج لاکھوں انسانوں کے سینوں میں محفوظ ہے۔ میں دنیا کو چیلنج کرتا ہوں کہ قرآن پاک کی طباعت و اشاعت کے مقابلہ میں دنیا کی کوئی ایسی کتاب لائیے جو اس سے زیادہ اشاعت پذیر ہو اور اس سے زیادہ انسانوں کے سینوں میں محفوظ ہو۔ سبحان اللہ قرآن پاک کو تھوڑا تھوڑا نازل کر کے ایسا سمو دیا تا کہ آپ بھی آہستہ آہستہ سکھاتے رہیں۔

تعلیم انبیاء

دنیا حیران ہے کہ وہ پیغمبر آخر الزماں حضرت محمد ﷺ نہ تو لکھنا جانتے ہیں اور نہ ہی پڑ ”ولا تخط بيمينك وما تدرى الكتب“ یعنی نہ تو آپ اپنے ہاتھ سے کچھ تحریر

صفحہ ٦٣٣

کر سکتے ہیں اور نہ کسی کتاب کو پڑھ سکتے ہیں۔ دنیا ہے کہ پروانوں کی طرح جان نثار ہورہی ہے یہاں ایک بات کہہ دوں یاد رکھئے گا۔ حضرت آدم علیہ الصلوٰۃ والسلام سے لے کر پیغمبر آخر الزماں حضرت محمد رسول اللہ ﷺ تک کوئی نبی اور کوئی پیغمبر پڑھا لکھا نہیں آیا۔ دنیا کے کسی کتب خانہ کسی یونیورسٹی کسی دارالمطالعہ میں کسی نبی کے ہاتھ کا لکھا ہوا کوئی نسخہ لکھا ہوا دکھا دو:

نہ ہر کہ چہرہ برافروخت دلبری داند
نہ ہرکہ آئینہ سکندری داند

دنیا نے تو نبوت ورسالت کو ایک مذاق بنا دیا ہے نبوت تو خدا وند قدوس کی چادر ہے نبی سے خطا خدا پر طعن ہے۔ حضرات میں عرض کر رہا تھا کہ پیغمبر پڑھا لکھا نہیں آیا اور پڑھا ہو بھی کیسے؟ وہ پیغمبر ہی کیا جو کسی استاد کے آگے زانوئے ادب طے کرے۔ پیغمبر اور نبی تو اللہ تعالیٰ کی گود میں پڑھتے ہیں وہ تو اللہ سے پڑھتے ہیں اس لئے پیغمبر خدا ﷺ پر جب پہلی وحی نازل ہوئی تو اس میں تعلیم دینے کا ہی ذکر ہے۔ ”اقرأ باسم ربک الذی خلق“ (اے محمد ﷺ! آپ اپنے رب کے نام پڑھئے جس نے آپ کو پیدا کیا ۔) پیغمبر اللہ کا شاگرد ہوتا ہے۔ پیغمبر ہر مجلس ہر محفل اور ہر سوسائٹی میں بے داغ ہوتا ہے۔ حسب ونسب اور خاندان کے اعتبار سے سربلند ہوتا ہے۔ حضور ﷺ فرماتے ہیں: ”انا بن عبدالمطلب“ (میں عبدالمطلب کی اولاد میں سے ہوں ۔) ”انا النبی لا کذب“ (اور میں سچا نبی ہوں)

یہ بات کوئی شاعرانہ قافیہ نہیں ہے۔ بلکہ یہ ایک حقیقت اور وہ الفاظ ہیں جو قریش مکہ کی موجودگی میں کہے گئے۔ آپ قریش سے مخاطب ہو کر فرماتے ہیں۔ جانتے ہو کہ میں صادق اور امین ہوں۔ حاضرین نے یک زبان ہو کر کہا واقعی آپ صادق اور امین ہیں۔ آپ نے فرمایا جانتے ہو میں کون ہوں میں اپنی زندگی کے چالیس سال تم میں رہا ہوں میری زندگی کے کسی داغدار گوشہ پر انگشت نمائی کیجئے حاضرین پر سکتہ طاری تھا۔ کسی کو جرأت نہ تھی کہ آپ کی زندگی کے کسی گوشے پر انگشت نمائی کرسکیں۔ تعلیم انبیاء کا سلسلہ کسی انسان کے ساتھ نہیں ہوتا۔ بلکہ انبیاء کی تعلیم خدا کے سپرد ہوتی ہے۔ میں نے جو وحی اول کی تلاوت کی ہے۔ اس میں جب پیغمبر علیہ السلام کو حضرت جبرائیل علیہ السلام کے ذریعہ وحی نازل ہورہی ہے تو آپ ﷺ اس وحی الٰہی کو جلدی جلدی یاد کرنے کی کوشش فرماتے ہیں اس پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے ارشاد ہوتا ہے: ”لا تحرک

٣٩

صفحہ ٦٣٥

به لسانك لتعجل به (القیامة:١٦)“ آپ جلدی جلدی زبان نہ ہلائیے آپ گھبرائیے نہیں۔ یہ ہماری کتاب ہے: ”کتاب انزلناه اليك (ابراهیم:١) “ہم آپ پر نازل فرما رہے ہیں آپ فکر نہ کیجئے: ” انا علينا جمعه وقرآنه (القیامه:١٧) “اس کتاب کا یاد کرانا اسے آپ کے ذہن میں جمع کرنا اور آپ کو پڑھانا اور یہ سب ہمارے ذمہ ہے۔ محترم حضرات یہ جو عرض کر رہا ہوں۔ یہ وہ قرآن پاک ہے جو خداوند قدوس کی پاکیزہ کلام ہے کلام وہی ہوتی ہے جو منہ سے نکلے۔ خداوند تعالیٰ نے اپنے حبیب محمد رسول اللہ ﷺ سے جو باتیں کیں آپ کے ساتھ جو گفتگو ہوئی ان کا مجموعہ قرآن مجید ہے یہ کلام ہمیشہ ہمیشہ باقی رہے گا۔ اسے فنا نہیں۔ کیونکہ جب تک خدا موجود ہے۔ اس کا کلام بھی باقی زندہ رہے گا۔ قرآن پاک کا اسلوب بیان کتنا اچھا اور کتنا پیارا ہے۔ فرمایا:

” الحمدلله رب العلمين الرحمن الرحيم۔ ملك يوم الدين۔ اياك نعبد واياك نستعين۔ اھدنا الصراط المستقيم۔ صراط الذين انعمت عليهم غير المغضوب عليهم والضالين (الفاتحه) “ (تمام تعریفیں اور پاکیزگی اللہ ہی کی ذات کے لئے ہے جو ساری کائنات کا پروردگار اور روزی رساں ہے۔ جو رحم کرنے والا ہے دنیا میں اور رحیم ہے آخرت میں جو جزا کے دن کا مالک ہے۔ اے اللہ آپ اتنی تعریفوں اور خوبیوں کے مالک ہیں ہم خالص آپ ہی کی پوجا کرتے ہیں اور خالص آپ ہی سے ہر قسم کی مدد طلب کرتے ہیں۔ آپ ہمیں سیدھے راستے پر خود چلائیے۔ ان لوگوں کے راستہ پر جن پر آپ نے انعام و کرام کیا ہے۔ ہمیں ان لوگوں کے راستہ پر نہ چلائیے۔ جن پر آپ کا غصہ اور غضب نازل ہوا۔ آمین ) محترم حضرات اللہ تعالیٰ کے اس کلام سے نتیجہ یہ نکلا کہ خدا کے متعلق بندوں کا عقیدہ کیسا ہونا چاہئے۔

عصمت انبیاء

حضرات! تعلیم انبیاء اور عقائد کے متعلق چند ضروری باتیں کر گیا ہوں۔ اب عرض کرنا باقی ہے کہ انبیاء علیہم السلام فطرتاً معصوم ہوتے ہیں۔ حضرات انبیاء علیہم السلام ان پڑھ تو ہوتے ہیں لیکن جاہل اور نادان نہیں ہوتے:

محمد بشر وليس كالبشر
بل هو ياقوت والناس كالحجر

٤٠

نبی کو خدا تعالیٰ خود چلاتے ہیں۔ نبی ﷺ اللہ تعالیٰ خود نہ حکم کریں پیغمبر علیہ السلام اپنے دو ملے ہوئے خدا تعالیٰ اجازت نہ فرمائیں: ” والنجم اذا هوى ۔ ينطق عن الهوىٰ ان هو الا وحى يوحى ( ہمارے نصب العین اور ہمارے انقلابی پروگرام سے ذرا اپنی زبان تک نہیں ہلاتے۔ جب تک کہ ہماری طرف سے پیغمبر ﷺ کی اتنی صفائی پیش فرما رہے ہیں اور آج آپ نبوت کیا جا رہا ہے۔ یہ کوئی مسئلہ ہے۔ یہ مسئلہ اگر پوچھنا ابن عباسؓ، حسنؓ و حسینؓ اور فاطمۃ الزہرہؓ سے پوچھو وہ ا صادر کرتے ہیں۔ پیغمبر آخر الزمان حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ دریافت کیجئے! جنہوں نے آپ کی رسالت آپ کے دین ایک ایک محبوب چیز قربان کر دی۔ ایمان کی قدر و قیمت مدینہ میں سو رہے ہیں۔ آپ پڑ گئے ہیں شعر و شاعری میں اور عبادات ہڑپ کر گئے ہیں۔ آپ کہاں بیٹھے ہیں؟ آپ اور اللہ تعالیٰ اپنے پیارے پیغمبر ﷺ کی زندگی کے ایک ہیں ۔” وما رميت اذ رميت ولكن الله رمى (الا لڑنے والی کافروں کی فوج پر آپ نے پتھراؤ نہیں کیا تھا قوت ہماری تھی وہ ہم پھینک رہے تھے۔

مسئلہ: یہاں ایک مٹھی کا ذکر آیا تو اللہ تعالیٰ نے سب ہم ہی کر رہے تھے۔ میں یہاں ایک سوال کرتا ہوں حضرت علی کرم اللہ وجہہ کو اپنی چارپائی اور اپنے بستر پر سلا رائے سے یا اللہ کے حکم اور اس کی مرضی کے تابع؟ حضرت کے حکم سے؟ غار میں بیٹھے ہوئے اونٹنیاں طلب کیں تو کس کی ایک مٹھی خدا کی مٹھی ہے اور کفار پر پتھراؤ اور مٹی پھینک

٤١

صفحہ ٦٣٥

نبی کو خدا تعالیٰ خود چلاتے ہیں۔ نبیﷺ اتنا عرصہ ہاتھ پاؤں نہیں اٹھاتا جب تک خدا تعالیٰ خود نہ حکم کریں پیغمبر علیہ السلام اپنے دو ملے ہوئے ہونٹ اتنا عرصہ کھول نہیں سکتا جب تک خدا تعالیٰ اجازت نہ فرمائیں: ”والنجم اذا هوى ما ضل صاحبكم وما غوى وما ينطق عن الهوى ان هو الا وحى يوحى (النجم: ١ تا ٤)“ یعنی پیغمبر علیہ السلام ہمارے نصب العین اور ہمارے انقلابی پروگرام سے ذرہ بھر بھی ادھر ادھر نہیں ہوتے وہ اتنا عرصہ اپنی زبان تک نہیں ہلاتے۔ جب تک کہ ہماری طرف سے وحی نہیں ہو جاتی۔ دیکھئے اللہ تعالیٰ تو اپنے پیغمبرﷺ کی اتنی صفائی پیش فرما رہے ہیں اور آج آپ کی نبوت کو غیر کافی قرار دے کر دعوائے نبوت کیا جا رہا ہے۔ یہ کیسا مسلمان ہے۔ یہ مسئلہ اگر پوچھنا ہے تو حضرت ابوبکرؓ ، عمرؓ ، عثمانؓ ، علیؓ ، عباسؓ ابن عباسؓ ، حسنؓ ، حسینؓ اور فاطمۃ الزہرہؓ سے پوچھو وہ اس مسئلہ کے متعلق کیا جواب اور کیا فتویٰ صادر کرتے ہیں۔ پیغمبر آخر الزمان حضرت محمد مصطفیٰﷺ کی شان اور آپ کی عظمت ان سے دریافت کیجئے! جنہوں نے آپ کی رسالت آپ کے دین کو زندہ اور باقی رکھنے کے لئے زندگی کی ایک ایک محبوب چیز قربان کر دی۔ ایمان کی قدر و قیمت ان سے دریافت فرمائیے جو آج مکہ اور مدینہ میں سو رہے ہیں۔ آپ پڑ گئے ہیں شعر و شاعری میں آپ اس الجھاؤ میں آکر تمام معاملات اور عبادات ہڑپ کر گئے ہیں۔ آپ کہاں بیٹھے ہیں؟ آئیے میں آپ کو خدا کا پاکیزہ کلام سناؤں اور اللہ تعالیٰ اپنے پیارے پیغمبرﷺ کی زندگی کے ایک ایک شعبے کے ساتھ کیسے اپنا تعلق بتا رہے ہیں۔ ”وما رميت اذ رميت ولكن الله رمى (انفال: ١٧)“ یعنی اسلام کے مد مقابل آکر لڑنے والی کافروں کی فوج پر آپ نے پتھراؤ نہیں کیا تھا۔ وہ ہاتھ تو آپ کا ہاتھ تھا۔ مگر اس میں قوت ہماری تھی وہ ہم پھینک رہے تھے۔

مسئلہ: یہاں ایک مٹھی کا ذکر آیا تو اللہ تعالیٰ نے اپنا تعلق ظاہر فرما دیا۔ کہ اے محمدﷺ یہ سب ہم ہی کر رہے تھے۔ میں یہاں ایک سوال کرتا ہوں کہ ہجرت کے دن جب حضورﷺ نے حضرت علی کرم اللہ وجہہ کو اپنی چارپائی اور اپنے بستر پر سلایا تھا۔ وہ آپﷺ نے ذمہ داری اور اپنی رائے سے یا اللہ کے حکم اور اس کی مرضی کے تابع؟ حضرت صدیق کو ساتھ لے کر باہر نکلے تو کس کے حکم سے؟ غار میں بیٹھے ہوئے اونٹنیاں طلب کیں تو کس کے مشورے سے؟ اگر حضرت محمدﷺ کی ایک مٹھی خدا کی مٹھی ہے اور کفار پر پتھراؤ اور مٹی پھینکنا خدا کا پتھر پھینکنا اور مٹی پھینکنا ہے تو کیا باقی

٤١

صفحہ ٦٣٦

سارا مذکورہ پروگرام جو تھا وہ قدوس کی مرضی اور اس کے حکم کے بغیر ہی ہے؟ جب نبی آخر الزماں ﷺ نے صدیق اکبرؓ سے حضرت عائشہ صدیقہؓ کے متعلق نکاح کی درخواست کی۔ پھر جب حضور ﷺ نے نکاح کے موقع پر قبلت کہا اور قبول فرمایا تو وہ خداوند قدوس کی مرضی کے بغیر ہی تھا؟ (یاد رکھئے!) میں عرض کرچکا ہوں کہ پیغمبر علیہ السلام کی زبان حرکت نہیں کرتی۔ ہونٹ نہیں کھل سکتے۔ قدم اٹھ نہیں سکتا۔ کوئی فیصلہ صادر نہیں ہوسکتا جب تک اللہ تعالیٰ خود حکم نہ فرمائیں اور اپنی رضامندی کا اظہار نہ کریں۔

اظہار حقیقت

حضرات! آپ نے قرآن پاک میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی ولادت کا سارا واقعہ پڑھا ہوگا وہ کتنا دردناک پہلو ہے کہ حضرت مریم علیہا السلام جن کی شادی نہیں ہوئی۔ کسی نے ہاتھ نہیں لگایا اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام پیدا ہوگئے۔ دنیا نے لب کشائی شروع کردی تو اب وہاں کون تھا جو صفائی پیش کرے۔ مریم علیہ السلام کو بیٹا تو اللہ تعالیٰ نے دیا تھا اب اس کی صفائی بھی خود پیش کی۔ ”قالت هذا من عند الله۔ فاشارت اليه قالوا كيف نكلم من كان فى المهد صبيا قال انى عبدالله۔ اتنى الكتب وجعلنى نبيا (مریم ٢٩، ٣٠)“ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی زبان سے کہلایا جو ابھی چند دنوں کے بچے تھے۔ اب چند دنوں کا بچہ بھی بات چیت کر سکتا ہے لیکن چونکہ یہاں وہ اللہ کے حکم سے پیدا ہوئے تھے۔ دنیا کے ان شبہات کو دور کرنے کے لئے عیسیٰ علیہ السلام کی زبان مبارک سے بریت کرائی کہ مریم علیہا السلام کا کوئی قصور نہیں ہے۔ وہ مجرم نہیں وہ پاک دامن اور معصوم ہیں۔ ایسے ہی حضرت عائشہ صدیقہؓ سے نکاح کے وقت حضور ﷺ نے جب قبلت فرمایا تو وہ خدا کا حکم تھا یعنی خداوند تعالیٰ نے حضرت عائشہ صدیقہؓ کی بریت خود دی۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ محمد ﷺ عائشہ صدیقہؓ کو قبول کرنے میں راضی ہوں میری اجازت ہے۔ میرا حکم ہے۔ اب یہاں بھی جب الزام تراشی ہوئی تو بریت خود دی۔ یہ آیت کریمہ ”والذين يؤذون المؤمنين والمؤمنات بغير ماكتسبوا فقد احتملوا بهتانا واثما مبينا

(احزاب: ٥٨)“

عظمت قرآن

حضرت میں نے اس وقت تھوڑے وقت میں قرآن پاک کا اسلوب بیان کیا عرض کروں میں تو قرآن پاک کا مبلغ ہوں جو چیز قرآن پاک سے الگ کرے اسے آگ لگا دو! جس

٤٢

قرآن مبارک کی اتنی عظمت ہے کہ مقدس کتاب کو ٹھکراتے ہو۔ شاعرا دوہڑوں پر تمہارا اعتبار ہے۔ ایک ہا کے لئے کچھ تو سوچو۔ یہ قرآن پاک مکہ کی غاروں مدینہ کی گلیوں اور طائف کی گئی۔ آگے اللہ تعالیٰ اپنے پیغمبرا ترین انسان آپ پر ایسی کتاب نازل کافی نہیں ہے۔ آج اگر دنیا قرآن مقابلہ میں تاریخ کا انکار کر کے کیوں کو آگ لگا دوں جو قرآن پاک سے دل میں کئی مرتبہ یہ جذبات ابھرے ہ کے انسانوں کو اللہ تعالیٰ کی پاکیزہ کلا مقابلہ میں ایسا پاکیزہ کلام لاؤ۔ حضر صدیقہ کو قبول کرتے وقت قبلت تمہا علی کرم اللہ وجہہ کو تب دی جب ارش خطاب تب دیا جب اللہ پاک کی رضا اس کے حکم کے بغیر پیغمبر قم فانذر۔ وربك فكبر۔ وثیا اٹھئے اور لوگوں کو ڈر سنائیے اور اپن جگائے تو آپ جاگ اٹھیں۔ وہ بٹھا کھلائے تو آپ کھاتے ہیں۔ بیوی ا الزام تراشی ہو اور وہ خاموش رہے؟ ہے۔ اس لئے آپ بولتے نہیں۔ اس اظہار کیا۔ جس کے حکم سے نکاح ہ الفاظ میں بریت کا اعلان کیا اللہ کا

صفحہ ٦٣٧

قرآن مبارک کی اتنی عظمت ہے کہ خدا خود اس کی حفاظت کا ذمہ دار۔ تم تاریخ کو مانتے ہو اور مقدس کتاب کو ٹھکراتے ہو۔ شاعری اور غزلیں تمہارے ہاں مسلم ہیں۔ بے ہودہ اور فضول وڈیروں پر تمہارا اعتبار ہے۔ ایک پاک قرآن پاک ہے جسے تم ہر قدم پر نظر انداز کر رہے ہو خدا کے لئے کچھ تو سوچو۔ یہ قرآن پاک کیسے کیسے بچایا گیا۔ اس کی کن کن مقامات پر حفاظت کی گئی۔ مکہ کی غاروں مدینہ کی گلیوں اور طائف کے بازاروں سے پوچھو کہ قرآن مجید کی کیسے کیسے حفاظت کی گئی۔ آگے اللہ تعالیٰ اپنے پیغمبر ﷺ کو مخاطب فرما کر فرماتے ہیں اے امین کائنات اے انفس ترین انسان آپ پر ایسی کتاب نازل ہے جو سراسر نصیحت و ذکر ہے کیا یہ میرے بندوں کے لئے کافی نہیں ہے۔ آج اگر دنیا قرآن پاک کا انکار کر کے مسلمان رہ سکتی ہے تو میں قرآن پاک کا مقابلہ میں تاریخ کا انکار کر کے کیوں مسلمان نہیں رہ سکتا؟۔ میرا بس چلے تو دنیا کی ان تمام کتابوں کو آگ لگا دوں جو قرآن پاک سے دور لے جارہی ہوں۔ دنیا قرآن مجید کو سمجھتی کیا ہے؟ میرے دل میں کئی مرتبہ یہ جذبات ابھرے ہیں کہ میرا بس چلے تو میں آل ورلڈ ریڈیو اسٹیشن سے ساری دنیا کے انسانوں کو اللہ تعالیٰ کا پاکیزہ کلام قرآن مجید سناؤں اور دنیا کو چیلنج کروں کہ قرآن پاک کے مقابلہ میں ایسا پاکیزہ کلام لاؤ۔ حضرات میں عرض کر رہا تھا کہ پیغمبر علیہ السلام نے حضرت عائشہ صدیقہ کو قبول کرتے وقت قبلت تب کہا جب خدا کا حکم ہوا۔ اپنی پیاری بیٹی فاطمۃ الزہراء حضرت علی کرم اللہ وجہہ کو تب دی جب ارشاد ہوا اور حضرت عثمان کو اپنی دو بیٹیاں دے کر ذوالنورین کا خطاب تب دیا جب اللہ پاک کی رضا مندی ہوئی۔

اس کے حکم کے بغیر پیغمبر علیہ السلام اپنی نگاہ اوپر نہیں اٹھاسکتے تھے۔ يايها المزمل۔ قم فانذر۔ وربك فكبر۔ وثيابك فطهر (المزمل:٤) ﴿اے چادر اوڑھنے والے آپ اٹھئے اور لوگوں کو ڈر سنائیے اور اپنے پروردگار کی بڑائی بیان کیجئے۔﴾ آپ سوتے ہیں۔ اللہ جگائے تو آپ جاگ اٹھیں۔ وہ بٹھائے تو آپ بیٹھ جائیں۔ وہ چلائے تو آپ چل پڑیں۔ وہ کھلائے تو آپ کھاتے ہیں۔ بیوی پر الزام لگا تو دنوں تک خاموش رہے کون ہے جس کی بیوی پر الزام تراشی ہو اور وہ خاموش رہے؟ آپ کیوں نہیں بولتے اس لئے کہ بلانے والا ابھی بلاتا نہیں ہے۔ اس لئے آپ بولتے نہیں۔ اب حق اسی کا تھا جس نے شادی کی جس نے اپنی رضا مندی کا اظہار کیا۔ جس کے حکم سے نکاح ہوا۔ وہی اب بریت بھی کرے۔ چنانچہ اسی ذات نے واضح الفاظ میں بریت کا اعلان کیا اللہ کا حکم ہوا۔ وحی نازل ہوئی تو آپ بولے اللہ تبارک و تعالیٰ نے

٤٤٣

صفحہ ٦٣٨

ایمان والوں پر اپنا احسان جتلاتے ہوئے ذکر کیا کہ: ”لقد من الله على المؤمنين اذا بعث فيهم رسولاً منهم (آل عمران: ١٦٤) ”اللہ پاک نے ایمان والوں پر اپنا احسان فرمایا ہے کہ ان میں سے اپنا ایک رسول بھیجا۔ ہم میں تو محمد ﷺ دے کر اپنا احسان جتلایا اور محمد ﷺ پر احسان یہ کہ بیوی بد اخلاق؟ (العیاذ باللہ، ثم العیاذ باللہ ) آپ ذرا ٹھنڈے دل سے غور فرمائیں کہ یہ الزام تراشی کس پر کی جارہی ہے۔ تمہاری دو پیسے والی کتابیں سچی اور خدا کا کلام جھوٹا؟ (استغفر اللہ )

محمد عربی ﷺ کا نام لینے والو، محمد ﷺ کے دیوانے بنو۔ وہ جذبہ پیدا کرو جو نوعمر بچوں کو مجبور کردے کہ میدان کارزار میں ابو جہل کا نام پوچھتے پھریں اس لئے کہ ابو جہل حضرت محمد ﷺ کی شان میں نازیبا الفاظ استعمال کرتا ہے اور یہ چیز ہم اپنی زندگی میں کبھی برداشت نہیں کر سکتے۔

نبی کی ثابت قدمی

دنیا نے آپ کو پھسلانے کے لئے کئی حربے استعمال کئے اس کی بریت کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ ”وان کادوا ليفتنونك عن الذی او حينا اليك لتفترى علينا غيره واذا لا تخذوك خليلا (بنی اسرائیل: ٧٣) ”قریب تھا کہ کافر آپ ﷺ کو اس چیز سے جو ہم نے آپ کی طرف بذریعہ وحی نازل کی ہے آزمائش میں ڈالیں تاکہ وہ ہم پر اس کے سوائے جھوٹ باندھ کر آپ کو دوست بنالیں ۔ ولولا ان ثبتنك لقد كدت تركن اليهم شيئاً قليلا (بنی اسرائیل: ٧٤) ”اور اگر ہم آپ ﷺ کو ثابت قدم نہ رکھتے تو قریب تھا کہ آپ ﷺ تھوڑا سا ان کی طرف جھک جاتے۔ آپ کو اپنی جگہ سے ذرہ بھر بھی ادھر ادھر نہ ہونے دیا۔ یہ ثابت قدم کس نے رکھا؟ آپ کو کس نے پھسلنے اور کفار کے دھوکہ میں آنے سے بچایا۔ یہ اللہ تبارک وتعالیٰ کی ذات ہے۔ حضرت یوسف علیہ السلام کا واقعہ آپ حضرات کو معلوم ہے۔

”ولقد همت به وهم بھالولا ان رأبرهان ربه كذالك لنصرف عنه السوء والفحشاء انه من عبادنا المخلصين (یوسف: ٢٤) ”ایک عورت نے حضرت یوسف علیہ السلام کے ساتھ بدی کا ارادہ کیا اور آپ بھی بدی کا ارادہ کر لیتے۔ اگر انہوں نے اپنے پروردگار کی نشانیاں نہ دیکھی ہوتیں۔ یہاں بعض لوگ ہم بہا سے ترجمہ یہ کرتے ہیں۔ آپ نے بھی ارادہ کر لیا تھا۔ اب کون سمجھائے قرآن پاک کے اسلوب بیان کو یہاں سرے سے ارادے ہی کا انکار اور ارادے کی نفی ہے۔ کیونکہ انبیاء علیہ السلام کو خطا و عصیاں کے تصورات اور ارادے سے ہی

٤٤

معصوم ہوتے ہیں اگر نبی کی عصمت ثابت گئے۔ پیغمبر کو جب حکم ہوا صدیق سے کہو عم جائیں ۔ چنانچہ آپ ﷺ نے اللہ کے حکم دامن نبوت میں آکر پناہ ملی اب چاہے عا تب بچ سکتے ہیں جب پیغمبر کا دامن نبوت کریں کسی اور جگہ اور تلوار گلے کی اور جگہ

مقام عبرت

گیلے وال (لودھراں کے قریب ایک بوڑھے اور عمر رسیدہ شخص کے دو یا تین جھگڑے کی بناء پر مشتبہ صورت میں گرفتار ہو اطوار و عادات دیکھ کر کچھ عرصہ قید رکھنے کے اس مظلوم قیدی کو اس دن کتنی خوشی اور کتنی نے رہائی کی خوشی میں سیدھا اپنے گھر کا رخ لڑکا اندھیری رات گھر پہنچا گھر گیا تو اس کی کیا تو اس کی بیوی نے بتایا کیونکہ آج عید ہیں۔ وہ لڑکا اپنی بیوی کے ساتھ ایک ہی چار دونوں میاں بیوی بستر کے ساتھ باعث بیٹھے بیٹھے دونوں کو نیند آگئی۔ اسی اثناء کنویں والوں کو کیا خبر تھی کہ آج گھر کون آی بھائی کی بیوی کے ساتھ کوئی آدمی لیٹا ہوا ہے ہو لیا اور سیدھا اپنے بوڑھے باپ کے پاس تیرے لڑکے کی پاک دامن اور عفت مآب چار پائی پر سورہی ہے۔ اب بوڑھا باپ اور پھاڑے سنبھالے گھر آئے۔ بوڑھا باپ تو تیز چھاوڑے کے ساتھ قتل کر دیا۔ لڑکا اپنا چھاو لئے آیا تو باپ نے اندھیرے میں یہ خیال کی

صفحہ ٦٣٩

معصوم ہوتے ہیں اگر نبی کی عصمت ثابت ہو پیغمبر کی عصمت محفوظ ہو تو جو دامن میں آگئے وہ بھی بچ گئے۔ پیغمبر کو جب حکم ہوا صدیق سے کہو عمرؓ سے کہو۔ عثمانؓ، طلحہؓ اور زبیرؓ سے کہو کہ وہ میرے ساتھ مل جائیں۔ چنانچہ آپ ﷺ نے اللہ کے حکم کے مطابق دعوت دی انہوں نے اس پر لبیک کہا اور دامن نبوت میں آکر پناہ ملی اب چاہے عائشہ رضی اللہ عنہا ہو ابوبکرؓ ہو عمرؓ ہو عثمانؓ ہو علیؓ ہو کوئی ہو وہ تب بچ سکتے ہیں جب پیغمبر کا دامن نبوت محفوظ ہے اور اس کی عصمت باقی ہے۔ ایسا نہ ہو کہ وار کریں کسی اور جگہ اور تلوار لگے کسی اور جگہ۔

مقام عبرت

گیلے وال (لودھراں کے قریب ایک قصبہ ہے) کا ایک عبرت ناک واقعہ ہے کہ وہاں ایک بوڑھے اور عمر رسیدہ شخص کے دو یا تین بیٹے تھے ان میں ایک لڑکا شادی شدہ تھا وہ کسی مقامی جھگڑے کی بناء پر مشتبہ صورت میں گرفتار ہو گیا۔ لڑکا شریف الطبع اور نیک تھا۔ حکومت نے اس کے اطوار و عادات دیکھ کر کچھ عرصہ قید رکھنے کے بعد رہا کر دیا۔ آپ حضرات خود ہی اندازہ فرمائیں۔ اس مظلوم قیدی کو اس دن کتنی خوشی اور کتنی مسرت ہوئی ہوگی جب اسے رہا کر دیا گیا ہوگا۔ لڑکے نے رہائی کی خوشی میں سیدھا اپنے گھر کا رُخ کیا۔ گاؤں ذرا دور تھا راستے میں کافی دیر ہوگئی اور وہ لڑکا اندھیری رات گھر پہنچا گھر گیا تو اس کی بیوی موجود تھی اپنے باپ اور دوسرے بھائی کا پتہ معلوم کیا تو اس کی بیوی نے بتایا کیونکہ آج کھیت کو پانی لگ رہا ہے اس لئے دونوں کنویں پر جاچکے ہیں۔ وہ لڑکا اپنی بیوی کے ساتھ ایک ہی چارپائی پر بیٹھا تھا۔

دونوں میاں بیوی بستر کے ساتھ ٹیک لگا کر بیٹھے تھے۔ کافی عرصہ رات گزر جانے کے باعث بیٹھے بیٹھے دونوں کو نیند آگئی۔ اسی اثناء میں کنویں سے اس کا دوسرا بھائی بھی گھر آ پہنچا۔ اب کنویں والوں کو کیا خبر تھی کہ آج گھر کون آیا ہوا ہے؟ اس نے جب اندر جھانکا تو دیکھا کہ اس کے بھائی کی بیوی کے ساتھ کوئی آدمی بیٹھا ہوا ہے۔ بس کیا کہنا۔ وہ تو غیرت کے مارے وہیں سے واپس ہولیا اور سیدھا اپنے بوڑھے باپ کے پاس پہنچا اور کہا۔ ذرا گھر چل کر اس عورت کا حال دیکھ جو تیرے لڑکے کی پاک دامن اور عفت مآب بیوی ہے۔ وہ اب اس وقت کسی مرد کے ساتھ ایک چارپائی پر سو رہی ہے۔ اب بوڑھا باپ اور اس کا لڑکا دونوں غیرت و غصے سے بے تاب ہو کر اپنے پھاوڑے سنبھالے گھر آئے۔ بوڑھا باپ تو باہر دروازے پر کھڑا رہا لڑکا اندر گیا اور اس نے جاتے ہی تیز پھاوڑے کے ساتھ قتل کر دیا۔ لڑکا اپنا پھاوڑا وہیں ڈال کر جب باہر اپنے باپ کو اطلاع دینے کے لئے آیا تو باپ نے اندھیرے میں یہ خیال کیا کہ وہی مرد ہے جو میرے لڑکے کی بیوی کے ساتھ لیٹ

٤٥

صفحہ ٦٤٠

رہا تھا۔ اس نے اس کے سر پر اتنے زور سے پھاوڑا مارا کہ وہیں دو ٹکڑے کردیا۔ اب اپنا پھاوڑا سنبھالے اندر اپنے لڑکے کو آواز دی کہ بیٹا آجا ؤ اسے تو میں نے باہر دروازے پر ختم کر دیا ہے۔ اب اندر سے کون ہے۔ جو آواز دے۔ بوڑھے کے دل میں خیال آیا کہ روشنی لے کر ذرا دیکھوں تو سہی کہ یہ آدمی کون تھا۔ باپ نے اندر جا کر دیکھا تو اس کا بڑا لڑکا اور اس کی بیوی دونوں دائمی نیند سورہے ہیں اور دونوں کے سر تن سے جدا جدا پڑے ہیں۔ دیکھتے ہی چیخ نکل گئی ہائے یہ تو میرا ہی گھر لٹ گیا۔ دوڑا ہوا باہر آیا تو دروازے پر دوسرا لڑکا ٹکڑے ٹکڑے ہو چکا تھا۔ میرے غیرت مند بھائیو ایسا نہ ہو کہ تلوار تو اٹھاؤ صحابہؓ پر اور گھر برباد ہو جائے محمد رسول اللہ ﷺ کا۔

یاد رکھئے صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین کو دیکھتے وقت دامن نبوت اور عصمت نبوت کو بھی دیکھ لینا۔ ایسا نہ ہو کہ صحابہ رضوان اللہ علیہم کے دامن پر حملہ کرتے وقت دامن نبوت کو تار تار کر دیا جائے۔

حضرات! میں نے آپ کا قیمتی وقت لے کر اعتقادات، عبادات اور عصمت انبیاء کے چند مسائل آپ کے سامنے عرض کئے ہیں۔ امید ہے کہ آپ حضرات اچھی طرح سمجھ چکے ہوں گے۔ اب وقت کافی گزر چکا ہے صبح طلوع ہونے کو ہے میں اپنی بیماری کی حالت میں اتنا کچھ کہہ گیا ہوں۔ آپ دعا فرمائیں کہ اللہ تعالیٰ مجھے صحت کاملہ عطا فرمائے اور ہمیں دامن نبوت میں چھپائے رکھے۔ آمین! وما علینا الا البلاغ!

ہر کفر کی ظلمت کو بدلنے کے لئے
اطوار ضلالت کو بدلنے کے لئے
آیا ہے تو اے امیر شریعت بے شک
دنیائے مرزائیت کو بدلنے کے لئے

نتیجہ فکر ارسطوئے زمان بقراط دوراں جناب عزت مآب حکیم عبدالمجید صاحب راحی دہلوی

ہے ختم نبوت کا بہر حال واعظ
ہے مانع بدعت اور قاطع روافض
امیر شریعت بخاری خدا یاد
رہے زندہ ختم نبوت کا حافظ

از قلم ابوالحفیظ رحمانی سنی چشتی ...... غفوری محلہ وانی خانہ بدوش

٤٦

بسم الله الرحمن الرحيم

قہر یزد

بر قلعہ قا

مولانا ابو منظور محمد نظا

PDF 642

دونوں ٹکڑے کر دیا۔ اب اپنا پھاوڑا نے باہر دروازے پر رکھ دیا ہے۔ اب آیا کہ روشنی لے کر ذرا دیکھوں تو سہی اور اس کی بیوی دونوں دائمی نیند سو رہے یخ نکل گئی ہائے یہ تو میرا ہی گھر لٹ گیا۔ ا۔ میرے غیرت مند بھائیو! ایسا نہ ہو کہ

وقت دامن نبوت اور عصمت نبوت کو پر حملہ کرتے وقت دامن نبوت کو تار

عادات، عبادات اور عصمت انبیاء کے پ حضرات اچھی طرح سمجھ چکے ہوں اپنی بیماری کی حالت میں اتنا کچھ کہہ طا فرمائے اور ہمیں دامن نبوت میں

کے لئے کے لئے بے شک کے لئے عبدالمجید صاحب راہی دہلوی حال واعظ لع روافض خدا یار کا حافظ فی خانہ بدوش

انا خاتم النبيين لا نبي بعدي

یہ آیت اور احادیث صحیحہ سے اسلام کی بنیاد ثابت ہے

قہر یزدانی

بر قلعہ قادیانی

مولانا ابو منظور محمد نظام الدین قادری

صفحہ ٦٤٣

بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ الحمدلله رب العلمين والصلوة والسلام على رسوله محمد وعلى آله واصحابه اجمعين . اما بعد!

خادم شریعت ابو المنظور محمد نظام الدین برادران اہل سنت والجماعت کی خدمت میں عرض پرداز ہے کہ آج کل فرقہ مرزائیہ لوگوں کو طرح طرح کی باتیں سنا کر دام تزویر میں پھنسا رہے ہیں۔ لہٰذا خادم شریعت نے یہ رسالہ بڑی جانفشانی سے تیار کیا ہے۔ تاکہ عوام الناس ان کے ہتھکنڈوں سے بچائیں۔ ”وما توفيقی الا بالله العلى العظيم“

سوال ....... مرزا قادیانی کو اگر مسیح ، حضرت امام مہدی مانا جائے تو اس میں کیا حرج ہے؟ جواب دو اجر ملے گا۔

(السائل : غلام محی الدین)

جواب ....... مرزا قادیانی کو امام مہدی و عیسیٰ ماننا بھی منع ہے۔ بلکہ شارع علیہ السلام نے اس کے کفر میں شک کرنے والے کو بھی کافر، دائرہ اسلام سے خارج گنا ہے۔ پھر اس کی بیعت کہاں اور امام مہدی و عیسیٰ ماننا کس طرح پر جائز ہو سکتا ہے؟ اور علاوہ اس کے ان کے علامات مرزا قادیانی میں ہرگز نہیں پائے جاتے۔ اور وہ یہ ہیں ناظرین ملاحظہ کریں۔

بی اور باپ غلام مرتضیٰ تھا۔

دمشق کو دیکھا ہی نہیں۔

بھی نہیں دیکھا۔

سن کر لڑائی کے لئے کھڑے ہو جاتے تھے۔

امام مہدی علیہ السلام کے پیچھے پڑھیں گے اور دجال کو طلب کریں گے اور ان کے لئے زمین سمٹ جائے گی۔ مرزا قادیانی کو یہ باتیں کہاں نصیب ہوئیں؟

٢

قادیانی میں یہ صفت کہاں؟

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی چوتھی قبر ہوگی۔ اور حج بھی کریں مرزا قادیانی تو لاہور میں ناگہانی موت سے فوت ہوئے او

قتل کریں گے۔ لیکن مرزا قادیانی قلم کا گھوڑا ہی چلاتے رہے

برکت ہو جائے گی اور مال بہت ہوگا یہاں تک کہ کوئی بخی اور مرزا قادیانی کے زمانہ میں زنا، چوری و خون ریزی اور فر درجہ کا زور شور تھا۔ یہاں تک کہ مرزا قادیانی نے اپنے منکر کہہ کر یہ فتویٰ شائع کر دیا کہ ان کے پیچھے نماز قادیانی کی ہو کرنا درست ہے۔

نشانات امام مہدی علیہ السلام

نام غلام احمد بن غلام مرتضیٰ ذات مغل پنجابی قادیانی۔

یہ کہاں ہیں؟ نہ اسکو علم حضوری اور نہ ہی اس نے مکہ کو دیکھ کو ان کی زیارت نصیب ہوا کرتی ہے۔

سمیت، اور لوگ ان کو بیعت لینے کے لئے مجبور کریں گے افعال واقوال اس کے برعکس تھے اور مرزا قادیانی کے ہمر روشن ہے۔

عیسائی پر سیاہ جھنڈے اتریں گے اور انکے زمانہ میں عدل وان

٣

صفحہ ٦٣٣

نمبر ٧...... حضرت عیسیٰ علیہ السلام دجال کے محاصرہ سے بیت المقدس کو آزاد کریں گے، اور مرزا قادیانی میں یہ صفت کہاں؟ نمبر ٨...... حضرت عیسیٰ علیہ السلام مدینہ منورہ میں آپ ﷺ کے روضہ میں مدفون ہوں گے اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی چوتھی قبر ہوگی۔ اور حج بھی کریں گے۔ مرزا قادیانی کو یہ مرتبہ کہاں ملا مرزا قادیانی تو لاہور میں ناگہانی موت سے فوت ہوئے اور قادیان میں مدفون ہوئے۔ نمبر ٩...... حضرت عیسیٰ علیہ السلام دجال کو مقام لد پر قتل کر کے نیزوں پر چڑھا کر لوگوں کو دکھائیں گے۔ لیکن مرزا قادیانی قلم کا گھوڑا ہی چلاتے رہے۔ نمبر ١٠...... حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے زمانہ میں یاجوج و ماجوج ہوں گے اور اسلام وعدل سے زمین پر ہو جائے گی اور مال بہت ہوگا یہاں تک کہ کوئی بشر صدقہ دیا ہوا کسی سے قبول نہ کرے گا۔ اور مرزا قادیانی کے زمانہ میں زنا، چوری و خون ریزی اور فرقہ بندی و بے انصافی و قطع رحمی کا نہایت درجہ کا زور شور تھا۔ یہاں تک کہ مرزا قادیانی نے اپنے منکرین مسلمین غیر قادیانیوں کو کافر ودجال کہہ کر یہ فتویٰ شائع کر دیا کہ ان کے پیچھے نماز قادیانی کی ہرگز جائز نہیں اور نہ ہی ان کے رشتہ داری کرنا درست ہے۔

(دیکھو فتویٰ احمدیہ)

نشانات امام مہدی علیہ السلام

نمبر ١...... اسم شریف محمد بن عبداللہ فاطمۃ النسب ذات ہاشمی علوی اہل عرب کی ، مرزا قادیانی کا نام غلام احمد بن غلام مرتضیٰ ذات مغل پنجابی قادیانی۔ نمبر ٢...... حضرت امام مہدی مکہ میں ظہور فرمائیں گے رکن میں بیعت لیں گے، اور ان کے پاس یہ کہاں ہیں؟ نہ اسکو علم حضوری اور نہ ہی اس نے مکہ کو دیکھا اور نہ ہی اس نے رکن دیکھا جو حاجیان کو ان کی زیارت نصیب ہوا کرتی ہے۔ نمبر ٣...... حضرت امام مہدی کا ظہور تین سو تیرہ ابدالوں کے ساتھ ہوگا۔ جو رات کو عابد دنوں کو شیر، اور لوگ ان کو بیعت لینے کے لئے مجبور کریں گے وہ انکار فرمائیں گے۔ مرزا قادیانی کے افعال واقوال اس کے برعکس تھے اور مرزا قادیانی کے ہمراہیوں کی عابدی اور شیری ہر ایک فرد بشر کو روشن ہے۔ نمبر ٤...... حضرت امام مہدی کی لڑائی سفیانی و روم والے کے ساتھ ہوگی اور ان کے زمانہ میں پانی پر سیاہ جھنڈے اتریں گے اور انکے زمانہ میں عدل وانصاف نہایت درجہ کا ہوگا، اور مرزا قادیانی

٣

PDF 645

کے زمانہ میں یہ امور ہرگز پائے نہیں جاتے۔ پس ناظرین جبکہ مرزا قادیانی میں یہ نشانات مفقود ہیں تو پھر کس لئے امام مہدی و عیسیٰ مسیح علیہ مانا جا سکتا ہے۔ اور یہ علامات مشکوٰۃ شریف و ترمذی و نسائی و مشارق الانوار وغیرہ کتب حدیث میں مسطور ہیں۔ ملاحظہ کریں۔

سوال ....... مرزا قادیانی کہتے ہیں کہ میرے لئے چاند اور سورج نے شہادت دی ہے۔ چنانچہ سورج و چاند کو مطابق فرمودہ نبی ﷺ کے ”گرہن ماہ رمضان میں لگا۔ پس یہ دلیل میرے امام ہونے کی ہے۔“

جواب ...... مرزا قادیانی کا یہ کہنا بھی بالکل غلط اور بے اصل ہے۔ وہ دلیل اصل میں یہ ہے: ''قال ان لمهدينا آيتين لم تكونا منذ خلق السموت والارض تنكسف القمر اول ليلة من رمضان وتنكسف الشمس في نصف منه (سنن دارقطنی ج ٢ ص ٦٥)'' ﴿یعنی امام باقر محمد بن علی فرماتے ہیں کہ ہمارے امام مہدی کے دو نشان ایسے ہیں کہ جب سے آسمان و زمین پیدا ہوئے ہیں۔ کبھی ایسے نشان نہیں ہوئے۔ (یعنی خرق عادت کے طور پر ) اول رات رمضان میں چاند کا گرہن ہوگا اور نصف رمضان میں سورج کا ۔﴾

اب ناظرین و مرزائی صاحبان ایمان سے فرمائیں کہ واقعی ایسا ہوا ہے ہرگز نہیں ہوا۔ یہاں پر مرزا قادیانی نے غلط معنی کئے ہیں کہ : ”اول کے معنی ١٣، ١٤ اور نصف رمضان کے معنی ٢٨، ٢٩“ قربان جائیے ایسی سمجھ پر اور ساتھ یہ بھی دھوکہ دے دیا ہے کہ ایسا کبھی نہیں ہوا۔ حالانکہ نظام حساب قمری کے موافق جبکہ چاند و سورج کا دور ختم ہو کر اجتماع آنے کا ہوگا تو چاند و سورج کو ماہ رمضان میں ضرور گرہن لگے گا اور افسوس کہ اس حدیث کو مرزا قادیانی نے کیوں ترک کر دیا: ''قبل خروج المهدى ينكسف القمر في شهر رمضان مرتين''

اور علاوہ اس کے مرزا قادیانی نے خود صاف صاف بایں طور پر تحریر کر دیا ہے کہ: ”یہ بات یاد رکھنے کے لائق ہے کہ مسلمانوں کے قدیم فرقوں کو ایک ایسے مہدی کی انتظار ہے جو فاطمہ مادر حسین کی اولاد میں سے ہوگا اور نیز ایسے مسیح کی بھی انتظار ہے جو اس مہدی سے مل کر مخالفان اسلام سے لڑائیاں کرے گا مگر میں نے اس بات پر زور دیا ہے کہ یہ سب خیالات لغو اور باطل اور جھوٹ ہیں اور ایسے خیالات کے ماننے والے سخت غلطی پر ہیں ایسے مہدی کا وجود ایک فرضی وجود ہے۔ اور جو نادانی اور دھوکہ سے مسلمانوں کے دلوں میں جما ہوا ہے اور سچ یہ ہے کہ بنی فاطمہ سے کوئی مہدی آنے والا نہیں اور ایسی تمام حدیثیں موضوع اور بے اصل اور بناوٹی ہیں جو غالباً

٤

عباسیوں کی سلطنت کے وقت میں بنائی گئی ہی ہے۔

پس ناظرین یاد رکھئے کہ جب سے صاف صاف انکار کر دیا ہے تو پھر اپنی نو کی مثال صادق آگئی یا نہیں۔ اور اس کو امام

سوال ..... نبی ﷺ کے بعد دعویٰ نبوت کر ظلی نبی ہوں اس کے لئے شرعا حکم کیا ہے؟

جواب ..... آنحضور ﷺ کے بعد دعویٰ نبو نامدار محمد رسول اللہ ﷺ کے قابل قتل ہے۔ امر اظہر من الشمس ہے: ''لقوله تعال رسول الله وخاتم النبيين وكان رسول اللہ ﷺ تم میں سے کسی مرد کے باپ تعالیٰ ہر ایک چیز کو جاننے والا ہے۔﴾

پس اللہ تعالیٰ نے اس آیت کر بولا جاتا ہے۔ لا کر ابوت کی نفی فرمادی ہے حرمت مصاہرت وغیرہ لازم ہو۔ ہاں یہ محبت کے باپ ہوا کرتے ہیں جیسا کہ حض بـنـاتـی هـن اطهر لكم ''اور محمد رسو زیادہ محبت کرنے والے ہیں ۔'' اور انہیں ہو چکا ہے اور تمہارے لئے اور کسی نبی کی ہو چکے ہیں۔ چنانچہ فرمایا: ''اليوم اكملـ لـكـم الاسـلام دينا (مائده:٣) '' لـ مندی بھی ظاہر ہو گئی اور آپ کی شفقت کا من الشمس ہو گئی اور علاوہ اس کے آیت

صفحہ ٦٣٥

عباسیوں کی سلطنت کے وقت میں بنائی گئی ہیں..... اور سچ یہ ہے کہ مجھے خبر دی گئی ہے کہ وہ شخص تو یہی ہے۔

(کشف الغطاء ص ١٢، خزائن ج ١٤ ص ١٩٣)

پس ناظرین یاد رکھئے کہ جب مرزا قادیانی نے خود امام مہدی آخرالزمان کی آمدن سے صاف صاف انکار کر دیا ہے تو پھر اپنی زبان سے میاں مٹھو طوطا کہلانا دروغ گورا حافظہ نباشد کی مثال صادق آگئی یا نہیں۔ اور اس کو امام مہدی ماننے والا کذاب تصور ہو گا یا نہیں؟ فقط !

(المجیب ابوالمنظور محمد نظام الدین ملتانی عفی عنہ)

سوال ...... نبی ﷺ کے بعد دعویٰ نبوت کرنا درست ہے یا نہیں اور جو شخص یہ کہے کہ میں بروزی یا ظلی نبی ہوں اس کے لئے شرعاً حکم کیا ہے؟

جواب ...... آنحضور ﷺ کے بعد دعویٰ نبوت کرنا صریح کفر ہے اور مدعی نبوت بعد از آقائے نامدار محمد رسول اللہ ﷺ کے قابل قتل ہے۔ چنانچہ قرآن مجید واحادیث صحیحہ واجماع امت سے یہ امر اظہر من الشمس ہے: ’’لقوله تعالى: ما كان محمد ابا احد من رجالكم ولكن رسول الله وخاتم النبيين وكان الله بكل شىء عليما (احزاب: ٤٠)‘‘ ﴿یعنی محمد رسول اللہ ﷺ تم میں سے کسی مرد کے باپ نہیں مگر اللہ تعالیٰ کے رسول اور خاتم النبیین ہیں اور اللہ تعالیٰ ہر ایک چیز کو جاننے والا ہے۔﴾

پس اللہ تعالیٰ نے اس آیت کریمہ میں لفظ لکن سے جو کہ استدراک رفع توہم کے لئے بولا جاتا ہے۔ لا کر ابوت کی نفی فرمادی ہے کہ محمد رسول اللہ ﷺ تمہارے حقیقی باپ نہیں کہ جس سے حرمت مصاہرت وغیرہ لازم ہو۔ ہاں یہ بات ضروری ہے کہ انبیاء علیہم السلام از روئے شفقت ومحبت کے باپ ہوا کرتے ہیں جیسا کہ حضرت لوط علیہ السلام نے اپنی قوم کے لئے کہا: ’’هؤلاء بناتي هن اطهر لكم‘‘ اور محمد رسول اللہ ﷺ تو از راہ شفقت کے تمہارے والدین سے بھی زیادہ محبت کرنے والے ہیں۔ ’’اور انہیں کے وجود پر شفقت ومحبت ورسالت ونبوت کا سلسلہ ختم ہوچکا ہے اور تمہارے لئے اور کسی نبی کی ضرورت نہیں۔ کیونکہ آپ کی ذات پر ہی تمام امور ختم ہوچکے ہیں۔ چنانچہ فرمایا: ’’اليوم اكملت لكم دينكم واتممت عليكم نعمتي ورضيت لكم الاسلام دينا (مائده: ٣)‘‘ پس اس آیت کریمہ سے کمالیت دین اور اتمام نعمت اور رضا مندی بھی ظاہر ہوگئی اور آپ کی شفقت کا انتہا بھی ظاہر ہو گیا اور ختم نبوت بھی آنحضور ﷺ کی اظہر من الشمس ہوگئی اور علاوہ اس کے آیت کریمہ میں (النبیین) موجود ہے جو مطلق ہے اور اس پر

٥

صفحہ ٦٤٦

الف لام استغراق کا ہے جس سے یہ امر ثابت ہوا کہ آپ کی ذات والا صفات کی بعثت کے بعد کسی قسم کا نبی ظلی، بروزی مستقل غیر مستقل نہیں آسکتا اور خاتم کے معنی مہر وانگوٹھی اور آخری، زبان عرب میں آیا کرتے ہیں اور یہ قاعدہ ہے کہ جب لفظ خاتم کسی قوم کی طرف مضاف ہو تو وہاں سوا اس معنی کے اور نہیں لئے جاسکتے۔ چنانچہ: ”خاتم القوم وخاتم النّبيين هذا فى لسان العرب ج ٤ ص ٢٥“ وغیرہ وغیرہ اور مفردات راغب میں مسطور ہے:”خاتم النّبيين ختم النبوة اى تممها بمجيئه“ یعنی آپ خاتم النبیین اس لئے ہوئے کہ آپ نے نبوت کو ختم کر دیا۔ بسبب آنے آپ کے۔

علاوہ ان دلائل کے ناظرین یاد رکھیں کہ جب آنحضورﷺ کی ذات والا صفات تمام جہانوں کے لئے قیامت تک کامل نبی ہو کر تشریف فرمائیں اور حیات النبی ہیں تو پھر مرزا قادیانی کی نبوت ماننے کی ہمیں کیا ضرورت رہی دیکھو’ لقوله تعالى : قل يا ايها الناس انى رسول الله اليكم جميعا (اعراف:١٥٨) ولقوله تعالى: وما ارسلنٰك الا كافة للناس بشيرا ونذيرا ولكن اكثر الناس لا يعلمون (سباء:٢٨) “

پس یہ ہر دو آیتیں ہر زمانہ وہر مکان وہر مذہب والے کے لئے بیان کرتی ہیں کہ نبیﷺ ہر ایک کے لئے کافی وافی ہیں اور قیامت تک کسی نبی کے مبعوث ہونے کی ضرورت نہیں اور وہ ایک ہی نبی کامل ہے۔ جس کے ذریعہ سے ہر فرد اپنے خالق حقیقی تک پہنچ سکتا ہے اور نجات حاصل کر سکتا ہے اور ان کے ہوتے کسی ظلی بروزی کی ضرورت نہیں۔

اور آنحضورﷺ نے اپنی خاتمیت نبوت اور جھوٹے مدعیان کی نسبت خود کئی دفعہ زبان درفشاں سے فرمایا ہوا ہے۔ چنانچہ بطور مشتے نمونہ از خروارے چند ایک حدیثیں تحریر کر دی جاتی ہیں اور وہ یہ ہیں: ”عن ثوبان قال قال رسول اللهﷺ اذا وضع السيف فى امتى لم يرفع عنها الى يوم القيمة ولا تقوم الساعة حتى تلحق قبائل من امتى بالمشركين وحتى تعبد قبائل من امتى الاوثان وانه سيكون فى امتى كذابون ثلثون كلهم يزعم انه نبى الله وانا خاتم النبيين لا نبى بعدى ولا تزال طائفة من امتى على الحق ظاهرين لا يضرهم من خالفهم حتى ياتى امر الله (رواه ابو داؤد والترمذى ومشكوة كتاب الفتن فصل ثانى ص ٤٦٥،٤٦٤) “

روایت ہے ثوبان سے کہ فرمایا : ” رسول خداﷺ نے کہ جس وقت رکھی جائے گی تلوار میری

٦

صفحہ ٦٤٧

امت میں نہیں اٹھائی جائے گی تلوار قیامت تک اور نہیں قیامت ہوگی یہاں تک کہ ملیں گے میری امت کے قبیلے مشرکین سے اور یہاں تک کہ بتوں کو پوجیں گے اور بیشک یہ ہے کہ قریب ہے کہ جھوٹے تیس آدمی ہوں گے جو کہ (اپنے آپ کو نبی اللہ کہیں گے ۔ ) اور حالانکہ میں خاتم النبیین ہوں اور نہیں کوئی نبی بعد میرے، اور ہمیشہ رہے گی ایک جماعت غالب میری امت سے حق پر اور نہیں ضرر پہنچا سکے گا ان کو وہ شخص کہ مخالفت کرے ان کو یہاں تک کہ آئے گا حکم خدا تعالیٰ کا ۔﴾ اور بخاری و مسلم و مشکوٰۃ باب مناقب علی فصل اول میں بایں الفاظ حدیث آنحضورﷺ کی نبوت پر شاہد ہے:

"عن سعد بن ابی وقاص قال قال رسول اللهﷺ لعلیّ انت منی بمنزلة هارون من موسى الا انه لا نبی بعدی (بخاری ج٢ ص٦٣٣، مسلم ج٢ ص٢٧٨)" ﴿یعنی سعد بن وقاص سے منقول ہے کہ فرمایا رسول خداﷺ نے حضرت علیؓ کے لئے کہ ”تو مجھے بمنزلہ ہارون کے ہے موسیٰ سے مگر فرق یہی ہے کہ نہیں ہے کوئی نبی بعد میرے۔“﴾ اور (مشکوٰۃ ص٥٥٨) میں عقبہ بن عامرؓ سے ہے کہ فرمایا نبیﷺ نے: "لــو كـــان بعدی نبی لکان عمر ابن الخطاب (ترمذی ج٢ ص٢٠٩)" ﴿یعنی فرمایا: آپ نے اگر میرے بعد کوئی نبی ہوتا تو حضرت عمر بن خطاب ہوتا۔﴾ اور (مشکوٰۃ باب اسماء النبی فصل اوّل ص٥١٥) حضرت جبیر بن مطعمؓ سے ہے کہ فرمایا نبیﷺ نے کہ ”میں محمد ہوں اور احمد ہوں اور ماحی ہوں اور حاشر ہوں اور عاقب ہوں اور عاقب وہ ہوتا ہے کہ جس کے پیچھے کوئی نبی نہ ہو۔“ "وانا العاقب والعاقب الذی لیس بعدہ نبی" اور حدیث (صحیح مشکوٰۃ ص٥١٤) میں ہے کہ فرمایا حضورﷺ نے: "ولا فخر وانا خاتم النبیین" اور ایک حدیث میں بایں طور پر فرمایا آپ نے: "مثلی ومثل الانبیاء کمثل قصر حسن بنیانہ ترک منہ موضع لبنة فطاف بہ النظار یتعجبون من حسن بنیانہ الا موضع تلک اللبنة فکنت انا سددت موضع اللبنہ ختم بی البنیان ختم بی الرسل وفی رواية فانا اللبنہ وانا خاتم النبیین (مشکوٰۃ باب فضائل سید المرسلین فصل اوّل ص ٥١١)"

﴿ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ فرمایا رسول خداﷺ نے ”مثل میری اور مثل انبیاء کی ایک محل کی ہے کہ اچھی بنائی گئی عمارت اس کی اور چھوڑی گئی اس محل سے ایک اینٹ کی جگہ پھر پھرنے لگے اس کے چوگرد دیکھنے والے اور حالانکہ تعجب کرتے تھے۔ اس عمارت کی خوبی سے مگر ایک اینٹ کی جگہ وہ

٧

صفحہ ٦٤٩

میں ہوا کہ بند کی اینٹ کی جگہ جو خالی تھی۔ ختم کی گئی دیوار ساتھ میرے اور ختم کئے گئے تمام رسول ساتھ میرے ۔“ اور ایک روایت میں ہے کہ ”میں مثل اس اینٹ کے ہوں اور میں ختم کرنے والا ہوں نبیوں کا۔“

اور یہ حدیث بخاری و مسلم کی ہے پس ان تمام دلائل قاطعہ سے روز روشن کی طرح ثابت ہوا کہ آنحضرتﷺ کی نبوت کے بعد کسی قسم کا نبی ہرگز نہیں آسکتا اور نہ ہی دعویٰ نبوت کرنا اسکا سچا تصور کیا جاسکتا ہے۔ اور نبوت ظلی و بروزی وغیرہ تشریعی اپنے آپ کو کہلانا منع ہے۔ کیونکہ یہ الفاظ بناوٹی ہیں۔ قرآن مجید و احادیث صحیحہ کے یہ الفاظ نہیں۔ لہٰذا مدعی نبوت بعد از آقائے نامدار کے کافر و حکم مرتد میں گنا گیا ہے۔ (دیکھو شرح فقہ اکبر قاضی عیاض وغیرہ کتب معتبرہ) فقط واللہ اعلم بالصواب-

(المجیب المنظور محمد نظام الدین ملتانی عفی عنہ)

سوال ...... مرزا قادیانی کہتا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ اسلام فوت ہوچکے ہیں ان کی قبر کشمیر میں ہے کیا یہ کہنا اسکا درست ہے یا غلط؟ فقط!

(السائل الاحقر العباد غلام محی الدین از کوئٹہ)

جواب ...... بے شک حضرت عیسیٰ علیہ السلام زندہ ہیں اور آخر فوت ہونگے اور ان کی قبر نہ ہی کشمیر میں ہے اور نہ ہی کسی اور جگہ ہے اور یہ محض قادیانی وغیرہ کا کہنا غلط اور خلاف قرآن مجید واجماع صحابہ و احادیث نبویہ کے ہے۔ چنانچہ دلائل قاطعہ سے ظاہر ہوتا ہے: ”لقوله تعالیٰ: وقولهم انا قتلنا المسيح عيسى ابن مريم رسول الله وما قتلوه وما صلبوه ولكن شبه لهم وان الذين اختلفوا فيه لفي شك منه مالهم به من علم الا اتباع الظن ط وما قتلوه يقيناً بل رفعه الله اليه وكان الله عزيز حكيما وان من اهل الكتاب الا ليؤمنن به قبل موته ويوم القيامة يكون عليهم شهيدا (نساء: ١٥٧ تا ١٥٩) “ ”یعنی یہودی کہتے رہے کہ ہم نے عیسیٰ ابن مریم رسول اللہ کو قتل کردیا ہے اور حالانکہ نہ اس کو قتل کیا اور نہ اس کو سولی سے مارا۔ ان کے واسطے شبہ ڈالا گیا اور لوگوں نے اس بارے میں اختلاف کیا اور وہ اس کی طرف سے ضرور شک میں ہیں۔ ان کو اس کا کچھ علم نہیں صرف انہوں نے ظن کی پیروی کی اور یقیناً اس کو قتل نہیں کیا بلکہ اللہ نے اس کو اپنی طرف اٹھا لیا اور کوئی اہل کتاب نہیں مگر وہ ان کی موت سے پہلے اس پر ایمان لائے گا اور قیامت کے دن ان پر شہید (گواہ) ہوگا۔

(ص ١٤٠ تفسیر قرآن بالقرآن از عبدالحکیم ڈاکٹر )

پس اس آیت سے یہ بات ظاہر ہوتی ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو نہ کسی نے قتل کیا ٨

ہے اور نہ ہی سولی پر چڑھایا ہے۔ بلکہ اللہ تعالیٰ نے الـ اٹھا لیا ہے اور ان کے ساتھ ضرور اہل کتاب ایمان لا علیہ السلام کی حیات پر شاہد ہے۔ لقولہ تعالیٰ: ”وان لـ هذا صراط مستقيم (زخرف: ٦١) “ یعنی ” مت شک کرو ساتھ اس کے اور پیروی کرو میری یہ ہے عباس وتفسیر ابن کثیر وتفسیر کشاف و تفسیر جامع البیان مدارک و تفسیر معالم وخازن و دیگر تمام تفاسیر معتبرہ آسمان پر زندہ ہیں اور تمام کتب احادیث بھی اس پر شـ ہیں: ”عن عبداللہ بن عمر قال قال رسول الارض فيتزوج ويولد له ويمكث خمساً في قبري فاقوم انا وعيسى بن مريم في باب نزول عیسی علیہ السلام فصل ثالث ص ٤٨٠) ”حضرت نے: اتریں گے عیسیٰ بن مریم طرف زمین کے پس نـ اور ٹھہریں گے صرف پینتالیس برس پھر فوت ہوں میرے کے پس اٹھوں گا میں اور ابن مریم ایک مقبرہ (اور تفسیر در منثور ج ٤ ص ١٣٥) میں حدیث تاريخه عن عبدالله ابن سلام قال يدفن ابي بكر وعمر فيكون قبره رابعا “ اور یہ بایں طور مسطور ہے: ”عن عبداللہ بن سلام محمدﷺ وعيسى ابن مريم يدفن معه کے اوصاف کتاب تورات میں لکھے ہوئے تھے اور علیہ السلام کے ساتھ مدفون ہوں گے۔ اور ان کی ص ٤٢٤ میں حدیث باسناد صحیح بایں الفاظ مسطور ہے ”أخبرنا أبو عبد الله الحافـ أحمد بن أبراهيم قال ثنا ابن بكير قـ ٩

صفحہ ٦٤٩

ہے اور نہ ہی سولی پر چڑھایا ہے۔ بلکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو زندہ ہی اپنی طرف سے قدرت کاملہ سے اٹھا لیا ہے اور ان کے ساتھ ضرور اہل کتاب ایمان لائیں گے اور نیز آیت سورہ زخرف حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی حیات پر شاہد ہے۔ لقولہ تعالیٰ : ”وان لعلم للساعة فلا تمترن بها واتبعون هذا صراط مستقیم (زخرف: ٦١)“ ”یعنی ”اور تحقیق وہ البتہ علامت قیامت کی ہے۔ پس مت شک کرو ساتھ اس کے اور پیروی کرو میری یہ ہے راہ سیدھی۔“ (ترجمہ شاہ رفیع الدین) اور تفسیر عباسی و تفسیر ابن کثیر و تفسیر کشاف و تفسیر جامع البیان و تفسیر حسینی و تفسیر درمنثور و تفسیر فتح البیان و تفسیر مدارک و تفسیر معالم و خازن و دیگر تمام تفاسیر معتبرہ میں یہی لکھا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام آسمان پر زندہ ہیں اور تمام کتب احادیث بھی اس پر شاہد ہیں چنانچہ بطور اختصار درج ذیل اور وہ یہ ہیں: ”عن عبدالله بن عمر قال قال رسول الله ﷺ ینزل عیسی ابن مریم الی الارض فيتزوج ويولد له ويمكث خمساً واربعين سنة ثم يموت فيدفن معى فى قبرى فاقوم انا وعيسى بن مريم فى قبر واحد بين أبى بكر وعمر (مشکوٰۃ باب نزول عیسیٰ علیہ السلام فصل ثالث ص ٤٨٠)“ ﴿حضرت ابن عمرؓ سے مروی ہے کہ فرمایا نبی کریم ﷺ نے: اتریں گے عیسیٰ بن مریم طرف زمین کے پس نکاح کریں گے اور پیدا ہوگی اولاد ان کے لئے اور ٹھہریں گے صرف پینتالیس برس پھر فوت ہوں گے اور دفن کئے جائیں گے نزدیک مقبرے میرے کے پس اٹھوں گا میں اور ابن مریم ایک مقبرہ سے درمیان ابو بکر و عمرؓ کے۔“﴾

(اور تفسیر درمنثور ج ٢ ص ٢٤٥) میں حدیث یوں مسطور ہے: ”اخرج البخاري في تاريخه عن عبدالله ابن سلام قال يدفن عیسى ابن مریم مع رسول الله بین ابی بكر وعمر فيكون قبره رابعا “ اور یہ حدیث (مشکوٰۃ شریف باب فضائل النبی ٥١٥) میں بایں طور مسطور ہے: ”عن عبدالله بن سلام قال مكتوب في التوراة صفة محمدﷺ وعیسى ابن مريم يدفن معه “ ﴿ یعنی ابن سلام فرماتے ہیں کہ آنحضور ﷺ کے اوصاف کتاب تورات میں لکھے ہوئے تھے اور یہ بھی تحریر ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام آنحضور علیہ السلام کے ساتھ مدفون ہوں گے۔ اور ان کی قبر چوتھی ہوگی۔﴾ اور کتاب الاسماء والصفات ص ٤٢٤ میں حدیث باسناد صحیح بایں الفاظ مسطور ہے۔

”اخبرنا ابو عبدالله الحافظ قال انا ابو بكر بن اسحاق قال انا احمد بن ابراهيم قال ثنا ابن بكير قال حدثني الليث عن يونس عن ابن

٩

صفحہ ٦٥١

شہاب عن نافع مولیٰ ابی قتادہ الانصاری قال ان ابا هریرة قال قال رسول اللہ ﷺ کیف انتم اذا نزل ابن مریم من السماء فیکم وامامکم منکم رواه البخاری فی الصحیح عن یحیی بن بکیر واخرجه مسلم من وجه آخر عن یونس وانما اراد نزوله من السماء بعد الرفع الیه“ اور علاوہ اس کے (تفسیر ابن کثیر ج ١ ص ٣٦٦، درمنثور) میں بایں طور پر حدیث تحریر ہے: ”قال ابن ابی حاتم حدثنا ابی حدثنا احمد ابن عبدالرحمن حدثنا عبدالله بن ابی جعفر عن ابیه حدثنا الربیع بن انس عن الحسن انه قال قال رسول اللہ ﷺ للیهود ان عیسیٰ لم یمت وانه راجع الیکم قبل یوم القیامة“ حضرت حسن بصریؒ فرماتے ہیں کہ فرمایا رسول خدا ﷺ نے کہ ”تحقیق حضرت عیسیٰ بن مریم نہیں مرے۔ قیامت سے پہلے تمہاری طرف آنے والے ہیں۔“ اور (تفسیر ابن جریر ج ٦ ص ١٨) میں ہے: ”وقال ابن جریر حدثنی یعقوب حدثنا ابن علیة عن ابی رجاء عن الحسن فی قوله وان من اهل الکتاب الا لیومنن به قبل موته قال قبل موت عیسیٰ والله انه الان لحی عند الله ولکن اذا نزل آمنوا به اجمعون“ اور مسلم وابن ماجہ میں مسطور ہے کہ فرمایا آپ نے کہ: ”حضرت عیسیٰ بن مریم دمشق منارہ شرقی پر اتریں گے“ اور (تفسیر عباسی و طبقات ابن سعد جز اول ص ٢٦) حضرت ابن عباس سے یوں مسطور ہے: ”وان الله رفعه بجسده وانه حی الان وسیرجع الی الدنیا فیکون فیها ملکا ثم یموت کما یموت الناس “ ﴿یعنی بے شک اللہ تعالیٰ نے بجسد عنصری حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو اٹھا لیا ہے وہ بے شک زندہ ہیں دوبارہ دنیا میں تشریف لائیں گے پھر بادشاہ ہوں گے پھر فوت ہوں گے جیسا کہ اور لوگ فوت ہوتے ہیں۔﴾ اور علاوہ ان دلائل کے خود مرزا قادیانی مدعی نبوت نے اپنی کتاب میں تسلیم کیا ہے کہ حضرت عیسیٰ ابن مریم زندہ ہیں آسمان سے آئیں گے۔ اسلام کو مشارق ومغارب میں پھیلائیں گے اور اسلام کو ناقص چھوڑ کر آسمان پر چلے گئے ہیں۔ فقط!

(براہین احمدیہ ص ٤٩٦، خزائن ج ١ ص ٥٩٣، براہین احمدیہ ص ٤٩٩، خزائن ج ١ ص ٥٩٣ المجیب ابو المنظور)

سوال...... مرزا قادیانی کو دعویٰ نبوت میں بڑی کامیابی حاصل ہوئی اگر وہ جھوٹا ہوتا تو ضرور ذلیل وخوار ہوتا۔ دیکھو وہ مال دنیا و کثرت لشکر تابعداران وعمر ٦٦ سال لے کر دنیا سے گزرا لہٰذا مہربانی فرما کر ان شکوک کو ضرور رفع فرمادیں۔ عین مہربانی ہوگی۔

١٠

جواب...... یہ معیار بالکل غلط و مخالف کتاب اللہ و سن کذاب نے دعویٰ نبوت کیا تو تھوڑے عرصے میں اس تھے اور فرعون کا لشکر ومتبعین کس قدر تھے اور مال دنیا ک جمع تھا اور فرعون کی عمر چار سو برس سے کم نہ تھی یہاں تک کہہ دیا کہ: ”انا ربکم الاعلیٰ “ اور باوجود اس د اور اللہ تعالیٰ ایسے سرکش و گمراہ لوگوں کو ہر طرح سے م مال دنیا کی کثرت بھی کوئی دلیل اس کی نبوت کے لئے اموالکم واولادکم فتنة “ اور حدیث شریف میں پر مچھر کے بھی ہوتی تو کسی کافر سرکش کو ایک گھونٹ حضرت سلطان العارفین سلطان باہوؒ نے اپنے دیوان م

انما اموالکم واولاد
فاحذروا الاخیر فیه وا

اور (ابن ماجہ ص ٣٠٢) میں ہے کہ فرمایا آنحضو اور جو کچھ اس میں ہے مگر اللہ تعالیٰ کا ذکر وعمل صالح وعال ملعون ما فیها الا ذکر الله وما والاه او ع تھوڑی یا بہت اس کی امت کا ہونا کوئی شرعی معیا آنحضور ﷺ نے فرمایا کہ ”میں نے حالت کشف می ہیں اور بعض کے ساتھ چند آدمی اور بعض کے ساتھ ایک ہیں: ”خرج رسول الله ﷺ فقال عرض الرجل والنبی ومعه رجلان والنبی ومعه از بخاری ومسلم)“ اور در مسلم جلد دوم میں بایں الفاظ حدی فرایت النبی معه الرجل والرجلان والنبی پس ان تمام دلائل قاطعہ سے معلوم ہوا ک صادق کے لئے کوئی شرط ضروری نہیں۔ یہ نیا معیار قا سے عوام الناس کو دھوکہ دے کر اپنے دام تزویر میں پھ

١١

صفحہ ٦٥١

جواب ...... یہ معیار بالکل غلط ومخالف کتاب اللہ وسنت رسول اللہ ﷺ کے ہے۔ دیکھو مسیلمہ کذاب نے دعویٰ نبوت کیا تو تھوڑے عرصے میں اس کے ایک لاکھ سے زائد لوگ مقلد ہو گئے تھے اور فرعون کا لشکر ومتبعین کس قدر تھے اور مال دنیا کس کثرت کے ساتھ فرعون وشداد کے پاس جمع تھا اور فرعون کی عمر چار سو برس سے کم نہ تھی یہاں تک کہ اس نے دعویٰ خدا ہونے کا بھی کر دیا اور کہہ دیا کہ: ”انا ربکم الاعلیٰ“ اور باوجود اس دعویٰ باطلہ کے اس کے سر کو درد بھی نہیں ہوا تھا اور اللہ تعالیٰ ایسے سرکش و گمراہ لوگوں کو ہر طرح سے مہلت وعمر کی درازی عطا فرما دیا کرتا ہے اور مال دنیا کی کثرت بھی کوئی دلیل اس کی نبوت کے لئے نہیں۔ قرآن مجید خود اس پر شاہد ہے۔ ”انما اموالکم واولادکم فتنۃ“ اور حدیث شریف میں مذکور ہے کہ ”اگر مال دنیا کی کچھ عزت بقدر پر مچھر کے بھی ہوتی تو کسی کافر سرکش کو ایک گھونٹ پانی کا دنیا میں نصیب نہ ہوتا۔“ اس لئے حضرت سلطان العارفین سلطان باہوؒ نے اپنے دیوان میں فرمایا ہے کہ:

انما اموالکم واولادکم فتنۃ تمام
فاحذروا الاغترار بھا واسمعوا ھذا الکلام

اور (ابن ماجہ ص ٣١١) میں ہے کہ فرمایا آنحضور ﷺ نے کہ ”خبردار خدا کی لعنت دنیا پر اور جو کچھ اس میں ہے مگر اللہ تعالیٰ کا ذکر وعمل صالح وعالم ومتعلم“۔ ”الا ان الدنیا ملعونۃ ملعون ما فیھا الا ذکر اللہ وما والاہ او عالماً او متعلماً“ اور نبی کی نبوت کے لئے تھوڑی یا بہت اس کی امت کا ہونا کوئی شرعی معیار نہیں ہے۔ بخاری ومسلم میں لکھا ہے کہ آنحضور ﷺ نے فرمایا کہ ”میں نے حالت کشف میں دیکھا کہ بعض انبیاء کے ساتھ بہت آدمی ہیں اور بعض کے ساتھ چند آدمی اور بعض کے ساتھ ایک بھی امتی نہیں۔“ اور حدیثوں کے الفاظ یہ ہیں: ”خرج رسول اللہ ﷺ فقال عرضت علی الامم فجعل یمر النبی ومعہ الرجل والنبی ومعہ رجلان والنبی ومعہ الرھط والنبی ولیس معہ احد (نقل از بخاری ومسلم)“ اور مسلم جلد دوم میں بایں الفاظ حدیث مسطور ہے۔ ”عرضت علی الامم فرایت النبی معہ الرجل والرجلان والنبی لیس معہ احد“

پس ان تمام دلائل قاطعہ سے یہ معلوم ہوا کہ کثرت اموال ولشکر ودنیا وامت کا ہونا نبی صادق کے لئے کوئی شرط ضروری نہیں۔ یہ معیار صرف فرقہ مرزائیہ کا بنایا ہوا ہے جس کے ذریعے سے عوام الناس کو دھوکہ دے کر اپنے دام تزویر میں پھنسا رہے ہیں فقط!

١١

صفحہ ٦٥٣

١٢....... ابو جعفر محمد بن سلطانی۔ ١٣....... صالح بن طری دعویٰ کیا۔ ١٤....... محمد احمد سوڈانی۔ ١٥....... عبداللہ بن نبوت کیا وہ خبیث اپنی موت سے مرا۔ ١٦....... محمد علی ب مہدیت کا کیا اور کئی لاکھ مرید بنا کر ٦٣ سال عمر پا کر یہ دعوے کئے ہیں اور بڑے بڑے کام کئے ہیں۔ کیا و اور یہ تمام کافر و مفتری تھے۔ اسی طرح مرزا قادیانی ب اس پر شاہد ہیں اور فرمایا آپ ﷺ نے تیس ٣٠ کذاب کریں گے فقط !

سوال....... مرزا قادیانی کو کس لئے علمائے دین نے صلوٰۃ کا پابند تھا اور اپنے آپ کو مسلمان اور امت محمدی کہے گا۔

جواب....... شارع علیہ السلام نے دائرہ اسلام میں ر کے لئے مقرر کئے ہیں۔ جن کا ذکر مفصل جلد اول م کریں اور مرزا قادیانی تو ان کا سخت منکر تھا جن کے درج کی جاتی ہے اور وہ یہ ہیں۔

ہوں۔“

ہمارے پانی میں سے ہے اور دوسرے لوگ خشکی س اس سے نکلا۔“

میں۔“

١٣

صفحہ ٦٥٣

١٢...... ابو جعفر محمد بن سلمانی۔ ١٣...... صالح بن طریف۔ ١٤...... ابراہیم عدلیہ نے عیسیٰ ہونے کا دعویٰ کیا۔ ١٥...... محمد احمد سوڈانی۔ ١٦...... عبداللہ بن تومرت۔ ١٧...... اکبر بادشاہ ہند نے دعویٰ نبوت کیا وہ خیر اپنی موت سے مرا۔ ١٨...... محمد علی بابی۔ ١٩...... سید محمد جونپوری نے بھی دعویٰ مہدویت کا کیا اور کئی لاکھ مرید بنا کر ٦٣ سال عمر لے کر مرا۔ غرض کہ تقریباً ٢٨ آدمیوں نے اب تک یہ دعوے کئے ہیں اور بڑے بڑے کام کئے ہیں۔ کیا وہ سب کے سب صادق تھے؟ ہرگز ہرگز نہیں اور یہ تمام کافر و مفتری تھے۔ اسی طرح مرزا قادیانی بھی کاذب و مفتری تھا۔ چنانچہ کتب حدیث اس پر شاہد ہیں اور فرمایا آپ ﷺ نے تیس ٣٠ کذاب شخص ہوں گے جو بعد میرے دعویٰ نبوت کریں گے فقط!

سوال ...... مرزا قادیانی کو کس لئے علمائے دین نے دائرہ اسلام سے خارج گنا ہے؟ وہ تو صوم، صلوٰۃ کا پابند تھا اور اپنے آپ کو مسلمان اور امت محمد رسول اللہ ﷺ سے شمار کیا کرتا تھا جواب دو اجر ملے گا۔

جواب ...... شارع علیہ السلام نے دائرہ اسلام میں رہنے کے لئے چند ایک شرائط ضروریات دین کے لئے مقرر کئے ہیں۔ جن کا ذکر مفصل جلد اول ”سلطان الفقہ“ میں گزرا ہے۔ وہاں مطالعہ کریں اور مرزا قادیانی تو ان کا سخت منکر تھا جن کے عقائد کفریہ کی فہرست مختصر نمبر وار ذیل میں درج کی جاتی ہے اور وہ یہ ہیں۔

عقیدہ کفریہ نمبر ١...... ”یعنی آپ نے ایک کشف میں، دیکھا کہ میں خود خدا ہوں اور یقین کیا کہ وہی ہوں۔“

(کتاب البریہ ص ٨٥، خزائن ج ١٣ ص ١٠٣)

عقیدہ کفریہ نمبر ٢...... ”میں نے آسمان وزمین کو بنایا اور مٹی کے خلاصہ سے آدم کو پیدا کیا۔“

(آئینہ کمالات ٥٦٥، خزائن ج ٥ ص ٥٦٥)

عقیدہ کفریہ نمبر ٣...... ”تو مجھ سے اور میں تجھ سے ہوں اور زمین و آسمان تیرے ساتھ ہیں اور تو ہمارے پانی میں سے ہے اور دوسرے لوگ خشکی سے خدا اپنے عرش سے تیری تعریف کرتا ہے تو اس سے نکلا۔“

(کتاب البریہ ص ٨٣، خزائن ج ١٣ ص ١٠١)

عقیدہ کفریہ نمبر ٤...... ”سچا خدا وہی ہے جس نے قادیان میں اپنا رسول بھیجا۔“

(کتاب دافع البلاء ص ١١، خزائن ج ١٨ ص ٢٣١)

عقیدہ کفریہ نمبر ٥...... ”جری اللہ فی حلل الانبیاء“ یعنی خدا کا رسول نبیوں کے حلل میں ۔“

(دیکھو براہین احمدیہ ص ٥٠٤، خزائن ج ٢١ ص ٦٠١)

١٤

صفحہ ٦٥٥

عقیدہ کفریہ نمبر ٦....... ”حضرت عیسیٰ علیہ السلام یوسف نجار یعنی (یوسف ترکھان) کے فرزند ہیں اور ان کے چار بھائی اور دو ہمشیرہ ہیں اور یہ سب مریم علیہا السلام سے تھے حالت حمل میں یوسف ترکھان سے نکاح کیا۔ (نعوذ بالله من هذه اللغويات)“

(دیکھو کشتی نوح ص ١٦، خزائن ج ١٩ ص ١٨)

عقیدہ کفریہ نمبر ٧....... ”معجزات مسمریزم ہیں اور حضرت عیسیٰ مسمریزم عمل ترب میں خوب مشق کرتے تھے اگر میں اس کو مکروہ نہ سمجھتا تو عجوبہ نمائیوں میں حضرت ابن مریم سے کم نہ رہتا۔“

(ازالہ اوہام ص ٣٠٦، ٣٠٩، خزائن ج ٣ ص ٢٥٥، ٢٥٨ ملخص حاشیہ)

عقیدہ کفریہ نمبر ٨....... ”حضرت عیسیٰ کو زندہ سمجھنا شرک ہے۔“ (کشتی نوح ص ١٥، خزائن ج ١٩ ص ١٧)

عقیدہ کفریہ نمبر ٩....... ”ابن مریم کے ذکر کو چھوڑو اس سے بہتر غلام احمد ہے۔“

(دافع البلاء ص ٢٠، خزائن ج ١٨ ص ٢٤٠)

عقیدہ کفریہ نمبر ١٠....... ”حضرت مسیح علیہ السلام اپنے باپ یوسف کے ساتھ بائیس برس کی مدت تک نجاری کا کام بھی کرتے رہے ہیں۔“ (ازالہ اوہام ص ٣٠٣، خزائن ج ٣ ص ٢٥٤)

عقیدہ کفریہ نمبر ١١....... ”یہودی تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے معاملہ میں اور ان کی پیشین گوئیوں کے بارے میں ایسے قوی اعتراض رکھتے ہیں کہ ہم بھی ان کا جواب دینے میں حیران ہیں۔ بغیر اس کے کہ یہ کہہ دیں کہ ضرور عیسیٰ نبی ہے کیونکہ قرآن نے اس کو نبی قرار دیا ہے اور کوئی دلیل ان کی نبوت پر قائم نہیں ہو سکتی بلکہ ابطال نبوت پر کئی دلائل قائم ہیں۔“ (اعجاز احمد ص ١٣، خزائن ج ١٩ ص ١٢٠)

عقیدہ کفریہ نمبر ١٢....... ”حضرت مسیح غلام احمد کے قرب و شفاعت کے مرتبہ میں نہایت کمتر ہے۔ دیکھو آج تم سے ایک ہے جو اس مسیح ابن مریم سے بڑھ کر ہے۔“

(دافع البلاء ص ١٣، ١٦اسطر ، خزائن ج ١٨ ص ٢٣٣)

عقیدہ نمبر ١٣....... ”(مسیح علیہ السلام) اپنی استقامت میں کم درجہ پر بلکہ قریب ناکام رہے۔“

(ازالہ ٤١ حاشیہ، خزائن ج ٣ ص ٢٥٨)

عقیدہ نمبر ١٤....... ”براہین احمدیہ یہ خدا کا کلام ہے اور براہین احمدیہ میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے۔ (قل عندی شهادة من الله فهل انتم تؤمنون قل عندی شهادة من الله فهل انتم تسلمون)“ (دافع البلاء ص ٩، خزائن ج ١٨ ص ٢٢٩)

عقیدہ کفریہ ١٥....... ”قوم شیعہ اس پر اصرار مت کرو کہ حسین تمہارا منجی ہے کیونکہ میں سچ سچ کہتا ہوں کہ آج تم میں ایک ہے کہ حسین سے بڑھ کر ہے۔“ (دافع البلاء ص ١٣، خزائن ج ١٨ ص ٢٣٣)

١٤

وشتان ما بينی و
فانی اؤید کل
واما حسين فاذکرو
الى هذه الايام تبک

مجھ میں اور تمہارے حسین بہت فرق ہے کیو ہے مگر حسین پس تم دشت کربلا کو یاد کرلو۔ اب تک تم رو

عقیدہ کفریہ نمبر ١٦....... ”حضور ﷺ کے لئے صرف چا شہادت دی۔“

له خسف القمر الـ
خسفا القمران المـ

یعنی آنحضور ﷺ کے لئے چاند کے خسوف چاند و سورج دونوں کا ، کیا تو اب انکار کرے گا؟

واما مقامی فاعل
يحمدنی من عـ

اور میرا مقام یہ ہے کہ میرا خدا عرش پر سے

عقیدہ کفریہ ١٧....... ”زمین پر کئی تخت اترے لیکن میرا ت

اسی کتاب میں ہے کہ میرے معجزات اس تتمہ حقیقت الوحی ص ١٣٧، خزائن ج ٢٢ ص ٥٧٤) اور اسی ک (تتمہ حقیقت الوحی ص ٦٨، خزائن ج ٢٢ ص ٥٠٣) اور (تحفہ ہے۔ آنحضور ﷺ کے معجزات صرف تین ہزار ظہور میں

عقیدہ کفریہ نمبر ١٨....... ”قادیان و مکہ و مدینہ کا اللہ تعال ذکر کیا ہے اور واقعی قادیان کا نام قرآن شریف میں در

١٥

صفحہ ٦٥٥
وشتان ما بینی وبین حسینکم
فانی اؤید کل آن وانصر
واما حسین فاذکروا دشت کربلا
الیٰ ھذہ الایام تبکون فانظروا

مجھ میں اور تمہارے حسین بہت فرق ہے کیونکہ مجھے تو ہر وقت خدا کی تائید اور مدد مل رہی ہے مگر حسین پس تم دشت کربلا کو یاد کرلو۔ اب تک تم روتے ہو۔ پس سوچ لو۔

(اعجاز احمدی ص ٦٩، خزائن ج ١٩ ص ١٨١)

عقیدہ کفریہ نمبر ١٦ ..... ”حضورﷺ کے لئے صرف چاند کا نشان تھا میرے لئے سورج و چاند نے شہادت دی۔“

له خسف القمر المنير وان لي
خسفا القمران المشرقان اتنکروا

یعنی آنحضورﷺ کے لئے چاند کے خسوف کا نشان صرف ظاہر ہوا اور میرے لئے چاند وسورج دونوں کا ، کیا تو اب انکار کرے گا؟

(اعجاز احمدی ص ٧١، خزائن ج ١٩ ص ١٨٣)

واما مقامی فاعلموا ان خالقی
یحمدنی من عرشه ويوقر

اور میرا مقام یہ ہے کہ میرا خدا عرش پر سے میری تعریف کرتا ہے اور عزت دیتا ہے۔

(اعجاز احمدی ص ٦٩، خزائن ج ١٩ ص ١٨١)

عقیدہ کفریہ ١٧ ..... ”زمین پر کئی تخت اترے لیکن میرا تختہ سب سے اوپر بچھایا گیا۔“

(حقیقۃ الوحی ص ٨٩، خزائن ج ٢٢ ص ٩٢)

اسی کتاب میں ہے کہ میرے معجزات اس قدر ہیں کہ دوسرے انبیاء کے نہیں ہیں (اور تتمہ حقیقۃ الوحی ص ١٣٧، خزائن ج ٢٢ ص ٥٧٤) اور اسی کتاب میں لکھا ہے کہ تین لاکھ تک پہنچتے ہیں (تتمہ حقیقۃ الوحی ص ٦٨، خزائن ج ٢٢ ص ٥٠٣) اور (تحفہ گولڑویہ کے ص ٤٠، خزائن ج ١٧ ص ١٥٣) پر لکھا ہے۔ آنحضورﷺ کے معجزات صرف تین ہزار ظہور میں آئے۔

عقیدہ کفریہ نمبر ١٨ ..... ”قادیان ومکہ ومدینہ کا اللہ تعالیٰ نے بڑی عزت سے اپنے قرآن مجید میں ذکر کیا ہے اور واقعی قادیان کا نام قرآن شریف میں درج ہے۔“ (ازالہ ص ٧٧، خزائن ج ٣ ص ١٤٠)

١٥

صفحہ ٦٥٦

عقیدہ کفریہ نمبر ١٩...... ”حضرت مسیح علیہ السلام مسمریزم میں مشق کرتے اور اس میں کمال رکھتے تھے۔“

(ازالہ ص ٣٠٨، خزائن ج ٣ ص ٢٥٧)

عقیدہ کفریہ نمبر ٢٠...... ”براہین احمدیہ خدا کا کلام ہے خدا تعالیٰ نے براہین احمدیہ میں بھی اس عاجز کا نام امتی بھی رکھا اور نبی بھی۔“

(ازالہ اوہام ص ٥٣٣، خزائن ج ٣ ص ٣٨٦)

عقیدہ کفریہ نمبر ٢١...... ”انبیاء علیہم السلام کی وحی میں بھی دخل شیطان ہو جاتا ہے اور چار سو انبیاء کی پیشین گوئی ایک بادشاہ کے وقت جھوٹی نکلی۔“

(ازالہ ص ٦٢٩، خزائن ج ٣ ص ٤٣٩)

عقیدہ کفریہ نمبر ٢٢...... ”نبی ﷺ کی وحی بھی غلط نکلی۔“

(ازالہ ص ٦٨٨، خزائن ج ٣ ص ٤٧١)

عقیدہ کفریہ نمبر ٢٣...... ”مرسل یزدانی مامور رحمانی۔“

(ازالہ ص ٹائٹل، خزائن ج ٣ ص ٣٢٣)

عقیدہ کفریہ نمبر ٢٤...... اور دیکھو آج تم میں سے ایک ہے جو اس مسیح سے بڑھ کر ہے۔

(دافع البلاء ص ١٣، خزائن ج ١٨ ص ٢٣٣)

عقیدہ کفریہ نمبر ٢٥...... ”خدا نے اس امت میں مسیح موعود بھیجا جو اس پہلے مسیح سے اپنے تمام شان میں بڑھ کر ہے۔ مجھے قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے۔ اگر مسیح ابن مریم میرے زمانہ میں ہوتا تو وہ کام جو میں کر سکتا ہوں وہ ہرگز نہیں کر سکتا اور وہ نشان جو مجھے ظاہر ہو رہے ہیں وہ ہرگز نہ دکھلا سکتا۔ (حقیقت الوحی ص ١٤٨، خزائن ج ٢٢ ص ١٥٢) میں لکھا ہے کہ آخری مسیح کو ابن مریم سے بہتر وافضل جاننا چاہئے...... الخ“

(حقیقت الوحی ص ١٥٥، خزائن ج ٢٢ ص ١٥٩)

اب ناظرین و مناظرین کو غور کرنا چاہئے اور سمجھنا چاہئے کہ توہین انبیاء کفر نہیں تو اور کیا ہے؟

چہ نسبت خاک را با عالم پاک

عقیدہ کفریہ نمبر ٢٦...... خدا کے فضل وکرم سے میرا جواب یہ ہے: ”میرا دعویٰ ثابت کرنے کے لئے اس قدر معجزات دکھائے ہیں کہ بہت ہی کم نبی ایسے آئے ہیں جنہوں نے اس قدر معجزات دکھائے ہوں بلکہ سچ تو یہ ہے کہ اس نے اس قدر معجزات کا دریا رواں کر دیا کہ باستثنائے ہمارے نبی ﷺ کے باقی تمام انبیاء علیہ السلام میں ان کا ثبوت اس کثرت کے ساتھ قطعی اور یقینی طور پر محال ہے۔“ (تتمہ حقیقت الوحی ص ١٣٦، خزائن ج ٢٢ ص ٥٧٤) ”میں اس خدا کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ اس نے مجھے بھیجا ہے اور اسی نے میرا نام نبی رکھا ہے اور اسی نے مسیح موعود کے نام سے پکارا ہے اور اسی نے میری تصدیق کے لئے بڑے بڑے نشان ظاہر کیے ہیں جو تین لاکھ تک پہنچتے ہیں۔“

(تتمہ حقیقت الوحی ص ٦٨، خزائن ج ٢٢ ص ٥٠٣)

١٦

صفحہ ٦٥٧

عقیدہ کفریہ نمبر ٢٧.....”انت منی بمنزلة ولدی۔ (یعنی اے قادیانی تو ہمارے فرزند کی جائے ہے۔)“ (حقیقت الوحی ص ٨٦، خزائن ج٢٢ ص ٨٩) ”وانت من مائنا وهم من فشل“

(اربعین نمبر ٣، ص ٣٤، خزائن ج ١٧ ص ٤٢٣)

یعنی اے مرزا قادیانی تو ہمارے نطفہ سے ہے اور وہ خشکی سے ہیں اور کتاب میں ہے: ’انت منی وانا منك‘ یعنی اے مرزا تو مجھ سے ہے اور میں تجھ سے ہوں۔ (حقیقت الوحی ص ٧٤، خزائن ج ٢٢ ص ٧٧) یعنی میں تیرا خالق، تو میرا خالق اور یہ مسئلہ استحالہ کا ہے جو علماء کرام پر پوشیدہ نہیں۔ اور حقیقت الوحی میں لکھا ہے: انما امرك اذا اردت شيئاً ان تقول له كن فيكون یعنی تو جس بات کا ارادہ کرتا ہے وہ تیرے حکم سے فی الفور ہو جاتی ہے۔

(حقیقت الوحی ص ١٠٥، خزائن ج ٢٢ ص ١٠٨)

”انت منی بمنزلة التوحیدی وانت منی بمنزلة عرشی وانت منی بمنزلة التفريدی“

(اربعین نمبر ٢ ص ٦، خزائن ج ١٧ ص ٣٥٣)

ربنا عاج

(براہین احمدیہ ص ٥٥٦، خزائن ج ١ ص ٦٦٣)

انا انزلناه قريباً من القاديان

(حقیقت الوحی ص ٨٨، خزائن ج ٢٢ ص ٩١)

وما ارسلنك الا رحمة للعالمین

(حقیقت الوحی ص ٨٢ خزائن ج ٢٢ ص ٨٥)

عقیدہ کفریہ نمبر ٢٨.....”قرآن مجید میں گندی گالیاں بھری ہیں زمانہ حال کے مہذبین کے نزدیک کسی پر لعنت بھیجنا ایک سخت گالی ہے۔ لیکن قرآن شریف کفار کو سنا سنا کر ان پر لعنت بھیجتا ہے اور قرآن شریف جس بلند آواز سے سخت زبانی کے طریق کو استعمال کر رہا ہے اسے ایک غایت درجہ کا غبی اور سخت درجہ کا جاہل اس سے بے خبر نہیں رہ سکتا۔“

(ازالہ ص ٢٥، ٢٦، خزائن ج ٣ ص ١١٥)

”اور مرزا قادیانی نے لکھا ہے کہ میرا منکر کافر ہے۔“ (حقیقت الوحی ص ١٦٣، خزائن ج ٢٢ ص ١٦٧) اور لکھا ہے کہ ”غیر احمدی سے احمدی کی لڑکی کا نکاح منع ہے اور غیر احمدی کا جنازہ جائز نہیں اور نہ ہی غیر احمدی کے پیچھے نماز درست ہے۔“

(انوار خلافت ص ٩٤)

”آنحضور ﷺ کو معراج جسمانی نہیں ہوا۔ جسمانی معراج لغو خیال ہے۔ (کتاب ازالہ اوہام ص ٤٧، خزائن ج ٣ ص ١٢٦) خود قرآن مجید میں گالیاں بھری ہوئی ہیں۔“

(ازالہ ص ٢٩، خزائن ج ٣ ص ١١٥)

”قرآن مجید قادیان میں نازل ہوا۔“

(حقیقت الوحی ص ٨٨، خزائن ج ٢٢ ص ٩١)

١٧

صفحہ ٦٥٨

”قرآن مجید میں (مسیح کے) جو معجزات ہیں وہ سب کے سب مسمریزم ہیں۔“

(ص ٥٠، ازالہ اوہام، خزائن ج ٣ ص ٥٠٤)

”امام مہدی کا آنا کوئی یقینی امر نہیں ہے۔“

(ازالہ ص ٤٧٥، خزائن ج ٣ ص ٣٤٤)

”دجال پادری لوگ ہیں۔“

(ازالہ ص ٤٩٥، ٥٨٤، خزائن ج ٣ ص ٤٧٠)

”دجال کا گدھا ریل گاڑی ہے۔“

(ازالہ ص ٦٨٥، خزائن ج ٣ ص ٤٧٠)

”یاجوج ماجوج کوئی نہیں انگریز ہیں اور روس مراد ہیں۔“

(ازالہ ص ٥٠٢، ٥٠٨، خزائن ج ٣ ص ٣٦٩، ٣٧٢)

”آفتاب مغرب سے نہیں نکلے گا اور دابۃ الارض علماء ہوں گے۔“

(ازالہ ص ٥١٨، ص ٥١٠، خزائن ج ٣ ص ٣٧٣، ٣٧٨)

”اور کتاب توضیح المرام (مخلصاً) میں (ص ٤٣، خزائن ج ٣ ص ٦٧) پر لکھا ہے کہ فرشتے نفوس فلکیہ وارواح کواکب کا نام ہے۔ ”اور انبیاء علیہم السلام کی وحی میں بھی دراصل دخل شیطان ہوتا ہے۔“

(ازالہ ص ٦٢٨، خزائن ج ٣ ص ٤٣٩)

”ایک طرح کا تناسخ صحیح۔“

(ست بچن ص ٨٤، خزائن ج ١٠ ص ٢٠٨)

”اور جبرائیل علیہ السلام نہ زمین پر آئے اور نہ آتے ہیں۔“

(توضیح المرام ص ٣٠، خزائن ج ٣ ص ٦٦)

ناظرین یاد رکھیں کہ یہ ہیں مختصر عقائد قادیانی جن کے سبب سے تمام علمائے دین شرع متین نے ان پر فتویٰ کفر وحکم مرتد لگایا ہے اور ان کے ساتھ موانست ومناکحت ومشاربت منع کر دیا ہے اور وہ فتاویٰ آخر میں درج کئے گئے ہیں۔

واہی تباہی مرزا قادیانی کے خیالوں کی فہرست وتردید مع طریقہ مناظرہ

مرزا قادیانی اپنی کتاب (حقیقت الوحی ص ٢١١، خزائن ج ٢٢ ص ٢٢٠) میں تحریر کرتے ہیں کہ: ”خدا تعالیٰ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ میں ان الہامات پر اسی طرح ایمان لاتا ہوں۔ جیسا کہ قرآن شریف پر اور خدا کی دوسری کتابوں پر اور جس طرح میں قرآن شریف کو یقینی اور قطعی طور پر خدا کا کلام جانتا ہوں اسی طرح کلام کو بھی جو میرے پر نازل ہوتا ہے۔“ اور (کتاب اربعین نمبر ٤ ص ١٦، خزائن ج ١٧ ص ٤٥٤) پر نیز اس طرح اپنا ایمان اپنے الہامات پر ظاہر کرتے ہیں: ”جبکہ مجھے اپنی وحی پر ایسا ایمان ہے جیسا کہ توریت اور انجیل اور قرآن کریم پر تو کیا ان میں مجھے یہ توقع ہو سکتی ١٨

٩ ہے کہ میں ان کی ظنیات بلکہ موضوعات کے ذخی پر بناء ہے۔“ پس ناظرین ومناظرین کو چاہئے کہ الہامات کے پیش کرنے سے پہلے مناظرہ مرزا قادیانی کے جو سراسر مخالف کتاب اللہ وسنت رس ثبوت قرآن مجید واحادیث صحیحہ سے طلب کری کہ مرزا قادیانی تو حدیث صحیحہ کے صاف منکر ہ میرے الہامات کے مخالف حدیث (رسول اللہ الہامات یقینی وقطعی ہیں اور حدیث ظنی ہے۔ لہٰذا ا

اس کے جواب میں خدا تعالیٰ کی قس بنیاد نہیں۔ بلکہ قرآن اور وحی ہے جو میرے اوپ پیش کرتے ہیں جو قرآن شریف کے مطابق ہی کو ہم ردی کی طرح پھینک دیتے ہیں۔“ اور باق

اهل النقل شی
فای حديــث
وقد مزق الاخ
فكل بمــاهـو

”اور خدا تعالیٰ کی وحی کے بعد نقل ک کس حدیث کو مان لیں اور حدیثیں تو ٹکڑے ٹکڑ ہو رہا ہے۔“

الہام نمبر ١..... ”انما امرك اذا اردت شيئ ارادہ کرتا ہے وہ شی فی الفور ہو جاتی ہے۔)“ الہام نمبر ٢..... ”انت منى بمنزلة توحيد

الہام نمبر ٣..... ”وانت من مائنا وهم م خشکی سے۔“

صفحہ ٦٥٩

ہے کہ میں ان کی ظنیات بلکہ موضوعات کے ذخیرہ کو سُن کر اپنے یقین کو چھوڑ دوں جس کی حق الیقین پر بناء ہے۔“ پس ناظرین و مناظرین کو چاہئے کہ جب کسی مرزائی سے مناظرہ و گفتگو کا موقع ملے تو الہامات کے پیش کرنے سے پہلے مناظر مرزائی کو اس پر قائل کر لیا کریں۔ پھر الہامات مرزا قادیانی کے جو سراسر مخالف کتاب اللہ وسنت رسول ﷺ ہیں ظاہر کر دیا کریں اور ان الہامات کا ثبوت قرآن مجید و احادیث صحیحہ سے طلب کریں۔ اگر وہ حدیث پیش کرے تو آپ کہہ دیا کریں کہ مرزا قادیانی تو حدیث صحیحہ کے صاف منکر ہیں۔ چنانچہ مرزا قادیانی خود لکھتے ہیں کہ: ”جب میرے الہامات کے مخالف حدیث (رسول اللہ ﷺ) کی ہو اس کو ردی میں پھینک دو۔“ میرے الہامات یقینی و قطعی ہیں اور حدیث ظنی ہے۔ لہٰذا ظنی یقینی کا مقابلہ نہیں کر سکتی۔

(اعجاز احمدی ص ٣٠، خزائن ج ١٩ ص ١٤٠)

اس کے جواب میں خدا تعالیٰ کی قسم کھا کر کہتے ہیں کہ: ”میرے اس دعویٰ کی حدیث بنیاد نہیں۔ بلکہ قرآن اور وحی ہے جو میرے اوپر نازل ہوئی۔ ہاں شہادت کے طور پر وہ حدیثیں بھی پیش کرتے ہیں جو قرآن شریف کے مطابق ہیں اور میری وحی کے معارض نہیں اور دوسری حدیثوں کو ہم ردی کی طرح پھینک دیتے ہیں۔“ اور باقی اعجاز احمدی کو ملاحظہ کریں:

اہل النقل شیء بعد ایحا ربنا
فای حدیث بعدہ نتخیر
وقد مزق الاخبار کل ممزق
فکل بما ہو عندہ یستبشروا

”اور خدا تعالیٰ کی وحی کے بعد نقل کی کیا حقیقت ہے۔ پس ہم خدا تعالیٰ کی وحی کے بعد کس حدیث کو مان لیں اور حدیثیں تو ٹکڑے ٹکڑے ہوگئیں اور ہر ایک گروہ اپنی حدیثوں سے خوش ہو رہا ہے۔“

(اعجاز احمدی ص ٥٦، خزائن ج ١٩ ص ١٦٨)

الہام نمبر ١...... ”انما امرک اذا اردت شیئاً ان یقول لہ کن فیکون۔ (یعنی جس شے کا تو ارادہ کرتا ہے وہ شی فی الفور ہو جاتی ہے۔)“

(حقیقت الوحی ص ١٠٥، الحاشیہ، خزائن ج ٢٢ ص ١٠٨)

الہام نمبر ٢...... ”انت منی بمنزلۃ توحیدی وتفریدی والسماء معک کما ہو معی“

(اربعین نمبر ٣ ص ٩، خزائن ج ١٧ ص ٣٥٣)

الہام نمبر ٣...... ”وانت من مائنا وہم من فشل یعنی فرمایا کہ تو میرے نطفہ سے ہے اور وہ خشکی سے۔“

(انجام آتھم ص ٥٥، خزائن ج ١١ ص ٥٥، ٥٦)

١٩

صفحہ ٦٦٠

الہام نمبر ٤...... ”انی انا الله فاعبدونی ...... الخ“

(اربعین نمبر ٤ ص ٣٥، خزائن ج ١١ص٣٨٤)

الہام نمبر ٥...... ”میں نے اپنے کشف میں دیکھا کہ میں خود خدا ہوں اور یقین کیا کہ وہی ہوں اور میں زمین و آسمان کے خلق پر قادر ہوں اور میں نے آسمان اور دنیا کو پیدا کیا اور کہا: انا زینا السماء الدنيا بمصابيح پھر میں نے کہا ہم اپنے انسان کومٹی کے خلاصہ سے پیدا کریں گے ۔“

(کتاب البریہ ص ٨٥، ٨٧، خزائن ج ١٣ص ١٠٢، ١٠٥)

الہام نمبر ٦...... ”یحمدك الله من عرشه ويمشى اليك۔ یعنی خدا عرش سے تیری تعریف کرتا ہے اور طرف تیری چلا آتا ہے۔“

(انجام آتھم ص ٥٥، خزائن ج ١١ص٥٥)

الہام نمبر ٧...... ”انا انزلنه قريباً من القاديان وبالحق انزلنه وبالحق نزل (انجام آتھم ص ٥٤، خزائن ج ١١ص٥٤) ازالہ کے حاشیہ پر تحریر فرماتے ہیں کہ: ”میرے بھائی غلام قادر میرے قریب بیٹھ کر با آواز بلند پڑھ رہے ہیں پڑھتے پڑھتے انہوں نے ان فقرات کو پڑھا۔ انا انزلناه قريباً من القادیان میں نے سن کر بہت تعجب کیا کہ کیا قادیان کا نام قرآن شریف میں لکھا ہے؟ تب میں نے نظر ڈال کر دیکھا کہ فی الحقیقت قرآن شریف کے دائیں صفحہ پر شاید قریب نصف کے موقع پر بھی الہامی عبارت لکھی ہوئی ہے۔“

(ازالہ اوہام ص ٧٦، خزائن ج ٣ص ١٤٠)

الہام نمبر ٨...... ”یاتی قمر الانبیاء۔ یعنی نبیوں کا چاند آیا ۔“

(انجام آتھم ص ٥٨، خزائن ج ١١ص٥٨)

الہام نمبر ٩...... مریم کی طرح عیسیٰ کی روح مجھ میں نفخ کی گئی اور استعارہ کے رنگ میں مجھے حاملہ ٹھہرایا گیا اور آخر کئی مہینہ کے بعد جو دس مہینہ سے زیادہ نہیں بذریعہ اس الہام کے جو سب سے آخر ( براہین احمدیہ حصہ چہارم ص ٥٥٦) میں درج ہے۔ مجھے مریم سے عیسیٰ بنایا گیا۔ (کشتی نوح ص ٤٧، خزائن ج ١٩ص٥٠) حقیقت الوحی کے تتمہ میں صاف لکھ دیا ہے کہ مجھے حیض بھی آتا ہے ۔ “ اور وہ عبارت یہ ہے بابو الہی بخش کی نسبت الہام ہے: ان یری طمثك والله یرید ان یریك انعامہ یعنی بابو الہی بخش چاہتا ہے کہ تیرا حیض دیکھے مگر اللہ تعالیٰ تجھے اپنے انعامات دکھائے گا۔ فقط!

(تتمہ حقیقت الوحی ص ١٤٣، خزائن ج ٢٢ص ٥٨١)

الہام نمبر ١٠...... (کتاب حقیقت الوحی ص ٥٥، خزائن ج ٢٢ص٢٦٧) مرزا قادیانی لکھتے ہیں کہ: ” ایک دفعہ تمثیلی طور پر مجھے خدا تعالیٰ کی زیارت ہوئی اور میں نے اپنے ہاتھ سے کئی پیشین گوئیاں لکھیں جن کا یہ مطلب تھا کہ ایسے واقعات ہونے چاہیں تب میں نے وہ کاغذ دستخط کرانے کے لئے خدا کے سامنے پیش کیا اللہ تعالیٰ نے بغیر کسی تامل کے سرخی کی قلم سے اس پر دستخط کئے اور دستخط کرنے

کے وقت قلم کو چھڑکا جیسا کہ جب قلم پر زیادہ م دستخط کر دیئے۔ اور میاں عبداللہ سنوری مسجد سے سرخی کے قطرے میرے کرتے اور اس کی بطور تبرک اپنے پاس رکھ لیا جو اب تک اس کے

الہام نمبر ١٠....... ربناعاج یعنی سیراب ہاتھی کا دا الہام نمبر ١١....... انت منی بمنزلۃ عرشی ا ”انت منی وانا منك“ یعنی اے مرزا قادیانی تو مجھ سے ا خالق ہے۔ کیونکہ استحالہ ظاہر ہے۔ پس مناظر کے لئے دلائل قاطعہ مرزائی مناظر سے مطالب حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور حسنین علیہ السلام روبرو حاضرین مجلس کے سنا کر فتح حاصل کر لیں

ابن مریم ک
اس سے بہتر

اور (دافع البلاء ص ١٣، خزائن ج ١٨ ص سے بڑھ کر ہوں اور (حقیقت الوحی ص ١٥٥، ١٤٨

انی قتیل الح
قتیل العدا ف

یعنی میں محبت کا کشتہ ہوں مگر تم ہے ۔

واما حسين ف
الى هذه الايا
صفحہ ٦٦١

٦٦ .. الخ“ (اربعین نمبر ٤ ص ٣٥، خزائن ج ١٧ ص ٣٨٢) کہ میں خود خدا ہوں اور یقین کیا کہ وہی ہوں اور نے آسمان اور دنیا کو پیدا کیا اور کہا: انا زینا نے انسان کو مٹی کے خلاصہ سے پیدا کریں گے۔“

(کتاب البریہ ص ٨٥، ٨٧، خزائن ج ١٣ ص ١٠٢، ١٠٥)

مشی اليك۔ یعنی خدا عرش سے تیری تعریف کرتا

(انجام آتھم ص ٥٥، خزائن ج ١١ ص ٥٥)

یان وبالحق انزلنه وبالحق نزل (انجام تحریر فرماتے ہیں کہ: ”میرے بھائی غلام قادر ھتے پڑھتے انہوں نے ان فقرات کو پڑھا۔ انا ر بہت تعجب کیا کہ کیا قادیان کا نام قرآن شریف فی الحقیقت قرآن شریف کے دائیں صفحہ پر شاید لکھی ہے ۔“ (ازالہ اوہام ص ٧٦، خزائن ج ٣ ص ١٤٠) کا چاند آیا۔“

(انجام آتھم ص ٥٨، خزائن ج ١١ ص ٥٨)

فظ کی گئی اور استعارہ کے رنگ میں مجھے حاملہ یادہ نہیں بذریعہ اس الہام کے جو سب سے آخر مجھے مریم سے عیسیٰ بنایا گیا۔ (کشتی نوح ص ٤٧، لکھ دیا ہے کہ مجھے حیض بھی آتا ہے۔ اور وہ يرى طمثك والله يريد ان يريك دیکھے مگر اللہ تعالیٰ تجھے اپنے انعامات دکھائے گا۔

(تتمہ حقیقت الوحی ص ١٤٣، خزائن ج ٢٢ ص ٥٨١)

٤٢ ص ٢٦٧) مرزا قادیانی لکھتے ہیں کہ: ”ایک میں نے اپنے ہاتھ سے کئی پیشین گوئیاں لکھیں ب میں نے وہ کاغذ دستخط کرانے کے لئے خدا غیب کی قلم سے اس پر دستخط کئے اور دستخط کرنے کے وقت قلم کو چھڑکا جیسا کہ جب قلم پر زیادہ سیاہی آجاتی ہے تو اسی طرح پر جھاڑ دیتے ہیں اور دستخط کر دیئے۔ اور میاں عبداللہ سنوری مسجد کے حجرے میں میرے پاس بیٹھا تھا کہ اس کے غیب سے سرخی کے قطرے میرے کرتے اور اس کی ٹوپی پر بھی گرے اور میاں عبداللہ نے میرا وہ کرتہ بطور تبرک اپنے پاس رکھ لیا جو اب تک اس کے پاس موجود ہے۔

(حقیقت الوحی ص ٢٥٥، خزائن ج ٢٢ ص ٢٦٧)

الہام نمبر ١٠...... ربنا عاج یعنی میرا رب ہاتھی کا دانت ہے۔ (براہین احمدیہ ص ٥٥٤، خزائن ج ١ ص ٦٦٢) الہام نمبر ١١...... انت منى بمنزلة عرشى انت منى بمنزلة ولدى.

(حقیقت الوحی ص ٨٦، خزائن ج ٢٢ ص ٨٩)

”انت منى وانا منك“

(حقیقت الوحی ص ٧٤، خزائن ج ٢٢ ص ٧٧)

یعنی اے مرزا قادیانی تو مجھ سے اور میں تجھ سے ہوں یعنی میں تیرا خالق ہوں تو میرا خالق ہے۔ کیونکہ استحالہ ظاہر ہے۔ پس مناظرہ کرنے والے کو چاہئے کہ ان الہامات کے ثبوت کے لئے دلائل قاطعہ مرزائی مناظر سے مطالبہ کرے اور توہین آمیز الہامات جو کہ بنسبت شان حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور حسنین علیہ السلام کے مرزا قادیانی نے اپنی تصانیف میں تحریر کئے ہیں روبرو حاضرین مجلس کے سنا کر فتح حاصل کرلیں اور ہر ایک امر کا ضرور مطالبہ کریں۔ شعر:

ابن مریم کے ذکر کو چھوڑو
اس سے بہتر غلام احمد ہے

(دافع البلاء ص ٢٠، خزائن ج ١٨ ص ٢٤٠)

اور (دافع البلاء ص ١٣، خزائن ج ١٨ ص ٢٣٣) میں لکھتا ہے کہ میں ہر شان میں مسیح ابن مریم سے بڑھ کر ہوں اور (حقیقت الوحی ص ١٥٥، ١٤٨، خزائن ج ٢٢ ص ١٥٢، ١٥٩) کو ملاحظہ کرو۔

انی قتیل الحب لكن حسينكم
قتيل العدا فالفرق اجلى واظهر

یعنی میں محبت کا کشتہ ہوں مگر تمہارا حسین دشمنوں کا کشتہ ہے پس فرق کھلا اور ظاہر ہے۔

(اعجاز احمدی ٨١، خزائن ج ١٩ ص ١٩٣)

واما حسين فاذكروا دشت كربلا
الى هذه الايام تبكون فانظروا

(اعجاز احمدی ص ٦٩، خزائن ج ١٩ ص ١٨١)

٢١

صفحہ ٦٦٣
وشتان ما بينى وبين حسينكم
فانی اوید كل ان وانصر
واما مقامی فاعلموا ان خالقی
يحمدنى من عرشه ويوقر

(اعجاز احمدی ص ٦٩، خزائن ج ١٩ص ١٨١)

مجھ میں اور تمہارے حسین میں بہت فرق ہے کیونکہ مجھے ہر وقت تائید خدا کی اور مدد مل رہی ہے۔ مگر حسین پس تم دشت کربلا کو یاد کر لو۔ اب تک تم روتے ہو پس سوچ لو اور میرا مقام یہ ہے اور میرا خدا عرش پر میری تعریف کرتا ہے اور عزت دیتا ہے۔ پس ناظرین یاد کر لیں کہ جس شخص کے نزدیک اہل بیت نور العین سیدنا رسول اللہ ﷺ کے نواسوں کی یہ شان وعزت ہو وہ مسلمان کہلانے کا مستحق بھی ہو سکتا ہے۔ ہرگز نہیں ہرگز نہیں۔

(فقط ابو المنظور عفی عنہ )

سوال...... مرزا قادیانی نے جو معیار اپنی نبوت کے لئے مقرر کئے تھے۔ کیا وہ سب کے سب غلط تھے؟ اور نبوت کے لئے کوئی شارع علیہ السلام نے مقرر کئے ہیں تو تحریر کریں اور جواب دین اجر ملے گا۔

(السائل خادم الفقراء غلام محی الدین عفی عنہ )

جواب...... ہاں بے شک تمام معیار و دعویٰ مرزا قادیانی بابت نبوت کے جھوٹے تھے۔ چنانچہ نمبر وار ذیل میں درج ہیں:

نمبر ١...... مرزا قادیانی لاہور شہر میں فوت ہوئے۔ ریل یعنی دجال کے گدھے پر بقول خود سوار ہو کر قادیان میں جا مدفون ہوئے حالانکہ نبی جس جگہ فوت ہوتا ہے۔ وہاں ہی دفن کیا جاتا ہے۔ چنانچہ ”کنز العمال جز ٢ ص ١١٩ اور مشکوۃ باب وفات نبی علیہ السلام ) ما توفى الله نبيا قط الا دفن حيث قبض ما قبض الله نبيا الا فى موضع الذى يجب ان يدفن فيه۔

نمبر ٢...... مرزا قادیانی کہتے ہیں کہ میں نبی ہوں حالانکہ نبی اپنی قوم کی زبان کے ساتھ آیا کرتا ہے۔ چنانچہ قرآن مجید میں ہے: ”وما ارسلنا من رسول الا بلسان قومه “ فرمایا اللہ تعالیٰ نے ہم نے تمام انبیاء کو انہی کی زبان میں پیغمبر بنا کر بھیجا۔ مرزا قادیانی قصیدہ اعجازیہ عربی لے کر آئے۔ چاہئے یہ تھا کہ زبان جس زبان میں پیغمبر بنا کر بھیجا کہ پنجابی یا اردو زبان میں لے کر آتے۔

نمبر ٣...... مرزا قادیانی کہتے ہیں کہ آنے والا مسیح موعود میں ہوں۔ حالانکہ یہ بالکل غلط ہے کیونکہ آنے والا مسیح بن مریم حج وعمرہ کا احرام باندھے گا اور حج کعبتہ اللہ کا کرے گا۔

٢٢

چنانچہ حدیث مسلم ج ١ص ٤٠٨ مطبوعہ مجتبائی میں ہے الاسلمى قال سمعت ابا هريره يحدث عن الـ ليهلّنّ من ابن مريم بفج الروحا حاجا او معـ اسلمی سے کہ فرمایا ابو ہریرہؓ نے کہ بیان فرمایا نبی ﷺ نے میں میری جان ہے کہ بے شک ابن مریم مقام فج روحاء پس ناظرین نہ تو مرزا قادیانی نے حج کیا اور طرح کی طاقت تھی۔

معیار ٤...... نبی اللہ کا کوئی استاد مخلوق میں سے نہیں ہوتا۔ باپ اور گل شاہ بٹالوی سے کافیہ وشرح ملا وانوار تک پڑھ معیار ٥...... نبی اللہ شاعر نہیں ہوا کرتا، مرزا قادیانی شاع معیار ٦...... کسی نبی اللہ نے رسول خدا ﷺ کے نواس اور نہ ہی کسی نبی نے معجزات کو شعبدہ مسمریزم ٹھہرایا ہے معیار ٧...... تمام انبیاء کا مال متروکہ حکم صدقہ کا رکھتا ہے ترکناه صدقة مرزا قادیانی کا مال تقسیم ہوا اور مرزا قادی کرا دیا۔ معیار ٨...... نبی اللہ مال جمع کرا کر اعلیٰ درجہ کے مکان چندے سے مال جمع کرا کے خوب مزے اڑائے اور معیار ٩...... کسی نبی اللہ کے فوت ہونے کے بعد ان کہ جس طرح مرزا قادیانی کی جماعت میں اختلاف ورسل من اللہ مانا ہو) اور دوسری نے ولی اللہ ومجدد ہے تو مرزائی صاحبان کریں۔ معیار ١٠...... جس قدر دنیا میں نبی اللہ تشریف فرما رسالت کا مخلوقات کے سامنے کیا ہے۔ جس طر مجددیت پھر مسیحیت پھر دعویٰ نبوت من اللہ پھر کر کسی نے نہیں کیا۔

٢٣

صفحہ ٦٦٣

ين حسينكم ان وانصر وا ان خالقی شه ويوقر

(اعجاز احمدی ص ٦٩، خزائن ج ١٩ ص ١٨١)

ہے کیونکہ مجھے ہر وقت تائید خدا کی اور مدد مل ت تم روتے ہو پس سوچ لو اور میرا مقام یہ دیتا ہے۔ پس ناظرین یاد کر لیں کہ جس ﷺ کے نواسوں کی یہ شان وعزت ہو وہ ہیں۔ (فقط ابوالمنظور عفی عنہ)

ے مقرر کئے تھے۔ کیا وہ سب کے سب غلط ر کہتے ہیں تو تحریر کریں اور جواب دیں اور

(السائل خادم الفقراء غلام محی الدین عفی عنہ)

فی بابت نبوت کے جھوٹے تھے۔ چنانچہ

ں یعنی دجال کے گدھے پر بقول خود سوار ت ہوتا ہے۔ وہاں ہی دفن کیا جاتا ہے۔ علیہ السلام) ما تركني الله نبيا قط موضع الذي يجب ان يدفن فيه ۔ نکہ نبی اپنی قوم کی زبان کے ساتھ آیا کرتا رسول الا بلسان قومه “ فرمایا پیغمبر بنا کر بھیجا۔ ﴿ مرزا قادیانی قصیدہ بان میں پیغمبر بنا کر بھیجا کہ پنجابی یا اردو

یں ہوں۔ حالانکہ یہ بالکل غلط ہے کیونکہ حجۃ اللہ کا کرے گا۔

چنانچہ حدیث مسلم ج ١ ص ٤٠٨ مطبوعہ مجتبائی میں بایں طور پر مسطور ہے: ”عن حنظلة الاسلمي قال سمعت ابا هريره يحدث عن النبي ﷺ قال والذي نفسي بيده ليهلّنّ ابن مريم بفج الروحا حاجا او معتمراً او ليثنينهما“ مروی ہے: حنظلہ اسلمی سے کہ فرمایا ابوہریرہؓ نے کہ بیان فرمایا نبی ﷺ نے کہ قسم ہے خداوند کریم کی کہ جس کے قبضے میں میری جان ہے کہ بے شک ابن مریم مقام فج روحاء میں حج یا عمرہ کا احرام باندھیں گے۔

پس ناظرین نہ تو مرزا قادیانی نے حج کیا اور نہ ہی عرب کا منہ دیکھا باوجود یہ کہ ان کو ہر طرح کی طاقت تھی۔

معیار ٤..... نبی اللہ کا کوئی استاد مخلوق میں سے نہیں ہوتا۔ مرزا قادیانی نے کتابیں فارسی ،عربی اپنے باپ اور گل شاہ بٹالوی سے کافیہ وشرح ملا ، انوار تک پڑھے ہیں۔

معیار ٥..... نبی اللہ شاعر نہیں ہوا کرتا، مرزا قادیانی شاعر تھے۔

معیار ٦..... کسی نبی اللہ نے رسول خدا ﷺ کے نواسہ اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی توہین نہیں کی اور نہ ہی کسی نبی نے معجزات کو شعبدہ ، سحر ، وہم ٹھہرایا ہے۔ لیکن مرزا قادیانی نے یہ سب کچھ کیا۔

معیار ٧..... تمام انبیاء کا مال متروکہ حکم صدقہ کا رکھتا ہے: قال عليه السلام لا نورث ما ترکناہ صدقة

(مشکوٰۃ باب وفات النبی ص ٥٥٠)

مرزا قادیانی کا مال تقسیم ہوا اور مرزا قادیانی نے اپنے فرزند کو عاق کر دیا اور مال تقسیم کرا دیا۔

معیار ٨..... نبی اللہ مال جمع کرا کر اعلیٰ درجہ کے مکانات نہیں بنوایا کرتے۔ مرزا قادیانی نے تبلیغی چندے سے مال جمع کرا کے خوب مزے اڑائے اور مکانات بنوائے۔

معیار ٩..... کسی نبی اللہ کے فوت ہونے کے بعد ان کی جماعت میں اس طرح کا اختلاف نہیں ہوا کہ جس طرح مرزا قادیانی کی جماعت میں اختلاف پیدا ہوا کہ ایک جماعت (صحابہ نے اس کو نبی ورسول من اللہ مانا ہو) اور دوسری نے ولی اللہ ومجدد امام مانا ہو۔ اگر کسی نبی اللہ کے بارے میں ہوا ہے تو مرزائی صاحبان کریں۔

معیار ١٠..... جس قدر دنیا میں نبی اللہ تشریف فرما ہوئے ہیں تمام نے یک لخت ایک ہی دعویٰ رسالت کا مخلوقات کے سامنے کیا ہے۔ جس طرح کہ مرزا قادیانی نے پہلے دعویٰ ولایت پھر مجددیت پھر مسیحیت پھر دعویٰ نبوت من اللہ پھر کرشن جی وغیرہ وغیرہ کر کے خود خدا بن بیٹھے۔ ایسا کسی نے نہیں کیا۔

٢٣

صفحہ ٦٦٥

معیار ١١...... جس قدر نبی اللہ صادق ہوئے ہیں سب کے اسماء گرامی مفرد تھے جیسا کہ آدم، نوح، موسیٰ، ابراہیم، داؤد، سلیمان، مرزا قادیانی کا نام مضاف، مضاف الیہ سے مرکب تھا، چنانچہ غلام احمد قادیانی فقط! پس ناظرین یاد رکھیں کہ مرزا قادیانی کے دعوے سب کے سب جھوٹے تھے اور مرزائی لوگ عوام الناس کو دھوکہ دینے کے لئے ثبوت نبوت مرزا قادیانی یہ آیت کریمہ پیش کیا کرتے ہیں: ’یا بنی آدم یاتینکم رسل منکم یقصون علیکم آیاتی‘‘ ناظرین یہ دلیل تو ان کی نبوت کی بیخ کنی کر رہی ہے کیونکہ اس میں صیغہ مضارع ، یقصون ایاتی شاہد ہے جو کہ دلالت کرتا ہے نبی صاحب کتاب و شریعت پر مرزا قادیانی تو نہ صاحب کتاب اور نہ صاحب شریعت بلکہ انکا معیار الہامات تھے۔ چنانچہ اپنی کتاب ( آئینہ کمالات ص ٢٨٨ ، خزائن ج ٥ ص ٢٨٨) میں یوں تحریر کرتے ہیں: ’’ہمارے صدق یا کذب جانچنے کے لئے ہماری پیش گوئی سے بڑھ کر اور کوئی محک امتحان نہیں ہو سکتا۔‘‘ اور علاوہ اس کے اس آیت کریمہ کا مطلب یہ ہے کہ آدم علیہ السلام سے لے کر آقا آخر الزمان جناب آقائے نامدار محمدﷺ تک جو انبیاء علیہم السلام تشریف فرما ہوئے ہیں وہ مراد ہیں۔ اگر مرزائی یہ مراد نہ لیں تو آنحضورﷺ کے اس فرمان عالیشان کی ان کو تکذیب کرنی پڑے گی اور کہنا پڑے گا کہ آنحضور کو قرآن مجید کی سمجھ نہ آئی۔ ” ان الرسالة والنبوة قد انقطعت فلا رسول بعدی ولا نبی بعدی

(ترمذی ج ٢ ص ٥٣، کنز العمال ج ١٥ ص ٣٦٨)

یعنی فرمایا: ”آپ نے کہ رسالت ونبوت منقطع ہوگئی ہے۔ بعد میرے نہ کوئی رسول ہوگا اور نہ ہی کوئی نبی‘‘ اور علاوہ اس کے جب خود مرزا قادیانی نے اپنی کتاب ” ازالہ اوہام ص ٧٦١، خزائن ج ٣ ص ٥١١‘‘ میں یہی معنی بیان کر دیئے ہیں۔ ” قرآن کریم بعد خاتم النبیین کے کسی رسول کا آنا جائز نہیں رکھتا خواہ وہ نیا رسول ہو یا پرانا ہو۔ کیونکہ رسول کو علم دین بواسطہ جبرائیل ملتا ہے اور باب نزول جبرائیل پر پیرایہ وحی رسالت مسدود ہے اور یہ بات خود ممتنع ہے کہ دنیا میں رسول تو آئے مگر سلسلہ وحی رسالت نہ ہو ۔‘‘ پس ناظرین اس عبارت سے آپ خود اندازہ لگا سکتے ہیں کہ مرزا قادیانی کہاں تک اپنے دعوٰی میں سچے تھے۔

(فقط المجیب خادم شریعت ابوالمنظور محمد نظام الدین ملتانی عفی عنہ )

سوال...... مرزا قادیانی کو مجدد ماننا درست ہے یا نہیں؟ اور مجدد کی کیا تعریف ہے؟ جواب...... مرزا قادیانی کو مجدد ماننا بھی درست نہیں کیونکہ اس میں اوصاف مجددیت کے ہر گز نہیں ٢٤

پائے جاتے اور مجدد وہ شخص ہوتا ہے جس کی علمیت اور اس کے ناقد حدیث ہونے کو خود تسلیم کرلیں ا دیکھو حضرت سید پیر مہر علی شاہ صاحب فاضل اج احناف نے کتاب ” اعجاز المسیح‘‘ کی کئی اغلاط پر نق اظہار کیا ہے۔ جس کا جواب اب تک کسی مرزا قادی مشتے نمونہ از خروارے مرزا قادیانی کی علمیت پر روش کہیں تو مسلمانوں کی کتابوں سے عبارتوں کی چ تحریف معنوی کی جس پر ادنیٰ ادنیٰ طالب علم بھی انگ دیکھئے غور سے دیکھئے صفحہ اول: وانسی ا مطبع ضیاء الاسلام فی سبعین یوما وک (سن ١٣١٨ و من شہر نصار غلطی نمبر اول طبع کی ضمیر راجع بجانب ق چاہئے تھا اور باقی تمام عبارت بالکل ربط وخلاف آ صاحبان کے نزدیک ستر دن کا بھی مہینہ ہوتا ہوگا اور تھا کیونکہ زبان عرب میں گاف، پ استعمال میں نہی (ست غاب صدره او کلیل اق گئی ہے اور ص ٣ میں ہے۔ ” من کل نوع ال جگہ نوع للجناح ہونا چاہئے تھا کیونکہ کلمہ کل مقام پر مقصود نہیں (کل اموهم على التقوى اور ص ٧ پر مرزا قادیانی نے مقامات حریری سے ع القدس وخضراء الدمن كالربيع ال ج ١٨ ص ١٩ اور دوسری جگہ لکھا ہے۔ ”ایمن الخفل ص ٨، خزائن ج ١٨ ص ١٠) اس جگہ فافتحوا پر فا (اعجاز المسیح ص ٩ خزائن ج ١٨ ص ١١) یہاں پر صرف م تهوى انفسهم (اعجاز المسیح ص ١٣، خزائن ج ١٨ قرآن مجید سے چوری کی ہے۔ ٢٥

صفحہ ٦٦٥

پائے جاتے اور مجدد وہ شخص ہوتا ہے جس کی علمیت وفاضلیت ومحدثیت پر علمائے وقت کا اتفاق ہو اور اس کے ناقد حدیث ہونے کو خود تسلیم کرلیں اور مرزا قادیانی کو یہ قابلیت کہاں نصیب ہوئی؟ دیکھو حضرت سید پیر مہر علی شاہ صاحب فاضل اجل، علامہ بے بدل، وابوالبیان وغیرہ احباب احناف نے کتاب ”اعجاز المسیح“ کی کئی اغلاط پر نوٹ دے کر مرزا قادیانی کی علمی لیاقت کا نمونہ اظہار کیا ہے۔ جس کا جواب اب تک کسی مرزا قادیانی سے نہیں بن سکا اور خادم شریعت بھی بطور مشت نمونہ از خروارے مرزا قادیانی کی علمیت پر روشنی ڈال دیتا ہے اور ظاہر ہے کہ مرزا قادیانی نے کہیں تو مسلمانوں کی کتابوں سے عبارتوں کی چوری کی اور کہیں بے ربط عبارت بنائی اور کہیں تحریف معنوی کی جس پر ادنیٰ ادنیٰ طالب علم بھی انہیں اڑا رہے ہیں۔

دیکھئے غور سے دیکھئے صفحہ اول: وانی سمیته اعجاز المسيح وقد طبع فی مطبع ضياء الاسلام في سبعين يوما وكان من الهجرة

(سن ١٣١٨ھ ومن شہر نصاری ٢٠ فروری ١٩٠١ء، اعجاز المسیح ص ١، خزائن ج ١٨ ص ١)

غلطی نمبر اول طبع کی ضمیر راجع بجانب قصیدہ ہے اور یہ مؤنث ہے لہٰذا طبعت ہونا چاہئے تھا اور باقی تمام عبارت بالکل بے ربط وخلاف محاورہ اہل عرب ہے۔ معلوم ہوتا ہے کہ مرزائی صاحبان کے نزدیک ستر دن کا بھی مہینہ ہوتا ہوگا اور ضلع گورداسپور کی بجائے غور داسفور ہونا چاہئے تھا کیونکہ زبان عرب میں گاف، پ استعمال میں نہیں آتے اور ذرا ص ٢ کو ملاحظہ فرمائیے کہ:

(ست غاب صدره او كليل افل بدره ) یہ عبارت حریری کے ص ١٢٤ سے لی گئی ہے اور ص ٣ میں ہے۔ ” من كل نوع الجناح “ (اعجاز المسیح ص ٣، خزائن ج ١٨ ص ٥) اس جگہ نوع للجناح ہونا چاہئے تھا کیونکہ کلمہ کل معرفہ پر احاطہ اجزاء کا افادہ دیتا ہے۔ جو کہ اس مقام پر مقصود نہیں (كل امرهم على التقوی (ایضاً)) اس جگہ بھی (امرھم) ہونا چاہئے تھا اور ص ٧ پر مرزا قادیانی نے مقامات حریری سے خوب چوری کی ہے۔ وافرق بين روض القدس وخضراء الدمن كالربيع الذي يمطر فى ابانه. اور اعجاز المسیح ص ٧، خزائن ج ١٨ ص ١٩ اور دوسری جگہ لکھا ہے۔” این الخفاء فافتحوا العين ايها العقلاء “ (اعجاز المسیح ص ٨، خزائن ج ١٨ ص ١٠) اس جگہ فافتحوا پر فا کا لانا خلاف محاورہ عرب ہے۔ قالو مفتری (اعجاز المسیح ص ٩، خزائن ج ١٨ ص ١١) یہاں پر صرف مفتر چاہئے تھا اور ولما جائهم امام بما لا تهوى انفسهم (اعجاز المسیح ص ١٣، خزائن ج ١٨ ص ١٥) یہاں پر مرزا قادیانی نے بغیر لفظ امام قرآن مجید سے چوری کی ہے۔

صفحہ ٦٦٦

پس ناظرین! اگر مفصل مرزا قادیانی کی علمیت کا فوٹو دیکھنا منظور ہو تو ”سیف چشتیائی“ و ”قصیدہ رائیہ بجواب مرزائیہ“ اور دوسرا ”ابطال اعجاز مرزا“ کو ملاحظہ کریں۔ اور دوسری شرط مجدد کی یہ ہے کہ وہ بدعت اور جو رواج مخالف شرع شریف کے ہوں ان کی بیخ کنی کرتا ہے اور مردہ سنت زندہ کرنے کے بدعت و شرک کی بنیاد قائم کر دی اور اپنے مریدوں کے گھروں میں اپنی تصویر کھنچوا کر بعوض درہم و دینار فروخت کی اور ان کی پوجا کرائی اور تناسخ وحلول و تثلیث کے مسائل کو بڑے زور و شور سے اپنی تصنیفات میں تحریر کر کے ثابت کر دیا حالانکہ مصورین کی نسبت آنحضرت ﷺ نے بایں طور پر فیصلہ دیا ہے: ”عن ابن عباسؓ قال سمعت رسول الله ﷺ يقول كل مصور في النار (مشكوة باب التصاویر ص ٣٨٥) وعن عبداللہ بن مسعود قال سمعت رسول اللہ ﷺ یقول اشد الناس عذاباً عند الله المصورون (مشکوة ص ٣٨٥) وعن ابی طلحة قال قال رسول الله ﷺ لا تدخل الملائکة بيتاً فيه (مشکوة ص ٣٨٢)“ پس ان حدیثوں سے صاف صاف معلوم ہوا کہ تصویریں بنانی حرام ہیں اور ایسے لوگوں پر بروز قیامت سخت عذاب ہوگا اور جس خانہ میں تصویر ہو اس خانہ میں فرشتے داخل نہیں ہوتے اور یہ طریقہ مشرکین کا تھا اور یہ تصویریں بھی بت پرستی کی بناء ہیں اور افسوس کہ مرزا قادیانی نے کوئی کام سنت رسول ﷺ کا نئے سرے سے زندہ نہیں کیا اپنی تمام عمر کو عیش وعشرت میں ضائع کر دیا اور خوب مزے اڑائے اور تمام اپنے منکرین کو کافر و منافق کہہ کر اپنے دل کو ٹھنڈا کیا اور ناظرین کو اس کا مفصل ذکر دیکھنا منظور ہو تو مجالس الابرار کو ملاحظہ کریں اور مثال مجدد امام غزالی وامام رازی وامام جلال الدین سیوطی و حضرت امام شافعیؒ کی پیش رکھیں۔ فقط

بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

”الحمد لله رب العالمين والصلوة والسلام على رسوله سيدنا محمد خاتم النبيين واخر المرسلين وعلى آله واصحابه واتباعه الذين هم نجوم السماء ورجوم الشياطين“ (سب تعریف اللہ کو ہے جو صاحب سارے جہاں کا اور رحمت اور سلامتی ہو اس کے رسول پر جو سردار ہے ہمارا۔ نام اس کا محمد ہے وہ مہر ہے سب نبیوں پر اور پیچھے آنے کو اور سب پیغمبروں سے اور اس کی آل اور اصحاب پر اور تابعداروں پر جو تارے ہیں آسمان کے اور مار ہے واسطے شیطانوں کے )

٢٦

٦٧ وحی اور نبوت اور رسالت کا دعویٰ ارت حدیث متواتر مجمع علیہ اور اجماع امت کا انکار ہے ”قال تعالىٰ ما كان محمد وخاتم النبيين (الاحزاب : ٤٠) وقال ر بعده نبي (ترمذي ج ٢ ص ١١١، مسلم رسول الله ﷺ وختم بي البنيان وخت خاتم النبيين (مسلم ج ٢ ص ٢٤٨، مش نبوة بعدي (رواہ احمد) وقال رسول الله ﷺ فلا رسول بعدي ولا نبي (رواه احمد باپ نہیں کسی کا تمہارے مردوں میں لیکن رسول نے فرمایا کہ پیچھے آنے والا ہوں جو اس کے بعد کو نے فرمایا کامل ہوئی مجھ پر بنیان وتمام ہوئی مجھ پ اینٹ ہوں اور میں سب نبیوں پر مہر ہوں۔ بخاری نبوت نہیں ہے اور رسول اللہ ﷺ کی رسالت اور ن نہ کوئی نبی۔ ان دونوں حدیثوں کو امام احمدؒ روایت اس قسم کی احادیث بکثرت ہیں حد توات کفر اور ارتداد مسئلہ اختلافی نہیں بلکہ بالا جماع کاف ودعوىٰ النبوة بعد نبينا ہمارے نبی ﷺ کے بعد نبوت کا دعویٰ کرنا بالا جما ملا علی قاری اور ابن حجر مکی اپنے فتاویٰ محمد ﷺ كفر كفراً باجماع المسلمين کافر ہے اس پر تمام مسلمانوں کا اجماع ہے ) اور يكفر ولو اقر لا حقاً النبوة وهو نبی ﷺ کی نبوت سے انکار کیا وہ کافر ہے اور (در حقیقت نبی نہ ہو تب بھی کافر ہے ) اور تفسیر وتعالىٰ في كتابه ورسوله في السنة

صفحہ ٦٦٧

وحی اور نبوت اور رسالت کا دعوی ارتداد اور کفر ہے کیونکہ اس میں قرآن شریف اور حدیث متواتر مجمع علیہ اور اجماع امت کا انکار ہے اور ان کا انکار ارتداد اور کفر ہے۔

”قال تعالى ما كان محمد ابا احد من رجالكم ولكن رسول الله وخاتم النبيين (الاحزاب: ٤٠) وقال رسول الله ﷺ انا العاقب الذى ليس بعده نبی (ترمذی ج ٢ ص ١١١، مسلم ج ٢ ص ٢٦١، بخار ج ١ ص ٥٠١) وقال رسول الله ﷺ وختم بی البنیان وختم بی الرسل وفی رواية انا اللبنة وانا خاتم النبيين (مسلم ج ٢ ص ٢٤٨، مشكوة ص ٥١١) وقال رسول الله ﷺ لا نبوة بعدى (رواه احمد) وقال رسول الله ﷺ ان الرسالة والنبوة وقد انقطعت فلا رسول بعدی ولا نبی (رواه احمد ج ٣ ص ٢٦٧)“ (فرمایا اللہ تعالیٰ نے محمد ﷺ باپ نہیں کسی کا تمہارے مردوں میں لیکن رسول ہے اللہ کا اور مہر سب نبیوں پر اور رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ پیچھے آنے والا ہوں جو اس کے بعد کوئی نبی نہیں ہے۔ بخاری ومسلم اور رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کامل ہوئی مجھ پر بنیان و تمام ہوئی مجھ پر پیغمبری اور ایک روایت میں ہے۔ پس میں وہ اینٹ ہوں اور میں سب نبیوں پر مہر ہوں۔ بخاری ومسلم اور رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ میرے بعد نبوت نہیں ہے اور رسول اللہ ﷺ کی رسالت اور نبوت تمام ہوئی پس نہ کوئی رسول میرے بعد ہے نہ کوئی نبی۔ ان دونوں حدیثوں کو امام احمد روایت کرتے ہیں)

اس قسم کی احادیث بکثرت ہیں حد تواتر تک پہنچی ہیں۔ مدعی نبوت اور اس کے متبعین کا کفر اور ارتداد مسئلہ اختلافی نہیں بلکہ بالا جماع کافر ہیں۔

ودعوى النبوة بعد نبينا ﷺ کفر بالاجماع كذافى شرح (اور ہمارے نبی ﷺ کے بعد نبوت کا دعوی کرنا بالا جماع کفر ہے)

ملاعلی قاری اور ابن حجر مکی اپنے فتاویٰ میں لکھتے ہیں: من اعتقد وحيا من بعد محمد ﷺ کفر كفرا باجماع المسلمین (جس نے نبی ﷺ کے بعد وحی کا اعتقاد رکھا وہ کافر ہے اس پر تمام مسلمانوں کا اجماع ہے ) اور تمہید ابی شکور میں ہے: من انكر نبينا فانه یکفر ولو اقر لا حد النبوة وهو لم يكن نبيا فانه یکفر (جس نے ہمارے نبی ﷺ کی نبوت سے انکار کیا وہ کافر ہے اور اگر کسی اور کے لئے نبوت کا قائل ہوا اور وہ (در حقیقت) نبی نہ ہو تب بھی کافر ہے ) اور تفسیر ابن کثیر میں ہے: وقد اخبر الله تبارك وتعالى فى كتابه ورسوله فى السنة المتواتره عنه انه لا نبي بعده يعلمون

٢٧

صفحہ ٦٦٨

ان کل من ادعى هذا المقام بعده فهو كذاب افاك دجال ضال مضل ولو تخرق وشعبذ واتى بانواع السحر والطلاسم والنيرنجات فكلها محال وضلال عند اولی الالباب ( اللہ تبارک وتعالیٰ نے کتاب پاک میں اور رسول اللہ ﷺ نے حدیث شریف میں فرمایا ہے کہ محمدﷺ کے بعد کوئی نبی نہیں ہے تا کہ لوگ جان لیں کہ جو کوئی آپ کے بعد اس مقام کا دعویٰ کرنے والا کذاب اور گنہگار ، دجال اور گمراہ اور گمراہ کرنے والا ہے۔ کیونکہ اگرچہ کوئی خرق عادت اور شعبدہ بازی کرے اور طرح طرح کے جادو اور طلسمات اور افسون دکھلائے پس یہ سب کے سب محال اور اصحاب عقل کے نزدیک گمراہی ہے )

جبکہ مدعی نبوت اور اس کے اتباع بھی مرتد اور کافر ہیں۔ پس ان کی امامت اور ان کے پیچھے نماز پڑھنی یا اپنی لڑکی کا نکاح ان سے کرنا یا ان کی لڑکی اپنے نکاح میں لانا میں نہیں جانتا ہوں کہ شخص مسلمانوں میں سے جائز جانتا ہو بلکہ علماء اسلام تو کہتے ہیں کہ ان کا نماز جنازہ نہ پڑھا جائے اور مسلمانوں کے قبرستان میں دفن کیا جائے۔ بلکہ کتے کی طرح بغیر غسل وکفن کے کسی گڑھے میں ڈال دیا جائے۔ ”الاشباہ والنظائر“ میں ہے۔ ”واذا مات او قتل على ردته لم يدفن فی مقابر المسلمین ولا اهل ملته وانما یلقی فی حفرة کالکلب“ (اور جب اپنے ارتداد پر مرجائے یا قتل کیا جائے تو نہ مسلمانوں کی مقبروں میں دفنایا جائے اور نہ اس کے ہم مذہبوں کی قبروں میں بلکہ یوں ہی کتے کی طرح کسی گڑھے میں ڈال دیا جائے)

اور شرعاً مرتد کا نکاح فسخ ہو جاتا ہے اور اس کی عورت اس پر حرام ہو جاتی ہے اور اپنی عورت کے ساتھ جو صحبت کرے گا وہ زنا ہے اور ایسی حالت میں جو اولاد پیدا ہوتی ہے۔ وہ ولد الزناء ہے۔ ”تنویر“ اور ”کنز“ میں ہے۔ ” وارتداد احدھما فسخ فی الحال“ (اور ان دونوں میں سے کسی ایک کے مرتد ہو جانے سے نکاح فی الحال فسخ ہو جاتا ہے) اور ”بزازیہ“ میں ہے۔ ولو ارتد والعياذ بالله تحرم امراته ويجدد النکاح بعد اسلامه والمولود بينهما قبل تجدید النکاح بالوطی بعد التکلم بكلمة الكفر ولد الزنا “ (اور اگر معاذ اللہ مرتد ہو جائے تو (اس پر ) اس کی عورت حرام ہو جاتی ہے اور مسلمان ہونے کے بعد دوبارہ نکاح باندھے اور مرتد ہونے اور دوبارہ نکاح باندھنے کے درمیان جو وطی کرنے سے اولاد پیدا ہو ولد الزناء ہے ) ” مفتاح السعادت “ میں ہے: ”ویکون وطیه مع امراته زناء والولد المتولد منها فی هذه الحالة ولد الزناء وان اتی بکلمتی الشهادة بطریق العادة...... انتهی ۔ واللہ اعلم

٢٨

صفحہ ٦٦٩

بالصواب واليه المرجع والماب ايضاً" (اور اس کا اپنی عورت سے وطی کرنا زنا ہوگا جو ان کے ہاں اس حالت میں بچہ ہوگا وہ ولد الزنا ہے اگرچہ وہ کلمہ شہادت کے کلمے پڑھے) ان لوگوں کے ساتھ کھانا پینا خلط ملط رہنا دوستی رکھنی نہیں چاہئے کیونکہ اس میں مداہنت اور خوف نزول غضب الہی کا ہے: "قال الله تعالى: ومن يتولهم منكم فانه عنهم" یعنی جو کوئی ان سے رفاقت کرے تم سے پس وہ ان سے ہے۔ اور فرمایا اللہ تعالیٰ نے: "ومن يفعل ذلك فليس من الله من شىء " جو کوئی دوستی کرے پس وہ نہیں کسی چیز میں اللہ کے دین سے۔ عبداللہ بن مسعودؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے: "لما وقعت بنو اسرائيل فى المعاصى نهتهم علماء هم فلم ينتهوا فجالسوهم فى مجالسهم وواكلوهم وشاربوهم فضرب الله قلوب بعضهم ببعض ولعنهم على لسان داود وعيسى بن مريم (رواه الترمذى ج٢ ص١٣٥، ابواب التفسير وابو داؤد)" یعنی جب بنی اسرائیل گناہوں میں پڑے علماء نے ان کو منع کیا جب منع نہ ہوئے تو علماء ان سے علیحدہ نہ ہوئے بلکہ ان کی مجلسوں میں جاتے رہے اور ان کے ساتھ کھاتے اور پیتے رہے۔ پس خدا نے سب کے دلوں کو یکساں کر دیا اور سب کو ملعون بنا دیا۔ جب بے دینوں کے ملنے والے اور ساتھ کے کھانے والے قرآن شریف اور حدیث کی رو سے بے دینوں اور فاسقوں جیسے ہیں پس مومن صادق کو چاہئے کہ ان کا اخلاط اور ساتھ کا کھانا پینا بھی ترک کرے۔ جیسا کے بے دینی کا ترک کر دینا صحیح بخاری میں ہے۔ کہ تین اصحابی جلیل القدر نے غزوہ تبوک سے تخلف کیا تھا۔ رسول اللہ ﷺ نے سب مسلمانوں کو حکم دیا کہ ان کے ساتھ کوئی سلام اور کلام نہ کرے جب ایسے بزرگوں کو بسبب کسی قصور کے یہ حکم سنایا گیا۔ پس وہ لوگ جو بے دینوں کی رفاقت نہیں چھوڑتے ہیں۔ ان کے ساتھ ترک سلام اور کلام بطریق اولیٰ ضروری ہے۔

(حررہ عبدالجبار بن عبداللہ الغزنوی نقل از فتاویٰ غزنوی ص١٧١)

فتویٰ عدم جواز نکاح مابین اہل سنت والجماعت وفرقہ مرزائیہ

بسم الله الرحمن الرحيم حامداً ومصلياً

سوال....... کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین کہ مرزائی لوگ جو مرزا قادیانی کے سب عقائد کو تسلیم کرتے ہیں اور اس کی رسالت کے قائل ہیں اور اس کو مسیح موعود مانتے ہیں اس

٢٩

صفحہ ٦٧٠

واسطے علمائے عرب و عجم نے مرزائیوں پر کفر کا فتویٰ لگایا ہے۔ اگر کوئی مسلمان اپنی دختر کا نکاح کسی مرزائی سے کردے بعد اس کو معلوم ہو کہ یہ شخص مرزائی ہے آیا یہ نکاح عند الشرع جائز ہوگا یا نا جائز یہ شخص اپنی لڑکی کا نکاح ثانی بلائے طلاق مرزائی زوج کے کسی مسلمان سے کر سکتا ہے یا نہیں؟

بینوا بالتفصیل جزاکم اللہ الرب الجلیل۔

جواب...... مرزائی مرد سے سنیہ عورت کا نکاح نہیں ہوتا بلا طلاق سنیہ کا باپ اس کا نکاح کسی سنی سے کر سکتا ہے۔ بلکہ فرض ہے اس لڑکی کو اس مرزائی سے فوراً جدا کرے کہ اس کی صحبت اس کے ساتھ خالص زنا ہے۔ بالکل وہی حکم ہے جو کوئی شخص اپنی دختر کسی ہندو کے گھر بلا نکاح بھیج دے بلکہ اس سے سخت تر کہ وہاں حرام کو حرام کی ہی مد میں رکھا اور یہاں نکاح پڑھا کر معاذ اللہ اس کو پر حلال کے پیرایہ میں لایا گیا۔ اس سے فوراً علیحدہ کر لینا فرض ہے۔ پھر جس سنی سے چاہے نکاح ممکن ہے۔ ”رد المحتار ج ٢ ص ٤١٤،٤١٣“ میں ہے قولہ:”حرم نکاح الوثنية وفى شرح الوجيز وكل مذهب يكفربه معتقد “ ”درمختار میں ہے:”ويبطل منه اتفاقاً ما يعتمد الملة وهى فسخ النکاح “ یہاں تک اصل حکم شرعی کا بیان تھا شرعاً یہ صورت جائز ہے اور ازدواج مکرر سے پاک کہ پہلا نکاح ہی نہ تھا مگر قانون رائج میں جو امر جرم ہے۔ شرعاً اپنی جان و مال اور آبرو کی حفاظت کے لئے اس سے بھی بچنے کا حکم ہے۔ قانون کا حال وکلاء جانتے ہیں۔ اگر از روئے قانون بھی یہ صورت داخل جرم نہ ہو۔ یا قانون حکم فتویٰ کو تسلیم کرکے اس کا جرم نہ ہونا قبول کرے تو حرج نہیں ورنہ ان سے دور رہا جائے ہاں دختر کو جسے جائز طریقہ سے ممکن ہو جدا کرنا سخت فرض اہم ہے۔ اگر چہ دوسری جگہ نکاح نہ ہو سکے۔والله أعلم وعلمه اتم

كتبه عبد النبی نواب مرزا عفى عنه سنی حنفی بریلوی۔ صحیح الجواب والله تعالیٰ اعلم فقير احمد رضا عفي عنه بریلوی۔

بے شک بلا تردد کر سکتا ہے کہ مرزائی سے نکاح باطل محض زنائے خالص ہے کہ وہ مرتد ہے اور مرتد کا نکاح کسی قسم کی عورت کے ساتھ نہیں ہو سکتا۔ طلاق کی حاجت نکاح میں ہوتی ہے۔ نہ کہ زنا میں فتاویٰ عالمگیری میں ہے۔

الفقير القادرى وصى احمد حنفى فى مدرسة الحديث الدايرة في پیلی بهیت ٣٠

رد قاد مولانا قاضی عل

PDF 672

ہے ۔ اگر کوئی مسلمان اپنی دختر کا نکاح کسی ہے آیا یہ نکاح عند الشرع جائز ہوگا یا نا جائز کے کسی مسلمان سے کرسکتا ہے یا نہیں؟

اما طلاق سنیہ کا باپ اس کا نکاح کسی سنی ے فوراً جدا کرے کہ اس کی صحبت اس کے کڑ کسی ہندو کے گھر بلا نکاح بھیج دے بلکہ یہاں نکاح پڑھا کر معاذ اللہ اس کو پھر حلال ا ہے۔ پھر جس سنی سے چاہے نکاح ممکن رم نكاح الوثنية وفى شرح ہے۔ "ويبطل منه اتفاقاً ما يعتمد شرعی کا بیان تھا شرعاً یہ صورت جائز ہے اور انج میں جو امر جرم ہے۔ شرعاً اپنی جان و ہے۔ قانون کا حال وکلاء جانتے ہیں۔ انہ ہو۔ یا قانونِ حکم فتویٰ کو تسلیم کر کے اس رایا جائے ہاں دختر کو جسے جائز طریقہ سے ائع نہ ہوسکے۔ والله اعلم وعلمه اتم ، بریلوی، صحیح الجواب والله تعالیٰ

ح باطل محض زنائے خالص ہے کہ وہ مرتد نا۔ طلاق کی حاجت نکاح میں ہوتی ہے۔

وصى احمد حنفی دث سورتی فی پیلی بھیت

اَنَا خَاتَمُ النَّبِيّيْنَ لَا نَبِيَّ بَعْدِي

سیدنا و مولانا محمد رسول اللہ ﷺ

رد قادیانی

مولانا قاضی غلام ربانی شمس آبادی

صفحہ ٦٧٢

بسم الله الرحمن الرحيم

در ثبوت ایں امر کہ عیسیٰ علیہ السلام زندہ بآسمان رفتہ اند و تاحال بر آسمان اند۔ ایں آیت زیریں در حق عیسیٰ علیہ السلام وارد شدہ قولہ تعالیٰ ﴿وجيها فى الدنيا والآخرة ومن المقربين﴾ اى عند ربه بارتفاعه الى السماء وصحبة الملائكة فيها (تفسیر روح البیان ج ١ ص ٣٢٨) فرموده ولما رفع الى السماء وجد عنده ابرة كان يرقع بها ثوبه۔ فاقتضت الحكمة الالهية نزوله فى السماء الرابعة ...... الخ، ﴿اذ قال الله يا عيسى انى متوفيك﴾ اى مستوفى اجلك، ومعناه انى عاصمك من ان يقتلك الكفار ومؤخرك الى اجل كتبته لك ومميتك حتف انفك لا قتلا بايديهم ﴿ورافعك﴾ الآن ﴿الى﴾ اى الى محل كرامتى ومقر ملائكتى وجعل ذالك رفعا اليه للتعظيم ...... الخ۔ ﴿ومطهرك﴾ اى مبعدك ومنجيك ﴿من الذين كفروا﴾ اى من سوء جوارهم وخبث صحبتهم ودنس معاشرتهم۔

قيل ينزل عيسى عليه السلام، من السماء على عهد الدجال حكما عدلا، يكسر الصليب، ويقتل الخنزير ويضع الجزية فيفيض المال حتى لا يقبله احد ويهلك فى زمانه الملل كلها الاسلام ويقتل الدجال ويتزوج بعد قتله امراة من العرب وتلد منه ثم يموت هو بعد ما يعيش اربعين سنة من نزوله فيصلى عليه المسلمون لانه سال ربه ان يجعله من هذه الامامة فاستجاب الله دعائه ...... الخ (روح البیان جلد اول ص ٣٤١) قوله تعالى ﴿وما قتلوه وما صلبوه ولكن شبه لهم﴾ فاجتمعت كلمة اليهود على قتل عيسى عليه السلام فبعث الله تعالى جبرائيل فاخبره بانه يرفعه الى السماء ...... الخ

(روح البیان ج ١ ص ٥١٣)

٢

قوله تعالى: ﴿بل رفعه الـ الحسن البصرى اى الى السما السماء لما لم يكن وقوله الى الـ يكن من باب المنية بل دخل مـ ﴿وكان الله عزيزا﴾ لا يغالب فـ قدرته فان رفع عيسى عليه السـ الى قدرة البشر لكنه سهل بالـ ﴿حكيما﴾ فى جميع افعاله واقـ والبسه النور وقطعه عن شهو معهم حول العرش فكان انسيا ملكـ

قال وهب بن منبه تو وهو ابن ثلث وثلاثين سنة وكا تعالى عيسى الى الدنيا بعد للساعة وخاتما للولاية العـ المحمدية تشريفا لها بختم نبى اليهود والنصارى ويجدد اللـ واصحاب الكهف ويتزوج ويولد ووارثيه من جهة الولاية.

واجمع السيوطى فى ر شاهين اربعة من الانبياء احـ السلام واثنان فى الارض الخـ فى البحر واما صاحبه فانـ

صفحہ ٦٧٣

قوله تعالى: ﴿بل رفعه الله اليه﴾ رد وانكار لقتله واثبات لرفعه. قال الحسن البصرى اى الى السماء التى هى محل كرامة الله تعالى۔ رفع الى السماء لما لم يكن ولوجه الى الوجود الدنيوى من باب الشهوة وخروجه لم يكن من باب المنية بل دخل من باب القدرة وخرج من باب العزة......الخ۔ ﴿وكان الله عزيزا﴾ لا يغالب فيما يريده فعزة الله تعالى عبارة عن كمال قدرته فان رفع عيسى عليه السلام الى السموت وان كان متعذرا بالنسبة الى قدرة البشر لكنه سهل بالنسبة الى قدرة الله تعالى لا يغلبه عليه احد ﴿حكيما﴾ فى جميع افعاله ولما رفع الله عيسى عليه السلام كساه الريش والبسه النور وقطعه عن شهوات المطعم والمشرب وطار مع الملائكة فهو معهم حول العرش فكان انسيا ملكيا سماويا ارضيا۔

قال وهب بن منبة بعث عيسى على راس ثلثين سنة ورفعه الله وهو ابن ثلث وثلاثين سنة وكانت نبوته ثلاث سنين۔ فان قيل لم يرد الله تعالى عيسى الى الدنيا بعد رفعه الى السماء قيل اخر رده ليكون علما للساعة وخاتما للولاية العامة لانه ليس بعده ولى يختم الله به الدورة المحمدية تشريفا لها بختم نبى مرسل يكون على شريعة محمدية يؤمن بها اليهود والنصارى ويجدد الله به عهد النبوة على الامة ويخدمه المهدى واصحاب الكهف ويتزوج ويولد له ويكون فى امت محمدﷺ وخاتم الاولياء ووارثيه من جهة الولاية۔

واجمع السيوطى فى تفسير الدر المنثور فى سورة الكهف عن ابن شاهين اربعة من الانبياء احياء اثنان فى السماء عيسى وادريس عليهما السلام واثنان فى الارض الخضر والياس عليهما السلام فاما الخضر فانه فى البحر واما صاحبه فانه فى البرّ واعلم ان الارواح المهيمة التى من

٣

صفحہ ٦٧٤

العقل الاول كلها صف واحد حصل من الله ليس بعضها بواسطة بعض وان كانت صفوف الباقية من الارواح بواسطة العقل الأوّل كما اشار ﷺ انا ابو الارواح وانا من نور الله والمومنون فیض نوری فاقرب الارواح فی الصف الاول الى الروح الاول والعقل الاول روح عیسوی لهذا السر شارکه بالمعراج الجسمانی الی السماء وقرب عهده بعده.

فالروح العيسوى مظهر الاسم الاعظم وفائض من الحضرة الالهية فى مقام الجمع بلاواسطة اسم من الاسماء روح من الارواح فهو مظهر الاسم الجامع الالهی وراثة اولية ونبينا عليه السلام اصالة كذا فى شرح الفصوص......الخ۔

(روح البیان ج ١ ص ٥١٤)

﴿وإن من اهل الكتاب الا ليؤمنن به قبل موته﴾ این هر دو ضمیر برائے عیسیٰ علیہ السلام اند والمعنی ﴿وما من اهل الكتاب﴾ الموجودین عند نزول عيسىٰ عليه السلام من السماء احد الا ليؤمنن به قبل موته وفى الحديث ان المسيح جائى فمن لقيه فليقرئه منى السلام......الخ

(ايضاً ص ٥١٥)

﴿يكلم الناس فى المهد وكهلا﴾ مراد بتکلم درکهل اینست که کلام خواهد کرد در آخر زمان بعد نازل شدن او از آسمان قبل زمانه كهولت......الخ.

در مذهب مالکیه، احمدیہ، شافعیه، جمیع مذاهب حقه مشهور بلکه متواتر ست که حضرت عیسیٰ علیہ السلام بهمیں جسم عنصری ای خاکی بر آسمان رفته اند وقبل از قیامت بهمیں جسم از آسمان فرود آیند وکارھائی که بایشان متعلق باشند خواهند کرد از مذهب شافعیه نیز عبارت يك كتاب فقط برائے نمونه حاضر میکنم در نهاية الامل لمن رغب فى صحة العقيدة والعمل. الشيخ محمد ابى خضير الدمياطی، صفحه ١٠٨

٤

صفحہ ٦٧٥

نوشته دجال يك شخص ست از بنى آدم كوتاه قد. وهو رجل قصير كهل براق الثنايا عريض الصدر مطموس العين۔ واكنون موجود ست نام او صاف بن صياد وكنيت آن ابو يوسف ست وگفته شد كه نام او عبدالله است و آن از قوم يهود ست يهوديان انتظار او ميكنند چنانكه مسلمانان انتظار امام مهدى ميكنند خارج باشد در آخر زمانه بندگان را پروردگار مبتلا خواهد كرد كه زمين و آسمان وهمه چيز در اذن وقدرت او كرده شود وطعام وآب ميوه وزروسيم وهر اسباب آرام در دستش او باشد (دران وقت معاش اهل اسلا تسبيح وتهليل وتقديس پروردگار وقوت روحانى باشد) . ومردگان با دجال كلام كنند و هر قسم فتنۀ و فساد در زمانه او برپا شود كسى كه سعادت مند ازلى ست ازو دور ماند وشقى ازلى تابع اورا باشد واو خارج خواهد شد از جانب مشرق از قريه سرابا دين يا از عوازن يا از اصبهان يا از مدينه خراسان وابو بكر صدّيق فرموده درميان عراق وخراسان آن اكنون موجود است ومحبوس ست در دير عظيم زير زمين بهفتاد هزار زنجير مقيد ست وبر او مردى زور آور عظيم قد مقرر ست دردست او از آهن گرفته است وقتيكه دجال اراده حركت كند آن مرد عظيم البدن آنرا بآن گرز آهنى ميزند. پس قرارمى كند و پيش دجال يك اژدهائى عظيم ست وقتيكه دجال نفس ميگيرد اژدهائى عظيم اراده خوردن او مى كند پس بوجۀ خوف آن مار عظيم دم زدن هم نتواند وقتيكه دجال خواجۀ خضر عليه السلام را قتل كرده دو قطع بكند ودرميان هر دو قطعه بر خر خود سوار شده گزرد باز زنده كند وپرسد كه مرا خدا ميگوئى يا نه خواجه خضر عليه السلام انكار فرماید همچنين سه بار قتل كرده زنده گرداند (بعده برقتل او قدرت نیابد) همه بلاد

٥

صفحہ ٦٧٦

وامصار در حکومت آرد مگر مکه معظمه ومدینه منوره وبیت المقدس وکوه طور وقتیکه باری تعالی اراده هلاك آن دجال وهلاك تابعین دجال وهلاك تابعین کند ناگاه فرود آید از آسمان حضرت عیسی ابن مریم علیهما السلام از مناره مسجد دمشق بوقت عصر ونماز خواند همراه امام مهدی ودرروایتی امام مهدی امام شود ودر دیگر روایت آمده که عیسی علیه السلام امام باشد بعد از ادائی نماز برائی قتل دجال برود برخرخود سوار شده یا بر براق نبوی ﷺ که در معراج آمده بود یا براسپی که بقد مثل استر (خچر) باشد وبه نیزه دجال را قتل کند وخون او مردمان رابنماید وهمه یهود از رسیدن باد نفس عیسی علیه السلام مثل گدا ختن قلعی گداخته شوند وباد دم عیسی علیه السلام تا دوازده کروه خواهد رفت هر کافر راکه رسد آب خواهد شد.

روایت ست که هر کافر که درپس سنگ ودرخت پوشیده شود آن سنگ ودرخت آواز کند که ای مومن قتل کن یهودی را اينك زير من مستتر وپوشیده شود بعد هلاك دجال عیسی علیه السلام حکم کند بر زمین ونکاح کند وحج بیت الله کند وهر قسم غله ودرختان از زمین رویند وبسیار برکت باشد تا بچهل سال واین مدت مقام عیسی علیه السلام بر زمین باشد وحضرت عبدالله بن عمر روایت کرده از حضرت پیغمبر علیه السلام که حضرت عیسی بعد فروآمدن از آسمان چهل وپنج سال بر زمین هدایت وحکومت کند باز بمیرد ودفن شود بقرب قبر من ومن عیسی علیه السلام از يك قبر ستان بر خیزیم از درمیان ابو بکر ...... إلخ. ونکاح کند بزنی از عرب ودختر آن پیدا شده وفات یابد وبعض گفته اند که دو پسران او پیدا شوند نام یکی احمد ونام دیگری موسی وبعد وفات عیسی ٦

صفحہ ٦٧٧

علیہ السلام مردماں برکفر رجوع کنند وضلال وکفر وطغیان از حد درگزر تابہ ایں کہ آفتاب طلوع کند برایشان از مغرب پس توبہ کسے مقبول نخواهد شد. وهو معنی قولہ تعالیٰ عزوجل ﴿یوم یاتی بعض اٰیت ربک لا ینفع نفسا ایمانها﴾ انتہیٰ من ب ج علی شرح الخطیب ببعض تصرف انتہٰی مافی نهایۃ الامل بزیادۃ منی بین القوسین ملتقطا من کتب اخری۔

اینهمه روایات وصدها روایات که دردیگر کتب مذکور اند همه باعلیٰ ندا منادی اند که عیسٰی علیہ السلام شخص خاص که مشهود ست بر آسمان بھمیں جسم رفتہ وبہماں جسم از آسمان نزول فرماید بر زمین وبرانیکہ مهدی نیز شخصی معین ست کہ از اولاد رسول ﷺ باشد بقرب قیامت پیدا باشد ووزارت کند پیش عیسٰی علیہ السلام وروحانیت حضرت علی کرم اللہ تعالیٰ وجہہ از وزرائے مہدیٰ خواند در تفسیر روح البیان، جلد چهارم، صفحہ ٢٥٦ فرمودہ۔ نعم ان روحانیة علیٰ من وزراء المهدیٰ فی آخر الزمان لان الارواح تعین الارواح والاجسام فی کل زمان……الخ

در حاشیه طحطاوی که بر درمختار ست فرموده که امام مهدی قیاس را خواهد دانست برائی پرهیز کردن ازونہ برائی حکم کردن برقیاس۔ پس درهر حکم يك فرشته آنراز جانب رب العلمین تعلیم خواهد داد ومطابق آن تعلیم حکم خواهد کرد آنچنان که اگر رسول اللہ ﷺ زندہ در دنیا بودے همچناں حکم کردی یعنی خاص یقیناً شرع محمدی بیان خواهد کرد وقیاس نکرد وقیاس کردن برو حرام باشد باوجود آمدن نصوص از پروردگار پس مهدی متبع باشد نہ مشرع دربارہ او رسول اللہ ﷺ فرمودہ یقف اثری ولا یخطی۔ فعلى هذا المهدی لیس بمجتهد اذا المجتهد یحکم بالقیاس وهو یحرم علیه الحکم بالقیاس ولان المجتهد

٧

صفحہ ٦٧٨

يخطى ويصيب المهدى لا يخطى قط فانه معصوم فی احکامه بشهاده النبی ﷺ وهو مبنى على عدم جواز الاجتهاد فی حق الانبياء عليهم السلام وهو التحقيق....... انتهی۔

پر هر کسی می داند که ایں صفات در مرزا قادیانی کجا بلکه بوئی ایں صفات بدماغ او هم نرسیده و دجال نیز علم شخصی ست و انکار ایں محض جنون یا جهل یا ضلال یا کفر ست نه اینکه مراد از دجال کفار اند و مراد از مهدی و عیسیٰ علیه السلام مردیست که صفت مهدویت و عیسویت درو باشد یا روح هر دو دراں حلول کرده باشد چنانچه قادیانی خود را مصداق ایں می ساخت و افعال و اقوال و عقائد قادیانی خود شاهد عدل اند بر اینکه صادق امام مهدی بودن برکنار باد امام مهدیّ و عیسیٰ علیه السلام نیز بر او نگزشته غرض که همه اهل اسلام از شرقاً غرباً برهمیں ایمان آ ورده اندکه ضرور مهدیّ و عیسیٰ علیه السلام پیدا باشند قبل از قیامت و کسی کے همه امت مرحومه محمدیه و دیگر امم سابقه را بر ضلال داند او خود ضال و مضل ست۔

همه شیران جہاں بسته ایں سلسله اند
روبه از حیله چشاں بگسلد ایں سلسله را

والله تعالیٰ يهدی من یشاء الى صراط مستقیم العبد المفتقر الى الفيض السبحانی غلام ربانی الحنفی مذهباً والچشتی مشرباً فالپنجابی ثم الجهاچهی ثم الشمس آبادی مسکناً کان الله له ولوالديه ولمشایخه ولاساتذه ولا قربائه ولااحبائه والجميع المومنين الى يوم الدين بجاه حبيبه الامن الامين وصحبه المکرمین المیامین عند اهل السمٰوت واهل الارضین آمین!

٨

PDF 680

معصوم فی احکامه شهاده حق الانبياء عليهم السلام

زا قادیانی کجا بلکه بوئی شخصی ست وانکار ایں که مراد از دجال کفار اند صفت مهدویت وعیسویت چنانچه قادیانی خود را یانی خود شاهد عدل اند ہدیٰ وعيسىٰ عليه السلام رقاً غرباً برھمیں ایمان آ یدا باشند قبل از قیامت سابقه رابر ضلال داند او

یم بانی

مسکنا لا قربائه ولا احبائه اه حبيبه الامن الامين لارضین آمین!

اَنَا خَاتَمُ النَّبِيّٖنَ لَا نَبِیَّ بَعْدِیْ

میرے آخری نبی ہونے کے بعد کوئی نبی نہیں

مرزا کی

غلطیاں

مولانا قاضی غلام ربانی شمس آبادی

١

صفحہ ٦٨٠

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

سبحانك لا علم لنا الا ما علمتنا انك انت العليم الحكيم

مرزا غلام احمد قادیانی کا مدت دراز سے یہ دعویٰ تھا کہ چونکہ میں محدث یعنی نبی ہوں۔ مجھ کو اللہ تعالیٰ نے تقریر و تحریر ایسی معجز عنایت کی ہے کہ کل روئے زمین کے فصحاء و بلغاء اس سے عاجز ہیں۔ مرزا قادیانی نے بہت رسالے اور ایک آدھ دیوان عربی و فارسی بھی لکھا۔ مگر کسی عالم علم دار نے اس کی طرف کبھی توجہ نہ کی۔ مگر مرزائی لوگ چونکہ اس کے علم کی لافیں اور لن ترانیاں بڑے زور و شور سے مار مار کر کہتے ہیں کہ اس کی مثل منشی اور شاعر اور فصیح و بلیغ و خود ان کوئی آج کل موجود نہیں۔

لہٰذا قدرے بمثال بمعنے نمونہ خروارے اس کی غلطیاں اس کی کتاب ”اعجاز المسیح“ سے لکھتا ہوں۔ فاقول وباللہ التوفیق نعم الرفیق۔ قادیانی نے ”اعجاز المسیح کے اول صفحہ پر لکھا ہے۔ ١...... فی سبعین یوما من شهر الصيام

(اعجاز المسیح ٹائٹل، خزائن ج ١٨ ص١)

اقول ...... رمضان شریف تو ستر دن ٧٠ کا نہیں ہوتا اور بر تقدیر تاویل خالی نہ ہوگا ایہام معنی غیر مراد سے جو منافی ہے فصاحت و بلاغت کو اس صفحہ میں ہے۔

(ایضاً)

اقول ...... بے ربط عبارت اور خلاف محاورہ عرب کے ہے۔ اسی صفحہ میں ہے۔

(ایضاً)

اقول ...... ضلع گورداسپور بھی خلاف محاورہ ہے۔ نہ صرف اسی وجہ سے کہ بجائے گورداسپور کے (غورداسفور) یا جورداسپور چاہئے تھا بلکہ من جهة التركيب والاعراب بھی۔ اسی صفحہ میں ہے۔

(ایضاً)

اقول ...... بعد التعریب فضل الدین چاہئے۔

قال ...... كدست غاب صدرہ۔ او كليل افل بدرہ۔

(اعجاز المسیح ص٢، خزائن ج ١٨ص٤)

اقول ...... یہ عبارت مقامات حریری کے ص ١٢٤ سے ماخوذ ہے۔

٢

قال ...... وخلت راحتها من بخل السن اقول ...... ظاہر ہے کہ من صلہ خلت کا خلاف ہے۔ معنی غیر مراد کی طرف اس لئے یہاں لام کی

قال ...... كاحياء الم ابل للسنة الجماعة اقول ...... یہ بھی مقامات حریری کے ١٢٤ سے ما

قال ...... وعاد جرها وسبرها۔

(ایضاً)

اقول ...... یہ مثل مشہور ہے۔

قال ...... من كل نوح الجناح۔

(ایضاً)

اقول ...... کلمہ کل معرفہ پر احاطہ اجزاء کا فائدہ للجناح چاہئے تھا۔

قال ...... كل امرهم على التقویٰ۔

(ایضاً`

اقول ...... یہاں بھی کل مجموعی خلاف مراد ہے

قال ...... فلا ايمان له او يضيع ايمانه اقول ...... لفظ ایمان کا تکرار مستکرہ ہے۔

قال ...... وافرق بين روض القدس و

اقول ...... یہ عبارت مقامات حریری کی ہے۔

قال ...... كالربيع الذي يسطر في اما اقول ...... یہ بھی حریری سے ہے۔

قال ...... وعندى شهادات من ربی لا

صفحہ ٦٨١

علیم الحکیم

ہے۔ چونکہ میں محدث یعنی نبی

ہوئے زمین کے فصحاء و بلغاء

ان عربی و فارسی بھی لکھا۔ مگر

ہے۔ اس کے علم کی لافیں اور لن

ہے۔ شاعر اور فصیح و بلیغ وسخن دان

کی کتاب ’’اعجاز المسیح‘‘ سے

’’اعجاز المسیح کے اول صفحہ پر

المسیح ٹائٹل، خزائن ج ١٨ ص ١)

سے خالی نہ ہوگا ایہام معنی غیر

فروری ١٩٠١ء (ایضاً)

سال ہے۔

وجہ سے کہ بجائے گورداسپور

اور والاعراب بھی۔ اسی صفحہ

زائن ج ١٨ ص ٤)

قال ...... وخلت راحتہا من بخل المزنة۔ (ایضاً)

اقول ...... ظاہر ہے کہ من صلہ خلت کا خلاف مقصود ہونے کی وجہ سے نہیں ہوسکتا اور تعلیلیہ موہم ہے۔ معنی غیر مراد کی طرف اس لئے یہاں لام کا محل تھا۔

قال ...... کاحیاء الم ابل للسنة الجماد۔

(اعجاز المسیح ص ٣، خزائن ج ١٨ ص ٥)

اقول ...... یہ بھی مقامات حریری کے ١٢٤ سے ماخوذ ہے۔ بتغیر ما۔

قال ...... وعاد جرہا وسبرہا۔ (ایضاً)

اقول ...... یہ مثل مشہور ہے۔

قال ...... من کل نوح الجناح۔ (ایضاً)

اقول ...... کلمہ کل معرفہ پر احاطہ اجزاء کا فائدہ دیتا ہے۔ جو یہاں پر مقصود نہیں۔ اس لئے نوح للجناح چاہئے تھا۔

قال ...... کل امرہم علی التقویٰ۔ (ایضاً)

اقول ...... یہاں بھی کل مجموعی خلاف مراد ہے۔ اس لئے کل امر لہم چاہئے۔

قال ...... فلا ایمان لہ او یضیع ایمانہ۔

(اعجاز المسیح ص ٤، خزائن ج ١٨ ص ٦)

اقول ...... لفظ ایمان کا تکرار مستکرہ ہے۔

قال ...... وافرق بین روض القدس وخضراء الدمن

(اعجاز المسیح ص ٧، خزائن ج ١٨ ص ٩)

اقول ...... یہ عبارۃ مقامات حریری کی ہے۔

قال ...... کالربیع الذی یمطر فی ابانہ۔ (ایضاً)

اقول ...... یہ بھی حریری سے ہے۔

قال ...... وعندی شہادات من ربی لقوم مستقرین ووجہ کوجہ الصادقین۔

(ایضاً)

٣

صفحہ ٨٣

اقول ...... ووجه عطف ہے شہادات پر۔ گویا وعندى وجه ہوا اور یہ خلاف محاورہ محققین ہے کیونکہ وجہ جزء ہے اور جزء پر عند نہیں آتا۔

قال ...... ما قبلونى من البخل والاستكبار۔

(اعجاز المسیح ص ٨، خزائن ج ١٨ ص ١٠)

اقول ...... ”من“ کا کلمہ یہاں پر ”قبلو“ مثبت کے لئے تعلیلیہ نہیں ہو سکتا اور نفی مستفاد من الحرف کے لئے خلاف محاورہ ہے۔ اور نیز بخل کی جگہ حسد چاہئے۔

قال ...... حتى اتخذ الخفافيش وكرا جنانهم۔

(ایضاً)

اقول ...... ترجمہ یہ ہے: یہاں تک کہ چمگادڑوں نے مخالفین کے دل کو آشیانہ بنا لیا۔ جنانهم پہلا مفعول ہوا۔ اتخذ کے لئے اور وكرا دوسرا مفعول ہوا۔ اتخذ چونكه بنفسه متعدی الى المفعولین ہے لہٰذا لام کا لانا فضول ہے۔ دوسرا ”تقدیم“ مفعول ثانی کی بے وجہ ہے۔ تیسرا جنان اور وکر کا بلحاظ ماقبل یعنی قولهم وفضلهم واعیانهم کے جمع ہونا چاہئے۔

قال ...... واعطى ما توقعوہ۔

(اعجاز المسیح ص ٩، خزائن ج ١٨ ص ١١)

اقول ...... اس کا پہلا مفعول نائب عن الفاعل ہونے کا زیادہ مستحق ہے۔ لہٰذا واعطو چاہئے تھا۔

قال ...... مفتری

(ایضاً)

اقول ...... مفتر چاہئے۔

قال ...... وكفرو مع مريديه واعوانه وانزل الله كثيرا من الآي فما قبلوا۔

(ایضاً)

اقول ...... وانزل الله كثيراً فصل کا محل ھی کوئی کلمه داله علی الفصل چاہئے۔

قال ...... وقدموا حب الصلات على حب الصلوٰة۔

(اعجاز المسیح ص ١٢، خزائن ج ١٨ ص ١٥)

اقول ...... ”حریری“ کے پہلے مقالہ سے ماخوذ ہے۔ بتغیر ما۔

قال ...... بل يريدون ان يسفكوا قائله۔

(اعجاز المسیح ص ١٣، خزائن ج ١٨ ص ١٥)

اقول ...... ان يسفكوا دم قائله چاہئے۔ لا يقال سفك زيدا بل دمه۔

٤

قال ...... ولما جائهم امام بما لا تهوى ا اقول ...... قرآن کا سرقہ ہے بتغیر ما۔

قال ...... وجعل قلمی وکلمی منبع المعا اقول ...... منابع المعارف یا منبعی المعا

قال ...... وكان غبيا ولو كان كالهمد يكتب كمثل تحریری۔

اقول ...... یہ غبی جناب فضیلت مآب ”مولانا مح الفضل کو غبی کہتا ہے۔ حالانکہ اعلیٰ قسم کا غبی تو خود والضالین“ سے سمجھے کہ اس سے معلوم ہو نہیں ۔ اگر علم الٰہی میں اس کا وجود ہوتا تو یوں فرما الدجال“ (دیکھو ص ١٨٩، خزائن ج ١٨ ص ١٩٣ قادیانی نے لکھا ہے کہ مالك يوم الدین میں قادیانی کے زمانے کا نام رکھا ہے۔ وسمی زم زمانه يحيى فيه الدين۔

اقول ...... لعنة الله على الكاذبين ا خود قرآن پاک میں یوم الدین کی تفسیر اس طر جحیم۔ یصلونها يوم الدين گے۔ اگر یوم الدین قادیانی کا زمانہ ہے تو ا دوزخ میں داخل کیا جاتا پھر باری تعالیٰ فرما ادرك ما يوم الدين۔ يوم لا تملك ن غور کرو ﴿یوم الدین﴾ اور ﴿یوم لا تم

صفحہ ٦٨٣

قال...... ولما جائهم امام بما لا تهوى انفسهم (ایضاً) اقول...... قرآن کا سرقہ ہے بغیر ما۔

قال...... وجعل قلمی وکلمی منبع المعارف۔

(اعجاز المسیح ص٢٠، خزائن ج١٨ ص٢٢)

اقول...... منابع المعارف یا منبعی المعارف چاہئے۔

قال...... وكان غبيا ولوكان كالهمدانی او الحريرى فما كان فى وسعه ان يكتب كمثل تحریری۔

(اعجاز المسیح ص٢٢، خزائن ج١٨ ص٢٤)

اقول...... یہ غبی جناب فضیلت مآب ”مولانا مہر علی شاہ صاحب گولڑوی“ کو کہتا ہے۔ ایسے عمدۃ الفضلاء کو غبی کہتا ہے۔ حالانکہ اعلیٰ قسم کا غبی تو خود ہے۔ جو ”غیر مغضوب علیہم والضالین“ سے سمجھے کہ اس سے معلوم ہوا کہ دجال شخص جیسا کہ جہال کا فرعون ہے کوئی چیز نہیں۔ اگر علم الٰہی میں اس کا وجود ہوتا تو یوں فرماتا کہ: ”غیر المغضوب علیہم ولا الدجال“ (دیکھو ص١٨٩ خزائن ج١٨ ص١٩٣، اور اعجاز المسیح کے ص١٣٤، خزائن ج١٨ ص١٤٧) پر مرزا قادیانی نے لکھا ہے کہ مالك يوم الدين میں یوم الدین جو ہے۔ اللہ تعالیٰ نے مسیح موعود یعنی قادیانی کے زمانے کا نام رکھا ہے۔ وسمى زمان المسيح الموعود يوم الدين لانه زمانه يحيى فيه الدين۔

اقول......: لعنة الله على الكاذبين المحرفين في كتاب الله تعالى۔ اللہ تعالیٰ تو خود قرآن پاک میں یوم الدین کی تفسیر اس طرح پر فرماتا ہے۔ ﴿وان الفجار لفی جحیم۔ یصلونها یوم الدین﴾ یعنی گناہ گار دوزخ میں قیامت کے دن داخل ہوں گے۔ اگر یوم الدین قادیانی کا زمانہ ہے تو اسی وقت سے حساب و کتاب ہو کر گناہ گاروں کو دوزخ میں داخل کیا جاتا پھر باری تعالیٰ فرماتا ہے۔ ﴿وما ادراك ما يوم الدين۔ ثم ما ادرك ما يوم الدين۔ يوم لا تملك نفس لنفس شيئاً ط والامر يومئذ لله﴾ غور کرو ﴿يوم الدين﴾ اور ﴿يوم لا تملك نفس لنفس شيئاً﴾ دونوں کا مفاد ایک

٥

صفحہ ٦٨٤

ہی ہے اور یہی مرزا قادیانی پھر (ص١٣٥، خزائن ج١٨ ص١٣٩) پر لکھتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں ﴿ولہ الحمد فی الاولی والآخرۃ ﴾ دو احمدوں کی طرف اشارہ کیا ہے۔ اولیٰ حمد سے پہلا ’’احمد یعنی آنحضرت ﷺ اور آخرہ حمد سے پچھلے ’’احمد‘‘ کا اشارہ ہے۔ یعنی غلام احمد قادیانی پھر اس کے بعد لکھتا ہے۔ وقد استنبط ھذہ النکتۃ من قولہ الحمد للہ رب العالمین۔ ’’سبحان اللہ یہ مرزا کا استنباط ہے جس پر صرف میر پڑھنے والے طلباء بھی مزاح کرتے ہیں ۔‘‘ کیونکہ ایسے استنباطوں سے تو حضرت ﷺ بھی بے خبر تھے۔‘‘ (معاذ اللہ)

قال...... وما رمیت اذ رمیت ولکن اللّٰہ رمیٰ

(اعجاز المسیح ص٢٧، خزائن ج١٨ ص٢٩)

اقول...... حدیث کا سرقہ ہے۔

قال...... وحجتہ بالغۃ تلدغ الباطل کالنضناض۔

(ایضاً)

اقول...... حریری کے ص٤٩ سے مسروق ہے۔ بتغیر ما

قال...... وما انا الا خاوی الوفاض

(ایضاً)

اقول...... ’’حریری‘‘ کے ص٤٨ کا سرقہ ہے۔ با زدیاد۔

قال...... ومن نوادر ما اعطى لى من الكرامات۔

(اعجاز المسیح ص٣٨، خزائن ج١٨ ص٣٠)

اقول...... ما اعطی کی جگہ یا اعطیت چاہئے۔

قال...... ولا ترهق بالتبعة والمعتبة

(اعجاز المسیح ص٣٢، خزائن ج١٨ ص٣٣)

اقول...... حریری کا ص٤٢ کا سرقہ ہے۔

قال...... عن معرة اللكن.

(ایضاً)

اقول...... حریری کے پہلے سجع کا سرقہ ہے۔

قال...... وتوفيقا قائدا الى الرشد والسداد۔

(اعجاز المسیح ص٣٣، خزائن ج١٨ ص٣٥)

اقول...... حریری سے لیا ہے۔

قال...... ان ارى طالعه كالضليع۔

(اعجاز المسیح ٣٦، خزائن ج١٨ ص٣٨)

اقول...... مسروق من الحریری ص

قال...... يقلل عثاره۔ اقول...... حریری کے ص٥ سے مسروق

قال...... اقتعد منا غارب الفصاحة اقول...... حریری کا سرقہ ہے۔

قال...... بالاعانة على الابانة اقول...... حریری کے ص٣ کا سرقہ ہے۔

قال...... ويعصمهم من الغواية ويص اقول...... حریری ص٣ کا سرقہ ہے۔ بتغیر

قال...... واى معجزة اقول...... وآية معجزة چاہئے۔

قال...... كمجهول لا يعرف ونكرة اقول...... حریری ص٥ سے مسروق ہے۔

قال...... فكل رداء نرتديه م اقول...... ایک مشہور شعر کا سرقہ ہے من اللوم عرضہ لمکا

قال...... لا شيوخ ولا شاب اقول...... ایک جمع اور دوسرے کا مفرد لانا

قال...... كنز المعارف ومبنیھا اقول...... خلاصہ کی عبارت ہے۔

٦

صفحہ ٦٨٥

پر لکھتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس محمدوں کی طرف اشارہ کیا ہے۔ ”احمد“ کا اشارہ ہے۔ یعنی غلام لنكتة من قوله الحمد لله صرف میر پڑھنے والے طلباء بھی بھی بے خبر تھے۔“ (معاذ اللہ)

(اعجاز المسیح ص ٢٧، خزائن ج ١٨ ص ٢٩)

(ایضاً)

(اعجاز المسیح ص ٢٨، خزائن ج ١٨ ص ٣٠)

(اعجاز المسیح ص ٣٢، خزائن ج ١٨ ص ٣٤)

(اعجاز المسیح ص ٣٤، خزائن ج ١٨ ص ٣٥)

(اعجاز المسیح ص ٣٦، خزائن ج ١٨ ص ٣٨)

اقول ...... مسروق من الحریری ص ٥ بتغیر ما۔ قال ...... يقلل عثاره۔ اقول ...... حریری کے ص ٥ سے مسروق ہے۔ بتغیر ما۔

(اعجاز المسیح ص ٣٧، خزائن ج ١٨ ص ٣٩)

قال ...... اقتعد منا غارب الفصاحة وامتطى مطايا الملاجة

(اعجاز المسیح ص ٣٩، خزائن ج ١٨ ص ٤١)

اقول ...... حریری کا سرقہ ہے۔ قال ...... بالاعانة على الابانة اقول ...... حریری کے ص ٣ کا سرقہ ہے۔

(اعجاز المسیح ص ٤٣، خزائن ج ١٨ ص ٤٥)

قال ...... ويعصمهم من الغواية ويحفظهم في الرواية والدراية (ايضاً) اقول ...... حریری، ص ٣ کا سرقہ ہے۔ بتغیر ما۔

(اعجاز المسیح ص ٤٥، خزائن ج ١٨ ص ٤٧)

قال ...... وای معجزة اقول ...... وآية معجزة چاہئے۔

(اعجاز المسیح ص ٤٩، خزائن ج ١٨ ص ٥١)

قال ...... كمجهول لا يعرف ونكرة لا تعرف اقول ...... حریری ص ٥ سے مسروق ہے۔

(اعجاز المسیح ص ٥٠، خزائن ج ١٨ ص ٥٢)

قال ...... فكل رداء نرتديه جميل۔ اقول ...... ایک مشہور شعر کا سرقہ ہے۔ قال السموأل بن عاديا: اذا المرء لم يدنس من اللوم عرضه۔ فکل رداء يرتديه جميل

(حماسہ ص ١٢)

(اعجاز المسیح ص ٥٥، خزائن ج ١٨ ص ٥٧)

قال ...... لا شيوخ ولا شاب اقول ...... ایک جمع اور دوسرے کا مفرد لانا بے وجہ ہے۔

(اعجاز المسیح ص ٥٥، خزائن ج ١٨ ص ٥٧)

قال ...... كنز المعارف ومدينتها وماء الحقائق وطينتها۔ اقول ...... مقامات کی عبارت ہے۔

٧

صفحہ ٦٨٦

قال ...... كما يملاء الدلو الى عقد الكرب۔

(اعجاز المسیح ص ٥٨، خزائن ج ١٨ ص ٦٠)

اقول ...... مقامات بدیع کے شعر ثانی کا مصرعہ ہے۔ با زیاد لفظ کما۔

قال ...... القيت بها جرانى۔

(اعجاز المسیح ص ٦٠، خزائن ج ١٨ ص ٦٢)

اقول ...... مقامات حریری کے ص ١٢٤ کا سرقہ ہے۔

قال ...... كادراك العهاد السنة جماد۔

(اعجاز المسیح ص ٦١، خزائن ج ١٨ ص ٦٣)

اقول ...... حریری کے ص ١٢٤ کا سرقہ ہے۔ بغیر ما۔

قال ...... فصاروا كميت مقبور۔ وزيت سراج احترق وما بقى معه من نور۔

(اعجاز المسیح ص ٦٤، خزائن ج ١٨ ص ٦٦)

اقول ...... دوسرا سجع پہلے سے بڑا ہے۔ یہ عند الفصحاء والبلغاء عیب ہے اور دونوں مضمون مسروق ہیں۔

قال ...... فما كان ان يتحركوا۔

(ایضاً)

اقول ...... یہاں مصدر کا حمل ناجائز ہے۔ اس لئے (ان) نہ چاہئے تھا۔

قال ...... ومثلها كمثل ناقة تحمل كلما تحتاج اليه توصل الى ديار الحب من ركب عليه۔

(اعجاز المسیح ص ٧٧، خزائن ج ١٨ ص ٧٩)

اقول ...... ناقہ کی طرف مذکر ضمیر کا ارجاع غلط ہے۔

قال ...... هذا الرجيم هو الذى ورد فيه الوعيد اعنى الدجال۔

(اعجاز المسیح ص ٨١، خزائن ج ١٨ ص ٨٣)

اقول ...... عجیب مسئلہ ہے کہ اعوذ باللہ من الشیطان الرجیم میں جو شیطان ہے۔ اس سے تو مراد ابلیس ہے۔ اور رجیم جو اس کی صفت ہے۔ اس سے مراد دجال ہے۔ جس کو عیسیٰ علیہ السلام قتل کریں گے۔ آج تک تو یہی سنتے رہے کہ موصوف اور صفت کا مصداق ایک ہی ہوا کرتا ہے۔ مگر اعوذ باللہ من الشیطان الرجیم میں مرزا قادیانی نے کیا ثابت کر دیا کہ ان کا مصداق مغائر بھی ہوتا ہے۔ سبحان اللہ کیا نکتہ دانی ہے۔

قال ...... لزم الله كافة اهل الملة اقول ...... كافة کا لفظ عربی میں مضاف نہیں آتا۔

قال ...... ان الاسم مشتق من الوسم۔ اقول ...... هذا خلاف ما صرح به الثقات

قال ...... طرق الله ذو الجلال۔ اقول ...... ذو الجلال منصوب غلط ہے۔

قال ...... الا من اعطى له عينان۔ اقول ...... خلاف اولیٰ ہے کیونکہ اعطیٰ کا پہلا مفعول

قال ...... ومن اشرف العلمين واعـ والمرسلين۔ اقول ...... وجود کا لفظ نہ چاہئے۔ عدم صمـ

قال ...... او ذالك وقت المسيح الموعـ اشار فى الاية يوم الدين فى سورة الفـ المسيح موعود يوم۔ اقول ...... لعنة الله على الكاذبين المحر

قال ...... الا قليل الذي هو كالمعدوم۔ اقول ...... دعویٰ تو فصاحت و بلاغت کا اور موصوف

قال ...... ان يجعل الله احمد كل من تحـ اقول ...... جعل کا دوسرا مفعول بے وجہ مقدم کیا

قال ...... وان لا تؤذى اخيك اقول ...... اخاك چاہئے۔

٨

صفحہ ٦٨٧

قال...... لزم اللہ کافۃ اہل الملۃ

(اعجاز المسیح ص ٨٣، خزائن ج ١٨ ص ٨٥)

اقول...... کافۃ کا لفظ عربی میں مضاف نہیں آتا۔

قال...... ان الاسم مشتق من الوسم۔

(اعجاز المسیح ص ٨٧، خزائن ج ١٨ ص ٨٩)

اقول...... ھذا خلاف ما صرح بہ الثقات۔

قال...... طرق اللہ ذو الجلال۔

(اعجاز المسیح ص ١٢٩، خزائن ج ١٨ ص ١٣١)

اقول...... ذو الجلال منصوب غلط ہے۔

قال...... الا من اعطی لہ عینان۔

(اعجاز المسیح ص ١٣١، خزائن ج ١٨ ص ١٣٣)

اقول...... خلاف اولیٰ ہے کیونکہ اعطیٰ کا پہلا مفعول نائب عن الفاعل ہونے کا حقدار ہے۔

قال...... ومن اشرف العلمین واعجب المخلوقین وجود الانبیاء والمرسلین۔

(اعجاز المسیح ص ١٤٢، خزائن ج ١٨ ص ١٤٤)

اقول...... وجود کا لفظ نہ چاہئے۔ عدم صحۃ الحمل۔

قال...... او ذالك وقت المسیح الموعود وھو زمان ھذا المسکین۔ والیہ اشار فی الایۃ یوم الدین فی سورۃ الفاتحہ ثم قال فی ص ١٤٣ وسمی زمان المسیح موعود یوم۔

(اعجاز المسیح ص ١٤٢، خزائن ج ١٨ ص ١٤٤)

اقول...... لعنۃ اللہ علی الکاذبین المحرفین۔

قال...... الا قلیل الذی ھو کالمعدوم۔

(اعجاز المسیح ص ١٦١، خزائن ج ١٨ ص ١٦٣)

اقول...... دعویٰ تو فصاحت و بلاغت کا اور موصوف نکرہ اور صفت معرفہ لائے۔ واہ واہ۔

قال...... ان یجعل اللہ احمد کل من تصدی لعبادہ۔

(اعجاز المسیح ص ١٦٥، خزائن ج ١٨ ص ١٦٧)

اقول...... جعل کا دوسرا مفعول بے وجہ مقدم کیا گیا ہے۔

قال...... وان لا تؤذی أخیک

(اعجاز المسیح ص ١٦٧، خزائن ج ١٨ ص ١٦٩)

اقول...... اخاک چاہئے۔

٩

صفحہ ٦٨٨

قال ...... وانهم ثمرات الجنة فويل للذى تركهم (اعجاز المسیح ص ١٧٢، خزائن ج ١٨ ص ١٧٤) اقول ...... تركها چاہئے۔ قال ...... الظن ان يكون الغير (ايضاً) اقول ...... اے فصیح صاحب! کلمہ غیر تو معرف باللام نہیں ہوتا۔ قال ...... ينفضون تضنضنة الصل ويحملقون حملة البازی المطل۔

(اعجاز المسیح ص ١٨٢، خزائن ج ١٨ ص ١٨٤)

اقول ...... ”مقامات حریری“ کے ص ١٥٦ سے مسروق ہے۔ بمیر ما! قال ...... فقد الغدم علمه كثلج بالذوبان (اعجاز المسیح ص ٤١، خزائن ج ١٨ ص ٤٣) اقول ...... الغدم کا لفظ غیر مستعمل ہے۔ محاورہ فصحا میں عدم چاہئے۔ دیکھو قاموس نقل از حجۃ اللہ البالغہ۔ وفيه كفاية لذوى الدراية۔ ایسا ہی اس کی تصنیفات میں عربیت کے قائدہ سے بکثرت غلطیاں ہیں۔ محمد غلام ربانی پنجابی شمس آبادی کیملپور

وما علينا الا البلاغ المبين

فائدہ: جس شخص کے علم کا یہ حال ہے لوگ اس کو مہدی موعود کیونکر ماننے لگے۔ اس نے اپنے ماننے والوں کے لئے قرآن وحدیث سے نہ کوئی فتاویٰ بتایا نہ کوئی ایسی کتاب جس کے سے کل احکام نکالے جاتے۔ اس کے ماننے والے مثل سابق دستور کے اب بھی اس صرف ونحو وفقہ واصول و تفسیر وغیر فنون پر کاربند ہیں۔ جو کہ غیر لوگوں کے بنے ہوئے ہیں۔ جس قدر ستی اسلام کی لوگوں میں تھی وہ ویسی ہی ہے۔ کوئی بدعت مروجہ دور نہ ہوئی۔ خالی نام کا مہدی بنا۔ کام مہدی کا ایک بھی نہ کیا اور فوت ہو گیا۔ بلکہ مرزا قادیانی کی ذات سے تو ان علماء صلحاء سابقہ وموجودہ جو کہ مدرسین وصاحب تصانیف مفید و واعظ حقانی ہیں۔ عامہ مخلوق کے حق میں اچھے ہیں کہ وہ بالکل بے ضرر ہیں۔ اور مرزا نے ہدایت اسلام تو کسی کو نہ کی۔ الٹے اور فتنے و فساد برپا کر دیئے۔ اب اس کے خلیفے بھی پنبہ غفلت در گوش ہو کر راہ راست کو اختیار نہیں کرتے۔ بلکہ دن رات لوگوں کی تباہی میں مصروف ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان کو اسلام کی ہدایت دے۔ (محمد غلام ربانی)

١٠

PDF 690

ماہنامہ لولاک

عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی دفتر ملتان سے شائع ہونے والا ماہنامہ لولاک جو قادیانیت کے خلاف گرانقدر جدید معلومات پر مکمل دستاویزی ثبوت ہر ماہ مہیا کرتا ہے۔ صفحات 64، کمپیوٹر کتابت، عمدہ کاغذ و طباعت اور رنگین ٹائٹل، ان تمام تر خوبیوں کے باوجود زر سالانہ فقط ایک سو روپے، منی آرڈر بھیج کر گھر بیٹھے مطالعہ فرمائیے۔

رابطہ کے لیے

عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت

حضوری باغ روڈ ، ملتان - فون : 061-4783486