برطانیہ میں مراسلت مباہلہ · حافظ محمد اقبال
Bartaniya main Maraslat Mubahlah · Idarah Dawat-o-Irshad
PDF 1

انٹرنیشنل ختم نبوت مشن لندن کے زیر اہتمام

لندن انٹرنیشنل ختم نبوت کانفرنس ۱۹۸۵ء

کے موقع پر قادیانیوں اور مسلمانوں کی

برطانیہ میں

مراسلت مباہلہ

قادیانی سر براہ مرزا طاہر، اس کے پیروؤں اور مولانا منظور احمد چنیوٹی کے مابین

مرتبہ ۲

حافظ محمد اقبال

فاضل مظاہر العلوم (برما) اسلامک اکیڈمی مانچسٹر

ناشر

ادارہ مرکزیہ دعوت وارشاد چنیوٹ

فون نمبر : 332820-0466 فیکس 331330-0466 E mail . chiniot@fsd.comsats.net.pk

ارشاد پرنٹنگ پریس۔ جے ایس کمپیوٹر کمپوزنگ سنٹر چنیوٹ۔ فون نمبر 334420-0466

PDF 2

۷۸۶ منظور احمد چنیوٹی رئیس : مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان عضو المجلس الاستشاري لجمعية علماء الاسلام بباكستان رئیس ادارات : الدعوة والارشاد و اشرف المدارس و الجامعة العربية چنیوٹ ، پاکستان

اَلْمَجْلِسُ التَّنْفِيْذِيُّ لِتَحَفُّظِ خَتْمِ النُّبُوَّةِ

Phone : 870 Manzoor Ahmad Chinioti President : Majlis-e-Tahaffuz-e-Khatme Nubuwwat Pakistan Member Advisory Council Jamiat Ulema-e-Islam, Pakistan Director General : Da'wat - o - Irshad, Chiniot. Ashraf - ul - Madaris, Chiniot. Jamia Arabia, Chiniot, Pakistan.

الرقم : ــــــــــــــ بخدمت جناب مرزا طاہر احمد صاحب Dated 3.9.1985

السَّلَامُ عَلٰى مَنِ اتَّبَعَ الْهُدٰى ۔

جب سے آپ پاکستان سے انگلستان گئے ہیں۔ راقم الحروف کی اطلاع کے مطابق آپ پاکستان اور حکومت پاکستان کے خلاف اہم سرگرمیوں میں مصروف ہیں۔ پھر آپ نے اپنی نئی بستی (بنام) اسلام آباد رکھ کر اسلام کے ساتھ ایک اور کھلا مذاق کیا ہے! اور پاکستان کے خلاف اپنے دل کی بھڑاس نکالی ہے ۔

میں آپ کو آپ کے ان تینوں موقفوں میں غلطی پر سمجھتا ہوں۔ آپ اگر اپنے آپ کو حق پر سمجھتے ہیں ۔ تو ان تمام موضوعات پر (بشمول آپ کے دادا مرزا غلام احمد قادیانی آنجہانی کی سیرت کے) میرے سے میدان یا کھلے ہال میں مناظرہ کرلیں ۔ آپ اگر پاکستان نہیں آسکتے تو میں انگلستان آنے کو تیار ہوں ۔

آپکے جواب کا شدت سے انتظار رہے گا ۔ اگر آپ مناظرہ کیلئے تیار نہ ہوں ۔ تو پھر مباہلہ کیلئے تیار ہو جائیں ۔ مباہلہ کی دعوت میں آپ کو پہلے بھی دے چکا ہوں ۔ جیسا کہ آپ کے والد مرزا بشیر الدین محمود اور آپ کے بڑے بھائی مرزا ناصر کو دی تھی ۔ اور وہ بحمداللہ تعالیٰ اسے قبول کرنے کی جرات نہ کرسکے تھے ۔

میں ہوں آپ کا سچا خیرخواہ منظور احمد چنیوٹی عفا اللّٰہ عنہ رئیس ادارات ۔ دعوت و ارشاد ، جامعہ عربیہ و اشرف المدارس چنیوٹ ۔ ایم ۔ پی ۔ اے پنجاب پاکستان ۔

ادارہ مرکزیہ دعوت و ارشاد چنیوٹ پاکستان

فون : 0466-332820 فیکس : 0466-331330

PDF 3

انٹرنیشنل ختم نبوت مشن لندن کے زیر اہتمام

لندن انٹرنیشنل ختم نبوت کانفرنس ۱۹۸۵ء

کے موقعہ پر قادیانیوں اور مسلمانوں کی

برطانیہ میں مُرسلت مباہلہ

قادیانی سربراہ مرزا طاہر، اسکے پیروؤں اور مولانا منظور احمد چنیوٹی کے مابین

مرتبہ

حافظ محمد اقبال

فاضل مظاہر العلوم (برما) اسلامک اکیڈمی مانچسٹر

ناشر

ادارہ مرکزیہ دعوت و ارشاد چنیوٹ

فون نمبر 332820-0466 فیکس 331330-0466

E mail: chiniot@fsd.comsats.net.pk

PDF 4

پیش لفظ

حامدا و مصلیا ومسلما۔

انٹر نیشنل ختم نبوت کانفرنس لندن کی مفصل رپورٹ چھپ چکی ہے۔

علماء اسلام نے مرزا غلام احمد کا قادیان میں پورا تعاقب کیا اور قادیانیوں کے سالانہ جلسہ کے بالمقابل وہاں اپنا جلسہ کرتے رہے۔ ربوہ میں مرزا بشیر الدین کا تعاقب چنیوٹ کے سالانہ جلسے میں ہوتا رہا۔ مرزا ناصر مغربی افریقہ، جا نکلا تو حضرت علامہ خالد محمود صاحب اور مولانا منظور احمد صاحب چنیوٹی وہاں جا پہنچے۔ اب مرزا طاہر نے لندن میں پناہ لی تو علماء ختم نبوت نے وہاں بھی ان کا پورا تعاقب کیا۔ اب سنا ہے کہ قادیانی آسٹریلیا کا رخ کر رہے ہیں۔ امید ہے کہ علماء ختم نبوت وہاں بھی ان کا پورا تعاقب کریں گے۔ اور انشاء اللہ ان کا ہر جگہ تعاقب ہوتا رہے گا۔ یہاں تک کہ یہ کرۂ ارضی اپنی تمام وسعتوں کے ساتھ ان پر تنگ ہو جائے اور یہ ہمیشہ باطل سے ہوتا رہا ہے اور باطل کا انجام یہی ہے کہ مٹ کر رہے۔

مرزا غلام احمد نے اپنے سالانہ جلسے کے ساتھ دعوت مباہلہ کا سلسلہ بھی شروع کر رکھا تھا۔ اور اس وقت کے علماء کرام اس کا پورا جواب دیتے رہے۔ پاکستان میں اللہ تعالیٰ نے یہ خدمت سفیر ختم نبوت مولانا منظور احمد چنیوٹی ممبر صوبائی اسمبلی پنجاب سے لی ہے جو جان کو ہتھیلی پر رکھے ہر ملک اور ہر شہر میں مرزا طاہر کو مباہلے کیلئے للکار رہے ہیں۔ یہ مراسلت انٹر نیشنل لندن کانفرنس کی اس رپورٹ کا ایک تتمہ ہے جو خطیب پاکستان حضرت مولانا محمد ضیاء القاسمی صاحب دامت برکاتہم نے شائع کروائی ہے۔

فجزاہ اللہ عنا احسن الجزاء۔ محمد اقبال رنگونی اسلامک اکیڈمی مانچسٹر

صفحہ 2

پیش لفظ

الحمدالله وسلام علی عباده الذین اصطفی اما بعد!

آنحضرت ﷺ نے عیسائیوں کے سامنے نہایت روشن دلائل سے اسلام کی دعوت پیش کی اور ان پر علم کی حجت تمام کر دی آپ ﷺ نے باذن الٰہی فرمایا۔ آؤ ہم دونوں خدا تعالیٰ سے الحاح و زاری سے دعا کریں کہ جو جھوٹا ہو اس پر خدا کی لعنت ہو۔ قرآن کریم میں حضور اکرم ﷺ کے لئے مباہلہ کرنے کا یہ حکم موجود ہے۔

یہ بدعا دونوں طرف سے ہونی تھی۔ مسیحی علما کی طرف سے بھی اور حضور اکرم ﷺ کی طرف سے بھی۔ مسیحی اسقف سامنے آنے کی جرات نہ کر سکے نہ آئے اور نہ مباہلہ ہوا۔

حضور اکرم ﷺ پیغمبر برحق تھے۔ لیکن وہ مسیحی اسقف تو پیغمبر نہ تھے انہیں بھی مباہلہ کرنے کا حق دیا گیا تھا۔ کہ اگر وہ اپنے خیال میں پورے یقین پر ہیں تو سامنے آئیں اور حضور اکرم ﷺ کے خلاف بدعا کریں۔

اس سے معلوم ہوا کہ مباہلہ غیر پیغمبر بھی کر سکتا ہے۔ بشرطیکہ وہ اپنی بات یقین سے کہہ رہا ہو۔ اہل باطل جب دلائل سے خاموش نہ ہوں تو پھر انہیں مباہلہ کی دعوت دی جاتی ہے۔ مسلمانوں اور قادیانیوں میں کفر و ایمان کا فاصلہ

صفحہ 3

قطعی اور یقینی درجہ رکھتا ہے۔ اس جذبہ سے سفیر ختم نبوت مولانا منظور احمد چنیوٹی نے ۶ جنوری ۱۹۵۶ء کو اہل سنت کی چار جماعتوں کی نمائندگی سے مرزا بشیر الدین محمود کو مباہلہ کا چیلنج دیا تھا پھر ان کی وفات کے بعد ان کے بیٹے مرزا ناصر احمد کو یہی چیلنج دیا۔ ہر دو سربراہ اپنے انجام کو پہنچ گئے پھر آپ نے مرزا ناصر کے مرنے کے بعد موجودہ سربراہ مرزا طاہر کو مناظرہ اور مباہلہ کی دعوت دی۔ جس کا ذکر آئندہ صفحات میں آرہا ہے۔

مباہلہ کی دعوت دینا کوئی ایسا عمل نہیں جو صرف آپ ہی کر رہے ہیں۔ صحابہ کرام سے بھی دعوۃ مباہلہ کا ثبوت موجود ہے۔ اور دینی حلقوں سے تعلق رکھنے والے جانتے ہیں کہ اس زمانہ میں زبدۃ السالکین حضرت امیر علی قریشی مقیم مدینہ منورہ اور امام الملوک والسلاطین حضرت مولانا عبد القادر آزاد خطیب شاہی مسجد لاہور بھی اپنے پر افتراء باندھنے والوں کو بذریعہ اشتہار مباہلہ کی دعوت دے چکے ہیں۔

مرزا غلام احمد نے بھی انجام آتھم میں علماء اسلام اور مشائخ کرام کو مباہلہ کی دعوت دی تھی۔ جو مرزا صاحب نے 2 دو سال بعد مسٹر جے۔ ایم۔ ڈوئی۔ ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ گورداسپور کی عدالت میں واپس لے لی تھی۔ بعض نادان قادیانی اب تک ذہن میں یہ بات جمائے بیٹھے ہیں کہ علماء اسلام نے مرزا صاحب کی دعوت مباہلہ کو قبول کیوں نہیں کیا تھا؟

جواباً عرض ہے کہ مرزا صاحب نے جب خود ہی اپنی دعوت واپس لے

صفحہ 4

لی اور عدالت میں یہ صرف لکھ کر دے دیا کہ میں آئندہ مولوی محمد حسین بٹالوی یا اس کے کسی دوست یا پیروکار کو مباہلہ کی دعوت نہیں دوں گا۔ اور اپنے پیروکاروں کو بھی اسی کی ہدایات کی۔

تو پھر کون تھا جو ان کے در پے ہوتا۔ اور اگر یہ ضروری ہے کہ علماء اسلام ضرور اس کو قبول کریں تو پھر اگر فاتح ربوہ حضرت مولانا منظور احمد چنیوٹی اسے بار بار منظور کر رہے ہیں تو اس سے قادیانی علماء چیں بچیں کیوں ہیں۔

مرتب۔

(حضرت مولانا عبدالحفیظ ملک)

صدر: انٹر نیشنل ختم نبوۃ مشن

لندن

صفحہ 5

نئے حالات کے نئے تقاضے

بسم اللہ الرحمن الرحیم

یہ بات کسی سے مخفی نہیں کہ انگریز حکومت نے اپنے سیاسی استحکام کے لیے ہندوستان میں قادیانیت کا پودا لگایا۔ اور اس نے تاویل و الحاد کی راہ سے عقائد اسلام کی بنیادیں ہلا کر رکھ دیں۔ مرزا غلام احمد قادیانی نے جو ۱۸۳۹ء میں قادیان میں پیدا ہوا۔ قطعیات اسلام میں تشکیک کے کانٹے اس بے رحمی سے بوئے کہ ختم نبوت جیسی ضروریات دین کو بھی اپنے معنی و مفہوم میں متزلزل کر ڈالا۔ انگریزوں کے خود کاشتہ پودا ہونے کا مرزا غلام احمد نے خود اعتراف کیا ہے۔

(تبلیغ رسالت جلد ۷ ص ۱۹)

مرزا غلام احمد نے نہ صرف ختم نبوت کے اسلامی معنی بدلے بلکہ اس نے حضور پیغمبر اسلام کی شخصیت کریمہ کو بھی تاویل میں اتارا۔ حضور اکرم ﷺ کے نام محمد اور احمد اپنے لئے استعمال کیے لفظ احمد کے اسی دعوے سے اپنے پیروؤں کا نام احمدی رکھا۔ اور کلمہ اسلام لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ میں اپنے آپ کو محمد رسول اللہ ٹھہرایا۔ اس طرح وہ اور اس کے پیرو اسلام سے اس دور تک نکل گئے کہ تعلیمات اسلام سے کفر واقع ہوا اور پھر کل علماء اسلام نے بلا امتیاز مسلک و فرقہ مرزا غلام احمد اور اس کے پیروؤں کو اسلام سے خارج بتلایا۔ عدالتوں میں کئی نکاح اس بناء پر فسخ ہوئے مسلمانوں اور قادیانیوں کے جنازے علیحدہ علیحدہ اٹھے اور ان کی ایک دوسرے سے ہر دائرہ میں کلی علیحدگی واقع ہوئی۔

صفحہ 6

اسلام ہر پیغمبر کے احترام کا داعی ہے۔ اور کوئی پیغمبر ہو اس کی توہین کو کفر قرار دیتا ہے۔ مرزا غلام احمد نے عیسائیوں کی مخالفت کے بہانے حضرت عیسیٰ مسیح ؑ اور ان کی والدہ حضرت مریم صدیقہ کے بارے میں وہ گندی زبان استعمال کی کہ شرافت سر پیٹ کر رہ گئی۔ مرزا غلام احمد (ضمیمہ انجام آتھم ص ۷ روحانی خزائن ص ۲۹۱ جلد ۱۶) پر لکھتا ہے۔

آپ کا خاندان بھی نہایت پاک اور مطہر ہے تین دادیاں اور نانیاں آپ کی زنا کار اور کسبی عورتیں تھیں جن کے خون سے آپ کا وجود ظہور پذیر ہوا۔ اور پھر اس پر قرآن کریم سے استدلال کرتا ہے۔ خدا نے قرآن میں یحییٰ کا نام حصور رکھا مگر مسیح کا یہ نام نہ رکھا کیونکہ ایسے قصے اس نام کے رکھنے سے مانع تھے۔

(دافع البلاء ص ۴ روحانی خزائن ص ۲۲۰ جلد ۱۸)

علمائے اسلام ضروریات دین کے اس قتل عام پر کیسے خاموش بیٹھ سکتے تھے۔ سب نے مرزا غلام احمد اور اس کے پیروؤں کی دونوں جماعتوں کو اسلام سے خارج قرار دیا۔ انگریزی دور حکومت میں قادیانیوں پر مرتد کی سزا جاری نہ کی جاسکتی تھی۔ اس لئے ڈاکٹر علامہ اقبالؒ نے انہیں غیر مسلم اقلیت قرار دینے کی تحریک اٹھائی علمائے اسلام کے اس فتوے اور ڈاکٹر علامہ اقبالؒ کی اس تحریک کے باعث برصغیر پاک و ہند میں قادیانیت بے نقاب ہوئی۔ ۱۹۵۳ء میں یہ خطرہ شدت سے محسوس کیا گیا کہ قادیانی سر ظفر اللہ خان کے توسط سے کہیں حکومت پاکستان پر قبضہ نہ کرلیں پھر ۱۹۷۴ء میں قادیانیوں کے چہروں سے بالکل نقاب

صفحہ 7

الٹ گئی۔

علمائے اسلام کی نرمی دیکھئے کہ جو مطالبہ ایک غیر مسلم ملک میں کیا گیا تھا پاکستان کی اسلامی سلطنت میں بھی اسے ہی باقی رکھا کہ شاید ان لوگوں کو پھر سے مسلمان ہونے کا موقع مل جائے۔ لیکن قادیانی سربراہ مرزا ناصر نے اپنی ضد قائم رکھی اور اس رعایت کو جو مسلمان انہیں دے رہے تھے اسے قبول نہ کیا نہ اپنے آپ کو مسلمانوں سے علیحدہ ایک دوسری ملت تسلیم کیا اور اسمبلی میں اپنے حقوق کے تحفظ کیلئے اپیل نہیں کی۔ جب انہوں نے اپنے حقوق کے تحفظ کیلئے یہ راہ اختیار نہیں کی تو اسمبلی کے باہر ان کا اپنے حقوق کا واویلا کرنا ایک سیاسی چال کے سوا کوئی حقیقت نہیں رکھتا۔

مسلمان چاہتے ہیں کہ ان کے اسلامی شعار اور اشعار کا پورا تحفظ ہو۔ جس طرح کوئی فرم اجازت نہیں دیتی کہ اپنے ٹریڈ مارک کو کوئی اور استعمال کرے مسلمان پسند نہیں کرتے کہ قادیانی ان کے اشعار کلمہ و اذان وغیرہ کے غلط استعمال سے مسلمانوں کو دھوکہ دے سکیں۔

افسوس کہ قادیانی امن و سلامتی کی پالیسی کے برابر مخالف رہے ہیں۔ ربوہ علمائے اسلام کے قتل و اغوا کی سازشوں کا مرکز بن گیا۔ ان کے ظلم اور ضد کی اس پالیسی پر مسلمان اس امر پر مجبور ہوئے کہ اسلامی شعار کے تحفظ کے لئے قادیانی عبادت گاہوں سے کلمہ اسلام کے حروف اٹھالئے جائیں تاکہ وہ مسلمانوں کو اذان و مساجد کے اشتباہ سے اپنی طرف نہ کھینچ سکیں۔ چنانچہ صدر پاکستان جنرل محمد ضیاء الحق نے بجا قدم اٹھایا۔ اور ۱۹۸۴ء میں ایک آرڈی نینس نافذ کیا اس کے تحت

صفحہ 8

مسلمانوں کے کلمہ و اذان کو قانونی تحفظ مہیا کیا گیا اور قادیانیوں کو مسلمانوں کو مرتد بنانے کی کوششوں سے (جسے یہ لوگ اپنی تبلیغ کہتے ہیں) قانونا روک دیا گیا۔ اب پاکستان میں بیٹھے یہ لوگ مسلمانوں کو مزید دھوکہ نہ دے سکتے تھے۔

چنانچہ ان کا سربراہ مرزا طاہر خفیہ طور پر پاکستان سے بھاگا اور پاکستانیوں کا منہ چڑانے کیلئے ایک بستی حاصل کی اور نام اس کا اسلام آباد رکھا۔ اب قادیانیوں کے اس نئے مرکز میں دن رات پاکستان کے خلاف تقریریں ہوتی ہیں۔ مرزا طاہر کی ان تقریروں کے کیسٹ پھر پاکستان آتے ہیں قادیانیوں کے گھر گھر ان کے ریکارڈ کھلتے ہیں۔ اور مرزا طاہر کی پوری کوشش ہے کہ انگلستان کی مسلم نو آبادیات میں مسلمانوں کے کسی فرقہ کو ہاتھ میں رکھیں تاکہ وقت آنے پر آئندہ کبھی مسلمان متحد نہ ہوسکے نہ ملت پر کبھی وحدت کی بہار آئے۔

اب مسلمانوں پر عالمی سطح میں کچھ ذمہ داریاں آتی ہیں۔ ضرورت تھی کہ لندن میں ختم نبوت کا ایک عالمی مشن قائم کیا جائے جو لندن کے اس قادیانی مرکز کا ترکی بہ ترکی جواب دے سکے۔ پھر لازم ہے کہ اس کی شاخیں یورپ، افریقہ اور امریکہ کے مختلف ممالک میں وہاں وہاں قائم ہوں جہاں کچھ بھی مسلمان بستے ہیں پاکستان میں تو ختم نبوت کی خدمت بے شک ہو رہی ہے۔ تاہم ضروری ہے کہ عالمی سطح پر بھی ایک انٹر نیشنل ختم نبوت مشن قائم ہو۔

الحمد للہ کہ مکہ مکرمہ میں موجود بعض اہل دل حضرات نے اس طرف پیش قدمی کی اور شب بدھ ۲۷ رجب ۱۴۰۵ھ کو ایک عالمی تنظیم انٹر نیشنل ختم نبوۃ

صفحہ 9

مشن کے نام سے قائم کی اس کے طریق کار میں طے پایا کہ ختم نبوت کا کام جہاں جہاں پہلے سے ہو رہا ہے وہاں اس کے ساتھ تعاون کیا جائے اور جہاں جہاں دوسرے ممالک میں اس کام کی ضرورت پیدا ہوئی ہے وہاں اس عالمی تنظیم کے تحت کانفرنسوں نشر و اشاعت لٹریچر اور ماہنامہ وغیرہ کے اجراء سے ایک مضبوط مرکز بروئے کار لایا جائے۔ لندن ویمبلے ہال ۴ اگست ۱۹۸۵ء کی انٹرنیشنل ختم نبوت کانفرنس اسی پروگرام کی طرف پہلا قدم تھی یہ کانفرنس قادیانیوں کی اس کانفرنس کے جواب میں تھی جو وہ پہلے ربوہ (پاکستان) میں کرتے تھے۔ اور ۱۹۸۵ء میں انہوں نے اسے لندن میں منعقد کیا۔ صدر پاکستان کے ۱۹۸۴ء کے آرڈینینس کے تحت وہ پاکستان میں مسلمانوں کو ارتداد کی دعوت نہ دے سکتے تھے۔ اس کے لئے اب انہوں نے لندن کا انتخاب کیا ہوا تھا۔

جواب آں غزل بھی لندن میں درکار تھا۔ نئے حالات کے اس موڑ پر ہر مسلمان پر یہ فرض عائد ہوتا ہے کہ قادیانی سربراہ مرزا طاہر کی خلاف اسلام ریشہ دوانیوں کا سدباب کرنے کے لئے عقیدہ ختم نبوت کی حفاظت کیلئے اور مسلمانوں کو ان کا شکار بننے کی سازشوں سے بچانے کے لئے ان کوششوں میں ہمارے ساتھ ہوں۔

ہم نے نیک جذبات کے ساتھ من انصاری الی اللہ کی یہ آواز لگائی ہے۔ خوش قسمت ہیں وہ مسلمان جو اس صدا پر لبیک کہیں۔

اللہ ہم سب کا حامی و ناصر ہو۔

حضرت الشیخ عبدالحفیظ صاحب دامت برکاتہم کے اس خطبے کے بعد ہم وہ

صفحہ 10

خط ہدیہ ناظرین کرتے ہیں جو حضرت مولانا منظور احمد چنیوٹی نے پاکستان سے مرزا طاہر کے نام لکھا۔

مورخہ ۳ جولائی ۱۹۸۵ء

مولانا منظور احمد چنیوٹی کا مرزا طاہر کے نام پہلا خط

خدمت جناب مرزا طاہر احمد صاحب

السلام علی من اتبع الہدی .

جب سے آپ پاکستان سے انگلستان گئے ہیں۔ راقم الحروف کی اطلاع کے مطابق آپ پاکستان اور حکومت پاکستان کے خلاف اہم سرگرمیوں میں مصروف ہیں۔ پھر آپ نے اپنی نئی مجوزہ بستی کا نام اسلام آباد رکھ کر اسلام کے ساتھ ایک اور کھلا مذاق کیا ہے۔ اور پاکستان کے خلاف اپنے دل کی بھڑاس نکالی ہے۔

میں آپ کو آپ کے ان تینوں مواقف میں غلطی پر سمجھتا ہوں آپ اگر اپنے آپ کو حق پر سمجھتے ہیں تو ان تمام موضوعات پر (بشمول آپ کے دادا مرزا غلام احمد قادیانی آنجہانی کی سیرت کے) مجھ سے کھلے میدان یا کھلے ہال میں مناظرہ کر لیں۔ آپ اگر پاکستان نہیں آسکتے تو میں انگلستان آنے کو تیار ہوں۔

آپ کے جواب کا شدت سے انتظار رہے گا۔ اگر آپ مناظرہ کیلئے تیار نہ ہوں ۔ تو پھر مباہلہ کے لئے تیار ہو جائیں۔ مباہلہ کی دعوت میں آپ کو پہلے بھی دے چکا ہوں ۔ جیسا کہ آپ کے والد مرزا بشیر الدین محمود اور آپ کے بڑے بھائی

صفحہ 11

مرزا ناصر کو دی تھی اور وہ اسے قبول کرنے کی جرأت نہ کر سکے تھے۔

میں ہوں آپ کا سچا خیر خواہ منظور احمد چنیوٹی عفا اللہ عنہ رئیس ادارت دعوۃ وارشاد، جامعہ عربیہ واشرف المدارس چنیوٹ سابق۔ ایم۔ پی۔ اے پنجاب پاکستان

مولانا چنیوٹی کی پہلی دعوت مباہلہ جس کا اس خط میں ذکر ہے اسے یہاں بھی استفادہ قارئین کے لئے نقل کر دیا جاتا ہے۔

قادیانی سربراہ : مرزا طاہر احمد کو

دعوت مباہلہ

جناب مرزا طاہر احمد صاحب سربراہ جماعت ربوہ پاکستان

السلام علی من اتبع الہدیٰ۔

اما بعد ! آپ آنجہانی مرزا غلام احمد قادیانی کے چوتھے جانشین مقرر ہوئے ہیں۔ آپ کے دادا مرزا غلام احمد قادیانی جب اپنے تمام دعاوی میں جھوٹے ثابت ہوئے تو انہوں نے مناظروں میں شکست کھانے کے بعد مباہلہ کا حربہ استعمال کیا اور اس میں بھی خائب و خاسر ہوئے انہیں ۲۴ فروری ۱۸۹۹ء کو جے۔ ایم۔ ڈوئی ڈپٹی کمشنر ضلع گورداسپور کی عدالت میں مجرموں کے کٹہرے میں کھڑے ہو کر ایک طویل توبہ نامہ بھی تحریر کرنا پڑا۔ جس میں شق نمبر ۵ یہ تھی کہ میں آئندہ

صفحہ 12

مولوی ابو سعید محمد حسین بٹالوی یا ان کے کسی دوست یا پیرو کو مباہلہ کی دعوت نہیں دوں گا۔

لیکن جب قادیانی جماعت نے توبہ نامہ کی اس ذلت و رسوائی پر پردہ ڈالنے کی خاطر پھر مباہلہ کا پروپیگنڈا شروع کیا تو راقم الحروف نے احقاق حق کی خاطر ۶ جنوری ۱۹۵۶ء کو آپ کے والد مرزا غلام بشیر الدین محمود کو مباہلہ کی دعوت دی۔ تصفیہ شرائط اور دیگر امور طے کرنے کیلئے خط و کتابت اور اشتہارات و رسائل کا سلسلہ تقریباً سات سال تک چلتا رہا۔ آخر کار جملہ شرائط پوری ہو جانے کے بعد ۲۶ فروری ۱۹۶۳ء کی تاریخ مقرر ہوئی۔ اور دریائے چناب کے دو پلوں کے درمیان (چکی) مقام مباہلہ مقرر ہوا۔

راقم الحروف حسب اعلان ۲۶ فروری مقام مباہلہ مع اپنے رفقاء پہنچا لیکن آپ کے والد مرزا بشیر الدین محمود اپنے والد کی صداقت ثابت کرنے کیلئے مقام مباہلہ پر نہ تو خود آئے اور نہ ہی کسی کو بطور نمائندہ بھیج سکے۔ اسطرح خدا کی یہ آخری حجت بھی ان پر پوری ہو گئی۔ اتمام حجت ہو جانے کے بعد معاملہ اصولاً ختم ہو چکا تھا۔ لیکن آپ کے والد کے مرنے کے بعد ۱۹۶۵ء میں راقم نے مزید اتمام حجت کے لئے آپ کے بڑے بھائی مرزا ناصر احمد کو بھی دعوت مباہلہ دی۔ لیکن وہ سرے سے اس کو قبول کرنے کی جرأت نہ کر سکے تاآنکہ انکا دم واپسیں آ پہنچا اور وہ ۹ جون ۱۹۸۲ء کو دار فانی سے دار بقاء کو چل دیئے۔

اب آپ قادیانی جماعت کے سربراہ اور آنجہانی مرزا غلام احمد قادیانی کے

صفحہ 13

چوتھے جانشین مقرر ہوئے ہیں آپ جانتے ہیں کہ عالم اسلام کی جانب سے دلائل کی حجت آپ لوگوں پر پوری ہو چکی ہے۔ دنیا بھر کے علمائے اسلام اور اکثر وبیشتر مسلم حکومتیں مرزاغلام احمد قادیانی اور اس کے متبعین کے کفر پر مہر تصدیق ثبت کر چکی ہیں۔ پاکستان کی کئی عدالتیں ایسے فیصلے صادر کر چکی ہیں۔ حتیٰ کہ پاکستان کی قومی اسمبلی بڑی بحث و تمحیص کے بعد ۱۹۷۴ء میں آئین پاکستان میں ترمیم کر کے آپ کو غیر مسلم اقلیت قرار دے چکی ہے۔

موجودہ مارشل لاء حکومت بھی اپنے آرڈی نینس کے ذریعہ آپ کے غیر مسلم ہونے کی توثیق کر چکی ہے۔ مرکز اسلام مکہ معظمہ اور مدینہ منورہ سمیت پوری سعودی مملکت میں آپ کا داخلہ بند ہے۔ آپ کے غیر مسلم ہونے کیوجہ سے آپ کے حج کرنے پر بھی پابندی ہے۔ اسی کفر کی بناء پر آپ فریضہ حج جیسی عظیم سعادت سے محروم ہیں۔ فرمانروائے سعودی مملکت شاہ فہد (اللہ تعالیٰ اسے سلامت باکرامت رکھے) انہوں نے آپ کی حج کی درخواست جو آپ نے واشنگٹن (امریکہ) سے بھجوائی تھی ردی کی ٹوکری میں پھینک دی ہے۔ اور واشگاف الفاظ میں کہہ دیا کہ آپ جب تک اپنے باطل مذہب سے توبہ نہیں کرتے سعودی عرب کی سرزمین پر قدم نہیں رکھ سکتے۔

حق کے اس طرح واضح ہو جانے کے بعد آپ کو چاہئیے تھا کہ ہٹ دھرمی اور ضد چھوڑ کر دنیوی مفادات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے اپنی جماعت کی عاقبت کی فکر کرتے اور اس باطل مذہب کو خیر باد کہہ کر سچے دل سے تائب ہو کر جہنم

صفحہ 14

کے ابدی عذاب سے نجات پاتے۔ لیکن اس کے باوجود اگر آپ اب بھی اپنے دادا مرزا غلام احمد قادیانی کو اس کے تمام دعاوی میں سچا یقین کرتے ہیں اور اس پر ایمان لانا نجات کیلئے ضروری قرار دیتے ہیں اور اس کے منکرین کو جہنمی اور ذریۃ البغایا (کنجریوں کی اولاد) یقین کرتے ہیں تو آئیے۔ بندہ منظور احمد چنیوٹی اب بھی اپنے مؤقف پر علیٰ حالہ قائم ہے۔ بندہ ملک کی چار مشہور جماعتوں کا مستند نمائندہ ہے۔

میں خدا تعالیٰ کی مؤکد بعذاب قسم اٹھاتے ہوئے علی وجہ البصیرت مرزا غلام احمد قادیانی کو اس کے تمام دعاوی میں جھوٹا اور حدیث نبوی ﷺ کے مطابق کذاب و دجال اور مرتد یقین کرتا ہوں آئیے میدان مباہلہ میں تاکہ اللہ تعالیٰ سچے اور جھوٹے میں خود فیصلہ فرمادیں ۔ مقام مباہلہ وہی دریائے چناب کے دو پلوں کے درمیان کی چکی (وادی عزیز) مقرر ہے تاریخ اور وقت کا تعین فرما کر مجھے اس خط کی وصولی کی تاریخ سے ۲ ہفتہ کے اندر اندر اطلاع دیں ۔ راقم منظور احمد چنیوٹی صدر مجاہدین احرار رئیس ادارت معہ اپنے رفقاء مقام مباہلہ پر وقت مقررہ پر انشاء اللہ تعالیٰ پہنچ جائے گا۔ اور اگر آپ اب بھی مباہلہ کے لئے میدان میں نہ آسکے اور گمان غالب یہی ہے کہ آپ اپنے پیشروؤں کی طرح نہیں آسکیں گے نہ صرف اتنا عرض کرنا کافی ہوگا کہ اس آگ سے ڈرو جس کا ایندھن انسان اور پتھر ہوں گے اور وہ کافروں کیلئے تیار کی گئی ہے۔

فاتقوا النار التی وقودھا الناس والحجارة اعدت للکافرین .
صفحہ 15

فقط

آپ کا سچا خیر خواہ

المتبع الی اللہ منظور احمد چنیوٹی عفا اللہ عنہ

صدر مجاہدین احرار پاکستان ، رئیس ادارت چنیوٹ ضلع جھنگ پاکستان

نوٹ : یہ خط بذریعہ رجسٹرڈ لیٹر مرزا طاہر احمد کو بھیج دیا گیا ہے۔ لیکن اس نے وصول کرنے سے انکار کر دیا ہے۔

یہ خط مرزا طاہر کے نام رجسٹرڈ بھیجا گیا۔ پھر روزنامہ جنگ لاہور میں یہ ۷ جولائی کو چھپا۔ مولانا منظور احمد چنیوٹی نے لندن پہنچ کر اسے روزنامہ جنگ لندن میں شائع کرایا۔ ۳۱ جولائی کی اشاعت میں چھپا۔ مرزا طاہر نے اس وقت اس کا کوئی جواب نہ دیا۔ البتہ اس کے پیروؤں ناصر آفتاب اور رشید چوہدری نے ۲۲ جولائی روزنامہ جنگ لندن کی اشاعت میں اس کا یہ جواب دیا۔

مولانا منظور احمد چنیوٹی کو جواب

مکرمی! چند روز ہوئے اخبار جنگ میں مولانا منظور احمد چنیوٹی کی خواہش برائے مناظرہ مخالف جماعت احمدیہ نظر سے گذری میرے نزدیک مناظرہ کا مقصد یہ ہے کہ دو مخالف جماعت فریق عوام الناس کے سامنے اپنے اپنے مؤقف کے حق میں دلائل اور ان کی صحت کو قرآن وحدیث کی روشنی میں پیش کریں تاکہ عوام الناس جس کو ان دلائل کی روشنی میں حق پر جانیں اس کے ساتھ شامل ہو سکیں میری ناچیز گذارش مولانا کی خدمت میں یہ ہے کہ اب اس قسم کے مناظرہ کی

صفحہ 16

گنجائش نہیں اس وقت ضرورت یہ ہے کہ مولانا اپنا اثر و رسوخ استعمال کر کے حکومت پاکستان سے ان دو عظیم مناظروں کی کاروائی چھپوا کر عوام الناس کو فائدہ پہنچوائیں جو پہلے مرحوم بھٹو کی حکومت میں قومی اسمبلی میں جماعت احمدیہ کے سربراہ حضرت مرزا ناصر احمد اور پاکستان کے چوٹی کے علماء کے درمیان گیارہ روز ہوا ۔ اور بعد میں پاکستان کی شرعی عدالت میں جماعت احمدیہ سے تعلق رکھنے والے چند احباب کے نمائندہ اور پاکستان کے ۷۲ فرقوں کے علماء کے نمائندہ کے درمیان ہوا۔

(ناصر آفتاب۔ رشید احمد چوہدری۔ (لندن)

صفحہ 17

اس کا جواب مانچسٹر کے مولانا امداد الحسن نعمانی نے روزنامہ وطن لندن کی ۱۲/اگست کی اشاعت میں حسب ذیل الفاظ میں دیا۔

مکرمی! روزنامہ جنگ لندن ۲۲ جولائی میں لندن سے ناصر آفتاب اور رشید احمد چوہدری نے ایک مکتوب میں کہا ہے کہ مولانا منظور احمد چنیوٹی نے مرزا طاہر کو مناظرہ مباہلہ کا جو چیلنج دیا ہے اس کی اب کوئی گنجائش نہیں ہے اور ضرورت اس امر کی ہے کہ ۷۴ء میں قومی اسمبلی میں اور ۸۴ء میں وفاقی شرعی عدالت میں جو مباحثہ ہوا تھا۔ اس کی روداد شائع کر دی جائے۔

ان حضرات کا یہ کہنا کہ اب مزید مناظرہ کی ضرورت نہیں رہی درست نہیں۔ مناظرہ و مباہلہ کا چیلنج دینا مرزا غلام احمد قادیانی کا پسندیدہ طریقہ رہا ہے۔ اس سے مرزا صاحب کے پیروکاروں کو گریز نہیں کرنا چاہیئے۔ اور پھر مناظرہ کا یہ چیلنج مولانا منظور احمد چنیوٹی نے از خود نہیں دیا بلکہ یہ مرزا طاہر احمد نے گذشتہ دنوں لندن میں اپنی جماعت کی کانفرنس کے دوران دیا تھا۔ مولانا نے اسی کو قبول کرتے ہوئے مرزا طاہر احمد کو اب مناظرہ یا مباہلہ کی دعوت دی ہے۔ جہاں تک ۷۴ء میں قومی اسمبلی میں ہونے والے مباحثہ اور ۸۴ء میں وفاقی شرعی عدالت میں ہونے والی بحث کا تعلق ہے نتائج کے لحاظ سے ان مباحثوں کا نتیجہ واضح ہے کہ ۷۴ء کے مباحثہ کے نتیجہ میں پارلیمنٹ کے منتخب ارکان نے متفقہ طور پر قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا اور پھر وفاقی شرعی عدالت نے بھی لاہور کے اسی مباحثہ کے بعد قادیانیوں کی وہ رٹ خارج کر دی جو انہوں نے صدارتی

صفحہ 18

آرڈیننس کے خلاف دائر کی تھی۔ ان فیصلوں کے بعد مرزا ناصر احمد یا قادیانیوں کی طرف سے کہیں یہ نہیں کہا گیا کہ پارلیمنٹ نے اپنے فیصلہ میں ہماری فلاں بات کو ملحوظ نہیں رکھا۔ اسمبلی کی اس کاروائی کا کوئی حصہ اگر اس میں نظر انداز کیا گیا ہے تو مرزا ناصر نے اس کی نشاندہی کیوں نہ کی اور پھر مرزا طاہر نے بھی اپنے بھائی کی اس فروگذاشت پر اگر وہ کچھ تھی کوئی باقاعدہ بیان نہیں دیا۔ پھر یہ مباحثے اسلام آباد اور لاہور میں ہوئے ہیں جنہیں وہاں کے لوگوں نے سماعت کیا اور ان کے نتائج بھی سامنے آگئے اور لندن کے مقیم حضرات ان وقائع کے عینی مشاہدات میں شامل نہیں ہو سکے۔ ان مباحثوں کو لندن کی سر زمین پر دوبارہ دہرانے میں یہ فائدہ ہو گا کہ یہاں کے لوگ ان سے آشنا ہو جائیں گے۔ جب دلائل وہی ہیں اور قادیانیوں کو اپنے دلائل پر اعتماد بھی ہے تو لندن کے لوگوں کا بھی حق ہے کہ انکے سامنے ان دلائل کو تفصیل کے ساتھ لایا جائے تاکہ وہ بھی قادیانی دلائل کی اصلیت سے آگاہ ہو سکیں۔ اس لئے ناصر آفتاب اور رشید احمد چوہدری صاحبان کو چاہئے کہ وہ مناظرہ سے گریز اور فرار اختیار کرنے کی بجائے مرزا طاہر احمد کو آمادہ کریں کہ وہ خود اپنے دیئے ہوئے چیلنج پر قائم رہتے ہوئے مولانا منظور احمد چنیوٹی کی دعوت کو قبول کریں اور اگر وہ مناظرہ کیلئے تیار نہ ہوں تو مباہلہ کا چیلنج قبول کریں تاکہ لوگوں کے سامنے حقیقت آشکار ہو سکے اور مرزا طاہر بھی وہاں پہنچیں جہاں ان کے والد اور بھائی مولانا منظور احمد چنیوٹی کی دعوت مباہلہ کے نتیجے میں پہنچ چکے ہیں۔

(صاحبزادہ امداد الحسن نعمانی خطیب جامع مسجد ویلی ریج مانچسٹر)

صفحہ 19

مسلمانوں کے شستہ انداز بیان سنجیدہ مؤقف اور با اخلاق خطاب کو بھی ملحوظ رکھیں اور قادیانیوں کی بازاری زبان بھی دیکھیں۔ قادیانی، مولانا امداد الحسن کے مذکورہ خط کا جواب تو نہ دے سکے لیکن انہوں نے چوہدری حمید احمد لائلپوری کے نام سے ایک جوابی پمفلٹ شائع کیا۔ اور اس میں وہ زبان استعمال کی مرزا غلام احمد کا انداز تحریر یاد آگیا۔

مولانا منظور احمد چنیوٹی صاحب کی قادیانیوں کے خلاف تابڑ توڑ تقریروں سے قادیانی اتنے بوکھلا گئے کہ انکے سلوبرک شائر کے چوہدری حمید احمد لائلپوری نے ایک چودہ ورقہ پمفلٹ شائع کیا جس کا عنوان یہ تھا۔

”مولوی منظور احمد چنیوٹی کو مباہلہ کا ایک کھلا چیلنج“

جناب منظور احمد چنیوٹی صاحب! آداب

آن جناب کا یہ شیوہ ہے کہ سادہ لوح مسلمان عوام میں سستی شہرت حاصل کرنے کی غرض سے آپ جماعت احمدیہ کے خلاف افتراء پردازی کا کوئی نہ کوئی نیا شوشہ چھوڑتے رہتے ہیں۔ مزید برآں آپ نے کئی سال سے یہ بھی وطیرہ اختیار کر رکھا ہے کہ جماعت احمدیہ کے امام کو گاہ بگاہ نام نہاد مباہلے کا چیلنج دیتے رہتے ہیں حالانکہ مباہلہ کا چیلنج دینے کی آپ کو کوئی شرعی حیثیت حاصل نہیں ۔

حسب ذیل امور پر ذرا ٹھنڈے دل سے غور فرمائیں تو آپ کو معلوم ہو جائے گا کہ آپ کو کیوں درخور اعتنا نہیں سمجھا جاتا۔

مذہبی لحاظ سے آپ دیوبندی وہابی طبقہ فکر کے علماء میں سے یکے از علماء

صفحہ 20

ہیں اور بس۔۔۔۔۔ دیوبندی وہابی فرقہ کی سربراہی تو درکنار اس فرقہ کے اکثر علماء آپ کی علمی حیثیت کو بھی تردد کی نظر سے دیکھتے ہیں اور حد یہ ہے کہ آپ کو جمعیت علمائے اسلام پاکستان کی مرکزی مجلس شوریٰ سے حال ہی میں خارج کر دیا گیا ہے۔ پس احمدیت کے خلاف دشنام طرازی کے سوا آپ کو کوئی ذاتی وجہ شہرت حاصل نہیں۔ قومی لحاظ سے آپ چنیوٹ کی ترکھان برادری کے ایک فرد ہیں۔ سارے پاکستان کی ترکھان برادری تو کیا چنیوٹ شہر کی ترکھان برادری نے بھی کبھی آپ کو اپنا سربراہ منتخب نہیں کیا۔

پھر فرمائیے کہ آپ کس حیثیت سے حضرت امام جماعت احمدیہ کو چیلنج دینے کا حق رکھتے ہیں جو تمام دنیا میں پھیلے ہوئے ایک کروڑ کے لگ بھگ احمدی مسلمانوں کے مسلمہ پیشوا ہیں۔

اگرچہ دل تو میرا بھی بہت چاہتا ہے کہ آپ کو مباہلہ کا چیلنج دوں کیونکہ میرا اور آپ کا جوڑ ٹھیک بیٹھتا ہے۔ نہ میں کسی مذہبی فرقہ کا سربراہ نہ آپ نہ میں اپنی جاٹ برادری کا سربراہ نہ آپ اپنی ترکھان برادری کے سربراہ۔ نہ مجھے کوئی خاص دینی علم نہ آپ کو کوئی خاص دینی علم۔ لیکن فرق صرف یہ ہے کہ میں اپنا مقام سمجھتا ہوں اور آپ اپنا مقام اور منصب نہیں سمجھتے اور بڑا بننے کا شوق ہے علاوہ ازیں میں ہر گز یہ جسارت نہیں کر سکتا کہ اذن الہی کے بغیر کوئی مباہلہ کا چیلنج دوں میں اللہ سے ڈرتا ہوں۔

تاہم آپ کو مباہلہ کرنے کا اتنا ہی شوق ہے تو یہ شوق اتارنے کا ایک

صفحہ 21

راستہ ابھی کھلا ہے۔ اگر اخلاق اور ایمانی جرأت ہے تو بے شک جتنی بار چاہیں یہ شوق پورا کرلیں۔ اس ضمن میں حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کا یہ چیلنج آج بھی سب کیلئے کافی ثابت ہو گا کہ

”ہر ایک جو مجھے کذاب سمجھتا ہے اور ہر ایک جو مکار اور مفتری خیال کرتا ہے اور میرے دعویٰ مسیح موعود کے بارہ میں میرا مکذب ہے اور جو کچھ مجھے خدا تعالیٰ کی طرف سے وحی ہوئی اس کو میرا افتراء خیال کرتا ہے وہ خواہ مسلمان کہلاتا ہو یا ہندو یا آریہ یا کسی اور مذہب کا پابند ہو۔ اس کو بہر حال اختیار ہے کہ اپنے طور پر مجھے مقابل پر رکھ کر تحریری مباہلہ شائع کرے یعنی خدا تعالیٰ کے سامنے یہ اقرار چند اخباروں میں شائع کرے کہ میں خدا تعالیٰ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ مجھے یہ بصیرت کامل طور پر حاصل ہے کہ یہ شخص (اس جگہ تصریح سے میرا نام لکھے) جو مسیح موعود ہونے کا دعویٰ کرتا ہے۔ در حقیقت کذاب ہے اور یہ الہام جن میں سے بعض اس نے اس کتاب میں لکھے ہیں یہ خدا کا کلام نہیں بلکہ سب اس کا افتراء ہے اور میں اس کو درحقیقت اپنی کامل بصیرت اور کامل غور کے بعد اور یقین کامل کے ساتھ مفتری اور کذاب اور دجال سمجھتا ہوں۔ پس اے خدائے قادر اگر تیرے نزدیک یہ شخص صادق ہے اور کذاب اور مفتری اور کافر اور بے دین نہیں ہے تو میرے پر اس تکذیب اور توہین کی وجہ سے کوئی عذاب شدید نازل کر وورنہ اس کو عذاب میں مبتلا کر۔ امین

ہر ایک کیلئے کوئی تازہ نشان طلب کرنے کیلئے یہ دروازہ کھلا ہے۔

(حقیقۃ الوحی روحانی خزائن جلد ۲۲ ص ۷۱۔۷۲)

صفحہ 22

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی طرف سے یہ دعوت، مباہلہ کا شوق رکھنے والے ہر مخالف احمدیت کیلئے مستقل طور پر تاقیامت موجود ہے اس لئے ہم اس پہلو سے بالکل بے فکر ہیں۔ لیکن چونکہ آپ بغیر اذن الٰہی مباہلہ کے قائل ہیں بلکہ شوقین ہیں۔ اسلئے مامور زمانہ کی یہ دعوت میں آپ کو اپنی طرف سے پیش کرتا ہوں جس کیلئے کسی معین پروگرام یا جگہ کے انتخاب کی ضرورت نہیں۔ آپ صرف مندرجہ بالا تحریر کے مطابق اعلان شائع کر دیں۔ مباہلہ کا مضمون یہ ہو، کہ کیا حضرت مسیح موعود علیہ السلام سچے ہیں یا جھوٹے؟ اس کے علاوہ اپنے مباہلہ میں آپ کو ان بے بنیاد الزامات کو شامل کرنا ہو گا۔ جو آپ یک طرفہ طور پر بڑی بے باکی کے ساتھ جماعت احمدیہ پر لگاتے چلے جاتے ہیں۔

قدرے اختصار کے ساتھ ان کی فہرست حسب ذیل ہے۔

ہے۔

کروایا ہے۔

صفحہ 23

کے صوفی صد غلام ہیں اور انہوں نے ہر رتبہ آپ ﷺ کے فیض سے پایا۔ یہ ایمان رکھتے ہیں کہ حضرت مرزا صاحب رتبہ میں آنحضرت ﷺ کے برابر ہیں یا بڑے۔ نعوذ باللہ۔

کے قائل ہیں کہ حج بیت اللہ کیلئے مکہ جانے کی ضرورت نہیں قادیان میں بھی حج ہو سکتا ہے۔

پس اگر مباہلہ کا اتنا ہی شوق ہے تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا چیلنج قبول کرتے ہوئے مؤکدہ بعذاب قسم کھائیں کہ اوپر بیان کردہ وہ ساری باتیں درست ہیں۔ لیکن اگر یہ صد فی صد جھوٹ اور کھلم کھلا کذب اور افتراء ہوں تو اللہ تعالیٰ آپ کو اور آپ کے ساتھ سب مباہلہ کرنے والوں کو ذلت اور رسوائی کی موت مارے تاکہ دیکھنے والے اس سے عبرت پکڑیں۔

مجھے غالب گمان یہی ہے کہ مباہلہ کا یہ مؤثر اور باوقار طریق آپ اختیار نہیں کریں گے۔ کیونکہ دل میں آپ بھی جانتے ہیں کہ آپ کے عائد کردہ مذکورہ بالا سب الزامات محض افتراء کا ایک پلندہ ہیں اور ان میں صداقت کا شائبہ تک نہیں۔ آپ تو محض سستی شہرت کے دلدادہ ہیں۔ معلوم ہوتا ہے کہ حال ہی میں معزز سپیکر پنجاب اسمبلی پر جھوٹے الزام لگانے کے نتیجہ میں جو پنجاب اسمبلی میں

صفحہ 24

آپ کی بار بار شدید ذلت اور رسوائی ہوئی ہے اس کی خفت مٹانے کے لئے آپ نے جماعت احمدیہ کی طرف چیلنج پھینکنے کی شعبدہ بازی شروع کر رکھی ہے۔

والسلام علی من تبع الہدیٰ الداعی الی الخیر : چوہدری حمید احمد لائلپوری ۳۰۔بی۔ ڈربی شائر روڈ۔ سلو برک شائر

مولانا چنیوٹی اس کا جواب لکھ ہی رہے تھے کہ بریڈفورڈ سے قادیانیوں کے ایک نمائندہ ظفر اقبال بٹ نے ایک اشتہار بائیں عنوان شائع کر دیا۔

لو آپ اپنے دام میں صیاد آ گیا

مولوی منظور احمد چنیوٹی کو کھلا چیلنج

جناب نے اپنی تقریر میں حضرت امام جماعت احمدیہ کو یہ چیلنج دیا ہے کہ وہ اعلان کریں کہ انہوں نے کبھی زنا نہیں کیا۔ آپ کے اس چیلنج سے صاف ظاہر ہو گیا ہے کہ آپ کو اس بارہ میں یا تو قرآنی تعلیم کا قطعاً کوئی علم نہیں یا پھر بے باکی کی حد ہے کہ قرآن کریم کی تعلیم کے بر خلاف جان بوجھ کر باغیانہ رویہ اختیار کر رہے ہیں۔

کیا آپ کو معلوم نہیں کہ فاسقوں نے حضرت عائشہ صدیقہؓ پر ایسا ہی ناپاک الزام لگایا تو اللہ تعالیٰ نے حضرت عائشہ صدیقہؓ کو حلفاً اس جرم کی نفی فرمانے کا حکم نہیں دیا بلکہ آئندہ ایسا الزام لگانے والوں کے خلاف یہ حد مقرر فرمائی کہ انہیں بر سر عام کوڑوں کی سزا دی جائے۔ پس اگر آج پاکستان میں فی الواقعہ اسلامی

صفحہ 25

حکومت قائم ہوتی تو آپکو اور آپ کے قماش کے دیگر مرجفین کو بر سر عام اسی کوڑے لگائے جاتے۔

آپ قرآنی تعلیم سے اس قدر نابلد ہیں کہ آپ کو یہ بھی علم نہیں کہ زنا کے الزام پر حلفاً انکار اور لعنت ڈالنے کا حکم صرف میاں بیوی کے درمیان باہمی الزام تراشی کی حد تک محدود ہے۔ جس مسئلہ کا تعلق میاں بیوی کے باہمی معاملہ سے ہے اس کا دائرہ وسیع کر کے آپ اس کو پبلک رنگ دے رہے ہیں اور جہالت کا اظہار کر کے محض خود اپنی ہی تذلیل کا سامان کر رہے ہیں۔

اگر آپ کو قرآن کریم کی زبان سمجھ آسکتی تو آپ کو یہی جواب ہی کافی تھا مگر - آپ تو اس پاک تعلیم سے ناواقف ہیں اور نئی شریعت ایجاد کر رہے ہیں لہذا آپ ہی کے مسلمہ اصول کے مطابق ہم آپ کو چیلنج دیتے ہیں کہ آپ خود اپنے پیش کردہ اصول کے مطابق حلف اٹھانے کے پابند ہو چکے ہیں۔ لہذا اگر ذرا بھی غیرت ہے تو پبلک جلسہ میں حلف اٹھائیں کہ آپ کبھی بھی اغلام بازی میں ملوث نہیں ہوئے اور کبھی بھی لڑکوں یا بڑی عمر کے مردوں کے ساتھ فاعلی یا مفعولی حالت میں بدکاری نہیں کی۔

اگر آپ سچے ہیں تو یہ حلف اٹھائیں اور اخباروں میں شائع کروائیں کہ اگر آپ نے ایسا کیا تو اللہ تعالیٰ کی لعنت آپ پر پڑے اور دنیا و آخرت میں ذلیل اور رسوا کیئے جائیں۔ اور اگر آپ نے ایسا نہ کیا تو یہ آپ ہی کے اصولوں کے مطابق خود آپ کے خلاف اس امر کا ثبوت ہو گا کہ آپ کا باطنی کردار گھناؤنا ہے۔ جس کی وجہ

صفحہ 26

سے آپ نے اپنے بارے میں ایسا حلف اٹھانے میں گریز کیا ہے۔ ہم قرآن کریم کے اصول کے مطابق حضرت عائشہ صدیقہؓ کی طرح حلف اٹھانے کے پابند نہیں

المعلن

ظفر اقبال بٹ بریڈ فورڈ

اس کا جواب مولانا منظور احمد چنیوٹی نے روزنامہ جنگ لندن کی ۳۱ جولائی کی اشاعت میں بایں الفاظ دیا۔

منظور احمد چنیوٹی کا اعلان

مکرمی! میں منظور احمد چنیوٹی ، ظفر اقبال بٹ کے اس اشتہار کے جواب میں جو انہوں نے مرزا طاہر سر براہ قادیانی جماعت کی طرف سے شائع کیا ہے ۔ اعلان کرتا ہوں کہ میں ۲ اگست بروز جمعہ بعد نماز جمعہ ۳ بجے جامع مسجد شاہجہاں ووکنگ میں مؤکد بعذاب یہ قسم اٹھاؤں گا کہ اگر میں نے یہ چاروں افعال شنیعہ کئے ہوں تو مجھ پر خدا تعالیٰ کا عذاب نازل ہو۔ بریڈ فورڈ کے مسٹر ظفر اقبال بٹ بھی مرزا طاہر کو وہاں لائیں جو عام پبلک میں یہی حلف اٹھائیں۔ مرزا طاہر اگر ۲ اگست ۳ بجے بعد نماز جمعہ شاہجہاں مسجد ووکنگ میں نہ آئے اور میرے مقابلہ میں یہ حلف اٹھا کر اپنی پاکیزگی ثابت نہ کر سکے تو یہ ان کی اپنی کھلی شکست کا اقرار اور مباہلہ سے کھلا فرار ہوگا۔

صورت حال کچھ بھی ہو اب فیصلہ خدا کے ہاتھ میں ہے۔

احقر منظور احمد چنیوٹی

صفحہ 27

نائب صدر انٹر نیشنل ختم نبوت مشن (لندن)

اس اعلان کے مطابق مولانا منظور احمد چنیوٹی ۱۲/اگست کو ووکنگ تشریف لے گئے اور حسب اعلان ۳ بجے بعد نماز جمعہ قادیانیوں کا مطلوبہ حلف اٹھایا۔ مرزا طاہر کا ۴ بجے تک مزید انتظار کیا۔ مگر مرزا طاہر کو ان افعال کے بارے میں حلف اٹھانے کی جرأت نہ ہوئی۔ چنانچہ ۴ بجے مرزا طاہر کی شکست کا اعلان کر دیا گیا۔ مسلمانان ووکنگ نے اس سلسلہ میں جو اشتہار شائع کیا اس کے الفاظ یہ ہیں

لو آپ اپنے دام میں صیاد آگیا مولانا منظور احمد چنیوٹی نے چیلنج قبول کر لیا۔ مگر مرزا طاہر مقابلہ میں نہ آئے کیا مرزا غلام احمد نے نئی شریعت ایجاد کی ؟

بریڈ فورڈ کے ایک مبلغ ظفر اقبال بٹ نے مولانا منظور احمد چنیوٹی کے جواب میں اشتہار دیا ہے کہ زنا کے الزام پر حلفاً انکار اور لعنت ڈالنے کا حکم صرف میاں بیوی کیلئے ہے۔

مولانا چنیوٹی نے مرزا طاہر کو چیلنج دیا تھا کہ وہ مجمع عام میں مؤکد بعذاب قسم کھائے کہ اس نے کبھی زنا نہیں کیا لواطت نہیں کرائی شراب نہیں پی۔

مرزا طاہر نے حلف سے بچنے کیلئے ظفر اقبال صاحب سے ایک اشتہار

صفحہ 28

دلوایا ہے جس میں دو باتیں کہی ہیں۔

صرف میاں بیوی میں محدود ہے اور کہا کہ آپ (یعنی مولانا منظور احمد چنیوٹی) نئی شریعت ایجاد کر رہے ہیں۔

ہو تو اللہ تعالیٰ کی لعنت آپ پر پڑے۔

پہلی بات کے جواب میں مرزا طاہر سے گزارش ہے کہ وہ اس بیان کی بھی تردید کرے۔ ”مباہلہ صرف ایسے شخصوں سے ہوتا ہے جو اپنے قول کے قطع ویقین پر بنا رکھ کر کسی دوسرے کو مفتری اور زانی قرار دیتے ہیں۔“

(قادیانی اخبار الحکم ۲۲ مارچ ۱۹۰۲ء)

ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہؓ نے تو اس لئے حلف نہ اٹھایا کہ ان سے حلف اٹھانے کا کہا نہ گیا تھا قرآن کریم کے نزول کا دور تھا آنحضرت ﷺ سے آپ سن چکی تھیں کہ حقیقت حال کے مطابق اللہ تعالیٰ انہیں بے گناہ قرار دے گا ظفر اقبال صاحب کے خیال میں کیا اب بھی نزول وحی کا دور ہے مرزا طاہر کی ان الزامات سے بریت میں وحی اترے گی اگر نہیں تو اس نے یہ کیوں لکھا ہے کہ ”ہم قرآن کریم کے اصول کے مطابق حضرت عائشہ صدیقہؓ کی طرح حلف اٹھانے کے پابند نہیں ۔“

حلف اٹھانے کا مطالبہ کس سے کیا گیا تھا؟ مرزا طاہر سے ظفر اقبال بٹ

صفحہ 29

سے نہیں؟ خط کشیدہ لفظ ”ہم نے راز کھول دیا ہے۔“ یہ لفظ ”ہم“ ص ۲۲ کی آخری سطر میں ہے۔

دوسری بات کے جواب میں گزارش ہے کہ چونکہ یہ اشتہار مرزا طاہر کی طرف سے بھی ہے اس لئے مولانا منظور احمد چنیوٹی ایسا حلف اٹھانے کے لئے تیار ہیں آپ نے جنگ ۳۱ جولائی میں یہ بیان دیا ہے۔

میں منظور احمد چنیوٹی ظفر اقبال بٹ کے اس اشتہار کے جواب میں جو انہوں نے مرزا طاہر سربراہ قادیانی جماعت کی طرف سے شائع کیا ہے اعلان کرتا ہوں کہ میں ۱۲ اگست بروز جمعہ بعد نماز جمعہ ۳ بجے جامع مسجد ووکنگ میں مؤکد بعذاب، یہ قسم اٹھاؤں گا کہ اگر میں نے یہ چاروں افعال شنیعہ کیے ہوں تو مجھ پر خدا کا عذاب نازل ہو۔ بریڈ فورڈ کے مسٹر ظفر اقبال بھی مرزا طاہر کو وہاں لائیں جو عام پبلک میں یہی حلف اٹھائیں۔ مرزا طاہر اگر ۱۲ اگست کو ۳ بجے بعد نماز جمعہ شاہجہاں مسجد ووکنگ میں نہ آئے اور میرے مقابلہ میں حلف اٹھا کر اپنی پاکیزگی ثابت نہ کر سکے تو یہ قادیانیوں کی ان کی اپنی شکست کا اقرار اور مباہلہ سے کھلا فرار ہوگا۔ صورت حال کچھ بھی ہو۔ اب فیصلہ خدا کے ہاتھ میں ہے۔

احقر منظور احمد چنیوٹی (روزنامہ جنگ)

صفحہ 30

ہم مسلمانان ووکنگ گواہی دیتے ہیں کہ ہم شاہجہاں مسجد ووکنگ میں موجود تھے مولانا منظور احمد چنیوٹی نے ہمارے سامنے مؤکد بعذاب حلف اٹھایا بعد نماز جمعہ ۴ بجے تک مرزا طاہر کے منتظر رہے۔ مرزا طاہر نہ آئے تو آپ نے قادیانیوں کی شکست کا اعلان فرمایا۔ (اس پر اس کے دستخط موجود ہیں)

مسلمانان ووکنگ

(معرفت ۱۶۔ ناروڈگارڈنز ساؤتھ آل، لندن)

قادیانیوں نے اپنی خفت مٹانے کے لئے عجیب حربے اختیار کر رکھے تھے ان کے ایک مبلغ صدق المرسلین خادم نے دو دن پہلے روزنامہ جنگ لندن کے مدیر کے نام، ایک خط لکھا اور اسکی ایک نقل حاجی محمد اشرف صاحب ممبر ختم نبوت کمیٹی ساؤتھ آل کی وساطت سے مولانا منظور احمد چنیوٹی کو بھیجی یہ خط درج ذیل ہے۔

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم مکرمی ! ایڈیٹر صاحب جنگ لندن۔ السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ : آپ کے اخبار میں دو دفعہ منظور احمد چنیوٹی صاحب کا مراسلہ برائے مناظرہ مخالف جماعت احمدیہ نظر سے گذرا۔ نیز اخبار جنگ مورخہ ۸۴۔۷۔۲۳ ختم نبوت کانفرنس کے اشتہار میں بھی مولانا صاحب کو مناظرہ کے خطاب سے نوازا گیا ہے۔ کیا مولانا بتا سکتے ہیں کہ اس سے قبل انہوں نے کسی

صفحہ 31

اور فرقہ سے مناظرہ کیا ہے؟ یا صرف سستی شہرت کیلئے ہاتھ پاؤں مار رہے ہیں۔ باقی جہاں تک مولانا کے علم کا تعلق ہے وہ کسی عام احمدی سے مناظرہ نہیں کرسکتے۔ حضرت مرزا طاہر احمد صاحب سے تو دور کی بات ہے۔

دوسرے اگر مولانا کو حدیث اور قرآن پاک کا تھوڑا سا بھی علم ہوتا تو آپ بھی اپنے دوست قاری عاشق حسین صاحب آف سانگلہ ہل کی طرح آج احمدی ہوتے جو کہ ۱۹۷۴ء میں آپ کے ساتھ جماعت احمدیہ کے سخت مخالف تھے۔ مگر انکی مخالفت صحیح اسلام کی تلاش کی خاطر تھی۔ نہ کہ پیٹ پالنے کی خاطر۔

انگلینڈ میں مناظرہ دیکھنے اور سننے کا کسی کو شوق نہیں نہ ہی کسی کے پاس وقت ہے۔ اگر مولانا پسند فرمادیں تو بذریعہ جنگ اخبار تحریری مناظرہ کے لئے، خاکسار اپنے آپ کو پیش کرسکتا ہے۔ اس سے بہت سے لوگ فائدہ اٹھا سکیں گے۔ اور ان کو اصل حقیقت کا علم ہو جائے گا اور مولانا اور خاکسار کی قابلیت کا بھی اندازہ ہو جائے گا۔ مولانا منظور احمد چنیوٹی صاحب موضوع کا انتخاب فرما کر خاکسار کو بذریعہ اخبار جنگ اطلاع دے کر مشکور فرمائیں۔

والسلام سید صدق المرسلین خادم چیئرمین تبلیغی کمیٹی جماعت احمدیہ ساؤتھ آل 11BEYD AVE SOUTHALL (MIDDEX)

کاپی برائے مولانا منظور احمد چنیوٹی معرفت حاجی محمد اشرف صاحب ممبر ختم نبوت کمیٹی ساؤتھ آل

صفحہ 32

مولانا چنیوٹی کا جواب

مولانا منظور احمد چنیوٹی نے جواب میں جو خط لکھا اس کے الفاظ یہ ہیں۔

جناب صدق المرسلین صاحب

السلام علیٰ من اتبع الھدیٰ

آپ کے خط بنام مدیر روزنامہ ”جنگ“ لندن کی کاپی وصول ہوئی روزنامہ جنگ تو ممکن ہے آپ کو اپنے کالموں میں برابر کی جگہ نہ دے آخر وہ ایک مسلمانوں کا اخبار ہے۔ تاہم میں بذریعہ اس خط کے آپ کی باتوں کا جواب دے رہا ہوں۔

آپ نے سوال کیا ہے کیا میں نے اس سے قبل کسی اور فرقہ سے مناظرہ کیا ہے؟ اس کا جواب ہاں میں ہے۔

عیسائیوں سے قادیانیوں سے اور کئی فرقوں سے میں نے مناظرے کئے ہیں۔ آپ کے بڑے مناظرین قاضی نذیر احمد اور اللہ دتہ جالندھری نے بارہا مجھ سے شکست کھائی ہے۔ اب آپ بتائیں کہ مرزا طاہر نے بھی کبھی کسی اور فرقہ سے مناظرہ کیا ہے؟ اگر نہیں تو آپ اعلان کریں کہ مرزا طاہر میں میرے مقابلہ کی جرأت وقابلیت نہیں ہے۔

ثانیاً: اپنے خط سے آپ مدعی علم معلوم ہوتے ہیں اگر یہ صحیح ہے تو بتائیے کہ آپ مرزا غلام احمد کی عربی دانی اور حدیث دانی پر یہاں کے مقیم عرب علماء کی ثالثی میں ہم سے مناظرہ کرنے کیلئے تیار ہیں یا نہیں؟ اگر کر سکتے ہیں تو اپنے امام مرزا طاہر کی تحریری نمائندگی سے میرے ساتھ مناظرہ کرنے کیلئے ۱۵ اگست

صفحہ 33

کو صبح ۱۰ بجے میرے پاس اسلامک اکیڈمی مانچسٹر میں تشریف لائیں تاکہ جگہ تاریخ و دیگر شرائط طے ہو سکیں۔ مرزا طاہر صاحب کی نمائندگی کی تحریر ضروری ہے کیونکہ میرے اصل مخاطب وہی ہیں۔ مناظرہ کی تاریخ آپ کی مرضی سے رکھی جائے گی۔

ثالثاً: آپ نے لکھا ہے کہ انگلینڈ میں مناظرہ کرنے اور دیکھنے کا کسی کو شوق نہیں آپ نے یہاں کے تمام لوگوں کی طرف سے یہ بے جا دعویٰ کیا ہے۔ روزنامہ ”جنگ“ لندن ۳ جولائی کی اشاعت میں مولانا امداد الحسن نعمانی کا بیان یہاں کی عمومی سطح کا ترجمان ہے۔ اور صرف بتا رہا ہے کہ یہاں کے لوگوں کے سامنے یہ مباحث آنے چاہئیں۔ آپ سے گذارش ہے کہ صاف کیوں نہیں کہتے کہ مرزا طاہر صاحب اور آپ مناظرہ کرنے کے لئے تیار نہیں۔

یاد رکھئیے! کہ تحریری مناظرہ تب ہوتا ہے جب فریقین میں زبانی مناظرہ نہ ہوسکے مرزا صاحب کی مباہلہ کے متعلق ایک تحریر غور سے پڑھیئے۔

”اگر یہ خیال ہو کہ وہ چاروں یکجا جمع نہیں ہو سکتے۔ تو میں یہ بھی ظاہر کئے دیتا ہوں کہ ایک جگہ جمع ہونے کی حاجت نہیں۔ تحریری مباہلہ شائع ہو سکتا ہے۔ (مجموعہ اشتہارات حضرت مسیح موعود علیہ السلام جلد ۳ ص ۵۵۵)

سو مقابلے میں بات چیت کی پہلی قسم زبانی ہے اور تحریری بات مناظرہ کی ہو یا مباہلہ کی دوسرے درجہ میں ہے۔ پھر دونوں طرف سے ہر موضوع پر اتنی کتابیں ہیں اور پمفلٹ لکھے جا چکے ہیں کہ تحریری مناظرہ کا خواہش مند اس تمام

صفحہ 34

لٹریچر کو دیکھ کر آسانی سے سچائی معلوم کر سکتا ہے۔ اگر آپ واضح طور پر اقرار کرلیں کہ آپ کے امام جماعت اور آپ کی جماعت زبانی مناظرہ میں آنے سے عاجز ہیں تو پھر ایک مجلس میں ہم تحریری مناظرہ کے لئے بھی تیار ہیں۔

تحریری مناظرہ کی یہ صورت ہو گی کہ مرزا طاہر صاحب اور ان کے رفقاء اور ہم ایک مجلس میں رو در رو بیٹھیں اور مرزا غلام احمد کی زندگی کے موضوع پر دونوں طرف سے تحریروں کا تبادلہ ہو اور ایک ہی دن میں یہ تحریری مناظرہ مکمل ہو جائے۔ اور چھپ جائے جس کا خرچہ دونوں برداشت کریں۔ اس کا فائدہ یہ ہو گا کہ ایک ہی مجلس میں لوگوں کے سامنے یہ تحریریں آجائیں گی اور لمبا عرصہ سوال و جواب کے انتظار میں نہ رہنا پڑے گا۔

فقط الراقم۔ منظور احمد چنیوٹی عفا اللہ عنہ مورخہ ۸۵۔۷۔۳۱

کاپی بنام مدیر محترم ”روزنامہ جنگ لندن“

یہ اس لئے ہے کہ صدق المرسلین صاحب نے آپ کو بلا تاریخ ایک خط ارسال کیا تھا اور اس کی ایک کاپی مجھے بھیجی۔ یہ خط اسکا جواب ہے۔ اگر ان کا خط کہیں شائع کریں تو میرا یہ جواب بھی شائع ہو جائے۔

اس خط کے بموجب ۱۵ اگست کو مرزا طاہر اور ان کے نمائندہ کا اسلامک اکیڈمی مانچسٹر میں شدید انتظار رہا۔ مگر افسوس کہ انہیں مولانا چنیوٹی کے سامنے آنے کی جرات نہ ہو سکی مولانا چنیوٹی نے پھر جو بیان دیا اسکی نقل درج ذیل ہے۔

صفحہ 35

مرزا طاہر کا تحریری مناظرہ بھی فرار

قادیانیوں کے تبلیغی کمیٹی کے چیئرمین جو جلاء میں صدق المرسلین کے نام سے موسوم ہیں اور حقیقت میں متنبی پنجاب مرزا غلام احمد کو پیغمبر مان کر سب پیغمبروں پر ایمان رکھنے کے پاک دائرہ سے نکل چکے ہیں اس کذب المرسلین نے مدیر ”جنگ“ لندن کے نام تاریخ ڈالے بغیر ایک خط لکھا اور مجھے اس کی ایک نقل بھیجی۔ اس خط میں مجھے تحریری مناظرے کا چیلنج دیا۔ میں نے اس کے جواب میں اسے مندرجہ ذیل خط لکھا اور اسکی ایک نقل مدیر روزنامہ ”جنگ“ لندن کے نام بھیجی۔ قادیانی دوست صدق المرسلین کو کذب المرسلین کہنے سے ناراض نہ ہوں۔ مرزا غلام نے اپنے مخالفین کے ساتھ یہی انداز اختیار کیا تھا۔ لدھیانہ کے حضرت مولانا سعد اللہ صاحب قدس اللہ سرہ العزیز کو ”نحس“ لکھنا اور یہ کہنا کہ انہیں سعد اللہ کہنے والے صرف جہلاء ہی ہیں۔ اس انداز تحریر کی کھلی شہادت ہیں۔

مولانا محمد حسین بٹالویؒ کو بطالوی لکھنا غلام احمد کے اس موقف کی قوی شہادت ہے۔ اور نہیں تو انجام آتھم میں ہی دیکھ لیں۔

شکس خبیث مفسد و مزور نحس یسمی السعد فی الجہلاء

میں بھی مرزا طاہر کو ”نحس“ لکھ سکتا تھا۔ مرزا غلام احمد اگر ”سعد“ کو ”نحس“ لکھ سکتا ہے تو احقر منظور احمد چنیوٹی اس کے نیچے ایک نقطہ لگا کر اسے ”نجس“ کیوں نہیں لکھ سکتا؟ لیکن میں نے ایسا نہیں کیا۔ اور اپنا حق محفوظ رکھا ہے

صفحہ 36

جو خط میں نے اس کذاب المرسلین کو لکھا ہے اس کے بموجب میں اور میرے رفقا ۱۵؍ اگست بروز پیر ۲ بجے دوپہر تک مرزا طاہر اور اس کذاب المرسلین کا انتظار کرتے رہے۔ مگر افسوس کہ انہیں نہ آنا تھا نہ آئے۔ نماز ظہر کے بعد ہم نے مسلمانوں کے ایک جم غفیر میں مرزا طاہر کے فرار کا اعلان کیا۔ اور بتلایا کہ انہیں میرے سامنے تحریری مناظرہ کی شرائط طے کرنے کیلئے بھی آنے کی ہمت نہ ہوسکی۔ احقر منظور احمد چنیوٹی عفا اللہ عنہ ۱۶؍ اگست ۱۹۸۵ء

یہ درمیان کی خط و کتابت ہے۔ چوہدری حمید احمد کی تائید میں ۱۶؍ گرین ہال روڈ لندن سے رشید احمد چوہدری نے بھی ایک بیان دیا۔ جو ۱۶؍ اگست کے روزنامہ ”جنگ“ لندن میں چھپا اس کی نقل درج ذیل ہے۔

مباہلہ کی دعوت

مکرمی! مولانا منظور احمد چنیوٹی کا اعلان برائے مباہلہ آپ کے اخبار مورخہ ۳۱ جولائی میں پڑھا اس سے پہلے وہ جماعت احمدیہ کے سربراہ کو دعوت مناظرہ دے چکے ہیں۔ جس کے جواب میں خاکسار نے تحریر کیا تھا کہ اگر مولانا کو سستی شہرت حاصل کرنا مقصود نہیں تو وہ بجائے نئے سرے سے مناظرہ کرنے کے ، پہلے جو مناظرے فریقین کے درمیان ہو چکے ہیں ان کی کاروائی شائع کرائیں یا حکومت پاکستان پر زور دیں کہ وہ ان حقائق کو برسرعام لائے۔ آخر کوئی نیا مسئلہ تو وجود میں نہیں آیا۔ کیا ہی اچھا ہو کہ اگر مولانا اپنا اثر و رسوخ استعمال کرتے ہوئے۔

صفحہ 37

کم از کم ۱۹۷۴ء کے مناظرے کی کاروائی شائع کرانے کا بندوبست فرمادیں جس سے بہتوں کو بھلا ہوگا۔ میرے خیال میں تو ایسے مباحثوں جن کی بنیاد پر ۱۰ ملین مسلمانوں کو غیر مسلم قرار دیا گیا ہو کی کاروائی سے ہر مسلمان کو مستفید نہ کرنا سراسر ظلم اور بد دیانتی ہے۔ جہاں تک مباہلہ کا تعلق ہے اس کی شرعی حیثیت یہ ہے کہ وہی شخص چیلنج کر سکتا ہے جسے اذن الہی ہو کسی بھی شخص کا اٹھ کر کروڑوں کی جماعت کے سربراہ کو مباہلہ کا چیلنج دے دینا درست نہیں اس لئے مولانا صاحب دو باتوں کا اعلان فرمادیں۔

کریں۔

اگر وہ ایسا کرنے سے عاری ہیں تو مباہلہ کا اور راستہ بھی کھلا ہے اور وہ یہ ہے کہ اس چیلنج کو قبول فرمادیں جو بانی سلسلہ عالیہ احمدیہ نے واضح الفاظ میں خدا تعالیٰ سے اذن پا کر دیا وہ الفاظ یہ ہیں۔

"ہر ایک جو مجھے کذاب سمجھتا ہے اور ہر ایک جو مکار اور مفتری خیال کرتا ہے اور میرے دعویٰ مسیح موعود کے بارے میں میرا مکذب ہے اور جو کچھ مجھے خدا تعالیٰ کی طرف سے وحی ہوئی اس کو میرا افتراء خیال کرتا ہے وہ خواہ مسلمان کہلاتا ہو یا ہندو یا آریہ یا کسی اور مذہب کا پابند ہو اس کو بہر حال اختیار ہے کہ اپنے طور پر مجھے مقابل پر رکھ کر تحریری مباہلہ شائع کرے یعنی خدا تعالیٰ کے

صفحہ 38

سامنے یہ اقرار چند اخباروں میں شائع کرے کہ میں خدا تعالیٰ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ مجھے یہ بصیرت کامل طور پر حاصل ہے کہ یہ شخص (اس جگہ بہ تصریح میرا نام لکھے) جو مسیح موعود ہونے کا دعویٰ کرتا ہے در حقیقت کذاب ہے اور یہ الہام جن میں سے بعض اس نے اس کتاب میں لکھے ہیں یہ خدا کا کلام نہیں ہے بلکہ سب اس کا افتراء ہے۔ اور میں اس کو در حقیقت اپنی کامل بصیرت اور کامل غور کے بعد اور یقین کامل کے ساتھ مفتری اور کذاب اور دجال سمجھتا ہوں۔ پس اے خدائے قادر اگر تیرے نزدیک یہ شخص صادق ہے اور کذاب اور مفتری اور کافر اور بے دین نہیں ہے۔ تو میرے پر اس تکذیب اور توہین کی وجہ سے کوئی عذاب شدید نازل کر ورنہ اس کو عذاب میں مبتلا کر۔ آمین۔

(حقیقۃ الوحی روحانی خزائن جلد ۲۲ ص ۷۱۔ ۷۲)

کیا ہی اچھا ہو مولانا میدان میں آئیں اور ایسی مؤکد بعذاب قسم کھا کر دنیا کو ایک بار پھر الٰہی نشان دیکھنے کا موقع بہم پہنچائیں۔

کاش مولانا منظور احمد چنیوٹی آج یہ جرأت کر دکھائیں۔

(رشید احمد چوہدری ۱۶۔ گرین ہال روڈ لندن ایس ڈبلیو ۱۸)

نوٹ : اس کا فوٹو ص ۴۰ پر ملاحظہ کریں۔

چوہدری حمید احمد اور رشید احمد دونوں کے جواب میں مولانا منظور احمد چنیوٹی نے جو خط لکھا اسے ذیل میں ملاحظہ کریں۔

صفحہ 39

قادیانیوں کا مناظرے اور مباہلے سے ایک اور فرار

چوہدری حمید احمد اور رشید احمد دونوں کو جواب باصواب

سلو برک شائر کے چوہدری حمید احمد نے اور ان کے بھائی رشید احمد نے مجھے مباہلہ کی دعوت دی ہے چوہدری حمید احمد نے ایک پمفلٹ میں جس کا نام ہے مولوی منظور احمد چنیوٹی کو مباہلہ کا ایک کھلا چیلنج اور چوہدری رشید احمد نے روزنامہ ”جنگ“ لندن ۶ اگست میں بالفاظ ”مولانا منظور احمد چنیوٹی کا اعلان برائے مباہلہ “ سے مجھے مخاطب کیا ہے دونوں بھائیوں نے میرے نام سے احمد کا لفظ بڑی بے دردی سے اڑایا ہے۔ کیا یہ ان کی صریح بے انصافی نہیں کہ غلام احمد سے انہوں نے پہلا لفظ اڑایا اور اسے احمد بنادیا اور میرے نام سے دوسرا لفظ اڑایا یہ مختلف برتاؤ کیوں؟ لینے اور دینے کے پیمانے ایک ہونے چاہئیں۔ انہیں چاہیئے تھا یا وہ مرزا غلام احمد کو بھی مرزا غلام لکھتے۔ ورنہ میرے نام کا بھی اگلا حصہ نہ اڑاتے ہم اسے اتفاقی غلطی بھی کہہ سکتے تھے مگر دونوں بھائیوں نے ایسا ہی کیا ہے جو اتفاقی نہیں ہو سکتا۔

رشید احمد صاحب لکھتے ہیں کہ نئے سرے سے مناظرہ کرنے سے پہلے جو مناظرے فریقین کے درمیان ہوئے ہیں ان کی کاروائی شائع کر دیں۔

فریقین کے مناظرے اب تک دو ہزار سے زیادہ ہوئے ہوں گے اب ان تمام کاروائیوں کو شائع کرنے کا مطالبہ اس کے سوا کیا ہے کہ نہ نو من تیل ہو گا نہ رادھا ناچے گی۔ رہا اسمبلی کا ۱۹۷۴ء کا فیصلہ یا وفاقی شرعی عدالت کا فیصلہ تو اس

صفحہ 40

میں فریقین کا براہ راست مناظرہ نہیں ہوا تھا۔ دونوں فریق سپیکر اسمبلی یا جج صاحبان کو خطاب کرتے تھے اور انہی کی معرفت ان پر سوال اٹھتے رہے ۔ سو یہ دونوں مناظرے نہ تھے ۔ مقدمے تھے جن میں ایک فریق کی فتح ہوئی اور دوسرے کی شکست ۔ انہیں باقاعدہ مناظرہ سمجھنا اور اس کی کاروائیوں کی اشاعت پر حمید احمد اور رشید احمد کا زور دینا اور یہ کہنا کہ اب نئے مناظرہ کی ضرورت نہیں ۔ مناظرے سے ایک کھلا فرار ہے ۔

میں نے مرزا محمود کو مباہلہ کا چیلنج دیا تھا۔ اس پر مرزا محمود کے نمائندے ابو لعطاء اللہ دتہ نے ۱۹۶۱ء میں مجھ سے مطالبہ کیا کہ میں کسی جماعت کی سند نمائندگی پیش کروں ۔ ان کے کہنے پر میں نے جمعیت علمائے اسلام ، تنظیم اہل سنت، مجلس تحفظ ختم نبوت ، اور جمعیت ، اشاعت التوحید والسنت کی سند نمائندگی پیش کی۔ اور پھر اسے شائع بھی کر دیا۔ اس وقت سے اب تک میری نمائندہ حیثیت کو کسی نے چیلنج نہیں کیا نہ مرزا بشیر الدین محمود نے نہ مرزا ناصر نے چوہدری حمید اور رشید احمد کو بھی چاہیئے تھا کہ اپنے بڑوں کے اس فیصلے سے فرار نہ کریں ۔

یہ کہنا کہ اذن الٰہی سے مباہلہ کا چیلنج دوں یہ مطالبہ مرزا بشیر الدین محمود نے بھی مجھ سے نہیں کیا تھا۔ نہ مرزا ناصر نے اور اب مرزا طاہر مجھ سے اس مسئلہ میں وحی الٰہی کا مدعی ہے سو اس بات کو زیر بحث لانا راہ فرار نہیں تو اور کیا ہے ۔

صفحہ 41

اگر اس کیلئے اذن الہی ضروری تھا تو مرزا غلام نے اس عبارت میں جو چوہدری حمید احمد نے حقیقۃ الوحی سے نقل کی اس شرط کو کیوں اڑا دیا۔

رہا مباہلہ کا ایک تیسرا رستہ جو ان حضرات نے تجویز کیا ہے سو واضح ہو کہ یہ مباہلہ کی کوئی صورت نہیں۔ بلکہ یہ یک طرفہ بددعا ہے جو مباہلہ نہ ہونے کی صورت میں ہوتی ہے۔ مرزا غلام احمد قادیانی نے مولانا ثناء اللہ امرتسری کے خلاف یک طرفہ بددعا کی تھی جو قبول ہوئی اور مرزا غلام اس کے نتیجے میں ہیضہ کی موت سے ہلاک ہو گیا۔ اور مولانا ثناء اللہ صاحب امرتسری (مرحوم) اس کے بعد تقریباً نصف صدی تک زندہ رہے۔

سو آپ کی یہ پیشکش بھی مباہلہ نہیں۔ محض یک طرفہ دعا ہے تاہم میں اس کے لئے بھی تیار ہوں۔ کیونکہ مرزا نے اس یکطرفہ دعا کا نام بھی ”مباہلہ“ رکھا ہے۔ بشرطیکہ مرزا طاہر خود مجھ سے یہ مطالبہ کرے جس طرح اس کے دادا مرزا غلام نے اپنے مخالف علماء سے مباہلہ کی یہ صورت پیش کی تھی۔ اور دنیا ایک دفعہ پھر حق و باطل کا یہ آسمانی فیصلہ دیکھ لے۔

مرزا طاہر کے اس بیان کا مجھے شدت سے انتظار رہے گا۔ ۳۱ اگست تک مہلت دی جاتی ہے اگر اس تاریخ تک ان کا بیان نہ آیا تو اس کا یہ مطلب ہو گا کہ مرزا طاہر اس قسم کے مباہلہ سے بھی فرار کر گیا ہے۔

۳۱ اگست آئی بھی اور گزر بھی گئی اور ہم مرزا طاہر کی راہ ہی دیکھتے رہے موصوف اپنے دادا کے طریقہ پر ایسے چلے کہ ہمارے انگلستان کے قیام تک نہ سنبھلے۔

صفحہ 42

حمید احمد اور رشید احمد کی تجویز مباہلہ کا دلچسپ پہلو

سلوبرک شائر کے حمید احمد قادیانی کی تجویز مباہلہ (جو مرزا غلام احمد کے حوالہ سے اس پمفلٹ کے ص ۱۹ سطر ۱۰ میں موجود ہے) کے الفاظ پر غور کریں ” ورنہ اس کو عذاب میں مبتلا کر“۔ رشید احمد قادیانی نے بھی اسی بات کو دہرایا ہے۔ (اس پمفلٹ کا ص ۳۳ سطر ۱۰ ملاحظہ کیجئے) یہ الفاظ کہ ”ورنہ اس کو عذاب میں مبتلا کر“ بتلاتے ہیں کہ یہ دعوت مباہلہ مرزا غلام احمد قادیانی کے عہد حیات سے ہی متعلق تھی۔ اس کا حاصل یہ تھا کہ یا اس دعا پر مباہلہ کرنے والے پر عذاب شدید آئے یا مرزا غلام احمد کسی عذاب میں مبتلا ہو۔ یہ صورت بھی ہو سکتی ہے کہ اس وقت دونوں زندہ ہوں یا عذاب اس پر آئے یا اس پر۔ بددعا دونوں کے لئے یکساں ہو کہ کسی نہ کسی پر عذاب ضرور آئے۔ اگر یہ بددعا اس میں ہو کہ بددعا کر نے والا تو زندہ ہو اور مرزا غلام احمد پہلے سے مرا ہوا ہو تو اس بددعا کا اثر کیسے ظاہر ہو گا؟ مرزا صاحب پر تو ظاہراً کچھ نہ بیتے گی وہ تو پہلے ہی مرے ہوئے ہیں۔ انہیں اب کوئی نہ دیکھ سکے گا اور وہ زندہ (جس نے بددعا کی ہو گی) جب بھی کسی بیماری یا حادثے سے سفر آخرت پر روانہ ہو گا۔ قادیان میں چراغاں ہو گا کہ لو دیکھو مرزا صاحب کے خلاف بددعا کرنے والا فلاں بیماری کا شکار ہو گیا یہ حضرت صاحب کی تکذیب کا اثر تھا۔ دیکھئے مرزا صاحب کی سچائی ظاہر کرنے کا قادیانیوں نے کیا دلچسپ پہلو اختیار کیا ہے۔

صحیح یہ ہے کہ مرزا صاحب کی یہ تجویز مباہلہ خود ان کی زندگی سے ہی

صفحہ 43

تعلق رکھ سکتی ہے ان کے بعد کے عہد کیلئے نہیں۔ مرزا صاحب کی زندگی میں وہ اور ان کے مخالفین یکساں ظاہری زندگی رکھتے تھے جو بھی عذاب میں مبتلا ہوا اسے آسانی سے دیکھا یا سمجھا جاسکتا تھا۔ (جیسا کہ دنیا نے مرزا غلام احمد کو ہیضہ سے مرتا اور مولانا ثناء اللہ امرتسری کو اس کے بعد نصف صدی تک زندہ رہتے دیکھا) قادیانیوں نے مرزا صاحب کی ایک اس وقت کی تجویز نقل کر کے عجیب ہوشیاری دکھائی ہے۔

پھر حمید اللہ صاحب تو اور بھی چست نکلے کہ جو بددعا تجویز کی اس کے یہ الفاظ مقرر کر دیئے کہ بددعا کرنے والا یہ الفاظ کہے۔ ”کیا حضرت مسیح موعود علیہ السلام سچے ہیں یا جھوٹے (عبارت درج پمفلٹ ہذا ص ۱۹ سطر ۱۹) اس میں یہ نہیں کہ مرزا غلام احمد صاحب سچے ہیں یا جھوٹے؟ بلکہ یہ الفاظ ہیں کہ ”مسیح موعود علیہ السلام سچے ہیں یا جھوٹے“ گویا بددعا کرنے والا پہلے مرزا صاحب کو مسیح موعود مان لے انہیں علیہ السلام بھی مان لے پھر یہ جانچنے کے در پے ہو کہ وہ سچے ہیں یا جھوٹے۔ کیسی عجیب تجویز ہے اور کیسا انوکھا انداز بددعا ہے۔ پڑھے لکھے لوگ قادیانی علم کلام کی ان دلچسپیوں پر کس قدر لطف اندوز ہوتے ہوں گے۔

اس وقت ہمیں اس تجویز کی دلچسپی سے بحث نہیں، بتلانا صرف یہ ہے کہ وہ تجویز مرزا صاحب کی زندگی سے تعلق رکھتی تھی اور ان کی موت پر یہ تجویز بھی اپنی موت مر گئی تھی۔ اب یہ بوکھلائے ہوئے قادیانی اسے مرزا صاحب کی موت

صفحہ 44

کے ۷۷ سال بعد پھر زندہ کر رہے ہیں اور مولانا منظور احمد چنیوٹی کی دعوت مباہلہ سے تنگ آکر اسے محض بطور ڈھال استعمال کر رہے ہیں۔

پھر یہ بات بھی دلچسپی سے خالی نہیں کہ یہ جوابات بھی دوسرے دے رہے ہیں مولانا چنیوٹی کے اصل مخاطب مرزا طاہر نے تو مولانا کے دورہ انگلستان میں ایسی چپ سادھی کہ ہلاؤ تو حرکت نہیں کاٹو تو خون نہیں۔ بڑے بڑے چپ شاہ سنے تھے مگر ایسا چپ شاہ کہیں نہیں دیکھا۔

جب مولانا منظور احمد چنیوٹی ۱۳/ اگست کو عازم جدہ ہوئے تو مرزا طاہر نے کچھ ہمت کی اور ایک بیان دیا۔

ختم نبوت کے نام پر ہونیوالی کانفرنس میں ہمیں گندی

گالیاں دی گئیں

پاکستان سے مولویوں کو یہاں بھجوانیوالے لندن کے مزاج کو بھول گئے تھے

مرزا طاہر احمد

ربوہ (نامہ نگار) لندن سے آمدہ تازہ اطلاعات کے مطابق قادیانی جماعت کے سربراہ مرزا طاہر احمد نے اپنی جماعت کے افراد کو خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پچھلے دنوں لندن میں ختم نبوت کانفرنس کا بہت چرچا تھا۔ اس سلسلہ میں بہت پرو پیگنڈہ کیا گیا لیکن جس ہال میں کانفرنس منعقد ہوئی اس میں دو ہزار سات صد سیٹیں تھیں جن میں سے پانچ صد سیٹیں خالی پڑی رہیں انہوں نے الزام لگایا کہ یہ

صفحہ 45

کانفرنس تو ختم نبوت کے موضوع پر کی گئی تھی لیکن اس کانفرنس کا یہ نتیجہ نکلا ہے کہ یہاں کے لوگوں کو مولویوں کے طرز فکر کا تجزیہ کرنے کا موقع ملا ہے انہوں نے کہا کہ پاکستان سے مولویوں کو یہاں بھجوانے والے یہ بھول گئے تھے کہ پاکستان کے لوگوں اور یہاں کے لوگوں کے مزاج میں بہت فرق ہے انہوں نے کہا کہ یہاں جو طبقہ بستا ہے اس میں روشن خیالی کا عنصر غالب ہے۔

(روزنامہ جنگ لاہور)

علمائے ختم نبوت کے انگلستان کے قیام کے دوران قادیانی کہتے تھے کہ مرزا طاہر بڑی شخصیت کے مالک ہیں وہ چھوٹے چھوٹے واقعات پر دھیان نہیں دیتے وہ لندن کی اس ختم نبوت کانفرنس کو کوئی اہمیت نہیں دیتے نہ وہ ان علماء کو درخور اعتناء سمجھتے ہیں۔

کیا ہم قادیانیوں سے پوچھ سکتے ہیں کہ اب بلی تھیلے سے باہر کیوں آگئی اور جونہی علمائے کرام انگلستان سے لوٹے مرزا طاہر اپنی چپ سے ٹوٹے اور جو بات کی اس پر بھی ختم نبوت کانفرنس کا منظر دیکھنے والے لعنۃ اللہ علی الکاذبین پڑھے بغیر نہ رہ سکے ہم پوچھ سکتے ہیں کہ اگر یہ کانفرنس واقعی کامیاب نہ رہی تھی تو تمہارے ڈیو زبری اور بریڈ فورڈ کے جلسے جن کے تم اشتہار بھی نکال چکے تھے اور ان کے ہال بھی بک کرا چکے تھے آخر کیوں منعقد نہ ہوسکے؟

PDF 49

ادارہ مرکزیہ دعوت و ارشاد چنیوٹ کی چند اہم مطبوعات

نمبر شمار کتاب زبان تصنیف و تالیف قیمت

مولانا محمد ابراہیم

PDF 50

ادارہ مرکزیہ دعوت وارشاد چنیوٹ کی چند اہم مطبوعات

نمبر شمار کتاب زبان تصنیف و تالیف قیمت

١ القادیانی ومعتقداته عربی مولانا منظور احمد چنیوٹی ٣٠ ٢ قادیانی اور ان کے عقائد اردو “ “ ٣٠ ٣ انگریزی نبی اردو “ “ ٢٥ ٤ عبرتناک انجام اردو “ “ ٣٥ ٥ علماء کنونشن اردو “ “ ٢٠ ٦ اور وہ اس کو مان نہ سکے اردو “ “ ٢٥ ٧ دورہ افریقہ اردو “ “ ٦٠ ٨ مناظرہ نائیجیریا اردو “ “ ٦٠ ٩ The Double Dealer انگلش “ “ ٦٠ ١٠ Al-Qadiani & His Faith انگلش “ “ ٣٠ ١١ ادارہ مرکزیہ دعوت وارشاد کا تعارف اردو “ “ ٣٠ ١٢ مرزا طاہر کی بوکھلاہٹ اردو “ “ ٣٠ ١٣ حصول الامانی فی الرد علی تلبیس القادیانی اردو “ “ ٢٤٠ ١٤ Africa Speakes The Truth انگلش “ “ ٥٠ ١٥ دورہ یورپ وافریقہ اردو “ “ ٥٠ ١٦ تصویر کے دو رخ اردو “ “ ٢٥ ١٧ برطانیہ میں مراسلت مباہلہ اردو “ “ ٣٠ ١٨ ربوہ کا نام تبدیل کرو اردو “ “ ٢٠ ١٩ الحقائق الاصلیہ فی جواب اللجنۃ العربیہ اردو “ “ ٤٠

تفصیل اندر والے صفحہ پر

PDF 51

مصنف ایک نظر میں

مولانا منظور احمد چنیوٹی ۳۱دسمبر ۱۹۳۱ء کو چنیوٹ کے راجپوت گھرانہ میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم چنیوٹ سے حاصل کی۔ ۱۹۵۱ء میں مزید تعلیم کیلئے جامعہ اسلامیہ ٹنڈوالہ یار سندھ سے دورہ حدیث اور دیگر مدارس سے تفسیر، رد رفض اور رد قادیانیت کے خصوصی کورس کئے۔ ۱۹۵۲ء سے تدریسی سلسلہ شروع کیا۔ ۱۹۵۴ء میں جامعہ عربیہ، ۱۹۷۰ء میں ادارہ مرکزیہ دعوت وارشاد چنیوٹ، ۱۹۹۰ء میں ادارہ دعوت وارشاد امریکہ اور ۱۹۹۱ء میں انٹرنیشنل ختم نبوت یونیورسٹی چنیوٹ میں قائم کی۔ اور ۱۹۹۵ء میں مدرسہ عائشۃ للبنات کی بنیاد رکھی ۔ ۱۹۵۳ء کی تحریک ختم نبوت کے روح رواں تھے پہلی بار ۲۲ سال کی عمر میں چھ ماہ کیلئے گرفتار ہوئے۔ اب تک گیارہ مرتبہ قیدوبند کی صعوبتیں برداشت کرچکے ہیں۔ رد قادیانیت کیلئے آپکی خدمات کو پوری دنیا میں قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ آپ کو ۲۰ مرتبہ حج اور بیسیوں مرتبہ عمرہ کی سعادت نصیب ہوئی۔ ہزاروں غیر مسلموں کو مشرف بہ اسلام کرنے کی سعادت حاصل کی۔ رابطہ عالم اسلامی نے آپکی دینی خدمات کے اعتراف میں آپکو اپنے اخراجات پر کئی بار حج کرنے کی دعوت دی۔ عالم اسلام کے مقتدر مفتیان عظام سے فتویٰ حیات مسیح حاصل کیا۔ مختلف موضوعات پر متعدد ضخیم کتابیں اور ان گنت پمفلٹ شائع کئے۔ ۳۳غیر ملکی دوروں کے علاوہ لاتعداد ملکی وغیر ملکی کانفرنسوں میں شرکت کی اور مقالہ جات پڑھے۔ اعلیٰ علمی قابلیت اور امت کے مسائل سے گہری دلچسپی کی بناء پر انجمن تبلیغ اسلام، مجلس عمل تحفظ ختم نبوت، جمعیت علماء اسلام، مجاہدین احرار، حرکۃ الانصار ، متحدہ علماء کونسل کے قابل قدر عہدوں پر بیک وقت فائز رہے تین مرتبہ صوبائی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے۔ بلدیہ چنیوٹ کے چیئر مین منتخب ہو کر اپنی دینی،انتظامی وملکی صلاحیتوں کا لوہا بھی منواچکے ہیں۔ اس وقت آپ پاکستان شریعت کونسل کے نائب امیر اور انٹرنیشنل ختم نبوت موومنٹ کے سیکرٹری جنرل کے عہدوں پر فائز ہیں۔

ابو عمار زاہد الراشدی

PDF 52

ادارہ مرکزیہ دعوت و ارشاد چنیوٹ کا مختصر تعارف و اپیل

حضرات تقسیم ملک کے بعد چنیوٹ کے قریب دریائے چناب کے مغربی کنارے پر امت مرزائیہ (انگریز کا خود کاشتہ پودا) نے اپنا ایک مستقل مرکز ربوہ (مرزائیل) کے نام سے قائم کیا۔ یہ ان کی ارتدادی اور تخریبی سرگرمیوں کا مرکز ہے۔ جس میں تعلیم، علاج، ملازمت، رشتہ وغیرہ کے لالچ اور دیگر مختلف ہتھکنڈوں سے مسلمانوں کو مرتد بنایا جاتا ہے اس میں ان کا ایک مستقل ادارہ نظارت اصلاح و ارشاد کے نام سے قائم ہے جس کے تحت مرزا غلام احمد قادیانی کی نبوت باطلہ کی اشاعت و تبلیغ اور مسلمانوں کو مرتد بنانے کے لیے مبلغ تیار کر کے اندرون ملک اور بیرون ملک بھیجے جاتے ہیں۔

ہر زبان میں گمراہ کن لٹریچر چھاپ کر لاکھوں کی تعداد میں مفت تقسیم کیا جاتا ہے۔ اس ادارے کا سالانہ بجٹ لاکھوں روپے ہوتا ہے۔ چنانچہ شدید ضرورت تھی کہ قادیانیوں کے اس ادارے کے مقابلہ میں شہر چنیوٹ میں ایک مضبوط اور مستقل ادارہ قائم ہو جس کا مقصد وحید ان کا علمی، تبلیغی، سیاسی اور دینی محاسبہ کرنا ہو۔

الحمد للہ کہ محض اللہ تعالیٰ کے بھروسہ پر استاذ العلماء محدث عصر حضرت علامہ مولانا محمد یوسف بنوریؒ شیخ الحدیث جامعہ بنوری ٹاؤن کراچی کی زیر سرپرستی ادارہ مرکزیہ دعوت و ارشاد ۱۹۷۰ء کو چنیوٹ میں قائم کیا گیا۔ اس ادارے کے تین بنیادی شعبے ہیں۔

شعبہ تبلیغ شعبہ تصنیف شعبہ تعلیم

ہر شعبہ اپنی اپنی خدمات باحسن طریق اندرون و بیرون ملک سرانجام دے رہا ہے۔ ادارہ کا سالانہ بجٹ تقریباً 24 لاکھ روپے ہے۔ تعمیراتی کام اس کے علاوہ ہے جس میں آپ کے ہر قسم کے بھرپور تعاون کی ضرورت ہے۔ تمام مسلمانوں سے درخواست ہے کہ وہ اس ادارے کے مستقل معاون بن کر خدام خاتم النبیین ﷺ کی فہرست میں اپنا نام رجسٹرڈ کرائیں اور حضور خاتم الانبیاء ﷺ کی روح مبارک کو خوش کریں اور استدعا ہے کہ زکوٰۃ، عشر، صدقات وغیرہ اور تعمیری سامان دے کر ثواب دارین حاصل کریں

ترسیل زر :

الداعی الی الخیر (خادم ختم نبوت) منظور احمد چنیوٹی

ناظم اعلیٰ ادارہ مرکزیہ دعوت و ارشاد چنیوٹ پاکستان

فون نمبر : 0466-332820 فیکس 0466-331330 E mail . chiniot@fsd.comsats.net.pk