مجموعہ رسائل سیوطی · علامہ محمد شہزاد مجددی سیفی
Rasayal-e-Sayotti · Allama Muhammad Shehzad Mujaddidi
PDF 1

فِيهَا كُتُبٌ قَيِّمَةٌ . (البيّنة : ٣)

سلسلہ رسائل سیوطی : 1

مجموعہ

رسائل سیوطی

امام جلال الدین سیوطی علیہ الرحمہ کے علمی و تحقیقی نوادرات پر مشتمل سات بصیرت افروز رسائل کا مجموعہ

ترجمہ : تحقیق : تخریج علامہ محمد شہزاد مجدّدی سیفی

دارُ الاخلاص لاہور

صفحہ ۲

جملہ حقوق بحق ناشر محفوظ

نام کتاب مجموعہ رسائل سیوطی مصنف الحافظ الامام جلال الدین سیوطی علیہ الرحمہ ترجمہ و تخریج علامہ محمد شہزاد مجددی اشاعت اول جمادی الاولی ۱۴۳۲ھ بمطابق اپریل ۲۰۱۱ء صفحات ۱۶۰ تعداد ۱۱۰۰ قیمت ۱۴۰/- روپے زیر اہتمام دارالاخلاص (مرکز تحقیق اسلامی) ۴۹ ریلوے روڈ لاہور

رابطہ: EMail:msmujaddidi@yahoo.com 042-37234068 - 300-9436903

ملنے کے پتے:

صفحہ ۳

انتساب!

ائمہ حدیث کے رت جگوں کے نام

صفحہ ۴

فہرست مندرجات

امام جلال الدین سیوطیؒ بار شعاعوں سے جہان معرفت وحکم پھوٹنے والے علوم وفنون کے سوتے کبھی علم تفسیر کے گہر ہائے آب دار موتی ”اسباب النزول“ کے گیسو القرآن کے افلاک کی جانب محو پر الاقران“ تک جاتی ہے۔ اسی عالم محویت وحضور م عشق وعرفان کے مفاہیم کو نت نئے طے کرتے ہوئے ”الجامع الکبیر الراوی“ اور ”صحاح ستہ کی شرو جاتے ہیں۔ الغرض ”اللآلی المص رولتے چلے جاتے ہیں۔ آخر ال للفتاویٰ“ میں شامل مختصر رسائل ک مستغرق ہو جاتا ہے۔ علم تصوف و اور بیان وبدیع کے میدان میں و

صفحہ ۵

گزارش

امام جلال الدین سیوطی علیہ الرحمہ آسمان علم و حکمت کا ایسا نیر تاباں ہے جس کی نور بار شعاعوں سے جہان معرفت و حکمت جگمگا رہا ہے۔ آپ کے قلب مصفا اور نفس زکیہ سے پھوٹنے والے علوم و فنون کے سوتے جب رشحات قلم بن کر صفحہ قرطاس پر بکھرتے ہیں تو کبھی علم تفسیر کے گہر ہائے آب دار ”الدر المنثور“ دکھائی دیتے ہیں تو کبھی علم و حکمت کے یہی موتی ”اسباب النزول“ کے نگینوں میں ڈھلتے نظر آتے ہیں۔ آپ کی فکر رسا جب علم القرآن کے افلاک کی جانب محو پرواز ہوتی ہے تو ”الاتقان فی علوم القرآن“ سے ”معترک الاقران“ تک جاتی ہے۔

اسی عالم محویت و حضوری میں امام سیوطی جب مدینہ علم الحدیث میں پہنچتے ہیں تو عشق و عرفان کے مفاہیم کو نت نئے آفاق دکھاتے جاتے ہیں۔ ”الجامع الصغیر“ کے مدارج طے کرتے ہوئے ”الجامع الکبیر“ کی منزلوں پر فائز ہوتے ہیں۔ اسی دوران ”تدریب الراوی“ اور ”صحاح ستہ کی شروح“ کے چشموں سے تشنگان علوم کی پیاس بجھاتے چلے جاتے ہیں۔ الغرض ”اللآلی المصنوعہ“ سے لے کر ”الدرر المنتثرہ“ تک علم و فن کے موتی رولتے چلے جاتے ہیں۔ آخر ان کا مداح ان کے کمالات علمی و فقہی کی داد دیتا ہوا ”الحاوی للفتاویٰ“ میں شامل مختصر رسائل کے مندرجات و مشتملات پر نگاہیں جمائے بحر حیرت میں مستغرق ہو جاتا ہے۔ علم تصوف و طریقت اور ادبیات عربی کے حوالے سے بھی وہ اصول و نحو اور بیان و بدیع کے میدان میں درجہ امامت پر متمکن نظر آتے ہیں۔

صفحہ ٦

امام سیوطی علیہ الرحمہ اہل حضوری محدثین اور صاحب نسبت شاذلی صوفیہ میں سے ہیں اپنے جذبۂ عشق رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی تسکین کے لئے انہوں نے منظوم نذرانہ ہائے نعت بھی ممدوح کونین صلی اللہ علیہ وسلم کے حضور پیش کرنے کی سعادت حاصل کی ہے۔ الغرض مختلف علوم وفنون پر مبنی پانچ سو سے زائد تصانیف و تالیفات کا ذخیرہ حضرت خاتمۃ الحفاظ نے اپنے علمی ورثہ کے طور پر امت مسلمہ کے علماء کے لئے چھوڑا ہے۔ جس میں سے چند نوادرات پیش نظر ”مجموعہ رسائل“ میں شامل ہو کر ہفت رنگ ارمغانِ علمی کا پیکر لئے اہل علم کے سامنے جلوہ گر ہیں۔

حق تعالیٰ شانہ اس کاوش کو شرف قبولیت سے نوازے۔ آمین

احوال مؤلف

امام ابوالفضل جلال الدین

(۸۴۹) حضرت امام جلال الدین عبدالرحمٰن بن ابی بکر ،مذہباً شافعی، مشرباً صوفی (شاذلی) اور مسلکاً (بعد مغرب) افق قاہرہ پر ابھرنے والے تعصب کی تاریکیوں کو منتشر کر دیا۔ عالم امت مسلمہ کی علمی و دینی کفالت کا بیڑا ا چشمہ صافی سے اپنی پیاس بجھا رہے ہیں

حب الوطن من الایما

اپنے وطن ”أسیوط“ یا ”سیوط“ کے تعار لکھا ہے۔ اگرچہ اسیوط کے فخر و تعارف فن کا کوہ ہمالہ ہی کافی تھا۔ آپ کے وال عالم دین اور بزرگ شخصیت تھے اور م میں اپنے والد کی وساطت سے امام سیو کا شرف حاصل رہا، آپ خود لکھتے ہیں ”میرے والد اپنی زندگی

صفحہ ۷

احوال مؤلف از مترجم

امام ابوالفضل جلال الدین سیوطی الشافعی رحمۃ اللہ

(۸۴۹۔۹۱۱ھ)

حضرت امام جلال الدین عبدالرحمن بن ابی بکر قدس سرہ العزیز (۸۴۹۔۹۱۱ھ) مسلکاً سنی ،مذہباً شافعی ،مشرباً صوفی (شاذلی) اور مسکناً سیوطی (مصری) تھے۔ یکم رجب اتوار کی شام (بعد مغرب) افقِ قاہرہ پر ابھرنے والے اس ماہتابِ علوم نے اپنی چاندنی سے جہالت و تعصب کی تاریکیوں کو منتشر کر دیا۔ حالت یتیمی میں پروان چڑھنے والے اس نونہال نے امت مسلمہ کی علمی و دینی کفالت کا بیڑا اٹھایا اور آج تک تشنگان علوم وفنون ان کے علمی چشمۂ صافی سے اپنی پیاس بجھا رہے ہیں۔

حب الوطن من الایمان ۔ ۔۔۔کے جذبے سے حضرت خاتم الحفاظ نے اپنے وطن ”اُسیوط“ یا ”سیوط“ کے تعارف پر مبنی ایک رسالہ ”المضبوط فی اخبار اُسیوط“ بھی لکھا ہے۔ اگرچہ اسیوط کے فخر وتعارف کے لیے خود حضرت مؤلف جیسا بطل جلیل اور علم و فن کا کوہِ ہمالہ ہی کافی تھا۔ آپ کے والد گرامی کمال الدین ابوبکر علیہ الرحمہ ایک صوفی منش عالم دین اور بزرگ شخصیت تھے اور معاصر اہل علم سے انہیں تعلق خاطر تھا۔ چنانچہ بچپن ہی میں اپنے والد کی وساطت سے امام سیوطی علیہ الرحمہ کو صوفیہ کرام، علماء اور محدثین کی زیارت کا شرف حاصل رہا، آپ خود لکھتے ہیں:

”میرے والد اپنی زندگی میں مجھے شیخ محمد المجدوب (علیہ الرحمہ) کی خدمت میں

صفحہ ۸

لے جاتے تھے جو اس زمانے کے کبار اولیاء میں سے تھے۔ وہ حضرت سیدہ نفیسہ (رضی اللہ عنہا) کے مزار کے جوار میں رہتے تھے۔ انہوں نے میرے لیے برکت کی دعا کی تھی“۔ اسی طرح آپ کی عمر تین سال تھی کہ حضرت والد انہیں شیخ الاسلام حافظ ابن حجر عسقلانی (علیہ الرحمہ) کی زیارت کے لیے ان کی مجلس میں لے گئے۔ اسی کم سنی میں انہیں محدث عصر شیخ زین الدین رضوان العقبیٰ کی مجلس بھی نصیب ہوئی اور پھر انہوں نے شیخ سراج الدین عمر الوردی سے تعلیم حاصل کی اور متعدد علماء و مشائخ سے اکتساب علم میں مشغول رہے۔

امام سیوطی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں: میں یتیمی کی حالت میں پروان چڑھا اور میری عمر ابھی آٹھ سال پوری نہیں تھی کہ میں نے قرآن پاک حفظ کیا، پھر میں نے ”العمدہ“، منہاج الفقہ، اصول اور الفیہ ابن مالک جیسی کتب بھی حفظ کرلیں۔

صفر ۸۵۵ھ میں جب آپ کے والد کی وفات ہوئی تو ان کی وصیت پر عظیم حنفی فقیہ علامہ شیخ کمال الدین ابن ہمام (صاحب فتح القدیر، رحمہ اللہ تعالیٰ) نے سیوطی (علیہ الرحمہ) کی علمی و عملی سرپرستی فرمائی اور ان کی تربیت کا فریضہ سرانجام دیا۔

علمی اسفار

امام سیوطی (علیہ الرحمہ) فرماتے ہیں: ”الحمد للہ تعالیٰ میں نے طلب علم میں شام، حجاز، یمن، ہند، مغرب اور تکرور کا سفر کیا ہے، جبکہ بقول علامہ سخاوی (الضوء اللامع) انہوں نے اندرون مصر میں بھی فیوم، دمیاط اور محلہ کے سفر کئے اور مکہ مکرمہ میں آب زمزم پیتے ہوئے دعا کی، اللہ تعالیٰ فقہ میں انہیں شیخ سراج الدین بلقینی اور علم حدیث میں حافظ ابن حجر عسقلانی کے مرتبہ پر فائز فرمائے۔

آپ کے اساتذہ و شیوخ

علامہ سیوطی (علیہ الرحمہ) نے کثیر اساتذہ پڑھی ایک معجم بھی تیار کی جن کی تعداد ڈیڑھ سو خود فرماتے ہیں: ”میں نے تحصیل علم اسباق شیوخ کی ایک جماعت سے پڑھے ا الدین الشارمساحی (علیہ الرحمہ) سے سیکھا جاتی تھی۔ میں نے ”المجموع“ پر ان کی حاصل کی۔

۸۶۶ھ میں مجھے علوم عربیہ کی تدر کتاب تالیف کی اور یہ پہلی کتاب تھی جو ترتیب دی، اسے میں نے اپنے استاذ گرامی سامنے پیش کیا اور انہوں نے اس پر تقریظ وفات تک وابستہ رہا، ایسے ہی ان کے والد کچھ اسباق پڑھے۔ پھر ”الحاوی الصغیر“ کا اور ”التنبیہ“ ابتداء سے باب الزکاۃ تک پڑھا، امام زرکشی کے ”تکملہ شرح المنہاج اس کے قریب کچھ اسباق پڑھے۔ ۸۷۶ھ مرحمت فرمائی۔ ۸۷۸ھ میں ان کے و المناوی کی خدمت میں حاضر رہ کر ”الم

صفحہ ٩

آپ کے اساتذہ وشیوخ

علامہ سیوطی (علیہ الرحمہ) نے کثیر اساتذہ ومشائخ سے علم حاصل کیا اور ان کے اسماء پر مبنی ایک معجم بھی تیار کی، جن کی تعداد ڈیڑھ سو کے لگ بھگ بیان کی جاتی ہے۔ خود فرماتے ہیں: ”میں نے تحصیل علم کا آغاز تقریباً ٨٦٤ھ میں کیا اور فقہ ونحو کے اسباق شیوخ کی ایک جماعت سے پڑھے اور علم میراث وفرائض ”فرضی زمانہ“ شیخ شہاب الدین الشارمساحی (علیہ الرحمہ) سے سیکھا جو معمر تھے اور ان کی عمر سو سال سے زیادہ بتائی جاتی تھی۔ میں نے ”المجموع“ پر ان کی شرح کی قرأت ان کے سامنے کر کے اجازت حاصل کی۔

٨٦٦ھ میں مجھے علوم عربیہ کی تدریس کی اجازت ملی اور اسی سال میں نے پہلی کتاب تالیف کی اور یہ پہلی کتاب تھی جو ”شرح استعاذہ وبسملہ“ کے موضوع پر میں نے ترتیب دی، اسے میں نے اپنے استاذ گرامی شیخ الاسلام علم الدین البلقینی (علیہ الرحمہ) کے سامنے پیش کیا اور انہوں نے اس پر تقریظ لکھی۔ تحصیل فقہ کے لیے میں ان سے ان کی وفات تک وابستہ رہا، ایسے ہی ان کے والد گرامی کی خدمت میں رہ کر بھی ”التدریب“ سے کچھ اسباق پڑھے۔ پھر ”الحاوی الصغیر“ کا کچھ حصہ ”المنھاج“ ابتداء سے کتاب الزکاۃ تک اور ”التنبیہ“ ابتداء سے باب الزکاۃ تک پڑھی اور ”الروضہ“ کے باب القضاء سے کچھ حصہ پڑھا، امام زرکشی کے ”تکملہ شرح المنھاج“ کا کچھ حصہ اور احیاء الموات سے الوصایا تک یا اس کے قریب کچھ اسباق پڑھے۔ ٨٧٦ھ میں انہوں نے مجھے تدریس وافتاء کی اجازت مرحمت فرمائی۔ ٨٧٨ھ میں ان کے وصال کے بعد میں نے شیخ الاسلام شرف الدین المناوی کی خدمت میں حاضر رہ کر ”المنھاج“ کا کچھ حصہ پڑھا، اور سوائے چند اسباق جو

صفحہ ۱۰

حصہ ، ”مختصر ابن حاجب“ کے کچھ حصہ کا، اور ”شرح البھجہ“ اس کے حواشی اور تفسیر بیضاوی کے دروس کا سماع کیا۔

علم حدیث و عربیہ میں حضرت الاستاذ امام علامہ تقی الدین الشمنی حنفی کی خدمت میں چار سال رہ کر استفادہ کیا۔ اور انہوں نے میری تالیفات ”جمع الجوامع“ اور ”شرح الفیہ ابن مالک“ پر تقریظ رقم فرمائی اور کئی بار علوم میں میری مہارت تامہ اور علوم عربیہ میں ظاہری و باطنی سبقت پر گواہی دی۔ اور حدیث کے معاملہ میں میرے معمولی توجہ دلانے پر میرے قول کی طرف رجوع کیا ، ایک بار انہوں نے ”شفاء“ کے اوپر اپنے حواشی میں عزان کے حوالے سے ابو الحمراء کی حدیث بحوالہ ابن ماجہ نقل کی، تو میں نے ان کی نقل و حوالے کے مطابق ان کی سند کے ساتھ سنن ابن ماجہ کو ان کے گمان کے مطابق کھول کر دیکھا تو مجھے وہ حدیث نہیں ملی، میں نے پوری کتاب کھنگال ماری لیکن حدیث نہ ملی، آخر تیسری بار دیکھا لیکن وہ حدیث نہ ملی۔ آخر میں نے اسے ابن قانع کی ”معجم الصحابہ“ میں پڑھا، پھر میں شیخ کی خدمت میں گیا اور انہیں آگاہ کیا تو انہوں نے یہ ماجرا مجھ سے سنتے ہی اپنا نسخہ اٹھایا اور قلم پکڑ کر لفظ ”ابن ماجہ“ کو کاٹ دیا اور ابن قانع کا لفظ حاشیہ پر لکھ دیا تو اس پر مجھے گرانی محسوس ہوئی اور اپنے دل میں شیخ کے احترام کے سبب میں نے خود کو ملامت کرتے ہوئے کہا: الا تصبرون لعلکم تراجعون؟ یعنی کیا تم صبر نہیں کر سکتے تھے کہ شاید تم رجوع کر لیتے۔ تو انہوں نے فرمایا: نہیں: میں نے تو اپنے اس قول (ابن ماجہ) میں برہان الدین حلبی کی تقلید کی تھی۔ میں شیخ سے ان کے وصال تک جدا نہیں ہوا۔

(شیخ الکافیجی کی خدمت میں)

آپ فرماتے ہیں: میں نے چودہ سال اپنے استاذ علامہ محی الدین الکافیجی (علیہ

صفحہ ۱۱

الرحمہ) کی خدمت میں گزارے اور ان سے تفسیر، اُصول، لغت عربی اور معانی وغیرہ جیسے فنون حاصل کئے اور انہوں نے مجھے شان دار اجازتوں سے نوازا۔ پھر میں نے شیخ سیف الدین الحنفی (علیہ الرحمہ) کی خدمت میں پڑھا اور کشاف، توضیح اور اس کے حواشی مع ”تلخیص المفتاح“ اور ”حاشیہ عضد“ کا درس حاصل کیا۔ پھر ۸۶۶ھ میں تصنیف وتالیف کا سلسلہ شروع کیا اور اب تک (وفات سے بارہ سال پیشتر ) میری تالیفات کی تعداد تین سو تک پہنچ چکی ہے۔ آپ فرماتے ہیں: مجھے سات علوم میں مہارت تامہ عطا کی گئی ہے، تفسیر، حدیث، فقہ، نحو، معانی، بدیع اور بیان بطریق بلغاء عرب نہ کہ عجمی اور اہل فلسفہ کے طریق پر، ان کے علاوہ اصول الفقہ، مناظرہ اور تصریف، انشاء، ترسل اور فرائض (میراث) ان کے علاوہ ”علم القرأت“ جو میں نے کسی شیخ سے نہیں سیکھا، اس کے علاوہ ”علم طب“۔ البتہ ”علم الجبر“ میرے لیے بہت مشکل رہا اور میں نے اسے اپنے ذہن سے دور ہی رکھا تو جب بھی میں کوئی ایسا مسئلہ دیکھتا ہوں جو اس سے متعلق ہو تو گویا مجھے پہاڑ اٹھانے کو کہہ دیا گیا ہو۔ طالب علمی کی ابتداء میں، میں نے ”علم منطق“ پڑھا لیکن پھر اللہ تعالیٰ نے میرے دل میں اس کا مکروہ پن القا فرما دیا، پھر میں نے سنا کہ امام ابن الصلاح نے اس کی حرمت کا فتویٰ دیا ہے تو اس وجہ سے میں نے اسے چھوڑ دیا، پھر اللہ تعالیٰ نے اس کے عوض مجھے ”علم الحدیث“ سے نوازا۔ اور جہاں تک میرا یقین ہے کہ ان سات علوم میں جس مرتبہ تک میں پہنچا ہوں سوائے فقہ اور ان عبارات کے جن سے مجھے آگاہ کیا گیا ہے، کوئی اور ان تک نہیں پہنچا اور نہ ہی میرے اساتذہ میں سے کوئی ان پر آگاہ ہوا ہے، سوائے ان بزرگوں کے جو ان سے پہلے گزرے ہیں۔ البتہ ”فقہ“ کے معاملے میں، میں کچھ نہیں کہہ سکتا، بلکہ میرے شیخ اس میں مجھ سے زیادہ وسعتِ نظر اور مہارت رکھتے تھے۔

صفحہ ۱۳

خلوت و گوشہ نشینی

علامہ نجم الدین الغزی کہتے ہیں:

علامہ سیوطی کی عمر جب چالیس سال ہوئی تو انہوں نے عبادت اور یاد الٰہی میں مشغولیت اور حضوری کو اختیار کرتے ہوئے دنیا اور اہل دنیا سے تعلق کو ترک کر دیا جیسا کہ وہ انہیں جانتے ہی نہیں اور تدریس وافتاء کو چھوڑ کر تصنیف و تالیف کا آغاز کر دیا اور دریائے نیل کے جزیرہ ”روضۃ المقیاس“ میں ساعتِ وصال تک مقیم رہے۔

علامہ سیوطی (علیہ الرحمہ) اہل حضوری بزرگوں میں سے تھے اور بارگاہ رسالت مآب ﷺ سے خصوصی نوازشات والتفات سے بہرہ ور تھے، فرماتے ہیں:

”اب تک حالت بیداری میں پچہتر بار زیارت سے نوازا گیا ہوں اور محدثین کی بیان کردہ احادیث کی تصدیق و تصحیح کے لیے صاحب حدیث سے رجوع کرتا ہوں اور اس علمی و روحانی ضرورت کے باعث اہل اقتدار، حکمرانوں اور اُمراء کی مجالس میں شرکت سے اس خدشے کے تحت گریز کرتا ہوں، کہ یہ سلسلہ عنایات رک نہ جائے“۔ پیش نظر ”مجموعہ رسائل“ میں شامل ”رسالہ سلطانیہ“ بھی اسی سلسلہ کی ایک کڑی ہے۔ بارگاہِ رسالت مآب ﷺ سے انہیں ”شیخ الحدیث اور شیخ السنۃ“ کے القابات سے بھی نوازا گیا۔

علم حدیث کے ماہرین کے مطابق آپ ”خاتم الحفاظ“ یعنی ”علم حدیث“ کے قواعد کے مطابق آخری حافظ الحدیث ہستی ہیں۔ جب کہ ماہرین اصول حدیث کے مطابق ”حافظ الحدیث“ کو کم از کم ایک لاکھ احادیث مع اسناد و احوالِ رواۃ زبانی یاد ہوتی ہیں۔

حضرت امام نے اقتدار کی گردشیں، سیاسی نشیب و فراز اور جبر و تشدد کا دور بھی دیکھا تھا۔ دس سے زیادہ سلاطین کا دور اقتدار آپ نے دیکھا اور تین بادشاہ ایک ہی سال میں

یکے بعد دیگرے مسند اقتدار پر براجمان ہوتے بھی دیکھے۔

اقتدار کی ہوس اور حکمرانی کے حصول کے میں آپ نے اپنے دامن کردار کو شفاف رکھا ح برداروں کی کاسہ لیسی سے محفوظ رہے۔

ہزار خوف ہو لیکن زباں ہو دل کی رفیق

آپ کچھ عرصہ منصب قضاء پر بھی فائز انجام دیئے لیکن آخر خلوت کو اختیار کیا اور عمر بھر معاصر علماء واہل قلم کی لغزشوں پر گرفت بھی کی ا نظریات کا مدلل رد بھی کیا۔ آپ کی تصنیفات وت بات کا اندازہ بخوبی لگایا جا سکتا ہے۔ پیش نظر مجمو الوثیق“ بھی اسی سلسلۂ رشد و اصلاح پروپیگنڈے سے متاثر ایک عالم کی لغزش علمی رسائل ” مفتاح الجنة في الاعتصام الانبیاء“ ”تحذير الخواص من اكاذي کی مضبوط کڑیاں ہیں۔

امام سیوطی علیہ الرحمہ کثیر التصانیف قیل وقال حدیث ﷺ ہی کو حرز جاں بنائے ر آپ کی تصنیفات کی تعداد پانچ سو تک پہنچتی ہ

صفحہ ۱۳

یکے بعد دیگرے مسندِ اقتدار پر براجمان ہوتے بھی دیکھے۔

اقتدار کی ہوس اور حکمرانی کے حصول کے لیے ان سلطانی جھگڑوں سے ملوث فضا میں آپ نے اپنے دامنِ کردار کو شفاف رکھا حکمرانوں ، سلطانوں اور ان کے حاشیہ برداروں کی کاسہ لیسی سے محفوظ رہے۔

ہزار خوف ہو لیکن زباں ہو دل کی رفیق یہی رہا ہے ازل سے قلندروں کا طریق

آپ کچھ عرصہ منصب قضاء پر بھی فائز رہے، افتاء و تدریس کے فرائض بھی سر انجام دیئے لیکن آخر خلوت کو اختیار کیا اور عمر بھر خدمتِ دین میں مشغول رہے، بایں ہمہ معاصر علماء واہلِ قلم کی لغزشوں پر گرفت بھی کی اور موقع ومحل کی مناسبت سے ان کے غلط نظریات کا مدلل ردّ بھی کیا۔ آپ کی تصنیفات وتالیفات کی فہرست پر نظر ڈالی جائے تو اس بات کا اندازہ بخوبی لگایا جاسکتا ہے۔ پیشِ نظر مجموعہ رسائل میں شامل رسالہ ”العمل الوثیق“ بھی اسی سلسلۂ رشد و اصلاح کی ایک کڑی ہے، جس میں آپ نے رافضی پروپیگنڈے سے متاثر ایک عالم کی لغزشِ علمی واعتقادی پر گرفت فرمائی ہے۔ آپ کے رسائل ”مفتاح الجنۃ فی الاعتصام بالسنۃ“ تنزیہ الانبیاء عن تسفیہ الاغبیاء“ ”تحذیر الخواص من اکاذیب القصاص“ وغیرہ ایسے ہی سلسلۂ ردّ و کد کی مضبوط کڑیاں ہیں۔

امام سیوطی علیہ الرحمہ کثیر التصانیف علماء میں سے ہیں۔ آپ عمر بھر مجرّد رہے اور سنتِ حبیبﷺ ہی کو حرزِ جاں بنائے رکھا، صرف تفسیر و علومِ القرآن کے حوالے سے آپ کی تصنیفات کی تعداد ایک سو تک پہنچتی ہے۔

صفحہ ۱۴

امام سیوطی رحمہ اللہ تعالیٰ کی چند اہم تصانیف و تالیفات کی مجمل فہرست درج ذیل ہے۔

کتب تفسیر و علوم القرآن

(مطبوعہ، قاہرہ ۱۳۱۴ھ)

(مطبوع)

(مطبوع)

(مطبوع)

(مطبوع)

(مطبوع)

ان کے علاوہ مجمع البحرین، نامی تفسیر کا آغاز کیا جو مفقود ہے، جبکہ بیسیوں رسائل علوم القرآن سے متعلق مطبوع و مخطوط موجود ہیں۔

علوم الحدیث

صفحہ ۱۵
صفحہ ١٦

فقه واصول فقه

علم نحو وعربى زبان وادب

صفحہ ۱۷

علم نحو و عربی زبان و ادب

صفحہ ۱۸

علم اصول، بیان اور تصوف

علم تاریخ

تاریخ سے متعلق السیوطی کی تین تصانیف ہیں:

(۱) ایک کتاب دنیا کی عام تاریخ پر جس کا نام ”بدائع الزہور فی وقائع الدہور“ ہے۔ قاہرہ میں ۱۲۸۲ھ وغیرہ میں چھپ چکی ہے۔ (۲) ایک کتاب خلفاء کی تاریخ پر تاریخ ”الخلفاء“ طبع S.Lee و مولوی عبدالحق، کلکتہ ۱۸۵۷ء قاہرہ ۱۳۰۵ھ و ۱۹۱۳ء لاہور

صفحہ 19

۱۸۷۰ء و ۱۸۸۷ء، دھلی ۱۳۰۶ھ، مترجمہ (bill. Ind. H.S. Garret کلکتہ ۱۸۸۱ء اور (۳) ”تاریخ مصر“ جس کا نام حسن المحاضرة في اخبار مصر و القاہرہ ، طبع سنگی قاہرہ ۱۸۶۰ء (؟) پھر قاہرہ ۱۲۹۹ھ / ۱۳۲۱ھ) ہے۔

سیر و تراجم کے سلسلے میں ”بغية الوعاة“ کے علاوہ جس کا ذکر اوپر آچکا ہے، انہوں نے ایک کتاب ”طبقات المفسرین“ (طبع A. Meursinge ، لائیڈن ۱۸۳۹ء تالیف کی جس میں مفسرین کے تراجم جمع کیے۔ الذھبی (م ۷۴۸ھ/ ۱۳۴۸ء) کی ”طبقات الحفاظ“ کا خلاصہ بھی لکھا، طبع وسٹنفلٹ F. Wüstenfeld ، گوٹنگن ۱۸۳۳ء تا ۱۸۳۴ء)، [پھر بطور ذیل بعد کے حفاظ کے حالات کا اضافہ کر دیا ۔ یہ اضافات ذیل ”طبقات الحفاظ“ کے نام سے ایسے ہی تین ذیول کے مجموعے میں دمشق سے ۱۳۴۷ھ میں شائع ہو چکے ہیں۔ اس مجموعہ ”الذیول الثلاثہ“ میں السیوطی کے ذیل کے علاوہ الحافظ ابوالحاسن الحسینی الدمشقی کا ذیل تذکرة الحفاظ اور الحافظ تقی الدین محمد بن فھد المکی کا ذیل ”طبقات الحفاظ“ بھی شامل ہیں]۔ علاوہ ازیں امام سیوطی نے سیر و تراجم پر ایک اور مفید کتاب بنام ”نظم العقیان فی اعیان الاعیان“ (طبع Hitti ، نیویارک ۱۹۲۷ء) بھی تصنیف کی جس میں نویں صدی ہجری کے عالم اسلامی کے دو صد مشاہیر کے مختصر حالات درج ہیں۔

تحقیق تاریخ وفات

بعض معاصر اہل قلم اور اردو دائرہ معارف اسلامیہ کے مقالہ نگار نے آپ کی تاریخ وفات ۱۸ جمادی الاول ۹۱۱ھ / ۱۷ اکتوبر ۱۵۰۵ء لکھی ہے ۔ لباب الحدیث (مترجم) مطبوعہ مکتبہ اعلیٰ حضرت لاہور ، کے مقدمہ میں بحوالہ امام شعرانی جمعہ کی رات ۹ جمادی الاولیٰ ۹۱۱ھ لکھا ہے ۔ جبکہ تفسیر الدر المنثور (مترجم) مطبوعہ ضیاء القرآن لاہور کے مقدمہ میں

صفحہ ۲۰

جمعرات ۱۹ جمادی الاولیٰ ۹۱۱ھ لکھا ہے جو راقم کی دانست میں درست تاریخ وفات ہے۔

علامہ غلام رسول سعیدی صاحب نے بھی الخصائص الکبریٰ (مترجم) کے تقدیم و تعارف میں ۱۸ جمادی الاولیٰ، اردو دائرہ معارف اسلامیہ کے مقالہ نگار کی تقلید میں لکھ دیا ہے۔

اسباب الحدیث (مترجم) کے ابتدائیہ میں مولانا شہباز ظفر عطاری نے آپ کی عمر ۶۳ سال بتائی ہے جو قرین قیاس نہیں ہے۔

علامہ نجم الدین الغزی (شاگرد سیوطی) علیہ الرحمہ نے آپ کی عمر یوں بیان کی ہے۔

"قد استكمل من العمر احدى و ستين سنة و عشرة أشهر و ثمانية عشر يوماً.

ترجمہ: آپ کی عمر پورے اکسٹھ سال، دس ماہ اور اٹھارہ دن تھی۔

رسالہ سلطانیہ کے مرتب و محقق مختار الجبالی نے اکسٹھ سال اور کچھ مہینے عمر بیان کی ہے، اور تاریخ وصال ۱۹ جمادی الاولیٰ ۹۱۱ھ لکھی ہے۔

مزید دیکھئے:

الحافظ جلال الدین . بدائع الزهور (۸۴/۴) ٭ الكواكب السائرة (۲۲۶/۱)

لِيَغْفِرَ لَكَ اللهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ

المحرر فی

لِيَغْفِرَ لَكَ اللهُ مَا تَقَدَّمَ

عصمت

اقوال مفسر

مؤلف: علامہ ...لال

مترجم: علا

دار الا

صفحہ ۲۱

لِيَغْفِرَ لَكَ اللّٰهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِكَ وَمَا تَاَخَّرَ الفتح: ۲

المحرّر فى قولہ تعالیٰ:

ليغفر لك الله ما تقدم من ذنبك وما تأخر

عصمتِ نبوی ﷺ

(اقوال مفسرین کی روشنی میں)

مؤلف: علامہ امام جلال الدّین سیوطی شافعی رحمۃ اللہ تعالیٰ

(م۔۹۱۱ھ)

مترجم: علامہ محمد شہزاد مجدّدی سیفی

دار الاخلاص لاہور

صفحہ ۲۲

بسم الله الرحمن الرحيم

(مقدمہ ناشر)

نَحْمَدُکَ اللّٰهُمَّ وَنُصَلِّی وَنُسَلِّمْ عَلٰی سَيِّدِنَا مُحَمَّدٍ عَبْدِکَ وَ رَسُوْلِکَ وَعَلٰی آلِهِ وَصَحْبِهِ اَجْمَعِيْنَ ہ اَمَّا بَعْد! پیشِ نظر نادر رسالہ امام الحافظ جلال الدین سیوطی رحمہ اللہ تعالیٰ کی تالیف ہے۔ اس میں انہوں نے علماء متقدمین کے اقوال کو بطور اختصار اور ایک انتہائی اہمیت کے حامل مسئلہ کے بارے میں ان کے موقف کے (روشن) چراغوں کو جمع کیا ہے۔

اس رسالے میں مفسرین کے اُن اقوال کو بیان کیا ہے۔ جو اس (آیت) کے معنی و مراد کے متعلق وارد ہیں اور جن کے حوالے سے بعض لوگ مصطفیٰ کریم علیہ التحیۃ والتسلیم کے بارے میں زبان درازی کرتے ہیں اور جس چیز کی اس آیت سے نفی ہورہی ہے اسے ثابت کرنے کے لیے بڑی تیزی دکھاتے ہیں۔

پھر یہ امام مزاحمت کے لیے اپنے حق کے ساتھ میدان میں آیا اور سابقین کے اقوال کو جمع کر کے پیش کیا اور ان کے ضعف اور وجوہ تردید کو بھی بیان کیا۔ پھر اس آیت کے معنی و مراد کو اپنے اوپر کھلنے والے مضامین کی روشنی میں بیان کر کے ان پر اضافہ کیا اور امام سیوطی کا بیان اس سلسلے میں مومنوں کے سینوں کے لیے نہایت تسلی بخش ہے۔ رہا حضور علیہ الصلوۃ والسلام سے ذنب کی استغفار کا تقاضا جیسا کہ قرآن پاک میں وارد ہے: وَاسْتَغْفِرْ لِذَنْبِکَ ۔ تو یہ بھی اس رسالہ میں زیر بحث مسئلہ کی قبیل سے ہے۔

صفحہ ۲۳

علامہ آلوسی نے اس کا جواب ”روح المعانی“ (ج۲۴:ص۷۷) میں دیا ہے۔

کہتے ہیں: ”یعنی، معاملات دینیہ کی طرف متوجہ رہ کر کبھی کبھار ہو جانے والے تجاوز کی تلافی کرو جو تمہاری طرف نسبت کے باعث گناہ شمار ہونگے۔ حالانکہ (دراصل) وہ گناہ نہیں ہیں۔

علامہ آلوسی نے یہ بھی کہا: ایک قول یہ بھی ہے کہ: ”اپنی اُمت کے ان گناہوں سے استغفار کیجئے ، جو ان سے آپ کے حق میں سرزد ہوئے ہیں۔

دستیاب کتابوں میں اس مسئلہ کے بارے میں جسے یہاں امام سیوطی علیہ الرحمہ نے اس طرح واضح کیا ہے، بلا قید حصر سوائے ہمارے علامہ السید محمد علوی المالکی الحسنی کے دست حق پرست کی تحریر کے کوئی (قابل ذکر) مواد نہیں ملتا۔

علامہ علوی مالکی رحمۃ اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب ”محمد صلی اللہ علیہ وسلم الانسان الکامل“ (ص:۹۹) میں حضور علیہ السلام کی ذات پاک کی طرف گناہ کی نسبت اور اس آیۃ کے معنی کے حوالے سے بات کی ہے۔ انہوں نے علماء سابقین کے اس مسئلہ میں ارشاد فرمودہ اقوال کا خلاصہ کیا ہے، اور اسے اپنی کتاب کے مباحث میں مستقل بحث کا حصہ بنایا ہے اور پھر اپنے اس قول کے ساتھ ان اقوال کا تعاقب کیا ہے۔

البتہ اللہ تعالیٰ کا ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو استغفار کا حکم دینا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا (اس کی تعمیل میں) الحاح وزاری کرنا، مناجات اور اللہ تعالیٰ سے بخشش کا سوال کرنا، یہ سب آپ کا کمال تواضع ہے، اور آپ کی عبودیت کاملہ کے اقرار کی علامت ہے۔ اور اپنے رب کی طرف احتیاج ، اور اس کی طرف فقیرانہ توجہ اور اس کے فضل سے عدم

صفحہ ۲۴

استغناء کی وجہ سے ہے اور یہ کہ اپنے رب کی نوازشات پر آپ کو کوئی گھمنڈ نہیں ہے۔ اور اس میں امت کے لیے تعلیم ہے تاکہ وہ آپ کی اقتدا اور پیروی کریں اور اس میں اللہ تعالیٰ کے لیے دوام عمل کے ساتھ کامل شکر کے جذبات بھی ہیں۔ ہمارے اس رسالے کا اصل قلمی نسخہ مکتبہ محمودیہ مدینہ منورہ میں (۲۶۳۶) نمبر مطابق (۶۷/ ب الی ۶۹/ اء) کے تحت محفوظ ہے۔ خط اس کا معتدل ہے اور فی صفحہ ۲۵ سطریں ہیں۔

آخر میں ہم اللہ تعالیٰ جل مجدہ کی بارگاہ میں التجا کرتے ہیں کہ وہ اس رسالے کی اشاعت کو خالصتاً اپنی رضا اور اپنے حبیب مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کی رضا کے لیے بنا دے اور اس کی اشاعت کے ثواب کو میرے والدین میرے مشائخ اور مجھ پر فضیلت رکھنے والے بزرگوں کے اعمال ناموں میں درج فرمادے۔ بے شک وہ سننے والا ہے، قریب اور مجیب ہے۔

وصلى الله وبارك وأنعم على سيدنا محمد وعلى آله وصحبه أجمعين. حسين محمد على الشكرى مدينة المنورة

صفحہ ۲۵

بسم الله الرحمن الرحيم

والصلوة والسلام على رسول الله ﷺ

قولہ تعالیٰ: (( لِيَغْفِرَ لَكَ اللَّهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِكَ وَمَا تَاَخَّرَ ۔الخ ))

اس آیت کریمہ کی تفسیر میں مفسرین کے کئی اقوال ہیں جن میں سے بعض مقبول ہیں، بعض مردود ہیں اور بعض نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور دیگر تمام انبیاء کرام علیہم السلام کی عصمت قبل از نبوت اور بعد از نبوت پر دلیل قاطع موجود ہونے کے سبب ضعیف ہیں۔

امام تقی الدین سبکی علیہ الرحمہ اپنی تفسیر میں کہتے ہیں:

علماء کے اس میں مختلف اقوال ہیں، جن میں سے بعض کی تاویل لازم ہے اور بعض کی تردید واجب ہے۔

پہلا قول:

اس آیت (میں ذنب) سے مراد ہے جو کچھ دور جاہلیت میں سرزد ہوا یہ مقاتل کا قول ہے۔

امام سبکی فرماتے ہیں: یہ قول مردود ہے، کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے جاہلیت نہیں ہے۔

دوسرا قول:

ان المراد ما كان قبل النبوة.

اس (ذنب) سے مراد ہے جو کچھ نبوت سے پہلے ہوا۔

امام سبکی فرماتے ہیں: یہ بھی مردود ہے کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نبوت سے پہلے بھی معصوم تھے اور بعد میں بھی۔

صفحہ ۲۶

تیسرا قول: حضرت سفیان ثوری کہتے ہیں:

مَا عَمِلْتَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ وَمَا لَمْ تَعْمَلْ ۔ (۱) یعنی جو عمل آپ نے جاہلیت میں کیا اور وہ جو نہیں کیا۔ امام سبکی فرماتے ہیں: وهو مردود بالذی قبله. یہ بھی اس سے پہلے قول کی طرح مردود ہے۔

چوتھا قول:

یہ امام مجاہد کے حوالے سے بیان کیا جاتا ہے، یعنی جو حضرت ماریہ قبطیہ رضی اللہ عنہا والی بات سے پہلے پیش آیا اور جو زید کی اہلیہ (زینب رضی اللہ عنہا) والے معاملے کے بعد پیش آیا۔ امام سبکی فرماتے ہیں: یہ قول باطل ہے، کیونکہ حضرت ماریہ اور زید کی اہلیہ کے قصے میں گناہ تو سرے سے تھا ہی نہیں اور جس شخص نے ایسا اعتقاد رکھا اس نے غلط بات کی۔ (۲)

پانچواں قول: قول الزمخشری : جميع ما فرط منہ،

زمخشری کہتے ہیں: جو بھی تجاوز آپ سے ہوا۔ امام سبکی فرماتے ہیں: وهذا مردود۔ (یہ بھی مردود ہے۔)

(۱) اس کو ابن عطیہ نے ”المحرر الوجیز“ (۱۲۶:۵) میں نقل کیا اور اس کا تعاقب کرتے

ہوئے کہا: یہ ضعیف ہے۔

"۲۔ حضرت امام آلوسی رحمہ اللہ ”روح المعانی“ (۹۱:۲۶) میں اس قول کا تذکرہ کرنے کے بعد

کہتے ہیں: اس کی کوئی حیثیت نہیں ہے، بوجہ اس کے برعکس کے اولی ہونے کے کیونکہ حضرت زید کی اہلیہ کا معاملہ اس سے پہلے کا ہے۔

صفحہ ۲۷

پہلی بات:

انبیاء کرام علیہم السلام کی عصمت کے بیان میں ہے، بلاشبہ اُمت کا اس بات پر اتفاق ہے کہ دعوت وتبلیغ اور اس کے علاوہ دیگر امور میں انبیاء علیہم الصلوٰات والتسلیمات کبائر اپنے مرتبہ سے گرے ہوئے صغائر رذیلہ سے اور صغائر پر مداومت سے پاک (معصوم) ہیں۔

یہ چار امور تو بالکل متفقہ ہیں۔ البتہ ان صغائر میں اختلاف ہے جو انبیاء کرام کی شان کے خلاف نہ ہوں۔

پس معتزلہ اور ان کے علاوہ علماء کی خاص تعداد اس کے جواز کی طرف گئی ہے۔ (۱)

(۲) جبکہ مختار (قول) اس کی ممانعت ہے۔ کیونکہ ہم انبیاء کرام علیہم السلام سے قول و فعل کے اعتبار سے جو کچھ صادر ہو اس کی پیروی پر مامور ہیں، تو کیسے ہو سکتا ہے کہ ان سے کوئی ناپسندیدہ فعل واقع ہو جبکہ ہم اس کی اقتداء پر مامور ہوں؟

البتہ، رہے حشویہ، تو ان کی طرف مطلقاً انبیاء سے صغائر کے صدور کے جواز کی نسبت کی گئی ہے۔ اگر یہ ان کے حوالے سے صحیح ہے، تو وہ ہمارے ذکر کردہ اجماعی اقوال سے بے خبر ہوں گے۔

۱۔ جن لوگوں نے اس (صغیرہ) کے جواز کا ذکر کیا ہے ان میں سے امام رازی بھی ہیں۔ جنہوں نے (تفسیر کبیر: ۴:۷۸) میں ایک جگہ جہاں انہوں نے اس (موقف) کو اختیار کرنے کے اسباب کا ذکر کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ کے ارشاد (لیغفر لک اللہ) کے حاشیہ میں کہتے ہیں۔ اس میں تیسرا قول صغائر کا ہے تو اس کا اطلاق انبیاء کرام پر سہواً اور عمداً جائز ہے اور یہ عجب سے ان کو بچاتا ہے۔

صفحہ ۲۸

وہ لوگ جو صغائر کو جائز کہتے ہیں، وہ بھی کسی نص یا دلیل سے نہیں کہتے، انہوں نے بس اسی آیت اور اس جیسی دوسری آیات سے یہ اخذ (استدلال) کیا ہے۔ اس کا جواب تو واضح ہے۔

اور (دوسرے) وہ لوگ جو ان صغائر کو جائز کہتے ہیں جو قبیح نہ ہوں۔

ابن عطیہ کہتے ہیں: اس میں اختلاف ہے کہ ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ایسا صادر ہوا ہے یا نہیں؟ (۱)

مجھے اس میں کوئی شک و شبہ نہیں کہ ایسا صادر نہیں ہوا، اور اس کے برعکس کا گمان بھی کیسے کیا جاسکتا ہے؟

وَمَا يَنْطِقُ عَنِ الْهَوَىٰ، إِنْ هُوَ إِلَّا وَحْيٌ يُوحَىٰ.

واما الفعل: رہا فعل : تو صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم کے اجماع سے یہ بات معلوم (ومعروف) ہے کہ وہ کم، زیادہ اور چھوٹے بڑے اپنے تمام امور میں قطعی طور پر حضور علیہ السلام کی طرف رجوع کرتے اور آپ کی پیروی کرتے تھے اور ان کے ہاں اس بارے میں کسی قسم کا توقف اور اختلاف نہیں تھا۔ یہاں تک کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خلوت اور تنہائی والے اعمال سے واقفیت اور اس پر عمل کے شدید شائق رہتے تھے، خواہ وہ اس سے واقفیت حاصل کر پائے یا نہیں۔

جو شخص صحابہ کرام علیہم الرضوان کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ معاملات اور حضور علیہ الصلوۃ والسلام کے اول آخر تمام احوال سے آگاہی اور حضوری پر غور و خوض کرنے والا ہے وہ اللہ تعالیٰ سے حیاء کرے گا کہ وہ اس طرح کی بات کرے یا ایسا تصور بھی کرے۔

۱۔ ’’المحرر الوجیز‘‘ لابن عطیۃ: (۱۲۶:۵)

صفحہ ۲۹

اگر یہ قول بیان نہ کیا گیا ہوتا تو میں اس کا ذکر تک نہ کرتا، (۶) اور ہم بارگاہ الہی میں اس سے براءت کا اظہار کرتے ہیں۔ اگر کہنے والے نے کہہ ہی دیا ہے۔

یہ درج بالا کلام زمخشری کی اس آیت کے تحت بیان کردہ تفسیر کے بارے میں ہے۔

دوسری بات:

اگر نعوذ باللہ : یہ تسلیم کر بھی لیا جائے تو ایسا دشمنانہ قول، اور حقیر و ناچیز اشیاء کا ذکر یہاں مناسب نہیں جبکہ آیہ کریمہ حضور علیہ السلام کی عظمت و شان کی طرف اشارہ کر رہی ہے اور اس معاملے کو فتح مبین بنا کر ظاہر کر رہی ہے جو کہ تعظیم و تکریم پر مشتمل بات ہے۔ لہٰذا اس کا اُس پر محمول کرنا بلاغت سے خالی ہے۔ (دور) ہے۔

یہ زمخشری کے رد میں امام سبکی کا کلام ہے۔

چھٹا قول:

کہا جاتا ہے کہ اس سے مراد ہے، وہ اعمال جو بچپن میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے لڑکوں کے ساتھ کھیل کود کے دوران صادر ہوئے۔

یہ بھی آپ کے شایان شان نہیں ہے، بے شک ابرار کی نیکیاں مقربین کے گناہوں کی طرح ہیں۔

اسی لیے حضرت یحییٰ علیہ السلام جب کم سن تھے تو بچوں کے کھیل کی طرف بلانے پر انہوں نے کہا تھا:

(۷) ما لہذا خلقت۔ میں اس لیے پیدا نہیں کیا گیا۔ یہ قول مردود ہے۔

صفحہ ۳۰

اول تو یہ کہ یہ قول حضرت یحییٰ کی ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر خصوصیت کی طرف اشارہ کرتا ہے جبکہ وہ آپ پر فضیلت نہیں رکھتے ، کیونکہ ہر وہ خاصیت جو انبیاء میں سے کسی نبی کو دی گئی ویسی یا اس سے بہتر خاصیت ہمارے آقا صلی اللہ علیہ وسلم کو عطا کی گئی ہے۔

روایت کیا گیا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم شیر خوارگی میں بھی عدل فرماتے تھے، آپ کی رضاعی ماں حلیمہ سعدیہ رضی اللہ عنہا آپ کو اپنا پستان پیش کرتی تھیں تو آپ اُس سے نوش فرماتے اور جب وہ دوسرا پستان آپ کو پیش کرتیں تو آپ گریز فرماتے، کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو علم تھا کہ آپ کا ایک دودھ شریک اور بھی ہے۔ (۱)

شیر خوارگی کی عمر سے آگے بڑھ چکے ہوں اور یہ ثابت بھی نہیں ہے کہ آپ لڑکوں کے ساتھ کھیل تماشے میں مشغول ہوئے ہوں بلکہ اگر یہ الفاظ احادیث سے ثابت ہوں تو مناسب طور پر ان کی تاویل لازم ہے۔

پھر یہ کہنے والا وہاں کیا کرے گا جب اس کے قول کو (ما تقدم) کے تحت: بچپن میں لڑکوں کے ساتھ کھیل کود پر محمول کیا جائے؟ (وَمَا تَاخَّر) کے بارے میں یہ کیسے صحیح ہوگا۔

۱۔ امام سہیلی نے ”الروض الانف“ (۱: ۱۸۷) میں کہا ہے اور ابن اسحاق وغیرہ نے بھی اس کا ذکر کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حلیمہ سعدیہ کے ایک پستان کے علاوہ دوسرے کو قبول نہیں فرماتے تھے اور اگر حضرت حلیمہ سعدیہ رضی اللہ عنہا آپ کو دوسرا پستان پیش کرتیں تو آپ منہ پھیر لیتے تھے جیسے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ادراک عطا کیا گیا تھا کہ آپ کے ساتھ دوسرا بھی دودھ شریک ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم فطری طور پر عدل کرنے والے اور جبلی طور پر نوازش و کرم فرمانے والے تھے۔

صفحہ ۳۱

ساتواں قول:

عطاء خراسانی کا ہے:

جو گناہ آپ کے ماں باپ آدم و حوا سے پہلے ہوئے اور جو گناہ بعد میں آپ کی امت سے ہوں گے۔ (۱)

یہ قول ضعیف ہے۔

اول تو اس لیے کہ آدم علیہ السلام معصوم ہیں، ان کی طرف گناہ کی نسبت نہیں کی جائے گی، یہ ایسی تاویل ہے جو خود تاویل کی محتاج ہے۔

دوسرے یہ کہ ایک ایسے شخص کا ذنب جسے کاف خطاب سے مخاطب کیا گیا ہو اسے دوسرے کی طرف منسوب نہیں کیا جا سکتا۔

تیسرے یہ کہ: کیونکہ امت کے سارے گناہ معاف نہیں کیے جائیں گے بلکہ ان میں سے کچھ کے گناہ بخشے جائیں گے اور کچھ کے گناہ نہیں بھی بخشے جائیں گے۔

آٹھواں قول:

حضرت عبداللہ ابن عباس رضی اللہ عنہما کا ہے۔

مما یکون۔ یعنی جو بھی سرزد ہوگا۔

امام سبکی فرماتے ہیں: اس کی تاویل کی جائے گی، یا یہ لائق تاویل ہے۔ یعنی جو بھی سرزد ہو، اگر ہوتا۔ مطلب یہ کہ آپ جس مقام پر ہیں۔ اگر اس میں گزشتہ اور آئندہ گناہوں کا امکان ہوتا بھی تو ہم اپنے ہاں آپ کے فضل و شرف کے پیش نظر ان سب گناہوں کو بخش دیتے۔

۱۔ اسے سمرقندی اور ثعلبی نے عطا کے حوالے سے نقل کیا ہے جیسا کہ قاضی عیاض نے ”شفاء“ (۱۵۷:۲) میں ذکر کیا ہے۔

صفحہ ۳۲

نواں قول:

”کتاب الشفاء“ (۱) میں (قاضی عیاض) نے کہا ہے، کہتے ہیں ”آپ سے کوئی گناہ ہوا ہے یا نہیں ہوا، آپ جان لیں کہ وہ آپ کی خاطر عفو شدہ ہے۔“

دسواں قول:

قاضی عیاض کہتے ہیں، کہا گیا ہے: وہ جو نبوت سے قبل ہوئے اور وہ جن کے بعد عصمت آپ کو دی گئی۔ اسے احمد بن نصر نے بیان کیا ہے۔

گیارھواں قول:

کہتے ہیں: اس سے مراد وہ امور ہیں جو سہو غفلت تاویل سے ہوئے۔ اسے طبری نے بیان کیا ہے اور قشیری نے اختیار کیا ہے۔

بارہواں قول:

قال مکی: مکی نے کہا ہے: یہاں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے خطاب (دراصل) آپ کی اُمت سے خطاب ہے۔

یہ بارہ اقوال غیر مقبول ہیں، ان میں مردود، ضعیف اور مؤول (قابل تاویل) سب موجود ہیں۔

”اقوال مقبولہ“

شفاء میں ہے: جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ کہنے کا حکم دیا گیا کہ ”وما ادری ما یفعل بی ولا بکم“ مجھے نہیں پتہ کہ میرے ساتھ کیا ہوگا اور تمہارے ساتھ کیا کیا جائے گا۔ تو

۱- ۱۵۷:۲

صفحہ ۳۳

کفار نے اس بارے میں چہ مگوئیاں کیں، (جواباً) اللہ تعالیٰ نے یہ نازل فرمایا: "لیغفرلک اللہ ماتقدّم من ذنبک و ما تاخّر" اور بعد میں دوسری آیت میں مومنین کا احوال بھی بتادیا۔

آیت کا مطلب یہ ہوا کہ اگر آپ سے گناہ کا صدور ہوتا بھی تو (اے محبوب) آپ کے لیے بلا مواخذہ اس کی بخشش ہو جاتی۔

میں (امام سیوطی) کہتا ہوں۔ اس اثر کو ابن المنذر نے اپنی تفسیر میں ابن عباس رضی اللہ عنہما سے نقل کیا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد "ما ادری مايُفعل بى ولا بکم" میں نہیں جانتا کہ میرے ساتھ کیا کیا جائے گا اور تمہارے ساتھ کیا ہوگا۔ تو اس پر اللہ تعالیٰ نے نازل فرمایا: "لیغفرلک اللہ ماتقدّم من ذنبک وماتاخّر۔"

امام احمد، ترمذی اور حاکم نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے، انہوں نے کہا: آیۂ کریمہ "لیغفرلک اللہ ماتقدّم من ذنبک وماتاخّر۔" نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر حدیبیہ سے واپسی پر نازل ہوئی تو صحابہ کرام نے عرض کیا، حضور مبارک ہو! بے شک اللہ تعالیٰ نے واضح کر دیا ہے کہ وہ آپ کے ساتھ کیا سلوک کرے گا اور ان کے ساتھ کیسے پیش آئے گا۔ پھر یہ آیت نازل ہوئی:

ليدخل المومنين والمومنات...... الى فوزاً عظيماً۔ (۱) الفتح آیت ۵

قاضی عیاض رحمہ اللہ فرماتے ہیں، بعض علماء نے کہا ہے: یہاں مغفرت کا مطلب خامیوں سے بری ہونا ہے۔

حضرت شیخ عز الدین بن عبدالسلام اپنی کتاب "نهاية السول فيما منح من تفضيل الرسول ﷺ" میں لکھتے ہیں:

۱- اسباب النزول للواحدی، ص ۴۱۵

صفحہ ۳۴

اللہ تعالیٰ نے کئی اعتبار سے ہمارے نبی اکرمﷺ کو دیگر تمام انبیاء علیہم السلام پر فضیلت عطا کی ہے، آگے لکھتے ہیں: (۱)

ان خصوصیات میں سے ایک یہ ہے: کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں آگاہ کر دیا ہے کہ ان کے اگلے اور پچھلے گناہ (اگر ہوتے بھی) بخش دیئے گئے ہیں اور کسی روایت میں نہیں ملتا کہ اللہ تعالیٰ نے انبیاء کرام میں سے کسی کو ایسی صورتحال سے آگاہ کیا ہو، بلکہ واقعتاً اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے انبیاء علیہم السلام کو یہ نہیں بتایا۔ اسی لیے محشر میں جب ان سے شفاعت کرنے کو کہا جائے گا تو ان میں سے ہر کوئی اپنی لغزش کا تذکرہ کرے گا جو اُسے پیش آئی ہوگی اور کہے گا، نفسی نفسی، میری ذات، میری ذات۔

اگر ان میں سے ہر ایک اپنی خطا کی مغفرت (بخشش) کو جان چکا ہوتا تو اس مقام پر اضطراب کا اظہار نہ کرتا اور جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے مخلوقات (لوگ) شفاعت طلب کریں گے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس موقع پر فرمائیں گے ”انا لھا“ ہاں میں اسی لیے (یہاں) ہوں۔

امام سبکی علیہ الرحمہ اپنی تفسیر میں کہتے ہیں:

میں نے اپنی دانست میں اس کلام یعنی ”لیغفر لک اللہ ما تقدم من ذنبک وما تاخر“ پر اس کے پہلے الفاظ کو ملحوظ رکھ کر کافی غور کیا ہے میں اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ اس کو صرف ایک ہی سبب پر محمول کیا جاسکتا ہے اور وہ یہ کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی رفعت شان سے بعید ہے کہ یہاں اس سے مراد (عمومی) گناہ لی جائے۔ بلکہ (معلوم ہوتا ہے) کہ اللہ تعالیٰ نے اس ایک آیت میں اپنے بندوں کو اپنی طرف سے عطا کردہ جمیع

۱؎ یہ کتاب ”ہدایۃ السول فی تفضیل الرسول“ کے نام سے عربی میں شائع ہوچکی ہے۔ اس کا اردو ترجمہ مفتی محمد خان قادری صاحب نے ”سب رسولوں سے اعلیٰ ہمارا نبی“ کے نام سے کیا ہے۔

صفحہ ٣٥

اخروی نعمتوں کا اجمالی بیان فرما دیا ہے اور تمام اخروی نعمتیں دو قسم کی ہیں:

سلبیہ: اور وہ ہے گناہوں کی بخشش۔ ثبوتیہ: اور یہ لامتناہی ہیں۔

اس کی طرف اس آیت میں اشارہ کیا ہے: وَيُتِمَّ نِعْمَتَهُ عَلَيْكَ (الفتح:۲)

اور وہ آپ پر اپنی نعمتیں تمام کردے۔ اور تمام دنیاوی نعمتیں دو قسم کی ہیں۔

دینی: اس کی طرف اس آیت میں اشارہ فرمایا ہے۔

ويهديك صراطاً مستقیما . (فتح نمبر ۲)

اور وہ آپ کو صراط مستقیم کی ہدایت فرماتا ہے۔

اور دنیویہ : اگر یہاں (اس دنیا میں) ان میں سے مقصود دین ہو، تو وہ یہ ارشاد باری تعالیٰ ہے: وينصرك الله نصراً عزيزاً . (الفتح :نمبر ۳)

اور اللہ آپ کی زبردست مدد فرمائے گا۔

اخروی نعمتوں کو دنیوی نعمتوں پر مقدم کیا گیا ہے اور دینی نعمتوں کو دنیوی پر مقدم کیا گیا ہے یعنی ایک کے دوسری سے افضل ہونے کی وجہ سے اہم کو غیر اہم پر مقدم رکھا ہے۔ یوں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی عظمت شان کو اپنی ہر قسم کی نعمتیں ان پر تمام کر کے نمایاں فرمایا ہے جو ان کے علاوہ کسی اور میں نہیں ہے۔

اور اسی لیے اس کو فتح مبین کی انتہا پر رکھا جس کی عظمت والی نون کی نسبت ان کی طرف کر کے آپ کی عظمت اور رفعت شان کا اظہار فرمایا اور اسے لفظ ”لک“ (آپ کے لیے) کے ساتھ آپ کے لیے مخصوص فرمایا ہے۔ پھر (مکی) کہتے ہیں: جب یہ معنی مجھ پر روشن ہوئے تو بعد میں میرے علم میں آیا کہ ابن عطیہ پر بھی یہی کھلا ہے۔ سو انہوں (ابن عطیہ) نے کہا ہے۔ اس حکم کے ساتھ اگر اظہار شرف مقصود ہے، تو بہر صورت اس سے مراد

صفحہ ۳۶

ذنوب نہیں ہیں۔

یوں وہ اپنے قول سے ہمارے موافق ہو گئے۔ بعض محققین نے کہا ہے: مغفرۃ یہاں عصمت کا کنایہ ہے۔ پس "لیغفر لک الله ما تقدم من ذنبك وما تأخر “ کا معنی ہوا، اللہ تعالیٰ آپ کو یہ معصومیت عطا کرے گا،عمر کے گزشتہ حصے میں بھی اور جو باقی ہے اس میں بھی۔ ”یہ قول بہترین ہے۔“

بلغاء ( علماء بلاغت) نے اس بات کو اسلوب قرآنی کی بلاغت میں شمار کیا ہے کہ لفظ مغفرت ، عفو اور توبہ کو تخفیفات کے طور پر بطور کنایہ استعمال کیا جائے۔ جیسا کہ قیام اللیل کو منسوخ کرتے ہوئے ارشاد باری تعالیٰ ہے: عَلِمَ اَنْ لَّنْ تُحْصُوْهُ فَتَابَ عَلَيْكُمْ فَاقْرَءُوْا مَا تَيَسَّرَ . (المزمل: ۲۰) اور انفرادی طور پر کچھ کہنے سے پہلے صدقہ کرنے کے حکم کو منسوخ کرتے ہوئے فَإِذْ لَمْ تَفْعَلُوْا وَتَابَ اللّٰهُ عَلَيْكُمْ . (المجادلة: ۱۳) پھر جب تم نے یہ نہ کیا اور اللہ نے تمہیں معاف کر دیا۔ اور رمضان کی راتوں میں جماع کرنے کے حکم کو منسوخ کرتے ہوئے فرمایا: فَتَابَ عَلَيْكُمْ وَعَفَا عَنْكُمْ فَالْئٰنَ بَاشِرُوْهُنَّ . (البقرة: ۱۸۷) اس نے تمہاری توبہ قبول کی اور تمہیں معاف کر دیا ، پس اب تم ان سے مباشرت کرو۔

وَالْحَمْدُ لِلّٰهِ وَحْدَهُ، وَصَلَّى اللّٰهُ عَلٰى سَيِّدِنَا مُحَمَّدٍ وَّآلِهِ وَصَحْبِهِ وَسَلَّمَ تَسْلِيْماً كَثِيْراً .

وَتَمَّ بِحَمْدِ اللّٰهِ وَعَوْنِهِ وَحُسْنِ تَوْفِيْقِهِ.

فى الحرم النبوى الشريف، (۲۹ / رمضان المبارک ۱۴۲۳ھ ۲۰۰۲ء یوم الاربعاء بعد ظہر)

صفحہ ۳۷

الحَبْلُ الوَثِيق

فِي نُصْرَةِ الصِّدِّيْق

(صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کی تائید میں مضبوط رسی)

مؤلف: علامہ امام جلال الدین سیوطی شافعی رحمہ اللہ تعالیٰ

(م۔۹۱۱ھ)

مترجم: علامہ محمد شہزاد مجددی سیفی

دار الاخلاص لاہور

صفحہ ۳۸

بسم الله الرحمن الرحيم

الحمد لله وسلام علی عبادہ الذین اصطفی وبعد!

علامہ امام جلال الدین سیوطی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں! مجھے اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد: لا یصلاھا الا الاشقی الذی کذب وتولی وسیجنبھا الاتقی الذی یؤتی مالہ یتزکیٰ۔۔۔الخ (اللیل: ۱۵) کے بارے میں سوال بھجوایا گیا ، کہ یہ آیات دو معین افراد کے بارے میں اتری ہیں؟۔ ان کا شان نزول کیا ہے؟ ۔ اور کیا ” الاتقیٰ“ سے مراد حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہی ہیں یا پھر یہ آیت عام ہے اور اس سے مراد وہ بھی ہیں اور ان کے علاوہ بھی کوئی ہے؟ اور سائل نے اس سوال کا سبب یہ بیان کیا ہے کہ، امیر از دمر ۔۔۔۔۔حاجب الحجاب اور امیر خایر بک دونوں کے مابین حضرت ابوبکر کے بارے میں اختلاف ہوا کہ کیا وہ سب صحابہ سے افضل ہیں؟ اور امیر خایر بک اسی کا قائل ہے اور از دمر اس کا انکار کرتا ہے اور اس نے خایر بک سے ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے افضل الصحابہ ہونے پر قرآن پاک سے دلیل مانگی ہے۔ جبکہ خایر بک نے اس پر یہ آیت کریمہ بطور دلیل پیش کی ہے۔ ” وَسَيُجَنَّبُهَا الْأَتْقَى “ (اللیل: ۱۷) اور یہ آیت شان صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ میں اتری ہے جبکہ ارشاد باری تعالیٰ ہے إِنَّ أَكْرَمَكُمْ عِنْدَ اللَّهِ أَتْقَاكُمْ۔ (الحجرات: ۱۳) اور از دمر کہتا ہے ” الاتقیٰ“ ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور ان کے علاوہ دوسرے صحابہ کے لیے یکساں ہے۔ پھر ان دونوں حضرات میں سے ہر ایک نے علماء کرام سے اپنے اپنے موقف کی تائید چاہی : اور (ایک معاصر عالم دین) شیخ شمس الدین الجوجری نے اسی قسم کا سوال مجھے لکھ بھیجا تو میں (علامہ سیوطی علیہ الرحمہ) نے کہا : جو کچھ لکھا ہے مجھے دکھاؤ، جب اس نے مجھے دکھایا تو اس میں لکھا تھا۔ ”اگرچہ یہ آیت حضرت ابوبکر صدیق رضی

صفحہ ۳۹

اللہ تعالیٰ عنہ کی شان میں اتری ہے لیکن اس کا مطلب عام ہے کیونکہ اعتبار لفظ کے عموم کا ہوتا ہے نہ کہ خصوصیت سبب کا۔ تو میں نے کہا اس شخص کا یہی حال ہوتا ہے جو اپنی جان کو ہر وادی میں کھپاتا پھرتا ہے ایک ایسے شخص کا جو محض فقیہ ہو مناسب نہیں کہ اپنے فن کے علاوہ کسی دوسرے فن کے بارے میں کلام کرے، پھر یہ مسئلہ تو خالص تفسیر، حدیث، اصول، کلام ،اور نحو سے متعلق ہے تو جو شخص ان پانچ علوم میں مہارت تامہ نہ رکھتا ہو اس کے لیے بہتر نہیں کہ وہ اس مسئلہ میں کلام کرے۔ میں نے دو فصلوں میں اس پر توضیحی گفتگو کی ہے۔

فصل اول:

(اس بارے میں کہ یہ آیت کریمہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی شان میں اتری ہے) امام بزار اپنی مسند میں بالاسناد حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں: یہ آیت کریمہ ( وسيجنبها الاتقى الذى يوتى ماله يتزكى وما لا حد عنده من نعمة تجزى )۔۔ آخری آیات تک حضرت صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بارے میں اتری ہے۔ علامہ ابن جریر طبری اپنی تفسیر میں کہتے ہیں: مجھے محمد بن ابراہیم الانماطی از ہارون بن معرف از بُسر بن سری سے ایسا ہی بیان کیا ہے۔

امام ابن المنذر علیہ الرحمہ نے اپنی تفسیر میں بیان کیا ہے کہ: ”ہمیں موسیٰ بن ہارون نے از ہارون بن معرف انہیں بُسر بن سری نے ایسا ہی بیان کیا ہے“۔

علامہ آجری رحمہ اللہ ”کتاب الشریعہ“ میں فرماتے ہیں: ہمیں ابوبکر بن ابوداؤد نے انہیں محمود بن آدم المروزی نے اور انہیں بُسر بن سری نے یہی بیان کیا ہے۔ امام ابن ابی حاتم اپنی تفسیر میں اپنی سند کے ساتھ بیان کرتے ہیں کہ

صفحہ ۴۰

عروہ بن زبیر نے اپنے والد سے روایت کیا ہے بے شک حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ ان سات کو آزاد کیا جو سب کے سب اللہ کی راہ میں ستائے جارہے تھے ان میں بلال حبشی اور عامر بن فہیرہ بھی شامل ہیں تو اس موقعہ پر یہ آیت اتری۔

علامہ ابن جریر کہتے ہیں:

حدثنا ابن عبد الاعلیٰ ثنا ابن ثور عن معمر قال : اخبرنی عن سعید فی قول : ”وسیجنبها الاتقی“۔

ہمیں سعید بن مسیب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے (بالاسناد) روایت پہنچی ہے کہ یہ آیت کریمہ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بارے میں اتری ہے جب انہوں نے کچھ غلاموں کو بغیر کسی بدلے اور جزاء کی طلب کے آزاد فرمایا جو چھ یا سات تھے، ان میں بلال اور عامر بن فہیرہ بھی شامل تھے۔ ابن اسحاق کہتے ہیں ہمیں بالاسناد عبداللہ بن زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کیا گیا ہے کہ حضرت ابو قحافہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے کہا کہ میں تمہیں دیکھ رہا ہوں کہ تم کمزوروں اور ناداروں کو آزاد کرتے ہو اگر ایسا کرنا ہی ہے تو مضبوط قسم کے غلاموں کو آزاد کرواؤ جو تمہارے لیے تقویت و حمایت کا ذریعہ بن سکیں اور بوقت ضرورت تمہارے ساتھ کھڑے ہو سکیں تو انہوں نے جواب دیا: ابا جان! مجھے جو چاہیے وہ مجھے مل رہا ہے (یعنی میرا مقصد حاصل ہے) تو اس موقعہ پر آیات نازل ہوئیں۔ وَسَيُجَنَّبُهَا الاَتْقَى الَّذِى يُؤْتِى مَالَهُ يَتَزَكَّى۔۔۔الخ۔ اسے حاکم نے مستدرک میں ابن اسحاق سے روایت کیا ہے اور کہا: یہ مسلم کی شرط پر صحیح ہے۔

علامہ ابن جریر کہتے ہیں:

مجھے ہارون بن ادریس الاصم نے عبدالرحمن بن محمد المحاربی سے از محمد بن اسحق اس نے محمد بن عبداللہ بن عبدالرحمن بن ابی بکر الصدیق از عامر بن عبداللہ بن زبیر سے بیان کیا

صفحہ ۴۱

ہے، انہوں نے کہا:

حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ مکہ میں مسلمان ہونے والے غلاموں کو آزاد کروایا کرتے تھے، وہ بوڑھی عورتوں کو مسلمان ہونے پر آزاد کرواتے تھے، اس پر ان کے والد نے کہا، اے بیٹے! میں دیکھ رہا ہوں کہ تم کمزور لوگوں کو آزاد کرواتے ہو اگر تم ان کی بجائے طاقت ور لوگوں کو آزاد کرواتے تو وہ تمہارے کام آتے اور وقت پڑنے پر تمہارے دفاع میں کھڑے ہوتے تو آپ نے جواب دیا: ابا جان! میں تو وہ چاہتا ہوں جو اللہ کے پاس ہے۔

ابن زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں: مجھے میرے گھر والوں نے بتایا کہ یہ آیت کریمہ ( فاما من اعطی ... الیٰ .....ربہ الاعلیٰ ) اس موقعہ پر اتری ہے۔

امام ابن ابی حاتم اپنی سند سے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی روایت بیان کرتے ہیں کہ:

حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حضرت بلال حبشی کو اُمیہ بن خلف اور اُبی بن خلف سے ایک غلام اور دس اوقیہ درہم کے بدلے خرید کر اللہ کی راہ میں آزاد کیا تو اللہ تعالیٰ نے ”واللیل اذا یغشی‘۔۔۔۔۔آخر تک حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور اُمیہ بن خلف کے متعلق نازل فرمائی۔

امام آجری ”کتاب الشریعۃ“ میں کہتے ہیں: ہمیں بالاسناد حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت پہنچی ہے کہ جب حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حضرت بلال کو اُمیہ بن خلف اور ابی بن خلف سے ایک غلام اور دس اوقیہ درہم کے بدلے خرید کر اللہ کی راہ میں آزاد کیا تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیات ”وَ اللَّيْلِ اِذَا يَغْشٰی“ سے لے کر آیت کریمہ ”وَسَیُجَنَّبُهَا الْاَتْقٰی الَّذِی

صفحہ ۴۳

یؤتی مالہ‘ یتزکی‘‘ یعنی (ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ) تک نازل فرمائی۔

وما لاحدٍ عندہ‘ من نعمۃٍ تجزی۔

(اللیل: ۱۹)

راوی کہتے ہیں: حضرت ابوبکر صدیق نے یہ عمل کسی بدلہ یا معاوضہ کی خاطر یا حصولِ خدمت کے لیے نہیں کیا تھا۔۔۔ الا ابتغاء وجہ ربہ الاعلیٰ ولسوف یرضیٰ۔

(اللیل: ۲۱۔۲۲)

اور تفسیر بغوی میں ہے حضرت سعید بن مسیب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا: مجھے خبر پہنچی ہے کہ جب حضرت ابوبکر نے امیہ بن خلف سے کہا کہ کیا بلال کو بیچو گے؟ تو امیہ بن خلف نے جواب دیا: ہاں! اسے ”قسطاس“ (صدیق اکبر کا رومی غلام جو دس ہزار دینار، کئی لونڈی غلاموں اور مویشیوں کا مالک تھا) کے بدلے بیچوں گا جو مشرک تھا اور اسلام قبول کرنے سے انکاری بھی تھا۔ حضرت ابوبکر نے بلال حبشی کو اس غلام کے عوض خرید لیا، تو مشرکین نے کہا: ”ابوبکر نے بلال کے ساتھ ایسا اس لیے کیا ہے تا کہ اس سے خدمت اور بدلہ لے سکیں، تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیات نازل فرمائیں:

وما لاحدٍ عندہ‘ من نعمۃٍ تجزی .....

اور تفسیر قرطبی میں ہے:

عطاء اور ضحاک نے ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت کیا ہے: انہوں نے فرمایا مشرکین مکہ بلال حبشی کو اذیت دیتے تھے تو ابوبکر نے سونے کی بالٹی کے عوض امیہ بن خلف سے اسے خرید کر آزاد کر دیا، اس پر کفار مکہ نے کہا: کہ ابوبکر نے ایسا بلال سے خدمت گزاری کے حصول کے لیے کیا ہے تو اس پر یہ آیات نازل ہوئیں۔ وما لاحدٍ عندہ‘ من نعمۃٍ تجزی۔۔۔۔۔

امام آجری علیہ الرحمہ فرماتے ہیں:

یہ اور اس سے پیشتر مذکور احادیث اس ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو کچھ ایسے خصائص ح صحابہ کرام علیہم الرضوان پر فضیلت بخشی ہے۔

یہ روایات تو وہ ہیں جو آیت کے شانِ نزو حوالے سے تھا۔ اس کے بعد جو فصل آ رہی ہے اس م فقہ اور نحو سے متعلق گفتگو ہو گی اور بے شک لا تعداد ع یہ آیت حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے حق م یعنی (مشکلات وغرائب الحدیث) کے بارے میں لکھے ہ ہے۔

فصلِ دوم:

الجویری کے فتویٰ کی کمزوری کے بارے می گیا ہے جن میں تین مناظرانہ اور ایک تحقیقی انداز پر (م پہلی تین میں سے ایک یہ ہے کہ ہم کہتے ہی کے لیے محض ایک دو کتابیں دیکھ کر بغیر تبحر علم اور کے بغیر فتویٰ دینا جائز ہو جاتا تو ایک طالب علم بلکہ عامی کہ وہ فتویٰ جاری کرے۔

اور عوام میں سے کوئی بھی ایسا نہیں کہ کسی عالم س سے مسئلہ دیکھ کر وہ مکمل مفتی بن جائے۔ اس لیے اس ب الناس میں سے کسی ایک کے لیے بھی فتویٰ دینا جائز نہیں

صفحہ ۴۳

یہ اور اس سے پیشتر مذکور احادیث اس بات پر دلالت کرتی ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو کچھ ایسے خصائص سے نوازا ہے جن کے ذریعے انہیں تمام صحابہ کرام علیہم الرضوان پر فضیلت بخشی ہے۔

یہ روایات تو وہ ہیں جو آیت کے شانِ نزول سے متعلق ہیں اور یہ علم حدیث کے حوالے سے تھا۔ اس کے بعد جو فصل آرہی ہے اس میں چار علوم یعنی تفسیر، علم الکلام، اصول فقہ اور نحو سے متعلق گفتگو ہوگی اور بے شک لاتعداد مفسرین کی جماعت نے بیان کیا ہے کہ یہ آیت حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے حق میں اتری ہے اور اس طرح ”مبہمات“ یعنی (مشکلات وغرائب الحدیث) کے بارے میں لکھنے والے علماء بھی اپنی کتب میں یہی بیان کیا ہے۔

فصل دوم:

الجوجری کے فتویٰ کی کمزوری کے بارے میں ہے اور اس کو چار وجوہ سے بیان کیا گیا ہے جن میں تین مناظرانہ اور ایک تحقیقی انداز پر (مبنی) ہے۔

پہلی تین میں سے ایک یہ ہے کہ ہم کہتے ہیں: اس میں شک نہیں کہ اگر کسی شخص کے لیے محض ایک دو کتابیں دیکھ کر بغیر تبحر علم اور اس فن میں ہر پہلو سے کامل مہارت کے بغیر فتویٰ دینا جائز ہو جاتا تو ایک طالب علم بلکہ عامی کے لیے بھی اس کا جواز پیدا ہو جاتا کہ وہ فتویٰ جاری کرے۔

اور عوام میں سے کوئی بھی ایسا نہیں کہ کسی عالم سے چند مسائل سیکھ کر یا کسی کتاب میں سے مسئلہ دیکھ کر وہ مکمل مفتی بن جائے۔ اس لیے اس بات میں کوئی شک و شبہ نہیں کہ عوام الناس میں سے کسی ایک کے لیے بھی فتویٰ دینا جائز نہیں اور علماء کرام نے اس بات کی تاکید

صفحہ ۴۴

کی ہے کہ اگر کوئی عام آدمی (غیر عالم) مسائل شرعیہ سیکھ اور سمجھ لے تو اس کے لیے ہرگز جائز نہیں کہ وہ ان مسائل کے بارے میں فتویٰ دینے لگے فتویٰ صرف اور صرف علم میں کامل وسعت اور مہارت رکھنے والا ایسا شخص دے جو واقعات کا اطلاق دینی کتب میں موجود مقررہ جزئیات وکلیات کے مطابق کرنے کی اہلیت رکھتا ہو اور مفتی کے لیے مجتہد کی شرط کا یہی مفہوم و مطلب ہے۔ اب دارو مدار ہر فن میں مکمل مہارت پر تو جو کوئی جس فن میں مہارت تامہ رکھتا ہو وہ اس فن میں فتویٰ دے۔ اور اس کے لیے مناسب نہیں کہ وہ اس فن میں فتویٰ دے جس میں اسے پوری دسترس نہیں ہے اور قلم کو اس باب میں چلائے جبکہ وہ اس فن کے ماہرین کی مختلف آراء واقوال سے واقفیت نہ رکھتا ہو ایسا نہ ہو کہ وہ کسی ایسے قول پر اعتماد کر بیٹھے جو مرجوح ہو اور وہ اسے ان کے نزدیک صحیح گمان کرے اور پیش نظر مسئلہ ایسے ہی مسائل میں سے ہے جیسا کہ ہم اسے واضح کریں گے۔

اسی طرح کسی کے لیے درست نہیں کہ وہ لغت عرب کے بارے میں فتویٰ دے جب کہ اس کی نظر چند ابتدائی کتب وغیرہ تک محدود ہو بلکہ وہ فن لغت پر مکمل دسترس رکھتا ہو بلکہ وہ اس کے ظاہر و مشہور الفاظ کے علاوہ غرائب (مبہم اور مشکل الفاظ) مخفی گوشے اور نوادرات سے بھی واقف ہو۔ ایسے شخص کی مثال جو علم نحو میں فتویٰ دے اور اس کا منبع علم وہ ہو جو بیان کیا گیا ہے تو وہ اس شخص کی طرح ہے جو ”منہاج“ پڑھ لے اور اسی پر اکتفا کرتے ہوئے یہ ارادہ کر لے کہ شرعی مسائل میں فتویٰ دے، تو جب اس کے پاس مسئلہ آئے مثلاً کتاب ”الروضہ“ میں سے تو اگر وہ دین دار ہوگا تو اس کا بالکل انکار کر دے گا اور کہے گا، اس مسئلہ کے بارے میں تو کسی ایک (امام) نے بھی کچھ نہیں کہا۔ اللہ کی قسم! فتویٰ کے جواز کے لیے محض ”الروضہ“ کو یاد کر لینا ہرگز کافی نہیں ہے۔ تو پھر ان مسائل میں کیا ہوگا جن میں اختلاف ہی ترجیح کا ہو؟ (ایسا مفتی) مختلف صورتوں اور قسموں والے ان مسائل میں کیا

کرے گا؟ جن کی دیگر قسمیں اور مثالیں شرح المہذب“ اور اس کے علاوہ دوسری کتا کرے گا جن سے ”الروضہ“ یکسر خالی ہو ساتھ دوسری کتابوں کو بھی ملا کر دیکھے اور شافعی رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور ان کے اصحاب کی کتب کا تفصیلی مطالعہ لازم ہے۔

ابن بلبان حنفی اپنی کتاب ”زلۃ ال نے ”خزانۃ الاکمل“ میں لکھا ہے:

لا یجوز لاحد ان یفتی فی ہ بعد معرفۃ ثلاثۃ اشیاء. حقیقۃ الم والمتاخرین من اصحابنا فی ھٰذا الباب

ترجمہ: اس فن میں یعنی قراءت میں لحن فتویٰ دینا جائز نہیں جب تک کہ اسے ان تی

دوسری وجہ:

ہم یہ کہتے ہیں کہ بلاشبہ قرآن ہیں (یعنی مختلف میلانات رکھتے ہیں) تو ان زیادہ غلبہ تھا اس کی تفسیر میں بھی وہی علم غا کے بارے میں کسی جہت سے کلام کرنا چا

صفحہ ۴۵

کرے گا؟ جن کی دیگر قسمیں اور مثالیں ”الروضہ“ میں درج ہونے سے رہ گئی ہوں اور یہ ”شرح المہذب“ اور اس کے علاوہ دوسری کتب میں بکھری ہوں؟ اور ان مسائل میں کیا کرے گا جن سے ”الروضہ“ یکسر خالی ہو، بلکہ مفتی کے لیے تو لازم ہے کہ وہ ”الروضہ“ کے ساتھ دوسری کتابوں کو بھی ملا کر دیکھے اور اگر اس کی اتنی رسائی نہ ہو اور اس کے لیے امام شافعی رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور ان کے اصحاب کی کتب دیکھنا مشکل ہو تو کم از کم متاخرین فقہاء کی کتب کا تفصیلی مطالعہ لازم ہے۔

ابن ہلبان حنفی اپنی کتاب ”زلۃ القاری“ میں لکھتے ہیں: شیخ ابو عبداللہ الجرجانی نے ”خزانۃ الاکمل“ میں لکھا ہے:

لا یجوز لاحد ان یفتی فی ہذالباب ۔ یعنی باب اللحن فی القراءۃ ۔ الا بعد معرفۃ ثلاثۃ اشیاء ۔ حقیقۃ النحو ، والقراءات الشواذ واقاویل المتقدمین والمتاخرین من اصحابنا فی ہذالباب ۔

ترجمہ: اس فن میں یعنی قراءت میں لحن کے باب میں کسی مفتی کے لیے بھی اس وقت تک فتویٰ دینا جائز نہیں جب تک کہ اسے ان تین علوم کی معرفت حاصل نہ ہو،

دوسری وجہ:

ہم یہ کہتے ہیں کہ بلاشبہ قرآن کریم تمام علوم پر حاوی ہے اور ائمہ تفسیر کئی قسم کے ہیں (یعنی مختلف میلانات رکھتے ہیں) تو ان میں سے جس پر ان علوم وفنون میں سے جس فن کا زیادہ غلبہ تھا اس کی تفسیر میں بھی وہی علم غالب ہے تو مناسب یہ ہے کہ جب کوئی کسی آیت کے بارے میں کسی جہت سے کلام کرنا چاہے تو اسے چاہیے کہ اس فن سے متعلق ایسی تفسیر کی

صفحہ ۴۶

طرف رجوع کرے جس میں غالب اعتبار سے اس کے بارے میں کلام کیا گیا ہو، مثلاً جب کوئی کسی آیت کے بارے میں صرف بلحاظ نقل کلام کرنا چاہتا ہو اور اس میں زیادہ ترجیحی قول سے آشنائی چاہتا ہو تو بہتر ہے کہ وہ اس کے لیے ائمہ منقولات یعنی احادیث و آثار کو بالاسناد روایت کرنے والے ائمہ کی تفاسیر سے رجوع کرے اور ان میں سرفہرست ابن جریر طبری علیہ الرحمہ کی تفسیر ہے۔ یقینا امام ابو ذکریا شرف النووی علیہ الرحمہ نے ”تہذیب الاسماء واللغات“ میں کہا ہے: ”كتاب ابن جرير فى التفسير لم يصنف احد مثله . “ ترجمہ: ابن جریر طبری علیہ الرحمہ جیسی کتاب علم التفسیر میں کسی اور نے نہیں لکھی۔

اور بعد والوں میں حافظ عماد الدین علیہ الرحمہ کی تفسیر اس کے قریب قریب ہے۔

ایسے ہی اگر کوئی گزشتہ واقعات سے متعلق یا آئندہ ہونے والے امور جیسے قیامت کی علامات، برزخ کے احوال یا محشر و قیامت یا عالم بالا یا اسی طرح کے اور امور سے متعلق آیت پر کلام کرنے کا ارادہ رکھتا ہو جن میں ذاتی رائے کی گنجائش نہ ہو تو بہتر یہی ہے کہ وہ ان ہی دو تفسیروں سے مواد حاصل کرنے اور محدثین کی مسند تفاسیر جیسے سعید بن منصور، الفریابی، ابن المنذر، ابن ابی حاتم، ابوالشیخ اور ان کے طریقے پر گامزن دیگر ائمہ سے استفادہ کرے اور جو کوئی کسی آیت پر علم الکلام کی جہت سے بات کرنا چاہتا ہو تو مناسب ہے کہ وہ اس عالم کی تفسیر دیکھے جس پر علم الکلام کا غلبہ ہو اور اس حوالے سے وہ مشہور ہو جیسے ابن فورک، الباقلانی، امام الحرمین، امام فخر الدین رازی، اصفہانی وغیرہم، اور جو اس پر اعراب کے لحاظ سے بات کا متمنی ہو تو اسے چاہیے کہ وہ ماہر ائمہ نحو کی تفاسیر دیکھے جیسے ابو حیان وغیرہ۔ اور جو کوئی اس پر بلاغت کے اعتبار سے کلام کرنا چاہے تو وہ کشاف، تفسیر قرطبی اور ان جیسی تفاسیر دیکھے۔

صفحہ ۴۷

تفضیل ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا مسئلہ علم کلام سے تعلق رکھتا ہے اور اس کا آیت کی مراد ہونا علم تفسیر سے متعلق ہے۔ لہذا جوجری صاحب کے لیے زیادہ اہم تھا کہ وہ فتوی لکھنے سے پہلے علامہ ابن جریر کی کتاب اور اس جیسی دیگر کتب کو دیکھتے تاکہ انہیں تفسیر میں ترجیحی قول سے آشنائی حاصل ہوتی اور امام فخر الدین رازی علیہ الرحمہ کی کتاب اور اس جیسی دیگر کتب دیکھتے تاکہ انہیں کلامی مباحث سے آشنائی ہو جاتی ، پھر وہ ائمہ عقائد جیسے ابوالحسن اشعری، ابن فورک ، باقلانی ، شہرستانی، امام الحرمین ، اور امام غزالی رحمہم اللہ اور ان کے متبعین کی کتب کو دیکھتے کہ انہوں نے کس طرح اس آیت سے استدلال کرتے ہوئے افضلیت صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو برقرار رکھا ہے اور اس سلسلہ میں کسی کو تکلیف اور پریشانی میں مبتلا نہ کرتا اور اس عالم کو چاہیے تھا کہ تکلیف اور مشقت گوارا کر کے پوری پوری کوشش کرتا اور آسائش و آرام اور دیگر مصروفیات کو چھوڑ کر کسی شرم و جھجک کے بغیر مہینے دو مہینے یا سال دو سال کے لیے فتوی نویسی کو موقوف کر دیتا تو جب وہ درپیش مسئلہ کے بارے میں مختلف علماء کے متفرق اقوال پر مطلع ہوتا اور پھر پوری تحقیق سے ان اقوال کا جائزہ لے لیتا اور ذاتی طور پر تمام اشکالات کو مدنظر رکھتے ہوئے صحیح اور درست جواب تک پہنچتا تو اب اسے اس موضوع پر قلم اٹھانا چاہیے، اور امراء کے مابین ثالث بن کر علماء کے سامنے مسئلہ واضح کرنا چاہیے، البتہ جواب میں ایسی جلد بازی اور محض حافظے، یادداشت کی بنیاد پر تن آسانی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ایسی شہرت کے سر پر اور متعلقہ فن کی گہرائی تک پہنچے بغیر جیسا کہ تقاضا تھا، فتوی لکھ دینا ہرگز علماء کے شایان شان نہیں ہے۔

یہی وجہ ہے کہ آپ اس قسم کے علماء میں سے کسی کو اس حالت میں پائیں گے کہ پہلے وہ کچھ لکھے گا پھر اس سے رجوع کرے گا اور حالات کے معمولی تغیر سے وہ ڈانواں ڈول ہو جائے گا اور صرف ایک مسئلہ میں بھی اس کا قول کئی بار ردو بدل کا شکار ہو گا اور معمولی سا

صفحہ ۴۸

طالب علم بھی بحث میں اسے تشکیک میں مبتلا کر دے گا۔ ان میں سے کئی ایک جب اپنے قول پر بہت یقین سے اعتماد کرتے ہوئے استدلال کرتے ہیں تو یوں کہتے ہیں: بظاہر یوں ہے یا اس طرح بھی ہے اور بغیر کسی مستند اور با اعتماد دستیاب مآخذ یا دلیل کے اس طرح اظہار کرتے ہیں جیسے یہ وقت کے ابوالحسن شاذلی ہیں جو اپنے زمانے میں اہل حال کے امام تھے اور ان سے ان کے قلب پر وارد ہونے والے الہامی نکات کی وجہ سے مسائل پوچھے جاتے تھے اور ان کا الہام درست ہوتا تھا وہ اس جواب میں خطا نہیں کرتے تھے۔

تیسری وجہ:

کے حوالے سے ہم یہ کہتے ہیں کہ بلاشبہ مفتی کا حکم طبیب کا ہے، وہ امر واقعہ کو دیکھتا ہے اور پھر وقت زمانے اور انسان کے حالات کے تقاضوں کے مطابق مسئلہ بیان کرتا ہے پس مفتی دین کا طبیب ہوتا ہے اور حکیم جسمانی معالج ہوتا ہے۔ حضرت عمر بن عبدالعزیز رضی اللہ تعالیٰ عنہ لوگوں کو اس زمانے کے اندر موجود برائیوں کی روشنی میں احکام شرعیہ بیان کیا کرتے تھے۔

امام سبکی فرماتے ہیں اس سے مراد یہ نہیں کہ شرعی احکام زمانے کے تغیر وتبدل سے بدل جاتے ہیں بلکہ واقعات کی صورت بدل جانے سے احکام کا ایسا مجموعہ سامنے آتا ہے جو ان میں سے ہر ایک پر منطبق نہیں ہو سکتا تو جب کوئی صورت واقعہ کسی مخصوص انداز سے ہمیں پیش آتی ہے تو ہم دیکھیں کہ اس کی مجموعی حالت میں شریعت کسی خاص حکم کا تقاضا کرتی ہے۔ یہ امام تقی الدین سبکی کا کلام ہے جو انہوں نے اپنی اس کتاب میں برقرار رکھا ہے جو انہوں نے ایک ایسے رافضی کے بارے میں تالیف کی تھی جس پر قتل کا حکم لگایا گیا تھا اور اس کتاب کا نام کسی دوسرے (عالم) نے ”الایمان الجلی لأبی بکر و عثمان و علی“

صفحہ ۴۹

رکھا ہے۔

علامہ سبکی علیہ الرحمہ نے اپنے فتاویٰ میں بھی فرمایا ہے جس کا معنی و مفہوم کچھ یوں ہے کہ ہمارے متقدمین علماء کے فتاویٰ میں بھی ایسی چیزیں ملتی ہیں جن کے مطابق حکم لگانا ممکن نہیں، کیونکہ یہ بہر حال عین مذہب ہے اور یہ کسی نہ کسی درپیش مسئلہ کے مطابق صادر ہوا ہے، شاید ان علماء نے ان درپیش معاملات اور حالات کے مطابق یہ سمجھا کہ ان پر یہی حکم لگانا زیادہ مناسب ہے اور اس مسئلہ سے گریز یا اس پر دوام لازم نہیں ہے اور یہ مسئلہ جو رافضی کے متعلق پوچھا گیا ہے، کاش کہ وہ صرف رافضی ہی ہوتا، لیکن وہ تو زندیق اور انتہائی درجہ کے جہلا میں سے ایک جاہل ہے، میں ایک مرتبہ اس کے ساتھ بیٹھا تھا تو مجھے رسول اللہ ﷺ کی حدیث پاک میں وارد اقوالِ شریف سے استدلال پر اس کے انکار سے شدید حیرت ہوئی جب اس شخص نے اس پر اللہ کی لعنت ہو اور اس کا منہ ٹوٹ جائے، یہ کہا کہ! نبی تو محض واسطہ ہے جو کچھ انہوں نے کہا اگر وہ قرآن میں ہے تو صحیح ہے اور ان کا وہ کلام جو قرآن میں نہیں تو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔آگے اس نے وہ جملہ کہا جسے دہرانے کی مجھ میں ہمت نہیں، تو میں اس کے پاس سے واپس لوٹ آیا اور آج تک پھر اس کے ساتھ نہیں بیٹھا اور ایک رسالہ تالیف کیا جس کا نام میں نے ”مفتاح الجنة فی الاعتصام بالسنة“ رکھا۔

اور اس مجلس میں اس کے کہے ہوئے فقروں میں سے ایک فقرہ یہ بھی تھا کہ ”علی کے پاس تو علم اور بہادری تھے جبکہ ابوبکر کے پاس یہ چیزیں نہیں تھیں وہ تو صرف اپنی بیٹی کا رشتہ دینے اور نبی ﷺ پر اپنا مال خرچ کرنے کی وجہ سے ان کے بعد خلافت کے حق دار بن گئے تھے“۔ اس پر میں نے اسے کہا کہ: ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے صحابہ میں سے سب سے بڑھ کر عالم اور بہادر ہونے پر احادیث موجود ہیں؟ تو اس رافضی نے کہا: ”وہ حدیثیں (معاذ اللہ) جھوٹی ہیں“، پھر انہیں باتوں کو دہرایا جو ابھی خابریک کے حوالے سے

صفحہ ۵۰

بیان ہوئیں ہیں اور اس سے افضلیت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کی دلیل کے طور پر آیت قرآنی کا مطالبہ کیا، کیونکہ وہ حدیث کو حجت نہیں سمجھتا تھا۔

تو خامہ بک نے یہی آیت کریمہ بیان کی اور اس نے یہ اپنے پاس سے بیان نہیں کی بلکہ اس نے عقائد کی بعض کتابوں میں سے دیکھ کر اسے اس کے سامنے پڑھا تھا تو جوجری کے لیے مناسب نہیں تھا کہ وہ اس قسم کے معاملہ میں یہ فتویٰ دیتا کہ آیت کریمہ حضرت ابوبکر صدیق کرم اللہ وجہہ العتیق کے ساتھ خاص نہیں ہے اور نہ ہی یہ ان کی افضلیت پر دلالت کرتی ہے، اس طرح اس نے رافضی کے قول کی تائید کی اور اسے اس کے ناپاک عقیدہ پر قائم رہنے کی ترغیب دی اور اس دلیل کو ترک کیا جسے ان ائمہ نے برقرار رکھا ہے جن میں سے ہر ایک علم تفسیر، کلام اور اصول فقہ میں جوجری جیسے لاکھوں پر بھاری ہے۔ خدا کی قسم! اگر اس آیت کی تفسیر میں پیش کیا گیا یہ قول مرجوح بھی ہوتا تو اس قابل تھا کہ اس قسم کے معاملہ میں اس پر فتویٰ دیا جاتا، چہ جائیکہ یہ قول راجح ہے اور جس قول پر جوجری نے فتویٰ دیا وہ مرجوح ہے۔ یہ تین وجوہ وہ تھیں جو مناظرانہ ہیں۔

اب رہی وہ وجہ جو تحقیق کے پہلو سے بھی اس کے موقف کو ردّ کرتی ہے تو ہم عرض کرتے ہیں۔ امام بغوی نے ”معالم التنزیل“ میں کہا ہے: ”یرید بالاتقی الذی مالہ، یتزکیٰ یطلب أن یکون عنداللہ زکیا لا ریاء ولا سمعة، یعنی أبا بکر الصدیق . فی قول الجمیع.

ترجمہ: الاتقی سے مراد وہ (شخصیت) ہے جو حصول تزکیہ کے لیے اپنا مال خرچ کرتا ہے اور اس کا مقصود بغیر ریاء و بناوٹ کے محض اللہ کی بارگاہ میں سرخرو ہونا ہے یعنی تمام مفسرین کے نزدیک اور امام ابن الخازن اپنی تفسیر میں فرماتے ہیں:

الاتقی هنا أبو بکر الصدیق فی قول جمیع المفسرین .

صفحہ ۵۱

ترجمہ: الاتقی سے مراد یہاں تمام مفسرین کے اقوال کے مطابق ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہیں۔

اور امام فخر الدین رازی علیہ الرحمہ اپنی تفسیر میں فرماتے ہیں:

أجمع المفسرون هنا على أن المراد بالأتقى أبو بكر و ذهبت الشيعة الى أن المراد به على.

ترجمہ: تمام مفسرین کا اس بات پر اجماع ہے کہ یہاں الاتقی سے مراد ابو بکر صدیق ہیں جبکہ شیعہ اس طرف گئے ہیں کہ اس سے مراد علی ہیں۔

تو ان تینوں ائمہ کی نقل فرمودہ عبارت پر غور کرو کہ اس بات پر تمام مفسرین کا اجماع ہے کہ اتقی سے مراد ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہیں نہ کہ ہر متقی۔

اور اصفہانی نے اپنی تفسیر میں بیان کیا ہے:

" خص الصلی بالأشقی و التجنب بالاتقی ....... الخ

ترجمہ: ملاپ کو بد بخت اور اجتناب کو سب سے بڑے متقی سے خاص کیا ہے۔ بے شک اس سے معلوم ہو گیا کہ ہر بد بخت اس سے ملے گا اور ہر متقی اس سے بچے گا، ملاپ صرف اشقی الاشقیاء (سب سے بڑے بد بخت) اور اجتناب صرف اتقی الاتقیاء (سب سے بڑے متقی) کے ساتھ خاص نہیں ہے۔ کیونکہ آیت کریمہ سب سے بڑے مشرک اور سب سے بڑے مومن کے متعلق بطور موازنہ وارد ہوئی ہے تو یہاں ارادہ ان دونوں میں پائی جانے والی متضاد صفات میں مبالغہ کا کیا گیا ہے سو اس لیے فرمایا گیا: الاشقی اور اسے آگ سے یوں ملایا گیا گویا کہ جہنم کی آگ پیدا ہی اس کے لیے کی گئی ہے اور فرمایا گیا: الاتقی (سب سے بڑا متقی) اور اسے نجات سے خاص کیا گویا کہ جنت پیدا ہی اس کے لیے کی گئی ہے، انتہی۔

اور یہ عبارت واضح ہے کہ اتقی سے مراد اتقی الاتقیاء علی الاطلاق ہے نہ کہ مطلق متقی

صفحہ ۵۲

اور اتقی الاتقیاء علی الاطلاق انبیاء کرام علیہم السلام کے بعد ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہیں۔

امام نسفی اپنی تفسیر میں فرماتے ہیں:

" الأتقى الأكمل تقوى . وهو صفة ابي بكر الصديق رضى الله تعالى عنه قال. ودَلَّ على فضله على جميع الأمة. قال تعالى : إِنَّ اكْرَمَكُم عِندَ اللهِ اتْقاكُم .

ترجمہ: الاتقیٰ سے مراد وہ ہے جو تقویٰ میں کامل ترین ہو، اور یہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی صفت ہے۔ اور فرمایا: اور تمام امت پر ان کی فضیلت میں یہ فرمانِ الٰہی دلالت کرتا ہے۔

ترجمہ: بے شک تم میں سے اللہ کے نزدیک معزز ترین وہ ہے جو سب سے بڑا متقی ہے۔

علامہ قرطبی اپنی تفسیر میں فرماتے ہیں:

حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا: الاتقیٰ ابوبکر صدیق ہیں اور کچھ اہل لغت نے کہا ہے کہ الاشقی اور الاتقیٰ سے مراد شقی اور تقی ہے جیسا کہ طرفہ کا شعر ہے:

؎ تمنّی رجال أن اموت و إن امت
فتلک سبیل لستُ فیہا بأوحد

ترجمہ: لوگوں کی آرزو ہے کہ میں مرجاؤں، اور اگر میں مر بھی جاؤں تو یہ وہ راستہ ہے جس میں، میں اکیلا نہیں ہوں۔

یعنی واحد اور وحید یعنی میں تنہا اور اکیلا۔ تو یہاں اس نے فعیل کی جگہ افعل کو رکھا ہے یہ وہ کلام ہے جو بعض اہل لغت سے منقول ہے اور اس کلام کی بنا پر جوجری نے جمیع مفسرین کے اقوال سے اجتناب کرتے ہوئے چند اہل نحو کے قول کی طرف رجوع کرتے ہوئے مذکورہ فتویٰ دیا ہے۔

صفحہ ۵۳

علامہ ابن الصلاح فرماتے ہیں:

”میں نے کتب تفسیر میں جہاں لکھا دیکھا کہ ”اہل معانی“ کہتے ہیں تو اس سے مصنفین کی مراد معانی القرآن پر لکھنے والے جیسے زجاج، فراء، اخفش اور ابن الأنباری وغیرہ ہیں“۔ جیسا کہ ابن جریر نے اپنی تفسیر میں یہی کلام بعض نحویوں کے حوالے سے نقل کیا اور پھر فرمایا:

صحیح وہی ہے جو مفسرین کے حوالے سے احادیث و روایات میں آیا ہے کہ یہ آیت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بارے میں رضائے الٰہی کی خاطر، ان کے غلاموں کو آزاد کرنے کے باعث اتری ہے۔ تو آپ نے ان نقول کو ملاحظہ کیا جو الجوجری کے فتویٰ میں مذکور اس کلام کا مدار ہیں جو اس نے اس آیت سے متعلق بعض اہل لغت اور مفسرین کے حوالے سے بیان کیا ہے اور وہ بھی ملاحظہ کیا جو اس آیت کے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ساتھ خاص ہونے سے متعلق روایات و آثار میں ہے اور بعد والے مفسرین کی توثیق و تصحیح کے ساتھ صیغہ کو اس کے باب کے مطابق برقرار رکھنے کے حوالے سے وارد ہوا ہے۔

یہ تو ہوا بلحاظ تفسیر اس قول کی ترجیح کا بیان، اب اصول فقہ اور عربی زبان کے حوالے سے میں عرض کرتا ہوں کہ جوجری کا یہ کہنا کہ:

” ان العبرة بعموم اللفظ لا بخصوص السبب.... الخ“

”اعتبار لفظ کے عموم کا ہوتا ہے نہ کہ سبب کی خصوصیت کا“

یہ تب قابل توجہ ہے جب کہ لفظ میں عموم ہوتا، کہ اس کا اعتبار کیا جاسکے۔ جبکہ آیت میں سرے سے کوئی اصولی عموم ہے ہی نہیں بلکہ یہ تو خصوصیت کے بارے میں نص ہے اور اس کا بیان دو طرح سے ہے۔ پہلا یہ کہ بلاشبہ اس قسم کے صیغہ میں عموم کا فائدہ

صفحہ ۵۴

(آل) موصولہ یا تعریفیہ سے ہوا کرتا ہے جبکہ یہ (ال) الف لام ہرگز موصولہ نہیں ہے کیونکہ اتقی افعل التفضیل کا صیغہ ہے اور نحویوں کے اجماع کے مطابق الف لام (ال) موصولہ افعل التفضیل پر وارد نہیں ہوتا یہ صرف اسم فاعل اور اسم مفعول پر وارد ہوتا ہے اور صفت مشبہہ میں اختلاف ہے، جبکہ افعل التفضیل پر بلا اختلاف اس کا اطلاق نہیں ہوتا، اور رہا (ال) تعریفیہ، تو یہ عموم کا فائدہ صرف اس وقت دیتا ہے جبکہ جمع پر وارد ہو تو اگر یہ واحد پر وارد ہو تو اس کا فائدہ عمومی نہیں ہوتا جیسا کہ امام فخر الدین رازی نے اسے اختیار کیا ہے۔ اور جس کسی نے کہا کہ یہ اس صورت میں فائدہ دیتا ہے تو اس نے بھی یہ قید لگائی ہے کہ یہ اس صورت میں ہوگا اگر (ال) عہد کا نہ ہو۔ بصورت دیگر ہرگز اس کا یہ فائدہ نہیں ہو گا یہ علم الاصول میں مقررہ قاعدہ ہے اور ”اتقی“ واحد ہے نہ کہ جمع اور عہد اس میں موجود ہے تو یوں اس میں ہرگز عموم نہیں ہے اس سے معلوم ہو گیا کہ ”الأتقی“ میں عموم نہیں ہے۔ تو پوری توجہ سے سمجھو: یہ نفیس تحقیق ہے جو اللہ تعالیٰ نے بارگاہ صمدیت کی حمایت میں مجھ پر کھولی ہے۔

(دوسری قسم) یا جہت یہ ہے کہ ”الأتقی“ افعل التفضیل کا صیغہ ہے اور افعل التفضیل میں عموم ہوتا ہی نہیں بلکہ یہ بنا ہی خصوصیت کے لیے ہے تو یقیناً یہ موصوف کی کسی صفت کے ساتھ یکتائی کو یوں ظاہر کرتا ہے اس میں کوئی دوسرا اس کا شریک نہیں ہے، جیسا کہ تم کہتے ہو زیدٌ افضلُ النَّاس زید سب لوگوں سے افضل ہے۔

اور افضل عقلی و نقلی ہر لحاظ سے خصوص کا صیغہ ہے اور یہ جائز نہیں کہ اس کے سوا کوئی اور کبھی بھی اس میں شامل ہو تو اس سے واضح ہو گیا کہ اتقی میں کوئی عموم نہیں ہے اور امام اصبہانی کی تقریر بھی اسی طرف اشارہ کرتی ہے جہاں انھوں نے کہا ہے : پھر اگر تم پوچھو کہ کیسے کہا ہے :

صفحہ ۵۵

کہ اس سے نہیں ملے گا مگر بدبخت ترین اور بچے گا تو متقی ترین، تو بلا شبہ معلوم ہو گیا کہ ہر بدبخت اس سے ملے گا اور ہر متقی اس سے بچے گا۔ تو ملاپ اشقی الاشقیاء اور نجات اتقی الاتقیاء سے خاص نہ ہوئے اور اگر تم یہ گمان کرو کہ نار کو نکرہ لائے ہیں جس سے آگ کے بالذات بدبخت ترین شخص کیساتھ مخصوص ہونے کا ارادہ کیا ہے تو اس فرمان کا کیا کرو گے ”وَسَيُجَنَّبُهَا الْأَتْقَى“ اور متقی ترین شخص ضرور اس سے بچے گا۔ تو یوں بالیقین معلوم ہو گیا کہ گناہ گار ترین مسلمان اس خاص آگ سے بچے گا نہ کہ جو ان میں سے بطور خاص متقی ترین ہوگا۔

میں (سیوطی) کہتا ہوں: کہ یہ آیت کریمہ مشرکوں کے بڑے اور مومنوں کے بڑے بزرگ کے متعلق بطور موازنہ وارد ہوئی ہے تو یہاں مقصود ان دونوں کی متضاد صفات میں مبالغہ ہے تو اس لیے فرمایا گیا: الاشقیٰ اور اسے آگ سے اس طرح خاص کیا گیا ہے گویا کہ نار جہنم پیدا ہی اس کے لیے کی گئی ہے اور فرمایا گیا ”الأتقیٰ“ اور اسے نجات سے یوں خاص کیا گیا جیسا کہ جنت پیدا ہی اس کے لیے کی گئی ہے یہ عبارت علامہ اصفہانی کی ہے جو ان کے صیغہ افعل التفضیل سے خصوصیت کا استدلال کرنے کے بارے میں نہایت واضح ہے۔

اور اہل لغت میں سے جو کوئی بھی اس کے عموم کی طرف گیا ہے تو وہ اتقیٰ کا مطلب متقی کرنے کے لیے تاویل کا محتاج ہے تاکہ اسے تفضیل کے زمرے سے نکال سکے اور یہ سراسر مجاز ہے جبکہ مجاز اصل کے خلاف ہوتا ہے اور بغیر دلیل کے اس کی طرف نہیں جایا جاتا اور اس سلسلہ میں مروی وہ احادیث ہیں جو اس کے شان نزول سے متعلق آئی ہیں اور مفسرین کا اجماع ہے جیسا کہ پہلے مذکور ہوا ہے لہذا ان تمام دلائل سے ثابت ہوا کہ کلام اپنی حقیقت کے مطابق بصیغہ تفضیل ہے اور لام یہاں عہد کا ہے اور اس میں عموم بالکل نہیں

صفحہ 56

ہے۔

پھر اگر تم کہو کہ عموم لفظ اتقی سے ماخوذ نہیں بلکہ لفظ ”الذی“ سے نکلتا ہے تو یقیناً الذی صیغہ عموم ہے۔

میں (سیوطی) کہتا ہوں: یہ تمہاری غفلت اور عربی زبان سے ناواقفیت کا نتیجہ ہے کیونکہ الذی یقیناً اتقی کی صفت ہے اور یہ بات واضح ہوچکی ہے کہ اتقی خاص ہے، تو لازم ہوا کہ اس کی صفت بھی خاص ہو جیسا کہ عربی کے قواعد اس سلسلہ میں مقرر ہیں کہ صفت موصوف سے ہٹ کر نہیں ہوتی بلکہ اس کے برابر یا اس سے زیادہ خاص ہوتی ہے اس کلام کو دونوں ہاتھوں سے مضبوط پکڑ اور اس پر اپنی دونوں داڑھیں گاڑ دے، جیسا کہ فرمان الٰہی میں ہے کہ

وَمَا لِاَحَدٍ عِنْدَهُ مِنْ نِّعْمَةٍ تُجْزَى . (اللیل:۱۹)

ترجمہ: اور کسی کا اس پر کچھ احسان نہیں جس کا بدلہ دیا جائے۔

اور آیت کریمہ : وَلَسَوْفَ يَرْضَى۔ (اللیل:۲۱)

ترجمہ: اور بے شک قریب ہے کہ وہ راضی ہوگا۔

جو خصوصیت پر دلالت کرنے والی نص کی طرف اشارہ ہے اور امام فخر الدین رازی علیہ الرحمہ نے اس آیت کی خصوصیت کو برقرار رکھا ہے اور اسی آیت سے ایک دوسرے طریقے سے ان کی افضلیت پر استدلال کیا ہے فرماتے ہیں:

ہمارے مفسرین اس بات پر متفق ہیں کہ ”الاتقیٰ“ سے مراد ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور شیعہ کا موقف ہے کہ اس سے مراد علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہیں جبکہ دلائل اس کو رد کرتے ہیں اور پہلے کی تائید کرتے ہیں اور اس کی تفصیل یہ ہے کہ یہاں اتقی سے مراد افضل الخلق ہے جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے کہ

صفحہ ۵۷

إِنَّ أَكْرَمَكُمْ عِنْدَ اللَّهِ أَتْقَاكُمْ۔ (الحجرات: ۱۳)

ترجمہ: بے شک اللہ کے نزدیک تم میں سے زیادہ معزز وہ ہے جو زیادہ پرہیز گار ہے۔ اور اکرم ہی افضل ہے تو یہاں مذکور ”اتقیٰ“ اللہ کے نزدیک بہترین مخلوق ہے اور پوری امت اس بات پر متفق ہے کہ رسول ﷺ کے بعد بہترین ہستی یا حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور آیت کا اطلاق حضرت علی پر ممکن نہیں ہے تو اس لیے بھی حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ پر ممکن نہیں ہے کیونکہ اس کے بعد اس اتقیٰ کی صفت میں فرمایا گیا ہے:

وَمَا لِأَحَدٍ عِنْدَهٗ مِنْ نِعْمَةٍ تُجْزٰی .

اور یہ وصف حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ پر صادق نہیں آتا اس لیے وہ تو نبی کریم ﷺ کی کفالت میں رہے ہیں کیونکہ آپ ﷺ نے انھیں ان کے والد (ابو طالب) سے لیا تھا اور آپ ﷺ انھیں کھلاتے، پلاتے، اور پہناتے تھے اور ان کی تربیت فرماتے تھے اس طرح نبی ﷺ تو انھیں نعمت دینے والے ہوئے اور اس نعمت کا بدلہ دینا بھی لازم آتا ہے جبکہ ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے لیے نبی کریم ﷺ کی طرف سے کوئی دنیوی نعمت نہیں تھی بلکہ ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ رسول ﷺ پر خرچ کرتے تھے اس کے بر عکس ان پر تو نبی ﷺ کی طرف سے دین کی طرف رشد و ہدایت کی نعمت تھی اور یہ وہ نعمت ہے جس کا بدلہ نہیں ہے جیسا کہ فرمان ہے:

لا اسالکم علیہ اجراً . میں تم سے اس کا بدلہ نہیں مانگتا

اور یہاں صرف مطلق نعمت کی بات نہیں ہو رہی بلکہ اس نعمت کا تذکرہ ہو رہا ہے جس کی جزاء ممکن نہیں ہے تو معلوم ہو گیا کہ یہ آیت کریمہ حضرت علی کے حسب حال نہیں ہے، اور جب ثابت ہو گیا کہ اس آیت سے مراد وہ ہے جو افضل الخلق ہو تو یہ بھی ثابت ہوا کہ اب اس آیت سے مراد یا تو حضرت ابو بکر ہیں یا حضرت علی ! اور یہ بھی پایہ ثبوت کو پہنچ

صفحہ ۵۹

گیا کہ آیت کریمہ حضرت علی کے حسب حال نہیں ہے تو پھر اس کا اطلاق صرف حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ پر ہی ہو سکتا ہے اور اس آیت کی دلالت سے یہ بھی ثابت ہو گیا کہ حضرت صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ افضل الامت ہیں۔

امام کا کلام یہاں ختم ہوا۔

فالحمد للّٰہ علیٰ ذلک۔ ٭

٭ تکمیل ترجمہ: ۱۱-۱-۱۸ منگل قبل ظہر۔

تخریج حوالہ

(الحبل الوثیق فی ام

- ۱۹۸۴ء/۱۴۰۴ھ۔

طبع: مؤسسۃ الرسالۃ بیروت۔

مطبوعہ صورت میں دستیاب ہیں۔ طبع: دار الف

طبع: مؤسسۃ الرسالۃ بیروت۔

بیروت، لبنان۔

القرآن، ج:۱۰، ص۴۷۹، طبع: مؤسس

صفحہ ۵۹

تخریج حوالہ جات

(الحبل الوثیق فی نصرۃ الصدیق)

- ۱۹۸۴ء/۱۴۰۴ھ۔

طبع: مؤسسۃ الرسالۃ بیروت۔

مطبوعہ صورت میں دستیاب ہیں۔ طبع: دار المآثر مدینۃ المنورہ ۔

طبع: مؤسسۃ الرسالۃ بیروت۔

بیروت، لبنان۔

القرآن، ج:۱۰، ص ۴۷۹، طبع: موسسۃ الرسالۃ بیروت۔

صفحہ ۶۰

طبع:دارالکتب العلمیہ بیروت۔

مکتبۃ الصحابۃ،جدہ۔

طبع:دارالنفائس بیروت۔

طبع:دارعالم الکتب،الریاض۔

وَالَّذِیْ جَاءَ بِالصِّدْقِ وَصَدَّقَ بِهٖ اُولٰ

اور جو یہ سچ لے کر آئے اور وہ جنہوں نے اس کی ت

الروض الانیق فی

امام جلال الدین

(۸۴۹ھ

فضائل و مناقب صدیق اک

چالیس احادیث ک

ترجمہ و تخریج:

دارالاخلا

صفحہ ٦١

وَالَّذِي جَاءَ بِالصِّدْقِ وَصَدَّقَ بِهِ أُولَئِكَ هُمُ الْمُتَّقُوْنَ . (الزمر: ۳۳)

اور جو یہ سچ لے کر آئے اور وہ جنہوں نے اس کی تصدیق کی درحقیقت وہی پرہیزگار ہیں۔

الروض الانیق فی فضل الصدیق

امام جلال الدین سیوطی رحمۃ اللہ علیہ

(۸۴۹-۹۱۱ھ)

فضائل و مناقب صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ پر مشتمل چالیس احادیث کا ایمان افروز مجموعہ

ترجمہ وتخریج: علامہ محمد شہزاد مجددی

دارالاخلاص لاہور

صفحہ ۶۳

انتساب

سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کی والدہ ماجدہ امّ الخیر سلمیٰ بنت صخر رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے نام

نہ امّ الخیر جیسی ماں کوئی ہوگی زمانے میں
نہ ثانی کوئی پیدا ہوگا اب صدیق اکبر کا

تمہید

حضرت امیر المومنین خلیفۃ الرسول بلافص مردوں میں پہلے مسلمان اور اولین صحابی ہیں۔ آ پاک کی سورۂ توبہ میں ان الفاظ میں کیا گیا ہے۔ ثَانِيَ اثْنَيْنِ إِذْ هُمَا فِي الْغَارِ إِذْ يَقُولُ لِصَاحِبِهِ ا ترجمہ: دو میں سے دوسرا جبکہ وہ دونوں غار میں غم نہ کر اللہ تعالیٰ ہمارے ساتھ ہے۔

صحیح بخاری میں اس معیت الہیہ کی ا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضر پر ان الفاظ سے ان کی تشفی فرمائی۔ مَا ظَنُّكَ یَاب

(ب)

ترجمہ: ان دو کے بارے میں تمہارا کیا خیال ہے بچپن اور جوانی کے پاکیزہ ادوار سے ل مقدس مراحل ہیں۔ جنہوں نے حضرت ابوبکر ر بالاصالت خلیفۃ الرسول کے منصب پر فائز کر الصدیقین کی اعلیٰ مسند پر فائز نظر آتے ہیں۔

قرآن پاک کی آیات آپ کے فض

صفحہ ۶۳

تمہید

حضرت امیر المومنین خلیفتہ الرسول بلافصل سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ مردوں میں پہلے مسلمان اور اولین صحابی ہیں۔ آپ کے منصب صحابیت کا تذکرہ قرآن پاک کی سورۃ توبہ میں ان الفاظ میں کیا گیا ہے۔ ثَانِيَ اثْنَيْنِ إِذْ هُمَا فِي الْغَارِ إِذْ يَقُولُ لِصَاحِبِهِ لَا تَحْزَنْ إِنَّ اللَّهَ مَعَنَا...... الخ (التوبۃ: ۴۰)

ترجمہ: دو میں سے دوسرا جبکہ وہ دونوں غار میں تھے اور جبکہ اس نے اپنے صحابی سے کہا غم نہ کر اللہ تعالیٰ ہمارے ساتھ ہے۔

صحیح بخاری میں اس معیت الہیہ کی بشارت درج ذیل الفاظ میں مروی ہے۔ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کی تشویش پر ان الفاظ سے ان کی تشفی فرمائی۔ مَا ظَنُّكَ بِاثْنَيْنِ اللَّهُ ثَالِثُهُمَا

(بخاری، مناقب، رقم: ۳۶۱۵، مسلم: ۴۳۸۹)

ترجمہ: ان دو کے بارے میں تمہارا کیا خیال ہے جن کا تیسرا اللہ ہو۔

بچپن اور جوانی کے پاکیزہ ادوار سے لے کر غار وحرا تک کی رفاقتوں کے یہی وہ مقدس مراحل ہیں۔ جنہوں نے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو ثانی اسلام اور بالا صالت خلیفتہ الرسول کے منصب پر فائز کر دیا اور آپ بالاتفاق امام الصحابہ اور رئیس الصدیقین کی اعلیٰ مسند پر فائز نظر آتے ہیں۔

قرآن پاک کی آیات آپ کے فضائل ومناقب کی گواہی دیتی ہیں۔ زبان

صفحہ ۶۳

رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم آپ کی خدمات واحسانات کا اعتراف فرماتے ہیں اور جلیل القدر صحابہ خصوصاً حضرت عمر ابن خطاب اور علی ابن ابی طالب رضی اللہ تعالیٰ عنہما آپ کے مداحین ومعتقدین میں سرفہرست دکھائی دیتے ہیں۔

ائمہ تصوف آپ کے ارشادات وتعلیمات اور سیرت کے تابناک پہلوؤں سے روشنی لیتے ہوئے احوال ومعارف کے باب میں انہیں بطور سند پیش کرتے ہیں۔

ائمہ طریقت وتصوف کا اجماع ہے کہ اس امت کے اولین وعظیم ترین صوفی بھی حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہیں۔ آپ ”السابقون الاولون“ کے اس قدسی صفات گروہ کے سرخیل ہیں، جنہیں ایمان واسلام اور تمام امور خیر میں اولیت وسبقت کی سند خود رب العالمین نے عطا کی ہے۔

اہل تاریخ وسیر نے آپ کی اولیات کو خصوصی اہمیت کے ساتھ نقل کیا ہے۔

اولیات

محدثین ومورخین نے حضرت ابوبکر صدیق کے ان کارناموں کا الگ الگ ذکر کیا ہے جن میں آپ نے سب سے پہلے سبقت کی ہم ذیل میں ان کی مختصر فہرست یہاں نقل کرتے ہیں۔

حمایت میں جنگ لڑی اور ضربات شدیدہ برداشت کیں، حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ

صفحہ ۶۵

تعالیٰ عنہ ہیں۔

تعالیٰ عنہ ہی ہیں۔ حضرت شاہ ولی اللہ لکھتے ہیں۔ ”حضرت صدیق اول کسے است کہ مسجد بنا کرد و اعلام اسلام نمود۔“

شرف حاصل ہوا وہ آپ ہی ہیں۔

اس کے پیچھے اقتدا کی وہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہی ہیں۔

الرسول) سے پکارے گئے۔

آپ کو ہی دی اور عتیق کے لقب سے مشرف فرمایا۔

حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ جب اسلام لائے تھے ان کے پاس چالیس ہزار درہم تھے لیکن جب مدینہ پہنچے صرف پانچ ہزار درہم باقی رہ گئے تھے۔ باقی رقم سب کی سب اللہ کی راہ میں خرچ کر دی۔

صفحہ ۶۶

قرآن پاک کی سورۂ حدید میں صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی اس خصوصیت کو بایں الفاظ بیان کیا گیا ہے۔

لَا يَسْتَوِیْ مِنْكُمْ مَّنْ اَنْفَقَ مِنْ قَبْلِ الْفَتْحِ وَ قَاتَلَ ط اُولٰئِكَ اَعْظَمُ دَرَجَةً مِّنَ الَّذِيْنَ اَنْفَقُوْا مِنْۢ بَعْدُ وَقَاتَلُوْا ط (الحدید: ۱۰)

ترجمہ: ”تم میں سے وہ لوگ جو فتح مکہ سے پہلے خرچ کرتے تھے اور قتال کرتے تھے وہ درجہ کے اعتبار سے بہت بڑے ہیں ان لوگوں سے جنہوں نے فتح مکہ کے بعد خرچ کیا اور قتال کیا۔“ (سورۂ حدید: آیت ۱۰)

صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کی جانی و مالی خدمات کا اعتراف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کئی بار مجمع عام میں فرمایا۔

حدیث اور تاریخ و سیر کی کتابوں میں اس قسم کے متعدد مواقع کا ذکر ہے۔

ایک مرتبہ آپ نے فرمایا۔

مَا نَفَعَنِى مَالُ اَحَدٍ قَطُّ مَا نَفَعَنِى مَالُ اَبِى بَكْرٍ .

ترجمہ: (ابوبکر کے مال نے مجھ کو جو نفع پہنچایا ہے کسی اور کے مال نے اتنا نہیں پہنچایا۔

(مناقب ابی بکر صدیق۔ جامع ترمذی)

ایک دوسرے موقع پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بہت زیادہ امتنان و تشکر کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا۔

ترجمہ: بلاشبہ جان و مال کے لحاظ سے ابوبکر سے زیادہ مجھ پر کسی اور کا احسان نہیں ہے۔“

تو حضرت ابوبکر رونے لگے اور عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! یہ جان اور مال کیا کسی اور کے لیے بھی ہے۔ (کنز العمال ۳۱۶/۶۱)

حضرت صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے جن احسانات و خدمات کا اعتراف

صفحہ ۶۷

ہمارے آقا مولا علیہ الصلوٰۃ والسلام نے برملا فرمایا ہے، یقیناً پوری امت مسلمہ مل کر بھی ان کا بدلہ نہیں چکا سکتی۔ بقول اقبال:

آں امن الناس بر مولائے ما
آں کلیم اوّلِ سینائے ما
ہمّت او کشت ملت را چو ابر
ثانیِ اسلام و غار و بدر و قبر

پیشِ نظر مختصر رسالہ جو چہل احادیث پر مشتمل ہے، حضرت سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی بارگاہ میں ہدیۂ عقیدت کی ایک بہترین صورت ہے۔ جسے پیش کرنے کی سعادت خاتم الحفاظ امام جلال الدین سیوطی الشافعی رحمۃ اللہ کے حصہ میں آئی ہے۔ فضائل ومناقبِ صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ پر مشتمل یہ اربعین اردو ترجمہ اور تخریج کے ساتھ آپ تک پہنچانے کا شرف ”دارالاخلاص“ (ریلوے روڈ لاہور) کو حاصل ہو رہا ہے۔

دعا ہے کہ حق تعالیٰ شانہ اس مخلصانہ کاوش کو اپنی بارگاہ میں قبول و منظور فرمائے

(آمین)

جمادی الاولیٰ محمد شہزاد مجددی ۱۴۳۲ھ ۳۹۔ ریلوے روڈ لاہور

صفحہ ٦٨

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِيْ جَعَلَ خَير هذه الأمة أبا بكر الصدّيق، ورفع مقامه، على كل مقامٍ بزيادة اليقين والتصديق......شيخ الاسلام على التحقيق، أحمده، وهو بكل حمدٍ خليقٌ، واشهد أن لا اله الا الله وحده، لا شريك له، شهادةً توسّع على قائلها كل ضيقٍ وأشهد أن سيّدنا محمّداً عَبْدُهُ وَ رَسُوْلُه، النّبيّ الرّفيق صلّى الله عليه وسلم و على آله و صحبه و ازواجه و ذريّته اولى الرّشاد والتوفيق.

أمّا بعد! فهذا كتاب لقبته، ”الرَّوْضُ الانيق في فضل الصدّيق“ اوردت فيه اربعين حديثاً مختصرةً سهلٌ حفظها على من اراد ذلك من البررة، واسال اللّٰه ان ينفعنا بالانتساب اليه و يجمعنا و ايّاه، فى دار الزلفاء لديه بمحمّدٍ صلى الله عليه وسلم وعلى آله وسلم آمين آمين.

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

تمام تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں جس نے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو اس امت میں سب سے بہتر بنایا اور انہیں یقین و تصدیق کے ہر مقام پر دوسروں سے بلند تر رکھا، تحقیق کہ آپ شیخ الاسلام ہیں۔

میں اللہ کی ثناء بیان کرتا ہوں کہ وہ ہر قسم کی حمد سے متصف ہے اور میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، وہ یکتا اور لا شریک ہے، وہ شہادت جو اپنے اقرار کنندہ پر آنے والی ہر تنگی کو وسعت میں بدل دیتی ہے اور میں گواہی دیتا ہوں کہ ہمارے سردار محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) اس کے بندے، اس کے رسول اور مہربان نبی ہیں آپ کے آل و اصحاب وازواج و ذریت پر جو اہل ارشاد و توفیق ہیں۔ اما بعد.....

یہ کتاب جسے میں نے ”الرَّوْضُ الانيق في فضل الصدّيق“ کا لقب دیا ہے۔ میں

اس میں مختصر چالیس احادیث لایا ہوں جو ا کے لیے نہایت آسان ہیں اور میں اللہ تعالیٰ عطا فرمائے اور اپنی بارگاہ قرب میں اپنے حبیب نصیب فرمائے۔ آمین

حدیث نمبر ۱

عن عائشة ان رسول الله ص ”ابى الله والمؤمنون ان يختلفوا ع

ترجمہ: حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عن بلاشبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اے ابوبکر! اللہ تعالیٰ اور ایمان والے تیرے

حدیث نمبر ۲

عن انس انّ رسول الله ص سيّدا كهول اهل الجنة من الا والمرسلين.“ اخرجه الضياء في مختا

ترجمہ: حضرت انس بن مالک رضی اللہ ع وسلم نے فرمایا: ابوبکر اور عمر اولین و آخرین میں کرام (علیہم السلام) کے۔ اسے ضیاء المقدسی ن

صفحہ ٦٩

اس میں مختصر چالیس احادیث لایا ہوں جو انہیں حفظ کرنے اور یادرکھنے والے نیک آدمی کے لیے نہایت آسان ہیں اور میں اللہ تعالیٰ سے دعا کرتا ہوں کہ وہ ہمیں اپنی نسبت کا نفع عطا فرمائے اور اپنی بارگاہ قرب میں اپنے حبیب حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کی معیت نصیب فرمائے۔ آمین

حدیث نمبر ۱

عن عائشة ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: ”ابى الله والمؤمنون ان يختلفوا عليک يا ابابکر“ اخرجه الامام احمد.

ترجمہ: حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے: بلاشبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے ابوبکر! اللہ تعالیٰ اور ایمان والے تیرے بارے میں اختلاف کو ناپسند کرتے ہیں۔

حدیث نمبر ۲

عن انس ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال:” ابوبكر و عمر سيدا كهول اهل الجنة من الاولين والآخرين ،ما خلا النبيين والمرسلين.“ اخرجه الضياء فى مختاره و جمع كثيرون

ترجمہ: حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، بلاشبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ابوبکر اور عمر اولین و آخرین میں سے جنتی بزرگوں کے سردار ہیں ،سوائے انبیاء کرام(علیہم السلام)کے۔ اسے ضیاء المقدسی نے مختارہ میں اور اکثر ائمہ نے نقل کیا ہے۔

صفحہ ۷۰
فرماتے ہیں یہ دونوں ہیں سردار دو جہاں
اے مرتضیٰ! عتیق وعمر کو خبر نہ ہو

حدیث نمبر ۳

عن سعيد بن زيد ان رسول الله صلی الله عليه وسلم قال : ابوبكر فی الجنة و عمر فی الجنة، و عثمان فی الجنة، و علی فی الجنة، وطلحة فی الجنة، والزبير فی الجنة، وعبدالرحمن بن عوف فی الجنة ، وسعد بن ابی وقاص فی الجنة، و سعيد بن زيد فی الجنة، وابو عبيدة ابن الجراح فی الجنة.“

اخرجه الضياء فی مختارہ، و جمع اخرون.

ترجمہ: حضرت سعید بن زید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ابوبکر جنتی ہے، عمر جنتی ہے، عثمان جنتی ہے، علی جنتی ہے، طلحہ جنتی ہے، زبیر جنتی ہے، عبدالرحمن بن عوف جنتی ہے، سعد بن ابی وقاص جنتی ہے، سعید بن زید جنتی ہے، ابو عبیدہ بن الجراح (رضی اللہ عنہم) جنتی ہے۔ (اسے ضیاء نے مختارہ میں اور دیگر کثیر ائمہ نے روایت کیا ہے)۔

وہ دسوں جن کو جنت کا مژدہ ملا
اس مبارک جماعت پہ لاکھوں سلام

حدیث نمبر ۴

عن المطلب بن عبد الله بن حنطب عن ابيه عن جده وماله غيره أنّ رسولَ الله صلی الله عليه وسلم قال: ”ابوبكر و عمر منی كمنزلة

السمع والبصر من الرأس“

ترجمہ: حضرت مطلب بن عبد روایت کرتے ہیں: بے شک رسول اللہ صلی ا ابوبکر اور عمر (رضی اللہ عنہم ہوتے ہیں۔

اصدق چشم و گو

حدیث نمبر ۵

عن ابن عباس ان رس عمر من هذا الدين، كم النجار، واخرجه الخطيب فی

ترجمہ: عبداللہ بن عباس رضی اللہ بے شک رسول اللہ صلی ا ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہم ہوتے ہیں۔ (اسے ابن النجار اور خطیب

حدیث نمبر ۶

عن جابر ان رسول وزیری و خلیفتی علی امتی من

صفحہ ۷۱

السمع والبصر من الرأس“ اخرجه الباوردي وابو نعيم وغير هما.

ترجمہ: حضرت مطلب بن عبداللہ بن حنطب اپنے والد سے اور وہ ان کے دادا سے روایت کرتے ہیں:

بے شک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:

ابوبکر اور عمر (رضی اللہ عنہما) میرے لیے ایسے ہیں جیسے سر میں آنکھیں اور کان ہوتے ہیں۔

اصدق الصادقیں، سید المتقین
چشم و گوش وزارت پہ لاکھوں سلام

حدیث نمبر ۵

عن ابن عباس ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: ” ابوبكر و عمر من هذا الدين، كمنزلة السمع والبصر من الرأس.“ اخرجه ابن النجار، واخرجه الخطيب في تاريخه عن جابر.

ترجمہ: عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے:

بے شک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:

ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہما اس دین میں ایسے ہیں جیسے سر میں آنکھیں اور کان ہوتے ہیں۔ (اسے ابن النجار اور خطیب نے اپنی تاریخ میں جابر سے روایت کیا)۔

حدیث نمبر ۶

عن جابر ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: ”ابوبكر الصدّيق وزیرى و خلیفتى على امتى من بعدى، و عمر ينطق على لسانى، و على ابن عمى

صفحہ ۷۲

واخی و حامل رایتی، وعثمان منی و أنا من عثمان.“ اخرجه الطبرانی فی الکبیر، وابن عدی فی الکامل و غیر هما.

ترجمہ: حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے: بے شک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ابوبکر صدیق میرے بعد میری امت کے لیے میرا وزیر اور خلیفہ ہے، اور عمر میری زبان سے بولتا ہے اور علی میرا چچا زاد بھائی اور میرا پرچم بردار ہے اور عثمان مجھ سے ہے اور میں عثمان سے ہوں۔ اسے طبرانی نے معجم کبیر میں اور ابن عدی وغیرہما نے کامل میں روایت کیا ہے۔

حدیث نمبر ۷

عن شداد بن أوس أن رسول الله صلى الله علیه وسلم قال: أبوبکر أرأف أمتی وأرحمها، وعـمـر خـیـر امتی واعدلها و عثمان بن عفان احی امتی واکرمها و علی بن ابی طالب الب امتی واشجعها وعبد الله بن مسعود ابر امتی وآمنها وابوذر ازهد امتی واصدقها وابو الدرداء اعبد امتی واتقاها ومعاویة بن ابی سفیان احکم امتی و اجودها.“ اخرجه ابن عساکر و ضعفه واخرجه غیره ایضا.

ترجمہ: حضرت شداد بن اوس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے: بے شک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ابوبکر میری امت میں سب سے بڑھ کر نرم مزاج اور رحم دل ہے اور عمر میری امت میں بہترین اور عادل ہے اور عثمان بن عفان میری امت میں سے زیادہ حیا اور عزت والا ہے اور علی میری امت میں سب سے بڑھ کر دانا اور شجاع ہے اور عبداللہ بن مسعود میری

امت میں زیادہ نیک اور امن والا ہے اور ا والا ہے اور ابو الدرداء میری امت میں سـ سفیان میری امت میں زیادہ حلم اور سخاوت تضعیف کی جبکہ دیگر علماء نے بھی اسے نقل کیا

حدیث نمبر ۸

عن ابی هریرة ان رسول عمر خیر الاولین و خـیـر اهـل السـ والمرسلین.“ اخرجه ابن عدی والحـ

ترجمہ: حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے بلاشبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نـ ابوبکر و عمر اگلوں میں سب سے بـ سب سے بہتر ہیں سوائے انبیاء و مرسلین کے۔ خطیب بغدادی نے اپنی تاریخ میں نقل کیا ہے

حدیث نمبر ۹

عن عکرمة بن عمار عن ایاس الله صلى الله علیه وسلم قال: ”ابوبـ اخرجه ابن عدی والطبرانی فی الکبیر.

ترجمہ: حضرت عکرمہ بن عمار، الیاس بن روایت کرتے ہیں:

صفحہ ۷۳

امت میں زیادہ نیک اور امن والا ہے اور ابو ذر غفاری میری امت میں زیادہ زاہد اور صدق والا ہے اور ابو الدرداء میری امت میں زیادہ عبادت گزار اور متقی ہے اور معاویہ بن ابی سفیان میری امت میں زیادہ حلم اور سخاوت والا ہے۔ اسے ابن عساکر نے نقل کیا اور اس کی تضعیف کی جبکہ دیگر علماء نے بھی اسے نقل کیا ہے۔

حدیث نمبر ۸

عن ابي هريرة ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: ”ابوبكر و عمر خير الاولين و خير اهل السموات و خير اهل الارض، الا النبيين والمرسلين.“ اخرجه ابن عدى والحاكم فى الكنى، والخطيب فى تاريخه

ترجمہ: حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے: بلاشبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ابوبکر و عمر اگلوں میں سب سے بہتر ہیں اور زمین والوں اور آسمان والوں میں سب سے بہتر ہیں سوائے انبیاء و مرسلین کے۔ اسے ابن عدی اور حاکم نے (الکنیٰ میں) اور خطیب بغدادی نے اپنی تاریخ میں نقل کیا ہے۔

حدیث نمبر ۹

عن عكرمة بن عمار عن اياس بن سلمة بن الاكوع عن ابيه انّ رسول اللّه صلى الله عليه وسلم قال: ”ابوبكر خير الناس بعدى، الا ان يكون نبى“ اخرجه ابن عدى والطبرانى فى الكبير وغيرهما

ترجمہ: حضرت عکرمہ بن عمار، الیاس بن سلمہ بن اکوع سے اور وہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں:

صفحہ ۷۴

بے شک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ابوبکر میرے بعد لوگوں میں سب سے بہتر ہے۔ سوائے اس کے کہ وہ نبی نہیں ہے۔

حدیث نمبر ۱۰

عن ابن عباس أن رَسُوْلَ اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قال: ”ابوبکر صاحبی و مونسی فی الغار فاعرفوا لہ ذلک، فلو کنت متخذا خلیلا لا تخذت ابابکر.“ اخرجہ عبداللہ بن الامام احمد فی زوائد المسند والدیلمی و غیرہما.

ترجمہ: حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ابوبکر میرا یار غار اور ساتھی ہے تو اسے اس بات سے آگاہ کر دو، پس اگر میں کسی کو اپنا خلیل بناتا تو ابوبکر کو بناتا۔ اسے عبداللہ بن الامام احمد نے زوائد مسند میں اور دیلمی وغیرہما نے روایت کیا۔

حدیث نمبر ۱۱

عن ابن مسعود رضی اللہ عنہ ان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قال: ”ابوبکر و عمر منی کعینی فی راسی، وعثمان بن عفان منی کلسانی فی فمی، و علی بن ابی طالب منی کروحی فی جسدی.“ اخرجہ ابن النجار

ترجمہ: حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے: بے شک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ابوبکر اور عمر (رضی اللہ عنہما) میرے لیے ایسے ہیں جیسے چہرے میں آنکھیں اور

صفحہ ۷۵

عثمان بن عفان (رضی اللہ عنہ) میرے لیے ایسے ہے جیسے منہ میرے میں میری زبان اور علی بن ابی طالب (رضی اللہ عنہ) میرے لیے ایسے ہے جیسے میرے جسم میں میری روح ہے۔ اسے ابن النجار نے نقل کیا ہے۔

حدیث نمبر ۱۲

عن ابن عباس ان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قال: ”ابوبکر و عمر منی بمنزلۃ ھارون من موسیٰ۔“ اخرجہ الخطیب فی تاریخہ وغیرہ

ترجمہ: حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے: بے شک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے: ابوبکر اور عمر (رضی اللہ عنہما) میرے لیے ایسے ہیں جیسے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے لیے حضرت ہارون۔ (علیہ السلام) اسے خطیب وغیرہ نے اپنی تاریخ میں نقل کیا ہے۔

حدیث نمبر ۱۳

عن عائشۃ رضی اللہ عنھا ان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قال: ”ابوبکر منی و انا منہ، و ابوبکر اخی فی الدنیا والاخرۃ“ اخرجہ الدیلمی

ترجمہ: حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے: بے شک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ابوبکر مجھ سے ہے اور میں اس سے ہوں اور ابوبکر (رضی اللہ عنہ) دنیا و آخرت میں میرا بھائی ہے۔ (اسے دیلمی نے روایت کیا)۔

صفحہ ۷۷

حدیث نمبر ۱۴

عن ابی ہریرۃ ان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قال:”ابوبکر و عمر خیر اہل السموات واہل الارض،وخیر من بقی الی یوم القیامۃ.“ اخرجہ الدیلمی

ترجمہ: حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے: بے شک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ابوبکر اور عمر (رضی اللہ عنہما) زمین و آسمان والوں سے بہتر ہیں اور قیامت تک آنے والے ہر شخص سے بہتر ہیں۔ (اسے دیلمی نے روایت کیا)۔

حدیث نمبر ۱۵

عن عائشۃ ان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قال: ”ابوبکر عتیق اللہ من النار.“ اخرجہ ابو نعیم فی المعرفۃ

ترجمہ: حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے: بے شک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو اللہ نے جہنم سے آزاد کر دیا ہے۔ (اسے ابو نعیم نے معرفۃ الصحابہ میں نقل کیا ہے۔)

حدیث نمبر ۱۶

عن انس ان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قال:”ابوبکر وزیر یقوم مقامی، وعمر ینطق بلسانی وانا من عثمان و عثمان منی، کانی بک یا ابابکر تشفع لامتی.“ اخرجہ ابن النجار،ووصف عمر بما ذکر لانہ من المحدثین

الذین تنطق الملائکہ علی السنتہم فاعلم

ترجمہ: حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے بے شک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ابوبکر میرا وزیر اور قائم مقام ہے اور عمر ہے، میں عثمان کا ہوں۔ گویا اے ابوبکر تیرے ذمے اسے ابن النجار نے روایت کیا۔ (عمر کرنے کا مطلب یہ ہے کہ وہ ان محدثین میں س کرتے ہیں)

حدیث نمبر ۱۷

عن ابی ہریرۃ رضی اللہ عنہ ان ر ”اتانی جبریل فاخذ بیدی فارانی باب الجنۃ وددت انی کنت معک حتی انظر الیہ، ف الجنۃ من امتی.“ اخرجہ ابو داوود وغیرہ، وص

ترجمہ: حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہ بے شک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ار میرے پاس جبریل آئے اور میرا ہاتھ پ میں سے میری امت داخل ہوگی۔ تو حضرت ابوبکر رض کاش میں بھی آپ کے ساتھ ہوتا اور اس دروازے کو د اے ابوبکر! تو میری امت میں سے سب س (اسے ابوداؤد نے روایت کیا اور حاکم ن

صفحہ ۷۷

الذين تنطق الملائکہ علی السنتہم فاعلم

ترجمہ: حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے:

بے شک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:

ابوبکر میرا وزیر اور قائم مقام ہے اور عمر میری زبان سے بولتا ہے اور عثمان میرا ہے، میں عثمان کا ہوں۔ گویا اے ابوبکر تیرے ذریعے میری امت کی شفاعت ہوگی۔

اسے ابن النجار نے روایت کیا۔ (حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو اس صفت سے یاد کرنے کا مطلب یہ ہے کہ وہ ان محدثین میں سے ہیں جن کی زبانوں سے فرشتے کلام کرتے ہیں)

حدیث نمبر ۱۷

عن ابی ھریرۃ رضی اللہ عنہ ان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قال: ”اتانی جبریل فاخذ بیدی فارانی باب الجنۃ الذی یدخل منہ امتی۔“ قال ابوبکر: وددت انی کنت معک حتی انظر الیہ، قال: اما إنک یا ابا بکر اول من یدخل الجنۃ من امتی۔“ اخرجہ ابو داوود وغیرہ، و صحّحہ الحاکم من طریق اخر

ترجمہ: حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے:

بے شک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:

میرے پاس جبریل آئے اور میرا ہاتھ پکڑ کر مجھے جنت کا وہ دروازہ دکھایا جس میں سے میری امت داخل ہوگی۔ تو حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے عرض کیا، حضور! کاش میں بھی آپ کے ساتھ ہوتا اور اس دروازے کو دیکھتا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

اے ابوبکر! تو میری امت میں سے سب سے پہلے جنت میں داخل ہوگا۔

(اسے ابوداؤد نے روایت کیا اور حاکم نے دوسری سند سے اسے صحیح کہا۔)

صفحہ ۷۸

حدیث نمبر ۱۸

عن على ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: ”اتانی جبریل فقلت: من يهاجر معى قال: ابوبکر و هو یلی امتک بعدک و هو افضل امتک.“ اخرجه الدیلمی.

ترجمہ: حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے: بے شک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: میرے پاس جبریل آئے تو میں نے پوچھا: میرے ساتھ ہجرت کون کرے گا؟ انہوں نے کہا: ابوبکر، اور وہی آپ کے بعد آپ کی امت سے ملے گا اور وہی آپ کی امت میں سب سے افضل ہے۔ (دیلمی)

حدیث نمبر ۱۹

عن ابن عمر ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: اتانی جبریل فقال لی: یا محمد ان الله یامرک ان تستشیر ابابکر.“ اخرجه تمام

ترجمہ: حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے: بے شک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جبریل میرے پاس آئے اور مجھے کہا، اے محمد (صلی اللہ علیہ وسلم)! بے شک اللہ تعالیٰ آپ کو ابوبکر صدیق سے مشاورت کا حکم دیتا ہے۔ اسے تمام نے روایت کیا۔

حدیث نمبر ۲۰

عن ابی الدرداء قال: ”راى النبى صلى الله عليه وسلم رجل مشى

صفحہ 79

امام ابا بکر فقال له: اتمشی امام من هو خیر منك، ان ابا بکر خیر من طلعت علیه الشمس و غربت.“

واخرج الحدیث ابو نعیم فی فضائل الصحابة و لفظه:” المشی امام من هو خیر منك الم تعلم ان الشمس لم تشرق او تغرب علی احد خیر من ابی بکر، ما طلعت الشمس ولا غربت بعد النبیین والمرسلین علی احد افضل من ابی بکر.

ترجمہ: حضرت ابو الدرداء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں کہا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے آگے چلتے دیکھا تو اسے فرمایا! کیا تم اپنے سے بہتر کے آگے چلتے ہو؟ بے شک ابو بکر ہر اس شخص سے بہتر ہے جس پر سورج طلوع اور غروب ہوتا ہے۔

ابونعیم نے فضائل الصحابہ میں اس حدیث کو ان الفاظ سے روایت کیا ہے۔ کیا تم اپنے سے بہتر کے آگے چلتے ہو۔ کیا تم جانتے نہیں کہ سورج کبھی ابوبکر صدیق سے بہتر شخص پر نہیں چمکا اور نہ اس سے بہتر شخص پر کبھی غروب ہوا ہے، انبیاء و مرسلین (علیہم السلام) کے بعد سورج کبھی ابو بکر صدیق سے بہتر شخص پر نہ طلوع ہوا ہے نہ غروب۔

حدیث نمبر ۲۱

عن ابی امامة ان رسول الله صلی الله علیه وسلم قال: اتیت بکفة میزان فوضعت فیها وجئ بامتی فوضعت فی الکفة الاخری، فرجحت بامتی، ثم رفعت وجئ بابی بکر فوضع فی کفة المیزان فرجح بامتی، ثم رفع ابوبکر وجئ بعمر بن خطاب فوضع فی کفة المیزان فرجح بامتی، ثم رفع المیزان الی

صفحہ ٨٠

السماء و انا انظر اليه.“ اخرجه ابو نعيم في الفضائل.

ترجمہ: حضرت ابوامامہ الباہلی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے: بے شک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:

میرے پاس ترازو کا ایک پلڑا لایا گیا اور مجھے اس میں رکھا گیا اور پھر میری امت کو لا کر دوسرے پلڑے میں رکھا گیا۔ تو میں اپنی امت پر بھاری رہا۔ پھر مجھے ہٹا کر ابوبکر کو لایا گیا اور ترازو کے پلڑے میں رکھا گیا تو وہ میری امت پر بھاری رہا۔ پھر ابوبکر کو ہٹا کر عمر بن خطاب (رضی اللہ عنہ) کو لا کر پلڑے میں رکھا گیا تو وہ بھی میری امت پر بھاری رہا۔ پھر میزان (ترازو) کو آسمانوں کی طرف اٹھا لیا گیا اور میں اسے دیکھتا رہا۔ (اسے ابو نعیم نے فضائل الصحابہ میں روایت کیا)

حدیث نمبر ۲۲

عن عمرو بن العاص ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: ”احب النساء الى عائشة ومن الرجال ابوها.“ اخرجه الشيخان

ترجمہ: حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے: بے شک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:

مجھے عورتوں میں سب سے زیادہ محبوب عائشہ ہے اور مردوں میں سے اس کا باپ۔ (اسے بخاری ومسلم نے روایت کیا)۔

حدیث نمبر ۲۳

عن ابن عمر ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: ”احشر انا و ابوبکر و عمر يوم القيامة ”هكذا“ واخرج السبابة والوسطى والبنصر. ونحن

مشرفون على الناس.“ اخرجه الترمذی ا

ترجمہ: حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روا بے شک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم

میں ابوبکر اور عمر اس طرح محشر کی ط چنگلیا کے علاوہ تینوں انگلیوں کو باہر نکالا) اور ہ (اسے حکیم ترمذی نے روایت کیا)۔

حدیث نمبر ۲۴

عنه ان رسول الله صلى الله ابی بکر و عمر حتى أقف بين الحرم اخرجه ابن عساکر

ترجمہ: حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ بے شک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم

قیامت کے دن میں ابوبکر وعمر (رضی حرمین کے درمیان ٹھہروں گا اور اہل مدینہ واہل (اسے ابن عساکر نے روایت کیا)

حدیث نمبر ۲۵

عن عائشة أن رسول الله صل اباک و اخاک حتى اكتب كتاب فانی اولى ويأبى الله والمؤمنون الا ابابكر.“

صفحہ ۸۱

مشرفون على الناس.“ اخرجه الترمذى الحكيم

ترجمہ: حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے: بے شک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: میں ابوبکر اور عمر اس طرح محشر کی طرف نکلیں گے (اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے چٹکی کے علاوہ تینوں انگلیوں کو باہر نکالا ) اور ہم لوگوں میں نمایاں ہوں گے۔

(اسے حکیم ترمذی نے روایت کیا)۔

حدیث نمبر ۲۴

عنه ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: ”احشر يوم القيامة بين ابی بکر و عمر حتى أقف بين الحرمين، فياتينى اهل المدينة واهل المكة.“

اخرجه ابن عساكر

ترجمہ: حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے: بے شک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: قیامت کے دن میں ابوبکر وعمر (رضی اللہ عنہما) کے مابین اٹھوں گا، حتیٰ کہ میں حرمین کے درمیان ٹھہروں گا اور اہل مدینہ واہل مکہ مجھ سے آملیں گے۔

(اسے ابن عساکر نے روایت کیا)

حدیث نمبر ۲۵

عن عائشة أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: ادعى ابا بكر اباک و اخاک حتى اكتب كتاب فانى اخاف ان يتمنى متمن و يقول قائل: انا اولى ويأبى الله والمؤمنون الا ابابكر.“ اخرجه الامام احمد و مسلم

صفحہ ۸۲

ترجمہ: حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے: بے شک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اے عائشہ! اپنے باپ ابوبکر اور بھائی (عبدالرحمن) کو بلاؤ تاکہ میں تحریر لکھ دوں، کیونکہ مجھے اندیشہ ہے کہ کوئی تمنا کرنے والا تمنا کرے اور کہنے والا کہے، کہ میں (خلافت کا) زیادہ حق دار ہوں اور اللہ اور ایمان والے سوائے ابوبکر کے کسی پر راضی نہ ہوں۔ (اسے احمد اور مسلم نے روایت کیا ۔)

حدیث نمبر ۲۶

عن حذيفة ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: ” اقتدوا بالذين من بعدى ابى بكر و عمر .“ اخرجه الترمذى وحسنه ترجمہ: حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے: بے شک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: میرے بعد ابوبکر اور عمر (رضی اللہ عنہما) کی پیروی کرنا ۔

حدیث نمبر ۲۷

عن ابى الدرداء ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: ” اقتدوا بالذين من بعدى: ابى بكر و عمر، فانهما حبل الله الممدود من تمسك بهما فقد تمسك بالعروة الوثقى التى لا انفصام لها.“ اخرجه الطبرانى فى الكبير. ترجمہ: حضرت ابوالدرداء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے: بے شک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: میرے بعد ان لوگوں یعنی ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کی پیروی کرنا ، یہ دونوں اللہ کی

صفحہ ۸۳

لٹکتی ہوئی رسی ہیں۔ جس نے ان دونوں ( کا دامن ) تھام لیا تو یقیناً اس نے (اللہ کی طرف) نہ ٹوٹنے والی مضبوط رسی کو تھام لیا۔ (اسے طبرانی نے معجم کبیر میں روایت کیا )۔

حدیث نمبر ۲۸

عن سهل بن ابی حثمة ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: "اذا انا مت وابوبكر وعمر فان استطعت ان تموت فمت“ اخرجه ابو نعيم في الحليه وابن عساکر.

ترجمہ: حضرت سہل بن ابی حثمہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے: بے شک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جب میں ، ابوبکر اور عمر (رضی اللہ عنہما) وفات پا جائیں ، تو اگر تم مر سکو تو مر جانا۔ (اسے ابو نعیم نے حلیہ میں اور ابن عساکر نے روایت کیا ۔ )

حدیث نمبر ۲۹

عن سمرة ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: "امرت ان اولى الرؤيا ابابكر.“ اخرجه الديلمي. وكان اعبر اصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم للرؤيا الصديق كرّم اللهُ وَجْهَهُ و رضی عنه.

ترجمہ: حضرت سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے: بے شک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں خواب کی تعبیر ابوبکر سے لوں۔ اسے دیلمی نے روایت کیا۔ صحابہ کرام میں حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ وکرّم اللہ وجہہ سب سے بڑھ کر خواب کی تعبیر کے عالم تھے۔

صفحہ ۸۴

حدیث نمبر ۳۰

عن جابر ان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قال: ”ان اللہ اختار اصحابی علی جمیع العالمین سوی النبیین والمرسلین ، واختار لی من اصحابی اربعة فجعلہم خیر اصحابی فی کل اصحابی خیر: ابوبکر وعمر و عثمان و علی،واختار امتی علی سائر الامم فبعثنی فی خیر قرن ثم الثانی ثم الثالث تتری ثم الرابع فرادی.“ اخرجہ ابو النعیم والخطیب وقال غریب و بن عساکر.

ترجمہ: حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے:

بے شک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:

بے شک اللہ تعالیٰ نے میرے صحابہ کو سوائے انبیاء و مرسلین کے تمام جہانوں پر فضیلت عطا فرمائی ہے اور میرے صحابہ میں سے چار کو چن کر باقی اصحاب سے بہتر بنایا اور میرے سب صحابہ میں بھلائی ہے۔ (یہ چار ) ابوبکر رضی اللہ عنہ، عمر رضی اللہ عنہ، عثمان رضی اللہ عنہ اور علی رضی اللہ عنہ ہیں اور میری امت کو تمام امتوں پر فضیلت عطا فرمائی اور مجھے بہترین زمانے میں مبعوث فرمایا، پھر دوسرا پھر تیسرا ، شبہ ہے کہ پھر چوتھا فرمایا یا نہیں۔ (اسے ابونعیم اور خطیب نے روایت کیا اور کہا یہ غریب ہے۔ ابن عساکر نے بھی۔)

حدیث نمبر ۳۱

عن ابن عمر ان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قال: ”ان اللہ امرنی بحب اربعة من اصحابی وقال احبہم: ابوبکر و عمر وعثمان و علی.“ اخرجہ ابن عساکر وغیرہ.

ترجمہ: حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے:

صفحہ ۸۵

بے شک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:

بے شک اللہ تعالیٰ نے مجھے اپنے صحابہ میں سے چار کے ساتھ خاص محبت کا حکم دیا ہے، اور فرمایا میں ابوبکر، عمر، عثمان اور علی (رضی اللہ عنہم) سے محبت کرتا ہوں۔ (اسے ابن عساکر اور دیگر نے روایت کیا ۔)

نوٹ: علامہ ضیاء الدین المقدسی علیہ الرحمہ رقم طراز ہیں!

”ابوبکر، عمر، عثمان اور علی (رضی اللہ عنہم) ان چاروں کی محبت سوائے قلبِ مومن کے کہیں اور جمع نہیں ہوتی۔ (النہی عن سب الاصحاب۔ للمقدسی)

حدیث نمبر ۳۲

عن ابن عباس ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال:”ان الله ايدنى باربعة وزراء: اثنين من اهل السماء جبريل وميكائيل واثنين من اهل الارض ابى بكر و عمر.“ اخرجه الخطيب و ابن عساكر والطبراني في معجمه الكبير.

ترجمہ: حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے:

بے شک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:

بے شک اللہ تعالیٰ نے چار وزیروں کے ذریعے میری مدد فرمائی ہے، ان میں سے دو آسمان والے، جبریل و میکائل ہیں اور دو اہل زمین میں سے ابوبکر وعمر (رضی اللہ عنہما) ہیں۔ (اسے خطیب، ابن عساکر اور طبرانی نے معجم کبیر میں روایت کیا)۔

حدیث نمبر ۳۳

عن ابی سعید ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: ” ان الله خير عبدا بین الدنيا و بین ما عنده فاختار ذلك العبد ما عند الله. فبکی

صفحہ ۸۶

ابوبكر فقال: ”يا ابابكر لا تبك ان أمن الناس على فى صحبته وماله ابوبكر، ولو كنت متخذا خليلا غير ربى لا تخذت ابابكر خليلا، ولكن اخوة الاسلام و مودته، لا يبقين فى المسجد باب الا سد، الا باب ابی بکر “ اخرجه مسلم وغيره.

ترجمہ: حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے: بے شک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: بے شک اللہ تعالیٰ نے ایک بندے کو دنیا و آخرت میں سے کسی ایک کے انتخاب کا اختیار دیا تو اس بندے نے جو کچھ اللہ کے پاس ہے (یعنی آخرت) اسے اختیار کیا۔ یہ سن کر حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ رونے لگے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اے ابوبکر ”رو مت بے شک لوگوں میں سے اپنے مال اور صحبت کے ساتھ مجھ پر سب سے زیادہ احسانات کرنے والا ابوبکر ہے اگر میں اپنے رب کے علاوہ کسی کو اپنا خلیل بناتا تو ابوبکر کو خلیل بناتا۔ لیکن (ہمارے درمیان) اسلامی محبت اور بھائی چارہ ہے مسجد نبوی شریف کی طرف کھلنے والا ہر دروازہ بند کر دیا جائے سوائے ابوبکر کے دروازہ کے۔ (اسے مسلم وغیرہ نے روایت کیا۔)

حدیث نمبر ۳۴

عن معاذ ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: ”ان الله تعالى يكره فى السماء ان يخطا ابوبكر الصديق.“ اخرجه الحارث بن ابي اسامة

ترجمہ: حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے: بے شک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: بے شک اللہ تعالیٰ آسمانوں میں اس بات کو ناپسند کرتا ہے کہ ابوبکر صدیق رضی

اللہ تعالیٰ عنہ کوئی غلطی کریں۔ (اسے حارث

حدیث نمبر ۳۵

عن انس ان رسول الله ص بحب ابی بکر و عمر كما ارجو له

ترجمہ: حضرت انس بن مالک رضی ال بے شک رسول اللہ صلی اللہ علیہ و میں اپنی امت سے ابوبکر و عمر ک رکھتا ہوں جیسے لا الہ الا اللہ کہنے کی امید رکھت

حدیث نمبر ۳۶

عن سمرة ان رسول الله ص الرؤيا، وان الرؤيا الصالحة حظ من ال

ترجمہ: حضرت سمرہ بن جندب رضی ال بے شک رسول اللہ صلی اللہ علیہ و بلاشبہ ابوبکر خواب کی تعبیر جانن ہیں۔ (اسے طبرانی نے معجم کبیر میں روایت کی

حدیث نمبر ۳۷

عن انس رضي الله عنه ان ر ”أراف امتى ابوبكر، واشدهم في واقضاهم علی بن ابی طالب، وافرض

صفحہ ۸۷

اللہ تعالیٰ عنہ کوئی غلطی کریں۔ (اسے حارث بن ابواسامہ نے روایت کیا ہے۔)

حدیث نمبر ۳۵

عن انس ان رسول الله صلی الله علیه وسلم قال: ”انی لارجو لامتی بحب ابی بکر و عمر کما ارجو لهم بقول لا اله الا الله.“ اخرجه الديلمی

ترجمہ: حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے: بے شک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: میں اپنی امت سے ابوبکر وعمر (رضی اللہ عنہما) کے ساتھ محبت رکھنے کی ایسی امید رکھتا ہوں جیسے لا الہ الا اللہ کہنے کی امید رکھتا ہوں۔ (اسے دیلمی نے روایت کیا ہے۔)

حدیث نمبر ۳۶

عن سمرة ان رسول الله صلی الله علیه وسلم قال: ”ان ابا بکر یؤول الرؤیا، وان الرؤیا الصالحة حظ من النبوة.“ اخرجه الطبرانی فی الکبیر.

ترجمہ: حضرت سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے: بے شک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: بلاشبہ ابوبکر خواب کی تعبیر جاننے والا ہے اور بے شک اچھے خواب نبوت کا جزء ہیں۔ (اسے طبرانی نے معجم کبیر میں روایت کیا ۔)

حدیث نمبر ۳۷

عن انس رضی الله عنه ان رسول الله صلی الله علیه وسلم قال: ”أراف امتی ابوبکر، واشدهم فی دین الله عمر، واصدقهم حياء عثمان، واقضاهم علی بن ابی طالب، وافرضهم زید بن ثابت، واقراهم لکتاب الله أبی

صفحہ ۸۸

بن كعب، واعلمهم بالحلال والحرام معاذ بن جبل، الا وان لكل امة وامين هذه الامة ابو عبيدة بن الجراح.“ اخرجه ابن عساكر وغيره.

ترجمہ: حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے: بے شک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:

میری امت میں سب سے بڑھ کر نرم مزاج ابوبکر ہیں اور دینی امور میں سب سے بڑھ کر سخت عمر ہیں اور سب سے بڑھ کر سچی حیا والا عثمان ہے اور سب سے بہتر فیصلہ کرنے والے علی ابی طالب ہیں اور فرائض کو سب سے زیادہ جاننے والے زید بن ثابت ہیں اور قرآن پاک کے سب سے بڑے قاری اُبی بن کعب ہیں اور حلال و حرام کا سب سے زیادہ علم رکھنے والے معاذ بن جبل ہیں۔ سن لو اور بے شک ہر امت کا ایک امین ہوتا ہے اور اس امت کا امین ابو عبیدہ ابن الجراح ہے۔ (اسے ابن عساکر وغیرہ نے روایت کیا ۔)

حدیث نمبر ۳۸

عن ابن مسعود ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: ”ان لكل نبى خاصة من اصحابه، وان خاصتى من اصحابى ابوبكر و عمر.“ اخرجه الطبرانى فى الكبير

ترجمہ: حضرت عبداللہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے: بے شک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:

بے شک ہر نبی کے اصحاب میں سے کچھ لوگ سرکردہ ہوتے ہیں اور بے شک میرے اصحاب میں سے سرکردہ ابوبکر و عمر (رضی اللہ عنہما) ہیں (اسے طبرانی نے معجم کبیر میں روایت کیا ۔)

حدیث نمبر ۳۹

عن ابن عمر ان رسول ا تنشق عنه الارض، ثم ابوبكر و معى، ثم انتظر اهل مكة فيحشرون م و قال حسن غريب.

ترجمہ: حضرت عبداللہ ابن عمر رضی اللہ بے شک رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سب سے پہلے اپنی قبر سے میں البقیع کی طرف جائیں گے اور اہل بقیع انتظار کروں گا اور وہ مجھ سے آملیں گے (اسے ترمذی نے روایت کیا اور کہا یہ حسن غری

حدیث نمبر ۴۰

عن انس ان رسول الله ص فى ابى بكر شيئا قال: نعم،قال: ”قل و

وثانی اثنین
طاف العدوّ
وکان حب رس
من البریة ل

فضحك رسول الله صل ”صدقت يا حسان هو كما قلت“ ا

صفحہ ۸۹

حدیث نمبر ۳۹

عن ابن عمر ان رسول الله صلی الله علیه وسلم قال: ”انا اول من تنشق عنه الارض، ثم ابوبکر و عمر، فنحشر فنذهب الی البقیع فیحشرون معی، ثم انتظر اهل مکة فیحشرون معی و نبعث بین الحرمین.“ اخرجه الترمذی و قال حسن غریب.

ترجمہ: حضرت عبداللہ ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے: بے شک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: سب سے پہلے اپنی قبر سے میں اٹھوں گا پھر ابوبکر اور پھر عمر۔ پھر ہم اکٹھے جنت البقیع کی طرف جائیں گے اور اہل البقیع ہمارے ساتھ شامل ہوں گے، پھر میں اہل مکہ کا انتظار کروں گا اور وہ مجھ سے آملیں گے اور پھر ہم حرمین کے مابین اٹھائے جائیں گے۔

(اسے ترمذی نے روایت کیا اور کہا یہ حسن غریب ہے۔)

حدیث نمبر ۴۰

عن انس ان رسول الله صلی الله علیه وسلم قال لحسان: ”هل قلت فی ابی بکر شیئا قال: نعم، قال: ”قل وانا أسمع“ فقلت:

وثانی اثنین فی الغار المنیف وقد
طاف العدو به إذ صاعد الجبلا
وکان حب رسول الله قد علموا
من البریة لم یعدل به رجلا

فضحک رسول الله صلی الله علیه وسلم حتی بدت نواجذه ثم قال: ”صدقت یا حسان هو کما قلت“ اخرجه ابن عدی و ابن عساکر.

صفحہ ۹۰

واعلم ان هذا الباب فيه احاديث كثيرة جدا، لكن هذه عجالة لمن احب الوقوف على ذلك، والحمد لله الملك المالك اولاً وآخراً وباطناً وظاهراً، وصلى الله على سيدنا محمد و على آله و صحبه و ازواجه و ذريته وسلم تسليما كثيرا دائما ابدا سرمدا الى يوم الدين، وحسبنا الله ثم الحمد لله والصلاة على رسوله.

تم الكتاب بعون الملك الوهاب

ترجمہ: حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے: بے شک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت حسان رضی اللہ عنہ سے فرمایا، کیا تم نے ابوبکر کے بارے میں کوئی شعر کہا ہے انہوں نے کہا: جی ہاں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پڑھو میں سنتا ہوں۔ حضرت حسان نے کہا:

وَثَانِيَ اثْنَيْنِ فِي الغَارِ المَنِيفِ وَقَدْ
طَافَ العَدُوُّ بِهِ إِذْ صَاعَدَ الجَبَلاً
وَكَانَ حِبَّ رَسُولِ اللّٰهِ قَدْ عَلِمُوا
مِنَ البَرِيَّةِ لَمْ يَعْدِلْ بِهِ الرَّجُلاً

مفہوم

اور جب دشمن ان کی تلاش میں پہاڑ پر چڑھے جبکہ وہ محاصرہ کئے ہوئے تھے اور ابوبکر غار (ثور) میں دو میں سے ایک تھے اور آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے محبوب تھے اور تمام صحابہ جانتے تھے کہ اس خصوصیت میں آپ کا کوئی شریک نہیں ہے۔ پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسکرائے یہاں تک کہ آپ کے پچھلے دندان مبارک دکھائی دینے لگے پھر فرمایا اے حسان! تم نے سچ کہا وہ ایسا ہی ہے جیسا تم نے کہا

صفحہ ۹۱

ہے۔ (اسے ابن عدی اور ابن عساکر نے روایت کیا ہے۔)

جان لو اس باب میں کثیر احادیث آئی ہیں لیکن یہ مختصر رسالہ اتنے ہی پر اکتفا کرنے والے کے لیے ہے۔ ہر قسم کی حمد اول و آخر، ظاہر و باطن، مالک الملک کے لیے ہے۔

وصلى الله على سيدنا محمد وعلى آله وصحبه وازواجه وذريته وسلم تسليماً كثيراً دائماً ابداً سرمدا. الى يوم الدين . وحسبنا الله ثم الحمد لله والصلاة على رسوله.

صفحہ ۹۲

تخریج حوالہ جات

(الروض الانیق)

کنز العمال، رقم: ۳۲۵۶۱

مختارہ، رقم: ۲۵۰۹-۲۵۱۰، معجم کبیر، رقم: ۲۲/۱۰۴

ابوداؤد فی السنہ، رقم: ۴۰۳۱۔فضائل الصحابہ لاحمد، رقم: ۸۵

رقم: ۳۶۰۴۔ فضائل الصحابۃ، امام احمد، رقم: ۲۸۲/۲۰۵۷

ابن عساکر، ۱۱۶/۳۰، عن جابر، کنز العمال، رقم: ۳۲۶۷۱

عمرو بن شعیب عن ابیہ عن جدہ وفیہ کادح بن رحمۃ ۔ قال ابن عدی: یروی الموضوعات عن الثقات ۔ الکامل ، ۸۳/۶ ۔ کنز العمال، رقم: ۳۳۰۶۱ کتاب المجروحین، ۲/۲۳۰، رقم: ۹۰۴

رقم: ۳۳۶۷۰۔ الفردوس الدیلمی، ۴۴۸/۱، رقم: ۱۷۸۷

رقم: ۳۴۶۴۵، جامع

کنز العمال، رقم: ۴

رقم: ۳۴۹۰

ابن عدی، ۱۴۲/۶

کنز العمال، رقم: ۳

ابن عساکر، ۸۲/۳

۷۲/۲، رقم: ۳۵۳

فضائل الخلفاء الر الکبیر للعقیلی

رقم: ۴۴۹۴

صفحہ ۹۳

حدیث نمبر ۸ الکامل ،رقم: ۲/۱۸۰،۳۶۸،العلل المتناہیہ ،۱/۱۹۸۔کنز العمال، رقم:۳۲۶۴۵،جامع الاحادیث والمراسیل،رقم:۲۲/۱۲۳

حدیث نمبر ۹ الکامل ،ج ۵،ص،۲۷۶۔مجمع الزوائد،۴۴/۹۔ کنز العمال ،رقم:۳۲۵۴۸

حدیث نمبر ۱۰ صحیح بخاری،مناقب،رقم:۳۴۸۳،صحیح مسلم،فضائل الصحابۃ، رقم:۴۴۹۰

حدیث نمبر ۱۱ کنز العمال ،رقم:۳۳۰۶۲

حدیث نمبر ۱۲ ابن عساکر،۳۰/ ۲۰۶،کنز العمال ،رقم:۳۲۶۸۲ ابن عدی،۱۳۲/۶۔ذخیرۃ الحفاظ،۲۱۲۶/۴

حدیث نمبر ۱۳ الفردوس بما ثورالخطاب،۱/ ۴۳۷،رقم:۱۷۸۰ کنز العمال ،رقم:۳۲۵۵۰

حدیث نمبر ۱۴ مسند الفردوس،۱/ ۴۳۸۔کنز العمال ،رقم:۱۷۸۱ ابن عساکر،۱۸۲/۳۔کنز العمال ،رقم:۳۲۶۸۶

حدیث نمبر ۱۵ الجامع الترمذی،مناقب ابی بکر وعمر ،رقم:۳۶۱۲۔مستدرک حاکم، ۶۴/۲،رقم:۴۴۵۳۔

حدیث نمبر ۱۶ الفردوس للدیلمی،۱/ ۴۳۷، رقم:۱۷۸۲۔کنز العمال ،رقم:۳۳۰۶۳ فضائل الخلفاء الراشدین الاصفہانی،رقم:۲۳۳۔عن جابر۔الضعفاء الکبیر للعقیلی

حدیث نمبر ۱۷ سنن ابوداؤد فی السنۃ ،رقم:۴۰۳۳۔مستدرک حاکم ،۳/ ۷۷، رقم:۴۴۹۳

صفحہ ۹۴

حدیث نمبر ۱۸ مسند الفردوس، ۴۰۳/۱، رقم: ۱۶۳۱۔ کنز العمال، رقم: ۳۲۵۸۸

حدیث نمبر ۱۹ ابن عساکر، ۱۲۹/۳۰ عن عبد اللہ بن عمرو بن عاص۔ فوائد تمام عن ابن عمرو بن عاص، رقم: ۱۳۷

حدیث نمبر ۲۰ فضائل الصحابۃ، ۱۵۲/۱، رقم: ۱۳۵۔ ابن عساکر، ۲۰۸/۳ کتاب المجروحین، ۱۳۵/۱۔ السنۃ لابن ابی عاصم، رقم: ۱۰۲۳ امالی ابن بشران، رقم: ۵۸۹

حدیث نمبر ۲۱ فضائل الصحابۃ لابی نعیم، ۲۰۶/۱، رقم: ۲۲۸-۱۹۴۔ عن ابی بکرۃ فضائل الصحابۃ لاحمد بن حنبل، رقم: ۱۹۷۔ کنز العمال، رقم: ۳۲۶۸۸۔ شرح مذاہب اہل السنۃ: لابن شاہین، رقم: ۱۵۳

حدیث نمبر ۲۲ صحیح بخاری فی المناقب والمغازی، رقم: ۳۴۸۹۔ صحیح مسلم، فضائل الصحابۃ، رقم: ۳۴۹۶

حدیث نمبر ۲۳ نوادر الاصول، ۱۶۶/۱۔ ابن عساکر، ۲۱۴/۳۰۔ کنز العمال، رقم: ۳۲۶۹۸

حدیث نمبر ۲۴ الجامع الترمذی، مناقب عمر، رقم: ۳۶۲۵۔ کنز العمال، رقم: ۳۲۶۹۸ میزان الاعتدال للذہبی، ۳۸۹/۲

حدیث نمبر ۲۵ صحیح مسلم، فضائل الصحابۃ: فضائل ابی بکر، رقم: ۳۴۹۹ مسند احمد، باقی مسند الانصار، رقم: ۲۳۹۶۱

حدیث نمبر ۲۶ الجامع الترمذی فی مناقب ابی بکر وعمر، رقم: ۳۵۹۵۔ (ترمذی نے اسے حسن کہا ہے) سنن ابن ماجہ، مقدمہ، رقم: ۹۴

حدیث نمبر ۲۷ مجمع الزوائد، ۵۳/۹۔ ابن عساکر، ۲۲۹/۳۰۔ کنز العمال،

رقم: ۳۲۶۴۹

حدیث نمبر ۲۸ ابونعیم، حلیۃ الاولیاء کنز العمال، رقم: ۳۰ ابن عدی، ۳۰/۳

حدیث نمبر ۲۹ ابن عساکر، ۳۰/ ۸

حدیث نمبر ۳۰ المجروحین، ۴۵/۱ الاحکام الصغریٰ،

حدیث نمبر ۳۱ ذخیرۃ الحفاظ، ۱/

حدیث نمبر ۳۲ ابن عساکر، ۳۰/ ۴۰ مجمع الزوائد، ۹/ ۵۱

حدیث نمبر ۳۳ صحیح بخاری فی المناقب رقم: ۳۴۹۰

حدیث نمبر ۳۴ مسند الحارث، کتاب رقم: ۹۴۶ مجمع الزوائد، ۹/ ۴۶ رقم: ۳۲۶۳۱

حدیث نمبر ۳۵ مسند الفردوس، المجلد

حدیث نمبر ۳۶ مجمع الزوائد، ۷/ ۴

حدیث نمبر ۳۷ ابن عساکر، ۶/۲۵

حدیث نمبر ۳۸ مجمع الزوائد، ۹/ ۵۲

صفحہ ۹۵

رقم: ۳۲۶۴۹

حدیث نمبر ۲۸ ابونعیم، حلیۃ الاولیاء، فضائل الصحابۃ، ۱/ ۲۲۵، رقم: ۲۸۸ کنز العمال، رقم: ۳۳۱۲۵۔ المجروحین، ۱/ ۳۴۵، رقم: ۳۴۳ ابن عدی، ۳/ ۳۰

حدیث نمبر ۲۹ ابن عساکر، ۳۰/ ۲۱۸۔ کنز العمال ۳۲۵۵۲

حدیث نمبر ۳۰ المجروحین، ۱/ ۵۳۵۔ تاریخ بغداد، ۳/ ۳۸۱۔ ابن عساکر، ۳۰/ ۲۰۷ الاحکام الصغریٰ، رقم: ۹۰۵، قال (صحیح الاسناد)

حدیث نمبر ۳۱ ذخیرۃ الحفاظ، ۱/ ۵۷۱۔ کنز العمال، رقم: ۳۳۱۰۲

حدیث نمبر ۳۲ ابن عساکر، ۳۰/ ۱۲۰۔ فضائل الصحابۃ لاحمد، رقم: ۱۰۵ مجمع الزوائد، ۹/ ۵۱۔ کنز العمال، رقم: ۳۲۶۵۸

حدیث نمبر ۳۳ صحیح بخاری فی المناقب، رقم: ۳۳۸۱۔ صحیح مسلم فی الفضائل، رقم: ۲۳۹۰

حدیث نمبر ۳۴ مسند الحارث، کتاب المناقب، باب: فضل ابی بکر الصدیق، رقم: ۹۴۶ مجمع الزوائد، ۹/ ۴۶۔ ابن عساکر، ۳۰/ ۱۴۰۔ کنز العمال، رقم: ۳۲۶۳۱

حدیث نمبر ۳۵ مسند الفردوس للدیلمی، ۱/ ۵۹، رقم: ۱۶۸۔ کنز العمال، رقم: ۳۲۷۰۲

حدیث نمبر ۳۶ مجمع الزوائد، ۷/ ۱۷۳۔ کنز العمال، رقم: ۳۲۵۵۲

حدیث نمبر ۳۷ ابن عساکر، ۲۵/ ۳۵۶۔ مجمع الزوائد، رقم: ۹۱۹۴۱

حدیث نمبر ۳۸ مجمع الزوائد، ۹/ ۵۲۔ کنز العمال، رقم: ۳۲۶۵۹۔ المعجم الکبیر، ۱۰/ ۷۷

صفحہ ٩٦

رقم: ۱۰۰۰۹۔ لسان المیزان، ۳۶۵/۳، رقم: ۱۴۶۳۔ الفردوس للدیلمی، ۳۴۴/۳، رقم: ۵۰۰۵ حدیث نمبر ۳۹ الجامع الترمذی، ۱۹۴/۱۰، رقم: ۳۸۴۷ حدیث نمبر ۴۰ مستدرک حاکم عن حبیب ابن ابی حبیب، ۶۷/۲، رقم: ۴۴۲۴

صفحہ ۹۷

الحمد لله و باسمه تعالىٰ و الصلوٰة و السَّلامُ علىٰ حبيبه الاعلىٰ

اصول الرفق

فی الحصول على الرّزق

(حصول رزق کے آسان طریقے)

تالیف

امام جلال الدین عبدالرحمٰن بن ابی بکر السیوطی رحمۃ اللہ تعالیٰ

مترجم

علامہ محمد شہزاد مجددی

دارالاخلاص لاہور

صفحہ ۹۸

بسم اللہ الرحمن الرحیم

فصل اول:

اذکار اور دعائیں

قال رسول الله ﷺ: (من البسہُ اللہُ نعمة فليكثر من الحمد لله ، ومن كثرت ذنوبه فليكثر من الاستغفار ، و من ابطأ عليه رزقه ، فليكثر من لا حول ولا قوة الا بالله)۔

ترجمہ: امام طبرانی (رحمۃ اللہ علیہ) نے ”معجم الاوسط“ میں حضرت ابوھریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے کہ، رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:

جس شخص کو اللہ تعالیٰ نے نعمت سے نوازا ہو تو وہ الحمد للہ کی کثرت کرے، اور جس کے گناہ زیادہ ہوں وہ استغفار کی کثرت کرے، جس کا رزق تنگ ہو وہ لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ کی کثرت کرے۔

:قال رسول الله ﷺ : من لزم الاستغفار جعل الله له من كل ضيق فرجاً ومن كل هم مخرجاً ، و رزقه من حيث لا يحتسب ) ۔

ترجمہ: امام احمد، ابو داؤد اور ابن ماجہ (رحمہم اللہ) نے حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کیا ہے انھوں نے فرمایا: رسول اللہ ﷺ کا فرمان ہے: جس نے استغفار کو لازم پکڑا اللہ تعالیٰ اسے ہر تنگی بے حساب رزق سے نوازے گا۔

في (مسنديهما) و ابن مردوي ابن مسعود رضى الله عنه ق الواقعة، في كل ليلة، لم تصبه

ترجمہ: امام ابوعبید (رحمۃ اللہ ع اور ابو یعلیٰ (رحمہما اللہ ) نے اپنی تفسیر میں اور امام بیہقی (رحمۃ اللہ مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روا ﷺ کو فرماتے سنا: جس نے ہر رات

سورة الغنى، فاقرؤوها ، و علم

ترجمہ: ابن مردویہ (رحمۃ اللہ ع نے رسول اللہ ﷺ سے روایت سورہ واقعہ مال و دولت ک اولاد کو یہ سورت سکھاؤ۔

ﷺ قال: ( لما اهبط الل فالهمهُ اللهُ هذا الدعاء

صفحہ ٩٩

کو لازم پکڑا اللہ تعالیٰ اسے ہر تنگی میں خوشحالی اور غم سے چھٹکارا عطا فرمائے گا اور اسے بے حساب رزق سے نوازے گا۔

فى (مسند يهما) و ابن مردويه فى ( تفسيره) والبيهقى فى(شعب الايمان )عن ابن مسعود رضى الله عنه قال: سمعت رسول الله ﷺيقول :( من قرأ سورة الواقعة، فى كل ليلة، لم تصبه فاقة)

ترجمہ: امام ابو عبید (رحمۃ اللہ علیہ) نے ”فضائل القرآن“ میں اور حارث ابن ابی اسامہ اور ابو یعلیٰ (رحمہما اللہ) نے اپنی اپنی مسند میں اور امام ابن مردویہ (رحمۃ اللہ علیہ) نے اپنی تفسیر میں اور امام بیہقی (رحمۃ اللہ علیہ) نے ”شعب الایمان“ میں حضرت سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کیا ہے: انھوں نے بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا: جس نے ہر رات سورہ واقعہ پڑھی اسے فاقہ نہیں آئے گا۔

سورة الغنى، فَاقْرَؤُوْهَا ، و علِّمُوْها اولادكم۔

ترجمہ: ابن مردویہ (رحمۃ اللہ علیہ) نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے اور انھوں نے رسول اللہ ﷺ سے روایت کیا کہ آپ ﷺ نے فرمایا: سورہ واقعہ مال و دولت (بڑھانے) والی سورت ہے تو اس کی تلاوت کرو اور اپنی اولاد کو یہ سورت سکھاؤ۔

ﷺقال : ( لما اهبط اللّٰه آدم الى الارض ، قام الى الكعبة ، فصلى ركعتين، فالهمهُ اللّٰه هذا الدعاء ، وهو : (اللّٰهُمَّ اِنَّكَ تَعْلَمُ سِرِّيْ وَعَلَانِيَّتِيْ ، فَاقْبَلْ

صفحہ ١٠٠

مَعْذِرَتِی ، وَتَعْلَمُ حَاجَتِی ، فَأَعْطِنِی سُؤْلِی ، وَتَعْلَمُ مَا فِی نَفْسِی فَاغْفِرْلِی ذَنْبِی . اَللّٰهُمَّ إِنِّی أَسْأَلُكَ إِيْمَاناً يُبَاشِرُ قَلْبِی وَ يَقِيْناً صَادِقاً ، حَتَّى أَعْلَمُ أَنَّهُ لَا يُصِيْبُنِی إِلَّا مَا كَتَبْتَ لِی ، وَ رَضِّنِی بِمَا قَسَّمْتَ لِی )

فأَوْ حَى اللّٰه اليه ، قد قبلت توبتک و غفرت لک ذنبک ، و لن يد عونی احد بهذا الدعاء الا غفرت له ذنبه ، و كفيته من امره و زجرت عنه الشيطان ، و اقبلت اليه الدنيا راغمة وان لم يردها) ولہ شواهدٌ من حديث بريدة اخرجه البيهقى۔

ترجمہ: امام طبرانی (رحمۃ اللہ علیہ) نے ”معجم الاوسط“ میں ام المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے اور انھوں نے نبی ﷺ سے روایت کیا کہ آپ ﷺ نے فرمایا :جب حضرت آدم علیہ السلام کو زمین پر اتارا گیا تو وہ کعبہ کی طرف رخ کر کے کھڑے ہوئے ، پھر دو رکعت نماز ادا کی تو انھیں اللہ تعالیٰ نے یہ دعا الہام فرمائی:

” اَللّٰهُمَّ إِنَّكَ تَعْلَمُ سِرِّی وَعَلَانِيَتِی ، فَاقْبَلْ مَعْذِرَتِی ، وَتَعْلَمُ حَاجَتِی ، فَأَعْطِنِی سُؤْلِی ، وَتَعْلَمُ مَا فِی نَفْسِی فَاغْفِرْلِی ذَنْبِی . اَللّٰهُمَّ إِنِّی أَسْأَلُكَ إِيْمَاناً يُبَاشِرُ قَلْبِی وَيَقِيْناً صَادِقاً ، حَتَّى أَعْلَمُ أَنَّهُ لَا يُصِيْبُنِی إِلَّا مَا كَتَبْتَ لِی ، وَ رَضِّنِی بِمَا قَسَّمْتَ لِی ۔

ترجمہ: اے اللہ بے شک تو میرے پوشیدہ اور ظاہر کو جانتا ہے پس میرا عذر قبول فرما اور تو میری حاجت کو جانتا ہے تو مجھے میری طلب (کردہ ضروریات) عطا فرما! اور جو کچھ میرے دل میں ہے تو اسے جانتا ہے پس میرے گناہ کو معاف فرما! اے اللہ میں تجھ سے وہ ایمان مانگتا ہوں جو میرے دل پر چھا جائے اور سچا یقین طلب کرتا ہوں یہاں تک کہ میں جان جاؤں کہ مجھے صرف وہی کچھ مل سکتا ہے جو تو نے میرے لیے لکھ دیا ہے اور میں اس پر راضی ہو جاؤں جو تو نے میرے لیے مقرر فرما دیا ، تو اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف وحی فرمائی کہ

بے شک میں نے تمہاری توبہ قبول فر

دعا کے ساتھ مجھے پکارے گا تو میں

اسے کفایت کروں گا اور شیطان

اگر چہ وہ اس کا ارادہ نہ بھی رکھتا

موجود ہیں)

٢۔ واخرج الخطيب و ابو

الفردوس عن علی قال : قا

لا اله الا الله الملك الح

القبر) ۔

ترجمہ: خطیب بغدادی رحمہ

اللہ علیہ نے ”مسند الفردوس“

اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: جس

المبين“ پڑھا تو وہ فقر وفاقہ سے

۷۔ واخرج الطبرانی

الاخلاص حين يدخل بي

الجيران)۔

☆ خطیب بغدادیؒ نے ”تار

كان له امانا من الفقر وا

الجنة۔ قال الفضل بن غانم :

ترجمہ: یہ اس کے لیے فقر سے ام

محفوظ رکھے گا اور اسی کے ساتھ وہ

صفحہ ۱۰۱

بے شک میں نے تمہاری توبہ قبول فرمالی اور تمہاری لغزش کو معاف کر دیا اور جو کوئی بھی اس دعا کے ساتھ مجھے پکارے گا تو میں اس کے گناہ بھی بخش دوں گا اور اس کے معاملات میں اسے کفایت کروں گا اور شیطان کو اس سے دور رکھوں گا اور دنیا کو اس کے تابع کر دوں گا اگر چہ وہ اس کا ارادہ نہ بھی رکھتا ہو۔ (امام بیہقی کی نقل کردہ حدیث بریدہ میں اس کے شواہد موجود ہیں )

الفردوس عن على قال : قال رسول الله ﷺ : ( من قال فى كلّ يوم ، مائة مرّة لا اله الا الله الملك الحق المبين ، كان له اماناً من الفقر ، وانساً من وحشة القبر ) ۔

ترجمہ: خطیب بغدادی رحمۃ اللہ علیہ، ابو نعیم (رحمۃ اللہ علیہ ) اور ابو شجاع الدیلمی (رحمۃ اللہ علیہ ) نے ”مسند الفردوس“ میں حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: جس شخص نے روزانہ سو بار ”لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ الْمَلِكُ الْحَقُّ الْمُبِيْن“ پڑھا تو وہ فقر و فاقہ سے محفوظ اور قبر کی تنہائی میں مطمئن رہے گا۔ ٭

الاخلاص حين يدخل منزله، نفت الفقر عن اهل ذلك المنزل ، و عن الجيران) ۔

كان له امانا من الفقر واستجلب به الغنى وامن من وحشة القبر و استقرع به باب الجنة ۔ قال الفضل بن غانم والله لو ذهب الى اليمن فى هذا الحديث كان قليلاً۔ ترجمہ: یہ اس کے لیے فقر سے امان کا ذریعہ بنے گا اور دولت مندی لائے گا اور اسے قبر کی وحشت سے محفوظ رکھے گا اور اسی کے ساتھ وہ جنت کے دروازہ پر دستک دے گا۔

صفحہ ۱۰۲

حضرت فضل بن غانم علیہ الرحمہ فرماتے ہیں: اللہ کی قسم! اگر اس حدیث کے لیے یمن کا سفر بھی کرنا پڑتا تو کم تھا۔

ترجمہ: امام طبرانی (رحمۃ اللہ علیہ) نے سیدنا عبداللہ ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کیا ہے انھوں نے بیان کیا کہ آپ ﷺ نے فرمایا : جس نے گھر میں داخل ہوتے ہوئے سورہ اخلاص تلاوت کی تو اس گھر میں رہنے والوں اور ان کے ہمسایوں سے فقر وفاقہ دور ہو جائے گا۔

ان جعلت صلاتی كُلَّھا عَلَیْکَ ؟ قال : (اذن يكفیک الله ما اهمّک من دنیاک و آخرتک )۔

ترجمہ: امام احمد بن حنبل (علیہ الرحمہ) نے بہترین سند کے ساتھ حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے، انھوں نے بیان کیا کہ ایک شخص نے کہا یا رسول اللہ ﷺ اگر میں اپنا تمام تر وظیفہ آپ پر درود بھیجنے ہی کو بنالوں تو آپ کیا فرمائیں گے تو آپ ﷺ نے فرمایا ایسی صورت میں اللہ تعالیٰ تمہاری دنیا اور آخرت کی ہر ضرورت میں تمہارے لیے کافی ہوگا۔

رسول ﷺ کان یقول : ( اللهم اجعل اوسع رزقک عَلَیَّ عند کبر سِنِّیْ ، وانقضاء عمری)۔

ترجمہ: امام طبرانی (رحمۃ اللہ علیہ) نے ”معجم الاوسط“ میں ایسی سند کے ساتھ جسے امام ہیثمی (رحمۃ اللہ علیہ) نے حسن کہا ہے کے ساتھ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت کیا ہے، بے شک رسول اللہ ﷺ یوں پڑھا کرتے تھے : ” اَللّٰهُمَّ اجْعَلْ أَوْسَعَ

صفحہ ١٠٣

رِزْقِكَ عَلَىَّ عِنْدَ كِبَرِ سِنِّيْ ، وَانْقِضَاءِ عُمُرِيْ“ ترجمہ: اے اللہ میرے بڑھاپے اور انجام حیات کے وقت اپنے رزق کو میرے لیے وسیع فرمادے۔

رسول الله ﷺ : ( الا ادلكم على ما ينجيكم من عدوّكم ، ويدرّ لكم ارزقكم تدعون الله في ليلكم و نهاركم ، فانّ الدّعاء سلاح المومن)۔

ترجمہ: امام مستغفری (رحمۃ اللہ علیہ) نے ”الدعوات“ میں حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے انھوں بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: کیا میں تمہیں اس چیز سے آگاہ نہ کروں جو تمہیں تمہارے دشمن سے نجات دے اور تمہیں تمہارا رزق پہنچائے؟ اپنی رات اور اپنے دن میں اللہ سے دعا مانگا کرو کہ بے شک دعا مومن کا اسلحہ (ہتھیار) ہے۔

صلاة الفجر : ( اللهمّ انى اسالك رزقاً طيّباً ، وعلماً نافعاً ، وعملاً متقبّلاً)۔

ترجمہ: حضرت ام المومنین ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ انھوں نے فرمایا، کہ رسول اللہ ﷺ نماز فجر کے بعد یہ دعا فرماتے تھے: ( اَللّٰهُمَّ اِنّيْ أَسْأَلُكَ رِزْقاً طَيِّباً، وَعِلْماً نَافِعاً ، وَ عَمَلاً مُّتَقَبَّلاً “

ترجمہ: ”اے اللہ میں تجھ سے پاکیزہ رزق، نفع بخش علم اور مقبول عمل (کی توفیق) مانگتا ہوں“۔

فوقف في باب المسجد ، فقال: اَللّٰهُمَّ إِنِّیْ أَجَبْتُ دَعْوَتَكَ ، وَصَلَّيْتُ

صفحہ ۱۰۴

فَرِيضَتَكَ ، وَ انْتَشَرْتُ لِمَا اَمَرْتَنِي فَارْزُقْنِي مِنْ فَضْلِكَ وَ أَنْتَ خَيْرُ الرَّازِقِينَ۔

ترجمہ: امام مستغفری (رحمۃ اللہ علیہ) نے انس ابن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے کہ وہ نماز جمعہ ادا کر کے واپس لوٹتے تو مسجد کے دروازے پر کھڑے ہو کر یہ دعا مانگتے ” اے اللہ میں نے تیری پکار پر لبیک کہا اور تیرا فرض ادا کیا اور جب تو نے مجھے حکم دیا تو میں پلٹ آیا پس مجھے اپنا فضل عطا فرما کہ تو بہترین رزق عطا فرمانے والا ہے۔

١٣۔ واخرج البخارى فى ( الادب المفرد) والبزّار و الحاكم و صحّحه ، عن عبدالله بن عمر انّ النبىّ ﷺ قال: ( انّ نوحاً عليه السّلام لمّا حضرته الوفاة : قال لابنه: آمرك باثنين ،لا اله الاالله ، و سُبحان اللّهِ وَ بِحَمْدِهِ ، فانّها صلاة كلّ شىء و بها يرزق كلّ شىء )۔

ترجمہ: امام بخاری (رحمۃ اللہ علیہ) نے ”الادب المفرد“ میں اور بزار نے (مسند میں) جبکہ حاکم نے مع تصحیح حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کیا ہے کہ بے شک نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا: کہ جب نوح علیہ السلام کی وفات کا وقت قریب آیا تو انھوں نے اپنے بیٹے سے کہا کہ میں تمہیں دو چیزوں کا حکم دیتا ہوں ”لا الہ الا اللہ اور سُبحان اللہ وبحمدہ ، کیونکہ بے شک یہ ہر چیز کا وظیفہ ہے اور اسی کے سبب ہر چیز کو رزق ملتا ہے۔

١٤۔ واخرج المستغفرى عن جابر بن عبدالله قال: قال ﷺ : ( الا آمركم بما امر به نوح ابنه ، ان يقول : سبحان الله و بحمده ، فانّ كلّ شىءٍ يسبّح بحمده ، و هى صلاة الخلق ، وبها يرزقون)

ترجمہ: امام المستغفری (رحمۃ اللہ علیہ) نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کی روایت نقل کی ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا کیا میں تمہیں وہ کام کرنے کا حکم نہ دوں جس کا حکم نوح علیہ السلام نے اپنے بیٹے کو دیا تھا کہ وہ یہ پڑھے ”سُبحانَ اللّٰہِ وَبِحمدِہ“

صفحہ ۱۰۵

بے شک ہر چیز اس کی تسبیح و تعریف کرتی ہے اور یہ ساری مخلوق کا وظیفہ ہے اور اسی کی برکت سے انھیں رزق ملتا ہے۔

۱۵۔ واخرج المستغفرى عن ابن عمر : ان رجلا قال : يا رسول الله ، قلّت ذات يدى فقال : ( اين انت من صلاة الملائكة ، و تسبيح الخلائق؟ قل سبحان اللّٰه و بحمده ، سبحان اللّٰه العظيم ، استغفراللّٰه ، مائة مرةٍ ما بين طلوع الفجر الى صلاة الصبح ، تاتک الدّنيا راغمة صاغرة) ۔

ترجمہ: امام مستغفری (رحمۃ اللہ علیہ) عبداللہ ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں ایک شخص نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ میں تنگ دست ہوں تو آپ ﷺ نے فرمایا تم فرشتوں کی دعا اور مخلوق کی تسبیح سے کیوں غافل ہو پڑھو سُبحَانَ اللّٰهِ وَبِحَمْدِهِ ، سُبحَانَ اللّٰهِ العَظِيم ، اَستَغفِرُ اللّٰه ، صبح صادق سے نماز فجر تک سو مرتبہ اس کا ورد کرو، دنیا مسخر اور تابع ہو کر تمہارے پاس حاضر ہو جائے گی۔

۱۶۔ واخرج المستغفرى عن هشام بن عروة بن الزبير ان عمر بن الخطاب اصابته مصيبة ، فاتى رسول اللّٰه ﷺ فشكا اليه ذلک ، وسال ان يامر له بوسق☆ من تمر ، فقال عليه السلام : ( ان شئت امرت لک بوسق ، وان شئت علمتک كلماتٍ هي خير لک منه ، قل : اللهم احفظنى بالاسلام قاعداً ، وا حفظنى بالاسلام راقداً ، ولا تطمع فى عدوّاً ولا حاسدا ، او اعوذبک من شرّ ما انت آخذ بنا صيته ، و اسالک من الخير الذى بيدک) ۔

ترجمہ: امام مستغفری (رحمۃ اللہ علیہ) ہشام بن عروہ (رحمۃ اللہ علیہ) اور وہ عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں ایک بار سیدنا عمر ابن الخطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو کوئی پریشانی لاحق ہوئی، وہ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور اپنی پریشانی

☆وسق: پیمانہ رائج الوقت کے مطابق اس سے مراد ایک سو بیس کلوگرام ہے۔

صفحہ ١٠٦

کا اظہار کیا اور گزارش کی کہ انھیں ایک بوری کھجوریں دلوا دی جائیں تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا اگر تم چاہو تو میں تمہارے لیے ایک بوری کھجوروں کا حکم دوں اور اگر تم چاہو تو تمہیں کچھ ایسے کلمات سکھا دوں جو تمہارے لیے اس سے بہتر ہوں پڑھو:

اَللّٰهُمَّ احْفَظْنِيْ بِالْاِسْلَامِ قَاعِداً ، وَا حْفَظْنِيْ بِالْإِ سْلَامِ رَا قِداً ، وَلَا تُطْمِعْ فِيَّ عَدُوّاً وَّلَا حَاسِداً ، وَاَعُوْذُ بِكَ مِنْ شَرِّ مَا اَنْتَ آخِذٌ بِنَاصِيَتِهِ، وَ اَسْأَلُكَ مِنَ الْخَيْرِ الَّذِيْ بِيَدِكَ)۔

ترجمہ: اے اللہ حالتِ حضر میں اسلام کے ساتھ میری حفاظت فرما اور حالتِ سفر میں بھی اسلام کے ساتھ میری حفاظت فرما اور میرے معاملے میں دشمن اور حاسد کو طمع کرنے والا نہ بنا اور جس چیز کی پیشانی بھی تیرے قبضہ قدرت میں ہے میں اس کے شر سے تیری پناہ مانگتا ہوں اور تجھ سے وہ بھلائی مانگتا ہوں جو تیرے دستِ قدرت میں ہے۔

خمسمائة شاةٍ و رعاتها ، اهبها لك ، او خمس كلمات تدعوبهن ؟ قل : اللهم اغفر لى ذنبى ، وطيب لى كسبى ، و وسع لى فى خلقى ، ولا تمنعنى مما قضيت لى به ولا تذهب نفسى الى شىء صَرَفْتَهُ عَنِّى)۔

ترجمہ: امام مستغفری (رحمۃ اللہ علیہ) نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت کیا، انھوں نے بیان کیا کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ان دو میں سے تمہیں کیا زیادہ محبوب ہے کہ میں تمہیں پانچ سو بکریاں اور ساتھ ان کا چرواہا عطا کروں یا پانچ کلمات بتاؤں جن کے ساتھ تم دعا مانگو کہو: ”اَللّٰهُمَّ اغْفِرْلِيْ ذَنْبِيْ ، وَطَيِّبْ لِيْ كَسْبِيْ ، وَ وَسِّعْ لِيْ فِيْ خُلُقِيْ ، وَلَا تَمْنَعْنِيْ مِمَّا قَضَيْتَ لِيْ بِهِ وَلَا تَذْهَبْ نَفْسِيْ إِلَى شَيْءٍ صَرَفْتَهُ عَنِّى)۔

ترجمہ: اور میری روزی کو میرے لیے پاک کر دے اور میرے اخلاق میں میرے لیے

صفحہ ١٠٧

وسعت عطا فرما اور جو کچھ تو نے میرے لیے مقدر فرمایا ہے اس کو مجھ سے نہ روک اور جس چیز کو تو نے مجھ سے پھیر دیا ہے میرے نفس کو اس کی طرف مائل نہ فرما‘۔

قال لی ابی : الا اعلمک دعاءً علمنی ایاه رسول الله ﷺ ؟ وقال : ( کان عیسی بن مریم ، عليه السلام يعلّمه الحوارييّن ، ولو کان علیک مثل احد ديناً لقضاه الله عنک ؟ قلت : بلی ، قال : قولى:اللهمّ كاشف الكرب، مجيب دعوة المضطر ، رحمن الدنيا والآخرة و رحيمهما ، انت ترحمنی ، فارحمنی ، رحمة تغنينى بها عمّن سواک).قال ابو بکر : ( وکانت علیّ صبابة من دين ، وكنت للدّين کارهاً ، فلم البث يسيرا حتّی اتانی الله بفائدة، قضى الله بها ماکان علیّ من دین )

قالت عائشة :(وکان علیّ لا مرأة دين، و كنت استحی منها ، و كنت ادعو بذلك ، فما لبثت الا يسيرا حتّی جاء نى الله برزق من غير ميراث ولا صدقة ، فقضيته)۔

ترجمہ: امام بزار، حاکم اور بیہقی (رحمہم اللہ تعالیٰ علیہم) نے ”الدعوات“ میں حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت کیا ہے وہ فرماتی ہیں کہ مجھ سے میرے والد گرامی (صدیق اکبر رضی اللہ عنہ) نے فرمایا کیا میں تمہیں وہ دعا نہ سکھاؤں جو خود رسول اللہ ﷺ نے سکھائی تھی اور فرمایا:

کہ عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام اپنے حواریوں کو یہ سکھاتے تھے اور اگر تم پر احد پہاڑ کے برابر قرض ہو تو اللہ اسے تم پر سے اتار دے گا میں نے کہا جی ضرور تو انھوں نے فرمایا یوں کہو: ”اَللّٰهُمَّ كَاشِفَ الْكَرْبِ ، مُجِيْبَ دَعْوَةِ الْمُضْطَرِّ ، رَحْمٰنَ الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ وَ رَحِيْمَهُمَا ، اَنْتَ تَرْحَمُنِيْ، فَارْحَمْنِيْ رَحْمَةً تُغْنِيْنِيْ بِهَا عَمَّنْ سِوَاكَ“

صفحہ ۱۰۸

ترجمہ : اے اللہ تکلیف کو دور کرنے والے اور بے چین کی دعا سننے والے، اے دنیا و آخرت میں رحمان و رحیم تو ہی مجھ پر رحم کرنے والا ہے تو مجھ پر رحم فرما، ایسی رحمت جو مجھے تیرے غیر سے بے نیاز کر دے“۔ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ مجھ پر کچھ قرض باقی تھا اور میں مقروض ہونے کو ناپسند کرتا تھا تو کچھ ہی عرصہ گذرا تھا، ادا ہو گیا ، حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ مجھ پر ایک خاتون کا قرض تھا اور میں اس سے شرمایا کرتی تھی جب میں نے یہ دعا پڑھی تو کچھ عرصہ میں اللہ تعالیٰ نے مجھے صدقہ و وراثت کے علاوہ ایسا مال عطا فرمایا جس سے میں نے اپنا قرض ادا کر دیا۔

رأی ابا امامة فقال له : ( مالك ؟) قال : هموم لزمتنی ، ودیون یا رسول اللہ ﷺ فقال ﷺ : ( افلا اعلمک کلاماً ، اذاقلته ، اذهب اللہ عنک همک ، وقضی عنک دینک ، قل ، اذا اصبحت ، واذا امسیت : اللهم اعوذبک من الهم و الحزن ، و اعوذبک من العجز والكسل ، واعوذبک من الجبن والبخل، واعوذبک من غلبة الدين ، وقهر الرجال ) قال فقلت ذلک ، فذهب اللہ همّی ، و قضی عنی دینی )

ترجمہ : امام ابو داؤد اور امام بیہقی (رحمہما اللہ) نے ”الدعوات“ میں ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت کیا بلاشبہ نبی ﷺ نے حضرت ابوامامہ رضی اللہ عنہ کو دیکھ کر استفسار فرمایا تمہیں کیا ہوا ہے؟ انھوں نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ مجھے رنج و آلام اور قرض نے جکڑ لیا ہے آپ ﷺ نے فرمایا کیا میں تمہیں وہ کلام نہ سکھاؤں کہ جب تم اسے پڑھو تو اللہ تعالیٰ تم سے تمہارا غم دور کر دے اور تم پر سے قرض کا بار اتار دے، تم صبح و شام یہ دعا پڑھا کرو: اللَّهُمَّ اَعُوْذُبِكَ مِنَ الْهَمِّ وَ الْحُزْنِ ، وَ اَعُوْذُبِكَ مِنَ الْعَجْزِ وَالْكَسَلِ ،

صفحہ ١٠٩

وَ اَعُوْذُبِكَ مِنَ الْجُبْنِ وَالْبُخْلِ، وَاَعُوْذُبِكَ مِنْ غَلَبَةِ الدَّيْنِ، وَقَهْرِ الرِّجَالِ“ ترجمہ: اے اللہ میں رنج وغم سے تیری پناہ مانگتا ہوں اور عاجزی وکاہلی سے تیری پناہ مانگتا ہوں اور بزدلی اور بخل سے تیری پناہ مانگتا ہوں اور قرض کے غلبہ اور لوگوں کی دشمنی سے تیری پناہ مانگتا ہوں“ حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں میں نے یہ پڑھا تو اللہ تعالیٰ نے میرا غم دور کر دیا اور میرا قرض ادا کر دیا۔

۲۰۔ واخرج البیہقی عن علیّ : ان مکاتباً اتاہ فقال : اعنّی فی مکاتبتی ، فقال: الا اعلمک کلمات ، علمنیہنّ رسول اللّٰہ ﷺ ، لو کان علیک مثل احدٍ دینا لا دّاہ اللّٰہ عنک ، قُلْ : اَللّٰهُمَّ اكْفِنِیْ بِحَلَالِكَ عَنْ حَرَامِكَ ، وَ اَغْنِنِیْ بِفَضْلِكَ عَمَّنْ سِوَاكَ ۔ ترجمہ: امام بیہقی (رحمۃ اللہ علیہ) حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ ایک زرخرید غلام ان کے پاس آیا اور کہنے لگا میرے معاہدہ کے معاملہ میں میری مدد فرمائیے، حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا میں تمہیں وہ کلمات نہ سکھاؤں جو خود رسول اللہ ﷺ نے تعلیم فرمائے تھے اگر تم پر اُحد پہاڑ کے برابر قرض ہو گا تو اللہ تعالیٰ اسے تم پر سے اتار دے گا پڑھو ” اَللّٰهُمَّ اكْفِنِیْ بِحَلَالِكَ عَنْ حَرَامِكَ ، وَ اَغْنِنِیْ بِفَضْلِكَ عَمَّنْ سِوَاكَ ۔ ترجمہ: اے اللہ مجھے حرام سے بچا کر حلال کے ذریعے کفایت فرما اور مجھے اپنے فضل سے اپنے غیر سے بے نیاز فرما۔

۲۱۔ واخرج المستغفری عن علیّ: انّ فاطمۃ اتت رسول اللّٰہ ﷺ ، فقالت: هذه الملائکۃ طعامها التهلیل و التسبیح و التحمید والتمجید ، فما طعامنا؟ فقال ﷺ: (والّذی بعثنی بالحقّ ما اقتبس فی آل محمد نارٌ منذ ثلاثین يوما ، ولقد اتتنا اعنز ، فان شئت ، امرنا لک بخمسۃ اعنز ،وان شئت ، علمتک خمس کلماتٍ ، علمنیها جبریل علیہ السلام ، قولی : یا اوّل الاوّلین ، ویا آخر

صفحہ ۱۱۰

الْآخِرِينَ ، وَيَا ذَا الْقُوَّةِ الْمَتِينِ ، وَيَا رَاحِمَ الْمَسَاكِينِ ، وَيَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِينَ ) .

ترجمہ: امام مستغفری (رحمۃ اللہ علیہ) نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت کیا کہ حضرت سیدہ فاطمۃ الزہرا رضی اللہ عنہا رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور عرض کیا یہ جو فرشتے ہیں ان کی غذا تو تسبیح و تہلیل اور تحمید و تمجید ہے تو پھر ہماری غذا کیا ہے؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا: قسم ہے اس ذات کی جس نے مجھے حق کے ساتھ مبعوث فرمایا کہ ہمارے گھر والوں نے ایک ماہ سے چولہا نہیں جلایا، ہمارے پاس کچھ بکریاں آئی ہیں اگر تم چاہو تو میں پانچ بکریاں تمہیں دلوا دوں اور اگر تم چاہو تو تمہیں پانچ کلمات سکھا دوں جو جبریل امین علیہ السلام نے ہمیں سکھائے ہیں پڑھو:

”يَا اَوَّلَ الْاَوَّلِيْنَ ، وَيَا آخِرَ الْآخِرِيْنَ، وَيَا ذَا الْقُوَّةِ الْمَتِيْنِ ، وَيَا رَاحِمَ الْمَسَاكِيْنِ ، وَيَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِيْنَ) .

ترجمہ: اے سب سے اول اور اے سب سے آخر اور اے عظیم قوتوں والے اور اے مساکین پر رحم فرمانے والے اور اے سب سے بڑھ کر رحم فرمانے والے۔

۲۲۔ واخرج ابو یعلی عن عائشة رضی اللہ عنہا قالت : كان ﷺ ، اذا آوى الى فراشه،قال:(أَللّٰهُمَّ رَبَّ السَّمَوَاتِ السَّبْعِ ، وَ رَبَّ الْعَرْشِ الْعَظِيْمِ ،إِلٰهَ آدَمَ وَ رَبَّ كُلِّ شَيْءٍ مُنْزِلَ التَّوْرَاةِ، وَ الْإِنْجِيْلِ ، وَ الْفُرْقَانِ، فَالِقَ الْحَبِّ وَالنَّوَىٰ أَعُوْذُ بِكَ مِنْ شَرِّ كُلِّ شَيْءٍ ، أَنْتَ آخِذٌ بِنَاصِيَتِهِ ، أَللّٰهُمَّ أَنْتَ الْاَوَّلُ ، فَلَيْسَ قَبْلَكَ شَيْءٌ وَ الْآخِرُ ، فَلَيْسَ بَعْدَكَ شَيْءٌ، وَأَنْتَ الظَّاهِرُ ، فَلَيْسَ فَوْقَكَ شَيْءٌ، وَأَنْتَ الْبَاطِنُ فَلَيْسَ دُوْنَكَ شَيْءٌ إِقْضِ عَنَّا الدَّيْنَ ، وَأَغْنِنَا مِنَ الْفَقْرِ )

ترجمہ: امام ابو یعلی (رحمۃ اللہ علیہ) سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت کرتے ہیں کہ وہ فرماتی ہیں کہ نبی ﷺ جب اپنے بستر پر تشریف فرما ہوتے تو یوں کہتے:

صفحہ 111

” ( اَللّٰهُمَّ رَبَّ السَّمٰوَاتِ السَّبْعِ ، وَ رَبَّ الْعَرْشِ الْعَظِیْمِ ، اِلٰهَ آدَمَ وَ رَبَّ كُلِّ شَیْءٍ ، مُنْزِلَ التَّوْرَاةِ، وَ الْاِنْجِیْلِ ، وَ الْفُرْقَانِ، فَالِقَ الْحَبِّ وَالنَّوٰی اَعُوْذُبِكَ مِنْ شَرِّ كُلِّ شَیْءٍ ،اَنْتَ آخِذٌ بِنَاصِیَتِهٖ، اَللّٰهُمَّ اَنْتَ الْاَوَّلُ ، فَلَیْسَ قَبْلَكَ شَیْءٌ وَ الْآخِرُ ، فَلَیْسَ بَعْدَكَ شَیْءٌ وَاَنْتَ الظَّاهِرُ ، فَلَیْسَ فَوْقَكَ شَیْءٌ، وَاَنْتَ الْبَاطِنُ فَلَیْسَ دُوْنَكَ شَیْءٌ اِقْضِ عَنَّا الدَّیْنَ ، وَاغْنِنَا مِنَ الْفَقْرِ)

ترجمہ: اے اللہ! ساتوں آسمانوں کے پروردگار !اور عرش عظیم کے رب !اے معبودِ آدم! اے ہر چیز کے پالنے والے! اے تورات وانجیل اور قرآن کے نازل کرنے والے! اے بیج اور گٹھلی کو نمودینے والے! میں ہر اس چیز کے شر سے تیری پناہ مانگتا ہوں جس کو تو نے اس کی پیشانی سے پکڑ رکھا ہے ، اے اللہ تو اول ہے اور تجھ سے پہلے کچھ نہیں اور تو آخر ہے جبکہ تیرے بعد کچھ نہیں اور تو ظاہر ہے اور تجھ سے اوپر کچھ نہیں اور تو باطن ہے جبکہ تجھ سے ہٹ کر کچھ نہیں مجھ پر سے قرض اتار دے اور مجھے فقر سے نجات عطا فرما دے “۔

كانت ، اذا اخذت مضجعها بعد العتمة تقول : (اعوذبالله ، و بكلمات الله التامات ،التی لا یجاوز هن بر ولا فاجر ، من شر ما ینزل فی الارض، و شر ما یخرج منها ، و شر فتن النهار ، و طوارق اللیل الا طارقا یطرق بخیر ، آمنت بالله ، و اعتصمت بالله ، والحمدلله ، الذی استسلم لقدرته کل شیء ، والحمد لله الذی ذل لعزته کل شیء ، والحمدلله الذی تواضع لعظمته کل شیء ، والحمد لله الذی خشع لملکه کل شیء ، اللهم انی اسألک بمعاقد العز من عرشک ، منتهی الرحمة من کتابک و جدک الا علی و اسمک الاکبر ، و کلماتک التامات ، التی لا یجاوز هن بر ولا فاجر ، ان تنظر الینا نظرة ، لا تدع ذنباً لنا الا غفرته ، ولا فقراً الا جبرته ، ولا عدوّا الا اهلکته ، و

صفحہ ۱۱۲

الرحمن ، آمنت بالله، واعتصمت بالله ) ثم تقول : ( سبحان الله ثلاثاً وثلاثين مرة ، الله اكبر ، مثل ذلک ، والحمدلله ، اربعاً و ثلاثين مرة) ثم تقول : (ان ابنة رسول الله ﷺ اتته تستخدمه ، فقال : ( الا ادلك على شىء احسن من خادم ؟) فقالت : بلى ، فامرها بهذه المائة عند الا ضطجاع بعد العتمة )

ترجمہ: امام طبرانی (رحمۃ اللہ علیہ) ”معجم الکبیر“ میں سند حسن کے ساتھ قتیلہ بنت نضر رضی اللہ عنہا سے روایت کرتے ہیں، کہ جب وہ نماز عشاء کے بعد اپنے بستر پر جاتیں تو یہ پڑھتی تھیں۔

(اَعُوذُ بِاللهِ ، وَ بِكَلِمَاتِ اللهِ التَّامَّاتِ ، الَّتِيْ لَا يُجَاوِزُ هُنَّ بَرٌّ وَلَا فَاجِرٌ مِنْ شَرِّ مَا يَنْزِلُ فِي الْاَرْضِ ، وَ شَرِّ مَا يَخْرُجُ مِنْهَا ، وَشَرِّ فِتَنِ النَّهَارِ ، وَطَوَارِقِ اللَّيْلِ اِلَّا طَارِقاً يَطْرُقُ بِخَيْرٍ ، اٰمَنْتُ بِاللهِ، وَاعْتَصَمْتُ بِاللهِ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ ، الَّذِيْ اِسْتَسْلَمَ لِقُدْرَتِهِ كُلُّ شَيْءٍ ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِيْ ذَلَّ لِعِزَّتِهِ كُلُّ شَيْءٍ ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِيْ تَوَاضَعَ لِعَظَمَتِهِ كُلُّ شَيْءٍ ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِيْ خَشَعَ لِمُلْكِهِ كُلُّ شَيْءٍ ، اَللَّهُمَّ إِنِّي اَسْأَلُكَ بِمَعَاقِدِ الْعِزِّ مِنْ عَرْشِكَ ، مُنْتَهَى الرَّحْمَةِ مِنْ كِتَابِكَ وَ جَدِّكَ الْاَعْلَى وَاِسْمِكَ الْاَكْبَرِ وَكَلِمَاتِكَ التَّامَّاتِ، الَّتِيْ لَا يُجَاوِزُ هُنَّ بَرٌّ وَلَا فَاجِرٌ ، أَنْ تَنْظُرَ إِلَيْنَا نَظْرَةً ، لَا تَدَعُ ذَنْباً لَنَا إِلَّا غَفَرْتَهُ ، وَلَا فَقْراً إِلَّا جَبَرْتَهُ ، وَلَا عَدُوًّا إِلَّا أَهْلَكْتَهُ ، وَالرَّحْمٰنُ ، اٰمَنْتُ بِاللهِ، وَاعْتَصَمْتُ بِاللهِ “ ثم تقول : ( سبحان الله ثلاثاً وثلاثين مرة ، الله اكبر ، مثل ذلک ، والحمدلله ، اربعاً و ثلاثين مرة) ثم تقول : (ان ابنة رسول الله ﷺ اتته تستخدمه ، فقال : ( الا ادلك على شىء احسن من خادم ؟) فقالت : بلى ، فامرها بهذه المائة عند الاضطجاع بعد العتمة .

ترجمہ: میں اللہ کی اور اس کے ان کلمات تامہ کی پناہ میں آتی ہوں جن سے کوئی نیک و بد

صفحہ ١١٣

تجاوز نہیں کر سکتا، ہر اس چیز کے شر سے جو زمین پر اترتی ہے اور اس چیز کے شر سے جو زمین میں سے نکلتی ہے اور دن کے فتنوں کے شر سے اور رات کو آنے والے مصائب کے شر سے سوائے اس کے جو بھلائی کے ساتھ آئے ، میں اللہ پر ایمان لاتا ہوں اور اللہ کی پناہ میں آتا ہوں اور تمام خوبیاں اللہ ہی کے لیے ہیں جس کی قدرت کے آگے ہر چیز سرتسلیم خم کئے ہوئے ہے ، اور تمام خوبیاں اس معبود برحق کے لیے ہیں جس کی عزت کے آگے ہر چیز ہیچ ہے اور تمام خوبیاں اس اللہ کے لئے ہیں جس کی عظمت کے آگے ہر چیز جھکی ہوئی ہے اور تمام خوبیاں اسی (ذات پاک) اللہ کے لیے جس کی حاکمیت کے آگے ہر چیز لرزاں ہے۔ اے اللہ ! میں تجھ سے تیرے عرش کی عظمت کے واسطے سے سوال کرتا ہوں، تیری لکھی ہوئی رحمت کی انتہا، تیری بلند شان اور تیرے بڑائی والے نام اور تیرے ان کلمات تامہ جن سے کوئی نیک و بد تجاوز نہیں کر سکتا، کے وسیلے سے سوال کرتا ہوں کہ، ہماری طرف ایسی نظر رحمت فرما جو ہمارے گناہوں کو بخش دے اور فقر و مفلسی کو مٹا دے اور دشمن کو ہلاک کردے، اور برہنگی کو ڈھانپ دے ، اور قرض کو ادا کر دے اور دین و دنیا کے امور خیر ہمیں نواز دے۔ اے تمام رحم کرنے والوں سے بڑھ کر رحم کرنے والے۔ میں اللہ پر ایمان رکھتی ہوں اور اللہ کی پناہ میں آتی ہوں۔

پھر ۳۳ بار سُبحان اللہ ، الحمد للہ اور اس طرح ۳۴ بار اللہ اکبر کہتیں، پھر فرماتیں یقیناً رسول اللہ ﷺ کی بیٹی (فاطمۃ الزھرا رضی اللہ عنہا) نے ان کے پاس جا کر خدّام کی طلب کی تو آپ ﷺ نے فرمایا: کیا میں تمہیں خادم سے بہتر چیز نہ بتاؤں؟ تو انھوں نے عرض کیا: جی ضرور! تو آپ ﷺ نے انھیں سوتے وقت بستر پر بیٹھ کر عشاء کے بعد ان سو (اذکار) کی تلقین فرمائی۔

صفحہ ۱۱۴

محمد عن ابيه قال : ضاق الحسن بن على رضى الله عنهما ، وكان عطاؤه فى كل سنة مائة الف ، فحبسها عنه معاوية فى احدى السنين ، فضاق ضيقاً شديداً ، قال : فدعوت بدواة لا كتب الى معاوية لا ذكره نفسى، ثم امسكت ، فرايت جدّى ﷺ فى المنام ، فقال : ( يا حسن ، كيف انت ؟ ) قلت : بخير يا رسول الله ، وحدثته بحديثى فقال : ( يا بنىّ ، هكذا حال من رجأ الخلق ، ولم يرج الخالق فيما ورد من الافعال ۔

ترجمہ: امام ابن عساکر (رحمۃ اللہ علیہ) نے اپنی ”تاریخ“ میں ابو المنذر هشام بن محمد عن ابیہ (رحمۃ اللہ علیہ) کے طریق سے نقل کیا ہے: ایک بار حضرت امام حسن بن علی رضی اللہ عنھما تنگی کا شکار ہو گئے کیونکہ انہیں ہر سال ایک لاکھ (درہم) وظیفہ ملتا تھا، جو کہ ایک سال حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے انہیں (کسی وجہ سے) نہ پہنچایا، تو اس وجہ سے وہ شدید تنگی کا شکار ہوئے، وہ فرماتے ہیں: میں نے حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کو اپنی ذات سے متعلق یاد دہانی کروانے کے لیے قلم دوات منگوائے مگر پھر میں رک گیا۔ تو میں نے خواب میں اپنے نانا جان ﷺ کو دیکھا: آپ نے فرمایا: اے حسن! تم کیسے ہو؟ میں نے جواب دیا: یا رسول اللہ: بخیریت ہوں، اور اپنا حال بیان کیا، تو آپ ﷺ نے فرمایا: اے بیٹے! جو خالق کے مقرر کردہ امور سے امید رکھنے کی بجائے مخلوق سے امید رکھے اس کا حال ایسا ہی ہوتا ہے۔٭

٭ایک روایت کے مطابق آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے امام حسن رضی اللہ عنہ کو یہ دعا تلقین فرمائی۔

قل: اللّٰهُمَّ اقْذِفْ فِىْ قَلْبِىْ رَجَاءَ كَ وَاقْطَعْ رَجَايِ عَمَّنْ سِوَاكَ حَتّٰى لَا اَرْجُوْاَحَدًا غَيْرَكَ . اَللّٰهُمَّ اِنِّىْ اَسْاَلُكَ مِنْ كُلِّ اَمْرٍ ضَعُفَتْ عَنْهُ قُوَّتِىْ وَحِيْلَتِىْ وَلَمْ تَنْتَهِ اِلَيْهِ رَغْبَتِىْ وَلَمْ يَخْطُرْ بِبَالِىْ وَلَمْ يَبْلُغْهُ اَمَلِىْ وَلَمْ يَجْرِ عَلَى لِسَانِىْ مِنَ الْيَقِيْنِ الَّذِىْ اَعْطَيْتَهُ اَحَداً مِّنَ الْمَخْلُوْقِيْنَ الْاَوَّلِيْنَ،وَالْمُهَاجِرِيْنَ وَالْاٰخَرِيْنَ اِلَّا خَصَّصْتَنِىْ بِهِ يَا اَرْحَمَ الرَّاحِمِيْنَ.

ترجمہ: اے اللہ! میرے دل میں اپنی امید بھردے اور میری امید اپنے ماسوا سے قطع فرمادے، یہاں تک کہ تیرے سوا مجھے کسی سے امید باقی نہ رہے۔

دوسری فصل

۲۵۔ اخرج البخارى عن فى رزقه ، وان ينسأ له فى اث ترجمہ: امام بخاری (رحمۃ اللہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جسے یہ پسند ہو کہ اس کے تو وہ صلہ رحمی (رشتہ داروں سے میل ۲۶۔ واخرج ابن ماجه عن رزقه ، فليتوضا ، اذا حضر ط (بالوضوء ههنا غسل ترجمہ: امام ابن ماجہ (رحمۃ اللہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا وہ کھانے سے پہلے اور بعد میں وضو ۲۷۔ واخرج عبدالرزاق فى ( كان رسول الله ﷺ ، اذا هذه الآية : ( وامر اهلك ب لرزقك و العاقبة للتقوى) ترجمہ: امام عبدالرزاق (رحمۃ روایت کرتے ہیں کہ: اس نے

صفحہ ۱۱۵

دوسری فصل

فی رزقہ ، وان ینسأ لہ فی اجلہ فلیصل رحمہ ) ترجمہ : امام بخاری (رحمۃ اللہ علیہ) ابوھریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جسے یہ پسند ہو کہ اس کے رزق میں وسعت دی جائے اور اس کی عمر میں اضافہ ہو تو وہ صلہ رحمی (رشتہ داروں سے میل جول) کرے۔

رزقہ ، فلیتوضّا ، اذا حضر غذاؤہ ، واذا رفع) المراد بـ (بالوضوء ھنا غسل الیدین ۔) ترجمہ : امام ابن ماجہ (رحمۃ اللہ علیہ) حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : جو یہ پسند کرے کہ اللہ اسے بہت زیادہ رزق عطا کرے تو وہ کھانے سے پہلے اور بعد میں وضو کرے۔ (یہاں وضو سے مراد دونوں ہاتھوں کو دھونا ہے)۔

( کان رسول اللہ ﷺ ، اذا دخل علیہ بعض الضیق ، امر اہلہ بالصلاۃ ، ثم قرا ھذہ الآیۃ : (وامر اھلک بالصلاۃ و اصطبر علیھا ، لا نسالک رزقاً نحن نرزقک و العاقبۃ للتقوی) ترجمہ : امام عبدالرزاق (رحمۃ اللہ علیہ) ”المصنف“ میں قریش کے ایک شخص سے روایت کرتے ہیں کہ : اس نے کہا! کہ جب کبھی رسول اللہ ﷺ کو کسی قسم کی پریشانی ہوتی

صفحہ ۱۱۶

تو اپنے گھر والوں کو نماز کا حکم دیتے، پھر یہ آیت کریمہ پڑھتے: وَأْمُرْ أَهْلَكَ بِالصَّلَاةِ وَ اصْطَبِرْ عَلَيْهَا لَا نَسْئَلُكَ رِزْقًا نَحْنُ نَرْزُقُكَ ط وَالْعَاقِبَةُ لِلتَّقْوَى ترجمہ: اور اپنے گھر والوں کو نماز کا حکم دے اور خود اس پر ثابت رہ، کچھ ہم تجھ سے روزی نہیں مانگتے، ہم تجھے روزی دیں گے اور انجام کا بھلا پرہیزگاری کے لیے۔

معمر عن حمزة بن عبدالله بن سلام قال : (كان رسول الله ﷺ ، اذا نزل باهله ضيق او شدة ، امرهم بالصلاة ، وتلا : ( وامر اهلک بالصلاة ) (طه ۱۳۲) ترجمہ: امام سعید بن منصور (رحمۃ اللہ علیہ) ”سننہ“ میں اور امام ابن منذر رحمۃ اللہ علیہ ”تفسیرہ“ میں معمر (رحمۃ اللہ علیہ) سے وہ حمزہ بن عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ، انہوں نے بیان کیا: کہ جب رسول اللہ ﷺ کے اہل خانہ کو تنگی ہوتی تو آپ ﷺ انہیں نماز کا حکم فرماتے اور یہ آیت پڑھتے: وَأْمُرْ أَهْلَكَ بِالصَّلٰوةِ. ترجمہ: اور اپنے گھر والوں کو نماز کا حکم دو۔ (طہ:۱۳۲)

فی (تفسیره) عن ثابت قال: (كان رسول الله ﷺ ، اذا اصابت اهله خصاصة نادی اهله بالصلاة ، صلوا ، صلوا). قال ثابت : ( وكان الانبياء ، اذا نزل بهم امر فزعوا الى الصلاة ) ترجمہ: امام احمد بن حنبل (رحمۃ اللہ علیہ) ”الزھد“ میں اور ابن ابی حاتم (رحمۃ اللہ علیہ) اپنی ”تفسیر“ میں ثابت رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں، انھوں نے فرمایا: جب کبھی حضور ﷺ کے اہل بیت کو کوئی مشکل پیش آتی تو آپ ﷺ اپنے

صفحہ ۱۱۷

گھر والوں کو نماز کے لیے پکارتے: صلوا، صلوا، یعنی نماز ادا کرو، نماز ادا کرو، اور ثابت ۔۔علیہ الرحمہ فرماتے ہیں: کہ انبیاء کرام علیہم السلام کو جب بھی کوئی پریشانی ہوتی تو وہ نماز ہی سے رجوع کرتے تھے۔

٣٠۔ واخرج الطبراني، وابن مردويه ، عن معاذ بن جبل قال : سمعت رسول الله ﷺ يقول : (يا ايها الناس ، اتخذوا تقوى الله تجارة ، ياتكم الرزق بلا بضاعة ولا تجارة ، ثم قرا : ( ومن يتق الله يجعل له مخرجاً ، و يرزقه من حيث لا يحتسب )

ترجمہ: امام طبرانی (رحمۃ اللہ علیہ) اور ابن مردویہ (رحمہما اللہ تعالیٰ علیہم) نے معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے روایت کیا انھوں نے فرمایا: میں نے سنا کہ رسول اللہ ﷺ فرما رہے ہیں اے لوگوں! تجارت ( کاروبار ) میں اللہ سے ڈرو: تو رزق تمہارے پاس بغیر بضاعت اور کاروباری (داؤ پیچ) کے آئے گا، پھر یہ پڑھا: ( وَمَنْ يَّتَّقِ اللّٰهَ يَجْعَلْ لَّهٗ مَخْرَجاً ، وَّ يَرْزُقْهُ مِنْ حَيْثُ لَا يَحْتَسِبُ ) (الطلاق:٢) ترجمہ: اور جو اللہ سے ڈرے اللہ اس کے لیے نجات کی راہ نکال دے گا اور اسے وہاں سے روزی دے گا جہاں اس کا گمان نہ ہو۔

٣١۔ واخرج احمد ، والحاكم وصححه ، والبيهقى في ( شعب الايمان ) عن ابي ذر قال : جعل رسول الله ﷺ يتلو هذه الآية ( ومن يتق الله يجعل له مخرجاً و يرزقه من حيث لا يحتسب ) ثم قال : ( يا ابا ذر ، لو ان الناس اخذوا بها لكفتهم )

ترجمہ: امام احمد اور حاکم (رحمہ اللہ علیہم) نے صحیح اور امام بیہقی (رحمۃ اللہ علیہ) ”شعب الایمان“ میں ابو ذر رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے: انھوں نے فرمایا رسول اللہ ﷺ نے

صفحہ ۱۱۸

یہ آیت پڑھی: ومن يتق الله يجعل له مخرجاً ويرزقه من حيث لا يحتسب)۔

ترجمہ: اور فرمایا : اے ابوذر! اگر لوگ اس آیت کو اختیار کر لیں تو یہ ان کے لیے کافی ہے۔

۳۲۔ واخرج احمد ، والنسائی وابن ماجه عن ثوبان قال : قال ﷺ : ( ان العبد ليحرم الرّزق بالذنب يصيبه )

ترجمہ: امام احمد، امام نسائی اور امام ابن ماجہ (رحمہم اللہ علیہم ) ثوبان رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا :

ترجمہ: بے شک بندہ اپنے ارتکاب گناہ کے باعث رزق سے محروم ہو جاتا ہے۔

۳۳۔ واخرج ابن ابي حاتم في ( تفسيره ) عن عمران بن حصين قال : قال رسول الله ﷺ : ( من انقطع الى الله ، كفاه الله مونته ورزقه من حيث لا يحتسب ، ومن انقطع الى الدنيا وكله الله اليها )

ترجمہ: امام ابن ابی حاتم (رحمۃ اللہ علیہ ) اپنی ”تفسیر“ میں عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:

جو شخص اللہ کے لیے دنیا سے کٹ جاتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کی ضروریات کو پورا کرتا ہے اور اسے غیبی ذرائع سے رزق عطا کرتا ہے اور جو کوئی ( اللہ سے کٹ کر ) دنیا ہی کا ہو رہتا ہے تو اللہ اسے دنیا کے حوالے کر دیتا ہے۔ ( انتھی )۔

اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ عَلٰی ذٰلِكَ۔

۱۵ ربیع الاول ۱۴۳۲ھ تکمیل ترجمہ : جمعرات کی شب

(اصا

حدیث نمبر ۱: فردوس ال

۲۵۴/۵

حدیث نمبر ۲: مسند احمد:

باب الا

باب الا

للنسائی:

سنن الکب

حدیث نمبر ۳: مسند ال

۱۷۱/۱

ص: ۴۸

حدیث نمبر ۴: مسند احم

حدیث نمبر ۵: مجمع الز

حدیث نمبر ۶: تاریخ

حدیث نمبر ۷: مسند ا

حدیث نمبر ۸: مجمع الز

حدیث نمبر ۹: مجمع الز

رقم : ۴۹

صفحہ ۱۱۹

تخریج احادیث

(اصول الرفق فی حصول الرزق)

۲۵۴/۵۔

باب الاستغفار۔ سنن ابن ماجہ: ۱۲۵۳/۲، کتاب الادب، باب الاستغفار۔ الترغیب والترہیب: ۷۱/۲۔ عمل الیوم واللیلة للنسائی: ص ۱۴۷۔ المستدرک حاکم: ۲۶۲/۴ (وقال صحیح الاسناد)۔ سنن الکبریٰ بیہقی: ۳۵۱/۳۔

۱۶۱/۱۔ کشف الخفاء: ۴۵۸/۱۔ فضائل القرآن لابی عبید بن سلام ص: ۱۳۸۔

رقم: ۱۵۳۹۔

صفحہ ۱۲۰

السنی ،ص: ۵۱۔ مسند الفردوس: ۵۷۲/۱۔

تفسیر قرطبی: ۱۰۸/۱۸۔

الأمالی ابن بشران ،ص: ۲۵۱، رقم: ۵۷۸۔

مکارم الاخلاق الخرائطی: ۱۳۴/۳۔ کنز العمال: ۳۳۵/۲، رقم: ۳۸۴۳۔ جامع الاحادیث للسیوطی ،رقم: ۵۵۳۲۔ صحیح ابن حبان: ۲۱۲/۳، رقم: ۹۳۴۔

مسند البزار: ۵۲۴۔ مجمع الزوائد: ۱۶۸/۱۰

الترغیب والترہیب: ۶۱۵/۲۔

مسند احمد: ۱۴۲/۳۔ الترمذی کتاب الدعوات۔ النسائی الاستعاذہ۔

صفحہ ۱۲۱

الترغیب والترھیب:۶۱۴/۴۔

۲۱۰/۸،رقم:۴۷۷۴۔جامع الاصول:۲۲۵/۷۔ صحیح مسلم:۲۰۸۴/۴،رقم:۲۷۱۳۔کتاب الاذکار النووی،ص:۹۰۔

سنن ابی داؤد:۳۱۲/۴۔ترمذی ۲۷۲/۵۔سنن ابن ماجہ:۱۲۷۴/۲۔

(رضی اللہ عنہ):۴۹/۴۔کتاب الادب من بسط لہ الرزق عن ابی ھریرۃ (رضی اللہ عنہ) صحیح مسلم:۱۹۸۲/۴۔البر ’صلۃ الرحم‘۔ سنن ابی داؤد:۳۲۱/۴،الزکوۃ ’صلۃ الرحم‘ صحیح الجامع:۲۲۷/۵۔

اتحاف السادۃ المتقین:۲۱۴/۹۔

رقم:۱۱۴۲۱۔الطلاق:۲۔

صفحہ ۱۲۲

رقم: ۲۱۵۹۱۔ بیہقی شعب الایمان: ۱۱۶/۲، رقم: ۱۴۳۰۔ الطلاق: ۳۷۷/۳، رقم: ۱۳۲۲۔

حدیث نمبر ۳۲: مسند احمد: ۷۸/۵۔ مستدرک حاکم: ۴۹۲/۴۔ سنن ابن ماجہ، کتاب الزہد باب الورع۔

حدیث نمبر ۳۳: سنن ابن ماجہ: الفتن، باب العقوبات: ۱۳۳۴/۲، رقم: ۴۰۲۲۔ مسند الشہاب: ۲۹۸/۱، رقم: ۴۹۵۔ کنز العمال: ۱۰۳/۳، رقم: ۵۶۹۳ کنز العمال: ۲۰۱/۳، رقم: ۵۶۹۴۔ جامع الاحادیث: ۱۹۹/۷، رقم: ۶۸۱۷۔

صفحہ ۱۲۳

مَنْ لَمْ يَاْخُذْ شَارِبَهُ فَلَيْسَ مِنَّا (نسائی)

جس نے اپنی مونچھوں کو نہ تراشا وہ ہم میں سے نہیں۔

بلوغ المآرب

فی

قص الشوارب

تالیف: امام جلال الدین سیوطی شافعی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ

تخریج و ترجمہ

علامہ محمد شہزاد مجددی سیفی

دارالاخلاص، لاہور

صفحہ ۱۲۴

بسم الله الرحمن الرحيم الحمد لله وسلام على عباده الذين اصطفٰی.

امام جلال الدین سیوطی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: یہ احادیث پر مشتمل جزء ہے جس کا عنوان میں نے ”بلوغ المآرب فی قص الشوارب“ رکھا ہے۔

امام بخاری ومسلم رحمہا اللہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں: (باب إعفاء اللحىٰ، بخاری) عن ابن عمر رضى الله عنهما عن النبي ﷺ خالفوا المشركين وفروا اللحى واحفوا الشوارب.(۱)

(ترجمہ) سیدنا ابن عمرؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا:”مشرکین کی مخالفت کرو اور داڑھیاں بڑھاؤ اور مونچھیں کتراؤ۔“

”النھایہ“ میں ہے: احفاء الشوارب کا مطلب ہے کہ مونچھوں کو پست کرنے میں خوب مبالغہ کیا جائے۔

امام بخاری حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: کہ نبی ﷺ نے فرمایا: انهكوا الشوارب واعفوا اللحىٰ۔(۲)

(ترجمہ) مونچھیں خوب پست کرو اور داڑھیاں بڑھاؤ۔

اور حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں، کہ رسول اللہ ﷺ

صفحہ ۱۲۵

نے ارشاد فرمایا: جزوا الشوارب ۔ (۳) یعنی مونچھیں اچھی طرح پست کرو۔

امام بزار علیہ الرحمہ (بسند حسن) حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں، کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ان اهل الشرك يعفوا شواربهم ويحفون لحاهم فخالفوهم فاعفوا اللحى واحفوا الشوارب۔(۴) (ترجمہ) بے شک مشرکین اپنی مونچھیں بڑھاتے ہیں اور داڑھیاں کٹواتے ہیں تو تم ان کی مخالف کرو داڑھیاں بڑھاؤ اور مونچھیں کٹواؤ۔

حارث بن ابی اسامہ اپنی مسند میں یحییٰ ابن کثیر سے روایت کرتے ہیں، انھوں نے بیان کیا: اتى رجل من العجم المسجد وقد وقّر شاربه وجزّ لحيته فقال له رسول الله ﷺ ما حملك على هذا ؟ فقال انّ ربّى امرنى بهذا، فقال له رسول الله ﷺ انّ الله تعالى امرنى ان اوفر لحيتى واحفى شاربى۔(۵) (ترجمہ) ایک عجمی شخص مسجد (نبوی) میں آیا اور اس نے اپنی مونچھیں بہت زیادہ بڑھا رکھی تھیں جبکہ داڑھی کٹوائی ہوئی تھی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا تمہیں ایسا کرنے کو کس نے کہا ہے؟ اس نے جواب دیا کہ میرے آقا نے مجھے ایسا کرنے کا حکم دیا ہے۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بے شک اللہ تعالیٰ نے مجھے حکم دیا ہے کہ میں اپنی داڑھی کو بڑھاؤں اور اپنی مونچھوں کو پست کروں۔

امام طبرانی ، رسول اللہ ﷺ کی خادمہ امّ عیاش رضی اللہ عنہا سے (بالاسناد) روایت کرتے ہیں، فرماتی ہیں:

صفحہ ۱۲۶

كان رسول الله ﷺ يحفى شاربه۔ (۶)

(ترجمہ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی مونچھوں کو پست کیا کرتے تھے۔

امام دیلمی مسند فردوس میں حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں، انھوں نے کہا: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

انا آل محمدٍ نعفى لحانا ونحفى شاربناو انّ آل كسرىٰ يحلقون لحاهم ويعفون شواربهم هديّنا مخالف لهديهم۔ (۷)

(ترجمہ) کہ ہم امت محمدیہ اپنی داڑھیوں کو بڑھاتے اور اپنی مونچھوں کو پست کرتے ہیں۔ جبکہ قوم کسریٰ والے اپنی داڑھیوں کو منڈواتے اور مونچھوں کو چھوڑ دیتے ہیں، ہمارا طریقہ ان کے طریقے کے برعکس ہے۔

الشیخ ولی الدین عراقی شرح سنن ابی داؤد میں مونچھیں پست کرنے کی حکمت بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں:

مونچھیں پست کرنا خالص دینی معاملہ ہے اور یہ مجوسیوں کے شعار کی مخالفت ہے کیونکہ وہ مونچھیں بڑھاتے ہیں۔ جیسا کہ روایات صحیحہ کے تسلسل سے ثابت ہے۔ اور یہ دنیوی معاملہ بھی ہے کہ اس سے وضع قطع اچھی دکھائی دیتی ہے، جبکہ اس میں منہ سے متعلق امور میں نفاست کا بھی اہتمام ہے۔ اور وہ چیزیں جو اس مقام سے چھوتی ہیں جیسے شہد اور پینے کی چیزیں وغیرہ (ان سے بھی حفاظت ہوتی ہے)۔ اسی طرح اچھی وضع قطع دین سے بھی تعلق رکھتی ہے، کیونکہ اس طرح دین والے کے احکام کی بجا آوری بھی ہوتی ہے، اور اس میں اہل اقتدار جیسے حاکم وقت، مفتی اور خطیب وغیرہ کے لئے بھی تعمیل ارشاد کا سامان ہے۔ ممکن ہے اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد میں اسی طرف اشارہ ہو۔

وصوّرکم فاحسن صورکم فلا تشبّھوھا بما یقبّحھا۔ (الایۃ)

صفحہ ۱۲۷

اور اسی طرح ابلیس سے متعلق اس آیت میں ارشاد ہے: ولامرنهم فليغيرن خلق الله ....... الخ یہ سب کلام شیخ تقی الدین ابن دقیق العید علیہ الرحمۃ نے بالمعنی ”شرح الالمام“ میں بیان کیا ہے۔

شیخ ولی الدین عراقی علیہ الرحمہ نے فرمایا ہے: ”اس کا مقتضا یہ ہے کہ مونچھیں پست کرنے سے بھی سنت ادا ہو جائے گی، لیکن صحیحین میں حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ کی روایت ”واحفوا الشوارب“ (مونچھیں جڑ سے کاٹو) تراشنے سے زیادہ کاٹنے کے استحباب پر دلالت کرتی ہے۔ اور اس سے ان مقاصد کی بھی تائید ہوتی ہے جن کے حصول کے لئے مونچھوں کو تراشنے کا حکم دیا گیا ہے اور وہ (مقاصد) یا تو مجوسیوں کے طریقے کی مخالفت ہے یا پھر مونچھیں رکھنے کی قباحتوں کا ازالہ ہے، لہٰذا ”احفوا“ کے ظاہری الفاظ سے بعض علماء (احناف وغیرہ) نے استدلال کیا اور مونچھوں کو جڑ سے اکھاڑنے اور مونڈنے کا موقف اختیار کیا۔ حضرت عبداللہ ابن عمر رضی اللہ عنہ، بعض ائمہ تابعین اور اہل کوفہ (یعنی ائمہ احناف) نے اسی کو اختیار کیا ہے۔ جبکہ بعض دوسرے علماء نے جڑ سے اکھاڑنے اور مونڈنے سے منع کیا ہے، اور یہ امام مالک علیہ الرحمہ کا قول ہے، امام نووی علیہ الرحمہ نے بھی اسی کو اختیار کیا ہے۔ اسی مسئلہ میں ایک تیسرا قول بھی ہے، کہ آدمی کو ان دونوں امور میں سے کسی ایک کو اپنانے کا اختیار ہے۔ (یہ قاضی عیاض مالکی علیہ الرحمہ نے بیان کیا ہے)۔

حافظ ابن حجر عسقلانی رحمۃ اللہ علیہ شرح بخاری میں فرماتے ہیں۔ اکثر احادیث میں یہ روایات لفظ قص سے آئی ہیں اور امام نسائی کی روایت میں حلق کا لفظ بھی آیا ہے اور امام مسلم کے ہاں جزو کے الفاظ بھی ملتے ہیں جبکہ صحیح مسلم میں احفوا اور انھکوا کے الفاظ پر مبنی

PDF 128

روایات بھی آئی ہیں اور یہ تمام عبارات اس بات پر دلالت کرتی ہیں کہ ان سے مقصود بالوں کو کاٹنے میں مبالغہ کرنا ہے کیونکہ اَلْجَزّ (جیم اور زاء معجمہ کے ساتھ ) بالوں اور چمڑی کو اس حد تک صاف کرنا کہ وہ جلد تک پہنچ جائے اور

احفاء (حاء مہملہ اور فاء کے ساتھ ) بالوں کو اکھاڑنے میں شدید مبالغہ کو کہتے ہیں

اور

امام ابو عبید الہروی کہتے ہیں کہ اتنا کاٹو کہ جلد ظاہر ہو جائے اور امام خطابی نے کہا ہے کہ اس سے مراد بالوں کو اکھاڑنے اور صاف کرنے میں مبالغہ کرنا ہے۔

امام طحاوی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں میں نے اس حوالے سے امام شافعی اور ان کے وہ اصحاب جنہیں میں نے دیکھا ہے جیسے امام مزنی اور ربیع وغیرہ سے منقول کوئی قطعی قول نہیں دیکھا۔ یہ لوگ مونچھوں کے معاملہ میں مبالغہ سے کام لیتے تھے اور میرا خیال ہے کہ انہوں نے یہ عمل امام شافعی سے اخذ کیا تھا۔

امام اعظم ابو حنیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور ان کے اصحاب فرماتے ہیں۔ احفاء (مبالغے سے کاٹنا) محض پست کرنے سے افضل ہے اور ابن العربی مالکی نے عجیب بات کی ہے کہ امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ کے حوالے سے یہ قول نقل کیا ہے وہ مونچھیں منڈوانے کو مستحب سمجھتے تھے۔ اور امام اثرم فرماتے ہیں: کہ امام احمد بن حنبل علیہ الرحمہ شدید مبالغہ کے ساتھ مونچھیں کاٹتے تھے اور انہوں نے اس بات پر زور دیا ہے کہ یہ صرف تراشنے سے افضل ہے۔

امام طبری نے امام مالک رحمۃ اللہ علیہ اور اہل کوفہ (احناف) کے حوالے سے بیان کیا ہے اور اہل لغت کی روایت بیان کی ہے کہ احفاء جڑ سے اکھاڑنے کو کہتے ہیں۔ پھر فرمایا کہ سنت دونوں امور پر دلالت کرتی ہے اور ان میں کوئی تعارض نہیں کہ قص (تراشنا)

اور احفاء (جڑ سے اکھاڑنا) مونچھوں کو ثابت ہیں سو اس میں آدمی کو اختیار ہے کہ حافظ ابن حجر عسقلانی علیہ الرحمہ دونوں صورتوں کا ثبوت احادیث مرفوعہ مونچھوں کو تراشنے کا ذکر حضرت

میں ہے:

صِفَتُ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم

ترجمہ: میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے تھیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں

اور بیہقی کے الفاظ میں:

لِوَضْعِ السِّوَاكِ تَحْتَ

ترجمہ: آپ نے میری مونچھوں پر

امام بزار نے حضرت عائشہ اَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِقَصٍّ وَ سِوَاكٍ فَجَعَلَ الـ

ترجمہ: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تھی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا رکھی اور جتنا زائد تھا اسے کاٹ دیا ۔

امام ترمذی نے ابن عباس حسن کہا) انہوں نے بیان کیا کہ : آپ

صفحہ ۱۲۹

اور احفاء (جڑ سے اکھاڑنا) مونچھوں کو جڑ سے کاٹنے پر دلالت کرتا ہے اور یہ دونوں امور ثابت ہیں سو اس میں آدمی کو اختیار ہے کہ ان میں سے کسی پر بھی عمل کر لے۔

حافظ ابن حجر عسقلانی علیہ الرحم فرماتے ہیں کہ علامہ طبری کے اس قول میں وارد دونوں صورتوں کا ثبوت احادیث مرفوعہ میں بالمعنی موجود ہے۔

مونچھوں کو تراشنے کا ذکر حضرت مغیرہ ابن شعبہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی اس روایت میں ہے:

ضِفْتُ النَّبِیَّ صلی اللہ علیہ وسلم و کان شاربی و فی قَصَّہ علیَّ سواک (۸)

ترجمہ: میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاں مہمان بن کر گیا جبکہ میری مونچھیں بڑھی ہوئی تھیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں مسواک رکھ کر کاٹ دیا۔

اور بیہقی کے الفاظ میں:

فوضع السواک تحت الشارب و قصّ علیہ

ترجمہ: آپ نے میری مونچھوں کے نیچے مسواک رکھ کر باقی بال کاٹ دیئے۔

امام بزار نے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی روایت نقل کی ہے:

ان النبی صلی اللہ علیہ و سلم ابصر رجلا و شاربہ طویل فقال ایتونی بمقص و سواک فجعل السواک علیٰ طرفہ ثم اخذ ما جاوزہ (۹)

ترجمہ: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو دیکھا جس کی مونچھیں بہت بڑھی ہوئی تھی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مجھے قینچی اور مسواک دو پھر مسواک اس کے ہونٹوں پر رکھی اور جتنا زائد تھا اسے کاٹ دیا۔

امام ترمذی نے ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کیا (اور اس حدیث کو حسن کہا) انہوں نے بیان کیا کہ: کان النبی صلی اللہ علیہ وسلم یقصّ شاربہ(۱۰)

صفحہ ۱۳۰

ترجمہ: آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی مونچھیں پست کیا کرتے تھے۔

امام بیہقی نے حضرت شرحبیل بن مسلم الخولانی کی سند سے روایت کیا ہے:

قال رأيت خمسة من اصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم يقصون شواربهم، ابو امامه الباهلى، مقدام بن معدی، كرب الكندى، عتبه بن عوف السلمی، الحجاج بن عامر الثمالی و عبدالله بن سفر رضى الله عنهم. (۱۱)

کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پانچ صحابہ کرام ابو امامہ الباہلی مقدام بن معدی کرب الکندی عتبہ بن عوف السلمی الحجاج بن عامر الثمالی اور عبداللہ بن سفر رضی اللہ عنہم کو دیکھا کہ وہ اپنی مونچھوں کو پست کیا کرتے تھے۔

رہا احفاء یعنی جڑ سے اکھاڑنے کا معاملہ تو حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی میمون بن مہران کی روایت میں ہے۔ انہوں نے کہا:

ذكر رسول الله صلى الله عليه وسلم المجوس فقال انهم يوفون سبالهم و يحلقون لحاهم فخالفوهم (۱۲)

ترجمہ: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجوس یعنی آتش پرستوں کا تذکرہ کرتے ہوئے فرمایا کہ وہ اپنی مونچھیں بڑھاتے اور داڑھیاں منڈواتے تھے تو تم ان کی مخالفت کرو۔ راوی کہتے ہیں:

كان عمر يستعرض سبلته فجزها كما تجزا الشاة او البعير

ترجمہ: حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما اپنی مونچھوں کو پکڑتے اور اس طرح مونڈتے جیسے بکری یا اونٹ کو مونڈا جاتا ہے۔ (اسے طبری ، طبرانی اور بیہقی نے روایت کیا ہے۔)

امام ابوبکر بن اشرم نے بطریق عمر بن ابی سلمۃ عن ابیہ روایت کیا ہے۔ انہوں

نے کہا:

رأيت ابن عمر يح

ترجمہ: میں نے ابن عمر رضی ا تک کہ اس میں سے کچھ نہ چھوڑ

اور طبرانی نے عبداللہ

قال رأيت ابا سع خديج و ابا اسيد الانصار كالحلق۔ (۱۳)

(ترجمہ) میں نے ابوسعید ا الانصاری، سلمۃ بن الاکوع اور ا مونڈی ہوئی ہوں۔

واخرج الطبرانی

انهم كانوا يحلقون شواربهم

(ترجمہ) طبرانی ٭ نے عروۃ کی اسناد سے روایت کیا یہ سب

امام دار قطنی ”الافراد“

نا محمد بن نوح حفص بن عمر عبید ال شاربک قال رأيت رسول ا

٭ حافظ ابن حجر عسقلانی نے ”ف

صفحہ ۱۳۱

نے کہا:

رأيت ابن عمر يحفى شاربه حتى لا يترك منه شيئا (۱۳)

ترجمہ: میں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما کو دیکھا کہ وہ اپنی مونچھوں کو اتنا اکھاڑتے، یہاں تک کہ اس میں سے کچھ نہ چھوڑتے تھے۔

اور طبرانی نے عبداللہ بن ابی رافع کی سند سے روایت کیا ہے:

قال رأيت أبا سعيد الخدرى و جابر بن عبدالله و ابن عمر و رافع بن خديج و ابا اسيد الانصارى و سلمة بن الاكوع و ابا رافع ينكهون شواربهم كالحلق.(۱۴)

(ترجمہ) میں نے ابوسعید الخدری، جابر بن عبداللہ، ابن عمر، رافع بن خدیج، ابواسید الانصاری، سلمۃ بن الاکوع اور ابورافع کو دیکھا کہ وہ اپنی مونچھیں اس طرح کاٹتے تھے جیسے مونڈی ہوئی ہوں۔

واخرج الطبرانى من طرق عن عروه و سالم و القاسم وابى سلمة انهم كانوا يحلقون شواربهم.(۱۵)

(ترجمہ) طبرانی ☆ نے عروہ بن زبیر، سالم، قاسم بن محمد بن ابی بکر اور ابوسلمہ رضی اللہ عنہم کی اسناد سے روایت کیا یہ سب بزرگ اپنی مونچھیں منڈواتے تھے۔

امام دارقطنی ”الافراد“ میں کہتے ہیں:

نا محمد بن نوح الجندج، ثنا جعفر بن حبيب ثنا عبدالله بن رشيد انبانا حفص بن عمر عبيد الله بن عمر عن نافع قال قيل لا بن عمر انك تحفى شاربك قال رأيت رسول الله صلى الله عليه وسلم يفعله (۱۶)

☆ حافظ ابن حجر عسقلانی نے ”فتح الباری“ میں طبری لکھا ہے جو کہ درست ہے۔ (مجددی)

صفحہ ۱۳۲

ترجمہ: حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے پوچھا گیا کہ آپ بھی اپنی مونچھیں جڑ سے اکھاڑتے ہیں؟ انہوں نے جواب دیا ”میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایسا کرتے دیکھا تھا۔“ اور (ابو جعفر) تمام کہتے ہیں:

عن عبدالله بن بسر قال رأيت النبی صلى الله عليه وسلم يطر شاربه طراً

اخرجه الطبرانی۔ (۱۷)

(مسند الشامیین الطبرانی، رقم: ۱۰۲۶)

ترجمہ: حضرت عبداللہ بن بسر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہا، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ اپنی مونچھیں انتہائی خوبصورتی سے سنوارتے تھے۔

اور امام ابن ابی شیبہ اپنی ”مصنف“ میں روایت کرتے ہیں:

حدثنا كثير بن هشام عن جعفر ابن برقان عن حبيب قال رأيت ابن عمر جز شاربه كانه حلقه(۱۸)

ترجمہ: میں نے ابن عمر کو دیکھا کہ انہوں نے اپنی مونچھوں کو اتنا ہلکا کیا ہوا ہے کہ جیسے منڈوایا ہوا ہو۔

اور وہ (ابن ابی شیبہ ) کہتے ہیں: عن عبيدالله بن ابی رافع قال رأيت ابا سعيد و رافع بن خديج و ابی سلمه بن الاكوع و ابن عمر و جابر بن عبدالله و ابا اسید ينهكون شواربهم كما جز الحلق(۱۹)

ترجمہ: میں نے ابو سعید خدری، رافع بن خدیج ، ابو سلمۃ بن الاکوع ، ابن عمر ، جابر بن عبداللہ اور ابو اسید البدری رضی اللہ عنہم کو دیکھا کہ انہوں نے اپنی مونچھوں کو اتنا پست کر رکھا ہے گویا کہ منڈوایا ہوا ہے۔

اور ابن عساکر روایت کرتے ہیں۔

عن عثمان بن ابراهيم بن ابراهيم بن محمد بن حاطب قال رأيت عبدالله ابن عمر قد احفى شاربه حتى كانه نتفه(۲۰)

صفحہ ۱۳۳

ترجمہ: میں نے ابن عمر کو دیکھا انہوں نے اپنی مونچھوں کو اتنا تراشا ہوا تھا کہ جیسے نوچا ہو۔

اور امام طبرانی ”معجم کبیر“ میں روایت کرتے ہیں:

حدثنی .......عثمان بن عبدالله بن رافع انه رای ابا سعيد الخدری و جابر بن عبدالله و عبدالله بن عمر و سلمة بن الاكوع و ابا اسيد البدری و رافع بن خديج و انس بن مالک یاخذون من الشوارب کاخذ الحلق (۲۱)

ترجمہ: انہوں نے ابو سعید خدری، جابر بن عبداللہ، عبداللہ بن عمر، سلمۃ بن الاکوع، ابو اسید البدری، رافع بن خدیج اور انس بن مالک کو دیکھا کہ وہ اپنی مونچھوں کو حلق یعنی منڈوانے کی طرح ہلکا کرتے تھے۔

☆☆☆☆

صفحہ ۱۳۴

تخریج احادیث

(بلوغ المآرب فی قص الشوارب)

صحیح مسلم: کتاب الطہارۃ: ج: ۱ ص: ۱۲۹ طبع: کراچی

(اسنادہ حسن)

رقم الحدیث: ۵۸۳ المطالب العالیہ: رقم: ۲۳۰۸

طبع: ریاض، معرفۃ السنن والآثار: ۴۹۷/۱ رقم: ۳۳۱ شرح معانی الآثار ج: ۲ ص: ۳۰۷ کراچی

سنن الکبری للبیہقی: ج: ۱ ص: ۱۵۱ رقم: ۷۱۶ شعب الایمان: رقم: ۵۹۴۸

رقم: ۱۳۸۸

رقم: ۳۳۱۳ طبقات الکبریٰ

مجمع الزوائد: ۳۳۲/۲ فوائد

سنن کبری بیہقی: ۱۵۱/۱

ط:کراچی طبقات ابن سعد تاریخ دمشق: ۳۱۵/۴۸ رقم

صفحہ ۱۳۵

رقم: ۱۳۸۸

رقم: ۳۳۱۳ طبقات الکبریٰ ابن سعد: رقم: ۱۱۵۲

مجمع الزوائد: ۳۴۲/۲ فوائد تمام: رقم: ۱۸۵ ج: ۳ ص: ۴۷

سنن کبریٰ بیہقی: ۱۵۱/۱ رقم: ۱۷۷

ط: کراچی طبقات ابن سعد: ۱۷۶/۳ زاد المعاد: ۱۷۱/۱ تاریخ دمشق: ۳۱۵/۳۸ رقم: ۴۵۷۴

☆☆☆☆

صفحہ ۱۳۶

ا

فی حدیث من

(جس نے اپنے

مؤلف: امام جلال

مترجم:

دارالا

صفحہ ۱۳۷

القول الأشبه:

فی حديث من عرف نفسه فقد عرف ربَّه.

(جس نے اپنے نفس کو پہچان لیا اس نے اپنے ربّ کو پہچان لیا)

(واضح ترین قول)

مؤلف: امام جلال الدین سیوطی رحمۃ اللہ علیہ

مترجم: علامہ محمد شہزاد مجددی

دارالاخلاص، لاہور

صفحہ ۱۳۸

بسم اللہ الرحمن الرحیم الحمد للہ وسلام علی عبادہ الذین اصطفیٰ. تمام تعریفیں اللہ ہی کے لیے ہیں اور اس کے برگزیدہ بندوں پر سلام۔

زبان زد عام روایت ”من عرف نفسہ فقد عرف ربہ“ (جس نے اپنے آپ کو پہچان لیا اس نے اپنے رب کو پہچان لیا) کے معنی کے بارے میں سوالات بہت بڑھ گئے ہیں۔ کبھی اس سے ایسے معنی سمجھے جاتے ہیں جو درست نہیں اور کبھی انہیں اکابر صوفیہ کی طرف منسوب کیا جاتا ہے۔ لہذا میں نے اس مضمون میں شرح حال اور دفع اشکال کے لیے کچھ قلم بند کیا ہے اور اس میں دو مقالے ہیں،

پہلا مقالہ:

یہ روایت صحیح نہیں ہے۔ امام ابو زکریا محی الدین النووی رحمہ اللہ سے ان کے فتاویٰ میں اس کے بارے میں سوال کیا گیا تو انہوں نے کہا، یہ ثابت نہیں ہے اور ابن تیمیہ نے کہا یہ موضوع (جعلی) ہے۔ امام زرکشی علیہ الرحمہ نے احادیث المشتھرہ (۳) میں کہا کہ ابن السمعانی نے بیان کیا ہے کہ یہ یحییٰ بن معاذ رازی علیہ الرحمہ کا کلام ہے۔

دوسرا مقالہ:

امام محی الدین نووی رحمۃ اللہ تعالیٰ اپنے فتاویٰ میں فرماتے ہیں: ”اس کا مطلب ہے جس نے اپنی ذات کو ذات باری کی طرف کمزوری محتاجی، اور بندگی کے حوالے سے پہچانا، اس نے اپنے رب کو قوت، ربوبیت، کمال مطلق اور اعلیٰ صفات کے ساتھ پہچانا۔“ شیخ تاج الدین ابن عطاء اللہ قدس سرہ ”لطائف المنن“ میں فرماتے ہیں، میں نے اپنے شیخ

صفحہ ۱۳۹

ابوالعباس المرسی رحمہ اللہ تعالیٰ کو فرماتے سنا: اس قول کا مفہوم دو طرح سے ہے۔ ان میں سے ایک یہ ہے کہ جس نے اپنی ذات کو پستی، عاجزی اور احتیاج کے ساتھ پہچان لیا، اس نے خالق حقیقی کو اس کی عظمت، قدرت اور شان بے نیازی کے ساتھ پہچان لیا۔ پس معرفت نفس پہلے اور معرفت الٰہی بعد میں ہوتی ہے۔ دوسرا یہ کہ بلاشبہ جو اپنی ذات کو پہچان لیتا ہے تو اسی کے ذریعے اس پر یہ کھلتا ہے کہ وہ اس سے پہلے ہی اللہ کو پہچانتا تھا، سو پہلا حال سالکین کا اور دوسری کیفیت مجذوبین کی ہے۔ شیخ ابو طالب مکی علیہ الرحمہ ”قوت القلوب“ میں فرماتے ہیں۔ اس کا معنی ہے کہ جب تم نے اپنے نفس کی عادات کے بارے میں مخلوق کے معاملے کو سمجھ لیا ہے (جبکہ) یقیناً تم اپنے اوپر اپنے افعال کے حوالے سے اعتراض اور اپنے اعمال میں نکتہ چینی کو ناپسند کرتے ہو، تو اس سے تم نے اپنے خالق کی صفات کو پہچان لیا کیونکہ بلاشبہ وہ بھی یہ ناپسند کرتا ہے، پس اس کی قضا و قدر پر راضی رہ، جیسا کہ تو اپنے عمل کے لیے یہ پسند کرتا ہے۔ حضرت شیخ عزالدین قدس سرہ فرماتے ہیں: اس قول سے متعلق رازوں میں سے ایک راز مجھ پر کھلا ہے جس کا اظہار ضروری اور اس کی توصیف مستحسن ہے۔ وہ یہ کہ ”حق تعالیٰ شانہٗ نے اس لطیف روح کو جو لطیفہ لاہوتی ہے اس پیکر جسمانی میں رکھا ہے جو ناسوتی آلائشوں سے اٹا پڑا ہے۔ یہ بھی واحدانیت اور ربانیت کی ایک دلیل ہے۔

اس مثال سے استدلال کی مزید دس وجوہات ہیں۔

ہے اور ذریعہ تنظیم بھی۔ اس سے معلوم ہوا کہ اس کائنات کا بھی کوئی بنانے والا اور چلانے والا لازمی ہے۔

صفحہ ۱۴۰

کہ اس کائنات کا چلانے والا بھی ایک ہی ہے اور اس نظام تکوینی و تدبیری میں کوئی اس کا شریک نہیں ہے اور یہ کسی طور جائز نہیں کہ اس سلطنت میں کوئی اس کا ہمسر ہو۔

ارشاد باری تعالیٰ ہے:

لَوْ كَانَ فِيْهِمَا اٰلِهَةٌ اِلَّا اللّٰهُ لَفَسَدَتَا

(الانبیاء: ۲۲)

”اگر اللہ کے سوا اس کائنات میں دو خدا ہوتے ، وہ آپس میں جھگڑتے“

حق تعالیٰ شانہٗ کا فرمان ہے:

قُلْ لَوْ كَانَ مَعَهٗ اٰلِهَةٌ كَمَا يَقُوْلُوْنَ اِذًا لَّابْتَغَوْا اِلٰى ذِى الْعَرْشِ سَبِيْلًا ؕ سُبْحَانَهٗ وَتَعَالٰى عَمَّا يَقُوْلُوْنَ عُلُوًّا كَبِيْرًا ؕ

”آپ فرمادیں کہ اگر اس کے ساتھ اور خدا ہوتے جیسا کہ یہ کہتے ہیں تو وہ بھی عرش پر پہنچنے کی کوئی راہ ڈھونڈ نکالتے۔ اس کی ذات پاک و برتر ہے ان کی باتوں سے اور وہ بہت بلند ہے۔“

فرمان باری تعالیٰ ہے:

وَمَا كَانَ مَعَهٗ مِنْ اِلٰهٍ اِذًا لَّذَهَبَ كُلُّ اِلٰهٍ بِمَا خَلَقَ وَلَعَلَا بَعْضُهُمْ عَلٰى بَعْضٍ سُبْحَانَ اللّٰهِ عَمَّا يَصِفُوْنَ

(المومنون:۹۱)

(ترجمہ) اور اس کے ساتھ کوئی دوسرا خدا نہیں، اگر ایسا ہوتا تو ہر خدا اپنی مخلوق لے جاتا اور ضرور ایک دوسرے پر اپنی بڑائی چاہتا مگر اس کی ذات پاک ہے ان باتوں سے جو یہ بناتے ہیں“۔

رہی ہے اور یہ حرکت روح کے لیے ہی ہوتی ہے، معلوم ہوا کہ کوئی صاحب اختیار ہے جو اپنے دائرہ تکوین میں تصرف کر رہا ہے اور خیر یا شر سے متعلق ہونے والی کوئی حرکت بھی ایسی

صفحہ ۱۴۱

نہیں جو اس کے ارادے، تخلیق اور تقدیر کے تحت نہ ہو۔

چہارم: یونہی جسم کا کوئی عضو ایسا نہیں جس کی نقل و حرکت کا علم اور شعور روح کو نہ ہو۔ اس کی کوئی نقل و حرکت ایسی نہیں جو روح سے پوشیدہ ہو۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ زمین و آسمان کا کوئی ذرہ بھی ذات باری سے مخفی نہیں۔

پنجم: جیسا کہ جسم کا کوئی حصہ دوسرے جزو کی نسبت روح سے زیادہ قریب نہیں۔ البتہ روح جسم کے ہر عضو کے قریب ہے۔ اس سے ہمیں معلوم ہوا کہ حق تعالیٰ ہر چیز کے قریب ہے لیکن کوئی چیز دوسری کی نسبت اس سے زیادہ قریب یا زیادہ دور نہیں ہے اور یہ قرب و بعد فاصلے کے معنی میں نہیں ہے کیونکہ وہ ذات پاک اس سے پاک ہے۔

ششم: کیونکہ روح جسم کے وجود سے پہلے بھی موجود تھی اور اس کے فنا ہونے کے بعد بھی موجود رہے گی۔ لہذا ہم نے جانا کہ پروردگار عالم مخلوقات کے وجود سے پہلے بھی موجود تھے اور اس کے بعد بھی لازوال شان و عظمت کے ساتھ ہمیشہ ہمیشہ موجود رہیں گے۔

ہفتم: کیونکہ روح کے جسم میں ہونے کے باوجود اس کی کیفیت معلوم نہیں ہوتی لہذا معلوم ہوا کہ خالق اکبر بھی کیفیات سے پاک اور منزہ ہے۔

ہشتم: کیونکہ جسم میں ہونے کے باوجود روح کا مقام نہیں ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ذات باری بھی کسی مقام میں مقیم ہونے سے پاک ہے۔ اسے کہاں اور کیسے سے متصف نہیں کیا جاسکتا۔ بلکہ جس طرح روح تمام جسم میں موجود ہے اور کوئی عضو اس سے خالی نہیں ہے ایسے ہی حق تعالیٰ سبحانہ و تعالیٰ ہر جگہ ہے اور کوئی جگہ اس سے خالی نہیں ہے اور وہ زمان و مکان سے پاک اور منزہ بھی ہے۔

نہم: کیونکہ روح جسم میں ہونے کے باوجود آنکھوں سے دکھائی نہیں دیتی اور نہ ہی

صفحہ ۱۴۲

تمثیلی صورت اختیار کرتی ہے۔ معلوم ہوا کہ ذات حق کو بھی ظاہری آنکھ نہیں دیکھ سکتی اور نہ ہی وہ صورت و مظاہر اختیار کرتی ہے اور وہ شمس و قمر سے بھی مشابہت نہیں رکھتی ہے۔

لیس کمثلہ شیء وھو السمیع البصیر

”کوئی شے اس کے مثل نہیں اور وہ سننے اور دیکھنے والا ہے۔“

دوئم: جس طرح روح کو چھوا، اور چھیڑا اور پکڑا نہیں جاسکتا ، ایسے ہی ذات باری جسمانیت اور چھونے چھیڑے جانے سے منزہ اور پاک ہے۔

تو یہ مطلب ہے ”جس نے اپنے آپ کو پہچان لیا اس نے اپنے رب کو پہچان لیا کا تو خوش خبری ہے اس کے لیے جس نے پہچانا اور اپنے گناہ کا اعتراف کیا، اس قول کی ایک تفسیر اور بھی ہے، وہ یہ کہ تمہیں یہ معلوم ہو جائے کہ تمہارے نفس کی صفات تمہارے رب کی صفات کے برعکس ہیں تو جس نے اپنے نفس کو فنا کے ساتھ پہچانا تو اس نے اپنے رب کو بقاء کے ساتھ پہچانا، اور جس نے اپنے نفس کو جفا اور خطا کے حوالے سے پہچانا تو اس نے اپنے رب کو وفا وعطا کے جہت سے پہچانا اور جس نے اپنے نفس کو ویسے پہچانا جیسا کہ وہ ہے تو اس نے اپنے رب کو ویسے پہچانا جیسا کہ وہ ہے۔

اور جان لو! کہ تمہارے پاس عرفانِ ذات (اپنی پہچان) کا جیسا تمہاری ذات ہے کوئی راستہ نہیں تو پھر اس کی ذات (کی حقیقت) تک رسائی کیسے ممکن ہے۔ گویا کہ اس قول میں ایک امرِ محال کو دوسرے امرِ محال پر موقوف ٹھہرایا گیا ہے کیونکہ یہ محال ہے کہ تم اپنے نفس کو اس کی کیفیت و کمیت کے ساتھ پہچان سکو، تو اپنے دو پہلوؤں کے مابین موجود نفس، اس کی کیفیت، انیت (موجودگی) ظاہری و باطنی و ساخت اور جلوہ فرمائی کی تعریف سے قاصر ہو تو یہ کیسے مناسب ہے کہ مقامِ بندگی کے باوجود تم شان ربوبیت کو اس کے کیف و کم اور وجود کے حوالے سے بیان کر سکو۔ جب کہ وہ کیفیت و کمیت سے ہی پاک ہے اور

صدرالدین قونوی علیہ الرحمہ اس قول کی شرح میں یہ ا وہ یہ ہے کہ معرفت ذات ”قُلِ الرُّوْحُ مِ آپ کہہ دیج تو اس فرمان س ہے جو مخلوق ہونے کے سا معرفت سے بدرجہ اولیٰ عاج شامہ (سونگھنے) کی حقیقت سمجھ کیونکہ بلاشبہ انسانوں کے م غور و خوض کرنے والا طویل مد اختلاف ہے کہ بینائی (آنکھ کی قوتِ شامہ (سونگھنے کی حس) ہو سے، اسی طرح دیگر امور میں اشیاء کا یہ حال ہے جنہیں انسا کی معرفت کا کیا عالم ہوگا۔ شرح میں مختلف اقوال پیش کیے

صفحہ ۱۴۳

صدر الدین قونوی علیہ الرحمہ نے شرح ”التعرف“ میں کہا ہے۔ ”کہ بعض اہل معرفت نے اس قول کی شرح میں بیان کیا ہے کہ اس کا تعلق ”باب تطبیق“ سے ہے جو واقع نہیں ہوسکتا اور وہ یہ ہے کہ معرفت ذات کا دروازہ شارع علیہ السلام نے یہ فرما کر بند کر دیا ہے کہ: ”قُلِ الرُّوْحُ مِنْ اَمْرِ رَبِّی“ (الاسراء:۸۵) آپ کہہ دیجئے! کہ روح امر رب میں سے ہے۔

تو اس فرمان سے متنبہ کر دیا کہ انسان جب اپنی ہی ذات کے ادراک سے قاصر ہے جو مخلوق ہونے کے ساتھ ہر چیز سے بڑھ کر اس کے نزدیک ہے تو وہ اپنے خالق کی معرفت سے بدرجہ اولیٰ عاجز ہے بلکہ وہ تو اپنے کلام، حواس، سماعت، بصارت، اور قوت شامہ (سونگھنے) کی حقیقت تک رسائی سے بھی عاجز ہے اور ان کے علاوہ دیگر امور میں بھی، کیونکہ بلاشبہ انسانوں کے مابین ان تمام امور میں اختلاف اور مکاتب فکر ہیں۔ جن میں غور وخوض کرنے والا طویل مدت کے بعد بھی کسی حتمی نتیجے پر نہیں پہنچتا، جیسا کہ ان میں ایک اختلاف ہے کہ بینائی (آنکھ کی) پتلی کی حرکت سے کام کرتی ہے۔ یا شعاع کے نکلنے سے اور قوت شامہ (سونگھنے کی حس) ہوا کی گردش سے کام کرتی ہے۔ یا خوشبودار اجزاء کی طبعی حالت سے، اسی طرح دیگر امور میں بہت سے مشہور اختلافات کا معاملہ ہے تو جب ان ظاہری اشیاء کا یہ حال ہے جنہیں انسان اس حد تک قریب سے جانتا ہے تو اس ذات بزرگ وبرتر کی معرفت کا کیا عالم ہوگا۔ سو یہاں وہ مقصد حاصل ہو گیا جس کے لیے ہم نے اس قول کی شرح میں مختلف اقوال پیش کیے ہیں۔ واللہ اعلم

الحاوی للفتاوی (ج۲ ص ۲۳۸ تا ۲۴۱)

(مطبوعہ مکتبہ نوریہ رضویہ، فیصل آباد پاکستان)

صفحہ ۱۴۴
صفحہ ۱۴۵

رسالہ سلطانیہ

مؤلف: امام جلال الدین سیوطی رحمہ اللہ تعالیٰ

مترجم: علامہ محمد شہزاد مجددی

دارالاخلاص، لاہور

صفحہ ۱۴۶

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

الحمدللّٰہ والصّلوٰۃ والسّلام علٰی رسول اللّٰہ وعلٰی آلہ وصحبہ.

علماء وائمہ کرام نے اس بات پر دلائل پیش کئے ہیں کہ علماء کے لیے سنت یہ ہے کہ وہ حکمرانوں کی طرف آمد و رفت نہ رکھیں، کیونکہ بلاشبہ اس کی ممانعت اور اس عمل کے مرتکب علماء کی مذمت میں نبی کریم ﷺ سے کئی احادیث مروی ہیں۔

ان احادیث میں سے ایک وہ ہے جسے امام ابو داؤد، ترمذی نے مع التحسین، النسائی اور امام بیہقی نے شعب الایمان میں حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کیا ہے، وہ بیان کرتے ہیں:

الایمان) عن ابن عباس رضی اللّٰه تعالىٰ عنهما عن النبى ﷺ قال: ((مَن سَكَنَ الباديةَ جَفَا، ومن اتّبَعَ الصّيدَ غَفَلَ، ومن اتى ابوابَ السُّلطانِ افتُتِنَ))

ترجمہ: نبی کریم ﷺ نے فرمایا ”جو جنگل میں (آبادی سے دور) مقیم ہوا وہ سخت مزاج ہو گیا، جس نے شکار کا تعاقب کیا وہ غافل ہوا اور جو کوئی حاکم کے دروازہ پر آیا فتنہ کا شکار ہو گیا“☆

☆علامہ عبد الرؤف المناوی علیہ الرحمہ ”فیض القدیر“ میں (۱۸۹/۶) لکھتے ہیں (جو جنگل میں مقیم ہوا اس نے زیادتی کی) اس سے مراد یہ ہے کہ اس کا دل سخت اور مزاج کرخت ہو جاتا ہے، پھر اسی باعث وہ امور خیر مثلاً نیکی اور صلہ رحمی کی طرف مائل نہیں ہوتا کیونکہ وہ علماء سے دور ہو جاتا ہے اور اسی عمل کی بناء پر وہ صلحاء کی صحبت میں کم جاتا ہے پس اس کی طبیعت میں وحشی پن آجاتا ہے اور حافظ ابن حجر (رحمۃ اللہ علیہ) سے حدیث شریف کے اس حصہ (جس نے شکار کا پیچھا کیا وہ غافل ہوا) کا معنی یوں نقل کیا ہے:

شکار کی کثرت اور اس میں مستقل مشغولیت مکروہ ہے کیونکہ اس کی وجہ سے بعض واجبات (جاری)

(۲) اخرج الامام اح

ابی ہریرہ رضی اللہ ع

افتُتِن، وَمَا ازْدَادَ مِنْ ا

ترجمہ: امام احمد بن حنبل

نے سند صحیح کے ساتھ حض

رسول اللہ ﷺ نے فرما

سے قریب تر ہوتا جاتا ہے،

(۳) اخرج ابن ماجه

ﷺ: ((اِنّ مِن اَبغَضِ ال

ترجمہ: امام ابن ماجہ رحمۃ اللہ

ہے، رسول اللہ ﷺ نے ار

والے قاری وہ ہیں جو اُمراء

(حاشیہ صفحہ گزشتہ) اور بیشتر

علامہ مناوی (حاکم کے

یعنی اگر وہ اپنے مقصد

مخالفت کی تو یقینا اپنی جان کو خط

کی نعمت کو حقیر جانا اور اگر اس کی

☆حدیث کا پورا متن سنن اب

قالوا يا رسول الله! وم

أربعمائة مرة) قالوا

بأعمالهم وإنّ من أبغض

صفحہ ۱۴۷

ابي هريرة رضى الله عنه قال: قال رسول الله ﷺ ((مَن اتی ابوابَ السُلطان افتُتن ، وَمَا ازْدَادَ مِن السُلطان قُرباً الا ازْدَادَ مِنَ اللَّهِ [تعالی] بُعداً))

ترجمہ: امام احمد بن حنبل رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی مسند میں اور امام ابو داؤد و بیہقی رحمہما اللہ تعالیٰ نے سند صحیح کے ساتھ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کیا، انہوں نے کہا ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جو حاکم کے دروازہ پر گیا وہ فتنہ میں پڑا اور جتنا کوئی حکمران سے قریب تر ہوتا جاتا ہے، اتنا ہی اللہ تعالیٰ سے دور تر ہوتا جاتا ہے“۔

ﷺ: ((انّ من ابغض القرّاءِ إِلى اللَّهِ [تعالی] الذين يزُورونَ الأمَرَاء))

ترجمہ: امام ابن ماجہ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کیا ہے، رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”بے شک اللہ تعالیٰ کے غضب کا زیادہ شکار ہونے والے قاری وہ ہیں جو اُمرا (حکمرانوں) سے ملتے جلتے ہیں“۔☆

(حاشیہ صفحہ گزشتہ) اور بیشتر مستحبات چھوٹ جاتے ہیں۔

علامہ مناوی (حاکم کے دروازے پر جانے والا فتنہ میں پڑا) کا مفہوم یوں بیان کرتے ہیں: یعنی اگر وہ اپنے مقصد میں کامیاب ہوا تو یقیناً دینی معاملہ میں خطرے سے دو چار ہوگا اور اگر حاکم کی مخالفت کی تو یقیناً اپنی جان کو خطرے میں ڈالے گا۔ پھر اگر اس نے دنیا کی وسعت پر نظر رکھی تو خود پر اللہ کی نعمت کو حقیر جانا اور اگر اس کی ملازمت اختیار کی تو پھر دنیا میں گناہ اور آخرت میں پکڑ سے نہیں بچے گا۔

☆ حدیث کا پورا متن سنن ابن ماجہ میں ان الفاظ میں منقول ہے (تعوّذوا بالله من جُبّ الحزن ) قالوا يا رسول الله ! وما جُبّ الحزن ؟ قال :(واد فی جهنم تتعوّذ منه جهنم كلّ يوم اربعمائة مرّة ) قالوا: يا رسول الله ! ومن يدخله ؟ قال : ( أُعِدّ للقرّاء المرائين بأعمالهم وإنّ من أبغض القرّاء إلى الله الذين يزورون الأمراء) (جاری)

صفحہ ۱۴۸

ﷺ: ((إِنَّ أَبْغَضَ الخَلْقِ إِلَى اللَّهِ [تعالى] العَالِمُ الَّذِي يَزُورُ العُمَّالَ)) ترجمہ: امام ابن لال الشافعی رحمۃ اللہ علیہ نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کیا، انہوں نے کہا رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ”اللہ تعالیٰ ساری مخلوق میں سے زیادہ ناراض اس عالم سے ہوتا ہے جو حکمرانوں سے ملتا جلتا ہے“۔

قال رسول الله ﷺ: ((إِذَا رَأَيْتَ العَالِمَ يُخَالِطُ السُّلْطَانَ مُخَالَطَةً كَثِيرَةً فَاعْلَمْ أَنَّهُ لِصٌّ)) ترجمہ: امام دیلمی رحمۃ اللہ علیہ نے ”مسند الفردوس“ میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جب تم کسی عالم کو دیکھو کہ وہ حکمران سے زیادہ میل جول رکھتا ہے تو سمجھ لو کہ وہ (دین کا) ڈاکو ہے“۔

ﷺ: ((إِنَّ أُنَاساً مِن أُمَّتِي سَيَتَفَقَّهُونَ فِى الدِّينِ ، وَيَقْرَءُونَ القُرآنَ ، وَيَقُولُونَ: نَاتِى الامراء فَنُصِيبُ من دُنْيَا هُم وَنَعتَزِلُهُم بِدِينِنَا، وَلَا يَكُونُ ذلِكَ ، كَمَا لا يُجتَنَى مِنَ القَتَادِ الا الشوك ، كذلك لا يُجتَنَى من قُربِهِم الا الخطايا)) ترجمہ: امام ابن ماجہ رحمۃ اللہ علیہ نے ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ایسی سند سے روایت

(حاشیہ صفحہ گزشتہ) ترجمہ: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اللہ سے جب الحزن سے پناہ مانگو، صحابہ نے عرض کیا یا رسول اللہ جب الحزن کیا شے ہے؟ آپ نے فرمایا جہنم میں ایک وادی ہے جس سے جہنم بھی ہر روز چار سو بار پناہ مانگتی ہے ، صحابہ نے دریافت کیا یا رسول اللہ اس میں کون لوگ جائیں گے، آپ نے فرمایا وہ ان قراء کے لیے تیار کی گئی ہے جو اپنے اعمال دکھا دکھا کر کرتے ہیں اور اللہ کے نزدیک بدترین قراء وہ ہیں جو امراء کا دیدار کرتے ہیں۔ محاربی فرماتے ہیں اس سے مراد ظالم امراء ہیں۔

صفحہ ۱۴۹

کیا ہے جس کے راوی ثقہ ہیں، کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”جلدی میری امت میں سے کچھ لوگ دین میں علم و فہم کا دعویٰ کریں گے اور قرآن پڑھیں گے، اور کہیں گے ہم امراء کے پاس جاتے ہیں تاکہ ان سے دنیوی حصہ حاصل کریں اور اپنے دین کے لیے ان سے دوری اختیار کریں اور ایسا نہیں ہوگا، جس طرح کانٹے دار درخت کو چھیڑنے سے سوائے کانٹا چبھنے کے کچھ نہیں ملتا، اسی طرح ان کی قربت سے بھی سوائے کوتاہیوں کے کچھ حاصل نہیں ہوتا ۔

(۷) اخرج الطبراني في (الاوسط ) بسند رجاله ثقات عن ثوبان رضي الله عنه مولى رسول الله ﷺ۔ قال : قلتُ :يا رسول الله : أمن أهلِ البيتِ أنا ؟ فسكت، ثمّ قال في الثالثة : نَعَم مَالَم تَقُم على بَابِ سُدّة ، او تاتى اميراً تسأله. (قال الحافظ المنذري في ( الترغيب والترهيب ) : المراد بالسدّة هنا:باب سلطان و نحوه )

ترجمہ: اور امام طبرانی (رحمۃ اللہ علیہ) نے ثقہ راویوں کی سند سے ”معجم اوسط“ میں حضرت ثوبان (مولیٰ رسول اللہ ﷺ) رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے وہ فرماتے ہیں، میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! کیا میں اہل بیت میں سے ہوں؟ تو آپ خاموش رہے، پھر تیسری بار پوچھنے پر فرمایا: ہاں! جب تک کہ تم کسی حاکم کے دروازے پر کھڑے نہ ہو، اور کسی سردار کے ہاں سوال کے لیے نہ جاؤ“۔

حافظ المنذری علیہ الرحمہ ”الترغیب والترہیب“ میں فرماتے ہیں: یہاں ”السّدۃ“ سے مراد حاکم وقت اور اسی طرح کے اور لوگوں کا دروازہ ہے“۔

(۸) اخرج البيهقي عن رجل من بنى سليم قال: قال رسول الله ﷺ (( إيّا كم وابوابَ السُّلطان ))

ترجمہ: امام بیہقی علیہ الرحمہ بنو سلیم کے ایک فرد سے روایت کرتے ہیں: کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”حاکم کے دروازے سے بچو“۔

صفحہ ۱۵۰

(۹) اخرج الدارمى فى (مسنده) عن ابن مسعود رضی الله عنه قال: ((من طلب العلم لاربع دخل النّار : لِيُبَاهِى به العلماء، او يُمَارِى به السفهاء ، او يَصْرِفَ بهِ وُجُوه النّاس اليه ، او ياخُذَ به منَ الا مراء)) ترجمہ: امام دارمی رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی مسند میں حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کیا ہے، انہوں نے فرمایا : جس نے علم چار چیزوں کے لیے حاصل کیا وہ جہنم میں گیا : ” تاکہ اس کے ساتھ علماء پر فخر کرے یا احمقوں سے جھگڑا کرے ،یا اس کے ذریعے لوگوں کو اپنی طرف متوجہ کرے، یا اس کے ذریعے اُمراء سے کچھ حاصل کرے“۔

(۱۰) اخرج العُقيلى عن انس رضی الله عنه قال : قال رسول الله ﷺ: (( العُلَمَاءُ امَنَاءُ الرُّسُلِ على عِبَادِاللّٰه مَا لم يُخالِطُوا السُّلطان . فاذا فَعَلُوا ذلك فقد خانوا الرسل فاحذرو هم واعتزلوهم)) ترجمہ: امام عقیلی (رحمۃ اللہ علیہ) نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کیا، انہوں نے کہا، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”علماء اللہ کے بندوں پر رسولوں کے امین ہیں جب تک کہ وہ حکمرانوں سے گھل مل کر نہ رہیں ،تو جب وہ ایسا کریں تو یقیناً انہوں نے رسولوں سے خیانت کی ،تو اس وقت ان سے بچو اور انہیں چھوڑ دو“۔٭

٭حضرت مؤلف علیہ الرحمہ نے اس حدیث کو حسن بن سفیان کی ”مسند“ کی طرف منسوب کیا ہے اسے حاکم نے اپنی تاریخ میں ،ابونعیم نے ”حلیہ“ میں، دیلمی نے ”مسند الفردوس“ میں اور رافعی نے اپنی تاریخ میں روایت کیا ہے جبکہ حافظ ابن عبدالبر نے ”جامع بیان العلم“ میں نقل کر کے اسے عقیلی کی طرف منسوب کیا ہے۔ علامہ ابن جوزی نے اس پر وضع کا حکم لگایا ہے جیسا کہ ”تلخیص الموضوعات“ علامہ ذھبی ،رقم: ۱۶۷میں ہے جبکہ امام سیوطی علیہ الرحمہ نے (اللآلی ۲۰/۱) میں اس کا تعاقب کرتے ہوئے کہا ہے کہ بلاشبہ اس حدیث کے متعدد صحیح اور معنوی شواہد موجود ہیں جو چالیس سے زائد ہیں اس لیے اصول حدیث کے تقاضوں کے مطابق اس پر حسن کا حکم لگایا جائے گا اور شیخ البانی نے ضعیف الجامع، رقم: (۴۸۸۳) اسے ضعیف کہا ہے۔

صفحہ ۱۵۱

ن مسعود رضی اللہ عنہ قال: ((من العلماء، او يُمارى به السفهاء ، او مراء)) حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ رتبوں کے لیے حاصل کیا وہ جہنم میں اسے جھگڑا کرے، یا اس کے ذریعے اُسے کچھ حاصل کرے“۔

: قال رسول الله ﷺ : بطوا السلطان ، فاذا فَعَلُوا ذلک

الک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت عالم کے بندوں پر رسولوں کے امین جب وہ ایسا کریں تو یقیناً انہوں نے چھوڑ دو“۔ ٭

صنعہ“ کی طرف منسوب کیا ہے اسے حاکم “ میں اور رافعی نے اپنی تاریخ میں روایت سے عقیلی کی طرف منسوب کیا ہے۔ موضوعات“ علامہ ذھبی رقم: ۱۶۷ میں ہے ہوتے ہوئے کہا ہے کہ بلاشبہہ اس حدیث اس لیے اصول حدیث کے تقاضوں کے :(۴۸۸۳)اسے ضعیف کہا ہے۔

(۱۱)اخرج العسكرى عن على بن ابى طالب رضى الله عنه قال: قال رسول الله ﷺ: (( الفقهاء أمناءُ الرُّسُلِ ما لَم يَدخُلُوا فِى الدُّنيَا ويَتّبِعُوا السلطان فاذا فعلوا ذلك فاحذروهم)) ترجمہ: امام عسکری (رحمۃ اللہ علیہ) نے حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کیا ہے، انہوں نے فرمایا، رسول اللہ ﷺ کا ارشاد گرامی ہے: ”فقہاء رسولوں کے امین ہیں جب تک وہ دنیا داری اختیار نہ کریں اور حاکم وقت کے حاشیہ بردار نہ بنیں تو جب وہ ایسا کرنے لگیں تو ان سے بچو“۔

(۱۲) اخرج ابو نعيم فى (الحلية) عن جعفر بن محمد الصادق قال : (( الفقهاء أمناءُ الرُّسُلِ ، فاذا رايتم الفقهاء قد رَكَنُوا الى السلطان فاتّهِمُوهُم)) امام ابونعیم (رحمۃ اللہ علیہ) نے ”حلیہ“ میں امام جعفر صادق رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کیا ہے انہوں نے فرمایا: ” فقہاء رُسُل (علیہم السلام) کے امین ہیں، تو جب تم فقہاء کو دیکھو کہ وہ حاکم وقت کی طرف گام زن ہیں تو انہیں ملامت کرو“۔

(۱۳)واخرج الديلمى عن معاذ بن جبل رضى الله عنه قال: قال رسول الله ﷺ: (( ما من عالم اتى صاحب سلطان طوعاً، الا كان شريكه فى كلّ لون يُعذّبُ به فى نار جهنم)) ترجمہ: امام دیلمی (رحمۃ اللہ علیہ) نے حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کیا ہے کہ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”ایسا عالم جو برضا و رغبت حاکم وقت کے پاس جائے تو وہ جہنم کی آگ میں اسے دیئے جانے والے عذاب کے ہر رنگ میں اس کا شریک ہوگا“۔

۱۴۔ واخرج الديلمى عن عمر [ ابن الخطاب ]رضى الله عنه قال: قال

صفحہ ۱۵۲

رسول اللہ ﷺ : ((اِنَّ اللّٰهَ يُحِبُّ الامراء اذا خالطوا العُلَماء ، ويَمقُتُ العُلَماء اذا خالطوا الامراء ، لا نّ العلماء اذاخالطوا الامراء رَغِبوا فی الدّنيا ، والامراء اذا خالطوا العلماء رَغِبوا فی الاخرة))

ترجمہ: امام دیلمی (رحمۃ اللہ علیہ) نے حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”بے شک اللہ تعالیٰ علماء کے ساتھ میل جول رکھنے والے اُمراء کو پسند کرتا ہے اور اُمراء کے ساتھ میل جول رکھنے والے علماء سے ناراض ہوتا ہے کیونکہ یقیناً جب علماء اُمراء کے ساتھ میل جول رکھتے ہیں تو دنیا کی طرف مائل ہو جاتے ہیں اور اُمراء جب علماء کے ساتھ میل جول رکھتے ہیں تو آخرت کی طرف مائل ہو جاتے ہیں۔“

قال : (([الا]لا يَمْشِيَنَّ رَجُل منكم شِبراً الى ذى سُلطان )

ترجمہ: امام ابن ابی شیبہ (رحمۃ اللہ علیہ) نے اپنی مصنّف میں حضرت حذیفہ بن یمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کیا ہے انہوں نے فرمایا: ”خبر دار تم میں سے کوئی شخص صاحب اقتدار کی طرف ایک بالشت بھی نہ جائے۔“

السلطان)).

ترجمہ: امام بیہقی (رحمۃ اللہ علیہ) نے حضرت امام محمد بن واسع (رحمۃ اللہ علیہ) سے روایت کیا ہے انہوں نے فرمایا: ”حکمران کے قرب کی نسبت مٹی میں مل جانا بہتر ہے۔“

(شعب الایمان، رقم: ۹۴۲۹)

صفحہ ۱۵۳

السُّلطان كما نتعلمُ سُورَةً مِنَ القرآن ))

ترجمہ: امام بیہقی (رحمۃ اللہ علیہ) نے حضرت فضیل بن عیاض (رحمۃ اللہ علیہ) سے روایت کیا ہے انہوں نے فرمایا:

”ہم حاکم وقت سے دور رہنے کی تعلیم اسی طرح حاصل کیا کرتے تھے جس طرح قرآن کی کوئی سورت سیکھا کرتے تھے“۔

بالسُّلطان ، فاعلم انَّهُ لِصٌ ، واياك ان تُخدَعَ فيُقَالُ لَک : تَرُدُّ مَظلمة ، تَدفَعُ عن مظلوم ، فان هذه خدعة ابليس اتخذها للقُرّاء سُلَّماً ))

ترجمہ: امام بیہقی (رحمۃ اللہ علیہ) نے حضرت سفیان ثوری (رحمۃ اللہ علیہ) سے روایت کیا ہے انہوں نے فرمایا:

”جب تم کسی قاری کو حاکم وقت کی خدمت میں دیکھو تو سمجھ لو کہ وہ چور ہے، اور اس فریب سے بچنا جب وہ تمہیں یہ کہے کہ وہ اسے ظلم سے روکنے کے لیے اور مظلوم کی حمایت کے لیے ایسا کرتا ہے کیونکہ بے شک یہ شیطان کا فریب ہے جسے اس نے قاریوں کے لیے بطور سیڑھی اختیار کیا ہے“۔☆

”معاملہ میں فریب دیا ہے اس کی وجہ سے ان میں سے کوئی یوں کہتا ہے کہ ہم تو دربار شاہی میں اس لیے جاتے ہیں تاکہ کسی مسلمان کی سفارش کرسکیں اور اس فریب کا انکشاف اس چیز سے ہوتا ہے کہ اگر یہی سفارش حکمران کے پاس جاکر کوئی اور کردے تو انہیں یہ ناگوار گزرتا ہے اور کبھی تو وہ حاکم کے پاس تنہا جانے کی وجہ سے ایسے شخص کو ملامت بھی کرتے ہیں۔ ایسے ہی انہوں نے اپنی کتاب ”صید الخاطر“ ص ۹۴ میں بھی ابلیس کی ان کمندوں کا ذکر کیا ہے جن سے وہ علماء کا شکار کرتا ہے۔ تفصیل کے لیے دیکھئے کتاب مذکور۔

صفحہ ۱۵۴

(۱۹) واخرج البیهقی عن ابن شهاب قال : سمعت سفیان الثوری یقول لرجل : (( ان دَعَوكَ لتقرا عليهم (قل هو الله احد ) فلا تاتهم )) قيل لابن شهاب : من تعنی؟ قال: السلطان.

ترجمہ: امام بیہقی (رحمۃ اللہ علیہ) نے حضرت ابن شہاب (رحمۃ اللہ علیہ) سے روایت کیا ہے انہوں نے فرمایا کہ میں نے سفیان ثوری (رحمۃ اللہ علیہ) سے سنا کہ وہ ایک شخص سے کہہ رہے تھے ”اگر وہ تمہیں قُلْ هُوَ اللّٰهُ اَحَد (سورہ الاخلاص) پڑھنے کے لیے بھی بلائے تو اس کے پاس مت جانا“۔ ابن شہاب (رحمۃ اللہ علیہ) سے پوچھا گیا یعنی کون؟ تو انہوں نے کہا حاکم وقت۔

(۲۰) واخرج الحکیم الترمذی فی (نوادر الاصول ) عن عمر بن الخطاب رضی الله عنه قال : اتانی رسول الله ﷺ وأنا اعرف الحزن فی وجهه ، فاخذ بلحیته فقال : انّا لِلّٰه وانّا الیه راجعون . اتانی جبریل فقال : انّ امتك [ مفتتنة ] بعدك بقلیل من الدهر غير كثير . قلت : ومن اين ذاک ؟ قال : من قِبل قرّائهم ، تمنع الامراء النّاس حقوقهم فلا يُعطونها ، وتتبع القرّاء اهواء الامراء . قُلتُ :یا جبریل فبم يسلم من يسلم منهم ؟ قال بالكف والصبر، ان أُعطوا الذى لهم اخَذُوهُ ، وان مُنِعُوهُ تَرَكُوهُ)) .

ترجمہ: حکیم ترمذی (رحمۃ اللہ علیہ) نے ”نوادر الاصول“ میں حضرت عمر ابن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے نقل کیا ہے انہوں نے فرمایا، کہ رسول اللہ ﷺ میرے پاس تشریف لائے تو میں نے ان کے چہرہ انور پر غم کا اثر محسوس کیا آپ ﷺ نے اپنی داڑھی مبارک کو پکڑا اور فرمایا : اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُون ۔ جبرئیل میرے پاس آئے اور کہا بے شک آپ کے تھوڑا ہی عرصہ بعد آپ کی امت زیادہ دیر نہیں گزرے گی کہ فتنہ کا شکار ہو جائے گی میں نے پوچھا وہ کس طرح سے تو جبریل نے کہا اپنے قاریوں اور اہل اقتدار کی طرف سے۔ اُمراء

صفحہ ۱۵۵

عوام کے حقوق ادا نہیں کریں گے اور قراء حکمرانوں کی خواہشات میں ان کی پیروی کریں گے، میں نے پوچھا اے جبرئیل! ان میں سے محفوظ رہنے والا کیسے بچے گا؟ جبرئیل نے کہا صبر اور ضبط سے، (یعنی) اگر انہیں ان کا حق دیا جائے گا تو رکھ لیں گے اور اگر نہ ملے گا تو چھوڑ دیں گے“۔

۲۱۔ واخرج البيهقي عن سفيان الثورى قال : (( ان فى جهنم لُجّاً تستعيذ منه جهنم كلّ يوم سبعين مرّة،اعدّهُ اللهُ للقراء الزّائرين السّلطان))

ترجمہ: امام بیہقی (رحمۃ اللہ علیہ) نے حضرت سفیان ثوری (رحمۃ اللہ علیہ) سے روایت کیا انہوں نے فرمایا بے شک جہنم میں ایک گڑھا ہے جس سے جہنم ہر روز ستر بار پناہ مانگتی ہے اللہ تعالیٰ نے اسے بادشاہ سے ملنے جلنے والے قاریوں کے لیے تیار کیا ہے“۔

۲۲۔ وفى ( طبقات الحنفيين ) فى ترجمة ابى الحسن الصّيدلاني انّ السّلطان ملك شاه قال له : لِمَ لا تجيءُ الیّ ؟ قال : (( اردتُ ان تكون من خير الملوك حيث تزور العلماء، ولا اكون من شرّ العلماء حيث ازُورُ الملوك)).

ترجمہ: ”طبقات الحنفیین“ میں حضرت ابوالحسن الصّیدلانی (رحمۃ اللہ علیہ) کے تعارف میں لکھا ہے کہ سلطان ملک شاہ نے ان سے پوچھا تم میرے پاس کیوں نہیں آتے ہو؟ انہوں نے فرمایا میں چاہتا ہوں کہ تم علماء کی زیارت کے ذریعے بہترین بادشاہ بن جاؤ اور میں بادشاہوں سے ملاقات کر کے بدترین عالم نہ بنوں۔

(۲۳) علامہ جلال الدین سیوطی (رحمۃ اللہ علیہ) لکھتے ہیں، ہم نے عبداللہ بن مبارک (رحمۃ اللہ علیہ) سے روایت کیا ہے انہیں یہ خبر پہنچی کہ علامہ ابن عُلَیّہ قرب بادشاہی سے وابستہ ہوگئے ہیں تو ابن المبارک رحمۃ اللہ علیہ نے ان کی طرف یہ اشعار لکھ کر بھجوائے۔

صفحہ ۱۵۶
يَا جَاعِلَ العِلمِ لَهُ بَازِيًا يَصطَادُ اموالَ [السَّلاطِين] ☆

ترجمہ: ”اے علم کو باز بنا کر حکمرانوں کا مال شکار کرنے والے“۔

احتلت لِلدُنيَا ولذَّاتِها بحيلةٍ تَذهَبُ بِالدِّينِ

ترجمہ: ”تو نے دنیا اور اس کی لذتوں تک پہنچنے کے لیے وہ حیلہ اپنایا ہے جس سے تیرا دین بھی جاتا رہے گا“۔

اَيْنَ رِوَايَاتُكَ فِيمَا مَضَى عن ابن عون و ابن سیرین

ترجمہ: ”امام ابن عون اور ابن سیرین (رحمہما اللہ) سے مروی تیری روایات کہاں ہیں“۔

[أين رواياتك فيما مضى لِترك أبواب السلاطین]

ترجمہ: ”اور تیری روایت کردہ وہ حدیثیں کہاں گئیں جن میں حکمرانوں کے دروازوں کو چھوڑ دینے کا حکم آیا ہے“۔

اور اس موضوع پر احادیث و آثار اور علماء کے اتنے اقوال موجود ہیں جو بے شمار ہیں اور میں نے اس موضوع پر مستقل ایک کتاب لکھی ہے، (ما رواه الاساطين في عدم المجیئ الى السلاطين) یہاں اتنا ہی کافی ہے، اور اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے۔

تمت بحمد اللہ تعالیٰ

☆☆☆☆

☆ علامہ حافظ ابن عبدالبر نے (جامع بیان العلم: ۲/ ۶۳۷: رقم: ۱۰۹۸، طبع: دار ابن جوزی القاہرہ، مصر) میں پہلے شعر میں سلاطین کی جگہ ”مساکین“ لکھا ہے۔ (۱۲ مجددی)

حدیث نمبر ۱: ابوداؤد

النسائی، (

مسند احمد

حدیث نمبر ۲: مسند احمد

شعب

مجمع ال

حدیث نمبر ۳: ابن ماجہ

حدیث نمبر ۴: الجامع

حدیث نمبر ۵: فردو

للمناو

حدیث نمبر ۶: س

حدیث نمبر ۷:

حدیث نمبر ۸: ف

حدیث نمبر ۹: معـ

حدیث نمبر ۱۰: جا

صفحہ ۱۵۷

تخریج احادیث

رسالہ سلطانیہ

النسائی، (الصید) رقم: ۴۳۴۵، ۴۳۰۹۔ بیہقی شعب الایمان، رقم: ۹۴۰۲۔ مسند احمد: ۱/۳۵۷۔ صحیح الجامع، رقم: ۶۲۹۶۔

شعب الایمان، رقم: ۹۴۰۴۔ السلسلة الصحيحه، رقم: ۱۲۷۲۔ صحیح الجامع، رقم: ۶۱۲۳۔

۱۳۵۷۔

للمناوی، ۱/۴۴۶۔ ضعیف الجامع، رقم: ۵۰۰۔

۳/۱۹۶۔

صفحہ ۱۵۸

عسکری کی طرف منسوب کرتے ہوئے اس کی تضعیف کی ہے ایسے ہی زرقانی نے (المختصر) رقم: (۶۹۳) میں اور شیخ البانی نے (ضعیف الجامع) رقم:۴۰۳۲) میں کہا ہے۔

ہے جس کا حوالہ وہاں نہیں ملا۔

۲۷۳/۴۔

امام جلال سراپا عشق دلیل راہ عطائے ذات نبی کا ہم ر مسیح اہل کلیم طور حدیث مصطفی شعاع مہر شرف حاصل گل باغ کر کریں گے ط شفیع اہل ص ہیں ان کے امام اہل مری اسناد کہ میرے نگارش

صفحہ ۱۵۹

منقبت

امام جلال الدین سیوطی رحمہ اللہ تعالیٰ

سراپا عشق و ایقاں ہیں جلال الدین سیوطی
دلیل راہ ایماں ہیں جلال الدین سیوطی
عطائے ذات رحماں ہیں جلال الدین سیوطی
نبی کا ہم پہ احساں ہیں جلال الدین سیوطی
مسیح اہل عرفاں ہیں جلال الدین سیوطی
کلیم طور قرآں ہیں جلال الدین سیوطی
حدیث مصطفیٰ کے نور نے چمکا دیا ان کو
شعاع مہر فاراں ہیں جلال الدین سیوطی
شرف حاصل رہا ان کو شہِ دیں کی حضوری کا
گلِ باغِ کریماں ہیں جلال الدین سیوطی
کریں گے علم والے بھی شفاعت اہل عصیاں کی
شفیع اہل عصیاں ہیں جلال الدین سیوطی
ہیں ان کے مقتدی شعرانی وغزّی وشامی سے
امام اہل دوراں ہیں جلال الدین سیوطی
مری اسناد میں شہزاد ان کا نام نامی ہے
کہ میرے پیر پیراں ہیں جلال الدین سیوطی

نگارش ------------------------- علّامہ محمّد شہزاد مجدّدی

PDF 160

فِيْهَا كُتُبٌ قَيِّمَةٌ (الْبَيِّنَة: ٣)

سلسلہ رسائل سیوطی : 1

امام جلال الدین سیوطی علیہ الرحمہ کے علمی و تحقیقی نوادرات

پر مشتمل سات بصیرت افروز رسائل کا مجموعہ

مجموعۂ

رسائل سیوطی

ترجمہ : تحقیق : تخریج

علامہ محمد شہزاد مجددی

دارالاخلاص لاہور

PDF 161

گزارش

امام جلال الدین سیوطی علیہ الرحمہ آسمان علم و حکمت کا ایسا نیر تاباں ہے جس کی نور بار شعاعوں سے جہان معرفت و حکمت جگمگا رہا ہے۔ آپ کے قلب مصفّا اور نفس زکیہ سے پھوٹنے والے علوم و فنون کے سوتے جب رشحات قلم بن کر صفحۂ قرطاس پر بکھرتے ہیں تو کبھی علم تفسیر کے گہر ہائے آب دار ”الدرّ المنثور“ دکھائی دیتے ہیں تو کبھی علم و حکمت کے یہی موتی ”اسباب النزول“ کے نگینوں میں ڈھلتے نظر آتے ہیں۔ آپ کی فکر رسا جب علم القرآن کے افلاک کی جانب محو پرواز ہوتی ہے تو ”الاتقان فی علوم القرآن“ سے ”معترک الاقران“ تک جاتی ہے۔

اسی عالم محویت و حضوری میں امام سیوطی جب مدینۃ علم الحدیث میں پہنچتے ہیں تو عشق و عرفان کے مفاہیم کو نت نئے آفاق دکھاتے جاتے ہیں۔ ”الجامع الصغیر“ کے مدارج طے کرتے ہوئے ”الجامع الکبیر“ کی منزلوں پر فائز ہوتے ہیں۔ اسی دوران ”تدریب الراوی“ اور ”صحاح ستہ کی شروح“ کے چشموں سے تشنگان علوم کی پیاس بجھاتے چلے جاتے ہیں۔ الغرض ”اللآلی المصنوعہ“ سے لے کر ”الدرر المنتثرہ“ تک علم و فن کے موتی رولتے چلے جاتے ہیں۔ آخر ان کا مداح ان کے کمالات علمی و فقہی کی داد دیتا ہوا ”الحاوی للفتاویٰ“ میں شامل مختصر رسائل کے مندرجات و مشتملات پر نگاہیں جمائے بحر حیرت میں مستغرق ہو جاتا ہے۔ علم تصوف و طریقت اور ادبیات عربی کے حوالے سے بھی وہ اصول و نحو اور بیان و بدیع کے میدان میں درجۂ امامت پر متمکن نظر آتے ہیں۔

امام سیوطی علیہ الرحمہ اہل حضوری محدثین اور صاحب نسبت شاذلی صوفیہ میں سے ہیں اپنے جذبۂ عشق رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی تسکین کے لئے انہوں نے منظوم نذرانہ ہائے نعت بھی ممدوح کونین صلی اللہ علیہ وسلم کے حضور پیش کرنے کی سعادت حاصل کی ہے۔ الغرض مختلف علوم و فنون پر مبنی پانچ سو سے زائد تصانیف و تالیفات کا ذخیرہ حضرت خاتمۃ الحفاظ نے اپنے علمی ورثہ کے طور پر امت مسلمہ کے علماء کے لئے چھوڑا ہے۔ جس میں سے چند نوادرات پیش نظر ”مجموعۂ رسائل“ میں شامل ہو کر ہفت رنگ ارمغان علمی کا پیکر لئے اہل علم کے سامنے جلوہ گر ہیں۔

حق تعالیٰ شانہ اس کاوش کو شرف قبولیت سے نوازے۔ آمین

(ناشر)