فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے جلد 1 · محمد متین خالد
Qadianiat kay Khilaf Adalti Faislay · Vol. 1
PDF 1

فتنہ قادیانیت کے خلاف

جلد اول

عدالتی فیصلے

ترتیب و تحقیق

محمد متین خالد

صفحہ 1

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول)

بسم اللہ الرحمن الرحیم

فتنہ قادیانیت کے خلاف

عدالتی فیصلے

صفحہ 2

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول)

دلائل و براہین سے مزین یہ فیصلے عدل و انصاف کی دنیا میں ایک درخشندہ سنگ میل کی علامت ہیں۔ ان فیصلوں سے تحفظ ختم نبوت اور تحفظ ناموس رسالت ﷺ کے نئے گوشے سامنے آتے ہیں اور محبت رسول ﷺ کی نئی راہیں کھلتی ہیں۔ اس کتاب کے مطالعہ سے قانون توہین رسالت ﷺ سے متعلق ان تمام غلط فہمیوں اور اعتراضات کا ازالہ ہوگا جنہیں عیسائی اور قادیانی کئی دہائیوں سے ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت پھیلا رہے ہیں اور جن کی اندھی تقلید میں مخالفت برائے مخالفت کے پیروکار قانون شکن سیکولر فاشسٹ، ڈالر ائزڈ این جی اوز اور اسلام بیزار نام نہاد دانشور بھی سُر سے سُر ملاتے نظر آتے ہیں۔ یہ عدالتی فیصلے ججوں، سیاستدانوں، آئین شناسوں، وکیلوں، صحافیوں، دانشوروں، علما اور طالب علموں کے لیے ایک رہنما دستاویز کا کام دیں گے۔ ان فیصلوں کا ایک ایک لفظ پڑھنے والوں کی شریانوں میں دوڑنے والے خون کی ایک ایک بوند میں حیات ابدی کا شعلہ بیدار کرتا ہے۔

صفحہ 3

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول)

فتنہ قادیانیت کے خلاف

عدالتی فیصلے

(جلد اوّل)

محمد متین خالد

عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت

حضوری باغ روڈ، ملتان ۔ 4783486-061

صفحہ 4

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول)

جملہ حقوق محفوظ

نام کتاب فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول) مصنف محمد متین خالد ناشر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت حضوری باغ روڈ، ملتان۔ مطبع آر۔ آر پرنٹرز، لاہور قانونی مشیر محمد نوید شاہین ایڈووکیٹ ہائی کورٹ سرورق محمد طیب محبوب کمپوزنگ طاہر علی، ظفر اقبال سن اشاعت 2023ء

عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت

حضوری باغ روڈ، ملتان۔ 061-4783486

صفحہ 5

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول)

ترتیب عنوانات

وفاقی شرعی عدالت 85

(PLD 1985 Federal Shariat Court 8)

مجیب الرحمن بنام حکومت پاکستان

صفحہ 6

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول)

سپریم کورٹ آف پاکستان (شرعی اپیلٹ بینچ) 283

(PLD 1988 Supreme Court 167) کیپٹن (ریٹائرڈ) عبدالواجد بنام وفاقی حکومت

لاہور ہائی کورٹ 305

(PLD 1987 Lahore 458) ملک جہانگیر ایم جوئیہ بنام سرکار

لاہور ہائی کورٹ 317

(1982 CLC 357) مسعود احمد بنام ممبر (ریونیو) بورڈ آف ریونیو

صفحہ 7

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول)

لاہور ہائی کورٹ 329

(1992 P Cr L J 2346) (Lahore) سرفراز احمد بنام سرکار (1992 P Cr L J 2351) (Lahore) ناصر احمد بنام سرکار

وفاقی شرعی عدالت 361

(PLD 1991 Federal Shariat Court 10) محمد اسماعیل قریشی بنام حکومت پاکستان

لاہور ہائی کورٹ 405

(PLD 1994 Lahore 485) ریاض احمد بنام سرکار

صفحہ 8

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول)

لاہور ہائی کورٹ

429 (PLD 1994 Lahore 485) ریاض احمد بنام سرکار

کوئٹہ ہائی کورٹ

457 (PLD 1988 Quetta 22) ظہیر الدین بنام سرکار

لاہور ہائی کورٹ

493 (PLD 1992 Lahore 1) مرزا خورشید احمد بنام حکومت پنجاب

۞......۞......۞

صفحہ 9

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول)

انتساب

قائد عوام جناب ذوالفقار علی بھٹو

اور

مجاہد اسلام جناب صدر محمد ضیاء الحق

کے نام

جن کے آئینی اور قانونی اقدامات کے نتیجہ میں فتنہ قادیانیت اپنے منطقی انجام کی طرف بڑھ رہا ہے۔-

آسماں ”تمہاری“ لحد پر شبنم افشانی کرے!
صفحہ 10

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول)

صفحہ 11

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول)

قانونی شکنجہ

علامہ محمد اقبالؒ نے حضور نبی کریم ﷺ کی بارگاہ میں التجا کرتے ہوئے کہا تھا:

گرد تو گردد حریم کائنات از تو خواہم یک نگاہ التفات

یا رسول اللہ ﷺ! پوری کائنات آپ کے گرد گھوم رہی ہے۔ میں آپ کی ایک نگاہ التفات کا بھکاری ہوں۔

حضور رحمت عالم ﷺ کی ختم نبوت اور عزت و ناموس کا تحفظ ایک مقدس فریضہ ہے اور سعادت ابدی بھی۔ یہ ایسا عظیم کام ہے کہ اس کی سعادت حاصل کرنے والے پر اللہ رب العزت کی خاص رحمتوں کا نزول اور آپ ﷺ کی خصوصی نگاہ التفات کا سایہ ہوتا ہے۔ یہ کام دنیا میں حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام سے تعلق پختہ کرتا ہے اور آخرت میں شفاعت کی ضمانت بھی دیتا ہے۔ حضور خاتم النبیین حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی ختم نبوت کا دفاع ہر مسلمان کا اولین اور بنیادی فریضہ ہے۔ آپ ﷺ کا ارشاد گرامی ہے کہ جو شخص کسی مسلمان کی پیٹھ پیچھے اس منافق سے اس کی حفاظت کرے جو اس کے عیوب بیان کر رہا ہو تو اللہ تعالیٰ قیامت کے دن ایک فرشتے کو مقرر کرے گا جو جہنم کی آگ سے اس کی حفاظت کرے گا اور جو شخص کسی مسلمان کو رسوا کرنے کے لیے اس پر تہمت لگائے، اللہ تعالیٰ اسے پل صراط پر روک لے گا، یہاں تک کہ وہ اس چیز کا حساب نہ دے لے جو اس نے مسلمان کے متعلق کہی تھی۔ اندازہ کیجیے کہ جو شخص کسی مسلمان کی عزت کا دفاع کرے تو اس کے لیے مذکورہ انعام ہے اور جو خوش نصیب حضور نبی کریم ﷺ کی ختم نبوت اور عزت و ناموس کا دفاع کرے، اس کو اللہ تعالیٰ کتنے گنا زیادہ اعزازات و انعامات سے نوازے گا؟

برادر عزیز جناب محمد متین خالد کا شمار ایسے ہی خوش بختوں میں ہوتا ہے۔ ان کی خدمات گراں مایہ، ناصرف قابل رشک بلکہ قابل تقلید بھی ہیں۔ انہوں نے اپنی تخلیقی

صفحہ 12

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول)

اور تحقیقی صلاحیتوں کے سبب تحفظ ختم نبوت کی تصنیفی بنیادوں کو بے حد مضبوط کیا ہے۔ ان کی تمام کتب اپنی ایک الگ پہچان اور اہمیت رکھتی ہیں۔ ایسی کتابیں بزعم نہیں بلکہ بزور عشق لکھی جاتی ہیں۔ اس سلسلہ میں ان کی ایک شہرہ آفاق کتاب ”ثبوت حاضر ہیں“ کی مثال پیش کی جاسکتی ہے۔ زیر نظر کتاب ”فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے“، ان کی کئی سال پہلے طبع ہونے والی تالیف ہے جسے اب نئے اضافوں کے ساتھ شائع کیا جا رہا ہے۔ یہ ایک مابہ الامتیاز کارنامہ ہے جسے فرد واحد نے بڑی عرق ریزی اور محنت شاقہ کے بعد باب تکمیل کو پہنچایا ہے۔

اس کتاب میں مجموعی طور پر بائیس (22) فیصلے ہیں جن میں سپریم کورٹ آف پاکستان کے تین، وفاقی شرعی عدالت کے تین اور مختلف ہائی کورٹس کے سولہ فیصلے شامل ہیں۔ ہر فیصلہ اپنی جگہ بڑی اہمیت و افادیت کا حامل ہے۔ فیصلوں کی حسن ترتیب اور تزئین و تہذیب نے کتاب کو چار چاند لگا دیئے ہیں۔ ان تاریخی فیصلوں نے پاکستان میں فتنہ قادیانیت کو آئین و قانون کے شکنجہ میں جکڑ دیا ہے۔ یوں یہ کتاب نا صرف ہر حلقے میں بطور استدلال پیش کیے جانے کے قابل ہے بلکہ اس موضوع پر بڑی بڑی مطول کتابوں سے بے نیاز کرنے کے لیے بھی کافی ہے۔ کسی دانشور نے کہا تھا کہ دلیل کی تلوار، لوہے کی تلوار سے زیادہ کارگر ہے۔ ہم دلائل کی بات کرتے ہیں اور قادیانی تاویل کی۔ دلیل معاملہ سلجھاتی ہے جبکہ تاویل الجھاتی ہے۔ قادیانی اپنی لایعنی تاویلات و مغالطات سے اپنے انجام کو پہنچتے ہیں جبکہ ہم آج روشن دلائل و براہین کے ساتھ زندہ ہیں۔ کارکنان تحفظ ختم نبوت اور قانون سے دلچسپی رکھنے والوں کے لیے یہ کتاب معلومات کا خزانہ ہے۔ خطبا و ادبا سے گزارش ہے کہ وہ ان فیصلوں کے خاص اقتباسات یاد کر کے انہیں اپنی تقریر و تحریر کا لازمی حصہ بنائیں۔ اتنے جامع، اہم، مستند اور وقیع فیصلوں کی جمع آوری پر جناب محمد متین خالد کو دلی مبارک باد پیش کرتا ہوں۔

آخر میں ایک اہم بات جس کا تذکرہ کرنا بے حد ضروری ہے کہ قادیانی فطرتاً اتنے ہٹ دھرم اور فسادی ہیں کہ وہ نا تو جید علما کرام کے مستند فتاویٰ جات کو مانتے ہیں اور نا ہی پارلیمنٹ کے متفقہ فیصلوں کو تسلیم کرتے ہیں۔ وہ نا عوام کی اکثریت کی رائے کا

صفحہ 13

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول)

احترام کرتے ہیں اور نا ہی اعلیٰ عدالتوں کے مبنی بر آئین وقانون فیصلوں کو قبول کرتے ہیں۔ یہ ایک سنگین اور تشویش ناک صورتحال ہے۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ قدرت نے سزا کے طور پر قادیانیوں سے سچ اور جھوٹ میں امتیاز کرنے کی صلاحیت سلب کر لی ہے۔

پاکستان میں قادیانیوں کے خلاف اعلیٰ عدالتوں کے فیصلوں پر عمل درآمد کروانا اور انہیں آئین وقانون کا پابند بنانا قانون نافذ کرنے والے اداروں کی اولین ذمہ داری ہے۔ ادارے غیر موثر ہوں یا عدم دلچسپی کے مظہر ہوں یا کسی دباؤ کا شکار ہوں تو بہترین فیصلوں یا قوانین کا معاشرے کو کوئی فائدہ نہیں۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ قادیانیوں کے بارے میں آئینی ترمیم، امتناع قادیانیت آرڈیننس اور اعلیٰ عدالتوں کے فیصلے صرف کاغذوں پر ہیں، عملی طور پر ان کے نفاذ کی طرف سے چشم پوشی اختیار کر لی گئی ہے۔ فرانس کے مشہور ادیب البرٹ کامو کا قول: ”حکومت کا کوئی ضمیر نہیں ہوتا، زیادہ سے زیادہ حکمت عملی ہوتی ہے اور کچھ نہیں“ قادیانیت کے بارے میں ہر حکومت پر حرف بہ حرف صادق آتا ہے۔ یہ مجرمانہ غفلت ایک سانحہ سے کم نہیں۔ اس کا ذمہ دار کون ہے؟ معاشرے سے انارکی کی فضا ختم کرنے کے لیے اس کا تعین کرنا بے حد ضروری ہے۔

کہتے ہیں کہ اندھیرے زیادہ ہو تو چراغوں کی لو بڑھا دینی چاہیے۔ قادیانی ظلمت کے خاتمے کے لیے یہ کتاب بھی علمی شمع کی بڑھی ہوئی لو ہے۔ لہٰذا میری رائے میں یہ کتاب ہر ذی شعور کو ضرور پڑھنی چاہیے تاکہ قادیانیت کے کفر پر مہر تصدیق ثبت کرنے والے فیصلوں میں دیئے جانے والے براہین واستدلال کو جان سکے۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے حبیب کریم علیہ التحیۃ والتسلیم کے طفیل عزیزی خالد کی مساعی جلیلہ کو شرف قبولیت عطا فرمائے اور تحفظ ختم نبوت کے محاذ پر مزید خدمات کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین بجاہ حبیبہ الکریم ﷺ

محتاج دعا فقیر اللہ وسایا خادم ختم نبوت ملتان 22 اپریل 2022ء

صفحہ 14

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول)

اینٹی قادیانیت پی ایل ڈی

پاکستان اور ہندوستان کے نظام ہائے حکومت اور عدالت کو ان دونوں مملکتوں کے آئین کی بنیاد پر پرکھا جائے تو ان میں ایک واضح فرق نظر آتا ہے۔ پاکستان کے آئین کی بنیاد اس کے دیباچے کی روح سے واضح ہے جس کے مطابق:

"Sovereignty over the entire Universe belongs to Almighty Allah alone"

یعنی اللہ تبارک تعالیٰ ہی پوری کائنات کا بلاشراکت غیرے حاکم مطلق ہے۔ پاکستان کے آئین کے دیباچے میں اس چیز کا اقرار اصل میں اللہ تعالیٰ کی ذات کو ”مالک الملک“ ماننے کا اقرار ہے جس کا حکم سورۃ آل عمران کی آیت 26 میں اللہ تعالیٰ نے خود کرایا۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید کے ذریعے اپنے کو ”مالک الملک“ ہی قرار نہیں دلوایا بلکہ قرآن مجید کی مختلف آیات سے ظاہر ہوتا ہے کہ اپنے آپ کو ”خیر الحاکمین“ اور ”احکم الحاکمین“ بھی قرار دلوایا تاکہ کسی کو کوئی شبہ نہ رہے کہ وہ ”مالک“ ہونے کے علاوہ ”حاکم“ (Ruler) اور ”حکم“ (Judge) بھی ہے۔

آئین پاکستان کی رو سے یہ مملکت اسلامی مملکت ہے، آرٹیکل (1)1۔ اسلام اس مملکت کا دین ہے، آرٹیکل (2)۔ اور اس مملکت میں جتنے غیر اسلامی قوانین ہیں، انہیں قرآن و سنت کی روشنی میں اسلام کے مطابق ڈھالنا ہے اور آئندہ کوئی بھی ایسا قانون بنانے کی گنجائش نہیں جو اسلام سے متصادم ہو۔ آرٹیکل (1)227 آئین پاکستان کے مذکورہ بالا آرٹیکل (1)227 کا اطلاق مملکت کے ہر ادارے پر ہوتا ہے جس کی رو سے نہ تو پارلیمنٹ کو یہ اختیار ہے کہ کوئی ایسا قانون بنا سکے جو قرآن و حدیث سے متصادم ہو، نہ انتظامیہ کو ایسے قوانین نافذ کرنے کا اختیار ہے جو اسلام کی نفی کرتے

صفحہ 15

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول)

ہوں اور نہ ہی عدلیہ کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ کوئی ایسا فیصلہ نافذ کرے جو قرآن وحدیث سے متصادم ہو، اس لیے کہ فیصلے قانون کی حیثیت رکھتے ہیں۔

اس کے برعکس ہندوستان کے لوگوں نے اپنے آئین کی بنیاد سیکولر نظام حکومت پر رکھی جس کے مطابق سب کچھ عوام کے منتخب ممبران کی مرضی کے مطابق ہوگا۔ وہ چاہیں تو اس ملک میں بے حیائی، بے شرمی کے فروغ کے لیے اسمبلی میں قانون پاس کروائیں اور چاہیں تو ہندو ازم کو بھی جڑوں سے اکھاڑ کر پھینک دیں اور چاہیں تو برطانوی یا امریکہ کے اصول اپنالیں۔ اس کے برعکس پاکستان کے آئین کے مطابق یہ مملکت اسلامی مملکت ہے جہاں اسلام کے خلاف کوئی بھی قانون منظور نہیں کیا جاسکتا اور نہ پارلیمنٹ کوئی ایسا قانون پاس کرسکتی ہے جو اسلام سے متصادم ہو۔

زیر نظر کتاب میں موجود قادیانیت کے خلاف تمام اعلیٰ عدالتی فیصلے انہی ٹھوس بنیادوں پر صادر کیے گئے ہیں، جنہیں پڑھنے کے بعد نہ صرف فتنہ قادیانیت کے بارے میں بے حد معلومات ملتی ہیں بلکہ یہ ہر مسلمان کے ایمان کو ایک نئی جلا بھی بخشتے ہیں۔ برادر عزیز محمد متین خالد نے ان ایمان پرور فیصلوں کو مرتب کر کے ایک ”اینٹی قادیانیت پی ایل ڈی“ کی صورت میں مسلمانوں کو گرانقدر علمی تحفہ دیا ہے جبکہ قادیانیت کے پیروکاروں کو ٹھوس شواہد، ناقابل تردید دلائل اور مضبوط نظائر پر مبنی حقائق کا وہ آئینہ دکھایا ہے جس سے حق کے متلاشی قادیانی ذرا سا غور و فکر اور اپنا محاسبہ خود کر کے اسلام کے پر بہار دامن میں پناہ لے سکتے ہیں۔

رد قادیانیت کے موضوع پر جناب محمد متین خالد کی تحقیقی و تصنیفی اور تالیفی و تجزیاتی کاوشوں کی اصابت و وقعت ہر شک و شبہ سے بالاتر ہے۔ ان کی یہ کاوشیں گزشتہ ڈیڑھ عشرہ سے ایک تواتر وتسلسل کے ساتھ ارباب نقد و نظر سے خراج ستائش وصول کر رہی ہیں۔ بیگانہ و خویش ہر حلقہ، محبوب و معتوب ہر انجمن اور حلیف و حریف ہر محاذ ان کی سنجیدہ فکر اور ثقاہت کا معترف ہے۔ غیر جانبدار اور حقائق شعار اصحاب دانش تسلیم کر چکے ہیں کہ اس عبقری محقق کی تالیفات و تصنیفات کا مابہ الامتیاز وصف، دیانت،

صفحہ 16

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول)

صداقت، متانت اور جرأت ہے۔

مکر و ریا کی بھاری بھرکم عبا میں ملبوس قادیان کے ”شیخ کلیسا نواز“ کے ”پرپیچ دجل“ اور ”پرفن فریب“ کو بے نقاب کرنا ہر کس و ناکس کے بس کی بات نہیں۔ انیسویں صدی میں وکٹوریائی عہد کے استعماری پینتروں کا ”کمال اقتدار و اختیار“ یہ تھا کہ انہوں نے ایک ایسی شخصیت جو اپنے اعمال و افکار اور حرکات و سکنات کی بدولت ایک بے ہنگم اور بے ڈول کارٹون کی طرح مضحک تھی، کو ایک مقدس پورٹریٹ کا روپ دیا...... تقدیس آمیز پورٹریٹ کے پیچھے چھپے تضحیک آمیز کارٹون کو ڈھونڈھ نکالنا اور ”شیخ کلیسا نواز“ کی حرم فریبیوں سے سادہ لوح مسلمانوں کو آگاہ کرنا یقیناً جہاد اکبر ہے۔ جہاد اکبر کے اس میدان میں جناب محمد متین خالد قرون اولیٰ کی ”خالدی شمشیر“ کی طرح ڈٹے ہوئے ہیں۔ میری دعائیں اور محبتیں ہمہ وقت جناب متین خالد کے ساتھ ہیں۔

ایس این خاور خان ایڈووکیٹ ہائی کورٹ شیخوپورہ

صفحہ 17

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول)

قادیانیت، قانونی شکنجے میں

”نبوت“ اصلاح انسانیت، تہذیب انسانیت اور ارتقائے انسانیت کے خدائی انتظام کا نام ہے جس کا بنیادی مقصد انسان کو نیابت الٰہی کے فرائض کی ادائیگی کا اہل بنانا ہے۔ انسان، نسیان و غفلت ایسی کمزوریوں کے سبب بار بار شرف انسانیت کے اوج سے گر کر ذلت و پستی کا شکار ہوتا رہا ہے۔ نبوت، انسان کو ہر قسم کی ذلت و پستی سے اٹھا کر عظمت و شرف کی بلندی پر فائز کرنے کے خدائی بندوبست کی عملی صورت ہے۔ ہر نبی، انسانی نفوس کے تزکیہ و تربیت کے ساتھ ساتھ اپنے بعد آنے والے نبی کے بارے میں بھی خبریں دیتا رہا تا کہ بعد میں آنے والی نسلوں کو ”نبی“ کی پہچان میں مشکل پیش نہ آئے۔

یہ سلسلۂ تخلیق آدم علیہ السلام سے بغیر کسی تعطل کے جاری و ساری رہا۔ یہاں تک کہ شعور انسانیت اور علوم دنیا نے اپنی معراج کو چھو لیا۔ جب ایسے ذرائع انسانیت کو میسر آگئے جو علوم نبوت آئندہ نسلوں تک منتقل کرنے کی صلاحیت رکھتے تھے تو اللہ تعالیٰ نے ختم نبوت کا اعلان کر دیا اور اس اعلان سے پیشتر سید الانبیا، ختم الرسل حضرت محمد ﷺ کو مبعوث فرمایا تا کہ انسانیت اپنی اصلاح و تہذیب و ارتقاء کی بلندیوں کو چھو لے۔ آپ ﷺ نے پیغام الٰہی پہنچانے کا ایسا حق ادا کیا کہ داد، خود ذات الٰہی کی طرف سے بدیں الفاظ آئی۔

”آج ہم نے تیرے لیے تیرا دین مکمل کر دیا۔ اپنی نعمت تمام کردی اور تمہارے لیے اسلام کو بطور ”نظام حیات“ پسند کر لیا۔“

یہ دراصل اختتام و تکمیل نبوت کا اعلان ہے۔ اس اعلان کی عظیم ترین حکمت

صفحہ 18

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول)

یہ ہے کہ ہمیشہ انبیاء کو ناگزیر حالات کے تقاضا کے تحت ہی مبعوث کیا گیا کیونکہ ہر نبی کی آمد پر ایمان و انکار کا سوال کھڑا ہوجاتا ہے جس میں سرخرو ہونا، دنیا جہاں کی خوش بختیاں سمیٹ لینا ہوتا ہے جبکہ ناکامی، دائمی بدبختی اور خسران کا باعث بن جاتی ہے۔ ختم نبوت کے ذریعے اللہ تعالیٰ نے نبوت محمدی کے ثمرات سے انسانیت کو بہرہ ور رکھ کر آئندہ نبوت کے ایمان و انکار کی آزمائش سے محفوظ کر دیا ہے۔ نبوت کا دروازہ بند اور ثمرات و برکات نبوت محمدی ﷺ جاری و ساری رکھ کر اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب نبی ﷺ کی امت پر احسان عظیم فرمایا۔

ختم نبوت اتنا اہم مسئلہ ہے کہ قرآن نے واضح الفاظ میں اس کا اعلان فرمایا۔ رسالت مآب ﷺ نے بھی بارہا اس امر کی وضاحت مختلف پیرائے میں کی۔ یہاں تک کہ امت ہمیشہ ہمیشہ کے لیے ختم نبوت کے مسئلہ پر یکسو ہوگئی۔ حضور نبی اکرم ﷺ کی ظاہری حیات مبارکہ کے آخری ایام سے لے کر آج تک ہر دور میں دنیا کے حریص طالع آزماؤں نے جھوٹ، دجل اور فریب کے ذریعے محض زبان و بیان کی شعبدہ بازیوں سے قصر نبوت میں نقب لگانے کی جسارت کی مگر امت مسلمہ ہر دور میں متحد ہو کر اس جعلسازی کا مقابلہ کرنے کے لیے مستعد رہی۔ مسیلمہ کذاب، طلیحہ بن خویلد، اسود عنسی سے لے کر مرزا قادیانی تک، امت مسلمہ نے ہر دور کے نقب زن کا کامیاب تعاقب کیا ہے۔ یہاں تک کہ دور جدید کے فکری سیلاب بلاخیز نے ایمان و یقین اور عقائد کے اہراموں کو خس و خاشاک کی طرح بہالے جانا شروع کر دیا۔ ہر چیز مشکوک ٹھہری۔ شک دور جدید کا فیشن ہو گیا۔ یہ فتنہ عظمیٰ اٹھا اور ایمان، عقائد، نظریات کے چمن زار ویران کرتا چلا گیا۔ یقین کے در و دیوار بہہ جانے سے دلوں اور ذہنوں کی بستیاں غیر محفوظ ہو گئیں۔ ایسے حالات میں سلیم الفطرت لوگ سہم سے گئے مگر بدفطرت لوگ بے باک اور سرگرم ہو گئے۔ یہی حالات تھے جن میں ”قادیانی نبوت“ کا فتنہ اٹھا اور دلوں کی بستیاں اجاڑتا چلا گیا۔ مگر جلد ہی امت کے خوابیدہ ضمیر نے ردعمل کی کروٹ لی اور قادیانیت کا تعاقب شروع ہو گیا۔ امت اپنے اختلافات بھلا کر ایک نکتہ پر متحد ہو گئی کہ مرزا قادیانی کذاب و دجال اور اس کے پیروکار کافر و مرتد ہیں۔

صفحہ 19

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول)

تحفظ ختم نبوت کا محاذ کھلا اور پھر اس محاذ پر برسر پیکار رہنے والے سعید لوگوں کی ایک طویل و تابناک زنجیر بن گئی۔ محمد متین خالد صاحب اس روشن زنجیر کی جھلمل کرتی کڑی ہیں۔ ان کا خامہ کسی تیغ جوہردار سے کم کاری وار نہیں کرتا۔ متین صاحب ایسے خوش نصیب ہیں جن کے پاؤں اس نورد عشق میں گرد آلود ہی نہیں، فگار بھی ہوئے ہیں۔ ہاتھ، مال، جان، وقت، دینی صلاحیت، جذبات و احساسات، تحریر و تقریر غرض کون سی دولت ہے جو موصوف نے پس انداز رکھی ہو۔ سب کچھ لٹاتے چلے جاتے ہیں اور مزید لٹانے کو بے چین ہوتے ہیں۔

تو بچا بچا کے نہ رکھ اسے، تیرا آئینہ ہے وہ آئینہ
کہ شکستہ ہو تو عزیز تر ہے نگاہ آئینہ ساز میں

متین صاحب کے قلم کا سفر ”جب حضور ﷺ آئے“ سے شروع ہوا اور مختلف سنگ ہائے میل عبور کرتا ہوا ”ثبوت حاضر ہیں“ جیسا سنگلاخ پہاڑ بھی پھلانگ گیا۔ ”ثبوت حاضر ہیں“ کے بعد اگر متین صاحب کچھ بھی نہ کرتے تو ان کا قادیانیت پر استناد کا درجہ رکھنا پھر بھی مسلمہ تھا، مگر ان کی طبع سیماب انہیں کہاں چین سے بیٹھنے دیتی ہے۔ حالات کی نبض پر ہاتھ رکھنے والا اور کبھی مایوس نہ ہونے والا متین خالد ہر قسم کے نامساعد حالات میں اپنا سا چارہ کرتا نظر آتا ہے۔ جب وہ دیکھتا ہے کہ مذہب سے متعلق ہر بات کو جھٹلانا نئے حالات و ماحول کی ترجیح بن گیا ہے۔ دانش کی چکیوں نے پھر باریک آٹا پیسنا شروع کر دیا ہے۔ عقل و دانش، فلسفہ، منطق، وسعت نظر، روشن خیالی، تحمل، برداشت، رواداری، بقائے باہمی غرض متنوع اصطلاحات ہیں جن کی جگالی دانش کے باڑے میں بیٹھی خوبصورت بھینسیں کر رہی ہیں۔ ہر طرف مذہب اور مذہبی چھاپ رکھنے والی ہر چیز کا نام و نشان مٹا دینے کا مذموم عزم نظر آتا ہے۔ نظر جوں جوں اوپر اٹھتی ہے، اس ناپاک عزم میں پختگی نظر آتی جاتی ہے۔ دیندار لوگ سہم سے گئے ہیں۔ یہ ایسا وقت ہے کہ یہودی و قادیانی لابیاں ہندو ذہن کی سازش کے ساتھ سرگرم ہوگئی ہیں۔ ہر طرف سے ارباب اقتدار و اختیار پر دباؤ ہے۔ جداگانہ طرز انتخاب جو دو

صفحہ 20

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول)

قومی نظریہ اور قیام پاکستان کی اساس کا اثبات تھے، ختم ہو گئے۔ حدود قوانین زیر غور ہیں۔ قانون توہین رسالت ﷺ کے خاتمہ کی ایک سے زائد بار کوشش ہوچکی ہے اور اب کی بار شاید حالات مزید خراب ہونے کی وجہ سے ایسی کسی کوشش کے نتائج مختلف ہوں۔ اہل دین اور اہل درد ایسے حالات میں شانت نہیں ہوسکتے، ہر محاذ پر سرگرمی کی ضرورت ہے ایسی سرگرمی جس میں جوش و جذبات کی طغیانی اور عقل و بصیرت کی فراوانی ہو۔ ہر میدان میں ہر فرد کو اپنا کردار ادا کرنے کے لیے تیار و سرگرم ہو جانا چاہیے۔

ایسی صورت حال سے عہدہ برآ ہونے کی متین خالد صاحب کے ذہن نکتہ رس نے بڑی موثر صورت نکالی ہے۔ انہوں نے پاکستان کی اعلیٰ عدالتوں میں ہونے والے فیصلہ جات جن کا تعلق قادیانی مسئلہ سے براہ راست ہے، جن میں قادیانیوں نے اعلیٰ عدالتوں سے رجوع کیا۔ یہ فیصلے مختلف منصفوں کے قلم سے لکھے ہوئے ہیں جن میں فریقین کو اصالتاً اور بذریعہ قانونی ماہرین تفصیل سے سنا گیا، وہ فیصلے جو اس وقت ملک کے قانون کا درجہ حاصل کر چکے ہیں، فاضل مرتب نے بڑی محنت و جانفشانی سے ان فیصلوں کو قانون کے جرائد سے ڈھونڈ کر عام فہم اور شستہ مگر قانونی اسلوب سے قریب تر زبان میں ترجمہ کر کے ایک خوبصورت کتاب کی شکل دے کر ہر کسی کے لیے قابل رسائی بنا دیا ہے۔

اس کتاب کا کمال یہ ہے کہ اس کے ہر باب (فیصلے) میں عدالتی طریقہ کار اور اسلوب کا کرشماتی عنصر نمایاں ہے۔ ہمارے عدالتی طریقہ کار میں حقائق تک رسائی تمام جدید و قدیم سائنسی و منطقی ذرائع کو بروئے کار لایا جاتا ہے۔ فریقین کے موقف کے پیش نظر تنقیحات (Issues) وضع کی جاتی ہیں۔ فریقین کو اپنے اپنے موقف کی تائید میں شہادت پیش کرنے کا موقع دیا جاتا ہے۔ فریقین کو ماہرین کی خدمات حاصل کرنے کی آزادی ہوتی ہے۔ عدالت از خود اگر ضرورت محسوس کرے تو کسی ماہر فن سے رائے حاصل کر سکتی ہے۔ گواہان پر جرح کی سہولت بھی فریقین کو دی جاتی ہے۔ عدالت نظائر کی راہنمائی غرض ہر وہ وسیلہ جس سے فیصلہ شفاف تر ہو جائے، حاصل کیا جاتا ہے۔

یہی خوبیاں ہیں جو اس کتاب کو بہت معتبر، منفرد اور وقت کی ضرورت بنا دیتی

صفحہ 21

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول)

ہیں ۔ خصوصاً جدیدیت زدہ طبقہ کے لیے ان کی فکر کے سانچوں میں ڈھلے ہوئے اسلوب پر مبنی اس کتاب کا مطالعہ کرنا بہت ضروری ہے۔ ان شاء اللہ متین خالد صاحب کی یہ کتاب تحفظ ختم نبوت کے اس تازہ معرکہ میں اپنا قابل ذکر حصہ ضرور ڈالے گی۔

محمد انور زاہد ایڈووکیٹ ہائی کورٹ ننکانہ صاحب

۞......۞......۞

صفحہ 22

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول)

آوازِ دوست

محمد متین خالد کا نام جب بھی میرے قلم کی زبان پر آتا ہے یا دماغ کی لوح پر ابھرتا ہے تو میرے دل میں لڈو پھوٹنے لگتے ہیں اور روح ایک عجیب سی خوشی سے سرشار ہو جاتی ہے۔ ایسا کیوں نہ ہو؟ محمد متین خالد آمنہ کے اس لال، محبوب سبحانی، فخر موجودات، فخر نوع انسانی، ظل رحمانی، نور یزدانی، سراج بزم ایمانی، مہر سپہر اوج عرفانی، حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کے عاشق صادق کا نام ہے کہ جن کے کوچۂ الفت کا ادنیٰ ترین غلام بھی میرے نزدیک دنیا کے جلیل القدر بادشاہوں سے زیادہ احترام اور عزت و توقیر کا حامل ہے۔

محمد متین خالد کی تحقیق و جستجو کا حاصل اور ان کے حسن تدوین کی مظہر دو زندہ جاوید کتابیں ”جب حضور ﷺ آئے“ اور ”بارگاہِ رسالت ﷺ میں“ حضور نبی کریم ﷺ کے ساتھ ان کے والہانہ عشق کی شہادت اور خود بارگاہ رسالت مآب ﷺ سے منظوری اور قبولیت کی اسناد کا درجہ رکھتی ہیں۔ اور پھر ”میرا پیمبر ﷺ عظیم تر ہے“ کے نام سے اردو، فارسی اور عربی کی ایمان افروز، ناقابل فراموش اور قابل حوالہ نعتوں کا انتخاب شائع کر کے محمد متین خالد نے نہ صرف اپنی جبین عقیدت کو صاحب خلق عظیم ﷺ کی محبت سے نور افشاں بنا لیا بلکہ مجھ جیسے علم و ادب کے جویندہ اور ممدوح دو عالم حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کے ادنیٰ ترین غلام کے لیے ایک قابل رشک اور قابل تقلید ادبی کارنامہ (نعتیہ ادب کے حوالے سے) بھی سرانجام دیا ہے۔

اب محمد متین خالد نے قادیانی گروہ کے خلاف پاکستان کی اعلیٰ عدالتوں (عدالت عالیہ اور عدالت عظمیٰ) کے تاریخی فیصلوں کو بڑی محنت اور دیدہ ریزی سے اگر

صفحہ 23

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول)

ترتیب دینے اور ان فیصلوں کو کتابی صورت میں شائع کروانے کا بیڑا اٹھایا ہے تو در حقیقت یہ بھی جان دو عالم، فخر آدم، ہادی اکرم، امام الانبیاء، پیغمبر اعظم و آخر حضرت محمد ﷺ کے ساتھ ان کی محبت کا ایک اور صورت میں اظہار ہے کہ ان کی ترتیب دی ہوئی یہ کتاب حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کے باغیوں اور دور حاضر میں مسیلمہ کذاب کے جانشین مرزا قادیانی کے پیروکاروں کے خلاف پاکستان کی اعلیٰ عدالتوں میں مسلمانوں کی قانونی جنگ اور اس جنگ میں ملت اسلامیہ کی فتح مبین کا ایک روشن باب ہے۔ یوں تو قادیانیوں، عقیدۂ ختم نبوت کے منکر گروہوں اور شاتمان رسول ﷺ کے خلاف قرآن وسنت کے احکامات ہی حجت قطعی کی حیثیت رکھتے ہیں اور ان احکامات کے بعد کسی دوسرے ادارے سے فتنہ قادیانیت کے خلاف فیصلے کی سند حاصل کرنا ضروری نہیں، تاہم پاکستان میں قادیانیوں کی اسلام دشمن سرگرمیوں کے احتساب، استیصال اور بیخ کنی کے لیے کی گئی قانون سازی کی تشریح، تعبیر اور دائرہ کار کو متعین کرنے کے لیے پاکستان کی اعلیٰ عدالتوں نے جو تاریخی فیصلے کیے ہیں، ان کی اہمیت اور افادیت کے پیش نظر ان فیصلوں کو ایک جامع کتاب کی صورت میں مرتب کرنا حد درجہ ضروری تھا۔ اس قومی (قوم رسول ہاشمی ﷺ کی نسبت سے) اور دینی فریضہ کو محمد متین خالد نے جس احسن انداز میں سرانجام دیا ہے، اس پر وہ پاکستان بلکہ پورے عالم اسلام کی طرف سے مبارک باد کے مستحق ہیں۔

اس کتاب میں فیڈرل شریعت کورٹ آف پاکستان کا وہ تاریخی فیصلہ بھی شامل کیا گیا ہے جو تحفظ ناموس رسالت ﷺ کے مسئلہ پر قرآن واحادیث کی روشنی میں حرف آخر کی حیثیت رکھتا ہے۔ یہی وہ تاریخ ساز فیصلہ ہے جس کی رو سے توہین رسالت ﷺ کی متبادل سزا، عمر قید کو قرآن وسنت سے متصادم قرار دیا گیا اور حکومت پاکستان کے نام عدالت نے حکم نامہ جاری کیا کہ تعزیرات پاکستان کی دفعہ 295۔سی میں توہین رسالت ﷺ کی سزا صرف موت ہوگی اور اس دفعہ میں سے متبادل سزا کے طور پر عمر قید کے الفاظ حذف کر دیئے جائیں۔ حضور رسالت مآب ﷺ کی شان میں

صفحہ 24

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول)

کسی قسم کی کوئی بے ادبی اور اہانت آمیز بات کی سزا صرف موت ہے۔ اس اہم اور حساس ترین معاملہ کو ہمیشہ ہمیشہ کے لیے نمٹا دینے کی غرض سے فیڈرل شریعت کورٹ سے رجوع کرنے کا اعزاز جناب محمد اسماعیل قریشی ایڈووکیٹ کو حاصل ہوا۔ اپنی اس درخواست کے حق میں جناب محمد اسماعیل قریشی ایڈووکیٹ، ملک بھر سے جید علماء کرام اور ممتاز وکلاء نے جس محنت، قابلیت اور جذبہ ایمانی سے توہین رسالت ﷺ کی سزا صرف سزائے موت معین کرنے کے مسئلہ پر فیڈرل شریعت کورٹ میں دلائل دیئے اور ان دلائل کی روشنی میں وفاقی شرعی عدالت کے محترم جج صاحبان نے جو ایمان افروز فیصلہ صادر فرمایا، اس کی تاریخی اہمیت کا اندازہ آپ کو اس فیصلہ کے مکمل مطالعہ کے بعد ہی ہو سکتا ہے۔ شاتمان رسول ﷺ کی سرکوبی کے لیے کی گئی قانون سازی کی روشنی میں وطن عزیز کی اعلیٰ ترین عدالتوں نے جو فیصلے صادر کیے ہیں، ان کی اہمیت، افادیت اور جامعیت کے پیش نظر ان فیصلوں کا کتابی صورت میں شائع کیا جانا حد درجہ ضروری تھا۔ محمد متین خالد مبارک باد کے مستحق ہیں کہ ان تاریخی فیصلوں کو محفوظ کرنے کی سعادت انہیں حاصل ہو رہی ہے جو قادیانی گروہ کے لیے مرگ مفاجات کا حکم رکھتے ہیں۔

محمد آصف بھلی ایڈووکیٹ ہائی کورٹ 9- علامہ اقبال روڈ سیالکوٹ کینٹ

صفحہ 25

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول)

قادیانیت آئین اور قانون کیا کہتا ہے؟

حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ اللہ تعالیٰ کے آخری نبی اور رسول ہیں۔ آپ ﷺ کے بعد کسی قسم کا کوئی تشریعی، غیر تشریعی ، ظلی، بروزی یا نیا نبی نہیں آئے گا۔ آپ ﷺ کے بعد جو شخص بھی نبوت کا دعویٰ کرے، وہ دائرہ اسلام سے خارج ہے۔ قرآن مجید کی ایک سو سے زائد آیات مبارکہ اور حضور نبی کریم ﷺ کی تقریباً دو سو دس احادیث مبارکہ اس بات پر دلالت کرتی ہیں کہ حضور خاتم النبیین ﷺ اللہ تعالیٰ کے آخری نبی اور رسول ہیں۔ اس بات پر ایمان ”عقیدۂ ختم نبوت“ کہلاتا ہے۔ ختم نبوت اسلام کا متفقہ، اساسی اور اہم ترین بنیادی عقیدہ ہے۔ دین اسلام کی پوری عمارت اس عقیدہ پر کھڑی ہے۔ یہ ایک ایسا حساس عقیدہ ہے کہ اگر اس میں شکوک وشبہات کا ذرا سی بھی رخنہ پیدا ہو جائے تو ایک مسلمان نہ صرف اپنی متاعِ ایمان کھو بیٹھتا ہے بلکہ وہ حضرت محمد ﷺ کی امت سے بھی خارج ہو جاتا ہے۔ پوری امت مسلمہ کا اس امر پر اجماع ہے کہ سب سے اوّل نبی حضرت آدم علیہ السلام اور سب سے آخری (نبی و رسول) حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ ہیں۔ تاریخ کے مختلف ادوار میں جھوٹے مدعیان نبوت اور ان کے پیروکار ہمیشہ تاویلات اور جھوٹی باتوں کو بنیاد بنا کر دین اسلام میں تبدیلی و تحریف کی کوشش کرتے رہے ہیں۔ مگر امت مسلمہ نے دین اسلام میں ذرا سی بھی تبدیلی، تحریف یا کمی بیشی کو گوارا نہ کیا۔ بلکہ ہر قسم کے مشکل اور نامساعد حالات کا مقابلہ کرتے ہوئے دل و جان سے عقیدۂ ختم نبوت کی حفاظت کی اور منکرین ختم نبوت کے خلاف بھرپور جہاد کیا۔

موجودہ دور میں منکرین ختم نبوت کا گروہ فتنہ قادیانیت کے نام سے پہچانا جاتا ہے۔ اس فتنہ کا بانی آنجہانی مرزا غلام احمد قادیانی تھا جس نے انگریزوں کے اشارے پر قادیان (گورداسپور، بھارت) میں نبوت کا دعویٰ کیا۔ پھر سلطنت برطانیہ کی

صفحہ 26

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول)

سرپرستی میں اپنی بھونڈی تاویلات اور تحریفات کے ذریعے امت محمدیہ کے مستحکم قلعہ میں شگاف ڈالنے اور ملت اسلامیہ کو پارہ پارہ کرنے کی ناپاک سازشیں کیں۔ مرزا قادیانی اور اس کے پیروکاروں نے اسی پر بس نہیں کیا بلکہ حضور نبی کریم ﷺ اور شعائر اسلامی کی توہین بھی شروع کر دی۔ اسلام اور اس کی مقدس شخصیات کے خلاف قادیانیوں کی گستاخیوں اور ہرزہ سرائیوں کو اکٹھا کیا جائے تو کئی دفتر تیار ہو سکتے ہیں۔ قادیانیوں کی طرف سے شان رسالت ﷺ میں کی جانے والی بعض گستاخیاں ایسی ہیں جنھیں پڑھ کر کلیجا منہ کو آتا اور آنکھوں میں خون اتر آتا ہے۔ ربوہ کے قادیانی قبرستان میں ہر قبر پر لکھا ہوا ہے کہ یہ مردہ اور اس کی ہڈیاں یہاں امانتاً دفن ہیں، حالات سازگار ہونے پر اکھنڈ بھارت کے قیام اور پاکستان کے انہدام کے بعد انھیں قادیان (بھارت) منتقل کیا جائے گا....... (نعوذ باللہ) جہاں علی الاعلان آنجہانی مرزا قادیانی کو ”محمد رسول اللہ“ کہہ کر پیش کیا جاتا ہے....... تحریف شدہ قرآن مجید شائع کر کے پوری دنیا میں پھیلائے جاتے ہیں....... مرزا قادیانی کی بیوی نصرت جہاں بیگم کو ”ام المومنین“ کے روپ میں پیش کیا جاتا ہے۔ (نعوذ باللہ)....... جہاں جنت اور دوزخ کے نام پر لوگوں کو بے وقوف بنایا جاتا ہے، ربوہ جسے ”ویٹیکن سٹی“ بنانے کی ناکام کوشش کی گئی، جہاں سے ان کا اپنے مرکز حیفہ (اسرائیل) سے براہ راست رابطہ برقرار رہتا ہے، جہاں ریٹائرڈ قادیانی فوجی افسروں پر مشتمل ”فرقان فورس“ اور ”خدام الاحمدیہ“ ایسی تربیت یافتہ تنظیمیں پاکستان دشمن طاقتوں کے ایماء پر ملکی امن و امان غارت کرنے کے لیے ہر وقت تخریبی سازشوں کے جال بنتی رہتی ہیں....... جہاں خلیفہ سے معمولی اختلاف کرنے والے ”گستاخ“ کو موت کے گھاٹ اتار دیا جاتا ہے، جہاں 1967ء میں سقوط بیت المقدس، 1971ء میں سقوط ڈھاکہ، 1974ء میں شاہ فیصلؒ کی شہادت، 1979ء میں ذوالفقار علی بھٹو کی سزائے موت، 1988ء میں جنرل ضیاء الحق اور پاک افواج کے دیگر اعلیٰ افسران کی اجتماعی شہادت، 1998ء میں بھارتی ایٹمی دھماکوں اور دسمبر 2001ء میں افغانستان پر امریکی قبضہ کی خوشی میں تمام قادیانیوں نے جشن منایا۔ جہاں قادیانی جلسوں میں

صفحہ 27

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول)

(نعوذ باللہ) ”احمدیت زندہ باد“ ...... ”محمدیت مردہ باد“ ...... ”مرزا قادیانی کی جے“ ...... کے نعرے لگائے جاتے ہیں۔ جہاں پاک فضائیہ کے سابق سربراہ ایئر مارشل ظفر چودھری نے جہازوں کی ایک ٹولی کی قیادت کرتے ہوئے 1973ء میں قادیانی جلسہ میں اپنے ”خلیفہ“ مرزا ناصر کو سلامی دی تھی، اس موقع پر قادیانی خلیفہ نے اپنے پیروکاروں کو خوشخبری دی کہ ”پھل پک چکا ہے ...... جلد ہی ہماری جھولی میں گرنے والا ہے“ ...... علی ہذا القیاس ربوہ میں اسلام اور پاکستان کے خلاف بہت زیادہ سازشیں تیار ہوتی ہیں۔

29 مئی 1974ء کو ربوہ (حال چناب نگر) میں جو سانحہ پیش آیا، اس پر پورا ملک سراپا احتجاج بن گیا۔ ملک کے طول و عرض میں قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیئے جانے کا عوامی مطالبہ گونجنے لگا۔ 30 جون 1974ء کو قومی اسمبلی میں مولانا شاہ احمد نورانی نے قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیئے جانے کی قرارداد پیش کی جس پر مولانا مفتی محمود، مولانا عبدالمصطفیٰ الازہری، پروفیسر غفور احمد، مولانا عبدالحق، چودھری ظہور الٰہی، شیر باز خان مزاری، مولانا محمد ظفر احمد انصاری، مولانا نعمت اللہ، سردار شوکت حیات، علی احمد تالپور اور رئیس عطاء محمد خاں مری سمیت چالیس کے قریب ممبرانِ اسمبلی نے دستخط کیے۔ اس قرارداد میں کہا گیا کہ قادیان کے آنجہانی مرزا قادیانی نے حضور نبی کریم حضرت محمد ﷺ کے بعد اپنے نبی اور رسول ہونے کا دعویٰ کیا۔ قرآنی آیات کا تمسخر اڑایا۔ جہاد کو ختم کرنے کی مذموم کوششیں کیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ قادیانیت سامراج کی پیداوار ہے جس کا مقصد مسلمانوں کے اتحاد کو تباہ کرنا اور اسلام کو جھٹلانا ہے۔ قادیانی مسلمانوں کے ساتھ گھل مل کر اور اسلام کا ایک فرقہ ہونے کا بہانہ کر کے اندرونی اور بیرونی طور پر تخریبی سرگرمیوں میں مصروف ہیں۔ لہٰذا اسمبلی مرزا قادیانی کے پیروکار قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دے کر آئینِ پاکستان میں ضروری ترمیم کرے۔

5 اگست 1974ء کو صبح دس بجے سپیکر قومی اسمبلی صاحبزادہ فاروق علی خاں کی صدارت میں اسمبلی کا اجلاس شروع ہوا۔ جس میں وزیرِ اعظم ذوالفقار علی بھٹو، وزیر

صفحہ 28

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول)

قانون عبدالحفیظ پیرزادہ، وفاقی وزیر برائے مذہبی امور مولانا کوثر نیازی سمیت پوری کابینہ نے شرکت کی۔ تلاوت قرآن مجید کے بعد قادیانی جماعت کے وفد کو جس کی سربراہی قادیانی خلیفہ مرزا ناصر کر رہا تھا، بلایا گیا۔ اسمبلی میں طے پایا گیا کہ کوئی رکن قومی اسمبلی براہ راست مرزا ناصر سے سوال نہ کرے بلکہ وہ اپنا سوال لکھ کر اٹارنی جنرل جناب یحییٰ بختیار کو دے دے جو خود مرزا ناصر سے اس بارے میں دریافت کریں گے۔

دنیا کی تاریخ میں جمہوری نظام حکومت کا یہ واحد واقعہ ہے کہ اکثریت کی بنیاد پر فیصلہ کرنے کے بجائے قادیانی مذہب کے دونوں فرقوں (ربوی و لاہوری) کے سربراہوں کو اپنا اپنا مؤقف پیش کرنے کے لیے بلایا گیا۔ تعارفی کلمات کے بعد اٹارنی جنرل یحییٰ بختیار نے مرزا ناصر سے قادیانی عقائد پر بحث شروع کی اور اس سے پوچھا کہ آپ مرزا قادیانی کو کیا مانتے ہیں؟ مرزا ناصر نے کہا کہ ہم مرزا غلام احمد کو مہدی اور مسیح موعود مانتے ہیں۔ اٹارنی جنرل نے پوچھا کہ اس کے علاوہ آپ مرزا صاحب کو کیا مانتے ہیں؟ مرزا ناصر نے کہا کہ کچھ نہیں۔ اٹارنی جنرل نے کہا کہ مرزا قادیانی نے اپنی کتابوں میں صراحتاً دعویٰ کیا ہے کہ وہ خود ”محمد رسول اللہ“ ہے۔ اور آپ جب کلمہ طیبہ لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ پڑھتے ہیں تو محمد رسول اللہ سے مراد مرزا قادیانی لیتے ہیں۔ اس پر مرزا ناصر نے کہا کہ ہم مرزا صاحب کو محمد رسول اللہ نہیں مانتے۔ اٹارنی جنرل نے کہا کہ کیا آپ مرزا قادیانی کے دعویٰ محمد رسول اللہ کو جھوٹا مانتے ہیں؟ اس پر مرزا ناصر خاموش ہو گیا۔ پھر اٹارنی جنرل نے مندرجہ ذیل اقتباسات پیش کیے۔

اللہ والذین معہ اشداء علی الکفار رحماء بینھم اس وحی الٰہی میں میرا نام محمد رکھا گیا اور رسول بھی۔“ (ایک غلطی کا ازالہ صفحہ 4، مندرجہ روحانی خزائن جلد 18 صفحہ 207 از مرزا قادیانی)

میرا نام نبی اللہ اور رسول اللہ رکھا مگر بروزی صورت میں۔ میرا نفس درمیان نہیں ہے بلکہ محمد مصطفیٰ ﷺ ہے۔ اسی لحاظ سے میرا نام محمدؐ اور احمدؐ ہوا۔ پس نبوت اور رسالت کسی

صفحہ 29

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول)

دوسرے کے پاس نہیں گئی۔ محمدؐ کی چیز محمدؐ کے پاس ہی رہی۔‘‘

(ایک غلطی کا ازالہ صفحہ 12 مندرجہ روحانی خزائن جلد 10 صفحہ 216 از مرزا قادیانی)

یعقوبؑ ہوں، میں اسماعیلؑ ہوں، میں موسیٰؑ ہوں، میں داؤدؑ ہوں، میں عیسیٰؑ ابن مریم ہوں، میں محمدﷺ ہوں۔‘‘ (تتمہ حقیقت الوحی صفحہ 521، مندرجہ روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 521 از مرزا قادیانی)

محمدﷺ کو اتارا تاکہ اپنے وعدہ کو پورا کرے جو اس نے آخرین منھم لما یلحقوا بھم میں فرمایا تھا۔‘‘ (کلمۃ الفصل صفحہ 104، 105، از مرزا بشیر احمد ایم اے ابن مرزا قادیانی)

کریمﷺ سے کوئی الگ چیز نہیں ہے جیسا کہ وہ خود فرماتا ہے صار وجودی وجودہ نیز من فرق بینی وبین المصطفیٰ فما عرفنی و ماریٰ اور یہ اس لیے ہے کہ اللہ تعالیٰ کا وعدہ تھا کہ وہ ایک دفعہ اور خاتم النبیین کو دنیا میں مبعوث کرے گا جیسا کہ آیت آخرین منھم سے ظاہر ہے، پس مسیح موعود خود محمدﷺ رسول اللہ ہے جو اشاعت اسلام کے لیے دوبارہ دنیا میں تشریف لائے، اس لیے ہم کو کسی نئے کلمہ کی ضرورت نہیں، ہاں اگر محمدﷺ رسول اللہ کی جگہ کوئی اور آتا تو ضرورت پیش آتی۔‘‘

(کلمۃ الفصل صفحہ 158 از مرزا بشیر احمد ایم اے ابن مرزا قادیانی)

محمد پھر اتر آئے ہیں ہم میں اور آگے سے ہیں بڑھ کر اپنی شاں میں
محمد دیکھنے ہوں جس نے اکمل غلام احمد کو دیکھے قادیاں میں‘‘

(روزنامہ بدر قادیان، 25 اکتوبر 1906ء از مرزا قادیانی)

جب اٹارنی جنرل نے مرزا قادیانی کی کتب سے مذکورہ بالا حوالہ جات پیش کیے تو ممبران اسمبلی غم وغصہ میں ڈوب گئے۔ بہر حال 13 روز کی طویل بحث اور جرح کے بعد مرزا ناصر نے نہ صرف اپنے تمام کفریہ عقائد ونظریات کا برملا اعتراف کیا بلکہ لایعنی تاویلات کے ذریعے ان کا دفاع بھی کیا۔ 5 اور 6 ستمبر کو اٹارنی جنرل جناب یحییٰ

صفحہ 30

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول)

بختیار نے 13 روز کی بحث کو سمیٹتے ہوئے اراکین اسمبلی کو مفصل بریفنگ دی۔ ان کا بیان اس قدر مدلل، جامع اور ایمان افروز تھا کہ کئی آزاد خیال اور سیکولر ممبران اسمبلی بھی قادیانیوں کے عقائد وعزائم سن کر پریشان ہوگئے۔ چنانچہ 7 ستمبر 1974ء کو شام 4 بج کر 35 منٹ پر ملک کی منتخب پارلیمنٹ نے متفقہ طور پر قادیانیوں کے دونوں فرقوں (ربوی و لاہوری) کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا اور آئین پاکستان کے آرٹیکل نمبر (3)106 اور (3) 260 میں اس کا مستقل اندراج کردیا۔

قادیانی 1974ء سے لے کر اب تک یہ کہتے چلے آرہے ہیں کہ اگر یہ کارروائی شائع ہو جائے تو آدھا پاکستان قادیانی ہو جائے گا۔ قومی اسمبلی کی یہ کارروائی اب شائع ہونے سے قادیانیوں کا دیرینہ مطالبہ پورا ہوگیا۔ لیکن حیرت ہے کہ اس خبر سے قادیانیوں کے ہاں صف ماتم بچھ گئی ہے۔ کیونکہ اس وقت کے اٹارنی جنرل جناب یحییٰ بختیار مرحوم نے ایک سوال پر کہ ”قادیانیوں کا کہنا ہے کہ اگر یہ روداد شائع ہو جائے تو آدھا پاکستان قادیانی ہو جائے گا“ کا جواب دیتے ہوئے کہا تھا کہ ”سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، یہ کارروائی ان کے خلاف جاتی ہے۔ ویسے وہ اپنا شوق پورا کرلیں، ہمیں کیا اعتراض ہے۔ ان دنوں ساری اسمبلی کی کمیٹی بنادی تھی اور کہا گیا تھا کہ یہ ساری کارروائی سیکرٹ ہوگی تاکہ لوگ اشتعال میں نہ آئیں۔ میرے خیال میں اگر یہ کارروائی شائع ہوگئی تو لوگ قادیانیوں کو ماریں گے“

(انٹرویو نگار منیر احمد منیر ایڈیٹر ”ماہنامہ آتش فشاں“ لاہور، مئی 1994ء)

قادیانیوں کو معلوم ہونا چاہیے کہ اس کارروائی کے نتیجہ میں قومی اسمبلی کا کوئی ایک رکن بھی قادیانی نہیں ہوا، بلکہ قادیانی خلیفہ مرزا ناصر کی ٹیم میں شامل ایک معروف قادیانی مرزا سلیم اختر چند ہفتوں بعد قادیانیت سے تائب ہو کر مسلمان ہوگیا۔

ملک کی منتخب پارلیمنٹ نے 7 ستمبر 1974ء کو متفقہ طور پر قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا۔ لیکن اس کے باوجود وہ سرعام اور مسلسل شعائر اسلامی استعمال کرتے ہیں۔ غیر مسلم ہونے کے باوجود وہ اپنے مذہب کو اسلام، اپنی عبادت گاہ کو مسجد، مرزا قادیانی کو نبی اور رسول، مرزا قادیانی کی بیوی کو ام المومنین، مرزا قادیانی کی بیٹی کو

صفحہ 31

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول)

سیدۃ النساء، مرزا قادیانی کے خاندان کو اہلبیت، مرزا قادیانی کے دوستوں کو صحابہ کرام، قادیان کو مکہ مکرمہ، ربوہ کو مدینہ، مرزا قادیانی کی باتوں کو احادیث مبارکہ، مرزا قادیانی پر اترنے والی نام نہاد وحی کو قرآن مجید اور محمد رسول اللہ سے مراد مرزا قادیانی لیتے ہیں۔ چنانچہ 26 اپریل 1984ء کو حکومت نے ایک بڑے قانونی سقم کو دور کرتے ہوئے امتناع قادیانیت آرڈیننس جاری کیا جس میں قادیانیوں کو اسلامی شعائر اور مخصوص القابات کے استعمال سے قانوناً روکا گیا۔ اس آرڈیننس کے نتیجہ میں تعزیرات پاکستان کی دفعہ 298/B اور 298/C کے تحت کوئی قادیانی خود کو مسلمان نہیں کہلوا سکتا، اپنے مذہب کو اسلام نہیں کہہ سکتا، اپنے مذہب کی تبلیغ و تشہیر نہیں کر سکتا اور اسلامی شعائر و القابات وغیرہ کا استعمال نہیں کر سکتا۔ خلاف ورزی کی صورت میں وہ 3 سال قید اور جرمانہ کی سزا کا مستوجب ہوگا۔

قادیانیوں نے اپنے خلیفہ مرزا طاہر کے حکم پر اس آرڈیننس کی خلاف ورزی کرتے ہوئے پورے ملک میں شعائر اسلامی کی توہین کی اور اس کے خلاف ایک بھرپور مہم چلائی جس کے نتیجہ میں پاکستان کے اکثر شہروں میں لاء اینڈ آرڈر کی صورتحال پیدا ہوئی۔ قادیانی قیادت نے اس آرڈیننس کو وفاقی شرعی عدالت میں چیلنج کیا۔ عدالت نے قادیانیوں کی رٹ پٹیشن خارج کرتے ہوئے متفقہ طور پر اس آرڈیننس کو درست قرار دیا اور قادیانیوں کے بارے میں ایک سو سے زائد صفحات پر مشتمل اپنے تاریخی فیصلہ میں لکھا:

خوب واضح کرتا ہے۔ ان کے نزدیک تمام مسلمان کافر ہیں۔ وہ ایک الگ امت ہیں۔ یہ متناقض ہے کہ انھوں نے امت مسلمہ کی جگہ لے لی ہے اور مسلمانوں کو اس امت سے خارج قرار دیا ہے۔ مسلمان انھیں امت مسلمہ سے خارج قرار دیتے ہیں اور عجیب بات یہ ہے کہ وہ مسلمانوں کو اس امت سے خارج سمجھتے ہیں۔ ظاہر ہے کہ دونوں ایک ہی امت میں سے نہیں ہو سکتے۔ یہ سوال کہ امت مسلمہ کے افراد کون ہیں؟ برطانوی ہندوستان میں کسی ادارے کے موجود نہ ہونے کی بنا پر حل نہ ہو سکا، لیکن اسلامی ریاست میں اس

صفحہ 32

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول)

موضوع کو طے کرنے کے لیے ادارے موجود ہیں اور اس لیے اب کوئی مشکل درپیش نہیں ہے............. قادیانیوں اور مسلمانوں کے مابین یہ کشمکش اور قطعی علیحدگی خود مرزا قادیانی اور اس کے جانشینوں کی تحریروں کا نتیجہ ہے............. کلمۃ الفصل میں کہا گیا ہے:

”ہم تو دیکھتے ہیں کہ حضرت مسیح موعودؑ نے غیر احمدیوں (مسلمانوں) کے ساتھ صرف وہی سلوک جائز رکھا ہے جو نبی کریمؐ نے عیسائیوں کے ساتھ کیا۔ غیر احمدیوں سے ہماری نمازیں الگ کی گئیں، ان کو لڑکیاں دینا حرام قرار دیا گیا، ان کے جنازے پڑھنے سے روکا گیا، اب باقی کیا رہ گیا ہے جو ہم ان کے ساتھ مل کر کر سکتے ہیں۔ دو قسم کے تعلقات ہوتے ہیں، ایک دینی، دوسرے دنیوی۔ دینی تعلق کا سب سے بڑا ذریعہ عبادت کا اکٹھا ہونا ہے اور دنیوی تعلقات کا بھاری ذریعہ رشتہ و ناطہ ہے۔ سو یہ دونوں ہمارے لیے حرام قرار دیئے گئے۔“ (کلمۃ الفصل صفحہ 169، 170 از مرزا بشیر احمد ایم اے ابن مرزا قادیانی)

آئینہ صداقت میں مرزا بشیر الدین محمود، مرزا قادیانی کی ایک مزعومہ وحی کا ذکر کرتا ہے کہ ”جو شخص مسیح موعود کے ایک لفظ کو بھی جھوٹا خیال کرے گا، وہ خدا کے دربار میں مردود ٹھہرے گا۔“ پھر وہ قادیانیوں پر زور دیتا ہے کہ ”وہ اپنے امتیازی نشانات کو نہ چھوڑیں کہ وہ ایک سچے نبی (مرزا قادیانی) کو مانتے ہیں اور ان کے مخالف اسے نہیں مانتے۔“.................................... برطانوی سامراج اور استعمار کی حکومت سے مرزا صاحب کی محبت اور وفاداری ایک بدیہی امر ہے۔ انہوں نے تقریباً اپنی ہر کتاب میں کئی صفحات انگریز سرکار کی تعریف وتوصیف کے لیے مخصوص کیے ہیں ان کے جانشینوں کا طرزِ عمل بھی یہی رہا ہے۔ ذیل میں ایسی تحریروں کی چند مثالیں ملاحظہ ہوں :

”بعض احمق اور نادان سوال کرتے ہیں کہ اس گورنمنٹ سے جہاد کرنا درست ہے، یا نہیں؟ سو یاد رہے کہ یہ سوال ان کا نہایت حماقت کا ہے کیونکہ جس کے احسانات کا شکر کرنا عین فرض اور واجب ہے، اس سے جہاد کیسا۔ میں سچ سچ کہتا ہوں کہ محسن کی بدخواہی کرنا ایک حرامی اور بدکار آدمی کا کام ہے۔........................... ”سو میرا مذہب جس کو میں بار بار ظاہر کرتا ہوں، یہی ہے کہ اسلام کے دو حصے ہیں۔ ایک یہ کہ خدا

صفحہ 33

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول)

تعالیٰ کی اطاعت کریں، دوسرے اس سلطنت کی جس نے امن قائم کیا ہو، جس نے ظالموں کے ہاتھ سے اپنے سایہ میں ہمیں پناہ دی ہو۔ سو وہ سلطنت حکومت برطانیہ ہے۔‘‘

(شہادت القرآن صفحہ 84، 85 مندرجہ روحانی خزائن جلد 6 صفحہ 380، 381 از مرزا قادیانی)

کتاب البریہ کے صفحہ 8 اور 9 روحانی خزائن جلد 13 صفحہ 8، 9 پر ان کتابوں کے نام، تاریخ طباعت اور صفحات کے نمبر درج کیے گئے ہیں، جن میں مرزا صاحب نے برطانوی حکومت کی مدح وستائش کی۔ انہوں نے اپنی 24 کتابوں اور رسالوں کا حوالہ دیا ہے جن میں سرکار برطانیہ کی تعریف وتوصیف کے پل باندھے ہیں۔ ان کی وفات سے کم از کم گیارہ سال قبل ایسے صفحات کی تعداد کئی درجنوں تک پہنچتی ہے۔ مرزا قادیانی کا کہنا ہے:

”اب چھوڑ دو جہاد کا اے دوستو خیال
دیں کے لیے حرام ہے اب جنگ اور قتال
اب آگیا مسیح جو دیں کا امام ہے
دیں کے لیے تمام جنگوں کا اب اختتام ہے
دشمن ہے وہ خدا کا جو کرتا ہے اب جہاد
منکر نبی کا ہے جو یہ رکھتا ہے اعتقاد“

(تحفہ گولڑویہ ضمیمہ صفحہ 42، مندرجہ روحانی خزائن جلد 17 صفحہ 77، 78 از مرزا قادیانی)

”میں یقین رکھتا ہوں کہ جیسے جیسے میرے مرید بڑھیں گے، ویسے ویسے مسئلہ جہاد کے معتقد کم ہوتے جائیں گے کیونکہ مجھے مسیح اور مہدی مان لینا ہی مسئلہ جہاد کا انکار کرنا ہے۔‘‘ (کتاب البریہ صفحہ 11 مندرجہ روحانی خزائن جلد 13 صفحہ 347 از مرزا قادیانی)

(PLD 1985 Federal Shariat Court 8)

سپریم کورٹ کے فل بینچ نے قادیانیوں کے خلاف وفاقی شرعی عدالت کے تاریخی فیصلہ پر مہر تصدیق ثبت کرتے ہوئے اپنے فیصلہ میں لکھا:

صفحہ 34

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول)

معروف ہیں، غیر مسلم قرار دے دیا تھا۔ یہ ترمیم جمہوری‘ پارلیمانی نیز عدالتی طریقے پر کی گئی تھی اور پورے ہاؤس پر مشتمل خاص کمیٹی کی طویل روئیداد کے دوران قادیانیوں کے دونوں گروہوں کے مسلمہ لیڈروں کو بھی اپنا نقطہ نظر پیش کرنے کا پورا موقع فراہم کیا گیا تھا۔ اس کمیٹی کو پیش کی جانے والی قرار داد میں یہ تصریح بھی موجود تھی کہ: ”قادیانی اندرونی اور بیرونی سطح پر تخریبی سرگرمیوں میں مصروف ہیں۔“ اور یہ کہ: ”اس وقت مکہ مکرمہ میں منعقد ہونے والی ایک کانفرنس نے جس میں دنیا بھر سے 140 وفود نے شرکت کی تھی، بالاتفاق قرار دیا تھا کہ ”قادیانیت اسلام اور عالم اسلام کے خلاف سرگرم عمل ایک تخریبی تحریک ہے جو دھوکے اور مکاری سے ایک اسلامی فرقہ ہونے کا دعویٰ کرتی ہے۔“ (مباحثہ قومی اسمبلی پارلیمنٹ جلد 4‘ 1974ء) (PLD 1988 SC 167)

لاہور ہائی کورٹ کے جناب جسٹس محمد رفیق تارڑ نے قادیانیوں کے خلاف اپنے ایک فیصلہ میں لکھا:

کے خلاف بے حد غلیظ زبان استعمال کی، جنھوں نے اس کی جھوٹی نبوت کے دعویٰ کو مسترد کیا اور اس (مرزا قادیانی) نے خود اعلان کیا کہ وہ برطانوی سامراج کی پیداوار یعنی اس کا ”خود کاشتہ پودا“ ہے۔ لہٰذا جب وہ اس بات کا دعویٰ کرتا ہے کہ وہ خود ”محمد رسول اللہ“ ہے اور اس کے پیروکار اس کو ایسا ہی مانتے ہیں، تو اس صورت میں وہ رسول اکرم حضرت محمد ﷺ کی شدید توہین اور تحقیر کے مرتکب ہوتے ہیں۔“ (PLD 1987 Lahore 458)

لاہور ہائی کورٹ کے جناب جسٹس میاں نذیر اختر نے قادیانیوں کی توہین رسالت ﷺ پر مبنی اسلام دشمن سرگرمیوں کے خلاف اپنے ایک فیصلہ میں لکھا:

نہیں، کیونکہ مرزا قادیانی نے اسلام کی تعلیمات کی واضح خلاف ورزی کرتے ہوئے اپنے نبی ہونے کے بارے میں جھوٹا دعویٰ کیا اور اعلان کیا کہ اس کی ”نبوت“ پر یقین نہ رکھنے والے سب کافر ہیں۔ اس نے یہ دعویٰ کر کے تو انتہا کر دی کہ وہ آدمؑ، ابراہیمؑ،

صفحہ 35

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول)

موسیٰ، عیسیٰ اور حتیٰ کہ محمدؐ ہے۔ (نعوذ باللہ من ذلک) مرزا قادیانی نے نبی پاک حضرت محمد ﷺ پر نازل شدہ قرآن مجید کی آیات کو اپنے آپ سے منسوب کرنے کی ناپاک جسارت کی۔ مرزائی کلمہ طیبہ پڑھتے ہوئے واضح طور پر لفظ ”محمد“ سے مراد ”مرزا قادیانی“ ہی لیتے ہیں۔ اسی طرح وہ مرزا قادیانی پر درود بھیجتے ہیں۔ گویا جب یہ لوگ (قادیانی) کلمہ طیبہ اور درود پڑھتے ہیں تو ان کے قلب و ذہن پر مکمل طور پر مرزا قادیانی کا تصور ہوتا ہے اور اس طرح کرتے ہوئے وہ نبی اکرم حضرت محمد ﷺ کے مقدس نام کی تحقیر کر رہے ہوتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مرزا قادیانی نے دعویٰ کیا تھا کہ ”وہ احمد اور محمد ہے اور اس میں نبی اکرم حضرت محمد ﷺ اور دیگر تمام انبیا علیہم السلام کی خوبیاں موجود ہیں۔“ اس نے دعویٰ کیا کہ حضرت محمد ﷺ کی ختم نبوت میرے دعویٰ نبوت سے متاثر نہیں ہوئی کیونکہ وہ کچھ نہیں سوائے اس کے کہ (ظلی اور بروزی شکل میں) وہ (مرزا قادیانی) ”محمد ﷺ ہے“۔ قادیانی‘ جو مرزا قادیانی کی تعلیمات پر ایمان رکھتے ہیں‘ اس کے لیے درود و سلام پڑھتے ہیں جبکہ مسلمانوں کے مطابق یہ (درود و سلام) نبی پاک ﷺ کا استحقاق ہے۔ قادیانی حضرات مرزا قادیانی کو حضرت محمد ﷺ کے برابر سمجھتے ہوئے اس پر درود بھیجتے ہیں اور اس طرح نبی پاک حضرت محمد ﷺ کے رتبہ کو گھٹا کر مرزا قادیانی کے برابر قرار دیتے ہیں۔ قادیانیوں کا یہ فعل واضح طور پر نبی اکرم حضرت محمد ﷺ کے مبارک اور مقدس نام کی تحقیر کے مترادف ہے‘ جو زیر دفعہ C-295 تعزیرات پاکستان قابل سزا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ قادیانی یا مرزا قادیانی کے دوسرے پیروکار B-298 تعزیرات پاکستان کے تحت کچھ مخصوص کلمات مثلاً امیر المومنین‘ خلیفۃ المسلمین‘ صحابی یا اہل بیت وغیرہ کا استعمال نہیں کر سکتے۔ تاہم یہ مذکورہ ممنوعہ کلمات قادیانیوں کو اس بات کا لائسنس نہیں دے دیتے کہ وہ دیگر اس قسم کے مشابہ کلمات یا شعائرِ اسلام استعمال کریں جو عام طور پر عام مسلمان استعمال کرتے ہیں۔ کیونکہ اس طرح کرنے سے یہ قادیانی اپنے آپ کو مسلمان ظاہر کر رہے ہوں گے‘ جو قانون کے مطابق ممنوع ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ قادیانی‘ مرزا قادیانی کے لیے درود و سلام پڑھتے ہیں اور ساتھ ہی مرزا قادیانی کو حضور اکرم حضرت محمد ﷺ کے برابر گردانتے

صفحہ 36

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول)

ہیں۔ قادیانیوں کی اس حرکت اور فعل سے واضح طور پر حضور اکرم حضرت محمد ﷺ کے مقدس اور مبارک نام کی تحقیر اور بے حرمتی ثابت ہوتی ہے۔ حضور اکرم حضرت محمد ﷺ کے مقام و مرتبہ کو گھٹا کر مرزا قادیانی کے برابر کیا گیا۔ وہ (مرزا قادیانی) جس نے اپنے آپ کو برطانوی حکومت کا خودکاشتہ پودا قرار دیا۔ جس نے برطانوی گورنمنٹ کی اطاعت اور وفاداری کو اسلام کا ایک حصہ سمجھا اور جہاد کے حرام ہونے کا دعویٰ کیا، حضرت امام حسینؓ کی تذلیل و اہانت کی، جس نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ تمام مسلمان جو اس (مرزا قادیانی) پر ایمان نہیں لاتے، کافر ہیں۔............ مرزا قادیانی نے دعویٰ کیا کہ وہ مقام اور مرتبہ کے لحاظ سے حضرت امام حسنؓ اور حضرت امام حسینؓ سے بڑھ کر ہے۔“

”کربلائیست سیر ہر آنم صد حسین است در گریبانم“

ترجمہ: ”میری سیر ہر وقت کربلا میں ہے۔ سو (100) حسینؓ ہر وقت میری جیب میں ہیں۔“ (نزول المسیح صفحہ 99 مندرجہ روحانی خزائن جلد 18 صفحہ 477 از مرزا قادیانی)

”تم نے خدا کے جلال اور مجد کو بھلا دیا۔ اور تمہارا ورد صرف حسین ہے کیا تو انکار کرتا ہے۔ پس یہ اسلام پر ایک مصیبت ہے۔ کستوری کی خوشبو کے پاس گوہ (ذکر حسینؓ) کا ڈھیر ہے۔“ (اعجاز احمدی صفحہ 82 مندرجہ روحانی خزائن جلد 19 صفحہ 194 از مرزا قادیانی)

(1992 PCR.LJ 2346) (1992 PCR.LJ 2351)

لاہور ہائی کورٹ کے جناب جسٹس خلیل الرحمٰن خاں نے قادیانیوں کے صد سالہ جشن پر پابندی لگاتے ہوئے اپنے ایک مفصل فیصلہ میں لکھا:

کی مزاحمت و مخالفت کرتی ہے تاکہ ان کے مذہب کا اصل دھارا پاک صاف اور غلاظت سے محفوظ رہے اور امت کی یکجہتی بھی برقرار رہے۔ ایسا کرنے سے قادیانیوں کے اپنے مذہب کی پیروی اور اس پر عمل کرنے کے حق پر نہ کوئی زد پڑتی ہے نہ اس کی خلاف ورزی ہوتی ہے۔................... مرزا صاحب نے جس قسم کے مذہب کی تلقین و تبلیغ کی اور قادیانی جس مذہب کے پیروکار اور وفادار ہیں، رسول اکرم ﷺ کے زمانے سے لے کر اب تک تمام ممالک کے مسلمان اسے اسلام کے اساسی نکات کے خلاف

صفحہ 37

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول)

گستاخانہ‘ توہین آمیز‘ اشتعال انگیز‘ گمراہ کن اور بے ادبی پر مبنی سمجھتے آئے ہیں۔ وہ تمام مسلمان جو اسلام اور ختم نبوت کے مابین قائم رشتہ و تعلق میں کسی مداخلت کے روادار نہیں‘ مرزا صاحب کے دعویٰ نبوت سے سخت برگشتہ ہیں اور اسے یکسر مسترد کرتے ہیں۔ قادیانیوں کے نزدیک غیر قادیانی یا غیر احمدی (یعنی مسلمان) کافر اور دائرہ اسلام سے خارج ہیں۔ اس طرح انہوں نے اپنی علیحدہ امت بنالی ہے جو امت مسلمہ کا حصہ نہیں‘ یہ چیز خود ان کے طرزِ عمل اور عقائد سے ثابت ہے۔ وہ مسلمانوں کو اپنی ملت سے خارج گردانتے ہیں۔ قادیانی حضرات حکومت برطانیہ کے زیر سایہ خود کو مسلمان ظاہر کر سکتے تھے، اب ایسا نہیں کر سکتے‘ کیونکہ مسلمانوں کے نزدیک مرزا قادیانی امت مسلمہ میں انتشار و تفریق پیدا کر کے انگریزوں کے مفادات کے لیے کام کرتا رہا تھا۔..................

یہ بات قابل غور ہے کہ اس قول کے نتائج کہ مرزا صاحب بذات خود محمد اور احمد تھے (یہ دونوں رسول اکرم ﷺ کے نام ہیں) خاصے دُور رس نکلتے ہیں۔ مرزا صاحب کے خلفاء، رسول اکرم ﷺ کے خلفاء بن گئے۔ مسلمان جو کلمہ پڑھتے ہیں اس کے معنی ہیں۔ ”اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور حضرت محمد (ﷺ) اس کے رسول ہیں۔“ مرزا صاحب کو محمد مان لیا جائے تو جب بھی اور جہاں بھی لفظ محمد پڑھا یا ادا کیا جائے گا‘ اس سے مراد مرزا صاحب ہی ہوں گے.................. مرزا صاحب کے مخصوص دعویٰ کے پیش نظر یہ بات روزِ روشن کی طرح عیاں ہے کہ قادیانی حضرات مرزا صاحب کو حضرت محمد ﷺ کا بدل مانتے ہیں۔ اس لیے جھنڈوں پر لکھے ہوئے اور بیجوں پر تحریر شدہ الفاظ ”محمد رسول اللہ“ کا استعمال ہر قادیانی کی اپنی ذمہ داری ہے کیونکہ ایسا کرنا رسول اکرم ﷺ کے مقدس نام کی بے حرمتی کرنے کے مترادف ہے۔ بلاشبہ ایسا فعل دفعہ 295۔ سی تعزیرات پاکستان کے دائرہ میں آتا ہے۔“

(1-PLD 1992 Lahore)

آخر میں قادیانیوں نے ان تمام فیصلوں کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا اور یہ موقف اختیار کیا کہ ہمیں آئین کے مطابق آزادی کا حق حاصل ہے، لیکن ہمیں شعائر اسلامی استعمال کرنے کی اجازت نہیں۔ لہٰذا عدالت تعزیرات پاکستان کی دفعہ 298/B اور 298/C کو کالعدم قرار دے۔ سپریم کورٹ کے فل بنچ نے اس کیس کی مفصل

صفحہ 38

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول)

سماعت کی۔ دونوں طرف سے دلائل دیے گئے۔ قادیانیوں کی اصل کتابوں سے متنازعہ ترین حوالہ جات پیش کیے گئے۔ اس کے بعد سپریم کورٹ نے اپنے تاریخی فیصلہ (ظہیر الدین بنام سرکار 1993 SCMR 1718) میں قرار دیا کہ کوئی قادیانی خود کو مسلمان نہیں کہلوا سکتا اور نہ اپنے مذہب ہی کی تبلیغ کر سکتا ہے۔ خلاف ورزی کی صورت میں وہ سزا اور جرمانے کا مستوجب ہوگا۔ یہ بھی یاد رہے کہ یہ جج صاحبان کسی دینی مدرسہ یا اسلامی دارالعلوم کے استاد نہیں تھے بلکہ انگریزی قانون پڑھے ہوئے تھے۔ ان کا کام آئین و قانون کے تحت انصاف مہیا کرنا ہوتا ہے۔ فاضل جج صاحبان کا یہ بھی کہنا تھا کہ قادیانی اسلام کے نام پر لوگوں کو دھوکا دیتے ہیں جبکہ دھوکا دینا کسی کا بنیادی حق نہیں ہے اور نہ اس سے کسی کے حقوق یا آزادی ہی سلب ہوتی ہے۔

سپریم کورٹ آف پاکستان کے فل بنچ نے شعائر اسلامی استعمال کرنے پر قادیانیوں کے خلاف اپنے تاریخ ساز فیصلہ میں لکھا:

سنت میں ہیں‘ منضبط حقیقی اور موثر قانون کے طور پر اپنا لیا ہے۔ معاملہ کی اس صورت میں اسلامی احکام ہی‘ جیسا کہ وہ قرآن وسنت میں درج ہیں‘ اب حقیقی قانون کا درجہ رکھتے ہیں۔ آرٹیکل 2۔اے نے اللہ تعالیٰ کے اقتدار اعلیٰ کو موثر اور واجب التعمیل بنا دیا ہے۔ اسی آرٹیکل کی بدولت قرارداد مقاصد میں درج قانونی احکام اور قانون کے اصول موثر اور آئین کا مستقل حصہ بن گئے ہیں۔ اس لیے انسان کا بنایا ہوا ہر قانون احکام اسلامی کے مطابق‘ جیسا کہ وہ قرآن وسنت میں مذکور ہیں‘ ہونا چاہیے اور آئین میں دیے گئے بنیادی حقوق بھی اسلامی نظریات و تعلیمات کے منافی نہیں ہونے چاہئیں۔ ................. امر واقعہ یہ ہے کہ قادیانیوں نے باطنی طور پر اپنے بارے میں حقیقی مسلمان برادری ہونے کا اعلان کر رکھا ہے۔ انھوں نے خود کو اصل امت مسلمہ سے اس بنا پر الگ کر لیا ہے اور مسلمانوں کی تکفیر کرتے ہیں کہ مسلمان‘ مرزا قادیانی‘ بانی جماعت احمدیہ‘ کو پیغمبر اور مسیح موعود کیوں نہیں مانتے۔ یہ عقیدہ خود مرزا قادیانی کی ہدایات کے

صفحہ 39

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول)

تحت اپنایا گیا ہے جو برملا کہتا تھا کہ ”میری ان کتابوں کو ہر مسلمان محبت کی نظر سے دیکھتا ہے اور ان کے معارف سے فائدہ اٹھاتا ہے۔ مجھے قبول کرتا ہے اور میرے دعویٰ (نبوت و رسالت) کی تصدیق کرتا ہے مگر رنڈیوں (بدکار عورتوں) کی اولاد (یعنی مسلمان) جن کے دلوں پر مہر لگا دی گئی ہے‘ وہ مجھے نہیں مانتے۔“ (آئینہ کمالات اسلام ص 547، 548 مندرجہ روحانی خزائن جلد 5، ص 547، 548)................. ایک ”نبی“ نے جو زبان استعمال کی ہے اور مخاطبوں پر اس کا جو اثر ہوسکتا ہے، وہ قابل غور ہے۔ ایسی لغو اور بے ہودہ زبان کے استعمال کی اور بھی بہت سی مثالیں پیش کی جاسکتی ہیں‘ لیکن ہم صرف ایک اور مثال دینے پر اکتفا کرتے ہیں۔

”دشمن ہمارے بیابانوں کے خنزیر ہوگئے اور ان کی عورتیں کتیوں سے بڑھ گئی ہیں۔“ (نجم الہدیٰ از مرزا قادیانی، صفحہ 10 مندرجہ روحانی خزائن جلد 14، صفحہ 53)

اسی طرح کی دیگر تحریریں ڈھیروں کی صورت میں موجود ہیں جو نہ صرف مرزا قادیانی کے اپنے قلم سے ہیں بلکہ اس کے نام نہاد خلفاء اور پیروکاروں نے بھی لکھی ہیں جو کسی شک و شبہ کے بغیر ثابت کرتی ہیں کہ وہ مذہبی لحاظ سے اور معاشرتی طور پر مسلمانوں سے ایک الگ اور مختلف برادری ہیں۔ سر محمد ظفر اللہ خاں قادیانی نے پاکستان کا وزیر خارجہ ہوتے ہوئے بابائے قوم قائد اعظم کی نماز جنازہ میں شامل ہونے اور انھیں آخری خراج عقیدت پیش کرنے سے یہ کہہ کر انکار کر دیا تھا کہ اسے غیر مسلم ریاست کا مسلمان وزیر خارجہ یا مسلم ریاست کا غیر مسلم وزیر خارجہ سمجھ لیا جائے۔

(روزنامہ ”زمیندار“ لاہور‘ مورخہ 8 فروری 1950ء)

مرزا قادیانی نے اپنے ماننے والوں کو غیر احمدیوں کے ساتھ اپنی بچیوں کے نکاح کرنے اور ان کے ساتھ نماز پڑھنے سے منع کر دیا تھا۔ اس کے بقول مسلمانوں کی بڑی جماعت کو زیادہ سے زیادہ عیسائیوں کی طرح سمجھا جاسکتا ہے۔

کلمہ ایک اقرار نامہ ہے جسے پڑھ کر غیر مسلم اسلام کے دائرہ میں داخل ہوتا ہے‘ یہ عربی زبان میں ہے اور مسلمانوں کے لیے خاص ہے جو اسے نہ صرف اپنے عقیدہ

صفحہ 40

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول)

کے اظہار کے لیے پڑھتے ہیں بلکہ روحانی ترقی کے لیے بھی اکثر اس کا ورد کرتے ہیں۔ کلمہ طیبہ کے معنی ہیں ”خدا کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں اور محمدؐ اس کے رسول ہیں“ اس کے برعکس قادیانیوں کا عقیدہ ہے کہ مرزا قادیانی (نعوذ باللہ) حضرت محمد ﷺ کا بروز ہے۔ مرزا قادیانی نے اپنی کتاب ”ایک غلطی کا ازالہ“ میں لکھا ہے:

”سورۂ الفتح کی آیت نمبر 29 کے نزول میں محمدؐ کو اللہ کا رسول کہا گیا ہے...... اللہ نے اس (مرزا قادیانی) کا نام محمد رکھا“

(مندرجہ روحانی خزائن جلد 18 صفحہ 207)

روزنامہ ”بدر“ (قادیان) کی اشاعت 25 اکتوبر 1906ء میں قاضی ظہور الدین اکمل قادیانی سابق ایڈیٹر ”Review of Religions“ کی ایک نظم شائع ہوئی تھی، جس کے ایک بند کا مفہوم اس طرح ہے ”محمدﷺ پہلے سے زیادہ شان کے ساتھ دنیا میں دوبارہ آگئے ہیں، جو کوئی محمد ﷺ کو ان کی مکمل شان کے ساتھ دیکھنے کا متمنی ہو اسے چاہیے کہ وہ قادیان جائے ۔“

محمد پھر اتر آئے ہیں ہم میں اور آگے سے ہیں بڑھ کر اپنی شاں میں
محمد دیکھنے ہوں جس نے اکمل غلام احمد کو دیکھے قادیاں میں“

یہ نظم مرزا قادیانی کو سنائی گئی تو اس نے اس پر مسرت کا اظہار کیا۔

(روزنامہ ”الفضل“ قادیان، 22 اگست 1944ء)

”اوپر جو کچھ کہا گیا اس کی روشنی میں مسلمانوں میں اس بات پر عمومی اتفاق رائے پایا جاتا ہے کہ جب کوئی قادیانی کلمہ طیبہ پڑھتا ہے یا اس کا اظہار کرتا ہے تو اس بات کا اعلان کرتا ہے کہ مرزا غلام احمد قادیانی ایسا نبی ہے جس کی اطاعت واجب ہے اور جو ایسا نہیں کرتا وہ بے دین ہے، بصورت دیگر وہ خود کو مسلمان کے طور پر پیش کر کے لوگوں کو دھوکا دیتے ہیں۔ آخری بات یہ ہے کہ یا تو وہ مسلمانوں کی تضحیک کرتے ہیں یا اس بات سے انکار کرتے ہیں کہ رسول اکرم ﷺ کی تعلیمات صورت حال کی راہنمائی کرتی ہیں۔ اس لیے جیسی بھی صورت حال ہو ارتکاب جرم کو ایک نہ ایک طریقہ سے ثابت کیا جا سکتا ہے۔“

مرزا قادیانی نے نہ صرف یہ کہ اپنی تحریروں میں رسول اکرم ﷺ کی عظمت و

صفحہ 41

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول)

شان کو گھٹانے کی کوشش کی بلکہ بعض مواقع پر ان کا مذاق بھی اڑایا۔‘‘

”پیغمبر اسلام اشاعت دین کو مکمل نہیں کر سکے میں نے اس کی تکمیل کی۔‘‘ (حاشیہ تحفہ گولڑویہ صفحہ 165، مندرجہ روحانی خزائن جلد 17، صفحہ 263)

ایک اور کتاب میں کہتا ہے: ”رسول اکرمؐ بعض نازل شدہ پیغامات کو نہیں سمجھ سکے اور ان سے بہت سی غلطیاں سرزد ہوئیں۔‘‘ (دیکھیے ازالہ اوہام ص 346 مندرجہ روحانی خزائن جلد 3، صفحہ 472، 473)

مزید یہ کہ: ”رسول اکرمؐ نصاریٰ کا تیار کردہ پنیر کھاتے تھے جس میں وہ سور کی چربی ملاتے تھے۔‘‘ (روزنامہ ”الفضل“ قادیان، 22 فروری 1924ء)

اس طرح اور بہت سی تحریریں موجود ہیں لیکن ہم اس ریکارڈ کو مزید گراں بار نہیں کرنا چاہتے۔

”ہر مسلمان کا بنیادی عقیدہ ہے کہ وہ ہر نبی کو مانتا اور اس کا احترام کرتا ہے۔ اس لیے اگر کسی نبی کی شان کے خلاف کچھ کہا جائے تو اس سے مسلمان کے جذبات کو ٹھیس پہنچے گی، جس سے وہ قانون شکنی پر آمادہ ہو سکتا ہے۔ اس کا انحصار جذبات پر ہونے والے حملے کی سنگینی پر ہے۔ ہائی کورٹ کے فاضل جج (جسٹس خلیل الرحمن خاں) نے مرزائیوں کی کتابوں سے بہت سے حوالے نقل کر کے ثابت کیا ہے کہ مرزا قادیانی نے دوسرے انبیائے کرام خصوصاً حضرت عیسیٰؑ کی بھی بڑی توہین کی اور ان کی شان گھٹائی۔ (حضرت عیسیٰؑ کی جگہ وہ خود لینا چاہتا تھا۔ ہم اس سارے مواد کو نقل کرنا ضروری نہیں سمجھتے، صرف دو مثالوں پر اکتفا کرتے ہیں۔ مرزا قادیانی ایک جگہ رقم طراز ہے:

”کمالات متفرقہ جو تمام دیگر انبیاء میں پائے جاتے تھے۔ وہ سب حضرت رسول کریم ﷺ میں ان سے بڑھ کر موجود تھے اور اب وہ سارے کمالات حضرت رسول کریم ﷺ سے ظلی طور پر ہم کو عطا کیے گئے اور اسی لیے ہمارا نام آدم، ابراہیم، موسیٰ، نوح، داؤد، یوسف، سلیمان، یحییٰ، عیسیٰ وغیرہ ہے۔‘‘ (ملفوظات جلد دوم صفحہ 201 طبع جدید، از مرزا قادیانی)

صفحہ 42

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول)

مرزا قادیانی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں لکھتا ہے:

آپ کی زنا کار اور کسبی عورتیں تھیں جن کے خون سے آپ کا وجود ظہور پذیر ہوا۔“

(ضمیمہ انجام آتھم، حاشیہ 7، مندرجہ روحانی خزائن جلد 11، ص 291)

والدہ اور خاندان کی بڑائی بیان کرتی ہے۔ دیکھئے سورۂ آل عمران (3) کی آیات 33 تا 45,37 تا 47 سورۂ مریم (19) کی آیت 16 تا 32۔ کیا کوئی مسلمان قرآن کے خلاف کچھ کہنے کی جسارت کر سکتا ہے اور جو ایسی حماقت کرے کیا وہ مسلمان ہونے کا دعویٰ کر سکتا ہے؟ ایسی صورت میں مرزا قادیانی اور اس کے پیرو کار کیسے مسلمان ہونے کا دعویٰ کر سکتے ہیں؟ یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ مرزا قادیانی پر اسی کی مذکورہ بالا تحریروں کی بنا پر توہین مذہب ایکٹ مجریہ 1679ء کے تحت عیسائیت کی توہین کے جرم میں کسی انگریز عدالت میں ملزم قرار دے کر سزا دی جا سکتی تھی، مگر ایسا نہیں کیا گیا۔..................... یہ بات قابل غور ہے کہ صرف پاکستان میں ہی نہیں بلکہ دنیا بھر کے قوانین، ایسے الفاظ اور جملوں کے استعمال کا تحفظ کرتے ہیں، جن کا مخصوص مفہوم و معنی ہو اور اگر وہ دوسروں کے لیے استعمال کیے جائیں تو لوگوں کو دھوکا دینے اور گمراہ کرنے کا سبب بن سکتے ہیں۔ جو لوگ دوسروں کو دھوکا دیتے ہیں، ان کی حوصلہ شکنی ہونی چاہیے۔ پاکستان ایسی نظریاتی ریاست میں قادیانی جو کہ غیر مسلم ہیں، اپنے عقیدہ کو اسلام کے طور پر پیش کر کے دھوکا دینا چاہتے ہیں۔ یہ بات خوش آئند اور لائق تحسین ہے کہ دنیا کے اس خطے میں عقیدہ آج بھی ہر مسلمان کے لیے سب سے قیمتی متاع ہے، وہ ایسی حکومت کو ہرگز برداشت نہیں کرے گا جو اسے ایسی جعل سازیوں اور دسیسہ کاریوں سے تحفظ فراہم کرنے کو تیار نہ ہو۔ قادیانی اصرار کرتے ہیں کہ انہیں نہ صرف اپنے مذہب کو اسلام کے طور پر پیش کرنے کا لائسنس دیا جائے بلکہ وہ یہ بھی چاہتے ہیں کہ اسلام کی انتہائی محترم و مقدس شخصیات کے ساتھ استعمال ہونے والے القابات اور

صفحہ 43

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول)

خطابات وغیرہ کو ان گستاخ غیر مسلموں (مرزا قادیانی اور اس کے خلیفوں) کے ناموں کے ساتھ چسپاں کیا جائے، جو مسلم شخصیات کی جوتی کے برابر بھی نہیں۔ حقیقتاً مسلمان اس اقدام کو اپنی عظیم ہستیوں کی بے حرمتی اور توہین و تنقیص پر محمول کرتے ہیں۔ پس قادیانیوں کی طرف سے ممنوعہ القابات اور شعائر اسلامی کے استعمال پر اصرار اس بارے میں کوئی شک و شبہ باقی نہیں رہنے دیتا کہ وہ قصداً ایسا کرنا چاہتے ہیں جو نہ صرف ان مقدس ہستیوں کی بے حرمتی کرنے بلکہ دوسروں کو دھوکا دینے کے مترادف بھی ہے۔ اگر کوئی مذہبی گروہ (قادیانیت) دھوکا دہی اور فریب کاری کو اپنا بنیادی حق سمجھ کر اس پر اصرار کرے اور اس سلسلے میں عدالتوں سے مدد کا طلبگار ہو تو اس کا خدا ہی حافظ ہے۔ اگر قادیانی دوسروں کو دھوکا دینے کا ارادہ نہیں رکھتے تو وہ اپنے مذہب کے لیے نئے القابات وغیرہ کیوں وضع نہیں کر لیتے؟ کیا انہیں اس بات کا احساس نہیں کہ دوسرے مذاہب کے شعائر، مخصوص نشانات، علامات اور اعمال پر انحصار کر کے وہ خود اپنے مذہب کی ریا کاری کا پردہ چاک کریں گے۔ اس صورت میں اس کے معانی یہ بھی ہو سکتے ہیں کہ ان کا نیا مذہب، اپنی طاقت، میرٹ اور صلاحیت کے بل پر ترقی نہیں کر سکتا یا فروغ نہیں پا سکتا بلکہ اسے جعل سازی و فریب پر انحصار کرنا پڑ رہا ہے؟ آخر کار دنیا میں اور بھی بہت سے مذاہب ہیں، انہوں نے مسلمانوں یا دوسروں لوگوں کے القابات وغیرہ پر کبھی غاصبانہ قبضہ نہیں کیا، بلکہ وہ اپنے عقائد کی پیروی اور اس کی تبلیغ بڑے فخر سے کرتے ہیں۔ ............. ہر مسلمان کے لیے جس کا ایمان پختہ ہو، لازم ہے کہ رسول اکرم ﷺ کے ساتھ اپنے بچوں، خاندان، والدین اور دنیا کی ہر محبوب ترین شے سے بڑھ کر پیار کرے۔ (”صحیح بخاری“ ”کتاب الایمان“، ”باب حب الرسول من الایمان“) کیا ایسی صورت میں کوئی کسی مسلمان کو مورد الزام ٹھہرا سکتا ہے۔ اگر وہ ایسا دل آزار مواد جیسا کہ مرزا قادیانی نے تخلیق کیا ہے سننے، پڑھنے یا دیکھنے کے بعد اپنے آپ پر قابو نہ رکھ سکے؟ ”ہمیں اس پس منظر میں قادیانیوں کے صد سالہ جشن کی تقریبات کے موقع پر قادیانیوں کے اعلانیہ رویہ کا تصور کرنا چاہیے اور اس ردعمل کے بارے میں سوچنا چاہیے،

صفحہ 44

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول) جس کا اظہار مسلمانوں کی طرف سے ہوسکتا تھا۔ اس لیے اگر کسی قادیانی کو انتظامیہ کی طرف سے یا قانوناً شعائر اسلام کا اعلانیہ اظہار کرنے یا انہیں پڑھنے کی اجازت دے دی جائے تو یہ اقدام اس کی شکل میں ایک اور ”رشدی“ (یعنی رسوائے زمانہ گستاخ رسول ملعون سلمان رشدی جس نے شیطانی آیات نامی کتاب میں حضور ﷺ کی شان میں بے حد توہین کی) تخلیق کرنے کے مترادف ہوگا۔ کیا اس صورت میں انتظامیہ اس کی جان، مال اور آزادی کے تحفظ کی ضمانت دے سکتی ہے اور اگر دے سکتی ہے تو کس قیمت پر؟ اگر قادیانیوں کو سرعام جلوس نکالنے یا جلسہ کرنے کی اجازت دی جائے تو یہ خانہ جنگی کی اجازت دینے کے برابر ہے۔ یہ محض قیاس آرائی نہیں، حقیقتاً ماضی میں بارہا ایسا ہو چکا ہے اور بھاری جانی و مالی نقصان کے بعد اس پر قابو پایا گیا۔ ردعمل یہ ہوتا ہے کہ جب کوئی قادیانی سرعام کسی پلے کارڈ، بیج یا پوسٹر پر کلمہ طیبہ کی نمائش کرتا ہے یا دیوار یا نمائشی دروازوں یا جھنڈیوں پر لکھتا ہے یا دوسرے شعائر اسلامی کا استعمال کرتا یا انہیں پڑھتا ہے تو یہ اعلانیہ رسول اکرم ﷺ کے نام نامی کی بے حرمتی اور دوسرے انبیائے کرام کے اسمائے گرامی کی توہین کے ساتھ ساتھ مرزا صاحب کا مرتبہ اونچا کرنے کے مترادف ہے جس سے مسلمانوں کا مشتعل ہونا اور طیش میں آنا ایک فطری بات ہے اور یہ چیز نقض امن عامہ کا موجب بن سکتی ہے، جس کے نتیجہ میں قادیانیوں کے جان و مال کا نقصان ہوسکتا ہے................... ہم یہ بھی نہیں سمجھتے کہ قادیانیوں کو اپنی شخصیات، مقامات اور معمولات کے لیے نئے خطاب، القاب یا نام وضع کرنے میں کسی دشواری کا سامنا کرنا پڑے گا۔ آخر کار ہندوؤں، عیسائیوں، سکھوں اور دیگر برادریوں نے بھی تو اپنے بزرگوں کے لیے القاب و خطاب بنا رکھے ہیں اور وہ اپنے تہوار امن و امان کا کوئی مسئلہ یا الجھن پیدا کیے بغیر پُر امن طور پر مناتے ہیں................... بہر حال قادیانیوں پر لازم ہے کہ وہ آئین و قانون کا احترام کریں اور انہیں اسلام سمیت کسی دوسرے مذہب کی مقدس ہستیوں کی بے حرمتی یا توہین نہیں کرنی چاہیے نہ ہی ان کے مخصوص خطابات، القابات و اصطلاحات استعمال کرنے چاہیے۔ نیز مخصوص نام مثلاً مسجد اور مذہبی عمل مثلاً

صفحہ 45

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول)

اذان وغیرہ کے استعمال سے اجتناب کرنا چاہیے تاکہ مسلمانوں کے جذبات کو ٹھیس نہ پہنچے اور لوگوں کو عقیدہ کے بارے میں گمراہ نہ کیا جائے یا دھوکا نہ دیا جائے۔‘‘

(ظہیر الدین بنام سرکار 1718 SCMR 1993)

لاہور ہائی کورٹ کے جناب جسٹس اعجاز احمد چودھری اپنے فیصلہ میں لکھتے ہیں:

اور یہ بھی ضروری نہیں کہ گستاخانہ اور غلیظ زبان، کسی عوامی مقام پر بلند آواز میں یا کسی ملاقات میں استعمال کی جائے یا پھر کسی خاص جگہ استعمال کی جائے، بلکہ کسی ایک گواہ کا یہ بیان کہ کسی شخص نے گھر کے اندر بھی نبی اکرم ﷺ کے متعلق توہین آمیز زبان استعمال کی ہے، اس قسم کی توہین کے مرتکب کو سزائے موت دینے کے لیے کافی ہے۔‘‘

(2005 YLR 985 Lahore)

لاہور ہائی کورٹ کے مذکورہ فیصلہ کی روشنی میں یہ بات بھی طے ہو گئی ہے کہ جرم خواہ چار دیواری کے اندر ہو یا چار دیواری کے باہر، قانون اس کے خلاف حرکت میں آئے گا۔ اس فیصلہ سے قادیانیوں کا یہ دعویٰ بھی باطل ہو جاتا ہے کہ چونکہ وہ اپنی عبادت گاہ کے اندر اپنی عبادت کرتے ہیں، اس لیے ان کے خلاف کوئی قانونی کارروائی نہیں ہو سکتی۔ قادیانی بتائیں کہ جب وہ اپنی عبادت گاہ میں اپنی عبادت کرتے ہیں تو کیا مسلمانوں ایسی اذان نہیں دیتے؟ کیا وہ شعائر اسلامی کا استعمال نہیں کرتے؟ دوران عبادت ان کی تمام حرکات و سکنات کیا مکمل طور پر مسلمانوں سے مشابہت نہیں رکھتیں؟ کیا وہ اپنے خطبات میں آنجہانی مرزا قادیانی کی کتب سے متنازعہ ترین، دل آزار اور گستاخانہ عبارات نہیں پڑھتے؟ کیا وہ اس کا تذکرہ نبی اور رسول کے الفاظ سے نہیں کرتے؟ اگر واقعی ایسا ہے اور یقیناً ایسا ہی ہے تو قادیانیوں کی ان خلاف قانون سرگرمیوں پر قانون حرکت میں کیوں نہیں آتا۔ اس اہم نکتہ پر بھی غور کیجیے کہ اگر کوئی شخص چار دیواری کے اندر دھماکہ خیز مواد کی تیاری کر رہا ہو، یا زنا کا ارتکاب کر رہا ہو یا ڈکیتی کر رہا ہو یا کسی کو قتل کر رہا ہو یا پاکستان کی سالمیت کے خلاف کوئی سازش تیار کر رہا ہو، یا جعلی کرنسی تیار کر رہا ہو تو کیا اسے اس لیے نظر انداز کر دیا جائے گا کہ چونکہ یہ جرائم چار

صفحہ 46

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول)

دیواری کے اندر ہو رہے ہیں، اس لیے قانون بے بس ہے۔ یقیناً ایسا نہیں ہے۔ اگر مذکورہ جرائم خواہ چار دیواری کے اندر ہی کیوں نہ ہوں، ان کے خلاف قانون فوری طور پر پوری طاقت کے ساتھ حرکت میں آئے گا اور جرائم کے مرتکب کو قانون کے مطابق سزا ملے گی۔ اس طرح اگر کوئی قادیانی خواہ چار دیواری (اپنی عبادت گاہ) کے اندر شعائر اسلامی استعمال کرتا ہو تو اس کے خلاف بغیر کسی تاخیر کے قانون کے مطابق کارروائی ہوگی اور یہ بھی یاد رہے کہ اس کے لیے کسی مسلمان کی طرف سے شکایت یا درخواست کا انتظار نہیں کرنا چاہیے بلکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کو از خود فوری طور پر کارروائی کرنی چاہیے تاکہ لاء اینڈ آرڈر کی صورتحال پیدا نہ ہو۔

اسلام آباد ہائی کورٹ کے جناب جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے قادیانیوں کے شعائر اسلامی استعمال کرنے پر اپنے یادگار فیصلہ میں قرار دیا:

شناخت حاصل کرے۔ کسی مسلمان کو اجازت نہیں ہے کہ اپنی شناخت کو بطور غیر مسلم کے بھیس میں رکھے اور کسی غیر مسلم کو حق حاصل نہیں ہے کہ اپنے آپ کو مسلمان ظاہر کرے۔ کوئی بھی شہری جو ایسا کرتا ہے، وہ ریاست سے دھوکا دہی کا مرتکب ہوگا اور آئین کی پامالی کا مرتکب قرار پائے گا۔ ........... آئین کے آرٹیکل 260(3)(a)(b) میں مسلمانوں اور غیر مسلموں کی تعریف کی گئی ہے جس پر قوم کا اتفاق ہے۔ بدقسمتی سے اس علیحدگی کے معیار پر قانون سازی نہیں ہو سکی جس کی وجہ سے ایک غیر مسلم اقلیت اپنے آپ کو مسلم اکثریت کا حصہ ظاہر کر کے اپنی اصل شناخت کو چھپاتی ہے اور ریاست سے دھوکا دہی کا مرتکب ہوتی ہے جس کی وجہ سے پیچیدگیاں پیدا ہوتی ہیں بلکہ انتہائی نوعیت کے اہم آئینی تقاضوں کی راہ بھی ہموار ہوتی ہے۔ اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کی ایک رپورٹ کے مطابق اس سے متعلق کسی بھی سرکاری ملازم کا کوئی ریکارڈ دستیاب نہیں ہے جو خطرناک امر ہے اور ایک بڑے دھچکے کے مترادف ہے اور یہ آئین کی روح اور تقاضوں کے بھی منافی ہے۔ ........... پاکستان میں رہنے والی اکثر اقلیتیں اپنے ناموں اور پہچان

صفحہ 47

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول)

کے اعتبار سے علیحدہ شناخت رکھتی ہیں لیکن آئین کے مطابق ان اقلیتوں میں سے ایک اقلیت اپنے ناموں اور ظاہری لباس کے اعتبار سے علیحدہ شناخت نہیں رکھتی جس سے بحرانی کیفیت پیدا ہوتی ہے۔ اپنے ناموں کی وجہ سے وہ (قادیانی) آسانی سے اپنا عقیدہ چھپا سکتے ہیں اور ایک مسلم اکثریت کا حصہ بن سکتے ہیں۔ علاوہ ازیں، وہ مکرم اور حساس عہدوں تک رسائی بھی پا سکتے ہیں اور جملہ مفادات حاصل کر سکتے ہیں۔

............ اس صورت حال کو سنبھالنا اہم ہے کیونکہ ایک غیر مسلم کی آئینی عہدوں پر تعیناتی ہمارے مقامی قانون اور رسومات کے منافی ہے۔ اسی طرح، غیر مسلم مخصوص آئینی عہدوں کے لیے منتخب بھی نہیں ہو سکتے ہیں۔ اکثر اداروں / شعبوں بشمول پارلیمنٹ کی ممبر شپ، اقلیتوں کے لیے مخصوص نشستیں ہیں۔ اسی لیے جب کسی اقلیتی گروہ کا کوئی رکن اپنے اصل مذہبی عقیدے کو دھوکا دہی سے چھپاتا ہے اور اپنے آپ کو مسلم اکثریت کا حصہ ظاہر کرتا ہے تو وہ آئین کے الفاظ اور روح کی نفی کر رہا ہوتا ہے۔ اس پامالی سے محفوظ بنانے کے لیے ریاست کو فوری اقدامات کرنے چاہیے۔...... حضرت محمد ﷺ کی ختم نبوت کا معاملہ ہمارے مذہب کا مرکزی نکتہ ہے۔ ہر مسلمان پر لازم ہے اس کی حفاظت اور پاسداری کرے۔ پارلیمنٹ بحیثیت ایک اعلیٰ معزز ادارے کے پاکستانی قوم کے نمائندہ ہونے کے ناتے اس مذہبی روح کی محافظ ہے۔ اس صورت حال میں، یہ مسلم اکثریت کا حق ہے مناسب آگاہی اور حساسیت کی توقع رکھے۔ ختم نبوت کے بنیادی عقیدے کے تحفظ کے علاوہ، پارلیمنٹ کو ایسے اقدامات بھی کرنے چاہیے جو ان کا قلع قمع کر سکے جو اس عقیدے کو داغ لگانے کی کوشش کرے۔‘‘

عدالت نے حکومت کو مزید احکامات جاری کرتے ہوئے کہا:

اندراج کے لیے درخواست دہندہ کو آئین کے آرٹیکل 260(3)(a)(b) کے مطابق مسلمانوں اور غیر مسلموں کی تعریف کی بنیاد پر ایک بیان حلفی دینا ہوگا۔ اوپر بتائے گئے بیان حلفی کو تمام حکومتی اور نیم حکومتی اداروں خصوصاً عدلیہ، آرمڈ فورسز اور سول سروسز میں

صفحہ 48

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول)

تعیناتی کے لیے لازمی قرار دیا جائے۔ ............ پارلیمنٹ آئینی تقاضوں اور معزز سپریم کورٹ آف پاکستان اور لاہور ہائیکورٹ لاہور کے بنیادی قانونی اصولوں رپورٹ شدہ کیس لاء بالترتیب (1993 ایس سی ایم آر 1718 اور پی ایل ڈی 1992 لاہور 1) کی روشنی میں ضروری قانون سازی کرے اور مروجہ قوانین میں مطلوبہ ترامیم متعارف کروائے تا کہ اس امر کو یقینی بنایا جاسکے کہ ’اسلام‘ اور ’مسلمانوں‘ کے لیے استعمال ہونے والی مخصوص اصطلاحات کسی اور اقلیت کو اپنی شناخت چھپانے یا کسی اور مقصد کے لیے استعمال کی اجازت نہ ہو۔ اسلامیات / دینیات کی بطور مضمون تعلیم کے لیے ہر ادارے پر مسلم اساتذہ کی موجودگی لازمی قرار دی جائے۔“

عدالت نے مزید اپنے فیصلہ میں لکھا:

آئینی ترمیمی بل پاس کیا، وہ ہر مسلمان کے لیے ایک بڑی خوشی کا موقع تھا لیکن بدقسمتی سے مخصوص قوانین اس آئینی ترمیم کو بڑھاوا نہ دے سکے۔ دوسری جانب، قادیانیوں نے مختلف طریقوں اور بہانوں سے دوسری آئینی ترمیم کے مقاصد کو بگاڑنے کی بھرپور کوشش کی۔ قادیانیوں (کے دونوں گروہوں کو) غیر مسلم قرار دینے کے بعد ان کی علیحدہ شناخت، پہچان اور چھان بین کے لیے کچھ اقدامات ضروری تھے کیونکہ قادیانی دوسری اقلیتوں کی طرح نہیں ہیں جنھیں اپنی ظاہری شکل وصورت، ناموں، عقائد اور طریقہ عبادت سے باآسانی پہچانا جاسکتا ہے۔ جبکہ قادیانیوں کے مسلمانوں جیسے نام، ظاہری خدوخال اور حتیٰ کہ ان کی عبادات بھی ملتی جلتی ہیں اس لیے ان کی علیحدہ شناخت کے حوالے سے ابہام انہیں غیر مسلم قرار دینے سے ختم ہو سکتا تھا لیکن یہ مقصد حاصل نہ ہو سکا۔ مثال کے طور پر ”احمد“ کا نام قادیانیوں سے مختص ہے اور اسی بنیاد پر وہ احمدی کہلاتے ہیں جس کی اجازت نہیں دی جاسکتی ہے کیونکہ ”احمد“ کا نام نامی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے موسوم ہے جنھیں دیگر مذہبی کتب کے علاوہ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے اس نام سے پکارا ہے۔ مسلمان اس نام کے حوالے سے بہت جذباتی ہیں اور کسی فرد کے

صفحہ 49

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول)

پہلے تعارف یا ملاقات میں اس کا نام اس کے مذہب کی نشاندہی کرتا ہے۔ اس ضمن میں قرآن کی موجودہ آیت کا حوالہ دیا جاسکتا ہے۔

وَمُبَشِّرًا بِرَسُوْلٍ یَّأْتِیْ مِنْۢ بَعْدِی اسْمُہٗٓ اَحْمَدُ (الصف: 6)

ترجمہ: ”اور ایک پیغمبر جو میرے بعد آئیں گے جن کا نام احمد ہوگا ان کی بشارت سناتا ہوں۔“

اس لیے حالات کا تقاضا ہے کہ قادیانیوں کو غلامان مرزا یا مرزائی سے تعبیر کیا جائے اور کسی صورت احمدی نہ پکارا جائے کیونکہ یہ اصطلاح اور حوالہ ان مسلمانوں کو الجھن میں ڈالتا ہے جن کا حضرت محمد ﷺ کے ختم نبوت پر عقیدہ ہے۔ قادیانیوں کو اجازت نہیں ہونی چاہیے کہ وہ مسلمانوں جیسے نام رکھ کر اپنی شناخت کو خفیہ رکھیں، اس لیے ان کو یا تو مسلمانوں سے ملتے جلتے نام رکھنے کی ممانعت ہونی چاہیے یا متبادل کے طور پر قادیانی، غلام مرزا یا مرزائی کو اس کے نام کا حصہ بنایا جانا چاہیے اور اس کا تذکرہ بھی کیا جائے۔“

(PLD 2019 Islamabad 62 Maulana Allah Wasaya Vs Federation of Pakistan)

قادیانیت کے خلاف اعلیٰ عدالتوں کے تاریخی فیصلوں کے مندرجہ بالا اقتباسات سے ایک بات صاف عیاں ہے کہ اعلیٰ عدلیہ کے نزدیک قانون امتناع قادیانیت نہ صرف آئین کے مطابق ہے بلکہ یہ ملک میں امن وامان کے تحفظ کی ضمانت بھی فراہم کرتا ہے۔ اعلیٰ عدالتوں کے اتنے سارے فیصلوں کی موجودگی میں کسی ذی شعور کے لیے مناسب نہیں ہے کہ وہ حکومت سے اس قانون کے خاتمہ کا مطالبہ کرے۔ ایسا مطالبہ کرنے کا مطلب قادیانیوں کو شعائر اسلامی کی بے حرمتی کی کھلی چھٹی دینا اور مسلمانوں کے مذہبی جذبات سے کھیلنا ہے جو ملک عزیز میں امن وامان کا مسئلہ پیدا کرنے کے مترادف ہے۔

سپریم کورٹ کے فیصلہ کی روشنی میں یہ بات بھی یاد رکھنے کے لائق ہے کہ قادیانیوں اور دیگر غیر مسلموں (عیسائیوں، یہودیوں، ہندووں، سکھوں وغیرہ) میں زمین و آسمان کا فرق ہے۔ دیگر غیر مسلم، کافر ہونے کی وجہ سے اپنے آپ کو مسلمان نہیں کہتے، نہ اپنے مذہب کو اسلام کہتے ہیں اور نہ ہی وہ شعائر اسلامی استعمال کرتے ہیں۔ اس کے

صفحہ 50

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول)

برعکس قادیانی غیر مسلم ہونے کے باوجود اپنے آپ کو مسلمان کہتے ہیں، اپنے کفریہ عقائد کو اسلام کہتے ہیں، مسلمانوں کو کافر سمجھتے ہیں اور اپنے مذہب کو اسلام کہہ کر تبلیغ و تشہیر کرتے اور تمام شعائر اسلامی استعمال کرتے ہیں۔ عیسائی اور یہودی خود جھوٹے ہیں لیکن ان کے نبی سچے اور برحق ہیں جبکہ قادیانی خود بھی جھوٹے ہیں اور ان کا نام نہاد نبی مرزا قادیانی بھی کذاب تھا۔ اسلام سچے نبی کے جھوٹے پیروکاروں کے وجود کو تسلیم کرتا ہے لیکن اسلام نہ جھوٹے نبی کو قبول کرتا ہے اور نہ ہی اس کے پیروکاروں کو۔ قادیانیوں کی حیثیت زندیق کی ہے اور زندیق کے احکامات عام کافروں سے علیحدہ ہیں۔

آخر میں چند نہایت اہم باتیں جن کا جاننا ہر شخص کے لیے بے حد ضروری ہے۔

پاکستان کے ہر شہری کے لیے لازم ہے کہ وہ مملکت پاکستان سے وفادار رہے۔ اس کے لیے سب سے پہلے ضروری ہے کہ وہ آئین پاکستان کو دل و جان سے تسلیم کرے۔ آئین کے آرٹیکل نمبر 5 کی عبارت ملاحظہ فرمائیں۔

5(1): Loyalty to the State is the basic duty of every citizen.

ترجمہ: مملکت سے وفاداری ہر شہری کا بنیادی فرض ہے۔

5(2): Obedience to the constitution and law is the (inviolable) obligation of every citizen wherever he may be and of every other person for the time being within Pakistan.

ترجمہ: دستور اور قانون کی اطاعت ہر شہری خواہ وہ کہیں بھی ہو اور ہر وہ شخص جو وقتی طور پر پاکستان میں ہو، کی (واجب التعمیل) ذمہ داری ہے۔

یاد رہے کہ قادیانیوں کا عقیدہ ہے کہ پاکستان اکھنڈ بھارت بنے گا۔ قادیانی جماعت کے دوسرے خلیفہ مرزا بشیر الدین محمود نے کہا تھا:

شکر ہو کر رہیں تاکہ ملک کے حصے بخرے نہ ہوں بے شک یہ کام بہت مشکل ہے۔ مگر اس کے نتائج بھی بہت شاندار ہیں اور اللہ تعالیٰ چاہتا ہے کہ ساری قومیں متحد ہوں تا

صفحہ 51

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول)

احمدیت اس وسیع بیس پر ترقی کرے چنانچہ اس رویا میں اسی طرف اشارہ ہے، ممکن ہے عارضی طور پر افتراق پیدا ہو، اور کچھ وقت کے لیے دونوں قومیں جدا جدا رہیں مگر یہ حالت عارضی ہوگی اور ہمیں کوشش کرنی چاہیے کہ جلد دور ہوجائے۔‘‘

(قادیانی خلیفہ مرزا بشیر الدین محمود کی تقریر، روزنامہ الفضل قادیان 5 اپریل 1947ء صفحہ 3)

ہے، لیکن اگر قوموں کی غیر معمولی منافرت کی وجہ سے عارضی طور پر الگ بھی کرنا پڑے تو یہ اور بات ہے۔ اس طرح ہندوستان کی تقسیم پر اگر ہم رضا مند ہوئے ہیں تو خوشی سے نہیں بلکہ مجبوری سے، اور پھر یہ کوشش کریں گے کہ کسی نہ کسی طرح جلد متحد ہوجائے۔‘‘

(قادیانی خلیفہ مرزا بشیر الدین محمود کی تقریر، روزنامہ الفضل قادیان 16 مئی 1947ء صفحہ 2)

اسی طرح قادیانی خلیفہ مرزا طاہر نے لندن کے ایک اجتماع میں خطاب کرتے ہوئے کہا تھا:

دے گا۔ آپ بے فکر رہیں۔ چند دنوں میں آپ خوشخبری سنیں گے کہ یہ ملک صفحہ ہستی سے نیست و نابود ہوگیا ہے۔‘‘ (ہفت روزہ چٹان 16 اگست 1984ء، جلد 39 شمارہ 31)

حضرت علامہ محمد اقبالؒ کی قادیانیت سے بیزاری کا ثبوت اس سے بڑھ کر اور کیا ہوسکتا ہے کہ انہوں نے پنڈت جواہر لال نہرو کے نام اپنے 21 جون 1936 کے مکتوب میں قادیانیوں کو اسلام اور ہندوستان دونوں کا غدار قرار دیا۔

قادیانیوں نے سپریم کورٹ میں اپنی رٹ پٹیشن (ظہیر الدین بنام سرکار) کے ذریعے عدالت سے درخواست کی کہ انہیں شعائرِ اسلامی استعمال کرنے کی اجازت دی جائے۔ اس پر عدالت نے اپنے فیصلہ میں کہا کہ کسی غیر مسلم کو شعائرِ اسلامی استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔ ایسی پابندی کا مطلب بے ایمان اور دھوکے باز غیر مسلموں (جیسا کہ قادیانی ہیں) کو شعائرِ اسلامی کے استعمال سے باز رکھنا ہے تاکہ وہ اسلام کے نام پر دوسرے غیر مسلموں کو اپنے مذہب میں نہ لاسکیں۔ عدالت نے قادیانیوں کے بارے میں fraudulent non Muslims اور unscrupulous کے الفاظ

صفحہ 52

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول)

استعمال کیے جو نہایت قابل غور ہیں۔

قادیانی کہتے ہیں کہ انہیں آئین کے آرٹیکل 19 اور 20 کے تحت تقریر و تحریر اور اپنے مذہب کی تبلیغ کرنے کا حق حاصل ہے۔ قادیانیوں کو معلوم ہونا چاہیے کہ مذکورہ آزادیاں یا حقوق شتر بے مہار نہیں۔ قادیانیوں کو معلوم ہونا چاہیے کہ آئین کے آرٹیکل 19 اور 20 کے تحت تقریر و تحریر، آزادی اظہار رائے، پریس کی آزادی اور اپنے مذہب کی تبلیغ کرنے کا حق اسلام کی عظمت، پاکستان کی سالمیت، قانون، امن عامہ اور اخلاقیات سے مشروط ہے۔ قادیانیوں سے سوال ہے کہ بتائیں:

کہ ’قادیانی غیر مسلم اقلیت ہیں‘ کو تسلیم کرتے ہیں؟

دیئے گئے حقوق کا کیوں مطالبہ کرتے ہیں؟

امن عامہ اور اخلاقیات سے مشروط ہیں۔ تعزیرات پاکستان کی دفعہ 298 سی کے تحت کوئی قادیانی خود کو مسلمان نہیں کہلوا سکتا، اپنے مذہب کی تبلیغ نہیں کر سکتا اور شعائر اسلامی کا استعمال نہیں کر سکتا۔ کیا آپ اس قانون کو تسلیم کرتے ہیں؟ کیا آپ ملک بھر میں روزانہ اس قانون کی خلاف ورزی نہیں کرتے؟

کتب سے گستاخانہ اقتباسات نقل کر کے قرار دیا ہے کہ جب کوئی قادیانی کلمہ طیبہ پڑھتا ہے تو وہ ’محمد رسول اللہ‘ سے مراد، مرزا قادیانی لیتا ہے۔ اگر آپ کو ایسے گستاخانہ اور دل آزار مواد پر مبنی تقریر اور لٹریچر شائع کرنے کی اجازت دے دی جائے تو کیا ضمانت ہے کہ اس سے معاشرے میں اشتعال نہیں پھیلے گا اور اگر اس اشتعال انگیزی سے امن عامہ کی صورتحال کشیدہ ہو گئی تو اس کا کون ذمہ دار ہوگا؟

صفحہ 53

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول)

کتاب (آئینہ کمالات اسلام مندرجہ روحانی خزائن جلد 5، صفحہ 547، 548) کا ایک اقتباس درج کر کے قادیانیوں کا عقیدہ بیان کیا کہ 'جو شخص مرزا قادیانی کو نبی اور رسول نہیں مانتا، وہ بدکار عورت کی اولاد ہے' کیا مرزا قادیانی کی یہ متنازعہ عبارت اخلاقیات کے زمرے میں آتی ہے؟

والے؟ اگر آپ مسلمانوں والے حقوق چاہتے ہیں تو آئین اس کی اجازت نہیں دیتا کیونکہ آپ غیر مسلم ہیں۔ اگر آپ غیر مسلموں والے حقوق چاہتے ہیں تو خدارا جس آئین کے تحت آپ حقوق مانگتے ہیں، سب سے پہلے کم از کم اس آئین میں دی گئی اپنی حیثیت تو تسلیم کریں۔ آپ آئین کو بھی نہیں مانتے اور حقوق بھی حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ اسے کہتے ہیں چوری اور سینہ زوری۔

10 نشستیں مختص ہیں۔ قادیانیوں کو چاہیے کہ وہ قومی اسمبلی کا حصہ بنیں اور وہاں سب کے سامنے بتائیں کہ کون سے وہ حقوق ہیں جن سے انہیں محروم رکھا گیا ہے؟ کون سی وہ ناانصافیاں ہیں جن کے وہ شکار ہیں؟ کون سی وہ مراعات ہیں جو بحیثیت پاکستانی انہیں حاصل نہیں؟

کے کسی بھی دوسرے شہری کو حاصل ہیں؟ پاکستان کے تمام بڑے شہروں کے مہنگے ترین علاقوں میں آپ کی وسیع و عریض جائیدادیں اور ہاؤسنگ سوسائٹیاں ہیں۔ کاروباری سیکٹر میں آپ کے سینکڑوں پروجیکٹس ہیں جہاں سے آپ ہر سال مسلمانوں سے اربوں روپیہ کماتے ہیں۔ آپ کی درجنوں ٹیکسٹائل، گھی اور شوگر ملز ہیں۔ شیزان انٹرنیشنل (اس کی مصنوعات، ریسٹورنٹس، بیکرز) کا کاروبار پورے پاکستان میں پھیلا ہوا ہے۔ ہر ٹی وی چینل پر اس کا اشتہار آتا ہے۔ ہر شہر میں آپ کے بڑے بڑے تعلیمی اور آئی ٹی کے ادارے ہیں۔ کئی فنانشل اور لاء کالجز آپ کے اپنے ہیں۔ کئی معروف کوریئر کمپنیز کے

صفحہ 54

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول)

آپ مالک ہیں۔ کئی بڑے بڑے ہسپتال، فارما کمپنیز اور میڈیکل لیبارٹریاں آپ کی ملکیت ہیں۔ پاکستان بھر میں بڑے بڑے شاپنگ پلازوں اور مالز میں آپ کی بے شمار دکانیں ہیں۔ گاڑیوں کے معروف شورومز آپ کے ہیں۔ رئیل اسٹیٹ کے کاروبار میں آپ کا کوئی مد مقابل نہیں۔ آپ امپورٹ اور ایکسپورٹ کا وسیع پیمانے پر کاروبار کرتے ہیں۔ ہر چیمبر آف کامرس میں آپ خفیہ طریقے سے چھائے ہوئے ہیں۔ منی چینجرز اور سٹاک ایکسچینج میں آپ کی بھاری بھرکم انویسٹمنٹ کسی سے پوشیدہ نہیں۔ ملک کے ہر سرکاری محکمہ میں آپ اعلیٰ عہدوں پر فائز ہیں۔ قومی اسمبلی میں آپ کے لیے ایک نشست مختص ہے جہاں آپ اپنا نقطہ نظر بیان کر سکتے ہیں۔ اب آپ بتائیں کہ آپ کو مزید کون سے حقوق درکار ہیں؟ آپ کے ساتھ کون سی زیادتی یا نا انصافی ہو رہی ہے؟ کون سا حق ہے جس سے آپ کو محروم رکھا جا رہا ہے؟ کوئی ایک ثبوت بتائیں کہ مملکت میں آپ کو کبھی دوسرے درجے کا شہری سمجھا گیا ہو؟ دراصل آپ اقلیت کی آڑ میں اپنے مذہب کی تبلیغ و ترویج چاہتے ہیں جس کی آئین و قانون اجازت نہیں دیتا۔ افسوس ہے کہ آپ آئین میں دی گئی اپنی حیثیت کو ماننے سے انکاری ہیں اور اعلیٰ عدالتوں کے فیصلوں کو بھی تسلیم نہیں کرتے۔

اس صورتحال میں حکومت کا فرض ہے کہ وہ قادیانیوں کو آئین اور قانون کا پابند بنائے تاکہ ملک بھر میں کہیں بھی لا اینڈ آرڈر کی صورتحال پیدا نہ ہو۔ حضرت عمر فاروقؓ کا قول ہے کہ قانون پر عملدرآمد ہی اصل قانون ہے۔

جو شخص اعلیٰ عدالتوں کے فیصلوں کو ماننے سے انکاری ہو اور بلاوجہ اپنی ضد اور ہٹ دھرمی پر اکڑا رہے تو پھر اس کا وہی علاج ہے جس کا وہ مستحق ہے۔ ایسے شخص کو کم از کم الفاظ میں احمق کہا جا سکتا ہے۔ قادیانی اور ان کے حواریوں کو جو آئین، قانون اور اعلیٰ عدلیہ کے فیصلوں کو ماننے سے انکاری ہیں، کان کھول کر سن لینا چاہیے بلکہ دل و دماغ میں بٹھا لینا چاہیے کہ یہ حضور خاتم النبیین حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کے ماننے والوں کا ملک ہے یہ بے دین، سیکولر اور قانون شکنوں کی جاگیر نہیں۔ ہم آپ

صفحہ 55

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول)

سے صاف صاف کہہ دیتے ہیں کہ آپ غلط جگہ پر آ گئے ہیں۔ مناسب رہے گا کہ آپ واپس اپنے آقاؤں کی گود میں چلے جائیں۔ یہاں آپ کے مقاصد پورے ہوں گے اور نہ عزائم ۔ یہاں ایسے کئی ہلاکو خاں اپنی پوری فرعونیت اور نمرودیت کے ساتھ آئے جنھوں نے قادیانیوں کو امت مسلمہ کا حصہ بنانے کے لیے پوری سعی کی مگر انھیں منہ کی کھانی پڑی، ذلت و رسوائی کے عمیق اندھیرے گڑھے میں جا گرے اور لعنت ان کا مقدر بن گئی ۔

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے یعنی

راہبر کا کردار ادا کیا ۔

تقدیس کے ہر نقاب کو اُلٹ دیا۔

اصل چہرہ دیکھ کر بلبلا اٹھے۔

اور دُرّہ فاروقیؓ کا روپ دھار گئے ۔

کی چنگاریاں رخشندہ کرتے ہیں ۔

کے لیے احتساب کے کٹہرے کی حیثیت رکھتے ہیں۔

صفحہ 56

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول)

میں تحریف، شعائر اسلامی کا تمسخر، آئین کا مذاق اور قانون کی خلاف ورزیوں کا وہ حقائق نامہ ہے جس نے ہر قادیانی کو رسوائے زمانہ گستاخ رسول ”سلمان رشدی“ قرار دیا ہے۔

دلائل و براہین سے مزین یہ فیصلے عدل و انصاف کی دنیا میں ایک درخشندہ سنگ میل کی علامت ہیں۔ ان فیصلوں سے تحفظ ختم نبوت اور تحفظ ناموس رسالت ﷺ کے نئے گوشے سامنے آتے ہیں اور محبت رسول ﷺ کی نئی راہیں کھلتی ہیں۔ اس کتاب کے مطالعہ سے قانون توہین رسالت ﷺ سے متعلق ان تمام غلط فہمیوں اور اعتراضات کا ازالہ ہوگا جنہیں عیسائی اور قادیانی کئی دہائیوں سے ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت پھیلا رہے ہیں اور جن کی اندھی تقلید میں مخالفت برائے مخالفت کے پیروکار قانون شکن سیکولر فاشسٹ، ڈالرائزڈ این جی اوز اور اسلام بیزار نام نہاد دانشور بھی سُر سے سُر ملاتے نظر آتے ہیں۔ یہ عدالتی فیصلے ججوں، سیاستدانوں، آئین شناسوں، وکیلوں، صحافیوں، دانشوروں، علما اور طالب علموں کے لیے ایک راہنما دستاویز کا کام دیں گے۔ ان فیصلوں کا ایک ایک لفظ پڑھنے والوں کی شریانوں میں دوڑنے والے خون کی ایک ایک بوند میں حیات ابدی کا شعلہ بیدار کرتا ہے۔

ویل ڈن جج صاحبان...... ویل ڈن...... پوری ملت اسلامیہ کو آپ پر فخر ہے...... ہر مسلمان آپ کے لیے دعا گو ہے...... آغا شورش کاشمیریؒ نے آپ کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا تھا:

مسند انصاف پر اسلاف کی تصویر ہیں
آپ گویا بتکدے میں نعرۂ تکبیر ہیں
آپ کو لات و ہبل ہرگز ڈرا سکتے نہیں
آپ کا پرچم، سیہ باطن جھکا سکتے نہیں
صفحہ 57

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول)

آپ کو فانی خداؤں سے بھلا کیا واسطہ؟
اونے پونے رہنماؤں سے بھلا کیا واسطہ؟
آپ نے بالا کیا ہے حرمت قانون کو
آپ ہی نے تازگی بخشی وطن کے خون کو
آپ کے دم خم سے ہے انصاف کا حسن و جمال
ورنہ اس دنیا میں ناداروں کا جینا تھا محال

آخر میں محترم جج صاحبان کے لیے ایک ایمان افروز واقعہ پیش خدمت ہے جس کا مطالعہ اُن کے ایمان و ایقان کو ایک نئی جلا بخشے گا۔

24 جولائی 1926ء کو احمد پور شرقیہ میں ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ بہاولپور جناب منشی محمد اکبر خاںؒ کی عدالت میں ایک مقدمہ دائر ہوا جس میں ایک مسلمان خاتون غلام عائشہ نے یہ مؤقف اختیار کیا کہ اُس کے خاوند عبدالرزاق نے دین اسلام چھوڑ کر قادیانی مذہب اختیار کر لیا ہے، چونکہ قادیانی اپنے کفریہ عقائد کی بنا پر غیر مسلم ہیں، اِس لیے اُس کا نکاح فسخ قرار دیا جائے۔ کئی سالوں تک اِس مقدمہ کی سماعت ہوتی رہی۔ چنانچہ 7 فروری 1935ء کو محترم جج صاحب نے اِس تاریخی مقدمہ کا فیصلہ سناتے ہوئے منکرین ختم نبوت قادیانیوں کو خارج از اسلام اور مسلمان خاتون کے ساتھ عبدالرزاق قادیانی کے نکاح کو فسخ قرار دے دیا۔ اس فیصلہ کے کچھ عرصہ بعد محترم جج صاحب کا انتقال ہو گیا۔ ان کے انتقال کے بعد میر عبدالجمیل صاحب سابق سیشن جج جو میر سراج الدین صاحب ریٹائرڈ چیف جسٹس کے صاحبزادے ہیں اور آج کل ہجرت فرما کر حضور رسالت مآب ﷺ کے قرب میں باب جبریل کے بالمقابل ایک مدرسہ میں خلوت نشین ہیں۔ انہوں نے محترم جج محمد اکبر صاحبؒ کو اپنے ایک خواب میں جنت الفردوس میں دیکھا۔ پہلے ان کو کئی عالی شان محلات دکھائے گئے۔ اس کے بعد ایک نہایت ہی خوبصورت محل میں ایک عالیشان تخت پر جج محمد اکبر صاحبؒ بیٹھے دکھائے گئے۔ جب میر عبدالجمیل صاحب نے ان سے سوال کیا کہ یہ بلند درجات آپ کو کیسے

صفحہ 58

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول)

نصیب ہوئے تو محترم جج محمد اکبر صاحبؒ نے یہ جواب دیا کہ یہ انعامات مجھے تحفظ ختم نبوت ﷺ کی حفاظت میں اس خدمت کے عوض ملے ہیں جو اللہ تعالیٰ نے مجھ سے فیصلہ بہاولپور کی صورت میں لی اور یہ جتنے محلات آپ نے دیکھے ہیں، اللہ تعالیٰ نے یہ فرما کر مجھے دیئے ہیں کہ فی الحال یہ لے لو، تمہارا مکمل انعام روز قیامت ملے گا۔ یہ بیان فرماتے ہوئے میر صاحب کی ریش مبارک شدت گریہ سے تر ہوچکی تھی۔ (مقابیس المجالس، ملفوظات حضرت خواجہ غلام فرید رحمۃ اللہ علیہ۔ صفحہ 53 تا 54)

حضرت امی عائشہ صدیقہؓ نے کیا خوب فرمایا ہے: ”حق کا پرستار کبھی ذلیل نہیں ہوتا‘ چاہے سارا زمانہ اس کے خلاف ہو جائے‘ باطل کا پیروکار کبھی عزت نہیں پاتا‘ چاہے چاند اس کی پیشانی پر نکل آئے۔“

طالب شفاعت محمدی ﷺ بروز محشر محمد متین خالد mateenkh@gmail.com

۞......۞......۞

صفحہ 59

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول)

چند ضروری گزارشات

رسالت ﷺ پر مبنی گستاخانہ عبارات درج کی ہیں۔ انصاف کے تقاضوں کے پیش نظر یہ ایک قانونی، عدالتی اور ناگزیر ضرورت ہے جس کے بغیر قادیانیت کا جرم واضح نہیں ہوتا۔ یہ الفاظ، جملے اور عبارات اس قدر دل آزار اور اہانت آمیز ہیں کہ کوئی مسلمان انہیں پڑھنے کے بعد اپنے جذبات پر قابو نہیں رکھ سکتا۔ قارئین کرام سے درخواست ہے کہ اس کتاب میں موجود قادیانیوں کی قابل اعتراض اور دل آزار عبارات پڑھتے وقت کثرت سے استغفار کریں۔ شکریہ!

رہے۔ اس لیے اس کے ترجمہ اور پروف ریڈنگ کو بہتر بنایا گیا ہے، پھر بھی غلطی کا امکان ہے۔ اگر کسی جگہ کسی قاری کو کوئی غلطی نظر آئے تو براہ کرم مصنف کو ضرور مطلع کرے۔ ان شاء اللہ آئندہ کے ایڈیشن میں اس کا ازالہ کیا جائے گا۔

اظہار کیا، کتاب کی اشاعت کے بارے بار بار استفسار کرتے رہے۔ میں ان سب دوستوں کا دل کی اتھاہ گہرائیوں سے شکر گزار ہوں۔

محمد متین خالد

صفحہ 60

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول)

صفحہ 61

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول)

شکریہ!!

بے پایاں رحمت و عنایت نہ ہوتی تو یہ کتاب نہ وجود میں آتی اور نہ زیور طبع سے آراستہ ہوتی۔

صلاحیتوں کے مالک شاہین ختم نبوت حضرت مولانا اللہ وسایا صاحب دامت برکاتہم العالیہ کا جنہوں نے کتاب کی تیاری کے سلسلہ میں ہر قسم کی معاونت اور سرپرستی فرمائی۔

جناب محمد آصف بھلی ایڈووکیٹ کا جنہوں نے گرانقدر اور ایمان افروز تقاریظ لکھ کر کتاب کی معنوی حیثیت کو چار چاند لگا دیئے۔

خالد مسعود ایڈووکیٹ (تلہ گنگ)، جناب وقار احمد جدون (ایبٹ آباد)، جناب محمد فرقان، جناب اسد اللہ ساقی (جڑانوالہ)، جناب قاضی محمد اسد (سرگودھا)، جناب خرم احسان ملک ایڈووکیٹ (ہائی کورٹ) اور جناب عبدالرؤف (اسلام آباد) کا جنھوں نے کتاب کو خوب سے خوب تر بنانے کے لیے کئی مفید تجاویز دیں۔

محمد متین خالد

۞......۞......۞

صفحہ 62

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول)

صفحہ 63

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول)

اہم قانونی دفعات اور اصطلاحات

صفحہ 64

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول)

صفحہ 65

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول)

آئین پاکستان میں ترمیم کے لیے ایک بل

ہرگاہ یہ قرین مصلحت ہے کہ بعد ازیں درج اغراض کے لیے اسلامی جمہوریہ پاکستان کے آئین میں مزید ترمیم کی جائے۔

لہٰذا بذریعہ ہذا حسب ذیل قانون وضع کیا جاتا ہے۔

1۔ مختصر عنوان اور آغاز نفاذ

2۔ آئین کی دفعہ 106 میں ترمیم

اسلامی جمہوریہ پاکستان کے آئین میں، جسے بعد ازیں آئین کہا جائے گا، دفعہ 106 کی شق (3) میں لفظ فرقوں کے بعد الفاظ اور قوسین اور قادیانی جماعت یا لاہوری جماعت کے اشخاص (جو اپنے آپ کو احمدی کہتے ہیں) درج کیے جائیں گے۔

3۔ آئین کی دفعہ 260 میں ترمیم

آئین کی دفعہ 260 میں شق (3) کے بعد حسب ذیل نئی شق درج کی جائے گی یعنی (3) جو شخص حضرت محمد ﷺ، جو آخری نبی ہیں، کے خاتم النبیین ہونے پر قطعی

صفحہ 66

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول)

اور غیر مشروط طور پر ایمان نہیں رکھتا یا جو حضرت محمد ﷺ کے بعد کسی بھی مفہوم میں یا کسی بھی قسم کا نبی ہونے کا دعویٰ کرتا ہے یا کسی ایسے مدعی کو نبی یا دینی مصلح تسلیم کرتا ہے‘ وہ آئین یا قانون کے اغراض کے لیے مسلمان نہیں ہے۔

بیان اغراض و وجوہ

جیسا کہ تمام ایوان کی خصوصی کمیٹی کی سفارش کے مطابق قومی اسمبلی میں طے پایا ہے، اس بل کا مقصد اسلامی جمہوریہ پاکستان کے آئین میں اس طرح ترمیم کرنا ہے تاکہ ہر وہ شخص جو حضرت محمد ﷺ کے خاتم النبیین ہونے پر قطعی اور غیر مشروط طور پر ایمان نہیں رکھتا یا جو حضرت محمد ﷺ کے بعد نبی ہونے کا دعویٰ کرتا ہے یا جو کسی ایسے مدعی کو نبی یا دینی مصلح تسلیم کرتا ہے‘ اسے غیر مسلم قرار دیا جائے۔

عبدالحفیظ پیرزادہ وزیر انچارج

۞......۞......۞

صفحہ 67

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول)

جنرل ضیاء الحق کا نافذ کردہ آرڈیننس مجریہ 1982ء

قادیانی گروہ سے تعلق رکھنے والے افراد کی آئینی حیثیت کے متعلق مختلف حلقوں میں کچھ عرصے سے شبہات کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ ان شبہات کو دُور کرنے کی غرض سے صدر مملکت نے گزشتہ ماہ کی بارہویں تاریخ کو ترمیم دستور (استقرار) کا فرمان مجریہ سال 1982ء (صدارتی فرمان نمبر 8 مجریہ سال 1982ء) جاری کیا تھا‘ جس کی رُو سے اعلان کیا گیا ہے اور مزید توثیق کی گئی ہے کہ وفاقی قوانین (نظر ثانی و استقرار) آرڈیننس مجریہ سال 1981ء (نمبر 27 مجریہ سال 1981ء) کے جدول اول میں دستور (ترمیم ثانی) ایکٹ بابت سال 1974ء (نمبر 49 بابت سال 1974ء) کی شمولیت سے ان ترامیم کا جو اس کے تحت اسلامی جمہوریہ پاکستان کے دستور 1973ء میں قادیانیوں کی حیثیت کے بارے میں عمل میں لائی گئی ہیں‘ تسلسل متاثر ہوا ہے اور نہ ہوگا اور وہ اسلامی جمہوریہ پاکستان کے دستور 1973ء کے جزو کی حیثیت سے برقرار رہیں گی۔ نیز قادیانی گروپ یا لاہوری گروپ کے اشخاص کی (جو خود کو ’’احمدی‘‘ کہتے ہیں) ’’غیر مسلم‘‘ کے طور پر حیثیت تبدیل نہ ہوئی ہے اور نہ ہوگی‘ اور وہ بدستور ’’غیر مسلم‘‘ ہیں۔ وضاحتی فرمان کے بعد عام حالات میں اس مسئلے کی نسبت چہ میگوئیوں کا سلسلہ بند ہو جانا چاہیے تھا، مگر باایں ہمہ چند مفاد پرست عناصر حقائق کا رخ موڑ کر اس ضمن میں بے چینی اور بے اطمینانی کی فضا پیدا کرنے میں بدستور کوشاں نظر آتے ہیں۔ ان عناصر کی ریشہ دوانیوں کا مؤثّر طریقے سے سدّباب کرنے کی خاطر اس مسئلے کی مزید صراحت اور وضاحت ضروری معلوم ہوتی ہے۔

صفحہ 68

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول)

مجلس شوریٰ کے گزشتہ اجلاس میں راجہ محمد ظفر الحق‘ قائم مقام وزیر قانون و پارلیمانی امور‘ نے قاری سعید الرحمٰن اور مولانا سمیع الحق‘ ممبران وفاقی کونسل‘ کی جانب سے قادیانیوں کی قانونی حیثیت کے بارے میں پیش کردہ تحاریک التواء کے متعلق مورخہ 12 اپریل 1982ء کو ایک مفصل بیان دیا تھا۔

وزیر موصوف نے اس مسئلے کے پس منظر پر روشنی ڈالتے ہوئے بتایا کہ دستور (ترمیم ثانی) ایکٹ بابت سال 1974ء (نمبر 49 بابت سال 1974ء) کے ذریعے اسلامی جمہوریہ پاکستان کے دستور 1973ء کے آرٹیکل 260 میں شق (3) میں صوبائی اسمبلیوں میں غیر مسلم نشستوں کی تقسیم کی وضاحت کرتے ہوئے قادیانی فرقہ کے افراد کو غیر مسلم اقلیت کے زمرے میں شامل کیا گیا۔ متذکرہ بالا آئینی حیثیت کو تسلیم کرتے ہوئے موجودہ حکومت نے برسر اقتدار آنے کے بعد عوام کی نمائندگی کے ایکٹ مجریہ سال 1976ء میں دفعہ 47۔ الف کا اضافہ کیا جس کا تعلق غیر مسلم اقلیتی نشستوں سے ہے۔ اس جدید دفعہ 47۔ الف میں بھی قادیانی گروپ سے متعلق افراد کو ”غیر مسلموں“ کے زمرے میں شامل کر دیا گیا۔ ظاہر ہے کہ یہ تبدیلی بھی قادیانیوں کی آئینی حیثیت بطور ”غیر مسلم“ اقلیت متعین ہو جانے کی بنا پر معرض وجود میں آئی۔ اسی طرح ایوان ہائے پارلیمان و صوبائی اسمبلیوں کے (انتخابات) کے فرمان مجریہ سال 1977ء (فرمان صدر بعد از اعلان نمبر 5 مجریہ سال 1977ء) میں بھی بذریعہ صدارتی فرمان نمبر 17 مجریہ سال 1978ء ترمیم کر کے قومی اسمبلی اور صوبائی اسمبلیوں کے انتخابات کے سلسلے میں اہلیت اور نااہلیت کے متعلق ”مسلم“ اور ”غیر مسلم“ کے الگ الگ زمرے طے کر دیئے گئے‘ جس کے نتیجے میں کوئی شخص اس وقت تک کسی اسمبلی کے انتخابات کے لیے اہل قرار نہیں پا سکتا جب تک کہ اس کا نام ”مسلمانوں“ یا ”غیر مسلموں“ کی نشستوں سے متعلق جداگانہ انتخابی فہرستوں میں سے کسی ایک میں درج نہ ہو۔

بعد ازاں فرمان عارضی دستور مجریہ سال 1981ء جاری کرتے وقت بھی قادیانیوں کی متذکرہ بالا حیثیت بطور غیر مسلم برقرار رکھی گئی۔ چنانچہ فرمان عارضی دستور

صفحہ 69

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول)

کے آرٹیکل 2 میں اسلامی جمہوریہ پاکستان کے دستور 1973ء جو فی الحال معطل ہے‘ کے کچھ آرٹیکل کو فرمانِ عارضی دستور کا حصہ بناتے وقت آرٹیکل 260 کو بھی شامل کیا گیا۔ اس واضح قانونی پوزیشن کے باوجود کچھ حلقوں میں قادیانیوں کی آئینی و قانونی حیثیت کے متعلق شک کا اظہار کیا گیا‘ جسے دُور کرنے کے لیے فرمان عارضی دستور مجریہ سال 1981ء میں آرٹیکل نمبر 1۔الف کا اضافہ کیا گیا‘ جس کی رُو سے یہ قرار پایا کہ 1973ء کے دستور اور مذکورہ فرمان نیز تمام وضع شدہ قوانین اور دیگر قانونی دستاویزات میں مسلم اور غیر مسلم سے مراد وہی لی جائے گی جس کا ذکر فرمان عارضی دستور مجریہ سال 1981ء کے حوالے سے ترمیم دستور (استقرار) کے فرمان مجریہ سال 1982ء میں ہے۔ فرمان عارضی دستور مجریہ 1981ء سال کے آرٹیکل 1۔الف میں مسلم اور غیر مسلم کی تعریف کرتے ہوئے قادیانی گروپ یا لاہوری گروپ کے اشخاص کو (جو خود کو ’’احمدی‘‘ کہتے ہیں) غیر مسلموں کے زُمرے میں شامل کیا گیا۔

وزیرِ موصوف نے وفاقی قوانین (نظر ثانی و استقرار) آرڈیننس مجریہ سال 1981ء کے جدول میں دستور (ترمیم ثانی) ایکٹ بابت سال 1974ء (نمبر 49 بابت سال 1974ء) کی شمولیت کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ عام طے شدہ مروجہ طریقہ کار کے مطابق وزارتِ قانون وقتاً فوقتاً ایک تنسیخی اور ترمیمی قانون کا نفاذ کرواتی ہے‘ جس کے ذریعے ان قوانین کو‘ جن سے مروجہ قوانین میں ترمیم کی گئی ہو اور جو اپنا مقصد حاصل کر چکے ہوں‘ منسوخ کر دیا جاتا ہے۔ چنانچہ اسی مروجہ طریقہ کار کے پیش نظر متذکرہ بالا وفاقی قوانین (نظر ثانی و استقرار) آرڈیننس مجریہ سال 1981ء جاری کیا گیا۔ اس ضمن میں وزیر موصوف نے قانون عبارات عامہ بابت سال 1897ء کی دفعہ 6۔الف کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ ہر وہ ترمیم جو کسی ترمیمی قانون کے ذریعے کسی دیگر قانون میں عمل میں لائی گئی ہو‘ ترمیمی قانون کی تنسیخ کے باوجود مؤثر رہتی ہے‘ بشرطیکہ ترمیمی قانون کی تنسیخ کے وقت وہ باقاعدہ طور پر نافذ العمل ہو۔ اس سے یہ بات واضح اور عیاں ہے کہ ترمیم کرنے والے قانون کی تنسیخ کے باوجود اس کے ذریعے معرض

صفحہ 70

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول)

وجود میں آنے والی ترمیم زندہ اور مؤثر رہتی ہے اور ترمیمی قانون کا عدم اور وجود ایسی ترمیم کی بقا کے لیے یکساں ہے۔ اس لیے یہ کہنا قطعاً بجا نہ ہوگا کہ ترمیم اسی صورت میں باقی رہے گی جبکہ متعلقہ ترمیمی قانون کا وجود باقی رہے گا۔ ترمیمی قانون منسوخ کر دیا جائے یا موجود رہے‘ ترمیم بہرحال نافذ العمل رہتی ہے۔ چنانچہ دستور (ترمیم ثانی) ایکٹ بابت سال 1974ء کی وفاقی قوانین (نظر ثانی و استقرار) آرڈیننس مجریہ سال 1981ء کی جدول اول میں شمولیت سے مذکورہ ترمیمی قانون کے ذریعہ سے کی جانے والی ترمیم پر کوئی اثر نہیں پڑتا اور وہ بدستور قائم اور رائج ہیں۔ ان سب امور کے باوصف اس مسئلہ کو پھر سیاسی رنگ دینے اور ابہام پیدا کرنے کی ناجائز کوشش جاری رہی۔ لہٰذا جیسا کہ حدیث مبارکہ میں ہے ”ان مقامات سے بھی بچنا چاہیے جہاں تہمت لگنے کا اندیشہ پایا جائے ۔“ مذکورہ بالا شک و ابہام کو دور کرنے کے لیے حکومت نے ایک مزید قدم اٹھایا اور صدر مملکت نے ایک انتہائی واضح اور مکمل فرمان جاری کیا جو کہ صدارتی فرمان نمبر 8 مجریہ سال 1982ء کے نام سے موسوم ہے۔ اس کا متن حسب ذیل ہے۔

چونکہ دستور (ترمیم ثانی) ایکٹ بابت سال 1974ء (نمبر 49 بابت سال 1974ء) کے ذریعے اسلامی جمہوریہ پاکستان کے دستور 1973ء میں ترامیم کی گئی تھیں تاکہ صوبائی اسمبلیوں میں نمائندگی کی غرض سے قادیانی گروپ یا لاہوری گروپ کے اشخاص کو (جو خود کو ”احمدی“ کہتے ہیں) غیر مسلموں میں شامل کیا جائے اور تاکہ یہ قرار دیا جائے کہ کوئی شخص جو خاتم النبیین حضرت محمد ﷺ کی ختم نبوت پر مکمل اور غیر مشروط طور پر ایمان نہ رکھتا ہو یا حضرت محمد ﷺ کے بعد اس لفظ کے کسی بھی مفہوم یا کسی بھی تشریح کے لحاظ سے پیغمبر ہونے کا دعویدار ہو، یا ایسے دعویدار کو پیغمبر یا مذہبی مصلح مانتا ہو، دستور یا قانون کی اغراض کے لیے مسلمان نہیں ہے۔

اور چونکہ فرمان صدر نمبر 17 مجریہ سال 1978ء کے ذریعے منجملہ اور چیزوں کے قومی اسمبلی اور صوبائی اسمبلیوں میں غیر مسلم بشمول قادیانی گروپ اور لاہوری گروپ کے اشخاص کی (جو خود کو ”احمدی“ کہتے ہیں) مناسب نمائندگی کے لیے حکم وضع

صفحہ 71

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول)

کیا گیا تھا۔

اور چونکہ فرمان عارضی دستور 1981ء (فرمان سی۔ایم۔ایل۔اے نمبر 1 مجریہ سال 1981ء) نے مذکورہ بالا دستور کے ایسے احکام کو جو متعلقہ تھے اپنا جز قرار دیا تھا۔

اور چونکہ مذکورہ بالا فرمان میں واضح طور پر لفظ ”مسلم“ کی تعریف کی گئی ہے جس سے ایسا شخص مراد ہے جو وحدت و توحید قادر مطلق اللہ تبارک وتعالیٰ، خاتم النبیین حضرت محمد ﷺ کی ختم نبوت پر مکمل اور غیر مشروط طور پر ایمان رکھتا ہو اور پیغمبر یا مذہبی مصلح کے طور پر کسی ایسے شخص پر نہ ایمان رکھتا ہو نہ اسے مانتا ہو جس نے حضرت محمد ﷺ کے بعد اس لفظ کے کسی بھی مفہوم یا کسی بھی تشریح کے لحاظ سے پیغمبر ہونے کا دعویٰ کیا ہو یا جو دعویٰ کرے اور لفظ ”غیر مسلم“ سے کوئی ایسا شخص مراد ہے جو مسلم نہ ہو جس میں عیسائی، ہندو، سکھ، بدھ یا پارسی فرقہ سے تعلق رکھنے والا شخص، قادیانی گروپ یا لاہوری گروپ کا کوئی شخص (جو خود کو ”احمدی“ یا کسی اور نام سے موسوم کرتے ہیں) یا کوئی بہائی اور جدولی ذاتوں میں سے کسی ایک سے تعلق رکھنے والا کوئی شخص شامل ہے۔

اور چونکہ مذکورہ بالا دستور (ترمیم ثانی) ایکٹ بابت سال 1974ء نے دستور میں مذکورہ بالا ترامیم شامل کرنے کا اپنا مقصد حاصل کر لیا تھا۔

اور چونکہ وفاقی قوانین (نظر ثانی و استقرار) آرڈیننس مجریہ سال 1981ء (نمبر 27 مجریہ سال 1981ء) مسلمہ طریقہ کار کے مطابق اور مجموعہ قوانین سے ایسے قوانین کو بشمول مذکورہ بالا ایکٹ نکال دینے کے مقصد سے جاری کیا گیا تھا، جو اپنا مقصد حاصل کر چکے تھے۔

اور چونکہ جیسا کہ مذکورہ بالا آرڈیننس میں واضح طور پر قرار دیا گیا ہے، مذکورہ بالا دستور یا دیگر قوانین کے متن میں جو ترامیم مذکورہ بالا ایکٹ یا دیگر ترمیمی قوانین کے ذریعے کی گئی ہیں، مذکورہ بالا آرڈیننس کے اجراء سے متاثر نہیں ہوئی ہیں۔

لہٰذا اب 5 جولائی 1977ء کے اعلان کے بموجب اور اس سلسلے میں اسے مجاز کرنے والے تمام اختیارات کو استعمال کرتے ہوئے صدر اور چیف مارشل لاء

صفحہ 72

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول)

ایڈمنسٹریٹر نے قانونی صورتِ حال کے استقرار اور اس کی مزید توثیق کے لیے حسبِ ذیل فرمان جاری کیا ہے۔

سے موسوم ہوگا۔

بذریعہ ہذا اعلان کیا جاتا ہے اور مزید توثیق کی جاتی ہے کہ وفاقی قوانین (نظرثانی و استقرار) آرڈیننس مجریہ سال 1981ء (نمبر 27 مجریہ سال 1981ء کی جدول اول میں دستور (ترمیم ثانی) ایکٹ بابت سال 1974ء (نمبر 19 بابت سال 1974ء) کی شمولیت سے، جس کی رو سے اسلامی جمہوریہ پاکستان کے دستور 1973ء میں مذکورہ بالا ترامیم شامل کی گئی تھیں۔

دستور کے جزو کی حیثیت سے برقرار ہیں یا

کہتے ہیں) غیر مسلم کے طور پر حیثیت تبدیل نہیں ہوئی ہے اور نہ ہوگی اور وہ بدستور غیر مسلم ہیں۔

متذکرہ بالا متن سے ظاہر ہے کہ قادیانیوں کی آئینی و قانونی حیثیت بطور غیر مسلم قطعی طور پر مسلمہ اور قائم ہے۔ کچھ حلقوں نے اس اندیشہ کا اظہار کیا ہے کہ متذکرہ بالا صدارتی فرمان اور فرمانِ عارضی دستور مجریہ سال 1981ء چونکہ عارضی قانونی اقدامات ہیں، لہٰذا ان کے منسوخ ہو جانے پر مسلم اور غیر مسلم کی تعریف جو فرمانِ عارضی دستور کے آرٹیکل نمبر 1۔ الف میں بیان کی گئی ہے، بھی ختم ہو جائے گی اور چونکہ دستور (ترمیم ثانی) ایکٹ بابت سال 1974ء (نمبر 49 بابت سال 1974ء) جس کی رُو

صفحہ 73

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول)

سے 1973ء کے دستور میں ترامیم کر کے قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دیا گیا تھا‘ وفاقی قوانین (نظر ثانی و استقرار) آرڈیننس مجریہ سال 1981ء کے ذریعے منسوخ ہو چکا ہے‘ اس لیے دستور کے بحال ہونے پر قادیانیوں کی قانونی و آئینی حیثیت اسی طرح ہو گی جیسی کہ دستور (ترمیم ثانی) ایکٹ بابت سال 1974ء کے نفاذ سے پیشتر تھی۔

جیسا کہ مفصل بیان کیا جا چکا ہے‘ دستور (ترمیم ثانی) ایکٹ بابت سال 1974ء کی رُو سے جو ترامیم 1973ء کے دستور کے آرٹیکل 260 و آرٹیکل 106 میں عمل میں لائی گئی تھیں‘ وہ بدستور قائم اور نافذ ہیں۔

شائع کردہ وزارتِ اطلاعات و نشریات محکمہ فلم و مطبوعات‘ اسلام آباد 18 مئی 1982ء

صفحہ 74

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول)

نئے آرڈیننس کا اجراء (1984ء)

قادیانیوں کی اسلام دشمن سرگرمیاں

پیش لفظ

صدر مملکت نے قادیانی گروپ‘ لاہوری گروپ اور احمدیوں کی خلافِ اسلام سرگرمیوں کو روکنے کے لیے اور قانون میں ترمیم کے لیے ایک آرڈیننس بنام قادیانی گروپ‘ لاہوری گروپ‘ اور احمدیوں کی خلافِ اسلام سرگرمیاں (امتناع و تعزیر) 1984ء نافذ کیا ہے۔ یہ آرڈیننس 26 اپریل 1984ء کو نافذ کیا گیا ہے۔

تعزیراتِ پاکستان میں دفعہ 298۔ بی کا اضافہ کیا گیا ہے جس کی رو سے قادیانی گروپ‘ لاہوری گروپ کے کسی بھی ایسے شخص کو جو زبانی یا تحریری طور پر یا کسی فعل کے ذریعے مرزا قادیانی کے جانشینوں یا ساتھیوں کو ’’امیر المومنین‘‘ یا ’’صحابہ‘‘ یا اس کی بیوی کو ’’ام المومنین‘‘ یا اس کے خاندان کے افراد کو ’’اہلِ بیت‘‘ کے الفاظ سے پکارے یا اپنی عبادت گاہ کو ’’مسجد‘‘ کہے‘ تین سال کی سزا اور جرمانہ کیا جاسکتا ہے۔

اس دفعہ کی رُو سے قادیانی گروپ‘ لاہوری گروپ یا احمدیوں کے ہر اس شخص کی بھی یہی سزا ہوگی جو اپنے ہم مذہب افراد کو عبادت کے لیے جمع کرنے یا بلانے کے لیے اس طرح کی اذان کہے یا اس طرح کی اذان دے جس طرح کی مسلمان دیتے ہیں۔

ایک نئی دفعہ 298۔ سی کا تعزیراتِ پاکستان میں اضافہ کیا گیا ہے جس کی رُو سے متذکرہ گروپوں میں سے ہر ایسا شخص جو بالواسطہ یا بلاواسطہ طور پر اپنے آپ کو مسلمان ظاہر کرے اور اپنے عقیدے کو اسلام کہے یا اپنے عقیدے کی تبلیغ کرے یا دوسروں کو اپنا مذہب قبول کرنے کی دعوت دے یا کسی بھی انداز میں مسلمانوں کے

صفحہ 75

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول)

جذبات مشتعل کرے‘ اس سزا کا مستحق ہوگا۔

اس آرڈیننس نے قانون فوجداری 1898ء کی دفعہ 99۔ اے میں بھی ترمیم کر دی ہے جس کی رُو سے صوبائی حکومتوں کو یہ اختیار مل گیا ہے کہ وہ ایسے اخبار‘ کتاب اور دیگر دستاویز کو جو تعزیرات پاکستان میں اضافہ شدہ دفعہ کی خلاف ورزی کرتے ہوئے شائع کی گئی‘ کو ضبط کر سکتی ہے۔

اس آرڈیننس کے تحت پاکستان پریس اینڈ پبلی کیشن آرڈیننس 1963ء کی دفعہ 24 میں بھی ترمیم کر دی گئی ہے جس کی رُو سے صوبائی حکومتوں کو یہ اختیار مل گیا ہے کہ وہ ایسے پریس کو بند کر دے جو تعزیرات پاکستان کی اس نئی اضافہ شدہ دفعہ کی خلاف ورزی کرتے ہوئے کوئی کتاب یا اخبار چھاپتا ہے۔ اس اخبار کا ڈیکلریشن منسوخ کر دے جو متذکرہ دفعہ کی خلاف ورزی کرتا ہے اور ہر اس کتاب یا اخبار کو ضبط کر لے جس کی چھپائی یا اشاعت پر اس دفعہ کی رو سے پابندی ہے۔

آرڈیننس فوری طور پر نافذ ہوگیا ہے۔ آرڈیننس کا متن مندرجہ ذیل ہے۔

آرڈیننس نمبر 20 ...... مجریہ 1984ء

قادیانی گروپ‘ لاہوری گروپ اور احمدیوں کو خلافِ اسلام سرگرمیوں سے روکنے کے لیے قانون میں ترمیم کرنے کا آرڈیننس۔

چونکہ یہ قرینِ مصلحت ہے کہ قادیانی گروپ‘ لاہوری گروپ اور احمدیوں کو خلافِ اسلام سرگرمیوں سے روکنے کے لیے قانون میں ترمیم کی جائے۔

اور چونکہ صدر کو اطمینان ہے کہ ایسے حالات موجود ہیں جن کی بنا پر فوری کارروائی کرنا ضروری ہوگیا ہے۔

لہٰذا اب 5 جولائی 1977ء کے اعلان کے بموجب اور سلسلے میں اسے مجاز کرنے والے تمام اختیارات استعمال کرتے ہوئے صدر نے حسب ذیل آرڈیننس وضع اور جاری کیا ہے۔

صفحہ 76

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول)

حصہ اول

ابتدائیہ

مختصر عنوان اور آغاز نفاذ

حصہ دوم

مجموعہ تعزیراتِ پاکستان

(ایکٹ نمبر 45 بابت 1860ء) کی ترمیم

3۔ ایکٹ نمبر 45 بابت 1860ء میں نئی دفعات

298۔ب اور 298۔ج کا اضافہ

مجموعہ تعزیراتِ پاکستان (ایکٹ نمبر 45، 1860ء میں باب 15 میں، دفعہ 298 الف کے بعد حسب ذیل نئی دفعات کا اضافہ کیا جائے گا۔ یعنی............

298۔ب: بعض مقدس شخصیات یا مقامات کے لیے مخصوص القاب، اوصاف یا خطابات وغیرہ کا ناجائز استعمال

صفحہ 77

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول)

پر منسوب کرے یا مخاطب کرے۔

اسے کسی ایک قسم کی سزائے قید اتنی مدت کے لیے دی جائے گی جو تین سال تک ہو سکتی ہے اور وہ جرمانے کا بھی مستوجب ہوگا۔

کرتے ہیں) کا کوئی شخص جو الفاظ کے ذریعے خواہ زبانی ہوں یا تحریری یا مرئی نقوش کے ذریعے اپنے مذہب میں عبادت کے لیے بلانے کے طریقے یا صورت کو اذان کے طور پر منسوب کرے یا اس طرح اذان دے جس طرح مسلمان دیتے ہیں تو اسے کسی ایک قسم کی سزائے قید اتنی مدت کے لیے دی جائے گی جو تین سال ہو سکتی ہے اور وہ جرمانے کا مستوجب بھی ہوگا۔

298۔ج: قادیانی گروپ وغیرہ کا شخص جو خود کو مسلمان کہے

یا اپنے مذہب کی تبلیغ یا تشہیر کرے۔

قادیانی گروپ یا لاہوری گروپ (جو خود کو احمدی یا کسی دوسرے نام سے موسوم کرتے ہیں) کا کوئی شخص جو بلاواسطہ یا بالواسطہ خود کو مسلمان ظاہر کرے یا اپنے مذہب کو اسلام کے طور پر موسوم کرے یا منسوب کرے یا الفاظ کے ذریعے خواہ زبانی ہوں یا تحریری یا مرئی نقوش کے ذریعے اپنے مذہب کی تبلیغ یا تشہیر کرے یا دوسروں کو اپنا مذہب قبول کرنے کی دعوت دے یا کسی بھی طریقے سے مسلمانوں کے مذہبی احساسات کو مجروح کرے‘ کو کسی ایک قسم کی سزائے قید اتنی مدت کے لیے دی جائے گی جو تین سال تک ہو سکتی ہے‘ اور جرمانے کا بھی مستوجب ہوگا۔

حصہ سوم

مجموعہ ضابطہ فوجداری 1898ء

(ایکٹ نمبر 5 بابت 1898ء کی ترمیم)

صفحہ 78

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول)

4۔ ایکٹ نمبر 5 بابت 1898ء کی دفعہ 99۔ الف کی ترمیم

مجموعہ ضابطہ فوجداری 1898ء (ایکٹ نمبر 5 بابت 1898ء میں جس کا حوالہ بعدازیں مذکورہ مجموعہ کے طور پر دیا گیا ہے، دفعہ ’99 الف میں‘ ذیلی دفعہ (1) میں الف۔ ”الفاظ اور سکتہ ”اس طبقہ کے“ کے بعد الفاظ، ہندسے، قوسین، حرف اور ”سکتے“، اس نوعیت کا کوئی مواد جس کا حوالہ مغربی پاکستان پریس اور پبلی کیشنز آرڈیننس 1963ء کی دفعہ 24 کی ذیلی دفعہ (1) کی شق (ی ی) میں دیا گیا ہے“ شامل کر دیئے جائیں گے، اور (ب) ہندسہ اور حرف ”298۔ الف کے بعد الفاظ، ہندسے اور حرف ”یا دفعہ 298۔ ب یا دفعہ 298۔ ج“ شامل کر دیئے جائیں گے۔

ایکٹ نمبر 5 بابت 1898ء کی جدول دوم کی ترمیم

مذکورہ مجموعہ میں جدول دوم میں دفعہ 298۔ الف سے متعلق اندراجات کے بعد حسب ذیل اندراجات شامل کر دیئے جائیں گے۔ یعنی......

1 2 3 4 5 6 7 8

298۔ ب بعض مقدس شخصیات کے لیے مخصوص القاب، اوصاف اور خطابات وغیرہ کا ناجائز استعمال ایضاً ایضاً ناقابل ضمانت ایضاً تین سال کے لیے کسی ایک قسم کی سزائے قید اور جرمانے ایضاً

298۔ ج قادیانی گروپ وغیرہ کا شخص جو خود کو مسلمان ظاہر کرے یا اپنے مذہب کی تبلیغ یا تشہیر کرے ایضاً ایضاً ایضاً ایضاً ایضاً ایضاً

صفحہ 79

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول)

حصہ چہارم

مغربی پاکستان پریس اور پبلی کیشنز آرڈیننس 1963ء

(مغربی پاکستان آرڈیننس نمبر 30 مجریہ 1963ء) کی ترمیم

6۔ مغربی پاکستان آرڈیننس 1963ء کی دفعہ 24 کی ترمیم

مغربی پاکستان پریس اور پبلی کیشنز آرڈیننس 1963ء (مغربی پاکستان آرڈیننس نمبر 30 مجریہ 1963ء) میں دفعہ 24 میں ذیلی دفعہ (1) میں شق (ی) کے بعد حسب ذیل نئی شق شامل کر دی جائے گی۔ یعنی ......

’’(ی ی) ایسی نوعیت کی ہوں جن کا حوالہ مجموعہ تعزیرات پاکستان (ایکٹ نمبر 45 بابت 1860ء) کی دفعات 298۔ الف، 298۔ ب یا 298۔ ج میں دیا گیا ہے‘‘ یا‘‘

شائع کردہ محکمہ فلم و مطبوعات، وزارت اطلاعات و نشریات، اسلام آباد، پاکستان 6-6-1984

صفحہ 80

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول)

قانون تحفظ ناموس رسالت ﷺ

قانون زیر دفعہ 295۔سی تعزیرات پاکستان

نبی کریم حضرت محمد ﷺ کی شان اقدس میں توہین آمیز کلمات کا استعمال

”جو کوئی الفاظ کے ذریعے، خواہ زبانی ہوں یا تحریری یا مرئی نقوش کے ذریعے، یا بطور طعنہ زنی یا بہتان تراشی بالواسطہ یا بلا واسطہ، اشارتاً یا کنایتاً حضرت محمد ﷺ کی توہین یا تنقیص یا بے حرمتی کرے، وہ سزائے موت یا سزائے عمر قید کا مستوجب ہوگا اور اسے سزائے جرمانہ بھی دی جائے گی۔“

نوٹ: چونکہ قانون زیر دفعہ 295۔سی تعزیرات پاکستان میں توہین رسالت ﷺ کے مرتکب کی سزا بطور حد ”سزائے موت“ کی متبادل ”سزائے عمر قید“ قرآن و سنت کے منافی تھی، اس لیے جناب محمد اسماعیل قریشی ایڈووکیٹ نے ایک شریعت پٹیشن نمبر 6/L of 1987 بعنوان ”محمد اسماعیل قریشی بنام حکومت پاکستان بذریعہ سیکرٹری قانون و پارلیمانی امور وغیرہ“ فیڈرل شریعت کورٹ میں دائر کی جس کا فیڈرل شریعت کورٹ نے مورخہ 30 اکتوبر 1990ء کو فیصلہ صادر فرماتے ہوئے اہانت رسول کی سزا ”سزائے عمر قید“ کو قرآن و سنت کے منافی قرار دیا اور صدر پاکستان کو حکم جاری فرمایا کہ 30 اپریل 1991ء تک قانون زیر دفعہ 295۔سی تعزیرات پاکستان میں ترمیم کر کے ”یا عمر قید“ کے الفاظ کو حذف کر دیا جائے اور ایک مزید ذیلی شق کا اضافہ کیا جائے، جس کی رو سے ”دیگر انبیا علیہم السلام کی اہانت کی سزا بھی سزائے موت مقرر کی جائے“ اور 30 اپریل 1991ء تک ایسا نہ کرنے کی صورت میں قانون زیر دفعہ 295۔سی تعزیرات پاکستان میں الفاظ ”یا عمر قید“ غیر موثر ہوجائیں

گے۔ (PLD 1991 Federal Shariat Court 10)

اس فیصلہ کے خلاف وفاقی حکومت نے سپریم کورٹ آف پاکستان میں شریعت اپیل نمبر 5/1991 بعنوان ”فیڈریشن آف پاکستان بنام محمد اسماعیل قریشی“ دائر کی جو بروئے حکم مورخہ 19 مئی 1991ء بصیغہ واپسی خارج کر دی گئی۔ اس طرح

صفحہ 81

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول)

فیڈرل شریعت کورٹ کا فیصلہ عدالت عظمیٰ میں بھی بحال رہا جس کی وجہ سے ”یا عمر قید“ کے الفاظ آئین، قانون اور عدالتی فیصلہ کے مطابق 295۔سی تعزیرات پاکستان سے حذف ہو کر ”یا عمر قید“ کی سزا غیر موثر ہو چکی ہے اور اب پاکستان میں توہین رسالت کی سزا بحمد للہ تعالیٰ بطور حد صرف سزائے موت مقرر ہو کر نافذ العمل ہے۔

(PLD 1991 Federal Shariat Court 10)

(PLD 2014 Federal Shariat Court 18)

۞......۞......۞

صفحہ 82

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول)

صفحہ 83

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول)

فتنۂ قادیانیت کے خلاف

عدالتی فیصلے

(جلد اوّل)

صفحہ 84

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول)

صفحہ 85

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول)

THE CONSTITUTION

OF THE

ISLAMIC REPUBLIC

OF PAKISTAN

PLD 1985 Federal Shariat Court 8

وفاقی شرعی عدالت، پاکستان

مجیب الرحمٰن اور تین دیگر بنام وفاقی حکومت پاکستان

...... جناب جسٹس فخر عالم : چیف جسٹس

...... جناب جسٹس چودھری محمد صدیق

...... جناب جسٹس مولانا ملک غلام علی

...... جناب جسٹس مولانا عبدالقدوس قاسمی

’’قادیانی شعائرِ اسلامی استعمال نہیں کر سکتے‘‘

ہمہ جہت علمی خوبیوں سے مزین وفاقی شرعی عدالت کا

تاریخ ساز فیصلہ

جس کا ایک ایک لفظ فتنۂ قادیانیت کے لیے رگِ نشتر ہے۔

صفحہ 86

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول)

”قادیانی امت مسلمہ کا حصہ نہیں ہیں۔ اس بات کو خود ان کا اپنا طرز عمل خوب واضح کرتا ہے۔ ان کے نزدیک تمام مسلمان کافر ہیں۔ وہ ایک الگ امت ہیں۔ یہ تناقض ہے کہ انہوں نے امت مسلمہ کی جگہ لے لی ہے اور مسلمانوں کو اس امت سے خارج قرار دیا ہے۔ مسلمان انہیں امت مسلمہ سے خارج قرار دیتے ہیں اور عجیب بات یہ ہے کہ وہ مسلمانوں کو اس امت سے خارج سمجھتے ہیں۔ ظاہر ہے کہ دونوں ایک ہی امت میں سے نہیں ہو سکتے۔ یہ سوال کہ امت مسلمہ کے افراد کون ہیں؟ برطانوی ہندوستان میں کسی ادارے کے موجود نہ ہونے کی بنا پر حل نہ ہو سکا لیکن اسلامی ریاست میں اس موضوع کو طے کرنے کے لیے ادارے موجود ہیں اور اس لیے اب کوئی مشکل درپیش نہیں ہے۔“

صفحہ 87

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول)

دل کی بات

(مقدمہ کا پس منظر، احوال، نتیجہ)

الحمد للہ وحدہ والصلوۃ والسلام علی من لا نبی بعدہ اما بعد

ملک کی منتخب پارلیمنٹ نے 7 ستمبر 1974ء کو متفقہ طور پر قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا۔ لیکن اس کے باوجود وہ سر عام اور مسلسل شعائر اسلامی استعمال کرتے ہیں۔ غیر مسلم ہونے کے باوجود وہ اپنے مذہب کو اسلام، اپنی عبادت گاہ کو مسجد، مرزا قادیانی کو نبی اور رسول، مرزا قادیانی کی بیوی کو ام المومنین، مرزا قادیانی کی بیٹی کو سیدۃ النساء، مرزا قادیانی کے خاندان کو اہلبیت، مرزا قادیانی کے دوستوں کو صحابہ کرام، قادیان کو مکہ مکرمہ، ربوہ کو مدینہ، مرزا قادیانی کی باتوں کو احادیث مبارکہ، مرزا قادیانی پر اترنے والی نام نہاد وحی کو قرآن مجید اور محمد رسول اللہ سے مراد مرزا قادیانی لیتے ہیں۔

چنانچہ 26 اپریل 1984ء کو حکومت نے ایک بڑے قانونی سقم کو دور کرتے ہوئے امتناع قادیانیت آرڈیننس جاری کیا جس میں قادیانیوں کو اسلامی شعائر اور مخصوص القابات کے استعمال سے قانوناً روکا گیا۔ اس آرڈیننس کے نتیجہ میں تعزیرات پاکستان کی دفعہ 298/B اور 298/C کے تحت کوئی قادیانی خود کو مسلمان نہیں کہلوا سکتا، اپنے مذہب کو اسلام نہیں کہہ سکتا، اپنے مذہب کی تبلیغ و تشہیر نہیں کر سکتا اور اسلامی شعائر و القابات وغیرہ کا استعمال نہیں کر سکتا۔ خلاف ورزی کی صورت میں وہ 3 سال قید اور جرمانہ کی سزا کا مستوجب ہوگا۔

اس آرڈیننس کے تحت پاکستان پریس اینڈ پبلیکیشن آرڈیننس 1963ء کی دفعہ 24 میں بھی ترمیم کر دی گئی، جس کی رو سے صوبائی حکومتوں کو یہ اختیار مل گیا کہ وہ

صفحہ 88

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول)

ایسے پریس کو بند کر دے جو تعزیرات پاکستان کی اس نئی اضافہ شدہ دفعہ کی خلاف ورزی کرتے ہوئے کوئی کتاب یا اخبار شائع کرتا ہے، اس اخبار کا ڈیکلریشن منسوخ کر دے جو متذکرہ دفعہ کی خلاف ورزی کرتا ہے اور ہر اس کتاب یا اخبار پر قبضہ کرے جس کی چھپائی یا اشاعت پر اس دفعہ کی رُو سے پابندی ہے۔ امتناع قادیانیت آرڈیننس کے نفاذ کے بعد:

پہن کر پاکستان سے مجرمانہ طور پر یکم مئی 1984ء کو انگلستان فرار ہو گیا۔

پابندی لگ گئی۔

قادیانیوں نے اپنے خلیفہ مرزا طاہر کے حکم پر اس آرڈیننس کی خلاف ورزی کرتے ہوئے پورے ملک میں شعائر اسلامی کی توہین کی اور اس کے خلاف ایک بھر پور مہم چلائی جس کے نتیجہ میں پاکستان کے اکثر شہروں میں لاء اینڈ آرڈر کی صورتحال پیدا ہوئی۔

قادیانیوں اور لاہوری مرزائیوں نے فوری طور پر اس آرڈیننس کو وفاقی شرعی عدالت میں چیلنج کر دیا کہ یہ آرڈیننس قرآن وسنت کے منافی ہے۔ وفاقی شرعی عدالت کے پانچ رکنی بنچ نے اس کیس کی سماعت کی۔ بنچ جسٹس آفتاب احمد، جسٹس فخر عالم، جسٹس چودھری محمد صدیق، جسٹس مولانا ملک غلام علی، جسٹس مولانا عبدالقدوس قاسمی پر مشتمل تھا۔

قادیانیوں کی طرف سے مجیب الرحمٰن ایڈووکیٹ قادیانی اور لاہوری مرزائیوں کی طرف سے کیپٹن ریٹائرڈ عبدالواحد لاہوری مرزائی پیش ہوئے جب کہ مدعا علیہ حکومت پاکستان کی طرف سے حاجی شیخ غیاث محمد ایڈووکیٹ، جناب ایم۔ بی زمان ایڈووکیٹ اور جناب سید ڈاکٹر ریاض الحسن گیلانی ایڈووکیٹ نے پیروی کی۔ 15 جولائی 1984ء سے 12 اگست 1984ء (سوائے چھٹیوں) کے سماعت جاری رہی۔

صفحہ 89

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول)

کیس کی سماعت کے سلسلہ میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے امیر مرکزیہ حضرت مولانا خواجہ خان محمدؒ کے حکم پر مفکر اسلام حضرت مولانا محمد شریف جالندھری رحمۃ اللہ علیہ (جو ان دنوں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے ناظم اعلیٰ تھے) نے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت ملتان کی لائبریری سے بیسیوں بکسوں پر مشتمل اہم حوالہ جاتی کتب، رسائل اور اخبارات کا مکمل ریکارڈ لاہور منگوا لیا۔ کراچی سے عالم اسلام کے معروف سکالر اور عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے ناظم نشریات (ان دنوں) حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانویؒ اور ملتان سے مناظر اسلام اور عالمی مجلس کے ناظم تبلیغ (ان دنوں) حضرت مولانا عبدالرحیم اشعرؒ اور ربوہ سے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مبلغ (ان دنوں) حضرت مولانا اللہ وسایا کو لاہور طلب کر لیا۔ لاہور میں ان حضرات کی معاونت کے لیے مولانا کریم بخش علی پوری جو ان دنوں لاہور مجلس کے مبلغ تھے کی ڈیوٹی لگائی گئی۔ جامعہ اشرفیہ لاہور کے شیخ الحدیث مولانا عبدالرحمن اشرفی اور مولانا عبیداللہ صاحب مہتمم جامعہ نے جامعہ کی لائبریری ان حضرات کے لیے کھول دی۔

وفاقی شرعی عدالت نے مولانا صدر الدین الرفاعی، پروفیسر محمود احمد غازی، علامہ تاج الدین حیدری، پروفیسر محمد اشرف، علامہ مرزا محمد یوسف، ڈاکٹر طاہر القادری اور قاضی مجیب الرحمن کو اپنی معاونت کے لیے بلایا جن کے تفصیلی بیانات ہوئے۔ علامہ خالد محمود نے مناظر اسلام مولانا منظور احمد چنیوٹیؒ کی معاونت سے ایک تحریری بیان مرتب کیا جو عدالت میں پڑھا تو نہ جا سکا، البتہ عدالت میں جمع کرا دیا گیا۔ (بعد میں اسے جامعہ رشیدیہ ساہیوال کے ترجمان الرشید میں ”قادیانیوں کی قانونی حیثیت“ کے نام سے مستقل اشاعت میں شائع بھی کر دیا گیا)

عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے امیر مرکزیہ حضرت مولانا خواجہ خان محمدؒ اور حضرت سید انور حسین نفیس رقمؒ کی سربراہی میں لاہور کے علماء عدالت میں ہر روز تشریف لاتے رہے۔ عدالت میں اتنا رش ہوتا کہ عدالت کا وسیع و عریض ہال اپنی تمام تر

صفحہ 90

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول)

وسعتوں کے باوجود نا کافی ہو جاتا۔ آخر میں عدالت کو پاس جاری کرنے پڑے۔ ہر روز کی کارروائی کے بعد شام کو مولانا محمد شریف جالندھری، مولانا محمد یوسف لدھیانوی، مولانا عبدالرحیم اشعر کے ساتھ مسلمان وکلاء کی جامعہ اشرفیہ فیروز پور لاہور کی لائبریری میں گھنٹوں ملاقات ہوتی۔ متعلقہ امور پر مشاورت اور حوالہ جات کی تلاش ہوتی۔ ان کے فوٹوسٹیٹ حاصل کیے جاتے، بیانات لکھے جاتے، قادیانی وساوس و دجل و فریب کے جواب تیار کیے جاتے اور یوں حق تعالیٰ کی طرف سے عنایت کردہ توفیق و کرم سے مہینہ بھر یہ محنت جاری رہی۔

جب مسلمان وکلاء کے بیانات اور دلائل شروع ہوئے تو عدالت کے سامنے وکلاء کے ساتھ پہلی لائن میں وسیع وعریض دو میز رکھے گئے جن پر اسلامی اور قادیانی کتب کا ذخیرہ سلیقہ سے رکھا جاتا۔ وکلاء کو پہلے سے تیار شدہ حوالہ جات و کتب دینے کی ذمہ داری مناظر اسلام مولانا عبدالرحیم اشعر اور حضرت مولانا اللہ وسایا مدظلہ نے نبھائی۔ جب مسلمان وکلاء عدالت میں اپنے دلائل و براہین کے انبار لگاتے تو مسلمانوں کے چہرے ہشاش بشاش اور قادیانیوں پر شرمندگی اور خجالت کے آثار قابل دید ہوتے۔ قومی پریس نے ہر روز کی کارروائی شہ سرخیوں سے شائع کی جس سے اندرون و بیرون ملک تمام مسلمانوں کی نگاہیں اس کیس کی طرف لگ گئیں۔

اللہ رب العزت کی خاص رحمت اور حضور رحمت عالم ﷺ کی توجہاتِ عالیہ امتِ مسلمہ کے لیے واحد سہارا تھیں۔ قادیانی اپنے طور پر اندرون و بیرون ملک سے دباؤ بڑھا رہے تھے۔ ملک کی تمام سیکولر اور بے دین لابیاں اسے اپنے لیے موت و حیات کا مسئلہ بنائے بیٹھی تھیں۔ غرضیکہ کفر اور اسلام کا معرکہ تھا، حق و باطل کی جنگ تھی، مسلمان اور قادیانی آپس میں قانونی محاذ پر برسر پیکار تھے۔ قادیانی اپنے طور پر خوش تھے کہ جسٹس آفتاب پہلے ڈیرہ غازی خان کی ایک مسجد کے کیس میں قادیانیوں کے حق میں فیصلہ دے چکا تھا۔ ذوالفقار علی بھٹو مرحوم نے اپنے زمانہ میں یہودیوں کی ایک تنظیم فری

صفحہ 91

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول)

میسن پر پابندی لگا دی تھی۔ یہودیوں اور ان کے آلہ کاروں نے لاہور ہائیکورٹ میں اس پابندی کو چیلنج کیا تو اسی جسٹس آفتاب نے یہودی تنظیم سے پابندی ختم کر دی تھی۔ ایسے ڈھب کے جج صاحب کے قادیانی نواز ہونے میں کوئی شبہ نہ تھا۔ آخر حق تعالیٰ کی شانِ کریمی کا اظہار ہوا۔ رحمت عالم ﷺ کی دعائیں امت کے کام آگئیں اور 12 جولائی 1984ء کو اس جسٹس آفتاب صاحب کے قلم سے قادیانیوں کی اپیلیں خارج کر دی گئیں۔ قادیانیوں کو ذلت و رسوائی کا سامنا کرنا پڑا اور امت مسلمہ کو ایک بار پھر قادیانیت پر فتح حاصل ہو گئی۔ 12 جولائی کو عدالت میں جب بحث سمیٹی گئی تو تمام حاضرین ہال کے باہر آگئے۔ جج صاحبان فیصلہ لکھنے کے لیے عدالت سے ملحقہ ریٹائرنگ روم میں چلے گئے۔ عدالت کے لان میں برگد کے ایک درخت کے زیر سایہ علماء و مشائخ جمع تھے۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے امیر مرکزیہ حضرت مولانا خواجہ خان محمدؒ اور قطب الارشاد حضرت شاہ عبدالقادر رائے پوری رحمۃ اللہ علیہ کے خلیفہ مجاز سید حضرت انور حسین نفیس رقمؒ نے زمین پر بیٹھتے ہی سر جھکائے اور مراقبہ میں چلے گئے۔ اس منظر کی آسان تعبیر یہ ہو گی کہ عدالت کے اندر جج صاحبان فیصلہ کے لیے قلم تول رہے تھے اور عدالت سے باہر یہ بزرگ اپنے رب کی رحمتوں کے دروازے پر دستک دے رہے تھے۔ اللہ رب العزت کا کرم و فضل ہوا کہ جسٹس آفتاب نے قادیانیوں کی پٹیشن خارج کرتے ہوئے دو صفحاتی مختصر فیصلہ لکھا۔ باقی تمام جج صاحبان نے اس پر دستخط کیے۔ یوں متفقہ طور پر فیصلہ ہوا۔ وکلاء کو عدالت کے اندر بلا لیا گیا۔ اہلِ اسلام کے وکیل اور عقیدہ ختم نبوت کے تحفظ کی سعادت حاصل کرنے والے ایڈووکیٹ جناب سید ریاض الحسن گیلانی جب فیصلہ سن کر عدالت کے کمرے سے وکٹری کا نشان بنائے باہر آئے تو مسلمانوں نے محبت رسول ﷺ میں سرشار ہو کر نعرۂ تکبیر بلند کیا۔ اس پر حضرت خواجہ خان محمدؒ اور سید انور حسین نفیس رقمؒ نے مراقبہ سے سر اٹھایا تو دونوں بزرگوں کے چہروں پر خوشی کے آنسوؤں کی جھڑیاں لگی ہوئی تھیں۔ حضرت مولانا محمد یوسف

صفحہ 92

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول)

لدھیانویؒ کا چہرہ خوشی سے تمتما اٹھا جبکہ حضرت مولانا محمد شریف جالندھری رحمۃ اللہ علیہ فیصلہ سنتے ہی سر بسجود ہو گئے۔

یہ منظر کبھی نہ بھولے گا کہ فیصلہ کے بعد قادیانی وکیل تو کسی عقبی دروازہ سے نو دو گیارہ ہو گئے اور باقی قادیانی ایسے گم ہوئے جیسے مرزا قادیانی کے دل سے شرم وحیا مفقود ہو گئی تھی۔ اس دوصفحاتی فیصلہ میں لکھا تھا کہ تفصیلی فیصلہ بعد میں دیا جائے گا۔ جسٹس آفتاب ریٹائرڈ ہو گئے تو اس کے بعد جناب جسٹس فخر عالم صاحب وفاقی شرعی عدالت کے چیف جسٹس مقرر ہوئے۔ وہ اس بنچ کے بھی سینئر رکن تھے۔ انہوں نے اس مقدمہ کا تفصیلی فیصلہ 29 اکتوبر 1984ء کو سنایا۔ عدالت نے قادیانیوں کی رٹ پٹیشن خارج کرتے ہوئے متفقہ طور پر اس آرڈیننس کو درست قرار دیا اور قادیانیوں کے بارے میں ایک سو سے زائد صفحات پر مشتمل اپنے تاریخی فیصلہ میں لکھا:

خوب واضح کرتا ہے۔ ان کے نزدیک تمام مسلمان کافر ہیں۔ وہ ایک الگ امت ہیں۔ یہ تناقض ہے کہ انھوں نے امت مسلمہ کی جگہ لے لی ہے اور مسلمانوں کو اس امت سے خارج قرار دیا ہے۔ مسلمان انھیں امت مسلمہ سے خارج قرار دیتے ہیں اور عجیب بات یہ ہے کہ وہ مسلمانوں کو اس امت سے خارج سمجھتے ہیں۔ ظاہر ہے کہ دونوں ایک ہی امت میں سے نہیں ہو سکتے۔ یہ سوال کہ امت مسلمہ کے افراد کون ہیں؟ برطانوی ہندوستان میں کسی ادارے کے موجود نہ ہونے کی بنا پر حل نہ ہو سکا‘ لیکن اسلامی ریاست میں اس موضوع کو طے کرنے کے لیے ادارے موجود ہیں اور اس لیے اب کوئی مشکل درپیش نہیں ہے۔......... قادیانیوں اور مسلمانوں کے مابین یہ کشمکش اور قطعی علیحدگی خود مرزا قادیانی اور اس کے جانشینوں کی تحریروں کا نتیجہ ہے۔......... کلمۃ الفصل میں کہا گیا ہے:

”ہم تو دیکھتے ہیں کہ حضرت مسیح موعودؒ نے غیر احمدیوں (مسلمانوں) کے ساتھ صرف وہی سلوک جائز رکھا ہے جو نبی کریمؐ نے عیسائیوں کے ساتھ کیا۔ غیر احمدیوں سے

صفحہ 93

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول)

ہماری نمازیں الگ کی گئیں، ان کولڑکیاں دینا حرام قرار دیا گیا، ان کے جنازے پڑھنے سے روکا گیا، اب باقی کیا رہ گیا ہے جو ہم ان کے ساتھ مل کر کر سکتے ہیں۔ دو قسم کے تعلقات ہوتے ہیں، ایک دینی، دوسرے دنیوی۔ دینی تعلق کا سب سے بڑا ذریعہ عبادت کا اکٹھا ہونا ہے اور دنیوی تعلقات کا بھاری ذریعہ رشتہ وناطہ ہے۔ سو یہ دونوں ہمارے لیے حرام قرار دیئے گئے۔“

(کلمۃ الفصل صفحہ 169، 170 از مرزا بشیر احمد ایم اے ابن مرزا قادیانی)

............. آئینہ صداقت میں مرزا بشیر الدین محمود، مرزا قادیانی کی ایک مزعومہ وحی کا ذکر کرتا ہے کہ ”جو شخص مسیح موعود کے ایک لفظ کو بھی جھوٹا خیال کرے گا، وہ خدا کے دربار میں مردود ٹھہرے گا۔“ پھر وہ قادیانیوں پر زور دیتا ہے کہ ”وہ اپنے امتیازی نشانات کو نہ چھوڑیں کہ وہ ایک سچے نبی (مرزا قادیانی) کو مانتے ہیں اور ان کے مخالف اسے نہیں مانتے۔“ ..................... برطانوی سامراج اور استعمار کی حکومت سے مرزا صاحب کی محبت اور وفاداری ایک بدیہی امر ہے۔ انہوں نے تقریباً اپنی ہر کتاب میں کئی صفحات انگریز سرکار کی تعریف وتوصیف کے لیے مخصوص کیے ہیں ان کے جانشینوں کا طرز عمل بھی یہی رہا ہے۔ ذیل میں ایسی تحریروں کی چند مثالیں ملاحظہ ہوں:

”بعض احمق اور نادان سوال کرتے ہیں کہ اس گورنمنٹ سے جہاد کرنا درست ہے، یا نہیں؟ سو یاد رہے کہ یہ سوال ان کا نہایت حماقت کا ہے کیونکہ جس کے احسانات کا شکر کرنا عین فرض اور واجب ہے، اس سے جہاد کیسا۔ میں سچ سچ کہتا ہوں کہ محسن کی بدخواہی کرنا ایک حرامی اور بدکار آدمی کا کام ہے۔..................... ”سو میرا مذہب جس کو میں بار بار ظاہر کرتا ہوں، یہی ہے کہ اسلام کے دو حصے ہیں۔ ایک یہ کہ خدا تعالیٰ کی اطاعت کریں، دوسرے اس سلطنت کی جس نے امن قائم کیا ہو، جس نے ظالموں کے ہاتھ سے اپنے سایہ میں ہمیں پناہ دی ہو۔ سو وہ سلطنت حکومت برطانیہ ہے۔“

(شہادت القرآن صفحہ 84، 85 مندرجہ روحانی خزائن جلد 6 صفحہ 380، 381 از مرزا قادیانی)

کتاب البریہ کے صفحہ 8 اور 9 روحانی خزائن جلد 13 صفحہ 8، 9 پر ان کتابوں

صفحہ 94

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول)

کے نام، تاریخ طباعت اور صفحات کے نمبر درج کیے گئے ہیں، جن میں مرزا صاحب نے برطانوی حکومت کی مدح وستائش کی۔ انہوں نے اپنی 24 کتابوں اور رسالوں کا حوالہ دیا ہے جن میں سرکار برطانیہ کی تعریف وتوصیف کے پل باندھے ہیں۔ ان کی وفات سے کم از کم گیارہ سال قبل ایسے صفحات کی تعداد کئی درجنوں تک پہنچتی ہے۔ مرزا قادیانی کا کہنا ہے:

”اب چھوڑ دو جہاد کا اے دوستو خیال
دیں کے لیے حرام ہے اب جنگ اور قتال
اب آگیا مسیح جو دِیں کا امام ہے
دِیں کے لیے تمام جنگوں کا اب اختتام ہے
دشمن ہے وہ خدا کا جو کرتا ہے اب جہاد
منکر نبی کا ہے جو یہ رکھتا ہے اعتقاد“

(تحفہ گولڑویہ ضمیمہ صفحہ 42، مندرجہ روحانی خزائن جلد 17 صفحہ 77، 78 از مرزا قادیانی)

”میں یقین رکھتا ہوں کہ جیسے جیسے میرے مرید بڑھیں گے، ویسے ویسے مسئلہ جہاد کے معتقد کم ہوتے جائیں گے کیونکہ مجھے مسیح اور مہدی مان لینا ہی مسئلہ جہاد کا انکار کرنا ہے۔“ (کتاب البریہ صفحہ 11 مندرجہ روحانی خزائن جلد 13 صفحہ 347 از مرزا قادیانی)

1974ء کی اس آئینی ترمیم کے اثرات کا جائزہ لیا جائے جس کے ذریعے قادیانیوں کو غیرمسلم قرار دیا گیا تھا۔ مجیب الرحمٰن نے اس رائے کا پرجوش اظہار کیا کہ آئین نے قادیانیوں کو صرف غیر مسلم قرار دیا ہے اور ان پر خود کو غیرمسلم ہونے کی حیثیت سے کوئی ذمہ داری عائد نہیں کی۔ ہم نے ان سے یہ استفسار کیا کہ کیا پاکستان کے قادیانی شہریوں پر آئین کی پابندی لازمی ہے یا نہیں۔ انہوں نے تسلیم کیا کہ ان پر اس کی پابندی لازمی ہے۔ اسی تسلیم سے یہ نتیجہ اخذ ہوتا ہے کہ اعلان کے مطابق قادیانی اس امر کے پابند ہیں

صفحہ 95

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول)

کہ وہ آئین اور قانون کی رو سے غیر مسلم ہیں۔ وہ انتخابات میں قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے لیے ان نشستوں سے بطور امیدوار کھڑے ہو سکتے ہیں جو غیر مسلموں کے لیے مخصوص ہیں۔ ایسے مقدمات جن میں عقیدے کا مسئلہ درپیش ہو‘ انہیں لازماً اپنے آپ کو غیر مسلم کہنا ہوگا۔ اپنے مسلمان ہونے کے مفروضے کی بنیاد پر وہ کسی بھی قانونی حق کا دعویٰ نہیں کر سکتے۔ اس پٹیشن پر بحث کے دوران ان کا خود کو مسلمان کہنے پر اصرار واضح طور پر غیر آئینی ہے۔‘‘

کا نفاذ ہوتا ہے اور اس آرڈیننس میں اسی اصول کا اعادہ کیا گیا ہے کہ قادیانی کسی بھی طریقے سے براہ راست یا بالواسطہ اپنے آپ کو مسلمان کہلا یا ظاہر نہیں کر سکتے۔ مذہب کی تبلیغ پر پابندی کا محرک بھی اسی طرح کی سوچ ہے۔ قادیانیوں نے خود کو مسلمان کہنے اور مسلمانوں کو یہ تسلی دینے کہ احمدیت کو ماننے کا معنی اسلام کو ترک کرنا یا ایمان کے بدلے کفر کو اختیار کرنا نہیں‘ بلکہ بہتر مسلمان بننے کا موقع ہے‘ کی حکمت عملی کی بدولت ان میں اور زیادہ تر پنجاب میں کچھ کامیابی حاصل کی۔ اس مقصد کے لیے وہ تعلیم یافتہ مسلمانوں کے دلوں میں سخت فرقہ واریت اور علماء کی مسلسل شدت کے خلاف موجود نفرت کے روایتی سروں کو چھیڑتے ہیں اور انہیں اپنی تبلیغ‘ جسے وہ اسلام میں آزاد خیالی قرار دیتے ہیں‘ کی جانب راغب کرتے ہیں۔ یہ حکمت عملی‘ جس نے انہیں کچھ فائدہ دیا ہے‘ اس سوداگر کے اس فراڈ سے گہری مماثلت رکھتی ہے جو اپنے گھٹیا سامان کو ایک شہرت یافتہ فرم کا اعلیٰ قسم کا معروف سامان ظاہر کر کے چلتا کرتا ہے‘ قادیانی یہ تسلیم کر لیں کہ ان کی تبلیغ اسلام کے لیے نہیں بلکہ کسی اور مذہب کی طرف ہے‘ تو بے خبر مسلمان بھی اپنے ایمان کو چھوڑ کر کفر قبول کرنے سے نفرت کریں گے‘ بلکہ الٹا قادیانیوں کے دلوں سے احمدیت کا طلسم ٹوٹ جائے گا۔‘‘

صفحہ 96

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول)

نہیں پکارا جاسکتا۔ قادیانیوں کی طرف سے مرزا صاحب کے افراد خاندان کے لیے ایسے نام کا استعمال زخموں پر نمک چھڑکنے کے مترادف ہے۔ وہ اوصاف جن سے رسول اللہ ﷺ کے افرادِ خاندان متصف تھے وہ کسی اور شخص میں موجود نہیں ہو سکتے، اس لیے یہ کوئی حیرت کی بات نہیں کہ مسلمانوں نے اس توہین کا برا منایا۔ اس اصطلاح کے استعمال سے امن وامان کا مسئلہ پیدا ہوتا ہے۔ لہٰذا یہی امت کے مفاد میں تھا کہ اس کے استعمال کو فوجداری جرم قرار دے کر قادیانیوں کو اس کے استعمال سے منع کر دیا جائے۔“

کے سربراہان کے لیے مستعمل ومخصوص ہیں۔ کوئی مسلمان پسند نہیں کرے گا کہ ایسے لوگ جو غیر مسلم ہیں یا جو امتِ مسلمہ سے خارج ہیں، وہ یہ لقب اختیار کریں۔ اس وجہ سے اور خصوصاً قادیانیوں کے ان القابات اور اصطلاحات کے استعمال کے نتیجے میں مسلمانوں کی ان سے عداوت کی بناء پر اس آرڈیننس کا نفاذ ہوا‘‘۔

یہ فیصلہ اس قدر علمی، مدلل اور جامع ہے کہ اس کا مطالعہ ہر مسلمان کے لیے ناگزیر ہے۔ اس فیصلہ نے قادیانیت کے بڑھتے ہوئے سیلاب کے سامنے بند باندھ دیا۔ قادیانیوں کی کمر ٹوٹ گئی۔ مرزائیت رسوا ہو گئی۔ اسلام جیت گیا، کفر ہار گیا۔ قل جاء الحق و زھق الباطل کی عملی تفسیر مسلمانوں نے ایک بار پھر اپنی آنکھوں سے دیکھ لی۔ فالحمد للّٰہ اولا واخرا

اس فیصلے کی اہمیت کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ جب وفاقی شرعی عدالت کا فیصلہ حتمی حیثیت اختیار کرلے، تو اس کی پابندی سپریم کورٹ پر بھی لازم ہوتی ہے، یعنی جب وفاقی شرعی عدالت نے کسی امر کے متعلق یہ قرار دیا کہ وہ اسلامی احکام سے متصادم ہے یا نہیں ہے، تو سپریم کورٹ بھی اس کے برعکس فیصلہ نہیں دے سکتی۔ یہ وفاقی شرعی عدالت کا ایک بہت اہم اختیار ہے جس کا ہمارے ہاں بہت کم لوگوں کو ادراک ہے۔

اس فیصلہ میں وفاقی شرعی عدالت نے امتناع قادیانیت آرڈیننس کو قرآن و

صفحہ 97

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول)

سنت کے مطابق قرار دیا۔ اس آرڈیننس کے ذریعہ پریس اینڈ پبلکیشن آرڈیننس میں بھی ترمیم کر دی گئی تھی، جس کے تحت قادیانیوں کا آرگن روزنامہ الفضل ربوہ بند ہو گیا تھا۔ جناب ذوالفقار علی بھٹو مرحوم کی صاحبزادی محترمہ بے نظیر زرداری صاحبہ وزیراعظم بنیں تو پریس کی آزادی کے ضمن میں اقدامات کرتے ہوئے پریس اینڈ پبلکیشن آرڈیننس کی اس ترمیم کو ختم کر دیا۔ جس سے روزنامہ الفضل دوبارہ جاری ہو گیا۔

قادیانیت کے خلاف اس تاریخی فیصلہ کو قانون کی دنیا میں ایک کلیدی اہمیت حاصل ہے۔ معزز عدالت نے دلائل و براہین اور نظائر کی روشنی میں اس فتنے کا جس عالمانہ و فاضلانہ انداز سے تجزیہ کیا ہے، وہ قابل صد ستائش ہے۔ سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ یہ فیصلہ مستند اسلامی مآخذ سے مزین و مرصع ہے جس سے اس کی اہمیت و افادیت کو چار چاند لگ گئے ہیں۔ اس فیصلہ کے مطالعہ سے قادیانیت کے پھیلائے ہوئے شکوک و شبہات اور ابہامات و اتہامات کا نہ صرف ازالہ ہوتا ہے بلکہ قاری کی علمی استعداد میں بھی بے حد اضافہ ہوتا ہے۔ ہر وہ شخص جو قادیانیت کو سمجھنا اور پرکھنا چاہتا ہے، اُسے یہ فیصلہ ضرور پڑھنا چاہیے۔

طالب شفاعت محمدی ﷺ بروز محشر محمد متین خالد لاہور

صفحہ 98

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول)

PLD 1985 Federal Shariat Court 8

وفاقی شرعی عدالت، پاکستان

مجیب الرحمٰن اور تین دیگر بنام وفاقی حکومت پاکستان

فیصلہ کے اہم نکات:

قادیانیوں کی اسلام دشمن سرگرمیوں کی (ممانعت اور سزا) کا آرڈیننس مجریہ 1984ء کہلاتا ہے، بالکل درست اور آئین و قانون کے عین مطابق ہے۔

کرنے سے متعلق تعزیرات پاکستان کی دفعات 298۔ بی اور 298۔ سی بالکل درست اور آئین و قانون کے عین مطابق ہیں۔

نہیں ہوتے۔

صفحہ 99

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول)

PLD 1985 Federal Shariat Court 8

وفاقی شرعی عدالت، پاکستان

(ابتدائی معلومات)

سماعت کنندہ فل بنچ

شریعت پٹیشن نمبر 17 / آئی 1984ء

مجیب الرحمن اور تین دیگر درخواست دہندگان

بنام

وفاقی حکومت پاکستان مدعی علیہ

بذریعہ اٹارنی جنرل آف پاکستان

شریعت پٹیشن نمبر 2 / ایل 1984ء

کیپٹن (ریٹائرڈ) عبدالواجد درخواست دہندگان

اور ایک دوسرا

بنام

اٹارنی جنرل، اسلامی جمہوریہ پاکستان مدعی علیہ

برائے درخواست دہندگان مجیب الرحمن ایڈووکیٹ

(شریعت پٹیشن نمبر 17 / آئی 1984ء میں) (یکے از درخواست دہندگان)

صفحہ 100

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول)

برائے درخواست دہندگان کیپٹن (ریٹائرڈ) عبدالواحد (شریعت پٹیشن نمبر 2 / ایل 1984ء میں) (یکے از درخواست دہندگان)

منجانب مدعی علیہ حاجی شیخ غیاث محمد ایڈووکیٹ ایم۔بی۔زمان ایڈووکیٹ اور ڈاکٹر سید ریاض الحسن گیلانی ایڈووکیٹ

تاریخ سماعت : 15 تا 19 جولائی، 22 تا 26 جولائی، 29 تا 31 جولائی، یکم اگست تا 02 اگست، 05 تا 07 اگست، 09 اگست، 11 تا 12 اگست 1984ء

تاریخ فیصلہ : 28 اکتوبر 1984ء

صفحہ 101

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول)

فیصلہ

جسٹس فخر عالم ...... چیف جسٹس

آرڈیننس نمبر 20 مجریہ 1984ء، جو قادیانی گروہ، لاہوری گروہ اور احمدیوں کی اسلام دشمن سرگرمیوں کی (ممانعت اور سزا) کا آرڈیننس مجریہ 1984ء کہلاتا ہے، گزٹ آف پاکستان کی (غیر معمولی) اشاعت مورخہ 26 اپریل 1984ء میں شائع ہوا تھا۔ اس آرڈیننس نے مجموعہ تعزیرات پاکستان (ایکٹ نمبر 45 مجریہ 1860ء) مجموعہ ضابطہ فوجداری مجریہ 1898ء (ایکٹ نمبر 5 مجریہ 1898ء) اور پریس اینڈ پبلی کیشنز آرڈیننس مجریہ 1963ء کی بعض دفعات میں ترمیم کر دی۔

صاحب کہا جائے گا) کے پیرو کار ہیں، دو گروہوں میں منقسم ہیں۔ تاہم دونوں گروہ احمدیوں کے نام سے پکارے جاتے ہیں۔

کہ مرزا صاحب مہدی موعود‘ مسیح موعود اور پیغمبر تھے۔ لاہوری گروہ کہتا ہے کہ وہ مجدد‘ مہدی موعود اور مسیح موعود تھے۔

دوسری لاہوری گروہ کے دو ارکان کی جانب سے بمطابق نمبر 17 / آئی 1984ء اور 2 / ایل 1984ء دائر کی گئی تھیں جن میں قرآن کریم اور رسول اللہ ﷺ کی سنت کی رو سے آرڈیننس کے مندرجات کو چیلنج کیا گیا تھا۔

صفحہ 102

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول)

مجیب الرحمٰن، جو شریعت پٹیشن نمبر 17 / آئی 1984ء کے درخواست دہندگان میں سے ایک ہیں اور کیپٹن (ریٹائرڈ) عبدالواجد، جو شریعت پٹیشن نمبر 2 / ایل 1984ء کے درخواست دہندگان میں سے ہیں، نے درخواست دہندگان کے حق میں دلائل دیئے جبکہ شیخ غیاث محمد ایڈووکیٹ اور ڈاکٹر ریاض الحسن گیلانی نے حکومت کے حق میں دلائل دیے۔ عدالت نے اس مسئلے سے متعلق امور میں اپنی مدد کے لیے مندرجہ ذیل مشیرانِ قانونی اور مختلف مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والے علماء کرام کو دعوت دی جنہوں نے مسئلہ پر مفصل بحث کی:

6....... 1973ء کے دستور کی دفعہ 106 اور دفعہ 260 میں دوسرے دستوری ترمیمی ایکٹ مجریہ 1974ء (ایکٹ نمبر 49 مجریہ 1974ء) کے ذریعے ترمیم کر دی گئی تھی۔ دفعہ 260 میں ذیلی دفعہ (3) کا اضافہ کر دیا گیا تھا اور ایسے تمام اشخاص کو غیر مسلم قرار دیا گیا جو کہ خاتم النبیین حضرت محمد ﷺ کی قطعی اور غیر مشروط ختم نبوت کا عقیدہ نہیں رکھتے یا جو حضرت محمد ﷺ کے بعد کسی بھی مفہوم یا لفظ میں نبی ہونے کا دعویٰ کریں یا جو کسی بھی ایسے مدعی کو نبی یا مذہبی مصلح مانیں۔ دوسروں کے علاوہ اس تعریف میں قادیانیوں کے دونوں گروہوں کو شامل کرتے ہوئے انہیں غیر مسلم قرار دیا گیا تھا۔

7....... دفعہ 106 صوبائی اسمبلیوں کی تشکیل سے بحث کرتے ہوئے ان ارکان کی تعداد اور اوصاف کو واضح کرتی ہے جن کا اسمبلیوں کے لیے چناؤ ہوگا، نیز ان اسمبلیوں میں غیر مسلموں یعنی عیسائیوں، ہندوؤں، سکھوں، بدھوں اور پارسیوں کے لیے مخصوص اضافی نشستوں کا تعین کرتی ہے۔

دوسری دستوری ترمیم مجریہ 1974ء کی رو سے ان گروہوں میں ”قادیانی گروہ اور لاہوری گروہ کے اشخاص (جو خود کو احمدی کہتے ہیں)“ کا اضافہ کیا گیا تھا۔

صفحہ 103

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول)

8...... یوں دفعہ 106 کو دفعہ 260 کی ذیلی دفعہ 3 کے اعلان میں عملی شکل دی گئی اور ہر دو عقیدوں کے احمدیوں کو دوسری اقلیتوں کے مساوی حیثیت دے دی گئی۔

9...... دستور کی ان دفعات کے علی الرغم احمدی‘ خود کو مسلمان اور اپنے مذہب کو اسلام کا نام دینے پر قائم رہے اور انہوں نے بڑی بے حسی کے ساتھ مسلمانانِ پاکستان کی پریشانی کو نظر انداز کیے رکھا۔ ان کی جانب سے متذکرہ دستوری دفعات کی خلاف ورزی اور مرزا صاحب کی بیوی‘ افرادِ خانہ‘ ساتھیوں اور جانشینوں کے لیے علی الترتیب ام المومنین (مومنوں کی ماں)‘ اہل بیت (رسول پاک ﷺ کے خاندان کے افراد)‘ صحابہ (ساتھی)‘ خلفاء راشدین (راستباز خلفاء)‘ امیر المومنین‘ خلیفۃ المومنین‘ خلیفۃ المسلمین (ایسے القاب جو عموماً مسلمان حکمرانوں اور پاکباز خلفاء ہی کے لیے استعمال ہوتے ہیں اور جو صرف مسلمانوں کے لیے مخصوص ہیں اور کبھی بھی غیر مسلموں کے استعمال میں نہیں آئے) ایسے القاب‘ اوصاف اور الفاظ کا مسلسل استعمال اور ان کی بے حرمتی جاری رہی۔ اسی وجہ سے مقدس شخصیات کے بارے میں توہین آمیز کلمات کے استعمال کو مجموعہ تعزیرات پاکستان (ایکٹ 45 مجریہ 1860ء) کی دفعہ 298اے (جس کا اضافہ حال ہی میں آرڈیننس نمبر 44 مجریہ 1980ء کے تحت کیا گیا ہے) کے مطابق فوجداری اور قابل سزا جرم قرار دیا گیا ہے۔ یہ دفعہ یوں ہے:

298اے

’’مقدس شخصیات کے بارے میں ہتک آمیز کلمات وغیرہ کا استعمال

راست یا بالواسطہ یا کسی اتہام یا اشارے یا کنائے سے رسول پاک ﷺ کی کسی زوجہ مطہرہ (ام المومنین) یا افرادِ خاندان (اہل بیت) یا آپ ﷺ کے راستباز خلفاء (خلفائے راشدین) یا ساتھیوں (صحابہؓ) میں سے کسی کے مقدس نام کی توہین کرتا ہے‘ وہ کسی بھی قسم کی قید جو تین سال تک ہو سکتی ہے یا جرمانے یا دونوں سزاؤں کا مستوجب ہوگا۔‘‘

10...... یہ دفعہ عمومی الفاظ میں ادا ہوئی تھی اور صرف احمدیوں پر لاگو نہیں کی

صفحہ 104

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول)

گئی تھی۔ احمدیوں کے (شعائر اسلامی استعمال کرنے پر ضد، ہٹ دھرمی اور) اصرار کی وجہ سے مسلمانوں میں پائے جانے والے احتجاج کے نتیجے میں زیر بحث آرڈیننس جاری کیا گیا، جس نے مجموعہ تعزیرات پاکستان (ایکٹ نمبر 45 مجریہ 1860ء) میں دفعہ 298-بی اور دفعہ 298-سی کا اضافہ کیا اور مجموعہ ضابطہ فوجداری مجریہ 1898ء (ایکٹ نمبر 5 مجریہ 1898ء) اور ویسٹ پاکستان پریس اینڈ پبلی کیشنز آرڈیننس مجریہ 1963ء میں ذیلی ترامیم کیں۔

دفعہ 298-بی اور دفعہ 298-سی یوں ہیں:

298 بی

مقدس شخصیات اور مقامات کے لیے مخصوص القاب، اوصاف اور الفاظ

کا غلط استعمال:

پکارتے ہیں) کا کوئی شخص جو خواہ تحریری یا زبانی الفاظ کے ذریعے یا کسی بھی اظہار بیان سے

شخص کو امیر المومنین، خلیفۃ المومنین، خلیفۃ المسلمین، صحابی یا رضی اللہ عنہ کے القاب سے ذکر کرتا یا مخاطب کرتا ہے۔

کے نام سے ذکر کرتا یا مخاطب کرتا ہے۔

بیت کے نام سے یاد کرتا یا مخاطب کرتا ہے یا

وہ کسی بھی قسم کی قید جو تین سال تک ہو سکتی ہے، کی سزا پائے گا اور جرمانے کا

صفحہ 105

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول)

بھی مستحق ٹھہرے گا۔

ہیں) میں سے جو شخص بھی زبانی یا تحریری کلمات سے یا کسی محسوس اظہار سے نماز کے لیے بلانے کے طریقے یا شکل، جو اس کے اپنے عقیدے کے مطابق مروجہ اذان ہو، کا ذکر کرتا ہے یا مسلمانوں میں مروّجہ اذان پڑھتا ہے، وہ کسی بھی قسم کی قید جو تین سال تک ہو سکتی ہے، کی سزا پائے گا اور جرمانے کا بھی مستحق ٹھہرے گا۔

298 سی

قادیانی گروہ وغیرہ کے اشخاص جو خود کو مسلمان کہیں یا اپنے عقیدے کی

تبلیغ یا تشہیر کریں۔

سے پکارتے ہیں) میں سے جو شخص اپنے آپ کو براہِ راست یا بالواسطہ مسلمان ظاہر کرے گا یا اپنے عقیدے کو اسلام کے نام سے ذکر کرے گا یا کہلوائے گا یا اپنے عقیدے کی تبلیغ یا تشہیر کرے گا یا دوسروں کو اپنا عقیدہ قبول کرنے کی دعوت دے گا، یا خواہ زبانی یا تحریری کلمات سے یا محسوس تعبیرات یا کسی بھی طریقے سے مسلمانوں کے مذہبی جذبات کی بے حرمتی کرتا ہے، وہ کسی بھی قسم کی قید جو تین سال تک ہو سکتی ہے، کی سزا پائے گا اور جرمانے کا بھی مستحق ٹھہرے گا"۔

11...... ان دفعات نے ایک قادیانی کے لیے ان امور کو فوجداری جرم قرار دیا ہے:

دینا یا کسی انداز سے خواہ وہ کیسا ہو، مسلمانوں کے مذہبی جذبات کی توہین کرنا۔

صفحہ 106

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول)

طریقے یا شکل کو اذان کا نام دینا۔

کو امیر المومنین، خلیفۃ المومنین، خلیفۃ المسلمین، صحابی یا رضی اللہ عنہ، رسول پاک ﷺ کی کسی زوجہ مطہرہ کے سوا کسی دوسرے شخص کو اہل بیت کا نام دینا۔

زاویوں سے استدلال کیا گیا ہے‘ یہ ہے کہ زیر بحث آرڈیننس سے شریعت کی خلاف ورزی ہوئی ہے اور قادیانیوں کے اپنے مذہب کو ماننے‘ اس پر عمل پیرا ہونے‘ اس کی تبلیغ یا تشہیر کرنے کے دستوری حق کی خلاف ورزی ہوئی ہے۔

دہندگان اپنے دلائل میں خود کو مسلمان اور اپنے عقیدے کو اسلام کہنے پر مُصر رہے اور انہوں نے یہ موقف اختیار کیے رکھا کہ انہیں غیر مسلم قرار دینے کا فیصلہ کسی مذہبی ادارے کی جانب سے نہیں بلکہ اس وقت کی حکمران جماعت کی جانب سے کیا گیا تھا۔ درخواست دہندگان پر یہ حقیقت واضح کر دی گئی تھی کہ دستوری ترمیم تمام پارٹیوں کے اتفاق رائے سے منظور ہوئی تھی اور پارلیمنٹ نے یہ فیصلہ تقریباً عدالتی طریقے پر فریقین‘ جن میں قادیانی جماعت کے سربراہ بھی شامل ہیں‘ کے دلائل سننے کے بعد دیا تھا۔

فیصلہ صادر کرنے کا اختیار حاصل نہیں، اس لیے وہ یہ نکتہ اٹھانا نہیں چاہتے کہ آیا قادیانی مسلمان ہیں یا غیر مسلم۔ تاہم وہ اس امر پر زور دیتے رہے کہ چونکہ قادیانی غیر مسلم نہیں ہیں بلکہ اقتدار اعلیٰ نے انہیں ایسا قرار دیا تھا۔

قادیانی‘ شریعت کی رُو سے بھی غیر مسلم ہیں تو وہ اس استدلال کی مفصل تردید کرنا پسند کریں گے۔ ہم نے وفاقی حکومت کے وکیل جناب ریاض الحسن گیلانی سے استفسار کیا کہ

صفحہ 107

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول)

کیا وہ صرف اس مفروضے پر کہ قادیانیوں کو آئینی طور پر غیرمسلم قرار دے دیا گیا ہے قائم رہیں گے یا اس سے ہٹ کر شریعت کی روشنی میں ان کی حیثیت پر استدلال کریں گے، انہوں نے موخر الذکر مفروضے کو پسند کیا۔ اس پر مجیب الرحمٰن نے گزارش کی کہ وہ قرآن وسنت کی روشنی میں قادیانیوں کی حیثیت کی توضیح پر دلائل دیں گے۔

مجیب الرحمٰن کا قادیانیوں کے مسلمان ہونے کے مفروضے پر استدلال عدالت کو اس مسئلہ پر محاکمہ کرنے کی دعوت ہے۔ یوں عدالت کو اس نکتہ پر اپنا فیصلہ دیے بغیر چارہ نہیں۔ اسی نکتے پر پورا زور استدلال صرف کیا گیا ہے اس لیے اس فیصلے میں اسے نمٹایا جائے گا۔

اس لیے اختتام پر پیش کردہ تحریری دلائل میں شامل یہ دعوٰی کہ خود درخواست دہندگان نے اپنے عقیدے کے مسئلے کو اٹھانا نہیں چاہا تھا، صرف جزوی طور پر ہی درست ہے۔

اس درخواست میں اٹھائے گئے نکات اور زیر بحث آرڈیننس کی مختلف دفعات کے اثرات کی تفصیل میں جانے سے پہلے مناسب ہو گا کہ مسلمانوں کے ہاں حضرت محمد ﷺ کی ختم نبوت کے عقیدے پر روشنی ڈالی جائے کیونکہ مسلمانوں اور احمدیوں کے مابین اختلاف کا مرکزی نکتہ یہی ہے اور یہی دوسری دستوری ترمیم مجریہ 1974ء (ایکٹ نمبر 49 مجریہ 1974ء) جس کے مطابق احمدیوں کو غیر مسلم قرار دیا گیا تھا، کی اساس ہے۔

تمام مکاتب فکر کے مسلمان حضرت محمد ﷺ کی قطعی ختم نبوت کا عقیدہ رکھتے ہیں اور اسے اپنے ایمان کا جزو سمجھتے ہیں۔ یہ اجماعی عقیدہ قرآن کریم کی آیت نمبر 40:33 پر مبنی ہے۔ یہاں یہ آیت اپنے معنی اور تشریحات کے ساتھ درج کی جاتی ہے:

النبیین ط وکان الله بکل شیء علیما O (احزاب: 40)

ترجمہ: نہیں ہے محمد (ﷺ) کسی کے باپ تمہارے مردوں میں سے بلکہ وہ اللہ کے

صفحہ 108

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول)

رسول اور خاتم النبیین ہے۔

لفظ خاتم النبیین کی تعبیر و تشریح شروع ہی سے ہوتی آئی ہے۔ خود رسول پاک ﷺ کی احادیث میں اس کی تفسیر موجود ہے۔ نیز قرآن کریم کے مفسرین، فاضل علماء اور ممتاز فقہاء اس کی تشریح کر چکے ہیں۔ یہ مسلمہ بات ہے کہ اسے خاتَم النبیین بھی پڑھ سکتے ہیں۔ خاتِم کا معنی ختم کرنے والا ہے۔ اس امر میں کوئی اختلاف رائے نہیں کہ اگر لفظ خاتِم النبیین ہو تو اس کا معنی ہو گا ”وہ جس کی نبوت پر سلسلۂ نبوت ختم ہوتا

ہے۔“ (دیکھئے لسان العرب ج 4 ص 45)

خاتَم کا معنی مُہر اور خاتم النبیین کا معنی نبیوں پر مُہر ہوگا۔ (ایضاً) اس کا مسلمہ اور اجماعی مفہوم یہ ہے کہ وہ آخری نبی جو نبوت پر مُہر لگا دیتا ہے اور جس کے بعد کوئی نبی نہیں آ سکتا اور نبیوں کی آمد کا اختتام قطعی ہے۔ یہی معنی مرزا صاحب نے قبول کیا تھا۔ (ازالہ اوہام حصہ دوم‘ صفحہ 534 روحانی خزائن ج 3 ص 387)۔ تاہم اپنے دعویٰ نبوت کے بعد انہوں نے اس لفظ کے معنی تبدیل کر لیے اور اس کا مطلب یہ نکالا کہ جن نبیوں کا بعد میں آنا مقدر ہے، ان کی آمد کے لیے حضرت محمد ﷺ کی مہر جس کا معنی یہ ہے کہ نبیوں کی آمد کا سلسلہ منتہی اور بند نہیں ہوا بلکہ اس شرط کے ساتھ مشروط ہے کہ حضرت محمد ﷺ کے بعد جو کوئی بھی نبی بن کر آئے گا، وہ لازماً ان کی مُہر ہی سے آئے گا۔ منشاء یہ ہے کہ وہ انہی کی منظوری کی مُہر سے نبی بن کر اس دنیا میں قرآن و سنت پر مشتمل ان کی شریعت کی تجدید کے لیے بھیجے گئے ہیں۔

یہ تعبیر، جیسا کہ اوپر واضح ہوا، قطعی ختم نبوت کی اس تفسیر سے انحراف ہے جس پر اجماع ہو چکا ہے اور جس کی جھلک خود مرزا صاحب کی پہلی تحریروں میں پائی جاتی ہے۔

اس آیت میں لفظ ”خاتم“ دو طرح پڑھا گیا ہے یعنی خاتَم اور خاتِم۔ ابن کثیر اور عاصم خاتَم (ت پر فتحہ یعنی زبر کے ساتھ) پڑھتے ہیں۔ اس شکل میں یہ اسم ہے جس کا معنی آخری ہے اور خاتم النبیین کا معنی آخری نبی ہے۔ دوسرے اسے خاتِم (ت کے نیچے کسرہ یعنی زیر کے ساتھ) پڑھتے ہیں، جو اسم فاعل ہو گا اور اس کا معنی ”ختم

صفحہ 109

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول)

کرنے والا‘ ہے۔ اس شکل میں خاتم النبیین ”(سلسلہ) انبیاء کو ختم کرنے والا‘ ہوگا‘ یعنی جس پر نبوت ختم ہو گئی۔ (معالم التنزیل از امام بغویؒ، جلد 4، صفحہ 218)

لسان العرب ج 4 ص 24 میں ہے کہ ختم کا معنی ختم کرنا ہے، کہا جاتا ہے ختم الله امره بالخير (اللہ اس کا معاملہ بھلائی پر ختم کرے) ہر چیز کی انتہاء کو خاتم کہتے ہیں، اس کی جمع خواتم ہے اور معنی خاتمہ ہو گا۔ فراء کہتے ہیں کہ خاتم اور خاتَم مترادف ہیں۔ فرق صرف یہ ہے کہ گرامر کی رُو سے پہلا اسم ہے اور دوسرا اسم فاعل ہے۔ خاتَم اور خاتِم، رسول اللہ ﷺ کے نام ہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ آیت 33:40 میں فرماتے ہیں کہ وہ خاتم النبیین ہیں جس کا معنی آخری نبی ہے۔

”ختم“ کا معنی روکنا بھی ہے۔ اس کا عمومی مفہوم یہ ہوتا ہے کہ کسی چیز کو دوسری اشیاء میں ملنے سے بچانا۔ خاتم کا معنی مُہر لگانا بھی ہے یعنی کسی دوسری چیز کو مُہر شدہ چیز میں ملنے سے بچانا۔ خاتم کا معنی انگوٹھی بھی ہے۔ (جلد 12، ص 53، 55)

الراغب کہتے ہیں کہ ختم اور طبع کا معنی کسی چیز کو کندہ کرنا اور چھاپ اور مُہر سے ثبت کرنا ہوتا ہے۔ پہلا لفظ کبھی مجازاً اپنے آپ کو کسی چیز سے بچانے یا محفوظ کرنے کے معنی میں بھی استعمال ہوتا ہے۔ محفوظ کرنے کے مفہوم سے ہی تحریروں اور دروازوں پر مُہر لگانے کا مطلب نکلتا ہے اور کبھی ایک چیز سے دوسری چیز پر نقش یا اثر لگانے کے معنی ہیں۔ اسی سے چھاپ یا مُہر سے مُہر لگانا ہے اور کبھی اس کا مفہوم (کسی چیز کے) اختتام پر پہنچنا ہوتا ہے۔ (دیکھئے مفردات امام راغب ص 142 لین لفظ ختم)۔

ختم علی قلبه (اس کے دل پر مُہر لگا دی) کا مفہوم یہ ہے کہ اسے بے سمجھ بنا دیا یا اس کے دل و دماغ کو ناکارہ کر دیا۔ (لین لفظ ختم)۔ ختم الله علی قلوبهم (اللہ نے ان کے دلوں پر مُہر لگا دی) اور طبع الله علی قلوبهم (اللہ نے ان کے دلوں پر ٹھپہ لگا دیا) اللہ تعالیٰ کے اس دستور کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ انسان جب عقیدۂ باطلہ اور معاصی کے ارتکاب میں آخری حدوں کو چھونے لگتا ہے اور حق قبول کرنے سے کلیۃً غافل ہو جاتا ہے تو اس کے نتیجے میں اس کی کیفیت ایسی ہو جاتی ہے

صفحہ 110

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول)

کہ وہ معاصی کو پسند کرتا ہے اور گناہوں کا پختہ عادی ہو کر رہ جاتا ہے۔ یوں گویا اس کے گندے کردار کی اس پر مہر لگا دی گئی (دیکھئے مفردات امام راغب اصفہانی، صفحہ 142، دیکھئے لین لفظ ختم)۔ خاتم النبیین کا معنی ہے ”وہ نبی جس کی آمد پر (سلسلہ) نبوت ختم ہوگیا (مفردات راغب اصفہانی، صفحہ 142، 143)۔

تاج العروس میں ہے:

ومن اسمائہ صلی اللہ علیہ وسلم الخاتم والخاتم وہو الذی ختم النبوۃ بمجیئہ (رسول اللہ ﷺ کے ناموں میں سے خاتم اور خاتم بھی ہیں، جن کا معنی یہ ہے کہ ان کی آمد پر نبوت ختم ہوگئی)

(تاج العروس، جلد 14، صفحہ 191، طبع بیروت نیز دیکھئے مجمع البحار، جلد 2، صفحہ 15)

یوں لفظ خاتم (مُہر) یا خاتِم (ختم کرنے والا) دونوں ایک ہی معنے میں ہیں۔

اسی بنا پر تمام علماء لغت اور مفسرین نے بالاتفاق خاتم النبیین کا معنی آخر النبیین (آخری نبی) لیا ہے۔ عربی زبان کے محاورے یا لغت میں خاتَم کا لفظ ڈاک کی اس مُہر پر نہیں بولا جاتا جو لفافے کے اجزاء کی خاطر اس پر لگائی جاتی ہے بلکہ اس مُہر پر بولا جاتا ہے جو لفافے کو محفوظ کرنے کی غرض سے لگائی جاتی ہے تاکہ جب تک مہر کو توڑا نہ جائے اس کے اندر کی چیز باہر اور نہ باہر سے کوئی چیز اس میں داخل کی جاسکے۔

تمام مشہور مفسرین نے آیت 33:40 کی یہی تفسیر بیان کی ہے اور زیر بحث مسئلہ پر تفصیلی گفتگو کی ہے۔ چند ایسی احادیث موجود ہیں جن میں قیامت کے قریب حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی بعثت ثانیہ کا تذکرہ ہے۔ کچھ علماء نے ان احادیث کو قرآن کریم اور سنت سے متعارض ہونے کی بنا پر ضعیف قرار دیا ہے لیکن بہت بڑی اکثریت ان کی صحت کی قائل ہے۔ اکثریت کی رائے میں ان احادیث اور قرآن کریم کے مابین کوئی تعارض نہیں، کیونکہ عیسیٰ علیہ السلام جو اللہ کے رسول اور نبی تھے، رسول پاک ﷺ کی بعثت سے بہت پہلے منصب نبوت پر فائز ہوئے تھے جبکہ آیت کا تعلق حضرت محمد ﷺ کے بعد نئے نبی کی آمد سے ہے، بلکہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا ظہور اس امت اسلامیہ

صفحہ 111

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول)

کے ایک فرد اور شریعت اسلامیہ کے متبع کی حیثیت سے ہوگا۔ اب یہ مستند تفسیری آراء اور تشریحات درج کی جاتی ہیں:

تشریح یوں کرتے ہیں: ”اس نے نبوت ختم کر دی اور اس پر مُہر لگا دی۔ اب یہ دروازہ قیامت تک کسی کے لیے نہیں کھلے گا۔“

(تفسیر طبری، جزء 22، صفحہ 12)

بارے میں ائمہ سلف خصوصاً امام ابو حنیفہ، امام ابو یوسف اور امام محمد رحمہم اللہ کے عقائد کا ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں: ”اور یہ کہ حضرت محمد ﷺ اللہ تعالیٰ کے برگزیدہ بندے، اس کے نبی اور محبوب ہیں اور وہ آخری نبی، سید الاولیاء اور سید المرسلین ہیں اور رب العالمین کے محبوب ہیں۔“

(شرح الطحاویۃ فی العقیدۃ السلفیۃ، دارالمعارف مصر، صفحات 15‘ 87‘ 96‘ 100‘ 102)

”بلاشبہ حضرت محمد ﷺ کی وفات کے بعد نزولِ وحی کا سلسلہ ختم ہے۔ وجہ یہ ہے کہ وحی کا نزول صرف نبی پر ہوتا ہے اور اللہ تعالیٰ خود فرماتے ہیں: محمد (ﷺ) تمہارے مردوں میں سے کسی کے باپ نہیں بلکہ وہ اللہ کے رسول اور آخری نبی ہیں۔“

(المحلّےٰ، جلد اول، صفحہ 26)

”اس امر پر امتِ مسلمہ کا کامل اجماع ہے کہ اللہ کے رسول حضرت محمد ﷺ کے بعد کوئی نبی نہیں۔ پوری امت اس بات پر متفق ہے کہ رسول پاک ﷺ کے ارشاد ”لا نبیَّ بعدی“ سے مراد یہی ہے کہ ان کے بعد نہ کوئی نبی اور نہ رسول ہوگا۔ جو شخص بھی اس حدیث کا کوئی اور مطلب بیان کرتا ہے، وہ دائرۂ اسلام سے خارج ہے، اس کی تشریح باطل اور اس کی تحریر کفر ہوگی۔ علاوہ ازیں امت کا اس بات پر اجماع ہے کہ اس

صفحہ 112

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول)

کے سوا اس کی کوئی اور تشریح نہیں۔ جو اس کا انکار کرتا ہے، وہ اجماع امت کا منکر ہے۔‘‘

(الاقتصاد فی الاعتقاد‘ مصر‘ صفحہ 123)

’’اللہ تعالیٰ نے حضرت محمد ﷺ پر نبوت ختم کر دی ہے۔ سو وہ انبیاء (کے سلسلے) کی آخری کڑی ہیں اور ابن عباسؓ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے (اس آیت میں) فیصلہ کر دیا ہے کہ ان کے بعد اور کوئی نبی نہ ہوگا۔‘‘ (معالم التنزیل‘ جلد 3‘ صفحہ 158)

’’اگر آپ یہ سوال کریں کہ جب یہ عقیدہ ہو کہ اللہ کے نبی حضرت عیسیٰ علیہ السلام قیامت سے پہلے آخری زمانے میں نازل ہوں گے تو پھر رسول پاک ﷺ آخری نبی کیسے ہو سکتے ہیں؟ میں کہتا ہوں کہ رسول اللہ ﷺ اس معنی میں آخری نبی ہیں کہ ان کے بعد کوئی اور شخص نبی کی حیثیت سے مبعوث نہ ہوگا۔ رہا حضرت عیسیٰ ؑ کا معاملہ تو وہ ان انبیاء میں سے ہیں جنہیں حضرت محمد ﷺ سے پہلے نبوت سے سرفراز کیا گیا تھا اور جب وہ دوبارہ آئیں گے تو حضرت محمد ﷺ کی شریعت کے متبع ہوں گے اور انہیں کے قبلہ (الکعبہ) کی طرف رخ کر کے نماز پڑھیں گے‘ جیسا کہ امت کے دوسرے افراد کرتے ہیں۔‘‘ (الکشاف‘ جلد 2‘ صفحہ 215)

’’جو شخص بھی اپنے لیے دعوائے نبوت کرتا ہے یا یہ سمجھتا ہے کہ کوئی اسے حاصل کر سکتا ہے اور صفائے قلبی سے منصب نبوت پا سکتا ہے‘ جیسا کہ بعض فلسفیوں اور نام نہاد صوفیوں کا دعویٰ ہے‘ اسی طرح جو نبوت کا دعویٰ تو نہیں کرتا لیکن اپنے اوپر وحی نازل ہونے کا مدعی ہے...... ایسے تمام لوگ کافر اور حضرت محمد ﷺ کے منکر ہیں‘ کیونکہ وہ ہمیں بتا چکے ہیں کہ ’’وہ آخری نبی ہیں اور ان کے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا اور یہ اطلاع منجانب اللہ تھی کہ اس نے نبوت بند کر دی ہے اور وہ تمام کائنات کی طرف مبعوث ہوئے تھے۔ تمام امت کا اس پر اجماع ہے کہ ان الفاظ کا اس ظاہری مفہوم کے

صفحہ 113

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول)

سوا اور کوئی معنی نہیں اور اس سے مختلف تشریح یا خاص معنی لینے کی کوئی گنجائش نہیں۔ اس لیے اجماع اور احادیث دونوں کی رُو سے ایسے لوگوں کے کافر ہونے میں قطعاً کوئی شک نہیں ہونا چاہیے۔‘‘

(شفاء‘ جلد 2‘ صفحات 247)

بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

”اس سلسلے میں خاتم النبیین کہنے کی وجہ یہ ہے کہ اگر ایک نبی کے بعد دوسرا نبی آنا ہوتا ہے تو وہ تبلیغ اور احکام کی توضیح کا مشن کسی حد تک نامکمل چھوڑ جاتا ہے اور بعد میں آنے والا اسے مکمل کرتا ہے‘ لیکن جس نبی کے بعد کسی اور نبی کی آمد نہیں ہوگی، وہ اپنی امت پر بہت زیادہ شفیق ہوتا ہے اور ان کے لیے واضح، قطعی اور کامل ہدایت فراہم کرتا ہے‘ جیسے ایک باپ جانتا ہو کہ اس کے بعد اس کے بیٹے کی نگہداشت کرنے والا کوئی سر پرست اور کفیل نہ ہوگا۔‘‘

(تفسیر کبیر‘ جلد 6‘ صفحہ 581)

”اسی طرح جو یہ کہتا ہے ............ کہ حضرت محمد ﷺ کے بعد کوئی اور نبی (حضرت عیسیٰ نبی کے سوا) مبعوث ہوگا‘ وہ بھی کافر ہے اور اس مسئلہ میں کسی قسم کا کوئی اختلاف رائے موجود نہیں‘ یہاں تک کہ کسی دو انسانوں میں بھی۔‘‘

”رسول اللہ ﷺ انبیاء کی آخری کڑی ہیں جنہوں نے ان کے سلسلہ کو ختم کر دیا ہے اور سلسلہ نبوت پر مُہر لگا دی ہے اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی بعثتِ ثانیہ سے رسول اللہ ﷺ کے آخری نبی ہونے کی تردید نہیں ہوتی کیونکہ وہ جب آئیں گے تو انہی کی شریعت کے پیروکار ہوں گے۔‘‘

(انوار التنزیل‘ جلد 4‘ صفحہ 164)

”رسول اللہ ﷺ خاتم النبیین یعنی آخری نبی ہیں۔ ان کے بعد کوئی اور شخص نبی نہیں ہوگا۔ رہے حضرت عیسیٰ تو وہ آپ ﷺ سے پہلے انبیاء میں سے ہیں اور جب وہ

صفحہ 114

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول)

دوبارہ آئیں گے تو وہ حضرت محمد ﷺ کی شریعت پر عمل کریں گے اور انہی کی امت کے ایک فرد کی طرح ہوں گے۔“ (مدارک التنزیل، جلد 5، صفحہ 471)

”وخاتم النبیین یعنی اللہ تعالیٰ نے حضرت محمد ﷺ پر سلسلہ نبوت بند کر دیا ہے۔ اب ان کے بعد نہ کوئی نبوت ہے اور نہ اس میں کسی قسم کی شراکت یا حصہ داری ہے۔ ...... اللہ تعالیٰ خوب جانتا ہے کہ ان کے بعد کوئی نبی نہیں ہو گا“ ......

(لباب التاویل فی معانی التنزیل، جلد 5، صفحات 471-472)

”تو یہ آیت اس امر میں نص ہے کہ آپ ﷺ کے بعد کوئی نبی نہیں ہو گا اور اگر ان کے بعد کوئی نبی نہیں ہو گا تو رسول بطریق اولیٰ نہ ہو گا، کیونکہ مقام رسالت مقام نبوت سے اخص ہے، کیونکہ ہر رسول نبی ہوتا ہے اور ہر نبی رسول نہیں ہوتا ...... آپ ﷺ کے بعد جو شخص بھی اس منصب کا دعویٰ کرتا ہے وہ کذاب، دجال، مفتری اور کافر ہے، خواہ وہ کسی قسم کے غیر معمولی کرشمے اور جادوگری کے طلسم دکھاتا پھرے ...... اور اسی طرح قیامت تک جو شخص بھی اس منصب کا مدعی ہو، وہ کذاب ہے ......“

(تفسیر ابن کثیر، جلد 3، صفحات 493-494)

”وکان اللہ بکل شی علیما اللہ تعالیٰ ہر چیز سے آگاہ ہے اور جانتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے بعد کوئی نبی نہ ہو گا اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام جب نازل ہوں گے تو وہ حضرت رسول اللہ ﷺ کی شریعت کے پیروکار ہوں گے۔“ (جلالین، صفحہ 768)

”جو شخص حضرت محمد ﷺ کے آخری نبی ہونے کا انکار کرتا ہے، وہ مسلمان نہیں کیونکہ یہ ایمان کے بنیادی اصولوں میں سے ایک اصول ہے“۔ (الاشباہ والنظائر، صفحہ 179)

صفحہ 115

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول)

”اس نکتہ پر امت کا کامل اجماع ہے کہ حضرت محمدﷺ کے بعد نبوت کا دعویٰ کرنا کفر ہے۔“

(شرح فقہ اکبر صفحہ 202)

تفسیر کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

”عاصم نے اس لفظ کو خاتَم پڑھا ہے جس کا معنی مُہر لگانے کا وہ آلہ ہے جس سے اشیاء پر مُہر لگائی جاتی ہے‘ جس کا معنی یہ ہے کہ رسول اللہﷺ آخر میں آئے ہیں اور انہی پر انبیاء کا سلسلہ بند ہوا اور اس پر مُہر لگ گئی۔ بعض نے اسے خاتِم پڑھا ہے جس کا معنی مُہر لگانے والا ہے تو اس طرح خاتَم‘ خاتِم کا ہم معنی ہوا ........... اسی بنا پر اس امت کے علماء صالحین ولایت میں آپ کے جانشین ہوں گے‘ کیونکہ نبوت کی جانشینی کا سلسلہ بند ہو گیا ہے۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی بعثت ثانیہ سے رسول اللہﷺ کے آخری نبی ہونے کی حیثیت متاثر نہیں ہوتی کیونکہ خاتم النبیین کا معنی یہ ہے کہ آپﷺ کے بعد کوئی نبی مبعوث نہ ہو گا ...... اور عیسیٰ علیہ السلام آپﷺ سے قبل نبوت سے سرفراز ہو چکے ہیں اور بعثت ثانیہ کے وقت وہ حضرت محمدﷺ کی شریعت کے متبع ہوں گے اور آپﷺ کے دوسرے امتیوں کی طرح انہی کے قبلہ کی جانب رخ کر کے نماز ادا کریں گے اور حضرت محمدﷺ کے خلیفہ ہوں گے۔

اہل سنت کا عقیدہ ہے کہ ہمارے رسول حضرت محمدﷺ کے بعد کوئی اور نبی نہیں ہو گا‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے ”بلکہ وہ اللہ تعالیٰ کا رسول اور آخری نبی ہے“ اور رسول اللہﷺ کا فرمان ہے ”میرے بعد کوئی نبی نہیں ہے۔“ اب جو شخص بھی یہ کہے کہ ہمارے نبیﷺ کے بعد کوئی نبی ہے‘ اسے کافر قرار دیا جائے گا کیونکہ اس نے ایمان کے ایک بنیادی جزو کا انکار کیا ہے‘ اسی طرح جو اس میں شک کرتا ہے، وہ بھی کافر ہے کیونکہ باطل سے حق واضح اور روشن ہو چکا ہے اور حضرت محمدﷺ کے بعد ایسا دعویٰ کرنا دجل و فریب کے سوا کچھ نہیں۔“

(روح البیان‘ جزء 22‘ صفحہ 188)

صفحہ 116

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول)

شہنشاہ ہند اورنگزیب عالمگیر کی ہدایت پر مدون کیا تھا‘ میں ہے: ’’اگر کوئی شخص اس بات کا منکر ہے کہ حضرت محمد ﷺ آخری نبی ہیں تو وہ مسلمان نہیں ہے اور اگر وہ دعویٰ کرے کہ وہ اللہ کا رسول یا نبی ہے تو وہ کافر قرار دیا جائے گا۔‘‘

(فتاویٰ عالمگیری‘ جلد 2‘ صفحہ 263)

’’جمہور نے اسے خاتَم پڑھا ہے اور عاصم نے خاتِم۔ پہلی قرات کا معنی یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے انبیاء کو ختم کر دیا ہے یعنی وہ تمام انبیاء کے بعد آخری نبی بن کر آئے ہیں اور دوسری قرات کا معنی یہ ہے کہ وہ ان کے لیے ایسی مُہر کے مانند ہیں جس سے ان پر مُہر لگی اور جس کی ان میں شمولیت سے انہیں زینت ملی۔‘‘

(فتح القدیر‘ جلد 4‘ صفحہ 285)

نبی کا لفظ عام ہے اور رسول خاص ہے‘ اس لیے رسول اللہ ﷺ کے خاتم النبیین ہونے سے خاتم المرسلین ہونا لازمی ہو جاتا ہے۔ آپ ﷺ کے خاتم النبیین ہونے کا معنی یہ ہے کہ اس دنیا میں آپ کے منصب نبوت پر فائز ہونے کے بعد کسی بھی انسان یا جن کو یہ منصب نصیب نہیں ہوگا۔‘‘

(روح المعانی‘ جزء 22‘ صفحہ 32)

’’ان کے بعد جو شخص بھی وحی نبوت کے نزول کا دعویٰ کرتا ہے‘ اسے کافر قرار دیا جائے گا۔ اس بارے میں مسلمانوں میں کسی قسم کا کوئی اختلاف نہیں۔ (روح المعانی‘ جزء 22‘ صفحہ 38) حضرت رسول اللہ ﷺ کا آخری نبی ہونا ایسی حقیقت ہے جس کی تصریح خود کتاب اللہ نے کر دی ہے اور سنت نے اسے واضح کر دیا ہے اور اس مسئلہ پر امت کا اجماع ہو چکا ہے‘ لہٰذا اس کے خلاف جو بھی دعویٰ کرے گا‘ وہ کافر قرار پائے گا۔‘‘

(روح المعانی‘ جزء 22‘ صفحہ 39)

ختم نبوت کا یہی تصور مندرجہ ذیل شیعہ مفسرین نے بھی بیان کیا ہے:

صفحہ 117

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول)

314، مطبوعہ نجف (عراق)

مطبوعہ نجف (عراق)

289، طبع نجف (عراق)

327، طبع قم (ایران)

حافظ فرمان علی، ترجمہ و تفسیر قرآن، صفحہ 585۔

زمخشری (467 - 538ھ) تفسیر کشاف میں، قاضی بیضاوی (م 685ھ) انوار التنزیل میں، امام رازی (543 - 606ھ) تفسیر کبیر، جلد 3، صفحہ 343 میں، امام نووی (631-676ھ) شرح مسلم، جلد 2، صفحہ 189، شرح مسلم جزء 18، صفحہ 75 میں، علاؤ الدین بغدادی (م 725ھ) تفسیر خازن، صفحہ 471-472 میں، تفتازانی (722-792) شرح عقائد نسفی، صفحہ 1 میں، ابن حجر عسقلانی (م 852ھ) فتح الباری، جلد 6، صفحات 315، 117 میں، بدر الدین عینی (م 855ھ) عمدۃ القاری، جلد 16، صفحہ 40 میں، قسطلانی (851-923ھ) ارشاد الساری، جلد 6، صفحہ 18 میں، ابن ہیثمی (909-973ھ) فتاویٰ حدیثیہ، صفحات 128-129 میں، شیخ عبدالحق محدث دہلوی (958-1052ھ) اشعۃ اللمعات، جلد 4، صفحہ 373 میں، زرقانی (م 1162ھ) شرح مواہب اللدنیہ، جلد 3، صفحہ 116 میں اسی نقطہ نظر کی تائید

صفحہ 118

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول)

کرتے ہیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی بعثت ثانیہ کے بارے میں قرآن کریم اور احادیث میں کوئی تعارض نہیں۔

یہ تصریحات ہر ملک اور مسلسل ہر زمانے کے ممتاز علماء، فقہاء، محدثین اور مفسرین کر چکے ہیں۔ ان کی پیدائش اور وفات کی تاریخوں پر ایک نظر ڈالنے سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ ان میں تاریخ اسلام کی پہلی صدی سے لے کر تیرہویں صدی ہجری تک ہر دور کی نمایاں شخصیات موجود ہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے بھی خاتم النبیین کے یہی معانی اپنی متعدد احادیث میں واضح فرمائے ہیں۔ ان میں سے کچھ احادیث کا تذکرہ یہاں کیا جاتا ہے:

الانبیاء کلما ہلک نبی خلفہ نبی وانہ لا نبی بعدی و سیکون خلفاء“

”نبی ﷺ نے فرمایا: بنی اسرائیل کی راہنمائی انبیاء کرتے تھے۔ جب ایک نبی فوت ہوتا تو ایک اور نبی اس کا جانشین ہوتا۔ خبردار میرے بعد کوئی نبی نہیں۔ خلفاء ہوں گے ۔“ (بخاری، کتاب الانبیاء، جلد 2، صفحہ 257، طبع دارالمعرفہ، بیروت، لبنان)

کمثل رجل بنی بیتا فاحسنہ واجملہ الا موضع لبنۃ من زاویۃ فجعل الناس يطوفون بہ ویعجبون لہ ویقولون ہلا وضعت ہذہ اللبنۃ فانا اللبنۃ وانا خاتم النبیین“

”نبی ﷺ نے فرمایا: مجھ سے پہلے انبیاء کی مثال ایک شخص کی طرح ہے جس نے ایک گھر تعمیر کیا اور اسے بہت خوبصورت اور عمدہ بنا دیا لیکن ایک کونے میں ایک خشت کی جگہ رہنے دی۔ لوگ اس گھر کے گرد چکر لگاتے اور اس پر خوشی کا اظہار کرتے اور کہتے یہ خشت کیوں نہیں لگائی گئی، پس میں ہی یہ خشت ہوں اور میں آخری نبی ہوں۔“ (سو اس طرح میری بعثت سے قصرِ نبوت مکمل ہو گیا ہے اور اب اس میں مزید کسی نبی کی کوئی گنجائش نہیں)۔ (بخاری، کتاب المناقب، جلد 2، صفحہ 270، طبع دارالمعرفہ، بیروت)

صفحہ 119

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول)

اسی موضوع پر چار روایات صحیح مسلم (کتاب الفضائل) میں مروی ہیں، جن میں مذکورہ بالا الفاظ کے بعد یہ اضافہ ہے۔ ”جئت فختمت الانبیاء“ پس میں نے آکر انبیاء کا سلسلہ ختم کر دیا۔ نیز انہی الفاظ میں یہ حدیث جامع ترمذی‘ کتاب المناقب‘ باب فضائل النبی میں موجود ہے۔

مسند ابوداؤد طیالسی میں یہ حدیث بروایت جابر بن عبداللہ مروی ہے اور اس کے آخری الفاظ یوں ہیں ”ختم بی النبیون“ مجھ پر انبیاء کا سلسلہ ختم کر دیا گیا۔“

اسی موضوع پر کئی روایات مسند احمد میں الفاظ کے معمولی اختلاف کے ساتھ ابی بن کعبؓ ابوسعید خدریؓ اور ابو ہریرہؓ سے مروی ہیں:

بست اعطیت جوامع الکلم و نصرت بالرعب واحلت لی الغنائم وجعلت لی الارض مسجداً وطهوراً وارسلت الی الخلق كافة وختم بی النبیون۔“

”رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: مجھے دوسرے انبیاء پر چھ باتوں میں فضیلت دی گئی ہے۔ (1) مجھے جامع کلمات عطا ہوئے ہیں اور (2) (دشمنوں کے دلوں میں) میرا رعب طاری کیا گیا ہے اور (3) میرے لیے غنیمتیں حلال کر دی گئی ہیں اور (4) زمین میرے لیے مسجد اور پاک کرنے والی بنا دی گئی اور (5) مجھے تمام کائنات کی طرف رسول بنا کر بھیجا گیا ہے اور (6) مجھ پر انبیاء کا سلسلہ ختم کر دیا گیا ہے۔“

(صحیح مسلم، جلد 2، صفحہ 249، طبع دارالکتب، بیروت)

انقطعت فلا رسول بعدی ولا نبی۔“

”رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: بے شک رسالت اور نبوت ختم ہو چکی ہیں، اس لیے میرے بعد کوئی رسول ہو گا اور نہ کوئی نبی۔“

(ترمذی، جلد 2، صفحہ 53، طبع ایچ۔ ایم سعید اینڈ کمپنی، کراچی)

الماحی الذی یمحو اللہ بی الکفر وانا الحاشر الذی یحشر الناس علی

صفحہ 120

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول) عقبى وانا العاقب والعاقب الذى ليس بعده نبى.“

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: میں محمد ہوں اور میں احمد ہوں اور میں وہ ماحی (مٹا دینے والا) ہوں جس کے ذریعے کفر مٹا دیا جائے گا اور میں وہ حاشر ہوں جس کے پیچھے لوگ اکٹھے ہوں گے (میدان حشر میں) اور میں وہ عاقب (آخری) ہوں کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں۔“

(صحیح مسلم، جلد 2، صفحہ 261، طبع دہلی)

حذر امته من الدجال وانا اخر الانبياء وانتم اخر الامم وهوا الخارج فيكم لا محالة.“

”رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے جو نبی بھی بھیجا، اس نے اپنی امت کو دجال سے ڈرایا اور میں آخری نبی ہوں اور تم آخری امت ہو اور وہ لازماً تمہارے اندر نکلے گا۔“

(ابن ماجہ جلد 2‘ صفحہ 178)

العاص يقول خرج علينا رسول الله صلى الله عليه وسلم يوما كالمودع فقال انا محمد النبى الامى ثلاثا ولا نبى بعدى.“

”عبدالرحمن بن جبیر سے روایت ہے کہ اس نے عبداللہ بن عمرو بن عاص کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ ایک دن اللہ کے رسول ﷺ اس طرح ہمارے پاس آئے جیسے گویا وہ الوداع کرنے والے ہیں۔ پھر آپ ﷺ نے فرمایا میں ہی محمد نبی امی ہوں‘ تین مرتبہ (فرمایا) اور میرے بعد کوئی نبی نہیں۔“

(مسند احمدؒ روایات عبداللہ بن عمرو بن العاص)

المبشرات قيل وما المبشرات يا رسول الله (ﷺ) قال الرويا الحسنة او قال الرويا الصالحة.“

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: میرے بعد کوئی نبوت نہیں مگر مبشرات ہیں۔ عرض کیا گیا‘ اے اللہ کے رسول، مبشرات کیا ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا‘ اچھے خواب یا فرمایا نیک

صفحہ 121

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول)

خواب۔“ (یہ اس لیے کہ اب وحی الٰہی کا کوئی امکان نہیں۔ زیادہ سے زیادہ کسی شخص کو سچے خواب میں القاء ہی ہوسکتا ہے) (ابوداؤد‘ جلد 2‘ صفحہ 316)

بن الخطاب.“ ”نبی ﷺ نے فرمایا ’اگر میرے بعد کوئی نبی ہوتا تو وہ عمر بن خطاب ہوتا۔‘“

(ترمذی‘ جلد 2‘ صفحہ 209‘ طبع ایچ۔ ایم سعید اینڈ کمپنی‘ کراچی)

ہارون من موسیٰ الا انہ لا نبی بعدی.“ ”اللہ کے رسول ﷺ نے حضرت علیؓ سے فرمایا: تم میرے لیے ایسے ہو جیسے ہارون موسیٰؑ کے لیے تھا لیکن میرے بعد کوئی نبی نہیں ہے۔“

(صحیح مسلم‘ جلد 2‘ طبع دہلی‘ صفحہ 278)

بخاری اور مسلم نے اس حدیث کو غزوۂ تبوک کے ضمن میں ذکر کیا ہے‘ جبکہ یہی مضمون مسند احمد میں بروایت سعد بن ابی وقاصؓ دو حدیثوں میں مذکور ہے‘ جن میں سے ایک روایت کے آخری الفاظ یوں ہیں: ”لیکن میرے بعد کوئی نبوت نہیں۔“ اس واقعہ کے بارے میں ابوداؤد طیالسی‘ امام احمد اور محمد بن اسحاق کی روایت کردہ مفصل احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوۂ تبوک کے لیے روانگی کے وقت حضرت علیؓ کو مدینہ کی نگرانی اور دفاع کے لیے پیچھے چھوڑنے کا فیصلہ کیا۔ اس پر منافقین نے ان کے خلاف نازیبا پروپیگنڈہ شروع کر دیا۔ وہ حضور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا ”اے اللہ کے رسول! کیا آپ مجھے پیچھے عورتوں اور بچوں میں چھوڑ رہے ہیں؟“ اس پر حضور ﷺ نے انہیں تسلی دی اور فرمایا ”تم میرے لیے ایسے ہو جیسے موسیٰؑ کے لیے ہارونؑ تھے۔“ یعنی جیسے اللہ کے نبی حضرت موسیٰؑ کوہ طور کو روانہ ہوتے وقت ہارون نبی کو بنی اسرائیل کی نگہداشت کے لیے پیچھے چھوڑ گئے تھے‘ اسی طرح آپ ﷺ انہیں مدینہ کے دفاع کی غرض سے پیچھے چھوڑ رہے ہیں لیکن اس

صفحہ 122

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول)

خدشے کے پیش نظر کہ حضرت علیؓ کا ایک پیغمبر سے موازنہ بعد میں کسی شرک کا باعث بن سکتا ہے رسول اللہ ﷺ نے فوراً یہ استثناء کر دیا کہ ’’میرے بعد کوئی نبی نہیں۔‘‘

امتى كذابون ثلاثون كلهم يزعم انه نبى وانا خاتم النبيين لا نبى بعدى.‘‘

’’ثوبان سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا ...... اور بے شک میری امت میں تیس کذاب ہوں گے۔ ان میں سے ہر ایک کا یہی دعویٰ ہوگا کہ وہ نبی ہے۔ خبردار! میں آخری نبی ہوں۔ میرے بعد کوئی نبی نہیں۔‘‘

(ابوداؤدؒ جلد 2‘ صفحہ 202)

ابوداؤد نے اس موضوع پر ایک اور روایت حضرت ابو ہریرہؓ سے کتاب الملاحم میں بیان کی ہے۔ ترمذی نے بھی ان دونوں احادیث کو اسی سند سے اور ثوبان سے بیان کیا ہے۔ دوسری روایت کے الفاظ یوں ہیں: ’’تیس کذاب ہوں گے اور ان میں سے ہر ایک یہ دعویٰ کرے گا کہ وہ اللہ کا رسول ہے۔‘‘

بنى اسرائيل رجال يكلمون من غير ان يكونوا انبياء فان يكن من امتى احد لكان عمر.‘‘

’’نبی ﷺ نے فرمایا: تم میں سے پہلے بنی اسرائیل میں ایسے لوگ ہوئے ہیں جن سے (اللہ تعالیٰ کی جانب سے) کلام ہوتا تھا لیکن وہ نبی نہیں ہوتے تھے‘ پس اگر میری امت میں کوئی ایسا شخص ہوتا تو وہ عمرؓ ہوتا۔‘‘

(بخاریؒ کتاب المناقب‘ جلد 2‘ صفحہ 282‘ طبع دارالمعرفۃ بیروت)

اس مضمون کی ایک روایت صحیح مسلم میں بھی مروی ہے۔ اس میں یکلمون کی جگہ محدث کا لفظ مذکور ہے‘ تاہم دونوں کا معنی ’’وہ جن سے اللہ تعالیٰ یا کوئی غیر مرئی ہم کلام ہو ۔‘‘

’’اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: میرے بعد کوئی نبی نہیں اور میری امت کے

صفحہ 123

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول)

بعد (کسی اور نبی کی) کوئی امت نہیں۔‘‘ (بیہقی، جلد 5، صفحہ 197)

خاتم المساجد.“

”رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: پس میں آخری نبی ہوں اور میری مسجد (کسی نبی کی) آخری مسجد ہے۔‘‘ (مدینہ میں مسجد نبوی ﷺ کی جانب اشارہ ہے)

(صحیح مسلم، کتاب الحج، صفحہ 202)

عند الله مكتوب خاتم النبيين وان آدم لمنجدل فى طينة.“

”عرباض بن ساریہ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: میں آخری نبی تھا جبکہ آدم ابھی گارے میں تھے۔‘‘ (ابھی پیدا نہیں ہوئے تھے)

(مستدرک حاکم، جلد 2، صفحہ 418، طبع حیدر آباد دکن)

ینقطع بموت غیرک من النبوة والانباء و اخبار السماء.“

”مروی ہے کہ حضرت علیؓ نے حضور ﷺ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا: اے اللہ کے رسول! میرے باپ اور ماں آپ پر قربان ہوں۔ آپ کی موت نے وہ چیز ختم کر دی ہے جو آپ کے سوا کسی دوسرے کی موت سے ختم نہ ہوئی یعنی نبوت، غیبی خبریں اور آسمان کی وحی۔‘‘ (نہج البلاغہ، جلد 2، صفحہ 255، طبع مصر)

بكتابكم الكتب و ختم بنبيكم الانبياء.“

ابو جعفر اور ابو عبداللہ علیہما السلام نے کہا: ”تحقیق اللہ نے تمہاری کتاب (قرآن کریم) پر الہامی کتابوں کو ختم کر دیا اور تمہارے نبی (حضرت محمد ﷺ) پر سلسلۂ انبیاء کو ختم کر دیا۔‘‘ (اصول الکافی، جلد اول، صفحہ 163، طبع نول کشور)

ان احادیث کو محدثین کی بڑی تعداد نے متعدد اور بہت قوی اسناد کے ساتھ

صفحہ 124

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول)

صحابہ کرام کی عظیم تعداد سے روایت کیا ہے۔ ان کے مطالعہ سے واضح ہوتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے مختلف مواقع پر‘ مختلف طریقوں سے اور مختلف الفاظ میں قطعی اعلان فرما دیا تھا کہ وہ آخری نبی ہیں اور یہ کہ ان کے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا اور یہ کہ نبوت ان پر ختم ہوچکی ہے اور یہ کہ ان کے بعد نبوت یا رسالت کے مدعی کذّاب ہیں۔ قرآن کریم کے الفاظ ”خاتم النبیین“ کی اس سے زیادہ مستند‘ معتبر اور فیصلہ کن اور کوئی تعبیر نہیں ہوسکتی۔ رسول اللہ ﷺ کا ارشاد بذات خود معتبر اور فیصلہ کن ہوتا ہے۔ لیکن جب اس سے قرآن کریم کے متن کی توضیح و تشریح ہوتی ہو تو وہ بالکل قطعی اور فیصلہ کن ہوتا ہے۔ سوال تو یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی ذاتِ گرامی سے بڑھ کر اور کون قرآن کریم کے فہم و تعبیر کا اہل ہوگا۔ اس کے باوجود اگر کوئی شخص ختم نبوت کے مختلف معنی پیش کرتا ہے تو وہ کیونکر کسی بھی قسم کی توجہ یا التفات کا سزاوار ہوگا؟ چہ جائیکہ اسے ماننے اور اس کی پیروی کرنے کا مستحق سمجھا جائے۔

یہ ایک مسلمہ قاعدہ ہے‘ تاہم میں ابن تیمیہ کی ”الایمان“ سے یہ اقتباس پیش کرتا ہوں:

ومما ینبغی ان یعلم ان الالفاظ الموجودۃ فی القرآن والحدیث اذا عرف تفسیرہا وما ارید بمعناہا من جہۃ النبی صلی اللہ علیہ وسلم لم یحتج فی ذلک الی الاستدلال باقوال اہل اللغۃ ولا غیرہم.

”یہ جان لینا چاہیے کہ جب رسول اللہ ﷺ کی ذاتِ گرامی کی جانب سے قرآن اور سنت کے الفاظ کی تشریح معلوم ہو جائے تو ایسی صورت میں ماہرین لغت یا ان کے علاوہ دوسروں کے اقوال کی ضرورت نہیں رہتی۔“

(الایمان از امام ابن تیمیہؒ صفحہ 271)

ختم نبوت اسلام کا ایک بنیادی اصول ہے‘ علامہ ابن نجیم (الاشباہ والنظائر‘ کتاب السیر‘ باب الردۃ‘ صفحہ 179 میں) لکھتے ہیں کہ اگر ایک شخص ختم نبوت کے عقیدے کو تسلیم نہیں کرتا تو وہ مسلمان نہیں ہے‘ کیونکہ یہ ایمان کا ایسا بنیادی جزو ہے جسے

صفحہ 125

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول)

جاننا اور تسلیم کرنا لازمی ہے۔

غزالی (450-505ھ)‘ قاضی عیاض (م 544ھ) علامہ شہرستانی (م 548ھ) ابن کثیر (م 774ھ)‘ ملاعلی قاری (م 1016ھ) شیخ اسماعیل حقی (م 1137ھ) شوکانی (م 1255ھ) اور فتاویٰ عالمگیری کی یہ آراء پہلے ہی گزر چکی ہیں کہ جو آدمی ختم نبوت کا عقیدہ نہیں رکھتا یا نبی ہونے کا دعویدار ہے یا ایسے شخص کی پیروی کرتا ہے تو وہ کافر اور دائرہ اسلام سے خارج ہے۔ ذیل میں امام ابو حنیفہؒ کا فیصلہ بھی درج کیا جاتا ہے:

ایک آدمی نے امام ابو حنیفہؒ (80-150ھ) کے زمانے میں نبوت کا دعویٰ کیا اور کہا ”آپ مجھے اپنی نبوت کا ثبوت پیش کرنے کا موقع دیں۔“ امام صاحب نے فرمایا ”جو شخص اس سے اس کی نبوت کا ثبوت طلب کرے گا وہ بھی کافر ہو جائے گا‘ کیونکہ رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے ”میرے بعد کوئی نبی نہیں ہے۔“

(مناقب الامام الاعظم ابی حنیفہؒ ابی احمد المکی‘ جزء اول‘ صفحہ 161‘ طبع حیدر آباد)

اس میں کوئی شک نہیں کہ جو شخص قرآن کریم کی ایک صریح اور عام آیت کی تاویل اور تخصیص کر کے اس کی تکذیب کرتا ہے تو وہ اس شخص کے برابر ہے جو نفس آیت کو جھٹلا دیتا ہے۔ حضرت محمد ﷺ کی ختم نبوت کا عقیدہ مسلمانوں کے ایمان کا جزو اور دین کا بنیادی اصول ہے۔ معروف علماء کے یہ فیصلے‘ دوسروں کے علاوہ اس مدعی نبوت اور اس کے پیروکاروں کے بارے میں شریعت کے صحیح موقف کا اظہار کرتے ہیں۔

ہماری رائے میں خاتم النبیین کی آیت اس امر کا قطعی فیصلہ کر دیتی ہے کہ حضرت رسول اللہ ﷺ کے بعد ہر مدعی نبوت کذاب ہے۔

یہاں اس امر کا تذکرہ کرنا بھی مناسب ہو گا کہ کچھ لوگوں نے یہ کہہ کر حضور نبی کریم ﷺ کی ختم نبوت پر اعتراض کیا کہ خاتم کا معنی آخری نہیں ہوتا بلکہ یہ ایسے ہی ہے جیسے کسی شخص کو خاتم الشعراء یا خاتم المفسرین کہا جائے۔ ان کلمات کا یہ معنی نہیں ہوتا کہ ایسے شخص کے بعد کوئی اور شاعر یا فقیہ یا مفسر پیدا نہیں ہو گا بلکہ یہ مفہوم ہوتا

صفحہ 126

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول)

ہے کہ اس خاص شعبہ علم میں اس شخص کو ممتاز مقام حاصل ہے۔ لیکن یہ ایک مغالطہ آمیز دلیل ہے۔ ایسے لقب کا بطور مبالغہ استعمال ہونے سے یہ لازم نہیں آتا کہ خاتم صرف ”کامل اور ممتاز“ کے معنی میں مستعمل ہے ”آخری“ کے لیے نہیں۔ ایسا کوئی قاعدہ نہیں کہ کسی لفظ کے بعض اوقات مجازی معنی میں استعمال ہو جانے سے وہ اپنے حقیقی معنی کھو دے گا۔ اگر کوئی کسی عرب باشندے سے کہے ”وجاء خاتم القوم“ تو وہ یہ ہرگز نہیں سمجھے گا کہ قبیلے کا ممتاز ترین فرد آیا ہے بلکہ وہ یہ سمجھے گا کہ قبیلے کا آخری فرد آ گیا ہے۔

یہ حقیقت بھی پیش نظر رہے کہ چند اشخاص کو دیے ہوئے خاتم الشعراء یا خاتم الفقہاء وغیرہ القاب انسانوں کے دیے ہوتے ہیں اور کسی انسان کو یہ کبھی معلوم نہیں ہوتا کہ وہ جس شخص کو اس کے کسی معیار کی بنا پر خاتم قرار دے رہا ہے اسی معیار کا کوئی اور شخص پیدا نہیں ہوگا۔ یہی وجہ ہے کہ انسانی لغت میں ان القاب کی امتیاز کے مبالغہ آمیز اعتراف سے زیادہ کوئی حیثیت نہیں ہوتی لیکن جب اللہ تعالیٰ فرمائیں کہ فلاں اور فلاں معیار کسی خاص شخصیت پر ختم کر دیا گیا ہے تو پھر ایسی کوئی وجہ نہیں کہ ہم اس سے مجازی مفہوم سمجھیں خصوصاً جبکہ کوئی لغوی ابہام بھی موجود نہ ہو اس لیے اللہ تعالیٰ کا کسی شخص کو خاتم النبیین کہنا اور کسی انسان کا دوسرے انسان کو بطور مبالغہ خاتم الشعراء یا خاتم الفقہاء وغیرہ کہنا یکساں قرار نہیں پائیں گے۔

قطعی ختم نبوت کے خلاف ایک دلیل اس حدیث پر مبنی ہے کہ آپ ﷺ کی مسجد آخری مسجد ہے۔ استدلال کیا گیا کہ وہ آخری مسجد نہیں ہے کیونکہ اس کے بعد دنیا میں بے شمار اور مساجد تعمیر ہوئی ہیں۔ ”آخری مسجد“ کے الفاظ کمال اور امتیاز کے معنی میں استعمال ہوئے ہیں۔ یہ دلیل صرف مغالطہ ہے۔ ”آخری مسجد“ سے مراد انبیاء کی آخری مسجد یا ایسی مسجد ہے جو دوسری مساجد کے مقابلے میں خصوصیات کی حامل ہو۔

اس بارے میں امام مسلم نے حضرت ابوہریرہؓ، حضرت عبداللہ بن عمرؓ اور حضرت میمونہؓ (حضور ﷺ کی بیوی) سے مروی یہ احادیث بیان کی ہیں کہ دنیا میں ایسی تین مساجد موجود ہیں جو دوسری تمام مساجد سے افضل ہیں اور ان میں نماز پڑھنا دوسری

صفحہ 127

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول)

عام مساجد میں نماز پڑھنے سے ہزاروں گنا زیادہ ثواب کا باعث ہے۔ یہ مکہ کی مسجد الحرام، یروشلم (بیت المقدس) کی مسجد الاقصیٰ اور مدینہ کی مسجد نبوی ہیں۔ اس لیے ان تین مساجد میں نماز پڑھنے کی نیت سے ان کا سفر کرنا جائز ہے۔ یہ خصوصیت کسی اور مسجد کو حاصل نہیں۔ دوسری تمام مساجد خواہ دور ہوں یا نزدیک کا مرتبہ اور ثواب یکساں ہے۔ رسول اللہ ﷺ کی مراد یہ تھی کہ چونکہ ان کے بعد کوئی اور نبی نہیں آئے گا، اس لیے دنیا میں کوئی ایسی چوتھی مسجد تعمیر نہیں ہوگی جس میں نماز پڑھنے کا ثواب دوسری مساجد سے نماز پڑھنے سے زیادہ ہو اور جس میں نماز ادا کرنے کی نیت سے خصوصی سفر کا اہتمام کرنے کی اجازت ہو۔

ختم نبوت کی قطعیت کے اصول کے خلاف حضرت عائشہؓ کا ایک قول پیش کیا گیا ہے۔ وہ یہ ہے ”یہ کہو کہ رسول اللہ ﷺ خاتم النبیین ہیں لیکن یہ مت کہو کہ ان کے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا۔“ پہلی بات یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی مستند حدیث کہ ”میرے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا“ کی مخالفت میں حضرت عائشہؓ کا قول پیش کرنا انتہائی ناموزوں ہے۔ پھر حضرت عائشہؓ کی طرف منسوب یہ روایت خود معتبر نہیں۔ کسی قابل ذکر محدث نے اسے کسی معتبر کتاب میں روایت نہیں کیا۔ یہ صرف درمنثور جو قرآن کریم کی تفسیر ہے اور تکملہ مجمع البحار جو حدیث کی ڈکشنری ہے میں مذکور ہے لیکن سند کا کوئی ذکر نہیں۔ یہ نا قابل اعتماد ہے اور کسی بھی معروف عالم نے اسے لائق التفات نہیں سمجھا۔

ایک اور قابل توجہ روایت جو ابن ماجہ میں ابن عباسؓ سے مروی ہے یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنے بیٹے ابراہیم کے بارے میں فرمایا: ”لو عاش ابراہیم لکان صدیقا نبیا۔“ ”اگر ابراہیم زندہ رہتا تو وہ صدیق نبی ہوتا۔“

جیسا کہ الموضوعات الکبریٰ صفحہ 58 میں مذکور ہے، امام نووی نے اس روایت کو باطل اور مردود قرار دیا ہے۔ اس کی سند میں ابو شیبہ نامی شخص ضعیف ہے۔ امام ترمذی نے اسے حدیث میں ناقابل اعتماد قرار دیا ہے۔ امام نسائی نے اسے حدیث میں ضعیف کہا ہے۔ امام احمد نے کہا ہے کہ اس کے قول کا کوئی وزن نہیں ہے۔ امام ابو حاتم نے

صفحہ 128

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول)

اسے حدیث میں ناقابل اعتماد کہا ہے۔ (تہذیب التہذیب‘ جلد 1‘ صفحات 144-145)

مسلمانوں کے ہاں حضرت محمد ﷺ کی ختم نبوت کے عقیدے کے بیان کے بعد مناسب معلوم ہوتا ہے کہ مرزا صاحب کے دعویٰ نبوت کی تاریخ اور ارتقاء کو بیان کیا جائے۔

مرزا صاحب 1839ء یا 1840ء میں موضع قادیان ضلع گورداسپور، پنجاب کے اس حصے میں، جو اب بھارت میں واقع ہے، پیدا ہوئے تھے۔ یہ مرزا صاحب کی اپنی تحریروں کے مطابق ہے۔ لیکن بعد میں ان کے خاندان کے افراد میں ان کے سالِ ولادت کے بارے میں اختلاف پیدا ہو گیا۔ ان کے بیٹے مرزا بشیر احمد جو ان کے سوانح نگار اور سیرت المہدی کے مصنف ہیں، کے پہلے نظریے کے مطابق سال ولادت 1836ء یا 1837ء ہو سکتا ہے۔ (سیرت المہدی‘ جلد 2‘ صفحہ 150 روایت نمبر 467)۔ نظر ثانی کے بعد انہوں نے تاریخ ولادت 13 فروری 1835ء مقرر کی (سیرت المہدی‘ جلد 3‘ صفحہ 76 روایت نمبر 513)۔ ایک تخمینے کے مطابق سال ولادت 1831ء ہو سکتا ہے (ایضاً‘ 74 روایت نمبر 513)۔ معراج دین نے تاریخ ولادت 17 فروری 1832ء مقرر کی ہے۔ (ایضاً‘ صفحہ 302 روایت نمبر 965)۔ جبکہ دیگر 1833ء یا 1834ء کو سال ولادت قرار دیتے ہیں (ایضاً‘ ص 194 روایت 763)۔

مرزا بشیر احمد اور اُن دوسرے لوگوں کی، جو مرزا صاحب کو ایسا نبی مانتے ہیں جسے اللہ کی طرف سے خدائی علم عطا ہوا تھا (اور اسی لیے انہیں اپنے سال ولادت کے بارے میں غلطی نہیں کرنی چاہیے تھی) ان متناقض آراء کی وجہ معلوم کرنا کچھ بعید نہیں۔

مرزا صاحب اپنی وفات کے وقت تقریباً انہتر سال کی عمر میں تھے (1839ء میں پیدا ہوئے اور 1908ء میں انتقال ہوا)۔ کہا جاتا ہے کہ چھٹی صدی ہجری کے ایک صوفی نعمت اللہ ولی نے اپنی ایک مسلسل نظم میں مسلمانوں کے اندر رونما ہونے والے مستقبل کے واقعات کی پیشگوئیاں کی ہیں اور تیرہویں صدی ہجری کے اختتام اور چودھویں صدی کے آغاز پر کسی ایسے شخص کی آمد کی پیشگوئی کی ہے جو شریعت کی تجدید کرے گا۔ مرزا صاحب نے اس نظم کو اپنے اوپر منطبق کیا۔ ایک شعر میں پیشگوئی کی گئی تھی کہ وہ

صفحہ 129

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول)

شخص اپنے ظہور یعنی خدائی انتخاب کی خلعت سے سرفرازی کے چالیس سال بعد تک زندہ رہے گا۔ مرزا صاحب نے اس شعر کے مفہوم پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا کہ وہ اس منصب پر چالیس (40) سال کی عمر میں فائز ہوئے تھے اور اسی (80) سال یا اس کے قریب کی عمر تک زندگی پائیں گے (نشانِ آسمانی، صفحہ 15 روحانی خزائن ج 4 ص 374) پھر انہوں نے ایک خدائی الہام کے نزول کا دعویٰ کیا:

(تذکرہ ص 500، طبع سوم)

یوں اس الہام کے مطابق انہیں پچھتر یا پچاسی سال کی عمر کے درمیان کسی وقت فوت ہونا تھا۔ ان کی عمر کو زیادہ ثابت کرنے اور ان کے عرصۂ حیات کو پچھتر سال کے قریب تر لانے کی مساعی سے مقصود اس پیشگوئی اور الہام کی صحت و صداقت کو ثابت کرنا ہے۔

پیشگوئی کی تکمیل کو منوانے کی تمنا کا انکشاف قادیانیت کے ایک مبلغ مولوی عبدالرحیم درد ایم۔ اے کے ایک خط سے ہوتا ہے جو اس نے سیرت المہدی کے مولف مرزا بشیر احمد کو مرزا صاحب کی عمر کی بابت ان کی تحقیق کو سراہتے ہوئے لکھا تھا۔ اس نے ان پر زور دیا کہ اس مسئلے کو قطعی طور پر حل کر دیا جائے تاکہ سال ولادت 1836ء اور 1837ء کے مابین طے کر دیا جائے۔ اسی یا اس کے قریب کے الہامات جن کا اعادہ اربعین 3، صفحہ 32 روحانی خزائن ج 17 ص 422، ضمیمہ تحفہ گولڑویہ، صفحہ 29، روحانی خزائن ج 17 ص 69، ازالہ اوہام، صفحات 634 تا 638 روحانی خزائن ج 3 ص 443 میں کیا گیا ہے، کا ذکر کرتے ہوئے اس نے لکھا کہ

”مرزا صاحب نے ان الہامات کا مفہوم یوں بیان کیا تھا:

”جو ظاہر الفاظ وحی کے وعدہ کے متعلق ہیں وہ تو 74 اور 86 کے اندر اندر عمر کی تعین کرتے ہیں۔“

پس اگر آپ کی عمر شمسی یا قمری حساب سے اس کے اندر اندر ثابت ہو جائے تو الہامات پورے ہو جاتے ہیں یعنی اگر آپ کی پیدائش 1836ء اور 1837ء کے

صفحہ 130

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول)

اندر ثابت ہو جائے تو کسی قسم کا اعتراض نہیں کیا جا سکتا۔‘‘ (سیرۃ المہدی‘ جلد 3‘ صفحہ 187، 188 نمبر 763) اسی دلیل کا انکشاف سیرت المہدی‘ جلد 3‘ صفحہ 76 روایت نمبر 513 پر بھی کیا گیا ہے۔

مرزا بشیر احمد نے تاریخ ولادت 13 فروری 1835ء طے کرنے کے بعد ہجری کیلنڈر کے مطابق مرزا صاحب کی عمر پچھتر سال سے زیادہ نکالی ہے۔

مرزا صاحب ایک ایسے زمیندار گھرانے میں پیدا ہوئے تھے جو اگرچہ ماضی میں متمول اور خوشحال تھا لیکن ان کی پیدائش کے وقت سخت مالی مشکلات میں گھرا ہوا تھا۔ ان کے والد غلام مرتضیٰ نے 1857ء میں ایسٹ انڈیا کمپنی سے اپنی وفاداری کا مظاہرہ کیا تھا اور جنگ آزادی کے مجاہدین جنہیں حکومت وقت باغی قرار دیتی تھی‘ کو کچلنے میں مدد دینے کی خاطر برطانوی فوج کو پچاس گھوڑے اور پچاس رنگروٹ فراہم کیے تھے۔ اس کے صلے میں انہیں حکومت کے ہاں کچھ عزت حاصل تھی۔ اس لیے برطانوی حکومت کی مدح و ستائش کا رجحان مرزا صاحب کے اندر بچپن سے موت تک پختہ رہا۔ وہ اپنی متعدد کتابوں اور رسالوں میں برطانوی حکومت سے اپنے والد کی وفاداری اور گورنر کے دربار میں ایک نشست کا اعزاز پانے کا تذکرہ بڑے فخر سے پیش کرتے اور دہراتے ہیں اور اپنی تحریروں میں مذکورہ حکومت سے خود اپنی لازوال وفاداری کا ذکر بھی کرتے ہیں۔

مرزا صاحب نے چند اساتذہ سے کچھ دینی تعلیم پائی تھی۔ خاندان کی مالی حالت کی وجہ سے انہیں پندرہ روپے ماہانہ کی قلیل تنخواہ پر سیالکوٹ کی عدالتوں میں کلرک کی اسامی پر ملازمت کرنا پڑی جو 1864ء سے 1868ء تک جاری رہی۔ بعد ازاں انہوں نے ملازمت سے استعفا دے دیا اور خاندانی جائیداد کی بحالی کی خاطر مقدمہ بازی اور مذہبی لٹریچر کے مطالعہ میں مصروف ہو گئے۔ جب وہ تقریباً پینتیس سال کے ہوئے تو ان کے والد کا انتقال ہو گیا۔ (کتاب البریہ‘ صفحہ 142 تا 149 روحانی خزائن ج 3 حاشیہ ص 177 تا 192)۔ گزشتہ صدی کے ساتویں عشرے کے اختتام پر

صفحہ 131

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول)

انہوں نے عیسائیت‘ آریہ سماج اور برہمو سماج کے خلاف کچھ مضامین تحریر کرنا شروع کیے اور ان مذاہب کے عالموں اور پیروکاروں کے ساتھ مباحثے اور مناظرے کیے۔ اس طرح مسلمان علماء اور پڑھے لکھے طبقے میں ان کا تعارف ہوا اور ان حلقوں میں انہیں کچھ مقبولیت حاصل ہو گئی۔

1879ء میں انہوں نے ایک پمفلٹ میں عیسائیت اور ہندومت پر اسلام کی برتری کے ثبوت پر ایک ایسی کتاب لکھنے کا ارادہ مشتہر کیا‘ جو تین سو دلائل پر مشتمل ہو گی۔ اپنے پاس طباعت کی رقم نہ ہونے کی وجہ سے انہوں نے مسلمانوں پر زور دیا کہ وہ اپنے عطیات‘ چندے یا کتاب کی پیشگی قیمت بھیجیں۔ انہوں نے حقیقۃ الوحی‘ صفحہ 337 روحانی خزائن ج 22 ص 350 پر لکھا ہے کہ جب انہوں نے اپنی پہلی کتاب براہین احمدیہ تالیف کی تو اسے چھپوانے کے لیے ان کے پاس رقم نہ تھی۔ انہوں نے اللہ سے التجا کی اور ایک الہام کے نزول کا دعویٰ کیا‘ جس کے مطابق انہوں نے خطوط لکھے اور مختلف ذرائع سے رقم حاصل کی۔ کتاب کی قیمت پہلے دوسروں کے لیے 25 روپے اور مسلمانوں کے لیے 10 روپے مقرر کی گئی (دیکھئے براہین احمدیہ‘ جلد 3‘ طبع 1970ء ٹائٹل پیج کی پشت پر روحانی خزائن ج 1 ص 134)۔ پہلی دو جلدوں کی طباعت کے بعد اس کی قیمت دوسروں کے لیے 100 روپے اور مسلمانوں کے لیے 10 روپے یا 15 روپے رکھی گئی تھی۔ (براہین احمدیہ‘ صفحہ 67 روحانی خزائن ج 1 ص 136)۔ لوگوں کی کافی تعداد نے کتاب کی قیمت پیشگی ادا کر دی‘ لیکن 1884ء تک چار سالوں میں کتاب کی صرف چار جلدیں طبع ہو سکیں۔ پانچویں جلد 1905ء میں چھپی۔ چوتھی اور پانچویں جلد کی طباعت کے مابین دو عشروں سے زیادہ مدت میں مرزا صاحب نے تقریباً اسی (80) کتابیں تالیف کیں‘ تاہم وہ پوری کتاب کی قیمت ادا کرنے والوں کے احتجاج اور کئی لوگوں کی مخالفانہ تنقید کے باوجود پانچویں جلد مکمل نہ کر سکے۔ (براہین احمدیہ‘ جلد 5‘ صفحہ 1 روحانی خزائن ج 21 ص 2)۔ کتاب کی پہلی جلد صرف 82 صفحات پر مشتمل تھی (جو 1970ء کے ایڈیشن میں مختصر ہو کر صرف 25 صفحات رہ گئی ہے)۔ یہ 1880ء

صفحہ 132

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول)

میں چھپی تھی اور کتاب کی ضرورت کے مبادیات‘ عطیات دہندگان کی فہرست‘ چند نظموں اور ایک پمفلٹ جس میں ایسے شخص کو جو اپنے مذہب کی الہامی کتابوں سے خواہ دلائل کا پانچواں حصہ ہی غلط ثابت کر دکھائے، 10,000 روپے کی انعامی رقم دینے کا وعدہ کیا گیا ہے‘ پر مشتمل ہے۔ دوسری جلد جو 55 صفحات (نئے ایڈیشن میں 40 صفحات) کے صرف مقدمے پر مشتمل ہے‘ بھی 1880ء میں طبع ہوئی تھی۔ جلد سوم جو 143 صفحات (نئے ایڈیشن میں 100 صفحات) پر مشتمل ہے‘ 1882ء میں چھپی تھی جبکہ جلد چہارم جو 282 صفحات (نئے ایڈیشن میں 191 صفحات) پر مشتمل ہے‘ 1884ء میں چھپی تھی۔ (دیکھئے سیرت المہدی‘ جلد 2‘ صفحہ 151 تواریخ طباعت کے لیے)۔ کتاب کی جلد پنجم (صفحہ 1) سے معلوم ہوتا ہے کہ اصلاً مرزا صاحب کا ارادہ یہ تھا کہ اسے پچاس جلدوں میں چھپوایا جائے اور چندہ دینے والوں کی ایک بڑی تعداد سے کتاب کی پیشگی قیمت وصول کر لی گئی تھی۔ لیکن انہوں نے اعلان کر دیا کہ چونکہ 5 اور 50 کے ہندسوں میں صرف ایک صفر کا فرق ہے‘ اس لیے جلد پنجم کی طباعت کے ساتھ ہی ان کا وعدہ پورا ہو گیا ہے۔ (براہین احمدیہ حصہ پنجم دیباچہ ص 7 مندرجہ روحانی خزائن جلد 21 ص 9 از مرزا قادیانی)

کتاب کی طباعت سے کافی عرصہ پہلے اس کے تشہیری پمفلٹوں کے جواب میں مسلمانوں کے موافق ردّعمل کے باوجود مرزا صاحب نے متمول مسلمانوں کی شکایت کرنے اور ان پر بے اعتنائی اختیار کرنے کے الزامات لگانے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیا۔ عطیات کی صرف دو مثالیں نقل کی جاتی ہیں۔ صرف ایک شخص کی طرف سے پانچ ہزار روپے جو موجودہ وقت میں کئی لاکھ کے مساوی ہوتے ہیں‘ پیش کیے گئے‘ جبکہ ایک دوسرے شخص نے پانچ سو روپے کی رقم دو قسطوں میں پیش کی۔

(دیکھئے عرض ناشر‘ براہین احمدیہ‘ جلد اول‘ صفحہ 5‘ روحانی خزائن ج 1 ص 2 تا 12)

مرزا صاحب کا دعویٰ ہے کہ انہیں تین لاکھ سے زیادہ الہامات ہوئے‘ ان میں سے پچاس ہزار مالی امور سے متعلق ہیں۔ یعنی آیا اور کب مال حاصل کیا جائے۔ اس دعوے سے ظاہر ہوتا ہے کہ ان کے ذہن میں مالی امور ہر چیز سے بلند تھے۔

صفحہ 133

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول)

براہین احمدیہ جس میں تین سو دلائل کا وعدہ کیا گیا تھا‘ کا مرکزی موضوع خدائی الہامات یا وحیاں ہیں جو بقول مرزا صاحب‘ نبی پاک کے ان متبعین میں ہمیشہ جاری رہتے ہیں جو اس کی اہلیت رکھتے ہیں۔ وہ مقصد جس کی خاطر کتاب کی طباعت کا وعدہ کیا گیا‘ پورا ہوا یا نہیں تاہم جو واحد مقصد پیش نظر تھا اور اس کا کوئی وعدہ نہ تھا‘ خوب پورا ہوا۔ جلد سوم اور چہارم کا مرکزی نکتہ مرزا صاحب کے وہ مزعومہ الہامات اور خیالات ہیں جو ان کے آگے جا کر مسیح موعود‘ مہدی موعود اور نبی ہونے کے دعووں کی بنیاد بنے تھے۔ تاہم مامور من اللہ (اللہ کی جانب سے مامور) ہونے کا اساسی دعویٰ کتاب کی جلد سوم میں کیا گیا تھا۔ (سیرت المہدی‘ جلد 2‘ صفحہ 151) جبکہ جلد چہارم میں انہوں نے مجددیت کی نشانی ملنے کا دعویٰ کیا۔ (براہین‘ صفحہ 502 اور 503‘ روحانی خزائن ج 1 ص 597‘ 598 حیات طیبہ از عبدالقادر صفحہ 69‘ سیرت المہدی‘ جلد 2‘ صفحہ 151)

اس طرح کتاب کو عوام کے اخراجات سے چھپوانے کا حقیقی مقصد اپنی ذات کی تشہیر‘ اپنے مزعومہ الہامات کا اعلان اور اپنے ان خیالات کی اشاعت جو آخر الامر انہیں نبوت کا دعویٰ کرنے میں مدد دے سکیں‘ کے سوا کچھ نہ نکلا۔ اس آخری نکتے کی صحت کے ثبوت کے لیے براہین احمدیہ سے چند اقتباسات دیے جاتے ہیں:

طرف سے نازل ہوتا ہے اور امور غیبیہ پر مشتمل ہوتا ہے، ایک اور راستہ بھی کھلا ہوا ہے اور وہ یہ ہے کہ خدا تعالیٰ امت محمدیہ میں کہ جو سچے دین پر ثابت اور قائم ہیں‘ ہمیشہ ایسے لوگ پیدا کرتا ہے کہ جو خدا کی طرف سے ملہم ہو کر ایسے امور غیبیہ بتلاتے ہیں جن کا بتلانا بجز خدائے واحد لاشریک کے کسی کے اختیار میں نہیں۔ اور خداوند تعالیٰ اس پاک الہام کو انہیں ایمانداروں کو عطا کرتا ہے کہ جو سچے دل سے قرآن شریف کو خدا کا کلام جانتے ہیں اور صدق اور اخلاص سے اس پر عمل کرتے ہیں اور حضرت محمد ﷺ کو خدا کا سچا اور کامل اور سب پیغمبروں سے افضل اور اعلیٰ اور بہتر اور خاتم الرسل اور اپنا ہادی اور

صفحہ 134

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول)

رہبر سمجھتے ہیں۔

(صفحہ 215 روحانی خزائن ج 1 ص حاشیہ 238)

کے با اخلاص خادموں کو ہوتا ہے، یہ کسی زمانہ میں منقطع نہیں ہوگا۔ اور یہ الہام وحی رسالت پر ایک عظیم الشان نبوت ہے۔

(صفحہ 215 روحانی خزائن ج 1 ص حاشیہ 238)

معنی کرنے چاہئیں جو کتب لغت میں مندرج ہیں جبکہ سوادِ اعظم علماء الہام کو وحی کا مترادف قرار دینے میں متفق ہیں۔

(صفحہ 221 روحانی خزائن ج 1 ص حاشیہ 224)

جماعت مسلمانوں میں نزاع لفظی ہے۔ جن علامات الہیہ کا نام ہم وحی رکھتے ہیں انہیں کو علماء اسلام اپنے عرف میں الہام بھی کہہ دیا کرتے ہیں۔

کو نہیں مل سکتا تو پھر وہ وارث کیونکر اور کیسے ہوئے۔

(صفحہ 231 روحانی خزائن ج 1 ص حاشیہ 256)

(صفحہ 231 روحانی خزائن ج 1 ص حاشیہ 256)

نہایت مکار ہونا اور غافلوں کا نہایت خوابیدہ ہونا اور مخالفوں کا اشد فی الکفر ہونا اس بات کے لیے بہت ہی تقاضا کرتا ہے کہ ایسے شخص کا علم لدنی مشابہ بالرسل ہو اور یہی لوگ ہیں جن کا نام احادیث میں امثل اور قرآن شریف میں صدیق آیا ہے۔

(صفحہ 233 روحانی خزائن ج 1 ص حاشیہ 257)

صفحہ 135

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول)

ہے یعنی جیسے پیغمبر اس وقت آتے رہے کہ جب دنیا میں سخت درجے پر گمراہی اور غفلت پھیلتی رہی، ایسا ہی یہ لوگ بھی اس وقت آتے ہیں کہ جب ہر طرف گمراہی کا سخت غلبہ ہوتا ہے اور حق سے ہنسی کی جاتی ہے۔

(صفحہ 233 روحانی خزائن ج 1 ص حاشیہ 258)

(صفحہ 238 روحانی خزائن ج 1 ص حاشیہ 265)۔

زہق الباطل ...... قل ان افتریتہ فعلی اجرامی ہوالذی ارسل رسولہ بالہدیٰ

(صفحہ 239 روحانی خزائن ج 1 ص حاشیہ 265)

ذکرک. (صفحہ 241 روحانی خزائن ج 1 ص 267)

القیت علیک محبۃ منی (صفحہ 242 روحانی خزائن ج 1 ص 267)

ترجمہ

باطل مٹ گیا۔ تو کہہ اگر میں نے اسے جھوٹ بنا لیا ہے تو میرا جرم مجھ ہی پر ہے، وہی ہے جس نے اپنے رسول کو ہدایت دے کر بھیجا۔

میں ہے۔ اللہ تیرا ذکر بلند کرے گا۔

اٹھاؤں گا اور تجھ پر میں نے اپنی محبت ڈال دی ہے۔

صفحہ 136

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول)

مقبول کے اسماء یا صفات یا محامد میں شریک ہو سکے۔ بلاشبہ یہ سچ بات ہے کہ حقیقی طور پر کوئی نبی بھی آنحضرتؐ کے کمالات قدسیہ سے شریک مساوی نہیں ہوسکتا۔ بلکہ تمام ملائکہ کو بھی اس جگہ برابری کا دم مارنے کی جگہ نہیں چہ جائیکہ کسی اور کو آنحضرتؐ کے کمالات سے کچھ نسبت ہو۔ مگر اے طالب علم ارشدک اللہ تم متوجہ ہو کر اس بات کو سنو کہ خداوند کریم نے اس غرض سے کہ تا ہمیشہ اس رسول مقبول کی برکتیں ظاہر ہوں اور تا ہمیشہ اس کے نور اور اس کی قبولیت کی کامل شعاعیں مخالفین کو ملزم اور لاجواب کرتی رہیں‘ اس طرح اپنی کمال حکمت اور رحمت سے انتظام کر رکھا ہے کہ بعض افراد امت محمدیہ کہ جو کمال عاجزی اور تذلل سے آنحضرت ﷺ کی متابعت اختیار کرتے ہیں...... اپنے رسول مقبول کی برکتیں ان کے وجود بے نمود کے ذریعہ سے ظاہر کرتا ہے اور جو کچھ منجانب اللہ ان کی تعریف کی جاتی ہے یا کچھ آثار اور برکات اور آیات ان سے ظہور پذیر ہوتی ہیں‘ حقیقت میں مرجع تام ان تمام تعریفوں کا اور مصدر کامل ان تمام برکات کا رسول کریم ہی ہوتا ہے اور حقیقی اور کامل طور پر وہ تعریفیں اسی کے لائق ہوتی ہیں اور وہی ان کا مصداق اتم ہوتا ہے۔ مگر چونکہ متبع سنن آں سرور کائنات کا اپنے غایت اتباع کے جہت سے اس شخص نورانی کے لیے جو وجود باجود حضرت نبوی ہے مثل ظل ٹھہر جاتا ہے۔ اس لیے جو کچھ اس شخص مقدس میں انوار الہیہ پیدا اور ہویدا ہیں اس کے اس ظل میں بھی نمایاں اور ظاہر ہوتے ہیں اور سایہ میں اس تمام وضع اور انداز کا ظاہر ہونا کہ جو اس کے اصل میں ہے ایک ایسا امر ہے کہ جو کسی پر پوشیدہ نہیں۔

(صفحہ 243، 244 روحانی خزائن ج 1 ص حاشیہ 268، 269 نیز دیکھئے صفحہ 301)

وزوجک الجنۃ یا احمد اسکن انت وزوجک الجنۃ نفخت

صفحہ 137

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول)

فیک من لدنی روح الصدق.

(صفحہ 496 روحانی خزائن ج 1 ص حاشیہ 590‘ 591)

جس کا ترجمہ مرزا صاحب نے یوں کیا ہے:

”اے آدم، اے مریم، اے احمد، تو اور جو شخص تیرا تابع اور رفیق ہے جنت میں یعنی نجات حقیقی کے وسائل میں داخل ہو جاؤ۔ میں نے اپنی طرف سے سچائی کی روح تجھ میں پھونک دی ہے (پھر وضاحت کرتے ہیں کہ ) اس آیت میں بھی روحانی آدم کا وجہ تسمیہ بیان کیا گیا یعنی جیسا کہ حضرت آدم علیہ السلام کی پیدائش بلا توسط اسباب (ماں باپ) ہے ایسا ہی روحانی آدم میں بلا توسط اسباب ظاہریہ نفخ روح ہوتا ہے اور یہ نفخ حقیقی طور پر انبیاء علیہم السلام سے خاص ہے اور پھر بطور تبعیت اور وراثت کے بعض افراد خاصہ امت محمدیہ کو یہ نعمت عطا کی جاتی ہے۔ (صفحہ 497 روحانی خزائن ج 1 ص حاشیہ 591)

(صفحہ 499 روحانی خزائن ج 1 ص حاشیہ 593)

مرزا صاحب نے اس کی توضیح یوں کی ہے:

یہ آخری فقرات اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ اس شخص کے ظہور کے لیے حضرت نبی کریم ﷺ اپنی حدیث متذکرہ بالا میں اشارہ فرما چکے ہیں اور خدائے تعالیٰ اپنے کلام مقدس میں اشارہ فرما چکا ہے۔ چنانچہ وہ اشارہ حصہ سوم کے الہامات میں درج ہو چکا ہے اور فرقانی اشارہ اس آیت میں ہے:

هو الذی ارسل رسولہ بالهدی و دین الحق لیظہرہ علی الدین کلہ۔

صفحہ 138

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول)

یہ آیت جسمانی اور سیاست ملکی کے طور پر حضرت مسیح کے حق میں پیشگوئی ہے اور جس غلبہ کاملہ دین اسلام کا وعدہ کیا گیا ہے وہ غلبہ مسیح کے ذریعہ سے ظہور میں آئے گا۔ اور جب حضرت مسیح علیہ السلام دوبارہ اس دنیا میں تشریف لائیں گے تو ان کے ہاتھ سے دین اسلام جمیع آفاق اور اقطار میں پھیل جائے گا۔ لیکن اس عاجز پر ظاہر کیا گیا ہے کہ یہ خاکسار اپنی غربت اور انکسار اور توکل اور ایثار اور آیات اور انوار کی رُو سے مسیح کی پہلی زندگی کا نمونہ ہے اور اس عاجز کی فطرت اور مسیح کی فطرت باہم نہایت ہی متشابہ واقع ہوئی ہے گویا ایک ہی جوہر کے دو ٹکڑے یا ایک ہی درخت کے دو پھل ہیں۔ اور وہ یوں کہ مسیح ایک کامل اور عظیم الشان نبی یعنی موسیٰؑ کا تابع اور خادم دین تھا۔ اور اس کی انجیل توریت کی فرع ہے اور یہ عاجز بھی اس جلیل الشان نبی کے احقر خادمین میں سے ہے کہ جو سید الرسل اور سب رسولوں کا سرتاج ہے۔ اگر وہ حامد ہیں تو وہ (مرزا صاحب) احمد ہے۔ اور اگر وہ محمود ہیں تو وہ (مرزا صاحب) محمد ہےﷺ۔ (یہ ملحوظ رہے کہ مرزا صاحب جب اپنا تذکرہ کرتے ہیں تو ﷺ کے کلمات استعمال کرتے ہیں حالانکہ یہ صرف انبیاء کے لیے مستعمل ہیں) سو چونکہ اس عاجز کو حضرت مسیح سے مشابہت تامہ ہے‘ اس لیے خداوند کریم نے مسیح کی پیشگوئی میں ابتداء سے اس عاجز کو بھی شریک کر رکھا ہے یعنی حضرت مسیح پیشگوئی متذکرہ بالا کا ظاہری اور جسمانی طور پر مصداق ہے اور یہ عاجز روحانی اور معقولی طور پر اس کا محل اور مورد ہے یعنی روحانی طور پر دین اسلام کا غلبہ جو حُجج قاطعہ اور براہینِ ساطعہ پر موقوف ہے۔ اس عاجز کے ذریعہ سے مقدر ہے گو اس کی زندگی میں یا بعد وفات ہو‘‘۔

(صفحہ 498‘ 499 روحانی خزائن ج 1 ص حاشیہ 593‘ 594)

آسمانی اور خوارقِ غیبی اور معارف و حقائق مرحمت فرما کر اور صدہا دلائل عقلیہ قطعیہ پر علم بخش کر یہ ارادہ فرمایا ہے کہ تعلیماتِ حقہ قرآنی کو ہر قوم اور ہر ملک میں شائع اور رائج فرمادے۔ (صفحہ 501 روحانی خزائن ج 1 ص حاشیہ 596)

صفحہ 139

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول)

براہین اتمام حجت کے محض اپنے فضل اور کرم سے اس عاجز کو عطا فرمائے ہیں‘ وہ امم سابقہ میں سے آج تک کسی کو عطا نہیں فرمائے۔

(صفحہ 502 روحانی خزائن ج 1 ص حاشیہ 597)

کہ مولوی غلام علی صاحب اور مولوی احمد اللہ صاحب امرتسری اور مولوی عبدالعزیز صاحب اور بعض دوسرے مولوی صاحبان اس قسم کے الہام سے کہ جو رسولوں کی وحی سے مشابہ ہے باصرار تمام انکار کر رہے ہیں...... ان کے اس بارہ میں حجت یہ ہے کہ اگر یہ الہام حق اور صحیح ہے تو صحابۂ جناب پیغمبر خدا ﷺ اس کے پانے کے لیے احق اور اولیٰ تھے...... اس کی تصدیق کے لیے شیخ عبدالقادر جیلانی اور مجدد الف ثانی کے مکتوبات اور دوسرے اولیاء اللہ کی کتابیں دیکھنی چاہئیں کہ کس کثرت سے ان کے الہامات پائے جاتے ہیں بلکہ امام ربانی صاحب اپنے مکتوبات کی جلد ثانی میں جو مکتوب پنجاہ و یکم ہے‘ اس میں صاف لکھتے ہیں کہ غیر نبی بھی مکالمات و مخاطبات حضرت احدیت سے مشرف ہوتا ہے اور ایسا شخص محدث کے نام سے موسوم ہے اور انبیاء کے مرتبہ سے اس کا مرتبہ قریب واقع ہوتا ہے۔

(صفحہ 546 روحانی خزائن ج 1 ص حاشیہ 651‘ 652)

نہیں کھولا۔ کیا ہم نے ہر ایک بات میں تیرے لیے آسانی نہیں کی کہ تجھ کو بیت الفکر اور بیت الذکر عطا کیا اور جو شخص بیت الذکر میں باخلاص و قصد تعبد وصحت نیت و حسن ایمان داخل ہوگا‘ وہ سوء خاتمہ سے امن میں آ جائے گا۔ بیت الفکر سے مراد اس جگہ وہ چوبارہ ہے جس میں یہ عاجز کتاب کی تالیف کے لیے مشغول رہا اور رہتا ہے اور بیت الذکر سے مراد وہ مسجد ہے کہ جو اس

صفحہ 140

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول)

چوبارہ کے پہلو میں بنائی گئی ہے اور آخری فقرہ مذکورہ بالا اسی مسجد کی صفت میں بیان فرمایا ہے جس کے حروف سے بنائے مسجد کی تاریخ بھی نکلتی ہے اور وہ یہ ہے مبارک و مبارک و کل امر مبارک یجعل فیہ یعنی یہ مسجد برکت دہندہ اور برکت یافتہ ہے اور ہر ایک امر مبارک اس میں کیا جائے گا۔

(صفحہ 559 روحانی خزائن ج 1 ص حاشیہ 666‘ 667)

براہین احمدیہ کے حصہ سوم اور چہارم کے مندرجہ بالا اقتباسات سے مندرجہ ذیل نکات اخذ ہوتے ہیں:

دعویٰ کیا ہے۔

کے خوف کی وجہ سے لکھا کہ یہ صرف لغوی نزاع ہے کیونکہ انہوں نے اللہ کی طرف سے حاصل کردہ معلومات کو وحی کہا ہے جبکہ علماء اسے الہام کہتے ہیں۔

ایسے لوگوں کو حدیث میں مثل اور قرآن میں صدیق کہا گیا ہے۔

آپ ﷺ اور آپ ﷺ کی سنت کی کامل اتباع کرے تو وہ آپ کا ظل (سایہ) ہوسکتا ہے۔

ہے اور مرزا صاحب لفظ محمد کے بعد جو ان کے خیال میں ان کا نام ہے ﷺ کے دعائیہ کلمات‘ جو صرف انبیاء کے لیے مخصوص ہیں‘ استعمال کرتے ہیں

صفحہ 141

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول)

اور رسول پاک کے اسماء کے بعد یہ کلمات نہیں لکھتے۔

کی پیشگوئی کا ظاہری اور جسمانی مصداق تھے جبکہ اس کا روحانی اطلاق مرزا صاحب پر ہوتا ہے۔

ثانی کے قول کے مطابق محدث وہ شخص ہوتا ہے جسے براہ راست اللہ سے ہم کلام اور مخاطب ہونے کا شرف حاصل ہوتا ہے اور اس کا مرتبہ انبیاء کے مرتبے سے قریب تر ہوتا ہے۔

علی الدین کلہ مرزا صاحب کے لیے نازل ہوئی۔

ہے لیکن مرزا صاحب دنیا میں حضرت مسیح کے ظہور اول کا نمونہ ہیں اور دونوں ایک ہی جوہر کے ٹکڑے ہیں۔

کیے ہیں۔ بیت الفکر وہ چوبارہ تھا جہاں بیٹھ کر انہوں نے براہین احمدیہ لکھی اور بیت الذکر سے مراد وہ مسجد ہے جو اس چوبارے کے نزدیک بنائی گئی تھی۔ الہام کی رُو سے یہ مسجد متبرک ہے اور برکتیں عطا کرتی ہے اور اس میں ہر برکت والا کام کیا جائے گا۔

ان نکات سے یہ صاف ظاہر ہے کہ اپنے دعویٰ کی بنیاد اٹھاتے ہوئے مرزا صاحب نے تسلسل کے ساتھ الہام پر زور دیا ہے جسے وہ اپنی بیان کردہ وجوہات کی بنا پر وحی کہتے تھے۔ مرزا صاحب نے 1882ء میں دعویٰ کیا کہ وہ مامور من اللہ ہیں اور ان کا مقصد اصلاح ہے، اس کی تفصیلات براہین احمدیہ کی جلد سوم میں موجود ہیں لیکن اس کے بعد انہوں نے مجدد ہونے کا دعویٰ کرنے میں دو سال لگا دیے۔ مسیح ہونے کے دعویٰ

صفحہ 142

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول)

کے لیے انہوں نے لکھا کہ وہ عیسیٰؑ سے مماثلت رکھتے ہیں اور وہ وہی شخص ہیں جو وہی کام انجام دے گا جس کے لیے عیسیٰؑ کو جسمانی شکل میں بھیجا گیا۔ ظلی نبوت کے دعویٰ کے لیے انہوں نے کہا کہ ان کی طرف وحی نازل ہوتی ہے جو قرآن کی زبان اور آیات کی شکل میں ہوتی ہے اور وہی آیت 28:48 کا مصداق ہیں۔ وہ نبی کے ظل ہیں اور ظل اصل کی تمام صفات کا حامل ہوتا ہے۔ اس طرح مسیح موعود اور نبی ہونے کے آئندہ دعویٰ کے سلسلے میں تمام رکاوٹیں دور کرنے کی کوشش کی گئی۔ اپنے دعویٰ کے مطابق ان پر الہامات کے نزول کی کیفیات پانچ ہیں جن میں سے دو اس کیفیت سے انتہائی مشابہت رکھتی ہے جو رسول اللہ ﷺ پر نزولِ وحی کے وقت طاری ہوتی تھی۔

ان حوالوں میں سے ایک حوالہ ایسا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ عیسیٰؑ اس دنیا میں مسیح کی صورت میں جسمانی طور پر آ رہا ہے۔ بعد میں جو کچھ کہا گیا وہ صرف یہ ثابت کرنے کی ایک کوشش تھی کہ مسیح کشمیر میں قدرتی موت مر چکا ہے اور اس کا جسمانی حالت میں دوبارہ آنا ناممکن ہے۔ نتیجتاً مثیل مسیح یعنی مرزا صاحب کو مسیح کی دوبارہ آمد کی پیشگوئی پوری کرنا پڑی۔

رسول اللہ ﷺ کے آخری نبی ہونے کے بارے میں قرآن کریم میں ایک واضح آیت موجود ہے۔ یہ رکاوٹ اس طرح دور کی گئی کہ لفظ خاتم کے نئے معانی دریافت کیے گئے کہ آج کے بعد نبی امت مسلمہ سے بھیجے جائیں گے اور وہ رسول اللہ ﷺ کی مُہر سے سند حاصل کریں گے۔

گو مہدی کا ذکر نہیں لیکن مرزا صاحب نے اپنے اندر جن صفات کا دعویٰ کیا تھا، ان کے پیش نظر مہدی ہونے کا دعویٰ کرنا مشکل نہ تھا۔

مرزا صاحب نے 1891ء میں مسیح موعود ہونے کا دعویٰ کیا اور اس کے بعد عیسائی مشنریوں سے بھی مناظرے کیے۔ عبداللہ آتھم ایک عیسائی تھا جو مناظرہ بازی کا ماہر تھا۔ مرزا صاحب نے 22 مئی 1893ء سے 5 جون 1893ء تک اس کے ساتھ اور دیگر عیسائی مشنریوں کے ساتھ مناظرے کیے، جو اسلام بحیثیت مذہب کے سچا اور برتر ہونے

صفحہ 143

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول)

کے بارے میں تھے مناظرے کے آخری دن مرزا صاحب نے ایک پیشگوئی اس طرح کی:

سے جناب الٰہی میں دعا کی کہ تو اس امر میں فیصلہ کر اور ہم عاجز بندے ہیں‘ تیرے فیصلہ کے سوا کچھ نہیں کر سکتے تو اس نے مجھے یہ نشان بشارت کے طور پر دیا ہے کہ اس بحث میں دونوں فریقوں میں سے جو فریق عمداً جھوٹ کو اختیار کر رہا ہے اور سچے خدا کو چھوڑ رہا ہے اور عاجز انسان کو خدا بنا رہا ہے وہ انہی دنوں مباحثہ کے لحاظ سے یعنی فی دن ایک مہینہ لے کر یعنی 15ماہ تک ہاویہ میں گرایا جائے گا اور اس کو سخت ذلت پہنچے گی بشرطیکہ حق کی طرف رجوع نہ کرے اور جو شخص سچ پر ہے اور سچے خدا کو مانتا ہے‘ اس کی اس سے عزت ظاہر ہو گی اور اس وقت جب یہ پیشین گوئی ظہور میں آوے گی بعض اندھے سوجاکھے کیے جاویں گے اور بعض لنگڑے چلنے لگیں گے اور بعض بہرے سننے لگیں گے....... میں اس وقت اقرار کرتا ہوں کہ اگر یہ پیشگوئی جھوٹی نکلی یعنی وہ فریق جو خدائے تعالیٰ کے نزدیک جھوٹ پر ہے‘ وہ پندرہ ماہ کے عرصہ میں آج کی تاریخ سے بسزائے موت ہاویہ میں نہ پڑے تو میں ہر ایک سزا کے اٹھانے کو تیار ہوں۔ مجھ کو ذلیل کیا جاوے اور روسیاہ کیا جاوے۔ میرے گلے میں رسہ ڈال دیا جائے مجھ کو پھانسی دیا جاوے۔ ہر ایک بات کے لیے تیار ہوں اور میں اللہ جل شانہ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ وہ ضرور ایسا ہی کرے گا۔ ضرور کرے گا۔ ضرور کرے گا۔ زمین آسماں ٹل جائیں پر اُس کی باتیں نہ ٹلیں گی“

(جنگِ مقدس‘ صفحات 183۔184 ‘ روحانی خزائن ج 6 ص 291 تا 293)

22اگست 1894ء کو مرزا صاحب نے ایک مکتوب منشی رستم علی کو لکھا جس میں انہوں نے اس اضطراب کا اظہار کیا کہ وہ شخص (آتھم ) ابھی تک صحت مند اور موٹا تازہ ہے۔ انہوں نے امتحان سے بچ جانے کی دعا مانگی۔

(مکتوبات احمدیہ‘ جلد پنجم‘ حصہ سوم مکتوب نمبر 217‘ صفحہ 128 ‘ قادیانی مذہب‘ صفحہ 394 طبع دوم جنوری 2001ء)

سیرت المہدی (جلد اول‘ صفحہ 159 روایت 160) میں ان اقدامات کا ذکر ہے جو مرزا صاحب نے اپنی پیشگوئی کو پورا کرنے کے سلسلے میں کیے۔ اس کتاب

صفحہ 144

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول)

میں یہ کہا گیا ہے کہ میاں عبداللہ سنوری نے انہیں اطلاع دی کہ آتھم کے بارے میں پیشگوئی کی میعاد پوری ہونے سے ایک دن پہلے مسیح موعود نے اسے اور میاں احمد علی کو کہا کہ وہ اتنے وزن میں چنے لائیں اور ان پر فلاں سورۂ قرآن اتنی بار پڑھیں (مصنف کو تعداد اور سورہ یاد نہیں)۔ میاں عبداللہ سنوری نے کہا کہ اس نے قرآن کی اس سورہ کی تلاوت تمام رات کی۔ مرزا صاحب دونوں کو قادیان سے باہر غالباً شمال کی جانب لے گئے اور حکم دیا کہ یہ چنے کسی غیر آباد کنویں میں ڈال دیں اور پھر جلدی سے منہ پھیر کر پیچھے دیکھے بغیر لوٹ آئیں۔ دونوں نے حسب ہدایت عمل کیا۔

پیشگوئی کے آخری دن احمدیوں کے چہرے مرجھائے ہوئے تھے اور وہ انتہائی مایوس تھے۔ بعض لوگوں نے لاعلمی کی بنا پر آتھم کی موت پر شرط لگا دی تھی۔ ہر طرف دل گرفتگی اور مایوسی پھیلی ہوئی تھی۔ لوگ دعاؤں میں روتے تھے اور اللہ سے دعا کرتے تھے کہ انہیں بے عزت نہ کیا جائے۔

(سیرت مسیح موعود ص 7 از شیخ یعقوب علی وقادیانی مذہب‘ صفحہ 395 طبع دوم جنوری 2001ء)

مرزا صاحب نے اس کی وضاحت یہ کہہ کر کی کہ پیشگوئی اس شرط کے تحت تھی کہ آتھم (اپنے عقائد سے) دستبردار نہ ہو۔ پس خود مناظرہ میں ہی اس نے لفظ دجال واپس لے لیا تھا جو کہ اس نے رسول اللہ ﷺ کے بارہ میں ستر افراد کے سامنے کہا تھا۔ نہ صرف یہ بلکہ اس کا یہ رجوع مسلسل پندرہ مہینوں کی خاموشی کے ذریعے ثابت ہو گیا۔ پیشگوئی کی بنیاد یہ تھی کہ اس (آتھم) نے رسول اللہ ﷺ کو (نعوذ باللہ)...... کہا تھا اور اس گناہ کی پشیمانی کی شدت سے وہ پندرہ مہینوں کے بعد مر گیا۔

(انوار الاسلام ص 6 ‘ 7 روحانی خزائن‘ حصہ نہم‘ صفحہ 6 ‘ 7 از کشتی نوح‘ روحانی

خزائن ج 19 ص 6 مطبوعہ 1902ء نیز دیکھئے تتمہ حقیقۃ الوحی‘ صفحہ 118 ‘ 119

روحانی خزائن ج 22 ص 554 ‘ 555)

مرزا صاحب نے ”نسیم دعوت“ (مطبوعہ 1903ء صفحہ 91) میں لکھا کہ بعض دفعہ پیشگوئی کی تکمیل گناہ کی پشیمانی سے موخر ہو جاتی ہے۔ پیشگوئی کی تکمیل پر کوئی

صفحہ 145

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول)

اعتراض اسی صورت میں وارد ہوسکتا تھا جب وہ خود آتھم سے پہلے مرجائیں۔

(نسیم دعوت ص 91 روحانی خزائن 19 ص 451)

یہ ملحوظ رہے کہ پیشگوئی میں اس قسم کی کوئی بات شامل نہ تھی کہ آتھم نے رسول اللہ ﷺ کے لیے نامناسب الفاظ استعمال کیے تھے۔ پیشگوئی کی بنیاد یہ تھی کہ آتھم سچے خدا کو چھوڑ کر ایک عاجز انسان کو الوہیت کا درجہ دیتا ہے۔ اشارہ اس کا انجیلوں پر عقیدے کی طرف تھا۔ پیشگوئی کی تکمیل کے بغیر ہی آتھم کی موت کے لیے مقرر کردہ پندرہ مہینوں کا عرصہ گزر گیا۔

امرتسر کے مولوی ثناء اللہ مرزا صاحب کے بڑے مخالفوں میں سے ایک تھے۔ 15 اپریل 1907ء کو مرزا صاحب نے ایک مکتوب انہیں سخت غصے کے عالم میں (جو مکتوب کی زبان سے عیاں ہے) لکھا جس میں انہوں نے اپنے خلاف ان (مولوی ثناء اللہ) کے اس پراپیگنڈا کا حوالہ دیا کہ وہ کذاب، جھوٹے اور دجال ہیں اور پھر اعلان کیا:

ایک پرچہ میں مجھے یاد کرتے ہیں تو میں آپ کی زندگی میں ہی ہلاک ہو جاؤں گا کیونکہ میں جانتا ہوں کہ مفسد اور کذاب کی بہت عمر نہیں ہوتی اور آخر وہ ذلت اور حسرت کے ساتھ اپنے دشمنوں کی زندگی میں ہی ہلاک ہو جاتا ہے اور اس کا ہلاک ہونا ہی بہتر ہوتا ہے تا خدا کے بندوں کو تباہ نہ کرے اور اگر میں کذاب اور مفتری نہیں ہوں اور خدا کے مکالمہ اور مخاطبہ سے مشرف ہوں اور مسیح موعود ہوں تو میں خدا کے فضل سے امید رکھتا ہوں کہ سنت اللہ کے موافق آپ مکذبین کی سزا سے نہیں بچیں گے۔ پس اگر وہ سزا جو انسان کے ہاتھوں سے نہیں بلکہ محض خدا کے ہاتھوں سے ہے جیسے طاعون، ہیضہ، مہلک بیماریاں آپ پر میری زندگی میں ہی وارد نہ ہوئی تو میں خدا تعالیٰ کی طرف سے نہیں۔‘‘

آخر میں دعا کی گئی ہے کہ اللہ اس بارے میں اپنا فیصلہ نازل فرمائے۔

(مجموعہ اشتہارات ج 3 ص 578' 579 حیات طیبہ صفحہ 423 تا صفحہ 425)

حقیقت یہ ہے کہ مولوی ثناء اللہ طویل عرصہ تک مرزا صاحب کی وفات کے بعد

صفحہ 146

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول)

بھی زندہ رہے اور مرزا صاحب 1908ء میں اپنے پیروؤں کے عام موقف کے مطابق اسہال سے اور اپنے سسر کے موقف کے مطابق ہیضہ میں مبتلا ہو کر مر گئے۔

(دیکھئے قادیانی مذہب از الیاس برنی، صفحہ 181 طبع دوم 2001ء)

مرزا صاحب کی وفات کے بعد ان کے مریدوں نے صورت حال کو الجھانا شروع کر دیا کہ یہ مکتوب مباہلہ (ایک دوسرے پر لعنت بھیجنا اور دعا مانگنا کہ جو شخص صحیح راستے پر نہ ہو، وہ مر جائے) کی پیشکش تھی لیکن مولوی ثناء اللہ نے یہ پیشکش قبول نہ کی‘ حالانکہ یہ مکتوب اس طرح کی تاویل کا متحمل نہیں بلکہ صاف صاف ایک طرفہ طور پر ایک ایسا معاملہ ہے جس میں دوسرے کی رضا مندی کی ضرورت ہی نہیں۔

یہ کوئی اہم امر نہیں کہ کون پہلے مرتا ہے۔ مرزا صاحب کی وفات قبل از وفات مولوی ثناء اللہ نے اس لیے اہمیت اختیار کر لی کیونکہ مرزا صاحب سخت اور گستاخانہ زبان استعمال کرتے اور اکثر اللہ کی طرف سے مبعوث ہونے یا کذاب ہونے کے ثبوت کے طور پر زندگی اور موت کو ٹیسٹ قرار دیتے۔

اپنی سچائی ثابت کرنے کے لیے مرزا صاحب نے جو طریقے اختیار کیے‘ ان میں اپنے مخالفوں کی موت کی پیشگوئی کرنا بھی شامل ہے۔ جب کوئی مخالف مرتا کہ اسے ایک نہ ایک دن مرنا ہی تھا، تو یہ مرزا صاحب کی مزعومہ بعثت کی سچائی کا ثبوت تصور کیا جاتا۔ آخر کار مرزا صاحب کو ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ (ڈپٹی کمشنر) گورداسپور کے حکم مورخہ 23 اگست 1897ء‘ جو ان کے خلاف 107 ضابطہ فوجداری کے تحت نقض امن کے سلسلے میں مقدمہ میں جاری کیا گیا‘ کے ذریعے مجبور کیا گیا کہ وہ کسی شخص کی موت یا تذلیل کی پیشگوئیاں کرنے سے باز رہیں۔ (کتاب البریہ، صفحہ 261 روحانی خزائن ج 13 ص 301) بتایا گیا ہے کہ مرزا صاحب نے عدالت میں یقین دہانی کرائی کہ ایسی زبان استعمال نہیں کریں گے (تبلیغ رسالت، حصہ ششم، صفحہ 168 نیز صفحہ 166 مجموعہ اشتہارات ج 2 ص 468 تا 470) لیکن مرزا صاحب نے اس کا انکار کیا ہے‘ تاہم انہوں نے اس قسم کی یقین دہانی 1899ء میں 25 فروری کو ایم ڈوئی ڈسٹرکٹ

صفحہ 147

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول)

مجسٹریٹ گورداسپور کی عدالت میں کرائی۔ (قادیانی مذہب، صفحہ 449 طبع دوم 2001ء تبلیغ رسالت، حصہ ہشتم، صفحہ 44 مجموعہ اشتہارات ج 3 ص 134 تا 136)

براہین احمدیہ جس میں مرزا صاحب نے وحی خداوندی کے نزول پر بہت زور دیا ہے، کی اشاعت نے مسلمانوں کے جذبہ تجسس کو خاصی حد تک ابھارا۔ وہ مرزا صاحب کی دوسری پیشگوئیوں اور ان کے پورے ہونے کا انتظار کرتے رہتے۔ مرزا صاحب نے اپنی پیشگوئیوں پر مشتمل پمفلٹ بھی شائع کیے۔ یہ پیشگوئیاں پوری نہ ہوئیں۔ اس طرح مرزا صاحب اعتراضات اور تمسخر کا نشانہ بنے اور اپنی پوزیشن صاف کرنے کے لیے انہیں اپنے اقوال کی صحت کے لیے تاویل (کسی لفظ کے واضح معانی کا مختلف مفہوم لینا) کا سہارا لینا پڑا۔

مرزا صاحب نے 20 فروری 1886ء کو ایک وحی ایک پمفلٹ میں شائع کی کہ ان کے ہاں ایک بچہ پیدا ہو گا جس کا نام عمانویل اور بشیر ہو گا۔ اس موقع پر جو بھی پیدا ہو گا، وہ دولت میں کھیلے گا اور بڑی شان وشوکت کا مالک ہو گا۔ جب وہ آئے گا تو وہ ان کی کئی بیماریاں اپنی معجزانہ طاقت سے دور کرے گا۔ وہ کلمۃ اللہ (اللہ کا کلمہ) ہو گا۔ لوگوں نے اس وحی کے پورا ہونے کا انتظار شروع کر دیا۔ پھر ایسا ہوا کہ مئی 1886ء میں مرزا صاحب کے ہاں لڑکی پیدا ہوئی۔ اس موقع پر جیسا کہ سیرت المہدی کے مصنف نے کہا، جو لوگ مرزا صاحب پر ایمان رکھتے تھے، مایوس ہوئے جبکہ اُن لوگوں میں جو اُن پر ایمان نہیں رکھتے یا ان کے مخالف تھے، تمسخر اور ہنسی مذاق کی ایسی لہر اٹھی کہ اس سے زلزلہ کی کیفیت پیدا ہو گئی۔ مرزا صاحب نے پمفلٹ اور خطوط کے ذریعے اعلان کیا کہ اس وحی میں ایسا کوئی اشارہ نہ تھا کہ اسی حمل میں لڑکا پیدا ہو گا۔ (سیرت المہدی، جلد اول، صفحہ 106 روایت نمبر 116)

بعد ازاں اگست 1887ء میں ان کے ہاں ایک لڑکا پیدا ہوا۔ اس پیدائش پر بہت خوشی منائی گئی اور جن کا ایمان ڈگمگا گیا تھا، پختہ ہو گیا۔ لوگوں نے خیال کیا کہ یہ فرزند موعود ہے اور مرزا صاحب بشیر اول کی پیدائش پر یہی رائے رکھتے تھے۔ لوگوں نے

صفحہ 148

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول)

مرزا صاحب کی طرف رجوع کرنا شروع کر دیا۔ لیکن ایک سال بعد وہ لڑکا مر گیا۔ اس واقعہ نے ملک میں اس قدر طوفان اور زلزلہ بپا کیا کہ اس کے مانند قبل ازیں اور بعد ازیں کبھی دیکھا نہ سنا گیا۔ بہت سے ایسے لوگوں کو جو ان پر یقین رکھتے تھے‘ ایسا دھکا لگا کہ پھر مرزا صاحب کی طرف راجع نہ ہوئے۔ مرزا صاحب نے پھر لوگوں کو خطوط اور پمفلٹ کے ذریعے قائل کرنے کی کوشش کی کہ انہیں کبھی یہ یقین نہ تھا کہ یہی لڑکا وحی کا مصداق ہے۔ چونکہ ان پر کئی بار وحی کا نزول ہوا‘ جس میں اس کے درجات بہت بلند کیے گئے تو انہوں نے سوچا کہ شاید یہی لڑکا فرزند موعود ہو گا لیکن خود وحی میں اس طرف کوئی اشارہ نہیں تھا۔ ان کے کچھ مریدوں کو ان کی اس تاویل پر یقین آ گیا جبکہ دیگر پیرو مایوس ہوئے اور مخالفوں نے تمسخر اڑایا۔ (سیرت المہدی‘ جلد اول‘ صفحہ 106‘ 116)

یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ وحی پر مشتمل پمفلٹ 20 فروری 1886ء کو شائع ہوا۔ ایک اور پمفلٹ 22 مارچ 1886ء کو شائع کیا گیا‘ جس میں کہا گیا کہ یہ لڑکا نو سال کے اندر پیدا ہو گا۔ تیسرا پمفلٹ 8 اپریل 1886ء کو شائع ہوا جس میں بیان کیا گیا کہ جلد ہی ایک لڑکا پیدا ہو گا اور اس کے پیدا ہونے کا عرصہ حمل کے عرصے سے زیادہ نہ ہو گا۔ (تبلیغ رسالت‘ حصہ اول‘ صفحات 86-87 مجموعہ اشتہارات ج 1 ص 128 حاشیہ) اسی وجہ سے جب مئی 1886ء میں مرزا صاحب کے ہاں لڑکی پیدا ہوئی تو لوگوں نے مرزا صاحب کا مذاق اڑایا۔ لیکن مرزا صاحب نے اسے بھی اپنے حق میں استعمال کیا۔ کہا گیا کہ یہ پیشگوئی کبھی نہیں کی گئی کہ اسی حمل سے لڑکا پیدا ہو گا۔ حمل کے عرصے سے زیادہ عرصہ نہ ہونے کے الفاظ کا یہ معنی بھی ہو سکتا ہے کہ لڑکا اڑھائی یا تین سال میں پیدا ہو اور اس کا یہ مطلب بھی ہو سکتا ہے کہ نو سال کے اندر لڑکا کسی وقت بھی پیدا ہو سکتا ہے (ایضاً) ظاہر ہے کہ یہ تاویلات لوگوں کو مطمئن نہیں کر سکتی تھیں۔

یہ وضاحت کہ مرزا صاحب کو یقین نہ تھا کہ بشیر اول وحی کا مصداق ہے‘ پمفلٹ 7 اگست 1887ء کی روشنی میں پرکھی جا سکتی ہے جس میں مرزا صاحب نے بکمال مسرت پورے اطمینان کا اظہار کیا ہے کہ اس رات کو ڈیڑھ بجے پیشگوئی سچی

صفحہ 149

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول)

ثابت ہوئی اور وہ بابرکت فرزند پیدا ہوا (تبلیغ رسالت‘ حصہ اول‘ صفحہ 99 مجموعہ اشتہارات ج 1 ص 141) پمفلٹ کا عنوان ہی خوشخبری رکھا گیا۔ خوشخبری کے پمفلٹ نے ثابت کر دیا کہ مرزا صاحب کو خود بھی یقین تھا اور انہوں نے خود ہی یہ خبر عوام میں پھیلائی۔ مرزا صاحب کی محمدی بیگم کے ساتھ شادی کرنے کی کوششیں اور ان میں ناکامی کا سب کو علم ہے۔

20 فروری 1887ء کے پمفلٹ میں‘ جس میں لڑکے کی پیدائش کے بارے میں پیشگوئی تھی‘ ایک اور پیشگوئی درج کی گئی جس کے بارے میں دعویٰ کیا گیا کہ یہ وحی کی بنیاد پر کی گئی۔ اس میں مرزا صاحب نے لکھا کہ خدا نے انہیں عورتوں کی اچھی خبریں دی ہیں جن میں سے کچھ کو وہ مستقبل میں حاصل کر سکیں گے۔ ان کے دوسرے پمفلٹوں اور تحریروں سے ظاہر ہے کہ یہ خبریں ان کی مستقبل کی شادیوں کے بارے میں تھیں‘ لیکن یہ حقیقت ہے کہ مرزا صاحب کی آخری شادی 17 نومبر 1884ء کو ہوئی تھی۔ (حیات طیبہ‘ صفحہ 75)

مرزا صاحب نے مولوی نور الدین کے نام 8 جون 1886ء کے ایک مکتوب میں لکھا کہ تقریباً چار ماہ پہلے ان پر یہ کشف ہوا کہ ان کے ہاں ایک صاحب درجات لڑکا تولد ہوگا۔ کچھ عرصہ سے انہیں کئی الہام ہو رہے تھے کہ ان کی پھر شادی ہوگی اور اللہ کی طرف سے یہ فیصلہ ہو چکا ہے کہ انہیں ایک نیک اور پاکباز بیوی عطا کی جائے گی‘ جس سے ان کی اولاد ہو گی۔ اس کے بعد انہوں نے شادی کے دو پیغامات بھیجے جو نا منظور ہوئے۔ (مکتوبات احمدیہ‘ جلد پنجم‘ حصہ 2 مکتوب نمبر 4 ص 5-6)

مرزا صاحب نے دعویٰ کیا کہ اللہ تعالیٰ نے بارہا انہیں پیشگوئی کے طور پر مطلع کیا کہ ان کی شادی مرزا احمد بیگ کی بڑی لڑکی سے ہوگی‘ خواہ کنوار پن کی حالت میں خواہ بیوگی کی صورت میں۔ (ازالہ اوہام‘ صفحہ 396 روحانی خزائن ج 3 ص 305)

10 مئی 1888ء کو مرزا صاحب کی طرف سے شادی کی درخواست کا ایک خط اخبار ”نور افشاں“ میں شائع ہوا۔ ان کے مخالفوں نے انہیں اپنے اعتراضات کا

صفحہ 150

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول)

نشانہ بنا لیا۔ مرزا صاحب نے جواب میں ایک اور پمفلٹ مورخہ 19 جولائی 1888ء کو شائع کیا جس میں انہوں نے اپنے اس خط کا جواز پیش کیا اور پھر کہا کہ انہوں نے اللہ کے حکم کی تعمیل میں مرزا احمد بیگ کی بڑی لڑکی محمدی بیگم کے رشتہ کے لیے کہا ہے۔ انہوں نے اپنے مقصد کے حصول کے لیے جو طریق کار اختیار کیا‘ اس کی تفصیل دی۔ ان کے بعض قریبی رشتہ داروں نے ان سے نشانات طلب کیے۔ لڑکی (محمدی بیگم) کا والد ان کا تابع فرمان تھا اور اپنی لڑکیوں کو ان (رشتہ داروں) کی لڑکیاں تصور کرتا تھا اور وہ بھی یہی تصور کرتے تھے۔ وہ مرزا صاحب کو جھوٹا اور کذاب سمجھتے تھے۔ انہوں نے اسلام اور قرآن کریم پر اعتراضات کیے اور مرزا صاحب سے نشانیاں طلب کیں۔ اس وجہ سے مرزا صاحب نے ان کے لیے کئی بار دعا کی‘ جو اس طرح قبول ہوئی کہ لڑکی کے والد نے ان سے ایک مسئلے میں مدد چاہی۔ اس کی بہن مرزا صاحب کے ایک چچا زاد بھائی غلام حسین سے شادی شدہ تھی۔ غلام حسین گزشتہ پچیس سال سے لاپتہ تھا۔ اس کی زمین‘ جس کے مرزا صاحب قانونی وارث تھے‘ اس کی بیوی کے نام کاغذات مال میں درج کرائی گئی تھی۔ اس کا بھائی احمد بیگ چاہتا تھا کہ اس زمین‘ جس کی قیمت چار پانچ ہزار روپے تھی‘ کا ہبہ اس کے لڑکے محمد بیگ کے نام ہو جائے۔ غلام حسین کی بیوی کی طرف سے ایک ہبہ نامہ تیار کیا گیا اور مرزا صاحب کے پاس ان کی رضا مندی کے حصول کے لیے لایا گیا جو کہ قانوناً ضروری تھا۔ مرزا صاحب دستخط کرنے پر آمادہ تھے لیکن انہیں اللہ کی طرف سے حکم ملا کہ اب انہیں اس (احمد بیگ) کی لڑکی کا رشتہ مانگنے کی تحریک کرنی چاہیے اور اسے بتانا چاہیے کہ اس تبرع اور سخاوت کا اظہار اسی شرط کے تابع ہے اور یہ شادی برکت کا سبب اور مغفرت کی وجہ بنے گی اور اگر وہ اس شادی پر رضا مند نہ ہوا تو لڑکی غم وجنون کا شکار ہو جائے گی اور جس شخص کے ساتھ اس کی شادی ہوگی‘ وہ شادی کے اڑھائی سال کے اندر مر جائے گا۔ اور اس کا والد اس سے تین سال کے اندر مر جائے گا۔

(تبلیغ رسالت‘ حصہ اول‘ صفحہ 116 مجموعہ اشتہارات ج 1 ص 157‘ 158)

مندرجہ بالا پمفلٹ کے ضمیمہ مورخہ 15 جولائی 1888ء سے معلوم ہوتا ہے

صفحہ 151

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول)

کہ مرزا صاحب کے رشتہ داران کو کذاب اور سوداگر (جس نے دولت ہتھیانے کے لیے اللہ سے ہم کلام ہونے کا دعویٰ کیا) خیال کرتے تھے۔ مرزا صاحب نے لکھا کہ یہ لوگ نشانیاں دکھانے پر بھی مطمئن نہ ہوئے۔ انہیں اس رشتہ کی ضرورت ہی نہ تھی۔ شادی کی درخواست صرف بطور نشانی تھی تاکہ جو لوگ انہیں ماننے سے انکاری ہیں انہیں خدا کی طرف سے قدرت کے عجائب دکھائے جائیں اور ان کی جانب سے (شادی کی تجویز) کی قبولیت کی صورت میں ان پر اللہ تعالیٰ کی رحمتوں اور برکتوں کا نزول ہوتا اور آنے والی آفتیں اور مصائب ٹل جاتے لیکن اگر وہ انہیں مسترد کردیں تو ان کی تنبیہ کے لیے خوفناک اور خطرناک نشانیوں کا ظہور ہو۔

(ایضاً، صفحات 119۔120 مجموعہ اشتہارات ج 1 ص 161‘ 162)

مرزا صاحب نے ان دھمکیوں پر ہی اکتفا نہیں کیا‘ انہوں نے اپنے رشتہ داروں اور خود مرزا احمد بیگ کو خطوط لکھے۔ یہ التجاؤں کے خطوط تھے۔ مرزا احمد بیگ کے نام 20 فروری 1888ء کے خط میں لکھا کہ شادی کے وعدے کی صورت میں وہ ہبہ نامے پر دستخط کرنے پر آمادہ ہوں گے اور ان کی اپنی جائیداد خدا اور احمد بیگ کی ملک ہو گی۔ انہوں نے یہ وعدہ بھی کیا کہ ان کی کوششوں سے اس کا لڑکا محکمہ پولیس میں ملازم ہو جائے گا اور اس کا نکاح ان کے کسی متمول پیروکار کی لڑکی سے کر دیا جائے گا۔ (نوشتہ غائب از ایم۔ ایس خالد‘ صفحہ 100۔ دیکھئے قادیانی مذہب از الیاس برنی، طبع دوم 2001ء ص 456) انہوں نے 17 جولائی 1892ء کو مرزا احمد بیگ کو ایک اور خط تحریر کیا جس میں کہا کہ ان کی شادی کی پیشگوئی بہت مشہور ہے اور اس سے اس پیشگوئی کی تکمیل میں مدد دینے کی درخواست کی۔ (کلمہ فضل رحمانی از قاضی فضل احمد‘ صفحہ 123‘ قادیانی مذہب، طبع دوم 2001ء ص 458 تا 460)۔ مرزا صاحب کے بیٹے فضل احمد کی شادی مرزا شیر علی کی لڑکی کے ساتھ ہوئی تھی اور مرزا شیر علی کی زوجہ مرزا احمد بیگ کی بہن تھی۔ مرزا صاحب نے مرزا شیر علی اور اس کی بیگم کو بھی خطوط لکھے اور ان سے محمدی بیگم کے نکاح کے حصول میں مدد دینے کے لیے کہا اور انہیں دھمکی دی کہ اگر اس کی شادی کسی اور شخص کے ساتھ کر دی گئی تو وہ اپنے بیٹے فضل احمد سے کہیں گے کہ وہ اپنی

صفحہ 152

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول)

بیوی کو طلاق دے دے۔ مرزا شیر علی نے مرزا صاحب کو جواباً لکھا کہ اگر وہ اپنے آپ کو مرزا احمد بیگ کی جگہ تصور کریں اور موخر الذکر ان سے ان کی لڑکی کے ساتھ شادی کرانے کی درخواست کرے اور وہ پچاس سال سے زیادہ عمر کا ہو اور مسیلمہ کذاب (رسول اللہ ﷺ کے زمانے کا اک جھوٹا مدعی نبوت) پر سبقت لے گیا ہو تو وہ رشتہ دیتے؟ مرزا صاحب کی اس دھمکی کے جواب میں کہ اپنی بیوی (جو مرزا احمد بیگ کی ہمشیرہ تھیں) کے ذریعے مرزا احمد بیگ پر اثر انداز ہونے سے انکار کی صورت میں ان کا لڑکا ان کی لڑکی کو طلاق دے دے گا، مرزا شیر علی نے دریافت کیا کہ اس کی بیوی کا کیا حق ہے کہ اپنی بیٹی کے لیے بھائی کی لڑکی کو ایک دائم المریض آدمی کو جو مراق سے خدائی تک پہنچ چکا ہو دینے کے لیے کہے۔ (قادیانی مذہب، طبع دوم 2001ء ص 462-463)

بالآخر مرزا صاحب کے دباؤ کے تحت ان کے بیٹے فضل احمد نے اپنی بیوی مرزا شیر علی بیگ کی لڑکی کو بادل ناخواستہ طلاق دے دی۔ مرزا صاحب کی پہلی بیوی اور اس کے بیٹے سلطان احمد نے محمدی بیگم کے خاندان کا ساتھ دیا۔ مرزا صاحب نے اپنی بیوی کو طلاق دے دی اور اپنے بیٹے سلطان احمد کو اپنی وراثت سے محروم کر دیا۔

(تبلیغ رسالت، جلد 2، صفحات 9 تا 11 مجموعہ اشتہارات ج 1 ص 219 تا 221)

محمدی بیگم کی شادی مرزا سلطان محمد کے ساتھ ہو گئی جو پیشگوئی کے مطابق فوت نہیں ہوئے اور ایک مدت دراز تک زندہ رہے۔ مرزا احمد بیگ اپنی لڑکی کی شادی سے چھ ماہ کے اندر فوت ہو گیا اور اسے پیشگوئی کی تکمیل قرار دیا گیا۔ لیکن سلطان محمد کی شادی اور موت کا کیا ہوا؟ وہ مرزا صاحب کے مرنے کے بعد بھی عرصہ دراز تک زندہ رہے۔ جنگ عظیم اول میں شریک ہو کر زخمی ہوئے لیکن زندہ رہے

(قادیانیت از سید ابوالحسن ندوی، صفحہ 165)

سیرت المہدی میں یہ بات تسلیم کی گئی ہے کہ مرزا صاحب نے اپنے رشتہ داروں کو خطوط لکھے اور اس شادی کے لیے بڑی جدوجہد کی۔ (جلد اول، صفحہ 205، روایت نمبر 179) تاہم مصنف نے یہ واضح کرنے کی سعی کی ہے کہ کوئی نبی بھی ایسا

صفحہ 153

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول)

نہیں جس نے اپنی پیشگوئیوں کی تکمیل کی کوشش نہ کی ہو۔ (ایضاً‘ صفحہ 193 روایت نمبر 179) یقیناً بہت ہی بڑا دعویٰ ہے لیکن اسے درست فرض کرتے ہوئے بھی کیا یہ جائز تھا کہ وہ اپنے بیٹے کو اپنی بیوی کو طلاق دینے پر مجبور کرتے اور اپنے بیٹے کے خسر کو دھمکیاں دیتے کہ ان کی مدد کرنے سے انکار کی صورت میں وہ اپنے بیٹے کو ہدایت کریں گے کہ وہ اپنی بیوی کو طلاق دے دے۔ جس دین کو مرزا صاحب بظاہر مانتے تھے اس میں ایسا کوئی تصور موجود نہیں ہے کہ نافرمان لڑکے کو اپنی زندگی میں ہی وراثت سے محروم کر دیا جائے لیکن انہوں نے اس کا تحریری اعلان کیا۔ انہوں نے اسی بنا پر اپنی پہلی بیوی کو بھی طلاق دے دی کہ وہ اس شادی کے لیے اپنے رشتہ داروں پر زور دینے کے لیے آمادہ نہ ہوئی۔ اسلام میں طلاق مکروہ ترین چیز ہے۔ لیکن مرزا صاحب اپنی بیوی‘ اپنے بیٹے اور بہو سے بھی انتقام لینے میں تیز نکلے۔

سیرت المہدی کا مصنف لکھتا ہے کہ نہ صرف مرزا احمد بیگ کا انتقال ہو گیا بلکہ خاندان کئی بدنصیبیوں سے دوچار ہوا۔ کہا جاتا ہے کہ مرزا احمد بیگ کی موت سے پیشگوئی پوری ہو گئی۔ لیکن پیشگوئی یہ تھی کہ محمدی بیگم کا خاوند اڑھائی سال کے اندر اور اس کا والد تین سال کے اندر مر جائیں گے۔ پیشگوئی کی معقول تعبیر یہ ہوتی کہ والد کی موت‘ محمدی بیگم کے خاوند کی موت کے بعد لیکن شادی کے تین سال کے اندر‘ واقع ہوتی۔ لیکن وہ شادی کے بعد جلدی مر گیا اور جس شخص کو پہلا شکار ہونا تھا، وہ زندہ رہا۔

منگنی یا شادی میں ناکامی یا کامیابی عام حالات میں کوئی بڑی اہمیت نہیں رکھتی لیکن مرزا صاحب کے خدائی الہام پر اصرار نے اس واقعہ کو اہمیت دے دی۔ انجام آتھم ص حاشیہ 31 روحانی خزائن ج 11 ص حاشیہ 31) میں لکھا:

میں جھوٹا ہوں تو یہ پیشگوئی پوری نہیں ہوگی اور میری موت آجائے گی۔“

اور یہ پوری نہ ہوئی۔ یہ 1899ء کی بات ہے‘ شادی کے بارے میں اس سے قبل بھی وہ تقریباً یہی بات ایک رسالے مطبوعہ 6 ستمبر 1894ء میں کہہ چکے تھے۔ انہوں

صفحہ 154

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول)

نے لکھا تھا:

جو کسی طرح ٹل نہیں سکتی کیونکہ اس کے لیے الہام الہی میں یہ فقرہ موجود ہے کہ لا تبدیل لکلمات اللہ یعنی میری یہ بات ہرگز نہیں ٹلے گی۔ پس اگر ٹل جائے تو خدا کا کلام باطل ہوتا ہے۔“ (مجموعہ اشتہارات ج 2 ص 43)

لیکن جس وقت یہ الفاظ لکھے جا رہے تھے‘ سلطان محمد کی موت کے لیے مقرر کردہ مدت اس سے قبل گزر چکی تھی۔ لیکن مرزا صاحب مصر رہے کہ جو مقرر ہو چکا ہے‘ وہ ضرور واقع ہو گا خواہ اس میں کچھ تاخیر ہو جائے۔

1891ء میں مرزا صاحب نے پیشگوئی کی:

یہ پیشگوئی بہت سی تعبیرات کا موضوع سخن بنی رہی‘ کیونکہ برطانوی حکمرانی جنگ عظیم دوم کے بعد تک قائم رہی۔ (دیکھئے سیرت المہدی‘ جلد 2‘ صفحہ 9 روایت نمبر 313)

براہین احمدیہ‘ جلد 5 صفحات 73 ، 74 روحانی خزائن ج 21 ص 94 ، 95) میں مرزا صاحب نے قرآن کریم کی آیت 3:55:

الذین کفروا وجاعل الذین اتبعوک فوق الذین کفروا الی یوم القیامۃ.

(جب اللہ نے کہا اے عیسیٰ میں تجھے قبض کرنے والا ہوں اور اپنی طرف اٹھا لینے والا ہوں اور جن لوگوں نے کفر کیا ہے ان سے تجھے پاک کرنے والا ہوں اور جن لوگوں نے تیری پیروی کی ان کو قیامت تک کے لیے ان لوگوں پر غالب کرنے والا ہوں جنہوں نے تمہارا انکار کیا ہے۔)

درج کرنے کے بعد لکھا ہے:

بریت ظاہر کروں گا اور جو تیرے پیرو ہیں‘ میں قیامت تک ان کو تیرے منکروں پر غالب

صفحہ 155

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول)

رکھوں گا۔ اس جگہ اس وحی الہی میں عیسیٰ سے مراد میں ہوں اور تابعین یعنی پیروؤں سے مراد میری جماعت ہے۔ قرآن شریف میں یہ پیشگوئی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی نسبت ہے اور مغلوب قوم سے مراد یہودی ہیں جو دن بدن کم ہوتے گئے۔ پس اس آیت کو دوبارہ میرے لیے اور میری جماعت کے لیے نازل کرنا اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ مقدر یوں ہے کہ وہ لوگ جو اس جماعت سے باہر ہیں‘ وہ دن بدن کم ہوتے جائیں گے اور تمام فرقے مسلمانوں کے جو اس سلسلہ سے باہر ہیں‘ وہ دن بدن کم ہو کر اس سلسلہ میں داخل ہوتے جائیں گے یا نابود ہوتے جائیں گے۔“

اس پیشگوئی کا بطلان اس قدر عیاں اور ظاہر ہے کہ اس بارے میں کچھ زیادہ کہنے کی ضرورت نہیں۔ 1981ء کی آخری مردم شماری کے مطابق پاکستان میں قادیانیوں کی تعداد 103,000 ہے اور صرف پنجاب میں جہاں مرزا صاحب کے کچھ ماننے والے موجود تھے‘ مسلمانوں کی تعداد میں کئی گنا اضافہ ہو چکا ہے۔ قادیانیوں کی تعداد میں ہمیشہ مبالغہ کیا گیا ہے۔ یہ امر مذہب اور اخلاقیات کی انسائیکلوپیڈیا‘ جلد 10‘ صفحہ 530 (ق) سے ظاہر ہوتا ہے:

اپنے اراکین کی تعداد 313 ہونے کا دعویٰ تھا۔ 1901ء کی سرکاری مردم شماری میں صوبہ ہائے متحدہ میں 1113 مرد اور بمبئی پریذیڈنسی میں 11087 (صاف طور پر غلط )۔ 1904ء میں مرزا صاحب نے 100,000 سے زیادہ مریدوں کا دعویٰ کیا اور اپنی موت سے قبل پیروکاروں کی کل تعداد کا تخمینہ 500,000 لگایا۔ اس واضح مبالغے کا موازنہ 1911ء میں پنجاب کی مردم شماری کی رپورٹ کے نتائج سے کیا جا سکتا ہے‘ یعنی 18,695 احمدی۔ ایک آزاد تخمینے کے مطابق آج کے ہندوستان میں تحریک کی کل تعداد غالباً 60,000 ہوگی۔ دوسرے ممالک میں بھی کچھ بکھرے ہوئے پیروکار موجود ہیں۔“

1931ء کی مردم شماری میں ان کی تعداد 55 ہزار ہے جس کا اندازہ مرزا محمود احمد نے پچھتر ہزار لگایا۔ (خطبہ میاں محمود احمد الفضل‘ قادیان‘ جلد 21 نمبر 152 مورخہ

صفحہ 156

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول)

21 جون 1934ء قادیانی مذہب، صفحہ 502 طبع دوم (2001)

ایک رسالہ مورخہ 27 دسمبر 1899ء میں مرزا صاحب نے لکھا کہ انہوں نے کسی کتاب میں اپنے پیروؤں کی تعداد تین سو دی تھی۔ یہ تعداد دس ہزار ہو چکی ہے اور تین سال کے اندر ایک لاکھ سے بڑھ جائے گی۔ (تبلیغ رسالت، جلد 8، صفحہ 54 مجموعہ اشتہارات ج 3 ص حاشیہ 144)۔ ایک رسالے مورخہ 4 نومبر 1900ء میں انہوں نے اس تعداد کا تخمینہ تیس ہزار لگایا۔ (ایضاً، جلد 9، صفحہ 90 مجموعہ اشتہارات ج 3 ص 364) مرزا صاحب نے حلفاً کہا کہ ”میں حلفاً کہہ سکتا ہوں کہ کم از کم ایک لاکھ آدمی میری جماعت میں ایسے ہیں کہ سچے دل سے میرے پر ایمان لائے ہیں۔

(سیرت المہدی، جلد 1، صفحہ 165 روایت نمبر 157)

تحفۃ الندوہ (1902ء) ص 8 روحانی خزائن ج 19 ص 101، 102 میں بھی انہوں نے یہی تعداد مقرر کی اور کہا کہ ان میں سے دس ہزار طاعون کے زمانے میں شامل ہوئے تھے۔ حقیقۃ الوحی کے تتمہ (مطبوعہ 1907ء) صفحہ 117 روحانی خزائن ج 22 ص 552 میں مرزا صاحب نے اپنے پیروؤں کی تعداد چار لاکھ بتائی۔ مرزا صاحب اور ان کے جانشینوں کے علاوہ ان کے پیروکاروں، جن میں مبارک احمد پروفیسر جامعہ احمدیہ قادیان شامل ہیں، نے بھی تعداد کو بڑھا چڑھا کر بیان کیا ہے۔

موخر الذکر نے احمدیوں کی تعداد پچاس لاکھ بیان کی ہے۔ عبدالرحیم درد نے فلبی کے سامنے بیان کیا کہ پنجاب کے مسلمانوں کی غالب اکثریت احمدی مسلمانوں کی ہے۔ یہ بیان اس وقت دیا گیا تھا جب پنجاب کے مسلمانوں کی تعداد صرف ڈیڑھ کروڑ تھی۔ اس کا معنی یہ ہوا کہ اس کے دعوے کے مطابق پنجاب میں قادیانیوں کی تعداد پچھتر لاکھ تھی۔ حال ہی میں اکانومسٹ لندن نے یہ تعداد ایک کروڑ دی ہے۔ اس رسالے نے یقیناً قادیانیوں سے غذا پائی ہوگی۔ پنجاب کے مسلمانوں کی تعداد ساڑھے چار کروڑ سے زیادہ ہے اور پورے ملک میں قادیانیوں کی تعداد 103,000 ہے۔ یہ تھی مرزا صاحب کی پیشگوئی!

صفحہ 157

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول)

ٹربیون کلکتہ نے ایک مضمون میں جو مرزا صاحب کے انتقال پر لکھا گیا تھا، ان کے متبعین کی تعداد بیس ہزار بتائی ۔ (سیرت المہدی، جلد 1، صفحہ 265، نمبر 290)

جب مرزا صاحب کے تھوڑے بہت پیروکار بن گئے تو انہوں نے ایک رسالہ مورخہ یکم دسمبر 1888ء میں انہیں بیعت کرنے کی دعوت دی۔ (حیات طیبہ، صفحات 97-98) انسائیکلو پیڈیا آف ریلیجن اینڈ ایتھکس کے مضمون قادیان (جلد 10) کے مطابق ایسے پیروکاروں کی تعداد 1896ء میں 313 تھی۔

اپنے حامیوں کی کافی بڑی تعداد جمع کر لینے کے بعد مرزا صاحب نے 1891ء میں اپنے مسیح موعود اور مہدی موعود ہونے کے اعلان کا دوسرا قدم اٹھایا، اور امت مسلمہ کا یہ خدشہ کہ وہ دعویٰ نبوت کرنے کی جانب رواں دواں ہیں، جزوی طور پر درست ثابت ہوا۔ در حقیقت مرزا صاحب پہلے ہی براہین احمدیہ میں اپنے مسیح موعود ہونے کی بنیاد رکھ چکے تھے کیونکہ وہاں وہ اپنے مثیل مسیح (مسیح جیسا) ہونے کا دعویٰ کر چکے تھے۔

مرزا صاحب نے فتح اسلام (1891ء میں طبع ہوئی تھی) میں یہ اعلان کر دیا تھا کہ

پر دلوں میں قائم کر دیا جائے ۔ میں اس طرح بھیجا گیا ہوں جس طرح سے وہ شخص بعد کلیم اللہ مرد خدا کے بھیجا گیا تھا جس کی روح بہت تکلیفوں کے بعد آسمانوں کی طرف اٹھائی گئی ۔ سو جب دوسرا کلیم اللہ جو حقیقت میں سب سے پہلا اور سید الانبیاء ہے، دوسرے فرعونوں کی سرکوبی کے لیے آیا جس کے حق میں ہے (آیت قرآنی المزمل: 15) انا ارسلنا الیکم رسولا شاهداً عليكم كما ارسلنا الى فرعون رسولا ۔ سو اس کو بھی جو اپنی کارروائیوں میں کلیم اول (موسیٰ) کا مثیل مگر رتبہ میں اس سے بزرگ تر تھا۔ ایک مثیل المسیح کا وعدہ دیا گیا اور وہ مثیل المسیح قوت اور طبع اور خاصیت مسیح ابن مریم پا کر اسی زمانہ کی مانند اور اسی مدت کے قریب قریب جو کلیم اول کے زمانہ سے مسیح ابن مریم کے زمانہ تک تھی یعنی چودھویں صدی میں آسمان سے اترا۔“

(دیکھئے فتح اسلام ص 10، 11 مطبوعہ روحانی خزائن، جلد 3، صفحہ 8)

صفحہ 158

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول)

”کلیم اول“ کے بعد کی زبان مبہم ہے۔ لیکن میں نے مرزا صاحب کے نظریے کا وہ منشا بیان کر دیا ہے جسے وہ خود دیگر کتب اور مقامات میں واضح کر چکے ہیں۔ مرزا صاحب نے لکھا کہ ”جس مسیح نے آنا تھا وہ آچکا ہے“ (فتح اسلام ص حاشیہ 15 روحانی خزائن ج 3 ص 10)۔ مرزا صاحب کا یہ نظریہ کہ وہ مسیح کے نام سے مبعوث ہوئے ہیں‘ نیا نہیں ہے۔ براہین احمدیہ میں وہ بیان کر چکے ہیں کہ ان کی فطرت میں مسیح سے ایک مخصوص مشابہت موجود ہے اور اس وجہ سے وہ مسیح کے نام سے مبعوث ہوئے ہیں۔ اس نظریے میں بعد میں یہ ترقی ہوئی کہ عیسیٰؑ فوت ہو چکے ہیں اور انہوں نے کشمیر میں اپنی طبعی موت سے وفات پائی تھی اور چونکہ ان کی روح جنت میں جا چکی ہے‘ اس لیے وہ واپس اس دنیا میں تشریف نہیں لائیں گے۔

وہ توضیح المرام (مطبوعہ 1891ء ص 19 روحانی خزائن‘ جلد 3‘ ص 60) میں مزید لکھتے ہیں:

سے وحی پر مہر لگائی گئی ہے بلکہ جزئی طور پر وحی اور نبوت کا اس امت مرحومہ کے لیے ہمیشہ دروازہ کھلا ہے مگر اس بات کو بحضور دل یاد رکھنا چاہیے کہ یہ نبوت جس کا ہمیشہ کے لیے سلسلہ جاری رہے گا نبوت تامہ نہیں ہے۔...... بلکہ وہ صرف ایک جزئی نبوت ہے جو دوسرے لفظوں میں محدثیت کے اسم سے موسوم ہے جو انسان کامل کی اقتداء سے ملتی ہے۔“

براہین احمدیہ میں وہ محدث کو نبی کے برابر قرار دے چکے ہیں لیکن اب اسے جزوی نبی کہہ رہے ہیں۔ براہین احمدیہ کے اصل الفاظ یہ ہیں ”اور انبیاء کے مرتبہ سے اس کا مرتبہ قریب واقع ہوتا ہے (صفحہ 46)۔ انہوں نے عیسیٰؑ کی والدہ مریمؑ‘ موسیٰؑ کی والدہ اور عیسیٰؑ اور خضرؑ کے حواریوں کی مثالیں دی ہیں‘ جن میں سے کوئی بھی پیغمبر نہ تھا۔

در حقیقت وہ 1890ء تک قطعی ختم نبوت کے موقف پر قائم رہے لیکن بعد میں اوپر بیان کیا ہوا موقف اختیار کر لیا۔

انہوں نے شریعت کے بغیر نبیوں کی آمد کا دروازہ کھلا رکھا اور اپنا یہ عقیدہ ان

صفحہ 159

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول)

الفاظ میں بیان کیا:

تنسیخ یا کسی ایک حکم کے تبدیل یا تغیر کر سکتا ہو۔ اگر کوئی ایسا خیال کرے تو وہ ہمارے نزدیک جماعت مومنین سے خارج اور ملحد اور کافر ہے۔‘‘ (ازالہ اوہام صفحہ 138 روحانی خزائن ج 3 ص 170)

1891ء تک تو برصغیر ہندوستان کے مسلمان‘ مرزا صاحب کی پیشگوئیوں کے جھوٹا ثابت ہونے پر ان کا صرف مذاق اڑاتے۔ محمدی بیگم کے واقعہ میں آ چکا ہے کہ خود ان کے اپنے خاندان کے افراد انہیں دجال‘ مسیلمہ اور اسی نوع کے دیگر القاب سے یاد کرتے۔ غالباً وہ انہیں بہتر جانتے تھے۔ لیکن مسیح اور مہدی ہونے کے دعویٰ نے مسلمانوں کو پریشان کر دیا اور تنقید اور غم وغصہ کا ایک طوفان اٹھ کھڑا ہوا۔ مرزا صاحب نے بظاہر مسلمانوں کو ٹھنڈا کرنے کی غرض سے اپنے قدموں پر کچھ واپسی دکھائی۔ لیکن اس موضوع پر گفتگو سے پہلے مناسب ہو گا کہ نبی اور رسول یا مرسل کے الفاظ کی وضاحت کر دی جائے۔

ہر رسول نبی ہوتا ہے اور یہ ضروری نہیں کہ ہر نبی بھی رسول ہو۔ دونوں میں فرق یہ ہے کہ نبی وہ ہوتا ہے جسے اللہ کی طرف سے وحی آتی ہو اور فرشتے اس پر وحی لاتے ہوں جبکہ رسول وہ ہوتا ہے جو نئی شریعت لائے یا سابقہ شریعت کے کچھ احکام منسوخ کرے۔ رسول اور مرسل میں عموماً کوئی فرق نہیں کیا جاتا۔ صرف کرامیہ نے یہ فرق کیا ہے کہ رسول منجانب اللہ فرستادہ شخص ہوتا ہے اور مرسل کسی بھی بھیجنے والے کا بھیجا ہوا شخص ہوتا ہے۔ (اصول الدین از عبدالقاہر بغدادی‘ صفحہ 154)۔ بعد کے دور میں لفظ رسول اور نبی کے مابین فرق ختم ہو گیا۔ تاہم اگر کسی نے فرق کیا ہے تو وہ وہی ہے جس کا تذکرہ اوپر ہو چکا ہے۔ (اردو دائرۂ معارف اسلامیہ جلد 10‘ صفحہ 253 لفظ ’’رسول‘‘)۔ ابو حفص عمر نسفی کی کتاب العقائد النسفیۃ کے مطابق ان دونوں الفاظ میں کوئی فرق نہیں۔ تاہم اس کتاب میں لفظ رسول ایسے شخص کے لیے استعمال ہوا ہے جو

صفحہ 160

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول)

صاحب شریعت ہو۔ (ایضاً)

مرزا صاحب نے یہ تینوں الفاظ نبی، رسول اور مرسل ازالہ اوہام صفحہ 534 روحانی خزائن ج 3 ص 387 میں استعمال کیے ہیں۔ وہ عیسیٰ کی بحیثیت مسیح دوبارہ آمد کی تردید کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

کے ساتھ جو نبوتِ تامہ کی شرائط میں سے ہے، آسکتا۔ کیا یہ ضروری نہیں کہ ایسے نبی کی نبوتِ تامہ کے لوازم جو وحی اور نزولِ جبریل ہے، اس کے وجود کے ساتھ لازم ہونی چاہیے۔ کیونکہ حسب تصریح قرآن کریم، رسول اسی کو کہتے ہیں جس نے احکام و عقائد دین جبریل کے ذریعہ سے حاصل کیے ہوں۔ لیکن وحی نبوت پر تو تیرہ سو برس سے مُہر لگ گئی ہے۔ کیا یہ مُہر اس وقت ٹوٹ جائے گی۔“ (مطلب یہ ہوا کہ ان کے مطابق مُہر نہیں ٹوٹنی چاہیے)۔

یہ ملحوظ رہے کہ یہاں نبی اور رسول کے الفاظ ایک دوسرے کی جگہ استعمال کیے گئے ہیں اور ان میں واضح امتیاز نہیں کیا گیا۔

ازالہ اوہام صفحہ 761 روحانی خزائن ج 3 ص 511 پر کہا گیا ہے:

وہ نیا رسول ہو یا پرانا ہو کیونکہ رسول کو علم دین بتوسط جبرائیل ملتا ہے اور باب نزول جبرائیل بہ پیرایہ وحی رسالت مسدود ہے اور یہ بات خود ممتنع ہے کہ دنیا میں رسول تو آئے مگر سلسلہ وحی رسالت نہ ہو۔“

ازالہ اوہام کے صفحہ 614 روحانی خزائن ج 3 ص 431‘ 432 پر قرآن کریم کی آیت 40:33:

”ما کان محمد ابا احد من رجالکم ولکن رسول اللہ و خاتم النبیین (محمد (ﷺ) تمہارے مردوں میں سے کسی کے باپ نہیں ہیں بلکہ وہ اللہ کے رسول اور خاتم النبیین ہیں۔) کا ذکر کر کے اس کے آخری حصے کا مفہوم یوں بیان کیا ہے:

صفحہ 161

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول)

”مگر وہ رسول اللہ ہے اور ختم کرنے والا ہے نبیوں کا۔“

اور مزید کہا ہے:

”یہ آیت بھی صاف دلالت کر رہی ہے کہ بعد ہمارے نبی ﷺ کے کوئی رسول دنیا میں نہیں آئے گا۔ پس اس سے بھی بکمال وضاحت ثابت ہے کہ مسیح ابن مریم دنیا میں نہیں آ سکتا کیونکہ مسیح ابن مریم رسول ہے اور رسول کی حقیقت اور ماہیت میں یہ امر داخل ہے کہ دینی علوم کو بذریعہ جبرائیل حاصل کرے۔“

اور مزید کہا:

”اور ابھی ثابت ہو چکا ہے کہ اب وحی رسالت تا قیامت منقطع ہے۔“

یہ ظاہر ہوتا ہے کہ انہوں نے خاتم النبیین کی ترکیب جس میں لفظ نبی شامل ہے، سے یہ نتیجہ اخذ کیا ہے کہ قیامت تک کوئی رسول نہیں ہوگا (صفحہ 714)۔ جبکہ اس سے قبل براہین احمدیہ میں ان کا موقف یہ تھا کہ وحی نبوت رسول پاک ﷺ پر ختم ہے لیکن اب پھر ختم نبوت کی قطعیت میں، یہ کہتے ہوئے ایک سوراخ نکالا ہے کہ وحی رسالت ختم نہیں ہوئی۔

ایک اشتہار مورخہ 2 اکتوبر 1891ء جو ”تبلیغ رسالت“ (جلد دوم، صفحہ 20 مجموعہ اشتہارات ج 1 ص 230) میں منقول ہے، میں کہتے ہیں:

سنت جماعت کا عقیدہ ہے، ان سب باتوں کو مانتا ہوں جو قرآن اور حدیث کی رُو سے مسلم الثبوت ہیں اور سیدنا ومولانا حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ ختم المرسلین کے بعد کسی دوسرے مدعی نبوت اور رسالت کو کافر اور کاذب جانتا ہوں۔ میرا یقین ہے کہ وحی رسالت حضرت آدم صفی اللہ سے شروع ہوئی اور جناب رسول اللہ محمد مصطفیٰ ﷺ پر ختم ہو گئی۔“

یہ آخری موقف پھر اس موقف سے قطعی مختلف ہے جس پر پہلے بحث ہو چکی ہے۔

ایک دوسرے اشتہار مورخہ 23 اکتوبر 1891ء جو جامع مسجد دہلی میں منعقدہ ایک اجتماع میں تقسیم کیا گیا اور جو ”تبلیغ رسالت“ حصہ دوم، صفحہ 44 مجموعہ اشتہارات ج

صفحہ 162

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول)

1 ص 255 میں نقل کیا گیا ہے‘ میں بیان کرتے ہیں:

ہے....... اب میں مفصلہ ذیل امور کا مسلمانوں کے سامنے صاف صاف اقرار اس خانہ خدا (جامع مسجد دہلی ) میں کرتا ہوں کہ میں جناب خاتم الانبیاء ﷺ کی ختم نبوت کا قائل ہوں اور جو شخص ختم نبوۃ کا منکر ہوُ اس کو بے دین اور دائرۂ اسلام سے خارج سمجھتا ہوں ۔“

پہلے اشتہار مورخہ 2 اکتوبر 1891ء میں بیان کیا گیا تھا کہ مرزا صاحب کسی قسم کی نبوت کے مدعی کو بھی دجال‘ کاذب اور کافر سمجھتے ہیں۔ دوسرے اشتہار میں انہوں نے ختم نبوت کا لفظ جو بظاہر نبی اور رسول دونوں کے مفہوم میں شامل ہے‘ استعمال کیا ہے۔

اپنی کتاب ”انجام آتھم“ (مطبوعہ 1897ء) کے صفحہ 27‘ 28 روحانی خزائن ج 11 ص حاشیہ 27‘ 28 پر لکھتے ہیں :

شریف پر ایمان رکھ سکتا ہے اور کیا ایسا وہ شخص جو قرآن شریف پر ایمان رکھتا ہے اور آیت ولکن رسول اللہ و خاتم النبیین کو خدا کا کلام یقین رکھتا ہے وہ کہہ سکتا ہے کہ میں بھی آنحضرت ﷺ کے بعد نبی اور رسول ہوں۔ صاحب انصاف طلب کو یاد رکھنا چاہیے کہ اس عاجز نے کبھی اور کسی وقت حقیقی طور پر نبوت یا رسالت کا دعویٰ نہیں کیا اور غیر حقیقی طور پر کسی لفظ کو استعمال کرنا اور لغت کے عام معنوں کے لحاظ سے اس کو بول چال میں لانا مستلزم کفر نہیں‘ مگر میں اس کو بھی پسند نہیں کرتا کہ اس میں عام مسلمانوں کو دھوکا لگ جانے کا احتمال ہے‘ لیکن وہ مکالمات اور مخاطبات جو اللہ جل شانہ کی طرف سے مجھ کو ملے ہیں‘ جن میں یہ لفظ نبوت اور رسالت کا بکثرت آیا ہے ان کو بوجہ مامور ہونے کے مخفی نہیں رکھ سکتا‘ لیکن بار بار کہتا ہوں کہ ان الہامات میں جو لفظ مرسل یا رسول یا نبی کا میری نسبت آیا ہے (لفظ رسول اور نبی میں مراد مجاز ہے ) وہ اپنے حقیقی معنوں پر مستعمل نہیں ہے اور اصل حقیقت‘ جس کی میں علی رؤس الاشہاد گواہی دیتا ہوں‘ یہی ہے جو ہمارے .............. نہ کوئی پرانا اور نہ کوئی نیا۔“

صفحہ 163

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول)

الحقیقۃ والافتراء و ترک القرآن واحکام الشریعۃ الغراء فھو کافر کذاب۔ غرض ہمارا مذہب یہی ہے کہ جو شخص حقیقی طور پر نبوت کا دعویٰ کرے اور آنحضرت ﷺ کے دامنِ فیوض سے اپنے تئیں الگ کر کے اور اس پاک سرچشمہ سے جدا ہو کر آپ ہی براہِ راست نبی اللہ بننا چاہے تو وہ ملحد بے دین ہے اور غالباً ایسا شخص اپنا کوئی نیا کلمہ بنائے گا اور عبادات میں کوئی نئی طرز پیدا کرے گا اور احکام میں کچھ تغیر و تبدل کر دے گا‘ پس بلاشبہ وہ مسیلمہ کذاب کا بھائی ہے اور اس کے کافر ہونے میں کوئی شک نہیں۔“

حمامۃ البشریٰ‘ صفحہ 79 روحانی خزائن ج 7 ص 297 (طبع 1894ء) میں

انہوں نے کہا ہے:

ترجمہ: میں کیوں نبوت کا دعویٰ کر کے دائرۂ اسلام سے خارج ہو جاؤں اور کافروں میں داخل ہو جاؤں۔

یہ کہ ان کا دعویٰ نبوت کا نہیں بلکہ محض ولایت اور مجددیت کا تھا۔ انہوں نے اپنے الہام اور عبدالقادر جیلانیؒ (معروف صوفی اسلام) کے الہام کے مابین مشابہت بتائی۔ انہوں نے حمامۃ البشریٰ کے صفحہ 20 روحانی خزائن ج 7 ص 200 پر زور دے کر کہا ہے:

بغیر استثناء و فسرہ نبینا فی قولہ لا نبی بعدی ببیان واضح للطالبین؟ ولو جوزنا ظہور نبی بعد نبینا ﷺ لجوزنا انفتاح باب وحی النبوۃ بعد تغلیقھا و ھذا خلف کما لا یخفیٰ علی المسلمین و کیف یجئی نبی بعد رسولنا ﷺ وقد انقطع الوحی بعد وفاتہ و ختم اللہ بہ النبیین.“

آخری حصے کا تعلق اسی نکتے سے ہے کہ کیا عیسیٰ دوبارہ آئیں گے اور وہ

صفحہ 164

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول)

آخری نبی ہوں گے۔ انہوں نے کہا ہے کہ ”ہمارا عقیدہ یہ ہے کہ ہمارے نبی (حضرت محمد ﷺ) کی آمد پر نبوت ختم ہوگئی ہے۔“

اس آخری اصول سے یہ واضح ہوتا ہے کہ مرزا صاحب کے مطابق نزولِ عیسیٰ کا مطلب عیسیٰ نبی کی آمد نہیں، کیونکہ اس سے ان کا آخری نبی ہونا لازم آتا ہے...... یہی بیان ”ایام صلح“، مطبوعہ 1899ء (صفحہ 146 روحانی خزائن ج 14 ص 392‘ 393) میں بھی موجود ہے۔ وہ لکھتے ہیں:

لیکن ختم نبوت کا بہ کمال تصریح ذکر ہے اور پرانے یا نئے نبی کی تفریق یہ شرارت ہے۔ نہ حدیث میں نہ قرآن میں یہ تفریق موجود ہے اور حدیث لا نبی بعدی میں بھی نفی عام ہے۔ پس یہ کس قدر جرأت اور دلیری اور گستاخی ہے کہ خیالاتِ رکیکہ کی پیروی کر کے نصوص صریحہ قرآن کو عمداً چھوڑ دیا جائے اور خاتم الانبیاء کے بعد ایک نبی کا آنا مان لیا جائے اور بعد اس کے جو وحی منقطع ہو چکی تھی، پھر سلسلہ وحی نبوت کا جاری کر دیا جائے کیونکہ جس میں شانِ نبوت باقی ہے، اس کی وحی بلا شبہ نبوت کی وحی ہو گی۔“

ایک اشتہار مورخہ 20 شعبان 1314ھ (1897ء) جو تبلیغ رسالت، حصہ ششم، صفحہ 2 مجموعہ اشتہارات ج 2 ص 297‘ 298 پر چھپا ہوا ہے، میں لکھتے ہیں:

اور آنحضرت ﷺ کے ختم نبوت پر ایمان رکھتے ہیں اور وحی نبوت نہیں بلکہ وحی ولایت جو زیر سایہ نبوت محمدیہ اور باتباع آنجناب ﷺ اولیاء کو ملتی ہے، اس کے ہم قائل ہیں۔“

خاتم (مہر) کا لفظ، جسے نبوت کا دعویٰ کرنے کے بعد مختلف معنی دینے کی کوشش کی گئی، بھی ازالہ اوہام، صفحہ 577 میں اسی مفہوم میں استعمال ہوا ہے جس کا تذکرہ اوپر ہوا ہے۔ مرزا صاحب نے رسول پاک ﷺ کے بعد وحی نبوت کی نفی کی ہے۔

”جنگ مقدس“ (مطبوعہ 1893ء) صفحہ 74 روحانی خزائن ج 6 ص 156 میں مرزا صاحب نے اس الزام کی تردید کی ہے کہ وہ نبوت کا دعویٰ کر رہے ہیں اور

صفحہ 165

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول)

معجزے کی تشریح ان الفاظ میں کی ہے:

رہے ہیں۔ کیا یہ ضروری ہے کہ جو الہام کا دعویٰ کرتا ہے‘ وہ نبی بھی ہو جائے۔ میں تو محمدی اور کامل طور پر اللہ اور رسول کا متبع ہوں اور ان نشانیوں کا نام معجزہ رکھنا نہیں چاہتا‘ بلکہ ہمارے مذہب کی رُو سے ان نشانیوں کا نام کرامات ہے جو اللہ کے رسول کی پیروی سے دیے جاتے ہیں۔“

مرزا صاحب نبوت کا دعویٰ کرنے سے کچھ پہلے اپنے لیے نبی کا لفظ کثرت سے استعمال کرنے لگے اور پھر مسلمانوں کے اشتعال‘ مخالفت اور پریشانی کو دور کرنے کی غرض سے اس کی اپنے انداز سے وضاحت کرنے میں عجلت بھی دکھاتے۔ ”سراج منیر“ صفحہ 3 روحانی خزائن ج 12 ص 5 پر وہ لکھتے ہیں:

کی نسبت نبی اور رسول اور مرسل کے لفظ بکثرت موجود ہیں‘ سو یہ حقیقی معنوں پر محمول نہیں ہیں۔ ولکل ان یصطلح (ہر ایک کو اصطلاح بنانے کا حق ہے) سو خدا کی یہ اصطلاح ہے جو اس نے ایسے لفظ استعمال کیے۔ ہم اس بات کے قائل اور معترف ہیں کہ نبوت کے حقیقی معنوں کی رُو سے بعد آنحضرت ﷺ نہ کوئی نیا نبی آ سکتا ہے اور نہ پرانا۔ قرآن ایسے نبیوں کے ظہور سے مانع ہے مگر مجازی معنوں کی رُو سے خدا کا اختیار ہے کہ کسی ملہم کو نبی کے لفظ سے یا رسول کے لفظ سے یاد کرے۔“

ایک مکتوب مطبوعہ لیکچر قادیان نمبر 29‘ حصہ سوم‘ مورخہ 17 اگست 1899ء میں مرزا صاحب نے لکھا ہے:

اکثر دفعہ ان میں رسول یا نبی کا لفظ آ گیا ہے‘ لیکن وہ شخص غلطی کرتا ہے جو ایسا سمجھتا ہے کہ اس نبوت اور رسالت سے مراد حقیقی نبوت و رسالت ہے۔ ...... سو چونکہ ایسے لفظوں سے جو محض استعارے کے رنگ میں ہیں‘ اسلام میں فتنہ پڑتا ہے اور اس کا نتیجہ سخت بد

صفحہ 166

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول)

نکلتا ہے۔ اس لیے اپنی جماعت کی معمولی بول چال اور دن رات کے محاورات میں یہ لفظ نہیں آنے چاہئیں۔‘‘

یہ بات پہلے بیان ہو چکی ہے کہ مرزا صاحب نے ’’توضیح المرام‘‘ میں کہا ہے کہ جزوی نبوت اور وحی کا باب بند نہیں اور یہ کہ محدث (جو اللہ سے مکالمہ اور مخاطبہ کا شرف پائے) جزوی نبی ہوتا ہے۔

وہ ’’ازالہ اوہام‘‘ (ص 584‘ 585 روحانی خزائن ج 3 ص 415‘ 416) میں ایسے لوگوں کو کافر قرار دیتے ہیں جو رسول پاک ﷺ کے بعد کسی بھی ایسی وحی کو ممکن سمجھتے ہیں جو قرآن کے ایک حکم کو تبدیل یا منسوخ کرے۔ یوں نبوت بلاشریعت کا باب کھلا رکھا‘ لیکن اسی کتاب کے صفحہ 534 روحانی خزائن ج 3 ص 387 پر انہوں نے وحی نبوت کو ناممکن قرار دیا اور صفحہ 761 روحانی خزائن ج 3 ص 511 پر وحی رسالت کے باب کو مسدود قرار دیا۔ اس سے صرف یہ ثابت ہوتا ہے کہ اگر مرزا صاحب مسلمانوں کے عقیدے کے خلاف کچھ کہنے میں ایک قدم آگے بڑھتے تو ان کی مخالفت کا احساس کرتے ہوئے دو قدم پیچھے لوٹتے تاکہ انہیں یہ باور کرا سکیں کہ ان کا بھی وہی عقیدہ ہے جو وہ مانتے ہیں۔ اپنے آئندہ کے دعووں کو ترقی دینے اور بڑھانے کی غرض سے کوئی متضاد سی بات کہہ دی جاتی اور پھر مسلمانوں کے عقیدے کو بار بار دہرایا جاتا تاکہ وہ بچاؤ کا کام دے سکے۔ پہلے محدثیت نبوت سے قریب تر بنی‘ پھر یہ جزوی نبوت ٹھہری اور پھر مہر نبوت سالم قرار دی گئی۔ پہلے نبوت کا دروازہ بند ہوا اور پھر اسی نظریے کو بتدریجاً ترقی دی گئی تاآنکہ ان کے پیروکار نئے دعوے کے لیے تیار ہو گئے۔

اب محدثیت کے نظریے کے ارتقاء اور وسعت کا جائزہ مرزا صاحب کے الفاظ میں ہی لیا جا سکتا ہے۔ مولوی عبدالحکیم اور مرزا صاحب کے مابین ایک معاہدے مورخہ 3 فروری 1892ء میں جو ’’تبلیغ رسالت‘‘ حصہ دوم‘ صفحہ 95 مجموعہ اشتہارات ج 1، ص 313‘ 314 میں چھپا ہے‘ مرزا صاحب تمام مسلمانوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ان کے رسائل فتح اسلام‘ توضیح المرام اور ازالہ اوہام میں یہ درج ہو چکا

صفحہ 167

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول)

ہے کہ محدث ایک مفہوم میں نبی ہوتا ہے اور محدثیت جزوی نبوت یا نبوت ناقصہ ہے۔

لغوی معنوں کی رُو سے بیان کیے گئے ہیں ورنہ حاشا وکلا مجھے نبوت حقیقی کا ہرگز دعویٰ نہیں ہے‘ بلکہ جیسا کہ میں کتاب ازالہ اوہام‘ صفحہ 137 میں لکھ چکا ہوں‘ میرا اس بات پر ایمان ہے کہ ہمارے سید ومولیٰ محمد مصطفیٰ ﷺ خاتم الانبیاء ہیں۔ سو میں تمام مسلمان بھائیوں کی خدمت میں واضح کرنا چاہتا ہوں کہ اگر وہ ان لفظوں سے ناراض ہیں اور ان کے دلوں پر یہ الفاظ شاق ہیں تو وہ ان الفاظ کو ترمیم شدہ تصور فرما کر بجائے اس کے محدث کا لفظ میری طرف سے سمجھ لیں۔..........کہ بجائے لفظ نبی کے محدث کا لفظ ہر ایک جگہ سمجھ لیں اور اس کو (یعنی لفظ نبی کو) کاٹا ہوا خیال فرمالیں۔‘‘

حمامۃ البشریٰ (صفحہ 131 روحانی خزائن ج 7 ص 297) میں دعویٰ نبوت کی تردید کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

اور کچھ نہیں کہا کہ میں محدث ہوں اور اللہ تعالیٰ مجھ سے اسی طرح کلام کرتا ہے جس طرح محدثین سے۔‘‘

(نیز دیکھئے آئینہ کمالات اسلام ص 383 روحانی خزائن ج 5 ص 383‘ سلسلہ تصنیفات‘ حصہ پنجم‘ صفحہ 2082)

حمامۃ البشریٰ کے ص 134 روحانی خزائن ج 7 ص 300 پر وہ کہتے ہیں:

لیکن بالقوہ نہ کہ بالفعل۔ پس محدث بالقوہ نبی ہوتا ہے اور اگر باب نبوت مسدود نہ ہوتا تو وہ بالفعل نبی ہوتا‘ اس لیے ہم کہہ سکتے ہیں کہ نبی محدث ہے بطریق کمال اور بالفعل‘ اور محدث نبی ہے بالقوہ۔‘‘

اور نبوت کا باب کھولنے کے بعد انہوں نے خود نبوتِ کاملہ حاصل کر لی۔ اسی طرح مسیح ہونے کا دعویٰ بھی ارتقائی مراحل سے گزرا۔ مرزا صاحب نے براہین احمدیہ

صفحہ 168

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول)

میں لکھا کہ وہ مسیح کی پہلی زندگی کا نمونہ ہیں اور دونوں کی فطرت میں مشابہت پائی جاتی ہے۔ چونکہ مرزا صاحب کو مسیح سے مشابہت تامہ حاصل ہے‘ لہٰذا خدا نے انہیں مسیح کی پیش گوئی میں بھی شریک رکھا۔ کہا جاتا تھا کہ مسیح دنیا میں آئے گا اور چار دانگ عالم میں اسلام کی اشاعت کرے گا۔ یہ جسمانی ظہور ہوگا‘ لیکن اس پیش گوئی کا روحانی مصداق مرزا صاحب ہیں (براہین احمدیہ صفحہ 499 روحانی خزائن ج 1 ص 593) اس نظریے کے مطابق عیسیٰ بن مریم ضرور آئے گا لیکن روحانی پہلو سے مرزا صاحب اس کے ثانی یا مثیل ہیں۔ (دیکھئے فتح اسلام‘ صفحہ 11 روحانی خزائن ج 3 ص 8)

فتح اسلام‘ صفحہ 11 روحانی خزائن ج 3 ص 8 میں یہ بیان کیا گیا تھا کہ مرزا صاحب ایسے زمانے میں مبعوث ہوئے ہیں جو مسیح کی آمد کے زمانے سے مشابہ ہے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ اللہ تعالیٰ نے مسیح کا مثیل اس لیے بھیجا کہ وہ لوگوں میں علم دین کی اشاعت کرے اور پھر غیر مبہم الفاظ میں ایک مختلف بات کہہ دی کہ:

(فتح اسلام حاشیہ صفحہ 15 روحانی خزائن ج 3 ص 10)

اس دعوے نے مسلمانوں کو ہلا کر رکھ دیا۔ بڑی سخت مخالفت ہوئی اور انہیں کافر قرار دیا گیا۔ (دیکھئے آسمانی فیصلہ ص 1 تا 5 روحانی خزائن ج 4 ص 311 تا 315)۔ مرزا صاحب اپنی عادت کے مطابق اپنے قدموں پر فوراً واپس لوٹے اور اپنے دعوے کو صرف مثیل ہونے تک محدود کر دیا۔

(توضیح المرام‘ صفحات 16 تا 21 روحانی خزائن ج 3 ص 59 تا 61)

انہوں نے کہا کہ:

”مجھے مسیح ابن مریم ہونے کا دعویٰ نہیں اور نہ میں تناسخ کا قائل ہوں بلکہ مجھے تو فقط مثیل مسیح ہونے کا دعویٰ ہے۔ جس طرح محدثیت نبوت سے مشابہ ہے‘ ایسا ہی میری روحانی حالت مسیح ابن مریم کی روحانی حالت سے اشد درجہ کی مناسبت رکھتی ہے۔“

(تبلیغ رسالت‘ جلد دوم‘ صفحہ 21 مجموعہ اشتہارات ج 1 ص 231)

صفحہ 169

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول)

اپنے اس دعوے کے برعکس کہ وہ وہی مسیح ہیں جسے آنا تھا‘ انہوں نے کہا کہ:

اور ان میں سے ایک دمشق میں نازل ہو جائے یا اور دس ہزار بھی مثیل مسیح آجائیں۔“

(ازالہ اوہام‘ صفحہ 297 روحانی خزائن ج 3، ص251)

لیکن مزید کہا:

(ایضاً، صفحہ 199 روحانی خزائن ج 3 ص 197)

انہوں نے بعد میں بے نقاب ہو کر کہہ دیا کہ: ”میرے بعد قیامت تک نہ کوئی مہدی آئے گا اور نہ کوئی مسیح .......... جسے آنا تھا وہ میں ہی ہوں۔“ (رسالہ مورخہ 4 اپریل 1905ء مندرجہ تبلیغ رسالت، جلد 10‘ صفحہ 78 مجموعہ اشتہارات ج 3 ص 520)

یہ وہی حکمت عملی ہے جو مرزا صاحب کی کتابوں میں بکثرت ملتی ہے۔ وہ ایک وقت میں کئی متضاد باتیں کہتے ہیں، تاکہ کسی خاص مرحلے میں جو موزوں ہو اسی کی پناہ لے سکیں۔ اسی طرح انہوں نے ازالہ اوہام (صفحہ 634 روحانی خزائن ج 3 ص 442) میں ایک الہام لکھا:

اپنے اس دعوے کی تائید میں کہ وہی مسیح موعود ہیں ”اربعین“ میں اس کا حوالہ دیا ہے۔

(دیکھئے اربعین نمبر 3‘ صفحہ 32 روحانی خزائن ج 17 ص 421)

نشان آسمانی (صفحہ 35 روحانی خزائن ج 4، ص383) جو 1892ء میں طبع ہوئی، میں مرزا صاحب نے اپنے ایک پیروکار کی مزعومہ شہادت شائع کی ہے کہ اسے ایک گلاب شاہ نامی شخص نے اطلاع دی تھی کہ وہی (مرزا صاحب) وہ مسیح موعود ہیں جس کی آمد کا وعدہ کیا گیا تھا اور جو کتابوں میں عیسیٰ کے نام سے مذکور ہے اور (نشان آسمانی صفحہ 24، روحانی خزائن ج 4 ص 384 پر) جس عیسیٰ نے آنا تھا،

صفحہ 170

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول)

اس کا نام غلام احمد ہے۔

مرزا صاحب نے بہت پہلے 1884ء میں ہی براہین احمدیہ میں کہہ دیا تھا کہ ان میں مریم کی طرح عیسیٰ کا نفخ ہوا ہے اور وہ دس ماہ تک حمل سے رہے اور پھر انہیں مریم سے عیسیٰ بنایا گیا اور وہ ابن مریم بن گئے۔ ممکن ہے کہ اس وقت وہ عیسیٰ کی وفات کے بارے میں اپنے نظریے کے اظہار کو قبل از وقت خیال کرتے ہوں یا ممکن ہے کہ اس وقت تک یہ نظریہ تیار نہ ہوا ہو۔ تاہم ان کے مسیح موعود عیسیٰ بننے کا ارادہ بالکل واضح ہے اور بعد میں اسے مثلاً ”اربعین“، ”ایک غلطی کا ازالہ“ اور ”کشتی نوح“ میں صاف حقیقت کی شکل میں پیش کر دیا گیا۔ اربعین (مطبوعہ 1900ء) میں مرزا صاحب نے لکھا (نمبر 1، صفحہ 3 روحانی خزائن ج 17 ص 345) کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں مطلع کیا کہ وہ اس کی جانب سے مسیح موعود اور مہدی ہیں۔ یہ نکتہ کتاب کے متعدد مقامات پر بتکرار پیش کیا گیا ہے۔ ”ایک غلطی کا ازالہ“ کے صفحہ 6 روحانی خزائن ج 18 ص 210 پر صاف صاف کہا ہے کہ وہ مسیح موعود ہیں۔ یہ امر ناقابل فہم ہے کہ وہ دس ہزار مسیح یا اسی تعداد کے مثیلوں میں سے ایک کیسے ہو سکتے ہیں۔ مثیل کا نکتہ صرف رائے عامہ کو ٹھنڈا کرنے کی غرض سے اختیار کیا گیا۔ کشتی نوح کے صفحہ 47 روحانی خزائن ج 19 ص 50 پر انہوں نے لکھا کہ انہیں (عیسیٰ اور مریم کے بارے میں) اس وحی کی اہمیت کا احساس نہ ہوا، لیکن وقت آیا اور ان پر اسرار کا انکشاف ہوا اور دیکھا کہ مسیح موعود ہونے کے دعوے میں کوئی نئی بات نہ تھی۔ یہ وہی دعویٰ تھا جسے براہین احمدیہ میں کئی بار بڑی وضاحت کے ساتھ لکھا گیا تھا۔

مزید کہا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے بارے میں کہا ہے کہ وہ انہیں ایک نشان بنائے گا اور الہامی تحریروں میں مریم اور عیسیٰ کے نام انہی کے لیے استعمال ہوئے ہیں اور یہ کہ وہ وہی عیسیٰ بن مریم ہیں جسے آنا تھا۔ وہی حق ہیں اور وہی موعود ہیں۔

(ایضاً، صفحہ 48 روحانی خزائن ج 19 ص 52)

مرزا صاحب نے اپنے پیروکاروں کو مزید پختہ کر لینے کے بعد 1901ء میں

صفحہ 171

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول)

نبوت کا دعویٰ کیا۔ جیسا کہ پہلے بیان ہو چکا ہے وہ براہین احمدیہ حصہ سوم اور چہارم کی اشاعت سے ہی مسلم عوام کو اپنے دعویٰ نبوت کے لیے تیار کر رہے تھے اور پنجاب اور اس وقت کے برصغیر ہندوستان کے مسلمانوں نے بہت پہلے اس دعویٰ کا اندازہ کر لیا تھا۔ خود مرزا صاحب کے خاندان کے افراد انہیں مسیح موعود اور مہدی موعود کے دعووں سے کئی سال پہلے ہی جھوٹا مدعی قرار دینے لگے تھے۔ نبوت کا دعویٰ سب سے پہلے ایک رسالہ ”ایک غلطی کا ازالہ“ (جو بیسویں صدی کے آغاز پر 1901ء میں طبع ہوا) میں کیا گیا۔

حقیقی دعویٰ کرنے سے قبل جیسا کہ پہلے واضح ہو چکا ہے مرزا صاحب نے نبوت کے بارے میں اپنے مزعومہ الہامات کا تذکرہ کرنے کی سعی کی اور پھر انہیں اس ادعا کے نقاب میں چھپانے کی کوشش کی کہ رسول اور نبی کے الفاظ ان کے لیے استعارے کے طور پر استعمال ہوئے ہیں نہ کہ حقیقی معنوں میں۔ اربعین (مطبوعہ 1900ء نمبر 2، صفحہ 18 روحانی خزائن ج 17 ص 366 مع حاشیہ) میں انہوں نے اسی کا حوالہ دیا جو وہ پہلے ہی براہین احمدیہ میں کہہ چکے تھے کہ ”یہ خدا کا رسول ہے نبیوں کے حلوں میں۔“ حاشیے میں یہ کہہ دیا کہ یہ لفظ محض استعارۃً استعمال ہوا ہے۔ اربعین کے صفحہ نمبر 36 (حاشیہ نمبر 3 روحانی خزائن ج 17 ص 426، 427) پر لکھا ہے:

اور تہذیب اخلاق کے ساتھ بھیجا۔ ان کو کہہ دے کہ اگر میں نے افتراء کیا ہے تو میرے پر اس کا جرم ہے یعنی میں ہلاک ہو جاؤں گا۔“

جھوٹے کی ہلاکت کے اس نظریے کی بنیاد انہوں نے قرآن کریم کی آیت 28:40 کو بنایا (اربعین نمبر 4، صفحہ 5 روحانی خزائن ج 17 ص 434) وان یک کاذباً فعلیہ کذبہ ”اگر وہ جھوٹا ہے تو اس کا جھوٹ اسی پر ہے۔“

مرزا صاحب نے آیت کے پہلے حصے کا ترجمہ یوں کیا:

”اگر یہ نبی جھوٹا ہے تو اپنے جھوٹ سے ہلاک ہو جائے گا۔“

یہ ترجمہ درست نہیں بلکہ اس کے برعکس مسلمہ اصول یہ ہے کہ ایسے شخص کو لمبی

صفحہ 172

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول)

ڈھیل دی جاتی ہے۔ اس اصول کا مولوی ثناء اللہ امرتسری نے اس وقت حوالہ دیا تھا جب مرزا صاحب نے ان میں سے جو کاذب ہے یا غلطی پر ہے‘ کی موت کی پیشگوئی کی تھی اور کہا تھا کہ ایسا شخص تباہ ہو جائے گا۔

اربعین کے صفحہ 6، نمبر 4 روحانی خزائن ج 17 ص 435 پر مرزا صاحب نے ایک قدم اور آگے بڑھایا اور با شریعت نبی ہونے کا دعویٰ کر دیا اور اس غرض سے با شریعت نبی کی تعریف میں چند تبدیلیاں کر دیں۔ ایسے نبی کی پہلی تعریف یہ تھی کہ وہ نئی شریعت لے کر آتا ہے یا سابقہ شریعت میں تبدیلی کرتا ہے۔ اب انہوں نے شریعت کی تعریف یوں کی:

کے لیے ایک قانون مقرر کیا وہی صاحب الشریعت ہو گیا۔ پس اس تعریف کی رو سے بھی ہمارے مخالف ملزم ہیں، کیونکہ میری وحی میں امر بھی ہے اور نہی بھی۔ مثلاً یہ الہام: قل للمومنین یغضوا من ابصارہم ویحفظوا فروجہم ذلک ازکی لہم۔ (النور: 30)

ترجمہ یہ ہے: (تو ایمان والوں سے کہہ دے کہ وہ اپنی نگاہیں نیچی رکھیں اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کریں۔ یہ ان کے لیے پاکیزگی کا باعث ہے) یہ براہین احمدیہ میں درج ہے اور اس میں امر بھی ہے اور نہی بھی اور اس پر تئیس برس کی مدت بھی گزر گئی ہے اور ایسا ہی اب تک میری وحی میں امر بھی ہوتے ہیں اور نہی بھی۔ اور اگر کہو کہ شریعت سے وہ شریعت مراد ہے جس میں نئے احکام ہوں تو یہ باطل ہے۔“

یہ ایک نیا نظریہ تھا اور نبوت با شریعت کے دعوے کو سہارا دینے کی خاطر شریعت کی نئی تعریف پیش کی گئی۔

ملفوظات‘ جلد 10 (نومبر 1907ء تا 26 مئی 1908ء کی مدت سے متعلق صفحہ 267 ملخص) میں ایک سوال کے جواب میں کہا کہ:

صفحہ 173

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول)

یا نئی نبوت یا نبوت با شریعت ہے بلکہ انہیں کثرت الہامات کی بنا پر لغوی معنوں کی رو سے نبی یعنی جو خبریں لاتا ہے، کہا گیا ہے۔“

یہاں پھر نبوت با شریعت اور نبوت بدون شریعت میں فرق کیا گیا اور یہ دعویٰ بھی اس تعریف سے متصادم ہے جو اربعین (نمبر 4‘ صفحہ 7) میں کی گئی تھی۔

رسالہ ”ایک غلطی کا ازالہ“ میں انہوں نے کہا کہ جہاں بھی انہوں نے نبوت یا رسالت کا انکار کیا ہے‘ وہ اس معنی میں ہے کہ وہ اپنے ساتھ مستقل شریعت نہیں لائے اور نہ ہی وہ مستقل نبی ہیں‘ تاہم یہ دعویٰ جہاد کی تنسیخ کے مسئلے سے متضاد ہے کیونکہ جہاد کے بارے میں قرآن کریم اور رسول اللہ ﷺ کی سنت میں واضح احکام موجود ہیں۔

دافع البلاء مطبوعہ 1901ء روحانی خزائن ج 18 ص 231 میں مرزا صاحب نے لکھا کہ:

حقیقۃ الوحی‘ صفحہ 391 روحانی خزائن ج 22 ص 406‘ 407 پر لکھا:

ایک فرد مخصوص ہوں اور جس قدر مجھ سے پہلے اولیاء اور ابدال اور اقطاب اس امت میں گزر چکے ہیں‘ ان کو یہ حصہ کثیر اس نعمت کا نہیں دیا گیا۔ پس اس وجہ سے نبی کا نام پانے کے لیے میں ہی مخصوص کیا گیا اور دوسرے تمام لوگ اس نام کے مستحق نہیں‘ کیونکہ کثرت وحی اور کثرت امور غیبیہ اس میں شرط ہے اور وہ شرط ان میں پائی نہیں جاتی۔“

جہاد کا حکم 1900ء میں منسوخ کیا گیا۔ اربعین (نمبر 4‘ صفحہ 13 روحانی خزائن ج 17 ص 443) میں بیان کیا گیا کہ:

یہی وجہ ہے کہ اس کے حق میں فرمایا گیا یضع الحرب یعنی لڑائی نہیں کرے گا۔“

مجموعہ اشتہارات (ج 3 از 1898ء تا 1908ء) صفحہ 19 پر مرزا صاحب نے لکھا کہ:

صفحہ 174

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول)

مسئلہ جہاد کے معتقد کم ہوتے جائیں گے، کیونکہ مجھے مسیح اور مہدی مان لینا ہی مسئلہ جہاد کا انکار کرنا ہے۔"

"گورنمنٹ انگریزی اور جہاد" کے صفحہ 15 روحانی خزائن ج 17 ص 15 پر لکھتے ہیں:

تلوار کے جہاد کا خاتمہ ہے مگر اپنے نفسوں کے پاک کرنے کا جہاد باقی ہے۔"

(نیز دیکھئے خطبہ الہامیہ ص 28 روحانی خزائن ج 16 ص 28، تحفہ گولڑویہ (ضمیمہ) صفحہ 41 روحانی خزائن ج 17 ص 77، تجلیات الٰہیہ صفحہ 8 حاشیہ روحانی خزائن ج 20 ص 400، تریاق القلوب، صفحہ 17 روحانی خزائن ج 15 ص 159)

مرزا صاحب نے ”نبی“ کی جو تعریف کی ہے وہ اربعین (نمبر 4) سے نقل کی جاچکی ہے۔ یہ کتاب 1900ء میں لکھی گئی تھی اور جیسا کہ اوپر ذکر ہوا، اس میں بھی جہاد کی ممانعت کے احکام موجود ہیں۔ اس کا صاف مطلب یہ ہوا کہ مرزا صاحب نے مزعومہ نبی ہونے کی حیثیت سے جہاد جو قرآنی احکام پر مبنی ہے، کو منسوخ کرنے کا حق استعمال کیا ہے اور شریعت کو منسوخ کرنے کا فریضہ انجام دے کر اپنے دعوے کے مطابق نبوت تامہ حاصل کی۔ نبوت تامہ کے اس نکتے پر مرزا بشیر احمد نے کلمۃ الفصل، صفحہ 112 اور 113 پر بحث کی ہے۔ اس نے نبوت کی تین قسمیں بیان کی ہیں:

اتباع کامل سے حاصل ہوتی ہے۔

اس اعتراض کا ذکر کرتے ہوئے کہ ظلی نبوت ایک گھٹیا قسم کی نبوت ہے، مرزا بشیر احمد نے اسے ”نفس کا دھوکا قرار دیا جس کی کوئی بھی حقیقت نہیں، کیونکہ ظلی نبوت

صفحہ 175

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول)

کے لیے یہ ضروری ہے کہ انسان نبی کریم ﷺ کی اتباع میں اس قدر غرق ہو جائے کہ ”من تو شدم تو من شدی“ کے درجہ کو پالے۔ ایسی صورت میں وہ نبی کریم ﷺ کے جمیع کمالات کو عکس کے رنگ میں اپنے اندر اترتا پائے گا حتیٰ کہ ان دونوں میں قرب اتنا بڑھے گا کہ نبی کریم ﷺ کی نبوت کی چادر بھی اس پر چڑھائی جائے گی تب جا کر وہ ظلی نبی کہلائے گا۔ پس جب ظل کا یہ تقاضا ہے کہ اپنے اصل کی پوری تصویر ہو اور اسی پر تمام انبیاء کا اتفاق ہے تو وہ نادان جو مسیح موعود کی ظلی نبوت کو ایک گھٹیا قسم کی نبوت سمجھتا ہے یا اس کے معنی ناقص نبوت کے کرتا ہے وہ ہوش میں آئے اور اپنے اسلام کی فکر کرئے کیونکہ اس نے اس نبوت کی شان پر حملہ کیا ہے جو تمام نبوتوں کی سرتاج ہے۔ میں نہیں سمجھ سکتا کہ لوگوں کو کیوں حضرت مسیح موعود کی نبوت پر ٹھوکر لگتی ہے اور کیوں بعض لوگ آپ کی نبوت کو ناقص نبوت سمجھتے ہیں، کیونکہ میں تو یہ دیکھتا ہوں کہ آپ، آنحضرت ﷺ کے بروز ہونے کی وجہ سے ظلی سے نبی تھے اور اس ظلی نبوت کا پایہ بہت بلند ہے۔ یہ ظاہر بات ہے کہ پہلے زمانوں میں جو نبی ہوتے تھے ان کے لیے یہ ضروری نہ تھا کہ ان میں وہ تمام کمالات رکھے جائیں جو نبی کریم ﷺ میں رکھے گئے بلکہ ہر نبی کو اپنی استعداد اور کام کے مطابق کمالات عطا ہوتے تھے کسی کو بہت کسی کو کم مگر مسیح موعود کو تو تب نبوت ملی جب اس نے نبوت محمدیہ ﷺ کے تمام کمالات کو حاصل کر لیا۔“ (کلمۃ الفصل ص 113)

یہ امر پہلے واضح ہو چکا ہے کہ عیسیٰ بن مریم کی بعثت ثانیہ کے انکار کی ایک وجہ یہ تھی کہ وہ ایک نبی تھے اور نبوت تیرہ سو سال پہلے ہی ختم ہو چکی تھی۔ مرزا صاحب نے اس اصول کو دوہرے پن سے بلند نہ رہنے دیا۔ ازالہ اوہام (صفحہ 410) میں انہوں نے کہا کہ یہ درست ہے کہ آنے والے مسیح کو رسول اکرم ﷺ کی امت میں سے نبی کہا گیا ہے، لیکن یہ نبوتِ ناقصہ ہو گی۔ بعد میں مرزا صاحب نے اسے نبوتِ کاملہ تشریعی نبوت اور دوسرے نبیوں سے برتر نبوت میں ترقی دے لی۔

مرزا صاحب نے غیر مبہم لفظوں میں کہا کہ جبریل کے بسلسلہ وحی آنے کا

صفحہ 176

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول)

باب بند ہے۔ (ازالہ اوہام ص 534 روحانی خزائن ج 3 ص 387)۔ لیکن یہ امر بھی ان کے منصوبے یا پروگرام میں حائل نہ ہوسکا۔ انہوں نے اللہ سے براہ راست مکالمہ اور مخاطبہ کا دعویٰ کر کے جبرائیل کی ضرورت کو بے اثر کر دیا۔ لیکن یہ اہتمام بھی کافی نہ تھا اور انہیں کامل نبیوں کی سطح پر نہ پیش کر سکا تو انہوں نے دعویٰ کر دیا کہ ان کے پاس جبرائیل آیا تھا۔ حقیقتہ الوحی (صفحہ 103 روحانی خزائن ج 22 ص 106‘ 107) میں کہا:

وادار اصبعہ واشار. ان وعد اللہ اتی فطوبی لمن وجد و رای الامراض تشاع والنفوس تضاع“

مرزا صاحب نے اس کا اردو ترجمہ یوں لکھا ہے:

میرے پاس آئل آیا اور اس نے مجھے چن لیا اور اپنی انگلی کو گردش دی اور یہ اشارہ کیا کہ خدا کا وعدہ آ گیا۔ پس مبارک وہ جو اس کو پاوے اور دیکھے کئی طرح کی بیماریاں پھیلائی جائیں گی اور کئی آفتوں سے جانوں کا نقصان ہوگا۔“

حاشیے پر مرزا صاحب نے ایل کا ترجمہ جبرائیل بتایا ہے۔ جبرائیل کا نزول نبوت کی تکمیل کی علامت ہے اور یوں مرزا صاحب ایک کامل نبی بن گئے۔

ان عبارتوں سے واضح طور پر ثابت ہوتا ہے کہ مرزا صاحب کو ناقص نبی نہیں سمجھا جاتا تھا‘ بلکہ اس کے برعکس انہیں رسول اللہ ﷺ کے مانند کامل نبی خیال کیا جاتا تھا۔ یہی بات اس حقیقت سے بھی ثابت ہوتی ہے کہ مرزا صاحب کو مرتبے میں دیگر تمام انبیاء سے افضل مانا جاتا تھا۔

مرزا صاحب کی برابری بلکہ برتری کا سراغ براہین احمدیہ حصہ چہارم میں اپنے بارے میں لکھی ہوئی ان عبارتوں سے بھی لگایا جاسکتا ہے۔ انہوں نے اپنے مختلف مزعومہ الہامات کا ذکر کیا ہے جن میں ابراہیمؑ، داؤدؑ، یوسفؑ، عیسیٰؑ وغیرہ کے اسماء آئے ہیں اور ان میں سے ہر ایک کو نقل کرنے کے بعد لکھا ہے کہ جہاں بھی ان انبیاء کا

صفحہ 177

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول)

تذکرہ ہوا ہے، اس سے مراد وہ خود ہیں۔ (دیکھئے براہین احمدیہ صفحات حاشیہ نمبر 554-559 روحانی خزائن ج 1 ص 662 تا 666 حاشیہ نمبر 4)

ملفوظات ج 3، ص 270 ملفوظات احمدیہ حصہ چہارم، صفحہ 142 پر کہا گیا ہے کہ انبیاء کے کمالات کے بارہ میں مرزا صاحب نے کہا:

حضرت رسول کریم میں ان سب سے بڑھ کر موجود تھے اور اب وہ سارے کمالات حضرت رسول کریم سے ظلی طور پر ہم کو (مرزا صاحب کو) عطا کیے گئے اور اسی لیے ہمارا نام آدم، ابراہیم، موسیٰ، نوح، داؤد، یوسف، سلیمان، اور یحییٰ اور عیسیٰ ہے۔“

اور ایک اور مقام پر کہا:

(مرزا صاحب) ان تمام صفات میں حضرت نبی کریم کے ظل ہیں۔“ (ایضاً)

ظل اور اصل میں کوئی فرق نہیں ہوتا۔ عملاً ایک دوسرے کا ثانی یا دہرا ہوتا ہے۔ یہی بات مرزا صاحب کے اس دعوے سے بھی ثابت ہوتی ہے کہ وہ رسول اللہ ﷺ کے تمام کمالات میں ان کے ظل ہیں جبکہ دیگر تمام انبیاء میں سے ہر نبی کو کم تعداد میں کمالات حاصل تھے۔ سو یہ امر واضح ہے کہ مرزا صاحب کے مطابق کمال یا افضلیت کے مسائل میں وہ رسول پاک ﷺ کے برابر ہیں اور دیگر انبیاء سے برتر ہیں۔

براہین احمدیہ میں ایسی قرآنی آیات کریمہ جو رسول اللہ ﷺ کی شان میں نازل ہوئی تھیں، کی شکل میں متعدد ایسے الہامات کا تذکرہ موجود ہے۔ مرزا صاحب کا یہ دعویٰ ہے کہ یہ تمام آیات خود ان کے بارے میں بھی نازل ہوئی ہیں اور وہ ان کا مصداق ہیں۔ ایک واضح مثال آیت 28:48 ھو الذی ارسل رسولہ بالھدی و دین الحق ہے۔ نیز آیات نمبر 17:8، 2:68، 31:3 اور 22:26 وغیرہ۔ اس طرح انہوں نے براہین احمدیہ میں اپنے رسول پاک ﷺ کے برابر ہونے کی بنیاد رکھ دی تھی۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ان پر تین لاکھ الہامات نازل ہوئے جن میں سے

صفحہ 178

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول)

پچاس ہزار مختلف ذرائع سے دولت کے حصول سے متعلق تھے۔ کئی دوسرے مقامات پر مرزا صاحب نے یہ ظاہر کرنے کی کوشش کی کہ انہیں عطا شدہ نشانیوں کی تعداد ان نشانیوں سے بہت ہی زیادہ ہے جو دوسرے نبیوں مثلاً نوحؑ، یوسفؑ، اور عیسیٰؑ، وغیرہ کو دی گئی تھیں۔

کلمۃ الفصل (ریویو آف ریلیجنز شمارہ 3‘ جلد 14‘ صفحہ 147) میں مرزا بشیر احمد نے لکھا کہ یہ ممکن نہیں کہ جو شخص رسول پاک ﷺ کا انکار کرے وہ کافر ہو لیکن جو شخص مسیح موعود کا منکر ہو وہ کافر نہ ہو۔ اگر ظہور اول کا انکار کفر ہے تو ظہور ثانی‘ جس میں مسیح موعود کے مطابق اس کی روحانیت زیادہ قویٰ‘ اکمل اور اتم ہے‘ کے انکار کو کفر نہ سمجھا جائے۔

ظہور ثانی مرزا صاحب کی نبوت ہے۔ رسول کریم ﷺ کی روحانیت اور مرزا صاحب کی روحانیت کا موازنہ کرتے ہوئے کہا جاتا ہے کہ یہ زیادہ قویٰ‘ اکمل اور اتم ہے اور یہ ان کی رسول پاک ﷺ پر بھی برتری کا پیمانہ ہے۔ یہ امر اس واقعہ سے بھی ثابت ہوتا ہے جو مرزا صاحب کی زندگی میں رونما ہوا۔ ایک شاعر قاضی اکمل‘ جو مرزا صاحب کا پیرو تھا‘ نے ان کی ستائش میں ایک قصیدہ لکھا جو قادیان کے اخبار ’’البدر‘‘ مورخہ 25 اکتوبر 1902ء میں شائع ہوا۔ قصیدے کا ایک شعر تھا:

محمد پھر اتر آئے ہیں ہم میں اور آگے سے ہیں بڑھ کر اپنی شاں میں

(دیکھئے پیغام صلح لاہور‘ شمارہ 47‘ جلد 32‘ مورخہ 30 نومبر 1944ء‘

قادیانی مذہب‘ ص 320 طبع دوم 2002ء اخبار بدر قادیان ج 2 نمبر 43 ص 14

مورخہ 25 اکتوبر 1906ء)

اس شعر میں محمد ﷺ کے پھر اتر آنے کا مطلب یہ ہے کہ محمد ﷺ مرزا صاحب کی شکل میں دوبارہ آگئے اور ان کی شان وشوکت رسول اللہ ﷺ کے ظہور سے بڑھ کر ہے۔ (خطبہ الہامیہ ص 271‘ 272 روحانی خزائن ج 16 ص ایضاً)

اگلا قدم اپنے اوپر ختم نبوت کا دعویٰ ہے۔ یہ مندرجہ ذیل سے واضح ہوتا ہے:

صفحہ 179

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول)

سوائے اس کے جو خود حضرت خاتم الانبیاء کی طرح خاتم الاولیاء ہے‘ کیونکہ کسی چیز کی اصل حقیقت کا سمجھنا اس کے اہل پر موقوف ہوتا ہے اور یہ ایک ثابت شدہ امر ہے کہ ختمیت کا اہل یا حضرت محمد رسول اللہ ﷺ یا حضرت مسیح موعود ہے۔‘‘ (تشحیذ الاذہان‘ قادیان نمبر 8‘ جلد 12‘ 1-2 اگست 1917ء)

ایک فرد مخصوص ہوں اور جس قدر مجھ سے پہلے اولیاء اور ابدال اور اقطاب اس امت میں سے گزر چکے ہیں ان کو یہ حصہ کثیر اس نعمت کا نہیں دیا گیا‘ پس اس وجہ سے نبی کا نام پانے کے لیے میں ہی مخصوص کیا گیا اور دوسرے تمام لوگ اس نام کے مستحق نہیں کیونکہ کثرت وحی اور کثرت امور غیبیہ اس میں شرط ہے اور وہ شرط ان میں پائی نہیں جاتی اور ضرور تھا کہ ایسا ہوتا تاکہ آنحضرت ﷺ کی پیشگوئی صفائی سے پوری ہو جاتی‘ کیونکہ اگر دوسرے صلحاء جو مجھ سے پہلے گزر چکے ہیں، وہ اسی قدر مکالمہ ومخاطبہ الہیہ اور امور غیبیہ سے حصہ پا لیتے تو وہ نبی کہلانے کے مستحق ہو جاتے تو اس صورت میں آنحضرت ﷺ کی پیشگوئی میں ایک رخنہ واقع ہو جاتا۔ اس لیے خدا تعالیٰ کی مصلحت نے ان بزرگوں کو اس نعمت کو پورے طور پر پانے سے روک دیا تا جیسا کہ احادیث صحیحہ میں آیا ہے کہ ایسا شخص ایک ہی ہو گا‘ وہ پیشگوئی پوری ہو جاوے۔‘‘

(حقیقة الوحی‘ صفحہ 391 روحانی خزائن ج 22 ص 406‘ 407)

یہ عبارت مرزا صاحب کے اس نقطہ نظر کو واضح کرتی ہے کہ حضرت محمد ﷺ کے بعد وہ واحد نبی ہیں اور ان کا بروز ہونے کی بنا پر وہ اس نام کے مستحق ہوئے ہیں تو اس کا لازمی نتیجہ یہ ہوا کہ رسول اللہ ﷺ نہیں بلکہ مرزا صاحب آخری نبی ہیں۔ یہ امر درج ذیل عبارتوں سے مزید واضح ہوتا ہے:

یلحقوا بہم بروزی طور پر وہی نبی خاتم الانبیاء ہوں۔‘‘

(ایک غلطی کا ازالہ‘ ص 8 روحانی خزائن ج 18 ص 212)

صفحہ 180

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول)

میں سے آخری نور ہوں۔“ (کشتی نوح‘ صفحہ 56 روحانی خزائن ج 19 ص 61)

اور وہ یہ کہ اب نبوت پر قیامت تک مہر لگ گئی ہے اور بجز بروزی وجود کے جو خود آنحضرت ﷺ کا وجود ہے‘ کسی میں یہ طاقت نہیں کہ کھلے کھلے طور پر نبیوں کی طرح خدا سے کوئی علم غیب پاوے اور چونکہ وہ بروز محمدی جو قدیم سے موعود تھا‘ وہ میں ہوں۔ اس لیے بروزی رنگ کی نبوت مجھے عطا کی گئی ہے اور اس نبوت کے مقابل اب تمام دنیا بے دست و پا ہے، کیونکہ نبوت پر مہر ہے۔ ایک بروز محمدی جمیع کمالات محمدی کے ساتھ آخری زمانے کے لیے مقدر تھا‘ سو وہ ظاہر ہو گیا۔“

(ایک غلطی کا ازالہ ص 11 روحانی خزائن ج 18 ص 215)

آپ کی روح نے تعلیم دی اور اپنا ظل بنایا۔“ (ما الفرق فی آدم والمسیح الموعود‘ ضمیمہ خطبہ الہامیہ‘ صفحہ ب روحانی خزائن ج 16 ص 310)

گا تا یہ امت مرحومہ دوسری امتوں سے کسی بات میں کم نہ ہو‘ پس اس نے مجھے پیدا کر کے ہر ایک گزشتہ نبی سے مجھے اس نے تشبیہ دی کہ وہی میرا نام رکھ دیا۔ چنانچہ آدمؑ، ابراہیمؑ، نوحؑ، موسیٰؑ، داؤدؑ، سلیمانؑ، یحییٰؑ، عیسیٰؑ وغیرہ یہ تمام نام براہین احمدیہ میں میرے رکھے گئے اور اس صورت میں گویا تمام انبیاء گزشتہ اس امت میں دوبارہ پیدا ہو گئے یہاں تک کہ سب کے آخر مسیح پیدا ہو گیا اور جو میرے مخالف تھے ان کا نام عیسائی اور یہودی اور مشرک رکھا گیا۔“

(نزول المسیح، صفحہ 4، روحانی خزائن ج 18 ص 382، کلمتہ الفصل، صفحہ 133)

ان تحریروں کی توضیح مرزا صاحب کے جانشینوں نے کی۔ مرزا بشیر احمد نے کلمتہ الفصل‘ ص 116 میں کہا:

صفحہ 181

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول)

کی نظروں سے گر جاتی کیونکہ آپ کے بعد بہت سے نبیوں کے ہونے کے یہ معنی ہیں کہ نعوذ باللہ محمد رسول ﷺ کا درجہ اتنا معمولی ہے کہ بہت سے لوگ محمد رسول اللہ ﷺ بن سکتے ہیں، کیونکہ جو کوئی بھی ظلی نبی ہوگا، وہ بوجہ نبی کریم ﷺ کے تمام کمالات حاصل کر لینے کے محمد رسول ہی کہلائے گا۔ پس اس لیے امت محمدیہ میں صرف ایک شخص نے نبوت کا درجہ پایا۔“

اس سے معاملہ طے ہو جاتا ہے۔ باب نبوت کو کھولنے کے تمام نظریات تنہا مرزا صاحب ہی کی خاطر تھے اور جو استدلال باب نبوت کے کھولنے کے خلاف درست تھا، اسے بالاخر اختیار کر لیا گیا، لیکن مرزا صاحب کے مفاد کی خاطر صرف ایک استثناء کرنے کے بعد۔

وضاحت کے ساتھ بیان کیا ہے اور کھول کھول کر بتایا ہے کہ نبی کریم کے دو بعث ہیں۔ بعث اول میں اسم محمد کی تجلی تھی مگر بعث دوم اسم احمد کی تجلی کے لیے ہے۔“ (یعنی مرزا صاحب بطور بروز) (کلمۃ الفصل، صفحہ 140)

یوں تیسری بعث کی نفی کر دی گئی۔

تشحیذ الاذہان قادیان (نمبر 8، جلد 12، صفحہ 11 اگست 1917ء) میں بیان کیا گیا ہے کہ

سارے انبیاء کا ہونا خدا تعالیٰ کی بہت ساری مصلحتوں اور حکمتوں میں رخنہ واقع کرتا ہے۔“ (قادیانی مذہب، صفحہ 248 طبع دوم 2001ء)

اسی پرچے کے شمارہ مارچ 1914ء (نمبر 3، جلد 9، صفحہ 30-32) میں مزید بیان کیا گیا:

صفحہ 182

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول)

آسکتے، چنانچہ نبی کریم ﷺ نے اپنی امت میں صرف ایک نبی اللہ کے آنے کی خبر دی ہے جو مسیح موعود اور اس کے سوا قطعاً کسی کا نام نبی اللہ یا رسول اللہ نہیں رکھا۔ اور نہ کسی اور نبی کے آنے کی آپ نے خبر دی ہے بلکہ لا نبی بعدی فرما کر اوروں کی نفی کر دی اور کھول کر بیان فرما دیا کہ مسیح موعود کے سوا میرے بعد قطعاً کوئی نبی یا رسول نہیں آئے گا۔‘‘

(قادیانی مذہب‘ صفحہ 249 طبع دوم 2001ء)

اب مرزا صاحب اور ان کے جانشینوں کے ان دعوؤں کا کچھ متضاد بیانات سے موازنہ کیجیے۔

’’ایک غلطی کا ازالہ‘‘ (صفحہ 11 روحانی خزائن ج 18 ص 215) میں مرزا صاحب لکھتے ہیں:

نہ ایک دفعہ بلکہ ایک ہزار دفعہ دنیا میں بروزی رنگ میں آجائیں اور بروزی رنگ میں اور کمالات کے ساتھ اپنی نبوت کا اظہار کریں۔‘‘

لیکچر سیالکوٹ صفحہ 31 روحانی خزائن ج 20 ص 227 پر مرزا صاحب نے کہا:

کے انبیاء وقتاً بعد وقت آتے رہیں۔‘‘

میاں بشیر الدین محمود نے کہا کہ

(انوارِ خلافت‘ صفحہ 62 از قادیانی مذہب‘ صفحہ 230 طبع دوم 2001ء)

’’ہاں قیامت تک رسول آتے رہیں گے۔‘‘

(الفضل قادیان‘ مورخہ 27 فروی 1927ء نمبر 68‘ جلد 14‘ مرزا بشیر الدین محمود، بحوالہ قادیانی مذہب‘ صفحہ 231)

حقیقۃ النبوۃ‘ صفحہ 138 پر اس نے ایک مختلف بات کہی ہے کہ

پردۂ غیب میں ہے۔‘‘ (قادیانی مذہب‘ صفحہ 229 طبع دوم 2001ء)

صفحہ 183

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول)

ایک سوال کے جواب میں اس نے لکھا:

آ سکتا ہے۔ اگر کوئی اور نبی نیا مبعوث ہو تو احمدی لوگ اس پر ایمان لائیں گے یا نہیں۔ اس کا جواب یہ ہے کہ حضرت مرزا صاحب کے بعد نبی آ سکتا ہے‘ آئے گا کے متعلق میں قطعی طور پر کچھ نہیں کہہ سکتا۔ ہاں حضرت مسیح علیہ السلام کی کتب سے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ کوئی ایسا نبی آئے گا‘ اس پر ایمان لانا احمدیوں کے لیے ضروری ہوگا۔“

(مکتوب میاں بشیر الدین محمود احمد مندرجہ الفضل قادیان مورخہ 29 اپریل

1927ء نمبر 85‘ جلد 14 بحوالہ قادیانی مذہب‘ صفحہ 229 طبع دوم 2001ء)

نبیوں کی آمد کے نظریے میں ایک مزید تبدیلی اس کے اس جواب میں نظر آتی ہے جو اس نے اس سوال پر دیا کہ

”حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام (مرزا صاحب) کے بعد بھی جب نبی آنے کا امکان ہے تو آپ کو آخری زمانے کا نبی کہنے کا کیا مطلب ہے۔“

اس کا جواب یہ تھا:

صاحب) کے توسط کے بغیر کسی کو نبوت کا درجہ حاصل نہیں ہوسکتا۔“

(خطبہ جمعہ میاں بشیر الدین محمود مندرجہ الفضل‘ نمبر 120‘ جلد 2‘ مورخہ 2

مئی 1931ء بحوالہ قادیانی مذہب‘ صفحہ 229 طبع دوم جدید 2001ء)

مرزا صاحب اور ان کے جانشین کے یہ تمام مختلف بیانات مرزا صاحب کی اس پالیسی کے عین مطابق ہیں کہ ایک ہی کتاب یا رسالے میں بیک وقت یا بعد میں دوسری کتابوں یا رسالوں میں مختلف بلکہ متضاد باتیں کہہ دی جائیں۔ بہر حال مرزا صاحب کی کتابوں اور کلمتہ الفصل اور تشحیذ الاذہان کے اقتباسات اس امر کو ثابت کرتے ہیں کہ مرزا صاحب نے حقیقتاً اپنے آخری نبی ہونے کا دعویٰ کیا تھا۔

علامہ اقبال کی آراء سے ان نظریات پر مزید روشنی پڑتی ہے۔ وہ کہتے ہیں:

صفحہ 184

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول)

ہے کہ اگر پیغمبر اسلام کی روحانیت کسی اور نبی کی تخلیق نہ کر سکے تو وہ خود ناقص ٹھہرے گی۔ اس کا دعویٰ ہے کہ خود اس کی نبوت پیغمبرِ اسلام کی روحانیت کے تخلیقِ انبیاء کی صفت سے متصف ہونے کا ثبوت ہے۔ لیکن اگر آپ اس سے مزید سوال کریں کہ کیا حضرت محمد ﷺ کی روحانیت ایک سے زیادہ نبیوں کی تخلیق کے قابل ہے تو اس کا جواب ہے ”نہیں۔“ اس کا حقیقی مفہوم یہ ہوگا: ”محمد ﷺ آخری نبی نہیں ہے‘ آخری میں ہوں۔“ تاریخِ انسانیت میں عموماً اور تاریخِ ایشیاء میں خصوصاً ختم نبوت کے اسلامی عقیدے کی فکری قدر و منزلت کے ادراک سے صرف نظر کرتے ہوئے وہ سمجھتا ہے کہ اس معنی میں ختمیت کہ محمد ﷺ کا کوئی پیروکار مرتبہ نبوت نہ پا سکے‘ نبوت محمدیہ ﷺ کے ناقص ہونے کی دلیل ہے۔ جہاں تک میں اس کی نفسیات کا مطالعہ کر سکا ہوں‘ وہ اپنے دعویٰ نبوت کی خاطر جسے وہ پیغمبر اسلام ﷺ کی تخلیقی روحانیت قرار دیتا ہے‘ استعمال کرتا ہے۔ اور پھر اسی لمحہ پیغمبر اسلام ﷺ کی روحانیت کی تخلیقی صلاحیت کو صرف ایک نبی یعنی بانی تحریک احمدیہ کی تخلیق تک محدود کر کے‘ ان کی ختمیت کی نفی کرتا ہے۔ سو یوں یہ نیا نبی چپکے سے اس ذات کی ختمیت کو چرا لیتا ہے جسے وہ اپنا روحانی مورث ہونے کا دعویٰ کرتا ہے۔ وہ پیغمبر اسلام کا بروز ہونے کا مدعی ہے اور دعویٰ کرتا ہے‘ کہ پیغمبر اسلام ﷺ کا بروز ہونے سے ان کی ختم نبوت کی خلاف ورزی نہیں ہوتی۔ اس نے دو ختمیتوں‘ ایک خود اپنی اور دوسری پیغمبر اسلام ﷺ کی‘ کی نشاندہی کر کے ختم نبوت کے معنی کو نظر انداز کیا ہے۔ تاہم یہ امر بالکل واضح ہے کہ بروز کا لفظ‘ کامل مشابہت کے مفہوم میں بھی اس کے کسی کام نہ آئے گا‘ کیونکہ بروز اصل کے مماثل ہوتا ہے۔ اگر یہ سمجھیں تو پھر بھی دلیل بے کار رہے گی۔ لیکن اگر اسے آریائی معنوں میں تناسخ کے مفہوم میں لیں تو استدلال خوشنما ہو جاتا ہے لیکن اس کا مصنف چھپا ہوا مجوسی بن کر رہ جاتا ہے۔“

(Thoughts and Reflections of Iqbal از عبدالوحید‘ صفحہ 266‘ 268)

یہ واضح ہے کہ شریعت کا ایسا کوئی اصول نہیں جس سے رسول اللہ ﷺ کے

صفحہ 185

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول)

بعد کسی نبی کی آمد کی گنجائش نکلتی ہو اور نہ شریعت میں بروز، حلول، ظل وغیرہ کا کوئی تصور موجود ہے۔ حضرت عیسیٰؑ کی بعثت ثانیہ اور مہدی کے ظہور کی احادیث کسی بھی طرح مرزا صاحب پر منطبق نہیں ہوتیں، اس لیے انہوں نے اپنے دعووں کی پوری عمارت نہ صرف متن قرآن بلکہ احادیث کی تاویلات پر کھڑی کی۔ قادیان دمشق بنا اور مسجد اقصیٰ قادیان کی مسجد ہے۔

ان کی راہ میں بڑی مشکل عیسیٰ علیہ السلام تھے۔ اس لیے عیسیٰ علیہ السلام کو میدان سے ہٹانا ضروری تھا اور یہ مقصد ان کی کشمیر میں اپنی طبعی موت کے تصور سے پورا کیا گیا۔ ان سے عیسیٰ علیہ السلام جیسے معجزات پیش کرنے کو کہا گیا تو جواب میں انہوں نے عیسیٰ علیہ السلام اور ان کے معجزات کے دلائل کا مذاق اڑایا۔

دعویٰ نبوت کا نتیجہ بے قاعدگیوں کے سوا کیا ہوتا۔ ان کے دعویٰ کے یہ جزوی نتائج سامنے آچکے ہیں۔ مزید خلاف ورزیاں بھی ظاہر ہو سکتی ہیں۔ انہوں نے رائے بنا لی تھی کہ قرآن کریم کی صحیح تفسیر اور حدیث کی صحت کو جانچنے کے صرف وہی اہل ہیں۔

آیئے حضرت عیسیٰؑ کے بارہ میں اسلامی نقطہ نظر سمجھ لیں اور ان کے بارے میں مرزا صاحب کا تصور بھی۔

اللہ کے تمام انبیاء اور رسل پر ایمان لانا ایک مسلمان کے ایمان کا جزو ہے۔

یوقنون ۝

(البقرۃ: 4)

اور جو ایمان لاتے ہیں اس پر جو تجھ پر نازل ہوا اور اس پر جو تجھ سے پہلے نازل ہوا اور وہ آخرت پر یقین رکھتے ہیں۔

(البقرۃ: 177)

جو اللہ پر اور یوم ....... اور نبیوں پر ایمان لائے۔

(نیز آیات 179:3‘ 158:7‘ 136:4)

(النساء: 171)

صفحہ 186

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول)

پس اللہ اور اس کے رسولوں پر ایمان لاؤ۔

ایک اور مسلمہ اصول یہ ہے کہ مسلمان انبیاء میں تفریق نہیں کرتے۔

ہم اس کے رسولوں میں کسی کے درمیان فرق نہیں کرتے۔

حضرت ابوسعیدؓ خدری سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

انبیاء کے درمیان افضلیت میں ترجیح نہ دو۔

عبداللہؓ بن جعفر سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

ما ينبغى لنبى ان يقول انى خير من يونس بن متى. (مسند احمد)

کسی نبی کے لیے جائز نہیں کہ وہ کہے کہ میں یونس بن متی سے بہتر ہوں۔ (ایضاً)

حضرت ابوسعیدؓ خدری سے روایت ہے کہ ایک یہودی کو رسول اللہ ﷺ کے ایک صحابیؓ نے پیٹ دیا، تو وہ آپ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور شکایت کی کہ آپ کے ایک صحابیؓ نے مجھے پیٹا ہے۔ آپ نے اس سے پوچھا کہ اسے کیوں پیٹا ہے؟ اس (صحابیؓ) نے کہا کہ اس (یہودی) نے موسیٰؑ کو آپ ﷺ پر افضلیت دی تھی۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

صحیح بخاری میں اس شکایت پر نبی کریم ﷺ کے سخت ردّعمل کا اظہار ان الفاظ میں مذکور ہے:

نبی ﷺ اس قدر غضبناک ہوئے کہ غضب آپ کے چہرے میں دیکھا گیا۔

قرآنِ کریم حضرت مریمؑ کی پیدائش اور تربیت، حضرت یحییٰؑ کی پیدائش، جو حضرت عیسیٰؑ کی خوشخبری دینے والے تھے اور حضرت عیسیٰؑ کی پیدائش کا بیان کسی قدر تفصیل سے کرتا ہے۔ (دیکھئے سورۂ آل عمران کی آیات 45 تا 49)

صفحہ 187

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول)

حضرت عیسیٰؑ کی ولادت سے متعلق آیات (مریم: 16 تا 34) یہاں درج کی جاتی ہیں:

اور کتاب میں مریم کو یاد کر جبکہ وہ اپنے لوگوں سے الگ ہو کر پورب کی جگہ میں جا بیٹھی۔

پس اس نے اپنے آپ کو ان سے پردے میں کر لیا تو ہم نے اس کے پاس اپنا فرشتہ بھیجا جو اس کے سامنے ایک کامل بشر کی صورت میں نمودار ہوا۔

وہ بولی کہ اگر تم کوئی خدا ترس آدمی ہو تو میں تم سے رحمٰن کی پناہ مانگتی ہوں۔

اس نے کہا میں تیرے رب ہی کا فرستادہ ہوں تا کہ تجھے ایک پاکیزہ فرزند عطا کروں۔

وہ بولی میرے لڑکا کیسے ہو گا جبکہ نہ مجھے کسی مرد نے ہاتھ لگایا اور نہ میں کوئی بدکار ہوں۔

رحمتہ منا و کان امراً مقضیاہ اس نے کہا یوں ہی ہو گا۔ تیرے رب کا فرمان ہے کہ یہ میرے لیے آسان ہے تا کہ ہم اس کو لوگوں کے لیے اپنی ایک نشانی اور اپنی جانب سے رحمت بنائیں اور یہ ایک طے شدہ امر ہے۔

پس اس نے اس کا حمل اٹھا لیا اور اسے لے کر ایک دور کے مقام کو چلی گئی۔

صفحہ 188

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول)

کنت نسیاً منسیاً ۝ فنادا ھا من تحتھا الا تحزنی قد جعل ربک تحتک سریاً ۝ وھزی الیک بجذع النخلتہ تسقط علیک رطباً جنیاً ۝ فکلی واشربی و قری عینا فاما ترین من البشر احداً فقولی انی نذرت للرحمن صوماً فلن اکلم الیوم انسیاً ۝

پھر اس کو درد زہ کھجور کے تنے کے پاس لے گیا۔ اس نے کہا، اے کاش! میں اس سے پہلے ہی مر کھپ کے بھولی بسری چیز ہوچکی ہوتی۔ پس اس کے نیچے سے فرشتے نے اس کو آواز دی کہ مغموم نہ ہو۔ تمہارے نیچے سے تمہارے رب نے ایک چشمہ جاری کر دیا ہے۔ تو کھجور کے تنے کو اپنی طرف ہلا، تجھ پر تازہ خرمے جھڑیں گے۔ پس کھا اور پی اور آنکھیں ٹھنڈی کر۔ پس اگر تجھے کوئی آدمی نظر آئے تو اسے کہہ دے کہ میں نے رحمٰن کے لیے روزے کی نذر مان رکھی ہے۔ اس لیے آج میں کسی انسان سے بات نہیں کرسکتی۔

پس وہ اس کو گود میں اٹھائے ہوئے اپنی قوم کے پاس آئی۔ انہوں نے کہا اے مریم! تو نے تو یہ نہایت عجیب حرکت کر ڈالی ہے۔

اے ہارون کی بہن! نہ تمہارا باپ ہی کوئی برا آدمی تھا اور نہ تمہاری ماں ہی کوئی بدکار تھی۔

پس اس نے اس کی طرف اشارہ کیا۔ انہوں نے کہا ہم اس سے کس طرح بات کریں جو ابھی گود میں بچہ ہے؟

اس نے جواب دیا میں اللہ کا بندہ ہوں، اس نے مجھے کتاب عطا فرمائی اور مجھے نبی بنایا ہے۔

صفحہ 189

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول)

حياً ۝ وبراً بوالدتى ولم يجعلنى جباراً شقياً ۝ اور میں جہاں کہیں بھی ہوں اس نے مجھے خیر و برکت والا بنایا ہے اور جب تک زندہ رہوں اس نے مجھے نماز اور زکوٰۃ کی ہدایت کی ہے۔ اور مجھے ماں کا فرمانبردار بنایا ہے۔ اور مجھے سرکش اور بدبخت نہیں بنایا ہے۔

مجھ پر سلامتی ہے جس دن میں پیدا ہوا، جس دن مروں گا اور جس دن زندہ کر کے اٹھایا جاؤں گا۔

(مریم 16 تا 34)

یہ ہے عیسیٰ بن مریم! یہ اصل حقیقت کا بیان ہے جس میں یہ لوگ جھگڑ رہے ہیں۔

المسيح عيسى ابن مريم وجيهاً فى الدنيا والأخرة و من المقربين ۝ ويكلم الناس فى المهد وكهلاً ومن الصلحين ۝ قالت رب انى يكون لى ولد ولم يمسسنى بشر قال كذلک الله يخلق ما يشاء اذا قضى امراً فانما يقول له كن فيكون ۝

(آل عمران:45 تا 47)

یاد کرو جب فرشتوں نے کہا اے مریم! اللہ تمہیں اپنی طرف سے ایک کلمہ کی خوشخبری دیتا ہے۔ اس کا نام مسیح عیسیٰ بن مریم ہو گا۔ وہ دنیا اور آخرت دونوں میں ذی وجاہت اور مقرب بندوں میں سے ہوگا۔ وہ لوگوں سے گہوارے میں بھی بات کرے گا اور ادھیڑ ہو کر بھی اور وہ صالحین کے گروہ میں سے ہوگا۔ وہ بولی میرے پروردگار! میرے کس طرح لڑکا ہوگا جبکہ کسی مرد نے مجھے ہاتھ تک نہیں لگایا۔ ارشاد ہوا اسی طرح اللہ پیدا کرتا ہے جو چاہتا ہے۔ جب وہ کسی امر کا فیصلہ کر لیتا ہے تو اس کو کہتا ہے کہ ہو جا سو وہ ہو جاتا ہے۔

اسرائيل انى قد جئتكم باية من ربكم انى اخلق لكم من الطين كهيئته

صفحہ 190

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول)

الطیر فانفخ فیہ فیکون طیراً باذن اللہ وابری الاکمہ والابرص واحی الموتی باذن اللہ وانبئکم بما تاکلون وما تدخرون فی بیوتکم ان فی ذلک لآیۃ لکم ان کنتم مومنین . (آل عمران 48 تا 49)

اور اللہ اسے کتاب اور حکمت اور تورات اور انجیل سکھائے گا۔ اور اسے بنی اسرائیل کی طرف رسول بنا کر بھیجے گا۔ (چنانچہ اس نے بنی اسرائیل کو دعوت دی) کہ میں تمہارے خداوند کی طرف سے نشانی لے کر آیا ہوں، میں تمہارے لیے مٹی سے پرندوں کی صورت کے مانند صورت بناتا ہوں پھر اس میں پھونک مار دیتا ہوں تو وہ اللہ کے حکم سے واقعی پرندہ بن جاتا ہے۔ اور میں اللہ کے حکم سے اندھے اور کوڑھی کو اچھا کر دیتا ہوں اور اللہ کے حکم سے مردوں کو زندہ کر دیتا ہوں اور میں تمہیں بتا سکتا ہوں جو کچھ تم کھاتے اور ذخیرہ کرتے ہو اپنے گھروں میں۔ بے شک ان باتوں کے اندر تمہارے لیے نشانی ہے اگر تم ایمان رکھنے والے ہو۔

آیت نمبر 49 حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے ان معجزات کو بیان کرتی ہے جو انہیں بطور نشانی عطا کیے گئے تھے۔ تاہم کئی آیات کریمہ میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی الوہیت کے تصور کی تردید کی گئی ہے۔ مثلاً آیات نمبر 59:3 اور 171:4 اور 172:4 وغیرہ۔

مرزا صاحب نے ایک طرف اللہ کے تمام انبیاء اور رسل پر برتری کا دعویٰ کیا اور دوسری طرف انبیاء خصوصاً حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے خلاف ہتک آمیز زبان استعمال کی۔ انہوں نے عیسیٰ علیہ السلام پر برتری کا دعویٰ کرتے ہوئے کہا:

شان میں بہت بڑھ کر ہے۔ مجھے قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ اگر مسیح ابن مریم میرے زمانے میں ہوتا تو وہ کام جو میں کر سکتا ہوں، وہ ہرگز نہ کر سکتا اور وہ نشان جو مجھ سے ظاہر ہو رہے ہیں وہ ہرگز دکھلا نہ سکتا۔“

(حقیقۃ الوحی، صفحہ 148 روحانی خزائن ج 22 ص 152)

صفحہ 191

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول)

قرآن کریم کی آیت نمبر 49:3 میں حضرت عیسیٰ کے معجزات کا تذکرہ کیا گیا ہے ۔ وہ مٹی سے پرندے کی صورت بناتے اور اس میں پھونک مارتے تو وہ پرندہ بن جاتا ۔ وہ مادر زاد اندھے اور کوڑھی کو اچھا کر لیتے اور مردوں کو زندہ کرتے تھے ۔ یہ ان کی نشانیاں تھیں ۔ مرزا صاحب نے مسیح موعود اور مثیل عیسیٰ ہونے کا دعویٰ کیا تو انہیں بھی کچھ ایسے معجزات دکھانے کو کہا گیا، تو انہوں نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے معجزات کا انکار کر دیا اور کہا کہ قرآن کریم میں معجزات کا بیان صرف بطور تشبیہ ہے ۔ انہوں نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے ایسے معجزات پر اعتقاد رکھنے کی مذمت کی اور اسے ”صریح الحاد اور سخت بے ایمانی“ قرار دیا (ازالہ اوہام صفحہ 296 روحانی خزائن ج 3 ص حاشیہ 250) ۔ انہوں نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے معجزات کے ہونے کا انکار کرتے ہوئے لکھا:

اولاد ٹھہرایا ۔ اسی روز سے شریفوں نے آپ سے کنارہ کیا ۔“ (ضمیمہ انجام آتھم ص حاشیہ 16 روحانی خزائن ج 11 ص حاشیہ 390)

ہوتے تھے۔ خیال ہو سکتا ہے کہ اس تالاب کی مٹی آپ بھی استعمال کرتے ہوں گے۔........... اور آپ کے ہاتھ میں سوا مکر اور فریب کے اور کچھ نہ تھا۔“

(ضمیمہ انجام آتھم حاشیہ ص 7 روحانی خزائن ج 11 حاشیہ ص 291، ازالہ

اوہام صفحہ 322 روحانی خزائن ص 263)

مرزا صاحب نے لکھا کہ

باذنِ حکم الٰہی اس عمل الترب (مسمریزم) میں کمال رکھتے تھے۔“

(ازالہ اوہام ص حاشیہ 38 روحانی خزائن ج 3 ص حاشیہ 257)

پھر انہوں نے ایک مختلف موقف اختیار کرتے ہوئے لکھا:

صفحہ 192

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول)

طریق پر اطلاع دے دی ہو جو ایک مٹی کا کھلونا کسی کل کے دبانے یا کسی پھونک مارنے کے طور پر ایسا پرواز کرتا ہو جیسے پرندہ پرواز کرتا ہے۔“

(ازالہ اوہام‘ صفحہ حاشیہ 303 روحانی خزائن ج 3 ص حاشیہ 254)

یا

(ازالہ اوہام‘ ص حاشیہ 322 روحانی خزائن ج 3 ص 263)

اور

اور توفیق سے قوی امید رکھتا تھا کہ ان اعجوبہ نمائیوں میں حضرت ابن مریم سے کم نہ تھا۔“

(ازالہ اوہام ص حاشیہ 309 روحانی خزائن ج 3 ص حاشیہ 258)

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی پیدائش کے بارے میں مرزا صاحب نے کہا:

پیدا ہو جاتے ہیں اور حضرت آدم علیہ السلام بھی بغیر ماں باپ کے پیدا ہوئے تو پھر حضرت عیسیٰ کی اس پیدائش سے کوئی بزرگی ان کی ثابت نہیں ہوتی بلکہ بغیر باپ کے پیدا ہونا بعض قویٰ سے محروم ہونے پر دلالت کرتا ہے۔“

(چشمہ مسیحی‘ صفحہ 27 روحانی خزائن ج 20 ص 356)

ہوتی ہے کہ عیسیٰ ہیجڑا اور مردانہ صفات سے عاری ہونے کی بناء پر شادی نہ کرسکا۔

(دیکھئے مکتوباتِ احمدیہ جلد 3 ‘ صفحہ 28)

مرزا صاحب نے کہا کہ

تین دادیاں اور نانیاں آپ کی زنا کار اور کسبی عورتیں تھیں جن کے خون سے آپ کا وجود ظہور پذیر ہوا۔“....... (ضمیمہ انجام آتھم، صفحہ 7 حاشیہ روحانی خزائن ج 11 ص 291 حاشیہ)

صفحہ 193

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول)

نیز الزام لگایا کہ

عادت تھی۔ ادنیٰ ادنیٰ بات پر غصہ آجاتا تھا۔ اپنے نفس کو جذبات سے روک نہیں سکتے تھے...... آپ کو کسی قدر جھوٹ بولنے کی بھی عادت تھی۔“

(ایضاً، صفحہ 5 حاشیہ روحانی خزائن ج 11 ص 289)

پھر لوگ ٹھٹھا کر کے کہیں گے کہ پہلا مسیح شرابی تھا اور دوسرا افیونی۔

(نسیم دعوت ص 69 روحانی خزائن ج 19 ص 434)

میں نے صرف چند ایسے اقتباسات پیش کیے ہیں جن میں مرزا صاحب نے اللہ کے ایک عظیم نبی کے بارے میں حقارت آمیز، نفرت انگیز اور گھٹیا کلمات استعمال کیے ہیں۔ میں نے ان حوالوں کو پیش کرنے سے عموماً احتراز کیا ہے جن کے بارے میں ان کا بہانہ یہ ہے کہ وہ ان عیسائی مشنریوں کے ساتھ مناظروں میں ردعمل کے طور پر کہے گئے تھے جو رسول کریم ﷺ کی شان میں زیادہ گندی زبان استعمال کرتے تھے۔ کوئی مناظر اسے جائز سمجھے تو سمجھے لیکن اسلام کسی بھی نبی یا رسول کے بارے میں نازیبا کلمات کہنے کی اجازت نہیں دیتا۔ عہد نامہ قدیم میں کئی انبیاء مثلاً حضرت نوح علیہ السلام اور حضرت لوط علیہ السلام کے بارے میں کئی نفرت انگیز باتیں ہوسکتی ہیں لیکن اسلامی عقیدے کی رو سے نبی معصوم ہوتا ہے۔ لوگوں کا ایسا رہنما، جس کا مشن ہی ان کو نیکی کی تعلیم و تربیت دینا ہو وہ خود نیک ہی ہوسکتا ہے۔

قرآن کریم میں حضرت مریمؑ کے حمل اور عیسیٰ علیہ السلام کی ولادت کا تذکرہ بہت عمدہ انداز میں کیا گیا ہے لیکن مرزا صاحب نے اسے برسات کے موسم میں کیڑے مکوڑوں کی پیدائش سے تشبیہ دے دی ہے۔ مرزا صاحب ایک تالاب کی مٹی میں معجزاتی خصوصیات تسلیم کرنے کو تیار ہیں لیکن ایک نبی اللہ کے معجزات کو نہیں مانتے۔

صفحہ 194

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول)

کا نام دیا تھا۔

براہین احمدیہ میں مرزا صاحب نے یہ کہتے ہوئے کہ جو کوئی اس میں داخل ہوتا ہے امن میں ہے اسے مکہ کے کعبہ یا بیت الحرام کی خصوصیت دے دی ہے۔

دوسرا قدم یہ تھا کہ قادیان کا مرتبہ بڑھا کر اسے مکہ کے مساوی قرار دیا جائے۔ انہوں نے دُرّثمین صفحہ 56 پر لکھا:

زمین قادیاں اب محترم ہے ہجوم خلق سے ارض حرم ہے

اپنے طور پر اس شعر کی کوئی زیادہ معنویت نہ ہوتی لیکن دوسرے حالات کے پیش نظر یہ بہت ہی متعلق ہے۔

صاحب نے قرار دیا کہ ”قادیان میں منعقدہ سالانہ جلسے میں شرکت کا ثواب نفلی حج سے زیادہ ہے۔“

احمدیت کی تعلیم پانے کے لیے قادیان میں رک گیا۔ (اخبار الفضل قادیان ج 20 نمبر 80 ص 4 مورخہ 5 جنوری 1933ء قادیانی مذہب ص 441 طبع دوم جدید 2001ء)

جمعہ میاں محمود احمد مندرجہ برکات خلافت مجموعہ تقاریر 1914 قادیانی مذہب ص 440 طبع دوم 2001ء)

(دیکھئے آیت قرآن نمبر 1:17‘ تبلیغ رسالت جلد 9‘ صفحہ 37 مجموعہ اشتہارات ج 3 ص 286)

اس کا مشرقی مینارہ بنوایا جا رہا تھا کیونکہ رسول کریم ﷺ کی ایک حدیث ہے کہ مسیح دمشق کے مشرقی مینارے پر نازل ہوگا۔ ایک اور روایت یہ ہے کہ نزول (بیت المقدس کی) مسجد الاقصیٰ سے ہوگا۔ اس طریقے پر جسے معقولیت کا مذاق ہی کہا جا سکتا ہے‘ مرزا صاحب نے یہ ثابت کرنے کی سعی کی کہ مذکورہ بالا مینارہ مسجد الاقصیٰ کا ہی ہے‘

صفحہ 195

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول)

اس لیے قادیان میں واقع ان کی مسجد کا مینارہ تعمیر کر دیا جائے تا کہ رسول کریم ﷺ کی پیشگوئی کا منشا پورا ہو جائے۔ (ایضاً صفحہ 38 مجموعہ اشتہارات ج 3 ص 287)

مرزا صاحب نے قرآن کریم کی آیت 1:17 ‘سبحن الذی اسریٰ بعبدہ لیلاً من المسجد الحرام الی المسجد الاقصیٰ الذی برکنا حولہ لنریہ من ایتنا انہ ھو السمیع البصیر. (بنی اسرائیل: 1) پاک ہے وہ ذات جو اپنے بندے کو لے گئی ایک شب مسجد الحرام سے اس مسجد اقصیٰ تک جس کے اردگرد کو ہم نے برکت بخشی تاکہ ہم اس کو اپنی کچھ نشانیاں دکھائیں۔ بے شک سمیع و بصیر وہی ہے۔ جو رسول اللہ ﷺ کی معراج کے بارے میں ہے‘ کا حوالہ دیا اور اسی طریقہ استدلال کو اختیار کرتے ہوئے کہا کہ

سیر فرما ہوئے۔" (ایضاً صفحہ 39‘ 40 مجموعہ اشتہارات ج 3 حاشیہ ص 289)

شریعت پٹیشن نمبر 2 / ایل 1984ء کے درخواست دہندہ کیپٹن عبدالواجد جو احمدیوں کے لاہوری گروہ کے رکن ہیں‘ کے دلائل عموماً دوسری شریعت پٹیشن کے درخواست دہندہ مجیب الرحمن کے دلائل کا اعادہ تھے‘ تاہم انہوں نے احمدیوں کے لاہوری گروہ اور قادیانی گروہ کے عقائد کے مابین فرق کا نکتہ اٹھایا اور کہا کہ لاہوری گروہ مرزا صاحب کی نبوت کا عقیدہ نہیں رکھتا اور نہ ہی مرزا صاحب نے کبھی اپنے نبی ہونے کا دعویٰ کیا۔ لاہوری گروہ کے لوگ حضرت محمد ﷺ کی غیر مشروط اور قطعی ختم نبوت کا عقیدہ رکھتے ہیں اور مرزا صاحب کو مہدی موعود‘ مسیح موعود‘ مجدد اور محدثِ نبوت سے کم ہر چیز سمجھتے ہیں۔ اس بارے میں انہوں نے کئی کتابوں جن میں ازالہ اوہام‘ نشان آسمانی‘ آئینہ کمالات اسلام‘ حمامۃ البشریٰ‘ ایام صلح وغیرہ شامل ہیں‘ کا سہارا لیتے ہوئے ثابت کرنے کی کوشش کی کہ مرزا صاحب نے کبھی نبوت کا دعویٰ نہیں کیا تھا۔ ان پر یہ امر واضح کیا گیا کہ اس بارے میں مرزا صاحب کی متعلقہ تحریریں 1901ء سے لے کر 1908ء تک کی تحریریں ہوں گی اور ”ایک غلطی کا ازالہ“ ایک بنیادی تحریر ہے۔ انہوں نے اس

صفحہ 196

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول)

رسالے کے کچھ حصے پڑھے لیکن وہ نہیں جو موضوع سے متعلق ہیں۔ کیپٹن عبدالواجد نے اس بات کا انکار کیا کہ مرزا صاحب یا قادیانیوں کے لاہوری گروہ نے کبھی امت مسلمہ یا جو بھی کلمہ (اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمدؐ اللہ کا رسول ہے) پڑھتے ہوں‘ کو کبھی مرزا صاحب کے بارے میں ان کے عقیدے کی وجہ سے کافر قرار دیا ہو۔ تاہم انہوں نے اس بات کو تسلیم کیا کہ جو مسلمان مرزا صاحب کو کافر کہتے ہیں‘ وہ اس الزام کے بعد کافر ہو جاتے ہیں۔

ان دونوں دعووں میں کوئی وزن نہیں۔ مرزا صاحب کی تحریروں سے واضح ہو گیا کہ نہ صرف انہوں نے نبوت کا دعویٰ کیا بلکہ لاہوری گروہ کا بانی (مولوی محمد علی) بھی 1914ء تک‘ جب اس نے قادیانیوں کی بڑی جماعت سے علیحدہ ہو کر اپنا گروہ بنا لیا‘ انہیں نبی مانتا رہا۔ اس مفروضے کی تائید میں عبدالقادر کی کتاب ”حیات طیبہ“ جو مرزا صاحب کی سوانح حیات ہے‘ سے حوالے دیے جا سکتے ہیں۔ صرف دو اقتباسات کافی ہوں گے۔

صفحہ 299 پر بیان کیا گیا ہے کہ 1904ء میں مولوی کرم الدین کے مقدمہ میں محمد علی (لاہوری) استغاثہ کی طرف سے بطور گواہ پیش ہوا اور حلفاً بیان دیا کہ

صفحہ 300 پر مولوی محمد علی کی تحریر‘ جو اس کے اخبار ”پیغام صلح“ مورخہ 16 اکتوبر 1913ء میں شائع ہوئی تھی‘ میں سے مندرجہ ذیل اقتباس نقل کیا گیا ہے:

دہندہ مانتے ہیں۔“

ان اقتباسات سے یہ بات واضح ہے کہ مولوی محمد علی اور اس کے ساتھی مرزا صاحب کو ان کی زندگی اور ان کے گدی نشین حکیم نور الدین کے زمانہ تک نبی مانتے رہے۔ یہ بعد کی بات ہے کہ جب مولوی محمد علی احمدیوں کی عام جماعت سے علیحدہ ہوا تو اس نے یہ مختلف موقف اختیار کر لیا کہ

صفحہ 197

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول)

(النبؤۃ فی الاسلام صفحہ 115)

اور یہ کہ

(پیغام صلح، جلد 2، صفحہ 119، مورخہ 16 اپریل 1915ء)

جب مرزا صاحب نے صرف مسیح موعود اور مہدی موعود ہونے کا دعویٰ کیا تو انہیں کفر کے فتوے کا سامنا کرنا پڑا۔ یہی فتویٰ ان کے پیروؤں پر بھی منطبق ہوتا تھا۔ مولانا محمد حسین بٹالویؒ جنہوں نے براہین احمدیہ کے کچھ اجزاء کے تحریر کرنے پر مرزا صاحب کی تعریف کی تھی، ان دعووں کی بنا پر حقیقت حال سے آگاہ ہو گئے اور ان کے سخت مخالف بن گئے۔ انہوں نے نہ صرف خود ان کے کافر ہونے کا فتویٰ دیا بلکہ اس پر تمام ہندوستان کے علماء کی ایک بہت بڑی تعداد کے دستخط حاصل کیے۔ (حیات طیبہ از عبدالقادر صفحہ 132)

تاہم ان فتووں سے متاثر ہوئے بغیر اس نکتے کا معروضی مطالعہ ہونا چاہیے۔ مرزا صاحب اور ان کے جانشینوں کی تحریروں کے اقتباسات سے یہ ثابت ہو چکا ہے کہ مرزا صاحب نے نبی ہونے کا غیر مبہم دعویٰ کیا تھا اور ان تمام لوگوں کو جنہوں نے ان کا دعویٰ قبول نہیں کیا تھا کافر قرار دیا تھا۔

اب اسلام کا ان لوگوں کے بارے میں کیا موقف ہے جو ایک کافر کے واضح کفر کو نظر انداز کریں یا اس سے آنکھیں بند کر لیں اور اسے مامور من اللہ مجدد مسیح موعود اور مہدی مانیں حالانکہ وہ دائرہ اسلام سے خارج ہونے کی وجہ سے ایسا نہیں ہو سکتا۔ کیا کفر کی تائید کفر نہیں ہے۔

اسلام کا مسلمہ اصول یہ ہے کہ جو شخص کفر کو نیکی سمجھے یا اس پر راضی ہو جائے یا اس پر خوش ہو جائے وہ مسلمان نہیں ہے۔

(اکفار الملحدین از مولانا انور شاہ کشمیریؒ صفحہ 59)

البحر الرائق، جلد 5، صفحہ 24 پر لکھا ہے کہ جو یہودی احبار کے خطبوں کو مستحسن

صفحہ 198

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول)

خیال کرے اور ان کی تاویل کو پسند کرے وہ کافر ہے۔ مرزا صاحب نے اس اصول کو کچھ زیادہ صاف گوئی میں پیش کرتے ہوئے لکھ دیا کہ ”اور کافر کو مومن کہنے والا بھی کافر ہو جاتا ہے“

(حقیقۃ الوحی، صفحہ 164 روحانی خزائن ج 22 ص 168)

قرآن کریم کی آیت نمبر 256:2 اس نکتے پر موزوں ہے اور وہ یہ ہے:

لا اکراہ فی الدین قد تبین الرشد من الغی فمن یکفر بالطاغوت و یومن بالله فقد استمسک بالعروۃ الوثقی لا انفصام لها والله سمیع علیم.

(البقرہ:256)

دین کے معاملے میں کوئی جبر نہیں ہے۔ ہدایت گمراہی سے بالکل الگ ہوچکی ہے۔ تو جس نے طاغوت کا انکار کیا اور اللہ پر ایمان لایا اس نے مضبوط رسی پکڑ لی جو ٹوٹنے والی نہیں اور اللہ سننے والا جاننے والا ہے۔

قرآن کریم میں متعدد مواقع پر لفظ ”طاغوت“ اللہ کے مقابل کے طور پر استعمال ہوا ہے۔ دیکھئے مذکورہ بالا آیت، نیز آیت نمبر 36:16 (اللہ کی بندگی کرو اور طاغوت سے بچو) اور آیت نمبر 76:4 (جو لوگ ایمان لائے ہیں وہ اللہ کی راہ میں جنگ کرتے ہیں اور جنہوں نے کفر کیا، وہ طاغوت کی راہ میں لڑتے ہیں)۔

طاغوت شیطان، ساحر، کاہن اور ضلالت کے لیڈر کے معانی کو متضمن ہوتا ہے۔ جوہری کہتا ہے:

”الطاغوت الکاہن والشیطان وکل راس فی الضلال.“

(قرطبی)

(طاغوت، کاہن، شیطان اور گمراہی کا ہر لیڈر ہوتا ہے)

کل راس فی الضلال (ضلالت کا ہر لیڈر) میں کسی ایسے مذہب یا نظریے کا بانی جو لوگوں کو گمراہ کرے یا جو صراط مستقیم کے مخالف ہو شامل ہے۔ (ضیاء القرآن از پیر محمد کرم شاہ جو اب سپریم کورٹ کے شریعت بنچ کے جج ہیں، جلد اول، صفحات 179‘ 180)

اسی بناء پر اس آیت نمبر 256:2 میں مستعمل لفظ ”طاغوت“ کا ترجمہ مختلف

صفحہ 199

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول)

مترجمین نے مختلف کیا ہے۔ پکھتل نے اس کا ترجمہ ”جھوٹا خدا“ جبکہ آربری نے ”بت“ کیا ہے۔ مولانا محمود حسن نے اس کا ترجمہ ”گمراہ کرنے والا“ کیا ہے۔ یہ بہت ہی مناسب ترجمہ ہے اور سب کو شامل کرتا ہے۔ یہ ایسے شخص کو شامل ہے جو الحاد کے کسی مذہب کی بنیاد رکھتا ہے۔

ایک مومن یا مسلمان کا وصف یہ ہے کہ اللہ پر ایمان رکھے اور طاغوت جس میں جھوٹا نبی شامل ہے‘ کا کفر یا انکار کرے۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ جو شخص ایک جھوٹے نبی‘ ضلالت کے لیڈر یا کسی ایسے مذہب کے بانی جو اسلام سے انحراف ہو‘ کا انکار نہیں کرتا‘ وہ مسلمان نہیں ہو سکتا خواہ وہ اللہ پر ایمان رکھتا ہو۔ ایسے شخص کا معاملہ جو طاغوت اور اللہ تعالیٰ دونوں پر ایمان رکھے، اس سے بھی بدتر ہوگا۔ اسے کسی بھی تصور یا تاویل سے مسلمانوں کے مساوی درجہ پر نہیں رکھا جا سکتا۔ ”سد ذرائع“ کے اصول کی رو سے بھی امت کو انتشار سے بچانے کی خاطر ایسے گمراہ شخص کو دائرۂ اسلام سے خارج قرار دینا چاہیے تاکہ طاغوت پر اعتقاد کے شر سے امت مسلمہ محفوظ رہے۔

مرزا صاحب نے رسالہ ”ایک غلطی کا ازالہ“ میں پہلی دفعہ نبوت کا دعویٰ کیا۔ اس کے لکھنے کی وجہ یہ تھی کہ اس کی تحریر سے چند روز پہلے ایک ”مخالف“ نے مرزا صاحب کے ایک پیروکار پر یہ اعتراض کیا کہ جس سے تم نے بیعت کی ہے، وہ نبی اور رسول ہونے کا دعویٰ کرتا ہے۔ پیروکار نے اس الزام کا انکار کر دیا۔ مرزا صاحب نے لکھا کہ یہ انکار درست نہ تھا۔ حق یہ ہے کہ خدا تعالیٰ کی وہ پاک وحی جو میرے پر نازل ہوتی ہے‘ اس میں ایسے الفاظ رسول اور مرسل اور نبی کے موجود ہیں‘ نہ ایک دفعہ بلکہ صدہا دفعہ پھر کیونکر یہ جواب صحیح ہو سکتا ہے کہ ایسے الفاظ موجود نہیں ہیں...... اور براہین احمدیہ میں‘ جس کو طبع ہوئے بائیس برس ہوئے‘ یہ الفاظ کچھ تھوڑے نہیں ہیں‘ چنانچہ وہ مکالمات الٰہیہ جو براہین احمدیہ میں شائع ہو چکے ہیں‘ ان میں سے ایک یہ وحی اللہ ہے:

”هو الذى ارسل رسوله بالهدى و دين الحق ليظهره على الدين كله.

(دیکھو صفحہ 498‘ براہین احمدیہ)

صفحہ 200

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول)

اس میں صاف طور پر اس عاجز کو رسول کر کے پکارا گیا ہے۔ پھر اس کے بعد اسی کتاب میں میری نسبت یہ وحی اللہ ہے جری اللہ فی حلل الانبیاء یعنی خدا کا رسول نبیوں کے حلوں میں (دیکھیں براہین احمدیہ صفحہ حاشیہ 504) پھر اسی کتاب میں اس مکالمہ کے قریب ہی یہ وحی اللہ ہے:

”محمد رسول الله والذين معه اشداء على الكفار رحماء بينهم“

قرآن کریم کی آیت نمبر 29:48‘ ترجمہ یوں ہے: (محمد اللہ کا رسول ہے اور جو اس کے ساتھ ہیں‘ کافروں پر سخت اور آپس میں نرم ہیں)

’’اس وحی الٰہی میں میرا نام محمد رکھا گیا اور رسول بھی...... اسی طرح براہین احمدیہ میں اور کئی جگہ رسول کے لفظ سے اس عاجز کو یاد کیا گیا۔‘‘

(ایک غلطی کا ازالہ ص 2، 3 روحانی خزائن ج 18 ص 206‘ 207)

پھر مرزا صاحب نے اس اعتراض پر بحث کی ہے کہ چونکہ حضرت محمد ﷺ آخری نبی ہیں، ان کے بعد کوئی نبی نہیں آسکتا۔ انہوں نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی دنیا میں دوبارہ آمد بحیثیت نبی کے مسلمانوں کے عقیدے کی تردید کرتے ہوئے لکھا کہ حضرت محمد ﷺ کے آخری نبی ہونے کی آیت کا معنی یہ ہے کہ

گئے اور ممکن نہیں کہ اب کوئی ہندو یا یہودی یا عیسائی یا کوئی رسمی مسلمان نبی کے لفظ کو اپنی نسبت ثابت کر سکے۔ نبوت کی تمام کھڑکیاں بند کی گئیں مگر ایک کھڑکی سیرۃ صدیقی کی کھلی ہے یعنی فنا فی الرسول کی۔‘‘

(ایک غلطی کا ازالہ ص 3 روحانی خزائن ج 18 ص 207)

مرزا صاحب مزید کہتے ہیں:

وہی نبوت کی چادر پہنائی جاتی ہے جو نبوت محمدی کی چادر ہے۔ اس لیے اس کا نبی ہونا غیرت کی جگہ نہیں کیونکہ وہ اپنی ذات سے نہیں بلکہ اپنے نبی کے چشمہ سے لیتا ہے اور نہ اپنے لیے بلکہ اسی کے جلال کے لیے۔ اس لیے اس کا نام آسمان پر محمدؐ اور احمد ہے۔ اس

صفحہ 201

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول)

کے یہ معنی ہیں کہ محمدؐ کی نبوت آخر محمدؐ کو ہی ملی‘ گو بروزی طور پر۔‘‘

(ایک غلطی کا ازالہ ص 3‘ 4 روحانی خزائن ج 18 ص 207‘ 208)

نیز صفحہ 5 روحانی خزائن ج 18 ص 209 پر انہوں نے لکھا:

گیا پھر بھی سیدنا محمد خاتم النبیین ہی رہا‘ کیونکہ یہ محمد ثانی اسی محمد ﷺ کی تصویر اور اسی کا نام ہے۔‘‘

انہوں نے مزید لکھا:

(روحانی خزائن ج 18 ص 211)

قرآن کریم کی آیت نمبر 3:62 واخرین منھم لما یلحقوا بھم (اور انہی میں سے ان دوسروں میں بھی جو ابھی ان میں شامل نہیں ہوئے) کو بھی مرزا صاحب نے اسی طرح توڑ مروڑ کر اور غلط معنی پہناتے ہوئے اپنے نظریے پر چسپاں کرنے اور اپنے سمیت مستقبل کے نبیوں پر منطبق کرنے کی کوشش کی ہے اور لکھا ہے:

برس پہلے براہین احمدیہ میں میرا نام محمد اور احمد رکھا ہے اور مجھے آنحضرت ﷺ کا ہی وجود قرار دیا ہے‘ پس اس طور سے آنحضرت ﷺ کے خاتم الانبیاء ہونے میں میری نبوت سے کوئی تزلزل نہیں آیا کیونکہ ظل اپنے اصل سے علیحدہ نہیں ہوتا‘‘۔

(ایک غلطی کا ازالہ، صفحہ 8 روحانی خزائن ج 18 ص 212)

قرآن کریم کی آیت نمبر 3:62 کو اس سے قبل کی آیت 2:62 سے ملا کر پڑھنا چاہیے۔ ان کا تعلق آنحضرت ﷺ کی بعثت کے مقاصد سے ہے کہ ”اسی نے بھیجا ہے امیوں میں ایک رسول انہی میں سے جو ان کو اس کی آیات پڑھ کر سناتا ہے اور ان کو پاک کرتا ہے اور ان کو کتاب اور حکمت کی تعلیم دیتا ہے

صفحہ 202

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول)

اور بے شک یہ لوگ اس سے پہلے کھلی ہوئی گمراہی میں تھے۔ اور انہی میں سے ان دوسروں میں بھی جو ابھی ان میں شامل نہیں ہوئے۔‘‘

(خط کشیدہ اس حصے کا ترجمہ ہے جس سے مرزا صاحب نے غلط مفہوم نکالا ہے)

یہ دونوں آیات (2:62 اور 3:62) صرف ایک ہی نبی یعنی حضرت نبی کریم ﷺ کا تذکرہ کرتی ہیں۔ ان کا واضح مفہوم یہ ہے کہ ان کا پیغام جو وحی الٰہی یعنی آیات کریمہ اور حکمت پر مشتمل ہے‘ کی تعلیم ان کی وفات کے بعد آئندہ نسلوں میں جاری رہے گی۔ ان آیات میں آئندہ ہونے والے نبیوں کا کوئی تذکرہ نہیں کیونکہ نبوت پر مہر لگ چکی ہے۔

انہوں نے پھر اپنی بروزی نبوت کا دعویٰ دُہرایا اور لکھا:

پاس نہیں گئی۔ محمدؐ کی چیز‘ محمدؐ کے پاس ہی رہی۔‘‘ (صفحہ 12 روحانی خزائن ج 18 ص 216)

یہ واضح ہے کہ مرزا صاحب کے اس ادعا کہ وہ خود محمدؐ اور احمدؐ (رسول اللہ ﷺ کے اسماء گرامی) ہیں‘ کے نتائج سخت اضطراب کا باعث بنے۔ مرزا صاحب کے ساتھی رسول کریم کے صحابہ بن گئے۔ مسلمانوں کے کلمہ لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ میں محمد سے مراد مرزا صاحب ہو گئے۔ جہاں بھی لفظ محمد پڑھا یا لکھا جائے، اس سے مراد مرزا صاحب ہو گئے۔

اب خود اسی تصور کا تجزیہ کرنا چاہیے۔ ڈاکٹر عبدالقادر محمود کی کتاب ’’الفلسفۃ الصوفیۃ فی الاسلام‘‘ کے صفحات 5 تا 11 میں اس امر کی وضاحت کی گئی ہے کہ ظلی اور بروزی کے معانی ہندوؤں کے ہاں حلول اور تناسخ کے تصورات سے بہت زیادہ مشابہ ہیں۔

مرزا صاحب نے خود تسلیم کیا ہے کہ بروز کا معنی اوتار ہے۔ اپنے لیکچر سیالکوٹ مورخہ 2 نومبر 1904ء (صفحہ 33‘ 34 روحانی خزائن ج 20 ص 228‘ 229) میں کہتے ہیں:

صفحہ 203

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول)

مسلمانوں کی اصلاح کے لیے ہی نہیں بلکہ مسلمانوں اور ہندوؤں اور عیسائیوں تینوں قوموں کی اصلاح منظور ہے۔“

ہے‘ ایسا ہی میں ہندوؤں کے لیے بطور اوتار کے ہوں۔..... اب یہ واضح ہو کہ راجہ کرشن جیسا کہ میرے پر ظاہر کیا گیا ہے‘ درحقیقت ایک ایسا کامل انسان تھا..... اور اپنے وقت کا اوتار یعنی نبی تھا..... خدا کا وعدہ تھا کہ آخری زمانہ میں اس کا بروز یعنی اوتار پیدا کرے۔“

ضمیمہ رسالہ جہاد (مطبوعہ 1900ء) میں انہوں نے لکھا:

اس نے ...... میرا نام محمدؐ اور احمدؐ رکھا اور مجھے توحید پھیلانے کے لیے تمام قویٰ اور رنگ اور روپ اور جامہ محمدی پہنا کر حضرت محمد ﷺ کا اوتار بنا دیا۔ سو میں ان معنوں میں عیسیٰ مسیح بھی ہوں اور محمدؐ مہدی بھی...... اور یہ وہ طریق ظہور ہے جس کو اسلامی اصطلاح میں بروز کہتے ہیں۔“

(گورنمنٹ انگریزی اور جہاد (ضمیمہ رسالہ جہاد) ص 5‘ 6 روحانی خزائن ج 17 ص 27‘ 28)

اسلام کی صاف و شفاف شریعت میں حلول یا تناسخ کا کوئی تصور نہیں پایا جاتا۔ ان اصطلاحات کا رواج ایسے لوگوں مثلاً مزدک اور لیمان کی جانب سے ہوا جو تناسخ کے قائل تھے۔ اسی طرح اسلام میں ظلیت کا بھی کوئی تصور تک موجود نہیں۔

(خاتم النبیین‘ مولانا انور شاہ کشمیریؒ صفحہ 210)

مولانا محمد یوسف بنوریؒ ”موقف ملۃ الاسلامیہ“ میں لکھتے ہیں کہ مذاہب کے تقابلی مطالعہ سے یہ امر واضح ہوتا ہے کہ ظلیت اور بروز کا سارا نظریہ ہندو تصور ہے اور اسلام میں ایسا کوئی تصور موجود نہیں۔ نیز عبدالقادر بغدادی (م 429ھ) نے بھی کہا ہے کہ حلول کی دلیل جھوٹی اور بے کار ہے۔ (اصول الدین‘ صفحہ 72)

مجدد الف ثانیؒ جن کی تحریروں پر مرزا صاحب اعتماد کرتے ہیں‘ بھی نبوت

صفحہ 204

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول)

میں ظل کے تصور کی تردید کرتے ہوئے اپنے مکتوب نمبر 301 میں کہتے ہیں کہ نبوت قرب الٰہی سے عبارت ہے۔ اس میں ظلیت کا کوئی اشارہ یا اشتباہ تک موجود نہیں ہوتا۔

درخواست دہندگان کی ایک اور دلیل یہ ہے کہ قادیانی‘ امت مسلمہ کا حصہ ہیں اور محض عقیدے کے اختلافات کی بناء پر امت کے ایک رکن کو اس سے خارج نہیں کیا جاسکتا۔ ان کی تعریف کی رو سے جو شخص بھی اللہ تعالیٰ کی توحید اور حضرت محمد ﷺ کی نبوت کا عقیدہ رکھے‘ وہ مسلمان اور امت مسلمہ کا رکن ہے۔ انہوں نے قرآن کریم کی آیت نمبر 4:94 کا حوالہ دیا کہ ”جو شخص مسلمانوں جیسا سلام (السلام علیکم یعنی تم پر سلامتی ہو) کہے اسے غیر مسلم نہیں کہنا چاہیے۔“ نیز فقہاء کی ان آراء کا حوالہ دیا کہ جو لا الہ الا اللہ پڑھے اسے (جہاد میں) قتل نہیں کیا جاسکتا۔ اس کے علاوہ چند احادیث پیش کیں جن پر ان آراء کی بنیاد ہے۔ تو اب سوال یہ ہے کہ امت یا امت مسلمہ کیا چیز ہے؟

لفظ امت (جمع امم) مختلف معنوں میں استعمال ہوتا ہے مثلاً لوگ یا افراد (آیت نمبر 2:143) طریقہ یا اصول (آیت 43:23)‘ مدت (آیت نمبر 11:8)‘ راہنما یا قائد (آیت 16:120)‘ قوم (آیت 7:164) ایک ہی نبی یا ایک ہی دین کے پیروکار (آیات 2:213 اور 21:92) (دیکھئے غریب القرآن فی لغۃ القرآن از علامہ شیرازی‘ صفحہ 18‘ 19‘ نیز عمدۃ القاری‘ جلد 5‘ صفحہ 198)

امام راغب کہتے ہیں کہ امت ہر ایسی جماعت ہے جو کسی امر میں مشترک ہو۔ (جو نظریئے‘ عقیدے اور سماجی‘ ثقافتی‘ معاشی‘ سیاسی اور دینی خواہشات کے اشتراک کو شامل ہے)۔ (المفردات فی غریب القرآن‘ صفحہ 23)

اس کی واضح مثال قرآن کریم کی درج ذیل آیت ہے:

فرطنا فی الکتاب من شئی ثم الی ربھم یحشرون۔ (الانعام: 38)

اور کوئی جانور نہیں جو زمین پر چلتا ہو اور کوئی پرندہ نہیں جو دونوں بازوؤں سے اڑتا ہو مگر یہ سب تمہاری ہی طرح جماعتیں ہیں۔ ہم نے کتاب میں کوئی کسر نہیں

صفحہ 205

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول)

چھوڑی‘ پھر یہ سب اپنے پروردگار کے حضور اکٹھے کیے جائیں گے۔ اس آیت میں جانوروں کی ہر اس نوع کو شامل کیا گیا ہے جو ایک ہی طرز پر زندگی بسر کرتے ہیں مثلاً مکڑی اپنا جالا بنتی ہے اور چڑیا اپنا گھونسلا تنکوں سے بناتے ہیں۔

قرآن کریم کی رو سے سب انسان ایک ہی امت تھے۔ (آیت 213:2) پھر بعد میں دو گروہوں میں تقسیم ہو گئے اور امت کے تعین کے لیے جماعتی رشتہ‘ گروہی رشتہ یا دینی رشتہ ہی فیصلہ کن عنصر قرار پائے۔

آیت نمبر 48:5 میں ارشاد ہوتا ہے:

(اور اگر اللہ چاہتا تو تمہیں ایک ہی جماعت بنا دیتا)

جماعت کی وحدت سے مراد ایمان میں متحد ہونا ہے۔ (ایضاً‘ صفحہ 23) بعض اوقات لفظ امت سے مراد ایسے لوگ ہوتے ہیں جن کی جانب کسی پیغمبر کی بعثت ہوتی ہے۔ (دیکھئے آیات 47:10‘ 44:23‘ 24:35 اور 5:40) اور کبھی اس کا اطلاق ایسے لوگوں پر ہوتا ہے جو کسی ایک نبی پر ایمان رکھتے ہیں۔ (آیات 48:5‘ 93:16‘ 67:22 اور 2:42)۔ اول الذکر کو امۃ الدعوۃ اور دوسری کو امۃ الاجابہ کہا جاتا ہے۔ (دیکھئے کشاف اصطلاحات الفنون تھانویؒ حصہ اول‘ صفحہ 91)

قرآن کریم میں حضرت محمد ﷺ کی امت کو بہترین امت قرار دیا گیا ہے۔

آیت 110:3 میں ارشاد ہوتا ہے:

(تم وہ بہترین امت ہو جسے لوگوں کے لیے کھڑا کیا گیا ہے)

اور پھر اسی امت کی صفات کا بیان ہوا ہے:

(آل عمران:110)

صفحہ 206

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول)

(تم بھلائی کا حکم دیتے اور برائی سے روکتے ہو اور اللہ پر ایمان رکھتے ہو) اور پھر یہی آیت بہترین امت اور اہل کتاب کے مابین فرق کو واضح کرتی ہے:

الفاسقون. (آل عمران: 110)

(اور اگر اہل کتاب ایمان لاتے تو ان کے لیے یہ بہتر ہوگا۔ ان میں سے کچھ تو مومن ہیں اور اکثر نافرمان ہیں)

حضور نبی کریم ﷺ نے فنی طور پر امت کے لفظ کو دونوں معنی یعنی آپ ﷺ پر ایمان رکھنے والوں اور دیگر مذاہب کے پیروکاروں کی جماعت اور صرف آپ ﷺ پر ایمان رکھنے والوں کی جماعت کے لیے استعمال فرمایا ہے۔ آپ ﷺ نے یہ لفظ ان دونوں معانی کے لیے ”میثاق مدینہ“ میں استعمال فرمایا ہے۔ میثاق کا دیباچہ یوں ہے:

هذا كتاب من محمد النبي (رسول الله ﷺ) بين المومنين والمسلمين من قريش و اهل يثرب و من اتبعهم فلحق بهم وجاهد معهم فانهم امة واحدة من دون الناس.

یہ نوشتہ ہے محمد نبی کی طرف سے قریش یثرب کے مومنوں اور مسلمانوں کے درمیان اور ان لوگوں کے درمیان جو ان کے تابع ہوں اور ان میں شامل ہو جائیں اور ان کے ہمراہ جہاد میں شامل ہوں۔ پس وہ دوسرے لوگوں کے مقابل میں ایک امت ہیں۔

اسی میثاق کی دفعہ 26 میں یہ الفاظ ہیں:

ان يهود بنى عوف امة مع المسلمين.

بنی عوف کے یہودی مسلمانوں کے ساتھ ایک امت ہیں۔

(سیرت ابن ہشامؒ جلد اول‘ صفحہ 554‘ اردو ترجمہ)

جو لوگ معاہدے میں فریق ہیں، وہ گروہ ہیں یعنی ان میں سے ہر ایک‘ ایک امت ہیں۔

اور وہ یہودی جو بعد میں اس میثاق کے فریق بن گئے‘ انہیں مسلمانوں کے

صفحہ 207

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول)

ساتھ شامل کر کے ایک ہی امت قرار دیا گیا کیونکہ میثاق میں مذکورہ مقاصد اور خواہشات، تمام معاہدین کے لیے یکساں ہیں اور ایک ہی دین کی اتباع کی بنا پر مسلمان ایک ہی امت ہیں۔ یوں یہ میثاق‘ سیاسی معنوں میں‘ ایک ایسی قوم کی بنیاد رکھتا ہے جو مسلم اکثریت اور غیر مسلم اقلیتوں پر مشتمل ہے۔ بایں ہمہ یہ مسلمانوں کے الگ امت ہونے کی منفرد خصوصیت پر بھی اصرار کرتا ہے۔

حضرت ابراہیمؑ اور حضرت اسماعیلؑ نے مکہ میں کعبہ کی بنیادیں اٹھاتے ہوئے دعا کی تھی:

’’اے ہمارے رب ہم دونوں کو تو اپنا فرمانبردار بنا اور ہماری ذریت سے بھی تو اپنی ایک فرمانبردار امت بنا۔‘‘

اسلام کا ایک معنی فرمانبرداری اور اطاعت ہے۔ ’’مسلم‘‘ کا معنی ’’فرمانبردار‘‘ ہے۔ یہ آیت واضح کرتی ہے کہ جو لوگ فرمانبرداری کرتے ہیں‘ وہ ایک امت شمار ہوتے ہیں یا مسلمان اپنے اسلام (فرمانبرداری) کی بدولت ایک ہی قوم ہوں گے۔ یوں اسلام کا مشترک رشتہ انہیں ایک امت میں پرو دے گا کیونکہ اصول یہ ہے کہ مشترکہ خواہشات اور نظریات کے حامل اشخاص ایک قوم ہوتے ہیں۔ یہ حقیقت آیات نمبر 104:3 اور 181:7 سے‘ جو درج ذیل ہیں‘ واضح ہوتی ہے:

عن المنکر واولئک ھم المفلحون O (آل عمران:104)

اور چاہیے کہ تم میں سے ایک گروہ ہو جو نیکی کی دعوت دے اور معروف کا حکم کرے اور برائی سے روکے اور یہی لوگ فلاح پانے والے ہیں۔

وممن خلقنا امة یھدون بالحق و بہ یعدلون O (الاعراف:181)

اور جن کو ہم نے پیدا کیا ہے‘ ان میں ایک گروہ ایسے لوگوں کا بھی رہا ہے جو حق کے مطابق رہنمائی کرتے اور اسی کے مطابق فیصلے کرتے ہیں۔

صفحہ 208

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول)

اسلام (فرمانبرداری) صرف حضور نبی کریم ﷺ کی امت کا دین یا نظام حیات نہیں ہے۔ تمام انبیاء اسلام کی تبلیغ کرتے رہے کیونکہ ان پر بھی یہی وحی اور نبوت نازل ہوتی تھی۔ (آیت نمبر 163:4) ابراہیمؑ نہ یہودی تھے اور نہ عیسائی بلکہ وہ مسلم تھے۔ (آیت 66:3) وہ اسلام جو آپ ﷺ کو عطا ہوا، وہ وہی دین قیم ہے جو ابراہیمؑ کا دین ہے۔ (آیت 162:6) تمام انبیاءؑ نے لوگوں کو یہی دعوت دی کہ وہ اللہ تعالیٰ کی عبادت کریں اور اللہ کے احکام کی اطاعت کریں۔ (آیات 65:7‘ 73:7 اور 85:7)۔ آیات 42:21 اور 52:23 میں انبیاءؑ سابقین کا تذکرہ کرنے کے بعد خصوصیت سے ارشاد ہوا:

ان ھذہ امتکم امۃ واحدۃ یہ ہے تم سب کا دین‘ ایک ہی دین۔ واضح رہے کہ قرطبی نے کہا ہے الامۃ ھنا الدین (یہاں لفظ امت سے مراد دین ہے) تاہم اس کا معنی جماعت بھی ہوسکتا ہے۔

اسلام میں ایمان بنیادی شروط میں سے ایک شرط یہ ہے کہ مومن لازماً اللہ تعالیٰ پر اور حضرت محمد ﷺ تک تمام انبیا علیہم السلام پر ایمان رکھے اور آپ ﷺ کو آخری نبی اور رسول تسلیم کرے اور یہ کہ ان کے بعد روز قیامت تک کوئی نبی یا رسول نہ آئے گا‘ اور اللہ کی طرف سے نازل کردہ تمام کتابوں‘ فرشتوں اور آخرت پر ایمان رکھے۔ اگلی شرط اقامت صلوٰۃ ہے‘ پھر روزے رکھنا‘ حج کرنا اور زکوٰۃ ادا کرنا ضروری ہے۔ ایمان کے اجزاء ہر دین میں یکساں رہے ہیں لیکن نماز اور روزے کا طریقہ‘ زکوٰۃ کی جزئیات اور حج کے احکام مسلمانوں کو دوسروں سے ممتاز کرتے ہیں۔ اسی طرح عبادت گاہ (مسجد) اور مومنین کو نمازوں کے لیے بلانے کا طریقہ بھی دوسرے ادیان سے الگ ہیں۔ مسلمانوں کو ایسی بہترین جماعت کہا گیا ہے جسے انسانیت کی خاطر کھڑا کیا گیا ہے۔ (آیت 110:3)۔ وہ معروف کا حکم کرتے اور منکر سے روکتے ہیں۔

(آیات 104:3 اور 110:3)

صفحہ 209

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول)

رسول اللہ ﷺ کے وصال مبارک کے بعد پوری امت پر فرض ہے کہ وہ دین کے مقاصد کو آگے بڑھائیں۔ (آیت 144:3) اور انہیں حکم دیا گیا ہے کہ وہ ثابت قدم رہیں اور متحد رہیں کیونکہ استقلال اور ثابت قدمی میں انہیں دوسروں پر بازی لے جانا ہے۔ (آیت نمبر 200:3) اور یہ مسلمانوں کا طریقہ یا شیوہ نہیں کہ وہ ہدایت الہی واضح ہو چکنے کے بعد اللہ کے رسول کی مخالفت کریں (آیت 155:4)۔ اس کا معنی یہ ہوا کہ انہیں لازماً نبی مکرم ﷺ کی اطاعت کرنی چاہیے۔ آیت نمبر 59:4 میں امت مسلمہ کو حکم دیا گیا ہے کہ وہ برسر اقتدار اشخاص (جن سے مراد مرکزی ہیئت حاکمہ اور اس کے ماتحت عمال ہیں) کی اطاعت کریں۔ ان فرامین سے یہ سمجھنا مشکل نہیں کہ یہ امت مسلمہ کا فریضہ ہے کہ وہ اسلام کا پرچم بلند رکھیں اور اس مقصد کے حصول کے لیے بالکل متحد رہیں۔

نسل، رنگ اور وطن سے قطع نظر تمام مسلمان آپس میں بھائی بھائی ہیں۔ انما المومنون اخوۃ (10:49)۔ ایک کا قتل سب کا قتل ہے اور ایک کو موت سے بچانا سب کا بچانا ہے۔ امت مسلمہ کو حق و عدل پر قائم رہنے اور اس پر جمے رہنے اور اسے دنیا میں قائم کرنے کا حکم دیا گیا ہے (آیت 135:4)۔ انسانیت کی فلاح اور بہتری کی خاطر انہیں معتدل اور امت وسط بنایا گیا ہے (آیت 143:3)۔

اس طرح پوری امت مسلمہ خدائے واحد کی پرستش کرتی ہے اور یہ ایک ہی آخری نبی اور رسول کی امت ہے اور دنیا کے ہر ہر گوشے سے ایک ہی مشترکہ مرکز ”کعبہ“ کی جانب رخ کر کے نماز ادا کرتی ہے۔ مسلمان امت کے تمام افراد کو ایک دوسرے کا بھائی گردانتے ہیں اور دوسرے مسلمانوں پر کسی مصیبت یا پریشانی کے آنے سے دکھ محسوس کرتے ہیں۔ ان کا نظریہ اور خواہشات یکساں ہیں۔ یہ ہے ایک امت کا حقیقی معیار۔

مسلمان دیگر تمام مذاہب کے لیے بہت زیادہ روادار ہوتے ہیں لیکن وہ اپنے ایمان پر کسی حملے اور امت کی بیخ کنی اور تباہی کو ہرگز برداشت نہیں کرتے۔ انہیں یہ دونوں نہایت عزیز ہیں۔

ریاض الحسن گیلانی نے اجتماعی سالمیت اور یکجہتی کی اساس، عوامل اور ساخت

صفحہ 210

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول)

پر بحث کی ہے اور کہا ہے کہ یکجہتی نامیاتی اور میکانی ہوتی ہے۔ نامیاتی یکجہتی سے مراد ایسی سالمیت ہوگی جس کے نتیجے میں عمل کی تقسیم ہوتی ہے جبکہ میکانی یکجہتی سوسائٹی یا جماعت کی ایسی کیفیت کو ظاہر کرتی ہے جس میں تمام افراد میں بنیادی خواص مشترک ہوتے ہیں اور اسی اشتراک کے نتیجے میں وہ ایک دوسرے سے ہمدردی اور یکجہتی کا اظہار کرتے ہیں۔ انہوں نے استدلال کیا کہ امت مسلمہ کے لیے میکانی یکجہتی کا وصف موزوں ہے اور O.G.Burn اور Nimkoof کی سوشیالوجی کی ایک درسی کتاب سے یہ اقتباس پیش کیا:

تنہائی، ثقافتی یگانگت، باہم مربوط مفاہمتوں کے ایک ہی جال کا روایتی نظام اور سب سے غالب سماجی تعلقات میں ذاتی انسانی کردار اور دوسرے درجے پر موروثی اداروں کی اہمیت اور لادینی طبقات کے بالمقابل مقدس امور کی اضافی اہمیت (ٹیوسک) نامیاتی تنظیم یا تشکیل سے مخالف خصوصیات کے اظہار کا میلان ہوتا ہے۔ (مریڈا)“

یہ اقتباس سماجی ڈھانچے اور اس کی تہذیبی طرز تشکیل پر روشنی ڈالتا ہے۔ ابن خلدون نے بڑی تفصیل کے ساتھ ایک ہی نسل کے قبائل اور خونی رشتوں میں مربوط حلیفوں اور اتحادیوں میں گروہی عصبیت پر بحث کی ہے۔ یہ شدید عصبیت اس بدوی زندگی کا نتیجہ ہے جو انتہائی جرات، دلیری اور شجاعت کو جنم دیتی ہے۔ (مقدمہ انگریزی ترجمہ، جلد اول، صفحہ 264) اس نے اسی عصبیت کے بل بوتے پر ملکی اقتدار کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے بتایا ہے کہ اس بارے میں دینی وحدت و یگانگت اہم ترین نکتہ اور موثر عنصر شمار ہوتی ہے۔ اس نے لکھا ہے:

اور حکمرانی کا چسکا بڑے پیمانہ پر اپنے اندر رکھتے ہیں، اس لیے یہ ایک دوسرے کا محکوم بننا بڑی مشکل سے گوارا کرتے ہیں۔ یہ اپنی خواہشات میں کسی خاص نکتہ پر بڑی مشکل سے جمع ہوتے ہیں۔ اب جب نبوت یا ولایت کی دعوت ان میں پھیلتی ہے تو داعی چونکہ

صفحہ 211

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول)

انہیں میں سے ہوتا ہے تو ان کی نخوت اور اکڑ کافور ہو جاتی ہے اور یہ بہت آسانی سے رام ہو کر اکٹھے ہو جاتے ہیں۔ دین خود ان کی مزاجی درشتی اور اکڑ، حسد و خود پسندی کے مادہ کی بیخ کنی کرتا ہے۔ ان میں نبی یا ولی ان کو احکام خداوندی پر قائم رکھنے اور ناپسندیدہ صفات وخصائل ان کی جگہ پیدا کرنے کی انتھک کوشش کرتے ہیں اور اظہار حق کے لیے ان سب کو ایک جی اور ایک دل کر دیتے ہیں۔ جب یہ اتحاد و اتفاق کی ایک لڑی میں پروئے جاتے ہیں تو ملکوں پر چھا جاتے ہیں اور ملکوں کی زمام حکومت اپنے ہاتھ میں سنبھال لیتے ہیں۔ عرب گو درشت خو اور درشت مزاج ہوتے ہیں مگر تمام قوموں سے جلد تر حق و ہدایت قبول کر لیتے ہیں، یہ اس لیے کہ ان کی طبیعتیں کج ملکات اور مذموم عادات سے پاک ہوتی ہیں۔ وحشی الطبع ہونے کے باوجود فطرت سلیمہ پر قائم ہیں اور بھلائی کو تسلیم کر لینے کی بڑی صلاحیت رکھتے ہیں اور قبیح و نازیبا عادات اور ناشائستہ جذبات قبول کرنے سے بہت دُور اور بہت حد تک محفوظ ہوتے ہیں اور مذکورہ بالا حدیث ”ہر بچہ فطرت پر پیدا ہوتا ہے“ کا مصداق ہوتے ہیں۔“

اس امر کا انکار ناممکن ہے کہ رنگ، علاقے، نسل، زبان اور تہذیب کے امتیازات سے قطع نظر جماعت میں تعاون، رفاقت اور اخوت اور نظریاتی وحدت پیدا کرنے کا قوی تر محرک ایمان ہے۔ نظریاتی اساس سے پر جوش جذباتی وابستگی اور گہرا ارتباط ہی ان برادرانہ جذبات کی آبیاری کرتے ہیں جن کی مثالیں تاریخ اسلام سے پیش کرنا مشکل نہیں۔ سندھ کے راجہ داہر پر حملہ چند مسلمانوں کی امداد کی فریاد پر ہوا تھا۔ چند مسلمان بھائیوں کی فریاد پر لبیک کہتے ہوئے مسلم افواج نے سخت مشکلات کے باوجود اتنا طویل فاصلہ طے کر لیا۔

تاہم جدید دور کی قوم اور ایک دینی امت کے مابین بہت بڑا فرق ہے۔ قوم اشخاص کے ایک مجموعے کا نام ہے لیکن اس مجموعے کا اساسی عامل اور قوت محرکہ ذاتی مفاد ہوتا ہے۔ ایسے مجموعے کے عوامل اور اوصاف کئی ہوتے ہیں لیکن افراد اور گروہوں کا ذاتی مفاد ان میں سے ایک بلکہ بڑا معیار ہوتا ہے۔ لیکن ایک دینی امت کی تشکیل

صفحہ 212

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول)

میں ایسا کوئی عامل موجود نہیں ہوتا۔ امت مسلمہ کی تشکیل و تقویت میں معاون عوامل میں اسلام کی انسانیت نواز خصوصیات، وطن، رنگ، نسل، زبان یا تہذیب کے فرق سے صرف نظر کرتے ہوئے ہر امیر وغریب، آقا وغلام، مرد وعورت کی مساوات کی تاکید، اخوت اور انفرادی آزادیوں کی ضمانت شامل ہیں۔

افواج اسلام انہی اوصاف کی علمبردار تھیں اور انہوں نے بردباری، رواداری کی سپرٹ اور علم وتحقیق کی محبت کو پھیلایا، اگرچہ اپنے سیاسی ضعف کے ادوار میں وہ خود ظلم اور مذہبی تشدد کا شکار ہوئے۔

ایک امت کے افراد میں انجذاب کے دیگر عوامل میں اپنے ورثے سے محبت اور اپنی تاریخ پر افتخار بھی شامل ہیں۔

یہ تمام عوامل دین کی تعلیمات اور اسلام کے قوت محرکہ ہونے کے امتیازی وصف کا نتیجہ ہیں۔ لیکن سب سے بڑا عنصر مسلمانوں کے دلوں میں حضور نبی رحمت ﷺ کا اکرام اور محبت ہے کیونکہ امت انہی کی بدولت ان تمام نعمتوں سے بہرہ یاب ہوئی۔ اس اکرام ومحبت کی گہرائی کا اظہار اس حقیقت سے ہوتا ہے کہ مسلمانوں نے آپ ﷺ کی حیات کی تمام تفصیلات و جزئیات محفوظ کرتے ہوئے ان کی سیرت پر ہزاروں کتابیں لکھ ڈالیں۔ مسلمانوں پر قرآن کریم اور نبی کریم ﷺ کی سنت کی اطاعت فرض ہے۔ اسی لیے انہوں نے آپ ﷺ کی حیاتِ مبارکہ کے تمام واقعات، خواہ وہ کتنے ہی معمولی کیوں نہ ہوں، کو محفوظ اور مدون کر دیا ہے۔ آپ ﷺ کی اطاعت کرنا آپ ﷺ سے محبت کے ہم معنی ہے۔ لیکن حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی اطاعت سے برتر ان کی ذات سے جذباتی وابستگی اور والہانہ محبت ہے۔ رسول اللہ ﷺ سے گہری محبت، جیسا کہ علامہ اقبال نے واضح کر دیا ہے، کی بدولت ختم نبوت کا عقیدہ ہر مسلمان کے ایمان کا جزو ہے اور ختم نبوت کا یہی عقیدہ امت کی سالمیت کا اہم ترین عنصر ہے۔

امت میں اخوت اور سالمیت کے شعور سے ہی اس کے استحکام کو فروغ ملتا ہے اور یہ استحکام جذباتی جوش و ولولے کے ساتھ شامل ہو کر، انتشار کے تمام محرکات کے

صفحہ 213

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول)

خلاف مزاحمت منظم کرتا ہے۔ اسی لیے امت نے نبوت کے تمام دعووں کی سختی کے ساتھ مزاحمت کی ہے تاکہ چشمۂ ایمان صافی رہے اور اسی طرح اسلام اور ختم نبوت کے باہمی تعلق میں کسی بھی مداخلت کو ناگوار قرار دیا ہے۔

قادیانی امت مسلمہ کا حصہ نہیں ہیں۔ اس بات کو خود ان کا اپنا طرزِ عمل خوب واضح کرتا ہے۔ ان کے نزدیک تمام مسلمان کافر ہیں۔ وہ ایک الگ امت ہیں۔ یہ متناقض ہے کہ انہوں نے امت مسلمہ کی جگہ لے لی ہے اور مسلمانوں کو اس امت سے خارج قرار دیا ہے۔ مسلمان انہیں امت مسلمہ سے خارج قرار دیتے ہیں۔ ظاہر ہے کہ دونوں ایک ہی امت میں سے نہیں ہو سکتے۔ یہ سوال کہ امت مسلمہ کے افراد کون ہیں؟ برطانوی ہندوستان میں کسی ادارے کے موجود نہ ہونے کی بناء پر حل نہ ہو سکا۔ لیکن اسلامی ریاست میں اس موضوع کو طے کرنے کے لیے ادارے موجود ہیں اور اس لیے اب کوئی مشکل درپیش نہیں ہے۔ مقننہ اور وفاقی شرعی عدالت اسے طے کرنے کے لیے با اختیار ہیں۔

قادیانیوں اور مسلمانوں کے مابین یہ کشمکش اور قطعی علیحدگی خود مرزا صاحب اور ان کے جانشینوں کی تحریروں کا نتیجہ ہے۔ مرزا بشیر الدین محمود نے اپنی کتاب انوارِ خلافت میں اس نکتے پر مفصل گفتگو کی ہے اور استدلال کو واضح کیا ہے کہ کیوں قادیانی غیر احمدی امام کے پیچھے نماز نہیں پڑھ سکتے اور غیر احمدیوں کا جنازہ نہیں پڑھ سکتے اور اپنی لڑکیوں کا نکاح غیر احمدیوں سے نہیں کر سکتے۔ بنیادی وجہ یہ ہے کہ قادیانیوں کے نزدیک غیر احمدی کافر ہیں۔ مرزا بشیر الدین محمود نے ایک واقعہ لکھا ہے کہ ”لکھنؤ میں ہم ایک آدمی سے ملے جو بڑا عالم ہے۔ اس نے شیخ یعقوب علیؓ جو ہمارے ہمراہ تھے سے کہا کہ آپ کے دشمن یہ مشہور کرتے پھرتے ہیں کہ آپ غیر احمدی لوگوں کو کافر سمجھتے ہیں۔ میں نہیں مان سکتا کہ آپ ایسا وسیع حوصلہ رکھنے والے ایسا کہتے ہیں۔ میں نے ان کو کہا آپ کہہ دیں کہ واقعی ہم آپ لوگوں کو کافر کہتے ہیں۔ یہ سن کر وہ حیران سا رہ گیا۔“

صفحہ 214

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول)

قادیانیوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ (مسلمانوں سے ) دینی امور میں الگ ہو جایا کریں۔

(انوارِ خلافت‘ صفحہ 90-93)

کلمۃ الفصل میں کہا گیا ہے:

رکھا ہے جو نبی کریمؐ نے عیسائیوں کے ساتھ کیا۔ غیر احمدیوں سے ہماری نمازیں الگ کی گئیں۔ ان کو لڑکیاں دینا حرام قرار دیا گیا۔ ان کے جنازے پڑھنے سے روکا گیا۔ اب باقی کیا رہ گیا ہے جو ہم ان کے ساتھ مل کر کر سکتے ہیں۔ دو قسم کے تعلقات ہوتے ہیں۔ ایک دینی دوسرے دنیوی۔ دینی تعلق کا سب سے بڑا ذریعہ عبادت کا اکٹھا ہونا ہے اور دنیوی تعلقات کا سب سے بڑا ذریعہ رشتہ و ناطہ ہے۔ سو یہ دونوں ہمارے لیے حرام قرار دیے گئے ۔‘‘ (کلمۃ الفصل صفحہ 169)

آئینہ صداقت میں مرزا بشیر الدین محمود مرزا صاحب کی ایک مزعومہ وحی کا ذکر کرتا ہے کہ ”جو شخص مسیح موعود کے ایک لفظ کو بھی جھوٹا خیال کرے گا‘ وہ خدا کے دربار میں مردود ٹھہرے گا۔‘‘ پھر وہ احمدیوں پر زور دیتا ہے کہ ”وہ اپنے امتیازی نشانات کو نہ چھوڑیں کہ وہ ایک سچے نبی کو مانتے ہیں اور ان کے مخالف اسے نہیں مانتے ۔‘‘ مرزا صاحب کے زمانے میں ایک تجویز پیش کی گئی کہ احمدی اور غیر احمدی دونوں مل کر (اسلام کی) تبلیغ کریں لیکن مرزا صاحب نے پوچھا: ”تم کس اسلام کی تبلیغ کرو گے؟ کیا تم خدا کی نشانیوں اور نعمتوں کو چھپاؤ گے جو اس نے تمہیں عطا کی ہیں؟‘‘

قادیانیوں کے اس طرزِ عمل میں تعجب کی کوئی بات نہیں ہے کیونکہ یہ عالمی مظہر ہے کہ ایک دین کے ماننے والے کسی بھی دوسرے دین کے پیروؤں کو کافر‘ منکر یا اپنے دین کے دائرے سے خارج قرار دیتے ہیں۔ یہی بات یہودیوں‘ عیسائیوں‘ مجوسیوں‘ ہندوؤں اور دوسرے لوگوں کے ہاں بھی ہے۔ یہ امر نہ صرف مذہبی گروہوں کے ہاں درست ہے بلکہ لا دینی نظریاتی گروہوں مثلاً کمیونسٹوں اور سوشلسٹوں کے ہاں بھی موجود ہے۔

مختلف انبیاءؑ کی امم (امت کی جمع) کے افراد میں عموماً مسلمہ اصول یہ ہے کہ

صفحہ 215

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول)

جو شخص بھی ایک امت کے نبی کو نہیں مانتا، وہ اس امت سے خارج یا اس جماعت سے باہر ہے۔ اس کا لازمی نتیجہ یہ ہے کہ مرزا صاحب کے دعویٰ نبوت کی بناء پر جو ان پر ایمان نہیں لاتا یا انہیں جھوٹا نبی یا کذاب سمجھتا ہے‘ وہ مرزا صاحب کی امت یا جماعت جو احمدیوں کے نام سے معروف ہیں‘ میں سے ہرگز نہیں ہوسکتا۔

جانشین کی۔ انہوں نے خاص دعویٰ نبوت سے پہلے لکھا تھا ”جو شخص میری پیروی نہیں کرتا اور ہماری بیعت نہیں کرتا یا ہمارا مخالف ہے‘ وہ خدا کا نافرمان اور جہنمی ہے۔“

(تذکرہ صفحہ 336‘ طبع سوم اقتباس از خط مرزا صاحب‘ مورخہ 16 جون

1899ء بنام بابو الٰہی بخش)

اس حقیقت کے باوجود کہ مرزا صاحب اس سے قبل بیان کر چکے ہیں کہ مسیح موعود پر اعتقاد کرنا ایمان کا جزو نہیں‘ پھر بھی یہ کہہ رہے ہیں۔ حقیقۃ الوحی‘ صفحہ 179 اور 180 روحانی خزائن ج 22 ص 185‘ 186 پر وہ کفر کی دو قسمیں بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

آنحضرت ﷺ کو خدا کا رسول نہیں مانتا۔ (دوم) دوسرے یہ کفر کہ مثلاً وہ مسیح موعود کو نہیں مانتا اور اس کو باوجود اتمام حجت کے جھوٹا جانتا ہے جس کے ماننے اور سچا جاننے کے بارے میں خدا اور رسول نے تاکید کی ہے اور پہلے نبیوں کی کتابوں میں بھی تاکید پائی جاتی ہے۔ پس اس لیے کہ وہ خدا اور رسول کے فرمان کا منکر ہے‘ کافر ہے۔ (مرزا صاحب کو نہ ماننے کی وجہ سے کافر ہے) اور اگر غور سے دیکھا جائے تو یہ دونوں قسم کے کفر ایک ہی قسم میں داخل ہیں۔ کیونکہ جو شخص باوجود شناخت کر لینے کے خدا اور رسول کے حکم کو نہیں مانتا‘ وہ بموجب نصوص صریحہ قرآن اور حدیث کے خدا اور رسول کو بھی نہیں مانتا اور اس میں شک نہیں کہ جس پر خدا تعالیٰ کے نزدیک اول قسم کفر یا دوسری قسم کفر کی نسبت اتمام حجت ہو چکا ہے۔ وہ قیامت کے دن مواخذہ کے لائق ہوگا اور جس پر خدا

صفحہ 216

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول)

کے نزدیک اتمام حجت نہیں ہوا اور وہ مکذب اور منکر ہے تو گو شریعت نے اس کا نام بھی کافر ہی رکھا ہے اور ہم بھی اس کو باتباع شریعت کافر کے نام سے ہی پکارتے ہیں۔“ ایک سوال کے جواب میں مرزا صاحب نے (حقیقۃ الوحی، ص 163 روحانی خزائن ج 22 ص 167، 168 پر) کہا :

میں صرف کافر بلکہ بڑا کافر ہوا اور اگر میں مفتری نہیں تو بلاشبہ وہ کفر اس پر (یعنی مرزا صاحب کو جھٹلانے والے پر) ہو گا۔ علاوہ اس کے جو مجھے نہیں مانتا، وہ خدا اور رسول کو بھی نہیں مانتا۔“

مجیب الرحمٰن نے ریاض الحسن گیلانی کے ان دلائل پر یہ اعتراض کیا اور کہا کہ غیر احمدیوں کے کفر کا مذکورہ بالا نظریہ صرف 1923ء تک رہا تھا اور اس بارے کے تمام حوالوں کا تعلق اسی مدت سے ہے۔ انہوں نے گزارش کی کہ مرزا بشیر احمد نہ احمدیوں کا امام تھا اور نہ خلیفہ، صرف ان کا ترجمان تھا۔ لیکن مرزا بشیر الدین محمود نے منیر انکوائری رپورٹ کے سامنے واضح کیا تھا کہ اس نے غیر احمدیوں کو ان معنوں میں کافر قرار نہیں دیا تھا کہ وہ امت مسلمہ سے خارج ہیں، مفہوم یہ تھا کہ ان کا کفر، کفر کبیر نہ تھا۔ سخت خطرے کے ایسے اوقات میں جبکہ پاکستان کی امت مسلمہ کا اشتعال اپنے عروج پر تھا، مرزا بشیر الدین محمود کی اس وضاحت کی حیثیت کچھ پیچھے ہٹنے کی اس پالیسی سے زیادہ نہ تھی جسے جیسا کہ پہلے واضح ہو چکا ہے، خود مرزا صاحب کئی بار اختیار کر چکے تھے۔ مرزا صاحب نے خود کہا کہ ایسا شخص کافر ہے کیونکہ وہ خدا اور اس کے رسول کا منکر گردانا جائے گا۔ تو ایسے شخص کے امت مسلمہ سے خارج ہونے کا اس سے بہتر ثبوت اور کیا ہوگا۔

(تذکرہ صفحات 107۔363، طبع سوم)

لکھا ”خدا تعالیٰ نے میرے پر ظاہر کیا ہے کہ ہر ایک وہ شخص جس کو میری دعوت پہنچی ہے

صفحہ 217

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول)

اور اس نے مجھے قبول نہیں کیا، وہ مسلمان نہیں ہے۔“ (تذکرہ صفحہ 607 طبع سوم)

نے مرزا صاحب سے درخواست کی کہ وہ جماعت (جماعت احمدیہ) سے اس کا استعفا قبول کر لیں، جس پر انہوں نے جواب دیا ”شیخ نور محمد کو بتا دو کہ وہ صرف جماعت سے علیحدہ نہیں ہوا بلکہ اسلام سے بھی نکل گیا ہے۔“ (سیرۃ المہدی، جلد سوم، صفحہ 49)

یہ امر بہت معروف ہے کہ پاکستان کے سابق وزیر خارجہ سر ظفر اللہ خاں نے قائد اعظم کا جنازہ نہیں پڑھا تھا۔ اخبار ”زمیندار“ مورخہ 8 فروری 1950ء کے مطابق جامع مسجد ایبٹ آباد کے خطیب مولانا محمد اسحاق نے سر ظفر اللہ سے نماز جنازہ میں شرکت نہ کرنے کی وجہ پوچھی تو انہوں نے جواب دیا کہ وہ قائد اعظم کو صرف ایک سیاسی لیڈر سمجھتے ہیں۔ ان سے استفسار کیا گیا کہ کیا وہ بھی مرزا صاحب کو نہ ماننے کی وجہ سے مسلمانوں کو کافر قرار دیتے ہیں؟ ”حکومت کے وزیر ہوتے ہوئے بھی“ سر ظفر اللہ نے جواب دیا: ”آپ مجھے ایک کافر حکومت کا مسلمان ملازم یا مسلمانوں کی حکومت کا کافر ملازم سمجھ لیں۔“ -

مجیب الرحمٰن، سر ظفر اللہ کے اس موقف کی تردید نہ کر سکے۔ لہٰذا یہ امر کسی قسم کے شک و شبے کے بغیر ثابت ہو جاتا ہے کہ جیسا کہ سر ظفر اللہ نے پیش کر دیا ہے یا تو پاکستان میں رہنے والے لوگوں کی اکثریت کافر ہے یا قادیانی کافر ہیں، جس کا بدیہی نتیجہ یہ ہے کہ دونوں ہرگز نہیں مل سکتے، اور نہ ہی ایک امت کے افراد ہو سکتے ہیں۔ دونوں میں وحدت کا کوئی نکتہ موجود نہیں، کیونکہ مسلمان ختم نبوت کا عقیدہ رکھتے ہیں اور اس کے برعکس قادیانی مرزا صاحب کو ایک نیا نبی مانتے ہیں۔ مسلمانوں کی ایک عظیم صاحب بصیرت شخصیت (حضرت علامہ اقبالؒ) نے قادیانیوں کو امت مسلمہ کی سالمیت کے لیے خطرہ اور انتشار کے علمبردار قرار دیا تھا۔ انہوں نے کہا تھا ”اس (امت مسلمہ) کی سالمیت صرف عقیدۂ ختم نبوت کی رہین منت ہے۔“ -

(Thoughts and Reflections of Iqbal p.249)

(قادیانی اور جمہور مسلمان از علامہ محمد اقبالؒ مطبوعہ اسٹیٹسمین (دہلی) 14 مئی 1935ء مطبوعہ حرف اقبالؒ مرتبہ لطیف احمد خان شروانی صفحہ 104)

صفحہ 218

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول)

علامہ اقبال نے مزید کہا:

کار رہ جاتا ہے کہ وہ انتشار انگیز قوتوں کے خلاف اپنا دفاع کرے اور اپنے دفاع کے کیا طریقے ہیں؟ مدلل تحریریں اور ایسے شخص کے دعووں کا ابطال جو اپنی اصل جماعت کی نگاہوں میں ”مذہبی مہم جو“ ہو۔ تو کیا یہ مناسب ہے کہ جس اصل جماعت کی سالمیت خطرے میں ہو اسے برداشت کی تلقین کی جائے اور باغی گروہ کو تحفظ کے ساتھ اپنی تبلیغ جاری رکھنے کی اجازت دی جائے‘ خواہ یہ تبلیغ سخت جھوٹ اور گستاخانہ عبارات سے بھی لبریز ہو۔“

(قادیانی اور جمہور مسلمان از علامہ محمد اقبالؒ مطبوعہ اسٹیٹسمین (دہلی) 14 مئی 1935ء

مطبوعہ حرف اقبالؒ مرتبہ لطیف احمد خان شروانی صفحہ 108)

برطانوی سامراج اور استعمار کی حکومت سے مرزا صاحب کی محبت اور وفاداری ایک بدیہی امر ہے۔ انہوں نے تقریباً اپنی ہر کتاب میں کم از کم کئی صفحات انگریزی سرکار کی تعریف وتوصیف کے لیے مخصوص کیے ہیں اور ان کے جانشینوں کا طرزِعمل بھی یہی رہا ہے۔ ذیل میں ایسی تحریروں کی چند مثالیں ملاحظہ ہوں:

ہے یا نہیں۔ سو یاد رہے کہ یہ سوال ان کا نہایت حماقت کا ہے کیونکہ جس کے احسانات کا شکر کرنا عین فرض اور واجب ہے‘ اس سے جہاد کیسا؟ میں سچ سچ کہتا ہوں کہ محسن کی بدخواہی کرنا ایک حرامی اور بدکار آدمی کا کام ہے‘ سو میرا مذہب‘ جس کو میں بار بار ظاہر کرتا ہوں‘ یہی ہے کہ اسلام کے دو حصے ہیں: ایک یہ کہ خدا کی اطاعت کرے‘ دوسری اس سلطنت کی جس نے امن قائم کیا ہو‘ جس نے ظالموں کے ہاتھ سے اپنے سایہ میں ہمیں پناہ دی ہو۔“ (شہادۃ القرآن‘ مطبوعہ 1893ء‘ صفحہ 84 روحانی خزائن ج 6 ص 380)

میں پاتے ہیں اور دوسری طرف میری نصیحتیں سنتے ہیں کہ اس گورنمنٹ کی سچی خیر خواہی اور اطاعت کرنی چاہیے تو وہ میرے پر کوئی بدظنی نہیں کر سکتے اور کیونکر کریں۔ یہ ایک

صفحہ 219

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول)

واقعی امر ہے کہ مسلمانوں کو خدا اور رسول کا حکم ہے کہ جس گورنمنٹ کے ماتحت ہوں‘ وفاداری سے اس کی اطاعت کریں۔ میں نے اپنی کتابوں میں یہ شرعی احکام مفصل بیان کر دیے ہیں۔ اب گورنمنٹ غور فرما سکتی ہے کہ جس حالت میں میرا باپ گورنمنٹ کا ایسا سچا خیر خواہ تھا اور میرا بھائی بھی اسی کے قدم پر چلا تھا اور میں بھی انیس برس سے یہی خدمت اپنے قلم کے ذریعے سے بجا لاتا ہوں۔‘‘

(کشف الغطاء‘ مطبوعہ 1898ء صفحہ 7 روحانی خزائن ج 14 ص 186)

سرکار انگریزی کی سچی خیر خواہی اور بنی نوع کی سچی ہمدردی کریں اور اشتعال دینے والے طریقوں سے اجتناب رکھیں اور پرہیز گار اور صالح اور بے شر انسان بن کر پاک زندگی کا نمونہ دکھائیں۔‘‘ (کتاب البریہ‘ مطبوعہ 1898ء‘ صفحہ 13 روحانی خزائن ج 13 ص 13)

کے جتنے لیڈر ہیں‘ ان سب کو نئے قانون کے تحت ملک بدر کر دیا جائے گا۔ ایسا حکم صرف وہی شخص صادر کرتا ہے جس کی ہمدردیاں پوری جماعت کو شامل ہوں۔ تمہارے مالا باری بھائیوں سے اس حکومت کا یہ تازہ سلوک ہے اور جو کسی کے بھائی سے ہمدردی کرے تو وہ اس سے بھی کرتا ہے سو تمہیں اس حکومت کا شکر گزار ہونا چاہیے کیونکہ مالا باری احمدی ہمارے بھائی ہیں۔ ہمارا ایک مبلغ ماریشس گیا تھا۔ غیر احمدیوں نے فیصلہ کیا کہ وہ جہاں چاہے اسے تقریر نہ کرنے دی جائے۔ اس نے حکومت سے سرکاری ہال (کے استعمال) کی اجازت مانگی۔ گورنر نے اسے اس ہال میں ہفتے میں تین دن خطاب کرنے کی اجازت دے دی۔ یوں اس نے آدھا ہفتہ ہمارے مبلغ کو دے دیا اور آدھا ہفتہ اپنے لیے رکھ لیا۔‘‘ (انوار خلافت از مرزا بشیر الدین محمود احمد‘ صفحہ 96)

کے نام‘ تاریخ طباعت اور صفحات کے نمبر درج کیے گئے ہیں‘ جن میں مرزا صاحب نے برطانوی حکومت کی مدح و ستائش کی۔ انہوں نے اپنی 24 کتابوں اور رسالوں کا حوالہ دیا

صفحہ 220

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول)

ہے جن میں سرکار برطانیہ کی تعریف وتوصیف کے پل باندھے ہیں۔ ان کی وفات سے کم از کم گیارہ سال قبل ایسے صفحات کی تعداد کئی درجنوں تک پہنچتی ہے۔

ریاض الحسن گیلانی نے ان چند مثالوں کی بنیاد پر بحث کرتے ہوئے کہا کہ برطانوی حکومت سے مرزا صاحب کی مستقل وفاداری بلا وجہ اور بے مقصد نہ تھی۔ انہوں نے اسے اپنے پیروکاروں کے ایمان کا جزو اور ان کی بیعت کے حلف کا حصہ بنا دیا تھا۔ انہوں نے جہاد کی بھی ممانعت کر دی، حالانکہ اس کے بارے میں قرآن کریم میں خاص احکام پائے جاتے ہیں۔ مرزا صاحب خود شاہ سے بھی زیادہ شاہ کے وفادار تھے، وجہ یہ تھی کہ احمدیہ تحریک کو حکومت کی ہمدردیاں حاصل تھیں اور انہی کی ہدایات پر اور ان کے تحفظ وتائید کے سائے میں شروع ہوئی تھی۔ 1857ء کی جنگ آزادی کے بعد حکومت کا مفاد یہ تھا کہ امت مسلمہ میں انتشار و افتراق پیدا کیا جائے اور اسلام ہی سے ایک نئے مذہب کی اختراع سے یہ مقصد پورا ہوتا تھا۔

فاضل وکیل نے مرزا صاحب پر تنقید کی کہ انہوں نے قرآن کریم کی مخالفت میں جہاد کو منسوخ کیا۔ انہوں نے اپنے نکتے کے ثبوت میں مرزا صاحب کی تحریروں کا حوالہ دیا اور درج ذیل چند مثالیں پیش کیں۔

اب چھوڑ دو جہاد کا اے دوستو خیال
دین کے لیے حرام ہے اب جنگ اور قتال
اب آگیا مسیح جو دین کا امام ہے
دین کی تمام جنگوں کا اختتام ہے
اب آسمان سے نور خدا کا نزول ہے
اب جنگ اور جہاد کا فتویٰ فضول ہے
دشمن ہے وہ خدا کا جو کرتا ہے اب جہاد
منکر نبی کا ہے جو یہ رکھتا ہے اعتقاد

(ضمیمہ تحفہ گولڑویہ طبع 1902ء صفحہ 41 روحانی خزائن ج 17 ص 77 مرزا صاحب کی نظم)

صفحہ 221

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول)

لٹکاتے ہیں‘ اسے مسیح توڑ دے گا...... اس سے ایک اور صداقت ظاہر ہوتی ہے‘ جو وہی صداقت ہے جو ہم لائے ہیں۔ ہم نے صاف صاف کھول کر اعلان کر دیا ہے کہ اب جہاد منسوخ ہے۔ (امن کا قیام) مسیح موعود کا فریضہ ہے کہ جہاد کا خاتمہ کر دے۔ سو اس مقصد کی خاطر جہاد کی ممانعت کر دینا ہمارے لیے لازمی تھا۔ سو ہم کہتے ہیں کہ یہ ممنوع ہے اور دین کے نام پر تلوار اٹھانا یا ہتھیار اٹھانا سخت گناہ ہے۔“

(ملفوظات‘ جلد 4‘ طبع 1902ء‘ صفحہ 18)

(اربعین نمبر 4‘ مطبوعہ 1900ء صفحہ 14 روحانی خزائن ج 17 ص حاشیہ 443)

کا نہیں اور میں یقین رکھتا ہوں کہ جیسے جیسے میرے مرید بڑھیں گے‘ ویسے ویسے مسئلہ جہاد کے معتقد کم ہوتے جائیں گے کیونکہ مجھے مسیح اور مہدی مان لینا ہی مسئلہ جہاد کا انکار کرنا ہے۔“ (مجموعہ اشتہارات‘ جلد 3‘ از 1898ء‘ تا 1908ء‘ صفحہ 19)

اسی نوع کے مزید اقتباسات‘ جو بکثرت موجود ہیں‘ کا تذکرہ غیر ضروری ہے۔

مجیب الرحمن نے دلیل دی کہ انیسویں صدی اور بیسویں صدی کے اوائل میں صرف مرزا صاحب ایسے واحد شخص نہ تھے جنہوں نے برطانوی گورنمنٹ سے وفاداری کا اظہار کیا تھا بلکہ ملک کے متعدد علماء اور مفکرین نے اس سامراجی طاقت کی تعریف میں کچھ نہ کچھ لکھا تھا۔

مجیب الرحمن کے پیش کردہ اقتباسات سے ظاہر ہوتا ہے کہ ان علماء نے جہاد کی مخالفت کرتے ہوئے کئی عوامل کو مدنظر رکھا تھا۔ بڑی وجہ یہ تھی کہ مسلمان مغلوب ہو چکے تھے لیکن انہیں مذہبی آزادی حاصل تھی اور ان پر ان کا اپنا پرسنل لاء نافذ تھا۔ ایک دوسری وجہ جو کئی علماء نے ملحوظ رکھی‘ یہ تھی کہ جہاد اس وجہ سے جائز نہ تھا کہ قیادت کے لیے کوئی امام موجود نہ تھا اور نہ قتال کے لیے اسلحہ۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ ان فتاویٰ میں

صفحہ 222

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول)

سے اکثر کے پس پردہ جہاد میں کامیابی کا عدم امکان کارفرما تھا۔

مسئلہ اتنا سادہ نہیں جیسا کہ مجیب الرحمٰن نے پیش کیا ہے۔ اس نکتے کی توضیح سے قبل یہ بیان کرنا مناسب ہوگا کہ صرف مسیح موعود کے حوالے سے یضع الحرب یعنی جنگ کا خاتمہ کرنے کے اصول کا مطلب یہ ہے کہ قتل دجال، کسر صلیب اور خنازیر کے قتل کے نتیجے میں اسلام کو غلبہ عام نصیب ہونے کی وجہ سے دنیا میں کفار کا وجود نہیں رہے گا۔ اس کا یہ مفہوم نہیں کہ کفار کی حکومت کی مزاحمت نہیں کی جائے گی۔

یضع الحرب (جنگ کا خاتمہ کرنے) کا اصول اس دور کے حالات پر جب مرزا صاحب نے قرآن کریم کے حکم جہاد کو منسوخ اور ممنوع قرار دیا تھا، قطعاً منطبق نہیں ہوتا۔

یہ بھی درست نہیں کہ انہوں نے صرف ایک مختصر مدت کے لیے جہاد کو معطل کیا تھا۔ مذکورہ بالا اقتباسات اس دعوے کی تردید کرتے ہیں۔ مسیح کی آمد پر (جہاد کے خاتمے کی) حدیث سے مراد جہاد کا قطعی خاتمہ ہے۔ اس کی بنیاد پر جہاد کی منسوخی کسی عبوری نوعیت کے نسخ کے حکم کی نفی کر دیتی ہے۔

اس مسئلے کو صوبہ پنجاب کی سیاسی صورت حال کی روشنی میں دیکھنا چاہیے، یہ ایسا وقت تھا کہ جاگیرداروں اور زمینداروں کا سارا طبقہ حکومت وقت کا خوشامدی شمار ہوتا تھا اور وہ اس کی رضا جوئی کی خاطر سب کچھ کرنے کو تیار رہتے تھے اور کسی انگریز سے ملاقات باعث افتخار سمجھتے تھے۔

مرزا صاحب کی تحریروں سے یہ امر واضح ہے کہ ان کی ذات اور ان کے بھائی سمیت ان کے خاندان نے برطانویوں سے اپنی دائمی وفاداری جاری رکھی۔ ایسی تحریریں جن میں مرزا صاحب نے برطانویوں کی مدح وستائش کی ہے، بے مقصد نہیں ہیں۔ مذکورہ بالا اقتباس سے ایک مقصد واضح ہے کہ احمدی برطانوی حکومت کی پناہ میں تھے، جبکہ موریشس سے متعلق دوسرے اقتباس سے ثابت ہوتا ہے کہ وہ حکومت وقت کے اس قدر منظور نظر تھے کہ مسلمانوں کی مخالفت کے باوجود حکومت موریشس نے قادیانی مبلغ کو احمدیت کے پرچار کے لیے ہفتے میں تین دن کے لیے گورنمنٹ ہال الاٹ کر دیا۔

صفحہ 223

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول)

انگریزی سرکار کے لیے مرزا صاحب کی تعریف‘ چاپلوسی اور تملق کی حد سے بھی متجاوز ہے۔ اس سے عوام کے ذہنوں میں ایسے شکوک کا پیدا ہونا یقینی ہے کہ یا تو وہ امت مسلمہ میں انتشار و افتراق پھیلانے اور انہیں دائمی غلامی میں جکڑنے کی غرض سے‘ حکومت وقت کی جانب سے سونپا ہوا کردار ادا کر رہے تھے یا وہ اس سے مفادات کے حصول کی جستجو میں تھے۔

یہ دلیل کہ دوسرے علماء نے اسی قسم کا فتویٰ دیا تھا‘ میل نہیں کھاتی کیونکہ یہ حکومت کی حمایت میں کوئی اکا دکا رائے یا فتویٰ نہ تھا بلکہ یہ دامن کو چھڑانے کا مسلسل عمل تھا۔

اسے محض اتفاق قرار دینا مشکل ہے کہ مرزا صاحب‘ جو مجدد‘ مسیح موعود اور مہدی اور نبی ہونے کے دعویدار تھے‘ نے حکومت برطانیہ کی مدح سرائی کی جب کہ تیرہویں صدی کے اختتام کے قریب اور بعد میں ایران میں بابی مذہب کے بانی مرزا علی محمد باب اور (بہائی مذہب کے بانی) حسین علی بہاء اللہ نے روسیوں کی مدح سرائی کی۔ علاوہ ازیں بہاء اللہ نے برطانوی حکومت کی بھی مدح سرائی کی تھی اور دونوں نے جہاد کو منسوخ قرار دیا تھا۔ درحقیقت بہاء اللہ نے بھی مرزا صاحب کے انداز پر جہاد کی منسوخی کا حکم دیا تھا۔

اس نکتے پر بحث کے اختتام پر مناسب ہو گا کہ علامہ اقبالؒ کی آراء اور خیالات سے اقتباس پیش کیا جائے:

ہندوستانی مسلمان اور اسی طرح ترک سلطنت سے باہر کے تمام مسلمان کس طرح ترکی خلافت سے متعلق ہو سکتے ہیں؟ کیا ہندوستان دارالحرب ہے یا دارالاسلام؟ اسلام کے نظریہ جہاد کے حقیقی معنی کیا ہیں؟ قرآن کریم کی آیت ’’اللہ کی اطاعت کرو اور رسول کی اطاعت کرو اور اپنے میں سے اولی الامر یعنی حاکموں کی‘‘ میں ’’اپنے میں سے‘‘ کا کیا معنی ہے؟ اور امام مہدی کے ظہور کی پیش گوئی کرنے والی احادیث نبویہ کا کیا مفہوم ہے؟ یہ اور کچھ اور سوالات جو بعد میں اٹھے‘ واضح وجوہ کی بناء پر صرف ہندوستانی

صفحہ 224

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول)

مسلمانوں کے لیے تھے۔ تاہم یورپی سامراجی جو اس وقت عالم اسلام میں تیزی سے نفوذ کر رہا تھا‘ بھی ان میں گہری دلچسپی رکھتا تھا۔ ان سوالات سے اٹھنے والی بحثوں نے ہندوستان میں تاریخ اسلام کا ایک دلچسپ ترین باب رقم کیا۔ داستان بڑی طویل ہے اور تاحال کسی موثر قلم کی منتظر ہے۔ مسلمان سیاست دان جن کی نگاہیں بڑی حد تک حالات کے حقائق پر مرکوز تھیں‘ علماء کے ایک طبقے کی حمایت حاصل کرنے میں کامیاب ہوگئے کہ وہ دینی استدلال کی راہ اپنائیں‘ جو ان کے خیال میں موقع محل کے لحاظ سے مناسب تھا۔ لیکن یہ آسان نہ تھا کہ محض منطق کے بل بوتے پر ان اعتقادات پر قابو پا لیا جائے جو صدیوں سے ہندوستانی مسلمانوں کے شعور میں پختہ تھے۔

ایسی صورت میں منطق یا تو سیاسی مصلحت اختیار کر لیتی ہے یا رسوم و رواج کا دھارا بدل دیتی ہے۔ دونوں صورت میں استدلال عوام کو متاثر کرنے میں ناکام رہ جاتا ہے۔ اسلام کے راسخ مذہبی عوام کو صرف ایک چیز قطعی متاثر کر سکتی ہے اور وہ ہے وحی کی سند۔ قدیم راسخ اعتقادات کے موثر استیصال کے لیے یہ ضروری سمجھا گیا کہ مندرجہ بالا سوالات میں مضمر دینی نظریات کی مناسب سیاسی تعبیر کے لیے الہامی بنیاد تلاش کی جائے۔ یہ الہامی بنیاد احمدیت نے فراہم کی اور احمدی خود یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ انہوں نے برطانوی سامراج کی یہ بہت بڑی خدمت کی۔‘‘

(پنڈت جواہر لال نہرو کے سوالات کا جواب از علامہ محمد اقبالؒ

مطبوعہ حرف اقبالؒ مرتبہ لطیف احمد خان شروانی صفحہ 131، 132)

اور صفحہ 31 پر بحث سمیٹتے ہوئے لکھتے ہیں:

احمدیت کا کردار یہ ہے کہ وہ ہندوستان کی موجودہ سیاسی غلامی کے لیے الہامی اساس فراہم کرنا چاہتی ہے۔‘‘ (پنڈت جواہر لال نہرو کے سوالات کا جواب از علامہ محمد اقبالؒ مطبوعہ حرف اقبالؒ مرتبہ لطیف احمد خان شروانی صفحہ 133)

ایک درخواست دہندہ مجیب الرحمٰن‘ جنہوں نے بحث میں حصہ لیا‘ نے اپنے

صفحہ 225

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول)

دلائل کے یہ نکات پیش کیے:

مختلف معاہدوں کا اثر جو انہیں مذہب کی مکمل آزادی‘ جس میں اس کے پرچار کا حق شامل ہے‘ کی ضمانت دیتا ہے۔

مجیب الرحمٰن نے ریاست کے اقتدار اور وفاقی شرعی عدالت کو تفویض کردہ اختیارات کی حدود کے حوالے سے (آئین کی) دفعہ 203۔ ڈی کی گنجائش پر بحث کی اور دلیل دی کہ قرآن اور سنت کی رو سے ایسے حکم کی کوئی اطاعت نہیں ہوتی جس سے گناہ کا ارتکاب یا اللہ اور اس کے رسول کی معصیت لازم آتی ہو اس کی اساس معروف حدیث لا طاعة لمخلوق فی معصیة الخالق (اللہ کی نافرمانی میں کسی بھی مخلوق کی کوئی اطاعت نہیں) ہے۔ (بخاری کتاب الاحکام‘ جلد 2‘ صفحات 1057‘ 1058‘ 1078) اور اسی طرح کی دیگر احادیث۔

قرآن کریم کی آیت:

فان تنازعتم فی شئی فردوه الی الله والرسول ان کنتم تومنون بالله والیوم الاخر. ذلک خیر واحسن تاویلا ۝ (النساء: 59)

اے ایمان والو! اللہ کی اطاعت کرو اور رسول کی اطاعت کرو اور اپنے اولوالامر کی۔ پس اگر کسی امر میں تمہارا اختلاف ہو جائے تو اس کو اللہ اور رسول کی طرف لوٹاؤ، اگر تم اللہ اور روزِ آخرت پر ایمان رکھتے ہو۔ یہ طریقہ بہتر اور انجام کار زیادہ اچھا ہے۔

صفحہ 226

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول)

پر بنا رکھتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ آیت حاکم اور محکوم کے مابین نزاع سے متعلق ہے۔ انہوں نے کہا کہ آیت میں اولوالامر سے مراد صرف ارباب اقتدار ہیں نہ کہ علماء یا کوئی اور دینی عالم‘ جیسا کہ بعض علماء سمجھتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ دفعہ 203۔ڈی کے نفاذ سے اللہ تعالیٰ اور دوسروں جن میں ریاست بھی شامل ہے‘ سے وفاداریوں میں تصادم سے بچاؤ اور تصفیہ‘ مقصود ہے۔ پہلے مفروضے کے لیے انہوں نے متعدد کتب کے حوالے دیے۔ دوسرے نکتے کے لیے انہوں نے عدالت کی توجہ خصوصاً ترجمان القرآن‘ جلد اول‘ صفحہ 98 پر پیش کردہ رائے کی طرف مبذول کروائی کہ قرآن کریم کے اس حکم میں جس اختلاف کا ذکر کیا گیا ہے اس کا تصفیہ کرنے کے لیے ایک ادارے کا وجود ہونا چاہیے۔

(پس اگر کسی امر میں تمہارا اختلاف ہو جائے تو اسے اللہ اور رسول کی طرف لوٹاؤ)

دلائل دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ عدالت ایسا ہی ایک ادارہ ہے۔ اولوالامر کی تشریح و توضیح پر کسی کتاب سے حوالے دینے اور اس نکتے پر بحث کرنا اس لیے غیر ضروری ہے کہ پیش کردہ نکتہ قطعی ہے اور یہ عدالت مقدمہ نمبر ایس‘ پی‘ کے ۔ 2‘ 1982ء میں ایسا قرار دے چکی ہے کہ اولوالامر سے ریاست میں برسر اقتدار لوگ جن میں مقننہ‘ انتظامیہ اور عدلیہ شامل ہیں‘ مراد ہیں۔

آئین کی دفعہ 203۔ڈی میں بتایا گیا ہے کہ اس عدالت کا فریضہ یہ ہے کہ جو قوانین عدالت کے دائرۂ اختیار میں آتے ہوں‘ ان میں قرآن اور سنت رسول ﷺ سے تصادم اور تناقض کو ختم کرے۔ اس لیے یہ صحیح دکھائی دیتا ہے کہ یہ عدالت اپنے آئینی دائرۂ اختیار کی حد تک ایسا ادارہ ہے جو ترجمان القرآن‘ جلد اول‘ صفحہ 98 کی تحریر کے مطابق کسی قانون کے مندرجات میں اختلاف کو قرآن کریم اور سنت رسول ﷺ کی رو سے حل کر سکتا ہے۔ مجیب الرحمٰن کی اس دلیل پر شاید ہی کوئی اعتراض ہو سکتا ہو۔

یہ دلیل کہ گناہ میں کوئی اطاعت نہیں ہے‘ بھی قطعی ہے۔ یہ عدالت اس نکتے کا پہلے ہی تفصیل کے ساتھ جائزہ لے چکی ہے۔ نیز پریس اینڈ پبلی کیشنز آرڈیننس مجریہ

صفحہ 227

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول)

1963ء (آرڈیننس 30 مجریہ 1963ء) اور پنجاب‘ سندھ‘ صوبہ سرحد اور بلوچستان کے سرونٹس ایکٹس‘ پر اپنے حالیہ فیصلوں میں ایک مسلم ریاست کی قانون سازی کی گنجائش کا بھی جائزہ لے چکی ہے۔

دوسرے نکتے پر انہوں نے دلیل دی کہ جس چیز کو قرآن اور سنت جائز قرار دیں‘ اسے حکام ناجائز قرار نہیں دے سکتے اور اس کے لیے نص صریح کا وجود ضروری ہے۔ انہوں نے تقلید کو نظر انداز کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔

یہ درحقیقت پارلیمنٹ کے قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دینے کے حق کو بالواسطہ چیلنج ہے۔ اس نکتے کا مختصر جواب یہ ہے کہ یہ نکتہ جیسا کہ علامہ اقبال نے کہا تھا: ایک قانونی مسئلہ ہے۔ اس لیے پارلیمنٹ نے‘ جو قانون ساز ادارہ ہے‘ آرٹیکل 260 میں اعلان کر کے اپنے دائرۂ اختیار کے اندر کام کیا ہے۔ علامہ اقبال نے کہا تھا:

”یہ سوال کہ کوئی شخص یا جماعت دائرہ اسلام سے خارج ہو چکی ہے‘ خالص قانونی مسئلہ ہے اور اسے اسلام کے تعمیری اصولوں کی روشنی میں ہی حل کرنا چاہیے۔“

مذکورہ بالا دلیل کی طرح وفاقی حکومت کے وکیل شیخ غیاث محمد نے بھی ایسی ہی دلیل پیش کی ہے۔ یہ عدالت پہلے صوبائی سرونٹس ایکٹس کا جائزہ لیتے ہوئے اس نکتے اور اپنے دائرۂ کار کی گنجائش کا فیصلہ دے چکی ہے۔ یہ قرار دیا گیا تھا کہ عدالت کا دائرۂ کار قرآن وسنت کی صرف صریح نصوص تک محدود نہیں ہے‘ عدالت کسی قانون کی پیچیدگیوں کا جائزہ لیتے وقت قرآن اور سنت کے وضع کردہ اصولوں سے استفادہ کر سکتی ہے۔ عدالت نے مقدمہ محمد ریاض وغیرہ بنام وفاقی حکومت وغیرہ پی ایل ڈی 1980ء ایف۔ ایس۔ سی میں قرار دیا تھا کہ وہ پبلک لاء میں تقلید کے اصول کی پابند نہیں ہے۔ مجیب الرحمٰن کے خدشات کے ازالے کے لیے یہ کافی ہے۔

مجیب الرحمٰن نے پھر فہم قرآن کے اصول کا تذکرہ کیا اور کہا کہ پہلا اصول یہ ہے کہ قرآن کو خود قرآن ہی کی روشنی میں سمجھا جائے‘ کیونکہ وہ ایک ہی مضمون کو مختلف اسلوبوں سے پیش کرتا ہے۔ تکرار سے مقصود انسانی ذہن پر مضمون کو نقش کرنا ہے‘

صفحہ 228

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول)

کبھی ایک مضمون کو ایک جگہ مختصر کیا گیا ہے اور اسے دوسری جگہ کھول کر تفصیل سے واضح کر دیا گیا ہے۔

انہوں نے مندرجہ ذیل آیاتِ قرآنیہ کا حوالہ دیا ہے:

(الانعام:105)

اسی طرح ہم اپنی دلیلیں مختلف اسلوبوں میں بیان کرتے ہیں اور تاکہ وہ بول اٹھیں کہ تم نے پڑھا ہے اور تاکہ ہم اس کو اچھی طرح واضح کر دیں، ان لوگوں کے لیے جو جاننا چاہیں۔

(بنی اسرائیل:41)

اور ہم نے اس قرآن میں پھیر پھیر کر بات واضح کر دی ہے تاکہ وہ یاددہانی حاصل کریں۔ لیکن یہ چیز ان کی بیزاری ہی میں اضافہ کیے جارہی ہے۔

الا کفورا O

(بنی اسرائیل:89)

اور ہم نے لوگوں کے لیے اس قرآن میں طرح طرح سے ہر قسم کی حکمت کی باتیں بیان کی ہیں لیکن اکثر لوگ انکار ہی پر اڑے ہوئے ہیں۔

اکثر شیء جدلاً O

(الکہف:54)

اور ہم نے لوگوں کے لیے اس قرآن میں ہر قسم کی مثالیں گوناگوں طریقوں سے بیان کر دی ہیں، لیکن انسان سب سے زیادہ جھگڑالو واقع ہوا ہے۔

ان اصولوں میں کوئی اختلاف نہیں۔ بحث کے دوران مجیب الرحمٰن ہماری توجہ قرآن کریم کی متعدد آیات پر مبذول کراتے رہے، جو ان کے مطابق اپنی وجہ نزول تک محدود نہیں ہیں، بلکہ انہیں اپنے مفہوم میں عام سمجھنا چاہیے۔

صفحہ 229

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول)

انہوں نے دوسرا اصول یہ پیش کیا کہ کسی آیت کو سمجھنے کے لیے اس کے سبب نزول کی دریافت ضروری ہے۔ یہ امر کسی آیت کے فہم میں معاون ہوتا ہے۔ تاہم اس کا معنی سبب نزول کی حد تک محدود یا مخصوص نہ ہو گا اور اس کے انطباق کا عموم کم نہیں ہو گا۔ یہ ان رہنما اصولوں پر مشتمل ہیں، جو روزِ قیامت تک قابل نفاذ ہیں۔ انہوں نے الاتقان (جلد اول‘ نوع 9‘ اسباب نزول‘ صفحہ 70 تا 87) کے حوالے دیے۔

تیسرا اصول یہ ہے کہ اگر قرآن سے کوئی رہنمائی میسر نہ آئے تو رسول اللہ ﷺ کی سنت کی جانب رجوع کیا جائے۔ آخری اصول یہ ہے کہ اگر سنت سے بھی کوئی روشنی نہ پڑتی ہو تو پھر تفسیر میں رہنمائی حاصل کرنے کا دوسرا ذریعہ آثار (رسول اللہ ﷺ کے صحابہ کے اقوال) ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ قرآن کریم کی روح کو صحیح طور پر سمجھنے اور اسے مدنظر رکھنے کی کوشش کی جائے۔

چوتھے نکتے پر، جس میں عقیدے کی آزادی اور اپنے مذہب پر عمل کرنے کا حق شامل ہیں، مجیب الرحمٰن نے کہا کہ اس بارے میں کئی سوالات پیدا ہوتے ہیں:

حق یا اجازت دیتا ہے؟

کی حامل اور قابل اطاعت کتاب تسلیم کرے؟

احکام پر عمل کرے؟

قرآن کی حقانیت، محمد رسول اللہ ﷺ کی نبوت اور اللہ کی توحید کو مانتا ہو۔ لیکن اسے مسلمان نہ سمجھا جائے اور نہ ہی اسے ایسا سمجھا جانے کا حق دیا جائے؟

صفحہ 230

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول)

قرآن کریم کی آیات 256:2‘ 29:8‘ 99:10‘ 108:10‘ 3:26‘ 10:90‘ 8:91‘ 9:91‘ 10:91 نیز مشہور مفسرین کی تفاسیر سے استدلال کرتے ہوئے انہوں نے یہ خلاصہ پیش کیا کہ احکام اسلام کی رُو سے:

سے روکنا نہیں چاہیے۔

انہوں نے ان آیات کا حوالہ بھی دیا:

ولكن من شرح بالكفر صدراً فعليهم غضب من الله. ولهم عذاب عظيم ۝

(النحل: 106)

جو اپنے ایمان لانے کے بعد اللہ کا کفر کرے گا‘ بجز اس کے جس پر جبر کیا گیا ہو اور اس کا دل ایمان پر جما ہوا ہو‘ لیکن جو کفر کے لیے سینہ کھول دے گا تو ان پر اللہ کا غضب ہوتا ہے اور ان کے لیے عذابِ عظیم ہے۔

لتذهبوا ببعض ما اتيتمو هن الا ان ياتين بفاحشة مبينة. وعاشرو هن بالمعروف. فان كرهتموهن فعسى ان تكرهوا شيئاً ويجعل الله فيه خيراً كثيراً ۝

(النساء: 19)

اے ایمان والو! تمہارے لیے یہ بات جائز نہیں کہ تم عورتوں کے زبردستی وارث بن جاؤ اور نہ یہ بات جائز ہے کہ جو کچھ تم نے ان کو دیا ہے اس کا کچھ حصہ واپس لینے کے لیے ان کو تنگ کرو مگر اس صورت میں کہ وہ کسی کھلی ہوئی بدکاری کی مرتکب ہوئی ہوں۔ اور ان کے ساتھ معقول طریقے پر برتاؤ کرو۔ اگر تم ان کو ناپسند کرتے ہو تو بعید نہیں

صفحہ 231

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول)

کہ ایک چیز کو تم ناپسند کرو اور اللہ تمہارے لیے اس میں بہت بڑی بہتری پیدا کر دے۔

ويومن بالله فقد استمسک بالعروة الوثقی لا انفصام لها. والله سميع عليم O (البقرة:256)

دین کے معاملے میں کوئی جبر نہیں۔ ہدایت گمراہی سے بالکل الگ ہو چکی ہے تو جس نے طاغوت کا انکار کیا اور اللہ پر ایمان لایا، اس نے مضبوط حلقہ پکڑ لیا جو ٹوٹنے والا نہیں اور اللہ سننے والا جاننے والا ہے۔

عليهم بوكیل O (الانعام:107)

اور اگر اللہ چاہتا تو یہ شرک نہ کر پاتے اور ہم نے تم کو ان پر نگران نہیں مقرر کیا ہے اور نہ تم ان کے ضامن ہو۔

الناس حتى يكونوا مومنین O (یونس:99)

اور اگر تیرا رب چاہتا تو روئے زمین پر جتنے لوگ بھی ہیں، سب ایمان قبول کر لیتے، تو کیا تم لوگوں کو مجبور کرو گے کہ وہ مومن بن جائیں۔

لنفسه. ومن ضل فانما يضل عليها. وما انا عليكم بوكیل O (یونس:108)

کہہ دو اے لوگو! تمہارے رب کی طرف سے تمہارے پاس حق آ گیا ہے تو جو ہدایت قبول کرے گا، وہ اپنے ہی لیے کرے گا اور جو بھٹکے گا، تو اس کا وبال اسی پر آئے گا اور میں تمہارا ذمہ دار نہیں ہوں۔

(اے نبی ﷺ) شاید تم کھو دو گے اپنی جان اس (غم) میں کہ یہ لوگ ایمان لانے والے نہیں بنتے!

صفحہ 232

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول)

(الشعراء:4)

اگر ہم چاہیں تو ان پر آسمان سے کوئی نشانی اتار دیں۔ پس ان کی گردنیں اس کے آگے جھکی رہ جائیں۔

اور اس کو ہم نے دونوں راہیں سمجھا دیں۔

بے شک کامیاب ہوا جس نے اس کو پاک کیا، اور نامراد ہوا جس نے اس کو آلودہ کیا۔

للظلمين ناراً احاط بهم سرادقها . وان يستغيثوا يغاثوا بماء كالمهل يشوى الوجوه . بئس الشراب . وساءت مرتفقاً ۝ (الکہف:29) کہہ دیجیے، یہی حق ہے تمہارے رب کی جانب سے، تو جس کا جی چاہے ایمان لائے اور جس کا جی چاہے کفر کرے۔ ہم نے ظالموں کے لیے ایسی آگ تیار کر رکھی ہے جس کی قناتیں ان کو اپنے گھیرے میں لے لیں گی اور اگر وہ پانی کے لیے فریاد کریں گے تو ان کی فریاد رسی ایسے پانی سے کی جائے گی جو پگھلے ہوئے تانبے کے مانند ہو گا۔ چہروں کو بھون ڈالے گا۔ کیا ہی برا پانی ہوگا! اور کیا ہی برا ٹھکانہ۔

سورۃ الکافرون کی آیات 4، 5 اور 6 اس مسئلے کو قطعی طور پر طے کرتے ہوئے ہر شخص کو اپنے دین پر رہنے دیتی ہیں:

ولى دين ۝ (الکافرون: 4 تا 6) اور نہ میں پوجنے والا ہوں جن کو تم نے پوجا۔ اور نہ تم پوجنے والے ہو جسے میں پوجتا ہوں۔ تمہارے لیے تمہارا دین اور میرے لیے میرا دین ہے۔

صفحہ 233

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول)

آیت نمبر 100:10 کی تفسیر میں سید قطب لکھتے ہیں:

اس کے خلاف کسی قسم کا اختیار نہ دیتا۔ لیکن اس کی حکمت‘ جس کے کچھ مقاصد ہم سمجھ سکیں یا نہ سمجھ سکیں‘ کا تقاضا یہ تھا کہ انسان کی تخلیق اس طرح ہو کہ اسے نیکی اور بدی یا ہدایت اور گمراہی کی استعداد اور صلاحیت سے بہرہ ور کیا جائے۔ پس ایمان کی بنیاد ہر شخص کی اپنی پسند پر ہے۔ رسول اللہ ﷺ کسی کو ایمان لانے پر مجبور نہیں کر سکتے۔ کیونکہ قلب وضمیر کے ارادوں اور جذبات میں جبر کی کوئی گنجائش نہیں ہوتی۔‘‘

(’’فی ظلال القرآن‘‘ جلد 4‘ صفحہ 478)

اسماعیل حقی کی تفسیر ’’روح البیان‘‘ (جلد 4‘ صفحہ 84) میں بھی یہی مفہوم دیا گیا ہے۔ کہا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی حکمت کا یہ منشا نہ تھا کہ انسانوں کی تخلیق ایسے نہج پر ہوتی کہ وہ سب مومن بن جائیں۔ بلکہ منشائے خداوندی یہ ہے کہ ہر انسان خود اپنی پسند کے مطابق ایمان یا کفر کو اختیار کرے۔ مزید بتایا گیا ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے دیکھا کہ اس کے رسول ﷺ کی خواہش یہ ہے کہ تمام لوگ دائرہ ایمان میں داخل ہو جائیں تو اس نے یہ آیت نازل فرمائی اور آپ ﷺ کی قوم کے ایمان کو اپنی مشیت پر معلق کر دیا اور بتایا کہ تمہارے خالق کی یہ مرضی نہیں ہے‘ تو پھر کیا آپ ایسے امر میں کیسے جبر کر سکتے ہیں‘ جو اللہ تعالیٰ کی منشا کے خلاف ہے کہ تمام لوگ مشرف بہ ایمان ہو جائیں۔

اسی تفسیر میں النسفی کی اس رائے کا تذکرہ کرتے ہوئے کہ یہ آیت‘ آیت جہاد سے منسوخ ہے‘ مزید بتایا گیا ہے کہ درست بات یہ ہے کہ یہ منسوخ نہیں ہے کیونکہ ایمان کے مسئلے میں جبر درست نہیں ہوتا‘ اور اس لیے بھی کہ اس کا تعلق دل سے ہوتا ہے۔ (نیز دیکھئے ’’مدارک التنزیل‘‘ جلد 2‘ صفحہ 38‘ ’’المنار‘‘ جلد 2‘ صفحہ 483۔ 484‘ ’’معارف القرآن‘‘ جلد 4‘ صفحہ 577‘ ’’تفسیر المراغی‘‘ جلد 2‘ صفحہ 158)

اور ہم نے تم کو ان پر نگران مقرر نہیں کیا۔ اور نہ تم ان کے ضامن ہو۔

صفحہ 234

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول)

کی تفسیر میں بھی اسی قسم کا بیان ہوا ہے (دیکھئے ”تفسیر المراغی“ جلد 7‘ صفحہ 211‘ ”روح البیان“ جلد 3‘ جز 4‘ صفحہ 48‘ ”المنار“ جلد 7‘ صفحہ 501-502‘ ”فی ظلال القرآن“ جلد 7‘ صفحہ 305-306‘ ”معارف القرآن“ جلد 3‘ صفحہ 413‘ ”تفسیر کبیر امام رازی“ جز 12‘ صفحہ 103)۔

المنار میں نگران یا وکیل کے فرائض بیان کرتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی بعثت کا مقصد یہ تھا کہ وہ لوگوں کو دین کی دعوت اور تعلیم دیں اور انہیں اسے قبول کرنے کی صورت میں فوز و فلاح کی خوشخبری دیں‘ اور دین الٰہی پر ایمان نہ لانے اور اسے قائم نہ کرنے کی صورت میں انہیں برے نتائج سے آگاہ کر دیں۔ پیغمبر ﷺ کے یہی فرائض ہیں۔ تاہم وہ اللہ تعالیٰ کی جانب سے اس کی مخلوق کے نگران نہ تھے‘ اور نہ ہی انہیں اس امر کا اختیار دیا گیا تھا کہ وہ اپنی قوم کو ایمان لانے پر مجبور کر دیتے۔ فی ظلال القرآن (از سید قطب شہید) کے مطابق یہ آیت امت کی تشکیل سے بحث کرتی ہے۔

دین میں اکراہ یا جبر کے مسئلہ پر تمام مفسرین نے بحث کی ہے۔ دیکھئے ”المغنی“ حصہ 8‘ صفحہ 243‘ ”تفسیر بیضاوی“ جلد اول‘ صفحہ 362‘ ”مدارک التنزیل“ جلد اول‘ صفحہ 170‘ ”فی ظلال القرآن“ جلد 3‘ صفحہ 26-28‘ ”المراغی“ جلد 13‘ صفحہ 53‘ ”المنار“ جلد 9‘ صفحہ 665‘ ترجمان القرآن“ جلد اول‘ صفحہ 267‘ ”تفہیم القرآن“ جلد اول‘ صفحہ 196‘ ”روح المعانی“ جلد 3‘ صفحہ 13-12۔ المغنی کے مطابق ایک رائے یہ ہے کہ محض دھمکی بھی اکراہ ہے۔ المنار‘ جلد 3‘ صفحہ 16 کے مطابق اصل دین عقیدہ ہے‘ جو اطمینان قلبی کی بدولت نصیب ہوتا ہے۔ اطمینان قلب کا واحد ذریعہ استدلال اور حجت ہے‘ نہ کہ اکراہ یا جبر۔ ایک اہم نکتہ (دیکھئے ”المنار“ جلد 9‘ صفحہ 665) یہ ہے کہ کسی کو اپنا عقیدہ ترک کرنے پر مجبور کرنا جائز نہیں۔ مجبور نہ کیے جانے کا حق ایک بنیادی حق شمار کیا گیا ہے۔ (”فی ظلال القرآن“ جلد 3‘ صفحات 26-28) آیت نمبر 29:18 کی تفسیر کے لیے ”المراغی“ جز 15‘ صفحہ 143‘ ”فی ظلال القرآن“ جز 15‘ صفحہ 95‘ ”تفسیر المظہری“ جلد 6‘ صفحہ

صفحہ 235

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول)

انسان کو کوئی عقیدہ قبول کرنے یا نہ کرنے کا اختیار دیتی ہے۔

ان آیاتِ کریمہ پر مبنی ان تمام دلائل کا لب لباب یہ ہے کہ دین کے معاملہ میں کوئی جبر نہیں ہے اور یہ اللہ تعالیٰ کی مشیت نہیں کہ تمام لوگ مومن بن جائیں۔ رسول اللہ ﷺ کی بعثت کا مقصد صرف یہ تھا کہ وہ اللہ تعالیٰ کے پیغام کو عام کریں‘ یہ مقصود نہ تھا کہ وہ لوگوں کو اسلام قبول کرنے پر مجبور کریں۔ قرآن وسنت میں ایسی کوئی چیز موجود نہیں جو اس امر پر پابندیاں عائد کرنے کی اجازت دے کہ غیر مسلم اللہ تعالیٰ کی توحید‘ رسول اللہ ﷺ کی رسالت وحکمت کی صداقت‘ قرآن کریم کے پیغام کی صداقت پر ایمان لائیں‘ یا قرآن کو اپنا دستورِ حیات بنائیں۔ اسی طرح یہ بھی جائز نہیں کہ کسی شخص کو زبردستی اس دین سے نکالا جائے جس سے وہ وابستہ رہنا چاہتا ہو۔ انہوں نے مزید کہا کہ آرڈیننس قادیانیوں کو دین اسلام‘ جس سے وہ وابستہ رہنا چاہتے ہیں‘ سے زبردستی نکالنے کے مترادف ہے۔ اس سلسلے میں لفظ اکراہ پر بھی روشنی ڈالی گئی کہ یہ صرف طاقت کے استعمال تک محدود نہیں بلکہ یہ ایسے حالات پیدا کرنے کو بھی شامل ہے جو کسی کے لیے اپنے دین کو ماننے یا اس پر عمل کرنے کے لیے سازگار نہ ہوں۔

مجیب الرحمٰن کے پہلے چار سوالوں کا جواب اثبات میں دینا ہوگا۔ کسی غیر مسلم کے اس حق پر ایسی کوئی آئینی‘ قانونی یا شرعی پابندی نہیں کہ وہ اللہ تعالیٰ کی توحید کا اعلان کرے‘ پیغمبر ﷺ کو اپنے دعوے میں سچا تسلیم کرے‘ قرآن کریم کو اچھے دستورِ حیات کا حامل تسلیم کرے اور اس کے احکام پر عمل پیرا ہو۔ چار سوالوں کے مثبت جواب کے بعد پانچواں سوال پیدا نہیں ہوتا۔ چھٹے سوال کا واضح جواب یہ ہے کہ ایسے غیر مسلم سے قرآن وسنت کی عائد کردہ شرائط جن کا تذکرہ مناسب موقع پر آئے گا‘ کے تحت دوسری اقلیتوں جیسا سلوک کیا جائے۔

مجیب الرحمٰن نے ”اکراہ“ کے بارے میں جو چار اصول بنائے ہیں‘ وہ بھی قطعی ہیں۔ لیکن تیسرے اصول کا اطلاق جیسا کہ مجیب الرحمٰن نے کیا ہے‘ درست نہیں ہے۔ تیسرا

صفحہ 236

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول)

اصول یہ ہے کہ کسی شخص کو طاقت کے استعمال سے اس کے دین سے نہیں نکالا جاسکتا۔ اپنے تحریری دلائل میں وہ اس پر یہ اضافہ کرتے ہیں...... ”جیسا کہ ہمیں نکالا گیا ہے۔“ زیر بحث آرڈیننس میں ایسی کوئی بات نہیں کہ انہیں اپنے مذہب سے نکال دیا گیا ہے۔

یہ استدلال کیا گیا تھا کہ احمدیوں پر اپنے آپ کو مسلمان کہنے یا ایسا ظاہر کرنے پر پابندی عائد کرنا انہیں اپنے دین سے جو ان کے مطابق اسلام ہے نکالنے کے مترادف ہے۔ اس سوال پر ہم پہلے غور کر چکے ہیں اور اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ ہر دو عقیدوں کے قادیانی مسلمان نہیں ہیں بلکہ غیر مسلم ہیں۔ لہٰذا آرڈیننس انہیں اپنے آپ کو ایسا کہلانے سے روکتا ہے جو وہ نہیں ہیں۔ کیونکہ انہیں اپنے آپ کو جھوٹ موٹ مسلمان ظاہر کر کے کسی شخص، خصوصاً امت مسلمہ کو دھوکا دینے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ یہ امر پہلے واضح ہو چکا ہے کہ مرزا صاحب اور لاہوری گروہ کے علاوہ دیگر قادیانیوں نے الٹا مسلمانوں کو غیر مسلم اور دائرۂ اسلام سے خارج قرار دے کر اپنے آپ کو ایسی جماعت کی جگہ جس میں قرآن کریم کی محبت اور عقیدت سب سے بلند ہے مسلم امت قرار دے لیا ہے۔ یہ برداشت نہیں کیا جاسکتا اور نہ غیر مسلموں کو یہ اجازت دی جاسکتی ہے کہ وہ امت کا شیرازہ بکھیر کر مسلمانوں کے حقوق اور مراعات پر غاصبانہ قبضہ کر لیں۔ پھر یہ امر قادیانیوں کے مرزا صاحب کو خواہ نبی یا مجدد مہدی موعود یا مسیح موعود ماننے کے حقوق پر بھی اثر انداز نہیں ہوتا اور نہ ہی اس سے ان کے اس حق میں مداخلت ہوتی ہے کہ وہ اپنے مذہب پر عمل کریں اور اس کے اصولوں کے مطابق اپنی عبادت گاہوں میں عبادت کریں۔

شریعت اسلامیہ غیر مسلموں کو اپنے دین کو ماننے نیز اس پر عمل کرنے کا پورا تحفظ دیتی ہے۔ مذکورہ بالا آیات کریمہ اور ان کی تفسیر میں مفسرین کی آراء اس امر کی تائید کرتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ اور آپ کے معزز خلفاء نے مشرکوں اور غیر مسلموں سے خواہ وہ مسلمانوں سے برسرپیکار تھے یا نہیں دوسرے امور کے علاوہ انہیں دین کی آزادی سے متعلق بہترین شرائط پر معاہدے کیے۔

صفحہ 237

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول)

اس بارے میں رسول اللہ ﷺ نے جو پہلا قدم اٹھایا وہ مدینہ کے یہودیوں عیسائیوں اور دوسرے غیر مسلموں کے ساتھ تحریری میثاق تھا۔ اس معاہدے کی پہلی دفعہ ڈاکٹر حمید اللہ کے الفاظ میں یہ طے کرتی ہے کہ ”معاہدے کے تمام فریقوں کو ایک ہی امت (جماعت) قرار دے دیا گیا۔“ یہ واضح طور پر ایک ایسی سیاسی قوم بنانے کی کوشش تھی جو مسلمانوں اور غیر مسلموں کی مدد کر سکے۔

اس معاہدے کی دفعہ 26 کا بیان ہے کہ بنی عوف کے یہودی مسلمانوں کے ساتھ مل کر ایک امت ہیں یعنی انہوں نے سیاسی اتحاد کی بنیاد پر ایک سیاسی وحدت قائم کی ہے۔ معاہدے کے فریقوں، جن میں مسلم امت شامل تھی، نے اس معاہدے کے تحت ایک سیاسی امت تشکیل دینے پر اتفاق کرلیا ہے۔ امۃ من دون الناس (دوسرے لوگوں کے بالمقابل ایک سیاسی وحدت ) (دفعہ 1) اور امۃ واحدة (متحدہ سیاسی وجود) (دفعہ 26) قرار دیا گیا۔

امۃ واحدة من دون الناس کی تشکیل کے بعد ان سب کے حقوق اور فرائض بیان کیے گئے، جن میں صاف صاف بتایا گیا کہ ہر ایک کو اپنے دین کو ماننے اور اس پر عمل کرنے کا حق ہو گا۔ تاہم دفعہ 26 میں یہ خاص شق رکھی گئی کہ یہودی اپنے دین پر رہیں گے اور مسلمان اپنے دین پر رہیں گے۔ (دیکھئے سیرت ابن ہشام اردو جلد 1‘ صفحہ 554)

عمر ابوالنصر کی کتاب ہارون البرامکة (اردو ترجمہ از شیخ محمد احمد پانی پتی، صفحات 278، 279) میں بتایا گیا ہے کہ ہارون الرشید کے دور میں تعصب اور غیر رواداری کی ایک مثال نہیں ملتی۔ شام، مصر اور روم میں عیسائیوں کو عبادت کے لیے گرجے تعمیر کرنے اور صلیب کے جلوس نکالنے کی عام اجازت تھی۔ یہودیوں کو اپنے معابد میں عبادت کرنے کا پورا حق تھا۔ آتش پرست کسی پابندی کے بغیر اپنی آگ روشن رکھتے اور اس کی عبادت کرتے ۔ سندھ میں ہندوؤں پر مندر میں عبادت کرنے اور اپنے دیوتاؤں کے آگے جھکنے پر کوئی پابندی نہ تھی۔ مختصر یہ کہ مذہب کے معاملے میں کوئی جبر نہ تھا۔

مصر کے اخبار الہلال کا ایڈیٹر جرجی زیدان اپنی کتاب تاریخ التمدن الاسلامی

صفحہ 238

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول)

(جلد 3‘ صفحہ 194) میں لکھتا ہے کہ تعلیم کے میدان میں مسلمانوں کی برق رفتار ترقی کی ایک وجہ یہ ہے کہ خلفاء اسلام ہر قوم اور ہر مذہب کے علماء کی بڑی قدر کرتے تھے اور انہیں فراخدلی سے نوازتے تھے اور کسی کے مذہب اور نسب یا نسل کا کبھی خیال نہ کرتے تھے۔ ان میں ہر مذہب کے لوگ‘ عیسائی‘ یہودی‘ صابی‘ سامری اور آتش پرست مل کر رہتے تھے۔ خلفاء ان سے نہایت عزت اور احترام کے ساتھ پیش آتے۔ غیر مسلموں کو بھی وہی مقام اور آزادی حاصل تھی‘ جو مسلمانوں کے امراء اور افسروں کو دی جاتی۔

صفحہ 282 پر عیسائیوں کے ساتھ ہارون الرشید کے سلوک اور بردباری کی ایک مثال بیان کی گئی ہے۔ ”اس کا صبر و تحمل اس قدر قوی تھا کہ ایک قیصر روم کی مکرر وعدہ خلافیوں اور سرحدوں پر غارت کے واقعات سے تنگ آ کر اس نے چیف جسٹس امام ابو یوسفؒ سے پوچھ لیا کہ اسلامی قلمرو میں عیسائیوں کے گرجا گھروں کو تحفظ کیوں دیا جاتا ہے اور انہیں شہروں میں صلیب کے جلوس نکالنے کی اجازت کیوں دی گئی ہے۔ امام ابو یوسفؒ نے جرات مندانہ جواب دیا کہ حضرت عمرؓ کے دور میں رومی علاقوں کی فتح کے بعد عیسائیوں کو تحریری طور پر یقین دلایا گیا تھا کہ ان کے گرجا گھروں کو تحفظ حاصل ہو گا اور انہیں اپنے مذہب پر عمل کرنے اور صلیب کو لے کر چلنے کا پورا حق ہوگا۔ اب اس حکم کو ختم کرنے کا کسی کو اختیار نہیں ہے۔“

یہ حقیقت بہت معروف ہے کہ مسلم فاتحین کے مطالبے کے باوجود حضرت عمرؓ نے ذمیوں کے قبضے میں موجود مفتوحہ اراضی کو ان میں تقسیم کرنے سے انکار کر دیا تھا۔ حضرت عمرؓ کی طرف سے بیت المقدس کے باشندوں کو دی گئی عام معافی کا معاہدہ ایک تاریخی دستاویز ہے۔ اس کے متعلقہ حصوں کو ذیل میں نقل کیا جاتا ہے:

”اللہ کے بندے عمر امیر المومنین نے اہل ایلیا کو ان کی جانوں اور مالوں کو پناہ دی ہے۔ ان کے گرجا‘ صلیبیں‘ بیمار‘ تندرست اور تمام مذاہب کے لوگ پناہ میں رہیں گے۔ ان کے گرجاؤں میں کوئی نہیں رہے گا‘ نہ وہ گرائے جائیں گے۔...... اور نہ ان کی صلیب اور مال کی کسی چیز کو نقصان پہنچایا جائے گا۔ ان کے مذہب کے معاملے

صفحہ 239

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول)

میں ان پر کوئی زبردستی نہیں کی جائے گی۔“

(تاریخ طبری’ جلد 2’ اردو ترجمہ از سید محمد ابراہیم’ صفحہ 501’ وثیقہ 357

صفحات 304-305’ از سیاسی وثیقہ جات’ مرتبہ ڈاکٹر حمید اللہ الفاروق مولانا شبلی

نعمانی’ حصہ دوم صفحہ 149)

حضرت حذیفہ بن الیمانؓ نے اہل مدینار کو تحریری ضمانت دی کہ ان کا مذہب تبدیل نہیں کیا جائے گا اور ان کے دینی معاملات میں مداخلت نہیں کی جائے گی۔

(تاریخ طبری’ صفحہ 155)

جرجان کی فتح کے موقع پر امان کے معاہدے میں یہ شق رکھی گئی کہ ان کی جانوں، جائیداد اور دین کو تحفظ حاصل ہوگا۔ اور ان میں سے کوئی چیز تبدیل نہیں کی جائے گی۔“ (ایضاً صفحہ 155)

رسول اللہ ﷺ کی جانب سے مقنا، حنین اور خیبر کے لوگوں کو دیے گئے امان نامے میں بتایا گیا ہے کہ آپ ﷺ کو وحی الٰہی کے ذریعے تینوں طبقات کے اپنے گھروں کو لوٹنے کی اطلاع ہوگئی تھی، سو ضرور لوٹ جائیں۔ ان سب کے لیے خدا اور اس کے رسول کی طرف سے پناہ ہے۔ نہ صرف تمہاری جانوں کے لیے امان ہے بلکہ تمہارے دین، اموال، غلاموں اور جملہ املاک کے لیے بھی۔ ان سب چیزوں میں خدا اور اس کے رسول کا ذمہ ہے۔ ماسوا مذکورہ بالا رعایتوں کے یہ مراعات بھی دی جاتی ہیں۔

صفحہ 240

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول)

کے مقتولوں کی دیت یا قصاص تم سے نہ دلوایا جائے گا۔

ایسے شخص پر اللہ اور ملائکہ اور تمام جہان کی لعنت ہے...... میں اس کا دشمن ہوں گا (روز قیامت کو)۔ (سیاسی وثیقہ جات نمبر 34‘ صفحات 59 تا 62)

وثیقہ نمبر 94 (ایضاً‘ صفحات 96 تا 98) رسول اللہ ﷺ اور نجران کے عیسائیوں کے درمیان طے پانے والا معاہدہ ہے۔ یہ بہت ہی نرم شرائط پر مشتمل ہے۔ دین سے متعلق شرائط دفعہ 8 ب اور 9 میں موجود ہیں۔ رسول اللہ ﷺ نے خود کو ان کے دین (کی آزادی)‘ ان کے گوشہ نشین پادریوں اور کاہنوں کے تحفظ کا ذمہ دار قرار دیا۔

رسول اللہ ﷺ کے سید بن حارث اور اس کی جماعت کے دوسرے عیسائیوں کے ساتھ کیے گئے معاہدے میں دوسرے امور کے علاوہ انہیں عقیدے اور دین پر عمل کرنے کے امور میں کامل آزادی دی گئی۔ (دفعہ 5) ان کے گرجے‘ عبادت خانے‘ خانقاہیں اور مسافر خانے‘ خواہ وہ پہاڑوں میں ہوں‘ یا کھلے میدان‘ یا تیرہ و تار غاروں کے اندر ہوں‘ یا آبادیوں میں گھرے ہوئے ہوں‘ یا وادیوں کے دامن اور ریگستانوں میں ہوں‘ سب کی حفاظت میرے ذمے ہے۔ (دفعہ 4‘ ایضاً صفحہ 109) کسی عیسائی کو مسلمان ہونے کے لیے مجبور نہ کیا جائے گا (دفعہ 23)۔ ان سے مذہبی گفتگو میں احسن

صفحہ 241

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول)

طریق سے پیش آیا جائے (دفعہ 24)۔

حضرت سلمان فارسیؓ کے رشتہ داروں کے لیے جو آتش پرست تھے، بھی فرمانِ نبوی کے ذریعے اسی طرح ان کے مذہب کے بارے میں کامل آزادی دی گئی (ایضاً، صفحہ 331، دفعہ 8)۔ ان کے آتش کدوں کی بحالی اور ان کی آمدنی اور فروغ میں انہیں آزادی ہے (دفعہ 4)۔ جس مسلمان کے گھر میں نصرانی عورت ہو، اسے اپنے مذہبی شعائر ادا کرنے کی اجازت ہونی چاہیے۔ وہ عورت جب چاہے اپنے علماء سے مسئلہ دریافت کر سکتی ہے۔ جو شخص اپنی نصرانی بیوی کو اس کے مذہبی شعائر ادا کرنے سے منع کرے، وہ خدا اور رسولؐ کی طرف سے ان کو دیے گئے میثاق کا مخالف اور عنداللہ کاذب ہے۔ (دفعہ 35)۔

حضرت عمرؓ نے اپنی خلافت میں اہل نجران کی امان کی تجدید کی اور رسول اللہﷺ کی طرف سے عطا کردہ تمام شرائط اور مراعات کو بحال رکھا، اور ان کے طریق عبادت، پادریوں اور راہبوں کے تحفظ کے بارے میں مزید خاص مراعات دے دیں۔

(وثیقہ نمبر 98، ایضاً، صفحات 114-115)

ڈاکٹر حمید اللہ کی کتاب (Muslim Conduct of State) کی دفعہ 208 اور 209 یوں ہیں:

مسلموں کے قبرستان کا اتنا ہی احترام کیا جائے گا جتنا کہ خود مسلمانوں کے قبرستانوں کا ہے اور جس طرح ان کی زندگی میں ان کی جان، جائیداد اور عزت کا احترام کیا جاتا ہے، اسی طرح انتقال کے بعد ان کی ہڈیوں کا احترام کیا جائے گا۔ (209) امام ابو حنیفہؒ اور امام شافعیؒ اس امر پر متفق ہیں کہ اگر غیر مسلم قرآن کریم، حدیث رسولؐ یا اسلامی فقہ پڑھنا چاہیں تو انہیں اس سے روکا نہیں جا سکتا۔‘‘

اسی کتاب کی دفعہ 200 میں بیان کیا گیا ہے:

صفحہ 242

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول)

ہے۔ کئی پہلوؤں سے غیر مسلموں کی حالت بہتر ہوتی ہے۔ وہ زکوۃ کی ادائیگی سے مستثنیٰ ہیں‘ جبکہ تمام مسلمان مرد‘ عورت‘ جوان‘ بوڑھے اور ہر سال اپنی بچت کے 200 درہم حصے سے زائد پر اڑھائی فیصد کے حساب سے لازمی طور پر زکوۃ ادا کرتے ہیں۔ وہ لازمی بھرتی سے بھی مستثنیٰ ہوتے ہیں‘ جبکہ تمام مسلمان لازمی بھرتی کے تحت آتے ہیں۔ انہیں ایک نوع کی خود مختاری حاصل ہوتی ہے۔ ان کے مقدمات کا تصفیہ ان کے اپنے ہم عقیدہ لوگوں کے ہاتھوں اور ان کے پرسنل لاء کے مطابق ہوتا ہے۔ اسلامی ریاست ان کی جان اور جائیداد کے تحفظ کی اتنی ہی ذمہ دار ہوتی ہے جتنا کہ مسلمانوں کے جان و مال کی ۔‘‘

عبدالوحید خان اپنی کتاب ’’تاریخ افکارِ سیاست‘‘ کے صفحہ 181 پر مسلمانوں کی مذہبی رواداری کے بارے میں لکھتا ہے:

ہے۔ ایسی مثالیں ملتی ہیں کہ بعض اوقات حکومت نے مسلمانوں پر مذہبی پابندیاں عائد کر دیں اور بسا اوقات مسلمان اپنے عقائد کی وجہ سے (جو حاکم وقت کے عقائد سے مختلف ہوتے) ابتلاء کا شکار ہوئے۔ لیکن اسلامی ریاست کی غیر مسلم رعایا جس مساوی سلوک اور اپنے دینی معاملات میں کامل آزادی سے بہرہ ور رہی‘ تاریخ اس کی مثال پیش کرنے سے قاصر ہے۔‘‘

وہ مزید کہتے ہیں کہ اسلامی ریاستوں میں مکمل مذہبی آزادی موجود رہی اور مختلف مذاہب کے لوگ اپنے اپنے طریقوں پر (اور اپنے ضمیر کے مطابق) عمل کرتے۔ ان کی عبادت گاہوں کا تحفظ حکومت کی ذمہ داری تھی۔ متوکل علی اللہ کے زمانے میں ذمیوں پر کچھ زیادتیوں کی مثالیں مل سکتی ہیں۔ لیکن ان کے پس پردہ ایک عنصر یہ تھا کہ اس وقت خود غیر مسلم‘ قائم حکومت کے خلاف سازشیں کرنے لگے تھے اور ایسی سازشیں ان کی عبادت گاہوں میں تیار ہوتی تھیں۔ بدیں وجہ حکومت کو ان کا لباس مقرر کرنے اور ان کی نقل و حرکت پر نظر رکھنے کی ضرورت پیش آئی۔ ورنہ خود متوکل علی اللہ بالکل آزاد خیال شخص تھا اور مذہبی رواداری کا حامی بھی۔

صفحہ 243

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول)

وہ مزید لکھتے ہیں کہ عباسی حکومت میں مذہبی آزادی اس قدر زیادہ تھی کہ مانی کے پیروکار‘ جنہیں اپنے وطن ایران میں جائے پناہ نہ مل سکی‘ بغداد میں آزادی سے اپنے خیالات کا پرچار کرتے تھے۔ نیز ہندوستان کے علماء‘ یہودی اور عیسائی مبلغ بھی اسلامی علاقوں میں کسی روک ٹوک کے بغیر اپنے مذاہب کی تشہیر کرتے تھے۔ بنو امیہ کے دور میں غیر مسلموں کو ریاست کے اعلیٰ عہدوں پر فائز کر لیا جاتا تھا لیکن بنو عباس کے دور میں ایک غیر مسلم کو وزیر اعظم مقرر کر دیا گیا۔ معتصم کا وزیر اعظم فضل بن مروان عیسائی تھا اور اس کے عہد میں بیت الحکمت‘ جس میں مختلف موضوعات کی کتابوں کا ترجمہ ہوا‘ کا سارا نظم ونسق غیر مسلموں کے ہاتھوں میں تھا۔ بنو عباس کے دربار میں جبرائیل خاندان کو جو اہمیت حاصل تھی وہ ایک معروف تاریخی واقعہ ہے۔

عبدالرحیم اپنی کتاب (Muhammadan Jurisprudence) (طبع 1958ء) کے صفحہ 251 پر‘ رد المختار (جلد 3‘ صفحہ 320-319) سے نبی کریم ﷺ کی ایک حدیث درج کرتا ہے کہ ”غیر مسلموں کو ان کے عقیدے پر چھوڑ دو۔“ اسی قاعدے کی رو سے اس کے مطابق شافعیہ کا فتویٰ یہ ہے کہ اسلامی قانون غیر مسلم کی شراب نوشی میں مداخلت نہیں کرے گا‘ جبکہ امام ابو حنیفہؒ کی رائے...... قانون غیر مسلم کو شراب کی فروخت کا حق دیتا ہے اور جو اسے ضائع کرے گا‘ وہ تاوان ادا کرنے کا ذمہ دار ہو گا۔ نیز اس کے مطابق قانون اسلامی ریاست کے مجوسی شہری کو ایسا رشتہ کرنے سے نہیں روکے گا جو اسلام کی نگاہ میں ممنوع ہو۔ اور اگر بیوی نے درخواست دی‘ تو عدالت اس کے خلاف بیوی کے نان نفقے کا حکم جاری کر دے گی۔“

مولانا مودودی اپنی کتاب ”اسلامی ریاست“ میں لکھتے ہیں:

”ذمی دو طرح کے ہو سکتے ہیں۔ ایک وہ جو اسلامی حکومت کا ذمہ قبول کرتے وقت کوئی معاہدہ کریں اور دوسرے وہ جو بغیر کسی معاہدہ کے ذمہ میں داخل ہوں۔ پہلی قسم کے ذمیوں کے ساتھ تو وہی معاملہ کیا جائے گا جو معاہدے میں طے ہوا ہو۔ رہے دوسری قسم کے ذمی تو ان کا ذمی ہونا ہی اس بات کو مستلزم ہے کہ ہم ان کی

صفحہ 244

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول)

جان اور مال اور آبرو کی اسی طرح حفاظت کرنے کے ذمہ دار ہیں، جس طرح خود اپنی جان اور مال اور آبرو کی کریں گے۔ ان کے قانونی حقوق وہی ہوں گے، جو مسلمانوں کے ہوں گے۔ ان کے خون کی قیمت وہی ہوگی، جو مسلمانوں کے خون کی ہے۔ ان کو اپنے مذہب پر عمل کرنے کی پوری آزادی ہوگی۔ ان کی عبادت گاہیں محفوظ رہیں گی۔ ان کو اپنی مذہبی تعلیم کا انتظام کرنے کا حق دیا جائے گا اور اسلامی تعلیم بہ جبر اُن پر نہیں ٹھونسی جائے گی۔“ (صفحہ 523)

قرآن کریم کی آیات، رسول اللہ ﷺ اور آپ ﷺ کے خلفاء کے معاہدوں اور تاریخ کے دوسرے مسلم خلفاء کے طرزِ عمل سے یہ عیاں ہے کہ اُس دور میں غیر مسلموں کو وہ مراعات اور حقوق حاصل تھے جو تاحال استعماری حکمرانوں نے کئی ممالک میں اپنی رعایا کو نہیں دیے۔ یہ حقیقت ہے کہ کئی ممالک نے ایسے حقوق اپنے شہریوں کو نہیں دیے۔ اپنے مذہب کو ماننے اور اس پر عمل کرنے کے بارے میں غیر مسلموں کو کامل آزادی حاصل رہی اور مذہب کو ماننے اور اس پر عمل کرنے کا حق فی الواقع بنیادی انسانی حق شمار کیا گیا۔

دین کے بارے میں اسلام کامل رواداری کا درس دیتا ہے اور اس امر کو ہر انسان کے ضمیر پر چھوڑ دیتا ہے کہ وہ چاہے تو اسلام قبول کر لے۔ کسی قسم کے جبر کی اجازت نہیں دی گئی۔ جو چاہے ایمان لائے اور چاہے تو نہ لائے۔ یہاں تک کہ رسول اللہ ﷺ کو بھی عقیدے کے بارے میں مداخلت کا کوئی اختیار نہ تھا۔ آپ ﷺ کا فریضہ صرف اللہ کے پیغام کی دعوت دینا اور اس کی تعبیر و تشریح، نیز اہلِ ایمان کو جنت کی بشارت دینا اور کفار کو دوزخ کی خبر دینا تھا۔ (کیونکہ آپ ﷺ بشیر و نذیر بھی تھے)۔

تاہم یہ تمام دلائل غیر متعلق ہیں، کیونکہ زیر بحث قانون، قادیانیوں کو اپنا عقیدہ بدلنے اور اسلام قبول کرنے پر مجبور نہیں کرتا۔

ان حالات میں مجیب الرحمٰن نے شکایت کی کہ قادیانیوں پر اسلام کو اپنا دین ماننے پر پابندی لگا دی گئی ہے اور انہیں اذان، جو دین کا ایک حصہ ہے، کہنے کے حق اور

صفحہ 245

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول)

اپنی عبادت گاہ کو مسجد کا نام دینے سے محروم کر دیا گیا ہے۔ لیکن نہ وہ مسلمان ہیں اور نہ ہی یہ امور اکراہ جبر یا دھمکی کے ان اصولوں کے تحت آتے ہیں، جن پر آیات کا اطلاق ہوتا ہے۔ ان آیات کا اطلاق کسی اور دین کو چھوڑ کر اسلام قبول کرنے پر ہوتا ہے۔

مجیب الرحمٰن نے قرآن کریم اور سنت کی رُو سے معاہدات کی لازمی پابندی کرنے پر بحث کی۔ ان دلائل کا جائزہ لینا اس لیے ضروری نہیں کہ اوفوا بالعقود (معاہدے پورے کرو) اور اوفوا بالعہد (عہد پورا کرو) کے واضح احکام اس مفروضے کی صحت میں کوئی شک نہیں رہنے دیتے۔ اس امر کی بہترین مثال معاہدہ حدیبیہ ہے، جس میں فریقین کے مابین طے شدہ شرائط میں سے ایک شرط یہ تھی کہ جو شخص مشرکین مکہ میں سے مسلمان ہو کر ان کی اجازت کے بغیر مسلمانوں میں شامل ہو گا، اسے اہل مکہ کی طرف لوٹا دیا جائے گا۔ کچھ ایسے واقعات رونما ہوئے، جن میں اہل مکہ کے جور و ستم کا شکار ہونے والے مسلمان بچ نکلے اور مدینہ پہنچ گئے۔ لیکن معاہدہ کے احکام کی پابندی کرتے ہوئے آپ ﷺ نے انہیں واپس لوٹ جانے کا حکم دے دیا۔

مجیب الرحمٰن نے دلیل دی کہ قیام پاکستان کے وقت قائد اعظم اور احمدیوں کے درمیان فی الواقع ایک عہد تھا، اور قائد اعظم کا پاکستان میں مسلمانوں اور غیر مسلموں کی کامل مساوات اور دوسرے امور کے علاوہ انہیں اپنے اپنے مذاہب کو ماننے اور ان پر عمل کرنے کی آزادی دینے کا اعلان ایک ضمنی معاہدے یا ضمانت کے مترادف تھا، جسے 1973ء تک ملک کے مختلف دساتیر میں شامل یا ملحوظ رکھا گیا تھا۔ ان دساتیر نے پاکستان کے تمام شہریوں کو اپنے مذاہب کو ماننے، ان پر عمل کرنے اور تبلیغ کرنے کے حق کی ضمانت دی تھی اور 1974ء تک قادیانیوں کو غیر مسلم قرار نہیں دیا تھا۔

ہمیں قادیانیوں اور قائد اعظم کے درمیان ایسا کوئی معاہدہ نہیں دکھایا گیا کہ انہیں مسلمان سمجھا جائے گا اور نہ ہی قیام پاکستان یا قائد اعظم کی زندگی میں یہ سوال اٹھا تھا۔ 1956ء اور 1962ء کے دساتیر یا 1973ء کے اصل دستور کا کوئی سہارا نہیں لیا جا سکتا، کیونکہ قادیانیوں کو ایک ایسی دستوری ترمیم کے ذریعے غیر مسلم قرار دیا گیا تھا جو

صفحہ 246

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول)

بالاتفاق منظور ہوئی تھی اور جو مسلمانوں کے مسلسل احتجاجات کا نتیجہ تھی۔ یوں قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دے دیا گیا۔

اس آرڈیننس کے نفاذ کی ضرورت کو سمجھنے کے لیے یہ ضروری ہو گا کہ 1974ء کی اس آئینی ترمیم کے اثرات کا جائزہ لیا جائے جس کے ذریعے قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دیا گیا تھا۔ مجیب الرحمن نے اس رائے کا پرجوش اظہار کیا کہ آئین نے قادیانیوں کو صرف غیر مسلم قرار دیا ہے اور ان پر خود کو غیر مسلم ہونے کی حیثیت سے کوئی ذمہ داری عائد نہیں کی۔ ہم نے ان سے یہ استفسار کیا کہ کیا پاکستان کے قادیانی شہریوں پر آئین کی پابندی لازمی ہے یا نہیں۔ انہوں نے تسلیم کیا کہ ان پر اس کی پابندی لازمی ہے۔ اسی تسلیم سے یہ نتیجہ اخذ ہوتا ہے کہ اعلان کے مطابق قادیانی اس امر کے پابند ہیں کہ وہ آئین اور قانون کی رو سے غیر مسلم ہیں۔ وہ انتخابات میں قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے لیے ان نشستوں سے بطور امیدوار کھڑے ہو سکتے ہیں جو غیر مسلموں کے لیے مخصوص ہیں۔ ایسے مقدمات جن میں عقیدے کا مسئلہ درپیش ہو‘ انہیں لازماً اپنے آپ کو غیر مسلم کہنا ہوگا۔ اپنے مسلمان ہونے کے مفروضے کی بنیاد پر وہ کسی بھی قانونی حق کا دعویٰ نہیں کر سکتے۔ اس پٹیشن پر بحث کے دوران ان کا خود کو مسلمان کہنے پر اصرار واضح طور پر غیر آئینی ہے۔

دفعہ 260 (3) قادیانیوں کو آئین اور قانون کے مقاصد کے لیے غیر مسلم قرار دیتی ہے۔ دفعہ 20 پاکستان کے شہریوں کو دیگر امور کے علاوہ اپنے مذہب کو ماننے کے حق کی ضمانت دیتی ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ دفعہ آئین کی دوسری دفعات کے تابع ہے۔ اس نکتے کو مجیب الرحمن نے تسلیم کیا تھا۔ آئین کی دفعہ 260 (3) کے ساتھ ملا کر پڑھتے ہوئے دفعہ 20 کی مندرجہ بالا عبارت کا مطلب یہ ہوگا کہ قادیانی یہ اعلان کر سکتے ہیں کہ وہ اللہ تعالیٰ کی توحید یا مرزا صاحب کی نبوت کا عقیدہ رکھتے ہیں‘ لیکن خود کے مسلمان ہونے اور اپنے مذہب کے اسلام ہونے کا اعلان نہیں کر سکتے۔ مختصر حکم میں نادانستہ طور پر کچھ آراء در آئی تھیں لیکن اس جامع فیصلے میں موقف پوری

صفحہ 247

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول)

طرح واضح کر دیا گیا ہے، اس لیے اس بات پر زور دینا درست نہیں ہے کہ آئین انہیں اپنے آپ کو غیر مسلم کہنے پر مجبور نہیں کرتا۔

اس بارے میں ساری دقت قادیانیوں کے اس رویے کی بناء پر پیدا ہوئی کہ وہ خود کو مسلمان یا اپنے عقیدے کو اسلام نہ کہنے کے پابند ہونے کے باوجود اپنے آپ کو مسلمان کہنے اور اپنے پروپیگنڈے اور تبلیغ کو اسلام کے نام پر جاری رکھنے پر اڑے رہے۔ انہیں خود کو براہ راست یا بالواسطہ مسلمان ظاہر کرنے سے مجتنب رہنا چاہیے تھا، لیکن وہ ڈھٹائی کے ساتھ اپنے مخالف طرز عمل سے مسلم امت کا صبر وضبط آزمانے پر جمے رہے۔

ایسے القاب جو رسول اللہ ﷺ کے صحابہؓ، آپ ﷺ کی بیویوں اور افراد خاندان کے لیے مخصوص ہیں، کے استعمال پر پابندی لگانے کی ایک وجہ یہ ہے کہ ان کو استعمال کر کے قادیانی اپنے آپ کو بالواسطہ مسلمان ظاہر کرتے ہیں۔ ام المومنین (مسلمانوں کی ماں) امیرالمومنین، خلیفتہ المسلمین، خلیفتہ المومنین (سب امت مسلمہ کے سربراہ یا حاکم اعلیٰ کے لیے ہیں) کے القاب مومنین اور مسلمین کے الفاظ پر مشتمل ہیں اور لوگوں کو یہ دھوکا دے سکتے ہیں کہ ان کے حاملین مسلمان ہیں یا خود کو مسلمان کہلاتے ہیں۔ رضی اللہ عنہ کی ترکیب قرآن کریم میں رسول اللہ ﷺ کے صحابہؓ یا زیادہ سے زیادہ مسلمانوں کے لیے بطور دعا استعمال ہوئی ہے۔ ”صحابی“ اور ”اہل بیت“ کے کلمات مسلمان علی الترتیب رسول اللہ ﷺ کے ساتھیوں اور آپ ﷺ کے خاندان کے افراد جو سب بلاشبہ بہترین مسلمان تھے، کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ مرزا صاحب کے ساتھیوں اور ان کے افراد خاندان کے لیے ایسی اصطلاحات کے استعمال کا معنی یہ ہے کہ قادیانی اپنے آپ کو مسلمان ظاہر کرتے ہیں۔ دوسرا نکتہ بھی وزنی ہے کہ مسلمانوں کے نزدیک قادیانیوں کا مرزا صاحب کی بیوی، افراد خاندان، ساتھیوں اور جانشینوں کے لیے ایسی مقدس اصطلاحات کا استعمال ان کی بے حرمتی کے مترادف ہے:

اسی طرح اذان کہنا اور عبادت گاہ کو مسجد کا نام دینا اس بات کی پختہ علامت ہے کہ اذان پڑھنے والا یا مسجد میں مجتمع یا نماز پڑھنے والے اشخاص مسلمان ہیں۔

صفحہ 248

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول)

ان القابات اور اوصاف کے استعمال کی ممانعت کی دفعات سے آئینی دفعہ کا نفاذ ہوتا ہے اور اس آرڈیننس میں اسی اصول کا اعادہ کیا گیا ہے کہ قادیانی کسی بھی طریقے سے براہ راست یا بالواسطہ اپنے آپ کو مسلمان کہلا یا ظاہر نہیں کر سکتے۔

مذہب کی تبلیغ پر پابندی کا محرک بھی اسی طرح کی سوچ ہے۔ قادیانیوں نے خود کو مسلمان کہنے اور مسلمانوں کو یہ تسلی دینے کہ احمدیت کو ماننے کا معنی اسلام کو ترک کرنا یا ایمان کے بدلے کفر کو اختیار کرنا نہیں، بلکہ بہتر مسلمان بننے کا موقع ہے، کی حکمت عملی کی بدولت ان میں اور زیادہ تر پنجاب میں کچھ کامیابی حاصل کی۔ اس مقصد کے لیے وہ تعلیم یافتہ مسلمانوں کے دلوں میں سخت فرقہ واریت اور علماء کی مسلسل شدت کے خلاف موجود نفرت کے روایتی سروں کو چھیڑتے ہیں اور انہیں اپنی تبلیغ، جسے وہ اسلام میں آزاد خیالی قرار دیتے ہیں، کی جانب راغب کرتے ہیں۔ یہ حکمت عملی، جس نے انہیں کچھ فائدہ دیا ہے، اس سوداگر کے اس فراڈ سے گہری مماثلت رکھتی ہے جو اپنے گھٹیا سامان کو ایک شہرت یافتہ فرم کا اعلیٰ قسم کا معروف سامان ظاہر کر کے چلتا کرتا ہے، قادیانی یہ تسلیم کر لیں کہ ان کی تبلیغ اسلام کے لیے نہیں بلکہ کسی اور مذہب کی طرف ہے، تو بے خبر مسلمان بھی اپنے ایمان کو چھوڑ کر کفر قبول کرنے سے نفرت کریں گے، بلکہ الٹا قادیانیوں کے دلوں سے احمدیت کا طلسم ٹوٹ جائے گا۔

ہم پروفیسر طاہر القادری کی اس رائے سے متفق ہیں کہ اگر قادیانی آئینی دفعات کی پابندی کرتے تو اس آرڈیننس کے نفاذ کی ضرورت ہی پیش نہ آتی۔ مذہب کی تبلیغ پر پابندی لگانے کی ایک وجہ یہ بھی ہے:

ایک دوسری اہم وجہ یہ تھی کہ قادیانی اپنے آپ کو مسلمان ظاہر کر کے جس مسلمان سے ملتے اسے اپنے مذہب کی تبلیغ کرنے کی کوشش کرتے اور مرزا صاحب کو نبی کہہ کر اس کے جذبات کی سخت توہین کرتے، کیونکہ تمام مسلمان حضرت محمد ﷺ کی ختم نبوت کا عقیدہ رکھتے ہیں۔ اس سے مسلمانوں میں سخت غم و غصہ اور منافرت کے جذبات جنم لیتے، جن کے نتیجے میں امن و امان کا مسئلہ پیدا ہو جاتا تھا۔ ان کے مسیح موعود اور مہدی

صفحہ 249

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول)

کے دعوے پر جذبات سخت مشتعل ہوئے تھے۔ یہ خالی دعوے نہیں بلکہ قادیانیت کی تاریخ اور خود مرزا صاحب کی کتابوں سے واضح ہوتا ہے کہ انہیں نہ صرف علماء بلکہ عام مسلمانوں کے ہاتھوں سخت عداوت کا سامنا کرنا پڑا۔ اس لیے ان کی تحریروں میں اپنے مخالفین کے لیے سخت بے ہودہ اور غیر مہذب زبان استعمال کی گئی ہے۔ ایسے واقعات بھی ہوئے جن میں اجتماعی احتجاجات کیے گئے۔ مثال کے طور پر عبدالقادر کی کتاب ”حیات طیبہ“ صفحہ 121-126 اور 140 دیکھئے مرزا صاحب کی اکثر تحریریں اپنے مخالفوں کے لیے بددعاؤں اور سخت کلامی سے پر ہیں۔ انہوں نے خود بھی ان سے مسلمانوں کی عمومی عداوت کا ذکر کیا ہے۔ (دیکھئے ”حمامۃ البشریٰ“ صفحہ 36 ’ روحانی خزائن ج 7 ص 202 ”ازالہ اوہام“ صفحہ 11 روحانی خزائن ج 3 ص 108)۔

حمامۃ البشریٰ کے صفحہ 9 ’ روحانی خزائن ج 7 ص 184 پر انہوں نے لکھا ہے:

ہے اور وہ مجھے مرتد سمجھتے ہیں۔ اور وہ زور سے بولتے ہیں اور ملہم حقیقی کا کوئی احترام بجا نہیں لاتے۔ انہوں نے کہا کہ وہ کافر کذاب اور دجال ہے۔ اگر انہیں حکام کی تلوار کا خوف نہ ہوتا تو وہ میرے قتل کے درپے تھے۔“

مرزا صاحب کے کچھ واقعات سے صدمے اور طوفان کی ایسی لہر اٹھی کہ وہ ان کے مریدوں میں زلزلوں کے نام سے یاد کیے جاتے ہیں۔ سیرت المہدی کے مولف کی دی ہوئی تعداد کے مطابق ایسے زلزلے پانچ تھے:

گوئی کے بعد کہ اسی حمل کے دوران پسر موعود پیدا ہوگا‘ 1886ء میں لڑکی کی پیدائش تھی۔

مہدی موعود ہونے کا دعویٰ تھا۔

صفحہ 250

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول)

پہلے اور وہ بھی ایک مہلک بیماری سے جو ہیضہ بتائی گئی تھی۔ (اور پھر ایسی موت جو مرزا صاحب کے اپنے وضع کردہ اصول کے مطابق بارگاہ الہی سے مردود اور اس پر افتراء کرنے والوں کے لیے ہی مخصوص ہے )۔

(سیرت المہدی‘ ص 103 تا 108 روایت نمبر 116)

اس تعداد کی بنیاد بھی مرزا صاحب کی ایک پیش گوئی پر رکھی گئی ہے جس میں انہوں نے پانچ زلزلوں کی پیش گوئی کی تھی۔ لیکن اگر اس پیش گوئی کے مفہوم کے مطابق ان واقعات میں سے ہر واقعہ کو ایک زلزلہ شمار کیا جائے تو یہ فہرست یقیناً ناقص ہے۔ محمدی بیگم سے شادی میں ناکامی پر مرزا صاحب کو جس تمسخر کا سامنا کرنا پڑا، وہ علم الزلازل کی رُو سے بہت لمبے عرصے اور مسلسل طوفانوں پر مشتمل تھا۔ اسی طرح نبوت کا دعویٰ کرنے پر مرزا صاحب جس مخالفت اور عداوت کا نشانہ بنے اس کی نوعیت ایسی تھی کہ آج تک اس کی شدت کم نہیں ہوئی۔ پہلے‘ دوسرے‘ چوتھے‘ پانچویں زلزلے اور محمدی بیگم کے واقعہ نے مرزا صاحب کو مسلمانوں‘ عیسائیوں اور ہندوؤں میں یکساں طور پر ہنسی‘ مذاق اور نفرت کا نشانہ بنا دیا۔ 1891ء میں مسیح موعودؑ مہدی نیز نبی یا رسول اللہ ﷺ کا بروز ہونے کے دعووں نے عامۃ المسلمین‘ علمائے دین اور دانشور طبقے میں یکساں طور پر عداوت‘ غم و غصے اور ملامت و مذمت کا لامتناہی سلسلہ پیدا کر دیا۔

(دیکھئے ”سیرت المہدی“ جلد 1‘ ص 103 تا 108 روایت نمبر 116‘ جلد

2‘ صفحات 44 روایت نمبر 355‘ 64 روایت نمبر 385‘ 87 روایت نمبر 417‘ جلد

3‘ صفحہ 94 روایت نمبر 625)

یہ ان کی زندگی میں مسلمانوں کے بار بار رونما ہونے والے سخت ترین اشتعال کی ایک تصویر ہے۔

قیام پاکستان کے بعد 1953ء کے مارشل لاء کا نفاذ‘ منیر انکوائری کمیٹی کی

صفحہ 251

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول)

تشکیل اور 1974ء کی آئینی ترمیم یہ سب مسلمانوں کے سخت اشتعال، احتجاج، جھنجلاہٹ اور غم و غصے کو ثابت کرتے ہیں۔ تعزیرات پاکستان کی دفعہ 298 سی مسلمانوں کے جذبات کو مجروح کرنے کی ممانعت کرتی ہے اور یہ خود ان امور پر مسلمانوں کے اضطراب اور غم و غصے کا ثبوت ہے، جنہیں آخر کار آرڈیننس نے ممنوع قرار دے دیا ہے۔

مسلمان ام المومنین، اہل بیت، صحابی، امیر المومنین، خلیفۃ المومنین اور خلیفۃ المسلمین کی اصطلاحات صرف علی الترتیب رسول اللہ ﷺ کی ازواج مطہرات، افرادِ خاندان، ساتھیوں اور آپ ﷺ کے صالح خلفاء ہی کے لیے استعمال کرتے رہے ہیں۔ مسلمانوں کے نزدیک یہ اصطلاحات صرف ان عظیم شخصیات اور رسول کریم ﷺ کی صحبت و رفاقت سے مشرف ہونے والے اشخاص کے لیے مخصوص ہیں، لیکن قادیانی انہیں مرزا صاحب کی بیوی، خاندان اور ساتھیوں کے لیے، جنہیں غیر مسلم قرار دیا جا چکا ہے، استعمال کرتے ہیں۔ اس امر کا مسلمانوں نے ہمیشہ برا منایا ہے، اسی بنا پر آرڈیننس نے ایسی اصطلاحات کے استعمال کو فوجداری جرم قرار دے دیا ہے۔

امہات المومنین، ام المومنین اور ازواج مطہرات کے کلمات صرف رسول اللہ ﷺ کی بیویوں کے لیے مخصوص ہیں اور ان کے مخصوص استعمال پر خود قرآن کریم کا اشارہ موجود ہے۔ قرآن کریم کی آیت 6:33 میں نبی کریم ﷺ کی بیویوں کی شان میں ارشاد ہوتا ہے:

(اور نبی (ﷺ) کی بیویاں ان (امت) کی مائیں ہیں)

اسی طرح متعدد ایسی احادیث موجود ہیں، جن میں پیغمبر ﷺ کی ہر زوجہ کو ام المومنین (مومنوں کی ماں) کہا گیا ہے۔ ہر مسلمان کی حقیقی ماں، سوتیلی ماں، (دیکھئے آیت نمبر 23:4) کے علاوہ وہ بھی مسلمانوں کی مائیں ہیں۔ اس تعلق کی وجہ اولاً دوسری تمام خواتین پر پیغمبر ﷺ کی ازواج کی فضیلت و تفوق ہے اور ثانیاً آپ ﷺ کے بعد

صفحہ 252

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول)

آپ ﷺ کی کسی زوجہ سے نکاح کرنے کی ممانعت ہے۔ سورہ الاحزاب کی آیت 32 میں ارشاد ہوتا ہے:

اے نبی کی بیویو! تم عام عورتوں کے مانند نہیں ہو۔ نیز اس سے قبل آیت 30 میں فرمایا:

ضعفين و كان ذلك على الله يسيرا ۝

اے نبی کی بیویو! تم میں سے جو کسی کھلی بے ہودگی کی مرتکب ہو گی تو اس کے لیے دو گنا عذاب ہے اور یہ بات اللہ کے لیے آسان ہے۔

یہ دونوں آیات اس حقیقت کو واضح کرتی ہیں کہ رسول اکرم ﷺ کی ازواج دوسری خواتین کے مانند نہیں ہیں۔ انہیں ام المومنین یا ازواج مطہرات کا خطاب دینے کی ایک وجہ یہی ہے۔ یہ امر بھی ملحوظ رہے کہ اس اصول کی بنا پر کہ اللہ کے رسول کی وراثت امت کو ملتی ہے، رسول اللہ ﷺ کی بیویوں کو کوئی وراثت نہیں ملی تھی۔ یوں وہ اپنے گزارے کے لیے کسی ذریعہ آمدن سے محروم ہو گئیں۔ آپ ﷺ کی زندگی میں بھی انہوں نے نہایت غربت میں گزارا کیا۔ اس کے باوجود اگر ان کے پاس کوئی پونجی ہوتی یا گھر میں کھانے کی کوئی چیز میسر آ جاتی تو وہ اسے اپنے استعمال میں لانے کے بجائے کسی محتاج کو صدقہ کر دیتیں۔

ایک دفعہ انہوں نے کچھ مطالبات کیے تو اللہ تعالیٰ کی بارگاہ سے فوراً یہ تنبیہ نازل ہوئی کہ یا تو تم پیغمبر ﷺ کی معیت میں روکھی سوکھی زندگی گزارتی رہو یا تمہیں دنیا کا سامان دے دلا کر رخصت کر دیا جائے گا۔ (آیت 28:33) تاہم انہوں نے رسول اکرم ﷺ کی مبارک رفاقت کو اختیار کیا۔ آپ ﷺ کی ان ازواج مطہرات میں سے کچھ ایسی بھی تھیں جو متمول خاندانوں سے آئی تھیں اور خوشحالی دیکھ چکی تھیں، مثلاً حضرت سودہؓ، حضرت صفیہؓ، حضرت جویریہؓ اور حضرت ام حبیبہؓ لیکن انہوں نے بھی فقر و فاقے

صفحہ 253

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول)

کی زندگی کو پیغمبر ﷺ سے الگ ہونے پر ترجیح دی۔ ان عظیم شخصیات کا کسی بھی دوسری عورت سے موازنہ کرنا اور ان کے خطاب کو کسی دوسری عورت پر منطبق کرنا ناممکن ہے۔

ایک اور اصطلاح جس کے استعمال سے قادیانیوں کو روک دیا گیا ہے ”اہل بیت“ ہے۔ یہ حضرت رسول اکرم ﷺ کے خاندان کے افراد کے لیے مستعمل ہے۔ سورہ ھود کی آیت 73 میں ارشاد ہوا:

اللہ کی رحمت اور برکتیں نازل ہوں آپ پر اے گھر والو!

سورۃ الاحزاب کی آیت 33 میں ارشاد ہوا:

تطهیرا o

اے نبی کے گھر والو! اللہ تو بس یہ چاہتا ہے کہ تم سے آلودگی کو دور کرے اور تمہیں خوب پاک کر دے۔

ان ارشادات سے اہل بیت رسالتؐ کو اس امر سے آگاہ کرنا مقصود ہے کہ انہیں ہر قسم کے گناہوں اور معصیت سے اجتناب کرنا چاہیے اور اپنے عقیدے، عمل اور معاملات میں تقویٰ اور طہارت کے اعلیٰ معیار کا پابند رہنا چاہیے۔

قرآن کریم اس امر کی صراحت کرتا ہے کہ خاندانِ رسالتؐ کے تمام افراد ان صفات و محامد سے متصف تھے۔ بصورت دیگر نوح علیہ السلام کے بیٹے کو بھی ان کے اہل بیت سے خارج قرار دیا گیا تھا کیونکہ اس نے کفر کو اختیار کر لیا تھا اور احکام الٰہیہ کا منکر تھا۔ سورۃ ھود کی ان آیات کو پڑھئے:

وانت احکم الحکمین ۝ قال ینوح انه لیس من اهلک انه عمل غیر صالح فلا تسئلن مالیس لک به علم انی اعظک ان تکون من الجهلین ۝

اور نوح نے اپنے رب کو پکارا اور کہا اے میرے پروردگار! میرا بیٹا تو میرے

صفحہ 254

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول)

اہل میں سے ہے اور تیرا وعدہ سچا ہے اور تو تمام فیصلہ کرنے والوں سے بڑھ کر فیصلہ کرنے والا ہے۔ فرمایا اے نوح! وہ تمہارے اہل میں سے نہیں ہے۔ وہ نہایت نابکار ہے۔ پس مجھ سے اس چیز کے لیے درخواست نہ کرو جس کے بارے میں تمہیں کچھ علم نہیں۔ اور میں تجھے نصیحت کرتا ہوں کہ تم نادانوں میں سے نہ بنو۔ (ہود : 45، 46)

اہل بیت کی اصطلاح بھی جیسا کہ کئی احادیث سے واضح ہوتا ہے حضرت رسول اللہ ﷺ کے خاندان کے افراد کے لیے مخصوص ہے۔

ایسے اشخاص جو مسلمان نہیں ہیں یا جو مسلمان نہیں تھے، ان کو اس نام سے نہیں پکارا جا سکتا۔ قادیانیوں کی طرف سے مرزا صاحب کے افراد خاندان کے لیے ایسے نام کا استعمال زخموں پر نمک چھڑکنے کے مترادف ہے۔ وہ اوصاف جن سے رسول اللہ ﷺ کے افرادِ خاندان متصف تھے وہ کسی اور شخص میں موجود نہیں ہو سکتے، اس لیے یہ کوئی حیرت کی بات نہیں کہ مسلمانوں نے اس توہین کا برا منایا۔ اس اصطلاح کے استعمال سے امن و امان کا مسئلہ پیدا ہوتا ہے۔ لہٰذا یہی امت کے مفاد میں تھا کہ اس کے استعمال کو فوجداری جرم قرار دے کر قادیانیوں کو اس کے استعمال سے منع کر دیا جائے۔

رضی اللہ عنہ کا معنی ہے ”اللہ اس سے راضی ہوا ۔“ قرآن کریم میں ان لوگوں کے بارے میں کافی رہنمائی موجود ہے جن کے لیے یہ وصف استعمال ہو سکتا ہے۔ ذیل میں متعلقہ آیات درج کی جاتی ہیں:

بِاِحْسَانٍ رَّضِیَ اللّٰهُ عَنْهُمْ وَرَضُوْا عَنْهُ وَاَعَدَّ لَهُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ تَحْتَهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِيْنَ فِيْهَآ اَبَدًا ط ذٰلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِيْمُ O

اور مہاجرین وانصار میں سے جو سب سے پہلے سبقت کرنے والے ہیں اور پھر جن لوگوں نے خوبی کے ساتھ ان کی پیروی کی ہے، اللہ ان سے راضی ہوا اور وہ اس سے راضی ہوئے اور اس نے ان کے لیے ایسے باغ تیار کر رکھے ہیں جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی۔ ان میں یہ ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے اور بڑی کامیابی یہی ہے۔ (التوبہ: 100)

صفحہ 255

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول)

فی قلوبہم فانزل السکینتہ علیہم واثابہم فتحاً قریباً ۝ (الفتح:18) اللہ راضی ہوا ایمان والوں سے جبکہ وہ تم سے بیعت کر رہے تھے درخت کے نیچے تو اللہ نے ان کے دلوں کا حال جان لیا تو اتاری ان پر طمانیت اور ان کو ایک عنقریب ظاہر ہونے والی فتح سے نوازا۔

ورسولہ ولو کانوا اباء ہم او ابناء ہم او اخوانہم او عشیرتہم. (المجادلہ:22) تم کوئی ایسی قوم نہیں پاسکتے جو اللہ اور روز آخرت پر ایمان رکھتی ہو اور وہ دوستی رکھے ان سے جو اللہ اور اس کے رسول سے برسر مخالفت ہوں اگرچہ وہ ان کے باپ یا ان کے بیٹے یا ان کے بھائی یا اہل کنبہ ہی کیوں نہ ہوں۔

جنت تجری من تحتہا الانہٰر خٰلدین فیہا رضی اللہ عنہم ورضوا عنہ اولئک حزب اللہ الا ان حزب اللہ ہم المفلحون ۝ (المجادلہ: 22) یہی لوگ ہیں جن کے دلوں میں اللہ نے ایمان ثبت فرما دیا ہے اور اپنی طرف سے ایک فیضان خاص سے ان کی تائید فرمائی ہے اور ان کو داخل کرے گا ایسے باغوں میں جن کے نیچے نہریں جاری ہوں گی، وہ ان میں ہمیشہ رہیں گے۔ اللہ ان سے راضی ہوا اور وہ اللہ سے راضی ہوئے۔ یہی لوگ اللہ کی پارٹی ہیں۔ سن رکھو کہ اللہ کی پارٹی ہی فلاح پانے والی ہے۔

ان آیات سے واضح ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے یہ بشارت صرف رسول اللہ ﷺ کے صحابہ کو دی یا مومنین کو۔ غیر مسلموں کے لیے جن سے اللہ تعالیٰ ہرگز راضی نہیں ہو سکتا، رضی اللہ عنہ کی صفت استعمال نہیں کی جاسکتی۔ مرتد اور کافر اس بشارت میں شریک نہیں ہو سکتے۔ ان کے لیے خبر یہ ہے کہ وہ جنت میں نہیں بلکہ دوزخ میں رہیں گے۔ ان حالات میں کوئی ایسا قاعدہ وضع کرنا ممکن نہیں جس کی رو سے مرتدین بھی اسے

صفحہ 256

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول)

استعمال کر سکیں۔ اسلام کا مسلمہ ضابطہ یہ ہے کہ خواہ مسلمان کفار کے لیے دعائے مغفرت کرتے رہیں اللہ تعالیٰ انہیں ہرگز معاف نہیں کرے گا۔ درج ذیل آیات ملاحظہ کیجیے:

الله لهم ذلک بانهم کفروا بالله ورسوله والله لا يهدی القوم الفسقين ۝

(توبہ: 80)

تم ان کے لیے مغفرت چاہو یا نہ چاہو اگر تم ان کے لیے ستر بار بھی مغفرت چاہو گے تو بھی اللہ ان کو بخشنے والا نہیں۔ یہ اس وجہ سے کہ انہوں نے اللہ اور اس کے رسول کا انکار کیا۔ اور اللہ نافرمانوں کو راہ یاب نہیں کرتا۔

الله لا يهدی القوم الفسقين ۝ (المنافقون: 6)

ان کے لیے یکساں ہے، تم ان کے لیے مغفرت مانگو یا نہ مانگو۔ اللہ ان کو ہرگز معاف نہیں کرے گا۔ بے شک اللہ نافرمانوں کو راہ یاب نہیں کرتا۔

تبين له انه عدو لله تبرا منه ان ابراهيم لاواه حليم ۝ (التوبہ: 114)

اور ابراہیم کا اپنے باپ کے لیے مغفرت مانگنا صرف اس وعدے کے سبب سے تھا جو اس نے اس سے کر لیا تھا۔ پھر جب اس پر واضح ہو گیا کہ وہ اللہ کا دشمن ہے تو اس نے اس سے اعلان براءت کر دیا۔ بے شک ابراہیم بڑا ہی نرم دل اور بردبار تھا۔

یہ آیات اس امر کی صراحت کرتی ہیں کہ وہ لوگ جنہیں معاف نہیں کیا جائے گا، وہ یہ امید نہیں رکھ سکتے کہ اللہ تعالیٰ ان سے راضی ہو جائے گا۔

مجیب الرحمٰن نے ہمیں کئی ایسی کتابیں دکھائیں جن میں صوفیاء اور دوسرے مسلمانوں کے لیے اس وصف کا استعمال کیا گیا تھا۔ لیکن یہ بات ان کے لیے مفید مطلب نہیں ہو سکتی، کیونکہ جیسا کہ پہلے بیان ہو چکا ہے، مومنین کے لیے اس کا استعمال جائز ہے۔ اس امر کی تردید نہیں کی گئی کہ غیر مسلموں نے اس صفت کو استعمال نہیں کیا۔

صفحہ 257

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول)

یہ ان کے دلائل کا مسکت جواب ہے۔

ایک اور متنازعہ اصطلاح ”صحابی“ ہے۔ یہ لفظ مسلمہ طور پر صرف رسول اللہ ﷺ کے ساتھیوں کے لیے استعمال کیا گیا ہے اور غیر مسلموں کے لیے استعمال نہیں ہوا۔ لیکن قادیانیوں نے اسے مرزا صاحب کے ساتھیوں کے لیے استعمال کیا ہے۔

علامہ سخاوی نے اس اصطلاح کے یہ معنی لکھے ہیں ”ابوالحسین معتمد میں لکھتا ہے کہ صحابی وہ شخص ہے جس نے ایمان کی حالت میں رسول اللہ ﷺ کی طویل صحبت پائی ہو اور ان سے علم سیکھا ہو۔“ (فتح المغیث صفحہ 371)

اس لیے صحابی وہ خوش نصیب انسان ہے جو ایمان کی حالت میں رسول اللہ ﷺ کی صحبت سے مشرف ہوا ہو اور ایمان ہی کی حالت میں فوت ہوا ہو۔ (دیکھئے ملخص اصابہ جلد 1‘ صفحہ 19 اور اسد الغابہ جلد 1‘ صفحات 18-19)۔ ایک ایسے شخص‘ جسے جھوٹا نبی قرار دیا گیا ہو‘ کی صحبت اختیار کرنے والے شخص پر اس مخصوص اور فنی اصطلاح کا استعمال نہیں کیا جاسکتا۔

رسول اللہ ﷺ کا یہ ارشاد گرامی قابل توجہ ہے:

یہ حدیث ان تین نسلوں کا تذکرہ کرتی ہے جنہیں صحابہ، تابعین اور تبع تابعین کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ اس حدیث سے بھی یہ واضح ہے کہ صحابہ وہ ہیں‘ جنہوں نے رسول اللہ ﷺ کی صحبت پائی۔ تابعین وہ ہیں‘ جو صحابہ کے بعد ہوئے اور انہوں نے رسول کریم ﷺ کی زیارت نہیں کی اور تبع تابعین وہ لوگ ہیں‘ جو تابعین کے بعد ہوئے۔ کسی شخص کے صحابی ہونے کے لیے اہم امر یا شرط یہ ہے کہ اس نے رسول اللہ ﷺ کی زیارت کی ہو اور یہ زیارت بھی اس نے مومن ہونے کی حالت میں کی ہو اور پھر ایمان ہی کی حالت میں اس کی موت واقع ہوئی ہو‘ نہ کہ کفر کی حالت میں۔

دوسری اصطلاحات امیر المومنین‘ خلیفۃ المسلمین اور خلیفۃ المومنین ہیں۔ یہ تینوں اصطلاحات‘ جن میں مومنین اور مسلمین کے الفاظ موجود ہیں‘ واضح طور پر مسلمانوں

صفحہ 258

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول)

ہی کے لیے مخصوص ہیں۔ اعلیٰ ترین منصب پر فائز شخص خواہ وہ صدر کہلاتا ہو یا وزیر اعظم، بادشاہ خلیفۃ المومنین، خلیفۃ المسلمین یا امیر المومنین کے نام سے موسوم ہو کی معروف شرط یہ ہے کہ اسے مسلمان ہونا چاہیے۔ حضرت ابوبکرؓ نے خلیفۃ رسول اللہ کا لقب اختیار کیا۔ اگرچہ ہر انسان خلیفۃ اللہ (زمین میں اللہ تعالیٰ کا نائب) ہے۔ لیکن حضرت ابوبکرؓ نے صرف خلیفۃ رسول اللہ کا لقب اختیار فرمایا۔ جب خلیفہ ثانی نے زمام خلافت سنبھالی تو ان کا خیال تھا کہ وہ خلیفۃ، خلیفۃ رسول اللہ یعنی رسول اکرم ﷺ کے خلیفہ کے خلیفہ کہلائیں گے۔ لیکن محسوس ہوا کہ اگر ہر نئے حکمران کے لیے خلیفہ کا لفظ بڑھتا چلا گیا تو یہ بہت طویل ہو جائے گا۔ اس لیے حضرت عمرؓ نے امیر المومنین کا لقب اختیار کر لیا (اسلام کا نظام حکومت صفحات 244-245) اس لیے امیر المومنین، یا خلیفۃ المسلمین یا خلیفۃ المومنین کے القاب صرف مسلمانوں کے سربراہان کے لیے مستعمل و مخصوص ہیں۔ کوئی مسلمان پسند نہیں کرے گا کہ ایسے لوگ جو غیر مسلم ہیں یا جو امت مسلمہ سے خارج ہیں، وہ یہ لقب اختیار کریں۔ اس وجہ سے اور خصوصاً قادیانیوں کے ان القابات اور اصطلاحات کے استعمال کے نتیجے میں مسلمانوں کی ان سے عداوت کی بناء پر، اس آرڈیننس کا نفاذ ہوا۔

مجیب الرحمن نے دلیل دی کہ رضی اللہ عنہ کے الفاظ کئی صوفیاء اور اولیاء کے لیے استعمال ہوئے ہیں۔ امیر المومنین کے الفاظ امام مالک کے لیے استعمال ہوئے۔ انہیں امیر المومنین فی الحدیث کہا جاتا ہے۔ نیز نظام حیدرآباد کے لیے بھی استعمال ہوئے جبکہ ایک صوفی کی ایک مرید عورت کے لیے ام المومنین کا لقب استعمال ہوا ہے۔

یہ دلائل نکتے سے غیر متعلق ہیں۔ مسلمانوں یا ان کے صوفیوں کے لیے ان اصطلاحات کا شاذ و نادر استعمال حجت نہیں بن سکتا۔ کیونکہ وہ سب لوگ جن کے لیے ان کا استعمال ہوا تھا، وہ کم از کم مسلمان ضرور تھے اور کافر نہ تھے۔ ثانیاً ان کا استعمال حضرت رسول اللہ ﷺ کی نقل اتارنے کی نیت سے نہ تھا۔ ثالثاً یہ شاذ و نادر مثالیں ہیں۔

قادیانیوں کے ہاں ان اصطلاحات کا استعمال اس اصول پر مبنی ہے کہ مرزا صاحب رسول اکرم ﷺ کا بروز ہیں اور ان کی مزعومہ بعث حضرت رسول اکرم ﷺ کی

صفحہ 259

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول)

بعث دوم ہے اور اس کے نتیجے میں مرزا صاحب کے ساتھی‘ بیوی‘ افراد خاندان اور جانشین اسی تکریم اور عقیدت کے مستحق ہیں جو رسول اکرم ﷺ کے صحابہؓ، بیویوںؓ، اہل بیتؓ اور خلفاء کو حاصل ہے۔ ”اگر مرزا صاحب محمد ہیں تو ان کے صحابہؓ محمد رسول اللہ کے ہی صحابہؓ ہیں۔“

(الفضل قادیان جلد 3‘ نمبر 10 مورخہ 15 جولائی 1915ء بحوالہ قادیانی

مذہب صفحہ 254‘ نیز ص 278 طبع دوم جدید 2001ء)

مرزا صاحب کی عبارت زیادہ واضح ہے۔ انہوں نے لکھا ہے ”صار وجودی وجودہ (میرا وجود ان کا وجود بن گیا) اور جو کوئی بھی میری جماعت میں شامل ہوتا ہے، وہ رسول اللہ ﷺ کے صحابہ کی جماعت میں شامل ہو جاتا ہے۔“

(خطبہ الہامیہ صفحات 258-259 روحانی خزائن ج 16 ص 258‘ 259)

اس بارے میں زیر بحث آرڈیننس بالکل درست ہے۔

دوسرا مسئلہ اذان پر پابندی کے بارے میں ہے۔ آرڈیننس غیر مسلموں یعنی قادیانیوں کو لوگوں کو نماز کے لیے اذان کے کلمات پڑھ کر بلانے سے روکتا ہے۔ اذان کا معنی ”پکار“ ہے اور مؤذن ”پکارنے والا“ ہوتا ہے۔ یہ لغوی معانی آیات قرآنیہ نمبر 44:7‘ 70:12 اور 27:22 سے واضح ہوتے ہیں۔ ارشاد ہوتا ہے:

ترجمہ: وہ کہیں گے، ہاں! پھر ایک منادی کرنے والا ان کے بیچ میں پکارے گا کہ اللہ کی لعنت ہے ظالموں پر!

پھر ایک منادی نے آواز دی اے قافلہ والو! تم لوگ چور ہو۔

کل فج عمیق ۝ (الحج: 27)

اور لوگوں میں حج کی منادی کرو۔ وہ تمہارے پاس آئیں گے پیادہ بھی اور

صفحہ 260

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول)

لاغر اونٹنیوں پر بھی جو پہنچیں گی دور دراز گہرے پہاڑی راستوں سے۔

ان تینوں آیات میں اذن کا لفظ استعمال ہوا ہے۔ اذان اسی کا اسم ہے اور اس کا معنی پکار یا ندا ہے۔ پکار سے مقصود اطلاع دینا ہوتا ہے اور موذن منادی کے معنی میں مستعمل ہے۔ اذن‘ اذان اور موذن کے یہ لغوی معانی ہیں۔ آیت نمبر 9:62 میں اذا نودی للصلوۃ (جب نماز کے لیے پکارا جائے) کے کلمات میں نماز کے لیے پکارنے کے اس طریقے کا تذکرہ ہے جو اذان کے نام سے مشہور ہے۔ اس لیے ان کا ترجمہ جب اذان دی جائے‘ کیا جائے گا۔ یہ آیت کریمہ مع ترجمہ ملاحظہ کیجیے:

ذکر اللہ و ذروا البیع ذلکم خیر لکم ان کنتم تعلمون ۝ (جمعہ:9)

اے ایمان والو! جب جمعہ کے دن نماز کے لیے اذان دی جائے تو اللہ کے ذکر کی طرف مستعدی سے چل کھڑے ہو اور خرید و فروخت چھوڑ دو۔ یہ تمہارے لیے بہتر ہے اگر تم جانو۔

ہجرت سے پہلے اذان کا کوئی تصور نہ تھا۔ ہجرت کے بعد ایک شخص لوگوں کو نماز کے لیے الصلوٰۃ جامعۃ کہہ کر بلاتا جس کا معنی یہ ہے کہ نماز کی جماعت تیار ہے۔ حضور نبی کریم ﷺ نے نماز کے لیے بلانے کے نظم کو اہمیت دی۔ آپ ﷺ کے تین صحابہ حضرت ابوبکرؓ حضرت عمرؓ اور حضرت عبداللہ بن زیدؓ نے طریقہ اذان کے خواب دیکھے۔ ان تینوں خوابوں میں سے حضرت عبداللہ بن زیدؓ اور حضرت عمرؓ کے خواب بہت معروف ہیں۔ حضرت عبداللہ بن زیدؓ نے اسی رات رسول اللہ ﷺ کو اپنے خواب کا واقعہ بتا دیا۔ لیکن حضرت عمرؓ نے آپ ﷺ کو صبح اطلاع دی۔ اس دن سے آپ ﷺ نے حضرت بلالؓ کو حکم دے دیا کہ وہ یہ اذان پڑھ کر لوگوں کو نماز کے لیے بلایا کریں۔ بعد میں حضرت بلالؓ نے فجر کی اذان میں الصلوۃ خیر من النوم (نماز نیند سے بہتر ہے) کے الفاظ کا اضافہ کر دیا اور آپ ﷺ نے ان کی منظوری دے دی۔

(الجامع الاحکام القرآن قرطبی جلد 2‘ صفحہ 225)

صفحہ 261

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول)

اذان کے وجوب کے بارے میں اختلاف رائے ہے۔ تاہم جیسا کہ ابوعمر کا کہنا ہے اذان دارالاسلام اور دارالحرب کے مابین امتیازی صفت یا علامت ہے۔ (ایضاً)

یہ دین اسلام کی امتیازی خصوصیت یا علامتوں میں سے ایک ہے۔ اس لیے یہ مسلمانوں کا شعار یعنی ان کا امتیازی نشان ہے۔ (البحر الرائق ابن نجیم جلد 1، صفحہ 240) بتایا گیا ہے کہ اس امر پر اجماع ہے کہ یہ اسلام کا شعار (امتیازی نشان) ہے۔ (فتاویٰ قاضی خان برحاشیہ فتاویٰ عالمگیری، حجۃ اللہ البالغہ از شاہ ولی اللہ جلد 1، صفحہ 474)

اذان کے شعائر اسلام ہونے کے لیے یہ دلائل کافی ہوں گے:

کی مشہور شکلیں یہ تھیں:

لیکن رسول اللہ ﷺ نے ان میں سے کوئی شکل یا طریقہ پسند نہیں فرمایا بلکہ آخر کار اذان کے کلمات پڑھ کر بلانے کو پسند فرمایا۔

تا آنکہ اس کے برعکس ثابت ہو جائے۔ ابن عصام مزنی کے والد سے روایت ہے کہ وہ کہتے ہیں کہ اللہ کے رسول ﷺ نے ہمیں ایک فوجی مہم پر بھیجا اور فرمایا کہ جب تم کوئی مسجد دیکھو یا موذن کی اذان سنو تو پھر کسی کو قتل نہ کرو۔ (سنن ابی داؤد جلد 1، صفحہ 351)۔ یہی حدیث صحیح بخاری جلد 1، صفحہ 86 پر حضرت انسؓ سے بھی مروی ہے۔

عن انس ان النبی ﷺ كان يغير عند صلوة الصبح وكان يستمع فاذا سمع اذانا امسک والا اغار. (نبی ﷺ دشمن پر نماز فجر کے وقت حملہ کرتے تھے۔ آپ غور سے سنتے تھے

صفحہ 262

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول)

اور اگر آپ وہاں اذان کی آواز سنتے تو رک جاتے، ورنہ حملہ کر دیتے۔

(سنن ابی داؤد جلد 1، صفحہ 354، مشکوٰۃ جلد 1، صفحہ 160 اردو ترجمہ)

پہلی حدیث مذکور رسول اللہ ﷺ کی ہدایت اور اذان سننے پر حملہ نہ کرنے کے معمول کی وجہ یہ ہے کہ اذان سے اس امر کا ظن غالب ہوتا ہے کہ اس آبادی میں مقیم لوگ مسلمان ہیں اور وہ حملے سے محفوظ ہوں گے۔

اسی لیے فقہاء نے یہ رائے قائم کی ہے کہ جو شخص اذان پڑھتا ہے، اسے مسلمان سمجھا جائے گا۔ اگر لوگ کسی ذمی کے بارے میں یہ گواہی دیں کہ اس نے اذان دی ہے تو اسے مسلمان تصور کیا جائے گا۔

(البحر الرائق جلد 1، ابن نجیم صفحہ 279، ردالمحتار از ابن عابدین جلد 1، صفحہ 353)

ان آراء سے استدلال کرتے ہوئے مجیب الرحمٰن نے دلیل دی ہے کہ جو شخص اذان پڑھتا ہے، اسے مسلمان تصور کیا جانا چاہیے۔ لیکن یہ دلیل درست نہیں ہے کیونکہ مذکورہ حدیث کا منشا صرف اس قدر ہے کہ اذان کہنے سے کسی شخص کے حق میں اس کے مسلمان ہونے کا احتمال ہوتا ہے لیکن یہ احتمال قطعی نہیں ہوتا بلکہ غلط بھی ثابت ہو سکتا ہے۔ آخر الامر اگر یہ معلوم ہو جائے کہ اذان پڑھنے والا شخص فی الواقع غیر مسلم ہے یا اس کے ایسے عقائد سامنے آجائیں، جن سے ثابت ہوتا ہو کہ وہ غیر مسلم ہے، تو اسے محض اس بناء پر اذان کہنے کا فائدہ اٹھانے اور اپنے آپ کو مسلمان کہلانے کے استحقاق کا دعویٰ کرنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔ ردالمحتار جلد 1، صفحہ 279 پر اس امر کی توضیح کی گئی ہے کہ کسی مسجد میں موذن کے اذان پڑھنے سے یہ غالب احتمال ہوتا ہے کہ وہ مسلمان ہے کیونکہ اذان کہنے کی اجازت عموماً صرف مسلمان ہی کو دی جاتی ہے یعنی اگر وہ مسلمان نہ ہوتا تو اس مسجد کے نمازی اسے اذان پڑھنے کی اجازت نہ دیتے۔ تاہم اس امر کی وضاحت کی گئی ہے کہ کافر کی اذان درست نہیں ہے۔ اس سے یہ نتیجہ اخذ ہوتا ہے کہ کوئی شخص صرف اذان کہنے سے مسلمان نہیں ہوسکتا۔ ہاں اگر وہ معمول کے مطابق ایسا کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی توحید اور رسول اللہ ﷺ کی رسالت کا عقیدہ رکھتا ہے تو اس

صفحہ 263

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول)

کے اسلام کا احتمال قوی ہوگا۔

اب ہم مجیب الرحمٰن کے استدلال پر بحث کرتے ہیں۔ انہوں نے مذکورہ بالا احادیث نبویہ اور قرآن کریم کی آیت نمبر 4:94 پر بنیاد رکھی ہے۔ یہ آیت یوں ہے:

القى اليكم السلم لست مومنا تبتغون عرض الحيوة الدنيا فعند الله مغانم كثيرة كذلك كنتم من قبل فمن الله عليكم فتبينوا ان الله كان بما تعملون خبيرا ۝

(النساء: 94)

اے ایمان والو! جب تم خدا کی راہ میں نکلا کرو تو اچھی طرح تحقیق کر لیا کرو اور جو تمہیں سلام کرے، اس کو دنیوی زندگی کے سامان کی خاطر یہ نہ کہو کہ تو مومن نہیں ہے۔ اللہ کے پاس بہت سامان غنیمت ہے۔ تمہارا حال بھی پہلے ایسا ہی رہ چکا ہے۔ پھر اللہ نے تم پر فضل فرمایا۔ پس تحقیق کر لیا کرو۔ جو کچھ تم کرتے ہو، اللہ اس سے اچھی طرح باخبر ہے۔

اس دلیل کا جواب خود آیت میں موجود لفظ فتبینوا (پس اچھی طرح تحقیق کر لیا کرو) ہے۔ مسلمانوں کی طرح سلام کرنے‘ لا اله الا الله کہنے یا اذان پڑھنے یا مسجد ایسی عبادت گاہ میں نماز پڑھنے سے کسی شخص کے مسلمان ہونے کا احتمال ہوتا ہے لیکن یہ غلط بھی ہو سکتا ہے‘ جس کا مطلب یہ ہوا کہ اگر غلط ہونے کا ثبوت موجود ہو تو اسے مومن یا مسلم نہیں کہا جائے گا۔

پروفیسر طاہر القادری نے دلیل دی کہ کتاب اللہ حق اور باطل کے درمیان تمیز کرتی ہے۔ انہوں نے ان آیاتِ قرآنیہ کے حوالے دیئے۔ آیات نمبر 1:25 ‘ 34:41‘ 100:5‘ 22:35‘ 20:59‘ 4:34‘ 14:57 اور 18:32 میں مسلم اور مومن کی تعریف کر دی گئی ہے اور ان کی صفات بیان کر دی گئی ہیں۔ جیسے باطل کو حق کا نام دینا اور شرک کو خیر قرار دینا ناممکن ہے‘ ٹھیک اسی طرح ایک غیر مسلم کو مسلمان کہنے یا

صفحہ 264

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول)

اس کے برعکس کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔ ایک معروف حدیث مروی ہے کہ جو کسی ایسے شخص کو کافر کہے جو کافر نہیں ہے تو یہ کفر غلط الزام لگانے والے پر لوٹ آئے گا۔ ایسی کوئی وجہ نہیں کہ ایک غیر مسلم کو مومن یا مسلم کہا جائے۔

مجیب الرحمٰن نے تسلیم کیا کہ اذان مسلمانوں کا شعار ہے لیکن کہا کہ یہ قادیانیوں کا بھی شعار ہے اور جب یہ دونوں کا یکساں شعار ہے تو پھر یہ مسئلہ قرآن کریم کی آیات نمبر 2:5 اور 64:3 کے مطابق طے کیا جائے گا۔ دونوں آیاتِ کریمہ درج ذیل ہیں۔

الهدى ولا القلائد ولا آمين البيت الحرام يبتغون فضلاً من ربهم ورضواناً واذا حللتم فاصطادوا ولا يجرمنكم شنان قوم ان صدوكم عن المسجد الحرام ان تعتدوا وتعاونوا على البر والتقوى ولا تعاونوا على الاثم والعدوان واتقوا الله ان الله شديد العقاب ۝ (المائدہ:2)

اے ایمان والو! اللہ کے شعائر کی بے حرمتی نہ کرو نہ محترم مہینوں کی اور نہ قربانیوں کی اور نہ پٹے بندھے ہوئے نذر کے جانوروں کی اور نہ بیت اللہ کے عازمین کی جو اپنے رب کے فضل اور اس کی خوشنودی کے طالب بن کر نکلتے ہیں اور جب حالت احرام سے باہر آجاؤ تو شکار کرو۔ اور کسی قوم کی دشمنی‘ کہ اس نے تمہیں مسجد حرام سے روکا ہے‘ تمہیں اس بات پر نہ ابھارے کہ تم حدود سے تجاوز کرو۔ اور تم نیکی اور تقویٰ میں تعاون کرو اور گناہ اور تعدی میں تعاون نہ کرو اور اللہ سے ڈرتے رہو۔ بے شک اللہ سخت پاداش والا ہے۔

الله ولا نشرك به شيئا ولا يتخذ بعضنا بعضا اربابا من دون الله فان تولوا فقولوا اشهدوا بانا مسلمون ۝ (آل عمران:64)

کہہ دو اے اہل کتاب اس چیز کی طرف آؤ جو ہمارے اور تمہارے درمیان یکساں مشترک ہے‘ یہ کہ ہم اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کریں اور نہ اس کے ساتھ کسی

صفحہ 265

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول)

چیز کو شریک ٹھہرائیں اور نہ ہم میں سے کوئی ایک دوسرے کو اللہ کے سوا رب ٹھہرائے، اگر وہ اس چیز سے اعراض کریں تو کہہ دو کہ گواہ رہو کہ ہم تو مسلم ہیں۔

یہ امر قابل ذکر ہے کہ اس آیت کے الفاظ تعالوا الی کلمۃ سواء بیننا وبینکم کا ترجمہ پکتھل نے ”اس معاہدے کی طرف آؤ جو ہمارے اور تمہارے درمیان ہے“ کیا ہے۔ یہ ترجمہ درست نہیں، کیونکہ اس آیت میں کسی معاہدے کا تذکرہ نہیں بلکہ ایسی چیز کا ذکر کیا گیا جو دونوں میں یکساں مشترک ہے۔ تاہم مولانا فتح محمد کا اردو ترجمہ بالکل صحیح ہے اور اوپر دیئے ہوئے ترجمہ میں اسی کی عکاسی کی گئی ہے۔

مجیب الرحمن کا استدلال یہ ہے کہ جو امر قادیانیوں اور مسلمانوں کے مابین مستحسن اور مشترک ہو، اس میں مداخلت نہیں ہونی چاہیے۔ کیونکہ وہ دونوں کے درمیان کلمۃ سواء ہے۔ کلمتہ سواء کی تفسیر کے لیے انہوں نے مدارک التنزیل جلد اول صفحہ 222 کا حوالہ دیا کہ کلمتہ سواء یعنی ہمارے اور تمہارے درمیان ایک یکساں مشترک امر جس کے بارے میں قرآن، تورات اور انجیل میں اختلاف موجود نہیں ہے۔ اور کلمتہ کی تفسیر خود یہ ارشاد باری تعالیٰ ہے (یہ کہ ہم اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کریں)۔ امام ابن کثیر کہتے ہیں کہ ”کلمتہ سواء سے مراد صرف خدائے واحد کی عبادت کرنا ہے کیونکہ یہ تمام انبیاء کی مشترک دعوت تھی۔“

(تفسیر ابن کثیر اردو جلد اول صفحہ 67)

امام سیوطی کی الدر المنثور (جلد 2 صفحہ 40) میں ہے کہ ”کلمتہ سواء سے مراد لا اله الا الله (اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں) ہے۔“ مفتی محمد شفیع کلمتہ سواء کے بارے میں کہتے ہیں کہ اس پر لوگوں کو مل جانا چاہیے۔ اس سے مجیب الرحمن نے یہ استنباط کیا ہے کہ ایسے امر کو قابل سزا جرم قرار نہیں دیا جا سکتا۔

قرآن پاک کی سورہ نمبر 41 کی آیت نمبر 33 میں ارشاد ہوا ہے: ومن احسن قولاً ممن دعا الی الله وعمل صالحاً وقال اننی من المسلمین O (حم سجدہ: 33)

اور اس سے بڑھ کر اچھی بات کس کی ہو گی جو اللہ کی طرف بلائے اور نیک

صفحہ 266

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول)

عمل کرے اور کہے کہ میں مسلمانوں میں سے ہوں۔

کلبی کے مطابق اس آیت کریمہ کا شان نزول یہ ہے کہ جب موذن اذان پڑھتا اور مسلمان نماز ادا کرنے کے لیے کھڑے ہوتے تو یہودی ان پر طنز کرتے اور موذن کے بارے میں نازیبا کلمات بولتے تھے۔ اس لیے آیت میں اذان کو احسن قول (بہترین بات یا سب سے اچھی بات) فرمایا گیا۔ (قرطبی جلد 6 صفحات 224-225)

یہ امر پہلے واضح ہو چکا ہے کہ کسی غیر مسلم کی اذان، اذان شمار نہیں ہو گی اور اس لیے اس پر ”بہترین بات“ کا اطلاق نہیں ہو گا۔ اس آیت میں ایک مومن یا مسلم کی تعریف کی گئی ہے جس سے اس امر میں کوئی شبہ نہیں رہ جاتا کہ اذان ”احسن قول“ (بہترین بات) صرف اس وقت شمار ہو گی جب اسے کوئی مسلمان پڑھے کیونکہ اس کا صحیح حق یہی ہے کہ اسے ایسا شخص پڑھے جو عمل صالح اور مسلمانوں کے عقیدے کا حامل ہو۔

عدالت کے سامنے قرآن کریم کی آیت نمبر 2:5 کے شان نزول کے بارے میں اختلاف کا اظہار کیا گیا تھا۔ سوال یہ تھا کہ کیا اس آیت میں شعائر اللہ سے مراد مشرکین کے امتیازی نشانات یا خصوصیات ہیں یا مسلمانوں کی۔ مجیب الرحمٰن نے مفسرین کی آراء سے اس نقطہ نظر کی تائید میں حوالے پیش کیے کہ اس آیت میں شعائر سے مراد مشرکین کے امتیازی نشانات ہیں جبکہ ریاض الحسن گیلانی نے ان کے مخالف آراء کا سہارا لیا۔ پیر محمد کرم شاہ، جو اب سپریم کورٹ کے شریعت بنچ کے جج ہیں، اپنی معروف تفسیر ضیاء القرآن میں مجیب الرحمٰن کی رائے کی تائید کرتے ہیں۔

کچھ آراء ایسی بھی ہیں کہ یہ آیت منسوخ ہو چکی ہے۔ مجیب الرحمٰن نے دلیل دی کہ آیت کا یہ حصہ لا تحلوا شعائر اللہ ہرگز منسوخ نہیں ہوا۔

اس اختلاف میں جانے کی چنداں ضرورت نہیں ہے۔ اگر اس آیت کا تعلق حج کے موقع پر قربانیاں لانے اور انہیں منیٰ میں ذبح کرنے سے متعلق غیر مسلموں کے شعائر سے بھی ہو تو آیت نمبر 28:9 میں ایک مختلف حکم دیا گیا تھا۔ یہ آیت کریمہ حسب ذیل ہے:

صفحہ 267

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول)

الحرام بعد عامھم ھذا. وان خفتم عیلۃ فسوف یغنیکم اللہ من فضلہ ان شاء ان اللہ علیم حکیم. (التوبۃ:28)

اے ایمان والو! یہ مشرکین بالکل نجس ہیں تو یہ اپنے اس سال کے بعد مسجد حرام کے پاس نہ پھٹکنے پائیں۔ اور اگر تمہیں غربت کا اندیشہ ہو تو اللہ اگر چاہے گا تو اپنے فضل سے تم کو مستغنی کر دے گا۔ بے شک اللہ علم والا حکمت والا ہے۔

مشرکین کو کعبہ کے قریب پھٹکنے سے روک دیا گیا ہے۔ ایک حدیث میں مذکور ہے کہ اس حکم الہی کے نفاذ کے لیے رسول اللہ ﷺ نے حضرت علیؓ کو یہ حکم دے کر مکہ روانہ کیا کہ آئندہ غیر مسلموں کو حج سے منع کر دیا جائے۔

اس حکم میں مشرکین کو کعبے میں اپنے شعائر کی ادائیگی سے روک دیا گیا ہے اور رسول اللہ ﷺ کے حکم سے انہیں حج اور زیارت کے شعائر سے منع کر دیا گیا۔

(دیکھئے تفہیم القرآن‘ جلد 2‘ صفحہ 186 حاشیہ 25)۔

اس سے یہ بدیہی نتیجہ اخذ ہوتا ہے کہ شریعت اسلامیہ کسی غیر مسلم کو اس بات کی اجازت نہیں دیتی کہ وہ شعائر اسلام کو اختیار کرے کیونکہ شعائر کا مفہوم یہ ہے کہ امت کی ایسی خصوصیات یا امتیازی نشانات جن سے اس کی پہچان ہوتی ہے۔ اگر کوئی اسلامی ریاست برسر اقتدار ہونے کے باوجود غیر مسلموں کو ایسے شعائر اسلام اختیار کرنے کی اجازت دیتی ہے جن سے امت مسلمہ کی امتیازی حیثیت متاثر ہوتی ہے‘ تو یہ اس ریاست کی غفلت اور اپنے فرائض کی ادائیگی میں ناکامی شمار ہو گی۔ اسلامی ریاست میں غیر مسلموں کو شعائر اسلام اختیار کرنے کی کھلی اجازت دے دینا شعائر اسلام سے غیر قانونی سلوک کے مترادف ہے‘ اس لیے ان کی ممانعت کر دینا اشد ضروری ہے۔ مندرجہ بالا آیت نمبر 28:9 اور اس کے نتیجے میں رسول اللہ ﷺ کے عمل سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ اسلامی ریاست کے قانون سازی کے اختیارات میں غیر مسلموں کو شعائر اسلام اختیار کرنے کی ممانعت کر دینا شامل ہے اور یہ بھی اسلامی ریاست کے تشریعی

صفحہ 268

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول)

اختیارات میں شامل ہے کہ وہ ایسے غیر مسلموں کو سزا دے جو شعائر اسلام اختیار کرنے سے باز نہیں رہتے۔ زیر بحث آرڈیننس میں یہی سزا دی گئی ہے۔ اس سے مجیب الرحمٰن کے تعزیر کے بارے میں دلائل کا احاطہ بھی ہو جاتا ہے۔ اس بارے میں مجیب الرحمٰن نے درج ذیل نکات پیش کیے:

مسلموں کو اس سے روک دیا جائے گا؟

غیر مسلم اس میں اکٹھے شریک رہیں؟

ان سوالات کے جوابات پہلے دیئے جا چکے ہیں اور اب ان کا خلاصہ پیش کیا جا سکتا ہے۔ آیت نمبر 28:9 اور اس سے اخذ کردہ قوانین کی روشنی میں غیر مسلموں کو ایسے شعائر کی ادائیگی کی ممانعت کی جاسکتی ہے جو مسلمانوں اور غیر مسلموں میں مشترک ہوں۔ کلمۃ سواء مختلف معاملات کے لیے استعمال ہوا ہے لیکن پہلے سوال کے جواب کی وجہ سے دوسرا سوال غیر ضروری ہو جاتا ہے۔ تاہم اس امر پر زور دیا جا سکتا ہے کہ اگرچہ کفار بھی طواف کرتے تھے لیکن جب مسلمانوں نے خانہ کعبہ کا انتظام سنبھال لیا تو انہیں اس سے روک دیا گیا۔ یہ قرار دیا جا چکا ہے کہ کسی غیر مسلم کی اذان پر احسن قول کا اطلاق نہیں ہوتا۔ اور اگر پہلے سوال کے جواب کی رُو سے کسی شخص پر ایسے شعائر کی ادائیگی کی پابندی لگائی جاسکتی ہے تو اسے اس پابندی کی خلاف ورزی کرنے پر سزا دینے کا حکم بھی دیا جا سکتا ہے۔

جب قادیانی قادیان میں تھے اور وہاں ان کی اکثریت تھی اور انہیں کافی قوت حاصل تھی تو ان کا اپنا طرزِ عمل بہت ملتا جلتا ہے۔ قادیانیوں نے مسلمانوں کو خود ان کی اپنی مساجد میں اذان دینے سے روک دیا تھا۔ احرار نے قادیان میں مسلمانوں کی مساجد میں اذان کہنے کے لیے کچھ رضا کار بھیجے لیکن قادیانیوں نے ان پر لاٹھیوں سے

صفحہ 269

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول)

حملہ کر دیا اور ان سب کو کئی زخم لگائے اور وہ ہسپتالوں میں بستروں پر پڑے رہے۔ (تحریک ختم نبوت 1974ء از شورش کاشمیری صفحہ 78) یہ انگریز سرکار کے دور میں وحشیانہ قوت کے بل بوتے پر ہوا ہوگا۔ یہ اس امر کی مثال ہے کہ جس چیز کو وہ اپنا شعار (امتیازی نشان) خیال کرتے تھے، اسے انہوں نے مسلمانوں کے لیے عملاً غیر قانونی قرار دے دیا تھا۔ اس سے یہ اخذ ہوتا ہے کہ برسر اقتدار اکثریت کی جانب سے ایسی پابندی قانونی ہوگی۔

ان کی عبادت گاہ کو مسجد کا نام دینے پر پابندی کے خلاف مجیب الرحمن کی دلیل یہ تھی کہ قرآن کریم کی رو سے مسجد کا لفظ صرف مسلمانوں کے لیے مخصوص نہیں بلکہ یہ ایسے لوگوں کی عبادت گاہوں کے لیے بھی استعمال ہوا ہے جو اب غیر مسلم ہیں۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا گزشتہ 1400 سال میں کبھی بھی غیر مسلموں کی عبادت گاہوں کو مسجد کا نام دیا گیا ہے‘ تو ان کا جواب نفی میں تھا لیکن چند دن کے بعد انہوں نے بتایا کہ وہ کم از کم کراچی میں یہودیوں کی ایک ایسی عبادت گاہ دریافت کرنے میں کامیاب ہوگئے ہیں جس پر مسجد بنی اسرائیل‘ کے الفاظ لکھے ہوئے ہیں۔ انہوں نے اس تحریر کی تصویریں پیش کیں‘ جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ یہودیوں کا معبد ہے اس کا ترجمہ کسی نے مسجد بنی اسرائیل‘ کر دیا ہے۔ ایسا نام یہودیوں میں عام طور پر رائج نہیں ہے۔

یہ مسئلہ کہ قرآن میں رسول اللہ ﷺ کے پیروکاروں کے علاوہ دوسروں کی عبادت گاہ کو مسجد کہا گیا ہے‘ نکتے سے غیر متعلق ہے۔ ابتدا یعنی حضرت آدم علیہ السلام سے ہی اسلام دین الٰہی چلا آرہا ہے۔ اگر کسی اور نبی کی امت کے لوگوں‘ جو اس وقت کے دین اسلام کے پیروکار تھے‘ کی عبادت گاہوں کے لیے مسجد کا لفظ استعمال ہوا ہے تو اس سے یہ نتیجہ نہیں نکالا جا سکتا کہ غیر مسلموں کی عبادت گاہوں کو بھی مسجد ہی کا نام دیا جائے گا۔ نکتہ یہ ہے کہ گزشتہ 1400 سال میں یہ نام صرف مسلمانوں ہی کی عبادت گاہوں کے لیے مخصوص رہا ہے اور یہ رواج صرف مسلمانوں ہی میں رہا ہے کہ وہ اپنی عبادت گاہوں کو مساجد کا نام دیتے ہیں۔

صفحہ 270

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول)

قرآن کریم میں مساجد کا لفظ اپنے لغوی معنوں میں استعمال ہوا ہے لیکن اب یہی لفظ صرف مسلمانوں کی عبادت گاہوں کے فنی مفہوم میں سمجھا جاتا ہے۔ (دیکھئے العلاقات الدولیتہ فی الاسلام صفحہ 202) اس کی روشنی میں تو عید گاہ بھی مسجد نہیں ہے۔ قرآن پاک کی آیت نمبر 40:22 کا حوالہ دیا گیا ہے جو یہ ہے:

دفع الله الناس بعضهم ببعض لهدمت صوامع وبيع وصلوت و مساجد يذكر فيها اسم الله كثيرا. (الحج:40)

وہ (مظلوم) جن کو نکال دیا گیا تھا ان کے گھروں سے ناحق صرف اتنی بات پر کہ انہوں نے کہا کہ ہمارا پروردگار اللہ تعالیٰ ہے اور اگر اللہ بچاؤ نہ کرتا لوگوں کا انہی ایک دوسرے سے ٹکرا کر تو ( طاقتور کی غارت گری سے ) منہدم ہو جاتیں خانقاہیں اور گرجے اور کلیسے اور مسجدیں جن میں اللہ تعالیٰ کے نام کا ذکر کثرت سے کیا جاتا ہے۔

اور بے شک اللہ ان لوگوں کی مدد کرے گا جو اس کی مدد کے لیے اٹھیں گے۔ بے شک اللہ قوی اور غالب ہے۔

استدلال کیا گیا تھا کہ تمام ادیان کی عبادت گاہوں کو حاصل تقدس کی بناء پر کسی شخص کو اپنی عبادت گاہ کو مسجد کا نام دینے سے نہیں روکا جا سکتا۔ تاہم قرطبی نے واضح کیا ہے کہ عبادت گاہوں کے مذکورہ ناموں میں سے خانقاہوں‘ گرجوں‘ کنیسوں کا تعلق غیر مسلموں کی عبادت گاہوں اور استھانوں سے ہے‘ جبکہ مساجد کا لفظ مسلمانوں کی عبادت گاہوں کے تذکرے کے لیے استعمال ہوا ہے۔ (احکام القرآن جلد 12‘ صفحہ 72) لیکن اگر یہ فرض کر لیں کہ مسجد کا لفظ ان لوگوں کی عبادت گاہ کے لیے بھی استعمال ہوا ہے جو حضرت محمد ﷺ کی بعثت کے بعد غیر مسلموں کے زمرے میں آتے ہیں‘ تو پھر بھی یہ تسلیم کرنا پڑے گا کہ مسجد کا لفظ ایسے لوگوں کی عبادت گاہ کے لیے استعمال ہوا ہے کہ جو اس وقت مسلمان ہی تھے۔

صفحہ 271

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول)

اس حدیث کی روشنی میں جس کا ذکر پہلے اذان کی بحث میں کیا جا چکا ہے‘ مسجد کو بھی اسلام کا شعار قرار دیا گیا ہے۔ جہاں مسجد پائی جائے، وہاں قتل کرنے سے منع کر دیا گیا‘ کیونکہ مسجد اسلام کا امتیازی نشان یا شعار ہے۔ جو شخص اس میں نماز پڑھتا ہے وہ مسلمان قرار پائے گا‘ الا یہ کہ اس کے خلاف ثبوت مل جائے۔

سورہ توبہ کی آیات 17 اور 18 اس مسئلے کا حل پیش کرتی ہے۔ ملاحظہ فرمائیے:

بالكفر اولئک حبطت اعمالهم وفى النار هم خلدون ۝

(التوبہ:17)

مشرکین کو یہ حق نہیں پہنچتا کہ وہ اللہ کی مساجد کا انتظام کریں درآنحالیکہ وہ خود اپنے کفر کے گواہ ہیں۔ ان لوگوں کے سارے اعمال برباد ہو گئے اور دوزخ میں ہمیشہ رہنے والے تو یہی ہیں۔

واتى الزکوة ولم يخش الا الله فعسى اولئک ان يكونوا من المهتدين ۝

(التوبہ:18)

اللہ کی مساجد کا انتظام کرنے والے تو صرف وہی لوگ ہو سکتے ہیں جو اللہ اور روزِ آخرت پر ایمان رکھتے ہوں اور نماز قائم کرتے ہوں اور زکوۃ دیتے ہوں۔ یہ لوگ توقع ہے کہ ہدایت یافتہ بنیں۔

اس مسئلے میں اختلافِ رائے موجود ہے کہ کیا غیر مسلم یا مشرکین مسجد تعمیر کر سکتے ہیں یا اس میں داخل ہو سکتے ہیں۔ تعمیر کے بارے میں مسلمہ اصول یہ ہے کہ مسجد خواہ غیر مسلم نے تعمیر کی ہو‘ اسے مسلمانوں کی عبادت گاہ کے طور پر ہی استعمال ہونا چاہیے۔ البتہ داخل ہونے کے بارے میں اختلافِ رائے ہے۔ مالکی اور حنبلی ان کے مسجد میں داخلے کے خلاف ہیں۔ شافعیہ کے نزدیک مسجد الحرام کے سوا باقی مساجد میں انتظامیہ کی اجازت کے ساتھ جائز ہے۔ حنفیہ کے ہاں وہ مسجد میں داخل ہو سکتے ہیں۔ رسول اللہ ﷺ نے منافقین کو مسجد سے نکال دیا تھا۔ عبداللہ بن عباسؓ سے

صفحہ 272

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول)

مروی ہے کہ ایک مرتبہ جب رسول اللہ ﷺ جمعہ کے روز خطبہ ارشاد فرما رہے تھے تو آپ نے چند اشخاص جو نماز کے لیے جماعت میں بیٹھے ہوئے تھے کا نام لے کر انہیں مسجد سے باہر نکل جانے کا حکم دیا کیونکہ وہ منافق تھے۔

(روح المعانی آلوسی جلد 2 صفحہ 10)

اس بحث کو معروف قادیانی سر ظفر اللہ خاں کی رائے پر ختم کیا جاتا ہے۔

’’اگر احمدی غیر مسلم ہیں تو پھر ان کا مسجد سے کوئی تعلق نہیں ہو سکتا۔‘‘

(تحدیث نعمت صفحہ 162)

انہوں نے مسئلے کو بالکل درست پیش کیا ہے لیکن آرڈیننس قادیانیوں کو صرف اپنی عبادت گاہوں کو مسجد کا نام رکھنے یا پکارنے سے روکتا ہے۔ شریعت کی نگاہ میں یہ قابل اعتراض امر نہیں ہے بلکہ اس سے شریعت کے مقصد کو فروغ ملتا ہے۔

ارتداد کے اصول کی موجودگی میں اسلامی ریاست میں دیگر مذاہب کی اشاعت کا حق غیر محدود نہیں ہو سکتا۔

قرآن کریم کا ارشاد ہے:

یحبہم ویحبونہ اذلۃ علی المومنین اعزۃ علی الکفرین یجاہدون فی سبیل اللہ ولا یخافون لومۃ لائم ذلک فضل اللہ یوتیہ من یشاء واللہ واسع علیم o (المائدہ:54)

اے ایمان والو! جو تم میں سے اپنے دین سے پھر جائے گا‘ تو اللہ کو کوئی پرواہ نہیں وہ جلد ایسے لوگوں کو اٹھائے گا جن سے وہ محبت کرے گا اور وہ اس سے محبت کریں گے۔ وہ مسلمانوں کے لیے نرم مزاج اور کافروں کے مقابلے میں سخت ہوں گے‘ اللہ کی راہ میں جہاد کریں گے اور کسی ملامت کرنے والے کی ملامت کی پرواہ نہ کریں گے۔ یہ اللہ کا فضل ہے وہ جس کو چاہے بخشے گا اور اللہ بڑی وسعت رکھنے والا اور علم والا ہے۔

صفحہ 273

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول)

اعمالهم فی الدنیا والاخرة واولئک اصحب النار هم فیها خلدون ۝

(البقرۃ:217)

اور تم میں سے جو اپنے دین سے پھر جائے گا اور حالت کفر میں مر جائے گا تو یہی لوگ ہیں جن کے اعمال دنیا اور آخرت میں اکارت گئے اور یہی لوگ دوزخ میں پڑنے والے ہیں اور وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے۔

اس مسئلے کی تفصیل میں جانے کی ضرورت نہیں ہے‘ کیونکہ تمام مذاہب کی یہ مسلمہ روایت رہی ہے کہ کسی شخص کی ایک مذہب سے دوسرے مذہب میں تبدیلی اس کے ہم مذہب افراد کی نگاہوں میں دشمنی سے کم شمار نہیں ہوتی۔ اس کی مناسب مثال اچھوتوں کے اجتماعی قبول اسلام پر ان سے ہندوؤں‘ جن میں نام نہاد سیکولر ریاست کے حکمران شامل ہیں‘ کی عداوت و مخاصمت ہے۔

ممکن ہے اس کی وجہ یہ ہو کہ ایک مذہب سے دوسرے مذہب میں ایسی تبدیلی غالباً اس مذہبی جماعت کے لیے باعث انتشار ہوتی ہو۔ قادیانی لٹریچر میں بھی اگر کوئی مسلمان قادیانی ہو جائے اور پھر دوبارہ اسلام قبول کرے تو وہ مرتد شمار ہوتا ہے اور ایک غیر مسلم ہی کی طرح عذاب جہنم کا مستحق قرار پاتا ہے۔ ان حالات میں یہ قرار دینا مشکل ہے کہ اسلام غیر مسلموں کو یہ بنیادی حق دیتا ہے کہ وہ مسلمانوں میں اپنے مذہب کی غیر مشروط تبلیغ کرتے رہیں۔

تاریخ اسلام میں ایسی مثالیں موجود ہیں کہ خلیفہ یا بادشاہ کے دربار میں کسی مذہب کی برتری پر مباحثے منعقد ہوتے تھے جن میں مسلمان اور غیر مسلم علمائے دین برابر شرکت کرتے۔ لیکن ان واقعات کو اس امر کی موثر دلیل نہیں قرار دیا جا سکتا کہ یہ کسی کا مسلمہ حق ہے کہ وہ مسلمانوں میں اپنے مذہب کی تبلیغ کر کے انہیں غیر مسلم بناتا رہے۔

مجیب الرحمٰن نے اپنے اس دعوے کے ثبوت میں کہ اسلام غیر مسلموں کو اسلامی ریاست میں اپنے مذہب کی تبلیغ کا حق دیتا ہے‘ قرآن کریم کی کسی آیت‘ حدیث نبوی یا کسی فقیہ کے قول سے براہ راست استدلال نہیں کیا۔

انہوں نے کہا کہ قرآن کی رُو سے تبلیغ ایک فریضہ ہے اور اس فریضے کی

صفحہ 274

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول)

تکمیل اس سے ہوتی ہے کہ کافر کو اپنے مذہب کی تبلیغ کرنے کا حق حاصل ہو۔ انہوں نے قرآن کریم کی آیت 170:2 کا حوالہ دیا:

اولو کان اباء ہم لا یعقلون شیئاً ولا یہتدون ہ (البقرۃ:170)

اور جب اُن کو دعوت دی جاتی ہے کہ خدا کی اتاری ہوئی چیز کی پیروی کرو تو وہ جواب دیتے ہیں کہ ہم تو اس طریقے کی پیروی کریں گے جس پر ہم نے اپنے باپ دادا کو پایا ہے۔ کیا اس صورت میں بھی جب کہ ان کے باپ دادا نہ کچھ سمجھتے رہے ہوں اور نہ راہِ ہدایت پر رہے ہوں۔

اور کہا کہ یہ آیت آباء و اجداد کی اندھی پیروی کی مذمت کرتی ہے۔ انہوں نے آیات نمبر 112:2‘ 105:5‘ 71:26 تا 75 اور 21:43 کا بھی حوالہ دیا اور کہا: ان آیات کے یکجا مطالعے سے یہ امر واضح ہوتا ہے کہ جب حضور ﷺ کفار کو سچے پیغام کی تبلیغ فرماتے تو ان کا یہی جواب ہوتا کہ ہمارے لیے ہمارے آباء و اجداد ہی کافی ہیں خواہ ان کے آباء و اجداد عقل و ہدایت سے یکسر عاری تھے۔ اسلام کا منشا یہ ہے کہ ہر دو قسم کے دلائل یعنی آفاقی اور انفسی کو اختیار کرتے ہوئے نظریہ تقلید پر اس زور کو ختم کر دیا جائے۔ آفاقی دلائل کا تعلق نظامِ قدرت، ارض و سماء کی تخلیق اور دن رات کی گردش وغیرہ ان مظاہر قدرت سے ہے جن کا تذکرہ قرآن کریم نے کر دیا ہے۔ انہیں اس نظام کے حسن و جمال اور عمدہ نظم پر متوجہ کرتے ہوئے قائل کیا جائے کہ دو خداؤں کی موجودگی میں یہ ناممکن ہوتا۔ انفسی دلائل کا مفہوم یہ ہے کہ وہ زندگی کے مختلف مراحل کی تخلیق میں تامل و تدبر کریں گے تو اس حقیقت کو پالیں گے کہ انسان کی تخلیق صرف ایک خدا کا عمل ہے۔ یہی وہ انداز ہے جسے اختیار کرتے ہوئے قرآن کریم ارشاد فرماتا ہے:

ادع الی سبیل ربک بالحکمۃ والموعظۃ الحسنۃ وجادلہم بالتی ہی احسن . (النحل:125)

اپنے رب کے راستہ کی طرف حکمت اور اچھی نصیحت کے ساتھ دعوت دو اور

صفحہ 275

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول)

ان کے ساتھ اس طریقہ سے بحث کرو جو پسندیدہ ہے۔

انہوں نے اس امر پر زور دیا کہ اصل چیز حجت ہے:

ولكن ليقضى الله امرا كان مفعولا ليهلك من هلك عن بينة و يحيى من حى عن بينة. (الانفال:42)

اور تا کہ اللہ اس امر کا فیصلہ فرما دے جس کا ہونا طے ہو چکا تھا تا کہ جسے ہلاک ہونا ہے‘ حجت دیکھ کر ہلاک ہو اور جسے زندگی حاصل کرنی ہے وہ حجت دیکھ کر زندگی حاصل کرے۔

آخر میں انہوں نے آیات نمبر 148:6‘ 75:28‘ 156:37...... 157‘ 64:27‘ 24:21‘ اور 111:2 کا حوالہ دیا۔ ان آیات کے متعلقہ حصے یہاں پیش کیے جاتے ہیں:

قل هل عندكم من علم فتخرجوه لنا. (الانعام:148)

پوچھو تمہارے پاس ہے اس کا کوئی علم کہ تم اس کو ہمارے سامنے پیش کر سکو۔

ام لكم سلطن مبين ۝ فاتوا بكتبكم ان كنتم صدقين ۝

(الصفت:156، 157)

کیا تمہارے پاس کوئی واضح حجت ہے پس پیش کرو تم اپنی کتاب اگر تم سچے ہو۔

فقلنا هاتوا برهانكم. (القصص:75)

پس ہم کہیں گے کہ اپنی دلیل پیش کرو۔

قل هاتوا برهانكم. (الانبیاء:24)

ان سے کہو کہ اپنی دلیل پیش کرو۔

قل هاتوا برهانكم (النمل:64)

کہو کہ تم اپنی دلیل لاؤ!

قل هاتوا برهانكم. (البقرة:111)

تم کہو کہ اپنی دلیل پیش کرو!

صفحہ 276

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول)

انہوں نے ان آیات کی توضیح کے لیے متعدد تفاسیر کے حوالے پیش کیے۔ انہیں یہاں نقل کرنے کی اس لیے ضرورت نہیں کہ ان آیات کے معانی بالکل واضح ہیں کہ مسلمان مشرکین اور غیر مسلموں سے ان کے پختہ عقائد کے بارے میں حجت طلب کر سکتے ہیں۔

لیکن مجیب الرحمٰن کا استدلال یہ ہے کہ اس سے غیر مسلموں کو اپنے مذہب کی تبلیغ کر کے انہیں مرتد بنانے کا حق ملتا ہے۔

ہم ادنیٰ سے ادنیٰ امکان کی حد تک بھی اس سے اتفاق نہیں کرتے۔

یہ تمام آیات اسلام کی دعوت و تبلیغ کے اصولوں اور اس کے اسلوب اور طریقہ کار سے متعلق ہیں۔ اصول یہ ہے کہ کسی غیر مسلم سے اسلام کی دعوت پر گفتگو کرتے ہوئے مسلمان کو نہایت شائستہ اور نرم رویہ اختیار کرنا چاہیے اور نہ صرف اسلام کے تمام اچھے نکات کو معقول اور مدلل طریقے سے پیش کرنا چاہیے بلکہ غیر مسلم کو یہ موقع دینا چاہیے کہ وہ بھی اپنے دین کے اچھے پہلوؤں کے بارے میں اس کے سامنے اپنی رائے کا اظہار کرے۔ یہ ضروری ہے کہ غیر مسلم کو اپنے دین کے بارے میں اپنا موقف کھل کر بیان کرنے دیا جائے تا کہ مسلمان اس کی تردید کر سکے اور دیگر مذاہب کے تخیلاتی فلسفے پر اسلام کی برتری کو ثابت کر سکے۔ درحقیقت قرآن دو افراد کے درمیان اس قسم کی آزادانہ بحث ہی کی اجازت نہیں دیتا بلکہ وہ، جیسا کہ ہاتوا برہانکم (اپنی دلیل پیش کرو) سے ظاہر ہے، مسلمان سے کہتا ہے کہ غیر مسلم کو چیلنج دو کہ وہ اپنے عقیدے کی صداقت کے دلائل سامنے لائے۔ درحقیقت یہ اس امر کا اشارہ ہے کہ غیر مسلم ایسے دلائل پیش کرنے سے قاصر ہیں۔

(دیکھئے المراغی جلد 1) کہا گیا ہے فہو فی عرف التخاطب تکذیب خطاب کے عرف میں یہ انہیں جھوٹا قرار دینے کی ایک شکل ہے۔ یہ قطعی بات ہے کہ قرآن کریم کے دلائل ناقابل تردید ہیں۔ کفر کی تائید میں کوئی دلیل پیش کرنا ممکن نہیں ہے۔ اس سے اس امکان کی نفی ہو جاتی ہے کہ مسلمان، غیر مسلم کے اپنے مذہب

صفحہ 277

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول)

کے حق میں دلائل سے متاثر ہو کر مرتد ہو جائے گا۔ یہ آیات تبلیغ کی صرف اس صورت پر چسپاں ہوتی ہیں، جو غیر مسلموں کو اسلام کی دعوت دینے کے لیے کی جائے۔ ان آیات کا رخ موڑ کر انہیں غیر مسلموں کے اس دعوے کی تائید میں پیش نہیں کیا جا سکتا کہ انہیں اپنے مذہب کی تبلیغ کرنے کا حق حاصل ہے۔ جیسا کہ پہلے بیان گزر چکا ہے قرآن کریم، سنت رسول ﷺ یا ان کی تفاسیر وشروح میں ایسی کوئی دلیل موجود نہیں جس میں غیر مسلموں کے حق کو تسلیم کیا گیا ہو کہ وہ مسلمانوں میں اپنے مذہب کی تشہیر و تبلیغ کریں۔ یہ آیات اور ان کی تفسیریں اس دعوے کی تائید نہیں کرتیں کہ غیر مسلموں کو یہ بنیادی حق حاصل ہے کہ وہ مسلمانوں میں اپنے مذہب کی تشہیر و تبلیغ کریں۔ اس کے باوجود اسلامی ریاست کو یہ اختیار ہے کہ وہ غیر مسلموں کو اپنے مذہب کی تبلیغ کی اجازت دے جیسا کہ آئین کی دفعہ 20 میں دی گئی ہے۔ تاہم یہ اجازت صرف اس صورت میں دی جا سکتی ہے جبکہ غیر مسلم، غیر مسلم کی حیثیت سے تبلیغ کریں نہ کہ خود کو مسلمان ظاہر کرکے۔ یہ مقنّنہ کا کام ہے کہ وہ دیگر شرائط وضع کرے۔

مولانا مودودی نے اپنی کتاب ’’اسلامی ریاست‘‘ کے صفحات 582 تا 602 پر اقلیتوں کے حقوق پر مفصل بحث کی ہے اور ایک اسلامی ریاست میں غیر مسلموں کے اپنے مذہب کی برتری ثابت کرنے کے لیے مواد چھاپنے کے حق میں بھی بیان کیا ہے لیکن انہوں نے کہا ہے کہ اس امر کی اجازت نہیں دی جا سکتی کہ کسی مسلمان کو انفرادی طور پر کسی دوسرے مذہب کی تبلیغ کی جائے۔ وہ مزید کہتے ہیں کہ کوئی مسلمان اپنا دین بدلنے کا مجاز نہ ہوگا۔

مجیب الرحمٰن نے اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے اس اعلان سے بھی حوالے پیش کیے جو 1948ء میں منظور ہوا تھا، جس دفعہ کا انہوں نے ذکر کیا تھا وہ یوں ہے:

”دفعہ 18۔ ہر شخص کو سوچ، ضمیر اور مذہب کی آزادی کا حق حاصل ہے۔ اس حق میں اپنا مذہب یا عقیدہ بدلنے کی آزادی اور خواہ انفرادی طور پر یا برادری میں دوسروں کے ہمراہ یا عوام میں یا نجی طور پر اپنے مذہب یا عقیدے کو تعلیم، عمل، عبادت اور

صفحہ 278

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول)

رسوم میں ظاہر کرنے کی آزادی شامل ہے۔‘‘

اس چارٹر میں کسی ملک کے شہریوں کو اپنے مذہب کی تبلیغ و اشاعت کا حق دینے کے بارے میں کچھ نہیں ہے۔

آخر میں اسلامک کونسل کے شائع کردہ دو رسالوں کا حوالہ دیا جا سکتا ہے۔ پہلا ’’انسانی حقوق کا منشور‘‘ ہے اور دوسرا ’’مثالی اسلامی آئین‘‘ ہے۔ ان دونوں رسالوں میں قرآن کریم اور سنت رسول اللہ ﷺ کے احکام کی روشنی میں وضع کردہ انسانی حقوق میں عموماً وہ انسانی حقوق شامل ہیں جو اقوام متحدہ نے منظور کیے۔ تاہم کئی حقوق زیادہ ہیں مثلاً انصاف کا حق‘ طاقت کے غلط استعمال کے خلاف تحفظ کا حق‘ پناہ کا حق۔ اقلیتوں کے یہ حقوق کہ ان کے شخصی معاملات ان کے اپنے شخصی قوانین کے مطابق طے کیے جائیں گے‘ عوامی امور کے نظم و انتظام میں شرکت کے حقوق و فرائض‘ کارکنوں کے مرتبے‘ وقار اور سماجی تحفظ کے حقوق وغیرہ۔

رسالہ ’’انسانی حقوق کا عالمی اسلامی منشور‘‘ کے پیراگراف 12 اور 13 عقیدے‘ سوچ اور تقریر کی آزادی کے حق اور مذہب کی آزادی کے حق سے تعلق رکھتے ہیں۔ انہیں یہاں درج کیا جاتا ہے۔

حاصل ہے جب تک وہ قانون میں بیان کردہ حدود میں رہا ہے۔ تاہم کوئی بھی شخص اس بات کا مجاز نہیں کہ وہ جھوٹ کی اشاعت کرے یا ایسی اطلاعات پھیلائے جو عوامی مذاق کو مشتعل کریں یا تہمت تراشی کرے یا دوسرے لوگوں پر طعن و تشنیع کرے یا ان پر ہتک آمیز الزامات لگائے۔

کردہ حدود کے اندر رہتے ہوئے) احتجاج اور جدوجہد کرے‘ خواہ اس میں ریاست کے حاکم اعلیٰ کو چیلنج کرنا شامل ہو۔

صفحہ 279

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول)

معاشرے یا ریاست کی سلامتی کو خطرہ لاحق نہ ہو اور یہ قانون کی طرف سے عائد کردہ حدود کے اندر محدود ہو۔

کے خلاف عوام میں عداوت نہیں پھیلائے گا۔ دوسروں کے مذہبی جذبات کا احترام ہر مسلمان کا فرض ہے۔

ہے۔ اسی طرح رسالہ ”مثالی اسلامی آئین“ کی دفعات 8 اور 16 اقلیتوں کے مذہبی حقوق سے متعلق ہیں۔ وہ درج ذیل ہیں:

کے اظہار کا حق اس وقت تک حاصل ہے جب تک وہ قانون کی مقرر کردہ حدود کے اندر رہتا ہے۔“

روایات نافذ ہوں گی‘ الا یہ کہ وہ خود یہ پسند کریں کہ ان پر شریعت نافذ ہو۔ فریقوں کے درمیان تنازعہ میں شریعت نافذ ہو گی۔“

قابل توجہ امر یہ ہے کہ کسی کے مذہب کی تبلیغ کے حق کو اقلیتوں کے انسانی حقوق میں شامل نہیں کیا گیا۔ یہ اس بیان کے عین مطابق ہے جو اوپر گزر چکا ہے۔

آئین کی دفعہ 20 پاکستان کے تمام شہریوں کو اپنے مذہب کو ماننے‘ عمل کرنے اور اشاعت کرنے کا حق دیتی ہے لیکن یہ حق قانون‘ امن عامہ اور اخلاق کے تابع ہے۔ اس کا بیان یوں ہوا ہے:

”قانون‘ امن عامہ اور اخلاق کے مطابق

صفحہ 280

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول)

حق حاصل ہوگا۔

قائم کرنے‘ دیکھ بھال کرنے اور چلانے کا حق ہوگا۔‘‘

جیندر کشور کے مقدمے پی ایل ڈی 1957ء ایس سی صفحہ 9 میں سپریم کورٹ کو 1956ء کے آئین کی دفعہ 18 کی اسی نوع کی عبارت کی تشریح کرنے کا موقع ملا تھا۔ یہ قرار دیا گیا تھا کہ قانون کے مطابق‘ کے الفاظ مقننہ کو یہ اجازت نہیں دیتے کہ جو آئین نے ایک ہاتھ سے دیا ہے‘ وہ اسے دوسرے ہاتھ سے واپس لے لے اور اس حق کو صرف نظام کے تحت لایا جا سکتا ہے لیکن چھینا نہیں جا سکتا۔ جناب جسٹس محمد منیر چیف جسٹس (ریٹائرڈ) نے اس بارے میں یہ رائے دی:

’’جب امن و امان کا مسئلہ پیدا ہو تو قانون کے ذریعے سے منضبط کرنے کی گنجائش کو اس قدر تنگ نہیں کیا جا سکتا۔‘‘

دفعہ 20 بھی قانون اور امن عامہ کے تابع ہے اور تبلیغ کا حق اسی کے تابع ہے۔

مرزا قادیانی کے دعووں اور ان کے ارتقائی رجحان کے تاریخی تجزیے میں یہ امر پہلے واضح ہو چکا ہے کہ مرزا قادیانی کے مجدد اور مامور من اللہ ہونے کے دعوے کے فوراً بعد ہی برصغیر ہندوستان کے مسلمانوں میں بے چینی کے جذبات پیدا ہو گئے تھے اور انہوں نے بالکل درست اپنے خدشات کا اظہار کر دیا تھا کہ یہ نبوت کی طرف پہلا قدم ہے۔ مرزا صاحب نے اس کی تردید کرنے میں ہوشیاری دکھائی اور دعویٰ کیا کہ وہ حضرت محمد ﷺ کی ختم نبوت پر پختہ یقین رکھتے ہیں اور ان کی رائے میں کسی قسم کی نبوت کا دعویٰ کفر سے کم نہیں ہے۔

اور جب 1890ء میں مسیح موعود اور مہدی ہونے کا دعویٰ کیا گیا‘ تو مسلمانوں کی بے چینی‘ غم و غصے اور عداوت میں اضافہ ہوا۔ یہ مرزا صاحب کی کتابوں اور دوسرے قادیانی لٹریچر سے واضح ہوتا ہے کہ جب وہ مختلف شہروں میں جاتے تو مسلمان ان کی قیام

صفحہ 281

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول)

گاہ کے گرد جمع ہو جاتے تھے۔ علماء بھی سخت مشتعل تھے۔ 1901ء میں مرزا صاحب کے صاف دعویٰ نبوت کی وجہ سے یہ اشتعال اپنے عروج پر پہنچ گیا۔

قیام پاکستان کے بعد اس مسئلے پر ایسا احتجاج ہوا کہ اس کو دبانے کے لیے 1953ء کا مارشل لاء نافذ کرنا پڑا۔ تاہم یہ مسلمانوں کے اس مطالبے کو خاموش کرنے میں کامیاب نہ ہو سکا‘ جسے علماء نے اپنے 22 نکاتی پروگرام میں آئین میں قادیانیوں کو غیر مسلم اور اقلیتی حیثیت دینے کے لیے پیش کیا تھا۔

مارشل لاء کے نفاذ کے علی الرغم احتجاج جاری رہا۔ یہاں تک کہ پارلیمنٹ اور قومی اسمبلی میں مسلمان عوام کے نمائندوں کو قادیانی گروہ کے سربراہ مرزا ناصر احمد تک قادیانیوں کی مکمل سماعت کرنے کے بعد (دوسرا ترمیمی) آئینی ایکٹ مجریہ 1974ء منظور کرنا پڑا‘ اور 1973ء کے آئین کی دفعہ 260 میں ایک تعریف کا اضافہ کرنا پڑا‘ جس کی رو سے دونوں معروف گروہوں کے قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دے دیا گیا اور دفعہ 106 میں ایک ترمیم کے ذریعے انہیں پاکستان کی دوسری اقلیتوں مثلاً عیسائیوں‘ پارسیوں اور ہندوؤں وغیرہ کے مساوی مقام دے دیا گیا۔

اس اعلان کے نتیجے میں‘ جو مسلمانوں کے متفقہ مطالبے پر منظور ہوا تھا‘ قادیانیوں کے لیے روا نہ تھا کہ وہ خود کو مسلمان کہتے یا اپنے تصور کے اسلام کی‘ حقیقی اسلام کے طور پر‘ اشاعت کرتے۔ لیکن انہوں نے آئینی ترمیم کا بالکل احترام نہیں کیا اور اپنے عقیدے کو پہلے کی طرح اسلام قرار دیتے رہے۔ وہ اپنی کتابوں اور رسالوں وغیرہ کی اشاعت کے ذریعے نیز انفرادی طور پر مسلمانوں کے اندر اپنے مذہب کی آزادانہ تبلیغ کرتے ہوئے غیظ وغضب کا باعث بنتے رہے۔ اس سے لازماً اور واضح طور پر امن وامان کی صورت حال پیدا ہو جاتی۔ یہ سلسلہ موجودہ آرڈیننس کے پاس اور نافذ ہونے تک جاری رہا۔ ان حالات میں یہ آرڈیننس‘ دفعہ 20 کے قانون اور امن وامان کے تحفظ کے تابع ہونے کے استثناء میں شامل دکھائی دیتا ہے۔

مندرجہ بالا وجوہ کی بناء پر ان دونوں پٹیشنز میں کوئی وزن نہیں ہے اور انہیں

صفحہ 282

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول)

خارج کیا جاتا ہے۔

اس فیصلے کو ختم کرنے سے پہلے ہم مجیب الرحمٰن پٹیشنر اور ریاض الحسن گیلانی ایڈووکیٹ برائے وفاقی حکومت کی جانب سے دی گئی معاونت کے لیے اپنی گہری قدردانی کو ریکارڈ پر لانا چاہتے ہیں۔ گیلانی کی مقدمے کی تیاری اور پیشکش قابل تعریف تھی۔

دستخط تاریخ فیصلہ جسٹس فخر عالم: چیف جسٹس 28 اکتوبر 1984ء جسٹس چودھری محمد صدیق جسٹس مولانا ملک غلام علی جسٹس مولانا عبدالقدوس قاسمی

(PLD 1985 Federal Shariat Court 8)

۞.......۞.......۞

صفحہ 283

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول)

PLD 1988 Supreme Court 167

سپریم کورٹ آف پاکستان

مجیب الرحمن اور تین دیگر بنام وفاقی حکومت پاکستان

...... جناب جسٹس محمد افضل ظلہ ...... (چیئرمین)

...... جناب جسٹس ڈاکٹر نسیم حسن شاہ

...... جناب جسٹس شفیع الرحمن

...... جناب جسٹس پیر محمد کرم شاہ الازہری

...... جناب جسٹس مولانا (مفتی) محمد تقی عثمانی

سپریم کورٹ شریعت اپیلٹ بینچ کا فیصلہ جس نے

قادیانیوں کے خلاف وفاقی شرعی عدالت کے

تاریخی اور یادگار فیصلہ پر مہر تصدیق ثبت کر دی۔

صفحہ 284

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول)

’’اس ترمیم نے مرزا قادیانی کے پیروکاروں کو جو عموماً احمدیوں (قادیانیوں) کے نام سے معروف ہیں، غیر مسلم قرار دے دیا تھا۔ یہ ترمیم جمہوری، پارلیمانی نیز عدالتی طریقے پر کی گئی تھی اور پورے ہاؤس پر مشتمل خاص کمیٹی کی طویل روئیداد کے دوران قادیانیوں کے دونوں گروہوں کے مسلمہ لیڈروں کو بھی اپنا نقطہ نظر پیش کرنے کا پورا موقع فراہم کیا گیا تھا۔ اس کمیٹی کو پیش کی جانے والی قرار داد میں (جس کے محرکین میں دوسروں کے علاوہ وہ واحد رکن بھی شامل تھا، جس نے بعد میں واک آؤٹ کیا تھا) یہ تصریح بھی موجود تھی کہ: ’’قادیانی اندرونی اور بیرونی سطح پر تخریبی سرگرمیوں میں مصروف ہیں۔‘‘ اور یہ کہ: ’’اس وقت مکہ مکرمہ میں منعقد ہونے والی ایک کانفرنس نے جس میں دنیا بھر سے 140 وفود نے شرکت کی تھی، بالاتفاق قرار دیا تھا کہ ’’قادیانیت اسلام اور عالم اسلام کے خلاف سرگرم عمل ایک تخریبی تحریک ہے جو دھوکے اور مکاری سے ایک اسلامی فرقہ ہونے کا دعویٰ کرتی ہے۔‘‘ (مباحثہ قومی اسمبلی پارلیمنٹ جلد 4، 1974ء)‘‘

صفحہ 285

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول)

دل کی بات

(مقدمہ کا پس منظر، احوال، نتیجہ)

الحمد للہ وحدہ والصلوۃ والسلام علی من لا نبی بعدہ اما بعد امتناع قادیانیت آرڈیننس کو قادیانیوں نے وفاقی شرعی عدالت میں چیلنج کرتے ہوئے اسے قرآن و سنت کی تعلیمات اور بنیادی حقوق کے منافی قرار دینے کی درخواست کی۔ فاضل عدالت کے پانچ جج صاحبان نے اپنے مفصل اور متفقہ فیصلہ کے ذریعے قادیانیوں کی اپیلوں کو خارج کر دیا اور آرڈیننس کو قرآن و سنت اور بنیادی آئینی حقوق کے مطابق قرار دیا۔ اس کے بعد قادیانیوں نے سپریم کورٹ آف پاکستان کے وفاقی شرعی اپیلٹ بنچ میں مذکورہ فیصلہ کو کالعدم قرار دینے کی اپیل کی۔

سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بنچ نے اس کی سماعت کی۔ چیف جسٹس جناب جسٹس محمد افضل ظلہ اس کے چیئرمین تھے۔ اراکین میں جسٹس نسیم حسن شاہ، جسٹس شفیع الرحمٰن، جسٹس حضرت پیر محمد کرم شاہ الازہریؒ اور جسٹس حضرت مولانا محمد تقی عثمانی شامل تھے۔ سماعت کے لیے جونہی کوئی تاریخ مقرر ہوتی، قادیانی وکلاء عدالت میں درخواست دے کر اس کی سماعت ملتوی کروا دیتے۔ اڑھائی سال تک قادیانی یہی کھیل کھیلتے رہے۔ بالآخر 10 جنوری 1988ء کو راولپنڈی سپریم کورٹ بنچ میں اس کیس کی سماعت شروع ہوئی۔ قادیانیوں اور لاہوری مرزائیوں نے پھر روایتی دجل و فریب سے کام لیا اور کیس کی سماعت میں روڑے اٹکانے لگے۔ کیس کو غیر ضروری طوالت دینے کے لیے مختلف ہتھکنڈے استعمال میں لائے اور بالآخر ایک درخواست کے ذریعہ عدالت سے اپنی اپیلوں کو واپس لینے کی استدعا کی۔ قادیانیوں اور لاہوری مرزائیوں کی واپسی

صفحہ 286

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول)

اپیلوں کی درخواست پر سپریم کورٹ آف پاکستان کے پانچوں جج صاحبان نے متفقہ فیصلہ تحریر فرمایا۔ یہ فیصلہ جسٹس محمد افضل ظلہ نے، جو اس وقت اپیلٹ بنچ کے چیئرمین تھے اور بعد میں چیف جسٹس آف پاکستان مقرر ہوئے ، نے تحریر فرمایا اور باقی جج صاحبان نے اس سے اتفاق کیا۔ فیصلہ میں سپریم کورٹ آف پاکستان کے شرعی اپیلٹ بنچ نے قادیانیوں کی تمام اپیلیں خارج کرتے ہوئے وفاقی شرعی عدالت کے تاریخی فیصلہ کو بحال رکھا اور اپنے فیصلہ میں لکھا:

”اس ترمیم نے مرزا قادیانی کے پیروکاروں کو جو عموماً احمدیوں (قادیانیوں) کے نام سے معروف ہیں، غیر مسلم قرار دے دیا تھا۔ یہ ترمیم جمہوری، پارلیمانی نیز عدالتی طریقے پر کی گئی تھی اور پورے ہاؤس پر مشتمل خاص کمیٹی کی طویل روئیداد کے دوران قادیانیوں کے دونوں گروہوں کے مسلمہ لیڈروں کو بھی اپنا نقطہ نظر پیش کرنے کا پورا موقع فراہم کیا گیا تھا۔ اس کمیٹی کو پیش کی جانے والی قرارداد میں (جس کے محرکین میں دوسروں کے علاوہ وہ واحد رکن بھی شامل تھا، جس نے بعد میں واک آؤٹ کیا تھا) یہ تصریح بھی موجود تھی کہ: ”قادیانی اندرونی اور بیرونی سطح پر تخریبی سرگرمیوں میں مصروف ہیں ۔“ اور یہ کہ : ”اس وقت مکہ مکرمہ میں منعقد ہونے والی ایک کانفرنس نے جس میں دنیا بھر سے 140 وفود نے شرکت کی تھی، بالاتفاق قرار دیا تھا کہ ”قادیانیت اسلام اور عالم اسلام کے خلاف سرگرم عمل ایک تخریبی تحریک ہے جو دھوکے اور مکاری سے ایک اسلامی فرقہ ہونے کا دعویٰ کرتی ہے۔“

(مباحث قومی اسمبلی پارلیمنٹ جلد 4، 1974ء)“

حق تعالیٰ شانہ نے مسلمانوں کی ایک دفعہ پھر دستگیری فرمائی۔ قادیانی ایک اور قانونی ذلت سے دو چار ہوئے۔ الحمدللہ!

طالب شفاعت محمدی ﷺ بروز محشر محمد متین خالد لاہور

۞......۞......۞

صفحہ 287

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول)

PLD 1988 Supreme Court 167

سپریم کورٹ آف پاکستان

مجیب الرحمن اور تین دیگر بنام وفاقی حکومت پاکستان

فیصلے کا اہم نکتہ:

قادیانیوں کی تمام اپیلیں خارج کرتے ہوئے وفاقی شرعی عدالت کا فیصلہ (PLD 1985 Federal Shariat Court 8) برقرار رکھتے ہوئے حکم دیا کہ یہ فیصلہ پورے ملک میں نافذ العمل رہے گا۔

صفحہ 288

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول)

PLD 1988 Supreme Court 167

سپریم کورٹ آف پاکستان

(ابتدائی معلومات)

سماعت کنندہ شریعت اپیلٹ بنچ

شرعی مرافعہ نمبر 24 برائے 1984ء

اور

شرعی مرافعہ نمبر 25 برائے 1984ء

(شریعت پٹیشن نمبر 17 / آئی / 1984ء ؛ 2 / ایل 1984ء ؛ 17 / ایل / 1984ء اور 21 / ایل / 1984ء میں وفاقی شرعی عدالت لاہور کے فیصلے / احکامات مجریہ 12/8/1984 کے خلاف اپیل)

کیپٹن (ریٹائرڈ) عبدالواحد اور ایک دوسرا (ایس اے 1984/24ء)

مجیب الرحمن اور تین دیگر اپیل کنندگان (ایس اے 25 / 1984ء)

بنام

صفحہ 289

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول)

وفاقی حکومت پاکستان

مدعی علیہ

بتوسط اٹارنی جنرل آف پاکستان

..................................................

برائے اپیل کنندہ نمبر 1 منظور الہی ایڈووکیٹ آن ریکارڈ (ایس اے 24 / 1984ء اپیل کنندہ نمبر 2 شخصی طور پر (ایس اے 24 / 1984ء) برائے اپیل کنندگان مجیب الرحمن شخصی طور پر (ایس اے 25 / 1984ء) حمید اسلم قریشی ایڈووکیٹ آن ریکارڈ اور دیگران شخصی طور پر

برائے مدعی علیہ ڈاکٹر سید ریاض الحسن گیلانی ڈپٹی اٹارنی جنرل اور چودھری اختر علی ایڈووکیٹ آن ریکارڈ....... (دونوں مقدمات میں)

تاریخ سماعت : 10، 11 جنوری 1988ء راولپنڈی تاریخ فیصلہ : 11 جنوری 1988ء

صفحہ 290

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول)

فیصلہ

جسٹس محمد افضل ظلہ ...... ( چیئرمین )

اپیل نمبر 24 اور 25 میں جو علی الترتیب دو اور چار اپیل کنندگان کی جانب سے مشترکہ طور پر دائر کی گئیں، وفاقی شرعی عدالت کے ایک فیصلے کو چیلنج کیا گیا ہے جو دستور کی دفعہ 203 ۔ ڈی کے تحت دیا گیا تھا۔ انہیں دفعہ 203 ۔ ایف کے تحت داخل کیا گیا اور چونکہ اب انہیں واپس لے لیا گیا، اس لیے انہیں خارج کر دیا گیا ہے۔

چیلنج کیا گیا فیصلہ اپیل کنندگان کی ان دو درخواستوں پر دیا گیا تھا، جنہیں انہوں نے الگ الگ پیش کیا اور ان میں ایک قانون ”قادیانی گروہ، لاہوری گروہ اور احمدیوں کی اسلام دشمن سرگرمیوں (کی ممانعت اور سزا) کے آرڈیننس مجریہ 1984ء“ کو چیلنج کرتے ہوئے اسے دفعہ 203 ۔ ڈی کے مطابق ”احکام اسلام“ کی رُو سے کالعدم قرار دینے کی درخواست کی تھی۔ عدالت نے اس دفعہ کی ذیلی شق (2) (الف) کے مطابق مفصل وجوہ (جو 200 سے زائد صفحات پر مشتمل ہیں) بیان کرتے ہوئے داد رسی سے انکار کر دیا تھا۔

اپیل نمبر 24 / 1984ء احمدیوں کے لاہوری گروہ اور اپیل نمبر 25 / 1984ء ان کے قادیانی گروہ کی طرف سے دائر کی گئی ہیں، جیسا کہ انہیں آرٹیکل 106 اور آرٹیکل 260 کی ذیلی شق (3) میں قرار دیا گیا ہے۔ دراصل ان دفعات کا اضافہ بالغ رائے دہی کی بنیاد پر ہونے والے ان انتخابات میں، جنہیں آزادانہ اور غیر جانبدارانہ تسلیم کیا گیا، باقاعدہ منتخب ہونے والی پارلیمنٹ نے 1974ء کی دوسری آئینی ترمیم کو منظور کرتے ہوئے کیا تھا۔ اس عدالت نے بھی، ملک کے دو حصوں میں

صفحہ 291

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول)

تقسیم ہونے کے بعد اسے آئین سازی کے اہل تسلیم کیا تھا۔ اس نے یہ ترمیم اس مقصد کے لیے صرف ووٹوں کی مطلوبہ لازمی اکثریت سے نہیں بلکہ دونوں ایوانوں میں اتفاق رائے سے پاس کی تھی، جبکہ اس کے خلاف کوئی ووٹ نہ تھا۔ اس کے اصل محرکین میں سے ایک کا صرف ایک رکنی واک آؤٹ بھی، جیسا کہ سرکاری ریکارڈ / کارروائی سے واضح ہے، محض اس بنا پر تھا کہ یہ ترمیم ناکافی ہے۔

اس ترمیم نے مرزا قادیانی کے پیروکاروں کو جو عموماً احمدیوں کے نام سے معروف ہیں، غیر مسلم قرار دے دیا تھا۔ یہ ترمیم جمہوری، پارلیمانی نیز عدالتی طریقے پر کی گئی تھی اور پورے ہاؤس پر مشتمل خاص کمیٹی کی طویل روئیداد کے دوران قادیانیوں کے دونوں گروہوں کے مسلمہ لیڈروں کو بھی اپنا نقطہ نظر پیش کرنے کا پورا موقع فراہم کیا گیا تھا۔ اس کمیٹی کو پیش کی جانے والی قرارداد میں (جس کے محرکین میں دوسروں کے علاوہ وہ واحد رکن بھی شامل تھا، جس نے بعد میں واک آؤٹ کیا تھا) یہ تصریح بھی موجود تھی کہ:

”قادیانی اندرونی اور بیرونی سطح پر تخریبی سرگرمیوں میں مصروف ہیں۔“

اور یہ کہ:

”اس وقت مکہ مکرمہ میں منعقد ہونے والی ایک کانفرنس (1) نے جس میں دنیا بھر سے 140 وفود نے شرکت کی تھی، بالاتفاق قرار دیا تھا کہ ”قادیانیت اسلام اور عالم اسلام کے خلاف سرگرم عمل ایک تخریبی تحریک ہے جو دھوکے اور مکاری سے ایک اسلامی فرقہ ہونے کا دعویٰ کرتی ہے۔“ (مباحثہ قومی اسمبلی پارلیمنٹ، جلد 4، 1974ء)

ان وجوہ کی بنا پر ترمیم کرنے کی درخواست کی گئی تھی۔ اس خاص کمیٹی نے اپنی طویل سماعت اور مفصل کارروائی (جو ریکارڈ کا حصہ ہے) مکمل کرنے کے بعد اتفاق رائے سے درج ذیل قرارداد منظور کی:

اپنے آپ کو احمدی کہتے ہیں) کا ذکر شامل کیا جائے۔

صفحہ 292

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول)

کر دی جائے۔

ان سفارشات کو عملی شکل دینے کے لیے خاص کمیٹی کا متفقہ طور پر منظور کردہ ایک مسودہ منسلک ہے۔

توضیح: ”جو مسلمان دستور کے آرٹیکل 260 کی شق (3) میں درج کردہ حضرت محمد ﷺ کی ختم نبوت کے عقیدے کے خلاف اظہار کرے گا، عمل کرے گا یا تبلیغ کرے گا، وہ اس دفعہ کے تحت سزا کا مستحق ٹھہرے گا۔“

(گزٹ آف پاکستان کا غیر معمولی شمارہ مجریہ 14/ 11/ 1974ء پی پی 1205 اور 1206)

کمیٹی کی طرف سے پیش کردہ مسودہ وہی تھا، جسے بالآخر پارلیمنٹ نے منظور کر لیا۔

(متن کے لیے دیکھئے: مباحثہ قومی اسمبلی پارلیمنٹ، جلد 5، 1974ء)

یہ امر ملحوظ رہے کہ اس خاص کمیٹی نے مجموعہ تعزیرات میں بھی ترمیم کرنے کی سفارش کی تھی۔ اس امر کے انکار کی کوئی گنجائش نہیں ہے کہ ان اقدامات کا مقصد قادیانیوں (جو اپیل نمبر 1984/24ء کے تحت پیش کردہ ضمیمہ مورخہ 1/ 1985 15ء میں درج وجہ نمبر 10 میں اپیل کنندگان (قادیانیوں) کے اپنے بیان کے مطابق ان مسلمانوں کے مقابلے میں ”خورد بینی اقلیت“ ہیں، جو (مسلمان) نہ صرف یہ کہ پاکستان میں ”وسیع اکثریت“ میں ہیں، بلکہ عالم اسلام کی سطح پر تو ان (قادیانیوں) کی حیثیت اور بھی کم ہو جاتی ہے) کی حیثیت کے بارے میں اس طویل نزاع کو حل کرنا ہے جو تقریباً پون صدی سے ملک میں چلا آ رہا ہے۔ ماضی میں اس نزاع پر خون ریزی، مارشل لاء کا نفاذ، عدالتی تحقیقات، مداخلت اور کارروائیاں اور احتجاج بھی ہوتے رہے ہیں۔ اس سے قبل یہ تمام حل آزمائے جا چکے تھے۔ اس بار دستوری اور پارلیمانی طریقہ کار اپنایا گیا تھا۔ جس قانون کو وفاقی شرعی عدالت میں چیلنج کیا گیا تھا، وہ بھی متذکرہ بالا صورت حال کا حاصل اور بدیہی نتیجہ معلوم ہوتا ہے۔ اور اس سے مقصود بھی یہی ہے کہ قادیانیوں کی کچھ

صفحہ 293

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول)

ان سرگرمیوں کو روکا جائے جو ان سنگین نتائج کا پیش خیمہ ثابت ہوئی ہیں۔

اب جہاں تک ان اپیلوں کا تعلق ہے تو جیسا کہ اوپر بیان ہوا، اپیل کنندگان نے مذکورہ قانون کو احکام اسلام کی کسوٹی پر وفاقی شرعی عدالت میں چیلنج کیا تھا۔ اسے دستور کے آرٹیکل 203۔ ڈی کی رو سے یہ خصوصی اختیار حاصل ہے کہ وہ اسے احکام اسلام کے منافی قرار دے دئے جیسا کہ دوسری اعلیٰ عدالتوں کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ کسی قانون کو اس بنا پر کالعدم قرار دے سکتی ہیں کہ وہ دستور کے تحت دیے ہوئے بنیادی حقوق کے منافی ہے۔ چونکہ وفاقی شرعی عدالت نے یہ قرار دینے سے انکار کر دیا کہ متذکرہ قانون احکام اسلام کے منافی ہے تو انہوں اس عدالت کے شریعت مرافعہ بنچ میں اپیلیں دائر کر دیں۔ سپریم کورٹ کا یہ شریعت مرافعہ بنچ دستور کے باب 3۔ الف کے تحت تشکیل دیا گیا ہے اور اسے وفاقی شرعی عدالت کے آرٹیکل 203۔ ڈی کے تحت دیے ہوئے فیصلوں کے خلاف اپیلوں کی سماعت کا کلی اختیار حاصل ہے۔ یہ بنچ عدالت کے تین مستقل ججوں اور دو علماء ججوں پر مشتمل ہے۔ اس بنچ کے مستقل جج، سپریم کورٹ کے تین ایسے سینئر جج ہیں جو تقریباً بیس سال سے اعلیٰ عدلیہ کے ارکان چلے آ رہے ہیں، جبکہ علماء جج، عالمی شہرت کے حامل ایسے سکالرز ہیں جو نمایاں دینی اداروں کے منتظم اور سربراہ ہیں اور مختلف علوم میں اعلیٰ درجے کی صلاحیت کے مالک ہیں۔ وہ شریعت مرافعہ بنچ میں تقرری سے قبل وفاقی شرعی عدالت میں خدمات سرانجام دے چکے ہیں۔

ان اپیلوں کی سماعت 22 مئی 1985ء کے لیے مقرر ہوئی تھی لیکن اپیل کنندگان کی جانب سے ایک درخواست پر ملتوی ہو گئی۔ (اپیل نمبر 24 / 1984ء کے اپیل کنندہ نمبر 1 نے اپنی علالت کی بنا پر چند ماہ کے لیے التوا کی استدعا کی۔ اپیل نمبر 1984/25ء کے اپیل کنندگان کے ایڈووکیٹ آن ریکارڈ نے بھی التواء کی درخواست کی تائید کی)۔ اڑھائی سال کے بعد ایک دفعہ پھر یہ فل بنچ کے سامنے سماعت کے لیے آئیں۔ ہمارے معمول کے مطابق اس نوع کے مقدمات کی سماعت کم از کم پانچ ججوں پر مشتمل بنچ ہی کرتے ہیں اور دونوں علماء جج ایسے بنچ کا لازمی حصہ ہوتے ہیں۔

صفحہ 294

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول)

اس پس منظر میں ہمیں توقع تھی کہ اس بار ان اپیلوں کی سماعت ضرور ہو گی‘ لیکن ہم یہ دیکھ کر حیرت زدہ ہوئے کہ دوبارہ اسی اپیل کنندہ نے مزید ایک سال کے لیے التوا کی درخواست بھیج دی ہے۔ اب کی بار اس بنا پر کہ اگر چہ وہ بیماری سے شفایاب ہو چکا ہے لیکن اس کا حافظہ ابھی تک پوری طرح بحال نہیں ہوا‘ اس نے کوئی وکیل نہیں کیا۔ اس نے اصرار کیا کہ اگر سماعت ملتوی کر دی جائے تو وہ اپنے مقدمے پر خود بحث کرے گا۔

اس درخواست کے اپنے حقیقی ثبوت اور اپیل میں اس کے شریک ساتھی سے‘ جو ایڈووکیٹ ہے‘ کچھ استفسارات سے واضح ہوا کہ یہ سب عذر لنگ ہے‘ اس لیے ہم نے طویل التوا کو مسترد کرتے ہوئے حکم دیا کہ درخواست گزار/اپیل کنندہ اگلے روز لازماً پیش ہو کر اپنے مقدمے پر بحث کرے۔

جب دوسری اپیل (نمبر 1984/25ء) سامنے آئی تو اسے پیش کرنے والے اپیل کنندگان اس سے بھی بڑی حیرت کا ذریعہ بنے۔ وہ بھی مقدمے پر بحث کرنے کے لیے آمادہ نہ تھے۔ دو سال پیشتر بھی دو درخواستوں پر جو ریکارڈ پر موجود ہیں‘ اسی طرح کی کوششیں کی گئی تھیں۔ اپیل کنندگان کو اس امر کا بخوبی علم تھا کہ ان درخواستوں میں کی گئی استدعا کی نوعیت ایسی ہے کہ عدالت میں کم از کم ان کی سماعت کی تاریخ کے تعین کے احکام حاصل کیے جا سکتے تھے۔ ان کا تعلق وفاقی شرعی عدالت کے سامنے مقدمے کی کارروائی کے ٹیپ ریکارڈز طلب کرنے اور اپیل کی سماعت سے قبل ہی زیر بحث فیصلے کے ایک حصے کو قلم زد کرنے سے تھا۔

شاید ایسا ہی ہو کہ پہلی درخواست کا مقصد‘ جیسا کہ عدالت میں وضاحت کی گئی تھی‘ وفاقی شرعی عدالت کے روبرو ان دلائل کی نوعیت کے بارے میں نزاع کو رفع کرنا تھا‘ جن کا زیر بحث فیصلے کے صفحات 9 تا 152 میں تذکرہ کیا گیا ہے اور جنہیں دوسری درخواست میں قلم زد کرنے کی استدعا کی گئی تھی۔ اس درخواست کے اختتام پر عدالت کو بتایا گیا کہ وہ ”اپیل کی سماعت شروع کرنے سے قبل ہی“ اس نکتے کا فیصلہ کرے‘ وگرنہ اپیل کنندگان کی ”اس اپیل میں کوئی دلچسپی باقی نہ رہے گی“۔ یوں اپیل کو

صفحہ 295

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول)

مزید ایک طویل مدت کے لیے ملتوی کرانے کی سنجیدہ کوشش کی گئی۔

کچھ بحث کے بعد ہم نے اس مرحلے پر ٹیپ ریکارڈز طلب کرنے سے انکار کر دیا کیونکہ یہ امر غیر ضروری التواء کا موجب ہو گا۔ تاہم‘ ہم نے اس وقت اپیل کنندگان کو یقین دلایا کہ اگر وہ اپنی اپیلوں پر بحث کریں گے اور ان کی سماعت کے دوران اگر ہم نے ٹیپ ریکارڈ طلب کرنے کی ضرورت محسوس کی تو ہم ازخود ایسا ضرور کریں گے۔

اس مرحلے پر پہلی درخواست پر مزید زور دینے کی اور کوئی گنجائش نہ پا کر دوسری درخواست پر زور دیا گیا۔ ان حالات میں یہ بھی غیر معمولی نوعیت کی درخواست تھی۔ درحقیقت‘ ہمیں یہ بتایا جا رہا تھا کہ زیر بحث فیصلے کے تقریباً دو تہائی حصے کو غیر ضروری‘ غیر متعلق اور اپیل کنندگان کے مذہبی حقوق کے لیے اشتعال انگیز ہونے کی بنا پر ”قلم زد“ کر دیا جائے۔ وہ یہ بھول رہے تھے کہ دستور کے آرٹیکل 203۔ڈی کے تحت نئی تقسیم کے دائرہ کار کے حقائق اور پہلو بھی بنیادی اور لازمی طور پر دین اسلام ہی سے متعلق ہیں۔ ان سے مطالبہ یہ تھا کہ وہ یہ ثابت کریں کہ زیر بحث قانون دین اسلام کے احکام کے منافی ہے۔ صرف یہی نہیں بلکہ جن امور کا فیصلے کے صفحہ 8‘ پیرا گراف 13 اور 14 میں تذکرہ کیا گیا ہے (اور جنہیں قلم زد کرنے کی استدعا نہیں کی گئی) وہ ثابت کرتے ہیں کہ چند رسمی بیانات کے سوا جو غالباً فیصلہ اپیل کنندگان کے خلاف ہونے کی صورت میں موقف بدلنے کے لیے دیے گئے تھے‘ وہ ”اصرار“ اور ”زور“ سے دلائل دیتے رہے کہ وہ غیر مسلم نہیں ہیں اور جب انہوں نے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی کہ ریکارڈ درست نہیں ہے تو فاضل ڈپٹی اٹارنی جنرل نے جو خود وفاقی شرعی عدالت میں موجود تھے‘ ان کی تردید کی۔ خود ہم نے بھی محسوس کیا کہ اپیل کنندگان نے اپیل نمبر 24/1984ء کے ضمیمے کے پیرا گراف نمبر 1 میں زیر بحث فیصلے کے صفحہ 9 کے ابتدائی حصے میں تحریر کردہ حقائق کی صحت کا انکار نہیں کیا ہے‘ البتہ اس کے دائرۂ کار کے پہلو پر اعتراض کیا گیا ہے۔

قلم زد کرنے کے سوال کی سماعت کے بعد ہم نے محسوس کیا کہ اپیل نمبر

صفحہ 296

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول)

1984/25ء میں کی گئی استدعا کو اپیل کی سماعت سے قبل بطور ابتدائی داد رسی منظور نہیں کیا جاسکتا۔ ہاں البتہ اپیلوں کی باقاعدہ سماعت کے دوران اگر ضرورت پڑی تو قلم زد کرنے کے لیے متعلقہ نکات اور اجزاء کو آخری فیصلے کے احکام میں یقیناً ملحوظ رکھا جائے گا۔ اس مقصد کے لیے کسی قانون کا حوالہ نہیں دیا گیا کہ مرافعاتی دائرۂ کار میں ایسا کرنا مناسب اور قانونی طریقہ نہیں ہے۔ ایسی صورت میں اس امر کا بھی جائزہ لیا جاتا کہ آیا آرٹیکل 203۔ ایف کے تحت دیے گئے خصوصی اختیار کی گنجائش کی رو سے زیر بحث فیصلے کی صحت اور ”وجوہ“ کی بنیاد پر اس کے کسی متنازعہ حصے یا حکم کو قلم زد کرنا، منسوخ کرنا یا بحال رکھنا ہمارے لیے قانونی طریقہ ہے، جیسا کہ اوپر بیان ہوا۔ چونکہ اپیل کنندگان خود پہلے ہی فیصلہ کر چکے تھے (کہ اگر ان کی استدعا منظور نہ کی گئی تو انہیں اپیل سے کوئی دلچسپی نہ رہے گی) اس لیے انہوں نے موضوع کے اس پہلو پر، جس سے زیر بحث فیصلے کی قطعیت طے ہونا تھی، بحث کرنے میں سرے سے کوئی دلچسپی نہیں لی۔

اگلی درخواست کو جو ان دونوں اپیلوں میں چوتھی ہے، لینے سے قبل اس امر کا تذکرہ ضروری معلوم ہوتا ہے کہ ہم نے اس فیصلے کی تحریر کے دوران اپیل کنندگان کی جانب سے اس عدالت کو اور وفاقی شرعی عدالت کو پیش کی گئی بحثوں اور یادداشتوں میں دیکھا ہے کہ انہوں نے اس نکتے پر یقیناً استدلال کیا ہے کہ وہ غیر مسلم نہیں ہیں۔ اگر اپیل کنندگان اپنی اپیلوں پر بحث کرتے، تو ہم لازماً ان سب امور پر دستوری نقطہ نگاہ سے غور کرتے، نیز ہمارے سامنے اور وفاقی شرعی عدالت میں ان کے بیانات زیر غور آتے۔ بعد ازاں اس قانونی نکتے کا ضرور جائزہ لیا جاتا کہ اگر اپیل کنندگان اس نکتے پر بحث کریں اور عدالت سے اس پر فیصلہ دینے کی درخواست کریں اور یہ فیصلہ ان کے خلاف ہو جائے تو کیا وہ آرٹیکل 203۔ایف کے تحت اپنی اپیل میں ایسے استدلال پر مبنی فیصلے کو درخواست میں بیان کردہ اسباب کی بنا پر قلم زد کراسکتے ہیں؟ یا یہ کہ وفاقی شرعی عدالت کو اس معاملے میں کوئی اختیار نہ تھا۔

اپیل نمبر 1984/25ء میں اپیل کنندگان کی آخری درخواست (اپیل نمبر

صفحہ 297

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول)

1984/24ء میں ایسی کوئی درخواست نہیں کی گئی ہے ) میں اس بنچ سے تعصب کی بنا پر دونوں علماء ججوں کو خارج کرنے کی استدعا کی گئی تھی۔ بتایا گیا ہے کہ انہوں نے ہمارے سامنے پیش کردہ اپیلوں میں زیر بحث قانون جیسے ایک قانون کے وضع کرنے کے حق میں رائے دی تھی۔ اس بارے میں تحریری مواد بھی ریکارڈ میں شامل کیا گیا ہے۔ اس کے جائزے کے بعد ہم نے محسوس کیا ہے کہ یہ سرسری انداز میں رائے کے اظہار کا مسئلہ ہے اور وہ بھی پورے دلائل سنے بغیر، جیسا کہ حکم امتناعی کی درخواستوں یا باقاعدہ مقدمات کو منظور کرنے کے لیے ابتدائی دلائل کی سماعت کے وقت یا اس مقصد کے لیے اس عدالت میں بھی اپیلوں کو منظور کرتے ہوئے جج اکثر کرتے ہیں۔ اسے کبھی بھی حقیقی طور پر نہیں لیا جاتا کہ اسے کسی طرح کا تعصب، طرفداری یا ممانعت قرار دیا جا سکے۔ علاوہ ازیں، جیسا کہ ہم نے دیکھا ہے، دوسروں کے مقابلے میں علماء جج سورۃ النساء کی آیت 135 کے حکم کے زیادہ پابند اور فکر مند رہتے ہیں۔ یہ آیت مع ترجمہ درج ذیل ہے:

انفسکم او الوالدین والاقربین ان یکن غنیا او فقیرا فاللہ اولی بھما فلا تتبعوا الھوی ان تعدلوا و ان تلوا او تعرضوا فان اللہ کان بما تعملون خبیرا ہ (النساء: 135)

(ترجمہ:) ”اے ایمان والو! انصاف پر مضبوطی کے ساتھ قائم رہنے والے اور اللہ کے لیے گواہی دینے والے رہو۔ خواہ وہ تمہارے اپنے یا تمہارے ماں باپ یا رشتہ داروں کے خلاف ہی کیوں نہ ہو۔ فریق خواہ مالدار ہو یا نادار اللہ ان کا زیادہ خیر خواہ ہے۔ پس تم خواہش نفس کی پیروی نہ کرنا کہ حق سے ہٹ جاؤ۔ اور اگر تم ہیر پھیر کرو گے یا پہلو تہی کرو گے تو یہ یقین رکھو کہ جو کچھ تم کر رہے ہو، اللہ اس سے باخبر ہے۔“ (النساء: 135)

قرآن کریم اور سنت نبوی میں ایسے احکام بکثرت موجود ہیں، جن میں بے لاگ عدل پر زور دیا گیا ہے۔ مغربی تصور قانون کے مقابلے میں ہمارے نظام سیاست میں اس

صفحہ 298

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول)

کی اہمیت زیادہ واضح ہے۔ توحید اور رسالت کے بعد یہ تقویٰ کی طرح بنیادی اصولوں میں سے ایک اہم اصول ہے۔ پھر عدل کے بارے میں اسلام کا نظریاتی پہلو مغربی نظریات سے زیادہ وسیع ہے۔ اسلامی تصور میں یہاں تک موجود ہے کہ وہ انسان کو ایسے مقدمے اور فیصلے کی سماعت سے بھی نہیں روکتا جو خود اس کے خلاف ہو۔ قرآن کریم اسے ناممکن قرار نہیں دیتا‘ اگرچہ ایسا انتہائی معاملہ صرف شاذ و نادر ہی واقع ہوتا ہے۔

وفاقی شرعی عدالت نے ”وفاق پاکستان بنام حضور بخش اور دو دیگر“ (پی ایل ڈی 1983ء ایف۔ایس۔سی 255‘ صفحہ 281 اور 302) میں اسی طرح کے ایک اعتراض کو نمٹایا تھا جو قطعی ہے۔ اس میں مس عاصمہ جیلانی بنام حکومت پنجاب اور دیگر (پی ایل ڈی 1972ء ایس۔سی 139‘ صفحہ 178)‘ ذوالفقار علی بھٹو بنام سٹیٹ (پی ایل ڈی 1978 ایس۔سی 125‘ صفحہ 132) اور میکسویل کی تعبیر قوانین (ایڈیشن 12) صفحہ 50، 51 اور انگریزی قانون کے ایک مقدمے ری میو (1862ء) 31 ایل۔ جے۔بی۔ کے 87‘ کا حوالہ دیا گیا تھا۔

جن آراء کا اپیل کنندگان نے سہارا لیا ہے، اگر انہیں عدالتی مفہوم میں سنجیدگی سے بھی لیا جائے‘ حالانکہ بات ایسی نہیں ہے تو پھر بھی یہاں اسلام میں رجوع کا اصول لاگو ہوگا۔ عدالت میں جو کچھ ہوا‘ اسے مدنظر رکھتے ہوئے اس پہلو پر زیادہ تفصیل میں جانے کی ضرورت نہیں ہے۔ دونوں علماء ججوں نے بتایا ہے کہ ان کا یہ پختہ عقیدہ ہے کہ اگر دلائل کی سماعت کے بعد انہوں نے اپنی کسی سابقہ رائے سے رجوع کرنے کی ضرورت محسوس کی تو ایسا ضرور کریں گے۔ اب یہ دریافت ہوا ہے کہ دونوں فاضل علماء جج کئی اہم معاملات پر ایسا کر چکے ہیں‘ مثلاً ایک مسئلہ کسی تعزیری جرم میں سزائے موت دینے کا ہے۔ ایک اور مسئلہ دارالحرب میں کسی مسلمان کے سود لینے سے متعلق ہے۔ اس نکتے کے بارے میں وہ دونوں حضرت امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے موقف کے پیروکار ہیں۔ اس کے لیے دیکھئے: حیات امام ابو حنیفہ از محمد ابو زہرہ کا اردو ترجمہ‘ شائع کردہ: ملک سنز۔ اس میں ان کا یہ قول منقول ہے:

صفحہ 299

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول)

یفتی بکلامی‘ وكان اذا افتی یقول: هذا رای ابی حنیفة وهو احسن ما قدرنا علیه‘ فمن جاء باحسن منه فهو اولی بالصواب‘ وكان یقول: ایاکم و راء الرجال. (المیزان للشعرانی۔ جلد 1‘ صفحہ 63‘ طبع مصر)

(ترجمہ:) ”امام ابو حنیفہؒ فرماتے ہیں: جو شخص میری دلیل سے ناواقف ہے‘ اسے میرے کلام سے فتویٰ دینا حرام ہے۔ آپ فتویٰ صادر کرتے وقت ارشاد فرماتے کہ یہ ابو حنیفہ کی رائے ہے جو ہماری بساط کی حد تک سب سے بہتر ہے‘ اگر کسی کو اس سے زیادہ عمدہ قول مل سکے تو وہ زیادہ قرین صحت ہوگا۔ آپ فرمایا کرتے تھے کہ لوگوں کی آراء سے بچو۔“

صرف یہی نہیں ہم نے اعتماد و یقین کی ضامن اس کارروائی کے علاوہ ایک اسی طرح کی صورت پاکستان بنام عبدالولی خان (پی ایل ڈی 1976ء ایس سی 57 صفحہ 188، پاکستان سپریم کورٹ رپورٹس 1975) میں اس عدالت کے طے کردہ ایک اصول کو سامنے رکھا ہے۔ جب اس مقدمے کی سماعت کرنے والے بنچ میں دو ججوں کی شمولیت پر اعتراض کیا گیا تو اس رپورٹ کے صفحہ 214 پر درج حسب ذیل رائے دی گئی:

”جہاں تک بنچ کی تشکیل پر اعتراض کا تعلق ہے تو فاضل وکیل کو پہلے ہی بتا دیا گیا تھا کہ مقدمے کے کسی بھی فریق کو یہ دعویٰ کرنے کا کوئی حق حاصل نہیں کہ اس کا مقدمہ اس کی اپنی پسند کا مخصوص جج سماعت کرے۔ اعلیٰ عدالتوں کے معاملے میں یہ صرف متعلقہ جج یا ججوں کی اپنی مرضی پر منحصر ہے کہ وہ یہ فیصلہ کریں کہ وہ کسی مخصوص مقدمے میں بیٹھیں گے یا نہیں بیٹھیں گے۔ ولی خان کو بتا دیا گیا ہے کہ جن دونوں فاضل ججوں کے خلاف اعتراض کیا گیا ہے‘ انہوں نے یادداشت قلمبند کی ہے جو اب اس مقدمے کے ریکارڈ کا حصہ بن چکی ہے اور انہوں نے کہا ہے کہ انہیں اس مقدمے کی سماعت کے لیے بیٹھنے سے کوئی پریشانی نہیں ہوگی۔ اس اعتراض کی بنیاد محض ظن و تخمین پر رکھی گئی ہے۔ اس لیے یہ ہماری رائے میں بے جواز ہے۔ متعلقہ جج اپنی ذمہ داریوں

صفحہ 300

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول)

سے پوری طرح آگاہ ہیں۔ ایسی کوئی دلیل نہیں ہے کہ وہ اس ریفرنس کی سماعت کے لیے بیٹھنے کے اہل نہیں ہیں۔ اس لیے اس اعتراض کو مسترد کیا جاتا ہے۔“

اس مقدمے میں متعلقہ اصولوں پر بحث کر دی گئی تھی‘ اس لیے مزید کسی بحث کی ضرورت نہیں ہے۔ اپیل کنندگان نے اس مقدمے کا حوالے دینے سے پہلو تہی کرتے ہوئے ایک دوسرے مقدمے چیئر مین فیڈرل لینڈ کمیشن اور دیگر بنام سردار عاشق محمد خان مزاری و 37 دیگر افراد (1985 ایس۔ سی۔ ایم۔ آر 317) کا حوالہ دینے پر اصرار کیا‘ جو معلوم ہوتا ہے‘ رپورٹنگ کے لیے منظور نہیں کیا گیا تھا۔ تاہم جب رپورٹ کے اختتام پر بنچ کے دونوں ججوں کی رائے سے معترض کو آگاہ کیا گیا تو اس مقدمے پر مزید زور نہیں دیا گیا۔ تاہم ولی خان کے مقدمے کو نمایاں کرنے کی پھر کوشش کی گئی۔ ہم نے اس نکتے پر اتفاق نہیں کیا‘ پھر دونوں علماء ججوں سے استفسار کیا گیا کہ آیا وہ اس بینچ میں بیٹھنے میں کسی طرح کی کوئی پریشانی محسوس کریں گے؟ دونوں نے نفی میں جواب دیا۔ یہ ساری کارروائی ایسے متین انداز میں جاری تھی کہ ہمیں حقیقتاً محسوس ہو رہا تھا کہ اپیل نمبر 25/ 1984ء کی سماعت شروع ہو جائے گی۔ لیکن یکا یک اپیل میں شریک اپنے دوسرے ساتھیوں سے مشورہ کیے یا ایڈووکیٹ آن ریکارڈ کو اطلاع دیے بغیر اپیل کنندہ نمبر 1 نے‘ جو اس وقت عدالت میں کھڑا تھا‘ اعلان کر دیا کہ وہ اپیل واپس لیتا ہے۔ ہم نے اسے بتایا کہ اس نے دوسروں سے مشورہ نہیں کیا۔ اس پر اس نے اشارہ کرتے ہوئے جواب دیا کہ ان کا بھی یہی موقف ہے۔ پھر عدالت میں حاضر دوسرے اپیل کنندگان اور ایڈووکیٹ آن ریکارڈ کھڑے ہوئے اور انہوں نے اپیل واپس لے لی۔ نتیجتاً ہم نے اسے خارج کرنے کا حکم دے دیا۔

اس بات پر ہمیں مزید حیرت ہوئی کہ اپیل نمبر 1984/24ء جو جیسا کہ پہلے تذکرہ ہوا‘ اگلے دن پھر ملتوی ہو گئی تھی۔ اس میں شریک دوسرا اپیل کنندہ بھی اٹھا اور اس نے کوئی دلیل دیے یا وجہ بتائے بغیر اپیل واپس لے لی۔ اس امر پر زور دیا جاتا ہے کہ اپیل نمبر 1984/24ء میں ایسی کوئی درخواستیں شامل نہ تھیں جیسی کہ اپیل کنندگان

صفحہ 301

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول)

نے اپیل نمبر 1984/25ء میں دائر کی تھیں۔ تب اسے اپیل میں شریک دوسرے ساتھی کے رویے کے بارے میں دریافت کیا گیا تو اس نے جواب دیا کہ اس سے اس مقصد کے لیے رابطہ قائم کیا جائے گا۔ اگلے دن اس اپیل میں کوئی شخص حاضر نہ ہوا۔ ہم نے کافی دیر انتظار کیا اور پھر مجبوراً اسے اگلی تاریخ پر ملتوی کرنے کا حکم جاری کر دیا۔ اگر چہ حقائق کو سامنے رکھتے ہوئے ضرورت ہوتی تو ایک مقدمے بی۔ زیڈ کیکاؤس بنام وفاقی حکومت پاکستان و دیگران (پی ایل ڈی 1982ء ایس۔سی 409) کی طرح دستبرداری کا فیصلہ بھی دیا جا سکتا تھا۔ ہم نے غیر حاضر فریق کے مفاد میں ایسا کرنے سے احتراز کیا۔ کچھ دیر بعد منظور الٰہی ایڈووکیٹ آن ریکارڈ نے اپنے وکالت نامہ اور دوسری دستاویزات سمیت اپیل کنندہ نمبر 1 کی جانب سے بھی ایک درخواست دائر کی اور اپیل نمبر 1984/24ء واپس لے لی۔ واپس لیے جانے کی وجہ سے ہم نے اسے خارج کر دیا۔

اختتام سے قبل اس امر کا تذکرہ ضروری ہے کہ مقدمے کے ان حالات میں معقولیت کی خاطر ہم نے اپیل کنندگان کے رویے کے پس پردہ نیت اور محرک کا جائزہ لینے یا دریافت کرنے کی کوشش نہیں کی۔ دوسری باتوں کے علاوہ یہاں کئی سوالات پیدا ہوتے ہیں کہ اگر وہ اس بارے میں سنجیدہ تھے تو انہوں نے اپیل کی باقاعدہ سماعت سے قبل ہی پہلی دو درخواستوں خصوصاً زیر بحث فیصلے کے بڑے حصے کو قلم زد کر دینے کی درخواست کا فیصلہ کرنے کی استدعا کیوں کی؟ اس عمل سے اسی بینچ کی جانب سے مقدمے کی حقیقت کا جائزہ لینے کا مسئلہ پیش آتا‘ جس کی تشکیل پر انہوں نے تیسری درخواست میں اعتراض کیا تھا۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ اس وقت تک انہیں یہ خدشہ نہیں تھا کہ اس اہم نکتے پر ان سے انصاف نہیں ہوگا اور سب سے اہم بات یہ ہے کہ جیسا کہ پہلے ذکر ہوا‘ وہ پہلے ہی فیصلہ کر چکے تھے کہ اگر دوسری درخواست نامنظور ہوگئی تو وہ اپیل پر زور نہیں دیں گے۔ اگر انہوں نے اسی وجہ سے اپیل واپس لینا تھی تو پھر ایسا اس مرحلے پر کیوں نہیں کیا گیا‘ جب ہم نے ان کی سب سے زیادہ غیر معمولی استدعا کو مسترد کر دیا‘ اور یہ بے بنیاد اعتراض اٹھایا گیا کہ عدالت کے کچھ ارکان متعصب ہیں‘

صفحہ 302

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول)

حالانکہ وہ اپیل پر زور نہ دینے کا فیصلہ پہلے ہی کر چکے تھے۔

مذکورہ بالا حقائق اور حالات کو سامنے رکھتے ہوئے دونوں شریعت اپیلیں نمبر 24 اور 25 برائے 1984ء واپس لیے جانے کی وجہ سے خارج کی جاتی ہیں اور قرار دیا جاتا ہے کہ وفاقی شرعی عدالت کا زیر بحث فیصلہ ملک میں نافذ العمل رہے گا۔ خرچ کا کوئی حکم جاری نہیں کیا گیا۔

دستخط تاریخ فیصلہ جسٹس محمد افضل ظلہ (چیئرمین) 11 جنوری 1988ء جسٹس ڈاکٹر نسیم حسن شاہ جج جسٹس شفیع الرحمٰن جج جسٹس پیر محمد کرم شاہ الازہری جج جسٹس مولانا محمد تقی عثمانی جج

(PLD 1988 Supreme Court 167)

۞.......۞.......۞

حاشیہ:

(1) اسلامی تنظیموں کی عالمی کانفرنس (موتمر المنظمات الاسلامية فی العالم) کی طرف اشارہ ہے جو 14 تا 18 ربیع الاول 1394ھ (اپریل 1974ء) رابطہ عالم اسلامی کے زیر اہتمام مکہ مکرمہ سعودی عرب میں منعقد ہوئی تھی۔ اس میں دنیا بھر کی اسلامی تنظیموں اور حکومتوں کے 140 نمائندہ وفود شریک ہوئے تھے۔ اس کانفرنس نے قادیانیوں کے بارے میں جو قرارداد اتفاق رائے سے منظور کی تھی وہ یہ ہے:

’’قادیانیت یا احمدیت‘‘ یہ ایک ایسا تخریبی گروہ ہے جو اپنے ناپاک مقاصد کو چھپانے کے لیے اسلام کا نام استعمال کرتا ہے۔ اس کے اسلامی تعلیمات کے منافی بنیادی امور یہ ہیں:

قادیانیت برطانوی سامراج کی پروردہ ہے اور یہ اسی کی حمایت اور سرپرستی میں ترقی کر رہی

صفحہ 303

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول)

ہے۔ یہ امت مسلمہ کے مسائل اور معاملات میں خیانت کرتی رہی ہے اور سامراج اور صیہونیت کی وفادار ہے۔ قادیانیت اسلام دشمن طاقتوں سے تعاون کرتے ہوئے اسلامی عقائد اور تعلیمات کو مسخ کرنے اور ان میں تحریف کرنے کے لیے ان کے آلہ کار کے طور پر کام کرتی ہے۔ ان مقاصد کے لیے قادیانیت یہ ذرائع اختیار کرتی ہے:

افکار کی تعلیم دی جاتی ہے۔

علاوہ ازیں قادیانی مختلف عالمی اور مقامی زبانوں میں قرآن کریم کے تحریف شدہ تراجم کی اشاعت کرتے ہیں۔

ان خطرات کا مقابلہ کرنے کے لیے کانفرنس سفارش کرتی ہے کہ:

اور یتیم خانوں کے اندر محدود کیا جائے۔ نیز مسلمانان عالم کو ان کے ہتھکنڈوں سے بچانے کے لیے عالم اسلام کو ان کی حقیقت اور سیاسی سرگرمیوں سے آگاہ کیا جائے۔

میں ان کا داخلہ ممنوع قرار دیا جائے۔

بائیکاٹ کیا جائے، نہ ان سے شادی بیاہ کیا جائے اور نہ انہیں مسلمانوں کے قبرستان میں دفن کیا جائے۔ ان سے ہر طرح، کافروں جیسا برتاؤ کیا جائے۔

اسلام دشمن سرگرمیوں کو روکیں اور انہیں غیر مسلم اقلیت قرار دیں اور انہیں حکومت کی کلیدی اسامیوں پر تعینات نہ کریں۔

لوگوں کو ان سے متنبہ کیا جائے۔ نیز ان تراجم کی نشر و اشاعت کو روکا جائے۔

۞.......۞.......۞

صفحہ 304

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول)

صفحہ 305

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول)

PLD 1987 Lahore 458

لاہور ہائی کورٹ لاہور

ملک جہانگیر ایم جوئیہ بنام سرکار

…… جناب جسٹس محمد رفیق تارڑ

قادیانیوں کی کلمہ طیبہ کی توہین پر لاہور ہائی کورٹ کا

تاریخی فیصلہ

جس میں قادیانیت کے بھیانک چہرے سے نقاب اُٹھایا گیا ہے۔

صفحہ 306

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول)

”مرزا قادیانی نے بذاتِ خود ”محمد رسول اللہ“ ہونے کا اعلان کیا اور ان تمام لوگوں کے خلاف بے حد غلیظ زبان استعمال کی جنہوں نے اس کی جھوٹی نبوت کے دعوے کو مسترد کیا اور اس (مرزا قادیانی) نے خود اعلان کیا کہ وہ برطانوی سامراج کی پیداوار یعنی اس کا ”خودکاشتہ پودا“ ہے۔ لہٰذا جب وہ اس بات کا دعویٰ کرتا ہے کہ وہ خود ”محمد رسول اللہ“ ہے اور اس کے پیروکار اس کو ایسا ہی مانتے ہیں، تو اس صورت میں وہ رسول اکرم حضرت محمد ﷺ کی شدید توہین اور تحقیر کے مرتکب ہوتے ہیں۔“

صفحہ 307

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول)

دل کی بات

(مقدمہ کا پس منظر، احوال، نتیجہ)

الحمد للہ وحدہ والصلوۃ والسلام علی من لا نبی بعدہ اما بعد 1984ء میں حکومت نے قادیانیوں کی خلاف اسلام سرگرمیوں کو روکنے کے لیے امتناع قادیانیت آرڈیننس جاری کیا جس کے تحت قادیانیوں کے دونوں گروہوں (ربوی، لاہوری) کو شعائر اسلامی کے استعمال سے روک دیا گیا۔ اس پر قادیانی جماعت کے سربراہ مرزا طاہر نے پاکستان میں بسنے والے تمام قادیانیوں کو حکم جاری کیا کہ وہ اس آرڈیننس کی خلاف ورزی کرتے ہوئے اپنے مکانوں‘ دکانوں اور عبادت گاہوں پر کلمہ طیبہ تحریر کریں اور سینوں پر کلمہ طیبہ کے بیج لگائیں‘ تاکہ وہ عوام الناس میں خود کو مسلمان ظاہر کرسکیں۔ چنانچہ قادیانیوں نے اپنے گاڈ فادر کے حکم پر یہ فعل شنیع شروع کردیا۔ اس اشتعال انگیز کارروائی سے پورے ملک کے مسلمانوں میں غم وغصہ کی لہر دوڑ گئی۔ ”روڈہ“ ضلع خوشاب کے رہنے والے ایک قانون شکن، اکھڑ مزاج‘ فرعون صفت اور دریدہ دہن قادیانی جہانگیر جوئیہ ایڈووکیٹ نے قسم کھائی کہ وہ ساری زندگی اپنے سینہ سے کلمہ طیبہ کا بیج نہیں اتارے گا۔ جہانگیر جوئیہ ایڈووکیٹ خوشاب کا زمیندار تھا اور وہیں وکالت کرتا تھا۔ مقامی مسلمانوں نے اس کی دل آزار حرکتوں پر پولیس سے رابطہ قائم کیا اور اس کے خلاف مقدمہ درج کرایا۔ عدالت میں چالان پیش ہوا تو جہانگیر جوئیہ نے ضمانت کرالی۔ چند دنوں بعد اس نے دوبارہ پھر قانون کی خلاف ورزی کرتے ہوئے کلمہ طیبہ کا بیج لگا لیا۔ اس کے خلاف دوبارہ مقدمہ درج ہوا‘ لیکن پھر ضمانت پر رہا ہوگیا۔ اسی طرح کئی مرتبہ وہ قانون کی دھجیاں اڑاتا اور ضمانت پر رہا ہوتا رہا۔ ایک دفعہ پھر اس نے شعائر اسلامی کی توہین کی اور

صفحہ 308

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول)

پیشی پر عدالت میں بیج لگا کر آیا۔ سیشن جج نے بار بار جرم کا اعادہ کرنے پر اس کی ضمانت خارج کر دی۔ ملزم جوئیہ نے لاہور ہائی کورٹ میں اپیل دائر کر دی۔ ہائی کورٹ کے جناب جسٹس محمد رفیق تارڑ نے ملزم کی ضمانت خارج کرتے ہوئے کہا کہ چونکہ قادیانی اپنے عقائد کے مطابق ”محمد رسول اللہ“ سے مراد ”مرزا قادیانی“ لیتے ہیں، اس لیے وہ توہین رسالت ﷺ کے مرتکب ہوتے ہیں۔ عدالت نے اپنے فیصلہ میں لکھا:

لوگوں کے خلاف بے حد غلیظ زبان استعمال کی جنہوں نے اس کی جھوٹی نبوت کے دعوے کو مسترد کیا اور اس (مرزا قادیانی) نے خود اعلان کیا کہ وہ برطانوی سامراج کی پیداوار یعنی اس کا ”خود کاشتہ پودا“ ہے۔ لہٰذا جب وہ اس بات کا دعویٰ کرتا ہے کہ وہ خود ”محمد رسول اللہ“ ہے اور اس کے پیروکار اس کو ایسا ہی مانتے ہیں، تو اس صورت میں وہ رسول اکرم حضرت محمد ﷺ کی شدید توہین اور تحقیر کے مرتکب ہوتے ہیں۔“

اس ادعا کی حمایت میں انہوں نے مرزا بشیر احمد (قادیانی) کی تصنیف ”کلمتہ الفصل“ ص 158 سے ایک اقتباس پیش کیا، جو یوں ہے:

میں تشریف لائے۔ اس لیے ہم کو کسی نئے کلمہ کی ضرورت نہیں۔ ہاں اگر محمد رسول اللہ کی جگہ کوئی اور آتا تو ضرورت پیش آتی۔“

پنجاب حکومت کی طرف سے ایڈووکیٹ جنرل جناب خلیل الرحمن رمدے پیش ہوئے۔ بعد ازاں وہ سپریم کورٹ کے جج مقرر ہوئے۔ جناب خلیل الرحمن رمدے نے اس کیس کو کفر و اسلام کی جنگ سمجھ کر لڑا۔ انہوں نے اپنے دلائل قاہرہ کے ہتھوڑوں سے عدالت کے ایوان میں قادیانی کفر و ارتداد کے بتوں کو پاش پاش کر دیا۔ حضرت محمد عربی ﷺ کی عزت و ناموس کے اس محافظ نے قادیانیوں کو وہ چرکے لگائے کہ قادیانی آج بھی ان زخموں کو چاٹ رہے ہیں۔ میرا دل کہتا ہے کہ وکیل ختم نبوت اور محبت رسول ﷺ کی دولت سے لبریز جناب خلیل الرحمن رمدے نے دنیا کے میدان میں آمنہؓ

صفحہ 309

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول)

کے لعل ﷺ کی عزت و ناموس کی حفاظت کا کیس لڑ کر حشر کے میدان کے لیے شفاعت محمدی ﷺ کا پروانہ حاصل کر لیا ہے۔ اللہ تعالیٰ انہیں اپنی رحمت کے سایہ میں رکھے اور مزید ترقیوں سے نوازے۔ جناب سیّد ریاض الحسن گیلانی، ڈپٹی اٹارنی جنرل پاکستان اور جناب رشید مرتضیٰ قریشی ایڈووکیٹ نے بھی بڑی جانفشانی اور جگر کاوی سے مقدمہ کی تیاری کی اور پوری اُمت کی طرف سے وکالت کا حق ادا کر دیا۔ ان کے دلائل کا ہر ہر جملہ قادیانیت کے ناپاک جسد پر بجلی بن کر گرتا اور اسے جلا کر خاکستر بناتا محسوس ہوتا‘ جبکہ حزب شیطان کی طرف سے مجیب الرحمٰن‘ ملک مجید اور مرزا نصیر احمد ایڈووکیٹس نے پیش ہو کر دنیا و آخرت کی روسیاہی کا سامان اکٹھا کیا۔

قادیانی سربراہ مرزا طاہر‘ جہانگیر جوئیہ کو شیر پنجاب کے نام پکارتا تھا‘ لیکن یہ شیر پنجاب صرف چند پٹخنیوں ہی سے گیدڑ پنجاب بن گیا۔ بعد میں مرزا طاہر پھر جہانگیر جوئیہ کو کلمہ طیبہ کا بیج لگانے کی ترغیب دیتا رہا لیکن جہانگیر جوئیہ اسے جواباً کہتا کہ ”گرو جی! خود تو انگلستان کی ہواؤں میں گل چھرے اڑا رہے ہو‘ جبکہ ہمیں جیل کی ہوائیں کھلا رہے ہو۔“

اس تاریخی کیس میں شاہین ختم نبوت حضرت مولانا اللہ وسایا مدظلہ کا کردار قابل صد ستائش ہے۔ اس کے علاوہ سرگودھا کے جناب شیخ جہانگیر سرور ایڈووکیٹ‘ مولانا اکرم عابد‘ جناب محمد بدر عالم‘ جناب جمال الدین‘ جناب بشیر صاحب‘ رانا قدیر‘ عبدالقدیر اور شبان ختم نبوت کے دیگر مجاہدوں نے بے حد تعاون فرمایا۔ اللہ رب العزت ان سب حضرات کو جزائے خیر عطا فرمائے اور ان کی کاوشوں کو اپنی بارگاہ میں قبولیت بخشے۔ (آمین)

طالب شفاعت محمدی ﷺ بروز محشر محمد متین خالد لاہور

صفحہ 310

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول)

PLD 1987 Lahore 458

لاہور ہائی کورٹ لاہور

(ابتدائی معلومات)

بعدالت جناب جسٹس محمد رفیق تارڑ

ملک جہانگیر ایم جوئیہ بنام سرکار

متفرق فوجداری نمبر ............. 1592۔ بی / 1987 فریق اول ............. ملک جہانگیر ایم جوئیہ (پیٹشنر) فریق ثانی ............. سرکار (ریسپانڈنٹ) فریق اول کے وکلاء ............. شیخ مجیب الرحمٰن، ملک محمود مجید اور مرزا نصیر احمد ایڈووکیٹ فریق ثانی کے وکلاء ............. خلیل الرحمٰن رمدے ایڈووکیٹ جنرل، اویس نسیم ایڈووکیٹ وکیل مستغیث ............. رشید مرتضیٰ قریشی ایڈووکیٹ ............. اے ۔ ایس ۔ آئی، امیر خاں مع ریکارڈ تاریخ سماعت ............. 28 جون 1987ء تاریخ فیصلہ ............. 28 جون 1987ء

صفحہ 311

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول)

فیصلہ

جسٹس محمد رفیق تارڑ

سے ہے، جس پر تعزیرات پاکستان کی دفعہ 298۔سی کے تحت جرم کا الزام ہے۔

ملزموں نے، جو بلحاظ عقیدہ قادیانی ہیں، اپنے سینوں پر ”کلمہ طیبہ“ کے بیج لگائے اور اس طرح تعزیرات پاکستان کی دفعہ 298۔سی کے تحت جرم کا ارتکاب کیا۔

لیے درخواست گزاری۔ مذکورہ ساتھی ملزموں کی ضمانت ایڈیشنل سیشن جج نے منظور کر لی۔ لیکن سائل کو یہ رعایت دینے سے اس لیے انکار کر دیا گیا کہ وہ قانون کی نظر میں ”اڑیل رویہ“ رکھتا ہے اور ضمانت کے بعد اس رعایت کا ناجائز فائدہ اٹھاتا رہے گا۔

لیے تھے کہ سید ریاض الحسن گیلانی ایڈووکیٹ نے نکتہ پیش کیا کہ یہ جرم تعزیرات پاکستان کی دفعہ 295۔سی کے تحت آتا ہے جو عمر قید یا سزائے موت کے قابل ہے۔ ان کا استدلال تھا کہ مرزا قادیانی نے بذات خود ”محمد رسول اللہ“ ہونے کا دعویٰ کیا تھا اور اس کے پیروکار اسے ایسا ہی مانتے ہیں، لہٰذا وہ ”کلمہ طیبہ“ کا بیج لگا کر رسول اکرم حضرت محمد ﷺ کے مقدس نام کو پامال کرتے ہیں کیونکہ وہ ”محمد رسول اللہ“ سے مراد ”مرزا قادیانی“ لیتے ہیں۔ اس ادعا کی حمایت میں انہوں نے مرزا بشیر احمد (قادیانی) کی تصنیف ”کلمۃ الفصل“ ص 158 سے ایک اقتباس پیش کیا، جو یوں ہے:

صفحہ 312

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول)

میں تشریف لائے۔ اس لیے ہم کو کسی نئے کلمہ کی ضرورت نہیں۔ ہاں اگر محمدؐ رسول اللہ کی جگہ کوئی اور آتا تو ضرورت پیش آتی۔‘‘

شیخ مجیب الرحمٰن نے مذکورہ بالا اقتباس کے مندرجات سے اختلاف نہیں کیا۔ تاہم انہوں نے کہا کہ وہ عقیدے سے متعلق اس مسئلے پر بحث نہیں کرنا چاہتے اور درخواست کی کہ اس عبارت کے بارے میں ان کا بیان قلمبند کر لیا جائے۔

مقدمے کی کارروائی ملتوی کرنے کی درخواست کی اور مقدمہ 14 جون 1987ء تک ملتوی کر دیا گیا۔ مقررہ تاریخ کو شیخ مجیب الرحمٰن، ملک محمود مجید اور مرزا نصیر احمد ایڈووکیٹ صاحبان نے درخواست ضمانت کی واپسی کے لیے درخواست گزاری۔ اس درخواست میں یہ عذر پیش کیے گئے کہ دلائل کے دوران سائل کے وکیل (شیخ مجیب الرحمٰن ایڈووکیٹ) نے استدعا کی تھی کہ دلائل کو محض ضمانت کے مسئلے تک محدود رکھا جائے اور یہ کہ ’’وہ تفصیلی بحث اس لیے چھیڑنا نہیں چاہتے کہ کہیں مقدمہ خاص کے موضوعات زیر بحث نہ آجائیں اور یوں اس کارروائی سے استغاثہ یا صفائی کے معاملات متاثر نہ ہوں۔‘‘ اس درخواست میں یہ بھی بیان کیا گیا کہ مذکورہ وکیل نے اس امر کی درخواست بھی کی تھی کہ اس ضمن میں ان کا بیان قلمبند کر لیا جائے لیکن اس کو ’’قلمبند نہ کیا جا سکا‘‘ اور مقدمے کی کارروائی فاضل ایڈووکیٹ جنرل کی درخواست پر ملتوی کر دی گئی جو اسمبلی چیمبرز میں جانا چاہتے تھے۔ علاوہ ازیں یہ بھی گزارش کی گئی کہ ’’بعض غیر متعلقہ معاملات زیر بحث لائے گئے اور ایسا معلوم ہوتا تھا کہ عدالت ان معاملات کے بارے میں وسیع پیمانے پر تحقیقات کرانے والی ہے جن کا ایف۔ آئی۔ آر میں تذکرہ نہیں کیا گیا، اور جو غالباً تحقیقات یا سماعت مقدمہ کے لیے زیادہ مناسب موضوع ہے‘‘ اور ’’اندریں حالات سائل محسوس کرتا ہے کہ انصاف کے مفاد میں یہ بہتر ہوگا کہ فی الحال ضمانت کی درخواست واپس لے لی جائے۔‘‘

صفحہ 313

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول)

فاضل ایڈووکیٹ جنرل نے اس درخواست کے مندرجات اور اس میں استعمال شدہ زبان پر سخت اعتراض کیا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اس میں جو باتیں اشاروں کنایوں میں کہی گئی ہیں وہ توہین عدالت کے ذیل میں آتی ہیں، لہٰذا انہیں جوابی بیان داخل کرنے کا موقع دیا جائے تاکہ درست واقعاتی اور قانونی صورت حال ریکارڈ پر لائی جاسکے۔ یہ مسئلہ 22 جون 1987ء اور پھر 28 جون 1987ء تک ملتوی کیا گیا، جس تاریخ کو فاضل ایڈووکیٹ جنرل نے اپنے دلائل پیش کیے اور رشید مرتضیٰ قریشی ایڈووکیٹ نے درخواست برائے واپسی کا جواب داخل کیا، جس میں بیان کیا گیا کہ درخواست ضمانت کی واپسی کی کوشش اس بدنیتی پر مبنی ہے کہ تعزیرات پاکستان کی دفعہ 295-سی کی اطلاق پذیری کے مسئلے پر عدالتی فیصلے سے بچا جاسکے۔ انہوں نے مرزا قادیانی کی تصنیفات ’’ایک غلطی کا ازالہ‘‘۔ ’’آئینہ کمالات اسلام‘‘ اور ’’تبلیغ رسالت‘‘ سمیت قادیانی گروہ کی بہت سی مذہبی کتابوں کے حوالہ جات کی مدد سے یہ ثابت کیا کہ مرزا قادیانی نے بذات خود ’’محمد رسول اللہ‘‘ ہونے کا اعلان کیا، اور ان تمام لوگوں کے خلاف بے حد غلیظ زبان استعمال کی، جنہوں نے اس کی جھوٹی نبوت کے دعوے کو مسترد کیا، اور اس (مرزا قادیانی) نے خود اعلان کیا کہ وہ برطانوی سامراج کی پیداوار یعنی اس کا ’’خودکاشتہ پودا‘‘ ہے۔ لہٰذا جب وہ اس بات کا دعویٰ کرتا ہے کہ وہ خود ’’محمد رسول اللہ‘‘ ہے اور اس کے پیروکار اس کو ایسا ہی مانتے ہیں، تو اس صورت میں وہ رسول اکرم حضرت محمد ﷺ کی شدید توہین اور تحقیر کے مرتکب ہوتے ہیں۔ مذکورہ بالا حوالہ جات کو مدنظر رکھتے ہوئے اس امر کی گزارش کی جاتی ہے کہ عقیدے کے سوال پر بحث وتمحیص ناگزیر ہے کیونکہ قادیانی لوگ ’’کلمہ طیبہ‘‘ سے جو مفہوم وابستہ کرتے ہیں، اس کا بطور خاص جائزہ لینا ضروری ہے جبکہ وہ مرزا قادیانی اور دیگر قادیانیوں کی ان تحریروں کی مخالفت بھی نہیں کرتے، جن میں کلمہ طیبہ کے الفاظ ’’محمد رسول اللہ‘‘ سے ان کا اپنا ہی اخذ کردہ مطلب وابستہ کیا گیا ہے۔ مذکورہ بالا درخواست کی ایک نقل عدالت میں سائل کے وکیل کو فراہم کر دی گئی، نیز ان سے دریافت کیا گیا کہ آیا وہ جواب میں کوئی

صفحہ 314

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول)

گزارش کرنا پسند کریں گے تو انہوں نے بیان دیا کہ درخواست برائے واپسی کے متعلق وہ مزید کچھ نہیں کہنا چاہتے۔

ہے (ایسا عدالت میں بیان کیا گیا لیکن درخواست برائے واپسی میں یہ الفاظ استعمال ہوئے کہ ”دیگر موضوعات زیر بحث آنے کا احتمال ہے“ اور ”جن معاملات کا ایف۔ آئی۔ آر میں تذکرہ نہیں“) محض اس لیے اختیار کیا گیا کہ فاضل ایڈووکیٹ جنرل اور فاضل وکیل استغاثہ کی طرف سے اٹھائے گئے سوال سے پہلو تہی کی جاسکے۔ اس امر کی نشاندہی بھی ایک معقول بات ہوگی کہ درخواست ضمانت میں یہ حجت پیش کی گئی کہ غیر مسلموں کے کلمہ طیبہ کو استعمال کرنے کے بارے میں کوئی معینہ قانون نہیں ہے ......“ میں اس مبینہ دعوے پر کوئی تفصیلی تبصرہ کرنا نہیں چاہتا کیونکہ متعلقہ درخواست ضمانت واپس لے لی گئی ہے۔ البتہ اس سلسلے میں جو باتیں اشاروں کنایوں میں کہی گئی ہیں، ان کے پیش نظر یہ بتا دینا ضروری ہے کہ غیر مسلم قادیانی کلمہ طیبہ کو جن معنوں میں لیتے ہیں یا اس سے جو مفہوم وہ وابستہ کرتے ہیں، وہ بہرحال یہ تقاضا کرتا ہے کہ آیا ان لوگوں کا یہ عمل، جس کے خلاف شکایت کی گئی ہے، رسول اکرم حضرت محمد (ﷺ) کے مقدس نام کی توہین کے زمرے میں آتا ہے؟

کرتا، بشرطیکہ مطلقاً خاص درخواست واپس لینے کی استدعا کی جاتی۔ لیکن سائل کے فاضل وکیل نے نامناسب زبان استعمال کرنے اور اشاروں کنایوں میں غیر ضروری باتوں کا اظہار کرنے کا انتخاب کیا۔ فاضل ایڈووکیٹ جنرل نے گزارش کی کہ ان تبصروں سے توہین کا پہلو نکلتا ہے۔ اس صورت حال میں یہ لازم تھا کہ درخواست واپسی اور اس سلسلے سے متعلق جواب کے مندرجات قلمبند کیے جائیں۔ جہاں تک توہین آمیز رویے کا تعلق ہے، جو اس کارروائی کے شروع ہوتے ہی دیکھنے میں آیا، تو اگرچہ اس کی استعمال کردہ زبان میں بے اعتدالی ہے اور اس کے اشاروں کنایوں سے توہین آمیزی ٹپکتی ہے

صفحہ 315

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول)

لیکن چونکہ یہ درخواست برائے واپسی تیار کرنے والے ایڈووکیٹ صاحبان ایک اقلیتی گروہ سے تعلق رکھتے ہیں۔ لہٰذا اس عدالت کو خیر اندیشی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس سلسلے میں مزید کارروائی کرنے سے ہاتھ روک لینا چاہیے۔

اس اظہار رائے کے ساتھ مذکورہ درخواست ضمانت بطور دستبرداری خارج کی جاتی ہے۔

دستخط تاریخ فیصلہ جسٹس محمد رفیق تارڑ 28 جون 1987ء

(PLD 1987 Lahore 458)

صفحہ 316

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول)

صفحہ 317

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول)

THE CONSTITUTION

OF THE

ISLAMIC REPUBLIC

OF PAKISTAN

1982 CLC 357

لاہور ہائی کورٹ لاہور

مسعود احمد بنام ممبر (ریونیو) بورڈ آف ریونیو و دیگران

...... جناب جسٹس میاں محبوب احمد

لاہور ہائی کورٹ کا گراں قدر فیصلہ

”کوئی قادیانی مسلم اکثریت والے گاؤں کا نمبردار نہیں ہو سکتا“

صفحہ 318

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول)

”کوئی قادیانی مسلم اکثریت والے گاؤں کا نمبر دار نہیں ہو سکتا“

صفحہ 319

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول)

دل کی بات

(مقدمہ کا پس منظر، احوال، نتیجہ)

الحمد للہ وحدہ والصلوۃ والسلام علی من لا نبی بعدہ اما بعد فیصل آباد (لائل پور) کے ایک گاؤں کی نمبرداری کی سیٹ خالی ہونے پر دیگر امیدواروں کے علاوہ قادیانی بھی نمبرداری کے لیے آئے۔ معاملہ اسسٹنٹ کمشنر کے روبرو پیش ہوا۔ انہوں نے مکمل جانچ پڑتال کے بعد ایک مسلمان امیدوار کو نمبرداری کے فرائض تفویض کر دیئے۔ ان دنوں فیصل آباد سرگودھا ڈویژن میں شامل تھا۔ قادیانی گروہ نے سرگودھا کمشنر کے ہاں اپیل دائر کی، جو خارج کر دی گئی۔ انہوں نے ریونیو بورڈ میں اور وہاں سے مسترد ہونے پر عدالت عالیہ لاہور میں رٹ دائر کر دی۔ لاہور ہائی کورٹ کے جناب جسٹس میاں محبوب احمد نے کیس کی سماعت کی اور قادیانی موقف رد کرتے ہوئے میرٹ پر رٹ خارج کر دی۔ انہوں نے اپنے فیصلہ میں قرار دیا کہ ”کوئی قادیانی مسلم اکثریت والے گاؤں کا نمبردار نہیں ہو سکتا“۔

بعد ازاں جناب میاں محبوب احمد صاحب، لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس مقرر ہوئے اور پھر وفاقی شرعی عدالت کے چیف جسٹس کے عہدہ پر بھی فائز رہے۔ حق تعالیٰ ان کی عزتوں میں برکت نصیب فرمائیں۔ یہ فیصلہ بھی کتاب میں شامل کرنے پر خوشی ہے۔ اللہ رب العزت ہم سب کو حضور نبی کریم کی عزت و ناموس کا تحفظ کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین

طالب شفاعت محمدی ﷺ بروز محشر محمد متین خالد لاہور

صفحہ 320

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول)

1982 CLC 357

لاہور ہائی کورٹ لاہور

مسعود احمد بنام ممبر (ریونیو) بورڈ آف ریونیو و دیگران

فیصلے کا اہم نکتہ:

صفحہ 321

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول)

1982 CLC 357

لاہور ہائی کورٹ لاہور

(ابتدائی معلومات)

بعدالت جناب جسٹس میاں محبوب احمد

رٹ پٹیشن نمبر 5637 لغایت 1981 فریقین: مسعود احمد ............ درخواست گزار

بنام

ممبر (ریونیو) بورڈ آف ریونیو و دیگران ............ مسئول الیہان پیروی: مظفر قادر ایڈووکیٹ ...... درخواست گزار کی طرف سے پیش ہوئے

تاریخ فیصلہ: 2 دسمبر 1981ء

صفحہ 322

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول)

فیصلہ

جسٹس میاں محبوب احمد

یہ رٹ پٹیشن جو عبوری دستور کے آرٹیکل 9 کے حکم مجریہ 1981 بشمول قوانین کے (مسلسل نفاذ) کے حکم مجریہ 1977 کے تحت دائر کی گئی ہے۔

مورخہ 10 ستمبر 1981ء، 19 جولائی 1977ء اور 31 جنوری 1977ء کو علی الترتیب فاضل ممبر (ریونیو) بورڈ آف ریونیو پنجاب لاہور کمشنر سرگودھا ڈویژن سرگودھا اور اسسٹنٹ کمشنر / کلکٹر لائل پور کے جاری کردہ احکام کو چیلنج کیا گیا ہے۔

حقائق جن کا اس پٹیشن کی اغراض کے لیے اختصار کے ساتھ بیان کرنا ضروری ہے‘ یہ ہیں کہ ظفر الحق نمبردار چک 121 ج۔ب‘ تحصیل وضلع لائل پور کی وفات پر خالی اسامی کو پر کرنے کے لیے ایک عام اعلان کے ذریعے درخواستیں طلب کی گئیں۔

صدر دین نامی شخص کو اے۔سی / کلکٹر لائل پور کے حکم سے 30 نومبر 1972ء کو نمبردار مقرر کر دیا گیا۔ اس تقرری کو کمشنر سرگودھا ڈویژن کی عدالت میں چیلنج کیا گیا‘ جس نے مورخہ 29 مئی 1973ء کے حکم کی رُو سے اے۔سی / کلکٹر لائل پور کو از سر نو تصفیہ کے لیے بھجوا دیا۔

صدر دین نے کمشنر سرگودھا ڈویژن کے حکم کے خلاف فاضل ممبر (ریونیو) بورڈ آف ریونیو پنجاب کی عدالت میں اپیل دائر کی تو وہ بھی خارج کر دی گئی۔ اس پر اس نے ہائی کورٹ میں رٹ (رٹ پٹیشن نمبر 1936 لغایت 1973) دائر کر دی۔ صدر دین پٹیشن کی سماعت کے دوران چل بسا۔ اس پٹیشن میں ہائی کورٹ کے صادر کردہ فیصلہ کے پیش نظر مقابلہ میں شریک امیدواروں کو سننے اور سفارشات پیش کرنے

صفحہ 323

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول)

کے لیے معاملہ تحصیل دار کو بھیج دیا گیا۔

لائل پور کے فاضل اے سی۔ / کلکٹر نے تحصیل دار کی سفارشات موصول ہونے پر تینوں امیدواروں کی خوبیوں / خامیوں کی جانچ پڑتال کرنے کے بعد آخر کار اپنے حکم مورخہ 31 جنوری 1977ء کی رُو سے محمد منیر مسئول الیہ نمبر 4 کو نمبردار مقرر کر دیا۔ فاضل اے۔سی نے جن باتوں کو وزن دیا‘ وہ حسب ذیل تھیں:

جہاں تک اس منصب کے لیے مقابلہ میں شریک امیدواروں یعنی عبدالمجید اور مسعود احمد کا تعلق ہے‘ فاضل اے۔سی نے دیکھا کہ وہ دونوں‘ چک میں رہائش نہیں رکھتے۔ ان میں سے ایک جرمنی میں مقیم تھا جب کہ دوسرے مسعود احمد درخواست گزار کی سکونت سرگودھا میں تھی‘ جہاں وہ کتابیں بیچنے کا کاروبار کرتا تھا۔ وہ کم اراضی کے مالک تھے اور اقلیتی برادری سے تعلق رکھتے تھے‘ یعنی احمدی تھے۔

اے۔سی / کلکٹر کے حکم پر مطمئن نہ ہوتے ہوئے درخواست گزار نے کمشنر سرگودھا ڈویژن کے ہاں اپیل کی جس نے اپنے حکم مورخہ 19 جولائی 1977ء کی رُو سے اسے کالعدم کر دیا۔ فاضل کمشنر نے اے۔سی / کلکٹر کی تجویز (Findings) سے اتفاق کیا اور یہ بھی دیکھا کہ درخواست گزار کے بچہ نے حال ہی میں گاؤں کے سکول میں داخلہ لیا ہے اور یہ کہ وہ علاقہ کے راشن ڈپو سے کوئی راشن حاصل نہیں کر رہا۔ اس نے نتیجہ اخذ کیا کہ یہ عوامل بھی اس امر واقعہ کو تقویت پہنچاتے ہیں کہ درخواست گزار (مسعود احمد) چک میں رہائش پذیر نہیں ہے، چنانچہ اس کے کیس پر مغربی پاکستان قواعد مالیہ اراضی 1968ء کے تحت قاعدہ 18 (2) میں شامل نااہلیت کا اطلاق ہوتا ہے یعنی وہ نااہل ہے۔

صفحہ 324

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول)

سائل نے فاضل کمشنر کے حکم سے بھی خود کو مظلوم سمجھتے ہوئے فاضل ممبر (ریونیو) بورڈ آف ریونیو کے ہاں نظر ثانی کی درخواست دے دی، جس نے اپنے حکم مورخہ 10 ستمبر 1981ء کے تحت سابقہ فیصلہ کو اس بناء پر کالعدم قرار دیا کہ نچلی دونوں عدالتیں اپنی تجویز میں متفق الرائے ہیں، اس لیے زیر نظر آئینی پٹیشن دائر کی گئی ہے۔

سائل کے فاضل وکیل کا استدلال تھا کہ نچلے دونوں فورموں نے یہ سمجھتے ہوئے کہ نمبردار کی تقرری مغربی پاکستان قواعد لگان اراضی مجریہ 1968 کے قاعدہ 17 کے تحت کی گئی ہے، معاملہ کا غلط فیصلہ کر دیا اور یہ حقیقت نظر انداز کر دی کہ یہ محض جانشین کی تقرری کا کیس ہے جس پر قواعد مذکورہ بالا کے قاعدہ 19 کا اطلاق ہوتا ہے۔ اس نے مزید دلیل دی کہ احمدی ہونا کوئی نااہلیت نہیں کیونکہ نمبرداری کا فیصلہ ”ارائیں“، ”جاٹ“، ”راجپوت“، ”گوجر“ اور ”سید“ وغیرہ ہونے کی بنیاد پر کیا جاتا ہے، مذہب کی بنیاد پر نہیں۔ اور یہ کہ سائل کے احمدی ہونے کی وجہ سے نچلی عدالتوں نے تعصب سے کام لیتے ہوئے اس کے خلاف غلطی پر مبنی فیصلہ صادر کیا۔

مجھے افسوس ہے کہ سائل کی طرف سے پیش کردہ دلائل میں کوئی وزن نہیں۔

سماعت کرنے والے مقتدر حکام نے نمبردار کی تقرری کے معاملہ کو قاعدہ 17 کے تحت نہیں سمجھا بلکہ قاعدہ 19 کے تحت لیا ہے۔ صادر کردہ احکام پر ایک نظر ڈالنے سے پتہ چلتا ہے کہ سماعت کے دوران مختلف امیدواروں کی خوبیوں اور خامیوں کو جانچا گیا تھا اور واقعاتی تجویز کی روشنی میں جس پر نچلی تمام عدالتیں متفق ہیں، یہ فیصلہ کیا گیا کہ مسئول الیہ نمبر 4 درخواست گزار کے مقابلے میں زیادہ موزوں ہے۔ درخواست گزار کے مرحوم کے ساتھ رشتہ پر بھی غور کیا گیا، لیکن یہ دیکھتے ہوئے کہ وہ علاقہ سے غیر حاضر رہتا ہے اور چک میں رہائش نہیں رکھتا بلکہ کہیں اور سرگودھا میں کاروبار کرتا ہے۔ اپنے فرائض ادا نہیں کر سکے گا۔ پس اس پر مذکورہ بالا قواعد کے قاعدہ 18 (2) کا اطلاق ہوتا ہے۔ قاعدہ 19 کی تشریح کلکٹر کو یہ اختیار دیتی ہے کہ وہ ایسے شخص کو بحیثیت نمبردار مقرر کرنے سے انکار کر دے جو وارث کے طور پر اس منصب کے لیے ایسی بنیاد

صفحہ 325

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول)

پر دعویٰ کر رہا ہے جو نمبردار کے منصب سے اس کی برطرفی کا جواز فراہم کرتی ہے۔ معاملہ کی اس نوعیت کے پیش نظر قاعدہ 19 کے تحت نمبردار کا تقرر کرتے وقت قاعدہ 18 (2) (سی) کو ملا کر پڑھا جا سکتا ہے۔ اس لیے مسئول الیہ نمبر 4 کی بطور نمبردار تقرری کرنے اور سائل کو نااہل قرار دینے میں کسی استثناء سے کام نہیں لیا جا سکتا۔

سائل کی طرف سے دی گئی دوسری دلیل میں بھی کوئی وزن نہیں۔ درخواست گزار کا احمدی ہونا واحد سبب نہیں تھا، جسے نچلی عدالتوں نے نمبرداری کے نااہل قرار دینے کے لیے وزن دیا۔ حقیقت میں جس چیز کو اہمیت دی گئی وہ یہ تھی کہ سائل گاؤں کا رہائشی نہیں ہے بلکہ سرگودھا شہر میں رہتا ہے جہاں وہ کتب فروشی کرتا ہے۔ صرف یہی نہیں، ریکارڈ سے یہ بھی ثابت ہوا کہ سائل کے بچوں کو حال ہی میں گاؤں کے سکول میں داخل کرایا گیا ہے۔ بظاہر یہ دکھانے کے لیے کہ وہ وہاں رہائش رکھتا ہے۔ اس نے یہ بھی دیکھا کہ سائل علاقہ کے راشن ڈپو سے راشن نہیں لیتا۔ اس واقعاتی تجویز کے مطابق نمبردار کی حیثیت سے سائل کی تقرری درست نہیں تھی کیونکہ اس پر مغربی پاکستان قواعد لگان مجریہ 1968ء کے قاعدہ 18 (2) (سی) میں مذکور نااہلیت کا اطلاق ہوتا ہے۔

فاضل اے۔ سی/کلکٹر نیز فاضل کمشنر کے صادر کردہ احکام کا مطالعہ ظاہر کرتا ہے کہ انہوں نے سائل کے احمدی ہونے کے عامل کو ثانوی نوعیت کا سمجھا اور اس نکتہ پر نچلی عدالتوں کے آبزرویشنز سے بظاہر اسے کوئی نقصان نہیں پہنچا۔ بصورت دیگر بھی اس عامل کی بنا پر کسی استثنا کو بروئے کار نہیں لایا جا سکتا کیونکہ تقابلی مطالعہ کر کے فاضل اے۔ سی اس نتیجہ پر پہنچا ہے کہ گاؤں میں 65 مسلم مالکان ہیں، جبکہ احمدی مالکان کی تعداد سات آٹھ سے زیادہ نہیں۔ اس لیے اکثریت اس برادری کی ہے، جس سے مسئول الیہ نمبر 4 تعلق رکھتا ہے۔ فاضل کمشنر نے بھی ریکارڈ ملاحظہ کر کے دیکھا ہے کہ گاؤں کے باشندے درخواست گزار کو یا اس کی برادری سے تعلق رکھنے والے کسی فرد کو بطور نمبردار قبول کرنے کو تیار نہیں ہیں۔ اگر سائل کو گاؤں کا نمبردار مقرر کر دیا جاتا تو نمبرداری کا کام صحیح طریقے سے انجام نہیں دیا جا سکتا تھا۔

صفحہ 326

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول)

مزید برآں نچلی عدالتوں نے سائل کو نمبرداری کے لیے نااہل قرار دینے کی جو وجوہ بتائی ہیں، وہ متفقہ واقعاتی تجویز پر مبنی ہیں۔ اب یہ بات اچھی طرح ثابت ہو گئی ہے کہ نچلی عدالتوں اور حکام نے جن متنازعہ امور کو حل کر دیا ہے، وہ عدالت ہذا کے آئینی اختیار سماعت میں قابل چیلنج نہیں، خواہ وہ فیصلہ غلطی پر مبنی ہو۔ (حوالہ کے لیے دیکھئے محمد حسین منیر و دیگران بنام سکندر و دیگران) (PLD 1974 SC 139)

زیر بحث مقدمہ میں نہ صرف سائل کی سکونت سے متعلق واقعاتی تجویز پر اتفاق رائے موجود ہے جو ریکارڈ کے ملاحظہ پر مبنی ہے، اس لیے ایسی تجویز پر کوئی اعتراض نہیں کیا جاسکتا۔ درخواست کے ساتھ ضمیمہ جات ایف، جی، ایچ اور جے کی صورت میں جو دستاویزات یہ ظاہر کرنے کے لیے منسلک کی گئی ہیں کہ سائل گاؤں میں ہی رہتا ہے، وہ فاضل اے۔ سی/ کلکٹر کا فیصلہ صادر ہونے کے بعد کی تاریخوں سے تعلق رکھتی ہیں۔ ان میں سے چند فاضل کمشنر کے فیصلہ کی تاریخ سے چند دن پہلے کی ہیں۔ کمشنر نے یہ دستاویزات ملاحظہ کی ہیں، جس کا اظہار اس حقیقت سے ہوتا ہے کہ اس نے ضمیمہ ’’الف‘‘ کے بارے میں اس رائے کا اظہار کیا کہ درخواست گزار نے اپنے بچوں کو گاؤں کے سکول میں حال ہی میں نمبرداری پر اپنا استحقاق ثابت کرنے کی غرض سے داخل کرایا ہے۔ تاہم سرگودھا میں اس کے اعتراف کردہ کاروبار اور اس حقیقت کی بنیاد پر وہ علاقائی ڈپو سے راشن نہیں لے رہا، یہ نتیجہ اخذ کیا گیا کہ درخواست دہندہ گاؤں کا سکونتی نہیں ہے۔ بظاہر ایسی تجویز میں عدالت ہذا کے آئینی اختیار سماعت کے اندر رہتے ہوئے مداخلت نہیں کی جاسکتی۔

مقدمہ کے آخر میں، میں یہ کہنا چاہوں گا کہ نمبردار کی تقرری کا معاملہ لازماً ایک انتظامی کارروائی ہے اور کسی شخص کو اس منصب پر تقرری کا دعویٰ کرنے کا محفوظ حق حاصل نہیں۔

نمبردار کی تقرری پر لاگو ہونے والے قواعد کے مجموعی مطالعہ سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ کسی شخص کو کوئی قانونی حق تفویض نہیں کرتے بلکہ ہدایتی نوعیت کے ہیں جو مجاز

صفحہ 327

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول)

حکام کے جانشین نمبردار کے چناؤ میں راہنمائی کرتے ہیں۔ ان قواعد کے پس پردہ یہ مقصد کارفرما ہے کہ ایسے شخص کا تقرر کیا جائے جو تقرر کنندہ حاکم کی رائے میں اہل امیدواروں میں سب سے بہتر ہو اور ایسی تقرری کی جانچ پڑتال 1967ء کے مغربی پاکستان مالیہ اراضی ایکٹ کی رُو سے انتظامیہ پر چھوڑ دی گئی ہے۔ بصورتِ دیگر بھی معاملات کی نوعیت کے پیش نظر جانشین نمبردار کی سلیکشن یا چناؤ کا کام محکمہ مال کے افسران پر چھوڑ دینا چاہیے جو اپنے تجربے تربیت اور علاقائی امور کے بارے میں معلومات کی بناء پر مناسب انتخاب کرنے کی بہتر پوزیشن میں ہوتے ہیں۔ پس نمبردار کی تقرری کا مسئلہ ایسا نہیں کہ اس کے تعین کے لیے اس عدالت کے آئینی اختیارِ سماعت سے مدد لی جائے۔

گزشتہ بحث کے پیش نظر مجھے اس رٹ پٹیشن میں کوئی میرٹ دکھائی نہیں دیتا۔ چنانچہ اسے خارج کیا جاتا ہے۔

دستخط تاریخ فیصلہ جسٹس میاں محبوب احمد 2 دسمبر 1981ء

(1982 CLC 357)

صفحہ 328

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول)

صفحہ 329

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول)

1992 P Cr L J 2346

لاہور ہائی کورٹ لاہور

سرفراز احمد بنام سرکار

1992 P Cr L J 2351

ناصر احمد بنام سرکار

...... جناب جسٹس میاں نذیر اختر

قادیانیوں کی توہین رسالت ﷺ، توہین اہل بیتؓ اور

اسلام دشمن سرگرمیوں پر لاہور ہائی کورٹ کے چشم کشا فیصلے

جن کا ہر ایک لفظ امت مسلمہ کو دعوتِ فکر وعمل دیتا ہے۔

صفحہ 330

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول)

”اس میں کوئی شک نہیں کہ قادیانی یا مرزا قادیانی کے دوسرے پیروکار 298-B تعزیرات پاکستان کے تحت کچھ مخصوص کلمات مثلاً امیر المومنین، خلیفۃ المسلمین، صحابی یا اہل بیت وغیرہ کا استعمال نہیں کر سکتے۔ تاہم یہ مذکورہ ممنوعہ کلمات قادیانیوں کو اس بات کا لائسنس نہیں دے دیتے کہ وہ دیگر اس قسم کے مشابہ کلمات یا شعائرِ اسلام استعمال کریں جو عام طور پر عام مسلمان استعمال کرتے ہیں۔ کیونکہ اس طرح کرنے سے یہ قادیانی اپنے آپ کو مسلمان ظاہر کر رہے ہوں گے جو قانون کے مطابق ممنوع ہے۔“

صفحہ 331

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول)

دل کی بات

(مقدمہ کا پس منظر، احوال، نتیجہ)

الحمد للہ وحدہ والصلوۃ والسلام علی من لا نبی بعدہ اما بعد

ننکانہ صاحب کے ناصر نامی قادیانی نے ایک مسلمان نوجوان کو اپنے مذہب مرزائیت کی تبلیغ کی۔ اطلاع اور ثبوت ملنے پر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت ننکانہ صاحب نے تھانہ سٹی ننکانہ میں اس کے خلاف قانون کے مطابق مقدمہ درج کروا دیا۔ ناصر قادیانی نے عدالت سے ضمانت کرالی۔ ابھی اس قادیانی شرارت کو چند دن بھی نہ گزرنے پائے تھے کہ اسی ناصر قادیانی اور دیگر ملزمان نے اپنے ہاں شادی کے لیے ایک دعوتی کارڈ شائع کیا، جس میں ایسی اصطلاحات (اسلامی شعائر) استعمال کی گئیں، جس سے معلوم ہوتا تھا کہ یہ شادی کارڈ کسی غیر مسلم کا نہیں بلکہ مسلمان کا ہے مثلاً نحمدہ و نصلی علی رسولہ الکریم، بسم اللہ الرحمن الرحیم، اسلام علیکم، ان شاء اللہ، نکاح مسنونہ وغیرہ کے الفاظ لکھوائے۔ ظاہر ہے کہ قادیانیوں کے لیے ایسے اسلامی شعائر کا استعمال شرعاً و قانوناً ممنوع ہے۔ چنانچہ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت ننکانہ کے سابق امیر جناب حاجی عبدالحمید رحمانی نے ان کے خلاف مقدمہ درج کروا دیا۔ اس پر ملزمان کی گرفتاری ہوئی۔ چند ملزمان نے لاہور ہائی کورٹ میں قبل از گرفتاری ضمانت کے لیے درخواستیں گزاریں۔ ایک اور درخواست ضمانت بعد از گرفتاری ناصر قادیانی کی طرف سے دائر کی گئی۔ اس پر جناب جسٹس اختر حسن صاحب لاہور ہائی کورٹ نے ان کی عبوری ضمانتیں منظور کرلیں اور مستقل ضمانتوں کے لیے ایڈیشنل سیشن جج ننکانہ صاحب کے روبرو پیش ہونے کو کہا مگر قادیانی ملزمان عبوری ضمانتوں کی مدت ختم ہونے پر اس

صفحہ 332

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول)

موقف کے ساتھ پھر لاہور ہائی کورٹ میں جناب جسٹس راشد عزیز خان صاحب کی عدالت میں پیش ہو گئے کہ ہمیں ایڈیشنل سیشن جج سے انصاف کی توقع نہیں۔ حالانکہ تھوڑا عرصہ پہلے پورے ننکانہ صاحب‘ بالخصوص بار ایسوسی ایشن نے بار بار درخواستیں کر کے ایڈیشنل سیشن جج کی عدالت ننکانہ صاحب میں منظور کرائی۔ بہرحال قادیانیوں کی درخواست پر مستقل ضمانتوں کے کیس کی سماعت لاہور ہائی کورٹ کے عزت مآب جناب جسٹس میاں نذیر اختر صاحب کی عدالت میں شروع ہوئی۔

پنجاب گورنمنٹ کی طرف سے جناب نذیر احمد غازی اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل پنجاب اور مدعی کی طرف سے جناب رشید مرتضیٰ قریشی ایڈووکیٹ ہائی کورٹ پیش ہوئے۔ جناب رشید مرتضیٰ قریشی اللہ کے ولی اور مجاہد ختم نبوت تھے۔ انگریز سامراج کی پیداوار ”قادیانیت“ کے خلاف نفرت ان کے جسم میں رچی بسی ہوئی تھی۔ انہوں نے اس کیس میں تمام مسلمانانِ عالم کی طرف سے نمائندگی کا بھرپور حق ادا کیا۔ قادیانیوں کی طرف سے مبشر لطیف ایڈووکیٹ (قادیانی) پیش ہوا۔ عدالت عالیہ کے عزت ماب جناب جسٹس میاں نذیر اختر صاحب نے فریقین کے دلائل و مباحث سنے اور پھر فیصلہ صادر فرمایا۔ انہوں نے اپنے فیصلہ میں لکھا:

آیات کو اپنے آپ سے منسوب کرنے کی ناپاک جسارت کی۔ مرزائی کلمہ طیبہ پڑھتے ہوئے واضح طور پر لفظ ”محمد“ سے مراد ”مرزا قادیانی“ ہی لیتے ہیں۔ اسی طرح وہ مرزا قادیانی پر درود بھیجتے ہیں۔ گویا جب یہ لوگ (قادیانی) کلمہ طیبہ اور درود پڑھتے ہیں تو ان کے قلب و ذہن پر مکمل طور پر مرزا قادیانی کا تصور ہوتا ہے اور اس طرح کرتے ہوئے وہ نبی اکرم حضرت محمد ﷺ کے مقدس نام کی تحقیر کر رہے ہوتے ہیں“۔

ہے کہ یہ مسلمانوں کی طرف سے شائع اور تقسیم کیے گئے ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ قادیانی یا مرزا قادیانی کے دوسرے پیروکار زیر دفعہ 298-B تعزیرات پاکستان کے

صفحہ 333

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول)

تحت کچھ مخصوص کلمات مثلاً امیر المومنین، خلیفۃ المومنین، خلیفۃ المسلمین، صحابی یا اہل بیت وغیرہ کا استعمال نہیں کر سکتے۔ تاہم یہ مذکورہ ممنوعہ کلمات قادیانیوں کو اس بات کا لائسنس نہیں دے دیتے کہ وہ دیگر اس قسم کے مشابہہ کلمات یا شعائر اسلام استعمال کریں جو عام طور پر عام مسلمان استعمال کرتے ہیں، کیونکہ اس طرح کرنے سے یہ (قادیانی) اپنے آپ کو مسلمان ظاہر کر رہے ہوں گے جو قانون کے مطابق ممنوع ہے‘‘۔

قادیانی کو حضور اکرم حضرت محمد ﷺ کے برابر گردانتے ہیں۔ قادیانیوں کی اس حرکت اور فعل سے واضح طور پر حضور اکرم حضرت محمد ﷺ کے مقدس اور مبارک نام کی تحقیر اور بے حرمتی ثابت ہوتی ہے۔ حضور اکرم حضرت محمد ﷺ کے مقام و مرتبہ کو گھٹا کر مرزا قادیانی کے برابر کیا گیا۔ وہ (مرزا قادیانی) جس نے اپنے آپ کو برطانوی حکومت کا خود کاشتہ پودا قرار دیا۔ جس نے برطانوی گورنمنٹ کی اطاعت اور وفاداری کو اسلام کا ایک حصہ سمجھا اور جہاد کے حرام ہونے کا دعویٰ کیا، حضرت امام حسینؓ کی تذلیل واہانت کی، جس نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ تمام مسلمان جو اس (مرزا قادیانی) پر ایمان نہیں لاتے، کافر ہیں۔ بحث کے دوران فاضل وکیل سرکار اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل نے انتہائی وثوق سے کہا کہ شادی کے دعوت نامے پر تحریر کیا گیا درود ’’نحمدہ و نصلی علی رسولہ الکریم‘‘ مرزا قادیانی کے لیے استعمال کیا گیا ہے۔ لیکن فاضل وکیل سرکار کے اس دعویٰ پر فاضل وکیل ملزم نے نہ تو کوئی اعتراض کیا اور نہ اس پر کوئی بحث کی۔ لہٰذا ان معقول دلائل کی بناء پر ملزم جرم زیر دفعہ C-295 تعزیرات پاکستان کا مرتکب ہوا جو دفعہ 497 سی آر پی سی کی امتناعی شق کے زمرے میں آتا ہے۔ (جس کے تحت ضمانت نہیں لی جاسکتی)‘‘

فیصلے کا ایک ایک لفظ تمام مسلمانوں کو تحفظ ناموس رسالت ﷺ، تحفظ ناموس اہل بیتؓ اور تحفظ شعائر اسلامی کے بارے میں جرأت و ہمت عطا کرتا ہے۔ اس فیصلہ سے عدالت عالیہ کے وقار میں مزید اضافہ ہوا ہے۔ اللہ رب العزت ان سب حضرات کو

صفحہ 334

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول)

دنیا و آخرت میں جزائے خیر عطا فرمائے۔ آمین۔ اللہ رب العزت کی کروڑ رحمتیں ہوں ان مقدس روحوں پر جن کی ایک صدی کی مخلصانہ کاوشوں کے باعث آج قادیانیت سکڑ رہی ہے۔ کاش کوئی جسٹس منیر کی گم نام قبر پر جاتا اور وہاں یہ فیصلہ سناتا اور کہتا کہ قادیانیت کا کفر عدالتوں پر آشکار ہو چکا ہے اور اب عدالتوں میں قادیانیت کے لیے مزید کوئی بھی ”جسٹس منیر“ نہیں ہے۔

فاعتبروا یا اولی الابصار

اس فیصلہ نے ایک بار پھر اس حقیقت کو روز روشن کی طرح واضح کر دیا ہے کہ قادیانی جماعت جان بوجھ کر خلاف قانون سرگرمیوں کا ارتکاب کر کے اشتعال انگیزی اور فتنہ ریزی کا سامان پیدا کر رہی ہے۔ روزنامہ پاکستان میں مورخہ 4 اگست 1992ء کو خبر شائع ہوئی کہ ”قادیانی جماعت کے سالانہ میلہ میں بھارتی ہائی کمشنر نے شرکت کی۔ اور اس کی تقریر پر قادیانی جماعت کے سربراہ مرزا طاہر نے بھارت زندہ باد مرزا قادیانی کی جے کے نعرے لگوائے“ پاکستان میں قادیانی جو کچھ کر رہے ہیں اسے اسی تناظر میں دیکھا جائے تو معاملہ واضح ہو جاتا ہے کہ یہ سب کچھ بلاوجہ نہیں ہے۔ بھارت کے اشارہ پر قادیانی جان بوجھ کر پاکستان میں افراتفری اور لاء اینڈ آرڈر کا مسئلہ پیدا کر کے حکومت پاکستان کے لیے مشکلات پیدا کرنا چاہتے ہیں۔ حکومت اور عوام دونوں کا ایک دوسرے سے بڑھ کر فرض بنتا ہے کہ وہ قادیانی سازشوں کا نوٹس لیں اور قادیانیت کو قانونی لگام دیں تاکہ قادیانی ملک عزیز میں فتنہ و فساد کی آگ نہ بھڑکا سکیں۔

آخر میں، میں جناب حاجی عبدالحمید رحمانی صاحب سابق امیر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت ننکانہ کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں کہ انہوں نے اس کیس کے تمام مراحل میں خصوصی توجہ اور محنت فرمائی۔ مزید برآں ننکانہ صاحب کے چودھری نذیر احمد صاحب، محمد شاہین پرواز صاحب، محمد قدیر شہزاد، حبیب احمد عابد، مہر تاج دین، میاں ظفر عباس، چودھری منظور احمد، محمد خالد نسیم چشتی اور لاہور کے جناب محبوب احمد، نور محمد قریشی، حافظ عبدالخالق اور رانا رفیق خاں خصوصی شکریہ کے مستحق ہیں کہ جنہوں نے ہر دم سرگرم رہ کر

صفحہ 335

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول)

مجلس کے لیے یہ قانونی کامیابی حاصل کی۔ عالمی مجلس کے سینئر مبلغ حضرت مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی بھی خصوصی ہدیہ تبریک کے مستحق ہیں کہ انہوں نے مقدمہ کے متعلق ہر قسم کی کتب فراہم کیں اور کیس کی مکمل نگرانی کرتے رہے۔

ایڈیشنل سیشن جج صاحب ننکانہ کی عدالت میں اس کیس کی مذہبی نوعیت اور دینی غیرت وحمیت کے پیش نظر تمام مقامی وکلاء صاحبان رضا کارانہ طور پر پیش ہوئے۔ جن میں بالخصوص جناب کمال دین ڈوگر صاحب صدر بار ایسوسی ایشن، شیخ محمد امین صاحب، جناب برکت علی غیور صاحب، جناب محمد امین بھٹی صاحب، جناب رائے ہدایت علی خاں کھرل صاحب، جناب حق نواز صاحب، جناب رائے ولایت علی خاں صاحب اور جناب محمد صدیق ڈوگر صاحب سرفہرست ہیں، انہوں نے بڑی محبت اور محنت سے یہ کیس لڑا، مزید براں ڈپٹی ڈسٹرکٹ اٹارنی جناب سید نور حسین شاہ نے بھی خوب حق ادا فرمایا۔ جناب مقصود احمد صاحب سینئر ایڈووکیٹ ہائی کورٹ نے اس فیصلہ کا بڑا سلیس اور عام فہم ترجمہ فرمایا۔ جناب طارق مسعود ضیاء ایم اے، جناب محمد قدیر شہزاد ایم اے اور جناب محمد صابر شاکر ایم اے نے ان کی معاونت کی۔ سٹیٹ بنک کے جناب محمد صدیق شاہ صاحب اور چودھری محمد جاوید صاحب نے اس کی پروف ریڈنگ کی۔ اللہ رب العزت ان سب حضرات کا حامی و ناصر ہو۔ آمین۔ ثم آمین۔

طالب شفاعت محمدی ﷺ بروز محشر محمد متین خالد لاہور

۞.......۞.......۞

صفحہ 336

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول)

1992 PCr L J 2346 1992 PCr L J 2351

لاہور ہائی کورٹ لاہور

سرفراز احمد اور دوسرے بنام حکومت پاکستان

ناصر احمد اور دوسرے بنام حکومت پاکستان

دونوں فیصلوں کے اہم نکات:

علیکم 2- ان شاء اللہ 3- نکاح مسنونہ۔ 4- بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ 5-نحمدہ و نصلی علی رسولہ الکریم، جنہیں مسلمان ہی استعمال کرتے ہیں، قانونی طور پر وہ ان اسلامی اصطلاحات کو استعمال نہیں کر سکتے۔ ایسا کرنے پر اُن کے خلاف تعزیرات پاکستان کی دفعہ 298 سی کے تحت مقدمہ درج ہوگا۔

الکریم کسی دعوت نامہ وغیرہ پر استعمال نہیں کر سکتا۔ کیونکہ وہ ایسا آنجہانی مرزا قادیانی کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ اگر کوئی قادیانی ایسی حرکت کا مرتکب ہوگا تو اُس کے خلاف تعزیرات پاکستان کی دفعہ 295 سی کے تحت مقدمہ درج ہوگا۔

298 بی تعزیرات پاکستان کے تحت کچھ مخصوص کلمات مثلاً امیر المومنین، خلیفۃ

صفحہ 337

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول)

المومنین، خلیفۃ المسلمین، صحابی یا اہل بیت وغیرہ کا استعمال نہیں کر سکتے۔ تاہم یہ مذکورہ ممنوعہ کلمات قادیانیوں کو اس بات کا لائسنس نہیں دے دیتے کہ وہ دیگر اس قسم کے مشابہہ کلمات یا شعائر اسلام استعمال کریں جو عام طور پر عام مسلمان استعمال کرتے ہیں، کیونکہ اس طرح کرنے سے یہ (قادیانی) اپنے آپ کو مسلمان ظاہر کر رہے ہوں گے، جو قانون کے مطابق ممنوع ہے۔

فوجداری کی دفعہ 196 کے تحت مجاز حکام کے حکم کے بغیر مقدمہ درج کرنے اور عدالت کی طرف سے ایسے مقدمہ کی سماعت کرنے کے بارے میں جو ممانعت ہے، اس کا اطلاق جرم زیر دفعہ 295 سی اور 298 سی پر نہیں ہوتا۔

صفحہ 338

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول)

1992 P Cr L J 2346

لاہور ہائی کورٹ لاہور

(ابتدائی معلومات)

بعدالت جناب جسٹس میاں نذیر اختر

سرفراز احمد اور دیگر سات دوسرے ...... پٹیشنرز

حکومت پاکستان ....... ریسپانڈنٹ

متفرق فوجداری مقدمہ نمبر ...... 2162/B-1992 وکیل درخواست دہندگان ...... مبشر لطیف ایڈووکیٹ وکیل سرکار ...... نذیر احمد غازی اسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل پنجاب وکیل مستغیث ...... رشید مرتضیٰ قریشی ایڈووکیٹ تاریخ سماعت ...... 15 جولائی 1992ء تاریخ فیصلہ ...... 2 اگست 1992ء

صفحہ 339

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول)

فیصلہ

جسٹس میاں نذیر اختر

صفحہ 340

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول)

نبوت میں جھوٹا اور کذاب تھا اور وہ (مرزا قادیانی) اور قادیانی و لاہوری جماعتوں سے تعلق رکھنے والے اس کے پیروکار کافر اور دائرہ اسلام سے خارج ہیں۔‘‘ دوران تفتیش اس بات کی تصدیق کی گئی ہے کہ سرفراز احمد سائل نمبر 1‘ اس کی اہلیہ سائلہ نمبر 2 اور اعجاز احمد سائل نمبر 3 مسلمان تھے‘ اس لیے سرفراز احمد اور اعجاز احمد کی عبوری ضمانت قبل از گرفتاری کی بھی توثیق کی جاتی ہے۔

تاہم میں یہ بات ضرور کہوں گا کہ پولیس کی یہ تفتیش کہ ’’مسز سرفراز احمد ملزمہ نمبر 2 قادیانی نہیں ہے‘‘ بڑی حد تک مشکوک ہے کیونکہ فاضل عدالت کے متعدد سوالات کے جواب میں ملزمہ نے مرزا قادیانی اور اس کے پیروکاروں کے خلاف ایک لفظ تک نہیں کہا۔ ملزمہ کی ضمانت کی توثیق پہلے ہی خاتون ہونے کی بنیاد پر کر دی گئی ہے اور رہا یہ سوال کہ وہ قادیانی ہے یا نہیں اور کیا اس نے کسی جرم کا ارتکاب کیا ہے؟ اس کا فیصلہ ماتحت عدالت پر چھوڑا جاتا ہے۔

درج نہیں ہے اور کوئی ایسا مواد بھی نہیں ہے‘ جس کی بناء پر اسے ان جرائم میں ملوث کیا جائے‘ جن کا ذکر FIR (ابتدائی رپورٹ) میں ہے۔ اس لیے اس کی عبوری ضمانت قبل از گرفتاری کی بھی توثیق کی جاتی ہے۔

کا معاملہ ہے‘ ان کے فاضل وکیل صفائی نے مندرجہ ذیل دلائل پیش کیے۔

(ابتدائی رپورٹ) (جس میں جرم 295-A تعزیرات پاکستان شامل ہے) ایک عام شخص کے درج کرانے کی وجہ سے کوئی حیثیت نہیں رکھتی۔

کی امتناعی تعریف میں نہیں آتا۔ چونکہ نبی کریم ﷺ کے اسم مبارک کی تحقیر نہیں ہوئی۔ لہٰذا جرم 295-C تعزیرات پاکستان نہیں بنتا۔

صفحہ 341

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول)

مسنونہ‘ نحمدہ و نصلی علی رسولہ الکریم‘ جیسے الفاظ کا محض استعمال کسی جرم کی تعریف میں نہیں آتا اور یہ کہ قادیانیوں کو ان الفاظ کے استعمال کرنے کا حق ہے۔

298-B تعزیراتِ پاکستان میں درج ہیں نہ کہ دوسرے کلمات جو دعوت ناموں میں استعمال کیے جاتے ہیں۔

صفائی نے ریکارڈ کے لیے اس رسید کی فوٹو کاپی یہ ظاہر کرنے کے لیے پیش کی کہ پچاس عدد دعوت ناموں کی اشاعت کی قیمت سرفراز احمد نے ادا کی تھی۔

محمد یوسف اور اعجاز احمد پسران سراج دین کی درخواست ضمانت کی پرزور مخالفت کی اور کہا کہ اس بات کا کوئی ثبوت موجود نہیں ہے کہ پولیس بدنیتی کی بنیاد پر ان ملزمان کو گرفتار کرنا چاہتی ہے۔ انہوں نے یہ نشاندہی بھی کی ہے کہ سائلان نے نہ تو اپنی درخواست میں پولیس پر بدنیتی (Malafide) سے گرفتاری کے درپے ہونے کا ذکر کیا ہے اور نہ ہی پولیس کی بدنیتی کے بارے میں اپنے دلائل میں کوئی تذکرہ کیا ہے۔ انہوں نے دلائل جاری رکھتے ہوئے کہا کہ مرزا غلام احمد (قادیانی) کے قادیانی اور لاہوری پیروکار خود کو مسلمان ظاہر کرنے کے لیے شعائر اسلام کا استعمال نہیں کر سکتے۔ انہوں نے کہا کہ قادیانی ایک علیحدہ گروہ ہیں اور ان کا اسلام اور امت مسلمہ سے کوئی تعلق نہیں‘ کیونکہ مرزا قادیانی نے اسلام کی تعلیمات کی واضح خلاف ورزی کرتے ہوئے اپنے نبی ہونے کے بارے میں جھوٹا دعویٰ کیا۔ اور اعلان کیا کہ اس کی ”نبوت“ پر یقین نہ رکھنے والے سب کافر ہیں۔ اس نے

صفحہ 342

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول)

یہ دعویٰ کر کے تو انتہا کر دی کہ وہ آدمؑ، ابراہیمؑ، موسیٰؑ، عیسیٰؑ اور حتیٰ کہ محمدؐ ہے۔ (نعوذ باللہ من ذلک)

مرزا قادیانی نے نبی پاک حضرت محمد ﷺ پر نازل شدہ قرآن مجید کی آیات کو اپنے آپ سے منسوب کرنے کی ناپاک جسارت کی۔ مرزائی کلمہ طیبہ پڑھتے ہوئے واضح طور پر لفظ ”محمد“ سے مراد ”مرزا قادیانی“ ہی لیتے ہیں۔ اسی طرح وہ مرزا قادیانی پر درود بھیجتے ہیں۔ گویا جب یہ لوگ (قادیانی) کلمہ طیبہ اور درود پڑھتے ہیں تو ان کے قلب و ذہن پر مکمل طور پر مرزا قادیانی کا تصور ہوتا ہے اور اس طرح کرتے ہوئے وہ نبی اکرم حضرت محمد ﷺ کے مقدس نام کی تحقیر کر رہے ہوتے ہیں۔ اپنے دلائل کے حق میں فاضل وکیل سرکار نے مرزا قادیانی کی مندرجہ ذیل کتب سے چند اقتباسات کا حوالہ دیا۔ (1) حقیقت الوحی (2) روحانی خزائن جلد نمبر 19,18 (3) تحفہ گولڑویہ (4) تریاق القلوب (5) ضمیمہ انجام آتھم (6) ایک غلطی کا ازالہ (7) تذکرہ (8) دافع البلاء (9) درثمین (10) کشتی نوح (11) تبلیغ رسالت (12) نزولِ مسیح۔

فاضل وکیل سرکار نے مندرجہ ذیل فیصلہ جات کے حوالے بھی پیش کیے۔

1985 فیڈرل شریعت کورٹ صفحہ نمبر 8)

رشید مرتضیٰ قریشی فاضل وکیل مستغیث نے نذیر احمد غازی فاضل اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل کے دلائل کی مکمل تائید و حمایت کی اور مزید کہا کہ ملزمان نے ان جرائم کا‘ جو FIR (ابتدائی رپورٹ) میں درج ہیں‘ ارتکاب کیا ہے اور قانون کے تحت یہ سخت ترین سزا کے مستحق ہیں۔ یہ غیر مسلم ہیں لیکن انہوں نے اپنے نام دعوت ناموں میں نمایاں جگہوں پر شائع کرا کے یہ ظاہر کیا ہے کہ دعوت مسلمانوں کی طرف سے ہے۔

صفحہ 343

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول)

انہوں نے اصرار کیا کہ دعوت نامے ناصر احمد نے چھپوائے تھے نہ کہ اعجاز احمد نے‘ جیسا کہ ملزم نے دعویٰ کیا ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ مرزائی متذکرہ بالا دفعات کے تحت بار بار جرم کا ارتکاب کر رہے ہیں۔ اس لیے یہ سخت ترین سزا کے مستحق ہیں۔

رپورٹ ابتدائی (ایف آئی آر) جس شخص نے درج کرائی‘ اسے یہ ایف آئی آر درج کرانے کا اختیار نہیں تھا کیونکہ ضابطہ فوجداری کی دفعہ 196 کے تحت مقدمہ زیر دفعہ 295 الف صوبائی یا وفاقی حکومت یا اس کے نامزد کسی افسر کی طرف سے درج کرایا جا سکتا ہے۔ چونکہ اس کیس میں ایسا نہیں ہوا‘ لہٰذا مجموعی طور پر رپورٹ ابتدائی کا اندراج بلا اختیار ہے‘ دراصل دفعہ 196 میں کسی پرائیویٹ آدمی کی طرف سے مقدمہ درج کرانے کی جو ممانعت ہے‘ اس کا تعلق عدالت کے اختیار سماعت سے ہے۔ اس دفعہ کے تحت کسی بھی شخص پر یہ پابندی نہیں ہے کہ وہ اس جرم کے سلسلہ میں پولیس کے پاس رپورٹ نہیں کر سکتا۔ ویسے بھی (اس مقدمہ کی) رپورٹ ابتدائی میں تعزیراتِ پاکستان کی دفعہ 295 سی اور دفعہ 298 سی لگی ہوئی ہیں۔ لہٰذا ضابطہ فوجداری کی دفعہ 196 کے تحت مجاز حکام کے حکم کے بغیر مقدمہ درج کرنے اور عدالت کی طرف سے ایسے مقدمہ کی سماعت کرنے کے بارے میں جو ممانعت ہے‘ اس کا اطلاق جرم زیر دفعہ 295 سی اور 298 سی پر نہیں ہوتا۔

قادیانیوں کو صرف 298-B تعزیراتِ پاکستان میں مخصوص کیے گئے الفاظ کے استعمال سے روکا گیا ہے اور یہ کہ انہیں (قادیانیوں کو) شعائرِ اسلام اور دیگر کلمات‘ جنہیں مسلمان استعمال کرتے اور دعوت ناموں پر لکھتے ہیں‘ استعمال کرنے کی آزادی ہے۔ مرزا غلام احمد (قادیانی) کے پیروکار قادیانی اور لاہوری گروہ کی طرف سے ان الفاظ کا استعمال‘ جو دفعہ 298-B

صفحہ 344

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول)

تعزیرات پاکستان میں درج ہیں جرم ہے۔ نیز قادیانیوں کی طرف سے ان شعائر اسلام کا استعمال جو دعوت ناموں پر درج کیے گئے، بھی 298-C تعزیرات پاکستان کے تحت جرم ہے۔ دعوت نامے پر سرسری نظر ڈالنے سے شدید تاثر پیدا ہوتا ہے کہ وہ اشخاص جنہوں نے (شادی کی) دعوت دی ہے یا اپنے نام ”تاکید مزید“ میں شائع کرانے کی اجازت دی ہے، مسلمان ہیں۔ محض اس حقیقت کی بناء پر کہ جرم زیر دفعہ 298-C تعزیرات پاکستان، دفعہ 497 مجموعہ ضابطہ فوجداری کی ممنوعہ کلاز میں نہیں آتا۔ سائلان نمبر 4، نمبر 5 اور نمبر 6 ضمانت کے مستحق نہیں ہیں اور خاص طور پر جب اس بات کا بھی کوئی ثبوت موجود نہیں کہ انہیں بدنیتی یا دیگر در پردہ مقاصد کے تحت گرفتار کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ فاضل وکیل ملزمان کی طرف سے دلائل کے دوران بدنیتی کے ساتھ گرفتار کرنے کے بارے میں نہ کوئی الزام لگایا گیا ہے اور نہ ہی اس بارے میں کوئی دلیل دی گئی ہے۔

میں خاصا وزن ہے کہ قادیانی اور لاہوری گروہوں سے تعلق رکھنے والے مرزا قادیانی کے پیروکار غیر مسلم ہیں اور امت مسلمہ سے ہٹ کر ایک الگ گروہ ہیں۔ اس نظریئے کو مجیب الرحمان اور خورشید احمد کے مقدمات سے بھی بھر پور تقویت ملتی ہے جن کے حوالہ جات اسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل نے پیش کیے۔ قادیانی اور لاہوری گروہوں سے تعلق رکھنے والے مرزا قادیانی کے پیروکار آئین پاکستان کی دفعہ 260 (3) (B) کے تحت غیر مسلم قرار دیئے جاچکے ہیں۔ مرزا قادیانی نے دعویٰ کیا تھا کہ ”وہ احمد اور محمد ہے اور اس میں نبی اکرم حضرت محمد ﷺ اور دیگر تمام انبیاء علیہم السلام کی خوبیاں موجود ہیں۔“ اس نے دعویٰ کیا کہ حضرت محمد ﷺ کی ختم نبوت میرے دعوئی نبوت سے متاثر نہیں ہوئی کیونکہ وہ کچھ نہیں سوائے اس کے کہ (ظلی اور بروزی شکل میں) وہ (مرزا

صفحہ 345

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول)

قادیانی) ”محمد ﷺ ہے“ قادیانی‘ جو مرزا قادیانی کی تعلیمات پر ایمان رکھتے ہیں‘ اس کے لیے درود و سلام پڑھتے ہیں جبکہ مسلمانوں کے مطابق یہ (درود و سلام) نبی پاک ﷺ کا استحقاق ہے۔ قادیانی مرزا قادیانی کو حضرت محمد ﷺ کے برابر سمجھتے ہوئے اس پر درود بھیجتے ہیں اور اس طرح نبی پاک حضرت محمد ﷺ کے رتبہ کو گھٹا کر مرزا قادیانی کے برابر قرار دیتے ہیں۔ قادیانیوں کا یہ فعل واضح طور پر نبی اکرم حضرت محمد ﷺ کے مبارک اور مقدس نام کی تحقیر کے مترادف ہے‘ جو زیر دفعہ C-295 تعزیرات پاکستان قابل سزا ہے۔ فاضل وکیل سرکار نذیر احمد غازی نے انتہائی پُر جوش انداز میں اس بات پر زور دیا کہ متنازعہ دعوت ناموں پر شائع شدہ درود ”نحمدہ ونصلی علی رسولہ الکریم“ مرزا قادیانی کے لیے استعمال کیا گیا ہے۔ تاہم فاضل وکیل ملزمان نے اس دعویٰ اور دلیل کی کوئی تردید نہیں کی۔ جرم زیر دفعہ C-295 تعزیرات پاکستان کی سزا‘ سزائے موت یا عمر قید اور جرمانہ ہے اور یہ جرم دفعہ 497 سی آر پی سی کی امتناعی تعریف میں آتا ہے‘ جس کے تحت ضمانت نہیں لی جاسکتی۔

5 اور نمبر 6 بالترتیب ضمانت قبل از گرفتاری کی رعایت کے مستحق نہیں ہیں۔ ان کی عبوری ضمانت کے حکم مورخہ 1992-6-10 پر نظر ثانی کرتے ہوئے ان کی درخواست ضمانت خارج کی جاتی ہے۔ سائلان ملزمان نمبر 3,2,1 اور 8 کی درخواست قبل از گرفتاری منظور کرتے ہوئے عبوری ضمانت کی توثیق کی جاتی ہے۔

دستخط تاریخ فیصلہ جسٹس میاں نذیر اختر 2 اگست 1992ء

(1992 PCr L J 2346)

صفحہ 346

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول)

1992 PCr L J 2351

لاہور ہائی کورٹ لاہور

(ابتدائی معلومات)

بعدالت جناب جسٹس میاں نذیر اختر

ناصر احمد اور دوسرے ...... پیٹیشنرز حکومت پاکستان ...... ریسپانڈنٹ

متفرق فوجداری مقدمہ نمبر ...... 2163/B-1992 وکیل درخواست دہندگان ...... مبشر لطیف ایڈووکیٹ وکیل سرکار ...... نذیر احمد غازی اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل پنجاب وکیل مستغیث ...... رشید مرتضیٰ قریشی ایڈووکیٹ تاریخ سماعت ...... 15 جولائی 1992ء تاریخ فیصلہ ...... 2 اگست 1992ء

صفحہ 347

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول)

فیصلہ

جسٹس میاں نذیر اختر

صفحہ 348

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول)

حکومت یا حکومت کی طرف سے کوئی بااختیار شخص ہی درج کرانے کا مجاز ہے ۔ ضابطہ فوجداری کی دفعہ 196 کے تحت عام آدمی کے لیے اس دفعہ (295-A) کے تحت مقدمہ درج کرانے کی ممانعت ہے ۔

ان جرائم میں نہیں آتا‘ جن میں ضمانت لینے کی ممانعت کی گئی ہے ۔ چونکہ حضرت محمد ﷺ کی ذات مقدس کے نام کی تحقیر نہیں کی گئی ۔ اس لیے جرم 295-C تعزیرات پاکستان نہیں بنتا ۔

الرحمٰن الرحیم 5- نحمدہ و نصلی علی رسولہ الکریم کے الفاظ استعمال کرنا کوئی جرم نہیں ہے اور قادیانیوں کو ان الفاظ کے استعمال کا حق حاصل ہے ۔

298-C (پی پی سی) میں مخصوص کر دیئے گئے ہیں‘ دوسرے الفاظ و عبارات‘ جو دعوت نامے پر شائع کیے گئے ہیں‘ کے استعمال کی ممانعت نہیں ہے ۔

نے درخواست ضمانت کی بھرپور انداز میں مخالفت کی اور اس بات پر زور دیا کہ مرزا قادیانی اور اس کے پیروکار خواہ ان کا تعلق قادیانی یا لاہوری جماعت سے ہو‘ غیر مسلم ہیں اور ان کا تعلق مسلمانوں سے الگ گروہ سے ہے اور یہ لوگ کسی صورت میں بھی اپنے آپ کو مسلمان ظاہر کرنے کا حق نہیں رکھتے ۔ اس سلسلے میں انہوں نے مندرجہ ذیل کتابوں سے کئی اقتباسات اور حوالہ جات پیش کیے ۔ یہ حوالہ جات اور اقتباسات مرزا قادیانی کی اپنی تحریر شدہ کتابوں یا پمفلٹوں سے لیے گئے ہیں ۔ 1- حقیقت الوحی 2- روحانی خزائن جلد 18 (مرزا صاحب کی تحریروں کا مجموعہ) 3- تحفہ گولڑویہ 4- تریاق

صفحہ 349

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول) القلوب 5- ضمیمہ انجام آتھم 6- ایک غلطی کا ازالہ 7- البشریٰ 8- تذکرہ 9- دافع البلاء 10- درثمین 11- کشتی نوح 12- تبلیغ رسالت 13- نزول مسیح

انہوں نے کتاب ’’کلمۃ الفصل‘‘ مصنفہ صاحبزادہ مرزا بشیر احمد (مرزا غلام احمد قادیانی کا بیٹا) کی چند عبارات کا بھی حوالہ دیا، جن میں یہ کہا گیا ہے کہ وہ مسلمان جو مرزا قادیانی کو مسیح موعود اور پیغمبر نہیں مانتے، قادیانیوں کے نزدیک کافر اور غیر مسلم ہیں۔ فاضل وکیلِ سرکار نے اپنے دلائل کے حق میں مجیب الرحمٰن وغیرہ بنام فیڈرل گورنمنٹ آف پاکستان (PLD 1985 Federal Shariat Court 8)، ملک جہانگیر ایم جوئیہ بنام سرکار (پی ایل ڈی- 1987 صفحہ 458) اور خورشید احمد بنام حکومت پنجاب (پی ایل ڈی 1992 لاہور صفحہ 1) کے مقدمات سے حوالہ جات پیش کیے اور اس بات پر زور دیا کہ مرزا قادیانی کے پیروکار، جن کا تعلق قادیانی یا لاہوری جماعت سے ہے، غیر مسلم ہیں اور دفعہ 298-C تعزیراتِ پاکستان کی روشنی میں بالواسطہ یا بلا واسطہ اپنے آپ کو مسلمان ظاہر کرنے کے حقدار نہیں ہیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دے کر کہا کہ دعوت نامے پر شعائرِ اسلام کا تحریر کرنا اس بات کا تاثر دیتا ہے کہ تاکیدِ مزید کے الفاظ کے ساتھ نام لکھوانے والے اور دعوت ناموں کو تقسیم کرنے والے مسلمان ہیں۔ مزید یہ کہ قادیانی، مرزا قادیانی پر درود بھیجتے ہیں اور اس طرح سے وہ مرزا قادیانی کو نبی محترم حضرت محمد ﷺ کے برابر یا اس سے بھی اونچا مقام دیتے ہیں (نعوذ باللہ من ذالک) اور اس طرح سے نبی اکرم حضرت محمد ﷺ کے مبارک اور مقدس نام کی تحقیر کر کے زیر دفعہ 295-C (پی پی سی) کے جرم کا ارتکاب کرتے ہیں۔ فاضل وکیلِ مستغیث رشید مرتضیٰ قریشی نے فاضل وکیل سرکار نذیر احمد غازی کے دلائل کی من و عن تائید و حمایت کی اور مزید کہا کہ ملزمان F.I.R (ابتدائی رپورٹ) میں درج شدہ جرائم کے ارتکاب میں ملوث ہیں اور قانون کے مطابق انتہائی سزا کے مستحق ہیں، وکیلِ مستغیث نے اسی بات کی نشاندہی کی کہ ملزم نمبر 1 ایک عادی مجرم ہے، جس کے خلاف ایک دوسرا فوجداری مقدمہ پہلے ہی سے درج ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملزمان نے غلط

صفحہ 350

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول)

طور پر اپنے آپ کو مسلمان ظاہر کیا ہے اور کئی مسلمانوں کو بھی دعوت نامے ارسال کیے اور اس طرح سے انہوں نے مسلمانوں کے جذبات کو مجروح کیا۔ انہوں نے فاضل وکیلِ صفائی کی معروضات کی تردید کی کہ شادی کے دعوت نامے سرفراز احمد نامی ایک مسلمان نے چھپوائے تھے۔ انہوں نے صغیر احمد شیرازی کے حلفیہ بیان کی ایک کاپی ریکارڈ کے طور پر پیش کی۔ صغیر احمد شیرازی پرنٹنگ پوائنٹ‘ جڑانوالہ کے مالک ہیں۔ انہوں نے اپنے حلفیہ بیان میں کہا ہے کہ کارڈ ناصر احمد سائل نمبر 1 نے شائع کرائے تھے۔

5- ملزمان کے فاضل وکیل کی سب سے پہلی دلیل میں کوئی وزن نہیں ہے کہ مقدمہ کی رپورٹ ابتدائی اس بناء پر بلا اختیار ہے کہ تعزیرات پاکستان کی دفعہ A-295 کے تحت مقدمہ صرف وفاقی یا صوبائی حکومت یا حکومت کی طرف سے نامزد کوئی بااختیار شخص ہی درج کرانے کا مجاز تھا اور عام آدمی کو اس دفعہ کے تحت مقدمہ درج کرانے کی ممانعت ہے۔ اس مقدمہ میں تعزیرات پاکستان کی دفعات C-295 اور C-298 کا اطلاق بھی پایا جاتا ہے‘ لہٰذا اس مقدمہ کی کارروائی کے سلسلہ میں حکومت کے نامزد مجاز آفیسر کی طرف سے مقدمہ درج کرانا ضروری نہیں تھا۔ مزید برآں ابھی اس مقدمہ کی عدالت میں سماعت کا مرحلہ بھی نہیں آیا کہ عدالت یہ غور کرے کہ دفعہ 196 سی آر پی سی کے تحت اس کی سماعت کی مجاز ہے یا نہیں۔ پولیس کو مقدمہ کی رپورٹ ابتدائی میں درج جرائم کے بارے میں تفتیش کرنے اور مقدمہ کا چالان عدالت مجاز میں پیش کرنے کا پورا اختیار ہے۔ اگر حاکم مجاز کی طرف سے عدالت کو مقدمہ کی سماعت کے سلسلہ میں اجازت کا حکم موصول نہیں ہوتا تو ایسی صورت میں عدالت اس مقدمہ میں دوسرے جرائم کے بارے میں مقدمہ کی سماعت کرنے کا اختیار رکھتی ہے۔

6- شادی کے دعوت نامے پر سرسری نظر ڈالنے سے واضح طور پر یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہ مسلمانوں کی طرف سے شائع اور تقسیم کیے گئے ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ قادیانی یا مرزا قادیانی کے دوسرے پیروکار زیر دفعہ B-298 تعزیرات پاکستان کے تحت کچھ مخصوص کلمات مثلاً امیر المومنین‘ خلیفۃ المومنین‘ خلیفۃ المسلمین‘ صحابی یا اہل بیت

صفحہ 351

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول)

وغیرہ کا استعمال نہیں کرسکتے۔ تاہم یہ مذکورہ ممنوعہ کلمات قادیانیوں کو اس بات کا لائسنس نہیں دے دیتے کہ وہ دیگر اس قسم کے مشابہہ کلمات یا شعائر اسلام استعمال کریں جو عام طور پر عام مسلمان استعمال کرتے ہیں، کیونکہ اس طرح کرنے سے یہ (قادیانی) اپنے آپ کو مسلمان ظاہر کر رہے ہوں گے، جو قانون کے مطابق ممنوع ہے۔

دلائل میں اس بات پر زور دیا کہ مرزا قادیانی اور اس کے پیروکار غیر مسلم ہیں اور وہ ایک جداگانہ گروہ سے تعلق رکھتے ہیں اور وہ امت مسلمہ کا جزو نہیں ہیں۔ مرزا قادیانی کی تعلیمات کے مطابق صرف اسی کے پیروکار (قادیانی اور لاہوری جماعت) مسلمان ہیں اور دوسرے تمام مسلمان جو مرزا قادیانی کو نبی تسلیم نہیں کرتے، کافر اور غیر مسلم ہیں۔ مرزا بشیر احمد نے اپنی کتاب ”کلمۃ الفصل“ کے ابواب 2، 3، اور 4 میں تفصیل سے اس موضوع پر بحث کی ہے۔ مرزا قادیانی کی تعلیمات کی بنیاد پر بحث کرتے ہوئے وہ لکھتے ہیں کہ وہ تمام لوگ جو مرزا قادیانی کے دعوؤں اور تعلیمات پر یقین نہیں رکھتے، غیر مسلم اور کافر ہیں اور قادیانیوں کو ان (مسلمانوں) کی رسومات شادی و مرگ وغیرہ میں شامل نہیں ہونا چاہیے۔ مرزا قادیانی نے اپنے سگے بیٹے فضل احمد کی نماز جنازہ میں شرکت نہیں کی تھی کیونکہ وہ اس کے دعویٰ نبوت پر ایمان نہیں رکھتا تھا۔ یہی وجہ تھی کہ پاکستان کے پہلے وزیر خارجہ چودھری ظفر اللہ خاں قادیانی نے بانی پاکستان حضرت قائد اعظم کی نماز جنازہ میں شرکت نہ کی تھی۔ اس طرح اب اس بات میں شک و شبہ کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہی کہ مذہب اسلام کی رو سے مرزا قادیانی کے پیروکار ایک علیحدہ گروہ سے تعلق رکھتے ہیں اور حقیقی مذہبی رو سے وہ غیر مسلم ہیں۔ آئین پاکستان کے آرٹیکل 260 کی ذیلی شق B-3 کے تحت انہیں غیر مسلم قرار دیا گیا ہے۔

دلائل میں مرزا قادیانی کی بہت سی کتابوں، پمفلٹوں اور تحریروں کے حوالہ جات یہ ثابت

صفحہ 352

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول)

کرنے کے لیے پیش کیے کہ مرزا قادیانی، برطانوی سامراج کا لگایا ہوا پودا تھا۔ انہوں نے اس درخواست کا بھی حوالہ دیا جو مرزا قادیانی کی طرف سے اس وقت کے لیفٹیننٹ گورنر پنجاب کو ارسال کی گئی تھی، جس میں مرزا قادیانی نے اپنے آپ کو برطانوی سامراج کا ”خودکاشتہ پودا“ کے الفاظ سے منسوب کیا تھا۔ (تبلیغ رسالت جلد نمبر 7 ص 19 مجموعہ اشتہارات جلد 3 ص 21 از مرزا قادیانی)

وکیل سرکار نے مزید کہا کہ مرزا قادیانی کی تعلیمات کا بنیادی مقصد یہ تھا کہ برصغیر کے مسلمان مکمل طور پر برطانوی حکومت کے فرمانبردار اور مطیع ہو جائیں، انگریز حکومت کی غلامی اور اطاعت کو اسلام کا ایک حصہ سمجھیں اور آئندہ جہاد کو حرام جانیں اور ”شرک فی الرسالت“ کے ذریعے مسلمانوں کا حضور اکرم حضرت محمد ﷺ سے عقیدت و محبت کا رشتہ ختم کر دیں۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ مرزا قادیانی کی تعلیمات و اعتقادات بابت ہستی باری تعالیٰ، نبی اکرم حضرت محمد ﷺ، عقیدۂ ختم نبوت، قرآن مجید، کلمہ طیبہ، احادیث مبارکہ، عقیدۂ ایمان، جہاد اور حج کا تصور، سابق انبیاء علیہم السلام (بشمول حضرت عیسیٰ علیہ السلام) اور اہلبیت کی عزت و احترام، تقدس مکہ مکرمہ اور مدینہ طیبہ پوری امت مسلمہ سے مختلف ہیں۔

مندرجہ بالا تمام دلائل بڑا وزن رکھتے ہیں، چونکہ میرے سامنے صرف ضمانت کا معاملہ ہے اس لیے میں ان مذکورہ نکات پر مفصل بحث کی ضرورت محسوس نہیں کرتا۔ تاہم درخواست ضمانت کو نمٹانے کے محدود مقصد کے پیش نظر میں مرزا قادیانی کی کچھ تعلیمات اور اعتقادات کا مختصر جائزہ لوں گا تا کہ یہ دیکھا جا سکے کہ درود شریف جو متنازعہ دعوتی کارڈ پر چھپا ہوا ہے کیا یہ درود شریف مرزا قادیانی سے منسوب ہے یا نہیں؟ اور کیا اس سے بالواسطہ یا بلا واسطہ نبی اکرم حضرت محمد ﷺ کے نام مبارک کی تحقیر ہوتی ہے یا نہیں؟

صرف حضور اکرم حضرت محمد ﷺ کے لیے مختص ہے۔

صفحہ 353

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول)

وسلموا تسلیما. (احزاب:56)

(ترجمہ: بے شک اللہ تعالیٰ اور اس کے فرشتے درود بھیجتے ہیں اس نبی مکرم پر۔ اے ایمان والو تم بھی آپ (ﷺ) پر درود بھیجا کرو اور (بڑے ادب ومحبت سے) سلام عرض کیا کرو۔) (سورہ الاحزاب آیت 56 پارہ 22) درود و سلام اعلیٰ ترین عبادت ہے جو مسلمانوں کے حضور نبی اکرم حضرت محمد ﷺ سے رشتہ احترام ومحبت کو مضبوط کرتی ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آیا مرزا قادیانی نے کبھی یہ دعویٰ کیا کہ وہ نبی یا پیغمبر ہے؟ اور وہ بھی حضور اکرم حضرت محمد ﷺ کی طرح درود وسلام کا مستحق ہے؟

حضرت محمد ﷺ نبی آخر الزماں اور خاتم النبیین ہیں۔ امت مسلمہ حضور نبی کریم حضرت محمد ﷺ کے بعد کسی اور نئے نبی کی آمد کے عقیدے کو نہایت شدت اور حقارت کے ساتھ مسترد کرتی ہے۔ قرآن حکیم کے مطابق حضور اکرم حضرت محمد ﷺ خاتم النبیین ہیں۔ سرکار دو عالم ﷺ نے خود اپنی زبان مبارک سے واضح طور پر مزید فرما دیا کہ میرے بعد کوئی نیا نبی نہیں ہوسکتا۔ تاہم مرزا صاحب نے اپنے نبی ہونے کا دعویٰ کیا اور یہ نظریہ پیش کیا کہ حضرت محمد ﷺ خاتم النبیین نہیں ہیں بلکہ وہ خاتم یعنی مُہر (Seal) کے حامل ہیں اور مستقبل میں آنے والے نئے نبیوں کی توثیق کرنے والے ہیں۔ (حقیقت الوحی ص 27، 28 روحانی خزائن ج 22 ص 29، 30) مرزا قادیانی نے ایک دوسرا نیا عجیب وغریب نظریہ حضرت محمد ﷺ کی بعثت ثانیہ کا بھی پیش کیا اور یہ دعویٰ کیا کہ ”میری ذات میں حضور اکرم حضرت محمد ﷺ کا دوبارہ بروزی شکل میں ظہور ہوا ہے“ اور مزید دعویٰ کیا کہ آپ ﷺ کا پہلا ظہور ملک عرب میں ہلال (پہلی رات کا چاند) کی صورت میں تھا اور ان کے دوسرے ظہور میں وہ (مرزا قادیانی کی صورت میں) بدر کامل (پورا چاند) ہیں۔ اس طرح سے مرزا صاحب نے نہ صرف برابری بلکہ اپنے آپ کو حضور اکرم حضرت محمد ﷺ سے برتر ہونے کا دعویٰ کیا۔ (نعوذ بالله من ذالک)

صفحہ 354

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول)

اعلان کیا کہ کوئی بھی شخص ترقی کر سکتا ہے اور بڑے سے بڑا درجہ پا سکتا ہے حتیٰ کہ حضرت محمد ﷺ سے بھی بڑھ سکتا ہے۔ (نعوذ باللہ من ذالک) (روزنامہ الفضل شمارہ نمبر 5، جلد 10، ص 5، مورخہ 17 جولائی 1922ء)

رب العزت کے بعد اعلیٰ ترین مقام صرف حضور اکرم حضرت محمد ﷺ کو حاصل ہے اور کوئی بھی مسلمان آپ ﷺ سے ہمسری کا تصور بھی نہیں کر سکتا۔ حضور اکرم ﷺ تو کجا کوئی بھی مسلمان آپ ﷺ کے ایک صحابی کے برابر ہونے کا دعویٰ بھی نہیں کر سکتا۔ تاہم مرزا قادیانی نے حضور اکرم حضرت محمد ﷺ سے مکمل طور پر ہمسری اور ان کی مشابہت رکھنے کا دعویٰ کرنے کی جسارت کی ہے۔ اس (مرزا غلام قادیانی) نے خطبہ الہامیہ ص 259 روحانی خزائن ج 16 ص 259 میں اس بات کا پُر زور دعویٰ کیا ہے کہ جو شخص مجھ میں اور مصطفیٰ (یعنی حضرت محمد ﷺ) میں فرق کرتا ہے اس نے نہ تو مجھے (مرزا قادیانی) دیکھا اور نہ ہی مجھے پہچانا۔ (نعوذ باللہ من ذالک) اس نے دعویٰ کیا کہ اس کا نام (یعنی مرزا قادیانی کا) احمد اور محمد اسے نبوت کے درجے کے ساتھ ملا کیونکہ وہ حضرت محمد ﷺ کی محبت میں کھو گیا تھا۔ انہوں نے اپنے ایک پمفلٹ (ایک غلطی کا ازالہ ص 3 روحانی خزائن ج 18 ص 207) میں تحریر کیا ہے کہ ”نبوت کی تمام کھڑکیاں بند کی گئیں مگر ایک کھڑکی سیرت صدیقی کی کھلی رکھی یعنی فنا فی الرسول کی“ انتہائی حیرت انگیز بات ہے کہ حضرت ابوبکر صدیق کی حضور اکرم ﷺ سے محبت انتہائی مثالی اور بے نظیر تھی مگر وہ بھی نبوت کے درجے کو نہ پہنچ سکے۔ وجہ صاف ظاہر ہے کہ نئی نبوت کا دروازہ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے بند کر دیا گیا تھا۔ اس لیے حضور اکرم ﷺ کی ذات مبارک سے اعلیٰ درجہ کی محبت بھی نبوت کے مقام پر نہیں پہنچا سکتی۔ تاہم مسلمان نبوت کے سوا دیگر روحانی مقام حاصل کر سکتے ہیں۔

رسول مقبول ﷺ کے صحابہ کرام جنہیں آپ ﷺ سے انتہا درجہ کی محبت تھی، کو اللہ رب العزت کی طرف سے تنبیہ کی گئی کہ وہ اپنی آوازوں کو حضور نبی کریم ﷺ کی

صفحہ 355

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول)

آواز سے بلند نہ کریں ورنہ ان کے تمام نیک اعمال ضائع کر دیئے جائیں گے۔ اللہ رب العزت کی طرف سے اس تنبیہ کا مقصد مسلمانوں کو اپنی مقررہ حدود کے اندر رکھنا تھا تاکہ وہ آپ ﷺ کی ہمسری اور برابری کا اظہار نہ کر سکیں۔

حضور نبی کریم ﷺ سے محبت کی وجہ سے مسلمان اہل بیت سے بھی محبت رکھتے ہیں، حتی کہ ان تمام مقامات سے بھی محبت رکھتے ہیں جہاں وہ (نبی اکرم ﷺ) مقیم رہے یا چلتے پھرتے رہے۔ مسلمان مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کی ریت، گرد و غبار، کھجوروں، حتی کہ گلیوں سے شدید محبت رکھتے ہیں۔ وہ حضور اکرم ﷺ کی (مقدس) جائے تدفین (روضہ رسول اللہ ﷺ) کو حضور نبی کریم ﷺ کی ایک حدیث مبارکہ کے مطابق جنت الفردوس کا ایک حصہ سمجھتے ہیں۔

(ترجمہ۔ میرے گھر اور میرے منبر کا درمیانی حصہ جنت کے باغوں میں سے ایک باغ ہے۔)

(سراج المنیر ۔ شرح جامع الصغیر صفحہ 246)

تاہم مرزا قادیانی نے اپنے آپ کو حضور نبی کریم حضرت محمد ﷺ کے ہمسر ہونے اور ان سے مشابہت رکھنے کا دعویٰ کر کے انتہائی مذموم جسارت کا مظاہرہ کیا ہے، انہوں نے قادیان کو مکہ اور مدینہ کی طرح قابلِ احترام (حرم) قرار دے کر مکہ اور مدینہ کے مقدس مقامات کی بے حرمتی کی ہے اور اس حد تک دعویٰ کیا ہے کہ قادیان کی ایک دفعہ زیارت کرنا نفلی حج سے برتر اور اعلیٰ ہے۔ وہ (مرزا قادیانی) اس حد تک آگے چلا گیا کہ اس نے حضور اکرم حضرت محمد ﷺ کی (مقدس) جائے تدفین (روضہ رسول اللہ ﷺ) کا تذکرہ کرتے ہوئے غلیظ زبان کے استعمال کی انتہا کر دی۔ ظاہراً اپنے جوش و جذبہ میں نبی مکرم ﷺ کی حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر برتری ظاہر کرنے کے لیے اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نظریہ نزولِ آسمانی کو مسترد کرتے ہوئے مرزا صاحب لکھتے ہیں۔

چڑھنے اور اتنی مدت تک زندہ رہنے اور پھر دوبارہ اترنے کی جو دی گئی ہے، اس کے ہر

صفحہ 356

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول)

پہلو سے ہمارے نبی کی توہین ہوتی ہے۔ اور خدا تعالیٰ کا ایک بڑا تعلق جس کا کچھ حد و حساب نہیں حضرت مسیح سے بھی ثابت ہوتا ہے۔ مثلاً آنحضرت کی سو برس تک بھی عمر نہ پہنچی مگر حضرت مسیح اب تقریباً دو ہزار برس سے زندہ موجود ہیں اور خدا تعالیٰ نے آنحضرت کے چھپانے کے لیے ایک ایسی ذلیل جگہ تجویز کی جو نہایت متعفن اور تنگ اور تاریک اور حشرات الارض کی نجاست کی جگہ تھی۔ مگر حضرت مسیح کو آسمان پر جو بہشت کی جگہ اور فرشتوں کی ہمسائیگی کا مکان ہے بلا لیا۔ اب بتلاؤ محبت کس سے زیادہ کی۔ عزت کس کی زیادہ کی۔ قرب کا مقام کس کو دیا اور پھر دوبارہ آنے کا شرف کس کو بخشا۔‘‘

(تحفہ گولڑویہ حاشیہ صفحہ - 70 مندرجہ روحانی خزائن ج 17 حاشیہ ص 205 از مرزا قادیانی)

حضور اکرم حضرت محمد ﷺ اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے مابین اس تقابل کی جو بھی قدر و قیمت ہو‘ مگر ایک بات واضح ہے کہ مرزا (قادیانی) صاحب نے نبی کریم ﷺ کے مقدس مقام تدفین کے متعلق انتہائی تحقیر آمیز الفاظ استعمال کیے ہیں۔ جس کے تصور ہی سے ایک مسلمان لرز جاتا ہے۔ مرزا صاحب نے دعویٰ کیا کہ وہ مقام اور مرتبے کے لحاظ سے حضرت امام حسنؓ اور حضرت امام حسینؓ سے بڑھ کر تھے۔ اپنی تحریر کردہ کتب دافع البلاء‘ نزولِ مسیح اور درثمین میں ان کی تذلیل و اہانت کی ہے۔ (کچھ متعلقہ اقتباسات اور حوالہ جات اس فیصلہ کے آخر میں تتمہ۔ اے کے طور پر منسلک کر دیئے گئے ہیں) حضور نبی کریم حضرت محمد ﷺ کی احادیث مبارکہ سے ثابت ہے کہ آپ ﷺ (اپنے دونوں نواسوں) حضرت امام حسنؓ اور حضرت امام حسینؓ سے شدید محبت رکھتے تھے۔ مگر مرزا قادیانی (جو بذات خود محمد ہونے کا دعویٰ کرتا ہے) نے حسنین رضی اللہ عنہما کے لیے توہین اور نفرت کا اظہار کیا ہے۔

مرزا قادیانی کے مندرجہ بالا عقائد و نظریات‘ جن سے مسلمانوں کو شدید صدمہ پہنچا ہے اور ان کے جذبات مجروح ہوئے ہیں‘ کے بعد مرزا صاحب نے دعویٰ کیا ہے کہ وہ درود و سلام کے مستحق ہیں۔ بقول مرزا صاحب اللہ تعالیٰ اس پر درود بھیجتا ہے‘ مرزا قادیانی کے الہامات اور وحیوں پر مشتمل کتاب ”تذکرہ“ کے صفحہ نمبر 777 طبع سوم

صفحہ 357

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول)

پر ایک وحی یہ درج ہے:

مرزا قادیانی نے اپنی کتاب اربعین نمبر 2 میں مندرجہ ذیل دعویٰ کیا ہے۔

اس پر فقرہ علیہ الصلوٰۃ والسلام کا اطلاق کرتے ہیں اور ایسا کرنا حرام ہے۔ اس کا جواز یہ ہے کہ میں مسیح موعود ہوں اور دوسرے کا صلوٰۃ یا سلام کہنا تو ایک طرف‘ خود آنحضرتؐ نے فرمایا کہ جو شخص اس کو پاوے میرا سلام اس کو کہے اور احادیث اور تمام شروح احادیث میں مسیح موعود کی نسبت صد ہا جگہ صلوٰۃ وسلام کا لفظ لکھا ہوا موجود ہے۔ پھر جب کہ میری نسبت نبی نے یہ لفظ کہا‘ صحابہ نے کہا بلکہ خدا نے کہا‘ تو میری جماعت کا میری نسبت یہ فقرہ بولنا کیوں حرام ہو گیا۔“

(اربعین نمبر 2 صفحہ نمبر 3 مندرجہ روحانی خزائن ج 17 ص 349 از مرزا قادیانی)

دوبارہ مرزا قادیانی اپنی کتاب حقیقت الوحی باب چہارم ص 75 مندرجہ روحانی خزائن ج 22 ص 78 میں دعویٰ کرتا ہے کہ مندرجہ ذیل وحی اس پر اتری ہے۔

تفیض من الدمع. یصلون علیک ط

(ترجمہ: ”جو صفہ میں رہنے والے ہیں اور تو کیا جانتا ہے کہ کیا ہیں صفہ میں رہنے والے۔ تو دیکھے گا کہ ان کی آنکھوں سے آنسو جاری ہوں گے۔ وہ تیرے (مرزا قادیانی) پر درود بھیجیں گے۔“)

یہی وحی مرزا صاحب کی کتاب تذکرہ صفحات 242‘ 631 اور 632‘ 621 میں درج ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اصحاب صفہ مرزا صاحب پر درود بھیجتے ہیں۔ پس اس سے ثابت ہوتا ہے کہ قادیانی‘ مرزا قادیانی کے لیے درود وسلام پڑھتے ہیں اور ساتھ ہی مرزا قادیانی کو حضور اکرم حضرت محمد ﷺ کے برابر گردانتے ہیں۔ قادیانیوں کی اس حرکت اور فعل سے واضح طور پر حضور اکرم حضرت محمد ﷺ کے مقدس اور مبارک نام کی

صفحہ 358

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول)

تحقیر اور بے حرمتی ثابت ہوتی ہے۔ حضور اکرم حضرت محمد ﷺ کے مقام و مرتبہ کو گھٹا کر مرزا قادیانی کے برابر کیا گیا۔ وہ (مرزا قادیانی) جس نے اپنے آپ کو برطانوی حکومت کا خودکاشتہ پودا قرار دیا۔ جس نے برطانوی گورنمنٹ کی اطاعت اور وفاداری کو اسلام کا ایک حصہ سمجھا اور جہاد کے حرام ہونے کا دعویٰ کیا، حضرت امام حسینؓ کی تذلیل واہانت کی، جس نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ تمام مسلمان جو اس (مرزا قادیانی) پر ایمان نہیں لاتے، کافر ہیں۔ بحث کے دوران فاضل وکیل سرکار اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل نے انتہائی وثوق سے کہا کہ شادی کے دعوت نامے پر تحریر کیا گیا درود ”نحمدہ و نصلی علی رسولہ الکریم“ مرزا قادیانی کے لیے استعمال کیا گیا ہے۔ لیکن فاضل وکیل سرکار کے اس دعویٰ پر فاضل وکیل ملزم نے نہ تو کوئی اعتراض کیا اور نہ اس پر کوئی بحث کی۔ لہٰذا ان معقول دلائل کی بناء پر ملزم جرم زیر دفعہ 295-C تعزیرات پاکستان کا مرتکب ہوا جو دفعہ 497 مجموعہ ضابطہ فوجداری کی امتناعی شق کے زمرے میں آتا ہے۔ (جس کے تحت ضمانت نہیں لی جاسکتی)

ملزمان ضمانت کے مستحق نہیں ہیں۔ نتیجتاً ان کی درخواست ضمانت خارج کی جاتی ہے۔

دستخط تاریخ فیصلہ جسٹس میاں نذیر اختر 2 اگست 1992ء

(1992 PCr L J 2351)

۞.......۞.......۞

صفحہ 359

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول)

ضمیمہ - الف

(ترجمہ) کربلا ہر وقت میری سیرگاہ ہے اور سو حسین میرے گریبان میں ہیں۔

(نزول المسیح صفحہ نمبر 99 روحانی خزائن جلد نمبر 18 صفحہ نمبر 477)

(ترجمہ) ”اور انہوں نے کہا کہ اس شخص نے امام حسن اور امام حسین سے اپنے تئیں اچھا سمجھا۔ میں کہتا ہوں کہ ہاں اور میرا خدا عنقریب ظاہر کر دے گا۔“

(اعجاز احمدی ص 52 روحانی خزائن جلد 19 صفحہ 164)

وما وردكم الا حسين اتنكر
فهذا على الاسلام احدى المصائب
لدى نفحات المسک قذر مقنطر

(ترجمہ) ”تم نے خدا کے جلال اور مجد کو بھلا دیا اور تمہارا ورد صرف حسین ہے۔ کیا تُو انکار کرتا ہے پس یہ اسلام پر ایک مصیبت ہے۔ کستوری کی خوشبو کے پاس گوہ کا ڈھیر ہے۔“

(اعجاز احمدی ص 82 ضمیمہ نزول المسیح روحانی خزائن جلد نمبر 19 صفحہ 194)

سچ سچ کہتا ہوں کہ آج تم میں ایک ہے کہ اس حسینؓ سے بڑھ کر ہے۔“

(دافع البلاء صفحہ 13‘ روحانی خزائن جلد 18 صفحہ 233)

صفحہ 360

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول)

نہیں دیا بلکہ نام تک مذکور نہیں، ان سے تو زید ہی اچھا رہا جس کا نام قرآن میں موجود ہے............. میں مسیح موعود نبی اور رسول ہوں۔ اب سوچنے کے لائق ہے کہ امام حسین کو مجھ سے کیا نسبت ہے؟“

(نزول المسیح صفحہ نمبر 45 مندرجہ روحانی خزائن ج 18 ص 424‘ از مرزا قادیانی)

نہ مدد کر سکا...... تم نے کشتہ سے نجات چاہی جو نو میدی سے مر گیا...... اور بخدا اس کی شان مجھ سے کچھ زیادہ نہیں۔ میرے پاس خدا کی گواہیاں ہیں پس تم دیکھ لو اور میں خدا کا کشتہ ہوں۔ لیکن تمہارا حسین دشمنوں کا کشتہ ہے۔“

(اعجاز احمدی صفحہ 80‘ 81 مندرجہ روحانی خزائن ج 19 ص 192‘ 193 درثمین عربی صفحہ 240‘ 241)

کہ ایک دنیا دار کے ہاتھ پر انہوں نے بیعت نہ کی اور اس کشاکش کی وجہ سے شہید ہو گئے...... اگر ہم امام حسین کی خدمات کو لکھنا چاہیں تو کیا ان دو تین فقروں کے سوا کہ وہ انکار بیعت کی وجہ سے کربلا میں روکے گئے اور شہید کیے گئے۔ کچھ اور بھی لکھ سکتے ہیں؟“

(رسالہ تشحیذ الاذہان نمبر 2 جلد نمبر 1 مرتبہ مرزا محمود)

(1992 Pcr.L J 2351)

۞......۞......۞

صفحہ 361

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول)

THE CONSTITUTION

OF THE

ISLAMIC REPUBLIC

OF PAKISTAN

PLD 1991 Federal Shariat Court 10

وفاقی شرعی عدالت، پاکستان

محمد اسماعیل قریشی بنام حکومت پاکستان

جناب جسٹس گل محمد خاں......چیف جسٹس

جناب جسٹس عبدالکریم خاں کندی

جناب جسٹس عبادت یار خاں

جناب جسٹس عبدالرزاق اے تھہیم

جناب جسٹس ڈاکٹر فدا محمد خاں

تحفظ ناموس رسالت صلی اللہ علیہ وسلم پر ایک مستند دستاویز

”گستاخ رسول کی سزا صرف موت ہے“

وفاقی شرعی عدالت کا تاریخی فیصلہ جس کا مطالعہ

ہر مسلمان کے لیے ناگزیر ہے۔

صفحہ 362

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول)

”حضرت جابر بن عبداللہ کی سند سے روایت ہے کہ رسول اکرم ﷺ نے فرمایا ’’کعب بن اشرف کے خلاف میری کون مدد کرے گا؟ بلاشبہ اس نے اللہ اور اس کے رسول کو ایذا دی‘‘۔ اس پر محمد ابن مسلمہ کھڑے ہوئے اور بولے ’’اے اللہ کے رسول ﷺ کیا آپ چاہتے ہیں کہ میں اسے ہلاک کر دوں؟‘‘ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’ہاں‘‘ چنانچہ وہ عباس ابن جابر اور عباد ابن بشر کے ہمراہ گئے اور اسے قتل کر دیا۔ (بخاری‘ جلد دوم‘ صفحہ 88)“

صفحہ 363

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول)

دل کی بات

(مقدمہ کا پس منظر، احوال، نتیجہ)

الحمد للہ وحدہ والصلوۃ والسلام علی من لا نبی بعدہ اما بعد مسلمان اپنے آقا و مولا حضور سرور عالم ﷺ کے نام و ناموس پر مر مٹنے اور اس کی خاطر دنیا کی ہر چیز قربان کرنے کو اپنی زندگی کا ماحصل سمجھتے ہیں۔ اس پر تاریخ کی کسی جرح سے نہ ٹوٹنے والی ایسی شہادت موجود ہے جو مسلمہ حقیقت بن چکی ہے۔ اس لیے مسلمانوں کو خواہ وہ ایشیا ہو یا یورپ افریقہ ہو یا کوئی اور خطہ ارض، مسلمانوں کو جہاں بھی اقتدار حاصل رہا، وہاں کی عدالتوں نے اسلامی قانون کی رو سے شاتمان رسول ﷺ کو سزائے موت کا فیصلہ سنایا۔ اس کے برعکس، جب کبھی یا جہاں ان کے پاس حکومت نہیں رہی، وہاں جانثاران تحفظ ناموس رسالت ﷺ نے غیر مسلم حکومت کے رائج الوقت قانون کی پروا کیے بغیر گستاخان رسول ﷺ کو کیفر کردار تک پہنچایا اور خود ہنستے مسکراتے تختہ دار پر چڑھ گئے۔

برصغیر پاک و ہند میں برطانوی دور استعمار سے قبل، حتی کہ مغل شہنشاہ اکبر کے سیکولر دور میں بھی شاتم رسول ﷺ کو سزائے موت دی گئی۔ لیکن جب اس ملک پر سازشوں کے ذریعہ انگریزوں کا غاصبانہ قبضہ ہو گیا تو انہوں نے توہین رسالت ﷺ کے اس قانون کو یکسر موقوف کر دیا۔ پھر انگریز حکومت ہی کی شہ پر جب ہندوؤں، آریہ سماجیوں اور مہاسبھائیوں نے مسلمانوں کی دل آزاری کرتے ہوئے حضور نبی کریم علیہ الصلوۃ والسلام کی ذات گرامی پر حملے کرنے شروع کر دیے تو مسلمانوں نے شاتمان رسول ﷺ کو قتل کر کے اقرار جرم کرتے ہوئے دارورسن کی روایت کو از سر نو زندہ کیا۔

صفحہ 364

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول)

مسلمانوں کے احتجاج اور مولانا محمد علی جوہر کی تحریک پر اس وقت کی قانون ساز اسمبلی نے 1927ء میں ایک معمولی سی دفعہ 295 اے کا تعزیرات ہند میں اضافہ کیا، جس کی رو سے توہین مذہب کے جرم کی سزا دو سال تک قید یا جرمانہ مقرر ہوئی، لیکن اس سے مسلمانوں کی اشک شوئی نہ ہوسکی۔

پاکستان کے معرض وجود میں آنے کے بعد یہ توقع تھی کہ یہاں توہین رسالت ﷺ کے جرم کی شرعی سزا، سزائے موت کا قانون پھر سے بحال ہو جائے گا، لیکن کسی بھی مقننہ یا حکومت کو اس بارے میں پیش رفت کرنے کی توفیق نصیب نہ ہوئی، اسی اثناء میں اسلام دشمن قوتوں نے پاکستان کی اسلامی ریاست کو ختم کرنے کے لیے سازشوں کا جال سارے ملک میں پھیلا دیا۔ زرخرید ایجنٹوں کے ذریعہ یہاں کے نوجوانوں کو دین سے برگشتہ کرنے کے لیے لادینی لٹریچر بھی پھیلانا شروع کر دیا گیا۔ اس سلسلہ میں ایک کٹر کمیونسٹ مشتاق راج کی مثال دی جاسکتی ہے، جس کی خدمات روس کی حکومت نے حاصل کیں۔ مشتاق راج نے 1983ء میں Heavenly Communism (آفاقی اشتمالیت) نامی ایک کتاب لکھی جو ملک کے تعلیم یافتہ طبقہ میں مفت تقسیم کی گئی۔ اس کتاب میں نہ صرف اللہ سبحانہ تعالیٰ کے ساتھ تمسخر کیا گیا تھا، بلکہ مذاہب اور ادیان کا بھی مذاق اڑایا گیا تھا۔ دینی پیشواؤں کو ’’مذہبی شیطان‘‘ کہا گیا، انبیائے کرام علیہم السلام پر نہایت گھٹیا اور سوقیانہ حملے کیے گئے اور انتہا یہ ہے کہ حضور ختمی مرتبت ﷺ کی شان میں بھی گستاخی کی جسارت کی گئی۔ معروف دانشور اور ماہر قانون جناب محمد اسماعیل قریشی سینئر ایڈووکیٹ سپریم کورٹ نے اس دل فگار واقعہ پر ورلڈ ایسوسی ایشن آف مسلم جیورسٹس (پاکستان زون) کا اجلاس طلب کیا، جس میں پاکستان کے نامور علمائے دین کے علاوہ بیرون ملک سے عالم اسلام کے دو ممتاز سکالر ڈاکٹر ربیع المدخلی اور پروفیسر سعید صالح نے بھی شرکت کی۔ سب علماء کا متفقہ فتویٰ تھا کہ شاتم رسول ﷺ واجب القتل ہے، لہٰذا حکومت سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ اس ناپاک کتاب کو فوری طور پر ضبط کر لے اور بغیر کسی تاخیر کے توہین رسالت ﷺ کا قانون بنا کر اسے نافذ العمل کر دیا جائے،

صفحہ 365

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول)

تاکہ آئندہ کسی بدبخت کو اہانت رسول اللہ ﷺ کی جرات نہ ہو سکے۔ لاہور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن اور بار کونسل نے بھی جناب محمد اسماعیل قریشی ایڈووکیٹ کی تحریک پر مشتاق راج کو بار کی رکنیت سے خارج کر دیا اور حکومت سے مطالبہ کیا کہ اسے گرفتار کر کے عبرتناک سزا دی جائے اور اس ناپاک کتاب کی ساری کاپیاں فوری ضبط کر لی جائیں۔ اہل لاہور کو جب اس کتاب کی اشاعت کا علم ہوا تو ان کے جذبات مشتعل ہو گئے اور حکومت نے امن وامان کی صورت حال اور بار ایسوسی ایشن کی قرارداد کے پیش نظر اسے زیر دفعہ 295 اے گرفتار کر لیا، کیونکہ تعزیرات پاکستان میں اس وقت تک توہین رسالت ﷺ جیسے سنگین اور انتہائی دل آزار جرم کی کوئی سزا مقرر نہیں تھی۔ ملک عزیز کے تمام مکاتب فکر کے علماء وکلاء بار ایسوسی ایشنز اور دینی تنظیموں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ اس سلسلہ میں فوری طور پر قانون سازی کی جائے۔ پاکستان کے قومی اخبارات نے بھی اس کی تائید کی اور اس کی حمایت میں اداریئے لکھے۔ بالآخر اسلامی نظریاتی کونسل نے اسلامیان پاکستان کے اس مطالبہ کا نوٹس لیا اور شیخ غیاث محمد صاحب، سابق اٹارنی جنرل کی تحریک پر حکومت سے سفارش کی کہ توہین رسالت ﷺ اور ارتداد کی سزا، سزائے موت مقرر کی جائے۔ اس کے باوجود حکومت وقت نے اس نازک مسئلہ کو مستحق توجہ نہیں سمجھا، لہٰذا جناب محمد اسماعیل قریشی ایڈووکیٹ نے فیڈرل شریعت کورٹ میں صدر پاکستان اور تمام صوبوں کے گورنروں کے خلاف اسلامی جمہوریہ پاکستان کے آئین کی دفعہ 203 ڈی کے تحت 1984ء میں اپنے ساتھ تمام مکاتب فکر کے علماء، سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ کے سابق جج صاحبان، سابق وزرائے قانون، سابق اٹارنی جنرل، سابق ایڈووکیٹ جنرل، لاہور ہائی کورٹ بار اور دیگر بار کونسلوں کے صدر صاحبان سمیت ایک سو پندرہ شہریوں کو شامل کر کے شریعت پٹیشن نمبر 1 / ایل 1984ء دائر کی۔ مقدمہ کی سماعت کا آغاز ہوا۔ کمرۂ عدالت اور اس کے باہر ہر روز عوام کا ہجوم اس مقدمہ کی کارروائی کی سماعت کے لیے موجود ہوتا۔ تمام صوبوں کے ایڈووکیٹ جنرلز نے بھی اس پٹیشن کی تائید میں دلائل پیش کیے اور عدالت سے

صفحہ 366

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول) درخواست کی کہ اس درخواست کو منظور کر لیا جائے لیکن ڈپٹی اٹارنی جنرل نے جو مرکزی حکومت پاکستان کی جانب سے پیش ہوئے‘ عدالت میں اس مؤقف سے اتفاق کیا کہ شاتم رسول ﷺ واجب القتل ہے‘ لیکن یہ قانونی اعتراض اٹھایا کہ فیڈرل شریعت کورٹ کو اس کی سماعت کا اختیار نہیں ہے‘ اس لیے یہ شریعت پٹیشن لائق سماعت نہیں۔ فیڈرل شریعت کورٹ کے پیش نظر ایک اور مسئلہ بھی تھا کہ آیا شاتم رسول ﷺ کی سزا کا معاملہ قانون ساز اسمبلی سے متعلق ہے یا فیڈرل شریعت کورٹ اس بارے میں وفاقِ پاکستان کو حکم نامہ جاری کرنے کی مجاز ہے۔ بہر حال فریقین کے دلائل کی سماعت کے بعد وفاقی شرعی عدالت نے اپنا فیصلہ محفوظ کر لیا۔ اسی اثناء میں ایک اور سنگین واقعہ رونما ہوا۔ مئی 1986ء میں ایک خاتون ایڈووکیٹ عاصمہ جہانگیر نے‘ اسلام آباد میں منعقدہ ایک سیمینار میں تقریر کرتے ہوئے‘ معلم انسانیت حضور ختمی مرتبت ﷺ کی شان میں کچھ ایسے نازیبا الفاظ استعمال کیے جو سامعین اور امت مسلمہ کی دل آزاری کا باعث تھے جس پر سیمینار میں ہنگامہ برپا ہو گیا۔ جب یہ خبر اخبارات میں شائع ہوئی تو پاکستان کے تمام سر برآوردہ علماء اور وکلا نے اس کی پرزور مذمت کرتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ فوری طور پر شاتم رسول ﷺ کے بارے میں سزائے موت کا قانون منظور کرے اور فیڈرل شریعت کورٹ سے بھی درخواست کی گئی کہ وہ شریعت پٹیشن پر اپنا فیصلہ صادر کرے۔ اسلامی جذبہ سے سرشار خاتون مرحومہ آپا نثار فاطمہؒ نے اس قابل اعتراض تقریر کا قومی اسمبلی میں سختی سے نوٹس لیا اور پھر قومی اسمبلی میں تعزیرات پاکستان میں ایک مزید دفعہ 295 سی کا بل جس کی رُو سے شاتم رسول ﷺ کی سزا‘ سزائے موت تجویز کی گئی‘ پیش کیا اور اس سلسلہ میں اس وقت کے وزیر قانون و انصاف جناب اقبال احمد خاں سے ملاقات کی لیکن انہوں نے اس بل کی حمایت سے اس لیے معذرت کا اظہار کیا‘ کیونکہ قرآن میں اس کی سزا مقرر نہیں ہے۔ اس کے علاوہ مضحکہ خیز صورتِ حال اس وقت پیدا ہوئی‘ جب یہ خبر ملی کہ کئی اسلامی ذہن رکھنے والے اراکین اسمبلی بھی اس بل سے پوری طرح متفق نہیں تھے‘ کیونکہ وہ توہین رسالت ﷺ ایسے سنگین جرم کے

صفحہ 367

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول) لیے صرف عمر قید ہی کی سزا کو کافی سمجھتے تھے‘ لیکن 1986ء میں جب یہ بل اسمبلی میں جنت مکانی آپا نثار فاطمہ مرحومہ نے پیش کیا تو مسلمانوں کے متفقہ مطالبہ کے پیش نظر انہیں اس کی مخالفت کی جرأت نہ ہوسکی‘ البتہ وزارت قانون کی طرف سے اس بل میں یہ ترمیم کر دی گئی کہ شاتم رسول کی سزا سزائے موت یا عمر قید ہوگی‘ اس طرح دفعہ 295 سی کا تعزیرات پاکستان میں اضافہ کر دیا گیا۔ لیکن‘ چونکہ اس دفعہ سے مرحومہ آپا نثار فاطمہ‘ علمائے کرام‘ وکلاء اور مسلمان عوام مطمئن نہیں تھے‘ اس لیے دوبارہ فیڈرل شریعت کورٹ میں تعزیرات پاکستان کی دفعہ 295 سی کو جناب محمد اسماعیل قریشی ایڈووکیٹ نے مسلم ماہرین قانون کی تنظیم کی جانب سے اس بناء پر چیلنج کر دیا کہ توہین رسالت کی سزا بطور حد سزائے موت مقرر ہے اور حد کی سزا میں حکومت ہی نہیں‘ بلکہ پوری امت مسلمہ کو بھی سوئی کی نوک کے برابر کمی یا اضافہ کرنے کا اختیار نہیں اور یہ ناقابل معافی جرم ہے۔ اس مقدمہ کی باقاعدہ سماعت یکم اپریل 1987ء کو شروع ہوئی‘ جس میں تمام مکاتب فکر کے علماء کو بھی معاونت کی دعوت دی گئی۔ بعض علماء کا خیال تھا کہ یہ قابل معافی جرم ہے اور بعض نے یہ بھی کہا کہ حاکم وقت سزائے موت سے کم تر سزا بھی دینے کا مجاز ہے۔ اس مقدمہ کی سماعت لاہور‘ اسلام آباد اور کراچی میں فیڈرل شریعت کورٹ کے فل بنچ جو جناب جسٹس گل محمد خان چیف جسٹس‘ جناب جسٹس عبدالکریم خاں کنڈی‘ جناب جسٹس عبدالرزاق تھہیم پر مشتمل تھا‘ کے سامنے ہوئی۔ منجملہ دیگر علمائے کرام کے مولانا مفتی غلام سرور قادری‘ مولانا حافظ صلاح الدین یوسف اور جناب سید ریاض الحسن نوری قابل ذکر ہیں۔ مولانا حافظ صلاح الدین یوسف جو جماعت اہل حدیث کے محقق عالم ہیں‘ کا پہلی شریعت پٹیشن میں موقف تھا کہ شاتم رسول کا جرم ناقابل معافی جرم ہے‘ لیکن بعد میں انہوں نے دوسرے یعنی موجودہ مقدمہ کی پٹیشن کے دوران بحث کرتے ہوئے اپنے پہلے موقف سے رجوع کرتے ہوئے جرم مذکورہ کو قابل معافی بتلایا‘ جبکہ مولانا مفتی غلام سرور قادری شاتم رسول ﷺ کو ردہ یعنی ارتداد کی بناء پر واجب القتل تو سمجھتے تھے‘ لیکن اسے قابل معافی جرم بھی قرار دیتے تھے۔ حکومت پاکستان کی

صفحہ 368

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول)

جانب سے ڈپٹی اٹارنی جنرل میاں عبدالستار نجم پیش ہوئے۔ وہ بھی اس جرم کو قابل معافی جرم قرار دیتے تھے اور اس کو وہ منشائے رسول ﷺ سمجھتے تھے‘ اس کے برعکس حکومت پنجاب کی جانب سے اسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل جناب نذیر احمد غازی اور جناب جلال الدین خلجی‘ حکومت سرحد کی جانب سے میاں محمد اجمل جو بعد ازاں پشاور ہائی کورٹ کے فاضل جج مقرر ہوئے‘ سندھ اور بلوچستان کی طرف سے وہاں کے ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرلز نے رٹ پٹیشن کی مکمل تائید اور حمایت کی۔ ان کے علاوہ جناب ریاض الحسن نوری مشیر وفاقی شرعی عدالت نے عمر قید کی سزا کے اسلامی احکام سے منافی ہونے کے بارے میں اپنے دلائل بھی پیش کیے۔ سندھ کی حکومت نے بھی شاتم رسول ﷺ کی سزا‘ سزائے موت تسلیم کی‘ لیکن عمر قید کی سزا کی مخالفت نہیں کی۔

توہین رسالت ﷺ کے مقدمہ میں علمائے کرام‘ صوبوں کے اسٹنٹ اور ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرلز اور دیگر وکلاء صاحبان کے علاوہ جناب ڈاکٹر ظفر علی راجہ ایڈووکیٹ کی شب و روز کی کوششیں قابل صد ستائش ہیں۔ جس میں ان کا خلوص اور ملی حمیت کا جذبہ کارفرما رہا ہے۔ بالآخر وہ ساعت سعید بھی آ گئی‘ جب فیڈرل شریعت کورٹ نے متفقہ طور پر‘ اس پٹیشن کو منظور کرتے ہوئے توہین رسالت ﷺ کی متبادل سزا عمر قید‘ کو غیر اسلامی اور قرآن وسنت کے خلاف قرار دیا اور حکومت پاکستان کے نام حکم نامہ جاری کیا کہ عمر قید کی سزا کو دفعہ 295 سی سے حذف کیا جائے‘ جس کے لیے 30 اپریل 1991ء کی مہلت حکومت کو دی گئی۔ اس مدت کے اختتام پر عمر قید کی سزا حکم عدالت کی رو سے خود بخود حذف ہو کر غیر مؤثر ہوگئی۔ اس طرح نہ صرف جناب محمد اسماعیل قریشی ایڈووکیٹ، مرحومہ آپا نثار فاطمہ اور مولانا سید متین ہاشمی مرحوم کی بلکہ پوری امت مسلمہ کی دلی آرزو پوری ہوئی اور اس فیصلہ کی بدولت حضور رسالت مآب ﷺ کی ایک ایسی سنت تازہ ہوئی‘ جس پر تمام مسلمانوں کے ایمان کا دارو مدار ہے‘ جس کے لیے فیڈرل شریعت کورٹ کے سابق چیف جسٹس جناب گل محمد خاں اور ان کے تمام رفقائے کار جج حضرات پوری امت مسلمہ کی جانب سے مبارک باد کے مستحق ہیں۔

صفحہ 369

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول)

اس فیصلہ کے بعد پھر ایک عجیب مرحلہ پیش آیا۔ فیڈرل شریعت کورٹ کے اس فیصلہ کے خلاف اسلامی جمہوری اتحاد کی حکومت نے جو نفاذِ اسلام اور قرآن وسنت کے قانون کی بالا دستی کا منشور دے کر برسر اقتدار آئی تھی‘ سپریم کورٹ میں اپیل دائر کر دی اور جناب محمد اسماعیل قریشی ایڈووکیٹ کے نام وفاقی حکومت کے ایڈووکیٹ آن ریکارڈ چودھری اختر علی کا نوٹس بھی موصول ہو گیا‘ جس پر جناب محمد اسماعیل قریشی ایڈووکیٹ نے وزیر اعظم پاکستان میاں محمد نواز شریف کو پیغام بھجوایا کہ حکومت اس اپیل کو فوری طور پر سپریم کورٹ سے واپس لے‘ ورنہ مسلمانوں کے جذبات اس حکومت کے خلاف بھی مشتعل ہو جائیں گے اور اس حکومت کا بھی وہی انجام ہوگا‘ جو اس کی پیش رو حکومت کا ہو چکا ہے، جس نے اسلامی قوانین کو اپنی کابینہ میں ظالمانہ اور فرسودہ قرار دے کر قانون قصاص ودیت کو روکنے کی کوشش کی تھی‘ لیکن سپریم کورٹ نے جناب محمد اسماعیل قریشی ایڈووکیٹ کی درخواست پر کابینہ کی اس کارروائی کا سختی سے نوٹس لے کر قانون قصاص ودیت کے خلاف گورنمنٹ کی اپیل کو مسترد کر دیا۔ اور پھر یہ حکومت غضب الٰہی کا شکار ہو کر نہ صرف خود اور اپنی کابینہ‘ بلکہ پوری اسمبلی کے ساتھ برخاست ہوئی۔ خدا کا شکر ہے کہ وزیر اعظم پاکستان نے اس انتباہ کا بروقت نوٹس لیا اور برسرعام اعلان کیا کہ اس اپیل کا انہیں قطعی علم نہیں تھا‘ ورنہ ایسی غلطی کبھی سرزد نہ ہوتی اور اس جرم کی سزائے موت بھی کم تر سزا ہے‘ اس لیے یہ اپیل (Shariat Appeal No.5/1991 فیڈریشن آف پاکستان بنام محمد اسماعیل قریشی) سپریم کورٹ سے 19 مئی 1991ء واپس لے لی گئی‘ جس کے بعد بفضل تعالیٰ اب پاکستان میں توہین رسالت ﷺ کی سزا بطور حد سزائے موت حتمی اور قطعی طور پر جاری ہو چکی ہے۔ اس قانون کی بدولت اب کوئی شخص شاتم رسولؐ کو خود کیفر کردار تک پہنچانے کے بجائے عدالت سے رجوع کرے گا۔ جہاں فریقین سے شہادت لی جائے گی‘ ملزم کو صفائی کا موقع دیا جائے گا‘ اس کے بعد اگر جرم ثابت ہو تو پھر مجرم کو سزا دی جائے گی۔

اگر چہ پاکستان میں شاتم رسولؐ کو قانون کی رُو سے واجب القتل قرار دیا جا چکا تھا‘ جس پر یورپ کی حکومتوں اور حقوق انسانی کی نام نہاد انجمنوں کی طرف سے بے

صفحہ 370

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول)

جا اعتراضات کیے جارہے ہیں۔ ان حالات میں اردو داں طبقہ کے لیے اس فیصلہ کی اشاعت از بس ضروری تھی۔ اس فیصلہ میں مقدمہ کی ساری روئیداد قرآن وحدیث کے حوالے اور ان سے استنباط موجود ہے جس میں اجتہادی شان بھی نمایاں ہے جسے پڑھنے کے بعد ایمان تازہ ہو جاتا ہے۔ معزز عدالت نے اپنے فیصلہ میں لکھا:

تمام پیغمبروں کے ہم مرتبہ ہونے کے سبب سے وہی سزائے موت جو اوپر قرار دی گئی ہے اس معاملہ میں بھی لاگو ہوگی جہاں کوئی شخص ان میں سے کسی کے متعلق بھی کوئی توہین آمیز بات کہتا یا کسی طرح کی گستاخی کرتا ہے۔

دفعہ 295 سی پاکستان ضابطہ تعزیرات میں مقرر ہے احکاماتِ اسلام سے متصادم ہے جو قرآن پاک اور سنت میں دیئے گئے ہیں لہٰذا یہ الفاظ اس میں سے حذف کر دیئے جائیں۔

دوسرے پیغمبروں کے متعلق کہی جائیں، وہ بھی اسی سزا کے مستوجب جرم بن جائے جو اوپر تجویز کی گئی ہے۔

ارسال کی جائے تاکہ قانون میں ترمیم کے اقدامات کیے جائیں اور اسے احکامات اسلامی کے مطابق بنایا جائے۔ اگر 30 اپریل 1991ء تک ایسا نہیں کیا جائے تو ”یا عمر قید“ کے الفاظ دفعہ 295 سی تعزیرات پاکستان میں اس تاریخ سے غیر موثر ہو جائیں گے“۔

حق سبحانہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ اس فیصلہ کو ہم سب کے لیے وسیلہ نجات بنائے اور ہمیں نبی کریم ﷺ کی شفاعت نصیب فرمائے۔ آمین

طالب شفاعت محمدی ﷺ بروز محشر محمد متین خالد لاہور

۞......۞......۞

صفحہ 371

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول)

PLD 1991 Federal Shariat Court 10

وفاقی شرعی عدالت، پاکستان

محمد اسماعیل قریشی بنام حکومت پاکستان

فیصلہ کے اہم نکات:

صرف موت ہے۔ اس دفعہ میں درج ”عمر قید“ کی متبادل سزا اُن احکامات اسلام سے متصادم ہے جو قرآن پاک اور سنت رسول کریم ﷺ میں دیئے گئے ہیں۔

1991ء سے غیر مؤثر/ ختم ہو چکے ہیں۔

انبیاء کرام علیہم السلام کی توہین کا مرتکب بھی سزائے موت کا مستوجب ہوگا۔

صفحہ 372

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول)

PLD 1991 Federal Shariat Court 10

وفاقی شرعی عدالت، پاکستان

(فیصلہ قانون توہین رسالت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)

(ابتدائی معلومات)

سماعت کنندہ فل بنچ

شریعت پٹیشن نمبر 6/ایل، سال 1987ء محمد اسماعیل قریشی ایڈووکیٹ ............................... پٹشنر

بنام

حکومت پاکستان بذریعہ سیکرٹری قانون و پارلیمانی امور ...... ریسپانڈنٹ تاریخ ہائے سماعت: 26 تا 29 نومبر 1989ء، 4 تا 7 مارچ 1990ء تاریخ فیصلہ: 30 اکتوبر 1990

صفحہ 373

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول)

فیصلہ

جسٹس گل محمد خاں ...... چیف جسٹس

یہ فیصلہ درخواست شریعت نمبر 1 / ایل 1984 اور درخواست ایس ایس نمبر 106 / 87 میں اٹھائے گئے (شرعی اور آئینی) نکتہ کے بارے میں صادر کیا جاتا ہے۔ درخواست گزار محمد اسماعیل قریشی ایڈووکیٹ نے تعزیراتِ پاکستان کی دفعہ 295 سی کو ان درخواست ہائے شریعت کے ذریعہ چیلنج کیا ہے جو بذریعہ آرڈیننس 1988ء پاکستان میں نافذ کی گئی۔ قبل ازیں ایسی ہی ایک درخواست شریعت سائل درخواست گزار نے عدالت ہذا میں دائر کی تھی (1) مگر اس کا فیصلہ ہونے سے پیشتر قانون ساز اسمبلی نے از خود قانون ( توہین رسالت ﷺ ) میں ترمیم کر دی اور متذکرہ بالا 295 سی پاکستان پینل کوڈ میں شامل کر دی گئی، جس سے درخواست گزار مطمئن نہیں، اس لیے عدالت ہذا سے رجوع کیا گیا ہے (2) دفعہ 295 سی کا متن حسب ذیل ہے۔

دفعہ 295 سی : رسول پاک کے لیے اہانت آمیز الفاظ کا استعمال

ذریعے، یا بطور طعنہ زنی یا بہتان تراشی بالواسطہ یا بلا واسطہ، اشارتاً یا کنایتاً حضرت محمد ﷺ کی توہین یا تنقیص یا بے حرمتی کرے، وہ سزائے موت یا سزائے عمر قید کا مستوجب ہوگا اور اسے سزائے جرمانہ بھی دی جائے گی۔“

قید ان احکاماتِ اسلامی کے خلاف ہے جو قرآن حکیم اور سنت رسول اللہ ﷺ میں دیئے گئے ہیں۔ جو نکتہ اعتراض اٹھایا گیا ہے وہ یہ ہے کہ رسالت مآب ﷺ کی شان میں کسی

صفحہ 374

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول)

قسم کی کوئی بے ادبی یا اہانت آمیز بات شرعی حد کے دائرہ میں آتی ہے اور اس کی سزا قرآن اور سنت میں بطور حد مقرر ہے جس میں کوئی تبدیلی یا ترمیم نہیں کی جاسکتی۔ فاضل ایڈووکیٹ نے اس سلسلہ میں سورۂ انفال کی آیت 13 اور سورۂ نساء کی آیت 65 پر حصر کیا ہے اور اپنے اس موقف کی تائید میں کہ توہین رسالت کی سزا صرف سزائے موت ہے اور کسی عدالت کو یہ اختیار نہیں دیا جاسکتا کہ وہ اس سے کم تر سزا یعنی عمر قید کی سزا دے۔ قرآنی آیات کے علاوہ احادیث نبوی کا حوالہ بھی دیا ہے۔

جاری کیے اور فقہا حضرات سے بھی معاونت طلب کی۔ مقدمہ مذکور کی لاہور‘ کراچی اور اسلام آباد میں متعدد تاریخوں پر سماعت ہوئی اور عدالت کو مندرجہ ذیل فقہا حضرات کا تعاون حاصل رہا۔

مندرجہ بالا میں سے درج ذیل نے سائل کے موقف کی تائید کی‘ کہ اس جرم کی سزا صرف سزائے موت ہی ہے۔

صفحہ 375

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول)

مندرجہ ذیل نے مزید کہا کہ اگر مجرم توبہ کرے تو سزا موقوف کر دی جائے گی۔

تاہم مولانا سعید الدین شیرکوٹی نے کہا کہ کم تر سزا بھی دی جا سکتی ہے۔

2:49' 217:2' 75:5' 1:39 اور 65' 28:47 پر اعتماد کیا۔ انہوں نے کچھ احادیث اور فقہی آراء بیان کیں جن میں شاتم کو مرتد تصور کیا گیا ہے۔ انہوں نے مزید اس حدیث پر اعتماد کیا جو ابو قلابہؓ سے مروی ہے جس میں شاتم کی سزا موت مقرر کی گئی ہے۔ انہوں نے قاضی عیاضؒ سے مروی حدیث پر بھی اعتماد کیا کہ رسول پاک ﷺ نے فرمایا ”ہلاک کر دو اس شخص کو جو پیغمبر کو گالی دے اور اسے دُرے لگاؤ جو ان کے اصحاب کو گالی دے۔“ انہوں نے ان احادیث پر بھی اعتماد کیا جن کے مطابق رسول پاک ﷺ نے شاتم کو سزائے موت دی۔ انہوں نے فقہا کے اجماع کا بھی حوالہ دیا کہ شاتم کی سزا موت ہے۔ انہوں نے مزید موقف اختیار کیا کہ عمر قید کی سزا شاتم رسول عورت یا غیر مسلم کو دی جاسکتی ہے۔

61:9,62 اور 42' 8:58' 57:33' 65:4' 104:2 اور بعض احادیث پر اعتماد کیا۔ یہ ثابت کرنے کے لیے کہ شاتم کے لیے صرف سزائے موت ہی مقرر ہے، انہوں نے ان احادیث کے حوالے بھی دیئے جن میں رسول پاک ﷺ نے شاتم کو معاف کر دیا۔ اس کے علاوہ انہوں نے آیاتِ قرآنی اور احادیث رسول پاک ﷺ پیش کیں، یہ ثابت کرنے کے لیے کہ وہ اس نکتہ پر واضح ہیں کہ کس جرم میں توبہ قابل قبول ہے۔

صفحہ 376

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول)

مقتدر حنفی فقہا خصوصاً ابن عابدین کے اقوال کا حوالہ بھی دیا گیا ہے۔ انہوں نے نتیجہ اخذ کیا کہ شاتم کی توبہ قابل قبول ہے اور یہی فقہائے حنفیہ کا ترجیحی نظریہ ہے۔

توبہ قبول کی جاسکتی ہے اور اس کے بعد اسے سزائے موت نہیں دی جائے گی۔ انہوں نے آیات قرآنی اور رسول پاک ﷺ کی احادیث کے حوالے بھی دیئے بالخصوص ایک حدیث جو ابن عباسؓ کے حوالے سے بیان کی جاتی ہے کہ رسول پاک ﷺ نے فرمایا ”اس شخص کو قتل کر دو جو اپنا مذہب (اسلام) بدل دے۔“ ان کے مطابق شاتم چونکہ مرتد ہو جاتا ہے پس اسے سزائے موت دی جانی چاہیے۔ انہوں نے ابن تیمیہؒ کی رائے کا بھی حوالہ دیا کہ شاتم کی سزا موت ہے۔ انہوں نے امام مالکؒ، امام شافعیؒ اور امام احمدؒ کے فتویٰ پر بھی اعتماد کیا (جس کے مطابق شاتم کی سزا قتل قرار دی گئی ہے)۔

46:4 اور احادیث رسول پاک ﷺ پر اعتماد کیا جن میں حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے شاتم کی سزا موت مقرر فرمائی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ فقہا کا اس بات پر اجماع ہے کہ شاتم کی سزا موت ہے۔

انہوں نے احادیث رسول پاک ﷺ بھی پیش کیں کہ شاتم کی سزا موت ہے اور یہ کہ آپ ﷺ نے گستاخان رسول کو سزائے موت دی ہے۔ علاوہ ازیں انہوں نے کتاب ”الفقہ علیٰ مذاہب الاربعہ“ مصنفہ عبدالرحمن الجزیری جلد پنجم صفحات 274، 275 اور ”ردالمحتار“ جلد سوم صفحات 290، 291 سے مختلف فقہا کی آراء بھی پیش کیں۔

65:9 اور 66 پر اعتماد کیا۔ انہوں نے رسول پاک ﷺ کی کچھ احادیث کا حوالہ بھی دیا جن میں شاتم رسول کی سزا موت مقرر کی گئی ہے۔ انہوں نے فقہا کی آراء بھی پیش کیں کہ شاتم کی سزا موت ہے۔

صفحہ 377

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول)

10- مولانا سعید الدین شیرکوٹی نے قرآن شریف کی آیات 9:48 - 49؛ ‘3’ 4-53:13:4-2-187‘ 229 اور 57:33 کے حوالے دیئے۔ انہوں نے متعدد احادیث بھی پیش کیں، جن میں رسول پاک ﷺ نے بعض گستاخانِ رسالتؐ کو سزائے موت دی اور بعض کو معاف بھی فرمایا۔ انہوں نے فقہا کی بہت سی آراء کا حوالہ بھی دیا خصوصاً جن کا ذکر مولانا اشرف علی تھانویؒ نے اپنی کتاب امداد الفتویٰ جلد پنجم صفحات 168-166 پر کیا ہے۔

11- تقریباً تمام فقہا نے مندرجہ ذیل آیات پر اعتماد کیا ہے جو یوں ہیں:

’’57:33۔ جو لوگ اللہ اور اس کے رسول کو اذیت دیتے ہیں‘ ان پر دنیا اور آخرت میں اللہ نے لعنت فرمائی ہے اور ان کے لیے رسوا کن عذاب مہیا کر دیا ہے۔‘‘

اس آیت کی تشریح کرتے ہوئے علامہ قرطبی لکھتے ہیں:

حامل الفاظ کے حوالہ سے ہو یا ایسے عمل سے جو آپ کی اذیت کے تحت آتا ہے۔‘‘

(الجامع الاحکام جلد 14 صفحہ 238)

علامہ اسماعیل حقی اس آیت کی تشریح کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

اذیت دینا ہے اور اللہ کا ذکر صرف عظمت اور سرفرازی کے لیے ہے اور یہ ظاہر کرنے کے لیے کہ رسول کو اذیت دینا‘ دراصل اللہ کو اذیت دینا ہے۔‘‘

12- دوسری آیت جس پر اعتماد کیا گیا ہے‘ اس طرح ہے:

دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ شخص کانوں کا کچا ہے۔ کہو وہ تمہاری بھلائی کے لیے ایسا ہے‘ اللہ پر ایمان رکھتا ہے‘ اور اہل ایمان پر اعتماد کرتا ہے اور سراسر رحمت ہے ان لوگوں کے لیے جو تم میں سے ایماندار ہیں اور جو لوگ اللہ کے رسول کو دکھ دیتے ہیں‘ ان کے لیے دردناک سزا ہے۔‘‘ (61:9)

صفحہ 378

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول)

اگر یہ مومن ہیں تو اللہ اور رسول اس کے زیادہ حق دار ہیں کہ یہ ان کو راضی کرنے کی فکر کریں“۔ (9:62)

ابن تیمیہؒ ان آیات کی تشریح کرتے ہوئے لکھتے ہیں۔

اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت ہے ۔“ (الصارم المسلول ص 21,20)

رسول ﷺ کے گروہ میں سے ایک شخص رسول ﷺ کے پاس آیا تو آپ ﷺ نے اس سے کہا ”تم اور تمہارے دوست مجھ پر کیوں سب وشتم کرتے ہیں جس پر وہ شخص چلا گیا اور اپنے دوستوں کو لے آیا اور ان سب نے اللہ کی قسم کھائی اور کہا کہ انہوں نے آپ ﷺ کو برا بھلا نہیں کہا۔ اس پر مندرجہ ذیل آیات نازل ہوئیں:۔

58:18 ”جس روز اللہ ان سب کو اٹھائے گا‘ وہ اس کے سامنے بھی اسی طرح قسمیں کھائیں گے جس طرح تمہارے سامنے کھاتے ہیں‘ اور اپنے نزدیک یہ سمجھیں گے کہ اس سے ان کا کچھ کام بن جائے گا۔ خوب جان لو‘ وہ پرلے درجہ کے جھوٹے ہیں ۔“

58:19 ”شیطان ان پر مسلط ہو چکا ہے اور اس نے خدا کی یاد ان کے دل سے بھلا دی ہے۔ وہ شیطان کی پارٹی کے لوگ ہیں۔ خبردار رہو‘ شیطان کی پارٹی والے ہی خسارہ میں رہنے والے ہیں۔

یہ آیات مندرجہ ذیل آیت 58:20 سے منسلک ہیں۔

58:20 ”یقیناً ذلیل ترین مخلوقات میں سے ہیں وہ لوگ جو اللہ اور اس کے رسول کا مقابلہ کرتے ہیں ۔“

شاتمِ، اللہ اور اس کے رسول کے مخالف ہیں‘ جن کے متعلق قرآن کہتا ہے:

صفحہ 379

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول)

تمہارے ساتھ ہوں‘ تم اہل ایمان کو ثابت قدم رکھو‘ میں ابھی ان کافروں کے دلوں میں رعب ڈالے دیتا ہوں‘ پس تم ان کی گردنوں پر ضرب اور پور پور پر چوٹ لگاؤ“ (12:8)

اللہ اور اس کے رسول ﷺ کا مقابلہ کرے، اللہ اس کے لیے نہایت سخت گیر ہے۔“

(13:8)

عذاب دے ڈالتا اور آخرت میں تو ان کے لیے دوزخ کا عذاب ہے ہی۔“ (3:59)

جو بھی اللہ کا مقابلہ کرے‘ اللہ اس کو سزا دینے میں بہت سخت ہے۔“ (4:59)

چنانچہ یہ آیات واضح طور سے سزائے موت مقرر کرتی ہیں‘ ان لوگوں کے لیے جو اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے مخالف ہیں‘ جن میں شاتمانِ رسول ﷺ شامل ہیں۔

انگیز افواہیں پھیلانے والے ہیں‘ اپنی حرکتوں سے باز نہ آئے تو ہم ان کے خلاف کارروائی کرنے کے لیے تمہیں ان پر مسلط کر دیں گے پھر وہ اس شہر میں مشکل ہی سے تمہارے ساتھ رہ سکیں گے۔“ (60:33)

پکڑے جائیں گے اور بری طرح مارے جائیں گے۔“ (61:33)

کی ہے اور مسلمانوں کو اسے قائم رکھنے اور اس معاملہ میں احتیاط برتنے کا حکم دیا ہے ورنہ ان کے اچھے اعمال بھی ضائع ہو جائیں گے۔ قرآن کہتا ہے:

صفحہ 380

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول)

نہ نبی ﷺ کے ساتھ اونچی آواز سے بات کرو جس طرح تم آپس میں ایک دوسرے سے کرتے ہو کہیں ایسا نہ ہو کہ تمہارا کیا کرایا سب غارت ہو جائے اور تمہیں خبر بھی نہ ہو۔“

(2:49)

ابن تیمیہؒ اس آیت کی تشریح کرتے ہوئے لکھتے ہیں۔ ”اس آیت میں مومنین کو اپنی آواز نبی ﷺ کی آواز سے بلند کرنے سے منع کیا گیا ہے کہ نبی ﷺ کے سامنے ان کی بلند آوازی ان کے اچھے اعمال کو غارت نہ کر دے اور وہ اس سے بے خبر ہوں۔“

ضائع کر دیتے ہیں۔ قرآن پاک کہتا ہے:

مگر راہِ خدا سے لوگوں کو روکنا اور اللہ سے کفر کرنا اور مسجد الحرام کا راستہ خدا پرستوں پر بند کرنا اور حرم کے رہنے والوں کو وہاں سے نکالنا اللہ کے نزدیک اس سے بھی زیادہ برا ہے اور فتنہ خونریزی سے شدید ہے۔ وہ تو تم سے لڑتے ہی جائیں گے، حتی کہ اگر ان کا بس چلے تو تمہیں اس دین سے پھیر لے جائیں۔ (اور خوب سمجھ لو کہ) کہ تم میں سے جو کوئی اس دین سے پھر جائے گا اور کفر کی حالت میں جان دے گا، اس کے اعمال دنیا اور آخرت میں ضائع ہو جائیں گے۔ ایسے سب لوگ جہنمی ہیں اور ہمیشہ جہنم ہی میں رہیں گے۔“

(217:2)

تمہارے لیے حلال ہے اور تمہارا کھانا ان کے لیے اور محفوظ عورتیں بھی تمہارے لیے حلال ہیں، خواہ وہ اہل ایمان کے گروہ سے ہوں یا ان قوموں میں سے جن کو تم سے پہلے کتاب دی گئی تھی، بشرطیکہ تم ان کے مہر ادا کر کے نکاح میں ان کے محافظ ہو، نہ یہ کہ آزاد شہوت رانی کرنے لگو یا چوری چھپے آشنائیاں کرو۔ اور جو کسی نے ایمان کی روش پر چلنے سے انکار کیا تو اس کا سارا کارنامۂ زندگی ضائع ہو جائے گا اور وہ آخرت میں دیوالیہ ہوگا۔“

(5:5)

صفحہ 381

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول)

ہے، راہنمائی کرتا ہے، لیکن اگر کہیں ان لوگوں نے شرک کیا ہوتا تو ان کا سب کیا کرایا غارت ہو جاتا۔‘‘ (88:6)

چکی ہے کہ اگر تم نے شرک کیا تو تمہارا عمل ضائع ہو جائے گا اور تم خسارے میں رہو گے۔‘‘ (65:39)

ان کے اعمال ضائع کر دیئے۔‘‘ (9:47)

18- جناب رسالت مآب ﷺ کے خلاف الزام تراشی کو روکنے کے لیے قرآن پاک نے مومنوں کو ذومعنی الفاظ کے استعمال سے بھی منع فرمایا ہے، جیسا کہ یہودی رسول اکرم ﷺ کی اہانت کے لیے کرتے تھے۔ قرآن پاک کہتا ہے:

بات کو سنو، یہ کافر تو عذاب الیم کے مستحق ہیں۔‘‘ (104:2)

مولانا محمد علی صدیقی اس آیت کی تشریح کرتے ہوئے رقم طراز ہیں: ’’یہود یہ لفظ رسول اکرم ﷺ کی اہانت کے لیے استعمال کرتے تھے۔ لفظ ’’راعنا‘‘ کے دو معنی ہیں، اچھے اور برے۔ اس کے اچھے معنی ہیں ’’ہم پر مہربانی اور توجہ فرمائیے‘‘۔

برے معنی ہیں جو یہود راعینا کہتے تھے یعنی ’’اے ہمارے گڈریے‘‘ اور وہ یہ لفظ رسول ﷺ کی شان گھٹانے کے لیے استعمال کرتے تھے۔ پس یہ ایک طنزیہ اشارہ ہے جو توہین رسالت کے برابر ہے، اس لیے مسلمانوں کو اس لفظ کے استعمال سے منع کیا گیا تھا، تاکہ وہ تمام راستے بند ہو جائیں جو رسول ﷺ کی اہانت کا باعث ہوں۔

19- یہود لفظ راعنا کو راعینا کی طرح استعمال کرتے تھے، تاکہ اسلام کو عیب لگائیں۔ قرآن پاک کہتا ہے:

محل سے پھیر دیتے ہیں اور دین حق کے خلاف نیش زنی کرنے کے لیے اپنی زبانوں کو

صفحہ 382

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول)

توڑ موڑ کر کہتے ہیں سمعنا و عصینا اور اسمع غیر مسمع اور راعنا حالانکہ اگر وہ کہتے سمعنا و اطعنا اور اسمع اور انظرنا تو یہ انہی کے لیے بہتر تھا اور زیادہ راستبازی کا طریقہ، مگر ان پر تو ان کی باطل پرستی کی بدولت اللہ کی پھٹکار پڑی ہوئی ہے، اس لیے وہ کم ہی ایمان لاتے ہیں۔‘‘ (46:4)

علامہ قرطبی لکھتے ہیں۔ ’’مسلمانوں کو اس لفظ کے استعمال سے منع کیا گیا، تاکہ رسول ﷺ کی شان میں گستاخی کے راستے مسدود ہو جائیں۔ نبی کریم ﷺ کی تعظیم وتکریم ہی مذہب کی بنیاد ہے اور یوں اس سے محرومی مذہب سے انحراف ہے۔‘‘

(معالم القرآن از محمد علی صدیقی، جلد اول، صفحات 463 تا 468)

ایک یہودی سے کسی معاملہ میں تنازعہ تھا۔ یہودی نے فیصلہ کے لیے اسے رسول اللہ ﷺ کے پاس اور منافق نے اسے کعب بن اشرف کے پاس جانے کے لیے کہا۔ بہر حال دونوں رسول پاک ﷺ کی خدمت میں گئے اور آپ ﷺ نے یہودی کے حق میں فیصلہ دیا۔ منافق اس فیصلہ پر راضی نہ تھا۔ چنانچہ وہ تنازعہ حضرت عمرؓ کے پاس لے گئے۔ یہودی نے حضرت عمرؓ کو بتا دیا کہ رسول پاک ﷺ پہلے ہی میرے حق میں فیصلہ دے چکے ہیں، یہ شخص اس پر راضی نہ تھا۔ اس پر حضرت عمرؓ نے منافق سے کہا۔ کیا یہ ایسا ہی ہے؟‘‘ اس نے کہا ہاں۔ حضرت عمرؓ اندر گئے، اپنی تلوار لی اور منافق کو قتل کر دیا اور کہا اس شخص کے لیے میرا یہی فیصلہ ہے جو رسول پاک ﷺ کے فیصلہ کو تسلیم نہیں کرتا۔ اس پر آیت 4:65 نازل ہوئی جو مندرجہ ذیل ہے:

اختلافات میں یہ تم کو فیصلہ کرنے والا نہ مان لیں، پھر جو کچھ تم فیصلہ کرو، اس پر اپنے دلوں میں بھی کوئی تنگی نہ محسوس کریں، بلکہ سر بسر تسلیم کر لیں۔‘‘ (65:4)

(روح المعانی، جلد پنجم صفحہ 67)۔ حضرت عمرؓ کے اس عمل کی قرآن کریم نے توثیق کی اور یہ اہانت رسول پاک ﷺ کے لیے سزائے موت کی نظیر ہے۔

صفحہ 383

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول)

21۔ قرآن پاک نے مزید اعلان کیا ہے کہ اہانت رسول ﷺ ارتداد ہے خواہ وہ کسی شکل میں بھی ہو۔ قرآن پاک کا ارشاد ہے:

یونہی ہنسی مذاق اور دل لگی کر رہے تھے۔ ان سے کہو کیا تمہاری ہنسی اور دل لگی اللہ اور اس کی آیات اور اس کے رسول ہی کے ساتھ تھی؟“ (65:9)

ایک گروہ کو معاف بھی کر دیا تو دوسرے گروہ کو ہم ضرور سزا دیں گے کیونکہ وہ مجرم ہے۔“ (66:9)

22۔ ابن تیمیہؒ ان آیات کی تشریح کرتے ہوئے تحریر فرماتے ہیں۔ ”یہ بات اللہ اس کی آیات اور اس کے رسول کا مذاق اڑانے کے بارے میں ہے۔ پس اہانت کو کفر سے بھی شدید تر گردانا جائے گا‘ جیسا کہ اس آیت سے اخذ ہوتا ہے کہ جو کوئی رسول ﷺ کی توہین کرتا ہے‘ مرتد ہو جاتا ہے۔“ (الصارم المسلول صفحہ 31)

ابوبکر بن عربی اس آیت کی توضیح کرتے ہوئے لکھتے ہیں ”منافقین یہ لفظ دانستہ بولتے تھے یا بطور استہزا‘ بہر حال صورت جو بھی ہو‘ یہ کفر ہے کیونکہ کفریہ الفاظ سے مذاق کرنا بھی کفر ہے۔“ (احکام القرآن جلد دوم صفحہ 924)

23۔ قرآن نے رسول پاک ﷺ کی عظمت و شان کے پیش نظر ذرا سی بھی وجہ ناراضی سے منع کیا ہے اور اعلان کیا ہے کہ آپ کے وصال کے بعد آپ کی ازواج مطہرات سے نکاح کرنا مومنوں کے لیے ممنوع ہے تاکہ اہانت رسول ﷺ کا ذریعہ نہ بن سکے۔ قرآن کہتا ہے:

کرو۔ نہ کھانے کا وقت تاکتے رہو۔ ہاں اگر تمہیں کھانے پر بلایا جائے تو ضرور آؤ‘ مگر جب کھانا کھا لو تو منتشر ہو جاؤ‘ باتیں کرنے میں نہ لگے رہو۔ تمہاری یہ حرکتیں نبی کو تکلیف دیتی ہیں مگر وہ شرم کی وجہ سے کچھ نہیں کہتے۔ اور اللہ حق بات کہنے سے نہیں

صفحہ 384

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول)

شرماتا۔ نبی ﷺ کی بیویوں سے اگر تمہیں کچھ مانگنا ہو تو پردے کے پیچھے سے مانگا کرو یہ تمہارے اور ان کے دلوں کی پاکیزگی کے لیے زیادہ مناسب طریقہ ہے۔ تمہارے لیے ہرگز یہ جائز نہیں کہ اللہ کے رسول ﷺ کو تکلیف دو اور نہ یہ جائز ہے کہ ان کے بعد ان کی بیویوں سے نکاح کرو یہ اللہ کے نزدیک بہت بڑا گناہ ہے۔‘‘ (53:33)

یہ آپ کی سنت سے بھی ثابت ہے کہ آپ کا شاتم‘ سزائے موت کا مستوجب ہے۔ اس سلسلہ میں مندرجہ ذیل احادیث کا حوالہ بھی دیا جا سکتا ہے:

قتل کرو جو ایک نبی کو گالی دیتا ہے اور جو میرے صحابہؓ کو گالی دے، اسے درے لگاؤ۔‘‘

(الشفاء‘ قاضی عیاض جلد دوم صفحہ 194)

نابینا شخص کے پاس ایک لونڈی تھی جو رسول پاک ﷺ پر سب و شتم کیا کرتی تھی۔ اس نابینا شخص نے اسے اس حرکت سے باز رہنے کا حکم دیا اور اسے ایسا نہ کرنے کی تنبیہ کی‘ مگر اس نے پروا نہ کی۔ ایک شب جب وہ حسب معمول رسول پاک ﷺ کو گالیاں دے رہی تھی‘ اس نابینا شخص نے چھری اٹھائی اور اسے ہلاک کر دیا۔ اگلی صبح جب اس عورت کے قتل کا مقدمہ رسول پاک ﷺ کی عدالت میں پیش کیا گیا تو آپ نے لوگوں کو جمع کیا اور فرمایا ”یہ کام کس نے کیا ہے؟ کھڑا ہو جائے اور اقبال (جرم) کرے‘ کیونکہ جو کچھ اس نے کیا ہے، اس کے باعث میرا اس پر حق ہے۔‘‘ اس پر نابینا شخص کھڑا ہو گیا اور لوگوں کو چیرتا ہوا رسول پاک ﷺ کے سامنے آیا اور بولا یا رسول اللہ ﷺ! میں نے اس لونڈی کو قتل کیا ہے‘ کیونکہ اس نے آپ کو گالیاں دی تھیں۔ میں نے مسلسل اسے منع کیا‘ مگر اس نے کوئی پروا نہ کی۔ اس سے میرے دو خوبصورت بیٹے ہیں اور وہ میری بہت اچھی ساتھی تھی‘ مگر کل جب اس نے آپ ﷺ کو

صفحہ 385

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول)

گالیاں دینا شروع کیں تو میں نے اپنی چھری اٹھائی اور اس کے پیٹ پر حملہ کیا اور اسے ہلاک کر دیا ۔‘‘ رسول پاک ﷺ نے فرمایا ’’اے لوگو! گواہ رہنا اس عورت کا خون رائیگاں گیا ۔‘‘ (ابو داؤد جلد دوم صفحات 355-357)

گالیاں دیا کرتی تھی‘ اس کو ایک شخص نے قتل کر دیا۔ رسول پاک ﷺ نے اس کا خون رائیگاں قرار دیا ۔ (مندرجہ بالا)

کے پاس بیٹھا تھا جب وہ ایک شخص پر برہم ہوئے‘ میں نے ان سے کہا ’’اے خلیفہ رسول اللہ! مجھے حکم دیجئے‘ میں اسے قتل کر دوں ۔ اتنی دیر میں ان کا غصہ فرو ہو گیا اور وہ اندر گئے اور مجھے بلایا اور کہا ’’تم نے کیا کہا تھا؟‘‘ میں نے عرض کی ’’مجھے حکم دیجئے اسے قتل کرنے کا ۔‘‘ آپ نے فرمایا ’’اگر میں تمہیں حکم دے دیتا تو کیا تم اسے قتل کر دیتے؟‘‘ میں نے کہا ’’ہاں‘‘ انہوں نے کہا ’’نہیں‘‘ میں اللہ کی قسم کھاتا ہوں کہ رسول پاک ﷺ کے سوا کوئی شخص اس حیثیت میں نہیں کہ اس کو برا کہنے والا قتل کیا جائے ۔‘‘ (مندرجہ بالا)

’’کعب بن اشرف کے خلاف کون میری مدد کرے گا؟ بلاشبہ اس نے اللہ اور اس کے رسول کو ایذا دی ۔‘‘ اس پر محمد ابن مسلمہ کھڑے ہوئے اور بولے ’’اے اللہ کے رسول ﷺ! کیا آپ چاہتے ہیں کہ میں اسے ہلاک کر دوں ۔‘‘ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ’’ہاں‘‘ چنانچہ وہ عباس ابن جابرؓ اور عباد ابن بشرؓ کے ہمراہ گئے اور اسے قتل کر دیا (بخاری جلد دوم صفحہ 88)

رسول پاک ﷺ نے انصار کے کچھ آدمی عبداللہ ابن عتیق کی سرکردگی میں ایک یہودی ابو رافع نامی کے پاس بھیجے جو رسول پاک ﷺ کو ایذا پہنچاتا تھا

صفحہ 386

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول)

اور انہوں نے اسے قتل کر دیا۔‘‘ (الصارم المسلول از ابن تیمیہؒ صفحہ 152)

اس کو رسول پاک ﷺ سے ملاقات پر طعنے دیتی تھی اور رسول پاک ﷺ کو برا بھلا کہا کرتی تھی۔ آخر کار ایک دن انہوں نے اپنی تلوار سے اسے ہلاک کر دیا۔ اس کے بیٹے چلائے اور بولے ”ہم ان قاتلوں کو جانتے ہیں جنہوں نے ہماری ماں کو ہلاک کیا اور ان لوگوں کے والدین مشرک ہیں۔‘‘ عمیر نے سوچا کہ اس عورت کے بیٹے کہیں غلط اشخاص کو قتل نہ کر ڈالیں، وہ رسول پاک ﷺ کی خدمت میں آئے اور پورے معاملہ کی اطلاع آپ کو دی۔ نبی ﷺ نے ان سے کہا ”کیا تم نے اپنی بہن کو مار ڈالا؟ انہوں نے جواب دیا ”ہاں“۔ آپ ﷺ نے دریافت کیا ”کیوں“؟ انہوں نے کہا کہ وہ مجھے آپ ﷺ کے تعلق کی وجہ سے نقصان پہنچا رہی تھی۔ رسول اللہ ﷺ نے اس عورت کے بیٹوں کو بلایا اور قاتلوں کے متعلق دریافت فرمایا۔ انہوں نے دوسرے لوگوں کی بطور قاتل نشان دہی کی۔ اس پر اللہ کے رسولؐ نے انہیں بتایا اور اس کی موت کو رائیگاں قرار دیا۔ (مجمع الزوائد ومنبع الفوائد جلد پنجم صفحہ 260)

اعلان کے بعد ابن خطل اور اس کی لونڈیوں کے قتل کا حکم دیا جو رسول پاک ﷺ کی ہجو میں اشعار کہا کرتی تھیں۔

(الشفاء از قاضی عیاضؒ جلد دوم صفحہ 284 اردو ترجمہ)

بھلا کہتا تھا۔ رسول اللہ ﷺ نے صحابہؓ سے فرمایا ”اس شخص کو کون ہلاک کرے گا؟“ اس پر خالد بن ولیدؓ نے کہا۔ ”میں اسے قتل کروں گا۔“ رسول پاک ﷺ نے انہیں حکم دیا اور انہوں نے اسے قتل کر دیا۔

(الشفاء از قاضی عیاضؒ جلد دوم ص 284)

صفحہ 387

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول)

کے نبی ﷺ! میرے باپ نے آپ کو برا بھلا کہا‘ میں برداشت نہ کر سکا اور انہیں قتل کر دیا‘‘ رسول پاک ﷺ نے اس کے اس عمل کی توثیق فرمائی۔

(الشفاء از قاضی عیاض جلد دوم صفحہ 285)

پاک ﷺ کو برا بھلا کہتی رہتی تھی۔ آپ ﷺ نے اپنے صحابہؓ سے فرمایا ”اس بد زبان عورت سے کون انتقام لے گا؟‘‘ اس کے قبیلہ کے ایک شخص نے یہ ذمہ داری اٹھائی اور اسے قتل کر دیا۔ پھر وہ رسول پاک ﷺ کے پاس آیا‘ آپ نے فرمایا ”اس قبیلہ میں دو بکریاں بھی نہیں لڑیں گی اور لوگ اتحاد اور یگانگت سے رہیں گے۔‘‘ (الشفاء از قاضی عیاض دوم صفحہ 286)

پاک ﷺ اور اس کی سزا کے متعلق بیان کی ہیں:

رسول پاک ﷺ کو گالی دی۔ آپ ﷺ نے فرمایا ”میرے اس دشمن کے خلاف کون میری مدد کرے گا؟‘‘ زبیر نے کہا ”میں‘‘ پس وہ (حضرت زبیرؓ) اس سے لڑے اور اسے قتل کر دیا۔

کے ایک صحابی کے حوالہ سے کہتے ہیں) ایک عورت رسول پاک ﷺ کو برا بھلا کہتی تھی۔ آپ نے فرمایا ”میری اس دشمن کے خلاف کون میری مدد کرے گا؟‘‘ اس پر خالد بن ولیدؓ اس کے تعاقب میں گئے اور اسے قتل کر دیا۔

کے حوالہ سے بیان کرتے ہیں) کہ جب ایوب ابن یحییٰ‘ عدنان کے پاس گئے‘ ان کو ایک آدمی کی نشاندہی کی گئی جو رسول پاک ﷺ کو گالیاں دیا کرتا

صفحہ 388

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول)

تھا۔ انہوں نے اس معاملہ میں علما سے صلاح مشورہ کیا۔ عبدالرحمٰن ابن یزید سنانی نے انہیں مشورہ دیا کہ اسے قتل کر دیا جائے۔ عبدالرحمٰن نے انہیں ایک حدیث سنائی تھی کہ وہ حضرت عمرؓ سے ملے اور ان سے بہت علم حاصل کیا۔ ایوب نے اس عمل کا ذکر عبدالملک (یا ولید ابن عبدالملک) سے بھی کیا۔ انہوں نے جواباً ان کے عمل کی تعریف کی۔

نے رسول پاک ﷺ کی نقل کی۔ آپ ﷺ نے حضرت علیؓ اور حضرت زبیرؓ کو بھیجا اور ان سے کہا ”جب تم اسے پاؤ تو قتل کر دو۔“

حوالہ سے بیان کرتے ہیں کہ حضرت علیؓ نے اس آدمی کے قتل کا حکم دیا جس نے رسول پاک ﷺ پر الزام لگایا۔

(مصنف عبدالرزاق جلد پنجم صفحات 377-378)

معاف فرما دیا تھا، لیکن فقہاء کا اتفاق ہے کہ رسول ﷺ کو بذات خود ہی معافی کا اختیار تھا، لیکن امت کو آپ ﷺ نے شاتمین کو معاف کرنے کا کوئی اختیار نہیں دیا۔

(الصارم المسلول، ابن تیمیہ صفحات 222-223)

مسلمان ہو تو اس کی سزا موت ہے اور اس میں میرے علم کے مطابق مسلمانوں میں کوئی اختلاف رائے نہیں۔ (الصارم المسلول صفحہ 4)

توہین رسالت کی سزا موت ہے۔“ (الشفاء جلد دوم صفحہ 211)

قاضی عیاضؒ مزید رقم طراز ہیں ”ہر وہ شخص جو رسول پاک ﷺ کو گالی دئے آپ ﷺ میں کوئی نقص نکالے یا آپ ﷺ کے نسب میں یا آپ کی کسی صفت میں یا

صفحہ 389

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول)

آپ کی طرف کوئی کنایہ کرے یا کسی دوسری چیز سے آپ کی مشابہت کرے بطور آپ ﷺ کی توہین، بے عزتی، تذلیل، بے لحاظی یا نقص کے، تو وہ آپ ﷺ کا شاتم ہے اور وہ قتل کیا جائے گا اور علما و فقہاء کا اس نکتہ پر اجماع، صحابہ کے زمانہ سے آج تک ہے۔‘‘

(الشفاء از قاضی عیاضؒ جلد دوم صفحہ 214)

نہیں کہ ایک مسلمان جو دانستہ رسول پاک ﷺ کی تضحیک و توہین کرتا ہے‘ مرتد ہو جاتا ہے اور سزائے موت کا مستوجب ہوتا ہے۔‘‘

(احکام القرآن‘ جلد ہشتم صفحہ 106)

یہاں ایک اور حدیث بیان کرنا مفید ہوگا۔

’’عبداللہ ابن عباسؓ کی سند سے روایت ہے کہ رسول ﷺ نے فرمایا: اس شخص کو قتل کر دو جو اپنا مذہب (اسلام) تبدیل کرتا ہے۔‘‘

(بخاری جلد دوم صفحہ 123)

رسول ﷺ کی سزا کے بارے میں دریافت کیا اور کہا کہ عراق کے کچھ فقہاء نے اس کو دُرے لگانا تجویز کیا ہے۔ اس پر امام مالکؒ غضب ناک ہو گئے اور کہا ’’اے امیر المومنین! اس امت کو زندہ رہنے کا کیا حق حاصل ہے‘ جب اس کے رسول کو گالیاں دی جائیں۔ پس اس شخص کو جو رسول ﷺ کو برا بھلا کہے‘ قتل کرو اور اس کے دُرے لگاؤ جو آپ کے صحابہؓ کو برا بھلا کہے۔‘‘

(الشفاء جلد دوم‘ صفحہ 215)

فارسی شافعی نے بیان کیا ہے کہ مسلمانوں میں اس بات پر اجماع ہے کہ شاتم رسول ﷺ کی سزا موت ہے‘ اگر وہ مسلمان ہے۔‘‘

(الصارم المسلول صفحہ 3)

جب رسول پاک ﷺ نے اس کی تشریح فرمائی ہے اور اس کے بعد امت میں تواتر سے اسی پر عمل ہو رہا ہے کہ رسول پاک ﷺ کی توہین کی سزا موت ہے اور اس کے سوا کچھ نہیں۔ ہم نے یہ بھی نوٹ کیا ہے کہ رسول پاک ﷺ کے بعد کسی نے سزا میں کمی یا

صفحہ 390

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول)

معافی کا حق استعمال نہیں کیا اور نہ کسی کو اس کا اختیار تھا۔ اس طرح مقدمہ میں پیدا ہونے والا دوسرا سوال اہانت رسول ﷺ کا تعین یا اس کی واضح تعریف کرنا ہے۔

میں استعمال ہوئے ہیں۔ سب کے معنی تکلیف اٹھانے‘ نقصان پہنچانے‘ تنگ کرنے‘ اہانت کرنے‘ بے عزتی کرنے‘ ناراض کرنے‘ مجروح کرنے‘ تکلیف میں مبتلا کرنے‘ بدنام کرنے‘ درجہ گھٹانے اور طنز کرنے کے ہیں۔ (Arabic English E. W. Lane, Book I, Part I, Page24) لفظ شتم کے معنی ہیں بے عزتی کرنا‘ گالی دینا‘ ملامت کرنا‘ جھڑکنا‘ بددعا دینا‘ بدنام کرنا‘ (مندرجہ بالا صفحات 212, 249)

علامہ رشید رضاؒ لفظ ”اذیٰ“ کے معنی بتاتے ہوئے لکھتے ہیں ”اس کے معنی کوئی ایسی چیز ہے‘ جس سے زندہ شخص کے جسم یا ذہن کو تکلیف پہنچے‘ خواہ ہلکی ہی ہو۔

(المنار جلد دہم‘ صفحہ 445)

علامہ ابن تیمیہؒ توہین کی تشریح کرتے ہوئے لکھتے ہیں ”اس کے معنی رسولؐ کو لعنت کرنے‘ ان کے لیے کسی مشکل کی دعا کرنے‘ یا ان کی طرف کسی ایسی چیز کو منسوب کرنا ہے جو ان کے رتبہ کے لحاظ سے نازیبا ہو‘ یا کوئی توہین آمیز‘ جھوٹے اور نامناسب الفاظ استعمال کرنا‘ یا ان سے جہالت منسوب کرنا یا ان پر کسی انسانی کمزوری کا الزام لگانا وغیرہ۔“ (الصارم المسلول‘ ابن تیمیہؒ صفحہ 526)

ہوئے لکھتے ہیں ”بعض اوقات ایک حالت میں ایک لفظ ہی ضرر اور توہین بن جاتا ہے‘ جبکہ دوسرے موقع پر ایسا لفظ ضرر بنتا ہے نہ توہین۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایک ذومعنی اور مختلف مطالب والے لفظ کی توضیح‘ حالات اور مواقع کے ساتھ بدل جاتی ہے‘ جبکہ سب (توہین و تذلیل) کی تعریف شرع میں دی گئی نہ لغت میں‘ تو اس کی توضیح کے لیے رواج اور محاورہ پر انحصار کیا جائے گا‘ وہی شرع میں توہین وتذلیل قرار پائے گا اور اس کے برعکس بھی۔“

(الصارم المسلول ابن تیمیہؒ صفحہ 540)

صفحہ 391

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول)

مجرمانہ غرض سے کی جائے یا یہ بھی ہو سکتا ہے کہ وہ غفلت سے کی گئی ہو۔ اور ہر موقع پر فاعل کی ذہنی کیفیت ایسی ہو جو سزا کو مؤثر بنا سکے۔ اگر ایک شخص دانستہ غلط کاری اختیار کرتا ہے تو تعزیری نظام آئندہ کے لیے اسے راہ راست اختیار کرنے کے لیے وافر قوت محرکہ فراہم کرے گا۔ اگر دوسری طرف سے اس سے ممنوعہ فعل خطا کارانہ نیت کے بغیر سرزد ہوا ہے‘ تب بھی نقصان دہ نتائج کے امکان کو محسوس کرتے ہوئے سزا آئندہ کے بہتر طرز عمل کے لیے مؤثر ترغیب ہو سکتی ہے۔

قانون ایک کم درجہ کے مجرمانہ ذہن پر مطمئن ہو۔ یہ صورت غفلت کے جرائم کی ہے۔ ایک شخص کو کسی جرم کا ذمہ دار قرار دیا جاسکتا ہے اگر اس نے وہ فعل ایک معقول انسان کی طرح متوقع نتائج سے بچنے کے لیے نہ کیا ہو۔ دوسرے معاملہ میں قانون اس سے آگے جاسکتا ہے اور ایک شخص کو بلا لحاظ کسی مجرمانہ ذہنی کیفیت یا قابل مواخذہ غفلت کے‘ اس کے فعل کا ذمہ دار قرار دے سکتا ہے۔ ایسی خطا کاریاں جو غلطی سے مبرا ہوں‘ شدید ذمہ داری والی خطا کاری سے ممیز کی جاسکتی ہیں۔

پیش بینی شامل ہو۔

ہے جو مجرمانہ نیت یا پیش بینی سے متضاد ہے ایسی خطا کاریوں میں غلطی جیسا دفاعی موقف صرف مجرمانہ ذہن کی نفی کرے گا اگر غلطی بذات خود غفلت نہ ہو۔

مجرمانہ نیت یا قابل مواخذہ غفلت کو ذمہ داری کی لازمی شرط تصور کیا جائے گا۔ یہاں اس قسم کے دفاعی موقف جیسے غلطی‘ سے کسی فعل کا سرزد ہونا

صفحہ 392

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول)

قابل قبول نہیں۔

کریں ایک آدمی بندوق خریدتا ہے۔ اس کی نیت‘ شکار کھیلنے کی ہوسکتی ہے‘ اپنے دفاع کے لیے استعمال کی ہوسکتی ہے یا کسی پر گولی چلا کر اسے جان سے مار دینے کی ہوسکتی ہے۔ تاہم اگر موخر الذکر فعل ذاتی مدافعت ثابت نہیں ہوتا‘ بلکہ قتل ثابت ہوتا ہے‘ تب نیت ایسا ہی کرنے کی کہی جاسکتی ہے‘ یعنی جان سے مار دینے کی۔

جیسے جان سے مارنا جو ایک وجہ اور اثر کا حامل ہے‘ اس وقت غیر ارادی ہوسکتا ہے جب کہ فاعل ایسے نتائج برآمد کرتا ہے جو اس کی نیت نہ تھے۔ کوئی شخص غلطی سے کسی کو جان سے مارسکتا ہے جیسے شکار پر گولی چلاتے ہوئے یا غلط فہمی سے‘ اس کو کوئی اور شخص تصور کرتے ہوئے‘ پہلے بیان کردہ صورتوں میں وہ عواقب کا اندازہ نہیں لگا سکتا‘ جبکہ موخر الذکر صورت میں وہ بعض حالات سے ناواقف ہے۔

قابل مواخذہ قرار دیا جائے‘ چاہے یہ اس کی نیت نہ رہے ہوں۔ اولاً ایسا اصول ذہنی عناصر کی مشکل تفتیش کا تدارک کرے گا‘ دوم اور زیادہ اہم یہ ہے کہ یہ اصول اس بنا پر معقول ہوگا کہ کسی شخص کو ایسے افعال نہیں کرنے چاہئیں‘ جن کو وہ سمجھتا ہو کہ دوسروں کے لیے باعث آزار ہوں گے‘ خواہ اس کی نیت یہ آزار پہنچانے کی ہو یا نہ ہو۔ ایسا رویہ بظاہر غیر محتاط اور مورد الزام ہے‘ تاوقتیکہ خطرہ کا جواز خود فعل کے معاشرتی مفاد کی بنا پر نہ پیش کیا جاسکے۔

اختیار ہوسکتا ہے اور بعض اوقات ہوتا ہے کہ نیت کی محدود تعریف سے باہر اس بنا پر ذمہ داری منسوب کی جائے جس کو تاویلی نیت کہا جاتا ہے۔ وہ نتائج جو دراصل محض غفلت کی پیداوار ہیں‘ قانون میں بعض اوقات دانستہ گردانے جاتے ہیں۔ پس جو کوئی کسی دوسرے

صفحہ 393

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول)

کو شدید جسمانی نقصان پہنچاتا ہے خواہ اسے ہلاک کرنے کی خواہش یا اس کی یقینی موت کی توقع کے بغیر ہی کیوں نہ ہو، موت واقع ہو جانے کی صورت میں وہ قتل کا مجرم ہوگا۔

عواقب کو جسے بے احتیاطی سے ممیز کیا جا سکے دانستہ گردانتا ہے یعنی جہاں فاعل اپنے خطا کارانہ فعل کے متوقع عواقب کی پیش بینی کر سکتا ہے۔ بے شک ایک معقول آدمی کی پیش بینی بظاہر ایک مفید شہادتی کسوٹی ہے جس سے یہ اخذ کیا جا سکتا ہے کہ فاعل نے خود کیا بھانپ لیا تھا، لیکن متذکرہ اصول نے اسے ایک قانونی قیاس کی شکل دے دی ہے جو بظاہر رد نہیں کی جا سکتی۔ یوں نیت کے تحت وہ افعال آتے ہیں جو صریحاً مدنظر ہوں یا جو غفلت سے کیے گئے ہوں۔

ساتھ ساتھ پیدا ہوئی۔ دونوں صورتوں میں سزا یکساں ہے۔ اس اصول کی تائید درج ذیل حدیث رسول پاک ﷺ سے ہوتی ہے:

دل میں پیدا ہوتے ہیں جن کو وہ ظاہر نہیں کرتے یا جن پر وہ عمل نہیں کرتے۔‘‘

یہی وجہ ہے کہ شریعت پہلے سے طے شدہ قتل انسانی اور ایذا رسانی اور بغیر سوچے سمجھے قتل یا ایذا کے درمیان کوئی خط تفریق نہیں کھینچتی اور دونوں صورتوں میں بعینہٖ وہی سزا مقرر کرتی ہے۔ قتل کی مقررہ سزا قصاص ہے، خواہ وہ سوچا سمجھا ہوا ہو یا نہ ہو۔

کی نیت ایک واضح نیت سمجھی جائے گی۔ اگر مجرم اپنے نتائج پیدا کرنے کی نیت رکھتا ہے تو باوجود غیر واضح نتائج کے، اس کا جرم ایک واضح فعل گردانا جائے گا، خواہ اس سے کچھ بھی نتائج پیدا ہوں۔ حنفیہ، حنابلہ اور بعض شافعی فقہاء مجرمانہ معاملات بشمول قتل کی واضح اور غیر واضح نیت میں کوئی تمیز روا نہیں رکھتے، لہٰذا اگر مجرم کا فعل قتل پر منتج ہوتا ہے تو وہ دانستہ قاتل ہے، خواہ اس کی نیت کسی خاص مقتول کی نہ ہو۔

صفحہ 394

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول)

مزید برآں مجرم کی ذمہ داری کا تعین اور اس جرم کی قسم طے کرنے کے لیے جس کا وہ مرتکب ہے، فقہاء پختہ اور غیر پختہ نیت کو ایک سطح پر رکھتے ہیں اور انہیں ایک ہی حکم کے تابع خیال کرتے ہیں، سوائے اس کے کہ جرم میں قتل اور ناپختہ نیت جرم شامل ہو۔

ہے، مگر ارتکاب پر مقصد کے اثر اور طرز جرم اور اس پر عائد سزا کو تسلیم نہیں کیا۔ یوں شرع میں اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ مقصد جرم پسندیدہ ہے جیسے اپنے کسی قریبی عزیز کے قصاص یا مجرم کے ہاتھوں اس کی بے عزتی کا بدلہ لینے کے لیے، یا یہ کہ مقصد جرم غیر پسندیدہ ہے جیسے روپے کے لالچ یا سرقہ کے لیے قتل کرنا۔

طرز جرم یا اس کی سزا متاثر ہوتی ہے۔ پس عملاً یہ ممکن ہے کہ جہاں تک حد اور قصاص کے جرائم کا تعلق ہے، مقصد کے اثر کو مسترد کر دیا جائے، مگر ایسا کرنا تعزیری سزاؤں کے معاملات میں ممکن نہیں۔ مقصد، حد اور قصاص کے جرائم کو متاثر نہیں کرتا کیونکہ، قانون ساز ہستی نے ارتکاب جرم کے پس پردہ مقصد پر غور کو قبول نہ کر کے عدالت کے اختیار کو مقررہ سزاؤں تک محدود کر دیا ہے، لیکن تعزیری سزاؤں کے مقدمات میں اس نے عدالت کو مقدار سزا اور قسم سزا متعین کرنے کا اختیار دیا ہے، تاکہ عدالت کے لیے مقدار سزا کے تعین میں مقصد جرم کو پیش نظر رکھنا ممکن ہو۔

اسلامی میں یہ فرق ہے کہ موخر الذکر ان مقدمات میں جو حدود اور قصاص کے زمرہ میں آتے ہیں، مقصد کے اثر کو تسلیم نہیں کرتا۔ شریعت میں ایسی کوئی چیز نہیں جو عدالت کے لیے مقصد جرم پر غور کرنے میں مانع ہو، اگرچہ اصولاً یہ سزا پر اس کے اثر کو تسلیم نہیں کرتی۔

حد تسلیم کرتی ہے جب اس کے ساتھ واضح نیت موجود ہو۔ شریعت سزائے حد موقوف کر دیتی ہے اگر اس امر میں کوئی شک ہو، کیونکہ شبہات حد کو زائل کر دیتے ہیں۔

صفحہ 395

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول)

کریں گی اور اس کا اطلاق شاتم رسول پاک ﷺ پر ہوگا۔ مزید یہ کہ چونکہ نیت کا پتہ وقوعہ کے گرد کے حالات سے چل سکتا ہے۔ دوسری اور تیسری قسم کے اعمال حدود کی سزاؤں کو اپنی طرف متوجہ نہیں کریں گے بشرطیکہ ملزم یہ ثابت کرے کہ اس کا ارادہ کبھی بھی جرم کرنے کا نہ تھا اور وہ نادم ہو اگر کہے گئے الفاظ کیے گئے اشارے یا عمل مبہم ہوں یا وہ مجرمانہ ذہن یا بغض کے کچھ رجحانات ظاہر کرتے ہوں۔ یہاں ہم یہ بھی واضح کردیں کہ توہین رسول پاک ﷺ کے جرم میں ندامت کا فائدہ یہ ظاہر کرنے کے لیے اٹھایا جاسکتا ہے کہ مجرم کے ذہن میں کوئی مجرمانہ خیال یا بغض نہ تھا اور سزا اسی بنا پر موقوف کر دی جائے گی اس لیے نہیں کہ ندامت ایک سوچی سمجھی توہین کو ختم کر دے گی۔

قرآن پاک کہتا ہے:

ضرور گرفت ہے جس کا تم دل سے ارادہ کرو اللہ درگزر کرنے والا اور رحیم ہے۔‘‘ (5:33)

ان سے کہو تم پر سلامتی ہے تمہارے رب نے رحم و کرم کا شیوہ اپنے اوپر لازم کر لیا ہے۔ یہ اس کا رحم و کرم ہی ہے کہ اگر تم میں سے کوئی نادانی کے ساتھ کسی برائی کا ارتکاب کر بیٹھا ہو پھر اس کے بعد توبہ کرے اور اصلاح کرے تو وہ اسے معاف کر دیتا ہے اور نرمی سے کام لیتا ہے۔‘‘ (54:6)

کا ایمان پر مطمئن ہو (تب تو خیر)‘ مگر جس نے دل کی رضامندی سے کفر کو قبول کر لیا اس پر اللہ کا غضب ہے اور ایسے سب لوگوں کے لیے بڑا عذاب ہے۔‘‘ (106:16)

نے چھپا رکھے ہیں۔‘‘ (19:40)

صفحہ 396

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول)

”اعمال کی جزاء کا دارومدار نیت پر ہے اور ہر شخص کو جو اس کی نیت رہی ہو گی اُسی کے مطابق جزا ملے گی۔ پس جنہوں نے دنیاوی فائدے کے لیے ہجرت کی اُس کی ہجرت اس فائدے کے لیے تھی، جس کے لیے اس نے ہجرت کی ۔“

(بخاری جلد اول صفحہ 1 حدیث نمبر 1)

مدینہ کے آخری سرے پر تھا، لیکن اس نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ اپنی کوئی نماز قضا نہ ہونے دی۔ ہمیں اس پر ترس آیا اور اس سے کہا اے بھلے آدمی! تم رسول اللہ ﷺ کے نزدیک کوئی گھر کیوں نہیں خرید لیتے، تاکہ تم گرمی اور اتنی دُور سے آنے کی تکلیف سے بچ سکو۔ اس نے کہا سُنو، اللہ کی قسم، میں نہیں چاہتا کہ میرا گھر رسول اللہ کے گھر کے قریب واقع ہو۔ مجھے اس کے یہ الفاظ برے لگے اور اللہ کے نبی ﷺ کے پاس آیا اور آپ کو (ان الفاظ کی) اطلاع دی۔ آپ ﷺ نے اسے طلب فرمایا اور اس نے بالکل وہی کہا جو اس نے ابی ابن کعب سے کہا تھا، مگر یہ بھی کہا کہ وہ اپنے ہر قدم کی جزا چاہتا ہے۔ اس پر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا حقیقت میں تمہارے لیے وہ جزا ہے جس کی تم نے نیت کی۔“ (مسلم جلد اول انگریزی ترجمہ از عبدالحمید صدیقی صفحات 323-324 حدیث نمبر 1404) مندرجہ بالا حدیث صاف طور پر ظاہر کرتی ہے کہ بظاہر جو الفاظ کہے گئے وہ توہین آمیز معلوم ہوتے ہیں، مگر یہ کہنے والے کی نیت نہ تھی، پس اسے سزا سے مبرا قرار دیا گیا۔

جبکہ مدینہ میں ایک قبر کھودی جا رہی تھی۔ ایک آدمی نے اچانک قبر میں جھانکا اور بولا ایک مومن کی بری آرام گاہ ہے۔ اللہ کے رسول ﷺ نے پلٹ کر فرمایا، کیا بری شے تم نے دیکھی ہے! اُس شخص نے بات کھول کر کہی، میرا یہ مطلب نہ تھا، بلکہ میرا مطلب تھا کہ اللہ کی راہ میں جہاد بہتر ہے۔ اس پر اللہ کے رسول ﷺ نے تین مرتبہ کہا ”اللہ کی راہ میں مرنے سے بہتر کوئی چیز نہیں۔ دنیا میں کوئی دوسرا خطۂ زمین ایسا نہیں، سوائے جہاد کے، جہاں میں اپنی قبر پسند کروں۔“

(مشکوٰۃ جلد سوم، صفحات 662-663 انگریزی ترجمہ از فضل الکریم حدیث نمبر 575)

صفحہ 397

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول)

اللہ ﷺ کی شان میں بے ادبی ہیں، جرم نہیں، جب تک کہ یہ پرخاش یا تذلیل پر مبنی نہ ہوں۔ مثلاً رسول اللہ ﷺ کے روبرو بلند آواز سے بولنا منع ہے۔ قرآن پاک کہتا ہے ”اے لوگو جو ایمان لائے ہو اپنی آواز نبی کی آواز سے بلند نہ کرو اور نہ نبی کے ساتھ اونچی آواز سے بات کیا کرو جس طرح تم آپس میں ایک دوسرے سے کرتے ہو کہیں ایسا نہ ہو کہ تمہارا کیا کرایا سب غارت ہو جائے اور تمہیں خبر بھی نہ ہو ۔“ (2:49)

اس ضمن میں علامہ قرطبی آیت 2:49 کی تشریح فرماتے ہوئے لکھتے ہیں۔

اس سے آپ ﷺ کو تکلیف پہنچتی تھی۔ تاہم یہ جرم نہیں، اگر بغرض جنگ یا دشمن کو خوفزدہ کرنے کے لیے کیا گیا ہو ۔“

نازل ہوئی، ثابت ابن قیس جس کی آواز قدرتی طور پر بلند تھی، اپنے گھر گئے اور دروازہ بند کر کے رونا شروع کر دیا۔ جب انہوں نے نبی ﷺ کی مجالس میں لمبے عرصہ تک حاضری نہ دی تو رسول پاک ﷺ نے ان کے متعلق دریافت فرمایا۔ صحابہ نے آپ ﷺ کو بتایا کہ انہوں نے گھر کا دروازہ بند کر لیا ہے اور گھر کے اندر رو رہے ہیں۔ رسول پاک ﷺ نے انہیں بلوایا اور پوچھا تمہیں کیا ہو گیا ہے؟ انہوں نے جواب دیا، اے اللہ کے نبی! جب سے یہ آیت نازل ہوئی، بلند آواز کا مالک ہونے کی وجہ سے مجھے خوف آیا کہ میں ان میں سے ایک نہ ہوں جن کے نیک اعمال ضائع کر دیئے جائیں۔“ رسول پاک ﷺ نے ان سے کہا ”تم ان میں سے نہیں، تم برکتوں کے ساتھ زندہ رہو گے اور برکتوں کے ساتھ ہی وفات پاؤ گے۔“...... اس کی بنیاد یہ تھی کہ اس کی بلند آوازی قدرتی چیز تھی، کیونکہ وہ بہرے تھے اور بہرے اکثر بلند آواز سے بولتے ہیں اور ان کی بلند آواز رسول پاک ﷺ کی تحقیر و تذلیل کی غرض سے نہ تھی، جیسا کہ منافقین کی جن کے متعلق یہ آیت نازل ہوئی۔ (روح المعانی، جلد 26 صفحات 124-125)

صفحہ 398

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول)

ہے (1) جو اچھے اعمال کو غارت نہیں کرتا۔ (2) جو نیک اعمال کو ضائع کرنے کے برابر ہے۔ اول بغض اور توہین کرنے والے عمل پر مبنی نہیں جیسے کہ جنگوں میں چیخنا اور اونچی آواز سے بولنا، دشمنوں کے ساتھ جھگڑے کے دوران ضرب اور توہین کے لیے جیسے رسول ﷺ نے یوم غزوہ حنین پر حضرت عباسؓ کو لوگوں کو بلند آواز سے پکارنے کا حکم دیا اور انہوں نے لوگوں کو ایسی بلند آواز سے پکارا کہ اس سے حاملہ عورتوں کے حمل گر پڑے۔ دوسری قسم بغض اور توہین آمیز اعمال پر مبنی ہے، جیسا کہ منافقین اور کفار کرتے تھے (مندرجہ بالا)

کہتا تھا ”اللہ کے نبی ﷺ کی وفات کے بعد میں حضرت عائشہؓ سے نکاح کروں گا ۔“ جب رسول اللہ ﷺ کو اس کی اطلاع ملی تو آپ کو سخت اذیت ہوئی۔ اس موقع پر وہ آیت نازل ہوئی جس نے ہمیشہ کے لیے جناب رسالت مآب ﷺ کی ازواج سے نکاح ممنوع قرار دیا اور رسول پاک ﷺ نے فرمایا ”اس دنیا میں میری ازواج آخرت میں بھی میری ازواج ہوں گی ۔“ لیکن اس آیت کے نزول سے قبل عملاً یہ ہوا کہ رسول پاک ﷺ نے ایک مرتبہ اپنی زوجہ کلبیہ کو طلاق دے دی اور انہوں نے عکرمہ ابن ابو جہل سے نکاح کر لیا اور بعض کے نزدیک انہوں نے ابن قیس کندی سے نکاح کیا۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس وقت ان کے خیال میں آپ ﷺ کی زوجہ محترمہ سے نکاح آپ ﷺ کی وفات کے بعد نکاح کا اظہار باعث اذیت رسول ﷺ نہ تھا، کیونکہ یہ ممنوع نہ ہوا تھا۔ (مندرجہ بالا صفحہ 230)

تراشی میں حصہ لیا تھا، سزا نہیں دی اور آپ ﷺ نے انہیں منافق بھی قرار نہیں دیا۔ ابن تیمیہؒ اس صورتحال کی تشریح کرتے ہوئے لکھتے ہیں ”ان کی نیت اللہ کے رسول کو ایذا دینے کی نہ تھی اور اس کی کوئی علامت بھی موجود نہ تھی، جبکہ ابن ابی ایذا کی نیت رکھتا تھا۔ یہ اس وجہ سے تھا کہ اس وقت یہ نہیں کہا گیا تھا کہ اللہ کے نبی ﷺ کی اس دنیا میں

صفحہ 399

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول)

ازواج دوسری دنیا میں بھی آپ ﷺ کی ازواج ہوں گی اور یہ ان کی بیویوں کے لیے عرف عام میں ممکن تھا۔ یہی وجہ ہے کہ رسول پاک ﷺ نے ان کے معاملہ میں تذبذب فرمایا اور علیؓ و زیدؓ (3) سے مشورہ کیا اور بریرہؓ سے دریافت کیا اور نتیجتاً ان لوگوں کو منافق قرار نہیں دیا جن کی نیت نبی ﷺ کے ایذا کی نہ تھی۔ ان کے ذہن میں اس امکان کی بنا پر کہ شاید رسول پاک ﷺ اپنی متہم بیوی کو طلاق دے دیں، لیکن اس حکم کے بعد کہ اس دنیا میں آپ ﷺ کی ازواج آخرت میں بھی آپ ﷺ کی ازواج ہوں گی اور یہ کہ امہات مومنین ہیں، ان پر الزام لگانا ہر قیمت پر نبی ﷺ کی اذیت ہوگا (الصارم المسلول علی شاتم الرسول ﷺ، صفحہ 49)

ثابت کرنے کے لیے ضروری ہے۔ اگر ایک شخص نے کہا، رسول پاک ﷺ غریب تھے اور خوش قسمت نہ تھے، تو وہ صرف اس وقت کافر ہو جائے گا، جب اس سے اس کی نیت اہانت رسول ﷺ ہو۔“ (نور العرفان حصہ دہم صفحہ 74)

الفاظ میں ہے تو شاتم سے یہ نہیں پوچھا جائے گا کہ اس کی نیت کیا تھی، لیکن اگر الفاظ ایسے ہیں جو مختلف معنی اور مفہوم رکھتے ہیں یا اس امر کی صلاحیت رکھتے ہیں جن میں سے صرف ایک مفہوم توہین کا حامل ہے تو اس سے اس کی نیت دریافت کی جائے گی۔

(الشفاء، قاضی عیاضؒ، جلد دوم صفحہ 221)

جاتے ہیں۔ سیاق و سباق بھی مختلف معنی ظاہر کر سکتا ہے، لہٰذا ملزم کو وضاحت کا موقع دینا چاہیے، تاکہ کہیں کوئی معصوم شخص سزا نہ پا جائے۔ ایک روایت ہے کہ رسول پاک ﷺ نے فرمایا ”ایک مجرم کو بری کر دینے کی غلطی ایک معصوم شخص کو سزا دینے کی غلطی سے بہتر ہے۔“ (سنن البیہقی جلد ہشتم صفحہ 184) قرآن بھی ہر ملزم کو حق دیتا ہے کہ اسے سنا جائے۔ یہ بات قابل غور ہے کہ گو اللہ قادر مطلق جانتا ہے کہ جو کچھ امین فرشتوں نے

صفحہ 400

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول)

ایک شخص کے اعمال نامہ میں اس کے اس دنیا کے اعمال کے بارے میں لکھا ہے، صحیح و غیر مشکوک ہے، پھر بھی ہم دیکھتے ہیں کہ ہر شخص کو سنا جائے گا اور اگر اسے فرشتوں کے لکھے پر اعتراض ہے تو اللہ تعالیٰ شہادت طلب کرے گا، اس کے اپنے ہاتھوں، پیروں، آنکھوں اور کانوں سے۔ ملاحظہ ہو القرآن، آیات 13:17‘ 14-36: 65-20:67‘ 16-22: 93 اور 23:21 ان سنن سے جن کا حوالہ پیرا 36-41 میں دیا گیا ہے۔ معلوم ہوتا ہے کہ ملزم کا حق وضاحت وصفائی موجود ہے، جسے سلب نہیں کیا جاسکتا۔ لہٰذا اس کے بعد ہی عدالت فیصلہ کر سکتی ہے کہ کہے گئے الفاظ تہمت کی غرض سے تھے، یا وہ بدخواہی اور گستاخی سے استعمال ہوئے تھے یا غیر ارادی طور پر منہ سے نکل گئے تھے۔

کہتے سنا ”اللہ کے رسول ﷺ نے مجھے، زبیرؓ اور مقدادؓ کو یہ کہہ بھیجا کہ ”جاؤ! یہاں تک کہ تم روضہ خاخ پہنچو۔ وہاں تمہیں ایک عورت ایک خط کے ساتھ ملے گی۔ اس سے خط حاصل کر لو۔“ چنانچہ ہم روانہ ہو گئے اور ہمارے گھوڑے پوری رفتار سے دوڑے، یہاں تک کہ ہم الروضہ پہنچے جہاں ہم نے ایک عورت کو پا لیا اور اسے کہا ”خط نکالو“۔ اس نے کہا کہ میرے پاس کوئی خط نہیں۔ ہم نے دھمکی دی کہ خط نکالو ورنہ ہم تمہارے کپڑے اتار دیں گے۔ اس پر اس نے وہ خط اپنی چوٹی سے نکال کر دیا۔ ہم خط اللہ کے رسول ﷺ کے پاس لے آئے۔ اس میں حاطب ابن ابی بلتعہ کا ایک پیغام بعض کفارِ مکہ کے نام تھا جس میں انہیں اللہ کے رسول ﷺ کے بعض ارادوں کی اطلاع دی گئی تھی۔ تب اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا ”حاطب! یہ کیا حرکت ہے؟ حاطب نے جواب دیا، اے اللہ کے رسول ﷺ! میرے متعلق اپنا فیصلہ صادر کرنے میں عجلت نہ کیجیے۔ میں قریش سے قریبی تعلق رکھنے والا آدمی تھا، لیکن میں اس قبیلہ سے نہ تھا، جبکہ آپ کے ساتھ دوسرے مہاجرین کے رشتہ دار مکہ میں ہیں جو ان کے زیر کفالت افراد اور ان کی جائیداد کی حفاظت کریں گے، چنانچہ میں نے ان سے اپنے خونی رشتہ کی کمی کو ان کے ساتھ ایک مہربانی سے پورا کرنا چاہا، تاکہ وہ میرے کفیلوں کی حفاظت کریں۔ میں نے

صفحہ 401

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول)

یہ نہ تو کفر کی وجہ سے کیا ہے نہ ارتداد کی بنا پر اور نہ کفر کو اسلام پر ترجیح دینے کے لیے۔ اللہ کے رسول ﷺ نے کہا‘ حاطب نے تمہیں حقیقت بتادی ہے۔‘‘

(بخاری جلد چہارم، صفحات 154‘ 155 حدیث نمبر 201)

رسول ﷺ کے معاملات میں حاکم یا جج کو موقع محل اور شاتم کا عام رویہ، معاملہ کا فیصلہ کرنے سے پہلے دیکھنا چاہیے۔‘‘ (احکام المرتد‘ نعمان عبدالرزاق سمرقندی‘ صفحہ 109)

میں لکھتے ہیں ”کلمات کفر اور اس شخص کی نوعیت میں فرق ہے‘ جو ان الفاظ کا حوالہ دیتا ہے اور اس سے کافر ہو جاتا ہے۔‘‘ (تمہید ایمان صفحہ 59) وہ آگے چل کر فرماتے ہیں ”لفظ راعنا کا استعمال اب توہین نہیں‘ کیونکہ یہ آج کل توہین رسول کے سیاق و سباق میں نہیں کہا جاتا۔‘‘ (5) (ختم نبوت صفحہ 71)

زہر ملا دیا اور رسول کریم ﷺ کو پیش کیا جو بکرے کی دستی کا گوشت کھانا پسند فرماتے تھے‘ اس نے گوشت کے اس حصہ میں زیادہ زہر ملا دیا۔ رسول پاک ﷺ اور بشر بن براء نے جو آپ ﷺ کے ساتھ تھے، اس میں سے کھا لیا‘ لیکن جب رسول پاک ﷺ نے کھانا شروع کیا تو انہوں نے محسوس فرمایا کہ یہ زہر آلود ہے تو آپ ﷺ نے اسے تھوک دیا۔ پھر رسول پاک ﷺ نے اس یہودی عورت کو بلایا اور اس سے اس کے متعلق دریافت فرمایا۔ اس نے اس گوشت میں زہر ملانے کا اقبال کیا۔ پھر رسول پاک ﷺ نے اس سے دریافت کیا کہ اس نے ایسا کیوں کیا۔ اس نے جواب دیا کہ اگر آپ بادشاہ ہیں تو ہمیں آپ سے نجات مل جائے گی اور اگر آپ ایک نبی ہیں تو آپ کو کوئی نقصان نہ پہنچے گا۔ رسول پاک ﷺ نے اسے معاف فرما دیا۔

(اقضیاء الرسول از محمد ابن فرج اُردو ترجمہ صفحات 190,189)

صفحہ 402

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول)

نہیں رکھا حالانکہ اس نے ان میں سے بعض پر دوسروں کی نسبت زیادہ نعمتیں نازل فرمائیں۔ یہاں ہم حوالہ کے لیے قرآن پاک سے مندرجہ ذیل آیات پیش کرتے ہیں:

55:17=”ہم نے بعض پیغمبروں کو بعض سے بڑھ کر مرتبے دیئے اور ہم ہی نے داؤد کو زبور دی تھی۔“

253:2=”یہ رسول (جو ہماری طرف سے انسانوں کی ہدایت پر مامور ہوئے) ہم نے ان کو ایک دوسرے سے بڑھ چڑھ کر مرتبے عطا کیے۔ ان میں کوئی ایسا تھا جس سے خدا خود ہمکلام ہوا‘ کسی کو اس نے دوسری حیثیتوں سے بلند درجے دیئے اور ہم نے عیسیٰؑ کو کھلی نشانیاں دیں اور روح القدس سے اس کی مدد کی۔ اگر اللہ چاہتا تو ممکن نہ تھا کہ ان رسولوں کے بعد جو لوگ روشن نشانیاں دیکھ چکے تھے‘ وہ آپس میں لڑتے مگر (اللہ کی مشیت یہ نہ تھی کہ وہ لوگوں کو جبراً اختلاف سے روکے‘ اس وجہ سے) انہوں نے باہم اختلاف کیا‘ پھر کوئی ایمان لایا اور کسی نے کفر کی راہ اختیار کی‘ ہاں‘ اللہ چاہتا تو وہ ہرگز نہ لڑتے‘ مگر اللہ جو چاہتا ہے کرتا ہے۔“

136:2=”مسلمانو! کہو کہ‘ ہم ایمان لائے اللہ پر اور اس ہدایت پر جو ہماری طرف نازل ہوئی اور جو ابراہیمؑ، اسماعیلؑ، اسحاقؑ، یعقوبؑ اور اولاد یعقوبؑ کی طرف نازل ہوئی تھی اور جو موسیٰؑ، عیسیٰؑ اور دوسرے تمام پیغمبروں کو ان کے رب کی طرف سے دی گئی تھی۔ ہم ان کے درمیان کوئی تفریق نہیں کرتے اور ہم اللہ کے ماننے والے ہیں۔“

84:3=”کہو کہ ہم اللہ کو مانتے ہیں‘ اس تعلیم کو مانتے ہیں جو ہم پر نازل کی گئی ہے‘ ان تعلیمات کو بھی مانتے ہیں جو ابراہیمؑ، اسماعیلؑ، اسحاقؑ، یعقوبؑ اور اولاد یعقوبؑ پر نازل ہوئی تھیں اور ان ہدایات پر بھی ایمان رکھتے ہیں جو موسیٰؑ اور عیسیٰؑ اور دوسرے پیغمبروں کو ان کے رب کی طرف سے دی گئیں۔ ہم ان کے درمیان فرق نہیں کرتے اور ہم اللہ کے تابع فرمان مسلمان ہیں (6)۔“ اور آیات 285:2‘ 150:4 اور 152:4۔

پیغمبروں کے ہم مرتبہ ہونے کے سبب سے وہی سزائے موت جو اوپر قرار دی گئی ہے‘ اس

صفحہ 403

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول)

معاملہ میں بھی لاگو ہوگی‘ جہاں کوئی شخص ان میں سے کسی کے متعلق بھی کوئی توہین آمیز بات کہتا یا کسی طرح کی گستاخی کرتا ہے۔

کہ دفعہ 295 سی پاکستان ضابطہ تعزیرات میں مقرر ہے‘ احکامات اسلام سے متصادم ہے جو قرآن پاک اور سنت رسول کریم ﷺ میں دیئے گئے ہیں‘ لہٰذا یہ الفاظ اس میں سے حذف کر دیئے جائیں۔

پیغمبروں کے متعلق کہی جائیں، وہ بھی اسی سزا کے مستوجب جرم بن جائے جو اوپر تجویز کی گئی ہے۔

ارسال کی جائے تاکہ قانون میں ترمیم کے اقدامات کیے جائیں اور اسے احکامات اسلامی کے مطابق بنایا جائے۔ اگر 30 / اپریل 1991ء تک ایسا نہیں کیا جائے تو ”یا عمر قید“ کے الفاظ دفعہ 295 سی تعزیرات پاکستان میں اس تاریخ سے غیر مؤثر ہو جائیں گے۔

دستخط تاریخ فیصلہ جسٹس گل محمد خان ...... چیف جسٹس 30 اکتوبر 1990 جسٹس عبدالکریم خاں کندی جسٹس عبادت یار خاں جسٹس عبدالرزاق اے تھہیم جسٹس ڈاکٹر فدا محمد خاں

(PLD 1991 Federal Shariat Court 10)

حواشی:

تھا‘ جس میں توہین مذہب کی سزا دو سال مقرر تھی اور گستاخ رسول ﷺ کی سزا بھی یہی تھی‘ اس لیے مطالبہ کیا گیا تھا کہ توہین رسالت کی سزا‘ سزائے موت بطور حد مقرر کی جائے۔

صفحہ 404

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول)

فاضل عدالت نے پہلی درخواست توہین رسالت پر اپنا فیصلہ محفوظ کر لیا تو درخواست گزار نے 295 سی کا مسودہ قانون تیار کیا جسے مرحومہ آپا نثار فاطمہ ایم۔این۔اے نے اسمبلی میں پیش کیا‘ لیکن اس وقت کے وزیر قانون خان اقبال احمد خان اور مذہبی جماعتوں کے اراکین اسمبلی بھی اس بل کے حق میں نہیں تھے جو بصد مشکل عمر قید پر راضی ہوئے‘ لیکن بعد میں عوام کے دباؤ پر عمر قید کے ساتھ سزائے موت کا اضافہ کر دیا اور عدالت کو اختیار دے دیا کہ وہ ان دونوں سزاؤں میں جو سزا بھی مناسب سمجھے توہین رسالت کے مجرم کو دے سکتی ہے، جس پر دوبارہ مقدمہ مذکور الصدر وفاقی شرعی عدالت میں دائر کیا گیا، جس میں مطالبہ کیا گیا کہ صدر مملکت اور حکومت پاکستان کو ہدایت کی جائے کہ وہ توہین رسالت کی سزا بطور حد صرف سزائے موت مقرر کریں۔

کیونکہ اس وقت بھی اس کے مخاطب اہل ایمان ہی تھے جو اس لفظ کے سوائے ”توجہ فرمائیے“ کے کوئی اور معنی سوچ ہی نہیں سکتے تھے۔ حق سبحانہ تعالیٰ نے اہل ایمان کے لیے لفظ ”راعنا“ کا استعمال تا قیامت ممنوع قرار دیا ہے۔ صحابہ کرامؓ کے ذہنوں میں اس لفظ کا گستاخانہ مفہوم آ ہی نہیں سکتا تھا۔ اس کے باوجود انہیں بھی اس لفظ کے استعمال سے منع فرما دیا گیا۔ بایں وجہ حضرت مولانا احمد رضا خان بریلویؒ کی رائے سے بصد ادب اختلاف ہے۔

دوسرے پر فضیلت کا تعلق ہے، اس سے قرآن نے انکار نہیں کیا بلکہ تصدیق کی ہے اور احادیث سے بھی یہ ثابت ہے کہ حضور ختمی مرتبت سردار الانبیاء ہیں۔

صفحہ 405

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول)

PLD 1994 Lahore 485

لاہور ہائی کورٹ لاہور

ریاض احمد اور تین دوسرے بنام حکومت پاکستان

...... جناب جسٹس خلیل الرحمن خاں

...... جناب جسٹس ایس ایم زبیر

...... جناب جسٹس میاں نذیر اختر

تحفظ ناموس رسالتﷺ پر لاہور ہائی کورٹ کا

تاریخی فیصلہ جس میں قادیانیوں کی طرف

سے شانِ رسالتﷺ میں کی گئی گستاخیوں سے پردہ اُٹھتا ہے!

صفحہ 406

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول)

”مجموعہ تعزیراتِ پاکستان کی دفعہ 295۔سی کے احکام نے یہ بات ممکن بنا دی ہے کہ ملزموں کا عدالتی طریقہ کار سے مواخذہ کیا جا سکے اور معاشرہ میں رجحان پیدا کر دیا ہے کہ قانونی کارروائی کا سہارا لیا جائے۔ تعزیراتِ پاکستان کی محولہ بالا دفعہ کے تحت مقدمے کے اندراج سے ملزم کو ایک عرصۂ حیات میسر آ جاتا ہے۔ اس امر کے پورے موقع کے ساتھ کہ وہ اپنی پسند کے وکیل کے ذریعے عدالت میں اپنا دفاع کرے اور سزایابی کی صورت میں اعلیٰ عدالتوں میں اپیل، نگرانی وغیرہ جیسی دادرسی کا فائدہ اٹھائے۔ کوئی بھی شخص، کجا ایک مسلمان، ممکنہ طور پر اس قانون کی مخالفت نہیں کر سکتا، کیونکہ یہ من مانی کا سدباب کرتا ہے اور قانون کی حکمرانی کو فروغ دیتا ہے۔ اگر تعزیراتِ پاکستان کی دفعہ 295۔سی کے احکام کی تنسیخ کر دی جائے یا انہیں دستور سے متصادم قرار دے دیا جائے تو معاشرہ میں ملزموں کو جائے واردات پر ہی ختم کرنے کا پرانا دستور بحال ہو جائے گا۔“

صفحہ 407

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول)

دل کی بات

(مقدمہ کا پس منظر، احوال، نتیجہ)

الحمد للہ وحدہ والصلوۃ والسلام علی من لا نبی بعدہ اما بعد

اپریل 1994ء کو توہینِ رسالت کے ایک مقدمہ میں لاہور ہائیکورٹ کے فل بینچ نے درخواست ضمانت پر اٹھائے گئے بعض نکات میں ایک یادگار فیصلہ سناتے ہوئے قرار دیا کہ توہین رسالت ﷺ کا قانون (295 سی) آئین پاکستان کے منافی نہیں ہے اور یہ کہ اسلام دوسرے مذاہب کا احترام دیگر تمام مذاہب سے زیادہ کرتا ہے۔

جناب جسٹس خلیل الرحمٰن خاں، جناب جسٹس ایس ایم زبیر اور جناب جسٹس میاں نذیر اختر پر مشتمل بینچ نے تھانہ پپلاں ضلع میانوالی کے ریاض احمد وغیرہ کی طرف سے داخل کی گئی درخواست ضمانت کے دوران فیصلہ سنایا کہ اسلام کسی بھی مذہب سے زیادہ دوسرے مذاہب کا احترام سکھاتا ہے۔ فاضل بینچ نے مزید قرار دیا کہ مسلمانوں کو جو ملک کی کل آبادی کا 97 فیصد ہیں، دوسرے مذاہب سے تعلق رکھنے والوں کے عقائد کا احترام کرنا چاہیے۔ درخواست کی سماعت کے دوران بعض عیسائی تنظیموں کی طرف سے استدعا کی گئی کہ توہین رسالت ﷺ کے قانون کا دائرہ اثر حضرت عیسیٰ علیہ السلام سمیت دیگر تمام انبیائے کرام علیہم السلام تک بڑھایا جائے اور ان کی توہین کرنے والوں کو وہی سزا (سزائے موت) دی جائے جو رسول اکرم ﷺ کی اہانت کرنے کی پاداش میں دی جاتی ہے۔ عدالت نے قرار دیا کہ یہ معاملہ پہلے ہی پاکستان لاء کمیشن اور اسلامی نظریاتی کونسل کے زیر غور ہے اور مجموعہ تعزیرات پاکستان کی دفعہ 295 (سی) میں جلد ہی ضروری ترمیم ہونے کی توقع ہے، اس لیے وہ اس معاملہ میں کوئی فیصلہ نہیں کرے گی۔ عدالت نے اپنے فیصلہ میں نہایت اہم بات کا تذکرہ کرتے ہوئے لکھا کہ:

صفحہ 408

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول)

متصادم نہیں ہے۔“

تعزیرات پاکستان کی دفعہ 295 (سی) کے بارے میں بینچ کے فاضل رکن جناب جسٹس میاں نذیر اختر نے اپنے مختصر توضیحی نوٹ میں قرار دیا کہ یہ دفعہ آئینِ پاکستان سے متصادم نہیں ہے بلکہ یہ دفعہ ملزم کی زندگی کو تحفظ اور اسے اپنی صفائی پیش کرنے کا موقع فراہم کرتی ہے۔ اسی دفعہ کے تحت ملزم کا مواخذہ کرنا ممکن ہے، تاکہ معاشرہ میں امن قائم رہے۔ اگر اس دفعہ میں ترمیم کر دی جائے یا اسے آئین سے متصادم قرار دے دیا جائے تو معاشرہ میں پرانا دور پھر سے لوٹ آئے گا اور لوگ ملزموں سے جائے واردات پر ہی نمٹنے لگیں گے۔

یہ اپنی نوعیت کا بہترین فیصلہ ہے جس نے کئی قانونی اور آئینی موشگافیوں کو حل کر دیا ہے۔ قادیانیوں کے خلاف مختلف عدالتوں میں زیرِ سماعت مقدمات کے لیے یہ فیصلہ نہایت معاون اور مددگار ثابت ہوگا۔

طالب شفاعت محمدی ﷺ بروز محشر محمد متین خالد لاہور

صفحہ 409

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول)

PLD 1994 Lahore 485

لاہور ہائی کورٹ لاہور

ریاض احمد و تین دوسرے بنام حکومت پاکستان

فیصلہ کے اہم نکات:

متصادم نہیں ہے۔

ہے کہ ملزموں کا عدالتی طریقہ کار سے مواخذہ کیا جا سکے اور معاشرہ میں یہ رجحان پیدا کر دیا ہے کہ قانونی کارروائی کا سہارا لیا جائے۔ تعزیراتِ پاکستان کی مذکورہ بالا دفعہ کے تحت مقدمے کے اندراج سے ملزم کو ایک عرصہ حیات میسر آ جاتا ہے۔ اس امر کے پورے موقع کے ساتھ کہ وہ اپنی پسند کے وکیل کے ذریعے عدالت میں اپنا دفاع کرے اور سزایابی کی صورت میں اعلیٰ عدالتوں میں اپیل، نگرانی وغیرہ جیسی دادرسی کا فائدہ اٹھائے۔ کوئی بھی شخص، کجا ایک مسلمان، ممکنہ طور پر اس قانون کی مخالفت نہیں کر سکتا، کیونکہ یہ من مانی کا سد باب کرتا ہے اور قانون کی حکمرانی کو فروغ دیتا ہے۔ اگر تعزیرات پاکستان کی دفعہ 295 سی کے احکام کی تنسیخ کر دی جائے یا اُنہیں دستور سے متصادم قرار دے دیا جائے تو معاشرہ میں ملزموں کو جائے واردات پر ہی ختم کرنے کا پرانا دستور بحال ہو جائے گا۔

صفحہ 410

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول)

PLD 1994 Lahore 485

لاہور ہائی کورٹ لاہور

(ابتدائی معلومات)

سماعت کنندہ فل بنچ

مقدمہ نمبر: متفرق فوجداری درخواست نمبر 140 بی لغایت 1994

فریقین: ریاض احمد و 3 دیگران ...... درخواست گزار

بنام

سرکار

منجانب سائلان: خواجہ سرفراز احمد ایڈووکیٹ

منجانب سرکار: نذیر احمد غازی، اسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل (پنجاب)

رشید مرتضیٰ قریشی ایڈووکیٹ نے پاکستان کرسچین پارٹی اور پاکستان مسیحی کاشتکار پارٹی کی وکالت کی۔

تاریخ ہائے سماعت : 10، 11 اپریل 1994ء

تاریخ فیصلہ : 25 اپریل 1994ء

صفحہ 411

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول)

فیصلہ

جسٹس خلیل الرحمن خاں

دیا‘ جو فاضل سنگل بنچ نے ریاض احمد و 3 دیگران کی طرف سے زیر دفعہ 295۔سی مجموعہ تعزیرات پاکستان مورخہ 20۔ نومبر 1993ء کو تھانہ پپلاں ضلع میانوالی میں ابتدائی رپورٹ (ایف آئی آر نمبر 160) کے بموجب درج کردہ مقدمہ میں ضمانت کے لیے داخل کی گئی درخواست میں اٹھائے تھے۔ سوالات درج ذیل تھے:

با ضابطہ ابتدائی رپورٹ درج کیے بغیر تفتیش کر سکتی ہے؟

معاملات میں‘ مقدمہ کے اندراج میں‘ پولیس کی طرف سے افسران بالا سے اجازت لینے کے باعث جو تاخیر کر دی جاتی ہے‘ اسے کوئی وزن دیا جا سکتا ہے؟

الزام لگایا گیا ہے) جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ مرزا قادیانی کی تعلیمات کے عین مطابق ہے‘ حضرت محمدﷺ کی توہین کے زمرہ میں آتی ہے؟ اور اس سے زیر دفعہ 295۔سی تعزیرات پاکستان جرم تشکیل پاتا ہے؟

آئین 1973 کے کسی آرٹیکل سے متصادم ہے؟

صفحہ 412

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول)

غازی اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل (پنجاب) حکومت کی طرف سے پیش ہوئے۔ رشید مرتضیٰ قریشی ایڈووکیٹ نے مستغیث کے ساتھ ساتھ پاکستان کرسچین پارٹی اور مسیحی کاشتکار پارٹی کی نمائندگی کی۔

جب اسے دفعہ 156 اور 157 کے ساتھ پڑھا جائے‘ کی رُو سے پولیس افسر کے لیے لازم ہے کہ شکایت موصول ہونے پر اس کا روزنامچہ میں اندراج کرے اور تفتیش شروع کر دے۔ انہوں نے مزید کہا کہ بالعموم باضابطہ ابتدائی رپورٹ درج کیے بغیر کوئی تفتیش شروع نہیں کی جاتی‘ نیز یہ کہ پولیس افسر ابتدائی رپورٹ درج کرنے سے پہلے اور دورانِ تفتیش بھی افسرانِ بالا سے ہدایات و رہنمائی حاصل کرنے کا مجاز ہوتا ہے۔ تیسرے سوال کے متعلق فاضل وکیل نے کہا کہ اس معاملہ میں ہمیں اظہارِ رائے سے گریز کرنا چاہیے‘ کیونکہ حتمی فیصلہ تو کجا‘ ہماری رائے سے ہی‘ مقدمہ میں‘ ملزمان متاثر ہوں گے۔ چوتھے سوال کے بارے میں انہوں نے یہ پوزیشن اختیار کی کہ تعزیراتِ پاکستان کی دفعہ 295۔سی دستور کے کسی آرٹیکل سے متصادم نہیں ہے۔ انہوں نے وضاحت کی کہ فاضل سنگل جج کے روبرو ان کی طرف سے ایسا کوئی دعویٰ نہیں کیا گیا تھا‘ اس لیے جس فاضل وکیل نے یہ سوال اٹھایا ہے‘ انہیں دلائل سے یہ ثابت کرنا چاہیے کہ دفعہ 295۔سی تعزیراتِ پاکستان سے اسلامی جمہوریہ پاکستان کے دستور کے کون سے احکام کی خلاف ورزی ہوتی ہے۔

اندازی پولیس جرم سے متعلق شکایت موصول ہونے پولیس کی طرف سے تفتیش شروع کرنے سے پہلے اس کا خلاصہ روزنامچہ میں درج کیا جاتا ہے اور اگر روزنامچہ میں اندراج نہ کیا جائے تب بھی اشتباہ جرم کی صورت میں پولیس افسر شکایت کے درست یا غلط ہونے کے بارے میں چھان بین کرتا ہے‘ تو ایسی تفتیش/ انکوائری بے قاعدگی کے ضمن میں آ سکتی ہے‘ تاہم اس سے تفتیش یا سماعتِ مقدمہ باطل نہیں ہو جاتی۔ اس سلسلے

صفحہ 413

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول)

میں تاج محمد عرف تاجو بنام سرکار (1991 پی۔ کریمنل لاء جرنل 2167) کا حوالہ دیا گیا۔ انہوں نے ہرسان بنام سرکار (پی ایل جے 1989 کریمنل۔سی کراچی۔809) کا حوالہ بھی دیا، جس میں درج دو مقدمات انور بنام سرکار (1975۔ پی۔ کریمنل لا جرنل 750) اور محمد حنیف بنام سرکار (پی ایل ڈی 1977 لاہور 1253) میں اس رائے کا اظہار کیا گیا تھا کہ ایف آئی آر سے وابستہ تیقن اس وقت ختم ہو جاتا ہے جب پولیس پہلے جائے واردات کا معائنہ کرے اور اس کے بعد ابتدائی رپورٹ کا اندراج کرے۔ فاضل ججوں نے نذیر احمد بنام سرکار (1976 پی۔ کریمنل لاء جرنل 993) میں ظاہر کی گئی حسب ذیل آراء پر بھی انحصار کیا:

”اگر ابتدائی رپورٹ جائے وقوعہ پر ہی ریکارڈ کر لی گئی ہو تو اس سے کچھ فرق نہیں پڑتا، اگرچہ یہ پسندیدہ معمول نہیں ہے۔ ابتدائی رپورٹ شہادت کا اہم جز نہیں ہوتی، جائے وقوعہ پر اس کے ریکارڈ کر لینے کا مطلب یہ نہیں کہ استغاثہ کے پورے کیس کو اٹھا کر ایک سمت پھینک دیا جائے۔“

فاضل اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل نے گل نواز لون ایس ایچ او و دیگر کے کیس (پی ایل ڈی 1990 لاہور۔428) کا حوالہ بھی دیا تا کہ یہ ثابت کر سکیں کہ مجموعہ ضابطہ فوجداری کی دفعہ 154 کے تحت ملنے والی اطلاع کو بھی پہلے تھانہ کے روزنامچہ میں درج کیا جاتا ہے، اگر انچارج پولیس سٹیشن ایسا گمان کرنے کی معقول وجہ رکھتا ہو کہ کسی قابلِ دست اندازی پولیس جرم کا ارتکاب کیا گیا ہے تو اس اطلاع کو ابتدائی رپورٹ کے رجسٹر میں درج کیا جاتا ہے۔ اس سلسلے میں چودھری شاہ محمد بنام ایس ایچ او رحیم یار خاں (1977 پی۔ کریمنل لا جرنل 2) نامی مقدمہ پر بھی انحصار کیا گیا تا کہ یہ ثابت کیا جا سکے کہ اگر پولیس کو یہ گمان ہو کہ ابتدائی رپورٹ درج کرنے یا تفتیش کرنے کی معقول وجہ موجود نہیں ہے تو وہ ایسے معاملہ میں کارروائی کرنے سے انکار کر سکتی ہے اور اس کے اس اقدام کو خلافِ قانون نہیں کہا جا سکتا۔

صفحہ 414

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول)

ان کا کہنا تھا کہ تعزیرات پاکستان کی دفعہ 295۔ (سی) دستور کے آرٹیکل 2۔ الف اور 3 میں دیئے گئے حق سے متصادم ہے، کیونکہ پہلی بات تو یہ ہے کہ رسول اکرم ﷺ کے مقدس نام کی توہین و بے حرمتی کرنے کی سزا موت ہے اور کمتر سزا عمر قید احکام الٰہی کے خلاف ہے۔ دوسرے یہ دفعہ تعلیماتِ اسلام کے مطابق اس بات کا احاطہ کرنے میں ناکام رہی ہے کہ دیگر انبیائے کرام (علیہ السلام) کے ناموں کی بے حرمتی کرنا بھی جرم ہے، جس کے لیے وہی سزا (سزائے موت) ہونی چاہیے۔ انہوں نے استدعا کی کہ عدالت ہٰذا کو ان معاملات کے بارے میں ضروری فیصلہ صادر کرنا چاہیے۔

الہامی مذاہب اور ان کے بانی پیغمبروں کا احترام کرتے ہیں اور یہ کہ دفعہ 295۔ (سی) تعزیراتِ پاکستان کا مقصد پیغمبرِ اسلام (ﷺ) کے اسم گرامی کے تقدس کو برقرار رکھ کر معاشرہ میں امن وسلامتی قائم رکھنا ہے، اس لیے نام نہاد انسانی حقوق کے منافی نہیں ہے، البتہ اس دفعہ میں موزوں طریقے سے ایسی ترمیم کی جاسکتی ہے کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو برا بھلا کہنے کی روک تھام ہو سکے اور ان کی بے حرمتی کرنے والوں کو بھی سزا دی جاسکے۔ انہوں نے اپنی معروضات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ ایسی ترمیم تعزیراتِ پاکستان کی دفعہ 295۔ الف (جس کا اضافہ 1927 میں کیا گیا) کے عین مطابق ہوگی۔ اس دفعہ کے تحت ایسے افعال کو جو جان بوجھ کر اور ارادتاً مذہب یا مذہبی عقائد کی توہین کر کے اس کے مذہبی جذبات مشتعل کرنے کی غرض سے کیے جائیں، قابل سزا قرار دیا گیا ہے۔

فاضل وکیل نے مزید کہا کہ مسئول الیہ عیسائی پارٹیوں کی یہ بھی رائے ہے کہ انسانی حقوق کی وہ نام نہاد تنظیمیں عوام کی نمائندہ نہیں ہیں، جو یہ کہتی ہیں کہ رسول اکرم ﷺ کے نام کی بے حرمتی کو قابل تعزیر جرم قرار دینا انسانی حقوق کے خلاف ہے۔ ایسی صورت میں انہیں سب سے پہلے عیسائی ممالک میں آواز اٹھانی چاہیے جہاں قانون عامہ کی رو سے کسی مذہب کی توہین کرنے کی صورت میں صرف عیسائیت پر حملہ کو قابل تعزیر جرم قرار دیا

صفحہ 415

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول)

گیا ہے۔ فاضل وکیل نے اس سلسلے میں ہالسبری کی کتاب "Laws of England" (چوتھا ایڈیشن‘ جلد 11‘ پیرا 1009) کا حوالہ دیا‘ جس میں لکھا ہے کہ:

کے مذہب پر حملہ کرنے والے الفاظ کی اشاعت پر مبنی ہو۔ عیسائیت کے علاوہ کسی مذہب پر حملہ کرنا تکفیر دین نہیں ہے۔“

فاضل وکیل کے مطابق یہ تنظیمیں پاکستان کے مخالفین کے ایماء پر محض مسلمانوں اور عیسائیوں کے مابین بدامنی و بے چینی پھیلانے کی غرض سے ایسے نعرے لگا رہی ہیں‘ جبکہ یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ اسلام اور عیسائیت دونوں الہامی مذاہب ہیں اور دونوں انسانوں کے مابین انس و محبت اور بھائی چارے کو فروغ دینا چاہتے ہیں۔ فاضل وکیل نے استدعا کی کہ عدالت کو معاشرہ میں قیام امن اور دوستی و ہم آہنگی کو فروغ دینے کے لیے قرار دینا چاہیے کہ اسلامی احکام کے مطابق حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے نام کی بے حرمتی بھی قابل تعزیر جرم ہے اور یہ کہ تعزیرات پاکستان کی دفعہ 295- (سی) اس سلسلے میں ناکافی ہے‘ اس لیے اس سے اسلامی جمہوریہ پاکستان کے دستور میں دی گئی تعلیمات کی خلاف ورزی ہوتی ہے۔

سنجیدگی سے غور کیا۔ سب سے پہلے یہ بات قابل غور ہے کہ ہمارے سامنے جو سوالات اٹھائے گئے ہیں‘ ان کے سیاق و سباق میں ہمارے لیے یہ ضروری نہیں کہ حقوق انسانی کی بعض تنظیموں کے اغراض و مقاصد کے بارے میں یا تعزیرات پاکستان کی دفعہ 295- (سی) کے احکام کو ہدف تنقید بنانے والی عیسائی پارٹیوں کے رویہ پر کوئی رائے ظاہر کریں۔ اس سلسلہ میں صرف اس قدر کہنا کافی ہوگا کہ معاشرہ میں امن و امان قائم رکھنا سب سے اہم کام ہے۔ پارلیمنٹ‘ انتظامیہ‘ عدلیہ سمیت ہر متعلقہ ادارے اور جملہ طبقاتِ فکر و مذاہب کے شہریوں پر لازم ہے کہ معاشرہ میں اتحاد و یگانگت‘ افہام و تفہیم اور صلح و آشتی کے لیے کوئی کسر اٹھا نہ رکھیں۔ یہ کوئی مشکل کام نہیں کیونکہ اسلام جملہ

صفحہ 416

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول)

الہامی ادیان اور دوسروں کے عقائد کا دیگر تمام مذاہب سے بڑھ کر احترام کرتا ہے۔ اسلام محض وعظ پر یقین نہیں رکھتا بلکہ عملی اقدامات پر زور دیتا ہے۔ سورۃ انعام کی آیت 108 میں شامل احکام کی پابندی ہر مسلمان کے لیے لازم ہے جس میں کہا گیا ہے:

عِلْمٍ كَذٰلِكَ زَيَّنَّا لِكُلِّ اُمَّةٍ عَمَلَهُمْ ثُمَّ اِلٰى رَبِّهِمْ مَّرْجِعُهُمْ فَيُنَبِّئُهُمْ بِمَا كَانُوْا يَعْمَلُوْنَ. (الانعام: 108)

(ترجمہ:) ’’اور (اے مسلمانو!) یہ لوگ اللہ کے سوا جن کو پکارتے ہیں انہیں گالیاں نہ دو کہیں ایسا نہ ہو یہ شرک سے آگے بڑھ کر جہالت کی بناء پر اللہ کو گالیاں دینے لگیں۔ ہم نے تو اسی طرح ہر گروہ کے لیے اس کے عمل کو خوشنما بنا دیا ہے۔ پھر انہیں اپنے رب ہی کی طرف پلٹ کر آنا ہے۔ اس وقت وہ انہیں بتا دے گا کہ وہ کیا کرتے رہے ہیں۔‘‘

پاکستان کے مسلم شہری، جو اس کی آبادی کا 97 فیصد ہیں، دوسروں کے عقائد کا احترام کر کے نیز رواداری، بردباری اور شریفانہ رویہ کا مظاہرہ کر کے شرپسندوں کی مذموم سرگرمیوں اور ناپاک عزائم کو ناکام بنا سکتے ہیں اور یوں معاشرہ میں امن و امان قائم کر سکتے ہیں۔ جہاں تک ان اعلانات کا تعلق ہے، جن کی استدعا رشید مرتضیٰ قریشی ایڈووکیٹ نے کی ہے، اس سلسلے میں محمد اسماعیل قریشی ایڈووکیٹ بنام پاکستان معرفت سیکرٹری وزارت قانون و پارلیمانی امور، حکومت پاکستان، اسلام آباد (پی ایل ڈی 1991 ایف ایس سی 8) میں وفاقی شرعی عدالت کے صادر کردہ فیصلہ کا حوالہ دینا غیر متعلق نہیں ہوگا کیونکہ اس فیصلہ میں قرار دیا گیا تھا کہ مجموعہ تعزیرات پاکستان کی دفعہ 295 (سی) میں استعمال شدہ الفاظ ’’یا عمر قید‘‘ 30- اپریل 1991ء کے بعد سے موثر نہیں رہیں گے۔ عدالت نے مزید کہا تھا کہ دفعہ 295 (سی) میں ایک شق کا اضافہ کیا جائے تا کہ ایسے افعال یا باتوں کو جب وہ دوسرے انبیاء کے بارے میں کیے جائیں یا کہی جائیں تو اسی طرح قابل تعزیر

صفحہ 417

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول)

قرار پائیں۔ ہمیں بتایا گیا ہے کہ نئی شق کے اضافہ کا کام پاکستان لاء کمیشن اور اسلامی نظریاتی کونسل میں زیرغور ہے۔ سائلان کے فاضل وکیل اور اے اے جی کی معروضات کے مطابق دفعہ 295 (سی) دستور کے آرٹیکل سے متصادم نہیں ہے۔ مستغیث اور کرسچین پارٹیوں کے نمائندہ رشید مرتضیٰ قریشی ایڈووکیٹ بھی کوئی عدم مطابقت یا تصادم ثابت نہیں کر سکے۔ چوتھے سوال کے بارے میں ہمارا جواب یہ ہے کہ ”ایسی کسی چیز کی نشان دہی نہیں کی جاسکی‘ جو ثابت کرتی کہ دفعہ 295 (سی) کے احکام آئین کے کسی آرٹیکل سے متصادم ہیں۔“

اس سوال کو طے کرنے کے لیے فل بنچ کے روبرو پیش نہیں کیا جانا چاہیے تھا کہ ایسا کرنا ملزمان کے خلاف نچلی عدالت میں زیر سماعت مقدمہ کے لیے نقصان دہ ہوگا۔ بہر حال چونکہ اس سوال کا تعلق مقدمے کے حسن و قبح سے ہے‘ جو عمومی اطلاق کے کسی قانونی مسئلے کے فیصلے پر منتج نہیں ہوگا۔ پس ہم فاضل وکیل سے متفق ہیں۔ یہ سوال مبنی بر واقعات ہے‘ جنہیں ثابت کرنے کے لیے شہادتوں کا قلمبند کرنا ضروری ہوگا۔ یہ بھی درست ہے کہ اس سوال کے تعین کرنے سے ملزمان کے زیر سماعت مقدمہ کو نقصان پہنچنے کا امکان ہے۔ پس منسوب بیانات‘ استعمال کیے گئے یا شائع شدہ الفاظ اور ان کے اثرات کا ہر انفرادی مقدمہ میں جائزہ لینا ہوگا۔ عمومی اطلاق کا کوئی قانونی اصول وضع نہیں کیا جاسکتا۔ اس لیے ہم‘ جیسا کہ استدعا کی گئی ہے‘ اس سوال کا جائزہ لینے سے اجتناب کرتے ہیں۔

نہیں کیے کیونکہ ان کا موقف یہ تھا کہ پولیس افسر سنجیدہ اور حساس فوجداری مقدمات میں نیز مقدمات کے اندراج اور تفتیشی امور میں بجا طور پر اپنے سینئر حکام سے مشورہ کرسکتا ہے اور ان سے راہنمائی لے سکتا ہے۔ یہ سوال کہ آیا فوجداری مقدمہ کے اندراج خصوصاً حساس معاملات میں واقع ہونے والی تاخیر کو کوئی وزن دیا جاسکتا ہے یا نہیں‘

صفحہ 418

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول)

اس کا جواب کوئی فارمولا پیش کر کے یا کوئی قطعی اصول بنا کر نہیں دیا جا سکتا۔ یہ معاملہ بلاشبہ مقدمہ کی سماعت کرنے والی عدالت کے لیے چھوڑنا پڑے گا تاکہ وہ زیر بحث مقدمہ میں ریکارڈ پر موجود مجموعی شہادتوں کی بنیاد پر اس کا جائزہ لے سکے۔ دوسرے سوال کے تصفیہ کے لیے اس قدر اظہار رائے کافی ہوگا۔

اب ہم پہلے سوال کی طرف آتے ہیں، جو اس طرح ہے: ”آیا پولیس شکایت موصول ہونے کے بعد اور روزنامچہ میں باقاعدہ ابتدائی رپورٹ درج کیے بغیر کسی فوجداری کیس میں تفتیش کر سکتی ہے؟“

اس سوال سے متعلقہ احکام مجموعہ ضابطہ فوجداری کی دفعات 154 تا 157 پولیس ایکٹ کی دفعہ 44، نیز پولیس رولز کے قاعدہ 1-24 و 2-24 میں شامل ہیں۔ ضابطہ فوجداری کی دفعہ 154 کا خلاصہ یہ ہے کہ کسی قابل دست اندازی پولیس جرم کے ارتکاب کے بارے میں پہنچنے والی ہر اطلاع ضبط تحریر میں لائی جائے گی اور اس کا خلاصہ ایسے رجسٹر میں درج کیا جائے گا، جو صوبائی حکومت کے مقرر کردہ نمونہ کے مطابق پولیس افسر کے پاس ہوگا۔

ضابطہ کی دفعہ 155 میں کہا گیا ہے کہ جب کسی تھانہ کے افسر انچارج کو اس کے دائرۂ اختیار میں ہونے والے کسی ناقابل دست اندازی پولیس جرم کے سرزد ہونے کی اطلاع موصول ہو تو وہ اس کا اندراج مذکورہ بالا طریقہ سے مرتب کردہ رجسٹر میں کرے گا اور اطلاع دہندہ کو ہدایت کرے گا کہ وہ اپنا استغاثہ مجسٹریٹ کی عدالت میں دائر کرے اور یہ کہ کوئی پولیس افسر بلا حکم مجسٹریٹ درجہ اول یا دوم کے، جو اس مقدمہ کی سماعت کرنے کا اختیار رکھتا ہو یا اسے سماعت کے لیے سیشن کورٹ کو بھیج سکتا ہو، کسی ناقابل دست اندازی پولیس کیس کی تفتیش نہیں کر سکتا۔

اس کے بعد دفعہ 156 میں کہا گیا ہے کہ تھانہ کا افسر انچارج بلا حکم مجسٹریٹ کسی ایسے قابل دست اندازی پولیس مقدمہ کی تفتیش کر سکتا ہے جس کے بارے میں باب نمبر (15) میں درج احکام کی رو سے تجویز یا سماعت کرنے کا اختیار علاقہ کی عدالت

صفحہ 419

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول)

مجاز کو حاصل ہو اور یہ کہ پولیس افسر کی کارروائی کو کسی بھی مرحلہ پر اس بناء پر چیلنج نہیں کیا جا سکے گا کہ یہ وہ مقدمہ ہے‘ جس کی بابت دفعہ ہذا کے تحت اس افسر کو تفتیش کرنے کا کوئی اختیار نہیں تھا۔ مجموعہ تعزیرات پاکستان کی دفعہ 497 یا 498 کے تحت آنے والے جرائم کی تفتیش کسی عورت کے شوہر کی طرف سے یا اس کی عدم موجودگی میں کسی اور شخص کی طرف سے‘ جو اس عورت کی دیکھ بھال کرتا ہو‘ ارتکاب جرم کی بابت شکایت موصول ہونے کے بعد کی جائے گی۔

ضابطہ فوجداری کی دفعہ 157 کی ذیلی دفعات (1) و (2) حوالہ کے لیے ذیل میں نقل کی جاتی ہیں:

”157-(1):

اگر بصورتِ دیگر اطلاع موصول ہونے پر تھانہ کا افسر انچارج یہ گمان کرنے کی وجہ رکھتا ہو کہ ایسے جرم کا ارتکاب کیا گیا ہے‘ جس کی تفتیش کرنے کا زیر دفعہ 156 وہ مجاز ہے‘ تو وہ اس کی رپورٹ فوراً اس مجسٹریٹ کو بھیجے گا‘ جسے پولیس رپورٹ پر اس جرم کی سماعت کا اختیار حاصل ہو۔ نیز افسر انچارج خود موقع پر جائے گا یا کسی ماتحت عہدیدار کو‘ جو صوبائی حکومت کی طرف سے مقرر کردہ عہدہ کے افسر سے کمتر نہ ہو‘ نامزد کرے گا کہ وہ موقع پر جائے‘ وقوعہ کے حقائق و حالات کی چھان بین کرے اور اگر ضروری ہو تو مجرم کی تلاش اور گرفتاری کے واسطے اقدامات عمل میں لائے۔

تاہم شرط یہ ہے کہ:

(الف) جب جرم کے ارتکاب کی اطلاع کسی شخص کا نام لے کر دی جائے اور معاملہ سنگین نوعیت کا نہ ہو تو تھانہ کے افسر انچارج کے لیے ضروری نہیں ہوگا کہ تفتیش کے لیے خود موقع پر جائے یا اپنے کسی ماتحت کو بھیجے۔

(ب) اگر تھانہ کے افسر انچارج کو محسوس ہو کہ تفتیش کرنے کے لیے معقول اور کافی وجہ موجود نہیں ہے‘ تو وہ معاملہ کی تفتیش نہیں کرے گا۔

(2) ضمنی دفعہ (1) سے منسلک شرطیہ جملے کی شق (الف) و (ب) میں مذکور

صفحہ 420

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول)

صورتوں میں تھانہ کے افسر انچارج کے لیے لازم ہوگا کہ وہ اپنی رپورٹ میں اس امر کی وجوہات لکھے کہ وہ ضمنی دفعہ میں مذکور تقاضے کیوں پورے نہیں کر سکا اور شق (ب) میں مذکور معاملہ کی صورت میں افسر مذکور اطلاع دہندہ کو اگر کوئی ہو ایسے طریقہ کے مطابق جو صوبائی حکومت مقرر کرے اس امر کی اطلاع دے گا کہ وہ اس معاملہ کی تفتیش نہیں کرے گا نہ ہی کسی سے کرائے گا۔“

پولیس ایکٹ کی دفعہ 44 کی عبارت اس طرح ہے:

”44- پولیس افسران ڈائری مرتب کریں گے : ہر تھانہ کے افسر انچارج کا فرض ہوگا کہ وہ ایسے نمونہ کے مطابق جو صوبائی حکومت کی طرف سے وقتاً فوقتاً مقرر کیا جائے ایک روز نامچہ مرتب کرے گا اور اس میں جملہ شکایات و الزامات گرفتار شدگان کے نام، شکایت کنندگان کے نام، ان پر لگائے گئے الزامات کی نوعیت، ملزمان سے برآمد کردہ یا بصورت دیگر قبضہ میں لیے گئے ہتھیار یا مال اور گواہوں کے نام درج کرے گا، جن پر جرح کرنی ہوگی۔ ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کی مرضی پر منحصر ہوگا کہ وہ جب چاہے اس روز نامچہ کو طلب کر کے اس کا معائنہ کرے۔“

اس مرحلہ پر پنجاب پولیس رولز 1934 کے باب نمبر 24 میں شامل پولیس قواعد کا حوالہ دینا بھی مناسب ہوگا۔

قاعدہ نمبر 4-24 کے مطابق:

”اگر مبینہ قابل دست اندازی پولیس جرم کے بارے میں اطلاع یا دیگر رپورٹ اس نوعیت کی ہو کہ تھانہ کا افسر انچارج یہ گمان کرنے کی وجہ رکھتا ہو کہ ویسے جرم کا ارتکاب نہیں کیا گیا ہے تو وہ موصولہ اطلاع یا رپورٹ کا خلاصہ تھانہ کے روزنامچہ میں درج کرے گا، نیز عدم ارتکاب کے بارے میں اپنے گمان کی وجوہات بھی قلمبند کرے گا۔ نیز اطلاع دہندہ کو اگر کوئی ہو اس امر کی اطلاع دے گا کہ وہ معاملہ کی تفتیش نہیں کرے گا نہ کسی سے کرائے گا“۔

صفحہ 421

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول)

قاعدہ 24-4 کے ذیلی قاعدہ 3 میں مزید کہا گیا ہے کہ جب ایسا جرم سرزد ہونے کے بارے میں معقول گمان پایا جائے تو متعلقہ تھانہ میں ابتدائی رپورٹ درج کی جائے گی اور مجموعہ ضابطہ فوجداری کی دفعہ 157 کے تحت تفتیش کی جائے گی۔

پنجاب پولیس قواعد کا قاعدہ 24-1 بھی اسی طرح کا ہے۔ یہ قواعد مجموعہ ضابطہ فوجداری کی دفعات 154 و 157 سے منسلک استثنائی جملوں کے عین مطابق ہیں۔ ان استثنائی جملوں کی بناء پر شاہ محمد کیس (جس کا حوالہ پہلے دیا جاچکا ہے) میں فاضل جج نے اس رائے کا اظہار کیا تھا کہ اگر پولیس یہ گمان کرنے کی وجوہ رکھنے کی بناء پر کہ ابتدائی رپورٹ درج کرنے یا تفتیش کرنے کا معقول سبب موجود نہیں ہے، معاملہ میں مزید کارروائی کرنے سے انکار کردے تو اس کے اس اقدام کو قانونی اختیار کے بغیر قرار نہیں دیا جاسکتا۔

10- یہ سوال کہ آیا ابتدائی رپورٹ درج کیے بغیر فوجداری تفتیش کا شروع کرنا خلافِ قانون ہے اور جس کا یہ اثر ہوتا ہے کہ گرفتاری و سماعت مقدمہ باطل ہو جاتی ہے، عدالتوں میں پہلے بھی زیر غور آچکا ہے۔ ایمپرر بنام خواجہ نذیر احمد نامی مقدمہ (اے آئی آر 1945 پریوی کونسل 18) میں حسب ذیل رائے کا اظہار کیا گیا تھا:

”قابلِ دست اندازی پولیس جرائم کی صورت میں تفتیش شروع کرنے کے لیے اطلاع کی وصولی اور ابتدائی رپورٹ کا اندراج پیشگی شرط نہیں ہے۔ بلاشبہ مقدمات کی بھاری تعداد میں فوجداری استغاثے اطلاع موصول ہونے اور ابتدائی رپورٹ درج ہونے کے نتیجہ میں شروع کیے جاتے ہیں، تاہم ایسی کوئی وجہ نہیں کہ اگر پولیس یہ یقین کرنے کی وجہ رکھتی ہو، خواہ اپنے علم کی بنیاد پر یا رسمی انٹیلی جنس کے قابل اعتماد ذریعہ کی بدولت، کہ کسی قابلِ دست اندازی پولیس جرم کا ارتکاب کیا گیا ہے، ایسی صورت میں اسے خود اپنی تحریک پر مبینہ معاملات کی سچائی کی بابت کیوں تفتیش نہیں کرنی چاہیے۔ ضابطہ فوجداری کی دفعہ 157 میں جہاں ہدایت کی گئی ہے کہ جب کسی پولیس افسر کو اطلاع موصول ہونے پر یا بصورتِ دیگر یہ گمان گزرے کہ ایسا جرم سرزد ہوا ہے،

صفحہ 422

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول)

جس کی تفتیش کا وہ زیر دفعہ 156 مجاز ہے تو وہ وقوعہ کے حقائق اور حالات کی تفتیش شروع کر دے گا۔ اس نقطۂ نظر کی حمایت کرتی ہے۔“

11- علاوہ ازیں پربھو بنام ایمپرر (اے آئی آر 1944 پریوی کونسل 73) میں ملزم کی یہ دلیل کہ اس کی گرفتاری جند کے علاقہ میں ایک برٹش انڈین افسر کے ہاتھوں عمل میں آئی تھی، جو کہ غیر قانونی تھی اور یہ کہ اس کی غیر قانونی گرفتاری نے بعد کی ساری کارروائی کو باطل کر دیا، یہ قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا گیا کہ جب ملزم کو روہتک میں پیش کیا گیا، جند کے حکام نے اسے جائز طور پر عدالت کے حوالے کر دیا تھا اور جہاں تک عدالت کا تعلق تھا، عدالت میں ہونے والی کارروائی باضابطہ تھی اور سماعت کے جواز اور ملزم کی سزایابی پر اس کی گرفتاری میں واقع ہونے والی کسی بے قاعدگی سے متاثر نہیں ہوئی تھی۔ فاضل اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل نے جس فیصلہ کا حوالہ دیا ہے، وہ مقدمات کی اس قسم کو ظاہر کرتا ہے جن کے بارے میں یہ اصول طے کیا گیا ہے کہ ابتدائی رپورٹ شہادت کا اہم جزو نہیں ہوتی، اسے درج کرنے میں پولیس سے کوئی بے قاعدگی سرزد ہو جائے تو اس کے نتیجہ میں استغاثہ کے پورے کیس کو کالعدم نہیں ٹھہرایا جاتا۔ ہر کیس میں بے ضابطگی، نوٹس میں آنے کے بعد ریکارڈ پر موجود مجموعی شہادت کی روشنی میں زیر غور آنی چاہیے۔ ابتدائی رپورٹ درج کرنے میں کوئی تاخیر واقع ہو جائے، تو ریکارڈ پر موجود شہادت کا جائزہ لیتے وقت اس تاخیر کا سبب، اس کے واقع ہونے کے حالات، فریقین کی پوزیشن، جرم کی نوعیت، فریقین کی اثر پذیری، ان کے معاشرتی حالات، پولیس اہلکاروں کا طرز عمل اور تمام متعلقہ عوامل پر غور کرنا ہوگا۔ ابتدائی رپورٹ درج کرنے میں تاخیر بظاہر غیر اہم ہوتی ہے، بشرطیکہ استغاثہ کا کیس معقول شبہ کے بغیر ثابت ہو جائے۔ ایسی صورتیں ہو سکتی ہیں، جن میں مخصوص حالات کے باعث ابتدائی رپورٹ واقعہ کے ظہور پذیر ہونے اور ملزم کی گرفتاری کے بعد درج کی گئی ہو۔ تاج محمد بنام سرکار نامی مقدمہ اسی قسم کی صورت حال کا مظہر ہے۔ یہی سوال ایم۔ بشیر سہگل و دیگر بنام سرکار و دیگر (پی ایل ڈی 1964 (مغربی پاکستان) لاہور ۔ 148) میں بھی

صفحہ 423

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول)

زیر غور آیا تھا۔ جسٹس سردار محمد اقبال نے پیرا نمبر 6 میں خواجہ نذیر احمد کے کیس میں پریوی کونسل کے فیصلہ پر انحصار کرتے ہوئے رائے ظاہر کی تھی:

”میں اصولی طور پر اس سے اتفاق کرتا ہوں کہ یہ ضروری نہیں کہ ابتدائی رپورٹ میں تمام ملزمان یا کسی ایک ملزم کو نامزد کیا جائے تاکہ تفتیش کرنے والی ایجنسی اپنی کارروائی شروع کر سکے۔ دراصل ابتدائی رپورٹ کا اندراج کوئی پیشگی شرط نہیں، اور پولیس ایسی قابل اعتبار اطلاع ملنے پر کہ کسی قابل دست اندازی پولیس کا ارتکاب کیا گیا ہے، مجموعہ ضابطہ فوجداری یا کسی دیگر ضابطہ یا قانون کے تحت، جو اس معاملہ میں اسے اختیار دیتا ہو، ابتدائی رپورٹ درج یا رسمی طور پر مرتب کیے بغیر تفتیش شروع کر سکتی ہے۔“

علاوہ ازیں رحمان و دیگران بنام سرکار (پی ایل ڈی 1968 لاہور 464) میں خواجہ نذیر احمد کے مقدمہ میں پریوی کونسل کے فیصلہ کی اور بشیر سہگل و دیگران کے مقدمہ میں فُل بنچ کے فیصلہ کی پیروی کرتے ہوئے ڈویژن بنچ نے رائے ظاہر کی تھی کہ

”کوئی بھی شخص مجموعہ ضابطہ فوجداری 1898 کی دفعہ 154 کے تحت کسی وقوعہ کی اطلاع دے کر فوجداری قانون کو حرکت میں لاسکتا ہے۔ اس طرح جو اطلاع دی جائے وہ ”ابتدائی اطلاع“ کہلاتی ہے۔ اسی کی بنیاد پر مجموعہ ضابطہ فوجداری کے حصہ پنجم، باب نمبر 14 کے تحت تفتیش شروع کی جاتی ہے۔ تاہم اطلاع کی موصولی اور ابتدائی رپورٹ کا اندراج تفتیش شروع کرنے کے لیے پیشگی شرط نہیں ہے۔ یہ درست ہے کہ ابتدائی رپورٹ کی عدم موجودگی ملزم کو پہلے اطلاع دہندہ پر جرح کرنے کے حق سے محروم کر دیتی ہے۔ بہر حال یہ حقیقت کہ ابتدائی رپورٹ درج نہیں کی گئی تھی یا سماعت کے دوران ثابت نہیں ہوئی، اثبات جرم کو باطل نہیں ٹھہرا سکتی۔“

اسی نقطۂ نظر کا اظہار شکیل احمد بنام سرکار (پی ایل ڈی 1972 لاہور 374) نامی مقدمہ میں کیا گیا تھا۔ وفاقی شرعی عدالت نے بھی غلام محمد بنام سرکار (پی ایل ڈی 1981 ایف ایس سی 120) نامی مقدمہ میں عدالت ہذا کے نقطۂ نظر کی پیروی کی تھی۔ ان مقدمات میں شروع کی گئی تفتیش یا سماعت کے جواز کو مجموعہ ضابطہ فوجداری کی

صفحہ 424

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول)

دفعات 154‘ 156 اور 157 کی خلاف ورزی کرنے کی بنیاد پر چیلنج کیا گیا تھا۔ عدالتوں کی طرف سے صادر کردہ فیصلوں میں کہا گیا تھا کہ اطلاع کا موصول ہونا یا ابتدائی رپورٹ کا اندراج فوجداری تفتیش کے لیے پیشگی شرط نہیں ہے اور اس سلسلے میں سرزد ہونے والی کسی بے قاعدگی سے گرفتاری یا مقدمہ کی سماعت باطل نہیں ٹھہرتی۔ یہ معاملے کا ایک پہلو ہے۔

-12 دوسرے پہلو کی نمائندگی دوسری قسم کے مقدمات سے ہوتی ہے‘ جن میں اعلیٰ عدالتوں نے مجموعہ ضابطہ فوجداری کی دفعات 154 تا 157 کے تحت پولیس افسر پر عائد ہونے والے فرض کی نشان دہی کی ہے۔ اس نقطۂ نظر کے سلسلہ میں ایم۔ انور بیرسٹر ایٹ لاء بنام افسر انچارج تھانہ سول لائنز لاہور و دیگر (پی ایل ڈی 1972 لاہور 493) کا حوالہ دیا جاسکتا ہے۔ جسٹس سردار محمد اقبال‘ جو کہ اس مقدمہ کی سماعت کرنے والے فل بنچ کے ایک رکن تھے‘ وہ بشیر سہگل و دیگر بنام سرکار و دیگر (پی ایل ڈی 1964 (مغربی پاکستان) لاہور -148) نامی مقدمہ سننے والے بنچ میں بھی شامل رہ چکے تھے۔ فل بنچ کی نمائندگی کرتے ہوئے انہوں نے حسب ذیل رائے ظاہر کی تھی:

’’فیصلہ کو ختم کرنے سے پہلے ہم یہ بات ریکارڈ پر لانا چاہتے ہیں کہ اگر قابلِ دست اندازی پولیس جرم کے ارتکاب سے متعلق اطلاع موصول ہو تو وہ مجموعہ ضابطہ فوجداری کی دفعہ 154 کے تحت آتی ہے اور پولیس افسر کا قانونی فرض ہے کہ مقررہ رجسٹر میں اس کا اندراج کرے۔ اس پیشگی شرط کے دو پہلو ہیں: اولاً اس کا اطلاع ہونا لازم ہے‘ دوسرے اس کا کسی قابلِ دست اندازی پولیس جرم سے متعلق ہونا ضروری ہے‘ جس کی بنیاد پر جرم تشکیل پاتا ہو‘ بعد کے واقعات کی بناء پر نہیں۔ پولیس افسر کا فرض ہے کہ جب اس سے کوئی شکایت کی جائے تو اسے وصول کرے یا جب اسے کسی جرم کے ارتکاب کی زبانی اطلاع دی جائے تو اس کا فرض ہے کہ اسے ضبط تحریر میں لائے۔ اگر وہ دی گئی اطلاع کو رجسٹر میں درج نہیں کرتا‘ تو وہ سرکاری ملازم کی حیثیت سے اپنا فرض ادا کرنے میں ناکام رہتا ہے اور اس امر کا مستحق ہے کہ حکام بالا فرض سے غفلت برتنے پر

صفحہ 425

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول)

اس کے خلاف کارروائی کریں۔ گویا اس بات کا انحصار محض پولیس افسر کی من مرضی پر نہیں کہ وہ چاہے تو رپورٹ کا اندراج کرے‘ چاہے تو نہ کرے۔ مجموعہ ضابطہ فوجداری کی دفعہ 154 میں جس اطلاع کا ذکر ہے‘ ہمارے نزدیک اس کی نوعیت شکایت الزام یا کسی جرم کے بارے میں اطلاع کی ہوتی ہے‘ جو اس غرض سے دی جاتی ہے کہ اس کی تفتیش کے لیے پولیس کو حرکت میں لایا جائے۔ ابتدائی اطلاع کی صورت میں قانون کا یہ تقاضا نہیں کہ پولیس افسر اسے محض تحریری صورت میں ہونے پر وصول کرے گا اور صرف اس صورت میں درج کرے گا جبکہ اس کی رائے میں وہ درست ہو۔ اس سوال کا انحصار کہ آیا وہ اطلاع درست ہے یا نہیں‘ تفتیش پر ہوتا ہے‘ جو پولیس افسر کو زیر دفعہ 157 ضابطہ فوجداری کرنی ہوتی ہے۔ ابتدائی اطلاع کے درست ہونے کی ضمانت مجموعہ تعزیرات پاکستان کی دفعہ 182 میں دی گئی ہے‘ جس کے تحت اگر کوئی شخص پولیس افسر کو ابتدائی اطلاع کے بارے میں بیان دے‘ جسے زیر دفعہ 154 ضبط تحریر میں لایا جائے‘ اور اگر آخر میں وہ بیان جھوٹا ثابت ہو تو اطلاع دہندہ کو اتنی مدت کے لیے قید کی سزا دی جائے گی‘ جس کی میعاد 6 ماہ تک ہو سکتی ہے یا اسے جرمانہ کی سزا دی جائے گی‘ جو ایک ہزار روپے تک ہو سکتا ہے‘ یا وہ دونوں سزاؤں کا مستوجب ہوگا۔‘‘

افسر اپنی قانونی ڈیوٹی بجا لائے اور اس فرض کی ادائیگی میں‘ جو زیر دفعہ 154-155 ضابطہ فوجداری‘ اس پر عائد ہوتا ہے‘ ناکام رہنے والا اس امر کا مستحق ہے کہ اس کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے۔ یہ احکام ایک طرف پولیس افسر کی من مانیوں کا سدباب کرتے ہیں‘ دوسری طرف شہری کو یہ حق دیتے ہیں کہ وہ کسی اطلاع کو ریکارڈ پر لانے کی غرض سے پولیس کے علم میں لائے۔ شہریوں کے لیے نقل و حرکت اور شخصی آزادی کا تحفظ اسی صورت میں ہو سکتا ہے کہ پولیس افسر کو ابتدائی اطلاع یا کم از کم اس کا خلاصہ روزنامچہ میں درج کرنے کا پابند کیا جائے۔ اس کے ساتھ ہی یہ بات بھی ذہن نشین رکھنی چاہیے کہ کسی جرم میں تفتیش شروع کرنے کے لیے ابتدائی

صفحہ 426

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول)

اطلاع کا اندراج پیشگی شرط نہیں ہے۔ کسی پولیس افسر کی طرف سے اس کا فرض ادا نہ کرنے کا کیا نتیجہ نکلے گا‘ یہ ایک علیحدہ مسئلہ ہے‘ زیر نظر مقدمہ کے فریقین کو اس پر بحث کرنی ہے اور اس کا فیصلہ سماعت کنندہ عدالت کو کرنا ہے۔ پس ہماری طرف سے یہی پہلے سوال کا جواب ہے۔

ہونے کے بعد پیش کی جائیں گی۔

دستخط (جسٹس خلیل الرحمٰن خاں)

میں اتفاق کرتا ہوں (جسٹس ایس ایم زبیر)

جناب جسٹس میاں نذیر اختر کا اضافی نوٹ

کا موقع ملا‘ جو وہ اس مقدمہ میں صادر کرنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے زیر بحث سوالوں کے جو جواب دیئے ہیں اور ان کا فیصلہ جن دلائل پر مبنی ہے‘ میں ان سے مکمل اتفاق کرتا ہوں‘ تاہم سوال نمبر 4 کے سلسلہ میں چند سطروں کا اضافہ کرنا چاہتا ہوں۔

ہے کہ ملزموں کا عدالتی طریقہ کار سے مواخذہ کیا جا سکے اور معاشرہ میں یہ رجحان پیدا کر دیا ہے کہ قانونی کارروائی کا سہارا لیا جائے۔ تعزیراتِ پاکستان کی مذکورہ بالا دفعہ کے تحت مقدمے کے اندراج سے ملزم کو ایک عرصہ حیات میسر آ جاتا ہے۔ اس امر کے پورے موقع کے ساتھ کہ وہ اپنی پسند کے وکیل کے ذریعے عدالت میں اپنا دفاع کرے اور سزایابی کی صورت میں اعلیٰ عدالتوں میں اپیل‘ نگرانی وغیرہ جیسی داد رسی کا فائدہ اٹھائے۔ کوئی بھی شخص‘ کجا ایک مسلمان‘ ممکنہ طور پر اس قانون کی مخالفت نہیں کر سکتا‘ کیونکہ یہ من مانی کا سدباب کرتا ہے اور قانون کی حکمرانی کو فروغ دیتا ہے۔ اگر

صفحہ 427

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول)

تعزیرات پاکستان کی دفعہ 295-سی کے احکام کی تنسیخ کر دی جائے یا انہیں دستور سے متصادم قرار دے دیا جائے تو معاشرہ میں ملزموں کو جائے واردات پر ہی ختم کرنے کا پرانا دستور بحال ہو جائے گا۔ معاملہ کے اس پہلو کو پیش نظر رکھتے ہوئے پاکستان کرسچین پارٹی اور مسیحی کاشتکار پارٹی کے فاضل وکیل نے استدعا کی ہے کہ ان احکام کو زیادہ جامع بنایا جائے اور اس کے دائرہ اثر کو دوسرے پیغمبروں کی توہین تک پھیلا دیا جائے تاکہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) سمیت تمام انبیائے کرام کی توہین کرنے والے کو اسی طرح موت کی سزا دی جائے، جس طرح حضرت محمد ﷺ کی توہین کرنے والوں کو دی جاتی ہے۔ چونکہ یہ معاملہ پہلے ہی حکومت کے زیر غور ہے، اس لیے توقع کی جاتی ہے کہ امر مطلوبہ مستقبل قریب میں پورا ہو جائے گا۔

دستخط تاریخ فیصلہ جسٹس خلیل الرحمن خاں 25 اپریل 1994ء جسٹس میاں نذیر اختر جسٹس ایس ایم زبیر

(PLD 1994 Lahore 485)

۞.......۞.......۞

صفحہ 428

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول)

صفحہ 429

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول)

THE CONSTITUTION

OF THE

ISLAMIC REPUBLIC

OF PAKISTAN

PLD 1994 Lahore 485

لاہور ہائی کورٹ لاہور

ریاض احمد اور تین دوسرے بنام حکومت پاکستان

❁......جناب جسٹس میاں نذیر اختر

حضور خاتم النبیّن ﷺ کی عزت و ناموس پر

لاہور ہائی کورٹ کا یادگار فیصلہ

قادیانیوں کا بھیانک چہرہ بے نقاب ہوتا ہے۔

صفحہ 430

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول)

”سائلان نے، جو کہ قادیانی ہیں، مبینہ طور پر حضرت محمد (ﷺ) کے بارے میں گستاخانہ زبان استعمال کی اور سرعام اعلان کیا کہ مرزا قادیانی، اپنے مرتبہ و مقام میں رسول پاک ﷺ سے کم تر نہ تھا۔ انہوں نے مرزا قادیانی کے معجزوں کی تعداد بھی زیادہ بتائی اور صاف طور پر اسے بلند روحانی درجے پر رکھا، لہٰذا اس کیس میں سائلان نے بادی النظر میں تعزیراتِ پاکستان کی دفعہ 295 سی کے تحت جرم کا ارتکاب کیا ہے“۔

صفحہ 431

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول)

دل کی بات

(مقدمہ کا پس منظر، احوال، نتیجہ)

الحمد لله وحده والصلوة والسلام على من لا نبي بعده اما بعد 11 نومبر 1993ء کو ضلع میانوالی کی تحصیل پپلاں کے رہائشی چند قادیانیوں (ریاض احمد وغیرہ) نے جھوٹے مدعی نبوت آنجہانی مرزا قادیانی کی تعریف کرتے ہوئے حضور نبی کریم ﷺ کی شان اقدس میں گستاخانہ کلمات ادا کیے جس پر ان کے خلاف تھانہ پپلاں میں تعزیرات پاکستان کی دفعہ 295 سی کے تحت مقدمہ درج کر لیا گیا۔ واقعات کے مطابق ملزمان نے مدعی مقدمہ محمد عبداللہ کو دیکھ کر طنزاً ”سرکاری مسلمان“ کی پھبتی کسی جس پر مدعی مقدمہ خاموش رہا۔ لیکن اس کے باوجود وہ مسلسل اشتعال انگیزی کرتے رہے۔ جھوٹے مدعی نبوت آنجہانی مرزا قادیانی کو نبی اور رسول ثابت کرنے کی کوشش میں حضور نبی کریم ﷺ کی شان اقدس میں نازیبا کلمات ادا کرنے لگے۔ چنانچہ اس ناپاک جسارت پر مدعی مقدمہ محمد عبداللہ نے قادیانیوں کے خلاف مقدمہ درج کروا دیا۔ ملزمان نے سیشن کورٹ میانوالی کی عدالت میں درخواست برائے ضمانت دائر کی۔ فاضل جج صاحب نے ریکارڈ کی مکمل چھان بین، تمام شواہد کی موجودگی اور ان پر ہونے والی جرح کو مدنظر رکھتے ہوئے اور ملزمان کو صفائی کا مکمل موقع فراہم کرتے ہوئے درخواست ضمانت میرٹ پر 3 جنوری 1994ء کو مسترد کر دی۔ محترم جج صاحب نے اپنے فیصلہ میں لکھا:

”اوپر جو کچھ بیان کیا گیا ہے، بادی النظر میں حضرت محمد (ﷺ) کے مقدس اور بلند رتبہ نام کی بے حرمتی کے مترادف ہے کیونکہ اس انداز میں آپ ﷺ کے رتبے کو گھٹا کر مرزا قادیانی کی سطح پر لایا گیا ہے چنانچہ یہ یقین کرنے کی معقول وجوہ موجود ہیں کہ سائلان

صفحہ 432

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول)

نے ایک ایسے جرم کا ارتکاب کیا ہے، جو تعزیرات پاکستان کی دفعہ 295۔سی کے تحت آتا ہے اور جو سیکشن 497 مجموعہ ضابطہ فوجداری کی ممنوعہ کلاز کے دائرے میں آتا ہے۔‘‘

بعد ازاں ملزمان نے ضمانت کے لیے لاہور ہائی کورٹ سے رجوع کیا۔ عزت مآب جناب جسٹس میاں نذیر اختر نے اس کیس کی سماعت کی۔ فاضل جسٹس صاحب نے دونوں فریقوں کے وکلاء کے دلائل، ریکارڈ کی مکمل جانچ پڑتال اور قادیانیوں کی طرف سے حضور نبی کریم ﷺ کی شان اقدس میں کی گئی گستاخیوں کا تفصیل سے جائزہ لیا اور درخواست ضمانت خارج قرار دیتے ہوئے کہا کہ قادیانی مذہب کے بانی آنجہانی مرزا قادیانی کی تحریروں میں توہین رسالت ﷺ کا ارتکاب پایا جاتا ہے اور قادیانی اپنے نام نہاد نبی مرزا قادیانی کی تحریروں کو مقدس وحی کا درجہ دیتے ہیں اور اس پر ایمان رکھتے ہیں۔ لہٰذا جب کوئی قادیانی، مرزا قادیانی کی تحریروں کو پڑھتا ہے تو وہ توہین رسالت ﷺ کا مرتکب ہوتا ہے۔ فاضل جسٹس صاحب نے اپنے فیصلہ میں لکھا:

’’سائلان نے، جو کہ قادیانی ہیں، مبینہ طور پر حضرت محمد (ﷺ) کے بارے میں گستاخانہ زبان استعمال کی اور سرعام اعلان کیا کہ مرزا قادیانی، اپنے مرتبہ و مقام میں رسول پاک ﷺ سے کم تر نہ تھا۔ انہوں نے مرزا قادیانی کے معجزوں کی تعداد بھی زیادہ بتائی اور صاف طور پر اسے بلند روحانی درجے پر رکھا، لہٰذا اس کیس میں سائلان نے بادی النظر میں تعزیرات پاکستان کی دفعہ 295 سی کے تحت جرم کا ارتکاب کیا ہے‘‘۔

اس تاریخی مقدمہ میں ماسٹر محمد خان صاحب، چودھری بشیر احمد، عبدالحمید، عبدالقدیر، نصراللہ، ملک غلام حیدر، ملک محمد نواز ماسٹر، ملک محمد سرور ماسٹر اور بالخصوص غلام بشیر جوئیہ ایم۔ پی اے اور چودھری محمد نواز چک نمبر 15 ڈی۔ بی نے بے حد معاونت اور مجاہدانہ کردار ادا کیا۔ اللہ رب العزت ان سب کو اجر عظیم عطا فرمائے۔ (آمین)

طالب شفاعت محمدی ﷺ بروز محشر

محمد متین خالد

لاہور

۞......۞......۞

صفحہ 433

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول)

PLD 1994 Lahore 485

لاہور ہائی کورٹ لاہور

ریاض احمد و تین دوسرے بنام حکومت پاکستان

فیصلے کا اہم نکتہ :

اگر مقدمہ کے ریکارڈ اور شواہد سے یہ ثابت ہو جائے کہ قادیانی ملزمان نے حضور نبی کریم ﷺ کی شان میں وہی گستاخانہ الفاظ دہرائے ہیں جو آنجہانی مرزا قادیانی نے اپنی کتب میں درج کیے ہیں تو تعزیرات پاکستان کی دفعہ 295 سی کے مرتکب ملزم کی درخواست ضمانت مسترد کی جاسکتی ہے۔

صفحہ 434

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول)

PLD 1994 Lahore 485

لاہور ہائی کورٹ لاہور

(ابتدائی معلومات)

جناب جسٹس میاں نذیر اختر

متفرق فوجداری درخواست نمبر 140-بی-1994

درخواست دہندگان: ریاض احمد وغیرہ

بنام

حکومت (مدعا علیہ)

وکیل درخواست دہندگان: خواجہ سرفراز احمد (ایڈووکیٹ)

وکیل سرکار: نذیر احمد غازی (اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل پنجاب) عبدالقیوم (اے ایس آئی) حاضر

تاریخ سماعت : 25 مئی 1994ء تاریخ فیصلہ : 9 جون 1994ء

صفحہ 435

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول)

فیصلہ

جسٹس میاں نذیر اختر

سائلان ایک کیس میں ضمانت کی استدعا کرتے ہیں جو ان کے خلاف بمطابق ایف آئی آر نمبر 160 مورخہ 21 نومبر 1993ء بجرم 295 سی‘ تعزیراتِ پاکستان تھانہ پپلاں‘ ڈسٹرکٹ میانوالی میں درج کیا گیا ہے۔ ریاض احمد سائل نمبر 1 جو بشارت احمد سائل نمبر 2 کا والد اور قمر احمد اور مشتاق احمد سائلان نمبر 3 اور 4 کا چچا ہے۔

پر درج کیا گیا۔ مذکورہ درخواست محمد عبداللہ ولد محمد مظفر نے ایک وقوعہ کے سلسلے میں تھانہ پپلاں کے ایس ایچ او کو دی‘ جو 11 نومبر 1993ء کو رونما ہوا۔ ایف آئی آر کے مندرجات ذیل میں نقل کیے جاتے ہیں:

’’میں تحفظِ ختم نبوت کا کارکن ہوں۔ میں اپنے گاؤں کے قریب مورخہ 11 نومبر 1993 ٹائم 11 بجے دن تقریباً اپنے Cousin کے ساتھ سڑک پر کھڑا تھا کہ مسمی ریاض احمد ولد رستم خان‘ بشارت احمد ولد ریاض احمد‘ قمر احمد و مشتاق احمد پسران محمود احمد‘ جو کہ غیر مسلم (قادیانی) ہیں‘ ہمیں دیکھ کر ہماری طرف بڑھے اور طنزاً کہنے لگے کہ یہ سرکاری مسلمان ہیں اور ہمارے مذہبی جذبات مجروح کیے‘ لیکن ہم خاموش کھڑے رہے اور جواباً کچھ نہ کہا‘ لیکن اس کے باوجود الزام علیہان مسلسل حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی شان کے خلاف گستاخانہ کلمات کہتے رہے اور یہ کہا کہ ہم مرزا غلام احمد کو سچا نبی مانتے ہیں جو کہ حضور پاک ﷺ کی شان سے کم نہ ہیں اور ساتھ ہی حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی ذات کی بابت نا قابل برداشت کلمات کہتے ہوئے انہوں نے یہ کہا کہ

صفحہ 436

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول)

ہمارے نبی کے تین لاکھ معجزات ہیں لیکن آپ کے نبی کے تین ہزار معجزات تھے۔ اسی بحث کے دوران قمر احمد ولد محمد حسن‘ نذیر احمد ولد بابو خان ہمارے قریب آ گئے۔ انہوں نے بھی الزام علیہان کے بیان کردہ نازیبا کلمات اور گفتگو سنی اور وہ مسلمان ہونے کی حیثیت سے سچ بات کی شہادت دیں گے۔ اگر مذکورہ حالات کو مدنظر رکھ کر الزام علیہان کے خلاف کارروائی نہ کی گئی تو ہمارے علاقے کے مذہبی جذبات‘ جو کہ دبے ہوئے ہیں‘ جنگل کی آگ کی طرح بھڑک اٹھیں گے اور امن عامہ کے نقص کے علاوہ مذہبی اختلافات پورے ملک کو لپیٹ میں لے لیں گے‘ لہٰذا الزام علیہان کے خلاف مقدمہ درج فرما کر مشکور فرمائیں۔ نوازش ہوگی۔‘‘

ضمانت دائر کی‘ جنہوں نے مذکورہ درخواست بروئے حکم مورخہ 3 جنوری 1994ء مسترد کر دی۔ اس فیصلے کا متعلقہ حصہ ذیل میں نقل کیا جاتا ہے:

’’اوپر جو کچھ بیان کیا گیا ہے‘ بادی النظر میں حضرت محمد (ﷺ) کے مقدس اور بلند رتبہ نام کی بے حرمتی کے مترادف ہے کیونکہ اس انداز میں آپﷺ کے رتبے کو گھٹا کر مرزا قادیانی کی سطح پر لایا گیا ہے‘ چنانچہ یہ یقین کرنے کی معقول وجوہ موجود ہیں کہ سائلان نے ایک ایسے جرم کا ارتکاب کیا ہے‘ جو تعزیرات پاکستان کی دفعہ 295۔سی کے تحت آتا ہے اور جو سیکشن 497 مجموعہ ضابطہ فوجداری کی ممنوعہ کلاز کے دائرے میں آتا ہے۔‘‘

1991ء کو مستغیث کے والد مظفر نے ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کے روبرو ایک درخواست پیش کی کہ ریاض احمد سائل نمبر 1 کو نمبردار کے عہدے سے برطرف کیا جائے کیونکہ وہ قادیانی فرقے سے تعلق رکھتا ہے اور علاقے کے باشندوں کی اکثریت اسے پسند نہیں کرتی۔ اس کی محولہ بالا درخواست بروئے

صفحہ 437

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول)

حکم مورخہ 6 جون 1993ء منظور کر لی گئی۔ سائل نمبر 1 نے کمشنر سرگودھا ڈویژن کے پاس اپیل کی جو بروئے حکم مورخہ 31 جولائی 1993ء منظور کی گئی۔ مظفر، مستغیث کا والد، کمشنر سرگودھا ڈویژن کے فیصلے کے خلاف نظر ثانی کے لیے بورڈ آف ریونیو میں چلا گیا، جہاں یہ معاملہ تاحال زیر سماعت ہے۔

اور عبداللہ مستغیث اور چند دیگران کے خلاف مداخلت بے جا، مجرمانہ تخویف اور دنگا فساد کے جرم کا ارتکاب کرنے پر پولیس کو رپورٹ دی۔ مناسب تحقیقات کے بعد پولیس اس نتیجے پر پہنچی کہ کیس جھوٹا ہے اور اس کی منسوخی کی سفارش کی۔ اس کے بعد اس نے علاقہ مجسٹریٹ کی عدالت میں ایک استغاثہ مورخہ 16 اگست 1993ء کو دائر کر دیا۔ قمر اور مشتاق درخواست گزاران نمبر 3 اور 4 محولہ بالا استغاثہ میں گواہان استغاثہ کی حیثیت سے پیش ہوئے۔ ابتدائی شہادت کے بعد عدالت نے عبداللہ وغیرہ کو بروئے حکم مورخہ 31 اکتوبر 1993ء طلب کر لیا۔ (لف سی 4)

مزید برآں رپورٹ چھ دن کی تاخیر سے درج کی گئی ہے جو استغاثے کی کہانی کو مشکوک بناتی ہے۔

تعلیمات کے پیروکار ہیں، جس نے کبھی بھی پیغمبر حضرت محمد (ﷺ) کے ہم رتبہ ہونے کا دعویٰ نہیں کیا۔ درحقیقت کوئی شخص بھی ایسا دعویٰ نہیں کر سکتا۔ مرزا صاحب نے اعلانیہ کہا تھا کہ وہ حضرت محمد (ﷺ) کا تابع ہے۔ مزید برآں مرزا صاحب نے کبھی بھی براہ راست اپنا موازنہ رسول پاک (ﷺ) سے نہیں کیا۔ مرزا صاحب کی تحریریں رسول پاک حضرت محمد (ﷺ) کے لیے محبت اور گہرے احترام کی عکاسی کرتی ہیں، اس سلسلے میں ذیل کے حوالہ جات

صفحہ 438

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول)

دیکھے جاسکتے ہیں: نمبر شمار نام کتاب صفحہ نمبر 1 کشتی نوح 21-20 2 آئینہ کمالات اسلام 15، 160، 164، 224، 226 3 چشمۂ معرفت 302 4 پیغام صلح 459، 461 5 تریاق القلوب 141 6 لیکچر سیالکوٹ 206 7 قادیان کے آریہ اور ہم 456 8 براہین احمدیہ 101، 104

اور اس کے علاوہ کچھ نہیں۔

جو زبان استعمال کی وہ حضرت محمد (ﷺ) کے بارے میں گستاخانہ ہے اور تعزیرات پاکستان کی دفعہ 295-سی کے تحت جرم بنتی ہے چنانچہ اس عدالت کو اس بات کی جانچ پڑتال نہیں کرنی چاہیے۔

جرم کا ارتکاب کیا ہے سائلان کے عقیدے کو لازمی طور پر دیکھنا ہوگا۔ درخواست گزار کے فاضل وکیل نے خصوصاً کیس ناصر احمد بنام سرکار (1993 SCMR 153) میں دیئے گئے فیصلے کے پیرا نمبر 5 پر انحصار کیا ہے جو ذیل میں نقل کیا جا رہا ہے: ”فریقین کے وکلا کی بحث قدرے تفصیل سے سننے کے بعد ہم سمجھتے ہیں کہ اس معاملہ میں سب سے اہم سوال جو غور طلب ہے وہ یہ ہے کہ آیا ”توہین“ ظاہراً تحریر کردہ یا زبانی الفاظ سے ہوتی ہے یا ملزمان کے فعل سے یا اس مقصد کے لیے مجموعی

صفحہ 439

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول)

پس منظر کو دیکھنا ضروری ہے‘ جس میں لازمی طور پر ان الفاظ کو استعمال کرنے والے کا عقیدہ‘ نیت‘ مقصد اور پس منظر شامل ہو۔ بادی النظر میں اور ظاہری طور پر ہمارا تاثر یہ ہے کہ ان کلمات کے استعمال سے کسی مسلمان یا کسی بھی شخص کی دل آزاری‘ ناراضگی یا اشتعال انگیزی نہیں ہوتی اور نہ ہی ان سے حضور نبی کریم ﷺ یا مسلمانوں کی توہین ہوتی ہے۔ ہاں اگر ان کلمات کو پڑھنے یا سننے والا شخص ان الفاظ کو استعمال کرنے والے شخص کے پس منظر کی گہرائی تک جائے اور اس کے ایمان‘ عقیدے اور پوشیدہ مقصد کے بارے میں اپنے خصوصی علم کو بروئے کار لائے تو پھر مبینہ نتائج ظہور پذیر ہو سکتے ہیں۔“

معروضات پیش کی ہیں:

دیوانی مقدمے بازی چل رہی ہے‘ تاہم مذکورہ مقدمے بازی کے باوجود مظہر اور اس کے بیٹے عبداللہ نے ایسے الزامات پہلے کبھی نہیں لگائے۔ مزید برآں اگر وہ اسے جھوٹے کیس میں ملوث کرنا چاہتا تو تعزیرات پاکستان کی کسی بھی دوسری دفعہ کے تحت ملوث کر سکتا تھا اور غلط طور پر پیغمبر حضرت محمد (ﷺ) کا مقدس نام اس معاملے میں لانے کی حد تک نہ جاتا‘ جو کسی دوسرے مسلمان کی طرح اسے بھی دل و جان سے محبوب ہیں۔

اور ان تین چشم دید گواہوں کے درمیان تو کوئی دشمنی یا عداوت موجود نہیں ہے۔ وہ غیر جانبدار ہیں اور انہوں نے تفتیش کے دوران مستغیث کے بیان کی بھر پور حمایت کی ہے۔

کیس پر کوئی برا اثر مرتب نہیں کرتی۔ اگر مستغیث جھوٹا ہوتا تو وہ بڑی آسانی

صفحہ 440

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول)

کے ساتھ یہ کہہ سکتا تھا کہ وقوعہ 17 نومبر 1993ء ہی کو رونما ہوا تھا، جس دن کہ رپورٹ حقیقت میں درج کی گئی۔ پولیس ایف آئی آر کے رسمی اندراج سے بھی پہلے تحقیقات کرنے کی اہل ہے۔ اس کیس میں کوئی برآمدگی یا قرائنی شہادت مطلوب نہ ہے۔ لہٰذا تاخیر استغاثے کے کیس کی صداقت کو متاثر نہیں کرتی۔ کیس کا انحصار مکمل طور پر ان زبانی شہادتوں پر ہے جو مستغیث اور تین چشم دید گواہوں نے دی ہیں۔ اگر گواہوں کا یقین کر لیا جائے تو پھر یہ کہنا ممکن نہیں کہ وقوعہ رونما نہیں ہوا۔ عام فوجداری مقدمات میں بھی تاخیر فی نفسہ کافی نہیں ہوتی کہ استغاثے کے کیس کو خارج کر دیا جائے، بشرطیکہ ارتکاب جرم کے بارے میں معتبر شہادت موجود ہو۔ اس سلسلہ میں ذیل کے فیصلوں پر انحصار کیا گیا ہے:

P.Cr.LJ.2)

(PLD.1979 Lahore 263)

(1992 P.Cr.L.J.2307)

حضرت محمد (ﷺ) پر برتری یا ان سے ہمسری کا دعویٰ نہیں کر سکتا اور یہ کہ درخواست گزاران مرزا قادیانی کے پیروکار ہونے کی بناء پر ایسے الفاظ بولنے

صفحہ 441

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول)

کا کبھی سوچ بھی نہیں سکتے‘ جو ایف آئی آر میں ان سے منسوب کیے گئے ہیں‘ تاہم درخواست گزاران کے استعمال کردہ الفاظ محض ان کے اپنے ہی الفاظ نہیں ہیں‘ بلکہ مرزا قادیانی کی تعلیمات کا حصہ ہیں۔ اس ضمن میں کیس ظہیر الدین بنام حکومت (1993 SCMR 1718) میں دیئے گئے فیصلے کا پیرا نمبر 82 دیکھا جا سکتا ہے۔ ملزمان کی طرف سے استعمال کردہ زبان تقریباً وہی ہے جو مرزا قادیانی نے اپنی کتاب ”براہین احمدیہ“ جلد 5‘ باب 2 (نصرۃ الحق) صفحہ 56 اور ”حقیقت الوحی“ کے صفحہ 67 پر استعمال کی ہے۔ ملزمان کے بولے گئے الفاظ ان کے عقیدے کے مطابق ہیں۔

سی کے تحت جرم بنتی ہے جو ضابطہ فوجداری کے سیکشن 497 کی ممنوعہ کلاز کے دائرے میں آتا ہے۔ ملزمان حضرت محمد (ﷺ) کا رتبہ گھٹا کر مرزا قادیانی کی سطح پر لے آئے ہیں جو (یعنی مرزا قادیانی) دستور پاکستان کے آرٹیکل 260(3) کی شق ”الف“ کی رو سے مسلمان نہیں ہے۔ مزید برآں مرزا قادیانی کو برطانوی سامراج کے مفادات کے تحفظ کے لیے لگایا گیا تھا اور جو کوئی بھی اسے نبی اکرم ﷺ کے ہم رتبہ قرار دیتا ہے‘ وہ اہانت رسول اقدس کا ارتکاب کرتا ہے۔

ہی کرے گی، لیکن ضمانت کے مرحلے پر مواد کا عارضی اندازہ کیا جا سکتا ہے اور بادی النظر میں ارتکاب جرم کے بارے میں رائے قائم کی جا سکتی ہے۔

اس معاملہ ہذا کی پولیس رپورٹ میں تاخیر‘ موجودہ کیس کے حالات و واقعات میں‘ استغاثے کے کیس کو مشکوک بنانے کے لیے کافی نہیں ہے۔ مقدمے سے کسی قرائنی شہادت یا برآمدگی کا تعلق نہ ہے‘ بلکہ اس کا انحصار زبانی شہادتوں پر ہے‘ جو مستغیث اور

صفحہ 442

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول)

تین چشم دید گواہوں نے دی ہیں۔ عام فوجداری مقدمات میں ایف آئی آر کے اندراج میں عجلت پر اس لیے اصرار کیا جاتا ہے تا کہ پولیس کو اطلاع دینے سے پہلے سوچ بچار سے بچا جائے اور تفتیشی ایجنسی حقائق کے حصول کے لیے قرائنی شہادت محفوظ کرلے جس سے مستغیث کے نقطۂ نظر کے درست یا غلط ہونے کا تعین کیا جاسکے۔ مزید برآں مستغیث کی طرف سے یہ کہنے میں کوئی امر مانع نہیں تھا کہ وقوعہ 17 نومبر 1993ء کو رونما ہوا (جب تحریری شکایت ایس ایچ او کے پاس داخل کی گئی ۔) جہاں تک ایف آئی آر کے رسمی اندراج سے پہلے کی گئی تفتیش کا تعلق ہے‘ اس سلسلے میں یہ کہنا کافی ہے کہ معاملے کے اس پہلو کے متعلق اس عدالت کے فل بینچ نے اپنے حکم مورخہ 25 اپریل 1994ء میں قرار دیا تھا: ”فوجداری تفتیش کے آغاز کے لیے ایف آئی آر کا ملنا یا اندراج کوئی لازمی امر نہیں ہے اور اس سلسلے میں کی جانے والی غیر قانونی بات‘ فی نفسہ مقدمے یا گرفتاری کو متاثر نہیں کرتی۔“ میں اس بنیاد پر مستغیث کی صداقت پر شبہ کرنے کے لیے آمادہ نہیں ہوں کہ اس معاملہ میں پولیس کو رپورٹ کرنے میں تاخیر کی گئی ہے۔

مستغیث اور اس کے والد کے مابین مخاصمت کا پس منظر تو ثابت ہوتا ہے۔ کسی خاص کیس کے واقعات اور حقائق کے پیش نظر ضمانت کے مرحلے پر بھی یہ قرار دینا ممکن ہے کہ ملزم کو مستغیث پارٹی کے ساتھ عداوت اور ماضی کی دشمنی کی بناء پر مقدمے میں الجھا دیا گیا ہو‘ تاہم موجودہ کیس میں ذیل میں دی گئی وجوہ کی بناء پر میں ایسا قرار دینے کے حق میں نہیں ہوں:

ہوتا ہے‘ جب اس نے ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کی عدالت میں درخواست دائر کی کہ ریاض احمد درخواست گزار نمبر 1 کو نمبردار کے عہدے سے برطرف کیا جائے۔ اس وقت سے اس نے یا اس کے بیٹے نے ملزم کو کسی فوجداری مقدمے میں ملوث کرنے کی کوئی کوشش نہیں کی‘ یا اس کی برطرفی کے لیے

صفحہ 443

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول)

زمین تیار کرنے یا دوسری صورت میں اس سے انتقام لینے کی کوئی کوشش نہیں کی۔

سے لے کر موجودہ واقعے تک، جو کہ 11 نومبر 1993ء کو رونما ہوا، کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش نہیں آیا۔

حسن اور قدیر احمد ولد نذیر احمد نے بھی کی ہے، جن کا ایسا کوئی محرک نظر نہیں آتا کہ وہ ملزمان اور سائلان کے خلاف جھوٹی گواہی دیں۔

کیس مستغیث پارٹی نے سائلان کے خلاف ماضی کی عداوت کی بناء پر گھڑا ہے، تاہم مذکورہ بالا نقطۂ نظر عارضی ہے اور ماتحت عدالت کو آزادی ہوگی کہ وہ بالآخر اس کا فیصلہ فریقین کی جانب سے پیش کردہ شہادتوں کی روشنی میں کرے۔ سائلان کے فاضل وکیل نے یہ استدلال نہیں کیا کہ آیا وہ زبان جو کہا جاتا ہے کہ سائلان نے استعمال کی، کسی بھی انداز میں حضرت محمد (ﷺ) کی شان کے خلاف تھی اور اس سے آپ ﷺ کے مقدس اور پاک نام کی بے حرمتی ہوتی تھی۔ انہوں نے خصوصاً اس بات پر زور دیا کہ استغاثے کا کیس جھوٹا اور دیرینہ عداوت کی پیداوار ہے۔ مزید برآں ان کی کوشش تھی کہ ضمانت کے مرحلے پر اس عدالت کو اس سوال میں نہیں پڑنا چاہیے اور اس کا فیصلہ ماتحت عدالت پر چھوڑ دینا چاہیے۔ مزید برآں اس لیے بھی کہ اس کیس میں اس عدالت کے فل بینچ نے بھی اسی طریقہ کار کو اپنے حکم مورخہ 25 اپریل 1994ء میں ترجیح دی تھی۔

موجود مواد کو عارضی طور پر جانچنا پڑتا ہے۔ اس ضمن میں، میں خالد جاوید گیلان بنام سرکار (PLD 1978 SC 256) کیس میں عدالت عظمیٰ کے فیصلے کا حوالہ دے سکتا ہوں۔

صفحہ 444

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول)

قادیانی سچا پیغمبر تھا اور کسی بھی حالت میں اس کی عظمت حضرت محمد (ﷺ) سے کم تر نہ تھی۔ حضرت محمد (ﷺ) کے ساتھ مرزا کا موازنہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حضرت محمد (ﷺ) کے معجزات کی تعداد تین ہزار تھی، لیکن مرزا قادیانی کے معجزات تین لاکھ تھے۔

قادیانی کی تحریروں میں بھی پائے جاتے ہیں۔ حضرت محمد ﷺ کے تین ہزار معجزوں کا ذکر مرزا قادیانی کی کتاب ”تحفہ گولڑویہ“ میں ہے جو کتاب ”روحانی خزائن“ جلد 17، صفحہ 153 میں شامل ہے۔ متعلقہ حصہ پڑھنے میں یوں آتا ہے:

نبی ﷺ سے ظہور میں آئے اور حدیبیہ کی پیش گوئی کو بار بار ذکر کرے کہ وہ وقت اندازہ کردہ پر پوری نہیں ہوئی۔“

تین ہزار سے زائد بتائی ہے اور بعد ازاں اپنی مختلف کتابوں میں اس سے زیادہ تعداد یعنی ایک لاکھ، تین لاکھ اور دس لاکھ دی ہے۔ اس کی کتابوں کے متعلقہ حصے ذیل میں دیئے جاتے ہیں:

باتیں میرے پر کھل رہی ہیں۔ ہزار ہا دعائیں اب تک قبول ہوچکی ہیں اور تین ہزار سے زیادہ نشان ظاہر ہو چکا ہے۔“ (”تریاق القلوب ص 12 مندرجہ روحانی خزائن، جلد 15، ص 140)

لاکھ سے بھی زیادہ میرے ہاتھ پر اس نے نشان دکھلائے ہیں۔“ (”ضمیمہ النبوۃ فی الاسلام“ صفحہ 341، مصنف مولوی محمد علی لاہوری قادیانی، ”چشمہ معرفت“ حصہ دوم، صفحہ 60، مندرجہ روحانی خزائن جلد 23 ص 428 از مرزا قادیانی)

صفحہ 445

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول)

16 جولائی 1906ء ہے‘ اگر میں ان کو فرداً فرداً شمار کروں تو میں خدا تعالیٰ کی قسم کھا کر کہہ سکتا ہوں کہ وہ تین لاکھ سے بھی زیادہ ہیں۔“

(حقیقت الوحی صفحہ 67 مندرجہ روحانی خزائن ج 22 ص 70 از مرزا قادیانی)

اسی نے مجھے بھیجا ہے اور اسی نے میرا نام نبی رکھا ہے اور اسی نے مجھے مسیح موعود کے نام سے پکارا ہے اور اسی نے میری تصدیق کے لیے بڑے بڑے نشانات ظاہر کیے ہیں جو تین لاکھ تک پہنچتے ہیں۔“

(”تتمہ حقیقت الوحی“ صفحہ 68 مندرجہ روحانی خزائن ج 22 ص 503 از مرزا قادیانی)

مرزا قادیانی تین لاکھ معجزات کے اپنے دعوے سے بھی مطمئن نہیں تھا اور ایک دوسری جگہ اس نے دعویٰ کیا کہ اس کی پیش گوئیوں کے سلسلے میں اللہ کے نشانات (معجزے) دس لاکھ سے متجاوز ہیں۔ اس کی کتاب ”براہین احمدیہ“ کا متعلقہ حصہ مندرجہ ذیل ہے:

دس لاکھ سے زیادہ ہوں گے اور نشان بھی ایسے کھلے کھلے ہیں جو اول درجہ پر خارق عادت ہیں۔ سو ہم اوّل صفائی بیان کے لیے ان پیش گوئیوں کے اقسام بیان کرتے ہیں۔ بعد اس کے یہ ثبوت دیں گے کہ یہ پیش گوئیاں پوری ہوگئی ہیں۔ اور درحقیقت یہ خارق عادت نشان ہیں۔ اور اگر بہت ہی سخت گیری اور زیادہ سے زیادہ احتیاط سے بھی ان کا شمار کیا جائے‘ تب بھی یہ نشان‘ جو ظاہر ہوئے‘ دس لاکھ سے زیادہ ہوں گے۔“

(”براہین احمدیہ“ جلد پنجم، باب 2، صفحہ 56 مندرجہ روحانی خزائن ج 21 ص 72 از مرزا قادیانی)

گزاران کا محض یہ عقیدہ ہے کہ مرزا قادیانی، مسیح موعود اور مہدی موعود تھا اور اس کے سوا کچھ نہیں۔ وہ حضرت محمد (ﷺ) کے تابع تھا اور رتبے میں رسول پاک (ﷺ) سے کم تر

صفحہ 446

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول)

تھا۔ نذیر احمد غازی فاضل اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل نے اسی شدت سے سائلان کے فاضل وکیل کے مذکورہ بالا استدلال سے انکار کیا اور زور دے کر کہا کہ سائلان مسلمہ طور پر قادیانی ہیں، جن کا عقیدہ ہے کہ مرزا قادیانی نبی تھا اور اس نے یہ مرتبہ حضرت محمد (ﷺ) کی مہر کے ساتھ حاصل کیا تھا اور وہ پہلے تمام انبیاء بشمول حضرت محمد ﷺ کی تمام صفات رکھتا تھا۔ اس ضمن میں انہوں نے ایک پمفلٹ بعنوان ”ایک غلطی کا ازالہ“ تحریر کردہ مرزا قادیانی کا حوالہ دیا۔ پمفلٹ کے مندرجات واضح طور پر فاضل اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل کے استدلال کی تائید کرتے ہیں۔ انہوں نے مرزا قادیانی کی کتاب ”نزول مسیح“ سے ذیل کے اقتباس کا بھی حوالہ دیا:

میں محمدی شکل اور محمدی نبوت کا کامل انعکاس ہے۔ اگر میں کوئی علیحدہ شخص نبوت کا دعویٰ کرنے والا ہوتا تو خدا تعالیٰ میرا نام محمد اور احمد اور مصطفیٰ اور مجتبیٰ نہ رکھتا ...... بلکہ میں کسی علیحدہ نام سے آتا، لیکن خدا نے ہر بات میں وجودِ محمدی میں مجھے داخل کر دیا۔“

(”نزول المسیح“، صفحہ 3 حاشیہ مندرجہ روحانی خزائن ج 18 ص 381 حاشیہ از مرزا قادیانی)

مرزا قادیانی نے متعدد قرآنی آیات کو خود سے منسوب کیا ہے جو حضرت محمد (ﷺ) کی شان میں نازل ہوئیں۔ چند حوالے ذیل میں دیئے جاتے ہیں:

(حقیقت الوحی صفحہ 82، تذکرہ مجموعہ وحی و الہامات صفحہ 64 طبع چہارم از مرزا قادیانی)

(حقیقت الوحی صفحہ 63، تذکرہ مجموعہ وحی و الہامات صفحہ 543 طبع چہارم از مرزا قادیانی)

(حقیقت الوحی صفحہ 102، تذکرہ مجموعہ وحی و الہامات صفحہ 73، طبع چہارم از مرزا قادیانی)

(حقیقت الوحی صفحہ 74، تذکرہ مجموعہ وحی و الہامات صفحہ 39، طبع چہارم از مرزا قادیانی)

صفحہ 447

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول)

(حقیقت الوحی صفحہ 54، تذکرہ مجموعہ وحی والہامات صفحہ 542 طبع چہارم از مرزا قادیانی)

(حقیقت الوحی صفحہ 72، تذکرہ مجموعہ وحی والہامات صفحہ 35، طبع چہارم از مرزا قادیانی)

(تذکرہ مجموعہ وحی والہامات صفحہ 37 طبع چہارم از مرزا قادیانی)

(حقیقت الوحی صفحہ 107، تذکرہ مجموعہ وحی والہامات صفحہ 398 طبع چہارم از مرزا قادیانی)

(تذکرہ مجموعہ وحی والہامات صفحہ 194 طبع چہارم از مرزا قادیانی)

(تذکرہ مجموعہ وحی والہامات صفحہ 35، 194 طبع چہارم از مرزا قادیانی)

(تذکرہ مجموعہ وحی والہامات صفحہ 70، طبع چہارم از مرزا قادیانی)

مزید برآں مرزا قادیانی نے دعویٰ کیا کہ وہ ”درود وسلام“ کا مستحق ہے اور یہ کہ اس کے پیروکار جائز طور پر اس کے نام کے ساتھ ”علیہ الصلوۃ والسلام“ لکھ سکتے ہیں۔ (حوالے کے لیے دیکھئے ”اربعین“ نمبر 2‘ صفحہ 6) کتاب ”تذکرہ“ میں‘ جو قادیانیوں کے مطابق مرزا قادیانی کے الہامات پر مشتمل ہے‘ صفحہ 794 طبع دوم پر یہ الہام ”صلّی الله علیک علی محمد“ موجود ہے۔ مرزا قادیانی نے اپنی کتاب ”حقیقت الوحی“ باب 4‘ صفحہ 74‘ 75 روحانی خزائن ج 22 ص 78 میں درج ذیل وحی کا حوالہ بھی دیا ہے:

تفیض من الدمع - یصلون علیک.

صفحہ 448

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول)

اس طرح یہ بات بالکل واضح ہو جاتی ہے کہ مرزا قادیانی کے دعووں کے مطابق وہ نبی تھا‘ اللہ کی جانب سے اس کا نام محمد اور احمد رکھا گیا تھا۔ اسے ”رحمۃ للعالمین“ بنا کر بھیجا گیا تھا‘ وہ محمد متشکل تھا اور حضرت محمد (ﷺ) اور ان کی نبوت کا کامل عکس تھا اور حضرت محمد (ﷺ) کی طرح درود و سلام کا حقدار تھا۔ چنانچہ سائلان کی جانب سے مرزا قادیانی کو حضرت محمد (ﷺ) کی حیثیت اور مرتبے سے کم تر نہ قرار دینا خلاف امکان نہیں۔ سائلان کے فاضل وکیل نے مرزا قادیانی کی متعدد کتابوں کا حوالہ دیا ہے‘ جس میں اس نے حضرت محمد (ﷺ) کے لیے محبت اور گہری عقیدت و احترام کا اظہار کیا ہے۔ چند حوالہ جات یہاں درج کیے جاتے ہیں:

آدم زادوں کے لیے اب کوئی رسول اور شفیع نہیں مگر محمد ﷺ۔ سو تم کوشش کرو کہ سچی محبت اس جاہ وجلال کے نبی کے ساتھ رکھو اور اس کے غیر کو اس پر کسی نوع کی بڑائی مت دو۔ (”کشتی نوح“ صفحہ 21)

(لیکچر سیالکوٹ)

اچھا کہا ہے۔

محمد عربی بادشاہ ہر دو سرا
کرے ہے روح قدس جس کے در کی دربانی
اسے خدا تو نہیں کہہ سکوں‘ پر کہتا ہوں
کہ اس کی مرتبہ دانی میں ہے خدا دانی

(”چشمہ معرفت مشمولہ روحانی خزائن“ جلد 23‘ صفحہ 302)

پس ہمارے نبی ﷺ اظہار سچائی کے لیے ایک مجدد اعظم تھے‘ جو گم گشتہ سچائی

صفحہ 449

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول)

کو دوبارہ دنیا میں لائے۔ اس فخر میں ہمارے نبی ﷺ کے ساتھ کوئی بھی نبی شریک نہیں کہ آپؐ نے تمام دنیا کو ایک تاریکی میں پایا اور پھر آپ کے ظہور سے وہ تاریکی نور میں بدل گئی۔

(لیکچر سیالکوٹ مشمولہ ”روحانی خزائن“ جلد 20‘ صفحہ 206)

اپنے اس دجل کے ذریعے ایک خلق کثیر کو گمراہ کر کے رکھ دیا ہے۔ میرے دل کو کسی چیز نے بھی کبھی اتنا دکھ نہیں پہنچایا جتنا کہ ان لوگوں کے ہنسی مذاق نے پہنچایا ہے‘ جو وہ ہمارے رسول پاک ﷺ کی شان میں کرتے رہتے ہیں۔ ان کے دل آزار طعن و تشنیع نے‘ جو وہ حضرت خیر البشر ﷺ کی ذاتِ والا صفات کے خلاف کرتے ہیں‘ میرے دل کو سخت زخمی کر رکھا ہے۔ خدا کی قسم اگر میری ساری اولاد اور اولاد کی اولاد اور میرے سارے دوست اور میرے سارے معاون و مددگار میری آنکھوں کے سامنے قتل کر دیئے جائیں اور خود میرے ہاتھ پاؤں کاٹ دیئے جائیں اور میری آنکھ کی پتلی نکال پھینکی جائے اور میں اپنی تمام مرادوں سے محروم کر دیا جاؤں اور اپنی تمام خوشیوں اور تمام آسائشوں کو کھو بیٹھوں تو ان ساری باتوں کے مقابل پر بھی میرے لیے یہ صدمہ زیادہ بھاری ہے کہ رسول اکرم ﷺ پر ایسے ناپاک حملے کیے جائیں۔ پس اے میرے آسمانی آقا! تو ہم پر اپنی رحمت اور نصرت کی نظر فرما اور ہمیں اس ابتلائے عظیم سے نجات بخش۔

(ترجمہ عربی عبارت ”آئینہ کمالات اسلام“ صفحہ 15)

اگر مرزا قادیانی کے پیروکار ان کا عقیدہ اس کی محولہ بالا تحریروں تک محدود ہو‘ جن میں پیغمبر ﷺ کے لیے محبت اور احترام کا اظہار کیا گیا ہے تو کوئی بھی مسلمان ان کے خلاف کسی قسم کی رنجش نہیں رکھ سکتا‘ لیکن بدقسمتی سے مرزا قادیانی کی دیگر ایسی تحریریں ہیں‘ جن میں اس نے نہ صرف حضرت محمد (ﷺ) کے ساتھ کامل مطابقت اور ہم

صفحہ 450

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول)

نبی کے دعوے کی جسارت کی ہے بلکہ آپ ﷺ کی شان مبارک میں بے ادبی کا مظاہرہ بھی کیا ہے۔ معاملے کے اس پہلو پر معزز عدالت عظمیٰ نے ظہیر الدین کیس میں غور کیا ہے (جس پر فاضل اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل نے انحصار کیا ہے) عدالت نے اپنے فیصلے کے پیرا 82 میں یوں اظہار خیال کیا ”ناصرف یہ کہ مرزا صاحب نے اپنی تحریروں میں حضرت محمد (ﷺ) کی شان اور عظمت کو کم کرنے کی کوشش کی بلکہ اس نے گاہے بگاہے ان (ﷺ) کی تضحیک بھی کی“۔ اس ضمن میں معزز عدالت عظمیٰ نے مرزا قادیانی کی کتابوں سے درج ذیل اقتباسات کا حوالہ دیا:

(حاشیہ ”تحفہ گولڑویہ“ صفحہ 165 روحانی خزائن ج 17 ص 263)

(ازالہ اوہام ص 346 مندرجہ روحانی خزائن ج 3 ص 472‘ 473)

(”تحفہ گولڑویہ“ صفحہ 67‘ روحانی خزائن ج 17 ص 153)

(”براہین احمدیہ ج 5 صفحہ 56 روحانی خزائن ج 21 ص 72)

معزز عدالت عظمیٰ کے نوٹس میں مزید یہ آیا کہ قادیانیوں کا عقیدہ ہے کہ مرزا قادیانی (نعوذ باللہ) شکل محمدی لیے ہوئے ہے۔ اس ضمن میں عدالت نے مرزا صاحب کی کتاب ”خطبہ الہامیہ“ سے ذیل کے اقتباس کا حوالہ دیا:

”جو مجھ میں اور محمد (ﷺ) میں امتیاز روا رکھتا ہے‘ اس نے نہ ہی مجھے دیکھا ہے اور نہ ہی مجھے جانا ہے۔“

چونکہ قادیانی، مرزا قادیانی کی جمیع تعلیمات پر ایمان رکھتے ہیں‘ بشمول اس کے اس دعوے کے کہ وہ حضرت محمد (ﷺ) کی تمام خوبیوں اور تعظیمی القابات کا حامل ہے‘ اس لیے وہ یہ کہنے میں کوئی ہچکچاہٹ محسوس نہیں کرتے کہ مرزا قادیانی نبی تھا جو

صفحہ 451

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول)

محمد (ﷺ) سے عزت، مرتبے اور حیثیت میں کمتر نہیں تھا۔ فاضل اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل نے اصرار کیا ہے کہ ایسا اعلان، حضرت محمد (ﷺ) کی شان میں گستاخی ہے کیونکہ مرزا قادیانی اور اس کے پیروکار دستور پاکستان کے آرٹیکل 260(3) کی شق ”الف“ اور ”ب“ کی رو سے غیر مسلم ہیں اور پوری دنیا میں مسلم امہ انہیں غیر مسلم ہی سمجھتی ہے۔ انہوں نے یہ سوال اٹھایا کہ اللہ کے عظیم ترین پیغمبر کا درجہ (نعوذ باللہ) ایک دغا باز اور غیر مسلم کی سطح پر کیسے لایا جا سکتا ہے جسے فی الحقیقت برطانوی سامراج کے مفادات کے تحفظ کے لیے پلانٹ کیا گیا تھا۔ فاضل اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل نے اپنے اس استدلال کی تائید میں مرزا قادیانی کی درج ذیل تحریروں کا حوالہ دیا ہے:

یہ کہ خدا تعالیٰ کو وحدہٗ لا شریک اور ہر ایک منفعت، موت اور بیماری اور لاچاری اور درد اور دکھ اور دوسری نالائق صفات سے پاک سمجھنا۔ دوسرے یہ کہ اللہ تعالیٰ کے سلسلہ نبوت کا خاتم اور آخری شریعت لانے والا اور نجات کی حقیقی راہ بتلانے والا حضرت سیدنا و مولانا محمد مصطفیٰ ﷺ کو یقین رکھنا۔ تیسرے یہ کہ دین اسلام کی دعوت محض دلائل عقلیہ اور آسمانی نشانوں سے کرنا اور خیالات غازیانہ اور جہاد اور جنگجوئی کو اس زمانہ کے لیے قطعی طور پر حرام اور ممتنع سمجھنا اور ایسے خیالات کے پابند کو صریح غلطی پر قرار دینا۔ چوتھے یہ کہ اس گورنمنٹ محسنہ کی نسبت، جس کے ہم زیر سایہ یعنی گورنمنٹ انگلش، کوئی مفسدانہ خیالات دل میں نہ لانا اور خلوص دل سے اس کی اطاعت میں مشغول رہنا۔ پانچویں یہ کہ بنی نوع سے ہمدردی کرنا اور حتی الوسع ہر ایک شخص کی دنیا اور آخرت کی بہبودی کے لیے کوشش کرتے رہنا اور امن اور صلح کاری کا موید ہونا اور نیک اخلاق کو دنیا میں پھیلانا۔ یہ پانچ اصول ہیں جن کی اس جماعت کو تعلیم دی جاتی ہے۔

(”کتاب البریہ“ صفحہ 348 روحانی خزائن ج 13 ص 348 از مرزا قادیانی)

صفحہ 452

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول)

ہیں: ایک یہ کہ خدا تعالیٰ کی اطاعت کریں‘ دوسری اس سلطنت کی‘ جس نے امن قائم کیا ہو‘ جس نے ظالموں کے ہاتھ سے اپنے سایہ میں ہمیں پناہ دی ہو۔ سو وہ سلطنت حکومت برطانیہ ہے۔ اگرچہ یہ سچ ہے کہ ہم یورپ کی قوموں کے ساتھ اختلاف مذہب رکھتے ہیں اور ہم ہرگز خدا تعالیٰ کی نسبت وہ باتیں پسند نہیں رکھتے‘ جو انہوں نے پسند کی ہیں لیکن ان مذہبی امور کو رعیت اور گورنمنٹ کے رشتہ سے کچھ علاقہ نہیں۔ خدا تعالیٰ ہمیں صاف تعلیم دیتا ہے کہ جس بادشاہ کے زیر سایہ امن کے ساتھ بسر کرو‘ اس کے شکرگزار اور فرماں بردار بنے رہو۔ سو اگر ہم گورنمنٹ برطانیہ سے سرکشی کریں تو گویا اسلام اور خدا اور رسول سے سرکشی کرتے ہیں۔

(”شہادۃ القرآن“ از مرزا قادیانی مشمولہ ”روحانی خزائن“ جلد 6‘ صفحہ 380، 381)

کے مندرجات کا جائزہ لیں‘ جو اس طرح ہیں:

سیکشن C-295:

”جو کوئی الفاظ کے ذریعے، خواہ زبانی ہوں یا تحریری یا مرئی نقوش کے ذریعے، یا بطور طعنہ زنی یا بہتان تراشی بالواسطہ یا بلا واسطہ، اشارتاً یا کنایتاً حضرت محمد ﷺ کی توہین یا تنقیص یا بے حرمتی کرے، وہ سزائے موت یا سزائے عمر قید کا مستوجب ہوگا اور اسے سزائے جرمانہ بھی دی جائے گی۔“

محمد اسماعیل قریشی بنام پاکستان بوسیلہ سیکرٹری قانون و پارلیمانی امور کیس میں (PLD 1991 Federal Shariat Court 10) وفاقی شرعی عدالت کے فیصلے کے بعد تعزیرات پاکستان کی دفعہ C-295 کے الفاظ ”یا سزائے عمر قید“ اپنی افادیت کھو بیٹھے ہیں‘ لہٰذا اب اس جرم کی سزا صرف موت ہے۔

صفحہ 453

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول)

گھٹانا، ظاہری طور پر داغ دار بنانا، آلودہ کرنا، میلا کرنا، بے عزتی کرنا، بے حرمتی کرنا وغیرہ (بلیک کی انگریزی لغت، پانچواں ایڈیشن، صفحہ 380)

”تقدس اور بزرگی کی بے حرمتی کرنا، بے ادبی کرنا، تحقیر کرنا، عزت کو داغدار کرنا، بے آبرو کرنا۔“ (آکسفورڈ انگلش ڈکشنری، جلد 3، صفحہ 136)

ہے کہ کسی بھی تحریری یا زبانی لفظ یا مرئی شبیہ یا اظہار یا کسی بہتان، جس سے حضرت (ﷺ) کے مقدس نام پر حرف آتا ہو، بالواسطہ یا بلا واسطہ یا کسی بھی رمز کنائے سے مثلاً مخفی ہتک ایسا جرم ہے جو تعزیراتِ پاکستان کی دفعہ C-295 کے تحت آتا ہے۔ سائلان نے ایک طرف یہ دعویٰ کیا ہے کہ مرزا قادیانی کا مقام اور مرتبہ حضرت محمد (ﷺ) سے کمتر نہیں اور دوسری طرف کہا ہے کہ مرزا قادیانی کے معجزوں کی تعداد تین لاکھ تھی جبکہ پیغمبر حضرت محمد (ﷺ) کے معجزے تین ہزار تھے۔ فاضل اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل کا یہ استدلال کافی وزن رکھتا ہے کہ سائلان نے حضرت محمد ﷺ کے مقام کو پست کر کے، مرزا قادیانی کے برابر کر کے، نبی اکرم ﷺ کی شان میں گستاخی کی ہے کیونکہ مرزا قادیانی دستورِ پاکستان کے آرٹیکل (3)260 کی شق ”الف“ کی رُو سے مسلمان نہیں اور مسلم اُمہ کے اٹل عقیدے کے مطابق وہ نبوت کا جھوٹا دعویدار تھا۔ بادی النظر میں سائلان نے تعزیرات پاکستان کی دفعہ 295 سی کے تحت جرم کا ارتکاب کیا ہے۔ محض یہ حقیقت کہ مرزا قادیانی نے اپنی متعدد کتابوں میں (جن کا حوالہ سائلان کے فاضل وکیل نے دیا ہے) حضرت محمد (ﷺ) کے لیے گہری محبت اور عقیدت و احترام کا اظہار کیا ہے، سائلان کی بریت کے لیے کافی نہیں۔ انہوں نے ایف آئی آر کے مطابق حضرت محمد مصطفیٰ (ﷺ) کے بارے میں گستاخانہ کلمات استعمال کیے ہیں اور یہ کہنے کی جسارت کی ہے کہ مرزا قادیانی عظمت اور مرتبے میں حضرت محمد (ﷺ) سے کم تر نہیں تھا۔ یہ جرم، موت کی سزا کا مستوجب ہونے کی بناء پر ضابطہ فوجداری کی دفعہ 497 کے امتناع میں آتا ہے۔

صفحہ 454

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول)

(1993 SCMR 153) میں دیئے گئے فیصلے پر انحصار کیا ہے اور اس بات پر زور دیا ہے کہ اس سوال کا فیصلہ کہ آیا سائلان نے تعزیرات پاکستان کی دفعہ 295 سی کے تحت جرم کا ارتکاب کیا ہے‘ ماتحت عدالت پر چھوڑ دیا جائے اور اس مرحلے پر سائلان کو ضمانت پر رہا کر دیا جائے۔ یقیناً ارتکاب جرم کے بارے میں آخری فیصلہ ماتحت عدالت ہی کو کرنا ہے‘ لیکن اس مرحلے پر موجود مواد کی بنیاد پر ایک ابتدائی رائے قائم کی جا سکتی ہے۔ مزید برآں نظری مقدمہ کے حقائق بالکل مختلف ہیں۔ مذکورہ کیس میں قادیانیوں نے شادی کے دعوتی کارڈ میں چند شعائر اسلام کا استعمال کیا تھا۔ (جس پر) یہ محسوس کیا گیا کہ ملزم کے عقیدے اور ارادے کے بارے میں گہری تحقیق کی ضرورت ہے۔ اور اس رائے کا اظہار کیا گیا کہ کسی بھی فرد کی طرف سے بسم اللہ الرحمن الرحیم‘ السلام علیکم‘ ان شاء اللہ کے استعمال سے بادی النظر میں تکلیف‘ ایذا اور اشتعال وغیرہ کے جذبات پیدا نہیں ہوتے اور نہ ہی یہ حضرت محمد (ﷺ) کی شان کے خلاف ہیں۔ مزید برآں‘ یہ رائے بھی دی گئی کہ ”یہ صرف اسی وقت ہوتا ہے جب انہیں پڑھنے اور سننے والا شخص ان کلمات کو استعمال کرنے والے شخص کے پس منظر کو بنظر عمیق دیکھتا ہے اور ایسے ملزم کے عقیدے‘ ایمان اور پنہاں ارادوں کے بارے میں اپنا خصوصی علم لاتا ہے تو مبینہ نتائج کا امکان پیدا ہو جاتا ہے۔“ بایں وجہ معانی یہ ہوئے کہ مسلمانوں کے لیے اشتعال اور رنج کے مبینہ نتائج یا حضرت محمد (ﷺ) کے پاک نام کی بے ادبی کا امکان اس کے بعد ہی پیدا ہوتا ہے کہ ملزم کے ایمان‘ عقیدے اور باطنی ارادوں کے پس منظر کو بنظر عمیق دیکھا جائے۔ چنانچہ مقدمے کے مخصوص حالات میں معزز عدالت عظمیٰ نے معاملے کا فیصلہ ماتحت عدالت پر چھوڑ دیا اور ملزمان کی ضمانت منظور کر لی۔ موجودہ کیس کے حقائق سراسر مختلف ہیں۔ سائلان نے‘ جو کہ قادیانی ہیں‘ مبینہ طور پر حضرت محمد (ﷺ) کے بارے میں گستاخانہ زبان استعمال کی اور سرعام اعلان کیا کہ مرزا قادیانی‘ اپنے مرتبہ و مقام میں رسول پاک ﷺ سے کم تر نہ تھا۔ انہوں نے

صفحہ 455

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول)

مرزا قادیانی کے معجزوں کی تعداد بھی زیادہ بتائی اور صاف طور پر اسے بلند روحانی درجے پر رکھا‘ لہٰذا اس کیس میں سائلان نے بادی النظر میں تعزیراتِ پاکستان کی دفعہ 295 سی کے تحت جرم کا ارتکاب کیا ہے۔

کرنے کے لیے آمادہ نہ ہوں۔ نتیجتاً ان کی درخواست ضمانت مسترد کی جاتی ہے۔ تاہم‘ سماعت مقدمہ میں تاخیر کے باعث‘ سائلان کو (متوقع) نقصان سے بچانے کے لیئے عدالت ماتحت کو حکم دیا جاتا ہے کہ اس کیس کو دیگر مقدمات پر ترجیح دی جائے اور اس مقدمے کا فیصلہ جلد از جلد‘ ترجیحاً تین ماہ کے اندر‘ کرنے کی ہر ممکن کوشش کی جائے۔

شہادتوں اور مواد کی روشنی میں مذکورہ بالا آراء سے متاثر ہوئے بغیر مقدمے کا فیصلہ آزادانہ طور پر کرے گی۔

دستخط جسٹس میاں نذیر اختر

تاریخ فیصلہ 9 جون 1994ء

(PLD 1994 Lahore 485)

۞......۞......۞

صفحہ 456

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول)

صفحہ 457

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول)

PLD 1988 Quetta 22

ہائی کورٹ آف بلوچستان، کوئٹہ

ظہیر الدین بنام حکومت پاکستان

......جناب جسٹس امیر الملک مینگل

قادیانیوں کی شعائر اسلامی (کلمہ طیبہ) کی توہین اور

امتناع قادیانیت آرڈیننس 1984 کی خلاف ورزی

پر کوئٹہ ہائی کورٹ کا تاریخی فیصلہ جس نے قادیانیوں

کو قانونی شکنجے میں جکڑ دیا۔

صفحہ 458

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول)

”خواہ کچھ بھی ہو‘ موجودہ مقدمے میں تو یہ دیکھا جانا ہے کہ ان قادیانیوں کی نیت کیا تھی جب وہ کلمہ طیبہ کا بیج لگا کر گلیوں کے ہجوم میں گھومتے پھرے؟ اس کی صریح وجہ یہی نظر آتی ہے کہ مذکورہ سائلان لوگوں سے یہ منوانے کا ارادہ رکھتے تھے کہ وہ مسلم ہیں۔ یہی بات ان کی طرف سے مجرمانہ نیت یا مجرم ضمیر (mens rea) کا اظہار کرتی ہے۔ لہٰذا اس مقدمے کے تسلیم کردہ واقعات کو مدنظر رکھتے ہوئے‘ اس موضوع پر بحث نہیں کی جا سکتی کہ سائلان کا یہ فعل کسی مجرمانہ ارادے یا مجرم ضمیر کے بغیر تھا کیونکہ سائلان اس بات کی کوئی دلیل بیان کرنے میں ناکام رہے ہیں کہ انہوں نے شہر کے پرہجوم بازاروں میں چلتے پھرتے وقت کلمہ طیبہ کے بیج کس وجہ سے لگا رکھے تھے‘ سوائے اس کے کہ وہ مسلم ہونے کا بہانہ کرتے تھے یا دوسروں سے خود کو مسلم منوانا چاہتے تھے۔“

صفحہ 459

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول)

دل کی بات

(مقدمہ کا پس منظر، احوال، نتیجہ)

الحمد للہ وحدہ والصلوۃ والسلام علی من لا نبی بعدہ اما بعد

قیام پاکستان کے بعد قادیانیوں نے ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت بلوچستان کو اپنا صوبہ بنانے کا فیصلہ کیا۔ اس سلسلہ میں دوسرے قادیانی خلیفہ مرزا محمود احمد نے کہا تھا:

’’بلوچستان کی کل آبادی پانچ یا چھ لاکھ ہے۔ زیادہ آبادی کو احمدی بنانا مشکل ہے، لیکن تھوڑے آدمیوں کو احمدی بنانا کوئی مشکل نہیں۔ پس جماعت اس طرف اگر پوری توجہ دے تو اس صوبے کو بہت جلد احمدی بنایا جاسکتا ہے۔ اگر ہم سارے صوبے کو احمدی بنا لیں تو کم از کم ایک صوبہ تو ایسا ہو جائے گا جس کو ہم اپنا صوبہ کہہ سکیں۔ پس جماعت کو اس بات کی طرف توجہ دلاتا ہوں کہ آپ لوگوں کے لیے یہ عمدہ موقع ہے اس سے فائدہ اٹھائیں اور اسے ضائع نہ ہونے دیں۔ پس تبلیغ کے ذریعے بلوچستان کو اپنا صوبہ بنائیں، تاکہ تاریخ میں آپ کا نام رہے۔‘‘ (مرزا محمود احمد کا بیان، اخبار الفضل، 12 اگست 1948ء)

فتنہ گر خلیفہ قادیان کے حکم پر قادیانیوں نے بلوچستان میں بڑے پیمانے پر تبلیغی سرگرمیاں شروع کیں، لیکن غیرت اسلامی اور عشق رسول ﷺ سے معمور مسلمانوں نے ان کے مذموم عزائم خاک میں ملا دیئے۔ بلوچستان پہلا صوبہ ہے جہاں 1973ء میں قادیانیوں کے خلاف فیصلہ کن تحریک شروع ہوئی جو 1974ء کی تحریک ختم نبوت کا پیش خیمہ ثابت ہوئی۔ مسلمانوں کی نوے سالہ جدوجہد کے بعد شہدائے ختم نبوت کی قربانیوں کے نتیجہ میں قادیانیوں کو پاکستان کی منتخب قومی اسمبلی نے 1974ء میں متفقہ

صفحہ 460

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول)

طور پر غیر مسلم اقلیت قرار دیا۔ لیکن بدقسمتی سے قادیانیوں کے خلاف اپنے مذہب کو اسلام کہنے، خود کو مسلمان کہلوانے اور شعائر اسلامی کے استعمال سے روکنے کے لیے کوئی قانون سازی نہ ہوسکی۔ چنانچہ اس سلسلہ میں مسلمانوں نے دوبارہ تحریک شروع کی۔ اس کے نتیجہ میں 1984ء میں امتناع قادیانیت آرڈی نینس جاری ہوا تو قادیانی خلیفہ مرزا طاہر کی ہدایت پر قادیانیوں نے اس آرڈینینس کی خلاف ورزی شروع کر دی۔ اپنی دکانوں‘ مکانوں اور عبادت گاہوں پر کلمہ طیبہ تحریر کرنا شروع کر دیا‘ سینوں پر کلمہ طیبہ کے بیج لگانے شروع کر دیئے اور آئین و قانون کی دھجیاں اڑاتے ہوئے خود کو مسلمان کہنا شروع کر دیا۔

سب سے پہلے ایک قادیانی حیات کو لیاقت بازار میں کلمہ طیبہ کا بیج لگائے ہوئے دیکھ کر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے ایک پرعزم کارکن حاجی محمد رفیق بھٹی مرحوم نے مجلس کے مبلغ اور مجاہد ختم نبوت مولانا نذیر احمد تونسوی کو اطلاع دی۔ انہوں نے حیات قادیانی کو پکڑ کر پولیس کے حوالے کیا۔ سٹی تھانہ کے ایس۔ ایچ۔ او چودھری محمد شریف نے مقدمہ درج کرکے ملزم کو گرفتار کیا۔ سب انسپکٹر نذیر احمد نے اس کیس کی تفتیش کی۔ چند دنوں بعد مولانا نذیر احمد تونسوی نے قانون کی خلاف ورزی کرنے پر دو اور قادیانیوں ظہیر الدین اور عبدالرحمٰن کو بھی پکڑ کر پولیس کے حوالہ کیا۔ پولیس افسران انسپکٹر حاجی راجہ ارشاد احمد‘ انسپکٹر شاہنواز وٹو‘ سب انسپکٹر عبدالعزیز اور سید رفیع اللہ شاہ نے تمام قانونی تقاضوں کو پورا کر کے کیس کا چالان عدالت میں پیش کیا۔ ایس۔ پی سردار وریام‘ حاجی ملک محمد سرور اعوان‘ پی۔ ڈی۔ ایس۔ پی سید امتیاز شاہ اور پراسیکیوٹنگ انسپکٹر ملک نثار عباس نے مقدموں میں عدالت کی معاونت کی۔ سٹی مجسٹریٹ جناب رحیم شاہ عبداللہ زئی پہلے پاکستانی ہیں‘ جنہوں نے 10 جولائی 1986ء کو سب سے پہلے اس مذکورہ آرڈینینس کے تحت قادیانیوں کو سزا سنائی۔

ایکسٹرا اسسٹنٹ کمشنر کوئٹہ کی عدالت سے بھی جرم ثابت ہونے پر ملزمان کو قید اور جرمانہ کی سزا سنائی گئی۔ بعد ازاں ملزمان نے اس فیصلہ کے خلاف فاضل سیشن جج کوئٹہ کی عدالت میں اپیل دائر کر دی۔ دوران مقدمہ ملزمان نے اپنے جرم کا انکار

صفحہ 461

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول)

نہیں کیا۔ چنانچہ 16 جون 1987ء کو ایڈیشنل سیشن جج نے ان کی اپیلوں کو خارج کرتے ہوئے ماتحت عدالت کا فیصلہ برقرار رکھا۔ قادیانی ملزمان نے ان فیصلوں کے خلاف بلوچستان ہائی کورٹ میں اپیل دائر کر دی۔ عزت مآب جناب جسٹس امیر الملک مینگل نے اس کیس کی سماعت کی۔ عدالت نے تمام قادیانیوں کی اپیلیں خارج کرتے ہوئے اپنے فیصلہ میں لکھا:

نیت کیا تھی جب وہ کلمہ طیبہ کا بیج لگا کر گلیوں کے ہجوم میں گھومتے پھرے؟ اس کی صریح وجہ یہی نظر آتی ہے کہ مذکورہ سائلان لوگوں سے یہ منوانے کا ارادہ رکھتے تھے کہ وہ مسلم ہیں۔ یہی بات ان کی طرف سے مجرمانہ نیت یا مجرم ضمیر (mens rea) کا اظہار کرتی ہے۔ لہٰذا اس مقدمے کے تسلیم کردہ واقعات کو مدنظر رکھتے ہوئے‘ اس موضوع پر بحث نہیں کی جاسکتی کہ سائلان کا یہ فعل کسی مجرمانہ ارادے یا مجرم ضمیر کے بغیر تھا کیونکہ سائلان اس بات کی کوئی دلیل بیان کرنے میں ناکام رہے ہیں کہ انہوں نے شہر کے پر ہجوم بازاروں میں چلتے پھرتے وقت کلمہ طیبہ کے بیج کس وجہ سے لگا رکھے تھے‘ سوائے اس کے کہ وہ مسلم ہونے کا بہانہ کرتے تھے یا دوسروں سے خود کو مسلم منوانا چاہتے تھے۔‘‘

مولانا نذیر احمد تونسوی نے مقدمات میں وکلاء کی شاندار معاونت کی۔ دینی غیرت وحمیت کے پیش نظر بڑی تعداد میں وکلاء صاحبان نے مقدموں کی پیروی کی۔ اس کا اصل کریڈٹ وکیل ختم نبوت چودھری اعجاز یوسف‘ زاہد مقیم انصاری‘ وکیل سرکار جناب جاوید غزنوی صاحب‘ سپیکر بلوچستان اسمبلی ملک سکندر خان ایڈووکیٹ‘ ثنا خواں اہل بیت مجاہد ختم نبوت حاجی خورشید اقبال‘ محسن جاوید راہی‘ چودھری اصغر علی گجر‘ شوکت حسین سرور‘ جاوید میر‘ اورنگ زیب‘ جناب مرزا حسن نے بھی پیروی کی۔ عدالت عالیہ کی معاونت سینئر ایڈووکیٹ جناب محمد مقیم انصاری اور جناب بشارت اللہ نے کی۔ ان کیسوں کے تمام مراحل میں خصوصی توجہ اور محنت‘ مجلس کے نائب امیر حاجی سید شاہ محمد آغا نے کی‘ وہ مقدمات کی نگرانی کرتے رہے۔ مزید برآں ممتاز علماء کرام‘ امیر عالمی

صفحہ 462

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول)

مجلس تحفظ ختم نبوت مولانا محمد منیر الدین، استاذ العلماء مولانا عبدالغفور، سینیٹر حافظ حسین احمد، مجلس کی مرکزی شوریٰ کے رکن جامع مسجد مرکزی کے خطیب مولانا انوار الحق حقانی، جامع مسجد قندھاری کے خطیب مولانا عبدالواحد، حاجی محمد زمان خان اچکزئی، مجاہد ختم نبوت مولانا عبدالحق حقانی مرحوم، مجلس کے سیکرٹری حاجی تاج محمد فیروز، جمعیت کے رہنماء مولانا نور محمد، مولانا حافظ حسین احمد شردوی اور جامع مسجد انگل روڈ کے خطیب مولانا آغا محمد حافظ محمد انور مندوخیل ہر پیشی پر عدالت میں حاضر ہوتے رہے۔ مقامی صحافیوں، روزنامہ جنگ کوئٹہ کے سینئر سٹاف رپورٹر جناب فیاض حسن سجاد، جنگ کے ایڈیٹر مجید اصغر، روزنامہ مشرق کے ایڈیٹر مقبول رانا، روزنامہ مشرق کے چیف رپورٹر راؤ محمد اقبال، روزنامہ میزان کے ایڈیٹر جمیل الرحمان، روزنامہ جسارت کے رپورٹر کاظم مینگل، روزنامہ نوائے وقت کے بزرگ صحافی عبدالعزیز بھٹی، مقامی صحافی ایوب ترین نے پیشہ ورانہ فرائض میں اپنی دینی حمیت کا ثبوت دیا۔ اللہ تعالیٰ ان سب کا حامی و ناصر ہو۔

طالب شفاعت محمدی ﷺ بروز محشر محمد متین خالد لاہور

۞.......۞.......۞

صفحہ 463

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول)

PLD 1988 Quetta 22

ہائی کورٹ آف بلوچستان، کوئٹہ

ظہیر الدین بنام حکومت پاکستان

فیصلے کا اہم نکتہ:

(298 سی) کے تحت مقدمہ درج ہوتا ہے تو وہ کہتے ہیں کہ ہماری نیت بُری نہیں تھی۔ جبکہ قادیانیوں کا شعائر اسلامی استعمال کرنا ہی ان کی طرف سے مجرمانہ نیت اور مجرم ضمیر (mens rea) کا اظہار ہے۔ کیونکہ وہ اس مجرمانہ عمل کے ذریعے خود کو مسلمان ظاہر کرنے اور دوسروں سے خود کو مسلمان منوانا چاہتے ہیں۔

صفحہ 464

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول)

PLD 1988 Quetta 22

ہائی کورٹ آف بلوچستان، کوئٹہ

(ابتدائی معلومات)

بعدالت جناب جسٹس امیر الملک مینگل

ظہیر الدین ولد عطاء الرحمٰن ، ذات قریشی ، سکنہ فلیٹ نمبر 21 سی‘ کبیر بلڈنگ‘ جناح روڈ کوئٹہ اب قیدی، سینٹرل جیل مچھ ............................ سائل

بنام

سرکار .............................................................. مسئول الیہ

رفیع احمد ولد ظفر احمد‘ ذات شیخ‘ سکنہ نہال سنگھ سٹریٹ‘ کوئٹہ اب قیدی‘ سینٹرل جیل مچھ ...............................................................سائل

بنام

سرکار .............................................................. مسئول الیہ

عبدالمجید ولد عبدالسلام ، ذات ککے زئی‘ سکنہ علی یاور سٹریٹ‘ توغی روڈ‘ کوئٹہ اب قیدی‘ سینٹرل جیل مچھ.....................................سائل

بنام

سرکار ..............................................................مسئول الیہ

صفحہ 465

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول)

عبدالرحمان خاں ولد محمد عبداللہ، ذات گلے زئی سکنہ قائد آباد کوئٹہ اب قیدی، سینٹرل جیل مچھ.................................................سائل

بنام

سرکار........................................................مسئول الیہ

چودھری حیات ولد چودھری اللہ بخش‘ ذات کشمیری بٹ‘ سکنہ گوردت سنگھ روڈ‘ کوئٹہ...........................................................سائل

بنام

سرکار........................................................مسئول الیہ

درخواستہائے نگرانی: زیر دفعات 435/439 ضابطہ فوجداری پاکستان بحکم مورخہ 16 جون 1987ء از جے۔ کے شیروانی ایڈیشنل سیشن جج درجہ اول‘ کوئٹہ بدیں وجہ سائل کی اپیل بخلاف حکم سزادہی اور ایکسٹرا اسسٹنٹ کمشنر 1 اور مجسٹریٹ درجہ اول کوئٹہ کی طرف سے صادر شدہ سزا برقرار رہی اور سائل کی اپیل خارج کر دی گئی۔

سائل: ظہیر الدین و دیگران بذریعہ مجیب الرحمان ایڈووکیٹ مددگار وکلا: مبارک احمد، سید علی احمد طارق، خالد ملک، احسان الحق اور مرزا عبدالرشید ایڈووکیٹ صاحبان۔ مسئول الیہ: سرکار، بذریعہ چودھری محمد اعجاز یوسف ایڈووکیٹ ...... محمد مقیم انصاری اور بشارت اللہ ایڈووکیٹ صاحبان بطور معاون عدالت ۔

تاریخ ہائے سماعت: 19 ستمبر 1987ء، 3 اکتوبر تا 5 اکتوبر 1987ء تاریخ فیصلہ: 22 دسمبر 1987ء

صفحہ 466

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول)

فیصلہ

جسٹس امیر الملک مینگل

میں اس واحد فیصلے کے ذریعے مندرجہ ذیل فوجداری نگرانیوں کے تصفئے تجویز کرتا ہوں کیونکہ درخواستیں حقائق اور قانون کے مشترکہ مسئلے پر مبنی ہیں۔

ان درخواستوں کی بنیاد ان متعلقہ واقعات پر ہے کہ مذکورہ سائلوں کے خلاف مختلف ایف۔آئی۔آر درج کی گئیں، جن میں ایک ہی طرح کے الزامات ہیں کہ انہوں نے احمدی (قادیانی) ہونے کے باوجود ”کلمہ طیبہ“ کے بیج لگائے۔ چنانچہ ایکسٹرا اسسٹنٹ کمشنر 1 اور سٹی مجسٹریٹ کوئٹہ کی عدالتوں میں ان کے چالان پیش کیے گئے اور مقدمات کی سماعت ہوئی۔ بعدازاں ان کا جرم ثابت ہونے پر تعزیرات پاکستان کی دفعہ 298۔سی کے تحت فرداً فرداً ہر سائل کو ایک سال قید بامشقت کے علاوہ ایک ہزار روپے فی کس جرمانہ کی سزا سنائی گئی، جس کی عدم ادائیگی کی صورت میں مزید ایک ماہ قید بامشقت دی جانی تھی۔

مذکورہ سائلان احمدی (قادیانی) ہیں اور انہوں نے واقعی کلمہ طیبہ کے بیج لگائے ہوئے تھے۔ سماعت مقدمہ کے دوران اس امر واقعہ سے کسی نے بھی انکار نہیں کیا۔

صفحہ 467

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول)

ان سائلان نے متعلقہ حکم سزا دہی سے بے اطمینان ہو کر فاضل سیشن جج کوئٹہ کی عدالت میں اپیل کرنے کو ترجیح دی‘ جنہوں نے اس کو ایڈیشنل سیشن جج 1 کوئٹہ کے پاس منتقل کر دیا۔ اپیل کنندگان کی سماعت کے بعد فاضل ایڈیشنل سیشن جج 1 کوئٹہ نے ان اپیلوں کو خارج کر دیا۔ دیکھئے ان کا حکم مورخہ 16 جون 1987ء۔

یہ تمام درخواستیں بمطابق احکام مذکورہ مورخہ 10 جولائی 1986ء صادر کردہ سٹی مجسٹریٹ اور حکم مورخہ 16 جون 1987ء صادر کردہ ایڈیشنل سیشن جج 1 کوئٹہ داخل دفتر کی گئیں۔

ان سائلان کے فاضل وکیل مجیب الرحمان نے بہت سے ایسے قانونی سوالات اٹھائے جو عوامی اہمیت کے حامل تھے‘ جس پر عدالت نے محمد مقیم انصاری اور بشارت اللہ ایڈووکیٹ صاحبان کو بطور معاون عدالت مقرر کیا۔ علاوہ ازیں اعجاز یوسف نے بطور سرکاری وکیل بحث میں حصہ لیا۔

مزید کارروائی کے آغاز سے پیشتر یہ مناسب ہوگا کہ ان ابتدائی قانونی اعتراضات کا تصفیہ کر لیا جائے جو سائلوں کے فاضل وکیل مجیب الرحمان نے اٹھائے۔ یہ استدلال بڑا زور دے کر پیش کیا گیا کہ چونکہ اپیل کنندگان کی طرف سے دائر کردہ پانچ مختلف اپیلوں کا ایک مشترک فیصلے سے تصفیہ کیا گیا ہے‘ لہٰذا فاضل عدالت مرافعہ نے ضابطہ فوجداری پاکستان کی دفعہ 367 بشمول دفعہ 424 کی شرائط کی خلاف ورزی کرتے ہوئے قانونی غلطی کا ارتکاب کیا ہے۔ فاضل وکیل نے ”ہر ایک سماعت مقدمہ“ کے الفاظ کا حوالہ دیتے ہوئے‘ جو دفعہ 366 ضابطہ فوجداری پاکستان میں استعمال ہوئے‘ اظہار رائے کیا کہ مجموعہ ضابطہ فوجداری کے تحت مختلف عدالتی فیصلوں کی یکجائی کا کوئی تصور نہیں پایا جاتا۔ اس کے ساتھ ہی یہ بھی حلفاً بیان کیا گیا کہ اگر ایک مشترکہ عدالتی فیصلہ تحریر کیا جائے تو اس صورت میں بھی ضروری ہے کہ متعلقہ جج انفرادی طور پر ہر ملزم کے مقدمے کو الگ الگ زیر بحث لائے اور ان کے ریکارڈ پر موجود متعلقہ مواد کا حوالہ بھی دیا جائے۔ علاوہ ازیں یہ حجت بھی پیش کی گئی کہ اگر کوئی جج فرداً فرداً ہر ملزم کی

صفحہ 468

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول)

شہادت کو الگ الگ اور امتیازی طور پر زیر بحث لائے بغیر اور ہر ایک ملزم سے متعلقہ شہادت کا انفرادی حوالہ دیئے بغیر کوئی مشترکہ عدالتی فیصلہ صادر کرتا ہے تو وہ غلط ہو جاتا ہے اور یوں ان احکام کے ساتھ منسوخ کر دیئے جانے کا مستوجب ہوتا ہے کہ ماتحت عدالت از سر نو تحقیقات کر کے اس مقدمے کو دوبارہ تحریر کرے۔ مندرجہ ذیل مقدمات کے حوالہ جات پیش کیے گئے:

مقدمے میں یہ بات ملحوظ رکھی گئی کہ دو مقابل مقدموں کا ایک عدالتی فیصلے سے تصفیہ غیر قانونی نہیں ہے۔ تاہم یہ احتیاط ضروری ہے کہ ہر مقدمے کو ریکارڈ پر موجود مواد کے پیش نظر علیحدہ طور پر نمٹایا جائے اور اس میں دوسرے مقدمے کے ریکارڈ اور مواد کا حوالہ نہ دیا جائے۔

جن میں یہ قرار دیا گیا کہ جب دو اپیلوں کی یکجا سماعت کی جاتی ہے تو ہر اپیل کنندہ کو یہ حق حاصل ہوتا ہے کہ اس کے مقدمے کو علیحدہ اور انفرادی طور پر زیر غور لایا جائے۔

جس میں اس بات کو ملحوظ رکھا گیا کہ اگر عدالت مرافعہ کے فیصلے میں نہ مقدمے کے واقعات بیان ہوں، نہ عدالتی فیصلے کے تجویزی نکات درج ہوں، اور نہ شہادت کو زیر بحث لایا گیا ہو تو اس اپیل کے بارے میں یہ نہیں کہا جا سکتا کہ اس کا بتقاضائے قانون تصفیہ ہوا ہے۔

کریمنل لاء جرنل 1968ء صفحہ 776، یہ بھی ظاہر کرتا ہے کہ عدالت مرافعہ نے چھ مختلف اپیلوں کو نمٹاتے ہوئے ”ہر جگہ لاگو“ قسم کا فیصلہ (Omnibus Judgment) صادر کیا تو کہا گیا کہ اس طرح ضابطہ فوجداری تعزیرات پاکستان کی متعلقہ شرائط کی تعمیل نہیں کی گئی اور مقدمہ ماتحت عدالت کو بھجوایا گیا تا کہ ہر معاملے کی انفرادی شہادت کے مطابق از سر نو سماعت مقدمہ کے بعد علیحدہ علیحدہ فیصلہ صادر کیا جائے۔

صفحہ 469

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول)

'ڈھاکہ 549' کا سہارا لیا گیا، جس میں یہ قرار دیا گیا تھا کہ آخری عدالت مرافعہ بربنائے واقعات اپنے عدالتی فیصلے میں کم از کم اتنی توضیح تو کرے جس سے معلوم ہو کہ متعلقہ شہادت کے مطابق غور وخوض کے بعد فیصلہ ہوا ہے اور جس سے کم از کم عدالت نگرانی کو یہ فیصلہ کرنے میں سہولت ہو کہ آیا سماعت مقدمہ میں شہادت کو مناسب حد تک جانچنے پرکھنے کا عمل بروئے کار آیا تھا یا آتا رہا ہے اور یہ کہ آیا وہ تمام نکات جن پر فیصلہ صادر ہونا تھا، آخری عدالت مرافعہ بربنائے واقعات کے زیر بحث آ چکے ہیں۔

متذکرہ بالا تمام عدالتی فیصلوں کے مطالعے اور دفعہ 424 ضابطہ فوجداری پاکستان کے جائزے سے اس بات کا لحاظ کیا جاسکتا ہے کہ عدالت مرافعہ کا فیصلہ ایسا ہونا چاہیے جو ریکارڈ پر موجود متعلقہ مواد سے سروکار رکھتا ہو اور اس میں وہ دلائل بھی شامل ہوں جن کی بناء پر فرداً فرداً ہر ملزم کے متعلق اختتامی فیصلہ کرتے وقت نتائج اخذ کیے گئے ہوں۔ اس کا ایک اور مقصد یہ نظر آتا ہے کہ عدالت مرافعہ کا فیصلہ ایسا ہو کہ ہائیکورٹ بوقت نگرانی متعلقہ ریکارڈ سے رجوع کیے بغیر مقدمے کی نوعیت کو پوری طرح سمجھنے کے قابل ہو سکے۔ اگر کوئی عدالتی فیصلہ ریکارڈ کے مواد سے مناسبت رکھتا ہو اور اس میں قانون کی متعلقہ دفعات پر بحث و تمحیص کا احاطہ کرتے ہوئے وہ دلائل بھی بیان ہوں، جن کی بناء پر نتائج اخذ کیے گئے تو ایسے فیصلے کے متعلق یہ نہیں کہہ سکتے کہ وہ دفعہ 424 ضابطہ فوجداری پاکستان کی خلاف ورزی کر کے صادر کیا گیا ہے۔

محولہ بالا تمام مقدمات کے ملحوظات کا موجودہ مقدمے پر اطلاق کرتے ہوئے یہ نشاندہی کی جاسکتی ہے کہ فاضل عدالت مرافعہ نے اس مقدمے کے قانونی اور واقعاتی پہلوؤں کو بالکل مدنظر رکھا ہے۔ چونکہ تمام سائلوں نے اس امر کا اعتراف کیا ہے کہ انہوں نے قادیانی ہوتے ہوئے کلمہ طیبہ کے بیج لگائے ہوئے تھے لہذا اسی نکتے کا تعین ہونا تھا کہ آیا انہوں نے دفعہ 298-سی تعزیرات پاکستان کے مفہوم کے مطابق جرم کا ارتکاب کیا ہے یا نہیں۔ یہ نکتہ ان تمام اپیلوں میں مشترکہ تھا لہذا یہ نہیں کہا جاسکتا کہ ان کے مشترک عدالتی فیصلے سے مذکورہ اپیل کنندگان کے ساتھ کسی بھی طرح کا تعصب برتا

صفحہ 470

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول)

گیا‘ یا یہ کہ فاضل عدالت مرافعہ ضابطہ فوجداری پاکستان کی دفعات 367 اور 424 کی مطلوبہ شرائط کی پابندی کرنے میں ناکام رہی۔ میں نے عدالت مرافعہ کے عدالتی فیصلے کو ان دلائل کی روشنی میں بغور پڑھا ہے‘ جو سائلان کے فاضل وکیل نے پیش کیے‘ اور مجھے یہ باور کرنے کی کوئی وجہ دکھائی نہیں دیتی کہ اس فیصلے میں ضابطہ فوجداری پاکستان کی دفعہ 424 کی خلاف ورزی ہوئی ہے۔ اس کا سبب یہ ہے کہ ان کے جرم کی نوعیت یکساں ہے یعنی ہر سائل نے احمدی ہونے کے باوجود کلمہ طیبہ کا بیج لگایا ہوا تھا‘ لہٰذا شہادت پر بحث وتمحیص کے استصواب کا موقع نہ تھا‘ جیسا کہ استغاثہ نے راہنمائی کی ہے‘ اور اس کی دلیل یہ ہے کہ ابتدائی سماعت مقدمہ میں تمام سائلوں نے متعلقہ مجسٹریٹ کے سامنے یہ بات تسلیم کی تھی کہ وہ احمدی ہیں اور انہوں نے واقعی کلمہ طیبہ کے بیج لگائے ہوئے تھے۔ ان سب کا ایک ہی مشترکہ موقف تھا کہ ایسا کرتے ہوئے انہوں نے درحقیقت کسی جرم کا ارتکاب نہیں کیا۔ چونکہ ان پانچوں درخواستوں میں فیصلے کا تعین کرنے کا یہی نکتہ تھا کہ آیا احمدیوں (قادیانیوں) کے کلمہ طیبہ کا بیج لگانے کا فعل دفعہ 298۔سی تعزیرات پاکستان کے دائرہ نظر میں جرم قرار پاتا ہے یا نہیں‘ لہٰذا ان سب کے لیے ایک مشترکہ عدالتی فیصلہ کسی قانونی کمزوری کا حامل نہیں ہوا۔ مزید برآں کسی بھی سائل کے ساتھ بے انصافی نہیں کی گئی۔ لہٰذا مجھے اس ابتدائی قانونی عذر داری پر مذکورہ عدالتی فیصلے کو خارج کرنے کی کوئی وجہ دکھائی نہیں دیتی۔

بعد ازاں مجیب الرحمان نے ایک اور حجت پیش کی کہ چونکہ سائلوں پر لگایا جانے والا الزام ناقص تھا‘ لہٰذا ان کے لیے سزا دہی کا حکم جائز نہیں ہے۔ فاضل وکیل کے بموجب مجسٹریٹ نے فرد جرم لگاتے وقت ضابطہ فوجداری تعزیرات پاکستان کے باب XIX‘ اور خصوصاً دفعہ 223 کی شرائط کی خلاف ورزی کی۔ فاضل وکیل نے یہ ادعا بھی کیا کہ سائلوں کو جو فرد جرم پڑھ کر سنائی گئی‘ وہ دفعہ 342 ضابطہ فوجداری تعزیرات پاکستان کے تحت ان سے پوچھے گئے سوالات سے مختلف تھی۔ نزاع اس بات پر تھا کہ سائلوں سے ان کے بیانات قلمبند کرتے ہوئے زیر دفعہ 342

صفحہ 471

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول)

فوجداری تعزیرات پاکستان، جس طرح کے سوالات کیے گئے‘ وہ ان سے نہیں پوچھے جاسکتے تھے‘ تاوقتیکہ پہلے فرد جرم میں اس کے مطابق ترمیم کر لی جاتی۔ متذکرہ بالا نزاع کو جانچنے کے لیے بہتر ہوگا کہ سائلوں کے خلاف فرد جرم کو یہاں پیش کر دیا جائے‘ جو اس طرح سے تھی:

”تم پر یہ الزام ہے کہ تم نے قادیانی / لاہوری (مرزائی) ہوتے ہوئے کلمہ طیبہ کا بیج لگا کر زیر دفعہ 298۔سی تعزیرات پاکستان کی خلاف ورزی کی ہے۔ کیا تم جرم سے انکار کرتے ہو یا اقرار کرتے ہو۔“

سائلوں سے زیر دفعہ 342 ضابطہ فوجداری تعزیرات پاکستان جو متعلقہ سوال کیا گیا‘ وہ یوں تھا:

س...... ”کیا یہ درست ہے کہ تم نے کلمہ طیبہ کا بیج لگا کر قادیانی ہونے کے ناتے مسلمانوں کی دل آزاری کی ہے۔ اس لیے تم نے جرم 298۔سی تعزیرات پاکستان کا ارتکاب کیا ہے؟“

مجیب الرحمان نے خاصے زوردار لہجے میں اصرار کیا کہ ملزمان / سائلان سے زیر دفعہ 342 فوجداری تعزیرات پاکستان دریافت کردہ سوال‘ اور فرد جرم کی عبارت میں صریحاً تناقضات پائے جاتے ہیں۔ فاضل وکیل کے بموجب جواب دہی کے مرحلے میں یہ بات سائلوں سے خالص تعصب برتنے کا باعث بنی‘ درآنحالیکہ ان کی غلط راہنمائی کی گئی۔

ضابطہ فوجداری کی اس دفعہ کا بغور مطالعہ کرنے کے بعد‘ جو ملزم پر فرد جرم لگانے سے تعلق رکھتی ہے‘ اس کا ناقابل تردید نتیجہ یہ نکلے گا کہ فرد جرم سنانے کا محض یہی مقصد دکھائی دیتا ہے کہ جس شخص کو ملزم قرار دیا جائے‘ وہ اپنے اوپر عائد شدہ ان الزامات کو بخوبی جاننے کے قابل ہو جائے‘ جن کا اسے سامنا کرنا پڑے گا‘ اور جن کے لیے اسے شہادت لیتے وقت تیار رہنا چاہیے۔ اس سیاق و سباق میں قانونی ضرورت یہ ہوگی کہ ملزم کو اس جرم کے کوائف مع واقعاتی درستی اور تیقن کے مہیا کر

صفحہ 472

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول)

دیئے جائیں، جس کا اس پر الزام ہو۔ اگر ملزم ان الزامات سے بخوبی واقف ہو جائے جو استغاثہ اس کے خلاف ثابت کرنا چاہتا ہے، اور وہ اس اصلی فرد جرم کو بھی جان لے، جس کا اسے سامنا کرنا ہے، تو ملزم پر متعلقہ فرد جرم عائد کرنے کا مقصد بالکل پورا ہو جائے گا۔

مقدمہ سردار گیان سنگھ بنام شہنشاہ بمطابق اے۔ آئی۔ آر 1938ء لاہور 828، اور مقدمہ محمد احسان خاں بنام سرکار بمطابق 1968ء پاکستان کریمنل لاء جرنل 759، پر انحصار کرتے ہوئے فاضل وکیل نے دلیل پیش کی کہ ملزم پر فرد جرم لگاتے وقت اسے یہ بھی خاص طور پر بتانا لازمی ہے کہ اس نے جرم کا ارتکاب کس ”طریقے“ سے کیا۔ میں نے مذکورہ بالا دو عدالتی فیصلوں کا بغور مطالعہ کیا ہے۔ اتفاق سے ان دونوں کا تعلق جرم فریب دہی سے ہے اور ان دونوں متذکرہ مقدموں میں اس قانونی ضرورت کا لحاظ رکھا گیا ہے کہ ضابطہ فوجداری کی دفعہ 223 میں استعمال ہونے والا لفظ ”طریقہ“ (بمعنی انداز) جرم فریب دہی کے حوالے سے ہر اس جزو ترکیبی کو شامل کرتا ہے جس کی بدولت وہ عمل محض ایک غیر فوجداری دھوکا (بمعنی دغا یا مغالطہ دہی) بن کر منقطع یا ختم ہو جاتا ہے اور دفعہ 415 تعزیرات پاکستان کے مفہوم میں فریب دہی کا جرم بن جاتا ہے، اور یوں اس کا شکار ہونے والے کے جسم، ذہن، شہرت یا جائیداد پر اس دھوکے کی اثر پذیری اس جرم فریب دہی کے طریقے کا ایک حصہ بن جاتی ہے۔

اس مقدمے کے واقعات کو متذکرہ بالا مقدمات میں کیے گئے مشاہدات کی روشنی میں جانچتے ہوئے اور ضابطہ فوجداری تعزیرات پاکستان میں محفوظ دفعات کو بھی مدنظر رکھتے ہوئے میں نے یہی رائے قائم کی ہے کہ سائلوں پر فرد جرم بالکل مناسب طور پر عائد کی گئی ہے اور صفائی پیش کرنے کے مرحلے میں سائلوں کو کسی بھی انداز سے گمراہ نہیں کیا گیا۔ دفعہ 342 فوجداری تعزیرات پاکستان کے تحت جو سوالات پوچھے گئے، ان میں خفیف سی تبدیلی سے سائلوں کو اپنی صفائی پیش کرنے میں کسی بھی طرح کی معذوری نہیں ہوئی، کیونکہ اس طرح پوچھے گئے سوالات لب لباب کے لحاظ سے باہم

صفحہ 473

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول)

مماثل تھے اور دفعہ 298-سی تعزیرات پاکستان کے اجزائے ترکیبی پر محیط تھے۔ سائلوں کو اس بات کا بخوبی علم تھا کہ وہ تعزیرات پاکستان کی دفعہ 298-سی کے تحت عائد شدہ فرد جرم کا سامنا کر رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان سب نے ایک مشترکہ عذر پیش کیا کہ انہوں نے کلمہ طیبہ کا بیج لگا کر قانون کے تحت کسی جرم کا ارتکاب نہیں کیا‘ کیونکہ کلمہ طیبہ ان کے مذہب کا ایک حصہ ہے۔ میں یہ بات سمجھنے میں ناکام رہا ہوں کہ سائلوں کو اپنی صفائی پیش کرنے سے کس طرح روکا گیا یا ان سے زیر دفعہ 342 مجموعہ ضابطہ فوجداری جو سوالات کیے گئے‘ ان میں کس انداز سے تعصب برتا گیا۔ لہٰذا اس کا یہی نتیجہ نکلا کہ مذکورہ عذر داری قانونی لحاظ سے مستحکم نہیں‘ چنانچہ اس کو مسترد کیا جاتا ہے۔

اس سے ہمیں ایک ایسے مشقی سوال کی طرف رہنمائی ملتی ہے جو تعین کا متقاضی ہے اور جسے یوں پیش کیا جا سکتا ہے:

آیا ان سائلوں نے‘ جو قادیانی تھے‘ کلمہ طیبہ کا بیج لگا کر دفعہ 298-سی کے مفہوم کے مطابق کسی جرم کا ارتکاب کیا ہے؟

اس نکتے پر مجیب الرحمان اور فاضل معاونِ عدالت نے طویل اور ماہرانہ بحث کا آغاز کیا۔ مجیب الرحمان نے اس سلسلے میں جو نزاعات اٹھائے‘ ان کا خلاصہ یہاں پیش کیا جاتا ہے:

جرم کے ذیل میں نہیں آتا‘ کیونکہ دفعہ 298-سی تعزیرات پاکستان میں صریحی طور پر کلمہ طیبہ کا ذکر نہیں کیا گیا‘ اور متن کی لفظی تعبیر کے اصول پر یہ نتیجہ اخذ نہیں کیا جا سکتا کہ یہ بھی تعزیراتِ پاکستان کی دفعہ 298-سی کا حصہ بنتا ہے۔

بلکہ دیدہ و دانستہ ایسا ہوا ہے۔ قانون ساز ادارہ (مقننہ) اس بات سے بخوبی واقف تھا کہ کلمہ طیبہ کہنا یا پڑھنا مسلمانوں اور احمدیوں کے درمیان ایک

صفحہ 474

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول)

مشترکہ عمل ہے۔

بھی موضوع کے حق میں ہونی چاہیے۔ ماتحت عدالتوں کی طرف سے اصول "Expressio Unius Est Exclusio Alterious" یعنی ذکر صریح اخراج معنوی کا مناسب حد تک احساس نہیں کیا گیا۔

"Ejusdem Generis" (یعنی ہم قسم یا ہم نوعیت) اور "Noscitur Associis" کے اصولوں کا اطلاق ہوسکتا ہے۔

بار آیا ہے‘ اکثر اوقات تشریحی اور توضیحی صورت میں استعمال ہوا ہے (اس لفظ کو زیادہ تر نہ تو حرفِ عطف (Conjunction) کے طور پر برتا گیا ہے اور نہ بطور حرفِ افتراق (Disjunction)۔ تاہم فاضل وکیل نے گزارش کی کہ تعزیرات پاکستان کی دفعہ 298۔سی میں محض تین جرموں کا ثبوت ملتا ہے۔

موجودہ مقدمے میں مفقود ہے۔

اس کے برعکس فاضل معاون عدالت (Amicus Curiae) محمد مقیم انصاری اور بشارت اللہ نے طویل بحث کا آغاز کیا۔ انہوں نے جو دلائل پیش کئے‘ ان کے نمایاں خدوخال کا خلاصہ یہاں درج کیا جاتا ہے:

دفعات میں استعمال شدہ الفاظ کے لفظی (لغوی) یا صرفی نحوی (گرامری) معانی کی مزید تعبیر وتشریح کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔

Ejusdem Generis (ہم نوعیت) اور Noscitur Associis

صفحہ 475

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول)

کا اصول یہاں قابل اطلاق نہیں ہیں، کیونکہ مقننہ کی نیت مطلقاً واضح ہے۔

نے گزارش کی کہ تعزیرات پاکستان کی دفعات 298۔بی اور 298۔سی الگ الگ (مستقل) دفعات ہیں اور ان سے جدا جدا جرموں کا تعین ہوتا ہے۔ دفعہ 298۔بی کا تعلق مقدس ناموں، القابوں اور مقامات کے تحفظ سے ہے، جبکہ دفعہ 298۔سی میں ان جرائم کی تفصیل ہے جو عمومی طرز عمل سے متعلق ہیں۔

نیت کا استنباط کرنے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ کسی مخصوص قانون موضوعہ (Statute) کی تمہید دیکھ لی جائے جو اس مقننہ کی نیت معلوم کرنے کے لیے ایک رہنما اصول فراہم کرتی ہے۔

فریقین کے فاضل وکیل نے جو نزاعات اٹھائے ہیں، ان کی جانچ پرکھ کرنے کی غرض سے اس مرحلے پر مناسب ہوگا کہ آرڈیننس نمبر 20 مجریہ 1984ء یہاں پیش کیا جائے جو مندرجہ ذیل ہے:

Anti - Islamic Activities of Qadyani Group, Lahori Group and Ahmadis. (Prohibition and Punishment) Ordinance, 1984.

(یعنی قادیانی گروپ، لاہوری گروپ اور احمدیوں کی اسلام دشمن سرگرمیوں کا امتناعی اور تعزیری آرڈیننس، مجریہ 1984ء)

”اس آرڈیننس کا مقصد موجودہ قانون میں ترمیم ہے تاکہ قادیانی گروپ، لاہوری گروپ اور احمدیوں کو اسلام دشمن سرگرمیوں میں ملوث ہونے سے روکا جائے۔ (گزٹ آف پاکستان، غیر معمولی، حصہ اول، 26 اپریل 1984ء) نمبر ایف 17 (1) / 84 اشاعت :....... مندرجہ ذیل آرڈیننس جاری کردہ صدر مملکت بذریعہ ہٰذا اطلاع عامہ کے لیے شائع کیا جاتا ہے: ہرگاہ یہ امر قرین مصلحت ہے کہ قادیانی گروپ، لاہوری گروپ اور احمدیوں

صفحہ 476

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول)

کو اسلام دشمن سرگرمیوں میں ملوث ہونے سے روکنے کے لیے قانون میں ترمیم کی جائے۔

اور ہر گاہ صدر مملکت کو ایسے حالات کی موجودگی کے بارے میں کوئی شبہ نہیں جو فوری اقدام کی ضرورت کے متقاضی ہیں۔

لہٰذا اب صدر مملکت نے 5 جولائی 1977ء کے اعلان کی پیروی میں، اور ان تمام اختیارات کو استعمال کرتے ہوئے جو انہیں اس سلسلے میں حاصل ہیں، بخوشی مندرجہ ذیل آرڈیننس کو تشکیل کر کے مشتہر کیا ہے۔

حصہ اول

ابتدائیہ

مختصر عنوان اور آغاز نفاذ

سرگرمیاں (امتناع وتعزیر) آرڈیننس 1984ء کے نام سے موسوم ہوگا۔

حصہ دوم

مجموعہ تعزیرات پاکستان

(ایکٹ نمبر 45 بابت 1860ء) کی ترمیم

3۔ ایکٹ نمبر 45 بابت 1860ء میں نئی دفعات

298۔ب اور 298۔ج کا اضافہ

مجموعہ تعزیرات پاکستان (ایکٹ نمبر 45، 1860ء میں باب 15 میں، دفعہ 298 الف کے بعد حسب ذیل نئی دفعات کا اضافہ کیا جائے گا۔ یعنی...........

298۔ب: بعض مقدس شخصیات یا مقامات کے لیے

صفحہ 477

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول)

مخصوص القاب‘ اوصاف یا خطابات وغیرہ کا ناجائز استعمال

موسوم کرتے ہیں) کا کوئی شخص جو الفاظ کے ذریعے‘ خواہ زبانی ہوں یا تحریری یا مرئی نقوش کے ذریعے۔

خلیفہ المسلمین‘ صحابی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے طور پر منسوب کرے یا مخاطب کرے۔

پر منسوب کرے یا مخاطب کرے۔

اسے کسی ایک قسم کی سزائے قید اتنی مدت کے لیے دی جائے گی جو تین سال تک ہو سکتی ہے اور وہ جرمانے کا بھی مستوجب ہوگا۔

کرتے ہیں) کا کوئی شخص جو الفاظ کے ذریعے خواہ زبانی ہوں یا تحریری یا مرئی نقوش کے ذریعے اپنے مذہب میں عبادت کے لیے بلانے کے طریقے یا صورت کو اذان کے طور پر منسوب کرے یا اس طرح اذان دے جس طرح مسلمان دیتے ہیں تو اسے کسی ایک قسم کی سزائے قید اتنی مدت کے لیے دی جائے گی جو تین سال ہو سکتی ہے اور وہ جرمانے کا مستوجب بھی ہوگا۔

298۔ ج: قادیانی گروپ وغیرہ کا شخص جو خود کو مسلمان کہے

یا اپنے مذہب کی تبلیغ یا تشہیر کرے۔

قادیانی گروپ یا لاہوری گروپ (جو خود کو احمدی یا کسی دوسرے نام سے موسوم کرتے ہیں) کا کوئی شخص جو بلا واسطہ یا بالواسطہ خود کو مسلمان ظاہر کرے یا اپنے مذہب کو اسلام کے طور پر موسوم کرے یا منسوب کرے یا الفاظ کے ذریعے خواہ زبانی ہوں یا تحریری یا مرئی نقوش کے ذریعے اپنے مذہب کی تبلیغ یا تشہیر کرے یا دوسروں کو اپنا

صفحہ 478

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول)

مذہب قبول کرنے کی دعوت دے یا کسی بھی طریقے سے مسلمانوں کے مذہبی احساسات کو مجروح کرے‘ کو کسی ایک قسم کی سزائے قید اتنی مدت کے لیے دی جائے گی جو تین سال تک ہو سکتی ہے‘ اور جرمانے کا بھی مستوجب ہوگا۔

ابتداء میں سائلوں کے فاضل وکیل نے شدت سے زور دے کر یہ بات کہی تھی کہ کسی بھی وضع شدہ قانون میں استعمال کیے گئے الفاظ کے حقیقی معانی کی تعبیر کرنے اور مقننہ (ادارۂ قانون ساز) کی نیت (یعنی ارادہ) معلوم کرنے کے لیے یہ ایک تصفیہ شدہ اصول ہے کہ اس قانونِ موضوعہ کو لازماً مجموعی طور پر پڑھا جائے۔ فاضل وکیل نے اس قانونی منطقی جملے پر مزید بحث کرتے ہوئے کہا کہ دفعہ 298۔بی اور دفعہ 298۔سی دونوں اس قانونِ موضوعہ یعنی آرڈیننس 20 مجریہ 1984ء کا حصہ ہیں‘ لہٰذا جب اس میں ابہام ہے (فاضل وکیل کے بموجب تعزیرات پاکستان کی دفعہ 298۔سی کے الفاظ مبہم ہیں) تو دفعہ 298۔بی تعزیرات پاکستان کے حوالے سے بھی اس کی ویسی تعبیر کرنی چاہیے۔ مزید حجت پیش کرتے ہوئے کہا گیا کہ قادیانیوں کے صرف انہی کاموں کو زیر دفعہ 298۔بی تعزیرات پاکستان ممنوع قرار دیا گیا ہے‘ جن کو زیر دفعہ 298۔سی قابلِ سزا بنایا گیا ہے۔ فاضل وکیل کے بموجب ایک قادیانی یا احمدی‘ جس کے متعلق زیر دفعہ 298۔سی تعزیرات پاکستان یہ کہا گیا کہ وہ اپنے آپ کو مسلم (یا مسلمان) ظاہر کرتا ہے‘ اگر وہ رسول کریم حضرت محمد (ﷺ) کے کسی خلیفہ یا صحابی کے علاوہ کسی شخص کو ”امیر المومنین“، ”خلیفۃ المومنین“، ”خلیفۃ المسلمین“، ”صحابی“ یا ”رضی اللہ عنہ“ کے الفاظ سے موسوم کرتا یا خطاب کرتا ہے یا اسی ضمن میں اپنی عبادت گاہ کو مسجد کہتا ہے‘ وغیرہ جن کا تذکرہ دفعہ 298۔بی (1)‘ (الف)‘ (ب)‘ (ج) اور (د) میں کیا گیا ہے۔ اس طرح سے فاضل وکیل نے یہ نتیجہ اخذ کرنے کی کوشش کی کہ چونکہ کلمہ طیبہ پڑھنے یا کلمہ طیبہ کا بیج لگانے کا دفعہ 298۔بی کے تحت کسی بھی شق میں تذکرہ نہیں کیا گیا‘ لہٰذا ان چیزوں کو تعزیرات پاکستان کی دفعہ 298۔سی میں مشمولہ جرائم قیاس نہیں کیا جا سکتا۔ مسلّمہ قانونی "expresso unius exclusio

صفحہ 479

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول)

"alterius کی طرف رجوع کرتے ہوئے حجت پیش کی گئی کہ دفعہ 298۔سی کی شرائط عمومی نوعیت کی ہیں، جبکہ دفعہ 298۔بی میں مذکور جرائم خصوصی قسم کے ہیں، لہٰذا خصوصی عمومی کو خارج کرتا ہے اور اس طرح دفعہ 298۔سی میں صرف انہی کاموں کو جرائم قرار دیا گیا ہے جو دفعہ 298۔بی تعزیرات پاکستان میں واضح اور خصوصی طور پر مذکور ہوئے ہیں۔ سائلوں کے وکیل نے جو بحث کی اس کا ایک ٹکڑا یہ ہے کہ عدالت کا یہ کار منصبی نہیں ہے کہ وہ قانون موضوعہ میں ان لفظوں کا اضافہ کرے جو مقننہ نے بصورت دیگر نظر انداز کر دیئے ہوں۔ چونکہ کلمہ طیبہ کا تذکرہ موجود نہیں ہے، بلکہ دفعہ 298۔سی تعزیرات پاکستان میں اس کو نظر انداز کیا گیا ہے، لہٰذا مذکورہ دفعہ میں اس کی توسیع یا اضافہ نہیں کیا جا سکتا۔ درحقیقت فاضل وکیل، تعبیر کے ایک ایسے ضابطے کی تفصیل بیان کر رہے تھے جو بخوبی تصفیہ شدہ ہے کہ جرم کو کنایتاً وجود میں نہیں لایا جا سکتا۔

متذکرہ بالا نزاع کی تائید میں فاضل وکیل نے مقدمہ خضر حیات بنام کمشنر سرگودھا ڈویژن و دیگران (پی ایل ڈی 1965ء لاہور 349) پر انحصار کیا۔ اس مذکورہ مقدمے میں قرار دیا گیا تھا کہ یہ ایک طے شدہ قانونی نکتہ ہے کہ عدالتیں کسی مقدمے کو نمٹانے کے لیے کسی قانون موضوعہ میں توسیع نہیں کر سکتیں جس کے لیے پہلے سے صریح اور غیر مبہم قانونی دفعہ یا شرط تجویز نہ کی گئی ہو۔ اس سلسلے میں (برطانوی کتاب) Craies on Statute Law (ساتواں ایڈیشن) کے صفحہ 70 سے مندرجہ ذیل عبارت بھی نقل کی گئی:

’’اس موضوع پر اسناد (یا مقتدرات) وافر اور متفق الرائے ہیں۔ لارڈ ہیلسبری نے مقدمہ میرزی ڈوکس بنام ہنڈرسن میں کہا کہ کوئی ایسا کیس قائم نہیں کیا جا سکتا جو کسی عدالت کو کسی لفظ میں رد و بدل کرنے کا مجاز بنا دے جس سے ایک "Casus omissus" پیدا ہو جائے۔ مقدمہ کرافورڈ بنام سپونز میں جوڈیشل کمیٹی (عدالتی مجلس) نے کہا: ہم کسی ایکٹ (قانون) میں قانون ساز ادارے کے نامکمل (یا ناقص) فقروں میں اعانت نہیں کر

صفحہ 480

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول)

سکتے۔ ہم اس میں کوئی اضافہ یا ترمیم نہیں کر سکتے‘ اور نہ کوئی توجیہ یا تاویل کر کے اس میں پائی جانے والی کمیوں کو پورا کر سکتے ہیں۔ 1951ء میں مقدمہ میگور اینڈ سینٹ میلنز آر۔ڈی۔سی بنام نیو پورٹ کارپوریشن میں ہاؤس آف لارڈز (دارالامراء) نے قرار دیا کہ کوئی عدالت اس بات کی مجاز (یا مختار) نہیں کہ وہ کسی ایکٹ کے انکشاف شدہ خلاؤں کو پُر کرے۔ ایسا کرنا اس ادارۂ قانون ساز کے کارِ منصبی کو غصب کرنے کے مترادف ہوگا۔“

مقدمہ قاسو مع دو افراد بنام سرکار بمطابق رپورٹ پی ایل ڈی 1969ء لاہور 48 اور متعلقہ مشاہدات بمطابق صفحہ 52 میں اس طرح لکھا ہے:

”یہ ایک اصول متعارفہ (یعنی امر بدیہی) ہے کہ کسی قانون موضوعہ میں کچھ بھی نہیں بڑھایا جاتا اور کوئی الفاظ اس میں ملا کر نہیں پڑھے جاتے۔“ کوئی نالش جس کی قانون موضوعہ میں گنجائش نہ رکھی گئی ہو‘ اس پر محض اس وجہ سے کارروائی نہیں ہوتی کہ اس کو ترک یا نظر انداز کیے جانے کی کوئی معقول دلیل دکھائی نہیں دیتی اور یہ عدم توجہ بالآخر غیر ارادی رہی ہوتی ہے۔“

عدالتی فیصلے کا یہ اقتباس بطور لب لباب (یعنی خلاصہ نظیر) میکسویل نے اپنی کتاب "Interpretation of Statutes" (یعنی قوانین موضوعہ کی تعبیر) کے گیارہویں ایڈیشن میں صفحہ 12 پر بطور حوالہ دیا ہے‘ جس کا عنوان ہے "Omission not to be Lightly Inferred" (یعنی ترک یا فروگزاشت سے سرسری طور پر نتیجہ اخذ نہیں کرتے)۔

مذکورہ بالا نزاع کی تائید میں جس تیسرے مقدمے کا حوالہ دیا گیا‘ وہ تھا مقدمہ چودھری خادم حسین بنام سرکار (پی ایل ڈی 1985ء ایس سی (آزاد جموں کشمیر) صفحہ 125)۔ صفحہ 130 پر‘ مقدمہ سرکار بنام ضیاء الرحمان و دیگران بمطابق مقدمہ پی ایل ڈی 1973ء سپریم کورٹ 49 کے متعلق سپریم کورٹ کے قرار دیئے گئے اصولوں کی تقلید کرتے ہوئے مندرجہ ذیل اظہار رائے کیا گیا:

صفحہ 481

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول)

”کسی عدالت کو یہ استحقاق صرف کسی ابہام کی صورت میں ہی حاصل ہوتا ہے کہ وہ قوانین موضوعہ کی دفعات سے مجموعی طور پر کوئی تعبیر نکال کر اس قانون ساز ادارے کی نیت (یا منشا) دریافت کرے جبکہ اس نے قانون موضوعہ کی تشکیل کا باعث بننے والے حالات کو بھی ملحوظ خاطر رکھا ہو۔ یہ اصول بالکل صحیح ہے کہ کسی قانون موضوعہ کو کلی طور پر مدنظر رکھ کر ہی اس سے کوئی تعبیر اخذ کی جاتی ہے، اور اس قانون کے ہر جزو کو وہی معنی پہنائے جاتے ہیں جو اس کی دیگر دفعات یا شرائط سے مطابقت رکھتے ہوں۔“

تعبیر اخذ کرنے کے مذکورہ بالا یا کوئی اور قاعدے قانون اس طرح سے تشکیل دیئے گئے ہیں کہ کسی قانون موضوعہ میں شامل اس قانون ساز ادارے کا منشاء ٹھیک ٹھیک تحقیق یا دریافت ہو جائے۔ اس کا بنیادی یا اساسی مظہر کسی قانون موضوعہ میں استعمال ہونے والے الفاظ سے واضعانِ قانون کے ارادے کی تکمیل کرنا ہے۔ اگر الفاظ صاف اور واضح ہیں تو تعبیر نکالنے کے لیے مختلف ضابطوں اور قانونی نکتوں سے رجوع کرنے کی نہیں، بلکہ اس بات کی ضرورت ہوتی ہے کہ وضع شدہ قانون میں استعمال ہونے والے الفاظ کے عام صرفی نحوی (یعنی گرامری) معنوں کے مطابق تعمیل کی جائے۔ اب یہ تقریباً تصفیہ شدہ قانون ہے، اور کسی حوالے کی پھر بھی ضرورت ہو تو مقدمہ ایس اے ہارون بنام کلکٹر آف کسٹمز کراچی پر اعتماد کیا جاسکتا ہے، جیسا کہ پی ایل ڈی 1959ء ایس سی (پاک) 177 میں شائع ہوا ہے۔ آنریبل سپریم کورٹ کے قرار دیئے گئے متعلقہ مشاہدات مندرجہ ذیل ہیں:

”تعبیر نکالنے کے تمام قاعدے قانون اس لیے بنائے گئے ہیں کہ کسی وضع شدہ قانون کے پیچھے کار فرما مجلس مقننہ کی نیت دریافت کرنے میں مدد ملے۔ جہاں الفاظ سادہ اور غیر مبہم ہوں، وہاں ان لفظوں کے معمولی گرامری معنوں کو مکمل طور پر بروئے کار لا کر ہی اس نیت (یا ارادے) کو بطریق احسن جانچا جا سکتا ہے۔ لیکن جب صورت حال اس سے مختلف ہو تو اس متعلقہ دفعہ کو اس پورے ایکٹ کے سیاق و سباق کے مطابق جانچ کر صحیح نیت کو دریافت کرنے کی کوشش کرنی چاہیے، جس ایکٹ میں وہ

صفحہ 482

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول)

پائی جاتی ہے، اور ساتھ ساتھ ان حالات کو بھی مدنظر رکھنا چاہیے، جن میں وہ قانون وضع کر کے منظور کیا گیا تھا۔ قانون کی سابقہ صورت، اور وہ نقصان رسانی جس کو دبانا مقصود ہو، اور اُس کے لیے فراہم کردہ نیا چارۂ کار باہم متعلقہ عوامل ہیں، جن پر مناسب توجہ دینے کی ضرورت ہے۔‘‘

مزید برآں تعبیر کا ایک تسلیم شدہ اصول یہ ہے کہ عدالتوں سے اس بات کی توقع نہیں ہوتی کہ وہ کسی قانون موضوعہ میں کوئی کمی بیشی کریں گی، تاوقتیکہ کوئی معقول عذرات یہ منطقی نتیجہ نکالنے کا جواز فراہم نہ کریں کہ مجلسِ مقننہ کا منشا وہ تھا جس کا اظہار چھوڑ دیا گیا۔ موجودہ معاملے میں ادارۂ قانون ساز کی نیت (یا منشا) صریح، غیر مبہم اور واضح ہے۔ اس سلسلے میں کہ فاضل معاون عدالت بشارت اللہ نے جس موزوں طریقے سے مقننہ کے سوانح (یعنی تاریخ) سے دلائل پیش کیے ہیں، ان سے بھی یہی نتائج اخذ کیے جا سکتے ہیں۔ پہلا مرحلہ (یا دور) 21 ستمبر 1974ء تک موجود رہا، جب قانون میں یا آئین کے تحت کوئی ایسی صریح قانونی دفعہ (یا شق) نہ تھی کہ قادیانی غیر مسلم ہیں۔ دوسرا مرحلہ 21 ستمبر 1974ء کو وجود میں آیا جب کانسٹی ٹیوشن (سیکنڈ امنڈمنٹ) ایکٹ، 1974ء (یعنی آئین میں دوسری ترمیم کا قانون، مجریہ 1974ء) وضع کر کے ’’اسلامی جمہوریہ پاکستان کے آئین‘‘ (محولہ بعد ازیں: ’’آئین‘‘) میں شامل کیا گیا۔ مذکورہ بالا ’’امنڈمنٹ‘‘ (یعنی ترمیم) کے مطابق آرٹیکل 260 میں کلاز (2) کے بعد مندرجہ ذیل شق کا اضافہ کیا گیا:

کی قطعی اور غیر مشروط ختم نبوت کو نہیں مانتا، یا حضور نبی کریم (ﷺ) کے بعد نبی ہونے کا دعویٰ کرتا ہے، خواہ وہ اس لفظ سے کچھ بھی معنی نکالتا یا کسی بھی لحاظ سے کوئی مفہوم اخذ کرتا ہو، یا کسی ایسے دعوے دار کو نبی یا مجدد (مذہبی ریفارمر) مانتا ہے، وہ بغرض آئین یا قانون مسلم نہیں ہے۔‘‘

یہ دور (یا مرحلہ) تھا جب مجلسِ قانون ساز نے اعلان کیا کہ قادیانی غیر مسلم

صفحہ 483

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول)

ہیں ۔غیر مسلم قرار دیئے جانے کے بعد بھی قادیانی یا احمدی وغیرہ، مسلم ہونے کا دعویٰ کرتے رہے، مگر کسی قانون کے تحت کوئی ایسی تعزیری دفعہ نہ تھی، جس کی بناء پر انہیں مسلم کہلانے سے منع کیا جاتا، تاہم بغرض آئینی حقوق وہ غیر مسلم ہی تھے۔ بعد ازیں اس سے اگلا مرحلہ آیا کہ مسلم اور غیر مسلم میں امتیاز کی صراحت کے لیے آئین میں ایک ترمیم کی جائے جو ”کانسٹی ٹیوشن (تھرڈ امنڈمنٹ) آرڈر 1983“ (یعنی آئین میں تیسری ترمیم کا حکم، مجریہ 1983ء) کے نام سے کر دی گئی۔ تب وہ آخری مرحلہ آیا جب متذکرہ بالا آئینی ترمیم کو موثر بنانے کے لیے قانون میں تعزیری فقرات (clauses) وضع کرنے کی ضرورت محسوس کی گئی۔ یہ کام آرڈیننس نمبر 20 مجریہ 1984ء سے انجام پایا، جس کو گزشتہ پیراگرافوں میں پہلے ہی نقل کیا جاچکا ہے۔ یہی آرڈیننس تھا جس کی بدولت مجموعہ تعزیراتِ پاکستان میں دفعات 298۔بی اور 298۔سی کو داخل کیا گیا۔ اس کا آغاز اس تمہید سے ہوتا ہے:

اسلام دشمن سرگرمیوں میں ملوث ہونے سے روکنے کے لیے قانون میں ترمیم کی جائے ۔“

جس کا مطلب یہی ہے کہ قادیانی غیر مسلم ہونے کے ناتے اسلام دشمن سرگرمیوں میں ملوث ہوتے رہتے ہیں۔ قادیانیوں کی اس حیثیت کے بارے میں قانون سازی کا جو مختصر جائزہ پیش کیا گیا ہے، اس سے بہ آسانی یہ نتیجہ نکالا جاسکتا ہے کہ آرڈیننس نمبر 20 مجریہ 1984ء سے ابتداءً قادیانیوں کو اسلام دشمن سرگرمیوں میں ملوث ہونے سے روکنا ہی مراد تھا۔ مذکورہ بالا ترمیم سے مجموعہ تعزیراتِ پاکستان میں دو دفعات 298۔بی اور 298۔سی شامل ہوئیں۔ تعزیراتِ پاکستان کی دفعہ 298۔بی تسلیم شدہ حد تک اپنے مندرجات (یعنی مافیہ) کے لحاظ سے تخصیصی (یعنی جزئیات پر محیط) ہے، اور اس میں معینہ کاموں کو قانون کے تحت ممنوع قرار دیا گیا ہے، جو اس سے پیشتر دفعہ 298۔بی کے قانونی فقرے یا کلاز (1) اور سب کلاز یا ذیلی فقرات (الف) تا (د) کے علاوہ سب کلاز (2) میں مذکور ہوچکے ہیں، اور ان کے لیے سزائیں بھی تجویز

صفحہ 484

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول)

کی گئی ہیں۔ لیکن مقننہ نے پھر بھی دفعہ 298۔سی کے اضافے کو ضروری خیال کیا جو مسلمانوں کے ساتھ قادیانیوں کے عام طرزعمل اور طریقہ کار کا احاطہ کرتی ہے۔

مندرجہ بالا بحث سے میں نے یہ نتیجہ نکالا اور قرار دیا ہے کہ دفعہ 298۔بی تعزیرات پاکستان اور دفعہ 298۔سی تعزیرات پاکستان دو آزاد دفعات ہیں جو الگ الگ جرائم کا تعین کرتی ہیں۔ دفعہ 298۔بی کا ابتداءً یہ منشا تھا کہ مقدس ہستیوں‘ ناموں‘ القابوں اور مقامات وغیرہ کو بے جا استعمال ہونے سے محفوظ رکھا جائے۔ لیکن دفعہ 298۔سی کسی قادیانی کو اس کے طریقہ کار اور عام طرزعمل کے لیے اس صورت میں سزا دہی کا مستوجب قرار دیتی ہے‘ جب وہ بلاواسطہ یا بالواسطہ اپنے آپ کو مسلم ظاہر کرتا ہے‘ یا اپنے عقیدے کو اسلام کہتا یا اس کا حوالہ دیتا ہے‘ یا اپنے عقیدے کی تبلیغ یا نشر واشاعت کرتا ہے‘ یا کسی نظر آنے والی قائم مقامی کے ذریعے یا کسی بھی اور طریقے سے مسلمانوں کے مذہبی جذبات کو بھڑکاتا ہے۔ اس طرح یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ دفعہ 298۔سی تعزیرات پاکستان کے الفاظ میں مجلس قانون ساز کا منشا دریافت کرنے کے لیے کوئی ابہام موجود نہیں ہے۔ سائلوں کے فاضل وکیل مجیب الرحمان نے ایک اور دلیل پیش کرتے ہوئے کہا تھا کہ ایک خاص وضع کردہ قانون یا اس کی کسی دفعہ میں استعمال شدہ الفاظ کے معانی مبہم ہوں‘ یا اس کے دو یا اس سے زیادہ الفاظ ملتے جلتے معنوں کا اثر قبول کرنے والے ہوں‘ تو یہ سمجھ لیا جاتا ہے کہ ان کو قریبی مفہوم میں استعمال کرنا ہے۔ یہ دلیل بھی زور دے کر پیش کی گئی کہ الفاظ اپنا رنگ روپ ان مماثل الفاظ سے اخذ کرتے ہیں‘ جو کسی خاص قانونی دفعہ میں متفقہ طور پر استعمال کیے گئے ہوں۔ یہ دراصل Noscitur Associis کا طے شدہ اصول ہے۔ لیکن دفعہ 298۔سی تعزیرات پاکستان کے محض الفاظ پڑھ لینے سے یہ ظاہر ہو جاتا ہے کہ مذکورہ اصول یہاں قابل اطلاق نہیں ہے کیونکہ جیسا کہ ہم پہلے ہی اظہار رائے کر چکے ہیں‘ دفعہ 298۔سی ایک آزاد دفعہ ہے جو الگ الگ جرموں کو وجود میں لاتی ہے۔ لہٰذا میری حتمی رائے یہی ہے کہ تعزیرات پاکستان کی دفعہ 298۔سی کی تعبیر کرنے کے لیے کسی اور تعبیری یا توجیہی

صفحہ 485

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول)

اصول کو اختیار نہیں کیا جا سکتا‘ سوائے اس کے کہ مجلسِ قانون ساز کی نیت (یا منشا) کو جانچنے کا اس سے بہتر کوئی طریقہ نہیں کہ اس آرڈیننس کے ان الفاظ کے گرامری معانی کے ساتھ اس کی تجویز کو بھی زیرِعمل لایا جائے۔ یوں اس نکتے پر تمام بحث مباحثے کا اختتام ہو جاتا ہے۔

اب دفعہ 298-سی تعزیرات پاکستان میں استعمال شدہ الفاظ کی تعبیر کی طرف متوجہ ہوتے ہوئے‘ اس بات کا پتہ چلانا ہے کہ آیا یہ الفاظ مختلف معانی کا اثر قبول کرنے والے ہیں‘ یا ایک سے زیادہ معنی رکھنے پر دلالت کرتے ہیں‘ یا ان کو سادہ ترین شکل میں مجلسِ قانون ساز کی نیت (یعنی منشا) کا اظہار کرنے کے لیے موزوں طریقے سے استعمال کیا گیا ہے۔ اس سلسلے میں مذکورہ دفعہ کا پہلا لفظ جو منظر عام پر لایا گیا‘ "Pose" (بمعنی خود کو ظاہر کرنا) تھا۔ سائلوں کے وکیل مجیب الرحمان نے اس کی درست نشان دہی کی کہ لفظ ’’پوز‘‘ دراصل ایک عدالتی لفظ نہیں ہے اور اس کو عام طور پر قانونی اصطلاحات میں استعمال نہیں کیا جاتا۔ کسی بھی عدالتی ڈکشنری میں کہیں بھی اس کا ذکر نہیں ملتا۔ اس کے باوجود کنسائز آکسفورڈ ڈکشنری (ایڈیشن ششم) میں لفظ "Pose" کے معانی اس طرح دیئے گئے ہیں: (1) متشکل کرنا (ادعا‘ دعویٰ وغیرہ)۔ پیش کرنا (سوال‘ مسئلہ)۔ خاص وضع میں رکھنا (آرٹسٹ کا ماڈل وغیرہ)۔ (2) کوئی وضع اختیار کرنا‘ خصوصاً فنکارانہ مقاصد کے لیے‘ یا دوسروں کو متاثر کرنے کے لیے‘ پیش کرنا‘ خود کو ظاہر کرنا (کنتویسر وغیرہ کی طرح)‘ بننے یا ہونے کا بہانہ کرنا۔ (3) جسم یا ذہن کی وضع‘ خصوصاً وہ جو اثر اندازی کے لیے اختیار کریں۔ اسی طرح ’’شارٹر آکسفورڈ انگلش ڈکشنری‘‘ (جلد دوم‘ نظرثانی شدہ ایڈیشن سوم) کی تعریفات کے مطابق لفظ "Pose" کے معانی ہیں: خود کو ظاہر کرنے کا عمل‘ جسم یا جسم کے کسی حصے کی وضع یا حالت‘ خصوصاً دانستہ اختیار کردہ‘ یا جس میں کوئی شبیہ اثر ڈالنے کے لیے رکھیں‘ یا فنکارانہ مقاصد کے لیے‘ (مجازاً) ذہن کی وضع‘ خصوصاً اثر ڈالنے کے لیے اختیار کردہ‘ (لازم) ایک خاص وضع اختیار کرنا۔ بالکل ایسے ہی ’’لیگل تھیسارس‘‘ میں لفظ "Pose" کے یہ

صفحہ 486

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول)

معانی لکھے ہیں: نقل اتارنا (یا سوانگ بھرنا) پارٹ ادا کرنا، کسی کا کردار اختیار کرنا اور روپ دھارنا وغیرہ ...... مگر سرکاری وکیل اعجاز یوسف نے Corpus Juris" "Secundum میں استعمال شدہ لفظی تعریف پر انحصار کیا، جس میں اس لفظ کے معنی ہیں: دعوے سے کہنا، بطور تجویز بیان کرنا۔ اس پر سرکاری وکیل مذکورہ لفظی تعریف میں ایک معنی ”دعوے سے کہنا“ (affirm) کی تشریح کرنے لگے اور پھر کنایتاً کہنا شروع کیا لیکن اس پر مجیب الرحمان نے اس بناء پر سخت اعتراض کیا کہ اس انداز سے لفظوں کی معنوی تعبیر نہیں کی جاسکتی۔

تاہم لفظ ”پوز“ کے سادہ ترین معنی جو یہاں استعمال ہوئے ہیں، بظاہر یہ ہیں: کسی کا رول اختیار کرنا یا وہ بننے کا بہانہ کرنا جو کوئی دراصل نہ ہو۔ یوں اس سادہ ترین صورت میں، اگر کوئی قادیانی خود کو مسلم ”پوز“ کرتا ہے تو اس کا یہی مطلب ہے کہ وہ ایک مسلم کی طرح ایکٹ کرتا ہے یا ایک مسلم کا رول اختیار کرتا ہے۔ اس طرح جب ایک قادیانی اپنے طریقہ کار یا کسی مثبت عمل کے ذریعے ایک مسلم کا رول اختیار کرتا ہے یا ایک مسلم کی طرح ایکٹ کرتا ہے، تو اس کا یہ فعل دفعہ 298۔سی تعزیرات پاکستان کی نقصان رسانی کی ذیل میں آتا ہے۔ مثال کے طور پر اگر کوئی قادیانی کلمہ طیبہ کا بیج لگا کر خود کو نشان زد کرتا یا دکھاتا پھرتا ہے، جیسا کہ موجودہ مقدمے میں مذکور ہے، تو گویا وہ اپنے آپ کو مسلم ”پوز“ کرتا ہے۔

اس سے اگلا لفظ جو اس دفعہ میں بار بار استعمال ہوا "or" (بمعنی یا) ہے۔ فاضل وکیل کے بموجب لفظ ”یا“ کو زیادہ تر توضیحی یا تشریحی صورت میں استعمال کیا گیا ہے۔ یہ نہ تو حرف عطف کے طور پر استعمال ہوا ہے، اور نہ حرف افتراق کے طور پر۔ تاہم فاضل وکیل کے بموجب دفعہ 298۔سی تین جرائم کا احاطہ کرتی ہے جو مندرجہ ذیل ہیں:

اسلام کہتا یا موسوم کرتا ہے۔

صفحہ 487

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول)

والی قائم مقامی کے ذریعے تبلیغ کرتا ہے یا نشر و اشاعت کرتا ہے یا اس کو قبول کرنے کی دعوت دیتا ہے۔

اس طرح فاضل وکیل کے بموجب لفظ ”یا“ صرف دو بار حرف افتراق کے طور پر استعمال ہوا ہے اور بقایا ”یا“ بطور حرف عطف یا توضیحی صورت میں استعمال ہوئے ہیں۔ فاضل وکیل نے اپنے بیان کا ثبوت مندرجہ ذیل چارٹ کی مدد سے پیش کرنے کی کوشش کی، جو انہوں نے خود تیار کیا اور جس کو بجنسہ یہاں نقل کیا جا رہا ہے:

چارٹ 1

دفعہ 298۔سی

(i) اپنے آپ کو مسلم ظاہر کرتا ہے یا اپنے عقیدے کو بطور اسلام موسوم کرتا ہے یا حوالہ دیتا ہے یا جو بلا واسطہ (ii) تبلیغ کرتا ہے اپنے عقیدے کی یا یا خواہ بولے گئے بالواسطہ نشر و اشاعت کرتا ہے یا لکھے گئے لفظوں سے یا یا دوسروں کو قبول کرنے کی کسی دکھائی دینے والی قائم دعوت دیتا ہے مقامی سے یا

صفحہ 488

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول)

(iii) خواہ کسی بھی طریقے

سے مسلمانوں کے جذبات

کو برانگیختہ کرتا ہے

اس کے برعکس بشارت اللہ نے اپنی بحث میں کہا کہ دفعہ 298-سی میں لفظ ’’یا‘‘ بطور حرف افتراق استعمال ہوا ہے تو اس سے سات جرم پیدا ہوتے ہیں۔ ایسا ہوتا ہے تو ہو‘ لیکن سوال اپنی سادہ ترین شکل میں یہ ہے کہ اگر کوئی قادیانی خود کو مسلم ’’پوز‘‘ کرتا ہے یا ............ تو وہ دفعہ 298-سی تعزیرات پاکستان کے مفہوم میں جرم کا مرتکب ہوتا ہے۔ لفظ ’’مسلم‘‘ کی آئین میں جو تعریف ہے‘ اس سے مراد ہے وہ شخص جو اللہ تعالیٰ کی وحدت اور یکتائی کو مانتا ہو (یعنی توحید کا قائل ہو)‘ خاتم النبیین حضرت محمد (ﷺ) کی مطلقاً اور غیر مشروط ختم نبوت پر اعتقاد رکھتا ہو‘ اور کسی بھی ایسے شخص کو نبی یا مجدد نہ سمجھتا ہو‘ یا تسلیم نہ کرتا ہو جس نے حضرت محمد (ﷺ) کے بعد‘ خواہ کسی لفظی معنی میں‘ خواہ کسی بھی اور مفہوم میں نبی ہونے کا دعویٰ کیا تھا‘ یا دعویٰ کرتا ہے۔ اس طرح کوئی شخص صرف اسی صورت میں دائرۂ اسلام میں داخل ہوتا ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کو واحد مانے اور اس کی توحید پر ایمان رکھنے کے علاوہ ہمارے آخری نبی یعنی خاتم النبیین حضرت محمد (ﷺ) کی مطلق اور غیر مشروط ختم نبوت پر پختہ یقین رکھے۔ فاضل معاون عدالت محمد مقیم انصاری نے اس بات کی بالکل درست نشان دہی کی کہ کلمہ طیبہ ایک ’’شعار‘‘ نہیں ہے جیسا کہ مجیب الرحمان نے کہا ہے‘ بلکہ یہ اسلام کے بنیادی ارکان میں سے ایک ہے‘ جس کے بغیر کوئی شخص دین اسلام میں داخل نہیں ہو سکتا۔ فاضل سرکاری وکیل اعجاز یوسف نے بھی اس بات کی نشاندہی کی کہ صحیح بخاری شریف کے مطابق کلمہ طیبہ اسلام کے ارکان خمسہ (یعنی پانچ ستونوں) میں سے ایک ہے۔ ویسے بھی سب کو معلوم ہے کہ جب بھی کوئی غیر مسلم اپنا مذہب چھوڑ کر دین اسلام قبول کرتا ہے‘ تو سب سے پہلا بنیادی رکن یہی ہے کہ وہ کلمہ طیبہ پڑھتا ہے۔ یوں اس امر میں کہ کلمہ طیبہ اسلام کا ایک بنیادی رکن ہے‘ کوئی خواہ مخواہ کا اعتراض نہیں رہتا۔ جو شخص کلمہ طیبہ پڑھتا ہے‘ اسے عموماً

صفحہ 489

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول)

مسلمان سمجھا جاتا ہے۔ اس طرح جب کوئی قادیانی کلمہ طیبہ کا بیج لگا کر گلیوں بازاروں میں چلتا پھرتا ہے، تو گویا خود کو مسلم ظاہر کرتا ہے (یعنی ”پوز“ کرتا ہے)۔ موجودہ مقدمے میں سائلوں نے اعتراف کیا ہے کہ انہوں نے قادیانی ہوتے ہوئے کلمہ طیبہ کے بیج لگائے ہوئے تھے، جب وہ گرفتار کیے گئے۔ یوں اس امر میں بمشکل کوئی شک باقی رہتا ہے کہ سائلوں نے دفعہ 298-سی کے مفہوم میں جرم کا ارتکاب کیا۔ سائلان کلمہ طیبہ کا بیج لگانے کے متعلق کوئی وضاحت کرنے میں ناکام رہے، سوائے اس کے کہ سائلوں کے فاضل وکیل نے اپنی بحث میں یہ موقف اختیار کیا کہ کلمہ طیبہ مسلمانوں اور قادیانیوں کا مشترکہ ”شعار“ ہے۔ مسئلے کا یہ پہلو وفاقی شرعی عدالت میں کلی طور پر، اور بڑے ماہرانہ انداز میں نمٹایا جا چکا ہے، مطابق مقدمہ مجیب الرحمان مع تین دیگر افراد بنام وفاقی حکومت پاکستان، و مقدمہ دیگر بمطابق رپورٹ پی ایل ڈی 1985 وفاقی شرعی عدالت 8 اس سلسلے میں صفحہ 111 پر یوں اظہار رائے کیا گیا ہے:

اور رسول اللہ ﷺ کے حکم سے انہیں حج اور زیارت کے شعائر سے منع کر دیا گیا“۔ (بحوالہ تفہیم القرآن، جلد دوم، صفحہ 186، نوٹ 25)۔ لہٰذا اس سے صریحاً یہی نتیجہ نکلتا ہے کہ شریعت اسلامیہ غیر مسلموں کو شعائر اسلام اختیار کرنے کی اجازت نہیں دیتی، کیونکہ شعائر کا مطلب ہے وہ امتیازی خدوخال جن سے کوئی جماعت ممیز ہوتی ہے“۔

یہ اقتباس سائلوں کے فاضل وکیل کی طرف سے پیش کردہ دلائل کا مکمل جواب ہو سکتا ہے۔

اب میں ایک اور نکتے کا تعین کرنے کی طرف متوجہ ہوتا ہوں، جو مجیب الرحمان نے پیش کیا، کہ کسی ملزم پر کوئی فوجداری جرم ثابت نہیں کیا جا سکتا، تاوقتیکہ اس کا مجرم ضمیر (mens rea) ثابت نہ ہو۔ فاضل وکیل کے بموجب چونکہ کلمہ طیبہ قادیانیوں اور مسلمانوں کے درمیان مشترک ہے، چنانچہ اس کو چسپاں کرنے کا دراصل یہ منشا نہیں ہوتا کہ کلمہ طیبہ کی تضحیک کی جائے، یا اپنے آپ کو مسلم ”پوز“ کیا جائے یا

صفحہ 490

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول)

مسلمانوں کے احساسات کو مجروح کیا جائے‘ بلکہ محض یہ کہ وہ خود اپنے مذہب پر عملدرآمد کرتے ہیں اور ایسا کرنے میں کوئی بدنیتی یا مجرم ضمیر (mens rea) نہیں ہوتا۔ دوسری طرف فاضل معاون عدالت بشارت اللہ نے اس امر کی نشان دہی کی کہ عموماً مجرمانہ ذہنیت کسی جرم کے ارتکاب کا بنیادی جزوترکیبی ہے‘ لیکن کسی معین جرم کی صورت میں ہمیشہ اس کو تلاش نہیں کیا جاتا۔ فاضل معاون عدالت کے بموجب مجموعہ تعزیرات پاکستان میں کئی دفعات ایسی ہیں جن میں مجرمانہ نیت آشکارا نہیں ہوتی۔ مجموعہ تعزیرات پاکستان کی دفعات 124۔اے، 340,140,131 اور 402۔اے کے حوالے دیئے گئے۔

خواہ کچھ بھی ہو‘ موجودہ مقدمے میں تو یہ دیکھا جانا ہے کہ ان قادیانیوں کی نیت کیا تھی جب وہ کلمہ طیبہ کا بیج لگا کر گلیوں کے ہجوم میں گھومتے پھرے؟ اس کی صریح وجہ یہی نظر آتی ہے کہ مذکورہ سائلان لوگوں سے یہ منوانے کا ارادہ رکھتے تھے کہ وہ مسلم ہیں۔ یہی بات ان کی طرف سے مجرمانہ نیت یا مجرم ضمیر (mens rea) کا اظہار کرتی ہے۔ لہٰذا اس مقدمے کے تسلیم کردہ واقعات کو مدنظر رکھتے ہوئے‘ اس موضوع پر بحث نہیں کی جاسکتی کہ سائلان کا یہ فعل کسی مجرمانہ ارادے یا مجرم ضمیر کے بغیر تھا کیونکہ سائلان اس بات کی کوئی دلیل بیان کرنے میں ناکام رہے ہیں کہ انہوں نے شہر کے پر ہجوم بازاروں میں چلتے پھرتے وقت کلمہ طیبہ کے بیج کس وجہ سے لگا رکھے تھے‘ سوائے اس کے کہ وہ مسلم ہونے کا بہانہ کرتے تھے یا دوسروں سے خود کو مسلم منوانا چاہتے تھے۔

اس درخواست کا آخری مگر بڑا معقول سوال آرڈیننس نمبر 20 مجریہ 1984ء کے اختیارات (Vires) سے تعلق رکھتا ہے۔ اگرچہ مجیب الرحمان نے بڑی صاف گوئی سے یہ قبول کرلیا کہ اس عدالت کے اختیار سماعت بصیغہ نگرانی کی رُو سے کسی بھی قانون موضوعہ کے اختیارات کو چیلنج نہیں کیا جا سکتا‘ اس کے باوجود انہوں نے بالواسطہ طور پر اس نکتے پر بحث کرنے کی کوشش کی۔ بہرحال اس میں کوئی شک نہیں کہ کسی مقننہ کے اختیارات کو ہائی کورٹ کی پیشی میں اس کے اختیار سماعت بصیغہ نگرانی

صفحہ 491

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول)

میں اضافی یا ضمنی طور پر چیلنج نہیں کیا جا سکتا‘ البتہ اس حیثیت سے صرف اس امر تحقیق طلب کی چھان بین کی جا سکتی ہے‘ جس کا تعلق ماتحت عدالتوں کے سلسلے میں غیر قانونیت‘ ناموزونیت‘ اختیارِ سماعت سے تجاوز کرنے یا اختیارِ سماعت کو غیر قانونی طور پر اپنے ذمے لینے سے ہو۔ یہ بھی دیکھا جائے کہ مقدمہ مجیب الرحمان مع دیگران بنام وفاقی حکومت پاکستان کے علاوہ ایک اور مقدمے کے سلسلے میں‘ جس کی رپورٹ پی۔ایل۔ڈی 1985ء ایف۔ایس۔سی 8 میں چھپ چکی ہے‘ بصورت دیگر وفاقی شریعت کورٹ نے بھی اس قانون یعنی آرڈیننس XX مجریہ 1984ء کو قوانین موضوعہ یا قانون سازی کا ایک جائز قطعہ قرار دیا تھا۔ مجیب الرحمان نے یہ بھی نشان دہی کی کہ اس مذکورہ بالا عدالتی فیصلے کے خلاف اپیل سپریم کورٹ میں زیرِ سماعت ہے۔ آئین کے آرٹیکل 203-GG کے مطابق وفاقی شریعت کورٹ کا فیصلہ ہائی کورٹ کے لیے واجب التعمیل ہے۔ آئین کی مذکورہ دفعہ یہاں نقل کی جاتی ہے:

203-GG بہ پابندی آرٹیکل 203-D اور 203-F ‘اس عدالت کا کوئی بھی فیصلہ‘ جو اس کے اختیارِ سماعت کے مطابق زیرِ سماعت ہو‘ اس باب کے تحت کسی ہائی کورٹ (عدالت عالیہ) کے لیے اور ان تمام عدالتوں کے لیے واجب التعمیل ہو گا جو ایک ہائی کورٹ کے ماتحت ہیں۔

اس طرح یہ عدالت اختیارِ سماعت بصیغہ نگرانی کے مطابق سماعت مقدمہ کے دوران مذکورہ آرڈیننس XX مجریہ 1984ء کے جواز پر بحث نہیں کر سکتی۔

جہاں تک اس مقدمے کے حقائق کا تعلق ہے‘ جو پیشتر ازیں زیر بحث آ چکے ہیں‘ مذکورہ سائلان نے یہ اعتراف کیا ہے کہ وہ قادیانی ہیں اور انہوں نے کلمہ طیبہ کے بیج لگا رکھے تھے‘ اور کسی بھی طرح کی کوئی وضاحت ریکارڈ پر نہیں لائی گئی کہ انہوں نے ایسا کس وجہ سے کیا تھا۔ مندرجہ بالا واقعاتی اور متعلقہ قانونی پہلوؤں کو ابتدائی عدالت میں اور عدالتِ مرافَعہ میں بھی بڑے مناسب طریقے سے زیر بحث لانے کے بعد عدالتی فیصلہ سنایا جا چکا ہے۔ اس مقدمے میں بظاہر کوئی غیر قانونیت‘ ناموزونیت یا اختیار

صفحہ 492

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول)

سماعت میں کوئی تجاوز یا اس کے تحت معاملے کو نمٹانے میں ناکامی یا ذمہ دارانہ مداخلت نہیں پائی گئی۔

متذکرہ بالا بحث و تمحیص کا حاصل یہ ہے کہ مجھے ان درخواستوں میں کوئی اہلیت نظر نہیں آئی۔ بہر حال اس مقدمے کی عجیب صورت حال اور اس امر واقعہ کے پیش نظر کہ درخواست دہندگان اولین مجرم ہیں، سزا کی مقدار کے سلسلے میں نرم رویہ اختیار کیا جاتا ہے۔ چنانچہ ایک سال قید بامشقت کو کم کر کے 9 ماہ قید بامشقت کی سزا دی جاتی ہے، تاہم جرمانے کی رقم اتنی ہی رہے گی۔

نتیجے کے طور پر متذکرہ تخفیف سزا کے ساتھ پانچوں درخواستوں کو برخاست کیا جاتا ہے۔

اس کیس کو چھوڑنے سے پہلے میں مجیب الرحمان اور فاضل معاونِ عدالت بشارت اللہ اور محمد مقیم انصاری ایڈووکیٹ صاحبان کے علاوہ اعجاز یوسف کی قابلِ قدر اعانت پر اظہارِ تحسین کو واجب سمجھتا ہوں۔

دستخط تاریخ فیصلہ جسٹس امیر الملک مینگل 22 دسمبر 1987ء

(PLD 1988 Quetta 22)

۞.......۞.......۞

صفحہ 493

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول)

THE CONSTITUTION

OF THE

ISLAMIC REPUBLIC

OF PAKISTAN

PLD 1992 Lahore 1

لاہور ہائی کورٹ لاہور

مرزا خورشید احمد اور دوسرے بنام حکومت پنجاب

....... جناب جسٹس خلیل الرحمٰن خاں

”قادیانیوں کے صد سالہ جشن پر پابندی جائز ہے“

انصاف کے ایوانوں میں جھوٹی نبوت کی ذلت ورسوائی

لاہور ہائی کورٹ کا نہایت مدلل اور عظیم الشان فیصلہ ۔

صفحہ 494

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول)

”مرزا صاحب کے مخصوص دعویٰ کے پیش نظر یہ بات روزِ روشن کی طرح عیاں ہے کہ احمدی مرزا صاحب کو حضرت محمدؐ کا بدل مانتے ہیں۔ اس لیے جھنڈوں پر لکھے ہوئے اور بیجوں پر تحریر شدہ الفاظ ”محمد رسول اللہ“ کا استعمال ہر احمدی کی اپنی ذمہ داری ہے کیونکہ ایسا کرنا رسول اکرمؐ کے مقدس نام کی بے حرمتی کرنے کے مترادف ہے۔ بلاشبہ ایسا فعل دفعہ 295۔سی تعزیراتِ پاکستان کے دائرہ میں آتا ہے“...... ”عام لوگ یعنی امتِ مسلمہ احمدیوں کی سرگرمیوں اور ان کے مذہب کی تبلیغ کی مزاحمت ومخالفت کرتی ہے تاکہ ان کے مذہب کا اصل دھارا پاک صاف اور غلاظت سے محفوظ رہے اور امت کی یکجہتی بھی برقرار رہے۔ ایسا کرنے سے قادیانیوں کے اپنے مذہب کی پیروی اور اس پر عمل کرنے کے حق پر نہ کوئی زد پڑتی ہے نہ اس کی خلاف ورزی ہوتی ہے۔“

صفحہ 495

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول)

دل کی بات

(مقدمہ کا پس منظر، احوال، نتیجہ)

الحمد لله وحده والصلوۃ والسلام علی من لا نبی بعده اما بعد

اسلام کی ساڑھے چودہ سو سالہ تاریخ میں قادیانیت ایک ایسا فتنہ ہے، جسے دین اسلام اور مسلمانوں کے لیے بلاشبہ خطرناک، مہلک اور بدترین قرار دیا جا سکتا ہے۔ جھوٹے مدعی نبوت آنجہانی مرزا قادیانی نے 23 مارچ 1889ء کو لدھیانہ (بھارت) میں اس فتنہ کی بنیاد رکھی۔ چنانچہ اس کے سو سال پورے ہونے پر قادیانی 23 مارچ 1989ء کو ”صد سالہ جشن“ منانا چاہتے تھے۔ اس کے لیے انہوں نے اپنے پاکستانی مرکز ربوہ (اب چناب نگر) میں درج ذیل اقدامات کیے:

انگیز تحریروں پر مشتمل پمفلٹ پوسٹرز، سٹکرز اور بینرز کی وسیع پیمانے پر اشاعت اور تقسیم کا منظم منصوبہ تیار کیا۔

اور گھر گھر تقسیم کرنے کا بندوبست کیا گیا۔

کا اہتمام کیا۔

پہن کر انہیں عسکری طاقت کا مظاہرہ کرنا تھا۔

غرض اس طرح وہ اپنے کفر کی تبلیغ کے لیے سرگرم عمل تھے۔ طرفہ تماشا یہ کہ

صفحہ 496

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول)

جھوٹے کے سو سال مکمل ہونے پر ”صد سالہ جشن“ اور وہ بھی آئین و قانون کی خلاف ورزی اور مسلمانوں کے لیے اشتعال کا باعث ۔ قادیانی جماعت کی اس تیاری پر اسلامیان پاکستان کو تشویش لاحق ہوئی ۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت نے فوری طور پر دفتر مرکزیہ ملتان میں اپنی مرکزی ورکنگ کمیٹی کا اجلاس 12 مارچ 1989ء کو طلب کیا اور اس تشویشناک صورت حال پر غور کر کے اہم فیصلے کیے گئے ۔

بڑے سائز کے اشتہار دیئے جن میں جشن پر پابندی کا مطالبہ کیا گیا اور پابندی نہ لگنے کی صورت میں 23 مارچ کو عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی جامع مسجد محمدیہ ریلوے سٹیشن ربوہ پر ”آل پاکستان ختم نبوت ریلی“ منعقد کرنے کا اعلان کیا گیا ۔

الشان احتجاجی کانفرنسیں منعقد کی گئیں ۔ ربوہ میں مشترکہ جمعہ اور سرگودھا‘ جھنگ اور ٹوبہ ٹیک سنگھ میں عظیم الشان ختم نبوت کانفرنسوں کا اہتمام کیا گیا ۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے امیر مرکزیہ حضرت مولانا خواجہ خان محمد اپنے رفقاء کی ٹیم لے کر پورے پنجاب میں سرگرم عمل ہو گئے ۔

جس میں تمام دینی جماعتوں اور شبان ختم نبوت نے بھرپور حصہ لے کر نمایاں کردار ادا کیا ۔

لانگ مارچ کا اعلان کیا ۔

اس سلسلہ میں مولانا فقیر محمد صاحب سیکرٹری اطلاعات عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت فیصل آباد نے بھرپور اور موثر کردار ادا کیا ۔ یوں پورے ملک میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے

صفحہ 497

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول)

کارکنان اور رہنما سراپا احتجاج بن گئے۔

کے لیے ربوہ پہنچنے کی تیاری کرنے لگے۔

میں اس جشن پر پابندی کے سلسلہ میں آواز بلند کی۔

مرزائیوں نے یہ صورت حال دیکھ کر ربوہ میں جشن کے انتظامات کے علاوہ بھارتی سرحد کے قریب جلوموڑ سے تقریباً تین کلومیٹر آگے ”ہانڈو“ نامی گاؤں میں وسیع قطعہ اراضی لے کر اس پر بلڈوزر اور کرینیں لگا کر پنڈال بنایا۔ ٹیوب ویل کے بور کئے پانی کے پائپ بچھائے اور ربوہ میں جشن پر پابندی لگنے کی صورت میں یہاں متبادل انتظام کی مکمل تیاری کی۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت لاہور کے امیر الحاج بلند اختر نظامی کو ایک خط کے ذریعہ اس کی اطلاع ہوئی۔ مرزائیوں کی اس سازش پر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے امیر مرکزیہ حضرت خواجہ خان محمد صاحب نے اخبارات کو بیان جاری کیا، جو روزنامہ ”جنگ“ لاہور کے صفحہ اول پر مورخہ 17 مارچ 1989ء کو شائع ہوا۔ عالمی مجلس نے لاہور کے کمشنر، ڈی۔سی اور ہوم سیکرٹری پنجاب کو ٹیلی گرام دیئے۔ یوں قادیانی کفر نے مسلمانوں کو الجھانے کے لیے ربوہ کے علاوہ دوسرا محاذ بھی کھول دیا۔

لاہور کے قریب اس سازش کی اخبارات میں خبر آتے ہی مولانا عبدالتواب صدیقی نے باغبانپورہ سے داروغہ والا تک 22 مارچ کو لانگ مارچ کا اعلان کر دیا۔ جمعیت علماء اسلام کے نائب امیر محترم مولانا قاری محمد اجمل خاں، مولانا محمد اجمل قادری اور جامع مسجد وزیر خاں لاہور کے خطیب مولانا خلیل احمد قادری سرگرم عمل ہو گئے۔ قائد جمعیت مولانا فضل الرحمٰن صاحب نے محترمہ بے نظیر بھٹو کو اس طرف متوجہ کیا مگر کوئی شنوائی نہ ہوسکی۔ وفاقی وزیر داخلہ اعتزاز احسن اور وفاقی وزیر مذہبی امور سردار بہادر خان اسے صوبائی مسئلہ کہہ کر فارغ ہو گئے۔

صفحہ 498

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول)

حضرت مولانا خواجہ خان محمد صاحب نے 20 مارچ کو اسلام آباد میں مرکزی مجلس عمل تحفظ ختم نبوت کا اجلاس جامع مسجد دارالسلام میں طلب کر لیا۔ اسلام آباد میں عالمی مجلس کے مبلغ مولانا عبدالرؤف، مولانا قاری محمد امین، مولانا محمد رمضان علوی اور مولانا محمد عبداللہ اراکین شوریٰ شب و روز ایک کر کے اسے کامیاب بنانے میں مصروف ہو گئے۔

18 مارچ کی شام کو ڈی۔ سی اور ایس۔ پی جھنگ ربوہ گئے جہاں عالمی مجلس کے رہنما مولانا محمد اشرف ہمدانی، صاحبزادہ طارق محمود، مولانا فقیر محمد اور مولانا خدا بخش نے ان سے ملاقات کر کے سارے ملک کی صورت حال سے ان کو باخبر کیا۔ صوبائی حکومت عالمی مجلس، مرکزی مجلس عمل، اسلامیان پاکستان اور تمام مکاتب فکر کے رہنماؤں میں بڑھتی ہوئی بے چینی کو دیکھ رہی تھی۔

20 مارچ کو اسلام آباد میں مجلس عمل کا اجلاس منعقد ہوا۔ اسلام آباد، راولپنڈی کے تمام علماء کرام، جماعت اسلامی، جمعیت علمائے اسلام، جمعیت اہل حدیث، جمعیت علمائے پاکستان اور منہاج القرآن، غرضیکہ تمام مکاتب فکر اور دینی جماعتوں کے پچاس نمائندگان نے شرکت کی۔ مولانا سید چراغ الدین نے مولانا سمیع الحق صاحب سے ہسپتال جا کر ملاقات کی۔ انہوں نے بتایا کہ میری عیادت کے لیے وزیر اعلیٰ پنجاب جناب محمد نواز شریف آ رہے ہیں۔ میں، ان سے دو ٹوک بات کروں گا۔ وفاقی وزارت داخلہ و مذہبی امور کے نمائندگان عجیب ذہنی کیفیت اور دوغلی پالیسی کا مظاہرہ کر رہے تھے۔

مجلس عمل کے اجلاس میں فیصلہ ہوا کہ آئی جے آئی کا ایک وفد ہوم سیکرٹری پنجاب سے ملاقات کرے گا۔ اتحاد العلماء کے مولانا محمد عبدالمالک نے حضرت امیر مرکزیہ کے نام قاضی حسین احمد صاحب کا پیغام پہنچایا کہ اس جدوجہد میں ہم آپ کے ساتھ ہیں۔ یہی پیغام ڈاکٹر طاہر القادری کی طرف سے ان کے نمائندے لائے۔

صوبائی حکومت آل پارٹیز مرکزی مجلس عمل کی کارروائی سے لمحہ بہ لمحہ آگاہی حاصل کر رہی تھی۔ پورے صوبہ کی صورت حال ان کے سامنے تھی۔ مجلس عمل کا یہ فیصلہ

صفحہ 499

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول)

کہ اگر قادیانی جشن بند نہ ہوا تو 23 مارچ کو پورے ملک کا رخ ربوہ کی طرف ہوگا۔ اس فیصلہ کی اطلاع ملتے ہی لاہور میں ہوم سیکرٹری نے مجلس عمل کے نمائندگان کو بلایا اور اسی وقت 20 مارچ کو ڈی سی اور ایس پی جھنگ ربوہ گئے ۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے رہنما مولانا محمد اشرف ہمدانی‘ صاحبزادہ طارق محمود اور مولانا فقیر محمد ربوہ اور چنیوٹ کے رفقاء کے ہمراہ مذکورہ افسران سے ملے اور تمام صورتحال سے تفصیلاً آگاہ کیا۔ چنانچہ پنجاب حکومت کی ہدایت پر ڈی سی جھنگ نے قادیانی جشن پر مکمل پابندی کا اعلان کر دیا۔

20 مارچ کی رات کو راولپنڈی راجہ بازار میں ختم نبوت کانفرنس ہوئی۔ اس سے قبل ریڈیو کے ذریعہ پنجاب گورنمنٹ کی طرف سے ”جشن“ پر پابندی کا اعلان ہو چکا تھا۔ کانفرنس سے فارغ ہوتے ہی حضرت الامیر مولانا خواجہ خان محمد صاحبؒ گوجرانوالہ‘ فیصل آباد کے راستہ ربوہ روانہ ہوئے۔ صوفی ریاض الحسن گنگوہی اور دوسرے رفقاء فیصل آباد سے آپ کے ہمراہ ہو گئے۔ 23 مارچ کو آپ نے اپنی آنکھوں سے ربوہ میں مرزائی سازش کی ناکامی کا منظر دیکھا اور اللہ کے حضور سجدۂ شکر بجالائے۔

یوں ایک بار پھر کفر ہار گیا اور اسلام اور مسلمان جیت گئے۔ فالحمد للہ: ربوہ کی طرح ”ہانڈو“ گاؤں میں بھی لا اینڈ آرڈر کی صورتحال کے پیش نظر قادیانی جشن کی تیاریوں پر پابندی عائد کر دی گئی۔ پورے پنجاب میں مرزائیوں کے جشن پر پابندی لگ چکی تھی۔ بلوچستان اور سرحد کے مسلمانوں کے سامنے بھی مرزائیوں کی سازش کامیاب نہ ہو سکی۔ البتہ سندھ میں جہاں خالصتاً پیپلز پارٹی کی حکومت تھی‘ بعض مقامات پر مرزائیوں نے پروگرام کیے مگر انتہائی راز داری اور بزدلانہ طریقہ سے، یوں 23 مارچ کا سورج قادیانیت کی رسوائی کا سامان لے کر طلوع ہوا۔ فالحمد للہ۔

قادیانیوں نے اس پابندی کے خلاف لاہور ہائیکورٹ میں رٹ پٹیشن دائر کر دی۔ ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ جھنگ کے حکم ”پابندی جشن“ کو چیلنج کیا گیا۔ لاہور ہائیکورٹ کے عزت مآب جناب جسٹس خلیل الرحمن خاں کے ہاں کیس لگا۔ عدالت نے

صفحہ 500

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول)

مرزائیوں کو کہا کہ اب جشن کا وقت گزر گیا ہے‘ اب یہ رٹ پٹیشن بعد از وقت ہے۔ مگر مرزائی مصر تھے کہ نہیں جناب‘ فیصلہ ہونا چاہیے کہ یہ پابندی جائز تھی یا ناجائز۔ مرزائیوں کے اصرار پر عدالت میں کارروائی شروع ہوئی۔ مرزائیوں کے وکیل مرزا قادیانی کی جھوٹی نبوت کا پنڈورہ بکس لے کر آئے۔ ادھر پنجاب گورنمنٹ کی طرف سے رحمت عالم ﷺ کی عزت و ناموس کے تحفظ کی سعادت و وکالت کے لیے قدرت نے جناب مقبول الٰہی ملک، ایڈووکیٹ جنرل پنجاب اور اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل جناب نذیر احمد غازی کو منتخب فرمایا۔ جناب محمد اسماعیل قریشی ایڈووکیٹ اور جناب عبدالرشید قریشی ایڈووکیٹ بھی مرزائیت کے مقابلہ میں خم ٹھونک کر میدان میں آگئے۔ اس موقع پر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کو اللہ رب العزت نے پھر توفیق بخشی۔ ملتان مرکز سے قادیانیوں کی متنازعہ کتب، رسائل اور اخبارات لے کر شاہین ختم نبوت حضرت مولانا اللہ وسایا مدظلہٗ اور سندھ سے مولانا احمد میاں حمادی دفتر ختم نبوت لاہور پہنچ گئے۔

مرزائیوں کے جواب الجواب کا جب مرحلہ آیا تو جناب پروفیسر سید قمر علی زیدی، جناب پروفیسر ملک خالق داد، جناب مسعود ایڈووکیٹ اور عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی راہنما حضرت مولانا اللہ وسایا اور محترم مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی صاحب نے پوری رات جاگ کر جواب الجواب تیار کیا۔ جناب مقبول الٰہی ملک اور جناب نذیر احمد غازی عدالت میں پیش ہوئے اور گھنٹوں دلائل و براہین کے ساتھ عالمانہ انداز میں مرزائیوں کا جواب الجواب دیا۔ 22 مئی 1991ء کو عدالتی سماعت مکمل ہو گئی۔ عزت مآب جناب جسٹس خلیل الرحمٰنؒ نے مورخہ 17 ستمبر 1991ء کو فیصلہ سنایا۔ یہ فیصلہ ایمان پرور بھی ہے‘ حقائق افروز بھی۔ اس فیصلہ سے ایک بار پھر لاہور ہائیکورٹ کے عزت و وقار میں مزید در مزید اضافہ ہوا۔ فیصلہ کا ایک ایک حرف قدرت کی طرف سے مرزائیت کی رگ جان کے لیے نشتر ہے۔ پڑھئے‘ سر دھنئے اور اپنے ایمان کو تازہ کیجیے۔ معزز عدالت نے اپنے فیصلہ میں لکھا:

صفحہ 501

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول)

اس پر عمل کرنے کا حق ہے، جس کی ضمانت دستور کے آرٹیکل 20 میں دی گئی ہے۔ تاہم یہ حق دستور کے دیگر مشمولات، قانون، مصلحتِ عامہ اور اخلاق کے تابع ہے۔

توہین آمیز اور دل آزار ہے یا نہیں۔ فاضل ایڈووکیٹ جنرل اور مسئول الیہان کے فاضل وکلاء کے مطابق ”محمد“ رسول اللہ ﷺ کے الفاظ سے قادیانی مرزا قادیانی مراد لیتے ہیں اور اس کی طرف نسبت کرتے ہیں کیونکہ مرزا صاحب نے خود ”محمد رسول اللہ“ ہونے کا دعویٰ بھی کیا اور اس کے پیروکار اسے ایسا ہی مانتے ہیں۔ انہوں نے عرض کیا کہ جب قادیانی جھنڈے لہراتے ہیں یا اپنے سینوں پر بیج سجاتے ہیں تو وہ رسول اکرم ﷺ کے مقدس نام کی بے حرمتی کرتے ہیں۔ اپنے اس ادعا کی حمایت میں مرزا بشیر احمد کی کتاب ”کلمۃ الفصل“ سمیت کئی گستاخانہ کتابوں کے حوالے پیش کیے جس میں لکھا ہے کہ:

”پس مسیح موعود خود محمد رسول اللہ ہیں جو اشاعت اسلام کے لیے دوبارہ دنیا میں تشریف لائے۔ اس لیے ہم کو کسی نئے کلمہ کی ضرورت نہیں۔ ہاں اگر محمد رسول اللہ کی جگہ کوئی اور آتا تو ضرورت پڑتی“۔ ”ایک غلطی کا ازالہ“ نامی کتاب کا حوالہ بھی دیا گیا جس کے صفحات 11,7,5,4 اور 16 پر درج ذیل عبارتیں موجود ہیں۔

ص 4۔ ”اس وحی الٰہی میں میرا نام محمد رکھا گیا اور رسول بھی

ص 5۔ ”اس کے معنی یہ ہیں کہ محمد کی نبوت آخر محمد ہی کو ملی........... غرض میری نبوت و رسالت باعتبار محمد اور احمد ہونے کے ہے۔“

ص 7۔ کیونکہ یہ محمد ثانی اسی محمد ﷺ کی تصویر اور اسی کا نام ہے۔

ص 11۔ ”چونکہ میں ظلی طور پر محمد ﷺ ہوں....... یعنی جبکہ میں بروزی طور پر آنحضرت ﷺ ہوں۔“

صفحہ 502

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول)

ص 16۔ ”اور اسی بناء پر خدا نے بار بار میرا نام نبی اللہ اور رسول اللہ رکھا۔ اس لحاظ سے میرا نام محمد اور احمد ہوا۔ پس نبوت و رسالت کسی دوسرے کے پاس نہیں گئی۔ محمد کی چیز محمد کے پاس ہی رہی، علیہ الصلوۃ والسلام۔“

مسئول الیہان کے فاضل وکیل نے اعتراض اٹھاتے ہوئے کہا کہ مذکورہ مفہوم اور عقیدہ کے ساتھ کلمہ طیبہ والے جھنڈوں کا لہرانا یا بیجوں کا لگانا تعزیرات پاکستان کی دفعہ 295۔سی کے تحت جرم کے مترادف ہے۔ جس کی سزا موت ہے۔“

عیاں ہے کہ قادیانی مرزا قادیانی کو حضرت محمد ﷺ کا بدل مانتے ہیں۔ اس لیے جھنڈوں پر لکھے ہوئے اور بیجوں پر تحریر شدہ الفاظ ”محمد رسول اللہ“ کا استعمال ہر قادیانی کی اپنی ذمہ داری ہے، کیونکہ ایسا کرنا رسول اکرم ﷺ کے مقدس نام کی بے حرمتی کرنے کے مترادف ہے۔ بلاشبہ ایسا فعل دفعہ 295۔سی تعزیرات پاکستان کے دائرہ میں آتا ہے“۔

آبادی کے مذہبی جذبات کو بھڑکانے کا موجب بنتی۔ یہ چیز سالگرہ کی تقریبات پر پابندی لگانے کا دوسرا جواز فراہم کرتی ہے، کیونکہ اس سے امن عامہ میں خلل پڑنے کا زبردست خدشہ تھا۔ یاد رہے کہ صرف مذہب کی پیروی اور اس پر عمل کرنے کے حق کا دعویٰ تو کیا گیا لیکن سائلان کے فاضل وکلاء یہ ثابت کرنے میں ناکام رہے کہ ان تقریبات کے کھلے بندوں انعقاد اور جس طریقے سے انہیں منانے کا پروگرام بنایا گیا، اس پر پابندی لگانے سے قادیانی مذہب کی پیروی اور اس پر عمل کرنے کے حق کی کس طرح خلاف ورزی ہوتی یا اس میں کمی واقع ہوگئی؟ ہندوؤں، سکھوں، پارسیوں اور دوسری مذہبی اقلیتوں کی طرح قادیانی بدستور اپنے مذہب کی پیروی اور اس پر عمل کر رہے ہیں اور مکمل مذہبی آزادی سے مستفید ہو رہے ہیں۔ خود کو مسلمان ظاہر کر کے اور شریعت اسلامیہ یا کلمہ طیبہ کو جو کہ اسلام کے اساسی ارکان میں سے ایک ہے، استعمال

صفحہ 503

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول)

کر کے وہ اپنے رویہ سے خود مشکل صورتِ حال پیدا کر دیتے ہیں۔ اگر قادیانی دستوری فیصلہ کو قبول کر لیں اور خود کو مسلمانوں سے ایک علیحدہ اور جداگانہ برادری سمجھنے لگیں جیسا کہ ان کا اپنا دعویٰ ہے تو کوئی نا خوشگوار صورتِ حال پیدا نہ ہو۔ ان کا خود کو مسلمانوں کا بدل ظاہر کرنا اور عامۃ المسلمین کو اسلام کے دائرہ سے خارج کرنا‘ مسلمانوں کے لیے کسی طرح قابلِ قبول اور قابلِ برداشت نہیں۔ ملک اور دستور سے ان کی وفاداری اور ان کا جداگانہ وجود ان کی سلامتی و بھلائی کو یقینی بنا سکتا ہے۔ ہم انہیں خوش آمدید کہیں گے چاہے وہ کوئی سا مذہب اختیار کریں لیکن وہ مسلمانوں کے دین کو ناپاک کرنے پر کیوں مُصر ہیں؟ اگر مسلمان اپنے مذہب کو ہر قسم کی آمیزش سے پاک وخالص رکھنے کے لیے کوئی قدم اٹھاتے ہیں تو اس پر قادیانی کیوں سیخ پا ہوتے ہیں‘ اسے مسئلہ کیوں بنا لیتے ہیں‘‘۔

خارج ہیں۔ اس طرح انہوں نے اپنی علیحدہ امت بنالی ہے جو امت مسلمہ کا حصہ نہیں‘ یہ چیز خود ان کے طرزِ عمل اور عقائد سے ثابت ہے‘ وہ خود کو مسلمانوں کو اپنی ملت سے خارج گردانتے ہیں۔ احمدی لوگ حکومتِ برطانیہ کے زیر سایہ خود مسلمان ظاہر کر سکتے تھے اب ایسا نہیں کر سکتے‘ کیونکہ مسلمانوں کے نزدیک مرزا قادیانی امتِ مسلمہ میں انتشار و تفریق پیدا کر کے انگریزوں کے مفادات کے لیے کام کرتا رہا تھا۔ امتِ مسلمہ کے اتحاد و یک جہتی کے متعلق اسلامی معاشرہ کے عظیم اصحابِ فضل و کمال کی آراء کا نچوڑ یہ ہے کہ ”یہ امت محض عقیدہ ختمِ نبوت کی بدولت انتشار سے محفوظ ہے‘‘۔

بہت کامیابی اس سٹریٹجی کے تحت حاصل کی کہ خود کو مسلمان اور اپنے مذہب کو اصل اسلام ظاہر کیا اور دوسروں کو یقین دلایا کہ احمدی ازم (قادیانیت) کو قبول کرنے کا مطلب اسلام کو ترک کرنا یا اسلام سے کفر کی طرف مراجعت نہیں‘ انہیں نے لوگوں کو بہکایا کہ اگر وہ بہتر مسلمان بننا چاہتے ہیں تو احمدیت کے سایۂ عاطفت میں آ جائیں۔ اسی غرض کے

صفحہ 504

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول)

لیے حسب معمول انہوں نے تعلیم یافتہ مسلمانوں کی دُکھتی رگ یعنی فرقہ بندی سے بیزاری اور علماء کی مذہبی معاملات میں سخت گیری و انتہا پسندی پر ہاتھ رکھا اور انہیں مرزائیت جسے وہ اسلام میں روشن خیالی کی علمبردار کہتے تھے، کی نام نہاد آغوشِ عافیت کی طرف لانے کی تگ و دو کی۔ ان کی یہ سٹرٹیجی اس گندم نما جو فروش تاجر سے ملتی جلتی تھی جو کسی مشہور و معروف فرم کا نام لے کر اپنا گھٹیا مال فروخت کرتا ہو۔ ان کی حکمتِ عملی ایک حد تک کامیاب رہی۔ اگر قادیانی یہ بات تسلیم کرلیں کہ ان کی تبلیغ، اسلام کے لیے نہیں، ایک دوسرے مذہب کے لیے ہے تو مسلمانوں میں جاہل اور غافل لوگ بھی اپنی متاعِ ایمان کو بے ایمانی سے بدلنے پر ہرگز آمادہ نہ ہوں، بلکہ اس سے قادیانیت کے سحر میں اسیر قادیانی بھی چھٹکارا پانے کی فکر کرنے لگیں‘‘۔

کے کھلے بندوں انعقاد اور جس طریقے سے انہیں منانے کا پروگرام بنایا گیا، اس پر پابندی لگانے سے قادیانی مذہب کی پیروی اور اس پر عمل کرنے کے حق کی کس طرح خلاف ورزی ہوتی یا اس میں کمی واقع ہو گئی؟ ہندوؤں، سکھوں، پارسیوں اور دوسری مذہبی اقلیتوں کی طرح قادیانی بدستور اپنے مذہب کی پیروی اور اس پر عمل کر رہے ہیں اور مکمل مذہبی آزادی سے مستفید ہو رہے ہیں۔ خود کو مسلمان ظاہر کر کے اور شریعت اسلامیہ یا کلمہ طیبہ کو جو کہ اسلام کے اساسی ارکان میں سے ایک ہے، استعمال کر کے وہ اپنے رویہ سے خود مشکل صورتِ حال پیدا کر دیتے ہیں۔ اگر قادیانی دستوری فیصلہ کو قبول کر لیں اور خود کو مسلمانوں سے ایک علیحدہ اور جداگانہ برادری سمجھنے لگیں جیسا کہ ان کا اپنا دعویٰ ہے تو کوئی ناخوشگوار صورتِ حال پیدا نہ ہو۔ ان کا خود کو مسلمانوں کا بدل ظاہر کرنا اور عامۃ المسلمین کو اسلام کے دائرہ سے خارج کرنا، مسلمانوں کے لیے کسی طرح قابلِ قبول اور قابلِ برداشت نہیں۔ ملک اور دستور سے ان کی وفاداری اور ان کا جداگانہ وجود ان کی سلامتی و بھلائی کو یقینی بنا سکتا ہے۔ ہم انہیں خوش آمدید کہیں گے چاہے وہ کوئی

صفحہ 505

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول)

سا مذہب اختیار کریں لیکن وہ مسلمانوں کے دین کو ناپاک کرنے پر کیوں مُصر ہیں؟ اگر مسلمان اپنے مذہب کو ہر قسم کی آمیزش سے پاک و خالص رکھنے کے لیے کوئی قدم اٹھاتے ہیں تو اس پر قادیانی کیوں سیخ پا ہوتے ہیں، اسے مسئلہ کیوں بنا لیتے ہیں“۔

کی سرگرمیوں اور ان کے مذہب کی تبلیغ کی مزاحمت و مخالفت کرتی ہے تاکہ ان کے مذہب کا اصل دھارا پاک صاف اور غلاظت سے محفوظ رہے اور امت کی یکجہتی بھی برقرار رہے۔ ایسا کرنے سے قادیانیوں کے ان کے مذہب کی پیروی اور اس پر عمل کرنے کے حق پر نہ کوئی زد پڑتی ہے نہ اس کی خلاف ورزی ہوتی ہے“۔

تحفظ ختم نبوت کے اس معرکہ میں جس شخص نے جتنا حصہ ڈالا، وہ اسی قدر مبارک باد اور شکریہ کا مستحق ہے۔ اللہ تعالیٰ سب حضرات کی کاوشوں کو قبول فرمائے۔ آمین!

طالب شفاعت محمدی ﷺ بروز محشر محمد متین خالد لاہور

۞.......۞.......۞

صفحہ 506

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول)

PLD 1992 Lahore 1

لاہور ہائی کورٹ لاہور

مرزا خورشید احمد و دیگر بنام حکومت پنجاب

فیصلے کے اہم نکات:

ہے کہ قادیانی مرزا قادیانی کو حضرت محمد ﷺ کا بدل مانتے ہیں۔ اس لیے جھنڈوں پر لکھے ہوئے اور بیجوں پر تحریر شدہ الفاظ ”محمد رسول اللہ“ کا استعمال ہر قادیانی کی اپنی ذمہ داری ہے، کیونکہ ایسا کرنا رسول اکرم ﷺ کے مقدس نام کی بے حرمتی کرنے کے مترادف ہے۔ بلاشبہ ایسا فعل دفعہ 295۔ سی تعزیراتِ پاکستان کے دائرہ میں آتا ہے۔

کی سرگرمیوں اور ان کے مذہب کی تبلیغ کی مزاحمت و مخالفت کرتی ہے تاکہ ان کے مذہب کا اصل دھارا پاک صاف اور غلاظت سے محفوظ رہے اور امت کی یکجہتی بھی برقرار رہے۔ ایسا کرنے سے قادیانیوں کے ان کے مذہب کی پیروی اور اس پر عمل کرنے کے حق پر نہ کوئی زد پڑتی ہے نہ اس کی خلاف ورزی ہوتی ہے۔

اس پر عمل کرنے کا حق ہے جس کی ضمانت دستور کے آرٹیکل 20 میں دی گئی ہے۔ تاہم یہ حق دستور کے دیگر مشمولات، قانون، مصلحتِ عامہ اور اخلاق کے تابع ہے۔

صفحہ 507

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول)

PLD 1992 Lahore 1

لاہور ہائی کورٹ لاہور

(ابتدائی معلومات)

بعدالت جناب جسٹس خلیل الرحمن خاں

عنوان مقدمہ ...... مرزا خورشید احمد و دیگر بنام حکومت پنجاب مقدمہ نمبر ...... رٹ پٹیشن نمبر 2089 لغایت 1989ء فریق اوّل ...... مرزا خورشید احمد و دیگر ............ اپیلانٹ فریق ثانی ...... حکومت پنجاب وغیرہ ...... مسئول الیہان فریقِ اول کے وکلاء ...... سی اے رحمان، مبشر لطیف احمد اور مجیب الرحمان ایڈووکیٹ فریقِ دوم کے وکلاء ...... مقبول الٰہی ملک ایڈووکیٹ جنرل پنجاب ان کے معاونین این اے غازی‘ اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل ارشاد اللہ خاں اور مسعود احمد خان ایڈووکیٹ متفرق فوجداری ...... درخواست نمبر 5377 لغایت 1989ء کی پیروی محمد اسماعیل قریشی اور درخواست نمبر 2049 لغایت 1991ء میں رشید مرتضیٰ قریشی پیش ہوئے۔

تاریخ ہائے سماعت ...... تاریخ فیصلہ ...... 17 ستمبر 1991ء

صفحہ 508

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول)

فیصلہ

جسٹس خلیل الرحمن خاں

جو احمدیہ کمیونٹی کے ارکان اور اس کی مرکزی و مقامی تنظیم کے عہدیداران ہونے کے دعویدار ہیں۔ اس آئینی درخواست میں اس امر کا فیصلہ کرنے کی استدعا کی گئی تھی کہ پنجاب کے ہوم سیکرٹری نے مورخہ 20 مارچ 1989ء کو قادیانیوں کے صد سالہ جشن کی تقریبات پر پابندی کی بابت جو حکم صادر کیا نیز جھنگ کے ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کی طرف سے مورخہ 21 مارچ 1989ء کو زیر دفعہ 144 مجموعہ ضابطہ فوجداری جو حکم جاری کیا گیا جس کی رُو سے ضلع جھنگ کے قادیانیوں کو ایسی سرگرمیوں سے باز رہنے کی ہدایت کی گئی جو مذکورہ بالا حکم میں مذکور تھیں، بعد ازاں ربوہ کے ریزیڈنٹ مجسٹریٹ نے 25 مارچ 1989ء کو ایک حکم کے ذریعے احمدیہ جماعت ربوہ کے عہدیداران کو خبردار اور ہدایت کی کہ وہ شہر ربوہ میں لگائے گئے آرائشی گیٹ ہٹا دیں۔ جھنڈے اور چراغاں کے لیے لگائی گئی روشنی کی تار اُتار لیں اور اس امر کی یقین دہانی کرائیں کہ دیواروں پر مزید اشتہار نہ لکھے جائیں گے۔ نیز یہ کہ 21 مارچ 1989ء کو جاری کیے گئے حکم کی میعاد میں تا حکم ثانی توسیع کر دی گئی ہے۔ یہ تمام اقدامات خلافِ قانون و باطل ہیں اور ان کی کوئی قانونی حیثیت نہیں، انہیں کالعدم قرار دیا جائے۔ یہ استدعا بھی کی گئی کہ مسئول الیہان کو اس امر کی ہدایت کی جائے کہ وہ سائلان کو ان واضح بنیادی و اساسی حقوق کے استعمال سے نہ روکیں جو سائلان کو اسلامی جمہوریہ پاکستان کے دستور کے آرٹیکل 20 کی رُو سے حاصل ہیں۔

صفحہ 509

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول)

احمدیہ جماعت کو جس کا قیام 23 مارچ 1889ء کو عمل میں آیا تھا، قائم ہوئے سو سال ہو گئے ہیں۔ جماعت کی تشکیل کے 100 برس پورے ہونے پر دنیا بھر کے دوسرے احمدیوں کی طرح ربوہ کے احمدیوں نے بھی 23 مارچ 1989ء سے صد سالہ جشن کی تقریبات منانے کا فیصلہ کیا۔ ان تقریبات کو شایانِ شان طریقہ سے منانے کے لیے سائلان اور ربوہ کے دیگر شہریوں نے نئے ملبوسات زیب تن کرنے، بچوں میں مٹھائیاں بانٹنے، محتاجوں کو کھانا کھلانے اور بغرض اجلاس جمع ہونے کا پروگرام بنایا تاکہ جلسہ عام میں احمدیہ جماعت کی 100 سالہ تاریخ کے اہم واقعات پر روشنی ڈالی جائے۔ مزید التجا کی گئی کہ اگر کوئی احمدی اپنے امام اور ان کے جانشینوں کے مقام و مرتبہ کے بارے میں یا افریقہ اور دوسرے ممالک میں ان کی تبلیغی مساعی کے بارے میں اپنے بچوں کو کچھ بتاتے تو ممکن ہے اس سے بعض متشدد اور متعصب لوگوں کے جذبات مجروح ہوں۔ گزارش کی گئی کہ قادیانیوں کو (جو خود کو احمدی کہتے ہیں) صد سالہ سالگرہ منانے سے روکنے کا کوئی قانونی جواز نہیں، ایسا کرنا ان کا بنیادی اور فطری حق ہے، کیونکہ یہ موقع ان کی تاریخ میں سنگِ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔ مزید دعویٰ کیا گیا کہ ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کے حکم میں کہیں مذکور نہیں کہ اس کے یقین کے مطابق اگر احمدیوں نے حسب پروگرام ربوہ میں صد سالہ جشن کی تقریبات منعقد کیں تو شہر میں نقض امن یا فرقہ وارانہ فسادات کے پھوٹ پڑنے کا خطرہ ہے۔

اکثریت احمدیوں پر مشتمل ہے، وہ گاہ بگاہ ایک دوسرے کی خوشی وغمی میں شریک ہوتے رہتے ہیں۔ اس لیے دفعہ 144 مجموعہ ضابطہ فوجداری کے تحت جو کارروائی کی گئی، اس کی کوئی ضرورت نہیں تھی۔ مذکورہ بالا دلیل کی بنیاد پر دعویٰ کیا گیا کہ اس موقع پر ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کو چاہیے تھا کہ احمدیوں کو جشن منانے سے باز رہنے کی ہدایت کرنے کے بجائے دوسروں کو خبردار کرتا کہ وہ ان تقریبات میں کوئی رکاوٹ نہ ڈالیں، کیونکہ احمدیوں کو کسی ایسی سرگرمی سے نہیں روکا جا سکتا، جس کی ممانعت قانون میں نہ کی گئی ہو۔

صفحہ 510

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول)

مزید عرض کیا گیا کہ صوبائی حکومت یہ حکم جاری کرنے کے بجائے ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کو یہ ہدایت کرنی چاہیے تھی کہ ان متشدد عناصر کو جو پاکستان میں احمدیوں کا وجود تک برداشت کرنے کو تیار نہیں، اور انہیں مرتد کہتے ہیں، احمدیوں کے خلاف جھوٹا پروپیگنڈہ کرنے سے باز رکھا جائے اور ان کی تقریبات میں مخل ہونے سے روکا جائے۔ یہ گزارش بھی کی گئی کہ شہریوں کے حقوق کو محض اس بناء پر پامال کرنا قرین انصاف نہیں کہ چند متشدد یا با اثر افراد کی طرف سے گڑبڑ کا اندیشہ ہے۔ مزید عرض کیا گیا کہ احمدی 23 مارچ 1989ء کو نیز سال بھر کے دوران وقتاً فوقتاً جمع ہو کر جلسے کرنا چاہتے تھے جن میں اظہار تشکر کی خصوصی دعائیں کرنا، اللہ تعالیٰ کے ان احسانات اور نعمتوں کا شکریہ ادا کرنا، جن سے گزشتہ صدی کے دوران انہیں نوازا گیا۔ بچوں اور نوجوانوں کو احمدیت کی راہ میں ان کے آباء و اجداد کے ایثار و قربانی اور اس سلسلے میں ان پر عائد کی گئی پابندیوں اور نوجوانوں کو ان کے فرائض سے آگاہ کرنا مقصود تھا۔

جن کا پروگرام بنایا گیا تھا، احمدیہ برادری کے ہر رکن کا آئینی حق ہے۔ اس لیے حکومت کو ان کے انعقاد کو یقینی اور محفوظ بنانا چاہیے تھے۔ اس حق سے کسی کو اس بناء پر محروم نہیں کیا جا سکتا تھا کہ بعض اشخاص نے احتجاج و مزاحمت کی دھمکی دی تھی۔ فاضل وکیل نے دلیل پیش کی کہ اگرچہ 21 مارچ 1989ء کا حکم 25 مارچ 1989ء کو زائد المیعاد ہو گیا اور اس حقیقت کے باوجود کہ اس میں توسیع نہیں کی گئی، ریذیڈنٹ مجسٹریٹ ربوہ نے غیر قانونی طور پر 25 مارچ 1989ء کا حکم جاری کر دیا، جس میں متنازعہ فیہ ہدایات درج تھیں۔

سائلان نے قادیانی گروپ، لاہوری گروپ اور احمدیوں کی غیر اسلامی سرگرمیوں پر (پابندی اور ممانعت) کے آرڈیننس 1984ء (1984ء کا 20 واں) کے احکام کے تحت مجموعہ تعزیرات پاکستان میں داخل کی گئی نئی دفعہ 298 سی کی وجہ جواز کو بھی اس بناء پر چیلنج کیا کہ اس سے دستور پاکستان کے آرٹیکل نمبر 20 میں دیئے گئے بنیادی حق کی خلاف ورزی ہوتی ہے۔ مذکورہ آرٹیکل کے تحت ہر شہری کو اپنے مذہب کی

صفحہ 511

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول)

پیروی اور اس پر عمل کرنے کا حق دیا گیا ہے بہر حال بحث کے دوران فاضل وکیل نے اس نکتہ پر یہ کہتے ہوئے زور نہیں دیا کہ یہ مسئلہ پہلے ہی سپریم کورٹ میں زیر سماعت ہے اور وہ اس کا فیصلہ ہونے تک انتظار کرنے کو تیار ہیں۔ یہ بات قابل غور ہے کہ سائلان کی طرف سے پیش ہونے والے تینوں وکلاء قادیانیوں کے عقیدہ کی ”تبلیغ کے حق“ پر یقین نہیں رکھتے کیونکہ انہوں نے اپنے استدلال اور موقف کو مذہب کی پیروی اور اس پر عمل کرنے کے حق تک محدود و مقید رکھا۔

گزارش کی کہ قادیانیوں پر زیادہ سے زیادہ یہ پابندی لگائی جاسکتی تھی کہ وہ دوسرے لوگوں سے اپنے عقیدہ کی تبلیغ نہ کریں، لیکن انہیں عام جلسوں میں رسول اکرمؐ کی حیات طیبہ اور دوسرے مذہبی موضوعات پر تقاریر کرنے سے نہیں روکا جا سکتا تھا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ان تقاریر میں قادیانی جو حوالے دیتے، ان کی تعبیر وتشریح ان کی کتب میں مذکور نقطہ نظر کے مطابق کی جاتی۔ حقیقت میں نہ تو پبلک تقاریب منعقد کرنی تھیں، نہ جلوس نکالے جانے تھے، نہ کوئی پمفلٹ تقسیم ہونے تھے، نہ ہی بینرز لگانے کا پروگرام بنایا گیا تھا۔ اس استدلال کی بناء پر انہوں نے عرض کیا کہ مذکورہ بالا طریقے سے ایسی تقریبات کے انعقاد کو روکا نہیں جا سکتا تھا کیونکہ دستور کے آرٹیکل 16، 19 اور 20 کے تحت ہر شہری اور برادری کو اس حق کی ضمانت دی گئی ہے کہ وہ اپنے مذہب کی پیروی اور اس پر عمل کر سکتا ہے۔ نیز اپنی برادری کے بچوں یا افراد میں اپنے عقیدہ یا افکار کی تبلیغ کر سکتا ہے۔ انہوں نے مزید عرض کیا کہ ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کے حکم میں جو متنازعہ فیہ ہدایات درج تھیں، انہیں ایک ایک کر کے پرکھا جائے یا اجتماعی طور پر جائزہ لیا جائے، ان سے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہوتی ہے۔ ان ہدایات کے ذریعے جو مقصد حاصل کرنے کی کوشش کی گئی، وہ بھی بنیادی حقوق سے متصادم تھا، اگرچہ جشن کا سال گزر گیا ہے۔ تاہم ان کی درخواست غیر موثر نہیں ہوئی کیونکہ اس میں جس حق کا مطالبہ کیا گیا ہے، وہ روز مرہ کے معمولات میں سے ہے اور اگر مذہب کی پیروی نیز اس پر عمل کرنے کے حق

صفحہ 512

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول)

کی وسعت اور اس کی حدود کا تعین کر دیا جائے تو یہ چیز احمدیوں کے ساتھ ساتھ دوسرے شہریوں کو بھی درست لائحہ عمل اختیار کرنے کی ترغیب دے گی۔

امور کی عام جلسہ اور عام مقامات پر انجام دہی کے حق سے انکار نہیں کیا جاسکتا، تاہم ان میں سے کوئی ایک کام بھی جائے عام پر کرنے کا پروگرام نہیں تھا۔ انہوں نے وضاحت سے بتایا کہ نہ تو کوئی ایسا پروگرام بنایا گیا تھا، نہ ہی ایسی تقاریر کرنے کا ارادہ تھا جس سے ملکی قانون کی خلاف ورزی ہوتی۔ اندریں حالات ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کا یہ کہنا مسلمانوں کی توہین کرنا ہے کہ ان تقریبات کے انعقاد پر مسلمان احتجاج اور برہمی کا اظہار کرتے یا اس سے امن عامہ میں خلل پڑتا۔ اگر مذکورہ بالا امور کی بجا آوری کے موقع پر، جو بصورت دیگر قانوناً درست تھے، نقض امن کا اندیشہ تھا تو اس اندیشہ کو دُور کرنے کی تدابیر اختیار کرنی چاہیے تھیں تا کہ قادیانیوں کو ان سے باز رہنے کی ہدایت کی جاتی۔ اپنے استدلال کی حمایت میں انہوں نے رامناد ضامن دیواستھانام تحصیلدار بنام کدار میرا امبالم (اے آئی آر 1932 مدراس 294) متعلق بہ سری کانت آئڑ (اے آئی آر 1937ء مدراس 311) نیز مسماۃ جسودہ لیکھراج بنام ایمپرر (اے آئی آر 1939ء سندھ 167) کا حوالہ دیا۔

بابت 1989ء) پر ایک نظر ڈالنا مناسب ہوگا جو فریق مقدمہ بنائے جانے کی خاطر مولانا منظور احمد چنیوٹی کی طرف سے داخل کی گئی تھی تا کہ عدالت کے سامنے مسلمانوں کا نقطہ نظر بھی پیش کیا جا سکے کیونکہ دنیا کے مسلمان حضور نبی کریم ﷺ کی قطعی اور غیر مشروط ختم نبوت پر ایمان رکھتے ہیں۔ ان کے نزدیک مرزا قادیانی بانی جماعت احمدیہ ایک مرتد و مکار شخص تھا۔ درخواست گزار نے گزارش کی کہ وہ اس مقدمہ کا ایک لازمی فریق ہے کیونکہ اس نے بین الاقوامی ختم نبوت مشن کے عہدیدار کی حیثیت سے قادیانیوں کی متذکرہ بالا سرگرمیوں کا نوٹس لیتے ہوئے، جن سے اسلامی جمہوریہ

صفحہ 513

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول)

پاکستان کے دستور کی خلاف ورزی کا خدشہ اور مسلمانوں کے مذہبی جذبات کے بھڑکنے کا امکان تھا، مجلس تحفظ ختم نبوت کے نمائندہ مندوبین کی معیت میں حکومت پنجاب سے رابطہ قائم کیا۔ قادیانی جشن کے پروگرام کی بابت اپنی گہری تشویش واضطراب سے آگاہ کرتے ہوئے مطالبہ کیا تھا کہ ان تقریبات پر فوراً پابندی لگائی جائے، ورنہ ملک گیر سطح پر شدید ہنگامے شروع ہو جائیں گے۔ یہ کہ حکومت پنجاب نے ان کے مطالبہ پر ہمدردانہ غور کرتے ہوئے سالگرہ کی تقریبات پر پابندی لگانے کا فیصلہ کیا تھا۔ یہ درخواست 18 دسمبر 1989ء کو زیر سماعت آئی۔ اس موقع پر سائلان کے فاضل وکلاء نے تجویز کیا کہ درخواست دہندہ کو اس سلسلہ میں بیان حلفی داخل کرنا چاہیے اور یہ کہ فریق مقدمہ بنائے جانے کی درخواست پر اصل درخواست کے ساتھ غور کر لیا جائے۔ درخواست دہندہ کو بیان حلفی داخل کرنے کی اجازت دے دی گئی اور اس کی درخواست مع اصل پٹیشن کی سماعت کے لیے تاریخ سماعت مقرر کر دی گئی۔

طرف سے دی گئی تھی جو عیسائیت سے تعلق رکھتا ہے۔ وہ اس استدلال پر مبنی تھی کہ عیسائیت کے خلاف مرزا قادیانی کی تقاریر اور اس کا لٹریچر تمام عیسائیوں کے نزدیک قابل مذمت اور نفرت انگیز ہے۔ درخواست دہندہ کے فاضل وکیل نے وضاحت سے بتایا کہ ان تقریبات کی مسلمہ غرض وغایت جماعت احمدیہ کی 100 سالہ تاریخ کا اعادہ کرنا تھا، جس میں جماعت کی تحریروں اور لٹریچر سے حوالے لازماً دیئے جاتے جن میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور عیسائیت کی بابت انتہائی قابل اعتراض اور توہین آمیز ریمار کس شامل ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ مرزا قادیانی نے مسیح موعود (وہ مسیح جن کی دوبارہ آمد کی بشارت دی گئی ہے) ہونے کا دعویٰ کیا تھا اور اس کے پیرو اسے مسیح موعود مانتے ہیں۔ اس لیے عیسائیوں کے عقائد اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی عزت و ناموس کی حفاظت کے لیے ایسے لغو دعویٰ کی تردید وتکذیب ضروری تھی۔ ان کی تحریروں میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے خلاف ملامت آمیز مواد نیز ان کے جلسوں اور تقریبات میں

صفحہ 514

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول)

متوقع حملے عیسائی برادری کے غیظ وغضب کا موجب بنتے۔ اس سے قادیانیوں اور عیسائیوں کے مابین دشمنی و نفرت میں اضافہ ہوتا اور نقض امن کی سنگین صورتحال پیدا ہو جاتی۔

بات پر زور دیا کہ ان دونوں درخواستوں کو مزید دلائل سنے بغیر خارج کر دیا جائے۔ یہ بات قابل غور ہے کہ اس نکتہ پر اس وقت زور دیا گیا جب فاضل وکلا میں سے ایک اپنے دلائل مکمل کر چکے تھے اور فاضل ایڈووکیٹ جنرل کے دلائل کا آغاز ہو چکا تھا۔ اس درخواست کو 13 مئی 1991ء کو صادر کردہ حکم کی رو سے نمٹایا گیا، جس میں کہا گیا تھا کہ:

”اس مرحلہ پر فاضل وکیل سی اے رحمان نے بتایا کہ فریق مقدمہ بنائے جانے کی درخواست (سی ایم 89 / 5377) کا تصفیہ معاملہ کی مزید سماعت کرنے سے پہلے کر دیا جائے۔ یاد رہے کہ پٹیشن کی حمایت میں وہ اپنے دلائل پہلے ہی مکمل کر چکے ہیں۔ مبشر لطیف احمد نے اپنے دلائل ختم کر لیے ہیں۔ اب مسئول الیہ اور درخواست گزار کو جواب دینا ہے۔“

علاوہ بریں 18 دسمبر 1989ء کے حکم میں کہا تھا کہ ”درخواست دہندہ نے فریق مقدمہ بنائے جانے کی یہ درخواست مسئول الیہ کی حیثیت سے دی ہے۔ اس کی ایک نقل سائلان کے فاضل وکیل کو فراہم کر دی گئی ہے۔ انہوں نے تجویز کیا کہ درخواست دہندہ کو چاہیے کہ وہ اس سلسلے میں بیان حلفی داخل کرے، نیز یہ کہ اس کی درخواست کی سماعت پٹیشن کے ساتھ کی جائے۔ درخواست گزار کے فاضل وکیل نے تجویز سے اتفاق کیا کہ تحریری بیان داخل ہو لینے دیا جائے اور اس درخواست نیز اصل پٹیشن پر دلائل کا آغاز 27 جنوری 1990ء سے کیا جائے۔

اندریں حالات اس مرحلہ پر فریق مقدمہ بنائے جانے کی درخواست پیش کرنا دراصل کارروائی کو طول دینے کا ایک حربہ ہے جس سے پٹیشن میں اٹھایا گیا اصل معاملہ کھٹائی میں پڑ جائے گا۔ پس اس معاملہ کا فیصلہ اصل پٹیشن کے ساتھ کیا جائے گا جیسا کہ خود فاضل وکیل نے تجویز کیا ہے، مسئول الیہان اور دوسرے اپنے دلائل شروع کر سکتے ہیں۔“

صفحہ 515

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول)

جانے کا تعلق ہے‘ یہ بات قابل غور ہے۔ ابتدا میں فاضل وکیل کو جیسا کہ محسوس ہوتا ہے‘ درخواست کی سماعت پر کوئی اعتراض نہیں تھا کیونکہ انہوں نے خود ہی تجویز پیش کی تھی کہ درخواست گزار کو پہلے تحریری بیان داخل کرنے کا موقع دیا جائے۔ درخواست گزار نے عام مسلمانوں کی نمائندگی کرتے ہوئے قادیانیوں کے خیالات کی مخالفت اور صد سالہ جشن کی تقریبات پر زبردست احتجاج کیا تھا‘ جس کی بناء پر صوبائی حکومت نے ان تقریبات پر پابندی عائد کر دی تھی اور ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ نے زیر بحث امتناعی احکام جاری کیے تھے۔ درخواست گزار کا موقف یہ تھا کہ سماعت کے دوران ان کا موجود ہونا ضروری ہے تاکہ وہ یہ ثابت کر سکے کہ اندرون ملک قادیانیوں کا عام اجتماعات میں مذہبی موضوعات پر قادیانیت کے پردہ میں تبلیغ کرنا ازروئے قانون ممنوع اور جرم ہے۔ عیسائی درخواست گزار کے فاضل وکیل نے بھی ایسا ہی موقف اختیار کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ قادیانیوں کی طرف سے مذہبی موضوعات پر بحث مباحثہ اندیشہ نقض امن پر منتج ہوتا کیونکہ ان کے افکار و تعلیمات ناصرف مسلمانوں بلکہ عیسائیوں کے بھی مذہبی جذبات کو مشتعل کرنے والی ثابت ہوتی۔ یہ بات قابل غور ہے کہ صد سالہ سالگرہ کا سال گزر جانے کے باوجود اس درخواست پر اس لیے زور دیا جا رہا ہے کہ ان کے افکار و خیالات کی تبلیغ کے لیے مذہبی اجتماعات منعقد کرنے کے حق کا تعین کرنا ضروری ہے‘ کیونکہ ایسا کرنا ممبران جماعت احمدیہ کے روزمرہ معمولات کا ایک حصہ ہے اور اس میں شک نہیں کہ روزمرہ معمولات کا حصہ ہونے کی بناء پر اس کا تعلق مسلمانوں‘ عیسائیوں اور دوسرے تمام شہریوں سے ہے۔ اس لیے وہ اس پٹیشن کے خلاف سنے جانے کے حقدار ہیں۔ چنانچہ دونوں درخواستیں برائے سماعت منظور کی جاتی ہیں اور درخواست گزاروں کو بطور مسئول الیہ مقدمہ کا فریق بنانے کی اجازت دی جاتی ہے۔ اس طرح یہ دونوں درخواستیں نمٹا دی گئیں۔

صفحہ 516

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول)

گئی جب سائلان کے فاضل وکیل سی۔ اے۔ رحمان نے اپنے دلائل مکمل کر لیے تھے‘ اور مولانا منظور احمد چنیوٹی کے فاضل وکیل اسماعیل قریشی نیز فاضل ایڈووکیٹ جنرل فریق مخالف کے وکیل کے پیش کردہ مباحث کے جواب میں کچھ معروضات پیش کر چکے تھے۔ فاضل ایڈووکیٹ جنرل نے بحث شروع کرنے سے پہلے ایک فہرست داخل کی جو ظاہر کرتی تھی کہ وہ مرزا قادیانی کے افکار کو کس کس موضوع کے تحت زیر بحث لائیں گے جیسا کہ وہ خیالات مرزا صاحب کی کتابوں میں موجود ہیں‘ جنہیں صد سالہ جشن کی تقریبات میں دہرایا جانا تھا۔ انہوں نے واضح کیا کہ مرزا صاحب اور ان کے حواریوں کی یہ تحریریں جن کی نشاندہی عدالت میں پیش کردہ درخواست میں کی گئی ہے‘ ناصرف پاکستان بلکہ دنیا بھر کے مسلمانوں کے مذہبی محسوسات کو مشتعل و مجروح کرنے والی ہیں جو روز اول سے ان افکار و نگارشات کی مخالفت کرتے چلے آ رہے ہیں۔ گزشتہ 100 برسوں کے دوران انہوں نے مرزا صاحب کے کذب و افتراء کو طشت از بام کرنے کے لیے قدم قدم پر قربانیاں دی ہیں۔ عام اجتماعات میں ایسے افکار کا تذکرہ و اعادہ ناصرف ارتکاب جرم کے مترادف ہوتا بلکہ مسلمانوں میں وسیع پیمانہ پر شدید غم و غصہ کو ابھارنے کا سبب بنتا۔ اور اس سے نقض امن کو خطرہ لاحق ہونا ناگزیر ہو جاتا۔ انہوں نے وضاحت کرتے ہوئے بتایا کہ جشن کی تقریبات منعقد کرنے‘ جماعت احمدیہ کی تاریخ کو دہرانے‘ مرزا صاحب کے مقام و حیثیت کو اجاگر کرنے اور اس کی تعلیمات کو عام کرنے سے امن و امان کی صورتحال پر جو اثرات مرتب ہوتے ، انہیں تاریخی پیش منظر میں دیکھنا چاہیئے‘ جس میں احمدیوں کو غیر مسلم قرار دینے کا دستوری فیصلہ بھی شامل ہے۔ تاہم فاضل ایڈووکیٹ جنرل یا دوسرے وکلاء کی طرف سے مذکورہ بالا موضوعات کو زیر بحث لانے سے قبل ہی سائلان نے اس امر کی درخواست (CM.2051-91) پیش کر دی کہ پٹیشن میں محض ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کے حکم کی قانونی حیثیت کو چیلنج کیا گیا ہے اور یہ استدعا کی گئی ہے کہ 21 اور 25 مارچ 1989ء کے حکم کو کالعدم ٹھہراتے ہوئے‘ مسئول الیہان کو ہدایت کی جائے کہ وہ سائلان کے بنیادی حق کے استعمال میں رکاوٹ نہ

صفحہ 517

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول)

ڈالیں۔ لیکن 8 مئی 1991ء کو اپنے دلائل کے دوران فاضل ایڈووکیٹ جنرل نے اعتقادی اختلافات اور مذہبی مباحث چھیڑ دیئے۔ اپنی گزارشات میں جب انہوں نے سائلان کے ساتھ بعض عقائد منسوب کیے تو انہوں نے ان عقائد کو غلط فہمی پر مبنی قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا۔ درخواست کی تائید میں ایک حلفیہ بیان داخل کیا گیا جس میں کہا گیا تھا کہ قانونی مسائل کے تصفیہ میں عقیدہ و مسلک کی بات کرنا سراسر غیر متعلقہ اور خارج از بحث معاملہ ہے کیونکہ مذہبی بحث و مناظرہ کے لیے عدالت ہذا موزوں فورم نہیں ہے۔ رٹ پٹیشن میں کسی مذہبی عقیدہ کا فیصلہ یا اس کی بابت اعلان کرنے کی استدعا نہیں کی گئی، نہ ہی عدالت کو اس بارے میں اختیار حاصل ہے۔ یہاں فریق مخالف نے سائلان کے عقیدہ کی بابت غلط فہمی اور لاعلمی پر مبنی غلط دعویٰ کیے ہیں۔ اس سے جماعت احمدیہ کے خلاف نفرت و عداوت پھیلنے کا امکان ہے۔ عدالت میں جن الزامات کی تکرار کی گئی، وہ قومی اخبارات میں شائع کر دیئے گئے اور ان کی زبردست تشہیر دیکھنے میں آئی جس میں ان کے عقیدہ کو توہین آمیز طریقہ سے غلط رنگ میں پیش کیا گیا، مسئول الیہان عدالت ہذا کو احمدیہ برادری کی ذلت و رسوائی کا سامان بہم پہنچانے اور ان کے خلاف بغض و نفرت پھیلانے کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔ اس موقف کی بنیاد پر استدعا کی گئی کہ بحث کو صرف قانونی مسائل تک محدود و مقید کیا جائے اور اس امر کی ہدایت جاری کی جائے کہ پریس میں طرفین کی درست، یکساں اور مساوی کوریج کو یقینی بنایا جائے۔ اس درخواست پر مبشر لطیف احمد نے دلائل پیش کیے۔ انہوں نے گزارش کی کہ اس درخواست کا فیصلہ فاضل ایڈووکیٹ جنرل اور مسئول الیہان کے وکلاء کو دلائل شروع کرنے کی اجازت دینے سے پہلے کر دیا جائے۔

فاضل ایڈووکیٹ جنرل نے اپنے دلائل میں قادیانی برادری کی ان تصنیفات کی نشاندہی کی، جن کے حوالے سے وہ یہ ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ اگر ان کتابوں میں درج افکار و نظریات کا کھلے بندوں پرچار کرنے کی اجازت دے دی جاتی تو وہ تعزیرات پاکستان اور قانون کے تحت ارتکاب جرم کے مترادف ہوتی اور یہ چیز مسلمانوں کی بھاری

صفحہ 518

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول)

اکثریت والے ملک میں ان کے مذہبی جذبات کو برانگیختہ کرنے کا موجب ہوتی اور فرقہ وارانہ فسادات کو ہوا دیتی۔ انہوں نے مزید کہا کہ عائد کردہ پابندی خود ان کے اپنے مفاد میں ہے، کیونکہ پبلک میں ان کے رویہ وعمل کا نتیجہ باہمی تصادم کی صورت میں نکلتا، جس سے خود ان کی سلامتی خطرے میں پڑ جاتی۔ انہوں نے وضاحت سے بتایا کہ سائلان اپنی پٹیشن میں خود کہہ چکے ہیں کہ ان اجتماعات میں مذہبی موضوعات بشمول رسول اکرم ﷺ کی سیرت پاک اور مرزا صاحب کے حالات زندگی کے بارے میں تقاریر ہونی تھیں، اب وہ یہ نہیں کہہ سکتے کہ اعتقادی اختلافات اور مذہبی مباحث پر گفتگو کرنے کی اجازت نہ دی جائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ بانی جماعت احمدیہ اور اس کے حواریوں کی تعلیمات وتحریرات کی اشتعال انگیزی کو عریاں کرنا اعتقادی اختلافات کو چھیڑنا نہیں، بلکہ اس تباہ کن تاثر کو اجاگر کرنا مقصود تھا جو ان افکار وتعلیمات کے پرچار سے امن عامہ کی صورتحال پر مرتب ہوئے۔ یہ کہنا غلط ہے کہ ایسا کر کے وہ مذہبی عقیدہ سے متعلق سوالات حل کرانا چاہتے ہیں، حقیقت یہ ہے کہ جماعت احمدیہ کے اراکین اپنے مذہب کی پیروی اور اس پر عمل کرنے میں مکمل طور پر آزاد ہیں۔ ان کا مذہب اچھا ہے یا برا، ہمیں اس سے کوئی سروکار نہیں، تاہم جب وہ اپنے عقیدہ پر اس طرح عمل کرنا چاہیں جو دوسروں کو اپنی طرف متوجہ کرے یا ان کے مذہبی جذبات کو برانگیختہ کرے، تو خواہ وہ ہوں یا کوئی اور، ملکی قانون کی نظر میں جرم کا ارتکاب کرتا ہے۔ اس لیے ان کی کتابوں کے ان مذہبی موضوعات سے عدالت کو آگاہ کرنا میرا حق ہے جو مذہبی احساسات کو برافروختہ کرنے والے ہیں اور ان کی نشرواشاعت ارتکاب جرم کے مترادف ہے اور زیر دفعہ 144 مجموعہ ضابطہ فوجداری احتیاطی تدابیر بروئے کار لانے کا جواز فراہم کرتے ہیں۔

12- سائلان کی رٹ میں جو اعتراض کیا گیا، اسے ان وجوہات کی بناء پر مسترد کر دیا گیا...... جنہیں بعدازاں قلمبند کیا جائے گا۔ فریقین کے فاضل وکلاء کو بتایا گیا کہ وہ یہ بات ثابت کرنے کے لیے مرزا صاحب اور اس کے حواریوں کی تعلیمات وافکار کے حوالے دے سکتے ہیں جیسا کہ وہ ان کی اصل تصانیف میں موجود ہیں کہ آیا وہ تحریریں

صفحہ 519

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول)

مسلمانوں اور عیسائیوں کے مذہبی جذبات کو مشتعل کرنے والی ہیں یا نہیں؟ نیز وہ زیر دفعہ 144 مجموعہ ضابطہ فوجداری کارروائی اور حکومت پنجاب کی طرف سے صد سالہ تقریبات پر لگائی گئی پابندی کا جواز فراہم کرتی ہیں یا نہیں؟ مذکورہ بالا حکم کی وجوہات ذیل میں درج کی جاتی ہیں۔

ضابطہ دیوانی کی دفعہ 9 کے حوالے سے کہا کہ عدالتیں مذہب سے متعلق تنازعات یا ایسے سوال کا فیصلہ کرنے کی مجاز نہیں کہ آیا کسی شخص کا مذہب اچھا ہے یا برا؟ نہ ہی انہیں اعتقادی اختلافات یا مذہبی مباحث کو نمٹانے کا اختیار حاصل ہے جبکہ یہاں احمدیہ جماعت کی طرف سے مذہب کی تبلیغ کرنے کے حق کے بارے میں کوئی دعویٰ زیر بحث نہیں، نہ ہی اس کا فیصلہ کرنے کی استدعا کی گئی ہے۔ یہ دلیل جس انداز میں پیش کی گئی ہے اس سے معاملہ کی وہ صورتحال سامنے نہیں آتی جیسی کہ رٹ میں ظاہر کی گئی ہے یا عدالت کے روبرو سوال اٹھایا گیا ہے۔

دراصل یہ درخواست اصل مسئلہ کو نگاہوں سے اوجھل کرنے کا ایک حربہ ہے۔ سائلان کا کیس یہ ہے کہ ان اجتماعات میں منجملہ دیگر امور کے رسول اکرمؐ کی سیرت پاک ارشادات اور ان کے بارے میں مذہبی موضوعات پر اظہار خیال کیا جانا تھا۔ انہوں نے سوال کیا کہ ایسے مباحث پر خواہ انہیں احمدی نقطہ نظر سے کیوں نہ پیش کیا جاتا‘ کیسے پابندی لگائی جا سکتی ہے؟ فاضل وکیل کے مطابق ان تقریبات میں تمام کام قانون کے دائرہ میں کیے جانے تھے۔ مسئول الیہان کے بقول ان پر دو دلائل کے بطلان کے لیے بانی جماعت احمدیہ کی اصل، مستند اور معروف و مسلمہ کتابوں میں درج افکار و تعلیمات کا حوالہ دینا ضروری تھا۔ یہ بالکل غلط ہے کہ وہ محض چند متشدد لوگ تھے جن کی طرف سے ناموافق ردعمل کا اظہار کیا جاتا یا امن و امان کا مسئلہ پیدا ہوتا۔ احمدیہ مذہب کی پوری تاریخ اور برصغیر کے مسلمانوں کی طرف سے اس کی جو شدید مخالفت کی گئی، وہ ظاہر کرتی ہے کہ وہ محض مٹھی بھر متعصب آدمی نہیں جو ان کی مزاحمت پر کمر بستہ ہیں بلکہ

صفحہ 520

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول)

عامتہ المسلمین قادیانیوں کے افکار ونظریات کو اپنے مذہب اور مذہبی جذبات کی توہین کرنے والا سمجھتے ہیں۔ ان کی کتابوں سے حوالے دینے کا مقصد یہ تھا کہ ان پہلوؤں کو نمایاں کیا جائے اور اوپر نقل کردہ دونوں دلیلوں کا توڑ کیا جائے۔ اس سے یہ ثابت کرنا ہرگز مطلوب نہیں کہ سائلان کا مذہب اچھا ہے یا برا‘ یا یہ کہ وہ اپنے مذہب کی پیروی یا اس پر عمل کرنے کے مجاز نہیں‘ نہ ہی اعتقادی اختلافات کا حل تلاش کرنے کی غرض سے مذہبی بحث چھیڑنا مقصود تھا۔ قادیانیوں کے ساتھ مذہبی بحث ومناظرہ میں پڑنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا‘ کیونکہ مرزا صاحب نے جس قسم کے مذہب کی تلقین وتبلیغ کی اور قادیانی جس مذہب کے پیروکار اور وفادار ہیں‘ رسول اکرم ﷺ کے زمانے سے لے کر اب تک تمام ممالک کے مسلمان اسے اسلام کے اساسی نکات کے خلاف گستاخانہ، توہین آمیز‘ اشتعال انگیز‘ گمراہ کن اور بے ادبی پر مبنی سمجھتے آئے ہیں۔ وہ تمام مسلمان جو اسلام اور ختم نبوت کے مابین قائم رشتہ وتعلق میں کسی مداخلت کے روادار نہیں‘ مرزا صاحب کے دعویٰ نبوت سے سخت برگشتہ ہیں اور اسے یکسر مسترد کرتے ہیں۔ قادیانیوں کے نزدیک غیر قادیانی یا غیر احمدی کافر اور دائرہ اسلام سے خارج ہیں۔ اس طرح انہوں نے اپنی علیحدہ امت بنالی ہے جو امت مسلمہ کا حصہ نہیں‘ یہ چیز خود ان کے طرز عمل اور عقائد سے ثابت ہے‘ وہ خود مسلمانوں کو اپنی ملت سے خارج گردانتے ہیں۔ احمدی لوگ حکومت برطانیہ کے زیر سایہ خود مسلمان ظاہر کر سکتے تھے اب ایسا نہیں کر سکتے‘ کیونکہ مسلمانوں کے نزدیک مرزا قادیانی امت مسلمہ میں انتشار وتفریق پیدا کر کے انگریزوں کے مفادات کے لیے کام کرتا رہا تھا۔ امت مسلمہ کے اتحاد و یک جہتی کے متعلق اسلامی معاشرہ کے عظیم اصحاب فضل وکمال کی آراء کا نچوڑ یہ ہے کہ ”یہ امت محض عقیدہ ختم نبوت کی بدولت انتشار سے محفوظ ہے ۔“ انہوں نے مزید کہا۔ اگر کسی قوم کی یک جہتی کو خطرہ لاحق ہو جائے تو اس کے پاس اس کے سوا کوئی چارہ نہیں رہ جاتا کہ وہ انتشار وتفریق پیدا کرنے والی قوتوں کے خلاف اپنا دفاع کرے اور حفاظت خود اختیاری کا طریقہ اس کے سوا اور کون سا ہو سکتا ہے کہ متنازعہ تحریروں اور ایسے شخص کے دعاوی کی

صفحہ 521

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول)

تردید وتکذیب کی جائے جسے مورث قوم ایک مذہبی زمانہ ساز اور عیار سمجھتی ہے؟ کیا ایسی صورت میں اس مورث قوم کو جس کی یک جہتی معرض خطرہ میں پڑ چکی ہو تحمل ورواداری کی تلقین کرنا اور باغی گروپ کو بلا خوف وخطر اپنا پروپیگنڈہ جاری رکھنے کی اجازت دینا قرین انصاف ہوسکتا ہے؟ جبکہ وہ پروپیگنڈہ مورث قوم کے نزدیک انتہائی غلیظ وبیہودہ ہو۔“

(Thoughts and Reflections of Iqbal P-253)

مسلمانوں اور احمدیوں کے مابین کوئی نکتہ اشتراک نہیں ہے کیونکہ مسلمانوں کا ایمان ہے کہ نبوت ورسالت رسول اکرم ﷺ پر ختم ہوگئی۔ اس کے برعکس احمدی مرزا صاحب کو نیا نبی مانتے ہیں۔ یہ بات قابل غور ہے کہ احمدی زیر اعتراض افکار یا استدلال کی جو وضاحت پیش کرتے ہیں کہ ان افکار کی تعبیر وتشریح ایک مخصوص طریقہ سے کی جانی چاہیے اور انہیں ایک خاص زاویہ نظر سے دیکھا جانا چاہیے تاکہ انہیں اسلامی احکام کے موافق بنایا جاسکے۔ ان کی گہرائی میں اترنے کی ضرورت نہیں۔ ایسا کیا جائے تو اعتقادی اختلافات کو ہوا دینے کا الزام لگ جاتا ہے۔ دوسرے ان وضاحتوں، جوازات اور عبارات کو امت مسلمہ کب کا مسترد کر چکی ہے۔ پس اس دعویٰ میں کوئی وزن نہیں کہ ان افکار وخیالات سے مسلمانوں کے مذہبی جذبات کو ٹھیس لگنے کا کوئی احتمال نہیں۔ یہ استدلال کہ اگر کسی شخص یا جماعت اشخاص کا عقیدہ زیر بحث ہو تو اس عقیدہ کی بابت مذکورہ بالا شخص یا اشخاص کے اختیار کردہ موقف یا پوزیشن کو اس گروپ میں مروجہ مفہوم کے حوالہ سے اس کی تصدیق کرنا لازم ہوتا ہے اور یہ کہ انفرادی مخصوص خیال یا رائے کو اس شخص یا اشخاص کے موقف یا نقطہ نظر کے طور پر قبول نہیں کیا جاسکتا۔ بیان کی حد تک تو بڑا اچھا لگتا ہے تاہم یہ استدلال زیر بحث صورتحال پر منطبق نہیں ہوتا کیونکہ مسئلہ کسی خیال یا عقیدہ کو ذاتی طور پر اپنانے کا نہیں بلکہ اس کی اعلانیہ تبلیغ وپرچار کرنے یا ایسے طریقہ سے اس کی پیروی کرنے کا ہے، جس میں تشہیر واشاعت کو نمایاں دخل ہو، علاوہ ازیں ان عبارات وافکار کی جو وضاحتیں اور جواز پیش کیا جاتا ہے، مسئول الیہان ان پر نہیں جاتے، وہ واقعاتی پوزیشن کو ہی تسلیم کرتے ہیں۔ اگر ان کی رائے میں

صفحہ 522

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول)

معقول وجوہ موجود ہوں تو وہ متعلقہ قانون کے احکام (دفعہ 144 ضابطہ فوجداری) کے تحت کارروائی کر گزرتے ہیں۔ یاد رہے اس مرحلہ پر سائلان کے فاضل وکیل نے کتابوں کی فوٹو سٹیٹ نقول پیش کرنے پر یہ کہہ کر اعتراض کیا کہ جن کتابوں سے یہ اقتباسات لیے گئے ہیں، وہ کتابیں پیش کی جانی چاہیے تھیں۔ جب مسئول الیہان نے اصل کتابیں پیش کر دیں تو فاضل وکیل سے کہا گیا، اگر وہ چاہیں تو ایسی کتب کی ایک فہرست دے دیں جنہیں اقتباسات کے سلسلہ میں وہ دیکھنا چاہتے ہیں، نہ کبھی وہ فہرست داخل کی گئی نہ ہی زبانی طور پر ایسی اغلاط وعبارات کی نشاندہی کی گئی۔ اس کے برعکس مجیب الرحمٰن جنہوں نے اس پہلو پر مقدمہ کی پیروی کی، یہ ذمہ داری سائلان پر ڈال دی، انہوں نے خود کو اس کے پیش کرنے کا پابند نہیں سمجھا۔

14- سائلان کے فاضل وکلاء نے مجموعہ ضابطہ دیوانی کی دفعہ 9 کا جو حوالہ دیا ہے، وہ غیر متعلق اور بے محل ہے۔ یہ دفعہ دیوانی عدالتوں کے اس عمومی اختیار سماعت سے بحث کرتی ہے جس کے تحت وہ دیوانی نوعیت کے مقدمات کی سماعت کرتی ہیں۔ اس کے اختتام پر جو ”تشریح“ درج ہے اس میں کہا گیا ہے کہ ایسے مقدمات جن میں مذہبی رسوم یا تقریبات سے متعلق مسائل شامل ہوں، محض دیوانی نوعیت کے مقدمے نہیں ہوتے، جب تک ان سوالات سے کوئی مالکانہ حق یا حصول منصب کا حق پیوستہ نہ ہو۔ عدالت کے سامنے ایسا کوئی سوال نہیں اٹھایا گیا۔ یہ ایسی رٹ پٹیشن ہے جو دستور کے آرٹیکل 199 کے تحت عدالت ہذا کو حاصل غیر معمولی آئینی اختیار سماعت سے دادرسی کی خواہاں ہے۔ اس رٹ میں دستور میں شامل بنیادی حقوق کے حوالہ سے وہ احکام و ہدایات جاری کرنے کی استدعا کی گئی ہے۔ اس میں کسی مذہب کی پیروی اور اس پر عمل کرنے کے حق میں مدد لی گئی جبکہ مذہب اور افکار وخیالات کی تبلیغ کرنے کے حق سے مدد نہیں مانگی گئی، نہ ہی اس پر زور دیا گیا۔ بلکہ قصداً اپنے دلائل اس حد تک محدود رکھے۔ اس سیاق وسباق میں مسئول الیہان نے ان دلائل کا جواب دینے کی ضرورت محسوس کی اور یہ ثابت کرنا چاہا کہ اگرچہ یہاں تبلیغ مذہب کا حق زیر بحث نہیں، تاہم جو موقف اختیار کیا

صفحہ 523

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول)

گیا، جو دلائل پیش کیے گئے اور جس داد رسی کی استدعا کی گئی، اگر وہ عطا کر دی جاتی تو اس کا نتیجہ لازماً یہ نکلتا کہ قادیانی مذہب اور زیر اعتراض افکار و نظریات کی اعلانیہ یا پوشیدہ بے خوف و خطر تبلیغ یقینی بن جاتی۔ پس جو سوالات اٹھائے گئے ہیں، ان پر کسی دیوانی عدالت میں زیر دفعہ 9 ضابطہ دیوانی زور نہیں دیا جا رہا ہے۔ اس مرحلے پر یہ واضح کرنا مناسب ہوگا کہ سائلان کے فاضل وکلاء نے عرض کیا تھا کہ زیر بحث مسئلہ صد سالہ جشن کا سال گزر جانے کے باوجود ایک جیتا جاگتا مسئلہ ہے۔ اگر ان کے حسب پروگرام تقریبات منانے کا مطالبہ مان لیا جائے اور عدالت کی طرف سے اس بارے میں حکم صادر کر دیا جائے تو وہ ان تقریبات کو اب بھی منعقد کر سکتے ہیں۔ اس لیے عدالت کو مذکورہ بالا سیاق و سباق میں اٹھائے گئے سوالات کا تجزیہ کرنا پڑا۔ فاضل وکلا کو مکمل آزادی دی گئی کہ وہ جتنی دیر چاہیں دعاوی اور دلائل پیش کریں۔ بشرطیکہ وہ مذکورہ سیاق و سباق سے متعلقہ ہوں، ان سے باہر نہ ہوں۔ البتہ ان افکار و خیالات اور وضاحتوں کے اخلاقی پہلو کی بابت جو ان زیر بحث افکار کے جواز کو ثابت کرنے کی غرض سے کیے گئے، ان کی اجازت نہیں دی گئی۔ کیونکہ ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ اور صوبائی حکومت کو ان جوازات میں جانے کی ضرورت نہیں تھی۔ یہ وضاحت کہ پچھلی پوری صدی کے دوران مسلمانوں نے مرزا صاحب کے عقائد اور تعلیمات کو غلط سمجھا یا انہیں غلط معنی پہنائے اور اب ان کی تصحیح کی جاسکتی ہے، معاملہ کی موجودہ صورتحال کے سیاق و سباق میں ایک غیر متعلقہ ہے۔ یہاں یہ بتانا مناسب ہوگا کہ یہ ساری وضاحتیں اور جوازات مع زیر اعتراض افکار مجیب الرحمٰن بنام وفاق پاکستان (پی ایل ڈی 1985ء ایف ایس سی 8) نامی مقدمہ میں پیش کی جا چکی ہیں، جن پر وفاقی شرعی عدالت نے پوری طرح غور و خوض کیا اور اپنے فیصلہ میں ان کی بابت اپنی رائے کا اظہار کیا۔ یہ فیصل شدہ اور مسلمہ معاملہ ہے۔ عدالت ہذا بھی اسے تسلیم کرنے کی پابند ہے۔ مذکورہ بالا عدالت نے اپنے فیصلہ کے صفحہ 82 پر درج ذیل رائے کا اظہار کیا تھا:

صفحہ 524

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول)

ظفر اللہ خاں نے کہا تھا: ”یا تو پاکستان میں رہنے والی اکثریت کے لوگ کافر ہیں یا پھر قادیانی کافر ہیں۔“ جس کے معنی یہ ہوئے کہ یہ دونوں ملتیں ایک نہیں ہوسکتیں اور مسلمان وقادیانی ایک امت کے فرد نہیں بن سکتے۔ دونوں کے مابین کوئی نکتہ اشتراک و اتحاد نہیں، کیونکہ مسلمان ختم نبوت پر غیر مشروط ایمان رکھتے ہیں جبکہ قادیانی اس کے قائل نہیں، وہ مسلمانوں کے برعکس مرزا صاحب کو ایک نیا نبی مانتے ہیں......

اس سے ظاہر ہوا کہ یہ دونوں ایک ہی امت سے تعلق نہیں رکھتے۔ اس سوال کو حل نہیں کیا گیا کہ دونوں گروہوں میں سے کون سا اصل مسلمان ہے کیونکہ برطانوی ہند میں اس کا فیصلہ کرنے کے لیے کوئی فورم موجود نہیں تھا۔ تاہم ایک اسلامی ریاست میں جہاں اس مسئلہ کو طے کرنے والے ادارے موجود ہیں، اسے حل کرنے میں کوئی دشواری نہیں۔ مجلس دستور ساز کے علاوہ وفاقی شرعی عدالت بھی اسے حل کرنے کی قانوناً مجاز ہے۔

احمدیہ اور اس کے بانی کی کتب سے حوالے پیش کرنا اور دونوں علیحدہ وجداگانہ ملتوں میں امتیاز وتفریق کے لیے بلکہ زیر بحث احکام و ہدایات جاری کرنے کی ضرورت، جواز کو ثابت کرنے کے لیے بھی ضروری ہے۔ ان وجوہات کی بناء پر متفرق درخواست (سی۔ ایم۔ 89ء۔ 2051) خارج کی جاتی ہے۔

آ گیا ہے۔ سائلان نے اپنی رٹ میں حسب ذیل کو چیلنج کیا ہے یعنی:

سے صد سالہ جشن کی ان تقریبات پر پابندی لگائی گئی، جن کا اعلان اور تشہیر احمدیہ برادری کی مقامی تنظیم کے عہدیداران نے کی تھی۔

دفعہ 144 مجموعہ ضابطہ فوجداری جاری کردہ حکم اور

صفحہ 525

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول)

گیا حکم مذکورہ بالا احکام کو منجملہ دیگر امور کے ان وجوہات کی بناء پر چیلنج کیا گیا تھا کہ عائد کردہ پابندی آئین کے آرٹیکل 20 میں ہر شہری کو اپنے مذہب کی پیروی اور اس پر عمل کرنے کے بنیادی حق کی ضمانت دی گئی ہے یہ پابندی اس حق کو پامال کرتی ہے۔ نیز ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ جھنگ نے زیر دفعہ 144 مجموعہ ضابطہ فوجداری جو حکم جاری کیا تھا، وہ خلاف قانون، ناجائز، بے موقع اور دخل در معقولات کے مترادف ہے۔ چونکہ رٹ میں اصل حملہ ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ و ریذیڈنٹ مجسٹریٹ کے احکام پر کیا گیا تھا، اس لیے بغرض حوالہ اور استفادہ دونوں حکم ذیل میں نقل کیے جاتے ہیں۔

ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ نے 21 مارچ 1989ء کو جو حکم جاری کیا، اس میں کہا گیا تھا:

1989ء کو قادیانیت کے صد سالہ جشن کی تقریبات منعقد کرنے والے ہیں، جس کے لیے انہوں نے عمارتوں پر چراغاں، مکانوں کی سجاوٹ، آرائشی دروازوں کی تیاری، جلوسوں کا اہتمام، جلسوں کے انعقاد، پمفلٹوں کی تقسیم، دیواروں پر پوسٹروں کی چسپائی، مٹھائیوں کی تقسیم، خصوصی کھانوں کا انتظام، بیجوں، جھنڈیوں اور جھنڈوں کی نمائش وغیرہ کا بندوبست کر لیا ہے۔ مسلمانوں کی طرف سے اس پر شدید اعتراضات و احتجاج کا سلسلہ جاری ہے اور اس سے عام لوگوں کے امن و امان اور سکون و اطمینان میں خلل پڑنے کا قوی امکان ہے، جس سے انسانی جان و مال کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہے اور چونکہ حکومت پنجاب کے ہوم ڈیپارٹمنٹ نے مورخہ 20 مارچ 1989ء کو ٹیلی پرنٹر پیغام نمبر 7-1-H-SPL-III/88 کے ذریعے ان تقریبات پر پورے پنجاب میں پابندی لگانے کا فیصلہ کیا ہے۔

اور چونکہ مجموعہ تعزیرات پاکستان کی دفعہ 298 سی میں کہا گیا ہے کہ قادیانی گروپ کا کوئی شخص جو خود کو اعلانیہ یا بصورت مسلمان ظاہر کرے، کہلائے یا اپنا مذہب اسلام بتائے، اپنے مذہب کی دوسروں میں تبلیغ کرے، یا انہیں زبانی یا تحریری طور پر اسے

صفحہ 526

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول)

قبول کرنے کی دعوت دئے یا کوئی اور طریقہ، خواہ کوئی بھی ہو، بروئے کار لائے جس سے مسلمانوں کے مذہبی جذبات مشتعل ہوتے ہوں، وہ موجب تعزیر ہوگا۔

اور چونکہ میری رائے میں نیز حکومت پنجاب کے فیصلہ اور مجموعہ تعزیرات پاکستان کے احکام کا تقاضا بھی یہی ہے کہ فوری روک تھام مناسب ہوگی اور دفعہ 144 کے تحت کارروائی کی معقول وجوہ موجود ہیں اور ذیل میں درج کی گئی ہدایات، انسانی جان و مال کو لاحق خطرہ، نیز امنِ عامہ اور سکون واطمینان میں پڑنے والے خلل کی روک تھام کے لیے ضروری ہیں۔ اس لیے اب میں چودھری محمد سلیم ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ جھنگ ضابطہ فوجداری 1898ء کی دفعہ 144 کے تحت حاصل شدہ اختیارات کو استعمال کرتے ہوئے ضلع جھنگ میں بسنے والے قادیانیوں کو مندرجہ ذیل سرگرمیوں سے باز رہنے کی ہدایت کرتا ہوں۔

مشتعل یا مجروح کرے، یہ حکم فوری طور پر نافذ ہوگا اور دو ماہ تک موثر رہے گا۔

اس حکم کی میعاد ختم ہو جانے کے باوجود ہر کام جو کیا جائے، ہر قدم جو اٹھایا جائے، ہر فعل جو انجام دیا جائے، ہر فرض یا ذمہ داری جو عائد کی جائے، تعزیر یا سزا یا زیر التوا تفتیش، تحقیقات یا کارروائی، تفویض کردہ اختیاراتِ سماعت یا اختیاراتِ درجہ اول

صفحہ 527

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول)

کے مجسٹریٹوں کی عدالت میں خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف ہونے والی تازہ کارروائی اور اس حکم کی تنفیذ کے دوران ارتکاب کردہ جرائم پر دی گئی سزا جاری رہے گی یا شروع ہو جائے گی اور یہ تصور کیا جائے گا، گویا یہ حکم زاید المیعاد نہیں ہوا۔ اس حکم کی ڈھول بجا کر سرکاری جریدہ میں شائع کر کے ضلع کی عدالتوں، ایس۔ پی جھنگ، اسسٹنٹ کمشنر تحصیل دار کے دفاتر، میونسپل اور ٹاؤن کمیٹی، نیز ضلع کے تمام تھانوں میں نوٹس بورڈز پر چسپاں کر کے وسیع پیمانہ پر تشہیر کی جائے گی۔

”آج مورخہ 21 مارچ 1989ء کو میرے دستخطوں اور عدالت کی مہر کے ساتھ جاری کیا گیا۔“

ہے کہ نوٹیفکیشن نمبر 1905 مورخہ 21 مارچ 1989ء میں مزید توسیع کر دی گئی ہے اور یہ پابندی تاحکم ثانی جاری رہے گی۔ نیز انہوں نے یہ بھی ہدایت کی ہے کہ ناظر امورِ عامہ صدر عمومی جماعت احمدیہ ربوہ اور دیگر اکابرین کو اس ضمن میں مطلع کیا جائے اور انہیں ہدایت کی جائے کہ وہ ہر قسمی دروازے بینرز، چراغاں کے متعلق بجلی کی تاروں وغیرہ کو اتار دیں اور اس امر کی تسلی کریں کہ مزید دیواروں پر کوئی مزید عبارت ہرگز نہ لکھی جائے۔ مورخہ 25-3-89

ان احکامات کے اجرا کا واقعاتی پس منظر یہ تھا کہ صد سالہ جشن کی تقریبات کی بابت اعلان احمدیہ جماعت کی مقامی تنظیم کے عہدیداروں کی طرف سے اخباروں میں کیا جا چکا تھا۔ احمدیوں کے بارے میں سال 1989ء کے دوران جو قانونی پوزیشن بتائی گئی وہ یہ تھی کہ 1974ء کی دستوری ترمیم کے ذریعے انہیں غیر مسلم قرار دیا جا چکا ہے اور اس حقیقت کے باوجود کہ اگرچہ احمدی زبانی طور پر یہ اقرار کرتے ہیں کہ ملک کا دستور دوسرے شہریوں کی طرح ان کے لیے بھی واجب التعمیل ہے تاہم وہ خود کو مسلمان کہلانے اپنے مذہب کو اسلام ظاہر کرنے اور ان القابات کو جو خالصتاً رسول اکرم ﷺ

صفحہ 528

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول)

اہل بیتؓ اور صحابہ کرامؓ کے لیے مخصوص ہیں، مرزا قادیانی اور اس کے خاندان کے افراد کے لیے استعمال پر اصرار کرتے ہیں، اس لیے 1984ء میں احمدیوں کو وہ کچھ کہلانے سے، جو کچھ وہ نہیں ہیں، باز رکھنے کے لیے آرڈیننس نمبر 20 نافذ کیا گیا۔ انہیں اس امر کی اجازت نہیں دی جاسکتی کہ وہ خود کو مسلمان ظاہر کر کے امتِ مسلمہ کو دھوکا دے سکیں۔ آئینی ترمیم پر عملدرآمد کے لیے مخصوص القابات کے استعمال پر پابندی کا حکم بھی جاری کیا گیا تاکہ قادیانی خود کو واضح طور پر یا کنایتاً مسلمان ظاہر نہ کر سکیں۔ مزید برآں مجیب الرحمان (سپرا) کے مقدمہ میں وفاقی شرعی عدالت یہ قرار دے چکی ہے کہ دستور کا آرٹیکل 260 (3) قادیانیوں کو آئین و قانون کی اغراض کے لیے غیر مسلم قرار دیتا ہے۔ آرٹیکل 20 میں پاکستان کے شہریوں کے منجملہ دیگر امور یہ حق دیا گیا ہے کہ وہ اپنے مذہب کی پیروی اور اس پر عمل کر سکتے ہیں۔ بلاشبہ یہ آرٹیکل آئین کے دیگر مشمولات کے تابع ہے۔ حقیقت میں یہ چیز مجیب الرحمٰن نے خود بھی تسلیم کی تھی۔ اس آرٹیکل کو آرٹیکل 260 (3) کے ساتھ ملا کر پڑھا جائے تو اس سے یہ مطلب بنتا ہے کہ ”قادیانی اس امر کا اقرار کرنے کے مجاز ہیں کہ وہ اللہ کی وحدانیت اور مرزا صاحب کی نبوت پر ایمان رکھتے ہیں۔ تاہم اپنے آپ کو مسلمان یا اپنے دین کو اسلام ظاہر نہیں کر سکتے۔“ دستوری فیصلہ اور 1984ء کے آرڈیننس نمبر 20 کے ذریعے پابندی کے نفاذ کی وجوہات مجیب الرحمان سپرا کے مقدمہ میں تفصیل سے بیان کی گئی ہیں، جن کا خلاصہ حسب ذیل ہے: مرزا صاحب کی طرف سے 1891ء میں مسیح موعود، مہدی، نبی یا رسول اکرم ﷺ کا بروز ہونے کا جو دعویٰ کیا گیا، اس نے عامۃ المسلمین، علمائے کرام اور ارباب علم و دانش میں ہمیشہ کے لیے یکساں دشمنی، غم و غصہ، ملامت اور اظہار ناراضگی پیدا کر دیا۔“

(سیرۃ المہدی ...... جلد اول، ص 86 تا 90، جلد دوم، ص 44، 64، 87 اور جلد سوم، ص 94)

خود اس کی زندگی میں مسلمانوں میں بار بار جنم لینے والے انتہائی اشتعال کی یہ ایک جھلک ہے۔ پاکستان کی تخلیق کے بعد 1953ء میں لاہور میں مارشل لاء کا نفاذ، منیر کمیٹی کی تشکیل اور 1974ء کی دستوری ترمیم، سب کے سب مسلمانوں کے

صفحہ 529

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول)

زبردست احتجاج‘ جھنجھلاہٹ‘ کشیدگی اور کراہت و بیزاری کے آئینہ دار ہیں۔ مجموعہ تعزیراتِ پاکستان کی دفعہ 298- سی مسلمانوں کے مذہبی جذبات کو مشتعل کرنے کی ممانعت کرتی ہے اور اس معاملہ میں مسلمانوں کی اس بے چینی‘ اضطراب اور غم وغصہ کا روشن ثبوت پیش کرتی ہے جسے بالآخر آرڈیننس کے ذریعے ممنوع قرار دیا گیا۔ مزید برآں رپورٹ کے صفحہ نمبر 100 پر کہا گیا ہے:

بہت کامیابی اس سٹریٹجی کے تحت حاصل کی کہ خود کو مسلمان اور اپنے مذہب کو اصل اسلام ظاہر کیا اور دوسروں کو یقین دلایا کہ احمدی ازم (قادیانیت) کو قبول کرنے کا مطلب اسلام کو ترک کرنا یا اسلام سے کفر کی طرف مراجعت نہیں‘ انہوں نے لوگوں کو بہکایا کہ اگر وہ بہتر مسلمان بننا چاہتے ہیں تو احمدیت کے سایۂ عاطفت میں آ جائیں۔ اسی غرض کے لیے حسب معمول انہوں نے تعلیم یافتہ مسلمانوں کی دُکھتی رگ یعنی فرقہ بندی سے بیزاری اور علماء کی مذہبی معاملات میں سخت گیری و انتہا پسندی پر ہاتھ رکھا اور انہیں مرزائیت‘ جسے وہ اسلام میں روشن خیالی کی علمبردار کہتے تھے‘ کی نام نہاد آغوش عافیت کی طرف لانے کی تگ و دو کی۔ ان کی یہ سٹریٹجی اس گندم نما جو فروش تاجر سے ملتی جلتی تھی جو کسی مشہور و معروف فرم کا نام لے کر اپنا گھٹیا مال فروخت کرتا ہو۔ ان کی حکمتِ عملی ایک حد تک کامیاب رہی۔ اگر قادیانی یہ بات تسلیم کر لیں کہ ان کی تبلیغ‘ اسلام کے لیے نہیں‘ ایک دوسرے مذہب کے لیے ہے تو مسلمانوں میں جاہل اور غافل لوگ بھی اپنی متاعِ ایمان کو بے ایمانی سے بدلنے پر ہرگز آمادہ نہ ہوں‘ بلکہ اس سے‘ قادیانیت کے سحر میں اسیر قادیانی بھی چھٹکارا پانے کی فکر کرنے لگیں۔

دوسری اہم وجہ یہ تھی کہ قادیانیوں نے خود کو مسلمان ظاہر کر کے ہر مسلمان کو‘ جس سے ان کی مڈبھیڑ ہوتی‘ اپنے مذہب کی دعوت دینے کی کوشش کی۔ وہ مرزا صاحب کو نبی کہہ کر ان کے جذبات مجروح کرتے‘ کیونکہ ہر مسلمان رسول اکرم (ﷺ) کی ختم نبوت پر ایمان رکھتا ہے‘ اس لیے یہ بات ان کے غم وغصہ کو بھڑکانے کا سبب بنتی اور نفرت

صفحہ 530

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول)

میں اضافہ کرتی۔ اس سے امن و امان کا مسئلہ پیدا ہوتا۔ مرزا صاحب کے دعویٰ مسیح موعود اور مہدی پر بڑی برہمی و خفگی کا اظہار کیا جاتا۔ یہ محض زبانی دعویٰ نہیں‘ قادیانیت کی تاریخ بلکہ خود مرزا صاحب کی تصانیف سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ اسے ناصرف علماء کی طرف سے بلکہ عامۃ المسلمین کی طرف سے بھی زبردست مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا۔‘‘

17....... اس لیے متنازعہ حکم کو مذکورہ بالا تاریخی و قانونی تناظر میں پرکھنا چاہیے۔ اس رٹ میں جس حق پر بہت زیادہ زور دیا گیا ہے‘ وہ مذہب کی پیروی اور اس پر عمل کرنے کا حق ہے‘ جس کی ضمانت دستور کے آرٹیکل 20 میں دی گئی ہے۔ تاہم یہ حق دستور کے دیگر مشمولات، قانون، مصلحت عامہ اور اخلاق کے تابع ہے۔ سوال یہ ہے کہ آیا قادیانیوں کی تقریبات کا انعقاد ”مذہب کی پیروی اور اس پر عمل کرنے کے حق“ کی تعبیر و توضیح میں آتا ہے یا نہیں؟ آیا قانون ایسی تقریبات کی ممانعت کرتا ہے؟ آیا ایسے حالات موجود ہیں جو امنِ عامہ قائم رکھنے کے لیے ایسی تقریبات پر پابندی کا تقاضا کرتے ہوں؟ ان سوالات کا جواب جاننے کے لیے اس طریق کار کو سمجھنا ضروری ہے‘ جس طریقے سے ان تقریبات کا انعقاد عمل میں آنا تھا۔

یہ بات قابلِ غور ہے کہ رٹ میں جو موقف اختیار کیا‘ وہ یہ تھا: ”قادیانی تحریک کی سو سالہ تقریبات کو اعلانیہ طور سے منانا اور پوری صدی کے دوران حاصل ہونے والی کامیابیوں کا تذکرہ کرنا احمدیوں کا آئینی و قانونی حق ہے۔‘‘ جبکہ دلائل کے دوران ان کے وکلاء کا کہنا یہ تھا ”اگرچہ عام جلسے کرنا اور مذہبی موضوعات بشمول سیرتِ نبوی (ﷺ) جس میں مرزا صاحب کے دعویٰ نبوت کا ذکر یقیناً شامل ہے‘ پر تقاریر کرنا ان کا حق ہے۔ تاہم اس کے لیے نہ تو کوئی پروگرام وضع کیا گیا تھا نہ ہی ایسی تقاریر کرنا ان کا ارادہ تھا‘ جس سے ملکی قانون کی خلاف ورزی ہوتی۔‘‘ بظاہر یہ موقف تعزیراتِ پاکستان کی زیر دفعہ 298-اے‘ 298-بی اور 298-سی کو سامنے رکھتے ہوئے اختیار کیا گیا‘ حالانکہ اس کی تردید جماعت احمدیہ کی طرف سے شائع کردہ پمفلٹوں‘ جاری کردہ اشتہارات اور جماعت کے ترجمان روزنامہ ”الفضل“ میں شائع شدہ رپورٹوں اور خبروں

صفحہ 531

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول)

سے ہوتی ہے۔ سی اے رحمان ایڈووکیٹ نے بڑے وثوق سے یہ بات کہی کہ تقریبات کے تحت جلسہ ہائے عام منعقد کرنے کا کوئی پروگرام نہیں تھا نہ کوئی آرائشی گیٹ بنائے گئے تھے جھنڈیوں، بیجوں اور پھریروں کی نمائش کا کوئی ارادہ نہیں تھا۔ جلوس نکالنے کا بھی کوئی منصوبہ زیر غور نہیں تھا۔ جبکہ 26 مارچ 1989ء کے قادیانی روزنامہ ”الفضل“ نے اس کے بالکل برعکس کہانی شائع کر کے ڈھول کا پول کھول دیا۔ ”اخبار“ نے لکھا تھا۔

پچاس سے زائد آرائشی دروازے بنائے جانے تھے نہ کہیں کوئی بینر آویزاں کیا گیا جبکہ سینکڑوں کی تعداد میں بینر لگانے کا منصوبہ تھا۔ ربوہ میں منگائی گئی پولیس نے 24 احمدی نوجوانوں کو گرفتار کر لیا۔ ان میں سے چار کو دفعہ 144 کی خلاف ورزی کے الزام میں اور بقیہ 20 کو دفعہ 298- سی تعزیرات پاکستان نیز دفعہ 144 مجموعہ ضابطہ فوجداری کی مشترکہ خلاف ورزی کے الزام میں پکڑا گیا۔ ان پر الزام تھا کہ انہوں نے پٹاخے چلائے، نعرے لگائے، سینوں پر بیج سجائے اور محلوں میں پہرہ دیا۔ چار لڑکوں پر الزام ہے کہ انہوں نے ایسی ٹی شرٹس پہن رکھی تھیں، جن پر "Hundred Years of Truth" (سچائی کے سو سال) لکھا ہوا تھا۔...... اس جشن کی تیاری کا انتظام اس انداز میں کیا گیا تھا کہ اگر اسے آزادی سے منانے دیا جاتا تو دنیا کی تاریخ میں یہ ایک منفرد جشن ہوتا۔......“

احمدیہ نے یہ جشن کھلے بندوں منانے کا منصوبہ بنایا تھا۔ اس سلسلہ میں جو پروگرام بنایا گیا، اس میں بانی جماعت اور اس کے رفقاء کی تعلیمات و افکار کا اعلانیہ پرچار اور ایسے بینرز کی نمائش شامل تھی جن پر طرح طرح کے نعرے لکھے ہوئے تھے۔ مثال کے طور پر نعرہ تھا۔ "Hundred Years of Truth" (سچائی کے سو برس) یہ نعرہ ان ٹی شرٹس پر بھی لکھا ہوا تھا جو سالگرہ کے لیے بطور خاص سلوائی گئی تھیں۔ بحث کے دوران سائلان کے فاضل وکلاء نے دعویٰ سے کہا کہ ان تقریبات میں احمدیہ کمیونٹی کے ارکان اور ان کے دوستوں نے خصوصی دعوت ناموں کے ذریعے شریک ہونا تھا۔ واقعاتی لحاظ

صفحہ 532

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول)

سے ان کا یہ موقف قرین صداقت نہیں تھا۔ پس ایڈووکیٹ جنرل یہ کہنے میں حق بجانب تھے کہ صوبائی حکومت اور ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ نے امن و امان کے مسئلہ اور نقض امن کے اندیشہ کو اس کے صحیح واقعاتی اور قانونی تناظر میں جانچا‘ اس لیے اس عدالت کو بھی متنازعہ حکم کا جائزہ اس تناظر میں لینا ہوگا کہ سالگرہ کی تقریبات‘ پبلک میٹنگز کی شکل میں منعقد ہونی تھیں‘ جس میں صرف اراکین جماعت اور ان کے دوست ہی شرکت نہ کرتے بلکہ بہت سے دوسرے لوگ بھی غیر ارادی طور پر ان اجتماعات میں شریک ہو جاتے۔

19...... سائلوں کے فاضل وکلاء کی دوسری دلیل یہ تھی کہ نہ تو کوئی پروگرام تیار کیا گیا تھا نہ ہی کسی ایسی تقریر کا ارادہ کیا گیا تھا‘ جس سے ملکی قانون پامال ہوتا۔ ان کے بقول گزشتہ صدی (مارچ 1889ء تا مارچ 1989ء) کے واقعات کو دہرانے‘ بانی جماعت اور اس کے رفقاء کے خیالات و افکار‘ جیسا کہ ان کی تالیفات میں مذکور ہیں‘ کا اعادہ کرنے سے ملک کے کسی قانون کی پامالی کا خطرہ نہیں تھا۔ ان مقاصد کے لیے منعقد ہونے والے جشن پر پابندی لگانے کا کوئی جواز نہیں تھا۔ اس کے برعکس مسئول الیہان کا کہنا ہے کہ پیش نظر مقاصد حاصل کرنے کے لیے جو پروگرام بنایا گیا تھا‘ اسے عملی جامہ پہنانے سے نہ صرف امن و امان کا سنگین مسئلہ کھڑا ہو جاتا‘ جیسا کہ حکومت اور ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ نے قیاس کیا‘ بلکہ وہ سب کچھ خلاف اور زیر دفعہ 298- سی‘ تعزیرات پاکستان کے ارتکاب جرم کے مترادف بھی ہوتا۔ اس سلسلہ میں ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کا حکم مورخہ 1989-3-23 جسے رٹ میں متنازعہ کہا گیا ہے‘ درست تھا۔

فاضل ایڈووکیٹ جنرل نیز مسئول الیہان کے فاضل وکلاء نے گزارش کی کہ جس قسم کے جلسوں کا اعلان مشتہر کیا گیا تھا‘ وہ بھی مسلمہ مقاصد کے لیے خواہ وہ سوسالہ جشن کی تقریبات کی شکل میں ہوتا یا بصورت دیگر امن عامہ کے لیے سخت خطرناک ثابت ہوتا۔ مزید عرض کیا گیا‘ اگرچہ یہاں قادیانی مذہب کی تبلیغ کرنے کے حق پر زیادہ زور نہیں دیا جا رہا بلکہ ایسے جلسے منعقد کرنے کا ذکر ہو رہا ہے جن میں مرزا صاحب کے حالات زندگی اور مقام و منزلت نیز گزشتہ 100 سالوں کے دوران حاصل ہونے والی

صفحہ 533

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول)

کارناموں کا تذکرہ کیا جاتا، جس کی غرض و غایت، قادیانیت کی تلقین، تبلیغ اور تشہیر و پرچار کے سوا کچھ نہ ہوتی۔ اس کے معنی یہ ہوئے کہ ایک طرف خلاف قانون فعل کا ارتکاب عمل میں آتا، دوسری طرف مسلمانوں نیز عیسائیوں کے مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچائی جاتی۔ تقریبات کے اس پہلو کو نمایاں کرنے کی غرض سے مرزا صاحب اور اس کے جانشینوں کی تعلیمات و افکار کو درج ذیل عنوانات کے تحت نقل کیا گیا تھا۔

کریم ﷺ سے سبقت لے جانے کا خبط۔

مبنی ریمارکس۔

تحریریں۔ نیز مسلمانوں کے مستند علماء کے بارے میں ہفوات۔

نظریات و تعلیمات جو بحث کے دوران پڑھ کر سنائی گئیں، انہیں یہاں درج کرنے سے اجتناب کیا جاتا ہے کیونکہ ان کا نقل کرنا مزید احتجاج و ہنگامہ آرائی کو دعوت دینے کے مترادف ہوگا۔ سائلان کے فاضل وکیل مبشر لطیف احمد نے موقف اختیار کیا کہ عدالتی کارروائی کو اخبارات میں رپورٹ کرنے سے وہ تاریخیں، جن تاریخوں پر مذکورہ موضوعات زیر بحث آتے تھے، احمدیوں کے خلاف نفرت و عداوت کے بھڑکنے کا امکان ہے۔ جبکہ مجیب الرحمان ایڈووکیٹ کا استدلال یہ تھا کہ مذکورہ بالا عنوانات کے تحت جو مواد پیش کیا گیا، وہ تازہ ترین کتابوں سے اخذ کردہ نہیں ہے۔ پچھلی ایک صدی کے دوران یہ کتابیں بار بار چھپی ہیں، اگر وہ مواد پچھلے عرصہ میں اشتعال انگیز نہیں تھا تو سو سالہ جشن کے موقع پر اسے اشتعال انگیز کیوں سمجھا جائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ

صفحہ 534

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول)

1983ء تک جماعت احمدیہ کے سالانہ جلسے ربوہ میں منعقد ہوتے رہے، حکومت لوگوں کی سہولت کے لیے سپیشل ٹرینیں چلاتی رہی، کبھی کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش نہیں آیا اور قادیانی مذہب کبھی امن عامہ میں خلل کا موجب نہیں بنا تو جشن کی تقریبات منانے سے کون سی قیامت آ جاتی؟

ہمارے خیال میں فاضل وکیل کا یہ استدلال، قادیانی مذہب اور مرزا صاحب کی نبوت کے خلاف، مسلمانوں کے غیظ وغضب اور ان کی شدید مخالفت ومزاحمت سے لاعلمی کا نتیجہ ہے۔ مرزا صاحب نے اپنے مخالفین کے بارے میں جو انتہائی ناشائستہ اور گندی زبان میں تحریریں لکھیں، مشتے از خروارے کے طور پر ان سے چند اقتباسات پیش کیے جاتے ہیں۔ یادرہے کہ مرزا صاحب نے پہلے مسیح موعود ہونے کا دعویٰ کیا اور خود کو مسیح موعود کی صورت میں حضرت عیسیٰ کا بدل ثابت کرنے کی کوشش کی۔ کیونکہ اسے معلوم تھا کہ مسیح موعود ابن مریم کے سوا کوئی نہیں ہوسکتا چنانچہ اس نے دعویٰ سے کہا:

رکھا۔ پھر جیسا کہ براہین احمدیہ سے ظاہر ہے دو برس تک صفت مریمیت میں، میں نے پرورش پائی اور پردہ میں نشوونما پاتا رہا۔ پھر جب اس پر دو برس گزر گئے تو جیسا کہ براہین احمدیہ کے حصہ چہارم صفحہ 496 میں درج ہے۔ مریم کی طرح عیسیٰ کی روح مجھ میں نفخ کی گئی اور استعارہ کے رنگ میں مجھے حاملہ ٹھہرایا گیا اور آخر کئی مہینہ کے بعد جو دس مہینے سے زیادہ نہیں، بذریعہ اس الہام کے جو سب سے آخر براہین احمدیہ کے حصہ چہارم صفحہ 556 میں درج ہے، مجھے مریم سے عیسیٰ بنایا گیا۔ پس اس طور سے میں ابن مریم ٹھہرا۔‘‘........... ’’خدا نے مجھے پہلے مریم کا خطاب دیا اور پھر نفخ روح کا الہام کیا۔ پھر بعد اس کے یہ الہام ہوا تھا۔ فاجاء ھا المخاض الیٰ جذع النخلۃ قالت یا لیتنی مت قبل ھذا و کنت نسیا منسیا. یعنی پھر مریم کو جو مراد اس عاجز سے ہے۔ دردزہ تنہ کھجور کی طرف لے آئی۔‘‘

(کشتی نوح ص 47، 48 مندرجہ روحانی خزائن ج 19 ص 50، 51 از مرزا قادیانی)

صفحہ 535

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول)

21...... معاملہ یہیں ختم نہیں ہوتا، مرزا صاحب نے اپنی نگارشات میں حضرت عیسیٰ کے متعلق انتہائی توہین آمیز، لعنت ملامت پر مبنی اور اشتعال انگیز باتیں لکھی ہیں۔ اگرچہ کسی مستند کتاب میں یہ نہیں لکھا کہ (نعوذ باللہ) حضرت عیسیٰ بدزبان اور فحش گو یا شہوت پرست تھے۔ لیکن مرزا صاحب کے قلم سے اللہ کے اس برگزیدہ، مقدس اور معصوم نبی کے بارے میں ایسے ایسے ناپاک، خباثت پر مبنی اور بے ادبی و گستاخی کے حامل جھوٹے کلمات نکلے اور اس نے بار بار روح اللہ پر ایسے گھناؤنے الزام لگائے کہ الامان و الحفیظ۔ ان میں سے بعض ذیل میں نقل کیے جاتے ہیں۔

ادنیٰ ادنیٰ بات میں غصہ آ جاتا تھا، اپنے نفس کو جذبات سے نہیں روک سکتے تھے، مگر میرے نزدیک آپ کی یہ حرکات جائے افسوس نہیں کیونکہ آپ تو گالیاں دیتے تھے اور یہودی ہاتھ سے کسر نکال لیا کرتے تھے۔ یہ بھی یاد رہے کہ آپ (عیسیٰ علیہ السلام) کو کسی قدر جھوٹ بولنے کی بھی عادت تھی۔“

(حاشیہ انجام آتھم صفحہ 5 مندرجہ روحانی خزائن جلد 11 صفحہ 289 از مرزا قادیانی)

عابد، نہ حق کا پرستار، متکبر، خودبین، خدائی کا دعویٰ کرنے والا۔“

(نور القرآن ص 12 مندرجہ روحانی خزائن ج 9 ص 387 از مرزا قادیانی)

کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام شراب پیا کرتے تھے شاید کسی بیماری کی وجہ سے یا پرانی عادت کی وجہ سے۔“

(کشتی نوح حاشیہ صفحہ 73 مندرجہ روحانی خزائن جلد 19 صفحہ 71 از مرزا قادیانی)

شرابی کبابی ہے اور یہ خراب چال چلن نہ خدائی کے بعد بلکہ ابتداء ہی سے ایسا معلوم ہوتا ہے چنانچہ خدائی کا دعویٰ شراب خواری کا ایک بد نتیجہ ہے۔“

(ست بچن حاشیہ صفحہ 172 مندرجہ روحانی خزائن جلد 10 صفحہ 296 از مرزا قادیانی)

صفحہ 536

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول)

22...... مرزا صاحب نے خدا کے اس محبوب نبی کا مذاق اڑانے اور ان کے مقدس نام کی بے حرمتی کرنے میں بائبل کو بھی مات کر دیا۔ مثال کے طور پر اس کی درج ذیل عبارتیں ملاحظہ کیجیے۔

دادیاں اور نانیاں آپ کی زنا کار اور کسبی عورتیں تھیں جن کے خون سے آپ کا وجود ظہور پذیر ہوا مگر شاید یہ بھی خدائی کے لیے ایک شرط ہوگی۔ آپ کا کنجریوں سے میلان اور صحبت بھی شاید اسی وجہ سے ہو کہ جدی مناسبت درمیان ہے ورنہ کوئی پرہیز گار انسان ایک جوان کنجری کو یہ موقع نہیں دے سکتا کہ وہ اس کے سر پر اپنے ناپاک ہاتھ لگا دے اور زنا کاری کی کمائی کا پلید عطر اس کے سر پر ملے اور اپنے بالوں کو اس کے پیروں پر ملے۔ سمجھنے والے سمجھ لیں کہ ایسا انسان کس چلن کا آدمی ہو سکتا ہے۔“

(انجام آتھم صفحہ 7 مندرجہ روحانی خزائن جلد 11 صفحہ 291 از مرزا قادیانی)

کر کے سر پر عطر مل رہی ہے، کبھی پیروں کو پکڑتی ہے اور کبھی اپنے خوشنما اور سیاہ بالوں کو پیروں پر رکھ دیتی ہے اور گود میں تماشا کر رہی ہے۔ یسوع صاحب اس حالت میں وجد میں بیٹھے ہیں اور کوئی اعتراض کرنے لگے تو اس کو جھڑک دیتے ہیں اور طرفہ یہ کہ عمر جوان اور شراب پینے کی عادت اور پھر مجرد۔ اور ایک خوبصورت کسبی عورت سامنے پڑی ہے جسم کے ساتھ جسم لگا رہی ہے۔ کیا یہ نیک آدمیوں کا کام ہے اور اس پر کیا دلیل ہے کہ اس کسبی کے چھونے سے یسوع کی شہوت نے جنبش نہیں کی تھی۔ افسوس کہ یسوع کو یہ بھی میسر نہیں تھا کہ اس فاسقہ پر نظر ڈالنے کے بعد اپنی کسی بیوی سے صحبت کر لیتا۔ کمبخت زانیہ کے چھونے سے اور ناز و ادا کرنے سے کیا کچھ نفسانی جذبات پیدا ہوئے ہوں گے۔ اور شہوت کے جوش نے پورے طور پر کام کیا ہوگا۔ اسی وجہ سے یسوع کے منہ سے یہ بھی نہ نکلا کہ اے حرام کار عورت مجھ سے دور رہ۔ اور یہ بات انجیل سے ثابت ہوتی ہے کہ وہ عورت طوائف میں سے تھی اور زنا کاری میں سارے شہر میں مشہور تھی۔“

(نورالقرآن صفحہ 74 مندرجہ روحانی خزائن جلد 9 صفحہ 449 از مرزا قادیانی)

صفحہ 537

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول)

بیان کی گئی ہے:

وہ فریسی کے گھر پہنچا اور کھانے پر بیٹھ گیا اور دیکھو! شہر کی ایک عورت جو کہ گناہ گار تھی‘ جب یہ پتہ چلا کہ عیسیٰ ایک فریسی کے ہاں کھانا کھا رہے ہیں تو وہ سنگ جراحت کے بکس میں روغن لائی اور روتی ہوئی ان کے قدموں میں کھڑی ہوگئی اور ان کے پاؤں کو اپنے آنسوؤں سے دھونے لگی۔ پھر اپنی زلفوں سے ان کے پاؤں صاف کیے۔ انہیں بوسہ دیا اور پاؤں پر روغن سے مساج کرنے لگی۔ جب فریسی نے جس نے اسے ایسا کرنے سے منع کیا تھا‘ یہ منظر دیکھا تو وہ اپنے دل میں سوچنے لگا اگر یہ شخص نبی ہوتا تو اسے معلوم ہونا چاہیے تھا کہ یہ عورت کون ہے اور کیسی ہے‘ جو اسے چھو رہی ہے کیونکہ وہ بدکار ہے۔ (اس کی بات سن کر) عیسیٰ نے جواب میں کہا سائمن مجھے تم سے کچھ کہنا ہے۔ وہ بولا ! آقا فرمائیے۔ عیسیٰ نے کہا ایک ساہوکار تھا‘ اس سے دو آدمیوں نے قرض لے رکھا تھا۔ ایک نے 500 پینس اور دوسرے نے 50 پینس۔ دونوں قلاش تھے اور ان کے پاس ادائیگی کے لیے کچھ بھی نہ تھا۔ ساہوکار نے بڑی فراخدلی سے دونوں کا قرض معاف کر دیا۔ تم بتاؤ ان دونوں سے اسے کون زیادہ پیار کرے گا؟ سائمن نے جواب دیا۔ ”جس کا زیادہ قرضہ معاف کیا گیا“۔ تب عیسیٰ نے کہا تم نے صحیح اندازہ لگایا ہے پھر وہ اسی عورت کی طرف پلٹے اور سائمن سے فرمایا۔ ”تم نے اس عورت کو دیکھا ہے؟ میں تمہارے گھر میں داخل ہوا تو تم نے ہاتھ پاؤں دھونے کے لیے مجھے پانی تک نہیں دیا جبکہ اس نے اپنے بالوں سے میرے پیر صاف کیے‘ تم تو مجھ سے بغل گیر نہیں ہوتے لیکن یہ عورت‘ جب سے میں گھر میں داخل ہوا ہوں میرے پاؤں چومنے سے باز نہیں آتی۔ تم نے میرے سر میں سادہ تیل نہیں لگایا جبکہ اس نے خوشبودار روغن سے مالش کی ہے۔ اس لیے میں تم سے کہتا ہوں اس کے گناہ زیادہ تھے‘ معاف کر دیئے گئے ہیں‘ اس لیے وہ مجھ سے زیادہ پیار کرتی ہے‘ جس کے تھوڑے گناہ معاف کیے گئے ہیں‘

صفحہ 538

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول)

وہ کم محبت کرتا ہے۔“ جو لوگ ان کے ساتھ دستر خوان پر بیٹھے تھے، آپس میں کہنے لگے، ’یہ کون ہے جو گناہ بھی معاف کر دیتا ہے؟“ عیسیٰ نے اس عورت سے کہا۔ ”تمہارے ایمان نے تمہیں بچا لیا ہے۔ اب تم امن سے رہو۔“

(The New Testament, St.Luke Ch.7: 36-50)

پروٹسٹنٹ مذہب کی کتاب مقدس ”گوسپل“ میں اس روایت کی اس طرح تصدیق کی گئی ہے۔

کے پیروں کی مالش کی، ان کے پاؤں اپنے سر کے بالوں سے صاف کئے، اس کا گھر روغن کی خوشبو سے مہکنے لگا۔ پھر ان کے حواریوں میں سے ایک سائمن کا بیٹا جوداس اسکریوط بولا، اسے کس چیز نے گمراہ کر دیا۔ یہ روغن 300 پینس میں فروخت کر کے وہ رقم غریبوں میں کیوں نہ بانٹ دی گئی؟ اس لیے نہیں کہ اسے غریبوں کا فکر نہیں بلکہ اس لیے کہ وہ چور ہے۔“ ان کے پاس ایک تھیلا تھا جو خالی تھا، اس میں کیا ڈالا گیا؟ اس پر عیسیٰ بولے ”اسے اس کے حال پر چھوڑ دو، میری تدفین کے روز یہ تھیلا اس کے ساتھ ہوگا۔ کیونکہ میں ہمیشہ غریبوں کا ساتھی رہا ہوں، لیکن تم میرے ساتھ نہیں رہے۔“

(The New Testament, St.John Ch.12: 3-8)

اور متی کی انجیل میں یہی واقعہ اس طرح بیان ہوا ہے۔

خاتون آئی، اس کے ہاتھ میں سنگ جراحت کا ایک بکس تھا، جس میں انتہائی مہنگا روغن تھا۔ اس نے وہ روغن اس کے سر میں ڈالا اور وہ دستر خوان پر بیٹھ گئے، جب حواریوں نے یہ منظر دیکھا تو وہ بڑے برہم ہوئے اور کہنے لگے۔ ”اس ضیاع کا کیا مقصد ہے؟ کیونکہ یہ روغن خاصی قیمت پر فروخت ہو سکتا تھا اور وہ رقم مفلسوں میں بانٹی جا سکتی تھی۔ عیسیٰ ان کا مطلب سمجھ گئے اور بولے ”اے خاتون تو نے اتنی تکلیف کیوں کی؟ تو نے میرے ساتھ نیکی کی ہے لیکن میں ہمیشہ تیرے پاس نہیں رہوں گا۔ چونکہ تم نے میرے سر میں

صفحہ 539

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول)

تیل ڈالا ہے‘ یہ تو نے میری تدفین والے دن کے لیے کیا ہے۔ یقیناً میں تم سے کہتا ہوں‘ میری یہ عقیدت مند جہاں کہیں بھی ہوگی‘ دنیا بھر میں اس کا چرچا کرے گی۔ میں بھی یہی کہوں گا کہ اس عورت نے ایسا کیا تھا۔‘‘ پھر عیسیٰ نے اس عورت کی یادگار کے بارے میں انکشاف کیا۔‘‘

(The New Testament, St.Mathew Ch.26: 6-13)

24...... اس مسخ شدہ روایت کا دقّتِ نظر سے مطالعہ کیا جائے تو اس میں بہت سی درپردہ تعریضات اور جھوٹے الزامات شامل ہیں۔ مثال کے طور پر:

رہی ہے...... عیسیٰ شہوانی اشتعال میں ہوتے تھے۔ وغیرہ وغیرہ۔

ان لغویات وخرافات کا اضافہ اس خیال سے کیا گیا ہے تاکہ عیسیٰ علیہ السلام کو بدنام کیا جائے۔ حالانکہ تعصب پر مبنی بائبل میں شامل ایسی حکایتوں میں بھی حضرت عیسیٰ روح اللہ کو اس رنگ میں کہیں پیش نہیں کیا گیا۔ اصل کہانی یوں ہے کہ کوئی بدکار عورت چیختی چلاتی ہوئی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوئی تاکہ اسے اس کے گناہوں کی معافی مل جائے اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے اسے بشارت دی تھی کہ ’’تمہارے گناہ معاف کر دیئے گئے ہیں۔‘‘

25...... اسی پر بس نہیں مرزا صاحب نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی تعلیمات کو بھی نشانۂ تحقیر وتضحیک بنایا ہے۔ مرزا قادیانی کا محولہ بالا اسلوبِ بیان اور نقطۂ نظر قرآنِ حکیم میں مذکور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے مقام ومرتبہ اور ان کی شان ومنزلت کے بالکل الٹ ہے۔ پورا قرآن (مسلمانوں کی مقدس کتاب) کسی ایسے بیان سے قطعاً پاک ہے‘ جو حضرت عیسیٰ کو کسی بھی طور منفی انداز میں پیش کرے یا ان کی تنقیص کا پہلو نکلتا ہو۔ اس کے برعکس سارا

صفحہ 540

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول)

قرآن ان کی تعریف وتوصیف میں رطب اللسان ہے اور انہیں اللہ کے پانچ جلیل القدر اور اولوالعزم پیغمبروں میں شمار کرتا ہے۔ سورۃ آل عمران کی یہ آیت ملاحظہ فرمائیے:

گیا ہم پر اور جو اُتارا گیا ابراہیم، اسماعیل، اسحٰق، یعقوب اور اُن کے بیٹوں پر اور جو کچھ دیا گیا موسیٰ، عیسٰی اور (دوسرے) انبیاء کو اُن کے رب کی طرف سے نہیں فرق کرتے ہم کسی کے درمیان (اُن کے مرتبہ کے لحاظ سے) ان میں سے اور ہم اللہ کے فرمانبردار ہیں ۔

(آل عمران:84)

قرآن حکیم حضرت عیسیٰ ان کی والدہ ماجدہ اور ان کے خاندان کی شان میں یوں مدح سرا ہے۔

اور عمران کے گھرانے کو سارے جہان والوں پر۔ یہ ایک نسل ہے بعض ان میں سے بعد کی اولاد ہیں اور اللہ سب کچھ سننے والا سب کچھ جاننے والا ہے۔ جب عرض کی عمران کی بیوی نے اے میرے رب! میں نذر مانتی ہوں تیرے لیے جو میرے شکم میں ہیں (سب کاموں سے) آزاد کر کے سو قبول فرما لے (یہ نذرانہ) مجھ سے بے شک تو ہی (دعائیں) سننے والا (نیتوں کو) جاننے والا ہے۔ پھر جب اُس نے جنا اُسے (تو حیرت وحسرت سے) بولی اے رب! میں نے تو جنم دیا ایک لڑکی کو اور اللہ تعالیٰ خوب جانتا ہے جو اُس نے جنا اور نہیں تھا لڑکا (جس کا وہ سوال کرتی تھی) مانند اُس لڑکی کے اور (ماں نے کہا) میں نے نام رکھا ہے اُس کا مریم اور میں تیری پناہ میں دیتی ہوں اُسے اور اُس کی اولاد کو شیطان مردود (کے شر) سے۔ پھر قبول فرمایا اُسے اُس کے رب نے بڑی ہی اچھی قبولیت کے ساتھ اور پروان چڑھایا اُسے اچھا پروان چڑھانا اور نگران بنا دیا اُس کا زکریا کو جب بھی جاتے مریم کے پاس زکریا (اُس کی) عبادت گاہ میں (تو) موجود پاتے اُس کے پاس کھانے کی چیزیں (ایک بار) بولے اے مریم! کہاں سے تمہارے لیے آتا ہے یہ (رزق) مریم بولی یہ اللہ تعالیٰ کے پاس سے آتا ہے بے شک

صفحہ 541

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول)

اللہ تعالیٰ رزق دیتا ہے جسے چاہتا ہے بے حساب۔ (آل عمران 33 تا 37)

اس سے آگے ارشاد ہوتا ہے:

تمہیں اور خوب پاک کر دیا ہے تمہیں اور پسند کیا ہے تجھے سارے جہان کی عورتوں سے۔ اے مریم! خلوص سے عبادت کرتی رہ اپنے رب کی اور سجدہ کر اور رکوع کر رکوع کرنے والوں کے ساتھ۔ (آل عمران:42، 43)

قرآن نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی بن باپ ولادت کو بھی پرعظمت و توقیر انداز میں بیان کیا ہے۔ چنانچہ اس سورہ میں ذرا آگے چل کر فرمایا گیا ہے:

ہے تجھے ایک حکم کی اپنے پاس سے اس کا نام مسیح عیسیٰ بن مریم ہوگا، معزز ہوگا، دنیا و آخرت میں اور (اللہ کے) مقربین سے ہوگا اور گفتگو کرے گا لوگوں کے ساتھ گہوارے میں بھی اور پکی عمر میں بھی اور نیکو کاروں میں سے ہوگا۔ مریم بولیں اے میرے پروردگار! کیونکر ہو سکتا ہے میرے ہاں بچہ؟ حالانکہ ہاتھ تک نہیں لگایا مجھے کسی انسان نے فرمایا بات یونہی ہے (جیسے تم کہتی ہو لیکن) اللہ پیدا فرماتا ہے جو چاہتا ہے جب فیصلہ فرماتا ہے کسی کام (کے کرنے) کا تو بس اتنا ہی کہتا ہے اسے کہ ہو جا تو وہ فوراً ہو جاتا ہے۔ (آل عمران:45، 47)

اسی طرح سورہ مریم میں جناب روح اللہ کی پیدائش کے واقعہ کو اس دل نشیں انداز میں بیان کیا گیا ہے۔

الگ ہوگئی اپنے گھر والوں سے ایک مکان میں جو مشرق کی جانب تھا۔ پس بنا لیا اُس نے لوگوں کی طرف سے ایک پردہ پھر ہم نے بھیجا اُس کی طرف اپنے جبرائیل کو پس وہ ظاہر ہوا اس کے سامنے ایک تندرست انسان کی صورت میں۔ مریم بولی میں پناہ مانگتی ہوں رحمٰن کی تجھ سے اگر تو پرہیزگار ہے جبرائیل نے کہا میں تو تیرے رب کا بھیجا ہوا

صفحہ 542

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول) ہوں تاکہ میں عطا کروں تجھے ایک پاکیزہ فرزند۔ مریم (حیرت سے) بولیں اے بندۂ خدا، کیونکر ہوسکتا ہے میرے ہاں بچہ حالانکہ نہیں چھوا مجھے کسی بشر نے اور نہ میں بدچلن ہوں۔ جبرائیل نے کہا یہ درست ہے (لیکن) تیرے رب نے فرمایا یوں بچہ دینا میرے لیے معمولی بات ہے اور (مقصد یہ ہے کہ) ہم بنائے اسے اپنی قدرت کی نشانی لوگوں کے لیے اور سراپا رحمت اپنی طرف سے اور یہ ایسی بات ہے جس کا فیصلہ ہو چکا ہے۔ پس وہ حاملہ ہوگئیں اُس (بچہ) سے پھر وہ چلی گئیں اسے (شکم میں) لیے کسی دور جگہ۔ پس لے آیا انہیں درد زہ ایک کھجور کے تنے کے پاس (بصد حسرت و یاس) کہنے لگیں کاش! میں مرگئی ہوتی اس سے پہلے اور بالکل فراموش کر دی گئی ہوتی۔ پس پکارا اُسے ایک فرشتے نے اُس کے نیچے سے (اے مریم!) غمزدہ نہ ہو جاری کر دی ہے تیرے رب نے تیرے نیچے ایک ندی اور ہلاؤ اپنی طرف کھجور کے تنے کو گرنے لگیں گی تم پر پکی ہوئی کھجوریں۔ (میٹھے میٹھے خرمے) کھاؤ اور (ٹھنڈا پانی) پیئو اور (اپنے فرزند دل بند کو دیکھ کر) آنکھیں ٹھنڈی کرو پھر اگر تم دیکھو کسی آدمی کو تو (اشارے سے اُسے) کہو کہ میں نے نذر مانی ہوئی ہے رحمٰن کے لیے (خاموشی کے) روزہ کی۔ پس میں آج کسی انسان سے گفتگو نہیں کروں گی اس کے بعد وہ لے آئیں بچہ کو اپنی قوم کے پاس (گود میں) اٹھائی ہوئی۔ انہوں نے کہا اے مریم! تم نے بہت ہی بُرا کام کیا ہے۔ اے ہارون کی بہن! نہ تیرا باپ بُرا آدمی تھا اور نہ ہی تیری ماں بدچلن تھی۔ اس پر مریم نے بچہ کی طرف اشارہ کیا۔ لوگ کہنے لگے ہم کیسے بات کریں اِس سے جو گہوارہ میں (کمسن) بچہ ہے۔ (اچانک) وہ بچہ بول پڑا کہ میں اللہ کا بندہ ہوں۔ اُس نے مجھے کتاب عطا کی ہے اور اُن نے مجھے نبی بنایا ہے اور اُسی نے مجھے بابرکت کیا ہے جہاں کہیں بھی میں ہوں اور اُسی نے مجھے حکم دیا ہے نماز ادا کرنے کا اور زکوٰۃ دینے کا جب تک میں زندہ رہوں اور مجھے خدمت گزار بنایا ہے اپنی والدہ کا اور اُس نے نہیں بنایا مجھے جابر (اور) بدبخت۔ اور سلامتی ہو مجھ پر جس روز میں پیدا ہوا اور جس دن میں مرو گا اور جس دن مجھے اُٹھایا جائے گا زندہ کرکے۔ (مریم: 16 تا 32)

صفحہ 543

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول)

26...... علاوہ بریں مسلمانوں کو دوسرے مذاہب کے قائدین یا لوگوں کی تحقیر و تضحیک کرنے سے منع فرمایا گیا ہے تاکہ دوسروں کو ان کے سرداروں کی توہین وتذلیل کرنے کا موقع نہ مل سکے۔ یہ درست ہے کہ مسلمان اور عیسائی علمائے دین کے مابین بعض پہلوؤں پر دیانتدارانہ اختلافات موجود ہیں۔ تاہم یہ اختلافات ایک دوسرے کے مذہب یا پیغمبر کی تنقیص و بے حرمتی کی بنیاد یا جواز نہیں بن سکتے۔ رسول اکرم ﷺ سے مروی ہے۔ حضرت ابوہریرہؓ کہتے ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: دنیا و آخرت میں مجھے عیسیٰ سے زیادہ قربت ہے۔ کیونکہ تمام انبیاء آپس میں بھائی بھائی ہیں۔ یعنی گو سب کی مائیں مختلف ہیں لیکن دین سب کا ایک ہے۔“ (صحیح مسلم...... کتاب الفضائل)

(اُردو ترجمہ رئیس احمد جعفری جلد دوم ص 1480)

27...... مرزا صاحب کی یہی تحریریں اور افکار و خیالات تھے جن کی بناء پر مسلمانوں نیز عیسائیوں نے ان کے دعویٰ نبوت اور مسیح موعود ہونے کے ادّعا کی مخالفت کی۔ خود مرزا صاحب کی زندگی میں‘ پھر اس کی وفات کے بعد اور قیام پاکستان کے بعد بھی ایسے واقعات ظہور پذیر ہوئے‘ جب عوامی احتجاج 1953ء لاہور میں مارشل لاء کے نفاذ کا سبب بنا اور 1974ء میں ربوہ ریلوے سٹیشن پر کھڑی ایک ٹرین پر مرزائیوں کے حملہ کے نتیجہ میں ملک گیر ہنگامے پھوٹ پڑے۔ مرزا قادیانی نے اپنی کتاب ”ازالہ اوہام“ میں اپنے خلاف مسلمانوں کے عمومی غم وغصہ کا ذکر اس طرح کیا ہے۔ ”یہ میرا دعویٰ ہے جس پر لوگ (غیر احمدی مسلمان) میرے ساتھ جھگڑتے ہیں اور مجھے مرتد سمجھتے ہیں۔ انہوں نے بڑا شور مچایا اور اس آدمی کی قدر نہ جانی جس پر اللہ کی طرف سے الہام ہوتا ہے۔ انہوں نے مجھے غدّار‘ جھوٹا‘ مکار اور مرتد کہا۔ اگر انہیں حکمرانوں کے تیر وتفنگ کا ڈر نہ ہوتا تو مجھے کبھی کا جان سے مار ڈالتے۔“

ان نگارشات کی اشتعال انگیز نوعیت ختم نہیں ہوتی کیونکہ بعض دوسری عبارتوں میں مرزا صاحب کے ایسے خیالات شامل ہیں جو امت مسلمہ کے افکار و خیالات کے عین مطابق ہیں۔ مجیب الرحمٰن کا ایسی تحریروں پر بھروسا کرنا نامناسب ہے‘ اسے ظاہر کرنے

صفحہ 544

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول)

کے لیے صرف ایک خاص مثال نقل کی جاتی ہے۔ اور اس کا تجزیہ کیا جاتا ہے جو سائلان کے فاضل وکلاء کے اس موقف کی تردید کرتی ہے کہ تاریخ کو دہرانا اور مخصوص خیالات کا اعادہ زیر دفعہ 298۔ سی ارتکاب جرم کے مترادف نہیں۔

کے سو سال“ کو لیجئے‘ اس سے کیا سمجھانا اور ذہن نشین کرانا مقصود ہے؟ احمدیہ جماعت کی صد سالہ تقریبات کے پس منظر میں اس نعرہ پر غور کیا جائے تو اس سے یہ پیغام پہنچانا مطلوب ہے کہ مرزا قادیانی نے نبوت کا جو دعویٰ کیا‘ وہ درست ہے‘ مرزائیوں کا یہ عقیدہ کہ اصل میں امتِ مسلمہ انہی پر مشتمل ہے‘ درست ہے‘ دوسرے لوگ جو مرزا قادیانی کو نبی یا مسیح موعود نہیں مانتے‘ وہ (heretics) بدعتی ہیں۔ ”تم بھاری اکثریت والے دستوری فیصلہ آجانے کے باوجود بدعتی ہو۔“ فاضل ایڈووکیٹ جنرل نے بجا طور پر کہا کہ اگر پابندی کا یہ حکم جاری نہ کیا جاتا تو اس قسم کی اشتعال انگیزی امن وامان کی سنگین صورت حال پیدا کر دیتی۔ ان کا یہ کہنا بھی درست ہے کہ ممنوعہ افعال کو انفرادی طور پر لیا جائے تو وہ قابل نفرت ومکروہ‘ دل آزاری کرنے والے اور ضرر رساں نہیں لگتے۔ مثلاً آرائشی دروازے لگانا‘ جھنڈے لہرانا‘ عمارت پر چراغاں کرنا‘ غریبوں اور محتاجوں کو کھانا کھلانا‘ یا کسی شخص کا نئے کپڑے زیب تن کرنا‘ نہ ہی وہ دوسروں کے لیے موجب تکلیف و باعث آزار بنتا ہے۔ ان افعال کو کیے گئے اعلانات اور مطلوبہ مقاصد سے جو پیغام پہنچانا مقصود ہے اور ان کے نتیجہ میں پیدا ہونے والے ردعمل کے پس منظر میں دیکھنا چاہیے۔ ان افعال کو تاریخی تناظر میں لیا جائے تو ایک اقلیتی جماعت کی طرف سے انہیں خالی از خطر اور بے ضرر قرار نہیں دیا جا سکتا جو اپنے ماضی کی یاد منانا اور اپنے بانی وموسس نیز قائدین کی مدح وثناء کرنا چاہتی ہو۔ بہر حال اس طرح کے اعلانیہ اظہار و اعلانات کسی خاص مذہب کی پیروی کرنے اور اس پر عمل کرنے کے حق کے ذیل میں کیسے آ سکتے ہیں؟ یہ استدلال کہ ان افعال کی انجام دہی قانوناً جائز ہے، اس لیے جائز کاموں کی انجام دہی پر زیر دفعہ 144 مجموعہ ضابطہ فوجداری محض اس لیے پابندی عائد

صفحہ 545

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول)

نہیں کی جاسکتی کہ ایک شخص کی طرف سے کسی کام کو قانون کے مطابق کرنا دوسرے کی طرف سے خلاف قانون کام کرنے کا سبب نہ بن جائے اور یہ کہ احتیاطی تدابیر ایسے شخص یا مجموعہ اشخاص کے خلاف عمل میں لائی جاتی ہیں جن کی طرف سے خلاف قانون کام کیے جانے کا اندیشہ ہو اس کا جائزہ لینا ضروری ہے۔

29...... سائلان کے فاضل وکلاء نے مذکورہ بالا دلائل پیش کرتے ہوئے فرض کر لیا کہ یہ افعال جن کے کرنے پر پابندی لگائی گئی یا سالگرہ کی تقریبات جیسا کہ ان کے انعقاد کا منصوبہ بنایا گیا ہے بے ضرر غیر دل آزار غیر مضر بلکہ قانوناً جائز تھے یہ مفروضہ درست نہیں۔ یہ فرض کرنا کہ کسی قسم کی نفرت و بیزاری پیدا نہ کرنے یا مزاحمت اور بے چینی و اضطراب کو نہ بھڑکانے کا پختہ عزم کر لیا گیا تھا، اس کے باوجود یہ ردّعمل کہ ان تقریبات کا صحیح طور سے ادراک کر لیا گیا تھا، مفاد عامہ کے تحت زیر اعتراض احکام کے جاری کرنے کا معقول جواز فراہم کرتا ہے۔ فاضل وکلاء نے جس اصول پر انحصار کیا وہ بیٹی بنام گلبانکس 2Q.B.D.308 (1882) میں طے پایا تھا۔ اس کے حقائق یہ تھے کہ مکتی فوج (Salvation Army) کے ممبران گلیوں میں سے مارچ کرتے ہوئے گزرنے پر مصر تھے جبکہ اساسی فوج اس کے زبردست خلاف تھی اور مجسٹریٹ نے بھی یہ حکم جاری کر دیا تھا کہ انہیں گلیوں میں سے نہیں گزرنا چاہیے۔ ڈویژنل کورٹ نے قرار دیا کہ کسی شخص کو ایسا فعل قانون کے مطابق کرنے پر سزا نہیں دی جاسکتی خواہ اسے معلوم ہو کہ اس کا ویسا کرنا دوسرے شخص کو خلاف قانون کام کے انجام دینے پر اکسانے کا سبب بن سکتا ہے مجرمانہ مواخذہ کی تقسیم میں یہ فیصلہ صحیح لگتا ہے، تاہم کسی مقدمہ میں اس کی پیروی نہیں کی گئی۔ پولیس کے ریاستی اختیارات کے استعمال سے متعلق مقدمات میں، جو امن عامہ کے قیام سے تعلق رکھتے ہوں، اس اصول کے اطلاق میں ردو بدل کیا گیا ہے۔ چنانچہ ہمسفر بنام کونر (1864-17 IR.CLR.I) جس میں ایک پولیس مین کے خلاف مار پیٹ کی شکایت کی گئی تھی۔ آئر لینڈ کی عدالت نے قرار دیا کہ کانسٹیبل مدعی کے کپڑوں پر سے نارنجی سوسن کے پھول کو ہٹانے کا مجاز تھا

صفحہ 546

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول)

کیونکہ ایک ہجوم کے درمیان نقض امن کو روکنے کے لیے ایسا کرنا ضروری ہو گیا تھا وہاں اس علامت نے عناد پیدا کر دیا تھا۔ (دیکھئے جی پی ولسن کی کتاب Cases) and Materials in Constitutional and Administration. Law) کا صفحہ نمبر 693۔ اسی طرح اوکلے بنام ہاروے میں ایک مجسٹریٹ کو ایک قانونی جلسہ کو منتشر کرنے کا مجاز ٹھہرایا گیا کیونکہ وہ یہ فرض کرنے کی کافی وجوہ رکھتا تھا کہ جلسہ کے مخالفین آئرستان کی سیاسی انجمن کے لوگ تشدد اور طاقت سے کام لیں گے اور امن کی بحالی کا کوئی دوسرا راستہ نہیں تھا۔ (دیکھئے ولسن کیسز ص 695) یہاں ضمناً یہ ذکر کرنا مناسب ہوگا کہ قادیانیوں کی طرف سے ایسے جھنڈوں کی نمائش جن پر کلمہ طیبہ کڑھا ہوا یا لکھا ہوا ہو، بے محل ہیں۔ ایسی صورتوں میں بھی جہاں الفاظ یا طرز عمل اشتعال انگیز یا توہین آمیز ہو قیام امن وامان کے لیے پولیس کی طاقت استعمال کی جاسکتی ہے۔ وائز بنام ڈننگ (1902-1.K.B-167) کا حوالہ بھی دیا جا سکتا ہے۔ اس نالش میں ایک پروٹسٹنٹ مبلغ کو اس کی طرف سے رومن کیتھولک مذہب پر بار بار حملوں کے بعد لیور پول کے علاقہ میں قیام امن کا ذمہ دار ٹھہرایا گیا تھا اور امن میں خلل پڑ گیا تھا۔ قرار دیا گیا کہ حقائق کی رو سے مجسٹریٹ اس امر کا مجاز تھا کہ کیتھولک فرقہ کی طرف سے معاندانہ جواب کو وائز کے توہین آمیز رویہ کے قدرتی نتیجہ پر محمول کرتا۔

30...... اب ہم اس سوال کا جائزہ لیتے ہیں کہ آیا کلمہ طیبہ والے بینرز کی نمائش توہین آمیز اور دل آزار ہے یا نہیں۔ فاضل ایڈووکیٹ جنرل اور مسئول الیہان کے فاضل وکلاء کے مطابق ”محمد رسول اللہ ﷺ کے الفاظ سے قادیانی مرزا قادیانی مراد لیتے ہیں اور اس کی طرف نسبت کرتے ہیں کیونکہ مرزا صاحب نے خود ”محمد رسول اللہ“ ہونے کا دعویٰ بھی کیا اور اس کے پیروکار اسے ایسا ہی مانتے ہیں۔ انہوں نے عرض کیا کہ جب قادیانی جھنڈے لہراتے ہیں یا اپنے سینوں پر بیج سجاتے ہیں تو وہ رسول اکرم ﷺ کے مقدس نام کی بے حرمتی کرتے ہیں۔ اپنے اس ادعا کی حمایت میں مرزا بشیر احمد کی کتاب ”کلمۃ الفصل“ سمیت کئی گستاخانہ کتابوں کے حوالے پیش کیے جس میں لکھا ہے کہ:

صفحہ 547

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول)

میں تشریف لائے۔ اس لیے ہم کو کسی نئے کلمہ کی ضرورت نہیں۔ ہاں اگر محمد رسول اللہ کی جگہ کوئی اور آتا تو ضرورت پڑتی“۔ ”ایک غلطی کا ازالہ“ نامی کتاب کا حوالہ بھی دیا گیا جس کے صفحات 11,7,5,4 اور 16 پر درج ذیل عبارتیں موجود ہیں۔

میری نبوت ورسالت باعتبار محمد اور احمد ہونے کے ہے۔“

آنحضرت ﷺ ہوں۔“

اس لحاظ سے میرا نام محمد اور احمد ہوا۔ پس نبوت ورسالت کسی دوسرے کے پاس نہیں گئی۔ محمد کی چیز محمد کے پاس ہی رہی‘ علیہ الصلوٰۃ والسلام“۔

مسئول الیہان کے فاضل وکیل نے اعتراض اٹھاتے ہوئے کہا کہ مذکورہ مفہوم اور عقیدہ کے ساتھ کلمہ طیبہ والے جھنڈوں کا لہرانا یا بیجوں کا لگانا تعزیراتِ پاکستان کی دفعہ 295۔سی کے تحت جرم کے مترادف ہے جس کی سزا موت ہے۔

31....... اس مرحلہ پر سائل مرزا خورشید احمد کی طرف سے داخل کردہ بیان حلفی کا حوالہ دینا مناسب ہوگا۔ اس کے پیراگراف نمبر 4‘ 5 میں کہا گیا ہے۔

4...... یہ کہ اقرار کنندہ صدق دل سے اقرار کرتا ہے کہ جب وہ کلمہ طیبہ پڑھتا ہے تو ”محمد رسول اللہ“ کے الفاظ سے غیر مشروط طور پر حضرت محمد ﷺ مراد لیتا ہے۔

5...... یہ کہ اقرار کنندہ صدق دل کے ساتھ اس الزام کی تردید کرتا ہے کہ الفاظ محمد (ﷺ) سے وہ مرزا قادیانی مراد لیتا ہے۔ ایسا جھوٹا‘ غلط اور بے خبری پر مبنی ہے۔ اقرار کنندہ صدق دل سے ایسے کنایہ کی تردید کرتا ہے جو اس کے اور تمام احمدیوں کے

صفحہ 548

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول)

عقائد کے برعکس ہو۔‘‘

حلفیہ بیان میں اختیار کردہ مذکورہ موقف کے پیش نظر مجیب الرحمان سے مرزا قادیانی کی حیثیت و مرتبہ اور ان تحریروں کے بارے میں جن میں اس نے نبوت کا دعویٰ کیا تھا‘ مرزا خورشید احمد اور احمدیہ جماعت کے دیگر ممبران کے عقیدہ کی بابت پوچھا گیا نیز دریافت کیا گیا آیا جب کوئی شخص قادیانی مذہب اختیار کرتا ہے تو اسے محض کلمہ طیبہ پڑھنا پڑتا ہے یا کچھ اور چیز بھی پڑھنی‘ قبول کرنی اور اس پر ایمان لانا ہوتا ہے؟ جواب دیا گیا کہ قادیانی حضرت محمد ﷺ کی قطعی اور آخری نبوت پر ایمان نہیں رکھتے‘ ان کا عقیدہ یہ ہے کہ مرزا قادیانی مہدی‘ اور مسیح موعود تھے۔ مزید کہا گیا فریق مخالف نے جس چیز پر اعتراض کیا ہے بانی جماعت احمدیہ اپنی کتابوں ’’ازالہ اوہام‘‘ ص 169، 170 ’’تحفہ بغداد‘‘ روحانی خزائن جلد نمبر 7 ص 67، جلد نمبر 8 ص 252 نیز جلد نمبر 14‘ ص 323 اور روحانی خزائن کی جلد نمبر 23 ص 459 میں شامل ’’پیغام صلح‘‘ میں اس کی کھول کر وضاحت کر چکے ہیں۔ مجیب الرحمان کے بقول مرزا قادیانی نے محولہ بالا پیغام اپنی وفات سے ایک روز پیشتر یعنی 25 مئی 1908ء کو لکھا تھا۔ انہوں نے کہا کہ ’’ایک غلطی کا ازالہ‘‘ ’’آئینہ کمالات‘‘ اور ’’تبلیغ رسالت‘‘ میں جو کچھ لکھا گیا ہے، اسے ’’ظل‘‘ اور ’’بروز‘‘ کے تصور کے تحت سمجھنے کی ضرورت ہے جو کہ روحانی مشابہت و مماثلت اور معرفت کا تصور ہے اور اس تصور کے ساتھ کسی بھی لحاظ سے دوبارہ جسمانی ظہور اور دوبارہ حلول کا نظریہ وابستہ نہیں۔

32...... سب سے اہم بات جسے مجیب الرحمان نے بڑی آسانی سے نظر انداز کر دیا اور اس کی تردید نہیں کی وہ یہ تھی کہ جو کوئی قادیانیت میں داخل ہوتا ہے، اسے یہ ماننا پڑتا ہے کہ مرزا قادیانی کی نبوت حضرت محمد ﷺ کی موروثی نبوت ہے یہ کہ مرزا قادیانی حضور نبی کریم ﷺ کا صحیح ظل یا بروز ہے۔ اس بات سے بھی انکار نہیں کیا کہ قادیانیت اختیار کرتے وقت جس فارم پر دستخط کرنا ہوتے ہیں‘ اس میں مرزا قادیانی کو نبی اور مسیح موعود اور مہدی ماننا پڑتا ہے۔ فارم میں استعمال کردہ الفاظ منجملہ دیگر امور‘ حسب ذیل ہیں۔

صفحہ 549

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول)

کے سب دعاوی پر ایمان رکھوں گا / رکھوں گی۔‘‘ مسلمانوں نے رسول اکرم ﷺ کے بعد ہر زمانہ میں وقتاً فوقتاً نبوت کے جھوٹے دعویداروں کو مسترد کیا ہے۔ مرزا صاحب کے دعویٰ نبوت کو بھی مسلمانوں کے تمام فرقوں نے جھٹلایا ہے، جہاں تک مرزا قادیانی کے دعویٰ نبوت کا تعلق ہے، اس پر مجیب الرحمان (سپرا) کے مقدمہ میں بڑی شرح وبسط سے بحث ہو چکی ہے، جس میں اس رائے کا اظہار کیا گیا تھا۔

احمد تھے (یہ دونوں رسول اکرم ﷺ کے نام ہیں) خاصے دُور رس نکلتے ہیں۔ مرزا صاحب کے خلفاء، رسول اکرمؐ کے خلفاء بن گئے۔ مسلمان جو کلمہ پڑھتے ہیں، اس کے معنی ہیں۔ ’’اللہ کے سوا کوئی الٰہ نہیں اور حضرت محمد(ﷺ) اس کے رسول ہیں۔‘‘ مرزا صاحب کو محمد مان لیا جائے تو جب بھی اور جہاں بھی لفظ محمد پڑھا یا ادا کیا جائے گا، اس سے مراد مرزا صاحب ہی ہوں گے۔‘‘

بھی دوبارہ جسمانی ظہور یا حلول کا تصور وابستہ نہیں، خود مرزا صاحب اور ان کے شاگرد عبدالقادر محمود کے ظاہر کردہ خیالات کے بالکل برعکس لگتا ہے۔ اس پہلو پر رپورٹ کے صفحہ 74 پر درج ذیل بحث کی گئی ہے۔ ’’اب خود اس تصور کا تجزیہ کرنا مناسب ہوگا۔ ڈاکٹر عبدالقادر محمود کی کتاب ’’الفلسفۃ الصوفیاء فی الاسلام‘‘ (ص 5 تا 11) میں وضاحت سے بتایا گیا ہے کہ الفاظ ’’ظلی‘‘ اور ’’بروزی‘‘ ہندوؤں کے حلول یا تناسخ کے تصور سے بہت حد تک ملتے جلتے ہیں۔

مرزا صاحب نے خود تسلیم کیا ہے کہ بروز کے معنی اوتار (خدا یا دیوتا کا جسمانی روپ میں ظہور) کے ہیں۔ اپنے سیالکوٹ والے لیکچر مورخہ 2 نومبر 1904ء ص 23 میں انہوں نے کہا: واضح ہو کہ خدا کی طرف سے میرا ظہور صرف مسلمانوں کی اصلاح کے لیے نہیں بلکہ تینوں اقوام، مسلم، ہندو اور عیسائی کی اصلاح مطلوب ہے۔ چونکہ خدا

صفحہ 550

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول)

نے مجھے مسلمانوں اور نصاریٰ کے لیے مسیح موعود بنا کر بھیجا‘ اس لیے میں ہندوؤں کے لیے اوتار اور راجہ کرشن‘ جیسا کہ مجھ پر واضح کیا گیا ہے‘ ایک مکمل انسان تھے۔ وہ اپنے وقت کے اوتار یا نبی تھے۔ اللہ کا وعدہ تھا کہ آخری زمانہ میں اپنا بروز یعنی اوتار پیدا کرے گا۔‘‘ ”ضمیمہ رسالہ جہاد‘ (مطبوعہ 1900ء میں انہوں نے لکھا ”خدا نے مجھے عیسیٰ کے اوتار کی حیثیت سے بھیجا اس طرح اس نے میرا نام احمد اور محمد رکھا اور میری عادات‘ اخلاق اور اطوار حضرت محمد (ﷺ) جیسے بنائے۔ مجھے ان کے چوغہ میں ملبوس کرنے کے بعد آنحضرت ﷺ کا اوتار بنایا تاکہ میں توحید کا پرچار اور اشاعت کر سکوں۔ پس اس مفہوم میں میں عیسیٰ ہوں‘ محمد ہوں اور مہدی بھی اور اظہار کا یہی وہ اسلوب ہے جو اسلام میں اصطلاحاً بروز کہلاتا ہے‘‘ ص.......7,6

پس ظاہر ہوا کہ مرزا صاحب اوتار اور بروز ایک دوسرے کے ہم معنی سمجھتے تھے۔ ”اصل شریعت میں حلول یا تناسخ کا کوئی تصور نہیں۔ البتہ ایسی اصطلاحات ہیں جو ان تصورات پر یقین کرنے والوں مثلاً مزدک اور لامان کی بدولت وجود میں آئیں۔ اسی طرح اسلام میں ظلیت کے تصور کے لیے کوئی جگہ نہیں ۔‘‘

(خاتم النبیین از مولانا انور شاہ کشمیری‘ ص 210)

مولانا محمد یوسف بنوری نے موقف الامۃ الاسلامیہ میں اس موضوع پر اظہار خیال کرتے ہوئے لکھا: مذاہب کے تقابلی مطالعہ سے ظاہر ہوتا ہے کہ ظلیت اور بروز کا سارا تصور سراسر ہندوانہ تصور ہے۔ اسلام میں اس کی کوئی گنجائش نہیں۔ حضرت عبدالقادر بغدادی (متوفی 429ھ) نے بھی فرمایا ہے کہ حلول کی حمایت کرنے والا تصور جھوٹا اور بے ہودہ ہے۔‘‘ (اصول الدین ص 72) حضرت مجدد الف ثانیؒ بھی جن کے ملفوظات پر مرزا صاحب یقین رکھتے تھے‘ نبوت میں ظل کے منکر ہیں‘ اپنے مکتوب نمبر 301 میں انہوں نے فرمایا ”نبوت اللہ کی قربت پر دلالت کرتی ہے۔ جس میں ظلیت کا کوئی شائبہ یا شک و شبہ نہیں ۔‘‘

صفحہ 551

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول)

میں داخل ہونے والے شخص سے بیعت کی شکل میں جس دستاویزات پر دستخط کرائے جاتے ہیں‘ وہ بھی دھوکے کی ٹٹی اور مکر و فریب کا جال ہے جو مسلمانوں اور دوسروں کو بھی گمراہ کرنے اور پھانسنے کے لیے بچھایا جاتا ہے۔ وہ اس طرح کہ اسلام کو اپنے مذہب کے طور پر پیش کیا جاتا ہے اور مرزا صاحب کو اسلام کے نئے نبی کے روپ میں دکھایا جاتا ہے۔ واضح رہے کہ بیعت کے فارم میں آنحضرت ﷺ کے بعد الفاظ ”خاتم النبیین“ کے استعمال سے مسلمہ طور پر یہ مراد نہیں کہ حضرت محمد ﷺ کے بعد کوئی نبی نہیں ہوگا‘ بلکہ اس کے برعکس اس شخص کو مرزا قادیانی کے جملہ دعاوی پر ایمان لانا ہوتا ہے جس میں اس کا دعویٰ نبوت بھی شامل ہے۔ مسلمانوں کے مطابق رسول اکرم ﷺ کے بعد قیامت تک کوئی نبی نہیں ہوگا اور نہ ہی ہو سکتا ہے کیونکہ رسول اکرم ﷺ نے واشگاف الفاظ میں فرمایا ہے کہ ”لا نبی بعدی“ (میرے بعد کوئی نبی نہیں ہوگا) اور لفظ خاتم النبیین کے معنی یہ ہیں کہ آخری مہر لگادی گئی ہے۔ اب کسی نئے نبی کے آنے کا کوئی سوال نہیں۔ اس کے برخلاف مرزا قادیانی ”ایک غلطی کا ازالہ“ نامی کتاب میں رقمطراز ہے ”اگرچہ نبوت کی مہر نہیں ٹوٹے گی تاہم اس امر کا امکان ہے کہ اس دنیا میں بروزی طریقے سے کوئی نیا نبی آ جائے۔ صرف ایک بار نہیں بلکہ ہزار بار‘ اور وہ اپنی نبوت و کاملیت کا اظہار کرے۔“

35...... واضح ہو کہ 1891 کی مطبوعہ ”ازالہ اوہام“ 1893ء کی یہ ”کرامت صادقین“ (مشمولہ روحانی خزائن جلد نمبر 7) اور 1899 کی ”ایام صلح“ (مشمولہ روحانی خزائن جلد 14) میں جو کچھ لکھا گیا، اس سے مرزا صاحب کے دعویٰ نبوت کی صحیح تصویر اجاگر نہیں ہوتی اس لیے اس سلسلہ میں مرزا صاحب کی متعلقہ کتابیں وہ ہیں جو 1901ء سے 1908ء تک لکھی گئیں اور ایک غلطی کا ازالہ“ اس سلسلے کی بنیادی تحریر ہے۔ اس سیاق و سباق میں یہ وضاحت کرنا مناسب ہوگا کہ 25 مئی 1908ء کی لکھی ہوئی ”پیغام صلح“ (مشمولہ روحانی خزائن جلد 23) بھی متعلقہ اور اس سلسلے میں کارآمد نہیں ہے کیونکہ اس پیغام کے مخاطب ہندو تھے مسلمان نہیں‘ اور مرزا صاحب کو نبی تسلیم کرنے کا سوال اسی

صفحہ 552

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول)

صورت میں پیدا ہوتا جب کہ ہندوؤں نے حضرت محمد ﷺ کی نبوت کو تسلیم کیا ہوتا۔ مرزا صاحب کے مخصوص دعویٰ کے پیش نظر یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ قادیانی، مرزا قادیانی کو حضرت محمد ﷺ کا بدل مانتے ہیں۔ اس لیے جھنڈوں پر لکھے ہوئے اور بیجوں پر تحریر شدہ الفاظ ”محمد رسول اللہ“ کا استعمال ہر قادیانی کی اپنی ذمہ داری ہے‘ کیونکہ ایسا کرنا رسول اکرم ﷺ کے مقدس نام کی بے حرمتی کرنے کے مترادف ہے۔ بلاشبہ ایسا فعل دفعہ 295۔سی تعزیراتِ پاکستان کے دائرہ میں آتا ہے۔

36...... مزید برآں ایسے بینرز اور بیجوں کی نمائش غالب اکثریت کی حامل مسلم آبادی کے مذہبی جذبات کو بھڑکانے کا موجب بنتی۔ یہ چیز سالگرہ کی تقریبات پر پابندی لگانے کا دوسرا جواز فراہم کرتی ہے‘ کیونکہ اس سے امن عامہ میں خلل پڑنے کا زبردست خدشہ تھا۔ یاد رہے کہ صرف مذہب کی پیروی اور اس پر عمل کرنے کے حق کا دعویٰ تو کیا گیا لیکن سائلان کے فاضل وکلاء یہ ثابت کرنے میں ناکام رہے کہ ان تقریبات کے کھلے بندوں انعقاد اور جس طریقے سے انہیں منانے کا پروگرام بنایا گیا‘ اس پر پابندی لگانے سے قادیانی مذہب کی پیروی اور اس پر عمل کرنے کے حق کی کس طرح خلاف ورزی ہوتی یا اس میں کمی واقع ہوگئی؟ ہندوؤں‘ سکھوں‘ پارسیوں اور دوسری مذہبی اقلیتوں کی طرح قادیانی بدستور اپنے مذہب کی پیروی اور اس پر عمل کر رہے ہیں اور مکمل مذہبی آزادی سے مستفید ہو رہے ہیں۔ خود کو مسلمان ظاہر کر کے اور شریعت اسلامیہ یا کلمہ طیبہ کو جو کہ اسلام کے اساسی ارکان میں سے ایک ہے‘ استعمال کر کے وہ اپنے رویہ سے خود مشکل صورتِ حال پیدا کر دیتے ہیں۔ اگر قادیانی دستوری فیصلہ کو قبول کر لیں اور خود کو مسلمانوں سے ایک علیحدہ اور جداگانہ برادری سمجھنے لگیں جیسا کہ ان کا اپنا دعویٰ ہے تو کوئی ناخوشگوار صورتِ حال پیدا نہ ہو۔ ان کا خود کو مسلمانوں کا بدل ظاہر کرنا اور عامۃ المسلمین کو اسلام کے دائرہ سے خارج کرنا‘ مسلمانوں کے لیے کسی طرح قابل قبول اور قابل برداشت نہیں۔ ملک اور دستور سے ان کی وفاداری اور ان کا جداگانہ وجود ان کی سلامتی کو یقینی بنا سکتا ہے۔ ہم انہیں خوش آمدید کہیں گے‘ چاہے وہ

صفحہ 553

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول)

کوئی سا مذہب اختیار کریں لیکن وہ مسلمانوں کے دین کو ناپاک کرنے پر کیوں مُصر ہیں؟ اگر مسلمان اپنے مذہب کو ہر قسم کی آمیزش سے پاک و خالص رکھنے کے لیے کوئی قدم اٹھاتے ہیں تو اس پر قادیانی کیوں سیخ پا ہوتے ہیں، اسے مسئلہ کیوں بنا لیتے ہیں۔

37...... دفعہ 144 مجموعہ ضابطہ فوجداری کی رو سے حاصل شدہ اختیار نیز ریاست کی پولیس قوت کو ایسے مقصد کے لیے جائز طور پر استعمال کیا جا سکتا ہے جو پبلک کی بھلائی یا لوگوں کے مفاد میں ضروری نظر آئے۔ یہاں سائنس ٹولوجی مسلک کے ممبران کے دو مقدمات کا حوالہ دینا مناسب ہوگا۔ دیگر بنام وزیر داخلہ (1969-2-Ch.149) میں نوٹ کیا گیا کہ سائنس ٹولوجی کے محرکین کے نزدیک یہ ایک مذہب ہے۔ اس کی ابتداء امریکہ سے ہوئی، اس کا مسلک اور عقیدہ اس کی تعلیمات اور اعمال سیسکس (انگلینڈ) میں ایک کالج کے طلبہ کو پڑھائے جاتے ہیں۔ یہ کالج ایک امریکی کارپوریشن کی ملکیت ہے جس کا نام چرچ آف سائنس ٹولوجی آف کیلی فورنیا ہے۔ سائلان شہدت اور جوزف فرنشی امریکہ کے شہری تھے اور ان کے پاس داخلہ کے لیے محدود مدت کے اجازت نامے تھے۔ میعاد ختم ہوگئی اور وزیر داخلہ نے توسیع کرنے سے انکار کر دیا، کیونکہ حکومت کا نقطہ نظر یہ تھا کہ:

امریکیوں کی طرف سے متعارف کرایا گیا اور اس کا عالمی ہیڈکوارٹر ایسٹ گرنیڈ میں ہے۔ اس کے بانی رون ہبارڈ نے اس کی وضاحت اس طرح کی ہے کہ یہ دنیا کی سب سے بڑی ذہنی صحت کی تنظیم ہے۔ حکومت دستیاب جملہ شہادتوں کا جائزہ لینے کے بعد مطمئن ہے کہ سائنس ٹولوجی معاشرتی لحاظ سے ضرر رساں ہے۔ یہ ممبران خاندان کو ایک دوسرے سے الگ کرتی ہے اور جو لوگ اس کی مخالفت کرتے ہیں، ان سے گندے اور رسوا کن محرکات منسوب کر دیتی ہے۔ اس کے تحکمانہ اصول اور اعمال ان لوگوں کی شخصیت اور بھلائی کے لیے باعثِ تشویش ہیں، جو اسے چھوڑ چکے ہیں۔ سب سے بڑھ کر یہ کہ اس کے طریقے ان لوگوں کی صحت کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں جو انہیں اختیار

صفحہ 554

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول)

کرتے ہیں۔ ایسی شہادتیں ملی ہیں کہ اب بچوں کو اس کی تعلیم دی جارہی ہے۔ لارڈ ڈیننگ‘ ماسٹر آف رولز نے اپنے فیصلہ میں اس دلیل کو نمٹاتے ہوئے کہا کہ وزیر داخلہ نے اپنے اختیارات استرداد اور ایک مذہبی فرقہ کی جس پر از روئے قانون پابندی نہیں لگائی گئی‘ بے حرمتی کرنے کی غرض سے استعمال کیے تھے۔ لکھا:

کے لیے کام میں لائے جو اس کے نزدیک پبلک کی بھلائی اور اس ملک کے لوگوں کے مفاد میں ہو‘ یہ سوچنے کی معمولی سی وجہ بھی موجود نہیں کہ وزیر داخلہ نے اس معاملہ میں اپنے اختیارات کو غلط مقصد کے لیے استعمال کیا یا بدنیتی سے کام لیا۔ وزیر کے مقصد کو اس بیان میں واضح طور سے ظاہر کر دیا گیا تھا جو اس نے دارالعوام میں دیا۔ اس نے سوچا کہ ان لوگوں یعنی سائنس ٹولوجسٹس کے اعمال ہمارے معاشرہ کے لیے انتہائی نقصان دہ ہیں اور یہ بات اس ملک کے مفاد میں نہیں کہ سائنس ٹولوجی کے غیر ملکی طلبہ کو اس کی تعلیم حاصل کرنے یا نئے طلبہ کو داخلہ لینے کی اجازت دی جائے۔ وہ مقصد سراسر جائز تھا۔ وزیر داخلہ نے اپنے اختیارات اس ملک کے عام آدمی کے مفاد میں استعمال کیے اور میں نہیں سمجھتا کہ ہم اس کے درست ہونے کی بابت کسی شک وشبہ میں پڑیں۔“

آف لارڈز نے اپیل کے لیے داخل کی گئی‘ درخواست خارج کر دی (رپورٹ کے ص 174 پر درج نوٹ ملاحظہ کیجیے) یوں آزادانہ نقل وحرکت کے حق کو مفاد عامہ کے تابع کر دیا گیا۔ اسی اصول کو یورپ کی عدالت ہائے انصاف نے Van Duyn Vs. Home office. (1975) Ch.358 مقدمہ پر لاگو کیا۔ اس مقدمہ میں معاہدہ روم میں شامل ایک دفعہ‘ جس کی رو سے کارکنوں کو کمیونٹی کے نو ملکوں میں آزادانہ نقل وحرکت کی ضمانت دی گئی تھی‘ مصلحت عامہ کی وجوہات کے تابع کر دیا گیا تھا۔ مس وان ڈوئن نے ہوائی اڈہ پر پہنچ کر اعلان کیا کہ وہ کالج آف سائنس ٹولوجی میں سیکرٹری کی حیثیت سے ملازمت اختیار کرنے آئی ہے۔

صفحہ 555

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول)

اسے یہ کہتے ہوئے داخلہ کی اجازت دینے سے انکار کر دیا گیا کہ کسی شخص کو چرچ آف سائنس ٹولوجی کی ملازمت میں شمولیت اختیار کرنے کے لیے برطانیہ میں داخل ہونے کی اجازت دینا ناپسندیدہ فعل ہے۔ اس انکار کو چیلنج کر دیا گیا اور معاملہ لکسمبرگ کی یورپین کورٹ آف جسٹس کو بھیج دیا گیا، جہاں اس انکار کو بحال رکھا گیا۔

39...... اسی طرح مصلحت عامہ کے اسباب اور عام آدمی کی بھلائی اور مفاد سالگرہ تقریبات پر پابندی لگانے کی از روئے قانون جائز بنیاد فراہم کرتا ہے جیسا کہ اس سلسلے میں ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ اور ریذیڈنٹ مجسٹریٹ نے ہدایات جاری کی ہیں۔ یہ بات پہلے ہی واضح کی جا چکی ہے کہ عام لوگ یعنی امت مسلمہ قادیانیوں کی سرگرمیوں اور ان کے مذہب کی تبلیغ کی مزاحمت و مخالفت کرتی ہے تاکہ ان کے مذہب کا اصل دھارا پاک صاف اور غلاظت سے محفوظ رہے اور امت کی یکجہتی بھی برقرار رہے۔ ایسا کرنے سے قادیانیوں کے ان کے مذہب کی پیروی اور اس پر عمل کرنے کے حق پر نہ کوئی زد پڑتی ہے نہ اس کی خلاف ورزی ہوتی ہے۔

40...... مذکورہ بالا وجوہات کی بناء پر اس پٹیشن کو کسی استحقاق کے بغیر قرار دیتے ہوئے خارج کیا جاتا ہے۔ مقدمہ کے اخراجات دونوں فریق خود برداشت کریں گے۔

دستخط جسٹس خلیل الرحمٰن خاں 17 ستمبر 1991ء

(PLD 1992 Lahore 1)

۞......۞......۞

صفحہ 556

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول)

مطبوعات عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان رعایتی قیمت

نمبر شمار نام کتاب مصنف رعایتی قیمت 1 قادیانی مذہب کا علمی محاسبہ پروفیسر محمد الیاس برنیؒ 400 2 رئیس قادیان ابوالقاسم مولانا محمد رفیق دلاوریؒ 400 3 ائمہ تلبیس ابوالقاسم مولانا محمد رفیق دلاوریؒ 300 4 تحفہ قادیانیت (چھ جلدیں) حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانویؒ 1200 5 فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (2 جلدیں) جناب محمد متین خالد صاحب 700 6 تحریک ختم نبوت (10 جلد مکمل سیٹ) حضرت مولانا اللہ وسایا صاحب 2500 7 مقدمہ بہاولپور مکمل سیٹ (تین جلدیں) حضرت مولانا اللہ وسایا صاحب 1000 8 محاسبہ قادیانیت جلد نمبر 1 تا 25 (مزید جلدوں کی اشاعت جاری ہے) متعدد حضرات کے مجموعہ رسائل 6600 9 قومی اسمبلی میں قادیانی مسئلہ پر بحث کی مصدقہ رپورٹ (5 جلدیں) حضرت مولانا اللہ وسایا صاحب 1000 10 قادیانی شبہات کے جوابات (کامل) حضرت مولانا اللہ وسایا صاحب 300 11 چمنستان ختم نبوت کے گلہائے رنگا رنگ (5 جلدیں) مکمل سیٹ حضرت مولانا اللہ وسایا صاحب 1200 12 آئینہ قادیانیت حضرت مولانا اللہ وسایا صاحب 200 13 ایک ہفتہ شیخ الہندؒ کے دیس میں حضرت مولانا اللہ وسایا صاحب 200 14 قادیانیوں سے فیصلہ کن مناظرے جناب محمد متین خالد صاحب 200 15 تذکرہ مجاہدین ختم نبوت حضرت مولانا اللہ وسایا صاحب 250 16 خطبات شاہین ختم نبوت (دو جلدیں) مولانا محمد بلال، مولانا محمد یوسف پاشا 400 17 اسلام اور قادیانیت ایک تقابلی مطالعہ مولانا عبدالغنی پٹیالویؒ 250 18 مجموعہ رسائل (رد قادیانیت) (دو جلدیں) رسائل اکابرین 400 19 قادیانیت کا تعاقب مولانا محمد اعجاز مصطفیٰ، مولانا قاضی احسان احمد 200 20 ختم نبوت کورس مولانا مفتی مصطفیٰ عزیز صاحب 250

نوٹ : ...... عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت تبلیغی ادارہ ہے۔ تبلیغ کے نقطہ نظر سے تقریباً لاگت پر کتب مہیا کی جاتی ہیں ملنے کا پتہ : ..... عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت حضوری باغ روڈ ملتان ...... جامعہ عربیہ ختم نبوت مسلم کالونی چناب نگر ضلع چنیوٹ

صفحہ 557

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول)

مولانا ظفر علی خانؒ اور فتنہ قادیانیت

تحفظ ختم نبوت کے موضوع پر مولانا ظفر علی خاںؒ کے معرکہ آرا مضامین، مقالات، توضیحات، اداریے، خطبات، مکاتیب اور شاعری کا دلکش مرقع

محمد متین خالد

عالمانہ شکوہ، ادیبانہ جلال و جمال اور صحافیانہ بے باکیوں پر مشتمل مربوط ومبسوط ایک ایسی دل آویز کتاب

قدیم اور تاریخ ساز اخبار 'زمیندار' اور 'ستارہ صبح' کی فائلوں سے کیا گیا ہے۔

سدا بہار گلدستہ ہے۔

استدلالی اور تجزیاتی محاکمہ ہے۔

ادق قافیوں، دلچسپ محاوروں، نایاب ضرب الامثال اور جدید الفاظ و اصطلاحات کا ایک پوشیدہ جہاں اپنے اوراق و صفحات کے دامن میں نگینوں کی طرح سمیٹے ہوئے ہے۔

ایک جامع، بلند پایہ اور سحر انگیز ادبی سرمایہ لیے ہوئے ہے۔

مصائب و شدائد، جبر و استبداد اور زنجیر و تعزیر کے مراحل کا سامنا کرنا پڑا۔

نابغہ عصر جناب محمد آصف بھلی، معروف سیرت نگار جناب پروفیسر مظفر محمود گوندل اور نامور سکالر جناب عبدالروف کی علمی رفعتوں پر مبنی ایمان افروز تقاریظ کے ساتھ

پڑھیے! تحفظ ختم نبوت کے لیے آگے بڑھیے! شفاعت رسول ﷺ آپ کی منتظر ہے۔

ہر اچھے بک سٹال پر دستیاب ہے

صفحہ 558

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول)

علامہ اقبالؒ اور فتنہ قادیانیت

تحفظ ختم نبوت کے موضوع پر علامہ محمد اقبالؒ کے معرکہ آرا مضامین، توضیحات، خطبات، مکاتیب اور شاعری کا مربوط و مبسوط مجموعہ

محمد متین خالد

مستند تاریخی حوالہ جات اور معتبر شواہد و دستاویزات پر مبنی ایک ایسی اثر انگیز کتاب جو

آئینہ دار ایمان افروز واقعات اپنے دامن میں لیے ہوئے ہے۔

شرانگیزیوں کا مکمل محاکمہ، محاسبہ، تجزیہ اور تحلیل کرتی ہے۔

قادیانیت کے خلاف قول فیصل اور حرف آخر کا درجہ رکھتے ہیں، اپنے اندر سموئے ہوئے ہے۔

تحقیقی اور تاریخی تحریروں کا گلدستہ اور اک ہے۔

شکوک وشبہات، تلبیسات، دسیسہ کاریوں اور کذب و افترا کے دندان شکن جوابات اور نا قابل تردید دلائل و براہین کا گنج گراں مایہ ہے۔

علامہ محمد اقبالؒ سے دلی محبت اور ذہنی ارادت رکھنے والوں کے لیے ایک متاع گراں بہا اور شاہکار تحفہ

ماہر اقبالیات جناب محمد سہیل عمر اور نامور کالم نگار جناب حافظ شفیق الرحمٰن کی زریں حروف سے مرقوم اور دانش و بینش کے موتیوں سے مزین تقاریظ کے ساتھ

پڑھیے! تحفظ ختم نبوت کے لیے آگے بڑھیے! شفاعت رسول ﷺ آپ کی منتظر ہے۔

ہر اچھے بک سٹال پر دستیاب ہے

صفحہ 559

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جلد اول)

مطبوعات عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت

تحریک ختم نبوت 1934ء تا 2019ء مکمل سیٹ دس جلدیں ترتیب وتدوین امیرمرکزیہ حضرت مولانا اللہ وسایا مدظلہ مکمل سیٹ کی رعایتی قیمت صرف -/2500 روپے ہے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت حضوری باغ روڈ ملتان ۔ 4783486-061 0303-7396263 نوٹ ملک بھر میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے تمام دفاتر سے سیٹ مل سکتا ہے

حق و باطل کا معرکۃ الآراء مقدمہ مرزائیہ بہاولپور رُوداد ۱۹۲۶ء تا ۱۹۳۵ء جس میں جناب جج محمد اکبر خان صاحب ڈسٹرکٹ جج بہاولپور نے مرزائیت کو مرتد و مرتدہ قرار دے کر مسلمانوں کا رشتہ نکاح فسخ کر کے بطلانِ مرزائیت پر تاریخی فیصلہ دیا مکمل سیٹ 3 جلدیں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت حضوری باغ روڈ ملتان ۔ 4783486-061

قومی اسمبلی میں قادیانی مسئلہ پر بحث کی مصدقہ رپورٹ مرتبہ حضرت مولانا اللہ وسایا مدظلہ مکمل سیٹ 5 جلدیں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت ملتان

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے جلد اول جدید ایڈیشن ترتیب و تدوين: محمد متین خالد عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت حضوری باغ روڈ ملتان ۔ 4783486-061

حصہ اول تذکرہ مجاہدین ختم نبوت اور قادیانیوں کے عبرت انگیز واقعات ترتیب و تدوين: حضرت مولانا اللہ وسایا مدظلہ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت حضوری باغ روڈ ملتان ۔ 4783486-061

اَنَا خَاتَمُ النَّبِيِّينَ لَا نَبِيَّ بَعْدِي قادیانیوں سے فیصلہ کن مناظرے قادیانی مبلغین کو شکست فاش دینے والی لاجواب اور قادیانی مبلغین کے فرار ہونے کی مکمل رُوداد شعبہ نشر و اشاعت: عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت حضوری باغ روڈ ملتان 061-4783486

www.amtkn.com, www.laulak.info, www.khatm-e-nubuwwat.info, www.khatm-e-nubuwwat.com, ameer@khatm-e-nubuwwat.com

PDF 561

فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے

کردار ادا کیا۔

ہر نقاب کو اُلٹ دیا۔

دیکھ کر بلبلا اُٹھے۔

فاروقیؓ کا روپ دھار گئے۔

چنگاریاں رخشندہ کرتے ہیں۔

لیے احتساب کے کٹہرے کی حیثیت رکھتے ہیں۔

یہ عدالتی فیصلے

تحریف، شعائر اسلامی کا تمسخر، آئین کا مذاق اور قانون کی خلاف ورزیوں کا وہ حقائق نامہ ہے جس نے ہر قادیانی کو رسوائے زمانہ گستاخ رسول ’’سلمان رشدی‘‘ قرار دیا ہے۔

کے لیے ایک راہنما کتاب کا کام دیں گے۔

عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت

حضوری باغ روڈ، ملتان ۔ 061-4783486