احتساب قادیانیت جلد 47 · مولانا قاضی غلام گیلانی
Ahtasab-e-Qadyaniat · Vol. 47 · Maulana Qazi Ghulam Gilani
PDF 1

رَدِّ قادیانیت

رسائل

احتساب قادیانیت

جلد ٤٧

عَالَمِی مَجْلِسِ تَحَفُّظِ خَتْمِ نُبُوَّت

حضوری باغ روڈ، ملتان - فون : 4783486-061

PDF 2

رَدّ قادیانیت

رسائل

احتساب قادیانیت

٤٧

عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت

صفحہ ٢

بسم الله الرحمن الرحيم

نام کتاب : احتساب قادیانیت جلد سینتالیس (٤٧) مصنفین : حضرت مولانا قاضی غلام گیلانی حضرت مولانا عبدالوہاب خان رامپوری جناب ڈاکٹر منصور ایم رفعت مصری حضرت مولانا غلام ربانی جوہر آبادی جناب شیخ خضر حسین پروفیسر جامعہ ازہر مصر حضرت مولانا ابوالمنظور عبدالحق کوٹلوی سرہندی حضرت مولانا پیر سید کرم حسین شاہ نقشبندی سیکرٹری انجمن اشاعت الاسلام بنارس حضرت مولانا محمد شریف قادری نا معلوم حضرت مولانا عبدالودود قریشی حضرت مولانا عبدالقیوم میرٹھی جناب تاج الدین احمد تاج

صفحات : ٥٣٦ قیمت : ٣٠٠ روپے مطبع : ناصر زین پریس لاہور طبع اوّل : اگست ٢٠١٢ء ناشر : عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت حضوری باغ روڈ ملتان Ph: 061-4783486

بسم الله الرحمن الرحيم

فہرست رسائل مشمولہ......

عرض مرتب

صفحہ ٣

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

احتساب قادیانیت جلد سینتالیس (٤٧)

حضرت مولانا قاضی غلام گیلانی حضرت مولانا عبد الوہاب خان رامپوری جناب ڈاکٹر منصور ایم رفعت مصری حضرت مولانا غلام ربانی جوہر آبادی جناب شیخ خضر حسین پروفیسر جامعہ ازہر مصر حضرت مولانا ابوالمنظور عبدالحق کوٹلوی سرہندی حضرت مولانا پیر سید کرم حسین شاہ نقشبندی سیکرٹری انجمن اشاعت الاسلام بنارس حضرت مولانا محمد شریف قادری نامعلوم حضرت مولانا عبد الودود قریشی حضرت مولانا عبد القیوم میرٹھی جناب تاج الدین احمد تاج

قیمت: ٣٠٠ روپے ناشر: حرمین پریس لاہور اگست ٢٠١٢ء عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت حضوری باغ روڈ ملتان Ph: 061-4783486

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

فہرست رسائل مشمولہ ...... احتساب قادیانیت جلد ٤٧

عرض مرتب حضرت مولانا اللہ وسایا مدظلہ ٤

صفحہ ٤

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ ط

عرض مرتب

الحمدلله و کفی وسلام علیٰ عبادہ الذین اصطفے اما بعد! اللہ رب العزت کے فضل وکرم واحسان سے احتساب قادیانیت کی جلد سینتالیس (٤٧) پیش خدمت ہے۔ اس جلد میں سب سے پہلے:

دو رسائل احتساب قادیانیت کی جلد اٹھائیس میں شائع ہو چکے ہیں۔ آپ کا ایک یہ رسالہ بھی رد قادیانیت پر ہے جو احتساب کی اس جلد میں شائع کرنے کی سعادت حاصل کر رہے ہیں۔ اس کا مزید تعارف کتاب کے شروع میں درج ہے۔ وہاں دیکھ لیا جائے۔

پور کی مرتب کردہ ہے۔ پہلی بار جنوری ١٩٢١ء میں رام پور میں شائع ہوئی۔ مولانا عبدالوہاب خان صاحب کا ٢٢؍نومبر ١٩٧٨ء میں انتقال ہوا۔ رام پور یوپی سے مدرسہ فیض العلوم تھانہ بھون رام پور کی مجلس تحفظ ختم نبوت نے شائع کی۔ یہی ایڈیشن ہم اس جلد میں محفوظ کر رہے ہیں۔ یہ ایڈیشن مجلس تحفظ ختم نبوت کل ہند دارالعلوم دیوبند کے نائب ناظم مولانا شاہ عالم گورکھپوری کی زیر نگرانی شائع ہوا ہے۔

پریذیڈنٹ جناب ڈاکٹر منصور ایم رفعت نے قادیانیوں کے متعلق ایک پمفلٹ لکھا۔ یہ ستمبر ١٩٢٣ء کی بات ہے۔ جب جرمنی اور برطانیہ باہم دیگر دست بگریباں تھے۔ اس زمانہ میں جرمنی میں افغانستان کے سفیر نے قادیانی عمارت لندن پٹنی کی تقریب افتتاح میں شرکت کی۔ رفعت صاحب نے افغانی سفیر صدیق خان کو اس حماقت پر خط لکھا۔ صدیق خان نے رفعت صاحب کو تڑی لگائی۔ رفعت صاحب ڈٹ گئے۔ صدیق خان ایسے دم بخود ہوئے کہ دم دبا کر میدان سے باہر ہو گئے۔ یہ خط و کتابت ایک تاریخی ورثہ ہے۔ دہلی کے مولانا عبدالغفار الخیری نے اس کا اردو میں ترجمہ کیا۔ قادیانی سیاست کو طشت از بام کرنے کے لئے یہ مختصر رسالہ اپنے وزنی دلائل کے باعث ایک مؤقر دستاویز ہے۔

یہ دوسرا رسالہ بھی قادیانیوں کے خلاف تح ستمبر ١٩٢٣ء میں قادیانیوں نے اپنی عبادت گا قادیانی گروہ مسلمان نہیں۔ اس دور کی تمام قادیانی گروہ احمدی تحریک یا ان کی عبادت گا دیا تا کہ اس زمانہ میں قادیانی فتنہ جو مراحل عبدالغفار الخیری نے مصری صاحب کے اس جا رہا ہے۔

جمعیت علماء اسلام کے سرپرست تھے۔ بہر ١٩٨٤ء کو یہ کتابچہ لکھا۔ ٢٦؍اپریل ١٩٨٤ء کو

١٣٥١ھ مطابق نومبر ١٩٣٢ء میں ”الطائف اسلامی مکہ مکرمہ نے ”تخریب پسند تحریکیں“ مولانا ابوالحسن علی ندویؒ کا رسالہ ”قادیانیا (مطبوعہ احتساب قادیانیت جلد ٤٩) اور ”الطائفة القاديانية “ کا ”قادیانی قادیانیت کی اس جلد میں شائع کرنے کی س قادیانیت مطبوعہ رابطہ عالم اسلامی میں تیسرا بھی شامل تھا۔ جو احتساب قادیانیت کی کسی

کو شائع ہوا۔ ابوالمنظور مولانا عبدالحق کٹلوی سے اس رسالہ میں ثابت کیا کہ سنت نبویؐ ک نجرانی عیسائی سنت کے مطابق مرزا قادیانی کی موت اسی کا (بقول خود قادیانی) نتیجہ ہ

صفحہ ٥

یہ دوسرا رسالہ بھی قادیانیوں کے خلاف تحریر کیا۔ موصوف برلن میں رہتے تھے۔ برلن میں ستمبر ١٩٢٣ء میں قادیانیوں نے اپنی عبادت گاہ تعمیر کرنا چاہی تو موصوف نے دورانِ تقریب کہا کہ قادیانی گروہ مسلمان نہیں۔ اس دور کی تمام اخبارات کی رپورٹیں اس رسالہ میں موجود ہیں۔ قادیانی گروہ احمدی تحریک یا ان کی عبادت گاہ کو مسجد اس دور میں کہا جاتا تھا۔ ہم نے وہ ایسے رہنے دیا تا کہ اس زمانہ میں قادیانی فتنہ جو مراحل طے کر رہا تھا وہ آنکھوں کے سامنے رہیں۔ جناب محمد عبد الغفار الخیری نے مصری صاحب کے اس پمفلٹ کا اردو میں ترجمہ کیا جو اس جلد میں شامل کیا جارہا ہے۔

جمعیت علماء اسلام کے سرپرست تھے۔ بہت ہی بہادر اور نڈر عالم دین تھے۔ آپ نے ١٤؍ اپریل ١٩٨٤ء کو یہ کتابچہ لکھا۔ ٢٦؍ اپریل ١٩٨٤ء کو امتناع قادیانیت آرڈیننس جاری ہوا۔

١٣٥١ھ مطابق نومبر ١٩٣٢ء میں ”الطائفۃ القادیانیۃ“ نامی عربی میں مقالہ تحریر کیا۔ رابطہ عالم اسلامی مکہ مکرمہ نے ”تخریب پسند تحریکیں“ نامی اردو میں ایک کتاب شائع کی۔ جس میں حضرت مولانا ابوالحسن علی ندویؒ کا رسالہ ”قادیانیت اسلام اور نبوت محمدی کے خلاف ایک بغاوت“ (مطبوعہ احتساب قادیانیت جلد ٣٩) اور جناب الشیخ خضر حسین پروفیسر جامعہ ازہر کا مقالہ ”الطائفۃ القادیانیۃ“ کا ”قادیانی گروہ“ کے نام سے ترجمہ شائع کیا۔ اس کو ہم احتساب قادیانیت کی اس جلد میں شائع کرنے کی سعادت حاصل کر رہے ہیں۔ ”تخریب پسند تحریکیں“ قادیانیت مطبوعہ رابطہ عالم اسلامی میں تیسرا مقالہ سید ابوالاعلیٰ مودودی صاحب کا ”قادیانی مسئلہ“ بھی شامل تھا۔ جو احتساب قادیانیت کی کسی آنے والی جلد میں شامل ہوگا۔ انشاء اللہ!

کو شائع ہوا۔ ابوالمنظور مولانا عبد الحق کوٹھوی سرہندی اس کے تحریر کنندہ ہیں۔ آپ نے حوالہ جات سے اس رسالہ میں ثابت کیا کہ سنت نبویؐ کے مطابق میں نے مرزا قادیانی کو مباہلہ کا چیلنج دیا تھا۔ نجرانی عیسائی سنت کے مطابق مرزا قادیانی کو اولاد سمیت مقابلہ میں آنے کی جرأت نہ ہوئی۔ اس کی موت اسی کا (بقول خود قادیانی) نتیجہ ہے۔ اس رسالہ کے ٹائٹل پر یہ آیت قرآنی درج ہے۔

صفحہ ٧

”قل ان الموت الذی تفرون منہ فانہ ملاقیکم ثم تردون الیٰ عالم الغیب و الشہادۃ فینبئکم بما کنتم تعملون“ اس طرح ٹائٹل پر یہ اشعار بھی درج ہیں۔

ہیں زندہ وہ جنہیں مارتا تھا تو ظالم رہیں خدا کے فضل سے وہ زندہ سالم
ہیں خوش جہان و جہانیاں تیرے مرنے سے بچا نہ تیری زبان سے جاہل و عالم
برا بھلا تو تھا کہتا اسی پے عیسیٰ کو تھا مارتا تو اسی واسطے مسیحا کو
کہے تھا قابلِ نفرت تو معجزوں کو بھی اس لئے تھا تو پیچھے لگاتا دنیا کو
محمدی پے نہ تو ہو سکا کبھی قائم اگرچہ فکر اسی کا تھا قائم و دائم
کدھر گیا تیرا لڑکا اے قادیانی وہ کہ جس سے بادشاہ ڈھونڈیں گے برکت دائم
شد عقلِ مسخ قادیانی کی کہ اب بھی کرتے ہیں تقلید آنجہانی کی
پڑا وہ بھاڑ میں دوزخ کے گیا گذر ہے یہ علامت قہر آسمانی کی

یہ رسالہ سول اینڈ ملٹری نیوز پریس لدھیانہ سے ١٩٠٨ء کو شائع ہوا۔ ایک سو چار سال بعد دوبارہ ٢٠١٢ء میں اشاعت، پروردگار عالم کا فضل ہی ہے اور بس!

تصنیف ہے۔ ١٩٠٨ء میں اولاً شائع ہوئی۔ اس کے ایڈیشن اوّل کے ٹائٹل پر یہ شعر درج تھے۔

ہے بندہ حق پے لطفِ یزداں ہے بندۂ حق پے فضل رحماں
کر اس میں ضرور غور مرزا اور حق کے لئے دیکھ یہ برہان
ہو حق پے فدا اے اہل احسان تا حق سے عطاء ہو تجھ کو عرفان
مرزا کے فساد سے بچ کر ہو تابع حق اے اہل ایمان

”انکشاف شر حقیقت الوحی“ قادیانی سے ١٣٢٦ھ اس کتاب کا سن اشاعت اور مرزا قادیانی کا سن وفات نکلتا ہے۔ کیونکہ ١٣٢٦ھ مطابق ١٩٠٨ء بنتا ہے۔ ٹائٹل کی آخری سطور میں یہ رباعی درج ہے۔

غالب ہے ہمیشہ حق بمیدان کید و کذب و بطلان
مرزا پے پڑی ہے مار حق کی ہے منکر حق ذلیل ہر آن
یہ حجت حق ہے اور سلطان بس چھوڑ غرور و کبر و کفران
جی حق سے نہ چرا اے مرزا منہ موڑ رہبری شیطان

صاحبؒ حنفی چشتی نے یہ فروری ١٩٢٤ء میں مرزا قادیانی

اشاعت الاسلام بنارس کا دوسرا پمفلٹ ہے۔ جس کا دو

ٹریکٹ نمبر ٣): انجمن اشاعت الاسلام بنارس کا تیس اکیاسی سال بعد دوبارہ اس کی اشاعت محض اللہ تعالیٰ کا

ثناء اللہ امرتسری کے ساتھ آخری فیصلہ‘ پر ایک قطعی و تمام قدیم وجدید قادیانی ولاہوری تحریروں کا مفصل جواب

بعض جوابات پر نظر): مولانا محمد ابراہیم خطیب مسج متعلق قادیانیوں سے کچھ سوالات کئے۔ مرزا غلام احمد ق مرزا قادیانی کے نام پر تھا۔ یعنی یہ مرید مرزا کا ہم عقید نے مرزا غلام احمد قادیانی اور مولوی غلام احمد قادیانی میں ہے۔ (کہیں قادیانی بھی رہ گیا ہوگا) اس مولوی غلام خطیب شاہی مسجد کے سوالات کے اپنے طور پر جواب بنارس نے یہ پمفلٹ لکھ کر مولوی غلام احمد مرزائی کے ١٩٣٣ء کا شائع شدہ رسالہ ہے۔ جو اس جلد میں شائع ہ

ایک قادیانی نے ”دعوت الی الحق“ کے نام سے پمفلٹ دی۔ اس کے جواب میں اکتوبر ١٩٣٣ء میں یہ رسالہ لکھا

آنحضرت ﷺ کی دس پیش گوئیوں کا تذکرہ کر کے مرز ثابت کیا ہے۔ ١٩٣٣ء کا شائع کردہ رسالہ ہے۔

صفحہ ٧

صاحب حنفی چشتی نے یہ فروری ١٩٢٤ء میں مرزا قادیانی کے خلاف تحریر کیا۔

اشاعت الاسلام بنارس کا دوسرا پمفلٹ ہے۔ جس کا دوسرا ایڈیشن ١٩٣٤ء میں شائع ہوا۔

ٹریکٹ نمبر ٣): انجمن اشاعت الاسلام بنارس کا تیسرا پمفلٹ ہے۔ جو ١٣٥٦ھ میں شائع ہوا۔ اکیاسی سال بعد دوبارہ اس کی اشاعت محض اللہ تعالیٰ کا فضل ہے۔

ثناء اللہ امرتسری کے ساتھ آخری فیصلہ“ پر ایک قطعی فیصلہ کن بحث کی گئی ہے اور اس کے متعلق تمام قدیم وجدید قادیانی ولاہوری تحریروں کا مفصل جواب دیا گیا ہے۔

بعض جوابات پر نظر): مولانا محمد ابراہیم خطیب مسجد شاہ بنارس نے مرزا غلام احمد قادیانی کے متعلق قادیانیوں سے کچھ سوالات کئے۔ مرزا غلام احمد قادیانی کے ایک قادیانی مرید جس کا نام بھی مرزا قادیانی کے نام پر تھا۔ یعنی یہ مرید مرزا کا ہم عقیدہ اور ہم نام تھا۔ مولوی غلام احمد قادیانی ہم نے مرزا غلام احمد قادیانی اور مولوی غلام احمد قادیانی میں امتیاز کے لئے مولوی غلام احمد کو مرزائی لکھا ہے۔ (کہیں قادیانی بھی رہ گیا ہوگا) اس مولوی غلام احمد مرزائی نے مولانا محمد ابراہیم صاحب خطیب شاہی مسجد کے سوالات کے اپنے طور پر جواب دیئے۔ جس پر انجمن اشاعت الاسلام بنارس نے یہ پمفلٹ لکھ کر مولوی غلام احمد مرزائی کے جواب کا جواب الجواب لکھا ہے۔ یہ اکتوبر ١٩٣٣ء کا شائع شدہ رسالہ ہے۔ جو اس جلد میں شائع ہو رہا ہے۔ فالحمد للہ

ایک قادیانی نے ”دعوت الی الحق“ کے نام سے پمفلٹ لکھ کر مسلمانوں کو قادیانی بننے کی دعوت دی۔ اس کے جواب میں اکتوبر ١٩٣٣ء میں یہ رسالہ لکھا گیا۔

آنحضرت ﷺ کی دس پیش گوئیوں کا تذکرہ کر کے مرزا قادیانی کی دس پیش گوئیوں کو پرکھ کر غلط ثابت کیا ہے۔ ١٩٣٣ء کا شائع کردہ رسالہ ہے۔

صفحہ ٩

١٦...... نور اسلام (انجمن اشاعت الاسلام بنارس کا ٹریکٹ نمبر ٨، ٩، ١٠، ١١): بنارس میں مولوی غلام احمد مرزائی رہتا تھا۔ اس نے اپنے نام کے ساتھ مجاہد کا لاحقہ لگا رکھا تھا۔ اس نے ظہور امام ٢، ٣، ٤، ٥ رسائل لکھے۔ ان تمام رسائل کا جواب یہ رسالہ ہے۔ مارچ ١٩٣٤ء میں پہلی بار اشاعت پذیر ہوا۔

١٧...... دفع اوہام از ظہور امام (انجمن اشاعت الاسلام بنارس کا ٹریکٹ نمبر ١٢): حق تعالیٰ کے فضل سے نمبر ١٠ سے ١٧ تک انجمن اشاعت الاسلام بنارس کے ٹریکٹ ہائے نمبر ٢ سے ١٢ تک مکمل یہاں جمع ہو گئے۔ افسوس کہ ٹریکٹ نمبر ١ نہ ملا۔ اس رسالہ ”دفع اوہام“ میں قادیانی مولوی غلام محمد مجاہد کے رسالہ ظہور امام نمبر ١ کا جواب دیا گیا ہے۔ نمبر ١٦ میں ظہور امام ٢ تا ٥ تک کا جواب تھا۔ اس میں ایک کا جواب ہے۔ گویا قادیانی مولوی مجاہد کے رسائل ظہور امام کے پانچوں رسائل کا انجمن اشاعت الاسلام بنارس نے جواب دے کر ان کو ٹھنڈا کر دیا۔ حق تعالیٰ ان رسائل کے فاضل مؤلف کی تربت پر کروڑوں رحمتیں فرمائیں کہ ان کے اخلاص کا یہ عالم ہے کہ ١٢ رسائل میں کہیں اپنے نام کی ہوا نہیں لگنے دی۔ ”نیکی کر دریا میں ڈال“ کا یہ لوگ مصداق تھے۔ ان کی محنتوں سے آج قادیانیت سرنگوں ہی نہیں بلکہ زیر قدم ہے۔ فللہ الحمد !

١٨...... سیف ربانی بر گردن قادیانی: مولانا محمد شریف قادری فاضل دیوبند ناظم دارالعلوم اسلامیہ منڈی بہاؤالدین دواخانہ اشرفیہ نے یہ رسالہ ترتیب دیا۔ جس میں سیدنا مسیح بن مریم (علیہما السلام) کے علامات جو آنحضرت ﷺ نے بیان فرمائے اختصار سے درج کر کے مرزا قادیانی کا موازنہ کیا۔ ٹائٹل پر یہ شعر درج کیا۔

چیست مرزائیت اے اہل فہم
ابتداء از حیض برہنہ شتم

١٩...... مرزا قادیانی کی پیش گوئیاں اور ان کے متعلق خدائی فیصلے: یہ پمفلٹ نامعلوم کس اللہ کے بندہ نے تحریر کیا اور کب کیا۔ پمفلٹ پر کچھ درج نہیں۔ ایسے مخلص با کمال لوگ۔ اللہ، اللہ!

٢٠...... خاتم الانبیاء (تیر ودود بر سینہ مردود): پشاور کے معروف بزرگ عالم دین حضرت مولانا عبدالودود قریشی نے طعون قادیان کے خلاف ستمبر ١٩٣٢ء میں یہ رسالہ شائع فرمایا تھا۔

٢١...... قادیانی بینک کا دیوالہ...... مرزائی میرٹھی نے یہ رسالہ تحریر کیا۔ مولانا سید مرتضیٰ حسن الجواب ”مرزا قادیانی سمیت پوری قادیانی برادری قادیانی میرٹھی محاسب قادیانی جماعت میرٹھ اور ر پنڈی نے زور آزمائی کی۔ اول الذکر نے ایک ٹری ایک پمفلٹ۔ دونوں کا جواب یہ رسالہ ہے۔ ”قاد مرزا اور مرزائیوں کے کذاب ہونے کی بے شمار ا بڑے سائز کے آٹھ صفحات پر شائع ہوا۔ تاریخ اشا

٢٢/١...... ایک جھوٹی پیش گوئی پر مرزائیوں جس کے سیکرٹری ملا محمد بخش تھے۔ ملا محمد بخش صاح اخبار ہنٹر کے ایڈیٹر بھی رہے۔ انہوں نے یہ رسا جھوٹی نکلی۔ مرزا نے ایک نظم لکھی جس میں ایک شع

زار بھی ہوگا تو ہوگا ا

(یہ نظم ایک زلزلہ کے متعلق تھی، جو نہ مرنے کے بعد روس میں انقلاب آیا۔ زار روس محمد علی ایم۔ اے نے اس پوری نظم زلزلہ سے قط کو لے کر مرزا کی پیش گوئی پر پمفلٹ چھاپ د چیف گرو محمد علی ایم۔اے کے ڈھول کا پول کھولا تھے نہ مل سکے)

٢٣/٢...... قادیان میں قہری نشان: یہ رسا رہے کہ تاج صاحب کا پہلا رسالہ ”ایک جھوٹی پ لاٹ پادری محمد علی ایم۔اے تو دم بخود ہو گیا۔ البت ”قہری نشان“ نامی رسالہ لکھا۔ جس کا جواب ” احمد تاج نے دیا۔ اس رسالہ کو پڑھ کر آپ محسو

صفحہ ٩

میرٹھی نے یہ رسالہ تحریر کیا۔ مولانا سید مرتضیٰ حسن چاند پوریؒ کا رسالہ ”اشد العذاب علیٰ مسیلمہ پنجاب“ مرزا قادیانی سمیت پوری قادیانی برادری کے لئے اشد العذاب ثابت ہوا۔ محمد صدیق قادیانی میرٹھی محاسب قادیانی جماعت میرٹھ اور دوسرے عزیز احمد سیکرٹری تبلیغ قادیانی جماعت پنڈی نے زور آزمائی کی۔ اوّل الذکر نے ایک ٹریکٹ شائع کیا۔ ثانی الذکر نے سیف الجبار نامی ایک پمفلٹ۔ دونوں کا جواب یہ رسالہ ہے۔ ”قادیانی بینک کا دیوالہ...... مرزائی رنگ میں بھنگ“ مرزا اور مرزائیوں کے کذاب ہونے کی بے شمار اقراری شہادتیں، ان سرخیوں پر مشتمل یہ رسالہ بڑے سائز کے آٹھ صفحات پر شائع ہوا۔ تاریخ اشاعت نہ مل سکی۔

جس کے سیکرٹری ملا محمد بخش تھے۔ ملا محمد بخش صاحب کے صاحبزادے تاج الدین احمد تاج تھے جو اخبار ہنٹر کے ایڈیٹر بھی رہے۔ انہوں نے یہ رسالہ لکھا کہ مرزا قادیانی نے زلزلہ کی خبر دی تھی وہ جھوٹی نکلی۔ مرزا نے ایک نظم لکھی جس میں ایک شعر تھا۔

زار بھی ہوگا تو ہوگا اس گھڑی باحال زار

یہ نظم ایک زلزلہ کے متعلق تھی، جو نہ آیا۔ مرزا قادیانی ذلیل ہوا۔ مرزا قادیانی کے مرنے کے بعد روس میں انقلاب آیا۔ زارِ روس سبکدوش ہوا۔ لاہوری گروپ کے چیف مہنت محمد علی ایم۔اے نے اس پوری نظم زلزلہ سے فقط ایک مصرعہ ”زار بھی ہوگا اس گھڑی باحال زار“ کو لے کر مرزا کی پیش گوئی پر پمفلٹ چھاپ دیا۔ تاج الدین مرحوم نے اس رسالہ میں لاہوری چیف گرو محمد علی ایم۔اے کے ڈھول کا پول کھولا ہے۔ (افسوس کہ اس رسالہ کا ص ٥، ٦، ٧، ٨ گم تھے نہ مل سکے)

رہے کہ تاج صاحب کا پہلا رسالہ ”ایک جھوٹی پیش گوئی پر مرزائیوں کا شور و غل“ پڑھ کر لاہوری لاٹ پادری محمد علی ایم۔اے تو دم بخود ہو گیا۔ البتہ قادیانی گرو مرزا محمود نے اس رسالہ کے خلاف ”قہری نشان“ نامی رسالہ لکھا۔ جس کا جواب ”قادیان میں قہری نشان“ کے نام سے تاج الدین احمد تاج نے دیا۔ اس رسالہ کو پڑھ کر آپ محسوس کریں گے کہ مرزا محمود ملعون کے رسالہ کے کیسے

صفحہ ١٠

آپ نے تار پود بکھیرے ہیں کہ اسے دھجیاں دھجیاں کر دیا ہے۔ ایک پیش گوئی اس کے متعلق مرزا نے کچھ کہا۔ لاہوری چیلے نے کچھ کہا۔ مرزا محمود قادیانی گرو نے پہلے کچھ کہا اب کچھ اور کہا۔ اس شیطان کی آنت کا سرا کہاں سے ملے گا؟ یہ اس رسالہ کا خلاصہ ہے۔ پڑھئے کہ پڑھنے کی چیز ہے۔ ان دو رسائل کے علاوہ موصوف کا ایک رسالہ ”تہذیب قادیانی“ جو مدہم فوٹو ہے۔ محنت طلب ہے۔ اللہ تعالیٰ کو منظور ہے تو کسی اور جلد میں پیش ہوگا۔

غرض احتساب قادیانیت جلد سینتالیس (٤٧) میں ٢٣ کتب ورسائل شامل ہیں۔ ان میں:

گویا ١٣ حضرات کے کل ٢٣ رسائل و کتب احتساب قادیانی کی جلد ٤٧ میں شامل اشاعت ہیں۔ فالحمد لله على ذلك! محتاج دعاء: فقیر اللہ وسایا! ١٩ رمضان المبارک ١٤٣٣ھ، بمطابق ٨ اگست ٢٠١٢ء

خاتم النبیین

لا نبی بعدہ

میں آخری نبی ہوں میرے بعد کوئی نبی نہیں

بیان مقبول

ورد قادیانی مجلہ

حضرت مولانا قاضی غلام

PDF 12

انا خاتم النبيين لا نبي بعدي

میں آخری نبی ہوں، میرے بعد کوئی نبی نہیں

بیان مقبول

و رد قادیانی مجہول

حضرت مولانا قاضی غلام گیلانی

صفحہ ١٣

بسم الله الرحمن الرحيم

تعارف !

نحمده ونصلی علی رسوله الكريم ، اما بعد !

احتساب قادیانیت ج٢٨ میں حضرت قاضی غلام گیلانیؒ (وفات ١٩٤٠ء) کے رد قادیانیت پر دو رسائل تیغ غلام گیلانی بر گردن قادیانی نمبر ٢ جواب حقانی در رد بنگالی قادیانی شائع کر چکے ہیں۔ اس موقع پر حضرت قاضی غلام گیلانیؒ کے پوتے اور ہمارے مخدوم حضرت قاضی محمد زاہد الحسینیؒ کے صاحبزادے مخدوم و مخدوم زادہ مولانا حاجی محمد ابراہیم صاحب امیر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت اٹک نے بیان مقبول و رد قادیانی مجہول رسالہ کا فوٹو بھجوایا۔ ایک تو وہ نامکمل تھا اور یہ کہ بوسیدہ کتاب کے سے فوٹو کے باعث مدھم بھی تھا۔ بہت کوشش کی لیکن بالکل کامیابی نہ ہوئی۔ چنانچہ اسے چھوڑ دیا گیا۔ اب کراچی سے عقیدہ ختم نبوت کی جلد نمبر ٧ میں یہ کتاب شائع شدہ ملی۔ نئے حوالہ جات سے یہاں پیش خدمت ہے۔ (فقیر مرتب)

بسم الله الرحمن الرحيم

سوال نمبر ١...... تفسیر صاوی (یہ تفسیر جلالین کے اوپر حاشیہ ہے) جو مالکی مذہب کی ہے اس میں عیسیٰ علیہ السلام کی موت کا ثبوت ہے۔

جواب ...... بالکل غلط ہے بلکہ متعدد جگہ اس تفسیر میں حیات عیسیٰ علیہ السلام اور جانا ان کا آسمان پر اسی جسم خاکی کے ساتھ مذکور ہے۔ ”جلد اول ، سورہ بقرہ میں زیر آیت ”افكلما جاءكم رسول بما تهوى انفسكم استكبرتم ففريقاً كذبتم وفريقاً تقتلون (البقره:٨٧)“ کے نیچے حاشیہ میں ”قوله كعيسى اى كذبوا اولم يتمكنوا من قتله بل رفعه الله الى السماء “ دیکھو اس میں مرفوع ہونا عیسیٰ علیہ السلام کا آسمان پر مذکور ہے اور سورہ مائدہ ، ص ٢٠٠ زیر آیت کریمہ ﴿واذقال الله يـعيسى ابن مريم ء انت قلت للناس اتخذونى وامى الهين من دون الله...... الخ (المائدہ:١١٦)﴾ (قوله فى القيامة) وقيل ان السوال وقع فى الدنيا بعد رفعه الى السماء اقول تعلق قيل بالسوال لا بما بعد رفعه

٢

الى السماء قوله ﴿فلما توفيتنى﴾ يستعمل التو كاملا والموت نوع منه قال تعالى ﴿الله يتوفى الـ تمت فى منامها﴾ وليس المراد الموت بل الـ (قبضتنى بالرفع الى السماء) حاصل مافى المـ منهم بعد رفعه الى السماء وتستمر الى نزوله ولم تـ نزوله فلم يبق نصرانى ابدا بل اما الاسلام او السـ توفيتنى رفعتنى الى السماء

سوال نمبر ٢...... تفسیر روح البیان میں جو کہ بڑی معتبر کتاب ہـ ہے۔

جواب ...... محض غلط ہے۔ اس سے سابق روح البیان سے ملـ بعینہ جسم خاکی آسمان پر زندہ گئے ہیں اور قرب قیامت تک وہیـ کریں گے وغیرہ وغیرہ اور اب بھی روح البیان سے حیات عیـ ص ٩٥ میں ہے کہ شب معراج میں سب انبیاء علیہم السلام کـ اس طور پر ہوئی کہ ان حضرات کی صورتیں مثالیہ تھیں۔ مثل صـ حضرت ادریس اور حضرت الیاس علی نبینا وعلیہم السلام کے ساتـ کے ساتھ کیونکہ یہ حضرات زندہ ہیں۔ ونـصـه فـراهـم فـي الجسدانية الا عيسى وادريس والخضر واليـ الدنيوية لكونهم من زمرة الاحياء ...... الخ۔

سوال نمبر ٣...... عیسیٰ علیہ السلام کے زمانے کے اوصاف میـ ہے۔ تكون الملل كلها ملة واحدة ـ یعنی سب دین کالـ کیونکہ یہ مخالف ہے اس آیت کریمہ کے وجـاعـل الـذيـن اتـبـ يـوم الـقـيـامـة کیونکہ اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ جولوگ محمـ کافروں پر فوق اور اچھے رہیں گے روز قیامت تک۔ اس سـ داروں کے قیامت تک دنیا میں ہوں گے پس سب دینوں کا ایـ

جواب ...... سب ملتوں کا ایک ملت ہونا بروقت نزول عیسیٰ علیہ ا مریم کے اترتے ہی سب اہل کتاب مسلمان ہو جائیں گے۔ بلـ

٣

صفحہ ١٣

الى السماء قوله ﴿فلما توفيتنى﴾ يستعمل التوفى فى اخذ الشىء وافيا اى كاملا والموت نوع منه قال تعالى ﴿الله يتوفى الانفس حين موتها والتى لم تمت فى منامها﴾ وليس المراد الموت بل المراد الرفع كما قال المفسر (قبضتنى بالرفع الى السماء) حاصل مافى المقام ان هذه العقيدة وقعت منهم بعد رفعه الى السماء وتستمر الى نزوله ولم تقع منهم قبل رفعه واما بعد نزوله فلم يبق نصرانى ابدا بل اما الاسلام او السيف فتعين ان يكون معنى توفيتنى رفعتنى الى السماء

سوال نمبر ٢...... تفسیر روح البیان میں جو کہ بڑی معتبر کتاب ہے۔ موت عیسیٰ علیہ السلام کی مذکور ہے۔

جواب ...... محض غلط ہے۔ اس سے سابق روح البیان سے ثابت کیا گیا ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام بعینہ جسم خاکی آسمان پر زندہ گئے ہیں اور قرب قیامت تک وہیں رہیں گے بعدہ اتر کر دجال کو قتل کریں گے وغیرہ وغیرہ اور اب بھی روح البیان سے حیات عیسوی نقل کر دیتا ہوں۔ سورہ اسراء ص ٩٥ میں ہے کہ شب معراج میں سب انبیاء علیہم السلام کے ساتھ حضرت محمدﷺ کی ملاقات اس طور پر ہوئی کہ ان حضرات کی صورتیں مثالیہ تھیں۔ مثل صورت جسم کے، مگر حضرت عیسیٰ اور حضرت ادریس اور حضرت الیاس علی نبینا وعلیہم السلام کے ساتھ ملاقات ہوئی۔ ان کے جسم دنیوی کے ساتھ کیونکہ یہ حضرات زندہ ہیں۔ ونصه فراهم فى صورة مثالية كهيئتهم الجسدانية الا عيسى وادريس والخضر والياس فانه راهم باجسادهم الدنيوية لكونهم من زمرة الاحياء...... الخ۔

سوال نمبر ٣...... عیسیٰ علیہ السلام کے زمانے کے اوصاف میں سے جو کہ حدیث شریف کا یہ ٹکڑا ہے۔ تكون الملل كلها ملة واحدة ۔ یعنی سب دین کا ایک دین ہو جائے گا درست نہیں۔ کیونکہ یہ مخالف ہے اس آیت کریمہ کے وجاعل الذين اتبعوك فوق الذين كفروا الى يوم القيامة کیونکہ اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ جو لوگ محمدﷺ کی متابعت کریں گے۔ وہ لوگ کافروں پر فوق اور اچھے رہیں گے روز قیامت تک۔ اس سے معلوم ہوا کہ کافر مثل فرقہ ایمان داروں کے قیامت تک دنیا میں ہوں گے پس سب دینوں کا ایک دین ہونا درست نہ ہوگا۔

جواب ...... سب ملتوں کا ایک ملت ہونا بوقت نزول عیسیٰ علیہ السلام یہ مراد نہیں کہ فوراً عیسیٰ بن مریم کے اترتے ہی سب اہل کتاب مسلمان ہو جائیں گے۔ بلکہ جن کی موت علم خداوندی میں کفر

٣

صفحہ ١٥

پرمعین ہے ان کو کفر کی حالت میں بذریعہ جہاد قتل کیا جائے گا اور باقی موجودہ کافر سب ایمان قبول کر لیں گے۔ جیسا کہ ملک عرب کی نسبت حدیث شریف میں وارد ہے کہ عرب میں کوئی گھر نہیں رہا جس میں ”اسلام“ داخل نہ ہوا ہو یعنی ہر ایک عربی مسلمان ہوگا۔ اس کی یہی صورت ہوئی کہ جن کی ہلاکت حالت کفر میں مقدر تھی وہ ہلاک کئے گئے اور باقی مسلمان ہو گئے۔ پس حدیث اور آیت میں کوئی تعارض نہ رہا۔

سوال نمبر ٤....... حدیث وتكون الملل كلها ملة واحدة یعنی عیسیٰ علیہ السلام کے زمانے میں سب مختلف دین کا ایک دین مسلمانی ہو جائے گا۔ مخالف ان دو آیتوں کے ہے۔ کیونکہ یہ حدیث مشیت خداوندی کے خلاف ہے۔ اول آیت ﴿ولو شئنا لاتينا كل نفس هداها ولكن حق القول منى لا ملئن جهنم من الجنة والناس اجمعين﴾ (سجدہ ١٣) اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اور اگر ہم چاہیں تو البتہ دیں ہر نفس کو اس کی ہدایت لیکن ثابت ہو چکا ہے مجھے یہ قول کہ البتہ پر کروں گا جہنم کو جنات اور بنی آدم کل سے دوسری آیت یہ ہے ﴿ولو شاء ربك لجعل الناس امة واحدة ولا يزالون مختلفين الا من رحم ربك ولذالك خلقهم وتمت كلمة ربك لا ملئن جهنم من الجنة والناس اجمعين﴾ (ہود: ١١٨، ١١٩) اور اگر چاہتا رب تیرا اے محمدﷺ تو البتہ کر دیتا کل لوگوں کو ایک گروہ اور یہ لوگ ہمیشہ مختلف ہوں گے۔ مگر جس پر کہ اللہ تعالیٰ رحم کرے اور اسی لئے ان کو پیدا کیا ہے اور پوری ہوچکی ہے۔ بات رب تیرے کی البتہ بھروں گا دوزخ کو جنات اور بنی آدم سے۔

جواب...... کوئی مخالفت اور تعارض نہیں کیونکہ آیت اول کا مفاد یہ ہے کہ ہم نے چوں کہ انسانات اور جنات سے دوزخ کا بھرنا منظور کر لیا ہے۔ لہٰذا ہر ایک جن اور ہر ایک آدمی کو ہم نے ہدایت نہیں دی۔ ورنہ اگر ہم چاہتے تو سب کو ہدایت دے دیتے اور یہ ہو سکتا ہے کہ سب کو ہدایت بھی نہ ہو اور جہنم کو بھی پر کر دیا جائے۔ باوجو د اس کے کہ عیسیٰ علیہ السلام کے زمانے کے لوگ سب ایک ملت ہو جائیں یعنی عیسیٰ علیہ السلام کے وقت سے ماقبل کے لوگ مختلف رہیں اور عین عیسیٰ علیہ السلام کے وقت کے لوگ بہر حالت کفر کی موت سے بچ جائیں وہ سب کے سب ایک ملت پر ہو جائیں اور پھر بعد زمانہ عیسیٰ علیہ السلام کے لوگ بوجہ فسق وفجور کے بے دین ہوں گے۔

قیامت تو شریروں پر ہی قائم ہوگی۔ پس عیسیٰ علیہ السلام کے زمانے سے اول اور آخر کے لوگوں سے مع جنات کے جہنم پر کر دی جائے گی اور ان کے وقت کے مسلمان لوگ بوجہ ہدایت کے جہنم سے بچائے جائیں گے اور دوسری آیت بحسب استثناء من رحم ربك مرحومین کا ٤

اتفاق ایک ملت پر ہو سکتا ہے۔ رہے غیر مرحومین سو وہ جب تک ز بھی رہیں گے اور لا یزالون کا یہ مقتضیٰ نہیں کہ غیر مرحومین ہ کیونکہ لایزال کا مدلول صرف اتنا ہی ہے کہ محمول منفک نہیں ہ موضوع (غیر مرحومین) کا اختلاف سے خالی نہیں۔ دیکھو قول باری الذى بنوريبة فى قلوبهم (التوبہ: ١١٠) جس کا مدلول بنيانهم (ان کی عمارتوں) سے تاحین حیات ان کے نہ ہوگا۔ ہاں گے ان کا شک بھی نہ ہوگا۔ ﴿كما قال الله تعالى الا ان تقط کہ ٹکڑے ٹکڑے کٹ جائیں دل ان کے یعنی مرجائیں۔ پس ت مرحومین ہی نہ رہیں گے تو ان کا اختلاف کیسے ہوگا؟ پس ان آیات میں تعارض نہیں لیکن بے علمی بری مرض ہے۔

سوال نمبر ٥....... مرزا کہتا ہے کہ حدیث کا ایک ٹکڑا حضرت عیسیٰ علی ہے۔ ليدعون الى المال فلا يقبله احد ۔ وہ میرے ح اشتہارات کے روپیہ دینے کا وعدہ کیا اور مخالفین اسلام کو بلایا اور ک

جواب....... حدیث شریف میں تو ”فلا يقبله احد“ مذکور ہے السلام کے زمانہ میں چوں کہ سب لوگ اہل اسلام ہی ہوں گے او اعلیٰ درجہ ہوگی اور سب تارک اور زاہد ہوں گے۔ چنانچہ اس پر فقرہ حد خيرا من الدنيا وما فيها شاہد ہے۔ اس لئے وہ مسلمان ع نہ یہ کہ مخالفان اسلام بھی موجود ہوں گے اور ان کو بمقابلہ اظہا روپیہ دینے کا وعدہ دیا جائے گا اور وہ قبول نہ کریں گے۔ فان ق خير من الدنيا وما فيها لان الاخرة خير وابقى كل مال الدنيا اذ حينئذ لا يمكن التقرب الى الل بشيء يعنى ان الناس يرغبون عن الدنيا حتى تك اليهم من الدنيا وما فيها......الخ.

سوال نمبر ٦.......فرشتے زمین پر نہیں اترتے اور جب اتریں گے ایمان لانا مفید نہ ہوگا۔ اور حدیث دمشقی جس میں نزول عیسیٰ علی ہاتھ رکھ کر مذکور ہے وہ موضوع اور جھوٹی ہے۔ اس کو یہ آیت جھو ٥

صفحہ ١٥

اتفاق ایک ملت پر ہو سکتا ہے۔ رہے غیر مرحومین سو وہ جب تک زمین پر موجود رہیں گے مختلف بھی رہیں گے اور لا یزالون کا یہ مقتضیٰ نہیں کہ غیر مرحومین سے زمین کسی وقت خالی نہ ہوگی۔ کیونکہ لا یزال کا مدلول صرف اتنا ہی ہے کہ محمول منفک نہیں موضوع سے یعنی کوئی وقت وجود موضوع (غیر مرحومین) کا اختلاف سے خالی نہیں۔ دیکھو قول باری تعالیٰ کا ﴿لا يزال بنيانهم الذي بنوا ريبة في قلوبهم (التوبۃ:١١٠)﴾ جس کا مدلول اسی قدر ہے کہ شک کا انفكاك بنیانھم (ان کی عمارتوں) سے تاحین حیات ان کے نہ ہوگا۔ ہاں اگر مر گئے تو چونکہ خود ہی نہ ہوں گے ان کا شک بھی نہ ہوگا۔ ﴿كما قال الله تعالى الا ان تقطع قلوبهم (التوبۃ:١١٠)﴾ مگر یہ کہ ٹکڑے ٹکڑے کٹ جائیں دل ان کے یعنی مر جائیں۔ پس زمان مسیح بن مریم میں چونکہ غیر مرحومین ہی نہ رہیں گے تو ان کا اختلاف کیسے ہوگا؟ پس ان آیات اور حدیث میں بھی کوئی تعارض نہیں لیکن بے علمی بری مرض ہے۔

سوال نمبر ٥...... مرزا کہتا ہے کہ حدیث کا ایک ٹکڑا حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں جو واقع ہے۔ لیدعون الی المال فلا یقبلہ احد ۔ وہ میرے حق میں ہے کیونکہ میں نے بذریعہ اشتہارات کے روپیہ دینے کا وعدہ کیا اور مخالفین اسلام کو بلایا اور کسی نے قبول نہ کیا۔

جواب...... حدیث شریف میں تو "فلا یقبلہ احد" مذکور ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ مسیح علیہ السلام کے زمانہ میں چوں کہ سب لوگ اہل اسلام ہی ہوں گے اور سب کو رغبت عبادت کی بغایت درجہ ہوگی اور سب تارک اور زاہد ہوں گے۔ چنانچہ اس پر فقرہ حتى تكون السجدة الواحدة خيرا من الدنيا وما فيها شاہد ہے۔ اس لئے وہ مسلمان عابد، زاہد دنیا کو قبول نہ کریں گے۔ نہ یہ کہ مخالفان اسلام بھی موجود ہوں گے اور ان کو بمقابلہ اظہار حقانیت اسلام بذریعہ اشتہارات روپیہ دینے کا وعدہ دیا جائے گا اور وہ قبول نہ کریں گے۔ فان قلت السجدة الواحدة دائما خير من الدنيا وما فيها لان الاخرة خير وابقىٰ. قلت الغرض انها خير من كل مال الدنيا اذ حينئذ لا يمكن التقرب الى الله تعالى بالمال۔ وقال التور بشتی یعنی ان الناس یرغبون عن الدنیا حتی تکون السجدة الواحدة احب اليهم من الدنيا وما فيها....... الخ.

(عینی بخاری ج ٢ ص ٤٠٢)

سوال نمبر ٦...... فرشتے زمین پر نہیں اترتے اور جب اتریں گے تو اتمام حجت ہو جائے گا پھر کسی کا ایمان لانا مفید نہ ہوگا۔ اور حدیث دمشقی جس میں نزول عیسیٰ علیہ السلام کا فرشتوں کے کاندھے پر ہاتھ رکھ کر مذکور ہے وہ موضوع اور جھوٹی ہے۔ اس کو یہ آیت جھوٹا کر رہی ہے۔ ﴿هل ينظرون.

٥

صفحہ ١٧

الا ان تاتيهم الملئكة اوياتی ربك اوياتی بعض آیات ربك ط يوم یاتی بعض آیات ربك لا ينفع نفسا ايمانها لم تكن امنت من قبل او كسبت فی ایمانها خيراً (انعام: ١٥٨) نہیں نظر کرتے یہ کفار مگر اس بات کی کہ آئیں ان کے پاس فرشتے یا آئے رب تیرا یا آئے بعض نشانی پروردگار کی۔ یعنی غضب وعذاب اور جس دن آجائے گی۔ بعض نشانی تیرے رب کی نہ نفع دے گا کسی شخص کو اس کا ایمان، جو اس نشان کے قبل ایمان نہ لایا ہوگا اور جس نے اپنے ایمان میں پہلے اس سے کوئی بھلائی حاصل نہ کی ہوگی۔ مرزا انہیں آیات اور ان کی مثل سے سند پکڑ کر نزول ملائکہ سے زمین پر منکر ہیں اور ملائکہ کو ارواح کواکب قرار دیا ہے۔

جواب....... نزول ملائکہ زمین پر کئی بار ہو چکا ہے اور ہوتا رہتا ہے اور ہوگا قیامت تک۔ اس کا انکار کرنا بالکل حماقت ہے۔ قرآن شریف میں ہے۔ فارسلنا اليها روحنا فتمثل لها بشرا سویا (مریم: ١٧) دوسری جگہ وارد ہے هل اتك حديث ضيف ابراهيم المكرمين (ذاریات: ٢٤) تیسری جگہ وارد ہے۔ اذ تقول للمؤمنين الن يكفيكم ان يمدكم ربكم بثلثة الف من الملئكة منزلين. بلی ان تصبروا وتتقوا وياتوكم من فورهم هذا يمددكم ربكم بخمسة الف من الملئكة مسومين (آل عمران: ١٢٤، ١٢٥) چوتھی جگہ میں وارد ہے ولما جأت رسلنا لوطا سیء بهم وضاق بهم ذرعاً وقال هذا يوم عصيب وجاءه قومه يهرعون الیہ ط ومن قبل كانوا يعملون السيئات ط قال یقوم هؤلاء بناتی هن اطهر لكم فاتقوا الله ولا تخزون فی ضیفی ط الیس منكم رجل رشيد. قالوا لقد علمت مالنا فی بناتك من حق ط وانك لتعلم ما نرید. قال لو ان لی ...... الخ (ہود: ٧٧، ٧٩) ان سب آیات قرآنی میں مرزا اور مرزائی کیا عقیدہ رکھتے ہیں؟ آیا یہ آیات قرآنی ہیں یا نہیں، اور نزول ملائکہ اور چلنا پھرنا ان کا زمین پر ثابت کر رہی ہیں یا نہیں۔

یعنی "ارواح کواکب" بزعم مرزا زمین پر اتریں تو کواکب آسمان سے کیوں نہ گریں یا متغیر نہ ہوئیں جسم بلا روح کیسے قائم رہ سکتا ہے۔ یہ تمثل بصورت بشری مریم کے نزدیک آنے والا ۔ اور یہ جو تین ہزار اور پانچ ہزار مسومے گھوڑوں پر سوار تھے اور یہ مہمان ابراہیم اور لوط علیہما السلام کے اور خوش شکل جس پر اثر سفر کا معلوم ہوتا تھا اور سب حاضرین مجلس نبوی ﷺ اس سے ناواقف تھے۔ جیسا کہ بخاری اور مسلم اور ترمذی اور ابی داؤد اور نسائی اور ابن ماجہ میں مذکور ہے۔ کہ اس کے بارے میں حضرت ﷺ نے فرمایا۔ فانه جبرائیل علیه السلام اتاكم ٦

يعلمكم دينكم پس یہ تحقیق جبرائیل علیہ السلام ہیں۔ آئے دین تمہارا، اور بخاری میں ابن عباس سے ہے: قال قال ر جبرائيل اخذ برأس فرسه عليه اداة الحرب. يـ فرمایا کہ یہ جبرائیل علیہ السلام ہیں۔ مسلح کھڑے ہوئے اور جس نے آنحضرت ﷺ کو امام بن کر تعلیم کیفیت نماز کی اور ر کا دور کرتا تھا اور وہ گھوڑے کا سوار جس کو فرعون کے لشکر گھوڑے کے قدموں کی اٹھائی اور وہ شخص جو صورت دحية حضرت ﷺ نے حضرت عائشہ یا صدیق اکبر کو فرمایا کہ یہ جـ فرستادہ جو اہل طائف کو ایذا دینے کے وقت کہتا تھا کہ اے محـ تو میں اس پہاڑ کو ان کے سر پر پھینکوں وغیرہ وغیرہ۔ کیا آیا یہ سب ارواح کواکب ہی تھے؟ قرآن تاکہ ایک آیت کو حسب زعم اپنے کسی معنی مفید مطلب پر دال پیدا نہ کریں مرزا کی طرح سے۔

سوال نمبر ٧ ...... فرشتوں کا زمین پر آنا جبرائیل علیہ السلا اصلی صورت کو چھوڑنا کیونکر ہو سکتا ہے؟

جواب ...... ہو سکتا ہے کہ اس کی زائد خلقت اور صورت یـ کے پھر اس کو ملحق ہو جب کہ تبلیغ کر چکا ہوگا۔ بوجہ اس کے حق کے درست نہیں ہے۔ علم منطق میں ہے الملك جسـ مختلفة لا يذكر ولا يؤنث یعنی بخاری ”جلد اول میں یہ جملہ ہے۔ واحيانا يتمثل لى الملك رجلا یـ یعنی اس کے تحت میں فرماتے ہیں۔ قول يتمثل اى یتـ يتكلف ان يكون مثالا لشئ اخر وشبيها له يتشكل باى شكل شاء وهو قول اكثر المـ جواهر قائمة بانفسها ليست بمتحيزة ا بيان الاجوبة والا سئلة في هذا الحديث ٧

صفحہ ١٧

يعلمكم دينكم پس یہ تحقیق جبرائیل علیہ السلام ہیں۔ آئے ہیں تمہارے پاس۔ سکھاتے ہیں تم کو دین تمہارا، اور بخاری میں ابن عباس سے ہے: قال قال رسول الله ﷺ یوم بدر ھذا جبرائیل اخذ برأس فرسه عليه اداة الحرب۔ یعنی حضرت ﷺ نے جنگ بدر کے روز فرمایا کہ یہ جبرائیل علیہ السلام ہیں۔ مسلح کھڑے ہوئے اور گھوڑے کو پکڑے ہوئے اور وہ معلم جس نے آنحضرت ﷺ کو امام بن کر تعلیم کیفیت نماز کی اور رمضان میں آپ کے ساتھ قرآن مجید کا دور کرتا تھا اور وہ گھوڑے کا سوار جس کو فرعون کے لشکر نے دیکھا اور سامری نے خاک اس گھوڑے کے قدموں کی اٹھائی اور وہ شخص جو صورت دحیۃ کلبیؓ صحابی میں آیا تھا اور ایک دفعہ حضرت ﷺ نے حضرت عائشہؓ یا صدیق اکبرؓ کو فرمایا کہ یہ جبرائیل ہے اور تم کو سلام دیتا ہے اور وہ فرستادہ جو اہل طائف کو ایذا دینے کے وقت کہتا تھا کہ اے محمد ﷺ تیرا خدا فرماتا ہے کہ اگر تو چاہے تو میں اس پہاڑ کو ان کے سر پر پھینکوں وغیرہ وغیرہ۔

کیا آیا یہ سب ارواح کواکب ہی تھے؟ قرآن کریم کو کسی سمجھ والے سے پڑھنا چاہئے تاکہ ایک آیت کو حسب زعم اپنے کسی معنی مفید مطلب پر دال ٹھہرا کر آیات اور احادیث میں تحریف پیدا نہ کریں مرزا کی طرح سے۔

سوال نمبر ٧ ...... فرشتوں کا زمین پر آنا جبرائیل علیہ السلام کا متمثل ہونا بصورت بشری اور اپنی اصلی صورت کو چھوڑنا کیونکر ہو سکتا ہے؟

جواب ...... ہو سکتا ہے کہ اس کی زائد خلقت اور صورت بعد بالکلیہ فنا ہو جانے اور زائل ہو جانے کے پھر اس کو ملتی ہو جب کہ تبلیغ کر چکتا ہوگا۔ بوجہ اس کے کہ تداخل دو صورتوں کا باہم نزدیک اہل حق کے درست نہیں ہے۔ علم منطق میں ہے الملك جسم نوری يتشكل باشكال مختلفة لا يذكر ولا یونث یعنی بخاری "جلد اول" میں عبداللہ بن یوسف کی حدیث جس میں یہ جملہ ہے۔ واحیانا يتمثل لى الملك رجلا پوری کاشف اس وہم کی ہے۔ امام ہمام عینی اس کے تحت میں فرماتے ہیں۔ قول يتمثل ای يتصور مشتق من المثال وهو أن يتكلف ان يكون مثالا لشئ آخر وشبيها له قوله الملك جسم علوى لطيف يتشكل باى شکل شاء وهو قول اكثر المسلمين وقالت الفلاسفة الملئكة جواهر قائمة بانفسها ليست بمتحيزة البتة ثم قال الامام الموصوف فى بیان الاجوبة والاسئلة فی ھذا الحدیث

٧

صفحہ ١٩

العاشر ماقيل ما حقيقة تمثل جبرائيل عليه السلام له رجلا اجيب بانه يحتمل ان الله تعالى افنى الزائد من خلقه ثم اعاده عليه ويحتمل ان يزيله عنه ثم يعيده اليه بعد التبليغ نبه على ذالك امام الحرمين واما التداخل فلا يصح على مذهب اهل الحق۔ اور اس جواب کے متصل دوسرا سوال اور جواب بھی فرماتے ہیں۔

سوال نمبر ٨ ...... جبرائیل علیہ السلام کے 600 پر ہیں جب کہ وقت ملاقات رسول اللہ ﷺ کے دحیہ کلبیؓ صحابی کی صورت پر بن کر آتے تھے تو ان کی وہ روح کہاں جاتی تھی۔ پس اگر اس چھوٹی صورت میں وہ روح آتی تھی تو کیا بڑا جسم اصلی اس کا فنا ہوتا تھا یا باقی رہتا تھا۔ سوائے روح کے اور اگر وہ روح اس اپنے بڑے جسم میں رہتی تھی تو وہ جسم کلاں دحیہ کلبی کی صورت پر نہیں ہوتا تھا اور نہ یہ روح اور نہ یہ جسد جبرائیل علیہ السلام کا تھا۔

جواب ...... جبرائیل علیہ السلام کی روح ان کے جسم کلاں سے منتقل ہو کر جسم صغیر میں آجاتی تھی جو کہ بصورت دحیہ کلبیؓ صحابی کے تھا۔ اور جسم کلاں باقی زندہ رہتا تھا۔ سوائے روح کے جیسے شہیدوں کی روحیں منتقل ہو کر سبز جانوروں کے جو اصل پوٹوں میں رہتی ہیں اور جسم کی موت بوجہ جدا ہو جانے روح کے عقلاً واجب نہیں ہے۔ بلکہ پروردگار نے موت جسدی کو عادت کریمہ کے ساتھ بوجہ مفارقت روح کے بنی آدم وغیرہ حیوانات میں جاری کیا ہے۔ بس اس سے یہ نہیں لازم آتا کہ ملائکہ میں بھی بوجہ مفارقت روح کے موت جسم کی ہو جائے۔

قال الامام الهمام بدر الدين العينى الحنفى فى شرح البخارى تحت الحديث المذكور الحادى عشر ماقيل اذا لقى جبرائيل النبى ﷺ فى صورة دحية. فاين تكون روحه ؟ فان كان فى الجسد الذى له ست مائة جنح فالذى اتى لا روح جبريل ولا جسده وان كان فى هذا الذى هو صورة دحيه فهل يموت الجسد الاعظم، ام يبقى خالياً من الروح المنتقلة عنه الى الجسد المشبه بجسد دحية اجيب بانه لا يبعد ان لا يكون انتقالها موجب موته فيبقى الجسد حيا لا ينقص من مفارقته شى ويكون انتقال روحه الى الجسد الثانى كا نتقال ارواح الشهداء الى اجواف طير خضر وموت الاجساد بمفارقة الارواح ليس بواجب عقلا بل بعادة اجراها الله تعالى فى بنى آدم فلا يلزم فى غيرهم۔

٨

سوال نمبر ٩ ...... آیت ﴿ومن نعمره ننكسه فى الخلـ حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر کیونکہ حسب اس آیت کے جو شخص بـ اور واژگونی بہ نسبت پہلی حیات کے پیدا ہوتی ہے۔ تو کیا حـ زندہ رہے۔

جواب ...... اس شخص سے مراد حضرت عیسیٰ علیہ السلام ہیں ہے۔ ہم کہتے ہیں کہ اسی یا نوے سال کی قید جو مرزا نے لگا ئی یہ کلام الہی میں تحریف نہیں تو اور کیا ہے۔ قرآن شریف مـ بارے میں نہیں دیکھی جو پروردگار فرماتا ہے۔ ﴿ولبثوا فـ دادو تسعاً (کہف: ٢٥)﴾ اور ٹھہرے لوگ غار میں تین سـ یعنی ١٣٠٩ اگر اس آیت ﴿ومن نعمره ننكسه (يٰسین: ٦٨ اصحاب کہف کو ٣٠٩ تین سونو برس تک کس طرح ٹھہرایا ؟ آیت کے اور اب ١٣٣٢ اور جو گزر گئے۔ مجموعہ فتاویٰ مولوی کہف امام مہدی کے ہمراہ ہو کر دجال سے لڑائی کریں ۔ تک زندہ ہیں۔ جیسا کہ تفسیر روح البیان، جلد رابع، ص ١٠٣ ر باتفاق جمہور اہل تصوف ومحدثین و بزرگانِ دین خواجہ خضر کہ حضرت شیخ غوث پاک عبدالقادر جیلانی شیخ المشائخ بغد جیسا کہ ”فواتح الرحموت“ شرح مسلم الثبوت، ص ٤١٢ میں ایک ہزار چار سو ١٤٠٠ برس اور حضرت آدم کی عمر ٩٣٠ سال ٩١٢ سال اور حضرت ادریس علیہ السلام کی عمر تین سو چھپن بـ عمر ایک سو بیس سال ١٢٠ اور حضرت ابراہیم علیہ السلام کی آیت قرآنی کے ہوئی ؟ مرزا نے افسوس کہ کوئی سیر اور تاریـ بری بلا ہے۔

سوال نمبر ١٠ ...... آیت ﴿ومنكم من يتوفى ومنكم ہے۔ وفات عیسیٰ پر، معنی اس کا یہ اور بعض تم لوگوں سے لوگوں سے لوٹایا جاتا ہے۔ بطرف ارذل اور خراب عمر

٩

صفحہ ١٩

سوال نمبر ٩...... آیت ﴿ومن نعمره ننکسه فی الخلق (یٰسٓ:٦٨)﴾ دال ہے۔ وفات حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر کیونکہ حسب اس آیت کے جو شخص اسی یا نوے سال کو پہنچتا ہے اس کو نکوس اور واژگونی بہ نسبت پہلی حیات کے پیدا ہوتی ہے۔ تو کیا حال ہوگا اس شخص کا جو ہزار سال تک زندہ رہے۔

(ایام الصلح ص ١٤٤، خزائن ج ١٤ ص ٣٨٦)

جواب...... اس شخص سے مراد حضرت عیسیٰ علیہ السلام ہیں اور ”ایام الصلح“ مرزا کی کتاب کا نام ہے۔ ہم کہتے ہیں کہ اسی یا نوے سال کی قید جو مرزا نے لگائی ہے۔ کون سے کلمہ قرآنی کا معنی ہے؟ یہ کلام الٰہی میں تحریف نہیں تو اور کیا ہے۔ قرآن شریف میں کیا تم نے آیت اصحاب کہف کے بارے میں نہیں دیکھی جو پروردگار فرماتا ہے۔ ﴿ولبثوا فی کهفهم ثلث مائة سنین واز دادو تسعاً (کہف:٢٥)﴾ اور ٹھہرے لوگ غار میں تین سو برس اور زیادہ کئے انہوں نے نو برس۔ یعنی ٣٠٩ اگر اس آیت ﴿ومن نعمره ننکسه (یٰسٓ:٦٨)﴾ کا مطلب اسی یا نوے برس ہے تو اصحاب کہف کو ٣٠٩ تین سو نو برس تک کس طرح ٹھہرایا؟ بلکہ یہ تین سو نو برس تو وقت نزول اس آیت کے اور اب ١٣٣٢ اور جو گزر گئے۔ مجموعہ فتاویٰ مولوی عبدالحئی ص ١٦ ج ٣ میں ہے کہ اصحاب کہف امام مہدی کے ہمراہ ہوکر دجال سے لڑائی کریں گے اور حضرت الیاس علیہ السلام جو اب تک زندہ ہیں۔ جیسا کہ تفسیر روح البیان، جلد رابع، ص ١٠٣ میں ہے۔ ہزاروں برس کی عمر ہوگی اور بالاتفاق جمہور اہل تصوف ومحدثین وبزرگان دین خواجہ خضر علیہ السلام جو اب تک زندہ ہیں۔ جیسا کہ حضرت شیخ غوث پاک عبدالقادر جیلانی شیخ المشائخ بغدادیؒ نے ان سے ملاقات بھی کی ہے۔ جیسا کہ ”فواتح الرحموت“ شرح مسلم الثبوت، ص ٤١٢ میں ہے اور حضرت نوح علیہ السلام کی عمر ایک ہزار چار سو ١٤٠٠ برس اور حضرت آدم کی عمر ٩٣٠ سال اور حضرت شیث علیہ السلام کی عمر نو سو بارہ ٩١٢ سال اور حضرت ادریس علیہ السلام کی عمر تین سو چھپن سال ٣٥٦ اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کی عمر ایک سو بیس سال ١٢٠ اور حضرت ابراہیم علیہ السلام کی دو سو تیس برس ٢٣٣ کیسے خلاف مدلول آیت قرآنی کے ہوئی؟ مرزا نے افسوس کہ کوئی سیر اور تاریخ کی کتاب بھی نہ دیکھی۔ جہالت بھی بری بلا ہے۔

سوال نمبر ١٠...... آیت ﴿ومنکم من یتوفی ومنکم من یرد الی ارذل العمر﴾ دلالت کرتی ہے۔ وفات عیسیٰ پر، معنی اس کا یہ اور بعض تم لوگوں سے فوت ہوتا ہے اور مر جاتا ہے اور بعض تم لوگوں سے لوٹایا جاتا ہے۔ بطرف ارذل اور خراب عمر کے، قرآن شریف میں کسی جگہ یہ وارد نہیں

٩

صفحہ ٢١

ہے کہ بعض لوگوں نے اس جسم کے ساتھ آسمان کی طرف چڑھ جانا مانا ہے اور پھر لوٹے گا آخر الزماں میں۔ یعنی اس قسم کی عبارت منکم من صعد الی السماء بجسدہ العنصری ثم یرجع فی آخر الزمان۔ قرآن شریف میں کسی جگہ میں وارد نہیں ہے۔ فقط دونوں ہی امر کا ذکر ہے۔ اب اگر بعض لوگوں کا چڑھنا بطرف آسمان کے بھی مانا جائے تو تیسرا امر بھی نکل آیا اور آیت مذکورہ کا حصر باطل ہو گیا۔

جواب...... مسیح بن مریم علیہما السلام اس آیت کے منطوق میں سے ﴿ومنكم من يرد الى ارذل الـعـمـر (النحل: ٧٠)﴾ داخل ہے اور ارذل العمر کے لئے کوئی حد معین نہیں ہے نہ منصوصی کہ کسی آیت میں تصریح ہو اور نہ عقلی۔ تاکہ اس سے متجاوز ہونا موجب موت ہو اور علماء طبیعیین نے جو تحدید کی ہے اس کو شیخ اکبر اپنے کشفی طور سے فتوحات میں رد فرماتے ہیں۔ مضمون ان کے قول کا یہ ہے کہ ”اگر جو کچھ علم طبعی میں ہمارے پر مکشوف ہوا ہے۔ علماء طبیعیین کو معلوم ہوتا تو ہرگز عمر طبیعی انسان کی محدود بحد معین نہ کہتے۔ امید ہے کہ مرزائی کشفی دلیل کو تو مان ہی لیں گے۔ کیونکہ مرزا خود کشفی دلیلوں پر جا بجا سند لایا اور شیخ اکبر کو اپنا پیشوا جانتا تھا۔ باقی رہا حضرت مسیح کا آسمان پر تشریف لے جانا سو یہ ان حالات میں سے ہے جو متوسط بین الولادۃ والموت ہیں۔ حالات متوسطہ کا ذکر اگر ضروری سمجھا جائے تو چاہئے کہ عدم ذکر واقعہ صلیب بھی جیسا کہ مرزا کا اور سارے مرزائیوں کا مزعوم ہے۔ یعنی مسیح علیہ السلام کو صلیب پر دیا جانا مانتے ہیں۔ موجب بطلان حصر آیت کا ہو۔ اور اگر یہی عدم ذکر موجب بطلان حصر آیت نہیں تو ایسا ہی عدم ذکر صعود الی السماء جو حالات متوسطہ میں سے ہے۔ بھی محل حصر آیت نہیں ہو سکتا ہے۔

سوال نمبر ١١...... از طرف مرزا قادیانی۔ اللہ تعالیٰ قرآن شریف میں فرمایا ﴿ومــا جــعــلــنــاهــم جسدا لا ياكلون الطعام (الانبیاء: ٨)﴾ ”ہم نے نہیں بنایا ان لوگوں کو ایسے جسد کہ نہ کھائیں طعام“ دوسری جگہ قرآن شریف میں وارد ہے۔ ﴿كانا ياكلان الطعام﴾ ”وہ دونوں طعام کھایا کرتے تھے۔“ یہ دونوں آیتیں دلیل ظاہر ہیں۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی موت پر، کیونکہ صریح معلوم ہوتا ہے کہ مایہ حیات انبیاء کا بھی مثل باقی افراد بشری کے طعام ہی ہے، تو پھر آسمان پر زندہ رہنا مسیح کا اتنی مدت بغیر کھانے پینے کے کیسے ہو سکتا ہے؟

جواب...... آیت مذکورہ سے مایہ حیات طعام کا ہونا معلوم ہوتا ہے اور طعام کے معنی ”مـا يـطـعـم“

١٠

کے ہیں۔ یعنی جو ”چیز مطعم“ اور غذا ہو کر ”مایہ حیات“ بنے ۔ غلہ وغیرہ حبوب ہی نہیں۔ بلکہ عام ہے اور یہ چند چیزیں بھی ہمارے نبی کریم حضرت محمد ﷺ نے فرمایا۔ ﴿ایکم مثلی ويسقينى ﴾ بخاری اور مسلم دونوں اس حدیث کو لائے ”اور کون ہے؟ تم میں سے مثل میرے کہ رات گزارتا ہوں اس حال میں ۔“ یعنی میں تمہاری طرح آب و دانہ ظاہری ہی فقط کھا کر ماکولات پر ہی میرا گزارہ ہو۔ بلکہ میری خوراک اور غذا ذکر اور تسبیح وتہلیل جیسا کہ دوسری حدیث میں ہے جس کو مسلم نے روایت کیا ہے۔ فكيف بالمؤمنين يومئذ فقال التسبيح والتقديس ۔ حدیث کا راوی آنحضرت ﷺ سے کیا حال ہو گا؟ جس دن دجال کے ہاتھ میں طعام ہوگا۔ ایمان والوں کا طعام اور مایہ حیات ذکر الٰہی اور تسبیح و تقدیس ہے یعنی سبحان الملك القدوس “ کا ذکر کریں گے اور یہی ذکر ان کا طعام ہوگا انجیل متی“ اور لوقا باب ٤ درس ٤ میں بھی حضرت مسیح علیہ السلام نے فرمایا ہے کہ یہ مسئلہ ”صحف انبیاء علیہم السلام“ میں بیان ہوا ہے کہ کلام ربانی وہی تاثیر کرتی ہے جو عام لوگوں کے جسموں میں ہوتی ہے قرآن میں اصحاب کہف کا قصہ یاد کرو ان کو کس طرح ٣٠٩ سال تک بغیر لطیف شعاع آفتابی اور ہوا کے، اتنی مدت تک زندہ رکھا۔ یہ مرزائی ، انبیاء اور اولیاء کو بھی اپنے اوپر قیاس کرتے ہیں ۔

کار پاکان را قیاس از خود مگیر
گرچہ ماند در نوشتن شیر و شیر

اس امت مرحومہ محمدیہ میں اب بھی اور پہلے بھی ایسے لوگ گزریں گے جن کی زندگی کا ذریعہ ذکر الٰہی ہے اور ہوگا۔

سوال نمبر ١٢...... مرزا کی طرف سے اعتراض کہ قرآن شریف میں آیا ہے ﴿واوصانى بالصلوة والزكوة مادمت حيا﴾ یعنی

١١

صفحہ ٢١

کے ہیں۔ یعنی جو ”چیز طعم“ اور غذا ہو کر ”مایہ حیات“ بنے ”طعام“ کا معنی فقط گیہوں، جو، برنج وغیرہ حبوب ہی نہیں۔ بلکہ عام ہے اور یہ چند چیزیں بھی منجملہ ”افراد طعام“ عام میں سے ہے۔ ہمارے نبی کریم حضرت محمد ﷺ نے فرمایا۔ ﴿ایکم مثلی انی ابیت یطعمنی ربی ویسقینی﴾ بخاری اور مسلم دونوں اس حدیث کو لائے ہیں۔ (فتح الباری ج ١٢ ص ١٧٦) معنی یہ ہوا ”اور کون ہے؟ تم سے مثل میرے کہ رات گزارتا ہوں میں اور میرا رب مجھ کو کھلاتا ہے اور پلاتا ہے“ یعنی میں تمہاری طرح آب و دانہ ظاہری ہی فقط کھا کر گزارہ نہیں کرتا ہوں کہ فقط معتادہ ماکولات ہی میرا گزارہ ہوں۔ بلکہ میری خوراک اور غذا عنایت ایزدی ہے۔ یعنی پروردگار کا ذکر اور تسبیح و تہلیل جیسا کہ دوسری حدیث میں ہے جس کو ”ابوداؤد، امام احمد بن حنبل اور طیالسی نے روایت کیا ہے۔ فکیف بالمؤمنین یومئذ فقال یجزیھم ما یجزی اھل السماء من التسبیح والتقدیس۔ حدیث کا راوی آنحضرت ﷺ سے پوچھتا ہے کہ یا رسول اللہ ﷺ کیا حال ہوگا؟ جس دن دجال کے ہاتھ میں طعام ہوگا۔ آپ نے فرمایا جس طرح آسمان پر رہنے والوں کا طعام اور مایہ حیات ذکر الٰہی اور تسبیح و تقدیس ہے۔ اسی طرح مومنین بھی ”سبحان الملک القدوس“ کا ذکر کریں گے اور یہی ذکر ان کا طعام اور سبب حیات ہوگا اور یہ مسئلہ ”انجیل متی“ اور لوقا باب ٤ درس ٤ میں بھی حضرت مسیح علیہ السلام نے لکھا ہے اور اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ یہ مسئلہ ”صحف انبیاء علیہم السلام“ میں بھی اس طرح مرقوم ہے کہ ”خاصان خدا کے بدن میں کلام ربانی وہی تاثیر کرتی ہے جو عام لوگوں کے جسموں میں طعام کی تاثیر مسلم ہے۔

اصحاب کہف کا قصہ یاد کرو ان کو کس طرح حکیم مطلق نے بغیر ”طعام اور شراب مالوف و معمول“ اور بغیر تلطیف شعاع آفتابی اور ہوا کے، اتنی مدت دراز تک زندہ رکھا۔ افسوس کہ مرزا اور مرزائی، انبیاء اور اولیاء کو بھی اپنے اوپر قیاس کرتے ہیں۔

کار پاکان را قیاس از خود مگیر
گرچہ ماند در نوشتن شیر و شیر

اس امت مرحومہ محمدیہ میں اب بھی اور قیامت تک ایسے آدمی موجود ہیں۔ اور ہوں گے جن کی زندگی کا ذریعہ ذکر الٰہی ہے اور ہوگا۔

سوال نمبر ١٢...... مرزا کی طرف سے اعتراض کہ قرآن شریف میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے۔ ﴿واوصانی بالصلوۃ والزکوۃ مادمت حیا (مریم:٣١)﴾ ”اور وصیت کی ہے مجھ کو یعنی

١١

صفحہ ٢٢

حکم کیا ہے مجھ کو اللہ تعالیٰ نے ساتھ پڑھنے نماز اور زکوٰۃ کے جب تک کہ میں زندہ ہوں۔" پس چاہئے کہ مسیح ابن مریم آسمان پر صلوٰۃ اور زکوٰۃ ادا کرتے ہوں۔ حالانکہ آسمان پر جیسا کہ خوردونوش سے فارغ ہیں ایسا ہی لوازم جسمیت سے بھی۔ علاوہ اس کے ادائے زکوٰۃ مال کو چاہتا ہے اور آسمان پر مال کہاں؟

جواب...... حضرت عیسیٰ علیہ السلام تو دنیا میں بھی بباعث زہد اور فقر کے مالک نصاب نہیں ہوئے۔ ادائے زکوٰۃ کو تو نصاب کا ہونا شرط ہے۔ مرزا اور مرزائی اگر زمین پر عیسیٰ علیہ السلام کا زکوٰۃ دینا ثابت کردیں تو بعد اس کے ہم آسمان پر ثابت کریں گے۔ یہ اعتراض تمسخر ہے ساتھ مسیح ابن مریم علیہما السلام کے اور زکوٰۃ کا معنی مفسرین نے "تزکیہ نفس" بھی لکھا ہے۔

سوال نمبر ١٣...... ﴿انك ميت وانهم ميتون﴾ (زمر: ٣٠) یہ صریح وفات عیسیٰ پر شاہد ہے۔

جواب...... یہ دونوں یعنی ﴿انك ميت﴾ اور ﴿وانهم ميتون﴾ قضیہ مطلقہ عامہ ہیں۔ نہ دائمہ مطلقہ۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ کہ تحقیق تو اے حبیب ﷺ فوت ہونے والا ہے اپنے وقت میں اور وہ انبیاء سابقین بھی اپنے اپنے اوقات میں مرنے والے ہیں۔

اب دیکھو کہ عیسیٰ علیہ السلام کو بعد نازل ہونے کے آسمان سے سب اہل اسلام ”انهم میتون“ میں داخل سمجھتے ہیں یا نہیں اور نزول آیت کے وقت اگر مر جانا ان کا ضروری ہو تو چاہئے کہ حضرت محمد ﷺ بھی وقت نزول آیت کے داخل موت ہو گئے ہوں۔

سوال نمبر ١٤...... ”میت“ مشتق ہے موت سے اور حمل مشتق کا قیام مبداء کو چاہتا ہے جو یہاں پر موت ہے تو بنا بر ایں چاہئے کہ وہ سب مر چکے ہوں۔ حتیٰ کہ مسیح بھی۔

جواب...... ”قیام مبداء“ کے وقت تحقق مضمون قضیہ ضروری ہوتا ہے۔ نہ وقت صدق قضیہ کے یہاں پر منطق کا پردہ بھی کھل گیا کہ مرزا کہاں تک منطق جانتا تھا قضیہ کے تحقق اور صدق میں امتیاز نہیں رکھتا تھا۔

سوال نمبر ١٥...... قرآن شریف میں وارد ہے۔ ﴿والذين يدعون من دون الله لا يخلقون شيئاً وهم يخلقون اموات غير أحياء وما يشعرون أيان يبعثون (نحل: ٢٠، ٢١) یہ آیت دلیل ہے وفات مسیح پر۔

جواب...... یہ آیت ”سورۃ نحل“ کی ہے جس کا نزول مکہ معظمہ میں ہوا ہے۔ بناء علیہ مراد من دون اللہ سے ”معبودات“ مکہ معظمہ کے مشرکین کے ہیں۔ یعنی اصنام اور بت نہ مسیح ابن مریم جو معبود اہل کتاب کا ہے۔ ”ابن عباس اموات“ کی تفسیر میں اصنام اموات فرماتے ہیں۔

١٢

صفحہ ٢٣

سوال نمبر ١٦.....عموم لفظ کا اعتبار ہوا کرتا ہے نہ خصوص مورد کا بنابرایں مراد من دون اللہ سے مطلق معبودات باطلہ ہوں گے بغیر تخصیص بتوں کے، تو مسیح ابن مریم بھی داخل اموات بحکم اس آیت کے ہوگا۔

جواب ...... ”معبودات باطلہ“ میں فقط مسیح ہی اس تقریر پر داخل نہ ہوگا۔ بلکہ ملائکہ جو منجملہ معبودات باطلہ ہیں وہ بھی داخل اموات ہوں گے۔ تو بحکم آیات مذکورہ روح القدس بھی مرگیا۔ اب یہ مصیبت کس پر پڑی مرزا پر، کیونکہ سلسلہ الہامی کا اول ہی سے انقطاع لازم ہوا اور اگر اموات سے وہی معنی مطلقہ عامہ کے رنگ میں سمجھے جائیں۔ یعنی اپنے اپنے اوقات میں جیسا کہ ”بیضاوی“ اور ”ابن کثیر“ اور ”تفسیر کبیر“ اور ”کشاف اور باقی تفاسیر“ میں ہے تو مسیح ابن مریم قبل از وقت معین زندہ رہے گا۔

سوال نمبر ١٧...... ”خاتم النبیین“ ہونا حضرت ﷺ کی دلیل ہے وفات مسیح پر۔ کیونکہ اگر مسیح ابن مریم آسمان پر زندہ ہو اور آخر الزمان میں نزول فرمائے۔ تو آپ کے بعد بھی اور نبی آگیا۔ پس حضرت ﷺ خاتم النبیین نہ رہے اور اگر در رنگ احاد امت آئے تو یہ بھی نہیں ہو سکتا کیونکہ علم ازلی میں جب وہ نبی ہے تو پھر بغیر نبوت کے کیسا نزول کرے گا۔

جواب ...... بعد نزول در رنگ احاد امت ہی اتریں گے۔ علم ازلی کا مسئلہ سنو علم تابع معلوم کے ہوا کرتا ہے۔ من حیث المطابقۃ یعنی جس طرح معلومات ۔ یعنی اشیاء موجود فی الواقع اپنے اپنے وقت میں موجود ہیں۔ اسی طرح حق سبحانہ وتعالیٰ ازل میں قبل از وجود ان کے ان کو جانتا ہے۔ اگر معلوم کا اتصاف کسی صفت کے ساتھ علیٰ سبیل الاستمرار ہو تو اسی طرح اور اگر علیٰ سبیل الانقطاع ہے تو اس طرح اس کو جانتا ہے۔ مسیح ابن مریم کی بلکہ دیگر انبیاء علیہم السلام کی نبوت اور رسالت چونکہ محدود بحد ظہور میں تجلی کے ہوتی ہے۔ لہٰذا علم ازلی میں بھی وصف محدودیت اور انقطاع معلوم ہوگا۔ ورنہ جہل لازم آئے گا۔ تحقیق اس آیت کی کہ جس پر مرزا نے بہت زور لگایا ہے اور اس کی غلطی ہے اور بے علمی کا بیان ۔ تا کہ مسلمان واقف ہوں۔

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا مسئلہ

﴿وان من اهل الکتٰب الا لیؤمنن به قبل موته (النساء:١٥٩)﴾ اولا معنی اس کا یہ ہے کہ ہر ایک اہل کتاب جو موجود ہوگا۔ وقت اترنے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے ضرور ایمان لائے گا۔ ساتھ واقفیت مضمون بالا کے قبل موت حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے، اور مضمون یہ

١٣

صفحہ ٢٥

ہے کہ اٹھایا جانا عیسیٰ علیہ السلام کا آسمان کی طرف اور یہ کہ وہ نبی برحق اور پیغمبر صادق گزرے ہیں اپنے وقت میں۔ بخاری کی حدیث ہے کہ ”رسول اللہ ﷺ یا ابو ہریرہؓ فرماتے ہیں قسم ہے مجھ کو اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے۔ ضرور ہی اتریں گے تم میں ابن مریم شریعت کے حاکم بن کر اور منصف ہو کر اور خنزیر کو حلال جاننا اور پرستش صلیب کی، جو کہ یہ امور ان کے بعد شرع میں نصاریٰ نے داخل سمجھے تھے۔ ان کو یک لخت موقوف کردیں گے۔۔۔ الخ“

پس اس عیسیٰ علیہ السلام سے مراد وہی ابن مریم ہیں۔ جو صاحب انجیل ہوئے ہیں۔ کیونکہ استشہاد کے وقت حضرت ﷺ یا ابو ہریرہؓ اس حدیث کے بیان کے وقت ﴿وان من اهل الکتاب الا لیؤمنن به قبل موته . (النساء:١٥٩)﴾ پڑھ کر سنایا کرتے تھے۔ اگر وہی عیسیٰ علیہ السلام مراد نہ ہوں بلکہ مثیل عیسیٰ علیہ السلام کا جیسا باطل گمان مرزا کا تھا تو آیت سے استشہاد کا کیا معنی ہے۔ افسوس! کہ مرزا بتائیں مثیل عیسیٰ علیہ السلام اپنے گمان میں بن تو گیا مگر موقوف کرنا صلیب پرستی اور حرمت خنزیر خوری اور سب ملتوں کا ایک ملت اسلام کرنا اور مال کی کثرت یہاں تک کہ کوئی اس کو قبول نہ کرتا اور ایک سجدہ کا پیارا ہونا ساری دنیا سے ایک نے بھی نہ کیا۔ یہ نشانیاں ہیں نزول عیسیٰ علیہ السلام کی اور ان کے مثیل نے ایک نشانی بھی موجود نہ کی۔ اور ثانیاً عرض کیا کہ اگر مراد اس حدیث سے مرزا ہی ہوتا مثیل عیسیٰ علیہ السلام کا تو مجلس کے لوگوں، صحابہ وغیرہ کو مرزا کے ہونے نہ ہونے میں تعجب ہی کیا تھا جو حضرت محمد ﷺ قسم کھاتے اور لام تاکید اور نون ثقیلہ سے مؤکد فرما کر لیوشکن فرما کر لوگوں کا تردد رفع فرماتے۔

واضح ہو کہ معنی آیت ﴿وان من اهل الکتاب الا لیؤمنن به قبل موته (النساء:١٥٩)﴾ کا ابو ہریرہؓ سے جو نقل کیا گیا۔ ایسا ہی حضرت عبداللہ بن عباسؓ نے بھی ایک روایت میں فرمایا ہے اور اسی معنی کو علامہ ابن کثیر نے اپنی تفسیر میں بشہادت سوق کلام یعنی چسپاں ہونے معنی کے اپنے ماقبل سے ترجیح دی اور دوسرا معنی جو کہ ایک روایت میں اس طور پر آچکا ہے کہ ہر ایک اہل کتاب قبل اپنی موت کے حضرت عیسیٰ بن مریم علیہ السلام کے اوپر ایمان لائے گا۔ سو یہ فقط وجوہ آیت میں سے ایک وجہ ہے۔ وکون المعنی واقعیا علی وجهه من وجوه الکلام لا يستلزم ان يقوم هو المراد من الكلام لان واقعية المضمون شيء آخر، وكونه مراد شيء آخر فتامل لدقته. ١٤

پہلی دلیل....... ﴿وان من اهل الكتاب الا (النساء:١٥٩)﴾ بمنطوقہ دال ہے۔ نزول مسیح ابن مریم پر اور وہ دوسری دلیل....... رفع عیسیٰ کی جب کہ پروردگار نے یـ یہود کے ہاتھ سے تم کو بچاؤں گا اور اس قول سے تسکین فرمائی بـ ورافعك الی (آل عمران:٥٥)﴾ پس بڑے تعجب کی بات ہے بچانے کا وعدہ فرما کـ ان کے ہاتھ دے کر سولی پر چڑھا دینا۔ بعد اس کے زندہ اتار یہی وعدہ الہیہ کا ثمرہ اور نتیجہ ہے؟ اور عیسیٰ کی دعاؤں کا کیا بـ تھیں۔

تیسری دلیل....... رفع عیسیٰ کی ﴿وانه لعلم للساعة سعید بن منصور ومسدد وعبد بن حمید وابن ابی حاتم اور طبرانی نـ میں ﴿وانه لعلم للساعة﴾ فرمایا: خروج عیسیٰ واخرج عبد بن حميد وابن جرير عن مجاهد ﴿ قال آية ﴿للساعة﴾ خروج عيسى بن مريم قبل عباسؓ سے چند طریق کے ساتھ اس مدعا کو روایت کر کے آخـ عباس وابي العالية وابي مالك وعكرمة والحسـ وقد تواترت الاحاديث عن النبي ﷺ انه اخـ قبل يوم القيامة اماما عادلا...... الخ.

پس ﴿وانه﴾ کی ضمیر بمناسبت سیاق اور اقوال پھیرنی غیر صحیح ہے اور ایسا ہی غیر صحیح ہے عیسیٰ علیہ السلام سے کہ وہ زندہ کرنے والے مردوں کے ہیں یا اور کسی حیثـ مرجع نزول عیسیٰ علیہ السلام ہے۔ جو کہ سیاقاً استلزاماً مذکور مريم مثلاً اذا قومك منه يصدون...... الخ (زخـ ضمیر اور ایسا ہی ام هو اور ان هو اور انعمنا عليه اور و ابن مریم کے۔ ١٥

صفحہ ٢٥

پہلی دلیل ...... ﴿وان من اهل الكتاب الا ليومنن به قبل موته (النساء:١٥٩)﴾ بمنطوقہ دال ہے۔ نزول مسیح ابن مریم پر اور وہ مستلزم ہے رفع جسمی کو۔

دوسری دلیل ...... رفع جسمی کی جب کہ پروردگار نے عیسیٰ علیہ السلام سے فرمایا تھا کہ میں یہود کے ہاتھ سے تم کو بچاؤں گا اور اس قول سے تسکین فرمائی۔ ﴿يـعيسـى انـى متـوفيك ورافعك الى (آل عمران:٥٥)﴾ پس بڑے تعجب کی بات ہے بچانے کا وعدہ فرما کر یہود کے ہاتھ میں گرفتار کر کے اور ان کے ہاتھ دے کر سولی پر چڑھادینا۔ بعد اس کے زندہ اتارنا اور پھر اپنی موت سے اس کو مارنا کیا یہی وعدہ الٰہیہ کا ثمرہ اور نتیجہ ہے؟ اور عیسیٰ کی دعاؤں کا کیا یہی مآل ہے جو کہ رات بھر رو رو کر کی تھیں۔

تیسری دلیل ...... رفع جسمی کی ﴿وانه لعلم للساعة (زخرف:٦١)﴾ اخراج کیا فریابی اور سعید بن منصور ومسدد وعبد بن حمید وابن ابی حاتم اور طبرانی نے حضرت عباسؓ سے اس قول مبارک میں ﴿وانه لعلم للساعة﴾ فرمایا: خـروج عيسى عليـه السـلام قـبل يـوم قيامة . واخرج عبد بن حميد وابن جرير عن مجاهد ﴿وانه لعلم للساعة (زخرف:٦١)﴾ قال آيـة ﴿للساعة﴾ خـروج عيسى بن مريم قبـل يـوم القيـامة. تفسیر ابن کثیر میں ابن عباسؓ سے چند طریق کے ساتھ اس مدعا کو روایت کر کے آخر کو کہا۔ عـن أبـى هـريـرة وابـن عبـاس وابـى العاليـة وابـى مالك وعكرمة والحسن وقتـاده والضحـاك وغيـرهـم وقـد تـواتـرت الاحـاديـث عـن النبـى ﷺ انـه اخبـر بنـزول عيسـى عليـه السـلام قبل يوم القيامة اماما عادلا ...... الخ۔

پس ﴿انه﴾ کی ضمیر بمناسبت سیاق اور اقوال صحابہ وتابعین قرآن شریف کی طرف پھیرنی غیر صحیح ہے اور ایسا ہی غیر صحیح ہے عیسیٰ علیہ السلام کی طرف مرجع کرنا ضمیر کا۔ اس اعتبار سے کہ وہ زندہ کرنے والے مردوں کے ہیں یا اور کسی حیثیت کی رو سے بلکہ ﴿انه﴾ کی ضمیر کا مرجع نزول عیسیٰ علیہ السلام ہے۔ جو کہ سیاقاً استلزاماً مذکور ہے۔ قولہ تعالیٰ: ﴿ولـمـا ضـرب ابـن مـريـم مـثلاً اذا قـومـك منـه يـصـدون ...... الخ (زخرف:٥٧)﴾ اس آیت میں ﴿منه﴾ کی ضمیر اور ایسا ہی ان ھو اور ان ھو اور انعمنا علیہ اور وجعلناہ۔ یہ سب ضمائر راجع ہیں بطرف ابن مریم کے۔

١٥

صفحہ ٢٧

چوتھی دلیل ...... ﴿وما اتاكم الرسول فخذوه وما نهاكم عنه فانتهوا (حشر:٧)﴾ اور آنحضرت ﷺ نے منجملہ علامات قیامت کے یہ خبر بھی دی ہے کہ خارج ہوگا دجال ایک شخص معین یہود میں سے اور مسیح ابن مریم اس کو قتل کرے گا وغیرہ وغیرہ۔ پس ہم مسلمان کو بموجب اس آیت مبارکہ کے رسول اللہ کے فرمان پر ایمان رکھنا چاہئے۔ بے چوں و چرا کے اور جب کہ رفع جسمی اور نزول مسیح علیہ السلام کا قرآن کریم اور احادیث متواترہ صحیحہ سے نہایت واضح طور پر ہو چکا تو اب ہرگز اناجیل کی طرف متوجہ ہونا باعث دھوکہ کھانے یہود اور نصاریٰ کے اس مقام میں بوجہ القائے شبہ جائز نہیں۔

اسی دھوکہ کھانے اور تشکیک کی وجہ سے تواتر ان کا قتل اور صلب عیسیٰ علیہ السلام وغیرہ میں بھی قابل اعتبار کے نہ رہا۔ کیونکہ اجتماع شکوک سے یقین حاصل نہیں ہوتا۔ واقعہ قتل اور صلب عیسیٰ علیہ السلام کا جو کہ ”اناجیل“ میں مذکور ہے اور ایسا ہی افتراء یہود۔ بایں قول کہ ﴿انا قتلنا المسيح ...... الخ (النساء:١٥٧)﴾ کہتے تھے۔ ان سب کی تکذیب باری تعالیٰ کے قول ﴿وما قتلوه وما صلبوه ولكن شبه لهم﴾ اور ﴿وما قتلوه يقيناً بل رفعه الله اليه (النساء:١٥٨)﴾ سے ہو چکی۔ جیسا کہ حضرت مسیح ابن مریم نے خود برنباس کو فرما دیا تھا کہ ”اے برنباس چونکہ میرے حواری یعنی مددگار لوگ وغیرہ بوجہ محبت دنیاوی کے مجھے اللہ کا بیٹا کہتے تھے اور یہ کسی کے لائق نہیں ہے‘ پس پروردگار نے چاہا کہ بروز قیامت مجھ پر لوگوں کی ہنسی نہ ہو تو دنیا میں اللہ نے یہود کی تکلیف دہی اور ان کی بے عزتی کی موت سے مجھ کو بدنام کرنا چاہا۔ لیکن غلطی کی تلافی تا بوقت تشریف لانے جناب رسول اللہ ﷺ کے ہوگی۔ جب حضرت تشریف فرمائیں گے تو اس غلطی قتل اور صلب کو رفع فرمائیں گے۔

استدل القادیانی

على موت عيسىٰ عليه السلام بقوله تعالىٰ ﴿وما محمد الا رسول قد خلت من قبله الرسل افائن مات او قتل انقلبتم على اعقابكم (ال عمران:١٤٤)﴾ بان خلت بمعنى ماتت والرسل جمع معرف بلام الاستغراق فلذا فرع عليه افائن مات ...... الخ اذ لولم يكن الخلو بمعنى الموت اولم تكن الرسل جمعا مستغرقا لما صح التفريع اذ صحته موقوفة على اندراج نبينا ﷺ في لفظ الرسل المذكور قطعا. وذالك بالاستغراق. وكذا صحة موقوفة على كون

١٦

الخلو بمعنى الموت اذا على تقدير التـ تفریع الاخص على الاعم مع ان التفـ المتفرع ومن المعلوم عدم استلزام الاعم تعالىٰ يستدعى تحقيق كلا الامرين من كو الجمع مستغرقا وبعد كلتا المقدمتين وينتج هذا القياس المؤلف من المقدمتين المطلوب والدليل على الصغرىٰ قوله وقوله ماالمسيح ابن مريم الا رسول۔ الفرق الا سلامية برسالته عليه السلا الممهد تان المذكور تان لانه متى كان الرسل وثبت كونه جمعا فيندرج فيـ ثبوت الموت له فى ضمن الكبرىٰ فثبت ما

فارسی ترجمہ: ونیست حضرت محـ تحقیق گذشته اند از قبل آنحضرت تـ آیند۔ پس اگر آنحضرت بمیرایند یا قتل خود از دین مسلمانی واز جانب مر میکنیم که قوله خلت بمعنی ماتت ولفـ معرفه است۔

بنابرین ”افان مات“ بر تقدیـ بمعنی موت يا الرسل جمع مستغرق نبا نگردد۔ زیراکہ صحت این تفریع موقو لفظ الرسل۔ وایں ادخال وقتے باشد کہ تفريع موقوف ست بر بودن خلو بـ وخلو تغائر باشد وخلو را از موت عام كـ حالانكہ تفریع وقتے درست باشد

١٧

صفحہ ٢٧

الخلو بمعنى الموت اذا على تقدير التغاير وعموم الخلو من الموت يلزم تفريع الاخص على الاعم مع ان التفريع يتعقب استلزام ما يتفرع عليه المتفرع ومن المعلوم عدم استلزام الاعم للاخص۔ فالتفريع الواقع في قوله تعالىٰ يستدعى تحقيق كلا الامرين من كون الخلو بمعنى الموت۔ ومن كون الجمع مستغرقا وبعد كلتا المقدمتين يقال ان المسيح رسول وكل مات وينتج هذا القياس المؤلف من المقدمتين القطعيتين ان المسيح مات۔ وهو المطلوب والدليل على الصغرىٰ قوله تعالیٰ ورسولا الى بنی اسرائیل۔ وقوله ماالمسيح ابن مريم الا رسول۔ وامثالهما من الآيات وتسليم جميع الفرق الاسلامية برسالته عليه السلام۔ والدليل على الكبرىٰ المقدمتان الممهدتان المذكورتان لانه متى كان الخلو بمعنى الموت۔ وقد اسند الى الرسل وثبت كونه جمعا، فيندرج فيه المسيح عليه السلام قطعا۔ فيلزم ثبوت الموت له فی ضمن الكبرىٰ فثبت ما نحن بصدده۔

فارسی ترجمہ: ونیست حضرت محمدﷺ مگر فرستادہ پروردگار بہ تحقیق گزشتہ اند از قبل آنحضرتﷺ انبیاء علیھم السلام پیشینیان آیند۔ پس اگر آنحضرت بمیرند یا قتل کردہ شوند شما باز روید۔ بر پائے خود از دین مسلمانی واز جانب مرزا تقریر واصلاح تقریر بایں طور میکنیم کہ قولہ خلت بمعنی ماتت ولفظ الرسل جمع است بالام استغراقی معرفہ است۔

بنابرین ”افان مات“ برو متفرع گشت زیراکہ اگر انباشد خلو بمعنی موت یا الرسل جمع مستغرق نباشد متفرع بودن ”افان مات“ درست نگردد۔ زیراکہ صحت ایں تفریع موقوف است بر داخل بودن نبیﷺ در لفظ الرسل۔ وایں ادخال وقتی باشد کہ ال استغراقی باشد ونیز صحت ایں تفریع موقوف ست بربودن خلو بمعنی موت زیراکہ اگر درمیان موت وخلو تغایر باشد وخلو را از موت عام گیریم لازم آید۔ تفریع اخص براعم۔ حالانکہ تفریع وقتی درست باشد کہ متفرع علیہ را متفرع لازم باشد

صفحہ ٢٨

وظاهر ست عدم استلزام اعم للاخص ۔ پس وجود تفریع در آیت کریمه مقتضی تحقیق دو امر ست يك خلو بمعنى موت دوم بودن الرسل، جمع مستغرق ازیں هر دو مقدمتین يك را صغری برائے شکل اول ۔ دوم را کبری برائے آں بکنیم و شکل اینست عیسیٰ علیه السلام بے شك رسول ست ۔ وهر رسول مرده است وازیں قیاس مرکب از دو مقدمه قطعیه ایں نتیجه برآمد که تحقیق عیسیٰ علیه السلام مرده است ۔ وهمیں مطلوب بود ۔ ودلیل بر اثبات صغری ایں کہ فرموده باری تعالیٰ در حق عیسیٰ علیه السلام در قرآن ورسولا الى بنى اسرائيل وقوله تعالى ﴿ما المسيح ابن مريم الا رسول (مائده:٧٥)﴾ والمثال ایں دو آیت دیگر آیات نیز هستند ورسول بودن حضرت عیسیٰ علیه السلام از اجماع امت ثابت ست ۔ ودلیل بر اثبات کبری آں دو مقدمه اند که اصلاح وتمهيد ایشاں اولا کرده شده زیراکہ چوں خلو بمعنى موت شد ونسبت او بطرف الرسل کرده شد و آں جمع است ۔ پس مندرج میشود ۔ در لفظ الرسل مسیح علیه السلام قطعا ۔ پس لازم شد ثبوت موت برائے عیسیٰ علیه السلام در ضمن کبری ۔ پس مطلب قادیانیاں ثابت شد و اگرچه ایشان را طریقه استدلال معلوم نبود اما ما استحسانا وتبرعا حتی الوسع از طرف ایشاں تقریر علمی مهذب بیان نمودیم و اکنوں ۔ جواب او بریں طور میدهیم ۔

فأقول فى الجواب

المختصر بعون الله تعالى وتوفيقه ان الخلو فى قوله تعالى قد خلت عام لكل مضى من الدنيا ۔ اما بالموت او بغير الموت فصح التفريع وان لم يمت عيسى عليه السلام وهذا ظاهر جدا وهذا الجواب وان كان مختصرا ولكنه فيه كفاية لذوى الدراية ۔

ثم اقول مفصلا ومطولا ومذيلا ایں هر دو مقدمه کہ برائے کبری دلیل آورده شدند مسلم نیستند ۔ استحاله عدم صحت تفریع دریں صورت کہ هر دو مقدمه مذکوره یا فقط يك مقدمه مفقود باشد نیز مسلم نی ونیز ما ایں استدلال را بایں طور مخدوش میکنیم کہ ایں استحاله مطلقا لازم آید

صفحہ ٢٩

سلمت المقدمتان كلتاهما او منعتا وسند المنع الاول ان لفظ الخلو الماخوذ من قوله تعالى ﴿قد خلت.......الخ (مائده:٧٥)﴾ ليس بمعنى الموت ليفرح المستدل والا ليقع التعارض الحقيقى فى كلام الله تعالى وهو يدل على عجز الشارع وانه محال فى جنابه تعالى فمستلزم المحال محال وصورته ان الآية الكريمة ﴿سنة الله التى قد خلت (مؤمن:٨٥)﴾ معناه على زعم المستدل سنة لا وقد ماتت وتوفت والآية الكريمة ﴿ولن تجد لسنة الله تبديلا (احزاب:٦٢)﴾ فان معناه ان السنة الالهية والطريقة السبحانية الربانية لا يتغير من حال الى حال و بين هذا بون كما ترى بل معناه المضى لشيء كما جأت به اللغة وما فسر احد من اصحاب اللغة لفظ قد خلت بمعنى ماتت وتوفت اى بمعنى الموت فعلم ان حقيقة الخلو باعتبار اللغة المضى فقط كما ارشد الله تعالى فى القرآن العظيم فى المنافقين ﴿واذا خلو الى شيطينهم.......الخ (بقره:١٤)﴾ ﴿واذا خلا بعضهم الى بعض (بقره:٧٦)﴾ وظاهر ان المراد منه فى هاتين الكريمتين ليس معنى الموت. وكذا لفظ الخلو فى قوله تعالى ﴿وقد خلت من قبلكم سنن (آل عمران:١٣٧)﴾ وفى قوله تعالى ﴿كلوا واشربو هنيا بما اسلفتم فى الايام الخالية (حاقه:٢٤)﴾ ولا يخفى ان المراد من خلو السنن والايام ليس معنى الموت بل المراد مضيها وهذا معنى يقع صفة الزمان اولا وبالذات يقال قرون خالية وسنون ماضية ويقع صفة الزمانيات ثانيا وبالعرض اى توصف الاشياء التى فى الزمان بالمضى بعلاقة الظرفية والمظروفية. وايضا قال الله تعالى ﴿واذا لقوكم قالوا أمنا واذا خلوا عضوا عليكم الانامل (آل عمران:١١٩)﴾ وايضاء قال الله تعالى ﴿وان من امة الا خلا فيها نذير (فاطر:٢٤)﴾ فمعنى الخلو فى هاتين الايتين المضى مطلقا لا الموت فمعنى الاية ﴿قد خلت من قبله الرسل (آل عمران:١٤٤)﴾ اى مضت الرسل من قبل محمدﷺ سواء كانوا امواتا كآدم ونوح وابراهيم وموسى عليهم الصلوة والسلام او لا كادريس وخضر والياس عليهم السلام فعلى هذا التحقيق ما بقى تمسك للمستدل والحمد لولى الحمد ايضاً.

اگر معنی خلو موت گرفته شود چنانکه قادیانی میگوید. پس این

١٩

صفحہ ٣١

خرابی هم لازم آید که تعریف شے باخص واخفی باشد زیراکه هر گاه فی الواقع نزد اهل لغت معنی خلو گزشتن ورفتن است. پس موت يك قسم ازاں معنی باشد چراکه گزشتن صادق می آید برهريك قسم از اقسام انتقال مکانی اگر از بلندی به پستی رود آن انتقال موسوم به خفض است وبرعکس آن رفع ست یا از قدام بطرف خلف وبرعکس آن یا ازیمیں بطرف شمال وبرعکس۔ وهر قسم موت را شامل ست موت بقتل باشد یا بلا قتل۔ پس ما اگرچه الرسل را جمع مستغرق تسلیم بکنیم هم موت مسیح لازم نمی آید زیراکه خلو گزشتن که عام چیز است اگرچه برائے هر فرد نوع رسول ثابت ست اما مستلزم ایں امر نیست که هر قسم ایں عام برائے هر فرد نوع رسول ثابت گردد۔

والتمسك على تقدير تفسير الخلو بالموت دون المضى بلزوم استحالة تفريع الاخص على الاعم كما تقدم مزيف بان المتفرع بها فى الحقيقة انما هو استبعاد الانقلاب وانكار جواز الارتداد على تقدير فقدان وجود الرسول ﷺ من بين اظهر القوم بعد اداء رسالته وتبليغ الاحكام الالهية فكان تقدير الكلام ﴿وما محمد الا رسول قد خلت (ال عمران:١٤٤)﴾ اى مضت من قبله الرسل فهل يجوز لكم الارتداد بعد ما اقام لكم الدين المتين ان نقل بالرفع كما رفع عيسى عليه السلام او ادريس او بالموت كما حكمنا به فى سابق عملنا او بالقتل كما صاح به الشيطان واستقر فى قلوبكم والتصريح بالثانى موافقته للواقع ومطابقته لتقدير الله تعالى وذكر الثالث وان لم يطابق الواقع والتقدير مراعاة لزعمهم وتوسيعا لنفى جواز الارتداد وعلى كلا الشقين وان كان هذا الثالث مزعوما محضا وجهلا مركبا الا انه لما كان قوى الاحتمال وكثر وقوعه بين الانبياء السابقين كما دل عليه قوله تعالى عزوجل ﴿ويقتلون النبيين بغير الحق (بقره:٦١)﴾ فكان ذكره ضروريا وعدم التصريح بالاول وان كان مقدرا مراد الانتفاء ما يوجب ذكره من الموجبات المذكورة بظهور عدم توافقه القضاء والواقع

٢٠

والعدم استقراره فى قلوبهم وشذوذ تقدمه. فظ نفی جواز الارتداد على تقدير احد الشقوق الدائر بين الثلاثه مساويا للخلوا بمعنى المضى الاعم على تقدير كون المعنى الحقيقى مراد احد المتساويين على الآخر و ذا جائز كما حساس متحرك بالارادة مدرك للكلى والجزء انسان والارتياب فى تساوى هذا المجمل وذالا احدهما على الاخر والامر ان اللذان حكـ متفرعا والآخر متفرعا عليه هو ثبوت خلوه على تقدير تحقيق واحد من الشقوق فان مطلقاً اعم من ان يكونا وجود يين او سلم والآخر سلبيا ولا يلزم توافقهما فى الثبوت او النفى للخلو ان المقصود من البعثة وارسال الطريقة الموصلة الى الله تعالى لا التشريع اظهر قومه والا يلزم ان لا يخلو زمان من الر الملل فوضح بطلان زعم لزو استحالة تفريع ارادة معنى المضى من لفظ الخلو من قوله ﴿قد ١٤٤)﴾ هذا.

السوال ١٩ ....... لما رحل رسول الله ﷺ الآخرة وشاع هذه السانحة في المدينة المنو يقول ما مات رسول الله ﷺ ولا يموت مات ....... الخ الحديث كما في المشكوة و الانكار فاستدل ابو بكر صديق على موت رسـ ﴿وما محمد الا رسول قد خلت من قبله الرسل الجواب ....... ليس موضع استشهاد المـ

٢١

صفحہ ٣١

والعدم استقراره فى قلوبهم وشذوذ تقدمه. فظهر ان المتفرع فى الحقيقة هو نفى جواز الارتداد على تقدير احد الشقوق الثلاثة المصدرة وذالك الامر الدائر بين الثلاثه مساويا للخلوا بمعنى المضى فلا يلزم تفريع الاخص على الاعم على تقدير كون المعنى الحقيقى مراد من لفظ الخلو بل يلزم تفريع احد المتساويين على الآخر وذا جائز كما يقال رايت زيدا انه جسم نام حساس متحرك بالارادة مدرك للكلى والجزئى فيفرع على هذا المفصل انه انسان والارتياب فى تساوى هذا المجمل وذالك المفصل وفى صحته وتفريع احدهما على الاخر والامر ان اللذان حكمنا بمساواتهما وكون احد هما متفرعا والاخر متفرعا عليه هو ثبوت خلو كل رسول ونفى جواز الارتداد على تقدير تحقيق واحد من الشقوق فان النسب انما يقتضى المفهومين مطلقاً اعم من ان يكونا وجوديين او سلبيين او يكون احدهما وجوديا والآخر سلبيا ولا يلزم توافقهما فى الثبوت او العدم والدليل على لزوم ذالك النفى للخلو ان المقصود من البعثة وارسال الرسل التشريع مطلقا وتعيين الطريقة الموصلة الى الله تعالى لا التشريع الى زمان وجود الرسول بين اظهر قومه والا يلزم ان لا يخلو زمان من الرسل وذا باطل باتفاق من اهل الملل فوضح بطلان زعم لزوم استحالة تفريع الاخص على الاعم على فرض ارادة معنى المضى من لفظ الخلو من قوله ﴿قد خلت من قبله الرسل (آل عمران ١٤٤)﴾ هذا.

السوال ١٩ ...... لما رحل رسول الله ﷺ من دار الدنيا وشرف دار الاخرة وشاع هذه السانحة فى المدينة المنورة طاف عمرؓ فى السكك وجعل يقول ما مات رسول الله ﷺ ولا يموت ومن قال ان محمداًﷺ قد مات...... الخ الحديث كما فى المشكوة وغيرها من الصحاح وانكر اشد الانكار فاستدل ابو بكر صديقؓ على موت رسول الله ﷺ بهذا الاية الكريمة ﴿وما محمد الا رسول قد خلت من قبله الرسل...... الخ (آل عمران:١٤٤)﴾

الجواب ...... ليس موضع استشهاد الصديق فى هذه الاية قوله تعالى

٢١

صفحہ ٣٢

﴿قد خلت﴾ بل قوله تعالى ﴿افان مات﴾ لان كلمة "ان" باعتبار اصل الوضع لا يدخل الاعلى الامور التى يمكن تقررها ويجوز وجودها لا الامور التى تابى عن التكون والتقرر كما هو واضح على من طالع بحث معانى الحروف فاذا ثبت جواز ورود الموت على رسول الله ﷺ انتفى نقيضه وهو امتناع تقرر الموت ولما قلنا من موضع استشهاد ابى بكر ؓ الصديق بكلمة ﴿افاان مات﴾ يؤيد ان الصديق حين الاستدلال بموته ﷺ تلا قوله تعالى عز وجل ﴿انك ميت وانهم ميتون (زمر:٣٠)﴾

واما تمسكهم بالمقدمة السائرة على السنتهم ان كل جمع معرف باللام يسغرق الافراد بأسرها ايضا باطل لان لفظ الملائكة في قوله تعالى ﴿فسجد الملئكة كلهم اجمعون (ص:٧٣)﴾ لو كان حاويا للافراد كلها بحسَب القاعدة فكان ذكر كلهم اجمعون۔ مستدركا وكذا لفظ الملائكة في الاية الكريمة ﴿واذقالت الملئكة يمريم ان الله يبشرك (آل عمران:٤٥)﴾ ﴿واذ قالت الملئكة يمريم ان الله اصطفك (آل عمران:٤٢)﴾ ليس بمستغرق الافراد كلها بل المراد منه بعض الملائكة واذا انتقضت كلية الكبرى بنقض هذه المواضع انتقض القياس فلا ينتج بموت المسيح لانتفاء المشروط بدون الشرط هذا۔

ثم قولنا بان استحالة عدم صحة التفريع على تقدير عدم الاستغراق غير وارد فى الحقيقة لان المقصود من الكريمة في قوله تعالى ﴿وما محمد الا رسول ط قد خلت من قبله الرسل (ال عمران:١٤٤)﴾ ان محمد ﷺ ليس الا بشراً وجنس الرسل قد خلا ومن المعلوم ان ما ثبت لبعض افراد الجنس بالنظر الى ذاته وما هيته يمكن ان يثبت لسائر افراده بل لا يتخلف اقتضاء الذات من الذاتيات. فالثابت للبعض بالنظر الى ماهيته كما يستلزم امكان الثبوت لذالك البعض يستلزم امكانه لباقى الافراد فهذه المهملة۔

اعنی ﴿قد خلت من قبله الرسل (آل عمران:١٤٤)﴾ وان كانت بالنظر الى الفعل والاطلاق بمنزلة الجزئية غير صالحة لكبروية الشكل الاوّل الا انها بما تستلزم من الممكنة الكلية صالحة لها فغاية ما ينتجه القياس على ٢٢

٣٣ هذا ان المسيح ميت بالامكان۔ بان يقال المسيح خلا بالفعل والاطلاق وقد عرفت انه يلزم بالامكان فهذا القول اللازم يجعل كبرى منضم المذكورة فصح التفريع ولم يلزم الاستحالة ا من ثبوت موته عليه السلام في الزمان الماضى ولاحاديث واجماع الامة وهذا مع منع كون لفظ يثبت مطلوب الكيديين على تقدير منع احدى مطلوبهم على تقدير منعهما معا اظهر وابهر وهذ

وگراں هر دو مقدمہ قادیانی بطور ایس که بودن الف ولام در لفظ الرسل استغ خلورا بمعنى موت بگریم برایں تقدیر نیز الزا چنانکه بر تقدیر عدم زیراکه لفظ الرسل مستغرق وخلو بمعنى موت رسول اكرم ﷺ که در آیت ﴿قد خلت من قبله الرسل (ال عم پیشینیان عليهم السلام قبل از رسول اکرم عليهم السلام موصوف به سبقت مضی از رسو موصوف بتاخر اند وظاهر که ایں سبقت رسول الله ﷺ وتاخر رسول الله از ایشان بامتاخر جمع نمي شود وكذا عکس آں خلوموصوف نشدند بوقت نزول آیت ک نفسه للزوم قوله تعالى ﴿قد خلت من قبله بقبلية الشيء على نفسه ومع عدم اتصافه يوم سائر الرسل به كان من شانه يمكن له ان يخلو كونه ﷺ فاقد الوصف الخلوحين خلت ا الخالية حينئذ و يلزم على عدم اندراجه ﷺ ٢٣

صفحہ ٣٣

هذا ان المسيح ميت بالامكان۔ بان يقال المسيح رسول وجنس الرسول قد خلا بالفعل والاطلاق وقد عرفت انه يلزمه قولنا كل رسول خال وميت بالامكان فهذا القول اللازم يجعل كبرى منضمة الى صغرى فينتج النتيجة المذكورة فصح التفريع ولم يلزم الاستحالة العقلية ولا المحذور الشرعي من ثبوت موته عليه السلام فى الزمان الماضى لكونه مخالفا لظاهر القرآن ولاحاديث واجماع الامة وهذا مع منع كون لفظ الرسل جمعا مستغرقا فاذا لم يثبت مطلوب الكيديين على تقدير منع احدى المقدمتين فقط۔ فعدم ثبوت مطلوبهم على تقدير منعهما معا اظهر وابهر وهذا ظاهر لمن له ادنى دراية۔

وگرایں هر دو مقدمه قادیانی بطور تنزل تسلیم بکنیم اول مقدمه ایں که بودن الف ولام در لفظ الرسل استغراقی۔ دوم مقدمه ایں که لفظ خلو را بمعنى موت بگریم برایں تقدیر نیز الزام عدم صحت تفریع نمیرود۔ چنانکه بر تقدیر عدم زیراکه لفظ الرسل بصورت گرفتن او را جمع مستغرق وخلو بمعنى موت رسول اکرمﷺ را شامل نمی باشد بوجه ایں که در آیت ﴿قد خلت من قبله الرسل (آل عمران: ١٤٤)﴾ خلو ومضى انبیاء پیشینیاں علیهم السلام قبل از رسول اکرمﷺ بیان کرده شدکه ایشاں علیهم السلام موصوف به سبقت مضی از رسولﷺ اند ورسول اکرمﷺ موصوف بتاخر اند وظاهر که ایں سبقت دیگر انبیاء علیهم السلام از رسول اللهﷺ وتاخر رسول الله از ایشاں ایں هر دو زمانی اندکه متقدم با متاخر جمع نمی شود وكذا عکس آں پس سرور عالمﷺ بوصف خلو موصوف نشدند بوقت نزول آیت كريمه والا یلزم تقدم الشئ على نفسه للزوم قوله تعالى ﴿قد خلت من قبله الرسل (آل عمران: ١٤٤)﴾ الاخبار بقبلية الشيء على نفسه ومع عدم اتصافه بوصف الخلو مع الرسل واتصاف سائر الرسل به کان من شانه يمكن له ان يخلوا فى الاتى كما خلوا فاذا تقرر كونهﷺ فاقد الوصف الخلو حين خلت الرسل لم يندرج فى تلك الرسل الخالية حينئذ و يلزم على عدم اندراجهﷺ فيهم عليهم السلام بالنظر الى

٢٣

صفحہ ٣٥

ذالك الوصف عدم صحة التفريع بحسب الظاهر فلا يتعدى الحكم منهم اليه عليهم اجمعين.

لان التعدی فرع الاندراج وعدم المتفرع عليه يوجب عدم المتفرع فلم يجدهم تخصيص الخلو بالموت ولا ادعاء الاستغراق والله يهدي من يشاء الى صراط مستقيم.

الحال ظاهر کرده میشود که هر جوابی که ازین الزام قادیانی ما را دهد همان جواب از طرف ما باشد و باز مارا فضیلت حاصل ست زیراکه ماسوائے ایں دیگر جواب نیز داده ایم كما ظهر مما سبق وجواب ما قادیانی را نافع نیست بوجه ایں که جواب ما برچنان امر دلالت میکند که مدعا ونقیض مدعائے قادیانی را شامل ست و امکان چیزے۔ چنانکه وجود آن شی را مقارن باشد همچنان عدم آن شی را نیز وثبوت الاعم من المطلوب غیر نافع للمعلل وان نفع المانع السائل ومن خفى عليه هذا فهو الجاهل بل الآجهل.

ثم اقول (وبہ نستعین) اگر تسلیم کنیم که آیت ﴿قد خلت من قبله الرسل﴾ دلالت میکند برموت همه انبیاء علیهم السلام سوائے سرور عالم ﷺ پس دیگر آیت کریمه ﴿ما المسيح بن مريم الا رسول ط قد خلت من قبله الرسل (مائده:٧٥)﴾ دلالت میکند که سوائے حضرت عیسیٰ علیه السلام همه پیغمبران مرده اند وقت نزول آیت حتی که رسول اکرم ﷺ نیز بوجه ایں که الرسل مستغرق جمیع افراد گرفته شد بر رائے قادیانی وایں صریح کذب ست زیراکه نزول ایں آیة کریمه وقت حیات رسول الله ﷺ شده فکون الالف واللام للاستغراق يستلزم المحال فيكون محالا لان ما يلزم منه المحال البتة واذا لم يثبت اندراج المسيح عليه السلام تحت الاكبر الموقوف على تسليم الاستغراق المستلزم للمحذور المذكور والمحال الشرعى الغير الواقع لم تصدق النتيجة فى استدلالهم العاطل اللاطائل ولما بطل كون ال للاستغراق والشمول والاحاطة لجميع افراد الرسل بما حررنا ٢٤

ثبت ان ال للجنس یعنی جنس رسو اند. اگرچه مسیح تاحال نمرده. امـ خود خواهد مرد بالجمله از آیت: ﴿ من قبله الرسل (مائده:٧٥)﴾ بوجه کـ علیه السلام ثابت شد همچنیں از آیت ﴿وما محمد الا رسول قد سوائے ثبوت رسول اکرم ﷺ حیـ زیراکه جنس بر قليل وكثير هر دو ثانيه عيسى عليه السلام را داخل کر فان قيل ما المانع من أخذ ا السلام والثانية دالة على موته مع انـ اقول: نصب القادیانی احتمال بل للمستدل اللزوم والو عند نفسه بدون التصريح في القرآن ضلالة لورود النص فى ذالك ثم اقول عنه عن اصل السلام مستثنى لا يخل في اثبات احد وحادثة موت النبی ﷺ کـ مزعوم المخاطب لا شيء من الرسـ جزئية. لانها صريح نقيض لها وبـ فصورة الاستدلال هكذا الموت توفى احد من الرسل لكنه مات. الاصلی من الكلام ابطال مزعومـ کانوا يزعمون رسول الله ﷺ مـ

صفحہ ٣٥

ثابت ان ال للجنس یعنی جنس رسول ﷺ از قبل رسول اکرم ﷺ مرده ماند اگرچہ مسیح تا حال نمرده۔ اما بمثل جنس خود بوقت اختتام عمر خود خواهد مرد بالجمله از آیت: ﴿ما المسيح ابن مريم الا رسول قد خلت من قبله الرسل (مائدہ:٧٥)﴾ بوجہ گرفتن "الف و لام" جنس حیات مسیح علیہ السلام ثابت شد ہمچنیں از آیت ثانیہ۔

﴿وما محمد الا رسول قد خلت من قبله الرسل (آل عمران:١٤٤)﴾

سوائے ثبوت رسول اکرم ﷺ حیات عیسیٰ علیہ السلام نیز ثابت شد زیرا کہ جنس بر قلیل و کثیر هر دو صادق می آید چه ضرورت که در آیت ثانیہ عیسیٰ علیہ السلام را داخل کرده حکم موت دهیم۔

فان قیل ما المانع من اخذ الآية الاولى دالة على حياة عيسى عليه السلام والثانية دالة على موته مع انه يمكن ان يشمله ال جنسا۔

اقول: نصب القادیانی نفسه مقام المستدل ولا ينفع المستدل احتمال بل للمستدل اللزوم والوثوق على ان اثبات الحكم من القرآن من عند نفسه بدون التصريح فى التفسير قول بالرأى والقول بالرأى فى القرآن ضلالة لورود النص فى ذلك۔

ثم اقول عنه عن اصل استدلال القادياني بان كون عيسى عليه السلام مستثنى لا يخل فى اثبات المدعى لان مزعوم المخاطب فى واقعة احد وحادثة موت النبي ﷺ كان برائة النبي من عروض الموت۔ ای كان مزعوم المخاطب لا شىء من الرسل بهالك سالبة كلية ولدفعہ يكفى موجبة جزئية۔ لانها صريح نقيض لها ومنه اظهار ان الرسالة ليست بمنافية للموت فصورة الاستدلال هكذا الموت ليس بمناف للرسالة لانه لو كان منافيا لما توفی احد من الرسل لكنه مات عدة من الرسل قبله ﷺ ..... الخ۔ والمقصود الاصلى من الكلام ابطال مزعوم المخاطبين باثبات نقيض مزعومهم۔ فانهم كانوا يزعمون رسول الله ﷺ بريئا من الموت بسبب الرسالة ففي ترديده۔

٢٥

صفحہ ٣٦

قال ﴿وما محمد الا رسول﴾ يعنى ان محمداًﷺ ليس ببرئ من الموت نعم انه رسول وللرسالة ليست بمنافية للموت لانها لوكانت منافية له لما مات احد من الرسل ولا كن قد خلت من قبله الرسل وبهذا ظهر ان قد خلت من قبله الرسل مقدمة استثنائية للقياس الاستثنائى لا الكبرى للشكل الاول لانه مع قطع النظر عن تركيب الشكل الاول لايصح المضمون۔ فان مراد ابی بكرن الصديق على هذا التقدير يكون هكذا محمدﷺ مات بالفعل لانه رسول وكل رسول من قبله مات وظاهر ان موت كل رسول لا يقتضى موت محمدﷺ بالفعل لوجود هذا المقتضى من ابتداء الولادة الشريفة فكان ينبغى ان يتحقق الوفاة من قبل وثم اعلم انما قلنا (عدة من الرسل) لان آية ﴿بل رفعه الله اليه (النساء:١٥٨)﴾ مخصصة لعمومها۔ هذا سوال نمبر ٢٠....... ثم استدلال القاديانى على موت عيسى عليه السلام بقوله تعالى ﴿يٰعيسى انى متوفيك ورافعك الىّ (آل عمران:٥٥)﴾ وقوله تبارك وتعالى ﴿فلما توفيتنى كنت انت الرقيب عليهم (مائدہ:١١٧)﴾ وبقوله تعالى ﴿وما قتلوه يقينا بل رفعه الله اليه﴾ وبقوله تعالى ﴿وان من اهل الكتاب الا ليؤمنن به قبل موته (النساء:١٥٩)﴾

الجواب....... والله الموفق للصدق والصواب اقول هذا البحث يستدعى بسطا ووسعاً لا تحتمله هذه الرسالة العجالة اما بحكم مالا يدرك كله لا يترك كله فلذا كتبت الجوابين احد هما مختصرا۔ وثانيهما مفصلا بحسب اقتضاء الوقت ان التوفى الماخوذ من الآيتين الاوليين۔ بمعنى القبض وانه عام لكل قبض وان كان مع الجسد ثم لادلالة فى الواو على الترتيب ويقع الموت اجماعاً بعد النزول وهكذا الرفع عام لما هو بالجسد كما سيأتى عليك فى الجواب المفصل ويزيل اشتباهك فى العاجل والآجل فانتظره والآية الرابعة يحتمل عود الضمير فى موته الى عيسى عليه السلام وانت تعلم اذا جاء الاحتمال بطل الاستدلال فما بقى للمستدل الا ورطة الجهل والضلال۔

٢٦

صفحہ ٣٧

مذاك ليس ببرئ من الموت نعم ت لانها لو كانت منافية له لما مات الرسل وبهذا ظهر ان قد خلت من استثنائى لا الكبرى للشكل الاول لا يصح المضمون فان مراد ابی هكذا محمد ﷺ مات بالفعل لانه موت كل رسول لا يقتضى موت من ابتداء الولادة الشريفة فكان انما قلنا (عدة من الرسل) لان لعمومها هذا على موت عيسى عليه السلام ن (آل عمران: ٥٥) وقوله تبارك يهم (مائده: ١١٧) وبقوله تعالى تعالى وان من اهل الكتاب الا

الصواب اقول هذا البحث ة العجالة اما بحكم مالا يدرك ما مختصرا وثانيهما مفصلا من الآيتين الاوليين بمعنى سد ثم لادلالة فى الواو على ذا الرفع عام لما هو بالجسد شتباهك فى العاجل والآجل وته الى عيسى عليه السلام ء فما بقى للمستدل الا ورطة

ثم اقول مفصلا مستفيضا من الالهام الصحيح ان التوفى عبارة عن أخذ الشئ وافيا ومأخذه ومادتها الوفاء من الاصول المقررة عند القوم ان أصل المأخذ بمفهومه معتبر فى جميع تصاريفه وان اختلفت الصيغ والابواب كاعتبار الجزء فى الكل الا ترى الى لفظ العلم فان معناه حصول صورة الشئ عند العقل او الاضافة بين العالم والمعلوم او نسبته ذات اضافة كذاتيه او الصورة الحاصلة او الحالة الادراكية او تحصيل صورة الشئ على حسب تنوع آرائهم وهذا المعنى يكون داخلا فى معانى جميع ما اخذ من لفظ العلم سواء كان ذلك الماخوذ من تصريفات المجرد أو المزيد فان علم مثلاً بصيغة الماضى المعلوم معناه انه حصلت للفاعل صورة الشئ المعلوم فى الزمان الماضى وهذا على الاصطلاح الاول او حصلت له الاضافة بينه وبين ما علمه وهذا على التفسير الثانى وقس على ما مثلناك به باقى الاصطلاحات فباشتمال مفهوم علم الماضى على المفهوم المصدر ونسبته الى الفاعل والزمان يكون مفهومه كلا ومفهوم المصدر جزء ففيه التركيب من ثلثة اجزاء وكون النسبة الى الفاعل والزمان جزئين علم فى جميع ما اشتق من المصدر المجرد او اشتق من الماخوذ من ذلك المجرد من الافعال ولا يلزم ان يكون كل ما اشتق من ذلك المجرد او ما اخذ منه او اشتق من الماخوذ منه سواء كان فعلا او غيره كك فان من مشتقات العلم العالم والنسبة الى الزمان لا توجد فيه ومن الماخوذ منه الاعلام وكلتا النسبتين لا توجدان فيه لا نسبة الفاعل ولا نسبة الزمان بل فيه مفهوم الاصل المجرد وما اقتضاه خصوص هذا الباب الذى بذلك تعدى الان الى مالم يتعد اليه فى صورته الاصلية لمادته ففيهما التركيب من جزئين ومن المشتقات من الماخوذ منه اعلم بصيغة الماضى مثلا ففيه يكون التركيب موجوداً من أجزاء اربعة اولها العلم اى المصدر المجرد وثانيها ماهو مقتضى باب الافعال

٢٧

صفحہ ٣٩

وثالثها النسبة الى الفاعل اى العالم۔ ورابعها الزمان واذا حويت مادريت من هذه المذكورات فلا مفرلك من الايمان على ان الوفاء داخل فى مفهوم التوفى لكونه ماخوذاً منه وان اقتضاء ”باب التفعل“ وهو الاخذ ايضاً معتبر فيه فالكلمات التى توخذ من التوفى لها اشتمال على اربعة اشياء لدلالتها على الزمان كلفظ توفيت والالفاظ التى لاتدل على الزمان فالتركيب فيها من ثلثة اجزاء كلفظ متوفى ولا يقال ان متوفى صيغة اسم الفاعل۔ وكل صيغة اسم الفاعل لابد فى معناه من الزمان لانا نقول بعدم تسليم كلية الكبرى لعدم الزمان فى اسم الفاعل الغير العامل اى لابد من الزمان لاسم الفاعل الذى هو عامل لا مطلقا ولفظ متوفى ليس هنا بعامل لا يقال انه عامل هنا لان الكاف فى متوفيك مفعول لمتوفى لانا نقول ليس بمفعول بل هو مجرور محلا لا ضافة المتوفى اليه كما لا يخفى فان قلت المضاف عامل والكاف معمول قلت نعم۔ اما مرادنا ليس ان كل عامل سواء كان يعمل بالاضافة او غيرها لابد فيه من الزمان بل المراد العامل الذى هو غير المضاف۔ واما العامل المضاف كالمتوفى ههنا فلا يتضمن زماناً كما نص عليه النحاة فى اسفارهم وبالجمله فالصيغ الماخوذة من المصدر لابد ان تكون مشتملة على اصل المصدر سواء كان تركيب معناها من تلك الاجزاء تركيبا حقيقيا كما هو المشهور اوتركيبا تحليليا كما هو الحق۔ الابلج فمعنى الشمول ان اعتبار الجزء الاعتبارى من هذا للكل الاعتبارى جائز۔ فاذن المعنى الذى يقصد من لفظ التوفى او مما اشتق منه فهو على تقدير كونه مجردا عن معنى ”الوفاء“ لايكون معنى حقيقيا للفظ التوفى او المشتق منه لان التجريد عن بعض اجزاء الموضوع له تجريد عن كله والا يلزم تحقق الكل مع انتفاء الجزء او تحقق ماهو فى حكم الكل مع انتفاء ماهو فى حكم جزئه وذا باطل بالبداهة فاذا لم يكن ذالك المعنى المراد معنى حقيقيا لذالك اللفظ لابد ان يكون ٢٨

معنی مجازيا اذ اللفظ المستعمل فى المعنى لا يختص ذالك الحكم بارتفاع مفهوم الماخذ۔ فحسب بل يحكم بالمجازية فى كل م كان من الاجزاء المعتبرة فى تلك الصيغة س بالوضع الشخصى او بالوضع النوعي يمثل والثانى بدخول جزء المشتق فى المشتق فا كما يقال كل لفظ على وزن مفعول فهو يدل ع يكن بد لكون المعنى معنى حقيقيا حال كون اجزائه ويكفى فى ارتفاعه وتحقق المعن الاجزاء لانه كما يتنفى الكل بانتفاء جميع ا مامر من البحث الشريف والتحقيق۔ الحقيق المتوفى هو الآخذ بالوفاء والتمام وذالك م بد منه للمعنى الحقيقى بهذا اللفظ من الفاعل ففى قوله تعالى خطابا لعيسى ا متوفيك ورافعك يكون معناه على الحق والتمام۔ ترجمہ یوں ہے کہ ”توفی“ کا معنی لغوی کا مادہ یعنی جس سے یہ لفظ لیا گیا ہے اور اسی کو ماخذ ہے۔ کہ ماخذ کا معنی ماخوذ کے تمام گردانوں میں معتب ہوں۔ ماخذ کا معنی ماخوذ میں اس طرز پر داخل ہوتا ہے دیکھو علم کا لفظ (خواہ اس کا معنی عندالعقل درمیان نسبت ہونا خواہ کہ ایک اضافت والی چیز ہے صورت کا حاصل کرنا وغیرہ) کو کسی معنی سے اس کو لا ماخوذ ابواب مجردہ سے ہو یا مزید ۔۔ مثلاً علم (جان ٢٩

صفحہ ٣٩

معنی مجازیا اذ اللفظ المستعمل فى المعنى لا يخلو عن الحقيقة والمجاز ولا يختص ذالك الحكم بارتفاع مفهوم الماخذ. فحسب بل يحكم بالمجازية فى كل صيغة بانتفاء كل جزى اى جزء كان من الاجزاء المعتبرة فى تلك الصيغة سواء كان دخول ذالك الجزء فيها بالوضع الشخصى او بالوضع النوعى يمثل الاول باللبنات فى الجدران. والثانى بدخول جزء المشتق فى المشتق فان وضع المشتقات وضع نوعى كما يقال كل لفظ على وزن مفعول فهو يدل على من وقع عليه الفعل. فاذا لم يكن بد لكون المعنى معنى حقيقيا حال كونه مركبا من تحقيق كل جزء من اجزائه ويكفى فى ارتفاعه وتحقق المعنى المجازى انتفاء واحد من تلك الاجزاء لانه كما ينتفى الكل بانتفاء جميع الاجزاء ينتفى بواحد منها فالآن مامر من البحث الشريف والتحقيق - الحقيق يدل دلالة واضحة على ان معنى المتوفى هو الآخذ بالوفاء والتمام وذالك معناه الحقيقى لتحقق جميع مالا بد منه للمعنى الحقيقى بهذا اللفظ من مدلول الوفاء والاخذ ونسبة الى الفاعل ففى قوله تعالى خطابا يعيسى ابن مريم عليه السلام يعيسى انى متوفيك ورافعك يكون معناه على الحقيقة ان يا عيسى انى اخذك بالكلية والتمام.

ترجمہ یوں ہے کہ ”توفی“ کا معنی لغۃ کسی چیز پر پورے طور پر قبضہ کرنا ہے۔ (اس کا مادہ یعنی جس سے یہ لفظ لیا گیا ہے اور اسی کو ماخذ بھی کہتے ہیں) وفاء ہے۔ قاعدہ مقررہ مسلمہ ہے۔ کہ ماخذ کا معنی ماخوذ کے تمام گردانوں میں معتبر ہوتا ہے۔ گو ان کی صورتیں اور صیغہ مختلف ہوں۔ ماخذ کا معنی ماخوذ میں اس طرز پر داخل ہوتا ہے جیسے کہ جزو کل میں داخل ہوتا ہے۔ دیکھو علم کا لفظ (خواہ اس کا معنی عندالعقل شئی کی صورت کا حاصل ہونا یا عالم و معلوم کے درمیان نسبت ہونا خواہ کہ ایک اضافت والی چیز ہے۔ یا خود صورت حاصلہ یا دانش ہے۔ یا شئے کی صورت کا حاصل کرنا وغیرہ) گو کسی معنی سے اس کو لو وہ ضرور اس کے ماخوذ میں پایا جائے گا۔ وہ ماخوذ ابواب مجردہ سے ہو یا مزید ۔ مثلاً علم (جان لیا اس نے) ماضی معلوم کے ساتھ اس کا معنی

٢٩

صفحہ ٤١

پہلی اصطلاح کے موافق یہ ہے کہ فلاں نے فلانی چیز کی صورت زمانہ گزشتہ میں اپنی عقل میں حاضر کی دوسری اصطلاح کے مطابق فلاں نے اپنے آپ کے اور معلوم کے درمیان ایک نسبت (عالمیہ معلومیہ) حاصل ہوگئی ہے۔

اسی طرح محاوروں میں جاری کرو ہر ایک میں وہی پائیں گے۔ جو ہم بیان کر آئے ہیں۔ پس جب کہ علم کا لفظ جو صیغہ ماضی معلوم ہے اپنے مصدر اور ماخذ پر بھی شامل ہوا تو اس میں تین جزو سے ترکیب ہوگی۔ ایک مصدر، دوم زمانہ۔ سوم فاعل کی نسبت لیکن یہ بھی خیال رکھنا چاہئے کہ یہ دو جز تین۔ ”ایک نسبت دوم زمانہ ہر ایک صیغہ مصدر مجرد سے لیا گیا ہو یا اس سے جو اس مجرد سے لیا گیا ہو۔ ماخوذ ہو۔ متحقق ہوں گے البتہ یہ ضرور نہیں ہے کہ ہر ایک ماخوذ میں پایا جائے۔ نہیں بلکہ افعال میں، نہ غیر میں۔ دیکھو علم سے عالم ماخوذ ہے۔ یعنی علم اس میں موجود ہے۔ ایسا ہی اعلام (سکھانا) جو اسی علم سے ماخوذ ہے اس میں نہ تو فاعل کی طرف نسبت ہے اور نہ زمانہ کی جانب ہاں اس کا ماخذ اس میں موجود ہے۔ نیز اس میں باب افعال کا مقتضاء جس کے لئے متعدی ہوا۔ (حالانکہ اس کے ماخذ میں یہ نہیں ہے) پایا جاتا ہے۔ لہٰذا اس میں دو جزو متحقق ہیں۔ اعلام سے جو علم سے لیا گیا ہے۔ ”اعلم“ بصیغہ ماضی معلوم متحقق ہے اس لئے اس میں چار جز ہیں۔ ایک علم جو مصدر ہے۔ دوم باب افعال کا مقتضاء۔ سوم فاعل کی طرف نسبت چہارم زمان جب یہ ثابت ہوا تو ضرور ماننا پڑے گا کہ باب تفعل کا مقتضاء جو اخذ (بمعنی لے لینا) ہے۔ اس میں معتبر ہے۔ پس جو الفاظ ”توفی“ سے ماخوذ ہیں۔ بشرطیکہ وہ زمانہ پر دلالت کرتے ہیں۔ چار چیزوں پر شامل ہوں گے جیسا کہ توفیت پورا لے لیا میں نے اور جو زمانہ پر دلالت نہیں کرتے ہیں۔ ان کی تین جزئیں ہوں گی۔ دیکھو متوفی اس لئے کہ اس میں زمانہ معتبر نہیں ہے۔ مختصراً یہ کہ جو صیغہ کسی مصدر سے لیا گیا ہو۔ اس میں یہ ضروری ہے کہ وہ اپنے ماخذ و مصدر پر شامل ہو۔ گو اس ترکیب کو حقیقی یا اعتباری ہاں یہ تو ماننا ہی پڑتا ہے کہ اگر اس ترکیب کو حقیقی کہیں گے۔ حق بھی یہی ہے تو شمول کا معنی یہی ہوگا کہ اس جزو اعتباری کا کل سے اعتبار کر لینا جائز ہے۔

ضروری اس موقع پر ہے کہ جب عامل ہو۔ مطلقاً یہ بھی نہیں کہہ سکتے کہ آیت انی متوفیک میں جو متوفی ہے اس میں زمانہ معتبر ہے۔ کیونکہ یہ یہاں پر عامل ہے۔ اسلئے کہ ”متوفی“ کاف خطاب کی طرف مضاف ہے اور کاف محلاً مجرور ہے۔ نہ یہ کہ متوفی کا مفعول ہے۔ ٤٠

پس اگر توفی کا معنی وفا کو چھوڑ کر لئے جائیں موضوع لہ کے بعض اجزاء کو الگ کر دینے سے کل ہی سے کے کل کا تحقق چاہئے۔ (یہ اس صورت میں ہے کہ ترکیب ہے۔ وہ حکمی جز کے بغیر متحقق ہو۔ حالانکہ یہ باطل ہے اس یہ تو ظاہر ہے کہ لفظ کا استعمال یا حقیقتاً یا مجازاً ہوتا ہے۔ لیکن ہوگا۔ تب ہی مجازی ہوگا۔ نہیں بلکہ کوئی جزء ہو۔ جب کہ ہوگا۔ خواہ اس جز کا دخول وضع شخصی یا وضع نوعی کے ذریعہ میں داخل ہونا دوسرے کی مثال ”مشتق“ کی جزو کا اعتبا ہے۔ چنانچہ کہا جاتا ہے کہ ہر لفظ جو مفعول کے وزن پر ب واقع ہوا ہو۔ لہٰذا حقیقی معنی جب کہ مرکب ہو۔ وہ تام حقیق نہیں کہلائے گا۔

اس کے مرتفع ہو جانے مجازی بننے کے لئے انتفاء کسی ایک جزو کے نابود ہو جانے سے ہوتا ہے۔ لاغیر جس کے حقیقی ہونے کی ضرورت ہے۔ وہ پایا گیا ہے۔ و کی نسبت۔ پس آیت ﴿انی متوفیک﴾ میں تیرا متوفی اور اپنی طرف تیرا اٹھا لے جانے والا ہوں لینے والا ہوں۔

ہے اور نوعی کیا، سو واضح ہو کہ شخصی میں وضع اور موضوع لفظ ذات زید کے لئے موضوع ہے۔ اب اس میں وضع وضع شخصی ہوا یا لفظ دیوار کا خاص ایک دیوار کے لئے مع میں داخل ہونا بھی اسی شخصی وضع کے ذریعہ سے ہو۔ کیون دیوار موضوع لہ بوضع شخصی ہے۔ وضع نوعی وہ ہے جو مع ہے غرض کہ جس طرز پر جناب فرماتے ہیں اسی طریق پر ٤١

صفحہ ٤١

پس اگر توفی کا معنی وفا کو چھوڑ کر لئے جائیں گے تو یہ حقیقی نہیں ہوگا۔ اس واسطے کہ موضوع لہ کے بعض اجزاء کو الگ کر دینے سے کل ہی سے تخلیہ لازم آتا ہی نہیں، تو باوجود انتفاء جزء کے کل کا تحقق چاہئے۔ (یہ اس صورت میں ہے کہ ترکیب حقیقی ہو) یا لازم آئے گا کہ جو حکما کل ہے۔ وہ حکمی جزء کے بغیر متحقق ہو۔ حالانکہ یہ باطل ہے اس لئے ثابت ہوا کہ وہ مجازی معنی ہوگا۔ آخر یہ تو ظاہر ہے کہ لفظ کا استعمال یا حقیقتاً یا مجازاً ہوتا ہے۔ لیکن یہ خیال نہ کرنا کہ ماخذ ہی صرف معتبر نہ ہوگا۔ تب ہی مجازی ہوگا۔ نہیں بلکہ کوئی جزء ہو۔ جب کہ اس کا انتفاء مان لیں گے۔ وہ مجازی ہی ہوگا۔ خواہ اس جز کا دخول وضع شخصی یا وضع نوعی کے ذریعے سے ہو۔ پہلے ١؎ کی مثال اینٹ کا دیوار میں داخل ہونا دوسرے کی مثال ”مشتق“ کی جزء کا اس میں داخل ہونا۔ کیونکہ دخول بوضع نوعی ہے۔ چنانچہ کہا جاتا ہے کہ ہر لفظ جو مفعول کے وزن پر ہو وہ اس پر دلالت کرے گا کہ جس پر فعل واقع ہوا ہو۔ لہٰذا حقیقی معنی جب کہ مرکب ہو۔ وہ تاوقتیکہ آپس میں تمام اجزاء متحقق نہ ہولیں حقیقی نہیں کہلائے گا۔

اس کے مرتفع ہو جانے مجازی بننے کے لئے ایک جزو کا بھی انتفاء کافی ہے کیونکہ کل کا انتفاء کسی ایک جزو کے نابود ہو جانے سے ہوتا ہے۔ لاغیر یہی متوفی کا حقیقی معنی ہے۔ کیوں نہ ہو کہ جس کے حقیقی ہونے کی ضرورت ہے۔ وہ پایا گیا ہے۔ وہ یہ ہیں۔ ایک وفا، دوم لے لینا، سوم فاعل کی نسبت۔ پس آیت یعیسی انی متوفیک جس کا مضمون یہ ہے کہ اے عیسیٰ علیہ السلام میں تیرا متوفی اور اپنی طرف تیرا اٹھا لے جانے والا ہوں۔ ”یا کہ اے عیسیٰ میں تجھ کو پورے طور پر لینے والا ہوں۔

١؎ وضع کا معنی یہ ہے کہ ایک لفظ یا شی کو کسی مفہوم کے واسطے معین کر دینا رہا یہ کہ شخصی کیا ہے اور نوعی کیا، سو واضح ہو کہ شخصی میں وضع اور موضوع لہ دونوں خاص ہوتے ہیں۔ جیسا کہ زید کا لفظ ذات زید کے لئے موضوع ہے۔ اب اس میں وضع اور موضوع لہ بھی خاص ہیں۔ پس یہ وضع شخصی ہوا یا لفظ دیوار کا خاص ایک دیوار کے لئے موضوع ہے یہ بھی شخصی ہوگا اور اینٹ کا دیوار میں داخل ہونا بھی اسی شخصی وضع کے ذریعہ سے ہو۔ کیونکہ وہ دیوار میں جزء کی طرح داخل ہے اور وہ دیوار موضوع لہ بوضع شخصی ہے۔ وضع نوعی وہ ہے جو حضرت مصنف علام نے خود بالتصریح فرما دیا ہے غرض کہ جس طرز پر جناب فرماتے ہیں اسی طریق پر جب وضع ہو تو وہ نوعی کہلاتا ہے۔

٣١

صفحہ ٤٣

وكذا المراد في قوله تعالى حكاية عنه فلما توفيتنى كنت انت الرقيب عليهم هو الاخذ بالتمام.

ولذا لا يوجد الا فى الرفع الجسدى لانحصار الاخذ بتمامه فى هذا الرفع دون الرفع الروحى لانه اخذه ببعضه دون كله فاطلاق التوفى مع كونه محمولاً على الحقيقة على الرفع الروحى غير جائز نعم لو اريد بالتوفى اخذ الشيء مجرداً عن معنى "الوفاء والتمام" بان يكون عدم الوفاء ماخوذا فيه او بان لا يكون الوفاء معتبراً فيه سواء قارنه اولم يقارنه واعتبار عدم الوفاء يغاير عدم اعتبار الوفاء فحينئذ يصح اطلاقه على الرفع الروحى لكن على الاول يكون اطلاقه عليه من قبيل اطلاق الكل على الجزء وعلى الثانى من قبيل عموم المجاز.

والفرق بين اعتبار عدم الشيء وبين عدم اعتبار ذالك الشيء انما هو بالخصوص والعموم وكل من هذين الاطلاقين اطلاق مجازى لا يصار عليه الا بقرينة صارفة عن ارادة معناه الحقيقى الاصلى والقرينة غير موجودة فلا بد من ان يحمل على الحقيقة دون المجاز - ومن المعلوم ان مدار كون اللفظ حقيقة ومجازاً انما هو الوضع مطلقا اعم من ان يكون الوضع وضعاً نوعيا. فان استعمل اللفظ فى المعنى الموضوع له الشخصى او النوعى كان حقيقة والا كان مجازاً والمشتقات لتركبها من مادة وهيئة موضوعيتين اولهما بالوضع الشخصى وثانيتهما بالوضع النوعى تكون دلالتها على معنى اصل المبداء بمادتها بالوضع الشخصى وعلى مفهومها التركيبى بوضعها النوعى.

ولكونها مركبة بهذه الصفة لابد لكونها حقيقة من تحقق كلا الوضعين ولا يكفيها فى كونها حقيقة تحقق احدهما فقط بخلاف مجازيتها فانها تتصور بانحاء ثلثة. بانتفاء الوضع الشخصى عن معناه الحقيقى الى معنى الدلالة وبانتفاء النوعى فقط كا طلاق لفظ القائلة على المقولة

٣٢

مع بقاء اصل المعنى المصدرى وبانتفاء كـ المدلول. فلفظ ﴿متوفيك﴾ او لفظ ﴿تو بالتمام الذى لا يكون الا يرفع الروح و الحقيقة من كلا الوضعين.

وان حمل على معنى لم يندرج فـ عنه. بان يكون عدمه قيد الاخذ او با التمام وجد فيه التمام اولم يوجد يكون مـ بالوضع الشخصى ومن المقررات وا قرينة صارفة غير جائز فتعين المصيـ

تبادر التوفى فى معنى الاماتة وجعل التبا غير مسلم لانه لو اريد بتبادره فى هذا الـ اول النزاع ولم يوجد فى القرآن فى موضـ هذا المعنى بغير قرينة وان اريد به التـ علامته الحقيقة هى تبادر مع العراء عن ا مجاز مستعمل حقيقة فلم يصح تقسـ

امكان وجود المجاز على هذا التقدير وانمـ فى القرآن بمعنى الاماتة فانما وقع مع على الموت. فى قوله تعالى ﴿حتى يتوفـ الى الموت وفى قوله عزوجل ﴿قل (سجده: ١١) وفى ﴿ان الذين توفهم المـ توفهم الملئكة ظالمى انفسهم﴾ (النحل: ٢٨) (النحل: ٣٢) وفى ﴿توفته رسلنا﴾ وفى ﴿و كفروا الملائكة﴾ وفى قوله تعالى ﴿ وجوههم﴾ (محمد: ٢٧)

٣٣

صفحہ ٤٣

مع بقاء اصل المعنى المصدرى وبانتفاء كليهما كما لو اطلق الناطق واريد به المدلول۔ فلفظ ﴿متوفيك﴾ او لفظ ﴿توفيتني﴾ ان حمل على معنى الاخذ بالتمام الذى لا يكون الا برفع الروح والجسد يكون حقيقة لتحقق مدار الحقيقة من كلا الوضعين۔

وان حمل على معنى لم يندرج فيه معنى الاخذ بالتمام سواء جرد عنه۔ بان يكون عدمه قيد الاخذ او بان يرسل الاخذ ولم يعتبر معه قيد التمام وجد فيه التمام او لم يوجد يكون مجازاً لصرفه عن معناه الموضوع له بالوضع الشخصى ومن المقررات والمسلمات ان المصير الى المجاز بلا قرينة صارفة غير جائز فتعين المصير الى الحمل على الحقيقة۔ ودعوى تبادر التوفى فى معنى الاماتة وجعل التبادر قرينة لكونه حقيقة فى الاماتة غير مسلم لانه لو اريد بتبادره فى هذا المعنى التبادر مع عدم القرينة فذالك اول النزاع ولم يوجد فى القرآن فى موضع من موارد هذا اللفظ استعماله فى هذا المعنى بغير قرينة وان اريد به التبادر مع القرينة فذالك مسلم ولكن علامته الحقيقة هى تبادر مع العراء عن القرينة لا مع انضمامها والا يكون كل مجاز مستعمل حقيقة فلم يصح تقسيم اللفظ الى الحقيقة والمجاز لعدم امكان وجود المجاز على هذا التقدير وانما ادعينا ان لفظ التوفى حيث وقع فى القرآن بمعنى الاماتة فانما وقع مع القرينة لا بدونه فان حمل التوفى على الموت۔ فى قوله تعالى ﴿حتى يتوفهن الموت (نساء:١٥)﴾ بقرينة اسناده الى الموت وفى قوله عزوجل ﴿قل يتوفكم ملك الموت الذى وكل بكم (سجده:١١)﴾ وفى ﴿ان الذين توفهم الملئكة ظالمى انفسهم (نساء:٩٧)﴾ وفى ﴿توفهم الملئكة ظالمى انفسهم (نحل:٢٨)﴾ وفى ﴿تتوفهم الملئكة طيبين (نحل:٣٢)﴾ وفى (توفته رسلنا) وفى (رسلنا يتوفونهم) وفى (يتوفى الذين كفروا الملائكة) وفى قوله تعالى ﴿فكيف اذا توفتهم الملئكة يضربون وجوههم (محمد:٢٧)﴾

صفحہ ٤٥

اسناد الى الملك الموكل فى الاول وفى الباقية من اقواله الشريفة اسناده الى الملائكة القابضة للارواح قرينة صارفة وفي قوله تعالى (وتوفنا من الابرار (ال عمران:١٩٣)) لسوال المعية بالابرار وفي قوله عزوجل (توفنا مسلمين (اعراف:١٢٦)) سوال حسن الخاتمة قرينة كذالك وفى (فاما نرينك بعض الذى نعدهم او نتوفينك فالينا يرجعون (مومن:٧٧)) قرينة التقابل اذ ما يعتبر فى احد المتقابلين يعتبر عدما فى المتقابل الاخر. كما اعتبر الانتقال التدريجى فى الحركة وجوداً وعدمه فى ضده اعنى السكون ولاريب ان الحيوة معتبرة فى نرينك اذ الارائة بدون حيوة الرائى غير متصور فيعتبر عدمها فى مقابله وهو نتوفينك.

وفى قوله تعالى (والذين يتوفون منكم ويذرون ازواجاً (البقره:٢٣٤)) والاخرى يتربصن وكذا فى قوله (والذين يتوفون منكم ويذرون ازواجاً وصية لازواجهم (البقرة:٢٤٠)) الاية قرينتان اولهما فى الاية السابقة. وثانيتهما لزوم الوصية وكذا التقابل فى ومنكم من يتوفى وقيد حين موتها فى قوله تعالى (الله يتوفى الانفس حين موتها، والتى لم تمت فى منامها (الزمر:٤٢)) قرينة على المعنى المجازى.

وفى هذه الاية الاماتة والانامة كلتاهما مرادتان الا بطريق الجمع بين الحقيقة والمجاز لما تقرر من امتناعه فى الاصول. ولانه ليس شيء من الاماته والانامة معنى حقيقياً للفظ التوفى حتى يلزم ذالك من اجتماعه مع الاخر لا بطريق عموم المجاز كما فى قول القائل لا يضع قدمه فى دار فلان فانه يحنث سواء دخل من غير رفع القدم كما اذا دخل راكباً او مع الوضع كما اذا دخل ماشياً حافيا وسواء دخل فى الدار المملوكة لفلان او لدار المستعارة او المستاجرة لفلان ويخصص هذا القول بمعناه الحقيقي حتى ينحصر حنثه فى الدخول حافياً وفى الدخول فى الدار المملوكة لفلان ولا بالمعنى المجازى حتى ينحصر حنثه فى الدخول فى غير الدار المملوكة ٤٤

لفلان وفى الدخول غير حاف بل يعم كانت مسكونة له سواء كانت تلك السكـ وليس ذالك الا على سبيل ارادة معنى والمجازى كليهما. وهذا هو عموم المجاز اعتبار معنى عام يشتمل على المعنى ا بالبعضية فان كونهما مرادتين ليس ا بان يراد بالتوفى سلب تعلق الروح بالبدن او تعلقا يوجب الحيوة فان كان الاول مسـ وان كان الثانى ومن لوازمه كونه متـ ودوران ذالك التعلق بين الاحساس وبين النقيضين بل كدورانه بين امرين يكو امتنع وجود التعلق الاول بدون الثانى وبـ عكس كلى فلا تنافى فى اجتماع الاحـ ارتفاعهما عنه وتضمن رفع التعلق الثانى سماع الاموات اذ سماعهم الذى نحن مثبتـ ثابت بالادلة القطعية لا مجال لاحد ارتفاع الحيوة وما يرتفع فى ضمن ارتـ يمكن الا بقوة جسمانية عصبانية ولا يـ فالسماع الثابت بالادلة الشرعية والد ثابت وبهذا يظهر ان التقابل الذى بين الـ لكون كليهما وجوديين. فان كون الحـ فلانه اثر للاماتة والاماتة لما كانت وايقاع الفصل بينهما وتخريب البدن كـ عن انقطاع ذالك التعلق والانفصال والتجـ ٤٥

صفحہ ٤٥

لفلان وفى الدخول غير خاف بل يعم بالدخول مطلقا فى دار فلان بان كانت مسكونة له سواء كانت تلك السكونة بالملك او بالعارية او الاجارة وليس ذالك الا على سبيل ارادة معنى اعم يشتمل على المعنى الحقيقى والمجازى كليهما. وهذا هو عموم المجاز وارادة كلتيهما لا بهذا الطريق لعدم اعتبار معنى عام يشتمل على المعنى الحقيقى من الاخذ بالكلية والاخذ بالبعضية فان كونهما مرادتين ليس الا من حيث ارادة الاخذ بالبعضية. بان يراد بالتوفى سلب تعلق الروح بالبدن تعلقا يوجب الادراك الاحساسى او تعلقا يوجب الحيوة فان كان الاول مسلوبا بدون الثانى وهذا هو النوم وان كان الثانى ومن لوازمه كونه متضمنا لسلب الاول فهذا هو الاماتة ودوران ذلك التعلق بين الاحساس وبين الحيوة. ليس كدوران الشيء بين النقيضين بل كدورانه بين امرين يكون احدهما اخص والاخر اعم. ولذا امتنع وجود التعلق الاول بدون الثانى ويقال وجوباً كل حساس حى بدون عكس كلى فلا تنافى فى اجتماع الاحساس والحيوة فى الحيوان بل فى ارتفاعهما عنه وتضمن رفع التعلق الثانى لرفع التعلق الاول لا يقتضى نفى سماع الاموات اذ سماعهم الذى نحن مثبتوه هو بمعنى ادراك اروحهم وذالك ثابت بالادلة القطعية لا مجال لاحد فى انكاره وهذا لا يرتفع فى ضمن ارتفاع الحيوة وما يرتفع فى ضمن ارتفاعها وهو السماع العادى الذى لا يمكن الا بقوة جسمانية عصبانية ولا يقول احد بتحققه مع انتفاء الحيوة. فالسماع الثابت بالادلة الشرعية والعقلية غير مرتفع وما هو مرتفع غير ثابت وبهذا يظهر ان التقابل الذى بين الموت والحيوة هو التقابل بالتضاد لكون كليهما وجوديين. فان كون الحيوة امراً وجودياً ظاهر واما الموت فلانه اثر للاماتة والاماتة لما كانت عبارة عن قطع تعلق الروح بالبدن وايقاع الفصل بينهما وتخريب البدن كان الموت الذى هو مطاوعها عبارة عن انقطاع ذلك التعلق والانفصال والتخريب كل ذالك وجودى. ويدل على ٣٥

صفحہ ٤٧

كونه وجودياً قوله تعالى خلق الموت والحيوة لان الموت لو كان عدمياً لما تعلق به خلق اذ لايقال للعدمى انه مخلوق فان الخلق هو الجعل والايجاد وعدمية عدم الحيوة عدما ثابتاً الازم للموت لا تصير الموت عدمياً لظهور عدم استلزام عدمية اللازم عدمية الملزوم الا ترى الى الفلك. فانه ملزوم لعدم السكون عند الفلاسفة ولايلزم يكون لازمه هذا عدميا كون الفلك عدميا ونظائره اكثر من ان تحصر.

وهذا ماقلنا من ان التوفى ليس حقيقة فى الاماتة لان الاماتة لا يوجد فيها الاخذ بالتمام بل الاخذ فى الجملة بخلع صورة نوعية عن الجسم الحيوانى ولبس اخرى منها وبفصل الروح عن البدن فباعتبار وجوب حمل اللفظ على الحقيقة. يكون قوله عزوجل ﴿يعيسى انى متوفيك﴾ دليلا لنا لا له ويؤيده العطف بقوله ﴿ورافعك الى﴾

(آل عمران: ٥٥)

اذ المراد به الرفع الجسمانى والا فماوجه تخصيصه بعيسى عليه السلام لعموم الرفع الروحانى كل مومن وحمله على هذا الرفع العام مستدلاً بقوله عزوجل ﴿يرفع الله الذين آمنوا منكم والذين اوتوا العلم درجات﴾

(مجادلة: ١١)

غير صحيح لان المذكور فى تلك الاية هو رفع المسيح نفسه وفى هذه الاية رفع الدرجات ولا يخفى الفرق بين رفع الشيء نفسه وبين رفع درجاته كما هو بين قولك رفعت زيداً وبين رفعت زيدا ثوبه او بيته او شيئاً آخر مما يتعلق به.

ومع ثبوت التغاير بين الرفعين لايتم التقريب فعلى هذا يقال ان من نودى وخوطب بالضمائر هو عيسى عليه السلام فيكون المنادى والمتوفى والمرفوع والمطهر من الكفرة وفائق الاتباع اياه عليه السلام فيتركب القياس من الشكل الاول من ان عيسى هو المصداق للمتوفى المفهوم من الاية والمصداق له هو المصداق لصيغة من وقع عليها فعل الرفع فينتج ان عيسى عليه السلام هو المصداق للمرفوع. وهذا عين ما ادعيناه

من ان المرفوع هو شخصه لاروحه فقط و السلام مرفوعاً دون جسده الاطهر لوقع جـ مرادهم ولا هانوه فلم يصح قوله تعالى ﴿ عمران: ٥٥) فان الاماتة ليس تخليصاً و لمرادهم وايصالاً لهم الى مناهم وغاية مستقيم وعقل سليم ان يفهم من الرفع فى هـ يعد ذلك المستنبط من ارباب الجهالة ولعمر منه كل لبيب واستدل ايضا. بقوله تعالى ﴿ مريم رسول الله وما قتلوه وما صلبوه ولكن لفى شك منه مالهم به من علم الا اتباع الـ اليه وكان الله عزيزاً حكيما وان من اهل ويوم القيامة يكون عليهم شهيدا

(النساء: ١٥٧)

حيث حمل الرفع على الرفع المجرور المتصل بالباء فى قوله تعالى متيقنين يكون عيسى مقتولاً مصلوباً وبر الى الكتابى ثم وجهه بتوجيهين آخرين وحـ

والصواب الاول ان لفظ الايمان قبل الايمان بموته فيكون معنى الاية ا مشكوك فيه قبل ان يؤمن بموته الطبعى الـ

والتوجيه الثانى ان كل كتابى كلـ فى قتل عيسى وليس قتله الا على سـ بكونهم شاكين كان قبل ان مات عليه عيسى حى اى قبل ان مات كانوا شاكين لقتله بل كانوا قبل ان مات يوقنون

صفحہ ٤٧

من ان المرفوع هو شخصه لا روحه فقط وايضا لو كان روح عيسىٰ عليه السلام مرفوعاً دون جسده الاطهر لوقع جسده فى ايدى الكفرة ولحصل مرادهم ولأهانوه فلم يصح قوله تعالىٰ ﴿ومطهرك من الذين كفروا﴾ (ال عمران: ٥٥) فان الاماتة ليس تخليصاً وتطهيرا من الاعداء بل تحصيلاً لمرادهم وايصالاً لهم الى مناهم وغايته متمناهم فهل يصح لمن له فهم مستقيم وعقل سليم ان يفهم من الرفع فى هذه الاية الرفع الروحانى وهل لا يعد ذلك المستنبط من ارباب الجهالة ولعمرى ان هذا الشىء عجيب يتعجب منه كل لبيب واستدل ايضا بقوله تعالىٰ ﴿وقولهم انا قتلنا المسيح ابن مريم رسول الله وما قتلوه وما صلبوه ولكن شبه لهم ط وان الذين اختلفوا لفى شك منه مالهم به من علم الا اتباع الظن وما قتلوه يقينا بل رفعه الله اليه وكان الله عزيزاً حكيما وان من اهل الكتاب الا ليؤمنن به قبل موته ويوم القيامة يكون عليهم شهيدا﴾ (النساء: ١٥٧، ١٥٨، ١٥٩)

حيث حمل الرفع على الرفع الروحانى وقال برجوع الضمير المجرور المتصل بالباء فى قوله تعالىٰ ليؤمنن به الى كونهم شاكين غير متيقنين يكون عيسىٰ مقتولاً مصلوباً وبرجوع الضمير المتصل بقوله موته الى الكتابى ثم وجهه بتوجيهين آخرين وحكم على كليهما بالصحة.

والصواب الاول ان لفظ الايمان مقدر فى قوله تعالىٰ قبل موته اى قبل الايمان بموته فيكون معنى الاية ان كل كتابى يؤمن بان قتل عيسىٰ مشكوك فيه قبل ان يؤمن بموته الطبعى الذى وقع فى الزمان الماضى.

والتوجيه الثانى ان كل كتابى كان يؤمن ويعلم قطعا بانهم شاكون فى قتل عيسىٰ وليس قتله الا على سبيل الشك والظن وذلك اى ايمانهم بكونهم شاكين كان قبل ان مات عليه السلام. والحاصل انهم والحال ان عيسىٰ حى اى قبل ان مات كانوا شاكين فى قتله. ولم يكن حصل لهم قطع لقتله بل كانوا قبل ان مات يوقنون بمشكوكية قتله وفى هذا الاستدلال

٣٤

صفحہ ٤٨

انظار شتی۔ اما النظر الاول على التوجيه الاول فلان حمل الرفع في الآية على الرفع الروحانی غير صحيح۔ لذا للكلام وقع بطريق قصر الموصوف على الصفة على نحو قصر القلب۔ وهذا مشروط بتنافى الوصفين كما اذا خاطب المتكلم رجلا بعكس ما يعتقد مثل ما قام زيد بل قعد لمن يظن بقيامه۔ وظاهر ان القيام والقعود متنافيان واشتراط التنافى اعم من ان يكون شرطا لحسنه او لاصله ومن ان يكون التنافى تنافيا في نفس الامر وفي اعتقاد المخاطب على حسب تعدد الآراء وانما كان قوله تعالى ﴿وما قتلوه يقينا بل رفعه الله اليه (النساء:١٥٧)﴾ على نحو قصر القلب لانهم كانوا يدعون ان عيسى مقتول فخاطبهم الله تعالى بعكس ما زعموا من انه مرفوع لا مقتول كما زعمتم فيجب التنافى بين وصفى القتل والرفع وذلك لا يتصور الا اذا كان مرفوعاً كونه حياً اذ منافاة الرفع حال الحيوة۔ اى الرفع الجسمانى للقتل ظاهر بديهى لا يحتاج الى تنبيه فضلا عن دليل۔ واما اذا كان الرفع رفعاً روحانيا۔ فلوجوب اجتماع الرفع مع القتل لا يتحقق التنافى بين الرفع والقتل لان كل احد يعلم قطعا ان من قتل في سبيل الله فهو مرفوع بالرفع الروحانى باجماع المذاهب فحينئذ يجب اجتماعهما ومع ثبوت الاجتماع النفس الامرى والاعتقادى ايضا ارتفع التنافى راساً۔ فلم يصح القصر اولم يحسن۔

فاما ان يقر بكون هذا الكلام نزل ردا لزعم اهل الكتاب فيلزمه الاقرار بكونه قصرا لقلب ووجوب التنافى بين الوصفين في قصر القلب وهذا هدم للقواعد العربية بالجملة لابد له اما من القول برفعه عليه السلام حيا واما من الخروج عن العربية فايهما شاء فليختر والنظر الثانى ان ارجاع الضمير الاول الى مشكوكية قتل عيسى دون عيسى ليس باولى من ارجاعه اليه فاختياره عليه مع لزوم مخالفة للسلف والخلف ترجيح بلا مرجح بل ترجيح للمرجوح۔ ٤٨

٤٩ وهذا افحش من ذالك مع انه يؤمن بان المسيح مشكوك القتل وان قـ وهذا المعنى لا يستقيم لان اتيانهم بمـ عنوان الجملة الاسمية وتاكيده بان صريـ الله عز وجل ادعائهم هذا بقوله عز وجـ اذ لولم يكن لهم الاذعان لكفى في ردهـ ﴿يقيناً﴾ فالقول بانهم لم يكونوا مذعنـ بالغاء قيد ﴿يقيناً﴾ في قوله تعالى ﴿ومـ على هذا التقدير وادعاء ان قيد يقينا قيد النفى واردا على القتل المقيد بهذا يتحقق ويصح بانتفاء القيد كذالك يصـ كذلك فان القتل مع التيقن منتف لا يـ لكفايته نفى اصل القتل فى ردهم مع النفى الوارد على المقيد يتوجه الى الـ على انهم قالوا بهذه الجملة من غير صـ المنافقين لرسول الله ﷺ نشهد انك لـ فكيف يصح ان هذا القول منهم مع كونـ كانوا عليه لئلا يتوجه ايراد لزوم الـ الدليل على انهم كانوا بقتله مذعنين كمـ النصارى قديماً وحديثا يدعون بذلك ويزعمون ان وقوعه له عليه السلام كان مكتوباً فى انجيلهم وان كان بطريق وزعمهم عدم التحريف فيه كيف يجو عليه السلام ومع وجود هذا الدليل لا ٤٩

صفحہ ٤٩

وهذا افحش من ذالك مع انه يكون المعنى على هذا ان كل كتابي يؤمن بان المسيح مشكوك القتل وان قتله ليس بقطعي كما اوضحه بنفسه وهذا المعنى لا يستقيم لان اتيانهم بمضمون قتل عيسى عليه السلام فى عنوان الجملة الاسمية وتاكيده بان صريح فى كونهم مذعنين بقتله ولذا رد الله عزوجل ادعائهم هذا بقوله عزوجل ﴿وما قتلوه يقيناً (النساء:١٥٧)﴾ اذ لو لم يكن لهم الاذعان لكفى فى ردهم ﴿وما قتلوه﴾ ولم يزد عليه قيد ﴿يقيناً﴾ فالقول بانهم لم يكونوا مذعنين بل كانوا شاكين في قتله قول بالغاء قيد ﴿يقيناً﴾ فى قوله تعالى ﴿وما قتلوه يقيناً﴾ لخلوه عن القاعدة على هذا التقدير وادعاء ان قيد يقينا قيد للقتل المنفى فى وما قتلوه فيكون النفى واردا على القتل المقيد بهذا القيد والنفى على هذه الوتيره كما يتحقق ويصح بانتفاء القيد كذالك يصح بانتفاء المقيد والقيد كليهما وهنا كذلك فان القتل مع التيقن منتف لا ينفعه ولا ينجيه من لزوم الغاء القيد لكفايته نفى اصل القتل فى ردهم مع انه يخالف القاعده الاكثرية من ان النفى الوارد على المقيد يتوجه الى القيد فحسب على انه لم يوجد دليل على انهم قالوا بهذه الجملة من غير صميم القلب كما وجد على كون قول المنافقين لرسول الله ﷺ نشهد انك لرسول الله من غير صميم القلب فيكف يصح ان هذا القول منهم مع كونهم شاكين من قبيل اظهار خلاف ما كانوا عليه لئلا يتوجه ايراد لزوم الالغاء على القائل المستدل بل وجد الدليل على انهم كانوا بقتله مذعنين كما يدل عليه صريح عبارة القرآن ان النصارى قديماً وحديثاً يدعون بذلك ويدعون الناس الى الايمان بذلك ويزعمون ان وقوعه له عليه السلام كان كفارة لذنوب امته مع انه كان ذلك مكتوباً فى انجيلهم وان كان بطريق التحريف لكنهم لايمانهم بالانجيل وزعمهم عدم التحريف فيه كيف يجوز ويمكن منهم الشك فى قتل عيسى عليه السلام ومع وجود هذا الدليل لا يتصور ان ينسب الى جميعهم الشك ٣٩

صفحہ ٥١

فى قتله وقوله عزوجل وان الذين اختلفو فيه لفى شك منه مالهم به من علم الاتباع الظن مؤوّل۔ بان المراد بالشك ليس مايتساوى طرفاه كما اصطلح عليه المنطقيون بل المراد من الشك المذكور ما يقابل العلم ومن علم الحكم الجازم الثابت المطابق لنفس الامر وعلى هذا لا تنافى بين شكهم واذعانهم فى قتل عيسى عليه السلام فيكون معناه "وان الذين اختلفو فيه لفى شك منه" اى لفى حكم غير مطابق للواقع وان كان حكمهم بذالك حكماً جازماً ولاكن لعدم مطابقة لنفس الامر لا يعد علماً بل شكا وليس لهم بذلك علم اذا لابد فيه من المطابقة فى نفس الامر فهم انما يتبعون الظن اى الحكم الغير المطابق لنفس الامر فيكون مآل الشك والظن واحداً ولو اريد بالمعنى المصطلح لاهل المعقول لم يتحد مصداقهما المتباين بينهما لوجوب رجحان احد طرفى الظن اى الطرف الموافق وعدمه مطلقا فى الشك وهذا ظاهر۔

واطلاق الشك والريب على غير المعنى المصطلح لهم مما يقابل العلم اليقينى شائع وفى القرآن واقع۔ قال عزوجل ﴿وان كنتم فى ريب مما نزلنا على عبدنا (البقرة:٢٣)﴾ اطلق الريب على انكارهم وقولهم الجازم بانه كلام البشر وبانه شعر وكهانة يدل على ذالك قوله تعالى ﴿فلا اقسم بما تبصرون وما لا تبصرون۔ انه لقول رسول كريم۔ وما هو بقول شاعر ط قليلا ما تؤمنون۔ ولا بقول كاهن ط قليلا ما تذكرون۔ تنزيل من رب العلمين (الحاقه: ٣٨ تا ٤٣)﴾ فلو كانوا شاكين فى كونه كلام الله تعالى بالشك المصطلح لما وقعت هذه التكيدات من كون الجمله اسمية وتكيدها بان وبالقسم فهذا دلالة بينة على شدة انكارهم لكونه كلام الله تعالى البالغ الى حد الجزم بانه كلام غير الله۔

وكذا اطلاق الظن عليه قال تعالى ﴿ان يتبعون الا الظن وان هم الا يخرصون (انعام: ١١٦)﴾ وخلاصة الاشكال الذى ورد عليه على تقدير ارجاع الضمير الاول الى الشك اما لزوم الغاء القيد فى الاية واما حمل قولهم انا قتلنا المسيح ابن مريم على خلاف الظاهر مع وجود ما يوجب حمله۔

٤٠

على الظاهر فمن التزم الاول فايهما شاء فليختر وثالث الانظار ان فى هـ الذهن الى رجوع الضمير الى ما ادعى رجوعـ مخل لكمال فصاحة القرآن والرابع ان الـ انهم يصدقون بمشكوكية قتله ولما كان كون التصديق متعلقا بالشك الذى هـ العنوانى او مصداقه لان كلا منهما تصو الادراك الاذعانى الذى هو من جنس الا التى هى من لواحق الادراك وتعلقه بالتصد ولكن تعلقه بالشك حال كون التصديق مـ به على تقدير كونه من لواحقه لانه على هـ اداراكاً وعلماً به وقد ثبت بالبرهان العلمية بالمعلوم فلزم اتحاد التصديق والشـ

والنظر الخامس ان الشك المصـ النسبة من الوجود والعدم على التساوى من غير اذعان باحد جانبيها۔ فالمعنى يؤمنون بشكهم فى قتل عيسى قبل ا شكهم فى قتلهم فى قتله۔ حاصل من غير القلبية ان لا يوجد التيقن حين حدوث ا مع الايمان بموته الطبعى مما يستحيـ السلام طرفين وجوده وعدمه فاذا كا جانبيه مطلقاً ولا بما يندرج فى ذالكـ يندرج فى عدم القتل اندراج الاخص الطبعي كليهما۔

٤١

صفحہ ٥١

على الظاهر فمن التزم الاول فقد كابر و ان الثانى فقد تحامق فأيهما شاء فليختر و ثالث الانظار ان فى هذا لتوجيه تكلفاً بحيث لا يتبادر الذهن الى رجوع الضمير الى ما ادعى رجوعه اليه مع انتشار الضمير وذالك مخل لكمال فصاحة القرآن والرابع ان المعنى على هذا التقدير يؤول الى انهم يصدقون بمشكوكية قتله ولما كان الشك والمشكوكية متحدين لزم كون التصديق متعلقا بالشك الذى هو تصور سواء اريد بالشك مفهوم العنوانى او مصداقه لان كلا منهما تصور لا محالة وسواء اريد بالتصديق الادراك الاذعانى الذى هو من جنس الادراك او الحالة ادراكية الاذعانية التى هى من لواحق الادراك وتعلقه بالتصور مطلقاً باطل كما تقرر فى مقره ولكن تعلقه بالشك حال كون التصديق من جنس الادراك أفحش من تعلقه به على تقدير كونه من لواحقه لانه على هذا يكون الشك معلوماً والتصديق ادراكاً وعلماً به وقد ثبت بالبرهان عندهم اتحاد العلم بمعنى الصورة العلمية بالمعلوم فلزم اتحاد التصديق والشك مع انهما متبائنان.

والنظر الخامس ان الشك المصطلح عبارة عن التردد بين طرفى النسبة من الوجود والعدم على التساوى اى ادراك النسبة مع تجويز طرفيها من غير اذعان باحد جانبيها. فالمعنى الذى اراد الكائد من ان اهل الكتب يؤمنون بشكهم فى قتل عيسى قبل الايمان بموته الطبعى يرجع الى ان شكهم فى قتله حاصل من غير اذعان بموته الطبعى لان من لوازم القبلية ان لا يوجد البعد حين حدوث القبل. ولان الشك في قتل الشخص مع الايمان بموته الطبعى مما يستحيل ولا خفاء ايضا فى ان لقتله عليه السلام طرفين وجوده وعدمه فاذا كان مشكوكا يجب ان لا يذعن باحد جانبيه مطلقاً ولا بما يندرج فى ذالك الجانب وظاهر ان الموت الطبعى يندرج فى عدم القتل اندراج الاخص تحت الاعم لشموله الحيوة والموت الطبعى كليهما.

٤١

صفحہ ٥٣

فتجريد الشك فى قتله من الاذعان بموته الطبعى من اجلى البديهيات لان تساوى طرفى الشك مع رجحان احدهما غير ممكن وهذا مما ليعلم كل من له ادنى فهم فلو كان مراد هذا الاية ما قاله فاى علم حصل بنزولها واى فائدة من فوائد الخبر ترتبت عليه فتدبر على ان حملك هذا الاية على ما حملت قول بان هذه الاية مبنية لبعض اجزاء الماهية للشك وهذا كانه ادعاء ان القرآن يبين المعاني المصطلحة لقوم كما ان الكافية والشافية والتهذيب وامثالها كذلك فهل يتفوه به عاقل.

واما على التوجيه الثانى فيرد عليه ماعدا الخامس من الانظار المذكورة كلها ويرد عليه خاصة ايضاً ان سلب الاوصاف بتمامها عن فرد فرد من افراد شىء ثم اثبات صفة معينة لها كما يقتضى انحصار ذالك الشيء فى تلك الصفة وهذا انحصار حقيقى كذلك سلب وصف معين عنها سواء كان مقدراً او ملفوظا ثم اثبات منافى ذالك الوصف يقتضى انحصار الشيء فى المنافى للوصف المسلوب وهذا انحصار اضافى وكلا هذين الحصرين نوعا حصر الموصوف فى الصفة واما انحصار الصفة فى الموصوف بالانحصار الحقيقى فبوجودها فى الموصوف وانتفائها عن جميع ما عداه او بالانحصار الاضافي فبوجودها فيه وانتفائها عن بعض ما عداه فقط.

ومن المعلوم بالبداهة صدق المحصور فيه على محصوره الكلى كليا وفى الاية انحصار اضافى لانحصار اهل الكتاب فى الايمان بالنسبة الى وصف الكفر دون سائر الاوصاف.

فلكون المراد من الاية سلب الكفر عن جميعهم واثبات نقيضه من الايمان لجميعهم كذالك وحصرهم فى ذلك النقيض يجب صدق الايمان على الكتابى صدقاً كليا بان يقال كل كتابى يؤمن به فهذه قضية موجبة محصورة كلية.

٤٢

فاذا حمل قوله تعالى عزوجل ( به﴾ قبل موته (النساء:١٥٩) على ما حمله كتابى يومن بمشكوكية قتل عليه السلام لزوم حمل المضارع على الماضى والا معنى الاستقبال. اما ان يخص هذا الحكم فى زمانه قبل رفعه هذا مناف للقاعدة المسلم قبل رفعه وبعده الى يوم القيامة وهذا يلزم حال عدم وجوده لا متناع تقرر الصفة بـ النقيضين وكذا يرد عليه ان حمل موته غير داع فخصص تكلف لا يرتضيه اربـ المعنيين ونسبة كلا منهما الى الكشف والا ان احد المعنيين باطل لامحالة فى الخصوص لاهونية خلاف القاعدة يتمشى فيه سوى العموم والعموم قـ التوجيه الاول انتفى التوجيه الثانى وان ا فاحد الكشفين لو فرض بالهام الشيطان اذ لو كان كلاهما بالهام الله تعـ ان كلا الكشفين من الكشوف الكاذبة ا الرحمانية والالم يرد على كل منهما نقو ساطعة. فالذى من شانه امثال هذه بالقرآن تمسك بالانجيل واذا الزم بـ تشبث بالعقل وان بطل منهما تذيل بالكشـ على صدق كشفه تبهت وتحير وتنكس ليس بحي فيرجى ولا ميت فيلقى او تطير

٤٣

صفحہ ٥٣

فاذا حمل قوله تعالى عزوجل ﴿وان من اهل الكتاب الا ليؤمنن به﴾ قبل موته (النساء: ١٥٩) على ما حمله فى هذا التوجيه يكون معناه كل كتابي يومن بمشكوكية قتل عليه السلام قبل ان مات ومع قطع النظر عن لزوم حمل المضارع على الماضى والاغماض عن مفاد النون الثقيلة من معنى الاستقبال۔ اما ان يخص هذا الحكم ببعض اهل الكتاب الموجودين فى زمانه قبل رفعه هذا مناف للقاعدة المارة آنفاً اما ان يعم للموجودين منهم قبل رفعه وبعده الى يوم القيامة وهذا يؤدى الى تجويز وجود من لم يوجد حال عدم وجوده لامتناع تقرر الصفة بدون موصوفها وفيه تجويز لمعية النقيضين وكذا يرد عليه ان حمل موته الذى هو مصدر على الماضى من غير داع فمحض تكلف لا يرتضيه ارباب الفهوم ويرد على تصويبه كلا المعنيين ونسبة كلا منهما الى الكشف والالهام۔

ان احد المعنيين باطل لامحالة اذ التوجيه الثانى قوى الاحتمال فى الخصوص لما فيه من خلاف القاعدة من اجتماع النقيضين والاول لا يتمشى فيه سوى العموم والعموم والخصوص مما يتغائران فان سلم التوجيه الاول انتفى التوجيه الثانى وان الثانى ارتفع الاول۔

فاحد الكشفين لو فرض بالهام من الرحمن يكون الاخر بالهام من الشيطان اذ لو كان كلاهما بالهام الله تعالى لما وقع التخالف بينهما فالحق ان كلا الكشفين من الكشوف الكاذبة الشيطانية لا من الكشوف الصادقة الرحمانية والا لم يرد على كل منهما نقوض شرعية قاطعة وايرادات عقلية ساطعة۔ فالذى من شانه امثال هذه الدعاوى ومن خصائله انه اذا اخذ بالقرآن تمسك بالانجيل واذا الزم بالانجيل رجع الى القرآن واذا بهما تشبث بالعقل وان بكل منهما تذيل بالكشف والالهام۔ فان طولب بدليل يدل على صدق كشفه يبهت ويتحير وينكس او هو مثيل للمريض مرض الموت ليس بحي فيرجى ولاميت فينسى او كطير النعامة ٤٣

صفحہ ٥٥

اذا استقريت تباعا اذا استعمل نظائر فاقول بفضل الله تعالى ان المعنى الصحيح للاية المذكورة الذى لا يرد عليه شيء من تلك الانظار هو انهم قالو انا متيقنون بقتل المسيح ابن مريم فردهم الله عزوجل بانهم ﴿ما قتلوه وما صلبوه﴾ (النساء:١٥٧) فكيف يتصور تيقنهم بقتله لانه لابد للعلم اليقينى من مطابقته لنفس الامر واذا لم توجد المطابقة لم يتحقق التيقن بقتله فحكمهم بهذا النحو من القطع وادعاء اليقين مع انتفاء العلم اليقينى به شبهة صرفة وجهل مركب يفسر بالحكم الغير المطابق الثابت فى نفس الامر فهم فى شك منه اى فى حكم لم يطابق الواقع وليسوا على اليقين بل هم يتبعون الظن والجهل المركب. لانهم ﴿ما قتلوه﴾ اى انتفى قتله انتفاء يقينياً بان يكون قوله يقينا قيداً للنفى لا للمنفى ﴿بل رفعه الله اليه﴾ (النساء:١٥٨) بالرفع الذى ينافى القتل وهو الرفع الجسمانى دون الرفع الروحانى. فانه لا ينافى القتل بل يجامعه فى نفس الامر فى اعتقاد المخاطب ﴿وكان الله عزيزاً﴾ (النساء:١٥٨) لايعجزه شيء عن رفعه عليه السلام مع جسده ﴿حكيماً﴾ فى صنع رفعه.

وليس احد من اهل الكتب الا ليؤمنن به اى بعيسى قبل موته اى قبل موت عيسى سواءكان ايمانه نافعاً له كالايمان فى حالته غير الباس اعم من ان يكون قبل نزول عيسى او حين نزوله. فهذا المعنى قد روعيت فيه صيغة المضارع والنون الثقيلة. التى تدل على استقبالية مدخولها بالاجماع من اهل اللغة ولم يرد عليه شيء من النقوض. فالذى ذكرناه من المعنى هو المحكوم عليه بالصحة الصافى عن شوائب الايرادات كاف لدفع الاشكالات يؤمن به المنصف المناظر وان اعرض عنه الجاهل المجادل المكابر.

ثم استدل القاديانى بطريق الزام على اهل الاسلام القائلين بحيوة المسيح عليه السلام بان كل من يؤمن بوجود السموات يؤمن بتحركها على الاستدارة. فلو كان عليه السلام على السماء للزم بتحركها تحركه فلم يتعين له جهة الفوق بل على هذا قد يصير فوقا وقد يصير تحتا فلا يتعين له النزول ايضاً اذ النزول لا يكون الامن الفوق. وايضا يلزم

٤٤

كونه فى الاضطراب وعدم القرار دائماً م العذاب وجوابه ان جهة الفوق يطلق حقيقا جانب راس الانسان بالطبع من محدد منتهى ذلك الخط ممايلى رجليه من مركز ال عوض ويطلق الفوق والتحت على الحدو ايضاً لكن اطلاقاً اضافيا لا حقيقيا وكل م اتصافه بكلا الوصفين من الفوقية والتحيتي بالفوقية بالاضافة الى مقعره. وماعدال ومتصف بالتحية بالنسبة الى سائر الافلا بالوجهين.

والحاصل ان كل حدين فرضا بين فما كان منهما اقرب الى المركز وابعد من ال فوق بخلاف المحققين فان ما يتصف م بالتحتيه وما يتصف التحتيه لا يمكن اتص الاعلى محدد دائما ومركز العالم مركز دائ هذا يقال ان المسيح عليه السلام لما كان ف ابعد من المركز واقرب الى المحدد بالنس فيكون فوق من هم على الارض وان سلمنا ن عدم تعين جهة الفوق له عليه السلا بالفوقية بالنسبة الى سكان الارض جميعل من مقره السماوى من محدد السماء ولثاني وبين محدد فلك الافلاك آناً فآناً من البعد البعد فيما بينه وبين مركز العالم من البعد ال يصل الى سطح الارض، وانت تعلم ان ال يقرب الى جانب مركز العوالم هو النزول ك الى جانب ذلك المحدد هو العروج فلما ي

٤٥

صفحہ ٥٥

كونه في الاضطراب وعدم القرار دائما مادام هو في السماء وهذا نوع من العذاب وجوابه ان جهة الفوق يطلق حقيقة على منتهى الخط الطولاني من جانب راس الانسان بالطبع من محدب فلك الافلاك وجهة التحت على منتهى ذلك الخط ممايلى رجليه من مركز العالم وهاتان الجهتان لا تتبدلان عوض ويطلق الفوق والتحت على الحدود التى بين المركز وبين المحدب ايضاً لكن اطلاقاً اضافيا لا حقيقيا وكل من هذه الحدود المتوسطة يمكن اتصافه بكلا الوصفين من الفوقية والتحتية مثلا محدب فلك القمر متصف بالفوقية بالاضافة الى مقعره. وما عداه من الحدود المتقاربة الى مركز ومتصف بالتحتية بالنسبة الى سائر الافلاك فهذا الحد المعين فوق وتحت بالوجهين.

والحاصل ان كل حدين فرضا بين المركز وبين محدب فلك الاعلى فما كان منهما اقرب الى المركز وابعد من المحدب فهو تحت وما بالعكس فهو فوق بخلاف الحقيقيين فان ما يتصف منهما بالفوقية لا يمكن ان يتصف بالتحتيه وما يتصف بالتحتيه لا يمكن اتصافه بالفوقية. لان محدب الفلك الاعلى محدب دائما ومركز العالم مركز دائما لا تغير ولا تبدل فيهما. وعلى هذا يقال ان المسيح عليه السلام لما كان فى السماء الثانية فلاريب في انه ابعد من المركز واقرب الى المحدب بالنسبة الى من هو على وجه الارض. فيكون فوق من هم على الارض وان سلمنا تحركه بتحرك السموات فلا يلزم عدم تعين جهة الفوق له عليه السلام بل مادام هو في السماء متصف بالفوقية بالنسبة الى سكان الارض جميعا. فاذا اراد الله تعالى نزوله انتقل من مقره السماوى عن محدب السماء ويتباعد بحيث يتزايد البعد فيما بينه وبين محدب فلك الافلاك آنا فآناً من البعد الذى كان بينهما ويتناقص كذلك البعد فيما بينه وبين مركز العالم عن البعد الذى كان حيث هو فى مقره الى ان يصل الى سطح الارض، وانت تعلم ان الحركة من المحدب الاعلى او مما يقرب الى جانب مركز العوالم هو النزول كما ان الحركة من جانب ذلك المركز الى جانب ذلك المحدب هو العروج فلما يلزم من تحركه بتحرك السموات ٤٥

صفحہ ٥٧

على الاستدارة عدم تعين النزول له عليه السلام وايضا لم يلزم من تحركه بتحرك السموات كونه مضطر باوفى نوع من العذاب الا ترى الى الذى ذهب اليه اهل الهيئة اليوم من الافرنج ان الشمس فى وسط الكواكب التى تدور حولها وقالوا انها ليس لها حركة حول الارض بل الارض حركة حولها وان الارض احدى السيارات عندهم التى منها عطارد والزهرة والارض والمريخ. وقال بعضهم ان الارض هى التى تتحرك هذه الحركة السريعة اليومية من المغرب الى المشرق وبسببها ترى الكواكب طالعة وغاربة.

لانها اذا تحركت كذلك وكانت الكواكب ساكنة او متحركة الى تلك الجهة ايضاً لكن بحركة ابطاء من حركتها ظهر لنا فى كل ساعة من الكواكب ما كانت محتجبة بحدبية الارض فى جانب المشرق واحتجبت عنا بحد بتيها فى جانب المغرب ما كانت ظاهرة لنا فيتخيل ان الارض ساكنة. وان الكواكب هى متحركة بتلك الحركة السريعة الى خلاف الجهة التى تتحرك الارض اليها كما يتخيل ان السفينة الجارية فى الماء ساكنة مع كون الماء متحركا الى خلاف جهة السفينة.

وهذا القول وان كان مردودا بان الارض ذات مبدء ميل مستقيم طبعا كما يظهر من اجزائها المنفصلة فيمتنع ان تتحرك على الاستدارة وبانها لو كانت كذلك لما وصلت الطيور الى جهة المشرق عند طيرانها من المغرب الى المشرق. وإن كانت المسافة التى بين مبدء مسير الطيور وبين منتهاه مسافة قليلة الا بعد مضى اكثر من يوم وليلة. وبانه على هذا كان يجب ان يتخيل جميع ما فى الجو من الطيور متحركا الى جانب المغرب سواء كان ذلك الطائر متحركا بحركة نفسه الارادية الى المشرق او المغرب. وذلك لبطوء سير الطيور وسرعة حركة الارض وبوجوه اخرى تركنا ذكرها.

وبقوله تعالى شانه ﴿والقى فى الارض رواسى ان تميد بكم (النحل:١٥) وبقوله الكريم ﴿ام من جعل الارض قرارا وجعل خلالها انهارا وجعل لها رواسى (النمل:٦١)﴾ فمع بطلان هذا القول نقول انهم مع كونهم عقلاء لم يجزموا ببطلان مذهبهم هذا بظهور استلزامه عذاب من هو على الارض ولم

يورد عليهم احد ممن يخالفهم من المسلمين وسا نعم اوهام العامة الجهلة الذين لا حظ لهم من الـ هذا وكل هذا على تقدير تسليم حركة فلك بتسليم حركة سائر الافلاك بتحريكه اياها ولنا المعبر بالعرش فى لسان الشرع على الاستدا دليل قطعى يوجب الظن بذلك فضلا عن ان يعـ يثبت ذلك فى خبر قوى ولا ضعيف ان العرش يتـ ويحرك ماتحته من الافلاك بل قد ثبـ قوائم. وهذا بظاهره يابى ان يكون الفلك الذى يـ يابى ما صح انه مقبب كالخيمة وقد ورد انه يـ الملائكة وثمانية منهم يوم القيامة. قال عزوجل يومئذ ثمنية ﴿الحاقة:١٧﴾ اى يوم القيمة وعلى هـ متحركا بالحركة المستديرة وما ورد فى القر قال تعالى: ﴿لا الشمس ينبغى لها ان تدرك القمر فى فلك يسبحون ﴿يٰسٓ:٤٠﴾ وقال ﴿كل يجرى وقال ما اعظم شانه ﴿فلا اقسم بالخنس. وفسر بالنجوم الخمسة زحل والمشترى ومـ سلم كون ذلك الفلك متحركا فلا نسلم انه يلز لان الشرع لم يرد باتصال الافلاك فيما بـ يظهره لمن تتبع الاحاديث ولم يثبت كو بالنسبة الى السماء الدنيا كحلقة فى فلاة و السماء الثانية والثانية بالنسبة الى الثالثة تحته بالنسبة الى العرش كحلقة فى فلاة صح هذا التمثيل واذا لم يثبت كروية الـ الاستدارة ولما لم يثبت الاتصال فيما بين الافلاك لا يلزم تحرك ماتحته من الافلاك ٤٧

صفحہ ٥٨

يورد عليهم احد ممن يخالفهم من المسلمين وسائر اهل المعقول هذا الايراد نعم اوهام العامة الجهلة الذين لا حظ لهم من العلوم العقلية تتزلزل بامثال هذا وكل هذا على تقدير تسليم حركة فلك الافلاك على الاستدارة ثم بتسليم حركة سائر الافلاك بتحريكه اياها ولنا ان نمنع حركة فلك الافلاك المعبر بالعرش فى لسان الشرع على الاستدارة لانه لم يوجد فى الشرع دليل قطعى يوجب الظن بذلك فضلا عن ان يوجب العلم القطعى كيف ولم يثبت ذلك فى خبر قوى ولا ضعيف ان العرش يتحرك على الاستدارة.

ويحرك ماتحته من الافلاك بل قد ثبت فى اخبار صحيحة ان له قوائم. وهذا بظاهره يابى ان يكون الفلك الذى يصفونه على ما يصفونه ولا يابى ما صح انه مقبب كالخيمة وقد ورد انه يحمل اليوم العرش اربعة من الملائكة وثمانية منهم يوم القيامة. قال عزوجل ﴿ويحمل عرش ربك فوقهم يومئذ ثمنية (الحاقة:١٧)﴾ اى يوم القيمة وعلى هذا كيف يستقيم كون الفلك متحركا بالحركة المستديرة وما ورد فى القرآن انما هو سير الكواكب كما قال تعالى ﴿لا الشمس ينبغى لها ان تدرك القمر ولا اليل سابق النهار ط وكل فى فلك يسبحون (يس:٤٠)﴾ وقال ﴿كل يجرى الى اجل مسمى (لقمان:٢٩)﴾ وقال ما اعظم شانه ﴿فلا اقسم بالخنس الجوار الكنس (تكوير:١٥،١٦)﴾ وفسر بالنجوم الخمسة زحل والمشترى والمريخ والزهرة وعطارد ولئن سلم كون ذلك الفلك متحركا فلا نسلم انه يلزم بتحركه تحرك سائر الافلاك لان الشرع لم يرد باتصال الافلاك فيما بينها بل ورد على انفصالها كما يظهره لمن تتبع الاحاديث ولم يثبت كونها كروية بل وردان الارض بالنسبة الى السماء الدنيا كحلقة فى فلاة وهكذا السماء الدنيا بالنسبة الى السماء الثانية والثانية بالنسبة الى الثالثة. وهكذا والكل من الكرسى وما تحته بالنسبة الى العرش كحلقة فى فلاة وظاهره انها لو كانت كروية لما صح هذا التمثيل واذا لم يثبت كروية الافلاك لم يثبت حركتها على الاستدارة ولما لم يثبت الاتصال فيما بين الافلاك فمع تسليم تحرك فلك الافلاك لا يلزم تحرك ماتحته من الافلاك بل عرفت ان نفس حركة الفلك

٤٨

صفحہ ٥٩

الاعلىٰ ايضاً لم تثبت فلم يرد ما زعمه المستدل بطريق الالزام تقليد الاوهام العامة.

وحاصل كلامنا هذا كله ورود منوع متعاقبة مترتبة على استدلاله بانا لانسلم كون الفلك الاعلى متحركا ولئن سلم فلا نسلم انه متحرك على الاستدارة ولئن سلمناه فلا نسلم ان بتحركه يلزم تحرك باقى الافلاك لتوقفه على اتصالها ولااتصال۔ فلا يلزم تحركها حتى يتحقق مزعومه ولئن سلم كان ذلك فلزوم المحذورات الثلث من عدم تعين جهة الفوق له وعدم تعين النزول له وكونه فى العذاب الدائمى ممنوع مطلوب دليله فانی له ذلك وقد عرفته مفصلا وتامل فيه بالنظر الصائب ليظهر لك مبلغ انكشافه فى علم الهيئة ودركه فى القواعد الهندسية ينكشف لك حقيقة دعواه من المجددية والمحدثية وتقوله المفترى من المسيحية......الخ.

سوال نمبر ٢١....... واستدل القاديانى على موت عيسى عليه السلام بقوله تعالى ﴿وما جعلناهم جسدا لا ياكلون الطعام وما كانوا خلدين (انبیاء:٨)﴾ وتهذيب استدلاله انه لو كان المسيح حيا فى السماء لزم كونه جسدا لاياكل الطعام وكونه خالدا وقد نفى الله تعالى ذالك فان مفاد الاية سلب كلى اى لاشىء من الرسل بجسد لاياكل ولا احد منهم بخالد ومن المقرر ان تحقق الحكم الشخصى مناقض لسلب الكلى والدليل على كون المفاد سلبا كليا قوله تبارك وتعالى ﴿وما جعلنا لبشر من قبلك الخلد افان مت فهم الخلدون (انبیاء:٣٤)﴾ فانه صريح فى السلب الكلى فاذا ثبت الرفع والسلب كليا بالنص ارتفع الحكم الشخصى المستلزم للايجاب الجزئى المتناقض لذلك السلب المدلول بالنص فان احد المناقضين لا يجامع النقيض الاخر كما لا يرتفع معه وهذا بديهى.

اقول....... بتوفيقه تعالى ان فى قوله تعالى ﴿وما جعلناهم جسداً......الخ (انبیاء:٨)﴾ انما ورد النفى على الجعل المؤلف المتخلل بين المفعولين ومفعوله الثانى المجعول اليه هو قوله ﴿جسداً لا ياكلون......الخ﴾ فمدخول النفى هو الجعل المقيد بهذه القيود وظاهره ان المقيد ولو بالف قيد لا ٤٨

يتصور تحققه الا بتحقق كل ما من تلك القيـ وكون المجعول اليه جسدا مع تقييده بعـ المقيد من تحقق تلك القيود الثلثة بخلاف الا فانه متصور بانتفاء جزء اى جزء كا الاجزاء فينتفى ذلك المدخول للنفى بوقـ تاليفه بان يتعلق الجعل المفرد باحدا الـ بالثانى فحسب وبرفع خصوص المجمو وبانتفاء قيد عدم الاكل. ولو سلم تحقـ وبانتفاء مجموع القيود وبمعنى انتفاء كل ما مع تسليم القيود باسرها فهذه المو لا بالفعل والاطلاق الا رفع القيد الاخير.

فانه واقع بالفعل ومراد بقو له ﴿وما جعلناهم جسدا لا ياكلون الطعام (انبیاء:٨)﴾ وتحقق ماعدا ذلك القيد مسـ القطعيتين وعدم الاكل الذى هو امر عدمى ما اعم من ان يكون طعاما او غیره وبعدم ا اكل غير الطعام وعدم ذلك الانتفاء الذى اضيـ بتحقق نقيض ما اضيف اليه الانتفاء فيستلـ قوة السالبة ثبوت الاكل الذى هو فى قوة الـ من الثانية انما هو بامكان تحققها بعد العين عدمه لضرورة استدعائها وجو الموضوع فيما نحن فيه موجود.

وقد تقرر فى مدارك العقلاء الـ الموجبة المحصلة عند وجود الموضوع مـ ﴿وما جعلناهم جسداً لا ياكلون الطعام (انبیاء:٨)﴾ الذى قضية موجبة محصلة اعنى كل رسول ياكل اثبات موت المسيح ابن مريم ان نسبة الاكـ ٤٩

صفحہ ٥٩

يتصور تحققه الا بتحقق كل من تلك القيود التى ههنا هى تاليف الجعل وكون المجعول اليه جسدا مع تقييده بعدم اكل الطعام فلا بد تحقق هذا المقيد من تحقق تلك القيود الثلثة بخلاف الانتفاء

فانه متصور بانتفاء جزء اى جزء كان ولا يتوقف على انتفاء جميع الاجزاء فينتفى ذلك المدخول للنفى بوقوع غير الجعل موقعه وبانتفاء تاليفه بان يتعلق الجعل المفرد باحدا المفعولين. اما بالاول فقط. واما بالثانى فحسب وبرفع خصوص المجعول اليه وضع امر آخر فى محله وبانتفاء قيد عدم الاكل. ولو سلم تحقق كل قيد ماعدا فرض انتفائه وبانتفاء مجموع القيود وبمعنى انتفاء كل قيد وبانتفاء المقيد اعنى ذاتا ما مع تسليم القيود باسرها فهذه المواد والمواقع ليست الا بالامكان لا بالفعل والاطلاق الا رفع القيد الاخير.

فانه واقع بالفعل ومراد بقوله تعالى ﴿ وما جعلناهم جسداً (انبیاء:٨)﴾ وتحقق ماعدا ذلك القيد مسلم بل مثبت بالبراهين النقلية القطعية وعدم الاكل الذى هو امر عدمى متصور بوجهين بعدم اكل شىء ما اعم من ان يكون طعاما اوغيره وبعدم اكل الطعام خاصة وان وجد معه اكل غير الطعام وعدم ذلك الانتفاء الذى اضيف الى الامر العدمى انما يتحقق بتحقق نقيض ما اضيف اليه الانتفاء فيستلزم انتفاء ذالك العدم الذى هو فى قوة السالبة ثبوت الاكل الذى هو فى قوة الموجبة المحصلة اذ عموم الاولى من الثانية انما هو بامكان تحققها بعدم الموضوع وعدم امكان تحققه، لعين عدمه لضرورة استدعائها وجود الموضوع ومن البديهيات ان الموضوع فيما نحن فيه موجود.

وقد تقرر فى مدارك العقلاء التلازم بين السالبة السالبة وبين الموجبة المحصلة عند وجود الموضوع فيلزم من قوله تعالى ﴿ وما جعلنا هم جسداً لا ياكلون الطعام (انبیاء:٨)﴾ الذى هو بمنزلة السالبة السالبة تحقق قضية موجبة محصلة اعنى كل رسول ياكل الطعام فيقال لمن يدعى به على اثبات موت المسيح ابن مريم ان نسبة الاكل الى كل رسول فى هذه القضية

٤٩

صفحہ ٦١

هل هي بالضرورة بحسب الذات او بحسب الوصف او فى وقت ما او فى وقت معين او بحسب الدوام ذاتا او وصفا او بالاطلاق او بالامكان مع قيد الدوام فى ماعدا الاول والخامس او مع قيد اللاضرورة فى ماعدا الاول فقط على راى او فى ماعدا الخامس ايضا كما على رأى آخر وان لم يكن بعض التراكيب منها متعارفا اولا يعتبر قيد الضرورة ولا قيد الدوام الاول والخامس بديهى البطلان بوجود نقيض كل منهما وهو امكان عدم الاكل للاول واطلاقه للخامس وكذا الثانى والسادس لعدم مدخلية وصف الرسالة فى ضرورة الاكل او دوامه كما لا مدخل فيهما لمعنون ذلك الوصف وكذا لا تكون ضرورية بحسب الوقت مطلقا لا بحسب وقت ما ولا بحسب وقت معين لان غاية الامر ان يكون الاكل ضروريا بشرط الجوع والجوع لما لم يكن واجبا فى وقت مالم يكن المشروط به ضروريا فى وقت ما كما صرح به فى كتب المنطق من ان الكتابة ليست بضرورية فى حين من الاحيان فما ظنك بالمشروط بها والضرورة بشرط الشىء غير الضرورة فى وقت ذلك الشىء والاول لا يستلزم الثانى كما فى تحرك الاصابع بشرط الكتابة.

فان التحرك بشرط الكتابة ضرورى. وليس فى وقتها بضرورى فكذلك ضرورة الاكل بشرط الجوع امر وضرورته فى وقت الجوع أمر آخر لا تلازم بينهما فضلا عن الاتحاد فاذا لم يكن الاكل ضرورى فى وقت مالم تكن القضية وقتية مطلقة ولا منتشرة مطلقة فلم تكن وقتية ولا منتشرة لا ستيجاب انتفاء الاعم انتفاء الاخص وكون الاكل ضروريا بشرط الجوع لا يقتضى ان تكون القضية مشروطة ايضا اذ المشروطة ما يوجد فيه الضرورة بشرط الوصف العنوانى لا بشرط اى وصف كان ومن الظاهر ان الوصف العنوانى فى القضية انما هو وصف الرسالة دون وصف الجوع فلم يبق الا ان يكون بالاطلاق او الامكان مع قيد اللادوام او اللاضرورة او بدونه والاول من كل منهما متعين بدليل قوله تعالى ﴿وما ارسلنا قبلك من المرسلين الا انهم لياكلون الطعام ويمشون فى الاسواق (الفرقان:٢٠)﴾

فيكون وجودية احد جزئيها ثابت بهذه الاية وثانيهما بما مر من

٥٠

البيان وهم ان كانت مستلزمة لما عم بالاعتبار وينحل الى قولنا كل رسول الرسول ياكل الطعام بالفعل وهذ الاسلاميون لانه يصدق قولنا المسيح لم ياكل بالفعل ومما قررنا قبل من ان الجو الباطن واقتضاء الطبيعه بدل ما يتحلل ا فى تنوع مراتب التحلل باختلاف الاسباب لمراتبه. فالتحلل الذى فى مرتبة ناقصة غـ كل منهما عن الاخر. وكذلك يقال فى جعـ تحتها وعما فوقها من المراتب وهذا مسـ كل مرتبة فامكان سلبها عن جميع المـ الاخر عن تلك المرتبة وهذا فرع امكان ا معينة فى مرتبة اخرى سلب مقيد.

والسلب فى نفس الامر اعم من فى مرتبة اخرى اولا سلب مطلق ولا يـ المطلق ومتاخر عنه واذا كان الامر كذلك

فامكن انتفاء الجوع اصلا عـ بتحقق انتفاء الجوع فى القرآن ولم يـ قال مخاطبا لادم عليه السلام ﴿ان لـ تظموا فيها ولا تضحى (طه: ١١٨، ١١٩)﴾

وليس ذلك الا لعدم التحلل وحمله على عدم دوام الجوع او على عـ جميع الافعال المدخولة بحرف النفى وامثال هذا لا تصح ولا تستقيم الا احوجنا الى صرف اللفظ عن الظا ينتقل اليه الذهن اصلا. والتمسك على

٥١

صفحہ ٦١

البيان وهم ان كانت مستلزمة لما عداها لاكنها......لكونها اخص احق بالاعتبار وينحل الى قولنا كل رسول ياكل الطعام بالفعل ولا شيء من الرسول ياكل الطعام بالفعل وهذه القضية لا تناقض ما ذهب اليه الاسلاميون لانه يصدق قولنا المسيح ابن مريم اكل للطعام بالفعل وليس باكل بالفعل وما قررنا قبل من ان الجوع ليس بضرورى لان الجوع خلو الباطن واقتضاء الطبيعه بدل ما يتحلل منه وذلك فرع التحلل ولا ارتياب فى تنوع مراتب التحلل باختلاف الاسباب الداخلية والخارجية ولا تحديد لمراتبهـ فالتحلل الذى فى مرتبة ناقصة غير التحلل الذى فوقة يجوز سلب كل منهما عن الاخر. وكذالك يقال فى جميع مراتبه فتباينها فهي مسلوبة عما تحتها وعما فوقها من المراتب وهما مسلوبتان عنها فهذا حكم اجمالى على كل مرتبة فامكان سلبها عن جميع المراتب الاخر كامكان سلب المراتب الاخر عن تلك المرتبة وهذا فرع امكان السلب فى نفس الامر اذ سلب مرتبة معينة فى مرتبة اخرى سلب مقيد.

والسلب فى نفس الامر اعم من ان يكون ذلك السلب مقيدا بكونه فى مرتبة اخرى اولا سلب مطلق ولا ريب فى ان امكان المقيد فرع امكان المطلق ومتاخر عنه واذا كان الامر كذلك امكن سلب التحلل راسا.

فامكن انتفاء الجوع اصلا مع بقاء الشخص بل حكم الله تعالى بتحقيق انتفاء الجوع فى القرآن ولم يكتف بمحض امكانه وقال وعز من قائل مخاطبا لادم عليه السلام ﴿ان لك الا تجوع فيها ولا تعرى وانك لا تظمؤا فيها ولا تضحى (ط:١١٨، ١١٩)﴾

وليس ذلك الا لعدم التحلل كما ان عدم الضحى لعدم الشمس وحمله على عدم دوام الجوع او على عدم استعداده غير صحيح والاصح جميع الافعال المدخولة بحرف النفى على نفس دوامها او عدم اشتدادهاـ وامثال هذا لا تصح ولا تستقيم الا لوجود ضرورة داعية واى ضرورة احوجنا الى صرف اللفظ عن الظاهر وحمله على غير الظاهر بحيث لا ينتقل اليه الذهن اصلاـ والتمسك على وجود تلك الضرورة بقوله ﴿وقلنا

٥١

صفحہ ٦٣

يادم اسكن انت وزوجك الجنة وكلا منها رغداً حيث شئتما ولا تقربا هذه الشجرة فتكونا من الظلمين (البقرة:٣٥) غير مستقيم وان اطلاق الاكل واباحته لهما لا يقتضى الجوع اذ كما ان الفواكه فى الدنيا لا توكل الا لحصول اللذة لا لدفع الجوع كذا طعام الجنة والافتقار اليه لحصول بدل التحلل ودفع الجوع بل لا جوع ولا تحلل۔ وانما يكون اكله لحصول اللذة فقط۔

فان لم تقنع بما قلنا فطالع التيسير والوجيز وكيف لا مع انه قد تاكد وتايد بما صح ان فى الجنة بابا۔ يقال له الريان من دخل شرب ومن شرب لا يظماء ابدا ولا فرق بين الجوع والظمأ فلما لا امتناع فى عدم التعطش لا امتناع فى عدم الجوع ولا يرد على ما قلنا من انه اذا امكن سلب التحلل امكن انتفاء الجوع انه احتجاج بلا دليل اذا انتفاء العلة لا يستلزم انتفاء المعلول۔ بدليل ما تقرر عند الاصوليين من جواز تعدد العلل على معلول واحد فلا يلزم انتفاء المعلول بانتفاء واحد منها لجواز تحققه بتحقق علة اخرى منها كعدم صحة الاحتجاج على الحكم۔ بان زيدا لم يمت بانتفاء واحد من علل الموت كما يقال لانه لم يسقط من اعلى الجبل فهذا الاستدلال۔ غير صحيح اذ الموت كما يتحقق بالسقوط من اعلى الجبل كذلك يقع عن اعلى سطح البيت ومن فوق الشجرة الطويلة وبضرب من السيف والحجر وامثاله وبنحو امراض يستصعب احصائها فبانتفاء واحد منها۔ کیف يجزم بانتفاء الموت اصلاً لامكان تحققه بتحقق واحد آخر من تلك الانواع وردوه لان التحقيق ان المعلول اذا انحصر فى العلة وتكن العلة لازمة له وهى مفسرة فى كتب القوم بما لولاه لامتنع الحكم المعلول فانتفاء ها يستلزم انتفاء المعلول اذ لا يتصور تعدى العلل بهذا المعنى حتى يمكن عند انتفاء احدها ثبوته باخرى منها فاذا لم يجز تعدد العلة وانحصر المعلول الواحد فى العلة الواحدة الازمة له فلو تحقق المعلول مع ارتفاع العلة بهذا المعنى لزم تحقق الملزوم بدون اللازم۔ فالاستدلال على عدم

٥٢

المعلول بانتفاء العلة بهذا المعنى استدلال باطل ولاريب فى صحته والتحلل بالنسبة الى الجـ الجوع بمعنى لولاه لامتنع لا بمعنى الامـ الاستدلال على امكان انتفاء الجوع بامكان للاكل بالمعنى الاخير ولذا لا يلزم من انـ تحققه بدونه بعلة غير الجوع كاستحصال الـ واضح على من له ادنى تامل۔

﴿واللہ يهدی من یشاء الی صراط مسـ﴾

ناقل الايات والاحاديث والتفاسير و القاضی غلام گیلانی الحنفی الفنجا ثم چھاچھی ثم الشمس آبادی عفی عـ

﴿الآية فلما توفيتني ..... الخ﴾

لیکن مسیح علیہ السلام پر جو پورا اور تماماً مقبوض ہونا صادق آ گئے ہوں نہ اگر ان کی روح ہی صرف اٹھالی گئی ہو اس ۔ قبضہ نہیں بلکہ ایک حصہ پر قبضہ ہوا۔ پھر بایں ہمہ اگر کہو گے ناجائز ہے۔ ہاں اگر یوں کہہ دیں کہ توفی کا معنی لے لیـ ہے۔ خواہ یوں کہ وفا کا عدم اس میں اعتبار کیا گیا یا وفا ا ہو یا کبھی مقارن نہ ہو وفا کے عدم کا اعتبار ایک چیز ہے بر ایں توفی کا اطلاق رفع روحی پر صحیح ہوگی مگر پہلی صور صورت میں عموماً مجاز ہوگا؎ ١؎

١؎ عموم مجاز اس کو کہتے ہیں کہ لفظ سے ایک ایـ شامل ہو۔ جیسا کہ حضرت مصنف تقدس مآب مدظلہـم نے جہاں پر مقارن ہوگا۔ وہ حقیقی اور جہاں مقارن نہیں ہـ ہے۔ ١٢ مترجم۔

٥٣

صفحہ ٦٣

المعلول بانتفاء العلة بهذا المعنی استدلال بانتفاء اللازم علی انتفاء الملزوم ولاریب فی صحته والتحلل بالنسبة الی الجوع کذالک لإنه المتوقف علیه الجوع بمعنی لولاه لامتنع لا بمعنی الامر المصحح لدخول الفاء فیصح الاستدلال علی امکان انتفاء الجوع بامکان انتفاء التحلل نعم الجوع علة للاکل بالمعنی الاخیر ولذا لا یلزم من انتفاء الجوع انتفاء الاکل لجواز تحققه بدونه بعلة غیر الجوع کاستحصال اللذة وقصد علاج ونحوه. وهذا واضح علی من له ادنی تامل.

﴿والله یهدی من یشاء الی صراط مستقیم﴾ ناقل الایات والاحادیث والتفاسیر والفقه والعبارات القاضی غلام گیلانی الحنفی الفنجابی ثم چھاچھی ثم الشمس آبادی عفی عنه

﴿ایسا ہی آیت فلما توفیتنی ...... الخ سے بھی پورا اور تمام لے لینا مراد ہے لیکن مسیح علیہ السلام پر جو پورا اور تاماً مقبوض ہونا صادق آتا ہے۔ تب ہی ہے کہ وہ بجسد اٹھائے گئے ہوں نہ اگر ان کی روح ہی صرف اٹھالی گئی ہو اس لئے کہ خاص روح کا اٹھایا جانا تو تمام پر قبضہ نہیں بلکہ ایک حصہ پر قبضہ ہوا۔ پھر بایں ہمہ اگر کہو گے توفی کا اطلاق رفع روحی پر حقیقی ہے تو یہ ناجائز ہے۔ ہاں اگر یوں کہہ دیں کہ توفی کا معنی لے لینا ہے۔ مگر اس طرح پر کہ وفاء سے مجرد ہے۔ خواہ یوں کہ وفا کا عدم اس میں اعتبار کیا گیا یا وفا اس میں معتبر نہیں پھر وفا اس کو کبھی مقارن ہو یا کبھی مقارن نہ ہو وفا کے عدم کا اعتبار ایک چیز ہے۔ وفا کے اعتبار کا عدم اور چیز ہے۔ بنا برآں توفی کا اطلاق رفع روحی پر صحیح ہوگی مگر پہلی صورت میں کل کا اطلاق جز پر ہوا۔ دوسری صورت میں عموم مجاز ہوگا۔١؎

١؎ عموم مجاز اس کو کہتے ہیں کہ لفظ سے ایک ایسا معنی مراد لیا جائے کہ وہ حقیقی اور مجازی کو شامل ہو۔ جیسا کہ حضرت مصنف تقدس مآب مدظلہم نے فرمایا کہ ”اس کو وفا مقارن ہو یا نہ ہو“ اب جہاں پر مقارن ہوگا۔ وہ حقیقی اور جہاں مقارن نہیں ہوگا وہ مجازی کہلائے گا۔ تو یہی عموم کا معنی ہے۔ از مترجم۔

٥٣

صفحہ ٦٥

رہی یہ بات کہ کسی چیز کے عدم کے اعتبار اور اس چیز کے اعتبار کے عدم میں کیا فرق ہے سو یہ فرق ہے کہ پہلا خاص، دوسرا عام ہے، جز جو کچھ ہے، سو ہے، مگر اس میں شبہ نہیں کہ دونوں تقدیر پر یہ معنی مجازی ہے۔ نہ حقیقی لیکن مجازی لے لینا تو تب ہی جائز ہوتا ہے کہ جب کوئی ایسا قرینہ موجود ہو کہ اس کے ہوتے ہی حقیقی لینا جائز نہ ہو، ہاں یہاں اس قسم کا کوئی قرینہ نہیں ہے پھر کہو کہ یہ مجازی لے لینا کیونکر درست ہوگا۔ لہٰذا حقیقی ہی مراد لینا لازم ہوا نہ مجازی یہ ظاہر ہے کہ حقیقی و مجازی کا مدار وضع ہے۔ خواہ وہ نوعی ہو گا یا شخصی بہر حال لفظ کو جب ان دونوں میں کسی وضعی معنی میں استعمال کریں گے تو وہ حقیقی استعمال ہوگا۔ ورنہ مجازاً ہوگا پس مشتقات جو ایسے مادہ اور ہیئت ترکیبی سے کہ ان میں سے پہلا بوضع شخصی موضوع ہے۔ دوسرا بوضع نوعی مرکب ہیں۔ بہ سبب اس ترکیب کے مبدء پر باعتبار مادہ بوضع شخصی اور معنی ترکیبی پر بوضع نوعی دال ہیں۔

نیز جب اس طرز پر ہوں گے تو استعمال حقیقی اسی صورت میں ہوگا۔ کہ دونوں وضع متحقق ہوں نہ صرف ایک ہی متحقق ہو۔ تو پھر بھی حقیقی ہی ہوگا۔ البتہ مجاز تین صورتوں میں پایا جاسکتا ہے۔ ایک جب کہ وضع شخصی نہ رہے۔ دیکھو ناطق اس کے مبدء کا موضوع لہ دراصل بوضع شخصی ادراک کلیات و جزئیات ہے۔ جب اسے دال مراد لیں گے تو یہ استعمال مجازی ہوگا۔ ایسا ہی جب وضع نوعی کو اٹھا دیں۔ دیکھو قاتلہ جب کہ اس سے مقولہ مقصود ہو۔ گو اس میں قول جو اس کا مصدر ہے۔ اپنے اصل معنی پر دال ہے۔ مگر بااعتبار اس کے کہ اس میں وضع نوعی منتفی ہوا ہے۔ مجازی ہوگا اگر دونوں وضع کو اٹھا دیں۔ نیز مجازی ہوگا۔ دیکھو ناطق سے جس حالت میں مدلول مراد رکھ لیں گے۔ کیونکہ ناطق مدلول کے لئے نہ تو بوضع نوعی اور نہ بوضع شخصی موضوع ہے۔ اس لئے متعذر ہے کہ لفظ متوفیک ۔ توفیتنی ان کو کسی معنی پر محمول کریں گے۔ کونسا معنی ان سے مراد لیں گے۔ اگر ”پورے طور پر لے لینا“ مراد ہے تو یہ روح و جسد دونوں کے اٹھائے جانے کے بغیر نہیں ہو سکتا ہے۔ لیکن یہ استعمال حقیقی ہوگا۔ کیونکہ حقیقت کا مدار وضع شخصی اور نوعی پر ہے سو وہ پایا گیا ہے۔

١؎ دیکھو متوفی مشتق ہے۔ اس کا اصل ماخذ وفا ہے اور یہ لفظ تو اپنے معنی پر بوضع شخصی دال ہے۔ رہی ہیئت جو حروف کے آپس میں مل جانے سے ہوگئی ہے۔ وہ اپنے معنی مرکب پر بوضع نوعی دال ہے۔ جیسا کہ کہیں کہ ہر لفظ جو مفتعل کے وزن پر ہو۔ وہ تین چیزوں کے مجموعہ پر دال ہوگا۔ ایک ماخذ، دوم باب کا اقتضاء سوم نسبت الی الفاعل۔ ظاہر ہے کہ متوفی کا یہی مجموعہ ہے۔ مفتعل کے وزن پر بھی ہے۔ ٥٤

اگر اس میں اخذ کو مراد رکھیں گے اور تمامیت کو اخذ کے لئے تمامیت کا عدم قید ہے۔ یا مہمل طور پر لیں گے لگی ہو۔ یا نہ تو ان صورتوں میں یہ استعمال مجازی ہوگا۔ اس لئے بوضع شخصی سے ہٹانا متحقق ہوگا لیکن یہ بات مسلمات سے ہے چھوڑ کر مجازی کو اختیار کرنا ناجائز ہے۔ اور قرینہ یہاں پر موجود لینا پڑے گا۔ ہاں یہ جو تم کہتے ہو ”متوفی“ سے مارنا بھی صریح ہے۔ نیز مسلم نہیں ہے۔ اس لئے کہ یا تو کہو گے کہ ”توفی“ یہ تو پہلا ہی جھگڑا ہے۔ قرآن شریف میں تو کہیں بھی توفی اور قرینہ مستعمل نہیں ہوا ہے یا کہو گے کہ نہیں توفی اور متوفی سے مانا۔ لیکن حقیقی کی نشانی تو یہ ہے کہ وہ بلاقرینہ ہی متبادر ہوں نہ بن جائیں گے۔

لہٰذا لفظ کی تقسیم حقیقت و مجاز کی طرف صحیح نہ ہوگی ممکن ہی نہیں ہے۔ بے شک یہ ہمارا دعویٰ کہ قرآن شریف موت میں مستعمل نہیں کیا گیا ہے۔ ثبوت طلب ہے۔ لیکن (يتوفهن الموت) یعنی وہ مرتے ہیں۔ لیکن یہاں ”توفی“ کو موت کی طرف اسناد کی گئی ہے نیز اور بھی جگہ موت ہی مراد ہے۔ مگر ہر ایک میں موت کا قرینہ موجود ہے الذين توفهم الملائکة، تتوفهم الملائکة، تـ رسلنا، رسلنا يتوفونهم ، يتوفى الذين کفـ الملائکة ۔ یعنی ”تم کو ملک الموت، موت کا مزہ چکھا۔“ موت کا مزہ چکھایا۔ موت کا ذائقہ ان کو ملائکة الموت چکھ کی حالت میں موت کا مزہ دکھائیں گے۔ ہمارے فرستا ملک الموت ان کو ماریں گے۔ کافروں کو ملائکة الموت مار الموت ماریں گے۔

اب دیکھو ان سب آیتوں میں بلا قرینہ توفی آیت میں ملک الموت کی طرف توفی مسند ہے اور یہی ٥٥

صفحہ ٦٥

اگر اس میں اخذ کو مراد رکھیں گے اور تمامیت کی قید مجرد سمجھیں گے۔ خواہ یوں کہ اخذ کے لئے تمامیت کا عدم قید ہے۔ یا مہمل طور پر لیں گے۔ یعنی اس کے ساتھ تمامیت کی قید لگی ہو۔ یا نہ تو ان صورتوں میں یہ استعمال مجازی ہوگا۔ اس لئے ان تقدیروں پر لفظ کا موضوع لہ بوضع شخصی سے ہٹانا متحقق ہو گا لیکن یہ بات مسلمات سے ہے کہ حقیقی معنی کو قرینہ صارفہ کے بغیر چھوڑ کر مجازی کو اختیار کرنا ناجائز ہے۔ اور قرینہ یہاں پر موجود نہیں ہے۔ پس لا محالہ حقیقی معنی ہی لینا پڑے گا۔ ہاں یہ جو تم کہتے ہو ”متوفی“ سے مارنا بھی سریع الفہم ہے۔ سریع الفہم ہونا ہی قرینہ ہے۔ نیز مسلم نہیں ہے۔ اس لئے کہ یا تو کہو گے کہ ”توفی“ سے بلا قرینہ مارنا مرنا متبادر ہے۔ سو یہ تو پہلا ہی جھگڑا ہے۔ قرآن شریف میں تو کہیں بھی توفی اور متوفی کا لفظ مرنے، مارنے میں بلا قرینہ مستعمل نہیں ہوا ہے یا کہو گے کہ نہیں توفی اور متوفی سے مرنا، مارنا بمعہ قرینہ متبادر ہے البتہ یہ مانا۔ لیکن حقیقی کی نشانی تو یہ ہے کہ وہ بلا قرینہ ہی متبادر ہوں نہ بمعہ قرینہ ورنہ سب مجازات حقیقی ہی بن جائیں گے۔

لہٰذا لفظ کی تقسیم حقیقت و مجاز کی طرف صحیح نہ ہوگی۔ کیونکہ بنا پر اس مذہب کے تو مجاز ممکن ہی نہیں ہے۔ بے شک یہ ہمارا دعویٰ کہ قرآن شریف میں کہیں بھی ”توفی“ کا لفظ بلا قرینہ موت میں مستعمل نہیں کیا گیا ہے۔ ثبوت طلب ہے۔ لیکن ثبوت تو موجود ہے۔ دیکھو یہ آیت (یتوفھن الموت) یعنی وہ مرتے ہیں۔ لیکن یہاں موت کا قرینہ موجود ہے۔ وہ ہے کہ ”توفی“ کو موت کی طرف اسناد کی گئی ہے نیز اور بھی بہت سی آیتیں ہیں کہ جن میں توفی سے موت ہی مراد ہے۔ مگر ہر ایک میں موت کا قرینہ موجود ہے۔ دیکھو یتوفاکم ملک الموت۔ ان الذین توفہم الملائکۃ، تتوفہم الملائکہ تتوفہم الملائکۃ طیبین، توفتہ رسلنا، رسلنا یتوفونہم ، یتوفی الذین کفروا الملائکۃ فکیف اذا توفتہم الملائکۃ ۔ یعنی ”تم کو ملک الموت، موت کا مزہ چکھا دے گا۔ وہ لوگ کہ ملائکۃ الموت نے ان کو موت کا مزہ چکھایا۔ موت کا ذائقہ ان کو ملائکۃ الموت چکھائیں گے۔ ان کو ملائکۃ الموت پاکیزگی کی حالت میں موت کا مزہ دکھائیں گے۔ ہمارے فرستادوں نے ان کو مارا ہمارے فرستادے یعنی ملک الموت ان کو ماریں گے۔ کافروں کو ملائکۃ الموت ماریں گے کیا ہوگا۔ جس وقت کہ ان کو ملائکۃ الموت ماریں گے۔

اب دیکھو ان سب آیتوں میں بلا قرینہ توفی سے موت نہیں لی گئی۔ دیکھئے قرینہ پہلی آیت میں ملک الموت کی طرف توفی مسند ہے اور یہی قرینہ ہے اور باقیوں میں قابض ارواح

٥٥

صفحہ ٦٦

فرشتوں کی طرف توفی کو اسناد ہے اور یہی قرینہ موت ہے۔ ایسا ہی اس آیت میں (وتوفنا مع الابرار) جس کا معنی یہ ہے کہ ”ہم کو مار کر نیکوں کے زمرہ میں داخل کر“۔ اس میں ابرار کے ساتھ کی التجا قرینہ موت ہے۔ آیت (توفنا مسلمین) کہ ”اے خداوند تعالیٰ ہم کو اسلام پر مارنا۔“ میں حسن خاتمہ کا سوال قرینہ موت ہے۔ آیت ﴿فاما نرينك بعض الذي نعدهم او نتوفينك فالينا يرجعون﴾ یعنی یا رسول اکرم ﷺ یا تو ہم آپ کو وہ بعض امور۔ ”کہ جن کا ہم کافروں کو وعدہ دیتے ہیں۔ دکھاویں گے یا موت کا ذائقہ آپ کو چکھائیں گے۔ پھر ہماری طرف لوٹیں گے۔“ اس میں مقابلہ قرینہ ہے۔ کیونکہ اگر ایک میں مقابلین میں سے کسی چیز کا وجود معتبر ہو، تو دوسرے میں اس چیز کا عدم معتبر ہوتا ہے۔ کیا جانتے نہیں کہ حرکت میں جو سکون کی ضد ہے۔ بتدریج منتقل ہونا معتبر ہے۔ اور اس کے ضد میں یعنی سکون میں اس انتقال کا عدم معتبر ہے۔ پس چونکہ آیت مذکورہ میں دکھانے (ارائت) کا مقابل نتوفينك (ہم تجھ کو ماریں گے) مقرر کیا گیا ہے۔ ارائت میں زندگی کا وجود معتبر ہے تو بالضرور اس کے مقابل یعنی نتوفینک میں اس زندگی کا عدم معتبر ہو اور نہ تقابل کیسا ہوگا؟ یہی قرینہ موت ہے۔ اسی طرح پر آیات ذیل میں قرائن موجود ہیں۔

(دیکھو) ﴿والذين يتوفون منكم ويذرون ازواجاً وصية لازواجهم (البقرة ٢٤٠) ﴿والذين يتوفون منكم ويذرون ازواجاً يتربصن بانفسهن اربعة اشهر وعشراً (البقرة ٢٣٤) اور جو لوگ تم میں سے بیویاں چھوڑ مریں تو ان پر ازواج کے لئے وصیت کرنا لازم ہے اور جو لوگ تم میں سے بیویاں چھوڑ مریں تو وہ بیویاں چار مہینہ اور دس دن تک عدۃ الموت کاٹیں۔) دیکھئے دوسری میں موت کے دو قرینے ایک بیویوں کو چھوڑ مرنا۔ دوم عدۃ الموت کا کاٹنا۔ پہلی میں بھی دو قرینے ہیں۔ ایک بیویوں کو چھوڑ مرنا دوسرا وصیت کا لازم ہونا۔ آیت ﴿و منکم من یتوفی (النحل: ٧٠) میں بھی تقابل قرینہ ہے۔ رہی آیت ﴿الله يتوفى الانفس حين موتها والتى لم تمت في منامها﴾ یعنی خداوند تعالیٰ ارواح کو موت کے وقت میں لے لیتا ہے۔ ملھماً

اس میں حین موتھا قرینہ ہے۔ یاد رکھو کہ اس آیت میں مارنا، سلانا دونوں مراد ہیں۔ مگر نہ اس طرح پر کہ اس سے حقیقی ومجازی دونوں اکٹھے مراد لئے جائیں۔ کیونکہ حقیقت و مجاز کا اجتماع ناجائز ہے۔ دیکھو کتب اصول وغیرہ۔ دوم اس لئے بھی یہاں پر جمع نہیں ہے۔ کہ مارنا یا سلانا اس میں سے کوئی ایک بھی توفی کا حقیقی معنی نہیں ہے۔ اس واسطے یہ جمع لازم نہیں آتا اور نہ توفی

٥٦

٧ سے مارنا اور سلانا عموم مجاز کے طور پر مراد ہے۔ جیسا کہ کوئی شخص قسم کھائے کہ میں فلاں خواہ گھوڑے پر چڑھ کر اس میں داخل ہو یا اس طر کرایہ پر یا استعارہ کے طور پر ہو۔ بہر حال حانث رکھتا۔ پس اس کا حانث ہونا اسی پر موقوف نہیں ہ پاؤں ہی داخل ہو بلکہ بہر حال حانث ہوگا۔ ایسا ہ رکھتا۔ تا کہ کہا جاتا کہ وہ جب فلانے کے غیر مل چڑھ کر داخل ہوگا تو حانث ہوگا، نہیں تو نہیں بلکہ خواہ حقیقی معنی پایا جائے یا مجازی۔ جب کہ بطریق عموم مجاز بھی نہیں۔ تو لا محالہ اس مقصود ہو تو اس صورت میں کہیں گے کہ روح کے تو بلاشبہ یہی سلانا ہے اور اگر توفی سے مارنا مراد ہ

چنانچہ ایسا ہی ہے تو یوں کہیں گے کہ کیا گیا ہے۔ اس صورت میں بلاشک اس کو مار معتبر ہے۔ جیسا کہ زندگی کا کما مر لیکن یہ خیال تردید دائر ہے۔ جس طرح کہ کوئی امر خاص و اس طرز پر ہے کہ جس طرح پر نفی نقیضین ک احساس کا وجود ہوتا ہے۔ دوسرے تعلق کے بغی نہیں ہوتا۔ پس یوں کہنا کہ ”ہر حساس زندہ ہ ہے کیونکہ بعض زندہ جیسے سوئے ہوئے حساس

سوال ...... آپ کی تقریر سے ثابت ہوتا ہے وہ سنتے بھی نہ ہوں۔

جواب ...... ہماری (بعض لوگ حنفیوں پر ا اللہ وغیرہ محققین حنفیہ میں سے فرماتے ہیں ہونے کے قائل ہو۔ حضرت مصنف فضیلت سماع ہونے کے منکر ہیں۔ بلکہ قوت جسما

صفحہ ٦٧

سے مارنا اور سلانا عموم مجاز کے طور پر مراد ہے۔

جیسا کہ کوئی شخص قسم کھائے کہ میں فلاں مکان میں اپنا قدم نہیں رکھوں گا۔ اب یہ شخص خواہ گھوڑے پر چڑھ کر اس میں داخل ہو یا اس طرح پر جیسا کہ کہا تھا یا وہ مکان اسی کا ملک ہو یا کرایہ پر یا استعارہ کے طور پر ہو۔ بہر حال حانث ہوگا۔ یہ قول حقیقی معنی کے ساتھ خصوصیت نہیں رکھتا۔ پس اس کا حانث ہونا اسی پر موقوف نہیں ہوگا کہ وہ گھر فلاں کا مملوک ہی ہو اور اس میں ننگے پاؤں ہی داخل ہو بلکہ بہر حال حانث ہوگا۔ ایسا ہی اس کا قول مجازی معنی کے ساتھ خصوصیت نہیں رکھتا۔ تا کہ کہا جاتا کہ وہ جب فلانے کے غیر مملوک مکان میں یا جوتا پہن کے ہی یا سواری پر ہی چڑھ کر داخل ہوگا تو حانث ہوگا۔ نہیں تو نہیں بلکہ بہر حال حانث ہوگا۔

خواہ حقیقی معنی پایا جائے یا مجازی۔ چنانچہ گزرا آیت مذکورہ میں توفی سے سلانا، مارنا جب کہ بطریق عموم مجاز بھی نہیں۔ تو لا محالہ اس سے کچھ معنی لینا مراد ہوگا۔ مثلاً جب توفی سے سلانا مقصود ہو تو اس صورت میں کہیں گے کہ روح کے تعلق سے جو بدن حساس تھا وہ تعلق مسلوب کیا گیا تو بلاشبہ یہی سلانا ہے اور اگر توفی سے مارنا مراد ہو۔

چنانچہ ایسا ہی ہے تو یوں کہیں گے کہ روح کے تعلق سے جو بدن زندہ تھا۔ وہ تعلق سلب کیا گیا ہے۔ اس صورت میں بلاشک اس کو مارنا کہا جائے گا۔ ہاں دوسرے میں جس کا سلب بھی معتبر ہے۔ جیسا کہ مذکور ہوا۔ کما مر لیکن یہ خیال رکھنا کہ یہ تعلق احساس اور زندگی کے درمیان بطور تردد دائر ہے۔ جس طرح کہ کوئی امر خاص و عام کے درمیان مردد ہوتا ہے۔ یہ نہ سمجھنا کہ یہ تردد اس طرز پر ہے کہ جس طرح پر شیئین متعینین کے درمیان مردد ہے۔ اسی واسطے وہ تعلق جس سے احساس کا وجود ہوتا ہے۔ دوسرے تعلق کے بغیر (یعنی وہ تعلق کہ جس سے زندگی ہوتی ہے) موجود نہیں ہوتا۔ پس یوں کہنا کہ ”ہر حساس زندہ ہے صادق ہے اور یہ کہنا کہ ہر زندہ حساس ہے۔ غلط ہے کیونکہ بعض زندہ جیسے سوئے ہوئے حساس نہیں ہیں۔“

سوال ...... آپ کی تقریر سے ثابت ہوتا ہے کہ مردہ میں حس باقی نہیں رہتا۔ اس لئے لازم آیا کہ وہ سنتے بھی نہ ہوں۔

جواب ...... یہاں (بعض لوگ حنفیوں پر اعتراض کرتے ہیں کہ حضرت صاحب فتح القدیر رحمہ اللہ وغیرہ محققین حنفیہ میں سے فرماتے ہیں کہ مردہ نہیں سنتے ہیں۔ تو اے حنفیو! تم کیوں سماع ہونے کے قائل ہو۔ حضرت مصنف فضیلت مآب نے اس کو بھی رد کیا کہ صاحب فتح وغیرہ مطلقاً سماع ہونے کے منکر ہیں۔ بلکہ قوت جسمانیہ سے سننے کے منکر ہیں نہ کہ ادراک روحانی سے بھی

٥٧

صفحہ ٦٩

انکاری ہیں) تقریر سے مردوں کا سننا ثابت نہیں ہوتا ہے کیونکہ ان کا سننا بمعنی ادراک روحانی ہے۔ چنانچہ ادلہ قاطعہ شرعیہ سے ثابت ہوا ہے کہ اس قسم کا سماع مرنے سے مرتفع نہیں ہوتا ہے البتہ مرنے کے ضمن میں وہ سماع جو قوت جسمانیہ کے ذریعہ سے ہے۔ مرتفع ہو جاتا ہے۔ لیکن اس طرز کا کہ مردہ بقوت جسمانی سنتے ہیں۔ کوئی بھی قائل نہیں ہے۔ لہذا جو مرتفع ہے وہ ثابت نہیں جو ثابت ہے وہ ناپید نہیں۔

اسی تقریر سے یہ بھی ظاہر ہوا ہے کہ موت وحیات کے درمیان ضدیت کے طور پر مقابلہ ہے۔ اس لئے کہ یہ دونوں وجودی ہیں حیات کا وجودی ہونا تو بالکل ظاہر ہے۔ رہی موت سو وہ بھی وجودی ہے۔ دلیل یہ ہے کہ مارنا اس کو کہتے ہیں کہ بدن سے روح کا تعلق جس سے بدن کی زندگی ہوتی ہے اٹھا دیا جائے اس کا اثر لازم مرنا ہے چونکہ مرنا اس تعلق کا منقطع ہونا ہے تو یہ بلاشبہ وجودی ہے۔ نیز اس کے وجودی ہونے پر یہ دلیل ہے کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے کہ ”ہم نے موت کو پیدا کیا ہے“ یہ صریح طور پر دلالت کرتی ہے کہ یہ وجودی ہے۔ اس لئے کہ موت اگر عدمی ہوتی تو خداوند تعالیٰ کا فعل اس کے ساتھ کیونکر متعلق ہوتا؟ کیا کبھی کہا جاتا ہے کہ فلاں امر عدمی پیدا کیا گیا ہے نہیں۔ کیونکہ پیدا کرنے کا معنی موجود کر دینا ہے۔

سوال ...... کیوں جائز نہیں کہ باعتبار لازم کے عدم ہو؟ کیا دیکھتے نہیں؟ کہ عدم الحیوٰۃ اس کو لازم ہے۔ پس اس کا عدمی ہونا موت کے عدمی ہونے کو مستلزم ہے۔

جواب ...... یہ استلزام غلط ہے۔ دیکھو عدم السکون آسمان کو عند الفلاسفہ لازم ہے۔ آسمان معدوم نہیں ہے علیٰ ہذا القیاس اور بھی بہت مواقع ہیں کہ لازم کی عدمیت ملزوم کی عدمیت کو نہیں۔ پس ثابت ہوا کہ آیت مذکورہ میں جو توفی ہے۔ وہ مارنے میں حقیقی طور پر مستعمل نہیں ہے اس لئے کہ مار دینے میں پورے طور پر لینا نہیں پایا جاتا بلکہ مار دینے میں صرف بدن سے روح الگ کر کے اٹھائی جاتی ہے۔ اور یہ گویا ایک حصہ کا لے لینا ہے۔ نہ پوری شے کا لے لینا لیکن لفظ کا بصورت عدم قرینہ حقیقی معنی پر محمول کرنا جبکہ واجب ہوا۔ تو آیت ﴿يٰعِيسٰى اِنِّى مُتَوَفِّيْكَ ...... الخ (ال عمران:٥٥)﴾ ہمارے لئے دلیل ہوئی نہ قادیانیوں کے لئے اس کا ہمارے لئے دلیل ہونے کو ﴿وَرَافِعُكَ اِلَىَّ﴾ کا اس پر معطوف ہونا قوت بخشتا ہے۔ اس واسطے کہ اس رفع سے رفع جسمانی مراد ہے۔ ورنہ خاص کر مسیح علیہ السلام سے کیا اس رفع روحی کو خصوصیت تھی جو اس آیت میں ان کی روح کا مرفوع ہونا بیان کیا جاتا ہے۔

سوال ...... چونکہ خداوند تعالیٰ فرماتا ہے کہ خدا ایمان داروں، اہل علم کے درجات کو (مرفوع) بلند

٥٨

کرتا ہے۔ تو اس سے سمجھا جاتا ہے کہ خود ایماندار اور اہل درجات مرفوع اور بلند کئے جاتے ہیں۔ پس رفع مسیح سے روحی۔

الجواب ...... دلیل مفید مطلب ہے کیونکہ آیت سابقہ میں آیت میں رفع درجات کا ذکر کیا گیا ہے۔ ظاہر ہے کہ ر میں غیریت ہے۔ اس لئے رفع درجات سے رفع غیر جس میں نے زید کو اٹھا لیا ہے یا میں نے زید کا کپڑا یا اور کچھ اس صورت میں زید کے کپڑے کے اٹھائے جانے سے رفع مراد نہ ہوا۔ بلکہ کپڑے کا مثلاً اس لئے کہ خود شئے کا ﴿يٰعِيسىٰ اِنِّى مُتَوَفِّيكَ ...... الخ ﴾ میں منادا اور روح جب خود مسیح علیہ السلام ہی منادا اور مرجع ہوئے تو ٹھہرے نہ صرف روح۔

پہلی دلیل: اب ہم اس سے پہلی شکل بنا ہے جس پر یہ صادق ہے۔ اسی پر ہی مرفوع کا مفہوم بھی مفہوم صادق ہے اور بعینہ وہی ہے جو ہم دعویٰ کرتے ہی

دوسری دلیل: اگر مسیح علیہ السلام کی صرف کے ہاتھوں سے کیسے بری اور مطہر ٹھہرتے بلکہ جسد لط کافروں کا مقصود یہی تھا۔ حالانکہ خداوند تعالیٰ فرماتا ہے اختیار سے الگ اور پاک کردیں گے ۔“ پس اگر خالی کیسا درست ہوگا؟ لہذا رفع روحی غلط ٹھہرا اور مسیح علیہ ا جب بجسدہ رفع مراد لیں گے تو مسیح علیہ السلام بلاش پاک ہو گئے اس لئے آیت مذکورہ سے رفع روحی مراد آیت سے بھی استدلال کرتے ہیں۔ اس آیت کا مضمو علیہ السلام مریم علیہ السلام کے فرزند کو قتل کر دیا ہے۔ حالانکہ انہوں نے نہ تو ان کو قتل کیا اور ہیں۔ جن لوگوں نے اختلاف کیا وہ البتہ ان کے قتل

٥٩

صفحہ ٦٩

ہے کیونکہ ان کا سننا بمعنی ادراک روحانی کا سماع مرنے سے مرتفع نہیں ہوتا ہے نہ سے ہے۔ مرتفع ہو جاتا ہے۔ لیکن اس ا ہے۔ لہٰذا جو مرتفع ہے وہ ثابت نہیں جو

نیات کے درمیان ضدیت کے طور پر ی ہونا تو بالکل ظاہر ہے۔ رہی موت سو دن سے روح کا تعلق جس سے بدن کی رنا اس تعلق کا منقطع ہونا ہے تو یہ بلاشبہ رشاد باری تعالیٰ ہے کہ ”ہم نے موت کو ہے۔ اس لئے کہ موت اگر عدمی ہوتی تو ا جاتا ہے کہ فلاں امر عدمی پیدا کیا گیا

دیکھتے نہیں؟ کہ عدم الحیوۃ اس کو لازم

جسمان کو عند الفلاسفہ لازم واقع ہیں کہ لازم کی عدمیت ملزوم کی ۔ وہ مارنے میں حقیقی طور پر مستعمل ا جاتا بلکہ مار دینے میں صرف بدن لے لینا ہے۔ نہ پوری شے کا لے لینا وا۔ تو آیت ﴿یعیسی انی تہ قادیانیوں کے لئے اس کا ہمارے طاقت بخشا ہے۔ اس واسطے کہ اس کیا اس رفع روحی کو خصوصیت تھی جو

لِعلم کے درجات کو (مرفوع) بلند کرتا ہے۔ تو اس سے سمجھا جاتا ہے کہ خود ایماندار اور اہلِ علم مرفوع نہیں ہوتے ہیں بلکہ ان کے درجات مرفوع اور بلند کئے جاتے ہیں۔ پس رفع مسیح سے بھی خود مسیح کا رفع مراد نہیں ہے۔ بلکہ رفع روحی۔

الجواب ...... دلیل مفید مطلب ہے کیونکہ آیت سابقہ میں خود مسیح علیہ السلام کا رفع مذکور ہے اور اس آیت میں رفع درجات کا ذکر کیا گیا ہے۔ ظاہر ہے کہ رفع درجات اور خود شئے کے مرفوع ہونے میں غیریت ہے۔ اس لئے رفع درجات سے رفع غیر جسمانی ثابت نہیں ہوگا۔ دیکھو کہا جاتا ہے کہ میں نے زید کو اٹھا لیا ہے یا میں نے زید کا کپڑا یا اور کچھ جسے زید کے ساتھ تعلق ہو اٹھا لیا ہے اب اس صورت میں زید کے کپڑے کے اٹھائے جانے سے یہ لازم نہیں آتا کہ وہاں پر بھی خود زید کا رفع مراد نہ ہو۔ بلکہ کپڑے کا مثلاً اس لئے کہ خود شئے کا رفع اور ہے۔ بناء علیہ ثابت ہوا کہ آیت ﴿یعیسی انی متوفیک ...... الخ ﴾ میں مناد اور ضمائر کا مرجع خود مسیح علیہ السلام ہے، نہ خالی روح جب خود مسیح علیہ السلام ہی مناد اور مرجع ہوئے تو متوفی مرفوع، مطہر فائق الاتباع بھی آپ ہی ٹھہرے نہ صرف روح۔

پہلی دلیل: اب ہم اس سے پہلی شکل بنائیں گے مسیح پر بھی متوفی کا مفہوم صادق آتا ہے جس پر یہ صادق ہے۔ اسی پر ہی مرفوع کا مفہوم بھی صادق ہے۔ نتیجہ مسیح علیہ السلام ہی پر مرفوع مفہوم صادق ہے اور بعینہ وہی ہے جو ہم دعویٰ کرتے ہیں۔

دوسری دلیل: اگر مسیح علیہ السلام کی صرف روح ہی مرفوع ہوئی ہوتی تو آپ کافروں کے ہاتھوں سے کیسے بری اور مطہر ٹھہرتے بلکہ جسد لطیف تو کافروں کے ہی اختیار میں رہتا اور کافروں کا مقصود یہی تھا۔ حالانکہ خداوند تعالیٰ فرماتا ہے کہ ”اے مسیح علیہ السلام ہم تجھ کو کافروں کے اختیار سے الگ اور پاک کر دیں گے ۔“ پس اگر خالی روح مرفوع ہوئی ہو تو باری تعالیٰ کا یہ ارشاد کیسا درست ہوگا؟ لہٰذا رفع روحی غلط ٹھہرا اور مسیح علیہ السلام کا بجسدہ مرفوع ہونا ثابت ہوا۔ کیونکہ جب بجسدہ رفع مراد لیں گے تو مسیح علیہ السلام بلاشبہ بالکل کافروں کے اختیار سے نکل گئے اور پاک ہو گئے اس لئے آیت مذکورہ سے رفع روحی مراد رکھ لینا بے علمی اور عجیب تر ہے۔ قادیانی اس آیت سے بھی استدلال کرتے ہیں۔ اس آیت کا مضمون یہ ہے کہ وہ بیان کرتے ہیں کہ ہم نے مسیح علیہ السلام مریم علیہ السلام کے فرزند کو قتل کر دیا ہے۔

حالانکہ انہوں نے نہ تو ان کو قتل کیا اور نہ صلیب پر چڑھایا۔ ہاں شبہ میں ڈالے گئے ہیں۔ جن لوگوں نے اختلاف کیا وہ البتہ ان کے قتل کے بارے میں شک میں پڑے ہوئے ہیں۔

٥٩

صفحہ ٧٠

ان کو اس پر یقین حاصل نہیں ہے۔ صرف خلافِ واقع کی تابعداری کرتے ہیں۔ مسیح علیہ السلام کو انہوں نے قتل نہیں بلکہ خداوند تعالیٰ نے ان کو اپنی طرف اٹھا لیا ہے۔ اللہ تعالیٰ غالب حکمت والا ہے۔ نہیں ہے کوئی بھی اہل کتاب میں سے مگر کہ اس پر ایمان لائے گا اس کے مرنے سے پہلے وہ قیامت کے دن ان پر گواہ ہوگا۔

طریقہ استدلال قادیانی پہلی آیت میں رفع روحی مراد کہتا ہے۔ اس کا بیان ہے کہ اہل کتاب کا مسیح علیہ السلام کے مقتول ومصلوب ہونے میں شاک ہونا ہی ضمیر بہ کا مرجع ہے۔ موتہ کی ضمیر اہل کتاب کی طرف راجع ہے۔ اس کے بعد دو توجیہیں کرتا ہے۔

پہلی توجیہ کہ قبل موتہ میں ایمان کا لفظ مقدر ہے۔ اس (مرزا قادیانی یہ عجیب ہے کہ اور کوئی اگر مقدر کا نام لے تو اس کو محرف کہتے ہیں) تقدیر پر آیت کا معنی یہ ہوا کہ ہر ایک کتابی مسیح کی طبعی موت جو ماضی میں واقع ہوچکی ہے۔ ایمان لانے سے پہلے آپ کے مشکوک القتل ہونے پر ایمان رکھتا ہے۔

دوسری توجیہ کہ ہر ایک کتابی یقیناً جانتا ہے کہ ہم مسیح علیہ السلام کے مقتول ہونے کے بارے میں شک میں ہیں۔ اس شک پر ان کا ایمان مسیح علیہ السلام کے مرنے سے پہلے تھا۔ گویا مسیح علیہ السلام ابھی زندہ ہی تھے کہ ان کو آپ کے مقتول ہونے میں شک تھا اور وہ آپ کے مرنے سے پہلے ہی آپ اس شک پر یقین رکھتے تھے۔ اب دیکھئے کہ استدلال پر کتنے اعتراض وارد ہوتے ہیں۔

اولاً کہ رفع سے روحانی مراد لینا غلط ہے۔ اس لئے کہ اس آیت میں مسیح علیہ السلام وصف مرفوعیت میں بطور قلب اور عکس کے محصور کر دیئے گئے ہیں۔ لیکن اس حصر اور قصر کے لئے اوصاف کی منافات شرط ہے۔ مثلاً ایک شخص اعتقاد رکھتا ہے کہ زید قائم ہے۔ دوسرے نے اس سے مخاطب ہوکر کہہ دیا کہ زید قائم نہیں۔ بلکہ بیٹھا ہے۔ پس دیکھئے یہاں پر متکلم نے ایسا بیان کیا کہ وہ مخاطب کے عقیدہ کا قلب اور الٹ ہے۔ ظاہر ہے کہ کھڑا ہونا ، بیٹھنا یہ دو صفتیں آپس میں منافات اور غیریت رکھتی ہیں۔ بے شک یہ منافات عام طور پر لی جاتی ہے۔ خواہ قصر وحصر کی تحقق کے لئے یا نفس حصر کے واسطے شرط ہو۔ نیز واقع میں منافات ہو یا اعتقاد میں۔ رہی یہ بات کہ وہ آیت کہ جس کا مضمون یہ ہے کہ ”انہوں نے مسیح علیہ السلام کو یقیناً قتل نہیں کیا بلکہ خداوند تعالیٰ نے ان کو اپنی طرف اٹھا لیا ہے۔ بطور قصر قلب کے فرمائی گئی ہے۔ سو اس کی وجہ یہ ہے کہ اہل کتاب دعویٰ کرتے تھے کہ مسیح علیہ السلام قتل کئے گئے ہیں۔ تو خدا تعالیٰ نے ان سے ان کے گمان کے

٦٠

٧١

برعکس فرمایا کہ مسیح علیہ السلام تو صرف مرفوع ہوئے ہیں اب ظاہر ہے کہ مسیح علیہ السلام کو وصف مرفو عکس کے طور پر۔ پس ضرور ہوا کہ قتل اور رفع میں منافا کہ مسیح علیہ السلام بجسدہ مرفوع ہوئے ہوں۔ کیونکہ ف جب رفع سے روحانی رفع مراد لیں گے۔ جیسا کہ قادیا کیا دیکھتے نہیں؟ کہ جو شخص خدا کی راہ میں قتل کیا جاتا جب کہ قتل کی حالت میں رفع روحانی پایا گیا ہے تو منا واقع میں بلکہ عقیدہ میں بھی مجتمع ہوئے۔ تو منافات سر کے طور پر فرمایا گیا ہے۔ خود قصر ہی غلط ہوگا۔ یا بہتر نہیں لہٰذا قادیانی پر دو باتوں میں سے ایک کا ا کتاب کی تردید کرتی ہے۔ لیکن اسی صورت میں قصر ہوگا۔ پس مسیح علیہ السلام کا بجسدہ مرفوع ہونا بھی مان وصفین کے درمیان منافات کا ہونا ضروری نہیں۔ مگر ا ان کے برخلاف پر ہونا لازم آئے گا۔ مختصراً قادیانی کو ا مرفوع ہونے پر ایمان لانا پڑے گا یا قواعد عربیت س اختیار کر لے۔ دوسرا اعتراض پہلی ضمیر کا مشکوک ا السلام کے جانب پھیرنے سے لوٹتی نہیں ہے۔ چنا کے سلف خلف کے برخلاف بلا مرجح بلکہ ضعیف کو ترجی یہ ترجیح پہلی ترجیح سے بدتر ہے۔ مع ہٰذا ا کتابی ایمان رکھتا ہے کہ مسیح علیہ السلام کا مقتول ہونا چنانچہ قادیانی اس بات کو خود واضح کر رہا ہے۔ حالانک علیہ السلام کا مقتول ہونا جملہ اسمیہ کے لباس میں بیا یہ صراحتاً اس پر دال ہے کہ وہ مسیح علیہ السلام کے مق واسطے تو خداوند تعالیٰ نے ان کی تردید کی کہ ”انہوں اگر ان کو مسیح علیہ السلام کے قتل ہو جانے پر اذعان نہ

٦١

صفحہ ٧١

برعکس فرمایا کہ مسیح علیہ السلام تو صرف مرفوع ہوئے ہیں قتل نہیں ہوئے۔ اب ظاہر ہے کہ مسیح علیہ السلام کو وصف مرفوعیت میں قصر و حصر کیا گیا ہے۔ مگر قلب اور عکس کے طور پر۔ پس ضرور ہوا کہ قتل اور رفع میں منافات ہو لیکن یہ منافات تو جب ہی تصور ہے کہ مسیح علیہ السلام بجسدہ مرفوع ہوئے ہوں۔ کیونکہ رفع بجسدہ بداہۃً منافی قتل ہے۔ مگر جب رفع سے روحانی رفع مراد لیں گے۔ جیسا کہ قادیانی کا بیان ہے تو وہ قتل سے منافی نہیں ہے۔ کیا دیکھتے نہیں؟ کہ جو شخص خدا کی راہ میں قتل کیا جاتا ہے تو اس کی روح مرفوع ہوتی ہے۔ پس جب کہ قتل کی حالت میں رفع روحانی پایا گیا ہے تو منافات کہاں رہی جس حالت میں یہ دونوں واقع میں بلکہ عقیدہ میں بھی مجتمع ہوئے۔ تو منافات سرے سے ہی اڑ گئی۔ بنا براں آیت میں جو قصر کے طور پر فرمایا گیا ہے۔ خود قصر ہی غلط ہوگا۔ یا بہتر نہیں ٹھہرے گا۔ نعوذ بالله منه

لہٰذا قادیانی پر دو باتوں میں سے ایک کا اقرار کرنا لازم ہوگا۔ یا تو کہے گا کہ آیت اہل کتاب کی تردید کرتی ہے۔ لیکن اسی صورت میں قصر القلب، قتل، رفع میں منافات کا اقرار کرنا ہوگا۔ پس مسیح علیہ السلام کا بجسدہ مرفوع ہونا بھی ماننا پڑے گا۔ یا کہہ دے گا کہ قصر القلب میں وصفین کے درمیان منافات کا ہونا ضروری نہیں۔ مگر اس صورت میں کلام عربی کے قواعد کا ہدم اور ان کے برخلاف پر ہونا لازم آئے گا۔ مختصراً قادیانی کو اس سے گریز نہیں ہو سکتا۔ یا تو مسیح کے بجسدہ مرفوع ہونے پر ایمان لانا پڑے گا یا قواعد عربیت سے منحرف ہوگا۔ پس دو میں سے جسے چاہے اختیار کر لے۔ دوسرا اعتراض پہلی ضمیر کا مشکوکیۃ القتل کو راجع کرنے سے اس ضمیر کا خود مسیح علیہ السلام کے جانب پھیرنے سے اولیٰ نہیں ہے۔ چنانچہ ظاہر ہے پھر مشکوکیۃ کو مرجع بنانا باوجود اس کے سلف خلف کے برخلاف بلا مرجح بلکہ ضعیف کو ترجیح دینا ہے۔

یہ ترجیح پہلی ترجیح سے بدتر ہے۔ مع ہذا آیت کا معنی اس تقدیر پر یوں ہوگا کہ ”ہر ایک کتابی ایمان رکھتا ہے کہ مسیح علیہ السلام کا مقتول ہونا شکیہ ہے۔ ان کا مقتول ہونا یقینی نہیں ہے۔“ چنانچہ قادیانی اس بات کو خود واضح کر رہا ہے۔ حالانکہ یہ معنی درست نہیں ہیں۔ کیونکہ انہوں نے مسیح علیہ السلام کا مقتول ہونا جملہ اسمیہ کے لباس میں بیان کیا ہے اور پھر اس کو مؤکد بھی کر دیا ہے۔ پس یہ صراحتاً اس پر دال ہے کہ وہ مسیح علیہ السلام کے مقتول ہو جانے پر اذعان کر بیٹھے ہیں۔ آخر اس واسطے تو خداوند تعالیٰ نے ان کی تردید کی کہ ”انہوں نے مسیح علیہ السلام کو یقیناً قتل نہیں کیا۔“ اجی! اگر ان کو مسیح علیہ السلام کے قتل ہو جانے پر اذعان نہ ہوتا تو خداوند تعالیٰ اتنا ہی فرما دیتے کہ انہوں

٦١

صفحہ ٧٣

نے مسیح علیہ السلام کو قتل نہیں کیا اور یقیناً کی قید نہ بڑھاتے۔ پس یہ کہنا کہ ان کو یقین واذعان نہیں ہے۔ یہ صاف طور پر اس بات کا اقرار ہے کہ قرآن شریف میں یقیناً کی قید لغو ہے۔ نعوذ بالله منہ اچھا صاحب اگر یہ دعویٰ کریں گے کہ اس آیت میں جو یقینی مذکور ہے وہ تو منفی قتل کی قید ہے تو گویا یہ نفی قتل مقید پر وارد ہوئی ہے پس یہ نفی جیسے کہ قید کے اٹھ جانے سے منتفی ہوتی ہے۔ ویسے ہی قید و مقید دونوں کے اٹھ جانے سے منتفی ہو جاتی ہے۔

یہاں ایسا ہی ہے کیونکہ یقینی قتل منتفی ہے۔ اُس واسطے یہ آیت کا معنی یوں ہوگا کہ ان کا متیقن قتل نہیں پایا گیا ہے۔ لیکن ہم کہتے ہیں کہ باوجود ان لن ترانیوں کے یقیناً کی قید کا فائدہ مند ہونا ثابت نہیں ہوتا۔ بلکہ پھر بھی قادیانی کو اس قید کے لغو ہونے کا مقر بننا پڑے گا۔ اولاً کہ ان کی تردید کے لئے نفس قتل اور بلا قید ہی کی نفی کافی تھی۔ دوم یہ بات اکثری قاعدہ سے مخالف ہے۔ وہ قاعدہ یہ ہے کہ نفی جب مقید پر وارد ہوتی ہے تو وہ نفی صرف قید کی طرف متوجہ ہو جاتی ہے۔ علاوہ برآں یہ کہ کسی دلیل سے ثابت نہیں ہوتا ہے کہ انہوں نے یہ جملہ ﴿انا قتلنا المسيح ..... الخ (النساء: ١٥٧)﴾ بلا اذعان ہی کہہ دیا ہے جیسا کہ دوسری ایک آیت میں بلا اذعان کہہ دینے پر دلیل موجود ہے۔ اس آیت کا مضمون یہ ہے کہ منافقین کہتے ہیں کہ ہم گواہی دیتے ہیں یا محمدﷺ کہ آپ بلاشبہ خداوند تعالیٰ کے رسول ہیں۔ پس یہ دعویٰ کرنا اہل کتاب نے باوجود کہ شک میں پڑے ہوئے ہیں اپنے عقیدہ سے مخالفانہ کہہ دیا ہے کہ مسیح علیہ السلام کو قتل کیا ہے۔ کیسے بلا دلیل قبولیت کے قابل ہے۔ البتہ اگر اس پر کوئی دلیل ہوتی تو یقیناً کی قید کا لغو ہونا لازم نہ آتا۔ مگر دلیل تو ندارد ہے، اس لئے قادیانی لغو ہونے کے الزام سے نہیں بچتے۔ ہاں اس پر تو دلیل موجود ہے کہ لوگ مسیح علیہ السلام کے مقتول ہو جانے پر اذعان کر بیٹھے ہیں۔ دیکھو قرآن کی عبارت ہے۔ پہلے شاہد عدل ہے۔ دوم نصاریٰ اور فرقوں کو اسی بات کی طرف بلاتے ہیں کہ آؤ مسیح علیہ السلام کے مقتول ہونے پر ایمان لاؤ اور یہ اس گمان سے کہتے ہیں کہ مسیح علیہ السلام امت کے گناہوں کے بدلہ قتل کیا گیا ہے۔ حال یہ ہے کہ یہ بات ان کی انجیل میں بھی لکھی ہوئی ہے۔ گو تحریف کے طور پر ہی ہو۔ لیکن وہ اس پر اذعان کر بیٹھے ہیں۔ یہ وہ انجیل کو بلا تحریف مانتے ہیں۔ مع ہذا یہ کہنا کہ مسیح علیہ السلام کے قتل ہو جانے پر اذعان نہیں رکھتے ہیں کیا صریح بہتان ہے۔ باوجود اس روشن دلیل کے سب کی طرف شک کو منسوب کرنا کیونکر متصور ہے۔

شاید ایسے لوگوں کو اس آیت سے (جس کا مضمون یہ ہے کہ ”وہ لوگ کہ مختلف ہوئے

٦٢

البتہ قتل کے بارے میں شک میں ہیں نہیں ان کو اس پر اذعان وہم پیدا ہو گیا ہوگا۔ سو واضح رہے کہ شک جو اس آیت میں ہے۔‘‘ منطقی تو شک اس کو کہتے ہیں کہ جس کے دونوں جانب ہونے کا خیال ہو۔ ویسے ہی اس کے قائم نہ ہونے کا بھی خیال منطقی شک کہا کرتے ہیں) بلکہ شک سے آیت میں ضد علم ہیں مختصراً کہ شک سے ضد یقینی مطلوب ہے۔

پس اس لحاظ سے مسیح علیہ السلام کے مقتول ہونے کنندہ اور متیقن ہونے میں منافات نہیں ہے۔ بریں تقدیر مختلف ہوئے۔ البتہ قتل کے بارے میں شک میں ہیں۔ یعنی جو خلاف واقع ہے۔ گو وہ لوگ یہ حکم بزعم خود قطعاً جزماً لگاتے واقع نہیں علم و یقین نہیں ہے۔ بلکہ شک ہے کیونکہ یقین ہو۔ پس بلاشبہ وہ ظن کے تابعدار ہیں یعنی اس خیال اور نہیں۔ اس لئے شک اور ظن کا مآل اور مرجع ایک ہی ہوا کے موافق لیں گے تو ان دونوں کا مصداق ایک نہیں ہوگا ایک شخص زید کے قائم ہونے پر غالب گمان رکھتا ہے۔ ضعیف سا گمان ہے۔ اس کو منطقین ظن کہتے ہیں ) وہ خیال میں ان کے نزدیک مطلقاً رجحان نہ چاہئے۔

چنانچہ ظاہر ہے رہی بات کہ قرآن شریف میں کے لیا گیا ہے۔ سو واضح ہو کہ قرآن مجید میں یہ بات موجود تم لوگ قرآن کے بارے میں ریب یعنی انکار میں پڑ گئے جو ریب بمعنی شک ہے۔ ان کے انکار ان کے حکم بالجزم پر ہے۔ شعر کہانت ہے ) اطلاق کیا گیا ہے اس پر خداوند چیزوں کی قسم کھاتے ہیں جنہیں تم دیکھتے اور جنہیں تم نہیں السلام کے منہ سے نکلا ہے۔ کسی بشر کا کلام شاعر کا کلام

٦٣

صفحہ ٧٣

البته قتل کے بارے میں شک میں ہیں نہیں ان کو اس پر اذعان مگر کہ ظن کی تابعداری کرتے ہیں ) وہم پیدا ہو گیا ہوگا۔ سو واضح رہے کہ شک جو اس آیت میں مذکور ہے وہ منطقیوں کے طور پر نہیں ہے۔ ”منطقی تو شک اس کو کہتے ہیں کہ جس کے دونوں جانب برابر ہوں (جیسے کہ زید کے قائم ہونے کا خیال ہو۔ ویسے ہی اس کے قائم نہ ہونے کا بھی خیال ہو اور کسی جانب کو ترجیح نہ ہو، اسے منطقی شک کہا کرتے ہیں) بلکہ شک سے آیت میں ضد علم مراد ہے جسے حکم جازم مطابق واقع کہتے ہیں مختصراً کہ شک سے ضد یقینی مطلوب ہے۔

پس اس لحاظ سے مسیح علیہ السلام کے مقتول ہو جانے کے بارے میں ان کے شک کنندہ اور متیقن ہونے میں منافات نہیں ہے۔ بریں تقریر آیت کا معنی یوں ہوگا کہ وہ لوگ جو مختلف ہوئے۔ البتہ قتل کے بارے میں شک میں ہیں۔ یعنی البتہ وہ ایسے خیال میں گرفتار ہیں کہ جو خلاف واقع ہے۔ گو وہ لوگ یہ حکم بزعم خود قطعاً جزماً لگاتے ہیں۔ لیکن چونکہ وہ دراصل مطابق واقع نہیں علم ویقین نہیں ہے۔ بلکہ شک ہے کیونکہ یقین کے لئے یہ ضروری ہے کہ مطابق واقع ہو۔ پس بلاشبہ وہ ظن کے تابعدار ہیں یعنی اس خیال اور حکم کے تابعدار ہیں جو واقع کے مطابق نہیں۔ اس لئے شک اور ظن کا مآل اور مرجع ایک ہی ہوا۔ اگر شک وظن کو منطقیوں کی اصطلاح کے موافق لیں گے تو ان دونوں کا مصداق ایک نہیں ہوسکتا۔ کیونکہ ان کے نزدیک ظن (چنانچہ ایک شخص زید کے قائم ہونے پر غالب گمان رکھتا ہے۔ گو اس کے قائم نہ ہونے کا بھی اس کو ضعیف سا گمان ہے۔ اس کو منطقین ظن کہتے ہیں ) وہ خیال ہے کہ صرف جانب قوی ہو اور شک میں ان کے نزدیک مطلقاً رجحان نہ چاہئے۔

چنانچہ ظاہر ہے رہی بات کہ قرآن شریف میں کہیں بھی شک کے معنی برخلاف منطقین کے لیا گیا ہے۔ سو واضح ہو کہ قرآن مجید میں یہ بات موجود ہے۔ دیکھو خداوند تعالیٰ فرماتا ہے کہ اگر تم لوگ قرآن کے بارے میں ریب یعنی انکار میں پڑ گئے ہو......الخ۔ اب دیکھو کہ اس آیت میں جو ریب بمعنی شک ہے۔ ان کے انکار ان کے حکم بالجزم پر کہ (یہ خدا کا کلام نہیں ہے۔ بلکہ کسی بشر کا ہے۔ شعر کہانت ہے) اطلاق کیا گیا ہے اس پر خداوند تعالیٰ کا یہ کلام دلالت کرتا ہے کہ ہم ان چیزوں کی قسم کھاتے ہیں جنہیں تم دیکھتے اور جنہیں تم نہیں دیکھتے ہو کہ قرآن فرشتہ جبرائیل علیہ السلام کے منہ سے نکلا ہے۔ کسی بشر کا کلام شاعر کا کلام نہیں ہے۔ تھوڑے ہی لوگ ایمان لاتے

٦٣

صفحہ ٧٥

ہیں اور نہ یہ کاہن کا کلام ہے۔ تھوڑے ہی لوگ ہیں جو نصیحت قبول کرتے ہیں یہ قرآن منزل من اللہ ہے۔ اس آیت میں غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ لوگ اگر قرآن کے کلام الہی ہونے میں شک کنندہ بایں معنی ہوتے کہ جو شک کا معنی منطقی کرتے ہیں۔ تو خداوند پاک تاکیدیں نہ فرماتا۔ پہلے کہ جملہ اسمیہ بیان فرمایا ان کو ذکر کیا۔ سوم قسم پس بلاشبہ یہ اس پر دلالت کرتی ہے کہ ”ان کا انکار قرآن شریف کا کلام الہی ہونے سے اس حد تک پہنچا ہے کہ انہوں نے یقین کرلیا ہے کہ غیر اللہ کا کلام ہے۔ اس طرح پر ظن کا بھی اسی خیال پر جو خلاف واقع ہو“ اطلاق کیا ہوا ہے۔ دیکھئے وہ آیت جس کا ماحصل یہ ہے کہ وہ صرف ظن کی تابعداری کرتے ہیں اور وہ صرف جھوٹے ہیں۔ غرضیکہ اعتراض مذکور کا خلاصہ یہ ہے کہ اگر پہلی ضمیر کو شک کی طرح پھیریں گے تو یا قید کا لغو ہونا لازم آئے گا۔ یوں کہنا پڑے گا کہ یہ آیت جس کا معنی یہ ہے کہ وہ اعتقاد کر بیٹھے ہیں کہ ہم نے مسیح علیہ السلام کو قتل کر ڈالا ہے۔ اپنے ظاہر معنی پر محمول نہیں حالانکہ ظاہر پر محمول ہونے کا بھی موجب موجود ہے۔

پس جو لوگ پہلے کا التزام کریں گے تو یہ کفر ہے۔ اگر دوسرے کو اختیار کریں گے تو یہ نادانی ہے۔ اب ان دونوں میں سے جس کو چاہیں اختیار کرلیں۔ تیسرا اعتراض کہ یہ توجیہ تکلف محض ہے کیونکہ جس کی طرف تم ضمیر کو راجع کرتے ہو یہ رجوع ہرگز متبادر نہیں ہے۔ نیز اس قسم کے ”ارجاع“ سے انتشار ضمائر لازم آتا ہے۔ قرآن شریف میں انتشار ضمائر کا قائل ہونا یہ تو بے عیب پر از فصاحت قرآن کو بٹا لگانا ہے۔ چنانچہ ظاہر ہے اور جب یہ سب کچھ باطل ہوا تو ہمارا دعویٰ ثابت ہوا۔ چوتھی بحث کہ جب اسی طرح پر ضمیر کا مرجع مانا جائے تو آیت کا معنی یہ ہوگا کہ اہل کتاب مسیح علیہ السلام کی مقتولیت کے مشکوک ہونے پر تصدیق رکھتے ہیں اور شک و مشکوک فیہ چونکہ ایک ہی بات ہے تو تصدیق کا شک سے تعلق پکڑنا لازم آتا ہے۔ یہ شک جو ایک کا تصور ہی ہے ۔ اس کے لفظ کا مفہوم ہی شک سے مراد رکھ لیں گے ۔ یا جس پر وہ شک صادق آتا ہے۔ وہی مقصود رکھیں ۔ اس لئے کہ شک کا معنی اور اس کا مصداق دونوں تصور ہی ہیں۔ عام اس سے کہ تصدیق علم یقینی جو مطلق ادراک و تصور کا قسم ہے۔ مقصود ہو یا وہ حالت کہ بعد ادراک کے پیدا ہوتی ہے۔ جسے ”دانش“ کہتے ہیں۔ مطلوب ہو۔ لیکن تصدیق کا بہرحال تصور یعنی شک سے متعلق ہونا باطل ہے۔

٦٤

چنانچہ یہ بات ثابت ہے۔ ہاں تصدیق کا شک ہے۔ چنانچہ یہ بات ثابت ہے۔ ہاں تصدیق کا شک سے جنس تصور سے مان لیں بہت فحش ہے۔ اس صورت سے گریز جب تصدیق کا تصور کا ہی قسم سمجھ کر شک سے متعلق جان لیں تصدیق کو بہ نسبت شک کے علم قرار دینا پڑے گا۔ حالانکہ دلیل علمیہ (جب انسان کو مثلاً علم حاصل ہوتا ہے تو یوں ہوتا ہے کہ ہوتی ہے۔ پس اس صورت کو صورت علمیہ کہتے ہیں) کے مع لہٰذا لازم آیا کہ تصدیق اور شک ایک ہی بات ہو۔ حالانکہ تصدیق و شک آپس میں غیریت رکھتے ہیں۔

پانچویں بحث کہ شک اصطلاحی جب ہی محقق یعنی یہ ایسا ہے۔ یا ایسا۔ لیکن دونوں میں سے کسی جانب کو تر

پس قادیانی کی یہ تفسیر کہ ”اہل کتاب مشکوکیت قتل پر مسیح علیہ رکھتے ہیں“ اس طرف کو راجع ہوگی کہ اہل کتاب کا اس السلام کی طبعی موت پر یقین ہونا موجود تھا۔ کیونکہ تقدم کے کے زمانہ میں موجود نہ ہو، نیز جب ایک شخص کی طبعی موت میں شک کا ہونا محالات سے ہے۔ ظاہر تر ہے کہ مسیح علیہ ا ہیں۔ ایک یہ کہ قتل نہیں ہوئے دوم کہ قتل ہوگئے ہیں۔ ی واجب ہوگا پر کہ نہ اس پر کہ وہ قتل ہوگئے ہیں۔ اور نہ اس اس پر جو عدم القتل مندرج ہے۔ یقین نہ ہو لیکن یہ بات مندرج ہے۔ ہاں یہ اندراج ایسا ہے کہ خاص عام میں مند زندگی کو شامل ہے ویسے ہی طبعی موت کو شامل ہے۔

لہٰذا لازم ہوا کہ جس صورت میں مسیح علیہ ال آپ کی طبعی موت پر یقین نہ ہو اور یہ بالکل بدیہی ہے برابر ہونا ضروری ہے۔ اور مع ہذا ایک جانب پر یعنی عد

٦٥

صفحہ ٧٥

چنانچہ یہ بات ثابت ہے۔ ہاں تصدیق کا شک سے اس صورت میں متعلق ہونا محال ہے۔ چنانچہ یہ بات ثابت ہے۔ ہاں تصدیق کا شک سے اس صورت میں متعلق ہونا کہ تصدیق جنس تصور سے مان لیں بہت فحش ہے۔ اس صورت سے کہ تصدیق کو بمعنی دانش لیں وجہ یہ ہے کہ جب تصدیق کو تصور کی ہی قسم سمجھ کر شک سے متعلق جان لیں تو شک معلوم بن جائے گا اور پھر تصدیق کو بہ نسبت شک کے علم قرار دینا پڑے گا۔ حالانکہ دلیل سے ثابت ہے ۔کہ علم تصور وصورت علمیہ (جب انسان کو مثلاً علم حاصل ہوتا ہے تو یوں ہوتا ہے کہ اس کی ماہیت اور صورت ذہن نشین ہوتی ہے۔ پس اس صورت کو صورت علمیہ کہتے ہیں) کے معنی سے معلوم کے ساتھ متحد ہوتا ہے۔ لہٰذا لازم آیا کہ تصدیق اور شک ایک ہی بات ہو۔ حالانکہ یہ صریح غلط ہے۔ کیونکر غلط نہ ہو کہ تصدیق وشک آپس میں غیریت رکھتے ہیں۔

پانچویں بحث کہ شک اصطلاحی جب ہی تحقق ہوگا کہ نسبت کے طرفین میں تردد ہو۔ یعنی یہ ایسا ہے۔ یا ایسا۔ لیکن دونوں میں سے کسی جانب کو ترجیح نہ ہو۔ بلکہ طرفین کی تجویز برابر ہو۔ پس قادیانی کی یہ تفسیر کہ ”اہل کتاب مشکوکیت قتل پر مسیح علیہ السلام کے طبعی مرنے سے پہلے ایمان رکھتے ہیں۔“ اس طرف کو راجع ہوگی کہ اہل کتاب کا اس قسم کا شک بغیر اس کے کہ ان کو مسیح علیہ السلام کی طبعی موت پر یقین ہونا موجود تھا۔ کیونکہ تقدم کے لوازم سے ہے کہ ما بعد مقدم پیدا ہونے کے زمانہ میں موجود نہ ہو، نیز جب ایک شخص کی طبعی موت پر یقین ہو۔ تو اس کے مقتول ہو جانے میں شک کا ہونا محالات سے ہے۔ ظاہر تر ہے کہ مسیح علیہ السلام کے مقتول ہو جانے کے دو جانب ہیں۔ ایک یہ کہ قتل نہیں ہوئے دوم کہ قتل ہو گئے ہیں۔ پس جبکہ آپ کا قتل ہو جانا مشکوک ہے تو واجب ہوگا یہ کہ نہ اس پر کہ وہ قتل ہو گئے ہیں۔ اور نہ اس پر کہ وہ قتل نہیں ہوئے۔ یقین ہو اور نیز اس پر جو عدم القتل میں مندرج ہے۔ یقین نہ ہو لیکن یہ بات واضح ہے کہ طبعی موت عدم القتل میں مندرج ہے۔ ہاں یہ اندراج ایسا ہے کہ خاص عام میں مندرج ہوتا ہے اس لئے کہ عدم القتل جیسے زندگی کو شامل ہے ویسے ہی طبعی موت کو شامل ہے۔

لہٰذا لازم ہوا کہ جس صورت میں مسیح علیہ السلام کے مقتول ہو جانے میں شک ہو تو آپ کی طبعی موت پر یقین نہ ہو اور یہ بالکل بدیہی ہے۔ کیونکہ شک کے لئے جانبین کی تجویز کا برابر ہونا ضروری ہے۔ اور مع ہذا ایک جانب پر یعنی عدم القتل پر یقین کرنا محال ہے۔ چنانچہ کم

٦٥

صفحہ ٧٧

درایت والے پر بھی مخفی نہیں ہے۔ بنابر ایں اگر آیت سے وہی مراد ہے جو قادیانی سمجھتے ہیں تو کہتے کہ اس آیت کے نازل ہونے سے کیا فائدہ ہوا اس خبر پر کون سے عوائد مرتب ہوئے۔ علاوہ براں اگر اس آیت کو قادیانی ہی مراد پر محمول کریں تو اس سے لازم آئے گا کہ اس آیت نے شک کی ماہیت کے بعض اجزاء بیان کئے ہیں لیکن یہ اس بات کا دعویٰ ہے اس نے وہ معنی بیان کئے جو قوم کے مصطلح ہیں۔ پس اس صورت میں لازم آئے گا کہ قرآن بھی کافیہ شافیہ تہذیب کی مانند ایک کتاب ہے۔ حالانکہ اس امر کا کوئی عقل مند قائل نہیں ہے۔ اس پر قادیانی کی دوسری توجیہ سو اس پر بھی پانچویں بحث کے سواء سب ابحاث و خدشہ وارد ہوتے ہیں۔

البتہ اس دوسری توجیہ پر خاصۂ یہ بحث وارد ہے۔ وہ یوں ہے کہ ”تمام اوصاف کا سلب کسی شی کے ہر ہر فرد سے کر دینا۔ پھر خاص صفت ان کے واسطے ثابت کرنا۔ جیسا کہ اسی سے لازم آتا ہے کہ وہ افراد موصوفہ اس صفت میں منحصر ہو جائیں اس طرح پر ان افراد سے خاص صفت کا سلب کر دینا۔ خواہ وہ صفت ملفوظ نہ ہو مقدر ہی ہو۔ بعد ازاں کوئی ایسی صفت جو مسلوب سے منافی ان افراد کو ثابت کرنا۔‘‘ اس کو چاہتا ہے کہ وہ موصوف اس مسلوب کے منافی میں منحصر ہو پہلے کا نام حصر حقیقی دوسرے کا نام حصر اضافی ہے۔ لیکن یہ دونوں موصوف کے صفت میں منحصر ہونے کے لئے دو قسم ہیں۔ اس پر صفت کا موصوف میں بطور انحصار حقیقی کے سوا اس واسطے کہ وہ صفت صرف اسی موصوف میں متحقق ہے نہ غیر میں۔ صفت کا موصوف میں بطور ”انحصار اضافی“ کے منحصر ہونا سو اس لئے ہے کہ وہ صفت تو اس موصوف میں پائی جاتی ہے لیکن اس کے کل اغیار سے منفک نہیں ہوتی بلکہ بعض میں پائی جاتی ہیں اور بعض میں نہیں پس چونکہ بعض ہی کی طرف نسبت کر کے منحصر ہے تو یہ ”حصر اضافی“ اور نسبتی ہوا۔ پر ظاہر ہے کہ جس میں کوئی چیز منحصر ہو وہ اس پر جو اس میں کلیۂ منحصر ہے کلی طور پر صادق آتا ہے۔ اب دیکھئے کہ آیت (جس کا مضمون یہ ہے کہ نہیں ہے کوئی ایک بھی اہل کتاب میں سے مگر وہ ایمان لائے گا۔) میں اہل کتاب صفت ایمان میں منحصر کر دیئے گئے ہیں۔ لیکن یہ انحصار صفت کفر کی طرف نسبت کر کے ہے نہ اور اوصاف کے لحاظ سے۔

پس مراد اس آیت صفت الکفر کا تمام اہل کتاب سے مسلوب ہونا اور سب کے لئے صفت الایمان کا ثابت ہونا ہے۔ ”لا غیر اس سے صاف طور پر واضح ہو گیا ہے کہ یہ انحصار اضافی ہے۔ کیونکہ اہل کتاب جو صفت ایمان میں منحصر کر دیئے گئے ہیں تو صرف ایک صفت محض کی طرف ٦٦

نسبت کر کے اوصاف کے لحاظ سے لہذا مفاد الآیۃ یوں ہوا کہ منحصر ہوں گے اور صفات ان میں پائے جائیں یا نہ۔

پس سب اہل کتاب سے وصف کفر جو مقدر ایمان سب کو ثابت کر دیا گیا۔ جب یہ سمجھ گئے کہ تمام اہل کتاب لازم آئے گا کہ صفت ایمان تمام کتابیوں پر صادق آنا چا پر ایمان لائے گا۔‘ اس لئے یہ قضیہ موجبہ محصورہ کلیہ بنا۔

جب کہ ہم آیت مذکور سے وہ مراد رکھ لیں جو قا معنی ہوگا کہ سب اہل کتاب مسیح علیہ السلام کے قتل کی مشکو لائیں گے۔ حالانکہ یہ معنی مردود ہے گو ہم اس سے قطع نظر کر پر محمول کرنا لازم آتا ہے۔ اس سے بھی اغماض کریں کہ نون تا طرز پر جو اعتراض وارد ہوتا ہے وہ بتصریح بیان کریں گے کتاب کے لئے ہے۔ جو مسیح علیہ السلام کے زمانہ اور آپ یہ تو قاعدہ مذکورہ مسلمہ سے مخالف ہے کیونکہ قاعدہ سے لازم آ نہ بعض کے واسطے یا یہ کہو گے کہ یہ عام اہل کتاب کے لئے مرفوعیت سے پہلے موجود تھے اور جو اس کے بعد قیامت تک پھر اور ہی محال لازم آئے گا۔ اس لئے کہ اب یہ تجویز کر موجود ہونے کی حالت میں موجود ہو۔

اجی جب تم مسیح علیہ السلام کے مرجانے کے قا مسیح علیہ السلام کے مرنے سے پہلے ہی تمام کتابی ایمان زمانے میں موجود نہیں تھے۔ موجود ہوں آخر جب سب ب ہی صفت الایمان ثابت کیا گیا۔ تو اس صفت کا موصوف ب آئے گا کہ صفت بغیر موصوف کے متصل ہو یہ تجویز گویا اپن پر یہ اعتراض وارد ہوتا ہے کہ یہاں مصدر کو بلا موجب ماضی ہے۔ صاحبان فہم کے ناپسند ہے۔ رہی یہ بات کہ مستدل م دونوں کو اپنے کشوف سے مؤید کرتا ہے۔ ٦٧

صفحہ ٧٧

نسبت کر کے اوصاف کے لحاظ سے لہٰذا مفاد الآیۃ یوں ہوا کہ سب اہل کتاب ایمان میں نہ کفر میں منحصر ہوں گے اور صفات ان میں پائے جائیں یا نہ۔

پس سب اہل کتاب سے وصف کفر جو مقدر ہے مسلوب کر دیا گیا۔ اس کا منافی یعنی ایمان سب کو ثابت کر دیا گیا۔ جب یہ سمجھ گئے کہ تمام اہل کتاب صفت ایمان میں منحصر ہوں گے تو لازم آئے گا کہ صفت ایمان تمام کتابیوں پر صادق آنا چاہئے جیسا کہ کہہ دیں کہ ہر ایک کتابی اس پر ایمان لائے گا۔ ”اس لئے یہ قضیہ موجبہ محصورہ کلیہ بنا۔

جب کہ ہم آیت مذکور سے وہ مراد رکھ لیں جو قادیانی بیان کرتے ہیں تو اس تقدیر پر یہ معنی ہوگا کہ سب اہل کتاب مسیح علیہ السلام کے قتل کی مشکوکیت پر ان کے مرنے سے پہلے ایمان لائیں گے۔ حالانکہ یہ معنی مردود ہے گو ہم اس سے قطع نظر کریں کہ اس طرز پر صیغہ مضارع کا ماضی پر محمول کرنا لازم آتا ہے۔ اس سے بھی اغماض کریں کہ نون تاکید ثقیلہ معنی استقبال کو چاہتا ہے مگر اور طرز پر جو اعتراض وارد ہوتا ہے وہ بتصریح بیان کریں گے۔ وہ یہ ہے کہ یہ حکم خاص انہی بعض اہل کتاب کے لئے ہے۔ جو مسیح علیہ السلام کے زمانہ اور آپ کی مرفوعیت سے پہلے موجود تھے لیکن یہ تو قاعدہ مذکور مسلمہ سے مخالف ہے کیونکہ قاعدہ سے لازم آیا تھا کہ یہ حکم کل کتابیوں کے واسطے ہے نہ بعض کے واسطے یا یہ کہو گے کہ یہ عام اہل کتاب کے لئے ہے یعنی جو آپ کے زمانہ میں آپ کی مرفوعیت سے پہلے موجود تھے اور جو اس کے بعد قیامت تک موجود ہوتے جائیں گے مگر اس سے تو پھر اور ہی محال لازم آئے گا۔ اس لئے کہ اب یہ تجویز کرنا پڑے گا۔ کہ ایک چیز جو موجود نہیں وہ موجود ہونے کی حالت میں موجود ہو۔

اجی جب تم مسیح علیہ السلام کے مرجانے کے قائل ہو اور ادھر آیت کے معنی یہ ہوئے کہ مسیح علیہ السلام کے مرنے سے پہلے ہی تمام کتابی ایمان لا چکے ہیں تو صاف لازم آیا کہ جو اس زمانے میں موجود نہیں تھے۔ موجود ہوں آخر جب سب کے لئے موت مسیح علیہ السلام سے پہلے ہی صفت الایمان ثابت کیا گیا۔ تو اس صفت کا موصوف بھی تب ہی موجود ہونا چاہئے۔ ورنہ لازم آئے گا کہ صفت بغیر موصوف کے متحقق ہو یہ تجویز گویا اجتماع الضدین کو جائز کر دینا ہے۔ نیز اس پر یہ اعتراض وارد ہوتا ہے کہ یہاں مصدر کو بلا موجب ماضی پر محمول کرنا پڑتا ہے۔ حالانکہ یہ بناوٹ ہے۔ صاحبان فہم کو ناپسند ہے۔ رہی یہ بات کہ مستدل دو معنوں کو اپنے منہ سے اچھا کہتا ہے اور دونوں کو اپنے کشوف سے مؤید کرتا ہے۔

صفحہ ٧٩

سو واضح رہے کہ بالضرور دو معنوں میں سے ایک تو بالکل باطل ہے۔ سبب یہ ہے کہ دوسری توجیہ اور معنی میں زیادہ تر خصوص کا ہی احتمال ہے۔ کیونکہ اگر عموم لیا جائے تو اجتماع الضدین لازم آتا ہے۔ چنانچہ گزرا پہلی توجیہ میں خالی عموم ہی ہے اور ظاہر ہے کہ عموم و خصوص دونوں آپس میں متغائر ہیں۔ پس اگر پہلی توجیہ کو تسلیم کریں گے تو بالضرور دوسری ندارد ہے۔ اگر دوسری کو مان لیں گے تو لامحالہ پہلی مردود ہے۔

اب کہئے کہ اگر ایک کشف کو الہام رحمانی سے ہی فرض کر لیں گے تو دوسرا بداہتہ شیطانی ہوگا۔ اس لئے اگر دونوں الہام اللہ سے ہوتے تو ان میں تخالف نہ ہونا چاہئے تھا۔ لہذا حق یہی ہے کہ یہ دونوں ہی رحمانی نہیں ہیں ورنہ کیوں ان دونوں پر شرعیہ اور عقلیہ اعتراضات ساطعہ وارد ہوتے لا محالہ ایسے مدعیوں کے خصائل سے یہ بات ہے کہ اگر ان کے مقابلہ پر قرآن پیش کرتے ہیں تو انجیل طلب کرتے ہیں۔ جب انجیل سامنے رکھتے ہیں تو قرآن طلب کرتے ہیں جب دونوں پیش کئے جائیں تو عقل کے طالب ہوتے ہیں پھر عقل بھی اگر پیش کی جائے تو کشف لے بیٹھتے ہیں تو پھر جب اس کشف پر دلیل طلب کی جاتی ہے تو سرنگوں متحیر ہو جاتے ہیں غرض کہ وہ لوگ نہ ادھر کے رہے نہ ادھر کے رہے ہر ایک دربار سے ان کو دھکے ملتے ہیں۔ یا یوں کہئے کہ یہ لوگ شتر مرغ کے مثیل ہیں اس پر جب بوجھ ڈالنا چاہیں تو اڑنے والا جانور بن بیٹھتا ہے اگر اسے اڑانا چاہیں تو اونٹ کہلاتا ہے۔

یا یوں کہ ایسے لوگ اس مریض کے مثیل ہیں جسے مرض الموت نے گرفتار کیا ہو، نہ وہ زندہ اور نہ مردہ ہے اور کسی شیء کے مثیل نہیں ہے۔ خیر جو ہیں، سو ہیں ہم کو اس سے کیا غرض ہے؟

ہاں ہم اب یہ بیان کریں گے کہ جس طرح پر کہ ہم اور سلف وخلف آیت ﴿وما قتلنا المسیح ... الخ﴾ سے سمجھتے ہیں اس طرز پر اعتراض مذکور میں سے ایک اعتراض بھی وارد نہیں ہوتا۔ وہ یوں ہے کہ اہل کتاب نے کہا کہ ہم مسیح علیہ السلام کے مقتول ہو جانے پر یقین رکھتے ہیں۔ سو اللہ عزوجل نے ان کی تردید فرمائی کہ انہوں نے مسیح علیہ السلام کو نہ تو قتل کیا اور نہ صلیب پر چڑھایا۔ پس کیونکر مسیح علیہ السلام کے قتل ہو جانے پر ان کو یقین کر بیٹھنا متصور ہے۔ اس لئے کہ علم یقینی کیلئے تو یہ ضروری ہے کہ واقع سے مطابق ہو کیا ہو سکتا ہے کہ واقع سے مخالف ہو اور پھر بھی یقینی ہو۔ ہرگز نہیں۔ لہذا ان کا یہ دعویٰ کہ ہم قتل کے بارے میں متیقن ہیں باوجود کہ دراصل ان کو یقین حاصل نہیں ہے۔ ”بلاشبہ جہل مرکب“ ہے کیونکہ جہل مرکب کا معنی یہی ہے کہ خلاف واقع ایک حکم لگایا جائے۔

٦٨

پس وہ اس کے بارے میں شک میں مبتلا نہیں ان کو یقین حاصل بلکہ ظن اور جہل مرکب کے تابع السلام کو قتل نہیں کیا۔ یعنی قتل کا نہ پایا جانا یقینی ہے کہ یقین کی ﴿بل رفعہ اللہ﴾ بلکہ خداوند عزاسمہ نے عیسیٰ اٹھا لینا کہ وہ جسدہ منافی قتل ہے۔ نہ وہ کہ اس کا منافی واقعہ اور اعتقاد مخاطب میں قتل کے ساتھ مجتمع ہوتا ہے۔ تعالیٰ کو مسیح علیہ السلام کے جسدہ مرفوع کرنے سے کوئی خدا حکمت والا ہے۔ رفع کے کام میں نہیں کوئی ایک بھی اہل کتاب میں سے مگر کہ مسیح علیہ السلام پر ایمان لائے گا ایمان ان کے لئے نافع نہ ہو جیسا کہ حالت حیات میں یہ ایمان کہ جو مرگ کی حالت میں ہو وہ اس سے عام ہو یا ان کے اترنے کے بعد ہو پس اس معنی میں غور کرو دیکھو ایک تو صیغہ مضارع اپنے ہی معنی پر رہا۔ نون ثقیلہ کرتا ہے۔ اپنے ہی طور پر رہا، اس معنی پر اعتراضات ہوتا کما ھو الظاھر للمتأمل الصادق۔ لہٰذا ہے اور اس کے برخلاف الہامات و کشوف کو کھنڈر و اشکالات کے دور کرنے کے لئے کافی ہے۔ اس پر یا بے انصاف اور بے علم جھگڑالو اس سے انحراف کرے۔ قادیانی اپنے استدلال فاسد میں اس آیہ ہے۔ جس کا مضمون یہ ہے کہ نہیں بنایا ہم نے پیغمبروں اور نہ ہمیشہ رہنے والے۔ لیکن ہم پہلے اس استدلال استدلال قادیانی کا یہ ہے کہ اگر مسیح علیہ السلام کو آسمان گا ...... الخ۔

الجواب ....... آیت مذکورہ میں جو حرف نفی بلکہ جعل مولف پر ہے جس کے لوازم سے ہے کہ وہ دو مجہول دوسرا کا نام مجہول الیہ۔ دیکھو اس آیت میں ان

٦٩

صفحہ ٧٩

پس وہ اس کے بارے میں شک میں مبتلا ہیں۔ یعنی ایسے حکم میں کہ وہ خلاف واقع ہے نہیں ان کو یقین حاصل بلکہ ظن اور جہل مرکب کے تابعدار ہیں۔ وجہ یہ ہے کہ انہوں نے مسیح علیہ السلام کو قتل نہیں کیا۔ یعنی قتل کا نہ پایا جانا یقینی ہے کہ یقینا نفی ﴿ما﴾ کی قید ہے نہ منفی ﴿قتلوہ﴾ کی ﴿بل رفعہ اللہ﴾ بلکہ خداوند عزاسمہ نے مسیح علیہ السلام کو اپنی طرف اٹھا لیا ہے۔ لیکن وہ اٹھا لینا کہ وہ بجسدہ منافی قتل ہے۔ نہ وہ کہ اس کا منافی نہیں۔ یعنی رفع روحی۔ کیونکہ رفع روحانی واقعہ اور اعتقاد مخاطب میں قتل کے ساتھ مجتمع ہوتا ہے۔ ﴿وکان اللہ عزیزاً حکیما﴾ خداوند تعالیٰ کو مسیح علیہ السلام کے بجسدہ مرفوع کرنے سے کوئی چیز عاجز کرنے والی نہیں۔ ﴿حکیما﴾ خدا حکمت والا ہے۔ رفع کے کام میں۔ نہیں کوئی ایک بھی ﴿من اھل الکتب الا لیؤمنن بہ﴾ اہل کتاب میں سے مگر کہ مسیح علیہ السلام پر ایمان لائیں گے ان کے مرجانے سے پہلے ہی خواہ وہ ایمان ان کے لئے نافع ہی ہو جیسا کہ حالت حیات میں یا نافع نہ ہو جیسا کہ مرگ کی حالت میں اور یہ ایمان کہ جو مرگ کی حالت میں ہے وہ اس سے عام ہے کہ مسیح علیہ السلام کے اترنے سے پہلے ہو یا ان کے اترنے کے بعد ہو پس اس معنی میں غور کرو کہ اس میں بہر حال ایمان کی حفاظت ہے۔ دیکھو ایک تو صیغہ مضارع اپنے ہی معنی پر رہا۔ نون ثقیلہ جو دخول کے استقبال پر بالاجماع دلالت کرتا ہے۔ اپنے ہی طور پر رہا اس معنی پر اعتراضات سابقہ میں سے کوئی اعتراض بھی وارد نہیں ہوتا۔ کما ھو الظاھر بالتامل الصادق۔ لہذا جو معنی ہم نے بیان کیا ہے۔ اس کو صحیح کہنا زیبا ہے اور اس کے برخلاف الہامات وکشوف کو کھنڈروں پر دے مارنا لازم ہے۔ یہی معنی تمام اشکالات کے دور کرنے کے لئے کافی ہے۔ اس پر بالضرور منصف مزاج ایمان لائے گا۔ گو کوئی بے انصاف اور بے علم جھگڑالو اس سے انحراف کرے۔

قادیانی اپنے استدلال فاسد میں اس آیت کو موت عیسیٰ علیہ السلام میں بھی پیش کرتا ہے۔ جس کا مضمون یہ ہے کہ نہیں بنایا ہم نے پیغمبروں کو کہ وہ کھانا کھانے کی طرف محتاج نہ ہوں اور نہ ہمیشہ رہنے والے۔ لیکن ہم پہلے اس استدلال کی اصلاح کریں گے اور پھر جواب دیں استدلال قادیانی کا یہ ہے کہ اگر مسیح علیہ السلام کو آسمان پر زندہ بھی مان لیا جائے تو بالضرور کہنا پڑے گا...... الخ۔

الجواب...... آیت مذکورہ میں جو حرف نفی (ما) کا وارد ہوا ہے وہ جعل بسیط پر وارد نہیں بلکہ جعل مؤلف پر ہے جس کے لوازم سے ہے کہ وہ دو مفعولوں کے درمیان پایا جائے۔ ایک کا نام مجعول دوسرا کا نام مجعول الیہ۔ دیکھو اس آیت میں انبیاء علیہم السلام مجعول اور جسد مجعول الیہ۔ جو

٦٩

صفحہ ٨١

بغیر طعام کے فاسد ہو جاتا ہے۔ پس یہاں پر نفی ایسے جعل اور بنانے پر وارد ہوئی جو مقید ہے۔ اور بدیہی ہے کہ مقید، گو اس کے ساتھ ہزار قیدیں لگی ہوں نہیں پایا جاتا جب تک کل قیود نہ پائے جائیں۔

اب یہاں تین قیدیں ہیں: ایک جعل کا مرکب ہونا، ۔ دوم جسد کا مجعول الیہ ہونا، سوم، عدم الاکل کی قید۔ لہٰذا یہ جعل مقید بہ ایں قیود جب ہی موجود ہوگا کہ سب قیود پائے جائیں۔ البتہ کسی مرکب چیز کا معدوم ہونا اس کے تمام اجزاء کے نابود ہو جانے پر موقوف نہیں، بلکہ اس میں اگر ایک چیز بھی نابود ہو جائے تو اس چیز کا عدم پایا جائے گا۔ اس سے یہ بھی سمجھا ہوگا کہ بجائے جعل مؤلف کے جو مقید ہے اگر اور ہی چیز فرض کی جائے یا اس کا مرکب ہونا اڑا دیں یا بایں طور پر کہ صرف پہلے مفعول یا دوسرے کے ساتھ متعلق ہونا مان لیں یا جسد کے مقام پر اور ہی کوئی مفعول قرار دیں یا تمام قیود کا تحقق مان لیں مگر عدم اکل یا تمام قیود یا مطلق شیء کا (باوجود مان لینے تمام قیود کے) نابود ہونا فرض کر لیں۔ تو بہر حال مقید بھی معدوم ہوگا۔ لیکن یہ سب مفہومات ذہن ہی ذہن میں واقع ہیں۔ ان میں سے کوئی بھی متحقق نہیں۔

البتہ ان میں سے عدم اکل کا منتفی ہونا گو ممکن ہے واقعی بھی ہے۔ ماسوا اس کے جتنے ہیں واقع میں پایا جانا دلائل عقلیہ ونقلیہ سے ثابت ہے۔ اس لئے یہ عدمات واقعی نہیں۔ جب یہ سن لیا تو اس کا علم بھی ضروری ہے کہ قید عدم الاکل کا پایا جانا دو طرح پر ہے۔ کہ یا کوئی چیز (خواہ طعام ہو یا اور کچھ ہو) نہ کھائی جائے یا خاص کر طعام بھی نہ کھایا جائے۔ اس میں شبہ نہیں ہے کہ عدم الاکل کا نہ پایا جانا جب متحقق ہوگا کہ کھانا متحقق ہو پس عدم الاکل کے نہ پائے جانے کو جو سالبۃ السالبۃ ہے موجبہ محصلہ لازم ہوا گرچہ یہ ملازمت موضوع کے موجود ہوتے ہی ہوتی ہے لیکن یہاں تو موضوع (انبیاء علیهم السلام) امر واقعی ہی پر کیا دونوں متحقق نہیں ہوں گے۔ ضرور ہوں گے۔

اس واسطے ضرور تسلیم کرنا ہوگا کہ آیت مذکور ﴿وما جعلناهم﴾ قضیہ موجبہ محصلہ لازم آتا ہے کہ ہر رسول طعام کھاتا ہے۔ اب قادیانی سے مستفسر ہیں کہ اس قضیہ موجبہ میں اکل اور کھانا جو ہر رسول کو ثابت ہے تو یہ ان کے لئے ان کی ذات کی طرف سے نظر کر کے ضروری الثبوت ہے یا باعتبار کسی وصف کے یا ضروری الثبوت غیر معین یا معین وقت میں ہے یا یہ کہ وہ ذات کے اعتبار سے وصف کی جہت سے دائمی الثبوت ہے یا تین زمانوں میں کسی زمانوں میں ثابت ہے یا یوں کہو کہ اس کا ثبوت ان کے لئے ممکن ہے خواہ مع قید اللا دوام جیسا کہ اول اور پانچویں کے

٧٠

ماسواء میں خواہ مع قید اللا ضروری جیسا کہ اول کے ماسوا سوا میں بھی عند البعض یا لاضرورة اللادوام کی قید کہیں ضروریہ یعنی ہر رسول کی ذات کو طعام کھانا بالضرورة ثابـ ت بالدوام دائما ثابت ہے۔ باطل ہے کیونکہ ضروریہ مطلقہ لازم ہوا کہ ضروریہ باطل ہو ورنہ اجتماع النقیضین پایا جائـ اسی طرح دائمہ کی نقیض مطلقہ عامہ متحقق ہے طعام نہیں کھاتے۔ اب اس مطلقہ عامہ کو کون باطل کـ دائمہ کاذب ہوا نہیں تو ویسے ہی اجتماع النقیضین لازم باطل ہے۔

اس واسطے کہ وصف رسالت ہر گز ضروری مستلزم اکل الطعام رسول کے لئے مطلق وقت میں کوئی وقت نہیں۔ آخر یہی تو کہو گے کہ اکل طعام بشرطیکہ بھوک لـ کیونکہ خود ضروری الوجود نہیں پھر طعام کا کھانا جو اس کا مشروط ہے جب کہیں کہ زید کی انگلیاں لکھنے کی حالت میں میں ضروری الثبوت نہیں تو جس کے لئے یہ شرط ہے ظاہر ہے کہ کتابت چونکہ کسی وقت ضروری نہیں اور منجملہ او صاف کے ہے پس وہ جب آپ ہی اس وقت میں ضروری نہیں تو مشروط کب ضروری ہوگا۔ ویسے کھانا گو بشرط الجوع ضروری ہے۔ مگر جو ر بط بیان کر آئے ہیں۔

شاید کہو گے کہ جب مانا گیا کہ طعام کا کھـ مشروط صادق آئے گا۔ (کہ ہر رسول کے لئے بشرط مضر ہے۔ سو واضح ہو کہ مشروط ہرگز صادق نہیں آتـ معلوم نہیں کہ مشروطہ میں یہ بات لازمی ہے کہ ضروری ذریعے سے موصوف پر حکم لگایا گیا ہو اور ظاہر ہے کہ طـ بھوک کا۔ پس مشروط کیسے بن سکتا ہے۔ بنا بریں ماننـ

اے

صفحہ ٨١

ماسواہ میں خواہ مع قید اللا ضروری جیسا کہ اول کے ماسواہ میں بنا بر ایک رائے کے یا پانچویں کے ما سوا میں بھی عند البعض بالاضرورة اللا دوام کی قید کہیں بھی تسلیم نہ کریں۔ بہرحال یہ ظاہر ہے کہ ضروریہ یعنی ہر رسول کی ذات کو طعام کھانا بالضرور ثابت ہے اور دائمہ یعنی ہر رسول کے لئے اکل الطعام دائما ثابت ہے۔ باطل ہے کیونکہ ضروریہ مطلقہ کی نقیض جو ممکنہ عامہ ہے۔ متحقق ہے۔ پس لازم ہوا کہ ضروریہ باطل ہو ورنہ اجتماع النقیضین پایا جائے گا۔

اسی طرح دائمہ کی نقیض مطلقہ عامہ متحقق ہے۔ چنانچہ کہہ دیں کہ بعض اوقات میں رسول طعام نہیں کھاتے۔ اب اس مطلقہ عامہ کو کون باطل کر سکتا ہے۔ یہ صریح صادق ہے۔ اس لئے دائمہ کاذب ہوا نہیں تو ویسے ہی اجتماع النقیضین لازم آئے گا جیسا کہ گزرا۔ ایسا ہی دوسرا اور چھٹا باطل ہے۔

اس واسطے کہ وصف رسالت ہر گز ضرورت یا دوام اکل کو نہیں چاہتا۔ علی ہذا القیاس اکل الطعام رسول کے لئے مطلق وقت میں کوئی وقت ہو اور خاص ایک وقت میں ضروری الثبوت نہیں۔ آخر یہی تو کہو گے کہ اکل طعام بشرطیکہ بھوک متحقق ہو ضروری ہے اور حالانکہ یہ ظاہر ہے کہ بھوک خود ضروری الوجود نہیں پھر طعام کا کھانا جو اس کا مشروط ہے۔ وہ کیسے ضروری ہوگا۔ کیا دیکھتے نہیں کہ جب کہیں کہ زید کی انگلیاں لکھنے کی حالت میں متحرک ہیں اس کا لکھنا چونکہ خود کسی وقت میں ضروری الثبوت نہیں تو جس کے لئے یہ شرط ہے وہ بھی کتابت کے وقت ضروری نہیں۔ وجہ یہ ہے کہ کتابت چونکہ کسی وقت ضروری نہیں اور منجملہ اوقات وہ وقت بھی سہی جس میں کتابت متحقق ہے بس وہ جب آپ ہی اس وقت میں ضروری نہیں تو انگلیوں کا ہلنا کتابت کے وقت کب ضروری ہوگا۔ ویسے کھانا گو بشرط الجوع ضروری ہے۔ مگر جوع کے وقت میں ضروری نہیں۔ چنانچہ ابھی ہم بیان کر آئے ہیں۔

شاید کہو گے کہ جب مانا گیا کہ طعام کا کھانا بشرطیکہ بھوک لگی ہو ضروری ہے تو قضیہ مشروط صادق آئے گا۔ (کہ ہر رسول کے لئے بشرط الجوع اکل طعام ضروری ہے۔) حالانکہ تم کو مضر ہے۔ سو واضح ہو کہ مشروطہ ہرگز صادق نہیں آتا۔ سبب یہ ہے کہ یہ مشروط نہیں بن سکتا۔ کیا معلوم نہیں کہ مشروطہ میں یہ بات لازمی ہے کہ ضرورت بشرط اسی عنوان اور وصف کے ہو جس کے ذریعے سے موصوف پر حکم لگایا گیا ہو اور ظاہر ہے کہ قضیہ مذکورہ میں وصف اور عنوان رسول کا لفظ نہ بھوک کا۔ پس مشروط کیسے بن سکتا ہے۔ بنابریں ماننا پڑے گا کہ قضیہ مذکورہ مطلقہ یا ممکنہ عامہ ہے

٧١

صفحہ ٨٢

خواہ دوام یا لاضرورت کی قید لگائیں یا نہ۔ ہاں مطلقہ اور ممکنہ عامہ اس آیت سے مستفاد ہے جس کا مضمون یہ ہے (کہ اے رسول ﷺ آپ سے پہلے جتنے رسول تھے وہ طعام کھاتے تھے، بازاروں میں چلتے پھرتے بھی تھے) کیونکہ اصل آیت کا ماحصل یہی ہے کہ رسول کسی نہ کسی زمانہ میں کھاتے اور بازاروں میں چلتے پھرتے تھے نہ یہ کہ ہر وقت میں۔ پس جیسا کہ ہر وقت میں چلتے پھرتے نہیں تھے اور یہی مطلقہ عامہ ہے۔ ایسا ہی طعام کے کھانے کا ان کے لئے امکان ثابت ہوا۔ پس جبکہ اس ممکنہ اور مطلقہ کو لا دوام کی قید لگائیں گے تو یہ قضیہ وجودیہ ایسا ہی ہو کہ پہلی جزء آیت مذکورہ سے ثابت ہوئی اور دوسری جزء یعنی لا دوام کا مفہوم ہماری سابق تقریر سے پایہ ثبوت کو پہنچا۔ البتہ اس وجودیہ کو بسبب اس کے کہ یہ ایک مقید اور خاص چیز ہے ضروریہ وغیرہ لازم ہے۔

لیکن چونکہ یہ خاص ہے اور خاص زیادہ تر قابل اعتبار ہوتا ہے تو وجودیہ ہی معتبر ٹھہرے گا۔ اس واسطے اس کی جو جزء لے کر قضیہ بنائیں گے پھر دیکھیں گے۔ کہ وہ اہل اسلام کے عقیدہ سے مخالف ہے یا نہیں۔ دیکھو ہر رسول بعض اوقات میں طعام کھاتا ہے اور کوئی رسول بعض اوقات میں طعام نہیں کھاتا۔ اب غور سے دیکھو کہ یہ قضیہ ہرگز عقیدہ اسلامی سے مخالفت نہیں رکھتا کیونکہ یہ قضیہ (کہ مسیح علیہ السلام بعض اوقات میں طعام کھاتے تھے اور بعض اوقات میں نہیں کھاتے تھے۔) صادق ہے اور جو ہم نے قبل اس کے بیان کیا ہے کہ بھوک ضروری ہے سو اس کی دلیل یہ ہے کہ اندرونی اور بیرونی اسباب کے سبب سے اجزاء گھٹتے ہیں اور ان اجزاء گم شدہ کی بجائے کوئی شے قائم مقام ہونے کو بھوک کہتے ہیں۔

پس جب یہ کہنا متحقق ہوگا تو بھوک بھی متحقق ہوگی۔ پھر بدیہی ہے کہ تحلل یعنی اس کے اسباب مختلف ہوں گے تو بالضرور تحلل کے درجے بھی مختلف ہو جائیں گے۔ مگر یہ بھی ظاہر ہے کہ تحلل کے درجہ بے شمار ہیں پس بنا بر ایں کہ کہیں ادنیٰ اور کہیں اعلیٰ ہے۔ ہر ایک دوسرے سے سلب کیا جاسکتا ہے اور کہہ سکتے ہیں کہ ادنیٰ تحلل اعلیٰ نہیں ہے۔ اور اعلیٰ ادنیٰ نہیں۔ غرض کہ جس مرتبہ اور درجہ کو مدنظر رکھیں اس سے جو ادنیٰ ہے یا اعلیٰ اسے اس درجہ معینہ سے مسلوب کرنا جائز ہے۔ ویسے ہی ان دونوں کو اس معین درجہ سے رفع کر سکتے ہیں تو گویا اجمالاً حکم لگایا گیا ہے کہ ہر ہر درجہ کا اپنے ماسوا سب درجات سے مسلوب ہونا ممکن ہے جیسا کہ باقی درجات کا سلب اس درجہ سے ممکن ہے۔ اب واضح ہوگیا کہ یہ سلب مقید ہے۔ جب یہ ممکن ہوا تو صاف ثابت ہوا کہ واقع میں بھی سلب ممکن ہے۔ کیونکہ وہ مطلق ہے اور مقید بجز امکان مطلق کے ممکن نہیں ہوسکتا۔

٧٢

انا

خاتم النبیین

لا نبی بعدی

حالات

والہامات

حضرت مولانا عبدال

PDF 84

اَنَا خَاتَمُ النَّبِيِّينَ لَا نَبِيَّ بَعْدِي

میں آخری نبی ہوں میرے بعد کوئی نبی نہیں

حالات

والہامات مرزا

حضرت مولانا عبدالوہاب خانؒ

صفحہ ٨٤

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

ضلع رام پور میں قادیانی پنڈتوں کی آمد و رفت کا سلسلہ جب شروع ہوا تو تمام ہی مکاتب فکر کے علماء نے قادیانیوں کا تعاقب کرنے کے لئے کل ہند مجلس تحفظ ختم نبوت دارالعلوم دیوبند کی زیر نگرانی مجلس تحفظ ختم نبوت ضلع رامپور کی تشکیل کی جس کے بہتر ثمرات سامنے آئے خود قادیانی پنڈت کو بھی قادیانیت سے توبہ اور قبول اسلام کی توفیق نصیب ہوئی۔ فالحمد لله! ابھی حال ہی میں مجلس کی دعوت پر جناب مولانا شاہ عالم گورکھپوری صاحب نائب ناظم کل ہند مجلس تحفظ ختم نبوت دارالعلوم دیوبند کی تشریف آوری ہوئی اور آپ صولت لائبریری دیکھنے کے لئے تشریف لے گئے تو وہاں موصوف کی نظر حضرت مولانا حضرت عبدالوہاب خاں صاحب بانی مدرسہ جامعۃ المعارف رامپور کی ایک ایسی قدیم تصنیف پر پڑی جو عرصہ سے نایاب ہے۔ اس کے علاوہ اور بھی تصنیفات علماء رام پور کی اس موضوع پر دستیاب ہوئیں۔ اس سے یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ ماضی میں بھی جب قادیانی فتنہ نے رام پور میں سر اٹھانے کی کوشش کی ہے تو ہمارے اکابر نے بروقت اس کا تعاقب کر کے پورے علاقہ کو اس فتنہ سے پاک و صاف کر دیا تھا۔

موقع کی مناسبت سے مولانا گورکھپوری نے یہ مشورہ دیا کہ اس موضوع پر علماء رام پور کی تصنیفی خدمات کو حیات نو دینے کی ضرورت ہے۔ یہ اپنے بزرگوں کا علمی ورثہ اور قیمتی سرمایہ ہے۔ مجلس تحفظ ختم نبوت ضلع رام پور کے حق میں یقیناً یہ ایک نیک مشورہ تھا۔ مجلس نے اس کو باعث سعادت سمجھتے ہوئے قبول کر لیا اور اس کا فیصلہ کر لیا کہ اس موضوع سے متعلق علماء رام پور کی تمام تصنیفات کو منظر عام پر لایا جائے۔

الحمد لله! آپ کے ہاتھوں میں یہ کتاب اسی سلسلہ کی پہلی کڑی ہے۔ پہلی بار جمادی الاولیٰ ١٣٣٩ھ بمطابق جنوری ١٩٢١ء میں مولانا محمد خلیل اللہ صاحب مہتمم مدرسہ مطلع العلوم گھیر مردان خاں کے زیر اہتمام مطبع خورشید عالم ریاست رام پور سے پانچ سو کی تعداد میں چھپی تھی جس کے رسالہ سائز پر کل صفحات ٣٢ تھے۔ کتاب یقیناً کام کی تھی۔ لیکن قدیم رسم الخط یعنی کسی کتاب کا پڑھنا آج کل کس قدر دشوار ہے یہ اہل ذوق ہی جانتے ہیں اور علامات ترقیم وغیرہ جب نہ ہوں تو یہ دشواری اور بڑھ جاتی ہے۔

٢

صفحہ ٨٥

میں مکرر شکریہ ادا کرنا چاہوں گا جناب مولانا شاہ عالم صاحب کا کہ موصوف نے کتاب کو از سر نو تازہ کر دیا۔ مولانا موصوف نے اپنی نگرانی میں نئے سرے سے کمپوزنگ، سیٹنگ، تصحیح اور علامات ترقیم وغیرہ لگا کر نہ صرف یہ کہ قابل استفادہ بنا دیا بلکہ قادیانی کتب کے حوالوں کی نئے سرے سے بذات خود مراجعت کر کے اسے مستند اور لائق اعتماد بنا دیا۔ جدید حوالوں کو قدیم حوالوں کے ساتھ ہی رکھا ہے۔ تاکہ مسلسل حواشی کی الجھن سے بچا جاسکے۔ قوسین کے درمیان ”خ“ سے مراد مرزا قادیانی کی تصنیفات یعنی روحانی خطاؤں کا وہ سیٹ ہے جسے مرزائی روحانی خزائن کے نام سے شائع کرتے ہیں اور ”ج“ سے مراد اس سیٹ کی جلدیں ہیں۔ اس طرح بعض مقامات پر جہاں حوالے نہیں تھے۔ وہاں بھی حوالوں سے کتاب کو مزین کر دیا ہے اور کتابت کی بعض فحش غلطیوں سے بھی کتاب کو پاک کر دیا ہے۔ ناگزیر مقامات پر حاشیہ لگا کر مقصد کی وضاحت بھی کر دی ہے۔ تاکہ کتاب سے متعلق مرزائی کوئی نیا شوشہ نہ چھوڑ سکیں۔

خوشی کے اس موقع پر میں ممنون ہوں جناب لائبریرین ”صولت لائبریری رام پور“ کا کہ موصوف نے کتاب طباعت کے لئے فراہم فرمائی اور جناب مولانا مفتی ریاست علی صاحب استاذ مدرسہ خادم الاسلام ہاپوڑ کا کہ موصوف نے کتاب کی طباعت میں ہر طرح سے حوصلہ افزائی فرمائی۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ مذکورہ بالا مخلصین کی محنتوں کو اپنی رضا مندی کا ذریعہ بنائے اور اس کتاب کو قبولیت سے نوازے۔ نیز اپنے اکابر کی دیگر تصنیفات کو بھی منظر عام پر لانے کے لئے وسائل و اسباب مہیا فرمائے۔ آمین!

مولانا محمد اسلم جاوید قاسمی جنرل سیکرٹری مجلس تحفظ ختم نبوت ضلع رام پور

تعارف مصنف کتاب

ولادت ١٨٩١ء ...... وفات ١٩٧٨ء

مولانا عبد الوہاب خان صاحب ولد حافظ عبد الغفار خان صاحب گھیر یوسف خاں تکیہ معماران شہر رامپور میں پیدا ہوئے۔ دینی علوم میں وقت کے فقیہ اور شیخ الحدیث ہونے کے ساتھ ساتھ سیاسی طور پر بھی قد آور شخصیت کے مالک تھے۔ عوام و خواص میں حضرت موصوف کا زبردست احترام تھا۔ اپنے وطن میں مدرسہ جامعۃ المعارف کے نام سے ایک دینی ادارہ قائم کیا جو

٣

صفحہ ٨٧

آج تک تعلیمی خدمات میں مصروف ہے۔ موصوف کی اخیر عمر تک اس ادارہ سے وابستگی رہی اس ادارہ میں تدریسی خدمات انجام دیتے رہے۔

میدان سیاست میں بھی آپ کو یدطولیٰ حاصل تھا۔ ابتداء میں نواب صاحب رامپور کو بذریعہ خطوط اصلاح کی طرف توجہ دلاتے رہے۔ ستمبر ١٩٣٣ء میں ریاست میں جب پہلی سیاسی انجمن ”خدام وطن“ کے نام سے قائم ہوئی تو حضرت مولانا کو اس کا صدر منتخب کیا گیا جس کی پاداش میں آپ کو حکومت وقت کے ہاتھوں گرفتاری کی صعوبتیں جھیلنی پڑیں۔ پھر ١٩٣٧ء میں جب صولت علی خاں کی تحریک ”ذمہ دار آئینی حکومت“ قائم ہوئی تو ان کی قیادت میں شامل ہوکر دوماہ کے لئے دوبارہ گرفتار ہوئے۔ پھر ایک بار ١٩٣٩ء میں بھی ریاستی حکومت کے ظلم واستبداد کے خلاف اٹھی تحریک کی حمایت کرنے کی وجہ سے گرفتار ہوئے۔

١٩٣٧ء ہی میں آپ نے ”شیعی فتنہ کی مختصر داستان“ کے نام سے فرضی نام ڈال کر ایک پوسٹر شائع کیا جس سے ریاست میں تنازع پیدا ہوا اور آپ کو قتل کرنے کی سازش رچی جانے لگی تو ١٩٣٧ء میں ہی ”رام پور کے سیاسی حالات پر طائرانہ نظر“ کے عنوان سے دوسرا پوسٹر شائع کرنے پر آپ کے خلاف ایک مقدمہ قائم ہوا اور ایک سال کی سزا بھگتنی پڑی۔ ١٩٤٥ء میں رام پور میں جب ایک نئی سیاسی جماعت ”انجمن تعمیر وطن“ قائم ہوئی تو آپ کو اس کا بھی صدر نامزد کیا گیا۔ پھر ١٩٤٦ء میں ”انجمن تعمیر وطن اور پریم سبھا“ کے اتحاد سے ”نیشنل کانفرنس رام پور“ کی تشکیل ہوئی تو اس کے بھی آپ ہی صدر بنائے گئے۔ نیشنل کانفرنس قومی اور سیکولر خیالات کی علمبردار تھی کچھ دنوں بعد یہی نیشنل کانفرنس یوپی کانگریس کمیٹی میں ضم ہوگئی۔

١٩٤٩ء میں یوپی اسمبلی کے اسپیکر اور کانگریس کے صوبائی صدر پرشوتم داس ٹنڈن جب رام پور آئے اور کانگریس کمیٹی رام پور کی تشکیل ہوئی تو اس کا بھی صدر آپ ہی کو بنایا گیا لیکن بعد میں آپ کانگریس سے مستعفی ہوگئے۔

١٩٤٩ء میں ہی آپ نے جمعیت العلماء ہند کے ناظم عمومی مولانا سید محمد میاں صاحب اور سبحان الہند مولانا احمد سعید دہلویؒ کے ہمراہ مولانا ابوالکلام آزادؒ سے ملاقات کی اور رام پور ریاست کی انفرادی حیثیت برقرار رکھنے کا وعدہ لیا۔ مولانا آزاد نے یقین دہانی کرائی کہ اولاً رام پور کی عوام کی معاشی مشکلات کو رفع کیا جائے گا اور اس کے بعد رام پور کو کسی صوبہ میں ضم کرنے کا فیصلہ ہوگا۔ لیکن ریاستی ارباب اقتدار نے راز داری اور عجلت کے ساتھ انضمام ریاست کا فیصلہ کرڈالا۔ بیرون ریاست بھی کانگریس قیادت میں آپ کو بلند و بالا مقام حاصل تھا۔

٤

آپ کی تصانیف میں شیعی فتنہ کی مختصر داستان، القرآن علمی یادگاریں ہیں۔ ٢٢؍نومبر ١٩٧٨ء بروز بدھ آپ کے قبرستان میں آپ آسودہ خواب ہیں۔ (ماخوذ از تاریخ را مفتی نائب صد واستاذ جامعہ عربیہ

بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ الحمد لله رب العالمين والصل والمرسلين محمد وآله واصحابه اجمعين بالحق وانت خير الفاتحين

واقعات حاضرہ کو دیکھتے ہوئے ہمارا ضمیر کسی اجازت نہیں دیتا مگر یہ جدید فرقہ قادیانی ایسے وقت پر بھی کا ہے۔ ایسا موقع نہیں دیتا کہ کسی قوم کو یکجائی کرکے دشمنان دی اسی فکر میں ہے کہ مسلمانوں کو راہ ہدایت سے ہٹا کر گمراہی کے الہامات واقوال کا ایک رخ دکھا کر تفرقہ اندازی کرے ملے گا کہ مسلمانوں میں تفریق وتجزی ہو۔

ہمیں جس شے کا ڈر تھا وہ تفریق وتجزی ہے۔ یہی وجہ ہے۔ علاوہ موجودہ واقعات کے ریاست ہذا (رام پور) میں ضرورت بھی نہ تھی۔ اسی واسطے علماء شہر نے کبھی اس طرح کے لوگ ہیں۔ وہاں ان کی سرکوبی کے واسطے علماء موجود ہیں ہمیں معلوم ہوا ہے کہ اس گروہ کے چند آدمی باوجود حکومت سازشوں اور چرب زبانی سے اہل شہر کے عقائد وافعال پر قریب تر رشتہ داروں میں مرزائی خیالات پیدا ہوگئے ہیں۔ ان کے عقائد معلوم ہونے سے سخت افسوس ہوا۔ ان واق

٥

صفحہ ٨٧

آپ کی تصانیف میں شیعی فتنہ کی مختصر داستان، حالات والہامات مرزا اور تفسیر تقریب القرآن علمی یادگاریں ہیں۔ ٢٢ نومبر ١٩٧٨ء بروز بدھ آپ کا وصال ہوا۔ گھیر مرداں خاں کی مسجد کے قبرستان میں آپ آسودہ خواب ہیں۔ (ماخوذ از تاریخ رام پور)

مفتی (ریاست علی رام پوری) نائب صدر مجلس تحفظ ختم نبوت ضلع رام پور واستاذ جامعہ عربیہ خادم الاسلام ہاپوڑ، ضلع غازی آباد یوپی

بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

الحمد لله رب العالمين والصلوٰۃ والسلام علی خاتم الانبیاء والمرسلین محمد وآلہ واصحابہ اجمعین۔ ربنا افتح بیننا وبین قومنا بالحق وانت خیر الفاتحین

واقعات حاضرہ کو دیکھتے ہوئے ہمارا ضمیر کسی مدعی اسلام کے مقابل قلم اٹھانے کی اجازت نہیں دیتا مگر یہ جدید فرقہ قادیانی ایسے وقت پر بھی کہ اسلام کا مطلع ہر طرف غبار آلود نظر آتا ہے۔ ایسا موقع نہیں دیتا کہ کسی قوم کو یکجائی کر کے دشمنان دین کی جانب صرف کی جائے بلکہ ہمیشہ اسی فکر میں ہے کہ مسلمانوں کو راہ ہدایت سے ہٹا کر گمراہی کے گڑھے میں ڈالے اور مرزا قادیانی کے الہامات واقوال کا ایک رخ دکھا کر تفرقہ اندازی کرے۔ دشمنان دین کو اس سے اچھا موقع کیا ملے گا کہ مسلمانوں میں تفریق وتجزی ہو۔

ہمیں جس نے کھویا وہ تفریق وتجزی ہے۔ یہی وہ شے ہے جو بربادی مسلم کے درپے ہے۔ علاوہ موجودہ واقعات کے ریاست ہذا (رام پور) میں تو اس گروہ کے مقابل کسی تحریر وتقریر کی ضرورت بھی نہ تھی۔ اسی واسطے علماء شہر نے کبھی اس طرح توجہ نہ کی۔ بیرون شہر جہاں اس فرقے کے لوگ ہیں۔ وہاں ان کی سرکوبی کے واسطے علماء موجود ہیں۔ لکل فرعون موسی۔ لیکن حال میں معلوم ہوا ہے کہ اس گروہ کے چند آدمی بوجود حکومت کی طرف سے ممانعت کے اپنی خفیہ سازشوں اور چرب زبانی سے اہل شہر کے عقائد وافعال پر برا اثر ڈال رہے ہیں۔ حتیٰ کہ میرے قریب تر رشتہ داروں میں مرزائی خیالات پیدا ہو گئے ہیں۔ بعض سے گفتگو انہیں خیالات پر ہوئی۔ ان کے عقائد معلوم ہونے سے سخت افسوس ہوا۔ ان واقعات نے مجھے مجبور کر دیا کہ برادران

٥ ادران

Wait! I see a typo in my final thought "کہ برادران", but I accidentally wrote "کہادران" or something here? Let me fix: "کہ برادران"

Let me rewrite the final block without markdown.

آپ کی تصانیف میں شیعی فتنہ کی مختصر داستان، حالات والہامات مرزا اور تفسیر تقریب القرآن علمی یادگاریں ہیں۔ ٢٢ نومبر ١٩٧٨ء بروز بدھ آپ کا وصال ہوا۔ گھیر مرداں خاں کی مسجد کے قبرستان میں آپ آسودہ خواب ہیں۔ (ماخوذ از تاریخ رام پور)

مفتی (ریاست علی رام پوری) نائب صدر مجلس تحفظ ختم نبوت ضلع رام پور واستاذ جامعہ عربیہ خادم الاسلام ہاپوڑ، ضلع غازی آباد یوپی

بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

الحمد لله رب العالمين والصلوٰۃ والسلام علی خاتم الانبیاء والمرسلین محمد وآلہ واصحابہ اجمعین۔ ربنا افتح بیننا وبین قومنا بالحق وانت خیر الفاتحین

واقعات حاضرہ کو دیکھتے ہوئے ہمارا ضمیر کسی مدعی اسلام کے مقابل قلم اٹھانے کی اجازت نہیں دیتا مگر یہ جدید فرقہ قادیانی ایسے وقت پر بھی کہ اسلام کا مطلع ہر طرف غبار آلود نظر آتا ہے۔ ایسا موقع نہیں دیتا کہ کسی قوم کو یکجائی کر کے دشمنان دین کی جانب صرف کی جائے بلکہ ہمیشہ اسی فکر میں ہے کہ مسلمانوں کو راہ ہدایت سے ہٹا کر گمراہی کے گڑھے میں ڈالے اور مرزا قادیانی کے الہامات واقوال کا ایک رخ دکھا کر تفرقہ اندازی کرے۔ دشمنان دین کو اس سے اچھا موقع کیا ملے گا کہ مسلمانوں میں تفریق وتجزی ہو۔

ہمیں جس نے کھویا وہ تفریق وتجزی ہے۔ یہی وہ شے ہے جو بربادی مسلم کے درپے ہے۔ علاوہ موجودہ واقعات کے ریاست ہذا (رام پور) میں تو اس گروہ کے مقابل کسی تحریر وتقریر کی ضرورت بھی نہ تھی۔ اسی واسطے علماء شہر نے کبھی اس طرح توجہ نہ کی۔ بیرون شہر جہاں اس فرقے کے لوگ ہیں۔ وہاں ان کی سرکوبی کے واسطے علماء موجود ہیں۔ لکل فرعون موسی۔ لیکن حال میں معلوم ہوا ہے کہ اس گروہ کے چند آدمی بوجود حکومت کی طرف سے ممانعت کے اپنی خفیہ سازشوں اور چرب زبانی سے اہل شہر کے عقائد وافعال پر برا اثر ڈال رہے ہیں۔ حتیٰ کہ میرے قریب تر رشتہ داروں میں مرزائی خیالات پیدا ہو گئے ہیں۔ بعض سے گفتگو انہیں خیالات پر ہوئی۔ ان کے عقائد معلوم ہونے سے سخت افسوس ہوا۔ ان واقعات نے مجھے مجبور کر دیا کہ برادران (Wait, I messed up again, the actual text is "کہ برادران". Sorry for the self-correction artifacts, I will output the final clean version directly).

آپ کی تصانیف میں شیعی فتنہ کی مختصر داستان، حالات والہامات مرزا اور تفسیر تقریب القرآن علمی یادگاریں ہیں۔ ٢٢ نومبر ١٩٧٨ء بروز بدھ آپ کا وصال ہوا۔ گھیر مرداں خاں کی مسجد کے قبرستان میں آپ آسودہ خواب ہیں۔ (ماخوذ از تاریخ رام پور)

مفتی (ریاست علی رام پوری) نائب صدر مجلس تحفظ ختم نبوت ضلع رام پور واستاذ جامعہ عربیہ خادم الاسلام ہاپوڑ، ضلع غازی آباد یوپی

بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

الحمد لله رب العالمين والصلوٰۃ والسلام علی خاتم الانبیاء والمرسلین محمد وآلہ واصحابہ اجمعین۔ ربنا افتح بیننا وبین قومنا بالحق وانت خیر الفاتحین

واقعات حاضرہ کو دیکھتے ہوئے ہمارا ضمیر کسی مدعی اسلام کے مقابل قلم اٹھانے کی اجازت نہیں دیتا مگر یہ جدید فرقہ قادیانی ایسے وقت پر بھی کہ اسلام کا مطلع ہر طرف غبار آلود نظر آتا ہے۔ ایسا موقع نہیں دیتا کہ کسی قوم کو یکجائی کر کے دشمنان دین کی جانب صرف کی جائے بلکہ ہمیشہ اسی فکر میں ہے کہ مسلمانوں کو راہ ہدایت سے ہٹا کر گمراہی کے گڑھے میں ڈالے اور مرزا قادیانی کے الہامات واقوال کا ایک رخ دکھا کر تفرقہ اندازی کرے۔ دشمنان دین کو اس سے اچھا موقع کیا ملے گا کہ مسلمانوں میں تفریق وتجزی ہو۔

ہمیں جس نے کھویا وہ تفریق وتجزی ہے۔ یہی وہ شے ہے جو بربادی مسلم کے درپے ہے۔ علاوہ موجودہ واقعات کے ریاست ہذا (رام پور) میں تو اس گروہ کے مقابل کسی تحریر وتقریر کی ضرورت بھی نہ تھی۔ اسی واسطے علماء شہر نے کبھی اس طرح توجہ نہ کی۔ بیرون شہر جہاں اس فرقے کے لوگ ہیں۔ وہاں ان کی سرکوبی کے واسطے علماء موجود ہیں۔ لکل فرعون موسی۔ لیکن حال میں معلوم ہوا ہے کہ اس گروہ کے چند آدمی بوجود حکومت کی طرف سے ممانعت کے اپنی خفیہ سازشوں اور چرب زبانی سے اہل شہر کے عقائد وافعال پر برا اثر ڈال رہے ہیں۔ حتیٰ کہ میرے قریب تر رشتہ داروں میں مرزائی خیالات پیدا ہو گئے ہیں۔ بعض سے گفتگو انہیں خیالات پر ہوئی۔ ان کے عقائد معلوم ہونے سے سخت افسوس ہوا۔ ان واقعات نے مجھے مجبور کر دیا کہ برادران

٥

صفحہ ٨٩

شہر و متعلقین کے سامنے مرزا قادیانی کی کان نبوت کے وہ جواہرات پیش کروں جن کو مرزائی صاحبان عیب کی طرح چھپاتے ہیں۔

لیکن قبل اس کے کہ مرزائی ٹکسال کے کھوٹے سکے ناظرین کے پرکھنے کے واسطے پیش کئے جائیں۔ اس کا اظہار ضروری ہے کہ جمیع اہل اسلام کو عموماً اور مرزائی حضرات کو خصوصاً مرزا قادیانی کا معیار صداقت دیکھنا چاہئے۔ کہ جس سے ان کا سچا یا جھوٹا ہونا معلوم ہو سکے۔ سو آیات ذیل سے معیار صداقت اچھی طرح معلوم ہوتا ہے کہ مدعی نبوت کی ذات اور ذاتیات میں اگر راستی معلوم ہے تو جو کچھ وہ کہے وہ سب درست ہے اور اس کا دعوائے نبوت صحیح اور اگر اس کی ذات اور ذاتیات ٹھیک نہیں تو وہ جھوٹا اور جو وہ کہے سب غلط۔

"قل انما اعظکم بواحدة ان تقوموا لله مثنیٰ وفرادیٰ ثم تتفکروا ما بصاحبکم من جنة (سورة سبأ)" ﴿کہہ دیجئے اے نبیﷺ کہ میں تم کو ایک بات بتاتا ہوں کہ تم اکیلے اور مل کر غور کرو تو تمہیں معلوم ہو جائے گا کہ مجھ کو جنون نہیں۔﴾ دوسری آیت جو مرزا قادیانی نے بھی بطور الہام کے ذکر کی ہے۔ "فقد لبثت فیکم عمراً من قبله افلا تعقلون (سورة یونس)" ﴿میں نے تم میں عمر کا ایک حصہ گزارا ہے کیا تم غور نہیں کرتے کہ میں جھوٹا ہوں یا سچا۔﴾

(البشریٰ ج ١ ص ٥، نزول المسیح ص ٢١٢، خزائن ج ١٨ ص ٥٩٠)

تیسری آیت: "والنجم اذا ہویٰ ما ضل صاحبکم وما غویٰ (پ٢٧ النجم)" ﴿قسم ہے ستارے کی جب وہ جھکتا ہے تمہارا مصاحب (یعنی محمدﷺ) نہ گمراہ ہوا ہے نہ بہکا۔﴾

آیات مندرجہ بالا صاف بتا رہی ہیں کہ مدعی نبوت کے ذاتی احوال کا جانچنا معیار صداقت ہے۔ لہٰذا ہمارے اور مرزائی برادران کے درمیان یہی اقوال فیصلہ کن ہیں۔ اسی اصول کو مد نظر رکھتے ہوئے ہم مرزا قادیانی کے ذاتی احوال اور الہامات کا جائزہ لیتے ہیں۔ اگر وہ اس جائزے میں پورے اترے تو وہ بالکل سچے اور ان کے دعوے صحیح اور اگر وہ جائزے میں ٹھیک ثابت نہیں ہوتے تو وہ جھوٹے اور ان کے تمام دعوے غلط۔ اس کو شخصی بحث پر محمول کر کے گریز کرنا ہرگز درست نہیں۔ کیونکہ نبی کا شخصی جانچ میں ٹھیک اترنا یہی ان کے سچے ہونے کی علامت ہے۔ چنانچہ مرزا قادیانی کو خود تسلیم کرتے ہیں۔

حقیقت یہ ہے کہ مرزا قادیانی کے اس جانچ میں کمزور ہونے کی وجہ سے مرزائی اس

٦

بحث کو آئیں بائیں کر کے ٹالتے رہتے ہیں اور ان کے اصلی عنقریب قارئین کرام ملاحظہ فرمائیں گے۔ پردہ ڈالتے ہیں

ہم نظر بازوں سے تو چھپ نہ
تو جہاں جا کے چھپا ہم نے

ہاں دوسری قسم کے اقوال کو جن کے ذریعے س کو دام تزویر میں پھانسا ہے ہمارے معمولی پڑھے لکھے برا کرتے ہیں اور اپنے گروہ کو بڑھانے کی کوشش میں ہمہ تن م غرض یہ کہ اصول مذکورہ پسندیدہ خدا اور رسول ہ اسی اصول کو پیش نظر رکھتے ہوئے ان کے ذاتی احوال اور ا خدمت کرتے ہیں۔

چونکہ مرزا قادیانی کے تفصیلی حالات اور الہا ہے۔ اور اس کے بارے میں علماء کرام نے کتابیں بکثر سہولت اور اختصار کی طرف ہے۔ لہٰذا ہم اس رسالہ میں ق ذکر کریں گے۔ تفصیلی حالات کے واسطے افادۃ الافہام مرزا، نکاح مرزا، الہامات مرزا وغیرہ ملاحظہ کریں۔

لیکن حیرت اور افسوس اس کا ہے کہ ہم لوگ د طرف اس کو ٹھوک بجا کر دیکھ لیا کرتے ہیں اور دینی امو کا آدمی بھی ہمارے سامنے اپنی نبوت کا دعویٰ کرے تو ہ کرنے کو تیار ہو جاتے ہیں۔ مسیلمہ کذاب نے حضر نبوت کو مانتے ہوئے دعویٰ نبوت کیا۔ ایک لاکھ آدمی اس ک اس کے ساتھ مل کر اپنی جانیں فدا کیں۔ اسی طرح بہا کے کٹے اور لوگ ان کے تابع ہو گئے۔ بہتر فرقہ باطلہ جن ک فرمائی ہے۔ ان کی تعداد یوں ہی بڑھی۔ لیکن اس فرقہ قا وجہ نہیں معلوم ہوتی کیونکہ ان فرقوں میں تو نبوت کا دعویٰ پر مدعی نبوت ہیں۔

٧

صفحہ ٨٩

بحث کو آئیں بائیں کر کے ٹالتے رہتے ہیں اور ان کے اصلی حالات اور الہامات تحدیدی پر جنہیں عنقریب قارئین کرام ملاحظہ فرمائیں گے۔ پردہ ڈالتے ہیں۔ مگر:

ہم نظر بازوں سے تو چھپ نہ سکا جان جہاں
تو جہاں جا کے چھپا ہم نے وہیں دیکھ لیا

ہاں دوسری قسم کے اقوال کو جن کے ذریعے سے مرزا قادیانی نے ان عقل کے دشمنوں کو دام تزویر میں پھانسا ہے ہمارے معمولی پڑھے لکھے برادران پر پیش کر کے ان کے عقائد کو فاسد کرتے ہیں اور اپنے گروہ کو بڑھانے کی کوشش میں ہمہ تن مستغرق رہتے ہیں۔

غرض یہ کہ اصول مذکورہ پسندیدہ خدا اور رسول اور نیز مرزا قادیانی کا مسلم ہے۔ لہٰذا ہم اسی اصول کو پیش نظر رکھتے ہوئے ان کے ذاتی احوال اور الہامات کا کچا چٹھا برادران ملت کے پیش خدمت کرتے ہیں۔

چونکہ مرزا قادیانی کے تفصیلی حالات اور الہامات کے واسطے بڑے دفتر کی ضرورت ہے۔ اور اس کے بارے میں علماء کرام نے کتابیں بکثرت لکھی ہیں۔ نیز طبائع کا میلان زیادہ تر سہولت اور اختصار کی طرف ہے۔ لہٰذا ہم اس رسالہ میں مرزا قادیانی کے مختصر حالات اور الہامات ذکر کریں گے۔ تفصیلی حالات کے واسطے افادۃ الافہام، سیف چشتیائی، شہادۃ القرآن، تاریخ مرزا، نکاح مرزا، الہامات مرزا وغیرہ ملاحظہ کریں۔

لیکن حیرت اور افسوس اس کا ہے کہ ہم لوگ اگر ایک برتن بازار سے خریدتے ہیں تو ہر طرف اس کو ٹھونک بجا کر دیکھ لیا کرتے ہیں اور دینی امور میں یہ حالت ہے کہ اگر ایک معمولی ہستی کا آدمی بھی ہمارے سامنے اپنی نبوت کا دعویٰ کرے تو بلا سوچے سمجھے اسے نبی اللہ مان کر اتباع کرنے کو تیار ہو جاتے ہیں۔ مسیلمہ کذاب نے حضرت نبی ﷺ (روحی فداہ) کے بعد آپ کی نبوت کو مانتے ہوئے دعویٰ نبوت کیا۔ ایک لاکھ آدمی اس کے ساتھ ہو گئے۔ حتیٰ کہ بہت لوگوں نے اس کے ساتھ مل کر اپنی جانیں فدا کیں۔ اسی طرح بہت سے دجالوں، کذابوں نے دعویٰ نبوت کے کئے اور لوگ ان کے تابع ہو گئے۔ بہتر فرقہ باطلہ جن کی پیشین گوئی حضرت نبی ﷺ نے ارشاد فرمائی ہے۔ ان کی تعداد یوں ہی بڑھی۔ لیکن اس فرقہ قادیانی کو بہتر فرقہ باطلہ میں بھی کہنے کی کوئی وجہ نہیں معلوم ہوتی کیونکہ ان فرقوں میں تو نبوت کا دعویٰ کسی نے نہیں کیا اور مرزا قادیانی صریح طور پر مدعی نبوت ہیں۔

٧

صفحہ ٩١

پس برادران اسلام کو چاہئے کہ ان کے سامنے کوئی مرزائی یا غیر مذہب والا جو علاوہ اہل سنت والجماعت کے ہو (جس کی بابت نبی علیہ التحیۃ والتسلیم نے ارشاد فرمائی ہے کہ میری امت میں تہتر فرقے ہوں گے۔ ایک نجات پائے گا باقی نار میں جائیں گے اور فرقہ نجات پانے والا وہ ہوگا جس پر میں اور میرے اصحاب ہیں۔ سو وہ یہی فرقہ ہے کہ جس کے عقائد میں بحمد اللہ تیرہ سو سال سے کچھ تغیر نہیں آیا، نیز نبی علیہ الصلوٰۃ والسلام نے ارشاد فرمایا ہے کہ بڑے گروہ کی تابعداری کرو، اس لئے کہ جو جماعت سے جدا ہوا نار میں جدا کیا گیا۔ اگر اپنے پیشوا کا کوئی قول یا واقعہ نقل کرے اور اپنی طرف مائل کرنا چاہے تو تاوقتیکہ علماء سے اس کی جانچ نہ کرا لے ہرگز باور نہ کرے۔ ہمارے برادران کا یہ عذر کہ علماء میں خود اختلاف ہے۔ ہم کس سے دریافت کریں۔ ہرگز قابل قبول نہ ہوگا۔ کیونکہ علماء میں اگر بعض فروعی مسائل میں اختلاف ہے تو اس سے کوئی حرج متصور نہیں۔ اہل سنت ہونے کی حیثیت سے نیز دیگر مذاہب کے مقابل سب برابر ہیں۔ فقد بروا یااولی الابصار !

مرزا قادیانی کے جو حالات اور الہامات ذکر کئے جاتے ہیں۔ اصول مذکورہ کو پیش نظر رکھ کر ناظرین، انصاف کی عینک سے خود ملاحظہ فرمالیں کہ جس شخص کی ذاتی حالت ایسی ہے آیا وہ مجدد، مہدی، نبی، قابل اتباع ہو سکتا ہے یا نہیں۔ باقی مرزا قادیانی کی قرآن، حدیث اور اجماع امت کے ساتھ مخالفت، سوائے کسی اور پرچے میں بشرط ضرورت انشاء اللہ ذکر کریں گے۔

مرزا قادیانی کے مختصر حالات

مرزا قادیانی قصبہ قادیان ضلع گورداسپور میں پیدا ہوئے۔ مولانا مولوی ثناء اللہ صاحب فاتح قادیان نے تاریخ ولادت کی بابت یہ لکھا ہے کہ مرزا قادیانی کی تاریخ ولادت صاف تو ملتی نہیں لے البتہ ان کی اپنی کتاب (تریاق القلوب ص ٦٨ ، خزائن ج ١٥ ص ٢٨٣) سے معلوم ہوتا ہے کہ ١٢٦١ھ مطابق تخمیناً ١٨٤٥ء میں پیدا ہوئے۔ مئی ١٩٠٨ء مطابق ١٣٢٦ھ کو فوت ہوئے۔ (تذکرہ ص ٥٦٧ طبع سوئم ) اس حساب سے مرزا قادیانی کی عمر ٦٥ سال سے متجاوز نہیں ہوئی۔

لے ایسا اس لئے لکھا گیا ہے کہ مرزا قادیانی نے خود اپنے قلم سے اپنی جو تاریخ پیدائش (کتاب البریہ ص ١٥٩، خزائن ج ١٣ ص ١٧٧) نامی کتاب میں ١٨٣٩ء لکھی ہے۔ مرزائی اس کو نہیں مانتے بلکہ اپنی طرف سے قیاس آرائیاں کر کے اپنے جھوٹے نبی کی جھوٹی تاریخ پیدائش گھڑتے ہیں۔ لہٰذا مولانا امرتسریؒ نے مرزا ہی کی دوسری کتاب کے حوالے سے ١٨٤٥ء تاریخ پیدائش لکھی ہے۔ شاہ عالم ۔

٨

حالانکہ (تذکرہ طبع سوئم ص ٦٥٣) میں ہے: لنحيينك او قريباً من ذالك (اور ہم تجھے پاک زندگی عطا کریں گے۔ ج کے )

(اشتہار دہم جولائی ١٨٨٧ء از ال

اور اسی البشریٰ میں ہے کہ ایک خواب میں پندرہ س پہچانوے کر لی ہے۔

اب ناظرین خود انصاف کر سکتے ہیں۔ کجا اسی اور پ ٧٠ کے قریب کہا جاسکتا ہے۔ معمولی اردو، فارسی، عربی، بٹالہ م سیالکوٹ کی کچہری میں پندرہ روپے ماہوار کے محرر ہوئے۔ امتحان دیا۔ فیل ہو گئے۔ لیکن ابتداء سے وجاہت (حاصل کرنے کرنے کا بہت خیال تھا۔

(کتاب البریہ ص ١٤٩، ١٥٠ ، خزائن ج ١٣ ص ١٨٠، ١٨١

طبیعت میں جدت تھی، اسی واسطے ابتداء سے مختلف کرتے تھے جیسا کہ ان کے اشعار سے جو اس بارے میں لکھے ہ وقت ان کو نام آوری کا اچھا موقع مل گیا کہ آریوں اور عیسائیوں مقابل خم ٹھونک کر کھڑے ہو گئے اگر چہ کامیابی تو ان کے مقابل لوگ وید سے کوئی حوالہ طلب کرتے تو مرزا قادیانی بوجہ دید نہ ج مسلمانوں نے جب دیکھا کہ ہماری طرف سے یہ جان توڑ کوشش قادیانی کی طرف راغب ہو گئے۔

انہوں نے مسلمانوں کا میلان اپنی طرف دیکھ حقیقت کتاب اللہ والنبوۃ محمدیہ) کا اشتہار دے دیا اور مسلمانو قیمت ایک ایک نسخہ کی پچیس پچیس روپے تک وصول کر کے کتاب طبع ہو کر نکلی تو بڑا حصہ اس میں الہامات اختراعیہ کا تھا پڑا لیکن علماء اس کو دیکھ کر گھبرائے۔ حتیٰ کہ بعض نے تو کمال فر کا دعویٰ کرے گا۔ کتاب اسی کا پیش خیمہ ہے۔ مگر چونکہ مرزا

٩

صفحہ ٩١

حالانکہ (تذکرہ طبع سوئم ص ٦٥٣) میں ہے: لنحيينك حيوة طيبة ثمانين حولا او قريباً من ذالك (اور ہم تجھے پاک زندگی عطا کریں گے۔ تیری عمر اسی سال ہے یا قریب اس کے)

(اشتہار دہم جولائی ١٨٨٨ء ازالہ اوہام ص ٦٣٥، خزائن ج ٣ ص ٤٤٣)

اور اسی البشریٰ میں ہے کہ ایک خواب میں پندرہ سال کی مزید عمر بڑھائی ہے۔ یعنی پچانوے کر لی ہے۔

(تذکرہ ص ٤٩٧، طبع ٣)

اب ناظرین خود انصاف کر سکتے ہیں۔ کجا اسی اور پچانوے اور کجا پینسٹھ جس کو بمشکل ٧٠ کے قریب کہا جا سکتا ہے۔ معمولی اردو، فارسی، عربی، بٹالہ میں ایک شیعہ صاحب سے پڑھ کر سیالکوٹ کی کچہری میں پندرہ روپے ماہوار کے محرر ہوئے۔ وہاں بغرض حصول دنیا مختاری کا امتحان دیا۔ فیل ہو گئے۔ لیکن ابتداء سے وجاہت (حاصل کرنے) اور کسی نئے مذہب کے اختراع کرنے کا بہت خیال تھا۔

(کتاب البریہ ص ١٤٩، ١٥٠، خزائن ج ١٣ ص ١٨٠، ١٨١، سیرت المہدی حصہ اوّل ص ٣٤، ٣٥)

طبیعت میں جدت تھی، اسی واسطے ابتداء سے مختلف مذاہب کی کتابوں کا مطالعہ کیا کرتے تھے جیسا کہ ان کے اشعار سے جو اس بارے میں لکھے ہیں۔ ظاہر ہے۔ خوش قسمتی سے اس وقت ان کو نام آوری کا اچھا موقع مل گیا کہ آریوں اور عیسائیوں کا چرچہ تھا۔ مرزا قادیانی ان کے مقابل خم ٹھوک کر کھڑے ہو گئے اگرچہ کامیابی تو ان کے مقابل کبھی نصیب نہ ہوئی۔ کیونکہ جب وہ لوگ وید سے کوئی حوالہ طلب کرتے تو مرزا قادیانی بوجہ وید نہ جاننے کے بغلیں جھانکتے تھے۔ لیکن مسلمانوں نے جب دیکھا کہ ہماری طرف سے یہ جان توڑ کوشش کر رہے ہیں تو ان کے قلوب مرزا قادیانی کی طرف راغب ہو گئے۔

انہوں نے مسلمانوں کا میلان اپنی طرف دیکھ کر ایک کتاب (براہین احمدیہ علیٰ حقیقت کتاب اللہ والنبوۃ محمدیہ) کا اشتہار دے دیا اور مسلمانوں کو اس کی طرف مائل کر کے پیشگی قیمت ایک ایک نسخہ کی پچیس پچیس روپے تک وصول کر کے ایک خاصی رقم جمع کر لی اور جب کتاب طبع ہو کر نکلی تو بڑا حصہ اس میں الہامات اختراعیہ کا تھا۔ عام طبقے پر اس کا اثر جو کچھ پڑا وہ پڑا لیکن علماء اس کو دیکھ کر گھبرائے۔ حتیٰ کہ بعض نے تو کمال فراست کی وجہ سے کہہ دیا کہ یہ نبوت کا دعویٰ کرے گا۔ کتاب اسی کا پیش خیمہ ہے۔ مگر چونکہ مرزا قادیانی آریوں سے اس وقت برسرِ

٩

صفحہ ٩٢

مقابلہ تھے اور اس کتاب میں کوئی صریح دعویٰ بھی کسی صریح نص کے خلاف نہیں کیا تھا۔ اسی وجہ سے علماء نے یہ خیال کیا کہ دشمن کو مرعوب کرنے کی غرض سے انہوں نے الحرب خدعۃ کا لحاظ کر کے اس قسم کے کلمات بولے ہیں اور بہت سے اقوال میں تاویل کر دی کہ یہ مثیل انبیاء کا اپنے کو اس وجہ سے کہتے ہیں کہ نبی علیہ السلام نے اس وجہ سے فرمایا کہ میری امت کے علماء مثل انبیائے بنی اسرائیل کے ہوں گے۔

دعویٰ مسیحیت

غرض اکثر علماء یہاں تک تو مرزا قادیانی سے محبت رکھتے رہے لیکن ١٣٠٨ھ (١٨٩٠ء) میں فتح اسلام، توضیح مرام، ازالۃ اوہام شائع کئے تو ان میں صاف کہہ دیا کہ اس سے پیشتر جو میں نے براہین میں عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کا اقرار کیا ہے۔ وہ عوام کے اعتقاد کے مطابق کہہ دیا ہے اور اب مجھ پر میرے اللہ نے اس قدر وحی کی ہے کہ میں یہ کہنے پر مجبور ہو گیا کہ عیسیٰ علیہ السلام فوت ہو گئے اور احادیث میں جو عیسیٰ علیہ السلام کی خبر دی گئی ہے وہ میں ہوں۔

(ازالۃ اوہام ص ٣٩، خزائن ج ٣ ص ١٢٢)

فرماتے ہیں:

اينك منم كه حسب بشارات آمدم
عيسىٰ کجاست تا بنهد پا بمنبرم

(ازالۃ اوہام ص ١٥٨، خزائن ج ٣ ص ١٨٠)

مرزا قادیانی نے اپنے کلاموں سے تعارض دفع کیا ہے اور اس کو ان کے چیلے چانٹے آمنا وصدقنا کہتے ہیں۔ لیکن اہل بصیرت پر مخفی نہیں کہ مرزا قادیانی نے براہین میں یہ نہیں کہا ہے کہ میں اپنی طرف سے کہتا ہوں کہ بلکہ براہین میں جو کہا ہے کہ ”حضرت مسیح علیہ السلام تشریف لائیں گے تو ان کے ہاتھ سے دین اسلام جمیع آفاق واقطار میں پھیلے گا“ (براہین احمدیہ ص ٤٩٩، خزائن ج ١ ص ٥٩٣) ”اس مقولہ کو بھی دوسرے الہاموں کے ضمن میں ذکر کیا ہے۔

پس جب یہ دونوں الہام ہیں تو ان دونوں میں سے اہل عقل کے نزدیک ایک ضرور جھوٹا ہے اور اگر دونوں مرزا قادیانی نے بنائے ہیں تو مرزا قادیانی خود جھوٹے ہیں اور جھوٹوں پر انہوں نے آپ لعنت کی ہے۔ فحسب۔

١٠

مرزا قادیانی کا دعویٰ نبوت

جب مرزا قادیانی نے عیسیٰ علیہ ال ہونے کا اعلان کیا تو اسی وقت علماء کرام نے با الہامات وتجدیدی پیشین گوئیوں کا سلسلہ شرو کہ نبی بن بیٹھے۔ عربی اور اردو میں اس کے متعل عام نفع رسانی کی غرض سے مرزا قادیانی کے اش نومبر ١٩٠١ء کو شائع ہوا: ”ہماری جماعت میں س واقفیت رکھتے ہیں جن کو نہ بغور کتابیں دیکھنے کا ا کر اپنی معلومات کی تکمیل کر سکے وہ بعض حالا ہیں جو سراسر واقع کے خلاف ہوتا ہے اس لئے م ہے۔ چنانچہ چند روز ہوئے کہ ایک صاحب پرا سے تم نے بیعت کی ہے وہ نبی اور رسول ہو الفاظ میں دیا گیا۔ حالانکہ ایسا جواب صحیح نہیں ۔ نازل ہوتی ہے اس میں ایسے لفظ رسل اور مرسل کیوں کر جواب ہو سکتا ہے کہ ایسے الفاظ موجو تصریح اور توضیح سے یہ الفاظ موجود ہیں اور برا ہیں یہ الفاظ کچھ تھوڑے نہیں ہیں۔ چنانچہ وہ م میں سے ایک وحی اللہ ہے۔ ھوالذی ارس علی الدین کلہ ۔ (دیکھو ص ٤٩٨ براہین احم پکارا گیا ہے۔ پھر اس کے بعد اسی کتاب میں می الانبیاء۔ یعنی خدا کا رسول نبیوں کے حلوں میں پھر اسی کتاب میں اس مکالمہ کے ق والذين معه اشداء على الكفار رحماء رسول بھی۔“ انتها بقدر الضرورة

صفحہ ٩٣

مرزا قادیانی کا دعویٰ نبوت

جب مرزا قادیانی نے عیسیٰ علیہ السلام کی وفات اور اپنے مجدد اور مہدی مسیح موعود ہونے کا اعلان کیا اسی وقت علماء کرام نے بالکل مرزا قادیانی سے پہلو تہی کر لی اور گفتگو اور الہامات وتہدیدی پیشین گوئیوں کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ اس کے بعد مرزا قادیانی نے اور ترقی کی کہ نبی بن بیٹھے۔ عربی اور اردو میں اس کے متعلق بہت سے کلمات ہمارے پاس موجود ہیں مگر ہم عام نفع رسانی کی غرض سے مرزا قادیانی کے اشتہار کی عبارت بقدر ضرورت نقل کرتے ہیں جو ٥ نومبر ١٩٠١ء کو شائع ہوا: ”ہماری جماعت میں سے بعض صاحب جو ہمارے دعویٰ اور دلیل سے کم واقفیت رکھتے ہیں جن کو نہ بغور کتابیں دیکھنے کا اتفاق ہوا اور نہ ایک معقول مدت تک صحبت میں رہ کر اپنی معلومات کی تکمیل کر سکے وہ بعض حالات میں مخالفین کے کسی اعتراض پر ایسا جواب دیتے ہیں جو سراسر واقع کے خلاف ہوتا ہے اس لئے باوجود اہل حق ہونے کے ان کو ندامت اٹھانی پڑتی ہے۔ چنانچہ چند روز ہوئے کہ ایک صاحب پر ایک مخالف کی طرف سے اعتراض پیش ہوا کہ جس سے تم نے بیعت کی ہے وہ نبی اور رسول ہونے کا دعویٰ کرتا ہے اور اس کا جواب محض انکار کے الفاظ میں دیا گیا۔ حالانکہ ایسا جواب صحیح نہیں ہے۔ حق یہ ہے کہ خدا تعالیٰ کی پاک وحی جو میرے پر نازل ہوتی ہے اس میں ایسے لفظ رسل اور مرسل اور نبی کے موجود ہیں نہ ایک دفعہ بلکہ صد ہا دفعہ پھر کیوں کر جواب ہو سکتا ہے کہ ایسے الفاظ موجود نہیں بلکہ اس وقت تو پہلے زمانہ کی بنسبت بھی بہت تصریح اور توضیح سے یہ الفاظ موجود ہیں اور براہین احمدیہ بھی جس کو طبع ہوئے بائیس برس ہوئے ہیں یہ الفاظ کچھ تھوڑے نہیں ہیں۔ چنانچہ وہ مکالمات جو براہین احمدیہ میں شائع ہو چکے ہیں ان میں سے ایک وحی اللہ ہے۔ ھو الذی ارسل رسولہ بالھدیٰ ودین الحق لیظہرہ علی الدین کلّہ ۔ (دیکھو ص ٤٩٨ براہین احمدیہ ) اس میں صاف طور سے اس عاجز کو رسول کہہ کر پکارا گیا ہے۔ پھر اس کے بعد اسی کتاب میں میری نسبت یہ وحی اللہ ہے۔ جری اللّٰہ فی حلل الانبیاء۔ یعنی خدا کا رسول نبیوں کے حلوں میں۔

(دیکھو براہین احمدیہ ص ٥٠٤)

پھر اسی کتاب میں اس مکالمہ کے قریب ہی یہ وحی اللہ ہے۔ محمد رسول اللّٰہ والذین معہ اشداء علی الکفار رحماء بینھم۔ اس وحی الہٰی میں میرا نام محمد رکھا گیا ہے اور رسول بھی۔“ انتھا بقدر الضرورة

(ایک غلطی کا ازالہ ص ٢،٤، خزائن ج ١٨ ص ٢٠٧، ٢٠٦)

١١

صفحہ ٩٥

اس عبارت کا مطلب صاف ہے کہ میری نبوت کا انکار نہ کرو کیونکہ میں واقع میں نبی ہوں۔ ناظرین چونکہ اللہ تعالیٰ کو پہلے سے معلوم تھا کہ نبی علیہ الصلوٰۃ والسلام کے بعد بہت سے مدعی نبوت ہوں گے۔ چنانچہ نبی علیہ الصلوٰۃ والسلام نے ارشاد فرمایا کہ میرے بعد قریب تیس کے دجال کذاب آئیں گے اور ہر ایک مدعی نبوت ہوگا۔ لہٰذا اس نے پیشتر ہی سے نبوت پر مہر لگا دی تھی۔ اور نبی علیہ الصلوٰۃ والسلام کو خاتم النبیین کے خلعت سے سرفراز فرمایا تھا اور حضرت اقدس (روحی فداہ) نے بھی ہر قسم کی نبوت کی نفی کر دی تھی کہ لا نبوۃ بعدی یعنی میرے بعد کسی قسم کی نبوت نہیں ہو سکتی۔

پس بعض دجالوں نے معنی تغیر کیا اور بعض نے لا نبی بعدی کے بعد الا ان یشاء اللہ بڑھا دیا۔ گو بعض بے دینوں نے تو اس کو بھی مان لیا مگر اکثر نفی کرتے رہے مرزا قادیانی نے روایت کی بھی ضرورت نہ سمجھی بلکہ اپنی طرف سے الا بروزی وظلی بڑھا دیا خوش اعتقادوں نے اسے بھی مان لیا۔ در حقیقت تو مرزا قادیانی نبوت مستقلہ کے مدعی ہیں جیسا کہ عبارت مندرجہ بالا و دیگر قرائن سے معلوم ہوتا ہے مگر بچاؤ کے لئے ہے۔ تاکہ پکڑ لینے کی ضرورت کے وقت جان چھڑا لینے کا موقع مل جائے۔ اس لئے اشتہار کے بعد کی عبارت میں ظلی اور بروزی کا بھی ذکر کر دیا ہے۔ جس کو بوجہ طوالت ہم نے چھوڑ دیا۔ ملاحظہ ہو افادۃ الافہام ۔ تاریخ مرزا۔

انبیاء علیہم السلام پر فضیلت

مرزا قادیانی کے مزاج میں تعلیٰ تو ابتداء سے تھی۔ نبی بننے کے بعد انہوں نے یہ گوارا نہیں کیا کہ میں نبوت میں بھی کسی سے کم درجہ پر رہوں سو انہوں نے کہہ دیا کہ: ”میں بعض نبیوں سے افضل ہوں ۔“ (مجموعہ اشتہارات ص ٢٧٨ ج ٣) بعض کا لفظ بھی نا معلوم کن مصلحتوں سے کہہ دیا ورنہ ان کے خیالات کو تو اہل بصیرت خوب جانتے ہیں۔

معجزات سے انکار

اور چونکہ (مرزا قادیانی) مسیح موعود تو اپنے آپ کو ظاہر کر چکے تھے تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام علی نبینا وعلیہ السلام پر اپنی فضیلت ظاہر کرنے میں بڑھ کر حصہ لیا اس میں ایک دقت سب سے بڑی یہ تھی کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے معجزات قرآن وحدیث سے روز روشن کی طرح ظاہر و باہر تھے اور مرزا قادیانی (سوائے الہام گھڑ لینے کے ۔ کیونکہ احمق سے احمق بھی ایک دن میں ہزاروں کو گھڑ

١٢

سکتا ہے۔ کیونکہ اس کا وقوع تو ضروری نہ تھا) ایک معج کی کیا صورت تھی؟ مگر یہ دقت تو اہل دیانت کے نز بڑے مرحلے ایک دم میں طے کر دیئے ہیں یہ تو ان صاف کہہ دیا تھا کہ یسوع مسیح کے معجزات مسمریزم حضرت مسیح علیہ السلام کے معجزات کا ہرگز انکار نہیں کیا ضروری اور لا بدی تھا۔ ورنہ مرزا قادیانی کا مرتبہ بوجہ مع مزید اطمینان کے واسطے ہم آپ کے نبی کی اصلی عبار اعتقاد بالکل غلط اور فاسد اور مشرکانہ خیال ہے کہ مسیح م کر انہیں سچ مچ کے جانور بنا دیتا تھا نہیں بلکہ عمل الترب ترقی پذیر ہو گیا تھا۔ یہ بھی ممکن ہے کہ مسیح ایسے کام کے القدس کی تاثیر رکھی گئی تھی۔ بہر حال یہ معجزہ صرف ایک ایک مٹی ہی تھی جیسے سامری کا گوسالہ۔ فتدبر انہ عظیم۔“

یہ عبارت کسی زیادہ وضاحت کی محتاج نہیں اب اس کے مقابل ہم دو آیتیں پیش کرتے ہیں کہ جو شہادت ہے۔

اول:” وآتینا عیسیٰ بن مریم الب عیسیٰ ابن مریم کو کھلے ہوئے معجزے دیئے۔ دوسری ہے جس کو مرزا قادیانی مسمریزم اور کھیل کی قسم کہتے ہیں الطیر باذنی فتنفخ فیہا فتکون طیراً باذنی مٹی سے جانور میرے حکم سے۔﴾

مرزائیو! کیا اس سے بھی زائد وضاحت ہو گ صورت نکلے گی۔ کیا اس کے بعد بھی تمہیں کہنے کا حق ہ کے مخالف نہیں۔ برادران! ذرا غور کرو نہیں بلکہ ہٹ احادیث صحیحہ کے مخالف اجماع مسلمین کے مخالف خود اپ

١٣

صفحہ ٩٥

سکتا ہے۔ کیونکہ اس کا وقوع تو ضروری نہ تھا) ایک چیونٹی کو بھی زندہ نہ کر سکتے تھے۔ تو اب فضیلت کی کیا صورت تھی؟ مگر یہ دقت تو اہل دیانت کے نزدیک ہو مرزا قادیانی نے تو اس سے بڑے بڑے مرحلے ایک دم میں طے کر دیئے ہیں یہ تو ان کے بائیں ہاتھ کا کام تھا۔ بکمال استقلال صاف کہہ دیا تھا کہ یسوع مسیح کے معجزات مسمریزم تھے۔ مرزائی حضرات کہتے ہیں کہ انہوں نے حضرت مسیح علیہ السلام کے معجزات کا ہرگز انکار نہیں کیا۔ میری گزارش ہے کہ معجزات کا انکار تو ان پر ضروری اور لابدی تھا۔ ورنہ مرزا قادیانی کا مرتبہ بوجہ معجزہ نہ دکھانے کے کم ہونا لازم تھا۔ آپ کے مزید اطمینان کے واسطے ہم آپ کے نبی کی اصلی عبارت ازالہ اوہام سے پیش کئے دیتے ہیں: ”یہ اعتقاد بالکل غلط اور فاسد اور مشرکانہ خیال ہے کہ مسیح مٹی کے پرندے بنا کر اور ان میں پھونک مار کر انہیں سچ مچ کے جانور بنا دیتا تھا نہیں بلکہ عمل الترب (یعنی مسمریزم) تھا جو روح کی قوت سے ترقی پذیر ہو گیا تھا۔ یہ بھی ممکن ہے کہ مسیح ایسے کام کے لئے اس تالاب کی مٹی لاتا تھا جس میں روح القدس کی تاثیر رکھی گئی تھی۔ بہر حال یہ معجزہ صرف ایک کھیل کی قسم میں سے تھا اور وہ مٹی درحقیقت ایک مٹی ہی تھی جیسے سامری کا گوسالہ۔ فتدبر انہ نکتہ جلیلہ ما یلقاھا الا ذو حظ عظیم۔“

(ازالہ اوہام ص ٣٢٢، خزائن ج ٣ ص ٢٦٣)

یہ عبارت کسی زیادہ وضاحت کی محتاج نہیں اس میں صاف طور پر معجزہ کا انکار ہے۔ اب اس کے مقابل ہم دو آیتیں پیش کرتے ہیں کہ جن میں حضرت مسیح علیہ السلام کی کھلی ہوئی شہادت ہے۔

اول: ”وآتينا عيسى بن مريم البينات“ (پ ٣ سورة بقرة) ﴿اور ہم نے عیسیٰ ابن مریم کو کھلے ہوئے معجزے دیئے۔﴾ دوسری آیت جو صاف طور پر اس معجزے کو بتاتی ہے جس کو مرزا قادیانی مسمریزم اور کھیل کی قسم کہتے ہیں: ”واذ تخلق من الطين كهيئة الطير باذنى فتنفخ فيها فتكون طيرا باذنى (پ ٧ سورہ مائدہ) ” ﴿اور جب تو بناتا تھا مٹی سے جانور میرے حکم سے۔﴾

مرزائیو! کیا اس سے بھی زائد وضاحت ہو گی کیا اس سے زیادہ بھی انکار معجزات کی کوئی صورت نکلے گی۔ کیا اس کے بعد بھی تمہیں کہنے کا حق ہوگا کہ مرزا قادیانی کا کوئی بھی کلام قرآن کے مخالف نہیں۔ برادران! ذرا غور کرو نہیں بلکہ ہٹ سے باز آؤ تو ان کا کلام قرآن کے مخالف احادیث صحیحہ کے مخالف اجماع مسلمین کے مخالف خود اپنے کلام کے مخالف۔

١٣

صفحہ ٩٧

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی توہین

افسوس یہ ہے کہ صرف معجزات کا ہی انکار نہیں کیا بلکہ اس نبی معصوم کی یہاں تک توہین کی کہ: ”یسوع مسیح کو جھوٹ بولنے کی عادت تھی۔“ (ازالہ اوہام ص١٠ حاشیہ، خزائن ج٣ ص١٠، انجام آتھم ص٢٨٩ج١١) ”اس کی تین دادیاں تین نانیاں زنا کار تھیں۔“ (ضمیمہ انجام آتھم ، خزائن ج١١ ص٢٩١) ناظرین ان کفریات کو تو لکھتے ہوئے بھی قلم رک جاتا ہے اگر شرعی ضرورت داعی نہ ہوتی تو ان شرمناک واقعات کی طرف توجہ بھی نہ کی جاتی۔ ہم نے مرزا قادیانی کی بابت جو جرح کی ہے اور آئندہ بشرط ضرورت کریں گے وہ محض الحب فی اللہ والبغض فی اللہ کی وجہ سے ہے تاکہ ہمارے برادران ان کے احوال واقوال دیکھ کر عبرت پکڑیں اور قعر ضلالت میں نہ پڑیں۔ باقی ہدایت اور ضلالت تو خدا کے ہاتھ میں ہے ہمارا کام محض بتانا ہے۔

اگر بینم کہ نابینا و چاہ است
اگر خاموش بنشینم گناہ است

اس پر بھی تہذیب میں نہایت حزم واحتیاط سے کام لیا ہے۔ بخلاف مرزا قادیانی کے ایک وہ مشائخ اور علماء کی شان میں یہ الفاظ تحریر فرماتے ہیں جو کہ ان کی مختلف تحریروں میں موجود ہے اور کسی صاحب نے وہ جمع کئے ہیں۔ پلید، دجال، خفاش، لومڑی، کتے، گدھے، خنزیر سے زیادہ پلید، چوہڑے، چمار، غول الاغویٰ، روسیاہ، دشمن قرآن، منافق، نمک حرام، بدذات، بے ایمان، نیم عیسائی، دجال کے ہمراہی، دشمن اسلام۔

مجھ میں ایک عیب بڑا ہے کہ وفا دار ہوں میں
ان میں دو وصف ہیں بدخو بھی ہیں خود کام بھی ہیں

دعویٰ الوہیت

بت کریں آرزو خدائی کی
شان ہے تیری کبریائی کی

یہ تو ہم نے پہلے ذکر کر دیا ہے کہ مرزا قادیانی میں تعلی وجاہ پسندی حد درجہ کی تھی۔ چنانچہ بشر ہونے کی حالت میں جو سب سے بڑا مرتبہ ہے وہ نبوت ورسالت ہے جب مرزا قادیانی یہ حاصل کر چکے اور خوش اعتقاد ٹھنڈے دل سے انہیں مان چکے تو ان کو اس پر بھی صبر نہ آیا

١٤

اور غالباً یہ سوچا ہو کہ مجددیت، مہدویت، مسیحیت، نبوت سے کم ہیں۔ ان مراتب میں تو محکوم ہی ہونا پڑے گا جو م اہانت ہیں۔ آخر اس درجے کو کیوں نہ اختیار کیا جائے۔ اور اس میں انہیں خوف بھی کیا تھا۔ لحاظ اور خوف دو چیز کا۔ آخرت میں خدا کا۔

اوّل الذکر میں تو حکومت کا تو اس سے تعلق نہیں ان میں مرزا قادیانی خود بھی جانتے ہیں کہ جیسا ان کا مر گروہ شاذہ تو ان کے سامنے نعوذ باللہ الوہیت سے کوئی م کے نعرے بلند کر دیں گے۔ رہا خدا کا خوف اس کی بابت م شئتم فقد غفرت لكم ما تقدم من ذنبك وما تا پچھلے گناہ معاف کر دیئے۔ (الب

بس اب مرزا قادیانی کی کون سی بات مانع رہ یقین کر لیا کہ میں اللہ ہوں:

سال اول شیخ بودم سال د
غلہ چوں ارزاں شود امسا

ہم اس کی بابت ان کی اصل عبارت نقل کر دے طول کے ساتھ نقل کی گئی ہے۔ مولانا ثناء اللہ صاحب فات اسلام سے نقل کی ہے وہ مختصر ہے۔ لہٰذا اس کو ناظرین کے س

المنام عين الله وتيقنت اننى هو...... ثم خلق انا زينا السماء الدنيا بمصابيح)

(میں نے نیند میں اپنے آپ کو ہو بہو اللہ دیکھ ہوں پھر میں نے آسمان وزمین بنائے اور میں نے کہا کہ (ہم بھی مرزا قادیانی کا بنایا ہوا آسمان وزمین دیکھتے تو خو والہام جھوٹے ہیں) (آئینہ

١٥

صفحہ ٩٧

اور غالباً یہ سوچا ہو کہ مجددیت، مہدویت، مسیحیت، نبوت ورسالت یہ تمام مراتب خدائی مرتبہ سے کم ہیں۔ ان مراتب میں تو محکوم ہی ہونا پڑے گا جو مرزا قادیانی جیسے شخص کے واسطے باعث اہانت ہیں۔ آخر اس مرتبے کو کیوں نہ اختیار کیا جائے۔ جو سب سے برتر واعلیٰ ہے یعنی الوہیت اور اس میں انہیں خوف بھی کیا تھا۔ لحاظ اور خوف دو چیزوں کا ہوتا ہے۔ دنیا میں قوم اور حکومت کا۔ آخرت میں خدا کا۔

اول الذکر میں تو حکومت کا تو اس سے تعلق نہیں۔ قوم میں ایک تو بڑی جماعت ہے سو ان میں مرزا قادیانی خود بھی جانتے ہیں کہ جیسا ان کا مرزا قادیانی کی طرف خیال تھا۔ رہا چھوٹا گروہ شاذہ تو ان کے سامنے نعوذ باللہ الوہیت سے کوئی مرتبہ اوپر مانا جائے تو وہ لوگ آمنا وصدقنا کے نعرے بلند کر دیں گے۔ رہا خدا کا خوف اس کی بابت مرزا قادیانی کا الہام کہ: اعملوا ما شئتم فقد غفرت لكم ما تقدم من ذنبك وما تاخر ۔ تو جو چاہے کر ہم نے تیرے اگلے پچھلے گناہ معاف کر دیئے۔

(البشریٰ ص ٩١، تذکرہ ص ٥١١، ص ١٠٧، طبع سوئم)

بس اب مرزا قادیانی کی کون سی بات مانع رہی بے دھڑک دعویٰ کر بیٹھے کہ میں نے یقین کر لیا کہ میں اللہ ہوں:

سال اول شیخ بودم سال دویم خان شدم
غلہ چوں ارزاں شود امسال سید میشوم

ہم اس کی بابت ان کی اصل عبارت نقل کر دیتے ہیں۔ البشریٰ میں اردو عبارت بہت طول کے ساتھ نقل کی گئی ہے۔ مولانا ثناء اللہ صاحب فاتح قادیان نے جو عبارت آئینہ کمالات اسلام سے نقل کی ہے وہ مختصر ہے۔ لہٰذا اس کو ناظرین کے سامنے پیش کیا جاتا ہے۔ (رایتنی فی المنام عين الله وتيقنت اننی هو..... ثم خلقت السماء الدنيا والارض وقلت انا زينا السماء الدنيا بمصابيح)

(میں نے نیند میں اپنے آپ کو ہو بہو اللہ دیکھا اور میں نے یقین کر لیا کہ میں وہی اللہ ہوں پھر میں نے آسمان وزمین بنائے اور میں نے کہا کہ ہم نے آسمان کو ستاروں کے ساتھ سجایا۔ (ہم بھی مرزا قادیانی کا بنایا ہوا آسمان وزمین دیکھتے تو خواب والہام کی تصدیق ہوتی ورنہ خواب والہام جھوٹے ہیں)

(آئینہ کمالات اسلام ص ٥٦٤، خزائن ج ٥ ص ٥٦٤)

١٥

صفحہ ٩٩

مزید وضاحت کے لئے کچھ عبارت البشریٰ سے نقل کئے دیتے ہیں۔ جو عبارت مذکور سے پہلے ہے: ”ہم ایک نیا نظام اور نیا آسمان اور نئی زمین چاہتے ہیں تو میں نے پہلے تو آسمان اور زمین کو اجمالی صورت میں پیدا کیا جس میں کوئی ترتیب اور تفریق نہ تھی پھر میں نے منشاء حق کے موافق اس کی ترتیب وتفریق کی اور دیکھتا تھا کہ میں اس کی خلق پر قادر ہوں پھر میں نے آسمان دنیا کو پیدا کیا اور کہا انا زينا السماء الدنيا بمصابيح ۔ پھر میں نے کہا ہم انسان کو مٹی کے خلاصہ سے پیدا کریں گے پھر میری حالت کشف سے الہام کی طرف منتقل ہو گئی اور میری زبان پر جاری ہوا: اردت ان استخلف خلقت آدم انا خلقنا الانسان فی احسن تقویم۔

(آئینہ کمالات اسلام ص ٥٦٥، خزائن ج ٥ ص ٥٦٥)

بوجہ خوف طوالت اسی قدر حالات پر اکتفا کر کے چند الہامات بطور مشتے نمونہ از خروار پیش خدمت کئے جاتے ہیں۔

مرزا قادیانی کے الہامات

یوں تو مرزا قادیانی کو نہ معلوم کس تعداد پر الہام ہوا کرتے تھے جن سے ان کی کتابیں بھری ہیں ہم یہاں ان الہامات کو جو انہوں نے دوسروں کے مقابل اپنی نبوت کے ثبوت میں پیش کئے ہیں بیان کرتے ہیں۔

حضرات! ہمارا دعویٰ ہے اور دلائل نقلی اور عقلی اس پر شاہد عدل ہیں کہ نبی کی عموماً تمام پیشین گوئیاں خصوصاً وہ پیش گوئی جو مقابلانہ اپنی نبوت کے ثبوت میں پیش کرے ان کا بے کم وکاست وقوع ضروری ولابدی ہے۔ اگر وہ پیش گوئی بعینہ واقع نہ ہو تو اس کا مدعی جھوٹا اور اس کے تمام دعوے غلط۔ ہمارے اس دعوٰی پر انبیاء علیہم السلام کے واقعات اور متحدیانہ دعوے کامل روشنی ڈالتے ہیں مگر چونکہ تمام اہل اسلام کے نزدیک یہ اصول مسلم ہے۔ لہٰذا اس کی زیادہ توضیح اور اثبات کی ضرورت نہیں۔ ہاں سرگرم مدعیان اسلام کو اگر کوئی شبہ ہو تو ان کے اطمینان کے واسطے ان کے مسیح موعود (توضیح المرام ص ١، خزائن ج ٣ ص ٥١) یا یوں کہا جائے کہ ان کے نبی (حقیقت الوحی ص ٣٩١، خزائن ج ٢٢ ص ٤٠٦) کی عبارت نقل کئے دیتے ہیں۔ ”ہمارا صدق یا کذب جانچنے کے لئے ہماری پیشین گوئی سے بڑھ کر کوئی محک امتحان نہیں ہو سکتا۔“

(آئینہ کمالات ص ٢٨٨، خزائن ج ٥ ص ایضاً)

بس جب انہیں بھی یہ مسلم ہے تو پیشین گوئیوں کے الفاظ اور دعوے اور ان کا وقوع دیکھ لینا چاہئے۔ یہی ہمارا اور مرزائی صاحبان کا فیصلہ ہے۔

١٦

پیش گوئی متعلقہ ڈپٹی عبداللہ آتھم

الہام مندرجہ عنوان کا شان نزول بھی البشریٰ ہیں تاکہ مرزائیوں کو چوں و چرا کا موقع نہ ملے۔

”اس الہام کی مفصل تشریح حضرت مسیح آتھم انوار اسلام سے مل سکتی ہے۔ مختصر یہ کہ اہل اسلا امرتسر میں ایک مباحثہ قرار پایا۔ ٢٢؍مئی ١٨٩٣ء سے کی طرف سے حضرت مسیح موعود اور نصارٰی کی طرف تھے۔ آخیر دن حضرت مسیح موعود نے تقریباً سو آدمیوں کے اور فرمایا کہ آج رات جو مجھ پر کھلا وہ یہ ہے کہ جب میں میں دعا کی کہ تو اس امر میں فیصلہ کر اور ہم عاجز بند نے یہ نشان بشارت کے طور پر دیا ہے۔“

الہام کی عبارت ملاحظہ ہو جو البشریٰ کے

”اس بحث میں دونوں فریقوں میں سے انہی دنوں مباحثے کے لحاظ سے یعنی فی دن ایک مہینہ اور اس کو سخت ذلت پہنچے گی۔ بشرطیکہ حق کی طرف رجو کو مانتا ہے اس کی اس سے عزت ظاہر ہوگی اور ا بعض اندھے سوجاکھے کئے جائیں گے اور بعض لنگڑ

پیش گوئی مذکورہ کی تشریح بھی مرزا قادیا بحث میں کیوں مجھے آنے کا اتفاق پڑا۔ معمولی بحثی کہ اس نشان کے لئے تھا میں اس وقت اقرار کرتا ہو خدائے تعالیٰ کے نزدیک جھوٹ پر ہے وہ پندرہ ماہ ہاویہ میں نہ پڑے تو میں ہر ایک سزا کے اٹھانے کے ل جائے میرے گلے میں رسہ ڈال دیا جائے۔ مجھ ک ہوں اور میں اللہ جل شانہ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ و جائیں پر اس کی باتیں نہ ٹلیں گی۔“

٧

صفحہ ٩٩

پیش گوئی متعلقہ ڈپٹی عبداللہ آتھم

الہام مندرجہ عنوان کا شان نزول بھی البشریٰ جلد دوم حصہ اول ص٤٣ سے نقل کرتے ہیں تاکہ مرزائیوں کو چوں و چرا کا موقع نہ ملے۔

”اس الہام کی مفصل تشریح حضرت مسیح موعود کی مختلف کتب مثلاً جنگ مقدس انجام آتھم انوار اسلام سے مل سکتی ہے۔ مختصر یہ کہ اہل اسلام اور نصاریٰ کے درمیان تحقیق حق کے لئے امرتسر میں ایک مباحثہ قرار پایا۔ ٢٢ مئی ١٨٩٣ء سے ٥ جون ١٨٩٣ء تک رہا جس میں اہل اسلام کی طرف سے حضرت مسیح موعود اور نصاریٰ کی طرف سے ڈپٹی عبداللہ آتھم پینشنر مباحث قرار پائے تھے۔ اخیر دن حضرت مسیح موعود نے تقریباً پونے دس بجے کے عین مباحثے میں یہ کلام خدا کا سنایا اور فرمایا کہ آج رات جو مجھ پر کھلا وہ یہ ہے کہ جب میں نے بہت تضرع اور ابتہال سے جناب الٰہی میں دعا کی کہ تو اس امر میں فیصلہ کر اور ہم عاجز بندے تیرے فیصلے کے سوا کچھ نہیں کر سکتے تو اس نے یہ نشان بشارت کے طور پر دیا ہے۔“

(البشریٰ ص ٤٣)

الہام کی عبارت ملاحظہ ہو جو البشریٰ کے اسی صفحہ پر شان نزول سے پہلے مرقوم ہے۔

”اس بحث میں دونوں فریقوں میں سے جو فریق عمداً جھوٹ کو اختیار کر رہا ہے۔ وہ انہی دنوں مباحثے کے لحاظ سے یعنی فی دن ایک مہینہ لے کر پندرہ ماہ تک ہاویہ میں گرایا جاوے گا اور اس کو سخت ذلت پہنچے گی۔ بشرطیکہ حق کی طرف رجوع نہ کرے اور جو شخص سچ پر ہے اور سچے خدا کو مانتا ہے اس کی اس سے عزت ظاہر ہوگی اور اس وقت جب یہ پیشین گوئی ظہور میں آئے گی بعض اندھے سوجاکھے کئے جائیں گے اور بعض لنگڑے چلنے لگیں گے۔

(البشریٰ ص ٤٣)

پیش گوئی مذکورہ کی تشریح بھی مرزا قادیانی کے الفاظ میں سنئے : ”میں حیران تھا کہ اس بحث میں کیوں مجھے آنے کا اتفاق پڑا۔ معمولی بحثیں تو اور لوگ بھی کرتے ہیں اب یہ حقیقت کھلی کہ اس نشان کے لئے تھا میں اس وقت اقرار کرتا ہوں کہ اگر یہ پیش گوئی جھوٹی نکلی یعنی وہ فریق جو خدائے تعالیٰ کے نزدیک جھوٹ پر ہے وہ پندرہ ماہ کے عرصہ میں آج کی تاریخ سے بسزائے موت ہاویہ میں نہ پڑے تو میں ہر ایک سزا کے اٹھانے کے لئے تیار ہوں مجھ کو ذلیل کیا جائے۔ روسیاہ کیا جائے میرے گلے میں رسہ ڈال دیا جائے۔ مجھ کو پھانسی دی جائے۔ ہر ایک بات کے لئے تیار ہوں اور میں اللہ جل شانہ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ وہ ضرور ایسا ہی کرے گا ............ زمین و آسماں ٹل جائیں پر اس کی باتیں نہ ٹلیں گی۔“

(جنگ مقدس ص ٢١٠، خ ٢٩٢ ج ٦)

١٧

صفحہ ١٠١

یہ پیش گوئی محتاج بیان نہیں حق کی طرف رجوع کرنے کے معنی ایسے کھلے ہوئے ہیں کہ معمولی درجہ کا آدمی بھی عبارت مذکور کے الفاظ دیکھ کر سمجھ سکتا ہے کہ عبداللہ آتھم حضرت مسیح علیٰ نبینا علیہ السلام کو خدا مانے ہوئے تھا اور مرزا قادیانی مدعی توحید و اسلام تھے پس آتھم کے حق کے طرف رجوع کے معنی سوائے اس کے کہ وہ توحید کا قائل ہو کر اسلام میں داخل ہو اور کچھ نہیں ہو سکتے۔ پس پیش گوئی کا مطلب صاف ہے کہ عبداللہ آتھم اگر اسلام نہ لائے گا تو پندرہ ماہ کے اندر بسزا موت ھاویہ میں گرایا جائے گا۔

نتیجہ پیش گوئی کا کیا ہوا، وہی جو اس قسم کے مدعیوں کو ایسے دعوے کرنے کے بعد برآمد ہوتا ہے۔ یعنی عبداللہ آتھم اس میعاد مقرر کے بعد بھی اسی کفر پر قریباً دو سال تک زندہ رہا۔ افسوس کہ مرزا قادیانی نے خود کہا کہ: ”ہمارے صدق و کذب کی جانچ ہماری پیش گوئی ہے ۔“ مگر خوش اعتقاد لوگ ان کے کہنے پر بھی عمل نہیں کرتے۔

(آئینہ کمالات اسلام ص ٢٨٨، خزائن ج ٥ ص ٢٨٨)

جو تمہاری طرح تم سے کوئی جھوٹا وعدہ کرتا
تمہیں منصفی سے کہدو تمہیں اعتبار ہوتا

ناظرین کو خیال ہوگا کہ ایسی صریح پیش گوئی غلط ہونے سے مرزا قادیانی اور ان کے اتباع کو بڑی ندامت اور پشیمانی ہوگی جو کہ اس کا لازمی نتیجہ ہے۔ سو برادران! اگر یہ خیال ہوتا تو اس قسم کے دعوے کیوں ہوتے؟ جب اللہ سے ندامت نہ ہو جو تمام مکر و فریب سے بخوبی واقف ہے اور اس پر افتراء کرنے میں کوئی دقیقہ باقی نہ رہے تو مخلوق کی کیا پرواہ۔

خصوصاً جب اس مخلوق میں بعض ایسے بھی ہوں کہ جن کے سامنے دن کو رات کہا جائے تو وہ ماننے کو تیار ہیں۔ رہا جواب اور تاویل، سو ایسی تو کوئی بات ہی نہیں ہو سکتی جس کا جواب مرزا قادیانی کے پاس نہ ہو۔ ہاں غلط صحیح کی پرواہ نہیں۔ لیجئے مرزا قادیانی اور ان کی ذریت کا جواب سنئے کہ آتھم کے نہ مرنے کی وجہ یہ تھی کہ اس نے حق کی طرف رجوع کر لیا تھا۔ یعنی موت کے خوف سے شہر بشہر اور ہراساں مارا مارا پھرتا رہا اور ایک لفظ اس نے اسلام کے خلاف منہ سے نہیں نکالا۔ اس صحت اور عدم صحت کو خود ناظرین ملاحظہ فرما سکتے ہیں۔ ذرا تکلیف فرما کر پھر دوبارہ پیش گوئی کے الفاظ جانچ لیجئے۔ ہم تو کبھی مرزا قادیانی اور ان کے دعوے اور جواب کو دیکھتے ہیں اور کبھی ان کے مریدوں اور ان کے عقائد کو۔

افسوس کہ دروغ را حافظہ نہ باشد

١٨

مرزا قادیانی کی ایک اپنی تحریر میں اقرار ہ طرف رجوع نہ کرے تو اندرون میعاد فوت ہوگا۔ اب نہیں؟ بڑی دقت یہ ہے کہ آتھم کا عیسائیت پر فوت ہونا بعید نہ تھا کہ وہ یہ کہہ دیتے کہ آتھم مسلمان ہو گیا تھا۔ رہا نکالنا، اگر اسی کا نام رجوع الی الحق ہے۔ (البشریٰ ج گورداسپور میں یہ عہد کیا ہے کہ ”میں کسی کی موت اور کروں گا ۔“ تو کیا یہ اپنے ملہم ہونے سے رجوع ہے؟

دوسرا جواب کہ اسکا پریشان اور سرگرداں پھرنا موت کو اس کے ساتھ ملا کر جو کہ مرزا قادیانی کا الہام واسطے ملاحظہ ہو الہامات مرزا: (مصنفہ مولانا ثناء اللہ امرتسری

پیش گوئی بابت نکاح دختر احمد بیگ

”اس شخص (احمد بیگ) کی دختر کلاں کے دے کہ تمام سلوک اور مروت تم سے اسی شرط سے کیا جا برکت اور ایک رحمت کا نشان ہوگا اور ان تمام برکتو ٢٠؍ فروری ١٨٨٦ء میں درج ہیں۔ لیکن اگر نکاح سے ان ہوگا اور جس کسی دوسرے شخص سے بیاہی جائے گی وہ رو والد اس دختر کا تین سال تک فوت ہو جائے گا اور ان کے درمیانی زمانے میں بھی اس دختر کے لئے کئی کراہت اور غ

گزشتہ الہام کا فیصلہ تو مرزا قادیانی کی موجو منکروں کا ان کے سامنے فیصلہ ہو گیا اور بعض کی حسرت ر خوش اعتقادوں کے بزبان حال یہ کہہ گئے کہ میرا تو یہ حا پکڑو۔

من خطا کردم شما

١٩

صفحہ ١٠١

مرزا قادیانی کی ایک اپنی تحریر میں اقرار موجود ہے کہ اگر عیسائیت کو چھوڑ کر حق کی طرف رجوع نہ کرے تو اندرون میعاد فوت ہوگا۔ اب سوال یہ ہے کہ آتھم نے عیسائیت کو چھوڑا یا نہیں؟ بڑی دقت یہ ہے کہ آتھم کا عیسائیت پر فوت ہونا دنیا کو معلوم تھا ورنہ مرزا قادیانی سے یہ بھی بعید نہ تھا کہ وہ یہ کہہ دیتے کہ آتھم مسلمان ہو گیا تھا، رہا یہ کہ اسلام کے مقابل کوئی لفظ زبان سے نہ نکالنا، اگر اسی کا نام رجوع الی الحق ہے۔ (البشریٰ ج ٢ ص ٣٧) تو مرزا قادیانی نے جو عدالت گورداسپور میں یہ عہد کیا ہے کہ ”میں کسی کی موت اور ذلت کے بارے میں ہرگز الہام بیان نہ کروں گا۔“ تو کیا یہ اپنے ملہم ہونے سے رجوع ہے؟

دوسرا جواب کہ اسکا پریشان اور سرگرداں پھرنا یہی حاویہ میں گرنا ہے تو ناظرین سزائے موت کو اس کے ساتھ ملا کر جو کہ مرزا قادیانی کا الہام ہے خود ہی انصاف کرلیں۔ تفصیل کے واسطے ملاحظہ ہو الہامات مرزا (مصنفہ مولانا ثناء اللہ امرتسری)

پیش گوئی بابت نکاح دختر احمد بیگ

”اس شخص (احمد بیگ) کی دختر کلاں کے نکاح کے لئے سلسلہ جنبانی کر اور ان کو کہہ دے کہ تمام سلوک اور مروت تم سے اسی شرط سے کیا جائے گا اور یہ نکاح تمہارے لئے موجب برکت اور ایک رحمت کا نشان ہوگا اور ان تمام برکت اور رحمتوں سے حصہ پاؤ گے جو اشتہار ٢٠ فروری ١٨٨٩ء میں درج ہیں۔ لیکن اگر نکاح سے انحراف کیا تو اس لڑکی کا انجام نہایت ہی برا ہوگا اور جس کسی دوسرے شخص سے بیاہی جائے گی وہ روز نکاح سے اڑھائی سال تک اور ایسا ہی والد اس دختر کا تین سال تک فوت ہو جائے گا اور ان کے گھر تفرقہ اور تنگی اور مصیبت پڑے گی اور درمیانی زمانے میں بھی اس دختر کے لئے کئی کراہت اور غم کے امر پیش آئیں گے۔“

(مجموعہ اشتہارات ص ١٥٧، ١٥٨ ج ١)

گزشتہ الہام کا فیصلہ تو مرزا قادیانی کی موجودگی میں ہو چکا تھا اور اس الہام کے بعض نمبروں کا ان کے سامنے فیصلہ ہو گیا اور بعض کی حسرت لے کر مرزا قادیانی تشریف لے گئے۔ اور خوش اعتقادوں کے بزبان حال یہ کہہ گئے کہ میرا تو یہ حال ہوا تم بھی میرے حال زار سے عبرت پکڑو۔

من نہ کردم شما حذر بکنید

١٩

صفحہ ١٠٢

لیکن افسوس کہ انہوں نے کچھ عبرت حاصل نہیں کی۔ اس پیش گوئی کے بارے میں ان کے مرید کا نوٹ ملاحظہ ہو: ”٧ اپریل ١٨٩٢ء کو اس لڑکی کا دوسری جگہ نکاح ہو گیا۔“

(آئینہ کمالات اسلام ص ٢٨٠، خزائن ج ٥ ص ٢٨٠)

مرزا قادیانی پر جب اعتراضوں کی بوچھاڑ ہوئی تو انہوں نے اپنی جبلی عادت کے موافق فرما دیا کہ وحی الٰہی میں یہ نہ تھا کہ دوسری جگہ بیاہی نہ جائے گی بلکہ یہ تھا کہ ضرور ہے کہ اول دوسری جگہ بیاہی جائے اور وعدہ یہ ہے کہ پھر وہ نکاح کے تعلق سے واپس آئے گی۔ سو ایسا ہوگا۔ مرزا قادیانی کی اپنی کتاب کی عبارت (الہامات مرزا) میں مذکور ہے۔ ملاحظہ ہو۔ ”ان میں سے وہ پیش گوئی جو مسلمان قوم سے تعلق رکھتی ہے بہت ہی عظیم الشان ہے کیوں کہ اس کے اجزاء یہ ہیں۔ ١...... مرزا احمد بیگ ہوشیار پوری تین سال کے اندر فوت ہو۔ ٢...... اور پھر اس کا داماد اڑھائی سال کے اندر فوت ہو۔ ٣...... اور پھر یہ کہ مرزا احمد بیگ کی تاروز شادی دختر کلاں فوت نہ ہو۔ ٤...... اور پھر یہ کہ وہ دختر بھی تا نکاح اور تا ایام بیوہ ہونے اور نکاح ثانی فوت نہ ہو۔ ٥...... اور پھر یہ کہ عاجز بھی ان تمام واقعات کے پورے ہونے تک فوت نہ ہو۔ ٦...... اور پھر یہ کہ اس عاجز سے نکاح ہو جائے۔“

(شہادت القرآن ص ٨٠، خزائن ج ٦ ص ٣٧٦)

اس عبارت میں کسی وضاحت کی ضرورت نہیں داماد مرزا احمد بیگ تو غالباً اب ١٩٢١ء میں بھی موجود ہے۔ اور خدا کرے کہ اس کی عمر میں اور ترقی ہو تا کہ مرزائیوں کا اسے دیکھ کر دل ٹھنڈا ہوتا رہے اور مرزا قادیانی یہ کہتے ہوئے چلے گئے۔

جدا ہوں یار سے ہم اور نہ ہو رقیب جدا
ہے اپنا اپنا مقدر جدا نصیب جدا

اس پیش گوئی کے شکست ہونے سے مرزا قادیانی کے معتقدین نے مختلف پہلو اختیار کئے بعض تو بوجہ ولیمہ نکاح نہ کھانے کے غصے ہو گئے کہ مرزا قادیانی نے اس الہام میں غلطی کھائی۔ بعض نے کہا نکاح فسخ ہو گیا۔ حکیم نورالدین صاحب خلیفہ اول نے شیرینی نکاح کے ایصال ثواب کی مرزا قادیانی کی روح کو کوشش کی۔ ان کی توجیہ کا مطلب یہ معلوم ہوتا ہے کہ نہ فسخ ہوا نہ غلطی۔ بلکہ مرزا قادیانی کا اگر چہ نکاح نہ ہوا مگر ان کے لڑکے درلڑکے لڑکے درلڑکے منکوحہ کی جانب لڑکی درلڑکی درلڑکی تاقیامت ان میں کبھی نہ کبھی رشتہ ضرور ہو جائے گا۔

٢٠

صفحہ ١٠٣

ناظرین نے نمبر وار مرزا قادیانی کی عبارت ملاحظہ فرمائی۔ ”نمبر ٦ یہ کہ پھر اس عاجز سے نکاح ہو جائے۔“ سوال یہ ہے کہ عاجز سے مراد خود مرزا قادیانی ہیں یا لڑکا در لڑکا؟ دوسری جگہ فرماتے ہیں۔ ”یاد رکھو کہ اس پیش گوئی کی دوسری جز نکاح پوری نہ ہوئی تو میں ہر ایک بدتر ٹھہروں گا۔“ غرض کہ یہ مرزا قادیانی اپنے نکاح کی پیش گوئی کرتے ہیں اور اس کے پورا ہونے کا حتمی وعدہ کرتے ہیں اور نہ پورا ہونے پر بد سے بدتر ٹھہرنے کو تیار ہیں اور تشریف لے جاتے ہیں اور خلیفہ صاحب اولاد میں تعلق نکاح کو مرزا قادیانی کا نکاح ٹھہراتے ہیں۔ کیا کسی شخص کی اولاد کا نکاح ہونے سے یہ صحیح ہوتا ہے کہ اس کا نکاح ہو گیا؟

یہ تو مرزائیوں کے توجیہات تھے ہم اگر ایک توجیح مرزا قادیانی کے پرانے دوست مولوی ثناء اللہ صاحب کی جو بطور لطیفہ کے ”الہامات مرزا“ میں مذکور ہے ناظرین کی دلچسپی کے لئے ذکر کر دیں تو بے جا نہ ہوگا۔ در حقیقت یہ توجیہ ان تمام توجیہات سے جن سے مرزا قادیانی کی ہتک ہے بڑھ کر توجیح ہے۔ جس کا مرزائیوں کو بھی شکر گزار ہونا چاہئے۔ کہ مولانا نے مرزا قادیانی کے گرتے گرتے محل پر ٹیک لگا دی۔

لطیفہ

گو یہ پیش گوئی مرزا قادیانی کے الفاظ میں غلط ہوئی تاہم وہ ایک معنی سے سچے ہیں کون نہیں جانتا کہ عورت کو سوکن کے ساتھ جو رنج ہوتا ہے وہ طبعی ہے۔ یہاں تک کہ حضرات انبیاء علیہم السلام کی ازواج مطہرات بھی اس سے خالی نہیں اس لئے غالباً نہیں بلکہ یقیناً بات ہے کہ مرزا قادیانی کی حرم محترم اپنی سوکن کے نہ آنے کے لئے دست بدعا ہوں گی۔ خدا نے ان کی دعا قبول فرمائی اس لئے یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ ولایت گھر کی گھر میں ہی رہی۔ خاوند نہیں تو بیوی ہی ولی سہی۔ مرزا قادیانی کے دوستو! مرزا قادیانی کی الہامی شکست کے باعث زیادہ تر ان کی حرم محترم ہیں کوئی اور نہیں۔ کیا سچ ہے۔

نگاہ نکلی نہ دل کی چور لٹ عنبری نکلی
ادھر لا ہاتھ مٹھی کھول یہ چوری یہیں نکلی

ہمارا تو اس پر صاد ہے نہ معلوم مرزائی برادران بھی اس کی داد دے کر اپنے پرانے محسن کے شکر گزار ہوتے ہیں یا نہیں۔

٢١

صفحہ ١٠٥

پیش گوئی بابت مولوی محمد حسین بٹالوی وغیرہ

یہ پیش گوئی البشریٰ ج ٢ ص ٥٠ پر عربی عبارت میں مذکور ہے۔ ہم ناظرین کی دلچسپی کے لئے اشتہار ٢١ نومبر ١٨٩٨ء الہامات مرزا قادیانی سے بعینہ نقل کرتے ہیں۔ مرزا قادیانی لکھتے ہیں: ”میں نے خدائے تعالیٰ سے دعا کی کہ وہ مجھ میں اور محمد حسین میں آپ فیصلہ کرے اور وہ دعا جو میں نے کی ہے یہ ہے کہ اے پروردگار اگر میں تیری نظر میں ایسا ہی ذلیل اور جھوٹا اور مفتری ہوں جیسا کہ محمد حسین بٹالوی نے اپنے رسالہ اشاعۃ السنہ میں بار بار مجھ کو کذاب اور دجال اور مفتری کے لفظ سے یاد کیا ہے اور جیسا کہ اس نے اور محمد بخش جعفر زٹلی اور ابوالحسن تنی نے جو اس اشتہار میں جو ١٠ نومبر ١٨٩٨ء کو چھاپا ہے۔ میرے ذلیل کرنے میں کوئی دقیقہ اٹھا نہیں رکھا تو اے میرے مولا اگر میں تیری نظر میں ایسا ہی ذلیل ہوں تو مجھ پر تیرہ ماہ کے اندر پندرہ دسمبر ١٨٩٨ء سے پندرہ جنوری ١٩٠٠ء تک ذلت کی مار وارد کر اور ان لوگوں کی عزت اور وجاہت ظاہر کر اور اس روز کے جھگڑے کا فیصلہ فرما۔ لیکن میرے آقا میرے مولا میرے منعم میری نعمتوں کے دینے والے جو تو جانتا ہے اور میں جانتا ہوں تیری جناب میں میری کچھ عزت ہے تو میں عاجزی دعا کرتا ہوں کہ ان تیرہ مہینوں میں جو پندرہ دسمبر ١٨٩٨ء سے پندرہ جنوری ١٩٠٠ء تک شمار کئے جائیں گے شیخ محمد حسین اور جعفر زٹلی اور تنی مذکور جنہوں نے میرے ذلیل کرنے کے لئے یہ اشتہار لکھا ہے ذلت کی مار دے۔ دنیا میں رسوا کر، غرض یہ لوگ اگر تیری نظر میں سچے اور متقی اور پرہیزگار اور میں کذاب ومفتری ہوں تو مجھے ان تیرہ مہینوں میں ذلت کی مار سے تباہ کر اور اگر تیری جناب میں میری وجاہت اور عزت ہے تو میرے لئے یہ نشان ظاہر فرما کہ ان تینوں کو ذلیل اور رسوا اور ضربت علیہم الذلۃ کا مصداق کر آمین ثم آمین۔“

یہ دعا تھی جو میں نے کی اس کے جواب میں الہام ہوا کہ میں ظالم کو ذلیل اور رسوا کروں گا اور وہ اپنے ہاتھ کاٹے گا اور چند عربی الہامات ہوئے جو ذیل میں درج کئے جاتے ہیں۔

”ان الذین یصدون عن سبیل اللہ سینالہم غضب من ربہم ضرب اللہ اشد من ضرب الناس انما امرنا ای اردنا شیئاً ان نقول لہ کن فیکون اتعجب لامری انی مع العشاق انی انا الرحمٰن ذوا لمجد والعلاء یعض الظالم علی یدیہ ویطرح بین یدیہ جزاء سیئۃ بمثلها وترهقها ذلۃ مالهم من عاصم

٢٢

فاصبر حتٰی یاتی اللہ بامرہ ان اللہ مع الذین ا یہ خدا تعالیٰ کا فیصلہ ہے جس کا ماحصل یہ ہے کہ اشتہار میں ہے یہ خاکسار ایک طرف اور شیخ محمد حسین اور طرف خدا کے حکم کے نیچے ہیں۔ ان میں سے جو کاذب ہے ہے۔ اس لئے حق کے طالبوں کے لئے ایک کھلا کھلا نشان ب ہم ذیل میں شیخ محمد حسین کا وہ اشتہار لکھتے ہیں جو جعفر زٹلی او تاکہ خدائے تعالیٰ کے فیصلے کے وقت دونوں اشتہارات نصیحت پکڑ سکیں اور عربی الہامات کا خلاصہ مطلب یہ ہے کہ کر رہے ہیں اور منصوبے باندھ رہے ہیں۔ خدا ان کو ذلیل سے تیرہ مہینے جیسا کہ ذکر ہو چکا ہے اور چودہ دسمبر ١٨٩٨ء ت مہلت ہے۔“

(اشتہار ٢١ نومبر

اشتہار مندرجہ بالا کو دیکھ کر تو ناظرین بھی حیران مولوی محمد حسین صاحب اور ان کے رفیقوں پر کسی قسم کا سخت ان بے چاروں کی کیا حالت ہوئی ہوگی؟ لیکن مولوی محمد حسین گیارہ سال بعد انتقال ہوا اور ان کے دونوں رفیق غالباً اس میں اور ترقی کرے کہ مرزائی صاحبان انہیں دیکھ کر خوش بابت گزارش ہے کہ گھر کی ٹکسال ہے۔ فوراً ڈھال کر پیش کر

اسی طرح اور بھی لغویات ہیں ہم ان کا جواب چاہیے۔ تفصیلی جوابات الہامات مرزا قادیانی میں ملا تمہارے کرشن گوپال (مرزا قادیانی کا فرمان ہے میں ہندوؤں کے لئے کرشن گوپال۔ (لیکچر سیالکوٹ ص ٣٣، خزائن

٢٣

صفحہ ١٠٥

فاصبر حتي ياتي الله بامره ان الله مع الذين اتقوا والذين هم محسنون“ یہ خدا تعالیٰ کا فیصلہ ہے جس کا ماحصل یہ ہے کہ ان دونوں فریق میں جس کا ذکر اس اشتہار میں ہے یہ خاکسار ایک طرف اور شیخ محمد حسین اور جعفر زٹلی اور مولوی ابوالحسن تتھی دوسری طرف خدا کے حکم کے نیچے ہیں۔ ان میں سے جو کاذب ہے ذلیل ہوگا یہ فیصلہ چونکہ الہام کی بناء پر ہے۔ اس لئے حق کے طالبوں کے لئے ایک کھلا کھلا نشان ہو کر ہدایت کی راہ ان پر کھولے گا۔ اب ہم ذیل میں شیخ محمد حسین کا وہ اشتہار لکھتے ہیں جو جعفر زٹلی اور ابوالحسن تتھی کے نام پر شائع کیا گیا ہے تاکہ خدائے تعالیٰ کے فیصلے کے وقت دونوں اشتہارات کے پڑھنے سے طالب حق عبرت اور نصیحت پکڑ سکیں اور عربی الہامات کا خلاصہ مطلب یہ ہے کہ جو لوگ سچے کی ذلت کے لئے بدزبانی کر رہے ہیں اور منصوبے باندھ رہے ہیں۔ خدا ان کو ذلیل کرے گا اور میعاد پندرہ دسمبر ١٨٩٨ء سے تیرہ مہینے جیسا کہ ذکر ہو چکا ہے اور چودہ دسمبر ١٨٩٨ء تک جو دن ہیں وہ توبہ اور رجوع کے لئے مہلت ہے۔“

(اشتہار ٢١؍نومبر ١٨٩٨ء، مجموعہ اشتہارات ج٣ ص ٦٠ تا ٦٢)

اشتہار مندرجہ بالا کو دیکھ کر تو ناظرین بھی حیران ہوں گے کہ تیرہ ماہ کے اندر نامعلوم مولوی محمد حسین صاحب اور ان کے رفیقوں پر کسی قسم کا سخت ترین عذاب نازل ہوا ہوگا اور جانے ان بےچاروں کی کیا حالت ہوئی ہوگی؟ لیکن مولوی محمد حسین صاحب کا مرزا قادیانی سے ساڑھے گیارہ سال بعد انتقال ہوا اور ان کے دونوں رفیق غالباً ابھی حیات ہیں۔ (خدائے تعالیٰ ان کی عمر میں اور ترقی کرے کہ مرزائی صاحبان انہیں دیکھ کر خوش تو ہوں) مرزا قادیانی کے جوابات کی بابت گزارش ہے کہ گھر کی ٹکسال ہے۔ فوراً ڈھال کر پیش کر دیئے ملاحظہ ہوں:

اسی طرح اور بھی لغویات ہیں ہم ان کا جواب ذکر کرنے میں اپنا وقت ضائع نہیں کرنا چاہتے۔ تفصیلی جوابات الہامات مرزا قادیانی میں ملاحظہ ہو۔ لیکن اتنا ضرور کہیں گے کہ کیا تمہارے کرشن گوپال (مرزا قادیانی کا فرمان ہے میں مسلمانوں کے لئے مسیح موعود ہوں اور ہندوؤں کے لئے کرشن گوپال۔ (لیکچر سیالکوٹ ص٣٣، خزائن ج٢٠ ص٢٢٨)۔ تمہارے نبی کی ایسے

٢٣

صفحہ ١٠٦

عجز وانکساری کی دعا کا‘‘ جس کا خدا نے بھی جواب دیا تھا کہ: ”فاصبر حتی یاتی الله بامره (البشری ج ٢ ص ٥)‘‘ کا اثر مرتب ہوا؟ کہ مولوی صاحب ڈسچارج کا ترجمہ غلط سمجھے۔ کیا انبیاء علیہم السلام نے کسی قوم کے عذاب کی دعا کی ہے تو خدائے جبار رب قہار کا یہی عذاب نازل ہوا ہے کہ اس قوم نے کسی دوسری زبان کے الفاظ سمجھنے میں غلطی کی ہے۔

”آئی ایم کورلو“ کے معنی جو کشفی طور پر مرزا قادیانی نے دیکھا تھا اور معنی نہ سمجھے تھے تو عذاب الہی تھا؟ (دیکھو البشری ص ١٧ تذکرہ ص ٥٥) اور زمینداری تو واقعی سخت عذاب ہے اگر مرزا قادیانی حیات ہوتے تو ہم بھی اس پیش گوئی کی بابت درخواست کرتے۔ مرزا قادیانی نے اپنے حرم محترم کے نام جو پانچ ہزار روپے کی جائیداد غیر منقولہ رہن رکھی تھی تو کیا ان بے چاری کو خود ہی عذاب میں مبتلا کیا تھا؟ شاید انہیں اس پیشین گوئی کی خبر نہ ہوگی ورنہ تو بڑی دقت واقع ہوتی۔ آئے دن جھگڑتیں کہ تم نے مجھے عذاب میں مبتلا کیا۔

آخر میں مرزائیوں سے التماس ہے کہ مرزا قادیانی کے حالات والہامات اظہر من الشمس ہیں۔ ہم نے جس قدر ذکر کئے ہیں وہ انہی کی کتابوں سے مع حوالہ صفحہ منقول ہیں جس طرح تاریخ مرزا اور الہامات مرزا میں جن کی مرزا قادیانی اور ان کے حوارین نہ تردید کر سکے اور نہ کر سکتے ہیں۔ الہامات میں جس قدر توجیہات رکیکہ کی ہیں وہ مجملاً رسالہ ہذا میں ذکر کر دی ہیں۔

برادران! اگر مرزا قادیانی کی ذات میں بزرگی ہوتی اور ان کے اقوال کلام الہی و احادیث نبوی علی صاحبہا التحیۃ والتسلیم کے مخالف نہ ہوتے تو کسی مسلم کو ان کے ماننے میں کچھ عذر نہ ہوتا مگر جب ان کی ذات اس بارے میں کمزور نہیں بلکہ مفلوج ثابت ہوئی تو آپ لوگ اکیلے اور مل کر غور کریں۔ اور آیات بینات کے مقابل توجیہات رکیکہ اور روشنی کے سامنے اندھیرے سے کام نہ لیں اپنی ہٹ سے باز آئیں کہ یہ امور دین میں نہایت قبیح ہے۔ اور کجی کو چھوڑ کر راہ مستقیم، گروہ شاذہ کو چھوڑ کر بڑی جماعت کا اتباع اختیار کریں وہ قوت جو ہدایت وحق کے مقابل صرف کی جاتی ہے۔ ضلالت سمجھیں اور آفتاب پر خاک ڈالنے کا قصد کریں تو بے تہذیبی سے جو کہ ایک اخلاقی جرم ہے اگر احتراز کر کے قلم اٹھایا جائے اور اپنے نبی اور ان کے حوارین کی سنت سیئہ سے پرہیز کیا جائے تو انسب ہے آئندہ آپ لوگ مختار ہیں۔ وآخر دعوانا ان الحمد لله رب العالمین والصلوۃ والسلام علی خیر خلقہ محمد وآلہ واصحابہ اجمعین! حررہ محمد عبد الوہاب عفی عنہ التواب ٢٤

محمد

خاتم النبیین

لا نبي بعدي

احمدیوں

ملک و مذہب

غدار

جناب ڈاکٹر منصور

PDF 108

اَنَا خَاتَمُ النَّبِيِّينَ لَا نَبِيَّ بَعْدِي

میں آخری نبی ہوں، میرے بعد کوئی نبی نہیں۔

احمدیوں کی

ملک و مذہب سے

غداری

جناب ڈاکٹر منصور ایم رفعت

صفحہ ١٠٩

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ

تمہید

ہر دن ہم کو نئے نئے اور خوفناک ثبوت ایسے ملتے ہیں ۔ جو احمدی ایجنٹوں کی عام طور سے اسلامی عقائد کے خلاف اور خصوصاً ان کے ہم وطنوں کے خلاف زبردست سازش اور بے انتہا دغابازی اور ان کی انگلستان کی مکمل غلامی کو صاف طور سے ظاہر کرتے ہیں ۔ جیسا کہ ہم نے اپنے پہلے پمفلٹ ”ذی احمدیہ سیکٹ وانگارڈ آف برٹش امپیریل ازم“ میں بتایا ہے کہ ان کا خاص مقصد اسلام کی اس دفاعی قوت کو پوری طرح سے مفلوج کرنے کا ہے۔ جو اپنے متبعین کو آزاد اور خود مختار قوم بننے کا اور کسی حالت میں بھی کسی غیر ملکی جوئے کے آگے نہ جھکنے یا کسی ظالم حکومت کے آگے خواہ وہ اپنی ہی ہو سر تسلیم خم نہ کرنے کا حکم دیتی ہے۔

ہمارے اس مواد پر ایک نظر جو ہم اس دوسرے پمفلٹ میں پیش کر رہے ہیں۔ پڑھنے والے کو سخت گناہ اور بزدلی کا قائل کر دے گا جو اپنے آپ کو احمدی کہتے ہیں اور تمام ملک میں پھیل گئے ہیں۔ تا کہ مذہب اسلام کے نام سے تمام دنیا کو سلطنت انگریزی کی وفاداری کا وعظ کریں۔

ہماری رائے ناقص میں یہ ہر جرمنی شہری اور حکومت جرمنی کا فرض ہے کہ با وجود ان سخت مصائب کے جن میں آج کل جرمن قوم مبتلا ہے۔ بلا توقف فرقہ احمدیہ کے ہر شعبہ کی اصلی سرگرمیوں کی مکمل اور دقیق تحقیقات کا حکم صادر کرے نہ صرف اپنے بہت سے مشرقی مہمانوں کی خاطر جنھوں نے جرمنی میں پناہ لی ہے اور اب تک پُر امن اور میل جول سے رہے ہیں بلکہ خاص کر اپنے ہم اغراض کے لئے ۔ احمدیہ فرقہ کی تعلیم بموجب جس کی وہ سرگرمی کی ہر جگہ اشاعت کرتے ہیں ۔ یہ فرض بطور ایک مذہبی فرض کے ان پر عائد ہے کہ ہر مصیبت کے وقت یا بغاوت کے وقت۔ جو گورنمنٹ انگریزی یا اسکے اغراض کے خلاف صورت پذیر ہو تو ان کو جس طرح بھی ہو اس کو فرو کرنا ضروری ہے۔ اس کا تعلق صرف ہندوستان سے ہی نہیں ہے۔ بلکہ اس میں دیگر ممالک بھی شامل ہیں۔ ہم نہایت ادب سے جرمن پارلیمنٹ کے تمام ممبروں کی توجہ تحریک احمدیہ کے اہم خطرہ کی طرف مبذول کراتے ہیں۔ اور ان سے درخواست کرتے ہیں کہ اس معاملہ کو گہری نظر سے ملاحظہ فرمائیں۔ ڈاکٹر منصور ایم رفعت۔ برلین۔ شونبرگ۔ محررہ: ١٤؍ ستمبر ١٩٢٤ء

تاریخ جس پر انگریزی فوجوں نے تل الکبیر پر خوفناک قتل عام کے بعد مصر پر دغابازی کر کے قبضہ کر لیا۔

٢

احمدی بطور جاسوس اور

ہم ذیل میں محب وطن اور بہادر موپلوں کے اس مظلوم اور درد انگیز حال بیان کرتے ہیں جو ان کو غیر ملکی جوا اتار پھینکنے کی آ وہ وحشیانہ سلوک جو ان کو برطانوی راہزنی کے ہاتھوں برداشت کرنا فرقہ نے کیا جو فوراً اپنے آقاؤں کی مدد اور اعانت کو آئے۔ ان تو اسلامک ریویو کے صفحات ٤٦٨، ٦٩، ٧٠، ٧١ء میں حسب ذیل بھ موپل وہ لوگ ہیں جو جنوب ہند میں کالی کٹ کے ہیں۔ وہ قدیمی عرب سوداگر اور وہ ہندو ہیں جن کو انہوں نے مسلم اور ضلع کے اعلیٰ درجہ کی پیداوار ان ہی کی وجہ سے ہے ١٨٩١ء میں تھی ۔ جنگ عالم کے اختتام پر انگریزوں نے مسلمانان ہند سے وع وہ ترکی اور خلافت کی قسمت ۔ بہت ہی رنجیدہ تھے۔ تحریک عدم تعا تمام ہندوستان پر پھیل گئی تب موپلوں نے جنگ آزادی کا اعلان کر باوجود دشمن کی قوت کے جس سے مظالم اور سختیاں وہ رہے تھے بہادر موپلوں نے اپنے آپ کو اجنبی سے اور اس کی مقاما مداخلت سے آزاد کرنے کا فیصلہ کر لیا۔

انجام کار ان کا ستیا ناس کر دیا گیا۔ ان کے دیہات جلا قتل کئے گئے بہت سے طویل مدت کے لئے جیل خانہ میں ڈالے سو پہلے ریل کی ایک خوب بند گاڑی میں بند کر دیئے ۔ چیخوں کی ان کی پرواہ نہ کی گئی تو جب گاڑی کھولی گئی اسی سے زاء پائے گئے ۔ مسلمانوں کے بے رحم دشمن نے جن مظالم کا ارتکاب کیا میں لاثانی ہیں۔

”پچھلے تین یا چار سال کے قلیل زمانہ میں احمدی جما متزلزل وفاداری ایک یا دو دفعہ سے زیادہ سخت آزمائش میں ڈالی وفادار ہم ہیں اور وفادار اس حکومت کے ہم رہیں گے۔ جس کی پنا

٣

صفحہ ١٠٩

احمدی بطور جاسوس اور

ہم ذیل میں محب وطن اور بہادر موپلوں کے اس مظلومیت اور بدقسمتی کا بہت ہی مختصر اور درد انگیز حال بیان کرتے ہیں جو ان کو غیر ملکی جوا اتار پھینکنے کی کوشش میں برداشت کرنی پڑی۔ وہ وحشیانہ سلوک جو ان کو برطانوی راہزنی کے ہاتھوں برداشت کرنا پڑا اور وہ ذلیل پارٹ جو احمدیہ فرقہ نے کیا جو فوراً اپنے آقاؤں کی مدد اور اعانت کو آئے۔ ان ہی کے ایک سردار کے الفاظ میں اسلامک ریویو کے صفحات ٤٦٨، ٤٦٩، ٤٧٠، ٧١ میں حسب ذیل بہت خوب تحریر ہے۔

موپلے وہ لوگ ہیں جو جنوب ہند میں کالی کٹ کے قریب ملابار کے ضلع میں رہتے ہیں۔ وہ قدیمی عرب سوداگر اور وہ ہندو ہیں جن کو انہوں نے مسلمان کرلیا ہے۔ وہ بہت محنتی ہیں اور ضلع کے اعلیٰ درجہ کی پیداوار ان ہی کی وجہ سے ہے ١٨٩١ء میں ان کی تعداد کل صرف ٥٦٠٠٠٠ تھی۔ جنگ عالم کے اختتام پر انگریزوں نے مسلمانان ہند سے وعدہ خلافی کی جو سچے مسلمان تھے وہ ترکی اور خلافت کی قسمت پر بہت ہی رنجیدہ تھے۔ تحریک عدم تعاون کی بے چینی کے زمانہ میں جو تمام ہندوستان پر پھیل گئی تب موپلوں نے جنگ آزادی کا اعلان کر دیا۔ جو ایک سال تک رہی۔

باوجود دشمن کی قوت کے جس کے مظالم اور سختیاں وہ اس وقت تک برداشت کرتے رہے تھے بہادر موپلوں نے اپنے آپ کو اجنبی سے اور اس کی مقامات مقدسہ میں ناقابل برداشت مداخلت سے آزاد کرنے کا فیصلہ کرلیا۔

انجام کار ان کا ستیاناس کر دیا گیا۔ ان کے دیہات جلا کر راکھ کر دیئے گئے۔ ہزاروں قتل کئے گئے بہت سے طویل مدت کے لئے جیل خانہ میں ڈالے گئے۔

سو موپلے ریل کی ایک خوب بند گاڑی میں بند کر دیئے گئے اور باوجود ان کی مصیبت اور چیخوں کے ان کی پرواہ نہ کی گئی تو جب گاڑی کھولی گئی اسی سے زائد مرے ہوئے یا مرتے ہوئے پائے گئے۔ مسلمانوں کے بے رحم دشمن نے جن مظالم کا ارتکاب کیا ہے۔ وہ بے شمار ہیں اور تواریخ میں لاثانی ہیں۔

١...... احمدی اور موپلے

”پچھلے تین یا چار سال کے قلیل زمانہ میں احمدی جماعت کی پکی نمک حلالی اور غیر متزلزل وفاداری ایک یا دو دفعہ سے زیادہ سخت آزمائش میں ڈالی گئی اور ہر مرتبہ کھری اتری۔ وفادار ہم ہیں اور وفادار اس حکومت کے ہم رہیں گے۔ جس کی پناہ میں ہم رہتے ہیں لیکن نہ اس

٣

صفحہ ١١١

وجہ سے کہ ہم تعداد میں بہت کم ہیں جیسا کہ ہم کو الزام دینے والے سمجھتے ہیں اور نہ اس وجہ سے کہ ہم خوشامدی اور چاپلوس ہیں۔ بلکہ اس وجہ سے کہ ہم کو اپنے حاکموں (انڈیا ان دی بیلنس میں کمال الدین کے الفاظ کو ملاحظہ کیجئے) سے وفادار اور صادق رہنے کا خدا نے حکم دیا ہے اور مقدس رسول اللہ نے ارشاد فرمایا۔

مسیح موعود (مرزا قادیانی) نے رات و دن بیدار رہ کر اپنی تقریروں اور تحریروں سے اپنے متبعین کو برٹش گورنمنٹ کے وفادار رہنے اور بوقت ضرورت اس کی ہر ممکن مدد کرنے کی ترغیب دلائی اور نیز احمدی فرقہ میں داخلہ کی دس شرطوں میں گورنمنٹ کی وفاداری کو شامل کیا۔ اس لئے کتنا ہی دباؤ ہمارے اوپر ڈالا جائے۔ کوئی ترغیب خواہ وہ کتنی ہی دلربا ہو اور کوئی ایذا رسانی کتنی ہی دل شکن ہو۔ ہم کو گورنمنٹ کے خلاف دشمنی اور سڈیشن پر آمادہ نہیں کرسکتی۔ ہمارا اقرار وفاداری خالی خولی شیخی اور صرف زبانی دعویٰ ہی نہیں ہے بلکہ ہمارے دل ہمارے الفاظ کی مطابقت کرتے ہیں۔ جب کبھی موقع ہوا ہم نے اپنی جانوں ،عزت اور مال کا نقصان اٹھا کر گورنمنٹ کا ساتھ دیا۔ ہمارے اس زبانی دعوے وفاداری کے عملی طور پر اظہار کا موقع ١٩١٩ء کے موسم بہار میں آیا جب کہ رولٹ ایکٹ کے خلاف بطور زبردست احتجاج کے مسٹر گاندھی نے بلا تشدد مقابلہ شروع کیا اور تمام ہندوستان میں ٦؍اپریل کو مکمل ہڑتال منائی گئی۔ احمدی پبلک نے عموماً اور احمدی تاجروں اور طالبعلموں نے لاہور کے مختلف کالجوں میں تعلیم پاتے تھے۔ خصوصاً اپنے آپ کو ایجی ٹیشن کرنے والوں سے علیحدہ رکھ کر ممتاز کیا۔ باوجود اس کے کہ ہمارے دکانداروں کو سوشل بائیکاٹ کی (جس نے بعض جگہ عملی صورت اختیار کر لی۔) دھمکی دی گئی۔ انہوں نے اپنی دکانیں کھلی رکھیں۔ طالب علموں نے بھی اپنے امام کی آرزو کو پورا کیا۔ ان کی تحقیر کی گئی۔ ان کو لعنت ملامت کی گئی اور اکثر حالتوں میں بہت سختی سے برا بھلا کہا گیا اور گالیوں سے پیش آیا گیا مگر وہ پرنسپلوں اور دیگر ممبران سررشتہ کے حسب اطمینان اپنی جماعتوں میں حاضر ہوتے رہے اور دنیا کو دکھا دیا کہ ان کا لیڈر قادیان میں تھا نہ کہ مسٹر گاندھی۔“

٢...... گاندھی اور احمدی

”چند یوم کے بعد مسٹر گاندھی کی نام نہاد گرفتاری عمل میں آئی جس نے سارے پنجاب کو ایک سرے سے دوسرے تک ایک زبردست طوفان کے بگولے سے بھر دیا۔ مقام صدر (قادیان) سے تمام احمدیوں کو گورنمنٹ کے ساتھ رہنے اور افسروں کو ہر قسم کی مدد پہنچانے کے جن

٤

کی ان کو ضرورت ہو سخت احکام جاری ہوئے اور تمام کر رہے تھے اپنے معمولی کاموں کو روک دینے اور کرنے کے احکام پہنچ گئے۔ علاوہ اس کے جماعت والوں کی پھیلائی ہوئی افواہوں کی ہزاروں کی تعداد تردید کی اور ان بھولے جاہل لوگوں کے سامنے جو ہا پیش کئے اور بھی بہت سے طریقے گورنمنٹ کو اس آ استعمال کئے گئے اور یہ سب اپنی جانیں عزت اور مال کی چودہ برس پہلے کی پیشین گوئی (حکومت برطانیہ جماعت صرف میری جماعت گورنمنٹ کا ساتھ دے طریقہ سے پوری ہوئی؟؟

٣...... گورنمنٹ انگلشیہ کا احمدیوں کی عزا

”پنجاب گورنمنٹ نے ان کی زبردست و تاج برطانیہ کی سب سے زیادہ وفادار رعایا نے امن و ذیل میں اپنے قارئین کے مطالعہ کے لئے پنجاب گورن درج کرتے ہیں: ”پنجاب گورنمنٹ کو فسادات کو دبا میں جنہوں نے پنجاب کو بدنام کر دیا ہے۔ ہر قسم کی ش احمدی جماعت کی سرگرمی کی ایک رپورٹ موصول ہوئی سے کوئی واسطہ نہ رکھنے کی ترغیب دلاتی رہی ہے۔ اور ا افسر لاہور سول ایریا تحت مارشل لاء ہ کوششوں کا ذیل کے خط میں اعتراف کیا ہے جو اس سیکرٹری کو بھیجا گیا۔

”مجھ کو افسر کمانڈنگ لاہور سول ایریا سے حال کے پہنچنے کا اعتراف کروں اور آپ کو اطلاع دوں کام کی کیفیت کو جو وہ گورنمنٹ کے خلاف موجودہ ایج دلچسپی اور قبولیت سے پڑھا ہے۔ انہوں کا خیال ہے کہ

٥

صفحہ ١١١

کی ان کو ضرورت ہو سخت احکام جاری ہوئے اور تمام مبلغوں کو جو ملک کے مختلف مقامات میں کام کر رہے تھے اپنے معمولی کاموں کو روک دینے اور وحشیانہ ایجی ٹیشن کو دبانے میں حکام کی مدد کرنے کے احکام پہنچ گئے۔ علاوہ اس کے جماعت نے غلط اور بدنیتی سے ضدی ایجی ٹیشن کرنے والوں کی پھیلائی ہوئی افواہوں کی ہزاروں کی تعداد میں اپنے خرچ سے اشتہارات شائع کر کے تردید کی اور ان بھولے جاہل لوگوں کے سامنے جو بآسانی جوش میں آجاتے ہیں، اصلی واقعات پیش کئے اور بھی بہت سے طریقے گورنمنٹ کو اس کی سخت ضرورت کے وقت مدد پہنچانے کے استعمال کئے گئے اور یہ سب اپنی جانیں عزت اور مال کو جوکھوں میں ڈال کر کیا۔ پہلی دفعہ مسیح موعود کی چودہ برس پہلے کی پیشین گوئی (حکومت برطانیہ پر ایک وقت آئے گا جب کہ صرف بحیثیت جماعت صرف میری جماعت گورنمنٹ کا ساتھ دے گی اور اس کی وفادار رہے گی) قابل قدر طریقہ سے پوری ہوئی ؟؟

”پنجاب گورنمنٹ نے ان کی زبردست خدمت کو علی الاعلان اور صفائی سے تسلیم کیا جو تاج برطانیہ کی سب سے زیادہ وفادار رعایا نے امن اور نظام قائم رکھنے کے لئے انجام دیں۔ ہم ذیل میں اپنے قارئین کے مطالعہ کے لئے پنجاب گورنمنٹ کے شائع کردہ پریس کمیونک کا مطلب درج کرتے ہیں: ”پنجاب گورنمنٹ کو فسادات کو دبانے اور تمام ان خلاف قانون ایجی ٹیشنوں میں جنہوں نے پنجاب کو بدنام کر دیا ہے۔ ہر قسم کی شرکت سے علیحدہ رہنے کے متعلق قادیان کی احمدی جماعت کی سرگرمی کی ایک رپورٹ موصول ہوئی ہے۔ جماعت اپنے ساتھیوں کو اس تحریک سے کوئی واسطہ نہ رکھنے کی ترغیب دلاتی رہی ہے۔ اور ان کی کوششیں نہایت کامیاب سنی گئی ہیں۔“

افسر لاہور سول ایریا تحت مارشل لاء نے جماعت احمدیہ کی قیام نظام کے لئے کوششوں کا ذیل کے خط میں اعتراف کیا ہے جو اس کی طرف سے حضرت خلیفۃ المسیح کے ایک سیکرٹری کو بھیجا گیا۔

”مجھ کو افسر کمانڈنگ لاہور سول ایریا سے ہدایت ملی ہے کہ آپ کی چھٹی مورخہ ١٢/ماہ حال کے پہنچنے کا اعتراف کروں اور آپ کو اطلاع دوں کہ افسر کمانڈنگ نے اس کی جماعت کے کام کی کیفیت کو جو وہ گورنمنٹ کے خلاف موجودہ ایجی ٹیشن کو رفع کرنے میں کر رہی ہے۔ نہایت دلچسپی اور قبولیت سے پڑھا ہے۔ انہوں کا خیال ہے کہ ایجی ٹیشن کو نہایت خطرناک صورت اختیار

٥

صفحہ ١١٣

کرنے سے روکنے کے لئے جو تدابیر اختیار کی گئی ہیں وہ بالکل موزوں ہیں اور یہ کہ اس طرح جو مدد آپ گورنمنٹ کی کر رہے ہیں وہ نہایت بیش بہا ہے۔

آپ کی جماعت کو بھروسہ رکھنا چاہئے کہ وہ گورنمنٹ کی پوری حفاظت حاصل کرتی رہے گی اور اس کو جب تک وہ اس حفاظت میں ہے۔ آپ کے مذہبی اور سیاسی مخالفوں سے کوئی خوف نہ کرنا چاہئے۔

افسر کمانڈنگ ان احمدیوں کی مدد حاصل کر کے بہت خوش ہوگا۔ جو لاہور رقبہ سول کے حدود کے اندر رہتے ہیں۔ اور اس کو انجمن احمدیہ لاہور کے سیکرٹری یا امیر سے مل کر نہایت خوشی ہوگی جب کبھی ان دونوں صاحبوں میں سے کسی کو اس سے ملنے آنے کا موقع ملے ۔“

ایک مرتبہ اور مسیح موعود کی متذکرہ بالا پیشین گوئی کی صداقت عیاں ہوتی ہے۔ موپلوں نے کھلم کھلا للکارا اور گورنمنٹ کے حکام کو چیلنج دیا اور قریب قریب کل ملیبار ایک زبردست بغاوت کے مصائب میں لوٹ رہا ہے۔ بموجب اطلاع اخبارات موپلے ہندوؤں کو ان کے زبردستی بنا مسلمان رہے ہیں اور تاج کے وفادار موپلوں اور دوسری وفادار رعایا کو ستا اور تکلیف پہنچا رہے ہیں۔ ملیبار میں ہماری تعداد بہت ہی قلیل ہے پھر بھی انہوں نے اپنے فرض سے بے پرواہی نہیں تھی کہ وہ احمدیہ روایت و وفاداری گورنمنٹ پر صادق ثابت ہوئی۔ پائینر کے نام ایک تار مورخہ ١٨ ستمبر رقم طراز ہے۔ ” جونہی بغاوت شروع ہوئی ۔ کنانور، کنڈالی اور کالی کٹ کے مسلمانان جماعت احمدیہ نے احمدیوں کی بے زوال وفاداری پر قائم رہنے کے حکام ضلع و قسمت کے پاس خطوط بھیجتے اور ہر قسم کی خدمت کے لئے جو ان سے نظام کو دوبارہ درست کرنے کے لئے مطلوب ہو خدمات پیش کیں ۔“

غلام فرید ....... (ریویو آف ریلیجنز ج ٢٠، ستمبر ١٩٢١ء)

غلام مرتضیٰ کے ذلیل حالات زندگی

مرزا غلام کا بدنام باپ نام نہاد مسیح موعود۔ قادیان ہند

(ماخوذ از کتاب احمد، دی میسنجر آف دی لیٹر ڈیز حصہ اول، لاہور ١٩١٧ء)

”نونہال سنگھ، شیر سنگھ اور دربار کے زمانہ میں غلام مرتضیٰ متواتر جنگی خدمت میں لگا

١؎ یہ ایک بالکل خاص اور مکروہ افتراء ہے اور نہایت مضحکہ انگیز کذب ہے۔ یہ تحریک موپلا بالکل غدار اور بے رحم فرنگی یعنی

٦

رہا۔ ١٨٤١ء میں وہ جنرل ونچورا کے ہمراہ منڈی اور کلو گئ رجمنٹ کے کمانڈر پر پشاور بھیجا گیا۔ اس نے بوقت بغاوت اور جب ١٨٤٨ء کی بغاوت ہوئی تو وہ اپنی گورنمنٹ کا وفا موقع پر اس کے بھائی غلام محی الدین نے بھی عمدہ خدمات س کی مدد کے لئے بھائی مہاراج سنگھ اپنی فوج لے کر ملتان کو جاگیر داران لنگر خاں ساہیوال اور صاحب خاں ٹوانہ کی سل دیال کے لشکر سے باغیوں پر حملہ کیا اور ان کو مکمل شکست دی چھ سو سے زائد ہلاک ہو گئے۔

”الحاق کے وقت خاندان کی جاگیریں لے لی بھائی کے لئے سات سو روپیہ کی پنشن مقرر کی گئی تھی اور قادی حق مالکانہ قائم رہا تھا۔ خاندان نے ١٨٥٧ء کے غدر میں نے بہت سے آدمی بھرتی کرائے اور اس کا لڑکا غلام قادر ا کر رہا تھا۔ جس وقت اس افسر نے ٤٦ نمبر کی ہندوستانی پ بھاگ گئے تھے۔ تریموں گھاٹ پر برباد کیا۔ جنرل نکلسن نے (سند) دیا کہ ١٨٥٧ء میں ضلع میں قادیانی خاندان نے س

”غلام مرتضیٰ ١٨٧٦ء میں مر گیا اور اس کا جا حکام کو مدد دینے میں ہمیشہ سرگرم رہا اور ان حکام کے بہ انتظام سے تھا۔ گورداسپور ضلع کے دفتر میں اس نے کچھ عر بیٹا بچپن ہی میں مر گیا۔ اور اس نے اپنے بھتیجے سلطان ا قادر کی موت کے وقت اپنے خاندان کا سربراہ سمجھا گیا ہے میں بطور نائب تحصیلدار کے شامل ہوا اور اب اکسٹرا اسسٹنٹ

بیٹا اپنے باپ کے قدم بقدم کس طرح چلا

”سڈیشن ایکٹ نے مذہبی جھگڑوں کے مت ہونے کے وقت گورنمنٹ نے کسی ایسی شرط کی ضرورت سیاسی نے چھوڑ دیا اس کو مسیح موعود نے اپنے گوشہ تنہائی ۔

٧

صفحہ ١١٣

رہا۔ ١٨٤١ء میں وہ جنرل ونیچورا کے ہمراہ منڈی اور کلو میں بھیجا گیا۔ ١٨٤٣ء میں ایک پیدل رجمنٹ کے کمانڈ پر پشاور بھیجا گیا۔ اس نے بوقت بغاوت۔ ہزارہ، بنوں میں اپنے آپ کو ممتاز کیا اور جب ١٨٤٨ء کی بغاوت ہوئی تو وہ اپنی گورنمنٹ کا وفادار رہا اور اس کی طرف سے لڑا۔ اس موقع پر اس کے بھائی غلام محی الدین نے بھی عمدہ خدمات سرانجام دیں۔ جس وقت دیوان مل سنگھ کی مدد کے لئے بھائی مہاراج سنگھ اپنی فوج لے کر ملتان کو جا رہا تھا۔ غلام محی الدین نے معہ دیگر جاگیرداران لنگر خاں ساہیوال اور صاحب خاں ٹوانہ کی مسلمان آبادی کو ابھارا۔ اور مصر صاحب دیال کے لشکر سے باغیوں پر حملہ کیا اور ان کو مکمل شکست دی۔ ان کو چناب میں دھکیل دیا جہاں پر چھ سو سے زائد ہلاک ہو گئے۔

”الحاق کے وقت خاندان کی جاگیریں لے لی گئی تھیں۔ لیکن غلام مرتضیٰ اور اس کے بھائی کے لئے سات سو روپیہ کی پنشن مقرر کی گئی تھی اور قادیان اور قرب و جوار کے دیہات پر ان کا حق مالکانہ قائم رہا تھا۔ خاندان نے ١٨٥٧ء کے غدر میں لاجواب خدمات انجام دیں غلام مرتضیٰ نے بہت سے آدمی بھرتی کرائے اور اس کا لڑکا غلام قادر اس وقت جنرل نکلسن کے لشکر میں کام کر رہا تھا۔ جس وقت اس افسر نے ٤٦ نمبر کی ہندوستانی پیدل فوج کے باغیوں کو جو سیالکوٹ سے بھاگ گئے تھے۔ تریموں گھاٹ پر برباد کیا۔ جنرل نکلسن نے غلام قادر کو اس مضمون کا ایک سرٹیفکیٹ (سند) دیا کہ ١٨٥٧ء میں ضلع میں قادیانی خاندان نے سب سے زیادہ وفاداری کا اظہار کیا۔“

”غلام مرتضیٰ ١٨٧٦ء میں مر گیا اور اس کا جانشین اس کا بیٹا غلام قادر ہوا۔ یہ مقامی حکام کو مدد دینے میں ہمیشہ سرگرم رہا اور ان حکام کے بہت سے سرٹیفکیٹ حاصل کئے جن کا تعلق انتظام سے تھا۔ گورداسپور ضلع کے دفتر میں اس نے کچھ عرصہ بطور سپرنٹنڈنٹ کام کیا۔ اس کا اکلوتا بیٹا بچپن ہی میں مر گیا۔ اور اس نے اپنے بھتیجے سلطان احمد کو متبنیٰ (گود لیا) کر لیا جو ١٨٨٣ء غلام قادر کی موت کے وقت اپنے خاندان کا سربراہ سمجھا گیا ہے۔ مرزا سلطان احمد گورنمنٹ کی ملازمت میں بطور نائب تحصیلدار کے شامل ہوا اور اب ایکسٹرا اسسٹنٹ کمشنر ہے۔

بیٹا اپنے باپ کے قدم بقدم کس طرح چلا

”سیڈیشن ایکٹ نے مذہبی جھگڑوں کے متعلق کوئی شرط نہیں لگائی اور اس کے پاس ہونے کے وقت گورنمنٹ نے کسی ایسی شرط کی ضرورت نہیں محسوس کی۔ لیکن جس نکتہ کو مدبران سیاسی نے چھوڑ دیا اس کو مسیح موعود نے اپنے گوشۂ تنہائی سے دیکھ لیا۔ لہذا اس نے ١٨٩٧ء میں ایک

٧

صفحہ ١١٥

میموریل تیار کر کے ہزایکسیلنسی لارڈ الگن وائسرائے وقت کی خدمت میں روانہ کیا۔ جو چھپ کر عام طور پر شائع بھی کیا گیا تھا۔ جس میں اس نے وائسرائے کو بتایا تھا کہ کس طرح تمام بد نظمیوں اور تکالیف کی جڑ مذہبی جھگڑے ہیں۔ مذہبی نزاعات پبلک کے قلوب میں جوش پیدا کر دیتے ہیں اور شریر لوگ اس جوش سے فائدہ اٹھاتے اور اس کو حکومت کے خلاف استعمال کرتے ہیں۔ لہٰذا مسیح موعود نے رائے دی کہ مذہبی مباحثوں میں بد زبانی کو قانون کی حد میں لانا چاہئے اور تجویز کیا کہ ایک قانون بنایا جائے جو ہر مذہب کے متبعین کو اپنے مذہب کی خوبیوں کو بیان کرنے میں آزاد چھوڑ کر کسی مخالف آئین پر حملہ کرنے سے روکے واقعہ یہ ہے کہ ہندوستان میں تمام مصائب کی جڑ مذہبی اختلاف میں واقع ہے جو بحث کے ایک عجیب اور ہوشیاری کے طریقہ سے بذریعہ شریر لوگوں کے حکومت کے خلاف بطور ایک آلہ کے استعمال کئے جاتے ہیں اس طرح جب کبھی ایک مذہب پر جس کو اس کے متبعین بے انتہا عزیز رکھتے ہیں کوئی کینہ حملہ کیا جاتا ہے تو گورنمنٹ سے جاہل مجمع کو بدگمان کرنے کے لئے شریروں کے مقصد کو یہ کہنا کافی ہوتا ہے کہ یہ سارا قصور گورنمنٹ کا ہے جو اس قسم کی زیادتیوں کی اجازت دیتی ہے۔ اس پر مجمع اصلی مجرم کو نظر انداز کر دیتے ہیں اور گورنمنٹ سے ناخوش ہو جاتے ہیں۔

سیاسی ایجی ٹیشن کی طرف اس کا طرز عمل

”ستمبر ١٩٠٧ء میں اس کا بیٹا مبارک احمد ساڑھے آٹھ برس کی عمر میں بموجب پیشین گوئی کے مر گیا جو اس کی پیدائش کے وقت کی گئی تھی۔ اسی سال میں مختلف قصبات میں صدر انجمن کی شاخیں قائم کرنے کے لئے قدم اٹھائے گئے۔ اسی سال تمام پنجاب میں زبردست سیاسی ایجی ٹیشن تھا۔ بعض اضلاع بغاوت کے لئے بالکل آمادہ تھے۔ ان حالات میں اس نے اپنے متبعین کے نام اس مضمون کا ایک نوٹس جاری کیا کہ وہ گورنمنٹ کی وفاداری میں مستقل رہیں اور اس کی ہدایت کی تعمیل میں اس کے متبعین نے بہت سی بدگمانی کو دبانے کیلئے آزادی سے اپنی خدمات پیش کردیں۔“

ایک افغانی الٹی میٹم

ترجمہ چٹھی ١٨١٦ از سفیر افغانستان متعینہ جرمنی لیپزگ اسٹرا سے نمبر ٩ برلن مورخہ ٦/ ستمبر ١٩٢٣ء بنام ڈاکٹر منصور ایم رفعت برلن ڈبلیو نمبر ٥٠۔ آپ نے اپنے پمفلٹ موسومہ ”دی احمدیہ سیکٹ“ جو آپ نے ماہ اگست ١٩٢٣ء میں

٨

شائع کیا اور ایک آرٹیکل بعنوان ”کھلی چٹھی بنام نمائندہ افغانی کر کے لکھا ہے۔ جو بوجہ آپکی غلط فہمی کے مجھ کو بے انتہا تعجب میں کہ میں براہ راست یا بالواسطہ جماعت احمدیہ کے ایجنٹوں کو ساتھ رسم سنگ بنیاد پر میری موجودگی میں دیکھتے ہیں۔ مجھ کو افسوس ہے ہیں اور ایسی لچر اور فضول دلیل کا سہارا پکڑتے ہیں۔ ہمارے مقدس مذہب کے قوانین کے بموجب ایک عبادت کی ایک سادہ تعمیر اور جگہ ہے۔ اچھا تو بانی مسجد کا مسلمان اور پاکی کو کم نہیں کرتا۔ ہمارے قرآن مجید نے کوئی ایسا حکم نہیں نے بنایا ہو نماز کی ممانعت ہے یا یہ کہ وہ مقدس نہ سمجھی جائے۔ ہو والے عالمان قرآن کے نزدیک قابل نفرت ہیں۔ پھر مسجد کی مسلمان کے میرا موجود ہونا جس کو خالص اسلامی نظر سے مجھے نکتہ چینی کے لئے پیش کیا جاسکتا ہے اور اس کے دوسرے معنی میں یہ یقین نہیں کرتا کہ تمہارے سیاسی خیالات کاموں کے دائرے سے خارج کر دیا ہے۔ اور یہ کہ تمہارے ہدایت کے مخالف ہو گئے ہیں۔ میں عقیدہ رکھتا ہوں کہ تعمیر مسجد سب سے بہتر پروپیگنڈہ ہے۔ اس کے برخلاف نہیں۔ ہمارے ذاتی اغراض کی بناء پر ترک نہ ہونی چاہئیں۔ یہاں سیاست عبادت گاہ کی بنیاد رکھتے وقت موجود ہونا بطور سہارے یا اعانت بطور ادائیگی فرض مذہبی کے۔

١؎ مسجد پٹنی میں عید کے موقع پر بموجب تمہاری یعنی سفیر افغانستان متعینہ لندن، سردار عبد الہادی خاں نے کئے۔ اس نے کہا کہ خواہ وہ قادیانی احمدیوں کے دعاوی کو باطل کے مختلف حصص کے مسلمانوں سے ملنے کا اس کو موقع ملا۔ اس پوری توجہ کا مستحق ہے۔ پھر بھی مسلمان اس سیاسی پیچ کی طرف سے اسلامی سلطنتوں کو ٹکرانا پڑا۔

٩

صفحہ ١١٥

شائع کیا اور ایک آرٹیکل بعنوان ”کھلی چٹھی بنام نمائندہ افغانی گورنمنٹ متعینہ جرمنی“ مجھ کو خطاب کر کے لکھا ہے۔ جو بوجہ آپکی غلط فہمی کے مجھ کو بے انتہا تعجب میں ڈالتا ہے۔ آپ اس میں لکھتے ہیں کہ میں براہ راست یا بالواسطہ جماعت احمدیہ کے ایجنٹوں کو سہارا دیتا ہوں اور اس کا ثبوت مسجد کی رسم سنگ بنیاد پر میری موجودگی میں دیکھتے ہیں۔ مجھ کو افسوس ہے کہ آپ حق سے بہت دور چلے گئے ہیں اور ایسی لچر اور فضول دلیل کا سہارا پکڑتے ہیں۔

ہمارے مقدس مذہب کے قوانین کے بموجب ایک مسجد سچے ایماندار کے لئے خدا کی عبادت کی ایک سادہ تعمیر اور جگہ ہے۔ اچھا تو بانی مسجد کا مسلمان ہونا یا غیر مسلم ہونا مسجد کی بزرگی اور پاکی کو کم نہیں کرتا۔ ہمارے قرآن مجید نے کوئی ایسا حکم نہیں دیا کہ ایسی مسجد میں جس کو کسی کافر نے بنایا ہو نماز کی ممانعت ہے یا یہ کہ وہ مقدس نہ سمجھی جائے۔ بر خلاف اس کے ایسے خیالات رکھنے والے عالمان قرآن کے نزدیک قابل نفرت ہیں۔ پھر مسجد کی بنیادی رسم کے موقع پر بحیثیت ایک مسلمان کے میرا موجود ہونا جس کو خالص اسلامی نظر سے سمجھنا چاہئے۔ کس طرح آپ کے ذاتی نکتہ چینی کے لئے پیش کیا جاسکتا ہے اور اس کے دوسرے معنی لگائے جاسکتے ہیں۔

میں یہ یقین نہیں کرتا کہ تمہارے سیاسی خیالات اور ارادوں نے تم کو نیک اور مذہبی کاموں کے دائرے سے خارج کر دیا ہے۔ اور یہ کہ تمہارے خیالات مقدس مذہب اسلام کی ہدایت کے مخالف ہو گئے ہیں۔ میں عقیدہ رکھتا ہوں کہ تعمیر مسجد کسی طرف سے وہ ہو اسلام کے لئے سب سے بہتر پروپیگنڈہ ہے۔ اس کے برخلاف نہیں۔ ہماری چشم بینا اور ایک صحیح رائے قائم کرنا ذاتی اغراض کی بناء پر ترک نہ ہونی چاہئیں۔ یہاں سیاست کا کوئی دخل نہیں ہے۔ مسلمانوں کی عبادت گاہ کی بنیاد رکھتے وقت موجود ہونا بطور سہارے یا اعانت کے نہیں سمجھا جاسکتا۔ لیکن صرف بطور ادائیگی فرض مذہبی کے۔

١؎ مسجد پٹنی میں عید کے موقع پر بموجب تتمہ اخبار ہند مجریہ ١٨ اگست ١٩٣٢ء ہزاکس لینسی سفیر افغانستان متعینہ لندن، سردار عبد الہادی خاں نے اپنی تقریر میں چند زبردست ریمارک کئے۔ اس نے کہا کہ خواہ وہ قادیانی احمدیوں کے دعاوی کو مانے یا نہ مانے وہ بہت خوش تھا کہ دنیا کے مختلف حصص کے مسلمانوں سے ملنے کا اس کو موقع ملا۔ اس نے آخر میں کہا کہ جبکہ مذہب اس کی پوری توجہ کا مستحق ہے۔ پھر بھی مسلمان اس سیاسی پیچ کی طرف سے آنکھیں بند نہیں کر سکتے۔ جن سے اسلامی سلطنتوں کو ٹکرانا پڑا۔

٩

صفحہ ١١٧

تمام مشرقیوں کے غداروں کے مقابلہ میں اپنی بے خوف معاملہ اللہ صاحب قوت اور عادل اور حضور والا کے حضور میں

ایک احتجاجی نوٹ بخدمت سفیر گورنمنٹ افغان

بوجہ چند یوم کے لئے شہر سے باہر ہونے کے مورخہ ٦/ماہ حال کو کل صبح سے پہلے وصول نہ کر سکا۔ توا ضروری سمجھتا ہوں نہ آپ کے زہریلے حملہ اور جھوٹے ال غرض سے بلکہ خالص افغانستان کے اپنے اغراض کی اور اس بحث شروع کرنے سے پہلے میں یہ بتانا پسن ہوتے ہیں کہ آپ گویا اپنے محل میں ایک بلند تخت شاہی پر ایک ادنیٰ ملازم سے خطاب فرما رہے ہیں اور جبکہ آپ مجھ اخلاقی کی شکایت فرماتے ہیں۔ آپ کے الٹی میٹم میں ہرا تجاوز دیکھ سکتا ہے جو کبھی کسی ذمہ دار شخص نے نہ کیا ہوگا۔

ایک جھوٹا الزام

جو شخص میرے پمفلٹ متعلق ”دی احمدیہ کرے گا وہ مان لے گا کہ آپ کا مجھ کو قوم افغان کی توہی نے تو شروع ہی میں افغانوں کی بہادری اور ان کی حب الفاظ میں کی ہے: ”قوم افغان کا بچہ اس کی ان بہادراں نے سلطنت برطانیہ کی زبردست فوجوں اور ساز مجہز اور فوجی عزت کو محفوظ رکھنے میں نمایاں کی ہیں۔ سالہا سا سے میں آپ کی توجہ ایسے معاملات کی طرف مبذول ک کیا گیا تو وہ ضرور غلط فہمی پیدا کرے گا اور مسلمانوں کی زائل ہونے کا باعث ہو گا۔“

اسی خط میں آگے چل کر میں نے شخص طرف سے توجہ دلائی ہے کہ وہ ہر قسم اور فرقہ کے احم نقصان دہ خبروں کے پھیلانے اور شائع کرنے میں

١١

صفحہ ١١٧

تمام مشرقیوں کے غداروں کے مقابلہ میں اپنی بے خوف اور بے پرواہ جنگ جاری رکھوں اور اپنا معاملہ اللہ صاحب قوت اور عادل اور حضور والا کے حضور میں پیش کر دوں۔ برلن ١٦؍ ستمبر ١٩٣٣ء

ایک احتجاجی نوٹ بخدمت سفیر گورنمنٹ افغانی متعینہ جرمنی

بوجہ چند یوم کے لئے شہر سے باہر ہونے کے میں آپ کے سخت خط یا شدید الٹی میٹم مورخہ ١٨؍ماہ حال کو کل صبح سے پہلے وصول نہ کر سکا۔ نتیجتاً میں جلدی میں چند الفاظ عرض کرنا ضروری سمجھتا ہوں نہ آپ کے زہریلے حملہ اور جھوٹے الزامات سے اپنے اور اخلاقی بچاؤ کی غرض سے بلکہ خالص افغانستان کے اپنے اغراض کی اور اسلام کی حمایت میں۔

بحث شروع کرنے سے پہلے میں یہ بتانا پسند کروں گا کہ آپ یہ خیال کرتے معلوم ہوتے ہیں کہ آپ گویا اپنے محل میں ایک بلند تخت شاہی پر بیٹھے ہوئے ہیں اپنے نوکروں میں سے ایک ادنیٰ ملازم سے خطاب فرما رہے ہیں اور جبکہ آپ میری کھلی چٹھی میں آپ کے نام بزعم خود بد اخلاقی کی شکایت فرماتے ہیں۔ آپ کے الٹی میٹم میں ہر شخص تمام اخلاق اور آداب سے ایسا لاثانی تجاوز دیکھ سکتا ہے جو کبھی کسی ذمہ دار شخص نے نہ کیا ہوگا۔

ایک جھوٹا الزام

جو شخص میرے پمفلٹ متعلق ”دی احمدیہ سیکٹ“ میں میرا خط آپ کے نام مطالعہ کرے گا وہ مان لے گا کہ آپ کا مجھ کو قوم افغان کی توہین کرنے کا الزام غلط اور فضول ہے۔ میں نے تو شروع ہی میں افغانوں کی بہادری اور ان کی حب وطنی کی اعلیٰ صفات کی تعریف حسب ذیل الفاظ میں کی ہے: ”قوم افغان بلاشبہ اس کی ان بہادرانہ اور بے نظیر حب وطنی کی صفات کے جو اس نے سلطنت برطانیہ کی زبردست فوجوں اور سازشوں کے مقابلہ میں میدان جنگ میں اپنے ملک اور قومی عزت کو محفوظ رکھنے میں نمایاں کی ہیں۔ سالہا سال سے سرگرم ہمدردانہ مدح خوانی کی وجہ سے میں آپ کی توجہ ایسے معاملات کی طرف مبذول کرانے کی جرات کرتا ہوں اگر فوراً صاف نہ کیا گیا تو وہ ضرور غلط فہمی پیدا کرے گا اور مسلمانوں کی نظر میں آپ کی گورنمنٹ کی نیک نامی کے زائل ہونے کا باعث ہوگا۔“

اسی خط میں آگے چل کر میں نے شائستگی سے آپ کو خاص طور سے اس حقیقت کی طرف سے توجہ دلائی ہے کہ وہ ہر قسم اور فرقہ کے احمدی ایجنٹ جن کی آپ مدد کر رہے ہیں ایسی نقصان دہ خبروں کے پھیلانے اور شائع کرنے میں مشغول ہیں جو آپ کے بادشاہ اور ملک کے

١١

صفحہ ١١٩

اغراض کے لئے بے انتہا خطرناک اور مضر ہیں۔ خصوصاً جہاں وہ آپ کی گورنمنٹ کا ان کے ”معصوم“ جاسوسوں کے قتل کرنے کا ذکر کرتے ہیں۔ یہاں میں اپنے پہلے خط کے الفاظ بعینہ درج کرتا ہوں: ”شریف افغان قوم کا نمائندہ کس طرح ان احمدی ایجنٹوں کو جرمنی میں مدد پہنچا سکتا ہے؟ جو نہ صرف برطانی شہنشاہیت کے ہمنوا بنانے کی کوشش کرتے ہیں بلکہ اپنے اعلانات میں ایسی رپورٹیں شائع کرتے ہیں جن کا مقصد حکومت اور قوم افغان کی نیک نامی کو برباد کرنا ہے۔ جو انہوں نے سپاسنامہ ہز رائل ہائینس پرنس آف ویلز منجانب جماعۃ احمدیہ (طبع ثانی جولائی ١٩٢٢ء طبع کردہ این مکرجی آرٹ پریس کلکتہ ویلنگٹن اسکوائر) صفحہ ٧ پر لکھا ہے وہ حسب ذیل ہے: ”صرف یہی نہیں ہے جو جماعت احمدیہ کے ممبروں نے اپنے امن پسندی اور عقیدہ وفاداری (سلطنت و حکومت برطانیہ سے) کی اشاعت کے بدولت برداشت کیا ہے۔ جہاں ان کے مخالف زیادہ طاقت ور تھے۔ وہاں ان کو خوف ناک مصائب کا شکار ہونا پڑا۔ مثلاً جماعت کے دو ممبر افغانستان میں اس وجہ سے تکلیف دہ موت سے مارے گئے کہ بموجب ان کے مقدس بانی کی ہدایات کے وہ جہاد (مذہبی جنگ) کے جواز کے قائل (معتقد) نہ تھے۔

ان میں سے ایک تو افغانستان میں بڑے عالموں میں سے تھا اور اس قدر عزت کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا کہ وہ رسم تاج پوشی امیر حبیب اللہ مرحوم کے لئے انتخاب کیا گیا تھا۔ وہ اسی امیر کے حکم سے نہایت بے رحمی سے سنگسار کر کے مار ڈالا گیا یہ بھی بجز مذکور بالا وجہ سے نہ کسی اور وجہ سے۔“ دوسری طرف میں نے آپ کی توجہ لوکل انزیگر مجریہ ١٩؍ جون ١٩٢٣ء کے اس نہایت اہم اور تحریری آرٹیکل کی طرف بھی مبذول کرائی تھی جو آپ کے مع اپنی تمام شان و شوکت، اپنے عملی اور نیز جوان افغان طالب علموں کی رسم میں شرکت کرنے سے کئی ہفتہ پہلے شائع ہوا تھا۔ یہاں میں پھر اپنے خط سے لوکل انزیگر کے الفاظ نقل کرتا ہوں۔

”احمد (مرزا) کے دعاوی اور تعلیم کا سینکڑوں اسی قسم کی جگہوں میں سے ایک حوالہ: ”تو یاد رکھو کہ گورنمنٹ انگریزی تمہارے لئے ایک رحمت اور برکت ہے۔ یہ ایک ڈھال ہے جو تمہاری حفاظت کرتی ہے لہذا تم کو بھی اس ڈھال کی دل و جان سے قدر کرنی چاہئے۔ انگریز مسلمانوں - سے جو تمہارے سخت مخالف ہیں۔ ہزار درجہ بہتر ہیں۔“ کیا مسجد زیر بحث کی رسم میں مدد دینے سے

١؎ احمدی انگلستان کی ظالم حکومت کے خلاف ہر جنگ کو نہایت چالاکی سے مجرمانہ مذہبی جنگ قرار دیتے ہیں تاکہ اس کے فرو کرنے میں حصہ لے سکیں۔

١٢

پہلے ہزاکسیلنسی غلام صدیق خاں سفیر حکومت افغانستان طرح تحقیقات فرمانے کی کوئی تکلیف گوارا فرمائی؟

یہ بے انتہا افسوس ناک ہے کہ ان واقعات ال مسلم حکومت کے نہایت مقتدر نمائندے کی حیثیت سے امور سے عدم علم کا اظہار فرمائیں تو یہ اور بھی ہیبت ناک ہے تو یہ بد سے بدتر ہے۔

مزید برآں آپ کو معلوم ہونا چاہئے تھا کہ ن جماعت اسلامیہ اور نہ اعلیٰ طبقہ کے تعلیم یافتہ جرمن گئے ۔ صداقت یہ ہے کہ آپ براہ راست اور خفیہ طور سے احمدی ا سٹ پٹا دیا اور یہ کہ آپ بے قصور لوگوں پر جھوٹے الزا آپ کی رسم کے وقت موجودگی اور اس تقریر ہی کو جو آپ کروں گا۔ بلکہ اور دوسرے اہم واقعات کو جن کو میں اپنی جناب من! کیا آپ ان احمدی ایجنٹوں کو فی کیا آپ اپنے سفارت خانہ برلن کی شاہانہ طریق پر تواض

اسلامی معاملات سے بالکل لاعلمی

اب اگر ہم سوال کے مذہبی پہلو کا جواب دیں کھوئے جاتے ہیں۔ اس معاملہ میں جو غایت درجہ کی ہے۔ آپ کی حیثیت کے لوگوں کے لئے جو مسلم گورنمن سے اس قسم کی بالکل بے حرمتی نہایت تعجب خیز ہے۔ مخف ایک لفظ بھی صحیح نہیں ہے۔ آپ نے اپنی چٹھی میں تحریر کیا

”ہمارے مقدس مذہب کے قوانین کے ایمانداروں کے لئے خدا کی عبادت کرنے کی ایک جگہ مسجد کی تقدیس اور پاکی کو کم نہیں کرتا۔ ہمارے قرآن م ہوئی مسجد میں نماز پڑھنا ناجائز ہے یا اس کو مقدس نہ سمجھ کے نزدیک ایسے خیال ظاہر کرنے والے قابل نفرت ہ میں مسجد کی رسم بنیادی میں میری موجودگی میں جس کو خا

١٣

صفحہ ١١٩

پہلے ہزایکسیلنسی غلام صدیق خاں سفیر حکومت افغانستان نے مذکورہ بالا آرٹیکل کے مضمون کی پوری طرح تحقیقات فرمانے کی کوئی تکلیف گوارا فرمائی؟

یہ بے انتہا افسوس ناک ہے کہ ان واقعات اور حالات کی موجودگی میں آپ نے ایک مسلم حکومت کے نہایت مقتدر نمائندے کی حیثیت سے ایسے موقع پر بخوشی حصہ لیا۔ اب اگر ان امور سے عدم علم کا اظہار فرمائیں تو یہ اور بھی ہیبت ناک ہے اور اگر آپ نے ایسا جان بوجھ کر کیا ہے تو یہ بد سے بدتر ہے۔

مزید برآں آپ کو معلوم ہونا چاہئے تھا کہ نہ تو سفیر ایران نہ قائم مقام حکومت ترکی نہ جماعت اسلامیہ اور نہ اعلیٰ طبقہ کے تعلیم یافتہ جرمن گئے تھے۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ میرے بیان کی صداقت نے کہ آپ براہ راست اور خفیہ طور سے احمدی ایجنٹوں کی مدد کر رہے ہیں۔ آپ کو بالکل سٹ پٹا دیا اور یہ کہ آپ بے قصور لوگوں پر جھوٹے الزام عائد کرنا چاہتے ہیں۔ اب میں صرف آپ کی رسم کے وقت موجودگی اور اس تقریر ہی کو جو آپ نے کی آپ کی مدد دینے کے لئے پیش نہ کروں گا۔ بلکہ اور دوسرے اہم واقعات کو جن کو میں اپنی کھلی چٹھی میں تحریر نہیں کرنا چاہتا تھا۔

جناب من! کیا آپ ان احمدی ایجنٹوں کو فیاضی سے روپیہ کی مدد نہیں کر رہے ہیں اور کیا آپ اپنے سفارت خانہ برلن کی شاہانہ طریق پر تواضع (مہمانداری) نہیں کر رہے؟

اسلامی معاملات سے بالکل لاعلمی

اب اگر ہم سوال کے مذہبی پہلو کا جواب دیں تو یہ قابل افسوس امر ہے کہ آپ بالکل ہی کھوئے جاتے ہیں۔ اس معاملہ میں جو غایت درجہ کی لاعلمی جو آپ نے ظاہر کی ہے۔ وہ لاثانی ہے۔ آپ کی حیثیت کے لوگوں کے لئے جو مسلم گورنمنٹ کے قائم مقام بنائے جاتے ہیں۔ علم سے اس قسم کی بالکل بے حرمتی نہایت تعجب خیز ہے۔ مختصر یہ کہ جو شیخی آپ بگھار رہے ہیں۔ اس کا ایک لفظ بھی صحیح نہیں ہے۔ آپ نے اپنی چٹھی میں تحریر کیا ہے:

”ہمارے مقدس مذہب کے قوانین کے موجب مسجد ایک عمارت ہے اور سچے ایمانداروں کے لئے خدا کی عبادت کرنے کی ایک جگہ۔ اب بانی مسجد مسلمان ہو یا غیر مسلم یہ امر مسجد کی تقدیس اور پاکی کو کم نہیں کرتا۔ ہمارے قرآن مجید نے ایسا حکم نہیں دیا کہ کسی کافر کی بنائی ہوئی مسجد میں نماز پڑھنا ناجائز ہے یا اس کو مقدس نہ سمجھنا چاہئے۔ برخلاف اس کے عالمان قرآن کے نزدیک ایسے خیال ظاہر کرنے والے قابل نفرت ہیں۔ پھر کس طرح ایک مسلمان کی حیثیت میں مسجد کی رسم بنیادی میں میری موجودگی جس کو خالص اسلامی نقطہ نظر سے سمجھنا چاہئے۔ آپ

١٣

صفحہ ١٢١

کی شخصی نکتہ چینی کے لئے پیش ہو سکتی ہے اور اس کو اور معنے پہنائے جاسکتے ہیں؟“

عجیب منطق ......... اپنے مددگاروں کو بھی اپنی مدد کے لئے لے آیئے اور اب اس سب سے بڑے حاکم کا فیصلہ سننے کے لئے تیار ہو جائیے۔ جس کے حضور میں ہر شخص کو جو اپنے آپ کو مسلمان کہتا ہے سر تسلیم خم کرنا ضروری ہے۔ ہمارا مقدس قرآن اس معاملہ زیر بحث کے لئے بالکل صاف ہے۔ گویا کہ آیت اسی موقع کے لئے نازل ہوئی تھی۔

سورہ توبہ۔ قرآنی آیات (١٠٧، ١١٠)

پھوٹ ڈالنے کے لئے اور اس کے لئے جو اللہ اور اس کے رسول سے پہلے گزر چکا ہے بطور جائے پناہ کے ایک مسجد ضرار بنائی اور وہ یقیناً قسمیں کھائیں گے کہ ہماری غرض بجز بھلائی کے کوئی دوسری نہیں ہے اور اللہ گواہی دیتا ہے کہ وہ یقیناً جھوٹے ہیں۔

رکھی گئی زیادہ مستحق ہے کہ تم اس میں کھڑے ہونا۔ اس میں ایسے لوگ ہیں جو چاہتے ہیں کہ وہ صاف ستھرے رہیں اور اللہ صاف ستھرے رہنے والوں کو پسند کرتا ہے۔“

پھسے کھوکھلے کنارے کے کنارے پر اپنی بنیاد عمارت قائم کرے۔ پس وہ اس کو جہنم کی آگ میں لے گرے اور اللہ ظالموں کو ہدایت نہیں دیا کرتا۔

گی۔ مگر یہ کہ ان کے دلوں کے ٹکڑے ٹکڑے ہو جائیں گے اور اللہ جاننے والا صاحب تدبیر ہے۔

آپ مجھے یہ کہہ کر بھی مورد الزام ٹھہراتے ہیں کہ عالم اسلامی میرے جیسے لوگوں کی کوششوں سے منتشر ہو گیا۔ لیکن برخلاف اس کے اس کا باعث منافقین ہیں جو ہر فرقہ و امانہ جماعت کا یہاں تک کہ اس کا بھی ساتھ دیتے ہیں جو صاف طور سے اسلام کے مخالف ہیں گویا کہ ان ہی میں سے۔ یہ لوگ ہیں جنہوں نے مسلمانوں کی حالت ابتر کر دی ہے۔ حالانکہ ہمارے یہاں محمد رسول اللہ ﷺ کے اس خوبصورت کلام میں اسلام کی سچی شان ظاہر ہوتی ہے:

”تم میں سے جو شخص کسی منکر کو دیکھے تو اس کو چاہئے کہ ہاتھ سے درست کرے (روک دے) لیکن اگر یہ ممکن نہ ہو تو اس کو اپنی زبان استعمال کرنا چاہئے اور اگر یہ بھی ممکن نہ ہو تو اپنے دل سے (کم سے کم وہ اسے ناپسند تو کرے) اور یہ ایمان کا ادنیٰ درجہ ہے۔ (مسلم، ابوداؤد، ترمذی، نسائی،

ابن ماجہ اور مسند احمد ) آپ دیکھتے ہیں کہ منکر کو درست کرنا نہ کرنا چاہئے۔

احمدی اور خلیفہ

غالباً آپ کو علم ہوگا کہ آپ کی گورنمنٹ کا آپ کی گورنمنٹ خلیفہ کی اطاعت کرتی ہے تو افغان ا احمدی ایجنٹوں کی مدد کرنا جو موجودہ خلیفہ کو نہیں مانتے کس بلکہ مکہ اور مدینہ بھی الگ رکھتے ہیں۔ میں ان ہی کے ماریشس میں طبع ہوا ہے نقل کرتا ہوں: ”یہ سب جانتے اسلامی کا روحانی سردار مانتے ہیں۔ لیکن احمدی عقیدہ ر کسی صورت میں بھی اس کی وفاداری سے انکار کرتے ہیں

الزام دہندہ کون ہے

یہ نہایت عجیب ہے کہ بذریعہ دھمکیوں کے مانگنی چاہئے۔ لیکن یہ ہماری دنیا پر عیاں ہے کہ آپ چاہئے بلکہ اپنی گورنمنٹ سے بھی جس کی آپ نے احس سب سے بہتر ایمان اور محبوب آزادی کی بربادی کے خ سہارا دے کر توہین کی ہے۔ آخر میں آپ نے مجھ کو ہمار کر پیش کر دینے کی دھمکی دی، میں آپ کا اس شر و حماق کے کیا ہے اس پر میرے دل اور ضمیر کو اطمینان ہے۔

احمدیوں اور ان کے حماقتوں پر ایک زور کا چھوٹی جیل سے بڑی جیل میں : ”میں یرودا مولانا محمد علی سے ملاقات کی گئی۔

"مجھ کو کچھ کہنا نہیں ہے کیونکہ مجھ میں کوئی جیل سے بڑی جیل میں چھوڑا گیا ہوں۔ لیکن میں ا یہاں گاندھی بھی ایک جیل میں ہیں۔ میں اس وقت تک آزاد کرانے کے لئے یرودا جیل کی کنجی نہ مل جائے۔

١٥

صفحہ ١٢١

ابن ماجہ اور مسند احمد) آپ دیکھتے ہیں کہ منکر کو درست کرنا ہر مسلمان کا فرض ہے اور اس کو منافقانہ عمل نہ کرنا چاہئے۔

احمدی اور خلیفہ

غالباً آپ کو علم ہوگا کہ آپ کی گورنمنٹ کا ترکی گورنمنٹ کے ساتھ دلی اتحاد ہے اور آپ کی گورنمنٹ خلیفہ کی اطاعت کرتی ہے تو افغان گورنمنٹ کے قائم مقام کا ہر قسم و فرقہ کے احمدی ایجنٹوں کی مدد کرنا جو موجودہ خلیفہ کو نہیں مانتے کس طرح ممکن ہے کیونکہ وہ اپنا خلیفہ ہی نہیں بلکہ مکہ اور مدینہ بھی الگ رکھتے ہیں۔ میں ان ہی کے ایک پمفلٹ (دی اسلامک ریویو) جو ماریشس میں طبع ہوا ہے نقل کرتا ہوں: ”یہ سب جانتے ہیں کہ غیر احمدی سلاطین ترکی کو تمام عالم اسلامی کا روحانی سردار مانتے ہیں۔ لیکن احمدی عقیدہ رکھتے ہیں کہ اس کا دعویٰ خلافت جھوٹا ہے اور کسی صورت میں بھی اس کی وفاداری سے انکار کرتے ہیں۔

(از اسلامی موومنٹ احمدیہ)

الزام دہندہ کون ہے

یہ نہایت عجیب ہے کہ بذریعہ دھمکیوں کے مطالبہ کرتے ہیں کہ مجھ کو آپ سے معافی مانگنی چاہئے۔ لیکن یہ ہماری دنیا پر عیاں ہے کہ آپ کو نہ صرف تمام مسلمانوں سے معافی مانگنی چاہئے بلکہ اپنی گورنمنٹ سے بھی جس کی آپ نے احمدی ایجنٹوں کو جو اسلام کے پردہ میں ہمارے سب سے بہتر ایمان اور محبوب آزادی کی بربادی کے بھیانک آلہ ہیں۔ براہ راست اور بالواسطہ سہارا دے کر توہین کی ہے۔ آخر میں آپ نے مجھ کو ہمارے مسلمان بھائیوں کے سامنے کھلم کھلا کھول کر پیش کر دینے کی دھمکی دی، میں آپ کا اس شروعات کرنے پر بے حد مشکور ہوں۔ میں نے جو کچھ کیا ہے اس پر میرے دل اور ضمیر کو اطمینان ہے۔

(ڈاکٹر مقصود ایم رندھاوا)

احمدیوں اور ان کے حامیوں پر ایک زور کا چانٹا

چھوٹی جیل سے بڑی جیل میں: ”میں یرودا جیل کی کنجی چاہتا ہوں“ مولانا محمد علی سے ملاقات کی گئی۔

”مجھ کو کچھ کہنا نہیں ہے کیونکہ مجھ میں کوئی بات نئی نہیں ہے۔ میں حال میں ایک چھوٹی جیل سے بڑی جیل میں چھوڑا گیا ہوں۔ لیکن میں اپنی رہائی سے ذرا بھی خوش نہیں ہوں۔ کیونکہ یہاں گاندھی بھی ایک جیل میں ہیں۔ میں اس وقت تک آرام نہ کروں گا۔ جب تک مجھ کو مہاتما کے آزاد کرانے کے لئے یرودا جیل کی کنجی نہ مل جائے۔ میں جیل میں سے بلا کسی قسم کی پشیمانی کے اور

١٥

صفحہ ١٢٣

ان ہی جرموں کے ساتھ باہر آیا ہوں جن کے ساتھ میں داخل ہوا تھا اور مجھ کو اس میں دوبارہ داخل ہونے کا کوئی خوف نہیں ہے۔ میں مہاتما کے پروگرام بلامتشدد عدم تعاون اور ہندو مسلم اتحاد پر قائم ہوں۔

ایک عمدہ ثبوت

مولانا محمد علی رہا کر دیئے گئے اور ان کی پہلی پبلک تقریر ان کے شایان شان تھی۔ مہاتما گاندھی اور اس کے سیاسی طریقوں کے بے حد احترام میں علی برادرز نے ایک ایسی مثال قائم کی ہے کہ جی چاہتا ہے۔ مہاتما کے ہندو ہم وطن بھی نقل کرنے کی طرف توجہ کریں۔ یہ امر کہ ہندوستان کو موجودہ سیاسی تقسیم کے تحت مہذب شہریوں کے اصلی حقوق حاصل نہیں ہیں۔ محمد علی کے اس جملہ میں کہ میں ابھی ایک چھوٹی جیل سے بڑی جیل میں نکل آیا ہوں۔ بہت مؤثر پیرایہ سے ادا کیا گیا ہے۔ یہ عین وقت تھا کہ کوئی ممتاز مسلمان لیڈر ہندوستان کو آگاہ کرتا کہ لوزین کے صلح نامہ نے خلافت کے مسئلہ کو کس قدر کم طے کیا ہے۔ جب تک کہ جزیرۃ العرب غیر مسلم ہاتھوں میں ہے۔ مسئلہ خلافت باقی ہے اور ایسی گورنمنٹ سے موالات ناممکن ہے۔ جو اپنے شہریوں کی ایک بڑی اور بااثر جماعت کے گہرے مذہبی خیالات کی پرواہ نہیں کرتی۔

دی ”انڈین نیشنلسٹ“ ستمبر ١٩٢٣ء

نوٹ: مسئلہ خلافت کے متعلق ”انڈین نیشنلسٹ کے ایماندارانہ اور دور اندیشانہ خیال کے ہم دل سے موافق ہیں ہم صرف یہ کہنا چاہتے ہیں کہ خلافت کی حقیقی حفاظت اور نیز مذہب اسلام کی صرف فاسد برٹش اثر اور سازشوں کو عرب کے تمام حصص سے ہی اٹھا دینے میں نہیں ہے بلکہ مصر اور فلسطین سے برٹش سپاہیوں کو چلتا کرنے میں بھی ہے۔ جب تک کہ یہ اہم مسئلہ بغیر حل کے باقی ہے۔ اس وقت تک ہند مصر یا باقی ماندہ مشرق اور تمام اسلامی دنیا کو نہ خوشی ہوگی۔ نہ پناہ یا امن نصیب ہوگا۔ اور اس پر بھی احمدیہ ایجنٹ اندھے ہو کر بلا شرم کے انگلستان کی وفاداری کا وعظ دنیا کو کئے جاتے ہیں۔

مسلمانوں کی خدمت میں اپیل!

بے نیازی ہو چکی اے قوم مسلم کب تلک ہم کہیں گے حال دل اور تو یہ فرمائے گی۔ کیا؟

حضرات! آپ کو اخبارات سے معلوم ہوا ہوگا کہ حضرت مولوی محمد عبدالجبار صاحب الخیری ایم اے دہلوی نے ١٩١٩ء سے برلن میں علم توحید نصب کیا۔ جب کام بڑھ گیا تو انہوں نے خواجہ کمال الدین صاحب (قادیانی) سے اعانت چاہی مگر خواجہ صاحب نے ان کو جواب تک نہ دیا۔

١٦

مولانا خیری کے خطوط اور نیز دیگر ذرائع سے ان کو جرمنی وہ جرمنی گئے برلن میں حالات کا مشاہدہ کیا۔ واپس آ لاہور خط لکھا۔ یہاں سے ایک مبلغ عبدالمجید صاحب ( صدر الدین صاحب (مرزائی) بھی پہنچ گئے۔ جماعت خیری ممدوح ہیں۔ صدر الدین صاحب کی خدمت میں مارشل رمزے پاشا بدیں غرض بھیجا کہ اشتراک عمل اشاعت وتبلیغ اسلام کا کام ہو تا کہ لوگوں کو ہنسنے کا موقع جب سے یہ احمدی پارٹیاں گئی ہیں کسی جرمن کے اسلام قبو حالانکہ پہلے ہر ہفتہ قریب قریب خبر آتی رہتی صاحب نے بری طرح ٹھکرا دیا۔ اس کی وجہ قارئین رسا اسلامی کو قائم کرنے اور رکھنے میں کوشاں ہے اور وہ سید ہے۔ اس کو نہ انگریزوں سے واسطہ ہے۔ نہ جرمنوں سے سلطنت برطانیہ ہے۔ جن کے داخلہ جماعت کے ذ سلطنت برطانیہ ہو وہ اس سے کسی طرح غافل رہ سکتے ہیں

چنانچہ اس کی کوششوں کا یہ رسالہ شاہد ہے ا موقعوں پر دوبارہ بغرض مکہ معظمہ جانا اور شریف یا شاہ حج ہماری توجہ کو اپنی طرف مبذول کرا رہا ہے۔ اب کوئی بتا اشتراک عمل کس طرح ہو سکتا ہے؟ ہمارے ان کے مذ زمین آسمان کا تفاوت ۔ ہندو سیاسیات میں ایک حد تک (سیاسیات) ایک حد تک سمجھوتا ہو سکتا ہے۔ مگر وہ جما کے خلاف گورنمنٹ کو اپنی خدمات پیش کرے اور مذہب اور ناجائز ثابت کرنے کا پروپیگنڈہ کرے۔ کس طرح ہ برادران اسلام! ایسی زبردست تحریک سے میں ملانے والی ہو بچنا اور بچانا آپ کا فرض ہے اور جماع دینا کہ وہ اپنی اشاعت کے کاموں میں ان لوگوں سے و و بہبودی کا باعث ہے۔ یورپ میں اسلام کو بدنام کرنے

صفحہ ١٢٣

مولانا خیری کے خطوط اور نیز دیگر ذرائع سے ان کو جرمنی میں اشاعت اسلام کا حال معلوم ہوا۔ وہ جرمنی گئے برلن میں حالات کا مشاہدہ کیا۔ واپس آکر امیر جماعت محمد علی صاحب (مرزائی) کو لاہور خط لکھا۔ یہاں سے ایک مبلغ عبدالمجید صاحب (مرزائی) فوراً بھیجے گئے اور کچھ عرصہ کے بعد صدر الدین صاحب (مرزائی) بھی پہنچ گئے۔ جماعت اسلامیہ برلن نے جس کے بانی مولانا خیری ممدوح ہیں۔ صدر الدین صاحب کی خدمت میں ایک وفد بسرکردگی جناب ترکی جنرل فیلڈ مارشل رمزے پاشا بدیں غرض بھیجا کہ اشتراک عمل کی کوئی صورت پیدا ہو جائے اور متحد ہو کر اشاعت تبلیغ اسلام کا کام ہوتا کہ لوگوں کو ہنسنے کا موقع نہ ملے، اور نہ کام میں رکاوٹ پیدا ہو۔ مگر جب سے یہ احمدی پارٹیاں گئی ہیں کسی جرمن کے اسلام قبول کرنے کی اطلاع موصول نہیں ہوئی۔

حالانکہ پہلے ہر ہفتہ قریب قریب آتی رہتی تھی۔ افسوس کہ اس سمجھوتہ کو صدر الدین صاحب نے بری طرح ٹھکرا دیا۔ اس کی وجہ قارئین رسالہ ہٰذا سے مخفی نہ رہے گی۔ ایک باعث شان اسلامی کو قائم کرنے اور رکھنے میں کوشاں ہے اور وہ سیدھے اور سچے اسلام کی اشاعت و تبلیغ کر رہی ہے۔ اس کو نہ انگریزوں سے واسطہ ہے۔ نہ جرمنوں سے تعلق۔ دوسری جماعت کا مطمح نظر استحکام سلطنت برطانیہ ہے۔ جن کے داخلہ جماعت کے دس اصولوں میں سے ایک اصول استحکام سلطنت برطانیہ ہو وہ اس سے کسی طرح غافل رہ سکتے ہیں۔

چنانچہ اس کی کوششوں کا یہ رسالہ شاہد ہے اور خواجہ کمال الدین صاحب کا ایسے نازک موقعوں پر دوبارہ بغرض مکہ معظمہ جانا اور شریف پاشائے حجاز کا مہمان ہونا بھی اپنی خاموش زبان سے ہماری توجہ کو اپنی طرف مبذول کرا رہا ہے۔ اب کوئی بتائے کہ اس قسم کی دو جماعتوں میں اتحاد اور اشتراک عمل کس طرح ہو سکتا ہے؟ ہمارے ان کے مذہب میں فرق ہماری ان کی سیاست میں زمین آسمان کا تفاوت۔ ہندو سیاسیات میں ایک حد تک ہمارے ہم آہنگ ہیں۔ ان سے ان میں (سیاسیات) ایک حد تک سمجھوتہ ہو سکتا ہے۔ مگر وہ جماعت جو سیاسیات میں مظلوم ہندوستانیوں کے خلاف گورنمنٹ کو اپنی خدمات پیش کرے اور مذہب میں افغانستان میں جا کر جہاد کی لغویت اور ناجائز ثابت کرنے کا پروپیگنڈہ کرے۔ کس طرح ہم سے اتحاد کر سکتی ہے۔

برادران اسلام! ایسی زبردست تحریک سے جو اسلام کی حقانی اور روحانی قوت کو خاک میں ملانے والی ہو بچنا اور بچانا آپ کا فرض ہے اور جماعت اسلامیہ برلن کو مدد دے کر اتنا قوی بنا دینا کہ وہ اپنی اشاعت کے کاموں میں ان لوگوں سے دب کر نہ رہنے پائے۔ آپ کی آئندہ فلاح و بہبودی کا باعث ہے۔ یورپ میں اسلام کو بدنام کرنے والوں نے پہلے ہی سے بہت بدنام کر رکھا

صفحہ ١٢٤

ہے۔ اور یہی وجہ ہے کہ یورپ کو مسلمانوں کے ساتھ کوئی ہمدردی نہیں ہے۔ حضرت مولانا خیری مدظلہ نے برلن میں اپنی تحریر، تقریر اور عملی نمونہ سے اس طرح اسلام کو پیش کیا کہ علماء جرمنی گرویدہ ہوکر حلقہ بگوش اسلام ہونے لگے۔ یہ ڈاکٹر شویس جن کا ذکر خیر اس رسالہ میں ہے اور آج کل بمصداق مثل ”جس کی ہنڈیا ڈوئی اس کا ہر کوئی“ قادیانی پارٹی کی حمایت میں ہیں۔ حضرت مولانا خیری کی سادہ زندگی اور اخلاقی قوت کی تعریف کئے بغیر نہ رہ سکے۔

(ملاحظہ ہو اخبار مسلم دہلی مجریہ ٢٠؍ مارچ ١٩٢٣ء ترجمہ از اخبار کرائیل)

حضرات اگر ہم نے جماعت اسلامیہ کو مدد دے کر تقویت پہنچائی تو علاوہ بیشی تعداد کے جماعت کے بطفیل یورپ میں حاصل ہوگی ہم کو حسب ذیل فائدے اور بھی پہنچیں گے۔

اگر آپ چاہتے ہیں کہ خاموشی سے ان فوائد کو حاصل کر لیں تو آپ کے لئے دو امور ہیں ایک تو آپ جماعت اسلامیہ برلن کو تقویت پہنچائیے تا کہ یورپ میں آپکی آواز سنی جائے اور آپ کے مصائب پر آنکھیں نم ہوں۔ دوسرے اپنی حالت کو سدھارنے کے لئے تعلیم لیجئے اور جماعت اسلامیہ برلن سے ملحق ہوکر جمعیۃ المسلمین کا انتساب فرمائیے اور ایسی جماعت بنائیے جو واقعی جماعت کہلانے کے لائق ہو۔ خاموشی سے ٹھوس کام کیجئے۔ سب سے بڑی قوت سب سے زبردست طاقت اخلاقی ہے۔ جس قوم نے یہ حاصل کر لیا اس نے ہمہ نعمت حاصل کر لی۔ یاد رکھئے کہ آپ کو اپنی حالت درست کرنی ہے۔ ”دھن تو اپنی دھن اور کی دھن سے پاپ نہ پن۔“

آخر میں ہم بتا دینا چاہتے ہیں کہ جماعت اسلامیہ کے پریزیڈنٹ حضرت جلیل پاشا امیر داغستان۔ اور سیکرٹری محمود شوکت البانی ہیں۔ اس جماعت میں ٤١ مختلف ممالک کے مسلمان ممبر ہیں۔

خادم الاسلام ...... محمد عبدالغفار الخیری پھاٹک حبش خاں دہلی

١٨

خاتم النبیین

انکشاف ح

(احمدی ا

جناب ڈاکٹر منص

PDF 126

خاتم النبیین

مَا كَانَ مُحَمَّدٌ اَبَآ اَحَدٍ مِّنْ رِّجَالِكُمْ وَلٰكِنْ رَّسُوْلَ اللّٰهِ وَخَاتَمَ النَّبِيّٖنَ

انا خاتم النبیین لا نبی بعدی

انکشاف حقیقت

(احمدی اسلام)

جناب ڈاکٹر منصور ایم رفعت

صفحہ ١٢٦

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

التماس مترجم

میں چاہتا تھا کہ ترجمہ ادب اردو کا نمونہ ہو اور چونکہ میں خود کم علم ہوں۔ اس لئے تقریباً ترجمہ میں ادب کے چٹخارے تو نہ ہوں گے۔ لیکن یہ ضرور ہے کہ مطلب خبط اور فوت نہ ہوگا میری بے بضاعتی اور کثرت مشاغل عدیم الفرصتی نے اتنی مہلت نہ دی کہ جلد ترجمہ ہدیہ ناظرین کو دیتا ادھر ڈاکٹر منصور ایم رفعت نے دوسرا رسالہ بھیج دیا۔ جس کی وجہ سے اور تاخیر ہوگئی کہ دونوں ایک ساتھ ہی شائع ہو جائیں۔ اخبارات میں شائع ہوا تھا کہ یہ ترجمہ قیمتاً روانہ ہوگا مگر اس کی اشاعت عام کو ضروری سمجھ کر کوئی قیمت مناسب نہ سمجھی گئی۔ اللہ کے بندے جن کے پہلو میں دل اور دل میں درد اور جوش اسلامی ہوگا یوں بھی جماعۃ اسلامیہ برلین کی اعانت کو ہاتھ بڑھائیں گے۔ لہٰذا اس کی قیمت یہی ہے کہ ایک مرتبہ شروع سے آخر تک پڑھئے اپنے دوست و احباب کو بھی دکھائیے یا پڑھ کر سنائیے اور صاحب وسعت اصحاب اس کو چھپوا کر مفت تقسیم کریں۔

خاکسار نے جو مضمون اخبارات میں دیا تھا اس پر قادیانی پارٹی مجھ سے سخت ناراض ہے۔ چنانچہ اپنے اخبار الفضل مورخہ ٢٦؍ اکتوبر ١٩٢٣ء، ٣٠؍ اکتوبر ١٩٢٣ء میں نہایت سخت سست لکھا ہے۔ قارئین رسالہ ہٰذا خود دیکھ لیں گے کہ جو ثبوت ڈاکٹر منصور رفعت نے ان ہی کی کتب وغیرہ سے دیئے ہیں۔ ان کی بناء پر یہ ہر دو پارٹیاں قادیانی اور لاہوری مورد الزام ہیں یا نہیں۔ مجھ کو تو گالیوں کا جواب دینا نہیں آتا نہ مجھ کو میرے خدا نے یا اس کے رسول ﷺ نے قولاً یا فعلاً اس قسم کا حکم یا تعلیم دی پس ایسوں کا جواب خاموشی ہی ہوسکتا ہے۔

اخبار میں تو اس رسالہ کا ذرا سا اقتباس شائع ہوا تھا جو بمنزلہ پٹاخے کے تھا مگر اب دیکھئے اس جنگی توپ کے چلنے پر قادیان سے ہمارے لئے کیا گالی بن کر آتی ہے۔

نالہ لب تک بھی پہنچا کہ اثر دکھلایا
گولی لگتی ہے نشانے پہ صدا سے پہلے

قارئین کرام سے درخواست ہے کہ اپنا کام آپ سنبھالئے۔ دوسروں پر کام چھوڑنے سے دوالے ہی کی امید ہوسکتی ہے۔ اس رسالہ کے پڑھنے والے جان لیں گے کہ یہ پارٹیاں کیسا کام کر رہی ہیں اور کہاں تک مسلمانوں کی اعانت کی مستحق ہیں اور وہ جو خاموشی سے دین متین کی

٢

صفحہ ١٢٧

خدمت میں کمر بستہ ہیں۔ ان کی مدد نہ کر کے ہمارے ہی ہاتھوں اسلام کو کس قدر نقصان پہنچ رہا ہے۔ کاش مسلمان اب بھی اپنے فرض کو پہچانیں۔ فقط! خادم اسلام۔ محمد عبدالغفار الخیری، عفاء اللہ عنہ پھاٹک حبش خان دہلی

فرقہ احمدیہ

برٹش شہنشاہیت کا ہراول دستہ اور اسلام کے لئے سب سے بڑا خطرہ

ان کے فریب کا ثبوت بین

مؤلفہ ومصنفہ جناب ڈاکٹر منصور ایم رفعت

پریذیڈنٹ مصری کلب (جنیوا اور سوئٹزرلینڈ) اور ایڈیٹر ”دلا پٹیری ایجپشن“ انتباہ بابت اس پروپیگنڈے کے جو قوم کے لئے کے نہایت مقدس جذبات پر اثر کرتا ہے اور اکثر مہلک ہے۔

میں ایک لمحہ کے لئے اپنی کمزور آواز اس بیرونی پروپیگنڈے کے خلاف بلند کرنے میں توقف کرتا ہوں جو قومی قلوب کو آج کل برباد کر رہا ہے۔ اس پروپیگنڈہ کا منبع سلطنت برطانیہ خاص طور سے ہے یہ ہماری خبروں کے ذرائع تک کو آلودہ کرتا ہے۔ یہ انسان کے نہایت مقدس جذبات پر اثر کرتا ہے اور اکثر بنی نوع انسان کے سب سے زیادہ مقدس مقصد کا مدعی بنتا ہے وہ عوام تک پہنچتا ہے۔ شہری اور تجارتی انجمنوں ،نسوانی کلبوں، مطبعوں اور منبروں تک پہنچتا ہے۔ اس کا اظہار اکثر خبروں کے پیرایہ میں ہوتا ہے اور بسااوقات ہمدردانہ اور مذہبی اپیل کی شکل میں۔

ماخوذ از تقریر سنیٹر ہیرم جانسن ۔ از اخبار گیلک امریکن نمبر ٣١ نیویارک ٤ اگست ١٩٢٤ء

تنبیہ

بدقسمتی سے بعض مقامی اخبارات نے غلط خبر کی بناء پر شائع کر دیا ہے کہ جماعت اسلامیہ فی برلین دو مختلف حصوں میں منقسم ہو گئی ہے ایک کا نام انہوں نے موافق انگریز اور دوسری کا مخالف انگریز رکھا ہے۔

مزید برآں یہ بھی درج کیا ہے کہ فریمجھ پلاز میں عنقریب دوسری پارٹی بمقابلہ پہلی کے ایک مسجد تعمیر کرنے والی ہے۔ واقعہ یہ ہے کہ جماعت اسلامیہ برلین کے تمام ممبر باہم متحد ہیں

٣

صفحہ ١٢٩

اور سب احمدی ایجنٹوں کی تحریکات اور ان کی تمام تجاویز اور معاملات کو نہ ماننے اور برا سمجھنے میں متفق ہیں۔

علاوہ ازیں وہ ہر دو احمدی سرگروہوں کی فاسد تحریکات سے پبلک کو متنبہ کرتے ہیں جو دراصل ایک ہی ہیں۔ باوجود اس کے کہ ان سرگروہوں میں سے ہر ایک الگ الگ نام سے اپنے کو ظاہر کرتا ہے۔ ایک نے تو ولمرسڈورف میں تعمیر مسجد شروع کر دی ہے اور دوسرا فہربیلینر پلاز میں عنقریب بنیاد ڈالنے والا ہے۔ کھلے ہوئے اسباب کی وجہ سے ایک اپنے آپ کو انگریزوں کا دوست اور دوسرا انگریزوں کا مخالف ظاہر کرتا ہے۔ جرمنی کے تمام مسلمان اس مسجد پر قانع تھے جو جرمن گورنمنٹ نے بمقام ونسڈورف نزد برلین ١٩١٤ء میں تعمیر کرائی تھی۔

دیباچہ

اگرچہ تحریک احمدیہ کے بانی مرزا غلام احمد قادیانی نے اس تحریک کو ہند میں نومبر ١٩٠٠ء کو جاری کیا۔ لیکن میں نے کبھی اس کی تعلیم اور بنیادی اصولوں پر توجہ نہیں کی تھی جب تک کہ مجھ کو برلین میں اس کی تحریک کے ایک لیڈر سے ملنے اور اس موضوع پر کئی بار دلچسپ گفتگو کا موقع نہ ملا ان کو مجھے احمدی بنا لینے کا اس قدر یقین تھا کہ انہوں نے مجھ کو اپنے ایک رسالہ کا جو ابھی تک زیر طبع ہے اور جس کو فرانسیسی زبان میں وہ شائع کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ پروف شیٹ بغرض اشاعت دیا۔ اس وجہ سے مجھ کو برلن میں اس تحریک کا مطالعہ کرنے کا زریں موقع مل گیا۔ علاوہ ازیں مجھ کو اس موضوع پر اور بھی کئی رسالے مل گئے اور میں نے نہایت غور وتامل سے ان کو پڑھا۔ سب سے پہلی چیز جس نے میری توجہ کو مبذول کیا اور شبہ پیدا کیا اور احمدیوں کی پارٹی پروگرام کی انگلستان کے شہنشاہیت اور نو آبادیات کی آرزو اور پالیسی سے مکمل مطابقت تھی۔

اگر چہ لیڈرز (سرگروہ) نے مجھ کو بار بار یقین دلایا کہ یہ بالکل مذہبی ہے اور اس کو سیاسیات سے کوئی واسطہ نہیں ہے۔ لیکن ان کو بکثرت اعلانات میں جو وہ ہر جگہ تقسیم کرتے ہیں۔ ہر شخص دیکھ سکتا ہے کہ ان کی تحریر اور تقریر کی ہر سطر میں انگلستان کی مکمل اور اندھی وفاداری کا وعظ ہوتا ہے اور وہ اس کو اپنے اعتقاد کا جزو اوّل کہتے ہیں۔

دوسری چیز جس پر عمل کرنے کے لئے بہت زیادہ زور دیا جاتا ہے وہ عقیدہ جہاد کو اسلام سے بالکل اڑا دینا ہے۔ یعنی مسلمانوں کی مذہبی جنگ کو اگرچہ یہ جنگ بالکل دفاعی ہے اور مطلق

٤

جارحانہ نہیں ہے جیسا کہ بہت سے لوگ خیال کرتے دشمن ہمارے ملک و ملت یا مذہب پر حملہ کرے۔ ان قوت کا جس سے انگلستان بہت خائف ہے اور جـ سال کی زبردست سازشوں اور خراب کرنے کی کو کردیں۔ ان کے پروگرام میں تیسری سب سے احمدیہ کے بانی نے نہ صرف خود ایک مقدس اور متـ دحفاظت حکومت انگریزی مسلمانوں کے لئے ایک مضبوطی سے سہارے ہوئے ہیں۔

یہ امر عجیب ہے کہ اس وقت جب کہ سے اسلامی قوموں کو غلام بنانے میں اور مسلمانوں میں منہمک ہوں تو مسلمان یا ایک گروہ جو مسلمان رکھے جو اسلام کو مٹانے اور اس کی تعلیم کی تخریب اسلام پر سخت اور وحشیانہ حملوں کو نہیں بھول سکتا جو ہیں۔ کس طرح ایک مسلمان انگلستان کی تعدی ا مصر میں آئے دن کرتا رہتا ہے۔ ایک شخص کے پروپیگنڈہ پر نظر ڈالنا کافی ہے۔ جو صرف اسلام لئے تمام دنیا میں ہو رہا ہے۔ یا اس کھلی اور خفیہ کا دوران جنگ ترکی و یونان اور قبضہ قسطنطنیہ یہود تقسیم کرنے سے ظاہر کی۔

تاریخ اسلام کے اس نازک موقع پر گھروں سے حملہ آوروں کو نکال دیں۔ اس کام بلکہ قومی جماعتیں بنانے اور اعلیٰ درجے کی جدیـ ترکی بترکی جواب دے سکیں ۔ ہمارے نبی محمـ عبادت سے بہتر ہے وہ اور کونسی چیز ہے جو اپنے

صفحہ ١٢٩

جارحانہ نہیں ہے جیسا کہ بہت سے لوگ خیال کرتے ہوں گے۔ کیونکہ اس کا حکم اس وقت ہے جبکہ دشمن ہمارے ملک ملت یا مذہب پر حملہ کرے۔ ان کا مقصد یہ ہے کہ اسلام کی اخلاقی اور روحانی قوت کا جس سے انگلستان بہت خائف ہے اور جن مردانہ اور عمدہ صفات کو وہ باوجود اپنی سالہا سال کی زبردست سازشوں اور خراب کرنے کی کوششوں کے مسلمانوں سے جدا نہ کر سکا۔ خاتمہ کردیں۔ ان کے پروگرام میں تیسری سب سے بھیانک بات مسئلہ خلافت ہے۔ کیونکہ فرقہ احمدیہ کے بانی نے نہ صرف خود ایک مقدس اور ممتاز رسول ہونے کا دعویٰ کیا۔ بلکہ تمام زیر نگرانی حفاظت حکومت انگریزی مسلمانوں کے لئے ایک خلیفہ ہونے کا بھی جس کو اس کے متبعین بہت مضبوطی سے سہارے ہوئے ہیں۔

یہ امر عجیب ہے کہ اس وقت جب کہ تمام انگلستان کی شاہی فوجیں پورے زور و شور سے اسلامی قوموں کو غلام بنانے میں اور مسلمانوں کے مقدس مقامات مکہ مدینہ کو اپنے زیر اثر لانے میں منہمک ہوں تو مسلمان یا ایک گروہ جو مسلمان ہونے کا مدعی ہو۔ ایسی قوت سے دوستانہ تعلق رکھے جو اسلام کو مٹانے اور اس کی تعلیم کی تخریب پر تلی ہوئی ہے۔ کوئی سچا مسلمان گلیڈسٹون کے اسلام پر سخت اور وحشیانہ حملوں کو نہیں بھول سکتا جو اب تک حکومت انگلشیہ کا خاص مقصد بنی ہوئی ہیں۔ کس طرح ایک مسلمان انگلستان کی تعدی اور ظلم کو بھول سکتا ہے جو وہ ہندوستان، ایران اور مصر میں آئے دن کرتا رہتا ہے۔ ایک شخص کے لئے انگلستان کے اس متواتر اور باقاعدہ آرمینی پروپیگینڈہ پر نظر ڈالنا کافی ہے۔ جو صرف اسلام کو زیر کرنے اور اسلامی تعلیم کی تخریب کرنے کے لئے تمام دنیا میں ہو رہا ہے۔ یا اس کھلی اور خفیہ کارروائی پر نظر ڈالنا جو ابھی حال میں انگلستان نے دوران جنگ ترکی و یونان اور قبضہ قسطنطنیہ یہودیوں کے فلسطین حوالہ کرنے اور جزیرۃ العرب کی تقسیم کرنے سے ظاہر کی۔

تاریخ اسلام کے اس نازک موقع پر سب سے زیادہ مسلمانوں کا فرض یہ ہے کہ وہ اپنے گھروں سے حملہ آوروں کو نکال دیں۔ اس کام کو سرانجام وہ صرف تعمیر مساجد سے نہیں کر سکتے۔ بلکہ قومی جماعتیں بنانے اور اعلیٰ درجے کی جدید تعلیم سے کر سکتے ہیں۔ تاکہ وہ ہمارے دشمنوں کو ترکی بترکی جواب دے سکیں۔ ہمارے نبی محمد ﷺ نے خود فرمایا کہ ایک گھنٹہ کا تفکر ہزار گھنٹہ کی عبادت سے بہتر ہے وہ اور کونسی چیز ہے جو اپنے ملک کی آزادی اور اس کے باشندگان کی مظلومانہ

٥

صفحہ ١٣١

حالت سے زیادہ مستحق تعمیل ہو۔ قرآن ہم کو تعلیم دیتا ہے۔ ”جو تم کو ایذاء پہنچائے تم کو اس کی مخالفت کرنے کی اجازت ہے۔“

جماعت اسلامیہ برلین کے لئے سب سے زیادہ تکلیف دہ امر یہ ہے کہ مقامی مطامع کا ایک حصہ سیاسی وجوہات سے مسلمانوں کو دو مختلف گروہوں میں منقسم کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ ان میں سے ایک کا وہ رفقائے انگلستان اور دوسرے کا دشمن انگلستان نام رکھتا ہے۔ در حقیقت تمام مسلمان انگلستان سے بالاتفاق متنفر ہیں۔ کیونکہ وہ اس کو اسلام اور تمام ایشیاء کے لئے عذاب تصور کرتے ہیں اور فرقہ احمدیہ کو سچے مسلمان تو درکنار مسلمان ہی نہیں مانتے۔

ڈاکٹر منصور ایم رفعت ...... برلن شونے برگ ۔ ١٥ اگست ١٩٢٣ء

نوٹ: میں تعمیر مساجد یا تعمیر گرجا کا مخالف نہیں ہوں۔ جب کبھی جائز ہو۔ برخلاف اس کے میرا اس پر پکا اعتقاد ہے کہ بنی نوع انسان کی سچی نجات صرف مذہبی اصولوں پر سختی سے پابندی کرنے سے حاصل ہو سکتی ہے۔

بہر حال یہ امید ہو سکتی ہے کہ تمام سنجیدہ تر مرد و عورت اس گروہ کو لعنت ملامت کرنے میں ہمارے ہم نوا ہوں گے جو دنیوی اور بے کار وجوہات کے لئے ایسے مقدس عبادت گاہوں کا نام بدنام کرتے ہیں تاکہ ہماری توجہ ہمارے مظلوم ممالک کی نجات اور خدائے بزرگ و برتر کی عبادت سے ہٹا دیں۔

پروفیسر جبار خیری سے ملاقات

اپنے بیانات میں زیادہ واقعات درج کرنے اور پر اثر کرنے کے لئے میں جماعت اسلامیہ برلین کے امام پروفیسر جبار خیری سے ملا جو اسلامی علوم سے بخوبی واقف ہیں اور اپنے ملک ہندوستان کی حالت کو خوب جانتے ہیں۔ میں نے ان سے بہت سے اہم سوالات متعلق بنیاد فرقہ احمدیہ کے کئے اور مجھ کو بڑی خوشی ہے کہ حسب ذیل نہایت دلچسپ مواد مجھ کو حاصل ہوا۔ فرقہ احمدیہ کے دونوں پارٹیوں کے متعلق جو عنقریب برلین میں مساجد بنانے کا ارادہ کر رہے ہیں۔ صاف صاف اور مختصر جواب دینا آسان کام نہیں ہے۔ لیکن چونکہ آپ مجھ سے اس معاملہ پر روشنی ڈالنے کے لئے مصر ہیں۔ میں بالاختصار بیان کرتا ہوں۔

١...... ابتداء فرقہ

یہ ایک عجیب بات ہے کہ فرقہ احمدیہ کی خاص کارروائی کو ہند میں لارڈ کرزن کے عہد

٦

حکومت سے تعلق ہے۔ اس وائسرائے کے دوران حکو روس کے حملہ بشمول سرحدی اقوام درمیان افغانستان و ہند بہ لارڈ کرزن نے ہند کے اس حصہ پر بہت سی انتظامی تبد اس لئے ان کو خاص پروپیگنڈہ کی ضرورت ہوئی۔

چونکہ انگریزوں نے ہند کی حکومت مسلما مخالفت کرنے والوں کی جن کو مجاہدین کہتے ہیں۔ سرحدی ا ان مہاجرین سے تقویت پہنچتی رہی۔ یہ مجاہدین عقیدہ جہا کے بموجب تعلیم قرآنی انگریزوں کو اس جگہ سے نکالنے می سے ان کو نکالا ہے۔ (قرآن ٢، ١٩١) یہ عقیدہ جہاد پر خاص موجب زحمت تھا۔ انگریزوں کے لئے اس تکلیف کے ذری

بنا بریں اسی زمانہ میں ایک نئی تحریک ہندؤوں میں شرو جو انگریزوں کے موافق نہ تھی۔

ایسی حالتوں میں ایک ایسے شخص کی ضرو باپ، چچاؤں اور دیگر اقرباء نے ١٨٥٧ء کی عظیم ج ساتھ دے کر امتیاز حاصل کیا تھا۔ جب کہ انگریزوں کی حکو

(وفد ایڈریس از جماعت احمدیہ) اس شخص کا نام مرزا غلا احمد قادیانی تھا جن کے بارے میں اعتقاد ہے کہ اغیار کی ف ہونے کا دعویٰ کیا۔ اس نے ان دعوؤں کی بنیاد اللہ تعا خدا کا رسول بھی ظاہر کیا۔ اس اسناد کے ساتھ اس کو اطاعت حاصل کرلے گا۔

٢...... فرقہ کے اصول

باوجود ان عظیم الشان دعوؤں کے وہ اس مدعی ہے کہ اس نے اسلام کی تمام تعلیم کو تسلیم کیا۔ صرف جہاد کے معنی کئے۔ لیکن بحیثیت ایک آزاد نبی کے اس ن تعلیم دی جو اس کے فرقہ یا پیشین گوئی کے امتیازی امور ہ

٧

صفحہ ١٣١

حکومت سے تعلق ہے۔ اس وائسرائے کے دوران حکومت میں مجاہدین (ہندوستانی مذہبی جنگجو) کے حملہ بشمول سرحدی اقوام درمیان افغانستان و ہند بکثرت اور تند ہونے لگے۔ اس وجہ سے لارڈ کرزن نے ہند کے اس حصہ پر بہت سی انتظامی تبدیلیاں کر کے خاص توجہ مبذول کی جس کے لئے ان کو خاص پروپیگنڈہ کی ضرورت ہوئی۔

چونکہ انگریزوں نے ہند کی حکومت مسلمانوں سے چھینی تھی ایک تعداد سرگرم جنگ کرنے والوں کی جن کو مجاہدین کہتے ہیں۔ سرحدی اضلاع کو ہجرت کر گئی جن کو وقتاً فوقتاً نئے مہاجرین سے تقویت پہنچتی رہی۔ یہ مجاہدین عقیدہ جہاد (مذہبی جنگ) پر کامل اعتقاد رکھتے ہیں اور بموجب تعلیم قرآنی انگریزوں کو اس جگہ سے نکالنے میں کوشاں ہیں۔ جہاں سے انگریزوں نے ان کو نکالا ہے۔ (قرآن ٢، ١٩١) یہ عقیدہ جہاد پر خاص عمل کرنا انگریزوں کے لئے موجب صد زحمت تھا۔ انگریزوں کے لئے اس تکلیف دہ عقیدہ کو رفع کرنا نہایت اہمیت رکھتا تھا۔ علاوہ بریں اسی زمانہ میں ایک نئی تحریک ہندوؤں میں شروع ہوئی جو آریہ سماج کہلاتی ہے۔ یہ تحریک بھی انگریزوں کے موافق نہ تھی۔

ایسی حالتوں میں ایک ایسے شخص کی صورت میں انگریزوں کو غیبی مدد ملی جس کے باپ، چچاؤں اور دیگر اقرباء نے ١٨٥٧ء کی عظیم جنگ میں انگریزوں کی شاندار خدمات انجام دے کر امتیاز حاصل کیا تھا۔ جب کہ انگریزوں کی حکومت ہند میں متزلزل تھی۔ (دیکھو سپاسنامہ پرنس آف ویلز از جماعت احمدیہ) اس شخص کا نام مرزا غلام احمد تھا۔ اس نے مسیح موعود مہدی (رہبر المسلمین جن کے بارے میں اعتقاد ہے کہ اغیار کی غلامی سے نجات دلائیں گے) اور اوتار کرشن ہونے کا دعویٰ کیا۔ اس نے ان دعوؤں کی بنیاد اللہ تعالیٰ کے الہام خصوصی پر رکھی۔ جس نے اس کو خدا کا رسول بھی ظاہر کیا۔ ان اسناد کے ساتھ اس کو امید تھی کہ وہ مسلمانوں اور ہندوؤں کی پوری اطاعت حاصل کر لے گا۔

٢...... فرقہ کے اصول

باوجود ان عظیم الشان دعوؤں کے وہ اسلام کو چھوڑنے کی جرأت نہ کر سکا۔ معلوم ہوتا ہے کہ اس نے اسلام کی تمام تعلیم کو تسلیم کیا۔ صرف تمام عالم کے علماء کے خلاف نئے اور ہیر پھیر کے معنی کئے۔ لیکن بحیثیت ایک آزاد نبی کے اس نے نہایت زور اور سرگرمی سے حسب ذیل تعلیم دی جو اس کے فرقہ یا مشن کے امتیازی امور ہیں۔

٧

صفحہ ١٣٣

میں تمام انبیاء کی صفات مجتمع تھیں۔ اس طرح اس نے اپنی شخصیت کو قائم کر کے تعلیم دی۔

علامت ہے۔ اس کی تعلیم کا بنیادی اصول گورنمنٹ انگریزی کے احکام کی پوری پوری اطاعت ہے۔ انگریزوں کے خلاف ہر قسم کی تحریکیں ۔ جھگڑے، سڈیشن، ایجی ٹیشن، خدائی الہام کے ذریعہ سے ممنوع ہیں۔ اس معاملہ کو جماعت (احمدیہ) نے پرنس آف ویلز کے ایڈریس خیر مقدم میں خاص زور سے پیش کیا ہے کہ باوجود ان کے ہم وطنوں کے زور ڈالنے کے دوران جنگ اور بعد جنگ کے سخت زمانہ میں بال برابر بھی انگریزوں کی وفاداری سے نہیں ڈگمگائے۔ انہوں نے سخت سے سخت تکالیف برداشت کیں۔ مگر خدا کے حکم کی نافرمانی نہ کی۔ سالہا سال کے لئے انگریزی حکومت کو ہندوستان میں مستحکم (قیام پذیر) کرنے کے لئے اس نے اپنا عقیدہ جہاد (جنگ مذہبی) کے خلاف تقریر تحریر سے مخالفت کی۔

اس کی ان تعلیمات نے خاص طور سے انگریزوں کی نظر میں وقعت حاصل کی۔ اس کے پاس بہت سے خطوط خوشنودی کے اور اس کی نبوت کے اسناد پہنچے۔ سرحد افغانستان کے قسمت پشاور کے ایک کمشنر اور سپرنٹنڈنٹ سر فریڈرک کننگہم اس کی تعلیم کی توجیہات کو نہایت روشن توجیہات اسلامی خیال کرتا ہے اور زور دیتا ہے کہ اس کی تصانیف اور فتویٰ مخالف جہاد سرحدی علاقہ جات میں بکثرت تقسیم کئے جائیں تا کہ مجاہدین کے پے در پے حملوں اور جہاد سے خلاصی ہو۔ یہی اس کی تعلیمات کا مغز ہے۔ اس صورت میں اس نے یا اس کی جماعت نے گورنمنٹ کی رہنمائی اور پوری حمایت پر ہمیشہ بھروسہ کیا۔

تحریک کے شروع میں اس کی تعلیمات کو مقدس قوت دینے کے لئے اس کی شخصیت پر سب سے زیادہ زور دیا گیا۔ بحیثیت مسیح موعود مہدی اور اوتار کرشن یقیناً یہ ظاہر کرنا تھا کہ اس کے کئی معجزے بھی ہیں۔ اس کو بطور اللہ کے رسول کے ماننا تھا۔ جس نے اس کو ایسا نہ مانا وہ کافر تھا۔ جو لوگ احمدی ہو گئے تھے ان کو غیر احمدیوں سے قطع تعلقات ضروری تھا۔ مسلمانوں کے رسومات تجہیز وتکفین میں احمدیوں کو شرکت کی اجازت نہ تھی۔ کیونکہ احمد نے کہا کہ ”وہ ایک کافر کی اللہ سے سفارش کس طرح کر سکے گا۔“ ہر مال کے گاہک ہوتے ہیں تو اس کو بھی خصوصاً طبقہ ادنیٰ میں اور ان

٨

لوگوں میں جو انگریزوں کی نظر میں وقعت حاصل کرنا چا علاوہ بھی ہیں۔ تمام علماء اسلام نے بالاتفاق اس کو اور ا کلام الٰہی اور اللہ کے رسول ﷺ کی تعلیم مندرجہ حد النبیین تھے کوئی دوسرا اللہ کا رسول نہیں آسکتا۔ احمدیوں

ان لوگوں نے جو احمدیوں میں ہوشیار تھے تاکہ ان کا دائرہ اثر وسیع ہوسکے۔ لہٰذا انہوں نے بانی ک مفید معلوم ہوا۔ بعض وقت انہوں نے اس سے قطعی انک اصولوں پر زور دیا اور برابر انگریزوں کی مکمل اطاعت ک وغیرہ کے گناہ ہونے پر وعظ وغیرہ کرتے رہے۔ اس طر پارٹی جو بانی کی شخصیت پر زور ڈالتی ہے اور اس کی تعلیم (برلین) میں بماتحتی مبارک علی ہے۔ جس نے کل قیم پارٹی جو نہ صرف تعلیم ہی پر اشد زور دیتی ہے۔ بلکہ خا اور ترک جہاد پر بھی وہ کنگ انگلستان میں بماتحتی کمال ہے کہ انہوں نے شریف مکہ کو توڑ لیا اور اس طرح آ انگریزوں کی مدد کی۔ جس میں تمام مقدس مقامات مس بمراہی لارڈ ہیڈلے۔ ایک انگریز جن کو کہا جاتا ہے کہ مشغول ہیں۔

اب لیجئے چونکہ جنگ عالم نے انگریزوں ک سے اب انگریزوں کو پسند نہیں کرتے۔ وہ انگریزوں ہیں۔ اسی طرح کمال الدین کی خفیہ پارٹی کا اثر بہت

ان وجوہات سے ایک نئی شاخ ضروری ہو پر پورا اعتقاد رکھتے ہوئے موقع اور وقت کے لحاظ ہیں۔ اس وجہ سے ان کو ڈبل خفیہ کہنا زیبا ہے۔ یعنی

١؂ اقتباس پمفلٹ موسومہ ”اے پریذیڈنٹ ٢؂ اقتباس کتاب موسومہ ”انڈیا ان دی پ

٩

صفحہ ١٣٣

لوگوں میں جو انگریزوں کی نظر میں وقعت حاصل کرنا چاہتے تھے مل گئے۔ ہاں کہیں کہیں ان کے علاوہ بھی ہیں۔ تمام علماء اسلام نے بالاتفاق اس کو اور اس کے متبعین کو ملحد اور کافر قرار دیا۔ کیونکہ کلام الٰہی اور اللہ کے رسول ﷺ کی تعلیم مندرجہ حدیث کے بموجب محمد ﷺ کے بعد جو خاتم النبیین تھے کوئی دوسرا اللہ کا رسول نہیں آسکتا۔ احمدیوں نے قرآن کا ترجمہ بھی غلط کیا ہے۔

ان لوگوں نے جو احمدیوں میں ہوشیار تھے۔ اپنے اصولوں میں تبدیلی کرنی مفید سمجھی تاکہ ان کا دائرہ اثر وسیع ہو سکے۔ لہٰذا انہوں نے بانی کی شخصیت کو پس پشت ڈالا۔ جب کبھی ان کو مفید معلوم ہوا۔ بعض وقت انہوں نے اس سے قطعی انکار کیا۔ بایں ہمہ انہوں نے بانی کے بنیادی اصولوں پر زور دیا اور برابر انگریزوں کی مکمل اطاعت عقیدہ جہاد کی تقویت اور مخالفت وسڈیشن وغیرہ کے گناہ ہونے پر وعظ وغیرہ کرتے رہے۔ اس طرح فرقہ احمدیوں کے دو ٹکڑے ہو گئے۔ کھلی پارٹی جو بانی کی شخصیت پر زور ڈالتی ہے اور اس کی تعلیم کی لفظ بلفظ اتباع کرتی ہے۔ یہ پارٹی یہاں (برلن) میں بہ ماتحتی مبارک علی ہے۔ جس نے کل قیصردیم میں مسجد کا بنیادی پتھر نصب کیا۔ خفیہ پارٹی جو نہ صرف تعلیم ہی پر اشد زور دیتی ہے۔ بلکہ خاص کر دو بنیادی امور، انگریزوں کی وفاداری اور ترک جہاد پر بھی ووکنگ انگلستان میں بہ ماتحتی کمال الدین ہے۔ کمال الدین کی بابت کہا جاتا ہے کہ انہوں نے شریف مکہ کو توڑا اور اس طرح آخری صلیبی جنگ میں فتح یاب ہونے میں انگریزوں کی مدد کی۔ جس میں تمام مقدس مقامات مسلمانوں کے قبضہ سے نکل گئے۔ یہ آج کل بہمراہی لارڈ ہیڈلے۔ ایک انگریز جن کو کہا جاتا ہے کہ مسلمان ہو گئے ہیں۔ مصر میں سازشوں میں مشغول ہیں۔

اب لیجئے چونکہ جنگ عالم نے انگریزوں کو اسلام کا دشمن ثابت کر دیا۔ مسلمان عام طور سے اب انگریزوں کو پسند نہیں کرتے۔ وہ انگریزوں کی وفاداری کے وعظ سنتے سنتے تھک گئے ہیں۔ اسی طرح کمال الدین کی خفیہ پارٹی کا اثر بہت سے مسلمانوں پر سے جاتا رہا ہے۔

ان وجوہات سے ایک نئی شاخ ضروری ہوئی یہ تیسری پارٹی اپنے فرقہ احمدیوں کی تعلیم پر پورا اعتقاد رکھتے ہوئے موقع اور وقت کے لحاظ سے علانیہ اپنے اظہار خیالات میں بہت محتاط ہیں۔ اس وجہ سے ان کو ڈبل خفیہ کہنا زیبا ہے۔ یعنی وہ اپنے بانی کی شخصیت اور بعض وقت تعلیم کو

١؎ اقتباس پمفلٹ موسومہ ”اے پریزنٹ ٹو ہز آر ایچ دی پرنس آف ویلز“ ملاحظہ ہو۔

٢؎ اقتباس کتاب موسومہ ”انڈیا ان دی بیلنس“ ملاحظہ ہو۔

٩

صفحہ ١٣٥

بھی پس پشت ڈال دیتے ہیں۔ ایسے ہی لوگوں کے لئے لفظ منافقین استعمال کیا گیا ہے حقیقتاً احمدیوں کی کھلی پارٹی اس گروہ کو منافقین کی پارٹی کہتے ہیں۔ یہ لوگ بہت ہوشیار ہیں وہ عام طور سے اپنے آپ کو باوجود باضابطہ احمدیہ جماعت سے تعلق رکھنے کے معمولی مسلمان ظاہر کرتے ہیں۔ اکثر احمدی ہونے سے انکار کر دیتے ہیں۔ انگریزوں کے اسی قدر وفادار خادم ہو کر بھی جتنے دیگر احمدی ہیں وہ بعض اوقات انگریزوں کے خلاف بول دیتے ہیں اور نہ صرف یہ بلکہ ایسے طریقوں سے کام کرتے ہیں گویا کہ وہ انگریزوں کے دوست نہیں ہیں۔

یہ فرقہ کی سب سے زیادہ خطرناک پارٹی یہاں برلن میں زیر صدرالدین ہے جو کمال الدین کے ایجنٹ ہیں۔ صدرالدین نے ساڑھے تین برس تک ووکنگ انگلستان میں اس زمانہ میں کام کیا ہے۔ جبکہ کمال الدین دوران جنگ میں گئے ہوئے تھے۔ یہ بھی عجیب بات ہے کہ باوجود طریق کار میں ظاہری مخالفت کے رہنما یان خفیہ طور پر ملے ہوئے ہیں۔ تاکہ اگر ایک پارٹی ناکام ہو تو دوسری کامیاب ہو جائے۔ پس صاف ظاہر ہوتا ہے کہ اصل اسلامی تحریک کو پامال کرنے کے لئے ایک بڑی سازش ہورہی ہے۔ یہ بھی قابل نوٹ ہے کہ یہ مختلف قسم کے احمدی خاص کر انہیں مقامات پر پہنچتے ہیں جہاں بکثرت مسلمان طلباء بغرض حصول تعلیم وغیرہ جمع ہوتے ہیں۔

١٠ جنوری ١٩٠٣ء کو شمال مغرب سرحدی صوبہ کے خان محمد عجب خان ساکن زائدہ نے کہا کہ: ”بعض وقت ہم کو ایسے آدمیوں سے ملنے کا اتفاق ہوتا ہے کہ جو آپ کے دعوؤں سے بالکل ناواقف ہوتے ہیں۔ کیا ہم ایسے لوگوں کے پیچھے نماز پڑھ سکتے ہیں؟“ مہدی کا جواب ملاحظہ ہو۔ مسیح موعود نے جواب دیا: ”مجھ کو کسی ایسی جگہ کا علم نہیں، جہاں میری تعلیم اور دعوے نہ پہنچے ہوں گے اور اگر کہیں ایسے لوگ ہوں تو اپنا عقیدہ ان کے سامنے پیش کرو۔ اگر وہ قبول کرلیں تو وہ تم ہی میں سے ہیں اور تم ان کے ساتھ نماز ادا کر سکتے ہو۔ ورنہ نہیں۔ اس حالت میں اپنی نماز الگ

اے ہند کے جماعت احمدیہ کے صدر نے بمبئی کرانیکل مجریہ ٢٣ نومبر ١٩٢٢ء میں ایک خط مورخہ ١٨؍ اکتوبر ١٩٢٢ء شائع کرایا جس میں تحریر ہے: احمدیوں نے اشاعت اسلام کے کام کو جرمنی تک وسعت دینے کا فیصلہ کرلیا ہے اور خدا کے فضل سے احمدیوں کی چھوٹی سی لاہوری پارٹی برلن دو مشنریوں کو بھیجنے کے قابل ہوگئی ہے۔ پہلی کے نمائندے کمال الدین ہیں اور دوسری کے صدر الدین ہیں۔ جن کا کام ووکنگ میں ساڑھے تین سال تک بطور امام کے محتاج بیان نہیں ہے۔ ١٠

پڑھو۔ اللہ ایسے لوگ پیدا کرنا چاہتا ہے کہ جو اس کے نہ ما ان لوگوں سے ملو جن سے وہ تم کو الگ کرنا چاہتا ہے۔“

جبکہ ایک بڑی جماعت مختلف ملکوں اور پیشوں محبت کی زندگی بسر کر رہی تھی تو بدقسمتی سے صرف احمدیوں پبلک کو مسلمانوں میں اختلافات کے سننے کا موقع ملا وہ و ایک ایسے مصری کے ساتھ جس کو دعوت دی تھی کیا نہایت ا دھکے دیئے جو بزبان خود مذاہب امن و رواداری کی اشاع موقع پر احمدیہ مشن کی اول اشاعت کی یہ بہت اچھی ابتداء کی اس مہمان نوازی پر جو انہوں نے برتی شکریہ ادا کرتی کبھی یہ محسوس کرنے کا موقع نہ ملے گا کہ اس مہمان نوازی احمدیوں کی وفاداری انگلستان کے ساتھ انہی ک

ماخوذ از پمفلٹ مسمی بہ ”اے پریذیڈنٹ ٹو پ احمدیہ کمیونٹی کنٹریبیو ٹڈ ٹو بائی ٢٢٠٨ ممبرز آف دی کمیونٹی“ دوسرا ایڈیشن ..... جولائی طبع کردہ این مکرجی بی اے آرٹ پریس،

١...... ہم نمائندگان جماعت احمدیہ نہایت ادب و آوری پر حضور والا کی خدمت میں تہہ دل سے خیر مقدم پ کے اظہار کے لئے جو قلبی طور پر ہم آپ کے شاہی خان ملتے۔ لیکن ہم حضور والا کو یقین دلاتے ہیں کہ جب کبھ ہوگی تو حضور والا ہم کو بلا امید کسی انعام کے اپنی جانیں کے لئے تیار پائیں گے۔

٢...... حضور والا ! بوجہ ہمارے ان خیالات کے ہما ہیں اور ہم کو خوشامدی سمجھتے ہیں۔ بعض ہم کو کوتاہ اندیش ی شہزادے! ہم لوگوں کی خاطر خدا کو نہیں چھوڑ سکتے۔ ١١

صفحہ ١٣٥

پڑھو۔ اللہ ایسے لوگ پیدا کرنا چاہتا ہے کہ جو اس کے نہ ماننے والوں سے علیحدہ ہوں۔ پھر کیوں عمداً ان لوگوں سے ملو جن سے وہ تم کو الگ کرنا چاہتا ہے۔"

جبکہ ایک بڑی جماعت مختلف ملکوں اور پیشوں کے مسلمانوں کے برلن میں امن اور محبت کی زندگی بسر کر رہی تھی تو بدقسمتی سے صرف احمدیوں کی کارروائیوں اور سازشوں کی بدولت پبلک کو مسلمانوں میں اختلافات کے سننے کا موقع ملا وہ وحشیانہ اور برا سلوک جو کچھ احمدیوں نے ایک ایسے مصری کے ساتھ جس کو دعوت دی تھی کیا نہایت افسوس ناک ہے۔ ایسے لوگوں نے اس کو دھکے دیئے جو بزبان خود مذہب امن و رواداری کی اشاعت کرنا چاہتے ہیں۔ نام نہاد مسجد کے موقع پر احمدیہ مشن کی اول اشاعت کی یہ بہت اچھی ابتداء تھی۔ آخر میں جماعت اسلامیہ جرمنوں کی اس مہمان نوازی پر جو انہوں نے برتی شکریہ ادا کرتی ہے اور سب کو یقین دلاتی ہے۔ کہ ان کو کبھی یہ محسوس کرنے کا موقع نہ ملے گا کہ اس مہمان نوازی سے بے جا فائدہ اٹھایا گیا۔

احمدیوں کی وفاداری انگلستان کے ساتھ انہی کے الفاظ میں

ماخوذ از پمفلٹ مسمی بہ ’’اے پریزینٹ ٹو ہز رائل ہائینس دی پرنس آف ویلز فرام احمدیہ کمیونٹی کنٹریبیوٹیڈ بائی ٢٢٠٨ ممبرز آف دی کمیونٹی‘‘

دوسرا ایڈیشن...... جولائی ١٩٢٢ء

طبع کردہ این مکرجی بی اے آرٹ پریس، ٨ ٹی ویلنگٹن اسکوائر۔ کلکتہ

آوری پر حضور والا کی خدمت میں تہ دل سے خیر مقدم پیش کرتے ہیں۔ حضور والا ہم کو اس تعلق کے اظہار کے لئے جو قلبی طور پر ہم آپ کے شاہی خاندان کے ساتھ رکھتے ہیں۔ الفاظ نہیں ملتے۔ لیکن ہم حضور والا کو یقین دلاتے ہیں کہ جب کبھی شہنشاہ کو ہماری خدمات کی ضرورت ہوگی تو حضور والا ہم کو بلا امید کسی انعام کے اپنی جانیں اور مال تک شاہی حکم پر قربان کرنے کے لئے تیار پائیں گے۔

ہیں اور ہم کو خوشامدی سمجھتے ہیں۔ بعض ہم کو کوتاہ اندیش اور زمانہ ساز کہتے ہیں۔ لیکن اے عالی جاہ شہزادے! ہم لوگوں کی خاطر خدا کو نہیں چھوڑ سکتے۔

١١

صفحہ ١٣٦

بخدمت ذوالفقار علی خاں۔ ایڈیشنل سیکرٹری۔ قادیان پنجاب۔ نمبر ٩٣٨ پی مورخہ یکم مارچ ١٩٢٢ء مجھ کو جناب من ہز رائل ہائینس شہزادہ ویلز نے حکم دیا ہے کہ خیر مقدم کے اس اڈریس کی رسید شکریہ کے ساتھ ارسال کروں جو بذریعہ گورنمنٹ پنجاب جماعت احمدیہ کے ممبروں سے وصول ہوا ہے۔

نے اتنے ہزار آپ کے ہم مذہبوں کو اس ہدیہ کے پیش کرنے پر آمادہ کیا اور اس نشان وفاداری کے حصول پر ان کی خوشی بے انتہا ہے۔ کیونکہ ان کو ہز اکسلنسی گورنر پنجاب سے معلوم ہوا ہے کہ تمام دوران جنگ میں اور اس کے بعد جو مشکل زمانہ ہوا اس میں احمدیہ جماعت تخت و تاج دونوں کی مستقل مزاجی سے وفادار رہی ہے۔ مجھ کو حکم ہوا ہے کہ آپ کو یقین دلاؤں کہ اس کار نمایاں کی بناء پر جماعت کو ہز رائل ہائینس کی سرپرستی پر بھروسہ کرنا چاہئے۔

میں ہوں جناب ہز رائل ہائینس پرنس آف ویلز کا چیف سیکرٹری

حضور والا کو یقین دلاتا ہوں کہ جماعت احمدیہ سرتا پا تاج برطانیہ کی وفادار ہے اور انشاء اللہ ایسی ہی رہے گی۔

دادی صاحبہ ہماری بادشاہ ہز مجسٹی کوئن وکٹوریہ کو ان کے ڈائمنڈ جوبلی کے موقع پر پیش کیا تھا اور جس کو انہوں نے نہایت مہربانی سے قبول اور منظور کیا تھا۔ آپ کی خدمت میں بھی آپ کے ہند میں اس تشریف آوری کے موقع پر ان کی طرف سے پیش کیا جائے۔ دولت مند اور غرباء نے اس تحفہ کی پیش کش میں حصہ لینے کے لئے برابر کی سرگرمی کا اظہار کیا اور سب حاضرین کے دل اس خیال پر خوشی سے لبریز تھے کہ اگر چہ وہ یہ امید نہیں کر سکتے کہ حضور ان کے گھروں پر تشریف لا کر عزت افزائی فرمائیں۔ وہ آپ کو اس تحفہ کے ذریعہ سے ہمیشہ اپنی صداقت یاد دلانے کے قابل ہوں گے۔

١٢

١٣٧

فساد اور گڑبڑ سے الگ رہے ہیں۔ مقدس بانی تحریک ہے کہ ہر ممبر کو اس گورنمنٹ کی پوری اطاعت کرنی چا سے الگ رہنا چاہئے جو بغاوت کی طرف رہنمائی کر کے ممبر ہمیشہ ہر قسم کے ایجی ٹیشن اور جھگڑے سے ال پر روکنے والا اثر بھی ڈالا ہے۔

مذہب جماعت کے مذہب کا مخالف ہے۔ سیدھا بھلائیوں پر نظر ڈالی اور غلطیوں کو نظر انداز کیا تا کہ ہم

آفیسران گورنمنٹ بھی اپنے عہدوں سے الگ ہو اوقات مجبور کئے گئے تھے تو اس جماعت کے ممبر نہا وفادار رہنے کی ترغیب دلائی۔ بعض مقامات پر فسا نقصان پہنچانا چاہا۔ مگر وہ ان کو وفاداری سے متزلزل نہ

بائیکاٹ کا فیصلہ ہوا۔ ان کو غیر احمدیوں سے کرایہ زندگی بھی ان کو نہ ملتی تھیں۔ دکان اناج اور دیگر ضر تھے اور ان کو پبلک کنوؤں سے پانی کھینچنے کی اجاز سے منع کیا گیا اور بھنگیوں کو ان کے گھروں کو صاف اجازت نہ تھی۔

بائیکاٹ اس سختی سے کیا گیا تھا کہ بعض پیاسا رہنا پڑا۔

معاوضہ وفاداری کے راستے سے نہ ہٹے۔ نیز آج جاتی ہے۔ پھر بھی وہ اپنی بھر پور کوشش ہز مجسٹی کی انشاء اللہ کرتی رہے گی۔

١٣

صفحہ ١٣٧

فساد اور گڑبڑ سے الگ رہے ہیں۔ مقدس بانی تحریک نے جماعت میں ایک بنیادی شرط امتیاز رکھی ہے کہ ہر ممبر کو اس گورنمنٹ کی پوری اطاعت کرنی چاہئے جو بذریعہ قانون قائم ہو اور تمام طریقوں سے الگ رہنا چاہئے جو بغاوت کی طرف رہنمائی کرتے ہوں۔ اس حکم کی تعمیل میں اس جماعت کے ممبر ہمیشہ ہر قسم کے ایجی ٹیشن اور جھگڑے سے الگ رہے ہیں اور نیز لوگوں کی ایک بڑی تعداد پر روکنے والا اثر بھی ڈالا ہے۔

مذہب جماعت کے مذہب کا مخالف ہے۔ یقیناً ایک پرامن حکومت ہے۔ انہوں نے اس کی بھلائیوں پر نظر ڈالی اور غلطیوں کو نظر انداز کیا تا کہ ہم آہنگی کی ایک روح ان میں قائم ہو۔

آفیسران گورنمنٹ بھی اپنے عہدوں سے الگ ہونے اور دوسری جگہ امن تلاش کرنے کے لئے بسا اوقات مجبور کئے گئے تھے تو اس جماعت کے ممبر نہ صرف خود وفادار رہے بلکہ بکثرت لوگوں کو بھی وفادار رہنے کی ترغیب دلائی۔ بعض مقامات پر فسادیوں نے ممبران جماعت کو جسمانی اور مالی نقصان پہنچانا چاہا۔ مگر وہ ان کو وفاداری سے متزلزل نہ کر سکے۔

بائیکاٹ کا فیصلہ ہوا۔ ان کو غیر احمدیوں سے کرایہ پر مکان لینے کی اجازت نہ تھی اور نیز مایحتاج زندگی بھی ان کو نہ ملتی تھیں۔ دکاندار اناج اور دیگر ضروریات ان کے ہاتھ بیچنے سے انکار کر دیتے تھے اور ان کو پبلک کنوؤں سے پانی کھینچنے کی اجازت نہ تھی۔ دھوبیوں کو ان کے کپڑے دھونے سے منع کیا گیا اور بھنگیوں کو ان کے گھروں کو صاف کرنے اور حفظان صحت کا اہتمام کرنے کی اجازت نہ تھی۔

بائیکاٹ اس سختی سے کیا گیا تھا کہ بعض حالتوں میں چھوٹے بچوں کو کئی دن تک بھوکا پیاسا رہنا پڑا۔

معاوضہ وفاداری کے راستے سے نہ ہٹے۔ نیز آج کل بھی اس کو مختلف طریقوں سے تکلیف پہنچائی جاتی ہے۔ پھر بھی وہ اپنی بھر پور کوشش ہر مجسٹی کی گورنمنٹ کو قوت پہنچانے کے لئے کرتی ہے اور انشاء اللہ کرتی رہے گی۔

١٤٣

صفحہ ١٣٩

حضور والا کے والد بزرگوار کے تخت کی حفاظت میں ہر قسم کی ایذارسانی اور تکلیف کو قبول کر کے اپنی وفاداری کا ثبوت دیا ہے اور جس کی سچائی اور خلوص دنیا میں خون کے حرفوں سے لکھے ہوئے ہیں۔

گورنمنٹ کی اس حد تک امداد کی کہ جو اس کی قوت سے بھی زیادہ تھی۔ اس نے گورنمنٹ کو پچاس سوار پیش کروائے۔ اور اس کے بڑے بیٹے یعنی احمد تحریک کے مقدس بانی کا بڑا بھائی جس نے اپنی خدمات پیش کر دیں اور جنرل نکلسن کی ماتحتی میں لڑا۔ اس افسر کو تریمہوں گھاٹ پر باغیوں کو منتشر کرنے میں ایسی بااثر کمک دی کہ اس کو کہنا پڑا کہ صوبہ کے اپنے حصہ میں خاندان قادیان نے گورنمنٹ سے وفاداری کا بیش از بیش ثبوت دیا۔

واقعہ نے تحریک کی اشاعت میں بڑی مدد کی۔ جب ہندوستان میں طاعون پھیلا تو اس نے اعلان کیا کہ اس کے متبعین میں سے بہت ہی تھوڑے اس سے ہلاک ہوں گے اور یہ کہ قادیان اس کا گاؤں تباہ کن طاعون سے محفوظ رہے گا اور یہ کہ اس کے گھر میں رہنے والوں میں سے ایک بھی اس سے فوت نہ ہوگا۔

اس نے اپنے مخالفوں کو بھی چیلنج دیا کہ وہ بھی اگر وہ جیسا کہ دعویٰ کرتے ہیں۔ خدا کے برگزیدہ ہیں۔ اسی طرح کا اعلان کریں۔ لیکن چند ہی نے اس کی جرات کی اور جنہوں نے ایسا کیا وہ بہت جلد طاعون سے مر گئے۔

ایک چوہا بھی نہ مرا اور درآں حالیکہ چار برس تک آس پاس کے مکانات میں طاعون سے لوگ مرتے رہے۔ پھر قادیان اس کے تباہ کن حملوں سے محفوظ رہا اور اس کے متبعین میں سے بہت ہی کم مرے۔

قابل کہ طاعون کے خوفناک اثر سے اس کے گھر کے چوہے بھی نہ مریں اپنے ہم وطنوں کی اور نیز باقی بنی نوع انسان کی اس سب سے زبردست انسانی مصیبت کو دنیا سے ناپید کر کے سب سے زیادہ شاندار خدمت انجام دینے کے لئے آمادہ نہ ہوا۔

١٤

جماعت اسلامیہ کی صدائے احتجاج

جماعت اسلامیہ نے آج کے (٧؍اگست ٣ اس ٹریکٹ کو پڑھا ہے جو اس مسجد کی بنیاد رکھنے کے موقع پر اد ولمرسڈورف برلن میں بنانے کا ارادہ ہے۔ (جماعت کا کوئی نما جماعت نے اس افسوس ناک واقعہ کو خاص طو جماعت اسلامیہ برلن کے مشہور اور باعزت ممبر کو پیش آ گئے تھے) ایک باقاعدہ طریقے سے صدر کی تقریر کا جواب کو اور نیز دوسروں کو جو تحریک کی اصل غرض سے واقف ن سے آگاہ کر دیں۔

لہٰذا جماعت اسلامیہ نے پریس میں (ای ریزولیوشن (تجویز) پاس کی ہے: ”جماعت اس بدسلوکی ساتھ کی گئی۔ جو غلط فہمیوں اور سازشوں کا شکار ہوا۔ صدائے ”جماعت مسلمانان عالم کو آگاہ کرتی ہے کہ احمدیہ نے جو مختلف صورت میں کھلی اور خفیہ میں ظاہر ہ ہر صورت میں تمام دنیا میں قبول شدہ تعلیم اسلام کے خلاف ”جماعت ان مسلمانوں کا جو جرمنی میں رہتے کرے گی کہ جو مختلف طریق کے احمدی متبعین کی تعلیم ا سے غور کیا جائے اور ان کو جانچا جائے تا کہ حقیقت سب ک احمدیوں کا مسلمانوں کو انگریزوں کی موال

ماخوذ از کتاب: ”انڈیا ا

مصنفہ: خواجہ کمال الد

باب سوم

مسلمانان ہند کا طریق ماضی وحال

١٩١٢ء تک مسلمانان ہند بال برابر بھی گورنم کھلی ہوئی تعلیم اور مقدس رسول کے نصائح نے ان می

١٥

صفحہ ١٣٩

جماعت اسلامیہ کی صدائے احتجاج

جماعت اسلامیہ نے آج کے (٧ اگست ١٩٢٣ء) مقامی اخبارات میں ایک بیان اس رسم کا پڑھا ہے جو اس مسجد کی بنیاد رکھنے کے موقع پر ادا کی گئی۔ جس کو احمدیہ تحریک کے متبعین کا ولیمرسڈورف برلن میں بنانے کا ارادہ ہے۔ (جماعت کا کوئی نمائندہ وہاں نہ تھا)

جماعت نے اس افسوس ناک واقعہ کو خاص طور سے محسوس کیا ہے جو دوران تقاریر میں جماعت اسلامیہ برلن کے مشہور اور باعزت ممبر کو پیش آیا۔ جو (صدر تحریک کی طرف سے بلائے گئے تھے) ایک باقاعدہ طریقے سے صدر کی تقریر کا جواب دینا چاہتے تھے تا کہ وہ اپنے ہم مذہبوں کو اور نیز دوسروں کو جو تحریک کی اصل غرض سے واقف نہ تھے۔ احمدیہ جماعت کے اصول و تعلیم سے آگاہ کر دیں۔

لہٰذا جماعت اسلامیہ نے پریس میں (اخبارات) بھیجنے کے لئے حسب ذیل ریزولیوشن (تجویز) پاس کی ہے: ”جماعت اس بدسلوکی پر جو جماعت اسلامیہ کے مذکور بالا ممبر کے ساتھ کی گئی۔ جو غلط فہمیوں اور سازشوں کا شکار ہوا۔ صدائے احتجاج بلند کرتی ہے۔“

”جماعت مسلمانانِ عالم کو آگاہ کرتی ہے کہ وہ اس گڑھے میں نہ گریں جس کو متبعین احمدیہ نے جو مختلف صورت میں کھلی اور خفیہ میں ظاہر ہوتے ہیں تیار کیا ہے۔ اس فرقہ کی تعلیم ہر صورت میں تمام دنیا میں قبول شدہ تعلیم اسلام کے خلاف ہے۔“

”جماعت ان مسلمانوں کا جو جرمنی میں رہتے ہیں ایک عام جلسہ اس غرض سے منعقد کرے گی کہ جو مختلف طریق کے احمدی متبعین کی تعلیم اصول اور دعوؤں اور مقاصد پر پوری طرح سے غور کیا جائے اور ان کو جانچا جائے تا کہ حقیقت سب کو روشن ہو جائے۔

احمدیوں کا مسلمانوں کو انگریزوں کی موافقت کے لئے ترغیب دینا

ماخوذ از کتاب: ”انڈیا ان دی بیلنس“ حکومت برطانیہ اور خلافت مصنفہ: خواجہ کمال الدین بی اے ایل ایل بی امام مسجد ووکنگ

باب سوم

مسلمانان ہند کا طریق ماضی وحال

١٩١٤ء تک مسلمانان ہند بال برابر بھی گورنمنٹ کی حمایت سے نہ ہٹے تھے۔ قرآن کی کھلی ہوئی تعلیم اور مقدس رسول کے نصائح نے ان میں حکومت برطانیہ کی سچی وفاداری کی روح

١٥

صفحہ ١٤١

پھونک دی تھی۔ زمانہ لارڈ کرزن میں تقسیم بنگال سے اس صوبہ میں بڑی بے چینی پیدا ہو گئی تھی۔ سارا صوبہ بغاوت کے جوش میں تھا۔ یہاں تک کہ پایہ تخت حکومت کلکتہ سے دہلی کو تبدیل کرنا پڑا۔ اس وقت بھی گورنمنٹ کے کاموں میں مسلمانوں ہی نے مدد دی۔

جماعت اسلامیہ لاہور۔ پایہ تخت گورنمنٹ پنجاب کے رہنماؤں نے اپنے مسلمان بھائیوں کو مناسب حدود میں رکھنے کے لئے ہاتھ پیر ہلانا ضروری سمجھا۔ مجھ سے درخواست کی گئی کہ میں اس موضوع پر جو دربار کے زمانہ میں مسلمان لیڈروں کو جوش دلا رہا تھا۔ ایک سلسلہ لیکچروں کا شروع کروں۔ مسلمانوں کو اب کیا کرنا چاہئے؟

ہر لیکچر میں میں نے مضمون کے ایک خاص پہلو پر بحث کی۔ آخری لیکچر کا مبحث جس کو نہایت توجہ سے قریباً پانچ ہزار آدمیوں کے مجمع نے سنا تھا۔ ”گورنمنٹ برطانیہ جو دل مسلم وغیر مسلم کے ساتھ مسلمانوں کا طرزِ عمل۔“ لیکچر ہند کے ایک اخبار میں شائع ہوا۔ اور میں ذیل میں اس کا اقتباس یہ ظاہر کرنے کے لئے درج کرتا ہوں کہ اس زمانہ میں مسلمانوں کو اطاعت حکومت کا کس قدر احساس تھا۔ ”مولوی ان آیات کو جو مقدس رسول ہر خطبہ میں منبر سے پڑھا کرتے تھے نہیں بھولے ہیں اور اسی وجہ سے آج تک پڑھی جاتی ہے۔ اس کا مفہوم یہ ہے: ”بے شک اللہ حکم کرتا ہے انصاف کا، احسان کے ساتھ سلوک کرنے کا اور نیک کاموں کا اور وہ فاحشات، منکرات اور بغاوت سے منع کرتا ہے۔“۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اس آیت کے دوسرے حصہ پر توجہ کرنے سے تم کو معلوم ہوگا کہ اس میں ان ہی تین معاملات کا ذکر ہے جن کی طرف مذکورہ بالا قانون توجہ دلاتے ہیں۔

آیت میں جن چیزوں سے منع کیا گیا ہے۔ فاحشہ ہے جن کا تعلق ان برے کاموں سے ہے۔ جو انسان کے اپنے اخلاق پر اثر کرنے والے ہیں۔ دوسری ممنوع شے منکر ہے۔ یعنی ایسے کام جن کی برائی کا اثر اور لوگوں پر پڑتا ہے۔ آخر میں ہم کو حکم دیا گیا ہے کہ ہم حکومت کے قوانین کی مزاحمت نہ کریں۔ جو رعیت کے حقوق کی نگہداشت کے لئے بنائے گئے ہیں۔ لفظ ”بغی“ (بغاوت) ایک جامع لفظ ہے جس میں صرف لفظ ”سیڈیشن“ ہی کے معنی نہیں نکلتے۔ بلکہ

یہ شخص باوجود امام ہونے کے ہمارے سامنے کھلے ہوئے سفید جھوٹ سے یہ کہہ کر کہ قرآن پاک اور احادیث محمد رسول اللہ ﷺ مبین اسلام کو شاہی حکومت انگریزی کی اندھی اور مکمل وفاداری کا پابند کرتے ہیں۔ احتراز نہیں کرتا۔ گویا کہ یہ حکومت اپنی موجودہ حالت میں اوائل اسلام سے موجود رہی ہے۔

١٦

اس کا اطلاق تمام ان امور پر بھی ہوتا ہے جن کا تعلق ایک سے ہو جو کسی ملک میں بذریعہ قانون قائم ہو۔

آیت کے پہلے حصہ کے متعلق جس میں ہے۔ میں نے حکومت سے ان کا تعلق ظاہر کرنے کے ب

”اگر ہم حکومت کے قانون کی عزت کر حکومت پر کوئی احسان نہیں کرتے۔ حکومت نے ہما و مال و آبرو کی حفاظت کی ...... قرآن مقدس ہم کو اتنے زیادہ کرنے کی ہدایت کرتا ہے۔ ہم کو گورنمنٹ کے سا ہم کو حکومت کے بارے میں حصہ لینا چاہئے۔ جب اس (دوڑنا) چاہئے۔ اس کے لئے آسانیاں بہم پہنچانی چا اور جب اس کو بڑی مہمات پیش آئیں تو ہم کو اپنی خدما بلکہ قرآن پاک چاہتا ہے کہ ہم اس سے بہ کہ نیکی کی خالص شکل جو کوئی شخص اپنے قرابت دار کے کا آیت میں ذکر ہے۔)........ جب کہ ایک عال بخیال کسی خواہش ذاتی یا استحسان نہیں کرتی۔ حکومت ہ ہم کریں گے۔ اگر ہم بلا اظہار اور بغیر کسی قسم کے معاوض

پنجاب کی ١٩٠٧ء کی بے چینی کے متعلق می

”اے ہزاروں انسانو جو اس جلسہ میں جم سے پوچھتا ہوں کہ کیا تم میں ١٩٠٧ء میں کوئی باغیانہ کہ حکام کے خلاف سازشیں کرتے تھے۔ کیا تم اطاع گئے؟ کیا وہ آیت جو جمعہ کو منبر پر سے پڑھی جاتی تھی ب

تم مسلمان ہو اور کوئی مسلمان دغا باز ن ایماندار بادشاہ کا بدخواہ نہیں ہوسکتا۔ تم قرآن پاک ۔ کی اطاعت کا حکم دیتا ہے۔“

١٧

صفحہ ١٤١

اس کا اطلاق تمام ان امور پر بھی ہوتا ہے جن کا تعلق ایک ایسی حکومت کے استحکام کو متزلزل کرنے سے ہو جو کسی ملک میں بذریعہ قانون قائم ہو۔

آیت کے پہلے حصہ کے متعلق جس میں تین اخلاقی قوانین پر عمل پیرا ہونے کا حکم ہے۔ میں نے حکومت سے ان کا تعلق ظاہر کرنے کے لئے حسب ذیل بیان کیا۔

”اگر ہم حکومت کے قانون کی عزت کرتے ہیں اور قانونی ٹیکس ادا کرتے ہیں تو حکومت پر کوئی احسان نہیں کرتے۔ حکومت نے ہمارے لئے قانون وضع کئے اور ہمارے جان و مال و آبرو کی حفاظت کی...... قرآن مقدس ہم کو اتنے ہی پر اکتفا کرنے کو نہیں کہتا بلکہ اس سے بھی زیادہ کرنے کی ہدایت کرتا ہے۔ ہم کو گورنمنٹ کے ساتھ اپنے تعلقات میں بھلائی برتنی چاہئے۔ ہم کو حکومت کے بارے میں حصہ لینا چاہئے۔ جب اس کو مصائب کا سامنا ہو تو فوراً اس کی مدد کو لپکنا (دوڑنا) چاہئے۔ اس کے لئے آسانیاں بہم پہنچانی چاہئیں۔ اس کے دشمنوں کو سزا دینی چاہئے۔ اور جب اس کو بڑی مہمات پیش آئیں تو ہم کو اپنی خدمات پیش کر دینی چاہئیں۔

بلکہ قرآن پاک چاہتا ہے کہ ہم اس سے بھی زیادہ بلند ہوں........... دکھاتے ہوئے کہ نیکی کی خالص شکل جو کوئی شخص اپنے قربت دار کے ساتھ برتتا ہے۔ (آخری اصول زندگی جس کا آیت میں ذکر ہے۔).......... جب کہ ایک ماں اپنے بچے کی نگہداشت کرتی ہے تو وہ ایسا بخیال کسی خواہش ذاتی یا استحسان نہیں کرتی۔ حکومت کے ساتھ اس سب سے بڑے حسن سلوک کو ہم کریں گے۔ اگر ہم بلا اظہار اور بغیر کسی قسم کے معاوضہ کے خدمات کریں......“

پنجاب کی ١٩٠٧ء کی بے چینی کے متعلق میں نے حسب ذیل تقریر کی ۔

”اے ہزاروں انسانو جو اس جلسہ میں جمع ہو اور اس شہر کے رہنے والے ہو۔ میں تم سے پوچھتا ہوں کہ کیا تم میں ١٩٠٧ء میں کوئی باغیانہ روح پائی جاتی تھی اور کیا تم ایسے بے وفا تھے کہ حکام کے خلاف سازشیں کرتے تھے۔ کیا تم اطاعت اور وفاداری کے متعلق قرآن کی تعلیم بھول گئے؟ کیا وہ آیت جو جمعہ کو منبر پر سے پڑھی جاتی تھی۔ تمہاری یاد سے محو ہو گئی.....؟

تم مسلمان ہو اور کوئی مسلمان دغا بازی کا ملزم نہیں ہو سکتا۔ تم ایماندار ہو اور کوئی ایماندار بادشاہ کا بدخواہ نہیں ہو سکتا۔ تم قرآن پاک کے متبع ہو اور قرآن پاک اپنے متبعین کو حکومت کی اطاعت کا حکم دیتا ہے۔“

١٧

صفحہ ١٤٣

اس زمانہ میں مسلمانوں کے طرز عمل کے متعلق میں نے کہا: ”ہندوستان کا شاید ہی کوئی حصہ ہوگا جو پچھلے چند برسوں میں سیاسی ایجی ٹیشن اور سازشوں سے محفوظ رہا ہو۔ بغاوت مختلف صورتوں میں ہویدا ہوئی۔ ہر زیر اثر ضلع میں مسلمانوں کی تعداد زیادہ تھی۔ مشرقی بنگال میں جس کے بعض حصے سیاسی بے چینی کا مرکز تھے مسلمان ہندوؤں سے زیادہ ہیں...... پھر اس کی کیا وجہ ہے کہ سازشوں، بلوؤں، ڈکیتیوں، چوریوں اور ہنگاموں میں جو پچھلے چند سالوں میں ہندوستان کے ہر حصہ میں رائج تھے۔ کسی مسلمان نے شرکت نہیں کی۔ یہ اسلام اور اس کے مقدس بانی کی وجہ ہے۔........... کہ درحقیقت مسلمانوں کے اپنے اجنبی بادشاہ کے ساتھ قابل تحسین طرز عمل کے لئے قابل ستائش ہیں۔

عام مسلمانوں کے متعلق احمدیوں کی نواحمدیوں کو ہدایت

کیا کسی احمدی کو کسی غیر احمدی امام کے پیچھے نماز ادا کرنی جائز ہے؟

ماخوذ از سوانح مسیح موعود جو رسالہ ماہواری قادیان میں شائع ہوئے: صفحات ١٨٢، ١٨٦

٢٠ فروری ١٩٠١ء کو اس سوال کے جواب میں کہ ”کیوں اپنے متبعین کو غیر احمدی امام کی اقتدا میں نماز ادا کرنے سے منع کیا۔ مسیح موعود نے جواب دیا: ”میرا رد کرنا گویا خدا کے احکام اور محمد رسول پاکﷺ کی ہدایات کا رد کرنا ہے۔“ ”میں اس کو اپنی طرف سے نہیں کہتا میں صدق دل سے سچ سمجھ کر اظہار کرتا ہوں کہ میرا رد کرنا تمام قرآن کا انکار کرنا ہے۔ وہ (جو شخص مجھ پر ایمان نہیں رکھتا۔) زبان سے اقرار نہ کرے لیکن اس کا عمل شاہد ہے۔ میری ایک وحی سے یہ ثابت ہوتا ہے:۔ میرے انکار سے اللہ کا انکار لازم ٹھہرتا ہے۔ اور مجھ کو مان لینا گویا اللہ اور اس کی ہستی پر ایمان کا مکمل ہونا ہے۔ پھر میرے نہ ماننے سے یہ مراد ہے کہ محمد رسول اللہ ﷺ کا انکار کیا۔ اور اس لئے جب کوئی شخص مجھ کو نہ ماننے کی جرأت کرے تو اس کو خوب اچھی طرح غور کر لینا چاہئے کہ وہ کس سے انکار کر رہا ہے۔“ ”میں دوبارہ علی الاعلان کہتا ہوں کہ میرا انکار کرنا آسان کام نہیں ہے۔ جو شخص مجھ کو

١٨

قرآن مقدس اور احادیث کا تارک کہتا وہ خود ہی تارک کرنے والا ہوں اور وہ شخص ہوں جو بموجب گذشتہ کتب مہدی ہوں جو ہدایات دیا گیا ہے۔ میں کافر نہیں ہوں مسلمان ہوں۔ اور جو کچھ میں کہتا ہوں وہ بموجب وحی کے رسول پاک پر ایمان رکھتا ہے۔ اس کو میرے دعوے چاہئے۔ لیکن جو شخص بدزبان اور گستاخ ہے اس کا کوئی ١٠؍ ستمبر ١٩٠١ء کو نجف کے ایک عرب سید عبداللہ نے جو قا موعود سے پوچھا کہ میں کسی غیر احمدی کے پیچھے جو مسیح موعود پڑھ سکتا ہوں۔“ تو اس نے جواب دیا ایسے لوگوں سے اللہ اگر وہ اس کو مان لیں اور ایمان لے آئیں تو اس کے ساتھ ان صاحب (عرب نجف) نے پھر کہا کہ ان ہیں۔ ”مسیح موعود نے کہا ۔ ”تو اپنے آپ کو اللہ کے سپرد ک جن کا حساب اس کے ساتھ پاک صاف ہے۔ کتاب مقد اور انکار کرتے ہیں وہ مستحق عذاب ہیں۔ اس لئے میر سے کوئی فرد بھی ان کے ساتھ مل کر نماز پڑھے۔ کیا کوئی ہے۔؟ تو یاد رکھو کہ جیسا اللہ نے مجھ کو بتایا ہے۔ تمہارے پیچھے نماز پڑھو۔ جو مجھ کو کافر کہتا ہے۔ یا میرا مکذب ہے یا م

کھلی چٹھی بنام ہزاکسیلنسی غا

سفیر حکومت افغانستان متعینہ جرمنی

جناب من! چونکہ میں عرصہ دراز سے افغان وطن خصوصیات کے جو اپنے ملک اور عزت کی مخالفت فوجوں اور سازشوں کے میدان جنگ میں ظہور پذیر ہوئی آپ کی توجہ ایک ایسے معاملہ کی طرف مبذول کرانے کی گیا۔ تو وہ ضرور غلط فہمی پیدا کرانے کا باعث ہوگا اور مسل

١٩

صفحہ ١٤٣

قرآن مقدس اور احادیث کا تارک کہتا وہ خود ہی تارک ہو جائے گا۔ قوانین اسلام کی تصدیق کرنے والا ہوں اور وہ شخص ہوں جو بموجب گذشتہ کتب مقدس آیا ہوں میں گمراہ نہیں ہوں۔ میں مہدی ہوں جو ہدایت دیا گیا ہے۔ میں کافر نہیں ہوں میں ایمان لانے والوں میں اول اور مسلمان ہوں۔ اور جو کچھ میں کہتا ہوں وہ بموجب وحی کے ہے۔ لہٰذا جو شخص اللہ قرآن شریف اور رسول پاک پر ایمان رکھتا ہے۔ اس کو میرے دعوے مجھ سے سن کر اپنی زبان قابو میں رکھنی چاہئے۔ لیکن جو شخص بدزبان اور گستاخ ہے اس کا کوئی علاج نہیں۔ اللہ ہی اس سے سمجھے گا۔“

١٠؍ ستمبر ١٩٠١ء کو نجف کے ایک عرب سید عبداللہ نے جو قادیان سے اپنے ملک کو جانے والا تھا۔ مسیح موعود سے پوچھا کہ میں کسی غیر احمدی کے پیچھے جو مسیح موعود کے دعاوی اور تعلیم سے واقف نہ ہو نماز پڑھ سکتا ہوں۔ ”تو اس نے جواب دیا ایسے لوگوں سے اللہ کا کلام جو مجھ پر نازل ہوا ہے بیان کرو۔ اگر وہ اس کو مان لیں اور ایمان لے آئیں تو اس کے ساتھ تم نماز ادا کر سکتے ہو۔ ورنہ نہیں۔“

ان صاحب (عرب نجف) نے پھر کہا کہ ان کے ہم وطن تند مزاج اور شیعہ مذہب کے ہیں۔ ”مسیح موعود نے کہا۔“ تو اپنے آپ کو اللہ کے سپرد کر دے جو ان لوگوں سے محبت کرتا ہے۔ جن کا حساب اس کے ساتھ پاک صاف ہے۔ کتاب مقدس بتاتی ہے کہ جو لوگ ایمان نہیں لاتے اور انکار کرتے ہیں وہ مستحق عذاب ہیں۔ اس لئے میرے شایان نہیں ہے کہ میرے متبعین میں سے کوئی فرد بھی ان کے ساتھ مل کر نماز پڑھے۔ کیا کوئی زندہ شخص مردوں کے ساتھ نماز پڑھ سکتا ہے۔؟ تو یاد رکھو کہ جیسا اللہ نے مجھ کو بتایا ہے۔ تمہارے لئے حرام قطعی حرام ہے۔ کہ ایسے شخص کے پیچھے نماز پڑھو۔ جو مجھ کو کافر کہتا ہے۔ یا میرا مکذب ہے یا میری طرف سے متردد ہے۔

کھلی چٹھی بنام ہزایکسیلنسی غلام صدیق خاں

سفیر حکومت افغانستان متعینہ جرمنی

جناب من! چونکہ میں عرصہ دراز سے افغان قوم کا بوجہ اس کی بہادرانہ اور اعلیٰ حب وطن خصوصیات کے جو اپنے ملک اور عزت کی محافظت میں بمقابلہ سلطنت برطانیہ کے بے شمار فوجوں اور سازشوں کے میدان جنگ میں ظہور پذیر ہوئیں۔ ہمدرد اور مداح ہوں۔ اس لئے میں آپ کی توجہ ایک ایسے معاملہ کی طرف مبذول کرانے کی جرأت کرتا ہوں جو اگر جلد صاف نہ کیا گیا۔ تو وہ ضرور غلط فہمی پیدا کرانے کا باعث ہوگا اور مسلمانوں کی نظر میں آپ کی حکومت کی نیک

١٩

صفحہ ١٤٥

نامی کو برباد کر دے گا۔

وہ معاملہ یہ ہے کہ آپ علانیہ اور خفیہ بہت سے احمدی ایجنٹوں کو جو جرمنی میں مدد پہنچاتے ہیں۔ اس کا بین ثبوت آپ کی موجودگی اور وہ تقریر ہے جو آپ نے اس مسجد کی رسم بنیاد رکھنے پر کی جو وہ برلن میں بمقام قیصر ڈیم بنانا چاہتے ہیں۔

عام مسلمانوں کے ساتھ طرز عمل رکھنے اور سلوک کرنے کے متعلق جو اس شخص کی اپنے متبعین کو ہدایات ہیں۔ ان کی ہر سطر سے تکبر اور انانیت کا اظہار ہر شخص کے لئے قابل غور ہے۔

اس خود پسند فریبی کے خلاف اس کے اپنے ہی لفظوں سے اور کوئی صورت الزام کی نہیں ہو سکتی۔

یہ ایک مشہور واقعہ ہے کہ تمام ایشیاء والوں کے قلوب نے اور خصوصاً ان کے جو حکومت انگریزی کے ظالمانہ برتاؤ سے بے چین ہیں۔ انگلستان پر آپ کی حال کی شاندار فتح کو اپنی فتح سمجھا اور ان کو افغانی سنگینوں کے دباؤ سے ظالم حملہ آوروں کے آخری نشانات زائل ہوتے ہوئے دیکھ کر بے انتہا خوشی ہوئی جس کے لئے آپ کے معظم اور ہر دل عزیز امیر امان اللہ خاں قابل فخر ہیں۔

اس بناء پر تعجب اور افسوس کے ساتھ پوچھا جا سکتا ہے کہ کس طرح ایک ایسی قوت کا نمائندہ جو کل تک حکومت انگلشیہ کے ظالمانہ اثر کے پنجہ میں تھی مذکورہ حکومت کے استحکام کے پروپیگنڈے میں روپیہ پیسہ سے مدد کر سکتا ہے۔

شریف افغان کا نمائندہ کس طرح ان احمدی ایجنٹوں کو جرمنی میں اپنی مدد پہنچا سکتا ہے۔ جو نہ صرف برطانوی شہنشاہیت کے ہم نوا بننے کی کوشش کرتے ہیں بلکہ اپنے اعلانات میں ایسی رپورٹیں شائع کرتے ہیں جن کا مقصد حکومت و قوم افغان کی نیک نامی کو برباد کرنا ہے جو انہوں نے سپاسنامہ ہز رائل ہائینس پرنس آف ویلز منجانب جماعت احمدیہ طبع ثانی جولائی ١٩٢٢ء طبع کردہ بنرجی آرٹ پریس لنکن اسکوائر کلکتہ میں لکھا ہے۔ وہ حسب ذیل ہے: ”صرف یہی نہیں ہے جو جماعت (احمدیہ) کے ممبروں پر ان کی امن پسندی اور عقیدہ وفاداری (سلطنت اور حکومت برطانیہ سے) کی اشاعت سے گزرا ہے۔ جہاں ان کے مخالفین زیادہ طاقتور تھے۔ وہاں ان کو خوفناک مصائب برداشت کرنے پڑے۔ مثلاً جماعت کے دو ممبر افغانستان میں اس وجہ سے تکلیف دہ موت سے مارے گئے کہ بموجب ان کے مقدس بانی کی ہدایات کے باوجود وہ جہاد کے جواز کے قائل اور معتقد نہ تھے۔ ان میں سے ایک تو افغانستان میں بڑا عالم تھا اور اس قدر باعزت

٢٠

تھا کہ امیر حبیب اللہ خان مرحوم کی تاج پوشی کی رسم ادا کر نہایت ظالمانہ طور پر سنگسار کر دیا گیا۔ اسی امیر کے حکم سے ص جناب سے یہ دریافت کئے بغیر بھی نہیں رہا ج مورخہ ١٩؍جون ١٩٢٣ء کا اخبار آپ کے ملاحظہ سے گزرا یا نہیں جس ہوٹل قیصر ڈیم پر ایک عجیب تعمیر۔“ ایک نہایت اہم آرٹیکل مقیم برلین میں احمدی ایجنٹوں کے اصلی پروگرام اور ارا نے اشتہارات میں سے ایک کا ایک جزو تحریر کیا ہے۔ جو حسب

”احمد (مرزا قادیانی) کے دعوے اور تعلیمات کا صرف ایک حوالہ تو دل نشین کر لو کہ حکومت انگریزی تمہارے ایک ڈھال ہے جو تمہاری حفاظت کرتی ہے۔ پس تم کو بھی ا چاہئے۔ انگریز مسلمانوں سے جو تمہارے جانی دشمن ہیں ہن کے نمائندے ہز ایکسیلنسی غلام صدیق خاں نے مسجد زیر مذکورہ بالا آرٹیکل کے بیانات کی پوری تحقیق کے لئے کوئی تکلی

فرقہ احمدیہ کی سرگرمی اور تدابیر کو پیش نظر رکھ کر ہو چکی ہے۔ ہماری دلی تمنا ہے حکومت افغان کے سفیر اس مستحق اور نقصان دہ گروہ سے اپنے تعلقات قطع کرلیں گے نہایت افسوس ہے کہ افغانستان اور ان کے باشندوں کو نہ صرف قوموں کے غلام بنانے میں ایک سرگرم حصہ دار تصور کرنا پڑ گمراہی میں مبتلا ہیں۔

خطبہ بنام اڈیٹر افغا

مہربان من

میں آپ کا بہت ممنون ہوں گا اگر آپ اپنے م دیں گے۔ آپ کی رپورٹ متعلق اس واقعہ کے جو پچھلے دونو

٢١

صفحہ ١٤٥

تھا کہ امیر حبیب اللہ خان مرحوم کی تاج پوشی کی رسم ادا کرنے کے لئے اسی کا انتخاب کیا گیا وہ نہایت ظالمانہ طور پر سنگسار کر دیا گیا۔ اسی امیر کے حکم سے صرف اسی مذکورہ بالا وجہ سے۔ جناب سے یہ دریافت کئے بغیر بھی نہیں رہا جا سکتا ہے کہ ”لوکل انزیگر“ نمبر ٢٨٣ مورخہ ١٩/جون ١٩٢٣ء آپ کے ملاحظہ سے گزرا یا نہیں جس میں بعنوان ”ایک مسجد معہ انتظامات ہوٹل قیصردیم پر ایک عجیب تعمیر“ ایک نہایت اہم آرٹیکل شائع ہوا ہے۔ آرٹیکل زیر بحث کے مصنفوں نے برلین میں احمدی ایجنٹوں کے اصلی پروگرام اور ارادہ پر پوری روشنی ڈال کر ان کے بہت سے اشتہارات میں سے ایک کا ایک جزو تحریر کیا ہے۔ جو حسب ذیل ہے۔

”احمد (مرزا قادیانی) کے دعاوی اور تعلیمات کے کئی سو اسی قسم کی عبارات میں سے صرف ایک حوالہ تو دل نشین کر لو کہ حکومت انگریزی تمہارے لئے ایک رحمت اور برکت ہے وہ ایک ڈھال ہے جو تمہاری حفاظت کرتی ہے۔ پس تم کو بھی اس ڈھال کی دل و جان سے قدر کرنی چاہئے۔ انگریز مسلمانوں سے جو تمہارے جانی دشمن ہیں ہزار درجہ بہتر ہیں۔“ کیا حکومت افغان کے نمائندے ہز ایکسیلینسی غلام صدیق خاں نے مسجد زیر بحث کی رسم میں مدد دینے سے پہلے مذکورہ بالا آرٹیکل کے بیانات کی پوری تحقیق کے لئے کوئی تکلیف نہیں فرمائی۔“

فرقہ احمدیہ کی سرگرمی اور تدابیر کو پیش نظر رکھ کر جو اس پمفلٹ اور اس کے علاوہ شائع ہو چکی ہے۔ ہماری دلی تمنا ہے حکومت افغان کے سفیر سب سے پہلے شخص ہوں گے جو ایسے غیر مستحق اور نقصان دہ گروہ سے اپنے تعلقات قطع کر لیں گے اور اپنی سرپرستی ہٹالیں گے۔ ورنہ ہم کو نہایت افسوس سے افغانستان اور ان کے باشندوں کو نہ صرف انگلستان کا ماتحت بلکہ تمام ان ایشیائی قوموں کے غلام بنانے میں ایک سرگرم حصہ دار تصور کرنا پڑے گا۔ جو انگریزوں کے وحشیانہ مظالم میں مبتلا ہیں۔

ڈاکٹر منصور ایم رفعت خطبہ بنام اڈیٹر انچیف (اخبار) پی زیڈ ایم مٹاگ برلین برلین ٩؍ اگست ١٩٢٣ء

مہربان من میں آپ کا بہت ممنون ہوں گا اگر آپ اپنے قیمتی اخبار میں حسب ذیل تصحیح کو شائع فرما دیں گے۔ آپ کی رپورٹ متعلق اس واقعہ کے جو پچھلے دوشنبہ کو احمدیہ مسجد کی بنیاد رکھنے کے موقع پر

٢١

صفحہ ١٤٧

وقوع پذیر ہوا۔ بی زیل ٢١٣ مجریہ ٧ ماہ مئی پڑھ کر ضروری خیال کرتا ہوں کہ چند الفاظ میں پیش کروں۔

جو شخص آپ کا اخبار پڑھے گا وہ یہی سمجھے گا کہ سخت لڑائی ہوئی اور اگر پولیس مداخلت نہ کرتی تو حالت اور زیادہ خطرناک ہو جاتی۔ مجھ کو یہ کہنے کی اجازت دیجئے کہ اس قسم کا کوئی واقعہ پیش نہیں آیا۔ پولیس مین جو موجود تھا اور نیز دیگر گواہ بھی مجھ کو یقین ہے میرے بیان کی تائید کریں گے۔

معاملہ حسب ذیل تھا۔ برلین میں فرقہ احمدیہ کے نمائندہ مسٹر مبارک علی نے مسجد کی بنیاد رکھنے کی رسم میں شرکت کی۔ مجھ سے بار بار درخواست کی تھی۔ علاوہ اس کے اس موقع کے لئے مجھ کو دعوتی کارڈ بھی میرے نام کا ملا تھا یہ ہے ثبوت۔ اس امر کا کہ نہ تو میں ناپسند مہمان تھا نہ میں امن میں خلل ڈالنے کیلئے وہاں آیا تھا۔ جیسا کہ بعض اخبارات نے غلط خبروں کی بناء پر شائع کر دیا ہے۔

متعلق اس مشتری کے جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ قطعہ زمین جس پر مسجد بننے والی ہے اس کی ملک ہے تو میں اس کی بابت کچھ نہیں جانتا اور مجھ کو یقین تھا کہ قطعہ زمین فرقہ احمدیہ کے ایجنٹوں کا ہے۔

اس حال میں رسم کے وقت بشمول دیگر مہمانوں کے موجود تھا۔ جہاں میں مشہور معروف ماہر علوم شرقیہ پروفیسر کیمفائر سے ملا اور اس تحریک (احمدی) کے اصولوں اور تعلیمات پر ہم دونوں گفتگو کرنے لگے۔ کیونکہ مجھ کو بہت سے پمفلٹ جو فرقہ احمدیہ نے تقسیم کیئے تھے۔ جمع کرنے کا موقع مل گیا تھا۔ اور ان کا بغور مطالعہ کرنے کے بعد میں اس نتیجہ پر پہنچا تھا کہ یہ تحریک بے انتہا خطرناک تھی اور یہ ضروری ہے کہ پبلک کے روبرو اس کی اصلیت بیان کر دی جائے ہماری گفتگو کے دوران میں مسٹر شوبیخلس، استاد مشیر و مسٹر مبارک علی یکا یک آیا اور گفتگو میں دھنس پڑا جب اس کو جلسہ میں میرے تقریر کرنے کا ارادہ معلوم ہوا تو اس نے لرزتے ہوئے اور سرگرمی سے اس تحریک کے متعلق تقریر کرنے سے روکنے کی کوشش کی اور میں نے نہ مانا۔

اس پر تھوڑی دیر کے لئے ہم سے الگ ہو گیا اور میں نے دیکھا کہ وہ مسٹر مبارک علی سے مشورہ کر رہا تھا۔ اس کے بعد وہ ہمارے پاس بہت غصہ و جوش میں واپس آیا۔ اور مجھ کو دھمکی دی کہ اگر میں نے ایک لفظ بھی تحریک کے خلاف بولنے کی جرات کی تو میں فوراً گرفتار کر لیا جاؤں گا۔

قدرتاً میں نے اس دھمکی کو کوئی اہمیت نہیں دی اور مجمع پبلک کو تحریک کے اصلی اغراض سمجھانے کے لئے بے خوف و خطر پہلے موقع سے مستفید ہونے کا ارادہ کیا۔

٢٢

میں مسٹر مبارک علی کی افتتاحی تقریر پر بہت متعجب خلاف اس نے جلسہ میں اعلان کیا کہ مسجد تمام مسلمانوں کے رہے گی۔ نیز ان لوگوں کے لئے بھی احمدیوں کے خیال کے یہاں ایک احمدی پمفلٹ موسومہ اقتباس قرآن مقدس ومطبوعہ اس بیان کی شرح کے نقل کرنے کی جرات کرتا ہوں۔

١٩٢٢ء،ص ١٨١ نئے احمدیوں کے لئے کچھ ہدایات

چونکہ مسیح موعود اللہ کا ایک پیغمبر تھا۔ اللہ کے ر ہے اور ایک آدمی کو ایمان سے خارج کر دیتی ہے۔ لہذا قر موعود کے فرمانوں کے بموجب یہ ہر احمدی کا فرض ہے ۔ نماز پڑھنی چاہئے۔ لیکن ان مقامات میں جہاں احمدی اما چاہئے اور اللہ سے دعا کرنی چاہئے کہ وہ اس کو اپنی جماع کبھی اکیلا نہیں رہ سکتا۔

اسی طرح احمدیوں کو اپنی بیٹیوں کی شادی غیر احم عام طور پر بیویوں پر ان کے شوہروں کا اثر پڑتا ہے اور اس طرح احمدیوں کو غیر احمدیوں کے جنازوں میں بھی شرکت نہی ایک ایسے شخص کے لئے سفارش کرنے کے برابر ہے جس مخالفت کرنے سے اپنے آپ کو دشمن ثابت کر دیا ہے۔ ی سیاسی پروگرام اس سے بھی بدتر ہے۔ کیونکہ وہ انسان ا وفاداری کی تلقین کرتے ہیں۔ یہاں میں دوبارہ انہی کے پمفلٹ سے اخذ کرتا ہوں۔ جس کا نام ہے جماعت احمدی کی خدمت میں تحفہ مصدقہ نمبر ٢٠٨ مجریہ طبع ثانی ١٩٢٢ء۔

ادب سے آپ کی خدمت میں تہ دل سے مبارکباد پیش کر اپنے خالص اور قلبی تعلقات کے اظہار کرنے کے لئے الفاظ نہیں ملتے۔ لیکن ہم حضور کو یقین دلاتے ہیں۔

٢٣

صفحہ ١٤٧

میں مسٹر مبارک علی کی افتتاحی تقریر پر بہت متعجب ہوا۔ کیونکہ بانی تحریک کی تعلیم کے خلاف اس نے جلسہ میں اعلان کیا کہ مسجد تمام مسلمانوں کے لئے جو جرمنی میں موجود ہیں کھلی رہے گی۔ نیز ان لوگوں کے لئے بھی احمدیوں کے خیال کے خلاف اسلامی خیال رکھتے ہیں۔ میں یہاں ایک احمدی پمفلٹ موسومہ اقتباس قرآن مقدس، مطبوعہ احمدیہ پریس ہند سے ایک حصہ بطور اس بیان کی شرح کے نقل کرنے کی جرات کرتا ہوں۔

١٩٢٢ء، ص ١٨١ نئے احمدیوں کے لئے کچھ ہدایات :

چونکہ مسیح موعود اللہ کا ایک پیغمبر تھا۔ اللہ کے رسولوں کو جھٹلانا بڑی خطرناک دلیری ہے اور ایک آدمی کو ایمان سے خارج کر دیتی ہے۔ لہذا قرآن، احادیث، خاتم النبیین اور مسیح موعود کے فرمانوں کے بموجب یہ ہر احمدی کا فرض ہے۔ کہ اس کو صرف احمدی امام کے پیچھے نماز پڑھنی چاہئے۔ لیکن ان مقامات میں جہاں احمدی امام نہ مل سکیں تو اس کو تنہا نماز ادا کر لینی چاہئے اور اللہ سے دعا کرنی چاہئے کہ وہ اس کو اپنی جماعت دے دے کیونکہ ایک سچا ایماندار کبھی اکیلا نہیں رہ سکتا۔

اسی طرح احمدیوں کو اپنی بیٹیوں کی شادی غیر احمدیوں سے بھی کرنی ممنوع ہے۔ کیونکہ عام طور پر بیویوں پر ان کے شوہروں کا اثر پڑتا ہے اور اس طرح ایک جان کو مرتد بنانا ہے۔ اس طرح احمدیوں کو غیر احمدیوں کے جنازوں میں بھی شرکت نہیں کرنی چاہئے۔ کیونکہ یہ اللہ تعالیٰ سے ایک ایسے شخص کے لئے سفارش کرنے کے برابر ہے جس میں مسیح موعود کا انکار کرنے اور اس کی مخالفت کرنے سے اپنے آپ کو دشمن ثابت کر دیا ہے۔ یہ ان کا مذہبی دستور العمل ہے۔ لیکن ان کا سیاسی پروگرام اس سے بھی بدتر ہے۔ کیونکہ وہ انسان کے ساتھ بلا شرط اطاعتاً اور بغیر تزلزل وفاداری کی تلقین کرتے ہیں۔ یہاں میں دوبارہ انہی کے الفاظ درج کرتا ہوں۔ جن کو میں ایک پمفلٹ سے اخذ کرتا ہوں۔ جس کا نام ہے جماعت احمدی کی طرف سے ایچ۔ آر۔ ایچ شہزادہ ویلز کی خدمت میں تحفہ مصدقہ ٢٨ نومبر، طبع ثانی ١٩٢٢ء۔

ادب سے آپ کی خدمت میں تہہ دل سے مبارکباد پیش کرتے ہیں۔ حضور والا! ہم پورے طور سے اپنے خالص اور قلبی تعلقات کے اظہار کرنے کے لئے جو آپ کے شاہی خاندان سے ہم کو کوئی الفاظ نہیں ملتے۔ لیکن ہم حضور کو یقین دلاتے ہیں۔ کہ جب کبھی شہنشاہ کو ہماری خدمات کی

٢٣

صفحہ ١٤٩

ضرورت پیش آئے۔ حضور ہم کو شاہی احکام کی تعمیل میں بلاامید کسی انعام کے جان و مال تک قربان کرنے کے لئے مستعد پائیں گے۔‘‘

کو خوشامدی سمجھتے ہیں۔ بعض ہم کو کوتاہ بین اور زمانہ ساز تصور کرتے ہیں۔ لیکن اے عالیجاہ شہزادے ہم لوگوں کی خاطر خدا کو نہیں چھوڑ سکتے..........‘‘

بخدمت ذوالفقار علی خان۔ ایڈیشنل سیکرٹری قادیان پنجاب۔ نمبر ٩٤٧ پی مورخہ یکم مارچ ١٩٢٢ء جناب من ! مجھ کو ہز رائل ہائینس شہزادہ ویلز سے حکم ہوا ہے کہ میں جماعت احمدیہ کے ممبروں کے سپاسنامہ کی رسید جو بذریعہ گورنمنٹ پنجاب موصول ہوا ہے۔ شکریہ کے ساتھ ارسال کر دوں۔‘‘

......... مذہب کے لئے مقدس جنگ بذریعہ تلوار (جہاد) کا ہمیشہ کے لئے خاتمہ ہو جانا چاہئے۔

مذہب کے لئے جگہ دینی چاہئے۔ اس گورنمنٹ اور اس کے عدل کا عطا آزادی پر شکریہ ہمارے مخالف ہمارے پروپیگنڈہ کو بزور نہیں دبا سکتے۔ جماعت کو یاد رکھنا چاہئے کہ ہم کو حکومت برطانیہ کے تحت میں جو کچھ حاصل ہے وہ دوسری کسی گورنمنٹ میں میسر نہیں ہو سکتا۔ اللہ نے چاہا کہ اسلام کے زوال کے وقت ایک منتخب جماعت قائم فرمائے۔ اس نے اس کو ایک حلیم گورنمنٹ کے ماتحتی میں رکھا۔ حکومت انگریزی ایک برکت ہے اور اگر کسی کو ان الفاظ میں شبہ ہے تو پھر لازم ہے کہ کسی دوسری گورنمنٹ کے ماتحت رہے۔ کئی اسلامی گورنمنٹ کے تحت میں۔

جماعت کو اس گورنمنٹ کی قدر کرنی چاہئے اور بذریعہ اس کی وفاداری اور اطاعت کے اپنی شکر گزاری کا اظہار کرنا چاہئے۔ لہٰذا جو ہمارا متبع ہے۔ اس کو یہ ہماری آخری وصیت سمجھنا چاہئے اور مرتے دم تک اس پر عامل رہنا چاہئے ۔‘‘

میں خیال کرتا ہوں کہ اب یہ بالکل صاف ہو گیا ہے کہ باوجود رسم کے پروگرام میں

٢٤

ابتری نہ پھیلانے کے حق اور قانون اور اپنی نیک نیتی کا احترام سے روک دیا گیا تھا۔

جرمنی میں تحریک احمدیہ پہلی آزمائش کو بھی برداشت کمزوری کو محسوس کر لیا اس نے تمام معاملہ کا عقلمندی سے اس پناہ لی کہ پولیس وقت مناسب پر مداخلت کر سکے۔ تاکہ ان کو

اس لئے اگر کسی کو بدسلوکی اور فساد کی شکایت کا زمین کا مالک جو کوئی بھی ہو جس پر مسجد بنائی جائے گی۔

برلین ٩؍اگست ١٩٢٤ء خط بنام جناب من! میں بہت ممنون ہوں گا کہ اگر آپ فرمائیں گے تو پچھلے دوشنبہ کو قیصر ڈیم پر مسجد قادیانیہ کی رسید نمبر ٣٣٦ مورخہ ٧؍ ماہ حال میں پڑھنے کے بعد میں ضروری تحریر کروں۔

اے دارورش کے قابل ایڈیٹر نے باوجود اس درخـ منظور نہیں کیا۔ اپنے پرچہ میں شائع کرنے سے انکار کر دیا۔ چیف ایڈیٹر جبکہ اپنے آپ کو سوشلزم کا پیشرو اور حمایتی ظاہر قائم ہیں کہ شاہی برٹش گورنمنٹ کسی صورت سے بھی بنی نو اور مصیبت میں ایک بڑا اور اہم حصہ نہیں لے رہی ہے کیو ہے۔ میرے لئے یہ بالکل بعید از عقل ہے کہ اس قسم کے درمیان ایک بڑا تعلق معلوم کروں کیونکہ میں ابھی تک داریو نے مجھ کو دورانِ جنگ میں ١٩١٨ء دیا۔ بھول نہیں سکا کہ اپنے اخبار میں ایک مشہور آرٹیکل بعنوان ’’ہنرے انٹی الیک

اس وقت جو چیز ہماری دلچسپی کا باعث ہے وہ ایجنٹوں کے ساتھ غیر معمولی نرم طرز عمل ہے۔ کیونکہ یہ کہنا جس نے ان زیر بحث اصحاب (احمدی) کا معاملہ اپنے ہا حال کا مصلح اسلام لکھتا ہے۔ اور اس کے متبعین کو راست با

٢٥

صفحہ ١٤٩

ابتری نہ پھیلانے کے حق اور قانون اور اپنی نیک نیتی کا احترام کرنے کے لئے میں قصداً حق گوئی سے روک دیا گیا تھا۔

جرمنی میں تحریک احمدیہ پہلی آزمائش کو بھی برداشت نہ کر سکی اور چونکہ اس نے اپنی کمزوری کو محسوس کر لیا اس لئے تمام معاملہ کا عقلمندی سے اس طرح انتظام کر کے پولیس کے پیچھے پناہ لی کہ پولیس وقت مناسب پر مداخلت کر سکے۔ تاکہ ان کو شرمندگی نہ اٹھانی پڑے۔

اس لئے اگر کسی کو بدسلوکی اور فساد کی شکایت کا حق ہے تو وہ میں ہوں نہ کہ اس قطعہ زمین کا مالک جو کوئی بھی ہو جس پر مسجد بنائی جائے گی۔

ڈاکٹر منصور ایم رفعت

برلین ٩ اگست ١٩٢٣ء خط بنام ایڈیٹر انچیف دار ورٹس۔ برلین

جناب من! میں بہت ممنون ہوں گا کہ اگر آپ اپنے اخبار میں حسب ذیل تصحیح شائع فرمائیں گے جو پچھلے دوشنبہ کو قیصردیم پر مسجد قادیانیہ کی رسم بنیادی کے موقع کے حالات دار ورٹس نمبر ٣٣٦ مورخہ ٧ ماہ حال میں پڑھنے کے بعد میں ضروری سمجھتا ہوں کہ چند الفاظ تشریح کے لئے تحریر کروں۔

١؎ دار ورٹس کے قابل ایڈیٹر نے باوجود اس درخواست کے صحیح اور درست ہونے کے منظور نہیں کیا۔ اپنے پرچہ میں شائع کرنے سے انکار کر دیا۔ یہ عجیب بات ہے کہ مذکورہ بالا اخبار کا چیف ایڈیٹر جبکہ اپنے آپ کو سوشلزم کا محب اور حمایتی ظاہر کرتے ہیں۔ ابھی تک اسی غلط خیال پر قائم ہیں کہ شاہی برٹش گورنمنٹ کسی صورت سے بھی بنی نوع انسان کے ایک بڑے حصہ کی تنزل اور مصیبت میں ایک بڑا اور اہم حصہ نہیں لے رہی ہے کیونکہ وہ اس کے مخالفوں کو سیاسی مجنوں کہتا ہے۔ میرے لئے یہ بالکل بعید از عقل ہے کہ اس قسم کے سوشل ازم اور انگریزی شہنشاہیت کے درمیان ایک ربط و تعلق معلوم کروں کیونکہ میں ابھی تک دار ورٹس کے چیف ایڈیٹر کے اعلان کو جو اس نے مجھ کو دوران جنگ میں ١٩١٨ء دیا۔ بھول نہیں سکا کہ ”انگلستان رفیق سوشلزم ہے“ اور نیز اپنے اخبار میں ایک مشہور آرٹیکل بعنوان ”ہنرے اینٹی انگلشیز کرز“ نکالا ۔۔۔۔“

اس وقت جو چیز ہماری دلچسپی کا باعث ہے وہ مسٹر اسٹفر کا جرمنی میں فرقہ احمدیہ کے ایجنٹوں کے ساتھ غیر معمولی نرم طرز عمل ہے۔ کیونکہ یہ کہنا تعجب خیز ہے کہ دار ورٹس ایک اکیلا اخبار جس نے ان زیر بحث اصحاب (احمدی) کا معاملہ اپنے ہاتھ میں لے لیا ہے۔ وہ بانی فرقہ کو ”زمانہ حال کا مصلح اسلام لکھتا ہے۔ اور اس کے متبعین کو راست باز کہتا ہے جو (بقیہ حاشیہ اگلے صفحہ پر)

٢٥

صفحہ ١٥١

آپ جو احمدیہ تحریک کے بانی کے متعلق شائع کرتے ہیں جس کو آپ ”مصلح اسلام“ کہتے ہیں۔ بجائے اس کو حقیقت میں ایک کاذب قرار دینے اور برٹش شہنشاہیت کے لئے اسلام کو جھٹلانے والے کے اس بدقسمت خیال کا یہ کافی جواب نہ ہوگا۔

(بقیہ حاشیہ گذشتہ صفحہ) تحریک کی حمایت اور اشاعت میں اپنی آمدنی کا دس فیصدی ادا کرتے ہیں۔“

دارورٹس کے چیف ایڈیٹر کو ضرور آزادی ہے کہ جس گروہ کی حمایت کرنا چاہے۔ اس کے ساتھ ہمدردی یا نفرت کرے۔ مگر یہ امر ہم کو بسلامت یہ سوال کرنے سے نہیں روک سکتا۔ آیا وہ بوجہ اپنی محبت اسلام ایسا کرتا ہے یا کسی دوسری وجہ سے۔ جرمن پریس کے قارئین کو یہاں مسٹر اسٹمر کا ترکی اور اسلام پر نالائق اور سخت حملہ یاد دلانا کافی ہے جو اس نے ١٩٢١ء میں خلافت معاملہ کے وقت کیا اور ٹلیرین، قاتل کو حق بجانب ٹھہرایا۔ اس کے اسلام کے خلاف آرمینی مداحی پراپیگنڈہ میں سرگرم حصہ لینے کو چھوڑ دیجئے۔ جن میں عصری قومی پارٹی کے ممبروں کے ساتھ دارورٹس کے ایڈیٹر کے مخالفانہ اور بدتہذیبانہ طرز عمل کو پچھلے مارچ میں یاد کرنا چاہئے جن کا قصور دارورٹس کے ایڈیٹر کی نظر میں صرف یہ تھا کہ وہ سب سے پہلے لوگ تھے جنہوں نے بدقسمت باشندگان روہر کھیٹ (علاقہ روہر ) کے ساتھ اپنی ہمدردی اور حمایت کا اظہار کرنے کے ہوٹل اسپلنڈ میں ایک جلسہ منعقد کرنے میں پہل کی تھی۔ یہ ایک ایسا کام تھا جو باوجود مدد اور حمایت جو جرمنی نے ان کے ساتھ کی اس کے (ایڈیٹر ) آرمینی دوستوں کو آج تک بھی کرنا نصیب نہ ہوا کچھ بھی ہو ہم تو دارورٹس کے ایڈیٹر کو بوجہ اس کے احمدیہ ایجنٹوں کے معاملہ میں پورے عبور کے مبارکباد دیں گے۔ وہ لکھتا ہے کہ احمدی مسجد ایک جرمن کاریگر کا کام ہے جس کو جرمن لوگ بنائیں گے !

مسٹر مبارک علی اپنے ہمراہ ایک گروہ ہندوستانی یا انگریز مزدوروں کا لانا بھول گئے کہ ان کے تعمیر مسجد میں مدد کرتے ۔“ دارورٹس کی رپورٹ سے یہ معلوم ہوگا کہ ایڈیٹر ہندوستانیوں، مصریوں کے اور دیگر ایشیائی غلامی سے نجات حاصل کرنے کی تحریکوں کے مقابلہ میں انگریزی شہنشاہی پروپیگنڈے کو جو جرمنی میں ترجیح دے گا۔

١۔ یہ صفت یعنی ”مصلح اسلام“ جس کو دارورٹس کا ایڈیٹر غلطی سے فرقہ احمدیہ کے بانی پر چسپاں کرتا ہے اس شخص نے نہیں مانی ہے۔ دیکھو پمفلٹ موسومہ (اقتباسات قرآن کریم ص ١٥٣)

مگر میں ان معنوں میں نبی نہیں ہوں یعنی یہ کہ میں اپنے آپ کو اسلام سے الگ کروں یا کسی اسلامی حکم کو منسوخ کر دوں۔ میری گردن اسی جوئے کے نیچے ہے جو اسلام ہم پر رکھتا ہے اور کسی کو کسی اسلامی حکم کو منسوخ کرنے کا اختیار نہیں ہے۔

٢٦

میں آپ کی تحریر متعلق ”مصری ڈاکٹر“ کی بھی خا مجنوں“ سے تشبیہ دیتے ہیں۔ اگر پسند کرتے ہیں کہ ایک وطنوں کو بلا لحاظ فرقہ یا جماعت حتی الامکان نجات دلانے کہیں تو میں اس کو ”مصری ڈاکٹر“ کے لئے سند عزت سمجھوں گا

کسی مسلمان یا غیر احمدی ایشیائی نے ڈاکٹر کے جو اس کو پبلک کے سامنے اپنے دستاویزات پیش کرنے ایشیائی۔ ان میں سے ایک مسٹر مبارک علی برلین میں فرقہ احم برلین ڈبلیو ٥٠ گیز برگ سٹر ۔ ٤٠

مسجد مع انتظام ہوٹ

قیصر ڈیم پر ایک عجیب

(لوکل انزیگر مورخہ ١٩؍ جون ١٩٢٤ء

”چند یوم قبل پریس میں ایک اعلان بھیجا گیا کہ وزلبین کے برلین کی اسلامی جماعت کے لئے ایک مسجد کا یہ مسلمانوں کی عبادت گاہ فرقہ اصلاح اسلام کے متبعین اور کے نام پر احمدی کہتے ہیں۔ یہ اشارہ کیا گیا تھا کہ مذہبی مقص خصوصاً بشمول ہندوستانی اور اسلامی تحریک کے اس کے عقہ بھی تھا۔

مگر باوجود اس کے واقعات بالکل اس کے طبقوں میں نیز ترکوں، عربوں اور ہندی مسلمانوں میں ش ہے۔ بلکہ وہ اس پر بے انتہا مشتبہ نظر ڈالتے ہیں۔ جماع تعلیمات سے کسی قسم کے بھی تعلق رکھنے سے انکار کر دیا۔ کیو اور جان بوجھ کر غلط بیانی کی ہوئی پاتے ہیں۔

ادھر احمدی اعلان کرتے ہیں کہ ہر وہ مسجد جہا

٢٧

صفحہ ١٥١

میں آپ کی تحریر متعلق ”مصری ڈاکٹر“ کی بھی مخالفت نہیں کروں گا جس کو آپ ”سیاسی مجنوں“ سے تشبیہ دیتے ہیں۔ اگر پسند کرتے ہیں کہ ایک شخص کو جو غیر ملکی جوئے سے اپنے ہم وطنوں کو بلا لحاظ فرقہ یا جماعت حتی الامکان نجات دلانے کی کوشش کر رہا ہے۔ ”سیاسی مجنوں“ کہیں تو میں اس کو ”مصری ڈاکٹر کے لئے سند عزت سمجھوں گا۔“

کسی مسلمان یا غیر احمدی ایشیائی نے ڈاکٹر کے خلاف ایک لفظ بھی نہیں نکالا۔ وہ سب جو اس کو پبلک کے سامنے اپنے دستاویزات پیش کرنے سے منع کرنا چاہتے تھے نہ مسلمان نہ ایشیائی۔ ان میں سے ایک مسٹر مبارک علی برلین میں فرقہ احمدیہ کے ایجنٹ کا استاد ہے۔“

برلین ڈبلیو ٥٠ گیزبرگرز۔ ٤٠ ڈاکٹر منصور رفعت

مسجد مع انتظام ہوٹل

قیصر ڈیم پر ایک عجیب تعمیر

(لوکل انزیگر محررہ ١٩ جون ١٩٢٣ء۔ اشاعت صبح)

”چند یوم قبل پریس میں ایک اعلان بھیجا گیا کہ قیصر ڈیم پر قریب رنگ ریلوے اسٹیشن وزلیبن کے برلین کی اسلامی جماعت کے لئے ایک مسجد کا بنیادی پتھر رکھا جائے گا اور مزید برآں یہ مسلمانوں کی عبادت گاہ فرقہ اصلاح اسلام کے متبعین اور سفرا بنائیں گے۔ جو اپنے آپ کو مصلح کے نام پر احمدی کہتے ہیں۔ یہ اشارہ کیا گیا تھا کہ مذہبی مقصد کے ساتھ ایک سیاسی مقصد بھی تھا اور خصوصاً بشمول ہندوستانی اور اسلامی تحریک کے اس کے عقب میں ایک انگریزوں کے خلاف مقصد بھی تھا۔“

مگر باوجود اس کے واقعات بالکل اس کے خلاف تھے۔ مسلمانان جرمنی کے تمام طبقوں میں نیز ترکوں، عربوں اور ہندی مسلمانوں میں نہ صرف اس تحریک سے مکمل علیحدگی ہی ہے۔ بلکہ وہ اس پر بے انتہا مشتبہ نظر ڈالتے ہیں۔ جماعت اسلامیہ نے احمد (مرزا قادیانی) کی تعلیمات سے کسی قسم کے بھی تعلق رکھنے سے انکار کر دیا۔ کیونکہ وہ ان میں تعلیمات قرآن کے قصداً اور جان بوجھ کر غلط بیانی کی ہوئی پاتے ہیں۔

ادھر احمدی اعلان کرتے ہیں کہ ہر وہ مسجد جہاں مرزا مسیح موعود مصلح عالم نہ مانا جائے

٢٧

صفحہ ١٥٣

عبادت کے لئے صحیح جگہ نہیں ہے۔ مگر احمدی مشن جو مجلہ اور چیزوں کے ایک جرنل اسلامک ریویو کے ذریعہ سے اشاعت کرتی ہے جو لندن کی دوکنگ مشن سے شائع ہوتا ہے۔ انگلستان کی حد درجہ غلامی میں سرشار ہے۔ احمد (مرزا قادیانی) کے دعاوی اور تعلیمات کا جو سینکڑوں ایسے ہیں صرف ایک حوالہ۔

”تو دلنشین کر لو کہ انگریزی گورنمنٹ تمہارے لئے ایک رحمت ہے اور برکت۔ یہ ایک ڈھال ہے جو تمہاری حفاظت کرتی ہے۔ لہٰذا تم کو بھی دل و جان سے اس ڈھال کی قدر کرنی چاہئے۔ انگریز مسلمانوں سے ہزار درجہ بہتر ہیں جو تمہارے سخت مخالف ہیں۔“

احمدیہ تحریک کی اصلی مقاصد کے لئے زیادہ صفائی کی ضرورت نہ ہوگی۔ انگریزوں کی حکومت کو ہندوستان اور تمام اسلامی ممالک میں مستحکم کرنے کے لئے یہ تحریک ہے۔ تاکہ انگریزوں کے خلاف تحریک کو اسلام کے تحت میں ہی دبا دیا جائے۔ احمدیہ تحریک کھلم کھلا کوشش کرتی ہے قرآن سے ثابت کرنے کی کہ پیغمبر ﷺ نے ہر ایک مذہبی جنگ (جہاد) اور بغاوت کو منع فرمایا ہے۔

تحریک احمدیہ جو اپنے مبلغین اور اعلانات کے ذریعے سے پوری قوت کے ساتھ کام کرتی ہے۔ اپنے ساتھ انگریزوں کی مخالف عالم اسلامی کے طبقوں میں اختلاف لے جاتی ہے وہ اختلاف کرتی ہے۔

اس خطرناک انگریزی مخالف کام پر قدرت پانے کے لئے یہ تحریک احمدیہ کی عملی پارٹی جس کا مرکز قادیان اور جس کا خلیفہ محمود ہے اور برلن میں مبارک علی اس کے کارکن ہیں۔

ایک خفیہ پارٹی بھی ساتھ ساتھ رکھتی ہے۔ اس کا خاص مرکز لاہور میں ہے جہاں خلیفہ محمد علی رہتا ہے۔ برلن میں اس کا اہتمام صدرالدین کے ذریعے سے ہوتا ہے۔ وہ پکے غدار ہیں۔ کیونکہ دنیا سازی کے لئے صرف ظاہری عزت حاصل کرنے اور تعلقات قائم کرنے کی غرض سے وہ اس احمدیہ تحریک کے ساتھ جس کو انگریزوں سے بلاشبہ مالی مدد ملتی ہے، ملے ہوئے ہیں۔ لیکن جہاں ان کو مفید مطلب ہوتا ہے۔ وہاں وہ ان سے تعلقات کا انکار کر دیتے ہیں۔

انگریزوں کی غرض اس تعمیر سے یہ ہے کہ اس (العلم کو یا) کو بالکل بے ضرر کر دیں جو مسلمان یہاں پڑھنے کے لئے آتے ہیں وہ بلا خیال احمدی اثر میں آجائیں گے ۔ اس مقصد کو پورا

٢٨

کرنے کے لئے مسجد کے ساتھ ہوٹل ہونا ضروری ہے جہاں رہ لئے ہر مناسب صورت پیدا کی جائے گی۔ جس میں ہر رہنے وال دینا ہوگا۔ احمدیوں کی تعلیم پر عامل ہونے کی ایک نقل اس اقرار منسلک ہوتی ہے۔

ان سب وجوہات سے یہ صاف دکھائی دیتا ہے کہ عبادت گاہ بنانے سے بالکل علیحدہ ہے۔“

٤؍اگست کو برلن میں مسجد احمدیہ کی بنیاد رکھنے ک رسمیں۔

(ڈش ڈویچ) تگنز زیٹنگ۔ ٧؍اگست صبح

برلن میں پہلی مسجد

مقرر کا پلیٹ فارم چاروں طرف شاہ بلوط (اوک) ک تھا جس کی چوٹی پر جرمنی جھنڈا لہرا رہا تھا۔ رسم کے شروع م (ڈائریکٹر) مبارک علی نے قرآن کی پہلی سورۃ تلاوت کی۔ و کے جنگ آزما ڈاکٹر منصور رفعت مصری قومی پارٹی سے تعلق ر مثلاً ۔ ”یہ مسجد نہیں ہوگی بارکیں ہوگی۔ یہ انگریزی روپیہ سے جرمنی زندہ باش! یہاں تک کہ وہ بالکل ہٹا دیا گیا۔ یہ حقیقت ساتھ اچھے تعلقات رکھتے ہیں۔ باعث مخالفت ہوئی۔ ایک اخبارات، تعمیر کے متعلق مبارک علی اور معمار ہرمن کی دو ہندوستانی سکھوں کے اور نیز معہ ایک فہرست حاضرین جلسہ کی گئیں جس پر مبارک علی نے ہتھوڑی سے حسب دستور ضربیں ل

ڈش زیٹنگ ٧؍اگست شام۔

باوجود اس کے کہ احمدیہ تحریک کے نمائندے مبارک رپورٹ کر چکے ہیں کہ اس خدا کے گھر مسجد کے بنیادی پتھر ک پوشیدہ نہ تھے۔ یہ خیال علیحدہ نہیں کیا جا سکتا کہ اس میں مسلما

٢٩

صفحہ ١٥٣

کرنے کے لئے مسجد کے ساتھ ہوٹل ہونا ضروری ہے جہاں رہنے، سوسائٹی اور مطالعہ کرنے کے لئے ہر مناسب صورت پیدا کی جائے گی۔ جس میں ہر رہنے والے کو ایک تحریری اعلان خلیفہ محمود کو دینا ہوگا۔ احمدیوں کی تعلیم پر عامل ہونے کی ایک نقل اس اقرار نامہ کی ہر احمدیہ اشتہار کے ساتھ منسلک ہوتی ہے۔

ان سب وجوہات سے یہ صاف دکھائی دیتا ہے کہ قیصر ڈیم پر مسجد بنانے کا مقصد ایک عبادت گاہ بنانے سے بالکل علیحدہ ہے۔“

٤ اگست کو برلین میں مسجد احمدیہ کی بنیاد رکھنے کی رسم پر اخبارات کی رپورٹیں اور رائیں۔

(ڈش ڈوچ) ٹگز زیٹنگ۔ ٧ اگست صبح

برلین میں پہلی مسجد

مقرر کا پلیٹ فارم چاروں طرف شاہ بلوط (اوک) کی سجی ہوئی ٹہنیوں سے گھرا ہوا تھا جس کی چوٹی پر جرمن جھنڈا لہرا رہا تھا۔ رسم کے شروع پر مقامی اسلامی احمدیہ کے کارکن (ڈائریکٹر) مبارک علی نے قرآن کی پہلی سورۃ تلاوت کی۔ دوران تقریر میں مشہور مصری آزادی کے جنگ آزما ڈاکٹر منصور رفعت مصری قومی پارٹی سے تعلق رکھنے والے نے بہت سے آوازے کسے مثلاً۔ ”یہ مسجد نہیں ہوگی بارکیں ہوگی۔ یہ انگریزی روپیہ سے بنائی گئی ہے۔ انگلستان برباد ہو! جرمنی زندہ باش! یہاں تک کہ وہ بالکل ہٹا دیا گیا۔ یہ حقیقت کہ متبعین احمدیہ تحریک انگریزوں کے ساتھ اچھے تعلقات رکھتے ہیں۔ باعث مخالفت ہوئی۔ ایک جستی صندوق مع آج کے تمام جرمن اخبارات، تعمیر کے متعلق مبارک علی اور معمار ہرمن کی دو رپورٹوں، چند جرمن، انگریزی اور ہندوستانی سکوں کے اور نیز معه ایک فہرست حاضرین مسجد کی بنیاد میں رکھا گیا بعد ازاں اس پر اینٹیں چنی گئیں جس پر مبارک علی نے ہتھوڑی سے حسب دستور ضربیں لگائیں۔

ووس زیٹنگ ٧ اگست شام۔

باوجود اس کے کہ احمدیہ تحریک کے نمائندے مبارک علی نے ہم کو یقین دلایا جیسا کہ ہم رپورٹ کر چکے ہیں کہ اس خدا کے گھر مسجد کے بنیادی پتھر رکھنے میں کسی قسم کے سیاسی اغراض پوشیدہ نہ تھے۔ یہ خیال علیحدہ نہیں کیا جا سکتا کہ اس میں مسلمانوں کی نماز کے لئے ایک خدا کا گھر

٢٩٠

صفحہ ١٥٥

بتانے کی خواہش سے کچھ زیادہ بھی ہے۔ میں نے مسجد کے بنانے کے لئے موافقت میں فیصلہ دیا ہے۔ جیسا کہ ہم کو ایک واقف کار حال سے معلوم ہوا ہے۔ انگلستان کا ہاتھ کام کر رہا ہے۔ اس لئے (انگلستان نے) ایک بہت بڑی رقم مسجد کی تعمیر کے چندہ میں دی ہے۔ پس یہ خطرہ کہ سیاست اس معاملہ میں صرف ایک حصہ ہی نہیں بلکہ بیش از بیش حصہ لے رہی ہے۔ اگرچہ ہم انجینئر (ہارمن) کے ان الفاظ کے موافق ہوں کہ ”خدا ہی کا مشرق ہے اور خدا ہی کا مغرب“ تاہم یہ ملک ہمارا ہونے سے اتنی دور نکل گیا ہے کہ اب اور زیادہ برداشت نہیں کر سکتے کہ اجنبی حکومت ہم پر حاوی ہو جائے۔

اگر اسلامی تحقیقات کی جرمن سوسائٹی کے ممبر ڈاکٹر شومبس مسجد کی تعمیر سے متعلق زور دار الفاظ میں یہ کہتے ہیں کہ ہم کو لوگوں کے ساتھ اس وقت تک رواداری برتنی اور ان کا اعتبار کرنا چاہئے۔ جب تک کہ وہ کذب بیانی کے مجرم نہ قرار دیئے جائیں۔ ہم کہتے ہیں کہ ہم کو یہ عیاں ہے کہ یہ زمانہ جرمنوں کے لئے صداقت مان لینے کا نہیں ہے۔ ہم اس لئے اس غیر سیاسی مسجد کی بنیاد کے خلاف اپنے اظہارات کا حق چھوڑنا نہیں چاہتے۔

ڈائشے زے ٹنگ۔ ٧ اگست۔ اشاعت صبح

یہ مسجد احمدی فرقہ کی طرف سے بنائی جائے گی جو زیر حفاظت انگلستان کے اسلامی خیالات کو شائع کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ احمدیہ فرقہ کے قائم مقام مبارک علی نے زبان اور انگریزی میں مہمانوں کو خوش آمدید کہہ کر مسجد کے اغراض بیان کر کے کہا کہ یہ مسجد تمام دنیا کے اور ہر فرقہ کے مسلمانوں کے لئے خدا کا ایک گھر ہوگی۔ شروع ہی سے دوران تقریر میں وہ کئی مرتبہ محض ”ہس ہس“ سے روکا گیا اور اس نے ختم ہی کیا تھا کہ بہت سے مصری (پوڈیم) منبر پر کودے اور ”جاسوس“ ۔ ”انگریزی کرایہ کے ٹٹو“ کا غل مچایا اور مسجد کو اسلامی تحریک کی قبر ہونا بیان کیا۔ جب تک کہ پولیس نے ان مداخلت کرنے والوں کو ہٹا نہ دیا۔ اس وقت تک رسم کو ملتوی کرنا پڑا۔

جب نظام قائم ہو گیا تو اسلامی تحقیقات کے لئے جرمن سوسائٹی کے ایک نمائندے نے کہا کہ قوم جرمن بحیثیت قوم کے اسلامی تحریکوں کو خوشی سے خوش آمدید کہتی ہے اور اس تحریک کو بھی بڑی سے بڑی ممکن مدد دے گی۔ انگلستان کے ساتھ تعلقات کے متعلق بعض امور اب تک صاف نہیں ہوئے ہیں۔ مسجد کے دو مینار ہوں گے۔ اور رہنے کے لئے مکان۔ مینار ٦٣ میٹر بلند

٣٠

ہوں گے اور مکان اس بلندی کا ایک ثلث اونچا ہوگا۔ دوسری منزل ( مسجد ) نیچے کے کمرے کچھ تو رہنے کے لئے ہوں گے اور کچھ حمام وغیرہ کے لئے بھی وہاں کمرے ہوں گے۔ مبارک علی نے جلسہ میں کہا کہ خرچ ٣٠ ہزار پونڈ اسٹرلنگ ہوگا۔ جس میں سے پانچ سو سامان کے لئے ہیں۔

برلینر لوکل ۔ انزائیگر ۔ ٨ اگست ۔ اشاعت صبح

قیصر ڈیم شارلوٹنبرگ میں احمدیہ فرقہ کی طرف سے مسجد کی مسلمانان ساکنان جرمنی کی طرف سے جو مخالفت ہوئی ہے۔ اس کا ذکر کر چکے ہیں۔ ذیل کا اعلان اس کو واضح کرتا ہے۔

”احمدیہ تحریک میں وہ ہندوستانی اور انگریز مل کر انگریزی نو آبادیات کی سیاست پر کام کرتے ہیں۔ ایسے مذہبی لبادہ میں انگلستان اسلامی دنیا پر ایک زبردست اثر حاصل کرنا چاہتا ہے۔ اس لئے مکار حکومت انگریز برلن میں ایک مسجد تعمیر کرائے جس سے فائدہ اٹھائے گا۔ بحیثیت قومی اور مسلمان ہونے کے ہم اس نہایت خطرناک تحریک کو روکنا اپنا فرض سمجھتے ہیں۔ کیونکہ ورنہ ہم سب انگریزی جہنم میں جا پڑیں گے۔“

مصری قومی پارٹی کی کمیٹی ۔ برلین

دی ریڈ فلیگ (روٹے فاہنے) ٨ اگست اشاعت صبح

انگریزی ایجنٹ برلین میں

کل شارلوٹنبرگ اسٹراسے میں ایک مسجد کی سنگ بنیاد کا رکھنا مسلم حلقوں میں ایک سخت سیاسی جنگ کا موضوع ہے۔ اس رسم میں احمدیہ تحریک کے لیڈروں میں سے ایک شخص مسٹر مبارک علی نے ممتاز حصہ لیا۔ مصری قومی پارٹی کے لیڈر ڈاکٹر منصور رفعت کی جانب سے بذریعہ ” تم انگریزوں کے ایجنٹ ہو ۔“ کی آوازوں سے رسمی تقریر میں کئی بار رخنہ ڈالا گیا۔ آخر کار احمدیہ فرقہ در حقیقت انگریزی شہنشاہیت کی خدمت گزار ہے اور انگریزوں کو مدد دیتا ہے۔

٣١

صفحہ ١٥٥

ہوں گے اور مکان اس بلندی کا ایک ثلث اونچا ہوگا۔ دوسری منزل پر خاص خدا کا گھر ہوگا۔ (اصل مسجد) نیچے کے کمرے کچھ تو رہنے کے لئے ہوں گے اور کچھ حمام ہوں گے۔ اکیلی عورتوں کے رہنے کے لئے بھی وہاں کمرے ہوں گے۔ مبارک علی نے جلسہ میں بیان کیا کہ تعمیر کا خرچ تین ہزار پونڈ اسٹرلنگ ہوگا۔ جس میں سے پانچ سو سامان کے لئے۔

برلینر لوکل۔ انیزیگر۔ ٨؍اگست۔ اشاعت صبح

قیصر ڈیم شارلاٹمبرگ میں احمدیہ فرقہ کی طرف سے مسجد کی تعمیر کی وجہ سے مخالف انگریز مسلمانان ساکنان جرمنی کی طرف سے جو مخالفت ہوئی ہے۔ اس کا ذکر ہم اپنے کالموں میں کر چکے ہیں۔ ذیل کا اعلان اس کو واضح کرتا ہے۔

’’احمدیہ تحریک میں وہ ہندوستانی اور انگریز آپس میں مجتمع ہوتے ہیں جو خالص انگریزی نو آبادیات کی سیاسیات پر کام کرتے ہیں۔ ایسے مذہبی اتحادوں میں سرگرمی کر کے انگلستان اسلامی دنیا پر ایک زبردست اثر حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ اچھا ہے کہ احمدی پارٹی یا زیادہ موزوں حکومت انگریز برلین میں ایک مسجد تعمیر کرائے جس میں پان، انگلش پروپیگنڈہ کیا جائے گا۔ بحیثیت قومی اور مسلمان ہونے کے ہم اس نہایت خطرناک تحریک کے خلاف انتباہ کرنا اپنا فرض سمجھتے ہیں۔ کیونکہ ہم سب انگریزی جہنم میں جا پڑیں گے۔

مصری قومی پارٹی کی کمیٹی۔ برلین دی ریڈ فلیگ (روٹے فاہنے) ٧؍اگست اشاعت صبح

انگریزی ایجنٹ برلین میں

کل شارلاٹمبرگ اسٹراسے میں ایک مسجد کی سنگ بنیاد رکھنے کی رسم ادا کی گئی جو مقامی مسلم طبقوں میں ایک سخت سیاسی جنگ کا موضوع ہے۔ اس رسم کے موقع پر نام نہاد۔ ’’احمدیہ تحریک‘‘ کے لیڈروں میں سے ایک شخص مسٹر مبارک علی نے ممتاز حصہ لیا۔ برلین کی مصری قومی پارٹی کے لیڈر ڈاکٹر منصور رفعت کی جانب سے بذریعہ ’’تم انگریزوں کے تنخواہ دار ہو۔ انگلستان غدارت ہو۔‘‘ کی آوازوں سے رسم کی تقریر میں کئی بار رخنہ ڈالا گیا۔ آخر کار مسٹر رفعت کو زبردستی ہٹایا گیا۔ احمدیہ فرقہ درحقیقت انگریزی شہنشاہیت کی خدمت میں ہے اور مسلمانوں پر تعدی کرنے میں انگریزوں کو مدد دیتی ہے۔

٣١

صفحہ ١٥٦

رفعت نے بحیثیت ان مسلمانوں کے نمائندے کے جن کو انگلستان نے ستایا ہے۔ ان انگریزوں کے غلاموں کے خلاف جو اسلام کا نام لے کر بولتے ہیں۔ بجا طور سے صدائے احتجاج بلند کی ہے۔ تعجب کی بات ہے۔ یا شاید نہیں ایسی رسم پر طبقہ حکومت کے سرکاری قائمقام بھی موجود تھے۔ ہم کو معلوم ہوا ہے کہ منجملہ ڈاکٹر فریڈ ایڈ سیکرٹری آف اسٹیٹ اور ڈاکٹر میئیر ۔ برونبرگ ضلع کے چیف پریذیڈنٹ موجود تھے۔ کیا اس کے معنی مطیع اقوام مشرق کے خلاف جرمنی کی انگلستان کے ساتھ ہم آہنگی ہے۔ جرمنی مزدور پیشہ (ورکنگ کلاس) جماعت اس کے خلاف صدائے احتجاج بلند کرتی ہے۔ ہم جرمن تاجدار لوگوں کی اور ان مشرقی غلام لوگوں کی یکساں حالت ہے جو انگلستان کی گرفت میں ہیں۔ اور (ہم) غلامان انگلستان سے کسی قسم کا بھی تعلق رکھنے سے انکار کرتے ہیں۔

ڈش الگمینی زیٹنگ ٨؍ اگست ١٩٢٥ء صبح

قیصر ڈیم میں مسجد کی بنیاد رکھنے کا معاملہ جس کے بارے میں ہم نے کل خبر درج کی تھی۔ پبلک دماغوں کو مشغول کرنے میں ناکامیاب نہ ہوگا۔ احمدیہ تحریک کے متعلق جس نے مسجد بنائی ہے۔ مختلف مضامین میں جو حال میں برلن کے پریس (اخباروں) میں شائع ہوئے ہیں۔ بہت کچھ سچ اور جھوٹ کی آمیزش ہے۔ احمدیوں میں دو مختلف گروہ ہیں۔ ایک کا صدر مرکز ووکنگ میں لندن کے جنوب مغرب میں ہے۔ (دی ووکنگ مشن) اس میں بہت انگریز بطور ممبر کے ہیں۔ منجملہ جن کے لارڈ ہیڈلے خاص پارٹ کرتے ہیں۔ اس ووکنگ مشن کا لیڈر خواجہ کمال الدین ہے۔ جو آج کل لارڈ ہیڈلے کے ہمراہ مصر اور مکہ کی سیاحت پر ہیں یہ پارٹی اسلامک ریویو نکالتی ہے اور اپنی احمدیت پوشیدہ رکھتی ہے یہ نہ تو بانی فرقہ غلام احمد القادیانی کے متعلق کچھ کہتی ہے نہ اس کے دعوے مسیح موعود اور مہدی کی بابت لب کشائی کرتی ہے۔

دوسری پارٹی احمدیوں کی وہ ہے جو اپنا حال بیان کر دیتی ہے۔ دونوں پارٹیاں برلن میں اپنی بنیاد قائم کرنے کی کوشش کرتی ہے۔ پہلی پارٹی کے لئے پچھلے سال کمال الدین نے جب وہ یہاں تھا موقع دیکھا تھا۔ بعدازاں اس نے برلن میں مستقل رہائش کے لئے صدرالدین اور عبدالمجید کو بھیجا۔ دوسری کھلی پارٹی کا قائمقام سیدھا اور ذاتی طور پر ہمدرد مبارک علی ہے۔ اس پچھلے نے قرآن کی دو سورتیں تلاوت کرنے کے ساتھ پچھلے دن رسم کا افتتاح کیا اور اس کے بعد بحیثیت

٣٢

ایک مسلمان مبلغ کے انگریزی میں ایک مختصر انسان کی برادری کا اعلان کرتا ہے۔ یہ ایک ا کا گھر ہے سنا جانا چاہئے۔ جو نہ صرف جرمنی کا ہونا چاہئے۔ جہاں سے یہ پیغام امن چمکے گا یہ کہا جانا چاہئے کہ بڑی تعداد مسل نزول کو نہ صرف احتیاطی اور مشتبہ نظر سے دیکھ کے اسباب کچھ مذہبی ہیں۔ اور کچھ سیاسی ، ا دوستی کو مانتے ہیں اور ان لوگوں کے لئے جوا لیکن ساتھ ہی یہ بھی جاننا چاہئے کہ صرف اس ہے۔ جس نے سنگ بنیاد رکھنے کی رسم کے جرمنوں سے بھی کم بہت ہی قلیل تعداد میں تھے رہی۔ خاص کر ہندوستانی تھے۔ منجملہ ان کے وقت تقریباً ایک بھی نہ تھا۔ صرف ترکی سفار

متعلق

ڈش الگمینی مجریہ ١٦؍ اگست ا تحریک احمدیہ پر انگریزوں کا ت

(اڈیٹر)

کسی احمدی کو ایسے امام کے پیچھ کو اس کی لڑکی عقد نکاح میں نہ دینی چاہئے۔

موجودگی صرف اس وجہ سے سمجھی جاسکتی ہے امام کا کام کر رہے ہیں۔ اس لئے ممکن ہے میں مشہور ہیں۔ اپنے ہمراہ رسم میں چلنے کو کہ

صفحہ ١٥٧

ایک مسلمان مبلغ نے انگریزی میں ایک مختصر تقریر کی۔ اسلام ایک خدا کی پرستش اور تمام بنی نوع انسان کی برادری کا اعلان کرتا ہے۔ یہ ایک امن کا پیغام ہے جو برلین جرمنی میں جو فرقہ پروٹسٹنٹ کا گھر ہے سنا جانا چاہئے۔ جو نہ صرف جرمنی کا قلب ہے۔ بلکہ تمام یورپ کا ہے اور یہ مرکزی مقام ہونا چاہئے۔ جہاں سے یہ پیغام امن چمکے گا۔

یہ کہا جانا چاہئے کہ بڑی تعداد مسلمانوں کی جو برلین میں رہتی ہے۔ احمدی تحریک کے نزول کو نہ صرف احتیاطی اور مشتبہ نظر سے دیکھتی ہے بلکہ نیز کھلی ہوئی دشمنی کی نظر سے۔ اس طرز عمل کے اسباب کچھ مذہبی ہیں۔ اور کچھ سیاسی، احمدی لوگ انگلستان اور انگریزی حکومت سے خاص دوستی کو مانتے ہیں اور ان لوگوں کے لئے جو اس تحریک کی تواریخ سے واقف ہیں یہ ماننا طبعی ہے۔ لیکن ساتھ ہی یہ بھی جاننا چاہئے کہ صرف اس سبب سے یہ خاص مسلم حلقوں میں منافرت پیدا کرتی ہے۔ جس نے سنگ بنیاد رکھنے کی رسم کے وقت بلا روک اپنا اظہار کیا۔ مشرقی لوگ رسم میں جرمنوں سے بھی کم بہت ہی قلیل تعداد میں تھے۔ جماعت اسلامیہ برلین اس واقعہ سے بالکل الگ رہی۔ خاص کر ہندوستانی تھے۔ منجملہ ان کے ایک تعداد ہندوؤں کی تھی۔ مصری اور ترک رسم کے وقت تقریباً ایک بھی نہ تھا۔ صرف ترکی سفارت کے امام ١؎ شکری بے سیر دیکھنے کو موجود تھے۔

متعلق احمدیہ تحریک

ڈش الیگمین مجریہ ١٦؍ اگست اشاعت صبح کے ایک آرٹیکل کا اقتباس

تحریک احمدیہ پر انگریزوں کا تنخواہ دار ہونے کا الزام لگایا گیا ہے۔ (ای ڈی یعنی ایڈیٹر)

کسی احمدی کو ایسے امام کے پیچھے نماز نہ پڑھنی چاہئے جو اس کے فرقہ کا نہ ہو۔ غیر احمدی کو اس کی لڑکی عقد نکاح میں نہ دینی چاہئے۔ غیر احمدی کی تجہیز و تکفین میں ایک احمدی کو حصہ نہ لینا

١؎ اگرچہ ہم ترکش سفارت کے امام شکری بے کو ایک سیدھا مسلمان سمجھتے ہیں۔ اس کی موجودگی صرف اس وجہ سے سمجھی جاسکتی ہے کہ وہ آج کل برلین میں افغان سفارت کے لئے بھی امام کا کام کر رہے ہیں۔ اس لئے ممکن ہے کہ افغانی سفیر نے جو اس فرقہ سے دوستانہ مراسم رکھنے میں مشہور ہیں۔ اپنے ہمراہ رسم میں چلنے کو کہا ہے۔

٣٣

صفحہ ١٥٩

چاہئے۔ (احمد مصلح عالم ۔ اس کے دعاوی اور ہدایت اسی کے الفاظ میں سکندر آباد ١٩٢٠ء ص ٥٤۔ احمدیوں کے نزدیک جو مسلمان فرقہ احمدیہ سے تعلق نہیں رکھتے وہ حقیقتاً کافر ہیں۔

یہ ظاہر ہے کہ شروع ہی سے اس قسم کا اختلاف احمد (مرزا قادیانی) اور اس کے متبعین کے خلاف مسلمانی حلقوں میں سخت مخالفت پیدا کرتا ہے۔ اس مخالفت کو اس خاص مقصد سے اور بھی زیادہ تقویت پہنچتی ہے۔ جو احمد (مرزا قادیانی) اور اس کے پیرووں کو انگلستان کی طرف سے ہے۔ بحال ہونے والا اسلام انگلستان کو اپنا جانی دشمن پاتا ہے۔ ہندوستان مشرقی قریب اور مصر کے مسلمان ہر اجنبی اور سب سے اول انگریزی حکومت کو اپنے اوپر سے بلا شرط دھتکارتے ہیں اور اپنا سہارا اور قوت اس قومی تحریک میں پاتے ہیں جو اسلام میں اٹھ رہی ہے۔ مرزا غلام احمد جو ایک خدا کی حکومت امن کی جو مذہبی اور اخلاقی قوتوں سے پیدا ہوتی ہے۔ تبلیغ کرتا ہے۔ شروع سے جہاد کرنا ناجائز کہتا ہے۔ اس پناہ اور آزادی نے جو اس کی مذہبی تحریک کو اس کے دشمنوں کے سخت سے سخت ایذا رسانی کے مقابلہ میں انگریزی قانون کی بدولت حاصل ہے۔ اس کی نظر میں ہندوستان میں حکومت انگریزی کو ”رحمت اور برکت“ قرار دیا۔ (گیم بک مندرجہ بالا ص ٣٧)

گورنمنٹ انگریزی کی بے چون و چرا اطاعت تحریک احمدیہ کا واضح طور پر بیان کیا ہوا آج تک اور ہمیشہ کے لئے ایک بنیادی اصول ہے۔ بہت سے مقامات مذکورہ بالا کتاب کے اور خاص کر ایک چھوٹی سی کتاب موسومہ ”اے پریذیڈنٹ ٹوہز آر۔ ایچ دی پرنس آف ویلز فرام دی احمدیہ کمیونٹی ”کلکتہ ١٩٢٢ء صفحات ٥١ تا ٥٤) اگر احمدی بجان و مال شاہی احکام کی تعمیل کے لئے اپنے آپ کو پیش کرتے ہیں۔ جیسا کہ اے پریذیڈنٹ وغیرہ سے ظاہر ہوتا ہے۔ ”جب کبھی ملک معظم کو ہماری خدمات کی ضرورت لاحق ہو۔“ تو ہر شخص اس بے اعتباری کی وجہ دیکھ سکتا ہے جو موجودہ حالت میں ان پر جاتی ہے۔ اور انگلستان کی بڑی بیوقوفی ہوگی۔ اگر وہ ایسے آلہ کا وقت پر استعمال نہ کرے احمدیہ تحریک اس لئے اسی اثناء میں بڑھ گئی ہے۔

صدر مقام قادیان میں ہے جہاں ”مقدس نبی“ متوفی نے مولوی نور الدین کو خلیفہ مقرر کیا جس کی جگہ موجودہ دوسرا خلیفہ مرزا بشیر الدین محمود کام کرتا ہے۔...... یہ دعویٰ کیا گیا ہے کہ تعمیر ہونے والی مسجد کا خرچ پوری طرح سے دولت مند احمدی مستورات برداشت کریں گی جو سونا اور جواہرات پیش کرتی ہیں۔

(احمدی تبلیغی پرچہ ”مسلم سنرایز۔ شکاگو ج ٢ ص ٤٠٢)

٣٤

مختلف شاخوں کی ایک حد تک یہ کیفیت ہے۔ طبعی طور پر وہ احمد (مرزا قادیانی) کے خاص ابا سے حمایت کرتے ہیں۔ اکثر باعث مشکلات ہوئے جس کا مرکز لاہور۔ ہندوستان میں اور دوکنگ لند مشکلات کو رفع کر دیا گیا ہے۔ اس جماعت میں ایم مح بڑا حصہ لے رہے ہیں۔ یہ جماعت احمدیہ کے ارشا اپنے آپ کو عام مسلمان ظاہر کرتی ہے اور اپنے آپ اس جماعت کی احمدی شان اس شخص پر نمایاں ہے جس کو محمد علی نے شائع کیا ہے۔ اس کا خاص اخبار اسلا

خواجہ کمال الدین دور دراز کے تبلیغی سفر ک گئے ہیں۔ جنگ عالم کے شروع میں جب کہ مکہ ک ساتھی بنانے کا مسئلہ پیش تھا۔ خواجہ کمال الدین مکہ میں معاملات انگلستان کے غیر مفید صورت اختیار کر رہے احمدیہ کی اس شاخ میں بہت سے انگریز شامل ہو ہیڈلے پیش پیش ہیں۔ لارڈ ہیڈلے خواجہ کمال الدی جہاں یہ آشکارا ہے کہ ایک بڑی تعداد مشرقیوں خص احمدیہ کی اس شاخ کے قائمقام صدر الدین اور عبدالمج بھی یہاں فریملیز پلاز پر ایک مسجد بنوانا چاہتے ہیں۔

فریڈیرکس نمبر ٣٣ بابت اگست ١٩٢٣ء

وزمبون اسٹیشن پر شار لاھمبرگ میں سنگ ہوئی اسلامی احمدیہ فرقہ ایک مسجد دو گنبدوں اور دو پی بنیاد کی رسم کے وقت بہت سے شبہ کرنے والے پا ک سیکرٹری آف سٹیٹ اور ڈاکٹر میئر ضلع برنڈ برگ کے قائمقام نے اپنی افتتاحی تقریر میں جو انگریزی زبان احمدیہ فرقہ نے دنیا کے تمام حصص میں خالص اسلام

٣٥

صفحہ ١٥٩

اظ میں سکندر آباد ١٩٢٠ء ص ٥٤۔ حقیقتاً کافر ہیں۔ مرزا قادیانی) اور اس کے متبعین لفت کو اس خاص مقصد سے اور کے پیرووں کو انگلستان کی طرف ہندوستان مشرقی قریب اور مصر سے بلاشرط دھتکارتے ہیں اور ہی ہے۔ مرزا غلام احمد جو ایک ہے۔ تبلیغ کرتا ہے۔ شروع سے یک کو اس کے دشمنوں کے سخت حاصل ہے۔ اس کی نظر میں گیم بک مندرجہ بالا ص ٣٧) در پر بیان کیا ہوا آج تک اور اکتاب کے اور خاص کر ایک ف ویلز فرام دی احمدیہ کمیونٹی کی تکمیل کے لئے اپنے آپ کو جب کبھی ملک معظم کو ہماری لتا ہے جو موجودہ حالت میں کا وقت پر استعمال نہ کرے

مولوی نورالدین کو خلیفہ مقرر ۔ یہ دعویٰ کیا گیا ہے کہ تعمیر داشت کریں گی جو سونا اور لم سنرائز۔ شکاگو ج ٣ ص ٣٤)

مختلف شاخوں کی ایک حد تک یہ کیفیت ہے کہ جن کے وسائل انگلستان استعمال کرتا ہے ۔ طبعی طور پر وہ احمد (مرزا قادیانی) کے خاص ارشادات جن کی اس کے متبع علانیہ اور کھلے دل سے حمایت کرتے ہیں۔ اکثر باعث مشکلات ہوئے ہیں۔ اس احمدیہ فرقہ کے ایک خاص شعبہ میں جس کا مرکز لاہور ۔ ہندوستان میں اور ووکنگ لندن جنوب مغرب (انگلستان) میں ہے۔ ان مشکلات کو رفع کر دیا گیا ہے۔ اس جماعت میں ایم محمد علی (لاہور) اور خواجہ کمال الدین (ووکنگ) بڑا حصہ لے رہے ہیں۔ یہ جماعت احمدیہ کے ارشادات پر سے خاموشی سے گزر جاتی ہے۔ اور اپنے آپ کو عام مسلمان ظاہر کرتی ہے اور اپنے آپ کو احمدیہ تحریک سے بالکل الگ رکھتی ہے۔ اس جماعت کی احمدی شان اس شخص پر نمایاں ہے جو بنظر تامل دیکھتا ہے اور نیز اس قرآن سے جس کو محمد علی نے شائع کیا ہے۔ اس کا خاص اخبار اسلامک ریویو ہے۔

خواجہ کمال الدین دور دراز کے تبلیغی سفر کر چکے ہیں۔ من جملہ ان کے ڈچ انڈیز کو بھی گئے ہیں۔ جنگ عالم کے شروع میں جب کہ مکہ کے شریف حسین کو ترکی سے توڑ کر انگلستان کا ساتھی بنانے کا مسئلہ پیش تھا۔ خواجہ کمال الدین مکہ میں تھے۔ اب اس وقت جب کہ عربستان میں معاملات انگلستان کے غیر مفید صورت اختیار کر رہے ہیں۔ خواجہ کمال الدین دوبارہ مکہ میں ہیں۔ احمدیہ کی اس شاخ میں بہت سے انگریز شامل ہو گئے ہیں۔ منجملہ جن کے خاص طور سے لارڈ ہیڈلے پیش پیش ہیں۔ لارڈ ہیڈلے خواجہ کمال الدین کے ساتھ مصر اور مکہ کو گئے ہیں۔ برلین میں جہاں یہ آشکارا ہے کہ ایک بڑی تعداد مشرقیوں خصوصاً ہندوستانیوں اور مصریوں کی رہتی ہے۔ احمدیہ کی اس شاخ کے قائمقام صدرالدین اور عبدالمجید ہیں۔ جن کے پاس روپیہ بکثرت ہے۔ وہ بھی یہاں فریمیلیز پلاز پر ایک مسجد بنوانا چاہتے ہیں۔

فریڈیریکس نمبر ٣٣ بابت اگست ١٩٢٣ء

ولہلمن اسٹیشن پر شارلا ٹمبرگ میں سنگ بنیاد رکھنے کی ایک رسم مزاحمتوں سے ممنوع ادا ہوئی اسلامی احمدیہ فرقہ ایک مسجد دو گنبدوں اور دو پتلے اونچے میناروں والی بنانے والا ہے۔ سنگ بنیاد کی رسم کے وقت بہت سے شبہ کرنے والے پاکباز موجود تھے۔ منجملہ ان کے ڈاکٹر فرے انڈ سیکرٹری آف سٹیٹ اور ڈاکٹر میئر ضلع برنڈبرگ کے چیف پریزیڈنٹ تھے۔ احمدی فرقہ کے لوکل قائمقام نے اپنی افتتاحی تقریر میں جو انگریزی زبان میں تھی۔ نہایت خوبصورتی سے بیان کیا کہ احمدیہ فرقہ نے دنیا کے تمام حصص میں خالص اسلام کا مذہب تلقین کرنا اپنا مذہب ٹھہرایا ہے۔ نئی

٣٥

صفحہ ١٦١

مسجد کی تعمیر کی ضرورت اس وجہ سے تھی کہ ”ایماندار کے لئے خدا کا ایک گھر اور دوسرے مذہب والوں کے لئے ایک بیت العلم دیا جائے۔ لیکن یکا یک ایک واقعہ پیش آیا۔ ایک مصری نے تقریر کی اجازت مانگی اور وہ یہ ثابت کرنے کے لئے تیار تھا کہ احمدی انگریزوں کے تنخواہ دار ہیں اور مسجد انگریزی روپیہ سے بنائی جارہی ہے۔ مخالف کو خوشی منانے کی جگہ سے ہٹا لے جانے کے لئے ایک پولیس مین کو بلانے کی وجہ سے یہ خلاف امید نظارہ ختم ہو گیا جو جرمن موجود تھے وہ فوراً رسم کی جگہ سے چلے گئے۔ کیونکہ ان کی رائے یہ تھی کہ جرمنی دلچسپی اور ہمدردی آج کل مظلوم اقوام کی طرف ہونی چاہئے اور رسم میں مدد کرنا بطور شان بڑھانے والوں کے ایک ایسے مقصد میں جو ان لوگوں کی تحریک آزادی کیخلاف ہو جن کو انگلستان نے ستا رکھا ہے اور جن کے ممبر برلین میں رہ رہے ہیں۔ جرمنوں کی شان کے خلاف ہے۔

بدقسمتی سے سرکاری جرمن نمائندے جو اس رسم میں شریک تھے۔ اس خیال کے نہیں معلوم ہوئے کیونکہ وہ نہ صرف وہاں موجود رہے بلکہ شام کے انتظام کے دوران کہا جاتا ہے کہ ”جرمن پبلک کی جانب سے“ اسٹوڈین ڈائریکٹر ڈاکٹر شوٹس نے تقریر بھی کی۔ یہ بتانا ضروری نہیں ہے کہ یہ صاحب کسی صورت سے بھی برلین آبادی کی طرف سے پیش ہونے کا اختیار نہیں رکھتے تھے۔ اسی اثناء میں یہ عیاں ہو گیا کہ قیصر ڈیم پر یہ مسجد پان انگلش مقصد رکھتی ہے۔ اور ہر شخص کو مصری قومی پارٹی کی برلین کمیٹی کا شکر گزار ہونا چاہئے کہ اس نے ہمارے پاس حسب ذیل اعلان بھیجا۔

”احمدی تحریک، میں خالص انگریزی نو آبادیات کی سیاست کو عمل میں لانے کے ہندوستانی اور انگریز مجتمع ہوئے ہیں۔ اس مذہبی لبادہ میں سرگرمی سے انگلستان اسلامی دنیا پر زبردست اثر حاصل کرنا چاہتا ہے۔ اچھا ہے احمدیہ پارٹی یا زیادہ موزوں برطانی گورنمنٹ برلین میں ایک مسجد بنائے جس میں پان انگلش تبلیغ (پروپیگنڈہ) کا کام کیا جائے۔ بحیثیت نیشنلسٹ اور مسلمان ہونے کے ہم اس نہایت خطرناک تحریک کے خلاف ہوشیار کرنا اپنا فرض سمجھتے ہیں ورنہ ہم سب کے سب جہنم میں پڑیں گے۔

بالکل صحیح ہے اور ہم اس سے کسی حالت میں بھی اتفاق نہیں کر سکتے۔ خصوصاً جب کہ جرمنی کی قسمت میں فرانس کی نو آبادی ہونا لکھا ہے۔

٣٦

احمدیہ تحریک

بانی احمد القادیانی دنیا کے لئے زمانہ حال کا مصلح بنی نوع انسان کی ہدایت کے لئے مبعوث کیا۔ (دیکھو پہلا ”وہ مسلمانوں کے لئے مسیح موعود اور مہدی ”وہ عیسائیوں کے لئے اور یہودیوں کے لئے ”وہ ہندؤوں کے لئے کلکی اوتار اور کرشن اوتار ”وہ زرتشتیوں کے لئے سوشیانت ہے۔“

”مختصر یہ ہے کہ یہ وہی دنیا کی پچھلی قوموں کا لسانی پیغمبر ہے۔ جس کا بے حد شوق سے انتظار تھا اور جو اس عجیب العمل شخص نے اپنے میں ہونا بتایا۔ جن کے متبعین علی الاعلان بیان کرتے ہیں کہ اس کی آمد سے ہندؤوں میں امن اور خوشی کا دور دورہ ہونا تھا۔ مگر یہ وعدے بالکل قابل افسوس ناکام ثابت ہوئے۔ اس انسان ہمیشہ زیادہ مصیبت اور گڑبڑ میں پھنس گیا۔ ہر جگہ ...... کی تدابیر کا شکریہ۔ انسانوں کا خون چوسنے ٹیگور انگریزوں کو گوشت خوار قرار دیتا ہے۔

ہندوستان کو ایک خط میں جو اخبار پربھاتی پریس میں انگریز کی صفت یوں بیان کرتے ہیں: ”جب سے میں لندن میں آیا ہوں اس وقت قریب قریب ناممکن ہو گئی ہے جو کچھ میں دیکھتا ہوں اور طور سے سمجھتا ہوں ایسی واضح کہ کبھی پہلے نہ تھی کہ فی الواقع خوار انگریزوں کی ایڑیوں کے نیچے ہیں۔ وہ بے انتہا طاقتور پچھلے سال پنجاب میں نہایت خوف ناک کہ وہ بالکل اتفاقی ہوں گے۔ جن کی خالص وجہ صرف پارلیمنٹ بالکل اتفاقی ہوں گے جن کی خالص وجہ صرف

٣٧

صفحہ ١٦١

احمدیہ تحریک

بانی احمد القادیانی دنیا کے لئے زمانہ حال کا موعود پیغمبر جس کو خدا موجود زمانہ مادیت میں بنی نوع انسان کی ہدایت کے لئے مبعوث کیا۔ (دیکھو پمفلٹ موسومہ ”اکٹریکٹ فرام ہولی قرآن ص١٨٠)

”وہ مسلمانوں کے لئے مسیح موعود اور مہدی ہے۔“

”وہ عیسائیوں کے لئے اور یہودیوں کے لئے موعود شفیع (نجات دہندہ) ہے۔“

”وہ ہندوؤں کے لئے کالکی اوتار اور کرشن کا اوتار ہے۔“

”وہ زرتشتیوں کے لئے سوشیانت ہے۔“

”مختصر یہ ہے کہ یہ وہی دنیا کی پچھلی قوموں کے نبیوں کی قوتوں اور روحانیوں کا مجموعہ لاثانی پیغمبر ہے۔ جس کا بے حد شوق سے انتظار تھا اور تلاش تھی۔“ یہ منجملہ ان خاص صفات کے ہیں جسے اس عجیب العمل شخص نے اپنے میں ہونا دنیا کے سامنے بیان کیا ہے۔ اگر چہ وہ اور اس کے متبعین علی الاعلان بیان کرتے ہیں کہ اس کی آمد سے تمام مسلمانوں ۔ عیسائیوں ، یہودیوں اور ہندوؤں میں امن اور خوشی کا دور دورہ ہونا تھا۔ مگر ہم سخت افسوس سے دیکھتے ہیں کہ یہ تمام بلند وعدے بالکل قابل افسوس ناکام ثابت ہوئے۔ اس کے کہنے کی ضرورت نہیں جبکہ مصیبت زدہ انسان ہمیشہ زیادہ مصیبت اور گڑبڑ میں پھنس گیا۔ پرفریب باتیں!

....... کی تدابیر کا شکریہ۔ انسانوں کا خون چوسنے والا۔

ٹیگور انگریزوں کو گوشت خوار قرار دیتا ہے۔

ہندوستان کو ایک خط میں جو اخبار پراباشی کلکتہ میں شائع ہے ڈاکٹر رابندر ناتھ ٹیگور نوبل پرائز مین انگریز کی صفت یوں بیان کرتے ہیں:

”جب سے میں لندن میں آیا ہوں اس قدر لوگوں سے گھبرا رہا ہوں کہ خط و کتابت قریب قریب ناممکن ہو گئی ہے جو کچھ میں دیکھتا ہوں اور سنتا ہوں اس سے میں اب ایک بات واضح طور سے سمجھتا ہوں ایسی واضح کہ کبھی پہلے نہ تھی کہ فی الحال ہم پوری طرح اور بری طرح سے گوشت خوار انگریزوں کی ایڑیوں کے نیچے ہیں۔ وہ بے انتہا طاقتور ہیں۔

پچھلے سال پنجاب میں نہایت خوف ناک انگریزی مظالم کے وقت میں نے یہ خیال کیا کہ وہ بالکل اتفاقی ہوں گے۔ جن کی خالص وجہ صرف ناگہانی خوف ہوگا۔ لیکن اس موضوع پر پارلیمنٹ بالکل اتفاقی ہوں گے جن کی خالص وجہ صرف ناگہانی خوف ہوگا۔ لیکن اس موضوع پر

٣٧

صفحہ ١٦٢

پارلیمنٹ کی مباحثوں کی سرکاری رپورٹ سے میں اب اچھی طرح جان گیا ہوں۔ کہ وہ وحشیانہ سنگدلانہ بے رحمی ان کی رگوں میں بہنے والے خون کے ہر ذرہ میں داخل ہے اور پکی طرح ان کی ہڈیوں کے گودے میں بھرے ہوئے ہیں۔ یہاں بعض ان انسانی ہستیوں نے جنرل ڈائر کے خون آلود کارناموں کو بطور اعلیٰ درجہ کی بہادری کے سراہا ہے۔

اسی کے سلسلہ میں انگلستان کی عورتوں میں بھی خون آشام خونخواری کی باغیانہ علامات پر مجھ کو بے انتہا دھکا لگا۔ وہ وقت آگیا ہے کہ ہم کو پوری طرح سے مان لینا چاہئے کہ برٹش گورنمنٹ اور برٹش لوگوں سے کسی قسم کی کوئی امید نہ رکھنی چاہئے۔ ان سے کسی قسم کی توقع رکھنی اپنی توہین کرنا ہے۔ ہم اب تک اس امید کے فریبی آسیب کے نشہ آور جادو میں مبتلا رہے کہ وہ دینگے اور ہم لیں گے۔ ان کا کام دینا تھا۔ اور ہم بھکاری۔ لیکن ہم درحقیقت خوش قسمت ہیں کہ وہ عطایا کے قابل ہی نہیں ہیں۔ کیونکہ عطیات کمزوروں کو بہ نسبت دھوکہ بازی کے دیر یا سویر برباد ہی کر دیتے ہیں۔ اگر ہم مضبوط ہوتے۔ اگر ہم طاقت ور ہوتے تو قبول عطیات گو ہم کو چھوٹا نہ بناتے۔ ہماری روحوں کو خراب نہ کرتے۔ ہر بڑی قوم دوسروں سے عطیات قبول کرتی ہے۔ یہ مثل ٹیکس وصول کرنے کے ہے۔ بھرا ہوا ہمیشہ بھر جاتا ہے۔ بادشاہ ہمیشہ وصول کرتا ہے مگر بھکاری کبھی نہیں۔ تو ہمارے لئے اس سے موت بہتر ہے کہ ہم انگریز جیسے لوگوں سے بخشیش حاصل کرنے کو ہاتھ پھیلائیں۔

١؎ قتل عام کے دام۔ اسے پنجاب (ہند) کے ہزاروں غیر مسلح بے پناہ بے قصور مردوں، عورتوں اور بچوں کو قتل کرنے کی کامیاب کارروائی کی وجہ سے (فرقہ احمدیہ کا پریس جنرل ڈائر کو اس کی عمر درازی کے لئے کافی انعام دے چکا ہے۔) مارننگ پوسٹ کی خبر کے بموجب انگریزوں نے ٢٦ ہزار پونڈ سے زائد کا فنڈ کھولا ہے۔ علاوہ ازیں ہندوستان کے مالیہ سے ڈائر کو ٦٥٠ پونڈ سالانہ ملے گا۔ اس عرصہ کے بعد ریٹائر ہونے پر ٢٨٠٠ پونڈ سالانہ کی پینشن کا مستحق ہوگا۔

کوئی تعجب نہیں کہ سلطنت برطانیہ میں بیشمار قاتل اور پھانسی دینے والے پھرتے ہیں۔ برٹش پارلیمنٹ اخبارات اور پبلک نے ڈائر کو بطور بطل وقت کے سراہا ہے اور اس کے ہندوستانیوں کے خون میں ہاتھ رنگنے کے کام پر اپنی مہر پسندیدگی ثبت کر دی ہے وہ کہتے ہیں یہ تورات کی غلطی تھی اور ہندوستانیوں کے جانوں کے زیاں کے جرمانہ میں حکومت برطانیہ قاتل کی جیب بھرنے کے لئے لوگوں سے اینٹھ رہی ہے۔

٣٨

مرزائیوں

کافرانہ

حضرت مولانا غلا

PDF 164

خاتم النبیین لا نبی بعدی

میں آخری نبی ہوں میرے بعد کوئی نبی نہیں

مرزائیوں کے

کافرانہ عقائد

حضرت مولانا غلام ربانی جوہر آبادی

صفحہ ١٦٥

بسم الله الرحمن الرحیم

عرض مؤلف

برادران محترم یہ چند تحریرات ”مرزائیوں کے کافرانہ عقائد“ کے عنوان سے صرف اس لئے قلم بند کئے ہیں تاکہ بے خبر مسلمان مرزائیوں کے خطرناک عقائد اور مقاصد سے مطلع ہو کر اپنے اور اپنے متعلقین کے ایمان کی حفاظت کر سکیں۔ مرزائی یہ تاثر دیتے ہیں کہ ہم بڑے با اخلاق ہیں۔۔۔۔۔۔۔ اس مختصر تحریر میں آپ پر واضح ہو جائے گا۔ کہ مرزا غلام احمد نے تمام مسلمانوں کے لئے وہ گندی زبان استعمال کی ہے کہ کوئی شریف آدمی سن ہی نہیں سکتا۔ بولنا اور لکھنا تو درکنار مرزا غلام احمد نے لکھا ہے کہ جو میری نبوت کو نہیں مانتے وہ کتے خنزیر ولد الحرام (حرامی) اور لعنتی ہیں اور پکے کافر ہیں۔

مرزا قادیانی نے کبھی محدث ہونے کا دعویٰ کیا اور کبھی مجدد ہونے کا اور کبھی مہدی ہونے کا اور کبھی عیسیٰ ہونے کا اور کبھی عین محمدﷺ ہونے کا اور پھر بدبخت نے مستقل نبی ہونے کا جھوٹا دعویٰ کیا چونکہ جھوٹے کے پیر نہیں ہوتے۔ قلابازیاں کھاتے ہوئے اس نے خدائی کا دعویٰ کیا اور پھر اس بدبخت نے اللہ پاک کی شان میں شرم ناک توہین کی کہ کوئی شریف انسان سن ہی نہیں سکتا۔ مرزا نے لکھا کہ خدا نے میرے ساتھ قوت رجولیت آزمائی (یعنی میرے ساتھ وہ کام کیا جو مرد عورت کے ساتھ کرتا ہے) مسلمانو! انصاف کرو۔ کیا یہ مرزائی پاکستان میں رہنے کے قابل ہیں۔ کیا اس قابل نہیں کہ ان کو کسی اسرائیل میں بھیج دیا جائے جہاں کی یہ پیداوار ہیں۔ آخر میں مارشل لاء حکومت سے پوچھتا ہوں کہ آپ کا یہ دعویٰ ہے کہ فوج جغرافیائی سرحدوں کے ساتھ ساتھ نظریاتی سرحدوں کی حفاظت بھی کرتی ہے کیا مرزائیوں سے بڑھ کر نظریہ پاکستان کا کوئی اور دشمن ہو سکتا ہے۔ کیا کسی ملک کے بنیادی نظریہ کے بدترین دشمنوں کو اس ملک کے اعلیٰ عہدوں پر فائز کیا جاسکتا ہے۔ کیا ملک کے اور اسلام کے دشمنوں کو بڑے بڑے عہدے دینا خود ملک دشمنی نہیں ہے؟ وقت کے حکمرانوں سے قوم اس بنیادی سوال کا جواب مانگتی ہے۔

مؤلف: حضرت مولانا مفتی غلام ربانی ١٦ اپریل ١٩٨٢ء

٢

بسم الله الرحمن الرحیم الحمد لله وحده والصلوة والسلام

ما كان محمد ابا احد من رجالكم ولكن رسو قرآن عزیز کی اس آیت کے بعد کب کوئی گنجائ یہ نہیں بتا رہی ہے کہ حضور خاتم النبیین ہیں اور حضورﷺ ہے کہ: ”انا خاتم النبيين لا نبي بعدى“

دوسری دلیل قرآن میں جب عیسیٰ علیہ السلام تو یوں فرمایا: ”یأتی من بعدی اسمه احمد“ چونکہ نے آنا تھا اس لئے من بعدی فرمایا اور جب اللہ پاک بقرہ کی ابتدائی آیات میں یوں فرمایا: ”والذین یؤمن قبلك“ جو مومن وہ لوگ ہیں کہ جو ایمان لاتے ہیں اس کلام پر جو کہ آپ کی طرف نازل ہوا۔

پس چونکہ نبوت ختم ہو چکی تھی آپﷺ کے ب ”الیك“ پر بات ختم فرمادی اور ”من بعدك“ نہیں ف رمایا۔ ورنہ قرآن عزیز کی بہت سی آیات سے ختم نبو

احادیث میں ہے: ”انه سيكون فى ا انه نبى الله وانا خاتم النبيين لا نبى بعد عنقریب میری امت میں ٣٠ کے قریب جھوٹے پیدا ہو ہوں لیکن میں خاتم النبیین ہوں میرے بعد کوئی نبی نہیں فرماتے ہیں کہ: ”ان الرسالة والنبوة قد انقط بعدی (ترمذی ج ٢ ص ٥٣ ، کنز العمال ج ١٥ ص میرے بعد نہ کوئی رسول آئے گا اور نہ کوئی نبی آئے گا ورنہ بے شمار احادیث سے حضورﷺ کی ختم نبوت ثابت آپ ناظرین کرام خود غور فرمائیں کہ حضو

٣

صفحہ ١٦٥

بسم الله الرحمن الرحيم الحمد لله وحده والصلوة والسلام على من لا نبى بعده . ما كان محمداً ابا احد من رجالكم ولكن رسول الله وخاتم النبيين (القرآن) قرآن عزیز کی اس آیت کے بعد کب کوئی گنجائش باقی رہتی ہے کیا یہ آیت واضح طور پر یہ نہیں بتا رہی ہے کہ حضور خاتم النبیین ہیں اور حضور ﷺ نے خود احادیث میں اس کی تفسیر یہ فرمائی ہے کہ : "انا خاتم النبيين لا نبى بعدي" دوسری دلیل قرآن میں جب عیسیٰ علیہ السلام کو خطاب فرمایا حضور ﷺ کے بارے میں تو یوں فرمایا: "يأتى من بعدى اسمه احمد “ چونکہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بعد حضور ﷺ نے آنا تھا اس لئے من بعدی فرمایا اور جب اللہ پاک نے حضور ﷺ سے خطاب فرمایا تو سورہ بقرہ کی ابتدائی آیات میں یوں فرمایا: "والذين يؤمنون بما انزل اليك وما انزل من قبلك“ مؤمنون وہ لوگ ہیں کہ جو ایمان لاتے ہیں اس کلام پر جو آپ سے پہلے نازل ہوا اور اس کلام پر جو کہ آپ کی طرف نازل ہوا ہے۔

پس چونکہ نبوت ختم ہو چکی تھی آپ ﷺ کے بعد کسی نبی نے نہیں آنا تھا۔ اس لئے ”اليک“ پر بات ختم فرمادی اور "من بعدك" نہیں فرمایا۔ نمونہ کے لئے یہ دو آیات کریمہ پیش کردیں ۔ ورنہ قرآن عزیز کی بہت سی آیات سے ختم نبوت ثابت ہے۔

احادیث میں ہے: "انه سيكون فى امتى كذابون ثلاثون كلهم يزعم انه نبى الله وانا خاتم النبيين لا نبى بعدى (ابوداؤد ج ٢ ص ١٢٧، ترمذی ج ٢ ص ٤٥)" عنقریب میری امت میں ٣٠ کے قریب جھوٹے پیدا ہوں گے۔ ہر ایک دعویٰ کرے گا کہ میں نبی ہوں لیکن میں خاتم النبیین ہوں میرے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا۔ ایک اور حدیث میں حضور ﷺ فرماتے ہیں کہ : ”ان الرسالة والنبوة قد انقطعت فلا رسول بعدى ولا نبى بعدی (ترمذی ج ٢ ص ٥٣، کنز العمال ج ١٥ ص ٣٦٧) “ رسالت اور نبوت ختم ہو چکی ہے۔ میرے بعد نہ کوئی رسول آئے گا اور نہ کوئی نبی آئے گا۔ یہ دو احادیث پاک بطور نمونہ کے پیش کیں ورنہ بے شمار احادیث سے حضور ﷺ کی ختم نبوت ثابت ہے۔

آپ ناظرین کرام خود غور فرمائیں کہ حضور کے واضح ارشادات کے بعد کوئی بھی اگر

٣

صفحہ ١٦٧

نبوت کا دعویٰ کرے گا تو وہ جھوٹا کذاب اور دجال نہیں ہوگا؟ تو اور کیا ہوگا اب مرزا غلام احمد کی جھوٹی تحریروں کو ملاحظہ فرمائیں۔

خدائی کے دعوے اور خدا کی توہین

(آئینہ کمالات ص ٥٦٤،خزائن ج ٥ ص ٥٦٤ ایضاً،کتاب البریہ ص ٨٥،خزائن ج ١٣ ص ١٠٣)

(تذکرہ ص ٤٩٢ طبع سوم)

(اربعین نمبر ٣ ص ١٩،خزائن ج ١٧ ص ٤٥٢)

(حقیقت الوحی ص ٨٦،خزائن ج ٢٢

ص ٨٩)

(البشریٰ ج ١ ص ٤٩،الہامات مرزا قادیانی)

(تذکرہ طبع سوم ص ٤٣٧، مجموعہ الہامات مرزا قادیانی)

(حاشیہ اربعین نمبر ٣، ص ٢٥،خزائن ج ١٧ ص ٤١٣)

یعنی انسانی مظہر (مرزا) کے ذریعے اپنا جلال ظاہر کرے گا)“

(حقیقت الوحی ص ١٥٤،خزائن ج ٢٢ ص ١٥٨)

مارنے اور زندگی کرنے کی صفت دی گئی ۔)“

(خطبة الہامیہ ص ٢٣،خزائن ج ١٦ ص ٥٦)

(حقیقت الوحی ص ١٠٥،خزائن ج ٢٢ ص ١٠٨)

ہوں۔“

(الہامات مرزا قادیانی، تذکرہ طبع سوم ص ٤٦٠)

بھلائی کروں گا۔ میں اپنے رسول کے ساتھ محیط ہوں۔“

(الہامات مرزا قادیانی، تذکرہ طبع سوم ص ٤٦٢)

(حقیقت الوحی ص ٧٢،خزائن ج ٢٢ ص ٧٧)

٤

(تریاق القلوب ص ٣٣،خزائن ج ١٥ ص ١٩٧،حقیق

خدا کی شرم ناک توہین

”مرزا غلام احمد خدا کی روح ہے۔“ ”مرزا غلام احمد خدا کا بازو ہے۔“ ”مرزا قادیانی خدا کی توحید وتفرید ہے۔“ ”مرزا مسیح موعود نے ایک موقع پر اپنی حالت حالت آپ پر اس طرح طاری ہوئی کہ گویا آپ عورت ہیں کا اظہار فرمایا۔“

انگریزی نبی کے انگریزی الہامات

مرزا قادیانی لکھتا ہے۔ ”یہ بالکل غیر معقول زبان تو کوئی اور ہو اور الہام کسی اور زبان میں ہو۔ جس کو وہ

دوسری جگہ مرزا قادیانی لکھتا ہے کہ ”زیادہ تعج ان زبانوں میں ہی ہوتے ہیں جن سے مجھے کچھ بھی واقفیت

انگریزی میں وحی

میں تم سے محبت کرتا ہوں۔

٥

صفحہ ١٦٧

(انجام آتھم ص ٥٥، خزائن ج ١١ ص ٥٥)

(تریاق القلوب ص ٣٣، خزائن ج ١٥ ص ١٩٧، حقیقت الوحی ص ٢٥٥، خزائن ج ٢٢ ص ٢٦٧)

(تذکرہ طبع سوئم ص ٧٥١)

(دافع البلاء ص ١١، خزائن ج ١٨ ص ٢٣١)

(تذکرہ ص ٤٣٦)

خدا کی شرمناک توہین

”مرزا غلام احمد خدا کی روح ہے۔“

(تذکرہ طبع سوئم ص ٧٤٣)

”مرزا غلام احمد خدا کا بازو ہے۔“

(تذکرہ ص ٢١٩)

”مرزا قادیانی خدا کی توحید و تفرید ہے۔“

(تذکرہ طبع سوئم ص ٦٦)

”مرزا مسیح موعود نے ایک موقع پر اپنی حالت یہ ظاہر فرمائی ہے کہ........... کشف کی حالت آپ پر اس طرح طاری ہوئی کہ گویا آپ عورت ہیں اور اللہ تعالیٰ نے ”رجولیت“ کی قوت کا اظہار فرمایا۔“

(ٹریکٹ نمبر ٣٤، اسلامی قربانی ص ١٢)

انگریزی نبی کے انگریزی الہامات

مرزا قادیانی لکھتا ہے ”یہ بالکل غیر معقول اور بے ہودہ امر ہے کہ انسان کی اصل زبان تو کوئی اور ہو اور الہام کسی اور زبان میں ہو۔ جس کو وہ سمجھ نہیں سکتا۔“

(چشمہ معرفت ص ٢٠٩، خزائن ج ٢٣ ص ٢١٨)

دوسری جگہ مرزا قادیانی لکھتا ہے کہ ”زیادہ تعجب کی بات یہ ہے کہ بعض الہامات مجھے ان زبانوں میں ہی ہوتے ہیں جن سے مجھے کچھ بھی واقفیت نہیں جیسے انگریزی وغیرہ۔“

(نزول المسیح ص ٥٧، خزائن ج ١٨ ص ٤٣٥)

انگریزی میں وحی

I Love you میں تم سے محبت کرتا ہوں۔

٥

صفحہ ١٦٩

میں تمہارے ساتھ ہوں۔ I am with you ہاں میں خوش ہوں۔ Yes I am happy میں تمہاری مدد کروں گا۔ I shall help you زندگی دکھ ہے۔ Life is pain

(تذکرہ ص ٦٣، ٦٤ طبع سوم)

حضور انور ﷺ کی گستاخی و توہین

"رسول کریم عیسائیوں کے ہاتھ کا پنیر کھا لیتے تھے۔ حالانکہ مشہور تھا کہ سور کی چربی اس میں پڑتی ہے۔"

(الفضل ٢٢ فروری ١٩٢٤)

"یہ بالکل صحیح بات ہے کہ ہر شخص ترقی کر سکتا ہے اور بڑے سے بڑا درجہ پا سکتا ہے۔ حتی کہ محمد رسول اللہ سے بھی بڑھ سکتا ہے۔"

(اخبار الفضل ١٧ جولائی ١٩٢٢)

"حضرت مسیح موعود (مرزا) علیہ السلام کا ذہنی ارتقاء آنحضرت ﷺ سے زیادہ تھا۔"

(قادیانی مذہب ص ٢٦٦، رسالہ ریویو آف ریلیجنز قادیان مئی ١٩٢٩ء)

محمد پھر اتر آئے ہیں ہم میں
اور آگے سے ہیں بڑھ کر شان میں
محمد دیکھنے ہوں جس نے اکمل
غلام احمد کو دیکھے قادیان میں

(اخبار پیغام صلح ١٤ مارچ ١٩١٦ء)

"اس کے (حضور انور) لئے (صرف) چاند گرہن کا نشان ظاہر ہوا اور میرے لئے چاند اور سورج دونوں (گرہن) کا۔"

(اعجاز احمدی ص ٧١، خزائن ج ١٩ ص ١٨٣)

"حضرت مرزا صاحب کے ذریعہ اسلام زندہ ہوا۔ قرآن کریم زندہ ہوا محمد ﷺ زندہ ہوا خدا کی توحید زندہ ہوئی۔"

(اخبار الفضل قادیان ج ١٩ ص ٨٩ مورخہ ١٦ مئی ١٩٣٢ء)

"مرزا غلام احمد کی ٹھیک وہی شان وہی نام وہی رتبہ وہی منصب ہے جو آنحضرت کا تھا۔"

(اخبار الفضل ١٦ نومبر ١٩١٥ء)

"چودھویں صدی سے تمام انسانوں کے لئے رسول مرزا غلام احمد ہے۔"

(تذکرہ ص ٣٥٢ طبع سوم)

"مسیح موعود (غلام احمد) خود محمد رسول اللہ"

(کلمتہ الفصل ١٥٨ مندرجہ ریویو بابت مارچ اپریل ١٩١٥ء حصہ

"خاتم الانبیاء مرزا غلام احمد قادیانی ہے۔

"وہ (مرزا) وہی فخر الاولین والآخرین العالمین بن کر آیا۔"

"آنحضرت ﷺ کے زمانہ کا اسلام ہلال غلام احمد کے زمانہ کا اسلام چودھویں کے چاند کی طرح"

"آنحضرت کے معجزات تین ہزار تھے۔"

"مرزا غلام احمد کے معجزات تین لاکھ سے"

"مرزا قادیانی کی روحانیت آنحضرت ﷺ"

"زمانہ آنحضرت ﷺ کی پیروی مدار نجا نجات ہوگی۔"

"خدا تعالیٰ نے اور اس کے پاک رسول تمام نبیوں نے اس (مرزا) کی تعریف کی ہے۔"

"مسیح موعود خود محمد رسول اللہ ہے جو اش لائے۔"

(کلمہ

"خدا نے میرا نام محمد احمد رکھا ہے اور مجھ

(ایک

"قادیان میں اللہ تعالیٰ نے پھر محمد ﷺ

"خدا کے نزدیک اس (مرزا) کا ظہور م

صفحہ ١٦٩

”مسیح موعود (غلام احمد) خود محمد رسول اللہ ہے۔“

(کلمۃ الفصل ص ١٥٨ مندرجہ ریویو بابت مارچ اپریل ١٩١٥ء رحمۃ اللعالمین مرزا غلام احمد ہے تذکرہ ص ١٤٨ طبع سوم)

”خاتم الانبیاء مرزا غلام احمد قادیانی ہے۔“

(مرزائی اخبار الفضل مورخہ ٢٦ ستمبر ١٩١٥ء)

”وہ (مرزا) وہی فخر الاولین والآخرین ہے۔ جو آج سے تیرہ سو برس پہلے رحمۃ اللعالمین بن کر آیا۔“

(اخبار الفضل قادیان مورخہ ٢٦ ستمبر ١٩١٥ء)

”آنحضرت ﷺ کے زمانہ کا اسلام پہلی رات کے چاند کی طرح (بے نور) اور مرزا غلام احمد کے زمانہ کا اسلام چودھویں کے چاند کی طرح تاباں و درخشاں ہے۔“

(خطبہ الہامیہ ص ١٨١، خزائن ج ١٦ ص ٢٧١)

”آنحضرت کے معجزات تین ہزار تھے۔“

(تحفہ گولڑویہ ص ٤٠، خزائن ج ١٧ ص ١٥٣)

”مرزا غلام احمد کے معجزات تین لاکھ سے بھی زائد ہیں۔“

(حقیقت الوحی ص ٦٧، خزائن ج ٢٢ ص ٧٠)

”مرزا قادیانی کی روحانیت آنحضرت ﷺ سے اقویٰ اور اکمل اور ارشد۔“

(خطبہ الہامیہ ص ١٨١، خزائن ج ١٦ ص ٢٧١)

”زمانہ آنحضرت ﷺ کی پیروی مدار نجات نہیں بلکہ صرف مرزا غلام احمد کی پیروی سے نجات ہوگی۔“

(براہین احمدیہ حصہ پنجم ص ١٧، خزائن ج ٢١ ص ٢٣٥ حاشیہ)

”خدا تعالیٰ نے اور اس کے پاک رسول نے مسیح موعود کا نام نبی اور رسول رکھا ہے اور تمام نبیوں نے اس (مرزا) کی تعریف کی ہے۔“

(نزول المسیح ص ٤٨، خزائن ج ١٨ ص ٣٧٦)

”مسیح موعود خود محمد رسول اللہ ہے جو اشاعت اسلام کے لئے دوبارہ دنیا میں تشریف لائے۔“

(کلمۃ الفصل رسالہ ریویو آف ریلیجنز ص ١٥٨ ج ١٤ نمبر ٣)

”خدا نے میرا نام محمد احمد رکھا ہے اور مجھے آنحضرت ﷺ کا ہی وجود قرار دیا“

(ایک غلطی کا ازالہ ص ١٨ حاشیہ، خزائن ج ١٨ ص ٢١٢)

”قادیان میں اللہ تعالیٰ نے پھر محمد ﷺ کو اتارا تا کہ اپنے وعدے کو پورا کرے۔“

(کلمۃ الفصل رسالہ ریویو ص ١٠٥، ج ٣)

”خدا کے نزدیک اس (مرزا) کا ظہور مصطفیٰ کا ظہور مانا گیا۔“

(خطبہ الہامیہ ص ٢٠، خزائن ج ١٦ ص ٢٧٩)

٧

صفحہ ١٧١

”آنحضرت ﷺ کو دیکھو کہ جب آپ پر فرشتہ جبرائیل ظاہر ہوا تو آپ نے فی الفور یقین نہ کیا کہ یہ خدا کی طرف سے ہے بلکہ حضرت خدیجہ کے پاس ڈرتے آئے۔“

(تحفہ حقیقت الوحی ص ١٣٠، مرزا قادیانی، خزائن ج ٢٢ ص ٥٧٨)

”دنیا میں کوئی نبی نہیں گزرا جس کا نام مجھے نہیں دیا گیا میں آدم ہوں، میں نوح ہوں، میں ابراہیم ہوں، میں اسحق ہوں، میں یعقوب ہوں، میں اسماعیل ہوں، میں موسیٰ ہوں، میں داؤد ہوں، میں عیسیٰ ہوں، میں محمدﷺ ہوں۔“

حقیقت الوحی ص ٧٢، خزائن ج ٢٢ ص ٧٦

تمام انبیاء علیہم السلام پر فضیلت کا دعویٰ

حضرت آدم علیہ السلام، حضرت نوح علیہ السلام، حضرت یوسف علیہ السلام، حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر فضیلت کا دعویٰ۔

”تمام انبیاء علیہم السلام میں سے بہتوں سے آپ بڑے تھے۔ ممکن ہے کہ سب سے بڑے ہوں۔“

(الفضل قادیان ج ٨٥، ٢٩ اپریل ١٩٢٣ء)

آدم پر فضیلت کا دعویٰ

”آدم ثانی حضرت مسیح موعود جو آدم اول سے شان میں بڑا ہوا۔“

(ملائکۃ اللہ ص ٦٥)

حضرت نوح علیہ السلام پر فضیلت کا دعویٰ

”خدا تعالیٰ نے میرے لئے اس کثرت سے نشان دکھلائے کہ اگر نوح کے زمانے میں وہ نشان دکھلائے جاتے تو وہ لوگ غرق نہ ہوتے۔“

(حقیقت الوحی ص ١٣٧ خزائن ج ٢٢ ص ٥٧٥)

حضرت یوسف علیہ السلام پر فضیلت کا دعویٰ

”پس اس امت کا یوسف (مرزا غلام احمد) اسرائیلی یوسف سے بڑھ کر ہے۔“

(براہین احمدیہ ج ٥ ص ٧٦، خزائن ج ٢١ ص ٩٩ مرزا قادیانی)

حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر فضیلت کا دعویٰ

”یسوع (عیسیٰ) اس لئے اپنے تئیں نیک نہیں کہہ سکا کہ لوگ جانتے تھے یہ شخص عیسیٰ شرابی کبابی ہے اور خراب چلن۔“

(حاشیہ ست بچن ص ١٧٢، خزائن ج ١٠ ص ٢٩٦)

”آپ کا کنجریوں سے میلان اور صحبت بھی شاید اسی وجہ سے ہو کر جدی مناسبت درمیان ہے۔“

(ضمیمہ انجام آتھم ص ٧ حاشیہ، خزائن ج ١١ ص ٢٩١)

٨

آپ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا خاندان بھی نانیاں آپ کی زنا کار اور کسبی عورتیں تھیں جن کے خون سے )

”مسیح ابن مریم مجھ میں سے اور میں خدا میں ”مسیح (حضرت عیسیٰ علیہ السلام) کا چال چل حق کا پرستار متکبر خود بین خدائی کا دعویٰ کرنے والا۔“ ”آپ یسوع مسیح علیہ السلام کو گالیاں دینے )

حضرت سیدنا ابو بکر صدیقؓ حضرت سیدنا عمرؓ

”حضرت ابو بکر وعمر کیا تھے وہ تو حضرت غلا لائق نہ تھے۔“

(ماہنامـ

”میں وہی مہدی ہوں جس کی نسبت ابن سـ بکر صدیقؓ کے درجہ پر ہے تو انہوں نے جواب دیا کہ ابو

بے شرم مرزا قادیانی کی، حضرت فاطمۃ الزہـ

مرزا غلام احمد قادیانی لکھتا ہے: ”ایک دن ہوا۔ اس وقت نہ تو مجھ پر نیند طاری تھی اور نہ ہی اونگھ رہـ بلکہ میں بیداری میں تھا۔ اچانک سامنے ایک آواز آ تھوڑی دیر میں دیکھتا ہوں کہ دروازہ کھٹکھٹانے والے جلـ شک یہ پنجتن پاک تھے۔ یعنی علی ساتھ اپنے دونوں بیٹـ نے میرا سر اپنی ران پر رکھ دیا۔“

امت محمدی کے تمام اولیاء کرام اور علماء کرام مرزا غلام احمد لکھتا ہے۔

”میں ولایت کے سلسلہ کو ختم کرنے والا ہـ ولی نہیں مگر وہ جو مجھ سے ہوگا۔“

(خطبـ

٩

صفحہ ١٧١

آپ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا خاندان بھی نہایت پاک اور مطہر ہے تین دادیاں اور نانیاں آپ کی زنا کار اور کسبی عورتیں تھیں جن کے خون سے آپ کا وجود ظہور پذیر ہوا ۔“

(ضمیمہ انجام آتھم حاشیہ ص ٧، خزائن ج ١١ ص ٢٩١)

”مسیح ابن مریم مجھ میں سے اور میں خدا میں سے ہوں ۔“

(مکتوبات احمدیہ ج ٣ ص ١١٨)

”مسیح (حضرت عیسیٰ علیہ السلام) کا چال چلن کیا تھا ایک کھاؤ پیو شرابی نہ زاہد نہ عابد نہ حق کا پرستار متکبر خود بین خدائی کا دعویٰ کرنے والا ۔“

(مکتوبات احمدیہ ج ٣ ص ٢٤)

”آپ یسوع مسیح علیہ السلام کو گالیاں دینے اور بد زبانی کی اکثر عادت تھی ۔“

(ضمیمہ انجام آتھم ص ٥ حاشیہ ، خزائن ج ١١ ص ٢٨٩)

حضرت سیدنا ابوبکر صدیق حضرت سیدنا عمر فاروق کی گستاخی وتوہین

”حضرت ابوبکر و عمر کیا تھے وہ تو حضرت غلام احمد کی جوتیوں کے تسمہ کھولنے کے بھی لائق نہ تھے ۔“

(ماہنامہ المہدی جنوری ، فروری ١٩١٥ء ص ٥٧ نمبر ٣،٢)

”میں وہی مہدی ہوں جس کی نسبت ابن سیرین سے سوال کیا گیا کہ کیا وہ حضرت ابو بکر صدیق کے درجہ پر ہے تو انہوں نے جواب دیا کہ ابوبکر کیا ہے وہ تو بعض انبیاء سے بہتر ہے ۔“

(مجموعہ اشتہارات ج ٢ ص ٢٩٦)

بے شرم مرزا قادیانی کی ، حضرت فاطمۃ الزہرا جگر گوشہ رسول کی توہین

مرزا غلام احمد قادیانی لکھتا ہے: ”ایک دن جب میں (مرزا) عشاء کی نماز سے فارغ ہوا۔ اس وقت نہ تو مجھ پر نیند طاری تھی اور نہ ہی اونگھ رہا تھا۔ اور نہ ہی کوئی بے ہوشی کے آثار تھے۔ بلکہ میں بیداری میں تھا۔ اچانک سامنے ایک آواز آئی آواز کے ساتھ دروازہ کھٹکھٹانے لگا۔ تھوڑی دیر میں دیکھتا ہوں کہ دروازہ کھٹکھٹانے والے جلدی جلدی میرے قریب آ رہے ہیں۔ بے شک یہ پنجتن پاک تھے۔ یعنی علی ساتھ اپنے دونوں بیٹوں کے بعد دیکھتا کیا ہوں کہ فاطمۃ الزہرا نے میرا سر اپنی ران پر رکھ دیا ۔“

(آئینہ کمالات اسلام ص ٥٥٠، خزائن ج ٥ ص ایضاً)

امت محمدی کے تمام اولیاء کرام اور علماء کرام کو مرزا غلام احمد کی گالیاں

مرزا غلام احمد لکھتا ہے ۔ ”میں ولایت کے سلسلہ کو ختم کرنے والا ہوں میں خاتم الاولیاء ہوں میرے بعد کوئی ولی نہیں مگر وہ جو مجھ سے ہوگا۔“

(خطبہ الہامیہ ص ٣٥ مرزا غلام احمد ، خزائن ج ١٦ ص ٧٠)

٩

صفحہ ١٧٣

مرزا کی حضرت پیر مہر علی شاہ صاحب گولڑوی کو گالیاں

”میرے مقابل بیٹھ جائے۔ تا دروغگو بے حیا کا منہ ایک ہی ساعت میں سیاہ ہو جاتا۔“

(ص ٦٢ نزول المسیح، خزائن ج ١٨ ص ٤٤١)

”یہ گوہ کھانا اے جاہل بے حیا۔“

(ص ٦٣، خزائن ج ١٨ ص ٤٤٠)

”خبیث مچھو کی طرح نیش زن اے گولڑہ کی زمین تجھ پر خدا کی لعنت ملعون کی سبب ملعون ہوگی۔ فبئس مایہ کینہ و گمراھی اے شیخ دیو بد بخت“

(اعجاز احمدی ص ٧١، خزائن ج ١٩ ص ١٨٨)

”خبیث طبع“

(ص ٦٤، خزائن ج ١٨ ص ٤٤٢)

”نجاست پیر صاحب کے منہ میں میں کھلائی۔“

(ص ٧٠، خزائن ج ١٨ ص ٤٤٨)

مولانا ثناء اللہ امرتسری کو گالیاں

”کتا“

(اعجاز احمدی ص ٢٤، خزائن ج ١٩ ص ١٣٢)

”کتے مردار خور“

(حاشیہ ضمیمہ انجام آتھم ص ٢٥، خزائن ج ١١ ص ٣٠٩)

مولانا علی الحائری لاہوری مجتہد شیعہ کو گالیاں

”جاہل تر۔ حسین علیہ السلام کی عبادت کرنے والا۔ دیو کھوٹی آنکھ والا یک چشم ۔“

(اعجاز احمدی ص ٨٢، خزائن ج ١٩ ص ١٨٦)

علماء کو گالیاں

”بد بخت، مفتری، نہ معلوم یہ وحشی قوم کیوں شرم و حیا سے کام نہیں لیتی۔ مخالف مولویوں کا عقید گانڈ۔“

(ضمیمہ انجام آتھم ص ٥٨، خزائن ج ١١ ص ٣٤٢)

”اے بدذات فرقہ مولویوں“

(انجام آتھم ص ٢١ حاشیہ، خزائن ج ١١ ص ٢١)

”اے مردار خور مولویوں اور گندی روحو۔“

(ضمیمہ انجام آتھم ص ٢١، خزائن ج ١١ ص ٣٠٥)

”بعض مولوی دجال کے کتے۔“

(استفتاء ص ١٢٠، خزائن ج ١٢ ص ١٢٨)

حضرت علیؓ کی گستاخی و توہین

” پرانی خلافت کا جھگڑا چھوڑو اب نئی خلافت اور ایک زندہ علی (مرزا) تم میں موجود ہے۔ اس کو تم چھوڑتے ہو اور مردہ علی کی تلاش کرتے ہو۔“

(اخبار الحکم قادیان نومبر ١٩١٣ء، ملفوظات احمدیہ ج ٢ ص ١٤٢)

١٠

”حضرت علیؓ یا دیگر اہل بیت کامل طور پر اُمّی ہوتے اور ضرورت زمانہ متقاضی ہوتا تو ضرور وہ بھی نبی

(اخبار

”بے شک جسمانی طور پر فاطمہ الزہراؓ او واکمل روحانی وجسمانی فرزند سب سے بڑا فرخندہ گوہر کمالات کا اتم اور اکمل طور پر وارث ایک ہی ہوا اور وہ حض

(اخبار الفض

حضرت امام حسینؓ پر فضیلت کی جسارت

”میرے گریبان میں سو حسین ہیں۔ سو حسی قربانی ہے۔“

”اے قوم شیعہ اس پر اصرار مت کرو کہ حسینؓ کہ میں سچ سچ کہتا ہوں کہ آج تم میں ایک (مرزا) ہے ک

”بندا اے (یعنی حضرت حسینؓ) کو مجھ سے

”کیا یہ سچ نہیں ہے کہ قرآن اور احادیث (مرزا) حسین سے افضل ہے۔“

(نزول ا

”کیا تو اس حسینؓ کو تمام دنیا سے زیادہ پرہی فائدہ کیا پہنچا؟“

”تم نے اس کشتہ (حسینؓ) سے نجات چا

تمام مسلمانوں کو گالیاں

”دشمن ہمارے بیابانوں کے خنزیر ہو گئے او

”یہ جھوٹے ہیں اور کتوں کی طرح جھوٹ ک

١١

صفحہ ١٧٣

"حضرت علیؓ یا دیگر اہل بیت کامل طور پر آنحضرت کے علوم اور معارف کے وارث ہوتے اور ضرورت زمانہ متقاضی ہوتا تو ضرور وہ بھی نبوت کا درجہ پاتے۔"

(اخبار الفضل قادیان ج٣ ص١٠٧، ١٨؍ اپریل ١٩١٦ء)

"بے شک جسمانی طور پر فاطمۃ الزہراؓ اور حضرت علیؓ سے ایک نسل چلی لیکن کامل واکمل روحانی و جسمانی فرزند سب سے بڑا فرخندہ گوہر علیؓ اور حضرت فاطمۃ الزہراؓ کے روحانی کمالات کا اتم اور اکمل طور پر وارث ایک ہی ہوا اور وہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام (مرزا) ہیں۔"

(اخبار الفضل قادیان ج٢٨ نمبر ١٢٣ مورخہ ٣٠ مئی ١٩٤٠ء)

حضرت امام حسینؓ پر فضیلت کی جسارت

"میرے گریبان میں سو حسین ہیں۔ سو حسین کی قربانی کے برابر میری ہر گھڑی کی قربانی ہے۔"

(نزول المسیح ص٩٩، خزائن ج١٨ ص٤٧٧)

"اے قوم شیعہ اس پر اصرار مت کرو کہ حسین تمہارا منجی (نجات دینے والا) ہے کیوں کہ میں سچ سچ کہتا ہوں کہ آج تم میں ایک (مرزا) ہے کہ اس حسین سے بڑھ کر ہے۔"

(دافع البلاء ص١٣، خزائن ج١٨ ص٢٣٣)

"بخدا اسے (یعنی حضرت حسینؓ) کو مجھ سے کچھ زیادت نہیں۔"

(اعجاز احمدی ص٨١، خزائن ج١٩ ص١٩٣)

"کیا یہ سچ نہیں ہے کہ قرآن اور احادیث اور تمام نبیوں کی شہادت سے مسیح موعود (مرزا) حسین سے افضل ہے۔"

(نزول المسیح ص٤٩، خزائن ج١٨ ص٤٢٧ مرزا قادیانی)

"کیا تو اس حسینؓ کو تمام دنیا سے زیادہ پرہیزگار سمجھتا ہے اور یہ تو بتاؤ کہ اس نے دینی فائدہ کیا پہنچایا؟"

(اعجاز احمدی ص٦٧، خزائن ج١٩ ص١٨٠)

"تم نے اس کشتہ (حسینؓ) سے نجات چاہی جو نوامیدی سے مر گیا۔"

(اعجاز احمدی ص٨١، خزائن ج١٩ ص١٩٣)

تمام مسلمانوں کو گالیاں

"دشمن ہمارے بیابانوں کے خنزیر ہو گئے اور ان کی عورتیں کتیوں سے بڑھ گئی ہیں۔"

(نجم الہدیٰ ص٥٣، خزائن ج١٤ ص٥٣)

"یہ جھوٹے ہیں اور کتوں کی طرح جھوٹ کا مردار کھا رہے ہیں۔"

(ضمیمہ انجام آتھم ص٢٥، خزائن ج١١ ص٣٠٩)

١١

صفحہ ١٧٥

"جو ہماری فتح کا قائل نہ ہوگا تو سمجھا جائے گا کہ اس کو ولد الحرام (حرامی) بننے کا شوق ہے اور حلال زادہ نہیں۔"

(انوار الاسلام ص ٣٠، خزائن ج ٩ ص ٣١ مرزا غلام احمد قادیانی)

"میرے دعویٰ کی تصدیق کرتے ہیں مگر بدکار عورتوں کی اولاد نہیں مانتے۔"

(آئینہ کمالات اسلام ص ٥٤٨، خزائن ج ٥ ص ٥٤٨، مرزا غلام احمد)

"جو شخص محمد کو مانتا ہے مگر مسیح موعود (مرزا) کو نہیں مانتا وہ نہ صرف کافر بلکہ کافر اور دائرہ اسلام سے خارج ہے۔"

(کلمۃ الفصل ص ١١٠)

"غیر احمدی (مسلمان) تو حضرت مسیح موعود کے منکر ہوئے اس لئے ان کا جنازہ نہیں پڑھنا چاہئے۔"

(انوار خلافت ص ٩٣)

"اے بے حیا قوم ۔"

(ص ٦ سراج منیر، خزائن ج ١٢ ص ٨)

"خبیث طبع لوگ ۔"

(ص ٦ سراج منیر، خزائن ج ١٢ ص ٨)

"اے نادانو عقل کے اندھو۔"

(ص ٢٦ حقیقت الوحی، خزائن ج ٢٢ ص ٤٨)

"کوئی نرا بے حیا نہ ہو تو اس کے لئے اس سے چارہ نہیں کہ میرے دعویٰ کو اس طرح مان لے جیسا اس نے آنحضرت ﷺ کی نبوت کو مان لیا۔"

(تذکرۃ الشہادتین ص ٣٨، خزائن ج ٢٠ ص ٤٠)

"مخالفوں نے جھوٹ کی نجاست کھائی۔"

(نزول المسیح ص ٨، خزائن ج ١٨ ص ٣٨٦)

"بعض کتوں کی طرح بعض بھیڑیوں کی طرح بعض سوروں کی طرح بعض سانپوں کی طرح ڈنگ مارتے ہیں۔"

(خطبہ الہامیہ ص ١٥٥، خزائن ج ١٦ ص ٢٣٨)

یہ تو تھی وہ گالیاں جو مرزا قادیانی نے تمام مسلمانوں کو دیں اب قادیانی اخبار کی وہ تحریر دیکھیں جس میں خود مرزا کو نبی ماننے والوں کو یعنی مرزائیوں کو درندے اور سور قرار دیا گیا ہے۔

"حضور (مرزا) نے لکھا ہے کہ میں نے دیکھا کہ میں ایک جنگل میں ہوں اور میرے اردگرد بہت سے درندے ہیں سور وغیرہ ہیں۔" اس سے استدلال یہ کیا کہ یہ احمدی جماعت کے لوگ ہیں؟

(قادیانی اخبار پیغام صلح لاہور مورخہ ١٧ اپریل ١٩٣٣ء)

جہاد اور مرزائی

"آج سے دین کے لئے لڑنا حرام کیا گیا۔"

(مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ٢٠٣)

"اس زمانہ میں جہاد قطعا حرام ہے۔"

(ضمیمہ رسالہ جہاد ص ٦، خزائن ج ١٧ ص ٢٧)

١٢

"مجھے مسیح اور مہدی مان لینا ہی مسئلہ جہاد کا اِنکا

اب چھوڑ دو جہاد کا ا
دین کے لئے حرام ہے اب
اب آ گیا مسیح جو دین
دین کے تمام جنگوں کا ا
دشمن ہے خدا کا جو اب
منکر نبی کا ہے جو یہ ر

مرزائی اور انگریزی حکومت

"میں نے پچاس ہزار کے قریب کتابیں او میں اور نیز دوسرے بلاد اسلامیہ میں اس مضمون کے شا ہے۔ لہذا ہر مسلمان کا یہ فرض ہونا چاہئے کہ اس گورنمن کہ لاکھوں انسانوں نے جہاد کے وہ غلط خیالات چھوڑ د

"اس گورنمنٹ کے ہم پر اس قدر احسان ہی مکہ میں گزارہ ہو سکتا ہے نہ قسطنطنیہ ۔"

"میں ایسے خاندان سے ہوں جو اس گورنمن

"گورنمنٹ برطانیہ کے ہم پر بڑے احسان زندگی بسر کرتے اور اپنے مقاصد کو پورا کرتے ہیں۔"

"ہم اس موقع پر گورنمنٹ برطانیہ کا شکریہ ا میں ہماری حفاظت کی ہے۔"

"میں تاج عزت عالی جناب حضرت مکرمہ ملکہ ہوں کہ اس رسالہ کو ہمارے حکام عالی مرتبہ توجہ سے اول س

(کشف

١٣

صفحہ ١٧٥

”مجھے مسیح اور مہدی مان لینا ہی مسئلہ جہاد کا انکار کرنا ہے۔“

(مجموعہ اشتہارات ج٣ ص ١٩)

اب چھوڑ دو جہاد کا اے دوستو خیال
دین کے لئے حرام ہے اب جنگ اور قتال
اب آ گیا مسیح جو دین کا امام ہے
دین کے تمام جنگوں کا اب اختتام ہے
دشمن ہے خدا کا جو اب کرتا ہے جہاد
منکر نبی کا ہے جو یہ رکھتا ہے اعتقاد

(ضمیمہ تحفہ گولڑویہ ص٢٦، خزائن ج١٧ ص٧٧)

مرزائی اور انگریزی حکومت

”میں نے پچاس ہزار کے قریب کتابیں اور رسائل اور اشتہارات چھپوا کر اس ملک میں اور نیز دوسرے بلاد اسلامیہ میں اس مضمون کے شائع کئے کہ گورنمنٹ ہم مسلمانوں کی محسن ہے۔ لہٰذا ہر مسلمان کا یہ فرض ہونا چاہئے کہ اس گورنمنٹ کی سچی اطاعت کرے جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ لاکھوں انسانوں نے جہاد کے وہ غلط خیالات چھوڑ دیئے۔“

(ستارہ قیصریہ ص٣، خزائن ج١٥ ص١١٤)

”اس گورنمنٹ کے ہم پر اس قدر احسان ہیں اگر ہم یہاں سے نکل جائیں تو نہ ہمارا مکہ میں گزارہ ہو سکتا ہے نہ قسطنطنیہ۔“

(مکتوبات احمدیہ ج٥ ص٢٧)

”میں ایسے خاندان سے ہوں جو اس گورنمنٹ (برطانیہ) کا پکا خیر خواہ ہے۔“

(کتاب البریہ ص٤، خزائن ج١٣ ص٤)

”گورنمنٹ برطانیہ کے ہم پر بڑے احسان ہیں اور ہم بڑے آرام واطمینان سے زندگی بسر کرتے اور اپنے مقاصد کو پورا کرتے ہیں۔“

(برکات خلافت ص٦٥)

”ہم اس موقع پر گورنمنٹ برطانیہ کا شکریہ کئے بغیر نہیں رہ سکتے کہ اس نے ہر حالت میں ہماری حفاظت کی ہے۔“

”میں تاج عزت عالی جناب حضرت مکرمہ ملکہ معظمہ قیصرہ ہند دام اقبالہا کا واسطہ ڈالتا ہوں کہ اس رسالہ کو ہمارے حکام عالی مرتبہ توجہ سے اول سے آخر تک پڑھیں۔“

(کشف الغطاء من مرزا غلام احمد، خزائن ج١٤ ص١٧٧)

١٣

صفحہ ١٧٧

”میری عمر کا اکثر حصہ سلطنت انگریزی کی تائید وحمایت میں گزرا ہے اور میں نے ممانعت جہاد اور انگریزی اطاعت کے بارے میں اس قدر کتابیں لکھی ہیں اور اشتہارات شائع کئے ہیں کہ اگر وہ رسائل اور کتابیں اکٹھی کی جائیں تو پچاس الماریاں اس سے بھر سکتی ہیں۔“

(تریاق القلوب ص ١٥، خزائن ج ١٥ ص ١٥٥)

پہلے ختم نبوت کا اقرار تھا

”فی الحقیقت نبی ﷺ پر نبوت ختم ہو چکی ہے۔“

(کتاب البریہ ص ٢٠٠، خزائن ج ١٣ ص ٢١٨)

”اللہ تعالیٰ کو شایانِ شان نہیں کہ خاتم النبیین کے بعد نبی بھیجے۔“

(آئینہ کمالات ص ٣٧٧، خزائن ج ٥ ص ٣٧٧)

”نبی محمد ﷺ خاتم الانبیاء ہیں۔“

(آئینہ کمالات اسلام ص ٢١، خزائن ج ٥ ص ٢١)

اور بعد میں ختم نبوت کا انکار کیا دوسرا رخ اور خود نبوت کا دعویٰ کیا: ”سچا خدا وہی ہے جس نے قادیان میں اپنا رسول بھیجا۔“

(دافع البلاء ص ١١، خزائن ج ١٨ ص ٢٣١ مرزا غلام احمد )

”میں خدا کے موافق نبی ہوں۔“

(اخبار عام لاہور ٢٣ مئی ١٩٠٨ء، مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ٥٩٧)

”اس امت میں نبی کا نام پانے کے لئے میں ہی مخصوص کیا گیا ہوں۔“

(حقیقت الوحی ص ٣٩١، خزائن ج ٢٢ ص ٤٠٦)

”آپ مرزا روحانی حقیقت کے اعتبار سے وہی خاتم الانبیاء محمد رسول ہیں جو زمین حجاز میں اب سے تیرہ سو برس پہلے پیدا ہوئے تھے۔“

(اخبار الفضل قادیان ج ٣ نمبر ٥٥)

”سو اس شخص (مرزا) کو تم نے دیکھ لیا جس کے دیکھنے کے لئے بہت سے پیغمبروں نے خواہش کی تھی۔“

(اربعین نمبر ٣ ص ١٣، خزائن ج ١٧ ص ٤٣٢)

”یہ خیال کہ رسول کریم کے بعد دروازہ نبوت بند ہو چکا ہے۔ بالکل باطل اور لغو خیال ہے۔“

(اخبار الفضل قادیان نمبر ٥٠ ج ١٩، مورخہ ٢٥ اکتوبر ١٩٣١ء)

مرزا قادیانی اپنے قلم سے

کافر مرتد مجنون پاگل منافق لعنتی بدذات مخبوط الحواس خبیث ملعون مجنون بد بخت مفتری زندیق دشمن قرآن بے شرم اسلام سے خارج کافروں کی جماعت سے ملا ہوا جاہل دنیا میں سب سے بڑا کافر شرارتی بے حیا اپنے آپ کا مخالف انسانوں کی عار بشر کی جائے نفرت وہ

١٤

(شخص) بڑا خبیث اور ملعون اور بدذات ہے جو خدا کے ہے۔

”ہم مدعی نبوت پر لعنت بھیجتے ہیں۔“ اور پھر خود نبوت کا دعویٰ کیا۔

(مؤلف)

”مدعی نبوت مسیلمہ کذاب کا بھائی کافر خبیث خود نبوت کا جھوٹا دعویٰ کر کے مسیلمہ کذاب کا

”جھوٹ بولنا مرتد سے کم نہیں۔“ اور پھر خود نبوت کا دعویٰ کیا اور مرتد بنا

(مؤلف

”جھوٹے کلام میں تناقص ضرور ہوتا ہے۔“ (ضمیمہ

جیسا کہ مرزا غلام احمد کے کلام میں ہے۔

(مؤ

”اس شخص کی حالت ایک مخبوط الحواس انسا کلام میں رکھتا ہے۔“

”ایک دل سے دو متناقص باتیں نکل نہیں سکتیں یا منافق ۔“

”کسی عقل مند اور صاف دل انسان کے کلا یا مجنون یا ایسا منافق ہو کہ خوشامد کے طور پر ہاں میں ملا ہے۔“

جیسا کہ مرزا غلام احمد کے کلام میں کھلا تناقص ”کیا ایسا بد بخت مفتری جو خود رسالت ونبو تو مرزا غلام احمد بد بخت اور مفتری ہوا۔

(مؤ

”میں جانتا ہوں کہ وہ ہر چیز جو مخالف ہے ق

١٥

صفحہ ١٧٧

(شخص) بڑا خبیث اور ملعون اور بدذات ہے جو خدا کے برگزیدہ اور مقدس لوگوں کو گالیاں دیتا ہے۔

(البلاغ المبین ص١٩ مرزا کا آخری لیکچر لاہور)

”ہم مدعی نبوت پر لعنت بھیجتے ہیں۔“

(مجموعہ اشتہارات ج٢ ص٢٩٧)

اور پھر خود نبوت کا دعویٰ کیا۔ (مؤلف)

”مدعی نبوت مسیلمہ کذاب کا بھائی کافر خبیث ہے۔“

(انجام آتھم ص٢٨، خزائن ج١١ ص٢٨)

خود نبوت کا جھوٹا دعویٰ کر کے مسیلمہ کذاب کا بھائی کافر خبیث بنا (مؤلف)

”جھوٹ بولنا مرتد سے کم نہیں۔“

(اربعین نمبر ٣، خزائن ج١٧ ص٤٠٧)

اور پھر خود نبوت کا دعویٰ کیا اور مرتد بنا (مؤلف)

”جھوٹے کلام میں تناقض ضرور ہوتا ہے۔“

(ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم ص١١، خزائن ج٢١ ص٢٧٥)

جیسا کہ مرزا غلام احمد کے کلام میں ہے۔ (مؤلف)

”اس شخص کی حالت ایک مخبوط الحواس انسان کی حالت ہے کہ ایک کھلا تناقض اپنے کلام میں رکھتا ہے۔“

(حقیقت الوحی ص١٨٤، خزائن ج٢٢ ص١٩١)

”ایک دل سے دو متناقض باتیں نکل نہیں سکتیں ایسے طریقہ سے انسان پاگل کہلاتا ہے یا منافق۔“

(ست بچن ص٣١، خزائن ج١٠ ص١٤٣)

”کسی عقل مند اور صاف دل انسان کے کلام میں ہرگز تناقض نہیں ہوتا۔ ہاں اگر پاگل یا مجنون یا ایسا منافق ہو کہ خوشامد کے طور پر ہاں میں ملا دیتا ہے۔ اس کا کلام بے شک متناقض ہوتا ہے۔“

(ست بچن ص٣٠، خزائن ج١٠ ص١٤٢)

جیسا کہ مرزا غلام احمد کے کلام میں کھلا تناقض ہے۔ (مؤلف)

”کیا ایسا بدبخت مفتری جو خود رسالت و نبوت کا دعویٰ کرے۔“

(انجام آتھم ص٢٧ حاشیہ، خزائن ج١١ ص٢٧٧)

تو مرزا غلام احمد بدبخت اور مفتری ہوا۔ (مؤلف)

”میں جانتا ہوں کہ وہ ہر چیز جو مخالف ہے قرآن کے وہ کذب والحاد و زندقہ ہے۔“

(حمامۃ البشریٰ ص٧٩، خزائن ج٧ ص٢٩٧)

١٥

صفحہ ١٧٩

جیسا کہ خود مرزا کا کلام (مؤلف)

”اے لوگو! دشمن قرآن نہ بنو اور خاتم النبیین کے بعد وحی نبوت کا نیا سلسلہ جاری نہ کرو! خدا سے شرم کرو۔“

(آسمانی فیصلہ ص ٣٥، خزائن ج٤ ص٣٤٥)

لیکن مرزا خود بے شرم اور دشمن قرآن بنا نبوت کا دعویٰ کر کے (مؤلف)

”مجھے کب جائز ہے کہ میں نبوت کا دعویٰ کر کے اسلام سے خارج ہو جاؤں اور کافروں کی جماعت سے ملوں جاہلوں کا ہمیشہ سے یہی اصول ہوتا ہے کہ وہ اپنی بزرگی کی پگڑی جما اس میں سمجھتے ہیں کہ بزرگوں کی خواہ مخواہ تحقیر کریں۔“

(ست بچن ص ٨، خزائن ج١٠ ص ١٢٠)

جیسا کہ مرزا غلام احمد (مؤلف)

”اگر تم اسے کفر سمجھتے ہو تو مجھ جیسا کافر تم کو دنیا میں نہیں ملے گا۔“

(اخبار الفضل ج ٢١ ص ١٣٨ مورخہ ٢٠ مئی ١٩٣٣ء)

”جب ایک بات میں کوئی جھوٹا ثابت ہو جائیں تو پھر دوسری باتوں میں بھی اس پر اعتماد نہیں رہتا۔“

(کتاب چشمہ معرفت ص ٢٢٢، خزائن ج ٢٣ ص ٢٣١)

مرزا غلام احمد کی ساری پیش گوئیاں جھوٹی ثابت ہوئیں۔ (مؤلف)

”مختلف فرقوں کے بزرگوں، پادریوں کو بدی اور بے ادبی سے یاد کرنا پرلے درجے کی خباثت اور شرارت ہے۔“

(براہین احمدیہ ص ١٠٢، خزائن ج ١ ص ٩٢)

تو مرزا قادیانی نے بزرگوں کی توہین کر کے اپنے آپ کو خبیث اور شریر ثابت کیا (مؤلف)

”جب انسان حیا کو چھوڑتا ہے تو جو چاہے بکے کون اس کو روکتا ہے۔“

(اعجاز احمدی ص ٣، خزائن ج ١٩ ص ١٠٩)

”میں ایسے شخص کا سخت مخالف ہوں جو کسی عورت کے پیٹ سے پیدا ہو کر کہے کہ میں خدا ہوں۔“

(مرزا کا خط مکتوب احمدیہ سوم ص ١١٨)

اور پھر خود خدائی کا دعویٰ کیا۔ (مؤلف)

”جو شخص نبوت کا دعویٰ کرتا ہے اور اعتقاد نہیں رکھتا کہ آنحضرت ﷺ کی امت سے ہے اور جو کچھ پایا اس کے فیضان سے پایا...... وہ لعنتی ہے اور خدا کی لعنت اس پر اور اس کے انصار پر اور اس کے پیروؤں پر اور اس کے مددگار پر“

(مواہب الرحمٰن ص ٦٩، خزائن ج ١٩ ص ٢٨٧)

١٦

مرزا غلام احمد کا مشہور شعر جو قادیانی اخبار الفضل م

کرم خاکی ہوں پیارے نہ آد
ہوں بشر کی جائے نفرت اور انسا

جھوٹے نبی مرزا قادیانی کی بیماریاں ان کے ا

”مدت سے مجھے یقین رہا ہے کہ میں نامرد ہوں یا

(مکتوب احمدیہ ج ٥

”دو مرض میرے لاحق حال میں ایک بدن کے نیچے کے حصے میں اوپر کے حصہ میں دوران سر ہے اور نیچے ک مرضیں اس زمانہ سے ہیں جس زمانہ سے میں نے اپنا دعویٰ ما

”میں ایک دائم المرض ہوں۔ بعض اوقات سو سو د

”میرا حافظہ بہت خراب ہے۔“

”آپ (مرزا) کو شیرینی سے بہت پیار تھا اور م ہے اس زمانے میں آپ مٹی کے ڈھیلے بعض وقت جیب میں ڈھیلے بھی رکھ لیا کرتے تھے۔“

(مسیح موعود کے مختصر حالا

پیش گوئی جو پوری ہوئی اور عبرت ناک ہیضہ س

مرزا غلام احمد لکھتا ہے کہ : ”ہمارے صدق یا کذ سے بڑھ کر اور کوئی محک امتحان نہیں ہو سکتا“

(آئینہ ک

”کسی انسان کا اپنی پیشین گوئی میں جھوٹا نکلنا ا ہے۔“

(تر

پیش گوئی

مرزا غلام احمد نے ١٥ اپریل ١٩٠٧ء کو ایک ا کے ساتھ آخری فیصلہ‘ شائع کیا تھا۔ اس اشتہار میں مرزا م

١٧

صفحہ ١٧٩

مرزا غلام احمد کا مشہور شعر جو قادیانی اخبار الفضل ١٠ جنوری ٨٢ کے صفحہ ٨ پر چھپا۔

(براہین احمدیہ ص ٩٧، خزائن ج ٢١ ص ١٢٧)

کرم خاکی ہوں پیارے نہ آدم زاد ہوں
ہوں بشر کی جائے نفرت اور انسانوں کی عار

جھوٹے نبی مرزا قادیانی کی بیماریاں ان کے اپنے قلم سے

”مدت سے مجھے یقین رہا ہے کہ میں نامرد ہوں ۔“

(مکتوب احمدیہ ج ٥ خط نمبر ١٣، ٢٢ فروری ١٨٨٧ء جلد پنجم نمبر ٢)

”دو مرض میرے لاحق حال میں ایک بدن کے اوپر کے حصہ میں اور دوسرا بدن کے نیچے کے حصے میں اوپر کے حصہ میں دوران سر ہے اور نیچے کے حصہ میں کثرت پیشاب اور دونوں مرضیں اس زمانہ سے ہیں جس زمانہ سے میں نے اپنا دعویٰ مامور من اللہ ہونے کا شائع کیا ۔“

(حقیقت الوحی ص ٣٠٧، خزائن ج ٢٢ ص ٣٢٠)

”میں ایک دائم المرض ہوں۔ بعض اوقات سو سو دفعہ رات میں یا دن کو پیشاب آتا۔“

(ضمیمہ اربعین نمبر ٤ ص ٤، خزائن ١٧ ص ٤٧١)

”میرا حافظہ بہت خراب ہے۔“

(مکتوب احمدیہ جلد پنجم نمبر ٣ ص ٢١)

”آپ (مرزا) کو شیرینی سے بہت پیار تھا اور مرض بول بھی آپ کو عرصہ سے لگی ہوئی ہے اس زمانے میں آپ مٹی کے ڈھیلے بعض وقت جیب میں ہی رکھتے تھے اور اس جیب میں گڑ کے ڈھیلے بھی رکھ لیا کرتے تھے۔“

(مسیح موعود کے مختصر حالات ص ٦٧، ملحقہ براہین احمدیہ چہار حصص)

پیش گوئی جو پوری ہوئی اور عبرت ناک ہیضہ سے موت

مرزا غلام احمد لکھتا ہے کہ : ”ہمارے صدق یا کذب جانچنے کے لئے ہماری پیشین گوئی سے بڑھ کر اور کوئی محک امتحان نہیں ہو سکتا“

(آئینہ کمالات اسلام ص ٢٨٨، خزائن ج ٥ ص ایضاً)

”کسی انسان کا اپنی پیشین گوئی میں جھوٹا نکلنا خود تمام رسوائیوں سے بڑھ کر رسوائی ہے۔“

(تریاق القلوب ص ١٠٧، خزائن ج ١٥ ص ٣٨٢)

پیش گوئی

مرزا غلام احمد نے ١٥اپریل ١٩٠٧ء کو ایک اشتہار بعنوان ”مولوی ثناء اللہ صاحب کے ساتھ آخری فیصلہ“ شائع کیا تھا۔ اس اشتہار میں مرزا مولانا کو مخاطب کرتے ہوئے لکھتا ہے۔

١٧

صفحہ ١٨٠

”اگر میں ایسا ہی کذاب اور مفتری ہوں جیسا اکثر اوقات آپ اپنے پرچہ میں مجھے یاد کرتے ہیں تو میں آپ کی ہی زندگی میں ہلاک ہو جاؤں گا۔ مگر اے میرے کامل اور صادق خدا اگر مولوی ثناء اللہ ان تہمتوں میں جو مجھ پر لگاتا ہے حق پر نہیں تو میں عاجزی سے تیرے جناب میں دعا کرتا ہوں کہ میری زندگی میں ہی ان کو نابود کر۔ مگر نہ انسانی ہاتھوں سے بلکہ طاعون و ہیضہ وغیرہ مہلکہ سے۔“

(مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ٥٧٨)

مرزا بدبخت کے مندرجہ بالا الفاظ یہ اعلان کر رہے ہیں کہ مرزا غلام احمد، مولانا ثناء اللہ صاحب کے لئے طاعون اور ہیضہ کی دعا کرتے تھے مگر اللہ تعالیٰ نے قبولیت دعا کا رخ مولانا ثناء اللہ کی بجائے خود جھوٹے نبی کی طرف پھیر دیا۔ ہیضہ نے مرزا کو آ دبوچا اور ٢٦ مئی ١٩٠٨ء کو ہیضہ سمیت جہنم رسید ہو گیا۔ مرزا غلام احمد کے خسر میر ناصر نواب خود نوشت سوانح حیات میں تحریر کرتے ہیں۔ ”حضرت صاحب جس رات کو بیمار ہوئے اس رات کو میں اپنے مقام پر جا کر سو چکا تھا جب آپ کو بہت تکلیف ہوئی تو مجھے جگایا گیا تھا جب میں حضرت صاحب کے پاس پہنچا اور آپکا حال دیکھا تو آپ نے مجھے مخاطب کر کے کہا میر صاحب مجھے وبائی ہیضہ ہو گیا ہے۔“

(حیات ناصر ص ١٤، ١٥ تاریخ اشاعت دسمبر ١٩٢٧ء)

آخری گزارش مرزائیوں سے

میں ان تمام بھولے بھٹکے مرزائیوں سے عرض کروں گا کہ وہ کھلے دل سے اس کو پڑھیں اور غور و فکر کریں جب حقیقت آپ کے سامنے کھل گئی تو حق کو قبول کر لینے میں اپنی عافیت سمجھیں اور اپنے غلط نظریات سے توبہ کرتے ہوئے اپنا دامن خدا کے آخری رسول حضور ﷺ سے وابستہ کرلیں۔

صلى الله على خير خلقه سيدنا محمد خاتم النبيين وامام المتقين وسيد الاولين والآخرين۔

قیامت خیز افسانہ ہے پر درد و غم میرا
نہ کھلواؤ زبان میری نہ اٹھاؤ قلم میرا

غلام ربانی صدر مجلس عمل ختم نبوت ضلع خوشاب خطیب جامع مسجد بلاک نمبر ٤ جوہرآباد ٢١ / اپریل ١٩٨٤ء

١٨

والذين يؤمنون بما أنزل إليك وما أنزل من قبلك

قادیانی

جناب شیخ خضر حسینؒ

PDF 182

شعبہ نشر و اشاعت

خاتم النبیین

عالمی مجلس تحفظ

قادیانی گروہ

جناب شیخ خضر حسینؒ پروفیسر جامعہ ازہر مصر

صفحہ ١٨٢

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

مقدمہ

محمدﷺ دنیا میں ایک واضح اور روشن شریعت لے کر تشریف لائے جس میں کوئی الجھاؤ یا ابہام نہیں ہے اور جو ایسی پختہ ہے کہ شبہات اس سے قریب نہیں پھٹکتے، جن پاک باز ہستیوں نے اسے حضورﷺ سے لیا۔ ان کی بصیرت صاف و شفاف تھی اور خیر و بھلائی کی راہوں کو سمجھنے میں ان کی عقل و فراست انتہائی باکمال تھی۔ انہوں نے آئندہ آنے والی نسلوں تک اسے جوں کا توں پہنچایا اور اس کی راہ میں جان و مال کی قربانی پیش کرنے میں کوئی دریغ نہ کیا۔ یہاں تک کہ وہ دنیا میں فتح یاب و سرخرو ہوئے۔ یہ ان ہی کی کوششوں اور قربانیوں کا نتیجہ تھا کہ دنیا میں دین حق مضبوط بنیادوں پر قائم ہو گیا اور ہمیشہ قائم رہے گا۔ وہ دنیا میں ایسا محفوظ دین ہے کہ لوگوں کی ہوا پرستی اور چال بازی اس پر اثر انداز نہیں ہو سکتی۔ دین کی اس طور حفاظت کا سہرا سراسر اللہ کی کتاب پاک اور اس کے رسولﷺ کی صحیح سنت کے سر ہے۔ اس لئے کہ ان ہی دونوں نے ہر زمانہ میں ایسی عقلمند ہستیوں کو جنم دیا اور ہمیشہ جنم دیتی رہیں گی۔ جو ہر کجی سے پاک اور ہر خواہش پرستی سے بے داغ نظر سے ان پر غور و فکر کرتی رہیں اور اسی لئے وہ بہت حقائق کی تہہ تک پہنچ جاتی ہیں اور حقائق کے ساتھ انہیں وہ دلائل بھی نظر آتے ہیں جو ان حقائق میں شک وشبہ کرنے والی ہر زبان کو کاٹ ڈالتے اور ہر مکار و دغا باز کی قلعی کھول ڈالتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ”انا نحن نزلنا الذکر وانا لہ لحافظون (حجر:٩)“ یعنی ہم نے یہ ذکر اتارا ہے اور ہم ہی اس کی حفاظت کرنے والے ہیں۔

صحیح تاریخ سے پتہ چلتا ہے کہ ہر زمانہ میں دین حنیف کو کچھ ایسے بدطینت لوگوں سے سابقہ پڑتا رہا ہے جن کا ذہن کجی اور گمراہی کو پسند کرتا اور اس کی طرف لپکتا ہے۔ اس لئے وہ حقائق سے پہلو تہی کرتے ہوئے دین میں تحریف کی کوشش کرتے اور سیدھی راہ چلنے کے بجائے ٹیڑھی راہوں میں بھٹکتے اور سرگرداں رہتے ہیں۔

٢

٣ یہ کجی اور گمراہی صرف ان ہی لوگوں تک کو سمجھنے اور اس کی تعلیمات پر غور رکھنے کا دعویٰ کر باطل فرقوں کے سربراہوں کا حال تھا۔ بلکہ یہ کجی کے سامنے لاتی ہے جو یہ تک دعویٰ کرنے لگتے ہ اپنی زبان سے جو اول فول بکتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کی واسطہ کے بغیر خود خدا کا ان کے دلوں میں ڈالا ہ ہوتے ہیں جن کا سلسلہ ان ہی تک محدود رہتا ہے ظہور عبدالملک بن مروان کے عہد میں ہوا اور عبد کوئی اثر باقی نہ رہا۔ اسی طرح ایک شخص اسحاق ا عام پر آیا اور بہت سے لوگ اس کے پیرو ہو گئے تاہم بعض مدعیان نبوت ایسے بھی تھے جن کی دع حسین بن حمدان خصیبی جس نے حماۃ اور لاذقیہ جس سے آج بھی نصیری تعلق رکھتے ہیں۔ قادیانی رکھتا ہے۔

ہمیں عرب اور غیر عرب ممالک، جی ہوئے کہ اس فرقہ کی حقیقت اور اسلام سے اس وقت خاص طور پر شروع ہوا جب ”قاہرہ“ کے مضمون شائع ہوا جس میں ہم نے بہائی فرقہ کی مبلغین کی بعض عجیب و غریب آراء کا ذکر کر کے اور مسلمانوں کو ان کی ہلاکت آفرینیوں سے بچا فرقہ سے متعلق کچھ لکھنے سے احتراز کیا تھا۔ اس کتابیں اتنی نہ تھیں کہ ان سے اس کی بنیاد کو سمجھا اسے گھڑا ہے۔ ان کی حالت درحقیقت کیا ہے؟

صفحہ ١٨٣

یہ کجی اور گمراہی صرف ان ہی لوگوں تک محدود نہیں رہتی جو جاہل ہونے کے باوجود دین کو سمجھنے اور اس کی تعلیمات پر عبور رکھنے کا دعویٰ کرتے ہیں جیسا کہ سیدھی راہ سے ہٹے ہوئے بعض باطل فرقوں کے سربراہوں کا حال تھا۔ بلکہ یہ کجی اور گمراہی آگے بڑھ کر کچھ ایسے لوگوں کو بھی دنیا کے سامنے لاتی ہے جو یہ تک دعویٰ کرنے لگتے ہیں کہ ان پر آسمان سے وحی اترتی ہے اور یہ کہ وہ اپنی زبان سے جو اول فول بکتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کی کتاب پاک اور رسول کریمﷺ کی حدیث کے واسطہ کے بغیر خود خدا کا ان کے دلوں میں ڈالا ہوا ہے۔ نبوت کا دعویٰ کرنے والے بعض تو ایسے ہوتے ہیں جن کا سلسلہ ان ہی تک محدود رہتا ہے۔ اور آگے نہیں بڑھتا جیسے حارث بن سعید جس کا ظہور عبدالملک بن مروان کے عہد میں ہوا اور عبدالملک بن مروان نے اسے قتل کیا۔ دنیا میں اس کا کوئی اثر باقی نہ رہا۔ اسی طرح ایک شخص اسحاق اخرس نامی تھا جو سفاح کے زمانہ خلافت میں منظر عام پر آیا اور بہت سے لوگ اس کے پیرو ہو گئے۔ وہ جونہی قتل ہوا اس کا فتنہ ہمیشہ کیلئے دب گیا۔ تاہم بعض مدعیان نبوت ایسے بھی تھے جن کی دعوت کا اثر ان کی موت کے بعد بھی باقی رہا جیسے حسین بن حمدان خصیبی جس نے حماۃ اور لاذقیہ کے کوہستانوں میں اس باطل فرقہ کی اشاعت کی جس سے آج بھی نصیری تعلق رکھتے ہیں۔ قادیانی فرقہ کا بانی مرزا غلام احمد اسی دوسری قسم سے تعلق رکھتا ہے۔

ہمیں عرب اور غیر عرب ممالک، جیسے امریکہ سے اس مضمون کے متعدد خطوط موصول ہوئے کہ اس فرقہ کی حقیقت اور اسلام سے اس کے تعلق کو واضح کیا جائے۔ خطوط کا یہ سلسلہ اس وقت خاص طور پر شروع ہوا جب ”قاہرہ“ کے ماہنامہ ”نور الاسلام“ (جلد ١ شمارہ ٥) میں ہمارا وہ مضمون شائع ہوا جس میں ہم نے بہائی فرقہ کی نقاب کشائی کی تھی۔ بعض خطوط میں اس فرقہ کے مبلغین کی بعض عجیب و غریب آراء کا ذکر کر کے یہ تجویز پیش کی گئی تھی کہ ان آراء پر تنقید کی جائے اور مسلمانوں کو ان کی ہلاکت آفرینیوں سے بچانے کی کوشش کی جائے۔ آج تک جو ہم نے اس فرقہ سے متعلق کچھ لکھنے سے احتراز کیا تھا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ ہمارے پاس اس فرقہ کی اصل کتابیں اتنی نہ تھیں کہ ان سے اس کی بنیاد کو سمجھا جاسکے۔ اور لوگوں کو بتایا جاسکے کہ جن لوگوں نے اسے گھڑا ہے۔ ان کی حالت درحقیقت کیا ہے؟

٣

صفحہ ١٨٤

آج ہمیں اس فرقہ کے بانی مرزا غلام احمد اور دوسرے مبلغین کی اتنی کتابیں فراہم ہوگئی ہیں جنہیں پڑھ کر اس کی حقیقت کو بآسانی سمجھا اور سمجھایا جاسکتا ہے۔ چنانچہ ہم پڑھنے والوں کے سامنے اس فرقہ کے باطل نظریات و دعاوی سے متعلق چند ابواب رکھتے ہیں تاکہ انہیں پتہ چل سکے کہ اس کے بانی کی نشوونما کن حالات میں ہوئی اور وہ کن گمراہ کن دعوؤں کو لے کر میدان میں اترا۔ حقیقت یہ ہے کہ آج اس فرقہ کے جو مبلغین مسلمان ممالک میں جگہ جگہ اپنا زہر پھیلاتے پھر رہے ہیں۔ ان کا واحد مقصد مسلمان نوجوانوں کے دلوں میں فتنہ برپا کرنا ہے اور سب جانتے ہیں کہ فتنہ قتل سے بڑھ کر تباہ کن ہوتا ہے۔

مرزا غلام احمد ...... خاندان، پیدائش، نشوونما اور تربیت

مرزا غلام احمد نے اپنا سلسلۂ نسب لکھتے ہوئے بتایا ہے کہ ان کے آباؤ اجداد کا وطن سمرقند تھا، پھر وہاں سے کوچ کر کے ہندوستان آئے اور ”قادیان“ کو اپنا وطن بنایا۔ اس علاقہ میں انہیں اقتدار بھی حاصل ہوا پھر ان کے حالات نے کروٹ لی اور مصیبتوں سے دوچار ہوئے۔ ان کا اقتدار جاتا رہا اور ساری دولت دوسروں نے چھین لی۔ (تریاق القلوب ص٦٤، خزائن ج ١٥ ص٢٧٣ حاشیہ ملخص) اس کے بعد مرزا قادیانی لکھتے ہیں: ”پھر برطانیہ کے عہد حکومت میں خدا نے میرے والد کو ان کے چند گاؤں واپس دلا دیئے۔“

مرزا غلام احمد ١٨٣٩ء میں پیدا ہوئے۔ جب تعلیم کی عمر کو پہنچے تو انہوں نے قرآن اور بعض فارسی کتابیں پڑھنا شروع کیں۔ جب دس سال کے ہوئے تو عربی زبان سیکھنا شروع کی۔ سترہ سال کی عمر میں ایک استاد سے رابطہ قائم کیا اور اس سے صرف نحو، منطق اور فلسفہ کی تعلیم لی اور ساتھ اپنے والد سے طب بھی سیکھتے رہے۔ دینی علوم کسی سے نہیں سیکھے۔ صرف ان کا ازخود شوقیہ طور پر مطالعہ کرتے رہے۔١؎

ابھی ان کی تعلیم کسی خاص مرحلہ تک نہ پہنچی تھی کہ انگریزوں کی سلطنت بڑھتے بڑھتے پنجاب تک پہنچ گئی۔ دوسرے نوجوانوں کی طرح غلام احمد کے دل میں بھی شوق پیدا ہوا کہ آگے بڑھ کر کوئی سرکاری ملازمت حاصل کی جائے۔ چنانچہ وہ سیالکوٹ گئے اور وہاں کے ڈپٹی کمشنر کے

١؎ مرزا غلام احمد اپنی کتابوں میں چونکہ انگریزی۔

م

٨٥ دفتر میں ملازمت حاصل کرنے میں کامیاب ہوگئے کہ ان کے والد کو اپنے ذاتی کاروبار میں ان کی ضرو کرتے ہوئے وہ ملازمت چھوڑ کر قادیان واپس آ ١٨٧٦ء میں ان کے والد بیمار ہوئے از روئے وحی بتایا گیا ہے کہ میرے والد مغرب کے کے مطابق یہ سب سے پہلی وحی تھی جو مرزا قادیانی طرح کے خیالات ظاہر کرنے لگے۔ اور اس دعویٰ جاتی ہیں۔ مسلمان ان میں سے کوئی بات تسلیم نہ کر

مرزا قادیانی پنجاب کے ایک دوسرے کیا کہ میں ہی مسیح موعود ہوں جس کا مسلمان انتظا تسلیم کرنے سے انکار کیا اور اسے بھی جھوٹ قرار د ڈٹ کر مقابلہ کیا ان میں ایک ماہنامہ ”اشاعۃ انہوں نے مرزا قادیانی سے مناظرہ کے لئے بہت ڈپٹی کمشنر نے جو ہر طرح سے مرزا قادیانی کی حما اور مولانا محمد حسین سمیت تمام علماء کو نوٹس دیا کہ اس پھر مرزا قادیانی دہلی آئے اور اپنے خ مرزا قادیانی کو مناظرہ کرنے کی دعوت دی۔ انہوں طرف سے صرف مولانا نذیر حسین صاحب محد دعوت قبول کرنے سے انکار کر دیا۔ البتہ جیسا کہ صاحب کو مباہلہ کی دعوت دی یعنی یہ کہ وہ قسم کھا بعد اگر وہ ایک سال تک زندہ رہیں اور اس عرص گا کہ مرزا قادیانی اپنے دعوائے نبوت میں جھو

ہم بھی یہی تاریخ استعمال کرنے پر مجبور ہیں۔

صفحہ ١٨٥

دفتر میں ملازمت حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئے۔ ابھی انہیں ملازم ہوئے چار برس ہوئے تھے کہ ان کے والد کو اپنے ذاتی کاروبار میں ان کی ضرورت محسوس ہوئی۔ چنانچہ والد کی خواہش کو پورا کرتے ہوئے وہ ملازمت چھوڑ کر قادیان واپس آ گئے۔

١٨٧٦ء ١؎ میں ان کے والد بیمار ہوئے۔ اس موقع پر انہوں نے دعویٰ کیا کہ مجھے از روئے وحی بتایا گیا ہے کہ میرے والد مغرب کے بعد وفات پا جائیں گے۔ قادیانیوں کے دعویٰ کے مطابق یہ سب سے پہلی وحی تھی جو مرزا قادیانی پر نازل ہوئی۔ اس کے بعد وہ آئے دن طرح طرح کے خیالات ظاہر کرنے لگے۔ اور اس دعویٰ کے ساتھ یہ کہ سب باتیں انہیں بذریعہ وحی بتائی جاتی ہیں۔ مسلمان ان میں سے کوئی بات تسلیم نہ کرتے تھے اور انہیں جھوٹ قرار دیتے تھے۔

مرزا قادیانی پنجاب کے ایک دوسرے شہر لدھیانہ گئے اور پہنچتے ہی ایک اشتہار شائع کیا کہ میں ہی مسیح موعود ہوں جس کا مسلمان انتظار کر رہے تھے۔ علماء نے ان کے اس دعویٰ کو بھی تسلیم کرنے سے انکار کیا اور اسے بھی جھوٹ قرار دیا۔ اس موقع پر جن علمائے دین نے مرزا قادیانی کا ڈٹ کر مقابلہ کیا ان میں ایک ماہنامہ ”اشاعۃ السنۃ“ کے ایڈیٹر مولانا محمد حسین بٹالوی تھے۔ انہوں نے مرزا قادیانی سے مناظرہ کے لئے بہت سے علماء کو لدھیانہ بلایا۔ لیکن وہاں کے انگریز ڈپٹی کمشنر نے جو ہر طرح سے مرزا قادیانی کی حمایت کر رہا تھا۔ مناظرہ کرنے کی اجازت نہیں دی اور مولانا محمد حسین سمیت تمام علماء کو نوٹس دیا کہ اس روز شہر سے نکل جائیں۔

پھر مرزا قادیانی دہلی آئے اور اپنے خیالات کا پرچار کیا۔ علماء نے سخت مخالفت کی اور مرزا قادیانی کو مناظرہ کرنے کی دعوت دی۔ انہوں نے یہ بھی طے کر لیا کہ مناظرہ میں مسلمانوں کی طرف سے صرف مولانا نذیر حسین صاحب محدث ہی بولیں۔ لیکن مرزا قادیانی نے مناظرہ کی دعوت قبول کرنے سے انکار کر دیا۔ البتہ جیسا کہ قادیانی کہتے ہیں۔ انہوں نے مولانا نذیر حسین صاحب کو مباہلہ کی دعوت دی یعنی یہ کہ وہ قسم کھائیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام زندہ ہیں اس کے بعد اگر وہ ایک سال تک زندہ رہیں اور اس عرصہ میں ان پر کوئی آفت نازل نہ ہو تو سمجھ لیا جائے گا کہ مرزا قادیانی اپنے دعوائے نبوت میں جھوٹے ہیں۔ لیکن مولانا نذیر حسین صاحب اور

١؎ مرزا غلام احمد اپنی کتابوں میں چونکہ انگریزی تاریخ ہی استعمال کرتے ہیں اس لئے ہم بھی یہی تاریخ استعمال کرنے پر مجبور ہیں۔

٥

صفحہ ١٨٦

دوسرے علماء اصرار کرتے رہے کہ حق و باطل کو جاننے کے لئے مناظرہ ضروری ہے اور مرزا قادیانی کی پیش کردہ دعوت مباہلہ محض میدان سے بھاگنے کی ایک چال ہے جسے قبول نہیں کیا جاسکتا۔

اس کے بعد دہلی کے مسلمانوں نے مولانا محمد بشیر صاحب کو مرزا قادیانی سے مناظرہ کے لئے بھوپال سے بلایا۔ اس کا ذکر مرزا قادیانی کے صاحبزادہ مرزا محمود نے کیا ہے۔ اور پھر صرف اتنا لکھا ہے کہ ”یہ مناظرہ شائع کیا گیا ۔“

١٨٩٢ء میں مرزا قادیانی پھر لاہور گئے۔ وہاں ان کے اور ایک عالم دین مولانا عبدالحلیم صاحب کے درمیان مناظرہ ہوا۔

اس مناظرہ کا تذکرہ کرتے ہوئے بھی مرزا قادیانی کے صاحبزادہ مرزا محمود نے کچھ نہیں بتایا کہ مناظرہ کیسا رہا اور اس میں کامیاب کون رہا؟ ١٨٩٦ء میں لاہور میں ایک ”مذہبی کانفرنس“ منعقد ہوئی جس میں کئی مذاہب کے نمائندے شریک ہوئے۔ مرزا محمود کہتے ہیں کہ اس کانفرنس کی تجویز خود مرزا قادیانی نے پیش کی تھی اور اس تجویز سے ان کا مقصد یہ تھا کہ لوگوں کے سامنے اپنے پیغام کی حقیقت واضح کریں۔ قادیانی حضرات کا کہنا ہے کہ جب مرزا قادیانی نے اپنا وہ مقالہ لکھنا شروع کیا جسے کانفرنس میں پڑھنا چاہتے تھے تو انہیں سخت دست آنے لگے۔ لیکن انہوں نے اسے مکمل کر کے دم لیا۔ قادیانی حضرات کے دعویٰ کے مطابق مرزا قادیانی کو بذریعہ وحی بتایا گیا کہ ان کا مقالہ کانفرنس میں پڑھے جانے والے تمام مقالوں سے برتر ہوگا۔ قادیانی یہ بھی کہتے ہیں اس وقت مرزا قادیانی کے ماننے والوں کی تعداد تین سو سے زیادہ نہ تھی۔

١٨٩٧ء میں ترکی کے سفیر حسین کامی نے مرزا غلام احمد کو ملاقات کی دعوت دی۔ لیکن مرزا قادیانی نے یہ دعوت قبول نہ کی تو حسین کامی از خود ان سے ملاقات کے لئے پہنچ گئے۔ مرزا قادیانی نے ان کے سامنے بھی دعویٰ کیا کہ مجھ پر خدا کی طرف سے وحی نازل ہوتی ہے۔ واپس آنے کے بعد حسین کامی نے لاہور کے بعض اخبارات میں مضمون شائع کرایا۔ جس میں مرزا قادیانی کے دعوائے نبوت کی سخت مخالفت کی۔ اس مضمون کا یہ اثر ہوا کہ پنجاب کے مسلمانوں میں مرزا قادیانی کی مخالفت اور شدت اختیار کر گئی۔

اسی سال ”صلح خیر“ کے نام سے مرزا قادیانی نے ایک اشتہار شائع کرایا۔ جس میں علماء کو دعوت دی گئی تھی کہ وہ دس سال تک ان کی مخالفت نہ کرنے اور انہیں برا بھلا کہنے سے باز

٦

صفحہ ١٨٧

رہیں۔ کیونکہ اگر وہ جھوٹے ہوئے تو اس عرصہ میں ان کی قلعی از خود کھل جائے گی اور اگر سچے ہوئے تو اتنا عرصہ اس چیز کے لئے کافی ہوگا کہ علماء حق ان کو پہچان کر اس عذاب سے بچ جائیں جو اللہ تعالیٰ اپنے دین کے دشمنوں اور رسولوں کو جھٹلانے والوں پر نازل کرتا ہے۔

لیکن علماء اتنے بھولے اور سادہ لوح نہ تھے کہ ان پر مرزا قادیانی کی یہ مکاری چل جاتی۔ انہوں نے مرزا قادیانی کی یہ تجویز ماننے سے انکار کر دیا اور ان کی مخالفت کرنے اور مسلمانوں کو ان کے مکر و فریب سے باخبر کرنے کا سلسلہ برابر جاری رکھا۔

اسی سال مرزا قادیانی کو ایک چال اور سوجھی جس سے مخالفین کا منہ بند کیا جاسکے اور پھر اپنی تبلیغ کا سلسلہ اطمینان سے جاری رکھا جاسکے۔ انہوں نے وائسرائے کے حضور درخواست دائر کی کہ ہندوستان میں جو بے چینی اور فسادات کی کیفیت جاری ہے اس کی اصل وجہ مذہبی بنیادوں پر تفرقہ بازی اور آئے دن کے جھگڑے ہیں۔ اس لئے ایک ایسا قانون جاری کرنا ضروری ہے جو ہر مذہب کے ماننے والوں کو یہ حق دیتا ہو کہ وہ عام لوگوں کو اپنے مذہب کے حقائق سے باخبر کر سکیں اور دوسروں کی دخل اندازی اور غوغا آرائی سے بھی محفوظ رہیں۔

١٨٩٨ء میں انہوں نے اپنے ماننے والوں کے لئے یہ قانون جاری کیا کہ ان میں سے کوئی شخص اپنی بیٹی کسی ایسے شخص کے نکاح میں نہ دے جو ان کی نبوت کی تصدیق نہ کرتا ہو۔ اسی سال انہوں نے قادیان میں ایک اسکول بھی قائم کیا جس میں نوجوانوں کو احمدیت کے اصولوں پر تربیت دی جاسکے۔

١٩٠٠ء میں انہوں نے قادیان میں ایک مسجد تعمیر کی لیکن ان کے بعض رشتہ داروں نے جن کو اللہ تعالیٰ نے ان کے چنگل میں پھنسنے سے محفوظ رکھا۔ اس مسجد کے عین سامنے ایک دیوار بنا ڈالی۔ اس دیوار کی موجودگی میں مرزا قادیانی کے ماننے والوں کو مسجد تک پہنچنے کے لئے لمبا چکر کاٹنا پڑتا تھا، چنانچہ مرزا قادیانی نے اپنے ان رشتہ داروں کے خلاف عدالت میں دعویٰ دائر کر دیا۔ انگریز جج نے فیصلہ دیا کہ مسجد کے سامنے سے اس دیوار کو ہٹا دیا جائے۔

اسی سال انہوں نے اپنے ماننے والوں کو خطبہ دیا جس کا نام ”خطبہ الہامیہ“ رکھا اور جسے قادیانی حضرات مرزا قادیانی کے معجزات میں شمار کرتے ہیں۔ آگے چل کر ہم اس بکواس اور بے سروپا باتوں کا ہلکا سا تذکرہ کریں گے جو اس ”الہامی خطبہ“ میں پائی جاتی ہیں۔

٧

صفحہ ١٨٨

١٩٠١ء میں انہوں نے اپنے ماننے والوں کو مردم شماری اور رجسٹر میں نام درج کرنے کا حکم دیا۔ ان کے بیٹے محمود بشیر کہتے ہیں۔ ”یہ سال ان کے اور مسلمانوں کے درمیان تفریق کا سال تھا۔“

١٩٠٣ء میں انہوں نے اپنے مذہب کی اشاعت کے لئے ایک ماہانہ رسالہ کا اجراء کیا جس کا نام انہوں نے ”ادیان“ رکھا۔

اور وہ انگریزی اردو دونوں زبانوں میں شائع ہوتا تھا۔ اس کے بعض مضامین وہ خود لکھتے تھے۔

اسی سال قاضی کرم الدین نامی ایک شخص نے ان پر ”ہتک عزت“ کا مقدمہ دائر کر دیا اور مرزا قادیانی کو اس کی پیروی کے لئے جہلم طلب کیا گیا۔ لیکن عدالت نے انہیں بری قرار دے دیا۔

١٩٠٣ء میں کابل میں ان کے ایک مبلغ ”عبداللطیف“ کو دین سے نکل جانے کے الزام میں قتل کر دیا گیا۔ اسی سال مرزا قادیانی نے ایک مضمون لکھا جس میں جناب کرم الدین کو خوب گالیاں دیں اور یہاں تک لکھا کہ یہ شخص انتہائی جھوٹا اور کمینہ ہے۔ جناب کرم الدین نے ان پر ہتک عزت کا دوبارہ مقدمہ دائر کیا۔ اس مقدمہ کی پیروی کے لئے مرزا قادیانی کو گورداسپور طلب کیا گیا۔ عدالت نے ان پر پانچ سو روپے جرمانہ عائد کیا۔ مرزا قادیانی نے امرتسر کی عدالت میں اپیل دائر کی۔ جج چونکہ انگریز تھا اس لئے اس نے پہلے عدالتی فیصلہ کو بدل کر مرزا قادیانی کو بری قرار دے دیا۔

اس کے بعد اپنے مذہب کی تبلیغ کے لئے وہ لاہور اور سیالکوٹ گئے۔ علماء نے اشتہار شائع کیا کہ کوئی شخص ان کی تقریر نہ سنے۔ صرف ایک مرتبہ انہیں تقریر کرنے کی جرأت ہوئی۔ لوگوں نے سخت مخالفت کی اور ان پر کنکریاں مارنے کی کوشش کی۔ لیکن چونکہ ایسے تمام مواقع پر وہ پولیس کی حفاظت اور گھیرے میں ہوتے تھے اس لئے بچ کر نکل گئے اور گاڑی میں سوار ہو کر قادیان پہنچ گئے۔

١٩٠٥ء میں انہوں نے قادیان میں ایک عربی دینی مدرسہ قائم کیا تا کہ اپنے مذہب کی اشاعت کے لئے مبلغین تیار کئے جاسکیں۔ اسی سال وہ دہلی گئے جہاں علماء ان کے مقابلہ کے

٨

١٨٩

لئے نکل آئے اور انہیں ایک جگہ بھی تقریر کرنے کا موقع وہاں انہوں نے چند لوگوں کو بلا کر تقریر کی اور اپنے مـ یہاں بھی بعض سننے والوں نے ان کی مخالفت کی۔ یہا جانا پڑا۔

دہلی سے واپسی میں امرتسر کے ایک ہال لوگوں کو ان کی تقریر سننے سے منع کیا۔ مرزا قادیانی جو کھڑے ہوئے تو ان کے ایک ماننے والے نے چاـ میں دن کے وقت ہو رہا تھا۔ جونہی انہوں نے پیالی مـ نے جواب دیا کہ میں مسافر ہوں اور مسافر کو روزہ مـ نے نہیں سنی اور ایسا ہنگامہ برپا ہوا کہ تقریر چھوڑ کر پولیس سے بھاگنا پڑا۔

١٩٠٥ء میں انہوں نے دعویٰ کیا کہ ان کا نے اپنی وہ کتاب لکھی جسے قادیانی حضرات ”وصایا“ ( اس کے بعد بھی وہ تین برس تک زندہ رہے۔ اسی مو طرف سے ایک قبرستان بنانے کا حکم بذریعہ وحی دیا گـ ہونا چاہتا ہے۔ مال کا چوتھائی حصہ جماعت کے خزانے

١٩٠٧ء میں پنجاب میں انگریزوں کے خو قادیانی نے انگریزوں کا ساتھ دیا۔ حکومت سے اپنی و کیا جس میں اپنے تمام ماننے والوں کو انگریزوں کا وفـ طرح سے مدد کرنے کا حکم دیا اور یہی ماننے والوں نے

اسی سال لاہور میں تمام مذاہب کی مشتر کے نمائندے شریک ہوئے۔ کانفرنس میں پڑھے جا کر بھیجا۔ جب ایک قادیانی یہ مضمون پڑھنے کے آوازے کسے اور اس کا مذاق اڑایا۔

٩

صفحہ ١٨٩

لئے نکل آئے اور انہیں ایک جگہ بھی تقریر کرنے کا موقع نہ دیا۔ البتہ وہ جس گھر میں ٹھہرے تھے وہاں انہوں نے چند لوگوں کو بلا کر تقریر کی اور اپنے مذہب کے باطل اصولوں کو روشناس کرایا۔ یہاں بھی بعض سننے والوں نے ان کی مخالفت کی۔ یہاں تک کہ انہیں ناکام ہو کر دہلی سے بھاگ جانا پڑا۔

دہلی سے واپسی میں امرتسر کے ایک ہال میں تقریر کرنے کا پروگرام بنایا۔ علماء نے لوگوں کو ان کی تقریر سننے سے منع کیا۔ مرزا قادیانی جب ہال میں داخل ہوئے اور تقریر کے لئے کھڑے ہوئے تو ان کے ایک ماننے والے نے چائے کی پیالی پیش کی۔ حالانکہ یہ جلسہ رمضان میں دن کے وقت ہو رہا تھا۔ جونہی انہوں نے پیالی منہ کو لگائی۔ حاضرین نے شور مچا دیا۔ انہوں نے جواب دیا کہ میں مسافر ہوں اور مسافر کو روزہ چھوڑنے کی رخصت ہے لیکن ان کی بات کسی نے نہیں سنی اور ایسا ہنگامہ برپا ہوا کہ تقریر چھوڑ کر پولیس کی نگرانی میں ہال سے نکلنا اور اسی وقت شہر سے بھاگنا پڑا۔

١٩٠٥ء میں انہوں نے دعویٰ کیا کہ ان کا آخری وقت آ پہنچا ہے اور اسی موقع پر انہوں نے اپنی وہ کتاب لکھی جسے قادیانی حضرات ”وصایا“ (الوصیت) کے نام سے یاد کرتے ہیں۔ لیکن اس کے بعد بھی وہ تین برس تک زندہ رہے۔ اسی موقع پر انہوں نے یہ دعویٰ کیا کہ انہیں خدا کی طرف سے ایک قبرستان بنانے کا حکم بذریعہ وحی دیا گیا ہے۔ چنانچہ جو شخص اس قبرستان میں دفن ہونا چاہتا ہے۔ مال کا چوتھائی حصہ جماعت کے خزانے میں جمع کرائے۔

١٩٠٧ء میں پنجاب میں انگریزوں کے خلاف ایک قومی تحریک اٹھ کھڑی ہوئی تو مرزا قادیانی نے انگریزوں کا ساتھ دیا۔ حکومت سے اپنی وفاداری کے اظہار کے لئے ایک اشتہار شائع کیا جس میں اپنے تمام ماننے والوں کو انگریزوں کا وفادار رہنے اور قومی تحریک کو کچلنے میں ان کی ہر طرح سے مدد کرنے کا حکم دیا اور یہی ماننے والوں نے کیا۔

اسی سال لاہور میں تمام مذاہب کی مشترکہ کانفرنس منعقد ہوئی۔ اس میں تمام مذاہب کے نمائندے شریک ہوئے۔ کانفرنس میں پڑھے جانے کے لئے مرزا قادیانی نے ایک مضمون لکھ کر بھیجا۔ جب ایک قادیانی یہ مضمون پڑھنے کے لئے کھڑا ہوا تو بہت سے لوگوں نے اس پر آوازے کسے اور اس کا مذاق اڑایا۔

٩

صفحہ ١٩١

١٩٠٨ء میں وہ لاہور گئے۔ جب وہاں پہنچے تو مسلمانوں نے ان کی آمد پر سخت احتجاج کیا۔ جس مکان میں ان کا قیام تھا اس سے باہر میدان میں ہر روز عصر کے بعد علماء جمع ہو کر تقریریں کرتے اور لوگوں کو خبردار کرتے کہ اس شخص کے تمام دعوے باطل ہیں۔ ان کے دھوکہ میں نہ آئیں۔

مرزا غلام احمد کو مرض اسہال کی شکایت تھی۔ قیام لاہور کے دوران ان کا یہ مرض شدت اختیار کر گیا اور اسی سبب سے ١٩٠٨ء مطابق ١٣٢٦ھ میں وبائی ہیضہ سے ان کا خاتمہ ہو گیا ان کی لاش قادیان لائی گئی اور وہیں دفن کی گئی۔ ان کے بعد ان کے ماننے والوں نے حکیم نور الدین کو اپنے مذہب کا پہلا خلیفہ منتخب کیا۔

١٩١٤ء میں جب ان کا انتقال ہوا تو بانی سلسلہ مرزا غلام احمد کے بیٹے بشیر الدین محمود کو دوسرا خلیفہ چنا گیا اور اب تک وہی چلے جا رہے ہیں۔

مرزا قادیانی کی طرف سے وحی، نبوت اور رسالت کا دعویٰ

مرزا غلام احمد کا دعویٰ ہے کہ ان پر وحی نازل ہوتی ہے۔ اپنے الہامی خطبہ میں کہتے ہیں یہی وہ کتاب ہے جس کا ایک حصہ رب العباد کی طرف سے مجھ پر کسی عید میں وحی کیا گیا ہے۔ پھر کہتے ہیں کہ طاعون کے نزول سے پیشتر میرے رب کی طرف سے مجھے وحی کی گئی۔ ”ان اصنع الفلك باعيننا ووحينا “ (کشتی نوح ص ٤ بقیہ حاشیہ، خزائن ج ١٩ ص ایضاً) یعنی ہماری حفاظت اور ہماری وحی سے کشتی بناؤ۔

صحابہ کرام اور دوسرے سلف صالحین میں سے کسی نے یہ دعویٰ نہیں کیا کہ اس پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے وحی نازل ہوئی ہے۔ اگر مرزا قادیانی صرف وحی آنے کا دعویٰ کرتے .... تو ہم کہتے ...... کہ شاید وحی سے ان کی مراد الہام ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے ”واوحى ربك الى النحل ان اتخذی من الجبال بيوتاً (النحل: ٦٨)“ ﴿یعنی اور تیرے رب نے شہد کی مکھی کی طرف وحی کی یا الہام کیا کہ پہاڑوں میں اپنا گھر بنائے﴾ اس وقت صرف یہ دیکھا جاتا کہ ان پر ہونے والا الہام کیسا ہے؟ اگر وہ دینی نصوص واحکام کے مطابق ہوتا تو ہم خاموش رہتے اور اگر ان میں سے کسی چیز کے خلاف ہوتا تو ہم اسے ٹھکرا دیتے اور ماننے سے انکار کر دیتے۔ لیکن وہ تو اپنی کتابوں میں صاف اور بار بار اعلان کرتے ہیں کہ میں نبی اور رسول ہوں۔ اپنے نام نہاد

١٠

”الہامی خطبہ“ میں کہتے ہیں: سوچو تو سہی اگر میں خدا کی طرف دیا تو اسے جھٹلانے والو! تمہارا کیا حشر ہوگا؟ پھر کہتے ہیں: تم دیکھتے ہو کہ لوگ کیسے عیسائی بنے اور اللہ کے کہے جاتے ہو کہ خدا کی طرف سے کوئی رسول نہیں آیا۔ سوچو لکھتے ہیں: چنانچہ خدا نے اس امت یعنی امت اسلام پر یہ انعام اس کے بعد بھی اندھوں کے سوا اور کوئی انکار کر سکتا ہے؟ مزید علم تھے اور اے ظالمو! میں تمہارے لئے علم ہوں۔

ایک اشتہار جو انہوں نے اپنے ماننے والوں کے ”جماعت احمدیہ میں شامل ہونے کی شرطیں“ اس میں وہ لکھتے احمد، خدا کا بھیجا ہوا تھا اور خدا کے بھیجے ہوئے رسولوں کا انکار تک سے محروم کر سکتی ہے۔

ایک قادیانی مبلغ ابو العطاء جالندھری کہتے ہیں: خد ذرائع سے کلام کیا جن سے وہ اپنے انبیاء سے کلام کرتا ہے۔ یکساں ہوتے ہیں۔ (اسلامی احمدی خوشخبری)

قرآن وسنت اور اجماع امت تینوں سے بے پرو کا دعویٰ کرتے ہیں، حالانکہ قرآن سنت اور اجماع امت تینو مصطفیٰ ﷺ آخری نبی اور آخری رسول ہیں۔

قرآن پاک میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ”مَا كَانَ ولكن رسول الله وخاتم النبيين (احزاب: ٤٠) “ ﴿ باپ نہیں ہیں وہ تو اللہ کے رسول اور آخری نبی ہیں۔ ﴾

اور اگر خاتم کو دوسری قرآت کے مطابق ت کی زبر محمد ﷺ کا ایک وصف ہوگا۔ یعنی آپ نے انبیاء کا سلسلہ ختم ک نبوت پر سرفراز نہ ہو سکے گا۔ اب جو شخص اس کا دعویٰ کرے گا۔ کی کوئی دلیل نہیں۔ ت کی زبر کے ساتھ قرآت یعنی خاتم بھی ب

١١

صفحہ ١٩١

”الہامی خطبہ“ میں کہتے ہیں: سوچو تو سہی اگر میں خدا کی طرف سے ہوا اور پھر تم نے مجھے جھوٹا قرار دیا تو اے جھٹلانے والو! تمہارا کیا حشر ہوگا؟ پھر کہتے ہیں: تم دیکھتے ہو کہ لوگ کیسے عیسائی بنے اور اللہ کے دین سے مرتد ہوگئے۔ پھر بھی تم یہی کہے جاتے ہو کہ خدا کی طرف سے کوئی رسول نہیں آیا۔ سوچو یہ تم کیا فیصلہ کرتے ہو؟ آگے چل کر لکھتے ہیں: چنانچہ خدا نے اس امت یعنی امت اسلام پر یہ انعام کیا کہ اس میں عیسیٰ کا مثیل بھیجا۔ کیا اس کے بعد بھی اندھوں کے سوا اور کوئی انکار کرسکتا ہے؟ مزید کہتے ہیں عیسیٰ بنی اسرائیل کے لئے علم تھے اور اے ظالمو! میں تمہارے لئے علم ہوں۔

ایک اشتہار جو انہوں نے اپنے ماننے والوں کے لئے شائع کیا تھا اس کا عنوان ہے۔ ”جماعت احمدیہ میں شامل ہونے کی شرطیں“ اس میں وہ لکھتے ہیں: مسیح موعود مراد ہیں خود مرزا غلام احمد، خدا کا بھیجا ہوا تھا اور خدا کے بھیجے ہوئے رسولوں کا انکار کرنا اتنی بڑی جسارت ہے کہ ایمان تک سے محروم کرسکتی ہے۔

ایک قادیانی مبلغ ابوالعطاء جالندھری کہتے ہیں: خدا نے احمد یعنی غلام احمد سے ان تمام ذرائع سے کلام کیا جن سے وہ اپنے انبیاء سے کلام کرتا ہے۔ اس لئے کہ انبیاء وصف نبوت میں یکساں ہوتے ہیں۔ (اسلامی احمدی پاکٹ بک)

قرآن وسنت اور اجماع امت تینوں سے بے پرواہ ہو کر مرزا غلام احمد نبوت ورسالت کا دعویٰ کرتے ہیں، حالانکہ قرآن سنت اور اجماع امت تینوں میں واضح دلیل موجود ہے کہ محمد مصطفیٰ ﷺ آخری نبی اور آخری رسول ہیں۔

قرآن پاک میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ”ماكان محمد ابا احد من رجالكم ولكن رسول الله وخاتم النبيين (احزاب: ٤٠)“ ﴿یعنی محمدؐ تم مردوں میں سے کسی کے باپ نہیں ہیں وہ تو اللہ کے رسول اور آخری نبی ہیں۔﴾

اور اگر خاتم کو دوسری قرأت کے مطابق ت کی زبر کے ساتھ یعنی خاتَم پڑھا جائے تو یہ محمد ﷺ کا ایک وصف ہوگا۔ یعنی آپ نے انبیاء کا سلسلہ ختم کر دیا اور آپ کے بعد کوئی شخص مقام نبوت پر سرفراز نہ ہوسکے گا۔ اب جو شخص اس کا دعویٰ کرے گا۔ ایک ایسی چیز کا دعویٰ کرے گا جس کی کوئی دلیل نہیں۔ ت کی زبر کے ساتھ قرأت یعنی خاتَم بھی یہی مطلب ظاہر کرتی ہے۔ اس لئے

11

صفحہ ١٩٣

کہ خاتم اور ”خاتم“ میں سے ہر لفظ دوسرے کے معنی میں استعمال ہوتا ہے۔ یہی بات ماہرین لغت نے لکھی ہے۔ اس کو تمام محقق علمائے تفسیر نے اختیار کیا ہے اور یہی مطلب سنت صحیحہ میں بیان کیا ہے۔ صحیح بخاری میں حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”بنی اسرائیل کی قیادت انبیاء کرتے تھے۔ ایک نبی وفات پا جاتا تو دوسرا اس کی جگہ لے لیتا۔ لیکن میرے بعد کوئی نبی نہیں ہے۔“

(بخاری ج ١ ص ٤٩١، مسلم ج ٢ ص ١٢٦)

صحیح بخاری میں حضرت ابو ہریرہؓ ہی سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”میری اور مجھ سے پہلے گزرے ہوئے انبیاء کی مثال ایسی ہے جیسے ایک شخص نے ایک عمارت بنائی اور خوب حسین و جمیل بنائی مگر ایک کونے میں ایک اینٹ کی جگہ چھوڑی ہوئی تھی۔ لوگ اس عمارت کے گرد پھرتے اور اس کی خوبی پر اظہار حیرت کرتے، مگر ساتھ ساتھ یہ بھی کہتے کہ آخر اس جگہ اینٹ کیوں نہ رکھی گئی؟ تو میں وہ اینٹ ہوں اور میں خاتم النبیین ہوں۔ (بخاری ج ١ ص ٥٠١، مسلم ج ٢ ص ٢٤٨) (یعنی میرے آنے سے نبوت کی عمارت مکمل ہو چکی ہے۔ اب کوئی جگہ باقی نہیں ہے۔ جسے پر کرنے کے لئے کوئی آئے)

امام احمدؒ نے اپنی سند سے حضرت ابو الطفیلؓ سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: میرے بعد کوئی نبوت نہیں، صرف بشارت دینے والی باتیں ہیں۔ عرض کیا گیا۔ ”اے اللہ کے رسول بشارت دینے والی وہ باتیں کیا ہیں؟“ فرمایا: اچھا خواب یا فرمایا صالح خواب۔“

اسی طرح نبی ﷺ کی متعدد دوسری احادیث اور صحابہ کرام کے متعدد آثار سے قطعی طور پر معلوم ہوتا ہے کہ نبی ﷺ پر نبوت ورسالت کا سلسلہ ختم ہو گیا۔ اس بارے میں پوری امت کا شروع سے اب تک اجماع چلا آ رہا ہے اور ہر مسلمان، چاہے وہ عالم ہو یا غیر عالم، اسے دین کے بنیادی مسائل میں شمار کرتا ہے۔ جس کے جانے بغیر ایمان مکمل نہیں ہوتا۔ آیت میں لفظ ”خاتم النبیین“ کی تفسیر کرتے ہوئے امام ابن کثیرؒ لکھتے ہیں: ”اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب اور اس کے رسول ﷺ نے اپنی متواتر سنت میں بتایا ہے کہ آپ کے بعد کوئی نبی نہیں ہے تاکہ لوگوں کو معلوم ہو کہ آپ کے بعد جو بھی شخص اس مقام کا دعویٰ کرے گا وہ انتہائی جھوٹا، مکار، دجال اور لوگوں کو گمراہ کرنے والا ہوگا۔“

امام آلوسیؒ اپنی تفسیر روح المعانی میں لکھتے ہیں کہ ”محمد ﷺ کے خاتم النبیین ہونے کی ١٢

خبر قرآن میں بھی دی گئی ہے سنت میں بھی اسے واضح الفا نبی ہیں۔ اس پر پوری امت کا اجماع ہے۔ لہٰذا جو شخص اس کافر قرار دیا جائے گا۔

کسی مسلمان کے لئے ہرگز یہ جائز نہیں ہے کہ و منشاء کے خلاف تاویل کرے تاکہ ہوا پرستی اور دل میں چھ

دیکھئے کہ مرزا غلام احمد اور ان کے ماننے والوں نے آیت ”خ دونوں احادیث میں من مانی تاویل کرنے میں کیا ٹال مٹو ”قادیان“ کے ایک شخص نے مہدی (ہدایت یافتہ) ہو اس نے دعویٰ کر ڈالا کہ میں خدا کا بھیجا ہوا نبی ہوں اور پھر جھوٹ بولنے اور کافر حکمرانوں کی چاپلوسی کرنے میں اس رسول ﷺ کی حدیث ہے کہ ”میرے بعد کوئی ن کہ آپ کے بعد کوئی نبی آپ کی امت کے علاوہ کسی دوسری

دراصل اس حدیث کی یہ مضحکہ خیز تاویل ایک جس کا نام ”اسحاق اخرس“ (اس کا ذکر پہلے گزر چکا ہے میں ظاہر ہوا تھا۔ اس نے دعویٰ کیا تھا کہ اس کے پاس ہونے کی بشارت دی۔ اس نے ان فرشتوں سے پوچھا: ت نے حضرت محمد ﷺ کے بارے میں خبر دی ہے کہ آپ خا آپ سچ کہتے ہیں لیکن اللہ تعالیٰ کے اس خبر دینے کا مطل کے سلسلہ کے آخری نبی ہیں جو آپ کی ملت اور آپ کی شر

قادیانیوں کے نزدیک ایک وحی کا دائرہ صر نہیں ہے۔ بلکہ ان کا دعویٰ ہے کہ اس کے ماننے والو موجودہ خلیفہ نے ایک پمفلٹ شائع کیا ہے۔ جس کا تر میں کیا ہے۔ اور وہ مصر میں طبع ہوا ہے۔ اس میں لکھا ہ کیا جا سکتا۔ اسی پمفلٹ میں دوسری جگہ یہ عبارت آئی ١٣

صفحہ ١٩٣

خبر قرآن میں بھی دی گئی ہے سنت میں بھی اسے دوٹوک الفاظ میں بیان کیا گیا ہے۔ محمد ﷺ آخری نبی ہیں۔ اس پر پوری امت کا اجماع ہے۔ لہٰذا جو شخص اس کے خلاف دعویٰ لے کر اٹھے گا اسے کافر قرار دیا جائے گا۔“

کسی مسلمان کے لئے ہرگز یہ جائز نہیں ہے کہ وہ قرآن اور سنت صحیحہ کی اللہ و رسول کے منشاء کے خلاف تاویل کرے تاکہ ہوا پرستی اور دل میں بیٹھے ہوئے بت کی تسکین کر سکے۔ اب دیکھئے کہ مرزا غلام احمد اور ان کے ماننے والوں نے آیت ”خاتم النبیین“ اور اس باب میں قطعی اور دوٹوک احادیث میں من مانی تاویل کرنے میں کیا ٹاک ٹوئیاں ماری ہیں اور محض اس کے لئے کہ ”قادیان“ کے ایک شخص نے ہدیٰ (ہدایت و بھلائی) پر ہویٰ (خواہش پرستی) کو ترجیح دی۔ چنانچہ اس نے دعویٰ کر ڈالا کہ میں خدا کا بھیجا ہوا نبی ہوں اور پھر بکواس کرنے، مکر و فریب سے کام لینے، جھوٹ بولنے اور کافر حکمرانوں کی چاپلوسی کرنے میں اس نے اپنی حد تک کوئی کسر نہ اٹھا رکھی۔

رسول ﷺ کی حدیث ہے کہ ”میرے بعد کوئی نبی نہیں“ کی تاویل اس شخص نے یہ کی کہ آپ کے بعد کوئی نبی آپ کی امت کے علاوہ کسی دوسری امت سے نہیں آئے گا۔

دراصل اس حدیث کی یہ مضحکہ خیز تاویل ایک دوسرے جھوٹے نبی کی خوشہ چینی ہے جس کا نام ”اسحاق اخرس“ (اس کا ذکر پہلے گذر چکا ہے) تھا اور جو عباسی خلیفہ سفاح کے زمانہ میں ظاہر ہوا تھا۔ اس نے دعویٰ کیا تھا کہ اس کے پاس دو فرشتے آئے اور انہوں نے اسے نبی ہونے کی بشارت دی۔ اس نے ان فرشتوں سے پوچھا: لیکن میں نبی کیسے ہو سکتا ہوں جبکہ اللہ تعالیٰ نے حضرت محمد ﷺ کے بارے میں خبر دی ہے کہ آپ خاتم النبیین ہیں؟ فرشتوں نے جواب دیا آپ سچ کہتے ہیں لیکن اللہ تعالیٰ کے اس خبر دینے کا مطلب یہ تھا کہ آپ محمد ﷺ صرف ان انبیاء کے سلسلہ کے آخری نبی ہیں جو آپ کی ملت اور آپ کی شریعت پر نہ ہوں گے۔

قادیانیوں کے نزدیک الہام و وحی کا دائرہ صرف اپنے پیشوا اور بانی مذہب تک محدود نہیں ہے۔ بلکہ ان کا دعویٰ ہے کہ اس کے ماننے والوں پر بھی وحی کا نزول ہوتا ہے۔ ان کے موجودہ خلیفہ نے ایک پمفلٹ شائع کیا ہے۔ جس کا ترجمہ عبدالمجید کامل نامی ایک شخص نے عربی میں کیا ہے۔ اور وہ مصر میں طبع ہوا ہے۔ اس میں لکھا ہے ”لوگوں کے سامنے وحی کا راستہ بند نہیں کیا جا سکتا۔“ اسی پمفلٹ میں دوسری جگہ یہ عبارت آئی ہے۔ ہندوستان کے ایک شہر قادیان میں

١٣

صفحہ ١٩٥

مہدی اور مسیح کا ظہور ہو چکا ہے جس کے ماننے والوں میں اب بھی ہزاروں ایسے افراد موجود ہیں جو وحی الہی کو سنتے ہیں۔

غلام احمد نے یہ دعویٰ کیا ہے کہ ان پر وحی ہوئی انی جاعلک للناس امام (رسالہ دعوت قوم ص ٥٥ ، خزائن ج ١١ ص ٥٥) ”ینصرك رجال يوحى انهم“ (تذکرہ ص ٥٠ طبع سوم) یعنی میں تمہیں لوگوں کا امام بنانے والا ہوں۔ تیری مدد وہ لوگ کریں گے جن کی طرف ہم وحی کریں گے۔

معلوم نہیں یہ لوگ کس زبان سے وحی کا دعویٰ کرتے ہیں حالانکہ اگر آپ مرزا قادیانی کے مضامین اور پمفلٹوں پر ایک نظر ڈالیں تو آپ کو ان میں ایسی بے تکی باتیں جگہ جگہ ملیں گی جن کا حکمت و دانائی سے دور کا بھی واسطہ نہیں اور جن میں جھوٹ صاف صاف عیاں ہے۔ ان میں بمشکل تمام کوئی معقول بات نظر آتی ہے تو یہی اور ان جیسی باتیں بہت سے دوسرے لوگ نے کہی ہیں بلکہ ان سے بہتر کہی ہیں۔ لیکن ان کے دل میں کبھی یہ خیال نہیں گزرا کہ یہ وحی ہے جو خدا نے ان پر نازل کی ہے یا اسے لے کر روح الامین (جبرائیل علیہ السلام) آئے ہیں۔ مرزا قادیانی کی بکواس اور خبط الحواسی کا یہ حال ہے کہ وہ قرآن پاک سے بعض آیات یا چند جملے نقل کر لیتے ہیں اور پھر اپنی کتابوں میں اسے گڈمڈ کر کے دعویٰ کر ڈالتے ہیں کہ یہ ان پر بذریعہ وحی نازل کی گئی ہیں۔

قادیانی نبی کریم ﷺ کے خاتم النبیین ہونے کا انکار کرتے ہیں اور اس پر ایسے ایسے شکوک و شبہات کا اظہار کرتے ہیں جو اہل علم کی نظر میں پرکاہ کا وزن بھی نہیں رکھتے۔ مثال کے طور پر وہ آیت ”الله يصطفى من الملائكة رسلا ومن الناس (حج:٧٥)“ اللہ فرشتوں میں سے رسولوں کا انتخاب کرتا ہے اور لوگوں میں بھی “ سے استدلال کرتے ہیں اور استدلال کی ساری بنیاد یہ بتاتے ہیں کہ یصطفیٰ کا لفظ مضارع کا صیغہ ہے اور مضارع حال کی طرح مستقبل کے لئے بھی ہوتا ہے۔ اس شبہ کا جواب یہ ہے کہ قرآن پاک میں ایسے اور بھی کئی مقامات ہیں جہاں بلاغت کے پیش نظر ماضی میں ہونے والے فعل کی تعبیر مضارع کے صیغہ سے کی گئی ہے۔ ایسے مقامات پر بلاغت کے کئی پہلو ملحوظ ہوتے ہیں جن میں سے ایک یہ ہے کہ معنی میں تعجب اور غرابت پائی جاتی ہے۔ مضارع میں جو حال کا پہلو ہوتا ہے۔ بلیغ کلام میں اسے کسی انوکھے واقعہ کو اس طور پر سامنے لانے کے لئے استعمال کیا جاتا ہے گویا وہ حال ہی میں واقع ہو رہا ہے تاکہ

١٤

مخاطب کے تعجب میں مزید اضافہ ہو جبکہ وہ تصور کرے ہے۔ اس کی دوسری مثال قرآن پاک میں یہ آیت ہے: ”ان مثل عيسى عند الله كمثل ا فيكون (ال عمران: ٥٩)“ اللہ کے نزدیک عیسیٰ علیہ ا اللہ تعالیٰ نے اسے مٹی سے پیدا کیا اور پھر اس سے کہا ہو یہاں فعل مضارع یعنی ”یکون “ استعمال ہوا ہے۔ اگر کہ بغیر باپ کے کسی انسان کا پیدا ہونا اپنی نوعیت میں ی بلاغت کا تقاضا ہے کہ اس کی تعبیر مضارع سے کی جائے طرح حاضر کیا جاسکے۔ گویا وہ اسے اپنی آنکھوں سے ہوتا

ماضی میں ہونے والے واقعہ کی فعل مضارع ہے کہ وہ فعل ماضی میں مسلسل اور بار بار ہوتا رہا ہے اور یہ ماہرین اظہار بلاغت کے لئے اکثر استعمال کرتے ہیں ہو تو اس میں بلاغت کا پہلو ختم ہو جاتا ہے۔ پھر آیت: ”ا ومن الناس (حج:٧٥)“ میں جو ماضی میں ہونے اس میں اصل معنی ”انتخاب کرنے“ سے زائد ایک اور رسولوں کے انتخاب کئے جانے کا کام صرف ایک یا چن قرینہ جو بتایا ہے کہ اس آیت میں انتخاب سے مراد وہ ان آیت ”وخاتم النبيين “ اور وہ متواتر اور ان گنت دروازہ اب ہمیشہ کے لئے بند کر دیا گیا ہے۔

ماضی کی جگہ مضارع کا استعمال عربی زبان شمار ممکن نہیں۔ پھر قرآن کی بعض آیات دوسری آیات و کرتی ہے۔ مرزا غلام احمد کا دعویٰ ہے کہ وہ رسول ہیں جو واقعہ آیا ہے اس سے مراد قطعی طور پر وہ خود ہیں۔ اس انتہائی بھونڈی اور بے تکی تاویل شروع کردی۔ پھر آ

١٥

صفحہ ١٩٥

مخاطب کے تعجب میں مزید اضافہ ہو جبکہ وہ تصور کرے کہ گویا واقعہ کو اپنے سامنے ہوتے دیکھ رہا ہے۔ اس کی دوسری مثال قرآن پاک میں یہ آیت ہے:

"ان مثل عیسیٰ عند الله كمثل آدم خلقه من تراب ثم قال له كن فيكون (ال عمران:٥٩)" ﴿اللہ کے نزدیک عیسیٰ علیہ السلام کی مثال آدم علیہ السلام کی سی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اسے مٹی سے پیدا کیا اور پھر اس سے کہا ہو جا تو وہ ہو جاتا ہے۔ (مراد ہے ہو گیا)﴾ یہاں فعل مضارع یعنی ”يكون“ استعمال ہوا ہے۔ اگرچہ بظاہر یہ مقام فعل ماضی کا ہے۔ اس لئے کہ بغیر باپ کے کسی انسان کا پیدا ہونا اپنی نوعیت میں عجیب و غریب واقع ہے۔ ایسی حالت میں بلاغت کا تقاضا ہے کہ اس کی تعبیر مضارع سے کی جائے تا کہ مخاطب کے ذہن میں پورا واقعہ اچھی طرح حاضر کیا جاسکے۔ گویا وہ اسے اپنی آنکھوں سے ہوتا دیکھ رہا ہے۔

ماضی میں ہونے والے واقعہ کی فعل مضارع سے تعبیر میں اس طرف بھی اشارہ پایا جاتا ہے کہ وہ فعل ماضی میں مسلسل اور بار بار ہوتا رہا ہے اور یہ بلاغت کا وہ پہلو ہے جسے عربی زبان کے ماہرین اظہار بلاغت کے لئے اکثر استعمال کرتے ہیں۔ اس کے لئے اگر ماضی ہی کا فعل استعمال ہو تو اس میں بلاغت کا پہلو ختم ہو جاتا ہے۔ پھر آیت: ”الله يصطفى من الملائكة رسلا ومن الناس (حج:٧٥)“ میں جو ماضی میں ہونے والے واقعہ کی تعبیر مضارع سے کی گئی ہے تو اس میں اصل معنی ”انتخاب کرنے“ سے زائد ایک اور معنی بھی پایا جاتا ہے اور وہ یہ کہ ماضی میں رسولوں کے انتخاب کئے جانے کا کام صرف ایک یا چند مرتبہ نہیں بلکہ بار بار ہوتا رہا ہے۔ رہا وہ قرینہ جو بتاتا ہے کہ اس آیت میں انتخاب سے مراد وہ انتخاب ہے جو ماضی میں ہوتا رہا ہے۔ وہ ہے آیت ”وخاتم النبیین“ اور وہ متواتر اور ان گنت احادیث جو بتاتی ہیں کہ نبوت ورسالت کا دروازہ اب ہمیشہ کے لئے بند کر دیا گیا ہے۔

ماضی کی جگہ مضارع کا استعمال عربی زبان کے ماہرین کے ہاں اس قدر ہوا ہے جس کا شمار ممکن نہیں۔ پھر قرآن کی بعض آیات دوسری آیات کی تفسیر کرتی ہیں اور سنت بھی قرآن کی تشریح کرتی ہے۔ مرزا غلام احمد کا دعویٰ ہے کہ وہ رسول ہیں اور حدیث میں ابن مریم کے نازل ہونے کا جو واقعہ آیا ہے اس سے مراد قطعی طور پر وہ خود ہیں۔ اس بناء پر انہوں نے اس حدیث کے الفاظ کی انتہائی بھونڈی اور بے تکی تاویل شروع کردی۔ پھر آگے چل کر اپنے نام نہاد ”الہامی خطبہ“ میں

١٥

صفحہ ١٩٧

انہوں نے اپنے ماننے والوں کو احادیث نبویہ پر عمل کرنے سے روک دیا اور قرآن کریم کی بہت سی آیات میں تحریف کر کے انہیں اپنے اس دعویٰ کی تائید کے لئے استعمال کرنے کی کوشش کی کہ ان کا نزول ان (یعنی مرزا غلام احمد) کے ظہور کی خبر دینے اور ان کا اشتہار دینے کے لئے ہوا ہے۔

مثال کے طور پر سورۃ تحریم میں جو یہ آیت آئی ہے: ”ومريم ابنة عمران التي احصنت فرجها فنفخنا فيه من روحنا“ ﴿یعنی اللہ اہل ایمان کے معاملہ میں عمران کی بیٹی مریم کی مثال دیتا ہے جس نے اپنی شرم گاہ کی حفاظت کی تھی پھر ہم نے اس کے اندر اپنی روح پھونک دی﴾ اس کی تفسیر کرتے ہوئے مرزا غلام احمد کہتے ہیں۔ ’اس میں یہ بشارت دی گئی ہے کہ اس امت اسلامیہ میں مریم صدیقہ کے درجہ کا ایک آدمی ہوگا اور پھر اس آدمی میں عیسیٰ کی یہ روح پھونکی جائے گی تو مریم سے عیسیٰ نکلے گا یعنی آدمی اپنی مریمی صفات سے عیسوی صفات کی طرف منتقل ہوگا گویا اس کے مریم ہونے کی حالت نے اس کے عیسیٰ علیہ السلام ہونے کی حالت کو جنم دیا۔ اس معنی میں وہ شخص ابن مریم کہلائے گا۔‘

(خطبہ الہامیہ ص١٩٠، خزائن ج١٦ ص٢٨٣)

اس موقع پر ہم ان بکواسوں اور لغویات کا اس سے زیادہ ذکر نہیں کرنا چاہتے۔ آگے چل کر اگر ضرورت محسوس ہوئی تو اس باطل گروہ کی کچھ دوسری لغویات کا ذکر کریں گے۔

غلام احمد نے نبوت و رسالت کا دعویٰ تو کر دیا۔ لیکن انہیں اپنی ناکامی کا احساس برابر رہا۔ یہاں تک کہ وہ ان عوام کو بھی اپنے فریب میں نہ لا سکنے سے ڈرتے تھے جو جاہل ہونے کے باوجود اس کے لئے تیار نہ تھے کہ اسلام کو چھوڑ کر ایک ایسے مذہب کو اختیار کر لیں جو کہتا ہے کہ میں نے اسلامی شریعت کو منسوخ کر دیا۔ چنانچہ ایسے نام نہاد ”الہامی خطبہ“ میں وہ کہتے ہیں۔ ”لوگ کہتے ہیں کہ ہمیں نہ مسیح کی ضرورت ہے اور نہ مہدی کی۔ ہمیں صرف قرآن کافی ہے اور ہم ہدایت یافتہ ہیں۔ وہ جانتے ہیں کہ قرآن کریم کو صرف پاکیزہ ہستیاں ہی چھو سکتی ہیں۔ چنانچہ ایک ایسے ذہین مفسر قرآن کی ضرورت تھی جسے اللہ کی تائید حاصل ہو اور عقل و بصیرت والوں کے زمرہ میں اس کا شمار ہوتا ہو۔

اس عبارت سے ان کا مقصد جاہل عوام کو اپنی طرف مائل کرنا تھا۔ ایک طرف وہ اپنی دلی خواہش پورا کرنا چاہتے تھے اور دوسری طرف یہ بھی جانتے تھے کہ ایسی باتوں کی قرآن وسنت میں کوئی گنجائش نہیں ہے۔ تو انہوں نے سنت کو بطور ماخذ شریعت رد کرنے کی کوشش کی اور اس

١٦

کے بعد قرآن میں تحریف و تاویل کا دروازہ کھولا یا بالکلیہ کھولا تھا۔ اب انہیں یہ دعویٰ کرنے کی ضرورت نہ تھی کیونکہ ان کے اور ان کے ماننے والوں کے سامنے کرنے سے باز رکھتی۔ ان سے اگر یہ کہا جاتا کہ آپ ہے تو وہ نص کو صحیح ماننے سے انکار کر دیتے، یا اس کی تا لیتے جو ان سے پہلے باطنیوں نے کھولا تھا۔

معجزات و دلائل کا دعوٰی

مرزا قادیانی اپنے ”الہامی خطبہ“ میں کہت چاہو تو نہیں کر سکتے۔ لیکن ہمیں ان دلائل کا کوئی پتہ ہتک عزت کے جو مقدمات دائر کئے گئے۔ ان میں فیصلہ کی رو سے یا یہ کہ وہ چند مرتبہ عوام کی گرفت سے انگریزی حکومت کی مسلح فوج انہیں پوری طرح اپنی ایک دلیل انہوں نے یہ بھی گنائی ہے کہ بعض افراد ان تبلیغ نے متاثر کر دیا۔ چنانچہ اپنے ”خطبہ الہامیہ“ میں سے نہ ہوتا تو اس کے پرخچے اڑ چکے ہوتے اور ہم میرے دشمنوں کو ان کے ارادوں میں کامیاب کرن

ان کی تبلیغ کی طرح ان کے جھوٹے د میں جہالت و گمراہی گھر کر چکی تھی۔ اس لئے نبوت کے بس کی بات نہ تھی اور نہ ہی اس کے لئے یہ ممک درمیان تمیز کر سکتے۔۔ اگر کچھ لوگوں میں بعض خیا دلیل سمجھ لیا جائے تو بہائیت جیسے باطل فرقہ کو بھی ا قادیانی بھی باطل مذہب قرار دیتے ہیں۔

حقیقت یہ ہے کہ ہر باطل کو کچھ نہ کچھ لوگ حق کی راہ میں مدافعت کا عزم کرتے اور ا

صفحہ ١٩٧

کے بعد قرآن میں تحریف و تاویل کا دروازہ کھولا یا بالکل وہی دروازہ جو ان سے پہلے باطنیوں نے کھولا تھا۔ اب انہیں یہ دعویٰ کرنے کی ضرورت نہ تھی کہ وہ کوئی الگ شریعت لے کر آئے ہیں۔ کیونکہ ان کے اور ان کے ماننے والوں کے سامنے کوئی ایسی رکاوٹ نہیں تھی جو انہیں من مانی کرنے سے باز رکھتی۔ ان سے اگر یہ کہا جاتا کہ آپ کی فلاں بات شارع کی فلاں نص سے ٹکراتی ہے تو وہ نص کو صحیح ماننے سے انکار کر دیتے ، یا اس کی تاویل کے لئے مکر و فریب کا وہی دروازہ کھول لیتے جو ان سے پہلے باطنیوں نے کھولا تھا۔

معجزات و دلائل کا دعویٰ

مرزا قادیانی اپنے ”الہامی خطبہ“ میں کہتے ہیں اگر تم میری صداقت کے دلائل شمار کرنا چاہو تو نہیں کر سکتے۔ لیکن ہمیں ان دلائل کا کوئی پتہ نہیں چلتا۔ سوائے اس کے کہ ان کے خلاف ہتک عزت کے جو مقدمات دائر کئے گئے۔ ان میں بری کر دیئے گئے اور وہ بھی انگریز ججوں کے فیصلہ کی رو سے یا یہ کہ وہ چند مرتبہ عوام کی گرفت سے بچ کر نکل گئے اور وہ بھی صرف اس لئے کہ انگریزی حکومت کی مسلح فوج انہیں پوری طرح اپنی حفاظت میں لئے ہوتی تھی۔ اپنی صداقت کی ایک دلیل انہوں نے یہ بھی گنائی ہے کہ بعض اغراض پرست اور راہ حق سے ناواقف لوگوں کو ان کی تبلیغ نے متاثر کر دیا۔ چنانچہ اپنے ”خطبہ الہامیہ“ میں وہ کہتے ہیں : ہمارا سلسلہ تبلیغ اگر خدا کی طرف سے نہ ہوتا تو اس کے پرخچے اڑ چکے ہوتے اور ہم پر زمین و آسمان کی لعنت پڑ چکی ہوتی۔ اور خدا میرے دشمنوں کو ان کے ارادوں میں کامیاب کر چکا ہوتا ۔“

ان کی تبلیغ کی طرح ان کے جھوٹے دعوؤں کو بھی کچھ ایسے افراد مل گئے جن کے دلوں میں جہالت و گمراہی گھر کر چکی تھی۔ اس لئے نبوت ورسالت کے مقام کو سمجھنا اور اس کی قدر کرنا ان کے بس کی بات نہ تھی اور نہ ہی اس کے لئے یہ ممکن تھا کہ اس کا سچا یا جھوٹا دعویٰ کرنے والوں کے درمیان تمیز کر سکتے ۔ اگر کچھ لوگوں میں بعض خیالات کے رواج پا جانے کو ان کے حق ہونے کی دلیل سمجھ لیا جائے تو بہائیت جیسے باطل فرقہ کو بھی ایک سچا مذہب ماننا پڑے گا۔ جسے تمام مسلمان نیز قادیانی بھی باطل مذہب قرار دیتے ہیں۔

حقیقت یہ ہے کہ ہر باطل کو کچھ نہ کچھ کھیل کھیلنے کا موقع مل جاتا ہے۔ لیکن جونہی اہل علم لوگ حق کی راہ میں مدافعت کا عزم کرتے اور اس کے لئے صحیح ذرائع سے کام لیتے ہیں تو باطل کا

١٧

صفحہ ١٩٩

منہ مڑ جاتا ہے۔ اس کے بعد وہ یا تو سرے سے ناپید ہو جاتے ہیں یا اس کا دائرہ صرف چند سر پھرے لوگوں تک محدود رہتا ہے جنہیں اندھیروں میں بھٹکتا چھوڑ دینے میں ہی اللہ تعالیٰ کی بہت بڑی حکمت ہوتی ہے۔

مرزا قادیانی اپنی کتابوں میں مباہلہ کا ذکر کرتے ہیں ان کا دعویٰ ہے کہ جو نبی میرے اور میرے بعض مخالفین کے درمیان مباہلہ ہوا یہ مخالفین شکست کھا جائیں گے اور فتح میری ہوگی۔ بدقسمتی سے انہوں نے یہ نسخہ مولانا ابوالوفاء ثناء اللہ امرتسری کے ساتھ آزمانا چاہا تو ان کے مباہلہ کا سارا پول کھل گیا اور ان کے جھوٹا و مکار ہونے کا جیتا جاگتا ثبوت بن گیا۔ لیکن اسے کیا کہئے کہ باطل کے پرستاروں میں وہ لوگ بھی ہوتے ہیں جن کے کانوں پر اللہ نے مہر لگا دی ہوتی ہے۔ اور وہ سننے کی صلاحیت سے محروم ہوتے ہیں۔

مولانا ثناء اللہ امرتسری نے جب مرزا قادیانی کے مختلف دعوؤں کا کچا چٹھا کھولنا شروع کیا تو مرزا قادیانی کا دماغ کھول گیا۔ کچھ عرصہ جواب دیتے رہے لیکن بالآخر جب مولانا کی علمی گرفت اور لاجواب تنقید سے تنگ آگئے تو ایک تحریر شائع کی جس میں خدا سے آخری دعا کی اور مولانا کو خطاب کرتے ہوئے لکھا۔

بسم الله الرحمن الرحيم!

يستنبئونك احق هو اى والله انه لحق

بخدمت جناب مولوی ثناء اللہ صاحب! السلام علیٰ من اتبع الہدیٰ ہمیشہ مجھے آپ اپنے اس پرچے (اہلحدیث) میں مردود و کذاب، دجال، مفسد کے نام سے منسوب کرتے ہیں۔ میں نے آپ سے بہت دکھ اٹھایا اور صبر کرتا رہا ..... اگر میں ایسا ہی کذاب اور مفتری ہوں جیسا کہ اکثر اوقات آپ اپنے پرچے میں یاد کرتے ہیں تو میں آپ کی زندگی میں ہی ہلاک ہو جاؤں گا۔ کیونکہ میں جانتا ہوں کہ مفسد اور کذاب کی بہت عمر نہیں ہوتی۔ اور آخر وہ ذلت اور حسرت کے ساتھ اپنے اشد دشمنوں کی زندگی میں ہی ناکام و ہلاک ہو جاتا ہے۔ ..... میں خدا سے دعا کرتا ہوں کہ اے میرے مالک بصیر و قدیر جو علیم و خبیر ہے ..... اگر یہ دعویٰ مسیح موعود ہونے کا محض میرے نفس کا افتراء ہے اور میں تیری نظر میں مفسد اور کذاب ہوں تو اے میرے پیارے مالک میں عاجزی سے تیری جناب میں دعا کرتا ہوں کہ مولوی ثناء اللہ کی زندگی

١٨

میں مجھے ہلاک کردے۔ ..... مگر اے میرے کامل اور صاد وہ مجھ پر لگاتا ہے حق پر نہیں تو میں عاجزی سے تیری جناب ان کو ہلاک کر مگر انسانی ہاتھوں سے نہیں بلکہ طاعون تیرے ہی تقدس اور رحمت کا دامن پکڑ کر تیری جناب فیصلہ فرما اور وہ جو تیری نگاہ میں حقیقت میں مفسد اور کذ سے اٹھالے یا کسی اور نہایت سخت آفت میں جو موت پیارے مالک تو ایسا ہی کر۔ آمین ثم آمین۔ (الرقم عبد مرقومہ یکم ربیع الاول ١٣٢٥ھ موافق ١٥؍اپریل ١٩٠٧ء، مجموعہ ا

مرزا قادیانی کی یہ دعا اس انداز سے قبو ١٩٠٨ء کو مرزا قادیانی کی موت واقع ہوگئی (اور وہ وبا دعا میں جھوٹے کی علامت کے طور پر کیا ہے اور قدرتی رکھتے تھے)

مولانا ثناء اللہ صاحب اب بھی زندہ سلا کر رہے ہیں قادیانی ٹولے کے مکر وفریب سے مسلما مرزا قادیانی کو معلوم تھا کہ ان کے پاس ا چیز ہے جسے کسی حد تک بھی دلیل کہا جاسکے۔ پنجاب انہوں نے اسے سادہ لوح اور جاہل عوام کو اپنے دام دعویٰ جڑ دیا کہ ان پر وحی ہوتی ہے کہ اس طاعون سے ایمان رکھے گا یا کم از کم ان کی ایذاء رسانی اور مذمت قائل ہوگا۔ (ملاحظہ ہو ”تعلیمات مسیح موعود“ شائع کر یہ دعویٰ انہوں نے اس لئے کیا کہ سادہ لو

١؎ مصنف کی یہ تحریر غالباً ١٩٦٨ء سے پہ واقعی زندہ سلامت تھے اور دین حنیف کی خدمت کر آنجہانی مرزا کے مرنے کے ٤٠ سال بعد ہوئی۔ قدس

١٩

صفحہ ١٩٩

میں مجھے ہلاک کردے...... مگر اے میرے کامل اور صادق خدا! اگر مولوی ثناء اللہ ان تہمتوں میں جو وہ مجھ پر لگاتا ہے حق پر نہیں تو میں عاجزی سے تیری جناب میں دعا کرتا ہوں کہ میری زندگی میں ہی ان کو ہلاک کر مگر انسانی ہاتھوں سے نہیں بلکہ طاعون و ہیضہ وغیرہ مہلک امراض سے ...... میں تیرے ہی تقدس اور رحمت کا دامن پکڑ کر تیری جناب میں ملتجی ہوں کہ مجھ میں اور ثناء اللہ میں سچا فیصلہ فرما اور وہ جو تیری نگاہ میں حقیقت میں مفسد اور کذاب ہے اس کو صادق کی زندگی میں ہی دنیا سے اٹھالے یا کسی اور نہایت سخت آفت میں جو موت کے برابر ہو مبتلا کردے۔ اے میرے پیارے مالک تو ایسا ہی کر۔ آمین ثم آمین۔ (الراقم عبداللہ الصمد مرزا غلام احمد، المسیح موعود عافاہ اللہ وایدہ، مرقومہ یکم ربیع الاول ١٣٢٥ھ موافق ١٥؍ اپریل ١٩٠٧ء، مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ٥٧٨ و ٥٧٩)

مرزا قادیانی کی یہ دعا اس انداز سے قبول ہوئی کہ ایک ہی سال بعد یعنی ٢٦؍ مئی ١٩٠٨ء کو مرزا قادیانی کی موت واقع ہوگئی (اور وہ وبائی ہیضہ سے جس کا ذکر انہوں نے اپنی اس دعا میں جھوٹے کی علامت کے طور پر کیا ہے اور قدرتی طور پر اس کی توقع وہ مولانا ثناء اللہ کے لئے رکھتے تھے)

مولانا ثناء اللہ صاحب اب بھی زندہ سلامت موجود ہیں اور دین حنیف کی خدمت کر رہے ہیں قادیانی ٹولے کے مکروفریب سے مسلمانوں کو بچا رہے ہیں ١؎ ۔

مرزا قادیانی کو معلوم تھا کہ ان کے پاس اپنی نبوت کی نہ کوئی دلیل ہے اور نہ کوئی ایسی چیز ہے جسے کسی حد تک بھی دلیل کہا جاسکے۔ پنجاب میں جب ایک مرتبہ طاعون کی وبا پھیلی تو انہوں نے اسے سادہ لوح اور جاہل عوام کو اپنے دام میں پھنسانے کا ایک عمدہ موقع تصور کیا اور دعویٰ جڑ دیا کہ ان پر وحی ہوئی ہے کہ اس طاعون سے وہ شخص محفوظ رہے گا جو خالصاً دل سے ان پر ایمان رکھے گا یا کم از کم ان کی ایذاء رسانی اور مذمت سے باز آئے گا اور دل سے ان کی عظمت کا قائل ہوگا۔ (ملاحظہ ہو ”تعلیمات مسیح موعود“ شائع کردہ قادیانی گروہ) ۔

یہ دعویٰ انہوں نے اس لئے کیا کہ سادہ لوح اور غبی قسم کے لوگ جو ہر اس شخص کی دھمکی

١؎ مصنف کی یہ تحریر غالباً ١٩٣٨ء سے پہلے کی ہے کیونکہ اس وقت تک مولانا ثناء اللہ واقعی زندہ سلامت تھے اور دین حنیف کی خدمت کر رہے تھے، مولانا کی وفات ١٩٤٨ء میں یعنی آنجہانی مرزا کے مرنے کے ٤٠ سال بعد ہوئی۔ قدس اللہ روحہ (مترجم)

١٩

صفحہ ٢٠١

میں آجاتے ہیں جو ان سے کسی مصیبت سے نجات دلانے کا دعویٰ کرتا ہے۔ وان یعدہم الا غروراً

مرزا قادیانی کا غرور نفس اور بعض جلیل القدر انبیاء سے

اپنے آپ کو افضل قرار دینے کا دعویٰ

مرزا قادیانی غرور نفس اور تکبر کے اس درجہ شکار تھے کہ خود ہی اپنے ایسے نہایت اعلیٰ قسم کے القاب گھڑتے اور ان کی اشاعت کرتے۔ اپنی کتاب ”استفتاء“ میں انہوں نے دعویٰ کیا کہ خدا نے ان سے یوں خطاب کیا: ”انت منی بمنزلۃ توحیدی وتفریدی“ (الاستفتاء ص ٥، خزائن ج ٢٢ ص ٦٢٥) ”انت منی بمنزلۃ عرشی “ (تذکرہ ص ٥١، طبع سوم) ”انت منی بمنزلۃ ولدی “ (حقیقت الوحی ص ٨٦، خزائن ج ٢٢ ص ٨٩) (یعنی تم میرے لئے میری توحید و یکتائی کی منزلت میں ہو۔ تم میرے لئے میرے عرش کا مرتبہ رکھتے ہو۔ میرے نزدیک تمہارا درجہ میرے بیٹے کا درجہ ہے)

عربی میں شائع شدہ ایک کتاب ”احمد رسول العالم الموعود “ میں ان کا ایک مضمون ہے جس میں وہ کہتے ہیں ”واقعہ یہ ہے کہ خدائے قدیر نے مجھے بتایا ہے کہ سلسلہ اسلامیہ کا مسیح موسویہ کے مسیح سے عظیم تر ہے۔“ سلسلہ اسلامیہ کے مسیح سے ان کی مراد اپنی ذات ہے۔ ان کا دعویٰ یہ ہے کہ وہ عیسیٰ علیہ السلام سے افضل ہیں، ان کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ خدا نے ان سے خطاب فرمایا: ”میں نے تمہیں عیسیٰ کے جوہر سے پیدا کیا تم اور عیسیٰ ایک ہی جوہر سے ہو اور ایک ہی چیز کی طرح ہو۔“

(حمامة البشریٰ ص ١٥، خزائن ج ٧ ص ١٩٢)

مجھے قادیانی حضرات کی ایک اور کتاب کے دیکھنے کا اتفاق ہوا جس کا قادیانی نے عربی زبان میں ترجمہ کیا تھا۔ اس میں مرزا قادیانی نے وحی پر بحث کی ہے اور ایک ایسے مقام کا ذکر کیا ہے: جس میں خدا بندے سے ہم کلام ہوتا ہے۔ اس کے باطن سے بولتا ہے۔ اس کے دل کو اپنا عرش بناتا ہے اور اسے ہر وہ نعمت عطا کرتا ہے۔ جو اس نے پہلے لوگوں کو عطا کی تھی۔ آگے چل کر وہ لکھتے ہیں: میں اپنے بنی نوع پر ظلم کروں گا اگر اس گھڑی میں یہ اعلان نہ کروں کہ میں اس روحانی مقام تک پہنچ چکا ہوں جس کی صفت میں نے یہاں بیان کی ہے۔ خدا نے مجھے ہم کلامی کا وہ مرتبہ عطا کیا ہے جسے میں نے تفصیل سے بیان کیا ہے۔

٢٠

مولانا ثناء اللہ نے مرزا غلام احمد قادیانی سے اقوال نقل کئے ہیں۔ ایک جگہ مرزا قادیانی کہتے ہیں احمد اس سے بہتر ہے۔“ (دافع البلاء ص ٢٠، خزائن ج ١٨ ص نبی کو جو چیزیں الگ الگ دی ہیں وہ سب چیزیں مجھے ج ١٨ ص ٤٧٧) ایک اور جگہ ان کا کہنا ہے: خدا نے مجھے چیز سے کہو ہو جا تو وہ ہو جاتی ہے۔ (حقیقت الوحی ص ٥ قسم کی بکواس اور لغویات سے مرزا قادیانی کی کتابیں بھ

مرزا قادیانی کی طرف سے ان کے مخالفین

مرزا قادیانی ان تمام مسلمانوں کو جو ان ک انہیں یہودیوں سے تشبیہ دیتے ہیں۔ اپنے نام نہاد م مصطفیٰ ﷺ کی مانند تھے۔ اسلامی خلافت کا سلسلہ بھی طرح تھا۔ اس تقابل اور مماثلت کا لازمی تقاضا تھا ک کے مانند، ایک مسیح کا ظہور ہو اور ایسے یہودی ظاہر ہ نے عیسیٰ علیہ السلام کی تکفیر وتکذیب کی۔ اپنی بہت س عیسیٰ علیہ السلام ہے اور اور اپنی دعوت کو نہ ماننے وال

احمدیت میں داخلہ کی شرائط نامی ایک چھو کہتے ہیں کہ جو مسلمان غلام احمد کی تکذیب کرتے ہیں کی اصل عبارت یوں ہے۔ ”اور اسی طرح کسی احمدی ک نماز جنازہ پڑھے کیونکہ اس طرح وہ گویا خدا کے حضو مخالفت کرتا رہا اور اسی پر اس کی موت واقع ہوئی حال کرتا ہے۔ کجا کہ اس شخص کی نماز جنازہ پڑھی جائے ج

مرزا قادیانی مسلمانوں کے بارے میں ا دشمن کے دشمن ہیں۔ اپنے ایک مضمون میں وہ اپنے ہیں: سنو! انگریزی سلطنت تمہارے لئے ایک رحمت

٢١

صفحہ ٢٠١

مولانا ثناء اللہ نے مرزا غلام احمد قادیانی کی اردو اور فارسی کتابوں سے ان کے بہت سے اقوال نقل کئے ہیں ۔ ایک جگہ مرزا قادیانی کہتے ہیں: ابن مریم کا ذکر چھوڑو اس لئے کہ غلام احمد اس سے بہتر ہے۔“ (دافع البلاء ص ٢٠، خزائن ج ١٨ ص ٢٤١) ایک اور جگہ وہ کہتے ہیں: خدا نے ہر نبی کو جو چیزیں الگ الگ دی ہیں وہ سب چیزیں مجھے ایک ساتھ دیں۔ (نزول المسیح ص ٩٩، خزائن ج ١٨ ص ٤٧٧) ایک اور جگہ ان کا کہنا ہے: خدا نے مجھ سے فرمایا کہ تیری شان یہ ہے کہ جب تم کسی چیز سے کہو ہو جا تو وہ ہو جاتی ہے۔ (حقیقت الوحی ص ١٠٥، خزائن ج ٢٢ ص ١٠٨) حقیقت یہ ہے کہ اس قسم کی بکواس اور لغویات سے مرزا قادیانی کی کتابیں بھری پڑی ہیں۔

مرزا قادیانی کی طرف سے ان کے مخالفین کی تکفیر

مرزا قادیانی ان تمام مسلمانوں کو جو ان کی دعوت قبول نہیں کرتے کافر قرار دینے اور انہیں یہودیوں سے تشبیہ دیتے ہیں۔ اپنے نام نہاد ”الہامی خطبہ“ میں وہ کہتے ہیں: ہمارے نبی مصطفیٰ ﷺ کی مانند تھے۔ اسلامی خلافت کا سلسلہ کلیم (موسیٰ) علیہ السلام کی خلافت کے سلسلہ کی طرح تھا۔ اس تقابل اور مماثلت کا لازمی تقاضا تھا کہ اس سلسلہ کے آخر میں سلسلہ موسویہ کے مسیح کے مانند، ایک مسیح کا ظہور ہو اور ایسے یہودی ظاہر ہوں جو ان یہودیوں کی طرح ہوں۔ جنہوں نے عیسیٰ علیہ السلام کی تکفیر وتکذیب کی۔ اپنی بہت سی دوسری عبارتوں میں وہ بار بار اپنے آپ کو عیسیٰ علیہ السلام کہتے ہیں اور اپنی دعوت کو نہ ماننے والے مسلمانوں کو یہودیوں سے تشبیہ دیتے ہیں۔

احمدیت میں داخلہ کی شرائط نامی ایک چھوٹے سے پمفلٹ میں قادیانی صاف صاف کہتے ہیں کہ جو مسلمان غلام احمد کی تکذیب کرتے ہیں۔ ان کا درجہ منافقین سے بھی پست ہے۔ ان کی اصل عبارت یوں ہے: ”اور اسی طرح کسی احمدی کے لئے یہ جائز نہیں ہے کہ کسی غیر احمدی کی نماز جنازہ پڑھے کیونکہ اس طرح وہ گویا خدا کے حضور ایک ایسے شخص کی شفاعت کرے گا جو مسیح کی مخالفت کرتا رہا اور اسی پر اس کی موت واقع ہوئی حالانکہ خدا منافقین کی نماز جنازہ پڑھنے سے منع کرتا ہے۔ کجا کہ اس شخص کی نماز جنازہ پڑھی جائے جس نے ایک مامور من اللہ کو کافر قرار دیا۔“

مرزا قادیانی مسلمانوں کے بارے میں بار بار کہتے ہیں کہ وہ ان کے اہل مذہب کے دشمن کے دشمن ہیں۔ اپنے ایک مضمون میں وہ اپنے ماننے والوں سے خطاب کرتے ہوئے کہتے ہیں: سنو! انگریزی سلطنت تمہارے لئے ایک رحمت ہے تمہارے لئے ایک برکت ہے اور خدا کی

٢١

صفحہ ٢٠٢

طرف سے تمہاری وہ سپر ہے۔ پس تم دل و جان سے اس سپر کی قدر کرو اور ہمارے مخالفین جو مسلمان ہیں۔ انگریز ان سے ہزار ہا درجہ بہتر ہیں!۔

غلام احمد کو معلوم تھا کہ علماء ہی وہ لوگ ہیں جو ان کی حقیقت جاننے کی وجہ سے ان کی پردہ دری کر سکتے ہیں۔ اور لوگوں کو ان کے فتنہ سے بچنے کی تلقین کر سکتے ہیں۔ اس لئے وہ سب سے زیادہ گالیاں علماء ہی کو دیتے رہے اور اپنے ماننے والوں کو ان سے نفرت کرنے پر ابھارتے رہے۔ ”تعلیمات مسیح موعود“ نامی ایک کتاب میں وہ کہتے ہیں: ”میں اپنے تمام ماننے والوں کو نصیحت کرتا ہوں کہ وہ ان مولویوں سے سخت نفرت کا برتاؤ کریں جو مذہب کا لبادہ اوڑھ کر انسانی خون بہاتے ہیں اور تقویٰ کے پردہ کے پیچھے انتہائی گھناؤنے گناہوں کا ارتکاب کرتے ہیں۔ میرے ماننے والوں کا فرض ہے۔ کہ وہ برٹش گورنمنٹ کی قدر کریں اور اس کے سامنے شکر گزاری اور احسان مندی کا اظہار کریں! اور اسے اپنی وفاداری اور اطاعت گزاری کا یقین دلائیں۔“

رسول آخر الزمان غلام احمد مسلمانوں سے اپنی دوری و علیحدگی کو ایسی نعمت گردانتے ہیں جو شکر گزاری کی مستحق ہے۔ برلن سے ڈاکٹر زکی کرام نے جدہ کے ایک اخبار ”حضر موت“ کو ایک مضمون اشاعت کے لئے بھیجا جو اس میں بتاریخ ٨ محرم ١٣٥١ھ شائع ہوا۔ اس مضمون میں وہ لکھتے ہیں کہ: ”برلن میں قادیانی حضرات نے جو مسجد تعمیر کی ہے۔ میں اور شکیب ارسلان اس کے امام سے ملنے گئے۔ اس امام نے جو مرزا قادیانی کی ایک کتاب ہمیں دکھائی۔ امیر شکیب ارسلان نے اس کے کچھ فقرے اپنے پاس نقل کر لئے۔ اس کا ایک فقرہ یہ تھا کہ وہ یعنی مرزا قادیانی اس بات پر خدا کا شکر ادا کرتے ہیں کہ وہ انگریزوں کے جھنڈے تلے اور مسلمانوں سے دور پیدا ہوئے۔“

قادیانیوں کے دو گروہ

مرزا قادیانی اور ان کے خلیفہ حکیم نور الدین کے زمانہ تک تمام قادیانیوں کا ایک ہی مذہب تھا۔ لیکن حکیم نور الدین کے آخری دنوں میں ان کے درمیان اختلافات پیدا ہونا شروع ہو گئے۔ چنانچہ جب نور الدین کا انتقال ہوا تو وہ دو گروہوں میں بٹ گئے۔ ایک گروہ ”قادیان“ میں تھا جس کے سرغنہ غلام احمد کے بیٹے مرزا محمود قادیانی تھے۔ اور دوسرا گروہ ”لاہور“ میں قائم ہوا

لے یہ قول قادیانیوں کی عربی میں شائع کردہ کتاب ”احمد رسول العالم الموعود“ سے لیا گیا ہے۔

٢٢

صفحہ ٢٠٣

اور اس کے سرغنہ محمد علی ہوئے جنہوں نے انگریزی میں ترجمہ قرآن شائع کیا۔ قادیانی گروہ اپنے اس عقیدہ پر قائم رہا کہ مرزا قادیانی اللہ کے بھیجے ہوئے رسول تھے لیکن ”لاہوری“ گروہ نے اپنا عقیدہ یہ قرار دیا کہ مرزا قادیانی نبی یا رسول نہیں تھے لیکن اس کا کیا علاج کہ خود قادیانی کی کتابیں نبوت ورسالت سے بھری پڑی ہیں؟

لاہوری گروہ بہت سی گمراہیوں کا شکار ہے جو اس کی شائع کردہ کتابوں میں جگہ جگہ ملتی ہیں۔ مثال کے طور پر یہ لوگ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی بن باپ پیدائش کے منکر ہیں۔ محمد علی صاف صاف کہتے ہیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام یوسف نجار کے بیٹے تھے۔ (نعوذ باللہ ) اور پھر وہ قرآن کی بہت سی آیات کی تاویل اس طرح کرتے ہیں کہ ان کا عقیدہ صحیح ثابت ہو سکے۔

یہ لاہوری گروہ ووکنگ (برطانیہ) سے ایک انگریزی ماہنامہ Islamic Review شائع کرتا ہے اس میں ایک مرتبہ ڈاکٹر مارکوس کا ایک مضمون شائع ہوا جس میں وہ کہتا ہے ”محمد علیہ السلام نے تصریح کی ہے کہ یوسف حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا باپ تھا۔ اس پر رسالہ کے ایڈیٹر کی طرف سے کوئی نوٹ نہیں دیا گیا کیونکہ ڈاکٹر مارکوس کی یہ بات ان کے عقیدہ کے عین مطابق تھی۔

اسی طرح محمد علی نے اپنے ترجمہ قرآن میں لفظی ترجمہ کا طریقہ اختیار کیا ہے۔ لیکن حاشیہ میں وہ اپنے لفظی ترجمہ کی اپنے عقیدہ کے مطابق تاویل کرتے ہیں۔ مثال کے طور پر سورۃ آل عمران کی آیت ”انی اخلق لكم من الطين كهيئة الطير فانفخ فيه فيكون طيراً باذن الله وابرى الاكمه والابرص واحى الموتى باذن الله (آل عمران:٤٩)“ کی معجزات کے منکرین کی طرح تاویل کرتے ہیں اور قرآنی مفہوم کے ساتھ ایسا کھیل کھیلتے ہیں جس سے ہرگز یہ پتہ نہیں چلتا کہ قرآن واضح عربی زبان میں نازل ہوا ہے۔

قادیانیوں کی مخالفت کرنا اور عام مسلمانوں کو ان کے فتنے سے بچانا ضروری ہے

قادیانی حضرات اپنے مذہب کی تبلیغ میں انتہائی سرگرمی کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ وہ چونکہ اپنے مذہب کی بنیادیں اسلام ہی کی بعض تعلیمات پر رکھتے ہیں۔ اس لئے بڑی آسانی سے دعویٰ کر بیٹھتے ہیں کہ وہ اسلام ہی کی تبلیغ کر رہے ہیں۔ خصوصاً لاہوریوں کے لئے تو یہ دعویٰ کرنا یوں بھی آسان ہے کہ ان کا دعویٰ یہ ہے کہ مرزا غلام احمد نبی نہیں۔ بلکہ ایک مصلح اور مجدد تھے چنانچہ جو لوگ

١؎ ملاحظہ ہو ان کی کتاب عیسیٰ و محمد ص ٨ بزبان عربی

٢٢٣

صفحہ ٢٠٤

اس مذہب کی حقیقت سے واقفیت نہیں رکھتے وہ اس غلط فہمی میں پڑ جاتے ہیں کہ شاید یہ لوگ واقعی اسلام ہی کی تبلیغ کر رہے ہیں اور بسا اوقات ان کی کوششوں کو سراہتے اور لوگوں کو ان کے مکر و فریب سے بچانے والوں کو برا بھلا کہنے لگتے ہیں۔ اگر یہ لوگ اپنی تبلیغ کا کام غیر مسلموں تک محدود رکھتے تو شاید اتنے خطرناک نہ ہوتے اور ہم بھی انہیں چھوڑ کر دوسرے ضلالت الحاد پسند گروہوں سے نمٹنے کی سوچتے۔ لیکن مصیبت یہ ہے کہ انہوں نے شکار کے لئے خاص طور پر ان مسلمان قوموں کو تاکا ہے جو قرآن وسنت کے درس وتدریس کا اہتمام کرتی اور انہیں اپنے لئے مشعل راہ بناتی ہے۔ قادیانیوں کا مقصد یہ ہے کہ ایسی قوموں میں جو خاص طور پر غلام احمد کی رسالت کا عقیدہ رائج کیا جائے۔ چنانچہ انہوں نے مصر، شام، فلسطین، جدہ، عراق اور بہت سے دیگر مسلمان ممالک میں اپنے مبلغین بھیجے اور مقام افسوس ہے کہ بہت سے نوجوان جن کے والدین نے ان کی اسلامی تعلیم وتربیت کا اہتمام نہیں کیا تھا۔ ان کے جال میں پھنس گئے۔

قادیانی حضرات لوگوں کو بتاتے ہیں کہ چین، ہندوستان، ایران، عراق، جدہ، شام، فلسطین اور مصر ہر جگہ ان کے مبلغین کام کر رہے ہیں۔ ١٩٣٢ء میں ان کی طرف سے شائع کردہ ایک کتاب میں ہم نے پڑھا ہے کہ مصر میں ان کا مبلغ شیخ محمود احمد قاہرہ کی فلاں سڑک پر رہائش پذیر ہے۔ آپ نے دیکھا کہ ہندوستان کے علماء نے اس باطل گروہ کی کیونکر مخالفت کی اور اب تک کئے جارہے ہیں۔ ہمیں خوشی ہے کہ شام کے بعض علماء بھی اس کام میں ان کا ساتھ دے رہے ہیں۔ چنانچہ انہوں نے قادیانیت کی تردید اور مسلمانوں کو اس کی ضلالت سے باخبر کرنے کے لئے بعض کتابیں بھی شائع کی ہیں۔ جن میں بتایا گیا ہے کہ کس طرح قادیانیت سے متاثر ہو کر وہ چڑھتے سورج کی پوجا کرنے اور ہر دشمن اسلام طاقت کی ایجنٹی کرنے لگتے ہیں۔

ہم نے اپنا یہ مضمون اس مقصد کے تحت لکھا ہے کہ مصر اور دوسرے مسلمان ممالک کے لوگوں کو بہائیت کی طرح اس باطل گروہ کے فتنہ سے بھی بچایا جائے ہمیں پوری امید ہے کہ ہمارے علماء اور واعظ حضرات ان دونوں باطل مذاہب کے مبلغین کا نوٹس لیں گے اور اسلام سے متعلق جو شکوک وشبہات اور وساوس یہ لوگ عام مسلمان کے ذہنوں میں ڈالنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ان کا ازالہ کرنے کی کوشش کریں گے۔

والذين جاهدوا فينا لنهدينهم سبلنا

٢٤

خاتم النبیین لا نبی بعدی

میں آخری نبی ہوں میرے بعد کوئی نبی نہیں

موت قاد

حضرت مولانا ابو المنظور عبدالحق کا

PDF 206

انا خاتم النبيين لا نبي بعدي

میں سب سے آخری نبی ہوں، میرے بعد کوئی نبی نہیں

موت قادیانی

حضرت مولانا ابو المنظور عبدالحق کوٹلی سرہندیؒ

صفحہ ٢٠٧

بسم الله الرحمن الرحيم

اظہار الحق

اوروں کے مارنے کے جو رہتے تھے مدعی
ہر روز چھاپتے تھے جو دعوے نئے نئے
مرزا قادیانی کذاب الغرض
دنیا سے آپ بھی بصد ارمان چلے گئے

بسم الله الرحمن الرحيم . الحمد لله وكفى وسلام على عباده الذین اصطفے . اما بعد ! واضح ہو کہ مرزا غلام احمد قادیانی کی موت سے بوجہ مرزا قادیانی کو اپنے مخالفین کی موت سے لگاؤ دلچسپی رکھنے کے مرزا قادیانی کے مخالفوں اور عوام کو بھی خاص لگاؤ و دلچسپی ہے۔ کیونکہ من حفر حفر یعنی چاہ کن را چاہ در پیش مثل مشہور ہے۔ اس جگہ یہ فقیر سلسلہ تحریر معاذ اللہ بطور لغو واستهزاء نہیں چھیڑتا بلکہ بنیت اظہار حق نصحاً للہ حق طور پر شروع کرتا ہے۔

پس ظاہر ہے کہ مرزا قادیانی نے اپنے مخالفوں سے مرنے جینے کا پالا لگا رکھا تھا آپ اپنی آخری تصنیف حقیقت الوحی کے ص ٤٠٠ ، خزائن ج ٢٢ ص ٤١٣ پر لکھتے ہیں کہ: ”میں (مرزا نے) اپنے مخالف مولویوں کو مباہلہ کی دعوت دی اور کہا کہ اگر مباہلہ کرو گے تو یہ ہوگا وہ ہوگا۔ پھر اگر چہ تمام مخالف مولوی مرد میدان بن کر مباہلہ کے لئے حاضر نہ ہوئے مگر پس پشت گالیاں دیتے رہے۔..... پھر مولوی قصوری تک پہنچ کر لکھا حالانکہ انہوں نے ابھی مسنون طور پر مباہلہ نہیں کیا تھا۔“ اس تحریر میں جو مرزا قادیانی نے ٹھوکریں کھائی ہیں ان کی تشریح کی طوالت میں اپنے آپ کو ڈالنا چہ ضرور ۔ مگر اتنا ظاہر کرنا ضروریات سے ہے کہ مرزا قادیانی لفظ مسنون لا کر اپنی رائے میں نہایت دور بینی سے اپنے آپ کو طعنہائے مخالفین سے بچنے کی کوشش کی اور از راہ بددیانتی اس نے اپنے آپ کو اس امر میں کامیاب ظاہر کیا ۔ کیونکہ کسی مباہل (الا فقیر ) نے اس کو سنت طور پر ٢

مباہلہ کرنے کی دعوت نہیں دی۔ مگر بحکم فلله الحجة ال مرزا کو دعوت مباہلہ دی اور اس کا الٹی میٹم آخری (اعلان ) کی اس حجت کو پاش پاش کیا اور چند بار بذریعہ تحریرات مطبو اظہار ہوا، مرقع قادیانی بابت ماہ ستمبر ١٩٠٧ء بھی ملاحظہ ہو۔ قبل اس کے کہ یہ فقیر اس دعوے کا ثبوت ناظ ناظرین کے پیش کرتا ہے تا کہ ناظرین خود اپنے کانشنس میں یا نہیں؟ اصول حدیث میں سنت آنحضرت کے فرمان عمل او الجملہ بحکم ربانی: ”قل تعالوا ندع ابناءنا ونسـ وانفسكم“ آنحضرت ﷺ معہ حسن و حسینؓ و فاطمہؓ وعلیؓ عا نے گریز کیا۔

اب آپ بہ نظر انصاف نہ بہ نظر تعصب ورعایت ملاحظہ کریں اور داد انصاف دیں وہ یہ ہے: ”پس اب مرزا نیت رفع تردد وانتظار بحق بحکم آیت مباہلہ مع ابناء ونساء م تفاؤلاً اتباعاً للسنه جیسے آنحضرت ﷺ پنجتن پاک کے ساتھ فی الجملہ نسبتے بتو کافی بود مرا بلبل ہمیـ پنجه الماس یعنی پنجتن اول نفس خود هردو فرزندان خود پنجم دختر خود کے ساتھ م ہوتا ہے تا کہ حاکم مطلق بحكم يحق الحق ويبطل ال الحق بکلمته حق وباطل وحق وکذب کو حق کے ساتھ ممیز ہو ۔ اس سے بڑھ کر احسن اور عمدہ اور کوئی سبیل فیصلہ کی نہیں ہوگا (الخ) اب مرزا قادیانی کو لازم ہے کہ اس تحریر کے بذریعہ اشتہار مطلع کریں اور اگر اب بھی مرزا قادیانی کوئی ح ٣

صفحہ ٢٠٧

مباہلہ کرنے کی دعوت نہیں دی۔ مگر بحکم فللہ الحجۃ البالغۃ اس فقیر نے سنت کے قدم بقدم مرزا کو دعوت مباہلہ دی اور اس کا الٹی میٹم آخری (اعلان ) دے کر جھوٹے کو گھر تک پہنچایا اور اس کی اس حجت کو پاش پاش کیا اور چند بار بذریعہ تحریرات مطبوعہ اور اخبارات اس کی اس بے ایمانی کا اظہار ہوا، مرقع قادیانی بابت ماہ ستمبر ١٩٠٧ء بھی ملاحظہ ہو۔

قبل اس کے کہ یہ فقیر اس دعوے کا ثبوت ناظرین کے پیش کرے سنت کی تعریف ناظرین کے پیش کرتا ہے تاکہ ناظرین خود اپنے کانشنس میں اندازہ لگالیں کہ فقیر کا دعویٰ ٹھیک ہے یا نہیں؟ اصول حدیث میں سنت آنحضرت کے فرمان و عمل اور ملاحظہ کئے ہوئے امر کو کہتے ہیں۔ فی الجملہ بحکم ربانی: ”قل تعالوا ندع ابنائنا وابنائکم ونسائنا ونسائکم وانفسنا وانفسکم“ آنحضرت ﷺ معہ حسنؓ و حسینؓ و فاطمہؓ و علیؓ عازم میدان مباہلہ ہوئے۔ مگر فریق ثانی نے گریز کیا۔

اب آپ بہ نظر انصاف نہ بہ نظر تعصب و رعایت فقیر کی دعوت مباہلہ کو معہ الٹی میٹم کے ملاحظہ کریں اور داد انصاف دیں وہ یہ ہے: ”پس اب مرزا قادیانی کو چاہئے کہ اس تحریر کو پڑھ کر بہ نیت رفع تردد و انتظار خلق بحکم آیت مباہلہ معاً رجال و نساء میدان مباہلہ میں آئیں اور یہ احقر بھی تفاولاً اتباعاً للسنہ جیسے آنحضرت ﷺ پنجتن پاک کے ساتھ مقابلہ نصاریٰ میں نکلے تھے۔ بایماء

فی الجملے نسبتے بتو کافی بود مرا بلبل ہمیں کہ قافیہ گل شود بس است

پنجہ الماس یعنی پنجتن اول نفس خود دوم زوجہ خود سوم وچھارم ھردو فرزندان خود پنجم دختر خود کے ساتھ میدان مباہلہ میں بہ یقین فتحیابی خود حاضر ہوتا ہے تاکہ حاکم مطلق بحکم یحق الحق ويبطل الباطل ويمح الله الباطل ويحق الحق بکلمتہ حق و باطل و صدق و کذب کو حق کے ساتھ متمیز کرے اور حق حق اور فریب فریب ثابت ہو۔ اس سے بڑھ کر احسن اور عمدہ اور کوئی سبیل فیصلہ کی نہیں ہے۔ چنانچہ ناظرین پر ظاہر و باہر ہوا ہوگا (الخ) اب مرزا قادیانی کو لازم ہے کہ اس تحریر کے ملاحظہ کے بعد پندرہ یوم کے اندر اندر بذریعہ اشتہار مطلع کریں اور اگر اب بھی مرزا قادیانی کوئی حیلہ و حجت کر کے ٹال جائیں تولعنت ٣

صفحہ ٢٠٩

الله علی الکاذبین۔“

کار مردان روشنی وگرمی است
کار زنان حیلہ وبے شرمی است

الراقم فقیر حقیر ابو منظور محمد عبدالحق کوٹلوی السرہندی مورخہ ٧؍رمضان المبارک ١٣١٦ھ بروز جمعہ از مقام سرہند مسجد جامع سندھنے والی بقلم خود، دیکھو رسالہ مظہر نعمۃ مطبوعہ ١٣١٦ھ مطبع شحنہ ہند میرٹھ۔

کیوں حضرات ناظرین! مرزا کی دور اندیشی کا کیسا قلع قمع کیا گیا اور اس کی خیانت کی کیسی پردہ دری ہوئی جب اس چیلنج کو بجائے پندرہ روز کے سال بھر گزر گیا اور مرزا کی طرف سے صدائے برخاست کا معاملہ ظہور پذیر ہوا تو اخبار شحنہ ہند میرٹھ مطبوعہ یکم جون ١٩٠٠ء میں ”مسیح الکذاب“ کے عنوان سے اس کی یاددہانی کرا کر الٹی میٹم بڑھا دیا گیا پس اب یہ لکھنا ضروری ہے کہ مرزا ہمارے مقابلہ میں ہمیشہ ذلیل وخوار ہوگا اور اپنی اراجیف کاذبہ دعاوی باطلہ میں ناکامیاب رہے گا اور ہم کو اللہ جل شانہ محض اپنے دین حقہ کی تائید کی وجہ سے منصور ومظفر کرے گا۔ وما ذالك على الله بعزيز وانه على ذالك لقدير والسلام!

آپ خیال فرمائیں کہ کیسا پرزور مسنون مباہلہ ہے اور مرزا کی کلام کی منشاء کے بعد مباہلہ مسنون فریق کاذب ضرور مغضوب ہوتا ہے اور سچے سے پہلے مر جاتا ہے۔ کے ساتھ ملا کر سوچیں کہ اس مباہلہ کے بعد عرصہ آٹھ نو سال میں مرزا پر کیا کیا مصائب اور تکالیف آئیں یہاں تک کہ اس کے بعد اولاد نرینہ کا پیدا ہونا بند ہو کر مقطوع النسل ہوا اور جس کی تکمیل موت مبارک احمد وخود مرزا سے ہوئی اور اس ناچیز پر کیا کیا افضال واکرام خداوندی ارزانی ہوئی۔ جیسے بجائے دو لڑکوں کے چار ہونا ، ایک لڑکی کے دو ہونا اور بے حدوحساب اکرامات وانعامات دینی ودنیاوی جن کو بقدر کفایت رسالہ انکشاف شرحقیقت الوحی قادیانی میں تحریر کیا گیا ہے اور جس کا بہت تھوڑا حصہ مرقع قادیانی ماہ ستمبر ١٩٠٧ء میں ہدیہ پبلک ہو چکا ہے۔ انشاء اللہ انصاف پسند طبائع خود ہی داد انصاف دے دیں گے۔

٤

مرزائیو یاد رکھو کہ تمہارا گرو گھنٹال مرزا روز قیامت اپنی حجت بھی تمہارے پر قائم کرے گا اور تم کو ظلمات فوق ظلمات کہ جب میں صاف لکھ گیا تھا کہ بعد مباہلہ مسنون حق و باطل ک یہ ہے کہ جھوٹا سچے کی زندگی میں مرجائے گا۔ پھر جب تم با ومغضوب ہونا ہی نہیں بلکہ مرنا دیکھ لیا تھا تو پھر تم نے میرے م پر صد ہزار نفرین بھیج کر حق کی پیروی کیوں نہ کی؟ مرزائیو ! لاحول پڑھ کر اس کی قید سے نکلو اور اگر تمہارے دلوں میں اب رگ وریشہ میں سرائیت کئے ہوئے ہے تو اس شک کو حق سے ب جوئی کرو ترکیب یہ فقیر عرض کر دیتا ہے کہ دنیا میں تمہارے سوائے مرزائی ہونے کے خواہ وہ کسی مذہب کے ہوں ان کو قادیانی کی سچائی بریت کے جس قدر دلائل ہیں پیش کرو۔

فقیر محض اپنا رسالہ ”مظہر نعمۃ“ واخبار یکم جون ١٩٠٠ اور رسالہ ”انکشاف شرحقیقت الوحی قادیانی“ کہ جس میں اس کرتا ہے وہ منصف جس کو ڈگری دیں وہ فریق سچا مانا جائے ۔ میں تمہارا بہر کیف فائدہ ہے اگر تمہارے حق میں ڈگری ہوئی گے اور اگر تم کو جھوٹا قرار دیا تو تم کفریہ عقائد اور مرزا کے جھو اکیلے دوزخ کے گڑھے سے نکلو گے بلکہ اور بہت لوگوں کو بچاؤ ستطعت وما توفيقى الا بالله عليه وتوكلت والي مرزائیو! گر کچھ سچ کی حمیت ہے تو اس فیصلہ سے م رشید۔ علاوہ ان کثیر التعداد شہادات و آیات بینات کے ہے۔ فقیر کے مباہلہ سے مرزا کے معذوب ومغضوب ہونے ہوئے اور اس سے بمادہ سالم سال الٹی میٹم ١٩٠٦ء مکرمی مکو القاء ہوا کہ مرزا کا آخری دعویٰ کرشن ہونے کا تھا۔

٥

صفحہ ٢٠٩

مرزائیو یاد رکھو کہ تمہارا گروگھنٹال مرزا روز قیامت علاوہ حجت ایزدی وغضب الٰہی کے اپنی حجت بھی تمہارے پر قائم کرے گا اور تم کو ظلمات فوق ظلمات کا متحمل ہونا پڑے گا۔ مرزا کہے گا کہ جب میں صاف لکھ گیا تھا کہ بعد مباہلہ مسنون حق و باطل میں ضرور تمیز ہو جائے گی اور یقین تمیز یہ ہے کہ جھوٹا سچے کی زندگی میں مرجائے گا۔ پھر جب تم نے حق کے مقابلہ میں میرا معذوب ومغضوب ہونا ہی نہیں بلکہ مرنا دیکھ لیا تھا تو پھر تم نے میرے عقائد واقوال سے بے زار ہو کر اور مجھ پر صد ہزار نفرین بھیج کر حق کی پیروی کیوں نہ کی؟ مرزائیو اگر تم کو شیطان نے مسخ کر رکھا ہے تو لاحول پڑھ کر اس کی قید سے نکلو اور اگر تمہارے دلوں میں ابھی کوئی شک ہے اور یہ مرض تمہارے رگ وریشہ میں سرایت کئے ہوئے ہے تو اس شک کو حق سے بدلو اور مرض سے نجات پانے کی چارہ جوئی کرو ترکیب یہ فقیر عرض کر دیتا ہے کہ دنیا میں تمہارے نزدیک جو حق گو منصف مزاج ہو۔ سوائے مرزائی ہونے کے خواہ وہ کسی مذہب کے ہوں ان کی کافی تعداد کو منصف مان لو اور مرزا قادیانی کی سچائی بریت کے جس قدر دلائل ہیں پیش کرو۔

فقیر محض اپنا رسالہ ”مظہر نعمۃ“ واخبار یکم جون ١٩٠٠ء کہ جن میں چیلنج مباہلہ والٹی میٹم ہے اور رسالہ ”انکشاف ثر حقیقت الوحی قادیانی“ کہ جس میں اس مباہلہ والٹی میٹم کے نتائج ہیں۔ پیش کرتا ہے وہ منصف جس کو ڈگری دیں وہ فریق سچا مانا جائے۔ مرزائیو ہماری اس تجویز کو قبول کرنے میں تمہارا بہر کیف فائدہ ہے اگر تمہارے حق میں ڈگری ہوئی تو اور صدہا تمہارے ساتھ ہو جائیں گے اور اگر تم کو جھوٹا قرار دیا تو تم کفریہ عقائد اور مرزا کے جھوٹے دعاوی کی پیروی سے توبہ کر کے نہ اکیلے دوزخ کے گڑھے سے نکلو گے بلکہ اور بہت لوگوں کو بچاؤ گے۔ ان اريد الا الاصلاح ما استطعت وما توفيقى الا بالله عليه توكلت واليه انيب

مرزائیو اگر کچھ سچ کی حمیت ہے تو اس فیصلہ سے منہ نہ پھیرو۔ اليس منكم رجل رشيد ۔ علاوہ ان کثیرالتعداد شہادات و آیات بینات کے جن کا حوالہ انکشاف کی طرف دیا گیا ہے۔ فقیر کے مباہلہ سے مرزا کے معذوب و معتوب ہونے اور مرنے کی دلیل مغضوب حق القاء ہوئے اور اس سے بمادہ سالم سال الٹی میٹم ١٩٠٦ء مکرمی نکلتا ہے مرزائیو۔ سال ہندی اس واسطے القاء ہوا کہ مرزا کا آخری دعویٰ کرشن ہونے کا تھا۔

٥

صفحہ ٢١١

اس میں شک نہیں کہ بحکم جاء الحق وزہق الباطل ان الباطل كان زہوقا ۔ مکار قادیانی کو حق کے مقابلہ کی تاب وطاقت نہیں ملی اور جیسے شیطان لاحول سے پیٹھ دے کر بھاگتا ہے اور اس طرف منہ نہیں کرتا۔ اس طرح اس نے حق کی طرف رخ نہیں کیا۔ باوجود یکہ ہمیشہ تحریک ہوتی رہی کیونکہ وہ جانتا تھا کہ باطل کو حق کے مقابلہ کی طاقت نہیں دی۔ اس جگہ یہ امر بھی ضرور قابل ذکر ہے کہ جیسے بلحاظ مباہلہ مسنون (بقول مرزا بھی ) مرزا کا مغلوب ومغضوب ہو کر مرنا مرزا کے کاذب ہونے کی دلیل اور اسی مباہلہ کا اثر ہے۔ اس طرح بحکم الفضل المتقدم ۔ قدامت خدمت و مباہلہ ہذا۔ اسی مباہلہ کے اثر سے مرزا کے مغضوب ہونے اور مرنے کی موئید اور مثبت میں ١٣٠٩ھ میں یا ١٣١٠ھ میں مرزا کی جانب مرشدنا کی جانب سے فیصلہ کے لئے رجسٹری کرائی گئی۔ حافظ محمود صاحب کی طرف سے فتویٰ کفر ارتداد بحق مرزا لکھوایا گیا ١٣١٢ھ میں رسالہ ”ایقاظ“ میں بذریعہ الہامات حضرت مرشد نامحی الدین عبدالرحمن لکھوی شہید مدنی کی طرف سے مرزا کی تردید کی گئی۔ اسی سال میں جب عبداللہ آتھم عیسائی کے متعلق مرزا کی پیشین گوئی غلط نکلی اور مغضوب قادیانی کی وجہ سے اسلام کی ہنسی ہوئی تو بہ نیت حمایت و بریت اسلام اشتہار میں مرزا کے عام دعاوی کی تکذیب کر کے اس کا کذب ثابت کیا گیا جس کا عنوان یہ ہے۔

”اس تہنیت کے ساتھ ایک اور مژدہ ناظرین کو سنایا جاتا ہے کہ الحمد للہ غلام احمد قادیانی کا طلسم فریب ٹوٹا اور اپنی مانی شکست سے جھوٹا ہو گیا۔ مکر و فریب کے جو جال اس نے چاروں طرف مکڑی کی طرح پھیلائے تھے وہ سب اوھن البیت کبیت العنکبوت ثابت ہو گئے۔ آخر سچ سچ ہے اللہ تعالیٰ کے قہر وغضب سے ڈرنا چاہئے کہ جو کل زبان سے مجدد اور مسیح مہدی اور حارث بنتا تھا وہ آتھم کے سامنے ایسا شکست خوردہ ہو گیا کہ بقول خود تمام بدکاروں اور لعنتیوں سے لعنتی بن گیا۔“

سچ وہ ہے جو سر چڑھ کر بولے

قطعه

ہوا جھوٹا غلام قادیانی نصاریٰ سے شکست فاش پائی
کیا اسلام کو بدنام ہیہات تفو بر زندگی بے حیائی

٦

خدا پر جھوٹ ایسا ہائے افسوس
خدا لعنت کرے اس روسیاہ پر
گئے مل خاک میں اس کے دعاوی
یہی غوغا جہاں میں ہو رہا ہے
گرا اسلام سے پائے ادب سے

رباعی

دیدم ز نشان آسمانی کذب
باخلق خدا فریب کردن حق

اور بعد مباہلہ مذکورہ بذریعہ ضمیمہ شحنہ ہند اٹھا۔ ضمیمہ شحنہ ہند تردید قادیانی نمبر ٢ جلد ١ ملاحظہ ہو۔ اس ٹوٹ گیا۔ یہ سب جناب والا کی توجہ اور خلوص کی برکہ میں اس کی تردید ہوئی۔ رسالہ اشعۃ السنہ نمبر ١٠ ج نم بینظیر متعلق چکڑالوی تحریر ہوا ہے اور جس کی توصیف مقولہ ہے چکڑالوی کے الحاد کا فتویٰ اس قابل تھا کہ علی کہ اہل حدیث کو خدا نے ہمت نہیں دی ..... الخ۔ اس شخص مثل مرزا قادیانی اشد المرتدین عجیب کافر منافق تھا۔ اگر چہ ہر ملحد و زندیق اس عبارت مبارک کا مصد عرف عبداللہ چکڑالوی کا تو یہ نہایت صاف اور بے دونوں نے سرٹیفکیٹ (سند) حاصل کیا ہے اس کی نظ اقوال اس امر میں شاہد ہیں پس باہمہ این اس کے کفر اللہ میں ہے۔

دینی علم یا عالمان
یا کرے اہانت شرع و

٧

صفحہ ٢١١
خدا پر جھوٹ ایسا ہائے افسوس یہی ہے ظلم ظلم انتہائی
خدا لعنت کرے اس روسیاہ پر ہنسی اسلام کی جس نے کرائی
گئے مل خاک میں اس کے دعاوی ہوئی پہلے سے بھی ذلت سوائی
یہی غوغا جہاں میں ہو رہا ہے پڑا مرزا پہ قہر کبریائی
گرا اسلام سے پائے ادب سے شکست آمد بشان میرزائی

رباعی

دیدم زنشان آسمانی کذب تو غلام قادیانی
باخلق خدا فریب کردن حاشا تو بخود عدو جانی

اور بعد مباہلہ مذکورہ بذریعہ ضمیمہ شحنہ ہند اس کی وہ تردید ہوئی کہ الغیاث الامان پکار اٹھا۔ ضمیمہ شحنہ ہند تردید قادیانی نمبر ٢ جلد ١ ملاحظہ ہو۔ ایک صاحب لکھتے ہیں:- ”مرزا کے الحاد کا دھڑ ٹوٹ گیا۔ یہ سب جناب والا کی توجہ اور خلوص کی برکت ہے۔“ اسی طرح اور کثیر التعداد پرچوں میں اس کی تردید ہوئی۔ رسالہ اشعۃ السنہ نمبر ١٠ ج نمبر ١٩ چکڑالوی پر اقبال ڈگری میں جو فتوے بینظیر متعلق چکڑالوی تحریر ہوا ہے اور جس کی توصیف میں ہندوستان کے ایک بے مثل فاضل کا مقولہ ہے چکڑالوی کے الحاد کا فتویٰ اس قابل تھا کہ علیحدہ دس ہزار چھپ کر شائع ہوتا مگر افسوس ہے کہ اہل حدیث کو خدا نے ہمت نہیں دی...... الخ۔ اس میں لکھا گیا تھا کہ واضح ہو میری تحقیق میں یہ شخص مثل مرزا قادیانی اشد المرتدین عجیب کافر منافق لاثانی ہے اور اس میں آگے جا کر ظاہر کیا گیا تھا۔ اگرچہ ہر ملحد و زندیق اس عبارت مبارک کا مصداق ہے۔ مگر مرزا غلام احمد قادیانی اور غلام نبی عرف عبداللہ چکڑالوی کا تو یہ نہایت صاف اور بے عیب فوٹو ہے اور اس حق میں جن نمبروں پر ان دونوں نے سرٹیفکیٹ (سند) حاصل کیا ہے اس کی نظیر ملنی محال ہے بلکہ ناممکن ہے۔ چنانچہ ان کے اقوال اس امر میں شاہد ہیں پس بایں ہمہ ان کے کفر و ارتداد میں کیا شک و شبہ رہ گیا۔ انواع ہلاک اللہ میں ہے۔

دینی علم یا عالمان کرے اہانت کو
یا کرے اہانت شرع دی اوہ بھی کافر ہو
صفحہ ٢١٣

مضمون مرقع و انکشاف کا تو ذکر ہو ہی چکا ہے۔ رسالہ انکشاف کے سرورق پر جو رباعیات لکھی گئی ہیں ان میں سے یہ شعر ہیں۔

لبریز ہے جام عمر فانی تیری کا غلام قادیانی
کیوں حرص و ہوا کے ساتھ ہو کر کھوتا ہے نعیم جاودانی
مرزا پر پڑی ہے مار حق کی ہے منکر حق ذلیل ہر آن

اور یہ رباعیات مرزا کے مرنے کے قریب قریب لکھی گئی ہیں چونکہ مرزا اور اکثر شریر منش مرزائی عوام سادہ لوح اہل اسلام کو مرزا کے دعوی مجددیت کے جال میں پھنسا کر ان کی روح ایمان کو نکالتے تھے اور ہیں اس واسطے ان کے اس مکر کے ابطال میں یہ فقیر رسالہ ”مجدد الوقت“ لکھ رہا ہے جس سے ثابت کیا جائے گا کہ شرعاً وعرفاً عقلاً ونقلاً مرزا جیسا بدعقیدہ شخص مجددیت کا کبھی مستحق نہیں ہو سکتا یہ کہ مجدد کون عزیز ہوا کرتے ہیں اور کس جماعت پاک کا نام ہے۔

اس میں شک نہیں ہے کہ غریب از وطن و بہشت قادیانی ایسا ہے۔ قابل رحم ہے کہ جیسا مشہور روایت میں شداد بوقت پیدائش و بوقت مرگ قابل رحم بیان کیا گیا ہے۔ کیونکہ جیسے شداد کو باوجود تمام طاقت خرچ کرنے کے اپنی مصنوعی بہشت کی سیر تک نصیب نہ ہوئی۔ اسی طرح مردود قادیانی کو وہ بہشتی مقبرہ جو غریبوں کا لہو کھینچ کر بنایا گیا ہے جس کی بابت بڑے بڑے الہام ہوئے۔ نصیب نہ ہوا۔ اور اس طرح باہر پھینک دیا گیا کہ جس طرح طعام سے باہر بال پھینک دیا جاتا ہے۔ یا جس طرح کوئی حارث کسان سبزہ بے گانہ کو کھیت سے نکال دیتا ہے۔ کیوں نہ ہو آپ بھی تو حارث ہیں پس پنجابی مثل ہے۔ صلہ ہا کو صلہ ہار کب بھاتا ہے۔

قسمت کی خوبی دیکھئے ٹوٹا کہاں کمند
دو چار ہاتھ جبکہ لب بام رہ گیا

جب بے چارے کے مرنے کے دن قریب آتے تو وہی جگہ جو عرصہ دراز سے دار الامان کے نام سے پکاری جاتی تھی دارالزیان معلوم ہوئی اور وہاں سے نکلا لاہور کے غلیظ گڑھے میں جا کر اچھر گیا تھا۔ اگر سو بار بھی ان کو قادیان میں دفنایا جائے تب بھی ان کی روح لاہور میں بھٹکتی پھرے گی۔ اور خدا کی حکمتوں کو عقل انسانی نہیں پہنچ سکتی۔ اس بات کو وہی عالم السر

٨

والشہادۃ جانتا ہے کہ بے چارے کو اس بہشتی مقبرہ سے کیسی تمنا تھی اور جو بہشتی بیان ہوتا تھا محروم رکھنے میں کیا راز پوشیدہ دینے) کو توڑنا اور اس کے مریدوں پر اس کے جھوٹا ہونے کہ جب فقیر اس قدر تحریر کر چکا تو معلوم ہوا کہ بوجہ لاہور نقلی جنازہ بنایا اور تین فریق ہندو و عیسائی و مسلمان قائم ک تجہیز و تکفین کرنے کا مدعی بنا اور تضحیک اور استہزاء ہوا کہ ا میں مرزا کے مرنے میں حکمت بالغہ ایزدی کا بھی تقاضا تھا علی اللہ دعویٰ نبوت و رسالت عنداللہ اشر الناس و اک جائے آخر میں یہ فقیر میاں نور الدین جانشین مرزا سے کہتا نعمته، انکشاف، مرقع وغیرہ ذالك کا جواب دے ان کا جواب آپ ہی لکھ کر اپنے کاذب نبی رسول پر سہ آنجہانی کی طرح مکر و زور کذب و غرور سے کام نہ لینا و دیا جائے گا۔ ایسا نہ ہو کہ سر منڈاتے ہی اولے پڑیں۔ ا پول کھل جائے آخر میں صاحبان اسلامی اخبارات سے مضمون صدق مشحون کو اپنے اخبارات میں جگہ دے کر عنداللہ ماجور ہوں گے کہ ناظرین اخبارات کی دلچسپی کا باعث ہو والسلام! خیر ختام راقم فقیر ابوالمنظور مح

غزل تاریخی بلحاظ

پس از حمد و ثنائے حق معبود
شود معلوم کہ محروم از حق
کرشن قادیانی روز منحوس
سیاه مثل کرشن اصل گشته
نجات خلق از موذی بد شد

٩

صفحہ ٢١٣

والشہادۃ جانتا ہے کہ بے چارے کو اس بہشتی مقبرہ سے کہ جس کی اوروں کو دعوت وترغیب دی جاتی تھی اور جو جنتی بیان ہوتا تھا محروم رکھنے میں کیا راز پوشیدہ ہے۔ ظاہراً تو اس کے غرہ نبوت (خبر دینے) کو توڑنا اور اس کے مریدوں پر اس کے جھوٹا ہونے کی حجت کو تمام کرنا ہے۔ معلوم ہوتا ہے کہ جب فقیر اس قدر تحریر کر چکا تو معلوم ہوا کہ بوجہ لاہور میں مرنے کے لاہوری یاروں نے مرزا کا نقلی جنازہ بنایا اور تین فریق ہندو و عیسائی و مسلمان قائم کئے اور ہر فریق حسب طریق مذہب خود تجہیز وتکفین کرنے کا مدعی بنا اور تضحیک اور استہزاء ہوا کہ الامان اور جس سے بالاتر نہیں پس لاہور میں مرزا کے مرنے میں حکمت بالغہ ایزدی کا بھی تقاضا تھا کہ جیسے مرزا بوجہ کذب بیانی وافترا علی اللّٰہ دعویٰ نبوت و رسالت عند اللہ اشر الناس وابتر الناس ہے اس کا نمونہ دنیا میں بھی دکھلایا جائے آخر میں یہ فقیر میاں نور الدین جانشین مرزا سے کہتا ہے کہ اس فقیر کے جن رسائل مظہر نعمتہ، انکشاف، مرقع وغیرھٰذاک کا جواب دینا آپ کے گرو گھنٹال کے نصیب نہیں ہوا۔ ان کا جواب آپ ہی لکھ کر اپنے کاذب نبی رسول پر سے اس دھبہ کو دُور کردیں۔ مگر یاد رہے کہ آنجہانی کی طرح مکر و زور کذب و غرور سے کام نہ لینا ورنہ تمام راز کھول کر پبلک کی روشنی میں رکھ دیا جائے گا۔ ایسا نہ ہو کہ سر منڈاتے ہی اولے پڑیں۔ پہلی بسم اللہ ہی غلط نکلے۔ اور ہوا اڑ جائے۔ پول کھل جائے آخر میں صاحبان اسلامی اخبارات کی خدمات عالیہ میں التماس ہے کہ اگر اس مضمون صدق مشحون کو اپنی اخبارات میں جگہ دے کر پبلک کی روشنی میں لائیں گے۔ تو علاوہ عند اللّٰہ ماجور ہونے کے ناظرین اخبارات کی دلچسپی کا باعث بھی ضرور ہوگا۔ والسلام ! خیر ختام راقم فقیر ابوالمنظور محمد عبدالحق کوٹلوی السہر ہندی ٢٩؍ مئی ١٩٠٨ء

غزل تاریخی بلحاظ سمت بکرمی

پس از حمد وثنائے حق معبود درود أحمد بے حد ومعدود
شود معلوم کہ محروم از حق غلام قادیانی گشت مفقود
کرشن قادیانی روز منحوس بصد خواری و ذلت گشت نابود
سیاہ مثل کرشن اصل گشتہ سوئے نار جہنم گشت پدرود
نجات خلق از موذی بد شد زمین شد پاک از منحوس ومردود

٩

صفحہ ٢١٤
به شومی آن مهوس بر جهنم به بے ایمان و ایقان گشت مورود
عتاب حق به مرزا گشت ثابت عذاب حق به مرزا گشت منضود
مطیعش کافر و مرتد وملحد مطیعش گمره و گم کرده مقصود
نجات از ربقه کیدش شد آنرا که شد در شکم مادر نيك ومسعود
نه باطل پیش حق گاهے زند دم مثال حق و مرزا هست موجود
الا اے ملحدان میرزائی الا اے ظالمان این کذب و بے سود
کجا مرزا کجا عیسٰی ابن مریم کجا مرزا کجا مهدی موعود
کجا آن انبیاء و مرسلینا کجا آن قادیانی غیر معهود
کجا مرزا کذاب و جفاکیش کجا آن صاحب آن جائے محمود
الف سه بار مرزائی کشیدند
چوں شد آواز حق مغضوب حق بود

قطعہ تاریخ بلحاظ سن عیسوی

ہوا اس عالم فانی سے مر کر غلام قادیانی بس جدا ہے
ہوا جب فکر سال عیسوی کا ہوئی از ہاتف حق یہ صدا ہے
کہ بد گوئی مسیح قادیانی ہوا ملعون ومغضوب خدا ہے

قطعہ تاریخ بلحاظ سن ہجری

مرا جب میرزائی قادیانی کہ جس نے شور و شر برپا کیا ہے
زبان قال سے امت کو جس کے ستانے میں بڑا حصہ ہے
مجسم بن کے قہر حق اتر کر پیام اجل خود دیا ہے
کبھی طاعون کبھی قحط وزلازل کبھی دے حرب کا ڈر مر گیا ہے
پکارا ہاتف حق سال بد گو
غلام احمد جہنم کو گیا ہے

١٣٢٦ھ

محمد

خاتم النبیین

رسول الله

سید الانبیاء

انکشاف

شرح حقیقت

حضرت مولانا ابوالمنظور محمد

PDF 216

یمان وایقان گشت مورود حق به مرزا گشت مفقود ں گمره وگم کرده مقصود درشکم ما درنيك ومسعود حق ومرزا هست موجود المان این کذب وبے سود رزا کجا مهدی موعود آں قادیانی غیر معهود صاحب آں جائے محمود بدند ق بود ( ادیانی بس جدا ہے ہاتف حق یہ صدا ہے ن ومغضوب خدا ہے ١٩ء نے شور و شر برپا کیا ہے میں بڑا حصہ ہے ماع خود دیا ہے ے حزب کا ڈر مر گیا ہے گو ہے ١٣٢٦ھ

خاتم النبیین لا نبی بعدی

ما کان محمد ابا احد من رجالکم ولکن رسول الله وخاتم النبیین

انکشاف

شرح حقیقت الوحی

حضرت مولانا ابوالمنظور عبدالحق کوٹلی سرہندیؒ

صفحہ ٢١٦-٢١٧

بسم الله الرحمن الرحيم شروع میں تبرکاً و تیمناً حضرت مرشد مولوی محی الدین عبدالرحمن لکھوی شہید مدنی کے چند اشعار درج ہیں۔

اردنا باللسان جهاد دين ہم نے دین میں زبان سے جہاد کا ارادہ کیا ہے
لننصر دين رب العلمینا تاکہ رب العالمین کے دین کی مدد دیں
نجاهد من يخالفنا بدین ہم اس سے جہاد کرتے ہیں جو شخص ہمارے ساتھ مخالفت کرے
جديدٍ فیه تبع الکافرینا اس نئے دین میں کہ وہ کافروں کے تابع ہوا ہے
فصار مصدقاً لنقل النصارى پھر وہ نصاریٰ کی نقل کی تصدیق کرنے والا بن گیا
فأيد دينهم كفراً مبينا پھر ان کے دین کی کھلم کھلا کافر ہو کر تائید کرتا ہے
فصدق بالصليب لكلمة الله سو کلمۃ اللہ عیسیٰ کے سولی چڑھنے کی تصدیق کرتا ہے
وصار نصير كفر المشركينا اور کفر مشرکین کا مددگار بن گیا
وقال بان مذهبه قريب اور بولا کہ اس کا مذہب قریب ہے
لدين الكفر دون المومنينا دین کفر سے اہل ایمان کے سوا
فهذا الدين دين لكاديانی سو یہ دین قادیانی کا دین ہے
غدا ضداً لدين المسلمينا مسلمانوں کے دین کا مخالف ہوگیا ہے
فنسال ربنا نصراً عزيزاً اب ہم اپنے رب سے زبردست مدد مانگتے ہیں
لدين الله دين المرسلينا اللہ کے دین کے لئے جو رسولوں کا دین ہے
ونحن ندین دین الله حقا اور ہم بالتحقیق دین خدا پر عمل کرتے ہیں
ونبغض من يحب الملحدينا اور جو بے دینوں سے دوستی رکھے اس سے بغض رکھتے ہیں

رباعیت

لبریز ہے جام عمر فانی پیری کا غلام قادیانی
کیوں حرص و ہوا کے ساتھ ہوکر کھوتا ہے نعیم جاودانی

٢

دیدم ز نشان آسمانی کفر
بالخلق خدا فریب کردن تھا
ثابت ز نشان آسمانی ہے
کر توبہ ز کفر و مکر و الحاد ہو
اے مورد قہر آسمانی اے
ہے مکر ہی حق کے بعد بے شک کفر

اس رسالہ میں جو کچھ لکھا جائے گا محض اتباعاً؟ حقیقت لکھا جائے گا نہ بدعویٰ یہ ہدایت ہے کہ خدا کسی پر ا دے کر جو دعویٰ سے بھی اعلیٰ وافضل ہوں۔

انکشاف سِرّ حقیقت الوحی قادیانی

الحق يعلو ولا يعلى اللهم
على يس طه لست الا غم
اعنى رحمة لطف

بسم الله الرحمن الـ ربنا اخلصنا نياتنا..................... اللهم انت عضدی ونصیری بک اصـ ثبت حجتی وسدّ بلسانی واهد قلبی نجعلك في نحورهم ونعوذ بك من شرورهم الـ الحمد لله وكفى وسلام على عباده

کہ مرزا قادیانی کی کتاب حقیقت الوحی کی بڑی دھوم دھا رو شور سے کہتے تھے کہ یہ کتاب لاجواب ہے۔ اگر کوئی شخص بعد ۔ مگر جب خیر سے دیکھی گئی تو اس کذب و زور کے کڑھی کا ابال پایا۔ الحق اذا لم تستحی فاصنع دلاور است دزدے کہ بکف چراغ دارد کے

٣

صفحہ ٢١٧
دیدم ز نشان آسمانی کذب تو غلام قادیانی
باخلق خدا فریب کردن حقا تو بخود عدو جانی
ثابت ز نشان آسمانی ہے کذب وفریب قادیانی
کر توبہ زکفر ومکر و الحاد ہو تابع حق اے قادیانی
اے مورد قہر آسمانی اے اکذب وابتر زمانی
ہے مکر ہی حق کے بعد بے شک کر ہوش ذرا اے قادیانی

اس رسالہ میں جو کچھ لکھا جائے گا محض اتباعاً لحکم واما بنعمۃ ربک فحدث بہ نیت اظہار حقیقت لکھا جائے گا نہ بدعویٰ یہ جدا بات ہے کہ خدا کسی پر اپنا فیض ارزانی کرے اور اسکو وہ سامان دے کر جو دعویٰ سے بھی اعلیٰ وافضل ہوں۔

انکشاف شر حقیقت الوحی قادیانی

الحق يعلو ولا يعلى الها منزلا طه ويسٓ
على يسٓ طه لست الا غلامك عبدك وابن غلامك
اعنى رحمة لطفا وفضلا

بسم الله الرحمن الرحيم ربنا اخلصنا نياتنا..................ربنا اصلحنا اعمالنا

اللهم انت عضدی ونصیری بک احول وبک اصول وبک اقاتل اللّهم ثبت حجتی وسدّد لسانی واهد قلبی واسلل سخیمة صدری اللّهم انا نجعلک فی نحورهم ونعوذبک من شرورهم امین برحمتک یا ارحم الراحمین

الحمد للّه وکفی وسلام علی عباده الذین اصطفیٰ ۔ اما بعد! واضح ہو کہ مرزا قادیانی کی کتاب حقیقت الوحی کی بڑی دھوم دھام تھی اور مرزا اور ان کے حواری بڑے زو روشور سے کہتے تھے کہ یہ کتاب لاجواب ہے۔ اگر کوئی شخص کچھ کہنا سننا چاہے تو اس کے مطالعہ کے بعد۔ مگر جب خیر سے دیکھی گئی تو اس کذب وزور کے پلندہ کو بالکل سفید جھوٹ کا طلسم اور باسی کڑھی کا ابال پایا۔ الحق اذا لم تستحی فاصنع ما شئت واقعی مرزا قادیانی چہ دلاور است دزدے کہ بکف چراغ دارد کے پورے مصداق ہیں۔ بخدائے لایزال میں

٣

صفحہ ٢١٩

بلا مبالغہ کہتا ہوں کہ قرون سالفہ و ایام سابقہ میں مرزا قادیانی کا نظیر اس ڈھیٹ پن اور جھوٹ بولنے میں کوئی اور نہ ملے گا۔ خاص کر یہ کتاب تو ایسی شیرازہ کذب وزور ہے کہ جس میں تاویل کو بھی گنجائش نہیں۔ مگر تعجب کی بات نہیں کہ بحکم این خانه همه آفتاب است۔ مرزا قادیانی کی ہر ایک کلام کذب سے مملو ہے اور یہ امر تو مرزا قادیانی کے بائیں ہاتھ کا کرتب ہے۔ ماشاء اللہ آپ (حقیقت الوحی ص ٢٥٧ حاشیہ ، خزائن ج ٢٢ ص ٢٧٠) پر تحریر کرتے ہیں کہ: مولوی محی الدین عبدالرحمٰن کا جوان لڑکا ہم کو ابتر کہنے اور مباہلہ کی وجہ سے مر گیا۔ اور یہ الہام ان کا انہی پر عود کر گیا اور (تتمہ حقیقت الوحی ص ٦٢، خزائن ج ٢٢ ص ٤٥٤) پر تحریر کیا: ”چنانچہ نذیر حسین دہلوی جو ان سب کا سرغنہ تھا جو دعوت مباہلہ میں اول المدعوین ہے اپنے لائق بیٹے کی موت دیکھ کر ابتر ہونے کی حالت میں دنیا سے گزر گیا۔“ حالانکہ یہ ہر دو صاحبان موصوف الصدر مرزا کے دعویٰ مماثلت سے جو باعث مخالفت ہوا چند چند سال پیشتر انتقال کر چکے تھے اور مولوی عبد الرحمن وسید نذیر حسین صاحب کے دل میں اس وقت مرزا کی مخالفت کا خیال تک بھی نہ تھا۔ مرزا خود مقر ہے۔ اگر مرزا یا کوئی مرزائی ان ہر دو صاحبزادگان کے انتقال کو بعد دعوائے مثیل مسیح ثابت کرے تو اس کو مبلغ دو صد روپیہ نقد بطور حق المحنت انعام ورنہ جھوٹے پر ہزار لعنت...... کہو مرزائیو، آمین!

اجی مرزا قادیانی! اگر واقعی ان ہر دو صاحبزادگان نے آپ کی اور مولوی صاحبان کی مخالفت کے بعد انتقال کیا ہوتا تو بھی آپ کی مخالفت کا اثر متصور نہیں ہو سکتا تھا جب کہ آپ خود تبصرہ میں تحریر کر چکے ہیں۔ ہاں اگر کسی کی اولاد مباہلہ کے وقت حاضر ہو۔ تب وہ عذاب میں شریک ہوگی۔ ورنہ بموجب حکم آیت لا تزر وازرة وزر اخرى ۔ خدا ایک گناہ کے لئے دوسرے کو ہلاک نہیں کرتا۔ سچ ہے کہ دروغ گو را حافظه نباشد۔ اسی کذب و زور پر وہ تعلی اور وہ عجب کہ الامان۔ چنانچہ آپ عبدالحکیم خان کے ذکر کے ضمن میں (حقیقت الوحی ص ١٨٢ ، خزائن ج ٢٢ ص ١٨٩) پر بیان کرتے ہیں کہ: ”باوجود ہزاروں روکوں کے کئی لاکھ تک خدا نے میری جماعت کردی پس اگر یہ کرامت نہیں تو اور کیا ہے اور اس کی نظیر مخالفوں کے پاس موجود ہے تو وہ پیش کریں۔ ورنہ بجز اس کے کیا کہیں...... لعنت الله على الکاذبین ۔“ اجی حضرت اول تو یہ آپ کا جھوٹ ہے۔ دوسرے ہم اس کا اور ایسے تمام امورات کا جواب ضمیمہ رسالہ ”مظہر نعمت“ میں تحریر کر چکے ہیں۔ مگر لیجئے اس جگہ بھی کچھ ہدیہ ناظرین ہے۔ کیوں جی مرزا قادیانی کیا آپ کی ٤

جماعت سکھ صاحبان کی جماعت سے بھی بڑھ گئی ہے؟ اور جن کو اس قدر سخت رکاوٹیں پیش آمد ہوئیں کہ جن ہو جاتے ہیں۔

عرصہ دراز تک ہزار ہا ہر روز قتل ہوتے رہے شہید گنج ) اور گو یہ تمام امور شاہان وقت کی جانب سے عمل میں آتے تھے۔ مگر سکھ صاحبان تو محض گروؤں پر تھے۔ باوجود ایسی رکاوٹوں کے ان کے مذہب اور گروہ فاتح کو مفتوح کیا نالائق آقاؤں کو جس میں آپ کے اس ساتھ جو چاہا سو کیا۔ ان کے اکثر معاہدوں میں اپنے مف آپ نے گرونانک صاحب کو مسلمان بنانے میں سوا کیا۔ اگر اس جگہ گروتیغ بہادر گرو گوبند سنگھ صاحبان کے کامیاب ہو جائیں تو البتہ آپ سچے مجوزہ لقب لعنت ال اور آپ کے تمام حواریوں سے بھی ثابت نہیں ہو سکتا۔ کہو مرزا قادیانی آمین۔

مرزا قادیانی آپ اور آپ کی جماعت قیام کر سکتی۔ راز اس میں یہ ہے کہ سکھوں کو قلبی جوش تھا ج سے دریغ نہ کرتے تھے۔ چنانچہ لکھا ہے کہ جب گرو کو زیب نے کہا کہ تم گرو ہو اور گرو ولی کو کہتے ہیں کوئی ک پاس ایسا تعویذ ہے کہ اگر گلے میں ڈال لوں تو کوئی ہتھیا گرو صاحب نے اپنا وثوق ظاہر کیا تو جلاد کو حکم ہوا کہ ا صاحب مقتول ہو گئے۔ اس پر بادشاہ کو بہت اچھنبہ ہو ”سر دیا سر نہ دیا ۔ اگرچہ اسلامی عقائد کی رو سے یہ ت حصہ نہ تھا مگر بحکم ان الله لا يضيع أجر المحسن دنیاوی ان کو حسب خواہش دی۔ مگر مرزا قادیانی آپ

صفحہ ٢١٩

جماعت سکھ صاحبان کی جماعت سے بھی بڑھ گئی ہے؟ جن کی تعداد کروڑوں تک پہنچی ہوئی ہے۔ اور جن کو اس قدر سخت رکاوٹیں پیش آمد ہوئیں کہ جن کے خیال سے ہی تمہارے اوسان خطا ہو جاتے ہیں۔

عرصہ دراز تک ہزار ہا ہر روز قتل ہوتے رہے۔ کھرپیوں سے کیس منڈائے گئے (دیکھو شہید گنج) اور گو یہ تمام امور شاہان وقت کی جانب سے بہ نیت اصلاح ملک و فرو کرنے بغاوت کے عمل میں آتے تھے۔ مگر سکھ صاحبان تو محض گروؤں کے واسطے مذہبی خیال سے تکلیف اٹھاتے تھے۔ باوجود ایسی رکاوٹوں کے ان کے مذہب اور گروہ کی ترقی ہی نہیں ہوئی بلکہ انہوں نے اپنے فاتح کو مفتوح کیا نالائق آقاؤں کو جس میں آپ کے اسلاف بھی شامل ہیں غلام بنایا۔ اور ان کے ساتھ جو چاہا سو کیا۔ ان کے اکثر معابدوں میں اپنے مذہبی نشان قائم کئے۔ مرزا قادیانی افسوس کہ آپ نے گرو نانک صاحب کو مسلمان بنانے میں سوائے محنت ضائع کرنے کے اور کچھ حاصل نہ کیا۔ اگر اس جگہ گرو تیغ بہادر گرو گوبند سنگھ صاحبان کے مسلمان ثابت کرنے کی کوشش کر کے آپ کامیاب ہو جائیں تو البتہ آپ اپنے مجوزہ لقب لعنت اللہ علی الکاذبین سے بری ہو سکتے ہیں مگر آپ اور آپ کے تمام حواریوں سے بھی ثابت نہیں ہو سکتا۔ ولو كان بعضهم لبعض ظهیرا ۔بس کہو مرزا قادیانی آمین۔

مرزا قادیانی آپ اور آپ کی جماعت قیامت تک اس امر میں سکھوں کی برابری نہیں کر سکتی۔ راز اس میں یہ ہے کہ سکھوں کو قلبی جوش تھا جیسا کہ ظاہر کیا گیا اور ان کے گرو بھی مرنے سے دریغ نہ کرتے تھے۔ چنانچہ لکھا ہے کہ جب گرو تیغ بہادر سے بغاوت کا مواخذہ ہوا تو اورنگ زیب نے کہا کہ تم گرو ہو اور گرو ولی کو کہتے ہیں کوئی کرامت دکھلاؤ تو انہوں نے فرمایا کہ میرے پاس ایسا تعویذ ہے کہ اگر میں ساتھ لے لوں تو کوئی ہتھیار مجھ پر ہرگز اثر نہیں کر سکتا۔۔ جب اس پر گرو صاحب نے اپنا وثوق ظاہر کیا تو جلاد کو حکم ہوا کہ ان پر تلوار چلائی جائے۔ ایک وار میں ہی گرو صاحب مقتول ہو گئے۔ اس پر بادشاہ کو بہت تعجب ہوا تعویذ کھول کر دیکھا تو تعویذ میں لکھا تھا کہ ”سردیا سر نہ دیا ۔“ اگرچہ اسلامی عقائد کی رو سے یہ تعویذ باطل محض تھا اور آخرت میں ان کے لئے کچھ حصہ نہ تھا مگر بحكم ان الله لا يضيع اجر المحسنين ان کی اس کوشش و جانبازی کا بدلہ ترقی دنیاوی ان کو حسب خواہش دی۔ مگر مرزا قادیانی آپ قیامت تک ان کی برابری نہیں کر سکتے کہ

٥

صفحہ ٢٢١

آپ اور آپ کی جماعت کے دل میں قلبی جوش نہیں محض تصنع اور بناوٹ ہے۔ ایسے آزاد زمانے میں ڈپٹی کمشنر کی ذرا سی دھمکی پر آپ نے کسی کے حق میں پیشین گوئی کرنے سے کان نہیں پکڑا۔ کیا عیسیٰ علیٰ نبینا علیہ السلام کے جلال سے آنے کا انکار مہدی کو خونی بتانا محض ڈر نہیں تو کیا ہے۔ حالانکہ خود (حقیقت الوحی کے ص ١٥٦، خزائن ج ٢٢ ص ١٦٠) اور عبدالحکیم خان کے خط میں نبی کریم ﷺ کے خون کی ندیاں بہا دینے کو تسلیم کیا ہے۔ اجی! حضرت جن وجوہات اور بنیاد پر آنحضرت نے خون کی ندیاں بہائیں اسی بناء پر حضرت مہدی علیہ الرضوان کے تلوار چلانے کو تسلیم کر لو۔ کیا معلوم نہیں کہ مہدی علیہ الرضوان کا خروج تب ہوگا جب کفار حرمین شریفین پر حملہ کرنا چاہیں گے۔ کیا ان کی مدافعت کے لئے جنگ کرنا مطابق وجہ نمبر اوّل مسئلہ آنجناب میں آنحضرت ﷺ کی اتباع نہیں۔ کیا مہدی کے لئے آزاد خداداد ملک میں بطور مدافعت جنگ کرنا گناہ ہو سکتا ہے؟ ایسی صورت میں کوئی صاحب بھی ان کو خونی کسی کا باغی یا مفسد کہہ سکتا ہے۔ کیا اگر طاقت خداداد سے ملک خدا سے اعداء خدا کو نیست و نابود کردیں تو فضل خدا سے بعید ہے۔ جبکہ ادنیٰ حکومت جاپان نے روس جیسی عظیم الشان سلطنت کو منچوریا سے نکال کر بے دخل کر دیا دوسری وجہ بھی حضرت مہدی علیہ السلام کے لئے ٹھیک موزوں ہے کہ ان کی تلوار سے اعداء دین کو عذاب الٰہی پہنچے گا کہ جو دین اسلام سے دنیا کو مٹانا چاہیں گے۔ غرض مہدی علیہ السلام ہر پہلو سے تابع طریقہ نبویہ علیه الصلوة والسلام والتحیة ہوں گے۔ کیا اس اسلامی عقیدہ کی وجہ سے رعایا کو گورنمنٹ ہند باغی خیال کر سکتی ہے۔ جبکہ یہ بھی عقیدہ ہے کہ خدا جانے کب مہدی علیہ السلام کا خروج ہوگا اور عرب میں ہوگا۔ ہاں اگر تم پر بوجہ رعایا ہونے کے گورنمنٹ ہند یہ خیال کرے تو بجا ہے۔ جبکہ تمہاری جماعت لاکھوں سے تجاوز کر چکی ہے۔ ممکن ہے کہ کوکوں کی طرح اپنی کثرت کے بھروسہ پر جوش آجائے اور ملک میں بغاوت پھیلا دیں۔ ہائے افسوس ارے بڈھے فرتوت! تیری عقل ماری گئی کہ اسلامی عقائد کہ جو کسی پہلو سے بھی کسی کی مزاحمت نہیں کرتے۔ ہنسی کراتا ہے اور ان کو بدنام کرنا چاہتا ہے۔ الغرض یہ بیہودا پن ہے کہ تجھ کو ہرگز سکھوں کے برابر نہیں ہونے دے گا۔ کیوں مرزا قادیانی؟ کہئے کیسے یقیناً باطل فرقے کی ترقی و عروج کو کس قدر ثابت کر دیا گیا ہے کہ تم کو اور تمہاری جماعت کو کبھی بھی میسر نہ ہو سکے گو مرزا قادیانی اسی منہ سے لعنت الله علی الكاذبين۔

.............مرزائیو!الیس منکم رجل رشید۔

٦

حقیقت الوحی

فی الجملہ اس کتاب کو انہوں نے چار باب باب میں زطلیات ہانکتے ہوئے نہ صرف اپنے بلکہ تما از دخل شیاطین کو وا کیا ہے اور باب چہارم میں اپنی نمو کئے ہیں جو بعد حذف مکررات اس سے بہت کم ہول و فریب و زور سے پر ہیں اور جو دیوانوں کی بڑ اور بلی گرے ہوئے ہیں۔ چونکہ موضوع اور مآل اس طوما انتقال فرمانے کو نشان نبوت خود ظاہر کرتا ہے اور جم مولوی محی الدین عبدالرحمن لکھوی مدنی شہید بھی ہے کہ عدنفسک من اصحاب رسول الله ﷺ و الله لا يخلف الميعاد، فاجمع بيني وب النفس المطمئنة ارجعي الی ربک وادخلی جنتی ۔ مدینہ منورہ میں شہید ہو کر جنت والہام ان شانئک هو الابتر سے ہی مرزا تاریخ شہادت ........ صادقین را نور حق تابد مدام کی ہ کی طرف اور جو فی الواقع آلہ ہے اس نور کے در و باطناً پوری پوری تردید ہوتی رہتی ہے۔ کیا آپ ک مضامین حقیقت الوحی کے صفحات حقیقت الوحی پر سے پہلے ہی ایک ایسا عصاء موسیٰ مضمون نشان آسما ہونے کا بہت تھوڑا حصہ مندرجہ مرقع قادیانی بابت تمام جادو کے سانپوں کو اژدھاء حقانی بنکر دفعتاً نگل فراست صادقہ یا کرامت، میں تو آپ کے اسی الہا هو الابتر کہوں گا۔ الغرض چونکہ خلاصہ اور ن کرنا اور اپنی کرامت جتانا ہے۔ اس واسطے اس

صفحہ ٢٢١

حقیقت الوحی

فی الجملہ اس کتاب کو انہوں نے چار باب پر منقسم کیا ہے۔ پہلے دوسرے اور تیسرے باب میں زطلیات ہانکتے ہوئے نہ صرف اپنے بلکہ تمام شوخ زنادقہ مثل خود کے لئے در وحی منزہ از دخل شیاطین کو وا کیا ہے اور باب چہارم میں اپنی نبوت اور رسالت کے کچھ کم دوسو نشانات نقل کئے ہیں جو بعد حذف مکررات اس سے بہت کم ہوں گے اور جو سراپا لغویات وحشویات وکذب و فریب وزور سے پر ہیں اور جو دیوانوں کی بڑ اور بلی کو چھیچھڑوں کے خواب کی مثال سے بھی زیادہ گرے ہوئے ہیں۔ چونکہ موضوع اور مآل اس طومار لایعنی کا اپنا زندہ رہنے اور بعض اہل علم کے انتقال فرمانے کو نشانِ نبوت خود ظاہر کرنا ہے اور جن کی فہرست میں اسم مبارک سیدی ومولائی مولوی محی الدین عبدالرحمن لکھوی مدنی شہید بھی ہے کہ جو بموجب اپنے الہامات صادقہ عد نفسك من أصحاب الرسول اللہ ﷺ ویا جامع الناس لیوم لاریب فیہ ان اللہ لا یخلف الميعاد، فاجمع بيني وبين محمد في الدنیا والآخرة یا ایتہا النفس المطمئنة ارجعی الی ربك راضية مرضية فادخلي في عبادي وادخلی جنتی ۔ مدینہ منورہ میں شہید ہو کر جنت البقیع میں مدفون ہوئے اور جن کی برکت دعا والہام ان شانئك ہو الابتر سے ہی مرزا قادیانی ہر جگہ خائب خاسر رہتے ہیں اور جن کی تاریخ شہادت ..... صادقین را نور حق تابد مدام کی برکت سے جس میں اشارہ ہے اس احقر کے نام کی طرف اور جو فی الواقع آلہ ہے اس نور کے درخشاں ہونے کا۔ مرزا کے عقائد کفریہ کی ظاہراً وباطناً پوری پوری تردید ہوتی رہتی ہے۔ کیا آپ کو معلوم نہیں کہ مرزا کے وہمی اور سحری سانپوں مضامین حقیقت الوحی کے صفحات حقیقت الوحی پر چھٹ کر عوام الناس کو مرعوب وخائف کرنے سے پہلے ہی ایک ایسا عصاء موسیٰ مضمون نشان آسمانی سے مرزا غلام احمد قادیانی کے جھوٹے ثابت ہونے کا بہت تھوڑا حصہ مندرجہ مرقع قادیانی بابت ماہ ستمبر ١٩٠٧ء قائم کر رکھا تھا کہ جس نے ان تمام جادو کے سانپوں کو اژدھائے حقانی بنکر دفعتاً نگل لیا۔ اب آپ اس کو الہام کہو یا پیشین گوئی یا فراست صادقہ یا کرامت، میں تو آپ کے اسی الہام کی برکت جو مرزا کے حق میں ان شانئك ھو الابتر کہوں گا۔ الغرض چونکہ خلاصہ اور لب لباب اس کتاب کا اہل علم کی موت پر استہزاء کرنا اور اپنی کرامت جتانا ہے۔ اس واسطے اس امر کی تردید کرنی ضروری خیال میں آئی مگر بوجہ ٧

صفحہ ٢٢٣

تعلق احکام شرعیہ نشان اول و دوم کی بھی تردید ضروری معلوم ہوئی۔ وعلی الله یتوکل المؤمنون۔

”نشان اوّل...... کہ میں بموجب حکم شارع ہر صدی پر مجدد ہوتا ہے۔ مجدد ہوں ورنہ بتلایا جائے کہ اس زمانہ میں اور کون مجدد ہے۔“

(حقیقت الوحی ص ١٩٣، خزائن ج ٢٢ ص ٢٠٠)

الجواب....... اس مہوس مبتدع زندیق کو یہ معلوم نہیں کہ کبھی ڈاکو اور جعلساز بھی شاہی محافظ قرار دئے جاسکتے ہیں۔؟ دیکھو بحکم حدیث لا تزال طائفة من امتی (الحدیث) جو اس حدیث کی مفسر ہے جماعت علماء کو اہل علم نے مجدد کہا ہے۔ اگر ثبوت مانگو تو انشاء اللہ موجود پاؤ گے۔ بس وہ جماعت اہل علم کی جس نے تمہاری بیخ کنی کی ، حکم مجدد ہونے کا رکھتی ہے۔ تا کہ تیرے جیسا مفتری علی الله اور کذاب۔

نشان دوم....... یہ کہ میری تصدیق میں چاند اور سورج گرہن کو رمضان شریف میں گرہن لگا اور یہ موافق حدیث کے ہے۔

(حقیقت الوحی ص ١٩٤، خزائن ج ٢٢ ص ٢٠٢)

الجواب....... اوّل تو یہ حدیث نہیں کسی کا قول ہے وہ بھی حسب تصریح محدثین موضوع۔ دوسرے اس میں چاند کے پہلی رات میں گرہن کا اور سورج کے پندرہویں رات کے گرہن کا ذکر ہے۔ سو ایسا نہیں ہوا اب رہا یہ امر کہ اب تک ایسا ہوا ہی نہیں۔ سو جواب یہ ہے کہ جب ہی تو یہ نشان مہدی ہے کہ خدا نے اس کی خاطر ایسی انوکھی بات دکھلائی جو اب تک نہیں دکھلائی اور جو عقل سے باہر تھی۔ جیسا کہ آنحضرت ﷺ کا خلاف قانون قدرت چاند کو دو ٹکڑے کر دینا۔ اب رہی یہ بات کہ عربی میں اوّل، دوم، سوم رات کے چاند کو ہلال کہتے ہیں نہ قمر۔ سو جواب یہ ہے کہ یہ خیال تمہاری بے علمی کم لیاقتی یا شرارت پر مبنی ہے۔ کیونکہ یہ ظاہر ہے کہ خداوند عالم نے ہر چیز کو دو جوہر عطا کئے ہیں۔ ایک ذات اور دوسری صفت اسی طرح دو نام مقرر کئے ہیں۔ ذاتی اور صفاتی جیسے آدم بچہ کو بھی آدم کہہ سکتے ہیں اور بوڑھے کو بھی آدم۔ اسی طرح چاند کے تین نام ہیں ایک ذاتی یعنی قمر اور دو صفاتی یعنی ہلال اور بدر پس ہلال کو بھی قمر کہہ سکتے ہیں اور بدر کو بھی۔ اب رہا یہ امر کہ کسی نے پہلی رات کے چاند کو قمر نہیں کہا۔ سو یہ سراپا لچر سوال ہے کہ جب قمر ذاتی نام ہے اور اس کو ہر حالت پر بول سکتے ہیں اور ہلال اور بدر صفاتی جن کو سوائے اپنی حالت کے اس نام سے تعبیر نہیں کر سکتے اور یہ امر محاورہ رواج لغت عرب میں بلحاظ شہرت حد تواتر کو پہنچ چکا ہے تو اب کسر ہی باقی رہ گئی۔ لو

٨

اب ہم پہلی رات کے چاند کو قمر کہنا حسب اقوال ثقات والشمس وضحہا والقمر اذا تلھا کی تفسیر محمـ اور یہ وہ تفسیر ہے کہ جو بحکم خیر القرون قرنی ثم الحدیث، بلاغت اور فصاحت میں سب سے احسن اور بے بضاعتی اور قلّت علم کا اقرار ہو اور تمہاری کبر و تعلّی کا مـ

عجب نادان ہیں جن کو بے جـ
فلک بال ہما کو پل میں سو ہـ

اب میں اصل مقصد کی طرف توجہ کرتا ہوں ا اور سکہ بٹھانا چاہا ہے کہ جو مرزا کے مخالف تھے اور جنہوں ہے (تتمہ حقیقت الوحی ص ٥١، خزائن ج ٢٢ ص ٤٨٥) پر کہ اکثری دیگر جابجا مقامات پر بہت سے اشخاص کا مباہلہ کے اثر سـ دروغ گو را حافظ نباشد (حقیقت الوحی ص

اگرچہ تمام مخالف مولوی مرد میدان بن کر مباہلہ کے لئے رہے اور اسی صفحہ پر لکھتا ہے ”حالانکہ انہوں نے ابھی صر میں کہتا ہوں کہ جتنے مولویوں کا ذکر آپ نے کیا ہے، اگر کہ جھوٹے سچے کی علامت جھوٹے کا سچے کے پیشتر مر آپ کی خدمت میں مبلغ ٥٠ بطور نذرانہ پیش کروں بزرگواروں کے نام مرزا قادیانی تحریر کرتے ہیں۔ کسی نـ الغیب نے کسی کے دل کو اس طرف متوجہ ہونے نہیں دیا۔ کما تقدم تاکہ مرزا قادیانی کو اس میں حجت نہ باقی رہے کے دل اس طرف متوجہ ہوئے وہ اب تک زندہ ہیں۔ دعوے کی تکذیب نشان آسمانی فیصلہ حقانی سے کریں اور ان کے بھرے ہوئے بیڑے کذب وفریب کو طوفان غضـ الٰہی کو پہنچا دیں۔ اور ان کے قلعہ مکر و کید کو مثل قلعہ پور

٩

صفحہ ٢٢٣

اب ہم پہلی رات کے چاند کو قمر کہنا حسب اقوال ثقات قرآن کریم سے ثابت کرتے ہیں، تفسیر والشمس وضحہا والقمر اذا تلہا کی تفسیر عمدۃ المفسرین قتادہ نے قمر بمعنے ہلال کی ہے۔ اور یہ وہ تفسیر ہے کہ جو بحکم خیر القرون قرنی ثم الذین یلونہم ، ثم الذین یلونہم الحدیث، بلاغت اور فصاحت میں سب سے احسن اور مقبول ہے۔ لو صاحب اب تو آپ کو اپنی بے بضاعتی اور قلت علم کا اقرار ہوا اور تمہاری کبر و تعلی کا غرور ٹوٹا۔ بیت!

عجب نادان ہیں جن کو ہے غرہ تاج سلطانی
فلک بال ہما کو پل میں سونپے ہے مگس رانی

اب میں اصل مقصد کی طرف توجہ کرتا ہوں کہ مرزا نے بزعم فاسد خود دنیا پر یہ ظاہر کرنا اور سکہ بٹھانا چاہا ہے کہ جو مرزا کے مخالف تھے اور جنہوں نے مباہلہ کیا تھا وہ سب مر گئے۔ چنانچہ لکھا ہے (تحفہ حقیقت الوحی ص ٥١، خزائن ج٢٢ ص ٤٨٥) پر کہ اکثر مباہلہ کرنے والے طاعون سے مرے اور دیگر جابجا مقامات پر بہت سے اشخاص کا مباہلہ کے اثر سے مرنے کا ذکر کیا ہے۔ مگر بحکم دروغ گو را حافظ نباشد (حقیقت الوحی ص ٣٠٠ ، خزائن ج٢٢ ص٣١٣) پر لکھتا ہے: ”پھر اگرچہ تمام مخالف مولوی مرد میدان بن کر مباہلہ کے لئے حاضر نہ ہوئے مگر پس پشت گالیاں دیتے رہے“ اور اسی صفحہ پر لکھتا ہے ”حالانکہ انہوں نے ابھی مسنون طور پر مباہلہ نہیں کیا تھا۔“ مگر قادیانی میں کہتا ہوں کہ جتنے مولویوں کا ذکر آپ نے کیا ہے۔ اگر ان میں سے کسی کا بھی یہ مضمون دکھلا دیں کہ جھوٹے سچے کی علامت جھوٹے کا سچے کے پیشتر مرنا ہے اور یہ بات آپ سے مقرر کی ہے تو آپ کی خدمت میں مبلغ ٥٠ بطور نذرانہ پیش کروں گا۔ یہ عجیب شان ایزدی ہے کہ جتنے بزرگواروں کے نام مرزا قادیانی تحریر کرتے ہیں۔ کسی نے بھی اس قسم کا ارادہ نہیں کیا اور خداوند عالم الغیب نے کسی کے دل کو اس طرف متوجہ ہونے نہیں دیا۔ چنانچہ مرزا قادیانی کو بھی اسکا اقرار ہے۔ کما تقدم تاکہ مرزا قادیانی کو اس میں حجت نہ باقی رہے ہاں جنہوں نے مباہلہ کا اظہار کیا اور جن کے دل اس طرف متوجہ ہوئے وہ اب تک زندہ ہیں۔ قبل اس کے کہ ہم مرزا قادیانی کے اس دعوے کی تکذیب نشان آسمانی فیصلہ حقانی سے کریں اور مرزا اور مرزائیوں کو زندہ درگور بناویں اور ان کے بھرے ہوئے بیڑے کذب و فریب کو طوفان غضب الہی سے مثل بیڑہ بالٹک روس کے تحت الثریٰ کو پہنچادیں۔ اور ان کے قلعہ مکر و کید کو مثل قلعہ پورٹ آتھر کے حقانی گولوں سے اڑا دیں اور

٩

صفحہ ٢٢٥

جیسے منچوریا سے روسی حکومت کا نام ونشان مٹا دیا گیا ہے۔ کدال ہا حقانی سے مینار طومار قادیانی کا نشان صفحہ ہستی سے مٹا دیں۔ مرزا قادیانی اور مرزائیوں سے یہ سوال ہے کہ اگر جھوٹے کا سچے کی زندگی میں مرنا واقعی ضروری ہے اور قانون الٰہی ہے۔ جیسا کہ آپ کی تحریرات سے ثابت ہوتا ہے تو معاذ اللہ نقل کفر کفر نباشد۔ کیا محمد رسول اللہ ﷺ کا مسیلمہ کذاب سے پہلے انتقال فرمانا باعث اسی جنرل رول کے زیر اثر ہے؟ معاذ الله ثم معاذ الله ـ بریں عقل ودانش بباید گریست

فی الجملہ مخلوق نے تجربہ کر لیا ہے کہ مرزا اور مسیلمہ کذاب ایک ہی پایہ کے آدمی ہیں اور ان کے قول وخیال کے مخالف امور ظہور پذیر ہوتے ہیں۔ دور کیوں جائیں محمدی بیگم کے نکاح اور اس کے خاوند کی موت کی پیشین گوئی کو ہی ملاحظہ کر لو کہ جس کی جانب مرزا قادیانی کو جانی تعلق بھی ہے۔ ہمیں اس جگہ مولوی عبدالحق غزنوی ڈاکٹر عبدالحکیم خان صاحب وغیرہما کے مباہلوں کے ذکر کرنے کی ضرورت نہیں ہم اس جگہ صرف اپنے مباہلہ کا ذکر کرتے ہیں کہ جس کے نتیجے سے بلا شک وشبہ مرزا قادیانی کا کاذب ہونا ہر ذی ہوش کے نزدیک مسلم ہو، اور اس مباہلہ کا ذکر مناسب نہیں۔ بلکہ بحکم الساکت عن الحق شیطان اخرس ضروری معلوم ہوا۔ من نمیگوئم عن الحق یار میگوید بگو۔ چوں نہ گوئم چوں مرا دلدار میگوید بگو۔ ہم نے مرزا قادیانی کو ١٣١٦ھ میں بعد قطع قمع تمام حجت ہائے لایعنی مباہلہ کی دعوت دی اور اس کو پرائیویٹ ہی نہیں رکھا۔ بلکہ ضمیمہ رسالہ ”مظہر نعمت“ میں جو اس سنہ میں طبع ہوا تھا لکھ کر پبلک میں شائع کیا۔ چند الفاظ حیز تحریر میں لائے جاتے ہیں۔ ”پس اب مرزا قادیانی کو چاہئے کہ اس تحریر کو پڑھ کر بہ نیت رفع تردد وانتشار خلق بحکم آیۂ مباہلہ معہ ابناء نساء میدان مباہلہ میں آئیں اور یہ احقر بھی تفاولاً واتباعاً للسنۃ جیسے آنحضرت پنجتن پاک کے ساتھ مقابلہ نصاریٰ میں نکلے تھے باایماء۔ فی الجملہ نسبت بتوکافی بود مرا۔ بلبل همیں کہ قافیه گل شود بس است۔ پنجه اشخاص اول نفس خود اور دوم زوجه خود سوم چهارم هر دو فرزندان خود پنجم دختر خود کے ساتھ میدان مباہلہ میں بہ یقین فتح یابی خود حاضر ہوتا ہے۔ تا کہ حکم مطلق بحکم یحق الحق ويبطل الباطل ويمح الله الباطل ويحق الحق بكلمته حق و باطل، حق و کذب کو

١٠

حق کے ساتھ تمیز کرے اور حق حق اور فریب فریب ثابت ہوا سبیل فیصلہ کی نہیں رہی۔ اب مرزا قادیانی کو لازم ہے کہ اس کے اندر اندر ہم کو جواب سے بذریعہ اشتہار مطلع کریں اور اگر کر کے ٹال جائیں تولعنت الله على الكاذبین۔ کار کاردونان حیلہ و بے شرمی است ۔“ مگر بحکم م ہوا کہ جس کا کچھ ٹھکانا نہیں اور جیسے سایہ فاروقی سے ابلیس کو ت تھا۔ مرزا کو احقر کے مقابلہ میں فرار اور قیام نہ رہا جب یکماہ گزر چکا اور مرزا کی جانب سے صدائے برنخواست۔ آخر اس کے بعد ضمیمہ اخبار شحنہ ہند مطبوعہ یکم جون ١٩٠٠ء میں مکرر مبا یاد دہانی کرائی گئی۔ آخر میں لکھ دیا کہ مرزا ہمارے مقابلہ میں کاذب بدعوای باطلہ میں ناکامیاب رہے گا اور ہم کو اللہ جل ج فضل سے منصور مظفر کرے گا اور وما ذالك على الله بعزيز اب خیال کرنا چاہئے کہ اس دعوت کا کیا نتیجہ ہ کلام (مندرجہ بدر ٢٧؍ دسمبر ١٩٠٦ء، ملفوظات ج٩ ص٩٩) کہ ”م سامنے آئے۔ سب کے سب ہلاک ہو گئے۔“ میں سچے ہیں مباہلہ کے لئے اتباعاً لحکم قرآنی وسنت نبوی اپنے نفس اور زو بهمه وجوه مورد بركات دینی ودنیوی ہے۔ والحمد شکرتم لا۔ زیدنکم دو لڑکے ایک لڑکی اور عنایت ہو۔ یہ برکت بحکم ربانى الا من امن وعمل صالحاً فاو وهم في الغرفات امنون ۔ یہ وقوع میں ہمارے مقابلہ میں آتا تو وہ معہ متعلقین خود ضرور ہی تباہ ہوت نصاریٰ فرمایا تھا۔ بایں ہمہ اخبارات مرزائی میں خاندان ہوا۔ اور مرزا حسب اصول مسلمہ خود متعلق مولوی عبدالحق غ مندرجہ کتاب حقیقت الوحی مقطوع النسل اور ابتر ہوا،

١١

صفحہ ٢٢٥

حق کے ساتھ تمیز کرے اور حق حق اور فریب فریب ثابت ہو اس سے بڑھ کر احسن اور عمدہ اور کوئی سبیل فیصلہ کی نہیں (الخ) اب مرزا قادیانی کو لازم ہے کہ اس تحریر کے ملاحظہ کے بعد پندرہ یوم کے اندر اندر ہم کو جواب سے بذریعہ اشتہار مطلع کریں اور اگر اب بھی مرزا قادیانی کوئی حیلہ حوالہ کر کے ٹال جائیں تو لعنت الله علی الکاذبین۔ کار مردان روشنی و گرمی است۔ کار دونان حیلہ و بے شرمی است ۔ ”مگر بحکم فبهت الذی کفر مرزا ایسا مبہوت ہوا کہ جس کا کچھ ٹھکانا نہیں اور جیسے سایہ فاروقی سے ابلیس کو سوائے فرار اور گریز اور کوئی چارہ نہیں تھا۔ مرزا کو احقر کے مقابلہ میں قرار اور قیام نہ رہا جب بجائے پندرہ روز کے اس دعوت کو سال بھر گزر چکا اور مرزا کی جانب سے صدائے برخاست کا معاملہ ظہور پذیر ہوا تو ١٣١٧ھ میں رمضان کے بعد ضمیمہ اخبار شحنہ ہند مطبوعہ یکم جون ١٩٠٠ء میں مکرر مسیح کذاب کے عنوان سے اس امر کی یاد دہانی کرائی گئی۔ آخر میں لکھ دیا کہ مرزا ہمارے مقابلہ میں ہمیشہ ذلیل وخوار ہوگا اور اپنی اراجیف کاذبہ و دعاوی باطلہ میں ناکامیاب رہے گا اور ہم کو اللہ جل شانہ محض اپنے دین حقہ کی تائید ہی کی وجہ سے منصور مظفر کرے گا اور وما ذالك على الله بعزيز والله على ذالك لقدير !

اب خیال کرنا چاہئے کہ اس دعوت کا کیا نتیجہ ہوا کہ جس کی رو سے مرزا قادیانی اپنی کلام (مندرجہ بدر ١٧؍ دسمبر ١٩٠٦ء، ملفوظات ج٩ ص٩٩) کہ ”جتنے لوگ مباہلہ کرنے والے ہمارے سامنے آئے۔ سب کے سب ہلاک ہو گئے۔“ میں سچے ہیں یا جھوٹے یہ ظاہر ہے کہ اس احقر نے مباہلہ کے لئے اتباعاً حکم قرآنی وسنت نبوی اپنے نفس اور زوجہ اور ابناء اور دختر کو پیش کیا تھا۔ سو یہ احقر بہمہ وجوہ مورد برکات دینی و دنیوی ہے۔ والحمد لله على ذالك اور بحکم لئن شكرتم لا زيدنكم دو لڑکے ایک لڑکی اور عنایت ہوئے۔ اب چار لڑکے اور دو لڑکیاں ہیں گویا یہ برکت بحکم ربانی الا من امن وعمل صالحاً فاولئك لهم جزاء الضعف بما عملوا وهم في الغرفات امنون صادق واقع ہوئی میں یقین رکھتا ہوں کہ اگر مرزا اقرار نہ کرتا اور ہمارے مقابلہ میں آتا تو وہ معہ متعلقین خود ضرور تباہ ہوتا۔ کیونکہ یہ ارشاد پیغمبر خدا نے بوقت فرار نصاریٰ فرمایا تھا۔ بایں ہمہ اخبارات مرزائی میں خاندان رسالت میں صدمہ کے عنوان سے واویلا ہوا۔ اور مرزا حسب اصول مسلمہ خود متعلق مولوی عبد الحق غزنوی، محی الدین عبدالرحمن ومنشی سعد اللہ مندرجہ کتاب حقیقت الوحی مقطوع النسل اور ابتر ہوا۔ ورنہ دکھلائے کہ ہمارے اس مباہلہ کی

١١

صفحہ ٢٢٧

اشاعت کے بعد مرزا قادیانی کے کونسا لڑکا پیدا ہوا؟

حكم الرجل على نفسه۔ کیوں مرزا قادیانی اب الہام حضرت مرشدنا محی الدین عبدالرحمن ان شانئك هو الابتر تمہارے حق میں ٹھیک ہوا یا نہیں۔ غرض یہ تمام امور اسی دعوت کا اثر تھا بہ بین تفاوت راہ از کجاست تا بکجا۔ بلکہ جونہی مکرر مباہلہ کا اظہار ہوا تو غیبی غضب خدا جوش میں آیا کہ مبارک احمد کو جسم کے بار گراں سے سبکدوش کیا۔ ابتدائے عشق ہے روتا ہے کیا ۔ آگے آگے دیکھئے ہوتا ہے کیا کیوں؟ حضرات ناظرین اب تو مرزا اپنے منہ ابتر کاذب جھوٹا ملحد، زندیق، مفتری علی اللہ، مکار، قابل سولی گلے میں رسا ڈالنے کے لائق وغیرہ وغیرہ جو امورات وہ اپنے لئے بشرط جھوٹا ہونے کے پسند کیا کرتا ہے ہوا۔ الحق سچ وہ ہے کہ جو سر پر چڑھ کر بولے۔ اب بھی اگر مرزا کے کاذب ہونے میں کسی کو شک ہے تو حیف ہے اس کی عقل پر کیونکہ مرزا اپنے منہ آسمانی فیصلہ سے جھوٹا اور کاذب ثابت ہوا ہے۔

اور سنئے کہ اس کے ساتھ ہی اس احقر پر لاتعد ولا تحصیٰ برکات نازل ہوئی۔ نمونۃً ایک دو عرض کرتا ہوں۔ اول ملائے اعلیٰ میں قبولیت اور سینہ بے کینہ کے آئینہ حظیرۃ القدس ہونے کا اس کی برکت سے ثبوت ہم نے ضمیمہ اخبار شحنہ ہند یکم جون ١٩٠٠ء میں زیر عنوان ”والذين جاهدوا فينا لنهدينهم سبلنا وان الله مع المحسنين (عنکبوت: ٦٩) “ الہامی پیرایہ میں ترقی فرقہ حقہ اہلحدیث کی تمنا ظاہر کی اور اس کے اسباب بتلائے۔ چنانچہ لکھا:

بسم الله الرحمن الرحيم۔ الحمد لله ملهم الحكم ومفيض النعم والصلوة والسلام على سيد العرب والعجم وعلى اله واصحابہ اهل الفضل والكرم۔ اما بعد اس مالک حقیقی و منعم حقیقی نے سنہ حال ١٣١٧ھ ماہ صیام کی اربعین میں اس عاجز پر وہ وہ احسانات وانعامات واکرامات ارزانی فرمائے کہ جن کا بیان احاطہ تحریر سے باہر ہے اور جن کے ادائے شکر میں زبان عاجز و قاصر اور وہ دعائیں احقر اور احباء احقر کے بارے میں قبول فرمائیں جن کو کہ احقر ہمیشہ خلوص دلی سے مانگا کرتا تھا اور جن کا اظہار خلاف حکمت خداوندی و سرمدی ہے۔ اعلیٰ و افضل ان میں سے یہ ہے کہ اسباب اصلاح فرقہ حقہ اہلحدیث کے اظہار کرنے سے ملہم وموفق ہوا ہے۔ وكم لله من لطف خفى، يدق خفاه عن فهم الذكى ۔

سو واضح ہو کہ اس زمانہ آتش فشاں نئی روشنی میں ہر قوم وملت نے حسب خیالات خود ١٢

ظلمت مذمت سے روشنی عزت میں آنے اور قعر تنزل سے ذروہ کے مگر افسوس ہے کہ کوئی حزب مخصوص اس کی ترقی و اصلاح کے سبیل اللہ اتفاق سے اس امر میں ساعی نہیں معلوم ہوتا۔ مثلاً جـ صدہا جان نثار موحدین متبع سنت موجود تھے۔ اب وہاں دس صـ آئیں گے اور خدانخواستہ کچھ دن اور علمائے کرام کی طرف سے خدمتیں جو انہوں نے اجرائے سنت میں فرمائی تھیں۔ سب رائیگـ سے اجرائے سنت میں مال و دولت عزت و آبرو جسم و جان نثار کـ اللہ ہمت مردانہ کو اتحاد و اتفاق سے کام میں لائیں گے۔ تو ضر تنزل کے عموماً اسباب یہ ہیں۔ بے علمی ۔ بے مروتی ۔ علماء کی نااتفاقی ۔ خود رائی آزادی عقائد حقہ سے روگردانی۔ طریقہ سلف سے انحراف۔ پس امور متذکرہ بالا کی اصلاح اس ذرہ بے مقد اہلحدیث کے اتفاق سے یہ مہم سرانجام کو پہنچ سکتی ہے۔ ہاں اس نہیں۔ اس جرگہ حقہ کے سربرآوردوں کو چاہئے کہ جگہ جگہ انجـ تمام ملک میں ایک پرچہ جو ہر دو پہلو دین و دنیا پر محیط اور ہر د وسائل دینی ترقی دنیاوی کا خبر گیراں ہو۔ تلاش اور جاری کیـ ہو کر یہ پرچہ پڑھا جایا کرے تا کہ بحکم

نہ تنہا عشق از دیدار خـ
بسا کیں دولت از گفتار خـ

ناظرین و سامعین کو اتباع سنت نبوی ﷺ کا شوق اور پیدا ہو اور اس پرچہ میں زیادہ تر زور باہمی اتفاق پر دیا جائے اور اختلاف ہو تو زیادہ سے زیادہ اسکو بمنزلہ اختلاف بعض حنفیہ کے بعض کے ساتھ تصور کیا جائے۔ سو الحمد للہ کہ خداوند عالم نے غائباً کسی دل میں ڈالا اور کانفرنس اہلحدیث کی بناء قائم ہوئی۔ اس الہـ الحمد للہ سو اجرائے پرچہ ہائے مذہب اہلحدیث ہے۔ فلہـ ١٣

صفحہ ٢٢٧

ظلمت مذلت سے روشنی عزت میں آنے اور قعر تنزل سے ذروہ ترقی پر چڑھنے کے اسباب پیدا کئے مگر افسوس ہے کہ کوئی حزب مخصوص اس کی ترقی و اصلاح کے لئے نامزد نہیں اور کوئی جند مجاہد فی سبیل اللہ اتفاق سے اس امر میں ساعی نہیں معلوم ہوتا۔ مثلاً جس جگہ دس سال سے پہلے پہلے صد ہا جان نثار موحدین متبع سنت موجود تھے۔ اب وہاں دس صاحب بھی عامل بالحدیث نظر نہ آئیں گے اور خدانخواستہ کچھ دن اور علمائے کرام کی طرف سے یہی عدم توجہی رہی تو ان کی وہ خدمتیں جو انہوں نے اجرائے سنت میں فرمائی تھیں۔ سب رائیگاں جائیں گی اور پھر نئے سرے سے اجرائے سنت میں مال ودولت عزت و آبرو جسم و جان نثار کرنے پڑیں گے اور اگر توکلاً علی اللہ ہمت مردانہ کو اعتماد واتفاق سے کام میں لائیں گے۔ تو ضرور کامیاب ہوں گے۔ اس قلت وتنزل کے عموماً اسباب یہ ہیں۔ بے علمی ۔ بے مروتی۔ علماء کی جناب میں بے ادبی ۔ باہمی بے اتفاقی ۔ خودرائی آزادی عقائد حقہ سے روگردانی۔ طریقہ سلف صالح ۔ قرون مشہود لہا بالخیر سے انحراف۔ پس امور متذکرہ بالا کی اصلاح اس ذرہ بے مقدار کا کام نہیں ۔ بلکہ مشاہیر علماء اہلحدیث کے اتفاق سے یہ مہم سرانجام کو پہنچ سکتی ہے۔ ہاں اس کی تدبیر عرض کر دینی غیر مناسب نہیں۔ اس فرقہ حقہ کے سر بر آوردوں کو چاہئے کہ جگہ جگہ انجمنیں بنام اہلحدیث قائم ہوں اور تمام ملک میں ایک پرچہ جو ہر دو پہلو دین ودنیا پر محیط اور ہر دو بازو پر اڑتا ہو یعنی بوجہ اتم واکمل وسائل دینی ترقی دنیاوی کا خبر گیراں ہو ۔ تلاش اور جاری کیا جاوے اور ہفتہ وار انجمنیں منعقد ہو کر یہ پرچہ پڑھا جایا کرے تا کہ بحکم

نہ تنہا عشق از دیدار خیزد
بسا کیں دولت از گفتار خیزد

ناظرین وسامعین کو اتباع سنت نبوی ﷺ کا شوق اور پیروی حدیث رسول ﷺ میں حمیت پیدا ہو اور اس پرچہ میں زیادہ تر زور باہمی اتفاق پر دیا جائے اور اگر کسی مسئلہ میں باہم علماء اہلحدیث کا اختلاف ہو تو زیادہ سے زیادہ اسکو بمنزلہ اختلاف بعض حنفیہ کے بعض حنفیہ کے ساتھ یا بعض ائمہ کے بعض کے ساتھ تصور کیا جائے۔ سو الحمد للہ کہ خداوند عالم نے ثانیاً اس امر کا الہام سر بر آوردگان اہلحدیث کے دل میں ڈالا اور کانفرنس اہلحدیث کی بناء قائم ہوئی۔ اس الہام کے ثمرہ سے ترقی واشاعت مذہب اہلحدیث ہوا جو کہ پرچہ ہائے مذہب اہلحدیث ہے۔ فلیعلم ویتدبر۔

١٣

صفحہ ٢٢٩

دوم ...... مولوی ابوالوفاء ثناء اللہ صاحب و جماعت غزنویوں میں جو مناقشہ دینی تھا اس میں جو فتویٰ احقر نے دیا تھا اور جو اخبار شحنہ ہند مطبوعہ ١٦؍ دسمبر ١٩٠٤ء میں طبع ہو چکا ہے۔ یعنی جواب سوال مندرجہ صفحہ ١٠٨ الکلام المبین فی جواب الاربعین قبل اس کے کہ سوال کا جواب دیا جائے۔ یہ امر ظاہر کرنا ضروری معلوم ہوتا ہے کہ مولوی ثناء اللہ صاحب نے بوجہ التزام تفسیر القرآن بکلام الرحمٰن آیات کی تفسیر آیات سے اجتہادی طور پر کی اور اختصاراً نہ کہ انکاراً بعض اقوال علماء و احادیث کو نظر انداز کر گئے۔ طرفہ یہ کہ بعض جگہ عبارت ذو معنی لکھی گئی اور بعض جگہ بعض علماء معتزلہ کے اقوال سے توارد اور توافق واقع ہوا جس سے علماء کو شبہ ہوا کہ مولوی صاحب اقوال علماء اہل سنت و احادیث نبوی سے روگرداں ہیں۔ مولوی عبدالحق صاحب غزنوی سے بھی یہ غلطی ہوئی کہ انہوں نے بطور پرائیویٹ پہلے فیصلہ کرنے کی درخواست نہ کی تا کہ طول نہ کھنچتا اور دراصل مولوی عبدالحق کو علم غیب تو تھا ہی نہیں کہ فتویٰ طلب نہ کرتے۔ الجواب واضح ہو کہ میری رائے میں وہ غلطی جو تفسیر اور الکلام المبین میں مولوی صاحب سے واقع ہوئی۔ محض بمنزلہ اجتہادی غلطی کے ہے۔ پس مولوی صاحب بوجہ پابندی اصول اہل سنت و اقرار اتباع کتاب وسنت فرقہ اہل سنت واہل حدیث سے اس ناچیز کے خیال ناقص میں خارج نہیں ہے اور مولوی صاحب کی لغزشیں ایسی ہیں جیسے مشاہیر علماء دین متقدمین کے بعض مسائل میں امید کرتا ہوں کہ مولوی صاحب ان لغزشوں سے مع ان لغزشوں کے جو ان سے الکلام المبین فی الجواب الاربعین میں بھی سرزد ہوئی ہیں۔ بہت جلد رجوع فرما کر مفتیان علماء اہلحدیث کی آنکھیں ٹھنڈی کریں گے۔ بہر کیف علماء اہلحدیث مولوی صاحب کے عذرات کی جانب خیال وغور سے توجہ فرما کر مولوی صاحب کو اہلحدیث سے خارج فرمانے کو منسوخ فرما دیں اگر بقول مولوی محمد حسین صاحب خدا نہ کرے کوئی ایسا دن آجائے کہ مولوی ثناء اللہ صاحب بھی مثل مرزا و چکڑالوی احادیث نبوی سے انکار کریں تو اس وقت ان کے پیش کش یہی خلعت (اہلحدیث سے خارج) کر دیں۔ کیونکہ ظاہر پر حکم کرنا مسئلہ مسلمہ ہے۔ والسلام علیٰ من اتبع الہدیٰ۔

الراقم فقیر ابو المنظور محمد عبدالحق از سرہند مورخہ ٢؍ ستمبر ١٩٠٤ء

ایک نقل اس کی بخدمت منیجر اخبار اہلحدیث کو بھی ارسال ہوئی۔ (عبدالحق)

١٤

بعینہٖ یہی نتیجہ محاکمہ کا آرہا ہے کہ جو گویا نتیجۃ المحاکمہ ) تفسیر القرآن بکلام الرحمٰن کے مقابل خیالات کو تائید پہنچا سکتے ہیں اور اہل سنت اہلحدیث اس تفسیر سے تمسک کریں یہ تو مولوی ثناء اللہ صاحب نہیں ہے۔ (فاعتبروا یا اولی الابصار تفسیر لکھنے کے سبب سے مولوی ثناء اللہ صاحب اہلحدیث کہلائے ہیں یعنی خارج نہیں ہے اور یہی مطلب پہلے ہو چکا تھا اگرچہ یہاں۔

زمستی ہا چو غنچہ
حریفاں مستی

کہنا موزوں نہیں مگر بہ نیت اظہار حقیقت

باور دارد ایں حرف
کہ ظل عالم اقدس

اور لکھنا مناسب نہ ہوگا۔ ادھر مقابلہ ثابت ہوئے ہیں۔ انہوں نے اپنا کشف ظاہر کیا اور ایک اور صاحب آخرالزمان کے معتقد ہوں گے سابقہ پر قائم ہیں اور الٰہی بخش مرحوم اس راہ مستقیم موسٰی (دیکھو مسیح الدجال) غرق بحر خسران کر کے (حقیقت الوحی ص ٢١٨، خزائن ج ٢٢ ص ٢٢٨) پر اکتفا عرصہ گزرا ہے کہ میں نے ایک اشتہار شائع کیا تھا کہ میں چار لڑکے دوں گا جو عمر پائیں گے۔ اسی جو ج ١٩ ص ٣٦٠) میں اشارہ ہے یعنی اس عبارت میں اربعة من البنين وانجز وعده من الـ سالی میں مجھ کو چار لڑکے دیئے اور اپنا وعدہ پورا کیا

صفحہ ٢٢٩

بعینہ یہی نتیجہ محاکمہ آرہ کا ہے کہ جو گویا تمام علماء اہلحدیث ہند کی طرف سے ہے (یعنی نتیجہ المحاکمہ) تفسیر القرآن بکلام الرحمٰن کے مقامات مذکورہ بلاشبہ ایسے ہیں کہ فرق ضالہ کے خیالات کو تائید پہنچا سکتے ہیں اور اہل سنت اہلحدیث کے مخالف اس سے خوش ہوں اور عندالمقابلہ اس تفسیر سے تمسک کریں یہ تو مولوی ثناء اللہ صاحب کا گویا اقرار ہی ہے کہ محدثانہ روش پر یہ تفسیر نہیں ہے۔ (فاعتبروا یا اولی الابصار والجزء الثانى للمحکمۃ ) باقی رہا یہ امر کہ تفسیر لکھنے کے سبب سے مولوی ثناء اللہ صاحب اہلحدیث سے خارج ہوگئے نہیں اولاً ہم اس کو اوپر لکھ آئے ہیں یعنی خارج نہیں ہے اور یہی مطلب مضمون آئندہ کا ہے۔ غرض اس نتیجہ کا اظہار عرصہ پہلے ہو چکا تھا اگر چہ یہاں۔

زمستی ہا چو غلطیدم بہر سو
حریفاں مستی از من وام کرد ند

کہنا موزوں نہیں مگر بہ نیت اظہار حقیقت و شکر اللہ کہ۔

باور دارد ایں حرف از فقیر خاکسار
کہ ظل عالم اقدس است انکار و قبول

اور لکھنا مناسب نہ ہوگا۔ ادھر مقابلہ مرزا قادیانی کو دیکھو کہ ان کی پیشین گوئیاں کیسی غلط ثابت ہوئی ہیں۔ انہوں نے اپنا کشف ظاہر کیا تھا کہ مولوی محمد حسین صاحب و الہی بخش مرحوم اور ایک اور صاحب اس الہام کے معتقد ہوں گے۔ مگر تا حال مولوی محمد حسین صاحب سلمہ بہ عقیدہ سابقہ پر قائم ہیں اور الہی بخش مرحوم اس راہ مستقیم پر مرزا کو فرعون کہتے ہوئے اور بذریعہ عصائے موسیٰ (دیکھو مسیح الدجال) غرق بحر خسران کرتے ہوئے رونق بخش خلد بریں ہوئے۔ اسی طرح (حقیقۃ الوحی ص ٢٦٨، خزائن ج ٢٢ ص ٢٦٨) پر اکتالیسواں نشان یہ لکھا ہے کہ: ”عرصہ بیس یا اکیس برس کا گزرا ہے کہ میں نے ایک اشتہار شائع کیا تھا جس میں لکھا تھا کہ خدا نے مجھ سے وعدہ کیا ہے کہ میں چار لڑکے دوں گا جو عمر پائیں گے۔ اسی پیشین گوئی کی طرف (مواہب الرحمٰن صفحہ ١٣٩، خزائن ج ١٩ ص ٣٦٠) میں اشارہ ہے یعنی اس عبارت میں الحمد لله الذی وهب لی علی الکبر اربعۃ من البنین وانجز وعدہ من الاحسان۔ یعنی اللہ تعالیٰ کو حمد و ثناء جس نے پیرانہ سالی میں مجھ کو چار لڑکے دیئے اور اپنا وعدہ پورا کیا (جو میں چار لڑکے دوں گا) چنانچہ وہ چار لڑکے یہ

١٥

صفحہ ٢٣١

ہیں محمود احمد، بشیر احمد، شریف احمد اور مبارک احمد جو زندہ موجود ہیں۔“ مگر افسوس کہ ایک لڑکا مبارک احمد جو سب سے کم عمر تھا اور اس کے عمر پانے کا وعدہ الٰہی تھا، مر گیا اور یہ نشان بے نشان اور یہ وعدہ خلاف اور یہ پیشین گوئی غلط ہوئی۔

اب ہم اس قبولیت ملاء اعلیٰ کے پرتو وضع القبول کو ہر طبقہ کے اکابر کے اقوال کی شہادت سے ثابت کرتے ہیں۔ طبقہ علماء علاوہ ان کثیرۃ التعداد شہادات سے جو مشائخ واساتذہ و ہمعصر علماء کی طرف سے اعلیٰ درجے کے معزز الفاظ میں احقر کو مرحمت ہوئے ہیں۔ یہاں محض ایک آدھ ہم عصر کی شہادت تحریر ہے۔ ایک عالم و فاضل ہماری ایک تحریر کو ملاحظہ فرما کر لکھتے ہیں۔ بخدمت شریف محی السنۃ قامع البدعۃ جناب مولانا مولوی ابو المنظور محمد مظہر الحق المدعو محمد عبدالحق صاحب اسلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ واضح رائے شریف ہو۔ ٩ ربیع الثانی کو آپ کا فیصلہ بابت طلاق ثلاث دیکھ کر نہایت خوشی حاصل ہوئی۔ خداوند کریم آپ جیسے علماء حقانی کو ترقی حیات عنایت فرماویں کہ خلق اللہ کو فیض اسلام پہنچے۔ ایک صاحب جو فرید عصر اور وحید دہر ہیں تحریر کرتے ہیں۔ باطنی توجہ فرمائیے کہ انتشار دفع ہو خطرات دور ہوں۔ خدا کی جانب زیادہ لو لگے۔ اکثر جب جناب کا خیال آتا ہے تو بے تحاشا رقت پیدا ہوتی ہے۔ اس نسبت سے جناب ہی واقف ہوں گے۔ ذکر شغل کے لئے ارشاد فرمائیں۔ دوسری جگہ تحریر کیا۔ آپکی دعا نیک میرے لئے وہی اثر رکھتی ہے۔ جو ابر مطیر خشک زراعت کے لئے، اہل حدیث میں یبوست اور سخت دلی پھیلتی جاتی ہے۔ آپ کے سواء کوئی منبع طریقت نظر نہیں آتا۔

ایک اہل علم مدینہ منورہ سے تحریر فرماتے ہیں۔ بخدمت فیض درجت فیض بخش فیض رسان تکیہ گاہ نیازمندان مولانا و مرشد نا و ہادینا واستاذنا مولوی عبدالحق صاحب دام الطافکم ومدظلکم! (الخ)” آپ نے مجھ کو ایک دفعہ ایک استخارہ بتلایا تھا اور اس کو میں نے کیا تھا سو وہ برابر ہوا تھا کہ میں عشاء کے بعد دو رکعت نماز پڑھ کر سو گیا تھا۔ سو اپنے گھر کے تمام لوگوں کو خواب میں دیکھا تھا اور ان سے باتیں کی تھیں اور اب میں اس کو بھول گیا ہوں وہ کونسا استخارہ تھا جو آپ نے مجھ کو بتلایا تھا بڑا سریع الاثر تھا۔ آپ اس کو بالترکیب اور بالترتیب مفصل طور پر تحریر فرما کر اس خط کے جواب کے ساتھ لفافہ میں بند کر کے عنایت فرمائیں ۔“ غرض اگر خوف طوالت نہ ہو تو ایسی ١٦

صد ہا شہادتیں اور نیز تحریر میں آتیں۔

اب مقابلتاً مرزا قادیانی کی جانب ذرا عنا لوگوں کے دلوں کے جو مصداق حب الشئے یعمی و ی ذرا بھی نہیں بلکہ جن کو ازل سے نور علم ویقین ملا ہے و اس دعوت کے بعد ایسا ذلیل وخوار ہوا کہ اغرب الغ عبدالحکیم خان صاحب وغیرہ کا علیحدہ ہو کر تردید پر کمر ایک صاحب لکھتے ہیں کہ: ”مرزا کے الحاد کا دھڑ ٹوٹ خلوص کی برکت ہے۔“

(طبقہ حکام) تحصیلدار صاحب سرہند لک اوصاف مستقل تحصیلدار صاحب اور صاحب سپرنٹنڈ چکے ہیں۔ اس لئے مکرر اعادہ کی ضرورت نہیں سمجھ درویش سیرت بزرگ کا وجود پبلک اور سرکاری آفسر مغنمات سے ہے۔ اور پرسنل اسسٹنٹ ممبر کونسل ر سپرنٹنڈنٹ بھی ہیں تحریر کرتے ہیں۔ بخدمت مولوی عبدالحق صاحب متولی مسجد تسلیم! بتاریخ ٢٣ چیت ١٩٦١ یادداشت بخد اس وقت تک کوئی جواب میرے پاس نہیں پہنچا۔ جلد پاس بھیج دیں تحریر ۔ ٢١ بیساکھ ١٩٦٢ الراقم

ایسی اور بہت سی تحریرات ہیں کہ جن کی ر وقعت ہے اور یہ کہ فقیر کا وجود ان کے نزدیک مقبول ہ ادھر مرزا قادیانی کی جانب غور کریں ک کٹہرے میں جوتے گئے۔ کئی کئی گھنٹے کھڑا رہنا پڑا، بعد حسب قول مرزا قادیانی بری ہونے سے بھی بری ١٧

صفحہ ٢٣١

صدہا شہادتیں اور نیز تحریر میں آتیں۔

اب مقابلتاً مرزا قادیانی کی جانب ذرا عنان توجہ کریں۔ ان کی وقعت سوائے ان لوگوں کے دلوں کے جو مصداق حب الشئے یعمی ویصم ہیں۔ کسی اہل علم کے دل میں ذرا بھی نہیں بلکہ جن کو ازل سے نور علم ویقین ملا ہے وہ اس کو ملحد زندیق جانتے ہیں اور ہماری اس دعوت کے بعد ایسا ذلیل وخوار ہوا کہ اغرب الغرائب اعجب العجائب سے ہے۔ ڈاکٹر عبدالحکیم خان صاحب وغیرہ کا علیحدہ ہو کر تردید پر کمر بستہ ہونا اس امر کے شواہد میں سے ہے ایک صاحب لکھتے ہیں کہ: ”مرزا کے الحاد کا دھڑ ٹوٹ گیا ہے۔ یہ سب جناب والا کی توجہ اور خلوص کی برکت ہے۔“

(طبقہ حکام) تحصیلدار صاحب سرہند لکھتے ہیں صاحب موصوف (احقر) کے اوصاف مستقل تحصیلدار صاحب اور صاحب سپرنٹنڈنٹ بندوبست سرہند مفصل طور پر تحریر فرما چکے ہیں۔ اس لئے مکرر اعادہ کی ضرورت نہیں ہے۔ (الخ) پس ایسے برہمہ صفت موصوف درویش سیرت بزرگ کا وجود پبلک اور سرکاری افسروں کے لئے اس جگہ بہت بڑا مفید اور مغتنمات سے ہے۔ اور پرسنل اسسٹنٹ ممبر کونسل ریاست عالیہ پٹیالہ جو محکمہ اتھوگریفی کے سپرنٹنڈنٹ بھی ہیں تحریر کرتے ہیں۔

بخدمت مولوی عبدالحق صاحب متولی مسجد سدھنا سرہند تسلیم ! بتاریخ ٢٣ چیت ١٩٦١ یادداشت نمبر ١٠٥۔ آپ کی خدمت میں روانہ کی گئی تھی اس وقت تک کوئی جواب میرے پاس نہیں پہنچا۔ جلد ان سوالات کے جوابات تحریر کر کے میرے پاس بھیج دیں تحریر۔ ٢١ بیساکھ ١٩٦٢ الراقم رام سنگھ سپرنٹنڈنٹ اتھوگریفی ریاست پٹیالہ

ایسی اور بہت سی تحریرات ہیں کہ جن کی رو سے حکام کے نزدیک بھی اس احقر کی اعلیٰ وقعت ہے اور یہ کہ فقیر کا وجود ان کے نزدیک مقبول ہے نہ کہ مکروہ

ادھر مرزا قادیانی کی جانب غور کریں کہ ہماری اس دعوت کے بعد مقدمات کے اکھاڑے میں جوتے لگے۔ کئی کئی گھنٹے کھڑا رہنا پڑا، ضمانتیں لی گئیں فرد جرم لگائے گئے کہ جس کے بعد حسب قول مرزا قادیانی بری ہونے سے بھی بری خیال نہیں کئے جاسکتے۔ جرمانہ کئے گئے اور

١٧

صفحہ ٢٣٣

نفسانی جسمانی آفات کے جو مورد ہوئے کہ جس کی تکمیل مرگ مبارک احمد سے ہوئی اس کا کچھ حدوحساب میں نہیں۔

گویا حکام وقت کے نزدیک مرزا قادیانی کا وجود ہونا مبارک باغ دنیا میں سبزہ بے گانہ ہے۔ جس کو وہ بیلچہ قانون سے باہر کرنا چاہتے ہیں۔ (اجابت دعوات) ان بے شمار مواقع میں سے کہ جن کی تحریر کے لئے ایک دفتر درکار ہے۔ محض ایک دو تحریر ہیں۔ مسجد جامع سرہند کے قریب آبکاری تھی۔ جس کی چھت سے نہایت درجہ تکلیف ہوتی تھی۔ ایک دفعہ احقر نے داروغہ آبکاری سے کہا کہ اس بدبو کا کچھ انتظام کرادو۔ انہوں نے کہا کہ اس کا کچھ انتظام نہیں ہوسکتا۔ اس جواب سے بھی نہایت آزردہ ہوا اور خداوند باری کی جناب میں دعا کی کہ یا الٰہی اس کا انتظام تو ہی کرنے والا ہے۔ کچھ عرصہ نہ گزرا تھا کہ تمام آبکاری ہائے بند ہو کر محض ایک آبکاری عذر میں قائم ہونے کا حکم ہو گیا اور اس طرح یہ زمانہ دراز کی آبکاری بند ہو گئی۔ اسی طرح احقر نے بوقت شادی خانہ آبادی جناب نواب احمد علی خان صاحب بالقابہ والی۔ مالیرکوٹلہ بمقام ٹونک بوجہ اس محبت کے کہ جو جناب نواب تارک تاج و درہم ثانی ابراہیم ادھم ہز ہائینس نواب محمد ابراہیم علی خان صاحب بارک اللہ فی اولادہ کی جانب سے لڑکپن میں دیکھی تھی۔ بطور شکریہ چند اشعار دعائیہ کہے تھے۔ منجملہ ان کے یہ تھا۔

حق سے ھو عطا چراغ دودہ
ھو بزم جہان میں رونق آل

چنانچہ خداوند عالم نے محض اپنے فضل و کرم سے جناب نواب احمد علی خان صاحب ممدوح الشان کو دو صاحبزادے عنایت کئے۔ مرزا قادیانی اگر آپ اس کی تصدیق چاہتے ہیں کہ یہ صاحبزادے ہماری ہی دعا سے ہوئے۔ تو آئیے آپ کو اس کی تصدیق تائید ایزدی سے کرائیں یعنی یہ ہر دو صاحبزادے اسی شادی ٹونک والی سے ہوئے کہ جس کے بارے میں دعا کی گئی تھی۔ ورنہ پہلے بھی جناب نواب صاحب بالقابہ کے حرم محترم تھے اور بعد میں اور بھی ہوئی۔ مگر چراغ دودہ یعنی ولیعہد اسی ٹونک والی سے ہوئے کیونکہ مرزا قادیانی آپ نے جو پانچ سو روپیہ لے کر کسی کے لڑکا ہونے کے لئے دعا کرنے کا وعدہ کیا تھا وہ دعا مقبول ہوئی؟ یا یہ جو اخلاص سے کی گئی حدیث قدسی میں صداقت و قبولیت کی علامت بیان فرمائیے۔ وكنت لسانه الذي يتكلم یعنی ١٨

مرد با خدا کی زبان پر خدا خود کلام کرتا ہے اور اس کا گفتہ کیس اور اسی طرح ایک موذی کافر کے تئیں مجمع عا کہ وہ معہ اپنے اکلوتے بیٹے کے آنجہانی ہوا۔ اسی طر یہیں ان کے ایک لڑکے جوان صاحب اولاد نے گستاخ ہو گیا اور اس کا لڑکا بیمار ہو گیا پہلے تو چپکے چپکے علاج کروا قریب آیا تو آنکھیں کھلیں اور مایوس ہو کر اس کے چچا ز کے غلام ہیں۔ آپ ہم کو اپنا مرید سمجھو اور لڑکے پر دم شک اسی گستاخی کی شامت ہے جبکہ فقیر ان کے مکان پ کہ بھائی اب صبر کا وقت ہے ہم دعا کرتے ہیں کہ تم کو خ تو بے چارہ ملک عدم کو سدھارا۔ مگر اس دعا اور قدم م دیا جو زندہ موجود ہے اسی طرح ڈاکٹر محمد خان نیٹو ریاس احقر کے سمجھانے ڈرانے پر بھی باز نہ آیا بلکہ مصر ہو کر مقا حق میں بددعا کی گئی۔ وہ بمرض طاعون نہایت خرابی کے کے لئے جو ناممکنات سے تھی دعا کی گئی۔ خداوند تعالیٰ کر دیا۔ اسی طرح حافظ حلیم سوداگر چرم بسوی ثم الکلکت چندہ شکریہ میں عوض مسجد کے فوارہ کی بناء میں یہ شعر فرما بنوائی اور حسب دستور بطور یاد دہانی کے رکھے گئے مگ روپیہ واپس لے لیا بس پھر کیا تھا۔ ان کا بازو (منشی شا کی کمی محسوس ہوئی بعد سہر بھی آنجہانی ہوا۔ اور یہ شعر

فرش سے منبر ہو
از راہ اغوائے

اسی طرح ایک عالی منصب نے حسب پڑا۔ مگر چونکہ اس کی ذلت میں اسلامی کمزوری محسو ہوئے۔ نہایت عجز و ادب کے ساتھ ان کو اس عذاب ١٩

صفحہ ٢٣٣

مرد باخدا کی زبان پر خدا خود کلام کرتا ہے اور اس کا گفتہ کبھی خلاف واقعہ اور جھوٹ نہیں ہوتا۔

اور اسی طرح ایک موذی کافر کے تئیں مجمع عام میں بددعا کی گئی۔ چند دن نہ ہوئے تھے کہ وہ معہ اپنے اکلوتے بیٹے کے آنجہانی ہوا۔ اسی طرح ہماری پڑوس میں جو بکریوں والے رہتے ہیں ان کے ایک لڑکے جوان صاحب اولاد نے گستاخی کی بس پھر کیا تھا غضب الہی میں گرفتار ہو گیا اور اس کا لڑکا بیمار ہو گیا پہلے تو چپکے چپکے علاج کرواتے رہے مگر جب جاں بحق ہونے کا وقت قریب آیا تو آنکھیں کھلیں اور مایوس ہو کر اس کے چچا روتے ہوئے آئے اور کہنے لگے کہ ہم آپ کے غلام ہیں۔ آپ ہم کو اپنا مرید سمجھو اور لڑکے پر دم کرو اور لڑکے کی گستاخی معاف فرماؤ۔ بے شک اسی گستاخی کی شامت ہے جبکہ فقیر ان کے مکان میں گیا تو وہاں کیا پڑا تھا آخر ان کو بتلایا گیا کہ بھائی اب صبر کا وقت ہے ہم دعا کرتے ہیں کہ تم کو خدا اس کا نعم البدل عطا کرے۔ القصہ وہ لڑکا تو بے چارہ ملک عدم کو سدھارا۔ مگر اس دعا اور قدوم برکت کے طفیل خداوند نے اس کو دوسرا لڑکا دیا جو زندہ موجود ہے اسی طرح ڈاکٹر محمد خان پنشنر ریاست پٹیالہ نے فرقہ حقہ اہلحدیث کی تحقیر کی اور احقر کے سمجھانے ڈرانے پر بھی باز نہ آیا بلکہ مصر ہو کر مقابلہ اور ایذاء کے درپے ہوا۔ اس پر اس کے حق میں بددعا کی گئی۔ وہ بمرض طاعون نہایت خرابی کے ساتھ مرا۔ اسی طرح ایک دوست کی تبدیلی کے لئے جو ناممکنات سے تھی دعا کی گئی۔ خداوند تعالیٰ نے غیب سے سامان مہیا کر کے اس کو تبدیل کر دیا۔ اسی طرح حافظ حلیم سوداگر چرم ہنسوی ثم الکانپوری نے فقیر کی مسجد کے واسطے دو صد روپے دیئے۔ جسکے شکریہ میں عوض مسجد کے منارہ کی بناء میں یہ پختہ فرش کے بانی ہوئے۔ حافظ حلیم از رو ارشاد حق عم نوالہ اور حسب دستور بطور یاد دہانی کے رکھے گئے۔ مگر بعض نالائق و شیطان الرجیم کے اغواء سے وہ روپیہ واپس لے لیا بس پھر کیا تھا۔ ان کا بازو (منشی شاد علی مر گیا) ٹوٹ گیا۔ کارخانہ میں بجائے نفع کے کمی محسوس ہوئی بعدہ پسر بھی آنجہانی ہوا۔ اور یہ شعر بر سر حوض لکھا جانا تجویز ہوا۔

فرش سے منکر ہوئے حافظ حلیم
از راہ اغوائے شیطان الرجیم

اسی طرح ایک عالی منصب نے حسب عادت گستاخی کی پھر کیا تھا غضب الہی ٹوٹ پڑا۔ مگر چونکہ اس کی ذلت میں اسلامی کمزوری محسوس ہوئی اور نیز دگر تعلقات بھی ایسے ہی حائل ہوئے۔ نہایت عجز و ادب کے ساتھ ان کو اس عذاب وغضب سے محفوظ و مامون رہنے کی دعا دی

١٩

صفحہ ٢٣٥

کی گئی جو منظور ہوئی۔ مگر اس کا نظارہ نمونہ دکھلایا گیا کہ ان سے متعدی نہ ہوا اور ان کو دینی و دنیوی نقصان نہ پہنچا۔ محض ان کا نفس ضرور متاثر ہوا اور یہ نمونہ بالکل گستاخی کا تھا۔ اسی طرح امیر حبیب اللہ خان صاحب والی کابل خلد اللہ ملکہ کی تشریف آوری پر محض اسلامی اخوت و تعلق کے لحاظ سے خیر مقدم اور دعا گوئی ہدیہ نہایت خلوص سے کی گئی اور خان بہادر مولا بخش خان صاحب بٹالوی خود دست مبارک پر اٹھا کر سرمیکموہن صاحب کی خدمت میں لے گئے اور صاحب موصوف خود احقر کے پاس تشریف لائے اور گورنمنٹ کی طرف سے نہایت خوشی کے ساتھ اجازت پیش کرنے کی دی۔ پس اس کے ساتھ یہ سلوک ہوا کہ پیش تک نہ ہوئے اور رجماً بالغیب اس سراپا برکات دینی و دنیوی کو مثل لغویات کے سمجھایا گیا کہ جس سے علاوہ مبالغ کثیر زر خطیر خرچ ہونے کے دلشکنی اور تضحیک بھی ہوئی خاطر فاطر کو نہایت تردد ہوا۔ کیونکہ اس کی جناب میں فقیر امیر سب یکساں ہیں۔ اور جو حق کی پیروی اور تابعداری نہیں کرتا۔ وہ متبعین میں سے نہیں سمجھا جاتا پس دعا کی گئی کہ اے ستار و غفار اس کے معاوضہ میں سے اس اسلامی سلطنت کو محفوظ رکھیو چنانچہ وہ دعا قبول ہوئی اور امیر صاحب صانہ اللہ تعالٰی عن شرور الدہور کو خداوند عالم نے اس استغناء کے معاوضہ سے محفوظ رکھا اور ایک نہایت خفیف اور ہلکے امر سے اپنے اس غیظ و غضب کو جو بوجہ اس کے جوش میں آیا تھا بدل دیا یعنی قضا و قدر نے عالم غیب سے معاہدہ روس وانگلستان کی صورت کو عالم شہود میں جولانی دی کہ جس میں حضرت امیر سلمہ اللہ کو ہزہائینس بجائے ہزمیجسٹی لکھے جانے کی بھی خبر اخباری دنیا میں گشت لگا رہی ہے وغیر ذالك فاعتبروا یااولی الباب اور یہ دونوں امر بالکل مشابہ اپنے موجب کے تھے اور یہ قصے خذ بيدك ضغثا ...... ولا تحنث قصہ حضرت ایوب علیہ السلام کے مصداق و مثل ہوئے اسی طرح رفیع جمعدار شاہی سرہند جو ایک بدعتی شخص ہے۔ احقر کی ایذاء اور تکلیف کے درپے ہوا اور سکنائے سرہند کی جانب سے مصنوعی تحریر پر غلط مصالحہ لگا کر بامداد استاد خود تصویر علی اس تحریر کو شائع کیا۔ شان ایزدی کہ اس تحریر کے شائع ہوتے ہی اس کا لڑکا اور بیوی دونوں مر گئے اور اس کا خانہ خراب ہوا اور تصویر علی ایک مجلس تعزیت سے اس ذلت و خواری سے بھاگا جس سے بالا ممکن نہیں اور اہل سرہند نے ہماری تائید اور بریت میں تحریر دے کر ان کو جھوٹا ثابت کیا چنانچہ وہ تحریر یہ ہے۔

ہم مقیم ان بطور گواہی تحریر کرتے ہیں کہ جو استفتاء مصنوعی ہماری طرف سے بحق جناب

٢٠

مولانا مولوی ابو المنظور محمد عبدالحق صاحب کوٹلوی ال و فاضل ہیں اور جن کا فیضان علم سرہند اور ریاست پ میں آپ کے فتویٰ بڑی قبولیت کی نظر سے دیکھے جا کہ سوائے قرآن وحدیث آپ اپنی طرف سے کچھ فتویٰ حاصل کیا جا کر مشتہر کیا گیا ہے۔ یہ ہمارے پ سے نہیں دیکھا جاتا اور جن کو مولوی صاحب سے بغ کے شاگرد رفیع الدین جمعدار بانی استفتاء کا سراسر ا سے وہ ہیں جو ہمیشہ عیدین مولوی صاحب مذکور ک دوسری عید گاہ میں تشریف لے جانے کے ان کے ف سننے سے محروم رہے۔ اور بعض وہ ہیں کہ آگے بھی م کے بھی ان کے پیچھے نہیں پڑھی اور بعض وہ ہیں کہ ج کے اصرار کر کے اور تکلیف دے کر لائے اور خوشی ک کو نہیں ہوا کیونکہ بعد ادائے عید بڑی منت سے م نہ دی۔ مگر افسوس کہ ان مفسدوں نے اپنی طرف رنجش پیدا کرنے میں کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کیا ب پہنچانے کا ترت بدلہ دیا۔ یعنی رفیع الدین جمع دار خراب ہوا اور میاں جی تصویر علی ایک مجلس سے ای ممکن نہیں۔ والسلام على من التبع الهدیٰ

اذنته بالحرب

اسی طرح بہت سی مستورات کو جن کو تھی۔ جن میں ایک صاحب مرزائی بھی ہیں کچھ ہو کر زندہ ہیں۔ ادھر مرزائی دعوت کا حال روز روش

اب آخر میں مرزا کے خاص دعوے پ مرنا اور جینا ایک ایسا امر ہے کہ اس میں بحث عبث

صفحہ ٢٣٥

مولانا مولوی ابو المنظور محمد عبد الحق صاحب کوٹلوی السر ہندی متولی مسجد جامع کو جو بڑے تبحر عالم وفاضل ہیں اور جن کا فیضان علم سر ہند اور ریاست پٹیالہ میں ہی محدود نہیں بلکہ کل اقطار واطراف میں آپ کے فتویٰ بڑی قبولیت کی نظر سے دیکھے جاتے ہیں اور جن کی بابت تجربہ نے ثابت کر دیا کہ سوائے قرآن وحدیث آپ اپنی طرف سے کچھ نہیں کہتے اور قرآن وحدیث کے عامل ہیں، فتویٰ حاصل کیا جا کر مشتہر کیا گیا ہے۔ یہ ہمارے پر میاں جی تصویر علی کا کہ جن کو عوام میں اچھی نگاہ سے نہیں دیکھا جاتا اور جن کو مولوی صاحب سے بوجہ تردید بدعت و شرک خاص مخالفت ہے اور اس کے شاگرد رفیع الدین جمعدار بانی استفتاء کا سراسر افتراء اور بہتان اور جعل ہے۔ اکثر ہمارے میں سے وہ ہیں جو ہمیشہ عیدین مولوی صاحب مذکور کے پیچھے پڑھتے تھے مگر اب کی دفعہ بوجہ ان کے دوسری عید گاہ میں تشریف لے جانے کے ان کے پیچھے نماز عید الفطر پڑھنے اور وعظ قرآن وحدیث سننے سے محروم رہے۔ اور بعض وہ ہیں کہ آگے بھی مولوی صاحب کے پیچھے عید کم پڑھی ہوگی اور اب کے بھی ان کے پیچھے نہیں پڑھی اور بعض وہ ہیں کہ جو خود مولوی صاحب کو باوجود ان کے انکار کرنے کے اصرار کر کے اور تکلیف دے کر لائے اور خوشی بخوشی ان کے پیچھے عید پڑھی اور کوئی شبہ وتردد ہم کو نہیں ہوا کیونکہ بعد ادائے عید بڑی منت سے مولوی صاحب سے اپنی مسجد میں جمعہ پڑھوایا اور نذر دی۔ مگر افسوس کہ ان مفسدوں نے اپنی طرف سے آگ فساد بھڑکانے اور اہل اسلام میں شکر رنجی پیدا کرنے میں کوئی دقیقہ فروگذاشت نہیں کیا۔ ہاں خداوند عالم نے ان کے مولانا کو اس ایذاء پہنچانے کا ترت بدلہ دیا۔ یعنی رفیع الدین طبع دار کا فتویٰ شائع کرنے سے لڑکا اور بیوی مر کر خانہ خراب ہوا اور میاں جی تصویر علی ایک مجلس سے اس ذلت اور تحقیر کے ساتھ بھاگا کہ جس سے بالا ممکن نہیں۔ والسلام علی من اتبع الہدیٰ الغرض حدیث میں فرمایا من عادلی ولیا فقد اذنته بالحرب

اسی طرح بہت سی مستورات کو جن کو اسقاط کی بیماری تھی یا جن کی اولاد زندہ نہیں رہتی تھی۔ جن میں ایک صاحبزادی بھی ہیں کچھ پڑھ کر دیا۔ الحمد اللہ اکثر کی اولاد صحیح و سالم پیدا ہو کر زندہ ہیں۔ ادھر مرزائی دعوت کا حال روز روشن کی طرح ظاہر ہے۔ اظہار کی حاجت نہیں۔

اب آخر میں مرزا کے خاص دعوے پلیگ کے متعلق کچھ تحریر کرنا ضروری ہے۔ اگر چہ مرنا اور جینا ایک ایسا امر ہے کہ اس میں بحث عبث ہے اور جو مومن باللہ طاعون سے مرے وہ شہید

٢١

صفحہ ٢٣٧

ہے۔ مگر یہاں مرزا کا جواب اور اظہار واقعہ منظور ہے۔ پس مرزا کا دعویٰ تھا کہ پلیگ میرے اعداء کے لئے آئی ہے میرے مرید اس سے محفوظ رہیں گے۔ سو خداوند عالم نے ہر پلیگ میں لا تعداد لا تحصی مرزائیوں کو ہر جگہ حتیٰ کہ قادیان دار الامان میں بھی جہنم رسید کیا۔ اور مرزائی پارٹی کے بڑے بڑے رکن اس مہلک طاعون کے لقمہ ہوئے۔ جن کا ذکر اکثر ہو چکا ہے۔ مولوی محمد یوسف سنوری جو مرزائی امت میں عہدہ فاروقی کے مدعی تھے جن کی نظم سرمہ چشم آریہ کے آخر میں تحریر ہے۔ اسی بلا کی نذر ہوئے۔ اس طرح اب کے سال ان کا لڑکا طاعون سے مرا اور میاں جی نظام الدین خان پوری معہ اپنی زوجہ کے اسی پلیگ سے آنجہانی ہوئے۔ اسی طرح عزیز عبدالحق پٹواری چونگ علاقہ کوٹلہ جو ظالمان مرزائیان کے پھندے میں پھنس کر مرزا کے مرید ہو گئے یا مرزا کی جانب حسن ظن رکھنے لگ گئے تھے۔ ایک خاص ان کے خط سے معلوم ہوا کہ ان کا صاحبزادہ اسی مرض پلیگ سے جو محض مرزا قادیانی کے طفیل آئی ہے۔ راہی ملک بقا ہوا۔ ان کے خط سے جو رنج والم ظاہر ہوتا تھا وہ بیان سے باہر ہے۔ یہ اچھا منحوس ہے کہ جو اپنے مریدین کی بربادی اور تباہی کے لئے طاعون جیسی بلا کو ہمراہ لایا۔ اس وقت جو قلق منشی صاحب کو ہو رہا ہے۔ ۔ ان سے ہی دریافت ہو سکتا ہے۔ ہم اس غم و رنج میں اپنے عزیز منشی صاحب کے ساتھ شریک ہیں اور مرزا پر لعنت بھیجتے ہیں کہ جس منحوس بدبخت کے طفیل ہمارے عزیز کو یہ مصیبت دیکھنی نصیب ہوئی۔

از من و از جمله جہاں ایں دعا مقبول باد

اسی طرح ہمارے پڑوسی ظالمان مرزائیان کے ہتھے چڑھ کر مرزا کو مرزا کی بیعت کا یاد عہد و پیمان کیا حسن ظن رکھنے کا خط لکھ بیٹھے پھر کیا تھا۔

در آنجا که باشد قدوم شریف
نباشد ربیع و نا باشد خریف

آپ کی سبز قدمی نے اپنا اثر دکھلایا اور بے چارے غریب نے جو لڑکا آرزو اور تمنا کے ساتھ حاصل کیا تھا۔ پہلے اس پر ہاتھ صاف کیا اور وہ غریب جیسے تھے ویسے رہ گئے۔ خبر نہیں کہ مرزا کو اپنے احباب پر ہاتھ صاف کرنے میں کیا مزہ ملتا ہے۔ شاید آزمائش کرتے ہوں گے کہ ثابت قدم بھی رہتے ہیں یا نہیں۔ لعنت اللہ ایسے نبی پر اور جلدی اٹھائے خدا ایسے رسول کاذب کو کہ جو اپنی امت کے لئے بجائے رحمت کے زحمت ہو کر دکھائی دے بلکہ خاص چار دیواری مرزا قادیانی میں ٢٢

ایک خادم ہیضہ میں مبتلا بیمار ہوا جو رات کو باہر کر دیا گیا اور متعلقین خود اس مرض سے خداوند عالم نے محفوظ ومصون معہ متعلقین خود اس مرض سے مامون رہے۔ اس احقر کے مکان میں ہوتے تھے اس مکان کے ہمسائیگان میں بھی مکان میں نہیں ہوتے تھے تو اس مکان کے ہمسائیگان ا من فضل الله على وعلى من ابتغ والله ذو الفـ وعليه توكل واليه انيب

ناظرین! برائے خدا ذرا انصاف کو مد نظر رکھ مباہلہ سے فلاں مرا فلاں ہلاک ہوا اور یہ کہ جتنے لوگ م تعالیٰ نے ان سب کو ہلاک کر دیا۔ کہاں تک سچا ہے کیا مرز ٹھیک ٹھیک مصداق ہیں یا نہیں؟ مگر ہا بے شرمی تیرا آسرا ہ تقیہ اور جو ذوق لذت ان کے اخفاء میں حاصل تھا ان کے

نظامی ایں چہ اسرار است کا
کسے سرکش نمے داند زبان

مگر چونکہ اس کے اظہار میں اعلاء کلمۃ الضرورات تبیح محظورات ان کو ظاہر کر کے اس لذت و

گر نثار قدم یار ہ
گوهر جان به چه کا

هذا آخر ما اردنا ایراده فی وآخراً وظاهراً وباطناً وعلى كل حـ وصلى الله تعالى على خير خلقه محمد اجمعین الى يوم الدين تمت

التماس مؤلف

حضرات ناظرین کی خدمات عالیہ میں ٤

صفحہ ٢٣٧

ایک خادم پیران دتہ بیمار ہوا جو رات کو باہر کر دیا گیا اور مر گیا۔ ادھر خیال کریں کہ احقر معہ تمام متعلقین کو اس مرض سے خداوند عالم نے محفوظ و مصون رکھا بلکہ جتنے اس احقر کے مرید تھے وہ بھی معہ متعلقین خود اس مرض سے مامون رہے۔ اس احقر کے دو مکان ہیں۔ پلیگ کے موقع پر ہم جس مکان میں ہوتے تھے اس مکان کے ہمسائیگان میں بھی پلیگ سے امن رہا۔ حالانکہ جب ہم جس مکان میں نہیں ہوتے تھے تو اس مکان کے ہمسائیگان اکثر مرض پلیگ سے ہلاک ہوئے۔ ذالک من فضل الله على وعلى من اتبع والله ذوالفضل العظيم و ما توفيقى الا بالله وعليه توكلت واليه انيب

ناظرین! برائے خدا ذرا انصاف کو مدنظر رکھ کر خیال فرماویں کہ مرزا کا یہ قول کہ میرے مباہلہ سے فلاں مرا فلاں ہلاک ہوا اور یہ کہ جتنے لوگ مباہلہ کرنے والے ہمارے سامنے آئے خدا تعالیٰ نے ان سب کو ہلاک کر دیا۔ کہاں تک سچا ہے کیا مرزا قادیانی لعنت الله علی الکاذبین کے ٹھیک ٹھیک مصداق ہیں یا نہیں؟ مگر یا بے شرمی تیرا آسرا۔ اگرچہ یہ اسرار اور واردات قابل اظہار نہیں تھے اور جو ذوق لذت ان کے اخفاء میں حاصل تھا ان کے اظہار میں اس کا عشر عشیر بھی نہیں۔

نظامی ایں چہ اسرار است کز خاطر بروں دادی
کسے سرش نمے داند زبان درکش زبان درکش

مگر چونکہ اس کے اظہار میں اعلاء کلمتہ اللہ ہے جو جہاد اکبر کا حکم رکھتا ہے۔ بحکم الضرورات تبیح محظورات ان کو ظاہر کر کے اس لذت و ذوق کو قربان اور نثار کیا گیا۔

گر نثار قدم یار گرامی نکنم
گوہر جان بہ چہ کار دگرم باز آید

هذا آخر ما اردنا ايراد مافى هذه الرسالة والحمد لله تعالى اولا وآخراً وظاهراً وباطناً وعلى كل حال واعوذ بالله من حال اهل النار۔ وصلى الله تعالى على خير خلقه محمد واله واصحابه ومن تبعهم باحسان اجمعين الى يوم الدين تمت

التماس مؤلف

حضرات ناظرین کی خدمت عالیہ میں گزارش ہے کہ اہل عقل و دانش حال کو قال سے معلوم

٢٣

صفحہ ٢٣٨

فرماتے ہیں اور محققین اہل بصیرت قدر و منزلت متکلم کی بسبب کلام کے۔ وقد قال بعض العلماء وانظروا الى ما قيل لا الى من قال فان المحققان يعرفون الرجال بالحق لا الحق بالرجال۔

مرد باید کہ گیرد اندر گوش
گر نوشت است پند بردیوار
وللہ در القائل بارھا گفتہ ام وبارد گرمیگوئم
کہ من دل شدہ ایں رہ نہ نہ زخودمے پویم
در پس آئینہ طوطی صفتم داشتہ اند
آنچہ استاد ازل گفت بگو مے گوئم

الملتمس المسکين ابو منظور محمد مظھر الحق المدعو بعبدالحق کوٹلوی السرهندی من مقام سھرند مسجد جامع السدھنے والی

اے باد صبا روضہ احمد پہ تو جاکر کہنا میری جانب سے کہ یوں اس نے کہا ہے
اے جان جہاں تجھ پر فدا جان جہاں ہو میں کیا ہوں میری جان حزیں چیز ہی کیا ہے
اے رحمت عالم بابی انت وامی فرقت سے تیری دیکھ میرا سینا جلا ہے
چہرہ سے ذرہ برد یمانی کو اٹھاؤ دن آپ کی فرقت میں ہمیں لیل دجا ہے
اے مجمع اوصاف حسیناں دو عالم دنیا میں حسین تجھ سا نہ دیکھا نہ سنا ہے
ہے رحمت حق تیرے محبوبوں پر ہمیشہ اعداء پہ تیرے تابہ ابد قہر خدا ہے
توصیف تیری مجھ سے ہو سکے کیا ادا بیٹا نہ کوئی تجھ سا کسی ماں نے جنا ہے
اے ماحی شرک و بدع و ظلم وجھالت اس عہد میں بدعت کا بڑا شور مچا ہے
مرسل ١؎ ہی بنا کوئی ہوا نیچری کوئی بس زور سے الحاد کا طوفان اٹھا ہے
اے خفتہ بآرام ز غوغائے زمانہ ہو رحم کہ در رحمت ایزد کا کھلا ہے
تجھ پر درود اور سلام آل پہ تیری
اصحاب کے حق میں بھی یہی میری صدا ہے

١؎ مرزا غلام احمد قادیانی نے اپنے آپ کو مرسل یزدانی لکھا ہے۔ دیکھو ازالہ اوہام صفحہ اوّل سے قبل۔

٢٣

لا نبی بعدی

خاتم النبیین

حقیقت

مرزائیت

حضرت مولانا پیر سید کرم شاہ

PDF 240

خاتم النبیین لا نبی بعدی

صلی اللہ علیہ وعلی آلہ واصحابہ وبارک وسلم

حقیقت

مرزائیت

حضرت مولانا پیر سید کرم حسین شاہ نقشبندی

صفحہ ٢٤١

بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

الحمد لله وحده والصلوة على من لا نبى بعده
زان حمد و نعت اولیٰ است برخاک ادب خفتن
سجدے میتوان کردن درویے میتوان گفتن

برادران اسلام مرزا قادیانی کے خود تراشیدہ دعوؤں کے رد میں جو علماء اسلام نے کتابیں لکھیں ہیں وہ بہت عمدہ لکھیں ہیں۔ جزاہم اللہ خیر الجزاء مگر ان میں بعض تو دقیق عربی ہیں اور کئی سخت اردو میں ہیں۔ بنابریں مدت سے آرزو تھی کہ ایک ایسی کتاب لکھی جائے۔ جسے معمولی اردو خوان بھی سمجھ سکے اور اس کے مضامین سے فائدہ حاصل کر سکے۔ چنانچہ برادران اہل سنت والجماعت کی استدعا سے میں نے یہ کتاب لکھی ہے کہ خداوند تعالیٰ اسے ویسا ہی مقبول عام کرے آمین (وما توفيقى الا بالله عليه توكلت اليه انيب)

مرزا قادیانی کے چند دعاوی اور ان کے جوابات

پہلا دعویٰ...... الوہیت کا

جیسا کہ مرزا قادیانی نے اپنی کتاب (کتاب البریہ ص ٨٥، خزائن ج ١٣ ص ١٠٣) پر لکھا ہے کہ: ”میں نے ایک کشف میں دیکھا کہ خود خدا ہوں اور یقین کیا کہ وہی ہوں...... سو میں نے پہلے تو آسمان اور زمین کو اجمالی صورت میں پیدا کیا...... اور میں دیکھتا تھا کہ اس کی خلق پر قادر ہوں پھر میں نے آسمان دنیا کو پیدا کیا۔“ اور مرزا قادیانی نے آئینہ اسلام کے ص ٥٦٢، خزائن ج ٥ ص ایضاً پر لکھا ہے کہ: ”میں نے خواب میں دیکھا کہ میں ہو بہو اللہ ہوں۔“ اور پھر مرزا قادیانی نے ازالہ اوہام کے ص ٥٣٣، خزائن ج ٣ ص ٣٨٦ پر لکھا ہے کہ: ”خدا تعالیٰ نے براہین میں میرا نام امتی بھی رکھا اور نبی بھی۔“

دوسرا دعویٰ...... ابن اللہ کا

چنانچہ مرزا قادیانی نے اپنی کتاب (اربعین نمبر ٣ ص ٣٣، خزائن ج ١٧ ص ٤٢٣) پر لکھا ہے کہ: ”خدا

٢

تعالیٰ نے مجھے فرمایا کہ تو ہمارے پانی (نطفہ) سے ہے اور بمنزلة ولدى یعنی اے مرزا تو ہمارا بیٹا کی جا بجا ہے۔

تیسرا دعویٰ...... خدا کی بیوی ہونے کا

”بابو الہی بخش چاہتا ہے کہ تیرا حیض دیکھے تجھ اطفال اللہ ہے۔“ دیکھو (تتمہ حقیقت الوحی ص ١٤٣، خزائن ج ٢٢ کے مرید خالص ہیں لکھتے ہیں کہ: ”مسیح موعود علیہ السلام ہے کہ کشف کی حالت میں آپ پر اس طرح طاری ہوئی کہ رجولیت کی طاقت کا اظہار فرمایا۔“ دیکھو ٹریکٹ نمبر ٣٤ مو پریس امرتسر مؤلفہ قاضی یار محمد صاحب بی او ایل پلیڈر (نعوذ بالل

چوتھا دعویٰ...... کرشن اوتار ہونے کا

”رودر گوپال تیری مہما گیتا میں لکھی گئی ہے ص ٢٢٩) ”برہمن اوتار سے مقابلہ اچھا نہیں۔“ دیکھو (حقیق آریوں کا بادشاہ۔

(٤)

پانچواں دعویٰ...... خداوند کریم کو نور دینے کا

چنانچہ مرزا قادیانی لکھتے ہیں کہ: ”خدا چاند کی کیا۔“ دیکھو (الہام ریویو ١٩٠٦ء اور تجلیات الہیہ ص ٥، خزائن ج ٢٠ منی وانا منک. فرمایا: ”اس الہام میں خدا تعالیٰ نے مجھے چاند اور دوسری دفعہ مجھے سورج اور اپنے آپ کو چاند

چھٹا دعویٰ...... رسول اور افضل الرسل اور قمر الا

چنانچہ رسالہ دعوت قوم کے ص ٥٨ سے ٦٠ تک چاند ہوں۔ قل يا ايها الناس انى رسول الله الی میں اللہ کا رسول ہو کر تم سب کی طرف مبعوث ہو کر آیا ہوں۔

٣

صفحہ ٢٤١

تعالیٰ نے مجھے فرمایا کہ تو ہمارے پانی (نطفہ) سے ہے اور اور لوگ مٹی سے۔‘‘ اور انت منی بمنزلۃ ولدی یعنی اے مرزا تو ہمارا بیٹا کی جا بجا ہے۔

(حقیقت الوحی ص ٨٦، خزائن ج ٢٢ ص ٨٩)

تیسرا دعویٰ ...... خدا کی بیوی ہونے کا

”بابو الٰہی بخش چاہتا ہے کہ تیرا حیض دیکھے تجھ میں حیض نہیں بلکہ وہ بچہ ہو گیا جو بمنزلہ اطفال اللہ ہے۔‘‘ دیکھو (تتمہ حقیقت الوحی ص ١٤٣، خزائن ج ٢٢ ص ٥٨١) پھر قاضی یار محمد جو مرزا قادیانی کے مرید خالص ہیں لکھتے ہیں کہ: ”مسیح موعود علیہ السلام نے ایک موقع پر اپنی حالت یہ ظاہر فرمائی ہے کہ کشف کی حالت پر آپ پر اس طرح طاری ہوئی کہ گویا کہ آپ عورت ہیں اور اللہ تعالیٰ نے رجولیت کی طاقت کا اظہار فرمایا۔‘‘ دیکھو ٹریکٹ نمبر ٣٤ موسومہ بہ اسلامی قربانی ص ١٢ مطبوعہ ریاض ہند، پریس امرتسر مؤلفہ قاضی یار محمد صاحب بی او ایل پلیڈر (نعوذ باللہ من ذالک)

چوتھا دعویٰ ...... کرشن اوتار ہونے کا

”رودر گوپال تیری مہما گیتا میں لکھی گئی ہے۔‘‘ دیکھو (لیکچر سیالکوٹ، ص ٣٤، خزائن ج ٢٠ ص ٢٢٩) ”برہمن اوتار سے مقابلہ اچھا نہیں۔‘‘ دیکھو (حقیقت الوحی ص ١٠١، خزائن ج ٢٢ ص ٦٢) تو ہے آریوں کا بادشاہ۔

(تتمہ حقیقت الوحی ص ٨٥، خزائن ج ٢٢ ص ٥٢٢)

پانچواں دعویٰ ...... خداوند کریم کو نور دینے کا

چنانچہ مرزا قادیانی لکھتے ہیں کہ: ”خدا چاند کی مانند سیاہ تھا جس کو میں سورج نے روشن کیا۔‘‘ دیکھو (الہام ریویو ١٩٠٦ء اور تجلیات الٰہیہ ص ٥، خزائن ج ٢٠ ص ٣٩٧) یا قمر یا شمس انت منی وانا منک۔ فرمایا: ”اس الہام میں خدا تعالیٰ نے ایک دفعہ اپنے آپ کو سورج فرمایا ہے اور مجھے چاند اور دوسری دفعہ مجھے سورج اور اپنے آپ کو چاند۔‘‘

چھٹا دعویٰ ...... رسول اور افضل الرسل اور فخر الانبیاء ہونے کا

چنانچہ رسالہ دعوت قوم کے ص ٥٨ سے ٦٠ تک آپ تحریر فرماتے ہیں کہ: ”میں نبیوں کا چاند ہوں۔ قل یا ایہا الناس انی رسول اللہ الیکم جمیعاً۔ ترجمہ یعنی کہو اے مرزا کہ میں اللہ کا رسول ہو کر تم سب کی طرف ہو کر آیا ہوں۔

(مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ٢٧٠)

٣

صفحہ ٢٤٣
آنچه دادست هر نبی راجام داد آنجام رامـرابتـمـام
انبیاء گرچه بوده اندبسے من بعرفان نہ کمترم زکسے

دیکھو (نزول المسیح ص ٩٩، خزائن ج ١٨ ص ٤٧٧ مصنفہ مرزا قادیانی) باقی قمر الانبیاء (اربعین نمبر ٢ ص ٣٦، خزائن ج ١٧ ص ٣٨٥)

مرزا قادیانی کے چند عقائد اور ان کے جوابات

پہلا عقیدہ خداوند کریم کی تمثیلی زیارت کا

چنانچہ مرزا قادیانی اپنی کتاب (حقیقت الوحی ص ٢٥٥، خزائن ج ٢٢ ص ٢٦٧) پر لکھتے ہیں ۔ ”ایک دفعہ تمثیلی طور پر مجھے خدا تعالیٰ کی زیارت ہوئی اور میں نے اپنے ہاتھ سے کئی پیشین گوئیاں لکھیں جن کا یہ مطلب تھا کہ ایسے ایسے واقعات ہونے چاہیں تب میں نے وہ کاغذ دستخط کرانے کے لئے خدا کے سامنے پیش کیا اور اللہ تعالیٰ نے بغیر کسی تامل کے سرخی کی قلم سے اس پر دستخط کئے اور دستخط کرنے کے وقت قلم چھڑ کا جیسا کہ جب قلم پر زیادہ سیاہی آجاتی ہے تو اسی طرح پر جھاڑ دیتے ہیں اور دستخط کر دیئے اور میرے پر اس وقت نہایت رقت کا عالم تھا اس خیال سے کہ کس قدر خدا تعالیٰ کا میرے پر فضل و کرم ہے کہ جو کچھ میں نے چاہا بلا توقف اس پر اللہ تعالیٰ نے دستخط کر دیئے اور اسی وقت میری آنکھ کھل گئی۔“ دوسرا عقیدہ مرزا قادیانی لکھتے ہیں کہ: ”حضرت عیسیٰ فوت ہو گئے ہیں اور آنے والا مسیح میں ہوں۔“ (ازالہ اوہام ٥٦١، ٥٦٢، خزائن ج ٣ ص ٤٠٢) تیسرا اعتقاد خداوند کریم بندوں سے خرید وفروخت کرتا ہے۔ چنانچہ مرزا قادیانی لکھتے ہیں: اِنی بَایَعْتُکَ بَایَعَنِي رَبِّي میں نے تجھے ایک خرید و فروخت کی ہے یعنی ایک چیز میری تھی جس کا تو مالک بنایا گیا اور ایک چیز تیری تھی جس کا میں مالک بن گیا تو بھی اس خرید وفروخت کا اقرار کر اور کہہ دے کہ خدا نے مجھ سے خرید و فروخت کی ۔ (تذکرہ ص ٤٢١، طبع سوم، دافع البلاء ص ٨، خزائن ج ١٨ ص ٢٢٧) چوتھا اعتقاد سب غلطی کرتے ہیں۔ اصل عبارت مرزا قادیانی لکھتے ہیں تاکہ کسی قادیانی کو چوں چرا کی گنجائش نہ رہے۔

”اجتہادی غلطی سب نبیوں سے ہوا کرتی ہے۔ اور اس میں سب ہمارے شریک ہیں۔ (ملفوظات ج ٢ ص ٢٢٤) پانچواں عقیدہ حضرت مسیح علیہ السلام یوسف نجار کے بیٹے تھے۔ (دیکھو ازالہ ٤

اوہام ص ٣٠٣، خزائن ج ٣ ص ٢٥٤) چھٹا عقیدہ قیامت نہیں ص ١٠٢) دونوں شق جج ساتواں عقیدہ تناسخ صحیح ہے۔ (دیکھو دعاوی کی رو سے مرزا قادیانی مسلمان رہ سکتے ہیں؟ ہرگز ہے ۔ ” قل لو كان معه آلهة كما يقولون (الاسراء: ٤٢) “ کہ تو اگر ہوتے ساتھ اس کے بہت معبود طرف صاحب عرش کی راہ” وما من اله الا اله و ”لو كان فيهما آلهة الا الله لفسد تا فسبح اگر ہوتے بیچ ان دونوں کے معبود سوائے اللہ کے ا تعالیٰ پروردگار عرش کے کو اس چیز سے کہ بیان کرتے ہیں ہے ۔ ”سبحانه وتعالى عما يقولون علوا کتاب براہین احمدیہ کو اللہ عزوجل کا کلام ٹھہرایا کہ خد اور اللہ عزوجل یوں فرماتا ہے: فويل للذين يكتب من عند الله يشتروا به ثمناً قليلا فويل يكسبون (بقره: ٧٩) ترجمہ: خرابی ہے ان کے لیئے پھر کہہ دیں یہ خدا کی طرف سے ہے خرا سے اور خرابی ہے ان کے لئے اس کمائی سے سو یہ ق النار ہے نہ ایسا کہ وہی بلکہ جو اس کے اس دعویٰ ملعون اس کے کافر ہونے میں شک و تردد کو راہ دے وہ بھی نہیں ہوا اور اگر مرزا قادیانی مشرک نہ ہوں تو میں جس میں یہ الہام درج ہے اور دعویٰ نمبر ٣ بھی بر خلاف ولدا لقد جئتم شيئا ادا تكاد السموت الجبال هدا ان دعو للرحمن ولدا (مریم ٥

صفحہ ٢٤٣

اد آنجام رامـر ابتـعـام ن بـعـرفـان نـه کمتـرم زکسي مرزا قادیانی) یاتی قمر الانبیاء (اربعین نمبر ٢ ص ٣٦، خزائن ج ١٧ ص ٣٨٥) ان کے جوابات لی زیارت کا ص ٢٥٥، خزائن ج ٢٢ ص ٢٦٧) پر لکھتے ئی اور میں نے اپنے ہاتھ سے کئی پیشین و نے چاہیں تب میں نے وہ کاغذ دستخط بغیر کسی تامل کے سرخی کی قلم سے اس پر قلم پر زیادہ سیاہی آجاتی ہے تو اسی طرح نہایت رقت کا عالم تھا اس خیال سے کہ نے چاہا بلا توقف اس پر اللہ تعالیٰ نے وہ مرزا قادیانی لکھتے ہیں کہ: ”حضرت وہام ٥١٦،٥١٧، خزائن ج ٣ ص ٤٠٢) تیسرا آنچہ مرزا قادیانی لکھتے ہیں: انی ہامک چیز میری تھی جس کا تو مالک بنایا گیا اور ودعوت کا اقرار کر اور کہہ دے کہ خدا نے وس ٨ ، خزائن ج ١٨ ص ٢٢٧) چوتھا اعتقاد تا کہ کسی قادیانی کو چوں چرا کی گنجائش

اور اس میں سب ہمارے شریک ہیں۔ یوسف نجار کے بیٹے تھے۔ (دیکھو ازالہ

اوہام ص٤٠٣، خزائن ج٣ ص٢٥٤) چھٹا عقیدہ قیامت نہیں ہوگی ۔ (ملاحظہ ہو ازالہ اوہام، خزائن ج٣ ص١٠٢) وہ تناسخ بیچ ساتواں عقیدہ تناسخ صحیح ہے۔ (دیکھوست بچن ص٨٤،خزائن ج١٠ ص٢٠٨) کیا ان دعاوی کی رو سے مرزا قادیانی مسلمان رہ سکتے ہیں؟ ہرگز نہیں۔ بلکہ دعویٰ نمبر ١ برخلاف آیات ذیل ہے۔ ”قل لو كان معه آلهة كما يقولون اذا لا يبتغوا الى ذي العرش سبيلا (الاسراء:٤٢)“ کہ تو اگر ہوتے ساتھ اس کے بہت معبود جیسا کہ کہتے ہیں یہ کافر البتہ ڈھونڈتے طرف صاحب عرش کی راہ”وما من اله الا اله واحد“ ﴿اور نہیں کوئی خدا مگر خدا ایک﴾ ”لو كان فيهما آلهة الا الله لفسدتا فسبحان الله رب العرش عما يصفون“ ﴿اگر ہوتے بیچ ان دونوں کے معبود سوائے اللہ کے البتہ دونوں خراب ہوتے پس پاکی ہے اللہ تعالیٰ پروردگار عرش کے کو اس چیز سے کہ بیان کرتے ہیں: ”قل هو الله احد“ ﴿کہو اللہ ایک ہے۔﴾ ”سبحانه وتعالى عما يقولون علوا كبيرا (الاسراء:٤٣)“ اپنی گھڑی ہوئی کتاب براہین احمدیہ کو اللہ عزوجل کا کلام ٹھہرایا کہ خدا تعالیٰ نے براہین احمدیہ میں یوں فرمایا ہے اور اللہ عزوجل یوں فرماتا ہے: فويل للذين يكتبون الكتب بايديهم ثم يقولون هذا من عند الله ليشتروا به ثمناً قليلا فويل لهم مما كتبت ايديهم وويل لهم مما يكسبون (بقره:٧٩) ترجمہ: خرابی ہے ان کے لئے جو اپنے ہاتھوں سے کتاب لکھیں۔ پھر کہہ دیں یہ خدا کی طرف سے ہے خرابی ہے ان کے لئے ان کے ہاتھوں کے لکھے سے اور خرابی ہے ان کے لئے اس کمائی سے سو یہ دعویٰ کرنے والا قطعاً اجماعاً کافر ملعون مخلد فی النار ہے نہ ایسا کہ وہی بلکہ جو اس کے اس دعویٰ ملعون پر مطلع ہو کر اسے کافر نہ جانے وہ بھی کافر جو اس کے کافر ہونے میں شک و تردد کو راہ دے وہ بھی کافر وگرنہ فرعون بھی انا ربکم الاعلیٰ کہنے سے کافر نہیں ہوا اور اگر مرزا قادیانی مظہر کن فیکون نہیں تو مسلمان دیکھئے الحکم مورخہ ٢٤ فروری ١٩٠٥ء جس میں یہ الہام درج ہے اور دعویٰ نمبر ٣ بھی برخلاف آیات ذیل ہے: وقالوا اتخذ الرحمن ولدا لـقـد جـئتم شيئا ادا تكاد السموت يتفطرن منه وتنشق الارض وتخر الجبال هدا ان دعو للرحمن ولدا (مریم:٨٨تا٩١)..... وينذر الذين قالو اتخذ ٥

صفحہ ٢٤٥

الرحمن ولدا مالهم به من علم ولا لابائهم كبرت كلمة تخرج من افواههم ان يقولون الا كذباً (كهف : ٤، ٥)...... ما اتخذ الله من ولد وما كان معه من اله اذا لذهب كل اله بما خلق ولعلى بعضهم على بعض سبحان الله عما يصفون (المؤمنون: ٩١) اور کہا انہوں نے پکڑی ہے اللہ نے اولاد۔ البتہ تحقیق لائے تم ایک چیز بھاری نزدیک میں آسمان پھٹ جائیں۔ اس سے اور پھٹ جائے زمین اور گر پڑیں پہاڑ کانپ کر اس سے کہ دعویٰ کیا۔ انہوں نے واسطے اللہ کے اولاد کا۔ آیت نمبر ٢ کا ترجمہ اور ڈرا ان لوگوں کو کہتے ہیں پکڑی ہے اللہ نے اولاد نہیں ان کو ساتھ اس کے علم اور نہ باپوں ان کے کو بڑی بات ہے جو نکلی ہے مونہوں ان کے سے نہیں کہتے مگر جھوٹ۔

آیت نمبر ٣ کا ترجمہ نہیں پکڑی اللہ نے اولاد اور نہیں ہے ساتھ اس کے کوئی معبود اس وقت لے جاتا ہر ایک معبود اس چیز کو کہ پیدا کی ہے اس نے اور البتہ چڑھائی کرتے۔ بعض ان کے اوپر بعض کے۔ پاک ہے اللہ تعالیٰ اس چیز سے کہ بیان کرتے ہیں۔ آیت نمبر ٤: ”لم يلد ولم يولد (اخلاص) “ نہیں جنا اس نے اور نہ جنا گیا وہ کسی سے اور دعویٰ نمبر ٣ بھی برخلاف آیت ”وانه تعالىٰ جد ربنا ما اتخذ صاحبة ولا ولدا (الجن:٣) “ ہے اور یہ کہ بہت بلند عزت پروردگار ہمارے کی۔ نہیں پکڑی اس نے بی بی نہ اولاد۔

دعویٰ نمبر ٤ کی رو سے آپ ہندو مذہب کے پیرو ہوئے کیونکہ آپ نے خود ایک اصول مقرر کیا ہے کہ میں متابعت تامہ محمد رسول اللہ ﷺ سے عین محمد بن گیا ہوں اور فنا فی الرسول کے مرتبہ تک پہنچ کر خود رسول بن گیا ہوں دعوت نبوت خاتم النبیین کے برخلاف نہیں اور اس اصولوں کے مطابق مرزا قادیانی تو کرشن جی مہاراج کے پیرو ثابت ہوئے۔ کیونکہ انہوں نے اتار کرشن ہونے کا دعویٰ کیا ہے اور کرشن جی مہاراج ہندو تھے تو مرزا قادیانی بھی فنا فی الکرشن ہو کر ہندو ہوتے تو تناسخ کے قائل اور قیامت کے منکر ثابت ہوئے اور قیامت کا منکر کبھی مسلمان نہیں ہوسکتا۔ دعویٰ نمبر ٥ کی رو سے آپ خدائے تعالیٰ سے افضل ہوئے۔ جو کفر ہے۔ دعویٰ نمبر ٦ یہ ادعا بھی باجماع قطعی کفر ہے وارتداد ہے۔ ملاحظہ ہو شفا شريف قاضی عياض وروضه امام نووی وارشاد السارى امام قسطلانی وشرح عقائد نسفی وشرح

٦

مقاصد امام تفتازانی وعلامه ابن حجر طریقه محمدیه علامه برکوی وحدیق كثيره۔

اب سنئے مرزا قادیانی کا اپنا فتویٰ: وما يـ الاسلام والحق بقوم كافرين وها اننی ان اعرض على كتاب الله واعلم انه كل وزندقة فكيف ادعى النبوة وانا من المسلـ اور واضح ہو کہ جو کچھ قرآن کے برخلاف ہے وہ جھو نبوت کر سکتا ہوں۔ حالانکہ میں مسلمان ہوں۔ (حما نمبر ا بھی خلاف آیت ”ليس كمثله شيء“ ہے مرزا قادیانی کو خدا تعالیٰ کی زیارت کس طرح ہوئی آیا آسمـ جاتا ہے یا جس کی زیارت کرنی ہو وہ خود آ کر زیارت کراتا ہے اور اگر کہیں کہ خدا تعالیٰ خود تشریـ لائے تھے۔ بقول مرزا قادیانی حجرہ میں قلم دوات لے کر نہیں آ ئے تھے۔ جس سے معلوم ہوا کہ یہ معاملہ خیالی و وہمی ہے۔ دوم دستخط موجود ہیں تو قلم دوات اور وہ کاغـ ذ بھی موجود ہوگا۔ وہ کاغذ کہاں ہے دکھائیے تاکہ لو گ اور کسی کیمیکل ایگزیمینر کے پاس بھیج کر سچ جھوٹ معلوم کریں۔ سوم خدا تعالیٰ کے دستخط کس زبان میں تھے۔ عربی ، فا رسی یا خدا کی رسم الخط کوئی خاص ہے یا عام، چہارم خدا تعـ الیٰ کا نام وشنو نارائن ہوگا۔ جیسا کہ سرخی کے قطرے ہیـ کرتے پر خدا تعالیٰ کی قلم سے چھینٹے پڑے

صفحہ ٢٤٥

مقاصد امام تفتازانی وعلامہ ابن حجر مکی ومنح الروض علامہ قاری طریقہ محمدیہ علامہ برکوی وحدیقہ ندیہ مولانا بلسی وغیرہا کتب کثیرہ۔

اب سنئے مرزا قادیانی کا اپنا فتویٰ: وما کان لی ان ادعی النبوة واخرج من الاسلام والحق بقوم کافرین وها اننی لا اصدق الهاما من الهاماتی الا بعد ان اعرض علیٰ کتاب الله واعلم انه کل ما یخالف القرآن فهو کذب والحاد وزندقة فکیف ادعی النبوة وانا من المسلمین۔ مجھے کیا حق ہے کہ نبوت کا دعویٰ کروں اور واضح ہو کہ جو کچھ قرآن کے برخلاف ہے وہ جھوٹ ہے الحاد و بیدینی ہے پھر میں کیونکر دعویٰ نبوت کر سکتا ہوں۔ حالانکہ میں مسلمان ہوں۔ (حمامۃ البشریٰ ص٧٩،خزائن ج٧ص٢٩٧) اور عقیدہ نمبر ١ بھی خلاف آیت ”لیس کمثله شیء“ ہے اب مرزائی صاحبان بتلائیں کہ تمثیلی زیارت مرزا قادیانی کو خدا تعالیٰ کی کس طرح ہوئی آیا آپ جسدِ عنصری آسمان پر گئے تھے کہ آپ کے کرتے پر خدا تعالیٰ کی قلم سے چھینٹے پڑے زیارت کے دو ہی طریق ہیں زیارت کرنے والا خود جاتا ہے یا جس کی زیارت کرنی ہو وہ خود آکر زیارت کراتا ہے اگر یہ کہو کہ مرزا قادیانی بجسدِ عنصری آسمان پر گئے تو محال ہے اور وہی اعتراض جو حضرت عیسیٰ پر آپ کرتے ہیں۔ ہماری طرف سے سمجھ کر جواب دیں اور اگر کہیں کہ خدا تعالیٰ خود تشریف لائے تو یہ بھی محال ہے کیونکہ بہت بڑا وجود بقول مرزا قادیانی حجرہ میں قلم دوات لے کر نہیں آسکتا۔ دوم جب کرتہ موجود ہے تو قلم دوات بھی موجود ہوگی۔ جس سے معلوم ہوا کہ یہ معاملہ خیالی نہ تھا۔ تمثیلی و مادی تھا کیونکہ سرخی کے قطرے حقیقی تھے۔ جو اب تک موجود ہیں تو قلم دوات اور وہ کاغذ جس پر پیشین گوئیاں اور خدا کے دستخط ہوئے تھے موجود ہوگا۔ وہ کاغذ کہاں ہیں دکھائیے تاکہ لوگ خدا کی قلم دوات اور دستخط کی زیارت کرلیں اور کسی کیمیکل ایگزیمینر کے پاس بھیج کر سچ جھوٹ کا فیصلہ کرائیں کہ کس کارخانہ کی ساخت ہے سوم خدا تعالیٰ کے دستخط کس زبان میں تھے۔ عربی، فارسی، انگریزی، شاستری، عبرانی وغیرہ میں تھے۔ خدا کی رسم الخط کوئی خاص ہے یا عام، چہارم خدا تعالیٰ کے دستخط پورے نام کے تھے اور کیا تھے۔ الہ پرمیشر نارائن ہوگا۔ جیسا کہ سرخی کے قطرے حقیقی ہیں تو پھر خدا تعالیٰ محسوس و در خارج ایک وجود

٧

صفحہ ٢٤٧

عصری ثابت ہوا۔ اور یہ کفر ہے۔

عقیدہ نمبر ٢ بھی درست نہیں میں حیات مسیح پہلے قرآن سے پھر حدیث سے پھر اجماع امت سے اور بالآخر مرزا قادیانی کی اپنی تحریر سے ثابت کرتا ہوں۔ آپ صاحبان غور سے سنیں خدا تعالیٰ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی وفات کی تردید کر کے فرماتا ہے۔ (وما قتلوه يقينا) اسی واسطے اللہ تعالیٰ نے استدراک کا لفظ استعمال کر کے فرمایا۔ بل رفعه الله اليه یعنی اللہ نے اس کو اپنی طرف اٹھا لیا۔ یہ صریح دلیل ہے۔ حیات مسیح پر کیونکہ ایک بات کے ثابت کرنے کے دو ہی قاعدے ہیں۔ ایک تو براہ راست الفاظ میں جیسا کہ کہا جاتا کہ زید عالم ہے۔ یا زید کاتب ہے یا زید زندہ ہے دوسرا طریقہ اثبات کا یہ ہے کہ اس کے مقابل جو اس کی ضد ہے اس کی نفی کی جائے۔ اس سے بھی اثبات ثابت ہوتا ہے۔ جیسا کہ کہا جائے کہ زید جاہل ان پڑھ نہیں اس سے صاف ثابت ہوگا کہ زید جب جاہل نہیں تو عالم ہے۔

ایسا ہی جب کہا جائے گا کہ زید مردہ نہیں تو ثابت ہوگا کہ زید زندہ ہے۔ اب قرآن کی آیت مذکور کی طرف رجوع کرو کہ خدا تعالیٰ فرماتا ہے۔ کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام یقینا نہیں مرا یعنی فوت نہیں ہوا جب فوت نہیں ہوا تو زندہ ہے ایک حدیث بھی پیش کرتا ہوں جس کو مرزا قادیانی بھی مانتے ہیں کہ جس نے صاف لکھا ہے کہ مسیح تا نزول زندہ ہے۔ ”عن عبداللہ ابن عمر قال قال رسول الله ﷺ ينزل عيسى ابن مريم الى الارض فيتزوج ويولد له ويمكث خمسا واربعين سنة ثم يموت فيدفن معى فى قبرى فاقوم انا وعيسى ابن مريم فى قبر واحد بين ابى بكر وعمر“ (رواہ ابن الجوزی فی کتاب الوفا مشکوٰۃ ص ٤٨٠، باب نزول عیسیٰ) روایت ہے عبداللہ بن عمر سے کہا کہ فرمایا: رسول خدا ﷺ نے کہ اتریں گے عیسیٰ بیٹے مریم کے طرف زمین کی پس نکاح کریں گے اور پیدا کی جائے گی ان کی اولاد اور ٹھہریں گے زمین میں پینتالیس ٤٥ برس پھر مریں گے۔ عیسیٰ بیٹے مریم کے پس دفن کئے جائیں گے۔ نزدیک میرے بیچ مقبرہ میرے کے پس اٹھوں گا میں اور عیسیٰ ایک مقبرہ میں سے درمیان ابی بکر اور عمر کے جو اس مقبرہ میں مدفون ہیں۔ (مظاہر حق ج١ ص ٣٨٦) اس حدیث کے الفاظ ثم یموت سے بھی ظاہر ہے کہ زمین پر اتر کر بعد میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام فوت ہوں گے۔

٨

اس سے بھی حیات مسیح ثابت ہے۔ معالم التنزیل میں امام بغویؒ سے زندہ ہیں۔

زمین پر خضر اور الیاس اور آسمان پر ادریس اور عیسیٰ (مظاہر حق ج٤ ص ٣٨٧) صاحبان قرآن اور حدیث کے بعد ی حضرت عیسیٰ علیہ السلام فوت نہیں ہوئے۔ وہی اصالتاً نازل ہو

اس میں کچھ علامتیں دجال کی پائی گئیں۔ تو حضرت عمرؓ نے بر ابن صیاد کو جو دجال ہے۔ ابھی قتل کردوں۔ تو رسول اللہ ﷺ مریم ہے۔ تو دجال کا قاتل نہیں ۔“ (دیکھو کنز العمال ج ٧ ص ٢ کہ حضرت عمرؓ حیات مسیح کے قائل تھے۔ ورنہ عرض کرتے ہ کو کس طرح قتل کرسکے گا۔ حضرت عمرؓ جیسے جلیل القدر صحابی قتل کرے گا حیات مسیح کی پختہ دلیل ہے۔ اور یہ بھی ثابت اگر شرک ہوتا تو اس زمانہ میں حضرت رسول اللہ ﷺ پر وحی ہوجاتی۔

بعد نزول فوت ہوں گے۔ (فتح الباری ج ١٣ ص ٤١١) پر ہے ی وان من اهل الكتاب ليؤمنن به قبل موته قال الآن عند الله اس سے بھی حیات مسیح ثابت ہے۔

عيسى ياتى عليه الفناء“ یعنی نبی ﷺ کے پاس نصاریٰ آئے اور ان ہمارا رب زندہ ہے اور اس پر کبھی فناء نہیں آئے گی اور

٩

صفحہ ٢٤٧

اس سے بھی حیات مسیح ثابت ہے۔ معالم التنزیل میں امام بغوی نے لکھا ہے کہ چار شخص انبیاء میں سے زندہ ہیں۔

زمین پر خضر اور الیاس اور آسمان پر ادریس اور عیسیٰ اس سے بھی حیات مسیح ثابت ہے۔

(مظاہر حق ج ٤ ص ٣٨٧) صاحبان قرآن اور حدیث کے بعد بزرگان دین کا مذہب لکھا جاتا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام فوت نہیں ہوئے۔ وہی اصالتاً نازل ہوں گے۔ اور فوت ہوں گے۔

اس میں کچھ علامتیں دجال کی پائی گئیں۔ تو حضرت عمرؓ نے رسول اللہ ﷺ سے اجازت مانگی کہ میں ابن صیاد کو جو دجال ہے۔ ابھی قتل کر دوں۔ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ دجال کا قاتل عیسیٰ ابن مریم ہے۔ تو دجال کا قاتل نہیں ۔“ (دیکھو کنز العمال ج ٧ ص ٢٠٢ ومشکوۃ) اس حدیث سے ثابت ہے کہ حضرت عمرؓ حیات مسیح کے قائل تھے۔ ورنہ عرض کرتے۔ یا رسول اللہ ﷺ تو مر چکا ہے۔ وہ دجال کو کس طرح قتل کرسکے گا۔ حضرت عمرؓ جیسے جلیل القدر صحابی کا تسلیم کر لینا کہ عیسیٰ علیہ السلام دجال کو قتل کرے گا حیات مسیح کی پختہ دلیل ہے۔ اور یہ بھی ثابت ہوا کہ حیات مسیح کا عقیدہ شرک نہیں۔ اگر شرک ہوتا تو اس زمانہ میں حضرت رسول اللہ ﷺ پر وحی آتی تھی۔ اس وقت اس عقیدہ کی تردید ہوجاتی۔

بعد نزول فوت ہوں گے۔ (فتح الباری ج ١٣ ص ٤١١) پر ہے۔ اخرج ابن جریر عن الحسن وان من اہل الکتاب لیؤمنن بہ قبل موتہ قال قبل موت عیسیٰ واللہ انہ حی الآن عند اللہ اس سے بھی حیات مسیح ثابت ہے۔

عیسیٰ یاتی علیہ الفناء“

(تفسیر طبری ج ٣ ص ١٦٣)

یعنی نبی ﷺ کے پاس نصاریٰ آئے اور اثناء گفتگو میں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ ہمارا رب زندہ ہے اور اس پر کبھی فناء نہیں آئے گی اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر فناء آئے گی۔

٩

صفحہ ٢٤٩

رسول اللہ ﷺ نے جو یہ فرمایا کہ عیسیٰ پر موت آنے والی ہے۔ یہ نہیں فرمایا کہ عیسیٰ مر چکا۔ اس سے بھی حیات مسیح ثابت ہے۔

خضر علیہ السلام اور الیاس علیہ السلام زمین میں اور ادریس علیہ السلام اور عیسیٰ علیہ السلام آسمان میں ملاحظہ ہو۔

(شرح فقہ اکبر ص ٧٤)

صاحبان حوالے تو بہت ہیں۔ مگر نہ ماننے والوں کے لئے ہزار بھی کافی نہیں۔ البتہ مؤمن کتاب اللہ کے لئے ایک دو بھی بس ہیں۔ اب مرزا قادیانی کا اپنا فیصلہ اس امر کی بابت سنئے۔ جب حضرت مسیح علیہ السلام دوبارہ اس دنیا میں تشریف لائیں گے تو ان کے ہاتھ سے دین اسلام جمع آفاق اور اقطار میں پھیل جائے گا۔

(براہین احمدیہ ص ٤٩٩، خزائن ج ١ ص ٥٩٤)

مرزا قادیانی! یہ بات اٹل ہے۔ جیسا کہ مرزا قادیانی نے لکھا ہے۔

آنچه من بشنوم زوحی خدا
بخدا پاک دانمش زخطا
ہمچو قرآن منزہ اش دانم
از خطا ہا ہمیں است ایمانم

ترجمہ: جو کچھ میں وحی خدا سے سنتا ہوں خدا کی قسم میں اس کو خطا سے پاک جانتا ہوں۔ قرآن کی مانند اس کو پاک جانتا ہوں۔ اس کی خطا کی نسبت میرا یہ ایمان ہے۔

(نزول المسیح ص ٩٩، خزائن ج ١٨ ص ٤٧٧)

کیا خدا بھی جھوٹ بولتا ہے۔ کیا خدا کی باتوں میں بھی اختلاف ہوتا ہے۔ ہرگز نہیں اور عقیدہ نمبر ٣ بھی واہیہ ہے۔ سنئے بیع کی تعریف مبادلہ، مال کا مال کے ساتھ رضامندی کے ساتھ کذافی الکافی، ارکان بیع کی دو قسمیں ہیں۔ پہلی قسم ایجاب اور قبول اور دوسری ہاتھوں ہاتھ جیسا کہ محیط السرخسی، اس کی شرطوں کی چار قسمیں ہیں۔ انعقاد، نفاذ ، صحت ، لزوم۔

(فتاویٰ عالمگیری ج ٣ ص ١)

١٠

اور اشباہ النظائر فن ثالث میں (مع شرح ہیں۔ صحیح اور فاسد اور باطل اور مکروہ اور غایۃ الاوطار بـ بیع اور مبیع اور ثمن کی چار قسمیں ہیں۔ نافذ، موقوف، فـ مرابحہ، تولیہ، وضیعہ، مساویہ۔

اب مرزائی صاحبان بتلائیں کہ جو مرزا قا کی وہ بیع نافذ تھی یا موقوف۔ عقیدہ نمبر ٤ بھی کفریہ ہے جو اللہ کی وحدانیت نبوت کی حقانیت ہمارے نبی ﷺ علیہم السلام پر ان کی باتوں میں کذب جائز مانے۔ خود نہ کرے۔ ہر طرح بالاتفاق کافر ہے۔ ”فلعن اللہ من عقیدہ نمبر ٥ سراسر افتراء ہے اور دعویٰ بلا نہیں۔ عقیدہ نمبر ٦ کفریہ عقیدہ ہے۔ ”قال اللہ تعـ بالآخرة ولا يحرمون ماحرم الله ولا يدينـ عقیدہ نمبر ٧ کفریہ عقیدہ ہے جو کہ اظہر من نہیں۔ (مرزا قادیانی کے چند الہامات اور ان کے جو عمرہ ثمانين حولاً او قريباً من ذلك مفعولا “

ترجمہ: ہم تجھے حیاتی پاک دیں گے۔ جـ کے قریب یا اس سے زیادہ یہ خدا کا مقررہ وعدہ تھا۔ چھیاسٹھ سال کی عمر پا کر فوت ہوگئے اور ثابت کر گئے کہ الزام آئے گا۔ معاذ اللہ من ذالك ۔ الہام نمبر ٢ (و فاعلين زوجناكها ترجمہ اس عورت کو تیری طرف ہم ہی کرنے والے ہیں بعد واپس کے ہم نے نکاح کر ناظرین مرزا قادیانی نے اس الہامی پیشین

١١

صفحہ ٢٤٩

اور اشباہ النظائر فن ثالث میں (مع شرح حموی کے ص٥٢٣ پر ہے) کہ بیع کی کئی قسمیں ہیں۔ صحیح اور فاسد اور باطل اور مکروہ اور غایۃ الاوطار۔ ترجمہ اردو (درمختار ج٣ص٢) پر لکھا ہے۔ کل بیع اور مبیع اور ثمن کی چار قسمیں ہیں۔ نافذ، موقوف، فاسد، باطل، مقایضہ، صرف، سلم، بیع مطلق، مرابحہ، تولیہ، وضیعہ، مساومہ۔

اب مرزائی صاحبان بتلائیں کہ جو مرزا قادیانی نے اور خدا تعالیٰ نے آپس میں بیع شرا کی وہ بیع نافذ تھی یا موقوف۔ عقیدہ نمبر ٤ بھی کفریہ ہے۔ شفا شریف میں ہے۔ جس کا ترجمہ یہ ہے جو اللہ کی وحدانیت نبوت کی حقانیت ہمارے نبی ﷺ کی نبوت کا اعتقاد رکھتا ہو۔ باایں ہمہ انبیاء علیہم السلام پر ان کی باتوں میں کذب جائز مانے۔ خواہ بزعم خود اس میں کسی مصلحت کا ادعا کرے یا نہ کرے۔ ہر طرح بالاتفاق کافر ہے۔ ”فلعن اللہ من کذب احداً من انبیائہ“

عقیدہ نمبر ٥ سراسر افتراء ہے اور دعویٰ بلادلیل ہے۔ جس کو کلام الٰہی سے کوئی تعلق نہیں۔ عقیدہ نمبر ٦ کفریہ عقیدہ ہے۔ ”قال اللہ تعالیٰ قاتلوا الذین لا یؤمنون بالآخرۃ ولا یحرمون ما حرم اللہ ولا یدینون دین الحق“

عقیدہ نمبر ٧ کفریہ عقیدہ ہے جو کہ اظہر من الشمس ہے۔ جس کے اظہار کی ضرورت نہیں۔ (مرزا قادیانی کے چند الہامات اور ان کے جوابات) الہام نمبر ١ ”ولنحیینك حیوۃ طیبہ ثمانین حولاً او قریباً من ذالك اوتزید علیہ سنینا وكان وعداللہ مفعولا“

(اربعین نمبر ٣ ص ٣٠، خزائن ج ١٧ ص ٤٢٠)

ترجمہ: ہم تجھے حیاتی پاک دیں گے۔ جس کی معیاد اسی (٨٠) برس ہے۔ یا اس کے قریب یا اس سے زیادہ یہ خدا کا مقررہ وعدہ تھا۔ لیکن ہوا اس کے برخلاف کہ مرزا قادیانی چھیاسٹھ سال کی عمر پا کر فوت ہو گئے اور ثابت کر گئے کہ میں جھوٹا ہوں۔ ورنہ خدا تعالیٰ پر جھوٹ کا الزام آئے گا۔ معاذ اللہ من ذالك ۔ الہام نمبر ٢ ویردھا الیك امر من لدنا انا كنا فاعلین زوجنکھا ترجمہ اس عورت کو تیری طرف واپس لائے گا۔ یہ امر ہماری طرف سے اور ہم ہی کرنے والے ہیں بعد واپس کے ہم نے نکاح کر دیا۔

(انجام آتھم ص ٦٠، خزائن ج ١١ ص ٦٠)

ناظرین مرزا قادیانی نے اس الہامی پیشین گوئی کے متعلق جتنی کوشش کی۔ شاید ہی کسی

صفحہ ٢٥١

کام کے لئے کی ہوں۔ بہت سے خطوط متضمن ترغیب و ترہیب مسمات کے وارثوں کو لکھے مگر افسوس کوئی بھی کارگر نہ ہوا۔ ہمیشہ یہی کہتے چلے گئے ۔

جدا ہوں یار سے ہم اور نہ ہوں رقیب جدا
ہے اپنا اپنا مقدر جدا نصیب جدا

الہام نمبر ٣ یا مریم اسکن انت وزوجک الجنة اس الہام کی تشریح مرزا قادیانی اپنی کتاب (کشتی نوح ص ٥٠، خزائن ج ١٩ ص ٤٧) میں اس طرح فرماتے ہیں میں مریم کی روح مجھ میں نفخ کی گئی اور استعارہ کے رنگ میں مجھے حاملہ ٹھہرایا گیا اور آخر کئی مہینہ کے بعد جو دس مہینہ سے زیادہ نہیں۔ بذریعہ اس الہام کے جو سب کے آخر براہین احمدیہ کے حصہ چہارم ص ٥٥٦ میں درج ہے۔ مجھے مریم سے عیسیٰ بنایا گیا۔“ (کشتی نوح ص ٤٧) آگے چل کر اسی صفحہ کی سطر پر لکھتے ہیں۔ ”پھر مریم کو جو مراد اس عاجز سے ہے دردزہ تنا کھجور کی طرف لے آئی۔“ اہل علم اس قاعدہ سے واقف ہیں کہ اسم علم نہیں بدلا کرتا۔ مریم اور عیسیٰ اسم علم ہیں اور ان کا مفہوم کبھی کسی غیر شخص پر صادق نہیں آسکتا۔ دوم ایک ہی وجود ماں ہو اور پھر خود اپنے آپ میں حاملہ ہو اور خود پیدا ہو یہ کیونکر ہوسکتا ہے۔ کیا کوئی نظیر موجود ہے۔ سوم مرزا قادیانی کو مریم کے ساتھ مماثلت تامہ نہ تھی۔ یعنی مرزا قادیانی عورت نہ تھے اور نہ انہوں نے اپنے فرج کی حفاظت کی۔ تو پھر روح کا نفخ کس جگہ ہوا اور عیسیٰ کس طرح پیدا ہوا۔

استعارہ تو ایک فرضی امر ہوتا ہے۔ یعنی استعارہ اصلیت سے خالی ہوتا ہے۔ مثلاً سر ہوش و پائے فکر استعارہ ہے۔ تو ثابت ہوا کہ مرزا قادیانی کا مریم اور عیسیٰ ہونا بالکل غلط ہے اور (مرزا قادیانی کے چند دروغ) ”میں خدا کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ میں نے جو کچھ علوم پڑھے ہیں خداوند کریم سے پڑھے ہیں بنی نوع سے کوئی میرا استاد نہیں ہے۔ میرے مہدی موعود سچا ہونے کی یہ بین دلیل ہے۔“ (ایام صلح ص ١٤٧، خزائن ج ١٤ ص ٣٩٤) آؤ مرزا قادیانی کے حواریو۔ آج اس معیار پر بھی مرزا قادیانی کو پرکھ لو۔ شاید سچے نکل پڑیں۔ (کتاب البریہ ص ١٤٩، خزائن ج ١٣ ص ١٨٠ حاشیہ) ”علم فارسی کے لئے استاد فضل الٰہی تھا۔ علم عربی کا استاد فضل احمد تھا۔ ایک اور صاحب بھی آپ کے استاد تھے جن کا نام نامی گل علی شاہ تھا۔ جن سے آپ نے علم نحو اور منطق وغیرہ علوم مروجہ

١٤

پڑھے اور علم طب خود اپنے باپ مرزا غلام مرتضیٰ سے جھوٹے ثابت ہوئے یا نہ ہوئے اور ضرور ہوئے ۔ نے بنی نوع سے پڑھا ہو۔

میں یک صد روپیہ انعام دوں گا۔ لیکن دروغ نمبر ٢ ”یہ بات بالکل غیر معقول ہے کہ آنحضرت جب لوگ نماز کے لئے مساجد کی طرف دوڑیں تو قرآن شریف پڑھیں گے تو وہ انجیل کھول بیٹھے گا اور کریں گے تو وہ بیت المقدس کی طرف متوجہ ہوگا۔ اسلام کے حرام وحلال کی پرواہ نہیں رکھے گا۔ کیا آپ مصیبت کا دن ابھی باقی ہے۔“ (حقیقت الوحی ص ٩ وگرنہ کوئی مرزائی کسی معتبر کتاب کا حوالہ بتلائے۔ ہم النار التي وقودها الناس والحجارة گوئی کی گئی ہے کہ آنحضرت کی امت میں سے ایک کے نام سے موسوم کیا جائے گا۔“ (حقیقت الوحی ص مرزائی کسی معتبر کتاب احادیث سے دکھلائے۔ میں

ناظرین کو اس بات کا بھی خیال رہے میں کوئی جھوٹا ثابت ہو جائے تو پھر اس کی دوسری معرفت ص ٢٢٤، خزائن ج ٢٣ ص ٢٣١) اس لئے مرزا اور سنئے مرزا قادیانی کا فرمان ہے کہ: ”اس وجود رکھتا ہے اور تند وے کی طرح اس کی تاریں بھی ص ٩٠) اور فرماتے ہیں۔ ”خدا تعالیٰ بھی ایک نیا ہے۔ الہامی کتاب (فتح اسلام ص ٣٥، خزائن ج ٣ ص اپنے پاک اور روشن چہرے سے اتار کر ان سے

صفحہ ٢٥١

پڑھے اور علم طب خود اپنے باپ مرزا غلام مرتضیٰ سے پڑھا۔ سو اپنے معیار مقرر کردہ کی رو سے جھوٹے ثابت ہوئے یا نہ ہوئے اور ضرور ہوئے۔ آؤ مرزا قادیانی کے حواریو کوئی رسول بتاؤ جس نے بنی نوع سے پڑھا ہو۔

میں یک صد روپیہ انعام دوں گا۔ لیکن شرط یہ ہے کہ ثبوت بھی کتاب اللہ سے ہو۔

دروغ نمبر ٢ ”یہ بات بالکل غیر معقول ہے کہ آنحضرت ﷺ کے بعد کوئی ایسا نبی آنے والا ہے کہ جب لوگ نماز کے لئے مساجد کی طرف دوڑیں گے۔ تو وہ کلیسا کی طرف بھاگے گا اور جب لوگ قرآن شریف پڑھیں گے تو وہ انجیل کھول بیٹھے گا اور جب لوگ عبادت کے لئے کعبہ کی طرف منہ کریں گے تو وہ بیت المقدس کی طرف متوجہ ہوگا۔ اور شراب پیے گا اور سؤر کا گوشت کھائے گا اور اسلام کے حرام و حلال کی پرواہ نہیں رکھے گا۔ کیا کوئی عقل تجویز کر سکتی ہے کہ اسلام کے لئے یہ مصیبت کا دن ابھی باقی ہے۔“ (حقیقت الوحی ص ٢٩، خزائن ج ٢٢ ص ٣١) یہ بھی بڑا ڈبل جھوٹ ہے وگرنہ کوئی مرزائی کسی معتبر کتاب کا حوالہ بتلائے۔ فان لم تفعلوا ولن تفعلوا فاتقوا النار التی وقود ھا الناس والحجارة دروغ نمبر ٣ ”واضح ہو کہ احادیث نبویہ میں پیش گوئی کی گئی ہے کہ آنحضرت کی امت میں سے ایک شخص پیدا ہوگا جو عیسیٰ بن مریم کہلائے گا اور نبی کے نام سے موسوم کیا جائے گا۔“ (حقیقت الوحی ص ٣٩٠، خزائن ج ٢٢ ص ٤٠٦) یہ بھی جھوٹ ہے کوئی مرزائی کسی معتبر کتاب احادیث سے دکھلائے۔ میں اس کو ٥ سو نقد انعام دوں گا۔

ناظرین کو اس بات کا بھی خیال رہے۔ مرزا قادیانی لکھتے ہیں کہ: ”جب ایک بات میں کوئی جھوٹا ثابت ہو جائے تو پھر اس کی دوسری باتوں میں بھی اس پر اعتبار نہیں رہتا۔“ (چشمہ معرفت ص ٢٢٢، خزائن ج ٢٣ ص ٢٣١) اس لئے مرزا قادیانی کی بھی کسی بات پر بھی اعتبار نہیں ہو سکتا۔

اور سنئے مرزا قادیانی کا فرمان ہے کہ: ”اس وجود اعظم کے بے شمار ہاتھ اور بے شمار پیر ہیں اور طول و رکھتا ہے اور تندوے کی طرح اس کی تاریں بھی ہیں۔“ ملاحظہ ہو (توضیح المرام ص ٧٥، خزائن ج ٣ ص ٩٠) اور فرماتے ہیں۔ ”خدا تعالیٰ بھی ایک نیا نیا خدا ہو کر نئے اور خاص طور پر اس سے تعلق پکڑتا ہے۔ الہامی کتاب (فتح اسلام ص ٣٥، خزائن ج ٣ ص ٥٩) اور فرماتے ہیں کہ: ”خدا تعالیٰ کس قدر پردہ اپنے پاک اور روشن چہرے سے اتار کر ان سے باتیں کرتا ہے۔“ (ضرورت الامام ص ١٣، خزائن ج ١٣

١٤

صفحہ ٢٥٢

ص ٤٨٣) حالانکہ قرآن کریم میں ہے۔ لیس کمثلہ شیء یعنی نہیں مثل اس کی کوئی شیء دیگر جب خداوند کریم بقول مرزا قادیانی پرانا نیا ہماری طرح ہوتا ہے۔ تو پھر ممکن ہوا کہ کسی روز ضعف پیری سے فوت ہو جائے گا۔ بتلائے مرزا قادیانی سچے یا کہ خداوند کریم جس کا ارشاد ہے۔ الحیی القیوم خداوند کریم سچا ہے اور مرزا قادیانی جھوٹے ہیں۔

دیگر مرزا قادیانی کا یہ فرمانا کہ خدا کسی قدر پردہ اپنے چہرے سے اتار اتار کر ان سے باتیں کرتا ہے۔ یہ بھی غلط ہے کیونکہ حدیث صحیح میں ہے: ”عن ابی موسٰی قال قال رسول الله ﷺ ان الله لا ينام حجابه النور لو كشفه لاحرقت سبحات وجهه ما انتهى اليه بصره (کنز العمال ج ١ ص ٢٢٦ حدیث نمبر ١١٣٩)“ ﴿یعنی خدا تعالیٰ کا حجاب نور ہے اگر اس کو اٹھائے تو جہاں تک اس کی نظر پہنچتی ہے وہاں تک اس کے انوار سب کو جلا دیں گے۔﴾ یہ حدیث مسلم شریف اور ابن ماجہ میں ہے اس سے ظاہر ہے کہ مرزا قادیانی کا دعویٰ محض جھوٹا ہے۔ دیگر مرزا قادیانی کا فرمانا فقیر مرزا دوالمیالوی کے متعلق کہ اس کے بہت مرید تھے۔ بالکل جھوٹ اور نا واقفوں کے دھوکہ دینے کے لئے لکھا ہے۔ وگرنہ کوئی قادیانی ایک اس کے مرید کا نام تو بتا دے اور یہ جو کہا ہے کہ اس نے دعویٰ کیا کہ آئندہ رمضان تک یہ شخص یعنی یہ عاجز طاعون سے ہلاک ہو جائے گا۔ بالکل جھوٹ دیگر مرزا قادیانی کا فرمانا کہ خداوند کریم نے قرآن شریف میں ایک جگہ یہ بھی فرمایا تھا کہ آخری زمانہ میں مذاہب کی جنگ ہوگی اور یہ ودیا کی لہروں کی طرح ایک مذہب دوسرے مذہب پر گرے گا اس کو نابود کر دے اور لوگ اس جنگ وجدال میں مشغول ہوں گے کہ اس فیصلہ کے کرنے کے لئے خدا آسمان سے قرنا میں اپنی آواز پھونکے گا۔ وہ قرنا کیا ہے وہ اس کا نبی ہوگا۔ دروغ بے فروغ ہے وگرنہ کوئی قادیانی بتلائے کہ قرآن کریم کے کس مقام میں ہے۔ ہرگز نہیں بتا سکیں گے۔ ولو كان بعضهم لبعض ظهیرا۔

اک جھوٹ ہوا تو تجھ کو سناؤں میں ہم نشین باہر حد شمار سے ہیں مرزا کے جھوٹ
میں دل سے مانتا ہوں کہ یہ بھی ہے اک کمال بے خوف ہو کے بولنا اور پھر بلا کے جھوٹ
جھوٹوں کا خلیفہ اسے کہنا مناسب نہیں جھوٹوں کا بادشاہ اسے کہہ دیں تو کیا خطر

لعنت الله علی الکاذبین!

١٤

اظہار حق

(انجمن اشاعت الاسلام)

سیکرٹری انجمن اشاعت

PDF 254

خاتم النبیین لا نبی بعدی

سبحانک لا علم لنا الا ما علمتنا انک انت العلیم الحکیم

اظہار حقیقت

(انجمن اشاعت الاسلام بنارس کا ٹریکٹ نمبر ٣)

سیکرٹری انجمن اشاعت الاسلام بنارس

اشاعت الاسلام بنارس

صفحہ ٢٥٤

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ الحمد لله رب العالمين، ولا عدوان الا على الظالمين والصلوة والسلام على صفوته وخيرته محمد خاتم النبيين وعلى اله وصحبه واولياء اجمعین الی یوم الدین۔

اما بعد ! بنارس میں جب سے قادیانیوں کے فتنہ نے سر اٹھایا ہے مسلمانوں کا زبردست تقاضہ ہے کہ ان کو حقیقت مرزائیت سے آگاہ کیا جائے، اس لئے انجمن اشاعت الاسلام نے مصمم ارادہ کر لیا ہے کہ وقتاً فوقتاً مختلف رسالے شائع کئے جائیں جن میں فرقہ مرزائیہ کے مسئلے بیان کئے جائیں تاکہ مسلمان ان مسئلوں سے کما حقہ واقف ہو جائیں اور کسی کے بہکانے کا ان پر اثر نہ ہو، چنانچہ ایک رسالہ شائع ہو چکا ہے۔ دوسرا یہ حاضر ہوتا ہے۔

بانی فرقہ قادیانیہ

پنجاب میں امرتسر سے مشرق کی طرف مشہور مقام بٹالہ ہے جو ضلع گورداسپور کی تحصیل ہے بٹالہ سے ١١ میل کے فاصلہ پر ایک چھوٹا سا قصبہ قادیان ہے جس میں مسلمان، ہندو اور سکھ آباد ہیں، وہاں ایک معمولی حیثیت کے زمیندار حکیم مرزا غلام مرتضیٰ صاحب قوم مغل سے تھے۔ ان کے یہاں ایک لڑکا سندھی بیگ عرف مرزا غلام احمد ١٢٦١ ہجری میں پیدا ہوا (تریاق القلوب ص ١٥٥، خزائن ج ١٥ ص ٢٨٣) زمانہ کی گردش سے اراضی ہاتھوں سے نکلنے لگی اور تنگی پر تنگی آنے لگی تو مرزا قادیانی جوان ہو کر معاش کی تلاش کے لئے باہر نکلے اور سیالکوٹ کی کچہری میں پندرہ روپیہ ماہوار پر ملازم ہو گئے۔ اسی اثناء میں لالہ بھیم سین وکیل سیالکوٹ سے قانون پڑھنا شروع کیا اور فرصت کے اوقات میں کمرہ کا دروازہ بند کر کے چراغ جلا کر تسخیر کے عملیات کی مشق شروع کر دی۔ (صدائے حق ص ٣) مطالعہ قانون کے بعد مختاری کا امتحان دیا لیکن فیل ہو گئے۔ آخر ملازمت چھوڑ کر وطن واپس آئے اور تصنیف و تالیف کے میدان میں قدم رکھا۔ ایک کتاب براہین احمدیہ کے لئے چندہ کی اپیل کا اشتہار دیا۔ روپیہ آنا شروع ہو گیا اور کتاب مذکور طبع ہونے لگی (تاریخ مرزا و صدائے حق) اس کتاب میں مرزا قادیانی نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا آسمان پر جانا تسلیم کیا ہے۔ (براہین ٢

صفحہ ٢٥٥

احمدیہ حاشیہ ص ٣٦١، خزائن ج ١ ص ٤٣١) اور جلالیت کے ساتھ دنیا پر اترنا بھی (براہین احمدیہ ص ٥٠٥، خزائن ج ١ ص ٦٠١) بلکہ دوبارہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے آنے کا ان لفظوں میں اقرار کیا۔ ”جب حضرت مسیح علیہ السلام دوبارہ اس دنیا میں تشریف لائیں گے تو ان کے ہاتھ سے دین اسلام جمیع آفاق واقطار میں پھیل جائے گا۔

(براہین احمدیہ حاشیہ ص ٤٩٧، ٤٩٩، خزائن ج ١ ص ٥٩٣)

نیز اس کتاب کو ”الٰہامی تائید“ سے بتایا گیا ہے اور لکھا ہے کہ ”یہ کتاب میں نے خواب میں آنحضرت ﷺ کے سامنے پیش کی تو آپ نے اس کو قبول فرمایا۔ (براہین احمدیہ ص ٢٤٨، خزائن ج ١ ص ٢٧٥)“ اور یہ بھی بتایا کہ اس وقت آپ معمور ومبعوث ہوچکے تھے۔ (حقیقت الوحی ص ١٩٩، ٢٠٠، خزائن ج ٢٢ ص ٢٠٧) ”سلسلہ تالیف وتصنیف کے ساتھ ہی بیعت کا سلسلہ بھی شروع کردیا“ جب اس میں کامیابی نظر آئی تو دسمبر کی تعطیلوں میں قادیان میں اپنے مریدوں کا سالانہ جلسہ بھی کرنا شروع کردیا۔ رفتہ رفتہ آپ نے اپنی بابت مثیل عیسیٰ ہونے کا دعویٰ کیا۔ مریدوں نے اسے قبول کرلیا۔ اس کے بعد حضرت عیسیٰ کے مرجانے کا اعلان کیا اور ثبوت میں آیت انی متوفیک وغیرہ پیش کی۔ مریدوں نے کہا کہ آپ نے براہین احمدیہ میں تو یہ معنی کئے ہیں کہ ”اے عیسیٰ میں تجھ کو پوری نعمت دوں گا۔ (براہین احمدیہ ص ٥١٩، خزائن ج ١ ص ٦٢٠)“ اور حدیثوں میں ان کے دوبارہ آنے کا صاف صاف ذکر موجود ہے تو آپ نے فرمایا کہ اس کا مصداق میں ہوں لوگوں نے کہا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے ساتھ پہلے امام مہدی کا ظہور ضروری ہے۔ تو جواب دیا کہ وہ مہدی بھی میں ہی ہوں۔

لوگوں نے کہا کہ جب براہین احمدیہ آنحضرت ﷺ کے سامنے پیش ہوئی تو آپ نے عیسیٰ علیہ السلام کے آسمان پر جانے اور دوبارہ آنے والی عبارت اور متوفیک کے معنی بھی ضرور ملاحظہ فرمائے ہوں گے تو اب کیسے غلط ہوگیا؟ مرزا قادیانی نے فرمایا کہ مجھے الہام تو اس وقت بھی ہوا تھا کہ مسیح موعود تو ہی ہے لیکن میں سابق عقیدہ پر ہی قائم رہا اور اس وحی کی اس وقت تک میں نے پرواہ نہ کی جب تک کہ بار بار مجھے بذریعہ وحی بتلایا نہ گیا کہ تو ہی مسیح موعود ہے۔ لوگوں نے کہا کہ اچھا پھر ایسی فاحش غلطی پر آنحضرت ﷺ نے کوئی تنبیہ کیوں نہ فرمائی؟ تو آپ پرانے عقیدہ پر

٣

صفحہ ٢٥٧

جمے رہے۔ کیا آنحضرت ﷺ کا بھی یہی عقیدہ تھا؟ اگر تھا تو آپ کا دعویٰ غلط ہے اور اگر آپ نے خواب مذکور جھوٹ لکھا ہے تو بھی آپ کا نیا دعویٰ جھوٹا ہے۔ غرض اس وقت سے مسلمانوں نے مرزا قادیانی سے کنارہ کشی اختیار کر لی۔ لیکن پھنسے ہوئے نہ نکل سکے۔ آخر ایک روز مرزا قادیانی نے موقع مناسب دیکھ کر نبوت کا بھی دعویٰ کھلم کھلا کر دیا۔ یہ ہے مرزا قادیانی کے دعویٰ کی حقیقت جو ان کے اشتہارات اور تصانیف سے آفتاب نیمروز کی طرح ظاہر ہے اور علماء اہل سنت نے اپنی تالیفات میں ایک ایک کو بالتفصیل بیان کیا ہے۔ جیسا کہ پہلے ٹریکٹ میں شائع ہو چکا ہے۔

ضروری مسئلے

مرزا قادیانی نے جن مسئلوں کو قرآن وحدیث کے خلاف بیان کیا اور اپنے دعوے کو ان سے متعلق رکھا اور انہی پر اپنے فرقے کی بنیاد رکھی ہے وہ چار مسئلے ہیں۔

دلوادی۔ سولی سے آپ نیم جان اتارے گئے اور خفیہ طور سے مرہم پٹی کر کے کشمیر بھاگ آئے یہاں آپ ٨٧ سال زندہ رہے پھر مر گئے چنانچہ شہر سری نگر کشمیر محلہ یار خاں میں آپ کی قبر موجود ہے۔“

(الہدیٰ ص ١٠٩، خزائن ج ١٨ ص ٣٦١)

انسان دنیا میں واپس نہیں آتا اس لئے حدیثوں میں جس عیسیٰ کے آنے کی خبر دی گئی ہے اس سے کوئی دوسرا شخص مراد ہے جو حضرت عیسیٰ کا مثیل ہوگا اور وہ عیسیٰ موعود میں ہوں۔“

(ازالۃ اوہام ص ١٩٠، خزائن ج ٣ ص ١٩٢)

مہدی کے ظہور کی جو خبر دی گئی ہے وہ امام مہدی بھی میں ہی ہوں۔“

(ازالہ تامل پیچ)

ص ٣٩١، خزائن ج ٢٢ ص ٤٠٦) ”جو مجھ پر ایمان نہ لائے گا وہ مسلمان نہیں اور جہنمی ہے۔

(تذکرہ ص ٣٣٦، ٣٣٧، حقیقت الوحی ص ١٦٣، خزائن ج ٢٢ ص ١٦٧)“

٤

مسائل مذکورہ کی حقیقت

مرزا قادیانی کے مسائل اربعہ مذکورہ بالکل تصریحات کے یکسر خلاف ہیں۔

صاف صاف فرما دیا ہے: ”وما قتلوه وما صلبو السلام کو نہ قتل کیا اور نہ سولی پر چڑھایا۔ پس جب حضرت غلط ہوا تو مرہم پٹی اور ہجرت کشمیر کا سارا قصہ غلط اور باطل

خشت اول چوں نہد
تا ثریا می رود

مذکورہ کے آخر میں فرمایا: ”وما قتلوه يقينا بل حکیما (پ٦) ”یعنی انہوں نے حضرت عیسیٰ علیہ السلا طرف اٹھا لیا اور اللہ غالب ہے۔ (اپنے کاموں میں) قیامت کے قریب پھر دنیا میں نازل ہوں گے اور حج کر آئے گی اور روضہ نبویہ میں دفن ہوں گے۔ جیسا کہ آنحضر بن مريم من السماء (كنز العمال ج ٧ ص ٢٥٧) ” وليهلن بفج الروحاء حاجاً (صحیح مسلم ج ١ ص ٤٠٧ ثم يموت فيدفن معى فى قبرى فاقوم انا وع ابى بكر وعمر (مشکوٰۃ ص ٤٨٠) ”باب نزول عیس گے۔ (کنز العمال میں ہے کہ آسمان سے اتریں گے) (صحیح مسلم میں ہے کہ مقام فج الروحاء سے حج کا احرام با مریں گے اور میرے پاس میرے مقبرہ میں دفن ہوں دونوں ایک ہی مقبرہ سے اٹھیں گے درمیان ابو بکر اور عم بھی مسلم ہے اور اس کو انہوں نے محمدی بیگم سے نکاح

٥

SHORT

صفحہ ٢٥٧

مسائل مذکورہ کی حقیقت

مرزا قادیانی کے مسائل اربعہ مذکورہ بالکل غلط اور قرآن وحدیث اور ائمہ دین کی تصریحات کے یکسر خلاف ہیں۔

صاف صاف فرما دیا ہے: ”وما قتلوه وما صلبوه پ٦“ یعنی انہوں نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو نہ قتل کیا اور نہ سولی پر چڑھایا۔ پس جب حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی نسبت سولی کا واقعہ ہی غلط ہوا تو مرہم پٹی اور ہجرت کشمیر کا سارا قصہ غلط اور باطل ہو گیا۔

خشت اول چون نهد معمار کج
تا ثریا می رود دیوار کج

مذکورہ کے آخر میں فرمایا: ”وما قتلوه يقينا بل رفعه الله اليه وكان الله عزيز حکیما (پ٦)“ یعنی انہوں نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو یقیناً نہیں قتل کیا بلکہ ان کو اللہ نے اپنی طرف اٹھا لیا اور اللہ غالب ہے۔ (اپنے کاموں میں) حکمت والا ہے۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام قیامت کے قریب پھر دنیا میں نازل ہوں گے اور حج کریں گے پھر ان کو موت (مدینہ طیبہ) میں آئے گی اور روضہ نبویہ میں دفن ہوں گے۔ جیسا کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا ہے: ”ينزل عیسی بن مریم من السماء (کنزالعمال ج ٧ ص ٢٦٧)“ ”الی الارض فيتزوج ويولد له وليهلّن بفج الروحاء حاجاً (صحیح مسلم ج ١ ص ٤٠٧)“ ”ويمكث خمسا واربعين سنة ثم يموت فيدفن معي في قبري فاقوم انا وعيسى بن مريم من قبر واحد بين ابی بکر وعمر (مشکوٰۃ ص ٤٨٠)“ باب نزول عیسیٰ یعنی حضرت عیسیٰ بن مریم زمین پر اتریں گے۔ (کنز العمال میں ہے کہ آسمان سے اتریں گے) پھر نکاح کریں گے اور ان کے اولاد ہوگی۔ (صحیح مسلم میں ہے کہ مقام فج الروحا سے حج کا احرام باندھیں گے) آپ ٤٥ سال رہیں گے پھر مریں گے اور میرے پاس میرے مقبرہ میں دفن ہوں گے۔ پس میں اور حضرت عیسیٰ ابن مریم دونوں ایک ہی مقبرہ سے اٹھیں گے درمیان ابوبکر اور عمر کے۔ یہ حدیث مرزا قادیانی کے نزدیک بھی مسلم ہے اور اس کو انہوں نے محمدی بیگم سے نکاح کی پیش گوئی میں پیش کیا ہے۔ (دیکھو حاشیہ

٥

صفحہ ٢٥٩

ضمیمہ انجام آتھم ص ٥٣ ،خزائن ج ١١ ص ٣٣٧) اور حضرت مسیح کا آنحضرت ﷺ کی قبر میں دفن ہونا بھی مانا ہے۔ (دیکھو کشتی نوح ص ١٥، خزائن ج ١٩ ص ١٦، ازالہ اوہام حصہ اول ص ٢٥٢، خزائن ج ٣ ص ٢٥٢) اس حدیث سے چند باتیں (مندرجہ ذیل) معلوم ہوئیں۔

٤٥ سال بعد مریں گے۔ ثم یموت کو بار بار پڑھو۔ پس چونکہ ابھی تک آپ نہیں اترے اس لئے آپ مرے بھی نہیں۔

کے لحاظ سے اس سے کہیں زیادہ رہے اور تبلیغی عمر کے لحاظ سے ٢٦ سال یا زیادہ سے زیادہ ٣٠ ہے۔

کا ذکر ہے۔ بقول مرزا قادیانی اس سے اگر محمدی بیگم کا نکاح مراد ہے تو مرزا قادیانی تشریف بھی لے گئے محمدی بیگم سے نکاح نہ ہوا لہذا مرزا قادیانی مسیح موعود بھی نہ ہوئے۔

نبوی ﷺ میں جب آپ دفن ہوں گے آپ کی قبر آنحضرت کی قبر کے ساتھ ہوگی اور یہ سب کو معلوم ہے کہ جناب مرزا قادیانی ١٩٠٨ء میں لاہور میں مرے اور قادیان ضلع گورداسپور میں دفن ہوئے۔ کہاں مدینہ طیبہ اور کہاں قادیان؟ مرزا قادیانی نے تو زندگی میں بھی مکہ اور مدینہ نہ دیکھا۔ بھلا مرنے کے بعد کیونکر مدینہ طیبہ پہنچ جاتے؟ پھر وہ مسیح موعود کیسے ہو گئے؟

کے پاس دفن کرنے کے لئے بولا جاتا ہے وہ پیچھے مرتا ہے۔ پس جب آنحضرت ﷺ نے فرمایا ”یدفن معی“ یعنی عیسیٰ میرے پاس دفن کئے جائیں گے تو معلوم ہوا کہ آنحضرت ﷺ پہلے انتقال فرمائیں گے اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام بعد میں فوت ہوں گے اور ظاہر ہے کہ آنحضرت ﷺ نے حدیث مذکور اپنی دنیوی حیات میں بیان فرمائی تھی۔ پس عیسیٰ آنحضرت ﷺ کی زندگی تک تو نہیں مرے تھے۔ پھر ہم کسی شخص کے کہنے سے کیسے مان لیں حضرت عیسیٰ صدیوں پیشتر آنحضرت ﷺ سے کشمیر جا کر مر گئے تھے۔ کہاں کشمیر اور کہاں مدینہ شریف؟

چہ نسبت خاک را با عالم پاک

٦

جواب شبہ

مسلمانوں کو مغالطہ دیا جاتا ہے کہ حدیث مذکور میں کیونکر حضرت عیسیٰ علیہ السلام دفن ہوں گے جبکہ آنحضرت کو کھولنا آپ کی سخت توہین ہے۔ جواب ...... اس شبہ کا یہ ہے کہ یہ اعتراض محض بے علمی ہے۔ زبان عربی کا قاعدہ ہے کہ اسم مصدر اپنے مشتقات ہے جیسے نہر بمعنی منھر (پانی بہنے کی جگہ) ملا علی قاریؒ حدیث مذکور کی شرح میں صراحت کی ہے کہ اس جگہ قبر سے فیدفن معی صاف وارد ہے یعنی میرے پاس دفن کئے جائیں گے نزدیک کے ہوتے ہیں اور جب دو قبریں پاس پاس ہوتی ہیں چنانچہ حضرت ابوبکرؓ اور حضرت عمرؓ کی قبریں بھی روضہ شریف پاس ہیں۔ دیکھو مرزا قادیانی خود بھی لکھتے ہیں کہ: آنحضرت

اور فرماتے ہیں: ...... ابوبکر وعمر کو یہ رتبہ ملا کئے گئے گویا ایک ہی قبر ہے۔ (نزول المسیح ص ٤٧، قادیانی حضرت ابوبکرؓ اور عمرؓ اور آنحضرت ﷺ کی حضرت محمد ﷺ اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی قبر بھی ایک متصل ہی مابین حضرت ابوبکرؓ، حضرت عمرؓ مدفون ہوں گے کی جگہ خالی رکھی ہے۔ حضرت عبداللہ بن سلام صحابیؓ نے آنحضرت جب بیان فرمائیں تو بھی کہا کہ تورات میں یہ بھی لکھا ہے ص ٥٠٦) یعنی آنحضرت ﷺ کے پاس متصل حضرت مدنی جو صحابی کے شاگرد ہیں اور بڑے جید عالم تابعی ہیں ٧

صفحہ ٢٥٩

جواب شبہ

مسلمانوں کو مغالطہ دیا جاتا ہے کہ حدیث مذکور میں فی قبری آیا ہے پھر آنحضرت کی قبر میں کیونکر حضرت عیسیٰ علیہ السلام دفن ہوں گے جبکہ آنحضرت اپنی قبر میں موجود ہیں۔ نیز آپ کی قبر کو کھولنا آپ کی سخت توہین ہے۔

جواب ...... اس شبہ کا یہ ہے کہ یہ اعتراض محض بے علمی پر مبنی ہے۔ حدیث مذکور میں قبر بمعنی مقبرہ ہے۔ زبان عربی کا قاعدہ ہے کہ اسم مصدر اپنے مشتقات اسم ظرف وغیرہ کے معنی میں اکثر آیا کرتا ہے جیسے نہر بمعنی منھر (پانی بہنے کی جگہ) ملا علی قاری محدث مکی اور شیخ عبدالحق محدث دہلوی نے حدیث مذکور کی شرح میں صراحت کی ہے کہ اس جگہ قبر بمعنی مقبرہ ہے علاوہ ازیں حدیث مذکور میں فیدفن معی صاف وارد ہے یعنی میرے پاس دفن کئے جائیں گے اور مع کے معنی عربی میں پاس اور نزدیک کے ہوتے ہیں اور جب دو قبریں پاس پاس ہوں تو کہا جاسکتا ہے کہ دونوں ایک ہیں۔ چنانچہ حضرت ابوبکرؓ اور حضرت عمرؓ کی قبریں بھی روضہ شریف کے اندر آنحضرت ﷺ کی قبر اطہر کے پاس ہیں۔ دیکھو مرزا قادیانی خود بھی لکھتے ہیں کہ: آنحضرت ﷺ کے روضہ کے پاس مدفون ہو۔“

(ازالہ اوہام طبع پنجم ص ٤٧٠، خزائن ج ٣ ص ٤٥٢)

اور فرماتے ہیں: ...... ابوبکر و عمر کو یہ رتبہ ملا کہ آنحضرت ﷺ سے ایسے ملحق ہو کر دفن کئے گئے گویا ایک ہی قبر ہے۔ (نزول المسیح ص ٤٧، خزائن ج ١٨ ص ٤٢٥) پس جس طرح مرزا قادیانی حضرت ابوبکرؓ اور عمرؓ اور آنحضرت ﷺ کی تین قبروں کو ایک قبر کہتے ہیں اسی طرح حضرت محمد ﷺ اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی قبر بھی ایک ہے گو حضرت عیسیٰ آنحضرت ﷺ کے متصل ہی مابین حضرت ابوبکرؓ، حضرت عمرؓ مدفون ہوں گے۔ چنانچہ آج تک اس موقع پر ایک قبر کی جگہ خالی رکھی ہے۔

حضرت عبداللہ بن سلام صحابیؓ نے آنحضرت ﷺ کی صفتیں جو تورات میں مرقوم تھیں جب بیان فرمائیں تو بھی کہا کہ تورات میں یہ بھی لکھا ہے: ”وعیسیٰ بن مریم یدفن معہ (مشکوٰۃ ص ٥٠٦)“ یعنی آنحضرت ﷺ کے پاس متصل حضرت عیسیٰ علیہ السلام دفن کئے جائیں گے ابو مودود مدنی جو صحابی کے شاگرد ہیں اور بڑے جید عالم تابعی خاص مدینہ طیبہ کے باشندہ ہیں وہ شہادت دیتے

٧

صفحہ ٢٦١

ہیں کہ: ”قدبقی فی البیت موضع قبر (ترمذی،مشکوٰۃ)“ یعنی روضہ نبوی میں اب تک ایک قبر کی جگہ باقی ہے۔ آج تک بھی وہ جگہ ویسی ہی خالی ہے جیسا کہ اکثر حاجیوں نے اپنی چشم دید شہادت دی ہے جس کو شک ہو وہ خود جا کر دیکھ کر اپنا اطمینان کر سکتا ہے۔ وللہ الحمد والمنۃ

چار قبروں کی خبر دی ہے ایک اپنی، دوسری حضرت ابوبکر کی، تیسری حضرت عمرؓ کی، اور چوتھی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی، حضرت عائشہؓ نے آپ کے پہلو میں اسی حجرہ میں دفن کئے جانے کی اجازت آپ ﷺ سے چاہی تھی تو آپ نے فرمایا تھا: ”مافیه الا موضع قبری وقبر ابی بکر وعمر وعیسیٰ بن مریم (منتخب کنز العمال برحاشیہ مسند احمد ص ٧٥)“ ﴿ یعنی وہاں تو سوائے میری قبر اور ابوبکر اور عمرؓ اور عیسیٰ بن مریم کی قبر کے اور کسی کی جگہ نہیں ہے۔ ﴾ مرزا قادیانی کی قبر کی بابت نہ کوئی خبر ہے نہ کوئی جگہ۔ حضرت عائشہؓ کا خواب میں تین ٣ چاند دیکھنے کا بھی یہی مطلب ہے کہ آنحضرت ﷺ آفتاب ہیں اور باقی تین چاند یا یہ کہ حضرت عائشہؓ نے تین چاند دیکھے تھے انہوں نے اپنی زندگی میں وہاں تین قبریں دیکھیں چوتھی قبر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی چونکہ حضرت عائشہؓ کی زندگی میں وہاں نہیں ہونی تھی اس لئے ان کو چوتھا چاند نہیں دکھایا گیا۔

بھی نہیں مرے تھے کیونکہ تین قبریں تو موجود ہیں اور چوتھی کی جگہ باقی پڑی ہے جو ابو مودود تابعی کے زمانہ تک بھی خالی تھی اور اب تک اسی طرح خالی پڑی ہے۔

لہٰذا! اس ایک ہی حدیث سے جو مرزا قادیانی کو بھی من وعن تسلیم ان کے تمام دعوے باطل ہو گئے۔

حج

حدیث مذکورہ نقل کرتے ہوئے ہم نے درمیان میں صحیح مسلم ص ٤٠٨ کی حدیث کا ٹکڑا جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے حج کرنے سے متعلق ہے بھی نقل کر دیا ہے۔ اس میں آنحضرت ﷺ نے قسم کھا کر فرمایا ہے: ”والذی نفسی بیده لیهلن ابن مریم بفج الروحاء حاجاً او معتمر اوليثنينهما “ ﴿ یعنی اس ذات کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے ضرور ضرور

٨

عیسیٰ علیہ السلام بن مریم حج اور عمرہ کا احرام باندھ کر ت درمیان میں ہے ) پکاریں گے۔ ﴿ اور یہ سب جانت قادیانی واقعی مسیح موعود ہوتے تو اللہ تعالیٰ تمام موانع د موعود کا یہ نشان کہ ”وہ حج کرے گا“ پورا ہو جاتا لیکن کے صاف معنی یہ ہوئے کہ اللہ تعالیٰ نے مرزا قاد قادیانی ہرگز مسیح موعود نہیں ہو سکتے۔

فاطمہ وحضرات حسنین علیہ السلام کی اولاد سے ہوں ملک عرب کے بادشاہ ہوں گے۔ جیسا کہ آنحضر حتی یملک العرب رجل من اہل بیتی مشکوٰۃ ص٤٦٢) ﴿ یعنی دنیا فنا نہ ہوگی یہاں تک کہ کا بادشاہ ہوگا جس کا نام میرے نام پر (محمد ) ہوگا۔ عبداللہ ہوگا۔ (مشکوٰۃ) اب ذرا مرزا قادیانی کو دی کے مغل، عرب کی بادشاہت تو درکنار، عرب کا س حکومت کی رعایا کی حیثیت سے رہے اور اسی حا الحرمان ہو سکتے ہیں؟ انصاف! انصاف!!

ہو سکتے۔ اسی طرح مرزا قادیانی نبی اور رسول بھی ن کی پیغمبری آنحضرت ﷺ پر ختم کر دی گئی۔ جیسا ک وخاتم النبیین “اس مسئلہ میں نص صریح دیئے ہیں کہ میں نبوت کے محل کی آخری اینٹ ہو احمد، صحیح بخاری، جامع ترمذی،صحیح مسلم) اس مسئلہ کو مفصل مرزا قادیانی نے تو ادعاء نبوت کو کفر و

صفحہ ٢٦١

عیسیٰ علیہ السلام بن مریم حج اور عمرہ کا احرام باندھ کر تلبیہ مقام فج الروحاء سے (جو مکہ اور مدینہ کے درمیان میں ہے) پکاریں گے۔ اور یہ سب جانتے ہیں کہ مرزا قادیانی نے حج نہیں کیا۔ اگر مرزا قادیانی واقعی مسیح موعود ہوتے تو اللہ تعالیٰ تمام موانع دور کر کے ان کو حج کا شرف نصیب کرتا تاکہ مسیح موعود کا یہ نشان کہ ”وہ حج کرے گا“ پورا ہو جاتا لیکن جب اللہ تعالیٰ نے حج نصیب نہیں کرایا تو اس کے صاف معنی یہ ہوئے کہ اللہ تعالیٰ نے مرزا قادیانی کا دعوائے مسیحیت باطل کر دیا۔ لہٰذا مرزا قادیانی ہرگز مسیح موعود نہیں ہو سکتے۔

سوم...... امام مہدی علیہ السلام کی بابت احادیث میں صاف صاف وارد ہے کہ وہ حضرت فاطمہ، حضرات حسنین علیہ السلام کی اولاد سے ہوں گے۔ یعنی اہل بیت وآل رسول ہوں گے۔ ملک عرب کے بادشاہ ہوں گے۔ جیسا کہ آنحضرت ﷺ فرماتے ہیں: ”لا تذهب الدنيا حتى يملك العرب رجل من اهل بيتي يواطئ اسمه اسمى. (رواہ الترمذی وابوداؤد، مشکوٰۃ ص ٤٧٢) ”یعنی دنیا فنا نہ ہوگی یہاں تک کہ میرے اہل بیت میں سے ایک شخص ملک عرب کا بادشاہ ہوگا جس کا نام میرے نام پر (محمد) ہوگا۔ دوسری حدیث سے ثابت ہے کہ والد کا نام عبداللہ ہوگا۔ (مشکوٰۃ) اب ذرا مرزا قادیانی کو دیکھئے نام غلام احمد۔ باپ کا نام غلام مرتضیٰ۔ قوم کے مغل، عرب کی بادشاہت تو درکنار، عرب کا سفر بھی نصیب نہ ہوا اسی ہندوستان میں غیر مسلم حکومت کی رعایا کی حیثیت سے رہے اور اسی حالت میں مر بھی گئے۔ پھر آپ کیونکر مہدی آخر الزمان ہو سکتے ہیں؟ انصاف! انصاف!!

چہارم...... جس طرح آپ مسیح موعود نہیں ہو سکتے جس طرح آپ مہدی آخر الزمان نہیں ہو سکتے۔ اسی طرح مرزا قادیانی نبی اور رسول بھی نہیں ہو سکتے۔ اس لئے کہ نبوت و رسالت یعنی خدا کی پیغمبری آنحضرت ﷺ پر ختم کر دی گئی۔ جیسا کہ سورہ احزاب کی آیت ”ولکن رسول الله وخاتم النبیین“ اس مسئلہ میں نص صریح ہے اس کے معنی آنحضرت ﷺ نے خود واضح فرما دیئے ہیں کہ میں نبوت کے محل کی آخری اینٹ ہوں میرے بعد نہ کوئی رسول ہے نہ کوئی نبی (مسند احمد، صحیح بخاری، جامع ترمذی، صحیح مسلم) اس مسئلہ کو مفصل دیکھنا ہو تو ٹریکٹ (ختم نبوت) کا انتظار کریں۔ مرزا قادیانی نے تو ادعاء نبوت کو کفر وخروج از اسلام قرار دیا ہے آپ فرماتے ہیں۔ ”وما

صفحہ ٢٦٣

كان لى ان ادعى النبوة واخرج من الاسلام والحق بقوم كافرين (حمامة البشرى ص ٧٩، خزائن ج ٧ ص ٢٩٧) ”یعنی میں دعوائے نبوت کر کے اسلام سے خارج اور کافروں سے ملحق ہونا نہیں چاہتا۔ آنحضرت ﷺ نے بھی اپنے بعد کے مدعیان نبوت کو دجال و کذاب فرمایا ہے۔ یہ حدیث صحیح بخاری ومسلم میں ابو ہریرہؓ سے قریب ٣٠ دجالون کذابون اور ابوداؤد ترمذی میں ثوبانؓ سے بلفظ کذابون ثلثون مروی ہے۔ (مشکوٰۃ ص ٤٥٧) دجال کے معنی ہیں ایسا شخص جو بہت مکر و فریب سے کام لے۔ کذاب کے معنی ایسا شخص جو بہت جھوٹ بولے۔ آنحضرت ﷺ نے یہ ایک ایسی پہچان بتادی ہے کہ عالم ہو یا جاہل، بڑا ہو یا چھوٹا، شہری ہو یا دیہاتی ہر مسلمان، جس کسی شخص کو دعوائے نبوت کرتے سنے فوراً معلوم کر لے کہ یہ مدعی نبوت فرمان نبی دجالون کذابون میں سے ایک ہے۔ کیونکہ آنحضرت ﷺ نے اپنے اس فرمان کے بعد بطور دلیل کے بیان فرما دیا ہے۔ ” وانا خاتم النبيين لا نبي بعدى (مشکوٰة) ”میں خاتم النبیین ہوں میرے بعد کوئی نبی نہیں ہوگا اور فرمایا: ”ان الرسالة والنبوة قد انقطعت فلا رسول بعدى ولا نبى (جامع ترمذی ج١ ص٥٣) ”یعنی آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ رسالت اور نبوت منقطع ہو چکی ہے۔ پس میرے بعد نہ کوئی رسول ہوگا نہ کوئی نبی ہوگا۔ والحمد للہ!

خلاصہ یہ کہ نہ تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام صلیب دیئے گئے نہ ملک کشمیر میں گئے اور نہ مرے بلکہ ان کو اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت و حکمت سے زندہ آسمان پر اٹھا لیا۔ آپ آخر زمانہ میں دنیا میں آسمان سے نازل ہوں گے، حج کریں گے، نکاح کریں گے، اولاد ہوگی، ٤٥ سال رہیں گے، پھر مدینہ طیبہ میں مریں گے اور آنحضرت ﷺ کے پہلو میں روضہ اطہر میں دفن کئے جائیں گے۔ ان کی قبر کے لئے آج تک جگہ خالی پڑی ہے۔ ان چار قبروں کے سوا پانچویں قبر کی وہاں پر کوئی خبر یا گنجائش نہیں ہے اور اب جو دعوائے نبوت کرے وہ بموجب حدیث نبوی تیس ٣٠ جھوٹے مدعیان نبوت میں سے ہے۔

مسلمانو! یہ ہے اصل حقیقت کا اظہار پس تم کسی کے فریب اور مغالطہ میں نہ آنا۔ اپنے ایمان کو بچانا جو تم کو بہکائے اس کے سامنے حدیث ثلاثون کذابون والی پڑھ دینا۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہم کو صراط مستقیم پر رکھے۔ نیز آنحضرت ﷺ کے ختم نبوت کے عقیدہ پر ہم کو زندہ

رکھے اور اسی پر مارے۔ اله الحق آمین!

مختصر فہرس دلائل حیات حضرت عیسیٰ علیہ السلام مسیح

سورہ ال عمران...... ”من المقربين (پ٣)“ اللہ مقربین کی جماعت میں جو آسمانوں پر رہتے ہیں شامل کر جبرئیل علیہ السلام سے ہے۔ پس آپ آسمان پر فرشتوں سے وہاں آپ بے نیاز ہیں۔ باقی نمبر ٨ میں دیکھو۔

نبی گہوارہ میں کلام کیا اور کہولت کی عمر میں آسمان سے اتر دلالت ہے اس امر پر کہ زمانہ دراز تک آپ کا جسم بغیر کھا ہوگا یعنی آپ زندہ رہیں گے۔

اللہ نے فرمایا اے عیسیٰ میں تجھ کو پوری طور سے (مع جسم کی) طرف تجھ کو جسم اٹھا لینے والا ہوں اور تجھ کو کافروں ( چنانچہ ایسا ہی ہوا۔

کی حالت اللہ کے نزدیک آدم کے مشابہ ہے جیسے آدم ب آدم آسمان سے زمین پر اترے تو دنیا آباد ہوئی اسی طر دنیا فنا ہوگی۔

کیا نہ آپ کو صلیب پر چڑھایا لیکن انہوں نے اس کو ڈالی گئی تھی۔

نہیں کیا بلکہ مسیح کو (جو معبر ہے جسم مع الروح سے) اللہ

صفحہ ٢٦٣

رکھے اور اسی پر مارے۔اله الحق آمین!

مختصر فہرس دلائل حیات حضرت عیسیٰ علیہ السلام مشتمل بر تکذیب دعاوی مرزا قادیانی

سورہ ال عمران...... ”من المقربين (پ٣)“ اللہ نے اس آیت میں حضرت عیسیٰ کو ملائکہ مقربین کی جماعت میں جو آسمانوں پر رہتے ہیں شامل کیا ہے۔ اس لئے کہ آپ کی پیدائش نفخ جبرئیل علیہ السلام سے ہے۔ پس آپ آسمان پر فرشتوں کے ساتھ ہیں اس لئے دنیوی حاجات سے وہاں آپ بے نیاز ہیں۔ باقی نمبر ٨ میں دیکھو۔

ہی گہوارہ میں کلام کیا اور کہولت کی عمر میں آسمان سے اترنے کے بعد کلام کریں گے۔ اس میں دلالت ہے اس امر پر کہ زمانہ دراز تک آپ کا جسم بغیر کھانے پینے کے باقی رہے گا کسی قسم کا تغیر نہ ہو گا یعنی آپ زندہ رہیں گے۔

اللہ نے فرمایا اے عیسیٰ میں تجھ کو پورے طور سے (مع جسم و روح کے) لینے والا اور اپنے (آسمان کی) طرف تجھ کو مجسم اٹھا لینے والا ہوں اور تجھ کو کافروں (یہود کے شر) سے پاک رکھنے والا ہوں۔

چنانچہ ایسا ہی ہوا۔

کی حالت اللہ کے نزدیک آدم کے مشابہ ہے جیسے آدم بغیر باپ کے پیدا ہوئے عیسیٰ بھی جس طرح آدم آسمان سے زمین پر اترے تو دنیا آباد ہوئی اسی طرح عیسیٰ بھی آسمان سے زمین پر اتریں گے تو دنیا فنا ہو گی۔

کیا نہ آپ کو صلیب پر چڑھایا لیکن انہوں نے اس کو قتل کیا اور صلیب دی جس پر مسیح کی شباہت ڈالی گئی تھی۔

نہیں کیا بلکہ مسیح کو (جو معبر ہے جسم مع الروح سے) اللہ نے اپنے (آسمان کی) طرف اٹھا لیا۔

١١

صفحہ ٢٦٥

کتاب حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی موت سے پہلے ان پر ایمان لائیں گے۔ معلوم ہوا کہ وہ ابھی مرے نہیں ہیں زندہ ہیں۔ "لن يستنكف المسيح ان يكون عبداً لله ولا الملئكة المقربون (نساء:١٧٢)" اللہ نے حضرت مسیح علیہ السلام کو اور ملائکہ مقربین کو ایک ساتھ ذکر فرمایا ہے۔ جیسے فرشتوں کی پیدائش بغیر سبب کے کلمہ کن سے ہوئی ہے۔ اسی طرح مسیح کی پیدائش بھی ہے۔ اسی لئے اللہ نے مسیح کو ملائکہ کے مقر طبعی (آسمان) پر اٹھا لیا۔ پس جو غذا فرشتوں کی ہے وہی آپ کی بھی ہے۔

حضرت عیسیٰ سے بطور تذکیر نعمت کے فرمائے گا کہ میں نے یہود کو تیرے قتل اور صلیب دینے سے دور ہٹائے رکھا وہ تجھ پر قابو نہ پاسکے اس طرح پر کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو آسمان پر اٹھا لیا اور ان کے دشمن آسمان سے بہت دور اسی زمین پر ناکام رہے۔

عیسیٰ علیہ السلام بجواب سوال الٰہی عرض کریں گے کہ جب تو نے مجھے پوری طور سے اپنے (آسمان کی) طرف اٹھا لیا تو ان کا نگراں تو ہی رہا۔ اس میں پہلی دفعہ کے زمانہ تبلیغ کے بعد جب آپ آسمان پر چلے گئے اور نصاریٰ بگڑ گئے تھے کا ذکر ہے۔ دوسری دفعہ کے بعد تو سب با ایمان ہوں گے۔ پس نہ اس کا سوال ہوگا نہ اس کا یہ جواب ہے۔

ہونے میں نیز آسمان پر جانے اور پھر وہاں سے اتر کر آنے میں حضرت آدم علیہ السلام کی طرح خدا کی قدرت کا ایک نشان ہیں۔ تمام لوگوں کے لئے دیکھو نمبر ١٣۔

رہیں گے (زمین یا آسمان پر) اللہ نے ان کو بابرکت (خیر کثیر والا اور علو یعنی بلندی والا) بنایا ہے۔

اسرائیل کے لئے اپنی قدرت کا ایک نشان (بے باپ سے پیدا ہونے، آسمان پر جانے میں) بنایا ہے۔

١٢

علامت ہے۔

پر غالب کرے گا۔ یہ غلبہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے زمانہ میں ہونا ابھی باقی ہے۔

از احادیث

بحوالہ صحیح مسلم)" آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ اللہ کی قسم عیسیٰ اب گے۔ صلیب توڑیں گے۔ خنزیر کو قتل کریں گے..... الخ۔

سے اتریں گے۔

سنة ثم يموت فيدفن معى فى قبرى (مشکوٰۃ ص ٥ سے) زمین پر اتریں گے پھر نکاح کریں گے ان کے اولاد ہو مریں گے اور میری قبر کے پاس (میرے روضہ میں) دفن مسلمانوں کا ان کے جنازہ کی نماز پڑھنا بھی آیا ہے۔

حتى يدركه بباب لد فيقتله (مشکوٰۃ ص ٤٦٥ بحوالہ پورب والے منارہ کے نزدیک حضرت عیسیٰ علیہ السلام دن دجال کو تلاش کر کے باب لد پر قتل کر ڈالیں گے۔

حاجا او معتمرا،...... الخ (صحیح مسلم ص ٤٠٨ ج ١) آ ضرور عیسیٰ ابن مریم مقام فج الروحاء سے حج یا عمرہ یا دونوں کا

١٣

صفحہ ٢٦٥

علامت ہے۔

پر غالب کرے گا۔ یہ غلبہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے زمانہ میں ہوگا۔ پس اللہ کے اس وعدہ کا پورا ہونا ابھی باقی ہے۔

از احادیث

بحوالہ صحیح مسلم)" آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ اللہ کی قسم عیسیٰ ابن مریم حاکم ہو کر ضرور ضرور اتریں گے۔ صلیب توڑیں گے۔ خنزیر کو قتل کریں گے....... الخ۔

سے اتریں گے۔

سنة ثم يموت فيدفن معى فى قبرى (مشکوٰة ص٤٨٠)" حضرت نے فرمایا کہ (آسمان سے) زمین پر اتریں گے پھر نکاح کریں گے ان کے اولاد ہوگی ٤٥ سال رہیں گے۔ اس کے بعد مریں گے اور میری قبر کے پاس (میرے روضہ میں) دفن ہوں گے۔ ابوداؤد و مسند احمد میں مسلمانوں کا ان کے جنازہ کی نماز پڑھنا بھی آیا ہے۔

حتى يدركه بباب لد فيقتله (مشکوٰة ص٤٧٥ بحوالہ مسلم)" حضرت نے فرمایا کہ دمشق کے پورب والے منارہ کے نزدیک حضرت عیسیٰ علیہ السلام دو فرشتوں کے سہارے اتریں گے پھر دجال کو تلاش کر کے باب لد پر قتل کر ڈالیں گے۔

حاجا، او معتمرا،...... الخ (صحیح مسلم ص ٤٠٨ ج ١)" حضرت نے قسم کھا کر فرمایا ہے کہ ضرور ضرور عیسیٰ ابن مریم مقام فج الروحا سے حج یا عمرہ یا دونوں کا احرام باندھ کر تلبیہ پکاریں گے۔

١٣

صفحہ ٢٦٦

بسم اللہ الرحمن الرحیم

نزول مسیح

اور مسئلہ ختم نبوت

کی

پرکشش بحث

انجمن اشاعت الاسلام بنارس

سیکرٹری انجمن اشاعت الاسلام

ص ٩٥)“ حضرت نے فرمایا کہ حضرت عیسیٰ مدینہ آکر میری قبر پر سلام کریں گے اور میں ان کے سلام کا جواب دوں گا۔

(تفسیر ابن جریر ص ١٨٣)“ حضرت نے فرمایا کہ عیسیٰ علیہ السلام نہیں مرے ہیں اور بے شک وہ قیامت سے پہلے لوٹ کر آنے والے ہیں۔

نے فرمایا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر فنا (موت) بھی آئندہ زمانہ میں آئے گی۔

مولانا ثناء اللہ صاحب امرتسری کے ساتھ مرزا قادیانی کا آخری فیصلہ

مرزا قادیانی نے مولانا امرتسری کے مواخذات سے تنگ آکر اپنی زندگی میں ایک اشتہار آخری فیصلہ کا شائع کیا تھا وہ بالاختصار درج ذیل ہے: ”بخدمت مولوی ثناء اللہ صاحب۔ السلام علی من اتبع الہدیٰ!

مدت سے آپ کے پرچہ اہلحدیث میں میری تکذیب اور تفسیق کا سلسلہ جاری ہے۔ میں نے آپ سے بہت دکھ اٹھایا اور صبر کرتا رہا۔ میں خدا سے دعا کرتا ہوں کہ اے مالک بصیر و قدیر جو علیم و خبیر ہے جو میرے دل کے حالات سے واقف ہے۔ اگر یہ دعویٰ مسیح موعود ہونے کا محض میرے نفس کا افتراء ہے اور میں تیری نظر میں مفسد اور کذاب ہوں تو اے میرے پیارے مالک میں عاجزی سے تیری جناب میں دعا کرتا ہوں کہ مولوی ثناء اللہ صاحب کی زندگی میں مجھے ہلاک کر اور میری موت سے ان کو اور ان کی جماعت کو خوش کر دے تیری جناب میں ملتجی ہوں کہ مجھ میں اور ثناء اللہ میں سچا فیصلہ فرما اور جو تیری نگاہ میں حقیقت میں مفسد اور کذاب ہے اس کو صادق کی زندگی میں ہی دنیا سے اٹھا لے۔ اب فیصلہ خدا کے ہاتھ ہے۔ (مختصراً)

الراقم عبداللہ الصمد میرزا غلام احمد مسیح موعود۔ عافاہ اللہ واید مرقومہ ١٥؍ اپریل ١٩٠٧ء یکم ربیع الاول ١٣٢٥ھ

نتیجه

مرزا قادیانی کی دعا قبول ہو گئی اور آپ اس دنیا سے ٢٦؍ مئی ١٩٠٨ء میں کوچ کر گئے اور مولانا امرتسریؒ اب تک زندہ ہیں۔ متعنا الله بطول حیوته

١٤

PDF 268

خاتم النبيين لا نبي بعدي

میں آخری نبی ہوں میرے بعد کوئی نبی نہیں

نزول مسیح

اور مسئلہ ختم نبوت

پر دلکش بحث

(انجمن اشاعت الاسلام بنارس کا ٹریکٹ نمبر ٣)

سیکرٹری انجمن اشاعت الاسلام بنارس

صفحہ ٢٦٩

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

نحمده ونصلي ونسلم على رسوله الكريم!

پرستاران پیر ”قادیان“ کی پر فتن چالوں سے ہوشیار

مسلمانو! تم سمجھے تمہارے یہ دوست نما دشمن تم سے کیا چاہتے ہیں؟ یہ تمہاری سب سے بڑی قوت پر شبخون مارنا چاہتے ہیں اور وہ قوت ........ تمہاری قوت ایمان ہے۔ یہ تمہاری جان سے بھی عزیز تر متاع تاراج کیا چاہتے ہیں اور وہ انمول متاع تمہارا سچا جوش دین پرستی ہے۔ یہ لوگ چاہتے ہیں تمہارا یقین شک سے بدل جائے اور تمہارا ایمان الحاد سے، یہ لوگ چاہتے ہیں تمہارے دلوں سے دین کا احترام اٹھ جائے اور اس کی جگہ تمسخر و استہزا لے لے۔

تم نے ان کی کتابیں پڑھی ہیں؟ نہیں پڑھی ہیں تو اب پڑھو اور دیکھو کہ ان کے گرو گھنٹال مرزا غلام احمد قادیانی نے کس کس طرح توحید، رسالت، نبوت، اور امامت کی خاک اڑائی ہے۔ کہیں خدا بنے (آئینہ کمالات اسلام ص ٥٦٤، خزائن ج١٥ ص ایضاً) اور کہیں خدا کے بیٹے (حقیقت الوحی ص ٨٦، خزائن ج٢٢ ص ٨٩)۔ کہیں آدم بنے ہیں (ازالہ اوہام ص ٦٩٥، خزائن ج٣ ص ٤٧٥) اور کہیں نوح (انجام آتھم ص ١١، خزائن ج١١ ص ١١)۔ کہیں یعقوب بنے ہیں (براہین احمدیہ ص ١٠٢، خزائن ج١ ص ١٣٤) اور کہیں موسیٰ، کہیں ابراہیم خلیل بنے ہیں اور کہیں محمد مجتبیٰ (تریاق القلوب ص ٣، خزائن ج ١٥ ص ١٣٤)۔ (اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلَيْهِمْ وَعَلٰى جَمِيْعِ اَنْبِيَائِكَ وَرُسُلِكَ وَبَارِكْ وَسَلِّمْ)

مرزا قادیانی ذات کے خبط میں، بڑھے تو مسیح موعود بھی ہیں اور مہدی منتظر بھی! كَلِمَةُ اللَّهِ سَيِّدِنَا عِيْسَىٰ عَلَيْهِ السَّلَام بِنْ مَرْيَمَ (عَلَىٰ نَبِيِّنَا وَعَلَيْهِمَا الصَّلٰوةُ وَالسَّلَام) کی حیات آسمانی کو ایک ”ڈھکوسلا“ اور ان کے رفع جسمانی کو ایک افترا بتاتے ہیں اور فرماتے ہیں یہودیوں نے انہیں سولی پر چڑھا کر مار ڈالا، بالآخر وہ کشمیر آکر مر گئے۔ كَبُرَتْ كَلِمَةً تَخْرُجُ مِنْ أَفْوَاهِهِمْ إِنْ يَقُولُونَ إِلا كَذِبًا۔

یہودی بھی ایک حد تک مرزا قادیانی کے ہم نوا ہیں، مگر قرآن حکیم نے مرزا قادیانی اور یہود دونوں کی تکذیب کی ہے اور فرمایا ہے: وَقَوْلِهِمْ إِنَّا قَتَلْنَا الْمَسِيحَ عِيسَى ابْنَ مَرْيَمَ رَسُولَ اللّٰهِ وَمَا قَتَلُوهُ وَمَا صَلَبُوهُ وَلَكِنْ شُبِّهَ لَهُمْ وَإِنَّ الَّذِينَ اخْتَلَفُوا فِيهِ لَفِي شَكٍّ مِنْهُ مَا لَهُمْ بِهِ مِنْ عِلْمٍ إِلا اتِّبَاعَ الظَّنِّ وَمَا قَتَلُوهُ يَقِينًا بَلْ رَفَعَهُ اللّٰهُ إِلَيْهِ وَكَانَ اللّٰهُ عَزِيزًا حَكِيمًا (نساء)

٢

ترجمہ میں فرماتے ہیں: وبسبب گفتن ایشان که ما کشتیم مسیح عیسیٰ پسر مریم راکه فی الواقع پیغامبر خدا بود، و حال آنکه نه کشته اند او را و بدار نکرده اند او را ولیکن مشتبه شد بر ایشان امر او، و بدرستی که آنان که اختلاف دارند در باب عیسیٰ در شک اند از حال او و نیست ایشان را علم باو، مگر آنکه پیروی ظن میکنند، ویقین نه کشته اند او را، بلکه بر داشته است خدا او را بسوئے خود وهست خدا غالب واستوار کار۔“

حضرت شاہ عبدالقادرؒ اس آیت کریمہ کا ترجمہ یوں فرماتے ہیں: ”اور ان کے اس کہنے پر کہ ہم نے مارا مسیح عیسیٰ مریم کے بیٹے کو جو رسول تھا اللہ کا اور نہ انہوں نے اس کو مارا اور نہ سولی دی، لیکن وہی صورت بن گئی، ان کے آگے اور جو لوگ اس میں کئی باتیں کہتے ہیں، وہ دھوکے میں ہیں۔ کچھ نہیں ان کو اس کی خبر، مگر اٹکل پر چلنا اور اس کو مارا نہیں بے شک، بلکہ اس کو اٹھا لیا اللہ نے اپنی طرف اور ہے اللہ زبردست حکم والا۔“

اللہ اللہ! جس گرامی قدر پیغامبر کا طغرائے امتیاز ”وجيها في الدنيا والآخرة ومن المقربین“١؎ قرار پائے۔ جس کی شان میں ”ويكلم الناس فى المهد وكهلاً ومن الصالحين“٢؎ لہرا رہا ہو۔ جس کی شان اللہ تعالیٰ نے ”بل رفعه الله اليه“٣؎ اور ”ورافعك الیٰ“٤؎ اور ”مقرب فرشتے“ کے بیان حال میں جناب سرور انبیاء ﷺ کی زبان مبارک پر محبت سے کلمہ اخی (میرا بھائی) آئے ٥؎ ۔

١؎ سورہ ال عمران، پوری آیت کا ترجمہ یوں ہے، ﴿اور جب کہا فرشتوں نے اے مریم بے شک اللہ تجھ کو بشارت دیتا ہے ایک اپنے حکم کی جس کا نام مسیح عیسیٰ مریم کا بیٹا ہے، رُو دار دنیا میں اور نزدیک والوں میں۔ ٢؎ اور باتیں کرے گا لوگوں سے جب ماں کی گود میں ہوگا اور جب ادھیڑ عمر کا ہوگا اور نیک بختوں میں ہے۔﴾

٣؎ بلکہ اس کو اٹھا لیا اللہ نے اپنی طرف۔ (النساء)

٤؎ اور اٹھالوں گا اپنی طرف (آل عمران)

٥؎ دیکھیے آسمان پر شب معراج میں اس ملاقات کے وقت یہی کلمہ فرمایا۔ ٣

صفحہ ٢٦٩

آية من آيات الله الباهرة وحجة من حجج البالغة حضرت شاہ ولی اللہ ترجمہ میں فرماتے ہیں: وبسبب گفتن ایشان هر آئینہ ما کشتیم مسیح عیسیٰ پسر مریم راكه فی الواقع پیغامبر خدا بودونه کشته اند اورا وبدار نه کرده اند اورا ولیکن مشتبه شد بر ایشان، وهر آئینہ کسانیکه اختلاف دارند درباب عیسٰی در شك اند از حال او ونیست ایشان را بآں یقینی لیکن پیروی ظن میکنند، و بیقین نه کشته اند اورا بلکه برداشت خدائے تعالیٰ اورا بسوئے خود وهست خدا غالب واستوار کار ۔‘‘

حضرت شاہ عبدالقادرؒ اس آیت کریمہ کا ترجمہ یوں کرتے ہیں: ”اور اس کہنے پر کہ ہم نے مارا مسیح عیسیٰ مریم کے بیٹے کو جو رسول تھا اللہ کا اور نہ اس کو مارا ہے اور نہ سولی پر چڑھایا۔ ولیکن وہی صورت بن گئی، ان کے آگے اور جو لوگ اس میں کئی باتیں نکالتے ہیں وہ اس جگہ شبہ میں پڑے ہیں۔ کچھ نہیں ان کو اس کی خبر، مگر اٹکل پر چلنا اور اس کو مارا نہیں بے شک۔ بلکہ اس کو اٹھا لیا اللہ نے اپنی طرف اور ہے اللہ زبردست حکم والا ۔“

اللہ اللہ! جس گرامی قدر پیغمبر کا طغرائے امتیاز ”بكلمة منه ١“ اور ”وجيهاً في الدنيا والآخرة ومن المقربین“ قرار پائے۔ جس اولو العزم نبی کے پرچم نبوت پر ”ويكلم الناس في المهد وكهلاً ومن الصالحين ٢“ لہرائے۔ جس صاحب شریعت و کتاب رسول کی شان اللہ تعالیٰ اُسے ”بل رفعه الله اليه ٣“ اور ”ورافعك الی ٤“ فرما کر جتائے۔ اللہ تعالیٰ کے جس ”مقرب فرشتے“ کے بیان حال میں جناب سرور انبیاء و فخر رسل (فداہ ابی وامی) کی زبان مبارک پر محبت سے کلمہ اخی (میرا بھائی) آئے۔ اس کی بارگاہ میں یہ گستاخیاں؟ تكاد ٥

تجھ کو بشارت دیتا ہے ایک اپنے حکم کی جس کا نام مسیح عیسیٰ مریم کا بیٹا مرتبے والا دنیا میں اور آخرت میں اور نزدیک والوں میں۔

اور نیک بختوں میں سے ہے۔ ١٢

صفحہ ٢٧٠

السموت يتفطرن منه وتنشق الارض وتخر الجبال هداً (مریم)

”میرزائے قادیان“ کی گستاخ طرازیوں کے نمونے دیکھو، نقل کرتے قلم کانپتا ہے۔

کہتا ہے۔

اينك منم كه حسب بشارات آمدم
عيسے كجاست تا به نهد پا به منبرم

(ازالہ اوہام ص ١٥٨، خزائن ج ٣ ص ١٨٠)

وہ میں ہوں جس کی آمد کی بشارتیں نبیوں نے دیں۔ عیسیٰ کی کیا مجال جو میرے ممبر پر قدم دھر سکے۔

پھر فرماتے ہیں۔

ابن مریم کے ذکر کو چھوڑو
اس سے بہتر غلام احمد ہے

( دافع البلاء ص ٢٠، خزائن ج ١٨ ص ٢٤٠)

ایک دوسرے مقام پر فرماتے ہیں: ”تم کہتے ہو مسیح كلمة الله ہے۔ ہم کہتے ہیں ہمیں خدا نے اس سے بھی زیادہ درجہ دیا۔“ (اخبار بدر ٧ نومبر ١٩٠٦ء) ایک اور مقام پر فرماتے ہیں:

”مجھے قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے اگر مسیح ابن مریم میرے زمانہ میں ہوتا تو جو کام میں کرسکتا ہوں وہ نہ کرسکتا اور وہ نشان جو مجھ سے ظاہر ہوا ہے وہ ہرگز نہ دکھا سکتا۔“ (حقیقت الوحی ص ١٤٨، خزائن ج ٢٢ ص ١٥٢) ایک اور مقام پر لکھتے ہیں: ”خدا نے اس امت میں سے مسیح موعود بھیجا جو اس پہلے مسیح سے اپنی تمام شان میں بڑھ کر ہے۔“ (حقیقت الوحی ص ١٤٨، خزائن ج ٢٢ ص ١٥٢) آگے چل کر فرماتے ہیں: ”وہ خدا جو مریم کے بیٹے کے دل پر اترا تھا وہی میرے دل پر اترا ہے مگر اپنی تجلی میں اس سے زیادہ۔“ (حقیقت الوحی ص ٢٧٤، خزائن ج ٢٢ ص ٢٨٦)

یہ ”مشتِ نمونہ از خروار“ ہے۔ ڈھونڈھو گے تو مرزا قادیانی کی تصانیف میں مشکل سے کوئی صفحہ اس قسم کی لن ترانیوں سے خالی پاؤ گے۔

مگر دیکھو وہ جو فرمایا ہے اللہ رب العزت نے: ”بل نقذف بالحق على الباطل فيدمغه فاذا هو زاهق (سورۃ الانبیاء)“

٤

صفحہ ٢٧١

حقیقت کس طرح بادل کی گرج، برق کی چمک اور سورج کی تابناکی کے ساتھ ظاہر ہوئی ہے۔ ”پیر قادیان“ کے حلقہ بگوش آئیں اور دیکھیں۔

حیات و نزول مسیح کو تم اگلوں کا ڈھکوسلا بتاتے ہو اور اس عقیدہ کی خاک اڑاتے ہو، لکھتے ہو: ”اسی عقیدہ حیات مسیح کی وجہ سے سینکڑوں فرزندان توحید اسلام کو خیر باد کہہ کر حلقہ بگوش عیسائیت ہو گئے ۔“ مگر دیکھو تمہارے پیر و مرشد کو کس طرح اس سچائی کا اعتراف کرنا پڑا ہے۔

کیا لطف جو غیر پردہ کھولے
جادو وہ جو سر چڑھ کے بولے

مرزا قادیانی اپنی مایہ ناز کتاب (براہین احمدیہ ص ٤٩٨، ٤٩٩، خزائن ج ١ ص ٥٩٣ حاشیہ) میں لکھتے ہیں: ”هو الذی ارسل رسوله بالهدی ودين الحق ليظهره على الدين كله“ یہ آیت جسمانی اور سیاست ملکی کے طور پر حضرت مسیح کے حق میں پیشین گوئی ہے اور جس غلبہ کاملہ دین اسلام کا وعدہ دیا گیا ہے۔ وہ غلبہ مسیح کے ذریعہ سے ظہور میں آئے گا اور جب مسیح علیہ السلام دوبارہ اس دنیا میں تشریف لائیں گے تو ان کے ہاتھ سے دین اسلام جمیع آفاق واقطار میں پھیل جائے گا۔“

آگے چل کر مرزا قادیانی توضیح مزید فرماتے ہیں: ”وہ زمانہ بھی آنے والا ہے کہ جب خدائے تعالیٰ مجرمین کے لئے شدت اور عنف اور قہر اور سختی کو استعمال میں لائے گا اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام نہایت جلالیت کے ساتھ دنیا پر اتریں گے۔“

(براہین احمدیہ ص ٥٠٥، خزائن ج ١ ص ٦٠١ حاشیہ)

قارئین کرام! یہ عبارتیں اپنا مدعا بتانے میں کتنی روشن ہیں ! کھلا کھلا اعتراف ہے کہ یہ آیت ”هو الذی ارسل رسوله بالهدی ودين الحق ليظهره على الدين كله (سوره صف)“ حضرت عیسیٰ بن مریم علیہ السلام کے باب میں ہے: جو گو ابھی نہیں آئے ہیں مگر آئیں گے اور جب آئیں گے تب اسلام سارے عالم میں پھیل جائے گا اور تمام دوسری ملتوں پر اسے پورا پورا غلبہ حاصل ہوگا، تمام دوسری ملتیں ان کے ہاتھوں مٹا دی جائیں گی اور اسلام زندگی پائے گا۔ یہ ربانی پیش گوئی پوری ہوگی اور اس کی تکمیل کے لئے حضرت عیسیٰ علیہ السلام دوبارہ اس دنیا میں تشریف لائیں گے۔

٥

صفحہ ٢٧٣

اس دوبارہ تشریف لانے کے سوا اس کے اور کیا معنی ہو سکتے ہیں کہ آنے والے اللہ کے وہی نبی ہیں جو ایک بار آ چکے ہیں اور یہ ایک بار آ چکنے والا نبی عیسیٰ بن مریم بنت عمران ہے اللہ کا یہی نبی بعینہ دوبارہ آنے والا ہے اور جب ایسا ہے تو کیا یہ بالکل ظاہر نہیں کہ گو ہماری آنکھوں سے اوجھل ہے۔ مگر وہ ابھی زندہ ہے؟ (صلی الله علیه وعلی امه الطاهرة المطهرة العذراء )

جب کہا جائے کہ لارڈ ولنگڈن دوبارہ ہندوستان آئے ہیں تو اس جملہ کے سوا اس کے اور کیا معنے ہو سکتے ہیں کہ یہ وہی شخص ہے جو اس سے پیشتر ایک بار ہندوستان آ چکا ہے؟ گویا ہندوستان سے دور تھا مگر زندہ تھا اب نائب السلطنت کے منصب پر فائز ہو کر دوبارہ ہندوستان آیا ہے۔

پھر مرزا قادیانی کا فقرہ بھی اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام ..... دنیا پر اتر آئیں گے۔ کس قدر صاف ہے؟

مرزا قادیانی کی ایک اور روشن تر عبارت سنئے، فرماتے ہیں۔ ” صحیح مسلم کی حدیث میں جو یہ لفظ موجود ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام جب آسمان سے اتریں گے تو ان کا لباس زرد رنگ کا ہوگا。“

(ملاحظہ ہو ازالۃ اوہام ص ٨١، خزائن ج ٣ ص ١٤٢)

ایک اور مقام پر فرماتے ہیں: ”دیکھو میری بیماری کی نسبت بھی آنحضرت ﷺ نے پیشینگوئی کی تھی جو اس طرح وقوع میں آئی کہ آپ نے فرمایا تھا کہ مسیح آسمان پر سے جب اترے گا تو دو زرد چادریں اس نے پہنی ہوں گی سو اس طرح مجھے دو بیماریاں ہیں ۔“ (ملفوظات احمدیہ ج ٨ ص ٤٣٥) (مراق اور سلسل البول) سبحان الله! اسی طرح (ایام الصلح (اردو) ص ١٤٦، خزائن ج ١٤ ص ٣٨١) پر مرزا قادیانی کہتے ہیں: ”اس پر اتفاق ہو گیا ہے کہ مسیح کے نزول کے وقت اسلام دنیا پر پھیل جائے گا اور ملل باطلہ ہلاک ہو جائیں گے اور راست بازی ترقی کرے گی۔“

مرزا قادیانی حضرت مسیح علیہ السلام کے آسمان سے نازل ہونے کا کس صفائی کے ساتھ اعتراف فرما رہے ہیں! اس بات کا بھی کس زور کے ساتھ اعلان کر رہے ہیں کہ جب حضرت مسیح آئیں گے اسلام سارے عالم میں پھیل جائے گا۔ تمام دوسرے ادیان فنا ہو جائیں گے۔ ایک ہی دین باقی رہے گا اور وہ دین اسلام ہوگا۔ ہمیں اس رسالہ میں براہ راست تو مرزا قادیانی کے اعتراف حیات مسیح اور نزول مسیح علیہ السلام سے سروکار ہے مگر طبعاً قارئین کرام کے پیش نگاہ تین باتیں اور رکھ دینی چاہتا ہوں۔

٦

ودین الحق ليظهره على الدين كله ”جس السلام کے حق میں پیشین گوئی ہے۔ کیا معنے رکھتا ہے؟ آ السلام آئیں گے وہ مادی قوتوں سے بھی مسلح ہوں گے سیاست کا رخ پھیر دیں گے؟ اگر یہ معنے ہیں اور یقیـ کے طور پر والا کلیہ یکسر لغو ہوا جاتا ہے تو کوئی بتائے کہ مـ کسی حکومت کے عنان نظم ونسق کے مالک تھے؟ سیاسیـ

قربان جائیے اس سچے نبی کے جس نے بـ کہ وہ جب آئے گا حاکم عدل گستر ہو کر آئے گا۔ وہ مـ دے گا صلیب کے ٹکڑے ٹکڑے کر دے گا۔ اس لئے بغض وعداوت کینہ اور میل سے پاک ہـ

کوئی پوچھے مرزا قادیانی کے عہد میں یہ دنیا، عدل و داد سے بھر گئی؟ دنیا بنی آدم کے رو پرور نغموں سے معمور ہو گئی؟ پرستاران صلیب نے تـ بنی آدم نے مدت کے ٹوٹے ہوئے رشتے جوڑ لئے۔ ایسا نہیں ہوا، ہاں نہیں ہوا۔ تو پھر اس مسیح

غلبہ حاصل ہوگا اور یہ دین الٰہی سارے عالم میں پھیل کوئی پوچھے ”ملل باطلہ“ فنا ہو گئیں؟ اس ایسا اب تک نہیں ہوا، ہاں نہیں ہوا، تو پھر

زرد چادریں پہنے ہوں گے۔ مرزا قادیانی فرماتے سوال پیدا ہوا یہ کیونکر؟ فرمایا ایک چادر میرا عارضہ اللہ، وہ مسیح موعود جو سارے عالم کو امن و آشتی اور عـ نزول اجلال فرمائے گا مراقی ہوگا اور مبتلائے عارضـ

٧

صفحہ ٢٧٣

ا...... غور فرمائیے مرزا قادیانی کا یہ فرمانا کہ یہ آیت ”هو الذی ارسل رسوله بالہدیٰ ودین الحق لیظهره علی الدین کله“ جسمانی اور سیاست ملکی کے طور پر حضرت مسیح علیہ السلام کے حق میں پیشین گوئی ہے۔ کیا معنے رکھتا ہے؟ کیا اس کے یہ معنے نہیں ہیں کہ اب جو مسیح علیہ السلام آئیں گے وہ مادی قوتوں سے بھی مسلح ہوں گے اور اتنے قوی دست ہوں گے کہ عالم کی سیاست کا رخ پھیر دیں گے؟ اگر یہ معنے ہیں اور یقیناً یہی معنے ہیں۔ ورنہ جسمانی اور سیاست ملکی کے طور پر والا ٹکڑا یکسر لغو ہوا جاتا ہے تو کوئی بتائے کہ مرزا قادیانی کو مادی قوتوں سے کیا بہرہ ملا تھا؟ کسی حکومت کے عنان نظم و نسق کے مالک تھے؟ سیاسیات عالم پر انہوں نے کوئی دباؤ ڈالا؟

قربان جائیے اس سچے نبی کے جس نے مسیح موعود کا ایک روشن اور تابناک نشان یہ بتایا کہ وہ جب آئے گا حاکم عدل گستر ہو کر آئے گا۔ وہ جب آئے گا قتل و خون ریزی روک دے گا۔ وہ جب آئے گا صلیب کے ٹکڑے ٹکڑے کر دے گا۔ وہ جب آئے گا دنیا امن و آشتی سے بھر جائے گی۔ دل بغض و عداوت کینہ اور میل سے پاک ہو جائیں گے۔

(بخاری و مسلم)

کوئی پوچھے مرزا سے قادیان کے عہد میں یہ باتیں پوری ہو گئیں؟ دنیا، ناشاد دنیا، کشتہ بیداد دنیا، عدل و داد سے بھر گئی؟ دنیا بنی آدم کے خون ناروا سے غم ناک دنیا، صلح و آشتی کے جاں پرور نغموں سے معمور ہو گئی؟ پرستاران صلیب نے توحید ربانی کے آگے سر ہائے نیاز خم کر دیئے؟ بنی آدم نے مدت کے ٹوٹے ہوئے رشتے جوڑ لئے۔

ایسا نہیں ہوا، ہاں نہیں ہوا۔ تو پھر اس مسیح قادیان کو کیا کہئے؟

ب...... مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے عہد مبارک میں اسلام کو ”تمام ملل باطلہ“ پر پورا پورا غلبہ حاصل ہوگا اور یہ دین الٰہی سارے عالم میں پھیل جائے گا۔

کوئی پوچھے ”ملل باطلہ“ فنا ہو گئیں؟ اسلام نے ان تمام ملل پر غلبہ پا کے ان کو مٹا دیا؟

ایسا اب تک نہیں ہوا، ہاں نہیں ہوا، تو پھر اس مسیح قادیان کو کیا کہئے؟

ج...... حدیث صحیح میں وارد ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام جب نزول فرمائیں گے تب وہ دو زرد چادریں لپیٹے ہوں گے۔ مرزا قادیانی فرماتے ہیں۔ یہ حدیث نبوی میری ہی شان میں ہے۔ سوال پیدا ہوا یہ کیونکر؟ فرمایا ایک چادر میرا عارضہ مراق ہے دوسرا میرا مرض سلسل بول!! سبحان اللہ، وہ مسیح موعود جو سارے عالم کو امن و آشتی اور عدل و داد سے معمور کر دینے کے لئے آسمان سے نزول اجلال فرمائے گا مراقی ہوگا اور مبتلائے عارضہ سلسل بول!! وہ مہدی منتظر جس کے ظہور کے

٧

صفحہ ٢٧٥

ساتھ فضائے آسمانی گلبانگ اذان سے گونج اٹھے گی۔ اسلام زندگی پائے گا اور ملل باطلہ ہلاکت کا جام پئیں گی ، مراقی ہوگا اور گرفتار عارضہ سلسل بول !! سبحان اللہ سبحان اللہ ، کتنی بلند ہوگی شان اس مسیح کی اور کتنا عالی ہوگا رتبہ اس مہدی کا جن کا طرّائے امتیاز ہوگا مراق اور جن کی جلو میں ہوگا عارضہ سلسل بول !!

دوستو پہچانا آپ نے مسیح قادیان کو؟ یہ مراقی بھی ہے اور سلسل بولی بھی ! مگر داد دیجئے ان کی حق گوئی کی۔

کوئی پوچھے کہ حضرت یہ مسیح علیہ السلام کی پیلی چادریں مراق اور عارضہ سلسل بول کیونکر ہو گئیں؟ کیا ہمارے نبی کو جو افصح العرب والعجم تھے ﷺ مراق اور عارضہ سلسل بول سمجھانے کے لئے کوئی دوسرا لفظ نہ مل سکا؟ اس چیستاں گوئی سے تو ایک نوع کا عجز اور قصور ظاہر ہوتا ہے جس سے افصح العرب والعجم سيد المرسلين خاتم النبيين احمد مجتبی محمد مصطفٰی ﷺ کی شان گرامی بہت ہی ارفع ہے۔

قارئین یہ ایک نمونہ ہے اس ”مسیح قادیان“ کی صدہا تحریفات لایعنی کا !! انجمن کا فیصلہ ہے کہ اس شخص کی تحریفات پر بھی ایک مختصر سا رسالہ شائع ہو، اور وہ بہت جلد انشاء اللہ آپ کے ہاتھوں میں ہوگا۔ خیر اب آئیے اصل مضمون کی جانب آئیے۔

دیکھا آپ نے! چاند پر خاک نہیں ڈالی جاسکتی۔ مرزا قادیانی کے قلم سے بھی سچی بات نکل ہی گئی۔ مان لینا پڑا کہ جناب مسیح علیہ السلام پورے جلال کے ساتھ آسمان سے نزول اجلال فرمائیں گے اور یہ وہی مسیح ہوں گے جو اس سے پیشتر ایک بار دنیا میں تشریف لا چکے ہوں گے اور اب جو آئیں گے یہ ان کا دوبارہ آنا ہوگا۔

ہاں ! مرزا قادیانی کے مرید گھبرا کے یہ نہ کہہ دیں کہ ”ہاں صاحب نبی ہونے سے پہلے مرزا قادیانی بھی عام مسلمانوں کی طرح حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی نسبت ایسے ہی مشرکانہ عقائد رکھتے تھے مگر جب خلعتِ نبوت سے نوازے گئے، تب ان عقائد کا مشرکانہ ہونا ان پر روشن ہو گیا اور وہ ان سے تائب ہو گئے۔“ مرزا قادیانی نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا آسمان سے نزول اجلال فرمانا اور ان کا اس دنیا میں دوبارہ تشریف لے آنا اپنی ایسی تصانیف میں لکھا ہے جو ان کے زمانہ نبوت کے ہیں اور جو انہوں نے بایمائے الٰہی تصنیف فرمائی ہیں۔ مثلاً براہین احمدیہ مرزا قادیانی کی یہ تصنیف گرامی ہے جو مرزا قادیانی نے مامور ہو کر لکھی اور جب لکھ چکے، تو آنحضرت ﷺ سے اس ٨

پر مہر قبول کرائی! مرزا قادیانی نے جو کچھ اپنی اس کتاب قبول دیکھا ہے۔

یہ کیونکر ممکن ہے کہ جو کتاب مرزا قادیانی ”مشرکانہ عقائد“ رہ جائیں اور ادھر سے تنبیہ نہ ہو آنحضرت ﷺ نے ملاحظہ فرما کر سند قبول عطا کی ہو موجود ہیں۔ ایام الصلح کی نسبت بھی کوئی قادیانی یہ نہیں تصنیف ہے۔

ہاں ! کوئی مرزائی بوکھلاہٹ میں یہ بھی نہ چ فضیلت مآبی کی ساری شیخی کرکری کر دی جائے گی۔ عقائ مگر قارئین کرام ! ”پیر قادیان“ کے ان پرا مرزا قادیانی مسیح علیہ السلام کی زرد چادروں سے مراد اپ کے ”نبوت زدہ“ مرید ”سچ فرمایا حضور نے“ حق فرمایا کے شور سے اک دنیا سر پر اٹھا لیتے ہیں۔ ان کے مرید ا یا کوڑہ قادیان کے گھور مراد لے لیں تو آپ ان کا کیا عدل و دا“ سے ”ظلم وجور“ ”غلبہ وظہور“ سے ”ہزی صلیب پرستی“ وغیرہ وغیرہ مراد لے لیں تو کون ان کا من قارئین کرام! ”عقیدہ حیات مسیح“ کی ف گے۔ حقیقت یہ ہے کہ مسلمانوں کو حضرات قادیانی ی ہیں کہ مسیح علیہ السلام کو زندہ مان کر تم اللہ تعالیٰ کی صفت شرک ہے۔

سبحان اللہ! کیسا دجل ہے !! مرزا کو نبی اور مزاج نہیں کہ تمہارا یہ فریب ان پر چل جائے۔ حضرت عی زندہ ضرور مانتے ہیں۔ مگر ان کو ”زندہ جاوید“ یا ”حی ل حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو بھی ایک دن موت کا جام ن ہی رہے؟ ٩

صفحہ ٢٧٥

پر مہر قبول کرائی! مرزا قادیانی نے جو کچھ اپنی اس کتاب میں لکھا ہے آنحضرت ﷺ نے اسے بنگاہ قبول دیکھا ہے۔

یہ کیونکر ممکن ہے کہ جو کتاب مرزا قادیانی نے بایمائے الٰہی لکھی ہو اس میں ایسے ”مشرکانہ عقائد“ رہ جائیں اور ادھر سے تنبیہ نہ ہو۔ کیونکر باور کر لیا جائے کہ جس کتاب کو آنحضرت ﷺ نے ملاحظہ فرما کر سند قبول عطا کی ہو، اس میں ایسے عامیانہ و مشرکانہ عقائد بھی موجود ہیں۔ ایام الصلح کی نسبت بھی کوئی قادیانی یہ نہیں کہہ سکتا کہ یہ عہد نبوت مرزا سے پہلے کی تصنیف ہے۔

ہاں! کوئی مرزائی بوکھلاہٹ میں یہ بھی نہ چلا اٹھے کہ یہ ”عقائد اب منسوخ“ ہیں ورنہ فضیلت مآبی کی ساری شیخی کرکری کر دی جائے گی۔ عقائد میں اور نسخ؟

مگر قارئین کرام! ”پیر قادیان“ کے ان پرستاروں کا کیا ٹھکانا ہے؟ ان کے پیر جناب مرزا قادیانی مسیح علیہ السلام کی زرد چادروں سے مراد اپنا مراق اور عارضہ سلسل بول لیتے ہیں اور ان کے ”نبوت زدہ“ مرید ”سچ فرمایا حضور نے“ ”حق فرمایا حضور نے“ اور ”کیا خوب فرمایا حضور نے“ کے شور سے اک دنیا سر پر اٹھا لیتے ہیں۔ ان کے مرید اگر ”آسمان“ سے مراد ”زمین کوئے جاناں“ یا کوروہ قادیان کے گھور مراد لے لیں تو آپ ان کا کیا بگاڑ لیں گے؟ ”دوبارہ“ سے ”بار اولین“ عدل و داد سے ”ظلم وجور“ ”غلبہ و ظہور“ سے ”ہزیمت و ضعف“ ”کسر صلیب“ سے ”فروغ صلیب پرستی“ وغیرہ وغیرہ مراد لے لیں تو کون ان کا منہ بند کرے گا؟

قارئین کرام! ”عقیدہ حیات مسیح“ کی نسبت لفظ ”مشرکانہ“ سنکر حیرت میں ہوں گے۔ حقیقت یہ ہے کہ مسلمانوں کو حضرات قادیانیہ شرک سے متنفر دیکھ کر ان کو یہ جل دیا کرتے ہیں کہ مسیح علیہ السلام کو زندہ مان کر تم اللہ تعالیٰ کی صفت ”حی“ میں ان کو شریک کرتے ہو۔ یہ کھلا ہوا شرک ہے۔

سبحان اللہ! کیسا دجل ہے!! مرزا کو نبی اور رسول ماننے والو مسلمان اب ایسے بھی سادہ مزاج نہیں کہ تمہارا یہ فریب ان پر چل جائے۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو مسلمان آسمان پر اب تک زندہ ضرور مانتے ہیں۔ مگر ان کو ”زندہ جاوید“ یا ”حی لا یموت“ نہیں جانتے ان کا یہ عقیدہ ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو بھی ایک دن موت کا جام پینا پڑے گا۔ فرمائیے اب بھی مسلمان مشرک ہی رہے؟

٩

صفحہ ٢٧٦

قارئین! انتظار کریں، انجمن انشاء اللہ حیات مسیح علیہ السلام پر بھی ایک مستقل رسالہ بہت جلد شائع کرے گی۔ جس میں قادیانی دجل وفریب اور جعل وتحریف کی پردہ دری اچھی طرح کردی جائے گی۔

ختم نبوت

یہ بے چارگان علم وعقل مسلمانوں کو الزام دیتے پھرتے ہیں کہ حیات مسیح کا عقیدہ ان کو مشرک بنائے دے رہا ہے۔ ملت بیضاء بدنام ہوئی جارہی ہے۔ ”فرزندان توحید“ اس سے بیزار ہوتے جارہے ہیں۔ مگر نہیں دیکھتے کہ ان کے پیرومرشد نے خود ہی اس ملت کی خاک اڑانے میں کیا کسر اٹھا رکھی ہے؟ ختم نبوت کا انکار اور ایک مستقل اور دارائے شریعت نبی ہونے کا دعویٰ کر کے انہوں نے اپنی پندار میں، اب اس گھر میں باقی ہی کیا رکھا ہے جس کے لٹنے پر ماتم کیا جائے؟ یریدون لیطفوا نور الله بافواههم والله متم نورہ ولو کرہ الکافرون۔ قارئین انتظار کریں انجمن ایک مفید رسالہ اس مسئلہ پر بھی عنقریب شائع کرے گی مگر مختصر طور پر یہاں بھی اس حقیقت سے متعلق کچھ عرض کیا جائے گا۔

یہ ہمارا ایمان ہے۔ نہیں۔ یہ غیر متزلزل اور ناقابل ریب ایمان رہا ہے ہر سچے مسلمان کا خیرالقرون قرن نبوت سے لے کر آج تک کہ آسمانی صحیفوں میں قرآن سب سے آخری صحیفہ ہے۔ کسی مسلمان نے ایک دقیقہ کے لئے بھی اس میں کبھی شک نہیں کیا اور کتب سماویہ میں قرآن سب سے آخری کتاب کیوں قرار پایا؟ اس لئے کہ یہی وہ کتاب مبین ہے جو تمام اگلی کتابوں کی صداقتوں اور سچی تعلیموں کی امانت اپنے اندر رکھتا ہے۔ فرمایا: ”وانزلنا اليك الكتب بالحق مصدقاً لما بين يديه من الكتب ومهيمنا عليه (مائدہ:٤٨)“ ﴿اور ہم نے اے محمد تیری طرف سچائی کے ساتھ یہ کتاب اتاری جو اپنے سے پہلے کی کتاب کی تصدیق کرتی اور اس پر شاہد وحاوی ہے۔﴾ اور فرمایا: ”رسول من الله يتلوا صحفا مطهره. فيها كتب قيمة (بینہ:٢)“ ﴿محمد پیامبر ہے اللہ کی طرف سے، پڑھتا ہے پاک صحیفے، جن میں کتابیں ہیں سچی اور استوار﴾ دین الٰہی کا یہی وہ کامل صحیفہ ہے جس نے بنی نوع انسان کو کسی دوسرے صحیفہ کا محتاج نہیں رکھا، یہی وہ مکمل صحیفہ ہے جس کے ذریعہ دین الٰہی اپنے تمام اصول اور فروع، مناہج مناسک، شرائع و تشکیلات کے اعتبار سے تکمیل کو پہنچ گیا۔ اس نے اعلان کیا ۔ ”اليوم اكملت لكم دينكم واتممت علیکم نعمتی ورضیت لکم الاسلام دیناً“ ﴿آج میں نے تمہارا دین کامل کر دیا اور اپنی نعمت تم پر تمام کر دی اور تمہارے لئے اسلام کا دین پسند کیا۔﴾

١٠

صفحہ ٢٧٧

قرآن ...... اس باب میں اپنا کوئی ہمسر نہیں رکھتا۔ یہ بزرگی اس کے حصہ میں آئی۔ اس سے پیشتر ہر آنے والے نے اپنے وقت میں یہی کہا ہے کہ ”اس کے بعد اک اور کلام آئے گا جو رب کی باتیں پوری کرے گا۔“ حضرت موسیٰ علیہ السلام سے خدا نے فرمایا: ”میں ان کے لئے ان کے بھائیوں میں سے تجھ سا ایک نبی برپا کروں گا اور اپنا کلام اس کے منہ میں ڈالوں گا اور جو کچھ میں اسے فرماؤں گا وہ سب ان سے کہے گا۔“ (استثناء) اسی طرح حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے بھی کہا ہے: ”لیکن وہ فارقلیط (احمد) پاکیزگی کی روح ہے جسے باپ (خدا) میرے نام سے بھیجے گا۔ وہی تمہیں سب چیزیں سکھائے گا اور سب باتیں جو میں نے تم سے کہی ہیں تمہیں یاد دلائے گا۔“ (یوحنا ١٤، ٢٦) ”اور وہ فارقلیط (احمد) آکر دنیا کو گناہ سے راستی اور عدالت سے قصور وار ٹھہرائے گا۔ گناہ اس لئے کہ وہ مجھ پر ایمان نہیں لائے۔ ...... میری اور بہت سی باتیں ہیں کہ میں تم سے کہوں پر اب تم ان کی برداشت نہیں کر سکتے۔ لیکن جب وہ یعنی سچائی کی روح آئے گی تو وہ تمہیں ساری سچائی کی راہ بتائے گی۔ اس لئے کہ وہ اپنی نہ کہے گی، لیکن جو کچھ سنے گی سو کہے گی، میری بزرگی کرے گی۔“

دیکھو ہر ایک نے اپنے کلام نا تمام بتایا اور ایک اور آنے والے کا پتہ دیا، مگر بالآخر جب وہ موعود الامم ﷺ آیا تو اس نے اعلان کیا: ”الیوم اکملت لکم دینکم واتممت علیکم نعمتی “ رب کی باتیں (دین) آج پوری ہو گئیں اور ساری سچائی کی راہ بتا دی گئی۔ قرآن نے اس لئے نہ کسی اپنے بعد میں آنے والے کی نسبت کوئی پیشین گوئی کی نہ کسی نئے کلام کے نزول کی خبر دی نہ کسی نئی شریعت کا منتظر کیا۔ کہ تکمیل کار کے بعد کسی نئے آنے والے کسی نئے کلام کسی نئی شریعت کا موقع کہاں؟

اور جب قرآن آخرین صحیفہ آسمانی قرار پایا اور تکمیل کار کا اعلان ہو گیا۔ اللہ تعالیٰ نے اس امام الصحف کی بقائے ابد اور حفاظت کی ذمہ داری خود اپنے اوپر لے لی۔ فرمایا: ”ان نحن نزلنا الذکر وانا لہ لحافظون (حجر) ”ہم نے اس نصیحت کی کتاب کو اتارا اور بے شبہ ہم ہیں اس کی حفاظت کرنے والے۔

پھر یہی وعدہ الٰہی ایک دوسری آیت میں یوں دہرایا گیا: ”انا علینا جمعہ وقرآنہ فاذا قرآنہ فاتبع قرآنہ ثم ان علینا بیانہ “ ﴿بے شک ہمارے ذمہ ہے اس قرآن کو سمٹ کر رکھنا اور اس کا پڑھنا، پھر جب ہم پڑھیں تو اس کے پڑھنے کے ساتھ رہ، پھر بے شبہ ہم پر ہے اس کو کھول کر بتانا (سورہ قیامہ)﴾

١١

صفحہ ٢٧٩

دیکھو آج تمام دوسری آسمانی کتابیں گم ہیں اور جو باقی ہیں ان کی حقیقت جعل وتحریف کی تاریکیوں میں مستور مگر دیکھو اس نیرنگ آباد عالم کی تیرہ سو پچاس بہاریں دیکھ چکنے کے بعد بھی یہ امام الصحف آج کروڑوں سینوں میں ایک نقطہ کی کمی و بیشی کے بغیر محفوظ ہے۔

اور پھر دیکھو کہ اللہ تعالیٰ نے اس کتاب مبین کی حفاظت کی ذمہ داری نہ صرف لفظ وعبارت کی جہت سے اپنے اوپر لی، بلکہ بیان یعنی معنی کی جہت سے بھی اسے تا ابد محفوظ رکھنے کا وعدہ فرمایا اور یہی وہ وعدہ ہے جو اس آیت میں دہرایا گیا ۔ " وانه لکتٰب عزيز لا ياتيه الباطل من بين يديه ولا من خلفه تنزيل من حكيم حميد (حم السجده )" ﴿اور بے شک یہ قرآن ایک ایسی کتاب ہے جو غالب ہے۔ باطل نہ اس کے سامنے سے اور اس کے پیچھے سے اس کے پاس آئے گا، ایک حکمت والے اور خوبیوں والے کی طرف سے اترا۔ ﴾

قرآن غالب ہے، اپنے ہر حریف کو اپنے دلائل کے زور سے ہزیمت دے گا۔ باطل نہ اس کے سامنے سے اس میں راہ پائے گا اور نہ پیچھے سے نہ لفظ وعبارت کی طرف سے اور نہ حقیقت ومعنی کی جہت سے۔

اور جب یہ نور کا صحیفہ آیا، ہاں وہ صحیفہ جو "ساری سچائی کی راہ بتانے" آیا، وہ صحیفہ جو قیامت تک کے لئے نوع انسانی کے رشد و ہدایت کا کفیل بن کر آیا۔ وہ صحیفہ جو تمام اگلی آسمانی کتابوں کی صداقتوں اور تعلیموں کی امانت اپنی آغوش میں لے کر آیا، تب اللہ رب العزۃ نے اعلان فرمایا: ”ما كان محمد ابا احد من رجالكم ولكن رسول الله وخاتم النبيين و كان الله بكل شیء علیما (الاحزاب)“ ﴿محمد تم میں سے کسی ایک مرد کے باپ نہیں، لیکن وہ اللہ کے پیغمبر ہیں اور تمام نبیوں کے ختم کرنے والے، اور اللہ کے احاطہ علم سے کوئی شے باہر نہیں۔﴾

روئے زمین پر ندا کر دی گئی کہ محمد (صلوات اللہ وسلامہ علیہ ) ایک ایسا گھرانہ روئے زمین پر آباد کرے گا جو قیامت تک اس کے ایک بڑے حصہ پر قابض رہے گا۔ وہ تم میں سے کسی ایک مرد کا باپ نہیں، اور یہ اس کی شان کے شایاں بھی نہ تھا۔ وہ اللہ کا پیغمبر ہے اور اس کی امت کے تمام مرد اس کے بیٹے ہیں، اور وہ اپنے ان بیٹوں پر ان کے صلبی باپوں سے بھی بڑھ کر، اور کہیں بڑھ کر، شفیق اور مہربان ہوگا اور یہ بیٹے اس کے ادب واحترام کو اپنی جانوں سے بھی زیادہ عزیز

١٢

رکھیں گے۔ میدان محشر میں محمد (صلوات اللہ وسلامہ عل دکھلائے گا اور خوش ہوگا؟ یہ گھرانہ، یہ محمدی گھرانہ قیامت کے سرخیل رہیں گے کہ نبوت ان پر ختم ہو چکی، اور نبوت کا چشمہ ابل چکا جس سے عرفان الٰہی اور نور ہدایت کے صاف او بہتے اور تشنہ کامان محبت کو سیراب کرتے رہیں گے۔ اس گھرانے والوں کو اللہ تعالیٰ نے یوں رو للناس تامرون بالمعروف وتنهون عن ﴿(اے پیروان دعوت ایمانی ) تم تمام امتوں میں بہ لئے ظہور میں آئی ہے، تم نیکی کا حکم دینے والے برائی والے ہو۔ ﴾ اسی طرح فرمایا: ”وکذالك جعلنـ م امة وسطا لتكونوا شهداء على الناس ويكون الرسول عليكم شهيدا (بقرہ اور (اے پیروان دعوت قرآنی ) جس طر کعبہ، قبلہ قرار پایا اسی طرح یہ بات بھی ہوئی کہ ہم ۔ فرمایا، تاکہ تم تمام انسانوں کے لئے سچائی کی شہادت د شہادت دینے والا ہو، یعنی تم اللہ کے رسول سے دعوت اور قومیں تم سے حاصل کریں۔

غرض قرآن آخری صحیفہ آسمانی اور تمام اب شاہد وھادی اور قیامت تک کے لئے بنی نوع انسان کے لئے محمد ﷺ اللہ کے آخری پیغمبر اور قیامت تک کے ل لئے رحمت، اور تمام نبیوں کے خاتم و سرور آئے، اور اکمل ترین امت آئی۔

اب دیکھو پیر قادیان کس طرح دجل وفری اس کے آخری اور مکمل ترین صحیفہ آسمانی ہونے پر کرتے ہیں کہ نئے رسول و نبی ﷺ اور وحی الہام کی ضرورت باقی رہ گئی تھ خاتم النبیین کے معنی سوا اس کے اور کیا ہو سکتے ہیں؟

١٣

صفحہ ٢٧٩

رکھیں گے۔ میدان محشر میں محمد (صلوات اللہ وسلامہ علیہ ) اپنا یہ گھرانہ دوسرے گھرانے والوں کو دکھلائے گا اور خوش ہوگا؟ یہ گھرانہ، یہ محمدی گھرانہ قیامت تک آباد رہے گا اور محمد رسول اللہ ﷺ اس کے سرخیل رہیں گے کہ نبوت ان پر ختم ہو چکی ، اور نبوت کا وہ حوض کوثر (قرآن) ان کے حصہ میں آچکا جس سے عرفان الٰہی اور نور ہدایت کے صاف اور شفاف چشمے قیامت تک پھوٹ پھوٹ کر بہتے اور تشنہ کامان محبت کو سیراب کرتے رہیں گے۔

اس گھرانے والوں کو اللہ تعالیٰ نے یوں روشناس کرایا: ”کنتم خير امة اخرجت للناس تامرون بالمعروف وتنهون عن المنكر وتؤمنون بالله (العمران)“

﴿(اے پیروان دعوت ایمانی ) تم تمام امتوں میں بہتر امت ہو جو لوگوں کی ارشاد واصلاح کے لئے ظہور میں آئی ہے، تم نیکی کا حکم دینے والے برائی سے روکنے والے اور اللہ پر سچا ایمان رکھنے والے ہو۔﴾ اسی طرح فرمایا: ”وكذالك جعلنكم امة وسطا لتكونوا شهداء على الناس ويكون الرسول عليكم شهيدا (بقره)“

اور (اے پیروان دعوت قرآنی ) جس طرح یہ بات ہوئی کہ بیت المقدس کی جگہ خانہ کعبہ، قبلہ قرار پایا اسی طرح یہ بات بھی ہوئی کہ ہم نے تمہیں نیک ترین امت ہونے کا درجہ عطا فرمایا، تاکہ تم تمام انسانوں کے لئے سچائی کی شہادت دینے والے ہو اور تمہارے لئے اللہ کا رسول شہادت دینے والا ہو، یعنی تم اللہ کے رسول سے دعوت حق کا پیغام حاصل کرو اور دنیا کی تمام نسلیں اور قومیں تم سے حاصل کریں۔

غرض قرآن آخر میں صحیفہ آسمانی اور تمام اگلے صحف آسمانی کی صداقتوں اور تعلیموں پر شاہد و حاوی اور قیامت تک کے لئے بنی نوع انسان کی ہدایت سعادت کا کفیل آیا، اور محمد رسول اللہ ﷺ اللہ کے آخرین پیامبر اور قیامت تک کے لئے تمام جن و بشر کے رہنما، اور تمام عالم کے لئے رحمت، اور تمام نبیوں کے خاتم و سرور آئے ، اور امت محمدیہ آخری امت بہترین امت اور نیک ترین امت آئی۔

اب دیکھو پیر قادیان کس طرح دجل و فریب کا دام بچھاتے ہیں پہلا حملہ وہ قرآن کے آخریں اور مکمل ترین صحیفہ آسمانی ہونے پر کرتے ہیں اور فرماتے ہیں قرآن کے آچکنے کے بعد بھی رسول و نبی ﷺ اور وحی الہام کی ضرورت باقی رہ گئی تھی۔ مرزا قادیانی کے دعوائے نبوت ورسالت کے معنی سوا اس کے اور کیا ہو سکتے ہیں؟

١٣

صفحہ ٢٨١

برادران ملت، اس مقام سے سرسری طور پر نہ گزر جاؤ۔ ٹھہرو اور غور کرو، قرآن نے تصریح فرمائی کہ دین الہی مکمل ہو گیا اور سچائی کی ساری باتیں پوری ہو گئیں۔ اب کسی نئے کلام کا انتظار نہ کرو کہ نعمتیں ساری پوری ہو گئیں۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کتاب اللہ اور میری سنت پر نظر رکھو کبھی جادۂ حق سے نہ بھٹکو گے کہ باتوں میں سب سے بہتر بات اللہ کی ہے اور راہوں میں سب سے سیدھی اور بے خطر راہ محمد ﷺ کی ہے۔ امت محمدیہ نے اس بات پر اجماع کر لیا۔ مگر مرزا قادیانی نے (خاکم بدہن) قرآن کی تکذیب کی ، محمد رسول اللہ ﷺ کے فرمانے کو غلط ٹھہرایا، امت محمدیہ کا اجماع برسر غلط بتایا، اور نجات اپنے الہامات کے قبول کرنے پر منحصر بتائی۔ ”تکاد السموت يتفطرن منه وتنشق الارض وتخر الجبال هدا “ ﴿قریب ہے کہ اس بات سے آسمان پھٹ جائیں، زمین شق ہو جائے اور پہاڑوں کے پرزے اڑ جائیں۔﴾

پھر دیکھو قرآن نے تصریح کی کہ ”محمد اللہ کے رسول ﷺ اور تمام نبیوں کے ختم کرنے والے ہیں ۔“ اور اللہ کے پیارے رسول صلوات اللہ وسلامہ علیہ نے بمنشائے آیہ کریمہ: ”وما انزلنا عليك الكتب الا لتبين لهم (نحل) “ اور اے محمد یہ کتاب (قرآن) تو ہم نے تجھ پر اس غرض سے اتاری ہے کہ تو انہیں صاف صاف بتادے ۔“ قرآن کی اس آیت کی تفسیر فرمائی اور فرمایا : ”فضلت على الانبياء بست اعطيت جوامع الكلم ونصرت بالرعب واحلت لي الغنائم وجعلت لى الارض مسجدا وطهورا وارسلت الى الخلق كافة وختم بى النبييون (رواه مسلم ج ١ ص ١٩٩ فی الفضائل) “ مجھے تمام نبیوں پر چھ باتوں میں فضیلت عطاء ہوئی۔

دفتر محفوظ کر دینے کی قدرت عطا ہوئی۔

ضرورت کے وقت تیمم کر لینا جائز قرار دیا گیا۔

١٤

دوسری حدیث میں اللہ کے نبی صلوات اللہ علیہ مثلى ومثل الانبياء من قبلى كمثل رجل بنى بـ لبنة من زاوية فجعل الناس يطوفون به ويعـ هذه اللبنة فانا اللبنة وانا خاتم النبيين (ر كتاب الانبياء ومسلم في الفضائل واحمد فـ وفي بعض الفاظه فكنت انا سددت موضع اللبـ الرسل هكذا في الكنز عن ابن عساکر “ اللہ کے اگلے انبیاء میں یوں سمجھایا کہ کسی نے ایک ایوان تعمیر کیا۔ ذ ایک گوشہ نا تمام رہا اور ایک اینٹ اپنی جگہ پر نہ رکھی گئی خوبیوں اور رعنائیوں کا اعتراف کیا۔ مگر یہ بھی کہا کہ کاش ہوتی ( تا یہ حیرت خانہ زیبائی و جمال اتمام کو پہنچ گیا ہوتا۔)

یہ ایوان (نبوت) ہر پہلو سے کامل ہے۔ ”لوگو میں نبیوں رسولوں کا سلسلہ مجھ تک پہنچ کر ختم ہو گیا۔ ( اس حدیث کو ا۔ نے اپنی صحیح میں اور امام احمد نے اپنی مسند میں روایت کیا ۔ حدیث روایت کی ہے )

شیخین اور ابن ابی حاتم کی ایک اور روایت میں بی الانبياء آیا ہے۔

ایک اور روایت میں ہے: ”ان النبی ﷺ الماحى الذى يمحى الله بي الكفر وانا الحاشر وانا العاقب والعاقب الذى ليس بعده نبي ( ہوں میں احمد ہوں میں مٹانے والا ہوں جس کے ذریعہ اللہ ہوں، لوگ میرے ہی بعد میدان محشر میں اکٹھے کئے جا آنے والا ہوں وہ جس کے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا۔ (بخار

سے ہر ایک جھوٹا دعوائے نبوت کرے گا۔ مگر دیکھو واقعہ یہ مجھ پر نبیوں کا سلسلہ ختم ہو گیا۔ (مسلم)“

١٥

صفحہ ٢٨١

دوسری حدیث میں اللہ کے نبی صلوات اللہ علیہ نے اس آیت کی تفسیر یوں فرمائی: ”ان مثلى ومثل الانبياء من قبلى كمثل رجل بنى بيتاً فاحسنه واجمله الا موضع لبنة من زاوية فجعل الناس يطوفون به ويعجبون له ويقولون هلا وضعت هذه اللبنة فانا اللبنة وانا خاتم النبيين (رواه البخارى ج١ ص٥٠١) ”فى كتاب الانبياء ومسلم فى الفضائل واحمد فى مسنده والنسائى والترمذى وفى بعض الفاظه فكنت انا سددت موضع اللبنة وختم بى البنيان وختم بى الرسل هكذا فى الكنز عن ابن عساکر “ اللہ کے رسول نے ایک تمثیل دی، اور اپنا مقام اگلے انبیاء میں یوں سمجھایا کہ کسی نے ایک ایوان تعمیر کیا۔ زیبائی وجمال میں بلند پایہ مگر اسکا کوئی ایک گوشہ ناتمام رہا اور ایک اینٹ اپنی جگہ پر نہ رکھی گئی لوگوں نے اس محل کو دیکھا اور اس کی خوبیوں اور رعنائیوں کا اعتراف کیا۔ مگر یہ بھی کہا کہ کاش یہ ایک خشت بھی اپنی جگہ پر رکھ دی گئی ہوتی (تاکہ حیرت خانہ زیبائی وجمال اتمام کو پہنچ گیا ہوتا۔) لوگو یہ خالی جگہ میں نے ہی پر کی اور اب یہ ایوان (نبوت) ہر پہلو سے کامل ہے۔ ”لوگو میں نبیوں کا ختم کرنے والا ہوں یا یوں فرمایا کہ رسولوں کا سلسلہ مجھ تک پہنچ کر ختم ہو گیا۔“ (اس حدیث کو امام بخاریؒ نے اپنی جامع میں، امام مسلمؒ نے اپنی صحیح میں اور امام احمدؒ نے اپنی مسند میں روایت کیا ہے نسائی اور ترمذی رحمہما اللہ نے بھی یہ حدیث روایت کی ہے)

شیخین اور ابن ابی حاتم کی ایک اور روایت میں (نمبر٤) الا موضع اللبنة فختم بى الانبياء آیا ہے۔

ایک اور روایت میں ہے: ”ان النبى ﷺ قال انا محمد انا احمد و انا الماحى الذى يمحى الله بى الكفر وانا الحاشر الذى يحشر الناس على عقبى وانا العاقب والعاقب الذى ليس بعده نبى (رواه البخارى ومسلم)“ فرمایا میں محمد ہوں میں احمد ہوں میں مٹانے والا ہوں جس کے ذریعہ اللہ تعالیٰ کفر کو مٹائے گا میں اکٹھا کرنے والا ہوں، لوگ میرے ہی بعد میدان محشر میں اکٹھے کئے جائیں گے اور میں ہی سب سے اخیر میں آنے والا ہوں وہ جس کے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا۔ (بخاری ومسلم)

(نمبر ٥) ایک اور مقام پر فرمایا: ”دیکھو میری امت میں تیس جھوٹے پیدا ہوں گے اور ان میں سے ہر ایک جھوٹا دعوائے نبوت کرے گا۔ مگر دیکھو واقعہ یہ ہے کہ میرے بعد اب کوئی نبی نہ ہوگا کہ مجھ پر نبیوں کا سلسلہ ختم ہو گیا۔ (مسلم)“

١٥

صفحہ ٢٨٣

(نمبر ٦) ایک دوسرے مقام پر علی مرتضیٰؓ سے فرمایا: ”علیؓ تمہیں یہ بات خوش نہیں آتی کہ تم میرے ہارون بنو؟ (پھر دیکھو فوراً ہی غلط فہمیوں کا دروازہ قیامت تک کے لئے مسدود فرما دیا۔) فرمایا ہاں مگر تم ہارون علیہ السلام کی طرح نبی نہیں (اور تم نبی کیونکر ہو سکتے تھے۔) نبوۃ تو مجھ پر ختم ہو گئی، میرے بعد اب کسی کو نبوت نہ ملے گی۔ (مسلم)

نوٹ...... قارئین کرام یہاں ٹھہر جائیں اور غور کریں۔ موسیٰ علیٰ نبینا وعلیہ الصلوٰۃ والسلام جب کوہ طور پر بلائے گئے، ہارون علیہ السلام کو انہوں نے اپنا نائب وخلیفہ بنا کر پیچھے چھوڑا، یہ بھی نبی تھے مگر مستقل اور صاحب شریعت نبی نہ تھے بلکہ موسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام کے متبع تھے اور ان کے امتی رسول اللہ ﷺ نے اس طرح کی غیر مستقل نبوت کے سلسلہ کے متعلق بھی فرما دیا کہ اب وہ بھی منقطع ہے۔ میرے بعد اب کوئی غیر مستقل نبی بھی نہ آئے گا۔ (مستقل اور غیر مستقل کا فرق وامتیاز اور یہ اصطلاح پیروان مرزا کی اختراع ہے۔ شریعت میں ہر نبی مستقل ہے۔ میں نے یہ اصطلاح انہیں حضرات کے لئے استعمال کی ہے۔ (مؤلف)

پھر ایک اور حدیث میں آیا: ”يا ايها الناس انه لم يبق من النبوة الا المبشرات (رواه البخاري ومسلم)“ لوگو دیکھو اب نبوت کی باتوں میں سے کوئی بات نہیں رہی۔ ہاں اچھے خواب البتہ باقی ہیں (بخاری ومسلم)۔ ایک اور روایت میں یوں آیا: ”يــــا ايهــــا الناس انه لم يبق من مبشرات النبوة الا الرؤيا الصالحة يراها المسلم او ترى له (رواه مسلم والنسائى وغيرهما)“ لوگو ! دیکھو نبوت کی خبر نیک دینے والی باتوں میں سے اب کوئی ایک بات بھی باقی نہیں رہی۔ ہاں اچھے سپنے البتہ باقی رہ گئے ہیں، جو مسلمان دیکھیں گے۔ یا دکھائے جائیں گے (مسلم اور نسائی وغیرہما) ایک اور روایت میں آیا دیکھو کیسی روشن بات ہے۔ فرمایا: ”ان الرسالة والنبوة قد انقطعت فلا رسول بعدى ولا نبي (رواه الترمذى ج٢ ص٥٣ وقال هذا حديث صحيح وقال ابن كثير اخرجه احمد ايضاً)“ لوگو اب اس میں شک نہ کرو کہ نبوت اور رسالت کا دروازہ بند ہو گیا، پس میرے بعد نہ کوئی رسول آئے گا اور نہ کوئی نبی (روایت کی یہ حدیث امام ترمذیؒ نے اور فرمایا یہ حدیث صحیح ہے اور فرمایا حافظ ابن کثیرؒ نے کہ اس روایت کی تخریج امام احمدؒ نے بھی کی ہے۔ ایک اور روایت میں ہے: ”وانا آخر الانبياء وانتم آخر الامم (رواه ابن ماجه في سننه) “ لوگو میں نبیوں میں آخرین نبی ہوں اور تم آخرین امت۔ (روایت کی یہ حدیث ابن ماجہ نے) ﴾

١٦

ایک روایت اور سنئے۔ عمرؓ ایک بار بارگاہ رسالت پیامبر آج میں اپنے ایک قرظی بھائی سے ملا، انہوں نـ باتیں لکھ کر دی ہیں۔ اذن ہو تو پیش کروں۔“ سنتے ہی اللہ ”قسم ہے اس ذات پاک کی جس کے دست قدرت میں موسیٰ آ جائیں اور تم ان کے پیرو بن جاؤ، تو بھی تم گمراہ ہو من الامم و انا حظكم من النبيين (رواه احـ ترجمہ : ﴿اے عمر! یقین کرو امتوں میں سے یہ امت یعنی سے میں تمہارے حصہ میں آیا ہوں۔﴾

قارئین کرام! آپ نے سن لیں تصریحات ” المرسلین ﷺ کی ؟ اب بھی کوئی شبہ آیہ کریمہ: ”ولـ کے صحیح معنی میں باقی ہے؟ مسلمانوں کے لئے تو دم مارنے اللہ اللہ، اس صادق مصدوق کی حقیقت بین گویا برائی العین دیکھ رہی تھیں۔ ! ختم نبوت کی حقیقت باء ہے۔ ”صلى الله على نبيه محمد خاتم رسول بعده ولا نبي وبارك وسلم“

قارئین کرام! محدثین اس باب میں حدیثـ نبوت سے لے کر آج تک، ہر عہد میں اس بات پر قطعی اب نبوۃ ورسالت کا دروازہ بند ہے اور اس کا منکر بلا ریـ مگر دیکھو مرزا غلام احمد نے کس کس طرح طرح کی جعل وتحریف کا دام بچھایا ہے، کہیں ظلی و بروزی بنے ہیں۔ کہیں خود محمد رسول اللہ ﷺ بنے ہیں۔ کہیں بالآخر ایک مستقل اور صاحب کتاب وشریعت نبی ورسول دیکھو پیر قادیان کی الحاد طرازیاں دیکھو۔

آنچه دادست هـــر
داد آن جــــــام را مـــــرا
صفحہ ٢٨٣

ایک روایت اور سنئے۔ عمرؓ ایک بار بارگاہ رسالت میں آئے اور کہا: ”اے اللہ کے پیامبر آج میں اپنے ایک قریظی بھائی سے ملا، انہوں نے توراۃ سے مجھے کچھ حکمت و دانائی کی باتیں لکھ کر دی ہیں۔ اذن ہو تو پیش کروں۔“ سنتے ہی اللہ کے پیامبر کا چہرہ غصہ میں تمتما اٹھا: فرمایا: ”قسم ہے اس ذات پاک کی جس کے دست قدرت میں محمدؐ کی جان ہے آج تم میں (اللہ کے نبی) موسیٰ آجائیں اور تم ان کے پیرو بن جاؤ، تو بھی تم گمراہ ہو جاؤ گے۔“ اور پھر فرمایا: ”انکم حظی من الامم و انا حظکم من النّبیین (رواہ احمد فی مسندہ)“ کذا قال السیوطی فی تفسیرہ: ﴿اے عمر! یقین کرو امتوں میں سے یہ امت یعنی تم میرے حصہ میں آئے ہو اور نبیوں میں سے میں تمہارے حصہ میں آیا ہوں۔﴾

قارئین کرام! آپ نے سن لیں تصریحات ”قائد الانبیاء خاتم المرسلین ﷺ کی؟ اب بھی کوئی شبہ آیہ کریمہ: ”ولکن رسول اللہ وخاتم النبیین“ کے صحیح معنی میں باقی ہے؟ مسلمانوں کے لئے تو دم مارنے کی گنجائش نہیں۔

اللہ اللہ، اس صادق مصدوق کی حقیقت بین نگاہیں بعد کے پر آشوب زمانوں کے فتنے گویا برأی العین دیکھ رہی تھیں۔ ! ختم نبوت کی حقیقت باہرہ کس کس طرح عریاں و بے نقاب فرمائی ہے۔ ”صلی اللہ علی نبیہ محمد خاتم الانبیاء وآخر المرسلین الذی لا رسول بعدہ ولا نبی وبارک وسلم“

قارئین کرام! حدیثیں اس باب میں حد تواتر کو پہنچ چکی ہیں، اور امت محمدیہ کا عہد نبوت سے لے کر آج تک، ہر عہد میں اس بات پر قطعی اجماع رہا ہے کہ نبوت عامہ محمدیہ کے بعد اب نبوۃ ورسالت کا دروازہ بند ہے اور اس کا منکر بلا ریب ملحد و بے دین ہے۔

مگر دیکھو مرزا غلام احمد نے کس کس طرح قرآن وحدیث کی تکذیب کی ہے کس کس طرح کی جعل و تحریف کا دام بچھایا ہے، کہیں ظلی و بروزی نبی بنے ہیں، کہیں حقیقت محمدیہ کا ظہور بنے ہیں۔ کہیں خود محمد رسول اللہ ﷺ بنے ہیں۔ کہیں ان سے بھی بڑھ کر ہونے کا دعویٰ ہے اور بالآخر ایک مستقل اور صاحب کتاب و شریعت نبی و رسول ہونے کا اعلان ہو گیا؟

دیکھو پیر قادیان کی الحاد طرازیاں دیکھو۔

آنچه دادست هر نبی را جام
داد آن جام را مرا بہ تمام

١٧

صفحہ ٢٨٤

جس نے نبیوں کو نبوت کے جام عطا کئے جب میری باری آئی تو اس نے یہ جام (نبوت) لبالب مجھے عطا کیا۔

(ملاحظہ ہو نزول المسیح ص ٩٩، خزائن ج ١٨ ص ٤٧٧)

انبیاء گرچہ بودہ اند بسے
من بعرفان نہ کمترم زکے

یوں تو نبی بہت سے گزرے ہیں، مگر عرفان الہیٰ میں میرا مقام کسی نبی سے پست نہیں۔

کم نیم زاں ہمہ بروئے یقین
ہر کہ گوید دروغ ہست لعین

یقین کرو میں ان (نبیوں) میں سے کسی نبی سے بھی مرتبت میں کم نہیں جھوٹے پر خدا کی لعنت۔

(ملاحظہ ہو نزول المسیح ص ٩٩، خزائن ج ١٨ ص ٤٧٧)

منم مسیح زماں ومنم کلیم خدا
منم محمد واحمد کہ مجتبیٰ باشد

ہاں میں کلیم ہوں، میں مسیح موعود ہوں، ہاں میں محمد مجتبیٰ ہوں، ہاں میں احمد مجتبیٰ ہوں۔

(تریاق القلوب ص ٣، خزائن ج ١٥ ص ١٣٢)

مرزا قادیانی کی ایک اور عبارت ملاحظہ ہو، دجل وفریب کی انتہا ہے‘ لکھتے ہیں: ”لیکن اگر کوئی شخص اس خاتم النبیین میں ایسا گم ہو کہ بباعث نہایت اتحاد اور نفی غیریت کے اسی کا نام پالیا ہو اور صاف آئینہ کی طرح محمدی چہرہ کا انعکاس ہو گیا ہو۔ (اپنی جانب اشارہ ہورہا ہے۔ مؤلف) تو وہ بغیر مہر توڑنے کے نبی کہلائے گا کیونکہ وہ محمد ہے گو ظلی طور پر پس باوجود اس شخص کے دعوے نبوت کے جس کا نام ظلی طور پر محمد اور احمد رکھا گیا ہے۔ (اپنی جانب اشارہ ہو رہا ہے۔ مؤلف) پھر بھی سیدنا محمد ﷺ خاتم النبیین ہی رہا، کیونکہ یہ محمد ثانی (خود مرزا قادیانی) اسی محمد ﷺ کی تصویر اور اسی کا نام ہے۔“

(ملاحظہ ہو ایک غلطی کا ازالہ ص ٣، خزائن ج ١٨ ص ٢٠٩)

اے غلامان محمد، اے شہنشاہ کونین کے غلامی پر ناز کرنیوالو، اور اے تاجدار مدینہ کے نام پاک پر نقد جاں نچھاور کرنے والو، سنتے ہو، اس مغل زادہ قادیان کا چہرہ، صاحب والضحیٰ کے چہرہ پر نور کا عکس ہے؟ یہ مغل زادہ قادیان صاحب ”دنی فتدلیٰ فکان قاب قوسین او ادنیٰ “ کی تصویر ہے! ہاں یہ مغل زادہ قادیان محمد ثانی ہے۔

١٨

صفحہ ٢٨٥

آہ، دور نہیں کہ سات آسمان زمین پر آ رہیں، زمین کا کلیجہ پھٹ جائے، پہاڑ چور چور ہو جائیں۔ مرزا کی عبارتیں نقل کرتے قلم تھراتا ہے۔ مگر حقیقت منصہ شہود پر کیونکر آئے گی۔

ایک اور عبارت سنو، ارشاد ہوتا ہے: ”ماسوا اس کے یہ بھی تو سمجھو کہ شریعت کیا چیز ہے؟ جس نے اپنی وحی کے ذریعہ چند امر اور نہی بیان کئے اور اپنی امت کے لئے ایک قانون مقرر کیا وہی صاحب الشریعت ہو گیا۔ پس اس تعریف کی رو سے بھی ہمارے مخالف ملزم ہیں۔ (دم نہیں مار سکتے۔ مؤلف) کیونکہ میری وحی میں امر بھی ہیں اور نہی بھی، مثلاً یہ الہام قل للمؤمنین یغضوا من ابصارهم ويحفظوا فروجهم ذلك ازکى لهم یہ براہین احمدیہ میں درج ہے اور اس میں امر بھی ہے اور نہی بھی، اور اس پر تئیس برس کی مدت بھی گزر گئی اور ایسا ہی اب تک میری وحی میں امر بھی ہوتے ہیں اور نہی بھی (اس پر سوال پیدا ہوا کہ مرزا قادیانی یہ تو قرآن مجید کی آیتیں ہیں اور تیرہ سو پچاس برس ہوئے کہ خاتم المرسلین محمد رسول ﷺ پر نازل ہوئیں۔ تو مرزا قادیانی جواب میں گوہرفشاں ہوتے ہیں۔ مؤلف) اور کہو کہ شریعت سے وہ شریعت مراد ہے جس میں نئے احکام ہوں تو یہ باطل ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ ان هذا لفی الصحف الاولى صحف ابراهیم وموسی (یعنی قرآنی تعلیم توریت میں بھی موجود ہے۔) اور اگر یہ کہو کہ شریعت وہ ہے جس میں باستیفاء (تمام مؤلف) امر و نہی کا ذکر ہو تو یہ بھی باطل ہے کیونکہ اگر توریت یا قرآن شریف میں باستيفاء احکام شریعت کا ذکر ہوتا تو پھر اجتہاد کی ضرورت نہ رہتی۔“

(اربعین نمبر ٤ ص ٦، خزائن ج ١٧ ص ٤٣٥)

اسی مقام پر مرزا قادیانی فٹ نوٹ میں فرماتے ہیں: ”اب دیکھو خدا نے میری وحی اور میری بیعت کو نوح کی کشتی قرار دیا، اور تمام انسانوں کے لئے اس کو مدار نجات ٹھہرایا جس کی آنکھیں ہوں دیکھے اور جس کے کان ہوں سنے۔“

(اربعین نمبر ٤، ص ٦ خزائن ج ١٧ ص ٤٣٥ حاشیہ)

قارئین! اب کیا باقی رہا؟ مرزا قادیانی نبی ہیں، رسول ہیں، دارائے شریعت ہیں، صاحب امت ہیں، ان پر ایمان لے آنا مدار نجات ہے، قرآن کا محمد رسول اللہ ﷺ کی نسبت ”ولكن رسول الله وخاتم النبيين“ فرمانا (خاکم بدہن) غلط، رسول اللہ ﷺ کا اپنی نسبت ختم بی النبییون وختم بی الرسل فرمانا (نعوذ باللہ) خطا، امت محمدیہ کا اس معنے میں ختم نبوت کے عقیدہ پر عہد نبوت سے لے کر آج تک اجماع، (نعوذ بالله من ذلك) ایک گمراہی ہے۔ محمد رسول اللہ ﷺ نے قرآن کی غلط تفسیر فرمائی (معاذ اللہ) خلفائے راشدین

١٩

صفحہ ٢٨٦

مجددین، آل بیت رسول، صحابہ کرام، آئمہ دین، علمائے امت، غرض سب نے (عیاذ باللہ) قرآن غلط سمجھا قرآن کے اسرار اگر کسی پر کھلے تو مرزا قادیانی اور ان کے صحابیوں پر کھلے، ورنہ تیرہ سو پچاس برس تک یہ کتاب ایک چیستان بنی رہی۔ لاحول ولا قوة الا بالله قارئین! اب یہ صریح کفر والحاد نہیں تو اور کیا ہے؟ یہ کھلی کھلی بے دینی اور شریعت محمدیہ کے ساتھ تمسخر نہیں تو اور کیا ہے؟ یہ مسلمانوں کے خدا، ان کے رسول، ان کے قرآن، ان کے خلفاء ان کے آئمہ اور ان کے علماء کی خاک اڑانا نہیں تو اور کیا ہے؟

رسول اللہ ﷺ فرمائیں ”انكم حظى من الامم وانا حظكم من النبيين١؎ لا نبى بعدى ولا امة بعد امتى٢؎ انا آخر الانبياء وانتم آخر الامم٣؎“ مرزا غلام قادیانی کہیں ۔ نہیں آخری امت میری امت ہے۔ رسول اللہ ﷺ کی شریعت میں ”رضيت بالله ربا وبالاسلام دينا وبمحمد نبيا“ پر ایمان و عمل نجات کے لئے کافی ٹھہرے۔ مرزا غلام قادیانی کہیں ۔ کہیں اس بھروسہ میں نہ رہنا، میری بیعت تمام انسانوں کے لئے مدار نجات ٹھہری ہے۔ جو مجھ پر ایمان نہیں لاتا وہ نجات کی بھی امید نہ رکھے۔ معاذ اللہ!

مسلمانوں، بتاؤ یہ شہنشاہ کونین ﷺ کے خلاف کھلی کھلی بغاوت کا اعلان نہیں تو اور کیا ہے؟

اے خاصہ خاصان رسل وقت دعا ہے امت پہ تری آ کے عجب وقت پڑا ہے
جو دین بڑی شان سے نکلا تھا وطن سے پردیس میں وہ آج غریب الغرباء ہے
جس دین کی مدعو تھے کبھی قیصر و کسریٰ خود آج وہ مہمان سرائے فقراء ہے
وہ دین ہوئی بزم جہاں جس سے چراغاں اب اس کی مجالس میں نہ بتی نہ دیا ہے

ربنا افتح بيننا وبين قومنا بالحق وانك خير الفاتحين وآخر دعوانا ان الحمد لله رب العالمين ۔ ٢٩/ جمادی الاولی ١٣٥٢ھ

١؎ اخرجہ احمد فی مسندہ ذکرہ السیوطی فی تفسیرِہ۔

٢؎ اخرجہ البیہقی فی دلائل النبوۃ ذکرہ الحافظ ابن کثیر

٣؎ اخرجہ ابن ماجۃ فی سننہ

٢٠

PDF 288

انا خاتم النبیین لا نبی بعدی

میں آخری نبی ہوں میرے بعد کوئی نبی نہیں

انجمن اشاعت الاسلام بنارس

کا ٹریکٹ نمبر ٤

سیکرٹری انجمن اشاعت الاسلام بنارس

صفحہ ٢٨٨

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ الحمد للہ وحدہ، والصلوۃ والسلام علی من لا نبی بعدہ وعلی آلہ واصحابہ الذین صدقوا وعیدہ ووعدہ اما بعد!

مسلمان بھائیو! مرزا قادیانی نے جن امور میں امت مسلمہ سے تفرد کیا ہے انہیں کئی حصوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔ جو وقتاً فوقتاً مختلف رسالوں (ٹریکٹس) کی صورتوں میں آپ کے سامنے پیش کئے جائیں گے۔ انشاء اللہ العزیز۔ آج ہم آپ کے سامنے ایک ایسا امر پیش کرتے ہیں جو مؤثر اور فیصلہ کن ہے۔ بقولے!

بس اک نگاہ پہ ٹھہرا ہے فیصلہ دل کا

اور وہ مرزا قادیانی کا وہ آخری فیصلہ ہے۔ جو بصورت اشتہار اخبار الحکم قادیان ١٧؍ اپریل ١٩٠٧ء واخبار البدر قادیان ١٨؍ اپریل ١٩٠٧ء میں شائع ہوا جو درج ذیل ہے۔

اعلام ...... اس سے پیشتر کہ ہم اس اشتہار کو نقل کریں۔ مناسب معلوم ہوتا ہے کہ پہلے ہم وہ تعلق بتائیں جو مرزا قادیانی اور مولانا ثناء اللہ صاحب امرتسری کے مابین تھا، جس سے آپ کو وہ وجہ معلوم ہو جائے گی جس وجہ سے مرزا قادیانی نے بڑے الحاح وزاری سے اپنی آخری دعا شائع کی۔ (مرزا قادیانی تتمہ حقیقت الوحی ص ٣٠، خزائن ج ٢٢ ص ٤٦٢) میں لکھتے ہیں: ”مولوی ثناء اللہ صاحب دوسرے علماء سے توہین میں بڑھے ہوئے ہیں۔“

اس سے معلوم ہوا کہ مرزا قادیانی بہ نسبت دیگر علماء کے مولانا ثناء اللہ صاحب کو اپنا سب سے زیادہ مخالف اور بڑا دشمن سمجھتے تھے۔ اس لئے مرزا قادیانی مولانا ممدوح کو سب سے زیادہ برائی سے یاد کرتے تھے۔ مرزا قادیانی نے اپنی کتاب (مواہب الرحمٰن کے ص ١٠٩، خزائن ج ١٩ ص ٣٢٩) پر مولانا امرتسری کو دجال کے لفظ سے یاد کیا ہے۔ (ضمیمہ انجام آتھم ص ٢٥، خزائن ج ١١ ص ٣٠٩) پر مولانا امرتسری کی شان میں لکھا۔ ”کتوں کی طرح جھوٹ کا مردار کھا رہے ہیں۔“ پھر خود ہی جھوٹ کا مردار یوں کھایا کہ (اعجاز احمدی کے ص ٣٣، خزائن ج ١٩ ص ١٤٢) پر لکھ مارا۔

”مولوی ثناء اللہ دو دو آنے کے لئے در بدر خراب ہوتے پھرتے ہیں اور خدا کا قہر نازل ہے اور مردوں کے کفن یا وعظ کے پیسوں پر گزارہ ہے۔“ حالانکہ مولانا امرتسری کے موافقین

٢

مخالفین سب جانتے ہیں کہ مرزا قادیانی کا کہیں اتہ پتہ بھی نہیں ہے۔ مولانا امرتسری وسیع تجارت، اور مختلف مکانوں کے کرایہ کی اس ایک بات سے ہی مرزا قادیانی کی صد ص ٢٢٢، خزائن ج ٢٣ ص ٢٣١) پر لکھ گئے ہیں ”جب ایک بات میں کوئی جھو رہتا۔“ نیز (تتمہ حقیقت الوحی ص ٢٦، خزائن ج میں اور کوئی برا کام نہیں۔“

ایک اور سبب

مولانا ثناء اللہ صاحب سے خو صاحب نے مرزا قادیانی کی ایک پیشین گ ہے کہ مرزا قادیانی نے اسے رسالہ (اعجاز (مولانا ثناء اللہ) سچے ہیں تو قادیان میں کہ مولوی ثناء اللہ، قادیان میں تمام پیشین گے۔“

مولانا ثناء اللہ صاحب نے مر آپ ١٠؍ جنوری ١٩٠٣ء کو قادیان جا دھمکے میں مجمع میں تمہاری تمام پیشین گوئیوں

(ناظرین مولانا امرتسری کے پورے خط ملاحظہ فرمائیں)

(”تاریخ مرزا“ نامی مولا ص ٤٩٣ تا ٥٣٢ پر شائع ہو چکی ہے۔ قا

صفحہ ٢٨٩

مخالفین سب جانتے ہیں کہ مرزا قادیانی کا یہ بیان محض دروغ بے فروغ ہے۔ صداقت کا اس میں کہیں اتہ پتہ بھی نہیں ہے۔ مولانا امرتسری تو کسی مسجد کے امام بھی نہیں ہیں۔ ان کا گزارہ ان کی وسیع تجارت، اور مختلف مکانوں کے کرایہ کی آمدنی پر ہے۔ نہ مردوں کے کفن یا وعظ کے پیسوں پر۔ اس ایک بات سے ہی مرزا قادیانی کی صداقت آشکارا ہو جاتی ہے۔ جیسا کہ خود ہی (چشمہ معرفت ص ٢٢٢، خزائن ج ٢٣ ص ٢٣١) پر لکھ گئے ہیں۔

”جب ایک بات میں کوئی جھوٹا ثابت ہو جائے تو پھر دوسری باتوں پر بھی اعتبار نہیں رہتا۔“ نیز (تتمہ حقیقت الوحی ص ٢٦، خزائن ج ٢٢ ص ٤٥٩) میں لکھتے ہیں: ”جھوٹ بولنے سے بدتر دنیا میں اور کوئی برا کام نہیں۔“

ایک اور سبب

مولانا ثناء اللہ صاحب سے مخالفت عظیم کا ایک اور بھی سبب ہے۔ وہ یہ ہے کہ مولانا صاحب نے مرزا قادیانی کی ایک پیشین گوئی اپنے عمل سے جھوٹی کر دی۔ تفصیل اس اجمال کی یہ ہے کہ مرزا قادیانی نے اپنے رسالہ (اعجاز احمدی ص ١١، خزائن ج ١٩ ص ١١٧، ١١٨) میں لکھا تھا: ”اگر یہ (مولانا ثناء اللہ) سچے ہیں تو قادیان میں آکر کسی پیشین گوئی کو جھوٹی ثابت کریں۔“ واضح رہے کہ مولوی ثناء اللہ، قادیان میں تمام پیشین گوئیوں کی پڑتال کے لئے میرے پاس ہرگز نہیں آئیں گے۔“

(اعجاز احمدی ص ٣٧، خزائن ج ١٩ ص ١٤٨)

مولانا ثناء اللہ صاحب نے مرزا قادیانی کی اس پیشین گوئی کو یوں جھوٹا ثابت کر دیا کہ آپ ١٠؍ جنوری ١٩٠٣ء کو قادیان جا دھمکے اور مرزا قادیانی کو للکارا کہ لو میں آگیا ہوں! میں مجمع میں تمہاری تمام پیشین گوئیوں کی حقیقت ظاہر کروں گا مجھے وقت اور اجازت دو ۔ (ناظرین مولانا امرتسری کے پورے خط کو مولانا ممدوح کی کتاب ”تاریخ مرزا“ کے ص ٥٥ پر ملاحظہ فرمائیں)

(”تاریخ مرزا“ نامی مولانا ثناء اللہ امرتسری کی کتاب احتساب قادیانیت جلد ٨ ص ٤٩٣ تا ٥٣٢ پر شائع ہو چکی ہے۔ فالحمدللہ ! مرتب)

٣

صفحہ ٢٩٠

مرزا قادیانی نے جواب میں ایک طویل خط لکھا کہ ”میں خدا تعالیٰ سے قطعی عہد کر چکا ہوں کہ لوگوں سے مباحثات ہرگز نہ کروں گا۔ آپ زبانی بولنے کے مجاز نہ ہوں گے۔ صرف ایک سطر یا دو سطر تحریر کردیں گے۔ آپ اس کو سنا نہ سکیں گے ہم خود پڑھ لیں گے۔ تین گھنٹہ تک میں جواب دوں گا، وغیرہ۔ مولانا امرتسری نے جواب دیا کہ آپ کی شرطیں منظور۔ مگر میں اپنی دو تین سطریں کھڑا ہو کر مجمع میں سناؤں گا اور ہر گھنٹہ پر ٥ منٹ تک آپ کے جواب کی نسبت اپنی رائے کا اظہار کروں گا۔ اس کا جواب مرزا قادیانی نے مولوی محمد احسن امروہی کے قلم سے لکھوا کر یہ بھیجوا دیا کہ آپ مناظرہ چاہتے ہیں اور مرزا قادیانی خدا سے عہد کر چکے ہیں کہ وہ مناظرہ نہ کریں گے۔۔۔۔۔ الخ ١؎ ۔ اب کیا تھا۔

آغا کو دیکھ کر ساری فارسی بھول گئی۔

بس ہو چکی نماز مصلے اٹھائیے

مولانا امرتسری یہ مصرع پڑھتے ہوئے قادیان سے واپس چلے آئے۔

ہمہ شوق آمدہ بودم ہمہ حرمان رفتم

مرزا قادیانی نے مولانا ثناء اللہ کے قادیان پہنچنے کا اقرار (مواہب الرحمٰن کے ص ١٠٩، خزائن ج ١٩ ص ٣٢٩) پر کیا ہے لکھتے ہیں: ما کتبنا الی ثناء اللہ امر تسری اذ جاء قادیان وکان هذا عاشر شوال......الخ یعنی مولانا ثناء اللہ صاحب دسویں شوال کو قادیان آچکے تھے۔ مرزا قادیانی کی جب ایسی ذلتیں ہوئیں تو آخر کو یہ دعا شائع کر دی۔

مولوی ثناء اللہ صاحب کے ساتھ آخری فیصلہ

بسم الله الرحمن الرحيم، نحمده ونصلى على رسوله الكريم۔ يستنبئونك احق هو قل ای وربی انه لحق

بخدمت مولوی ثناء اللہ صاحب السلام علی من اتبع الہدیٰ مدت سے آپ کے پرچہ

١؎ کتاب انجام آتھم کے آخری صفحہ پر جو لکھا ہے عزمنا ان لا نخاطب العلماء ....... الخ اس کی طرف اشارہ ہے۔

صفحہ ٢٩١

اہلحدیث میں میری تکذیب اور تفسیق کا سلسلہ جاری ہے ہمیشہ مجھے آپ اپنے اس پرچہ میں مردود، کذاب، دجال، مفسد کے نام سے منسوب کرتے ہیں اور دنیا میں میری نسبت شہرت دیتے ہیں کہ یہ شخص مفتری اور کذاب اور دجال ہے اور اس شخص کا دعوائے مسیح موعود ہونے کا سراسر افتراء ہے میں نے آپ سے بہت دکھ اٹھایا اور صبر کرتا رہا مگر چونکہ میں دیکھتا ہوں کہ میں حق کے پھیلانے کے لئے مامور ہوں اور آپ بہت سے افتراء میرے پر کر کے دنیا کو میری طرف آنے سے روکتے ہیں اور مجھے ان گالیوں، ان تہمتوں اور ان الفاظ سے یاد کرتے ہیں کہ جن سے بڑھ کر کوئی لفظ سخت × نہیں ہوسکتا۔

اگر میں ایسا ہی کذاب ہوں جیسا کہ اکثر اوقات آپ اپنے ہر ایک پرچہ میں مجھے یاد کرتے ہیں تو میں آپ کی زندگی میں ہی ہلاک ہو جاؤں گا کیونکہ میں جانتا ہوں کہ مفسد اور کذاب کی بہت عمر نہیں ہوتی اور آخر وہ ذلت اور حسرت کے ساتھ اپنے اشد دشمنوں کی زندگی میں ہی ناکام ہلاک ہو جاتے ہیں اور اس کا ہلاک ہونا ہی بہتر ہے۔ تاکہ خدا کے بندوں کو تباہ نہ کرے اور اگر میں کذاب اور مفتری نہیں ہوں اور خدا کے مکالمہ اور مخاطبہ سے مشرف ہوں اور مسیح موعود ہوں تو میں خدا کے فضل سے امید رکھتا ہوں کہ آپ سنت اللہ کے موافق مکذبین کی سزاء سے نہیں بچیں گے۔ پس اگر وہ سزا جو انسان کے ہاتھوں سے نہیں بلکہ محض خدا کے ہاتھوں سے ہے۔ جیسے طاعون، ہیضہ وغیرہ مہلک بیماریاں آپ پر میری زندگی میں ہی وارد نہ ہوئیں تو میں خدا کی طرف سے نہیں یہ کسی الہام یا وحی کی بناء پر پیشین گوئی نہیں بلکہ محض دعا کے طور پر میں نے خدا سے یہ فیصلہ چاہا ہے اور میں خدا سے دعا کرتا ہوں کہ اے میرے مالک بصیر و قدیر جو علیم و خبیر ہے جو میرے دل کے حالات سے واقف ہے۔ اگر یہ دعوئی مسیح موعود ہونے کا محض میرے نفس کا افتراء ہے اور میں تیری نظر میں مفسد اور کذاب ہوں اور دن رات افتراء کرنا میرا کام ہے تو اے میرے پیارے مالک میں عاجزی سے تیری جناب میں دعا کرتا ہوں کہ مولوی ثناء اللہ صاحب کی زندگی میں مجھے ہلاک کر اور میری موت سے ان کو اور ان کی جماعت کو خوش کر دے۔ آمین۔

مگر اے میرے کامل اور صادق خدا اگر مولوی ثناء اللہ ان تہمتوں میں جو مجھ پر لگاتا ہے

٥

صفحہ ٢٩٢

حق پر نہیں تو میں عاجزی سے تیری جناب میں دعا کرتا ہوں کہ میری زندگی میں ہی ان کو نابود کر مگر نہ انسانی ہاتھوں سے بلکہ طاعون وہیضہ وغیرہ امراض مہلکہ سے بجز اس صورت کے کھلے طور پر میرے روبرو اور میری جماعت کے سامنے ان تمام گالیوں اور بدزبانیوں سے توبہ کرے جن کو وہ فرض منصبی سمجھ کر ہمیشہ مجھے دکھ دیتا ہے۔ آمین یارب العالمین ۔

میں ان کے ہاتھوں سے بہت ستایا گیا اور صبر کرتا رہا مگر اب میں دیکھتا ہوں کہ ان کی بد زبانی حد سے گزر گئی۔ وہ مجھے ان چوروں اور ڈاکوؤں سے بھی بدتر جانتے ہیں۔ جن کا وجود دنیا کے لئے سخت نقصان رساں ہوتا ہے اور انہوں نے ان تہمتوں اور بدزبانیوں میں آیت : لا تقف ما ليس لك به علم پر بھی عمل نہیں کیا اور تمام دنیا سے مجھے بدتر سمجھ لیا اور دور دور ملکوں تک میری نسبت یہ پھیلا دیا کہ یہ شخص درحقیقت مفسد اور ٹھگ اور دکاندار اور کذاب اور مفتری اور نہایت درجہ کا بد آدمی ہے، سو اگر ایسے کلمات حق کے طالبوں پر بداثر نہ ڈالتے ہیں تو میں ان تہمتوں پر صبر کرتا مگر دیکھتا ہوں کہ مولوی ثناء اللہ انہی تہمتوں کے ذریعے سے میرے سلسلہ کو نابود کرنا چاہتا ہے اور اس عمارت کو منہدم کرنا چاہتا ہے جو تو نے میرے آقا اور میرے بھیجنے والے اپنے ہاتھ سے بنائی ہے۔ اس لئے اب میں تیرے ہی تقدس اور رحمت کا دامن پکڑ کر تیری جناب میں ملتجی ہوں کہ مجھ میں اور ثناء اللہ میں سچا فیصلہ فرما اور جو تیری نگاہ میں حقیقت میں مفسد اور کذاب ہے اس کو صادق کی زندگی میں ہی دنیا سے اٹھالے یا کسی اور نہایت سخت آفت میں جو موت کے برابر ہو مبتلا کر۔ اے میرے پیارے مالک تو ایسا ہی کر۔ آمین ثم آمین ۔

ربنا افتح بيننا وبين قومنا بالحق وانت خير الفاتحین آمین بالآخر مولوی صاحب سے التماس ہے کہ وہ میرے اس مضمون کو اپنے پرچہ میں چھاپ دیں اور جو چاہیں اس کے نیچے لکھ دیں۔ اب فیصلہ خدا کے ہاتھ میں ہے۔

الراقم عبد الصمد مرزا غلام احمد مسیح موعود عافاہ اللہ و ایدہ، مرقومہ یکم ربیع الاول ١٣٢٥ھ ، ١٥؍اپریل ١٩٠٧ء

(مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ٥٧٨، ٥٧٩)

ناظرین! آپ نے مضمون اشتہار ملاحظہ فرمالیا اب آپ منتظر ہوں گے کہ اس کا انجام

صفحہ ٢٩٣

معلوم کریں تو سنئے کہ مرزا قادیانی ٢٦ مئی ١٩٠٨ء مطابق ٢٤ ربیع الآخر ١٣٢٦ھ یوم سہ شنبہ کو ہیضہ کی بیماری میں لاہور میں مر گئے۔ فقطع دابر القوم الذين ظلموا الحمد لله رب العالمین لکھا تھا کاذب مرے گا پیشتر ، کذب میں سچا تھا پہلے مرگیا۔

اشتہار مذکور پر انعامی مباحثہ

قدرت الہیہ سے جب حق و باطل کا فیصلہ ہو گیا تو قادیانیوں نے، ہاں! ان لوگوں نے جو مرزا قادیانی کو ملہم اور مامور من اللہ کہتے تھے یہ راگ الاپنا شروع کیا کہ ”مرزا قادیانی نے اشتہار مذکور بحکم الہی نہیں لکھا نہ اس کی قبولیت کا منجانب اللہ کوئی وعدہ تھا۔“ حتیٰ کہ مرزائیوں نے اس پر مباحثہ کا چیلنج بھی دے دیا۔ مولانا ثناء اللہ صاحب نے اس چیلنج کو قبول کر لیا اور لدھیانہ میں مباحثہ قرار پا گیا۔ یہ وہی لدھیانہ تھا جس کی بابت مرزا قادیانی نے فرمایا تھا کہ: ”حدیث میں باب لد پر دجال کا مقتول ہونا جو مذکور ہے اس لد سے مراد لدھیانہ ہے۔“

(حاشیہ الہدیٰ ص٩١، خزائن ج١٨ ص٣٣١)

دیکھو اس لدھیانہ میں دجال حال کیسا قتل ہوا کہ دلائل مرزائیہ کی گردن توڑ دی گئی اور مبلغ تین سو روپیہ تاوان کے طور پر بھر گئے۔ تفصیل اس اجمال کی یوں ہے کہ مباحثہ کی شرطیں طے ہوئیں آخری شرط یہ تھی کہ اگر فیصلہ مدعی کے حق میں ہو تو مدعا علیہ مدعی کو تین سو روپیہ کی رقم بطور تاوان یا انعام کے دے گا۔ چنانچہ ٧؍ اپریل ١٩١٢ء کو مباحثہ شروع ہوا۔ ٢١؍ اپریل ١٩١٢ء کو بوقت شام سردار بشن سنگھ صاحب گورنمنٹ پلیڈر نے جو مسلم الطرفین ثالث تھے اپنا فیصلہ سنا دیا جس کا خلاصہ یہ ہے کہ: ”مرزا قادیانی کا اشتہار مذکور بحکم خداوندی تھا اور خدا نے یہ دعا قبول فرمائی۔“

مرزائیوں کو حسب اقرار طوعاً و کرہاً مبلغ تین سو روپیہ کی رقم بھرنی پڑی اور مولانا ثناء اللہ صاحب فاتح و منصور، سالم و غانم ہو کر خوش خوش واپس ہوئے اور ہندوستان کے مسلمانوں نے آپ کو فاتح قادیان کا لقب دیا (اس مناظرہ کی تفصیل رسالہ فاتح قادیان میں پڑھو)

(نوٹ: یہ رسالہ ”فاتح قادیان“ احتساب قادیانیت کی جلد ٨ صفحہ ١٩٩ سے ٢٦٦ پر شائع ہو چکا ہے۔ فالحمدللہ! مرتب)

٧

صفحہ ٩٥

قابل غور

مسلمانو! ذرا سوچئے جبکہ اللہ تعالیٰ نے سب سے پہلے حق و باطل کا فیصلہ کر دیا۔ پھر مسلمانوں اور مرزائیوں کے مسلم ثالث نے بھی فریقین کی بحثوں کو سن کر فیصلہ کر دیا۔ تو اب کونسا حیلہ باقی رہ گیا؟ کونسی حجت باقی رہ گئی کہ اشتہار مذکورہ کو فیصلہ کن قرار نہ دیا جائے؟ لیکن بقول:

مرزائی آن باشد که چپ نشود

قادیانی اور لاہوری دونوں پارٹیاں اب تک یہی راگ الاپ رہی ہیں کہ دعائے مذکور بحکم الٰہی نہ تھی اور طرح طرح کے عذر اور بہانے کرتے ہیں اور اپنی زبان سے مولانا امرتسری فاتح قادیان کی شان والاشان میں کلمات ناشائستہ نکالتے ہیں۔ سچ فرمایا ہمارے پیغمبر محمدﷺ نے اذا لم تستحیی فاصنع ماشئت۔ یعنی جب شرم اٹھ گئی تو جو دل چاہے کرو۔

لاہوری ٹریکٹ

قادیانی تو مرغے کی ایک ٹانگ کی صدا لگا ہی رہے تھے۔ لاہوری پارٹی بھی ان کے ہم نوا ہو گئے اور ایک چوورقہ شائع کر دیا جس میں بڑازور اس امر پر دیا گیا ہے کہ ١٥؍ اپریل والا اشتہار ایک دعائے مباہلہ تھا (ص٨، مجموعہ اشتہارات ص ٢٧٩، ج ٣ ملخص) (اس مباہلہ کی حقیقت آگے چل کر ظاہر ہوگی۔) بنارس کی انجمن مرزائیہ نے بھی اس لاہوری چوورقہ کو شہر میں تقسیم کیا ہے۔ اس لمبی چوڑی تحریر (جو آٹھ صفحوں میں ختم ہوئی ہے۔) کی جان یا خلاصہ ہم اپنے لفظوں میں نہیں بتاتے بلکہ ٹریکٹ مذکورہ سے نقل کرتے ہیں جو یہ ہے: ”مندرجہ بالا تحریر سے ثابت ہے کہ اشتہار ١٥؍ اپریل ١٩٠٧ء ایک دعائے مباہلہ تھا۔“ (ص٨) اتنی سی بات تھی جسے افسانہ کر دیا۔ اب ہمارا فرض تو اتنا ہی رہ جاتا ہے کہ ہم بدلائل یہ ثابت کردیں کہ دعائے مرزا دعاء مباہلہ نہ تھی۔ لیکن ہم اتنا ہی نہ کریں گے بلکہ ان تمام عذرات کی بدلائل ساطعہ تردید کریں گے۔ جنہیں عام طور سے مرزائیوں کی کل پارٹیاں پیش کرتی ہیں تاکہ عام مسلمانوں کو آفتاب نیمروز کی طرح واضح ہوجائے کہ مرزا قادیانی کی دعا منجانب اللہ تھی جو قبول ہوئی اور حق و باطل کا فیصلہ ہو گیا اور مرزائیوں کے اعذار یکسر غلط اور باطل ہیں۔ بعون اللہ وصونہ وتوفیقہ وتوفیقہ

٨

اعذار

عذر اول

مولوی ثناء اللہ صاحب نے اس ٢٦؍ اپریل ١٩٠٧ء میں صاف صاف لکھ دیا ہے کہ منظور کر سکتا ہے۔“

کر رہے ہیں ان کے الفاظ ہیں۔ ”میں ان کے ب کی قبولیت کے لئے ظالم کی رضا بھی شرط ہے والسلام نے جو بددعاء ابو جہل وغیرہ کے لئے فرما هشام....... الخ سے ابو جہل وغیرہ نے منظور ک میں جو بددعاء کی تھی۔ ” ربنا اطمس علی اسے فرعون اور اس کے اتباع نے منظور کر لیا تھا تذر على الارض من الكافرين ديار دینے دی تھی؟ ہرگز نہیں معلوم ہوا کہ پیغمبر کی دعا ہوتی اور نہ آج تک کوئی اس کا قائل ہوا۔

خود مرزا قادیانی نے اپنی دعا مولا بلکہ اپنے اشتہار میں صاف صاف لکھ دیا ہے میرے اس مضمون کو اپنے پرچہ میں چھاپ دی کے ہاتھ میں ہے۔“

نیز اشتہار کے اوپر جو قرآن مجید کی ای و ربی انه لحق (یونس: ٥٣) ”آ طرف سے حق ہونا صاف ظاہر ہے۔ ترجمہ آ حق ہے؟ کہہ دے کہ قسم میرے رب کی ضر حضرت شعیب والی دعا لکھی ہے۔ ”ربنا ا

صفحہ ٢٩٥

اعذار خمسہ

عذر اول

مولوی ثناء اللہ صاحب نے اس دعا کو منظور نہیں کیا، چنانچہ اخبار اہلحدیث ٢٦؍ اپریل ١٩٠٧ء میں صاف صاف لکھ دیا ہے کہ: ”یہ تحریر تمہاری مجھے منظور نہیں نہ کوئی دانا اسے منظور کر سکتا ہے۔“

کر رہے ہیں ان کے الفاظ ہیں ۔ ”میں ان کے ہاتھوں سے بہت ستایا گیا۔“ پس کیا مظلوم کی دعا کی قبولیت کے لئے ظالم کی رضا بھی شرط ہے؟ کیا پیغمبر صادق احمد مجتبیٰ محمد مصطفیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام نے جو بددعا ء ابو جہل وغیرہ کے لئے فرمائی تھی۔ اللهم عليك بابي جهل بن هشام...... الخ سے ابو جہل وغیرہ نے منظور کر لیا تھا؟ کیا موسیٰ علیہ السلام نے فرعونیوں کے حق میں جو بددعاء کی تھی۔ ”ربنا اطمس على اموالهم واشدد على قلوبهم (هود: ٨٨)“ اسے فرعون اور اس کے اتباع نے منظور کر لیا تھا۔ کیا نوح علیہ السلام نے جو دعا مانگی تھی۔ ”رب لا تذر على الارض من الكافرين ديارا (نوح: ٢٦)“ اس دعا کے لئے کفار نے منظوری دے دی تھی؟ ہر گز نہیں معلوم ہوا کہ پیغمبر کی دعا کی قبولیت اس کے دشمن کی منظوری پر موقوف نہیں ہوتی اور نہ آج تک کوئی اس کا قائل ہوا۔

یہ تیرے زمانہ میں دستور نکلا

بلکہ اپنے اشتہار میں صاف صاف لکھ دیا ہے کہ: ”بالآخر مولوی صاحب سے التماس ہے کہ وہ میرے اس مضمون کو اپنے پرچہ میں چھاپ دیں اور جو چاہیں اس کے نیچے لکھ دیں۔ اب فیصلہ خدا کے ہاتھ میں ہے۔“

نیز اشتہار کے اوپر جو قرآن مجید کی آیت لکھی ہے ”ويستنبئونك احق هو قل ای وربی انہ لحق (یونس: ٥٣)“ اس سے دعائے مرزا قادیانی کا فیصلہ کن ہونا اور خدا کی طرف سے حق ہونا صاف ظاہر ہے۔ ترجمہ آیت کا یہ ہے ”لوگ تجھ سے پوچھتے ہیں کہ آیا یہ بات حق ہے؟ کہہ دے کہ قسم میرے رب کی ضرور ضرور وہ حق ہے۔“ اسی طرح اشتہار کے آخر میں حضرت شعیب والی دعا لکھی ہے۔ ”ربنا افتح بيننا وبين قومنا بالحق وانت خير

٩

صفحہ ٢٩٧

الفاتحين (اعراف:٨٩) ”سیدھا اہل حق اور اہل باطل میں فیصلہ ہو جانے کے لئے مرزا قادیانی نے تحریر فرمائی تھی پس خدا نے فیصلہ کر دیا۔ مولانا ثناء اللہ صاحب خواہ منظور کریں یا نہ کریں اور جب مولانا امرتسری (جو مرزا قادیانی کے مد مقابل اور اشد دشمن تھے) کی عدم منظوری کو اس دعا میں مطلق دخل نہیں ہے تو نائب ایڈیٹر صاحب کا کچھ لکھ دینا یا حکیم محمد دین امرتسری کا اشتہار شائع کرنا اس فیصلہ الہی میں کیا دخل انداز ہو سکتا ہے؟

کی گئی تھی اور فیصلہ اسی دعا پر موقوف تھا۔ مرزا قادیانی نے اشتہار ١٥؍ اپریل والے کے شائع کرنے کے تقریباً ڈیڑھ مہینہ بعد مولانا ثناء اللہ صاحب کو ایک خط بھجوایا تھا اور اسے اخبار بدر ١٣؍ جون ١٩٠٧ء میں شائع بھی کرا دیا تھا اس میں مرقوم تھا:

”مشیت ایزدی نے حضرت حجۃ اللہ (مرزا قادیانی) کے قلب میں ایک دعا کی تحریک کر کے فیصلہ کا اور طریق اختیار کیا۔ (ص٢ کالم١)

معلوم ہوا کہ مولانا ثناء اللہ صاحب کا اپنی عدم منظوری کا اعلان فضول ثابت ہوا۔ ان کی عدم منظوری سے دعائے مرزا منسوخ نہیں ہوئی۔ بلکہ فیصلہ کا یہ جدید طریق قائم و باقی رہا۔

ازالہ شبہ

بعض مرزائیوں نے اس پر یہ شبہ بھی وارد کیا ہے کہ مشیت رضا کو مستلزم نہیں ہوتی۔ اس کا جواب یہ ہے کہ اس کلیہ کو پیغمبروں سے بھی متعلق ماننا صحیح نہیں۔ مشیت الہی جو انبیاء سے متعلق ہوتی ہے وہ اس مشیت کے ہم مثل نہیں ہوتی جس کا تعلق دیگر خلائق سے ہوتا ہے۔ جس طرح انبیاء کے خواب دوسرے لوگوں کے خواب کی مثل نہیں ہوتے پڑھو آیات قرآنیہ ﴿قل لو شاء اللہ ما تلوتہ علیکم (یونس:١٦) ولو نشاء لآرینکھم (محمد:٣٠) لتدخلن المسجد الحرام ان شاء اللہ (فتح:٢٧)﴾

کار پاکان را قیاس از خود مگیر
گرچہ باشد در نوشتن شیر وشیر

دوسرا عذر

اشتہار مذکور میں تو صرف دعا کا ذکر ہے قبولیت دعا کا اس میں کوئی ذکر نہیں ہے۔ پس نہیں کہا جا سکتا کہ دعائے مذکور قبول بھی ہو گئی۔

(تریاق القلوب ص٣٨، خزائن ج١٥ ص٢١٠) ”خدائے تعالیٰ دعائیں قبول کروں گا۔ ان تمام دعاؤں میں مرزا قادیا الہی مقبول ہو گئی۔

”ان (مرزا قادیانی) کے من جانب اللہ ہو دعائیں قبول کی جاتی ہیں۔“ تو اب مرزائی کیونکر کہہ سکتے ہیں کہ مرزا قاد مذکور بقول مرزائیاں قبول نہیں ہوئی؟ یہ تو اپنے پیغمبر کا ص

خدا تعالیٰ مخاطب کر چکا ہے کہ جب تو دعا کرے تو میں تی ہاتھ پھیلاتا ہوں اور کہتا ہوں (قرآن مجید میں اس دعا میں مغلوب (ضمی

مرزا قادیانی کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ خدا تعالیٰ احمدیہ ج٥ ص٨٦، خزائن ج٢١ ص١١٣) چونکہ مرزا قادیانی نے سے اپنی مشابہت لکھی ہے۔ لہٰذا قرآن پاک سے حضر انجام ملاحظہ ہو۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ ﴿قال نوح رب الظالمین الا ضلالا. مما خطیئاتھم اغرق دون اللہ انصارا ۝ وقال نوح رب لا تذر (نوح:٢٣، ٢٦)﴾ ”یعنی نوح نے (میری جناب میں) میری نافرمانی کی اور (ایسا کر کہ) ان ظالموں کی گمراہی پروردگار ان کافروں میں سے (کسی تنفس کو بھی زندہ) آئے) اس دعا کا نتیجہ مما خطیئاتھم سے انصا شرارتوں کی وجہ سے غرق کر دیئے گئے۔ پھر دوزخ میں بھی ان کو نہ ملا۔“ اسی طرح حضرت نوح کی دعا انی م مذکور ہے سورہ ھود اور سورہ مومنون میں انہم م علیہ السلام کی دعا قبول ہو گئی۔ مرزا قادیانی کی دعا بھی ال

صفحہ ٢٩٧

(تریاق القلوب ص ٣٨، خزائن ج ١٥ ص ٤١٠) ”خدائے تعالیٰ نے فرمایا ہے۔ اے مرزا میں تیری تمام دعائیں قبول کروں گا۔ ان تمام دعاؤں میں مرزا قادیانی کی یہ دعا بھی داخل ہے جو حسب وعدہ الٰہی مقبول ہو گئی۔

”ان (مرزا قادیانی) کے من جانب اللہ ہونے کا سبب سے بڑا ثبوت یہ ہے کہ ان کی دعائیں قبول کی جاتی ہیں۔“

تو اب مرزائی کیونکر کہہ سکتے ہیں کہ مرزا قادیانی منجانب اللہ تھے۔ جبکہ ان کی دعائے مذکور بقول مرزائیاں قبول نہیں ہوئی؟ یہ تو اپنے پیغمبر کا صریح انکار ہے۔

خدا تعالیٰ مخاطب کر چکا ہے کہ جب تو دعا کرے تو میں تیری سنوں گا سو میں نوح نبی کی طرح دونوں ہاتھ پھیلاتا ہوں اور کہتا ہوں (قرآن مجید میں اس دعا میں لفظ رب نہیں ہے) رب انـــــی مغلوب

(ضمیمہ تریاق القلوب نمبر ٥ ص ٤، خزائن ج ١٥ ص ٥١٥)

مرزا قادیانی کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ خدا تعالیٰ نے میرا نام نوح بھی رکھا ہے۔ (براہین احمدیہ ج ٤ ص ٨٢، خزائن ج ١ ص ١١٣) چونکہ مرزا قادیانی نے دعائے نوحؑ پر حضرت نوح علیہ السلام سے اپنی مشابہت لکھی ہے۔ لہٰذا قرآن پاک سے حضرت نوحؑ کی دعا اور اس دعا کی قبولیت اور انجام ملاحظہ ہو۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ”قال نوح رب انھم عصونی (نوح: ٢١) ولا تزد الظالمین الا ضلالا۔ مما خطیئاتہم اغرقوا فادخلوا نارا۔ فلم یجدوا لھم من دون اللہ انصارا۔ وقال نوح رب لا تذر علی الارض من الکافرین دیارا (نوح: ٢٦، ٢٧) یعنی نوح نے (میری جناب میں) عرض کی کہ اے میرے رب ان لوگوں نے میری نافرمانی کی اور (ایسا کر کہ) ان ظالموں کی گمراہی (روز بروز) بڑھتی چلی جائے (تا) اے پروردگار ان کافروں میں سے (کسی تنفس کو بھی زندہ) نہ چھوڑ (کہ) روئے زمین پر بستا ہوا (نظر آئے) اس دعا کا نتیجہ مما خطیئاتہم سے انصارا تک مذکور ہے۔ جس کا ترجمہ یہ ہے۔ اپنی شرارتوں کی وجہ سے غرق کر دیئے گئے۔ پھر دوزخ میں ڈال دیئے گئے اور خدا کے سوا کوئی مددگار بھی ان کو نہ ملا۔“ اسی طرح حضرت نوحؑ کی دعا انی مغلوب فانتصر۔ قرآن مجید سورہ قمر میں مذکور ہے سورہ ھود اور سورہ مومنون میں انھم مغرقون موجود ہے۔ پس جس طرح نوح علیہ السلام کی دعا قبول ہوئی۔ مرزا قادیانی کی دعا بھی اسی طرح قبول ہونی چاہئے۔ ورنہ مشابہت

١١

صفحہ ٢٩٩

باقی نہیں رہتی۔ واقعہ شہادت دیتا ہے کہ مرزا قادیانی کی دعا قبول ہو گئی وہو المراد۔

مرقوم ہے حضرت مرزا قادیانی نے کہا : ”ثناء اللہ کے متعلق جو کچھ لکھا گیا ہے دراصل ہماری طرف سے نہیں بلکہ خدا ہی کی طرف سے اس کی بنیاد رکھی گئی ہے ایک دفعہ ہماری توجہ اس طرح ہوئی اور رات کو توجہ اس کی طرف تھی اور رات کو الہام ہوا۔ اُجِیْبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ صوفیاء کے نزدیک بڑی کرامت استجابت دعا ہے۔ باقی سب اس کی شاخیں (اخبار بدر ٢٥ اپریل ١٩٠٧ء) یہ عبارت بتا رہی ہے کہ مرزا قادیانی نے جو دُعا آخری فیصلہ کی صورت میں شائع کی تھی وہ خدا کے وعدہ کے مطابق قبول شدہ تھی۔ لہٰذا دعائے مذکور کی قبولیت میں مطلق شبہ نہیں کیا جاسکتا ہے۔

دفع دخل

بعض مرزائیوں نے اس پر یہ اعتراض کیا ہے کہ ڈائری مذکور ١٥؍ اپریل والے اشتہار سے پہلے کی ہے یعنی ١٤؍ اپریل ١٩٠٧ء وقت عصر کی ہے۔ لہٰذا یہ ڈائری اس اشتہار کی بابت نہیں ہوسکتی۔ یہ مرزائیوں کا محض مغالطہ اور دفع الوقتی ہے اس لئے کہ ڈائری مذکور اگر واقعی ١٤؍ اپریل کی ہوتی تو ١٨؍ اپریل کے اخبار بدر میں شائع ہو جاتی نہ ٢٥؍ اپریل کے اخبار میں، علاوہ ازیں دعا والے اشتہار پر ١٥؍ اپریل کی تاریخ مضمون لکھنے کی تاریخ نہیں ہے۔ بلکہ اس کا مضمون یقیناً اس سے پیشتر لکھا جا چکا تھا۔ جس پر ڈائری کا فقرہ مرقومہ شاہد عدل ہے۔ علاوہ بریں ڈائری اور اشتہار دونوں میں دعا کا ہی ذکر ہے اور کسی مضمون میں جو مولانا ثناء اللہ صاحب کے حق میں مرزا قادیانی کے قلم سے پیشتر نکل چکا تھا کسی دعا کا ذکر نہیں ہے۔ پس مطلع بالکل صاف ہے کہ ڈائری اشتہار مذکورہ سے ہی متعلق ہے لا غیر۔

اور صبر کرتا رہا۔“ اور (حقیقت الوحی ص ١٨، خزائن ج ٢٢ ص ٢٠) پر لکھا ہے کہ : ”جب ان (مقبولین) کے دلوں میں کسی مصیبت کے وقت شدت سے بے قراری ہوتی ہے اور اس شدید بے قراری کی حالت میں وہ اپنے خدا کی طرف توجہ کرتے ہیں تو خدا ان کی سنتا ہے اور اس وقت ان کا ہاتھ گویا خدا کا ہاتھ ہوتا ہے۔“

پس شکل اس کی یوں بنی، مرزا قادیانی نے مولانا ثناء اللہ صاحب سے بہت دکھ اٹھایا اور دکھیارے کی خدا سن لیتا ہے۔ لہٰذا مرزا قادیانی کی دعا خدا نے سن لی۔ کیسا صاف نتیجہ ہے؟

١٢

تیسرا عذر

مرزا قادیانی نے اپنے ١٥؍ اپریل والے اشتہار یا وحی کی بناء پر پیشین گوئی نہیں ہے۔ تو اس کی حیثیت ایک مولوی ثناء اللہ صاحب کو بھی تسلیم ہے کہ مرزا قادیانی نے م ہے؟

فقرہ مرقومہ پر ہی مبنی تھا۔ اس لئے کہ مولانا صاحب کا مضم شائع ہوا یقیناً ١٩، ٢٠ اپریل کو لکھا گیا جیسا کہ اخبار شائع کر وقت تک ٢٥؍ اپریل کا اخبار بدر ان کو نہیں ملا تھا اور نہ مل سکت الہامی اور خدا کے وعدہ کے مطابق قبول شدہ ہے کما مر۔

ہو۔ لیکن مرزائیوں کی مسلمات اور مرزا قادیانی کی نصوص صر

ہو اور عدم علم سے عدم شئے لازم نہیں آتی۔ جب مرزا قادی اجیب دعوة الداع (بدر ٢٥؍ اپریل ١٩٠٧ء) تو انہوں نے فو

ازالہ شبہ

اس پر یہ شبہ نہ کیا جائے کہ اس سے لازم آیا کہ اس لئے کہ سلسلہ رسالت و نبوت میں ایسی کوئی نظیر موجود نہ الہیہ میں از خود ایسی کوئی تحدی اور فیصلہ کی صورت شائع کی ہو۔ قرآن حکیم میں ہے : ”مَاكَانَ لِرَسُولٍ أَنْ يَأْتِيَ ب یہ نہیں ہو سکتا کہ کوئی رسول بغیر تحریک الٰہی کے کوئی بات پیش الی (یونس:١٠) ”یعنی میں وہی کرتا ہوں جس کی مجھے و ان هو الا وحی یوحى (النجم:٣، ٤) ”یعنی رسول ا پچھلی آیت مرزا قادیانی کو بھی پہلے ہو چکی تھی (دیکھو اربعین نمبر ٣ ص ٢٦ سطر ٣، خزائن ج ١٧ ص ٤٢٦) علاوہ ازیں خود مرزا ج ١٨ ص ٤٣٤) پر لکھا ہے کہ : ”میں کوئی عبارت لکھتا ہوں تو

١٣

صفحہ ٢٩٩

تیسرا عذر

مرزا قادیانی نے اپنے ١٥؍اپریل والے اشتہار میں یہ بھی تو لکھا ہے کہ یہ دعا کسی الہام یا وحی کی بناء پر پیشین گوئی نہیں ہے۔ تو اس کی حیثیت ایک درخواست یا استغاثہ کی رہ جاتی ہے اور مولوی ثناء اللہ صاحب کو بھی تسلیم ہے کہ مرزا قادیانی نے اس دعا کو بطور الہام کے شائع نہیں کیا ہے؟

(دیکھو اخبار اہلحدیث ٢٦؍اپریل ١٩٠٧ء)

فقرہ مرقومہ پر ہی مبنی تھا۔ اس لئے کہ مولانا صاحب کا مضمون جو ٢٦؍اپریل کے اہلحدیث میں شائع ہوا یقیناً ١٩، ٢٠؍اپریل کو لکھا گیا جیسا کہ اخبار شائع کرنے والوں پر پوشیدہ نہیں ہے اور اس وقت تک ٢٥؍اپریل کا اخبار بدر ان کو نہیں ملا تھا اور نہ مل سکتا تھا جس سے ان کو معلوم ہو جاتا کہ دعا الہامی اور خدا کے وعدہ کے مطابق قبول شدہ ہے کما مرّ۔

ہو۔ لیکن مرزائیوں کی مسلمات اور مرزا قادیانی کی نصوص صریحہ سے تو دعا کا الہامی ہونا ثابت ہے۔

ہو اور عدم علم سے عدم شئے لازم نہیں آتی۔ جب مرزا قادیانی کو اس دعا کی بابت الہام مل گیا۔ اجیب دعوۃ الداع (بدر ٢٥؍اپریل ١٩٠٧ء) تو انہوں نے فوراً اس الہام کو شائع کر دیا۔

ازالہ شبہ

اس پر یہ شبہ نہ کیا جائے کہ اس سے لازم آیا کہ حکم کی تعمیل پہلے ہو اور حکم پیچھے ملے۔ اس لئے کہ سلسلۂ رسالت و نبوت میں ایسی کوئی نظیر موجود نہیں ہے کہ کسی نبی یا مامور نے کسی معاملہ الٰہیہ میں از خود ایسی کوئی تحدی اور فیصلہ کی صورت شائع کی ہو جس کی تحریک خدا کی جانب سے نہ ہو۔ قرآن حکیم میں ہے: ”ما کان لرسول ان یاتی بآیۃ الا باذن اللّٰہ (الرعد:٣٨)“ یعنی یہ نہیں ہو سکتا کہ کوئی رسول بغیر تحریک الٰہی کے کوئی بات پیش کرے۔ ”ان اتبع الا ما یوحیٰ الی (یونس:١٥)“ یعنی میں وہی کرتا ہوں جس کی مجھے وحی آتی ہے۔ ”وما ینطق عن الہویٰ ان ہو الا وحی یوحیٰ (النجم:٣، ٤)“ یعنی رسول اپنی خواہش سے بلا وحی کے نہیں بولتا۔ یہ پچھلی آیت مرزا قادیانی کو بھی پہلے ہو چکی تھی (دیکھو اربعین نمبر ٢ ص ٣٦، خزائن ج ١٧ ص ٣٨٥۔ و اربعین نمبر ٣ ص ٣٦ سطر ٣، خزائن ج ١٧ ص ٤٢٦) علاوہ ازیں خود مرزا قادیانی نے (نزول المسیح ص ٥٦، خزائن ج ١٨ ص ٤٣٤) پر لکھا ہے کہ: ”میں کوئی عبارت لکھتا ہوں تو میں محسوس کرتا ہوں کہ کوئی اندر سے مجھے

١٣

صفحہ ٣٠١

تعلیم دے رہا ہے۔ لہٰذا یہ نہیں کہا جا سکتا کہ حکم پیچھے ملا اور تعمیل پہلے ہوگئی۔ لانہ لا یقول بذلك الا من سفه نفسه

معاہدہ کی وجہ سے درج اشتہار نہ کیا ہو جسے ڈپٹی کمشنر ضلع گورداسپور کی عدالت میں ٢٤ فروری ١٨٩٩ء کو بایں اقرار لکھا تھا کہ ”میں کسی چیز کو الہام جتا کر شائع کرنے سے مجتنب رہوں گا......الخ“ پھر بعد میں اصل حقیقت ظاہر کر دی کہ ثناء اللہ کے متعلق رات کو الہام ہوا اجیب دعوة الداع (بدر ٢٥ اپریل ١٩٠٧ء) لیکن یہاں اشتہار ١٥؍ اپریل کا ذکر نہیں کیا۔ صرف فقرہ جو کچھ لکھا گیا اس پر ہی اکتفاء کی...... اشتہار مذکور کا فقرہ پیشینگوئی نہیں۔ مرزا قادیانی کی ایک دوسری تصریح کی خلاف ہے۔ مرزا قادیانی نے ڈپٹی آتھم کے لئے جو دعا کی تھی جسے (جنگ مقدس کے ص ١٨٨، جنگ مقدسہ ٢٠٩، خزائن ج ٦ ص ٢٩١) پر یوں لکھا۔

”میں نے بہت تضرع اور ابتہال سے جناب الٰہی میں دعا کی ہے ۔“ اس دعا کو آگے چل کر پیشینگوئی سے تعبیر کیا اور لکھا۔ ”اگر یہ پیشین گوئی جھوٹی نکلی۔“ پس جیسے آتھم کے لئے بددعا پیشین گوئی تھی مولانا ثناء اللہ صاحب کے لئے بھی پیشین گوئی ہے اور نتیجہ کے اعتبار سے بھی واحد ہے۔ ١٥؍ ماہ کی میعاد مقرر میں آتھم بھی نہیں مرا۔ مرزا قادیانی کی زندگی میں مولانا امرتسری بھی نہیں مرے۔ فنعم الوفاق وبذا الاتفاق۔

چوتھا عذر

قادیانی اور لاہوری پارٹی کہتی ہے کہ ١٥؍ اپریل کے اشتہار کی دعا مباہلہ ہے۔ مرزا قادیانی نے مولوی ثناء اللہ صاحب کو کتاب انجام آتھم میں بشمول دیگر علماء دعوت مباہلہ دی تھی اور مولوی ثناء اللہ صاحب نے خود بھی اس کو مباہلہ تسلیم کیا ہے۔ چنانچہ مرقع قادیانی ماہ جون ١٩٠٨ء کے ص ١٨ پر لکھتے ہیں۔ قادیانی کرشن نے ١٥؍ اپریل ١٩٠٧ء کو میرے ساتھ مباہلہ کا اشتہار شائع کیا تھا۔ ”چونکہ مولوی ثناء اللہ صاحب نے مقابل میں نہ دعا کی نہ مرزا قادیانی کی دعا پر آمین کہی بلکہ انکار کر دیا۔ اس لئے مباہلہ منعقد نہیں ہوا۔ کیونکہ مباہلہ جانبین سے ہوتا ہے۔

لفظ نہیں آیا ہے۔

میرے حق میں دعا کئے ہوئے۔ (جس کو وہ اور ان کے دام افتادہ مباہلہ کے نام سے موسوم کرتے

١٤

ہیں) آج ایک سال سے کچھ زیادہ گزر چکے ہیں۔ (ص ١٩

معلوم ہوا کہ دعائے مرزا کو مرزائی لوگ اور تھے نہ کہ مولانا ثناء اللہ صاحب، جیسا کہ اگلے پیرا گراف سے ظاہر ہے۔

نہیں ہوتا (جیسے خدا نے چور کو سزادی) مشہور مثال ہے۔ اسی بناء پر خود مرزا قا دیانی نے اسے مباہلہ سے تعبیر کیا ہے۔ ملاحظہ ہو۔

انی کے حق میں دعا کی اے مالک الملک ! مرزا قادیانی اور اس کے حواریوں کو توبہ النصوح کی توفیق دے ورنہ ان کو مورد اس آیت قرآنی کی بناء فقطع دابر القوم الذ ین ظلموا اسے مرزا قادیانی نے مباہلہ سے تعبیر کیا ہے۔ چنانچہ (

”مولوی غلام دستگیر قصوری نے اپنے طور پر مجھ سے مباہلہ کیا تھا“ ب....... اسی طرح مرزا قادیانی نے مولانا صاحب ۔ امرتسری کے لئے دعا کی جیسا کہ اپنے اشتہار مورخہ ٢١؍ نومبر ١٨٩٨ء میں لکھتے ہیں: ”میں نے خدا تعالیٰ سے دعا کی ہے کہ مجھ میں اور ثناء اللہ میں فیصلہ کر دے“ اسی یکطرفہ دعا کو مرزا قادیانی نے مباہلہ بھی کہہ دیا چنانچہ د یباچہ میں لکھا ہے: ”اس اشتہار کے نتیجہ کے منتظر ہیں کہ جو ای ک طرفہ دعا ہم نے ابی سعید محمد حسین بٹالوی اور اس کے دو رفیقوں کی نسبت شائع کیا گیا ہے۔“

خط مورخہ ١٥ اپریل ١٩٠٧ء سے نقل کیا گیا ہے اسی خط میں آگے یہ عبارت بھی مرقوم ہے: ”حضرت حجۃ اللہ (مرزا قادیانی) کے قلب میں الہام ہوا کہ مولوی ثناء اللہ نے ایک اور طریق اختیار کیا، اس واسطے مباہلہ کے ساتھ جو اور شر ائط تھیں وہ باطل اور احکام مباہلہ کے منسوخ ہوئے۔“

لیجئے کتاب انجام آتھم میں جو مباہلہ تحریر تھا وہ منسوخ ہو گیا ٥....... اسی اخبار بدر میں سوا دو ماہ کے بعد پھر ای ک مضمون شائع ہوا جس کے الفاظ یہ ہیں: وهو هذا.

١٥

صفحہ ٣٠١

ہیں ) آج ایک سال سے کچھ زیادہ گزر چکے ہیں۔ (ص١٩) معلوم ہوا کہ دعائے مرزا کو مرزائی لوگ اور خود مرزا قادیانی مباہلہ سے تعبیر کرتے تھے نہ کہ مولانا ثناء اللہ صاحب، جیسا کہ اگلے پیراگراف میں ثابت کیا جاتا ہے۔ بعون اللہ وفضلہ

نے چور کو سزادی) مشہور مثال ہے۔ اسی بناء پر خود مرزا قادیانی نے کئی یک طرفہ دعاؤں کو مباہلہ سے تعبیر کیا ہے۔ ملاحظہ ہو۔

الملک ! مرزا قادیانی اور اس کے حواریوں کو توبہ النصوح کی توفیق رفیق فرما اور اگر یہ مقدر نہیں تو ان کو مورد اس آیت قرآنی کی بناء فقطع دابر القوم الذین (فتح رحمانی ص ٢٠، ٢٦) اس دعا کو مرزا قادیانی نے مباہلہ سے تعبیر کیا ہے۔ چنانچہ

(حقیقت الوحی ص ٢٢٨، خزائن ج ٢٢ ص ٢٣٩)

”مولوی غلام دستگیر قصوری نے اپنے طور پر مجھے مباہلہ کیا...... الخ۔“

کے لئے دعا کی جیسا کہ اپنے اشتہار مورخہ ٢١ نومبر ١٨٩٨ء میں لکھتے ہیں: ”میں نے خدا تعالیٰ سے دعا کی ہے کہ مجھ میں اور محمد حسین میں آپ فیصلہ کرے۔“ پھر اسی یکطرفہ دعا کو مرزا قادیانی نے مباہلہ بھی کہہ دیا چنانچہ راز حقیقت میں لکھتے ہیں: ”اس اشتہار کے نتیجہ کے منتظر ہیں کہ جو ٢١ نومبر ١٨٩٨ء کو بطور مباہلہ شیخ محمد حسین بٹالوی اور اس کے حواریوں کی نسبت شائع کیا گیا ہے۔“

(راز حقیقت ص ١، خزائن ج ١٤ ص ١٥٣)

سے نقل کیا گیا ہے اسی خط میں آگے یہ عبارت بھی مرقوم ہے: ”حضرت حجۃ اللہ (مرزا قادیانی) کے قلب میں ایک دعا کی تحریک کر کے فیصلہ کا ایک اور طریق اختیار کیا اس واسطے مباہلہ کے ساتھ جو اور شروط تھے وہ سب کے سب بوجہ نا قرار پائے مباہلہ کے منسوخ ہوئے۔“

(اخبار بدر ١٣؍ جون ١٩٠٧ء)

لیجئے کتاب انجام آتھم میں جو مباہلہ تحریر تھا وہ منسوخ ہو گیا صرف دعا باقی رہ گئی۔

وہو ہذا.

١٥

صفحہ ٣٠٢

"حضرت اقدس مسیح موعود نے مولوی ثناء اللہ صاحب کے ساتھ آخری فیصلہ کے عنوان کا ایک اشتہار دے دیا جس میں محض دعا کے طور سے خدا فیصلہ چاہا گیا ہے نہ کہ مباہلہ کیا گیا ہے۔"

(اخبار بدر ٢٢؍اگست ١٩٠٧ء ص ٨ کالم اول، مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ٥٧٦)

اس دعا کو جو حضرت صاحب نے شائع کی تھی مباہلہ قرار دینا افترا نہیں تو اور کیا ہے؟ اب کہاں ہیں لاہوری ٹریکٹ نویس! مرقومہ بالا تحریروں کو آنکھیں کھول کر پڑھیں۔

نوٹ: ٹریکٹ مذکور کے ص ٨ پر ایک نوٹ دیا گیا ہے کہ:

"مولوی ثناء اللہ صاحب اور اس کے ہم نوا، کبھی اس آخری فیصلہ کو مباہلہ کہتے ہیں کبھی دعا اور کبھی پیشین گوئی۔" ہماری اوپر کی تحریر میں پڑھ کر انصاف کیجئے کہ خود مرزا قادیانی اپنی دعا کو کبھی مباہلہ کہتے ہیں کبھی دعا اور کبھی پیشین گوئی۔ نہ کہ مولانا ثناء اللہ صاحب اور ان کے ہمنوا۔

كونوا قوامين لله شهداء بالقسط

پانچواں عذر

"جب تمام عذروں کا مرزائی مسلمات سے مسکت جواب دے دیا جاتا ہے تو آخر میں ایک دھیمی سی آواز کانوں میں یہ آتی ہے کہ کچھ بھی کہو مولوی ثناء اللہ صاحب خوف زدہ تو ضرور ہی ہو گئے تھے۔"

جواب...... دریں چہ شک؟ جب ہی تو مولانا ثناء اللہ صاحب نے اخبار اہلحدیث کو مرزائی مشن کی تردید کے لئے کافی نہ جان کر یکم جون ١٩٠٧ء سے ایک الگ پرچہ ماہوار "مرقع قادیانی" کے نام سے جاری کر دیا تھا جو مرزا قادیانی کی موت کے بعد تک جاری رہا اور اس پرچہ میں بڑے زور وشور سے مرزا قادیانی کے جوابات شائع ہوتے رہے اگر اسی کا نام "خوف" ہے تو ہم بھی صاد کرتے ہیں۔

خلاصہ مرام! چونکہ ١٥؍اپریل ١٩٠٧ء کے آخری فیصلہ والے اشتہار کی بابت جتنے عذر اور بہانے کئے جاتے ہیں وہ پادر ہوا ہیں۔ مرزا قادیانی کی دعا قبول ہو چکی تھی اور مئی ١٩٠٨ء میں دنیا نے نتیجہ دعا مشاہدہ بھی کر لیا ہے۔ ولنعم ما قیل

گفت میرد آنکه کاذب پیشتر
در کذب کامل بود اول مرده شد

١٨؍ جمادی الاخری ١٣٥٢ھ، مطابق ٩؍اکتوبر ١٩٣٣ء

١٦

انجمن اشاعت الاسـ

کا ٹریکٹ نمبـ

(مولوی غلام احمد مرزائی کے بعض

سیکرٹری انجمن اشاعت الا

PDF 304

محمد

خاتم النبیین

لا نبی بعدي

انجمن اشاعت الاسلام بنارس

کا ٹریکٹ نمبر ٥

(مولوی غلام احمد مرزائی کے بعض جوابات پر نظر)

سیکرٹری انجمن اشاعت الاسلام بنارس

صفحہ ٣٠٥

بسم الله الرحمن الرحيم نحمده ونستعينه ونصلى ونسلم على سيد الانبياء وخاتم المرسلین وعلى آله الطاهرين وعلى صحبه الهادین المهدیین

مولوی محمد ابراہیم صاحب خطیب مسجد شاہی نے قادیانی حضرات سے کچھ سوالات کئے تھے۔ مولوی غلام احمد صاحب (مرزائی) کی طرف سے ان کا جواب شائع ہوا ہے ہم نے بھی دیکھا کیا کہتے ہیں۔

زفرق تا بقدم هر کجا که می نگرم
کرشمه دامن دل می کشد که جا اینجا است

جن مسائل پر اس جواب میں مولوی غلام احمد صاحب (مرزائی) نے گفتگو کی ہے۔ ان پر ہماری انجمن کے بعض زیر تالیف و زیر طبع رسائل میں سیر حاصل بحثیں کی گئی ہیں اور انشاء اللہ عنقریب یہ سلسلہ رسائل قارئین کے ہاتھوں میں ہوگا۔ مگر پھر بھی جی چاہا کہ اس کے ایک حصہ پر ایک سرسری نظر ڈال دی جائے۔ نتیجتاً اب قارئین کے پیش نظر ہے۔ بقیہ مسائل پر مولوی محمد ابراہیم صاحب تو روشنی ڈالیں گے۔ مگر ہمارے رسائل بھی انشاء اللہ بہت جلد اس دام تزویر و تلبیس کا تار تار بکھیر کر رکھ دیں گے۔ جو مسلمانوں کو ان کے دین متین سے برگشتہ و منحرف کرنے کے لئے آج کل بچھایا جا رہا ہے۔ وما توفیقنا الا بالله !

اس سرسری نظر سے مولوی غلام احمد صاحب (مرزائی) کی راستبازی و دیانتداری کا اندازہ قارئین کرام کریں گے اور اس طرح انہیں ان مولوی صاحب کے دوسرے دعوؤں کا وزن بھی اجمالاً معلوم ہو جائے گا۔ انشاء اللہ ! اب مولوی غلام احمد مرزائی کے جوابات ملاحظہ ہوں اور ہماری گزارشیں۔

جواب سوال نمبر ١

سوال نہایت صاف تھا جو مسلمان، مرزا غلام احمد بن حکیم غلام مرتضیٰ قادیانی گورداسپوری پنجابی کو مسیح اور مہدی نہیں جانتا، جو مسلمان، مرزا قادیانی بن مرزا غلام مرتضیٰ قادیانی گورداس پوری پنجابی کو، ان کے دعوائے نبوت و رسالت، مسیحیت و مہدویت، میں جھوٹا اور مخادع جانتا ہے، اس کو آپ احمدی یا قادیانی یا مرزائی حضرات مسلمان جانتے ہیں، یا نہیں؟ جواب میں ٢

مولوی غلام احمد مرزائی ہاں کہتے ہیں یا نہ؟ مگر اس صاف گوئی پر جانا ہے۔ دام میں آئیں تو ان سے نبوت مرزا بھی منوائی آنحضرت ﷺ کو خاتم النبیین جاننے والے اور ان کی حرمت کافر بھی کہلوایا جائے۔ ابھی تو گھی میں چپڑی باتیں کرتا ہے۔ مـ سوال شخصیت کا ہے، سوال مرزا غلام احمد قادیانی کا ہے۔ ان کـ مسلمان باقی رہ جاتا ہے یا نہیں؟ سوال باقی ہے، جواب نہیں ملا

جواب سوال نمبر ٢

یہاں بھی وہی پیچ وخم ، حضرت صاحب صاف صـ قادیانی کو جو کوئی صرف مجدد یا بزرگ کہے، نبی اور رسول، مسـ اب چاہے عرب و عجم، نہیں سارے جہاں کے مسلمان کافر ہو ان کا خمیر بن چکا ہے تو سیدھی باتیں کیسے ہوں، یقین ہے اـ صاف مل جائے تو کچھ اور گزارش ہو۔

جواب سوال نمبر ٣

مولوی غلام احمد مرزائی کو آنحضرت ﷺ کا خا جو ” آج کل کے عام مسلمان“ خاتم النبیین کے کرتے ہیں، ہیں نہ اجماعی اور نہ کسی مستند عالم کے بتائے ہوئے۔ مولوی غـ کے عام مسلمان کرتے ہیں ۔“ معنی طلب کرتے ہیں۔ ان ـ اس عہد کے تمام علمائے اسلام، عوام کی صف میں کھڑے کردـ ہر ایک بات پہ کہتے ہو تم کہ : ”تو کیا ہے۔“ تمہی

جواب میں ہم گزارش کریں گے کہ جناب کا یہ فـ اگر آپ نے اس ” مفہوم عوام“ کی تصریح بھی فرمادی ہوتی نکالا گیا ہے، درست ہے۔

”بات وہ کر کہ نکلتے رہیں

خیر مسلمانوں کا عقیدہ ہم ہی عرض کئے دیتے علمائے اہل السنۃ والجماعۃ سرور کائنات روح دو عالم ﷺ کـ ٣

صفحہ ٣٠٥

مولوی غلام احمد مرزائی ہاں کہتے ہیں یا نہ؟ مگر اس صاف گوئی پر کیسے اتر آئے؟ ابھی تو مسلمان کو پرچانا ہے۔ دام میں آلیں تو ان سے نبوت مرزا بھی منوائی جائے اور ساری دنیا کے کلمہ گو، آنحضرت ﷺ کو خاتم النبیین جاننے والے اور ان کی حرمت پر جان چھڑکنے والے مسلمانوں کو کافر بھی کہلوایا جائے۔ ابھی تو گھی میں چپڑی باتیں کرنا ہے۔ مولوی غلام احمد یہ ایچ پیچ ٹھیک نہیں، سوال شخصیت کا ہے، سوال مرزا غلام احمد قادیانی کا ہے۔ ان کو اپنے دعوؤں میں جھوٹا جاننے والا، مسلمان باقی رہ جاتا ہے یا نہیں؟ سوال باقی ہے، جواب نہیں ہوا۔

جواب سوال نمبر ٢

یہاں بھی وہی پیچ وخم، حضرت صاحب صاف صاف فرما دیتے، یوں کہئے کہ مرزا قادیانی کو جو کوئی صرف مجدد یا بزرگ کہے، نبی اور رسول، مسیح اور مہدی نہ پکارے تو وہ کافر ہے، اب چاہے عرب وعجم، نہیں سارے جہاں کے مسلمان کافر ہو جائیں۔ جواب یہ ہونا چاہئے تھا مگر ایچ پیچ خمیر بن چکا ہے تو سیدھی باتیں کیسے ہوں، یقین ہے اب کے جواب صاف ملے گا، جواب صاف مل جائے تو کچھ اور گزارش ہو۔

جواب سوال نمبر ٣

مولوی غلام احمد مرزائی کو آنحضرت ﷺ کا خاتم النبیین ہونا تسلیم ہے، مگر وہ معنے جو ”آج کل کے عام مسلمان“ خاتم النبیین کے کرتے ہیں، وہ ان کے نزدیک غلط ہے۔ وہ نہ قطعی ہیں نہ اجماعی اور نہ کسی مستند عالم کے بتائے ہوئے۔ مولوی غلام احمد صاحب کا یہ فقرہ ”جو آج کل کے عام مسلمان کرتے ہیں“ داد طلب کرتے ہیں۔ ان کے اور ان کے نبی مرزا قادیانی کے سوا اس عہد کے تمام علمائے اسلام، عوام کی صف میں کھڑے کر دیئے جانے کے قابل ہیں۔ ہر ایک بات پہ کہتے ہو تم کہ : ”تو کیا ہے“ ..... تمہیں بتاؤ ..... یہ انداز گفتگو کیا ہے؟ جواب میں ہم گزارش کریں گے کہ جناب کا یہ فتویٰ غلط ہے اور سرتاسر غلط کیا خوب ہوتا اگر آپ نے اس ”مفہوم عوام“ کی تصریح بھی فرمادی ہوتی۔ غالباً مجال سخن باقی رکھنے کا ایک پہلو نکالا گیا ہے، درست ہے۔

”بات وہ کر کہ نکلتے رہیں پہلو دونوں“

خیر مسلمانوں کا عقیدہ ہم ہی عرض کئے دیتے ہیں، صدر اول سے لیکر آج تک تمام علمائے اہل السنۃ والجماعۃ سرور کائنات روح دو عالم ﷺ کو اس معنے میں خاتم النبیین جانتے اور

٣

صفحہ ٣٠٧

مانتے آئے ہیں کہ آنحضرت ﷺ سلسلۂ رسالت کے حلقہ آخرین ہیں اور ایوان نبوت کی خشت ’’پسین‘‘ ان پر نبوت اور رسالت ختم ہو گئی اور درِ رسالت ان کے بعد قیامت تک کے لئے مسدود ہو گیا۔ اب نہ کوئی مستقل اور صاحب شریعت نبی مبعوث ہوگا اور نہ کوئی غیر مستقل یا بقول قادیانی صاحبوں کے ظلی و بروزی نبی، حضرت عیسیٰ بن مریم علیہما السلام اپنی پہلی نبوت کے ساتھ ظاہر ہوں گے۔ مگر پیروی کریں گے شریعت محمدیہ کی۔

مولوی غلام احمد مرزائی کی جسارت داد طلب ہے، فرماتے ہیں خاتم النبیین کے یہ معنی قطعی نہیں! ہم گزارش کریں گے مولوی صاحب، خوفِ خدا کرو، خود رسول اللہ ﷺ نے خاتم النبیین کے یہ معنی بتائے ہیں اور اس باب میں جو حدیثیں آنحضرت ﷺ سے مروی ہیں، حافظ ابن حزم اندلسی اپنی بلند پایہ کتاب (الملل والنحل ص ٧٧ ج ١) میں فرماتے ہیں: ”وقد صح عن رسول اللہ ﷺ بنقل الكافة التي نقلت نبوته واعلامه وكتابه انه اخبرانه لا نبى بعدى ...... الخ“

”جس طرح ایک جم غفیر نے آنحضرت کی نبوت کی خبر، آنحضرت کے معجزات و دلائل نبوت اور آنحضرت کی لائی ہوئی کتاب (قرآن) ہم تک پہنچائی ہے اسی طرح اتنی ہی بڑی جماعت نے آنحضرت کی یہ حدیث بھی ہم تک پہنچائی ہے کہ آنحضرت کے بعد کوئی نبی نہ ہوگا۔“

حافظ ابن کثیر اپنی گرامی قدر تفسیر میں لکھتا ہے: ”وبذلك وردت الاحاديث المتواترة عن رسول اللہ ﷺ من حديث جماعة من الصحابة (تفسیر ابن کثیر ج٨ ص ٨٩)“ اور ختم نبوت کے اسی معنی کی تائید آنحضرت ﷺ کی احادیث متواترہ سے ہوتی ہے جن کو صحابہ کی ایک جماعت نے روایت کیا ہے۔

”علامہ العراق سید محمود شکری آلوسی فرماتے ہیں۔ وكونه ﷺ خاتم النبيين مما نطقت به الكتاب وصدعت به السنة واجمعت عليه الامة“ اور آنحضرت ﷺ کا خاتم النبیین ہونا، سو اس کی شہادت قرآن نے دی۔ اس کا اعلان احادیث نبویہ نے کیا، اور بالآخر اسی پر امت محمدیہ کا اجماع ہو گیا۔“

اب وہ حدیثیں کیا ہیں جن میں خاتم النبیین کے معنی بیان ہوئے ہیں، مولوی غلام احمد صاحب مرزائی اور ان کے ہمنوا آویں اور راست بازی کیساتھ ان کے معانی پر غور کریں۔

ایسی ہے جیسے کسی نے کوئی محل تعمیر کیا ہو اور اس کی خوبی و زیبائی کا بھی خیال رکھا ہو مگر اس کا کوئی ایک گوشہ ایسا ہے جو ایک اینٹ کے بغیر ناتمام رہ گیا ہو لوگ آتے ہیں، اس محل کو دیکھتے ہیں اور اس کی خوبی پر عش

عش کرتے ہیں مگر کہتے ہوں یہ ایک اینٹ بھی کیوں نہ رکھ دی رکھی) اور میں خاتم النبیین ہوں۔“

یہی روایت دوسرے الفاظ کے ساتھ کنز العمال ج ”پس اس اینٹ کی جگہ میں نے ہی پر کی اور میری ہی بعثت سے رسولوں کا سلسلہ ختم ہو گیا۔“

شیخین (بخاری ومسلم) نے یہی حدیث حضرت جا محل خوب تعمیر، مگر اس ایک اینٹ کے بغیر ناتمام رہا، (پس جگہ پر ختم ہو گیا۔“

پایا کرتا تھا، جب کوئی نبی مر جاتا اس کی جانشینی دوسرے نبی میرے جانشین خلفا ہوں گے اور بہت ہوں گے۔ (الحدیث روا

اس روایت میں چند باتیں خاص طور پر قابل لحاظ ذکر کے بعد آنحضرت ﷺ کا یہ فرمانا: وانه لا نبی بعدی بات پر کھلی ہوئی اور قاطع دلیل ہے کہ آنحضرت ﷺ کے بعد آئے گا۔ اس لئے کہ انبیاء بنی اسرائیل جو تدبیر و سیاست او کرتے تھے وہ مستقل اور صاحب کتاب و شریعت انبیاء نہیں

دوم یہ کہ یہاں سرور کائنات ﷺ نے اپنی امت کوئی ہمسر نہیں رکھتی اور وہ شرف یہ ہے کہ اس کے خلفاء انبیاء ان سے تدبیر سیاست کی وہی خدمت بروئے کار آئے گی جو ان

سوم یہ کہ اس حدیث میں آنحضرت ﷺ کا لا نبـ سيكون خلفاء بڑھا دینا ایک اور نکتہ پر تنبیہ کے لئے بھی دین الٰہی کی تکمیل کر دی ہے اور اس کا صحیفہ (قرآن حکیم ) مـ یہ وہ صحیفہ ہے جس کی حفاظت و نگہداشت کی ذمہ داری خود الـ اس میں کسی طرح کی تحریف یا کمی بیشی کبھی راہ نہ پاسکی۔ پـ ضرورت باقی رہ جاتی ہے؟ اور اس لئے میرے بعد اس تدبیر، سیاست کے لئے خلفاء میرے جانشین ہوں گے انبیا

صفحہ ٣٠٧

طواف کرتے ہیں مگر کہتے ہیں یہ ایک اینٹ بھی کیوں نہ رکھ دی گئی۔ (یہ اینٹ میری ہی نبوت نے رکھی ) اور میں خاتم النبیین ہوں ۔“

(رواہ البخاری ومسلم واحمد )

یہی روایت دوسرے الفاظ کے ساتھ کنز العمال میں ابن عساکر سے یوں آئی ہے۔ ”پس اس اینٹ کی جگہ میں نے ہی پر کی اور میری ہی بعثت سے نبوت کا یہ محل اتمام کو پہنچا، اور مجھ پر رسولوں کا سلسلہ ختم ہو گیا۔“

شیخین (بخاری ومسلم) نے یہی حدیث حضرت جابرؓ سے یوں بھی روایت کی ہے : ”یہ محل خوب تعمیر ، مگر اس ایک اینٹ کے بغیر ناتمام رہا، (پس جگہ میں نے پر کی ) اور انبیاء کا سلسلہ مجھ پر ختم ہو گیا ۔“

٢...... فرمایا رسول اللہ ﷺ نے : ”بنی اسرائیل کی سیاست وتدبیر کا کام انبیاء کے ہاتھ انجام پایا کرتا تھا، جب کوئی نبی مر جاتا اس کی جانشینی دوسرے نبی کو ملتی ، مگر میرے بعد کوئی نبی نہیں، میرے جانشین خلفاء ہوں گے اور بہت ہوں گے ۔ (الحدیث رواہ البخاری ومسلم واحمد )“

اس روایت میں چند باتیں خاص طور پر قابل لحاظ ہیں: اول یہ کہ انبیاء بنی اسرائیل کے ذکر کے بعد آنحضرت ﷺ کا یہ فرمانا: وانه لا نبی بعدی (اور میرے بعد کوئی نبی نہیں ) اس بات پر کھلی ہوئی اور قاطع دلیل ہے کہ آنحضرت ﷺ کے بعد کوئی غیر مستقل یا غیر تشریعی نبی بھی نہ آئے گا۔ اس لئے کہ انبیاء بنی اسرائیل جو تدبیر وسیاست اور نبیوں کی جانشینی کے لئے ظہور فرمایا کرتے تھے وہ مستقل اور صاحب کتاب وشریعت انبیاء نہیں ہوا کرتے تھے۔

دوم یہ کہ یہاں سرور کائنات ﷺ نے اپنی امت کا وہ شرف بھی بتا دیا جس میں وہ اپنا کوئی ہمسر نہیں رکھتی اور وہ شرف یہ ہے کہ اس کے خلفاء انبیاء بنی اسرائیل کا منصب رکھیں گے اور ان سے تدبیر سیاست کی وہی خدمت بروئے کار آئے گی جو انبیاء بنی اسرائیل انجام دیا کرتے ہیں۔

سوم یہ کہ اس حدیث میں آنحضرت ﷺ کا لا نبی بعدی کے فقرہ پر اکتفاء فرمانا اور سیکون خلفاء بڑھا دینا ایک اور نکتہ پر تنبیہ کے لئے بھی تھا، اور وہ نکتہ یہ تھا کہ شریعت محمدیہ نے دین الہی کی تکمیل کر دی ہے اور اس کا صحیفہ ( قرآن حکیم ) صحف آسمانی میں مکمل ترین صحیفہ ہے اور یہ وہ صحیفہ ہے جس کی حفاظت و نگہداشت کی ذمہ داری خود اللہ تعالیٰ نے اپنے اوپر لے لی ہے، اب اس میں کسی طرح کی تحریف یا کمی بیشی بھی راہ نہ پائیگی۔ پس جب ایسا ہے تو انبیاء کے ظہور کی کیا ضرورت باقی رہ جاتی ہے؟ اور اس لئے میرے بعد اس شریعت کی اقامت اور میری امت کی تدبیر وسیاست کے لئے خلفاء میرے جانشین ہوں گے انبیاء مبعوث نہ ہوں گے ۔

٥

صفحہ ٣٠٩

بنا کر مدینہ میں چھوڑنا چاہا تو وہ کچھ ملول نظر آئے ، اس پر آنحضرت ﷺ نے فرمایا: ”علی تم کو یہ بات خوش نہیں آتی کہ تم جانشین موسیٰ، ہارون (علیہما الصلوٰۃ والسلام) کی طرح میرے جانشین بنو؟ (ہاں تم میں اور ہارون میں اتنا فرق ہوگا کہ میرے بعد کوئی نبی نہ ہوگا ۔ (رواہ البخاری ومسلم)“ اس حدیث میں یہ بھی بات قابل لحاظ ہے کہ ہارون علیہ السلام کوئی صاحب شریعت اور مستقل نبی نہ تھے۔ ان کی جانشینی موسیٰ علیہ السلام کے ذکر کے بعد آنحضرت کا یہ فرمانا کہ میرے بعد کوئی نبی نہ ہوگا، اس بات پر ناقابل قطع دلیل ہے کہ آنحضرت ﷺ کے بعد اب کوئی ہارون علیہ السلام ایسا غیر مستقل اور غیر تشریعی نبی بھی نہ آئے گا۔ مسلم کی ایک روایت میں الا انه لا نبوة بعدی بھی آیا ہے۔ (باب فضائل علیؓ) معنی یہ ہوئے کہ آنحضرت ﷺ نے اپنے بعد ہر طرح اور ہر نوع کی نبوت کی نفی فرمادی وہ مستقل ہو یا غیر مستقل، تشریعی ہو یا غیر تشریعی، یا بقول قادیانی صاحبوں کے ظلی و بروزی۔

خوشخبریوں کے۔ (رواہ البخاری و مسلم) یہی روایت حضرت عائشہ صدیقہؓ سے بھی آئی ہے۔ وہ فرماتی ہیں فرمایا رسول اللہ ﷺ نے کہ نہ باقی رہا آپ ﷺ کے بعد نبوت سے کوئی جز یا حصہ، سوا خوشخبریوں کے، لوگوں نے پوچھا حضور ﷺ یہ خوشخبریاں کیا ہیں۔ تو فرمایا اچھا خواب جو مسلمان دیکھے یا اسے دکھایا جائے ۔ (کنز العمال بروایۃ احمد و الخطیب)“ اس حدیث صحیح نے بھی صاف صاف بتا دیا کہ آنحضرت ﷺ کے بعد نبوت ورسالت کسی شکل وصورت میں باقی نہ رہی، ہاں اس کا چھیالیسواں حصہ (اچھے خواب) ضرور باقی رہا، مگر اس چھیالیسواں حصہ (اچھا خواب) کو نبوت سے کیوں کر تعبیر کیا جاسکتا ہے اس کا باب ہر مسلمان کے لئے کھلا ہوا ہے۔

رسول میرے بعد ہوگا اور نہ کوئی نبی (رواہ الترمذی وقال ہٰذا حدیث صحیح) یہ حدیث بھی اس بات پر نص قاطع ہے کہ آنحضرت ﷺ کے بعد کوئی نبوت خواہ وہ کیسی ہی ہو نہ آئے گی۔“

کے آخر و پچھلے محمد ﷺ ۔ (رواہ ابن حبان فی صحیحہ)“

مولوی غلام احمد صاحب (مرزائی)! فرمائیے عالم ﷺ بیان فرما رہے ہیں یا نہیں ۔ ”جو آج کل کے ظ و بروزی نبی کے ظہور کی گنجائش باقی رکھی؟ اور یہ ظلی اور بر کرتے ہیں۔ مرزا غلام احمد قادیانی تو کسی نبی کا ”سایہ“ یا بر صاف اور یہ علانیہ ایک مستقل اور صاحب شریعت بھی ہو ۔ کے جعل وفریب سے کیا حاصل؟

مولوی غلام احمد مرزائی نے فرمایا یہ معنی خاتم ال نبویہ کے ہوتے ہوئے نقل اجماع کی ضرورت باقی نہیں ر کرنے کی غرض سے ہم امت کا اجماع بھی اس خصوص میں ن حافظ ابن حزم اور علامۃ العراق کی شہادتیں ق شہادتیں ملاحظہ ہوں: قاضی عیاضؒ اپنی مشہور تالیف شفا م دعوائے نبوت کرے، یا فلسفیوں اور غالی صوفیوں کی طر اکتساب یا اس رتبہ بلند تک پہنچنا ممکن بتائے، یا اس بات ک ہے، اگرچہ یہ شخص دعوائے نبوت نہ کرتا ہو تو یہ سب کافر ہ والے ہیں اس لئے کہ آنحضرت ﷺ نے خبر دے دی ہے ک کی طرف سے امت کو یہ بات بتادی ہے کہ آپ ﷺ خاتم ا نبی بنا کر بھیجے گئے ہیں اور امت محمدیہ نے اس بات پر ا ”ولکن رسول الله و خاتم النبیین “ سے وہی م جاتے ہیں اور جو معنے سمجھے جاتے ہیں وہی مراد (الٰہی بھی جائز نہیں پس ان تمام لوگوں کے (جو نبوت کا دعویٰ کریں وحی الٰہی جانیں ، اگرچہ مدعی نبوت نہ ہوں......) کفر میں اجماعاً، نیز احادیث کی رو سے طے ثابت ہے ۔“ (شفاء ق

حجة الاسلام امام غزالیؒ اپنی کتاب اس لفظ خاتم النبیین سے یہی سمجھا کہ آنحضرت ﷺ کے نہ کوئی رسول، اس میں کسی طرح کے چون و چرا یا تخصیص کہ مستقل نبی نہ آئیں گے۔ مگر غیرمستقل یا ظلی و بروزی ٧

صفحہ ٣٠٩

مولوی غلام احمد صاحب (مرزائی)! فرمائیے خاتم النبیین کے وہی معنے خود سرور عالم ﷺ بیان فرما رہے ہیں یا نہیں۔ ”جو آج کل کے عام مسلمان کرتے ہیں ۔“ کہیں ظلی و بروزی نبی کے ظہور کی گنجائش باقی رہی؟ اور یہ ”ظلی اور بروزی“ کا قصہ تو ناحق آپ لوگ چھیڑا کرتے ہیں۔ مرزا غلام احمد قادیانی تو کسی نبی کا ”سایہ“ یا بروز ہونا قبول نہیں کرتے وہ تو صاف صاف اور بالعلانیہ ایک مستقل اور صاحب شریعت بھی ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں۔ اس ظلی و بروز کے جعل و فریب سے کیا حاصل؟

مولوی غلام احمد مرزائی نے فرمایا یہ معنی خاتم النبیین کے اجماعی نہیں، ان احادیث نبویہ کے ہوتے ہوئے نقل اجماع کی ضرورت باقی نہیں رہ جاتی ۔ مگر تاکہ ”خانہ پری“ والی بات پوری کرنے کی غرض سے ہم امت کا اجماع بھی اس خصوص میں نقل کئے دیتے ہیں۔

حافظ ابن حزم اور علامہ العراقی کی شہادتیں ہم اوپر نقل کر آئے ہیں۔ چند اور وقیع شہادتیں ملاحظہ ہوں: قاضی عیاضؒ اپنی مشہور تالیف شفاء میں لکھتے ہیں ”اب جو کوئی اپنے لئے دعویٰ نبوت کرے، یا فلسفیوں اور غالی صوفیوں کی طرح ریاضت و مجاہدہ کے ذریعہ نبوت کا اکتساب یا اس رتبہ بلند تک پہنچنا ممکن بتائے، یا اس بات کا دعویٰ کرے کہ اس پر وحی نازل ہوتی ہے، اگرچہ یہ شخص دعوائے نبوت نہ کرتا ہو تو یہ سب کافر ہیں۔ (خاک بدہن) محمدﷺ کو جھٹلانے والے ہیں اس لئے کہ آنحضرت ﷺ نے خبر دے دی ہے کہ ان کے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا اور خدا کی طرف سے امت کو یہ بات بتادی ہے کہ آپ ﷺ خاتم النبیین ہیں اور سارے جہاں کے لئے نبی بنا کر بھیجے گئے ہیں اور امت محمدیہ نے اس بات پر اجماع کر لیا ہے کہ ان احادیث اور آیت ”ولکن رسول اللہ وخاتم النبیین“ سے وہی مراد لئے جائیں گے جو بظاہر ان سے سمجھے جاتے ہیں اور جو معنے سمجھے جاتے ہیں وہی مراد (الٰہی بھی ہیں) کسی طرح کی کوئی تاویل یا تخصیص جائز نہیں پس ان تمام لوگوں کے (جو نبوت کا دعویٰ کریں یا اسے اکتسابی بتائیں یا اپنے تئیں مہبط وحی الٰہی جانیں، اگرچہ مدعی نبوت نہ ہوں......) کفر میں کسی طرح کا شک و شبہ نہیں۔ ان کا کفر قطعاً اجماعاً، نیز احادیث کی رو سے نصاً ثابت ہے۔“

(شفاء ج ٢ ص ٢٧٠، ٢٧١)

حجة الاسلام امام غزالیؒ اپنی کتاب ”الاقتصاد“ میں لکھتے ہیں: ”امت محمدیہ نے اس لفظ خاتم النبیین سے یہی سمجھا کہ آنحضرت ﷺ کے بعد اب قیامت تک نہ کوئی نبی آئے گا اور نہ کوئی رسول، اس میں کسی طرح کے چون و چرا یا تخصیص کی مطلق گنجائش نہیں، یعنی یہ نہیں کہا جاسکتا کہ مستقل نبی نہ آئیں گے۔ مگر غیر مستقل یا ظلی و بروزی نبیوں کے آنے کی گنجائش باقی ہے۔......

٧

صفحہ ٣١٠

اس باب میں چوں یا چرا۔ تخصیص کرنے والا قطعاً کافر ہے اس لئے کہ وہ اس صریح آیت قرآنی کو جھٹلا رہا ہے، اس آیت قرآنی ولکن رسول اللہ وخاتم النبیین کی نسبت تو امت محمدیہ کا اجماع ہو چکا ہے کہ نہ تو اس کے مفہوم ومعنی میں کسی طرح کی تاویل جائز ہے اور نہ تخصیص ۔“

اسی طرح کی وقیع اور مستند شہادتیں اور بھی پیش کی جاسکتی ہیں جن سے یہ بات آفتاب نیمروز کی طرح روشن ہو جاتی ہیں کہ صدر اول سے لے کر آج تک امت کا اس بات پر اجماع رہا ہے کہ آنحضرت ﷺ اس معنی میں خاتم النبیین ہیں جو بقول مولوی غلام احمد قادیانی کے ”آج کل کے عام مسلمان کرتے ہیں ۔“

اب رہا مولوی غلام احمد مرزائی کا یہ فرمانا کہ یہ ایک عامیانہ معنی ہیں ”اہل السنت والجماعت کے کسی ایسے شخص کے بیان کردہ بھی نہیں۔ جو اپنے زمانہ میں مشہور عالم اور اپنے تقویٰ وعلم لدنی میں مرجع انام رہا ہو۔“ سو اس بات کا جواب لکھنے سے پیشتر ہم ان سے اتنا پوچھیں گے کہ اے بندہ خدا، اتنا بڑا جھوٹ لکھ کر خلق خدا میں شائع کرتے آپ کو مطلق شرم نہ آئی ؟ آپ کا جہاد اور آپ کی تبلیغ، یہ سب کچھ جھوٹ اور فریب کی راہ میں ہے؟

مولوی صاحب نے اپنی پندار میں شہرت، تقویٰ، علم لدنی اور مرجعیت کی قد بڑھا کر گویا خلق خدا کی آنکھوں میں خاک جھونک دی۔ ! لوگو، ذرا ان مولوی صاحب کی دلیری اور بے جگری دیکھنا کیسی جسارت ہے اور کیسی جرأت فرماتے ہیں اور پھر کس انداز سے فرماتے ہیں:

”قرآن وحدیث میں یہ الفاظ آنحضرت ﷺ کی مدح میں وارد ہیں۔“

مولوی صاحب، یہ الفاظ ایک بڑی ہی مہتم بالشان دینی حقیقت کے اعلان کے لئے بولے گئے ہیں، محض مدح وستائش ان سے مقصود نہیں، آپ ان کو مدح کے الفاظ بتا کر ملت بیضاء کو اس عظیم ورثہ سے مسلمانوں کو برگشتہ ومنحرف دیکھنا چاہتے ہیں۔ جس نے آج تک اسے بہت سے جہاں آشوب فتنوں سے بچائے رکھا ہے، جسے اگلی آسمانی کتابوں نے بھی اس شریعت غراء کا طغرائے امتیاز بتایا ہے، مگر آپ اس بھلاوے میں نہ رہیں، یہ مسلمان جب تک مسلمان ہے اس پر یہ فریب نہیں چل سکتا۔

کیوں مولوی مرزائی، رسول اللہ ﷺ کے جانشین اول حضرت ابو بکر صدیق آپ کے نزدیک کوئی مستند عالم دین ہیں یا نہیں؟ وہ تو خاتم النبیین کے وہی ”معنی کرتے ہیں“ جو آج کل

٨

صفحہ ٣١١

کے عام مسلمان کرتے ہیں فرماتے ہیں : ”قد انقطع الوحی وتم الدین او ینقص وانا حی“ ”وحی منقطع ہوچکی، دین الٰہی مکمل ہو چکا، کیا یہ میری زندگی ہی میں نقصان پذیر ہوگا ۔“ ( میری زندگی پھر کس دن اسلام کے کام آئے گی۔ (رواہ النسائی بہذا اللفظ ) ومعناہ فی الصحیحین، وكذا في الرياض النضرة للطبرى وتاريخ الخلفاء للسيوطى ۔

آنحضرت ﷺ کے وصال کے موقع پر فرمایا: ”اليوم فقدنا الوحی ومن عند اللہ عزوجل الکلام (رواہ ابواسماعیل الحروی فی دلائل التوحید، کنز العمال ج ٤ ص ٥٠) ” آج وحی آسمانی ہم سے منقطع ہوئی اور اللہ تعالیٰ کا کلام ہم سے رک گیا ۔

”ایک بار حضرت ابوبکر الصدیق اور حضرت عمر بن الخطاب ام ایمن سے ملنے کے لئے آئے حضرت انس بھی ان کے ہمراہ تھے، ام ایمن ان صاحبوں کو دیکھ کر رونے لگیں، ان صاحبوں نے انہیں سمجھایا کہ ام ایمن رونے کا کیا مقام ہے، آنحضرت ﷺ کے لئے وہی بہتر تھا جو اللہ تعالیٰ کے یہاں آپ کے لئے مقدر تھا۔ اس پر اس نیک بی بی نے کہا یہ تو میں جانتی ہوں، مجھے تو رونا اس بات پر آیا کہ آنحضرت ﷺ کی رحلت کے ساتھ وحی آسمانی بھی منقطع ہوگئی۔ اس پر ان بزرگوں کی آنکھیں بھی اشک بار ہو گئیں۔“

(کنز العمال ج ٤ ص ٤٨ و صحیح مسلم ج ٢ ص ٢٩١)

مولوی غلام احمد صاحب: فرمائیں صدیق اکبر، فاروق اعظم ، خادم رسول، اور ام ایمن کا زہد و تقویٰ، علم و کمال، قابل اعتماد ہے یا نہیں؟ صحابہ کرام کے اور اسمائے گرامی بھی اس باب میں لئے جاسکتے ہیں مگر بہ نیت اختصار ان کو ہم یہاں نہیں لکھتے، انجمن کے ٹریکٹ ختم نبوت اور مرزا قادیانی کا انتظار کیجئے۔

امير المؤمنين في الحديث امام اهل الفن محمد بن اسمعيل البخاری، علم المحدثين امام مسلم، امام اهل السنة امام احمد بن حنبل، امام دار الهجرة امام مالك بن انس وغيرهم رضی اللہ عنہم اجمعین کی نسبت مولوی غلام احمد مرزائی کا کیا فتویٰ ہے؟ ان بزرگوں کو علماء کی صف میں جگہ ملے گی، یا (خاکم بدہن) عوام کی بھیڑ میں؟

پھر امام ابو جعفر محمد بن جریر الطبری، حافظ ابن حجر، حافظ ابن کثیر، حافظ قسطلانی ، شیخ الاسلام حافظ ابن تیمیہ، حافظ ابن قیم، حجۃ الاسلام امام غزالی، قاضی عیاض صاحب شفاء، حافظ ابن حزم اندلسی ، عارف باللہ شیخ عبدالغنی نابلسی وغیرہم کی نسبت کیا ارشاد ہے؟ ان کو بھی طبقہ عوام ہی میں رکھا جائے گا یا مسند علم تک لائے جانے کی اجازت ہوگی؟

٩

صفحہ ٣١٣

اللہ اللہ ان میں سے ہر شخص اپنے زمانہ کا صاحب اورنگ علم و کمال ، صدر نشین بزم ایقان و معرفت، آیۂ ورع و تقویٰ، خزانہ علوم کتاب وسنت اور امیر المومنین حفظ و فقہ تھا، ہم اخلاف امت و بیچارگان دورہ آخر تو ان ائمہ دین و کاملین علوم کی خدمات جلیلہ علم و دین کا اندازہ بھی نہیں لگا سکتے ۔ ان کی نسبت بھی مولوی غلام احمد ”عام مسلمان“ فرما دیں تو بس انا للہ وانا الیہ راجعون پڑھئے اور چپ ہورہیے ۔

ان تمام بزرگوں کی تصریحات اگر نقل کی جائیں تو ان کے لئے ایک دفتر مطلوب ہوگا، مگر ان کو ہم بالکل نظر انداز کر جانا بھی نہیں چاہتے ۔ حافظ ابن کثیر، حافظ ابن حزم ، قاضی عیاض، امام غزالی کی تصریحات آپ کی نظر سے گزر چکی ہیں ۔

حافظ ابن قیم ” الفرقان بین اولیاء الرحمن واولیاء الشیطان “ میں فرماتے ہیں: ”اگلی امتیں محدثین (وہ لوگ جن کو خدا شرف القاء و کلام بخشتا ہے اگر چہ وہ نبی نہیں ہوتے ) کی محتاج تھیں مگر امت محمدیہ کو اللہ تعالیٰ نے آنحضرت ﷺ کے طفیل ان سے بھی بے نیاز فرما دیا۔ آنحضرت ﷺ کے بعد نہ یہ امت کسی نبی کی حاجت مند رہی اور نہ کسی محدث کی ، وہ ساری بزرگیاں، علوم اور نیکو کاریاں اگلے انبیاء میں پھیلی ہوئی تھیں ۔ محمد رسول اللہ ﷺ میں جمع کر دیں:

اے تو مجموعہ خوبی بچہ نامت خوانم ؟

شیخ عبدالحق بامسی شرح فصوص الحکم میں فرماتے ہیں: ”اور کچھ شک نہیں کہ نبوت و رسالت اپنی تمام شکلوں اور صورتوں میں ہمارے نبی ﷺ پر ختم ہو گئی ، اب قیامت تک کسی کو نبوت یا رسالت نہ ملے گی ۔“ (ص ٨١) شیخ موصوف اپنی تالیف شرح فرائد میں لکھتے ہیں، قرآن مجید نے تصریح فرما دی کہ آنحضرت ﷺ خاتم النبیین اور آخر المرسلین ہیں ..... اور امت کا اس بات پر اجماع ہو گیا کہ یہ الفاظ اپنے ظاہر پر رکھے جائیں گے ۔ ( ان میں کوئی تاویل و تخصیص وغیرہ جائز نہ رکھی جائیں گی ۔ )

امام المفسرین ابن جریر الطبری فرماتے ہیں: ”ولکنہ رسول الله وخاتم النبيين الذي ختم النبوة فطبع عليها فلا تفتح لا حد بعده الى قيام الساعة (تفسیر ج ٢٢ ص ١٧) ” لیکن آنحضرت ﷺ اللہ کے رسول اور خاتم النبیین ہیں وہ خاتم النبیین جن پر نبوت ختم ہو گئی اور جن کے بعد اس پر مہر لگا دی گئی اب وہ آنحضرت کے بعد کسی کے لئے قیامت تک نہ کھلے گی ۔ “

١٠

اب تو غالباً مرزائی مولوی صاحب غالباً یہ نہ آج کل کے عام مسلمان کرتے ہیں ” وہ کسی مستند عالم الد ہیں۔

جواب سوال نمبر ٤

اس جواب میں تو مولوی مرزائی نے قیامت قرآن حکیم یا احادیث نبویہ میں الفاظ خاتم النبیین اور لا جدا معنی ہیں، بس انتہا ہو گئی ۔ اب کتاب وسنت پر کس کو ا یہ حال ہے کہ ایک ہی لفظ اور ایک ہی ترکیب اگر سو جگہ است ہی ہیں ۔ درست ہے جب تک کتاب وسنت کا سنگ گرا کے مریدوں کے منصوبے بروئے کار کیوں کر آئیں گے اللہ کے بندو، اللہ سے ڈرو جعل و تحریف کی پناہ نہ ملے گی ۔ مگر یہ قیامت تک نہ ہوگا۔

يريدون ليطفئوا نور الله بـ الكافرون ! اس جواب میں ایک اور قیامت کی ہے مراد لیتے ہیں جو آنحضرت ﷺ حضرت عائشہ صدیقہ مولوی غلام احمد مرزائی صاحب آپ کی بے جگری کی جس

قارئین کرام ! آپ نے آنحضرت ﷺ کے جو نقل کیں ۔ خاتم النبیین کے معنے بتانے میں کتنی منظور تھا انہی پر اکتفا کیا گیا۔

صحابہ رسول نے خاتم النبیین کے جو معنے ب متنبی، طلیحہ کے قصے بھی گوش زد ہوئے ہوں گے مسیلمہ بلند آہنگی سے پڑھواتا : اشہد ان محمد الرسول الله ، مستقل صحابہ گردن زدنی قرار پایا ۔

عائشہ صدیقہ ام المومنین کے اثر کی جو شر صاحب نے بے دھڑک جہاد کا ہاتھ دکھایا ہے کیسی

١١

صفحہ ٣١٤

اب تو غالباً مرزائی مولوی صاحب غالباً یہ نہ فرمائیں گے کہ خاتم النبیین کے جو معنے آج کل کے عام مسلمان کرتے ہیں، وہ کسی مستند عالم اہل السنت والجماعت نے نہیں بیان کئے ہیں۔

جواب سوال نمبر ٤

اس جواب میں تو مولوی مرزائی نے قیامت ہی کردی، فرماتے ہیں ”جتنے مقامات پر قرآن حکیم یا احادیث نبویہ میں الفاظ ختم بی النبیون اور لا نبی بعدی آئے ہیں، اتنے ہی ان کے جدا جدا معنی ہیں“ بس انتہا ہوگئی۔ اب کتاب وسنت پر کس کو اعتماد رہے گا، جب ان کی پریشان بیانی کا یہ حال ہے کہ ایک ہی لفظ اور ایک ہی ترکیب اگر سوجگہ استعمال ہوئی ہے تو اس کے معانی بھی اتنے ہی ہیں۔ درست ہے جب تک کتاب وسنت کا سنگ گراں راہ سے نہ ہٹے گا۔ مرزا قادیانی اور ان کے مریدوں کے منصوبے بروئے کار کیوں کر آئیں گے؟

اللہ کے بندو، اللہ سے ڈرو‘ جعل وتحریف کی یہ پرخطر راہ اگر کھل گئی تو دین متین کو کہیں پناہ نہ ملے گی۔ مگر یہ قیامت تک نہ ہوگا۔

یریدون لیطفئوا نور الله بافواههم والله متم نوره ولو کره الکافرون! اس جواب میں ایک اور قیامت کی ہے جناب مجاہد: فرماتے ہیں ہم احمدی وہی معنی مراد لیتے ہیں جو آنحضرت ﷺ حضرت عائشہ صدیقہؓ اور اولیاء امت نے بیان فرمائے ہیں۔ مولوی غلام احمد مرزائی صاحب آپ کی بے جگری کی جس قدر داد دی جائے کم ہے۔

قارئین کرام! آپ نے آنحضرت ﷺ کے بتائی ہوئی معنی تو سن لیئے یہ چند حدیثیں جو نقل ہوئیں، خاتم النبیین کے معنے بتانے میں کتنی روشن ہیں۔ حدیثیں اور بھی ہیں مگر اختصار منظور تھا‘ انہی پر اکتفا کیا گیا۔

صحابہ رسول نے خاتم النبیین کے جو معنے سمجھے وہ بھی مذکور ہوئے‘ مسیلمہ کذاب، اسود عنسی، طلیحہ کے قصے بھی گوش زد ہوئے ہوں گے‘ مسیلمہ نے تو قیامت کر دی تھی‘ اذانوں میں بڑی بلند آہنگی سے پڑھواتا: اشہد ان محمد الرسول اللہ، مستقل نبوت کا کبھی دعویٰ نہ کیا۔ مگر پھر بھی باجماع صحابہ گردن زدنی قرار پایا۔

عائشہ صدیقہؓ ام المومنینؓ کے اثر کی جو شرح بیان فرمائی ہے۔ اس میں تو واقعی مولوی صاحب نے بے دھڑک جہاد کا ہاتھ دکھایا ہے‘ کیسی دل آویز تفسیر فرمائی ہے؟ فرماتے ہیں دیکھو

١١

صفحہ ٣١٥

حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں اے لوگو آنحضرت ﷺ کو خاتم النبیین تو کہو مگر یہ نہ کہو کہ آپ ﷺ کے بعد نبی نہ ہوگا معلوم ہوا خاتم النبیین آئندہ ظلی نبوت کو نہیں روکتا‘‘ مولوی صاحب کا یہ فقرہ بس بیت الغزل ہے۔ سبحان اللہ !

ہوا ہے مدعی کا فیصلہ اچھا مرے حق میں
زلیخا نے کیا خود پاک دامن ماہ کنعان کا

مولوی مرزائی داد تو آپ کے اندازہ سے زیادہ آپ کو ملے گی۔ لیکن اگر حضرت خلیفہ المسیح کے تیور میلے نظر آئے تو؟

کیوں صاحب حضرت عائشہؓ نے لوگوں کو لا نبی بعدہ کہنے سے کیوں روک دیا؟ آپ فرمائیں گے سبب ظاہر ہے۔ اس لئے روک دیا کہ اس فقرہ لا نبی بعدہ سے تو نبوت ظلی کی نفی بھی ہوجاتی تھی جو ام المومنین کو منظور نہ تھی۔ وہ خاتم النبیین کے لفظ سے اس غلط فہمی کے پیدا ہو جانے کا اندیشہ نہ تھا اسے برقرار رکھا۔

غلام قادیانی، عائشہ صدیقہؓ نے لا نبی بعدہ سے نبوت ظلی کا انقطاع سمجھا، آپ کے نزدیک انہوں نے صحیح سمجھا، ہماری کیا مجال جو ہم ام المومنین کے فہم عالی سے اختلاف کریں اب یہ بات طے ہوگئی کہ لا نبی بعدہ سے نبوت ظلی کی نفی بھی ہوجاتی ہے اور مقررہوجاتی ہے۔

اب فرمائیے کہ خود رسول اللہ ﷺ نے بھی تو یہی فقرہ بعینہ استعمال فرمایا ہے۔ ایک ضمیر غائب ومتکلم کا فرق ہے اور یہ فرق ہونا ہی تھا، جب آپ ﷺ گفتگو فرمائیں گے تو فرمائیں گے ’’کوئی نبی میرے بعد نہ ہوگا ۔‘‘ فقرہ وہی رہا ترکیب وہی رہی۔ اب بقول صدیقہؓ کے نیز بقول آپ کے آنحضرت ﷺ نے لا نبی بعدی فرما کر ظلی نبوت کی نفی بھی فرمادی! اب کوئی ظلی نبی بھی آنحضرت ﷺ کے بعد نہیں آسکتا۔ چلئے قصہ پاک ہوا، اب جھگڑا کاہے کا؟

شکر لله میان من و تو صلح فتاد
حوریان رقص کنان دست به پیمانه زدند

اب ایک سوال البتہ بحث طلب رہ جاتا ہے۔ ایک طرف ام المومنین عائشہ کو (بہ پندار باطل مولوی غلام احمد) نبوت ظلی کے باب میں یہ اہتمام کہ وہ مسلمانوں کی زبان سے کوئی ایسا فقرہ سننا پسند نہیں فرماتیں، جس سے نبوت ظلی کا انقطاع بھی ٹپکتا ہو، دوسری طرف سرور دوعالم ﷺ کا فرمان واجب الاذعان کہ اب نبوت ظلی بھی منقطع ہے اور آنحضرت ﷺ کا فرمان کچھ ایسے مستند بزرگوں کی روایت سے ہم تک پہنچا ہے کہ بس آمنا ہی بن پڑے۔

١٢

چست یاران طریقت بـ مولوی غلام احمد صاحب پڑھے لسان الغیـ

كأسا وناولها۔ که عشق آسان نمود اول و
درکفی جام شریعت و بـ
هر هوسناکی نه اندوخـ

احادیث نبویہ آثار صحابہ سے کھیلنا آپ پر

سبک ز جائی نه گیری که
متاع من که مبادش

آئیے اصل حقیقت ہم آپ کو بتائیں۔

اول تو اس اثر (اثر عائشہؓ) کی طرف منسـ کوئی اہل فن اس قول کو حضرت عائشہؓ کی طرف منسو کہ اس پر از روئے قواعد اہل فن بحث کیجئے اور اسے کو صحیح اور مرفوع حدیثوں کے مقابلہ میں پیش کرنا کـ بخاری ومسلم اور اصحاب السنن کی صحیح اور مرفوع حدیثـ طرق سے آئی ہیں۔ ’’پیش کرتے آپ ذرا نہ جھجکے انقطاع نبوت ورسالت والی دو حدیث بھی آئی ہیں النبي ﷺ انه قال لا يبقی بعده مـ (کنز بروایت احمد وخطیب) ’’اس حدیث میں کس صراحـ ﷺ کے بعد نبوت کا کوئی حصہ کوئی جز باقی نہ رہـ خواب کس کو نبی اور رسول نہیں بنا دیتا۔ جب حضـ روایت کر رہی ہیں تو کیونکر باور کر لیا جائے کہ انہوں لگادی؟

مولوی صاحب در منشوری میں تو حضر آپ نے نظر انداز فرمایا؟ آپ کو اپنے مدعی کے لـ

مجھ سے تم چھپ نہ سکـ
تم جہاں جاکے چھپے ہـ
صفحہ ٣١٥
چیست یاران طریقت بعد ازیں تدبیر ما؟

مولوی غلام احمد صاحب پڑھئے لسان الغیب کا وہ شعر۔ الا یا ایہا الساقی ادر کأساونا ولہا۔ کہ عشق آسان نمود اوّل ولے افتاد مشکلہا ! مولوی صاحب

در کفے جام شریعت و در کفے سندان عشق
ہر ہوسناکے نداند جام وسندان باختن

احادیث نبویہ آثار صحابہ سے کھیلنا آپ پر زیبا نہیں:

سبک زجائے نہ گیری کہ پس گراں گہرست
متاع من کہ مبادش نصیب ارزانی

آئیے اصل حقیقت ہم آپ کو بتائیں۔ اول تو اس اثر (اثر عائشہؓ) کی طرف نسبت سخت ناقابل وثوق ہے یقین کے ساتھ کوئی اہل فن اس قول کو حضرت عائشہؓ کی طرف منسوب نہیں کر سکتا۔ جرات ہو تو آئیے اسکی سند بتا کے اس پر از روئے قواعد اہل فن بحث کیجئے اور اسے قابل وثوق ثابت کیجئے۔ دوسرے اس ایک اثر کو صحیح اور مرفوع حدیثوں کے مقابلہ میں پیش کرنا کہاں کی دین پرستی ہے؟ ایک مجہول الاسناد اثر کو بخاری ومسلم اور اصحاب السنن کی صحیح اور مرفوع حدیثوں کے مقابلہ میں جو متعدد صحابیوں اور مختلف طرق سے آئی ہیں۔ ”پیش“ کرتے آپ ذرا نہ جھجکے، قیامت گزری اور پھر حضرت عائشہؓ ہی سے تو انقطاع نبوت ورسالت والی وہ حدیث بھی آئی ہے جو اوپر مذکور ہوئیں فرماتی ہیں: ”عـــــــــــــــــــــن النبی ﷺ انہ قال لا یبقی بعدہ من النبوة شیء الا المبشرات الحدیث.

(کنز بروایت احمد و خطیب) ”اس حدیث میں کس صراحت و قطعیت کے ساتھ وارد ہے کہ آنحضرت ﷺ کے بعد نبوت کا کوئی حصہ کوئی جز باقی نہ رہے گا بجز اچھے خوابوں کے اور ظاہر ہے کہ اچھا خواب کسی کو نبی اور رسول نہیں بنا دیتا۔ جب حضرت عائشہؓ خود ایک ایسی صاف اور صریح حدیث روایت کر رہی ہیں تو کیونکر باور کر لیا جائے کہ انہوں نے یہ نبوت عظمیٰ والی پخ آپ کی خاطر رکھنے کو لگادی؟

مولوی صاحب در منثور ہی میں تو حضرت مغیرہ بن شعبہؓ کا اثر بھی منقول ہے اسے کیوں آپ نے نظر انداز فرمایا؟ آپ کو اپنے مدعیٰ کے لئے دو دو شہادتیں مل جاتیں۔

مجھ سے تم چھپ نہ سکے جان جہاں دیکھ لیا
تم جہاں جاکے چھپے ہم نے وہیں دیکھ لیا

١٣

صفحہ ٣١٧

واقعہ یہ ہے کہ کچھ کوتاہ فہم سادہ مزاج حدیث لا نبی بعدی کے معنی یہ سمجھ رہے تھے کہ اب نہ کسی کو نئے سرے سے نبوت ملے گی اور نہ کسی ایسے نبی کا ظہور ممکن ہے جس کو نبوت آنحضرت ﷺ کی بعثت سے پہلے مل چکی ہو۔ ایسے کم فہم لوگوں کے لئے ان بزرگوں نے فرمایا کہ اگر حدیث لا نبی بعدی، تم لوگوں کے لئے وجہ حیرت بن رہی ہے تو ایک خاتم النبیین ہی پر اکتفا کرو کہ اس سے بھی مدعا حاصل ہو جاتا ہے، ورنہ تمہاری کوتاہ اندیشی تم سے نزول عیسیٰ کا انکار کرا دے گی۔ حالانکہ ان کا نزول یقینی ہے اور وہ آنحضرت سے پیشتر بھی نبی تھے اور آنحضرت کے بعد بھی نبی ہوں گے (مگر یہ وہی نبوت ہو گی جو آنحضرت ﷺ کی بعثت سے پیشتر انہیں مل چکی تھی، کوئی نئی نبوت نہ ہو گی ۔)

اب آثار اور احادیث صحیحہ مرفوعہ کے درمیان کوئی تعارض نہ رہا۔ یہ ہم نے کوئی نئی بات نہیں کہہ دی بلکہ تمام اکابر مفسرین و اعیان علمائے دین نے اس نکتہ کا ذکر فرمایا ہے۔ تفصیل کے لئے ہمارے ٹریکٹ ختم نبوت کا انتظار کیجئے۔

مرزائی مولوی صاحب! یہ بات خاطر عاطر سے کبھی نہ جائے کہ جب احادیث نبویہ اور آثار صحابہ میں تعارض نظر آئے آثار صحابہ تابع کر دیئے جائیں گے احادیث کے، اور ان کی ایسی شرح کی جائے گی جو ان کو احادیث کے مطابق کر دے۔ یہ سخت بے ایمانی ہے کہ صحیح اور مرفوع احادیث کے ہوتے آثار سے استناد کیا جائے اور پھر ان کی ایسی تاویل کی جائے جو ان کو احادیث صحیحہ سے ٹکراتی رہے۔ مولوی صاحب

اصل دین آمد کلام الله معظم داشتن
پس حدیث مصطفی برجان مسلم داشتن

مولوی غلام احمد صاحب، اب آیئے آپ کی پیش کردہ ”حدیث“ لو عاش ابراہیم پر بھی ایک نظر ہو جائے۔ آپ لوگوں کو شرم نہیں آتی مسلمانوں کو فریب دیتے اور اس پر مجاہد اور داعی حق ہونے کے بلند بانگ دعوے؟ یہ کہاں کی راست بازی ہے کہ صحیح حدیثوں کو پردۂ خفا میں رکھا جائے یا ان کی تاویلیں کی جائیں اور ضعیف و منکر حدیثوں کو شہرت دی جائے اور ان سے استناد کیا جائے؟ دیکھئے حدیث ”لو عاش (ابراهيم) لكان صديقاً نبياً سے متعلق کہیں دور جانے کی حاجت نہ تھی، سنن ابن ماجہ جس سے آپ نے یہ حدیث نقل کی ہے۔ اس کے حاشیہ ہی پر یہ بات واضح کر دی گئی ہے کہ یہ حدیث، درخور استناد و قابل اعتماد نہیں اس حدیث کی سند میں ایک راوی ابوشیبہ ابراہیم بن عثمان متروک الحدیث ہے۔ مگر اپنی دیانت ملاحظہ فرمائیے کہ اس بات کو آپ اس طرح پی گئے ہیں گویا قابل التفات تھی ہی نہیں۔

١٤

حافظ ابن حجر اس راوی کی نسبت لکھتے ہیں: جاتی۔ تقریب پھر تہذیب التہذیب میں اس راوی رجال کی یہ رائیں نقل کی ہیں۔ ضعیف ہے، قابل ا حدیث نے اس کی روایتیں قبول نہیں کی ہیں۔ یہ شخص سے اضافہ کر دیا کرتا تھا۔ اس شخص کی روایتیں نہیں کہ نے اس شخص کو جھوٹا کہا ہے۔ وغیر ہا۔ آئمہ رجال کی یہ راوی کی روایت سے مسئلہ ختم نبوت جیسے اہم مسئلہ میں ا

صاحبان مرزائی مولوی صاحب کی ایما استناد و حدیث سے پہلے اسی سنن ابن ماجہ میں ایک شا علیہ السلام کے بارے میں آیا ہے۔ یہ اثر چونکہ مولوی گئے، اس طرح ٹال گئے گویا تھا ہی نہیں ! وہ اثر مولوی

عبد اللہ ابن ابی اوفیٰ فرماتے ہیں: میں روشن کی ہیں۔ وہ آنکھ جھپکنے ہی میں اللہ کو پیارے ہ مقدر ہوتا، تو ابراہیم علیہ السلام (نورِ نظر رسول ﷺ ) کہ ) آپ کے بعد اب کوئی نبی نہ ہوگا۔

حضرت انس بن مالک نے بھی یہی فرما لان نبيكم آخر الانبياء (اخرجہ ابو نعیم) ”وہ اس

ابن ابی اوفیٰ کا اثر امیر المومنین ہے۔ اس کے الفاظ یہ ہیں: لو قدر ان يكون بع ضعيف الاسناد حدیث کس شدومد کے ساتھ پیش کی بھی نہ سمجھے گئے۔ ان آثار سے یہ بھی روشن ہو گیا ہ مالک جیسے اجلہ صحابہ بھی خاتم النبیین کے وہی معنے احمد صاحب ” آج کل کے عام مسلمان کرتے ہیں اولیاء اللہ اور علمائے امت ..... مولوی غلا

مولوی قادیانی لکھتے ہیں: (خاتم ال آنحضرت ﷺ حضرت عائشہ اولیاء امت نے یہا

صفحہ ٣١٧

حافظ ابن حجر اس راوی کی نسبت لکھتے ہیں۔ متروک الحدیث ہے اس کی حدیث نہیں لی جاتی۔ تقریب پھر تہذیب التہذیب میں اس راوی ، ابوشیبہ ابراہیم بن عثمان عبسی کی نسبت ائمہ رجال کی یہ رائیں نقل کی ہیں۔ ضعیف ہے، قابل وثوق نہیں ، درجہ اعتبار سے ساقط ہے، ائمہ حدیث نے اس کی روایتیں قبول نہیں کی ہیں۔ یہ شخص اپنے لکھے ہوئے مجموعہ احادیث پر اپنے جی سے اضافے کر دیا کرتا تھا۔ اس شخص کی روایتیں نہیں لکھی جاتیں۔ منکر الحدیث ہے۔ شعبہ نے اس شخص کو جھوٹا کہا ہے۔ وغیرہا۔ ائمہ رجال کی یہ شہادتیں ملاحظہ فرمائیں آپ نے ایک ایسے راوی کی روایت سے مسئلہ ختم نبوت جیسے اہم مسئلہ میں استشہاد کیسی دلیری ہے۔!!

صاحبو ان مرزائی مولوی صاحب کی ایمانداری دیکھئے، اس ضعیف منکر، اور نا قابل استناد حدیث سے پہلے اسی سنن ابن ماجہ میں اک صحیح اور درخور استناد اثر بھی جگر گوشہ رسول ابراہیم علیہ السلام کے بارے میں آیا ہے۔ یہ اثر چونکہ مولوی صاحب کے مدعیٰ کیخلاف تھا بے تکلف ٹال گئے ، اس طرح ٹال گئے گویا تھا ہی نہیں ! وہ اثر مولوی صاحب کے مدعی کے لئے پیام موت ہے۔

عبداللہ ابن ابی اوفیٰ فرماتے ہیں: میں نے جگر بند رسول ابراہیم کی دید سے آنکھیں روشن کی ہیں۔ وہ آنکھ جھپکتے ہی میں اللہ کو پیارے ہوئے ، اگر آنحضرت ﷺ کے بعد اور نبی کا آنا مقدر ہوتا، تو ابراہیم علیہ السلام (نور نظر رسول ﷺ) کو زندگی ملتی ، مگر ( قضائے الہی تو یہ ٹھہرا چکی تھی کہ) آپ کے بعد اب کوئی نبی نہ ہوگا۔

حضرت انس بن مالکؓ نے بھی یہی فرمایا۔ ان کے الفاظ یہ ہیں: ”ولکن لم يبق لان نبيکم آخر الانبياء (اخرجہ ابو یعلیٰ) ”وہ اس لئے زندہ نہ رہے کہ نبی کریم آخرالانبیاء ہیں ۔

ابن ابی اوفیٰ کا اثر امیر المومنین فی الحدیث امام بخاری نے بھی روایت کیا ہے۔ اس کے الفاظ یہ ہیں: لو قدّر ان يكون بعده نبى لعاش ابراهيم - سنن ابن ماجہ کی ضعیف الاسناد حدیث کس شدومد کے ساتھ پیش کی گئی تھی ! مگر یہ صحیح اور قابل استشہاد آثار قابل ذکر بھی نہ سمجھے گئے۔ ان آثار سے یہ بھی روشن ہو گیا ہوگا کہ ابن ابی اوفیٰ اور خادم رسول ﷺ انس بن مالکؓ جیسے اجلہ صحابہ بھی خاتم النبیین کے وہی معنے بیان کرتے اور سمجھتے تھے جو بقول مولوی غلام احمد صاحب ”آج کل کے عام مسلمان کرتے ہیں ۔“

اولیاء اللہ اور علمائے امت...... مولوی غلام احمد مرزائی کے شرمناک بہتان

مولوی قادیانی لکھتے ہیں: (خاتم النبیین کے) ہم احمدی وہی معنی لیتے ہیں جو آنحضرت ﷺ حضرت عائشہؓ اولیاء امت نے بیان فرمائے ہیں)

١٥

صفحہ ٣١٩

یہ مولوی صاحب جب اتنے دلیر و بے جگر ہیں کہ سرور کائنات ﷺ اور آپ کی عزیز بیوی ام المومنین عائشہؓ پر بہتان جوڑتے نہ جھجکے تو اولیاء اللہ اور علمائے امت کو کب خاطر میں لاتے! خاتم المرسلین آخر النبیین محمد الامین ﷺ کی پاک حدیثیں، اور صحابہؓ علی الخصوص ام المومنین عائشہؓ کے آثار آپ نے سن لئے اور مولوی غلام احمد قادیانی کی راستبازی کے معجزے دیکھ لئے، اب آئیے دیکھئے اولیاء اللہ رحمہم اللہ کے ساتھ ان کا کیا برتاؤ ہے۔

حضرت مجدد الف ثانیؒ کے ایک مکتوب گرامی سے یہ ثابت کرنے کی سعی بے سود کی گئی ہے کہ آپ نے بھی خاتم النبیین کے وہی معنی بیان فرمائے ہیں جو نبوت مرزائیہ کے نقیبوں نے بتائے اور بتا رہے ہیں۔ در پردہ یہ کہنا مقصود ہے، کہ حضرت مجدد الف ثانیؒ کے بعد جدید نبیوں کا آنا جائز بتاتے ہیں اور فرماتے ہیں کہ یہ جدید نبی چونکہ ظلی ہوں گے اور بہ تبعیت نبوت محمدیہ (علی صاحبہا الف الف تحیہ) آئیں گے ان کا آنا آنحضرت ﷺ کی خاتمیت کے منافی نہ ہوگا۔

یقین کیجئے ۔ ان قادیانی صاحبوں کی بے دھڑک کتر بیونت دیکھ کر روح کانپ اٹھتی ہے حضرت مجدد الف ثانیؒ اور انکار خاتم النبیین آنحضرت ﷺ ! اللہ، اللہ یہ قادیانی حضرات بڑے دل گردے کے لوگ ہوتے ہیں۔ حضرت مجددؒ کے مکتوب سے ایک ٹکڑا لے لیا، باقی ٹکڑے پی گئے۔ لوگو پورا مکتوب پڑھو اور انصاف کرو، حضرت مجددؒ فرماتے ہیں۔

”حمد وصلوٰۃ کے بعد میرے فرزند مولانا امان اللہ پر واضح ہو کہ نبوت سے مراد وہ قرب الٰہی ہے جس میں ظلیت کی آمیزش نہیں اور اس کا عروج حق تعالیٰ کی طرف میلان رکھتا ہے اور اس کا نزول خلق کی طرف یہ قرب بالا صالۃ انبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام کو نصیب ہے اور یہ منصب انہی بزرگواروں کے ساتھ مخصوص ہے اور یہ منصب حضرت سید البشر علیہ وعلیٰ آلہ الصلوٰۃ والسلام پر ختم ہوچکا ہے۔ حضرت عیسیٰ علیٰ نبینا وعلیہ الصلوٰۃ والسلام نزول کے بعد حضرت خاتم الرسل ﷺ کی شریعت کے تابع ہوں گے۔

حاصل کلام یہ کہ تابعداروں اور خادموں کو اپنے مالکوں اور صاحبوں کی دولت اور پس خوردہ سے حصہ حاصل ہوتا ہے۔ پس انبیاء علیہم الصلوٰۃ کے قرب سے ان کے کامل تابعداروں کو بھی حصہ حاصل ہوتا ہے اور اس مقام کے علوم ومعارف اور کمالات بھی بطریق وراثت کامل تابعداروں کو نصیب ہوتی ہیں۔

خاص کند بندہ مصلحت عام را

١٦

پس خاتم الرسل علیہ الصلوٰۃ والسلام کی بعثت تبعیعت و وراثت کے کمالات نبوت کا حاصل ہونا ان کی خا المعترین “

اس مکتوب میں حضرت مجددؒ نے جن حقائق ایسے تھے کہ اگر مولوی غلام احمد صاحب اور ان کے ہم نو کبھی ایسا شرمناک بہتان ان پر نہ جوڑتے۔ حضرت مجددؒ

انبیاء علیہم السلام کے خوان نبوت سے بھی ان کے سچے ت جاتا ہے، یعنی ان کے علوم ومعارف اور ان کے کمالات میں اپنا سب کچھ لٹا دینے والوں کو بھی بقدر ظرف واستعدا

صاحبو، خدارا بتاؤ کہیں حضرت مجدد علیہ الرحمۃ کے پیرو کو نبی بنا دیتی ہے؟ کہیں انہوں نے یہ بھی فرمایا ک منصب پاسکتے ہیں اور نبوت اتباع و پیروی، کسب وعمل س مقام حصول نہیں، مقام وصول ہے۔ دو چیزیں ہیں۔ نبو کمالات نبوت سے بھی کی گئی ہے۔ علوم ومعارف نبوت بقدر ظرف وحوصلہ ملتا ہے۔ مگر نبوت نہیں ملتی یہ آنحضر معارف سے بہرہ پانا ختم المرسلینی کے منافی نہیں۔ معار نبوت نہیں بن جاسکتا۔ یہ ہے حقیقت حضرت مجددؒ کے مرزائی اس دعوے کے ثبوت میں پیش کرتے ہیں کہ نبوت

١٧

صفحہ ٣١٩

پس خاتم الرسل علیہ الصلوٰۃ والسلام کی بعثت کے بعد ان کی کامل تابعداروں کو بطریق تبعیت و وراثت کے کمالات نبوت کا حاصل ہونا ان کی خاتمیت کے منافی نہیں :” فلا تكن من الممترين “

(مکتوب ج١ ص ٣٠١)

اس مکتوب میں حضرت مجددؒ نے جن حقائق ومعارف کی جانب اشارہ فرمایا ہے وہ ایسے تھے کہ اگر مولوی غلام احمد صاحب اور ان کے ہم نوا راستبازی کے ساتھ ان پر غور کرتے تو کبھی ایسا شرمناک بہتان ان پر نہ جوڑتے۔ حضرت مجددؒ فرماتے ہیں:

انبیاء علیہم السلام کے خوان نبوت سے بھی ان کے سچے خادموں اور پیرووں کو ان کا پس خوردہ مل جاتا ہے، یعنی ان کے علوم ومعارف اور ان کے کمالات سے ان کے سچے غلاموں اور ان کی راہ میں اپنا سب کچھ لٹا دینے والوں کو بھی بقدر ظرف واستعداد حوصلہ کچھ حصہ مل جاتا ہے۔

صاحبو، خدارا بتاؤ کہیں حضرت مجدد علیہ الرحمۃ نے یہ بھی فرمایا کہ نبی کی اتباع کامل اس کے پیرو کو نبی بنا دیتی ہے؟ کہیں انہوں نے یہ بھی فرمایا کہ آنحضرت ﷺ کے تبعین کاملین نبوت کا منصب پا سکتے ہیں اور نبوت اتباع و پیروی، کسب وعمل ریاضت ومجاہدہ سے مل کیسے سکتی ہے۔ وہ مقام حصول نہیں، مقام وصول ہے۔ دو چیزیں ہیں۔ نبوت اور علوم ومعارف نبوت جن کی تعبیر کمالات نبوت سے بھی کی گئی ہے۔ علوم ومعارف نبوت میں سے جاں سپاران راہ اتباع کو بہرہ بقدر ظرف وحوصلہ ملتا ہے۔ مگر نبوت نہیں ملتی یہ آنحضرت ﷺ پر ختم ہو گئی اور ظاہر ہے کہ علوم معارف سے بہرہ پانا ختم المرسلینی کے منافی نہیں۔ معارف سے بہرہ کتنا ہی گراں و گرامی ہو نبوت نہیں بن جا سکتا۔ یہ ہے حقیقت حضرت مجددؒ کے مکتوب سامی کی۔ اس کو مولوی غلام احمد مرزائی اس دعوے کے ثبوت میں پیش کرتے ہیں کہ نبوت کا دروازہ کھلا ہے۔ سبحان اللہ!

١٧

صفحہ ٣٢٠

اب آئیے حضرت مولانا محمد قاسم صاحب رحمۃ اللہ کی عبارت پر غور کیجئے۔ یہاں بھی قادیانی دجل وفریب کا وہی عالم نظر آئے گا۔ حضرت مولانا مرحوم ان الله خلق سبع ارضین فی کل ارض آدم کادمکم الحدیث کے معانی عالیہ پر بحث کر کے یہ ثابت فرماتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ کی ختم المرسلینی عالم گیر، اور جمیع طبقات ارض کو محیط ہے۔ اس سلسلہ میں آغاز کلام یوں فرماتے ہیں کہ: ”خیال ...... بالذات کچھ فضیلت نہیں“ معنے ظاہر ہیں کہ نفس تاخر و تقدم زمانی کوئی وجہ فضیلت نہیں آگے چل کر حضرت اپنی تقریر کا خلاصہ یوں تحریر فرماتے ہیں۔ ”بطور خلاصہ تقریر وفذلکہ دلائل یہ عرض ہے کہ ہر زمین میں اس زمین کے انبیاء کا خاتم ہے۔ پر ہمارے رسول مقبول عالم ان سب کے خاتم ، آپ کو ان کے ساتھ وہ نسبت ہے جو بادشاہ ہفت اقلیم کو بادشاہان اقالیم خاصہ کے ساتھ نسبت ہوتی ہے۔ جیسے ہر اقلیم کی حکومت اس اقلیم کے بادشاہ پر اختتام پاتی ہے۔ چنانچہ اسی وجہ سے اس کو بادشاہ کہا، آخر بادشاہ وہی ہوتا ہے جو سب کا حاکم ہوتا ہے، ایسے ہی ہر زمین کی حکومت نبوت اس زمین کے خاتم پر ختم ہو جاتی ہے۔ پر جیسے ہر اقلیم کا بادشاہ باوجودیکہ بادشاہ ہے پر بادشاہ ہفت اقلیم کا محکوم ہے ایسے ہی ہر زمین کا خاتم اگر چہ خاتم ہے۔ پر ہمارے خاتم النبیین کا تابع ، جیسے بادشاہ ہفت اقلیم کی عزت اور عظمت اپنی اس اقلیم کی رعیت پر حاکم ہونے سے جس میں خود مقیم ہے۔ اتنی نہیں سمجھی جاتی جتنی بادشاہان اقالیم باقیہ پر حاکم ہونے سے سمجھی جاتی ہے۔ ایسے ہی رسول اللہ ﷺ کی عزت اور عظمت فقط اس زمین کے انبیاء کے خاتم ہونے سے نہیں سمجھی جاسکتی ، جتنے خاتمین اراضی سافلہ کے خاتم ہونے سے سمجھی جاتی ہے ۔“

(تحذیر الناس ص ٣٥، ٣٦)

صاحبو! یہ عبارت غور سے پڑھو اور انصاف سے بتاؤ مولانا محمد قاسم صاحب کی عبارت کے کسی فقرہ سے بھی قادیانی مدعیٰ ثابت ہوتا ہے۔ کسی فقرہ سے بھی یہ ظاہر ہوتا ہے کہ مولانا سے مرحوم آنحضرت ﷺ کے بعد نئے مستقل یا غیر مستقل ، نبیوں کا ظہور آنحضرت ﷺ کی ختم المرسلینی کے منافی نہیں جانتے؟ یہ ایک کھلا ہوا اور شرمناک بہتان نہیں تو اور کیا ہے؟ مگر صاحبو! جن لوگوں نے قرآن حکیم کے ساتھ کھیلنا اور اس کی آیات میں کتر بیونت اپنا وتیرہ ٹھہرا لیا ہو، وہ ایسے بہتان کب خاطر میں لائیں گے۔ مولوی غلام احمد صاحب خفا نہ ہوں۔ میں ثابت کردوں گا کہ خود جناب نے بھی قرآن حکیم کی ایک آیہ کریمہ میں کتر بیونت کی ہے۔ مولوی صاحب خدا سے ڈرو، معلوم ہے کہ قرآن حکیم میں کتر بیونت، جعل وتحریف، کمی و بیشی،

١٨

٣٢١ تبدیل و ترمیم کرنے والے کی سزا کیا ہے؟ مولوی جنازہ اٹھتے نہ دیکھنا ہو تو ہمت کیجئے اور سورۃ الروم ک دیجئے، جس طرح آپ کی اس اشتہار میں نقل ہے۔ ہم نے عرض کیا کہ آپ لوگوں نے قرآن حکیم کے جناب کے نبی اور رسول نے ڈالی، چند نمونے ملا ح جن کو انہوں نے ہمیشہ آیات قرآنی بتایا:

آیات قرآنی

هل ينظرون الى ان ياتيهم الله فى ظلل من الغمام والملائكة ...... الخ

(بقرۃ: ٢١٠)

ياايها الذين آمنو ان تتقو الله يجعل لكم فرقانا ويكفر عنكم سيئاتكم و يغفرلكم والله ذوالفضل العظيم

(انفال: ٢٩)

ادع الى سبيل ربك بالحكمة و الموعظة الحسنة وجادلهم بالتى هى احسن

(نحل: ١٢٥)

قد انزل الله اليكم ذكرا رسولا يتلوا عليكم ...... الخ

(طلاق: ١٠، ١١)

الم يعلموا انه من يحادد الله ورسوله فان له نار جهنم خالدا فيها

(توبہ: ٦٣)

انهم لن يضرو الله شيئاً يريد الله ان لا يجعل لهم حظا فى الاخرة ولهم عذاب عظيم

(آل عمران: ١٧٦)

صفحہ ٣٢١

تبدیل وترمیم کرنے والے کی سزا کیا ہے؟ مولوی صاحب آپ کو اپنی دیانت و راست بازی کا جنازہ اٹھتے نہ دیکھنا ہو تو ہمت کیجئے اور سورۃ الروم کی آیہ کریمہ میں قرآن حکیم سے لفظ فیکون دکھا دیجئے، جس طرح آپ کی اس اشتہار میں نقل ہے۔ ورنہ توبہ کیجئے اور اپنی غلطی کا اعتراف، اور یہ جو ہم نے عرض کیا کہ آپ لوگوں نے قرآن حکیم کے ساتھ کھیلنا اپنا وتیرہ ٹھہرا لیا ہے تو اس کی بنیاد جناب کے نبی اور رسول نے ڈالی، چند نمونے ملاحظہ ہوں۔ مرزا قادیانی کی بگاڑی ہوئی آیتیں جن کو انہوں نے ہمیشہ آیات قرآنی بتایا:

آیات قرآنی

"هل ينظرون الى ان ياتيهم الله فى يوم ياتى ربك فى ظلل من انعام ظلل من الغمام والملائكة...... الخ (حقیقت الوحی ص ١٥٤، خزائن ج ٢٢ ص ١٥٨) (بقرة:٢١٠)

يا ايها الذين آمنو ان تتقو الله يجعل يا ايها الذين آمنو ان تتقو الله لكم فرقانا ويكفر عنكم سيئاتكم و يجعل لكم فرقانا ويكفر عنكم يغفرلكم والله ذوالفضل العظيم سيئاتكم ويجعل لكم نوراً تمشون (انفال:٢٩) به (آئینہ کمالات ص ١٧٧، خزائن ج ٥ ص ١٧٧)

ادع الى سبيل ربك بالحكمة و وجادلهم بالحكمة والموعظة الموعظة الحسنة وجادلهم بالتى هى الحسنة احسن (نحل:١٢٥) (فریاد درد ص ٨٨، ١٣٢ ونور الحق ص ٤٦، خزائن ج ٨ ص ٦٣)

قد انزل الله اليكم ذكرا رسولا يتلوا انزل ذكر اورسولا عليكم...... الخ (طلاق:١٠، ١١) (ایام الصلح ص ٨٠، خزائن ج ١٤ ص ٣١٦)

الم يعلمو انه من يحادد الله ورسوله الم يعلمو انه من يجادد الله فان له نار جهنم خالداً فيها (توبه:٦٣) ورسوله يد خله ناراً خالداً فيها (حقیقت الوحی ص ١٣٠، خزائن ج ٢٢ ص ١٣٣)

انهم لن يضرو الله شيئاً يريد الله انهم لن يضرو الله شيئا ولهم عذاب ان لا يجعل لهم حظا فى الاخرة عظيم ولهم عذاب عظيم (آل عمران:١٧٦) (براہین احمدیہ ج ٣ ص ٢٢٩، خزائن ج ١ ص ٢٥٣)

١٩

صفحہ ٣٢٢

قل ما يكون لى ان ابدله من تلقاء نفسى (يونس:١٥) قل ما يقول لى ان ابدله من تلقاء نفسى

(براہین احمدیہ ج ٣ ص٢٨٢، خزائن ج١ ص٢٧٤)

لخلق السمٰوت والارض اكبر من خلق الناس (مومن:٥٧) ان خلق السمٰوت والارض اكبر من خلق الناس

(ایام الصلح ص٦١، خزائن ج١٤ ص٢٩٦)

فان لم تفعلوا او لن تفعلوا انا تقو النار......الخ (بقره:٢٤) وان لم تفعلوا ولن تفعلوا فاتقوا النار....... الخ

(حقیقت الوحی ص ٢٣٨، خزائن ج ٢٢ ص ٢٥٠)

قال آمنت انه لا اله الا الذى آمنت به بنوآ اسرائيل (يونس:٩٠) آمنت بالذى آمنت به بنو اسرائيل

(سراج منیر حاشیہ ص٢٩، خزائن ج١٢ ص٣١)

تلك عشرة كاملة

اعلان

یہ ایک سرسری نظر تھی مرزائی مولوی کے اشتہار کے ایک حصہ پر۔ یقین ہے قارئین کرام نے مولوی صاحب کے اشتہار کے دوسرے حصے کے متعلق بھی رائے قائم کر لی ہوگی۔ جب اس حصہ کا یہ حال ہے تو:

قیاس کن زگلستان من بہار مرا
دوسرے حصہ کا حال بھی روشن ہے

دوسرے حصہ اشتہار میں مولوی غلام قادیانی نے جن مسائل پر داد تحقیق یا داد تلبیس دی ہے، ان پر ہمارے آئندہ رسائل میں سیر حاصل بحثیں ملیں گی۔ انشاء اللہ بعض مباحث ہمارے ان رسائل کے یہ ہیں۔ حیات مسیح نزول مسیح دلائل مسیح، خصوصیات امام منتظر، مہدی علیہ السلام، دلائل نبوت و نوامیس فطرت تلبیسات مرزا وغیرہ

قارئین اس دلچسپ سلسلہ رسائل کا انتظار کریں۔ واللہ الموفق !

١٥ / جمادی الاخریٰ ١٣٥٢ھ، بمطابق ٦ / اکتوبر ١٩٣٣ء

٢٠

PDF 324

انا خاتم النبیین لا نبی بعدی

صحیح مسلم ، ابو داؤد ، ترمذی

جواب دعوت

(انجمن اشاعت الاسلام بنارس کا ٹریکٹ نمبر ٦)

سیکرٹری انجمن اشاعت الاسلام بنارس

صفحہ ٣٢٥

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

بـگـفـتــا قـائـم پـر چـرخ مـوسـیٰ زنـده و بـاقـی اسـت
مــگــر مــنــکــر شــده مـعـراج جـسـمـی شـاه طـیـبـه را
زمـوت حـضـرت عـیـسـیٰ بـنـا کـفـاره مـحـکـم کـرد
دلـیـری هــــا پــدیــد آمــد پــرســتــان مــرزا را
وخـتـم الـرسـل بـالـصـدر الـمـعـلّیٰ نـبـی هـاشـمـی ذوجـمـال
وعـیـسـیٰ سـوف یـاتـی ثـم یـتـوی لـدجـال شـقـی ذی خـبـال

(بدرالامالی)

الحمد لله الذى صدق وعده، ونصر عبده، وهزم الاحزاب وحده، والصلوة والسلام على خاتم الرسل محمدن العاقب الذی لا نبی بعده. وعلى اله وصحبه ومن بذل فی تبلیغ دین الله جهده. واوفى بما اخذ الله عليه عهده بـان یـبـطـل مـا خـالف الکتاب والسنة ورده، وبعد فایها الاخوان ، چار صفحوں کا ایک ٹریکٹ، نام نہاد، دعوت الی الحق‘ جس میں نہ بسم اللہ ہے نہ حمد وصلوٰۃ تم نے بھی پڑھا ہوگا۔ اس کا ناشر، احادیث نبویہ علی صاحبہا التحیۃ، سے اثبات حیات عیسیٰ علیہ السلام کو ایک ”ناکام کوشش“ سے تعبیر کرتا ہے، کیوں نہ ہوں جب پیر مغان کا خود یہ قول ہو۔

”یہ تمام حدیثیں جو پیش کرتے ہیں تحریف معنوی یا لفظی میں آلودہ ہیں اور یا سرے سے موضوع ہیں اور جو شخص حکم ہو کر آیا ہے اس کا اختیار ہے کہ حدیثوں کے ذخیرہ میں سے جس انبار کو چاہے خدا سے علم پا کر قبول کرے اور جس ڈھیر کو چاہے خدا سے علم پا کر رد کر دے۔“

(ضمیمہ تحفہ گولڑویہ ص ١٤، خزائن ج ١٧ ص ٥١ حاشیہ)

تو مرید بیک جنبش قلم احادیث صحیحہ کو حرف غلط کی طرح کاٹ دیں گے۔ ایسے ہی لوگوں کو حضرت فاروق اعظمؓ نے انہم اعداء السنن کا خطاب بخشا تھا۔ (بیہقی)

ناشر ”دعوۃ“ کو ظہور امام پر بڑا ناز ہے۔ دوستو! جب چند دنوں میں اس کا جواب تمہارے ہاتھوں میں ہوگا اور تم دیکھو گے کہ ان کے ”دلائل قاطعہ و براہین ساطعہ“ ان اوھــــــن البيوت لبيت العنکبوت سے زیادہ وقیع نہیں ہیں۔

ہـاتـھ کـنـگـن کـو آر سـی کـیـا ہـے؟

٢

آج ہم دورقہ دعوۃ الی الحق پر ایک سرسری کو بعنوان ”داعی“ اور اس کے جواب کو بعنوان ”مجیب“ تحریروں کو آسانی سے سمجھ لیں۔

داعی ...... حضرت عیسیٰ کے لئے قرآن مجید میں انـب الفاظ استعمال ہوئے ہیں جن میں ”توفی کے معنی قبض لینے کے (ص ١)

مجیب ...... جب تک کہ علوم آلیہ اور کتب لغت صفحہ ہ فروغ نہیں پا سکتا۔ سنئے۔ لفظ ”توفی“ کا مادہ ”وفا“ وباب میں باقی رہتے ہیں اسی طرح مادہ کے معنی بھی ہ اردو زبان میں بھی مشہور ہے اور معنی بھی اس کے وہی میں ہے۔ وفى وفاء اتمه ۔ اسی طرح دیگر کتب تفعل ہے۔ پس اس کے معنی ہوئے۔ اخذ الشی لیس المنجد (مشہور لغت کی کتاب) میں لکھتا ہے: توف يقال توفيت من فلان ما لى عليه (مر عرب بولتے ہیں میں نے فلاں سے اپنا حق پورا لے لسان العرب جلد ہشتم میں ہے تـوفـيـت معنی ہیں میں نے پورا لے لیا۔ نیز مصباح المنیر (لغـ واستوفیته بمعنے استوفیت کے ہیں وتو قادیانی دافع الوساوس میں لکھتے ہیں۔ اخذنی ربی و سے ثابت ہوچکا ہے کہ استیفاء اور توفی ہم معنی ہی فاعل اللہ ہیں اور مفعول خود مرزا قادیانی ذی روح ہے۔ اس لئے تمام مفسرین نے بھی توفی کے معنی تو بیہقی لکھا ہے: ” التوفى اخذ الشئ وافيا و کو چیز پورا پورا لے لینا اور موت اس کی ایک نوع کبیر میں ہے۔ ”التوفى جنس تحته انو

٣

صفحہ ٣٢٥

آج ہم دو ورقہ دعوۃ الی الحق پر ایک سرسری نظر ڈالتے ہیں جس میں ناظر ”دعوۃ کے قول کو بعنوان ”داعی“ اور اس کے جواب کو بعنوان ”مجیب“ تحریر کریں گے تاکہ ناظرین ہر دو فریق کی تحریروں کو آسانی سے سمجھ لیں۔

داعی ..... حضرت عیسیٰ کے لئے قرآن مجید میں انی متوفيك اور فلما توفيتنی کے الفاظ استعمال ہوئے ہیں جن میں ”توفی کے معنی قبض روح یعنی موت ہے نہ کہ پورا لینے یا بھر لینے کے (ص١)

مجیب ...... جب تک کہ علوم آلیہ اور کتب لغت صفحہ ہستی پر موجود ہیں۔ یہ ”دجل قادیانی“ کبھی فروغ نہیں پا سکتا۔ سنئے۔ لفظ ”توفی“ کا مادہ ”وفا“ ہے اور جس طرح مادہ کے حروف ہر صیغہ وباب میں باقی رہتے ہیں اسی طرح مادہ کے معنی بھی ہر صیغہ و باب میں باقی رہتے ہیں۔ وفاء کا لفظ اردو زبان میں بھی مشہور ہے اور معنی بھی اس کے وہی ہیں جو عربی میں ہیں، یعنی ”پورا کرنا“ ”منجد میں ہے۔ وفى وفاء اتمه ۔ اسی طرح دیگر کتب لغت میں بھی ہے۔ اسی مادہ وفا سے توفی باب تفعل ہے۔ پس اس کے معنی ہوئے۔ اخذ الشیء وافیاً کسی چیز کو پورا پورا لے لینا۔ پادری لو یس المنجد (مشہور لغت کی کتاب) میں لکھتا ہے: توفى توفيا، وفي حقه اخذه وافيا تاما يقال توفيت من فلان ما لى عليه (ص١٠١١) یعنی توفی کے معنے اپنا حق پورا پورا لے لیا عرب بولتے ہیں میں نے فلاں سے اپنا حق پورا لے لیا۔ اور اس جگہ تو فیت بولتے ہیں۔

لسان العرب جلد ہشتم میں ہے توفيت المال منه اخذته كله یعنی توفیت کے معنی ہیں میں نے پورا لے لیا۔ نیز مصباح المنیر (لغت کی کتاب) میں ہے توفيته واستوفيته بمعنے استوفیت کے ہیں وہی معنے توفیت کے بھی ہیں یعنی پورا لے لیا۔ مرزا قادیانی دافع الوساوس میں لکھتے ہیں۔ اخذنی ربی واستوفانی (٥٦٣، خزائن ج٥ ص ایضا) اوپر لغت سے ثابت ہو چکا ہے کہ استیفاء اور توفی ہم معنے ہیں۔ پس دیکھو مرزا قادیانی کے قول مذکور میں فاعل اللہ ہیں اور مفعول خود مرزا قادیانی ذی روح، اور اس سے مراد قبض روح یعنی موت نہیں ہے۔ اس لئے تمام مفسرین نے بھی توفی کے معنی پورا لینا کیا ہے تفسیر بیضاوی میں زیر آیت فلما توفیتنی لکھا ہے: ”التوفى اخذ الشئ وافيا والموت نوع منه“ یعنی توفی کے معنی ہیں کسی کو چیز پورا پورا لے لینا اور موت اس کی ایک نوع ہے۔ ایسا ہی تفسیر سراج منیر میں بھی ہے۔ تفسیر کبیر میں ہے۔ ”التوفى جنس تحته انواع بعضها بالموت وبعضها بالاصعاد

٣

صفحہ ٣٢٧

الی السماء" (تحت آیت انی متوفیک) یعنی توفی بمنزلہ جنس ہے جس کے تحت میں کئی نوع ہیں۔ موت، رفع الی السماء معلوم ہوا کہ توفی کے معنی وضعی موت کے نہیں ہیں بلکہ موت اس کی ایک نوع ہے جیسے حیوان جنس ہے اور اس کے تحت بہت سی نوع ہیں۔ آدمی گھوڑا اور کبوتر وغیرہ، اسی طرح توفی جنس ہے۔ اور اس کی نوع نوم، موت، رفع ہیں۔ پس جنس کو کسی نوع میں معین کرنے کے لئے قرینہ کی ضرورت ہوتی ہے۔ جہاں قرینہ موت یا موت کے لوازمات کا ہوگا وہاں توفی کے معنی موت کے ہوں گے۔ نہ یہ کہ توفی کا لفظ موت کے لئے موضوع ہے اور جہاں قرینہ نیند یا نیند کے مقتضیات کا ہوگا وہاں توفی کے معنی نوم کے ہوں گے اور جہاں قرینہ رفع کا ہوگا وہاں رفع کے معنی ہوں گے۔ چونکہ اللہ تعالیٰ نے انی متوفیک کو ورافعك الی کے ساتھ ملایا ہے اس لئے عیسیٰ کی تو فی بالرفع الی السماء متعین ہوگئی۔ مفصل بحث رسالہ ظہور امام کے جواب میں ملاحظہ ہو۔

داعی....... توفی کے معنی جبکہ خدا تعالیٰ فاعل اور ذی روح یعنی انسان مفعول ہو اور توفی باب تفعل سے فعل ہو۔ اور قرینہ نیند وغیرہ کا موجود نہ ہو تو سوائے قبض روح یعنی موت کے اور کوئی معنی نہیں ہوتے۔

مجیب....... یہ ضابطہ خود ساختہ بالکل غلط ہے اہل زبان ائمہ لغت کسی سے بھی اس ضابطہ کا ثبوت نہیں ہے۔ ائمہ لغت توفی کے معنی موت کے مجازی قرار دیتے ہیں دیکھو علامہ زمحشری جو فن لغت وادب کے امام ہیں۔ اساس البلاغۃ (جو لغت کی قدیم ترین کتاب ہمارے ہاتھوں میں ہے۔ ابن) میں لکھتے ہیں ومن المجاز توفى فلان وتوفاه الله ادركته الوفات۔ تاج العروس شرح قاموس میں ہے: ومن المجاز ادركته الوفات ای الموت والمنية وتوفی فلان اذا مات۔ پس اہل لغت کا توفی کے معنی موت کے مجازی لکھنا ضابطہ خود ساختہ مذکورہ کی صاف تردید کر رہا ہے۔ کیونکہ توفی کے معنی حسب ضابطہ مذکورہ اگر موت کے ہی ہوں تو پھر کسی قرینہ حالیہ یا مقالیہ کی ضرورت باقی نہیں رہتی۔ اس صورت میں آیت قرآنی: ”الله يتوفى الانفس حين موتها (زمر:٤٢)“ میں جبکہ توفی باب تفعل سے ہے اور فاعل اللہ موجود ہے اور مفعول (انفس ذی روح انسان) بھی مذکور ہے اور قرینہ نیند وغیرہ کا بھی اس فقرہ میں نہیں ہے اس صورت میں اگر سوائے موت کے کوئی دوسرے معنی نہیں ہو سکتے ۔ توفی حين موتھا کا جملہ تطویل ہوگا یا حشو اور زاید بہر صورت آیت فصاحت سے گر جاتی ہے۔ والعياذ بالله اس کے ٤

فیصلہ کی آسان صورت یہ ہے کہ کتب لغت عربیہ میں توفی کا ہو تو اسے وفا سے مشتق مانو۔ پھر جملہ تصریفات وفاء پر معلوم ہوگا کہ اس کے معنی پورا کرنے، پورا لینے کے ہیں اور نیند بھی داخل ہے۔ اس لئے اس لفظ کا اطلاق رفع کے قرینہ موت کے لئے اور نیند کے قرینہ پر نیند کے لئے ہوگا۔ مر رفع ، موت، اور نوم اس کی نوعیت ہیں۔ نہ اس لئے کہ یہ ا ہے۔ جیسا کہ اوپر بیان ہو چکا ہے۔ پس ضابطہ مخترعہ غلط جواب میں ملے گی فانتظره۔

داعی....... قرآن مجید میں جو حضرت عیسیٰ کے متعلق ذی رفع کا لفظ استعمال ہوا ہے اور جس میں خدا تعالیٰ فاعل ح کے معنی آسمان پر اٹھالے جانے کے نہیں بلکہ مقرب ب

(ص١)

مجیب....... یہ ضابطہ مخترعہ بھی اوپر کے ضابطہ مستحدثہ کی ط لازم آئے گا۔ جو اوپر مذکور ہوا یعنی بہت سی آیات قرآنیہ (بقرہ:٢٥٣) نرفع درجات من نشاء (انعام:٨٣ درجات (انعام: ١٦٥) اور ورفعنا بعضهم ف يرفع الله الذين آمنو منكم والذين أوتوا العل بوجہ تطویل یا حشو کے فصاحت سے گر جائیں گی۔

کیونکہ ان آیات میں رفع کے مشتقات ہو روح ( پیغمبران واہل علم ومومنین وغیرہ) مفعول ہیں اور ضابطہ مخترعہ مذکورہ کے مطابق رفع کے معنی درجات بلند کی کیا ضرورت تھی؟ حالانکہ آیات مذکورہ میں رفع کے قرینہ کے مذکور ہوا ہے۔ پس معلوم ہوا کہ رفع کے معن میں اس کے حقیقی اور وضعی معنی ”اوپر کو اٹھانا“ ہیں۔ پھر اس جسم کو نیچے سے اوپر کو حرکت دینا اور اٹھانا ہوں ٥

صفحہ ٣٢٧

فیصلہ کی آسان صورت یہ ہے کہ کتب لغت عربیہ میں توفی کو تلاش کرو۔ اگر یہ وفا کے ضمن میں مذکور ہو تو اسے وفا سے مشتق مانو۔ پھر جملہ تصریفات وفاء پر نظر کرو۔ تو تم کو آفتاب نیمروز کی طرح معلوم ہو گا کہ اس کے معنی پورا کرنے، پورا لینے کے ہیں اور چونکہ اس کے مفہوم میں رفع، موت اور نیند بھی داخل ہیں اس لئے اس لفظ کا اطلاق رفع کے قرینہ پر رفع کے لئے اور موت کے قرینہ پر موت کے لئے اور نیند کے قرینہ پر نیند کے لئے ہوگا۔ صرف اس اعتبار سے کہ توفی جنس ہے۔ اور رفع، موت، اور نوم اس کی نوعیت ہیں۔ نہ اس لئے کہ یہ لفظ بحسب الوضع موت کے لئے موضوع ہے۔ جیسا کہ اوپر بیان ہو چکا ہے۔ پس ضابطہ مخترعہ غلط ہے اس کی تفصیل آپ کو ظہور امام، کے جواب میں ملے گی فانتظرہ۔

داعی ...... قرآن مجید میں جو حضرت عیسیٰ کے متعلق ”رافعك الیّ“ اور بل رفعه الله میں رفع کا لفظ استعمال ہوا ہے اور جس میں خدا تعالیٰ فاعل حضرت عیسیٰ (ذی الروح) مفعول ہیں اس کے معنی آسمان پر اٹھا لے جانے کے نہیں بلکہ مقرب بنانے اور درجات بلند کرنے کے ہیں۔

(ص ١)

مجیب ....... یہ ضابطہ مخترعہ بھی اوپر کے ضابطہ مستحدثہ کی طرح بے ثبوت اور غلط ہے ورنہ وہی محذور لازم آئے گا۔ جو اوپر مذکور ہوا یعنی بہت سی آیات قرآنیہ مثلاً رفع بعضهم درجات (بقرہ:٢٥٣) نرفع درجات من نشاء (انعام:٨٣ ویوسف) رفع بعضكم فوق بعض درجات (انعام:١٦٥) اور ورفعنا بعضهم فوق بعض درجات (الزخرف:٣٢) يرفع الله الذين آمنوا منكم والذين اوتوا العلم درجات (مجادلہ:١١) وغيرھا بوجہ تطویل یا حشو کے فصاحت سے گر جائیں گی۔

کیونکہ ان آیات میں رفع کے مشتقات بولے گئے ہیں اور اللہ تعالیٰ فاعل ہے اور ذی روح ( پیغمبران واہل علم و مومنین وغیرہ ) مفعول ہیں اور پھر لفظ درجات بھی ذکر کیا گیا ہے پس اگر ضابطہ مخترعہ مذکورہ کے مطابق رفع کے معنی درجات بلند کرنے کے ہی ہیں تو لفظ درجات ذکر کرنے کی کیا ضرورت تھی؟ حالانکہ آیات مذکورہ میں رفع کے معنی معین کرنے کے لئے ”درجات“ بطور قرینہ کے مذکور ہوا ہے۔ پس معلوم ہوا کہ رفع کے معنے حسب قرائن کئے جائیں گے۔ کیونکہ لغت میں اس کے حقیقی اور وضعی معنی ”اوپر کو اٹھانا“ ہیں۔ پس جہاں رفع کا مفعول کوئی جسم ہو گا وہاں معنے اس جسم کو نیچے سے اوپر کو حرکت دینا اور اٹھانا ہوں گے۔ لغت کی کتاب مصباح منیر میں ہے۔

٥

صفحہ ٣٢٨

فالرفع فى الاجسام حقيقة في الحركة والانتقال وفى المعانى على ما يقتضيه المقام یعنی لفظ رفع جسموں کے متعلق حقیقی معنے کی رو سے حرکت اور انتقال کے لئے ہوتا ہے اور معانی کے متعلق جیسا موقع ومقام ہو۔

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ”ورفعنا فوقكم الطور (بقرہ:٦٣)“ یہاں رفع کا فاعل اللہ ہے اور مفعول پہاڑ ہے جو جسم والا ہے اور مراد مجسم پہاڑ کو نیچے سے اوپر حرکت دینا اور بنی اسرائیل کے سروں پر چھت کی طرح اٹھانا ہے۔ اس کی تائید سورہ اعراف کی اس آیت سے ہوتی ہے: ”واذ نتقنا الجبل فوقهم كانه ظلة وظنو انه واقع بهم (بقرہ:١٧١)“ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے جس وقت اٹھایا ہم نے پہاڑ ان کے اوپر جیسے سائبان اور ڈرے کہ وہ گرے گا ان پر نیز فرمایا: ورفع ابويه على العرش (یوسف:١٠٠) یعنی یوسف نے اپنے ماں باپ کو تخت کے اوپر بٹھایا۔ یہاں ابوین کا بجسد ہما تخت کے اوپر مرفوع ہونا مراد ہے اور جہاں رفع کا صلہ الی مذکور ہو وہاں معنے شے مذکور کا مدخول الی کی طرف مرفوع ہونا ہوں گے۔ بولتے ہیں رفعه الى الحاكم، رفعته الى السلطان، قال ابو هريرة لسارق التمر لا ترفعنك إلى رسول الله (بخاری) ای لاذهبن بك ليشكوك يقال رفعه الى الحاكم اذا احضر للشكوى (فتح الباری شرح بخاری ص ١٤١) میں تجھ کو حاکم، بادشاہ، رسول اللہ ﷺ کے پاس پکڑ لے جا کر تیری شکایت کروں گا۔

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ”اليه يصعد الكلم الطيب والعمل الصالح يرفعه (فاطر:١٠)“ اس آیت میں رفع وصعود دو لفظ آئے ہیں جو ہم معنی ہیں اور صلہ الی بھی مذکور ہے پس کلمہ کا عمل صالح کے ساتھ مدخول الی یعنی اللہ کی طرف آسمان پر جانا صاف ثابت ہے جیسا کہ حدیث ابن مسعود میں وارد ہے: ”اخذهن ملك فجعلهن تحت جناحه ثم صعدبهن الى السماء ( ابن جریر، ابن کثیر، فتح البیان، حاکم، بیہقی، طبرانی، وغیرہ)“ یعنی ان کلمات کو فرشتہ اپنے بغل میں دبا کر آسمان پر لے چڑھتا ہے۔ نیز حدیث ابن عباسؓ میں وارد ہے: ”اذا تواضع العبد رفعه الله الى السماء السابعة (منتخب کنز بر حاشیہ مسند احمد ج ١ ص ١٦٠)“ یعنی بندہ جب تواضع کرتا ہے تو اللہ اس تواضع کو ساتویں آسمان کے اوپر اٹھا لیتا ہے۔ کتاب الاخلاق کے باب حکمت سے ایک تواضع بھی ہے اس امر کو نیز حدیث مذکور کے مطلب کو ایک دوسری حدیث واضح کرتی ہے جو انہیں ابن عباسؓ سے طبرانی میں مروی ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”فاذا

٦

٩ تواضع قيل للملك ارفع حكمته (جات ہے تو فرشتہ موکل کو حکم ہوتا ہے کہ اس کی حکمت بـ واعمال صالحہ کا فرشتوں کے ذریعے سے آسمانوں میں ہے: ”يرفع اليه عمل الليل قبل عمـ يعرج اليه الذين باتوا فيكم ..... الخ ہونے کے باعث، شیء مذکور کا مدخول الی کی طـ علیہ السلام کے بارے میں بھی وارد ہوا ہے: ” ر عمران: ٥٥) جس کے معنی ہوئے کہ عیسیٰ کا رفع بـ طرف ہوا۔ ارتفاع الی الله وصعود الـ ذكرته ۔ اور رافعك میں مخاطب کی ضمیر متباد مع الروح سے کیونکہ محض روح بغیر تعلق بدن عیسیٰ کا رفع جسد مع الروح ثابت ہو جاتا ہے ہوا۔ اور رفع سے مراد رفع الى السماء مـ السماء ظاهر وباهر هوا والحمد لله ۔

سوال ..... حضرت عمر نے وفات نبوی کے امام حسنؓ نے حضرت علیؓ کی وفات کے وقت ہے وہ رات وہ ہے کہ عرج فیہا بروح عیسیٰ (مـ عیسیٰ یہاں مر گئے تھے اور ان کی روح کا رفع جواب ...... کتاب نہج الکرامۃ میں حضرت تک ندارد ہے جہاں سے یہ قول نقل کیا گیا ص ٢٣ میں یوں مروی ہے۔ لکن عرج بـ مرے تھے اور ان کی روح کی معراج ہوئی تھـ کتاب نہج الکرامہ میں بجائے موسیٰ کے عیسیٰ الى السماء مرقوم ہے۔ جس سے حضرت عیسـ جیسا کہ اوپر بیان ہو چکا ہے۔ حضرت عمر

صفحہ ٣٤٩

تواضع قیل للملک ارفع حکمتہ (جامع صغیر للسیوطی ج ٢ ص ١٢٧) ”یعنی بندہ جب تواضع کرتا ہے تو فرشتہ موکل کو حکم ہوتا ہے کہ اس کی حکمت یعنی تواضع کو لے کر چڑھ آ۔ کلمات عباد و افعال حسنہ واعمال صالحہ کا فرشتوں کے ذریعے سے آسمانوں پر جانا بہت سی حدیثوں سے ثابت ہے۔ صحیح مسلم میں ہے:” یرفع الیہ عمل اللیل قبل عمل النہار......الخ!“ اور صحیح بخاری میں ہے:”ثم یعرج الیہ الذین باتوا فیکم ..... الخ !“ ان مثالوں سے جس طرح رفع کا صلہ الیٰ مذکور ہونے کے باعث ، شیء مذکور کا مدخول الیٰ کی طرف مرفوع ہونا ثابت ہوا اسی طرح حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں بھی وارد ہوا ہے: ”رفعہ اللہ الیہ (نساء:١٥٨) رافعک الی (آل عمران: ٥٥) جس کے معنی ہوئے کہ عیسیٰ کا رفع بجسدہ وبحیوتہ مدخول الی یعنی سماء کی طرف ہوا۔ ارتفاع الی اللہ وصعود الی السماء متصادق فی المعنی بین کما ذکرتہ ۔ اور رافعک میں مخاطب کی ضمیر منادیٰ یعنی عیسیٰ کی طرف راجع ہے اور اسم عیسیٰ معبر ہے جسم مع الروح سے کیونکہ محض روح بغیر تعلق بدن کے قابل تسمیہ نہیں ہوتی۔ پس اس ضمیر سے حضرت عیسیٰ کا رفع جسد مع الروح ثابت ہو جاتا ہے۔ لہٰذا ” ناشر دعوت“ کا بناوٹی قاعدہ مذکورہ غلط ثابت ہوا۔ اور رفع سے مراد رفع الی السماء مع الجسد والروح کا ہونا کالشمس فی نصف السماء ظاہر وباہر ہوا والحمد للہ۔

سوال...... حضرت عمر نے وفات نبوی کے وقت فرمایا تھا رفع کما رفع عیسیٰ (حج الکرامہ ص ١٠١) اور امام حسنؓ نے حضرت علیؓ کی وفات کے وقت خطبہ دیا تھا کہ جس رات کو حضرت علی کی وفات ہوئی ہے وہ رات وہ ہے کہ عرج فیہا بروح عیسیٰ (طبقات ابن سعد ج ٣ ص ٢٦) ان سے معلوم ہوا کہ حضرت عیسیٰ یہاں مر گئے تھے اور ان کی روح کا رفع الی اللہ ہوا ہے اس کا کیا جواب ہے؟

جواب ...... کتاب حجج الکرامہ میں حضرت عمرؓ کا قول بلاسند کے مذکور ہے بلکہ اس کتاب کا حوالہ تک ندارد ہے جہاں سے یہ قول نقل کیا گیا ہے۔ البتہ حضرت عمر کا قول سند کے ساتھ مسند دارمی ص ٢٣ میں یوں مروی ہے۔ لکن عرج بروحہ کما عرج بروح موسیٰ یعنی جیسے حضرت موسیٰ مرے تھے اور ان کی روح کی معراج ہوئی تھی۔ اسی طرح آنحضرت کی روح کی بھی۔ معلوم ہوا کہ کتاب حجج الکرامہ میں بجائے موسیٰ کے عیسیٰ غلط لکھا گیا ہے۔ اور اگر بلفظ عیسیٰ صحیح ہے تو اس میں رفع الی السماء مرقوم ہے۔ جس سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا جسم و روح کے ساتھ رفع ثابت ہوتا ہے جیسا کہ اوپر بیان ہوچکا ہے۔ حضرت عمر کا مطلب یہ تھا کہ آنحضرت بھی اسی طرح مع الجسم

٧

صفحہ ٣٣١

والروح زندہ آسمان پر چلے جائیں گے کیونکہ ان کا قول تھا لا یموت رسول اللہ (دارمی) یعنی آنحضرت کو موت نہیں آئے گی۔ ان کا یہ شبہ حضرت ابوبکرؓ کے خطبہ سے دفع ہوا، رہا امام حسنؓ کا خطبہ وہ تو بالکل صاف ہے۔ روح عیسیٰ سے مراد حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی جان نہیں ہے۔ بلکہ روح حضرت عیسیٰ کا نام صفاتی قرآن میں آیا ہے پوری عبارت امام حسنؓ کے خطبہ کی یہ ہے: ”ولقد قبض في الليلة التي عرج فيها بالروح عيسى بن مریم (طبقات ابن سعد)“ یعنی حضرت علیؓ کا قتل اسی شب میں ہوا ہے جس شب کو حضرت روح اللہ عیسیٰ بن مریم عیسیٰ علیہ السلام کو (مع الجسم والروح) آسمان پر چڑھائے گئے تھے۔ حافظ سیوطی نے تفسیر درمنثور میں اس کو یوں نقل کیا ہے۔ قتل لیلة اسری بعيسى وليلة قبض موسى (از حاکم ج ٢ ص ٣٦) یعنی امام حسن نے کہا کہ جس شب میں حضرت کو آسمان پر لے جایا گیا اور جس شب کو حضرت موسیٰ کی جان نکالی گئی تھی اسی شب کو میرے والد کو شہادت ملی۔ پس یہ ہماری دلیل ہوئی نہ مخالف کی۔ داعی....... حضرت سرور کائنات ﷺ کی توہین کے مرتکب ہونے سے بچئے۔ آپ تو زمین میں مدفون ہوں اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام دو ہزار برس سے آسمان پر زندہ ہوں۔ غیرت کی جا ہے عیسیٰ زندہ ہوں آسمان پر مدفون ہوں زمین میں شاہ جہاں ہمارا۔ مجیب....... آپ کے مرزا صاحب نورالحق (حصہ اول ص ٥، خزائن ج ٨ ص ٦٩) میں فرماتے ہیں: ”یہ موسیٰ مرد خدا ہے جس کی نسبت قرآن میں اشارہ ہے کہ وہ زندہ ہے اور ہم پر فرض ہو گیا کہ ہم اس بات پر ایمان لاویں کہ وہ زندہ آسمان میں موجود ہے اور مردوں میں نہیں مگر ہم قرآن میں بغیر وفات کے عیسیٰ کے کچھ نہیں پاتے ۔“ مرزا قادیانی کی یہ تفریق (کہ عیسیٰ کو مردہ کہا اور موسیٰ کو زندہ) بتارہی ہے کہ مرزا قادیانی حضرت موسیٰ کو جسمانی زندگی سے آسمان پر زندہ سمجھتے تھے۔ پس جواب بالقلب سنئے۔

حضرت سرور کائنات ﷺ کی توہین کے مرتکب ہونے سے اے مرزا ئیو۔ بچو آپ ﷺ تو زمین میں مدفون ہوں اور حضرت موسیٰ تین ساڑھے تین ہزار برس سے آسمان پر زندہ ہوں؟

غیرت کی جا ہے موسیٰ زندہ ہوں آسمان پر
مدفون ہو زمین میں شاہ جہاں ہمارا

مرزائیو! غیرت کی جا نہیں ہے بلکہ ہمارے سرور کائنات ﷺ کا زیر زمین مدفون ہونا کمال عزت ہے سنئے۔

٨

کسے بگفت کہ عیسیٰ برتبہ
کین بزیر زمین خفتہ و آں بالائے
گفتمش کہ حجت قوی
حباب بر سر آب وگہر تہہ

داعی....... اس حدیث شریف میں ینزل اور ابن مریم کے الفا مجیب....... جی ہاں احادیث نبویہ سے ہی مسلمان دھوکہ کھا گ قادیانی جو فرما گئے ہیں۔ وقد مزق الاخبار کل ممزق احمدی ص ٥٧ ، خزائن ج ١٩ ص ١٦٨) لیکن ہم تو ان احادیث متواترہ نے اس امر کو مختلف مواقع میں مختلف الفاظ سے ارشاد فرمایا ہ ہے۔ صحیح مسلم میں بعث اللہ المسیح ابن مریم فبیعث اللہ عیسیٰ اب لیھبطن عیسیٰ ابن مریم حکما مقبول ہے۔ مسند احمد جلد چہارم تفسیر ابن کثیر وغیرہ میں انہ راجع الیکم کی حدیث موج بھی رسول اللہ ﷺ نے ہی فرمائی ہے۔ امام بیہقی نے کتاب نقل کی ہے۔ کہ آنحضرت نے فرمایا: ”کیف انتم اذا نز (ص ٣٠١) ”ابن عساکر ابن عباسؓ سے روایت لائے ہیں کہ ینزل اخی عيسى بن مریم من السماء “ منتخب (کنز مشکوۃ و کنز العمال میں الی الارض بھی وارد ہے اس لئے ہم مانتے ہیں: لان الاحاديث يفسر بعضها بعضاً۔ داعی....... نزول کا لفظ قرآن مجید میں متعدد جگہ استعمال کسی جگہ بھی ہمارے مخالف معنی نہیں لیتے ۔ (ص٢) مجیب....... مسلمان علماء جو معنی ان مقامات میں مراد لیتے بالفعل یہاں ہم نزول کے معنی سے متعلق کچھ تحریر کرتے ہ فرود آمدن انزال فرود آوردن “ منتہی الارب ج کے معنی نیچے آنا ، انزال کے معنی نیچے لانا ہیں۔ عربی لغت الی سفل یعنی نزول کے معنی اوپر سے نیچے آنا ۔ م الغبيط بنا معاً عقرت بعيرى يا امرئ القيس

٩

صفحہ ٣٣١
کسے بگفت کہ عیسیٰ برتبہ اعلیٰ است
کین بزیر زمین خفتہ و آں باوج سماء است
گفتمش کہ حجت قوی نمی گردد
حباب بر سر آب و گہر تہ دریاست

داعی ...... اس حدیث شریف میں ینزل اور ابن مریم کے الفاظ سے دھوکا لگا ہے۔ (ص٢)

مجیب ...... جی ہاں احادیث نبویہ سے ہی مسلمان دھوکہ کھائیں تو ہدایت یابی معلوم کیوں نہ ہو مرزا قادیانی جو فرما گئے ہیں۔ وقد مزق الاخبار کل ممزق کل بما ہو عندہ یتبشر (اعجاز احمدی ص٥٧، خزائن ج١٩ ص١٦٨) لیکن ہم تو ان احادیث متواترہ کو چھوڑ نہیں سکتے۔ کیونکہ آنحضرت نے اس امر کو مختلف مواقع میں مختلف الفاظ سے ارشاد فرمایا ہے۔ صحیحین میں نزل فیکم، ینزل فیکم آیا ہے۔ صحیح مسلم میں بعث اللہ المسیح ابن مریم فیبعث اللہ عیسیٰ ابن مریم وارد ہے۔ مستدرک حاکم میں لیہبطن عیسیٰ ابن مریم حکما منقول ہے۔ مسند احمد جلد چہارم میں انہ یہبط عیسیٰ ابن مریم مروی ہے۔ تفسیر ابن کثیر وغیرہ میں انہ راجع الیکم کی حدیث موجود ہے اور آسمان سے اترنے کی تصریح بھی رسول اللہ ﷺ نے ہی فرمائی ہے۔ امام بیہقی نے کتاب الاسماء میں ابو ہریرہ سے بالسند روایت نقل کی ہے۔ کہ آنحضرت نے فرمایا: ”کیف انتم اذا نزل ابن مريم من السماء فيكم (ص ٤٠١)“ ابن عساکر ابن عباسؓ سے روایت لائے ہیں کہ آنحضرت نے فرمایا: ”فعند ذلک ينزل اخي عيسى بن مريم من السماء “ منتخب (کنز العمال بر حاشیہ مسند احمد ج ٦ ص ٥٦) اور مشکوٰۃ وکنز العمال میں الی الارض بھی وارد ہے اس لئے ہم حضرت عیسیٰ کا آسمان سے زمین پر اترنا مانتے ہیں: لان الاحاديث يفسر بعضها بعضاً۔

داعی ...... نزول کا لفظ قرآن مجید میں متعدد جگہ استعمال ہوا ہے اور وہاں آسمان سے اترنے کے کسی جگہ بھی ہمارے مخالف معنی نہیں لیتے۔ (ص٢)

مجیب ...... مسلمان علماء جو معنی ان مقامات میں مراد لیتے ہیں وہ تو آگے چل کر معلوم ہوں گے۔

بالفعل یہاں ہم نزول کے معنی سے متعلق کچھ تحریر کرتے ہیں صراح میں ہے: ”نزول فرود آمدن انزال فرود آوردن “ منتہی الارب میں ہے۔ نزول فرود آمد۔ یعنی نزول کے معنی نیچے آنا ، انزال کے معنی نیچے لانا ہیں۔ عربی لغت مصباح منیر میں ہے۔ نزل من علو الی سفل یعنی نزول کے معنی اوپر سے نیچے آنا ۔ امرء القیس کہتا ہے : ”تقول وقد مال الغبيط بنا معاً عقرت بعيرى يا امرئ القيس فانزل“

٩

صفحہ ٣٣٣

مشہور لغوی علامہ راغب اصفہانی مفردات (قرآن کا لغت) میں لکھتے ہیں: ”النزول فى الاصل هو انحطاط من علو وانزال الله تعالى بانزال الشىء نفسه کا نزال القرآن واما بانزال اسبابه والهدايه اليه كانزال الحديد واللباس ونحو ذلك آہ “ یعنی نزول کے اصل معنی اوپر سے نیچے کو اترنا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا اتارنا (دو طرح پر ہے۔) یا تو شئے بنفسہ کا اتارنا جیسے قرآن کا اتارنا یا اس شئے کے اسباب و ذرائع اور اس کی طرف (توفیق) ہدایت کا اتارنا جیسے انزال حدید اور انزال لباس اور اس کے مثل (انزال میزان، انزال رزق، انزال انعام، انزال رجز وعذاب وغیرہ) علامہ کی اس تصریح سے آپ کی پیش کردہ آیات کی بخوبی وضاحت ہو جاتی ہے اور ہم کو الگ الگ ان پر بحث کرنے کی ضرورت باقی نہیں رہتی۔ لیکن بپاس خاطر ناظرین ہم ہر ایک نمبر پر نظر ڈالتے ہیں۔

داعی...... قد انزل الله اليكم ذكرا رسولاً يتلوا عليكم آيات الله ۔ اس آیت میں حضرت کے لئے انزل کا لفظ استعمال ہوا ہے۔ (تا) بطن آمنہ سے پیدا ہوئے تھے۔ (ص٢)

مجیب...... کاش آپ اس مقام کو مشہور درسی کتاب جلالین میں دیکھ لیتے تو ایسا نہ لکھتے۔ ملاحظہ ہو: قد انزل الله اليكم ذكرا هو القرآن رسولاً اى محمد ﷺ منصوب بفعل مقدر ای ارسل (جلالین، خازن، کشاف مدارک، سراج منیر) یعنی ذکراً سے مراد قرآن ہے جسے اللہ نے (آسمان سے) نازل کیا ہے اور رسولاً کے پہلے ارسل محذوف ہے یعنی محمد ﷺ کو رسول بنایا۔ اسی لئے قرآن مجید میں ذکراً کے بعد آیت کا گول نشان بنا ہوا ہے۔ جسے آپ نے عمداً حذف کر دیا اور رسولاً الگ دوسری آیت میں ہے۔ قرآن مجید میں اس طرح مرقوم ہے: ”قد انزل الله اليكم ذكراً رسولا يتلوا عليكم....... الخ! (طلاق: ١٠، ١١) ”ذکر قرآن مجید کا دوسرا نام ہے اور اس کا نزول بہت سی آیات میں آیا ہے چودھویں پارہ کے تین مقام ملاحظہ ہوں۔ انا نحن نزلنا الذكر (حجر:٩) يا ايها الذى نزل عليه الذكر (حجر:٦) وانزلنا اليك الذكر (نحل:٤٤) وهذا ذكر مبارك انزلناه (انبياء:٥٠) أنزل عليه الذكر (ص٨) ان الذين كفرو بالذكر لما جائهم وانه لكتاب عزيز (حم سجده:٤١) ان هو الا ذكر وقرآن مبين (يسين:٦٩) پہلی، تیسری اور چوتھی آیت میں نزول ذکر کی منجانب اللہ صراحت ہے۔ چھٹی اور ساتویں میں ذکر کا قرآن ہونا مصرح ہے۔

١٠

کہیں، تو اس صورت میں رسولاً سے مراد جبرائیل علیہ ال جو بواسطہ محمد ﷺ کے بندوں پر اللہ کی آیتیں تلاوت کر علیہ ہے۔ اور یہ سب کچھ قرآن مجید سے ثابت ہے۔ (ع رسول كريم ذي قوت عند ذي العرش مكي فرمایا اور جس چیز کو یہاں قول سے تعبیر فرمایا ہے۔ اسی کو (طلاق: ١١) کہا ہے اور سورہ قیامت میں قرآ طلاق میں انزل اللہ (طلاق: ١٠) آیا ہے اسی طر الامین علی قلبک (شعراء: ١٩٣) اور (سور لجبريل فانه نزله على قلبك باذن الله فر ہونا ، اللہ ذوالعرش سے قرآن کی آیات لیکر نازل ہونا ا اور آپ ﷺ کو پڑھانا صاف صاف ثابت ہے پس یہ

داعی...... "وانزلنا الحديد “ اور ہم نے لوہا ہوتا ہے یا کانوں سے نکلتا ہے۔ (ص٢)

مجیب...... اس آیت کی تفسیر میں اگر ہم آپ کو یہ حدی النبی ﷺ وسلم ان الله انزل اربع برکات الخ! (معالم، خازن، کشاف، کبیر، سراج منیر) یعنی ا اتاری ہیں ان میں سے ایک لوہا ہے تو آپ فوراً اسے ” حدیثوں کو ہم ردی کی طرح پھینک دیتے ہیں۔“ (ا ہم ان بزرگوں کا قول پیش کرتے ہیں جن کے قول استناد کیا ہے۔ (ازالۃ اوہام ص ٢٤٧، خزائن ج ٣ ص ٢٢٥ ہے ۔ وہ بزرگ ۔ حبر الامۃ ترجمان القرآن حضرت قال ثلاثة اشياء نزلت مع آدم السندان و وفى روايته نزل آدم من الجنة ومعه والكلبتان والميقعة والمطرقة والابرة و

١١

صفحہ ٣٣٣

٢....... اگر رسولاً کو منصوب بفعل مقدر نہ مانیں بلکہ ذکراً سے بدل قرار دیں یا عطف بیان کہیں، تو اس صورت میں رسولاً سے مراد جبرائیل علیہ السلام ہوں گے۔ (تفسیر کشاف و بیضاوی) جو بواسطہ محمد ﷺ کے بندوں پر اللہ کی آیتیں تلاوت کرتے ہیں اور جبرائیل کا نزول من السماء متفق علیہ ہے۔ اور یہ سب کچھ قرآن مجید سے ثابت ہے۔ (سورہ تکویر:١٩،٢٠) میں وارد ہے: ”انہ لقول رسول کریم ذی قوۃ عند ذی العرش مکین“ یہاں جبرائیل کو اللہ تعالیٰ نے رسول فرمایا اور جس چیز کو یہاں قول سے تعبیر فرمایا ہے۔ اسی کو سورہ طلاق میں یتلوا علیکم (طلاق:١١) کہا ہے اور سورہ قیامت میں قرآناہ (قیامت:١٨) اور جس طرح سورہ طلاق میں انزل اللہ (طلاق:١٠) آیا ہے اسی طرح سورہ شعراء میں نزل بہ الروح الامین علی قلبک (شعراء:١٩٣) اور (سورہ بقرہ:٩٧) میں قل من کان عدواً لجبریل فانہ نزلہ علی قلبک باذن اللہ فرمایا گیا ہے۔ ان آیات سے جبرئیل کا رسول ہونا، اللہ ذوالعرش سے قرآن کی آیات لیکر نازل ہونا اور آنحضرت ﷺ کے قلب منور پر وارد کرنا اور آپ ﷺ کو پڑھانا صاف صاف ثابت ہے پس یہ تفسیر آیات ما نحن فیہا کی بہتر تفسیر ہے۔

داعی....... ”وانزلنا الحدید“ اور ہم نے لوہا اتارا، یہ غور کیجئے کہ کیا لوہا آسمان سے نازل ہوتا ہے یا کانوں سے نکلتا ہے۔ (ص٢)

مجیب....... اس آیت کی تفسیر میں اگر ہم آپ کو یہ حدیث نبوی سنا دیں عن ابن عمر قال قال النبی ﷺ ان اللہ انزل اربع برکات من السماء الی الارض الحدید....... الخ! (معالم، خازن، کشاف، کبیر، سراج منیر) یعنی اللہ نے چار چیزیں آسمان سے زمین کی طرف اتاری ہیں ان میں سے ایک لوہا ہے تو آپ فوراً اپنے مرزا صاحب کا یہ قول پیش کردیں گے کہ ”حدیثوں کو ہم ردی کی طرح پھینک دیتے ہیں۔“ (اعجاز احمدی ص٣٠، خزائن ج١٩ ص١٤٠) اس لئے ہم ان بزرگوں کا قول پیش کرتے ہیں جن کے قول سے مرزا قادیانی نے بڑی تعریف کے بعد استناد کیا ہے۔ (ازالہ اوہام ص٢٤٧، خزائن ج٣ ص٢٢٥) اور واقعی ان کی جتنی بھی تعریف کی جائے کم ہے۔ وہ بزرگ۔ حبر الامۃ ترجمان القرآن حضرت عبداللہ بن عباسؓ ہیں: ”عن ابن عباس قال ثلاثۃ اشیاء نزلت مع آدم السندان والکلبتان والمیقعۃ (ابن کثیر وابن جریر)“ وفی روایتہ نزل آدم من الجنۃ ومعہ سبعۃ اشیاء من الحدید السندان والکلبتان والمیقعۃ والمطرقۃ والابرۃ والمبرد والمسحاۃ (کشاف ومدارک وابوالسعود

11

صفحہ ٣٣٥

سراج منیر) ”یعنی حضرت آدم جنت السماء سے سات چیزیں لوہے کی اپنے ساتھ لیکر اترے تھے۔ نہائی (گھن) سنسی، ریتی، ہتھوڑی، سوئی، بیلچہ، پھاوڑا (کدال) فرمائیے جناب اب کیا ارشاد ہوتا ہے؟ مرزا قادیانی کے مسلم مفسر کی تفسیر کی بناء پر آیت انزلنا الحدید (الحدید: ٢٥) کے معنے شروع زمانہ میں آدم کے ساتھ آسمان سے لوہا اتارنے کے ثابت ہو گئے نا؟ ہاتھ لاؤ یار کیوں کیسی کہی؟

سے عبارت والہدایۃ الیہ کانزال الحدید نقل کی جاچکی ہے۔ یعنی لوہے کے استعمال کی ہدایت اور حکم اللہ نے نازل فرمایا ہے۔ تفسیر سراج منیر و کشاف میں ہے: ”ان اوامره تنزل من السماء وقضاياه واحکامه“ بیضاوی میں ہے۔ الامر باعداده یعنی استعمال حدید کا امر و حکم آسمان سے اترا ہے، جو قرآن مجید کے دوسرے مقامات پر موجود ہے۔ واعدوا لہم ما استطعتم من قوة (انفال: ٦٠) یا ایھا الذین آمنوا خذوا حذرکم (نساء: ٧١) ولیا خذوا حذرہم واسلحتہم (نساء: ١٠٢) ان آیات میں لوہے کے ہتھیار اور ڈھال وغیرہ کے استعمال کا حکم اللہ تعالیٰ نے نازل فرمایا ہے۔ اسی کی طرف وانزلنا الحدید میں اشارہ فرمایا ہے۔ پس چونکہ آہنی اسلحہ کے استعمال اور تیار کرنے کا سبب امر منزل من اللہ ہے۔ لہٰذا انزلنا الحدید من قبیل اطلاق المسبب والمراد به السبب ہے جس کی تفصیل اگلے جواب میں ملاحظہ ہو۔

داعی....... یا بنی آدم قد انزلنا علیکم لباسا (الاعراف: ٢٦) اے بنی آدم ہم نے تم پر لباس اتارا فرمائیے کہ کپڑے جو ہم پہنتے ہیں کیا وہ آسمان سے اترتے ہیں۔ (ص٢)

مجیب....... محاورات عرب جاننے والوں سے مخفی نہیں کہ کلام میں کبھی سبب بولتے ہیں اور مراد مسبب لیتے ہیں جیسے ”رعينا الغیث ای النبات الذي سببه الغیث (مطول)“ ہم نے بارش چرائی یعنی گھاس، جس کے اگنے کا سبب بارش ہے اور کبھی مسبب بولتے ہیں اور مراد سبب لیتے ہیں۔ جیسے ”وما انزل الله من السماء من رزق (سورہ جاثیہ: ٥)“ اللہ نے آسمان سے رزق نازل فرمایا یعنی بارش برسائی جو سبب ہے رزق کے پیدا ہونے کا، پس رزق مسبب ہوا۔

اسی طرح انزلنا علیکم لباسا فرمایا۔ لباس مسبب ہے اور سبب اس کا بارش ہے۔ تفسیر کبیر میں ہے: ”انزل المطر وبالمطر تتکون الاشیاء التي منها يحصل

١٢

اللباس (ج٤)“ تفسیر معالم میں ہے: ”اللباس یکون بما ينزل من السماء فمعنى قوله انزلنا البیان میں ہے: ”انزل المطر من السماء وهو مـ ہے: ”لان اصله من الماء وهو منها“ اسی طرـ نازلہ مرقوم ہے۔ حاصل سب عبارتوں کا یہ ہوا کہ وجود لـ ہے۔ اس سے روئی کا درخت پیدا ہوتا ہے۔ روئی سے برستا ہے گھاس پیدا ہوتی ہے جسے بھیڑ اور دنبہ کھاتے لباس بنتے ہیں اور بارش ہوتی ہے۔ شہتوت اور بیر کے کو ریشم کے کیڑے کھاتے ہیں اور ریشم نکالتے ہیں غرض کہ لباس ورزق کا وجود حصول اسباب سماویہ ومواـ میں فرمایا ہے: ”قل من يرزقکم من السماء واـ رکوع میں ہے: ”ما انزل الله لکم من رزق (آیت ہے۔ سورہ ذاریات میں وارد ہوا: ”وفي السماء رزقـ یٰسین میں تو صاف صاف فرمایا ہے انا صببنا الماء (آیت: ٢٦، ٢٧) ان آیات سے آسمانی بارش اور نباتاـ ہے۔ اسی قبیل سے یہ آیت بھی ”انزلنا علیکم لبا الشيئ باسم المسبب، پس انزال کے معنے ثابت ہوئے جس طرح اوپر کی دونوں آیتوں میں سـ داعی....... دوسرا تشریح طلب لفظ ابن مریم ہے۔ یـ ایک نام کا اطلاق دوسرے پر ہو سکتا ہے۔..... الخ (صـ مجیب....... جبکہ بصراحت النص بنی اسرائیل کے آخـ السلام کا آسمان سے اتر کر زمین پر دوبارہ تشریف لا سوال ہی نہیں پیدا ہوتا لیکن مرزا قادیانی چونکہ براہین مسیح سے مشابہت تامہ ہے۔ (ص ٤٩٩، خزائن ج١ ص تامہ کا ترجمہ ”پوری پوری مشابہت“ کر دیا اور اس کیـ

١٣

صفحہ ٣٤٥

اللباس (ج٣)“ تفسیر معالم میں ہے: ”اللباس يكون من نبات الارض والنبات يكون بما ينزل من السماء فمعنى قوله انزلنا ای انزلنا اسبابه“ تفسیر خازن و فتح البیان میں ہے: ”انزل المطر من السماء وهو سبب نبات اللباس“ تفسیر مدارک میں ہے: ”لان اصله من الماء وهو منها“ اسی طرح بیضاوی و ابو السعود وسراج منیر میں اسباب نازلہ مرقوم ہے۔ حاصل سب عبارتوں کا یہ ہوا کہ وجود لباس کا سبب بارش ہے آسمان سے پانی برستا ہے۔ اس سے روئی کا درخت پیدا ہوتا ہے۔ روئی سے سوت اور سوت سے لباس تیار ہوتا ہے۔ پانی برستا ہے گھاس پیدا ہوتی ہے جسے بھیڑ اور دنبہ کھاتے ہیں ان کے بال بڑھتے ہیں جس سے اونی لباس بنتے ہیں اور بارش ہوتی ہے۔ شہتوت اور بیر کے درختوں کی پتیاں ہری بھری ہوتی ہیں۔ ان کو ریشم کے کیڑے کھاتے ہیں اور ریشم نکالتے ہیں جس سے ریشمی لباس وجود میں آتے ہیں۔ غرض کہ لباس ورزق کا وجود حصول اسباب سماویہ ومواد ارضیہ سے مل کر ہوتا ہے جیسا کہ سورہ یونس میں فرمایا ہے: ”قل من رزقكم من السماء والارض (آیت:٣١)“ اس کے آگے چھٹے رکوع میں ہے: ”ما انزل الله لكم من رزق (آیت:٥٩)“ سورہ جاثیہ کی آیت اوپر بیان ہوچکی ہے۔ سورہ ذاریات میں وارد ہوا: ”وفى السماء رزقكم و ما توعدون (آیت:٢٢)“ اور سورہ یٰسین میں تو صاف صاف فرمایا ہے انا صببنا الماء صبا ثم شققنا الارض شقا فانبتنا فیہا حبا الایۃ (آیت:٢٦، ٢٧) ان آیات سے آسمانی بارش اور نبات ارضی سے انسانی معیشت کا حصول ثابت ہے۔ اسی قبیل سے یہ آیت بھی ”انزلنا عليكم لباسا (اعراف:٢٦)“ اس کو کہتے ہیں تسمیۃ الشئ باسم المسبب، پس انزال کے معنے آسمان سے اتارنا اس آیت میں بھی اسی طرح ثابت ہوئے جس طرح اوپر کی دونوں آیتوں میں۔ والحمد لله على ذالك.

مدعی....... دوسرا تشریح طلب لفظ ابن مریم ہے۔ جہاں پوری پوری مشابہت پائی جائے وہاں ایک نام کا اطلاق دوسرے پر ہو سکتا ہے۔.....الخ! (ص٢)

مجیب...... جبکہ بصراحت النص بنی اسرائیل کے آخری پیغمبر حضرت عیسیٰ ابن مریم بنت عمران علیہم السلام کا آسمان سے اتر کر زمین پر دوبارہ تشریف لانا ثابت ہے۔ کما بینہ تو مشابہت اور مشابہت کا سوال ہی نہیں پیدا ہوتا لیکن مرزا قادیانی چونکہ براہین احمدیہ میں لکھ گئے ہیں کہ اس عاجز کو حضرت مسیح سے مشابہت تامہ ہے۔ (ص٤٩٩، خزائن ج١ص٥٩٤) اسی لئے ناشر ”دعوة“ نے بھی مشابہت تامہ کا ترجمہ ”پوری پوری مشابہت“ کر دیا اور اس کو علم بلاغت سے ثابت کرنے کے درپے ہوئے

١٤

صفحہ ٣٣٦

چاہئے تو یہ تھا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے حالات وعلامات لکھ کر مرزا قادیانی میں ان کو دکھاتے لیکن اس کے لئے ٹریکٹ نمبر ٦ کا وعدہ (افسوس یہ وعدہ بھی وفا نہ ہوا) کر دیا۔ (ص٣)

ہم بھی انشاءاللہ کسی اگلے ٹریکٹ میں قرآن وحدیث سے حضرت مریم اور حضرت عیسیٰ کی علامات اور حالات تحریر کریں گے جن کا شمار ایک سو اسی ہوگا۔ پھر دکھا دیں گے کہ مرزا قادیانی میں ان میں کوئی ایک بھی علامت نہیں پائی گئی۔ یہ ٹریکٹ بڑا ہی مزیدار ہوگا۔ ناظرین اس کا انتظار کریں۔ اس وقت ہم قادیانی لٹریچر اور مرزائی مسلمات سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے مختصر حالات اور علامتیں لکھتے ہیں۔ اور پھر قادیانی لٹریچر سے ہی ثابت کریں گے کہ مرزا قادیانی میں وہ باتیں نہیں پائی گئیں۔

حضرت عیسیٰ ابن مریم رسول ربانی

مرزا غلام احمد صاحب قادیانی

پیدا کئے گئے۔

(ازالۃ اوہام ص ٦٦٩، خزائن ج ٣ ص ٤٦١)

سے پیدا ہوئے تھے۔

(کشف الغطاء ص ٣، خزائن ج ١٤ ص ١٧٩)

(تریاق القلوب ص ٤١، خزائن ج ١٥ ص ٢١٧)

نہیں نہ آپ نے کہیں لکھا ہے۔

تھی۔

(ریویو بابت اپریل ١٩٠٢ء ص ١٤٣)

(ثبوت کی ضرورت نہیں)

(تریاق القلوب کا حاشیہ ص ٩٩، خزائن ج ١٥ ص ٣٦٣)

لڑکیاں) ہوئیں۔ (ظاہر ہے)

تھے۔

(نزول المسیح ص ١١٧، خزائن ج ١٨ ص ٥٠٥)

برس قبل پیدا ہوئے تھے۔

(حاشیہ راز حقیقت ص ١٥، خزائن ج ١٤ ص ١٦٧)

ہجری میں پیدا ہوئے

(تریاق القلوب ص ٦٨، خزائن ج ١٥ ص ٢٨٣)

١٤

٣٣٧

(نزول المسیح ص ١٢٧، خزائن ج ١٨ ص ٥٠٥)

جلالی دونوں ر

(نزول

سے توریت پڑھی تھی۔

(کتاب ایام الصلح اردو ص ١٤٧، خزائن ج ١٤ ص ٣٩٤)

انسان سے قر بھی نہیں پڑھا

(ایام

اکثر حصوں کی سیاحت کی اس لئے نبی سیاح کہلائے۔

(کتاب مسیح ہندوستان میں ص ٥٤، خزائن ج ١٥ ص ٥٥)

سے باہر کہیں س

پایا ہے۔

(حقیقت النبوۃ ص ١٣٧)

حاصل ہوا

(

بھیڑوں کے سوا اور کسی کی طرف نہیں بھیجا گیا۔

(چشمہ معرفت ص ٦٨، خزائن ج ٢٣ ص ٧٦)

الناس ان

(میں تمام ا

پات کھاتے اور مٹی کا تکیہ بناتے تھے۔

(عسل مصفیٰ حصہ اول ص ١٩١ و ١٩٢)

بڑا پر لنگر خان

(

پھر کیسے کہیے

اس طرح کا ایک دفتر محض قادیانی لٹریچر سے الاشارہ ناشر ”دعوہ“ کو بتانا چاہئے کہ پوری پوری مشابہت کی علامات و برکات حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی ثابت ہیں۔ ان

١٥

صفحہ ٣٣٨

(نزول المسیح ص ٢٧، خزائن ج ١٨ ص ٥٠٥)

جلالی دونوں رنگ رکھتا ہوں۔

(نزول المسیح ص ٢٧، خزائن ج ١٨ ص ٥٠٥)

سے توریت پڑھی تھی۔

(کتاب ایام الصلح اردو ص ١٤٧، خزائن ج ١٤ ص ٣٩٤)

انسان سے قرآن یا حدیث یا تفسیر کا ایک سبق بھی نہیں پڑھا۔

(ایام الصلح ص ١٤٧، خزائن ج ١٤ ص ٣٩٤)

اکثر حصوں کی سیاحت کی اس لئے نبی سیاح کہلائے۔

(کتاب مسیح ہندوستان میں ص ٥٣، خزائن ج ١٥ ص ٥٥)

سے باہر کہیں کی بھی سیاحت نہیں کی۔ من يدعيه فعليه البيان

پایا ہے۔ (حقیقۃ الوحی ص ١٢٧)

حاصل ہوا۔ (حقیقۃ الوحی ص ١٢٧)

بھیڑوں کے سوا اور کسی کی طرف نہیں بھیجا گیا۔ (چشمہ معرفت ص ٦٨، خزائن ج ٢٣ ص ٧٦)

الناس انى رسول الله اليكم جميعا ۔ (میں تمام انسانوں کی طرف رسول ہوں)

(حقیقۃ الوحی ص ١٩٩، ٢٠٠)

پات کھاتے اور مٹی کا تکیہ بناتے۔

(عسل مصفیٰ حصہ اول ص ١٩١، ١٩٢)

بڑا پر تکلف لنگر خانہ جاری رہتا۔

(حقیقۃ الوحی ص ٢١١، خزائن ج ٢٢ ص ٢٢١)

پھر کیسے کیسے مرغن کھانے پکتے ہوں گے۔

اس طرح کا ایک دفتر محض قادیانی لٹریچر سے پیش کیا جاسکتا ہے۔ والعاقل تکفیہ الاشارہ ناشر دعوۃ کو بتانا چاہئے کہ پوری پوری مشابہت کیا اسی کا نام ہے؟ احادیث صحیحہ سے جو علامات و برکات حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی ثابت ہیں۔ ان میں سے ہم بالفعل یہاں پر صرف چار

١٥

صفحہ ٣٣٩

نقل کر کے مرزا کے زمانہ سے مقابلہ کرتے ہیں۔ تاکہ اس مدعوہ پوری مشابہت کی حقیقت اچھی طرح واضح ہو جائے۔ بعونه ومنه

برکات حضرت عیسیٰ علیہ السلام ابن مریم علیہ السلام

مشئومات حضرت مرزا قادیانی علیہ ماعلیہ

والتحاسد (صحیح مسلم) یعنی حضرت عیسیٰ کی برکت سے مسلمانوں کا کینہ، بغض اور حسد دور ہو جائے گا۔

مسلمانوں میں دشمنی اور حسد اور بغض کی آگ لگی ہوئی ہے اور ایسی عداوت پیدا ہوگئی ہے جس سے ایک دوسرے سے جدائی اور قطع تعلق بلکہ قطع رحم ہوچکا ہے۔

احد (بخاری ومسلم) حضرت عیسیٰ کی برکت سے مال کی اتنی کثرت ہوگی کہ زکوٰۃ لینے والا نہ ملیں گے۔

مسلمان ہیں اگر ایک شخص خیرات کرنے لگتا ہے تو اس کثرت سے فقراء اور مساکین جمع ہوجاتے ہیں کہ اس بے چارے کو گھر کا دروازہ بند کر لینا پڑتا ہے۔ انتہا یہ ہے کہ مسلمان افلاس کی وجہ سے آریہ اور عیسائی بنتے جارہے ہیں۔

خيراً من الدنيا (صحیح مسلم) مطلب یہ کہ حضرت عیسیٰ کی برکت سے دنیا سے بے رغبتی اور عبادت کے شوق سے آخرت کی تیاری کی فکر پیدا ہوجائے گی۔

وحرام کی تمیز اٹھ گئی ہے اور رشوت، خیانت اور غبن کا وقوع بکثرت ہے۔ رہزنی، ڈاکہ اور غصب کی فراوانی ہے۔ طمع مال میں قتل وغارت گری کے واقعات روزمرہ ہیں‘ عاقبت کی کوئی فکر نہیں بلکہ مسلمان اسلام کو ہی خیر باد کہہ رہے ہیں

اور مناسب ہوگی۔ دودھ اور پھل معمول سے زیادہ ہوں گے۔ (صحیح مسلم) اور جو امراض خلق کے حق میں مضر ہوں گے وہ بند ہوجائیں گے۔ (ابوداؤد ابن ماجہ وغیرہ)

بہر دو صورت ہر جنس کی گرانی خصوصاً گھی اور دودھ کی قلت نت نئی بیماریاں اور وبائیں، زلزلے اور بہت سی مصیبتیں دنیا میں عام طور سے بدامنی اور لڑائیاں موجود ہیں۔

١٦

دوستو! آپ نے دیکھا کیسی پوری پوری مشابہت ہے باقی کہ مسیح اصلی ومسیح نقلی کا تقابل دکھائیں، استاد صاحب کے غالی کیا۔

بنمائی بہ صاحب نظری گو
عیسی نتواں گشت بتصدیق خ

عثمانی...... یا اخت ہارون اس آیت میں حضرت مریم کو ہارون ک لئے ثابت ہے کہ حضرت مریم کا کوئی بھائی ہارون نہ تھا..... الخ ! ( مجیب..... کاش آپ لوگ احادیث نبویہ کو مانتے تو ہرگز ایسا ن المغيرة بن شعبة قال لما قدمت نجران سألوني ف هرون وموسى قبل عيسى بكذا وكذا فلما قدمت عن ذلك فقال انهم كانوا يسمون بانبيائهم ص ٢٧) کذافی الترمذی والنسائی واحمد حضرت مغیرہ بن شعبہ ض (عیسائیوں نے) مجھ سے سوال کیا کہ تمہارے قرآن نے مریم علیہ السلام کے بھائی تھے ) اور موسیٰ کا زمانہ عیسیٰ سے بہت پ آنحضرت ﷺ سے اس امر کو دریافت کیا تو آپ نے فرمایا ک مراد نہیں ہیں بلکہ ) وہ لوگ اپنے پہلے کے پیغمبروں اور صالحوں کہ ہارون حضرت مریم کے رشتہ کے کوئی بھائی تھے ان کے د موسیٰ کے بھائی ہارون کے نام پر تبرکاً رکھ دیا تھا۔ اب سنی فخر الدین رازی لکھتے ہیں: ”کان لھا اخ یسمی ہار فعیرت به، وهذا هوالاقرب “ (تفسیر کبیر ج٥، کذافی ہارون نبی اسرائیل میں نیک آدمی تھا۔ مریم کو انہیں کا طعنہ د رحمانی میں ہے ”یا اخت هارون من ابويه ومن اب بھائی تھے یا سوتیلے بھائی تھے؟ تفسیر مدارک میں ہے۔”ک حضرت مریم کے سوتیلے بھائی تھے۔

١٧

صفحہ ٣٣٩

دوستو! آپ نے دیکھا کیسی پوری پوری مشابہت ہے؟ اس لئے ناشر دعوۃ کو ہمت نہیں ہوئی کہ مسیح اصلی و مسیح نقلی کا تقابل دکھائیں، استاد صاحب کے غالباً اسی موقع کے لئے پیش گوئی کی تھی۔

بنمائے بہ صاحب نظرے گوہر خودرا
عیسیٰ نتواں گشت بتصدیق خرے چند

داعی...... یا اخت ہارون اس آیت میں حضرت مریم کو ہارون کی بہن کہا گیا ہے۔ حالانکہ تواریخ سے ثابت ہے کہ حضرت مریم کا کوئی بھائی ہارون نہ تھا۔......الخ ! (ص٢)

مجیب...... کاش آپ لوگ احادیث نبویہ کو مانتے تو ہرگز ایسا نہ لکھتے۔ صحیح مسلم میں ہے: ”عن المغیرہ بن شعبہ قال لما قدمت نجران سالونی فقالوا انکم تقرئون یا اخت ھرون وموسیٰ قبل عیسیٰ بکذا وکذا فلما قدمت علی رسول اللہ ﷺ سالتہ عن ذلک فقال انھم کانوا یسمون بانبیائھم والصالحین قبلھم (مسلم ج٢ ص٢٧٠)“ کذا فی الترمذی والنسائی واحمد حضرت مغیرہ بن شعبہ صحابی کہتے ہیں کہ میں نجران آیا تو (عیسائیوں نے) مجھ سے سوال کیا کہ تمہارے قرآن نے مریم کو ہارون کی بہن کہا ہے۔ (جو موسیٰ علیہ السلام کے بھائی تھے) اور موسیٰ کا زمانہ عیسیٰ سے بہت پہلے ہے۔ تو میں نے (مدینہ آکر) آنحضرت ﷺ سے اس امر کو دریافت کیا تو آپ نے فرمایا کہ یہاں (ہارون سے موسیٰ کے بھائی مراد نہیں ہیں بلکہ) وہ لوگ اپنے پہلے کے پیغمبروں اور صالحوں کے نام پر نام رکھتے تھے۔ معلوم ہوا کہ ہارون حضرت مریم کے رشتہ کے کوئی بھائی تھے ان کے والدین نے ان کا نام ہارون حضرت موسیٰ کے بھائی ہارون کے نام پر تبرکاً رکھ دیا تھا۔ اب سنئے اکابر مفسرین کی تصریحات، امام فخرالدین رازی لکھتے ہیں: ”کان لھا اخ یسمی ھارون من صلحا بنی اسرائیل فعیرت بہ، وھٰذا ھو الاقرب“ (تفسیر کبیر ج٥، کذا فی السراج المنیر ) یعنی حضرت مریم کا بھائی ہارون بنی اسرائیل میں نیک آدمی تھا۔ مریم کو انہیں کا طعنہ دیا گیا تھا۔ اور یہی بات ٹھیک ہے۔ تفسیر رحمانی میں ہے ”یا اخت ھارون من ابویہ ومن ابیہ“ یعنی ہارون حضرت مریم کے سگے بھائی تھے یا سوتیلے بھائی تھے؟ تفسیر مدارک میں ہے۔ ”کان اخھا من ابیھا“ یعنی ہارون حضرت مریم کے سوتیلے بھائی تھے۔

١٧

صفحہ ٣٤١

دائی ...... ان کن صواحب یوسف...... آنحضرت نے اپنے آپ کو یوسف اور اپنی ازواج مطہرات کو ”یوسف والیاں“ ٹھہرایا ہے۔ (ص٢)

مجیب ...... آپ کا یہ بیان علم بیان سے جہل پر مبنی ہے۔ یہ تشبیہ ملفوف نہیں ہے نہ تشبیہ الجمع، بلکہ تشبیہ مفرد کی مفرد سے ہے جو بوجہ نہ مرقوم ہونے حرف تشبیہ کے موکد اور یہ بسبب نہ مذکور ہونے وجہ شبہ کے مجمل ہے، شاید آپ کو مشبہ بہ کہ مرکب اضافی ہونے کی وجہ سے مغالطہ ہوا ہے کہ آپ نے اس کو متعدد سمجھ لیا، اسے جہل مرکب کہوں یا تجاہل، مرکب اضافی میں طرفین تشبیہ متعدد نہیں ہوتے پس مضاف ایک مشبہ اور مضاف الیہ دوسرا مشبہ بہ نہیں ہوسکتا۔ آنحضرت ﷺ نے فرمایا ہے: ”ان حمزۃ اسد اللہ“ (فتح الباری) یعنی حضرت حمزہ اللہ کے شیر ہیں۔ اس میں حمزہؓ مشبہ ہیں اور ”اسد اللہ“ مشبہ بہ۔ یہ نہیں کہا جاسکتا کہ ”آنحضرت نے اپنے آپ کو خدا ٹھہرایا ہے اور اپنے چچا حمزہ کو شیر خدا۔“ اسی طرح ان کن صواحب یوسف میں ”زوجہ نبی“ مشبہ ہے اور ”صواحب یوسف“ مشبہ بہ۔ اور اخفاء مراد وجہ شبہ ہے۔ یوسف (بوجہ مضاف الیہ ہونے کے) کوئی دوسرا مشبہ بہ نہیں ہے کہ اس کا مشبہ ذات سرور کائنات علیہ السلام کو قرار دیا جائے اور کہا جائے کہ آنحضرت یوسف ہیں، جیسے اسد اللہ میں اللہ (بوجہ مضاف الیہ ہونے کے) دوسرا مشبہ بہ نہیں ہے کہ اس کا مشبہ ذات رسالت مآب کو قرار دیا جائے اور کہا جائے کہ آنحضرت معاذ اللہ خدا ہیں۔ بلکہ عم رسول ﷺ کی تشبیہ شیر خدا سے ہے اور زوجہ رسول ﷺ کی تشبیہ (حدیث مذکور میں) زنان یوسف سے ہے۔

دائی ...... حدیث میں آنحضرت کو ابن ابی کبشہ کہا گیا ہے جیسا کہ حدیث زیر بحث میں ”ابن مریم“ آتا ہے حالانکہ نہ حضور کے والد ماجد نہ آپ کے آباؤ اجداد میں کسی کا نام ابی کبشہ تھا۔

(ص٢)

مجیب ...... آپ کو بسنت کی بھی کچھ خبر ہے؟ دائی حلیمہ کے شوہر کی کنیت ابو کبشہ تھی اور یہ خود آنحضرت ﷺ نے فرمایا ہے لہذا ہم کو نہ کسی حاشیہ کے دیکھنے کی ضرورت ہے نہ شرح کی۔ سنئے صحابہ کی سیرت میں مشہور کتاب اصابہ میں ہے: ”ابو كبشة حاضن النبي ﷺ الذى كانت قريش تنسبه اليه فتقول قال ابن ابي كبشة هو الحارث بن عبدالعزى السعدى زوج حليمة (الى) عن ابن عباس ان النبى ﷺ قال حدثنى حاضنى ابو كبشه“ (جلد١ الخ) یعنی ابو کبشہ آنحضرت ﷺ کے دودھ باپ ہیں قریش آپ کو انہیں کی طرف منسوب کرتے اور کہتے کہ ابو کبشہ کا بیٹا، ان کا نام حارث تھا اور حلیمہ کے شوہر تھے۔ حدیث مرفوع میں وارد ہے۔ ابن عباس کہتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ میرے

١٨

دودھ باپ ابو کبشہ نے مجھے بیان کیا کہ.....“ جبکہ رسول اللہ ﷺ خود ان کو اپنا دودھ باپ رہے ہیں تو یہ حقیقت ہوئی اسی طرح ”ابن مریم“ سے حقیقت ہی مراد ہے۔

الدعوة عليه ما يستحقه -

دائی ...... بخاری کے حاشیہ پر لکھا ہے کہ عرب جیسے اوروں کی طرف منسوب کرتے تھے آپ کو بھی جو توحید کا قائل تھا۔

مجیب ...... حدیث نبی اور تصریح رسول کے بعد نہ کسی حاشیہ کی ضرورت ہے اور نہ کسی شرح کی۔ اذا جاء نهر الله بطل نهر معقل اور پھر یہ عربوں کی عادت بھی تو کسی حقیقت پر مبنی ہوتی تمام شراح بخاری بالاتفاق لکھتے ہیں کہ وہ مشرک بت پرست تھے۔ قسطلانی شرح بخاری، قسطلانی اور عینی شروح بخاری میں ہے۔ خالفهم في عبادتهم الاصنام الخ اور الشعرى، شیخ نورالحق بن شیخ عبدالحق محدث دہلوی حاشیہ بخاری میں، اور علامہ سید محمد انور شاہ حافظ فخر الدین شرح بخاری میں لکھتے ہیں: ”برخلاف مشرکین کے کہ وہ بت پرست تھے الخ“ یعنی یہ شخص عرب کی طرح بتوں کو نہیں پوجتا تھا۔ غرضیکہ یہ شخص توحید کا قائل تھا اور ابو کبشہ کو توحید کا قائل بتانا، اور آنحضرت ﷺ کو اس کا بیٹا کہنا، اس سے بڑھ کر کیا گالی ہوگی؟

استغفر الله منه -

دائی ...... امت پر ایک ایسا زمانہ آنے والا ہے کہ ان کے علماء آسمان کے نیچے بدترین مخلوق ہوں گے؟

مجیب ...... مسلمانو! سنتے ہو؟ یہ مرزائی تم سب کے اور تمہارے علماء کے حق میں کیسا کیسا بہتان بکتا ہے، پھر ان سے پوچھو کہ یہودیوں کی اصلاح کے لئے کوئی نبی آیا تھا یا نہیں؟ اگر کوئی نہیں آئے تھے بلکہ موسیٰ علیہ السلام کے بعد سے آخر تک سب یہودی ہی یہودی اور ان کے علماء کہلائے تھے۔ جن میں حضرت داؤد سلیمان جیسے جلیل القدر انبیاء بھی شامل تھے۔ جن کے متعلق النبيون الذين اسلمو للذين هادوا (پ ٦ المائدہ: ٤٤) اور اگر کوئی نبی آئے تھے، تو وہ صرف مریم کی صفات سے متصف ہونا کافی نہیں ہے بلکہ جس طرح یہود کی اصلاح کے لئے اللہ تعالیٰ داؤد کی طرح قتال اور حضرت سلیمان کی طرح حکومت و سلطنت بھی کرے۔ کیا مرزا صاحب نے ”یہودی امت“ کی اصلاح، وعظ و بیان، سیف و سنان اور حکومت و سلطنت سے کی تھی؟ اگر نہیں کی تھی، ہرگز نہیں وہ تو فرماتے ہیں: ”یہ عاجز تو ایک غریب اور درویش آدمی ہے“ جب مرزا درویشی اور غربت کے لباس میں آیا ہے۔ تو پھر یہ کیسے ”ابن مریم“ یا ”مسیح“ ہوا؟ قادیانی اس یہودی امت کی کیا اصلاح کر سکتے تھے جس کے متعلق وہ خود لکھتے ہیں کہ ”اس

صفحہ ٣٤١

دودھ باپ ابو کبشہ نے مجھے بیان کیا کہ ...... ”جبکہ رسول اللہ ﷺ خود ابو کبشہ کو اپنا دودھ باپ فرما رہے ہیں تو یہ حقیقت ہوئی اسی طرح ”ابن مریم“ سے بھی مراد حقیقت ہے۔ فبطل زعم ناشر الدعوۃ علیہ ما یستحقہ ـ

داعی ...... بخاری کے حاشیہ پر لکھا ہے کہ عرب جیسے شرک آباد ملک میں ایک شخص ابی کبشہ گزرا تھا جو توحید کا قائل تھا۔

مجیب ...... حدیث نبی اور تصریح رسول کے بعد نہ کسی حاشیہ کی ضرورت رہتی ہے۔ نہ شرح کی اذا جاء نہر اللہ بطل نہر معقل اور پھر یہ بالکل غلط ہے کہ ابو کبشہ خزاعی توحید کا قائل تھا۔ تمام شراح بخاری بالاتفاق لکھتے ہیں کہ وہ مشرک اور ستارہ پرست تھا۔ عمدۃ القاری، فتح الباری، قسطلانی اور عینی شروح بخاری میں ہے۔ خالف قریشا فی عبادۃ الاوثان فعبد الشعری، شیخ نور الحق بن شیخ عبد الحق محدث دہلوی تیسیر القاری اور ان کے پوتے شیخ الاسلام بن حافظ فخر الدین شرح بخاری میں لکھتے ہیں۔ برخلاف عرب عبادت شعریٰ کہ نام کوکبے ست میکرد یعنی یہ شخص عرب کی طرح بتوں کو نہیں پوجتا تھا۔ بلکہ ستارہ شعریٰ کی پرستش کرتا تھا، ایسے مشرک کو توحید کا قائل بتانا، اور آنحضرت ﷺ کو اس کا مشابہ قرار دینا۔ فرقہ مرزائیہ کا ہی کام ہے۔

استغفر اللہ منہ ـ

داعی ...... امت پر ایک ایسا زمانہ آنے والا ہے کہ وہ یہودی ہو جائیں گے تا آخر (ص ٣)

مجیب ...... مسلمانو! سنتے ہو؟ یہ مرزائی تم سب مسلمان کو یہودی بنا رہا ہے دیکھو اس جرات اور بہتان کو، پھر ان سے پوچھو کہ یہودیوں کی اصلاح کے لئے صرف حضرت عیسیٰ علیہ السلام ہی تو نہیں آئے تھے بلکہ موسیٰ علیہ السلام کے بعد سے تمام انبیاء بنی اسرائیل اسی غرض سے تشریف لائے تھے۔ جن میں حضرت داؤد سلیمان جیسے باسطوت پیغمبر بھی تھے۔ پڑھو آیت یحکم بہا النبیون الذین اسلموا للذین ہادوا (مائده) پس آنے والے شخص کے لئے محض عیسیٰ ابن مریم کی صفات سے متصف ہونا کافی نہیں ہے۔ بلکہ اسے حضرت یوشع کی طرح جہاد، حضرت داؤد کی طرح قتال اور حضرت سلیمان کی طرح عظیم بادشاہت بھی تو کرنی چاہئے تا کہ محمد ﷺ کی ”یہودی امت“ کی اصلاح، وعظ و بیان سیف و سنان ہر طرح سے کر سکے۔ کیا مرزا قادیانی ایسے ہی تھے؟ ہرگز نہیں وہ تو فرماتے ہیں: ”یہ عاجز اس دنیا کی حکومت اور بادشاہت کے ساتھ نہیں آیا، درویشی اور غربت کے لباس میں آیا ہے۔“ (ازالۃ اوہام ص ١٩٩، خزائن ج ٣ ص ١٩٨، ١٩٧) پھر مرزا قادیانی اس یہودی امت کی کیا اصلاح کر سکتے ہیں؟ دیکھ لو، ہاتھ کنگن کو آرسی کیا ہے؟ مرزا قادیانی

١٩

صفحہ ٣٤٣

آئے بھی اور چلے بھی گئے۔ لیکن کیا اصلاح کی؟ یہی نا کہ اپنے اتباع کے ماسوا تمام دنیا کے مسلمانوں کو کافر اور جہنمی بنا دیا۔ کیا اچھی اصلاح ہوئی؟ اور اپنے اندر عیسیٰ ابن مریم کی صفات کا کیسا اچھا ثبوت دیا۔ رسول اللہ ﷺ نے تو فرمایا تھا: ”يهلك الله فى زمانه الملل كلها الا الاسلام، تملاء الارض من السلم (ابو داؤد) “ یعنی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے زمانہ میں سوائے اسلام کے اور کسی دین کا پتہ بھی نہ ہوگا۔ ساری زمین مسلمانوں سے بھر جائے گی۔ لیکن مرزا قادیانی نے چالیس کروڑ مسلمانوں (اور بقول خود نوے کروڑ مسلمانوں (تحفہ گولڑویہ ص٦٧، خزائن ج١٧ ص٢٠٠) کو بوجہ مرزا قادیانی پر ایمان نہ لانے کے کافر بنایا ہے۔ (حقیقت الوحی ص١٦٣، خزائن ج٢٢ ص١٦٩) پس ساری زمین تو کافروں سے بھر گئی۔ انا للہ!

داعی ...... ان ینزل فیکم میں آنحضرت ﷺ نے صحابہ کو مخاطب کیا ہے کہ ابن مریم تم میں نازل ہوگا ..... الخ! (ص٤)

مجیب ...... خطاب صحابہ کے ساتھ مختص نہیں ہے بلکہ عامہ امت محمدیہ تا قیامت مخاطب ہے ابن خزیمہ وحاکم نے روایت نقل کی ہے۔ ”عن انس قال النبي ﷺ سیدرك رجال من امتی عيسى ابن مریم ...... الخ“ (کنز العمال ج٧ ص٦٠) یعنی میری امت کے لوگ عیسیٰ کا زمانہ پائیں گے نہ صحابہ لوگ اور دیگر احادیث صحیحہ کثیرہ میں حضرت عیسیٰ کا قرب قیامت تشریف لانا مصرح ہے ملاحظہ ہوں۔ قال لا تقوم الساعة حتى ينزل عيسى ابن مریم (مسند احمد ص٣٩٣ ج٢، ابن ماجہ ص٣٨) لن تقوم الساعة حتى ترون قبلها عشر آيات ...... ونزول عيسى ابن مریم (صحیح مسلم ص٣٩٣ ج٢) لا تقوم الساعة حتى فينزل عیسى بن مریم (صحیح مسلم ج٢ ص٣٩١) ظاهرين الى يوم القيامة فينزل عيسى ابن مريم (صحیح مسلم ص٢٨٧ ج١) كيف تهلك امة انا اولها والمهدى وسطها والمسيح آخرها (مشکوٰۃ ص٥٧٥) ان تمام حدیثوں میں حضرت عیسیٰ کا نزول قرب قیامت مذکور ہے اور پچھلی روایت میں امت محمدیہ کے آخر زمانہ میں حضرت مسیح کا ہونا مصرح ہے نہ عہد صحابہ میں نہ چودہ سو سال کے بعد۔

داعی ...... کسر صلیب کے یہ معنی ہیں کہ دین نصاریٰ کو باطل کریں گے۔ تا کہ حقیقتاً صلیب ٹوٹ جائے۔ (ص٣)

مجیب ...... آپ لوگوں کے دین وامانت کا ماتم کیا جائے یا علم وفضل کا فتح الباری سے عبارت نقل کر کے عمداً ترجمہ میں تحریف کرتے ہو اللہ سے ڈرو۔ عبارت مذکور یہ ہے: ”يبطل دين

٢٠

النصرانيه بان يكسر الصليب حقيقة (فتح الباری ج٦ ص٣٥٦) بتائیے یہ عبارت کسر صلیب کے کسی لفظ کا ترجمہ ہے؟ صحیح ترجمہ یوں ہے کہ دین نصرانیت کو باطل کریں گے تا کہ حقیقتاً صلیب حقیقت میں توڑ ڈالیں گے۔

اگر ابطال دین نصاریٰ ہی کسر صلیب ہے۔ (جیسا کہ آپ کا دعویٰ ہے) تو پھر حقیقتاً کسر صلیب ہوئی نہ حقیقت۔ حالانکہ لفظ حقیقتاً اس معنی کی تردید کر رہا ہے جو آپ کر رہے ہیں مجازاً یہ معنی ہو سکتے تھے ۔ مانیں کہ معنے ہوتے ہیں ۔ صحیح بخاری میں ہے: ”یکسر الصلیب“ ترجمہ: ”يبطل دين النصارىٰ“ ترجمہ: اس کا تیسیر القاری میں یوں لکھا ہے ”باطل کند دینہائے دیگر را تا نماند مگر دین اسلام“ (تیسیر القاری ج٢ ص٩٢) بلفظہ۔ بان کا قرآن میں لیس البر بان تاتوا (بقرہ:١٨٩) آیا ہے تو کیا اس کا ترجمہ یہ ہے ”تاکہ آؤ تم“ ترجمہ کسی مترجم نے ”تاکہ“ نہیں کیا ہے اور نہ یہ ترجمہ صحیح ہو سکتا ہے۔ اگر آپ کو شک ہو تو کسی سے عربی پڑھوا لیں۔ بان یبطل ..... الخ! غرضیکہ حضرت عیسیٰ کے لئے جہاں جہاں احادیث نبویہ اور حدیث میں اگر یکسر الصلیب آیا ہے تو مسند احمد میں لغوی کسر صلیب یعنی لکڑی یا دھات کی صلیب کا نام ونشان مٹا دیں گے اور ابوداؤد میں فیدق الصلیب آیا ہے یعنی آپ صلیب کو چور چور کر دیں گے یہ سب الفاظ دال بر حقیقت ہیں کیونکہ صلیب پرستی کا اس وقت زور تھا۔ اسی طرح عیسیٰ علیہ السلام بھی صلیب کو اپنے دست مبارک سے توڑیں گے تا کہ صلیب پرستی کا نام ونشان باقی نہ رہے گا چونکہ مرزا قادیانی بزعم خود عیسیٰ بن بیٹھے تھے اور صلیب ٹوٹی نہیں اس لئے آپ لوگ تاویل نہیں تحریف پر آمادہ ہو گئے۔ والعیاذ باللہ!

داعی ...... يقتل الخنزیر کے معنے ہرگز یہ نہیں کہ سوروں کو مارتے پھریں گے۔ یہ تو ان کی شان کے خلاف ہے بلکہ یہ مطلب ہے کہ آپ خنزیر صفت لوگوں کو ہلاک کریں گے۔ (ص٤)

مجیب ...... اب آپ کا فرض ہے کہ ایک نیا لغت تیار کریں جس میں کسر صلیب کے معنی ابطال دین صلیب کے معنی عیسائی، خنزیر کے معنی آدمی، دمشق کے معنی قادیان، باب لد کے معنی حاکم، باب کے معنی قادیان، لد کے معنے لودھیانہ، دجال کے معنی ریل گاڑی، گدھے کے معنی ریل گاڑی، زرد چادروں کے معنی مراق وسلس البول، مدینہ کے معنی قادیان وغیرہ لکھ دیا کریں اور اپنی ہر تحریر و تقریر میں اسی لغت مبیّنہ کا حوالہ دے دیا کریں۔ آپ خنزیر کے معنے آدمی کرتے ہیں اور لغت عرب کی رو سے یہاں ”یقتل“ من باب اطلاق الفعل وارادة المصدر ہے۔ یعنی حضرت عیسیٰ لوگوں کو قتل خنزیر کا حکم دیں جیسے کہ قرآن مجید میں ہے يا ایها الذین امنوا قاتلوا الذين

٢١

صفحہ ٣٤٣

النصرانيه بان يكسر الصليب حقيقة (فتح الباری ج١٣ ص ٤٨١) بتاؤ اس عبارت میں تا کہ کسی لفظ کا ترجمہ ہے؟ صحیح ترجمہ یوں ہے کہ دین نصرانیت کو اس طور پر باطل کریں گے کہ صلیب کو حقیقت میں توڑ ڈالیں گے۔

اگر ابطال دین نصاریٰ ہی کسر صلیب ہے۔ (بقول ناشر دعوة) تو یہ کسر صلیب مجازاً ہوئی نہ حقیقت۔ حالانکہ لفظ حقيقة اس معنی کی تردید کر رہا ہے۔ علاوہ ازیں بان کے معنی تا کہ نہیں ہوتے۔ بائیں کہ معنے ہوتے ہیں۔ صحیح بخاری میں ہے: ”یقیم به الملة العوجاء بان يقولو الا اله الا الله“ ترجمہ: اس کا تیسیر القاری میں یوں لکھا ہے ۔ ”راست کند بوے ملت ابراهیم را بائیں که می گویند کلمه توحید را“ (ص ٢٦١ ج ٢) تا کہ ترجمہ نہیں کیا ہے۔ قرآن میں ليس البر بان تاتو (بقره:١٨٩) رضوا بان يكونو (توبه:٨٧) کا ترجمہ کسی مترجم نے ”تا کہ“ نہیں کیا ہے اور نہ یہ ترجمہ صحیح ہو سکتا ہے اس کتاب کے شروع میں ہمارا خطبہ پڑھو۔ بان يبطل ...... الخ! غرضیکہ حضرت عیسیٰ کے ہاتھوں کسر صلیب حقیقتاً ہوگی صحیحین کی حدیث میں اگر یکسر الصليب آیا ہے تو مسند احمد میں لیمحو الصلیب وارد ہے۔ (ص٢٩ ج٢) یعنی صلیب کا نام و نشان مٹادیں گے اور ابوداؤد میں فیدق الصلیب مروی ہے (ص ١٣٥ ج٢) یعنی صلیب کو چور چور کر دیں گے یہ سب الفاظ دال بر حقیقت ہیں۔ دست مبارک سے توڑ پھوڑ ڈالا تھا۔ اسی طرح عیسیٰ علیہ السلام بھی صلیب کو اپنے دست مبارک سے چکنا چور کر دیں گے۔ اگر جوں کا نام و نشان باقی نہ رہے گا چونکہ مرزا قادیانی بزعم خود مسیح مدعو تو بنے اور کسر صلیب نہ کر سکے اس لئے آپ لوگ تاویل نہیں تحریف پر آمادہ ہو گئے۔ والعیاذ باللہ

داعی ...... يقتل الخنزیر کے معنے ہرگز یہ نہیں کہ سؤروں کو قتل کریں گے کیونکہ یہ ایک نبی کی شان کے خلاف ہے بلکہ یہ مطلب ہے کہ آپ خنزیر صفت لوگوں ...... الخ! (ص ٣) مجیب ...... اب آپ کا فرض ہے کہ ایک نیا لغت تیار کریں جس میں امت محمدیہ کے معنی یہودی، صلیب کے معنی عیسائی خنزیر کے معنی آدمی، دمشق کے معنی قادیان، کدعہ (اصل لفظ کرعہ ہے۔) کے معنی قادیان، لد کے معنے لودھیانہ، خردجال کے معنی ریل گاڑی، ابن مریم کے معنی غلام احمد، دو زرد چادروں کے معنی مراق وسلس البول، مدینہ کے معنی بہشتی مقبرہ وغیرہ وغیرہ لکھ دیں اور تحریر و تقریر میں اسی لغت انمیٹ السحر کا حوالہ دے دیا کریں۔ لوگ بلاچوں چرا مان لیں گے۔ ورنہ محاورہ عرب کی رو سے یہاں ”یقتل“ من باب اطلاق الفعل على القول ہے۔ یعنی یامر بالقتل حضرت عیسیٰ لوگوں کو قتل خنزیر کا حکم دیں جیسے کہ قرآن مجید میں ہے والله يكتب ما يبيتون (النساء)

٢١

صفحہ ٣٤٥

ای يأمر بكتاب ما يبيتون (تفسير جلالين والسراج المنير وغيره) یعنی منافقین راتوں میں جو مشورہ کرتے ہیں اللہ تعالیٰ ان کے لکھنے کا (ان فرشتوں کو) حکم دیتا ہے۔ جیسا کہ دوسرے جگہ فرمایا۔ ورسلنا لديهم يكتبون (زخرف) ان کے پاس ہمارے فرشتے لکھتے ہیں۔ اسی طرح صحیح بخاری میں ہے: ”آخر رسول الله ﷺ الكتاب فكتب...... الخ! (پ ١٠، پ ١١)“ یعنی آنحضرت نے رقعہ مع نامہ لیکر خود لکھ دیا اور ظاہر ہے کہ رسول اللہ ﷺ امی تھے لکھنا پڑھنا نہیں جانتے تھے پھر کیسے سارا صلحنامہ خود لکھ دیا؟ حقیقت یہ ہے کہ یہاں فعل کا اطلاق قول پر ہے۔ یعنی لکھنے کا حکم دیا۔ فتح الباری شرح بخاری میں ہے: ”كتب بمعنى امر بالكتابة وهو كثير كقوله كتب الى قيصر وكتب الى كسرى (ص ٢٢، پ ١٧)“ یعنی کتب معنے میں امر بالکتابہ کے ہے اور ایسا اطلاق بہت ہے جیسے کہ قیصر روم کو چٹھی لکھی خسرو کے فارس کو خط لکھا یعنی لکھوایا۔ اسی طرح مقتل الخنزیر کے معنے یامر بقتل الخنزیر ہیں یعنی مسیح قتل خنزیر کا حکم دیں گے۔ جس طرح آنحضرت ﷺ نے مدینہ طیبہ میں قتل کلاب کا حکم مرحمت فرمایا تھا۔ پس اگر امر بقتل کلاب شان مصطفوی کے خلاف تھا تو امر بقتل خنزیر بھی شان عیسیٰ کیخلاف ہوگا۔ والا فلا۔

داعی ..... ابن کثیر سے جو حدیث (تا) صفحہ نقل نہ کیا (ص ٣)

مجیب ..... حافظ ابن کثیر نے مشہور محدث ابن ابی حاتم سے باسند اپنی تفسیر جلد ثانی میں۔ یہ حدیث نقل کی ہے۔ قال رسول الله ﷺ لليهود ان عيسى لم يمت وانه راجع اليكم قبل يوم القيامة (ص ٢٤٠ ج ٢) حدیث مذکور کو محدث کبیر ابن جریر نے بھی اپنی (تفسیر جامع البیان جلد سوم ص ١٨٣) میں اور حافظ سیوطی نے (درمنثور جلد دوم ص ٣٦) میں نقل کیا ہے۔ یعنی آنحضرت ﷺ نے یہود سے فرمایا تھا کہ بے شک عیسیٰ نہیں مرے ہیں اور بے شک وہ لوٹ آنے والے ہیں۔ تمہاری طرف قیامت سے پیشتر پس جو شخص اس قولی نبوی سے منکر ہو وہ کافر ہے جیسا کہ شیخ ابوبکر بن اسحاق نے معانی الاخبار میں باسند نقل فرمایا ہے۔ عن جابر قال قال ﷺ من انكر نزول عيسى ابن مريم عليه السلام فقد كفر (فصل الخطاب لسیوطی) یعنی رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جو شخص نزول عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام کا انکار کرے وہ کافر ہو گیا۔

داعی ..... یہ حدیث نہیں بلکہ حسن بصری کا قول ہے ..... پس ایک انسان کے قول کی کیا حیثیت ہے۔ (ص ٣)

مجیب ..... وہ تو حدیث مرفوع تھی، حسن بصری کا بھی ایک قول تفسیر ابن کثیر جلد سوم میں بایں الفاظ باسند منقول ہے۔ عن الحسن وان من اهل الكتاب الا ليؤمنن به قبل موته قال

١

٢٢

قبل موت عيسى والله انه لحي الآن عند الله ولـ (ص ٣٤١ ج ٣) یعنی حسن بصری نے آیت نہیں ہے کوئی اہل علیہ السلام پر ان کی موت سے پہلے کی تفسیر میں فرمایا کہ موتہ عیسیٰ علیہ السلام کی موت سے پہلے پھر فرمایا (قسم ہے اللہ کی البتہ زندہ ہیں اور جب وہ اتریں گے تو سب لوگ ان پر ایمـ (تفسیر ابن جریر ص ١٢ ج ٦، درمنثور ص ٢٤١ ج ٢ اور فتح الباری شرح بخار ظاہر ہے کہ حسن بصری کا یہ قول قرآن مجید سے مستفاد و مستخرج جو اوپر منقول ہوئی۔

* داعی ..... اس کا نشان صحاح ستہ میں ہونا چاہئے تھا ..... الـ

مجیب ..... صحاح ستہ سے بہت سی حدیثیں اوپر ہم نے آـ احادیث نبویہ صحاح ستہ ہی میں محصور نہیں ہیں اور یہ تو بتائے آپ پیش کرتے ہیں؟ جناب مرزا قادیانی نے ضمیمہ انجام آـ میں جو حدیث خروج دجالہ لکھی ہے وہ صحاح ستہ میں کہاں

کسوف وخسوف در رمضان تحریر کی ہے وہ صحاح ستہ میں کس جـ

کذا درج کیا ہے وہ صحاح ستہ کی کس کتاب کا ہے؟

عیسیٰ کی سیاحت سے متعلق تحریر ہیں ان کا پتہ صحاح ستہ قادیانی کی تصانیف سے پیش کی جاسکتی ہیں۔ جو صحاح ستہ کی

مرزائیو! ایں گناہِ ست کہ در شہر

داعی ..... قبل موتہ کی ضمیر حضرت عیسیٰ کی لوٹتی ہی نہیں دوسری قرآت قبل موتہم مروی ہے دیکھو ابن جریر وتفسیر کشاف

مجیب ..... جو مرجع بہ کی ضمیر کا ہے وہی موتہ کی ضمیر کا فصاحت ہے۔

٢٣

صفحہ ٣٤٥

قبل موت عیسیٰ والله انه لحی الآن عند الله ولكن اذا نزل آمنوا به اجمعون (ص ٢٣١ ج ٣) یعنی حسن بصری نے آیت نہیں ہے کوئی اہل کتاب مگر ضرور ایمان لائے گا۔ عیسیٰ علیہ السلام پر ان کی موت سے پہلے کی تفسیر میں فرمایا کہ موتہ میں ضمیر عیسیٰ کی طرف لوٹتی ہے۔ یعنی عیسیٰ علیہ السلام کی موت سے پہلے پھر فرمایا (قسم ہے اللہ کی بے شک عیسیٰ اس وقت اللہ کے پاس البتہ زندہ ہیں اور جب وہ اتریں گے تو سب لوگ ان پر ایمان لائیں گے۔ حسن بصری کا یہ قول (تفسیر ابن جریر ص ١٢ ج ٦ در منثور ص ٢٣١ ج ٢ اور فتح الباری شرح بخاری پارہ ١٣ ص ٢٨١) میں بھی منقول ہے۔ ظاہر ہے کہ حسن بصری کا یہ قول قرآن مجید سے مستفاد و مستخرج ہے اور اسی حدیث مرفوع کے مطابق جو اوپر منقول ہوئی۔

داعی ...... اس کا نشان صحاح ستہ میں ہونا چاہئے تھا ...... الخ ! (ص ٣)

مجیب ...... صحاح ستہ سے بہت سی حدیثیں اوپر ہم نے آپ کے جواب میں نقل کر دی ہیں پھر احادیث نبویہ صحاح ستہ ہی میں محصور نہیں ہیں اور یہ تو بتائے کہ تین والی بے سند روایت کہاں سے آپ پیش کرتے ہیں؟ جناب مرزا قادیانی نے ضمیمہ انجام آتھم کے حاشیہ ص ٥٣، خزائن ج ١١ ص ٣٣٧ میں جو حدیث عروج و نزول لکھی ہے وہ صحاح ستہ میں کہاں ہے؟

کسوف و خسوف در رمضان تحریر کی ہے وہ صحاح ستہ میں کس جگہ ہے؟

کوفہ درج کیا ہے وہ صحاح ستہ کی کس کتاب کا ہے؟

عیسیٰ کی سیاحت سے متعلق تحریر ہیں ان کا پتہ صحاح ستہ سے بتاؤ؟ ایسی بہت سی حدیثیں مرزا قادیانی کی تصانیف سے پیش کی جاسکتی ہیں۔ جو صحاح ستہ کی نہیں ہیں۔

مرزائیو! ایں گناہے ست کہ در شہر شما نیز کنند

داعی ...... قبل موتہ کی ضمیر حضرت عیسیٰ کی لوٹتی ہی نہیں کیونکہ حضرت ابن عباسؓ سے اس کی دوسری قرأت قبل موتہم مروی ہے دیکھو ابن جریر و تفسیر کشاف (ص ٤)

مجیب ...... جو مرجع بہ کی ضمیر کا ہے وہی موتہ کی ضمیر کا ورنہ انتشارِ ضمائر لازم آئے گا جو مخل فصاحت ہے۔

٢٣

صفحہ ٣٤٦

کشاف میں نہ کسی تفسیر میں یہ آپ کا جھوٹ اور ابن عباس پر صریح اتہام ہے۔ اگر ابن عباسؓ کی قرات قبل موتہم کی تفسیر کشاف وابن جریر سے آپ دکھلادیں تو کم از کم میرے خیال میں اتنی تبدیلی ضرور ہوجائے گی کہ میں سمجھوں گا کہ مرزائی کبھی سچ بھی بول دیتے ہیں۔

احد الا لیؤمنن بعیسیٰ قبل موت عیسیٰ وهم اهل الكتاب الذين یكونون فی زمان نزوله (ص ٣٣٩ ج ١) یعنی بہ اور موتہ کی دونوں ضمیریں عیسیٰ کی طرف پھرتی ہیں اس معنی میں کہ اہل کتاب سب کے سب ضرور ایمان لائیں گے۔ عیسیٰ پر عیسیٰ کی موت سے پہلے اور یہ وہ اہل کتاب ہوں گے جو نزول عیسیٰ کے وقت موجود ہوں گے۔ پھر آپ کا یہ کہنا کہ ”ضمیر حضرت عیسیٰ کی طرف لوٹتی ہی نہیں“ قولِ مذکور کے مقابل میں غلط اور باطل ہوا یا نہیں؟

”انمـا معنـاه الا ليؤمنن بعيسى قبل موت عيسى (الى قوله) وان ذالك كان عنـد نـزولـه (ص ١٤ ج ٦) یعنی جز ایں نیست کہ معنیٰ آیت یہ ہے کہ ضرور ضرور عیسیٰ پر ایمان لائیں گے عیسیٰ کی موت سے پہلے اور یہ ان کے نزول کے وقت ہوگا۔ اس کے بعد احادیث نزول نقل کی ہیں اور اس عبارت کے پیشتر بڑی تفصیل سے اس معنی (اہل کتاب اپنی موت سے پہلے ایمان لائیں گے) کی خرابی بیان کرتے ہوئے ان الفاظ میں تردید کی ہے: ”فـلـو كـان كـل كتابي يؤمن بعيسى قبل موته لوجب ان لا يرث الكتابى اذا مات على ملته الا اولاده الصغار او البالغون منهم من اهل الاسلام ان كان له ولد صغیراً او بالغ مسلم وان لم يكـن لـه ولد صغیره ولا بالغ مسلم كان، يكون ميراثه مصروفـاً حيـث يصرف اليه مال المسلم يموت ولا وارث له، وان يكون حكمه حكم المسلمين فى الصلوٰۃ عليه وغسله وتقبيره، لان من مات مؤمناً بعيسى فقـد مـات مـؤمناً بمحمد وجميع الرسل ...... الخ! (ص ١٢ ج ٦) یعنی اگر ہر کتابی اپنے مرنے سے پہلے عیسیٰ پر ایمان لے آتا تو ایسی صورت میں جبکہ وہ ملت عیسیٰ پر مرا ہے ضروری ہے کہ اس کے وارث، چھوٹے بچے (جو فطرۃً اسلام پر ہوتے ہیں) یا وہ بالغ اولاد جو مسلمان ہوں، بشرطیکہ موجود ہوں وارث بنیں۔ اگر یہ موجود نہ ہو تو اس مرنے والے کا مال اسی طرح اسلامی بیت المال کے حوالہ کیا جائے۔ جس طرح لاوارث مسلمان مرنے والے کا مال اسلامی بیت المال کو دیا

٢٤

صفحہ ٣٤٧

جاتا ہے اور اس (کتابی ملت عیسیٰ پر ) مرنے والے کا حکم جنازہ پڑھنے ،غسل دینے اور دفن کرنے میں وہی ہونا چاہئے جو مسلمانوں کے لئے ہے اس لئے کہ جس کتابی کی موت اس حالت میں ہوئی کہ وہ عیسیٰ پر ایمان لا چکا تھا تو وہ محمد ﷺ اور تمام پیغمبروں پر ایمان لا چکا۔“ فرمائیے جناب ! اس کا کیا جواب ہے؟

٥....... حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی (جن کو مرزا قادیانی نے (ازالہ اوہام ص ١٥٥، خزائن ج٣ ص١٧٩) ”رئیس محدثین“ کا خطاب دیا ہے) قرآن مجید کی آیت مذکورہ کا ترجمہ یوں لکھتے ہیں۔ البتہ ایمان آورد بعیسیٰ پیش از مردن عیسیٰ پس ثابت ہو گیا کہ موتہ کی ضمیر حضرت عیسیٰ ہی کی طرف لوٹتی ہے۔ مُلا غیراور ناشر دعوۃ کا انکار پر مبنی بر جہل ہے۔

داعی ...... حضرت ابو ہریرہ یہ معنی لیتے تھے کہ اہل کتاب اس فیصلہ پر کہ مسیح مقتول بالصلیب نہیں ہوا۔ مسیح موعود کے وقت یقین کرلیں گے۔ ...... الخ ! (ص٤)

مجیب ...... حضرت ابو ہریرہ صحابی پر یہ صریح اتہام ہے ورنہ بتاؤ حضرت ابو ہریرہ سے یہ معنے کس حدیث کی کتاب میں منقول ہیں؟ بصورت عدم ثبوت اس آیت کو سن لو : انما یفتری الکذب الذين لا يؤمنون بايات الله وأولئك هم الکاذبون (نحل: ١٠٥) جھوٹی افترا وہی کرتے ہیں جن کو اللہ کی آیتوں پر ایمان نہیں ہے اور جھوٹے یہی لوگ ہیں اور یہ کہنا کہ مسیح کے مقتول بالصلیب نہ ہونے پر مسیح موعود کے وقت اہل کتاب یقین کریں گے بالکل غلط ہے۔ اس لئے کہ یہ یقین تو اہل کتاب کے بہت سے فرقوں کو محمد رسول اللہ ﷺ سے بہت پیشتر ہی سے حاصل تھا۔ جارج سیل نے قرآن کے انگریزی ترجمہ ص ٣٨ کے حاشیہ پر لکھا ہے۔ ”فرقہ بے سی لی ڈین جو عیسائیت کے شروع میں تھا۔ مسیح کے مصلوب ہونے سے انکار کرتا تھا۔ ایسے ہی فرقہ سیر تھین جو ان سے بھی پیشتر تھا اور کار پاکریشن جو مسیح کو انسان مانتے ہیں انکا بھی یہی اعتقاد تھا کہ مسیح مصلوب نہیں ہوئے‘ اسی طرح فوٹیس کا بھی ایک حوالہ نقل کیا ہے اور ذرا یہ تو بتائیے کہ آپ کے عقیدہ کے مطابق مسیح موعود آیا اور چلا بھی گیا۔ کیا اہل کتاب نے اس فیصلہ پر کہ مسیح مقتول بالصلیب نہیں ہوا۔ یقین کرلیا ہے؟ واذلیس فلیس افسوس کوئی بات تو ٹھکانے کی کرتے۔

داعی ...... حیات مسیح کا عقیدہ نصرانی ہے نہ اسلامی ...... الخ ! (ص٤)

مجیب ...... حضرت عیسیٰ کی مصلوبیت اور موت کا عقیدہ نصرانی ہے اور اس کا گھڑنے والا پولوس ہے۔ پڑھو پولوس کے خطوط رومیوں اور کرنتھیوں کے نام جو عہد نامہ جدید میں منقول ہیں۔

داعی ...... خدا نے دو ہزار برس سے ان کو زندہ اور اپنی طرح سے حی و قیوم رکھا ہوا ہے۔ (ص٢)

٢٥

صفحہ ٣٤٨

مجیب...... خدا کی پناہ اس افتراء سے، کس مسلمان کا یہ عقیدہ ہے کہ حضرت عیسیٰ خدا کی طرح حی وقیوم ہیں؟ جبکہ ہم ان کی موت بعد النزول کے قائل ہیں۔ ان احادیث نبویہ کو غور سے پڑھو: ”ثم يتوفى يصلى عليه المسلمون ويدفنونه (مسند احمد ج٢ص٤٣٧) ثم يموت فيدفن معي في قبري (مشکوۃ ص٤٧٢) يعمل فيهم بكتاب الله وسنتى ويموت (الاشاعۃ فی اشراط الساعۃ للبرزنجی ص ٢٤٩ عن ابی الشیخ) ان عيسى يأتى عليه الفناء (ابن جریر ج٣ص١٠٠، ١٠١)“ یعنی آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ بعد نزول ١...... عیسیٰ فوت ہوں گے مسلمان ان کا جنازہ پڑھیں گے اور دفن کریں گے۔ ٢...... پھر عیسیٰ مریں گے بعدہ میرے مقبرہ میں میرے پاس مدفون ہوں گے۔ ٣...... عیسیٰ قرآن وحدیث پر عمل کریں گے اور مرجائیں گے۔ ٤...... عیسیٰ پر فناء آئے گی (یہ نصاریٰ سے آنحضرت ﷺ نے فرمایا تھا) نیز اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ کی زبان سے کہلوایا تھا: یوم اموت (مریم:٣٣) جس دن میں مروں گا پس فناء پذیر ہستی کس طرح اللہ تعالیٰ کی طرح حی و قیوم ہوسکتی ہے اور کون مسلمان ایسا کہہ سکتا ہے؟ درحقیقت یہ تمام مسلمانوں پر اتہام ہے۔ اور تہمت لگانی مرزائیوں کے بائیں ہاتھ کا کھیل ہے۔

دائی...... وفات مسیح کے عقیدہ کو لبیک کہئے (تا) عیسائیت کی بنیادیں کھوکھلی اور عیسائی مذہب پاش پاش ہوجاتا ہے۔ (ص٤)

مجیب...... وفات مسیح کا عقیدہ رکھنے سے عیسویت کی بنیادیں مستحکم اور مذہب عیسوی انتہاء درجہ کی تقویت پاتا ہے۔ اس لئے کہ نصرانیوں کے مذہب کا دارو مدار کفارہ پر ہے اور وفات مسیح دلیل کفارہ ہے۔ البتہ حیات مسیح کے عقیدہ سے کفارہ باطل ہوجاتا ہے۔ اور نصرانیت کی بنیادیں کھوکھلی اور عیسوی مذہب پاش پاش ہوجاتا ہے۔ اب میں آپ کے الفاظ میں کہتا ہوں۔ وفات مسیح کا عقیدہ نصرانی ہے۔ نہ اسلامی، افسوس اور صد افسوس کہ قادیانی مبلغین نصرانی عقیدہ کی تبلیغ واشاعت کر رہے ہیں اور عیسائیوں کے عقیدہ کفارہ کی تائید کر رہے ہیں جس سے ہزاروں اسلام کے قائل حلقہ بگوش عیسویت ہورہے ہیں۔ اسی کو کہا ہے۔

زموت حضرت عیسیٰ بنا کفارہ محکم کرد
دلیری ہا بدید پرستاران مرزا را

و آخر دعوانا ان الحمد لله رب العالمين۔ والصلوة والسلام على خاتم المرسلين وآلہ واصحابه وسائر اتباعه اجمعين! ٢٩؍ جمادی الاخریٰ ١٣٥٢ھ، مطابق ٢٠؍ اکتوبر ١٩٣٣ء

٢٦

PDF 350

انا خاتم النبیین لا نبی بعدی

سنو آخری نبی میں ہوں میرے بعد کوئی نبی نہیں

معیار نبوت

(انجمن اشاعت الاسلام بنارس کا ٹریکٹ نمبر ٧)

سیکرٹری انجمن اشاعت الاسلام بنارس

صفحہ ٣٥١

بسم الله الرحمٰن الرحیم

الحمد لله الذی قال فی کتابه المبین، قل صدق الله فاتبعوا ملة ابراهیم حنیفا وما کان من المشرکین۔ والصلوة والسلام علی محمدن الصادق المصدوق الذی جاء بالصدق وصدق المرسلین۔ و علیٰ اله وصحبه والذین صدقوا انبیاء الله ونصروا دین نبیهم حتی اتا همالیقین۔ وقاتلوا الذین کذبوا علی الله وبرزوهم فی حلل الانبیاء بعد خاتم النبیین وعلیٰ اولیاءه وسائر اتباعه اجمعین۔

مسلمانو! ابوالبشر حضرت آدم علیہ الصلوٰۃ والسلام کے قرنوں بعد جبکہ بنو آدم میں مسئلہ توحید، اختلافی مسئلہ بن گیا اور لوگوں کو رفتہ رفتہ توحید سے نفرت اور شرک واوہام پرستی سے الفت پیدا ہونے لگی تو اللہ تعالیٰ نے اپنے سچے رسولوں کو بھیجنا شروع کیا تا کہ ان کے ذریعے سے نور حق واضح ہو اور ظلمت باطل کا نور جیسا کہ سورہ یونس میں ارشاد ہے: ”وما کان الناس الامة واحدة فاختلفوا (یونس:١٩)“ اور سورہ بقرہ میں فرمایا: ”کان الناس امة واحدة بعث الله النبیین مبشرین ومنذرین وانزل معهم الکتاب بالحق لیحکم بین الناس فیما اختلفو فیه فیه (بقرہ:٢١٣)“ یعنی سب لوگ ایک دین (توحید) پر تھے پھر انہوں نے اختلاف کیا تو اللہ تعالیٰ نے نبیوں کو خوشخبریاں سنانے والے اور ڈرانے والے بنا کر بھیجا اور ان پر سچی کتاب اتاری تا کہ لوگوں کے اختلافات کا فیصلہ کردے۔

انبیاء کرام نے تشریف لا کر تمام اختلافات دور کئے، راہ حق پر گامزن ہونے والوں کو وعدہ جات کی بشارت سنائی اور باطل پرستوں کو وعید عذاب سے ڈرایا۔ اپنی صداقت کے لئے اللہ کے حکم سے معجزے دکھائے، پیش گوئیاں کیں جن کو منکرین نے بھی حرف بحرف پوری ہوتے ہوئے دیکھا۔ لیکن نتیجہ وہی ڈھاک کے تین پات، نہ ماننا تھا نہ مانے۔ جائتهم رسلهم بالبینات وما کانوا لیومنوا (یونس:١٣) یعنی پیغمبر دلائل و معجزات لائے پر لوگ ایمان نہ لائے بلکہ ان کی صداقت اور رسالت کو اپنے خود ساختہ معیاروں پر جانچنا چاہا۔ کسی نے کہا کہ:

هذا الا بشر مثلكم ياكل مما تأكلون، و يشرب مما تشربون، ولئن اطعتم

٢

بشراً مثلکم انکم اذا لخاسرون (مومنون:٣٣،٣٤) کھاتے ہو یہ کھاتا ہے جو تم پیتے ہو یہ پیتا ہے۔ اگر میں رہو گے۔ اللہ پاک نے ان کو جواب دیا: ”وما فسئلوا اهل الذکر انکنتم لا تعلمون، و وما کانوا خالدین (انبیاء:٧،٨)“ یعنی ہم نے طرف ہم وحی کرتے رہے، سو جاننے والو سے پوچھ روح) نہیں بنایا تھا کہ وہ کھانے نہ کھائیں اور وہ ہمیـ

لہذا الرسول یاکل الطعام ويمشى فى کھاتے ہیں اور بازاروں میں پھرتے ہیں۔ اللہ نـ المرسلین الا انهم لیاء کلون الطعام ويمشـ نے جتنے رسول بھیجے سب ہی تو کھانے کھاتے اور بـ

سے اس کا گھر بھرا ہو، ”او یلقی الیه کنز او تکون پر خزانے برسیں۔ اس کا اپنا باغ ہو جس سے (پھل الذی ان شاء جعل لک خیراً من ذلک جـ لک قصوراً (فرقان:١٠)“ بابرکت ہے وہ اللـ سے ایسے باغات مہیا کردے سکتا ہے۔ جس کے نـ محلات بھی دے سکتا ہے۔ (لیکن ان چیزوں کو معیـ

جواب دیا: ”ولقد ارسلنا رسلا من قبلک ہم نے رسولوں کو بیویاں اور اولاد مرحمت فرمائی تھیـ

و وقت کا بھی علم ہونا چاہئے اور وہ آکر دریافت کرتـ صادقين قل انما العلم عند الله وانمـ

صفحہ ٣٥١

بشراً مثلكم انكم اذا لخاسرون (مومنون:٣٤،٣٣) دیکھو جی یہ تو تمہارے جیسا بشر ہے جو تم کھاتے ہو یہ کھاتا ہے جو تم پیتے ہو یہ پیتا ہے۔ اگر تم نے اپنے جیسے بشر کی اطاعت کی تو تم خسارہ میں رہو گے۔ اللہ پاک نے ان کو جواب دیا: ”وما ارسلنا قبلك الا رجالا نوحى اليهم فسئلوا اهل الذكر انكنتم لا تعلمون، وما جعلنا ہم جسداً لا ياكلون الطعام وما كانوا خالدين (انبیاء:٨،٧) “ یعنی ہم نے جتنے رسول بھیجے سب مرد (انسان) تھے جن کی طرف ہم وحی کرتے رہے، سو جاننے والو سے پوچھ لو اگر تم نہیں جانتے اور ہم نے ان کو جسم (بلا روح) نہیں بنایا تھا کہ وہ کھانے نہ کھائیں اور وہ نہ ہمیشہ رہنے والے تھے۔

لهذا الرسول ياكل الطعام ويمشى فى الاسواق (فرقان:٧) یہ کیسے پیغمبر ہیں کھانا کھاتے ہیں اور بازاروں میں پھرتے ہیں۔ اللہ نے جواب دیا: ”وما ارسلنا قبلك من المرسلين الا انهم لياكلون الطعام ويمشون فى الاسواق (فرقان:٢٠) “ یعنی ہم نے جتنے رسول بھیجے سب ہی تو کھانے کھاتے اور بازاروں میں پھرتے تھے۔

سے اس کا گھر بھرا ہو ’او يلقى اليه كنز او تكون له جنة ياكل منها (فرقان:٨) “ اس پر خزانے برسیں۔ اس کا اپنا باغ ہو جس سے (پھل) کھائے، ان کو جواب دیا گیا: ”تبارك الذي ان شاء جعل لك خيراً من ذالك جنات تجرى من تحتها الانهار ويجعل لك قصوراً (فرقان:١٠) “ بابرکت ہے وہ اللہ اگر چاہے تو رسول کو اس سے کہیں بڑھ کر بہت سے ایسے باغات مہیا کردے سکتا ہے۔ جس کے نیچے سے پانی کی نہریں جاری ہوں اور بہت سے محلات بھی دے سکتا ہے۔ (لیکن ان چیزوں کو معیار نبوت سمجھنا کافروں کا جہل ہے)

جواب دیا: ”ولقد ارسلنا رسلا من قبلك وجعلنا لهم ازواجا وذرية (رعد:٣٨) “ ہم نے رسولوں کو بیویاں اور اولاد مرحمت فرمائی تھیں۔

و وقت کا بھی علم ہونا چاہئے اور وہ آ کر دریافت کرتے۔ ”متى هذا الوعد ان كنتم صادقين قل انما العلم عند الله وانما انا نذير مبين (ملك:٢٦،٢٥) “ بتاؤ وعدہ

٣

صفحہ ٣٥٣

عذاب کب پورا ہوگا؟ جواب ملا: کہہ دو کہ علم خدا کو ہے میں تو (منکر کو عذاب سے ) ڈرا دینے والا ہوں۔ ”یسئلونک عن الساعة ایان مرساها قل انما علمها عند ربی لا یجلیها لوقتها الا هو (اعراف: ١٨٧) “ پوچھتے ہیں کہ قیامت کب قائم ہوگی؟ (جواب ملا) کہہ دو کہ اس کا علم اللہ ہی کو ہے وہی اس کو اپنے وقت پر ظاہر کرے گا۔

نے فیصلہ کر دیا کہ ایسے رسول کی ہم کو ضرورت نہیں اللہ کو جو پیغام دینا ہو ہم سے براہ راست فرما دے۔ جیسا کہ قرآن مجید میں ان کا قول ہے۔ ارشاد ہے: ”وقال الذین لا یعلمون لولا يكلمنا الله اوتاتينا آية (بقره: ١١٨) “ بے علموں نے کہا کہ اللہ خود ہم سے کیوں نہیں بولتا یا کوئی بڑا نشان ظاہر ہو۔ اللہ نے فرمایا : ”ما كان لبشر ان يكلمه الله الا وحيا او من وراء حجاب او يرسل رسولا فيوحى باذنه ما يشاء ...... الخ ! (الشوری: ٥١) “ یعنی اللہ کسی بشر سے کلام نہیں کرتا مگر اس صورت میں کہ اس پر خفیہ وحی کرے یا پس پردہ فرمائے یا فرشتہ بھیجے جو اس کے اذن سے اس بشر کو وحی پہنچائے۔

نزل ملئكة (مومنون: ٢٤) لولا انزل علينا الملئكة (فرقان: ٢١) “ یعنی اللہ فرشتہ کو اتار دے اللہ نے جواب دیا: ”ولو جعلناه ملكا لجعلناه رجلا وللبسنا عليهم ما يلبسون (انعام: ٩) “ اگر ہم فرشتہ کو رسول بنا کر بھیجیں تو آدمی کی شکل میں بھیجیں گے۔ پھر تو وہی شبہ ہوگا جو انسانی پیغمبروں پر تم کو ہے۔

”لولا انزل اليه ملك فيكون معه نذيرا (فرقان:٧) “ یعنی کیوں پیغمبر کی طرف فرشتہ نہیں اتارا گیا جو اس کے ساتھ ہم کو انذار کرے۔ جواب ملا: ”ولو انزلنا ملكا لقضى الامر ثم لا ينظرون (انعام: ٨) “ یعنی فرشتہ کے آنے پر تو معاملہ کا فیصلہ ہی ہو جائے گا اور منکرین کو پھر مہلت نہیں ملے گی۔

”وقالوا لولا انزل عليه آيات من ربه (عنکبوت: ٥٠) “ خدا پیغمبر پر نشانیاں (معجزے) کیوں نازل نہیں فرماتا؟ ان سے کہا گیا: ”قل انما الآيات عند الله وانما انا

نذير مبين اولم يكفهم انا انزلنا علي نکبوت : ٥٠، ٥١) “ اے پیغمبر ان سے فرمادو کہ معجزے اور سنانے والا ہوں، کیا ان کو (یہ معجزہ) کافی نہیں جو کتاب ہے؟ یعنی سب بڑا معجزہ قرآن مجید موجود ہے۔

تأتهم بآية قالوا لولا اجتبيتها قل انما اتبع م من ربكم وهدى و رحمه لقوم يؤمنون واذ لعلكم ترحمون (اعراف: ٢٠٤،٢٠٣) “ اے پیغ کہتے ہیں کہ از خود کیوں نہیں بنالائے۔ ان کو جواب دیج یہ قرآن بڑا معجزہ موجود ہے جو ماننے والوں کے لیے اس کو سنتے ہی نہیں تم کو چاہئے کہ ( جب قرآن پڑھا جا پر رحمت (ہدایت نصیب ) ہو۔“ سبحان اللہ کیسا معقول

دوسری کتاب لے آؤ یا اسی میں کچھ ردو بدل کر دو ۔ ”قا بقرآن غير هذا او بدله (یونس: ١٥) “ کاف اس کو بدل دؤ جواب دیا گیا قل ما يكون لى ان يوحى الى (الى قوله) فقد لبثت في (یونس: ١٥، ١٦) یعنی مجھے حق نہیں کہ کلام الہی کو خو نے اپنی پہلی ساری عمر تم میں بسر کی ہے۔ ذرا عقل سے کرتے نہیں دیکھا، تو اب مجھ سے کس وجہ سے جعل س

کے پاس سے لکھا ہوا قرآن اتارلاؤ، ہم مان لیں گے لرقيك حتى تنزل علينا كتابا نقرؤه ( صرف چڑھ جانے کی سند نہیں وہاں سے لکھا ہوا قرآ دیا گیا قل سبحان ربي هل كنت الا بش

٥

صفحہ ٣٥٣

نذير مبين اولم يكفهم انا انزلنا عليك الكتاب يتلى عليهم (حوالہ مرقومہ:٥٠، ٥١) ”اے پیغمبر ان سے فرمادو کہ معجزے اللہ کے اختیار میں ہیں میں تو صرف ایک ڈر سنانے والا ہوں، کیا ان کو (یہ معجزہ) کافی نہیں جو کتاب ہم نے اتاری ہے اور ان پر پڑھی جاتی ہے؟ یعنی سب بڑا معجزہ قرآن مجید موجود ہے۔

تاتهم بآية قالوا لولا اجتبيتها قل انما اتبع ما يوحى الى من ربی، ھذا بصائر من ربكم وھدی و رحمه لقوم يؤمنون واذ قرئ القرآن فاستمعوا له وانصتو لعلكم ترحمون (اعراف:٢٠٣، ٢٠٤) ”اے پیغمبر جب آپ کوئی معجزہ نہیں پیش کرتے تو یہ کہتے ہیں کہ از خود کیوں نہیں بنالائے۔ ان کو جواب دیجئے کہ میں تو صرف وحی الہی کا تابع ہوں۔ یہ قرآن بڑا معجزہ موجود ہے جو ماننے والوں کے لیئے ہدایت اور رحمت کا سبب ہے (افسوس کہ تم اس کو سنتے ہی نہیں تم کو چاہئے کہ ) جب قرآن پڑھا جائے تو تم چپ چاپ ہو کر غور سے سنو تاکہ تم پر رحمت ( ہدایت نصیب ) ہو۔“ سبحان اللہ کیسا معقول جواب ہے۔

دوسری کتاب لے آؤ یا اسی میں کچھ ردوبدل کردو۔ ”قال الذين لا يرجون لقاء نا ائت بقرآن غير هذا او بدله (یونس:١٥) “ کافروں نے کہا کہ اس کے سوا دوسرا قرآن لاؤ یا اس کو بدل دو‘ جواب دیا گیا قل ما يكون لى ان ابدله من تلقاء نفسى ان اتبع الا ما يوحى الى (الى قـولـه) فـقـد لبثت فيكم عمـرا من قبله افلا تعقلون (یونس:١٥، ١٦) یعنی مجھے حق نہیں کہ کلام الہی کو خود بدل دوں میں تو وحی ربانی کا تابع ہوں میں نے اپنی پہلی ساری عمر تم میں بسر کی ہے۔ ذرا عقل سے کام لو۔ یعنی پہلے کبھی تم نے مجھے جعل سازی کرتے نہیں دیکھا، تو اب مجھ سے کس وجہ سے جعل سازی کی توقع رکھتے ہو؟

کے پاس سے لکھا ہوا قرآن اتار لاؤ ، ہم مان لیں گے اور تـــرقـــى فــى السـمـاء ولن نؤمن لرقيك حتـى تنزل علينا كتابا نقرؤه (بنی اسرائیل:٩٣) آپ آسمان پر چڑھ جائیں اور صرف چڑھ جانے کی سند نہیں وہاں سے لکھا ہوا قرآن لانا ہوگا جس کو ہم پڑھ لیں گے ان کو جواب دیا گیا قل سبـحـان ربی هل كنت الا بشرا رسولا (آیت:٩٣) آپ فرمادیں کہ میرا

٥

صفحہ ٣٥٥

رب پاک ہے۔ (کہ کوئی اس پر زور وز بر دستی کرے) میں تو صرف (فرمانبردار ) انسان اور رسول ہوں۔“ کفار کو اس بات کا علم تھا کہ آنحضرت ﷺ معراج جسمانی کے مدعی ہیں۔ اسی لئے انہوں نے ترقٰی فی السماء کے بعد یہ قید بھی لگا دی۔ لن نؤمن لرقيك حتى تنزل علينا كتابا نقرئه کہ مبادا آپ پچھلے اسراء (معراج) کا حوالہ نہ دے دیں۔ اعلام ...... یہاں پر یہ بتا دینا ضروری ہے کہ فقرہ هل كنت الا بشرا رسولاً، آسمان پر چڑھ جانے کے محال ہونے پر دلالت نہیں کرتا، بسہ وجہ اول آیت مذکورہ میں منکرین کے اور بھی اعتراضات وسوالات کا تذکرہ ہے اور ان کل امور کا ممکن اور غیر ممتنع ہونا قرآن مجید کی دوسری آیتوں سے صاف صاف ثابت ہے۔ دوم انبیاء کی ذات سے خرق عادت امروں کا باذن الہٰی واقع ہونا مستبعد نہیں ہے عادت جاریہ کے خلاف کسی امر کا پیغمبر سے صدور ہی تو معجزہ ہے۔ سوم کفار کا سوال ہی بتاتا ہے کہ وہ ان امور کا ظہور پیغمبر سے ممکن جانتے تھے۔ اسی لئے انہوں نے کہا کہ آپ ان ممکنات کو بصورت واقعات کر دکھائیں۔

معیار نبوت

ناظرین ! آپ منتظر ہوں گے کہ اصل معیار نبوت سے آپ کو باخبر کیا جائے لیکن ذرا ٹھہریئے۔ پہلے آپ کو یہ بتا دوں کہ منکرین اسلام کے خود ساختہ معیاروں کی طرح پنجابی متنبی کی امت نے بھی ایک جدید معیار گھڑ لیا ہے جو یہ ہے۔ فقد لبثت فيكم عمراً من قبله (یونس: ١٦) ابھی آپ اوپر نمبر ١١ میں پڑھ آئے ہیں کہ فقرہ مذکورہ کفار کے تبدیلی قرآن کی فرمائش کے جواب میں وارد ہوا ہے جو محمد رسول اللہ ﷺ کے ساتھ مختص ہے۔ معیار نبوت وہ ہے جس پر تمام انبیاء ورسل برابر ہیں۔ انبیاء سابقین نے نہ تو اپنی عمر سابق بطور معیار کے پیش کی ہے نہ اس معیار پر تمام انبیاء پورے اتر سکتے ہیں، موسیٰ علیہ السلام نے تو اس معیار کا صاف انکار کیا ہے۔ جبکہ فرعون نے ان کی سابق زندگی کو قتل قبطی اور احسان فراموشی وغیرہ سے متہم کیا تھا اور کہا تھا: ”لبثت فينا من عمرك سنين۔ وفعلت فعلتك التى فعلت وانت من الكافرين (شعراء: ١٨، ١٩) “ یعنی اے موسیٰ تو نے اپنی عمر کے بہت سے سال ہم میں گزارے ہیں اور تو نے وہ کام (قتل) کیا جو کیا اور تو ناشکرا ہے، تو موسیٰ علیہ السلام نے جواب دیا: ” قال فعلتها اذاً وانا من الضالين ففررت منكم لما خفتكم (شعراء: ٢٠، ٢١) “ میں نے یہ کام (قتل) اس وقت کیا جب کہ میں گمراہوں سے تھا پھر تمہارے خوف سے میں نے راہ فرار اختیار کی (مطلب یہ کہ میں اپنی صداقت میں اپنی پہلی زندگی نہیں پیش کر رہا ہوں بلکہ معجزہ عصا و ید بیضا

٦

پیش کرتا ہوں) اور دیکھو لوط علیہ السلام اہل سدوم کے باشندہ نہ تھے۔ تو سدوم والے لوط کی پہلی زندگی کے پیغمبر کی سابق زندگی معیار نبوت نہیں ہو سکتی۔

معیار نبوت کیا ہے؟

معیار نبوت وہ ہے جس پر تمام پیغمبر برابر فرمایا ہے: ” وما ارسلنا قبلك الا رجالا نوحى فانجيناهم ومن نشاء واهلكنا المسرفين بھیجے جن کو ہم وحی کرتے تھے ان سے جو وعدے ہم ن بچایا اور جس کو ہم نے چاہا اور منکرین ومکذبین کو ہلاک ہے کہ پیغمبر وحی الٰہی سے جو خبر دیتا ہے جو پیش گوئیاں نہ سچی نکلیں۔ وحی تو اللہ عالم الغیب کرتا ہے۔ اگر پیغ الزام اللہ پر آئے گا کہ نعوذ باللہ خدا نے جھوٹ کہا، اللہ صادق القول ہے، جھوٹ کے شائبہ سے بھی پاک

اللہ حديثا (نساء: ٨٧) “ اللہ سے زیادہ با الله قيلا (ايضاً: ١٢٢) “ کہہ دو کہ اللہ سے الله (آل عمران: ٩٥) ان الله لا يخلف المـ نہیں کرتا ” لن يخلف الله وعده (حج

غرض اس مضمون کی آیتیں بہت ہیں۔

حضرت یونس کا وعدہ

امت مرزائیہ کہتی ہے کہ اللہ نے یون وعدہ کیا تھا۔ لیکن ہلاک نہیں کیا ، دوسرے لفظوں م صریح جھوٹ بولا ، پناہ بخدا، پناہ بخدا، آسمان پھ ہو جاتی! الله اكبر، كبرت كلمة تخرج من مسلمانو! سنو، حضرت یونس علیہ السلا یونس، سورہ انبیاء اور سورہ قلم میں اختصار کے سا لیکن کہیں بھی اللہ کا وعدہ حضرت یونس علیہ السلا

صفحہ ٣٥٥

پیش کرتا ہوں) اور دیکھو لوط علیہ السلام اہل سدوم کی طرف بھیجے گئے حالانکہ وہ خود سدوم کے باشندہ نہ تھے۔ تو سدوم والے لوط کی پہلی زندگی کے حالات سے کیونکر واقف ہو سکتے تھے؟ پس پیغمبر کی سابق زندگی معیار نبوت نہیں ہو سکتی۔

معیار نبوت کیا ہے؟

معیار نبوت وہ ہے جس پر تمام پیغمبر برابر ہیں اور وہ یہ ہے جس کو اللہ پاک نے بیان فرمایا ہے: ”وما ارسلنا قبلک الا رجالا نوحی الیہم............. ثم صدقنا ہم الوعد فانجیناہم ومن نشاء واہلکنا المسرفین (انبیاء: ٧ تا ٩)“ یعنی جتنے رسول ہم نے بھیجے جن کو ہم وحی کرتے تھے ان سے جو وعدے ہم نے کئے سچے کئے ان کو ہم نے (مکر کفار سے) بچایا اور جس کو ہم نے چاہا اور منکرین و ماکرین کو ہلاک کر دیا۔ اس آیت نے بتایا کہ معیار نبوت یہ ہے کہ پیغمبر وحی الٰہی سے جو خبر دیتا ہے جو پیش گوئیاں کرتا ہے وہ حرف بحرف سچی نکلتی ہیں، اور کیوں نہ سچی نکلیں۔ وحی تو اللہ عالم الغیب کرتا ہے۔ اگر پیش گوئیاں اور خبریں جھوٹی ثابت ہوں تو اس کا الزام اللہ پر آئے گا کہ نعوذ باللہ خدا نے جھوٹ کہا، خدا ہی نے جھوٹا وعدہ کیا والعیاذ باللہ۔ حالانکہ اللہ صادق القول ہے، جھوٹ کے شائبہ سے بھی پاک ہے، اللہ فرماتا ہے: ”ومن اصدق من الله حدیثا (نساء:٨٧)“ ﴿اللہ سے زیادہ باتوں میں کون سچا ہے؟﴾ ”ومن اصدق من الله قیلا (ایضاً: ١٢٢)“ ﴿بھلا اللہ سے زیادہ قول میں کون سچا ہے۔﴾ ”قل صدق الله (آل عمران:٩٥) ان الله لا یخلف المیعاد (رعد:٣١)“ ﴿اللہ وعدوں کا خلاف نہیں کرتا﴾ ”لن یخلف الله وعدہ (حج:٤٧)“ ﴿ہرگز اللہ وعدہ خلاف نہ کرے گا۔﴾

غرض اس مضمون کی آیتیں بہت ہیں۔

حضرت یونس کا وعدہ

امت مرزائیہ کہتی ہے کہ اللہ نے یونس علیہ السلام سے ان کی قوم کو ہلاک کر دینے کا وعدہ کیا تھا۔ لیکن ہلاک نہیں کیا، دوسرے لفظوں میں مرزائیوں کے نزدیک خدا نے اپنے پیغمبر سے صریح جھوٹ بولا، پناہ بخدا، پناہ بخدا، آسمان کیوں نہیں پھٹ پڑتا، زمین کیوں نہیں ٹکڑے ٹکڑے ہو جاتی! الله اکبر، کبرت کلمۃ تخرج من افواہہم.

مسلمانو! سنو، حضرت یونس علیہ السلام کا قصہ قرآن مجید میں چار جگہ آیا ہے۔ سورہ یونس، سورہ انبیاء اور سورہ قلم میں اختصار کے ساتھ ہے اور سورہ صافات میں قدرے تفصیل سے، لیکن کہیں بھی اللہ کا وعدہ حضرت یونس علیہ السلام سے ان کی قوم پر عذاب بھیجنے کا مذکور نہیں ہے۔

٧

صفحہ ٣٥٧

اگر وعدہ الہی ہوتا تو ضرور پورا ہو کر رہتا، اللہ فرماتا ہے فلا تحسبن الله مخلف وعده رسله (ابراهیم:٤٧) یعنی مت سمجھو اللہ کو پیغمبروں سے وعدہ کر کے خلاف کرنے والا، وہ عزیز ہے یعنی غلبہ رکھتا ہے اب دیکھو سچے پیغمبر کی پیش گوئیاں یوں پوری ہوتی ہیں۔

آنحضرت ﷺ کی پیش گوئیاں

......١ "عن انس قال ندب النبی ﷺ الناس فانطلقوا حتى نزلوا بدراً فقال ﷺ هذا مصرع فلان ويضع يده على الارض ههنا وههنا قال فما ماط احدهم عن موضع يد رسول الله ﷺ رواه مسلم (مشکوۃ ص ٥٣٣، ٥٣٥)“ آنحضرت ﷺ کے حکم سے صحابہ کرام بدر پہنچے آنحضرت ﷺ نے زمین پر دست مبارک رکھ کر فرمایا کہ ابو جہل مقتول ہو کر اس جگہ گرے گا فلاں کا سر اس جگہ، صحابہ کہتے ہیں کہ کفار مقتولین سے ہر ایک کی نعش اسی جگہ پڑی تھی جس جگہ آنحضرت ﷺ نے اپنا دست مبارک رکھ کر بتایا تھا ذرا بھی کوئی ادھر ادھر نہ تھا۔﴾

......٢ "عن سهل بن سعد ان النبی ﷺ قال يوم خيبر لاعطين الراية غداً رجلا يفتح الله على يديه...... الخ ! متفق عليه (مشکوۃ ص ٥٥٥)“ جنگ خیبر میں ایک روز آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ کل میں جھنڈا ایک ایسے بہادر (علی المرتضیٰ) کو دوں گا جس کے ہاتھوں اللہ کل فتح بخشے گا۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا، صبح کو حیدر کرار تشریف لے گئے مرحب کو قتل کیا۔ قلعہ کا پھاٹک توڑ دیا۔ یہود کو شکست دی اور خیبر فتح ہو گیا۔

......٣ "عن سهل بن حنظلة قال جاء هوازن بظعنهم ونعمهم الى حنين فتبسم النبى صلعم وقال تلك غنيمة المسلمين غدا ان شاء الله رواه ابو داؤد. (مشکوۃ ص ٥٢٣)“ فتح مکہ کے بعد حنین میں کفار ہوازن اپنی عورتوں بچوں اونٹوں جانوروں سمیت میدان جنگ میں آئے تھے۔ آنحضرت ﷺ کو جب اطلاع ہوئی تو آپ مسکرائے اور فرمایا کل یہ سب چیزیں مسلمانوں کو غنیمت میں ملیں گی انشاء اللہ ﴾ چنانچہ ایسا ہی ہوا۔ ایک ایک صحابی کے حصہ میں سو سو اونٹ آئے۔

......٤ "عن ابی سعید ان النبی ﷺ قال رائيتنى اسجد في ماء وطين من صبيحتها فمطرت السماء تلك الليلة فرأيت النبى ﷺ يسجد في الماء والطين حتى رأيت اثر الطين في جبهته (مسلم، بخاری و مشکوۃ ص ١٧٣)“ آنحضرت ﷺ نے

٨

صحابہ سے اپنا خواب بیان فرمایا کہ میں نے اپنے کو شب قدر دیکھا ہے۔ چنانچہ شب قدر میں بارش ہوئی۔ مسجد کے چھت قطرے گرے جس جگہ سجدہ میں آنحضرت ﷺ کی پیشانی مبا میں سجدہ ادا کیا صبح دیکھا تو آپ کے ماتھے پر کیچڑ کا نشان موج

......٥ "عن ابن عمر قال أمر النبي ﷺ فقال ان قتل زيد فجعفر وان قتل جعفر فـ الراية زيد فاصيب ثم اخذ جعفر فاصيب ثم ا (صحیح بخاری پ ١٧ باب غزوہ موتہ)“ جنگ موتہ میں آنحضر فرمایا کہ زید کی شہادت کے بعد حضرت جعفر سردار ہوں گے امیر ہوں گے، عبداللہ کی شہادت کے بعد کسی اور کو منتخب کر ہوئے، پھر حضرت جعفر نے جام شہادت پیا، پھر حضرت عـ

......٦ "عن ابی هریره قال وكلني النبي آت فجعل يحثو من الطعام (الى قوله) فاخذته ...... الخ ! (صحیح بخاری، مشکوۃ ص ١٧٧)“ حضر گیا تھا ایک شخص آکر اناج چرانے لگا میں نے اس کو پکا اسے چھوڑ دیا اور آنحضرت ﷺ سے ذکر کیا۔ آپ نے رہا۔ چنانچہ دوبارہ وہ آیا میں نے اسے پکڑ لیا (ایسا کئی با

......٧ "عن عائشة ان جبريل جاء بصـ رسول الله ﷺ فقال هذه زوجتك في الد ص ٥٦٦، ٥٦٥)“ حضرت عائشہ کے نکاح سے پیـ ریشمی کپڑے پر لا کر آنحضرت ﷺ کو دکھائی اور کہا کہ جنت میں ۔ آنحضرت ﷺ نے یہ خبر صحابہ کو سنا ہو گیا۔﴾

......٨ "عن شداد بن اوس ان النبي ﷺ غيرهم تقدم فى يوم كذا فقدمت الـ

٩

صفحہ ٣٥٧

صحابہ سے اپنا خواب بیان فرمایا کہ میں نے اپنے کو شب قدر کی صبح کو نماز میں سجدہ کیچڑ میں کرتے دیکھا ہے۔ چنانچہ شب قدر میں بارش ہوئی۔ مسجد کے چھت کے ٹپکنے سے ٹھیک اسی جگہ بارش کے قطرے گرے جس جگہ سجدہ میں آنحضرت ﷺ کی پیشانی مبارک ہوتی تھی۔ چنانچہ آپ نے کیچڑ میں سجدہ ادا کیا صبح دیکھا تو آپ کے ماتھے پر کیچڑ کا نشان موجود تھا۔ ﴿

......٥ "عن ابن عمر قال امر النبی ﷺ فی غزوة موتة زید بن حارثة فقال ان قتل زید فجعفر وان قتل جعفر فعبد اللہ بن رواحة (الیٰ) اخذ الرایة زید فاصیب ثم اخذ جعفر فاصیب ثم اخذ ابن رواحة فاصیب...... الخ! (صحیح بخاری پ ٥٧ باب غزوة موتة) ”﴿جنگ موتہ میں آنحضرت ﷺ نے حضرت زید کو افسر بنایا اور فرمایا کہ زید کی شہادت کے بعد حضرت جعفر سردار ہوں، جعفرؓ کی شہادت کے بعد عبداللہ بن رواحہ امیر ہوں گے، عبداللہ کی شہادت کے بعد کسی اور کو منتخب کرلینا۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا کہ پہلے زید شہید ہوئے، پھر حضرت جعفر نے جام شہادت پیا، پھر حضرت عبداللہ نے شربت شہادت نوش کیا۔﴾

......٦ "عن ابی ہریرہ قال وکلنی النبی ﷺ بحفظ زکوٰة رمضان فاتانی آت فجعل یحثو من الطعام (الیٰ قوله) قال اما انه سیعود فرصدته فجاء فاخذته...... الخ! (صحیح بخاری، مشکوٰۃ ص ١٧٧) ”حضرت ابو ہریرہ کو صدقہ فطر کی حفاظت پر مقرر کیا گیا تھا ایک شخص آکر اناج چرانے لگا میں نے اس کو پکڑا، اس نے مفلسی کی شکایت کی۔ میں نے اسے چھوڑ دیا اور آنحضرت ﷺ سے ذکر کیا۔ آپ نے فرمایا وہ پھر آئے گا۔ میں اس کی تاک میں رہا۔ چنانچہ دوبارہ وہ آیا میں نے اسے پکڑ لیا (ایسا کئی بار ہوا)

......٧ "عن عائشة ان جبریل جاء بصورتها فی خرقة حریر خضراء الیٰ رسول اللہ ﷺ فقال ھذه زوجتك فی الدنیا والآخرة رواه الترمذی (مشکوٰۃ ص ٥٦٥، ٥٦٦) ”﴿حضرت عائشہؓ کے نکاح سے بہت پہلے حضرت جبرئیل نے ان کی تصویر سبز ریشمی کپڑے پر لاکر آنحضرت ﷺ کو دکھائی اور کہا کہ یہ آپ کی بیوی ہوگی، دنیا اور آخرت دونوں جگہ میں۔ آنحضرت ﷺ نے یہ خبر صحابہ کو دی، آخر ایک دن حضرت عائشہؓ سے آپ کا نکاح ہو گیا۔﴾

......٨ "عن شداد بن اوس ان النبی ﷺ اخبر قریشا صبیحة المعراج ان عیرهم تقدم فی یوم کذا فقدمت الظهر یقدمهم الجمل الذی وصفه رواه

٩

صفحہ ٣٥٨

البزار والطبرانی (فتح الباری ص ٤٥٣) ” آنحضرت ﷺ نے شب معراج کی صبح کو قریش سے فرمایا کہ تمہارے بنجاروں کا قافلہ (جو مجھے راستہ میں ملا تھا) فلاں دن مکہ پہنچ جائے گا اس کے آگے فلاں رنگ کا اونٹ ہے۔ آخر وہ قافلہ روز معین پر ظہر کے وقت مکہ پہنچ گیا۔ آگے وہی اونٹ تھا۔ جس کا حلیہ آنحضرت ﷺ نے بیان فرمایا تھا۔ ﴾

جمیع ما فیہا الا ذکر الله، فاخبر ابو طالب قریشا فانزلوہ الصحیفۃ فراؤ الامر کما اخبر بہ النبی ﷺ، اھ ملتقطاً (زاد المعاد ج ١ ص ٢٩٩) ﴿ مکہ معظمہ میں مسلمانوں کی روزانہ ترقی دیکھ کر کفار نے مسلمانوں کا بائیکاٹ کیا چمڑہ پر عہد نامہ لکھا گیا، آنحضرت ﷺ نے اپنے چچا اور بیوی بچوں ،تم مسلمانوں اور کل بنو ہاشم کے ساتھ دو تین سال تک ایک پہاڑ کی گھاٹی میں نہایت عسرت کے ساتھ دن کاٹے ایک دن آپ نے ابو طالب سے کہا کہ چچا جان! اللہ کے حکم سے اس عہد نامہ کو دیمک نے چاٹ کر صاف کر دیا ہے۔ اس میں بس اللہ کا نام باقی ہے، ابو طالب نے قریش کو خبر دی۔ انہوں نے خانہ کعبہ کے دروازہ پر سے عہد نامہ کا اتار کر دیکھا، تو اسے ویسا ہی کرم خوردہ پایا جس طرح آنحضرت ﷺ نے خبر دی تھی۔ ﴾

بھی ملاحظہ فرمائیے: "وعن عدی قال قال النبی ﷺ یا عدی هل رایت الحیرۃ فان طالت بک حیوۃ فلترین الظعینۃ ترتحل من الحیرۃ حتی تطوف بالکعبۃ لا تخاف احدا الا الله ولئن طالت بک حیوۃ لتفتحن کنوز کسری (إلی) قال عدی فرأیت الظعینۃ ترتحل من الحیوۃ حتی تطوف بالکعبۃ لا تخاف الا الله وکنت فیمن افتتح کنوز کسری بن ہرمز رواہ البخاری (مشکوۃ ص ٥١٦)“ ﴿ آنحضرت ﷺ نے عدی بن حاتم سے فرمایا تھا کہ تم کو شہر حیرہ کا جائے وقوع معلوم ہے نا؟ تمہاری زندگی (دراز ہوگی ) تم دیکھو گے کہ وہاں سے شتر سوار عورت تن تنہا بلا خوف و خطر آکر طواف کعبہ کرے گی۔ تمہاری عمر زیادہ ہوگی تو خسرو پرویز شاہ فارس کے خزانے فتح ہوتے دیکھو گے۔ عدی کہتے ہیں کہ میں نے اپنی زندگی میں حیرہ کی عورت کو تن تنہا مکہ پہنچ کر طواف کعبہ کرتے دیکھا اور شاہ فارس کے خزانے فتح کرنے والوں میں خود شریک و شامل تھا۔ ﴾

دوستو! آپ نے دیکھا کہ سچے پیغمبر کی خبریں اور پیش گوئیاں کیسی ہو بہو پوری ہوئیں اب ذرا جھوٹے نبی کی پیش گوئیوں اور الہامات کے چند نمونے ملاحظہ ہوں۔

١٠

صفحہ ٣٥٩

مرزا قادیانی متنبی کی پیش گوئیاں

کہ ”ڈپٹی آتھم ١٥ ماہ کے عرصہ میں بہ سزائے موت ہاویہ میں گرایا جائے گا۔“ (جنگ مقدس ص ١٨٩، خزائن ج ٦ ص ٢٩٢) پندرہ مہینہ ختم بھی ہو گئے اور آتھم نہیں مرا نہ مسلمان ہوا بلکہ اس کے بعد بھی دو سال کے قریب تک زندہ رہا۔

سال کے عرصہ میں خارق عادات عذاب نازل ہوگا۔“ (سراج منیر ص ١٣، خزائن ج ١٢ ص ١٥) حالانکہ وہ چار سال میں کسی ہندو کے چھرے سے مقتول ہوا اس پر کوئی خارق عادات عذاب نازل نہ ہوا، کیونکہ قتل روز مرہ کی بات ہے۔

روز نکاح سے اڑھائی سال تک مرجائے گا۔“ (مجموعہ اشتہارات ج ١ ص ١٥٨) محمدی بیگم کا نکاح ٧؍اپریل ٩٣ء کو مرزا سلطان محمد ساکن پٹی ضلع لاہور سے ہو بھی گیا اور دونوں میاں بیوی مع بال بچوں کے آج تک زندہ ہیں مرزا قادیانی کا البتہ پتہ نہیں۔

سے نکاح ہوگا۔ (ایضاً) اور آسمان پر نکاح پڑھا بھی جاچکا تھا۔“ (تتمہ حقیقت الوحی ص ١٣٢، خزائن ج ٢٢ ص ٥٧٠) اس انتظار میں بیس سال کامل گزر گئے لیکن ہنوز روز اول کا معاملہ رہا آخر اسی حسرت میں مرزا قادیانی کی جان بھی گئی۔

١٥؍جنوری ١٩٠٠ء تک) مرجائیں گے (مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ٦٠)۔ حالانکہ مولانا بٹالوی مرزا قادیانی کے مرنے کے بعد بھی ١٢ سال تک زندہ رہے۔

میں کوئی بین آسمانی نشان ظاہر ہوگا۔ تین سال گزر گئے کوئی نشان ظاہر نہ ہوا۔

(مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ٧٧، ٧٨)

کی (مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ٥) لیکن طاعون چار سال کے بعد آیا۔

صفحہ ٣٦٠

طاعون آیا تو الہام احافظ کل من فی الدار (تحفہ حقیقت الوحی ص ١١١، خزائن ج٢٢ ص ٤٧٥) کی پناہ لی، آخر دار مرزا میں بھی طاعون گھسا اور شریف احمد نبی زادہ کو بھی طاعون ہو گیا۔ (حقیقت الوحی ص ٨٤، خزائن ج ٢٢ ص ٨٧) پس نہ قادیان محفوظ رہا نہ مرزا قادیانی کا گھر۔

(ضمیمہ براہین ج ٥ ص ٩٧، خزائن ج ٢١ ص ٢٥٩) لیکن خیریت سے عمر صرف ٦٨ برس کی ہوئی۔

(نورالدین ص ١٧٠)

احمدی ص ٧، ص ٣٧، خزائن ج ١٩ ص ١٤٨) مولانا ١٠؍ جنوری ١٩٠٣ء کو قادیان پہنچ گئے تو علماء سے گفتگو نہ کرنے کا خدائی معاہدہ سنا دیا اور (١٥؍ اپریل ١٩٠٧ء، مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ١٧٦) کو آخری فیصلہ کا اشتہار شائع کر کے ٢٦؍ مئی ١٩٠٨ء کو خود ہی چل بسے۔ جیسا کہ ٹریکٹ نمبر ٤ میں بہ تفصیل لکھ کر شائع کر دیا گیا ہے۔

اعلام....... ان دس پیش گوئیوں کی تفصیل اور ان پر مرزائیوں کے عذرات کے جواب مفصل دیکھنا ہوں تو کتاب الہامات مرزا میں ملاحظہ کرلیں۔

بھائیو! اوپر آپ نے آنحضرت کی دس پیش گوئیاں اور ان کا حرف بحرف پورا ہونا دیکھا پھر مرزا قادیانی کی دس پیش گوئیاں اور ان میں سے ایک کا بھی پورا نہ ہونا ملاحظہ کیا۔ چونکہ مرزا قادیانی نے دافع الوساوس ص ٦٨٨ میں نبوت کے اس معیار کو تسلیم کیا ہے۔ نیز قرآن مجید نے بھی اسی معیار کو پیش کیا ہے اور مرزا قادیانی اس معیار پر پورے نہیں اترے لہٰذا مرزا قادیانی نہ رسول ہیں نہ نبی، نہ عیسیٰ ہیں نہ مسیح بلکہ:

رسول قادیانی کی رسالت
جہالت ہے ضلالت ہے بطالت

والحمد للہ اولاً و آخراً! ١٠؍ رجب المرجب ١٣٥٢ھ تمام شد...... ناشر سیکرٹری انجمن اشاعت اسلام، مدن پور، بنارس ( مطبوعہ سلیمانی پریس محلہ گائے گھاٹ شہر بنارس)

١٢

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

نحمدہ ونصلی علی رسولہ الکریم

نور اسـ

(انجمن اشاعت الاسلام بنارس)

سیکرٹری انجمن اشاعـ

PDF 362

خاتم النبیین لا نبی بعدی

میں آخری نبی ہوں، میرے بعد کوئی نبی نہیں۔

نورِ اِسلام

(انجمن اشاعت الاسلام بنارس کا ٹریکٹ نمبر ٨، ٩، ١٠، ١١)

سیکرٹری انجمن اشاعت الاسلام بنارس

صفحہ ٣٦٣

بسم الله الرحمن الرحیم

ابن مریم کو خدا کس نے کہا ہے مجاہد کی سراسر افتراء
کیا ملائک اور جن زندہ نہیں ابن مریم پھر بنے کیونکر خدا
ایک دن آجائے گی ان پر فنا موت سے ہے مخلصی کس کو بھلا
افتراء بہتان وتہمت کس لئے کچھ تو آخر چاہئے خوف خدا
نالۂ بلبل شیدا تو سنا ہنس ہنس کر اب جگر تھام کے بیٹھ کہ میری باری آئی

الحمد لله الذى رفع عيسى ابن مريم حياً الى السماء ثم ينزلہ الى الارض قبل يوم الدين، والصلوة والسلام على آخر رسلہ محمد خاتم النبيين، الذى اخبرنا بخروج الدجاجلة الكذابين قريباً من ثلاثين اخرهم المسيح الاعور الذى يقتلہ عيسى بحربتہ عند باب مدينة اللد من مدائن فلسطين، وعلى آلہ واصحابہ الذين اجمعوا على حيوۃ عيسى ونزولہ قبل قيام الساعۃ رضى الله عنهم اجمعين!

مسلمانو! انجمن اشاعت اسلام کے مختلف ٹریکٹ اور رسالوں میں متنبّی قادیان کی پرفن چالیں اور ان کے مریدوں کی گستاخ طرازیاں آشکارا کی جاچکی ہیں، اس کا تازہ نمونہ ان کا ٹریکٹ نمبر ٢ ہے، جس پر ”سلسلہ ظہور امام“ کا عنوان جلی حرفوں میں قائم کیا گیا ہے۔ جو درحقیقت اس بات کا اعلان ہے کہ جس ”امام“ کے ظہور کی پیش گوئی کی گئی ہے۔ وہ صرف ایک ہی شخص نہ ہوگا، بلکہ اماموں کے ظہور کا لگا تار سلسلہ قائم رہے گا۔ پھر جن آیتوں اور حدیثوں سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی حیات ثابت ہوتی ہے۔ ان آیتوں اور حدیثوں کی تردید کا بھی دعویٰ ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ کے فرمان کی تردید اور رسالت مآب علیہ السلام کی باتوں کا جواب دیا جارہا ہے، پس جو شخص اللہ کے مقابلہ و معارضہ پر آمادہ ہو، اللہ کے رسول ﷺ کی تصریحات کی تردید کر رہا ہو، اس کی جرأت اور بے باکی کا کیا ٹھکانا؟ اس کے ایمان واسلام کا کیا اعتبار؟ اس کی امانت اور دیانت کا کیا بھروسہ؟ وہ تو نورالٰہی کے بجھا دینے کے درپے ہے۔ لیکن ؎

نور خدا ہے کفر کی حرکت پر خندہ زن
پھونکوں سے یہ چراغ بجھایا نہ جائے گا

٢

صفحہ ٤٦٣

کتاب وسنت کی یہ سچائیاں محض اس لئے جھٹلائی جا رہی ہیں کہ ایک جھوٹا سچا ثابت ہوسکے، اس کے مکر و خدع، فریب و دجل پر پردہ ڈالا جاسکے، اس کی تذویر و تلبیس، تاویل و تحریف طشت از بام نہ ہوسکے۔

بلا سے کوئی ادا اس کی بدنام ہوجائے
کسی طرح تو مٹ جائے ولولہ دل کا

دوستو! انجمن ہذا کی مسلسل گولہ باریوں نے قادیانی قلعہ کو بیخ و بنیاد سے ہلا دیا ہے۔ انجمن کے مدلل اور مفصل رسالوں نے مرزائی کیمپ میں ہلچل ڈال دی ہے، ان کی چھاؤنی میں شتم وطعن کے بے کار اسلحے باقی رہ گئے ہیں، منہ میں کف بھر کے کسی کو ”سنی کوفی“ اور کسی کو ”نجدی وہابی“ کے طعنے دے رہے ہیں (ٹریکٹ نمبر ٢ ص ٢) اور جو شامت آئی تو ہماری انجمنوں کو بھی کوسنے لگے، انجمن اشاعت اسلام کو وہ شامت اسلام (ص ٢٠، ٢١، ص ٢٢) اور انجمن اشاعۃ الحق کو شامت الحق بنا دیا۔

(ص ١٧ و ص ٢٣ و ص ٢٤ و ص ٢٤)

لگے ہو منہ چڑھانے دیتے دیتے گالیاں صاحب
زبان بگڑی تو بگڑی تھی خبر لینا دہن بگڑا

مرزائیو! ہم بھی تمہاری ”انجمن احمدیہ“ کو انجمن احمقیہ لکھ سکتے تھے۔ ہم بھی ”مجاہد“ کا مجاور بنا سکتے تھے۔ ہم بھی ”سلسلۂ عالیہ“ کو غالیہ میں تبدیل کر سکتے تھے، لیکن ہم ایسا نہیں کریں گے۔ ہم کو قرآن پاک اس سے منع کرتا ہے۔ ہم کو ہمارے پیغمبر علیہ السلام نے اس حرکت سے روک دیا ہے، ہمارے سچے پیغمبر تمہارے دیسی نبی کی طرح مخالفوں کو گالیاں نہیں دیتے تھے، بلکہ صبر کرتے اور ان کے لئے دعائیں فرماتے تھے۔

دشنام خلق را نہ دہم جز دعا جواب
ابرم کہ تلخ گیرم و شیرین عوض دہم

قادیانی ٹریکٹ نمبر ٢ ہمارے کسی ٹریکٹ کا بھی جواب نہیں ہے

مرزائیوں نے اپنے ٹریکٹ نمبر ٢ کے ٹائٹل پیج پر لکھ دیا ہے:۔ ”بجواب ٹریکٹ ہائے نمبر ١، ٢، ٣ در حقیقت یہ ایک کھلا ہوا مغالطہ ہے۔ ایک صریح دھوکہ ہے جو عوام کو دیا گیا ہے، لوگوں کی آنکھوں میں خاک ڈالنے کی کوشش کی گئی ہے، اور یہ باور کرایا گیا ہے کہ ہم (مرزائیوں) نے انجمن اشاعت اسلام کے تین ٹریکٹ کے جواب دے دیئے ہیں اور واقعہ یہ ہے کہ مرزائیوں نے ہمارے کسی ایک ٹریکٹ کا بھی جواب نہیں دیا ہے اور نہ ان کا جواب مرزائیوں کے بس کا ہے۔ وہ ایسے

٣

صفحہ ٣٦٥

لوہے کے چنے ہیں، جن کو مرزائی آسانی سے نہیں چاب سکتے۔ ہمارے پہلے ٹریکٹ کو اٹھا کر دیکھئے اور پھر قادیانی ٹریکٹ نمبر ٢ کو بار بار پڑھئے کہیں بھولے سے بھی اس کا ذکر نہیں آیا چہ جائیکہ کسی لفظ کا جواب ہو۔ ثم ارجع البصر كرتين ينقلب اليك البصر خاسأ وهو حسير (ملک) اسی طرح ہمارا دوسرا ٹریکٹ (اظہار حقیقت) جو تیرہویں صفحہ پر ختم ہو گیا ہے۔ ان ١٣ صفحوں میں حیات مسیح کے جو دلائل مرقوم ہیں ان میں سے ایک کا بھی جواب نہیں دیا گیا ہے۔ بجز مرزا قادیانی کے دو تائیدی حوالوں کے جو ص ٣ میں براہین احمدیہ سے اور ص ٦ میں ضمیمہ انجام آتھم سے منقول ہیں۔ ان پر ٢٢، ص ٢٣، ص ٢٤ میں مجاہد صاحب نے جو خامہ فرسائی کی ہے اس کا کچا چٹھا اس رسالہ کے آخر میں کھولا جائے گا۔ انشاء اللہ ! ہمارا ٹریکٹ نمبر ٣ جو نزول مسیح اور ختم نبوت سے متعلق ہے۔ یہ بھی پہلے نمبر کی طرح اچھوتا اور لاجواب ہے۔ مرزائی فاضل مولوی نے اس نمبر کو ہاتھ تک نہیں لگایا ہے۔ لیکن اپنے ٹریکٹ نمبر ٢ کے پہلے صفحہ پر ”جواب ٹریکٹ ہائے“ (اس ”ہائے“ کے قربان) نمبر ٣ بھی لکھ دیا ہے۔ تاکہ عوام سمجھیں کہ قادیانی پارٹی نمبر ٣ کے جواب سے بھی سبکدوش ہو چکی ہے، لیکن ص ٣ میں اپنی تردید آپ ہی کر دی ہے اور لکھ دیا ہے کہ ”تیسرے کے نصف حصہ کا جواب ہے“ حالانکہ ایک لفظ کا بھی جواب نہیں دیا ہے۔ بلکہ حقیقت میں جواب سے ہی جواب ہے اگر نمبر شماری کا ہی نام جواب ہے تو اور نمبروں کے بھی ہندسے لکھ دیتے اور یوں تحریر فرماتے ”انجمن اشاعۃ کے رسائل نمبر ١، ٢، ٣، ٤، ٥، ٦، ٧، ٨، ٩، ١٠، ١١ اور جتنے نمبر آئندہ شائع ہوں ان سب کا ایک ہی جواب“ پبلک پھر کبھی بھی آپ سے ہمارے جوابوں کا مطالبہ نہ کرتی بلکہ کہتی۔

یاں لب پہ لاکھ لاکھ سخن اضطراب میں
واں ایک خامشی میرے سب کے جواب میں

وفا عہد

انجمن احمدیہ بنارس کا وعدہ رسالہ ”دعوۃ الی الحق“ کے ص ٣ میں تو یہ تھا کہ ”آنے والے شخص کی مشارکت صفاتی یا مشابہت روحانی تفصیلی طور پر تو ہم ظہور امام کے ٹریکٹ نمبر ٢ میں ہی دیں گے“ ہم بھی منتظر تھے کہ ٹریکٹ نمبر ٢ میں اس ”مشارکت“ اور ”مشابہت“ کا نظارہ ہوگا۔ اسی لئے بڑے شوق سے ان کے نمبر ٢ کو پڑھا لیکن اس میں بجائے ”مشارکت“ کے مشاجرت اور بجائے ”مشابہت“ کے مشاتمت پایا، افسوس

جو آرزو ہے اس کا نتیجہ ہے انفعال
اب آرزو یہ ہے کہ کبھی آرزو نہ ہو

٤

شکوہ بے جا

ہمارے فاضل مولوی کو شکایت ہے کہ ہمارا ٹریکٹ ان کی تاریخ اشاعت (١٥ جمادی الاولیٰ) بھی لکھ دی ہے جس نظر سے گزر چکا ہے کیا لطف ہے کہ ایک ہی سطر میں ٹریکٹ اور پہنچنے کا اقرار بھی، یہ تو اس ناقب کی مثال ہوئی جس نے کہ ”گٹھری بھیتر اور میں باہر“

صاف انکار نہ کر وصل سے ا
بات وہ ہو کہ نکلتے رہیں

اختلاف بیانی

خشت اول چوں نہد م
تا ثریا می رود

حضرت مرزا قادیانی کے اقوال باہم اس قدر متضاد کوئی صورت تطبیق و جواب کی ممکن ہی نہیں، تو اس سنت پر عمل ک چنانچہ مجاہد صاحب کا یہ ٹریکٹ نمبر ٢ بھی اختلاف بیانیوں کا اچھو

تفاسیر سے متعلق

صفحہ ١٧ کی آخری سطر میں ”تفاسیر کی کتابوں ک ان لفظوں میں الزام دیا ہے۔ تفاسیر کی غیر معتبر باتوں پر ہیں اور پھر خود ہی ص ٧ میں مسلمانوں کو حضرت ابی کی قراء میں منقول ہے قبول کر لینے کی دعوت دی ہے۔ اور قرآ ہے۔ بے خبری میں۔ اپنے پیر مغان (مرزا قادیانی) کی مفسرین کی عزت کرتے اور ان کی تفسیروں سے استفاد حاشیہ خزائن ج ٧ ص ٢٤٨) میں لکھتے ہیں۔ ”تمام اکابر مفس اور مجاہد صاحب ان کو غیر معتبر بتا رہے ہیں۔

بے خودی بے سبب
کچھ تو ہے جس کی

٥

صفحہ ٣٦٥

شکوہ بے جا

ہمارے فاضل مولوی کو شکایت ہے کہ ہمارا ٹریکٹ نمبر ٥ ان کے پاس نہیں پہنچا، پھر اس کی تاریخ اشاعت (١٥ جمادی الاولیٰ) بھی لکھ دی ہے جس سے معلوم ہوا کہ ہمارا ٹریکٹ ان کی نظر سے گزر چکا ہے‘ کیا لطف ہے کہ ایک ہی سطر میں ٹریکٹ نمبر ٨ کے نہ پہنچنے کی شکایت بھی ہے اور پہنچنے کا اقرار بھی ، یہ تو اس ناقل کی مثال ہوئی جس نے مجمع کی حیرت ان لفظوں میں دور کی تھی کہ ”گٹھری بھیتر اور میں باہر“

صاف انکار نہ کر وصل سے اوشوخ مزاج
بات وہ ہو کہ نکلتے رہیں پہلو دونوں

اختلاف بیانی

خشت اول چوں نہد معمار کج
تا ثریا می رود دیوار کج

حضرت مرزا قادیانی کے اقوال باہم اس قدر متضاد اور متناقض ہیں کہ بجز ”حافظہ نباشد کے کوئی صورت تطبیق و جواب کی ممکن ہی نہیں، تو اس سنت پر عمل کرنا مرزائیوں کا فرض اولین کیوں نہ ٹھہرے؟ چنانچہ مجاہد صاحب کا یہ ٹریکٹ نمبر ٢ بھی اختلاف بیانیوں کا اچھا خاصہ مجموعہ ہے چند نمونے ملاحظہ ہوں۔

تفاسیر سے متعلق

صفحہ ١٧ کی آخری سطر میں ”تفاسیر کی کتابوں کو غیر معتبر“ قرار دیا ہے۔ ص ١٨ میں علماء کو ان لفظوں میں الزام دیا ہے۔ تفاسیر کی غیر معتبر باتوں پر دوسروں کو یقین کر لینے کی دعوت دیتے ہیں اور پھر خود ہی ص ٧ میں مسلمانوں کو حضرت ابیؓ کی قرأت قبل موتہ جو انہیں ”غیر معتبر“ تفسیروں میں منقول ہے، قبول کر لینے کی دعوت دی ہے۔ اور قرأت شاذہ سے قرأت متواترہ کی تردید کی ہے۔ بے خبری میں۔ اپنے پیر مغان (مرزا قادیانی) کی بھی تردید کر دی ہے کیونکہ مرزا قادیانی تو مفسرین کی عزت کرتے اور ان کی تفسیروں سے استناد کرتے ہیں۔ چنانچہ (تحفہ گولڑویہ ص ٩٤ کے حاشیہ، خزائن ج ١٧ ص ٢٤٨) میں لکھتے ہیں۔ ”تمام اکابر مفسرین اس آیت کی تفسیر میں لکھتے ہیں ......“ اور مجاہد صاحب ان کو غیر معتبر بتا رہے ہیں۔

بے خودی بے سبب نہیں غالب
کچھ تو ہے جس کی پردہ داری ہے

٥

صفحہ ٣٦٧

احادیث سے متعلق

ص ٢ میں لکھا ہے ”احادیث کی کیا وقعت ہو سکتی ہے“ پھر خود ہی ص ٣ میں تحریر کیا۔ ”احادیث کی روشنی میں پرکھتے ہیں۔“ ایک جگہ انکار دوسری جگہ قبول ہے۔ ص ١٩ میں صحیح بخاری اور ابن ماجہ کو معاریض ابراہیم علیہ السلام اور سحر نبی کے ذکر میں۔ غیر معتبر تفاسیر کے ساتھ شامل کر دیا ہے اور ص ١٨ میں لکھا ہے کہ ”ہم احمدی ان باتوں کو غلط سمجھتے ہیں“ پھر خود ہی ص ١٧ میں صحیح بخاری وابن ماجہ کو ”دنیائے اسلام کی معتبر اور مستند کتب احادیث“ میں شمار کیا ہے اور ص ١٥ میں من السماء کی بحث میں صحیح بخاری کو بطور شاہد کے پیش کیا ہے۔ یہاں غلط بات والی کتاب صحیح ہو گئی۔ ص ١٢ میں جھوٹی حدیث بیان کرنے والے کو جہنمی بتایا ہے اور پھر خود ہی ص ١٥ میں لو كان عيسى حيا کی جھوٹی روایت اور ص ٢ کی آخری سطر میں ما وافق كتاب الله فاقبلوه وان خالفه فردوه (جو حدیث قرآن کے مطابق ہو اسے صحیح سمجھنا جو مخالف ہو اسے رد کر دینا) کی موضوع حدیث (دیکھو موضوعات صغانی ص ١١) وتذکرہ الموضوعات ص ٢٨ بیان کی ہے۔ ص ٢٢ میں مشکوٰۃ فصل ثالث کی حدیث کو ”تھرڈ کلاس“ کی حدیث قرار دیا ہے۔ حالانکہ صاحب مشکوٰۃ کے فصل ثالث میں صحیح بخاری اور صحیح مسلم کی متفق علیہ حدیثیں بھی نقل کرتے ہیں، شروع مشکوٰۃ کا ص ٨ ہی دیکھ لو، امام بخاری ومسلم کی حدیثوں کو صاحب مشکوٰۃ نے ص ٣ میں اعلیٰ درجہ (فرسٹ کلاس) کی حدیث کہا ہے۔ لیکن مجاہد صاحب کے قاعدہ سے بخاری ومسلم کی روایت بھی بوجہ فصل ثالث میں مذکور ہونے کے تھرڈ کلاس کی حدیث ہو گئی۔ یہ ہے ان مرزائیوں کے قلب پر کینہ میں احادیث نبویہ کی عزت اور یہ ہے ان کا محدثانہ نظر واجتہاد۔

ہر بوالہوس نے عشق پرستی شعار کی
اب آبروئے شیوہ اہل نظر گئی

بزرگان سلف پر اتہام

مجاہد صاحب نے بڑی جدوجہد سے، سلف وخلف کے بعض معروف اور غیر معروف حضرات میں سے بیس نام گنوائے ہیں جو ان کے زعم فاسد میں ”وفات عیسیٰ“ کے قائل تھے۔ اور ان کے اقوال پیش کرنے کا وعدہ آئندہ کسی ٹریکٹ پر اٹھا رکھا ہے۔ ص ٣

مرزائیوں کی یہ بڑی جسارت اور ان کا صریح اتہام ہے جسے وہ لوگ بزرگان سلف کے سرمنڈھتے ہیں۔ ان يقولون الا منكرا من القول وزورا ۔ ذیل میں ہم ان بزرگان سلف سے نام بنام بتائیں گے کہ وہ ہرگز ہرگز ان قادیانیوں کے ہم خیال نہ تھے اور یہ کہ ان کا دامن اس ٦

بہتان سے پاک ہے۔ پہلے ہم بطریق عموم یـ حضرت عیسیٰ کی بابت مشکوٰۃ نبوت سے کسی قسم کا عقیدہ رکـ

صحابہ کرام

مدینہ طیبہ کی پاک سرزمین ہے‘ آفتاب رسـ ہیں‘ بقعہ حجاز مع اطراف کے نور ایمان سے منور ہو چکا ہے اللہ افواجاً کا نظارہ لوگوں کے سامنے ہے، نبی کریم ﷺ ہوئے پورے نو سال ہو چکے ہیں، عام الوفود ہے، یعنی عـ وفد دار الہجرۃ (مدینہ منورہ) کی جانب کشاں کشاں چـ مسلمانوں کی جماعت سے بھری ہوئی ہے کہ ایک رو رسول، ابراہیم کی وفات ہوتی ہے، تمام مسلمانوں میں بازار اور سڑکیں پٹی ہوئی ہیں، اضطراب برپا ہو جاتا ہے اتنے میں منادی رسول کی صدا کانوں میں گـ کو مسجد نبوی کی طرف دوڑ جانے کا اعلان کرتا پھرتا ہـ خالی ہو جاتے ہیں۔ چھوٹے اور بڑے، مرد اور عورتیں ہیں۔ رسول اللہ ﷺ تشریف لاتے ہیں اور سب کو مـ ہوتی ہے کہ عورتیں غش کھا کھا کر گر جاتی ہیں۔ نمازی حـ کہ سب لوگ اپنی اپنی جگہ پر بیٹھے رہیں‘ ابو بکر صدیق عباس بھی حاضر ہیں اور امام حسن بھی عشرہ مبشرہ بھی ہـ تمام مہاجرین وانصار، شہری و بیرونی صحابہ بیٹھے ہوئے دیتے ہیں‘ جس میں پہلے تمام حاضرین سے اپنی تبلیغ کـ نشہد انك قد بلغت ، حضور ﷺ ! آپ نـ حقیقت، ترغیب تو بہ، تیس جھوٹے مدعیان نبوت کا خرو تفصیلی بیان دیتے ہوئے بلند آواز سے فرماتے ہیں۔ فيهزمه الله وجنوده......الخ! (مستدرک حاکم جـ حضرت عیسیٰ ابن مریم تشریف لائیں گے۔ ٧

صفحہ ٣٦٧

بہتان سے پاک ہے۔ پہلے ہم بطریق عموم کے جماعت صحابہ کرام کی بابت دکھلانا چاہتے ہیں کہ حضرت عیسیٰ کی بابت مشکوٰۃ نبوت سے کسی قسم کا عقیدہ رکھنے کی ان کو تعلیم ملی تھی۔

صحابہ کرام

مدینہ طیبہ کی پاک سرزمین ہے‘ آفتاب اسلام کو طلوع ہوئے بائیس ٢٢ سال گزر چکے ہیں‘ بقعہ حجاز مع اطراف کے نور ایمان سے منور ہو چکا ہے۔ مکہ بھی فتح ہو چکا ہے اور یدخلون فی دین اللہ افواجا کا نظارہ لوگوں کے سامنے ہے، نبی کریم ﷺ کو ہجرت کر کے مدینہ طیبہ میں قیام فرما ہوئے پورے نو سال ہو چکے ہیں، عام الوفود ہے، یعنی عرب کے ہر چہار گوشوں سے مسلمانوں کے وفد دارالہجرۃ (مدینہ منورہ) کی جانب کشاں کشاں چلے آرہے ہیں، انصار کی سرزمین بے شمار مسلمانوں کی جماعت سے بھری ہوئی ہے کہ ایک روز یکا یک آفتاب کو گرہن لگتا ہے۔ جگر بند رسول، ابراہیم کی وفات ہوتی ہے، تمام مسلمانوں میں جن سے کہ مدینہ طیبہ کی ہر گلی اور کوچے، بازار اور سڑکیں پٹی ہوئی ہیں، اضطراب برپا ہو جاتا ہے۔

اتنے میں منادی رسول کی صدا کانوں میں آتی ہے جو گرہن کی نماز کے لئے تمام لوگوں کو مسجد نبوی کی طرف دوڑ جانے کا اعلان کرتا پھرتا ہے۔ مدینہ کے تمام مکان مکینوں سے یک دم خالی ہو جاتے ہیں۔ چھوٹے اور بڑے، مرد اور عورتیں، لڑکے اور بچے مسجد نبوی میں حاضر ہو جاتے ہیں۔ رسول اللہ ﷺ تشریف لاتے ہیں اور سب کو صلوٰۃ کسوف پڑھاتے ہیں۔ یہ نماز اتنی لمبی ہوتی ہے کہ عورتیں غش کھا کھا کر گر جاتی ہیں۔ نمازی دھوپ میں تلملا اٹھتے ہیں بعد نماز حکم ہوتا ہے کہ سب لوگ اپنی اپنی جگہ پر بیٹھے رہیں‘ ابوبکر صدیق بھی تشریف فرما ہیں اور عمر فاروق بھی‘ ابن عباس بھی حاضر ہیں اور امام حسن بھی بقیہ عشرہ مبشرہ بھی موجود ہیں اور اصحاب بدر ورضوان بھی غرض تمام مہاجرین وانصار، شہری وبیرونی صحابہ بیٹھے ہوئے ہیں کہ آنحضرت ﷺ ایک بصیرۃ افروز خطبہ دیتے ہیں‘ جس میں پہلے تمام حاضرین سے اپنی تبلیغ کی شہادت لیتے ہیں، جم غفیر بول اٹھتا ہے۔ نشهد انك قد بلغت، حضور ﷺ ! آپ نے فرض تبلیغ بخوبی ادا فرمادیا‘ پھر آپ گرہن کی حقیقت، ترغیب توبہ، تیس جھوٹے مدعیان نبوت کا خروج، امور دجال کا ظہور اور اس کے دجل ومکر کا تفصیلی بیان دیتے ہوئے بلند آواز سے فرماتے ہیں۔ فیصبح فیهم عیسیٰ ابن مریم فیهزمه الله وجنوده......الخ! (مستدرک حاکم ج١ص٣٣٦) یعنی عہد دجال اکبر میں ایک صبح کو حضرت عیسیٰ ابن مریم تشریف لائیں گے۔

٧

صفحہ ٣٦٩

اللہ تعالیٰ ان کی بدولت دجال اور اس کے لشکر کو شکست دے گا۔ دجال قتل کیا جائے گا...... الخ!۔ حاصل کلام یہ کہ جس طرح تمام صحابہ کرام عقیدہ توحید و رسالت، برزخ و معاد کی تعلیم آنحضرت ﷺ سے پاک ذرہ برابر اس میں تبدیلی نہیں کرتے تو کیونکر باور کیا جا سکتا ہے کہ آنحضرت ﷺ نے تو ان کو معراج سے واپس تشریف لا کر حضرت عیسیٰ سے آسمان پر ملاقات ہونا اور بزمانہ خروج دجال حضرت عیسیٰ کا آسمان سے اتر کر آنا اور دجال کا قتل کرنا خود حضرت عیسیٰ کی زبان سے سن کر بیان فرمایا (مسند احمد ج ١ ص ٣٧٥ وابن ماجہ مصری ج ٢ ص ٢٦٨) مگر جن کے خطبہ مذکور میں سب صحابہ کی موجودگی میں حضرت عیسیٰ کی تشریف آوری کا ذکر فرمایا اور پھر صحابہ کا عقیدہ متبدل ہو جائے اور اپنے نبی کی تعلیم کے برخلاف ان کا مذہب یہ ہو جائے کہ حضرت عیسیٰ مر گئے اور وہ اب نہیں آئیں گے؟ لا یقول بذلك الا جاهل بلید، مفتر عنید، اخزاهم الله وخيبهم، وجعل النار ماواهم۔

حضرت ابوبکر صدیق و عمر فاروق

تقریر بالا کے بعد اس کی ضرورت نہیں رہتی کہ ہم نام بنام صحابہ کے حیات و نزول عیسیٰ کی بابت ثبوت پیش کریں لیکن جن چار صحابیوں کے نام ٹریکٹ نمبر ٢ کے ص ٣ پر مرقوم ہیں۔ ان کی بابت ہم چند تصریحات ذیل میں پیش کریں گے۔

پہلا نام حضرت ابوبکر صدیق کا اور دوسرا حضرت عمر فاروق کا ہم ایسی ایک حدیث لکھتے ہیں جن میں دونوں بزرگوں کا نام ایک جگہ موجود ہے اور اس سے معلوم ہوگا کہ ان دونوں خلیفوں کا عقیدہ حضرت عیسیٰ کی بابت کیا ہو سکتا ہے؟ امام احمد بن حنبل (مرزائی ٹریکٹ میں ان کا نام بھی قائلین وفات کی فہرست میں مذکور ہے؟) حضرت جابرؓ سے باسند حدیث نقل کرتے ہیں۔ جاء (رسول الله الى ابن صياد) ومعه ابو بكر وعمر فى نفر من المهاجرين والانصار وانا معه (إلى قوله) فقال عمر اجر لي فاقتله فقال ﷺ ان يكن هو فلست صاحبه انما صاحبه عیسى ابن مريم عليه الصلوة والسلام الحديث (مسند امام احمد ج ٣ ص ٣٦٨) یعنی آنحضرت ﷺ خروج ابن صیاد کی خبر سن کر تحقیق امر و تبلیغ دین کی غرض سے اپنی مسجد سے روانہ ہوتے ہیں۔ آپ کے ساتھ حضرت ابوبکرؓ و عمرؓ اور جابرؓ نیز ایک جم غفیر مہاجرین و انصار کا، رواں ہے (ابن صیاد سے بہت سی گفتگو اور سوال و جواب کے بعد ) حضرت عمرؓ نے اس کے قتل کر دینے کی اجازت طلب کی۔ آنحضرت ﷺ نے (ابوبکرؓ و جابرؓ و مہاجرین و انصارؓ کے سامنے حضرت عمرؓ سے ) فرمایا اگر یہ وہی ( دجال معہود ) ہے تو تم اس کے قاتل نہیں ہو سکتے۔

٨

کے قاتل تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام ہی ہوں گے۔ اس آنحضرت ﷺ ابوبکر و عمر و دیگر مہاجرین و انصار حضرت عیسیٰ آکر قتل کریں گے۔ حضرت ابوبکرؓ بالکل خاموش رہتے ہیں اور اس کیا فرما رہے ہیں؟ اللہ تو فرماتا ہے قد خلت من قبله کے پہلے کے تمام رسول تو (بقول مرزائیاں) فوت ہوئے آکر دجال کو قتل کریں گے؟ بلکہ خاموشی سے فرمان نبوی (ابن صیاد کو چھوڑ کر ) واپس چلے آئے اور کسی روایت میں ...... حضرت عمرؓ جن کی رائے کے مطابق وحی الٰہی جعل الحق علی لسان عمر (مشکوٰۃ ص ٥٣٩) وارد ہے۔ جنہوں نے بارہا نبی کریم ﷺ کو بعض امور میں بغرض ہے۔ حدیبیہ کے صلح نامہ کے خلاف ان کی جدوجہد جب نبی کریم و رحیم آگے بڑھے ہیں تو دامن تھام کر عرض تصل علی المنافقین (بخاری مصری ج ١ ص ١٤٥) سے روکا نہیں ہے؟ سید الاوس سعد بن معاذؓ کے لئے الى سيدكم فانزلوه ”اٹھ کر جاؤ اپنے سردار کو اتا عز و جل (مسند احمد ج ٢ ص ١٤٢)“ ہمارا سردار تو اللہ آمد سن کر بالکل خاموش رہتے ہیں اور کچھ نہیں بولے متوفيك اور توفيتني آیا ہے وہ تو وفات پاچکے گے؟ ان کو کہنا تھا کہ حیات مسیح تا قیامت کا عقیدہ تو آئے ہیں یا اس کے استحکام کو؟ جب عمرؓ کچھ بھی نہیں کے ساتھ واپس لوٹ پڑتے ہیں، تو صاف معلوم مذہب یہی تھا کہ حضرت عیسیٰ زندہ ہیں اور دوبارہ تشر

حضرت امام حسنؓ

مستدرک حاکم ج ٣ ص ١٢٣ میں عن يقول قتل ليلة انزل القرآن وليلة اسـ

صفحہ ٣٦٩

اس کے قاتل تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام ہی ہوں گے۔ اس حدیث میں چند باتیں قابل غور ہیں۔

اکبر کو حضرت عیسیٰ آ کر قتل کریں گے۔

کیا فرمارہے ہیں؟ اللہ تو فرماتا ہے قد خلت من قبله الرسل (آل عمران:١٤٤) یعنی آپ کے پہلے کے تمام رسول تو (بقول مرزائیاں) فوت ہوچکے ہیں تو عیسیٰ جب مر گئے پھر اب کیسے وہ آ کر دجال کو قتل کریں گے؟ بلکہ خاموشی سے فرمان نبوی کے آگے سرتسلیم خم کردیا اور آپ کے ساتھ (ابن صیاد کو چھوڑ کر) واپس چلے آئے اور کسی روایت میں ان سے وفات عیسیٰ مصرح نہیں۔

جعل الحق علی لسان عمر (مشکوۃ ص ٥٣٩) وارد ہے۔ یعنی اللہ عمر کی زبان پر حق جاری کرتا ہے، جنہوں نے بارہا نبی کریم ﷺ کو بعض امور میں بغرض توضیح مسئلہ وبہ نیت طمانیت قلب ٹوک دیا ہے۔ حدیبیہ کے صلح نامہ کے خلاف ان کی جدوجہد مشہور ہیں، ابن ابی منافق کا جنازہ پڑھنے کو جب نبی کریم ﷺ آگے بڑھے ہیں تو دامن تھام کر عرض کرتے ہیں: ”الیس الله نهاك ان تصلى على المنافقین (بخاری مصری ج ١ ص ١٢٥)“ کیا آپ کو خدا نے منافقوں کا جنازہ پڑھنے سے روکا نہیں ہے؟ سید الاوس سعد بن معاذؓ کے لئے جیسے ہی آنحضرت ﷺ نے فرمایا: ”قوموا الی سیدکم فانزلوه “ اٹھ کر جاؤ اپنے سردار کو اتار لاؤ تو حضرت عمرؓ نے فرمایا: ”سیدنا الله عزوجل (مسند احمد ج ٦ ص ١٤٢)“ ہمارا سردار تو اللہ عزوجل ہے، تعجب ہے کہ وہ عمرؓ حضرت عیسیٰ کی آمد سن کر بالکل خاموش رہتے ہیں اور کچھ نہیں بولتے کہ یا رسول اللہ قرآن میں تو عیسیٰ کے لئے متوفيك اور توفیتنی آیا ہے وہ تو وفات پاچکے ہیں پھر کیونکر وہ دوبارہ آکر دجال کو قتل کریں گے؟ ان کو کہنا تھا کہ حیات مسیح تاقیامت کا عقیدہ تو شرکیہ ہے (بقول مرزا) آپ شرک مٹانے کو آئے ہیں یا اس کے استحکام کو؟ جب عمرؓ کچھ بھی نہیں بولتے اور ابن صیاد کو چھوڑ کر خاموشی سے آپ کے ساتھ واپس لوٹ پڑتے ہیں، تو صاف معلوم ہوا کہ حضرت ابوبکرؓ کی طرح حضرت عمرؓ کا بھی مذہب یہی تھا کہ حضرت عیسیٰ زندہ ہیں اور دوبارہ تشریف لائیں گے۔

حضرت امام حسنؓ

مستدرک حاکم ج ٣ ص ١٣٣ میں عن الحریث سمعت الحسن بن علی يقول قتل ليلة انزل القرآن وليلة اسرى بعيسى وليلة قبض موسى (درمنثور

٩

صفحہ ٣٧١

مج ٣ ص ٣٦) حریث کہتا ہے کہ میں نے امام حسنؓ سے سنا فرماتے تھے کہ جس شب میں قرآن نازل ہوا۔ جس رات کو عیسیٰ علیہ السلام زندہ آسمان پر چڑھائے گئے۔ جس رات کو موسیٰ کی جان قبض کی گئی، اسی شب میں حضرت علیؓ کو شہادت نصیب ہوئی۔ امام حسنؓ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی بابت فعل اسریٰ اسی طرح بولتے ہیں جس طرح قرآن مجید میں آنحضرت ﷺ کی معراج جسمانی کی بابت اسریٰ بولا گیا ہے۔ اور اسراء لغت میں اعضاء سے متعلق مانا گیا ہے نہ روح سے، مصباح منیر (لغت کی معتبر کتاب) میں ہے۔ السریہ ای قطعۃ بالسیر یعنی جب تو اپنے جسم کے ساتھ چل کر کوئی مسافت طے کرے تو ”سرایت“ بولیں گے۔ اللہ نے موسیٰ کو وحی بھیجی فاسر بعبادی لیلا (دخان) بنی اسرائیل کو راتوں رات لے چل۔ لوط کو وحی آئی فاسر باھلک بقطع من اللیل (ہود ٨١ و حجر ٦٥) اے لوط تو اپنے لوگوں کو کچھ رات رہے اس بستی سے لے نکل۔ پس ثابت ہوا کہ ”اسراء“ انتقال مکانی کے معنوں میں بولا جاتا ہے۔ اگر امام حسنؓ کا مذہب وفات عیسیٰ کا ہوتا تو جس طرح موسیٰ کے لئے انہوں نے قبض کہا تھا، عیسیٰ علیہ السلام کے لئے بھی یہی فعل بولتے دونوں پیغمبروں کے لئے دو متناقض لفظ نہ فرماتے، پس آفتاب نیمروز کی طرح واضح ہو گیا کہ امام حسنؓ حیات عیسیٰ علیہ السلام کے قائل تھے۔ والحمد للہ!

حضرت ابن عباسؓ

روى النسائي عن ابن عباس قال لما اراد الله ان يرفع عيسى الى السماء......الخ! (درمنثور ج٢ ص٢٣٨) واخرج ابو الشيخ عن ابن عباس، مدفى عمره حتى اهبط من السماء الى الارض يقتل الدجال (ایضاً ج٢ ص٣٥٠) وروى الامام احمد عن ابن عباس في قوله وانه لعلم للساعة قال هو خروج عيسى بن مريم قبل يوم القيامة (مسند احمد ج ١ ص ٣١٨ و مستدرک حاکم ج ٢ ص ٤٣٨) امام نسائی نے اپنی سند سے ابن عباسؓ سے روایت کی ہے آپ نے کہا کہ جب اللہ حضرت عیسیٰ کو آسمان کی طرف اٹھانے لگا......نیز ابن عباسؓ کہتے ہیں کہ حضرت عیسیٰ کی عمر بہت لمبی کی گئی ہے یہاں تک کہ آسمان سے زمین پر اتر کر دجال کو قتل کریں گے۔ اور آیت علم للساعة کی تفسیر میں ابن عباسؓ نے کہا ہے کہ اس سے حضرت عیسیٰ کا قیامت سے پیشتر تشریف لانا مراد ہے۔ لیجئے ابن عباسؓ بھی حیات ونزول عیسیٰ کے قائل تھے۔

امام مالکؒ

ابو عبداللہ مالکیؒ نے صحیح مسلم کی شرح اکمال اکمال المعلم میں تحریر کیا ہے: ”وفی

١٠

العتيبة قال مالك بينا الناس قيام يستمعون فیاذا عيسى قد نزل......الخ (ج ١ ص٢٦٦) ”یعنی مہدی کے پیچھے) کھڑے ہوئے نماز (فجر) کی تکبیر (ا ہوتی نظر آئے گی۔ اس سے حضرت عیسیٰ اتریں گے۔ ونزول عیسیٰ کے قائل تھے۔ فموتوا بغيظكم!

امام بخاریؒ

امام بخاری نے اپنی جامع صحیح میں حضرت عی فرمایا ہے۔ باب نزول عیسیٰ ابن مریم ﷺ (پ١٣)! نزول ثابت کیا ہے۔ اسی طرح دوسرے مقامات میں باب کسر الصلیب میں احادیث نزول عیسیٰ لائے ہیں ہیں: ”يدفن عيسى ابن مريم مع رسول الله (درمنثور ج٢ ص٢٤٥ و ص ٢٤٦) ”حضرت عیسیٰ آنحضر میں) مدفون ہوں گے۔ ان کی قبر وہاں پر چوتھی قبر ہو عیسیٰ اور مدینہ میں ان کے آئندہ زمانہ میں دفن کئے ج

امام اعظم ابو حنیفہؒ

امام صاحب اپنی مشہور کتاب فقہ اکبر میں السلام من السماء......حق کائن (ص٤ آسمان سے اترنا حق ہے۔ ہونے والا ہے۔ کہئے مر

امام شافعیؒ

امام شافعیؒ ، امام مالکؒ کے شاگرد رشید خالی نہیں۔ اوپر امام مالک کا مذہب بیان ہو چکا ہے تابعین و تبع تابعین کا یہی مذہب تھا۔ تو امام شافعیؒ کہیں بھی ان سے وفات عیسیٰ کی تصریح منقول ن کی آمد مروی ہے، چنانچہ سنن ابن ماجہ میں ہے یوم محمد بن ادریس الشافعی......لا تقوم ال

صفحہ ٣٧١

العتيبة قال مالك بينا الناس قيام يستمعون لاقامة الصلوة فتغشاهم غمامة فاذا عيسى قد نزل...... الخ (ج ١ ص ٢٦٦) ”یعنی امام مالکؒ نے فرمایا کہ مسلمان لوگ (امام مہدی کے پیچھے) کھڑے ہوئے نماز (فجر) کی تکبیر (اقامت) سن رہے ہوں گے کہ سر کے اوپر بدلی نظر آئے گی۔ اس سے حضرت عیسیٰ اتریں گے۔ لیجئے حضرت! دیکھئے امام مالکؒ بھی حیات ونزول عیسیٰ کو قائل تھے۔ فموتوا بغيظكم!

امام بخاریؒ

امام بخاری نے اپنی جامع صحیح میں حضرت عیسیٰ کے اترنے کا ایک خاص باب ہی منعقد فرمایا ہے۔ باب نزول عیسیٰ ابن مریم ﷺ (پ١٣) اس باب میں دو حدیثوں سے حضرت عیسیٰ کا نزول ثابت کیا ہے۔ اسی طرح دوسرے مقامات میں بھی۔ چنانچہ پارہ ٨ باب قتل الخنزیر و پارہ ٩ باب کسر الصلیب میں احادیث نزول عیسیٰ لائے ہیں۔ نیز امام بخاریؒ اپنی تاریخ میں تحریر فرماتے ہیں: ”يدفن عيسى ابن مريم مع رسول الله ﷺ وصاحبيه فيكون قبره رابعا (درمنثور ج ٢ ص ٢٤٥ و ص ٢٤٦) ”حضرت عیسیٰ آنحضرت ﷺ اور ابوبکرؓ و عمرؓ کے پاس (روضۂ مطہرہ میں) مدفون ہوں گے۔ ان کی قبر وہاں پر چوتھی قبر ہوگی۔ فرمائیے جناب! امام بخاری بھی تو نزول عیسیٰ اور مدینہ میں ان کے آئندہ زمانہ میں دفن کئے جانے کے قائل ہیں۔

امام اعظم ابوحنیفہؒ

امام صاحب اپنی مشہور کتاب فقہ اکبر میں فرماتے ہیں: ”ونزول عيسى عليه السلام من السماء....... حق کائن (ص ٦٣ مطبوعہ دائرہ المعارف دکن) ”یعنی حضرت عیسیٰ کا آسمان سے اترنا حق ہے۔ ہونے والا ہے۔ کہئے مزاج بخیر ہے؟

امام شافعیؒ

امام شافعیؒ ، امام مالک کے شاگرد رشید ہیں۔ ان کی کوئی تصنیف بھی حدثنا مالکؒ سے خالی نہیں۔ اوپر امام مالک کا مذہب بیان ہو چکا ہے کہ وہ نزول عیسیٰ کے قائل تھے۔ نیز تمام صحابہ تابعین و تبع تابعین کا یہی مذہب تھا۔ تو امام شافعی کا مذہب بھی اس کے خلاف نہیں ہوسکتا اور نہ کہیں بھی ان سے وفات عیسیٰ کی تصریح منقول ہے، برخلاف اس کے امام شافعی سے حضرت عیسیٰ کی آمد مروی ہے، چنانچہ سنن ابن ماجہ میں ہے یونس (شاگرد امام شافعی) کہتا ہے: ”حدثنا محمد بن ادريس الشافعى....... لا تقوم الساعة الا على شرار الناس ولا المهدى

١١

صفحہ ٣٧٣

الا عیسیٰ ابن مریم (ابن ماجہ مصری ج ٢ ص ٢٧٥) ”نہیں قائم ہوگی قیامت مگر بدترین لوگوں پر اور (اس سے پہلے کامل اور آخری اور معصوم) مہدی حضرت عیسیٰ بن مریم ہوں گے۔ یہ وہ روایت ہے جس کے نقل کرنے میں امام شافعی متفرد اور تنہا ہیں اور چونکہ ان کا شیخ محمد بن خالد جندی منکر الحدیث ہے۔ لہٰذا یہ حدیث رسول اللہ ﷺ کا قول نہیں ہے۔ ہاں امام شافعی یا ان کے شیخ کا قول بے شک ہے۔ پس امام شافعی کا مذہب بھی وہی ہوا جو امام مالک کا تھا اور امام شافعی سے حضرت عیسیٰ کا قریب قیامت کے آنا بصراحت ثابت ہوگیا۔ والحمد لله!

امام احمد بن حنبلؒ

مجاہد صاحب نے امام احمد کے بجائے ان کے دادا حنبل کا نام لکھا ہے۔ یہ ان کی غلطی ہے یا مغالطہ بہر حال امام احمد کا مذہب حضرت عیسیٰ کے نزول اور آمد ثانی کا اتنا مشہور ہے کہ اس کا انکار آفتاب کا انکار ہے۔ امام احمد نے اپنی مسند میں بکثرت احادیث صحیحہ نزول عیسیٰ سے متعلق درج کی ہیں۔ اگر بتمامھا ان کو نقل کیا جائے تو ایک مستقل رسالہ تیار ہو جائے۔ ہم ان کی کتاب مسند سے صرف چند صفحوں اور جلد کا حوالہ لکھ دیتے ہیں جس کا دل چاہے، نکال کر ملاحظہ کرلے۔ ان روایات سے امام احمد کا مذہب نزول وحیات عیسیٰ کا صاف ظاہر ہے۔ ملاحظہ ہو جلد اوّل ص ٣١٨ و ص ٣٧٥ و ج ٢ ص ١٦٦، ص ٢٩٠، ص ٢٩٨، ص ٣٣٦، ص ٤١١، ص ٤٣٧، ص ٤٩٤ وجلد سوم ص ٣٤٥، ص ٣٦٨، ص ٣٨٤، ص ٤٢٠ و ج ٤ ص ١٨٢، ص ٢١٧، ص ٤٢٩ و ج ٥ ص ١٣ ص ٢٧٨ و ج ٦ ص ٧٥ (اس بحر بیکراں سے اتنے حوالے سرسری نظر سے ملے ہیں)

ابو عبداللہ مالکی

ان کا نام خواہ مخواہ نمبر بڑھانے کو لکھ دیا ہے۔ ان سے کہیں بھی وفات عیسیٰ کی تصریح منقول نہیں اور نہ ایسا ممکن ہے جب کہ ان کے امام (مالکؒ) نزول عیسیٰ کے قائل ہیں جیسا کہ خود انہیں ابو عبداللہ مالکی کی کتاب اکمال شرح صحیح مسلم سے اوپر نمبر ٥ میں بذیل ذکر امام مالک نقل کیا جاچکا ہے اور خود ابو عبداللہ مالکی نے احادیث نزول صحیح مسلم کی شرح میں بڑے زور سے نزول عیسیٰ کی تائید کی ہے۔ کل مالکیوں کا یہی مذہب ہے۔ قاضی عیاض مالکی کا مذہب خود اسی اکمال میں نزول عیسیٰ کا منقول ہے۔ زرقانی مالکی مذہب شرح مواہب جلد ششم ذکر المعراج میں مسطور ہے۔ شیخ احمد مالکی نے صاوی علی الجلالین ج ٣ ص ٤٤ پر نزول کی صراحت کی ہے۔ وقس علی ھٰذا!

١٢

حافظ ابن قیمؒ

ان پر بھی وفات عیسیٰ علیہ السلام کے اقرار دسوں بزرگوں پر جن کا اوپر بیان ہوا ہے۔ حافظ ابن ونزول عیسیٰ علیہ السلام کا بصراحت اقرار کیا ہے۔ ہم ان کرتے ہیں۔ ابن قیم کتاب البیان میں لکھتے ہیں: ”و وغذاؤہ من جنس غذاء الملئکۃ (ص ١٤٩ کو تبیان فی اقسام القرآن مطبوعہ میری مکہ۔ یعنی حضرت ہے جو فرشتوں کی ہے اور مسیح اللہ کی طرف (آسمان السالکین میں تحریر فرماتے ہیں: ”واذا نزل عیسی محمدﷺ (ص ٣٣٣ ج ٢ مطبوعہ المنار مصر ) ”یعنی محمد ﷺ کی شریعت سے فیصلہ کریں گے۔ اور اک ”عیسی ابن مریم یظھر دین الله و الشرقیۃ بدمشق نازلا من السماء فیحک (ہدیۃ الحیاری مع ذیل الفارق ص ٣٣ مطبوعہ مصر ) ”یعنی منارہ پر اتریں گے۔ اللہ کے دین کو غالب کری وحدیث سے فیصلہ فرمائیں گے۔ اور ابن قیم قصید المسیح حقيقةً ولسوف ینزل کی عیسى المرتضىٰ، حقا الیه جاء فی ا حقیقةً وکذابن مریم مصعد الابدان ا عیسی ابن مریم کاسرالصلبان (ص اٹھائے گئے اور عنقریب نازل ہوں گے تاکہ آ السماء حق ہے قرآن میں آیا ہوا ہے۔ آنحضر حضرت عیسیٰ بدن کے ساتھ اٹھائے گئے۔ محمہ عیسیٰ صلیب کے توڑنے والے بھی آسمان پر نقل کرتا جاؤں۔ مرزائیوں کی تکذیب کے

صفحہ ٣٧٣

حافظ ابن قیمؒ

ان پر بھی وفات عیسیٰ علیہ السلام کے اقرار کا الزام اسی طرح غلط ہے جس طرح ان دسوں بزرگوں پر جن کا اوپر بیان ہوا ہے۔ حافظ ابن قیم نے تو اپنی اکثر تصنیفات میں حیات و نزول عیسیٰ علیہ السلام کا بصراحت اقرار کیا ہے۔ ہم ان کی چند کتابوں سے ذیل میں حوالے درج کرتے ہیں۔ ابن قیم کتاب البیان میں لکھتے ہیں: ”وهذا المسيح ابن مريم حى لم يمت وغذاؤه من جنس غذاء الملئكة (ص ١٣٩) وانه رفع المسيح اليه (ص ٢٢)“ دیکھو تبیان فی اقسام القرآن مطبوعہ میرٹھ۔ یعنی حضرت عیسیٰ زندہ ہے مرے نہیں اور ان کی غذا وہی ہے جو فرشتوں کی ہے اور مسیح اللہ کی طرف (آسمان پر) اٹھائے گئے تھے۔ نیز ابن قیمؒ مدارج السالکین میں تحریر فرماتے ہیں: ”واذا نزل عيسى بن مريم فانما يحكم بشريعة محمدﷺ (ص ٣٣٣ ج ٢ مطبوعہ المنار مصر)“ یعنی حضرت عیسیٰ علیہ السلام جب نازل ہوں گے تو محمدﷺ کی شریعت سے فیصلہ کریں گے۔ اور ابن قیم ہدیۃ الحیاریٰ میں ارقام فرماتے ہیں: ”عيسى ابن مريم يظهر دين الله ويقتل اعداءه وهو نازل على المنارة الشرقية بدمشق نازلا من السماء فيحكم بكتاب الله وسنة رسوله اھ ملتقطاً (ہدیۃ الحیاریٰ مع ذیل الفارق ص ٣٤ مطبوعہ مصر)“ یعنی حضرت عیسیٰ آسمان سے دمشق کے پورب والے منارہ پر اتریں گے۔ اللہ کے دین کو غالب کریں گے۔ اپنے دشمنوں کو قتل کریں گے۔ قرآن وحدیث سے فیصلہ فرمائیں گے۔ اور ابن قیم قصیدہ نونیہ میں فرماتے ہیں: ”واليه قد رفع المسيح حقيقة ولسوف ينزل كي يرى بعيان (ص٤٩) وكذاك رفع الروح عيسى المرتضى، حقا اليه جاء فى القرآن (ص٦٦) واليه قد عرج الرسول حقيقة وكذا بن مريم مصعد الابدان (ص ١٧٠) واليه قد صعد الرسول وقبله عيسى ابن مريم كاسر الصلبان (ص ١٣٦ مطبوعہ مصر)“ یعنی حضرت عیسیٰ درحقیقت آسمان پر اٹھائے گئے اور عنقریب نازل ہوں گے تاکہ آنکھوں سے دیکھے جائیں۔ روح اللہ عیسیٰ کا رفع الی السماء حق ہے قرآن میں آیا ہوا ہے۔ آنحضرتﷺ کی معراج جسمی بھی حقیقی ہے۔ اسی طرح حضرت عیسیٰ بدن کے ساتھ اٹھائے گئے۔ محمدﷺ آسمان پر چڑھ کر گئے اور آپ سے پہلے حضرت عیسیٰ صلیب کے توڑنے والے بھی آسمان پر لے جائے گئے تھے۔ غرض ابن قیمؒ سے میں کہاں تک نقل کرتا جاؤں۔ مرزائیوں کی تکذیب کے لئے اتنا بہت ہے۔

١٣

صفحہ ٣٧٥

ابن حزمؒ

علامہ ابن حزم ظاہری اپنی مشہور کتاب المحلیٰ میں لکھتے ہیں: ”ان عيسى ابن مريم ينزل (ج ص٨)“ یعنی عیسیٰ بے شک نازل ہوں گے۔ پھر ص ٩ میں نزول عیسیٰ کی حدیث بھی نقل کی ہے۔ نیز اپنی دوسری کتاب الفصل فی الملل میں لکھتے ہیں: ”فى الاثار المسندة الثابتة فى نزول عيسى ابن مريم فى آخر الزمان (مطبوع مصر ج ٣ ص ١٨٠)“ یعنی آخر زمانہ میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا نزول احادیث میں آیا ہے جو بالسند اور ثابت ہیں اور جلد اول میں لکھا ہے: ”جأت الاخبار الصحاح من نزول عيسى (الی) فوجب الاقرار بهذه الجملة (ج ١ ص ٧٧)“ یعنی صحیح حدیثوں سے نزول عیسیٰ ثابت ہے اور اس کا اقرار کرنا واجب ہے۔ نیز ج٣ میں لکھتے ہیں: ”واما من قال ان بعد محمد ﷺ نبيا غير عيسى ابن مريم فانه لا يختلف اثنان فى تكفيره (ج ٣ ص ٢٤٩)“ یعنی جو شخص کہے کہ بعد آنحضرت ﷺ کے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے سوا اور کوئی نبی ہوگا اس کے کافر ہونے میں دو شخصوں کا بھی اختلاف نہیں ہے۔ لیجئے ابن حزم آنحضرت ﷺ کے بعد صرف حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا آنا مانتے ہیں اور دوسرے مدعی نبوت کو کافر بنا رہے ہیں۔ مرزائیو! جن کو تم نے اپنا ہم خیال سمجھا تھا وہ تم کو کافر کہتے ہیں۔

ابن عربیؒ

شیخ اکبر محی الدین ابن عربی صوفی اپنی آخری تصنیف فتوحات مکیہ میں لکھتے ہیں: ”عيسى عليه السلام اذا نزل يحكم بشريعة محمد ﷺ لانه ينزل عيسى ابن مريم بالمنارة البيضاء شرقى دمشق.....الخ! (باب ٣٦٦ ج ٣ ص ٣٢٧، ٣٢٨) انه لم يمت الى الان بل رفعه الله الى هذه السماء واسكنه فيها (باب ٣٦٧ ج ٣ ص ٣٤١) انه يموت اذا قتل الدجال.....الخ! (باب ٣٦٦)“ حاصل ان عبارات کا یہ ہے کہ حضرت عیسیٰ ابن مریم دمشق سے پورب سفید منارہ پر اتریں گے اور جب وہ نازل ہوں گے تو شریعت محمدیہ سے فیصلہ کریں گے، وہ ابھی تک مرے نہیں ہیں۔ بلکہ اللہ نے ان کو آسمان پر اٹھا کر وہاں ہی بسایا ہے، جب وہ (آخر زمانہ میں اتر کر) دجال کو قتل کر دیں گے تو ان کو موت آئے گی۔ ......؟ شیخ اکبر کا یہ فیصلہ کیا آپ لوگ مانیں گے؟ ..... ابن عربی کی مزید تصریحات (فتوحات مکیہ ج١ ص ١٣٥، ص ١٤٤، ١٨٥، ص ٢٢٢، و ج ٣ ص ٣٩، و ص ١٢٥، و ج ٣ ص ٥١٣، ص ٥١٤) میں بھی نزول عیسیٰ کی

١ ابن عربی کی یہی عبارت فصوص الحکم مع شرح ملا جامی کے ص ٣١٣ پر بھی ہے۔

١٤

بات صاف صاف موجود ہیں۔

جبائی معتزلی

قال الجبائي انه لمارفع عيسى مطبوع مصر وعقيدة الاسلام ص ١٢٤) صاحب کشف الاسرار جب حضرت عیسیٰ کا رفع الی السماء ہوا تو یہود کر دیا۔ ..... الخ! لیجئے جبائی معتزلی بھی موت عیسیٰ کے قا عیسیٰ کا رفع تسلیم کرتے ہیں۔

شامی حنفیؒ

ابن عابدین شامی اپنی مشہور کتاب رد (عیسیٰ) بالاجتهاد او بما تعلمه من شر مطبوع مجتبائی ج ١ ص ٣٩) ”یعنی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کریں گے یا ہماری شریعت جو کچھ انہوں نے آسمان مجید میں نظر وفکر کر کے فہم حاصل کریں گے۔ اس ۔ رسول اللہ ﷺ کے خلیفہ اور قائم مقام ہوں گے ۔ اقراری ہیں۔

ملا علی قاری حنفیؒ

آپ شرح فقہ اکبر میں لکھتے ہیں: ”انہ عيسى من السماء (مطبوع مصر ص ٩٢ طبع ١٣٢٣ھ آسمان سے اتریں گے تو دجال اس طرح پگھلنے ۔ کرتے ہیں: ”ان عيسى نبي قبله وينز قبلته ويكون من جملة امته (مطبوع استنبول آنحضرت کے اور نازل ہوں گے بعد آپ کے پڑھیں گے آپ کے قبلہ کی طرف اور ہوں گے آ۔ فينزل عيسى ابن مريم من السماء ۔ (مرقاة مطبوع مصرص ١٦٠ ج٥) ”یعنی عیسیٰ آسمان ۔

صفحہ ٣٧٥

بابت صاف صاف موجود ہیں۔

جبائی معتزلی

قال الجبائي انه لما رفع عيسى عليه السلام ...... الخ! (كشف الاسرار مطبوع مصر وعقيدة الاسلام ص ١٢٢) صاحب کشف الاسرار علامہ جبائی سے ناقل ہیں جبائی نے فرمایا کہ جب حضرت عیسیٰ کا رفع الی السماء ہوا تو یہود نے ایک شخص کو عیسیٰ کے تابعداروں سے قتل کر دیا ...... الخ! لیجئے جبائی معتزلی بھی موت عیسیٰ کے قائل نہیں ہیں۔ بلکہ صاف صاف وہ حضرت عیسیٰ کا رفع تسلیم کرتے ہیں۔

شامی حنفی

ابن عابدین شامی اپنی مشہور کتاب رد المحتار میں لکھتے ہیں: ”انما يحكم (عیسیٰ) بالاجتهاد او بما تعلمه من شريعتنا فى الحقيقة خليفة عنه (شامى مطبوع مجتبائی ج ١ ص ٣٩)“ یعنی حضرت عیسیٰ علیہ السلام جب آئیں گے تو فیصلے یا تو اپنے اجتہاد سے کریں گے یا ہماری شریعت جو کچھ انہوں نے آسمان پر سیکھی ہے اس سے فیصلے کریں گے یا قرآن مجید میں نظر وفکر کر کے فہم حاصل کریں گے۔ اس سے فیصلہ کریں گے۔ کیونکہ حقیقت میں وہ محمد رسول اللہ ﷺ کے خلیفہ اور قائم مقام ہوں گے۔ پس علامہ شامی بھی حضرت عیسیٰ کی آمد کے اقراری ہیں۔

ملا علی قاری حنفی

آپ شرح فقہ اکبر میں لکھتے ہیں: ”انه يذوب كالملح في الماء عند نزول عیسیٰ من السماء (مطبوع مصر ص ٩٢ طبع ١٣٢٣ ھ وص ١٠١ طبع مصر ١٣٢٧ ھ )“ یعنی حضرت عیسیٰ جب آسمان سے اتریں گے تو دجال اس طرح پگھلنے لگے گا جیسے نمک پانی میں اور شرح شفاء میں تحریر کرتے ہیں: ”ان عيسى نبی قبله وينزل بعده ويحكم بشريعته ويصلی الی قبلته ويكون من جملة امته (مطبوع استنبول ج ٢ ص ٥١٩)“ یعنی حضرت عیسیٰ نبی ہو چکے پیشتر آنحضرت کے اور نازل ہوں گے بعد آپ کے اور فیصلہ کریں گے آپ کی شریعت سے اور نماز پڑھیں گے آپ کے قبلہ کی طرف اور ہوں گے آپ کی امت سے اور شرح مشکوۃ میں لکھتے ہیں۔ ” فينزل عيسى ابن مريم من السماء على منارة مسجد دمشق فياتي القدس (مرقاة مطبوع مصر ص ١٢٠ ج ٥)“ یعنی عیسیٰ آسمان سے اتریں گے دمشق کی مسجد کے منارہ پر پھر بیت

١٥

صفحہ ٣٧٧

المقدس تشریف لائیں گے اور شرح شمائل میں ارقام فرماتے ہیں: ”ان عیسی یدفن بجنب نبینا ﷺ بینه وبین الشیخین (جمع الوسائل مطبوعہ مصر ص ٥٦٣)“ یعنی حضرت عیسیٰ (بعد نزول) ہمارے پیغمبر ﷺ کے پہلو میں دفن ہوں گے آپ کے اور ابوبکر و عمرؓ کے درمیان میں۔ ملا علی قاری کے یہ چار حوالے مرزائیوں کی تکذیب کے لئے کافی ہیں۔

خواجہ محمد پارساؒ

خواجہ صاحب اپنی کتاب فصول ستہ میں فرماتے ہیں: ”حضرت عیسیٰ بعد از نزول عمل بمذہب......خواہد کرد۔“ دیکھو مکتوبات سرہندی کا مکتوب ١٧ دفتر سوم، پس خواجہ محمد پارسا بھی نزول عیسیٰ کی صراحت فرما رہے ہیں اور فصل الخطاب میں منکر نزول عیسیٰ کا کفر حدیث سے نقل کیا ہے۔

داتا گنج بخشؒ

حضرت علی ہجویری معروف بہ داتا گنج بخش اپنی کتاب کشف المحجوب میں ترجمہ فرماتے ہیں: ”حضرت عیسیٰ مرقع (پیوند لگے ہوئے کپڑے) رکھتے تھے جس کو وہ آسمان پر لے گئے۔ (ص ٥٢ اردو ترجمہ مطبوعہ لاہور)“ لیجئے داتا گنج بخش صاحب تو حضرت عیسیٰ کے بدن کیا بدن کے کپڑے سمیت آسمان پر جانا لکھ رہے ہیں۔

حافظ محمد صاحبؒ

حافظ محمد صاحب لکھو کے (پنجاب) والے کا مشہور پنجابی شعر کتاب احوال الآخرۃ ص ٣٠ پر یوں مرقوم ہے۔ آسماناں تھیں حضرت عیسیٰ موڈھے ملکاں آوے اوپر منارے شرقی مسجد جامع آن ملاوے۔ یعنی حضرت عیسیٰ علیہ السلام آسمانوں سے فرشتوں کے کندھے کے سہارے آئیں گے۔ دمشق کی جامع مسجد کے پورب والے مینار پر، اس سے زیادہ کیا چاہئے۔

علمی مرحومؒ

مولوی محمد حسن علمی بھی حیات عیسیٰ کے قائل ہیں چنانچہ فرماتے ہیں: ”آسمان پر عیسیٰ اور داؤد وموسیٰ خاک میں (مجموعہ خطب علمی مطبوعہ علمی پریس لاہور ص ١٤٣)“ اگر بقول آپ کے وہ وفات عیسیٰ کے قائل ہوتے تو مصرع یوں لکھتے ”حضرت داؤد وموسیٰ اور عیسیٰ خاک میں“ جب وہ حضرت عیسیٰ کو آسمان پر فرما رہے ہیں اور حضرت موسیٰ وداؤد کو خاک میں لکھتے ہیں تو صاف یہی معنی ہوئے کہ حضرت عیسیٰ تو زندہ آسمان پر چلے گئے اور حضرت موسیٰ وداؤد مر کر خاک میں مدفون ہوئے۔ یہ عجیب بات ہے کہ جتنے حضرات کے نام آپ نے قائلین وفات عیسیٰ کی فہرست میں گنوائے تھے وہ

١٦

سب لوگ حیات ونزول عیسیٰ کے اقراری اور ہمارے

سنا کرتے تھے شہرہ ذوق
وہ سب رند خرابات اپنے

”وغیرہ“ کی

مجاہد صاحب نے بڑے مجاہدہ کے بعد جی ہو چکی اب ذرا ان کے ”وغیرہ“ کی حقیقت بھی ملاحظ

مجدد الف ثانیؒ

حضرت شیخ احمد سرہندی مکتوبات میں خواہد فرمودہ متابعت شریعت خاتم الرسل خواہد نمود سے نزول فرما کر خاتم النبیین کی شریعت کی پیروی

پیران پیرؒ

سیدنا حضرت شیخ عبد القادر گیلانی غنیۃ عز وجل عیسیٰ علیه السلام الی السماء آسمان پر اٹھا لیا۔

خواجہ اجمیریؒ

حضرت خواجہ معین الدین اجمیری ک الارواح نولکشوری ص ٦٩) یعنی حضرت عیسیٰ علیہ السلا

شیخ صابریؒ

پیران کلیر والے شیخ محمد اکبر صابری بود و عیسیٰ باو اقتدا کرده نماز خوا حضرت فاطمہ کی اولاد سے ہوں گے اور عیسیٰ علی

معروف کرخیؒ

”عن ابی نعیم قال سمعت جبریل أن ارفع عبدى الیَّ (حلیۃ الا

صفحہ ٣٧٧

سب لوگ حیات و نزول عیسیٰ کے اقراری اور ہمارے ہم خیال نکلے کیا خوب

سنا کرتے تھے شہرہ ذوق جن کی پارسائی کا
وہ سب رند خرابات اپنے نکلے ہم نوا نکلے

”وغیرہ“ کی حقیقت

مجاہد صاحب نے بڑے مجاہدہ کے بعد بیس ٢٠ نام جو پیش کئے تھے ان کی حقیقت تو ظاہر ہو چکی اب ذرا ان کے ”وغیرہ“ کی حقیقت بھی ملاحظہ ہو۔

مجدد الف ثانیؒ

حضرت شیخ احمد سرہندی مکتوبات میں فرماتے ہیں ”حضرت عیسیٰ کہ از آسمان نزول خواہد فرمود متابعت شریعت خاتم الرسل خواہد نمود“ (مکتوبات ٦٧ دفتر سوم) یعنی حضرت عیسیٰ آسمان سے نزول فرما کر خاتم النبیین کی شریعت کی پیروی کریں گے۔

پیران پیرؒ

سیدنا حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی غنیۃ الطالبین میں تحریر فرماتے ہیں: ”رَفَعَ الله عزوجل عیسیٰ علیه السلام الی السمآء (مصری ج٢ ص١١)“ یعنی اللہ نے حضرت عیسیٰ کو آسمان پر اٹھا لیا۔

خواجہ اجمیریؒ

حضرت خواجہ معین الدین اجمیری کا ارشاد سنو ”حضرت عیسیٰ از آسمان فرود آید“ (انیس الارواح نولکشوری ص٩) یعنی حضرت عیسیٰ علیہ السلام آسمان سے اتریں گے۔

شیخ صابریؒ

پیران کلیر والے شیخ محمد اکبر صابری کا فرمان سنو ”مہدی از بنی فاطمه خواهد بود و عیسیٰ باو اقتدا کرده نماز خواهد گزارد (اقتباس الانوار ص٧٢)“ یعنی امام مہدی حضرت فاطمہ کی اولاد سے ہوں گے اور عیسیٰ علیہ السلام ان کی اقتداء میں نماز ادا کریں گے۔

معروف کرخیؒ

”عن ابی نعیم قال سَمِعْتُ معروفا الکرخی یقول ....... اوحی الله الیٰ جبریل ان ارفع عبدی الیّ (حلیۃ الاولیاء ج٨ ص٣٥)“ حضرت معروف کرخی نے فرمایا کہ

١٧

صفحہ ٣٧٨

(مکر یہود کے وقت) اللہ نے جبرائیل کو وحی کی کہ میرے بندہ عیسیٰ کو میرے (آسمان کی) طرف اٹھالاؤ۔

شیخ عطارؒ

مولانا فرید الدین عطار لکھتے ہیں:

عشق عیسیٰ را بگردوں می برد
یافته ادریس جنت از صمد

(مثنوی عطار ص ٢٠)

یعنی عشق الہی حضرت عیسیٰ کو آسمانوں پر لے گیا اور حضرت ادریس نے خدا سے جنت پائی۔

مولانا رومؒ

جس طرح مولانا عطار نے فرمایا ہے: ”عشق عیسیٰ را گردون می برد“ مولانا جلال الدین رومی بھی فرماتے ہیں: ”جسم خاک از عشق بر افلاک شد (دیباچہ دفتر اول) یعنی خاکی جسم عشق الہی کے باعث آسمانوں پر چلا جاتا ہے۔ دونوں بزرگوں کا مطلب ایک ہی ہے۔

شاہ ولی اللہؒ

حضرت شاہ صاحب تاویل الاحادیث میں لکھتے ہیں: ”رفعه الى السماء (مترجم ص٦٠)“ اللہ نے عیسیٰ کو آسمان پر اٹھا لیا۔

شاہ رفیع الدینؒ

آپ اپنی مشہور کتاب علامات قیامت میں لکھتے ہیں: ”حضرت عیسیٰ علیہ السلام دو فرشتوں کے کاندھوں پر تکیہ کئے آسمانوں سے دمشق کی جامع مسجد کے شرقی منارہ پر جلوہ افروز ہوں گے۔“

(اردو ترجمہ ص ١٠ طبع دہلی)

شاہ عبدالقادرؒ

آپ موضح القرآن میں لکھتے ہیں: ”حضرت عیسیٰ علیہ السلام ابھی زندہ ہیں چوتھے آسمان پر جب یہودیوں میں دجال پیدا ہوگا تب اس جہاں میں آکر اسے ماریں گے۔“

(مطبوعہ قیومی پریس کانپور ص ٩٦)

١٨

صفحہ ٣٧٩

اس مبحث میں مرزا قادیانی نے اپنے ازالہ میں ٣٠ نمبر کھینچ تان کر پورے کئے تھے ہم نے بھی سینکڑوں اقوال بزرگان سلف سے بالفعل صرف ٣٠ یہاں پر لکھ دیئے ہیں۔ تا کہ لوگوں کو معلوم ہو جائے۔

نہ تنہا من دریں میخانہ مستم
جنید وشبلی وعطار شد مست

آغاز جواب

مجاہد کی ”اصولی بات“ پر ایک نظر

ٹریکٹ ظہور امام نمبر ٢ ص ٤ پر مجاہد صاحب نے ایک خود ساختہ غلط اصول پیش کرتے ہوئے کچھ خامہ فرسائی کی ہے۔ جس میں عوام کالانعام کو کئی مغالطے دیئے ہیں۔

پہلا مغالطہ

لکھتے ہیں ص ٤ ”ہم احمدی لوگ تمام انبیاء کو ....... روحانی طور سے زندہ ...... ان کی ارواح کو ...... آسمانوں میں قرار یافتہ مانتے ہیں۔“ حالانکہ مرزا قادیانی حضرت موسیٰ کو جسمانی زندگی سے زندہ آسمان پر مانتے ہیں (نور الحق ج ١ ص ٥٠) جیسا کہ ہمارے (ٹریکٹ نمبر ٦ ص ١٠ وص ١١) پر مفصل مرقوم ہے۔

دوسرا مغالطہ

ص ٤ میں لکھتے ہیں: ”آجکل کے اکثر لوگ ...... حضرت عیسیٰ کو ...... خاکی جسم کے ساتھ ...... آسمانوں پر زندہ مانتے ہیں۔“ آج کل کے لوگ نہیں بلکہ عہد نبوی سے حسب تعلیم نبوی تمام سلف وخلف کے لوگ ایسا ہی مانتے اور لکھتے چلے آئے ہیں۔ جیسا کہ اوپر تیس ٣٠ بزرگوں کی تصریحات سے صاف ظاہر ہے۔ جن میں صحابہ کرام، آئمہ عظام، محدثین فخام، اولیاء کبار اور فقہائے امصار سب ہی تو موجود ہیں۔

تیسرا مغالطہ

لکھتے ہیں ص ٤ ”کسی ضعیف حدیث میں یا غلط قول میں آسمان کا بھی لفظ ہو ۔“ حالانکہ جن احادیث میں من السماء کا لفظ آیا ہے۔ (جواب دعوۃ کا ص ١٢ دیکھو) ان کو سلف وخلف میں سے کسی محدث نے بھی ضعیف نہیں کہا ہے اور مجاہد صاحب نے بھی ان کی تضعیف میں کوئی ضعیف قول

١٩

صفحہ ٣٨١

تک بھی کسی سے نقل نہیں کیا ہے۔ اسی طرح جن بزرگان سلف کی عبارات میں آسمان کا لفظ آیا ہے۔ مثلاً حضرت ابن عباس، امام ابو حنیفہ، حافظ ابن قیم، شیخ اکبر ابن عربی، علامہ شامی، ملا علی قاری، مجدد الف ثانی، پیران پیر، خواجہ اجمیری، مولانا عطار، داتا گنج بخش، شاہ ولی اللہ، شاہ رفیع الدین، شاہ عبدالقادر، حافظ محمد مرحوم، سلمی مرحوم، جن کی تصریحات اوپر منقول ہو چکی ہیں نیز دیگر بزرگان سلف وخلف جن کے اقوال ہم آئندہ کبھی نقل کریں گے۔ ان تمام بزرگوں کے قول کو غلط قول کہنا بڑی جسارت اور عوام کو کھلا ہوا مغالطہ دینا ہے۔

چوتھا مغالطہ

لکھتے ہیں ص ٤: ”جسمانی زندگی ثابت نہیں کی جاسکتی جب تک حضرت عیسیٰ کے ذکر کے ساتھ جسم خاکی، آسمانی دنیا، جسمانی زندگی کے تینوں الفاظ کی واضح تصریح نہ ہو۔“ کیا مرزا قادیانی کو حضرت موسیٰ کے لئے یہ تینوں الفاظ کسی آیت یا حدیث میں مصرح مل گئے تھے، جن کی بناء پر نور الحق میں انہوں نے حضرت موسیٰ کی جسمانی زندگی آسمان پر تحریر کی ہے؟ اگر یہ اصولی بات مرزا قادیانی کے لئے ضروری نہ تھی تو ہمارے لئے کیوں ضروری ہے؟ اور کیا خدا اور رسول کے لئے بھی ضروری ہے کہ وہ آپ کی خود ساختہ اصولی بات کی پابندی کریں پھر یہ آپ کا مغالطہ نہیں تو کیا ہے؟

پانچواں مغالطہ

لکھتے ہیں ص ٤: ”حدیث میں آسمان کا لفظ ..... مولوی صاحبان کی طبع آزمائی کا نتیجہ ہے نہ کہ آنحضرت ﷺ کا فرمودہ“ جس طرح مرزا قادیانی نے لن تمھدینا آیتین ...... الخ! کو آنحضرت ﷺ کا فرمودہ لکھ دیا ہے (نور الحق ص ٨٢ ج ٣، خزائن ج ٨ ص ١٠٩) ”جیسے مولوی غلام احمد مجاہد نے ”جو قرآن کے مطابق ہو وہ صحیح سمجھنا ...... الخ!“ کو آنحضرت ﷺ کا فرمان تحریر کر دیا ہے۔ (ظہور امام نمبر ٢ ص ٢ سطر ٢١، ٢٢) اسی طرح دوسری احادیث کو بھی سمجھتے ہیں کہ من السماء کا لفظ محدثین نے آنحضرت ﷺ کی طرف غلط منسوب کر دیا ہے۔ سچ ہے المرء یقیس علی نفسہ پس یہ بھی صریح مغالطہ ہے۔

مجاہد کے جوابات کی حقیقت

اس رسالہ کے شروع میں ہم لکھ آئے ہیں کہ ہمارا دوسرا ٹریکٹ جو ”اظہار حقیقت“ کے نام سے شائع ہوا تھا اور جو تیرہویں صفحہ پر ختم ہو گیا ہے۔ اس کا جواب مجاہد صاحب نے نہیں دیا۔

٢٠

مذکور کے آخر میں ص ١٥ وص ١٦ پر ایک مختصر سی کے جواب دینے کی سعی لاحاصل کی ہے۔ وہ مذہبی نمبروں کے متعلق خامہ فرسائی کی ہے۔ یع ملا ہے اس کی حقیقت ملاحظہ ہو۔

بحث آما

اب دلیل نمبر ١

فہرست میں یہ دلیل نمبر ٥ تھی مجاہد صاحب صلیب پر چڑھانا“ لکھا تھا جس طرح شاہ عبدال شاہ ولی اللہ صاحب نے لکھا ہے: ”بردار نہ ک غلط اور عربی زبان سے ناواقفیت کا نتیجہ ہے۔ (س محدثین، تسلیم کریں (ازالہ ص ١٥٣، خزائن ج ٣ ص اس کی لغت سے سراسر ناواقف بتائیں، یہ ہیں نق

صلب کے معنے

مجاہد صاحب نے ایک نئی حقیقت ۔ کے نہیں، سولی پر چڑھا کر مار دینے کے ہیں چہ دیتے کہ عربی زبان میں صرف سولی پر چڑھانے جو الفاظ کہ افعال کے لئے موضوع ہیں وہ صرف ان میں داخل نہیں ہوتا۔ نتیجہ پر دلالت ترکیب کی تمام کتابوں میں صلب کے معنی صرف سولی عرب عرباء کا کوئی شعر پیش کرو۔ مجاہد صاحب العرب میں ھے الصليب هٰذه القتلة اعلیٰ وافضل ہونا شے دیگر ہے اور اس کا حجت ہو معنی ”قتل کر دینا“ کئے ہیں۔ میں ان کی علمی کروں؟ جناب والا! فعلة کا وزن عربی صرف کی مشہور کتاب شافیہ میں ہے: ”وفع

صفحہ ٣٨١

ٹریکٹ مذکور کے آخر میں ص ١٥ و ص ١٦ پر ایک مختصر سی فہرس شائع کی گئی تھی۔ مجاہد صاحب نے اس فہرس کے جواب دینے کی سعی لا حاصل کی ہے۔ وہ بھی خیر سے پوری نہیں بلکہ ٢٢ نمبروں میں سے صرف دس نمبروں کے متعلق خامہ فرسائی کی ہے۔ یعنی نصف قرضہ بھی ادا نہیں کیا ہے۔ پس جو کچھ بھی ملا ہے اس کی حقیقت ملاحظہ ہو۔

بحث آیات

جواب دلیل نمبر ١

فہرست میں یہ دلیل نمبر ٥ تھی مجاہد صاحب نے پانچ کو ایک بنا دیا، ہم نے صلبوہ کا ترجمہ ”صلیب پر چڑھانا“ لکھا تھا جس طرح شاہ عبدالقادر صاحب نے لکھا ہے۔ ”نہ سولی پر چڑھایا“ شاہ ولی اللہ صاحب نے لکھا ہے: ”بر دار نہ کردند اورا“ مجاہد صاحب لکھتے ہیں: ”یہ ترجمہ غلط اور عربی زبان سے ناواقفیت کا نتیجہ ہے۔ (ص ٥)“ مرزا قادیانی تو شاہ ولی اللہ صاحب کو ”رئیس محدثین“ تسلیم کریں (ازالہ ص ١٥٣، خزائن ج ٣ ص ١٧٨،١٧٩) اور مجاہد غلام قادیانی ان کو زبان عربی اور اس کی لغت سے سراسر ناواقف بتائیں، یہ ہیں: تفاوت رہ از کجاست تابہ کجا

صلب کے معنے

مجاہد صاحب نے ایک نئی حقیقت بیان کی ہے کہ: ”صلب کے معنی سولی پر چڑھانے کے نہیں، سولی پر چڑھا کر مار دینے کے ہیں۔“ (ص ٥) کیا اچھا ہوتا کہ اگر مجاہد صاحب یہ بھی بتا دیتے کہ عربی زبان میں صرف سولی پر چڑھانے کے لئے کون سا لفظ بولا جاتا ہے؟ اجی حضرت! جو الفاظ کہ افعال کے لئے موضوع ہیں وہ صرف ان کی ابتدائی صورت کے لئے ہوتے ہیں۔ نتیجہ ان میں داخل نہیں ہوتا۔ نتیجہ پر دلالت ترکیب سے ہوتی ہے، یا زیادت سے۔ اسی لئے عربی لغت کی تمام کتابوں میں صلب کے معنی صرف سولی پر چڑھانا مرقوم ہیں۔ موت اسے لازم نہیں۔ ورنہ عرب عرباء کا کوئی شعر پیش کرو۔ مجاہد صاحب بڑی دور کی کوڑی لائے ہیں، لکھتے ہیں: ”لسان العرب میں ہے الصلیب ھذه القتلة المعروفة “ لسان العرب کا تمام عربی لغات سے اعلیٰ و افضل ہونا شے دیگر ہے اور اس کا سمجھنا شے دیگر۔ مجاہد صاحب نے جوش جہاد میں قتلة کے معنی ”قتل کر دینا“ کئے ہیں۔ میں ان کی علمیت پر ہنسوں یا ان کے ”مولوی فاضل“ ہونے کا ماتم کروں؟ جناب والا! فعلة کا وزن عربی زبان میں نوعیت ظاہر کرنے کے لئے آتا ہے: قواعد فن صرف کی مشہور کتاب شافیہ میں ہے: ”ویکسر الفاء للنوع نحو ضربة وقتلة “ پس

٢١

صفحہ ٣٨٣

لسان العرب میں صلب کے ضمن میں جو القتلة المعروفة لکھا ہے اس کے معنے یہ ہیں کہ ”صلیب بھی قتل کا ایک ذریعہ ہے“ کیونکہ لفظ قتل عام ہے اس کی مختلف صورتیں ہیں، ایک ان میں سے صلیب بھی ہے، اس لئے قرآن مجید میں ماقتلوہ کے بعد ماصلبوہ کی تصریح کی ضرورت پڑی، قوم یہود قتل مسیح کی صورت، صلیب پر چڑھا کر مارنا کہتی تھی۔ اللہ تعالیٰ نے قتل کی نفی ماقتلوہ سے کی اور صلیب پر چڑھانے کو ماصلبوہ سے رد کیا۔ پس ماصلبوہ میں فعل صلب جو منفی ہے، صلیب پر چڑھانے کے معنی میں ہوا نہ صلیب پر مارنے کے معنے میں کیونکہ مارنے کی نفی تو ماقتلوہ میں ہو چکی تھی۔ رہا صلیب پر چڑھانا، سو اس کی تردید ماصلبوہ سے کر دی گئی۔ فافہم!

رفع کے معنے

رفعہ اللہ الیہ فہرست میں دلیل نمبر ٦ تھی مجاہد صاحب نے اس کو بھی نمبر ١ میں داخل کر دیا ہے۔ ”جواب دعوت“ کے ص ٦ تا ٩ میں رفع کے معنے سے متعلق ہم سیر حاصل بحث کر چکے ہیں۔ اس لئے یہاں ہم اختصار سے کام لیں گے۔

سنئے! جب رفع یرفع رافع میں سے کوئی بولا جائے۔ جہاں اللہ تعالیٰ فاعل ہو اور مفعول جوہر ہو۔ (عرض نہ ہو) اور صلہ الیٰ مذکور ہو اور مجرور اس کا ضمیر ہو اسم ظاہر نہ ہو وہ ضمیر فاعل کی طرف راجع ہو۔ وہاں سوا آسمان پر اٹھانے کے دوسرے معنی ہوتے ہی نہیں۔ ”اس کے خلاف کوئی آیت یا حدیث پیش کرو اور منہ مانگا انعام حاصل کرو۔ اب ہم مجاہد صاحب کے الفاظ میں لکھتے ہیں ”ہم ببانگ دہل کہتے ہیں کہ قرآن کریم اور احادیث میں ایک مثال بھی ایسی نہیں ملے گی جہاں رفع مستعمل ہو اور اللہ فاعل ہو اور کوئی جوہر مفعول ہو اور وہاں صلہ الیٰ جس کے بعد ضمیر اللہ کی طرف پھرتی ہو مذکور ہو پھر وہاں سوا آسمان پر اٹھانے کے کوئی دوسرے معنی ہوں ۔“ اگر ایک مثال بھی ایسی مل جائے تو بے شک رفع اللہ الیہ کے معنے جو سلف و خلف نے آج تک کئے ہیں غلط ہو جائیں گے اور سب کے سب قرآن کریم میں اپنی رائے سے معنے کرنے کی وجہ سے (حسب تصریح مباہلہ) جہنمی قرار پائیں گے۔ ورنہ پھر مجاہد صاحب اور ان کے ہم خیالوں کو اپنا ٹھکانا وہاں ہی تلاش کرنا چاہئے یا ان میں ہمت و جرات ہو تو اپنے معنے ثابت کرنے کی غرض سے ہمارے پیش کردہ کلیہ اور قاعدہ کو توڑ دیں جس طرح ہم نے ان کے قاعدہ کو ”جواب دعوت“ میں توڑ دیا ہے۔

(ص ٦ سے ص ٩ تک ملاحظہ ہو)

سنبھل کے رکھو قدم دشت خار میں مجنوں
کہ اس نواح میں سودا برہنہ پا بھی ہے

٢٢

مجاہد صاحب نے لسان العرب سے ایک عبارت نقل کی ہے اور وہ یہ ہے فی السماء اللہ الرافع ہو الذی یرفع المـ اس میں رفع کا صلہ الیٰ مع ضمیر کے جو فاعل کی طرف راجـ ع ہو اس کے سوا آسمان پر اٹھائے جانے کے معنی نہیں ہو سکتے بلکہ اسعاد (نیک بخت بنـ انے) کے ہوں گے۔ اور یہ ہماری بحث سے خارج ہے علاوہ از یں انبیاء و رسل سے فافترقاً کہئے کچھ سمجھے بھی؟

یا رب وہ نہ سمجھے ہیں نہ
دے ذکر اور دل ان کو جو

جواب دلیل نمبر ٢

قبل موتہ کا ترجمہ ہم نے ”عیسیٰ کی موتـ سے پہلے“ کیا ہے مجاہد صاحب نے جن کو مرزا قادیانی رئیس محدثین (ازالۃ الاوہام ص ١٧٨، ١٧٩) تبحر لکھا ہے ”البتہ ایمان آورد عیسیٰ پر“ (تفسیر ابن جریر طبری نے (جن کو مرزا قادیانی نے نہایت معتمـ د اور رئیس المفسرین لکھا ہے۔ معرفت ص ٢٥١، خزائن ج ٢٣، ص ٢٦١) ترجمہ لکھا ہے: (ج ٦ ص ١٤) یعنی حضرت عیسیٰ کی موت سے پہلے۔ مجاہد صاحب اس ترجمہ کو بھی غلط قرار دیتے ہیں اور اس کی چار وجوہاـ ت بیان کی ہیں۔ پہلی یہ کہ ”مرجع ضمیر میں جب مفسرین میں اختلاف ہـ ے تو پھر یہ محکم نہیں ہوا۔“ سبحان اللہ قربان جائے اس فاضلانہ فہم پر! قرآن محکم ہے۔ کتاب احکمت آیاتہ (ہود: ١) اس کا محکم ہونا مفـ سرین کے فہم کا محتاج ہے؟ آفریں فہم۔ ص ١٧ میں کتب تفاسیر کو غیر معتبر قرار د یا اور اب اپنے مطلب کو ہی غیر محکم ٹھہرا دیا۔ غرض کتاب وسنت ان کے موافق مل گئیں تو معتبر ورنہ غیر معتبر۔

ایں کار از تو آید

رہی ترجمہ کی صحت اس کے متعلق ہم لکھ چکے ہیں کہ جو ترجمہ ہم نے کیا ہے وہی صحیح ہےـ کیونکہ ایک قرأۃ میں قبل موتھم کا لفظ ہے۔ پس یہاں عیسیٰ کیـ

صفحہ ٣٨٣

مجاہد صاحب نے لسان العرب سے ایک عبارت پیش کی ہے جو بالکل ہمارے موافق ہے اور وہ یہ ہے فی السماء اللہ الرافع ہوالذی یرفع المومنین بالاسعاد واولیاءہ بالتقریب، کیونکہ اس میں رفع کا صلہ الیٰ مع ضمیر کے جو فاعل کی طرف راجع ہو موجود نہیں پس اس میں آسمان پر اٹھائے جانے کے معنی نہیں ہو سکتے بلکہ اسعاد (نیک بخت بنانے) اور تقریب (مقرب بنانے) کے معنے ہوں گے۔ اور یہ ہماری بحث سے خارج ہے علاوہ ازیں یہ مومنین اور اولیاء اللہ سے متعلق ہے۔ نہ انبیاء ورسل سے فافترقا کہئے کچھ سمجھے بھی؟

یا رب وہ نہ سمجھے ہیں نہ سمجھیں گے میری بات
دے اور دل ان کو جو نہ دے مجھ کو زباں اور

جواب دلیل نمبر ٢:

قبل موتہ کا ترجمہ ہم نے ”عیسیٰ کی موت سے پہلے“ لکھا تھا جس طرح شاہ ولی اللہ صاحب نے جن کو مرزا قادیانی رئیس محدثین مانتے ہیں۔ (دیکھو ازالہ ص ٥٣، خزائن ج ٣ ص ١٧٨، ١٧٩) ترجمہ لکھا ہے ”البتہ ایمان آورد بعیسیٰ پیش از مردن عیسیٰ“ اور جس طرح محدث ابن جریر طبریؒ نے (جن کو مرزا قادیانی نے نہایت معتبر اور آئمہ حدیث سے لکھا ہے۔ (دیکھو حاشیہ چشمہ معرفت ص ٢٥١، خزائن ج ٢٣ ص ٢٦١) ترجمہ لکھا ہے: ”لیؤمنن بعیسی قبل موت عیسی“ (ج ٦ ص ١٤) یعنی حضرت عیسیٰ کی موت سے پہلے۔ مجاہد صاحب بیک جنبش قلم اس مسلم اور قدیمی ترجمہ کو بھی غلط قرار دیتے ہیں اور اس کی چار وجوہات بیان کرتے ہیں دیکھو ص ٦ پہلی وجہ یہ بیان کی کہ ”مرجع ضمیر میں جب مفسرین میں اختلاف ہے۔ تو یہ آیت (دلیل محکمہ نہ رہی) اور ترجمہ بھی صحیح نہیں ہوا ۔“ سبحان اللہ قربان جائے اس فاضلیت پر اللہ تعالیٰ نے جس کتاب کے دلائل کو محکم فرمایا ہے۔ کتاب احکمت آیاتہ (ہود ١) اس کا محکم ہونا مفسرین کے اختلاف سے باطل ہو جاتا ہے؟ نازم برین فہم۔ ص ١٧ میں کتب تفاسیر کو غیر معتبر قرار دیا ہے اور یہاں اختلاف مفسرین سے آیت قرآنیہ کو ہی غیر محکم ٹھہرا دیا۔ غرض کتاب وسنت ان کے نزدیک بازیچہ طفلاں ہے۔ جہاں موافق باتیں مل گئیں وہاں معتبر ورنہ غیر معتبر۔

ایں کار از تو آید و مرزا چنیں کند

رہی ترجمہ کی صحت اس کے متعلق ہم ”جواب دعوت“ کے ص ٣٢، ٣٣ میں بوضاحت بتا چکے ہیں کہ جو ترجمہ ہم نے کیا ہے وہی صحیح ہے۔ دوسری وجہ یہ بیان کی کہ حضرت ابی بن کعبؓ کی قرأۃ میں قبل موتھم کا لفظ ہے۔ پس یہاں عیسیٰ کی موت مراد نہیں بلکہ اہل کتاب کی موت مراد ہے۔

٢٣

صفحہ ٣٨٥

اس کے تین جواب ہیں۔ اولاً یہ کہ حضرت ابی بن کعب کی یہ قرأۃ بوجہ شاذہ ہونے کے متروک اور اس سے استدلال غلط ہے۔ حضرت عمرؓ وغیرہ صحابہؓ حضرت ابی بن کعب کی اس قسم کی قرأتوں کو نہیں مانتے تھے جیسا کہ صحیح بخاری پارہ ٢٠ کے آخر میں ہے: ”قال عمر أبی أقرأنا وانا لندع من لحن ابی..... الخ! یعنی حضرت عمرؓ نے فرمایا کہ ابی بڑے قاری ہیں تو بھی ہم صحابہ لوگ ان کی غلط قرأتوں کو چھوڑ دیتے ہیں۔

فتح الباری میں ہے: ”انه ربما قراء ما نسخت تلاوته لکونه لم یبلغه النسخ (پ ١٨ ص ١١٧)“ یعنی حضرت ابی ایسی قرأۃ پڑھتے ہیں جس کی تلاوت منسوخ ہو چکی ہے اور ان کے بارے میں یہ کہ اس کا منسوخ ہونا معلوم نہیں۔ حضرت عمرؓ کا ایک دوسرے قول ابی کے بارے میں یہ ہے۔ ”اما انه اقرأنا للمنسوخ (فتح الباری مصری پ ٢٠ ص ٣٦٤)“ یعنی حضرت ابی الفاظ منسوخ التلاوۃ کو بہت پڑھا کرتے تھے۔ پس جب حضرت ابی کی قرأۃ کا یہ حال ہے تو ان کی قرأت قبل موتہم کیسے معرض استدلال میں پیش ہو سکتی ہے؟ ثانیاً اگر ہم ابی کی قرأت کو مان بھی لیں تو اس صورت میں ہم کہیں گے کہ ابی کی قرأۃ محمول ہو گی ان کتابوں پر جو نزول عیسیٰ سے قبل مریں گے۔ اور قرأۃ متواترہ کا تعلق ان کتابوں سے ہو گا جو نزول عیسیٰ کے زمانہ میں زندہ اور باقی رہیں گے۔ جیسا ام المومنین حضرت ام سلمہؓ نے فرمایا ہے: ”اذا کان عند نزول عیسیٰ آمنت به احیاؤهم کما آمنت به موتاهم (درمنثور ص ٢٤٤ ج ٢)“ یعنی حضرت عیسیٰ کے نزول کے وقت جو کتابی زندہ ہوں گے اسی طرح ایمان لائیں گے جس طرح نزول عیسیٰ سے پیشتر وہ کتابی جو اپنے مرنے کے وقت ایمان لا کر مرچکے۔

فنعم الوفاق وحبذا الاتفاق ۔ ثالثاً مذہب اصولین کے مطابق اگر قرأۃ شاذہ کو قرأۃ متواترہ کے تابع کریں تو دونوں ایک ہی محمل پر محمول ہوں گی اور مطلب یہ ہو گا کہ: ”کــــل امت اهل کتاب من حيث القوم نه من حيث الاشخاص“ اپنے فنا ہو جانے سے پیشتر حضرت عیسیٰ پر ایمان لائیں گی۔ جیسا کہ عقیدۃ الاسلام میں ہے۔ ”ای یومنـن بـه باجمعهم معا قبل موتهم ویکون المصدر کما فی قوله تعالیٰ ثم بعثناکم من بعد موتکم (ص ١٣٣)“ یعنی عیسیٰ پر ایمان لائیں گے۔ سب کے سب اہل کتاب اپنے ایک دم سے مرجانے کے پہلے اور مصدر (موتهم) کے وہی معنی ہوں گے جو قرآن کی آیت من بعد موتکم کے معنی ہیں یعنی اللہ نے بنی اسرائیل سے فرمایا کہ ہم نے تم کو زندہ کیا تم سب کے ایک دم سے مرجانے کے بعد (بنی اسرائیل نے اللہ کے دیکھنے کی فرمائش کی تھی اس پر ان پر بجلی گری اور

٢٤

سب ایک دم سے مرگئے تھے۔ پھر حضرت موسیٰ کی دعا سے بعد موتکم کے معنی ہیں سب بنی اسرائیل کے ایک دم سے میں قبل موتہم کے معنی ہوں گے۔ سب اہل کتاب کے ایک کتاب کا ایک دم سے فنا ہو جانا اور ان کے کسی فرد کا باقی نہ عیسیٰ کے بعد پس قرأۃ ابی اور قرأۃ متواترہ کا حاصل ایک ہ ہوا جو ہمارے موافق اور مؤید ہے اور مرزائیوں کے مخالف ا

ہوا ہے مدعی کا فیصلہ اچھا مر
زلیخا نے کیا خود چاک دامن

مجاہد صاحب نے اس مقام پر بھی اپنی حسب ع ”حضرت عیسیٰ سولی پر مر کر بموجب توریت بڑی موت مر کہیں بھی نہیں لکھا ہے کہ مطلقاً ہر صلیب پر لٹکایا ہوا بری مو شخص کو ملعون کہا گیا ہے جو کسی جرم واجب القتل کی سزا میں مرقوم ہے: ”اگر کسی نے کچھ ایسا گناہ کیا ہو جس سے اس کو درخت میں لٹکائے (تا) پھانسی دیا جاتا ہے خدا کا ملعون ہ من ذلك!

تیسری وجہ یہ بیان کی ہے کہ قیامت کے دن پہلے نہیں ہوں گے۔ (ص ٧)“ ہاں صاحب کون کہتا ہے ہوں گے؟ جو قرآن کہتا ہے وہی ہم بھی کہتے ہیں کہ عیسیٰ ع کی شہادت قیامت کے دن دیں گے۔ آپ نے ان کے مترجم قرآن نے بھی ان کے خلاف گواہ بننے کا ترجمہ نہیں کے معنیٰ سے ہوا ہے تو دیگر آیات سن لیجئے: ”جعلناک الناس ویکون الرسول علیکم شهیدا (بقرہ:٢ ہے تو کیا رسول اللہ ﷺ امت وسط (صحابہ کرام) کے خا من کل امة بشهید وجئنا بك علی هؤلاء اپنی امت کا گواہ ہو گا اور آنحضرت ﷺ ان پیغمبروں پ پیغمبروں کے خلاف ہو گی؟ کیونکہ یہاں بھی علیٰ موجود ہے

٢٥

صفحہ ٣٨٥

سب ایک دم سے مر گئے تھے۔ پھر حضرت موسیٰ کی دعا سے اللہ نے ان کو زندہ کیا تھا) پس جیسے بعد موتكم کے معنی ہیں سب بنی اسرائیل کے ایک دم سے مرجانے کے بعد، اسی طرح قرأۃ ابی میں قبل موتھم کے معنی ہوں گے۔ سب اہل کتاب کے ایک دم سے مرجانے کے پہلے اور سب اہل کتاب کا ایک دم سے فنا ہو جانا اور ان کے کسی فرد کا باقی نہ رہنا قیامت کے قریب ہی ہوگا۔ نزول عیسیٰ کے بعد پس قرأۃ ابی اور قرأۃ متواترہ کا حاصل ایک ہی ہوا اور نزول عیسیٰ دونوں سے ثابت ہوا جو ہمارے موافق اور مؤید ہے اور مرزائیوں کے مخالف اور ان کو مضر۔

ہوا ہے مدعی کا فیصلہ اچھا مرے حق میں
زلیخا نے کیا خود چاک دامن ماہ کنعان کا

مجاہد صاحب نے اس مقام پر بھی اپنی حسب عادت ایک مغالطہ دیا ہے اور لکھا ہے کہ ”حضرت عیسیٰ سولی پر مر کر بموجب توریت بڑی موت مر گئے۔ (ص ٧)“ حالانکہ توریت میں یہ کہیں بھی نہیں لکھا ہے کہ مطلقا ہر صلیب پر لٹکایا ہوا بری موت مرتا اور لعنتی ہوتا ہے بلکہ خاص اس شخص کو ملعون کہا گیا ہے جو کسی جرم واجب القتل کی سزا میں مصلوب ہو۔ دیکھو کتاب استثناء میں مرقوم ہے: ”اگر کسی نے کچھ ایسا گناہ کیا ہو جس سے اس کا قتل واجب ہو اور وہ مارا جائے اور اسے درخت میں لٹکائے (تا) پھانسی دیا جاتا ہے خدا کا ملعون ہے۔ (باب ٢١ آیت ٢٢، ٢٣)“ فانی ھذا من ذاك!

تیسری وجہ یہ بیان کی ہے کہ قیامت کے دن عیسیٰ یہودیوں کے خلاف گواہ ہوں گے پہلے نہیں ہوں گے۔ (ص ٧) ”ہاں صاحب کون کہتا ہے کہ وہ قیامت سے پہلے اس دنیا میں گواہ ہوں گے؟ جو قرآن کہتا ہے وہی ہم بھی کہتے ہیں کہ عیسیٰ علیہ السلام ان پچھلے اہل کتاب کے ایمان کی شہادت قیامت کے دن دیں گے۔ آپ نے ان کے برخلاف گواہ بننا کہاں سے سمجھ لیا؟ کسی مترجم قرآن نے بھی ان کے خلاف گواہ بننے کا ترجمہ نہیں لکھا ہے۔ شاید یہ دھوکہ آپ کو علیہم شہیداء کے علیٰ سے ہوا ہے تو دیگر آیات سن لیجئے: ”جعلناکم امة وسطا لتكونوا شهداء على الناس ويكون الرسول علیکم شہیدا (بقرہ: ١٤٣)“ یہاں بھی اسی طرح علیکم شہیدا وارد ہے تو کیا رسول اللہ ﷺ امت وسط (صحابہ کرام) کے خلاف گواہ ہوں گے۔ اور سنئے : ”جئنا من كل امة بشهيد وجئنا بك على هؤلاء شهيدا (نساء: ٤١)“ قیامت میں ہر پیغمبر اپنی امت کا گواہ ہوگا اور آنحضرت ﷺ ان پیغمبروں پر گواہ ہوں گے تو کیا آنحضرت کی گواہی پیغمبروں کے خلاف ہوگی؟ کیونکہ یہاں بھی علیٰ موجود ہے اور لیجئے: ”ھو سمکم المسلمین

٢٥

صفحہ ٣٨٦

من قبل وفى هذا ليكون الرسول شهيداً عليكم (حج:٧٨) ”یہاں بھی علیٰ آیا ہوا ہے تو کیا آنحضرت ﷺ مسلمانوں کے خلاف گواہ بنیں گے؟ اور جب فرمانبرداروں کے خلاف آپ گواہی دیں گے تو خطا کاروں کا اللہ ہی مالک ہے۔ پس اگر خلاف کے معنے ان آیات میں غلط ہیں: ”تو آیت ويوم القيامة يكون عليهم شهيداً (النساء:١٥٩)“ میں کیوں کر صحیح ہو سکتے ہیں؟ معنے یہاں پر وہی صحیح ہیں جو ہم نے کئے ہیں۔ یعنی قیامت کے دن حضرت عیسیٰ ان کے ایمان لانے کی شہادت دیں گے۔ کیونکہ شاہد کا مشہودعلیہم کی جماعت میں ہونا ضروری ہے۔ پڑھو آیت: ”وكنت عليهم شهيداً مادمت فيهم (مائده: ١١٧)“ پس جو کتاب والے زمان نزولِ عیسیٰ میں ان پر ایمان لائیں گے حضرت عیسیٰ قیامت کے دن ان پر گواہ ہوں گے جیسا کہ تفسیر خازن میں ہے۔ يشہد علی تصدیق من صدقہ منہم و آمن بہ۔ محدث ابن جریر (جو مرزا قادیانی کے نزدیک نہایت معتبر ائمہ حدیث سے ہے ) جامع البیان میں لکھتے ہیں: ”وتصديق من صدقه منهم (ج٦ ص ١٥)“ یعنی تمام مومنین ومصدقین اہل کتاب کی حضرت عیسیٰ قیامت میں تصدیق کریں گے۔

پس مجاہد صاحب کے اس تیسری وجہ کی دیوار جو خلاف کی بنیاد پر قائم کی گئی تھی ٹوٹ کر گر پڑی۔ چوتھی وجہ یہ بیان کی ہے کہ اللہ نے فرمایا ہے کہ قیامت تک یہودیوں اور عیسائیوں میں بغض وعناد باقی رہے گا اور عیسیٰ پر ایمان لے آنے کی صورت میں عداوت اور بغض باقی نہیں رہتا (ص ٨ ملخصاً) یہ وجہ بھی عجیب ہے سنئے جناب! ایمان اور عداوت میں منافاة نہیں ہے۔ دونوں چیزیں یک جا جمع ہو سکتی ہیں۔ جیسے قادیانی اور لاہوری دونوں پارٹیوں میں بغض وعداوت ہے لیکن دونوں مرزا قادیانی کو مانتے ہیں۔ اب آیت قرآنیہ: ”والقينا بينهم العداوة والبغضاء الى يوم القيامة (مائده: ٦٤)“ کا صحیح مطلب سنئے۔ ”الى يوم القيامة سے مراد قرب يوم القيامة “ ہے کیونکہ فنائے عالم کے بہت عرصہ کے بعد قیامت کا دن ہوگا جیسا کہ حدیثوں سے ثابت ہے پس جب کوئی آدمی ہی زندہ نہ ہوگا تو دشمنی کس میں ہوگی؟ پس لامحالہ الیٰ کے معنے قرب کے کرنے ہوں گے اور جب قرب یوم القیامۃ معنے متعین ہوئے تو اس سے مراد زمانہ نزول عیسیٰ ہوا اور حدیث مسلم ”لتذهبن الشحناء والتباغض “ کی رو سے زمانہ نزول عیسیٰ میں بغض اور عداوتیں جاتی رہیں گی۔ پس آیت کے معنے یہ ہوئے کہ یہودیوں کی آپس میں اور عیسائیوں کی آپس میں اس وقت تک عداوت رہے گی جب تک وہ یہودیت ونصرانیت پر قائم رہیں گے اور وہ اس حالت پر نزول عیسیٰ تک رہیں گے۔ جب حضرت عیسیٰ نازل ہوں گے تو یہ

٢٦

صفحہ ٣٨٧

سب ان پر ایمان لا کر مسلمان ہو جائیں گے۔ پس ان میں باہمی عداوت بھی نہ رہے گی۔ کیونکہ اب وہ نہ یہودی رہے نہ عیسائی۔

ان مسائل میں ہے کچھ ژرف نگاہی درکار
یہ حقائق ہیں تماشائے لب بام نہیں

جواب دلیل نمبر ٣

فہرست میں یہ دلیل نمبر ٧ تھی مجاہد صاحب نے اس کو نمبر ٣ بنا دیا ہے۔ ہم نے متوفیک کے وہی معنے کئے تھے جو مرزا قادیانی نے براہین احمدیہ ص ٥٢٠، خزائن ج ١ ص ٦٢٠ میں کئے ہیں یعنی ”تجھے پوری نعمت دوں گا“ مجاہد صاحب کہتے ہیں کہ یہ معنے ”زبان عربی کے بالکل خلاف ہیں ۔(ص ٩)“ معلوم ہوا کہ مرزا قادیانی تادم تصنیف براہین احمدیہ زبان عربی سے یکسر نابلد تھے۔ بہت اچھا آپ ایسا کہیں، ہم تو نہیں کہتے۔ مجاہد صاحب نے ایک ہزار روپیہ کے انعام کا ذکر کرتے ہوئے وہی پرانا راگ الاپا ہے کہ ”قرآن وحدیث، لغت سے ایک مثال ایسی دکھائے جس میں توفی باب تفعل سے ہو، خدا فاعل ہو اور ذی روح کے لئے بولا گیا ہو پھر اس کے معنی سوا قبض روح ۔ یعنی موت کے کوئی اور ہوں۔ ص ٨، قرآن مجید میں صاف صاف وہو یتوفکم باللیل (انعام: ٦٠)“ موجود ہیں جس میں توفی باب تفعل سے ہے۔ اللہ فاعل ہے ذی روح (انسان) مفعول ہے پھر اس کے معنی قبض روح یعنی موت کے نہیں ہیں۔ بلکہ سورہ زمر میں تو صاف صاف اللہ یتوفی الانفس کے ساتھ ساتھ والتی لم تمت (زمر : ٤٢) بھی مذکور ہے۔ جو اس امر کا ثبوت بالصراحت ہے کہ توفی بحسب الوضع بمعنے موت موضوع نہیں ہے۔ اسی لئے قرآن مجید میں توفی کا لفظ حیوۃ کے مقابلہ میں کہیں نہیں بولا گیا ہے بلکہ حیوۃ کے مقابلہ میں ہر جگہ موت یا اس کا مشتق استعمال کیا گیا ہے۔

چند آیتیں ملاحظہ ہوں: ”یحییٰ ویمیت (بقرہ: ٢٥٨)“ ”یحیی الارض بعد موتھا۔ احیاء وامواتا (مرسلات: ٢٦)۔ یحییکم ثم یمیتکم امات واحیی (نجم: ٤٤) لا یموت فيها ولا یحییٰ (اعلیٰ: ١٣) یخرج الحی من المیت، اموات غیر احیاء (نحل: ٢١) الحی الذی لا یموت ۔ یحیی اللہ الموتی۔ احیا الموتی“ اور جس طرح قرآن مجید میں توفی کی نسبت فرشتوں کی طرف کی گئی ہے۔ جیسے توفتہ رسلنا، اماتۃ کی نسبت کہیں بھی غیر اللہ کی طرف نہیں کی گئی ہے بلکہ فعل اماتت ہر جگہ اللہ کی طرف ہی منسوب ہے جیسا کہ اوپر کی آیات سے ظاہر ہے۔ ان باتوں سے صاف ثابت ہے کہ توفی کے معنی حقیقت میں

٢٧

صفحہ ٣٨٩

موت کے نہیں ہیں اور جس نے بھی ایسا لکھا ہے بطور مجاز کے لکھا ہے۔ جیسا کہ مجاہد صاحب نے بحوالہ بخاری متوفيك کے معنے ابن عباسؓ سے مميتك نقل کر دیئے ہیں (ص ٩) ”یہ معنے مجازی ہیں نہ حقیقی، جیسا کہ تاج العروس شرح قاموس میں صراحت کی ہے۔ (جواب دعوت کا ص ٥ دیکھو) ورنہ حضرت ابن عباسؓ تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے رفع الیٰ السماء کے قائل ہیں۔ جیسا کہ اسی رسالہ کے شروع میں نسائی ومسند احمد کے حوالہ سے نقل کیا جا چکا ہے۔ پس ابن عباسؓ کی مراد ممیتک سے اماتۃ بعد النزول ہے اور وہ اس آیت میں تقدیم و تاخیر کے قائل ہیں جیسا کہ تفسیر عباسی میں ہے: ”مقدم ومؤخر ...... متوفيك قابضك بعد النزول (ص٤٨ مطبوعہ مصر)“ باقی بحث توفیٰ کی ہمارے رسالہ ”جواب دعوت“ میں از ص ٣ تا ص ٦ ملاحظہ ہو۔

آگے مجاہد صاحب نے اپنی بحث میں رفع کا ذکر پھر چھیڑ دیا ہے۔ اس پر بحث جواب دلیل نمبر ١ میں ہم بہت کافی روشنی ڈال چکے ہیں۔ البتہ یہاں پر مجاہد صاحب نے ایک عجیب بات لکھ دی ہے۔ کہ ”آنحضرت ﷺ ضرور آسمان پر جاتے ..... مگر معراج کے بعد ایک دفعہ بھی ان معنوں میں آپ کا رفع نہیں ہوا کہ آپ آسمان پر اس جسم مبارک سے گئے ہوں۔ (ص ٩)“ تو کیا شب معراج میں آنحضرت ﷺ کا اپنے جسم مبارک کے ساتھ ہفت افلاک کی سیر کرنا ہماری طرح آپ بھی مانتے ہیں؟ اگر آپ مانتے ہوں تو ذرا صاف صاف لکھ تو دیجئے کہ آنحضرت ﷺ کو معراج بجسدہ العنصری ہوئی تھی، پھر تو حضرت عیسیٰ کے رفع الیٰ السماء کا اقرار بھی آپ سے ہم کرا لیں گے۔ انشاء اللہ!

راہ پر ان کو تو لے آئے ہیں ہم باتوں میں
اور کھل جائیں گے دو چار ملاقاتوں میں

رہی دعائے وارفعنی تو ضرور قبول ہوئی بمعنی ورفعنا لك ذكرك۔ چونکہ یہاں رفع کا صلہ الیٰ مع اپنی ضمیر مجرور کے مذکور نہیں ہے اس لئے ارفعنی سے مراد رفع الیٰ السماء نہیں ہے بلکہ رفع ذکر ورفع مراتب مراد ہے: ”كما قال حسان وضم الاله اسماء النبى مع اسمه۔ اذ قال فی الخمس الموذن اشہد“

جواب دلیل ٤

فہرست میں یہ پہلی دلیل تھی جس کو مجاہد نے چار کر دیا اور پھر چار نمبروں میں اس کا جواب (اپنے زعم میں) دیا ہے۔ ہم نے آیت انه لعلم للساعة (زخرف: ٦١) میں علم کا ترجمہ نشان اور ساعۃ کا ترجمہ قیامت کیا تھا جیسا کہ (مرزا قادیانی کے رئیس محدثین) حضرت شاہ ولی اللہ ٢٨

صاحب نے ترجمہ فرمایا ہے۔ ”عیسیٰ نشان است قیامت نے ”علامت قیامت“ ترجمہ کیا ہے اور شاہ عبدالقادر صاحب مجاہد صاحب نے نمبر ١ میں لکھا ہے: ”یہ ترجمہ سراسر غلط ہے: ( عرب سے نا آشنا تھے تو کیوں نہ اپنی معتبر لغت کی کتاب لسان ال لغات سے اعلیٰ وافضل مانا ہے) یہاں پر کھول کر دیکھ لیا۔ علامہ لعلم للساعة وهى قرأة اكثر القراء ...... المعنى انه علامة تدل على اقتراب الساعة (لسان العرب تینوں نمبروں کا جواب ہو گیا تیسرے نمبر میں آپ نے انہ ک العرب سے فیصلہ ہو گیا کہ ضمیر عیسیٰ کی طرف راجع ہے پہلے علامت (نشان) ہیں دوسرے نمبر کا فیصلہ بھی ہو گیا کہ ساعۃ عیسیٰ کا نزول قرب قیامت ہی ہوگا۔

فرمائیے اس ”اعلیٰ وافضل“ لغت کی کتاب کا فی ہپ اور کڑوا کڑوا تھو! ”علم سے نشان مراد ہونے کی وجہ سے سمى الشرط الدال على الشىء علما لحصول مقصود پر دلالت کرتا ہے۔ اور اس سے اس کا علم حاصل ہوتا دوسرے نمبر میں ساعت کے معنے پر جو کلام کیا ہے یہ اس ہے۔ ورنہ اتنی جرات و جسارت چہ معنے دارد؟ آپ کو اخ ساعت سے قیامت مراد لی گئی ہے آپ اسے قوم کی جاہلی بگاڑے گا اصل یہ ہے کہ جب ایمان کمزور ہو جاتا ہے تو قا پیدا کر لیتی ہیں۔ ورنہ جب ذات سرور کائنات علیہ التحیۃ وا القمر کا اعجاز کیوں نہ نشانات قیامت سے ہوگا؟ اسی لئے صاحب نے اقتربت الساعة کا ترجمہ ”نزدیک آمد قیامت آپ قیامت سے پڑے انکار کیا کریں آپ کا انکار مان مرزا قادیانی نے آیت مذکورہ انه لعلم للساعة کی تفسیر میں لکھ البشریٰ ص ٩٠، خزائن ج ص ٣١٦) مرزا قادیانی نے خود س تیسرے نمبر میں لکھتے ہیں ”انہ کی ضمیر میں مفسرین نے اخ ٢٩

صفحہ ٣٨٩

صاحب نے ترجمہ فرمایا ہے ۔ ”عیسیٰ نشان است قیامت را“ اور شاہ رفیع الدین صاحب نے ”علامت قیامت“ ترجمہ کیا ہے اور شاہ عبدالقادر صاحب نے بھی ”نشان ہے“ ترجمہ لکھا ہے۔ مجاہد صاحب نے نمبر ١ میں لکھا ہے۔ ”یہ ترجمہ سراسر غلط ہے: (ص١٠)“ گویا یہ سب مترجمین لغت عرب سے نا آشنا تھے تو کیوں نہ اپنی معتبر لغت کی کتاب لسان العرب کو (جس کو ص ٥ میں تمام عربی لغات سے اعلیٰ وافضل مانا ہے) یہاں پر کھول کر دیکھ لیا۔ علامہ ابن منظور افریقی لکھتے ہیں: ”وانه لعلم للساعة وهي قرأة اكثر القراء..... المعنى ان ظهور عيسى ونزوله الى الارض علامة تدل على اقتراب الساعة (لسان العرب ج١٥ ص ٣١٢)“ اسی سے آپ کے تینوں نمبروں کا جواب ہو گیا تیسرے نمبر میں آپ نے انہ کی ضمیر میں اختلاف بتایا ہے۔ لسان العرب سے فیصلہ ہو گیا کہ ضمیر عیسیٰ کی طرف راجع ہے پہلے نمبر کا جواب بھی ہو گیا کہ علم کے معنی علامت (نشان) ہیں دوسرے نمبر کا فیصلہ بھی ہو گیا کہ ساعت سے مراد قیامت ہے کیونکہ حضرت عیسیٰ کا نزول قرب قیامت ہی ہوگا۔

فرمائیے اس ”اعلیٰ وافضل“ لغت کی کتاب کا فیصلہ آپ کو منظور ہے نا؟ یا ”میٹھا میٹھا ہپ اور کڑوا کڑوا تھو“ علم سے نشان مراد ہونے کی وجہ سے بھی سن لیجئے امام رازی فرماتے ہیں: سمى الشرط الدال على الشيء علماً لحصول العلم به (تفسیر کبیر ج٧) چونکہ نشان مقصود پر دلالت کرتا ہے۔ اور اس سے اس کا علم حاصل ہوتا ہے اس لئے اس کو بھی علم بولتے ہیں۔ دوسرے نمبر میں ساعت کے معنے پر جو کلام کیا ہے یہ اس لئے کہ آپ لوگوں کو قیامت پر یقین نہیں ہے۔ ورنہ اتنی جرات و جسارت چہ معنی دارد؟ آپ کو اختیار ہے کہ قرآن مجید میں جہاں جہاں ساعت سے قیامت مراد لی گئی ہے آپ اسے قوم کی تباہی کے معنے میں لے لیں۔ کوئی آپ کا کیا بگاڑے گا اصل یہ ہے کہ جب ایمان کمزور ہو جاتا ہے تو فاسد العقیدہ طبائع ایسے ہی حیلے اور بہانے پیدا کر لیتی ہیں۔ ورنہ جب ذات سرور کائنات علیہ التحیات کا وجود علامات قیامت سے ہے تو شق القمر کا اعجاز کیوں نہ نشانات قیامت سے ہوگا؟ اسی لئے شاہ ولی اللہ صاحب و شاہ رفیع الدین صاحب نے اقتربت الساعۃ کا ترجمہ ”نزدیک آمد قیامت“ اور ”نزدیک آئی قیامت“ کیا ہے۔ آپ قیامت سے پڑے انکار کیا کریں آپ کا انکار مانع قیامت نہیں ہے۔ علاوہ ازیں آپ کے مرزا قادیانی نے آیت مذکورہ انہ لعلم للساعۃ کی تفسیر میں لکھا ہے یکون آیۃ لہم علی وجود القیامۃ (حمامة البشریٰ ص ٩٠، خزائن ج ٧ ص ٣١٦) مرزا قادیانی نے خود ساعت کے معنے قیامت کے کئے ہیں۔ تیسرے نمبر میں لکھتے ہیں ”انہ کی ضمیر میں مفسرین نے اختلاف کیا ہے۔ (ص١٠)“ کوئی وجود باری

٢٩

صفحہ ٣٩٠

یا نبوت پیغمبر میں اختلاف کر بیٹھے تو آپ ان دونوں چیزوں کا بھی انکار کر دیں گے۔ اجی حضرت جب اس سے پہلے اور پیچھے صریح الفاظ میں حضرت عیسیٰ کا ذکر موجود ہے۔ چنانچہ ملاحظہ ہو: ”ولما ضرب ابن مریم مثلا (الیٰ قوله) ولما جاء عیسیٰ بالبینات الآیة (زخرف: ٦٣)“ تو سوائے حضرت عیسیٰ کے ضمیر کا کوئی دوسرا مرجع مراد لینا ضعیف و بعید ہوگا۔ قابل لحاظ وہ اختلاف ہوتا ہے جو ناشی از دلیل ہو، بلا دلیل اختلاف درحقیقت اختلاف ہی نہیں ہے۔ خاص کر ایسی حالت میں جبکہ سابقاً لاحقاً ذکر عیسیٰ موجود ہے۔ اس لئے مرزا قادیانی کے دست راست مولوی سید احسن صاحب امروہی قادیانی آنجہانی نے اپنی کتاب ”اعلام الناس“ میں صاف صاف لکھ دیا ہے کہ ”ضمیر انہ“ طرف قرآن مجید یا آنحضرت کے راجع نہیں ہے۔ حضرت عیسیٰ ہی کی طرف راجع ہے۔

(ص ٦٥ ج ٢)

چوتھے نمبر میں مجاہد صاحب نے یوں گل افشانی فرمائی ہے کہ ”عیسیٰ کے قیامت کی نشانی ہونے سے یہ کہاں ثابت ہوا کہ وہ آسمان پر زندہ موجود ہیں؟ (ص ١٠)“ سنئے جناب! حضرت ابن عباسؓ (جن کے بارے میں مرزا قادیانی نے لکھا ہے کہ ابن عباس کے حق میں علم قرآن کی دعا مستجاب ہوچکی ہے۔ (ازالہ ٨٩٣، خزائن ج ٣ ص ٥٨٧) اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں: ”ما ادری علم الناس بتفسیر ھذه الآیة الم یفطنولھا وانہ لعلم الساعة ای نزول عیسیٰ ابن مریم (تفسیر ابن جریر ص ٣٩، ج ٢٥ و مسند احمد ص ٢٧٦، ص ٣١٨، ج ١) محدث ابن جریر جن کو مرزا قادیانی نے معتبر ائمہ حدیث سے مانا ہے۔ (چشمہ ٢٥١، خزائن ج ٢٣ ص ٢٦١) اپنی سند سے حضرت ابن عباس سے ناقل ہیں، ابن عباس فرماتے تھے کہ میں نہیں جانتا کہ لوگوں کو اس آیت کی صحیح تفسیر معلوم بھی ہے یا نہیں؟ علم للساعة سے مراد حضرت عیسیٰ کا نزول ہے۔ اور نزول مستلزم صعود ہے اور زمانہ قبل نزول میں حیات بھی ضروری ہے اس لئے آیت مذکورہ مثبت صعود (رفع) و مثبت حیات و مثبت نزول سب کچھ ہے۔ والحمد للہ علی ذلک! مجاہد صاحب نے آگے پھر ایک انوکھی بات کہہ دی ہے کہ ”قیامت میں لوگوں کی دوبارہ پیدائش بغیر ظاہری سامان کے ہوگی۔ (ص ١٠) یہ بالکل غلط ہے حدیث متفق علیہ میں آیا ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں: ”ینزل اللّٰه من السماء ماء فینبتون کما ینبت البقل ومن عجب الذنب یرکب الخلق یوم القیامة او کما قال (مشکوة)“ یعنی اللہ بارش برسائے گا اس سے لوگ ساگ پات کی طرح اگیں گے اور ریڑھ کی ہڈی سے ترکیب بدن ہوگی، یعنی قیامت میں لوگوں کی دوبارہ پیدائش اسباب سے ہوگی اور حضرت عیسیٰ کی پیدائش بغیر اسباب کے ہوئی تھی جیسا کہ مجاہد صاحب کو بھی مسلم ہے فانی التشبیہ واین التقریب؟

٣٠

صفحہ ٣٩١
وہ جو بات کی خدا کی قسم لاجواب کی
پاپوش میں لگا دی کرن آفتاب کی

جواب دلیل نمبر ٥

فہرست کی چوتھی دلیل کو مجاہد صاحب نے پانچویں بنا دیا ہے اور ہر آیت کے ترجمہ کو آپ غلط ہی فرماتے جاتے ہیں چنانچہ پہلے نمبر میں لکھتے ہیں۔ ”کف فعل اس امر کو ضروری نہیں قرار دیتا کہ یہودی پاس ہی نہ پھٹکے ہوں (ص١١)“ ہاں صاحب یہودی پاس ہی نہ پھٹک سکے تھے۔ بدو دلیل، اوّل یہ کہ آیت کففت بنی اسرائیل عنك (مائدہ:١١٠) میں کف کا مفعول بنی اسرائیل کو بنایا ہے نہ کہ ضمیر مخاطب کو۔ یعنی میں نے دور ہٹائے رکھا بنی اسرائیل (یہود) کو تجھ سے یہ نہیں فرمایا کففتك عن بنی اسرائیل (ہٹا دیا تجھ کو بنی اسرائیل سے) کیونکہ ضرر پہنچانے کا ارادہ یہودیوں کا تھا۔ پس انہیں کو ہٹائے رکھنے کا ذکر مناسب ہے۔ دوم یہ کہ کف کا صلہ عن ذکر کیا ہے جو بعد (دوری) کے لئے آتا ہے۔ جس طرح حضرت یوسف علیہ السلام کے بارے میں ارشاد ہے: ”لنصرف عنہ السوء والفحشاء (یوسف:٢٤)“ ہم یوسف سے برائی اور بے حیائی کو دور ہٹادیں۔ یہ نہیں فرمایا لنصرفہ عن السوء ..... الخ (یوسف کو برائی سے ہٹا دیں یہ اگر ہوتا تو شبہ ہوتا کہ یوسف کے دل میں برائی (قصد زنا) آگئی تھی جیسا کہ مجاہد صاحب نے ص ١٩ کے نمبر ٣ میں نقل کیا ہے۔ بلکہ اللہ نے برائی اور بدی کے ارادہ کو ہی دور دور رکھا یوسف تک پہنچنے ہی نہیں دیا۔ اسی طرح اللہ نے یہود بے بہود کو حضرت مسیح سے دور دور رکھا، ان کو حضرت عیسیٰ کے پاس پھٹکنے بھی نہ دیا۔ پھر وہ کس طرح آپ کو صلیب پر کھینچ سکتے ہیں؟ اور کیسے کوئی اذیت پہنچا سکتے ہیں؟ یہی مطلب آیت نمبر ٥٥ آل عمران ”مطهرك من الذین کفروا (کافروں یعنی یہودیوں سے تجھ کو پاک رکھنے والا ہوں) کا بھی ہے۔ اس میں بھی تطہیر سے مراد یہی ہے کہ حضرت عیسیٰ یہودیوں کی مکر سے پاک رہیں گے گویا ایک آیت دوسری کی تفسیر ہے۔ والحمد للہ!

مجاہد صاحب آگے یوں گل افشانی فرماتے ہیں ”کف فعل ان کی شرارت کے نتیجہ کو پورا نہ ہونا ظاہر کرتا ہے، یعنی انہوں نے پورا زور لگایا اور اپنی طرف سے جو کرنا تھا کر لیا مگر نتیجہ کے اعتبار سے وہ اپنے ارادوں میں کامیاب نہ ہوئے۔ (ص١١)“ پھر نمبر ٢ میں خود اپنے اس بیان کی تردید بھی کر دیتے ہیں چنانچہ لکھتے ہیں ”جب شروع شروع میں حضرت عیسیٰ ان کے پاس دعویٰ لے کر آئے تو خدا تعالیٰ نے ان کے فوری جوش کو روک دیا (ص١٢) یہود کا جوش جب ابتدا میں ہی روک دیا گیا تو پھر یہود نے ”شرارت“ کیوں کی؟ اور کسطور سے ”اپنی طرف سے جو کرنا تھا

٣١

صفحہ ٩٣

کرلیا؟“ ان کا جوش تو خدا نے روک دیا تھا، پھر نتیجہ کی ناکامی کیسی؟ اس پر طرفہ یہ کہ آگے یہ بھی لکھتے ہیں کہ ”یہ کہاں ثابت ہوا کہ جب تک ان کا وجود رہا وہ بالکل محفوظ ہی رہے۔ (ص١٢)“ حالانکہ اوپر یہ بھی لکھ آئے ہیں کہ ”یہودیوں کا مقصد ...... سولی پر چڑھا کر مارنا مقصود تھا۔“ جس میں وہ کامیاب نہ ہوئے۔ (ص١١)“ اور بقول یہود حضرت عیسیٰ کا وجود اس دنیا میں ان کے صلیب پر چڑھائے جانے کے وقت تک تھا۔ تو مجاہد صاحب کی ہی مختلف تحریروں سے ثابت ہو گیا کہ ”جب تک حضرت عیسیٰ کا وجود رہا وہ بالکل محفوظ رہے“ کیونکہ ایک تو ”شروع شروع“ کا وقت ہے جس وقت دشمنوں کو ”فوری جوش پیدا ہوا۔ یہ ابتداء ہوئی پھر یہودیوں کی ”شرارت“ اور ان کا پورا زور لگانا“ اور ”اپنی طرف سے جو کرنا تھا کر لینا“ پھر ”نتیجہ کی ناکامی اور پورا نہ ہونا“ یہ انتہا ہوئی۔ اس ابتداء اور انتہا کے مابین۔ وجود مسیح کا محفوظ رہنا“ خود مجاہد صاحب کی ہی عبارتوں سے ظاہر ہو رہا ہے لیکن خود مجاہد صاحب کو پتہ نہیں کہ وہ کیا لکھ رہے ہیں؟ طرفہ پر طرفہ یہ کہ مجاہد صاحب کو قتلِ یحییٰ سے بھی انکار ہے۔ اسے مسلمانوں (مفسروں) کا قول قرار دیتے ہیں۔ چنانچہ لکھتے ہیں کہ ”بقول مسلمانوں کے یحییٰ بھی یہودیوں کے ہاتھوں قتل ہوئے تو ان کے قتل کا دعویٰ بھی یہودی کرتے ...... الخ !(ص١١)“

یہودی دعویٰ کریں یا نہ کریں، ہماری اور آپ کی مسلم کتاب قرآن مجید میں تو موجود ہے: ”يقتلون النبيين (بقره:٦١) يقتلون الانبياء (ال عمران :١١٢) ففريقا يقتلون (مائدہ:٧٠)“ پہلی آیت میں قوم موسیٰ کا ذکر ہے، دوسری میں اہل کتاب کا، تیسری میں بنی اسرائیل کی صراحت ہے، پس قرآن مجید سے ثابت ہے کہ یہود سے قتل انبیاء سرزد ہوا۔ نیز جرم قتل انبیاء سوائے قوم یہود کے اور کسی امت سے ثابت نہیں اگرچہ ہر امت نے اپنے پیغمبر کو قتل کرنے کی کوشش کی۔ پس آپ ہی فرمائیں کہ وہ کون سے انبیاء ہیں۔ جنہوں نے یہود کے ہاتھ سے جام شہادت نوش کیا ہے اگر آپ مفسرین کی نہیں مانتے؟ جو ہاں یہ خوب کہی کہ ”یحییٰ کو بھی خدا محفوظ رکھتا۔“ یہ سوال تو خدا پر ہے۔ میری سنئے تو عرض کروں کہ قرآن مجید میں تدبر کرنے سے معلوم ہوتا ہے۔

رسولوں کی قسمیں

کہ خدا کے پیغمبر تین طرح پر بھیجے گئے ہیں اول وہ جو صاحب شریعت ہیں اور وہ پانچ ہیں۔ نوح، ابراہیم، موسیٰ، عیسیٰ، محمد علیہم السلام جن کا ذکر سورہ احزاب و سورہ شوریٰ میں ہے۔ دوم وہ جو صاحب شریعت نہ تھے البتہ صاحب معجزات اور اپنی قوم کی طرف مستقل رسول تھے جیسے ہود، صالح، شعیب، لوط، سوم وہ جماعت ہے جو حکمت و نبوت دی گئی لیکن اتباع تورات کی مامور تھی

٣٢

”يحكم بها النبييون (مائدہ:٤٤)“ پایا ہیں۔ قسم اول دوم کے پیغمبروں کے برخلاف دشمن قتل شریعت و رسالت میں شبہ ڈالتا ہے، بخلاف قـ خلل انداز نہیں ہوتا۔ اس لئے اللہ تعالیٰ نے یحییٰ السلام چونکہ صاحب شرع رسول ہیں اس لئے ا دیا اور چونکہ یہود دعوائے قتل مسیح جزم و مفاخرت یقینا ہم نے مسیح کو قتل کر دیا۔ یہود کے زعم میں موصوف ذکر کیا اور عیسیٰ ابن مریم رسول اللہ ﷺ زنی کی تردید و تکذیب ماقتلوہ و ماصلبوہ سے کی حقیقت امر کو ولکن شبہ لہم اور بل رفعہ اللہ الیہ ۔ سے قتل کرنے کی نوعیت میں فرق تھا۔ (ص ١١) کی وجہ سے ملعون قرار پائے۔ اور آج جو مسیح کا

تاریخی امور میں قیاس

مجاہد صاحب امر واقع شدہ میں نبیوں کو تکلیفیں پہنچیں سخت سے سخت مصائب جوکھوں کے معاملے آئے اور خدا نے نہ رو ہوا ...... الخ! (ص١٢)“ اجی حضرت! وقائع لئے کہ وقوع حوادث کی صورت واحد نہیں جائے۔ اس لئے کہ صورت نجات ایک ہی ہے۔ قیاسی نہیں ہے جو امر جس طرح قرآ ہے نہ کہ اس میں اپنے قیاسات عقلیہ کو دخل ڈالا جانا اور پھر سلامت رہنا مذکور ہے۔

حضرت موسیٰ علیہ السلام کے میں پایاب ہو جانا غلط لکھا ہے۔ ) قرآن پانا قرآن کریم ہی بتلاتا ہے۔ اس لئے ان کا صلیب پر نہ چڑھایا جانا اور یہود پورا

صفحہ ٣٩٣

”يحكم بها النبييون (مائدہ:٤٤)“ پر انبیاء مابین موسیٰ و عیسیٰ ہیں جن میں یحییٰ ، زکریا بھی ہیں۔ قسم اول دوم کے پیغمبروں کے برخلاف دشمن اپنی تدبیروں میں ناکام رہتے ہیں کیونکہ ان کا قتل شریعت ورسالت میں شبہ ڈالتا ہے‘ بخلاف تیسری جماعت کے ان کا قتل کتاب وشریعت میں خلل انداز نہیں ہوتا۔ اس لئے اللہ تعالیٰ نے یحییٰ علیہ السلام کو جام شہادت پی لینے دیا اور عیسیٰ علیہ السلام چونکہ صاحب شرع رسول ہیں اس لئے اللہ تعالیٰ نے یہودیوں کو ان کے پاس بھی پھٹکنے نہ دیا اور چونکہ یہود دعوائے قتل مسیح جرم ومفاخرت کرتے تھے اور کہتے تھے انا قتلنا المسيح یعنی یقینا ہم نے مسیح کو قتل کر دیا۔ یہود کے زعم میں قتل محل خاص میں واقع ہوا، اسی لئے مفعول المسیح کو موصوف ذکر کیا اور عیسیٰ ابن مریم رسول اللہ ﷺ اس کی صفت۔ پس اللہ نے ان کے فخر اور لاف زنی کی تردید وتکذیب ماقتلوہ وماصلبوہ سے کی اور ان کے جرم کا ابطال وماقتلوہ یقینا سے فرمایا اور حقیقت امر کو ولکن شبہ لھم اور بل رفعہ اللہ الیہ سے کھول دیا۔ لہٰذا مجاہد صاحب کا یہ لکھنا کہ ”دونوں کے قتل کرنے کی نوعیت میں فرق تھا۔ (ص١١)“ محض مہمل اور نتیجہ جہالت ہے۔ یہود ایسے ہی قول کی وجہ سے ملعون قرار پائے۔ اور آج جو مسیح کا صلیب پر چڑھایا جانا مانے اس کا بھی یہی حکم ہے۔

تاریخی امور میں قیاس

مجاہد صاحب امر واقع شدہ میں بھی قیاس کو دخل دیتے ہیں۔ اور لکھتے ہیں کہ ”تمام نبیوں کو تکلیفیں پہنچیں سخت سے سخت مصائب کا سامنا ہوا، حتیٰ کہ حبیب خدا ﷺ پر بھی کئی دفعہ جان جوکھوں کے معاملے آئے اور خدا نے نہ روکا مگر عیسیٰ کے ..... پاس یہودیوں کا پھٹکنا بھی گوارا نہ ہوا ..... الخ! (ص١٢)“ اجی حضرت! وقائع اور امور تاریخیہ میں قیاس کو بالکل دخل نہیں ہوتا۔ اس لئے کہ وقوع حوادث کی صورت واحد نہیں ہوا کرتی، کہ تمام انبیاء کے واقعات کو ہم رنگ سمجھ لیا جائے۔ اس لئے کہ صورت نجات ایک ہی طریق میں منحصر نہیں ہے۔ علاوہ ازیں دین اسلام سماعی ہے۔ قیاسی نہیں ہے‘ جو امر جس طرح قرآن وحدیث میں وارد ہے۔ اسے اسی طرح ماننا اسلام ہے‘ نہ کہ اس میں اپنے قیاسات عقلیہ کو دخل دینا۔ قرآن مجید میں چونکہ حضرت ابراہیم کا آگ میں ڈالا جانا اور پھر سلامت رہنا مذکور ہے۔

حضرت موسیٰ علیہ السلام کے لئے بحر قلزم میں راستہ بن جانا (جس کو آپ نے ص١١ میں پایاب ہو جانا غلط لکھا ہے۔) قرآن حکیم ہی بیان کرتا ہے۔ آنحضرت ﷺ کا غار ثور میں امن پانا قرآن کریم ہی بتلاتا ہے۔ اس لئے ان واقعات کو ہم اسی طرح مانتے ہیں اور چونکہ حضرت عیسیٰ کا صلیب پر نہ چڑھایا جانا اور یہودیوں کا آپ تک نہ پھٹکنا قرآن پاک میں صاف صاف آیا

٣٣

صفحہ ٣٩٥

ہے۔ اس لئے اس کا ہم اسی طرح یقین رکھتے ہیں۔ اپنے قیاس سے کچھ نہیں کہتے۔ اور نہ واقعات میں قیاس کا دخل ہوتا ہے۔

کف قوم و کف ید

مجاہد صاحب نے تحریر فرمایا ہے کہ ”یہی فعل کف مسلمانوں کے حق میں بھی استعمال ہوا ہے۔...... فـعـجـل لـكـم هذه وكف ايدی الناس عنکم (فتح:٢٠) کیا مخالف لوگ مسلمانوں کے پاس بھی نہ پہنچے تھے؟ (ص ١١)‘‘ مجاہد صاحب نے غور نہ کیا کہ یہاں کف فعل کا مفعول ایدی (ہاتھ) ہے اور آیت ما نحن فيها میں کففت کا مفعول قوم بنی اسرائیل ہے۔ صلہ دونوں جگہوں میں عَن آیا ہے۔ پس کف بنى اسرائيل عن المسـيـح تو یہ ہوا کہ قوم یہود حضرت مسیح کے پاس نہ پھٹکے دور دور رہے اور کف ايدی عن المسلمین یہ ہے کہ لڑائی نہ ہو، قتال دور رہے۔ خواہ مخالف پاس بھی آجائیں۔ جس کو سورہ مائدہ میں یوں فرمایا ہے۔ اذهـم قـوم ان يبســطــوا اليـكـم ايـديـهـم فكف ايديهم عنکم (مائدۃ:١١) یعنی یہود بنی النضیر نے مسلمانوں پر دست درازی کرنی چاہی۔ اللہ نے ان کے ہاتھ کو دور رکھا یعنی قتال نہ ہونے دیا۔ یہود مسلمانوں کو قتل نہ کر سکے۔ کف ید کی تفسیر قرآن خود یوں کرتا ہے۔ کيف بأس الذين كفروا (نساء:٨٤) یعنی کافروں کی جنگ کو خداروک دے۔ جنگ وقتال پاس نہ پھٹکے۔ پس کف قوم و کف ید میں دقیق فرق ہے۔ گومآل دونوں کا (شر اعداء سے محفوظ رہنا) واحد ہے فافہم!

نتیجہ

مجاہد صاحب آخر میں لکھتے ہیں ”اس سے ثابت نہیں ہوتا کہ وہ اب تک آسمان پر اس جسم کے ساتھ زندہ موجود ہیں۔ (١٢)‘‘ جب اس آیت سے یہ امر ثابت ہو گیا ہے کہ یہود کے ہاتھ سے حضرت عیسیٰ صلیب پر نہیں چڑھائے گئے کیونکہ وہ آپ کے پاس بھی نہ پھٹک سکے تو مسیح علیہ السلام آخر کہاں گئے؟ اور کیا ہوئے؟ اس کو بل رفعہ اللہ الیہ سے واضح فرما دیا۔ جس سے ان کا اسی جسم کے ساتھ زندہ آسمانوں پر جانا ثابت ہو گیا كما بيّنته مراراً!

مجاہد کا میدان سے فرار

حیات مسیح کے دلائل میں فہرست میں ١٤ عدد آیات قرآنیہ پیش کی گئی تھیں، جن میں سے صرف چھ آیتوں کے متعلق مجاہد صاحب نے اپنا قلمی جہاد جیسا بھی ہو سکا اپنی جماعت میں لاج رکھنے کو پیش کیا۔ باقی آٹھ آیتوں کی بابت اعداد بڑھانے کا ”بہانہ کر کے میدان چھوڑ کر بھاگ ٣٤

سچ ہے المرء يقيس علىٰ نفسه جس طرح خود اعداد بڑھا نہیں بن سکا تاکہ ہمارے تینوں ٹریکٹوں میں سے کسی کا بھی اعداد کا بڑھانے والا سمجھ لیا۔

بہانہ کرتا ہے ساقیا کیا نہیں ہے
خدا نے چاہا تو دیکھ لینا تیرا

بحث احادیث

جواب دلیل

فہرست میں یہ دلیل نمبر ١٥ ہے مجاہد ص لـيـنـزلـن فـيـكـم ابـن مريم پر بحث کرتے ہو آسمان سے اترنے کو ثابت نہیں کرتا۔ (ص ١٣) مجا و انزل آیا ہے۔ منزل من السماء ہونے کا انکار کر ”نزول کا لفظ آسمان سے اترنے کو ثابت نہیں کرتا میں نزول کے معنے الانحطاط من علو ا مرقوم ہیں۔ جیسا کہ ہم ”جواب دعوت“ کے ص ٤ ص ٩ میں حضرت عیسیٰ کا رفع بالبدن مدخول الی غیر پس نزول بھی ان کا سماء (آسمان) آئمہ سلف و خلف سے صاف ثابت ہے اور اسی پر

آیات:انـزلـنـا عـليـكـم لـبـاســا (اعراف:٢٦ اليكم ذكرا رسولا (طلاق: ١٠، ١١)، انـزل بقدر معلوم (حجر:٢١) تحریر کی ہیں۔ انزال پر اور انزال حدید کا جواب ص ١٥، ١٦ پر اور انزال میں حاجت اعادہ نہیں ہے۔ انزال انعام کا جواب ص ١٧ پر ملاحظہ کرلیں کہ ان آیات میں آیات میں محض نزول کا ہی ذکر نہیں ہے۔ بلکہ (یونس: ٣١) انزل الله من السماء

صفحہ ٣٩٥

مہدی سچ ہے المرء یقیس علی نفسہ جس طرح خود اعداد بڑھا کر لکھ دیا، بجواب ٹریکٹ ہائے نمبر ١، نمبر ٢، نمبر ٣ حالانکہ ہمارے تینوں ٹریکٹوں میں سے کسی کا بھی جواب نہیں دیا۔ اسی طرح اپنے خصم کو بھی اعداد کا بڑھانے والا سمجھ لیا۔

بہانہ کرتا ہے ساقیا کیا نہیں ہے شیشہ میں مے کا قطرہ
خدا نے چاہا تو دیکھ لینا تیرا سبو بھی نہیں رہے گا

بحث احادیث

جواب دلیل فہرست میں یہ دلیل نمبر ١٥ ہے، مجاہد صاحب اس کو چھٹی دلیل لکھتے ہیں۔ حدیث لینزلن فیکم ابن مریم پر بحث کرتے ہوئے کس سادگی سے فرماتے ہیں۔ ”نزول کا لفظ آسمان سے اترنے کو ثابت نہیں کرتا۔ (ص ١٣) پھر تو قرآن مجید کی بابت بھی جس کے لئے نزل وانزل آیا ہے۔ منزل من السماء ہونے کا انکار کر دیجئے۔ کیونکہ آریہ وغیرہ بھی یہی کہتے ہیں کہ: ”نزول کا لفظ آسمان سے اترنے کو ثابت نہیں کرتا۔“ ماهو جوابکم فهو جوابنا کتب لغت میں نزول کے معنے الانحطاط من علو الی سفل (اوپر سے نیچے کو اترنا ) صاف صاف مرقوم ہیں۔ جیسا کہ ہم ”جواب دعوت“ کے ص ١٢، ١٣ میں مع حوالہ لکھ چکے ہیں اور اسی رسالہ کے ص ٩ میں حضرت عیسیٰ کا رفع بالبدن مدخول الیہ یعنی سماء کی طرف ہم ثابت کر چکے ہیں۔

پس نزول بھی ان کا سماء (آسمان ) ہی سے ہوگا جیسا کہ نص احادیث اور تصریحات آئمہ سلف وخلف سے صاف ثابت ہے اور اسی رسالہ میں بیان ہو چکا ہے۔ مجاہد صاحب نے آگے آیات:انزلنا علیکم لباسا (اعراف:٢٦)، انزلنا الحدید (حدید:٢٥)، انزل الله الیکم ذکرا رسولا (طلاق: ١٠، ١١)، انزل لکم من الانعام (زمر:٦)، ما ننزله الا بقدر معلوم (حجر:٢١) تحریر کی ہیں۔ انزال لباس کا جواب ٹریکٹ ”جواب دعوت“ کے ص ١٧ پر اور انزال حدید کا جواب ص ١٥، ١٦ پر اور انزال رسول کا جواب ص ١٣، ١٤ پر ہم بسط سے دے چکے ہیں حاجت اعادہ نہیں ہے۔ انزال انعام کا جواب اسی ٹریکٹ کے ص ١٣ پر اور انزال ٥ رزق کا جواب ص ١٧ پر ملاحظہ کرلیں کہ ان آیات میں مسبب بول کر سبب مراد لیا گیا ہے۔ کیونکہ بعض آیات میں محض نزول کا ہی ذکر نہیں ہے۔ بلکہ آسمان کا لفظ بھی موجود: ”یرزقکم من السماء (یونس:٣١) انزل الله من السماء من رزق (جاثیہ:٥) وفى السماء رزقكم

٣٥

صفحہ ٣٩٦

(ذاریات: ٢٢) لہٰذا تمام آیات مسبب کے سبب کو آسمان سے ہی اترنا ثابت کرتی ہیں۔ وہو المراد!

مجاہد صاحب کا ایک عجیب دجل ملاحظہ ہو لکھتے ہیں کہ ”احادیث میں نزول اترنے کا لفظ دجال کے لئے بھی آیا ہے۔ لہٰذا ماننا پڑے گا کہ دجال بھی زندہ ہے.....الخ! (ص١٤)“ ہاں صاحب دجال بھی زندہ ہے۔ حدیث تمیم داری صحیح مسلم میں ملاحظہ ہو اور سنئے شیطان بھی زندہ ہے اور وہ بھی جنت سے اتارا گیا تھا۔ پس دجال کے لئے اگر لفظ فینزل بعض السباخ (صحیح بخاری پ٢٩) حدیث میں آیا ہے تو آپ کو کیوں قراقر ہو گیا حدیث بیہقی میں اس کی سواری کا بھی تو ذکر موجود ہیں عن ابی هریرة عن النبی ﷺ قال یخرج الدجال علیٰ حمار..... الخ! (مشکوٰۃ ص٤٦٩) یعنی دجال گدھے کی سواری پر چلے گا۔ اور اسی سواری سے وہ اترے گا۔ کیونکہ نزول کے معنی ہی ہیں اوپر سے نیچے اترنا کما ہو اسی معنے میں معلقہ امری لقیس کا شعر عقرت بعیری یا امری القیس فانزل ”جواب دعوت“ کے ص ١٢ پر پہلے ہی لکھا جا چکا ہے جس میں پشت شتر سے زمین پر اترنا مذکور ہے۔ اسی طرح پشت خر سے دجال بھی سباخ (ارض مدینہ) پر اترے گا۔ افسوس آپ کی عقل وخرد پر پ

الٹی سمجھ کسی کو بھی ایسی خدا نہ دے
دے آدمی کو موت پہ یہ بد ادا نہ دے

جواب دلیل نمبر ٧

ہماری فہرست میں یہ دلیل نمبر ١٨ تھی، مجاہد صاحب نے اسے ”ساتویں دلیل“ بنا دیا۔

”لوگوں کی آنکھوں میں دھول ڈالنا اسی کو کہتے ہیں۔ (ص ١٤)“ پھر مجاہد صاحب کو ”خدا کا غضب“ یاد نہ آیا کہ رسول پاک ﷺ کی فرمودہ حدیث سے انکار کر بیٹھے اور اپنے پیر مغان متنبی کی سنت پر عمل کیا کہ ”حدیثوں کو ہم ردی کی طرح پھینک دیتے ہیں۔ (اعجاز احمدی ص ٣٠، خزائن ج ١٩ص١٤٠)“

”فلیحذر الذین یخالفون عن امرہ ان تصیبہم فتنۃ او یصیبہم عذاب الیم (نور:٦٣)“ کیسی بے باکی اور ڈھٹائی سے لکھتے ہیں۔ ”من السماء کے الفاظ رسول پاک ﷺ کے فرمائے ہوئے ہرگز نہیں ہیں۔ (یا) کسی مولوی صاحب نے یا کسی کاتب نے من السماء کا لفظ اپنے پاس سے لکھ دیا ہے۔ (ص١٥،١٦)“ کبرت کلمۃ تخرج من افواہہم ”جو چیز آپ کے مطلب کی ہو اس کو تو آپ لوگ آنحضرت ﷺ کی طرف انتساب کر دیں اور جان بوجھ کر حضرت پر جھوٹ وافتراء کریں جس طرح جناب مرزا قادیانی نے چشمہ معرفت میں لکھ دیا ہے کہ:

”جو نشانیاں زمانہ مہدی معہود کی آنحضرت ﷺ نے مقرر کی تھیں۔ اس کے زمانہ میں کسوف

٣٦

خسوف رمضان میں ہوتا....... الخ ! ( کے زمانہ میں رمضان میں کسوف وخس قادیانی نے (ضمیمہ انجام آتھم ص ٤١، خزائن المہدی من قریۃ یقال لہا ک گاؤں سے خروج کرے گا؟ کیا یہ فر اس کا راوی عبدالوہاب بن ضحاک ک ایک جھوٹی روایت رسول پاک کی ط ”جو قرآن کے مطابق ہو صحیح سمجھنا؟“

آپ لوگ دیدہ دانستہ غضب سے مطلق نہ ڈریں اور ہم پیش کریں تو اس سے انکار کر جائیں سے ڈرو۔

الیہ قریب ہے جو چپ ر

مجاہد صاحب نے آ خرعیسی لکھ دیا تھا۔ (ص١٥) ”اتنا کسی نے کدعہ کو قادیان کا تر طرح کسی مصنف نے الفاظ حد الضأن من اللین (مشکوا ص٢٣٥) اور جس طور سے کسی م (یونس:١٥) ”کما یقول خود مجاہد صاحب نے آیت س مجاہد جوابات سوالات مولوی محمد ابرا صحیح پروف کے کام پر نوکری کان موسی حیا میں ہ

صفحہ ٣٩٧

خسوف رمضان میں ہوتا.......الخ! (ص٣٤) ”بتاؤ آنحضرت ﷺ نے کہاں فرمایا ہے کہ مہدی کے زمانہ میں رمضان میں کسوف و خسوف ہوگا؟ کیا یہ قول رسول علیہ السلام ہے؟ اسی طرح مرزا قادیانی نے (ضمیمہ انجام آتھم ص ٤١، خزائن ج ١١ص٣٢٥) میں لکھا ہے: قال النبی ﷺ یخرج المهدی من قرية يقال لها كدعه ۔ بتاؤ آنحضرت ﷺ نے کہاں فرمایا ہے کہ مہدی کدعہ گاؤں سے خروج کرے گا؟ کیا یہ فرمان رسول ہے؟ کیا یہ روایت جھوٹی اور موضوع نہیں ہے؟ کیا اس کا راوی عبدالوہاب بن ضحاک کذاب نہیں ہے؟ (میزان) مجاہد صاحب! کیا آپ نے خود بھی ایک جھوٹی روایت رسول پاک کی طرف اپنے اسی ٹریکٹ کے ص ٢ میں منسوب نہیں کر دی ہے کہ ”جو قرآن کے مطابق ہو صحیح سمجھنا؟“

آپ لوگ دیدہ دانستہ جھوٹی حدیثیں رسول پاک کا نام لے کر بیان کریں اور خدا کی غضب سے مطلق نہ ڈریں اور ہم جب سچی حدیث جسے کسی محدث نے ضعیف تک بھی نہیں کہا ہو پیش کریں تو اس سے انکار کر جائیں اور اسے افتراء نیز ”مولوی“ یا کاتب کا بڑھایا ہوا بتائیں؟ اللہ سے ڈرو۔

الیس منکم رجل رشيد
قریب ہے یارو روز محشر چھپے گا کشتوں کا خون کیونکر
جو چپ رہے گی زبان خنجر لہو پکارے گا آستین کا

مجاہد صاحب نے آگے تمسخر کیا ہے لکھتے ہیں ”جیسے....... کسی کاتب نے...... لفظ خر کو...... خر عیسیٰ لکھ دیا تھا۔ (ص١٥)“ اتنا اضافہ اور کر لیجئے، جیسے کسی نے ریل گاڑی کو خر مسیح بنا دیا تھا۔ جیسے کسی نے کدعہ کو قادیان کا مخفف کہہ دیا تھا۔ (حاشیہ کتاب البریہ ص ٢٤٤، خزائن ج ١٣ص ٢٦١) جس طرح کسی مصنف نے الفاظ حدیث: ”يخرج فى آخر الزمان رجال “ کو دجال اور جلود الضان من اللين (مشکوۃ باب الرياء) کو من الدین لکھ دیا تھا (تحفہ گولڑویہ ص ٤٩، خزائن ج ١٧ ص ٢٣٥) اور جس طور سے کسی مراقی نے آیت قرآنی: ”ما یکون لی ان ابدلہ (یونس:١٥) “کو ما یقول لی سے بدل دیا تھا (براہین احمدیہ ج ٣ ص ٢٨٢، خزائن ج ١ ص ٢٧٤) اور خود مجاہد صاحب نے آیت سورہ روم هم غافلون کو لغافلون سے اصلاح کی تھی (اشتہار مجاہد بجوابات سوالات مولوی محمد ابراہیم صاحب) اور دوسرے مرزائیوں نے مصر میں بعض مطابع میں تصحیح پروف کے کام پر نوکری کی اور شرح فقہ اکبر کی (طباعت کانپور ١٣٢٣ھ میں) مشہور حدیث لو کان موسى حیا میں بجائے موسیٰ کے عیسیٰ حیا بنادیا تھا۔ جس کو مجاہد صاحب نے کس

صفحہ ٣٩٩

بھولے پن سے محمدی عالم کے سر منڈھا ہے۔ چنانچہ لکھتے ہیں: ”کسی ہندوستانی مولوی صاحب نے ہماری ضد میں۔“ شرح فقہ اکبر میں۔ اب شائع ہوئی ہے۔ ..... عیسیٰ کے بجائے موسیٰ لکھ دیا ہے۔ (ص ١٥) ”حالانکہ شرح فقہ اکبر اب شائع نہیں ہوئی ہے۔ بلکہ مرزا قادیانی کے دعوائے نبوت سے بہت پیشتر لاہور میں طبع ہو کر شائع ہوئی تھی۔ اس میں لوکان موسیٰ حیا ہے۔ پھر مطبع مجتبائی دہلی میں ١٣٠٧ھ میں طبع ہوئی اس میں بھی لوکان موسیٰ حیا ہے۔ پھر اسی مطبع میں ١٣١٤ھ میں چھپی، اس کو مجاہد صاحب لکھتے ہیں۔ ”اب شائع ہوئی ہے۔“ حالانکہ اب یعنی ١٣٢٣ھ میں۔

مصری نسخہ میں تحریف

مصر میں طبع ہوئی ہے۔ اس میں تمام قدیم مطبوع و قلمی نسخوں کے خلاف لوکان عیسیٰ حیا شائع ہوا ہے۔ پھر اس کی نقل ١٣٢٧ھ کے نسخہ میں طبع ہو گئی ہے۔ جو سراسر محرف اور یقیناً کسی مرزائی کی کارستانی ہے جو مصر میں موجود ہیں اور حال میں مسلمانوں سے لڑائی بھی کر بیٹھے تھے۔ جس پر مصری عدالت نے مرزائیوں پر جرمانہ بھی کیا ہے۔ (دیکھو مصری اخبار الفتح نمبر ٣ نمبر ٢، ٣، ١١؍ رمضان ١٣٥٢ھ) لہٰذا مجاہد صاحب کا یہ الزام کہ ”مرزائیوں کی مخالفت میں کسی ہندوستانی مولوی نے بجائے عیسیٰ کے لوکان موسیٰ حیا لکھ دیا ہے۔“ بالکل غلط اور ہندی علماء پر سراسر اتہام ہے کیونکہ مجاہد صاحب کا یہ الزام اگر صحیح ہو اور ملا علی قاری نے حقیقت میں لوکان عیسیٰ حیا ہی تحریر کیا تھا تو پھر ملا علی قاری کی عبارت عند نزول عیسیٰ من السماء کے کیا معنی ہوں گے جو حدیث مذکور کے اوپر متصل مذکور ہے اور اسی کی دلیل میں حدیث مذکور تحریر کی ہے۔ یعنی دعویٰ ان کا یہ ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام آسمان سے نازل ہوں گے؟ اور دلیل یہ ہے کہ عیسیٰ مر گئے اگر زندہ ہوتے تو یہ کرتے؟ سبحان اللہ دعویٰ اور دلیل میں کیسی تقریب تام ہے کہ زمین گول ہے اس لئے کہ چاول سفید ہے۔۔ چہ پدی زمین کی تو کہی آسمان کی۔ مصری نسخہ میں تحریف ایک اور طریق سے بھی ثابت ہوتی ہے۔ شرح فقہ اکبر مطبوعہ مصر ص ٩٦ میں ہے اشار الی ھذا المعنی رحمہ اللہ بقولہ لوكان عيسى حيا ما وسعه الا اتباعی وقدبیّنت وجہ ذلک عند قولہ تعالیٰ واذ اخذ اللہ ..... الخ فی شرح الشفاء۔ اس عبارت میں ملا علی قاری نے حدیث لو کان ..... الخ لکھ کر حوالہ دیا ہے۔ اپنی شرح شفاء کا پس دیکھنا چاہئے کہ ملا صاحب نے اپنی شرح شفاء میں آیت مذکورہ کے تحت میں کیا تحریر کیا ہے؟ ملا صاحب کی شرح شفاء استنبول میں ١٣٠٩ھ میں شرح فقہ اکبر مطبوعہ مصر سے بہت پہلے طبع ہوئی ہے۔ اس کی ج ١ کے فصل سابع میں آیت واذ اخذ اللہ کے تحت میں لکھتے ہیں: والیہ اشار رحمہ اللہ بقولہ حین رای عمرؓ انہ ینظر فی

٣٨

صحیفۃ من التوراۃ لوکان موسٰی حیا لما یہاں تو صاف صاف بجائے عیسیٰ کے موسیٰ موجود ہے۔ صاحب موجود نہ تھے اور ١٣٠٩ھ میں وہاں مرزا قادیانی شبہ ہو۔ پس ملا علی قاری نے جس طرح شرح شفاء میں حد شرح فقہ اکبر میں بھی تحریر کی اور اسی صورت میں وہ حد ہے۔۔ لہٰذا شرح فقہ اکبر کے تمام ہندی نسخے صحیح ہیں اور مص

آج دعویٰ ان کی یکتائی ک
رو برو ان کے جو آئینہ

محدثین کا طرز عمل

یہ شبہ محض جہالت کا نتیجہ ہے کہ فلاں محدث کیا۔ جیسا کہ مجاہد صاحب نے پیش کیا ہے کہ ”امام بخاری میں من السماء کا لفظ درج نہیں کیا۔ اس لئے یہ لفظ آج ک کو فن حدیث میں ادنیٰ مسکہ بھی ہے ان سے پوشیدہ نہی حدیث کے وقت مختلف ہوتی ہیں۔ حالتوں کی بابت اما لهم تارات يرسلون فيها الحديث وتارات ص ٢٠) یعنی رواہ حدیث کبھی حالت غیر نشاط میں ہو کبھی نشاط میں ہوتے ہیں تو سب کچھ بیان کر دیتے ہیں ما يتفردبه المحدث من الحديث ان يكون في بعض مارو او امعن في ذلک علی المؤلف ذلک شيئاً ليس عند اصحابه قبلت زیادت فی الحديث المحتاج اليه يقوم مقام حدیث کسی لفظ (مثلاً من السماء ) کے بیان کرنے می محدثین کا مذہب یہ ہے کہ اگر اس محدث کی مشارکت میں ثابت ہوا اور وہ دیگر رواۃ حدیث کی۔ موافقت میں کوشش بھی کرتا ہو، پھر اگر اس ہے۔ (جیسے بیہقی میں من السماء کی زیادتی) تو اس کی

٣٩

صفحہ ٣٩٩

صحيفة من التوراة لو كان موسى حيا لما وسعه الا اتباعی آہ (ج١ص١٠٦) یہاں تو صاف صاف بجائے عیسیٰ کے موسیٰ موجود ہے۔ استنبول میں تو کوئی ”ہندوستانی مولوی صاحب“ موجود نہ تھے اور ١٣٠٩ھ میں وہاں مرزا قادیانی کا کسی کو پتہ بھی نہ تھا کہ ضد ومخالفت کا شبہ ہو۔ پس ملا علی قاری نے جس طرح شرح شفاء میں حدیث لوکان موسیٰ حیا تحریر کی تھی اسی طرح شرح فقہ اکبر میں بھی تحریر کی اور اسی صورت میں وہ حدیث دعوائے نزول مسیح کی دلیل ہوسکتی ہے۔۔ لہٰذا شرح فقہ اکبر کے تمام ہندی نسخے صحیح ہیں اور مصری نسخہ غلط ومحرف ومبدل ہے۔

آج دعویٰ ان کی یکتائی کا باطل ہوگیا
رو برو ان کے جو آئینہ مقابل ہوگیا

محدثین کا طرزعمل

یہ شبہ محض جہالت کا نتیجہ ہے کہ فلاں محدث نے اس لفظ کو متن حدیث میں ذکر نہیں کیا۔ جیسا کہ مجاہد صاحب نے پیش کیا ہے کہ ”امام بخاریؒ، امام مسلمؒ، سیوطی نے حدیث نزول عیسیٰ میں من السماء کا لفظ درج نہیں کیا۔ اس لئے یہ لفظ آج کل بڑھا دیا گیا ہے۔ (ص١٥)“ جن لوگوں کو فن حدیث میں ادنیٰ مسکہ بھی ہے ان سے پوشیدہ نہیں کہ محدثین کی حالتیں اور غرضیں بیان حدیث کے وقت مختلف ہوتی ہیں۔ حالتوں کی بابت امام مسلمؒ مقدمہ میں تحریر فرماتے ہیں: ”کانت لهم تارات يرسلون فيها الحديث وتارات ينشطون فيها......الخ “ (مطبوعہ مصر ص٢٠) یعنی رواۃ حدیث کبھی حالت غیر نشاط میں ہوتے ہیں تو حدیث سے کچھ چھوڑ دیتے ہیں۔ کبھی نشاط میں ہوتے ہیں تو سب کچھ بیان کردیتے ہیں۔ نیز فرماتے ہیں: مذهبهم فی قبول ما يتفرد به المحدث من الحديث أن يكون قد شارك الثقات من اهل الحفظ فى بعض ما روا او امعن فى ذلك على الموافقة لهم فإذا وجد كذلك ثم زاد بعد ، ذلك شيئاً ليس عند اصحابه قبلت زيادته (مطبوعہ مصر٢٤) لان المعنى الزائد فى الحديث المحتاج اليه يقوم مقام حدیث تام (ص٣) یعنی کوئی محدث حدیث کے کسی لفظ (مثلاً من السماء) کے بیان کرنے میں متفرد ہے تو اس کی قبولیت کے بارے میں محدثین کا مذہب یہ ہے کہ اگر اس محدث کی مشارکت ثقہ حافظین کی بعض روایت (متن) میں ثابت ہو اور وہ دیگر رواۃ حدیث کی

موافقت میں کوشش بھی کرتا ہو، پھر اگر اس کے بیان کردہ متن میں کوئی لفظ زیادہ مذکور ہے۔ (جیسے بیہقی میں من السماء کی زیادتی) تو اس کی یہ زیادتی مقبول ہوگی۔ اس لئے کہ حدیث

٣٩

صفحہ ٤٠١

میں کوئی زائد معنے جس کی ضرورت بھی ہے وہ پوری حدیث کے قائم مقام ہوتا ہے۔ اس اصل کو یاد رکھو اور امثلہ ذیل ملاحظہ کرو۔ صحیح بخاری میں حدیث ممانعت رفع نظر الی السماء فی الصلوٰة کی مطلق ہے۔ (مصری ج ١ ص ١٣٧) صحیح مسلم میں عند الدعاء زیادہ ہے (مصری ج ١ ص ١٧١) یعنی نماز میں دعا کرنے کے وقت آسمان کی طرف نظر نہ اٹھاؤ۔ صحیح بخاری میں ہے لخلوف فم الصائم اطیب عند اللہ من ریح المسک (مصری ج ١ ص ٢١٣) صحیح مسلم میں یوم القیامة زیادہ ہے۔ (مصری ج ١ ص ٤٢٧) یعنی روزہ دار کے منہ کی بو قیامت کے روز اللہ کے نزدیک مشک کی خوشبو سے زیادہ ہوگی۔ مجاہد صاحب کے اصول سے عند الدعاء اور یوم القیامة شاید امام مسلم نے یا کسی ”کاتب“ نے یا ”ہندوستانی مولوی“ نے بڑھایا ہوگا؟ کیوں ٹھیک ہے نا؟ اور سنئے۔ صحیح مسلم میں ہے: ثم وضع یدہ الیمنٰی علی الیسریٰ (مصری ج ١ ص ١٥٨) صحیح ابن خزیمہ میں علی صدرہ زیادہ ہے۔ (بلوغ المرام) راوی ایک، سند ایک، اسی طرح کی سینکڑوں مثالیں کتب حدیث سے پیش کی جاسکتی ہیں۔

لیکن آج تک کوئی بھی اس بات کا قائل نہیں ہوا کہ یہ ”آنحضرت پر افتراء“ ہے یا ”کسی مولوی یا کاتب“ نے بڑھا دیا ہے یا ”کسی کی مہربانی کا نتیجہ ہے یا ”یہودیوں اور عیسائیوں کی طرح بدلا گیا ہے“ جیسا کہ مجاہد صاحب نے زیادت من السماء پر ژاژ خائی فرمائی ہے۔ یہ سب فن حدیث اصول سے جہالت اور بیگانگی کا نتیجہ اور باطل مذہب کی پاسداری اور تعصب کا کرشمہ ہے۔

نہیں معلوم تم کو ماجرائے دل کی کیفیت
سنائیں گے تمہیں ہم ایک دن یہ داستان پھر بھی

حدیث بیہقی

ہم نے فہرست میں حدیث ینزل من السماء درج کی تھی اس میں نہ بیہقی کا نام لیا تھا نہ بیہقی میں ینزل ہے لیکن ”چور کی داڑھی میں تنکا“ مجاہد صاحب کو حدیث بیہقی کا ہی خیال گزرا اور لکھ مارا ”ان الفاظ کو امام بیہقی کی کتاب اسماء والصفات سے پیش کیا جاتا ہے۔ (ص ١٤)“ ”مان نہ مان میں تیرا مہمان“ اسی کو کہتے ہیں۔ آگے تحریر فرماتے ہیں۔ سیوطی نے ...... بیہقی کے حوالے سے اس حدیث کو اپنی کتاب (تفسیر درمنثور) میں درج کیا مگر من السماء کا لفظ نہیں لکھا (تا) اصل بیہقی میں نہیں ہے۔ (ص ١٥)“ سیوطی کا تساہل اور زلت قلم مشہور ہے۔ تفسیر جلالین میں بحوالہ صحیح مسلم حدیث ”ابدؤ ما بڈ اللہ بہ“ بصیغہ امر نقل کرکے سعی کی فرضیت ثابت کرتے ہیں۔ (مصری ص ١٤) حالانکہ صحیح مسلم میں اس طرح (بصیغہ امر) نہیں ہے۔ اسی طرح آیت کلالہ کے بارے میں ٤٠

سیوطی صاحب تحریر کرتے ہیں۔ نزلت فی جـ ص ٥٨) یہ ان کی بھول ہے۔ حضرت جابر عہد نبوی میـ تھے۔ بلکہ مدینہ طیبہ کے تمام صحابیوں کے بعد جابـ سیوطی سے بہت سی غلطیاں ہر فن میں واقع ہوئی الجوہ لامع دیکھنی چاہئے۔ اسی طرح ان سے حدیـ من السماء کا لفظ ان کو یاد نہ رہا ہوگا۔ یہ بھی ہو سکتا ہے کا نام انہوں نے بوجہ توافق لاکثر المتن کے لکـ مذکور نقل کرکے رواہ البخاری واخرجہ مسلم کہہ دیا ہے ”ـ المحدثین اذا اخرجها باكثر كلماته ولا امام بیہقی نسبت کر دیتے ہیں۔ حدیث کو بعض محدثـ اس کے اکثر کلمات سے نقل کیا ہو یہ مطلب نہیں ہـ نے نقل کئے ہیں: ”فاذا قال المحدث رواہ اخرجه البخاري

پس جب کوئی محدث کہتا ہے کہ اس حـ ہوتی ہے کہ اس حدیث کی اصل جامع بخاری میں له ادنى مسكة من الحديث ولا يجـ والوں سے پوشیدہ نہیں ہے۔ مجاہد صاحب کا یہ کہنـ (ص ١٥) ”اس امر پر دلیل ہے کہ انہوں نے اس ان کو یہ معلوم کہ کتاب مذکور کی حقیقت کیا ہے یـ سے اسی طرح پیدا ہوا جس طرح آج کل فتنہ مرزا طرح طرح کی تاویلیں بلکہ تحریفیں کرتا تھا اس بـ اس فرقہ کی تردید میں بڑی بڑی کتابیں تصنیف ایک کڑی ہے۔ جہمیہ کے عقائد باطلہ میں سے ایـ (کتاب العلو مطبوعہ مصر ٢٣٧) امام بیہقی نے اپنی کـ ہیں اور اللہ فی السماء کو بہت سی حدیثوں سے ثابـ السماء کا منعقد فرماتے ہیں اور مختلف احاد

صفحہ ٤٠١

سیوطی صاحب تحریر کرتے ہیں۔ نزلت فی جابر وقد مات عن اخوات (جلالین مصری ص ٥٨) یہ ان کی بھول ہے۔ حضرت جابر عہد نبوی میں آیت کلالہ کے نزول کے وقت نہیں مرے تھے۔ بلکہ مدینہ طیبہ کے تمام صحابیوں کے بعد حجاج کے زمانہ میں مرے تھے (اصابہ) اسی طرح سیوطی سے بہت سی غلطیاں ہر فن میں واقع ہوئی ہیں۔ تفصیل کے لئے حافظ سخاوی کی کتاب الضوء اللامع دیکھنی چاہئے۔ اسی طرح ان سے حدیث بیہقی کے نقل کرنے میں تساہل ہو گیا ہوگا اور من السماء کا لفظ ان کو یاد نہ رہا ہوگا۔ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ ان کی نظر بخاری ومسلم کے متن پر ہو اور بیہقی کا نام انہوں نے بوجہ توافق لاکثر المتن کے لکھ دیا ہو، جس طرح کہ خود امام بیہقی نے حدیث مذکور نقل کرکے رواہ البخاری واخرجہ مسلم کہہ دیا ہے: ”لانه ربما يعزو روايته لبعض المحدثين اذا اخرجها باكثر كلماته ولا يشترط استيعاب الفاظ الروايه يعنی امام بیہقیؒ نسبت کر دیتے ہیں۔ حدیث کو بعض محدثوں کی طرف جبکہ اس محدث نے اس حدیث کو اس کے اکثر کلمات سے نقل کیا ہو یہ مطلب نہیں ہوتا کہ اس حدیث کے پورے الفاظ اس محدث نے نقل کئے ہیں: ”فاذا قال المحدث رواه البخاری كان مراده ان اصل الحديث اخرجه البخاری (التصریح ص ١٦)

پس جب کوئی محدث کہتا ہے کہ اس حدیث کو بخاری نے نقل کیا ہے تو اس کی مراد یہ ہوتی ہے کہ اس حدیث کی اصل جامع بخاری میں ہے (نہ پورے الفاظ ) کمالا يخفى على من له ادنى مسكة من الحديث ولا يجهل بصنيع المحدثين، جیسا کہ حدیث جاننے والوں سے پوشیدہ نہیں ہے۔ مجاہد صاحب کا یہ کہنا کہ ”من السماء کا لفظ اصل بیہقی میں نہیں ہے۔ (ص ١٥)“ اس امر پر دلیل ہے کہ انہوں نے اصل کتاب (الاسماء والصفات) دیکھی ہی نہیں۔ نہ ان کو یہ معلوم کہ کتاب مذکور کی حقیقت کیا ہے؟ سنئے سلف میں ایک بڑا فتنہ ”فرقہ جہمیہ“ کے نام سے اسی طرح پیدا ہوا جس طرح آج کل فتنہ مرزائیہ۔ فرقہ جہمیہ اسماء وصفات باری میں طرح طرح کی تاویلیں بلکہ تحریفیں کرتا تھا اس لئے اہل سنت نے عموماً اور محدثین کرام نے خصوصاً اس فرقہ کی تردید میں بڑی بڑی کتابیں تصنیف کیں۔ کتاب الاسماء والصفات للبیہقی اسی سلسلہ کی ایک کڑی ہے۔ جہمیہ کے عقائد باطلہ میں سے ایک عقیدہ یہ بھی تھا کہ ان الله ليس فى السماء (کتاب العلو مطبوعہ مصر ٣٢٧) امام بیہقی نے اپنی کتاب مذکور میں اس کی تردید میں کئی باب منعقد کئے ہیں اور اللہ فی السماء کو بہت سی حدیثوں سے ثابت کیا ہے۔ ص ٢٩٩ میں باب آمنتم من فی السماء کا منعقد فرماتے ہیں اور مختلف احادیث نبویہ سے مسئلہ مذکور ثابت کرتے ہیں۔ اسی کے

٤١

صفحہ ٤٠٢

بعد ص ٤٠١ میں باب رافعک الی، رفعه الله اليه، تعرج الملئكة، اليه يصعد الكلم الطیب کالائے ہیں اور مختلف حدیثوں سے فرشتوں کلموں اور عملوں کا آسمان پر خدا کی طرف جانا ثابت کرتے ہیں۔ مثلاً

”مثلا ولا يصعد السمآء الا الطيب (ص ٤٠١، ٤٠٢)“ عروج الملئكة الى السمآء (ص ٤٠٢) پھر یہ اس باب میں لائے ہیں۔ آمنتم من فی السمآء (ص ٤٠٢) اسی باب میں پہلی حدیث حضرت عیسیٰ کی بابت بھی لائے ہیں۔ ”کیف انتم اذا نزل ابن مریم من السمآء فیکم (ص ٤٠١)“ پس انصاف کرو کہ جب مصنف کا مقصود ہی یہی ہے کہ اس باب میں خصوصیت سے الی السمآء، فی السمآء، من السمآء ثابت کیا جائے۔ تو یہ کیونکر کہا جاسکتا ہے کہ ”اصل بیہقی میں من السمآء کا لفظ نہیں ہے۔“ جیسا کہ مجاہد صاحب نے کمال تعصب سے (ص ١٥ میں) لکھ دیا ہے۔ حالانکہ امام بیہقی اس چیز کے ثابت کرنے کے درپے ہیں۔

ہٹ چھوڑیئے بس اب سر انصاف آئیے
انکار ہی رہے گا میری جان کب تلک

من السمآء کا لفظ دیگر کتب حدیث میں

فمن ذلك ينزل اخی عیسیٰ ابن مریم من السمآء الی جبل (١) فیق...... الخ

ذلك ينزل اخی عیسیٰ بن مریم من السمآء...... الخ. (٣) حج الکرامہ (جس کو مرزائی اکثر پیش کیا کرتے ہیں) ص ٤٢٤ میں ہے۔ سمعت رسول الله ﷺ یقول ینزل اخی عیسیٰ ابن مریم من السمآء۔

ہے کہ حضرت مسیح جب آسمان سے اتریں گے تو ان کا لباس زرد رنگ کا ہوگا۔“ (ازالہ اوہام طبع اول ص ٨١، خزائن ج ٣ ص ١٤٢، وطبع حال ص ٤٦، خزائن ج ١ ص ٤٣٢) غالباً اس لئے مرزا قادیانی نے براہین احمدیہ میں لکھا تھا کہ: ”حضرت مسیح تو انجیل کو ناقص ہی چھوڑ کر آسمانوں پر جابیٹھے۔“ (حاشیہ ص ٤٦١، خزائن ج ١ ص ٥٤١) پس مجاہد صاحب کا من السمآء سے انکار کرنا۔ کتب حدیث اور خود اپنے نبی کی۔

٤٢

٠٣

تصنیفات سے ناواقفیت کی دلیل ہے۔

خود فراموشی کند

جواب دلیل نمبر ٨

فہرست میں یہ دلیل نمبر ٨ تھی مجاہد تاویل باطل کر دی کہ ”حضرت عیسیٰ مقام رفع الـ کا ایک کشف ہے۔ (ص ١٦)“ حالانکہ حدیث مسلم کا لفظ لیهلن ہے۔ (ج ١ ص ٤٠٨) اس استقبال کے لیئے کر دیتا ہے۔ اس پر تمام نحویا ملا، رضی ومحلہ وغیرہ معنی النصیب میں ہے۔ اما كان مستقبلا اكدبهما وجوباً (ص ٢٢) ثقیلہ بالام تاکید اس پر نہیں ہوتا۔ اور اگر اسما واجب ہے۔ پس لیهلن کے معنے ہوئے بھی اس معنے کی تائید ہوتی ہے۔ چنانچہ ملاحظہ ابن مريم فيقتل الخنزير ویض منها...... الخ! (ج ٢ ص ٢٩٠) آنحضرت صلیب کو مٹادیں گے۔ اور روحاء میں اتر حدیث لائے ہیں: ”یقول ﷺ ليهل عدلا...... يكسر الصليب ويقتل الخ (ص ١٨٤ ج ٣) آپ نے فرمایا ضرور اللہ اما گے۔ خنزیر کو قتل کر دیں گے اور ضرور ضرور نون ثقلیہ مع لام تاکید آیا ہے) اور سنئے ، مس ابن مريم حكما عدلا واماما اوليثنينهما ليأتين قبری حتى یس فرمایا البتہ ضرور اتریں گے عیسیٰ بن مریم فج الروحاء کو حج یا عمرہ یا دونوں کے ارادے پاس یہاں تک کہ مجھے سلام کریں گے

صفحہ ٤٠٣

تصنیفات سے ناواقفیت کی دلیل ہے۔

خود فراموشی کند اتہمت دھد اغیار را

جواب دلیل نمبر ٨

فہرست میں یہ دلیل نمبر ٩ تھی مجاہد صاحب نے اس کا جواب تو کچھ نہ دیا البتہ ایک تاویل باطل کر دی کہ ”حضرت عیسیٰ مقام فج الروحاء سے حج کا تلبیہ پکاریں گے، یہ آنحضرت ﷺ کا ایک کشف ہے۔ (ص ١٦)“ حالانکہ حدیث مذکور میں آئندہ زمانہ کی خبر دی گئی ہے۔ چنانچہ صحیح مسلم کا لفظ لیهلن ہے۔ (ج ١ ص ٤٠٨) اس میں نون ثقیلہ بالام تاکید آیا ہے جو مضارع کو خالص استقبال کے لیئے کر دیتا ہے۔ اس پر تمام نحویوں کا اتفاق ہے۔ ملاحظہ ہو کافیہ، مفصل، الفیہ، شرح ملا، رضی و جملہ وغیرہ مغنی اللبیب میں ہے۔ اما المضارع انکان حالا لم يوكدهما وان كان مستقبلا اكدبهما وجوباً (ص ٢٤٢) یعنی مضارع جب حال کے لئے ہوتا ہے تو نون ثقیلہ بلام تاکید اس پر نہیں ہوتا۔ اور اگر استقبال کے معنے میں ہو تو لام ونون کا اس پر داخل ہونا واجب ہے۔ پس لیھلن کے معنے ہوئے آئندہ زمانہ میں تلبیہ پکاریں گے۔ دیگر احادیث سے بھی اس معنے کی تائید ہوتی ہے۔ چنانچہ ملاحظہ ہو۔ مسند احمد میں ہے قال ﷺ ینزل عیسیٰ ابن مریم فیقتل الخنزیر ویمحو الصلیب...... وینزل الروحاء فیحج منها...... الخ ! (ج ٦ ص ٢٩٠) آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ عیسیٰ اتریں گے خنزیر کو قتل کر دیں گے صلیب کو مٹا دیں گے۔ اور روحاء میں اتریں گے۔ وہاں سے حج کریں گے۔ محدث ابن جریر حدیث لائے ہیں: ”یقول ﷺ لیهبطن الله عیسیٰ ابن مریم حكما عدلاً ...... يكسر الصليب ويقتل الخنزير...... وليسلكن الروحاء حاجا ...... الخ ! (ص ١٨٢ ج ٣) آپ نے فرمایا ضرور اللہ اتارے گا عیسیٰ کو حاکم وعادل بنا کر، آپ صلیب کو توڑیں گے۔ خنزیر کو قتل کر دیں گے اور ضرور ضرور وہ روحاء کو جائیں گے۔ حج کے ارادہ سے (یہاں بھی نون ثقیلہ مع لام تاکید آیا ہے) اور سنئے، مستدرک حاکم میں ہے: ”قال ﷺ لیهبطن عیسیٰ ابن مريم حكما عدلاً واماما مقسطا وليسلكن فجا حاجا او معتمراً اوليثنينهما ليأتين قبرى حتى يسلم على ولاردن عليه (ص ٥٩٥ ج ٢)“ حضور نے فرمایا البتہ ضرور اتریں گے عیسیٰ بن مریم حاکم عادل اور امام منصف ہو کر اور البتہ ضرور جائیں گے۔ فج الروحاء کو حج یا عمرہ یا دونوں کے ارادہ سے اور البتہ ضرور آئیں گے۔ (مدینہ) میں میری قبر کے پاس یہاں تک کہ مجھے سلام کریں گے اور میں (قبر میں سے ) جواب دوں گا۔ (سب فعل موکد

صفحہ ٤٠٤

بنون ثقیلہ و لام تاکید ہیں جو آئندہ زمانہ کی خبر دیتے ہیں۔ صحیح مسلم نمبر ٤ میں ہے: "قــال ﷺ والذي نفسي بيده ليهلن ابن مريم بفج الروحاء حاجا او معتمر او ليثنينهما (ج ١ ص ٣٨٢، مطبوعہ مصر )" نبی ﷺ کی تاکید قسم فرماتے ہیں کہ قسم اس خدا کی جس کے قبضہ میں میری جان ہے ضرور ضرور احرام باندھیں گے یا تلبیہ پکاریں گے۔ حضرت عیسیٰ مقام فج الروحاء سے حج کا یا عمرہ کا یہ دونوں کو ملائیں گے۔ محدث ابن عساکر روایت لائے ہیں: يقول يهبط عيسى ابن مريم فيصلى الصلوات يجتمع الجمع ويزيد في الحلال تجذيه رواحله ببطن الروحاء حاجا او معتمرا۔ (کنزالعمال ج ٧ ص ٢٦٧) فرمایا کہ عیسیٰ بن مریم اتریں گے۔ نماز پنجوقتہ و نماز جمعہ پڑھائیں گے اور (شرع محمدی کی بعض حلال چیزوں کو بعض مفتیوں نے حرام کر دیا ہوگا اسے وہ ) حلال ٹھہرائیں گے، ان کی اونٹنیاں ان کو سوار کر کے وسط روحاء میں لائیں گے۔ حج یا عمرہ کے لئے۔ غرض میں کہاں تک حدیثیں لکھتا جاؤں۔ کیا اب بھی کوئی عاقل کہہ سکتا ہے کہ ”یہ آنحضرت کا ایک کشف ہے۔“ یہ زمانہ آئندہ کی خبر ہے انصاف! انصاف!!

میرے دل کو دیکھ کر میری وفا کو دیکھ کر
بندہ پرور منصفی کرنا خدا کو دیکھ کر

مجاہد صاحب فرماتے ہیں ”ایک حدیث میں حضرت موسیٰ کا بھی تلبیہ کرنا، اونٹنی پر سوار ہو کر شعائر اللہ میں پھرنا مذکور ہے۔ (ص ١٦)“ اس حدیث میں لام تاکید بانون تاکید ثقیلہ کے ساتھ فعل نہیں وارد ہے۔ بلکہ کانی انظر الی موسیٰ فذكر من لونه وشعره وارد ہے۔ (صحیح مسلم مصری ج ١ ص ٨١) دوسری روایت میں حين اسرى بی لقیت موسیٰ آیا ہے۔ (صحیح مسلم ص ٨١) یعنی شب معراج میں میں موسیٰ سے ملا۔ ان کا رنگ ایسا، بال ایسے، صورت، ایسی تھی گویا اس وقت بھی میں دیکھ رہا ہوں۔ وہ تلبیہ پکارتے ہوئے وادی (ارزق) سے گزر رہے ہیں۔ پس یہ دیکھنا شب معراج میں ہے نہ کشف تعبیر طلب والحدیث یفسر بعضہ بعضا ۔ مجاہد صاحب نے از راہ تمسخر لکھا ہے ۔ ” یہ بھی اب عقیدہ رکھ لو حضرت موسیٰ بھی اسی جسم کے ساتھ آسمان پر بیٹھے ہوئے ہیں۔ ص ١٦ کیا آپ کا عقیدہ یہ نہیں ہے؟ کیا آپ کے پیرو پیغمبر جناب مرزا قادیانی نے یہ نہیں لکھا ہے؟ کہ: ”ہم پر فرض ہو گیا ہے کہ ہم اس بات پر ایمان لاویں کہ موسیٰ زندہ آسمان میں موجود ہے۔“ (نور الحق ج ١ ص ٥٠، خزائن ج ٨ ص ٦٩) اس چیز کو ہم ”جواب دعوت“ کے ص ١١ پر تفصیل سے پیش کر چکے ہیں پھر کس منہ سے اس کے خلاف آج آپ بول پڑے؟ کہئے:

میں الزام ان کو دیتا تھا قصور اپنا نکل آیا

٤٤

٤٠٥

مجاہد صاحب آگے لکھتے ہیں ”دوسری حـ ہوئے دیکھا جانا مذکور ہے۔ (ص ١٦)“ لیکن اس ہیں: ”بینما انا نائم رايتني اطوف بالکـ الدجال (صحیح مسلم مصری ج ١ ص ٨٢) یعنی میں حاـ کعبہ کر رہا ہوں۔ اچانک ایک سرخ رنگ کا آدمـ حدیث میں صاف طور سے مصرح ہے کہ یہ خواب حج کو قیاس کرنا جبکہ ان کے لئے زمانہ آئندہ کی ہے ۔ اس کو کہا ہے:

چه نسبت خا
کجا عيسى كـ

جواب دلیل نمبر ٩

ہماری فہرست کی دلیل نمبر ١٦ او نمبر ١ کہ ”حدیث ان عيسى لم دیا ۔ (ص ١٧)“ حالانکہ انجمن اپنے ٹریکٹ نمبر ابن جریر، ابن ابی حاتم ، ابن کثیر اور درمنثور، بحـ ہی غلط ہے۔ (١٧)“ یہی تو آپ لوگوں کے ” کے برخلاف ہو وہ حدیث الرسول نہیں ہے اور وہ سب احادیث الرسول ہیں۔ جیسا کہ نمبر ٧ العترت نے: ”يحرفون الكلم من بعد وأن لم تؤتوه فاحذروا (مائده: ٤١، وہ اپنی جگہ پر ہوتا ہے، کہتے ہیں کہ اگر تم کو یـ مت ماننا ۔“ صدق اللہ ۔ آگے دلیل کیا خوب دیتے کرائم...... دوسروں کے پاس بیان کرتے یـ حدیث پہنچی کیونکہ بلا سند تو ہے نہیں۔ بلکہ اس کو باب مدینۃ العلم مولیٰ علی مرتضیٰؓ نے سنا

صفحہ ٤٠٥

مجاہد صاحب آگے لکھتے ہیں ”دوسری حدیث میں دجال کا بھی بیت اللہ کا طواف کرتے ہوئے دیکھا جانا مذکور ہے۔ (ص ١٦) ”لیکن اس حدیث میں یہ نظر نہ آیا کہ رسول ﷺ فرماتے ہیں: ”بینما انا نائم رائیتنی اطوف بالکعبة فاذا رجل احمر (الیٰ قوله) قالوا الدجال (صحیح مسلم مصری ج ١ ص ٨٢)“ یعنی میں نے سوتے ہوئے خواب میں دیکھا کہ میں طواف کعبہ کر رہا ہوں۔ اچانک ایک سرخ رنگ کا آدمی (تا) لوگوں نے کہا یہ دجال ہے۔ پس جب حدیث میں صاف طور سے مصرح ہے کہ یہ خواب کا واقعہ ہے تو اس پر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے حج کو قیاس کرنا جبکہ ان کے لئے زمانہ آئندہ کی خبر صراحت سے دی گئی ہے۔ قیاس مع الفارق ہے اسی کو کہا ہے:

چه نسبت خاك را با عالم پاك
كجا عيسىٰ كجا دجال ناپاك

جواب دلیل نمبر ٩

ہماری فہرست کی دلیل نمبر ١٦ و نمبر ١٧ کو نویں دلیل بنا دیا اور ساتھ ہی شکایت بھی کر دی کہ ”حديث ان عيسى لم يمت کا انجمن اشاعت اسلام نے حوالہ نہیں دیا۔ (ص ١٧) حالانکہ انجمن اپنے ٹریکٹ نمبر ٦ کے ص ٣٠ پر چار کتابوں کا حوالہ پیش کر چکی ہے۔ ابن جریر، ابن ابی حاتم ، ابن کثیر اور درمنثور پھر آگے لکھتے ہیں کہ ”اس عبارت کو حدیث الرسول کہنا ہی غلط ہے۔ (ص ١٧)“ یہی تو آپ لوگوں کے ”یہود صفت“ ہونے کی دلیل ہے کہ جو حدیث آپ کے بر خلاف ہو وہ حدیث الرسول نہیں ہے اور موضوعات واباطیل جن سے آپ کا مطلب نکلتا ہو وہ سب احادیث الرسول ہیں۔ جیسا کہ نمبر ٧ کے تحت میں ہم بہ تفصیل لکھ آئے ہیں۔ سچ فرمایا رب العزت نے: ”يحرفون الكلم من بعد مواضعه يقولون ان اوتيتم هذا فخذوه وان لم تؤتوه فاحذروا (مائده: ٤١)“ یعنی بدل دیتے ہیں یہود کلام کو بعد اس کے کہ وہ اپنی جگہ پر ہوتا ہے، کہتے ہیں کہ اگر تم کو یہ حکم ملے تو اس کو قبول کر لینا اور اگر یہ حکم نہ دئے جاؤ تو مت ماننا“۔ صدق اللہ۔

آگے دلیل کیا خوب دیتے ہیں کہ اگر ”یہ حدیث الرسول ہوتی ....... تو صحابہ کرام ....... دوسروں کے پاس بیان کرتے ...... الخ! (ص ١٧)“ صحابہ نے بیان نہیں کیا تو ہم تک یہ حدیث پہنچی کیونکہ بلا سند تو ہے نہیں۔ بلکہ آنحضرت ﷺ کے ارشاد ان عيسى لم يمت ..... الخ کو باب مدینۃ العلم مولیٰ علی مرتضیٰ نے سنا۔ ان سے حسن بصری (سید التابعین و شیخ الصوفیہ ) نے

٤٥

صفحہ ٤٠٧

اخذ کیا۔ ان سے ربیع نے ان سے ابو جعفر نے ان سے ان کے بیٹے عبداللہ نے ان سے اسحق نے ان سے مثنیٰ نے ان سے ابن جریر طبری نے۔ (ج ٣ ص ١٨٣) تفسیر ابن جریر کتب متداولہ میں سے ہے اور اس میں حدیث کی سند متصل بھی موجود ہے پھر مجاہد صاحب کا یہ لکھنا کہ ”سند کا ذکر نہیں“ اور ”کتب متداولہ میں باسناد متصل ضرور ذکر ہوتا (ص ١٧)“ کتنا غلط اور دلیل جہالت ہے۔ محمد بن جریر طبری اتنے بڑے پایہ کا محدث ہے کہ ابن خلکان وغیرہ نے ان کو ائمہ مجتہدین میں سے لکھا ہے خود آپ کے مرزا قادیانی نے چشمہ معرفت میں لکھا ہے کہ: ”ابن جریر...... نہایت معتبر اور ائمہ حدیث میں سے ہے۔ (حاشیہ ص ٢٥٠، خزائن ج ٢٣ ص ٢٦١)“ مجاہد صاحب نے حدیث مذکور کے لئے ”دنیائے اسلام کی معتبر و مستند کتب ص ١٧ کی ہی خواہش ظاہر کی ہے جب مرزا قادیانی نے ابن جریر کو معتبر اور امام حدیث مان لیا ہے تو اب مجاہد صاحب و دیگر قادیانی حضرات کو حدیث ان عیسیٰ لم یمت کو فرمان رسول مان لینے میں کیا عذر ہے؟

رہ گیا یہ انوکھا مطالبہ کہ بخاری و مسلم و ترمذی ابو داؤد وابن ماجہ نسائی میں ذکر ہونا چاہئے۔ (ص ١٧)“ محض مہمل اور ہٹ دھرمی ہے جبکہ خود مرزا قادیانی نے بہت سی حدیثیں اپنے مدعی کے اثبات کے لئے صحاح ستہ کے علاوہ دیگر کتب احادیث سے پیش کی ہیں۔ جس کا نمونہ ہم ”جواب دعوت“ کے ص ٤١ پر دکھا چکے ہیں۔ اور خود محدثین کرام بھی تمام احادیث الرسول کو صحاح ستہ میں محصور نہیں مانتے۔

حدیث عیسیٰ لم یمت کے راوی صحابی کا نام

مجاہد صاحب کا بڑا اعتراض یہ ہے کہ رسول کریم سے یہ ارشاد سننے والے کا نام تک مذکور نہیں ہے۔ (ص ١٧) ”صحابی کے نام کا مذکور نہ ہونا حدیث کی صحت میں قادح نہیں ہوتا مقدمہ ابن الصلاح میں ہے: ”فالجهالة بالصحابي غير قادحة لان الصحابة كلهم عدول (مصری ص ٢٢)“ یعنی صحابہ چونکہ سب عدول (ثقہ) ہیں اس لئے ان کے نام کا معلوم نہ ہونا حارج نہیں ہے۔ تاہم اگر مجاہد صاحب کی یہی خواہش ہے کہ وہ حدیث ان عیسیٰ لم یمت کی روایت کرنے والے صحابی کا نام ہی ضرور معلوم کریں گے تو ہم خود امام حسن بصری سے ہی پوچھ لیتے ہیں۔ پس سنئے امام حسن بصری نے اپنے شاگرد یونس بن عبید سے فرمایا تھا: ”کل شیء جعلنی اقول قال رسول الله ﷺ فهو عن علی بن ابی طالب غیرانی فی زمان لا استطیع ان اذكر عليا (تہذیب الکمال للمزی)“ یعنی جتنی حدیثوں میں، میں قال رسول اللہ کہوں وہ حضرت علیؓ سے مجھے پہنچی ہیں۔ میں ایسے (ظالم حجاج کے) زمانہ میں ہوں کہ حضرت علیؓ کا نام

٤٦

نہیں لے سکتا۔ پس ثابت ہو گیا کہ ابن جریر میں جو ا لليهود ان عيسى لم يمت ..... الخ بالسند منقول ہ

کتب تفاسیر

حدیث مذکور کی بحث میں مجاہد صاحب ن حالانکہ مرزا قادیانی نے خود اکابر مفسرین سے استفاد مجاہد صاحب نے نقول حوالہ میں بڑی خ کتاب فوائد مجموعہ کے ص ١١١ سے امام احمد کا قول نقل ک جملہ ان کے کتب تفاسیر بھی۔ (ص ١٨) ”اور آگے کی ع مخصوصة في هذه المعاني الثلاثة غیر مراد خاص کتابیں ہیں جن پر اعتماد نہیں کیا جاتا پھر تفاسیر مبتدعین تفاسیر صوفیہ تفسیر ثعلبی، تفسیر واحدی تفاسیر نہیں ہے جو بالسند حدیثیں ذکر کرتے ہیں ۔ پھر تو وہ اپنے ہی قول سے ملزم ہوں گے۔ اور ان گی۔ اسی طرح صاحب فوائد مجموعہ بھی مصنف تف طرح جلال الدین سیوطی جن کا قول نمبر ٣ میں لک اپنی تالیفات کو غیر معتبر قرار دیتے ہیں۔ ولا یق علامہ ابن خلدون کا قول لائے ہیں اس سے نمبرا اس طرح پڑ کہ نمبر ١ میں تو کتب تفا اعلیٰ و مقبول باتوں کا ہونا بھی مان لیا۔ ول ہذا ا مجاہد صاحب ہضم کر گئے۔ فکتب الکثی الصحابة والتابعين وانتهى ذلك تفسیریں لکھیں اور ان میں جو حدیثیں صحابہ میں لکھی گئیں اور یہ الزام محدث ابن جریر طب ابن جریر طبری سے ہی نقل کی ہے جس کی تخر مجاہد صاحب نے نمبر ٣ میں جو جلال الدین نے اسنادوں کو ترک کر دیا (تا) نقائص پید

صفحہ ٤٠٧

نہیں لے سکتا۔ پس ثابت ہو گیا کہ ابن جریر میں جو قال الحسن قال رسول اللہ ﷺ للیهود ان عیسیٰ لم یمت ...... الخ بالسند منقول ہے اس کے راوی حضرت علیؓ ہیں۔

کتب تفاسیر

حدیث مذکور کی بحث میں مجاہد صاحب کتب تفاسیر کے پیچھے ہاتھ دھو کر پڑ گئے ہیں۔ حالانکہ مرزا قادیانی نے خود اکابر مفسرین سے استناد کیا ہے۔ (تحفہ گولڑویہ ص٩٩، خزائن ج١٧ص٢٤٨) مجاہد صاحب نے نقول حوالہ میں بڑی خیانت کی ہے چنانچہ پہلے نمبر میں قاضی شوکانی کی کتاب فوائد مجموعہ کے ص١١١ سے امام احمد کا قول نقل کرتے ہیں کہ ”تین قسم کی کتابیں بے اصل ہیں من جملہ ان کے کتب تفاسیر بھی۔ (ص١٨)“ اور آگے کی تمام عبارتیں کھا گئے۔ ھذا محمول علی کتب مخصوصة فی ھذه المعانی الثلاثة غیر معتمد علیھا ...... الخ (ص١١١) یعنی امام احمد کی مراد خاص کتابیں ہیں جن پر اعتماد نہیں کیا جاتا پھر آگے اس کی تصریح بھی کردی ہے۔ یعنی تفسیر کلبی تفاسیر مبتدعین تفاسیر صوفیہ، تفسیر ثعلبی، تفسیر واحدی، تفاسیر روافض وغیرہ، امام احمد کی مراد محدثین کی تفاسیر نہیں ہے جو بالسند حدیثیں ذکر کرتے ہیں۔ ورنہ امام احمد خود ایک مبسوط تفسیر کے مصنف ہیں۔ پھر تو وہ اپنے ہی قول سے ملزم ہوں گے۔ اور ان کی تفسیر خود ان کے ہی قول سے بے اصل ہو جائے گی۔ اسی طرح صاحب فوائد مجموعہ بھی مصنف تفسیر فتح القدیر ہیں۔ جو مصر میں طبع ہو چکی ہے۔ اسی طرح جلال الدین سیوطی جن کا قول نمبر ٣ میں لکھا ہے دو دو تفسیروں کے مؤلف ہیں۔ یہ لوگ گویا خود اپنی تالیفات کو غیر معتبر قرار دیتے ہیں۔ ولا یقول بذلک الا من سفه نفسه۔ آگے نمبر ٢ میں جو علامہ ابن خلدون کا قول لائے ہیں اس سے نمبر ١ کی تردید خود بخود ہو جاتی ہے۔ اس طرح پر کہ نمبر ١ میں تو کتب تفاسیر کو بالکلیہ بے اصل ٹھہرایا اور نمبر ٢ میں ان کتب میں اعلیٰ و مقبول باتوں کا ہونا بھی مان لیا۔ وللّٰہ ھٰذا الا تناقض۔ پھر ابن خلدون نے یہ بھی تو لکھا ہے جسے مجاہد صاحب ہضم کر گئے۔ فکتب الکثیر من ذلک ونقلت الآثار الواردة فیه عن الصحابة والتابعین وانتهیٰ ذلک الی الطبری (ج١ ص٤٦٦) یعنی اکثر سلف نے تفسیریں لکھیں اور ان میں جو حدیثیں صحابہ سے مروی اور آثار تابعین سے منقول ہیں ان کتابوں میں لکھی گئیں اور یہ الزام محدث ابن جریر طبری پر منتہی ہوا۔ ہم نے بھی تو حدیث ان عیسیٰ لم یمت ابن جریر طبری سے ہی نقل کی ہے جس کی تعریف علامہ ابن خلدون بھی فرما رہے ہیں۔ اس کے بعد مجاہد صاحب نے نمبر ٣ میں جو جلال الدین سیوطی کی اتقان سے نقل کیا ہے۔ ”انہوں (مفسروں) نے اسنادوں کو ترک کر دیا (تا) نقائص پیدا ہو گئے۔ (ص١٨) یہ ان تفسیروں کی بابت ہے۔ جن

٤٧

صفحہ ٤٠٩

کے مصنفوں نے سندیں ترک کر دی ہیں اور تفسیر ابن جریر وابن کثیر ان تفسیروں میں سے ہیں جو سندیں بیان کرتے ہیں۔

پس ظاہر ہے کہ یہ دونوں تفسیریں ان تفاسیر میں سے نہیں ہیں جن میں بوجہ ترک اسانید نقائص پیدا ہو گئے۔ افسوس ہے مجاہد صاحب کی خیانت پر کہ اتقان سے جو عبارت نقل کی ہے اس کے اوپر کی عبارت قصداً چھوڑ گئے جو یہ ہے: ”بعدهم ابن جرير الطبرى وكتابه اجل التفاسير واعظمها (الى) فهو يفوقها بذلك (اتقان مصری ج ٢ ص ١٩٠)“ یعنی تفسیر ابن جریر طبری تمام تفسیروں میں بڑی جلالت اور عظمت والی ہے اور سب میں فوقیت رکھتی ہے پھر آگے لکھتے ہیں: ”یقول عليه تفسير الامام ابن جرير الطبري الذي اجمع العلماء المعتبرون على انه لم يؤلف فى التفسير مثله. (ج ٢ ص ١٩١)“ یعنی جس تفسیر پر بھروسہ کرنا چاہئے وہ تفسیر ابن جریر ہے جس کے بارے میں اجماع ہو چکا ہے کہ تفسیر میں اس جیسی کوئی کتاب تالیف نہیں ہوئی۔ اس لئے مرزا قادیانی نے اس کو معتبر مانا ہے۔ (چشمہ معرفت کا حاشیہ ص ٢٥١، خزائن ج ٢٣ ص ٢٦١) اسی تفسیر میں ان عیسیٰ لم یمت کی حدیث بالسند منقول ہوئی ہے کہئے مجاہد صاحب کیا سمجھے؟

ضیا کو تیرگی اور تیرگی کو جو ضیا سمجھے
پڑیں پتھر سمجھ ایسی پہ وہ سمجھے تو کیا سمجھے

جواب دلیل نمبر ١٠

ہماری فہرستوں میں بیسویں دلیل حدیث ثم يموت فيدفن معى فى قبرى مسطور تھی کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام بعد نزول مریں گے اور مقبرہ رسول میں دفن ہوں گے۔ مجاہد صاحب نے حسب عادت اس حدیث سے بھی انکار کر دیا ہے اور لکھا ہے ”آنحضرت ﷺ کی طرف غلط منسوب کی گئی ہے۔ (ص ٢٠)“ اور اس دعویٰ کے ثبوت میں چھ نمبر قائم کئے ہیں۔ نمبرا میں لکھا ہے کہ ”مؤلف شرح مواہب اللدنیہ فرماتے ہیں والله اعلم بصحة هذا“ اس کی صحت کو جانے۔ (ص ایضاً)“ خدا تو سب کچھ جانتا ہے وہ اس دلیل کو بھی جانتا ہے جو یہاں آپ نے کیا ہے اور وہ یہ ہے کہ: ”والله اعلم“ مصنف مواہب کا قول تھا اسے آپ نے شارح مواہب کا قول بنا دیا ملاحظہ ہو (زرقانی شرح مواہب ج ٨ ص ٣٤٨) علاوہ ازیں زرقانی شارح مواہب تو حدیث مذکور کی تائید میں ایک اور بھی صحیح حدیث نقل کرتا ہے۔ چنانچہ لکھتا ہے: ”وعند احمد بسند صحيح عن ابى هريرة رفعه انه يمكث فى الارض اربعين سنة ٤٨

(ج ٨ ص ٣٤٨)“ کو مسند احمد میں سند صحیح سے روایت ک زمین میں چالیس سال ٹھہریں گے اور اس حدیث مشکوٰۃ سنة ثم يموت فيدفن معى فى قبرى وارد ہے

پس شارح مواہب نے حدیث مذکور کی سند پر کوئی کلام نہ کیا نہ اس کو ضعیف کیا نہ موضوع بتایا بھی شرح مشکوٰۃ میں حدیث مذکور پر کوئی جرح نہیں ک بھی شرح قاری مشکوٰۃ میں حدیث مذکور پر کوئی جرح ن ہیں اور کئی صحیح اور حسن حدیثوں کو موضوع کہہ دیا اور کتاب المنتظم) میں حدیث مذکور نقل کرتے ہیں ی کنز العمال اور صاحب مشکوٰۃ بھی اس حدیث کو ن المراغی تاریخ مدینہ میں رواہ علامہ سمہودی وفاء الوفاء م ہیں اور کچھ نہیں بولتے خود قسطلانی مواہب میں نقل ک بقاعی سرالروح میں اس کو بلا جرح نقل کرتے ہیں۔ پ حوالہ دیتے ہیں) میں اس حدیث کو نقل کرکے کوئی ج مؤرخین اس حدیث کو بلا جرح وقدح نقل کرتے ہ اس روایت کو نقل کیا اور اس سے استناد کیا ہے۔ چنا

مرزا قادیانی کا حدیث مذکور کو ماننا

مرزا قادیانی حاشیہ ضمیمہ انجام آتھم میں جناب رسول اللہ ﷺ نے بھی پہلے سے ایک پیش گو ظاہر ہے کہ تزوج اور اولاد کا ذکر کرنا عام طور پر مقص ہوگا اور اولاد سے مراد خاص اولاد ہے۔۔۔۔۔ اس ج شبہات کا جواب دے رہے ہیں اور فرما رہے ہیں ج ١ ص ٤٣٧) دیکھو مرزا قادیانی حدیث مذکور کو فر مرید لکھتا ہے کہ ”آنحضرت ﷺ کی طرف غلط فيدفن معى فى قبرى کے متعلق مرزا قا قادیانی لکھتے ہیں: ”آنحضرت نے فرمایا ہے کہ ٩

صفحہ ٤٠٩

(ج ٨ ص ٣٢٨)‘‘ کو مسند احمد میں سند صحیح سے بروایت ابی ہریرہ مرفوعاً مروی ہے کہ حضرت عیسیٰ زمین میں چالیس سال ٹھہریں گے اور اس حدیث مشکوٰۃ والی میں یمکث خمسا واربعین سنة ثم يموت فيدفن معى فى قبرى وارد ہے۔

(مشکوٰۃ ص ٤٧٢)

پس شارح مواہب نے حدیث مذکور کی تصحیح دوسری حدیث سے کردی اور خود اس کی سند پر کوئی کلام نہ کیا نہ اس کو ضعیف کیا نہ موضوع بتایا نہ بے اصل ٹھہرایا۔ اسی طرح ملا علی قاری نے بھی شرح مشکوٰۃ میں حدیث مذکور پر کوئی جرح نہیں کی۔ اسی طرح شیخ عبدالحق محدث دہلوی نے بھی شرح فارسی مشکوٰۃ میں حدیث مذکور پر کوئی جرح نہیں کی خود محدث ابن جوزی جو نہایت متشدد ہیں اور کئی صحیح اور حسن حدیثوں کو موضوع کہہ دیا ہے۔ وہ اپنی دو دو کتابوں (کتاب الوفاء اور کتاب المنتظم) میں حدیث مذکور نقل کرتے ہیں اور اس پر کوئی اعتراض نہیں کرتے۔ صاحب کنز العمال اور صاحب مشکوٰۃ بھی اس حدیث کو نقل کرکے خاموش ہو جاتے ہیں۔ علامہ ابن المراغی تاریخ مدینہ میں اور علامہ سمہودی وفاء الوفاء (تاریخ مدینہ) میں اس روایت کو درج کرتے ہیں اور کچھ نہیں بولتے خود قسطلانی مواہب میں نقل کرکے سکوت کرتے ہیں۔ امام قرطبی تذکرہ اور بقاعی سرالروح میں اس کو بلا جرح نقل کرتے ہیں۔ حج الکرامہ ص ٤٢٩، ٤٣٠ (جس کا مرزائی بہت حوالہ دیتے ہیں) میں اس حدیث کو نقل کرکے کوئی کلام نہیں کیا۔‘‘ اسی طرح بہت سے محدثین اور مؤرخین اس حدیث کو بلا جرح و قدح نقل کرتے چلے آئے ہیں۔ حتیٰ کہ خود مرزا قادیانی نے بار بار اس روایت کو نقل کیا اور اس سے استناد کیا ہے۔ چنانچہ ملاحظہ ہو۔

مرزا قادیانی کا حدیث مذکور کو ماننا

مرزا قادیانی حاشیہ ضمیمہ انجام آتھم میں لکھتے ہیں: ’’اس پیش گوئی کی تصدیق کے لئے جناب رسول اللہ ﷺ نے بھی پہلے سے ایک پیش گوئی فرمائی ہے کہ يتزوج ويولد له ..... اب ظاہر ہے کہ تزوج اور اولاد کا ذکر کرنا عام طور پر مقصود نہیں ..... مراد وہ خاص تزوج ہے جو بطور نشان ہوگا اور اولاد سے مراد خاص اولاد ہے ..... اس جگہ رسول اللہ ﷺ ان سیہ دل منکروں کو ان کے شبہات کا جواب دے رہے ہیں اور فرما رہے ہیں کہ یہ باتیں ضرور پوری ہوں گی (ص ٥٣، خزائن ج ١١ ص ٣٣٧) دیکھو مرزا قادیانی حدیث مذکور کو فرمان رسول تسلیم کر رہے ہیں اور ان کا ایک سیہ دل مرید لکھتا ہے کہ ’’آنحضرت ﷺ کی طرف غلط منسوب کی گئی ہے۔ (ص ١٠) اب خاص طور سے فيدفن معى فى قبرى کے متعلق مرزا قادیانی کے اقوال ملاحظہ ہوں۔ اخبار الحکم میں مرزا قادیانی لکھتے ہیں: ’’آنحضرت نے فرمایا ہے کہ مسیح موعود کی قبر میری قبر ہوگی۔‘‘ (الحکم ١٠؍مئی ١٩٠٣ء

٤٩

صفحہ ٤١١

ص ٢) اور ازالہ اوہام میں تحریر کرتے ہیں کہ ”ممکن ہے کہ کوئی مثیل مسیح ایسا بھی ہو جو آنحضرت ﷺ کے روضہ کے پاس مدفون ہو۔“ (ازالہ اوہام ص ٤٧٠، خزائن ج ٣ ص ٣٥٢) اور کشتی نوح میں ارقام فرماتے ہیں: ”یہی بھید ہے کہ آنحضرت ﷺ فرماتے ہیں کہ مسیح موعود میری قبر میں دفن ہوگا۔“ (ص ١٥ مطبوعہ قادیان، خزائن ج ١٩ ص ١٦) آپ کے خلیفہ محمود میاں انوار خلافت میں بیان کرتے ہیں ”آنحضرت نے فرمایا ہے کہ وہ میری قبر میں دفن ہوگا۔“ (ص ٥٠) کہئے مجاہد صاحب یہ آپ کے بزرگان دین بلکہ آپ کے پیغمبر اور ان کے خلیفہ تو حدیث مذکور کو آنحضرت کا قول تسلیم کرتے ہیں اور آپ ہماری مخالفت میں یہی کہے جاتے ہیں کہ ”آنحضرت کی طرف غلط منسوب ہے۔ (ص ٢٠)“ حالانکہ مرزا قادیانی جب کسی حدیث کو قبول کرتے ہیں تو خدا سے علم پا کر۔

(ضمیمہ تحفہ گولڑویہ کا حاشیہ ص ١٤، خزائن ج ١٧ ص ٥١)

پس ان کی قبول کردہ حدیث سے آپ کسی طرح بھی انکار نہیں کر سکتے۔ اور ان کا اس حدیث کو قبول کرنا بلکہ اُس سے استناد کرنا ان کے ان الفاظ سے کھلا ثابت ہے کہ وہ اپنی پیشن گوئی کی تصدیق حدیث مذکور سے فرماتے ہیں (ضمیمہ انجام آتھم کا حاشیہ مذکورہ ص ٥٣، خزائن ج ١١ ص ٣٣٧) اور الفاظ یدفن معی فی قبری کا ترجمہ کشتی نوح میں نقل کر کے لکھتے ہیں۔ ”وہ میں ہی ہوں۔“ (ص ١٣، خزائن ج ١٩ ص ١٤) پس مجاہد صاحب نے اپنے ٹریکٹ نمبر ٢ کے آخری صفحہ (نمبر ٢٤) میں بعنوان ”ایک اور عذر کی حقیقت“ لکھا ہے کہ حدیث یدفن معی وضعی ہے اور ”مرزا قادیانی نے اسے اپنے مخالفوں کے سامنے اس لئے پیش کیا ہے کہ مخالف لوگ اس حدیث کو مانتے ہیں حضرت مرزا قادیانی نہیں مانتے۔“ کتنا غلط اور جھوٹ بلکہ صریح دجل اور فریب ہے۔ مجاہد نے ناظرین کی آنکھوں میں خاک جھونکی ہے۔ ہم نے مرزا قادیانی کی عبارتیں مختلف کتب سے جو نقل کی ہیں ان سے مجاہد کے ”عذر کی حقیقت“ کی اصلی حقیقت خوب واضح ہو جاتی ہے۔ کہ مرزا قادیانی حدیث مذکور کو صاف صاف حدیث رسول تسلیم کر کے اس کا مصداق اپنی ذات کو قرار دیتے ہیں۔ مجاہد صاحب:

باندھی ہے تم نے زیر فلک جھوٹ پر کمر
شاید بگڑ گیا ہے کہیں پاٹ نیل کا

نمبر ٢ ...... میں مجاہد صاحب یوں گل افشانی فرماتے ہیں کہ ”حضرت عائشہؓ کے خواب کے بھی خلاف ہے۔“ (ص ٢٠) حدیث نبوی اگر کسی امتی کے خواب کے خلاف یا قول کے خلاف ہونے سے غلط ہو جائے تو آج احادیث کا سارا دفتر مردود ہو جائے گا۔ اور اسلام دنیا سے رخصت۔ یہ

٥٠

اچّھا اصول آپ نے وضع فرمایا۔ جس کا دنیا میں کوئی قائل

این کار از تو آید و قدنی

حالانکہ ”اظہار حقیقت“ کی عبارت ص ٩ سے مان لینے پر حضرت عائشہؓ کا خواب (جو موطا میں مذکور ہے۔ اس پر یہ اعتراض کہ ”حضرت ابوبکرؓ نے غلط سمجھا۔ وفات رسولؐ پر جو فرمایا تھا ھذا احدا قمارک (موطا ص کو قبر بتلایا فرمایا تھا’ جیسے سورج اور چاند کو قمرین کہتے ہیں

له خسف القمر المـ
غسار القمران المـ

اس شعر میں مرزا قادیانی نے سورج کو قمرا سورج اور بقیہ تین اور دفن ہونے والوں کو چاند فرمایا کے ماننے میں تردد ہو تو ہم بھی آپ کو اس کے مانـ آپ کے ”چمتکارا“ چاہتے ہیں۔ بلکہ اس کا دوسرا کرتے ہیں۔ سنئے۔ حضرت عائشہؓ کو خواب میں تین تین ہی چاند ان کے حجرہ میں دفن ہونے والے آنحضرت ﷺ کو، حضرت ابوبکرؓ کو، حضرت عمرؓ کو چا زندگی میں دفن ہونے والے نہیں تھے اس لئے حـ جب مرزا قادیانی کو تسلیم ہے کہ آنحضرت نے فر مرزائیوں کو انکار کیوں ہے؟ یاللعجب!

نمبر ٣ ...... میں مجاہد صاحب ہرزہ سرائی کرتے ہـ حضرت عائشہؓ سے اجازت کیوں مانگی؟ (ص ٢١) مذکور نہیں دیکھا تھا نہ ان سے آنحضرت ﷺ نـ مدفون ہو گے نہ حضرت عمرؓ نے اس باب میں کچھ موقوف ہے۔۔ حضرت عمرؓ و دیگر صحابہؓ بہت سی بعد میں ان کو دیگر صحابہؓ سے معلوم ہوئیں۔ کما

صفحہ ٤١١

اچھا اصول آپ نے وضع فرمایا۔ جس کا دنیا میں کوئی قائل ہی نہیں۔

این کار از تو آید و مردان چنین کنند

حالانکہ ”اظہار حقیقت“ کی عبارت ص٩ سے صاف ظاہر ہے کہ حضرت عیسیٰ کو تیسرا چاند مان لینے پر حضرت عائشہ کا خواب (جو موطا میں مذکور ہے) اس حدیث کے عین مطابق ہوجاتا ہے۔ اس پر یہ اعتراض کہ ”حضرت ابوبکر نے غلط سمجھا۔“ (ص٢٠) بالکل غلط ہے حضرت ابوبکر نے وفات رسول پر جو فرمایا تھا ھذا احدا قمارك (مؤطا ص ٨٠ و مستدرک حاکم ص ٦٠ ج ٣) اس میں الشمّس کو قمر تغلیباً فرمایا تھا جیسے سورج اور چاند کو قمرین کہتے ہیں۔ خود آپ کے پیغمبر مرزا قادیانی لکھتے ہیں:

لہ خسف القمر المنیر وان لی
خسف القمران المشرقان اتنکر

(اعجاز احمدی ص ٧١، خزائن ج ١٩ ص ١٨٣)

اس شعر میں مرزا قادیانی نے سورج کو قمر لکھا ہے اسی طرح اقمار میں آنحضرت ﷺ کو سورج اور بقیہ تین اور دفن ہونے والوں کو چاند فرمایا ہو تو کیا اعتراض؟ اگر آپ کو اس ”تاویل“ کے ماننے میں تردد ہو تو ہم بھی آپ کو اس کے ماننے پر مجبور نہیں کرتے اور نہ ہم اس سے بقول آپ کے ”چھٹکارا“ چاہتے ہیں۔ بلکہ اس کا دوسرا مطلب جو واقعی اور اصل مطلب ہے۔ تحریر کرتے ہیں، سنئے۔ حضرت عائشہؓ کو خواب میں تین چاند اس لئے دکھائے گئے کہ ان کی زندگی میں تین ہی چاند ان کے حجرہ میں دفن ہونے والے تھے اور وہ صرف تین کو ہی دیکھنے والی تھیں۔ آنحضرت ﷺ کو، حضرت ابوبکرؓ کو، حضرت عمرؓ کو، حضرت عیسیٰ علیہ السلام چونکہ حضرت عائشہؓ کی زندگی میں دفن ہونے والے نہیں تھے اس لئے حضرت عائشہؓ کو چار چاند نہیں دکھائے گئے۔ لیکن جب مرزا قادیانی کو تسلیم ہے کہ آنحضرت نے فرمایا ہے کہ مسیح موعود میری قبر میں دفن ہوگا تو اب مرزائیوں کو انکار کیوں ہے؟ یاللعجب!

نمبر ٣...... میں مجاہد صاحب ہرزہ سرائی کرتے ہیں۔ ”حضرت عمرؓ نے اپنے دفن ہونے کے لئے حضرت عائشہؓ سے اجازت کیوں مانگی؟ (ص٤١)“ اس لئے اجازت مانگی کہ حضرت عمرؓ نے خواب مذکور نہیں دیکھا تھا نہ ان سے آنحضرت ﷺ نے اس امر میں کچھ فرمایا تھا کہ تم میرے کمرے میں مدفون ہونگے نہ حضرت عمرؓ نے اس باب میں کچھ آنحضرت ﷺ سے سنا تھا۔ اور اسی ایک امر پر کیا موقوف ہے۔۔ حضرت عمرؓ و دیگر صحابہ بہت سی حدیثیں بالمشافہ آنحضرت ﷺ سے نہیں سنیں بلکہ بعد میں ان کو دیگر صحابہ سے معلوم ہوئیں۔ کما لا یخفی علیٰ من لہ ادنیٰ مسکۃ فی

٥١

صفحہ ٤١٢

الحدیث۔ عندالضرورت ہم اس کی بیسیوں مثالیں پیش کر سکتے ہیں۔ رہا یہ امر کہ: ”حضرت عائشہ نے کہہ کیوں نہ دیا (تا) اجازت کی کیا ضرورت؟“ (ص ٢١)

قابل توجہ نہیں، وجہ یہ ہے کہ حضرت عائشہ نے حضرت عمر کو پیغام نہیں دیا تھا کہ مجھ سے اجازت مانگو۔ اجازت مانگنا فعل عمر ہے اور وہ بھی حسب ہدایت قرآنی کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: ”لا تدخلوا بیوتا غیر بیوتکم حتی تستانسوا......الخ! (نور: ٢٧)“ یعنی دوسرے کے گھروں میں بغیر اجازت کے نہ جاؤ۔ روضہ نبوی حضرت عائشہ کا گھر تھا اللہ نے ازواج نبی کے گھروں کو ان کی طرف منسوب فرمایا ہے: ”وقرن فی بیوتکن (احزاب: ٣٣)“ اس لئے حضرت عمر کو اجازت طلب کرنے کی ضرورت ہوئی اور حضرت عائشہ کے اجازت دے دینے کی وجہ ان کا وہی خواب تھا۔ ورنہ ان کو حق تھا کہ اجازت نہ دیتیں جیسا کہ بہتوں کو اجازت نہیں دی کماسیاتی۔ پس اجازت دے دینا ہی کہہ دینا ہے۔ تعجب تو یہ ہے کہ مجاہد صاحب کس زبان سے کہتے ہیں کہ ”وہ حدیث جو پیش کی جاتی ہے وہ وضعی ہے نہ کہ سچی۔ (٢١) جب کہ مرزا قادیانی خود بھی اس حدیث کو پیش کر کے خود کو اس کا مصداق قرار دیتے ہیں کما مر۔ کیا مرزا قادیانی بقول مجاہد وضعی حدیث بیان کیا کرتے ہیں؟

الجھا ہے پاؤں یار کا زلف دراز میں
لو آپ اپنے دام میں صیاد آگیا

نمبر ٤...... میں مجاہد صاحب جولانی قلب یوں دکھاتے ہیں ”حضرت عائشہ نے کیوں یہ فرمایا کہ میں نے اسے اپنے لئے رکھا ہوا تھا (تا) معلوم ہوا کہ وہاں اور جگہ نہیں ہے۔ (ص ٢١)“ حضرت عائشہ کے الفاظ یہ ہیں: ”کنت اریده لنفسی ولأوثرنه الیوم علی نفسی (بخاری پ ٦ و ب ١٤)“ اس کا مطلب وہ نہیں ہے جو مجاہد صاحب سمجھتے ہیں کہ اسے اپنے لئے رکھا تھا۔ بلکہ مطلب یہ ہے کہ میرا ارادہ تھا کہ یہاں پہلے کی طرح بے تکلف رہتی تھی۔ لیکن اب بوجہ ایک اجنبی کے وہاں آجانے کے مجھے تکلیف ہوگی تو بھی میں اپنی جان پر ایثار کروں گی اور اس تکلیف کو برداشت کروں گی۔ جیسا کہ ابن سعد نے نقل کیا ہے کہ حضرت عائشہ نے فرمایا: ”لم اضع ثیابی عنى منذ دفن عمر فى بيتی (فتح)“ یعنی جب سے عمر میرے گھر میں دفن ہوئے کبھی میں نے اوڑھنی تک نہیں اتاری۔ اس تکلیف کو تا حیات برداشت کیا لیکن ساری عمر اسی حجرہ میں ہی رہیں۔ اگر وہاں جگہ نہ تھی تو حضرت عائشہ وہاں کیوں کر رہتی تھیں؟ اور کیوں مرنے کے وقت اپنے بھانجے عبداللہ بن زبیر کو وصیت کی تھی کہ لا تدفنی معهم (بخاری پ ٦ ، پ ٣٠) مجھے یہاں دفن نہ

٥٢

٤١٣

کر دیا۔ معلوم ہوا کہ وہاں ایک قبر کی جگہ باقی تھی جیسا کہ زیادہ ہے۔ وکان فی بیتها موضع قبر (فتح الـ حضرت عائشہ کو خطرہ ہوا کہ کہیں میرے اقرباء اس جگہ میں مجھے نہ دفن کر دیں۔ اس لئے بھانجے کو وصیت کر دی کہ بخاری میں ہے: ”قولها عند وفاتها لا تدفنی موضع للدفن (پ٦)“ یعنی حضرت عائشہ کا یہ کہنا کہ مشعر ہے کہ بیت عائشہ میں دفن کے لئے جگہ موجود تھی۔ الرجل اذا أرسل اليها من الصحابة قالت لـ اس جگہ میں دفن ہونے کے لئے حضرت عائشہ سے اجا دیتی تھیں۔ طبقات ابن سعد میں ہے: ”ان الحسن عندهم (الى) فدفن بالبقیع (فتح:پ٣٠)“ لیکن بقیع میں دفن کئے گئے۔ اگر روضہ نبوی میں چوتھی وہاں دفن ہونے کی خواہش کرتے تھے؟ یا اللہ یا انصاف

نمبر ٥...... میں مجاہد صاحب یوں ژاژ خائی فرما آنحضرت کی قبر کو کھود کر ..... حضرت عیسیٰ کو لٹائے گا۔ کے مسلمانوں نے آنحضرت کی قبر کھود کر حضرت ابو بـ مسلمان جنہوں نے پھر کھود کر حضرت عمر فاروق کو و غیرت“ جو کشتی نوح میں لکھتے ہیں ”آنحضرت ﷺ کی قـ (خزائن ج ١٩ ص ١٦) اور جو ”انوار خلافت“ میں تحریر کـ میری قبر میں دفن ہوگا۔ (ص ٥٠) اسی رنگ کے مسلـ جناب نے؟ پھر جناب کا یہ لکھنا کہ: ”مولوی صاحـ (تا) غلط ہے۔“ (ص ٢١) خود دھوکہ دہی اور غلطی پـ (دجال) اور غلطی کرنے والے جناب مرزا قادیانی کیا ہے۔ کہ ”جو آنحضرت ﷺ کے روضہ کے پا ص ٣٥٢) روضہ اور مقبرہ ایک ہی چیز ہے۔ اب اپنے میں ہیں؟“ اور یہ ’دفن فی قبری‘ کے معنی ”روضہ

٣

صفحہ ٤١٤

کر دیا۔ معلوم ہوا کہ وہاں ایک قبر کی جگہ باقی تھی جیسا کہ مسند اسماعیلی میں اس روایت میں اتنا زیادہ ہے۔ وكان فی بیتھا موضع قبر (فتح الباری پ٦) یعنی وہاں ایک قبر کی جگہ اور تھی حضرت عائشہ کو خطرہ ہوا کہ کہیں میرے اقرباء اس جگہ میں جو حضرت عیسیٰ کے لئے مخصوص ہے۔ مجھے نہ دفن کر دیں۔ اس لئے بھانجے کو وصیت کر دی کہ مجھے یہاں دفن نہ کیجیو۔ فتح الباری شرح بخاری میں ہے: ”قولھا عند وفاتھا لا تدفنی عندھم یشعر بانہ بقى من البيت موضع للدفن (پ٦)“ یعنی حضرت عائشہ کا یہ کہنا کہ مجھے ان لوگوں کے ساتھ دفن کرنا اس امر کو مشعر ہے کہ بیت عائشہ میں دفن کے لئے جگہ موجود تھی۔ چنانچہ خود صحیح بخاری میں ہے: ”كان الرجل اذا أرسل ألیھا من الصحابة قالت لا (پ ٣٠)“ یعنی صحابہ میں سے اکثر لوگ اس جگہ میں دفن ہونے کے لئے حضرت عائشہ سے اجازت مانگتے تھے لیکن وہ کسی کو اجازت نہیں دیتی تھیں۔ طبقات ابن سعد میں ہے: ”ان الحسن بن على اوصى اخاه ان يدفنه عندھم (الی) فدفن بالبقيع (فتح:پ٣٠)“ حضرت حسن نے بھی وہاں دفن ہونا چاہا تھا۔ لیکن بقیع میں دفن کئے گئے۔ اگر روضہ نبوی میں چوتھی قبر کی جگہ نہ تھی تو یہ صحابہ لوگ آخر کس طرح وہاں دفن ہونے کی خواہش کرتے تھے؟ یا اللہ یا انصاف۔

نمبر ٥...... میں مجاہد صاحب یوں ژاژ خائی فرماتے ہیں ”کون بے غیرت مسلمان ہوگا جو آنحضرت کی قبر کو کھود کر ...... حضرت عیسیٰ کو لٹائے گا۔ (ص٤١)“ اسی قسم کے مسلمان ہونگے جس قسم کے مسلمانوں نے آنحضرت کی قبر کھود کر حضرت ابو بکر صدیق کو وہاں لٹایا تھا۔ ہاں اسی طرح کے مسلمان جنہوں نے پھر کھود کر حضرت عمر فاروق کو وہاں دفن کیا تھا۔ ہاں ہاں اسی طرح کے ”بے غیرت“ جو کشتی نوح میں لکھتے ہیں ”آنحضرت ﷺ فرماتے ہیں کہ: ”مسیح میری قبر میں دفن ہوگا۔“ (خزائن ج١٩ ص١٦) اور جو ”انوار خلافت“ میں تحریر کرتے ہیں کہ ”آنحضرت نے فرمایا ہے کہ وہ میری قبر میں دفن ہوگا ۔“ (ص٥٠) اسی رنگ کے مسلمان وہاں حضرت عیسیٰ کو بھی گاڑیں گے۔ سمجھا جناب نے؟ پھر جناب کا یہ لکھنا کہ: ”مولوی صاحبان نے قبر کے معنے مقبرہ کر کے دھوکا دیا ہے (تا) غلط ہے۔“ (ص٤١) خود دھوکہ دہی اور غلطی ہے۔ ورنہ سب سے بڑے دھوکہ دینے والے (دجال) اور غلطی کرنے والے جناب مرزا قادیانی ہی ٹھہریں گے جنہوں نے ازالہ اوہام میں تحریر کیا ہے۔ کہ ”جو آنحضرت ﷺ کے روضہ کے پاس مدفون ہو۔“ (ازالہ اوہام ص٢٥٢، خزائن ج٣ ص٤٥٢) روضہ اور مقبرہ ایک ہی چیز ہے۔ اب اپنے مرزا سے پوچھو کہ ”قبر کے معنے روضہ کس لغت میں ہیں؟“ اور یہ یدفن معی فی قبری کے معنے ”روضہ کے پاس مدفون ہو۔“ مرزا قادیانی نے ”عربی ٥٣

صفحہ ٤١٤

زبان کے محاورہ کے خلاف کیا ہے یا نہیں؟ پھر ”بہشتی مقبرہ“ سے جو آواز مرزا قادیانی کی سنائی دے اسے بذریعہ اشتہار شائع کر دو۔ پھر ہم تم کو نہر کے معنے منبر اور قبر کے معنے مقبرہ عربی زبان سے ثابت کر دیں گے۔ انشا ء اللہ!

محدث ..... نے اپنی کتاب میں درج نہیں کیا ۔“ (ص ٢٢) یہ مجاہد کا قصور نظر ہے۔ اسی بحث کے نمبر ١ کے جواب میں ہم محدثین کی ان کتابوں کو نام بنام لکھ آئے ہیں جن میں حدیث مذکور درج کی گئی ہے۔ فانظر واثمہ ۔

مجاہد صاحب کو اپنی حرکات شنیعہ پر تو کبھی تعجب نہیں آیا کہ اپنی غرض فاسد کے لئے تو اوّل مجہول حدیثوں سے استناد کرتے ہیں اور ہم جو صریح وصحیح حدیثیں پیش کرتے ہیں تو تعجب کرتے ہیں کہ ”کوئی صحیح حدیث نہیں ملتی جس میں آسمان کا لفظ ہو ..... الخ ! (ص ٢٢)“ حالانکہ اسے ہم پیش کر چکے ہیں مگر:

گرنه بیند بروز شبپره چشم
چشمه آفتاب راچه گناه؟

جواب دلیل نمبر ١١

ہمارے دلائل کی فہرست (جس کا مجاہد صاحب جواب دینے بیٹھے تھے اس) میں سوائے قرآن اور حدیث کے اور کسی کا بھی کوئی قول نہیں پیش کیا گیا تھا لیکن مجاہد صاحب نے اپنے مرزا کے ایک قول کو جسے ہم نے (اظہار حقیقت ص ٣) میں بطور الزام کے لکھا تھا اسے ہماری دلیل بنا دیا ہے اور وہ بھی نمبر ١١ کی دلیل سبحان اللہ ! لکھتے ہیں کہ ”جب تک مرزا نے نہیں لکھا تھا اس وقت تک عیسیٰ زندہ نہ تھے جب مرزا نے لکھ دیا تو عیسیٰ زندہ ہو گئے ۔“ (ص ٢٢) حیات عیسیٰ کا مدار کتاب وسنت پر ہے نہ قول مرزا پر۔ لیکن جو لوگ مرزا کے قول کو وحی تسلیم کرتے ہیں۔ ان کو ملزم کرنے کے لئے مرزا کا قول پیش کیا گیا تھا۔ لیکن مجاہد صاحب اپنے پیغمبر مرزا کو رسم ورواج کا پابند بتاتے ہیں چنانچہ فرماتے ہیں ”روائتی طور پر لکھ دیا دعویٰ سے پہلے ۔“ (ص ١٢) سنئے جناب ! مرزا کا قول حضرت عیسیٰ کے دوبارہ آنے کا اس کتاب سے پیش کیا گیا تھا جس کا نام ہے براہین احمدیہ جو احمدیوں کے دلائل کی کتاب ہے۔ جو الہامی تائید سے لکھی گئی اور مرزا قادیانی اس وقت بقول خود رسول ہو چکے تھے ۔ (ایام الصلح اردو ص ٧٥، خزائن ج ١٤ ص ٣٠٩) نیز کتاب مذکور کو ”آنحضرت ﷺ نے (بوائے خواب مرزا) قبول بھی فرما لیا تھا۔“ (براہین احمدیہ ص ٢٤٩، خزائن ج ١ ص ٢٧٥) اور آنحضرت ﷺ نے

٥٤

صفحہ ٤١٥

کتاب مذکور کے کسی مضمون یا کسی لفظ کے ردو بدل کرنے کی ہدایت نہیں فرمائی تھی پھر رواجی طور پر کیونکر لکھ دیا؟ کیا پیغمبر بھی رواج کا پابند ہوتا ہے؟ ”دعوٰی سے پہلے“ کی ایک ہی کہی، براہین احمدیہ کو مرزا قادیانی نے مبعوث ہونے کے بعد تالیف فرمایا ہے چنانچہ اپنی کتاب حقیقت الوحی میں لکھتے ہیں: ”میری کتاب براہین احمدیہ صرف چند سال بعد میرے مامور ہونے اور مبعوث ہونے کے چھپ کر شائع ہوئی۔ ٹھیک ١٢٩٠ ہجری میں خدا تعالیٰ کی طرف سے یہ عاجز مشرف مکالمہ و مخاطبہ پا چکا تھا پھر سات سال بعد کتاب ”براہین احمدیہ“ جس میں میرا دعوٰی مسطور ہے۔ تالیف ہو کر شائع کی گئی جیسا کہ سرورق پر یہ شعر لکھا ہے: ”تاریخ بھی یاغفور نکلی واہ واہ۔“

(حقیقت الوحی ص ١٩٩ ص ٢٠٠، خزائن ج ٢٢ ص ٢٠٨)

پس حضرت عیسیٰ کی حیات ونزول سے متعلق مرزا قادیانی کا اقرار، خدا سے شرف مکالمہ پانے اور مامور مبعوث (پیغمبر) ہونے کے سات برس بعد کا ہے نہ رواجی طور پر پیغمبر رواج کا پابند نہیں ہوتا۔ لیکن مجاہد صاحب نے یہاں پر کمال بلادت کا ثبوت دیا ہے وہ یہ کہ آنحضرت ﷺ کو بھی رواج کا پابند بنا دیا ہے اور نماز کو جو عمل ہے عقیدہ ٹھہرایا ہے۔ چنانچہ لکھتے ہیں حضرت نبی کریم ﷺ نے نمازیں بیت المقدس کی طرف منہ کر کے ادا کیں اسی رواج کے ماتحت ...... نماز جیسے عقیدہ ...... میں یہود کے رواج کی پیروی .....“ (ص ١٢٤) اسی کو کہتے ہیں کہ ”ایک تو کریلا دوسرا نیم چڑھا“ ایک تو نماز کو عقیدہ غلط لکھا دوسرے نبی کریم علیہ السلام کو یہود کے رواج کا پیرو بنا کر آپ ﷺ کی توہین کی۔ یہ ہے مرزائیوں کا دین و ایمان کہ جو عیب مرزا میں نکل آئے جھٹ اسی قسم کے عیوب اللہ کے سچے پیغمبروں کے سر یہ لوگ منڈھ دیتے ہیں۔ جیسا کہ مرزا قادیانی خود بھی لکھ گئے ہیں کہ ”میرے پر کوئی ایسا اعتراض نہیں کر سکتے کہ جس اعتراض میں گزشتہ نبیوں میں سے کوئی نبی شریک نہ ہو۔“ (تتمہ حقیقت الوحی ص ١٤٨، خزائن ج ٢٢ ص ٥٦٥) پناہ بخدا، مرزائیو اللہ سے ڈرو اور سنو آنحضرت ﷺ نے بیت المقدس کو قبلہ اللہ کے حکم:” فبهداهم اقتده“ کی وجہ سے بنایا تھا اور یہ حکم آپ کو مکہ معظمہ میں مل چکا تھا (انعام:٩٠) (سورہ انعام مکی ہے۔) پھر اللہ نے اس کو سورہ بقرہ اتار کر منسوخ فرما دیا اور حکم دیا:”فول وجهك شطر المسجد الحرام (بقره: ١٥٠) “ اب مسجد حرام کی طرف منہ پھیر کر نماز عمل ہے اور عملیات میں نسخ ہوتا ہے بخلاف عقیدہ حیات و نزول مسیح کے عقائد میں نسخ نہیں ہوتا۔ پس مرزا قادیانی کا عقیدہ مندرجہ براہین احمدیہ پچھلی تحریروں سے منسوخ نہیں ہو سکتا۔

٥٥

صفحہ ٤١٧

البتہ دونوں تحریروں میں تعارض ہوگا پس بقاعدہ اذا تعارضا تساقطا دونوں قول مرزا کے ساقط لیجئے اب بقول آپ کے ”پس فیصلہ ہو گیا ۔“ (ص ٢٢) یہ عقیدہ کی خرابی کہیں تو کیسے بنی؟ غیر کو محرم بناتے تھے۔ یہ گت ان کی بنی۔

توہین انبیاء کرام علیہم السلام

مجاہد صاحب نے بعنوان ”ایک عذر نامعقول کی حقیقت“ ایک نہایت ہی نامعقول بات تحریر کی ہے۔ جو سراسر موجب اہانت پیغمبران علیہم السلام ہے۔ ”لکھتے ہیں۔ انبیاء کو اپنی وحی کے معنے سمجھنے میں غلطی لگتی رہی ہے۔..... آنحضرت ﷺ کو بھی بعض وقت اجتہادی غلطی فہم معانی میں ہوئی۔ جیسے صلح حدیبیہ واقعہ، جائے ہجرت کا واقعہ..... نوح کا اپنے بیٹے کو اہل سمجھنا..... یونس کا نہ سمجھنا اور خدا پر ناراض ہونا۔“

(ص ٤)

معاذ اللہ معاذ اللہ! پیغمبر اور خدا پر ناراض ہو؟ ”اذ ذهب مغاضباً (انبیاء:٨٧)“ کے معنے اپنی طرف سے ناراض ہو کر جانا ہے، نہ خدا سے۔ نوح کا بیٹا کسی غیر کے نطفہ سے نہ تھا۔ انہیں کا بیٹا تھا اور انہیں کے اہل سے تھا۔ ”ليس من اهلك (هود:٤٦)“ میں مطلق اہل سے ہونے کی نفی نہیں ہے۔ ”انه عمل غير صالح“ کی قید نے یہ بتایا کہ وہ ان لوگوں سے نہیں ہے جو علم باری میں نجات پانے والے ہیں۔ پس نوح کو علم باری کا کیا پتہ؟ اس لاعلمی کی وجہ سے انہوں نے بطور استمداد و استکشاف حال ولد غریق کے استفسار فرمایا نہ کہ وحی کے معنی سمجھنے میں غلطی کھائی وشتان بينهما۔ واقعہ حدیبیہ میں آنحضرت ﷺ سے کوئی بھی غلطی نہیں ہوئی ہے۔ جائے ہجرت کا دیکھنا خواب کا واقعہ ہے۔

مرزا قادیانی نے خواب میں توفی کے معنے نہیں کئے ہیں۔ بلکہ جاگنے کی حالت میں تالیف براہین کے وقت ”پوری نعمت دینے ۔“ کا ترجمہ کیا ہے اور یہ لفظ قرآنی مرزا قادیانی پر نہیں اترا تھا۔ بلکہ محمد رسول اللہ ﷺ پر نازل ہوا تھا۔ پس وحی محمدی کے سمجھنے میں مرزا قادیانی کو کیونکر غلطی لگی؟ سوا اس کے کہ مان لیا جائے کہ مرزا قادیانی قرآن یا عربی نہیں جانتے تھے۔ جیسا کہ مرزا قادیانی نے مولوی اصغر علی روحی لاہوری کے مقابلہ پر کہہ دیا تھا کہ ”میں عربی کا عالم نہیں ہوں۔“ (الحکم ١٧/اکتوبر ١٩٠٣ء ص ٥) لیکن بقول مجاہد صاحب ”مرتا کیا نہ کرتا۔“ (ص٢٣) انہوں نے مرزا قادیانی کے دامن کو پاک کرنے کے لئے انبیاء کرام کے مقدس دامنوں کو آلودہ کر دیا اور توہین انبیاء کرام کے مرتکب ہوئے اور اس لئے کہ ان کے دلوں میں انبیاء عظام کی کوئی عزت ووقعت نہیں ہے جیسا کہ اوپر لکھ آئے ہیں۔

٥٦

کھل گیا عشق بتاں طرز
اب مکرتے ہو عبث بات

معذرت

دوستو! قادیانی ٹریکٹ نمبر ٢ کا جواب ما اختتام کو پہنچ چکا تھا کہ میرے سفروں کا سلسلہ شرو رمضان مبارک کی مصروفیتیں تکمیل جواب سے مان برکات (زلازل وغیرہ) کے اثرات سے پریشانی ا بے انتہا مجبور کرنے پر ماہ ذیقعد میں رسالہ ہذا کی تکمی

”والعذر عند كرام الناس
الصالحات الباقيات والصلوة مع السل
اولو الشرائع والمعجزات غيرهم من
دامت الارض والسماوات الكرات والمر

قادیانی ٹریکٹ نمبر ٣ کی حقیقت

ہمارے ٹریکٹ نمبر ٢ مسمی بہ ”جوا۔ نے اپنا ٹریکٹ نمبر ٣ شائع کیا ہے اور یہ سمجھ بیٹھے ہو گئے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ جواب سے ہی ق کا ہے۔ اس میں پورے دس صفحوں کو تو مجاہد ص ١٢، ١٦، ١٨، ١٩، ٢٠، ٢٢، ٣١، ٣٥ پس ان دس صفحوں رہ گئے باقی ٢٦ صفحے ، ان کی بابت ملاحظہ فرمائیے کے ہر صفحہ میں ٢١ سطریں ہیں۔ ص ٢ میں سے ٤ سطر ۔ ص ٥ سے بھی آدھی سطر ۔ ص ٧ سے ساڑھے ٤ سطریں ۔ ص ١١ سے انتہائی سطر پ سطریں ۔ نمبر ١٤ سے ڈیڑھ سطر۔ ص ١٥ سے ٤ کالم سے ٧ سطریں گویا ساڑھے ٣ پوری سطر سے ایک سطر ۔ ص ٢٦ سے بھی ایک سطر ص ٢ آدھی سطر ۔ ص ٣٠ سے ٣ سطریں ۔ ص ٣٢ س

صفحہ ٤١٧
کھل گیا عشق بتاں طرز سخن سے مومن
اب مکرتے ہو عبث بات بناتے کیوں ہو؟

معذرت

دوستو! قادیانی ٹریکٹ نمبر ٢ کا جواب ماہ رجب کی آخری تاریخوں تک ہی تقریباً اختتام کو پہنچ چکا تھا کہ میرے سفروں کا سلسلہ شروع ہوگیا‘ جس کا خاتمہ یکم رمضان ہوا۔ پھر رمضان مبارک کی مصروفیتیں تکمیل جواب سے مانع آئیں۔ آواخر رمضان وشوال میں قادیانی برکات (زلازل وغیرہ) کے اثرات سے پریشانی رہی۔ آخر اراکین انجمن اشاعت الاسلام کے بے انتہا مجبور کرنے پر ماہ ذیقعد میں رسالہ ہذا کی تکمیل کر دی جو آپ کے سامنے ہے۔

”والعذر عند كرام الناس مقبول‘ فالحمد لله الذى بنعمته تتم الصالحات الباقيات والصلوة مع السلام على محمد الذى ختم به النبييون اولو الشرائع والمعجزات وغيرهم من تابعيهم ذوى الفضائل والبركات. ما دامت الارض والسماوات الكرّات والمرات“

قادیانی ٹریکٹ نمبر ٣ کی حقیقت

ہمارے ٹریکٹ نمبر ٦ مسمی بہ ”جواب دعوت“ کے نام نہاد جواب میں مجاہد صاحب نے اپنا ٹریکٹ نمبر ٣ شائع کیا ہے اور یہ سمجھ بیٹھے کہ ہم جواب دعوت کے جواب سے سبکدوش ہو گئے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ جواب سے تہی جواب ہے۔ ہمارا ٹریکٹ نمبر ٦ پورے ٣٦ صفحوں کا ہے۔ اس میں پورے دس صفحوں کو تو مجاہد صاحب نے ہاتھ بھی نہیں لگایا ہے۔ یعنی ص ٦، ٩، ١٦، ١٨، ١٩، ٢٠، ٢٤، ٣١، ٣٥، پس ان دس صفحوں کا جواب تو مجاہد کے ذمہ جوں کا توں باقی ہے۔ رہ گئے باقی ٢٦ صفحے، ان کی بابت ملاحظہ فرمائیے۔ ہمارے ٹریکٹ میں سوائے پہلے اور پچھلے صفحہ کے ہر صفحہ میں ٢١ سطریں ہیں۔ ص ٢ میں سے مجاہد نے ساڑھے ٦ سطریں لی ہیں۔ ص ٣ سے آدھی سطر۔ ص ٥ سے بھی آدھی سطر۔ ص ٧ سے سوا ٤ سطریں۔ ص ٨ سے ٤ سطریں۔ ص ١٠ سے ساڑھے ٤ سطریں۔ ص ١١ سے ابتدائی سطریں۔ ص ١٢ سے سوا ٣ سطریں۔ ص ١٣ سے ٢۔٣؍٤ سطریں۔ نمبر ١٤ سے ڈیڑھ سطر۔ ص ١٥ سے ٣ سطریں۔ ص ١٧ سے ٦ سطریں۔ ص ٢١ کے آدھے کالم سے ٧ سطریں گویا ساڑھے ٣ پوری سطریں۔ ص ٢٢ سے ایک سطر۔ ص ٢٣ سے ٣ سطریں۔ ص ٢٥ سے ایک سطر۔ ص ٢٦ سے بھی ایک سطر ص ٢٧ سے ٢ سطریں۔ ص ٢٨ سے ڈیڑھ سطر۔ ص ٢٩ سے آدھی سطر۔ ص ٣٠ سے ٣ سطریں۔ ص ٣٢ سے ٢ سطریں۔ ص ٣٤ سے ١۔٣؍٤ سطر۔ ص ٣٦ سے ٢

٥٧

صفحہ ٤١٩

سطریں۔ یعنی رسالہ ”جواب دعوت“ کی ٧٣٠ سطروں میں سے صرف ٦٥ سطروں کے جواب دینے کی مجاہد صاحب نے کوشش کی ہے اور وہ جواب بھی کیا ہے کہ منہ چڑایا ہے اس جواب کے اکثر حصوں کی تردید ہمارے اسی رسالہ میں ہو چکی ہے۔ رسالہ ”جواب دعوت“ کے باقی ٦٦٥ سطروں کا جواب مجاہد کے ذمہ ہنوز جوں کا توں باقی ہے۔ یوں سمجھئے کہ مجاہد صاحب نے رسالہ جواب دعوت کے گیارہ حصوں میں سے صرف ایک حصہ کے جواب دینے کی سعی کی ہے۔ باقی دس حصوں کے جواب سے عاجز رہ گئے یا تسلیم کر لیا ہے۔ اس لئے ہم کو کوئی ضرورت نہیں ہے کہ ہم ان کے ٹریکٹ نمبر ٣ کے جواب میں کوئی علیحدہ کتاب لکھیں۔ تاہم اگر دوستوں نے ضرورت سمجھی اور مسلمانوں کا اصرار ہوا تو چند صحبتوں میں اس کا مکمل دندان شکن جواب تحریر کر دیں گے۔ انشاء اللہ العزیز! کیونکہ ؎

میدان میں ہٹتے نہیں ہیں دشمن سے
ہمارا ہاتھ ہے لائق کڑی کمان کے لئے
مقابل میں نہیں میرے روبرو یہ تاب
کہ لب ہلا بھی سکے غیر کچھ بیان کے لئے
یہ فضل ہے مرے خالق دو عالم کا
کہ مثل شیر ہیں ہم دفع دشمناں کے لئے

تمت الرسالۃ

قادیانی ٹریکٹ نمبر ٤ کا جواب اور اس کی حقیقت

خلیفہ قادیان نے ماہ نومبر ١٩٣٢ء میں ٣٢ صفحوں کا ایک رسالہ شائع کیا تھا جس کا نام ہے۔ ”سرزمین کابل میں ایک تازہ نشان کا ظہور“ مجاہد صاحب نے کمال جدوجہد سے چھ صفحوں کا اضافہ کر کے اسی رسالہ کو بعینہا بنارس میں طبع کرا کے شائع کر دیا اور اس کو ”سلسلۂ ظہور امام کا ٹریکٹ نمبر ٤“ بنا دیا۔ یہ ہے اس ٹریکٹ کی حقیقت۔ ٹائٹل پیج کے دوسرے صفحہ پر مجاہد صاحب نے ہمارے ٹریکٹ نمبر ٧ ”معیار نبوت“ کے جواب دینے کی سعی لاحاصل کی ہے۔ لکھتے ہیں کہ ”پیغمبروں کی پیشین گوئی کے حرف بحرف پورا ہونے کی شرط محض غلط ہے ۔“ یہ تو مجاہد صاحب بلکہ ہر مرزائی کی جبلی عادت ہو گئی ہے کہ جو امور نص قرآن وحدیث سے ثابت ہو وہ سب ان کے نزدیک ”غلط“ ہوتے ہیں۔ صحیح وہی ہوتا ہے جو یہ لوگ کہیں۔ تا کہ مرزا قادیانی کی نبوت کچی کسی طرح سچی ہو جائے۔ خواہ سچے پیغمبر نعوذ باللہ

٥٨

جھوٹے ہی کیوں نہ ثابت ہوں۔

بلا سے کوئی اور ان کی
کسی طرح تو مٹ جا

مجاہد صاحب کی دلیل ملاحظہ ہو، فرماتے فرماتا: ”لا يخلف الله وعده ولكن اكثر اعتراض کرتے ہیں؟ گویا مجاہد صاحب یہ سمجھے کہ اس کوئی حرف بحرف پوری نہیں ہوتی۔ ناظم بریں فہم، وهو العزيز الرحيم وعد الله لا يخـ يعلمون يعلمون ظاهراً من الحيوة (روم : ٧) ”یعنی مدد دیتا ہے اللہ جس کو چاہتا ہے ا (مدد کا) اللہ اپنے وعدہ کا خلاف نہیں کرتا۔ لیکن اکث نہیں ان کا تو صرف دنیا کی زندگی کی ظاہر (معمولی سے غافل (بے خبر) ہیں مشرکین مکہ نے کہا تھا ک کتاب پر غالب آئے ہم بھی امی ہیں اور محمدی ال تردید فرمائی کہ ٩ برس کے اندر اہل روم اہل فار (بدر میں) غالب ہوں گے۔ یہ اللہ کا وعدہ ۔ مشرکین مکہ نہیں جانتے۔ کہ شکست خوردہ رومی سروسامان قلیل مسلمان کیونکہ سارے مکہ والوں اور کثرت تعداد پر غلبہ کو منحصر جانتے ہیں۔ ان ک

اوست سلطان بـ
عالمے را در د

پس آیت تو کچھ کہہ رہی ہے اور مجا چه گویم وطنبوره من چه سراید) دوسری دلیل مجاہد صاحب نے الـ گوئی عسى الله ان یاتینی بهم جمـ

صفحہ ٤١٩

جھوٹے ہی کیوں نہ ثابت ہوں۔

بلا سے کوئی اور ان کی تمنا ہو جائے
کسی طرح تو مٹ جائے ولولہ دل کا

مجاہد صاحب کی دلیل ملاحظہ ہو، فرماتے ہیں: ”پورا ہونا ضروری ہوتا تو خدا کیوں فرماتا: ”لا يخلف الله وعده ولكن اكثر الناس لا يعلمون (روم:٦)“ کیوں اعتراض کرتے ہیں؟ گویا مجاہد صاحب یہ سمجھے کہ اس آیت سے ثابت ہو گیا کہ پیغمبروں کی پیش گوئی حرف بحرف پوری نہیں ہوتی۔ نازم بریں فہم، پوری آیت یوں ہے: ”ينصر من يشاء وهو العزيز الرحيم وعد الله لا يخلف الله وعده ولكن اكثر الناس لا يعلمون يعلمون ظاهراً من الحيوة الدنيا وهم عن الآخرة هم غافلون (روم:٧)“ یعنی مدد دیتا ہے اللہ جس کو چاہتا ہے اور وہی غلبہ والا رحم والا ہے۔ وعدہ ہے اللہ کا (مدد کا) اللہ اپنے وعدہ کا خلاف نہیں کرتا۔ لیکن اکثر لوگ (مشرکین) کو (اللہ کے وعدوں کا) علم نہیں ان کا تو صرف دنیا کی زندگی کی ظاہر (معمولی) باتوں کا علم ہے اور وہ آخرت (کی باتوں) سے غافل (بے خبر) ہیں مشرکین مکہ نے کہا تھا کہ جس طرح فارس والے امی ہیں اور رومی اہل کتاب پر غالب آئے ہم بھی امی ہیں اور محمدی اہل قرآن پر غالب آئیں گے۔ اللہ نے ان کی تردید فرمائی کہ ٩ برس کے اندر اہل روم اہل فارس پر غالب ہوں گے۔ اور مسلمان مکہ والوں پر (بدر میں) غالب ہوں گے۔ یہ اللہ کا وعدہ ہے جو پورا ہو کر رہے گا (چنانچہ پورا ہوا) لیکن مشرکین مکہ نہیں جانتے۔ کہ شکست خوردہ رومی کیونکر غالب اہل فارس پر فتح پائیں گے اور بے سروسامان قلیل مسلمان کیونکر سارے مکہ والوں پر فتح حاصل کریں گے۔ وہ تو دنیوی ساز و سامان اور کثرت تعداد پر غلبہ کو منحصر جانتے ہیں۔ ان کو کیا خبر کہ

اوست سلطان هرچه خواهد آن کند
عالمی را در دمی ویران کند

پس آیت تو کچھ کہہ رہی ہے اور مجاہد صاحب کچھ الاپ رہے ہیں۔ (فحوائے من چه گویم وطنبوره من چه سراید) سبحان الله!

دوسری دلیل مجاہد صاحب نے اس سے بھی عجیب دی ہے لکھا ہے کہ ”یعقوب کی پیش گوئی عسى الله ان ياتينى بهم جميعا (يوسف:٨٣)“ ...... وہ تینوں نہ آئے الٹا حضرت

٥٩

صفحہ ٤٢٠

یعقوب کو حق جانا پڑا۔" بریں عقل و دانش ہزار آفرین۔ یہاں اتیان بمعنے تدبیر ہے اور کلام عرب میں اتیان تدبیر کے معنوں بہت مستعمل ہے مشہور لغوی راغب اصفہانی کی مفردات ملاحظہ ہو۔ یعقوب علیہ السلام امید اور توقع کا اظہار فرمارہے ہیں کہ عسی اللہ ان یاتینی بھم جمیعا (یوسف : ٨٣) یعنی قریب ہے کہ اللہ میرے اور ان لڑکوں (روبن، یوسف اور بنیامین) کے اکٹھا ہونے کی کوئی تدبیر کرے گا۔ چنانچہ حضرت یعقوب کی یہ توقع حرف بحرف پوری ہوئی اور اللہ تعالیٰ نے ان سب کو مصر میں اکٹھا کردیا۔ فاین ھذا من ذاک۔

آہ نادر شاہ کہاں گیا

کہا جاتا ہے کہ یہ مرزا قادیانی کی ایک پیش گوئی ہے جو بقول مجاہد ”حرف بحرف پوری ہوگئی۔“ اور ان کے نزدیک یہ ”مرزا قادیانی کی نبوت کا تازہ ثبوت ہے۔“ مجاہد صاحب نے ص ١ سے ص ٢٥ تک ”خلیفہ قادیان“ کے شائع کردہ رسالہ سے ”حرف بحرف“ نقل کردیا ہے۔ یہی اس کے حرف بحرف پورے ہونے کا ثبوت ہے۔ ہم ان ٢٥ صفحوں کی طویل عبارت کی روح کو چند لفظوں میں نکال لیتے ہیں۔ پس ہمارا جواب ملاحظہ ہو۔

مرزا قادیانی کی پیش گوئی مذکور موم کی ناک جیسی ہے کہ جس طرف چاہے موڑ لو۔ آپ کے خلیفہ قادیان نے پہلے اس کو بچہ سقہ کے واقعہ پر چسپاں کیا اور غضب یہ کیا کہ ڈاکو بچہ سقہ اور اس کے تین سو ڈاکو ساتھیوں کو اصحاب بدر سے تشبیہ دی چنانچہ ص ٦ کا عنوان ملاحظہ ہو ”کابل میں بدر کی جنگ کا نظارہ“ اور ص ٧ میں لکھتے ہیں: ”اطلاع حضرت مسیح موعود کو اس (خدا) نے دے رکھی تھی بچہ سقہ کو ایک جماعت کے ساتھ جو تعداد میں اصحاب بدر کے مطابق تھی۔ یعنی کل تین سو سپاہی تھے (تا) تختہ الٹ دیا۔“ کتنی جسارت اور ہمارے زخمی دلوں پر نمک پاشی کی گئی ہے کہ ڈاکوؤں کو بدری صحابیوں کے مشابہ قرار دیا اور ان کے ظالمانہ تغلب کو فتح بدر کا مماثل بنایا اور ذرا نہ سمجھے کہ جب نادر خان مرحوم نے ان ڈاکوؤں کو قتل کردیا تو وہ اصحاب کرام کا قاتل ہونے کے باعث مومن کہاں رہا کیوں نہ ہو جو لوگ سقوط بغداد پر خوشیاں منائیں اور ترکوں کو بندر اور سور قرار دیں۔ (الفضل ١٠ اکتوبر ١٩١٧ء) ان سے جو نہ ہو تھوڑا ہے۔ لطف پر لطف یہ ہے کہ جب نادر خان مرحوم نے بچہ سقہ وغیرہ کو فنا کے گھاٹ اتار کر کابل پر دخل جمایا اس وقت بھی یہی الہامی پیش گوئی ”آہ نادر شاہ کہاں گیا“ نادر خاں پر جڑ دی۔ چنانچہ خلیفہ صاحب لکھتے ہیں ”اس میں یہ بتایا گیا کہ اس پہلے واقعہ (بچہ سقہ) کے بعد نادر بادشاہ افغانستان ہوگا۔“ (ص ٨) مطلب یہ ہوا کہ بچہ سقہ

٦٠

صفحہ ٤٢١

جیسے امان اللہ خاں کی حکومت کے زمانہ میں کابل کے لوگ پکار رہے تھے۔ (وہ بھی اردو میں) کہ ”آہ نادر شاہ کہاں گیا“ یہاں آئے اور بادشاہ بن کر حکومت کرے۔ چنانچہ نادر خاں پہنچے اور بادشاہ بن گئے۔ گویا پیشین گوئی پوری ہوگئی۔ اچھا پھر کیا باقی رہا کہ جب نادر خان شہید ہوئے۔ یہی الہامی پیشین گوئی پھر یاد آگئی اور لکھ دیا کہ ”اس کی موت واقع ہو گئی حتیٰ کہ سب ملک (کابل کا) چلا اٹھے گا (اردو زبان میں) کہ آہ نادر شاہ کہاں گیا؟ (ص٨)“ کیا خوب ایک ہی پیش گوئی تخت پر بھی اور تختہ پر بھی؟

بات وہ کہ نکلتے رہیں پہلو دونوں

طرفہ یہ کہ کابل والے پشتو اور فارسی سب بھول گئے لگے اردو زبان میں چلانے کہ ”آہ نادر شاہ کہاں گیا؟“ یہ اردو زبان کابلیوں کی مادری زبان کب سے بنی؟ یا یہ تو نہیں ہے کہ:

یار من ترکی و من ترکی نمی دانم

دراصل مذکور پیش گوئی کو شاہ کابل کی شہادت سے کوئی تعلق ہی نہیں ہے۔ تعجب تو یہ ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی پیش گوئیوں زلزلہ وقحط وجنگ پر تو مذاق اڑایا جائے اور مرزا قادیانی تحریر فرمائیں: ”اس درماندہ انسان کی پیش گوئیاں کیا تھیں۔ صرف یہی کہ زلزلے آئیں گے۔ قحط پڑیں گے۔ لڑائیاں ہوں گی...... کیا ہمیشہ زلزلے نہیں آتے۔ کیا ہمیشہ قحط نہیں پڑتے...... اس نادان اسرائیلی (حضرت عیسیٰ علیہ السلام) نے ان معمولی باتوں کا پیش گوئی کیوں نام رکھا؟“ (حاشیہ ضمیمہ انجام آتھم ص٤، خزائن ج١١ ص٢٨٨) کیا ہمارا حق نہیں کہ اس کے جواب میں ہم بھی یوں کہیں کہ ”اس مراقی انسان (مرزا قادیانی) کی پیش گوئیاں کیا تھیں صرف یہی کہ زلزلہ آئے گا۔ (ضمیمہ براہین احمدیہ ج ٥ ص ٩٩) سخت بلائیں نازل ہوں گی۔ (حقیقت الوحی ص٣٦٤، خزائن ج٢٢ ص٣٧٣) نادر شاہ کہاں گیا؟ (٣ مئی ١٩٠٥ء) کیا ہمیشہ زلزلے نہیں آتے؟ کیا سخت بارشیں نہیں ہوتیں؟ کیا بادشاہ مرا نہیں کرتے؟ اس ڈپٹی کھٹی مراقی نے ان معمولی باتوں کا نام پیش گوئی کیوں رکھ لیا؟ کیونکہ ”پیش گوئی سے مقصود یہ ہوتا ہے کہ وہ دوسرے کے لئے بطور دلیل کے کام آسکے لیکن جب ایک پیش گوئی خود دلیل کی محتاج ہے تو کس کام کی ہے؟ (تحفہ گولڑویہ طبع سوم ص ١٢١، خزائن ج ١٧ ص ٣٠١)“ ناظرین!

ہے یہ گنبد کی صدا جیسی کہے ویسی سنے

مدن پورہ کا اشتہار

مولوی غلام احمد مجاہد نے ٹریکٹ مذکور کے ص٢٦ سے ص٢٨ تک انجمن اشاعت

٦١

صفحہ ٤٢٢

الاسلام مدن پورہ کے اشتہار پر خامہ فرسائی کی ہے واقعہ یہ ہے کہ صوبہ بہار کے مشہور شہر چھپرہ میں آل انڈیا اہلحدیث کانفرنس کا اٹھارہواں سالانہ جلسہ ٨، ٩؍ دسمبر ١٩٣٣ء کو اور آل انڈیا اہلحدیث لیگ کا دوسرا سالانہ جلسہ ١٠ دسمبر ٣٣ء کو ہونے والا تھا۔ (چنانچہ ہوا) ان دونوں جلسوں کی شرکت کے لئے شیر پنجاب فاتح قادیان جناب مولانا ابوالوفاء ثناء اللہ صاحب امرتسری (حفظہ اللہ بطول بقاہ) ٢٦؍ دسمبر ٣٣ء کو بنارس سے گزرنے والے تھے۔ اراکین انجمن مذکور کے بے حد اصرار سے جناب مولانا ممدوح نے ایک شب کے لئے بنارس قیام فرمانا اور تقریر کرنا منظور فرمالیا تھا۔ اراکین انجمن نے مولانا کے وعظ کا اشتہار شائع کیا۔ مجاہد صاحب نے جھٹ ایک ”کھلی چٹھی“ مولانا موصوف کے نام شائع کردی اور مولانا کی تقریر شروع ہونے سے چند منٹ پہلے جلسہ میں تقسیم کرنا شروع کی۔ صدر انجمن نے نہایت فراخ حوصلگی سے مجاہد صاحب کو شکوک پیش کرنے کی تحریری اجازت دے دی۔ مجاہد صاحب جو صرف اپنے کیمپ میں ہی جہاد کرنا جانتے تھے۔ شیر پنجاب کے مقابل آنے کی ہمت نہ کرسکے اور جلسہ ختم ہوجانے کے بعد ایک تحریر پرتزویر بھیج دی جس میں اراکین انجمن پر کچھ الزام دھر دیا اور مولانا امرتسری پر سوقیانہ حملہ بھی۔ جیسا کہ اہل بنارس نے انجمن کے اشتہار میں فریقین کے خطوط سے معلوم کرلیا ہوگا۔ اراکین انجمن نے گفتگو کے لئے دوسرے روز صبح پھر ایک موقع دیا۔ لیکن مجاہد صاحب نہ آئے۔ اور بقول ”کھسیانی بلی کھمبہ نوچے“ اپنی خجالت مٹانے کو ایک اشتہار شائع کردیا جس کی سرخی رکھی ”مولوی ثناء اللہ امرتسری کے حالات علم وتقویٰ“ اس اشتہار میں۔

مجاہد کے اشتہار کا جواب

از اول تا آخر جھوٹ ہی جھوٹ بکا چنانچہ نمبر وار ملاحظہ ہو:

انجمن زاد آخرت نے صولت اسدیہ کے نام سے اس کا جواب عرصہ ہوا، دے دیا تھا۔ اور ہمارا جواب زیر طبع ہے۔

اسی وقت لکھ دیا گیا تھا جو ناظرین کے ہاتھوں میں ہے۔

جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ ان کو خاص لیکچر دینے کے لئے بلایا گیا تھا حالانکہ وہ اہلحدیث کانفرنس کے سالانہ جلسہ کی صدارت کے لئے چھپرہ تشریف لے جارہے تھے۔

٦٢

٤٢٣

تھا اور تحریر دے دی گئی تھی کہ ”مولانا جتنی دیر تقریر جائے گا ۔“ پھر تحدید کے وقت بھی مساوی کی گئی تھی ا

دار ہمارے اور آپ کے اخلاق ہوں گے۔“ اب او

مرزائیوں کی ہوتی ہے اس لئے مصری عدالت نے

اخباری رپورٹ اس کے بالکل برعکس ہے۔ چـ واقعات نیز مصر کا قصہ ہمیں مجاہد کے بیان کو صحیح سمجھـ

نجد وحرم کے بڑے افسر قاضی القضاۃ عبداللہ بن مملکت عربیہ سعودیہ جو تحریر دی تھی وہ یہ ہے رجعـ واجتناب ماينافي ذلك جس کا ترجمہ ندوی کے مرتب کئے ہوئے ”فیصلہ مکہ“ کے (بـ ہے۔) صفحہ ١٣ میں) یوں منقول ہے۔ ”چونکہ لئے وہ اب ہمارا بھائی ہے۔“ یہ مجاہد صاحب کو نظـ

طالب دنیا جاہل ہوگئے ...... الخ۔“ حالانکہ یہ شعـ گلشن ہدایت کا ہے اور اخبار اہل حدیث ٣٠؍ یہ شعر مندرج نہیں ہے۔ یہ دسواں جھوٹ ہے خاں الہ آبادی کے مضمون میں شعر مذکور مرقوم ہوتا۔ پھر مولانا ثناء اللہ صاحب کا وہ عندیہ کیونکـ

صفحہ ٤٢٣

چوتھا جھوٹ ....... ”مساوی وقت دینے سے راہ فرار اختیار کی“۔ حالانکہ مساوی وقت دیا گیا تھا اور تحریر دے دی گئی تھی کہ ”مولانا جتنی دیر تقریر فرمائیں گے۔ اتنا ہی وقت گفتگو کے لئے دیا جائے گا“۔ پھر تحدید کے وقت بھی مساوی کی گئی تھی یعنی پانچ پانچ منٹ۔

پانچواں جھوٹ ....... ”حفظ امن کی ذمہ داری سے بھی انکار کر دیا“ حالانکہ لکھ دیا گیا تھا کہ ”ذمہ دار ہمارے اور آپ کے اخلاق ہوں گے“۔ اب اور کس طرح ذمہ داری لی جاسکتی تھی۔

چھٹا جھوٹ ....... ”ہمیشہ ہمارے ساتھ درندگی برتی جاتی ہے“۔ حالانکہ ہر جگہ شرارت مرزائیوں کی ہوتی ہے اس لئے مصری عدالت نے مرزائیوں پر جرمانہ بھی کیا ہے۔

(ملاحظہ ہو اخبار الفتح قاہرہ نمبر ٢٧٧، ١١؍ رمضان ٥٢ھ)

ساتواں جھوٹ ....... ”امرتسر نے احمدیوں کو زخمی کیا“ صحیح فیصلہ تو عدالت ہی کرے گی لیکن اخباری رپورٹ اس کے بالکل برعکس ہے۔ بٹالہ کا واقعہ قتل اور قادیان میں لڑائی وغیرہ کے واقعات نیز مصر کا قصہ ہمیں مجاہد کے بیان کو صحیح سمجھنے سے مانع ہیں۔ ٭

آٹھواں جھوٹ ....... ”علماء نجد وحرم نے مولوی ثناء اللہ کے برخلاف فتویٰ دیا“۔ حالانکہ علمائے نجد وحرم کے بڑے افسر قاضی القضاۃ عبداللہ بن بلیہد نے بحکم جلالۃ الملک امام عبدالعزیز شاہ مملکت عربیہ سعودیہ جو تحریر دی تھی وہ یہ ہے رجع کل منہا الی تجدید عقد الاخوۃ واجتناب ما ینافی ذلک جس کا ترجمہ (قادیان کے خلیفہ اول حکیم نورالدین آنجہانی کے نواسے کے مرتب کئے ہوئے ”فیصلہ مکہ“ کے (جس سے مجاہد صاحب نے نمبر ١ و نمبر ٢ و نمبر ٣ نقل کیا ہے ۔ ) صفحہ ١٣ میں ) یوں منقول ہے۔ ”چونکہ مولوی ثناء اللہ صاحب نے رجوع کرلیا ہے۔ اس لئے وہ اب ہمارا بھائی ہے“۔ یہ مجاہد صاحب کو نظر نہ آیا۔ افسوس!

نواں جھوٹ ....... ”مولوی ثناء اللہ مولویوں اور حدیثوں کو کیا سمجھتے ہیں؟ شعر مولوی اب طالب دنیا جیفہ ہو گئے ..... الخ“۔ حالانکہ یہ شعر مولوی ثناء اللہ صاحب کا نہیں ہے۔ بلکہ دیوان گلشن ہدایت کا ہے اور اخبار اہل حدیث ٣٠ مئی ١٩١٣ء میں جس کا حوالہ مجاہد نے دیا ہے کہیں بھی یہ شعر مندرج نہیں ہے۔ یہ دسواں جھوٹ ہے۔ البتہ اخبار اہل حدیث ٣١ مئی ١٩١٢ء میں محمد حسین خاں الہ آبادی کے مضمون میں شعر مذکور مرقوم ہے۔ اور ایڈیٹر نامہ نگاروں کی رائے سے متفق نہیں ہوتا۔ پھر مولانا ثناء اللہ صاحب کا وہ عندیہ کیونکر ہو گیا۔

٦٣

صفحہ ٤٤٤

گیارہواں جھوٹ ....... ”مولویوں میں شیطنت بھری ہوئی ہے اہلحدیث ١٧؍نومبر ١٩١١ء“ یہ بھی مولانا امرتسری کا مضمون تحریر کردہ نہیں ہے۔ بلکہ صیغہ منقولات میں اخبار برق یمن بنگلور سے منقول ہے۔ پس یہ تحریر ایڈیٹر برق یمن بنگلور کی ہے۔ نہ ایڈیٹر اہلحدیث امرتسر کی۔

بارہواں جھوٹ ...... ”اہلحدیث بھی بنی اسرائیل کی طرح (تا آخر) اہلحدیث ٢٥؍ستمبر ١٩٣١ء ص ١١“ یہ مضمون مولوی عبداللہ مئوی مقیم پہوا کا لکھا ہوا ہے۔ نہ مولانا ابوالوفاء کا۔ تعجب ہے کہ مجاہد نے نامہ نگاروں کے خیالات کو مولانا امرت سری کے سر کیسے منڈھ دیا؟ کرے کوئی بھرے کوئی؟

یا للعجب

تیرہواں جھوٹ ....... ”مولوی ثناء اللہ نے یہ معیار قرار دیا تھا کہ جھوٹے دغا باز کو لمبی عمر ملتی ہے۔ اہلحدیث ٢٦؍اپریل ١٩٠٧ء اسے سفید جھوٹ کہوں یا سیاہ جھوٹ؟ کیونکہ یہ تحریر بھی مولوی صاحب ممدوح کی نہیں ہے۔ بلکہ اسی کے بعد بریکٹ میں ”نائب ایڈیٹر“ مرقوم ہے۔ پھر یہ معیار مولوی صاحب موصوف کا مقرر کردہ کیونکر ہو گیا؟ اور یہ نائب ایڈیٹر نے بھی مرزا قادیانی کی تحریر ”میں جانتا ہوں کہ مفسد اور کذاب کی عمر نہیں ہوتی ۔ (اشتہار آخری فیصلہ ١٥؍اپریل ١٩٠٧ء، مجموعہ اشتہارات ج٣ ص٥٧٨)“ کی تردید میں یہ دکھانے کے لئے کہ مرزا قادیانی نے نص قرآن کے خلاف لکھا ہے ان کی عبارت پر ایک کا حاشیہ بنا کر نوٹ دیا ہے کہ آپ اس دعویٰ میں قرآن کے خلاف لکھ رہے ہیں (تا) قرآن میں یہ لیاقت؟“ پھر یہ معیار کیونکر ہو گیا اس میں تو مرزا کی قرآن دانی کی خبر لی گئی ہے اور آگے بریکٹ میں صاف صاف مرقوم ہے۔ ”نائب ایڈیٹر اخبار اہلحدیث“ جو اندھوں کو نظر نہیں آتا۔ ولهم اعین لا یبصرون بها ۔ نیز مولانا ثناء اللہ صاحب نے اخبار اہل حدیث رجب ١٣٢٦ھ کے ص ٣ پر صاف صاف اعلان بھی کر دیا تھا کہ ”وہ نوٹ میرا نہ تھا بلکہ راقم کا اپنا نام پیچھے اس کے لکھا تھا۔ (ج٨ ص٤٩)“ یہ ہے ”خاکسار غلام احمد مجاہد“ کے اشتہار کی حقیقت جس سے سوائے اکاذیب کے سچائی کا نام ونشان بھی نہیں ہے۔

فان کنت لا تدری فتلک مصیبة
وان کنت تدری فالمصيبة اعظم

مدن پورہ کے اشتہار کے جواب کا جواب

مجاہد صاحب نے انجمن اشاعت الاسلام کے جواب میں سات نمبر قائم کئے ہیں۔ ان کی بھی حقیقت ملاحظہ ہو:

٦٣

٤٤٥

کھلا خط عین مغرب کے ہی وقت طبع ہو کر تقسیم کیئے فوراً ہی آپ کے آدمی کا کھلا خط لوگوں کو دے جھوٹ کہہ دے۔

گوئیوں کی پڑتال کے لئے قادیان بلایا تھا چناں میں لکھتے ہیں: ”اگرچہ (مولوی ثناء اللہ صاحب) تو ثابت کریں۔ (ص ٣٧ خزائن ج١٩ص١١٧)“ اور کی قسم دیتے ہیں کہ وہ اس تحقیق کے لئے قادی لیجئے: ”وہ قادیان میں تمام پیش گوئیوں کی پڑتا خزائن ج١٩ص١٤٨) اب فرمائیے کہ لعنة الله

کس صفائی سے
منہ جو دیکھا ہم نے

ہے۔ ”ان دنوں بٹالہ سے قادیان تک ریل چا مجاہد صاحب نے اپنے اشتہار میں اہلحدیث

ایں گناہی است

جھوٹ کہا ہے۔ (ص٢٦) حالانکہ یہ پیش گو جیسا کہ ابھی ہم نے اسے نقل بھی کر دیا ہے جانے کی وجہ سے مرزا قادیانی کی پیش گو بجائے اس کے کہ مرزا قادیانی کی کتاب توڑ مروڑ کر اپنے مطلب کی بنا کر چھ نمبر لگ ہم نے مرزا قادیانی کی عبارت صاف ہوئے کھرونڈے کو چشم زدن میں نیست

صفحہ ٤٢٥

کھلا خط عین مغرب کے ہی وقت طبع ہو کر تقسیم کیسے ہو گیا؟ چنانچہ چوک میں نماز مغرب کے بعد فوراً ہی آپ کے آدمی یہ کھلا خط لوگوں کو دے رہے تھے۔ جھوٹ ہو تو ایسا ہو کہ بچہ بچہ اسے جھوٹ کہہ دے۔

گوئیوں کی پڑتال کے لئے قادیان بلایا تھا چنانچہ ملاحظہ ہو، مرزا قادیانی اپنے رسالہ اعجاز احمدی میں لکھتے ہیں: ”اگر (مولوی ثناء اللہ صاحب) سچے ہیں تو قادیان میں آکر کسی پیش گوئی کو جھوٹی تو ثابت کریں۔ (ص٣٣، خزائن ج١٩ ص١١٧)“ اور سنئے فرماتے ہیں ”ہم ان کو مدعو کرتے ہیں اور خدا کی قسم دیتے ہیں کہ وہ اس تحقیق کے لئے قادیان میں آئیں۔“ (ص٢٨، خزائن ج١٩ ص١٣٢) اور لیجئے: ”وہ قادیان میں تمام پیش گوئیوں کی پڑتال کے لئے میرے پاس نہیں آئیں۔“ (ص٣٣، خزائن ج١٩ ص١٤٨) اب فرمائیے کہ لعنة الله علی الکاذبین کی سیاہی کس کے چہرہ پر لگی؟

کس صفائی سے حوالہ دے دیا تحریر کا
منہ جو دیکھا ہم نے جھوٹے کا تو کالا ہو گیا

ہے۔ ”ان دنوں بٹالہ سے قادیان تک ریل نہ تھی۔“ ناقل کی سبقت قلم نے بٹالہ کا امرتسر بنا دیا جیسے مجاہد صاحب نے اپنے اشتہار میں اہلحدیث ٣١ مئی ١٩١٢ء کو ٣٠ مئی ١٩١٣ء لکھ دیا ہے۔

ایں گناہے است کہ در شہر شما نیز کنند

جھوٹ کہا ہے۔ (ص٢٦) حالانکہ یہ پیش گوئی (اعجاز احمدی ص٣٣، خزائن ج١٩ ص١٤٨) پر موجود ہے۔ جیسا کہ ابھی ہم نے اسے نقل بھی کر دیا ہے۔ پھر جھوٹ کیا ہوا؟ ہاں مولانا امرتسری کے قادیان پہنچ جانے کی وجہ سے مرزا قادیانی کی پیش گوئی البتہ جھوٹی ہوگئی آگے مجاہد صاحب نے ص٢٧ میں بجائے اس کے کہ مرزا قادیانی کی کتاب سے پوری عبارت نقل کرتے مرزا قادیانی کی عبارت کو توڑ مروڑ کر اپنے مطلب کی بنا کر چھ نمبر لگا کر تحریر کیا ہے جس سے ناظرین کو دھوکہ دینا مقصود ہے۔ ہم نے مرزا قادیانی کی عبارت صاف صاف اوپر نقل کر دی ہے۔ جو مجاہد صاحب کے بنائے ہوئے گھروندے کو چشم زدن میں نیست و نابود کر دیتی ہے۔ جیسا کہ ناظرین یہ سارا قصہ ہمارے

٦٥

صفحہ ٤٢٧

ٹریکٹ نمبر ٤ کے ص ٣،٤ پر مفصل ملاحظہ فرما چکے ہیں۔ مجاہد صاحب لاکھ لیپا پوتی کریں۔ لیکن کچھ بنا نہیں سکتے۔ جس قدر کرید کریں گے۔ اتنا ہی بو کرے گا۔ ع چوں بشوہی بلند تر باشد۔

مقابلہ میں صرف پانچ منٹ تقریر کے لئے مانگے۔“ (ص ٢٨) پھر آگے خود ہی یہ بھی لکھتے ہیں ”ضد کی کہ ہر ایک گھنٹے کے بعد کچھ وقت دیا جائے“ کچھ وقت سے مراد اگر پونے دو دو منٹ مان لیں جو ”ہر ایک گھنٹہ کے بعد مطلوب تھا تو تین گھنٹوں کے مقابلہ میں سوا پانچ منٹ ہوتے ہیں۔“ پھر جھوٹ کیا ہوا؟ اگر مرزا قادیانی کا جی تقریر کرنا طے تھا تو مولانا امرتسری نے بھی تو اس کو مان لیا تھا اور لکھ دیا تھا کہ ”میں آپ کی بے انصافی قبول کرتا ہوں میں دو تین سطریں ہی کہ ”میں آپ کی بے انصافی قبول کرتا ہو میں دو تین سطریں ہی لکھوں گا۔ آپ بلا شک تین گھنٹہ تک تقریر کریں۔“ (رقعہ ١١ رجنوری ١٩٠٣ء، ملفوظات ج ٢ ص ٦٨٥) مندرجہ الہامات مرزاص ١٢٠ پھر مرزا قادیانی پردہ سے باہر کیوں نہ نکلے؟ اور اندر ہی اندر کیوں بگڑتے بنتے رہے۔ جس پر مجاہد صاحب نمبر ٦ میں بگڑ گئے ہیں۔

تھے تو یہ کیوں لکھا تھا کہ ”چوروں کی طرح آ گئے“ صم بکم لعنت کے ساتھ لے جائیں گے۔“ آپ کے شیطانی وساوس ایسی گالیاں یا تو عورتیں پردہ کے اندر سے دیتی ہیں یا مرد غصہ میں بگڑ کر بکتے ہیں۔ لیکن آپ کے نزدیک تو بگڑنے پر بھی زلف اس کی بنا کی۔

کرتے تھے۔“ (ص ٢٨)

دروغ گویم بروے تو

اسی کو کہتے ہیں

جناب والا کھلی چٹھی میں آپ کی شکایت کیا تھی؟ یہی نا کہ ”جماعت احمدیہ کو سوال وجواب کرنے کی دعوت نہیں دی گئی ۔“ اسی کا نام تو رفع شکوک ہے۔ پھر اپنی کھلی چٹھی میں اٹاوہ کی مثال بھی دی ہے۔ کیا اٹاوہ میں جوابی تقریر ہوئی تھی؟ یا دس دس منٹ سوال و جواب ہوتا تھا۔ سوال شک کا پیش کرنا اور جواب اس شک کا دفعہ ہے۔ اور ہم نے اس کی اجازت دے دی تھی جس کا آپ کو بھی اقرار ہے۔ پھر الٹی شکایت کیسی؟

الٹے ہی شکوے کرتے ہو اور کس ادا کے ساتھ
نا طاقتی کے طعنے ہیں عذر جفا کے ساتھ

٦٦

تین باتوں

مجاہد کی تثلیث

مجاہد صاحب نے اپنے ٹریکٹ نمبر ٤ کے قائم کی ہے۔ یعنی اپنے ناظرین کی توجہ تین باتوں ہے کہ قرآن کی تیس آیتوں سے وفات عیسیٰ ثابت کی جا چکی ہیں۔ باقی ٢٢ آیتیں آئندہ بیان ہوں

(ص٢٩) ”آپ بے چارے کہاں اتنا دم خم رکھتے ثابت کریں؟ ہاں آپ کے مسیح مرزا جن کی وفات آیتیں ازالہ اوہام میں لکھی ہیں۔ (از ص ٥٩٨

جماعت اہلحدیث کی طرف سے مولانا حافظ محمد زندگی میں ہی لکھ کر شائع کر دیا تھا جس کا نام ہے المسیح رفع حیا الی السماء ۔ جو بنا بر جس کا جواب الجواب نہ مرزا قادیانی سے بن قادیانیوں کے ذمہ باقی ہے جس سے وہ تاقیا

ظہور امام نمبرا میں آٹھ آیتیں لکھ دی گئی ہیں۔

کچھ ضروری نہ تھا تو بھی بنارس قرض دار نہیں دوسری شکل میں بھی تیار ہے۔

نمبر دوم میں اپنے ٹریکٹ نمبر ٢ ناظرین کے ہاتھوں میں موجود ہے۔

نمبر سوم میں وفات عیسیٰ کی چند خ ملاحظہ ہو۔

احادیث وفات عیسیٰ کا حال

پہلی حدیث ان عیسٰی عا برس زندہ رہے ہیں۔ مجاہد صاحب اس ک روایت میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے جو سخت

صفحہ ٤٢٧

تین باتوں پر نظر

مجاہد کی تثلیث

مجاہد صاحب نے اپنے ٹریکٹ نمبر ٤ کے آخری دو صفحوں (٢٠،٢١) میں ایک تثلیث قائم کی ہے۔ یعنی اپنے ناظرین کی توجہ تین باتوں کی طرف مبذول کرائی ہے۔ نمبر اول میں لکھا ہے کہ قرآن کی تیس آیتوں سے وفات عیسیٰ ثابت ہے جس سے آٹھ آیتیں ظہور امام نمبر ١ میں پیش کی جا چکی ہیں۔ باقی ٢٢ آیتیں آئندہ بیان ہوں گی۔ ان کا جواب آج تک کسی نے نہیں دیا ملخصاً (ص ٢٩) ”آپ بے چارے کہاں اتنا دم خم رکھتے ہیں کہ قرآن مجید سے وفات عیسیٰ علیہ السلام ثابت کریں؟ ہاں آپ کے مسیح مرزا جن کی وفات ہو چکی۔ انہوں نے کھینچ تان کر قرآن سے تیس آیتیں ازالہ اوہام میں لکھی ہیں۔ (از ص ٥٩٨ تا ٦٢٥ خزائن ج ٣ ص ٤٢٤) ان کا مفصل جواب جماعت اہلحدیث کی طرف سے مولانا حافظ محمد ابراہیم صاحب سیالکوٹی نے مرزا قادیانی کی زندگی میں ہی لکھ کر شائع کر دیا تھا جس کا نام ہے۔ شہادۃ القرآن باعلٰی النداء بان المسیح رفع حيا الی السماء ۔ جو بنارس میں ہماری جماعت کے ہر گھر میں موجود ہے۔ جس کا جواب الجواب نہ مرزا قادیانی سے بن پڑا تھا نہ کسی مرزائی سے۔ یہ ہمارا قرضہ اب تک قادیانیوں کے ذمہ باقی ہے جس سے وہ تا قیامت سبکدوش نہیں ہو سکتے۔ اسی کتاب ازالہ سے ظہور امام نمبر ١ میں آٹھ آیتیں لکھ دی گئی ہیں۔ پس جس کا جواب ہو چکا ہے اسی کا پھر جواب لکھنا کچھ ضروری نہ تھا تو بھی بنارس قرض دار نہیں ہے۔ صولت اسدیہ کی صورت میں ادا کر چکا ہے۔ دوسری شکل میں بھی تیار ہے۔

نمبر دوم میں اپنے ٹریکٹ نمبر ٢ کے جواب نہ ملنے کی شکایت کی ہے اس کا جواب ناظرین کے ہاتھوں میں موجود ہے۔

نمبر سوم میں وفات عیسیٰ کی چند ضعیف اور بے اصل حدیثیں تحریر کی ہیں ان کی حقیقت ملاحظہ ہو۔

احادیث وفات عیسیٰ کا حال

پہلی حدیث ان عیسیٰ عاش مائۃ وعشرین سنۃ حضرت عیسیٰ ایک سو بیس برس زندہ رہے ہیں۔ مجاہد صاحب اس کو صحیح علی شرط البخاری لکھتے ہیں (ص ٢٩) حالانکہ اس روایت میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے جو سخت ضعیف ہے اور اس کی روایت مردود ہے۔ حافظ ابن

٦٧

صفحہ ٤٢٨

عبدالبر فرماتے ہیں: ”فی ھذا الخبر من روایۃ ابن لھیعۃ ولا حجة فی مثل ھذا الاسناد عند جمیعھم (استیعاب ص ١٦ ج ١) یعنی جس حدیث کی سند میں ابن لہیعہ ہو وہ تمام محدثین کے نزدیک حجت نہیں ہوتی۔ خطیب بغدادی فرماتے ہیں: ابن لھیعۃ ذاھب الحدیث (تاریخ بغداد ج ١ ص ١٣١) یعنی ابن لہیعہ کی حدیث بے کار ہے۔ فتح الباری میں ہے: ابن لھیعۃ ضعیف (ص ١١ ج ١ و ص ٩٧ ج ٦) میزان الاعتدال میں ہے: ضعیف لا یحتج بہ، لیس بقوی، مفرط بالتشیع یعنی ابن لہیعہ ضعیف ہے قوی نہیں ہے اس سے دلیل نہیں لی جاتی یہ غالی شیعہ ہے۔ (ج ٢) خلاصۃ التذہیب میں ہے: قال یحییٰ بن معین لیس بالقوی قال مسلم ترکہ وکیع ویحییٰ القطان وابن مهدی یعنی ابن معین نے فرمایا کہ ابن لہیعہ قوی نہیں ہے۔ امام مسلم نے فرمایا کہ وکیع اور یحییٰ قطان اور ابن مہدی کے نزدیک متروک ہے۔ تہذیب التہذیب میں ہے: کان یحییٰ بن سعید لا یراہ شیئا وعن ابن مهدی لا اجعل عندہ قلیلا ولا کثیرا وقال احمد ما حدیث ابن لھیعۃ بحجة وقال قتیبة لا نكتب حدیث ابن لھیعۃ وقال البخاری ترکہ یحییٰ وقال ابن قتیبۃ ضعیف وقال ابن معین ضعیف لا یحتج بحدیثہ وقال الجوزجانی لا ینبغی ان یحتج بہ لا یعتبر بروایتہ وقال ابو حاتم وابو زرعۃ ابن لھیعۃ امرہ مضطرب وقال ابو عبدالرحمن لا یحتج بہ وقال محمد بن سعد کان ضعیفا وقال مسلم ترکہ ابن مهدی ویحییٰ بن سعید ووکیع وقال الحاکم ذاھب الحدیث وقال ابن حبان یدلس (ج ٥)

لینا چاہئے۔ امام احمد نے فرمایا کہ ابن لہیعہ کی حدیث حجت نہیں قتیبہ نے کہا کہ اس کی حدیث ہم نہیں لکھتے۔ امام بخاری نے فرمایا کہ یحییٰ نے اس کو متروک کہا ہے۔ ابن قتیبہ نے اس کو ضعیف فرمایا ہے۔ ابن معین نے بھی اس کو ضعیف ناقابل حجت قرار دیا ہے۔ جوزجانی نے کہا کہ نہ تو اس سے حجت پکڑنی چاہئے نہ اس کی روایت سے دھوکہ کھانا چاہئے۔ ابو حاتم وابوزرعہ نے اس کی حدیث کو مضطرب کہا ہے۔ عبدالرحمن کے باپ نے بھی اسے ناقابل احتجاج سمجھا ہے۔ ابن سعد نے اس کو ضعیف کہا ہے۔ امام مسلم نے فرمایا ہے کہ ابن مہدی اور یحییٰ اور وکیع کے نزدیک وہ ٦٨

٤٢٩ متروک ہے حاکم نے اسے ذاہب الحدیث اور ا مجروح راوی کی روایت بھلا کہیں صحیح اور پھر علی ہ محدث دہلوی نے ماثبت بالسنۃ میں حدیث مذکو مطبوع مجتبائی دہلی یعنی اس حدیث میں محدثین کتاب مذکور کا حوالہ دیتے ہیں۔ لیکن کتاب ک طرح مجاہد صاحب نے تفسیر ابن کثیر کا بھی حوالہ یمت ...... الخ کے حوالہ تفسیر ابن کثیر پر اس وغیر معتبر ٹھہرا چکے ہیں۔ ان کو جب ضرورت پ ابن کثیر فرماتے ہیں: ”انہ رفع ولہ ثلاث فی حدیث فی صفۃ اهل الجنة ا وثلاثین سنة واما ما حكاه (الی) ف یعنی صحیح امر یہ ہے کہ حضرت عیسیٰ ایک حدیث میں آگئی ہے جو جنتیوں کے با میں) حضرت آدم کی سی ہوگی اور عمر حضرت کیا ہے۔ کہ عیسیٰ سو سے زائد عمر تک رہے ہ کثیر نے حضرت عیسیٰ کی ٣٣ سال والی عمر ک کر دیا ہے۔

دوسری روایت

جو محض بے اصل ہے مجاہد صاحب حيين لما وسعهما الا اتباعی ( تحریر ان کے ٹریکٹ نمبر ٢٦، ١٧ سے بصد کر دینا کافی جانتے ہیں۔ ملاحظہ ہو: ”ہما حدیث الرسول کہنا ہی غلط ہے۔ چہ جائ حدیث الرسول ہوتی تو صحابہ کرام جو پر اور حضور ﷺ کے ارشادات کی خوشہ

صفحہ ٤٢٩

متروک ہے حاکم نے اسے ذاہب الحدیث اور ابن حبان نے مدلس کہا ہے۔ سبحان اللہ۔ ایسے مجروح راوی کی روایت بھلا کہیں صحیح اور پھر علی شرط البخاری ہو سکتی ہے؟ اسی لئے تو شیخ عبدالحق محدث دہلوی نے ماثبت بالسنۃ میں حدیث مذکور نقل کر کے صاف لکھ دیا ہے۔ وغیرہ کلام (ص ١١٨ مطبوعہ مجتبائی دہلی یعنی اس حدیث میں محدثین کو کلام واعتراض ہے۔ تعجب ہے کہ مجاہد صاحب کتاب مذکور کا حوالہ دیتے ہیں۔ لیکن کتاب کھول کر نہیں دیکھتے۔ کہ اس میں کیا تحریر ہے۔ اسی طرح مجاہد صاحب نے تفسیر ابن کثیر کا بھی حوالہ دیا ہے۔ حالانکہ خود ہی حدیث ان عیسیٰ لم یمت ...... الخ کے حوالہ تفسیر ابن کثیر پر اپنے ٹریکٹ نمبر ٢ ص ١٨ میں کل کتب تفاسیر کو بے اصل وغیر معتبر ٹھہرا چکے ہیں۔ ان کو جب ضرورت پڑی تو وہی کتب معتبر بن گئیں۔ سنئے جناب حافظ ابن کثیر فرماتے ہیں۔ ”أنہ رفع ولہ ثلاث وثلاثون سنۃ فی الصحیح وقدورد ذلک فی حدیث فی صفۃ اھل الجنۃ انہم علی صورۃ آدم ومیلاد عیسیٰ ثلاث وثلاثین سنۃ واما ما حکاہ (الیٰ) فشاذ غریب بعید (ج ٣ ص ٢٤٥)“ یعنی صحیح امر یہ ہے کہ حضرت عیسیٰ کی عمر رفع کے وقت ٣٣ سال کی تھی اور یہ صراحت ایک حدیث میں آگئی ہے جو جنتیوں کے بیان میں وارد ہے کہ جنتی لوگوں کی صورت (طوالت میں) حضرت آدم کی سی ہوگی اور عمر حضرت عیسیٰ کے برابر ٣٣ برس کی ہوگی اور جو بعضوں نے نقل کیا ہے۔ کہ عیسیٰ سو سے زائد عمر تک رہے تھے۔ یہ روایت شاذ ونادر اور دور ہے حق سے۔ پھر ابن کثیر نے حضرت عیسیٰ کی ٣٣ سال والی عمر کی حدیث مرفوع کو بالسند تفسیر کی نویں جلد ص ٣٨ میں نقل کر دیا ہے۔

دوسری روایت

جو محض بے اصل ہے مجاہد صاحب نے یوں نقل کی ہے: ”لو کان موسیٰ وعیسیٰ حیین لما وسعہما الا اتباعی (ص ٤٠)“ اس کے جواب میں ہم خود مجاہد صاحب کی ایک تحریر ان کے ٹریکٹ نمبر ٢ ص ١٧ سے بمصداق ”عطائے تو بلقائے تو بخشیدم“ نقل کر دینا کافی جانتے ہیں۔ ملاحظہ ہو: ”ہماری طرف سے اس کا جواب یہ ہے کہ اس عربی عبارت کو حدیث الرسول کہنا ہی غلط ہے۔ چہ جائیکہ اس سے کچھ استنباط واستدلال کیا جاسکے۔ اگر حقیقتاً یہ حدیث الرسول ہوتی تو صحابہ کرام جو پروانہ وار آنحضرت ﷺ کے ساتھ مثل سایہ کے رہتے تھے۔ اور حضور ﷺ کے ارشادات کی خوشہ چینی کر کے اپنے ایمانوں کو تازہ کیا کرتے تھے اور

٧٩

صفحہ ٤٣١

آنحضرت ﷺ کے ہر قول و فعل کو مشعل ہدایت سمجھ کر دوسروں کے پاس بیان کرتے تھے۔ اس پاک ارشاد کو نہ سنتے اور نہ بیان کرتے۔

حالت یہ ہے کہ اس ارشاد کے سننے والے کا نام تک مذکور نہیں ہے۔ بلکہ ساری درمیانی سند کا ذکر بھی نہیں ہے۔ پھر یہ ارشاد دنیائے اسلام کی معتبر و مستند کتب احادیث بخاری ومسلم، ترمذی وابو داؤد ابن ماجہ و نسائی کے علاوہ دیگر مسانید وسنن کی کتب متداولہ میں باسناد ومتصل مذکور ہوتا اور بڑے طمطراق اور بڑی شان سے مذکور ہوتا مگر نہایت افسوس ہے کہ یہ ارشاد ان کا مشہور ومتداول کتب میں کہیں بھی مذکور نہیں ہے۔ نہ اشارۃً نہ کنایۃً صرف تفسیر اور بعض غیر معتبر کتابوں میں مذکور ہے وہ بھی اس حالت میں کہ نہ سند کا پتہ نہ راوی کا پتہ۔‘‘

کی بناوٹ بہت سی باتوں میں
کہیں چھپتی چھپے ہے بنائی بات؟

تیسری روایت

جو سراسر محرف ہے مجاہد صاحب نے شرح فقہ اکبر مصری کے حوالہ سے یوں لکھی ہے: لو کان عیسیٰ حیا لما وسعه الا اتباعی (ص ٣٠) حالانکہ اصل حدیث جو معتبر کتب حدیث میں منقول ہے۔ وہ یہ ہے: ”لو کان موسیٰ حیا ...... الخ“ شرح فقہ اکبر کے تمام ہندی قدیمی اور قلمی نسخوں میں بھی لفظ موسیٰ ہے۔ نہ عیسیٰ۔ شرح فقہ اکبر کے مصنف نے اپنی دیگر تمام تصنیفات میں اس حدیث کو بالفاظ لو کان موسیٰ حیا نقل کیا ہے۔ پس ضرور مصری نسخہ میں تحریف کی گئی ہے۔ جیسا کہ اسی رسالہ میں نہایت بسط سے ہم نے اس کو لکھا ہے۔ اب یہاں پر ہم مجاہد صاحب کے الفاظ میں جواب تحریر کرتے ہیں جو ان کے ٹریکٹ نمبر ٢ کے ص ١٤ وص ١٥ سے ماخوذ ہے۔ ”افسوس مجاہد صاحب کو نہ خدا کا غضب یاد رہا نہ رسول پاک کی حدیث یاد رہی کہ جو جان بوجھ کر میرے اوپر جھوٹ بولے گا وہ اپنی جگہ جہنم میں بنائے گا۔ ناواقف لوگوں کی آنکھوں میں دھول ڈالنا اسی کو کہتے ہیں، خدا ایسی دلیری کسی کو نہ دے۔ ہم دعوٰی سے کہتے ہیں کہ ”عیسیٰ حیا“ کے الفاظ رسول پاک کے فرمائے ہوئے ہرگز نہیں ہیں۔ یہ سراسر افتراء، بہتان ہے۔ کسی ضعیف سے ضعیف حدیث میں بھی ”عیسیٰ حیا“ لفظ رسول پاک کا فرمایا ہوا کوئی شخص نہیں دکھا سکتا۔ ان الفاظ کو شرح فقہ اکبر مطبوعہ مصر سے پیش کیا جاتا ہے۔ جو آج سے تیس سال قبل مصر میں چھپی ہے۔ اس کتاب میں کسی مرزائی نے یا کسی کاتب نے بجائے موسیٰ کے عیسیٰ کا لفظ اپنی طرف سے لکھ دیا ہے جیسے کسی

٧٠

کاتب نے آیت خر موسیٰ صعقا میں لفظ خر (فارسی) کو عیسیٰ بنا دیا تھا اسی طرح مرزائیوں نے بھی بجائے وجند الاتفاق۔ دیکھو قادیان سے کیسا

٤....... چوتھی حدیث

بحوالہ صحیح بخاری لکھی ہے کہ ”نبی کریم حلیہ قد علیحدہ علیحدہ بیان کیا ہے۔ (ص ٣٠)“ اس ہوگا کیونکہ ایسا ہی اختلاف سراپا موسیٰ میں بھی اس بدر الخلق میں ہے: ”موسٰی رجلا آدم طوا عیسٰی رجلا مر بوعا مربوع الخلق ال مصری ص ١٣٤ ج ٢) ”یعنی موسیٰ گندمی رنگ کے قدا از و شنوۃ کے لوگ، اور عیسیٰ درمیانہ قد سرخ وسفید میں ہے: ”رایت موسٰی واذا رجل ض عیسٰی فاذا هو رجل ربعة احمر (وفي مصری ج ٢ ص ١٥١) یعنی موسیٰ دبلے سیدھے بال رنگ کے گھونگھریالے بال والے۔ پہلی حدیث سیدھے بال والے۔ اس حدیث میں موسیٰ والے۔ پس بقول مجاہد کے دو موسیٰ ہوئے اور دو جعد عريض الصدر واما موس (بخاری مصری ج ٢ ص ١٥٨) ”یعنی عیسیٰ کا رنگ س کا رنگ گندمی ہے۔ موٹے بدن کے سیدھے کے موسیٰ دبلے پتلے از و شنوہ والوں کی طرح ہ کی طرح ہیں۔ پہلی حدیث کے عیسیٰ کا رنگ س بالکل سرخ۔ اس بناء پر جب دو عیسیٰ ہو سکتے ہ ہیں ایک پہلا اور ایک کوئی کیوں مجاہد صاحب خرابی الفاظ حدیث کے صحیح معنے نہ کرنے سے ہ

صفحہ ٤٣١

کاتب نے آیت خر موسیٰ صعقا میں لفظ خر (فارسی) سمجھ کر خر عیسیٰ لکھ دیا تھا۔ جیسے اس نے بجائے موسیٰ کے عیسیٰ بنادیا تھا اسی طرح مرزائیوں نے بھی بجائے موسیٰ کے عیسیٰ بنادیا ہے۔ فنعم الوفاق وجند الاتفاق۔

دیکھو قارورہ سے کیسا ان کا قارورہ ملا

٤...... چوتھی حدیث

بحوالہ صحیح بخاری لکھی ہے کہ ”نبی کریمﷺ نے پہلے مسیح اور آنے والے مسیح کا رنگ، حلیہ، قد علیحدہ علیحدہ بیان کیا ہے۔ (ص ٣٠)“ اس طرح سے اگر دو عیسیٰ ہوجاتے تو دو موسیٰ بھی ماننا ہوگا کیونکہ ایسا ہی اختلاف سراپا موسیٰ میں بھی اسی حدیث میں صحیح بخاری کی مذکور ہے۔ ملاحظہ ہو: بدء الخلق میں ہے: ”موسیٰ رجلا آدم طوالا جعداً کانہ من رجال شنوئۃ ورایت عیسیٰ رجلا مربوعا مربوع الخلق الی الحمرۃ والبیاض سبط الراس (بخاری مصری ص ١٣٣ ج٢)“ یعنی موسیٰ گندمی رنگ کے قد لمبا گھونگریالے بال والے تھے جیسے یمن کے قبیلہ ازد شنوءۃ کے لوگ، اور عیسیٰ درمیانہ قد سرخ و سفید رنگ سیدھے۔ بال والے ہیں اور کتاب الانبیاء میں ہے: ”رایت موسیٰ واذا رجل ضرب رجل کانہ من رجال شنوئۃ ورایت عیسیٰ فاذا ھو رجل ربعۃ احمر (وفی الحدیث الذی بعدہ) عیسیٰ جعد مربوع (بخاری مصری ج٢ ص ١٥١) یعنی موسیٰ دبلے سیدھے بال والے تھے جیسے شنوہ کے لوگ اور عیسیٰ میانہ قد سرخ رنگ کے گھونگریالے بال والے۔ پہلی حدیث میں موسیٰ گھونگریالے بال والے تھے اور عیسیٰ سیدھے بال والے۔ اس حدیث میں موسیٰ سیدھے بال والے ہیں اور عیسیٰ گھونگرالے بال والے۔ پس بقول مجاہد کے دو موسیٰ ہوئے اور دو عیسیٰ اور گنتے جائیے: واما عیسیٰ فاحمر جعد عریض الصدر واما موسیٰ فآدم جسیم سبط کانہ من رجال الزط (بخاری مصری ج٢ ص ١٥٨) ”یعنی عیسیٰ کا رنگ سرخ، بال گھونگریالے اور سینہ چوڑا ہے۔ لیکن موسیٰ کا رنگ گندمی ہے۔ موٹے بدن کے سیدھے بال والے جیسے جاٹ لوگ ہوتے ہیں۔ پہلی حدیث کے موسیٰ دبلے پتلے ازد شنوء والوں کی طرح تھے اور اس حدیث کے موسیٰ موٹے بدن کے جاٹوں کی طرح ہیں۔ پہلی حدیث کے عیسیٰ کا رنگ سفید سرخی مائل ہے اور دوسری حدیث کے عیسیٰ کا رنگ بالکل سرخ۔ اس بناء پر جب دو عیسیٰ ہو سکتے ہیں ایک پہلا اور ایک آنے والا تو موسیٰ بھی دو ہو سکتے ہیں ایک پہلا اور ایک کوئی کیوں مجاہد صاحب درست ہے نا؟ اب سنئے اصل حقیقت کہ یہ ساری خرابی الفاظ حدیث کے صحیح معنیٰ نہ کرنے سے پیدا ہوئی۔

٧١

صفحہ ٤٣٣

حضرت عیسیٰ کے رنگ وحلیہ کے اختلاف کی حدیثیں

ورنہ حقیقت میں نہ موسیٰ کے حلیہ میں اختلاف ہے نہ عیسیٰ کے رنگ وحلیہ میں، جس سے کہ دو ہستیاں سمجھی جاسکیں۔ حضرت موسیٰ اور عیسیٰ کے بیان میں لفظ جعد کے معنی گھونگریالے بال کے نہیں ہیں بلکہ گٹھیلے بدن کے ہیں۔ نہایہ ابن اثیر میں ہے: معناه شديد الاسر والخلق ...... ناقة جعدة اى مجتمعة الخلق شديدة یعنی جعد کے معنی جوڑو بند کا سخت ہونا۔ جعدہ اونٹنی مضبوط جوڑ بند والی۔ مجمع البحار میں ہے: اما موسى فجعد اراد جعودة الجسم وهواجتماعه واكتنازه لاضد سبوطة الشعر لانه روى انه رجل الشعر وكذا فى وصف عيسى (ج ١ص١٦٦) كذا فى فتح البارى (پ١٣ص٢٧٩ ونووی شرح مسلم ج١ ص٩٢) یعنی حدیث میں موسیٰ وعیسیٰ کے لئے جو لفظ جعد آیا ہے اس کے معنے بدن کا گٹھیلا پن ہوتا ہے۔ نہ بالوں کا گھونگریالا ہونا ہے کیونکہ ان کے بالوں کا سیدھا ہونا ثابت ہے۔ اسی طرح لفظ ضرب اور جسیم میں بھی اختلاف نہیں ہے۔ ضرب بمعنے نحیف البدن اور جسیم بمعنے طویل البدن ہے۔ قال القاضی عياض المراد بالجسيم فى صفة موسى الزيادة في الطول (فتح الباری انصاری ص١٧٦ پ١٣) یعنی صفتہ موسیٰ میں لفظ جسیم کے معنی لمبائی میں زیادتی ہے۔ اسی طور سے حضرت عیسیٰ کے رنگ میں بھی اختلاف نہیں ہے۔ لفظ احمر کا صحابی راوی نے سخت انکار کیا ہے۔ چنانچہ صحیح بخاری میں موجود ہے: عن ابن عمر قال لا والله ما قال النبي ﷺ لعيسى احمر (بخاری المصری ج٢ ص١٥٨) حضرت عبداللہ بن عمر قسم کھا کر فرماتے ہیں کہ قسم ہے اللہ کی آنحضرت ﷺ نے حضرت عیسیٰ کی صفت میں احمر (یعنی سرخ رنگ) کبھی بھی نہیں فرمایا ہے۔ پس پہلا رنگ برقرار رہا یعنی سفید رنگ سرخی مائل (گندمی) لہٰذا رنگ وحلیہ کا اختلاف حضرت موسیٰ علیہ السلام سے مدفوع ہے اور حقیقت میں جیسے موسیٰ ایک ہی تھے عیسیٰ بھی ایک ہی ہیں۔ والحمد لله!

پانچویں حدیث

بحوالہ صحیح بخاری مجاہد صاحب نے اپنی طرف سے کچھ بڑھا کر یوں لکھی ہے۔ ”معراج کی رات میں جیسے دوسرے نبیوں کی روحوں سے ملاقات کی ویسے ہی حضرت عیسیٰ کی روح سے۔ (ص٣٠)“ حالانکہ نبیوں کی روحوں سے ملنا نہ تو صحیح بخاری میں مذکور ہے نہ حدیث کی اور کسی کتاب میں۔ یہ روح کا لفظ مجاہد صاحب نے اپنی طرف سے بڑھایا ہے۔ تاکہ یہ ثابت کریں کہ معراج میں آنحضرت ﷺ نے حضرت عیسیٰ کو ان انبیاء کے ساتھ دیکھا جو مر کر اس

٧٢

زمین میں مدفون ہو چکے تھے تو آسمان پر ان کی روحوں بھی مر چکے تھے جب تو ان کو فوت شدہ انبیاء کے ورنہ پھر لازم آئے گا کہ معراج کے وقت آنحضرت آسمان پر دیگر انبیاء کی روحوں سے ملی (کیونکہ م آنحضرت ﷺ کو اسی زندگی میں معراج ہوئی تھی ملاقات کے وقت آنحضرت ﷺ زندہ تھے۔ او زندہ تھے۔ اور آسمانوں پر تھے اور آنحضرت ﷺ کہ ابن ماجہ میں مصرح ہے۔

چھٹی حدیث

بحوالہ صحیح مسلم مجاہد صاحب نے یوں مجھ سے پہلے ہونے والے کسی نبی کو نہیں دی گئی طرف نبی بنا کر بھیجا گیا ہوں۔ اگر پہلے عیسیٰ علی کے شریک ہو جائیں گے پھر حدیث غلط ہو جا دعوائے ثبوت کر کے فرما ہی دیا۔ کیونکہ حدیث وختم بی النبییون (مسلم ج١ ص١٩٩) یعنی سے نبیوں کا ہونا ختم کر دیا گیا ہے۔ پھر جب لہٰذا پہلے عیسیٰ کے آنے پر اب کیا غلط ہو گی؟ البتہ ہم مسلمانوں کے نزدیک رسول اللہ ﷺ نبی ہے۔ اور حدیث رسول کا مضمون بالکل صحیح گے تو نبی ہو کر نہیں آئیں گے۔ امتی ہو کر آی وقت ان کی رسالت صرف بنی اسرائیل کے پڑھو ورسولا الی بنی حیثیت آنحضرت کے خلیفہ کی ہوگی۔ پڑھو (درمنثور ج٢ ص٢٣٢) اسی کے ہم معنی روایت میں بھی موجود ہے۔ پس حضرت عیسیٰ تمام

صفحہ ٤٣٤

زمین میں مدفون ہو چکے تھے تو آسمان پر ان کی روحوں سے ملاقات ہوئی۔ اسی طرح حضرت عیسیٰ بھی مر چکے تھے جب تو ان کو فوت شدہ انبیاء کے ساتھ دیکھا۔ یہ استدلال ان کا غلط در غلط ہے ورنہ پھر لازم آئے گا کہ معراج کے وقت آنحضرت ﷺ بھی مر چکے تھے۔ جب تو آپ کی روح آسمان پر دیگر انبیاء کی روحوں سے ملی (کیونکہ مرزائی جسمانی معراج کے منکر ہیں ۔) حالانکہ آنحضرت ﷺ کو اسی زندگی میں معراج ہوئی تھی اور وہ بھی جسمانی۔ پس جس طرح دیگر انبیاء کی ملاقات کے وقت آنحضرت ﷺ زندہ تھے۔ اور آسمانوں پر تھے۔ اسی طرح حضرت عیسیٰ بھی زندہ تھے۔ اور آسمانوں پر تھے اور آنحضرت ﷺ کو اپنے نزول قرب قیامت کی خبر دی تھی۔ جیسا کہ ابن ماجہ میں مصرح ہے۔

چھٹی حدیث

بحوالہ صحیح مسلم مجاہد صاحب نے یوں پیش کی ہے کہ ”مجھے پانچ باتیں ایسی دی گئی ہیں جو مجھ سے پہلے ہونے والے کسی نبی کو نہیں دی گئیں ان میں سے ایک یہ بھی ہے کہ میں تمام دنیا کی طرف نبی بنا کر بھیجا گیا ہوں ۔ اگر پہلے عیسیٰ ہی آئیں تو وہ تمام دنیا کی طرف نبی ہو کر نبی کریم ﷺ کے شریک ہو جائیں گے پھر حدیث غلط ہو جائے گی ۔ (ص٤٠)“ حدیث کو غلط تو مرزا قادیانی نے دعوائے نبوت کر کے فرما ہی دیا۔ کیونکہ حدیث کے الفاظ یہ تھے۔ وارسلت الی الخلق كافة وختم بی النبییون (مسلم ج١ ص١٩٩) یعنی میں تمام خلق کی طرف بھیجا گیا ہوں اور میری ذات سے نبیوں کا ہونا ختم کر دیا گیا ہے۔ پھر جب مرزا قادیانی نبی ہو گئے تو حدیث خود بخود غلط ہو گئی۔ لہٰذا پہلے عیسیٰ کے آنے پر اب کیا غلط ہوگی؟ اور آپ کو اب حدیث کے غلط ہونے کا کیا غم ہے۔ البتہ ہم مسلمانوں کے نزدیک رسول اللہ ﷺ کی فرمائی ہوئی حدیث کبھی غلط نہیں ہو سکتی۔ مرزا جھوٹا نبی ہے۔ اور حدیث رسول کا مضمون بالکل صحیح ہے۔ کہ نبیوں کا ہونا بند۔ حضرت عیسیٰ تشریف لائیں گے تو نبی ہو کر نہیں آئیں گے۔ امتی ہو کر آئیں گے۔ نبوت ان کو آنحضرت سے پہلے ملی تھی۔ اس وقت ان کی رسالت صرف بنی اسرائیل کے لئے تھی۔

پڑھو رسولا الی بنی اسرائیل (آل عمران:٤٩) اور آمد ثانی میں ان کی حیثیت آنحضرت کے خلیفہ کی ہوگی۔ پڑھو حدیث طبرانی انه خلیفتى فى امتى من بعدى (در منثور ج٢ ص٢٤٢) اسی کے ہم معنی روایت مسند احمد وابو داؤد وابن ابی شیبہ وابن حبان وابن جریر میں بھی موجود ہے۔ پس حضرت عیسیٰ تمام دنیا کی طرف بادشاہ اور خلیفہ ہو کر آئیں گے۔ نہ نبی

٧٣

صفحہ ٤٣٥

ہو کر ۔ لہذا آنحضرت ﷺ کے وصف رسالت الیٰ کافۃ الخلق میں شریک نہیں ہوں گے۔ اور حدیث مسلم غلط نہیں ہو گی۔ بلکہ اپنی جگہ پر بحال رہے گی۔ ولکن ھذا آخر ما اردنا ايراده فی هذه الرسالة المباركة النافعة الكاملة لدفع مكائد الدجاجلة والحمد لله اولا و آخرا و ظاهرا و باطنا

به پایاں آمد ایں دفتر حکایت ہم چناں باقی

تمام شد

قادیانی دو ورقی ٹریکٹ نمبر ٥ کا جواب اور اس کی حقیقت

جنرل سیکرٹری انجمن احمدیہ کلکتہ نے ١٦؍نومبر ١٩٣٣ء کو جلسہ اہلحدیث کلکتہ کے موقع پر ایک دو ورقہ اشتہار مرزا قادیانی کے آخری فیصلہ سے متعلق پنجاب فائن آرٹ پریس کلکتہ میں چھپوا کر تقسیم کیا تھا۔۔ مجاہد صاحب بھی اس وقت کلکتہ پہنچ گئے تھے۔ انہوں نے اسی دو ورقہ اشتہار کو اسی پریس میں اپنے نام سے طبع کرا لیا۔ کلکتہ کے اشتہار کی آخری دوسطریں ”معزز حضرات! سے ”والسلام“ تک تو اڑا دیں اور شروع میں ایک سطر کا اپنی طرف سے بطریق عنوان یوں اضافہ کر دیا۔ ”ٹریکٹ نمبر ٥ ظہور امام بجواب ٹریکٹ نمبر ٤ از مدن پورہ“ اور اسے بنارس لا کر تقسیم کر دیا۔ یہ ہے اس ٹریکٹ نام نہاد نمبر ٥ کی حقیقت۔

در اصل ہمارا ٹریکٹ نمبر ٤ قادیانیوں کے حق میں کچھ اسطرح کا لوہے کا چنا ثابت ہوا ہے کہ بے چاروں سے کچھ کرتے دھرتے نہیں بنتی۔ سوچتے ہیں کہ کیا جواب دیں؟ قلم اٹھاتے ہیں اور پھر رکھ دیتے ہیں جب کچھ نہیں سوجھتا تو کبھی لاہوری ٹریکٹ پر قلم سے ”بجواب ٹریکٹ نمبر ٤ انجمن اشاعت الاسلام“ لکھ کر شہر میں بانٹتے ہیں اور کبھی کلکتہ کے اشتہار کو ٹریکٹ نمبر ٤ کا جواب بنا دیتے ہیں حالانکہ اس کلکتہ والے اشتہار میں وہی باتیں ہیں جن کے کئی کئی جوابات ہم اپنے ٹریکٹ نمبر ٤ میں دے کر فارغ ہو بیٹھے ہیں۔ اس لئے مجاہد صاحب کا کلکتہ والے اشتہار کو اپنا ٹریکٹ نمبر ٥ بنا دینا مشہور مثل ”کھسیانی بلی کھمبا نوچے“ کا مصداق ہے۔ اور کیوں نہ ہو معلوم ہے کہ:

نہ خنجر اٹھے گا نہ تلوار ان سے
یہ بازو میرے آزمائے ہوئے ہیں

پس جب انہوں نے ہمارے ٹریکٹ نمبر ٤ کے کسی بات کا جواب ہی نہیں دیا ہے تو ہم ان کا کیا جواب دیں؟ ہمارا قرضہ تو جوں کا توں مرزائیوں کے ذمہ باقی ہے۔ البتہ اس رسالہ میں ہم بعض باتوں کی مزید وضاحت کئے دیتے ہیں۔ تاکہ مرزائی پھر کبھی اس بحث میں کچھ نہ بول

٧٤

سکیں۔ پس واضح ہو کہ ٹریکٹ مذکور کے چار صفحوں قادیانی کا اعلان ”آخری فیصلہ“ دعائے مباہلہ تھی اور اس چیز کا جواب ہم اپنے ٹریکٹ نمبر ٤ میں بح میں نہایت بسط سے دے چکے ہیں۔ اور اخبار بـ منسوخ ہو چکا تھا‘ لیکن چونکہ پھر وہی ”مرنے کی بلند کر دی گئی ہے۔ لہٰذا دوسری طور سے ہم اس نے کتاب اعجاز احمدی مطبوع ١٩٠٦ء میں اور آئندہ کسی کو مباہلہ کا چیلنج نہیں دوں گا ۔“

پھر آخری فیصلہ والا اشتہار جو اپریل

ہو سکتا ہے؟ رہا یہ امر کہ مرزا قادیانی نے مباہ امرتسری نے چیلنج دیا تھا جیسا کہ ٹریکٹ مذکور کـ مرقوم ہے۔ اس میں بھی اخفائے واقعہ سے کـ بقاء) کے چیلنج مذکور کے جواب میں مرزا قادیـ اخبار بدر ٤؍اپریل ١٩٠٧ء میں شائع ہوا تھا کـ مباہلہ اس وقت کریں گے جب ہماری کتا بـ (یعنی مولانا امرتسری کو) بھیج کر معلوم کرینـ گے۔) پھر مباہلہ کریں گے۔ کتاب حقیقۃ کے پاس نہیں بھیجی گئی۔ (اہلحدیث ١٢؍جنور ٠٧ء میں تقاضا کیا ۔

اب قابل غور یہ ہے کہ:

امرتسری کے پڑھ لینے پر۔

صفحہ ٤٣٥

سکیں۔ پس واضح ہو کہ ٹریکٹ مذکور کے چار صفحوں میں دو ہی باتیں بیان کی گئی ہیں نمبر ١ یہ کہ مرزا قادیانی کا اعلان ”آخری فیصلہ“ دعائے مباہلہ تھی اس چیز کے ثبوت میں تین صفحے سیاہ کئے گئے ہیں اور اس چیز کا جواب ہم اپنے ٹریکٹ نمبر ٤ میں بعنوان چوتھا عذر‘ ص ١٧ سے ص ١٩ تک چھ نمبروں میں نہایت بسط سے دے چکے ہیں۔ اور اخبار بدر سے ثابت کر چکے ہیں کہ انجام آتھم والا مباہلہ منسوخ ہو چکا تھا، لیکن چونکہ پھر وہی ”مرغے کی ایک ٹانگ“ کی طرح مباہلہ کی صدائے بے ہنگام بلند کر دی گئی ہے۔ لہٰذا دوسری طور سے ہم اس کا جواب تحریر کرتے ہیں۔ پس سنئے۔ مرزا قادیانی نے کتاب اعجاز احمدی مطبوع ١٩٠٦ء میں اور حقیقت الوحی میں ١٩٠٦ء کو اعلان کیا تھا کہ ”میں آئندہ کسی کو مباہلہ کا چیلنج نہیں دوں گا ۔“

پھر آخری فیصلہ والا اشتہار جو اپریل ١٩٠٧ء میں شائع ہوا، مباہلہ کا چیلنج کس طرح ہو سکتا ہے؟ رہا یہ امر کہ مرزا قادیانی نے مباہلہ کا چیلنج نہیں دیا تھا۔ بلکہ مولانا ثناء اللہ صاحب امرتسری نے چیلنج دیا تھا جیسا کہ ٹریکٹ مذکور کے ص ٢ میں بحوالہ اخبار اہلحدیث ٢٩؍ مارچ ١٩٠٧ء مرقوم ہے۔ اس میں بھی اخفائے واقعہ سے کام لیا گیا ہے۔ سنئے مولانا امرتسری (متعنا اللہ بطول بقائہ) کے چیلنج مذکور کے جواب میں مرزا قادیانی کی طرف سے اخبار الحکم ٣١؍ مارچ ١٩٠٧ء اور اخبار بدر ٤؍ اپریل ١٩٠٧ء میں شائع ہوا تھا کہ ”ہم آپ (مولانا امرتسری) سے اس چیلنج کے مطابق مباہلہ اس وقت کریں گے جب ہماری کتاب حقیقت الوحی شائع ہو جائے گی۔ وہ کتاب ہم آپ کو (یعنی مولانا امرتسری کو) بھیج کر معلوم کریں گے کہ آپ نے اسکو پڑھ لیا ہے؟ (گویا امتحان لیں گے ۔ ) پھر مباہلہ کریں گے۔ کتاب حقیقت الوحی ١٥؍ مئی ١٩٠٧ء کو شائع ہوئی لیکن مولانا امرتسری کے پاس نہیں بھیجی گئی ۔ (اہلحدیث ١٢؍ جنوری ٣٤ء ص ٦ کالم نمبر ٣) تو مولانا صاحب نے ماہ جون ٠٧ء میں تقاضا کیا۔

اب قابل غور یہ ہے کہ :

امرتسری کے پڑھ لینے پر۔

٧٥

صفحہ ٤٣٦

کرتے ہیں تو اسے مباہلہ کہا جاسکتا اور یہ کہنا درست ہوتا کہ ”مرزا قادیانی نے مولانا امرتسری کا چیلنج مباہلہ کا منظور کیا ۔“

مباہلہ کی منظوری نہیں ہے۔ بلکہ مرزا قادیانی کی ایک دعا ہے جو قبول ہوئی جیسا کہ ہم اپنے ٹریکٹ نمبر ٤ میں بدلائل اس کو ثابت کر چکے ہیں۔ وھو المراد

گھر کے گواہ

قرآن مجید میں جس طرح مذکور ہے کہ زلیخا کے اہل میں سے ایک گواہ کی گواہی پر حضرت یوسف علیہ السلام بری ہو گئے تھے اسی طرح مرزا قادیانی کے اہل میں سے چند گواہوں کی شہادت موجود ہے جو ہمارے موافق ہے اور مرزائیوں کے بر خلاف ان میں سے ایک گواہ (خلیفہ محمود) کی شہادت ہم اپنے ٹریکٹ نمبر ٤ کے ص ١٩ میں بحوالہ تشحیذ الاذہان (ص ٨٠، نمبر ٦، ج ٣، ماہ جون و جولائی ١٩٠٨ء) پیش کر چکے ہیں کہ ”آخری فیصلہ“ مرزا قادیانی کی دعا نہ مباہلہ۔

راست تھے) کا اقرار ملاحظہ ہو وہ بھی مرزا قادیانی کے اس اعلان کو دعا قرار دیتے ہیں نہ مباہلہ چنانچہ فرماتے ہیں ۔ ”ایسی دعائیں تو حضرت سید المرسلین کی بھی قبول نہیں ہوتیں۔ (ریویو آف ریلیجنز بابت جون وجولائی ١٩٠٨ء ص ٢٤٨) ”دیکھو مرزا قادیانی کے آخری فیصلہ کو کس طرح صاف صاف دعا بتا رہے ہیں۔ کاش تم سمجھو۔

رہتے تھے۔ اور قادیانی جماعت سے ہی تعلق رکھتے تھے۔ بلکہ قادیانی ماہوار رسالہ ”ریویو“ کے ایڈیٹر تھے انہوں نے رسالہ مذکورہ میں مرزا قادیانی کے مرنے کے بعد ہی ایک مضمون لکھا تھا۔ جس کا عنوان تھا ” ثناء اللہ اور عبدالحکیم“ اس مضمون میں انہوں نے صاف صاف اقرار کیا تھا کہ مرزا قادیانی کی دعا کا نتیجہ مرزا قادیانی کیخلاف ثابت ہوا۔ چنانچہ لکھتے ہیں:

”خیال کیا جاتا ہے کہ حضرت مسیح موعود (مرزا) کی زندگی ہی میں ان دونوں کا ہلاک ہونا ضروری تھا...... جس کے خلاف حضرت مسیح موعود (مرزا) نے بددعا کی ان میں سے کتنے اب نظر آتے ہیں؟ ایک یا دو مثالیں بچ رہنے والوں کو النادر کالمعدوم کے حکم میں سمجھنی چاہئیں۔“

(ریویو آف ریلیجنز ص ٢٩٥ بابت جون و جولائی ١٩٠٨ء)

٧٦

٤٣٧

اس بیان سے کھلا ثابت ہے کہ بموجب دعا کے سے پہلے مرنا چاہئے تھا لیکن نتیجہ اس کے برخلاف ہوا۔ گوہ تمسک کا ایک لفظ بھی اگر مشکوک ہو جائے تو سارا تمسک رد ہ کہ حسب اعلان مرزا مولانا ثناء اللہ صاحب کو ان سے صاحب ہی مر گئے اور الٹی آنت گلے پڑی کیا خوب۔

گفت مرزا مرتد
میرد اول هر که ملعو
خود روانه شد به س
بود کذابه ولیکن گ

صاحب نے ایک معیار نائب ایڈیٹر کے نام سے پیشا نافرمان لوگوں کو لمبی عمریں دیا کرتا ہے۔ لہذا مولوی صا (کاذب) مفسد وغیرہ ثابت ہوئے۔ اگر واقعی یہ مو قادیانی کو بھی جانچیں مرزا قادیانی نے اپنے اشتہارات مفسد اور کذاب کی بہت عمر نہیں ہوتی ۔ پس بقول آ ہوئی اور مرزا قادیانی کی بہت عمر نہیں ہوئی تو مرزا طرح جھوٹے اور مفسد (بوجہ عمر لمبی نہ ہونے کے ) ہ مقرر کردہ معیار سے (بوجہ لمبی عمر پانے کے ) جھوٹ ٹھیک ہے نا؟ کہ مولوی صاحب امرت سری کی طر معیار سے ) ثابت ہو گئے۔

پس آپ لوگوں کی یہ تاویل آپ کے اور مفسد ہونے کا دفع نہیں ہوا۔ گو ان کے دشمن ہ ہوتے ہیں کیوں نہ ہو۔ چاه کن را چاه در پیش اب اصل حقیقت ملاحظہ ہو:

صفحہ ٤٣٧

اس بیان سے کھلا ثابت ہے کہ بموجب دعائے مرزا، مولانا ثناء اللہ صاحب کو مرزا سے پہلے مرنا چاہئے تھا لیکن نتیجہ اس کے برخلاف ہوا۔ گو اس امر کو شاذ و نادر قرار دیا ہے۔ لیکن تمسک کا ایک لفظ بھی اگر مشکوک ہو جائے تو سارا تمسک ردی ہو جاتا ہے۔ بہر حال یہ تو تسلیم ہے کہ حسب اعلان مرزا مولانا ثناء اللہ صاحب کو ان سے پہلے مرنا تھا لیکن مرے نہیں بلکہ مرزا صاحب ہی مر گئے اور الٹی آنت گلے پڑی کیا خوب۔

گفت مرزا مر ثناء اللہ را
میرد اول هر که ملعون خدا است
خود روانہ شد بہ سوئے نیستی
بود کذابے ولیکن گفت راست

نمبر٢...... دوسری بات جو اس ٹریکٹ نمبر ٥ کے آخری صفحہ پر لکھی ہے یہ ہے کہ ”مولوی ثناء اللہ صاحب نے ایک معیار نائب ایڈیٹر کے نام سے یہ شائع کیا تھا کہ اللہ تعالیٰ جھوٹے دغا باز مفسد نافرمان لوگوں کو لمبی عمریں دیا کرتا ہے۔ لہٰذا مولوی صاحب اپنے قول کے مطابق عمر پا کر جھوٹے (کاذب) مفسد وغیرہ ثابت ہوئے۔ اگر واقعی یہ معیار ہے اور صحیح ہے تو آؤ اسی معیار پر مرزا قادیانی کو بھی جانچیں مرزا قادیانی نے اپنے اشتہار آخری فیصلہ میں لکھا تھا کہ ”میں جانتا ہوں کہ مفسد اور کذاب کی بہت عمر نہیں ہوتی۔“ پس بقول آپکے چونکہ مولوی ثناء اللہ صاحب کی عمر لمبی ہوئی اور مرزا قادیانی کی بہت عمر نہیں ہوئی تو مرزا قادیانی بھی اپنے مقرر کردہ معیار سے اسی طرح جھوٹے اور مفسد (بوجہ عمر لمبی نہ ہونے کے) ثابت ہوئے جیسے مولوی ثناء اللہ صاحب اپنے مقرر کردہ معیار سے (بوجہ لمبی عمر پانے کے) جھوٹے اور مفسد ثابت ہوئے۔ کیوں مجاہد صاحب ٹھیک ہے نا؟ کہ مولوی صاحب امرت سری کی طرح مرزا قادیانی بھی کذاب اور مفسد (اپنے معیار سے) ثابت ہوگئے۔

پس آپ لوگوں کی یہ تاویل آپ کے کس کام آئی؟ آپ کے مرزا سے تو الزام کاذب اور مفسد ہونے کا دفع نہیں ہوا۔ گو ان کے دشمن پر بھی لگ گیا۔ مرزائیوں کے استدلال ایسے ہی ہوتے ہیں کیوں نہ ہو۔ چاہ کن را چاہ در پیش

اب اصل حقیقت ملاحظہ ہو۔

٧٧

صفحہ ٤٣٨

ہوئے لکھ آئے ہیں۔ کہ مولانا ثناء اللہ صاحب نے نہیں بلکہ نائب ایڈیٹر نے (شکر ہے کہ یہاں مجاہد کو بھی تسلیم ہے کہ یہ نوٹ نائب ایڈیٹر کے نام سے شائع ہوا ہے۔) مرزا قادیانی کی قرآن دانی کا راز طشت از بام کرنے کے لئے ان کے اشتہار کی عبارت ”مفسد کذاب کی بہت عمر نہیں ہوتی۔“ پر حاشیہ لکھا تھا کہ قرآن کے خلاف مرزا قادیانی نے یہ لکھا ہے جس سے ان کی قرآن میں لیاقت ظاہر ہوتی ہے۔ نہ کہ اسے کوئی معیار ٹھہرایا گیا تھا۔ پھر مولانا ثناء اللہ صاحب نے اپنے قلم سے جو عبارت لکھی تھی وہ یہ ہے کہ ”مفسد اور کذاب کی عمر کبھی بہت ہو جاتی ہے۔“ (اہلحدیث ج ٥ ص ٣٩، ص ٣ کالم ٢، ٣١ جولائی ١٩٠٨ء) پس یہ قاعدہ کلیہ نہ رہا کہ اسے معیار کہا جا سکے کیونکہ عبارت کا مفہوم یہ ہوا کہ مفسد و کذاب کی عمر کبھی لمبی نہیں بھی ہوتی۔ پس اس مفہوم کی بناء پر مولانا ثناء اللہ صاحب (باوجود لمبی عمر پانے کے) مفسد و کذاب ثابت نہیں ہوئے۔ فافہم

والا کاذب ہی ہوتا ہے تو بھی مولانا امرتسری اس کے مصداق ثابت نہیں ہوئے۔ اس لئے کہ مولانا ثناء اللہ صاحب کاذب (جھوٹے) نہیں ہیں، مکذب (مرزائیوں کے نبی کی تکذیب کرنے والے) ہیں اور معیار یہ ٹھہرا ہے کہ کاذب کی عمر لمبی ہو نہ مکذب کی۔ کاذب اور مکذب کا فرق ظاہر ہے۔ پس چونکہ مولانا امرت سری مکذب ہیں اور ان کے نزدیک بلکہ جمہور مسلمانوں کے نزدیک مرزا کاذب ہے اور عمر بھی مرزا کی بہت لمبی ہوئی ہے۔ یعنی ٧٦ سال (ریویو آف ریلیجنز ص ٢٣ بابت اپریل ١٩٢٣ء) لہٰذا مرزا قادیانی ہی جھوٹے دغا باز و مفسد ثابت ہوئے اور کیوں نہ ہو:

لکھا تھا کاذب مرے گا پیشتر
کذب میں سچا تھا پہلے مر گیا

ختم اللہ لنا بالحسنیٰ۔ واذاقنا حلاوۃ رضوانہ الاسنیٰ وآخر دعوانا ان الحمد للہ رب العالمین۔ وصلی اللہ تعالیٰ علی خاتم النبیین۔ وآخر المرسلین۔ وسلم الی یوم الدین۔ آمین برحمتک یا ارحم الراحمین!

نوٹ: چونکہ یہ رسالہ بہت عجلت میں طبع ہوا ہے۔ اس لئے اس میں غلطیاں بہت رہ گئی ہیں۔ امید ہے کہ پڑھے لکھے حضرات از خود ان کو درست کرلیں گے۔ سیکرٹری!

٧٨

صفحہ ٤٤٨

تمہار مجاہد صاحب کا تیرھواں جھوٹ ثابت کرتے نے نہیں بلکہ نائب ایڈیٹر نے (شکر ہے کہ یہاں ام سے شائع ہوا ہے۔) مرزا قادیانی کی قرآن دانی مار کی عبارت ”مفسد کذاب کی بہت عمر نہیں ہوتی۔“ ا نے یہ لکھا ہے جس سے ان کی قرآن میں لیاقت تھا۔ پھر مولانا ثناء اللہ صاحب نے اپنے قلم سے جو عمر کبھی بہت ہو جاتی ہے۔“ (اہلحدیث ج ٥ ص ٣٩، کہ اسے معیار کہا جاسکے کیونکہ عبارت کا مفہوم یہ ۔ پس اس مفہوم کی بناء پر مولانا ثناء اللہ صاحب سا ہوئے۔ فافہم

یالا واقعی ایک معیار ہے اور سچ مچ لمبی عمر پانے ے مصداق ثابت نہیں ہوئے۔ اس لئے کہ مولانا کذب (مرزائیوں کے نبی کی تکذیب کرنے ہو نہ کذب کی۔ کاذب اور مکذب کا فرق ظاہر ا کے نزدیک بلکہ جمہور مسلمانوں کے نزدیک ہے۔ یعنی ٧٦ سال (ریویو آف ریلیجنز ص ٢٣ باز و مفسد ثابت ہوئے اور کیوں نہ ہو :

رے گا پیشتر
پہلے مر گیا

زقنا حلاوة رضوانه الاسنى و آخر صلى الله تعالى على خاتم النبيين۔ ن برحمتك يا ارحم الراحمين! ا ہے۔ اس لئے اس میں غلطیاں بہت رہ مت کرلیں گے۔ سیکرٹری !

خاتم النبیین لا نبی بعدی

سیدنا محمد رسول اللہ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم

دفع اوہام

از ظہور امام

(انجمن اشاعت الاسلام بنارس کا ٹریکٹ نمبر ١٢)

سیکرٹری انجمن اشاعت الاسلام بنارس

صفحہ ٤٤١

بسم الله الرحمن الرحيم

واليه قد رفع المسيح بجسمه
حياً فينزل يكسر الصلبان
يفنى الدجاجلة اللئام بكفه
فيموت يدفن بالمدينة فان

الحمد لله الذى جعل عيسى ابن مريم وامه آية واواهما الى ربوة ذات قرار ومعين۔ والصلوة والسلام على آخر نبيه محمد خاتم المرسلين الذى اخبرنا بنزول عيسى ابن مريم من السماء الى الارض ثم دفنه معه في قبره قبل يوم الدين۔ وانبأنا بظهور الائمة المضلين وخروج الدجاجلة الكذابين۔ فكان كما قال صلى الله عليه وسلم وعلى اله واصحابه وسائر اتباعه اجمعين۔ اما بعد پچھلے دنوں بنارس کے قادیانیوں نے ایک رسالہ ”ظہور امام“ شائع کیا تھا، جس سے انہوں نے اپنے زعم فاسد میں قرآن حکیم کی آٹھ آیتوں (بلکہ ضمنی آیات کو ملا کر بارہ آیتوں) سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی وفات ثابت کرنے کی کوشش کی ہے۔ حالانکہ وفات مسیح، مرزا غلام احمد آنجہانی کے دعوائے نبوت کی صداقت کو مستلزم نہیں ہے۔ اس لئے کہ وفات مسیح فرض بھی کر لی جائے تو بھی مرزا قادیانی کی نبوت کیا، ان کا راست گو ہونا بھی ثابت نہیں ہوتا۔

چونکہ مرزائی ہر جگہ اس مسئلہ پر گفتگو کرنے کو پہلے تیار ہو جاتے ہیں اور صداقت مرزا پر بحث کرنے سے عمداً گریز کرتے ہیں۔ اس لئے مناسب معلوم ہوا کہ ان آیات پر ایک تنقیدی نظر ڈالی جائے۔ ہماری انجمن نے ظہور امام کا مفصل اور مدلل جواب انہیں دنوں تیار کر لیا تھا۔ جس کا ذکر بھی رسالہ ”دعوت“ میں کیا گیا ہے۔ لیکن جواب مذکور چونکہ طویل اور علمی رنگ میں ہونے کی وجہ سے عام فہم نہ تھا، اس لئے اس کی اشاعت ملتوی کر دی گئی۔ اب تو مرزائی دون کی لینے لگے اور اپنے ٹریکٹ نمبر ١ کو لاجواب سمجھ لیا۔ بالآخر مقامی مسلمانوں کا سخت اصرار ہوا کہ ٹریکٹ مذکور کا جواب ضرور شائع کیا جائے۔ خواہ مختصر ہی کیوں نہ ہو، تاکہ عوام کے شکوک و اوہام دور ہوں اور جو وعدہ رسالہ (نورالاسلام ص ٨٢) میں کیا گیا ہے۔ وہ پورا ہو جائے۔ اس لئے یہ مختصر سا ٢

رسالہ شائع کیا جاتا ہے، جس میں ان آیات کے صح سے وفات مسیح ثابت کرنے کی فضول کوشش کی جائ فاش کر دیا گیا ہے۔ ان اريد الا الاصلاح ما توكلت واليه انيب

ایک ضمنی آیت

مولف ظہور امام نے ص ٣ میں آسانی احمد کی رسالت وامامت کے نہ ماننے کا نتیجہ قرار د معذبين حتى نبعث رسولا (بنی اسراء امتوں (از نوح علیہ السلام تا مسیح علیہ السلام) کی فرما رہا ہے کہ نہیں تھے ہم عذاب کرتے (کسی رسول کو ”جیسا کہ اس کے ایک آیت بعد فرمایا: ” اسرائیل: ١٧) ”یعنی کتنی قرنیں ہلاک کر دیں ہم کنا معذبین...... الخ پہلی امتوں سے متعلق ہے امت محمدیہ سے اس کا تعلق نہیں ہے۔ کیونکہ جب محمد رسول اللہ ﷺ تمام دنیا کے لئے رسول یوں بحوالہ فرمایا: ”وما كان الله معذبهم و عذاب کرے گا ان (امت محمدیہ) کو اس حال لوگ استغفار چھوڑ دیں گے، اپنے اللہ سے ہو جائیں گی۔ پس یہ غلط ہے کہ مرزا قادیانی نبوت کا دروازہ بند ہو چکا ہے۔ جیسا کہ پہلے مرزائیوں کی بات میں اگر ذرہ میں کون سی صدی آسمانی یا زمینی بلاؤں سے تاریخی شہادتیں بکثرت موجود ہیں تو ان

صفحہ ٤٤١

رسالہ شائع کیا جاتا ہے، جس میں ان آیات کے صحیح معنے اور مطلب کو واضح کر دیا گیا ہے۔ جن سے وفات مسیح ثابت کرنے کی فضول کوشش کی جاتی ہے۔ نیز مرزائیوں کی تاویلات باطلہ کا پردہ فاش کر دیا گیا ہے۔ ان ارید الا الاصلاح مااستطعت وما توفیقی الا بالله علیہ توکلت والیہ انیب

ایک ضمنی آیت

مولف ظہور امام نے ص٣ میں آسمانی اور زمینی موجودہ بلاؤں اور مصیبتوں کو مرزا غلام احمد کی رسالت وامامت کے نہ ماننے کا نتیجہ قرار دیتے ہوئے اس آیت کو پیش کیا ہے: ”وما کنا معذبین حتی نبعث رسولا (بنی اسرائیل:١٥)“ حالانکہ اس آیت میں اللہ تعالیٰ پہلی امتوں (از نوح علیہ السلام تا مسیح علیہ السلام) کی بابت اپنی گزشتہ عادت آنحضرت ﷺ سے بیان فرما رہا ہے کہ نہیں تھے ہم عذاب کرتے (کسی منکر ومکذب کو) یہاں تک کہ ہم بھیج دیتے ایک رسول کو“ جیسا کہ اس کے ایک آیت بعد فرمایا: ”وکم اھلکنا من القرون من بعد نوح (بنی اسرائیل:١٧)“ یعنی کتنی قرنیں ہلاک کر دیں ہم نے نوح کے بعد۔ معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ کا قول وما کنا معذبین...... الخ پہلی امتوں سے متعلق ہے۔ جن کی ابتداء زمانہ نوح پیغمبر سے ہوتی ہے۔ امت محمدیہ سے اس کا تعلق نہیں ہے۔ کیونکہ پہلی امتوں میں رسول خاص قوم کے لئے آتے تھے۔ جب محمد رسول اللہ ﷺ تمام دنیا کے لئے رسول ہو کر تشریف لائے تو اللہ تعالیٰ نے اپنا جدید قانون یوں بیان فرمایا: ”وما کان الله معذبهم وهم یستغفرون (انفال:٣٣)“ یعنی اور نہیں اللہ عذاب کرے گا ان (امت محمدیہ) کو اس حال میں کہ وہ استغفار کرتے رہیں گے۔ پس اب جبکہ لوگ استغفار چھوڑ دیں گے، اپنے اللہ سے منہ موڑ لیں گے۔ آسمانی اور زمینی بلائیں ان پر محیط ہو جائیں گی۔ پس یہ غلط ہے کہ مرزا قادیانی کا انکار سبب بلاء ہے اس لئے کہ خاتم النبیین کے بعد نبوت کا دروازہ بند ہو چکا ہے۔ جیسا کہ پہلے ٹریکٹوں میں اس کو مفصل لکھا جا چکا ہے۔

مرزائیوں کی بات میں اگر ذرہ برابر صداقت ہو تو ان کو بتانا چاہئے کہ تیرہ صدیوں میں کون سی صدی آسمانی یا زمینی بلاؤں سے خالی گزری ہے؟ اگر کوئی بھی خالی نہیں گزری جیسا کہ تاریخی شہادتیں بکثرت موجود ہیں تو ان کو پھر بتانا ہوگا کہ آنحضرت ﷺ اور مرزا قادیانی کے

٣

صفحہ ٤٤٣

درمیان والے زمانہ میں کونسے انبیاء اور رسل گزر چکے ہیں۔ جن کے انکار کی وجہ سے مصائب اور بلائیں آتی رہیں۔ تفصیل نہ بتا سکیں تو اجمالاً سہی۔ ان کے نام ہی بتادیں۔ لیکن مرزا قادیانی کا یہ قول پیش نظر رکھیں:

”جس قدر مجھ سے پہلے ...... گزر چکے ہیں ان کو یہ حصہ کثیر اس نعمت (نبوت) کا نہیں دیا گیا ...... نبی کا نام پانے کے لئے میں ہی مخصوص کیا گیا۔“

(حقیقۃ الوحی ص ٣٩١، خزائن ج ٢٢ ص ٤٠٦، ٤٠٧)

پس جب مرزا قادیانی اور آنحضرت ﷺ کے مابین زمانہ میں کوئی رسول آیا ہی نہیں تو اللہ تعالیٰ نے اپنے قول وما کنا معذبین ...... الخ کے خلاف ہر صدی اور ہر زمانہ میں کیوں آسمانی اور زمینی بلائیں بھیجیں؟ ماهو جوابكم هو جوابنا!

پہلی آیت

ولكم فی الارض مستقر ومتاع الی حین (بقرہ: ٣٦) تمہارے لئے زمانہ میں ٹھہرنا اور ایک میعاد تک فائدہ اٹھانا ہے (تا) حضرت عیسیٰ بحیثیت انسان ہونے کے اس قانون خداوندی سے ...... نہیں بچے (ص ٤) سنئے جناب! قانون الٰہی یہ بھی ہے کہ خاص موقع میں کسی حکمت اور مصلحت کی بناء پر ان قوانین جاریہ کے خلاف تصرف کیا جائے، کیونکہ قانون بنانے والا اپنے قانون میں تغیر و تبدل بھی کر سکتا ہے۔ ورنہ معجزات اور کرامات سے بھی انکار کرنا پڑے گا۔

آیت مذکورہ میں زمین کو انسانوں کے لئے قرار اصلی اور طبعی طور پر فرمایا گیا ہے۔ چنانچہ حضرت عیسیٰ اس زمین پر پیدا ہوئے اور رہے۔ پھر نزول کے بعد بھی اسی پر قیام کریں گے اور اسی زمین پر ان کو موت آئے گی البتہ عارضی طور پر کچھ مدت کے لئے کسی دوسری جگہ (آسمان) کا ان کے لئے جائے قرار بن جانا آیت مذکور کے خلاف نہیں ہے۔ جیسا فرشتوں کی جائے قرار اصلی اور طبعی طور سے آسمان ہیں مگر وہ عارضی طور سے کچھ مدت کے لئے زمین پر بھی رہتے ہیں۔ پس حضرت عیسیٰ کا کچھ عرصہ تک عارضی طور سے کرہ زمین کو چھوڑ کر کسی دوسرے کرہ (آسمان) پر باذن اللہ قرار پکڑنا ہرگز تعجب انگیز نہیں ہے۔ نئی سائنس سے بھی علاوہ کرہ زمین کے دوسرے آسمانی کروں (مریخ وغیرہ) میں انسانی اور حیوانی آبادیوں کا ہونا ثابت ہو چکا ہے جس کی خبر قرآن حکیم

٤

نے پہلے ہی سے یوں دی تھی: ”ومن آیاته خلق دابۃ (شوریٰ: ٢٩)“ یعنی اللہ کی وحدانیت اور زمین کی خلقت اور ان دونوں میں دابہ (چلنے پھرنے سورہ نحل میں ان سے الگ ذکر کیا ہے۔ چنانچہ فرمایا الارض من دابۃ والملئکۃ (نحل: ٤٩) ” یعن کروں) میں ہیں اور جو دابہ زمین میں ہیں اور فر کروں میں فرشتوں کے علاوہ انسانوں اور حیوان اعلان کیا تھا۔

القدس (جبریل) سے ہوئی ہے۔ اس لئے آس ہے۔ پس آپ کا آسمان پر اٹھایا جانا اور آیت مذکو طبعی کی وجہ سے ہے جو دوسرے انسانوں کو حاص ہوں۔ لہٰذا آیت مذکورہ وفات مسیح کی دلیل نہیں

دوسری آیت

”وفیها تحیون وفیها تم زمین میں تمہاری زندگی ہوگی اور اس میں تم م عیسیٰ علیہ السلام اس اٹل قانون کے خلاف کسی اسی طرح حضرت عیسیٰ زندہ رہ سکتے ہیں جس گزارتے ہیں۔ کما مر اور اسی طرح زعم کیونکہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی مشابہت زندگی کے آخری ایام وہ اسی زمین پر گزاریں میں دفن کئے جائیں گے۔ پھر اسی روضہ سے گے۔ کما ورد فی الحدیث عارضی طو مذکور کے منافی ہے نہ قانون الٰہی کے خلاف

صفحہ ٤٤٤

نے پہلے ہی سے یوں دی تھی :”ومن آیاتہ خلق السمٰوات والارض وما بث فیھما من دابۃ (شوریٰ:٢٩)“ یعنی اللہ کی وحدانیت اور اس کی قدرت کی دلیلوں میں سے آسمانوں اور زمین کی خلقت اور ان دونوں میں دابہ (چلنے پھرنے والے جانداروں) کا پھیلانا ہے۔ فرشتوں کو سورہ نحل میں ان سے الگ ذکر کیا ہے۔ چنانچہ فرمایا: ”وللہ یسجد ما فی السمٰوات وما فی الارض من دابۃ والملٰئکۃ (نحل:٤٩)“ یعنی اللہ کے زیر حکم ہیں جو دابہ آسمانوں (اوپر کے کروں) میں ہیں اور جو دابہ زمین میں ہیں اور فرشتے بھی اس کو سجدہ کرتے ہیں۔ پس اوپر کے کروں میں فرشتوں کے علاوہ انسانوں اور حیوانوں کا وجود ثابت ہوا جیسا کہ فلسفہء جدیدہ نے اعلان کیا تھا۔

القدس (جبریل) سے ہوئی ہے۔ اس لئے آپ کی مشابہت پیدائش کے لحاظ سے فرشتوں سے ہے۔ پس آپ کا آسمان پر اٹھایا جانا اور آیت مذکورہ کے حکم سے خارج ہونا آپ کے مادہ فطری اور طبعی کی وجہ سے ہے جو دوسرے انسانوں کو حاصل نہیں۔ خواہ ان کے مراتب کیسے ہی اعلیٰ کیوں نہ ہوں۔ لہٰذا آیت مذکورہ وفات مسیح کی دلیل نہیں بن سکتی۔ کما لا یخفیٰ

دوسری آیت

”فیھا تحیون وفیھا تموتون ومنھا تخرجون (اعراف:٢٥)“ اس زمین میں تمہاری زندگی ہوگی اور اس میں تم مرو گے اور تم اسی سے نکالے جاؤ گے (تا) حضرت عیسیٰ علیہ السلام اس اٹل قانون کے خلاف کسی اور جگہ کیونکر زندہ رہ سکتے ہیں؟ (ص٥) سنئے جناب! اسی طرح حضرت عیسیٰ زندہ رہ سکتے ہیں جس طرح دیگر کروں کے انسان ان کروں میں زندگی گزارتے ہیں۔ کما مر اور اسی طرح زندہ رہ سکتے ہیں جس طرح فرشتے آسمانوں پر زندہ ہیں۔ کیونکہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی مشابہت پیدائش کے لحاظ سے فرشتوں سے ہے۔ کما ذکر۔ پھر زندگی کے آخری ایام وہ اسی زمین پر گزاریں گے۔ بعدہ وہ مدینہ طیبہ میں مریں گے اور روضہ نبویہ میں دفن کئے جائیں گے۔ پھر اسی روضہ سے قیامت کے دن آنحضرت ﷺ کی معیت میں اٹھیں گے۔ کما ورد فی الحدیث عارضی طور سے کچھ مدت کے لئے ان کا آسمان پر چلا جانا نہ آیت مذکور کے منافی ہے نہ قانون الٰہی کے خلاف۔ انہ علی کل شیء قدیر یفعل ما یشاء

٥

صفحہ ٤٤٤

ویحکم ما یرید ۔ اسی شبہ (اٹل قانون کی مخالفت) کو دور کرنے کے لئے حضرت عیسیٰ کے رفع الی السماء کے مضمون کو اس جملہ پر ختم فرمایا ہے۔ ”وکان اللہ عزیزاً حکیما (نساء:١٥٨)“ یعنی اللہ غلبہ والا ہے۔ (وہ قانون کو اپنی مصلحت اور حکمت کی بناء پر بدل سکتا ہے کیونکہ) وہ حکیم (ہے) سبحانہ ما اعظم شانہ پس اس دوسری آیت سے بھی وفات مسیح ثابت نہیں ہوتی۔

تیسری آیت

وما محمد الا رسول قد خلت من قبلہ الرسل افان مات او قتل...... الخ (آل عمران: ١٤٤) یعنی محمد ایک رسول ہیں اور ان سے پہلے جس قدر رسول ہوچکے ہیں۔ یقیناً فوت ہوگئے۔ (ص ٥) خلت کے معنے عربی زبان میں ایسے گزرنے کے ہیں کہ پھر کبھی نہ آئے (تا) لسان العرب میں ہے اعرابی لوگ بولتے ہیں: خلا فلان اذا مات ۔ فلاں آدمی مر گیا (ص٨) مولف ظہور امام نے آیت کے معنے میں خوب کتر بیونت کی ہے۔ ”جس قدر کا“ لفظ اپنی طرف سے بڑھایا ہے۔ خلت کے تین معنے ہیں: ہوچکے ہیں، فوت ہوگئے، ایسے گزرے کہ پھر کبھی نہ آئیں گے۔ پھر اپنے پہلے معنی کی تردید خود ہی اعرابی کے قول سے (اس بے چارہ کو اعرابی لوگ بنا کر) کردی ہے۔ ابن اعرابی کا قول (خلا بمعنے مات) جمہور اہل لغت کے خلاف ہونے کی وجہ سے مردود ہے۔ اہل عرب جتنے الفاظ موت کے لئے بولتے ہیں ان میں خلو مادہ کا مشتق کوئی بھی نہیں ہے۔ دیکھو فقہ اللغۃ و تہذیب الالفاظ وغیرہ کیونکہ خلو کے حقیقی معنی (جس سے خلت بنا ہے ۔) دو ہی ہیں گزرنا اور خالی ہونا۔

قرآن) میں ہے والخلو یستعمل فی الزمان والمکان (الی) خلا الزمان مضی الزمان یعنی خلو کا استعمال زمانہ اور جگہ کے لئے ہوتا ہے۔ خلا الزمان کے معنے زمانہ گزرا (نہ کہ مر گیا) شاعر کہتا ہے (دیکھو دیوان عامر)

لقد کان فیما خلا عبرۃ وبالعلم یعتبر المبصر

یعنی جو زمانہ گزر گیا اس میں اولوالابصار کے لئے عبرت ہے۔ قرآن مجید میں ہے۔ ”بما اسلفتم فی الایام الخالیۃ (حاقہ:٢٤)“ یعنی (عیش کرو) بدلہ میں اس کے جو تم نے گزشتہ زمانہ میں کیا۔ مرزائیوں کے نزدیک اس کا ترجمہ یوں ہوگا ”بدلہ میں اس کے جو تم

٦

صفحہ ٤٤٥

نے مرے ہوئے زمانہ میں کیا ۔“ کیا یہ ترجمہ صحیح ہے؟ آؤ سنو قرآن نے خود ہی خلت کے معنے بیان فرمادیئے ہیں سورہ حجر میں ارشاد ہے: ”وقد خلت سنة الاولین (حجر:١٣)“ اور سورہ انفال میں فرمایا:”فقد مضت سنة الاولین (انفال:٣٨)“ معلوم ہوا کہ خلت کے معنے مضت کے ہیں نہ ماتت کے۔

٢...... اور جب خلو کا تعلق جگہ سے ہوگا تو اس کے معنی خالی اور الگ ہونا ہوں گے۔ لسان العرب میں ہے خلا المكان والشيء....... اذا لم يكن فيه احد، یعنی جگہ خالی ہوگئی جب اس میں کوئی نہ ہو، شیء خالی ہو گئی۔ جب اس میں کچھ نہ ہو۔ یہ کیفیت صرف موت کی ہی صورت میں منحصر نہیں ہے۔ زندہ جاندار بھی جگہ خالی کرتے ہیں۔ عرب کا شاعر کہتا ہے۔ حماسہ ملاحظہ ہو:

رسم لقاتلة الغرانق ما بہ الا الوحوش خلت له وخلالها

یعنی یہ نشان اس محبوبہ کی جگہ کا ہے جو نازک اندام جوانوں کی قاتلہ ہے اب یہاں وحشی جانور ہیں جو اس جگہ گزرتے ہیں اور یہ جگہ ان جانوروں کے لئے خالی ہے۔ یہ معنے تو نہیں ہیں کہ وحشی جانور سب مر گئے اور وہ جگہ بھی مر گئی؟ قرآن مجید سے سنئے، ارشاد ہے:”واذ خلوا عضوا علیکم الانامل من الغیظ (آل عمران:١١٩)“ یعنی منافقین جب الگ ہوتے ہیں تو تم پر غصہ سے انگشت بدنداں ہوتے ہیں۔ مرزائی اس کا ترجمہ یوں کریں گے ۔ ”جب منافقین مر کر پھر کبھی نہیں آسکتے تو (مرجانے کے بعد) تم پر اپنی انگلیاں غصہ سے کاٹتے ہیں: کیا ایسا ممکن ہے؟ ہر گز نہیں اور سنئے سورہ اعراف میں ہے:”قال ادخلو فی امم قد خلت من قبلكم من الجن والانس فی النار (اعراف:٣٨)“ یعنی اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ داخل ہو جاؤ تم (اے مجرمو) اس گروہ میں جو تم سے پہلے جنوں اور انسانوں کا جہنم کی طرف گزر چکا ہے۔ مرزائی اصطلاح سے اس کا ترجمہ یوں ہوگا۔ ”اللہ نے کہا تھا کہ اس جماعت میں داخل ہو جاؤ جو تم سے پہلے جنوں اور آدمیوں کی جہنم میں جا کر مرچکی ہے۔“ ظاہر ہے کہ یہ ترجمہ کس قدر غلط ہے۔ جہنم میں موت کسی کو بھی نہ آئے گی۔ جیسا کہ ارشاد ہے:وما هو بميت (ابراهیم:١٧) لا يموت فيها (اعلی:١٣) یعنی جہنمیوں کو موت نہیں ہے۔ اردو زبان میں بھی ”خالی ہونا“ اور ”گزرنا“ مرجانے کے معنی میں نہیں بولا جاتا۔ شاعر کہتا ہے۔

٧

صفحہ ٤٤٦
ادھر بیت الصنم خالی ادھر بیت الحرم خالی
پتہ لگتا نہیں اس کا عرب خالی عجم خالی
ابھی اس راہ سے گزرا ہے کوئی
کہے دیتی ہے شوخی نقش پا کی

ان شواہد و نظائر کے بعد آیت مذکورہ کا صحیح ترجمہ ملاحظہ ہو ۔ وما محمد الا رسول قد خلت من قبله الرسل (آل عمران: ١٤٤) نہیں ہیں محمد ﷺ مگر ایک رسول تحقیق گزر چکے اور جگہ خالی کر چکے ہیں۔ ان سے پہلے کئی رسول۔ کوئی جگہ خالی کر کے زیر زمین مدفون ہوا اور کوئی جگہ خالی کر کے آسمان پر لے جایا گیا۔ آیت مذکور کے تھوڑا پہلے یہ آیت ہے: ” قد خلت من قبلكم سنن (آل عمران: ١٣٧) “ یعنی تم سے پہلے واقعات گزر چکے ہیں۔ واقعات مرا نہیں کرتے۔ اس سے تھوڑا پہلے آیت : ”واذا خلو عضوا...... الخ “ ہے جو اوپر بیان ہو چکی ہے۔ حضرت عیسیٰ کے ذکر میں وارد ہے ما المسيح ابن مريم الا رسول قد خلت من قبله الرسل (مائدہ: ٧٥) یعنی نہیں ہیں مسیح بیٹے مریم کے مگر ایک رسول، تحقیق گزر چکے ہیں ان سے پہلے کئی رسول اگر خلت کے معنی کریں مر گئے اور الرسل کے معنی جس قدر رسول جیسا کہ مرزائی نے لکھا ہے۔ تو لازم آئے گا کہ محمد ﷺ بھی اس آیت کے نزول کے وقت مر چکے تھے کیونکہ آپ بھی الرسل میں داخل ہیں۔ حالانکہ بوقت نزول آیت آپ زندہ موجود تھے۔ پھر تو مرزائیوں کو کہنا ہوگا کہ محمد ﷺ رسولوں کی جماعت سے ہی خارج ہیں تو یہ الرسل کے خلاف ہوگا۔ اس لئے الرسل کا ترجمہ جس قدر رسول صحیح نہیں اور اوپر بیان ہو چکا ہے کہ خلت کے معنی ”مر گئے“ صحیح نہیں۔ لہٰذا آیت ”قد خلت من قبله الرسل (آل عمران: ١٤٤)“ میں حضرت عیسیٰ کو داخل مان کر بدلالت آیت بل رفعہ اللہ الیہ معنے جگہ کو خالی اور تبدیل کرنا متعین ہوگا۔ فتدبر

مؤلف ظہور امام نے جو یہ لکھا ہے کہ ”حضرت عیسیٰ کو اللہ نے مستثنیٰ نہیں فرمایا۔“ (ص٦) ان کی بے علمی کا ثبوت ہے۔ مستثنیٰ کے لئے ضروری نہیں کہ اسی عبارت میں موجود ہو۔ دیکھو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے والمطلقات يتربصن بانفسهن ثلثه قرو (بقره: ٢٢٨) اس آیت میں تمام مطلقہ عورتوں کی عدت تین حیض بیان فرمائی گئی ہے۔ حالانکہ حاملہ مطلقہ، صغیرہ مطلقہ، (جس کو حیض نہیں آیا) آئسہ مطلقہ (جس کا حیض بند ہو چکا ہے) غیر ممسوسہ مطلقہ (جس کو شوہر نے ہاتھ تک نہیں لگایا) یہ سب اس حکم سے مستثنیٰ ہیں۔ حالانکہ ان کا ذکر اس آیت میں نہیں

٨

صفحہ ٤٤٧

ہے۔ بلکہ دوسرے مقامات میں آیا ہے۔ اسی طرح حضرت عیسیٰ کے لئے دوسری جگہوں میں فرما دیا گیا ہے۔ (رافعک الیٰ، رفعہ اللہ الیہ، وکھلا، قبل موتہ، انہ لعلم للساعۃ ) یہ آیتیں آپ کے آسمان پر (زمین کو خالی کر کے) لے جائے جانے کے قریب اور اب تک زندہ موجود ہونے اور قیامت کے قریب آنے اور اس وقت تک بوڑھے نہ ہونے پر استثنائی دلائل ہیں جیسا کہ رسائل اظہار حقیقت کے آخر اور جواب دعوت اور نور السلام میں شائع کیا جا چکا ہے۔ اس لئے یہاں تفصیل کی حاجت نہیں ہے۔ فلیطالع ثمہ!

حضرت ابوبکرؓ کا استدلال

مؤلف ظہور امام کا یہ لکھنا کہ ”حضرت ابوبکرؓ نے آنحضرت ﷺ کی وفات قد خلت سے ثابت کی تھی۔ (ص ٦)“ صریح دجل اور جھوٹ ہے۔ اصل واقعہ یہ ہے کہ جنگ احد میں آنحضرت علیہ السلام کی شہادت کی غلط خبر پھیل جانے سے بعض صحابہ کو وہم پیدا ہوا کہ رسالت اور موت میں منافاۃ ہے۔ رسول کو مرنا نہیں چاہئے۔ اس وہم کو دور کرنے کے لئے آیت مذکور نازل ہوئی تھی۔ اللہ نے فرمایا افان مات او قتل انقلبتم علی اعقابکم (آل عمران: ١٤٤) یعنی اگر محمد ﷺ کو موت آجائے یا شہید ہو جائیں تو کیا اپنی ایڑیوں پر پھر جاؤ گے؟ اس میں اللہ نے سمجھا دیا کہ نبی کیلئے موت ناممکن نہیں ہے۔ اسی طرح کا وہم صحابہ کو دوبارہ آنحضرت ﷺ کی وفات کے وقت شدت غم سے پیدا ہو گیا تھا۔ صدیق اکبرؓ نے اس وہم کو مختلف آیات پڑھ کر دور کیا۔ پہلے سورہ زمر کی آیت انک میت والی پڑھی پھر سورہ انبیاء کی آیت افان مت والی سنائی۔ اس کے بعد سورہ آل عمران کی آیت بالا جو غزوہ احد کے دنوں میں اتری تھی تلاوت کی۔ کیونکہ اس وقت کا وہم بعینہ ایام احد والا وہم تھا۔

آیت مذکورہ میں حضرت صدیقؓ کا استدلال ان مات سے ہے نہ خلت سے۔ کیونکہ آپ کی نظر ہی موت کے ممکن ہونے پر تھی تاکہ نبوت اور موت کی منافاۃ کا وہم دور ہو۔ چنانچہ بحمد اللہ یہ وہم دور ہو گیا اور سب صحابہ کو آپ ﷺ پر موت آجانے کا یقین ہو گیا۔ انبیاء سابقین کی موت و حیات کسی کے خیال میں نہ تھی کہ حضرت عمرؓ یا اور کسی کو حیات عیسیٰ کے مسئلہ پر کچھ بولنے کی ضرورت پڑتی جبکہ یہ سب لوگ حیات و نزول عیسیٰ کے ہمیشہ قائل رہے۔ پڑھو رسالہ نور اسلام ص ١٠، ١١، مرزائیوں کا یہ زعم فاسد ہے کہ اس وقت وفات عیسیٰ پر اجماع ہو گیا تھا اس کا وجود اور ثبوت سوا ان کے پوشیدہ خانہ دماغ کے اور کہیں نہیں ہے۔ بلکہ تمام صحابہ کا اجماع و اتفاق حیات نزول عیسیٰ پر البتہ ثابت ہے۔

(دیکھو نور السلام ص ٩)

٩

صفحہ ٤٤٨

ضمنی آیات

مؤلف ظہور اتم نے تیسری آیت (مذکورہ) کے ذیل میں اور بھی کئی آیتیں لکھی ہیں۔ ان کی حقیقت بھی ملاحظہ ہو۔

کہ حضرت عیسیٰ ایک دن مرجائیں گے۔ جیسا کہ حدیث میں آیا ہے۔ ”ان عیسیٰ یأتی علیه الـفـنـاء (ابن جریر ج ٣ ص ١٠٠، ١٠١)“ یعنی حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر آئندہ زمانہ میں فناء (موت) آئے گی۔

ہم نے تجھ سے پہلے کسی بشر کو (جن میں عیسیٰ بھی شامل ہیں) زندہ نہیں رکھا......الخ! (ص ٦) ”زندہ نہیں رکھا“ ترجمہ غلط ہے۔ صحیح ترجمہ یوں ہے ”ہم نے کسی بشر کے لئے آپ سے پیشتر ہمیشگی یا ہمیشہ کی زندگی نہیں بخشی۔“ اس آیت میں بشر کے لئے ہمیشہ رہنے کی نفی کی گئی ہے اور ہم حضرت عیسیٰ کا ہمیشہ کے لئے زندہ رہنا نہیں مانتے۔ یہ شان تو خدا کی ہے۔ هو الحی (مومن) بلکہ ہم کہتے ہیں کہ حضرت عیسیٰ آسمان سے زمین پر اتریں گے۔ چالیس پینتالیس سال قیام فرمائیں گے۔ نکاح کریں گے ان کو اولاد ہوگی۔ حج کریں گے۔ پھر مدینہ طیبہ میں مریں گے اور روضہ نبویہ میں دفن ہوں گے جیسا کہ حدیث صحیح میں وارد ہے: ”ثم یموت فیدفن معی فی قبری (مشکوٰة:٤٧٢)“

فی الاسواق (فرقان: ٢٠)“ جو ہم نے رسول بھیجے وہ سب کے سب کھانا کھاتے اور بازاروں میں چلتے پھرتے تھے۔ اگر ایک رسول بھی ایسا نہ ہو تو استدلال صحیح نہ ہوگا۔ (ص ٧) پھر اس آیت کے بارے میں کیا کہو گے جو بالکل اسی طرح کفار کے اعتراض (تعدد ازواج نبی ﷺ) کے جواب میں نازل ہوئی تھی؟ ”ولـقـد ارسلنا رسـلاً من قبلك وجعلنا لهم ازواجا وذرية (رعد:٣٨)“ یعنی آپ سے پہلے جتنے رسول ہم نے بھیجے سب کے بیوی بچے تھے۔ اب بقول مرزائی اگر ایک رسول بھی ایسا نہ ہو تو استدلال صحیح نہ ہوگا۔ حالانکہ حضرت عیسیٰ کو نہ بیوی تھی (ریویو بابت اپریل ١٩٠٢ء ص ١٢٤) نہ اولاد (حاشیہ تریاق القلوب ص ٩٩، خزائن ج ١٥ ص ٣٧٣) پس جب ایک رسول بغیر بیوی بچہ کے نکل آیا تو مرزائیوں کے نزدیک اللہ کا فرمان مذکور اور اس کا استدلال

١٠

صفحہ ٤٤٩

سب رسولوں کے ازواج و ذریت والے ہونے کا دعویٰ غلط ہو گیا؟ والعیاذ بالله، فما هو جوابكم هو جوابنا فافہم! تعجب تو یہ ہے کہ آیت مذکورہ وفات مسیح کی دلیل کیونکر بن گئی؟ سوال اگر یہ ہے کہ سب رسول کھایا پیا کرتے تھے تو آسمان پر حضرت عیسیٰ کہاں سے کھاتے پیتے ہوں گے؟ تو اس کے کئی جواب ہیں۔

(ذاریات:٢٢) ”یعنی تمہارا رزق آسمان پر ہے۔

وعندها جنة المأوىٰ (نجم : ١٥) یعنی آسمان کے اوپر سدرۃ المنتہیٰ کے پاس ہی جنت ہے۔

پس جو غذا فرشتوں کی آسمان پر ہے وہی حضرت عیسیٰ کی بھی وہاں ہے۔ جیسا کہ حدیث میں آیا ہے۔ يجزى اهل السماء من التسبيح والتقديس (مشکوٰۃ ص٤٦٩) یعنی آسمان والوں کو تسبیح و تقدیس (غذا کے بدلے) کفایت کرتی ہے۔ فتفکر

(مائدہ : ٧٥) ”مریم کا بیٹا مسیح ایک رسول ہے۔ جس قدر رسول اس سے پہلے تھے وہ سب مر چکے (ص٧) اس آیت پر بحث اوپر گزر چکی ہے۔ کہ خلت کا ترجمہ ”مر چکے“ غلط ہے۔ نیز الرسل کا ترجمہ ”جس قدر رسول“ صحیح نہیں فانظر ثمه!

چوتھی آیت

”والذين يدعون من دون الله (الى) اموات غير احياء وما يشعرون ايان يبعثون (نحل: ٢٠) ”یعنی جن لوگوں کی عبادت اللہ کے سوا کی جاتی ہے (تا) مر چکے ہیں زندہ بھی نہیں ہیں اور یہ بھی نہیں جانتے کہ کب اٹھائے جائیں گے..... مسیح کی روئے زمین پر پرستش ہوتی ہے اور اللہ فرماتا ہے کہ ایسے تمام معبود مر چکے ہیں (ص٨) اس ترجمہ میں کئی غلطیاں ہیں۔

(جلالین و خازن و معالم وغیرہ) صحیح ترجمہ یوں ہے۔ ”اور جن کو پکارتے ہیں ۔“ کفار مکہ بت پرستی کرتے تھے نہ انسان پرستی۔ چنانچہ کعبہ کے تین سو ساٹھ بت جو فتح مکہ کے دن توڑے گئے اس پر

صفحہ ٤٥٠

شاہد عدل ہیں۔ مرزائیوں کا یہ وہم کہ الذی کا لفظ ذوی العقول کے لئے خاص ہے اس لئے حضرت عیسیٰ بھی اس میں داخل ہیں محض غلط ہے۔ علم نحو یا لغت کی کسی کتاب میں الذی کا ذی عقل کے لئے خاص ہونا کہیں لکھا ہے۔ بلکہ اس کا استعمال بے عقل اور بے جان چیزوں پر بکثرت ہوتا ہے۔ شاعر کہتا ہے۔ (دیوان متنبی ملاحظہ ہو:

والذي تنبت البلاد سرور والذي تمطر السحاب مدام

یعنی شہروں کی زمینیں جو کچھ اگاتی ہیں وہ سب نشہ کی چیزیں ہیں اور بادل جو کچھ برساتے ہیں وہ سب شراب ہی ہے۔ اس شعر میں دو دفعہ الذی بے جان چیزوں کے لئے آیا ہے۔

قرآن مجید سے سنو: "آمنوا بالله ورسوله والكتاب الذي نزل على رسوله والكتاب الذي انزل من قبل (نساء:١٣٦)“ یعنی ایمان لاؤ اللہ اور اس کے پیغمبر اور اس کتاب پر جو اپنے پیغمبر پر اتاری اور اس کتاب پر جو پہلے اتاری۔ اس آیت میں دو بار الذی کتاب کے لئے آیا ہے۔ جو ذوی العقول میں سے نہیں ہے۔ پس آیت چہارم کو حضرت عیسیٰ سے کچھ بھی تعلق نہیں ہے۔

سب جاندار اور ذوی العقول معبود مراد ہیں۔ جن کی روئے زمین پر پرستش کی جاتی ہے۔) کی بناء پر لازم آئے گا کہ سب شیاطین کو بھی موت آچکی ہے۔ کیونکہ اللہ کے شریک وہ بھی مانے جاتے تھے جیسا کہ ارشاد ہے: ”وجعلوا لله شرکاء الجن (انعام:١٠٠)“ یعنی کافروں نے اللہ کا ساجھی جنوں کو ٹھہرایا ہے۔ نیز لازم آئے گا کہ تمام فرشتے مرچکے ہیں۔ اس لئے کہ آیت مذکورہ کے نزول کے وقت کفار مکہ فرشتوں کو اللہ کی بیٹیاں قرار دے کر ان کی بھی پرستش کرتے تھے جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: "وجعلوا الملئكة الذين هم عباد الرحمن اناثا (الی قوله) وقالوا لو شاء الرحمن ما عبدناهم (زخرف:١٩)“ یعنی کافروں نے ٹھہرایا فرشتوں کو جو رحمان کے بندے ہیں۔ عورتیں (بیٹیاں) اور کہتے ہیں کہ اگر رحمان چاہتا تو ہم ان کو نہ پوجتے۔ یعنی اللہ کے چاہنے ہی سے تو ہم فرشتوں کی پرستش کرتے ہیں۔ پس جب فرشتے بھی ان معبودوں میں داخل ہوئے تو مرزائی تاویل کی بناء پر لازم آیا کہ وہ سب مرگئے۔ کیا خوب مرزا قادیانی نبی بن کر فرشتہ موت بھی بن گئے؟ اپنے مخالفوں کے لئے موت کی دعائیں کیں، مسیح کو مارا، شیاطین کو کھپایا، فرشتوں کو بھی موت کے گھاٹ اتار دیا۔

١٢

صفحہ ٤٥١

زندوں کو مارنے کو مسیح الزمان ہوئے

گیا ہے۔ اس ”بھی“ نے مرزا کے ساتھ مرزائیوں کی بھی لیاقت ظاہر کر دی ہے۔ جب کہہ دیا گیا کہ مر چکے ہیں تو پھر اس فضول تکرار کی ”زندہ بھی نہیں ہیں۔“ کیا ضرورت؟ کیا ان دونوں جملوں میں کوئی فرق ہے؟ اللہ کا کلام بلاغت نظام ایسی لغویات سے پاک ہے۔ اموات کے بعد غیر احیاء اس لئے ذکر کیا گیا ہے۔ کہ ان اصنام جماد کی حقیقت اصلیہ ظاہر ہو جائے کہ وہ علی الاطلاق مردہ ہیں ۔ ان کو حیوۃ کی ہوا بھی نہیں لگی نہ پہلے کبھی نہ اب (ابوالسعود)

اس کا بھی شعور (علم) نہیں کہ ان کے پوجنے والے کب اٹھائے جائیں گے۔ (جلالین وفتح البیان وغیرہ) بلکہ ان سے بہتر تو ان کے عابد ہیں کہ ان کو علم وشعور اور حیوۃ تو حاصل ہے۔

کافران از بت بے جان چہ توقع دارید
باری آن بت بہ پرستید کہ جانے دارد

پانچویں آیت

”قال شرکائہم ما کنتم ایانا تعبدون (الی) ان کنا عن عبادتکم لغافلین (یونس:٢٨، ٢٩)“ معبود کہیں گے کہ تم تو ہماری پرستش نہیں کرتے تھے (تا) ہم تو تمہاری عبادت سے بالکل بے خبر تھے۔ اس آیت سے معلوم ہوا کہ حضرت عیسیٰ فوت ہو چکے ہیں۔ اگر وہ زندہ ہوں تو ان کو اس شرک کا بخوبی علم ہوگا۔ اگر علم نہ بھی ہو تو دنیا میں دوبارہ آنے کے بعد ان کو علم یقینی ہو جائے گا۔ پھر وفات پا کر خدا کے حضور کیا خلاف واقعہ بیان کریں گے۔ کہ مجھے پرستش کی خبر نہیں؟ ایسا جھوٹ نبیوں کی شان کے خلاف ہے۔ آہ ملخصا (ص ٦) ذرا یہ تو فرمائیے کہ نبی باوجود اپنی پرستش سے بے خبری کا اظہار کرنے کے یہ بھی کہے گا ما کنتم ایانا تعبدون ؟ یعنی تم تو ہماری پرستش نہیں کرتے تھے۔ حالانکہ یقیناً ان کی پرستش ہو رہی ہے جس کا آپ کو بھی اقرار ہے۔ تو کیا ایسا جھوٹ نبیوں کی شان کے خلاف نہیں؟ اور کیا ان کا یہ خلاف واقعہ بیان ”تم ہم کو نہیں پوجتے تھے۔“ صحیح ہوگا؟ اور سنئے فرشتے بھی تو پوجے جاتے تھے۔ جیسا کہ اوپر بیان ہو چکا ہے۔ پس شرکاء میں بھی وہ داخل ہوئے۔ تو کیا وہ بھی خلاف واقعہ بیان کریں گے کہ ہم کو پرستش کی خبر نہیں یا وہ بھی سب فوت ہو چکے ہیں؟ کیونکہ اگر وہ زندہ ہوں تو ان کو اس شرک کا بخوبی علم ہوگا‘

١٣

صفحہ ٤٥٢

اگر علم نہ بھی ہو تو زمین پر اترنے کے بعد تو ان کو علم یقینی ہو جائے گا۔ پھر کیونکہ خدا کے حضور غلط بیانی کریں گے؟ ایسا جھوٹ فرشتوں کی شان کے خلاف ہے۔ ما هو جوابكم هو جوابنا

اصل یہ ہے کہ آیت مذکورہ کو نہ فرشتوں سے کوئی تعلق ہے نہ حضرت عیسیٰ سے۔ اس لئے کہ آیت میں عابدین کے ساتھ ان کے معبودوں کو تہدید اور ڈانٹ ہے اور مقربین (ملائکہ وانبیاء) کی شان اس سے بلند و بالا ہے کہ ان کو ڈانٹ بتائی جائے کیونکہ اس میں تحقیر ہے۔ نیز آیت میں عابدین اور ان کے معبودوں کی باہم گفتگو کا ذکر ہے اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام نیز فرشتوں سے اللہ تعالیٰ سوال کرے گا اور یہ لوگ اللہ کو جواب دیں گے نہ اپنے عابدین کو۔ چنانچہ فرشتوں کا جواب سورہ سبا میں الگ بیان ہوا ہے۔ جس میں مذکور ہے کہ وہ (اپنی معبودیت کے علم سے انکار نہیں کریں گے بلکہ) یوں کہیں گے: ”سبحانك انت ولينا من دونهم بل كانوا يعبدون الجن...... الخ! (سبا: ٤١) ”تیری ذات شریک سے پاک ہے ہمارا تعلق تجھ سے ہے نہ ان سے وہ تو شیطان کو پوجتے تھے۔ یعنی شیطان کے بہکانے سے انہوں نے شرک (ہماری پرستش) کیا تھا۔ لہٰذا یہ پوجا دراصل شیطان کی ہوئی نہ ہماری اسی طرح حضرت عیسیٰ کا جواب سورہ مائدہ میں الگ بیان ہوا ہے۔ جس میں منقول ہے کہ آپ (بھی اپنی معبودیت کے علم سے انکار نہیں فرمائیں گے بلکہ) یوں فرمائیں گے: ”سبحانك ما يكون لى ان اقول ما ليس لي بحق (الى) كنت انت الرقيب عليهم وانت على كل شيء شهيد (مائدة: ١١٧،١١٦) ”یعنی تیری ذات شریک سے پاک ہے۔ مجھ کو زیبا نہ تھا کہ میں ایسی بات کہتا جس کے کہنے کا مجھے کوئی حق نہ تھا۔ (تا) میرے رفع کے بعد تو ہی ان کا نگراں تھا اور تو تو ہر چیز سے خبردار ہے۔ دیکھو دونوں مقربوں کا جواب ایک ہی طرح سبحانک سے شروع ہوگا اور جواب بالکل سچا دیں گے۔ نہ تو خلاف واقعہ کچھ کہیں گے نہ بے خبری کا اظہار کریں گے۔ جیسا کہ خدا تعالیٰ فرمائے گا: ”هذا يوم ينفع الصادقين صدقهم (مائدہ: ١١٩) ”یعنی یہ دن وہ ہے کہ سچوں کو ان کا سچ کہنا ہی فائدہ دے گا۔ غرضیکہ اس پانچویں آیت کو بھی وفات مسیح سے دور کا بھی تعلق نہیں۔

چھٹی آیت

”او ترقى فى السماء (الى) قل سبحان ربى هل كنت الا بشرا رسولا (بنی اسرائیل: ٩٣) ” یعنی تو آسمان پر چڑھ جا (تا) ان کو کہہ دے کہ میں تو بشر ہوں جو رسول کرکے بھیجا گیا۔ یہ صفات تو اس کی ہیں جو بشری لوازمات سے پاک ہے۔ عادت اللہ میں داخل

١٤

نہیں کہ وہ کسی خاکی جسم کو آسمان پر میں کچھ بحث کی گئی ہے جس کی تفصیل سات فرمائشوں کے جواب میں فرمایا

بشر کا آسمان پر جانا محال ثابت ہوتا جواب ایک ہی دیا گیا ہے۔ حالانکہ ہے۔ نیز معجزہ نام ہی ہے کسی امر کا کافروں کا سوال خود بتلاتا ہے کہ وہ کا صرف اسی قدر تھا کہ آنحضرت ﷺ واقعات کر دکھائیں۔ لکھی ہوئی کتاب تھے کہ آنحضرت ﷺ معراج جسمانی نہ دیں۔ پس اللہ نے ان کے ساتھ ”قل سبحانك ربی هل كـ پاک ہے کہ اس پر کوئی زور اور ا ہوں۔ میں اپنے اختیار سے ان م کر سکتا ہوں۔ وہ چاہے گا تو تمہارا کہ ”یہ صفات اس کی ہیں جو بشر ن خاکی جسم کو آسمان پر لے جائے ۔ سے خاکی جسم کا زندہ آسمان پر جانا

صفحہ ٤٥٣

نہیں کہ وہ کسی خاکی جسم کو آسمان پر لے جائے۔ (ص ١٠٩) اس آیت پر رسالہ معیار نبوت (ص ٧) میں کچھ بحث کی گئی ہے جس کی تفصیل یوں ہے کہ کلمہ جامعہ هل كنت الا بشرا رسولا، کفار کی ان سات فرمائشوں کے جواب میں فرمایا گیا ہے کہ جو انہوں نے طعنا کی تھیں اور وہ یہ ہیں۔

بشر کا آسمان پر جانا محال ثابت ہوتا ہے تو بقیہ امور ٦ کا وقوع بھی محال ہوگا۔ کیونکہ ساتوں سوالوں کا جواب ایک ہی دیا گیا ہے۔ حالانکہ دوسری آیتوں سے ان امور کا ممکن ہونا بلکہ واقع ہونا ثابت ہے۔ نیز معجزہ نام ہی ہے کسی امر کا عادت جاریہ کے خلاف پیغمبروں سے واقع ہونے کا علاوہ ازیں کافروں کا سوال خود بتلاتا ہے کہ وہ ان امور کا ظہور پیغمبر علیہم السلام سے ممکن جانتے تھے، سوال ان کا صرف اسی قدر تھا کہ آنحضرت ﷺ ہماری خاطر اپنی اعجازی قوت سے ان ممکنات کو بصورت واقعات کر دکھائیں۔ لکھی ہوئی کتاب آسمان سے ہمراہ لانے کی پخ اسی لئے لگا دی تھی کہ وہ جانتے تھے کہ آنحضرت ﷺ معراج جسمانی کے مدعی ہیں۔ مبادا آپ پچھلی بار آسمان سے ہو آنے کا حوالہ نہ دیں۔ پس اللہ نے ان کے ساتوں سوالوں کے جواب میں ایک ہی فقرہ جامعہ کہہ دینے کا حکم دیا: ”قل سبحان ربي هل كنت الا بشرا رسولا“ یعنی کہہ دو کہ میرا رب اس بات سے پاک ہے کہ اس پر کوئی زور اور زبردستی کرے۔ میں تو فرمانبردار انسان، پیغام کا پہنچانے والا ہوں۔ میں اپنے اختیار سے ان تمام امور کو انجام نہیں دے سکتا نہ خدا سے ان باتوں کو بزور پوری کرا سکتا ہوں۔ وہ چاہے گا تو تمہارے سوالات پورے کرے گا۔ نہیں تو نہیں۔ یہ مطلب نہیں ہے کہ ”یہ صفات اس کی ہیں جو بشری لوازمات سے پاک ہو یا یہ کہ عادت اللہ میں داخل نہیں کہ وہ کسی خاکی جسم کو آسمان پر لے جائے ۔“ جیسا کہ معیار نبوت کے مؤلف نے بکواس کی ہے۔ اللہ کے ارادہ سے خاکی جسم کا زندہ آسمان پر جانا عامۂ بشر بلکہ کافروں کے لئے بھی ممکن ہے؎

١٥

صفحہ ٤٥٤

اللہ فرماتا ہے: ”ولو فتحنا علیہم بابا من السماء فظلوا فیہ یعرجون (حجر:١٤)“ یعنی اگر ہم کافروں کے لئے آسمان کا دروازہ کھول دیں۔ پھر یہ سارے دن اس میں چڑھتے رہیں۔۔۔الخ۔ پھر انبیاء ورسل خاص کر حضرت عیسیٰ اور محمد علیہما السلام کے لئے جسم سمیت زندہ آسمان پر جانا کس طرح محال ہوسکتا ہے؟ حضرت عیسیٰ کو زندہ آسمان پر لے جایا گیا۔ آنحضرت ﷺ کو معراج جسمانی کرائی گئی۔ حضرت موسیٰ کو مرزا قادیانی نے زندہ آسمان پر موجود تسلیم کیا۔ (نور الحق ص٥٠، ج١، خزائن ج٨ ص٦٩) فماذا بعد الحق الا الضلال

ساتویں اور آٹھویں آیات

”یا عیسیٰ انی متوفیک ورافعک الیٰ ومطہرک من الذین کفروا۔۔۔الخ! (ص١٠)“ ”فلما توفیتنی۔۔۔الخ! (ص١٢)“ ان دونوں آیتوں میں توفی کے مشتقات کے معنے اور اس پر پوری بحث رسالہ (جواب دعوت ص٢٣ تا ٢٧) اور (نور اسلام ص٣٣) میں پڑھئے رفع کے معنی اور اس کی پوری تحقیق رسالہ (جواب دعوت ص٢٦ تا ٢٩) اور (نور اسلام ص٢٦، ٢٧) دیکھئے۔ مطہرک کا صحیح مطلب نور اسلام ص٣٨ پر ملاحظہ کیجئے۔ یہاں ان کے اعادہ کی ضرورت نہیں۔

الحمد اللہ کہ مرزائیوں کی پیش کردہ آیتوں میں سے کوئی بھی ان کے مدعا کے لئے ثابت نہ ٹھہری بلکہ پچھلی دونوں (نمبر ٧، نمبر ٨) آیتوں سے حیات عیسیٰ اور ان کا رفع الیٰ السماء بجسدہ العنصری بخوبی ثابت ہے جیسا کہ رسالہ جواب دعوت اور نور اسلام کے پڑھنے والوں سے پوشیدہ نہیں البتہ ”ظہور امام“ میں مرزائی نے صحیح بخاری کی ایک حدیث سے توفی کے معنے موت ثابت کرنے کی فضول کوشش کی ہے۔ اس کی حقیقت بھی ملاحظہ ہو۔

حدیث بخاری

”فاقول کما قال العبد الصالح عیسیٰ ابن مریم وکنت علیہم شہیدا مادمت فیہم فلما توفیتنی کنت انت الرقیب علیہم۔۔۔الخ (پ١٣، پ١٨، پ٢٧)“ تو میں بھی اس طرح کہوں گا جس طرح اس نیک مرد عیسیٰ نے کہا تھا و کنت علیہم۔۔۔الخ۔ اس حدیث میں لفظ وہی توفیتنی ہے جو قرآن میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے لئے استعمال ہوا ہے۔۔۔اب جو معنے حضور علیہ السلام کے واسطے ہو سکتے ہیں وہی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے لئے ہونے چاہئیں۔ (یعنی دونوں پیغمبر مر گئے۔ (ص١٤، ١٥)) اسی قاعدہ سے آیت مذکور کے جملہ

١٦

تعلم ما فی نفسی ولا اعلم ما فی نـ چاہئیں کہ نفس الٰہی (جو پاک اور بے مثل ہـ ہیں۔ کیونکہ اللہ پاک کے لئے لفظ نفس وتعالیٰ اللہ عن ذلک علوا کبیرا اسی طرح دونوں پیغمبروں کے لئے لفظ تو دونوں نبیوں کے حالات مخصوصہ جو خارج توفی رفع آسمانی سے ہوئی ہے اور آنحضر الی السماء کے دلائل رسائل جوا بالموت کے دلائل آپ کا کفن و دفن اور ق روضہ اطہر آپ ﷺ کا مدینہ طیبہ میں موجو مرزائی مترجم نے قال العبد کا ترجمہ ”عیسیٰ فرمائیں گے۔“ کیونکہ یہ واقعہ قیامت کا میں ہی یہ الفاظ موجود ہیں۔ انکم محـ ظہور امام کے ص١٤ پر یوں کیا ہے۔ ”ا باوجود آگے یوں ترجمہ کر دیا۔ ”عیسیٰ نے اللہ الرسل سے ہوئی ہے۔ اور انتہا ہذا یو قیامت کے دن وقوع پذیر ہوگا۔ نیز سورہ شہیدا (نساء:١٥٩) “یعنی حضرت عیـ رسول علیہ السلام بھی نہایت صراحت سـ فرمائیں گے۔ چنانچہ محدث ابن عساکر ا ”عن ابی موسیٰ الاشعری قال واممہم ثم یدعیٰ بعیسیٰ ابن وامی الہین من دون اللہ فینکر ا کہ جب ہوگا دن قیامت کا بلائے جا گے عیسیٰ بیٹے مریم کے پھر اللہ پوچھے گا کـ

صفحہ ٤٥٥

تعلم مافى نفسى ولا اعلم ما فى نفسك میں نفس عیسیٰ اور نفس خدا کے ایک ہی معنی ہونے چاہئیں کہ نفس الٰہی (جو پاک اور بے مثل ہے اور نفس عیسیٰ جو مخلوق ہے ) دونوں ایک ہی طرح کے ہیں۔ کیونکہ اللہ پاک کے لئے لفظ نفس وہی ہے جو حضرت عیسیٰ کے لئے استعمال ہوا ہے۔ وتعالى الله عن ذلك علوا كبيرا۔ پس جس طرح دونوں لفظ نفس کی حقیقت جدا گانہ ہے۔ اسی طرح دونوں پیغمبروں کے لئے لفظ توفی جو مستعمل ہوا ہے اس کی حقیقت بھی جدا گانہ ہے۔ دونوں نبیوں کے حالات مخصوصہ جو خارجی دلیلوں سے ثابت ہیں۔ ان کی بناء پر حضرت عیسیٰ کی توفی رفع آسمانی سے ہوئی ہے اور آنحضرت ﷺ کی توفی موت سے حضرت عیسیٰ کی توفی بالرفع الى السماء کے دلائل رسائل جواب دعوت، نور اسلام میں لکھے گئے ہیں اور محمد ﷺ کی توفی بالموت کے دلائل آپ کا کفن و دفن اور نماز جنازہ وغیرہ ہیں جو بالتواتر منقول اور ثابت ہیں نیز روضہ اطہر آپ ﷺ کا مدینہ طیبہ میں موجود ہے جو اب تک زیارت گاہ حجاج ہے۔ فافترقا۔ مرزائی مترجم نے قال العبد کا ترجمہ ”عیسیٰ نے کہا تھا“ غلط کیا ہے۔ صحیح ترجمہ یوں ہے : ”عیسیٰ فرمائیں گے“ کیونکہ یہ واقعہ قیامت کا ہے اور قیامت ابھی آنے والی حدیث مذکور کے شروع میں ہی یہ الفاظ موجود ہیں ۔ انكم تحشرون الى الله ..... الخ! جس کا ترجمہ بھی مرزائی نے ظہور امام کے ص١٤ پر یوں کیا ہے ۔ ”اے لوگ تم اللہ کی طرف اکٹھے کئے جاؤ گے“ اس کے باوجود آگے یوں ترجمہ کر دیا ۔ ”عیسیٰ نے کہا تھا : یا للعجب ۔ اس قصہ کی ابتداء قرآن میں یوم یجمع الله الرسل سے ہوئی ہے۔ اور انتہا ہذا یوم ینفع الخ پر۔ یہ اس بات کا کھلا ہوا ثبوت ہے کہ یہ واقعہ قیامت کے دن وقوع پذیر ہوگا۔ نیز سورہ نساء میں آیا ہے : ”ویوم القيامة يكون عليهم شهيدا (نساء:١٥٩)“ یعنی حضرت عیسیٰ قیامت کے دن اہل کتاب پر شاہد ہوں گے۔ ہمارے رسول علیہ السلام بھی نہایت صراحت سے فرماتے ہیں کہ حضرت عیسیٰ یہ بات قیامت کے دن فرمائیں گے ۔ چنانچہ محدث ابن عساکر اور حافظ عماد الدین ابن کثیر حدیث مرفوع نقل کرتے ہیں : ”عن ابي موسى الاشعري قال قال النبی ﷺ اذا كان يوم القيامة دعى بالانبياء واممهم ثم يدعى بعيسى ابن مريم ....... ثم يقول أنت قلت للناس اتخذونى وامي الهين من دون الله فينكر ان يكون قال ذلك ....... الخ ۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جب ہوگا دن قیامت کا بلائے جائیں گے۔ سب انبیاء اور ان کی امتیں ، پھر بلائے جائیں گے عیسیٰ بیٹے مریم کے پھر اللہ پوچھے گا کیا تو نے لوگوں سے کہا تھا کہ بناؤ مجھ کو اور میری ماں دونوں

١٧

صفحہ ٤٥٦

کو معبود سوائے اللہ کے۔ پس انکار کریں گے۔ عیسیٰ اس سے کہ کہی ہو یہ بات یہ لیجئے قرآن بھی یوم القیامۃ بصراحت کہتا ہے۔ ہمارے رسول علیہ السلام بھی یوم القیامۃ بتصریح فرما رہے ہیں۔ اب مرزائی لوگ اپنے رسول کا نص صریح سنیں۔ مرزا قادیانی نے فعل ماضی بمعنے مضارع مستعمل ہونے کی مثال میں اذ قال اللہ یعیسیٰ...... الخ! (آیت مذکورہ) کو پیش کیا ہے۔

(ضمیمہ براہین احمدیہ ج ٥ ص ٢٦، خزائن ج ٢١ ص ١٥٩)

”خدا قیامت کے دن حضرت عیسیٰ کو کہے گا کہ تو نے ہی لوگوں کو کہا تھا ...... الخ!“

(ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم ص ٤٠، خزائن ج ٢١ ص ٥١)

اب تو مولف ظہور امام کو بھی ماننا پڑے گا کہ ان کا ترجمہ ”کہا تھا“ بالکل غلط ہے اور یہ مصرع ان کے ورد زبان ہوگا۔ خود غلط بود آنچه ماپنداشتیم!

خاتمہ

الحمد للہ ! کہ ظہور امام نمبر ١ کا جواب ایک یوم کی نشست واحدہ میں قلم برداشتہ تحریر ہوا۔ ناظرین کو ہمارا جواب پڑھ کر آفتاب نیمروز کی طرح ظاہر ہو گیا ہو گا کہ قرآن مجید کی کسی آیت سے بھی حضرت عیسیٰ کی وفات ثابت نہیں ہوتی۔ بلکہ آیت قبل موتہ (نسآء) ان کی حیات پر نص صریح ہے۔ دیکھو جواب دعوت ص ٣٦، ٤٣ و نور اسلام از ص ٢٧ تا ص ٣٢۔ پس جب حضرت عیسیٰ علیہ السلام زندہ موجود ہے تو حدیث نزول میں ابن مریم سے مراد بھی وہی عیسیٰ بن مریم ہیں نہ مرزا غلام احمد قادیانی۔ لہذا مدعی پنجاب کے امام بنے کا ظہور، رسالہ ظہور امام سے ثابت نہیں ہوا اور بھلا کسی مراقی کو کوئی نبی و رسول و امام مہدی کیونکر مان سکتا ہے؟ جس کا حال یہ ہے:

کلام لغو می گوید ولی می خواند الهامش
هم ابن الله شده و هم ره حق می نهد نامش
خود بد گمره شده و خلق را هم میکند گمره
کسی که پیروش باشد نه بینم نیک انجامش

قال الله وجعلناهم ائمة يدعون الى النار ويوم القيامة لا ينصرون واتبعناهم فى هذه الدنيا لعنة ويوم القيامة هم من المقبوحين سبحان ربك رب العزة عما يصفون وسلام على المرسلين۔ والحمد لله رب العالمين!

تمام شد!

١٨

PDF 458

انا خاتم النبیین لا نبی بعدی

صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وبارک وسلم

سیف ربانی

برگردن قادیانی

حضرت مولانا محمد شریف قادریؒ

صفحہ ٤٥٨

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

الحمدللّٰه وحده والصلوة والسلام علىٰ من لا نبى بعده (سب صفتیں اللہ تعالیٰ کے لئے، ایک ہے اور تمام صفات میں بے مثال ہے اور اللہ تعالیٰ کی تمام رحمتیں ہمیشہ اس رسولِ اقدس (اور اس کی آلِ کرام اور صحابہ عظام) پر جس کے بعد مدعیِ نبوت اور اس کو ماننے والے مرتد اور دائرہ اسلام سے خارج اور ہر غیر مسلم سے بدتر ہیں۔ اما بعد ناظرین! مرزا قادیانی نے مسیح موعود ہونے کا دعویٰ کیا ہے اور کہا ہے کہ وہ مسیح جس کی نسبت قرآنِ کریم اور خدا تعالیٰ کی تمام پاک کتابوں اور احادیث نبی کریم ﷺ میں خبر ہے وہ میں ہوں لکھتا ہے:

”مسیح موعود جس کے آنے کا قرآنِ کریم میں وعدہ دیا گیا ہے یہ عاجز (مرزا) ہی ہے۔“

(ازالۃ اوہام ص ١٩١، خزائن ج ٣ ص ١٩٢)

”میرا یہ دعویٰ ہے کہ میں وہ مسیح موعود ہوں جس کے بارے میں خدا تعالیٰ کی تمام پاک کتابوں میں پیشین گوئیاں ہیں کہ وہ آخری زمانہ میں ظاہر ہوگا۔“

(تحفہ گولڑویہ ص ١١٨، خزائن ج ١٧ ص ٢٩٥)

نتیجہ..... مرزا قادیانی نے اتنی بات تو تسلیم کر لی کہ قرآنِ مجید میں مسیح موعود کے آنے کا وعدہ اللہ نے فرمایا ہے نیز احادیث میں بھی نبی کریم ﷺ سے مسیح موعود کے آنے کا ثبوت تسلیم کرتا ہے۔ اب رہی یہ بات کہ مسیح موعود حضرت عیسیٰ بیٹے مریم کے ہیں تمام مسلمانوں کا عقیدہ ہے یا مرزا قادیانی؟ جیسا کہ اس نے دعویٰ کیا ہے۔ سو ہم اس مقدمہ کو دربارِ نبوت ﷺ میں پیش کرتے ہیں کیونکہ خالقِ کائنات نے اپنی مخصوص کتاب قرآن مجید میں آپ ﷺ کی شان میں و ما ینطق عن الهوى ان هو الا وحی یوحىٰ اور نہ آپ اپنی خواہش نفسانی سے باتیں بناتے ہیں۔ ان کا ارشاد نری وحی ہے جو ان پر بھیجی جاتی ہے، فرمایا ہے۔ نبی نے آنے والے مسیح موعود کے علامات و نشانات مفصل بیان فرما دیئے ہیں۔ تاکہ میری امت کسی جھوٹے فریبی مدعی کے دامِ تزویر میں پھنس کر ایمان کو ضائع نہ کرے۔ ایک طرف حضرت عیسیٰ ابنِ مریم کے مخصوص نشانات وعلامات لکھے جاتے ہیں اور دوسرے طرف مرزا قادیانی پیش کیا جاتا ہے۔ ہم نے دیکھنا ہے کہ مرزا قادیانی میں مسیح موعود کے علامات پائے جاتے ہیں یا نہیں۔

٢

سیدنا حضرت عیسیٰ بن مریم علیہ السلام

فیکم ابن مریم حكماً عدلا..... الخ ( ”قسم ہے اس ذات کی کہ جس کا بیٹا) نازل ہوگا اور تمہارے ہر ایک مختلف

(مریم کا بیٹا) فرمایا ہے۔

ہے۔ نبی کا کسی بات کو قسم کھا کر بیان کرنا اس استثناء بلکہ اس کو ظاہر پر محمول کیا جائے۔ ور

معلوم ہو گیا کہ ابنِ مریم سے مـ چراغ بی بی کا بیٹا۔

مرزا غلام احمد قادیانی

مریم کا بیٹا نہیں اس لئے مسیح موعود نہیں ہو ہونے سے انکار کیا کہ میں نے ہرگز دعویٰ لگاوے وہ مفتری اور کذاب جھوٹا ہے۔ قادیانی کو مسیح موعود نہیں کہہ سکتے۔

اس لئے موعود نہیں ہو سکتا۔ خود لکھتا ہے ”ممکن ہے کہ کسی الفاظ صادق آسکیں کیونکہ یہ عاجز اس دنیـ

صفحہ ٤٥٩

سیدنا حضرت عیسیٰ بن مریم علیہ السلام

فیکم ابن مریم حکماً عدلا ......الخ (بخاری شریف) ”قسم ہے اس ذات کی کہ جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ تم میں ابن مریم (مریم کا بیٹا) نازل ہوگا اور تمہارے ہر ایک مختلف فیہ مسئلہ کا عدالت کے ساتھ فیصلہ کرے گا۔“

(ازالۃ اوہام ص ٢٠١، خزائن ج ٣ ص ١٩٨)

(مریم کا بیٹا) فرمایا ہے۔

ہے ۔ نبی کا کسی بات کو قسم کھا کر بیان کرنا اس بات پر گواہ ہے کہ اس میں کوئی تاویل نہ کی جائے ۔ نہ استثناء بلکہ اس کو ظاہر پر محمول کیا جائے ۔ ورنہ قسم سے فائدہ ہی کیا ۔“

(حمامتہ البشریٰ ص ١٤ حاشیہ، خزائن ج ٧ ص ١٩٢)

معلوم ہو گیا کہ ابن مریم سے مراد نبی کریم ﷺ کی پیشینگوئی بیٹا مریم صاحب انجیل ہیں نہ چراغ بی بی کا بیٹا ۔

مرزا غلام احمد قادیانی

مریم کا بیٹا نہیں اس لئے مسیح موعود نہیں ہو سکتا ۔ نیز مرزا قادیانی نے ابن مریم ( مریم کا بیٹا ) ہونے ہونے سے انکار کیا کہ میں نے ہرگز دعویٰ نہیں کیا کہ میں مسیح ابن مریم ہوں ۔ جو شخص یہ الزام مجھ پر لگاوے وہ مفتری اور کذاب جھوٹا ہے ۔“ (ازالۃ اوہام ص ١٩٠، خزائن ج ٣ ص ١٩٢) اس لئے مرزائی قادیانی کو مسیح موعود نہیں کہہ سکتے ۔

اس لئے موعود نہیں ہو سکتا ۔

خود لکھتا ہے ”ممکن ہے کہ کسی زمانہ میں کوئی ایسا مسیح آجائے جن پر حدیثوں کے ظاہری الفاظ صادق آسکیں کیونکہ یہ عاجز اس دنیا کی حکومت اور بادشاہت کے ساتھ نہیں آیا ۔“

(ازالۃ اوہام ص ٢٠٠، خزائن ج ٣ ص ١٩٧)

٣

صفحہ ٤٦٠

اگر مرزا قادیانی کو مسیح موعود مانا جائے تو رسول اللہ کی پیشین گوئی جھوٹی ہو جائے گی۔ پس مرزا قادیانی مسیح موعود نہیں ہو سکتا۔

سیدنا حضرت عیسیٰ بن مریم علیہ السلام

له ويمكث خمسا وأربعين سنة ثم يموت فيدفن معى في قبرى۔

(مشکوٰۃ شریف)

ترجمہ...... حضرت عبداللہ بن عمرؓ کہتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا ہے کہ آئندہ زمانہ میں حضرت عیسیٰ بیٹے مریم کے زمین پر اتریں گے اور نکاح کریں گے اور ان کی اولاد ہوگی اور پینتالیس ٤٥ سال دنیا میں رہیں گے اور پھر فوت ہوں گے۔ پس میرے پاس میرے مقبرہ میں دفن ہوں گے۔

اس حدیث پاک میں نبی کریم نے آنے والے مسیح موعود کی چھ علامتیں بیان فرمائی ہیں ۔

نوٹ ...... مرزا قادیانی نے جو نکاح کئے ہیں وہ دعوائے مسیحیت سے پہلے کے ہیں۔ بعد از دعوائے مسیحیت نکاح نہیں کیا۔ اور وہ محمدی بیگم کا نکاح ہے۔ ہماری بحث یہ نہیں ہے کہ محمدی بیگم کا نکاح کیوں نہیں ہوا۔ یہاں بحث یہ ہے کہ مسیح موعود حضرت عیسیٰ نکاح کریں گے۔ جیسا کہ رسول عربی ﷺ نے فرمایا ہے اور مرزا قادیانی کا وہ نکاح کہ جو نشان قرار دیا ہے۔ نہیں ہوا بلکہ مرزا نامرادی کی حالت میں یوں کہتا ہوا مرا ہے۔

دل کی دل میں ہی رہی بات نہ ہونے پائی
حیف ہے ان سے ملاقات نہ ہونے پائی
رن دے فراق وچ لیندا گیا ساہ یارو
رن وی کھوا بیٹھا نبی ڈٹھا واہ یارو

٤

سے ہے جو نکاح قبل از دعوائے مسیحیت کہ حوالہ سے ظاہر ہے۔ علامت سوم م

نوٹ ...... عیسیٰ کی سابقہ عمر یعنی قبل زمین پر رہیں گے۔ اس کا ذکر ہے۔ ف "ہاں اس بات سے انکار نہیں کہ پیشتر آئندہ کسی وقت پیدا ہو۔" "میرا یہ دعویٰ تو نہیں کہ کوئی آئندہ زمانہ میں خاص کر دمشق میں کوئی

اب دیکھنا ہے کہ نزول م پینتالیس سال تھی۔

میرے مقبرہ میں دفن ہوں گے۔ مرزا ہے۔ "ممکن ہے کہ کوئی مثیل مسیح ای ہو۔" بمعنی روضہ بھی مانا گیا اور

مرزا غلام احمد قادیانی

قادیانی مسیح موعود نہیں ہو سکتا۔

چراغ بی بی ہے۔ لہٰذا عیسیٰ بیٹا مریم کا

صفحہ ٤٦١

چہارم ...... اترنے والے مسیح موعود صاحب اولاد ہوں گے۔ جبکہ مرزا قادیانی کی اولاد ان نکاحوں سے ہے جو نکاح قبل از دعوائے مسیحیت ہیں۔ لہٰذا یہ اولاد وہ خاص اولاد نہیں جو بطور نشان ہو جیسا کہ حوالہ سے ظاہر ہے۔ علامت سوم میں بیان ہو چکا ہے۔

پنجم ...... اترنے والے مسیح موعود حضرت عیسیٰ علیہ السلام پینتالیس سال زمین پر رہیں گے۔

نوٹ...... عیسیٰ کی سابقہ عمر یعنی قبل از رفع کا ذکر نہیں ہے بلکہ اترنے کے بعد پینتالیس سال زمین پر رہیں گے۔ اس کا ذکر ہے۔ فافہم !مرزا قادیانی نے نزول یعنی پیدائش لیا ہے۔ لکھتا ہے:

”ہاں اس بات سے انکار نہیں کہ پیشین گوئی کے ظاہری معنوں کے لحاظ سے کوئی مسیح موعود بھی آئندہ کسی وقت پیدا ہو۔“

(ازالہ ص ١٩٩، خزائن ج ٣ ص ١٩٧)

”میرا یہ دعویٰ تو نہیں کہ کوئی مثیل مسیح پیدا نہیں ہوگا۔ بلکہ میرے نزدیک ممکن ہے کہ کسی آئندہ زمانہ میں خاص کر دمشق میں کوئی مثیل مسیح پیدا ہو جائے۔“

(ازالہ ص ٤٧٢، خزائن ج ٣ ص ٣٤٨)

اب دیکھنا ہے کہ نزول بمعنے پیدائش مرزا قادیانی کو موافق ہے۔ کیا مرزا کی زندگی پینتالیس سال تھی۔

ششم ...... نبی کریمﷺ نے فرمایا: ”ثم يموت فيدفن معى فى قبرى “ پھر عیسیٰ فوت ہوکر میرے مقبرہ میں دفن ہوں گے۔ مرزا قادیانی نے بھی اس حدیث کے مضمون کی تائید کی ہے۔ لکھتا ہے۔ ”ممکن ہے کہ کوئی مثیل مسیح ایسا بھی آجائے جو آنحضرتﷺ کے روضہ کے پاس مدفون ہو۔“

(ازالہ اوہام طبع دوم ص ٤٧٠، خزائن ج ٣ ص ٣٥٢)

بمعنے روضہ بھی مانا گیا اور اس میں دفن ہونا بھی مانا گیا۔ بمطابق حوالہ مندرجہ بالا۔

مرزا غلام احمد قادیانی

٢...... مرزا قادیانی میں ان چھ علامات میں سے ایک بھی پائی نہیں جاتی۔ اس لئے مرزا قادیانی مسیح موعود نہیں ہو سکتا۔

اوّل ...... مرزا قادیانی کا نام غلام احمد ہے اور باپ کا نام مرزا غلام مرتضی ہے اور ماں کا نام چراغ بی بی ہے۔ لہٰذا عیسیٰ بیٹا مریم کا نہیں ہو سکتا۔ عیسیٰ تو بن باپ ہیں۔

٥

صفحہ ٤٦٤

دوم:...... مرزا قادیانی اترا نہیں بلکہ پیدا ہوا ہے۔ خود لکھتا ہے: ”میرے ساتھ ایک لڑکی پیدا ہوئی جس کا نام جنت تھا اور پہلے وہ لڑکی پیٹ میں سے نکلی تھی اور بعد میں میں نکلا تھا۔ اور میرے بعد میرے والدین کے گھر میں کوئی لڑکا یا لڑکی نہیں ہوا اور میں ان کے لئے خاتم الاولاد تھا۔“

(تریاق القلوب ص ١٥٧، خزائن ج ١٥ ص ٢٧٩)

لہٰذا مسیح موعود نہیں ہوسکتا۔

سوم:...... مرزا قادیانی کا نکاح نہیں ہوا۔ اس لئے مسیح موعود نہیں ہوسکتا۔

نوٹ...... مرزائی فریب دیتے ہیں کہ مرزا قادیانی نے نکاح کیا اولاد بھی ہوئی۔ مرزا قادیانی نے نکاح محمدی بیگم کو اپنا نشان صداقت قرار دیا ہے۔ افسوس کہ وہ نہ ہوا خود لکھتا ہے: ”اس محمدی بیگم کے نکاح اور پیشین گوئی کی تصدیق کے لئے جناب رسول اللہ ﷺ نے بھی پہلے سے ایک پیشین گوئی فرمائی ہے کہ یتزوج ویولد یعنی وہ مسیح موعود بیوی کرے گا نیز صاحب اولاد ہوگا۔ اب ظاہر ہے کہ تزوج اور اولاد کا ذکر کرنا عام طور پر مقصود نہیں عام طور پر ہر ایک شادی کرتا ہے اور اولاد بھی ہوتی ہے۔ اس میں کچھ خوبی نہیں۔ بلکہ تزوج سے مراد وہ خاص تزوج ہے جو بطور نشان ہوگا اور اولاد سے مراد وہ خاص اولاد ہے جس کی اس عاجز کو پیش گوئی ہے۔“

(انجام آتھم ص ٥٣، خزائن ج ١١ ص ٣٧)

بقول مولوی محمد علی امیر جماعت احمدیہ لاہور ”یہ سچ ہے کہ مرزا قادیانی نے کہا تھا کہ نکاح ہوگا اور یہ بھی سچ ہے کہ نہیں ہوا۔“

(اخبار پیغام صلح لاہور)

چہارم:...... مرزا قادیانی کا وہ نکاح ہی نہیں ہوا جس کو اپنا نشان قرار دیا ہے تو اولاد کہاں سے ہوتی؟ پس یقین ہو گیا کہ مرزا قادیانی مسیح موعود نہیں۔

پنجم:...... اگر مرزا قادیانی مسیح موعود ہوتا تو اس کی عمر پینتالیس سال ہونی چاہئے تھی۔ اس کے خلاف مرزا قادیانی بقول خود پچھتر اور پچاسی کے اندر عمر پا کر مرتا ہے۔ لہٰذا قادیانی مسیح نہیں ہوسکتا۔ معلوم ہوا کہ نزول بمعنے پیدائش نہیں ہوسکتا اور نزول بمعنی پیدائش بھی نہیں ہوسکتا اور نزول بمعنی سن دعویٰ مسیحیت بھی نہیں ہوسکتا۔ کیونکہ دعویٰ مسیحیت مرزا قادیانی نے ازالہ اوہام میں کیا ہے جو ١٣٠٨ھ میں تصنیف ہوئی۔ اس لحاظ سے بھی مرزا قادیانی ١٣٠٨+٤٥=١٣٥٣ھ تک دنیا میں رہنا چاہئے تھا۔ حالانکہ مرزا قادیانی ١٣٢٦ھ میں مر گیا۔ بزبان خود جھوٹا ٹھہرا۔ فھو المراد!

٦

صفحہ ٤٦٤

ششم ....... مرزا قادیانی نبی کریمﷺ کے مقبرہ میں دفن نہیں ہوا۔ لہٰذا مسیح موعود نہیں ہو سکتا۔ مرزا قادیانی کو تو زیارت مدینہ منورہ بھی نصیب نہیں ہوئی۔ (دجال مدینہ منورہ میں داخل نہیں ہو سکے گا۔ الحدیث) پھر مرزا قادیانی کو کیسے توفیق ہوتی؟ مرزا قادیانی لاہور میں بعارضہ ہیضہ مرا اور قادیان میں دفن ہوا۔

گیا سی لاہور اوتھے ہیضے دی وبا سی دست گیا بہہ عزرائیل لیا ڈھاء
چاہڑ کے شکنجہ اوہنوں ایس طرح مروڑیا ناساں ولوں کھٹا پانی نکلیا تے چھوڑیا
دجال نوں دجال دے ای کھوتے اتے لدیا لاہور وچوں کڈھ تے قادیاں جا دبا
داتا گنج بخش دی کرامت بڑی وڈی اے لاہور وچوں مرزے جیہی پلیدی نس کڈھی اے

سیدنا حضرت عیسیٰ بن مریم علیہ السلام

ليهلن ابن مريم بفج الروحاء حاجاً او معتمراً اوليثنينهما

(صحیح مسلم)

حضرت ابو ہریرہؓ حضرت نبی کریمﷺ سے بیان کرتے ہیں کہ حضورﷺ فرماتے ہیں قسم ہے اس ذات پاک کی جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے۔ یقیناً احرام باندھیں گے۔ ابن مریم فج الروحاء سے حج کا یا عمرے کا یا قران کریں گے۔ (عمرہ ادا کر کے اسی احرام سے حج کریں گے) مسلم شریف

اس حدیث پاک سے مندرجہ ذیل باتیں ثابت ہوئیں۔

تمام دنیا میں ان کے لئے امن ہو گا اور کوئی چیز ان کے حج میں مانع نہیں ہو گی۔ بلا خوف حج کریں گے۔

شریف سے مانع ہو۔

گے۔

٧

صفحہ ٤٦٤

اس حدیث میں تاویل کی بھی گنجائش نہیں ہے کیونکہ خود مرزا قادیانی نے ایک قاعدہ کلیہ سے تاویل کے دروازہ کو بند کر دیا ہے۔ وہ لکھتا ہے: ”قسم صاف بتاتی کہ یہ خبر ظاہری معنوں پر محمول ہے نہ اس میں کوئی تاویل ہے اور نہ استثناء ہے۔ ورنہ قسم میں کونسا فائدہ ہے۔“

(حمامتہ البشریٰ ص ١٤، خزائن ج ٧ ص ١٩٢)

اس حدیث میں لفظ ”والذی نفس بیدہ “ (قسم ہے اس ذات کی الخ) کے آئے۔ ہیں لہٰذا اس میں نہ کوئی تاویل ہے اور نہ استثناء ہے۔ مرزا قادیانی نے بھی اس حدیث کے مضمون کی بدیں الفاظ تائید کی ہے۔ خود لکھتا ہے۔ ”ہمارا حج تو اس وقت ہوگا۔ جب دجال بھی کفر اور دجل سے باز آکر طواف بیت اللہ کرے گا۔ کیونکہ بموجب حدیث صحیح کے وہی وقت مسیح موعود کے حج کا ہوگا ۔“

(ایام الصلح ص ١٦٩، خزائن ج ١٤ ص ٤١٧) اس عبارت سے کم از کم اتنا ضرور ثابت ہو گیا ہے کہ مرزا قادیانی نے تاویلوں کا سہارا ڈھونڈتے ڈھونڈتے اس بات کو تسلیم کر لیا ہے کہ مسیح موعود حج ضرور کرے گا۔

مرزا غلام احمد قادیانی

٣....... چونکہ مرزا قادیانی کو حج جیسی نعمت نصیب نہیں ہوئی جو بموجب صحیح حدیث کے حضرت عیسیٰ ابن مریم کی نشانی ہے۔ اس لئے مرزا قادیانی مسیح موعود نہیں ہو سکتا۔ مرزا قادیانی زن، زمین اور زر پر فریفتہ تھا اور قیمتی ادویات اس کو مرغوب تھیں حج بھلا کیسے نصیب ہوتا ؟

نوٹ ...... مرزائی فریب دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ مرزا مفلس کنگال تھا۔ اور وہ بیمار رہتا تھا اور کہتے ہیں کہ مرزا قادیانی کو مکہ اور مدینہ میں امن نہ تھا۔ (جان کا خطرہ تھا) (درست ہے دجال کو مکہ مدینہ ضرور خطرہ ہے) مومن ہوتا تو امن بھی ہوتا ۔

تنبیہ ...... ہماری کلام صرف اس میں ہے کہ مسیح موعود حضرت عیسیٰ بن مریم کی علامت یہ ہے کہ وہ حج کریں گے۔ نبی کریم ﷺ کی یہ پیشین گوئی ہے جو کبھی جھوٹی نہیں ہو سکتی مگر مرزا قادیانی نے حج نہیں کیا۔ خواہ کسی وجہ سے نہیں کیا۔ اس لئے مرزا قادیانی مسیح موعود نہیں ہو سکتا۔

٨

١٥

نوٹ ...... اگر مرزا قادیانی کو مسیح موعود تسلیم کر لیا باللہ ) جھوٹ ہو جائے گی ۔ لہٰذا یقین ہو گیا کہ مر کی پیشین گوئی سچی ہو کر رہے گی ۔ کیونکہ سچے پیغمب رہتی ہے۔ قرآن شریف گواہی دیتا ہے۔ ”وما یوحیٰ“ مرزا کا دماغ تو ہر وقت محمدی بیگم کے تص اور نہ ہی محمدی بیگم ہاتھ لگی ۔ مرزا احمد بیگ وال سلطان محمد کے ساتھ نکاح کر دیا جس سے اس ک ہونی چاہئے کیونکہ مرزا قادیانی کی منکوحہ آسمانی لے اڑا۔

ماں دا مرزائیاں
کہہ دے گھر وسد

سیدنا حضرت عیسیٰ بن مریم علیہ السلام

٤...... مشکوٰۃ شریف باب قصہ ابن صیا کرام ﷺ ابن صیاد کو دیکھنے گئے ابن صیاد کے حضرت عمرؓ نے دربار نبوت میں عرض کیا : ”ال رسول الله ان يكن هو فلست صاح شریف حضرت عمرؓ نے عرض کیا اجازت دو مجھ کو نے فرمایا اگر یہ ابن صیاد دجال ہے۔ تو پھر تو ا کے ہاتھوں ہوگا۔

خود مرزا قادیانی بھی لکھتا ہے: ”ی اگر یہ دجال ہے تو اس کا صاحب عیسیٰ بن مر ہیں ۔“

صفحہ ٤٦٥

نوٹ ...... اگر مرزا قادیانی کو مسیح موعود تسلیم کر لیا جائے تو حضور نبی کریم ﷺ کی پیشین گوئی (نعوذ باللہ) جھوٹ ہو جائے گی۔ لہذا یقین ہو گیا کہ مرزا قادیانی مسیح موعود نہیں ہو سکتا اور نبی کریم ﷺ کی پیشین گوئی سچی ہو کر رہے گی۔ کیونکہ سچے پیغمبر کی پیشین گوئی ہمیشہ سچی ہوتی ہے اور پوری ہو کر رہتی ہے۔ قرآن شریف گواہی دیتا ہے ۔ ” وما ينطق عن الهوى ان هو الا وحى يوحى“ مرزا کا دماغ تو ہر وقت محمدی بیگم کے تصور میں مشغول رہتا تھا۔ حج کس کو یاد تھا ؟ نہ حج کیا اور نہ ہی محمدی بیگم ہاتھ لگی۔ مرزا احمد بیگ والد محمدی بیگم نے مورخہ ١٧؍ اپریل ١٨٩٢ء کو مرزا سلطان محمد کے ساتھ نکاح کر دیا جس سے اس کی اولاد ہوئی۔ مرزائیو مقام غور ہے اور تمہیں شرم ہونی چاہئے کیونکہ مرزا قادیانی کی منکوحہ آسمانی اور تمہاری اماں روحانی کو سلطان محمد نے اڑا اور لے اڑا۔

ماں دا مرزائیاں نوں ذرہ نہ خیال
کہدے گھر وسدی تے کُھو کھدا بال

شرم شرم شرم !

سیدنا حضرت عیسیٰ بن مریم علیہ السلام

کرام رضی اللہ عنہم ابن صیاد کو دیکھنے گئے ابن صیاد کے بارے میں صحابہ کو شبہ تھا کہ یہ ہی دجال نہ ہو۔ حضرت عمرؓ نے دربار نبوت میں عرض کیا: ”ائذن لى يا رسول الله ﷺ فاقتله فقال رسول الله ان يكن هو فلست صاحبه انما صاحبه عيسى ابن مريم “ مشکوٰۃ شریف حضرت عمرؓ نے عرض کیا اجازت دو مجھ کو یا رسول اللہ کہ میں ابھی اسے قتل کر دوں ، آنحضرت نے فرمایا اگر یہ ابن صیاد دجال ہے۔ تو پھر تو اسے قتل نہ کر سکے گا۔ کیونکہ اس کا قتل عیسیٰ ابن مریم کے ہاتھوں ہوگا۔

خود مرزا قادیانی بھی لکھتا ہے: ”آنحضرت ﷺ نے عمرؓ کو قتل کرنے سے منع کیا اور فرمایا اگر یہ دجال ہے تو اس کا صاحب عیسیٰ بن مریم ہے جو اسے قتل کرے گا۔ ہم اسے قتل نہیں کر سکتے ہیں۔“

(ازالہ اوہام ص ٢٢٥، خزائن ج ٣ ص ٢١٨)

٩

صفحہ ٤٦٦

اس حدیث سے ثابت ہوا کہ قتل دجال سے مراد جیسا کہ مرزائی کہتے ہیں۔ دلائل سے قتل کرنا۔ یہ مطلوب نہیں ہے بلکہ ظاہری و جسمانی قتل ہے۔ چنانچہ جناب عمرؓ کا آمادہ قتل ہونا اور حضور ﷺ کا بھی اس خیال کی تردید نہ کرنا بلکہ دجال کا قتل مسیح علیہ السلام کے ہاتھوں مقدر فرمانا اس پر صاف وصریح دلیل ہے۔

مرزا غلام احمد قادیانی

الیسریٰ جفال الشعر معه جنة وناره فناره جنة وجنة نار (رواہ مسلم)“ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ دجال کانا ہوگا۔ بائیں آنکھ سے زیادہ بالوں والا ہوگا۔ اس کے ساتھ جنت اور دوزخ ہوگی اس کی۔ پس دوزخ اس کی جنت ہے اور جنت اس کی دوزخ ہے۔

”عن انس قال قال رسول الله مامن نبي الا قد انذر امته الأعور الكذاب الا انه اعور وان ربكم ليس باعور مكتوب بين عينيه ك ف ر (بخاری مسلم)“ فرمایا نبی کریم ﷺ نے کہ ہر ایک نبی نے اپنی قوم کو کانے جھوٹے سے ڈرایا ہے اور فرمایا آگاہ ہو کہ دجال کانا ہوگا اور پروردگار تمہارا کانا نہیں۔ اس کی آنکھوں کے درمیان ک ف ر لکھا ہوگا۔

اور فرمایا: قال النبی ان الدجال ممسوح العين عليها ظفرة غليظة مکتوب بين عينيه كافر يقرء كل مومن كاتب وغير كاتب مشکوٰۃ شریف ترجمہ بے شک دجال ہوگا۔ مٹا ہوا آنکھ کا یعنی ایک آنکھ اس کی مٹی ہوئی ہوگی۔ اس پر ناخنہ ہوگا۔ موٹا لکھا ہوا ہوگا۔ درمیان دونوں آنکھوں اس کی کے لفظ کافر پڑھے گا۔ اس کو ہر مومن لکھنے والا اور غیر لکھنے والا۔ قال النبي فيطلبه، حتى يدرك بباب لد فيقتله پس ڈھونڈھیں گے عیسیٰ دجال کو یہاں تک کہ پائیں گے اس کو دروازہ لد پر پس قتل کریں گے۔ اس کو مذکورہ بالا حدیث سے روز روشن کی طرح معلوم ہو گیا کہ دجال ایک آدمی ہوگا۔ جس کی علامات یہ ہوں گی۔

کانا ہوگا۔

١٠

صفحہ ٤٦٧

گاؤں ہے۔ بیت المقدس کے پاس) مرزا قادیانی کی زندگی میں ایسی صفات والے آدمی کا ظہور نہیں ہوا۔ پس معلوم ہو گیا کہ مرزا قادیانی نے جس (انگریز) کو دجال کہا ہے مرزا خود اس کا محکوم اور فرمانبردار رہا ہے اور اس کے گدھے (ریل) پر سوار ہوتا ہے۔ جب مرا تو مرزے کی امت نے مرزا کو اسی گدھے (ریل) پر سوار کر کے قادیان پہنچایا

خر دجال یہ کیسا کہ جس پر تانتے صلیب
بایں شان بایں شوکت کرایہ دے کر چڑھتا تھا مرزا

قادیانی نے اصلی دجال جس کے متعلق نبی کریم کی پیشین گوئی ہے دیکھا ہی نہیں قتل کا تو سوال ہی پیدا نہ ہوا۔ لہٰذا مرزا قادیانی مسیح موعود نہیں ہو سکتا۔

سیدنا حضرت عیسیٰ بن مریم علیہ السلام

نہیں رہے گا۔ (ابوداؤد) اس حدیث کو مرزا قادیانی نے بھی تسلیم کیا ہے۔ لکھتا ہے۔

(چشمہ معرفت ص ٨٠، خزائن ج ٢٣ ص ٩٢)

(الحکم ١٧/جولائی ١٩٠٥ء)

کے زور کو توڑ دے گا۔

مرزا قادیانی بھی اس حدیث کو اپنے حق میں لیتا ہے۔ لکھتا ہے ۔ ”میرا کام جس کے لئے میں اس میدان میں کھڑا ہوا ہوں۔ یہی ہے کہ عیسیٰ پرستی کے ستون کو توڑ دوں۔

(اخبار بدر ١٩/جولائی ١٩٠٦ء)

مرزا غلام احمد قادیانی

١١

صفحہ ٤٦٨

نہایت حسرت کے ساتھ لکھتا ہے۔ ”عیسائیت دن بدن ترقی کر رہی ہے۔“

(پیغام صلح ٦/ مارچ ١٩٢٨ء)

دور کیوں جائیں مردم شماری کی رپورٹ ہی دیکھ لیں۔ قادیان کے اپنے ضلع گورداسپور کی عیسائی آبادی کا نقشہ یہ ہے۔

سال عیسائیوں کی آبادی ١٨٩١ء ٢٤٠٠ ١٩٠١ء ٤٤٧١ ١٩١١ء ٢٣٤٦٥ ١٩٢١ء ٣٢٨٣٢ ١٩٣١ء ٤٤٢٤٣

جب سے مرزائیت نے جنم لیا ہے عیسائیت روز افروز ترقی کر رہی ہے۔ اس قلیل عرصہ میں صرف قادیان کے اپنے ضلع گورداسپور کے عیسائی اٹھارہ گنا بڑھ گئے ہیں۔ اب مرزا قادیانی کے اپنے لفظ غور سے سن کر فیصلہ کر لیں۔ لکھتا ہے کہ اگر میں نے اسلام کی حمایت میں وہ کام کر دکھایا جو مسیح موعود کو کرنا چاہئے تھا تو پھر میں سچا ہوں۔ اور اگر کچھ نہ ہوا اور میں مر گیا تو سب گواہ رہیں کہ میں جھوٹا ہوں۔

(بدر ١٩/ جولائی ١٩٠٦ء)

کوئی بھی کام سچا تیرا پورا نہ ہوا
نامرادی ہی میں ہوا تیرا آنا جانا

مبارک ہیں وہ لوگ جو مرزا قادیانی کی ناکامی پر گواہی دیتے ہیں اور اس کو جھوٹا سمجھتے ہیں کہ عاقبت انہی کی ہے۔

عدیم الفرصتی کی وجہ سے اتنا ہی کافی سمجھتا ہوں اور سلیم القلب کے لئے تو اتنا بھی کافی ہے۔ اور احقر دعا کرتا ہے کہ رب العزت اس مختصر سے مضمون کو اہل اسلام کی ہدایت کا ذریعہ بنائے اور اسی مختصر سی محنت کو قبول فرمائے۔ آمین۔

احقر محمد شریف فاضل دیوبند ناظم دارالعلوم الاسلامیہ منڈی بہاءالدین مدینہ پرنٹنگ ہاؤس کچہری روڈ لاہور

١٢

PDF 470

قی کر رہی ہے۔"

(پیغام صلح ٦ مارچ ١٩٢٨ء)

ہی دیکھ لیں۔ قادیان کے اپنے ضلع

عیسائیوں کی آبادی

٢٢٠٠ ٤٤٧١ ٢٣٣٦٥ ٣٢٨٣٢ ٤٣٢٤٣ روز افزوں ترقی کر رہی ہے۔ اس قلیل کی اٹھارہ گنا بڑھ گئے ہیں۔ اب مرزا ، اگر میں نے اسلام کی حمایت میں وہ اور اگر کچھ نہ ہوا اور میں مر گیا تو سب

(بدر ١٩ جولائی ١٩٠٦ء)

را نہ ہوا آنا جانا گواہی دیتے ہیں اور اس کو جھوٹا سمجھتے

سلیم القلب کے لئے تو اتنا بھی کافی ن کو اہل اسلام کی ہدایت کا ذریعہ

حقر محمد شریف فاضل دیوبند رالعلوم الاسلامیہ منڈی بہاءالدین ہ پرنٹنگ ہاؤس گنپت روڈ لاہور

خَاتَمَ النَّبِيِّينَ لَا نَبِيَّ بَعْدِي

صلی اللہ علیہ وعلیٰ آلہ واصحابہ وسلم

مرزا قادیانی کی

پیش گوئیاں

اور ان کے متعلق خدائی فیصلے

نامعلوم

صفحہ ٤٧٠

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

مرزائی مبلغین اکثر سادہ لوح مسلمانوں کو مرزائیت کے جال میں پھنسانے کے لئے مرزا قادیانی کی پیش گوئیاں اور الہام بڑی چرب زبانی سے بیان کرتے ہیں۔ اس بناء پر ان کے قصر نبوت کو استوار کرتے ہیں۔ اس طرح ان کے نبی ہونے کو ثابت کرتے ہیں۔

اہل اسلام میں وقتاً فوقتاً ایسے بزرگان کرام ہو گزرے ہیں اور اب بھی ہیں جو کہ نہ صرف آئندہ واقعات کی خبر بذریعہ کشف دیتے رہے ہیں۔ بلکہ دور دراز رہنے والے افراد کے حالات کا اظہار سینکڑوں میل دور بیٹھے کر دیتے ہیں یہ اولیائے عظام ہوتے ہیں۔ جن پر الہام کے ذریعے حالات کا انکشاف ہوتا رہتا ہے۔ ان کے الفاظ ہمیشہ سچے اور صحیح ثابت ہوتے ہیں۔ اسی واسطے مولانا رومی نے فرمایا:

گفتہ او گفتہ اللہ بود
گرچہ از حلقوم عبداللہ بود
اولیاء را ہست قدرت از الٰہ
تیر جستہ باز گرداند ز راہ

ان کا کہنا اللہ کی طرف سے ہوتا ہے۔ گو وہ اللہ کے بندہ کے منہ سے نکلا ہو۔ اولیاء کو خدا کی طرف سے یہ اختیار ہوتا ہے کہ وہ کمان سے نکلے ہوئے تیر کو واپس لے آئے۔

لاکھوں ولی امت مسلمہ میں ہو گزرے ہیں۔ ان میں سے اکثر صاحب کشف ابدال بھی ہوئے۔ قطب بھی اور غوث بھی مگر کسی نے چودہ سو سال کے عرصے میں نبوت کا دعویٰ نہ کیا۔ لیکن کس قدر حیرانی کی بات ہے۔ کہ ایک شخص جس کا تمام کلام جھوٹ کی پوٹ ثابت ہوا۔ وہ کاذب نبی بن بیٹھا۔

قادیانی کا دعویٰ

”اس نے (خدا نے) میرا دعویٰ ثابت کرنے کے لئے اس قدر معجزات دکھائے ہیں۔ بہت ہی کم ایسے نبی آئے ہیں۔ جنہوں نے اس قدر معجزات دکھائے ہوں اور جو میرے لئے نشانات ظاہر ہوئے وہ تین لاکھ سے زیادہ ہیں۔“

(اخبار البدر قادیان جولائی ١٩٠٦ء، حقیقت الوحی ص ٦٧، خزائن ج ٢٢ ص ٧٠)

٢

اس میں کوئی شک نہیں کہ اللہ تعا معجزات عطاء کئے۔ آخری نبی محمد ﷺ کو جو معجزات تو بے مثل تھے۔

تشریف لے گئے۔

غور کیجئے کہ آیا مرزا قادیانی کے سنئے۔ حضرت مرزا قادیانی کے ذریعے اسلا ہوا۔ وہ کونسی خوبی اور صداقت ہے۔ جو کسی غ

خدارا غور کیجئے

مرزا کی آمد سے کئی اسلامی سلطن دیں۔ ایک نیا مذہب احمدیت کے نام سے اس طرح رسوا کیا۔

مرزا قادیانی نے انبیاء کرام کی اس ”دنیا میں کوئی نبی نہیں گزرا جس ہوں، میں اسماعیل ہوں۔ میں موسیٰ ہوں یعنی بروزی طور پر میری نسبت جری الل شان مجھ میں پائی جائے ۔“

لوگوں کو گمراہ کرنے کے لئے دماغ کی پیداوار ہیں۔ کوئی صحیح الدماغ شخص و مالخولیا کے مریض تھے۔ اس لئے یہ دعوے

”ڈاکٹر میر محمد اسماعیل نے مجھ سنا کہ مجھے ہسٹیریا ہے۔ بعض اوقات آپ

صفحہ ٤٧١

اس میں کوئی شک نہیں کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے فرستادہ انبیاء کی تائید میں انہیں معجزات عطاء کئے۔ آخری نبی محمد ﷺ کو بہت معجزوں کا حامل بنایا گیا۔ آنحضرت ﷺ کو تین معجزات تو بے مثل ملے۔

تشریف لے گئے۔

غور کیجئے کہ آیا مرزا قادیانی سے کوئی ایسا معجزہ صادر ہوا؟ خلیفہ محمود قادیانی کی تعلی سنئے۔ حضرت مرزا قادیانی کے ذریعے اسلام زندہ ہوا۔ قرآن کریم زندہ ہوا۔ محمد ﷺ کا نام زندہ ہوا۔ وہ کونسی خوبی اور صداقت ہے۔ جو کسی نبی میں پائی جاتی ہو۔ مگر مرزا قادیانی میں نہیں۔‘‘

(تقریر مرزا محمود احمد مندرجہ اخبار الفضل قادیان ١٦ مئی ١٩٢٤ء)

خدارا غور کیجئے

مرزا کی آمد سے کئی اسلامی سلطنتیں مٹ گئیں۔ اس نے اسلام کی جڑیں کاٹ کر رکھ دیں۔ ایک نیا مذہب احمدیت کے نام سے قائم کر دیا۔ قرآن کریم میں تحریف کی۔ تمام رسولوں کو اس طرح رسوا کیا۔

مرزا قادیانی نے انبیاء کرام کی اس طرح گستاخی کی

’’دنیا میں کوئی نبی نہیں گزرا جس کا نام مجھے نہیں دیا گیا۔ میں آدم ہوں۔ میں نوح ہوں، میں اسماعیل ہوں۔ میں موسیٰ ہوں۔ میں عیسیٰ ابن مریم ہوں اور میں محمد مصطفیٰ ﷺ ہوں یعنی بروزی طور پر میری نسبت جری اللہ فی حلل الانبیاء فرمایا۔ سو ضرور ہے کہ ہر نبی کی شان مجھ میں پائی جائے۔‘‘

(حقیقۃ الوحی ص ٨٤، خزائن ج ٢٢ ص ٧٦ حاشیہ)

لوگوں کو گمراہ کرنے کے لئے یہ سب زبانی دعوے ہیں اور محض ایک مراقی شخص کے دماغ کی پیداوار ہیں۔ کوئی صحیح الدماغ شخص یہ لن ترانیاں نہیں ہانک سکتا۔ چونکہ مرزا قادیانی مراق و مالیخولیا کے مریض تھے۔ اس لئے یہ دعوے کر دیئے۔

’’ڈاکٹر میر محمد اسماعیل نے مجھ سے بیان کیا کہ میں نے کئی دفعہ حضرت مسیح موعود سے سنا کہ مجھے ہسٹیریا ہے۔ بعض اوقات آپ مراق بھی فرمایا کرتے تھے۔‘‘

(سیرت المہدی حصہ دوم ص ٥٥)

٣

صفحہ ٤٧٢

مرزا قادیانی نے دعویٰ کیا کہ مجھے تین لاکھ نشان (معجزات) ملے۔ اب تین لاکھ نشانوں کی حقیقت مرزا قادیانی کی اپنی زبان سنئے۔

"جو نقد روپیہ آنے والا ہو یا اور اور چیزیں تحائف میں ہوں۔ ان کی خبر قبل از وقت اللہ بذریعہ الہام یا خواب مجھ کو دے دیتے ہیں اور اس قسم کے نشان پچاس ہزار سے کچھ زیادہ ہوں گے۔

(حقیقت الوحی ص ٣٣٣، خزائن ج ٢٢ ص ٣٤٦)

کھودا تھا پہاڑ نکلا چوہا کے مصداق تمام معجزات یا خواب ہوئے یا الہام باقی قصہ ختم۔ خواب اور الہام زیادہ تر منی آرڈروں کے اور روپے کے متعلق ہوتے تھے۔ چنانچہ لکھتے ہیں۔

ٹیچی ٹیچی فرشتہ کی آمد

"٥؍ مارچ ١٩٠٥ء کو میں نے خواب میں دیکھا کہ ایک شخص جو فرشتہ معلوم ہوتا تھا میرے سامنے آیا اور اس نے بہت سا روپیہ میرے دامن میں ڈال دیا۔ میں نے اس کا نام پوچھا۔ اس نے کہا۔ میرا نام ٹیچی ٹیچی۔

(حقیقت الوحی ص ٣٣٢، خزائن ج ٢٢ ص ٣٤٦)

رانی کی آمد

آگے دیکھئے۔ "ایک روز ایک عورت نہایت خوبصورت خواب میں دیکھی۔ اس نے بیان کیا کہ میرا نام رانی ہے۔ اور مجھے اشارے سے کہا کہ میں اس گھر کی عزت اور وجاہت ہوں۔"

(ازالہ اوہام ص ٢١٣، خزائن ج ٣ ص ٢٠٥)

درشنی آدمی

"انہی دنوں میں نے ایک نہایت خوبصورت آدمی دیکھا۔ میں نے اس سے کہا کہ تم عجیب خوبصورت ہو۔ اس نے اشارہ سے کہا کہ میں تیرا بخت بیدار ہوں۔ میں درشنی آدمی ہوں۔"

(ازالہ اوہام ص ٢١٣، ٢١٤، خزائن ج ٣ ص ٢٠٦)

منی آرڈر کی وحی

"ایک دفعہ صبح کے وقت وحی الٰہی سے میری زبان پر جاری ہوا۔ "عبداللہ ڈیرہ اسماعیل خان" اور تفہیم ہوئی کہ اس نام کا ایک شخص آج کچھ روپیہ بھیجے گا۔"

(حقیقت الوحی ص ٢٦٣، ٢٦٤، خزائن ج ٢٢ ص ٢٧٥)

"ایک دفعہ مجھے الہام ہوا کہ بست و یک روپیہ آنے والا ہے۔"

(حقیقت الوحی ص ٣٠٥، خزائن ج ٢٢ ص ٣١٨)

٤

صفحہ ٤٧٣

"کل کی ڈاک میں مبلغ ایک سو روپیہ مرسلہ آں محبّ مجھ کو پہنچا۔ اس کے عجائبات میں سے ایک یہ ہے کہ اس روپے کے پہنچنے سے تخمیناً سات گھنٹے پہلے مجھ کو خدائے عزّوجل نے اطلاع دی۔"

(مکتوبات احمدیہ جلد ٥ حصہ اوّل ص ٥)

اناجیل کو پڑھئے۔ قرآن کو پڑھئے اور بتلائیے کہ کیا کسی نبی کو ایسے خواب آئے۔ جو محض مادیت اور حصولِ زر پر مبنی ہوں۔ کبھی کسی نبی کو ایسے الہام ہوئے ہی نہیں۔ یہ تو نجومیوں جوتشیوں اور دنیا داروں، لالچی فقیروں کو ہی ہو سکتے ہیں۔ نبی کا ان سے دور کا بھی واسطہ نہیں ہوسکتا۔ قادیانی نبی کو تو انگریز نے کھڑا کیا تھا۔ اس لئے کہ اسلام میں جو جہاد کا حکم دیتا ہے۔ اسے کسی ترکیب سے منسوخ قرار دیا جائے۔ سو مرزائے قادیانی نے اپنے آقا کی غلامی کا حق ادا کرتے ہوئے جہاد کو ناجائز قرار دیا۔ اس لئے انگریز نے اس کی مکمل تائید کی اور روپے پیسے سے بھی امداد کی۔ اسے بھی اٹھتے بیٹھتے روپے کے خواب آتے تھے۔ اسی کے الہام ہوتے تھے۔ نبی کا کام روح اور مادہ ہر دو کی اصلاح ہوتا ہے۔ قارئین نے دیکھ لیا کہ مرزا قادیانی کے الہاموں اور خوابوں میں روحانیت کا تو نشان نہیں ملتا۔ اصلاح تو خاک ہونی ہے۔

خود کاشتہ پودا

"میرا اس درخواست سے جو حضور کی خدمت میں معہ اسماء مریداں روانہ کرتا ہوں۔ مدعا یہ ہے کہ اس خود کاشتہ پودا کی نسبت نہایت حزم واحتیاط اور تحقیق اور توجہ سے کام لے اور اپنے ماتحت حکام کو اشارہ فرمائے کہ وہ بھی اس خاندان (مرزا قادیانی) کی ثابت شدہ وفاداری اور اخلاص کا لحاظ رکھ کر مجھے اور میری جماعت کو ایک خاص عنایت اور مہربانی کی نظر سے دیکھیں۔"

(درخواست بحضور نواب لیفٹیننٹ گورنر بہادر دام اقبالہ)

منجانب خاکسار مرزا قادیانی مورخہ ٢٤؍ فروری ١٨٩٨ء)

جہاد ناجائز

"میں نے چند کتابیں جہاد کے مخالف تحریر کر کے عرب اور مصر اور بلاد شام وافغانستان میں گورنمنٹ کی تائید میں شائع کی ہیں۔ باوجود اس کے میری یہ خواہش نہیں کہ اس خدمت گزاری کی گورنمنٹ کو اطلاع کروں یا اس سے کچھ صلہ مانگوں جو انصاف کی رو سے اعتقاد تھا وہ ظاہر کر دیا۔"

(تبلیغ رسالت جلد چہارم ص ٤٦، مجموعہ اشتہارات ج دوم ص ١٨٠)

٥

صفحہ ٤٧٤

قادیانیت ایک فرقہ نہیں بلکہ ایک نیا مذہب ہے جو کہ انگریز نے قائم کیا کہ اس کا مقصد زر اکٹھا کرنا اور دنیا میں اپنا غلبہ اور حکومت حاصل کرنا تھا۔

تمام دنیا کی حکومت کا خواب

: "ہمیں معلوم کب ہمیں خدا کی طرف سے دنیا کا چارج سپرد کیا جانا ہے۔ ہمیں اپنی طرف سے تیار ہو جانا چاہئے۔ کہ دنیا کو سنبھال سکیں۔"

(خطبہ میاں محمود احمد خلیفہ قادیان مندرجہ اخبار الفضل مورخہ ٢٧؍ فروری ١٩٢٢ء ج ٩ نمبر ٦٧ ، ٦٨)

قادیانی حکومت قائم کرنے کا جتن

"ہائے ! احمدیوں کے پاس ایک چھوٹا ٹکڑا بھی نہیں۔ جہاں احمدی ہی احمدی ہوں۔ کم از کم ایک علاقہ کو مرکز بنالو جس میں کوئی غیر نہ ہو۔ ایسا علاقہ اس وقت تک ہمیں نصیب نہیں جو خواہ چھوٹے سے چھوٹا ہو مگر اس میں غیر نہ ہوں۔"

(خطبہ خلیفہ محمود احمد الفضل قادیان ج ٩، مورخہ ١٢؍ مارچ ١٩٢٢ء)

ہاں جناب! پاکستان بننے پر ربوہ میں ایک انگریز گورنر موڈی کی مہربانی سے ایسا مخصوص علاقہ مل گیا۔

اب ہم پیش گوئیوں کی طرف رجوع کرتے ہیں۔ پیش گوئی کے معنی ہیں کہ کسی آنے والے واقعہ کی نسبت اس کی آمد سے قبل خبر دار کرنا۔

پہلے ذکر ہوا کہ پچاس ہزار نشان تو روپوں وغیرہ کے متعلق بتلائے گئے۔ روپوں کی آمد کا پتہ چلانا کونسا عظیم کارنامہ ہے۔ ڈاک خانہ میں کسی مقرب کو بھیجا۔ وہاں سے ڈاک کی تقسیم سے قبل پتہ چلا لیا کہ آیا کوئی منی آرڈر وغیرہ آیا ہے کہ نہیں۔ اگر آنا ہوتا تھا تو مرزا قادیانی بڑے طمطراق سے اس پر ملمع سازی کر کے اعلان کر دیتے۔ یہ تھی حقیقت پچاس ہزار نشانوں کی۔

ہاں انہوں نے چند پیش گوئیاں کیں اور ان کے ہو جانے کا بہت ڈھنڈورا پیٹا اور اعلان کیا کہ اگر یہ غلط ثابت ہوئیں یا وقوع پذیر نہ ہوئیں تو میں کاذب مفتری اور جھوٹا سمجھا جاؤں گا۔ انہیں مطالعہ کرنے کے بعد قارئین کرام خود انداز لگائیں کہ آیا مرزا غلام احمد قادیانی کاذب تھے یا نہیں؟

پیش گوئی نمبر ١۔ پادری عبداللہ آتھم ساکن امرتسر

مرزا غلام احمد قادیانی نے اوّل آتھم سے مناظرہ کیا۔ پھر یہ پیش گوئی کی۔ وہ اتنے

٦

صفحہ ٤٧٥

عرصہ کے اندر فلاں تاریخ تک مر جائے گا۔ بوڑھا ہونے کے باوجود پیش گوئی کی تاریخ پر نہ مرا۔ بلکہ کافی عرصہ تک بعد کو زندہ رہا۔ مرزا نے بہت زور لگایا کہ اس پیش گوئی کے غلط ہونے کی تاویلات پیش کی جائیں مگر۔

کیا بنے بات جہاں بات بنائے نہ بنے

١...... خدائی شان!! خدائی فیصلہ!!

”آتھم کے متعلق پیش گوئی کا آخری دن آگیا اور جماعت میں لوگوں کے چہرے پڑ مردہ ہیں۔ بعض لوگ نادانی کے باعث اس کی موت پر شرطیں لگا چکے ہیں۔ لوگ نمازوں میں چیخ چیخ کر رو رہے ہیں کہ اے خدا ہمیں رسوا مت کریو۔“

(سیرت مسیح موعود ص ٧)

”٥ ستمبر ١٨٩٤ء کو جس دن عبداللہ آتھم والی پیش گوئی پورا ہونے کا انتظار تھا۔ آپ (ماسٹر قادر بخش) قادیان میں تھے کہ آج سورج غروب ہوگا اور آتھم مر جائے گا مگر جب سورج غروب ہو گیا تو لوگوں کے دل ڈوبتے گئے۔ ماسٹر قادر بخش نے امرتسر جا کر عبداللہ آتھم کو خود دیکھا۔ عیسائی اسے گاڑی میں بٹھائے۔ دھوم دھام سے بازاروں میں لئے پھرتے تھے۔“

(مضمون رحیم بخش پسر ماسٹر قادر بخش اخبار الحکم قادیان ٧ ستمبر ١٩٢٣ء)

آتھم کا خط

”میں خدا کے فضل سے تندرست ہوں۔ اب مرزا قادیانی کہتے ہیں کہ آتھم نے اپنے دل میں چونکہ اسلام قبول کر لیا۔ اس لئے نہیں مرا۔ انہیں اختیار ہے جو چاہیں تاویل کریں لیکن میں پہلے بھی عیسائی تھا۔ اور اب بھی عیسائی ہوں اور خدا کا شکر کرتا ہوں۔ اب میری عمر ٦٨ سال سے زیادہ ہے۔ جو کوئی چاہے پیش گوئی کرے کہ ایک سو سال کے اندر جو باشندے اس دنیا میں موجود ہیں۔ سب مر جائیں گے۔“ (عبداللہ آتھم کا خط اخبار وفادار لاہور میں ماہ ستمبر ١٨٩٤ء میں شائع ہوا، منقول از کتاب راست بیانی از شکست قادیانی)

ایک بار پھر پیش گوئی کے الفاظ اصلی کا مطالعہ کیجئے اور جھوٹے پر لعنت بھیجئے۔

”میں اس وقت اقرار کرتا ہوں اگر (عبداللہ آتھم والی) پیش گوئی جھوٹی نکلی۔ وہ فریق جو خدا کے نزدیک جھوٹ پر ہے۔ وہ پندرہ ماہ میں آج کی تاریخ سے بہ سزائے موت ہاویہ میں نہ پڑے تو میں ہر سزا اٹھانے کے لئے تیار ہوں...... میں اللہ جل شانہ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ وہ ایسا ہی کرے گا۔ زمین و آسمان ٹل جائیں مگر اس کی باتیں نہیں ٹلیں گی۔“

(جنگ مقدس ص ٢١١، خزائن ج ٦ ص ٢٩٣)

٧

صفحہ ٤٧٦

پیش گوئی کی تاریخ مقررہ ٥ ستمبر ١٨٩٣ء تھی۔ اس کے بہت عرصہ بعد تک آتھم زندہ رہا۔ مندرجہ بالا خط اس تاریخ کے بعد لاہور کے اخبار وفادار میں اس ماہ چھپوایا۔

٢...... اللہ تعالیٰ کا حتمی فیصلہ

ڈاکٹر عبدالحکیم صاحب کے متعلق مرزا قادیانی کی اپنی تحریر

”میاں عبدالحکیم خاں صاحب اسسٹنٹ سرجن پٹیالہ کی پیش گوئی میری نسبت مرزا کے خلاف ١٢ جولائی ١٩٠٦ء کو یہ الہامات ہوئے ہیں۔ مرزا مسرف کذاب اور عیار ہے۔ صادق کے سامنے شریر فنا ہو جائے گا اور اس کی میعاد تین سال بتائی گئی ہے۔“

(کانہ دجال ص ٥٠، از میاں عبدالحکیم)

”اس کے مقابل وہ پیش گوئی جو خدا تعالیٰ کی طرف سے مجھے ہوئی۔ جس کے الفاظ یہ ہیں۔ خدا کے مقبولوں میں مقبولیت کے نمونے اور علامتیں ہوتی ہیں اور وہ سلامتی کے شہزادے ہوتے ہیں۔ ان پر کوئی غالب نہیں آ سکتا۔“

(مرزا غلام احمد کا اشتہار ”خدا سچے کا حامی ہو“ ١٢؍ اگست ١٩٠٦ء، حقیقت الوحی)

چنانچہ ڈاکٹر صاحب نے اس اشتہار کے جواب میں اپنی پہلی پیش گوئی کو منسوخ کرتے ہوئے لکھا۔ ”اللہ نے مرزا کی شوخیوں اور نافرمانیوں کی سزا میں سہ سالہ میعاد میں سے جو گیارہ جولائی ١٩٠٩ء کو پوری ہوتی تھی۔ ١٠ مہینے اور ١١ دن اور کم کر دیئے ہیں اور مجھے یکم جولائی ١٩٠٧ء کو الہاماً فرمایا کہ مرزا آج سے ١٤ ماہ بعد تک سزائے موت ہاویہ میں گرایا جائے گا۔“

اس کے جواب میں مرزا نے جولائی ١٩٠٧ء کو ایک اشتہار بعنوان تبصرہ شائع کیا۔ ”اپنے دشمن سے کہہ دے کہ خدا تجھ سے مواخذہ کرے گا اور تیری عمر کو بھی بڑھا دوں گا تیرے دشمن جو پیش گوئی کرتے ہیں۔ ان سب کو میں جھوٹا کروں گا۔“

(مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ٥٩١)

”آخری دشمن ایک اور پیدا ہوا ہے جس کا نام عبدالحکیم خان ہے اور وہ ڈاکٹر ہے۔ اور وہ ریاست پٹیالہ کا رہنے والا ہے۔ جس کا دعویٰ ہے میں اس کی زندگی میں ٤؍ اگست ١٩٠٨ء کو ہلاک ہو جاؤں گا..... مگر خدا نے اس کی پیش گوئی کے مقابل پر مجھے خبر دی ہے۔ خدا اس کو ہلاک کرے گا۔ میں اس کے شر سے محفوظ رہوں گا..... بلاشبہ یہ سچ بات ہے..... جو شخص خدا تعالیٰ کی نظر میں صادق ہے۔ خدا اس کی مدد کرے گا۔“

(چشمہ معرفت ص ٣٢١، ٣٢٢، خزائن ج ٢٣ ص ٣٣٦، ٣٣٧)

پھر خدائی فیصلہ ظاہر ہوا جائے عبرت ہے۔ متنبی قادیان کے ماننے والوں سنو اور غور سے سنو! خدا کی قدرت اور مقام عبرت ہے کہ مرزا غلام احمد ڈاکٹر صاحب کی پیش گوئی کے عین

٨

صفحہ ٤٧٧

مطابق میعاد مقررہ کے اندر ٢٦ مئی ١٩٠٨ء کو وبائی ہیضہ میں مبتلا ہوئے اور وہ فوت ہو گئے۔ جناب ڈاکٹر عبد الحکیم صاحب ان کے بعد سالہا سال زندہ رہے۔ اس ٹریکٹ کے لکھنے والے نے انہیں ١٩٢٨ء تک خود دیکھا اور ان کے لیکچر سنے۔

حضرت مولانا ثناء اللہ صاحب امرتسریؒ سے مرزا قادیانی کا آخری فیصلہ

”میں خدا کے فضل سے امید رکھتا ہوں کہ سنت اللہ کے موافق آپ مکذبین کی سزا سے نہیں بچیں گے۔ ...... اگر طاعون ہیضہ وغیرہ مہلک بیماریاں آپ پر میری زندگی میں وارد نہ ہوئیں تو میں خدا تعالیٰ کی طرف سے کذاب ہوں۔ تو اے میرے مالک میں عاجزی سے تیری جناب میں دعا کرتا ہوں کہ مولوی ثناء اللہ کی زندگی میں مجھے ہلاک کر اور اگر مولوی ثناء اللہ صاحب حق پر نہیں تو میری زندگی میں اسے نابود کر انسانی ہاتھوں سے نہیں طاعون ہیضہ وغیرہ سے۔ جو تیری نگاہ میں در حقیقت مفسد اور کذاب ہے اس کو صادق کی زندگی میں دنیا سے اٹھا لے۔ میرے مالک تو ایسے ہی کر۔ آمین ثم آمین۔“

(تبلیغ رسالت ج١٠ ص ١٢٠، مجموعہ اشتہارات ج٣ ص٥٧٨،٥٧٩)

اللہ اکبر! مرزا قادیانی کی دعا قبول ہو گئی۔ مفسد اور کاذب مفتری، صادق کی زندگی میں ہیضہ میں مبتلا ہو کر مر گیا۔ اللہ اکبر۔ فاعتبروا یا اولی الابصار!! خدا کا فیصلہ ملاحظہ ہو اور اللہ کے قربان جائیے کہ کس طرح فیصلہ ہوا۔ اس اشتہار کی اشاعت کے ہفتہ عشرہ کے بعد ٢٥؍اپریل ١٩٠٧ء کو اخبار البدر قادیانی میں پھر شائع ہوا۔ ”ثناء اللہ کے متعلق جو کچھ لکھا گیا۔ دراصل ہماری طرف سے نہیں بلکہ خدا ہی کی طرف سے اس کی بنیاد رکھی گئی ہے۔“

ایلو! ٢٦ مئی ١٩٠٨ء کو مرزا غلام احمد کو لاہور کے مقام پر وبائی ہیضہ ہوا اور وہ مر کر ہمیشہ کے لئے ختم ہو گئے۔ یہ جھوٹوں اور کذابوں کا انجام ہوتا ہے اور حضرت مولانا مولوی ثناء اللہ صاحب مرزا کی وفات کے بعد تقریباً چالیس سال زندہ رہے اور راقم رسالہ نے مرزا قادیانی کی موت کے بعد بیسیوں سال تک مولانا کے مناظرے اور مباحثے سنے۔

محمدی بیگم اور مرزا غلام احمد قادیانی

مرزا غلام قادیانی کے ماموں زاد بھائی مرزا احمد بیگ ساکن پٹی کی ایک لڑکی تھی جس کا نام محمدی بیگم تھا۔ مرزا قادیانی کے دل میں اس کا ایسا تصور قائم ہو گیا کہ اس سے شادی کرنے کے لئے عزم صمیم کر لیا۔ اس کے والدین کو طرح طرح کے سبز باغ دکھلائے۔ پیش گوئیوں کے ذریعے انہیں مرعوب کیا۔ ١٨٨٦ء میں اشتہار شائع کر دیا جس میں انہیں دھمکیاں دیں۔ اس لئے کہ اس کا والد مرزا احمد بیگ اپنی لڑکی کی شادی مرزا غلام احمد سے کر دے۔ مگر اے بسا آرزو کہ خاک شدہ

٩

صفحہ ٤٧٨

کے مصداق اس کی شادی نہ ان کے ساتھ ہوئی تھی اور نہ ہوگی بلکہ اُس کی شادی تمام پیش گوئیوں کو پاش پاش کرتے ہوئے دوسرے شخص سلطان محمد سے ہوگئی اور جگہ شادی ہو جانے سے ایک ہنگامہ بپا ہوا کہ تمام پیش گوئیاں دھری کی دھری رہ گئیں اور مرزا غلام قادیانی کا ذب ٹھہرے۔

قارئین کرام! محمدی بیگم کے واقعات ترتیب سے ذیل میں درج کئے جاتے ہیں۔ جس مذہب کے بانی کی یہ حالت ہو کہ وہ جھوٹ پر جھوٹ بولتا چلا جائے اور پھر اس جھوٹ کو سچ دکھلانے کی کوشش کرے۔ اس کی اصلیت کیا ہو سکتی ہے؟

پہلی بڑی بشارت

مرزا احمد بیگ ولد مرزا گاماں بیگ کی دختر کلاں محمدی بیگم انجام کار تمہارے نکاح میں آئے گی۔ باکرہ ہونے کی حالت میں یا بیوہ کر کے اور اس کام کو ضرور پورا کرے گا۔ کوئی نہیں جو اسے روک سکے۔“

(ازالہ اوہام ص ٣٩٦ خزائن ج ٣ ص ٣٠٥)

فرمائی تھی۔“

(ضمیمہ انجام آتھم ص ٥٣، از مرزا غلام احمد قادیانی)

بیگم) کے لئے سلسلہ جنبانی کر اور اس کو کہہ دے کہ یہ نکاح ان کے لئے موجب برکت اور ایک رحمت کا نشان ہوگا اور ان تمام برکتوں اور رحمتوں سے حصہ پاؤ گے۔ جو اشتہار ٢٠؍فروری ١٨٨٦ء میں درج ہے۔ لیکن اگر نکاح سے انحراف کیا تو اس لڑکی کا انجام بہت برا ہوگا اور جو کسی دوسرے شخص سے بیاہی جائے گی وہ روز نکاح سے اڑھائی سال تک اور اس کا والد تین سال تک فوت ہو جائے گا۔“

(تذکرہ ص ١٥٨)

ہائے عشق! کیا کچھ نہیں کرواتا!

کہہ دے کہ پہلے وہ تمہیں دامادی میں قبول کرے اور کہہ دے کہ مجھے اس زمین کے ہبہ کرنے کا حکم مل گیا ہے۔ جس کے تم خواہش مند ہو بلکہ اس کے ساتھ اور زمین بھی دی جائے گی۔ دیگر مزید احسانات تم پر کئے جائیں گے۔ اگر کسی اور شخص سے اس لڑکی کا نکاح ہوگا۔ تو تم نکاح کے بعد تین سال کے اندر مر جاؤ گے۔ الہامی لڑکی کا شوہر اڑھائی سال کے اندر مر جائے گا۔“

(آئینہ کمالات ص ٥٧٦، خزائن ج ٥ ص ایضاً از مرزا غلام احمد قادیانی)

١٠

آپ اس خط کو اپنے صندوق میں میں نے نہیں کہا بلکہ اللہ تعالیٰ گلے میں رسی اور پاؤں میں زنجیر

ہائے عشق! منت اور

”میں اب بھی عاجز آپ انحراف نہ فرمائیں آپ کو ہو چکی ہے اور میرے خیال میں آپ اپنے ہاتھ سے اس پیش گو آپ پر نازل ہوں۔“

(خاکسار احقر عباد

داروں کو بہت سے خط لکھے کہ ایک شخص مرزا سلطان محمد نامی ا تمام پیشگوئیاں اور الہام خاک طرح مرزا قادیانی کا ذب ثابت

اخویم منشی رستم علی صاحب سلمہ اب تک ہوا یا نہیں اگر نہیں ہو احمد قادیان ٢٨؍ ستمبر ١٨٩١ء مکتوبات

ڈھٹائی کی حد ہوگئی!! عشق

”اور سچ ہے وہ عور بیاہ ضرور ہوگا۔ عورت اب تک یقین کامل ہے۔ یہ خدا کی بات

صفحہ ٤٧٩

آپ اس خط کو اپنے صندوق میں محفوظ رکھئے۔ وہ اللہ تعالٰی کی طرف سے ہے اور میں جو کہا ہے وہ میں نے نہیں کہا بلکہ اللہ تعالٰی نے اپنے الہام میں مجھ سے کہلوایا ہے اگر میعاد گزر جائے تو میرے گلے میں رسی اور پاؤں میں زنجیر ڈالنا۔“

(آئینہ کمالات ص ٥٧٣، خزائن ج ٥ ص ایضاً از مرزا غلام احمد قادیانی)

ہائے عشق ! منت اور سماجت بھرا خط مرزا احمد بیگ کے نام

”میں اب بھی عاجزی اور ادب سے آپ کی خدمت میں ملتمس ہوں کہ اس رشتہ سے آپ انحراف نہ فرمائیں آپ کو شاید معلوم نہیں کہ یہ پیش گوئی اس عاجز کی ہزار ہا لوگوں میں مشہور ہو چکی ہے اور میرے خیال میں شاید دس لاکھ سے زائد آدمی ہوں گے۔ آپ سے التماس ہے کہ آپ اپنے ہاتھ سے اس پیش گوئی کے پورا ہونے کے لئے معاون بنیں تا کہ خدا تعالٰی کی برکتیں آپ پر نازل ہوں۔“

(خاکسار احقر عباد اللہ غلام احمد عفی عنہ ١٧؍ جولائی ١٨٩٢ء منقول از رسالہ کلمہ فضل رحمانی ص ١٢٣)

داروں کو بہت سے خط لکھے کہ ان کا رشتہ ان کی خواہش کے مطابق ہو جائے۔ مگر محمدی بیگم کا نکاح ایک شخص مرزا سلطان محمد نامی سے کر دیا گیا اور مرزا قادیانی محروم رہ گئے۔ وائے حسرت و ناکامی ! تمام پیشگوئیاں اور الہام خاک میں مل گئے اور جھوٹ اور جعلسازیوں کا پلندہ ثابت ہوئے۔ اس طرح مرزا قادیانی کاذب ثابت ہو گیا۔

اخویم منشی رستم علی صاحب سلمہ تعالٰی۔ السلام علیکم ! میں آپ سے دریافت کرنا چاہتا ہوں کہ نکاح اب تک ہوا یا نہیں اگر نہیں ہوا تو کیا وجہ ہے۔ مگر بہت جلد جواب ارسال فرمائیں۔“ (خاکسار غلام

احمد قادیان ٢٨؍ ستمبر ١٨٩١ء مکتوبات احمدیہ ج ٥ نمبر ٤ ص ١٤٢ مکتوب نمبر ٢٤٢، از مرزا غلام احمد قادیانی)

ڈھٹائی کی حد ہو گئی !! عشق کی سوزش !!

”اور سچ ہے وہ عورت (محمدی بیگم) میرے ساتھ بیاہی نہیں گئی مگر میرے ساتھ اس کا بیاہ ضرور ہوگا۔ عورت اب تک زندہ ہے۔ میرے نکاح میں وہ عورت ضرور آئے گی۔ امید کیسی یقین کامل ہے۔ یہ خدا کی باتیں ٹلتی نہیں ہو کر رہتی ہیں۔“ (مرزا غلام احمد قادیانی کا حلفیہ بیان عدالت

میں، بمقدمہ شیخ محمد حسین بٹالوی)

صفحہ ٤٨٠

ضلع گورداسپور میں کتاب منظور الہی ص ٢٣٤) مرزا غلام احمد قادیانی نے بڑے دعوے سے پیش گوئی کی تھی کہ محمدی بیگم کا خاوند مرزا سلطان محمد شادی کے بعد ڈھائی سال کے اندر ضرور مر جائے گا۔ مگر وائے ناکامی! وہ نہ مرا۔

ناکامی کا انتہائی رنج اور واویلا

”یاد رکھو اس پیش گوئی کی دوسری جزو پوری نہ ہوئی تو میں ہر ایک بد سے بدتر ٹھہروں گا۔ ارے احمقو یہ انسان کا افترا نہیں نہ یہ کسی خبیث مفتری کا کاروبار ہے۔ یقیناً سمجھو یہ خدا کا سچا وعدہ ہے۔“

(ضمیمہ انجام آتھم ص ٥٤، خزائن ج ١١ ص ٣٣٨)

پیش گوئی کا حسرت ناک انجام! خدا تعالیٰ کا عظیم فیصلہ!

مرزا قادیانی خود ہی لکھتے ہیں۔ ”١٦؍اپریل ١٨٩٦ء تک پوری نہ ہوئی۔ اس کے بعد اس عاجز کو (مرزا قادیانی) ایک سخت بیماری نے آلیا۔ یہاں تک کہ قریب موت نوبت پہنچ گئی۔ اس وقت یہ پیش گوئی گویا آنکھوں کے سامنے آگئی کہ اس وقت مجھے الہام ہوا۔ یہ بات تیرے رب کی طرف سے سچ ہے تو کیوں شک کرتا ہے اور مصیبت نے تجھے کیوں ناامید کر دیا تو نوامید مت ہو۔“

(ازالہ اوہام ص ٣٩٨، خزائن ج ٣ ص ٣٠٦)

ہاں جی! دنیا با امید قائم است۔ آخر اسی امید موہومہ کو دل میں لئے ہوئے ١٩٠٨ء میں مرزا قادیانی اس جہان سے رخصت ہو گئے اور یہ الہام کہ ”اس عورت (محمدی بیگم) کا نکاح آسمان پر میرے ساتھ پڑھا گیا ہے۔ دھرے کا دھرا رہ گیا اور ان کا آسمانی منکوحہ کے لئے چہرہ بھی خشک ہو گیا اور دل میں ہزاروں حسرتیں لئے جہان سے رخصت ہو گئے۔ جو مرزا قادیانی کے پیرو بن گئے۔ انہیں خبردار کیا جاتا ہے کہ قیامت کے دن ان سے باز پرس ہو گی کہ جب ان کی پیش گوئیاں جن کو انہوں نے اپنی نبوت کا اور اپنے کاذب اور صادق ہونے کا معیار قرار دیا تھا۔ پوری نہ ہوئیں تو پھر تم اس کے مکر کے جال میں کیوں پھنسے رہے۔ کیوں توبہ نہ کی اور اسلام کی طرف رجوع نہ کیا۔ انہیں یاد رکھنا چاہئے کہ مرزا قادیانی کی تمام پیش گوئیوں کا یہی حشر ہوا۔ انہیں معلوم ہوگا کہ مرزا قادیانی نے اپنے جس لڑکے کو موعود قرار دیا تھا اور اپنے لئے باعث برکت سمجھا تھا۔ وہ پیش گوئی کو غلط ثابت کرنے کے لئے انتقال کر گیا۔ ابھی وقت ہے توبہ کا دروازہ کھلا ہے۔ توبہ کرو۔ مرزائیت کو چھوڑ دو۔ ورنہ بالفاظ مرزا قادیانی ہاویہ تیار ہے۔

١٢

PDF 482

وما ارسلنک الا رحمۃ للعلمین

خاتم الانبیاء

(تیر ودود بر سینہ مردود)

حضرت مولانا عبدالودود قریشی

صفحہ ٤٨٢

بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

پیش لفظ !

احمدہ واصلی علی رسوله الكريم !

والد ماجدؒ کی تصنیف خاتم الانبیاء ﷺ ( تیر و دود بر سینه مردود ) حکومت انگریز کے زمانے میں شائع ہوئی اور چند ہی نسخے تقسیم ہوچکے تھے کہ ہمارے مکان پر چھاپہ پڑا اور کتاب کے بقیہ نسخے بحق سرکار ضبط کر لیے گئے اور ساتھ ہی والد ماجدؒ کی نقل و حرکت پر سخت پابندیاں عائد کردی گئیں اس پر بھی تسلی نہ ہوئی اور بالآخر والد ماجدؒ کو ضلع بدر کر دیا گیا۔ انگریزی دور میں آپ کو طرح طرح کی اذیتوں سے دوچار کیا گیا۔ یقیناً آپ کو اس بے سرو سامانی کے عالم میں سخت تکالیف اور آزمائشوں سے گزرنا پڑا لیکن آپ کے پائے ثبات میں ذرا بھر جنبش نہ آئی۔ ضلع بدری کے دوران ٢٧ رمضان المبارک ١٩٤٢ء میں والد ماجدؒ کو گرفتار کر لیا گیا۔

خاتم الانبیاء ﷺ ( تیر و دود بر سینه مردود ) کی ضبطی کے بعد ہماری لائبریری میں اس کا ایک نسخہ بھی موجود نہ تھا۔ جس کو دوبارہ شائع کیا جاتا۔

والد صاحبؒ کی وفات کے بعد آپ کے ایک قریبی تعلق دار کی لائبریری میں کتاب کے تین عدد نسخے محفوظ تھے جو کہ ناچیز کے اصرار پر انہوں نے دے دیئے۔

احقر کا خیال تھا کہ اس میں کچھ اضافہ کر کے مزید بڑھا دیا جائے۔ کچھ تیاری بھی کر لی تھی مگر اچانک ١٣ نومبر ١٩٨٢ء کو حکومت نے ناچیز کو ١٦ ایم پی او ( یعنی تحفظ امن عامہ ) کے قانون کے تحت ایک ماہ کے لئے ہری پور سنٹر جیل میں نظر بند کر دیا جس کی وجہ سے جو کام احقر کے ذہن میں تھا وہ تشنہ رہ گیا۔

ادارة الاشرف پبلی کیشنز خاتم الانبیاء ﷺ ( تیر و دود بر سینه مردود ) کو دوسری بار شائع کرنے کی سعادت حاصل کر رہا ہے۔ پہلے ایڈیشن میں کتابت کی جو غلطیاں رہ گئی تھیں اس کی تلافی کردی گئی ہے۔

اللہ جل جلالہ سے عاجزانہ درخواست ہے کہ وہ اس کتاب کو مسلمانوں کے لئے نافع فرمائے اور مسلمانوں کو ہر قسم کے فتنوں سے بچائے اور حضرت مصنفؒ کو اعلیٰ علیین میں اعلیٰ مراتب پر فائز فرمائے۔ آمین یا رب العلمین

اشرف علی قریشی مہتمم جامعہ اشرفیہ پشاور

صفحہ ٤٨٣

بسم الله الرحمن الرحیم

الحمد لله الذى ابدع الافلاك والارضين والصلوة والسلام على من كان نبياً و آدم بين الماء والطين وعلى آله واصحابه اجمعين

برادران اسلام! آج کل ہمارے مسلمانوں کی حالت نہایت ابتر اور ذلیل ہو رہی ہے۔ مذہبی پہلو سے بھی اور اقتصادی پہلو سے بھی، اقتصادی پہلو سے تو اس لئے کہ روز روشن کی طرح ظاہر ہے کہ ہم دنیا میں تمام اقوام عالم سے پست ہیں اور ہماری قومی ہستی معرض خطر میں ہے، اور مذہبی پہلو سے اس لئے کہ جس غرض کے واسطے سیدنا حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ مبعوث ہوئے تھے اس سے ہم غافل ہیں اور حضور ﷺ کی تعلیمات کو ہم نے پس پشت ڈال دیا ہے۔ مال دار و آسودہ حال حضرات جو کہ قوم کی بہبودی اور ترقی میں کافی سے زیادہ حصہ لے سکتے ہیں اپنے دنیاوی جاہ و جلال اور عیش و عشرت میں مشغول ہیں آخرت کی کچھ پرواہ نہیں اور عوام کا تو کچھ پوچھو ہی نہیں۔ اگر آج ہم رسول خدا ﷺ کی تعلیمات کو پس پشت نہ ڈالتے اور مغربی تعلیم کو اس پر ترجیح نہ دیتے تو آج ہماری یہ حالت زار نہ ہوتی اور ہم آئے دن کسی کے دام تزویر میں نہ پھنستے اور نہ اتنے فتن برپا ہوتے، ہماری بے علمی کا یہ حال ہے کہ اگر کسی نے عربی کا ایک شعر پڑھا تو ہم کہنے لگ جاتے ہیں کہ واہ واہ کیا خوش آوازی سے قرآن شریف پڑھتا ہے یا کسی نے آیت شریفہ لکھی اور اس کے نیچے غلط ترجمہ لکھ دیا تو ہم کہتے ہیں کہ فلاں آدمی بڑا ماہر اور صاحب علم ہے۔ اس نے اپنے مدعا کے لئے قرآن شریف کا حوالہ پیش کیا ہے۔ جیسا کہ مرزا قادیانی کی یہ عادت ہے جس نے بسبب بے علمی مخلوق کے اسلام اور اہل اسلام کو وہ نقصان پہنچایا ہے۔ اور وہ فتنے برپا کئے ہیں کہ جس کی کوئی حد نہیں اور وہ فتنے آج کل ہمارے لئے وبال جان بن رہے ہیں۔

یہ امر اظہر من الشمس ہے کہ جو نقصانات مرزے اور مرزے کے چیلوں نے اسلام اور اہل اسلام کو پہنچائے ہیں وہ اپنی اس حرکت میں اپنی نظیر نہیں رکھتا، اس میں یگانہ روزگار ہیں اس میں کوئی شک نہیں کہ مرزے سے پیشتر بھی بہت سے لوگ گزرے ہیں جو کہ گلشن اسلام کی اصلی تصویر کو بدلانے کے درپے تھے اور بظاہر مدعی نبوت ہوئے تھے مگر مرزا ان سے اس اعتبار سے بڑھ کر ہے کہ اس لعین نے دنیا میں کسی ایسی نیک ہستی کو نہیں چھوڑا جس کی اس نے توہین نہ کی ہو اور اس پر اپنی فضیلت ظاہر نہ کی ہو۔ چنانچہ خدائے تعالیٰ اور سیدنا حضرت خاتم المرسلین ﷺ ، حضرت عیسیٰ علیہ السلام، حضرت مریم، باقی انبیاء علیہم السلام، حضرت علی، حضرت امام حسین، حضرت

٣٠

صفحہ ٤٨٤

فاطمہ، صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین، قرآن کریم، حدیث شریف، مدینہ منورہ، سادات عظام، اولیاء ذوی الاحترام، پیران عالی مقام، گدی نشینان، وکلاء، افسران، ملازمت پیشگان، باقی تمام مسلمان مرد و عورت کو درجہ بدرجہ سخت الفاظ کہے ہیں اور ان کی توہین کی ہے۔

اولاً میں آپ کے سامنے ان دجالوں کی فہرست پیش کرتا ہوں جو کہ مرزائے قادیان سے پیشتر مدعی نبوت ہوئے تھے اور بعد ازاں دعاوی کفریہ اور اقوال مغلظہ مرزا غلام احمد قادیانی بحوالہ کتاب ذکر کروں گا۔ اور بعد ازاں از روئے آیات الٰہی و حدیث نبویﷺ اور اقوال سلف صالحین سے یہ ثابت کروں گا کہ آنحضرتﷺ خاتم النبیین ہیں۔ اس کے بعد کوئی بھی نبی نہیں ہوسکتا اور اگر کوئی نبوت کا دعویٰ کرے تو وہ کافر ہے کذاب ہے دجال ہے۔ ضال اور مضل ہے اور اس کا ماننے والا بھی کافر ہے اور دائرہ اسلام سے خارج ہے، غور سے ملاحظہ فرماویں۔

مدعیان نبوت خانہ ساز کی فہرست

اس نے رسول خداﷺ کے زمانہ میں نبوت کا دعویٰ کیا اور حضورﷺ کی خدمت میں عریضہ لکھا کہ حکومت میں آپ کا شریک ہوں، اگر سلطنت میں آپ آدھی جگہ مجھے دے دیں تو خوب گزرے۔ ورنہ میں لڑوں گا تو حضورﷺ نے جواب میں تحریر فرمایا: ”من محمد رسول الله الى مسيلمة الكذاب ان الارض لله والعاقبة للمتقين (بخاری ص ٦٢٨)“ ترجمہ: ”یہ فرمان خدا کے رسولﷺ کی طرف سے جھوٹے مدعی نبوت مسیلمہ کذاب کے نام ہے بے شک زمین خدا کے لئے ہے اور انجام کار (حسن عاقبت) پرہیزگاروں کے لئے ہے۔“ تاریخ کامل میں لکھا ہے کہ اس مردود نے دعویٰ نبوت کر کے نماز معاف کر دی تھی، زنا کاری اور شراب خوری حلال کر دی تھی اور اس کے متبعین کی تعداد ایک لاکھ سے زیادہ ہو گئی تھی اور زمانہ صدیق اکبرؓ میں حضرت خالد بن ولیدؓ کے ہاتھ سے ایک زبردست لڑائی کے بعد ہلاک ہوا۔ لعنت الله عليه

یہ ایک عورت تھی مدعیہ نبوت ہوئی تھی اور کہا کرتی تھی کہ حضورﷺ نے جو (لانبی بعدی) فرمایا یعنی مرد نبی کی نفی ہے نہ عورت نبیہ کی۔ مگر جب اس نے مسیلمہ کا برا حشر دیکھا تو توبہ کر لی اور گھر میں بیٹھ گئی۔

(بہشتی زیور کامل ص ٦٦٨)

اس نے بھی آنحضرتﷺ بن عوف تھا یہ مردود ہر وقت مخمور رہتا کر پیا کرتا تھا اسی وجہ سے اسے ذوالخمار بڑے بڑے عجائبات لوگوں کو دکھلاتا داخل کر کے مقام صنعاء پر قبضہ کر لیا بڑے چالاک اور چلتے پھرتے پرزے حضورﷺ نے اپنی وفات سے پانچ نوٹ: مسیلمہ کذاب اور

یہ ایک یہودی تھا جس نام صیاد تھا بچپن ہی سے اس کی یہ لوگوں کو مسحور بنا دیتا تھا۔ آخر میں یہ

یہ قبیلہ بنی اسد کا ایک مجھے ہی قادیانی نبی کی طرح وحی غطفان جو کہ معروف مشہور بہا

(تاریخ کامل)

اس نے بھی دعویٰ ن

یہ شخص خراسان کا کے بعد اسے ہلاک کر دیا۔

صفحہ ٤٨٥

٣...... اسود عنسی

اس نے بھی آنحضرت ﷺ کے زمانہ میں دعویٰ نبوت کیا تھا اس کا نام عینہ بن کعب بن عوف تھا یہ مردود ہر وقت مخمور رہتا تھا مرزائے قادیان کی طرح یہ بھی خاص خاص قسم شراب منگوا کر پیا کرتا تھا اسی وجہ سے اسے ذوالخمار کے لقب سے پکارتے تھے یہ بڑا زبردست شعبدہ باز تھا۔ بڑے بڑے عجائبات لوگوں کو دکھلا کر اپنا گرویدہ بنادیا کرتا تھا۔ اس لئے چند سو آدمی اپنے گروہ میں داخل کر کے مقام صنعاء پر قبضہ کرلیا تھا۔ اس کے دو وزیر تھے۔ ایک قیس اور دوسرا عمیس یہ دونوں بڑے چالاک اور چلتے پھرتے پرزے تھے۔ آخر یہ ملعون بھی فیروز دیلمی کے ہاتھ سے مارا گیا اور حضور ﷺ نے اپنی وفات سے پانچ روز پیشتر اس کی موت کی خبر دی تھی جو صحیح نکلی۔ (تاریخ کامل) نوٹ: مسیلمہ کذاب اور اسود عنسی کا ذکر بخاری شریف (ص ٦١٨) میں مذکور ہے ملاحظہ ہو۔

٤...... ابن صیاد

یہ ایک یہودی تھا جس نے نبوت کا دعویٰ کیا تھا اس کا نام صافی تھا اور اس کے باپ کا نام صیاد تھا بچپن ہی سے اس کی یہ حالت تھی کہ لوگوں کو عجیب و غریب شعبدے دکھایا کرتے تھے اور لوگوں کو مسحور بنادیتا تھا۔ آخر میں مسلمان ہوکر اپنی واہیات سے توبہ کی۔

(مشکوٰۃ ص ٤٨١ باب قصہ ابن صیاد)

٥...... طلیحہ بن خویلد اسدی

یہ قبیلہ بنی اسد کا ایک آدمی تھا عہد صدیقی میں مضافات خیبر سے نکلا اور یہ بکتا تھا کہ مجھے بھی قادیانی نبی کی طرح وحی ہوتی ہے اور یہ بھی ایک گھمسان لڑائی کے بعد قبیلہ بنی اسد اور بنی غطفان جو کہ ہمراہ طلیحہ بغاوت کرچکے تھے مسلمان ہونے کے بعد اس نے بھی اسلام قبول کیا (تاریخ کامل)

٦...... مختار ثقفی

اس نے بھی دعویٰ نبوت کیا تھا اور چالاکی سے تھوڑے لوگوں کو اپنا محکوم کیا۔

(ابو الفدا ج ١ ص ١٨٥ بحوالہ ترجمان السنۃ ج ٣ ص ٤٩٦)

٧...... عثمان بن نہیک

یہ شخص خراسان کا تھا ایک بڑی قوم کا سرکردہ تھا سجین بن ذاکرہ نے ایک بڑی لڑائی کے بعد اسے ہلاک کردیا۔

(بہشتی زیور کامل ص ٢٦٨)

٥

صفحہ ٤٨٦

٨....... اوامیہ

یہ ایک عورت تھی جس نے سن سو ہجری میں نبوت کا دعویٰ کیا تھا۔ سوڈان کی رہنے والی تھی۔ انہوں نے اسے پکڑ کر جلد از جلد ہلاک کر دیا۔

٩....... قبیلہ

یہ سوادیہ میں ایک شخص تھا ٣٩٩ھ نہاوند کا رہنے والا تھا اس مردود نے اپنے واسطے چار یار بنائے تھے اور ان کے نام ابوبکر، عمر، عثمان اور علی رکھے تھے۔ خلیفہ مستظہر باللہ نے ایک شاہی فوج سے اس کا مقابلہ کیا اور مار ڈالا۔

١٠...... استاذ سیس

یہ شخص ملک خراسان میں بعہد خلافت خلیفہ منصور عباسی ١٥٠ھ میں ظاہر ہوا اہل ہرات وغیرہ اس کے تابع ہوگئے تھے۔ اشتم حاکم نے اس کا مقابلہ کیا مگر استاذ سیس کے ساتھ دو لاکھ کی تعداد میں فوج تھی اس لئے اشتم کو شکست ہوئی پھر خلیفہ منصور نے حازم بن خزیمہ کو ایک جرار فوج کے ساتھ اشتم کی اعانت کے لئے بھیجا بعد ازاں لڑائی دوبارہ شروع ہوئی اس لڑائی میں اس دجال کے ستر ہزار آدمی مارے گئے اور خود مع اپنی اولاد کے اور چودہ ہزار متعلقین کے اسیر ہوا اور ایک سال کے اندر اندر اس کا کل تانا بانا ملیا میٹ کر دیا گیا اس دجال نے دعویٰ نبوت کر کے فسق و فجور اور راہزنی کا عام رواج پھیلایا۔

١١...... عطاء

یہ شخص مقنع کے نام سے مشہور تھا قصبہ کاوہ کا رہنے والا تھا جو مضافات مرو میں ہے۔ ذات کا دھوبی تھا اور کہا کرتا تھا کہ اللہ تعالیٰ تمام نبیوں میں حلول کرتا ہے اور اب مجھ میں بھی حلول کیا ہے۔ نہایت کریہہ المنظر اور پست قد تھا۔ خلیفہ مہدی نے اسکو ایک قلعہ میں محصور کیا جب اس کو یقین ہوا کہ اب بچاؤ کی کوئی صورت نہیں تو اپنے بچوں اور بیوی اور متعلقین کو جمع کر کے کہا کہ جو شخص میرے ساتھ آسمان پر جانا چاہتا ہے تو وہ آگ میں میرے ساتھ کود پڑے چنانچہ وہ معہ اپنے کل رفقاء کے آگ میں کود پڑے اور جل کر راکھ ہو گئے۔

١٢...... عیسیٰ بن مہرویہ

یہ شخص بھی قرمطی یحییٰ زکرویہ کا چچازاد بھائی تھا اس نے اپنا لقب مدثر ظاہر کیا تھا۔ خلیفہ مکتفی باللہ کے زمانہ میں مردار کیا گیا۔

٦

١٣...... ابو جعفر محمد بن علی

یہ مردود ابو العزاقر کے نام مذہب کا شیعہ تھا تھوڑے عرصے کے قادیان کی طرح الوہیت کے دعوے شریعت کو اس نے الٹ پلٹ دیا تھا اور حلال ہیں۔ جس کے ساتھ جس کا جی چ قائل تھا۔ خلیفہ راضی باللہ نے اس کے کے ساتھ قید کر لیا اور سولی پر چڑھا کر دوز

١٤...... سمیوز

یہ بھی مدعی نبوت ہوا معتمد کا سر نیزے پر نصب کر کے بازاروں

١٥...... یحییٰ ابن زکرویہ

یہ بھی مدعی نبوت ہوا تھا لوگو اس مردود نے تباہ کیا تھا۔

١٦...... سلیمان قرمطی

یہ بھی مدعی نبوت ہوا اس حجامت کر لی تھی۔

١٧...... محمد بن تومرث

یہ بھی مدعی نبوت ہوا تھا بہ

١٨...... لا؟

یہ بھی ایک شخص تھا اور بکوا بعدی) فرمایا ہے وہ میری طرف اش

١٩...... احمد متنبی

یہ ایک مشہور فصیح و بلیغ شا بہکایا کرتا تھا اس کے باپ کا نام حسی

صفحہ ٤٨٧

١٣......ابو جعفر محمد بن علی

یہ مردود ابوالعزاقر کے نام سے مشہور تھا راضی باللہ خلیفہ عباسی کے عہد میں ظاہر ہوا تھا مذہب کا شیعہ تھا تھوڑے عرصے کے بعد جب لوگ اس کے معتقد ہوئے تو اس نے مرزائے قادیان کی طرح الوہیت کے دعوے شروع کر دیئے۔ انبیاء علیہم السلام کو خائن بتایا کرتا تھا۔ شریعت کو اس نے الٹ پلٹ دیا تھا اور نکاح کرنا ایک عبث چیز سمجھتا تھا اور کہا کرتا تھا کہ تمام عورتیں حلال ہیں۔ جس کے ساتھ جس کا جی چاہے مباشرت کرے مرزائے قادیانی کی طرح تناسخ کا بھی قائل تھا۔ خلیفہ راضی باللہ نے اس کے پیچھے ایک جنگی لشکر روانہ کیا اور اس کو مع اس کے ہمراہیوں کے ساتھ قید کر لیا اور سولی پر چڑھا کر دارالبوار کو بھیجا۔

١٤...... بہیوز

یہ بھی مدعی نبوت ہوا معتمد علی اللہ خلیفہ عباسی نے اپنے عہد میں اس کو قتل کیا اور اس کا سر نیزے پر نصب کر کے بازاروں میں پھرایا گیا۔

١٥...... یحییٰ ابن زکرویہ

یہ بھی مدعی نبوت ہوا تھا لوگوں نے اس کو بڑے برے طریقے سے مردار کیا تھا۔ بغداد کو اس مردود نے تباہ کیا تھا۔

١٦...... سلیمان قرمطی

یہ بھی مدعی نبوت ہوا اس کی کنیت ابو طاہر تھی لوگوں نے نہایت اعلیٰ طریقے سے اس کی حجامت کر لی تھی۔

١٧...... محمد بن توہبرث

یہ بھی مدعی نبوت ہوا تھا بہت سے لوگوں کو اپنا فریفتہ بنا لیا تھا۔

١٨......لا؟

یہ بھی ایک شخص تھا اور مدعی نبوت ہوا تھا اور کہا کرتا تھا کہ حضور نے جو (لا نبی بعدی) فرمایا ہے وہ میری طرف اشارہ ہے یعنی لا نام مرد میرے بعد نبی ہوگا۔

١٩...... احمد متنبّی

یہ ایک مشہور فصیح و بلیغ شاعر تھا مرزا قادیانی کی طرح یہ بھی قصیدے وغیرہ لکھ کر لوگوں کو بہکایا کرتا تھا اس کے باپ کا نام حسین تھا اور کنیت ابوالطیب تھی کوفہ اس کا مسکن تھا کلام عرب پر ایسا

٧

صفحہ ٤٨٨

قادر تھا کہ بلا تکلف نظم ونثر کہہ سکتا تھا اس نے اپنا قرآن بھی بنالیا تھا۔ بطور نمونہ چند کلمات پیش کرتا ہوں: " والنجم السيار والفلك الدوار والليل والنهار، ان الكافر لفى اخطار امض على سنتك واقف اثر من قبلك من المرسلين فان الله قامع بك زيغ من الحد فى دينه وضل عن سبيله" قبیلہ بنی کلب وغیرہ اس کے تابع ہوئے تھے مگر بالآخر توبہ تائب ہوا نہایت شیر دل تھا۔ چونکہ اس نے ایک شخص کی بہن کی اپنے اشعار میں مذمت کی تھی جس پر وہ مشتعل ہوا اور اس کو قتل کر دیا ٣٥٤ھ میں قتل کیا گیا تھا۔

ایک بصری شخص نے اس کا کلام سنا اور فریفتہ ہوکر اس پر ایمان لایا اس کی ساری خصوصیات معلوم کر کے مقربین بارگاہ حارث میں مل گیا پھر اس نے کذاب کو بیت المقدس سے گرفتار کر کے عبدالملک کے پاس لایا اس نے ملعون کو سولی چڑھانے کا حکم دیا اور نیزہ مار کر ہلاک کردیا۔

(تلبیس ابلیس ص٤٤٤، ٤٤٣)

یہ مردود ١٨٣٩ء یا ١٨٤٠ء کو قادیان ضلع گورداسپور میں پیدا ہوا تھا اور ١٩٠٨ء ماہ مئی میں نہایت برے برے طریقے سے مردار ہوا، اس کے باپ کا نام غلام مرتضیٰ اور دادا کا نام عطاء محمد اور پردادا کا نام گل محمد تھا جب یہ مردود واصل جہنم ہوا تو اس کے متبعین کے دو گروہ ہو گئے۔ ایک اس کو مجدد مانتا ہے اور دوسرا گروہ اس کو نبی مانتا ہے گروہ اول کی قیادت اس وقت محمد علی ایم اے کے پاس ہے اور ان کا ہیڈ کوارٹر لاہور ہے اور گروہ ثانی کی قیادت اس وقت مرزا بشیر الدین پسر مرزا کے پاس ہے اور ان کا ہیڈ کوارٹر قادیان ہے اور یہ دونوں گروہ مع اپنے نبی کے کافر اور مرتد اور دائرہ اسلام سے خارج ہیں اور عجیب لطف تو یہ ہے کہ یہ دونوں گروہ آپس میں بھی ایک دوسرے کو کافر سمجھتے ہیں۔ اس کی وجہ مرزے کی من گھڑت باتیں ہیں کبھی کیا بنا اور کبھی کیا بنا۔

دعاوی کفریہ اور اقوال مغلظہ مرزا غلام احمد قادیانی (لعنة الله عليه)

مرزا کا خدائے مزعومہ (انجام آتھم ص ٥١، خزائن ج١١ ص ٥١) مرزا قادیانی پر وحی آتی ہے: " يا احمد يتم اسمك ولا يتم اسمى " اے مرزا قادیانی تیرا نام پورا ہو جائے گا اور میرا نام ناقص رہے گا۔

٨

خدا کے لئے خطا ثابت ک (حقیقت الوحی ص ٤ الرسول اجيب اخطى دیتا ہوں جس میں کبھی خطا کر خدا کے لئے اولاد ثابت (حقیقت الوحی ص ٨ بمنزلة ولدى“ یعنی اے اس وحی سے ظاہر ہے کہ خدا ربي ولا ينسى حضرت عیسیٰ علیہ السلا (ازالہ اوہام ص ٣ ساتھ بائیس برس تک نجار کا نوٹ ...... حضرت عیسیٰ علی عیسیٰ علیہ السلام بغیر باپ عند الله كمثل ادم ( علیہ السلام کی بے نقط الغیر ا تھے۔ جس پر قرآن عزیز ش حضرت عیسیٰ علی حضرت عیسیٰ علیہ الس (نور الحق ص ٨٠ الشيطان عيسى علي

صفحہ ٤٨٩

خدا کے لئے خطا ثابت کرنا

(حقیقت الوحی ص ١٠٣ خزائن ج ٢٢ ص ١٠٦) مرزا قادیانی پر وحی آتی ہے: "انی مع الرسول اجیب اخطی واصیب" یعنی خدا کہتا ہے کہ میں رسول کے ساتھ ہوں اور جواب دیتا ہوں۔ جس میں کبھی خطا کرتا ہوں اور کبھی صواب۔

خدا کے لئے اولاد ثابت کرنا

(حقیقت الوحی ص ٨٩ خزائن ج ٢٢ ص ) مرزا قادیانی پر وحی آتی ہے: "انت منی بمنزلۃ ولدی" یعنی اے مرزا قادیانی تو میرے بیٹے کے قائم مقام ہے۔ نوٹ مرزا کی مشرکیت اس وحی سے ظاہر ہے کہ خدا کا کوئی ولد نہیں لم یتخذ صاحبۃ ولا ولدا اور نہ کبھی خطا کرتا ہے۔ لا یضل ربی ولا ینسی

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی شان میں گستاخیاں

(غور سے ملاحظہ فرمائیں)

(ازالہ اوہام ص ٣٠٣ خزائن ج ٣ ص ٢٥٤) "حضرت ابن مریم اپنے باپ یوسف نجار کے ساتھ بائیس برس تک نجاری کا کام کرتے تھے۔"

نوٹ ...... حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا کوئی باپ نہ تھا اور نہ حضرت مریم کا کوئی شوہر تھا۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام بغیر باپ کے پیدا ہوئے تھے۔ اللہ پاک ارشاد فرماتا ہے: "ان مثل عیسی عند اللہ کمثل ادم (آل عمران: ٥٩) "یعنی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی مثال مثل حضرت آدم علیہ السلام کی ہے فقط بغیر باپ کے پیدا ہونے میں اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کلمۃ اللہ اور روح اللہ تھے۔ جس پر قرآن عزیز (مریم: ١٧ تا ٢٢) گواہ ہے ملاحظہ ہو۔

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو اس دریدہ دہن نے نعوذ باللہ ولدالزنا قرار دیا ہے۔

(ملاحظہ ہو مکتوبات احمدیہ ج ٣ ص ٢٨)

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو کلیم الشیطان بتانا

(نورالحق ص ٥٠، خزائن ج ٨ ص ٦٨ حاشیہ) "کلم اللہ موسی علی جبل وکلم الشیطان عیسی علی جبل" یعنی موسیٰ کلیم اللہ تھے اور حضرت عیسیٰ کلیم الشیطان تھے۔

٩

صفحہ ٤٩٠

میرے دوستو! اس دجال اعظم نے جو گستاخیاں اور ناپاک جملے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی شان مبارک میں کہے ہیں اگر اس کو تفصیل کے ساتھ تحریر کروں تو اس سے ایک ضخیم کتاب بن جائے۔ مگر معدودے چند کو بطور مشت نمونہ خروارے کے ذکر کر دیا۔

اب آپ خود اندازہ لگائیں کہ مرزا کون تھا۔ ہماری بدقسمتی سے ہماری مہربان گورنمنٹ کی پالیسی بھی مرزائیت نوازی میں نظر آتی ہے۔ مرزائی جو کچھ بھی کریں اس کی بلا سے اس کی کچھ بھی پرواہ نہیں، اور اگر ایک مسلمان اپنی ایک درد بھری آواز کو ظاہر کرے تو براہ راست اس کو جیل بھیج دیا جاتا ہے اور یا اس کو نوٹس دیئے جاتے ہیں کہ آپ بحکم فلاں ایکٹ فلاں کی رو سے تبلیغ نہ کریں۔ چنانچہ ہمارے محترم مولانا غلام غوث صاحب ہزاروی صدر مجلس احرار اسلام صوبہ سرحد کو تین چار مہینہ سے یہ نوٹس ملا ہے کہ آپ ایک سال کے لئے ضلع پشاور میں قادیانیوں کے متعلق کوئی تقریر نہ کریں۔

ہم آہ بھی کرتے ہیں تو ہوجاتے ہیں بدنام
وہ قتل بھی کرتے ہیں تو چرچا نہیں ہوتا

توہین حضرت مریم

(کشتی نوح ص ١٧، خزائن ج ١٩ ص ١٨) ”اور مریم کی وہ شان ہے جس نے ایک مدت اپنے تئیں نکاح سے روکا پھر بزرگان قوم کے نہایت اصرار پر بوجہ حمل کے نکاح کرلیا تو لوگ اعتراض کرتے کہ برخلاف تعلیم تورات کے عین حمل میں کیوں نکاح کیا گیا اور بقول ہولے کے عہد کو کیوں ناحق توڑا گیا اور تعدد ازواج کی کیوں بنیاد ڈالی گئی یعنی باوجود یوسف نجار کی پہلی بیوی کے ہونے کے پھر مریم کیوں راضی ہوئی کہ یوسف نجار کے نکاح میں آوے مگر میں کہتا ہوں کہ یہ سب مجبوریاں تھیں جو پیش آگئیں اس صورت میں وہ لوگ قابل رحم تھے نا قابل اعتراض۔“

اس مردود کو دیکھو کہ مریم پر بھی بہتان باندھتا ہے جس کی پاکی پر قرآن عزیز کی سورہ مریم گواہ ہے۔

توہین حضرت امام حسینؓ

(دافع البلاء ص ١٣، خزائن ج ١٨ ص ٢٣٣) ”اے شیعہ اس پر اصرار مت کرو کہ حسین تمہارا منجی ہے کیونکہ میں سچ کہتا ہوں کہ آج تم میں ایک ہے کہ اس حسین سے بڑھ کر ہے۔“

١٠

(نزول المسیح ص ٤٥، خزائن ج ١٨

امام حسین کو رتبہ اہلیت کا بھی نہیں دیا بلکہ شا قرآن شریف میں موجود ہے۔“

نوٹ ....... مرزا کو اس قانون اور شیطان کا بھی بڑا رتبہ ہے اور ان کی بہ موجود ہے۔ مگر یہ کونسی بڑی بات ہے اگر مر بھی بڑا ہو کیونکہ جنس اپنی جنس کی طرف رغب

کند جنس
کبوتر با
کربلائے
صد حسین

(اعجاز احمدی ص ٦٩، خزائن ج ١٩

ہے کیونکہ مجھے تو ہر وقت خدا کی تائید اور م تک تم روتے ہو پس سوچ لو۔“ (اعجاز احم تمہارا حسین دشمنوں کا کشتہ ہے پس فرق کستوری کی خوشبو کے پاس گوہ کا ڈھیر ہے

نوٹ: اس شیطانی نبی قادیان اور پسر علی شیر خدا سید الشہداء حضرت حضورﷺ تو ان کی نسبت فرماتے ہیں: ” الجنۃ (مشکوٰۃ ص ٤٠٦) ”یعنی حسن و حسی حضور اکرم علیہ الوف الصلوٰۃ پرا

(اعجاز احمدی ص ٧١، خزائن ج ١٩

القمران المشرقان اتنکر ”اس

صفحہ ٤٩١

(نزول المسیح ص ٤٥، خزائن ج ١٨ ص ٤٢٤) ”افسوس شیعہ لوگ نہیں سمجھتے کہ قرآن نے تو امام حسین کو رتبہ اہلبیت کا بھی نہیں دیا بلکہ نام تک مذکور نہیں ان سے تو زید بھی اچھا ہے۔ جس کا نام قرآن شریف میں موجود ہے۔“

نوٹ ...... مرزا کو اس قانون کے ماتحت یہ بھی ضرور کہنا پڑے گا کہ قارون اور ہامان اور شیطان کا بھی بڑا رتبہ ہے اور ان کی بھی بڑی شان ہے کیونکہ ان کا نام بھی قرآن پاک میں موجود ہے۔ مگر یہ کوئی بڑی بات ہے اگر مرزا قادیانی کے نزدیک شیطان ، ہامان اور قارون کا مرتبہ بھی بڑا ہو کیونکہ جنس اپنی جنس کی طرف رغبت کرتا ہے اور اس کی مدح کرتا ہے۔

کند جنس باہم جنس پرواز
کبوتر با کبوتر باز با باز

(درثمین ص ١٩٧)

کربلائی است سیر ہر آنم
صد حسین است در گریبانم

(نزول المسیح ص ٩٩، خزائن ج ١٨ ص ٤٧٧)

(اعجاز احمدی ص ٦٩، خزائن ج ١٩ ص ١٨١) ”اور مجھ میں اور تمہارے حسین میں بہت فرق ہے کیونکہ مجھے تو ہر وقت خدا کی تائید اور مدد ہی مل رہی ہے مگر حسین پس تم دشت کربلا کو یاد کر لو اب تک تم روتے ہو پس سوچ لو۔“ (اعجاز احمدی ص ٨١، ٨٢، خزائن ج ١٩ ص ١٩٣) ”میں خدا کا کشتہ ہوں اور تمہارا حسین دشمنوں کا کشتہ ہے پس فرق کھلا کھلا ظاہر ہے۔ پس یہ اسلام پر ایک مصیبت ہے۔ کستوری کی خوشبو کے پاس گوہ کا ڈھیر ہے۔“

نوٹ: اس شیطانی نبی قادیانی کو دیکھو کہ جگر گوشہ مصطفیٰ ﷺ اور نور چشم فاطمۃ الزہرہؓ اور پسر علیؓ شیر خدا سید الشہداء حضرت امام حسینؓ کی شان مبارک میں کتنی گستاخی کرتا ہے۔ حضور ﷺ تو ان کی نسبت فرماتے ہیں: ”الحسن والحسین سیدا شباب اهل الجنۃ (مشکوٰۃ ص ٤٠٦)“ یعنی حسن و حسین اہل جنت کے نوجوانوں کے سردار ہوں گے۔

حضور اکرم علیہ الوف الصلوٰۃ پر اپنی فضیلت

(اعجاز احمدی ص ٧١، خزائن ج ١٩ ص ١٨٣) ”لہ خسف القمر المنير وان لی خسف القمران المشرقان اتنکر “ اس کے (یعنی نبی کریم کے) لئے چاند کا گرہن ہوا اور میرے

١١

صفحہ ٤٩٣

لئے چاند اور سورج کو گہن لگا پس کیا تو انکار کر سکتا ہے۔” غلام احمد تحدی سے محمدﷺ ہونے کا دعویٰ کرتا ہے۔ ملاحظہ ہو شعر مرزا؎

منم مسیح زمان و منم کلیم خدا
من محمد و احمد کہ مجتبیٰ باشد

(تریاق القلوب ص ٣، خزائن ج ١٥ ص ١٣٣)

حضرت نوح علیہ السلام پر اپنی فضیلت ثابت کرنا

(تتمہ حقیقت الوحی ص ١٣٧، خزائن ج ٢٢ ص ٥٧٥) ”اور خدا تعالیٰ میرے لئے اس کثرت سے نشان دکھلا رہا ہے کہ اگر نوح کے زمانہ میں وہ نشان دکھلائے جاتے تو وہ لوگ غرق نہ ہوتے۔“

حضرت آدم علیہ السلام پر اپنی فضیلت ثابت کرنا

(ملحقہ خطبہ الہامیہ ص الف حاشیہ، خزائن ج ١٦ ص ٣٧)” شیطان نے انہیں بہکایا اور جنت سے نکلوایا اور حکومت اس کی طرف لوٹائی گئی اس جنگ وجدال میں آدم کو ذلت اور رسوائی ہوئی اور جنگ کبھی اس رخ اور کبھی اس رخ ہوتی ہے اور دشمن کے یہاں پرہیزگاروں کے لئے نیک انجام ہے۔ اس لئے اللہ نے مسیح موعود کو پیدا کیا تا کہ آخر زمانہ میں شیطان کو شکست دے۔“

باقی انبیاء علیہم السلام پر اپنی فضیلت ثابت کرنا

آنچہ داد است ہر نبی را جام
داد آن جام را مرا بتمام
انبیائے اگر چہ بودہ اند بسی
من بعرفان نہ کمترم ز کسے

(نزول المسیح ص ٩٩، خزائن ج ١٨ ص ٤٧٧)

میں کبھی آدم کبھی موسیٰ کبھی یعقوب ہوں
نیز ابراہیم ہوں نسلیں ہیں میری بے شمار

(درثمین اردو ص ١٠٤)

(سراج منیر ص ٤١، خزائن ج ١٢ ص ٤٦) اس کو کیا کہو گے جو کہ (هو افضل من بعض الانبیاء) یعنی مرزا قادیانی بعض نبیوں سے بہتر ہے۔

١٢

صفحہ ٤٩٣

نوٹ: یہ تو میں مرزے کی کتابوں سے ثابت کر چکا ہوں کہ مرزے نے اپنی فضیلت بعض انبیاء سے بہتر ظاہر کی ہو اس سے تو کوئی اندھا بھی انکار نہیں کر سکتا۔ یہاں پر ایک دو گزارشیں کرنا ضروری سمجھتا ہوں غور سے ملاحظہ کرو۔ لاہوری مرزائی کہتے ہیں کہ مسلمان مرزے کو اس رو سے کافر کہتے ہیں کہ اس نے نبوت کا دعویٰ کیا ہے حالانکہ یہ بات غلط ہے۔ اس لئے کہ اس نے نبوت کا دعویٰ نہیں کیا یہ اس پر بہتان ہے۔ چلیے میں نے تھوڑی دیر کے لئے مان بھی لیا کہ مرزے نے نبوت کا دعویٰ کہیں بھی نہیں کیا اور اس رو سے کافر نہیں مگر اس کو کیا کرو گے کہ اہل سنت والجماعت کا عقیدہ ہے (قال ابن حبان من ذهب الى ان الولى افضل من النبى فهو زنديق يجب قتله ) یعنی ابن حبان فرماتے ہیں جو کہے کہ ولی نبی سے افضل ہو تو وہ زندیق ہے اور اس کا قتل واجب ہے تو اس سے معلوم ہوا کہ مرزا قادیانی اور اس کے حواری اگر اس رو سے کافر نہیں تو اس رو سے تو ضرور کافر ہیں۔ اب بھی دوستو مرزے کو مسلمان کہو گے؟ ذرا انصاف کرو اور دوم یہ کہ مرزے نے شعر مذکور میں آدم ہونے کا دعویٰ کیا ہے اور حضرت آدم تو تمام نبیوں کے باپ تھے۔ تو اس سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ مرزا کہتا ہے کہ میں بھی تمام نبیوں کا باپ ہوں۔ معاذ اللہ منہ

سوم یہ کہ مرزا نے شعر مذکور میں موسیٰ اور ابراہیم ہونے کا دعویٰ کیا ہے۔ لیکن میں نہیں سمجھتا کہ مرزا نے کونسی مشابہت کی وجہ سے موسیٰ علیہ السلام اور ابراہیم علیہ السلام کا دعویٰ کیا ہے۔ موسیٰ علیہ السلام نے تو اس فرعون کا مقابلہ کیا تھا اور اس کے منہ پر تھپڑ لگائے تھے جس نے انا ربکم الاعلیٰ کا دعویٰ کیا تھا اور حضرت ابراہیم علیہ السلام نے تو اس جابر بادشاہ نمرود کو زیر و زبر کیا تھا جو کہ انا احيى واميت کا ڈھول بجایا کرتا تھا۔ مگر مرزا قادیانی تو ایک سلطنت کو جو کہ فرعون اور نمرود کے سلطنت کے مقابلہ میں ہیچ ہے ہاتھ جوڑ کر عرض کرتا ہے کہ: ”حضور میں تو سرکار والا کا بصد دل و جان خیر خواہ ہوں اور میرے والد غلام مرتضیٰ کو دربار گورنری کی کرسی بھی ملتی تھی اور میرا بڑا بھائی غلام قادر بہت مدت تک انگریز سرکار کی خدمت کرتا رہا اس کی وفات کے بعد اگر چہ میں ایک گوشہ نشین آدمی تھا مگر تاہم سترہ برس ان کی خدمت کرتا رہا اور جہاد کی ممانعت کے بارے میں رسالے وغیرہ لکھتا رہا اور بلاد شام اور روم عراق اور افغانستان میں بھیجتا رہا تو کیا ایسے شخص سے یہ ممکن ہے کہ وہ دل میں کبھی بغاوت کا خیال رکھتا ہو۔“

(خلاصہ کتاب البریہ ص ٣٢٧ تا ٣٢٨ خزائن ج ١٣ ص ایضاً ملخص)

١٢

صفحہ ٤٩٤

مرزا کا یہ بھی ارشاد ہے کہ : ”میں نے جو جہاد کی ممانعت کے بارے میں رسالے وغیرہ لکھے ہیں اگر ان کو جمع کیا جائے تو پچاس الماریاں اس سے بھر جائیں ۔“

(تریاق القلوب ص ١٥ ،خزائن ج ١٥ ص ١٥٥ ملخص)

دوستو! آپ نے مرزا قادیانی کی باتیں سن لیں اب آپ خود بتائیں کیا نبی جہاد کی ممانعت کے لئے آتے ہیں اور وہ اتنے خوف کے پکے ہوئے جیسے کہ مرزا قادیانی؟

خاتون جنت حضرت فاطمۃ الزہرا کی شان میں گستاخی

(آئینہ کمالات ص ٤٣٩،ص ٥٥٠،خزائن ج ٥ ص ایضاً) ”وکنت ذات یوم فرغت من فريضة العشاء وسننها وانا مستيقظ ما اخذنى نوم ولاسنة وما كنت من النائمين فبينما انا كذلك سمعت صوت صك الباب فنظرت فاذا رجال مدر ياتوننى متسارعين فاذا دنو منى عرفت انهم خمسة مباركة اعنى علياً مع ابنيه وزوجته الزهراء وسيد المرسلين...... ورايت ان الزاهراء وضعت راسى على فخذها ونظرت اِلىّ نظرات......الخ“

خلاصہ مطلب یہ ہے مرزا کہتا ہے کہ شام کے بعد عین حالت بیداری میں میرے پاس پنج تن آئے اور فاطمۃ الزہرا نے میرے سر کو اپنی ران پر رکھا۔ (معاذ اللہ منہ)

دوستو! ہماری بدقسمتی سے قادیان میں ایسا نبی مبعوث کیا گیا جو کہ جگر گوشہ رسول خدا ﷺ فاطمۃ الزہرا کی شان مبارک میں بھی گستاخی کرنے سے دریغ نہیں کرتا۔ بروز قیامت تمام لوگوں کو حکم ہوگا کہ آنکھیں بند کرلو تا کہ میرے حبیب ﷺ کی دختر نیک اختر جنت کی طرف تشریف لے جائے۔ اور یہاں پر نبی قادیان کہتا ہے کہ میں نے ان کی ران مبارک پر سر رکھا یہ مسلمانوں کی دل آزاری نہیں تو اور کیا ہے؟ دور نہ جائیے اگر ایک شخص کہے کہ میں نے رات کو مرزا یا مرزا کے کسی حواری کی بیٹی کے سینہ پر یا ران پر سر رکھا تو کیا مرزا کو یا اس کے حواریوں کو یہ بات نہ بری نہ لگے گی؟ حالانکہ ان کی اور ان کی کیا نسبت خاک را چہ نسبت بہ عالم پاک، ان تمام مثالوں سے جو میں نے بحوالہ کتب مرزا ذکر کئے ہیں۔ معلوم ہوا کہ مرزائے قادیانی اگرچہ قادیان میں مبعوث کیا گیا ہے تو صرف توہین سلف صالحین اور لعن طعن اور اتمام اخلاق رذیلہ کے لئے مبعوث کیا گیا ہے۔ (لعنة الله عليه وعلى من تبعه الى يوم القيامة)

١٤

خدا تعالیٰ بھی مرزا سے شرمـ

(حقیقت الوحی ص ٤٥٦

مجھ کو پکارا کہ مرزا نہیں کہا بلکہ مرزا یہ ہے کہ باوجود اس کے کہ میری ہـ مگر پھر بھی خدا کو میرے نام لینے سے روک دیا۔ (ملخص)

نوٹ ...... نہایت تو ہے کہ حضرت محمد ﷺ ، حضرت آد حضرت عیسیٰ ، حضرت داؤد ، حضر نام اللہ پاک نے لئے ہیں مگر مرزا خدائی کے دعوے (نعوذ باللـ

(الاستفتاء ص ٨٠، خزائن

قادیانی تو مجھ سے ہے اور میں تجھ ”الارض والسمـ ایسے ہیں جیسا کہ میرے ساتھ ہیں

(الاستفتاء ص ٨٢، خزائن

وتفریدی“ اے مرزا قادیانی تو

نوٹ: مرزا کا دعویٰ ہـ اس حد تک تو مرزے تمام دعوے مرزا قادیانی کے جھو سچ ہیں مگر چونکہ مرزا قادیانی کتا کثـ اس لئے بعض لوگوں بـ کو بھی جھوٹ کہوں مثلاً مرزا قادیانـ نہیں رہا اب وہ بچہ ہو گیا تو بعض د اس لئے کہ کہیں مرد کو بھی حیض آیا ہـ ہے اس لئے کہ جب کہ حضور علیہ ا

صفحہ ٤٩٥

خدا تعالیٰ بھی مرزا سے شرم کرتا ہے (نعوذ باللہ)

(حقیقت الوحی ص ٣٥٦، خزائن ج ٢٢ ص ٣٦٩) لیکن تعجب کہ کیسے بڑے ادب سے خدا نے مجھ کو پکارا کہ مرزا نہیں کہا بلکہ مرزا قادیانی کہنا چاہئے کہ یہ لوگ خدا تعالیٰ سے ادب سیکھے دوسرا تعجب یہ ہے کہ باوجود اس کے کہ میری طرف سے یہ درخواست تھی کہ الہام میں میرا نام ظاہر کیا جائے۔ مگر پھر بھی خدا کو میرے نام لینے سے شرم دامن گیر ہوئی شرم کے غلبہ نے میرا نام زبان پر لانے سے روک دیا۔“ (ملخص)

نوٹ ...... نہایت تعجب کی بات ہے کہ مرزا کا مرتبہ تمام انبیاء علیہم السلام سے بڑھ گیا ہے کہ حضرت محمد ﷺ و حضرت آدم، حضرت ابراہیم، حضرت نوح، حضرت شعیب، حضرت سلیمان، حضرت عیسیٰ، حضرت داؤد، حضرت یوسف، حضرت ہارون، حضرت زکریا وغیرہ علیہم السلام کے نام اللہ پاک نے لئے ہیں مگر مرزے کے نام لینے میں خدا کو شرم دامن گیر ہوا۔

خدائی کے دعوے (نعوذ باللہ منہا)

(الاستفتاء ص ٨٠، خزائن ج ٢٢ ص ٧٠٦)

”انت منى وانا منك“ یعنی اے مرزا قادیانی تو مجھ سے ہے اور میں تجھ سے ہوں۔

”الارض والسماء معك كما هو معى“ زمین و آسمان اے مرزا تیرے ساتھ ایسے ہیں جیسا کہ میرے ساتھ ہیں۔

(الاستفتاء ص ٨٢، خزائن ج ٢٢ ص ٧٠٩)

”انت منى بمنزلة توحيدى وتفريدى“ اے مرزا قادیانی تو میرے توحید کا مرتبہ رکھتا ہے۔

نوٹ: مرزا کا دعویٰ ہے کہ یہ وحی ہیں جو خدا کی طرف سے مجھ پر نازل ہوئی ہیں۔

اس حد تک تو مرزے کے دعاوی کفریہ بیان کر چکا اور یہ آپ پر لا محالہ ظاہر ہے کہ یہ تمام دعوے مرزا قادیانی کے جھوٹے ہیں البتہ بعض دعاوی مرزے کے اس طرح بھی ہیں جو بالکل سچ ہیں مگر چونکہ مرزا قادیانی کو اکثر جھوٹ کی عادت تھی۔

اس لئے بعض لوگوں نے اس کے سچ کو بھی جھوٹ بتلایا مگر مجھ میں وہ تعصب نہیں کہ سچ کو بھی جھوٹ کہوں مثلاً مرزا قادیانی نے کہا ہے کہ مجھ کو حیض ہوا اور بعد میں لکھا ہے کہ اب وہ حیض نہیں رہا اب وہ بچہ ہو گیا تو بعض حضرات مرزا قادیانی پر یہ اعتراض کرتے ہیں کہ یہ جھوٹ ہے۔ اس لئے کہ کہیں مرد کو بھی حیض آیا ہے اور کبھی مرد کو بھی حمل ہوا ہے۔ مگر میں کہتا ہوں کہ یہ بالکل سچ ہے اس لئے کہ جب کہ حضور علیہ السلام کے زمانہ میں ایک یہودی معراج شریف سے منکر ہوا تھا تو

١٥

صفحہ ٤٩٦

وہ یہودی عورت بن گیا تھا اور اس کے چند بچے اس سے پیدا ہوئے تھے۔ یہ رسول خدا علیہ الصلوٰۃ والسلام کا کھلا معجزہ تھا جو شخص معراج شریف سے منکر تھا اور اس کا یہ حشر ہوا تو اس میں کون سی تعجب کی بات ہے کہ جو شخص ختم نبوت کا منکر ہو اس کو حمل ہو گیا ہو؟ یہ تو حضور ﷺ کا ظاہر باہر معجزہ ہے۔ البتہ اتنا شک مجھے بھی ہے کہ مرزے کا وہ حمل کچے دنوں میں گر کر ضائع ہوا یا اپنی میعاد پر پیدا ہوا ہے۔ اگر اپنی میعاد پر پیدا ہوا ہو تو برائے مہربانی مرزا قادیانی یہ بتائے کہ وہ اب کہاں پر سکونت پذیر ہے اور اس کا نام کیا ہے؟ مزید مہربانی ہوگی۔

اس کے بعد اب میں از روئے قرآن کریم اور احادیث نبوی ﷺ اور اقوال سلف صالحین سے یہ ثابت کرتا ہوں کہ حضور ﷺ اللہ کے آخری رسول ہیں اور آپ کے بعد مدعی نبوت کافر اور دجال ہے۔ چاہے مرزا قادیانی ہو یا اس کا کوئی اور بھائی ہو لیکن چونکہ لاہوری قادیانی اکثر عام طور پر سادہ لوح مسلمانوں کو یہ دھوکہ دیتے ہیں کہ مرزا قادیانی نے کہیں بھی نبی ہونے کا دعویٰ نہیں کیا یہ اس پر بہتان ہے لہٰذا میں مرزے کی کتابوں سے بتلانا چاہتا ہوں کہ وہ مدعی نبوت ہوا تھا غور سے ملاحظہ کرو پھر خود انصاف کرو۔

مرزا مدعی نبوت ہوا تھا (لعنت اللہ علیہ)

مخصوص کیا گیا ہوں اور دوسرے تمام لوگ اس نام کے مستحق نہیں۔“

انبیاء نے نبی اللہ رکھا ہے۔“

نے بھی مسیح موعود کا نام نبی اور رسول رکھا ہے۔“

بھیجا۔“

سے یہ ظاہر کیا گیا کہ میں امتی بھی اور نبی بھی ہوں۔“

مریم سے کیا نسبت ہے وہ نبی ہے اور خدا کے بزرگ مقربین میں سے ہے۔ اگر کوئی امر میری

١٦

نسبت ظاہر ہوتا تھا تو میں اس کو جزوی ف طرح میرے اوپر نازل ہوئی اس نے خطاب مجھے دیا گیا۔“

نوٹ....... دیکھو مرزا قادیانی کتنی دلیری بارش کی طرح میرے اوپر نازل ہوئی ا ملاحظہ ہو۔ (اوائل میں میرا یہ عقیدہ تھا ک کے بزرگ مقربین میں سے ہے) تو ا کے رو سے وہ تین باتوں کا قائل ہوا اول السلام اللہ کے بزرگ بندوں میں سے ہی چنانچہ مرزا کا شعر بھی ہے۔

ابن مریم ک
اس سے ب

اے آسمان تو کیوں نہ گرا ا حضرت عیسیٰ علیہ السلام جیسے جلیل القدر نہیں کرتا۔ لعنۃ اللہ علیہ

(دافع البلاء ص ١٠، خزائن ج ١٨ ص

بجائے گا۔ کیونکہ یہ اس کے رسول کا تخ

مذکورہ حوالہ جات سے آپ شک نہیں کہ مرزے نے بعض بعض ج لاہوری پارٹی والے قادیانی کہتے ہیں ہے اس میں مراق یعنی پاگل پنے کے

معشوق ما
باما شرا

اس لئے یہ کوئی قابل اعتبا

صفحہ ٤٩٧

نسبت ظاہر ہوتا تھا تو میں اس کو جزوی فضیلت قرار دیتا تھا مگر بعد میں جو خدا تعالیٰ کی وحی بارش کی طرح میرے اوپر نازل ہوئی اس نے مجھے اس عقیدے پر قائم نہ رہنے دیا اور صحیح طور پر نبی کا خطاب مجھے دیا گیا۔“

نوٹ ...... دیکھو مرزا قادیانی کتنی دلیری کے ساتھ کہتا ہے۔ ( مگر بعد میں جو اللہ تعالیٰ کی وحی بارش کی طرح میرے اوپر نازل ہوئی اس نے مجھے اس عقیدہ پر قائم نہ رہنے دیا ) تو وہ عقیدہ کیا تھا ملاحظہ ہو۔ ( اوائل میں میرا یہ عقیدہ تھا کہ مجھ کو مسیح ابن مریم سے کیا نسبت ہے وہ نبی ہے اور خدا کے بزرگ مقربین میں سے ہے ) تو جب مرزا اس عقیدہ سے منکر ہوا تو اس بناء پر مرزا کے قول کے رو سے وہ تین باتوں کا قائل ہوا اول یہ کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نبی نہ تھے۔ دوم یہ کہ عیسیٰ علیہ السلام اللہ کے بزرگ بندوں میں سے نہ تھے۔ سوم یہ کہ مرزا حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے بہتر تھا۔ چنانچہ مرزا کا شعر بھی ہے۔

ابن مریم کے ذکر کو چھوڑ دو
اس سے بہتر غلام احمد ہے

(دافع البلاء ص ٢٠، خزائن ج ١٨ ص ٢٤٠)

اے آسمان تو کیوں نہ گرا اور اے زمین تو کیوں نہ پھٹی ایک ایسے بدبخت پر جو کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام جیسے جلیل القدر نبی کی شان مبارک میں گستاخی کرنے سے ذرہ بھر بھی پرہیز نہیں کرتا۔ لعنۃ اللہ علیہ

(دافع البلاء ص ١٠، خزائن ج ١٨ ص ٢٣٠)

”قادیان کو اس کی ( طاعون ) خوفناک تباہی سے بچائے گا۔ کیونکہ یہ اس کے رسول کا تخت گاہ ہے۔“

مذکورہ حوالہ جات سے آپ کو بخوبی معلوم ہو گیا ہوگا کہ مرزا مدعی نبوت ہوا تھا اس میں شک نہیں کہ مرزے نے بعض بعض جگہ کہا ہے کہ میں نبی نہیں ہوں اور میرا منکر کافر نہیں ہے جیسے لاہوری پارٹی والے قادیانی کہتے ہیں مگر یہ یاد رکھنا چاہئے کہ یہ مخالف اور متضاد باتیں جو مرزا بکا ہے اس میں مراق یعنی پاگل پنے کے جلوے تھے ایک سے ملا تو کچھ بکا اور دوسرے سے ملا تو کچھ بکا۔

معشوق ما بشیوه هر کس برابر است
با ما شراب خورد و با زاهد نماز کرد

اس لئے یہ کوئی قابل اعتبار بات نہیں کہ موضع دلیل میں پیش کی جائے۔

١٧

صفحہ ٤٩٨

دلائل متعلقہ ختم نبوت

”ما كان محمد ابا احد من رجالكم ولكن رسول الله وخاتم النبيين (سورہ احزاب: ٤٠) ”حضرت محمد ﷺ تم مردوں میں سے کسی کے باپ نہیں لیکن اللہ کے رسول اور ختم کرنے والے نبیوں کے ہیں۔“

برادران اسلام! گروہ مرزائیہ اکثر اپنے دجل وفریب سے سادہ لوح مسلمانوں کو جو کہ تعلیم عربی سے ناواقف ہوتے ہیں یہ دھوکہ دیتے ہیں کہ آیت شریفہ میں جو لفظ خاتم کا ذکر ہے اس کا معنی آخر کے نہیں لہٰذا میں یہ بتائے دیتا ہوں اور اس سے تو کافر ملحد اور زندیق بھی انکار نہ کرسکے گا کہ قرآن عزیز کی سمجھ جس طرح سے اللہ پاک نے سید المرسلین حضرت محمد ﷺ کو عطا فرمائی تھی دوسرے فرد کو نہ ملی ہے اور نہ ملے گی۔ حضور علیہ السلام پر قرآن کریم نازل ہوا اور حضور نے خوب سمجھا اس پر ہمارا ایمان ہے اس لئے اس قانون کے مطابق ہم مجبور ہیں کہ ہم آیت خاتم النبیین کی تفسیر حضور علیہ السلام کے فرمودہ کے مطابق کریں پھر آپ ملاحظہ کریں کہ سرکار دو عالم افصح العرب والعجم خاتم کے کیا معنی فرماتے ہیں۔

حدیث نمبر ١:

محدث ابن ماجہ حضرت باہلی سے باب فتنۃ الدجال میں ایک حدیث روایت فرماتے ہیں کہ سرکار دو عالم نے فرمایا ہے: ”وانه سيكون فى امتى كذابون ثلثون كلهم يزعم انه نبى وانا خاتم النبيين لا نبى بعدى “ ”میری امت میں تیس کذاب پیدا ہوں گے جن میں ہر ایک کا دعویٰ ہوگا کہ میں نبی ہوں حالانکہ میں خاتم النبیین ہوں میرے بعد کوئی نبی نہیں۔

حدیث نمبر ٢:

محدث ابوداؤد امام ترمذی رحمۃ اللہ علیہما حضرت ثوبانؓ سے روایت فرماتے ہیں کہ سرکار دوعالم علیہ السلام نے فرمایا: ”انا آخر الانبياء وانتم آخر الامم“ ”میں تمام نبیوں سے پیچھے ہوں اور تم تمام امتوں سے پیچھے ہو۔

حدیث نمبر ٣:

محدث ابن ابی حاتم تفسیر میں اور ابو نعیم دلائل میں حضرت قتادہ سے وہ حضرت حسن

١٨

سے وہ حضرت ابو ہریرہؓ سے وہ اخذ الله ميثاق النبيين لم عمران:٨١)“ کی تفسیر میں ارشا ”كنت اول الن سب نبیوں سے اول ہوں اور بع دیکھو حضور علیہ السلا ارشاد فرماتے ہیں۔ معلوم ہوا کہ پس اب کسی کا کہنا ی قول رسول سے مخالفت کرنے اور کوئی ہو۔

حدیث نمبر ٤

حضرت ابو ہریرہؓ س فرمایا ہے کہ مجھ کو تمام انبیاء پر ف کے بعد فرماتے ہیں: ”وارس گیا ہوں۔ ”وختم بی النبی

حدیث نمبر ٥

حضرت ابو ہریرہؓ ف ہے: ”مثلى ومثل الانب فطاف به النظار يتعج سددت موضع اللبن النبيین“ ”میری مثال اور پوری اور خوبصورت بنائی گئی ب اس کی خوبصورتی پر تعجب کرت اینٹ ہوں میرے ساتھ وہ جگ اے خواب خرگوش

صفحہ ٤٩٩

سے وہ حضرت ابو ہریرہؓ سے وہ حضور اکرم ﷺ سے روایت فرماتے ہیں کہ حضور نے آیت: ”واذ اخذ الله ميثاق النبيين لما اتيتكم من كتاب وحكمة ثم جاء كم رسول الخ (آل عمران: ٨١)“ کی تفسیر میں ارشاد فرمایا ہے:

”كنت اوّل النّبيين فى الخلق واخرهم فى البعث“ میں پیدائش میں سب نبیوں سے اول ہوں اور بعث میں آخر ہوں۔

دیکھو حضور علیہ السلام خود اپنی زبان مبارک سے لفظ خاتم ادا فرماتے ہیں پھر لفظ آخر ارشاد فرماتے ہیں۔ معلوم ہوا کہ حضور نے خود خاتم کے معنی اخر کے بتائے ہیں۔

پس اب کسی کا کہنا کہ یہاں پر خاتم سے آخر کا معنی مراد نہیں مخالفت قول رسول ہے اور قول رسول سے مخالفت کرنے والا یقیناً شیطان، دجال اور مردود ہے چاہے مرزائے قادیان ہو یا اور کوئی ہو۔

حدیث نمبر ٤

حضرت ابو ہریرہؓ سے امام بخاری وامام مسلم روایت فرماتے ہیں کہ حضور علیہ السلام نے فرمایا ہے کہ مجھ کو تمام انبیاء پر چھ فضائل سے فضیلت عطا فرمائی گئی ہے۔ ان فضائل کو بیان کرنے کے بعد فرماتے ہیں : ”وارسلت الى الخلق كافة“ میں تمام مخلوق کے لئے رسول بنا کر بھیجا گیا ہوں۔ ”وختم بى النبيون“ اور نبی میرے ساتھ ختم کر دیئے گئے ہیں۔

(مشکوۃ ١١٣)

حدیث نمبر ٥

حضرت ابو ہریرہؓ سے امام بخاری وامام مسلم روایت فرماتے ہیں کہ حضور ﷺ نے فرمایا ہے: ”مثلى ومثل الانبياء مثل قصر احسن بنيانه ترك منه موضع لبنة فطاف به النظار يتعجبون من حسن بنيانه الا موضع تلك اللبنة فكنت انا سددت موضع اللبنة وختم بى الرسل وفى رواية فانا اللبنة وانا خاتم النبيين“ میری مثال اور مجھ سے پہلے نبیوں کی مثال مثل ایک محل کے ہے جس کی تمام عمارت پوری اور خوبصورت بنائی گئی ہو مگر صرف ایک اینٹ کی جگہ خالی ہو پس دیکھنے والے اس کو دیکھ کر اس کی خوبصورتی پر تعجب کرتے ہیں مگر فقط اس خالی اینٹ والی جگہ پر پس میں وہ خالی جگہ والی اینٹ ہوں میرے ساتھ وہ محل پورا ہو گیا اور میں خاتم النبیین ہوں۔

اے خواب خرگوش میں مدہوش مسلمانوں اب تو سمجھو کہ نبوت کا محل حضرت آدم علیٰ نبینا

١٩

صفحہ ٥٠٠

وعلیہ السلام سے شروع ہوا اور سب چھوٹے بڑے نبی آتے رہے اور محل تیار ہوتا رہا حضور ﷺ کے آنے سے پیشتر محل نبوت غیر مکمل تھا۔ یعنی ایک اینٹ کی جگہ اس میں خالی تھی۔ اور جب حضور ﷺ مبعوث ہوئے تو محل نبوت مکمل ہو گیا یعنی وہ اینٹ والی جگہ پر ہو گئی یعنی جب رسول خدا ﷺ مبعوث ہوئے تو وہ جو نا مکمل تھا مکمل ہو گیا اور وہ خالی اینٹ والی جگہ پر ہو گئی۔

ہائے ہائے مرزا قادیانی اس محل میں تو کوئی اور جگہ خالی ہی نہیں مکان تو پر ہو گیا اور تمہارے دجل و فریب نے تو کچھ کام نہ کیا سب بے سود ہے۔

علمائے کرام جزاهم الله خير الجزاء نے مرزا کا فوٹو لوگوں کو ظاہر کر دیا اور اس کے دعویٰ کو طشت از بام کر دیا۔ البتہ ایک جگہ مرزا قادیانی کے لئے خالی ہے اور وہ (هل من مزيد) کے نعرے پکارتی ہے۔ بڑی خوشی سے تشریف لے جائیں اور کف افسوس ملتے ہوئے بیٹھ جائیں۔ وان دجالون کذابون (بخاری شریف ص ٥٠٩) والی جگہ میں بھی سنا ہے۔ بہت جگہ خالی ہے اور مرزا بڑی خوشی سے وہاں پر تشریف لے جاسکتا ہے اور ناراض نہ ہو اس لئے کہ اس کے مرید بھی اس کے ساتھ ہوں گے۔ (وما ذلك على الله بعزيز)

حدیث نمبر ٦

حضرت سعد بن وقاصؓ سے امام بخاری و مسلم روایت فرماتے ہیں کہ رسول خدا علیہ السلام نے فرمایا ہے۔ حضرت علیؓ کو ”انت منى بمنزلة هارون من موسى الا انه لا نبى بعدى (مشکوٰة ٥٦٣)“ یعنی اے علی تو مجھ سے بمنزلہ ہارون کے ہے موسیٰ سے مگر میرے بعد نبی نہیں یعنی تو نبی نہیں ہو سکتا۔

حدیث نمبر ٧

”عن عقبة بن عامر قال قال رسول الله ﷺ لو كان بعدى نبى لكان عمر بن الخطاب (مشکوٰة ص ٥٥٨)“ حضرت عقبہ بن عامرؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے کہ اگر میرے بعد کوئی نبی ہوتا تو البتہ ضرور عمر بن الخطاب ہوتے۔

پیارے دوستو! ذرا غور فرمائیں کہ حضرت علیؓ اور حضرت عمرؓ جیسی ہستیاں جو فانی اللہ اور فانی الرسول تھیں، نبی نہیں ہو سکتی تو کدو کریلا، نتھو خیرہ اور مسیلمہ کذاب پنجاب کہاں سے نبی ہو سکتا ہے۔

٢٠

حدیث نمبر ٨

حضرت انس بن مالکؓ ہے: ”ان الرسالة والنبوة قـ نبوت منقطع ہوچکی ہے نہ میرے بعـ

حدیث نمبر ٩

ابی امامہ باہلی سے روایـ الانبياء وانتم اخر الامم (ابن

حدیث نمبر ١٠

محدث ابن ماجہ حضر فرمایا ہے: ”ذهبت النبوة صرف رویاء صالحہ۔

حدیث نمبر ١١

ضحاک بن نوفل سے رو ولا امة بعد امتی (بیہقی)“ نہ میر

حدیث نمبر ١٢

عرباض بن ساریہؓ سے النبیین (بیہقی)“ میں اللہ کا بندہ

اقوال سلف صالحین در بارہ ختـ

شرح فقہ اکبر ملا علی قاری عقائد نسفی ٩٩) ”واول الانبيا ارسل رسلا أولهم آدم وآخـ تینوں جگہ میں صاف السلام ہیں اور سب سے آخر حضر تفسیر ابن کثیر ج ٨ ص ٨٩ میں ہیں اليهم ثم من تشريفة له خـ

صفحہ ٥٠١

حدیث نمبر ٨

حضرت انس بن مالکؓ سے محدث ترمذی روایت فرماتے ہیں کہ حضور ﷺ نے فرمایا ہے: ”ان الرسالة والنبوة قد انقطعت فلا رسول بعدی ولا نبی“ رسالت اور نبوت منقطع ہوچکی ہے نہ میرے بعد کوئی نبی ہوگا اور نہ رسول۔

حدیث نمبر ٩

ابی امامہ باہلی سے روایت ہے کہ حضور علیہ السلام نے فرمایا ہے: ”وانا اخر الانبیاء وانتم اخر الامم (ابن ماجہ)“

حدیث نمبر ١٠

محدث ابن ماجہ حضرت ام کرز سے روایت فرماتے ہیں کہ تاجدار مدینہ ﷺ نے فرمایا ہے: ”ذهبت النبوة وبقيت المبشرات“ نبوت ختم ہو گئی ہے باقی نہیں رہی صرف رویاء صالحہ۔

حدیث نمبر ١١

ضحاک بن نوفل سے روایت ہے کہ حضور علیہ السلام نے فرمایا ہے: ”لا نبی بعدی ولا امة بعد امتی (بیہقی)“ نہ میرے بعد کوئی نبی ہیں اور نہ میری امت کے بعد کوئی امت ہے۔

حدیث نمبر ١٢

عرباض بن ساریہؓ سے روایت ہے کہ حضور نے فرمایا ہے: ”انی عبداللہ وخاتم النبیین (بیہقی)“ میں اللہ کا بندہ ہوں اور خاتم النبیین ہوں۔

اقوال سلف صالحین دربار ختم نبوت

شرح فقہ اکبر ملا علی قاری (ص ٢٩) ”اولهم ادم واخرهم محمدﷺ (شرح عقائد نسفی ٩٩)“ ”واول الانبياء ادم واخرهم محمدﷺ (مسامرہ و مسائرہ ص ٦٦)“ ”وانه ارسل رسلا اولهم آدم واکرمهم عليهم خاتمهم محمدﷺ الذی لا نبی بعده“ تینوں جگہ میں صاف صاف کہہ رہے ہیں کہ سب سے اول انبیاء میں حضرت آدم علیہ السلام ہیں اور سب سے آخر حضرت محمدﷺ ہیں جس کے بعد کوئی نبی نہیں۔

تفسیر ابن کثیر ج ٨ ص ٨٩ میں ہیں: ”فمن رحمة الله تعالى بعباده ارسال محمدﷺ اليهم ثم من تشریفه له ختم الانبیاء والمرسلین به واکمال الدین الحنیف له

٢١

صفحہ ٥٠٢

وقد اخبر الله تبارك وتعالى فى كتابه ورسوله ﷺ فى السنة المتواترة عنه انه لا نبى بعدى ليعلموا ان كل من ادعى هذا المقام بعده فهو كذاب افاك دجال ضال مضل“

الله تبارک و تعالیٰ کی رحمت ہے بندوں پر کہ ان کی طرف حضور کو بھیجا پھر شرافت یہ عطا فرمائی کہ نبوت ورسالت کا سلسلہ ان پر ختم فرما دیا دین کو کامل کر دیا۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے قرآن میں اور حضور ﷺ نے حدیث میں خبر دی ہے کہ آپ کے بعد نبی نہیں تاکہ لوگوں کو معلوم ہو جائے کہ حضور ﷺ کے بعد جو دعویٰ نبوت کرے وہ کذاب ہے فریبی ہے۔ دجال ہے۔ گمراہ ہے اور گمراہ کن ہے۔

نوٹ: تفسیر ابن کثیر والے نے تو پورے مضمون سے مرزا قادیانی کی حجامت کر دی اور کذاب فریبی اور دجال اور گمراہ اور گمراہ کن سے موصوف فرمایا۔

فتاویٰ عالمگیریہ (ص ٢٦٣)

”اذا لم يعرف الرجل ان محمد ﷺ اخر الانبياء فليس بمسلم“

اشباه والنظائر (ص ٤١٦) ”اذا لم يعرف ان محمد ﷺ اخر الانبياء فليس بمسلم لانه من الضروریات“ جب کسی مرد مومن کو یہ معلوم نہ ہو کہ محمد ﷺ سب سے آخری نبی ہے تو وہ مسلمان نہیں ہے کیونکہ ختم نبوت کا عقیدہ ضروریات دین سے ہے۔

پیارے دوستو! میں نے از روئے قرآن کریم واحادیث نبوی ﷺ اور اقوال سلف صالحین سے یہ ثابت کر دیا کہ حضور علیہ السلام خاتم النبیین ہے اور آپ ﷺ کے بعد مدعی نبوت کافر ہے اور مرزا غلام قادیانی کے عقائد کفریہ اور دعاوی باطلہ کو بھی بحوالہ کتب مرزا بیان کر چکا ہوں اب کسوٹی آپ کے پاس ہے۔ فیصلہ آپ کا ہے کہ مرزا کون تھا؟

میرے دل کو دیکھ کر میری وفا کو دیکھ کر
بندہ پرور منصفی کرنا خدا کو دیکھ کر

اب بھی اگر کوئی نہ سمجھے تو اس کی اپنی بدقسمتی ہے۔ (من یضلل اللہ فلا ہادی لہ) ہم نے تو واضح غیر مبہم الفاظ میں جو کچھ حقیقت تھی بیان کر دی:

گر نہ بیند بہ روز شپرہ چشم
چشمہ آفتاب را چہ گناہ

٢٢

قادیانی بہا

مرزائی رنگ

حضرت مولا

PDF 504

انا خاتم النبیین لا نبی بعدی

میں سب سے آخری نبی ہوں میرے بعد کوئی نبی نہیں

قادیانی بینک کا دیوالہ

مرزائی رنگ میں بھنگ

حضرت مولانا عبدالقیوم میرٹھی

صفحہ ٥٠٤

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ

قادیانی بینک کا دیوالہ...... مرزائی رنگ میں بھنگ

مرزا اور مرزائیوں کے کذاب ہونے کی بے شمار اقراری شہادتیں

یہ تو معلوم ہے کہ جب کوئی مرزائی ہوتا ہے تو اس میں اسلام اور ایمان کا کوئی حصہ باقی نہیں رہتا۔ مگر اب معلوم ہوا کہ اسلام اور ایمان وحیا کے ساتھ ساتھ ان میں انسانیت بھی باقی نہیں رہتی۔ اس وقت ہمارے سامنے ایک ٹریکٹ محمد صدیق احمدی محاسب انجمن احمدیہ میرٹھ اور دوسرا رسالہ سیف الجبار مولفہ ملک عزیز احمد سیکرٹری تبلیغ جماعت احمدیہ راولپنڈی کا ہے۔

اول الذکر نے علماء دیوبند سے دو مطالبے کئے ہیں اور دوسرے صاحب کا دعویٰ ہے کہ اشد العذاب علی مسیلمۃ الفنجاب کا مکمل جواب ہے۔ قادیانی جماعت کو واضح رہے کہ ان کے متنبیٰ کذاب نے ان کو دلدل میں پھنسا دیا ہے۔ جس قدر حرکت کریں گے تحت الثریٰ کو پہنچتے جائیں گے۔ ہمارے بیان کی تصدیق ناظرین کرام کو ابھی خدا چاہے ہو جاتی ہے۔ ذرا غور سے ملاحظہ فرمائیں۔

محاسب صاحب فرماتے ہیں: ”ناظرین سے یہ بات مخفی نہیں کہ جب کبھی ہمارے دیوبندی وغیرہ مخالفین کی طرف سے کوئی اشتہار یا رسالہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام (علیہ ما علیہ) کی تکذیب وتضحیک ثابت کرنے کے لئے نکلا ہے اس کا ہماری جانب سے بدلائل مسکت جواب دیا جاتا رہا ہے۔ الخ“

قادیانی کے جھوٹوں کے برابر ہوئے یا ان سے بھی کچھ بڑھ گئے۔ صحیفۃ الحق، اول السمعین، دوسری سمعین، دفع الحجاج، اشد العذاب علی مسیلمۃ الفنجاب، تحقیق الکفر والایمان بآیات القرآن، زلزلۃ الساعۃ، مرزائیوں کی تمام جماعتوں کو چیلنج قرآن مجید کو غیر ممکن جانیں یا مرزا قادیانی کو دجال وکذاب اور محرف قرآن، مرزائیت کا خاتمہ، مرزائیت کا جنازہ بے گور و کفن، ہندوستان کے تمام مرزائیوں کو چیلنج، مرزا اور مرزائیوں کو دربار نبوت سے چیلنج عذاب الیم کی بشارت مرزا اور تمام مرزائی قطعی اور یقینی جہنمی ان سب کا ٹھکانا جہنم ہے۔ اکفار، عقیدۃ الاسلام فی حیات عیسیٰ علیہ السلام، الشہاب، ضمیمہ الشہاب، کلمۃ اللہ فی حیات روح اللہ، ختم النبوۃ فی القرآن، ہدیۃ المہدیین، الجواب الفصیح لمنکر حیات المسیح، صدع العقاب، یہ اکیس رسائل اور اشتہارات دیوبند ہی سے ابھی ٢ شائع ہوئے ہیں۔ ان میں کس قدر مطالبات کا بدلائل مسکت جواب دیا ہے۔ دل کڑا کر کے سے جو رسائل رد مرزائیت میں پچاس کے قر دیا ہے۔ ہاں مرزا محمود قادیانی سے دریافت کر تھا۔ اس نے کتنے ہزار اعتراضات مرزا پر الر اس کے علاوہ اور رسائل جو علماء اسلام نے مر مرزائی عاجزان کا شمار کس قدر ہے؟ کہو مرزائی سے علماء دیوبند پر مطالبے پیش کرتے ہو۔ کہو

جماعت احمدیہ قادیان دیوبندیوں کو چیلنج دے دکھا سکتے ہو؟ گھر میں لکھ کر رکھ دیا ہو یا مریدوں شیر خدا کے پاس پہنچایا مسلمانوں میں تقسیم یا بے حیائی تیرا ہی آسرا ہے کہہ کر کچھ تو کہہ

الصلوۃ والسلام (علیہ ما علیہ) کے بیان فرمود میرے مقابلہ میں معارف بیان کرنے کے کیا جانا تھا۔ اب یہ عبارت مذکورہ الفضل میں کہ: چہ دلاور است دزدے کہ بکف ہے۔ تین چار سال سے آپ ہی اٹھارہ حق ہے ”چور کا منہ چاند سا“ جب یہ عبارت ہم جھوٹے ہونے کا تو ایک ٹریکٹ شائع فرمادیں و شرافت کو ملاحظہ فرمایا کہ جھوٹ بولنے میں دکھانے کا مطالبہ کیا جائے۔ تازے متنبی کی ب

کے مکمل نقشہ جنگ میں جو اشتہارات ہیں الر سے معلوم ہوتا ہے کوئی نئی قسم کا حساب نکالا

صفحہ ٥٠٥

شائع ہوئے ہیں۔ ان میں کس قدر مطالبات ہیں محاسب صاحب فرمائیں کہ ان میں سے کس کس کا بدلائل مسکت جواب دیا ہے۔ دل کڑا کر کے کہہ دو لعنة اللہ علی الکاذبین۔ پھر مونگیر سے جو رسائل رد مرزائیت میں پچاس کے قریب شائع ہوئے ہیں۔ ان میں سے کس کس کا جواب دیا ہے۔ ہاں مرزا محمود قادیانی سے دریافت کر کے یہ تو فرماؤ کہ کوئی کمیشن ان کی جانچ کے لئے بیٹھا تھا۔ اس نے کتنے ہزار اعتراضات مرزا پر ان رسائل میں وہ گنے تھے؟ جن کا جواب ناممکن ہے۔ اس کے علاوہ اور رسائل جو علماء اسلام نے مرزا کے رد میں لکھے ہیں۔ جن کے جواب سے مرزا اور مرزائی عاجز ان کا شمار کس قدر ہے؟ کہو مرزا قادیانی سے یہی کذب و بے حیائی سیکھی ہے۔ اسی منہ سے علماء دیوبند پر مطالبے پیش کرتے ہو۔ کہو لینے کے دینے پڑ گئے کہ نہیں؟

جماعت احمدیہ قادیان دیوبندیوں کو چیلنج دے چکے ہیں۔“ کہو جھوٹے پر خدا کی بے شمار لعنتیں کیا وہ چیلنج دکھا سکتے ہو؟ گھر میں لکھ کر رکھ دیا ہو یا مریدوں کے پاس بھیج دیا ہو تو ہو سکتا ہے۔ مگر دیوبند بھیجا یا ابن شیر خدا کے پاس پہنچا یا مسلمانوں میں تقسیم ہوا۔ کہو کس قدر روپے لے کر اس چیلنج کو دکھاؤ گے ہمت ہے یا بے حیائی تیرا ہی آسرا ہے کہہ کر کچھ تو کہہ دو۔ اسی حقانیت پر دنیا کا مقابلہ کرتے ہو؟

الصلوٰۃ والسلام (علیہ ماعلیہ) کے بیان فرمودہ معارف قرآنیہ کے مقابلہ میں بیان کرنا تو الگ رہا۔ میرے مقابلہ میں معارف بیان کرنے کے لئے آؤ۔“ اظہار حق کی عبارت کا بے جا مطالبہ ہم سے کیا جاتا تھا۔ اب یہ عبارت مذکورہ الفضل میں جو چیلنج دیا ہے۔ اس میں دکھا سکتے ہو تو دکھاؤ ورنہ کہو کہ: چہ دلاور است دزدے کہ بکف چراغ دارد ۔ کا مصداق مرزا ہی کی امت مکذوبہ ہے۔ تین چار سال سے آپ ہی اظہار حق کی عبارت کا علماء دیوبند سے مطالبہ فرماتے ہیں۔ سچ ہے ”چور کا منہ چاند سا“ جب یہ عبارت مرزا محمود صاحب کی نہ دکھا سکو گے تو کم سے کم اپنے جھوٹے ہونے کا تو ایک ٹریکٹ شائع فرما دینا۔ مسلمانو! اس فرقہ کی دیانت صداقت انسانیت حیا وشرافت کو ملاحظہ فرمایا کہ جھوٹ بولنے میں کس قدر دلیر ہے۔ اب ان سے عبارت مذکورہ کے دکھانے کا مطالبہ کیا جائے۔ ارے متنبی کی امت یہ جیتا جاگتا جھوٹ تیرا ہی حصہ ہے۔

کے مکمل نقشہ جنگ میں جو اشتہارات ہیں ان کے جواب سے اس کو کیا تعلق ہے؟ محاسب صاحب سے معلوم ہوتا ہے کوئی نئی قسم کا حساب نکالا ہے جو جدید متنبی کی وحی میں نازل ہوا ہوگا۔ معلوم ہو گیا

٣

صفحہ ٥٠٦

کہ فتح قادیان کا مکمل نقشہ جنگ بالکل صحیح ہے جس کو ایسے ایسے محاسبوں نے جانچ لیا مگر ایک نقطہ کو بھی غلطی نہ نکال سکے۔

خوش گفت است سعدی ورزلیخا کا مضمون ہے۔ مگر اول تو وہ صرف مرزائیت کے خاتمہ کے متعلق تھا۔ دوسرے اس کا مہمل اور اعلان شکست مرزائیت ہونا زلزلۃ الساعۃ (قادیان میں قیامت خیز بھونچال) میں قدرے تفصیل سے عرض کر دیا گیا ہے۔ جس نے قادیان میں ماتم برپا کر دیا بہت روئے مگر جوابے ندارد۔ وہ آج تک خدا کے فضل سے لاجواب ہے۔ اور ہمیشہ لاجواب رہے گا۔ محاسب صاحب دخل در معقولات۔ آپ کو کس نے رائے دی تھی کہ آپ یہ اشتہار تحریر فرمائیں آپ نے تو آٹے دال کا حساب کیا ہوتا۔ کیا مرزائیوں میں اس قدر قحط ہو گیا کہ علماء کا کام نبیوں سے لیا جاتا ہے۔ جھوٹی نبوت نباشد کہ الہام تصنیف کیا اور شائع کر دیا۔ ازلی جہنمیوں نے قبول کر لیا یہ تو واقعات ہیں جو ثابت کرنے ہوں گے۔

سے مطالبہ کیا گیا ہے وہ صرف ان کی ایک تحریر کے متعلق ہے ورنہ ان کے رسالوں اشتہاروں ٹریکٹوں اور کتابوں میں بے شمار اس قسم کی مثالیں موجود ہیں کہ انہوں نے جان بوجھ کر دیدہ دانستہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام (علیہ ما علیہ) اور آپ کی جماعت کے خلاف غلط اور بناوٹی الزام لگائے ہیں۔‘‘

بڑے میاں سو بڑے میاں چھوٹے میاں سبحان اللہ۔ مرزا قادیانی تو خدائے ذوالجلال والاکرام اور نبی کریم علیہ الصلوٰۃ والسلام ہی پر جھوٹ بولتے تھے۔ جس کو خاص خاص ہی لوگ سمجھتے تھے۔ مگر صدیق صاحب برعکس نہند نام زنگی کافور کذاب نے تو غضب ہی کر دیئے کہ مرزا قادیانی بھی جہنم میں انگشت بدنداں ہوں گے کہ یہ حیلہ تو شیطان کا بھی ابا نکلا۔ اس نے تو غضب ہی کر دیا۔ ہم نے تو الہاموں میں جھوٹی تاویلیں کر کر کام نکالا تھا یہ کیا کرے گا۔ اس گستاخ نے دیوبندیوں کی غلط بیانی کو ہمارے جھوٹے معجزوں سے بھی بڑھا دیا۔ ہم نے تو اپنے معجزے ٣ لاکھ سے زائد پھر دس لاکھ اور دبی زبان سے کروڑ ہی تک کہے تھے مگر اس نے تو بے شمار کا دعویٰ کر دیا۔ علماء دیوبند کے اشتہارات رسائل اور ٹریکٹوں کے الفاظ بھی بے شمار نہ ہوں گے۔ پھر یہ مرزائیوں کا صدیق اکبر غلطی اور بناوٹی دیدہ دانستہ الزامات بے شمار کہاں سے لائے گا۔

مرزائیو! تمہارا صدیق یہ ہے تو تمہارا کذاب کون ہوگا؟ (مرزا قادیانی) محاسب

٤

صاحب آپ کے ہوش درست ہ مطالبات کرتے ہیں۔ ابھی بات ہو جاؤ۔ مرزائی ہو گئے۔ مگر آدمی ہ قادیانی کے معجزوں کی تعداد آپ لاکھ سے زائد اور یہ بھی نہ ہو سکے تو سے کم ایک ہی ایسی مثال پیش کر کے خلاف غلط اور بناوٹی الزام لگای ہے تو کہو آپ ہی مرزائیت کی صد

اظہار حق کا مصنف کون ہے یہ کہو پڑھتے ہیں یا نہیں۔ (٤) جب م اس عبارت کا مرزا قادیانی کی تص فرمایا کہ اس عبارت کو قرآن شری ہیں کہ مرزائیوں کی طرح دنیا میں نہیں رہی۔ قربان جائیے اس م کلام میں۔ کہو کچھ شرمائے یا نہیں کا محاسب ہو۔ کسی نے سچ کہا ہے

گربہ می
ایں چنیں

ملعونہ میں کہنا اور لکھنا ایک ہی ب دکھاؤ جنون نہیں تو اور کیا ہے؟

کر کے ان سے اس کا جواب لی الزام ہے۔ تمام الزامات ان ہ صدق کہاں) سے بخدا ان کا م

صفحہ ٥٠٧

صاحب آپ کے ہوش درست ہوئے۔ اپنی قابلیت لیاقت معلوم کی۔ آپ ہی علماء دیوبند سے مطالبات کرتے ہیں۔ ابھی بات کرنے کا سلیقہ تو پیدا کرو۔ مرزائی ہونا تو بہت آسان ہے کافر ہوجاؤ۔ مرزائی ہوگئے۔ مگر آدمی ہونا اور قابل ہونا کافر اور مرتد ہونے سے نہیں ہوتا۔ فرماؤ مرزا قادیانی کے معجزوں کی تعداد آپ کے نزدیک ایک کروڑ ہوتو دو ورنہ دس لاکھ، نہیں تو کم سے کم تین لاکھ سے زائد اور یہ بھی نہ ہوسکے تو دو تین ہزار۔ اس سے بھی عاجز ہو تو دو تین سو یہ بھی نہ ہوسکے تو کم سے کم ایک ہی ایسی مثال پیش کرو کہ جان بوجھ کر دیدہ و دانستہ۔ مرزا قادیانی اور ان کی جماعت کے خلاف غلط اور بناوٹی الزام لگائے ہوں۔ ایمان تو نہیں حیا بھی اس کے ساتھ گئی اگر کچھ آدمیت ہے تو کہو آپ ہی مرزائیت کی صداقت کے نمونے ہیں۔

اظہارِ حق کا مصنف کون ہے یہ کہو۔ (٢) وہ کوئی عالم ہیں یا نہیں۔ (٣) اگر عالم ہیں تو دیوبند میں پڑھتے ہیں یا نہیں۔ (٤) جب مصنف اظہارِ حق ایک بات کو فرقہ کی طرف منسوب کرتا ہے تو پھر اس عبارت کا مرزا قادیانی کی تصانیف پر مطالبہ فرمانا مرزائی عقل کا نتیجہ ہے آپ نے یہ کیوں نہیں فرمایا کہ اس عبارت کو قرآن شریف کی سورہ برات یا منافقین میں دکھلاؤ۔ کیا آپ یہ خیال فرماتے ہیں کہ مرزائیوں کی طرح دنیا میں عقل کے اندھے ہی بستے ہیں کہ حق و باطل کی کسی میں تمیز ہی باقی نہیں رہی۔ قربان جائیے اس عقل کہ مقولہ تو امتہ ملعونہ کا اور تلاش کیا جاتا ہے۔ متنبّیٰ کذّاب کے کلام میں۔ کہو کچھ شرمائے یا نہیں۔ افسوس جس کو جمع و تفریق بھی نہ آتی ہو تو وہ میرٹھ کی انجمن احمدیہ کا محاسب ہو۔ کسی نے سچ کہا ہے۔

گربہ میروسگ وزیر وموش رادیوان کنند
ایں چنیں ارکان دولت ملک او را ویراں کنند

ملعونہ میں کہنا اور لکھنا ایک ہی ہے پھر یہ مطالبہ کہ مرزا قادیانی کی کس تصنیف میں اس عبارت کو دکھاؤ جنون نہیں تو اور کیا ہے؟

کرکے ان سے اس کا جواب لیں۔ کیونکہ اس ایک حوالہ کے صحیح دکھا دینے پر جو ایک نہایت ہی اہم الزام ہے۔ تمام الزامات ان کے صحیح ثابت ہو جائیں گے اور میں صدق دل (مرزائیوں میں صدق کہاں) سے بخدا ان کا مسلک اختیار کرلوں گا اور ان کے تمام الزامات جو مرزا قادیانی پر

٥

صفحہ ٥٠٨

رسالہ فتح قادیان میں لگائے ہیں دل سے تسلیم کرلوں گا۔ اگر یہ عبارت واقعی صدق دل سے لکھی ہے تو اشد العذاب علی مسیلمۃ الکذاب کو اوّل سے آخر تک ملاحظہ فرما لیجئے۔ پھر آپ خود انصاف فرما لیجئے کہ اظہارِ حق میں جو مضمون لکھا ہے وہ صحیح ہے یا نہیں۔ اس کو ہم آپ ہی کی دیانت اور حق طلبی پر چھوڑتے ہیں۔

شہادت پر مدار رکھا ہے۔.....الخ“ ہمیں آپ سے صدق و دیانت کی تو امید نہیں مگر دروازہ تک پہنچانا منظور ہے آپ تو ایک ہی نو فرماتے ہیں ہم بہت سے تو آپ کی خدمت میں پیش کرتے ہیں۔ فرمائیے ظہیر الدین اروپی مرزائی ہیں یا نہیں اور مرزائی بھی کیسے اول درجہ کے جنہوں نے مرزا محمود صاحب کے بھی چھکے چھڑا دیئے۔ ان کی جماعت اور ان کے فرقہ کے لوگ کس قدر ہیں۔ (کہہ دو کہ ان کے فرقہ میں کوئی بھی نہیں ان کا کوئی ہم خیال ہی نہیں) لہٰذا سچے فرقہ کا پتہ بتایا ان سے عقائد و اقوال جناب کو معلوم ہوں گے۔ نہ معلوم ہوں تو ملاحظہ ہو اشد العذاب علی مسیلمۃ الکذاب ص ٤٧ تا ص ٦٤ کہو اب تو معلوم ہو گیا کہ صاحب اظہارِ حق نے جو کچھ فرقہ مرزائیہ کی طرف منسوب کیا وہ بالکل صحیح ہے۔ اگر یہ امر بھی باعثِ تسکینِ خاطر نہ ہو تو ملاحظہ ہو دین مرزا کفر خالص ص ٦٩ تا ص ٧٢ فرمائیے۔ اب تو پھر علماء دیوبند سے مطالبہ کا کہیں نام نہ لوگے؟ خدا کی قدرت الٹا چور کوتوال کو ڈانٹے۔ مرزائی جو اس قدر مطالبوں میں دبے ہوئے ہیں وہ بھی مطالبہ کریں اور کس سے علماء دیو بند سے، مثل مشہور ہے کہ چھاج بولے تو بولے چھلنی بھی بولے جس میں صدہا چھید ہیں۔

ناظرین با تمکین! پہلے مطالبہ کی تو حقیقت معلوم ہو چکی۔ محاسب صاحب اس ٹریکٹ میں دوسرا مطالبہ لفظ خاتم النبیین کے متعلق پیش کرتے ہیں جس کا حاصل یہ ہے کہ لفظ خاتم النبیین اگر اس معنی کو مستلزم ہے کہ بعد آنحضرت ﷺ کے کوئی نبی نہ ہو تو پھر علماء کے کلام میں جو کسی کو خاتم المحدثین کسی کو خاتم المفسرین کہا ہے اس کے کیا معنی ہیں؟ حالانکہ ان کے بعد میں بھی لوگ محدث اور مفسر ہوئے۔ افسوس کیا یہ جماعت بھی علماء اسلام کے مقابلہ میں بات کرنے کی جرات کر سکتی ہے۔ اگر شرم ہوتی تو آج کسی کو منہ نہ دکھاتی۔ سنو جواب یہ ہے کہ آیت میں لفظ خاتم اپنے حقیقی معنی میں ہے اور علماء کے کلام میں بمعنی مجازی مستعمل ہے۔ شیر کا لفظ اگر ہزار جگہ معنی مجازی میں مستعمل ہو تو کوئی جاہل یہ کہہ سکتا ہے کہ شیر کے لفظ کا معنی حقیقی ہیں ہی نہیں یا یہی مجازی معنی حقیقی معنی ہیں۔ دنیا میں علماء فصحاء بلغاء کسی سخی کو حاتم یا ظالم کو فرعون ، حق بات کہنے والے کو موسیٰ کہتے ہیں، تو کیا یہ جاہل جماعت کل یہ کہے گی کہ اگر ان الفاظ کے معنی قرآن شریف میں وہ خاص موسیٰ علیہ السلام اور

٦

خاص فرعون ملعون ہیں جو مسلمان مراد فرعون اور موسیٰ کا لفظ آیا ہے۔ اس کے کیا خدائے علام الغیوب ہی جانتا بعد اس وصف سے کوئی موصوف نہیں ہو سکا استعمال کرے اس وجہ سے اس کے کلام میں کے کلام میں بوجہ خاص معنی مجازی میں مستعـ مستعمل ہو۔ اس کی کیا ضرورت ہے؟ بس رسالہ ہدیۃ المہدیین اور ختم النبوۃ فی القرآن مرزائی صدیق کا حال ہے۔ اب ذرا ملاحظہ فرمائیے۔ وہ ایک کاغذ کی تلوار سے خدا کے مکمل جواب لکھتے ہوئے شرم بھی نہیں آتی۔ ہے حالانکہ اس جواب کا لغو اور باطل ہونا وہ بات کہ مرزا قادیانی نے عیسیٰ علیہ السلام کی قمـ دوسرے ہم کب کہتے ہیں کہ مرتد ہوئے ہیں پھر ان کے کلام میں ایسی اگر کوئی کسی نبی کی تعریف بھی کرے اور گالـ اگر کوئی بد بخت اپنے باپ کو باپ بھی کہے بھی مارے تو قادیانی شریعت میں وہ سعید ــ

مراد نہیں جو مسلمان خاتم النبیین میں مر قادیانی نئے کھڑے ہیں کہ آئندہ کو اس محـ کی اتباع اور پیروی سے لوگ محدث ومفسـ ہوں گے۔ مرزائیو! تمہارا قصور نہیں یہ سـ علیہ الرحمۃ نے سچ فرمایا ہے:

سر انجـ
کہ جاهل فـ
صفحہ ٥٠٩

خاص فرعون ملعون ہیں جو مسلمان مراد لیتے ہیں تو مہربانی فرما کر بتاؤ کہ فلاں عالم کے کلام میں فرعون اور موسیٰ کا لفظ آیا ہے۔ اس کے کیا معنی ہیں۔

خدائے علام الغیوب ہی جانتا ہے کہ فلاں وصف کا حقیقت میں کون خاتم ہے اور اس کے بعد اس وصف سے کوئی موصوف نہیں ہوسکتا۔ دوسرے شخص کو بے علم کے کیا حق ہے کہ معنی حقیقی میں استعمال کرے اس وجہ سے اس کے کلام میں وہ لفظ معنی مجازی میں مستعمل ہوتا ہے۔ اگر ایک لفظ بندہ کے کلام میں بوجہ خاص معنی مجازی میں مستعمل ہو تو علام الغیوب کے کلام میں بھی اسی مجازی معنی میں مستعمل ہو۔ اس کی کیا ضرورت ہے؟ بس ترکی تمام شد مطالبہ ختم ہوا۔ اگر طلب حق منظور ہے تو دیکھو رسالہ ہدیۃ المہدیین اور شتم المؤذی فی القرآن اور مرزاہی کے ساتھ جہنم میں جانا ہے تو اختیار ہے۔ یہ تو مرزائی صدیق کا حال ہے۔ اب ذرا ملک عزیز احمد صاحب کا بھی اشد العذاب میں مبتلا ہونا ملاحظہ فرمائیے۔ وہ ایک کاغذ کی تلوار سے خدا کے عذاب الیم کو اٹھانا چاہتے ہیں۔ پھر اسے اشد العذاب کا مکمل جواب لکھتے ہوئے شرم بھی نہیں آتی۔ توہین عیسیٰ علیہ السلام کا یہ جواب دیا ہے کہ یہ الزامی جواب ہے حالانکہ اس جواب کا لغو اور باطل ہونا وہیں ثابت کر دیا گیا ہے۔ ملاحظہ ہو اشد العذاب۔ رہی یہ بات کہ مرزا قادیانی نے عیسیٰ علیہ السلام کی توہین کی ہے۔ اول تو اگر یہ نہ ہوتا تو دجال کیسے ہوتے۔

دوسرے ہم کب کہتے ہیں کہ مرزا قادیانی پیدائشی اور اصلی کافر تھے وہ تو مسلمان سے مرتد ہوئے ہیں پھر ان کے کلام میں ایسی عبارتیں نکلنی کیا بعید ہیں۔ تیسرے میں پوچھتا ہوں کہ اگر کوئی کسی نبی کی توہین بھی کرے اور گالیاں بھی دے تو مرزائی دھرم میں وہ مسلمان ہے یا کافر۔ اگر کوئی بدبخت اپنے باپ کو باپ بھی کہے۔ تعریف بھی کرے مگر ساتھ میں گالیاں بھی دے جوتیاں بھی مارے تو قادیانی شریعت میں وہ سعید ہے یا بدبخت اور ناخلف؟ علیٰ ہذا القیاس خاتم النبیین کا مرزا

١؎ مگر یہ ضرور بتا دو کہ خاتم المحدثین وخاتم المفسرین میں اگر لفظ خاتم کے وہ معنی مراد نہیں جو مسلمان خاتم النبیین میں مراد بتاتے ہیں۔ تو پھر وہ معنی بھی تو مراد نہیں جو مرزا قادیانی نے گھڑے ہیں کہ آئندہ کو اس محدث یا مفسر کا بروز ہوگا یا اس کے ظل آئیں گے۔ یا اسی کی اتباع اور پیروی سے لوگ محدث ومفسر بنیں گے۔ پھر خاتم المحدثین والمفسرین کے کیا معنی ہوں گے۔ مرزائیو! تمہارا قصور نہیں یہ سب کچھ تمہارے اور متنبئ کذاب کے جہل کا نتیجہ ہے۔ شیخ علیہ الرحمۃ نے سچ فرمایا ہے:

سر انجام جاہل جہنم بود
کہ جاہل نکو عاقبت کم بود

٧

صفحہ ٥١٠

اور مرزائی بے شک اقرار کرتے ہیں مگر وہ اقرار ایسا ہے جیسے تمام مسلمان مرزا قادیانی کو نبی مانتے ہیں ۔ مگر نہ اس معنی سے جس معنی سے قادیانی ایمان لائے۔ بلکہ یہ اقرار کرتے ہیں کہ مرزا متنبی کاذب ہے۔ تو قادیانیوں کے نزدیک تمام مسلمان مرزا کے مصدق ہوئے یا منکر۔ اس طرح جس معنی سے آنحضرت ﷺ خاتم النبیین ہیں وہ معنی مرزا قادیانی اور مرزائی تسلیم نہیں کرتے تو ہزار بار خاتم النبیین کا لفظی اقرار کریں مگر در حقیقت وہ خاتم النبیین کے منکر ہی سمجھے جائیں گے۔ پھر (ص ١٢) پر ایک حوالہ کا انکار کیا ہے۔ ملک صاحب ........ نہیں یہ عبارت میں کوئی تغیر تبدل ہے۔ اگر مرزا قادیانی ہی کی عبارت ہے ایک حرف کا بھی فرق نہیں تو سیرۃ الابدال میں اگر نہ ہو تو نفس مضمون میں کیا کمی ہوئی اور اشد العذاب کیسے ملا۔ سیرۃ الابدال کی وجہ سے جہنم میں گئے یا خطبہ الہامیہ نے ہاویہ میں جھونکا۔ ٹھکانا تو بہر صورت جہنم ہی رہا اور اگر صرف کتابت پر مواخذہ ہے تو صفحہ ٢٣ پر جو حوالہ سیرت الابدال سے نقل کیا ہے۔ اگر اشد العذاب میں یہ حوالہ سیرۃ الابدال (بلا الف) سے منقول ہوتا یا مرزا قادیانی کی کوئی کتاب سیرۃ الابدال ثابت کر دیں تو دو سو روپیہ انعام ہے ورنہ اس کے دروغ گو۔ جعلساز ہونے میں کیا شبہ ہے۔ ملک عزیز احمد صاحب میں اگر کفار اور مرتدین کی برابر بھی صداقت ہے تو اور بھی اشد العذاب کے مغالطے اور اس میں جو حوالہ جات میں بے جا کتر و بیونت کی گئی ہو وہ ظاہر فرمائیں۔ ورنہ ان کے کذاب اور مجرم صریح کی دلیل ہوگی اور یہ تسلیم کرنا ہو گا کہ اشد العذاب کے تمام حوالے اور الزامات صحیح و بجا ہیں۔ اشد العذاب کو دیوانہ کی بڑ کہنا مرزا قادیانی کو دیوانہ اور ان کی تصنیف کو دیوانہ کی بڑ کہنا ہے۔ کیونکہ اس میں مرزا قادیانی اور مرزائیوں ہی کے حوالہ جات ہیں۔

سیف الجبار کے دیکھنے سے معلوم ہو گیا کہ مرزائیوں کو جہنم میں جلنا منظور ہے مگر حق کی طرف رجوع ان سے محال ہے۔ خدا کا شکر ہے کہ اشد العذاب کے صد ہا حوالہ جات کو اس جماعت نے پڑتالا مگر کہیں حوالے کی غلطی تو کیا کتابت کی غلطی بھی نہ نکال سکے ایک جگہ بے معنی بات کہہ کر دوسرے اشد العذاب میں اور مبتلا ہوئے۔ اب اگر صدیق صاحب یا عزیز احمد صاحب کچھ فرمائیں گے۔ تو ہم پھر اور بھی عرض کرنے کو حاضر ہیں۔

واضح رہے کہ مرزائی گالیوں کی ہمیں پرواہ نہیں جس جماعت کے متنبی کذاب نے انبیاء علیہم السلام کو گالیاں دیں وہ دوسرے کے ساتھ جو معاملہ کریں گے وہ ظاہر ہے: ”والسلام علی من اتبع الہدیٰ، وآخر دعوانا ان الحمد للہ رب العالمین، وصلی اللہ تعالیٰ علی خیر خلقہ سیدنا محمد وآلہ وصحبہ اجمعین“

بندہ عبدالقیوم عفا اللہ عنہ امروہی امام جامع مسجد صدر میرٹھ

٨

ایک جھوٹی

مرزائیہ

شورش

جناب تاج الد

PDF 512

سلمان مرزا قادیانی کو نبی مانتے ار کرتے ہیں کہ مرزا متنبئ کاذب یا منکر۔ اس طرح جس معنی سے ش کرتے تو ہزار بار خاتم النبیین ں گے۔ پھر (ص ٤٢) پر ایک حوالہ بدل ہے۔ اگر مرزا قادیانی ہی کی نفس مضمون میں کیا کمی ہوئی اور لہامیہ نے ہاویہ میں جھونکا۔ ٹھکانا پر جو حوالہ سیرت الابدال سے نقل منقول ہونا یا مرزا قادیانی کی کوئی کے دروغ گو۔ جعلساز ہونے میں پر بھی صداقت ہے تو اور بھی اشد ت کی گئی ہو وہ ظاہر فرمائیں۔ ورنہ اشد العذاب کے تمام حوالے اور دیوانہ اور ان کی تصنیف کو دیوانہ کی ت ہیں۔

کو جہنم میں جلنا منظور ہے مگر حق کی اب کے صدہا حوالہ جات کو اس بھی نہ نکال سکے ایک جگہ بے معنی دیق صاحب یا عزیز احمد صاحب

ں جماعت کے متنبئ کذاب نے یں گے وہ ظاہر ہے: "والسلام ء رب العالمين، وصلى الله أجمعين" امروہی امام جامع مسجد صدر میرٹھ

خاتم النبیین

ایک جھوٹی پیش گوئی پر

مرزائیوں کا

شوروغل

جناب تاج الدین احمد تاج

صفحہ ٥١٢

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

٤ اپریل ١٩٠٥ء والے زلزلہ کے بعد مرزا قادیانی نے اپنی غفلت پر سخت پشیمان ہوکر فوراً ایک زلزلہ کے آنے کی پیش گوئی کر دی اور ایک بہت لمبی چوڑی نظم کے پیچھے جو معلوم ہوتا ہے کہ مرزا قادیانی بہت مدت سے لکھ رہے تھے۔ بارہ اشعار اس مضمون کے بھی چسپاں کر دیئے کہ جن میں کسی آئندہ زلزلہ سے لوگوں کو ڈرایا گیا تھا۔ غرضیکہ یہ شیطان کی آنت جیسی لمبی نظم ١٥ اپریل ١٩٠٥ء کو ختم ہوئی۔ مگر جب مرزا قادیانی انتظار کرتے کرتے تھک گئے اور تین سال تک بھی کوئی زلزلہ ظہور میں نہ آیا اور مرزا قادیانی کو سخت ندامت اور رسوائی نصیب ہوئی تو براہین احمدیہ حصہ پنجم (مرزا قادیانی کی کتاب) کے اخیر میں اس نظم کو درج کر کے اس شعر:

یک بیک اک زلزلہ سے سخت جنبش کھائیں گے
کیا بشر اور کیا شجر اور کیا حجر اور کیا بہار

پر تیس سال کے بعد ایک نوٹ لکھ دیا کہ ”خدا کی وحی میں زلزلہ کا بار بار لفظ ہے اور فرمایا کہ ایسا زلزلہ ہوگا جو نمونہ قیامت ہوگا بلکہ قیامت کا زلزلہ اس کو کہنا چاہئے جس کی طرف سورۃ اذا زلزلت الارض زلزالھا اشارہ کرتی ہے۔ لیکن میں ابھی تک اس زلزلہ کے لفظ کو قطعی یقین کے ساتھ ظاہر پر جما نہیں سکتا۔“ (براہین احمدیہ ص ١٢٠، خزائن ج ٢١ ص ١٥١) ورنہ اس سے قبل مرزا قادیانی ایک سخت زلزلہ ہی کے منتظر تھے۔ چنانچہ ملاحظہ ہو سراج الاخبار جہلم مطبوعہ ٩ راپریل ١٩٠٧ء کی مندرجہ ذیل عبارت

مرزا قادیانی کے الہامات

”مرزا قادیانی کے الہامات بھی عجیب ہوتے ہیں جب کوئی واقعہ دنیا میں ظہور پذیر ہوتا ہے۔ مرزائیوں کے خیال میں مرزا قادیانی کے کسی نہ کسی الہام یا پیش گوئی کی میخ اس کو ضرور لگی ہوئی ہوتی ہے۔ طاعون ہو تو مرزا قادیانی کا الہام پورا ہوتا ہے۔ کوئی زلزلہ آجائے تو مرزا قادیانی کا نشان پورا ہوتا ہے۔ کوئی مر جائے تو مرزا قادیانی کی پیش گوئی پوری ہوئی۔ غرض کوئی حادثہ قیامت تک ایسا نہیں ہو سکتا جس میں مرزا قادیانی کے الہام یا پیش گوئی کی صداقت کی دلیل نہ ہو اور طرفہ یہ کہ آپ کی پیش گوئی یا الہام کسی بھلائی کے متعلق نہیں ہوتا بلکہ آپ کے الہامات اہل دنیا کی ہلاکت، تباہی اور طرح طرح کی آفات ارضی و سماوی اور مشکلات کا ہی باعث ہوتے ہیں۔

٢

صفحہ ٥١٣

گویا آپ کا وجود دنیا کے لئے سراسر وبال تھا۔ زندگی میں خلق خدا آپ کی بد گوئیوں اور سخت کلامیوں سے پریشان رہی۔ کئی سال سے آپ فوت بھی ہو چکے ہیں لیکن دنیا سے یہ نحوست پھر بھی دور نہ ہوئی۔ نہایت ہی عجیب بات ہے کہ مرزا قادیانی کے وہ صاف اور کھلے الہام اور پیش گوئیاں جو اپنے حریف مولوی ثناء اللہ امرتسری یا ڈاکٹر عبدالحکیم کی موت کی نسبت کی گئی تھیں۔ کیوں پوری نہ ہوئیں؟ اور نہ محمدی بیگم کے نکاح کی مؤکد پیش گوئی پوری ہو سکی اور مرزا قادیانی کے ملہم نے آپ کی یہاں تک بھی یاوری نہ کی کہ آپ کو موت کے وقت ہی پہلے اطلاع مل جاتی کہ آپ اپنے دار الامان اور تخت گاہ سے باہر لاہور میں بحالت غربت و مسافرت جان دے کر نقصان مایہ و شماتت ہمسایہ کی رسوائی حاصل نہ کرتے اور نہ آپ کی نعش مال ٹرین پر لاد کر قادیان پہنچائی جاتی۔ پھر ایسے گول مول الہامات کو توڑ مروڑ کر خواہ مخواہ کسی واقعہ سے منطبق کرنا مرزائی جماعت کے لئے باعث شرم ہونا چاہئے ۔ لیکن:

شرم چہ است کہ پیش مرداں بیائید

جب کوئی نیا واقعہ ظہور پذیر ہوتا ہے مرزائی صاحبان ”نشان نشان“ کی صدا سے آسمان سر پر اٹھا لیتے ہیں۔ حالانکہ اصل حقیقت کا انکشاف ہونے پر یہ صداقت کا نشان نہیں بلکہ ذلت و رسوائی کا نشان ثابت ہوتا ہے۔ حال میں حکومت روس میں انقلاب ہوا ہے اور زار روس تخت سے دست بردار ہو گیا۔ یہ واقعہ واقعات عالم میں کوئی نیا نہیں بلکہ ایسے انقلاب ہمیشہ ہوتے رہتے ہیں اور ہوتے رہیں گے۔ بہت تھوڑا عرصہ ہوا ہے کہ عبدالحمید ثانی اسی طرح تخت سے معزول کر دیئے گئے تھے۔ زار روس کی معزولی کا معاملہ اس سے بڑھ کر کچھ اہمیت نہیں رکھتا۔ بالخصوص جبکہ حال کے جنگ عظیم نے حالات ایسے پیدا کر دیئے ہیں کہ حکومتوں میں تغیرات وقوع میں آ رہے ہیں۔ کہیں وزارت کا تغیر ہوتا ہے کہیں دیگر اراکین میں ردو بدل ہوتا ہے۔ اس واقعہ کو بھی مرزا قادیانی کا نشان قرار دیا گیا ہے۔ مرزائی اخبارات پیغامی و محمودی اس بارہ میں ہم آہنگ ہیں کہ زار روس کی معزولی کا معاملہ مرزا قادیانی کی صداقت کا عظیم الشان نشان ہے۔ کہا جاتا ہے کہ مرزا قادیانی نے اپریل ١٩٠٥ء میں چند اشعار لکھے تھے۔ جن میں زمانہ حال کے جنگ عظیم کی پیش گوئی کی گئی تھی اور اس میں ایک مصرع یہ بھی ہے۔

زار بھی ہوگا تو ہوگا اس گھڑی با حال زار

(براہین حصہ پنجم ص ١٢٠، خزائن ج ٢١ ص ١٥٢)

٣

صفحہ ٥١٤

ہیں اور ان کے دلوں پر مرزائیوں کا جادو کچھ اثر نہیں ڈال سکتا۔ لیکن شافی جواب دینے سے وہ قاصر رہتے ہیں جس سے مرزائیوں کو خوشی ہوتی ہے۔ چونکہ ہم مرزا قادیانی کے محرم راز اور گھر کے بھیدی ہیں اور اس پیش گوئی کی اصلیت سے بھی ہمیں پوری واقفیت ہے۔ اس لئے عوام کی آگاہی کیلئے وضاحت کے ساتھ اصل حقیقت کا کشف القناع کرنا چاہتے ہیں۔ پہلے ہم وہ اشعار لکھ دیں جو مرزائی اخبارات نے لکھ کر حال کے محاربہ عظیم سے ان کو چسپاں کرنے کی کوشش کی ہے۔ پھر ہم بتائیں گے۔ کہ ان اشعار کے مصنف کی ان سے کیا مراد تھی؟ اور ان اشعار کا مفہوم کیا کچھ ہے۔

اک نشاں ہے آنے والا آج سے کچھ دن کے بعد
جس سے گردش کھائیں گے دیہات وشہر ومرغزار
آئے گا قہر خدائے خلق پر اک انقلاب
اک برہنہ سے نہ یہ ہوگا کہ تا باندھے ازار
یک بیک اک زلزلہ سے سخت جنبش کھائیں گے
کیا بشر اور کیا شجر اور کیا حجر اور کیا بہار
اک جھپک میں یہ زمیں ہو جائے گی زیر وزبر
نالیاں خون کی چلیں گی جیسے آب رودبار
رات جو رکھتے تھے پوشاکیں برنگ یاسمن
صبح کر دے گی انہیں مثل درختاں چنار
ہوش اڑ جائیں گے انسان کے پرندوں کے حواس
بھولیں گے نغموں کا اپنے سب کبوتر اور ہزار
خون سے مردوں کے کوہستاں کے آب رواں
سرخ ہو جائیں گے جیسے ہو شراب انجبار
مضمحل ہو جائیں گے اس خوف سے سب جن وانس
زار بھی ہوگا تو ہوگا اس گھڑی باحال زار
اک نمونہ قہر کا ہوگا وہ ربانی نشاں
آسماں حملے کرے گا کھینچ کر اپنی کٹار
ہاں نہ کر جلدی سے انکار اے سفلہ ناشناس
اس پر ہے میری سچائی کا سبھی دارومدار

٤

صفحہ ٥١٥
وحی حق کی بات ہے ہو کر رہے گی بے خطا
کچھ دنوں کر صبر ہوکر متقی اور بردبار

(براہین ج٥ ص ١٢٠، خزائن ج٢١ ص ١٥١،١٥٢)

یہ اس وقت کا معاملہ ہے جب کانگڑہ میں ایک قیامت نما ہولناک زلزلہ ٤؍ اپریل ١٩٠٥ء کو ہوا۔ اس واقعہ سے تو مرزا قادیانی کچھ فائدہ نہ اٹھا سکے کیونکہ پہلے کوئی ایسی تک بندی نہ کی گئی تھی۔ البتہ آئندہ کسی موقع کی تلاش میں تھے کہ انہیں دنوں ایک انگریز نے یہ پیش گوئی کر دی کہ ”لغایت ١٢؍ مئی ١٩٠٥ء پھر ایک غضبناک زلزلہ آنے والا ہے۔“ یہ سنکر مرزا قادیانی نے بھی ایک اشتہار جاری کر دیا کہ جس میں ایک سخت زلزلہ آنے کی پیشین گوئی کر دی۔ مرزا قادیانی نے اس پیش گوئی کو یہاں تک اہمیت دی کہ خود باہر جنگلوں میں جھونپڑیاں بنا کر نکل گئے اور رہائشی مکان خالی کر دیئے۔ مرزائی ہی نہیں بلکہ مرزا قادیانی خود بدولت بھی گھر کو چھوڑ کر ویرانہ جنگل میں اپنے اہل وعیال سمیت نکل کر ہو بیٹھے اور زلزلہ کی انتظار کرنے لگے۔ اللہ تعالیٰ کو چونکہ ایسے جھوٹے ملہموں اور منجموں کی عزت منظور نہیں ہے اور نہ کوئی شخص دعوے علم الغیب میں سچا ہو سکتا ہے۔ اس لئے وہ دن بالکل خیریت سے گزر گئے۔ کوئی معمولی زلزلہ بھی نہ آیا اور ١١، ١٢؍ مئی کی تاریخیں بھی گزر گئیں۔ ایک اور انگریز نے جو علم طبقات الارض میں مہارت رکھتا تھا پیش گوئی کر دی کہ: ”دوسو سال تک ایسا سخت زلزلہ ظہور میں نہ آئے گا۔“

اس لئے مرزا قادیانی کو ایسے زلزلہ کی امید باقی نہ رہی اور پھر ناکام گھر کو واپس آ گئے۔ ان واقعات کا ثبوت ١٩٠٥ء کے اخبار الحکم میں موجود ہے۔ جنگل میں نکل جانے کی تصدیق میں دیکھو (مجموعہ اشتہارات ج٣ ص ٥٤٠، اخبار الحکم مطبوعہ ١١؍ مئی ١٩٠٥ء ص٩ کالم٣) اس میں مرزا قادیانی کی طرف سے ایک مضمون بعنوان ”ضروری گزارش قابل توجہ گورنمنٹ“ درج ہے جس میں لکھا ہے: ”جس آنے والے زلزلہ سے میں نے دوسروں کو ڈرایا اس سے پہلے میں آپ ڈرا اور اب تک قریباً ایک ماہ سے میرے خیمے باغ میں لگے ہوئے واپس قادیان نہیں گیا۔ میں مع اہل وعیال اور اپنی تمام جماعت کے جنگل میں پڑا ہوں اور جنگل کی گرمی کو برداشت کر رہا ہوں۔“

اس مضمون کے لکھنے کی مرزا قادیانی کو اس لئے ضرورت پیش آئی کہ اس سے پہلے مسٹر ڈوئی صاحب ڈپٹی کمشنر گورداسپور کی طرف سے ان کو ایسی منذر پیش گوئیوں کی نسبت ممانعت ہو چکی تھی اور اس پیش گوئی کی نسبت بھی حکام کی طرف سے نوٹس لئے جانے کا ان کو کھٹکا تھا۔ بہر حال سالم ایک ماہ جنگل کی خاک چھاننے اور جیٹھ ہاڑ کی دھوپ کی گرمی برداشت کرنے کے

٥

صفحہ ٥١٤

ہیں اور ان کے دلوں پر مرزائیوں کا جادو کچھ اثر نہیں ڈال سکتا۔ لیکن شافی جواب دینے سے قاصر رہتے ہیں جس سے مرزائیوں کو خوشی ہوتی ہے۔ چونکہ ہم مرزا قادیانی کے محرم راز اور گھر کے بھیدی ہیں اور اس پیش گوئی کی اصلیت سے بھی ہمیں پوری واقفیت ہے۔ اس لئے عوام کی آگاہی کیلئے وضاحت کے ساتھ اصل حقیقت کا کشف القناع کرنا چاہتے ہیں۔ پہلے ہم وہ اشعار لکھ دیں جو مرزائی اخبارات نے لکھ کر حال کے محاربہ عظیم سے ان کو چسپاں کرنے کی کوشش کی ہے۔ پھر ہم بتائیں گے۔ کہ ان اشعار کے مصنف کی ان سے کیا مراد تھی؟ اور ان اشعار کا مفہوم کیا کچھ ہے۔

اک نشاں ہے آنے والا آج سے کچھ دن کے بعد
جس سے گردش کھائیں گے دیہات وشہر و مرغزار
آئے گا قہر خدائے خلق پر اک انقلاب
اک برہنہ سے نہ یہ ہوگا کہ تا باندھے ازار
یک بیک اک زلزلہ سے سخت جنبش کھائیں گے
کیا بشر اور کیا شجر اور کیا حجر اور کیا بہار
اک جھپک میں یہ زمیں ہو جائے گی زیر وزبر
نالیاں خون کی چلیں گی جیسے آب رودبار
رات جو رکھتے تھے پوشاکیں برنگ یاسمن
صبح کر دے گی انہیں مثل درختاں چنار
ہوش اڑ جائیں گے انسان کے پرندوں کے حواس
بھولیں گے نغموں کو اپنے سب کبوتر اور ہزار
خون سے مردوں کے کوہستاں کے آب رواں
سرخ ہو جائیں گے جیسے ہو شراب انجبار
مضمحل ہو جائیں گے اس خوف سے سب جن وانس
زار بھی ہوگا تو ہوگا اس گھڑی باحال زار
اک نمونہ قہر کا ہوگا وہ ربانی نشاں
آسمانی حملے کرے گا کھینچ کر اپنی کٹار
ہاں نہ کر جلدی سے انکار اے سفیہ ناشناس
اس پر ہے میری سچائی کا سبھی دارو مدار
صفحہ ٥١٥
وحی حق کی بات ہے ہو کر رہے گی بے خطا
کچھ دنوں کر صبر ہوکر متقی اور بردبار

(براہین ج ٥ ص ١٢٠، خزائن ج ٢١ ص ١٥٢، ١٥١)

سو یہ اس وقت کا معاملہ ہے جب کانگڑہ میں ایک قیامت نما ہولناک زلزلہ ٤؍اپریل ١٩٠٥ء کو ہوا۔ اس واقعہ سے تو مرزا قادیانی کچھ فائدہ نہ اٹھا سکے کیونکہ پہلے کوئی ایسی تک بندی نہ کی گئی تھی۔ البتہ آئندہ کسی موقع کی تلاش میں تھے کہ انہیں دنوں ایک انگریز نے یہ پیش گوئی کر دی کہ ”لغایت ١٢؍مئی ١٩٠٥ء پھر ایک غضبناک زلزلہ آنے والا ہے۔“ یہ سنکر مرزا قادیانی نے بھی ایک اشتہار جاری کر دیا کہ جس میں ایک سخت زلزلہ آنے کی پیشین گوئی کر دی۔ مرزا قادیانی نے اس پیش گوئی کو یہاں تک اہمیت دی کہ خود باہر جنگلوں میں جھونپڑیاں بنا کر نکل گئے اور رہائشی مکان خالی کر دیئے۔ مرزا کی ہی نہیں بلکہ مرزا قادیانی خود بدولت بھی گھر کو چھوڑ کر ویرانہ جنگل میں اپنے اہل وعیال سمیت نکل کر ہو بیٹھے اور زلزلہ کی انتظار کرنے لگے۔ اللہ تعالیٰ کو چونکہ ایسے جھوٹے ملہموں اور منجموں کی عزت منظور نہیں ہے اور نہ کوئی شخص دعوے علم الغیب میں سچا ہو سکتا ہے۔ اس لئے وہ نو دن بالکل خیریت سے گزر گئے۔ کوئی معمولی زلزلہ بھی نہ آیا اور ١١،١٢؍مئی کی تاریخیں بھی گزر گئیں۔ ایک اور انگریز نے جو علم طبقات الارض میں مہارت رکھتا تھا پیش گوئی کر دی کہ: ”دوسو سال تک ایسا سخت زلزلہ ظہور میں نہ آئے گا۔“

اس لئے مرزا قادیانی کو ایسے زلزلہ کی امید باقی نہ رہی اور پھر ناکام گھر کو واپس آگئے۔ ان واقعات کا ثبوت ١٩٠٥ء کے اخبار الحکم میں موجود ہے۔ جنگل میں نکل جانے کی تصدیق میں دیکھو (مجموعہ اشتہارات ج٣ ص ٥٣٠، اخبار الحکم مطبوعہ ١١؍مئی ١٩٠٥ء ص ٩ کالم ٣) اس میں مرزا قادیانی کی طرف سے ایک مضمون بعنوان ”ضروری گزارش قابل توجہ گورنمنٹ“ درج ہے جس میں لکھا ہے۔ ”جس آنے والے زلزلہ سے میں نے دوسروں کو ڈرایا اس سے پہلے میں آپ ڈرا اور اب تک قریباً ایک ماہ سے میرے خیمے باغ میں لگے ہوئے واپس قادیان نہیں گیا۔ میں معہ اہل وعیال اور اپنی تمام جماعت کے جنگل میں پڑا ہوں اور جنگل کی گرمی کو برداشت کر رہا ہوں۔“

اس مضمون کے لکھنے کی مرزا قادیانی کو اس لئے ضرورت پیش آئی کہ اس سے پہلے مسٹر ڈوئی صاحب ڈپٹی کمشنر گورداسپور کی طرف سے ان کو ایسی منذر پیش گوئیوں کی نسبت ممانعت ہوچکی تھی اور اس پیش گوئی کی نسبت بھی حکام کی طرف سے نوٹس لئے جانے کا ان کو کھٹکا تھا۔ بہر حال سالم ایک ماہ جنگل کی خاک چھاننے اور جیٹھ ہاڑ کی دھوپ کی گرمی برداشت کرنے کے

٥

صفحہ ٥١٦

بعد جب پیش گوئی جھوٹی نکلی اور کوئی زلزلہ نہ آیا تو آپ گھر کو واپس آگئے اور دنیا پر آپ کی پیش گوئی کی ساری حقیقت کھل گئی۔ (سراج الاخبار مطبوعہ ١٧ جولائی ١٩٠٥ء) میں اس ......! صفحہ ٥، ٦، ٧، ٨ نہیں ہیں۔

...... یہ مندرجہ بالا الفاظ صاف طور پر ظاہر کر رہے ہیں کہ یہ ایک آناً فاناً۔ فوری اور خاص ایک وقت پر آنے والے حادثہ کی خبر دی گئی ہے۔ کیونکہ اک جھپک، ساعت اور گھڑی کے الفاظ مرزا قادیانی اور محمد علی ایم اے کی ڈگری پر زار زار رو رہے ہیں اور زار بھی ہوگا اس گھڑی باحال زار کے یہ معنی ہیں کہ اگر زار جیسا بادشاہ اس گھڑی یعنی زلزلہ کی حالت میں ہوگا تو اس کی حالت بھی زار ہوگی کیونکہ زلزلہ اپنے تاثرات سب لوگوں پر یکساں ڈالتا ہے۔ کیا غریب اور کیا امیر کیا بادشاہ اور کیا فقیر ۔ خیال تو فرمائیے کہ اگر زار روس اور ایک فقیر ایک جگہ اکٹھے کھڑے ہوئے ہوں اور زلزلہ وارد ہو جائے تو کیا ایسا ہو سکتا ہے کہ زلزلہ اس فقیر پر تو اپنا اثر ڈال دے اور زار روس پر اپنا اثر نہ ڈال سکے۔ نہیں دونوں پر یکساں اثر ہوگا۔ اس لئے مرزا قادیانی نے کہا کہ وہ ایسا سخت زلزلہ ہوگا کہ زار بھی ہوگا تو اس گھڑی با حال زار اور پھر مرزا قادیانی کہتے ہیں کہ ”اس پہ ہے میری سچائی کا سبھی دارو مدار“ کیوں صاحب زار کی معزولی سے مرزا قادیانی کی سچائی کا کیا تعلق؟ کیا اس لئے زار معزول ہوا ہے کہ اس نے مرزا قادیانی کو نبی تسلیم نہیں کیا اور پھر بلجیم وغیرہ کی تباہی کو مرزا قادیانی کی سچائی سے کیا تعلق؟ مرزا قادیانی کے اشعار سے صاف ظاہر ہے کہ زلزلہ مرزا قادیانی کے ملک ہی میں آنے والا ہے کیونکہ ازار اتار کر اور برہنہ ہو کر سونا قادیان جیسے گاؤں والوں کا ہی کام ہے۔ ورنہ یورپ میں تو ازار بندی کا رواج ہی نہیں۔

اور پھر ہم نہیں سمجھتے کہ اس مصرع کا موجودہ جنگ سے کیا تعلق ہے کہ بھونچال کے نغموں کو اپنے سب کبوتر اور ہزار ۔ اول تو نغمہ کبوتر ہی آج سننے میں آیا ہے اور یہ مرزا صاحب کی شاعری ہے اور پھر سب کبوتر کہاں اپنے نغمے بھول گئے ہیں اور پھر یہ کیا ثبوت ہے کہ بلبل نے اپنی نغمہ سنجی چھوڑ دی ہے اور پھر ہر مسافر اور صبح کا لفظ ظاہر کر رہا ہے کہ یہ ایک صبح کے وقت زلزلہ آئے گا جس وقت کہ مسافر چل رہے ہوں گے اور وہ ساعت ان کے لئے سخت ہوگی مگر ہمارے ایم اے صاحب فرماتے ہیں کہ نہیں یہ پیش گوئی موجودہ جنگ اور زار روس کی معزولی کے متعلق ہے۔ شرم شرم۔

اچھا صاحب اب ہم آپ کو یہ دکھانا چاہتے ہیں کہ ایم اے صاحب نے کس قدر اپنی ایمان اور دیانتداری کا خون کیا ہے یعنی براہین احمدیہ کے صفحہ ١٢٠ والا نوٹ تو اپنے اشتہار میں لکھ

٦

دیا مگر (ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم صفحات ٩٠، ٩٢ نوٹ کو عمداً نظر انداز کر دیا ہے۔ چنانچہ مرزا قادیانی اس پیش گوئی سے مراد زلزلہ ہی ہے۔

زلزلہ کے متعلق مرزا قادیانی کے الہامات

چنانچہ مرزا قادیانی اپنی تصنیف کر کہ یہ پیش گوئی گول مول کیسی ہو سکتی ہے۔ ق موجود ہے کہ اس میں ایک حصہ ملک کا نابود ہو آئے گا۔“ پھر مرزا قادیانی فرماتے ہیں: ”یا خارق عادت طور سے ظاہر ہوا جس خارق عاد ہو گئے۔ ایسا ہی آئندہ زلزلہ کی نسبت جو پیش وہ آخر کو معمولی بات نکلی یا میری زندگی میں ہوں۔“ پھر مرزا قادیانی فرماتے ہیں: ” زلزلہ رکھا ہے نمونہ قیامت ہوگا اور پہلے سے اس آئندہ کی پیش گوئی میں بھی پہلی پیش گوئی حق ہے۔“ ”یہ پیش گوئی تاریخ ١ اور ٢ مئی اور تصریحات ہیں جو تاریخ ١ اور ٢ مئی کے زلزلہ تیری ہی زندگی میں آئے گا اور اس زلز تیری جماعت میں داخل ہو جائے گی۔“ دیکھئے مرزا قادیانی اور کیا فرما کے الفاظ کے یہ معنی کئے ہیں کہ ان سے مر طور پر زلزلہ کے لفظ سے مراد زلزلہ ہی ہے، جناب ایم اے صاحب سے سن لو کہ آئندہ زلزلہ کی نسبت جو میری پی

صفحہ ٥١٧

دیا مگر (ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم صفحات ٩٠، ٩٢، ٩٤، ٩٧، ٩٩) کی مختلف عبارتیں اور ص ٩٧ کے نوٹ کو عمداً نظر انداز کر دیا ہے۔ چنانچہ مرزا قادیانی کی مندرجہ ذیل تحریروں سے ثابت ہوتا ہے کہ اس پیش گوئی سے مراد زلزلہ ہی ہے۔

زلزلہ کے متعلق مرزا قادیانی کے اپنے بیانات

چنانچہ مرزا قادیانی اپنی تصنیف کردہ کتاب میں فرماتے ہیں: ”پھر آپ خوب سوچ لیں کہ یہ پیش گوئی گول مول نہیں ہو سکتی ہے۔ جبکہ صریح اس میں زلزلہ کا نام بھی موجود ہے اور یہ بھی موجود ہے کہ اس میں ایک حصہ ملک کا نابود ہو جائے گا اور یہ بھی موجود ہے کہ وہ میری زندگی میں آئے گا۔“

(ضمیمہ براہین احمدیہ ص ٩٠، خزائن ج ٢١ ص ٢٥٠)

پھر مرزا قادیانی فرماتے ہیں: ”یہ کوئی ان ہونی بات نہیں ہے لیکن جبکہ گزشتہ زلزلہ اس خارق عادت طور سے ظاہر ہوا جس خارق طور سے پیش گوئی نے ظاہر کیا تھا تو پھر اعتراض فضول ہو گئے۔ ایسا ہی آئندہ زلزلہ کی نسبت جو پیش گوئی کی گئی ہے وہ کوئی معمولی پیش گوئی نہیں ہے۔ اگر وہ آخر کو معمولی بات نکلی یا میری زندگی میں اس کا ظہور نہ ہوا تو میں خدا تعالیٰ کی طرف سے نہیں ہوں۔“

(ضمیمہ براہین احمدیہ ص ٩٢، خزائن ج ٢١ ص ٢٥٣)

پھر مرزا قادیانی فرماتے ہیں: ”مجھے خدا تعالیٰ خبر دیتا ہے کہ وہ آفت جس کا نام اس نے زلزلہ رکھا ہے نمونہ قیامت ہوگا اور پہلے سے بڑھ کر اس کا ظہور ہوگا۔ اس میں کچھ شک نہیں ہے کہ اس آئندہ کی پیش گوئی میں بھی پہلی پیش گوئی کی طرح بار بار زلزلہ کا بہ نسبت تاویلی معنوں کے زیادہ حق ہے۔“

(براہین احمدیہ ص ٩٣، خزائن ج ٢١ ص ٢٥٤)

”یہ پیش گوئی تاریخ اور وقت نہ لکھنے سے باطل نہیں ہو سکتی۔ کیونکہ اس کے ساتھ اسی قدر اور تصریحات ہیں جو تاریخ اور وقت لکھنے سے مستغنی کرتی ہیں۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ وہ زلزلہ تیری ہی زندگی میں آئے گا اور اس زلزلے کے آنے سے تیری نمایاں فتح ہوگی اور مخلوق کثیر تیری جماعت میں داخل ہو جائے گی۔“

(ص ٩٤، خزائن ج ٢١ ص ٢٥٤)

دیکھئے مرزا قادیانی اور کیا فرماتے ہیں: ”ہم نے کب اور کس وقت اپنی پیش گوئیوں کے الفاظ کے یہ معنی کئے ہیں کہ ان سے مراد زلزلہ نہیں ہے بلکہ ہم تو کہتے ہیں کہ اکثر اور اغلب طور پر زلزلہ کے لفظ سے مراد زلزلہ ہی ہے۔“

(ص ٩٦، خزائن ج ٢١ ص ٢٥٧)

جناب ایم اے صاحب سنئے مرزا قادیانی اور کیا فرماتے ہیں: ”اب ذرا کان کھول کر سن لو کہ آئندہ زلزلہ کی نسبت جو میری پیش گوئی ہے۔ اس کو ایسا خیال کرنا کہ اس کے ظہور کی کوئی

٧

صفحہ ٥١٨

کبھی حد مقرر نہیں کی گئی یہ خیال سراسر غلط ہے جو کہ محض قلت تدبر اور کثرت تعصب اور جلد بازی سے پیدا ہوا ہے۔ کیونکہ بار بار وحی الٰہی نے مجھے اطلاع دی ہے کہ وہ پیش گوئی میری زندگی میں اور میرے ہی ملک میں اور میرے ہی فائدہ کے لئے ظہور میں آئے گی اور اگر وہ صرف معمولی بات ہو جس کی نظیریں آگے پیچھے صدہا ہوں اور اگر ایسا خارق عادت امر نہ ہو جو قیامت کے آثار ظاہر کر دے تو پھر میں خود اقرار کرتا ہوں کہ اس کو پیش گوئی مت سمجھو اس کو بقول اپنے تمسخر ہی سمجھو۔ اب میری عمر ستر برس کے قریب ہے اور تیس برس کی مدت گزر گئی کہ خدا تعالیٰ نے مجھے صریح لفظوں میں اطلاع دی تھی کہ تیری عمر اسی برس کی ہوگی اور یا کہ پانچ سال زیادہ یا پانچ سال کم۔ پس اس صورت میں اگر خدا تعالیٰ نے آفت شدیدہ کے ظہور میں بہت ہی تاخیر ڈال دی تو زیادہ سے زیادہ سولہ سال ہیں اس سے زیادہ نہیں کیونکہ ضروری ہے کہ یہ حادثہ میری زندگی میں ظہور میں آجائے (یہاں پر آکر ایک نوٹ لکھا گیا ہے اور وہ نوٹ یہ ہے )

”خدا تعالیٰ کا ایک الہام یہ بھی ہے۔ پھر بہار آئی خدا کی بات پھر پوری ہوئی اس سے معلوم ہوتا ہے کہ زلزلہ موعود کے وقت بہار کے دن ہوں گے اور جیسا کہ بعض الہامات سے سمجھا جاتا ہے غالباً وہ صبح کا وقت ہوگا یا اس کے قریب اور غالباً وہ نزدیک ہے جبکہ وہ پیش گوئی ظہور میں آجائے اور ممکن ہے کہ خدا اس میں کچھ تاخیر ڈال دے۔“

(ضمیمہ براہین احمدیہ ص ٢٩٧ خزائن ج ٢١ ص ٢٥٨،٢٥٩)

جناب ایم اے صاحب اور سنئے مرزا قادیانی کیا لکھتے ہیں: ”معترض کا یہ دوسرا اعتراض کہ یہ دعویٰ نہیں کیا گیا کہ درحقیقت زلزلہ ہے۔ یہ اعتراض بھی قلت فہم سے ناشئ ہوا ہے۔ کیونکہ ہم بار بار لکھ چکے کہ ظاہر الفاظ وحی سے زلزلہ ہی معلوم ہوتا ہے اور اغلب اکثر یہی ہے کہ وہ زلزلہ ہے اور پہلا زلزلہ اس پر شہادت بھی دیتا ہے“

(ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم ص ٩٩، خزائن ج ٢١ ص ٢٦١)

اپنی ہی تحریروں سے مرزا قادیانی کا جھوٹا ثابت ہونا

کیوں جی جناب مولانا ایم اے صاحب ان اسناد کے ہوتے ہوئے بھی یہی لکھو گے کہ ان اشعار سے مراد موجود جنگ اور زار روس کی معزولی ہے؟ کیا اب بھی آپ مرزا قادیانی مدعی مہدویت ومسیحیت کو ایک راست باز مقدس اور سچا اور باخدا آدمی تسلیم کرو گے؟ ذرا غور سے سمجھو۔

٨

صفحہ ٥١٩

کی معزولی کا لفظ آتا۔ یا خود ہی مرزا قادیانی نے خدا سے لفظ زلزلہ کے اصلی معنی کیوں نہ پوچھ لئے اور بے فائدہ تین سال تک لوگوں سے لفظ زلزلہ پر بحث کرتے رہے۔

اب تم ہی انصاف سے کہو کہ مرزا قادیانی تو بار بار یہی کہتے ہیں کہ اس پیش گوئی سے مراد زلزلہ ہے اور وہ زلزلہ میری زندگی اور میرے ہی ملک میں آئے گا اور بہار کے دن اور صبح کے وقت ہوگا اور اس پر میری سچائی کا دارو مدار ہے اور تم کہتے ہو کہ اس سے مراد موجودہ جنگ مرزا قادیانی کی زندگی میں شروع ہوئی ہے؟ اور کیا مرزا قادیانی کے ہی ملک میں وہ جنگ چھڑی ہوئی ہے۔ عقل اور کانشنس تمہاری ایم اے کی ڈگری پر نفرت انگیز طمانچے مار رہے ہیں۔ کیوں صاحب یہ کہاں کا انصاف ہے کہ مرزا قادیانی کو کافر اور کاذب تو ہندوستان و پنجاب کے لوگ کہیں اور ان کے دعاوی سے انکار کریں ۔ مگر اس کی سزا ملے بلجیم والوں کو۔ اس کا خمیازہ اٹھانا پڑے سرویا والوں کو۔ اس کا بدلہ لیا جائے۔ فرانس والوں سے۔ اس کا انتقام لیا جائے زار وروس سے۔

سبحان اللہ! ایم اے صاحب کے علم وعقل کے کیا کہنے۔ اجی جناب مولانا صاحب مسلم ہائی سکول میں طلباء کو اسی علم وعقل کی تعلیم دو گے؟ واہ صاحب آپ نے تو امیر قوم ہو کر اپنی قوم کی ناک ہی کٹوا دی اور ساتھ ہی ان بھولے بھالے مسلمانوں کی ناک پر کند استرے سے ایک چرکا دے دیا کہ جو آپ کو علم وعقل کا ایک بہت بڑا مجسمہ سمجھتے ہیں۔ آج معلوم ہو گیا کہ آپ درس قرآن مجید میں بھی اسی قسم کے نکات معرفت بیان فرماتے ہوں گے۔ دیکھو دیکھو ہم آپ کو خدا کے عذاب سے ڈراتے ہیں کہ اس کی جھوٹی امارت کو لات مار کر فوراً تائب ہو جاؤ اور اعلان کر دو کہ ان تحریروں سے ثابت ہو گیا ہے کہ مرزا قادیانی ایک راست باز انسان نہیں تھے اور بے شک خدا کی طرف سے نہیں تھے۔ کیونکہ مرزا قادیانی نے خود لکھا ہے کہ:”اگر یہ زلزلہ میری زندگی اور میرے ملک میں نہ آئے تو میں خدا کی طرف سے نہیں ہوں۔“

(براہین ص٩٢ خزائن ج٢١ ص٢٥٣)

زار وروس کی معزولی نہیں لیتے اور ہم اسی زلزلہ کے منتظر ہیں کہ جس کی میعاد مرزا قادیانی ١٦ سال تک مقرر کی ہے تو ہم آپ کو آگاہ کئے دیتے ہیں کہ اس لحاظ سے بھی مرزا قادیانی جھوٹے ہی ثابت ہوتے ہیں کیونکہ شق اول تو یہ ہے کہ یہ واقع مرزا قادیانی کی زندگی ہی میں ظہور میں آئے مگر یہاں تو یہ معاملہ ہے کہ:

آن قدح بشکست و آں ساقی نماند

٩

صفحہ ٥٢٠

ناظرین! ہم آپ کو ایک اور حقیقت سے بھی آگاہ کرنا چاہتے ہیں کہ مرزا قادیانی نے یہ پیش گوئی ١٥؍ اپریل ١٩٠٥ء (براہین ٥ ص ١٢٠، خزائن ج ٢١ ص ١٥١) زلزلہ کے متعلق کی۔ مگر جب وہ پیش گوئی پوری نہ ہوئی اور بجائے کچھ دنوں۔ کئی ہفتے، کئی مہینے اور کئی سال بھی گزر گئے تو غالباً ایسا معلوم ہوتا ہے کہ براہین احمدیہ کے حصہ پنجم کے اختتام پر جو نظم درج کی ہے۔ اس کے ساتھ ہی بارہ تیرہ اشعار زلزلہ کی پیش گوئی کے متعلق بھی لکھ دیئے۔ اس کے بعد ضمیمہ براہین احمدیہ لکھ کر اس پیش گوئی اور لفظ زلزلہ کے متعلق مرزا قادیانی نے مفصل بحث لکھی ہے۔ معلوم ایسا ہوتا ہے کہ جن دنوں مرزا قادیانی نے یہ نفسانی منصوبہ گھڑ کر کہ زلزلہ یا حادثہ میرے ہی ملک اور میری ہی زندگی میں ظہور میں آئے گا۔ براہین احمدیہ اور ضمیمہ براہین احمدیہ کو ختم کیا ہے تو خداوند قہار و جبار نے بھی مرزا قادیانی کو جھوٹا ثابت کرنے کے لئے مرزا قادیانی کا بھی ساتھ ہی خاتمہ کر دیا۔ یعنی ایسے شدید مفتری کو ٦ ماہ سے زیادہ زندہ رہنے کی مہلت ہی نہیں دی۔ کیونکہ ٢٦؍ مئی ١٩٠٨ء کو مرزا قادیانی انتقال کر گئے اور براہین احمدیہ معہ ضمیمہ براہین احمدیہ ١٥؍ اکتوبر ١٩٠٨ء کو چھپ کر شائع ہوئی ہے یعنی مرزا قادیانی کی موت کے ٦ ماہ بعد افسوس ہے کہ ضمیمہ براہین احمدیہ چھاپتے ہوئے مرزائیوں کو خیال نہیں آیا کہ اس ضمیمہ میں تو مرزا قادیانی کی زندگی ہی میں ایک عظیم الشان پیش گوئی کے پورا ہونے کا دعویٰ درج ہے مگر مرزا قادیانی تو اس پیش گوئی کے پورا ہونے سے پہلے ہی چل بسے ہیں اور ان کو مرے ہوئے بھی ٦ ماہ ہوگئے۔ مگر جن کی عقلوں پر پردے پڑ گئے ہوں۔ ان کو ایسی باتیں نہیں سوجھا کرتیں کیونکہ خدا کو بھی منظور ہے کہ ایسے جھوٹے مدعیان نبوت اور ان کے پیروں کی سخت ذلت و رسوائی اور تشہیر کذب کیا جائے۔ اس لئے وہ اپنے ہاتھوں سے خود ہی ایسی تحریریں لکھ دیتے ہیں کہ جن سے ان کا بطلان خود ہی تمام زمانہ پر ظاہر ہو جائے گا چنانچہ جیسا کہ مرزا قادیانی کی مندرجہ بالا تحریروں سے صاف ثابت ہو گیا کہ وہ ہرگز ایک راست باز اور سچے شخص نہیں تھے اور بے شک وہ خدا کی طرف سے نہیں تھے۔

اگر محمد علی ایم اے کے سینے میں دل اور اس دل میں صداقت ہے اور اگر محمد علی ایم اے کے سر میں دماغ اور اس دماغ میں کچھ عقل بھی ہے تو وہ فوراً قادیانی عقائد سے تائب ہو کر سچا مسلمان ہو جائے گا اور اگر اس کے دل میں صداقت نہیں اور اس دماغ میں عقل کا مادہ نہیں اور اس کا دماغ پھر گیا ہے اور بجائے ان بہترین جوہروں کے توہمات فاسدہ اور عقائد باطلہ نے اس کے دل و دماغ میں گھر کیا ہوا ہے تو وہ خود بھی گمراہ ہے اور کئی اور مسلمانوں کو بھی گمراہ کرے گا۔

تاج الدین احمد تاج ...... سابق ایڈیٹر اخبار ہنٹر خلف الصدق ملا محمد بخش سیکرٹری انجمن حامی اسلام!

١٠

PDF 524

خاتم النبیین لا نبی بعدی

صلے اللہ علیہ وعلی آلہ واصحابہ وسلم

قادیان میں

قہری نشان

جناب تاج الدین احمد تاج

صفحہ ٥٢٢

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اس سے قبل ہمارا ایک ٹریکٹ بعنوان ”ایک جھوٹی پیش گوئی پر مرزائیوں کا شور و غل“ شائع ہو کر مقبولیت عام کا سرٹیفکیٹ حاصل کر چکا ہے۔ اس ٹریکٹ کو تمام مسلمانوں نے نہایت پسندیدگی اور وقعت کی نظر سے دیکھا۔ کثرت سے مسلمانوں نے اظہار تحسین و آفرین کے خطوط بھیجے اور حیرت انگیز مسرت کے ساتھ اس امر کا اعتراف کیا کہ اس ٹریکٹ نے مرزائیوں کے اسرار کو طشت از بام اور قادیانی ادعائے کاذبانہ پر ایک ایسی شدید ضرب لگائی ہے۔ کہ مرزا قادیانی کی نبوت اور زلزلہ والی پیش گوئی کا کچومر ہی نکال دیا ہے۔ ملک کے اخبارات نے اس ٹریکٹ کا اقتباس درج کرنے کے علاوہ اس پر ریویو کرتے ہوئے اس کا مسکت جواب ہونا تسلیم کیا۔ علاوہ ازیں جناب منشی قاسم علی خاں صاحب لدھیانوی نے ہمارے ٹریکٹ پر جابجا تائیدی نوٹ لکھ کر اور مزید معلومات کے حواشی لکھ کر ہمارے پاس بھیجا۔ جس سے پتہ چلتا ہے کہ ان زلزلوں کی پیش گوئیوں کو کئی دفعہ مرزا اور مرزائی مختلف موقعوں پر بزعم خود پورا ہونا اس سے قبل تسلیم کر چکے ہیں۔ یعنی کبھی تو اس زلزلہ کی پیش گوئی کو مرزائیہ نے طاعون پر چسپاں کیا اور کبھی سیلاب پر اور کبھی مرزا قادیانی کی موت پر یعنی جس ہولناک اور قیامت نما زلزلہ کے متعلق مرزا قادیانی کا یہ الہام تھا کہ ”پھر بہار آئی خدا کی بات پھر پوری ہوئی۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ زلزلہ موعود کے وقت بہار کے دن ہوں گے اور جیسا کہ بعض الہامات سے سمجھا جاتا ہے۔ غالباً وہ صبح کا وقت ہوگا۔“

(ضمیمہ براہین احمدیہ ص ٩٧، خزائن ج ٢١ ص ٢٥٨)

اس جھوٹی پیش گوئی کا پورا ہونا مرزائی اس طرح تسلیم کر چکے ہیں کہ : ”بہار کے دن صبح کے وقت ١٠ بجے صبح مرزا قادیانی کا انتقال ہوا۔ علم تعبیر سے یہی ثابت ہوا۔“

(ریویو آف ریلیجنز جون، جولائی ١٩٠٨ء)

افسوس کا مقام ہے کہ اب اس جھوٹی پیش گوئی کو مرزائی صاحبان کس منہ سے موجودہ جنگ زار روس کی معزولی پر چسپاں کر رہے ہیں۔

الغرض جہاں ہمارا سرٹیفکیٹ مسلمانوں کے لئے مسرت اور خوشنودی قلب کا باعث ہوا وہاں مرزائیوں کے لئے ایک برق خاطف، ایک قہری نشان اور سخت صدمہ اور درد کا موجب ہوا۔ چنانچہ ہمارے ٹریکٹ کو پڑھ کر جناب صاحبزادہ مرزا محمود احمد خلیفہ المسیح ثانی ٢ (قادیانی) نے ایک ٹریکٹ بعنوان ”قہر“ آپ تحریر فرماتے ہیں کہ ”میں نے جب میرے دل سے اپنے رب کے حضور ایک وغایت جناب صاحبزادہ صاحب کی دل ہی نہیں کہ بلاوجہ کسی کا دل دکھائے منصفا ہیں کہ ہم نے جناب صاحبزادہ صاحب ہمارا روئے سخن اس ٹریکٹ میں صاحبزا صاحبزادہ صاحب کی پالیسی کو ایک طرز ایم اے اور خواجہ کمال الدین کی پالسی کو بغا

دراصل مولوی محمد علی ہی کے طرف ہمارا روئے سخن تھا اور ہم انہیں کے نہیں دیا۔ آپ نے تو خواہ مخواہ ہمارے کہ ہم تو اپنے ٹریکٹ میں آپ کی پالیسی ہمارے لئے بددعائیں کریں۔ ہم ان کا آپ کو نیکی کی ہدایت دے۔

جناب صاحبزادہ صاحب آ تھی کیونکہ جس کسی نے بھی آپ کا ٹریک بھلی۔ آپ کے غیر معقول جوابات پر انہو مناسب نہیں سمجھتا۔ میں نے خاموش ر صاحب یہ خیال نہ فرمائیں کہ آپ کے ٹر کے ٹریکٹ کا جواب لکھا جاتا ہے۔

جناب صاحبزادہ صاحب ہم کو تسلیم نہ کریں۔ بے شک صفحہ ٩٠ ولاحو للہ یہ تو فرمائیے کہ کیا صفحات ٩١،٩٢،٩٣ اول ہی کے متعلق ہے۔ آخر یہ حوالے تو

صفحہ ٥٢٣

(قادیانی) نے ایک ٹریکٹ بعنوان ”قہری نشان“ ہمارے ٹریکٹ کے جواب میں لکھا ہے جس میں آپ تحریر فرماتے ہیں کہ ”میں نے جب ان کو پڑھا تو میرے دل کو اس سے سخت صدمہ ہوا، اور میرے دل سے اپنے رب کے حضور ایک فریاد اٹھی۔“ خدا گواہ ہے کہ اس ٹریکٹ سے ہماری غرض وغایت جناب صاحبزادہ صاحب کی دل شکنی یا دل آزاری ہرگز ہرگز نہ تھی اور یہ تو مسلمان کا شیوہ ہی نہیں کہ بلاوجہ کسی کا دل دکھائے منصف مزاج ناظرین ہمارے ٹریکٹ کو پڑھ کر فیصلہ دے سکتے ہیں کہ ہم نے جناب صاحبزادہ صاحب کی شان میں کوئی نامناسب لفظ استعمال نہیں کیا۔ حتیٰ کہ ہمارا روئے سخن اس ٹریکٹ میں صاحبزادہ صاحب کی طرف تھا ہی نہیں بلکہ ہم نے تو جناب صاحبزادہ صاحب کی پالیسی کو ایک طرح بنظر استحسان دیکھا ہے۔ ہاں البتہ ہم نے مولوی محمد علی ایم اے اور خواجہ کمال الدین کی پالیسی کو بنگاہ تجارت دیکھ کر چند ایک پھبتیاں اڑائی ہیں۔

دراصل مولوی محمد علی ہی کے ٹریکٹ کے جواب میں ہمارا ٹریکٹ لکھا گیا اور انہی کی طرف ہمارا روئے سخن تھا اور ہم انہیں کے جواب کے منتظر تھے۔ مگر انہوں نے آج تک کوئی جواب نہیں دیا۔ آپ نے تو خواہ مخواہ ہمارے جواب میں ٹریکٹ لکھ کر ہمیں مد مقابل بنالیا۔ افسوس ہے کہ ہم تو اپنے ٹریکٹ میں آپ کی پالیسی کی تعریف لکھیں اور آپ اپنے ٹریکٹ میں گالیاں دیں اور ہمارے لئے بددعائیں کریں۔ ہم ان گالیوں کے جواب میں صرف اسی قدر کہنا چاہتے ہیں کہ خدا آپ کو نیکی کی ہدایت دے۔

جناب صاحبزادہ صاحب آپ کے ٹریکٹ کا جواب لکھنے کی ہمیں چنداں ضرورت نہ تھی کیونکہ جس کسی نے بھی آپ کا ٹریکٹ پڑھا اس نے اس پر ایسا مضحکہ انگیز تمسخر اڑایا کہ توبہ ہی بھلی۔ آپ کے غیر معقول جوابات پر انہوں نے ایسی ایسی پھبتیاں اڑائیں کہ میں انہیں قلمبند کرنا مناسب نہیں سمجھتا۔ میں نے خاموش رہنا مناسب سمجھا مگر پھر اس خیال سے کہ شائد صاحبزادہ صاحب یہ خیال نہ فرمائیں کہ آپ کے ٹریکٹ کا ہمارے پاس کوئی جواب نہیں اس لئے مجبوراً آپ کے ٹریکٹ کا جواب لکھا جاتا ہے۔

جناب صاحبزادہ صاحب ہم ضدی، متعصب اور ہٹ دھرم نہیں کہ آپ کی کسی صحیح بات کو تسلیم نہ کریں۔ بے شک صفحہ ٩٠ والا حوالہ زلزلہ اول کے متعلق ہے جو کہ سہواً لکھا گیا ہے۔ لیکن للہ یہ تو فرمائیے کہ کیا صفحات ٩٣، ٩٤، ٩٦، ٩٧، ٩٩ کی مختلف عبارتیں اور ص ٩٧ والا نوٹ بھی زلزلہ اول ہی کے متعلق ہے۔ آخر یہ حوالے تو زلزلہ آئندہ ہی کے متعلق ہیں۔ اگر ایک نہیں تو یہ سہی یہ چھ

صفحہ ٥٢٤

حوالہ جات تو مرزا قادیانی کی پیش گوئی کو غلط ثابت کر رہے ہیں۔

جناب صاحبزادہ صاحب لفظ زلزلہ کے غلط تاویلی معنے کرتے ہوئے اور لفظ زلزلہ کو جنگ پر چسپاں کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ: ”اب رہا یہ اعتراض کہ حضرت مسیح موعود نے لکھا ہے کہ وہ زلزلہ اس ملک میں (ہی) آئے گا اور آپ کی زندگی میں آئے گا“ یہ دونوں اعتراض قلت تدبر کا نتیجہ ہیں۔ پہلے اعتراض کا تو یہ جواب ہے کہ حضرت مسیح موعود نے یہ نہیں لکھا کہ وہ زلزلہ دوسرے ممالک میں نہیں آئے گا۔ چنانچہ آپ فرماتے ہیں کہ ”اے یورپ تو بھی امن میں نہیں اور اے ایشیا تو بھی محفوظ نہیں اور اے جزائر کے رہنے والو کوئی مصنوعی خدا تمہاری مدد نہیں کر سکتا۔ میں شہروں کو گرتے ہوئے دیکھتا ہوں اور آبادیوں کو ویران پاتا ہوں۔“

(حقیقت الوحی ص ١٥)

جناب صاحبزادہ صاحب کیا آپ واقعی یہ مندرجہ بالا حوالہ حقیقت الوحی کے ص ١٥٧ پر دکھا سکتے ہیں؟ میں کہتا ہوں کہ آپ قیامت تک حقیقت الوحی کے ص ١٥٧ پر یہ حوالہ نہیں دکھا سکتے تو کیا اس موقع پر ہم آپ کے وہی الفاظ لوٹا دیں کہ آپ نے دیانتداری سے کام نہیں لیا۔ مگر نہیں ہم ایسا نہیں لکھیں گے بلکہ اسے ایک انسانی سہو پر محمول کریں گے۔ کیونکہ جب ہم نے تمام حقیقت الوحی چھان مارا تو یہ (حوالہ ص ٢٥٧ خزائن ج ٢٢ ص ٢٦٩) پر نکلا۔ گو بعض ناواقف لوگ اس سے بھی یہی نتیجہ نکالیں گے کہ جناب صاحبزادہ صاحب نے عمداً ایسا غلط حوالہ دیا ہے مگر جس شخص کو سلسلہ تصنیف و تالیف سے واسطہ رہتا ہے۔ وہ ایسی غلطیوں کو ایک معمولی بات سمجھتا ہے۔ ہاں البتہ ہم یہ کہے بغیر نہیں رہ سکتے کہ جناب صاحبزادہ نے اس مندرجہ بالا عبارت کو موجودہ جنگ پر چسپاں کرتے ہوئے دیانتداری سے کام نہیں لیا کیونکہ دیکھنا یہ ہے کہ جناب مرزا قادیانی کی مندرجہ بالا عبارت جس میں انہوں نے یورپ کو مخاطب کر کے ڈرایا ہے کس موقع پر لکھی گئی ہے۔ سو صحیفہ آصفیہ مصنفہ خواجہ کمال الدین صاحب کے ص ٥٣ پر یہ صاف لکھا ہے کہ یہ عبارت اکتوبر ١٩٠٥ء کے ریویو آف ریلیجنز میں اشاعت پا چکی تھی۔ اس پیشین گوئی کی تمام عبارت لکھ کر اس جھوٹی پیش گوئی کا بزعم خود پورا ہونا اس طرح خواجہ صاحب تسلیم کر چکے ہیں۔

”اللہ! اللہ! یہ کیسے مقتدر اور منذر الفاظ ہیں۔ کیا ربانی نذیروں کے سوا کسی اور کے کلام میں اس کی نظیر ہے؟ …… کیا یہ مجنون کی بڑ تھی (اس میں کیا شک ہے۔ تاج) کیا کشفی نگاہ میں اسے سب کچھ دکھلایا گیا جو عنقریب ہونے والا تھا۔ کیونکہ اس نے کہا کہ وہ دن نزدیک ہے بلکہ دروازوں پر ہے اور پھر کیا اسی طرح نہ ہوا؟ کیا ١٦ اگست ١٩٠٦ء میں ان الفاظ کو پورا کرنے والا

٤

پہلا زلزلہ سینٹیا گو ملک چلی میں نہ آیا آدمی کہ غرق ہوا) والپار یزو۔ س دیگرے اس قیامت کو نہیں دیکھا کہ ان میں سے آخری تین زلزلے تو ا ہوئے۔ (غلط سراسر جھوٹ ۔ تاج) سکے جو ١٩ برسوں سے مصنوعی خدا بن خواب عدم میں چلے گئے دنیا نے د تھی۔ (یہ بھی جھوٹ ہے۔ تاج) معمورے گورستاں بن گئے۔ شہر ا سے خون کی نہریں چلیں اور جو خونریز ١٩٠٥ء) والی مرزا قادیانی کی مزعومہ اور زار روس کی معزولی پر چسپاں کردہ پیش گوئی کو بھی صریحاً غلط سمجھتے

کیوں جی جناب صاحبز کو مخاطب کر کے ڈرایا تھا وہ تو بقول کرنا دیانتداری کا خون کرنا نہیں تو ا

اچھا اب ہم آپ کو یہ د بزعم خود پورا ہونا جناب مرزا قادیا آف ریلیجنز میں یہ پیش گوئی درج آ کتاب) کے ص ٢٥٥ پر ١٧؍ اپریل

”کئی مرتبہ زلزلوں سے بڑے بڑے زلزلے آئیں گے۔ تاج) یہاں تک کہ زمین زیروزبر میں میری پیش گوئی کے مطابق آیا ١٩٠٦ء تو جو جنوبی حصہ امریکہ یعنی

صفحہ ٥٢٥

پہلا زلزلہ سینتیاگو ملک چلی میں نہ آیا۔ پھر کنگسٹن انڈین آرچی پیلیگو (جہاں جزیرہ کالو بمعہ ٥٠٠ آدمی کے غرق ہوا) والپاریزو۔ سان فرانسکو، مسینا، ڈی گیلھیرا اور پھر ایران نے یکے بعد دیگرے اس قیامت کو نہیں دیکھا کہ جس کی لفظی تصویر ربانی ملہم نے الفاظ بالا میں کھینچ دی تھی۔ ان میں سے آخری تین زلزلے تو لفظاً لفظاً اور حرفاً حرفاً پیش گوئی بالا کو پورا کرنے والے ثابت ہوئے۔ (غلط سراسر جھوٹ ۔ تاج) نہ یورپ امن میں رہا نہ ایشیا محفوظ رہا نہ وہ جزائر والے بچ سکے جو ١٩؍سو برس سے مصنوعی خدا کی پرستش کر رہے تھے۔ دو لاکھ انسان صبح اٹھتے ہمیشہ کے لئے خواب عدم میں چلے گئے دنیا نے وہ تباہی دیکھ لی کہ جب سے انسان پیدا ہوا۔ ایسی تباہی نہ آئی تھی۔ (یہ بھی جھوٹ ہے۔ تاج) قصبوں کے قصبے اور گاؤں کے گاؤں ویران ہو گئے۔ آباد معمورے گورستاں بن گئے۔ شہر گرتے نظر آئے اور آبادیاں ویران ہو گئیں۔ موت کی کثرت سے خون کی نہریں چلیں اور چرند پرند بھی موت سے نہ بچ سکے۔“ (چلو چھٹی ہوئی۔ ١٥؍اپریل ١٩٠٥ء) والی مرزا قادیانی کی منظوم پیش گوئی پوری ہو گئی۔ اب مرزائیوں کا اسے موجودہ جنگ اور زار روس کی معزولی پر چسپاں کرنا محض دھوکہ اور فریب ہے۔ مگر ہم تو خواجہ صاحب کی تسلیم کردہ پیش گوئی کو بھی صریحاً غلط سمجھتے ہیں۔ تاج)

کیوں جی جناب صاحبزادہ صاحب جس پیش گوئی میں جناب مرزا قادیانی نے یورپ کو مخاطب کر کے ڈرایا تھا وہ تو بقول خواجہ صاحب پوری ہو چکی۔ اب اس کو موجودہ جنگ پر چسپاں کرنا دیانتداری کا خون کرنا نہیں تو اور کیا ہے؟

اچھا اب ہم آپ کو یہ دکھانا چاہتے ہیں کہ اس مندرجہ بالا عبارت والی جھوٹی پیش گوئی کا بزعم خود پورا ہونا جناب مرزا قادیانی کس طرح تسلیم کر چکے ہیں۔ چنانچہ اکتوبر ١٩٠٦ء کے ریویو آف ریلیجنز میں یہ پیش گوئی درج کرانے کے بعد مئی ١٩٠٧ء میں حقیقۃ الوحی (مرزا قادیانی کی کتاب) کے ص ٢٥٥ پر ٢٧٠ ویں نشان کے ذیل میں لکھتے ہیں۔

”کئی مرتبہ زلزلوں سے پہلے اخباروں میں میری طرف سے شائع ہو چکا ہے کہ دنیا میں بڑے بڑے زلزلے آئیں گے۔ (سبحان اللہ مرزا قادیانی کیا عجوبہ بات بیان کر رہے ہیں۔ تاج) یہاں تک کہ زمین زیروزبر ہو جائے گی۔ پس وہ زلزلے جو سان فرانسسکو اور فارموسا وغیرہ میں میری پیش گوئی کے مطابق آئے (غلط، ت) وہ تو سب کو معلوم ہیں۔ لیکن حال میں ١٦؍اگست ١٩٠٧ء کو جو جنوبی حصہ امریکہ یعنی چلی کے صوبہ میں ایک سخت زلزلہ آیا وہ پہلے زلزلوں سے کم نہ تھا۔

٥

صفحہ ٥٢٦

جس سے پندرہ چھوٹے بڑے شہر اور قصبے برباد ہو گئے اور ہزار ہا جانیں تلف ہوئیں اور دس لاکھ آدمی اب تک بے خانماں ہیں۔"

(حقیقت الوحی ص ٢٥٥، خزائن ج ٢٢ ص ٢٦٧)

کیوں جی جناب صاحبزادہ صاحب اب ان تصدیقوں کے ہوتے ہوئے بھی اس پیش گوئی کو موجودہ جنگ پر چسپاں کرو گے؟

مرزا محمود کا اپنا بیان

اچھا لیجئے اب ہم آپ کو ایک اور زبردست ثبوت دیتے ہیں یعنی آپ خود بھی اس جھوٹی پیش گوئی کا پورا ہونا اس سے قبل تسلیم کر چکے ہیں۔ یعنی آپ اپنے رسالہ تحفۃ الاذہان مطبوعہ فروری ١٩٠٩ء میں بعنوان ”قہری نشان“ خود لکھتے ہیں کہ: ”ابھی تھوڑے ہی دن ہوئے ہیں کہ جزیرہ نما اٹلی اور جزیرہ سسلی میں خدا تعالیٰ کا غضب زلزلہ شدید کی صورت میں ظاہر ہوا جو ایسے زور سے آیا کہ دنیا کی تاریخ میں اس کی نظیر نہیں ملتی۔ بہت سی تباہیاں دنیا میں آئیں اور بہت سے عذاب دنیا نے دیکھے آتش فشاں پہاڑوں نے آتش بازی سے گاؤں کے گاؤں تباہ کر دیئے اور زلزلوں نے بہت سے شہروں کو تباہ کر دیا۔ مگر یہ زلزلہ کچھ ایسا تھا کہ جس کی نظیر دینے سے تاریخیں قاصر ہیں۔ (اسی قسم کے زلزلے کے متعلق تو کہیں ١٥؍اپریل ١٩٠٥ء کو مرزا قادیانی نے پیش گوئی نہیں کی تھی؟ تاج) اور روایتیں خاموش ہیں۔ بڑے بڑے تاریخ دان حیران ہیں اور طبیعات کے جاننے والے انگشت بدنداں۔ جس ملک میں ٢٨؍دسمبر ١٩٠٨ء کی رات کو لاکھوں کی تعداد میں بستے تھے۔ صبح ہونے پر وہاں چند ہزار سے زیادہ آبادی نہ تھی...... پس یہ جو کچھ ہوا ایک مامور کے مبعوث ہونے کی تائید میں ہوا...... دیکھو اور غور کرو کہ اس میں کیسا صاف اشارہ ہے۔ کہ زلازل زیادہ تر عیسائی ممالک میں آئیں گے۔ سو تم نے اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا کہ ایسا ہوا۔ ہندوستان کا زلزلہ، سان فرانسسکو کا زلزلہ، چلی کا زلزلہ اور یہ آخری اٹلی اور سسلی کا زلزلہ، یہ تمام ایسے ہی ممالک میں تھے کہ یا تو وہاں عیسائی گورنمنٹ حکومت کرتی تھی یا وہاں کے باشندے عیسائی تھے۔“ (غور کیجئے کہ صاحبزادہ صاحب عیسائی گورنمنٹوں کی تباہی کیسے خوش ہو رہے ہیں۔ تاج)“

”دیکھو میں تمہیں ایک اور پیش گوئی بتاتا ہوں کہ تم اصلاح بھی کر لو اور کامل یقین بھی ہو جاؤ کہ زلزلہ حضرت مسیح کی پیش گوئی کے مطابق ہوا (غلط) اور آپ کی سچائی کا ایک بڑا ثبوت آپ اپنی کتاب حقیقت الوحی میں فرماتے ہیں: ”یاد رہے کہ خدا نے مجھے عام طور سے زلزلہ کی خبر

٦

دی ہے۔.........اے یورپ تو بھی امن میں نہی رہنے والوں کوئی مصنوعی خدا تمہاری مدد نہیں کر سب کو جمع کروں پر ضرور تھا کہ تقدیر کے نوشت اے عقلمندو اور داناؤ غور کرو کہ یہ پیش گوئی بھی ا دیکھئے جناب صاحبزادہ صاحب ا ہے۔ افسوس ہے کہ آپ تحفۃ الاذہان میں تو سسلی ١٩٠٧ء کے ٹریکٹ میں صفحہ ١٥ پر۔ حالانکہ س ص ١٥ پر مگر پھر بھی ہم اسے ایک انسانی سہو ہماری تلاش کی تو داد دیجئے کہ ہم نے کیسی پتے ک ناظرین! للہ انصاف کیجئے کہ ١٩٠٦ء کو بزعم خود پورا ہونا تسلیم کرتے ہیں ا صاحبزادہ مرزا محمود احمد ٢٨؍دسمبر ١٩٠٨ء کو۔ ( سخت افسوس کی بات ہے کہ جس جھو کمال الدین اور بذات خود آپ بھی تسلیم کر چکے جنگ پر چسپاں کرنا کہاں کی عقلمندی ہے۔ معلوم ربڑ کی بنی ہوئی تھی اور جس قدر اس میں الہام تھیں اور اپنے اندر کچھ ایسی اعجازی خصوصیات اور شمال سے جنوب تک انہیں چوڑا کر لو مگر افسوس ہے کہ جس پیش گوئی ک اب پھر اسی پیش گوئی کی عبارت کو ناحق موجو مسلمان قادیانیوں کی ان ابلہ فریبیوں کو ہرگز ن

مرزا قادیانی کے الہامات پر تاریخی ف

مرزا قادیانی اپنے اشتہار بعنوان

صفحہ ٥٢٧

دی ہے ............... اے یورپ تو بھی امن میں نہیں اور اے ایشیا تو بھی محفوظ نہیں اور اے جزائر کے رہنے والوں کوئی مصنوعی خدا تمہاری مدد نہیں کرسکتا۔ میں نے کوشش کی کہ خدا کی امان کے نیچے سب کو جمع کروں پر ضرور تھا کہ تقدیر کے نوشتے پورے ہوتے۔“ (حقیقت الوحی ص ٥٦،٥٥) پس اے عقلمندو اور داناؤ غور کرو کہ یہ پیش گوئی بھی کیسی صاف اور روشن ہے۔“

دیکھئے جناب صاحبزادہ صاحب! اس موقع پر بھی آپ نے حقیقت الوحی کا غلط حوالہ دیا ہے۔ افسوس ہے کہ آپ تشحیذ الاذہان میں تو مندرجہ بالا عبارت ص ٥٦،٥٥ پر بتاتے ہیں اور ١٢ مئی ١٩٠٧ء کے ٹریکٹ میں صفحہ ١٧٥ پر۔ حالانکہ نہ تو صفحہ ٥٦،٥٥ پر یہ عبارت درج ہے اور نہ ہی ص ١٧٥ پر مگر پھر بھی ہم اسے ایک انسانی سہو سمجھیں گے۔ مگر جناب صاحبزادہ صاحب ”اللہ“ ہماری تلاش کی تو داد دیجئے کہ ہم نے کیسی پتے کی بتائی ہے۔

ناظرین! للہ انصاف کیجئے کہ اس مندرجہ بالا پیش گوئی کو مرزا قادیانی ١٦ اگست ١٩٠٦ء کو بزعم خود پورا ہونا تسلیم کرتے ہیں اور خواجہ کمال الدین صاحب ١٣ دسمبر ١٩٠٦ء میں اور صاحبزادہ مرزا محمود احمد ٢٨ دسمبر ١٩٠٨ء کو۔ (گو تمام مسلمان اسے غلط سمجھتے ہیں)

سخت افسوس کی بات ہے کہ جس جھوٹی پیش گوئی کا پورا ہو جانا خود مرزا قادیانی اور خواجہ کمال الدین اور بذات خود آپ بھی تسلیم کر چکے ہیں تو پھر دوبارہ اسی پیش گوئی کے الفاظ کو موجودہ جنگ پر چسپاں کرنا کہاں کی عقلمندی ہے۔ معلوم ہوتا ہے کہ جناب مرزا قادیانی کی الہامی مشین بھی ربڑ کی بنی ہوئی تھی اور جس قدر اس میں الہام اور پیش گوئیاں ڈھل کر نکلتی تھیں وہ بھی ربڑ کی ہوتی تھیں اور اپنے اندر کچھ ایسی اعجازی خصوصیات رکھتی تھیں کہ مشرق سے مغرب تک انہیں لمبا کر لو اور شمال سے جنوب تک انہیں چوڑا کر لو مگر وہ نہیں ٹوٹ سکتیں۔

افسوس ہے کہ جس پیش گوئی کو ٩ سال قبل مرزائی فرقہ بزعم خود پورا ہونا تسلیم کر چکا ہے اب پھر اسی پیش گوئی کی عبارت کو ناحق موجودہ جنگ پر چسپاں کرنا سراسر مکر اور فریب ہے۔ عام مسلمان قادیانیوں کی ان ابلہ فریبیوں کو ہرگز نہیں سمجھتے۔

مرزا قادیانی کے الہامات پر تاریخی نظر

مرزا قادیانی اپنے اشتہار بعنوان ”النداء من وحی السماء“ (مطبوعہ ٢٦ اپریل ١٩٠٥ء، مجموعہ

٧

صفحہ ٥٢٨

اشتہارات ج٣ ص٥٤٦) میں لکھتے ہیں کہ ٨؍ اپریل ١٩٠٥ء کو خدا تعالیٰ نے مجھے پھر ایک سخت زلزلہ کی خبر دی ہے جو نمونہ قیامت ہوشربا ہوگا۔‘‘ اس کے بعد مرزا قادیانی اپنے اشتہار بعنوان ”زلزلہ کی خبر“ بار سوم۔ (مطبوعہ ٢٩؍ اپریل ١٩٠٥ء، مجموعہ اشتہارات ج٣ ص ٥٤٥، ٥٤٦) میں لکھتے ہیں کہ ”آج ٢٩؍ اپریل کو پھر خدا تعالیٰ نے مجھے دوسری مرتبہ کے زلزلہ شدیدہ کی نسبت اطلاع دی ہے۔ .... خدا فرماتا ہے کہ میں چھپ کر آؤں گا میں اپنی فوجوں اس وقت آؤں گا جب کسی کو گمان بھی نہ ہوگا کہ ایسا حادثہ ہونے والا ہے۔ غالباً وہ صبح کا وقت ہوگا یا کچھ حصہ رات میں سے ..... میں محض ہمدردی کی راہ سے یہ بھی کہتا ہوں کہ اگر بڑے بڑے مکانوں سے جو ٢ منزلہ ۔ سہ منزلہ ہیں۔ اجتناب کریں تو اس میں رعایت ظاہر ہے۔‘‘ اس کے بعد مرزا قادیانی اپنے اشتہار بعنوان ”زلزلہ کی پیش گوئی“ (مطبوعہ ٢؍ مارچ ١٩٠٦ء، مجموعہ اشتہارات ج٣ ص ٥٤٨، ٥٤٩) میں تحریر فرماتا تھا۔ پھر بہار آئی خدا کی بات پھر پوری ہوئی ..... لیکن آج یکم مارچ ١٩٠٦ء کو صبح کے وقت پھر خدا نے یہ وحی میرے پر نازل کی جس کے یہ الفاظ ہیں زلزلہ آنے کو ہے اور میرے دل میں ڈالا گیا کہ وہ زلزلہ جو قیامت کا نمونہ ہے وہ ابھی آیا نہیں بلکہ آنے کو ہے۔ اور یہ زلزلہ اس کا پیش خیمہ ہے۔ جو پیش گوئی کے مطابق پورا ہوا (غلط) ... ”اور ممکن ہے کہ وہ موعود زلزلہ قیامت کا نمونہ بھی موسم بہار میں آئے۔ اس لئے میں مکرر اطلاع دیتا ہوں کہ ..... وہ دن دور نہیں۔ توبہ کرو۔ یہ مت خیال کرو کہ ہم اس سلسلہ میں داخل ہیں۔ میں تمہیں سچ سچ کہتا ہوں کہ ہر ایک جو بچایا جائے گا۔ اپنے کامل ایمان سے بچایا جائے گا۔ ناقص ایمان تمہاری روح کو کچھ بھی فائدہ نہیں دے سکتا ...... میں تمہیں سچ سچ کہتا ہوں کہ تم بھی ان لوگوں کے ساتھ ہی پکڑے جاؤ گے جو خدا تعالیٰ کی نظر کے سامنے نفرتی کام کرتے ہیں۔ بلکہ خدا پہلے تمہیں ہلاک کرے گا بعد میں ان کو۔‘‘ اس کے بعد مرزا قادیانی اپنی کتاب (حقیقت الوحی ص٩٣، خزائن ج٢٢ ص٩٦) میں اپنے الہامات درج کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

”میں تجھے قیامت والا زلزلہ دکھاؤں گا۔‘‘

”خدا تجھے قیامت والا زلزلہ دکھائے گا۔ چمک دکھلاؤں گا تم کو اس نشان کی پنج بار۔‘‘

”اگر چاہوں تو اس دن خاتمہ کردوں۔‘‘

اسی طرح (حقیقت الوحی ص٩٤، خزائن ج٢٢ ص٩٦) کے حاشیہ پر لکھا: ”اس وحی الٰہی سے معلوم ہوتا ہے کہ پانچ زلزلے آئیں گے اور پہلے چار زلزلے کسی قدر ہلکے اور خفیف ہوں گے اور

صفحہ ٥٢٩

دنیا ان کو معمولی سمجھیں گی اور پھر پانچواں زلزلہ قیامت کا نمونہ ہوگا کہ لوگوں کو سودائی اور دیوانہ کردے گا۔ یہاں تک کہ وہ تمنا کریں گے کہ وہ اس دن سے پہلے مر جاتے۔ اب یاد رہے کہ اس وحی الٰہی کے بعد اس وقت تک جو ٢٢؍ جولائی ١٩٠٦ء ہے اور ٢١؍ جولائی ١٩٠٦ء مگر غالباً خدا کے نزدیک یہ زلزلوں میں داخل نہیں ہیں۔ (اگر یہ زلزلوں میں ہی داخل نہیں تو یہاں ان کا ذکر کرنے ہی کی کیا ضرورت تھی؟ تاج) کیونکہ بہت ہی خفیف ہیں۔ شائد چار زلزلے پہلے ایسے ہوں گے جیسا کہ چار اپریل ١٩٠٥ء کا زلزلہ تھا اور پانچواں قیامت کا نمونہ ہوگا۔‘‘

پھر (حقیقت الوحی ص ٩٧، خزائن ج ٢٢ ص ١٠٧) ”زلزلہ آیا اٹھو نمازیں پڑھیں اور قیامت کا نمونہ دیکھیں۔ اس وقت بندے قیامت کا نمونہ دیکھ کر نمازیں پڑھیں گے۔‘‘ یعنی وہ بھونچال جو وعدہ دیا گیا ہے۔ جلد آنے والا ہے۔

(ایضاً)

ناظرین! مندرجہ بالا اقتباسات ظاہر کر رہے ہیں کہ وہ ہولناک زلزلہ مرزا قادیانی کے ہی ملک میں آنا چاہئے تھا۔ گو مرزا قادیانی نے عیاری اور چالاکی سے ١٦؍ اگست ١٩٠٦ء کو یورپ میں زلزلوں کی خبریں سن کر اکتوبر ١٩٠٦ء کے ریویو آف ریلیجنز میں یورپ کو مخاطب کر لیا۔ مگر بقول جناب صاحبزادہ صاحب کہ مرزا قادیانی کا ایک یہ بھی الہام ہے کہ ”چمک دکھلاؤنگا تم کو اس نشان کی پنج بار (١٤؍ مارچ ١٩٠٦ء) اس بات کا مظہر ہے کہ پانچ دفعہ اس قہری نشان کی سخت تجلی ہوگی۔‘‘ پس اس نشان کی چار دفعہ قہری تجلی ہونا خواجہ کمال الدین صاحب بزعم خود صحیفہ آصفیہ میں تسلیم کر چکے ہیں۔ (گو تمام مسلمان اسے صریحاً کذب پر محمول کرتے ہیں۔ ت) یعنی ص ٥٥ پر خواجہ صاحب لکھتے ہیں کہ: ”ان میں سے آخری تین زلزلے تو لفظاً لفظاً اور حرفاً حرفاً پیش گوئی بالا کو پورا کرنے والے ثابت ہوئے۔ اس کے بعد خواجہ صاحب نے چوتھی دفعہ اس قہری نشان کو حیدر آباد دکن میں موسیٰ ندی والے طوفان پر چسپاں کیا ہے۔‘‘

اب ایک پانچواں نشان رہ گیا ہے کہ جو مرزا قادیانی کی زندگی اور ان کے ہی ملک میں ظاہر ہونا تھا۔ اب ہم یہ ثابت کرتے ہیں کہ کس طرح یہ زلزلہ مرزا قادیانی کے ہی ملک میں وارد ہونا چاہئے تھا۔

مرزا قادیانی کی کتاب حقیقت الوحی جو کہ ١٥؍ مئی ١٩٠٧ء کو شائع ہوئی ہے۔ اس میں آپ نے اس اعتراض کا احتمالی جواب دیا ہے کہ شاید نادان لوگ کہیں گے کہ یہ کیونکر نشان ہو سکتا

٩

صفحہ ٥٣٠

ہے ۔ یہ زلزلے تو پنجاب میں نہیں آئے ۔۔۔۔۔ کیا تم خیال کرتے ہو کہ تم ان زلزلوں سے امن میں رہو گے یا تم اپنی تدبیروں سے اپنے تئیں بچا سکتے ہو؟ ہرگز نہیں۔ انسانی کاموں کا اس دن خاتمہ ہوگا۔ یہ مت خیال کرو کہ امریکہ وغیرہ میں سخت زلزلے آئے اور تمہارا ملک ان سے محفوظ ہے؟ میں تو دیکھتا ہوں کہ شائد ان سے زیادہ مصیبت کا منہ دیکھو گے ۔“

(حقیقت الوحی ص ٢٥٦، ٢٥٧ خزائن ج ٢٢ ص ٢٦٨)

اس کے بعد مرزا قادیانی کی کتاب (ضمیمہ براہین احمدیہ ١٩٠٨ء) میں چھپتی ہے یعنی یہ کتاب حقیقت الوحی کے بعد چھپی ہے۔ جس میں مرزا قادیانی لکھتے ہیں: ”اب ذرا کان کھول کر سن لو کہ آئندہ زلزلہ کی نسبت جو میری پیش گوئی ہے اس کو ایسا خیال کرنا کہ اس کے ظہور کی کوئی بھی حد مقرر نہیں کی گئی یہ خیال سراسر غلط ہے۔۔۔۔۔ کیونکہ بار بار وحی الہی نے مجھے اطلاع دی ہے کہ وہ پیش گوئی میری زندگی میں اور میرے ہی ملک میں اور میرے ہی فائدہ کے لئے ظہور میں آئے گی۔۔۔۔۔۔ کیونکہ ضروری ہے کہ یہ حادثہ میری زندگی میں ظہور میں آجائے ۔

(ضمیمہ براہین احمدیہ ص ٩٧، خزائن ج ٢١ ص ٢٥٨)

معزز ناظرین! انصاف کیجئے کہ ”میری زندگی اور میرے ہی ملک کے الفاظ چلا چلا کر مرزا قادیانی کہہ رہے ہیں کہ یہ زلزلہ ان کی زندگی اور ان کے ہی ملک میں آنا چاہئے تھا۔

یورپ اور امریکہ وغیرہ کو آپ نے اکتوبر ١٩٠٦ء میں مخاطب کیا تھا اور جو بقول خواجہ کمال الدین وغیرہ پوری ہو چکی ۔ ہاں وہ ہولناک اور قیامت کے نمونہ والا زلزلہ کہ جسے دیکھ کر لوگ نمازیں پڑھتے اور جو کہ آپ کے ملک میں آنے والا تھا اس کے متعلق دو سال کے بعد براہین احمدیہ مطبوعہ ١٩٠٨ء میں آپ نے مفصل بحث کی ہے اور لکھا ہے کہ وہ زلزلہ میرے ہی ملک میں آئے گا۔ مگر وہ زلزلہ نہ آیا اور مرزا قادیانی کو ہمیشہ کے لئے جھوٹا ثابت کر گیا۔

افسوس ہے کہ جناب صاحبزادہ صاحب اپنی کسی بات پر بھی قائم نہیں رہتے۔ ابھی تو آپ اس پیش گوئی کی مصنوعی تائید کیلئے یورپ اور امریکہ کی طرف رخ کر کے ڈٹے ہوئے تھے یا ساتھ ہی آپ نے اپنا پینترا بدل کر اپنے داؤ پیچ سے ہندوستان کو بھی جنگ کا نقشہ دکھانا چاہا ہے۔ یعنی آپ فرماتے ہیں کہ کیا ہندوستان اس آفت کے صدمہ سے محفوظ ہے؟ اس اشتہار کے لکھنے والے کو اگر کوئی شبہ ہو تو وہ پنجاب کے علاقہ میں پھر کے دیکھے کہ قریباً ہر شہر اور بستی اپنے عزیزوں پر

١٠

صفحہ ٥٣١

ماتم کر رہی ہے۔ ہاں وہ ان مصیبت زدہ ماؤں اور بیوہ عورتوں اور یتیم بچوں اور بوڑھے باپوں سے سوال کرے کہ جن کی آنکھوں کے نور اور سر کے سایہ اور بڑھاپے کے اعضاء جاتے رہے اور ہمیشہ کے لئے جاتے رہے۔ (اس کے بعد صاحبزادہ صاحب اس پیش گوئی کو زبردستی صحیح تسلیم کرانے کے لئے صفحہ ١١ پر فرماتے ہیں کہ ) ”کیا اسلام کی عظمت تمہارا مدعا نہیں کیا اس کی فتح تمہیں مقصود نہیں؟ اگر ہے تو خدارا سوچو کہ کیوں تم اسلام کی فتح اور اس کی عظمت کے اظہار کے وقت صرف اس لئے جوش میں آجاتے ہو کہ اس میں حضرت مرزا قادیانی کی صداقت ظاہر ہوتی ہے۔“

ناظرین!! آپ نے دیکھ لیا کہ پنجاب میں ہر بستی کا ماتم کرنا وغیرہ صاحبزادہ صاحب اسلام اور مرزا قادیانی کی صداقت کا نشان قرار دیتے ہیں۔ افسوس صد افسوس کہ جس صورت میں مرزائی فرقہ اپنے ابنائے ملک کے گھروں میں ماتم بپا ہونے پر اپنی صداقت سمجھ کر اظہار مسرت کرتا اور دوسرے مسلمانوں کو بھی اس ماتم پر خوش ہونے کی ترغیب دیتا ہے۔ (چنانچہ صاحبزادہ صاحب اپنے ٹریکٹ کے شروع میں لکھتے ہیں کہ اس وقت مسلمانوں کی حالت کہاں سے کہاں پہنچ گئی ہے کہ وہ اسلام کی فتح پر بجائے خوش ہونے کے ناراض ہوتے ہیں اور بجائے ایمان بڑھنے کے کفر کی طرف قدم اٹھاتے ہیں تو کیوں نہ گورنمنٹ برطانیہ اور اسکے اتحادیوں کے نقصانات پر مرزائی فرقہ خوش ہوتا ہوگا اور سرویہ، مانٹی نگرو، رومانیہ، اٹلی، بلجیم، فرانس، روس اور انگلستان کے نقصانات کو بھی مرزا قادیانی کی صداقت کا نشان تصور کرتا ہوگا۔ کیونکہ ان کی تحریروں سے صاف یہی پایا جاتا ہے۔ جس سے ثابت ہوا کہ مرزائی فرقہ گورنمنٹ برطانیہ کا بہت بڑا بدخواہ ہے۔

اس کے آگے صاحبزادہ صاحب فرماتے ہیں کہ: ”اب رہا یہ سوال کہ حضرت مسیح موعود (کاذب) نے یہ لکھا ہے کہ وہ زلزلہ یا آفت شدیدہ آپ کی زندگی میں آئے گی تو اس کا یہ جواب ہے کہ بے شک مسیح موعود (کاذب) نے ایسا ہی لکھا ہے لیکن خدا تعالیٰ کی حکمت بالغہ نے چاہا کہ اس کے برخلاف ہو ( مرزا قادیانی کو جھوٹا ثابت کرنے کے لئے۔ تاج ) اور وہ وقت بھی مسیح موعود (کاذب) کی زندگی میں آنے کے کسی اور موعود کے وقت میں آئے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو یہ دعا الہاماً سکھائی کہ رب اخر وقت ھذا۔ اے خدا اس آفت کے وقت کو پیچھے ڈال دے اور پھر اس کا یہ جواب دیا کہ آخره الله الی وقت مسمی ۔ یعنی اللہ تعالیٰ نے اس کو اس وقت تک جو بیان ہوچکا ہے پیچھے ڈال دیا۔“

١١

صفحہ ٥٣٢

افسوس صد افسوس۔ ہزار ہا افسوس۔ لاکھہا افسوس بلکہ کروڑ ہا افسوس کہ جناب صاحبزادہ صاحب نے مرزا قادیانی کے ان طبع زاد اور تاخیری الہامات کا حوالہ دیتے ہوئے ہرگز ہرگز دیانتداری سے کام نہیں لیا۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ مرزا قادیانی کے یہ الہامات کس زلزلہ کی تاخیر اور کس سن میں شائع ہوئے ہیں؟ گو جناب صاحبزادہ صاحب نے ان الہامات کو درج ٹریکٹ کرتے ہوئے کسی کتاب کا نام کس صفحہ کا نمبر اور کسی سن کا حوالہ نہیں دیا گیا مگر آؤ ہم بتاتے ہیں کہ یہ الہام کب اور کس وقت ہوا اور کس کتاب میں درج ہے۔ دیکھئے مرزا قادیانی کی کتاب حقیقت الوحی جو کہ براہین احمدیہ سے پہلے ١٥ مئی ١٩٠٧ء کو چھپی ہے۔ اس کے صفحہ ١٠٠ پر آپ کا یہ الہام اخر وقت ھذا۔ اخره اللہ الی وقت مسمیٰ درج ہے۔ لفظ مسمیٰ پر مرزا قادیانی نے ایک نوٹ بھی لکھا ہے۔ وہ یہ ہے: ”پہلے یہ وحی الٰہی ہوئی تھی کہ زلزلہ جو نمونہ قیامت ہوگا بہت جلد آنے والا ہے اور اس کے لئے یہ نشان دیا گیا تھا کہ پیر منظور محمد لودھیانوی کی بیوی محمدی بیگم کو لڑکا پیدا ہوگا اور وہ لڑکا اس زلزلہ کے ظہور کے لئے ایک نشان ہوگا اس لئے اس کا نام بشیر الدولہ ہوگا۔ کیونکہ وہ ہماری ترقی سلسلہ کے لئے بشارت دے گا۔ اسی طرح اس کا نام عالم کباب ہوگا۔ کیونکہ اگر لوگ توبہ نہیں کریں گے تو بڑی بڑی آفتیں دنیا میں آئیں گی۔ ایسا ہی اس کا نام کلمۃ اللہ اور کلمۃ العزیز ہوگا کیونکہ وہ خدا کا کلمہ ہوگا جو وقت پر ظاہر ہوگا...... مگر بعد اس کے میں نے دعا کی کہ اس زلزلہ نمونہ قیامت میں کچھ تاخیر ڈال دی جائے۔ (کیوں صاحب اس تاخیر کی ضرورت ہی کیوں پیش آئی۔ تاج) چونکہ زلزلہ نمونہ قیامت میں تاخیر ہو گئی اس لئے ضرور تھا کہ لڑکا پیدا ہونے میں بھی تاخیر ہوتی۔ لہٰذا پیر منظور محمد کے گھر میں ١٧ جولائی ١٩٠٦ء میں لڑکی پیدا ہوئی ...... ضرور ہے کہ زمین نمونہ قیامت زلزلہ سے رکی رہے جب تک وہ موعود لڑکا پیدا ہو...... اب تو تاخیر ایک شرط کے ساتھ مشروط ہو کر معین ہوگئی۔“

(حقیقت الوحی ص ١٠٠، ١٠١، خزائن ج ٢٢ ص ١٠٣)

کیوں جی حضرات! کچھ سمجھے۔ یہ نوٹ اسی عالم کباب کی پیدائش کے متعلق ہے کہ جس کی پیش گوئی پر اخبار وطن لاہور کے ایڈیٹوریل کالموں میں حضرت نقاش کے دھواں دھار مضامین شائع ہوتے رہے ہیں۔ کیا جناب مولوی انشاء اللہ خاں صاحب ایڈیٹر وطن اور جناب مولوی ظفر علی خان صاحب سابق ایڈیٹر اخبار زمیندار و حال ایڈیٹر ستارۂ صبح ہمارے بیان کی تصدیق وتائید نہیں کریں گے؟ اور ضرور کریں گے۔ افسوس کہ حضرت عالم کباب کی پیدائش کے

١٢

متعلق دعوے تو ایسے طمطراق کے ساتھ کہ جنابہ چنی بیگم صاحبہ پیدا ہوئیں۔ کوئی پوچھے مرزا قادیانی کی استادی تھی کہ وہ ایسی ان گھڑت دعا میں کوئی خاص توضیح تو ہے نہیں رہوں گا اور اس مصنوعی دعا کو کسی اور موقعہ کہ میں نے پہلے ہی تاخیری دعا کر دی تھی۔

کیوں جی حضرت وہ عالم کباب کی پیدائش کے ساتھ اس قیامت نما زلزلہ باتوں کے دیکھنے والی یہ بات ہے کہ مرزا گھڑت دعاؤں اور فرضی جوابات کے یعنی ضمیمہ براہین احمدیہ میں اس زلزلہ قیامت طور پر لکھا ہے کہ یہ زلزلہ میرے ہی ملک میں ٹوٹ گئی ۔) اگر حقیقت الوحی براہین احمدیہ گوئی کا مرزا قادیانی کی زندگی میں پورا ہو دعا کی گئی ہے مگر ہم دیکھتے ہیں کہ جس کتاب اس دعا کے بعد چھپی ہے۔ اس میں پہلا حادثہ میری زندگی میں ظہور آ جائے۔

مگر افسوس صد افسوس کہ صاحبزادہ اس جھوٹی پیش گوئی کو موجودہ کی صداقت کا معیار قرار دے رہے ہیں۔

صاحبزادہ صاحب کی تیسری چھلانگ

افسوس صد افسوس کہ جناب ...... آپ اس پیش گوئی کو موجودہ جنگ اور

صفحہ ٥٣٣

متعلق دعوے تو ایسے طمطراق کے ساتھ کہ خدا کی پناہ مگر بعد میں بجائے عالم کباب صاحب کے جنابہ چٹنی بیگم صاحبہ پیدا ہوئیں۔ کوئی پوچھے کہ اس تاخیر کی ضرورت ہی کیوں پیش آئی تھی۔ یہی تو مرزا قادیانی کی استادی تھی کہ وہ ایسی ایسی پیش بندیاں پہلے ہی کر چھوڑتے تھے چونکہ اس من گھڑت دعا میں کوئی خاص توسیع تو ہے نہیں۔ مرزا قادیانی نے سوچا کہ اگر لڑکا پیدا ہو گیا تو خاموش رہوں گا اور اس مصنوعی دعا کو کسی اور موقعہ کے لئے اٹھا رکھوں گا اور اگر لڑکا پیدا نہ ہوا تو کہہ دوں گا کہ میں نے پہلے ہی تاخیری دعا کر دی تھی۔

کیوں جی حضرت وہ عالم کباب صاحب اب تک پیدا بھی ہوئے ہیں یا نہیں؟ کہ جن کی پیدائش کے ساتھ اس قیامت نما زلزلہ کی پیش گوئی مشروط ہے۔ افسوس مگر قطع نظر ان تمام باتوں کے دیکھنے والی یہ بات ہے کہ مرزا قادیانی نے ان تمام طبع زاد الہامات اور ان تمام من گھڑت دعاؤں اور فرضی جوابات کے بعد اس کتاب میں جو کہ حقیقت الوحی کے بعد چھپی ہے۔ یعنی ضمیمہ براہین احمدیہ میں اس زلزلہ قیامت نما والی پیش گوئی پر مفصل بحث کی ہے اور پھر صاف طور پر لکھا ہے کہ یہ زلزلہ میرے ہی ملک اور میری ہی زندگی میں آئے گا۔ (اب تو تاخیر کی شرط بھی ٹوٹ گئی ۔ ) اگر حقیقت الوحی براہین احمدیہ کے بعد چھپتی تو ہم ضرور مان لیتے کہ بے شک اس پیش گوئی کا مرزا قادیانی کی زندگی میں پورا ہونا ضروری نہیں کیونکہ اس میں پیش گوئی کی تاخیر کے لئے دعا کی گئی ہے مگر ہم دیکھتے ہیں کہ جس کتاب میں تاخیر کی دعا ہے وہ پہلے چھپی ہے۔ لیکن جو کتاب اس دعا کے بعد چھپی ہے۔ اس میں بڑے زور اور تحدی کے ساتھ لکھا گیا ہے کہ ضرور ہے کہ یہ حادثہ میری زندگی میں ظہور آ جائے۔

مگر افسوس صد افسوس کہ مرزا قادیانی کی کوئی بات بھی سچی نہ نکلی۔ لیکن طرفہ یہ ہے کہ صاحبزادہ اس جھوٹی پیش گوئی کو موجودہ جنگ اور زارروس کی معزولی پر چسپاں کر کے مرزا قادیانی کی صداقت کا معیار قرار دے رہے ہیں۔ جو کہ سراسر مضحکہ انگیز فعل ہے۔

صاحبزادہ صاحب کی تیسری چھلانگ

افسوس صد افسوس کہ جناب صاحبزادہ صاحب اپنے کسی اصول پر قائم نہیں رہتے۔ ...... آپ اس پیش گوئی کو موجودہ جنگ اور زارروس کی معزولی پر چسپاں کر رہے تھے کہ جھٹ ......

١٣

صفحہ ٥٣٤

مرزا قادیانی کی الہامی مشین کا پیچ پھرا دیا اور زلزلہ والی پیش گوئی کو بحر تنزل میں غوطہ لگا دیا۔ چنانچہ آپ فرماتے ہیں کہ ”یہ لوگ خود یاد رکھیں کہ زلزلوں کا لانا بھی خدا تعالیٰ کی طاقت سے باہر نہیں۔ چنانچہ اس دن کہ میرے پاس یہ اشتہار پہنچا جس میں حضرت صاحب کی اس پیش گوئی سے استہزاء کیا گیا تھا اور جسے پڑھ کر میرے دل میں درد پیدا ہوا۔ رات کے وقت ایک سخت دھکہ آیا۔ زلزلہ بھی سخت تھا بلکہ بعض لوگوں کے خیال میں ٤؍اپریل کے زلزلہ سے سخت محسوس ہوتا تھا۔ چنانچہ دھرمسالہ سے ایک صاحب لکھتے ہیں ”آج قریباً ٣ بج کر ١٧ منٹ پر نہایت سخت زلزلہ آیا...... اور ٹیکہ چوہلہ کے تمام مکانات گر گئے اور باغیچہ نواء کے مکانات گر جانے سے ایک آدمی دب کر مر گیا اور کچھ زخمی ہوئے۔“ پھر لکھتے ہیں کہ یہ زلزلہ ٤؍اپریل ١٩٠٥ء کے زلزلہ سے زیادہ ہوا ۔“

سنا کرتے تھے کہ اگر پدر تمام نہ کند پسر تمام کند۔ کیوں صاحب یہی وہ نمونہ قیامت زلزلہ ہے کہ جس کی انتظار کرتے کرتے مرزا قادیانی مر گئے۔ کیوں صاحب یہ ان زلزلوں سے بھی بڑھ کر زلزلہ ہے کہ جن کی نسبت پلینی نے لکھا تھا کہ زلزلہ مسینا اور ڈی کیلمبرا کی کی نظیر انسانی تاریخ میں نہیں ملتی کیا واقعی ٤؍اپریل والا زلزلہ اس سے کمزور تھا اور اگر واقعی کمزور تھا تو ماننا پڑے گا کہ اس زلزلہ سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا اور ١٠؍مئی ١٧ء کو جو زلزلہ آیا ہے اس سے دو جانیں بھی تلف ہوئی ہیں۔ شرم شرم ۔ ٤؍اپریل والے زلزلہ کی تعداد اموات اور نقصان عمارات کا ١٠؍مئی والے زلزلہ سے مقابلہ کر کے خود ہی شرم سار ہو جاؤ۔

سبحان اللہ! کیا کہنے ہیں جناب صاحبزادہ صاحب اس لطیفہ کے یعنی مرزا قادیانی کی پیش گوئی پر استہزاء تو کرے تاج الدین احمد اور اس کی تحریر پڑھ کر جناب صاحبزادہ صاحب کے دل میں درد پیدا ہو اور اس درد کا نتیجہ یہ ہو کہ الٰہی غیرت جوش میں آ کر اس کی سزا دے دھرمسالہ والوں کو اور بجائے تاج الدین کے باغیچہ نواء کے مکانات گر جانے سے ایک بے گناہ آدمی دب کر مرجائے۔

لاہور میں زلزلہ بمشکل ایک آدمی کو محسوس ہوا تو ہو مگر اس کے صدمہ سے ایک چیونٹی تک کا نقصان بھی نہ ہوا اور خاص کر تاج الدین تو اس زلزلہ کی غیر معمولی جنبش محسوس تک نہ کرے اور مزے سے میٹھی نیند سویا رہے اور پھر طرفہ یہ ہے کہ تمام دن اس زلزلہ کا اسے خیال تک نہ آئے اور نہ ہی گھر کے لوگ تمام دن اس زلزلہ کے متعلق کوئی تذکرہ کریں۔ البتہ شام کو وہ ایک بازاری

١٤

٣٥ لوگوں کے یاد دلانے پر اس زلزلہ کا معمولی تذکرہ غلو فاسدہ نے قادیانی دل و دماغ کا حلیہ ہی بگاڑ آتی ہے۔ جناب صاحبزادہ اگر مرزا قادیانی کی تھا تو زلزلہ کی زد میں مجھے آنا چاہئے تھا نہ کہ دھر وکرم ہی رہا۔

مرزائی جماعت دنیا کی تباہی پر خوش

صاحبزادہ صاحب تمام باتیں چھو مرزا قادیانی کا ایک بے معنی اور دقیانوسی الہام لیکن خدا اسے قبول کرے گا اور بندے دور کر کے لکھتے ہیں کہ: ”جس کے بعد خدا تعالیٰ ہیں اگر دوسرے عذابوں کو نظر انداز کر کے انہی کے لئے کافی ہے۔ انسائیکلو پیڈیا میں تین صد تعداد اموات دی ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے تھے۔“ اس کے بعد صاحبزادہ صاحب تین صد سالہ زلزلوں کا بلحاظ ملک وسنہ و تعداد مقابلہ کر نوے سال میں تین لاکھ تیرہ ہزار اموات زلزلو سال میں چار لاکھ تین ہزار اموات ہوئی ہ سے زیادہ (یعنی سخت زلزلہ) اور اٹلی کے کر لیا جائے تو قریباً ایک لاکھ اموات اور د سال میں زلازل جس قدر دنیا میں آئے بہت سے زلزلے آئے ہیں۔ حضرت صاح اموات سے سات ہزار آدمی زیادہ مرے ہیں لیجئے حضرات!! اب تو آپ کو معلو

صفحہ ٥٣٥

لوگوں کے یاد دلانے پر اس زلزلہ کا معمولی تذکرہ آئے۔ افسوس صد افسوس کہ توہمات باطلہ اور غلو فاسدہ نے قادیانی دل و دماغ کا حلیہ ہی بگاڑ دیا ہے۔ مارو آنکھ پھوٹے گھٹنہ والی مثال صادق آتی ہے۔ جناب صاحبزادہ اگر مرزا قادیانی کی پیش گوئی پر بددیانتی سے میں نے کوئی استہزاء کیا تھا تو زلزلہ کی زد میں مجھے آنا چاہئے تھا نہ کہ دھرمسالہ کے کسی آدمی کو مجھ پر تو خداوند تعالیٰ کا فضل و کرم ہی رہا۔

مرزائی جماعت دنیا کی تباہی پر خوش ہوتی ہے

صاحبزادہ صاحب تمام باتیں چھوڑ کر اور اب زلزلوں ہی کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنا کر اور مرزا قادیانی کا ایک بے معنی اور دقیانوسی الہام یعنی ”دنیا میں ایک نذیر آیا پر دنیا نے اسے قبول نہ کیا لیکن خدا اسے قبول کرے گا اور بڑے زور آور حملوں سے اس کی سچائی ظاہر کر دے گا۔“ درج کر کے لکھتے ہیں کہ: ”اس کے بعد خدا تعالیٰ کے حملے زلزلوں کے رنگ میں بھی جس قدر ہوئے ہیں اگر دوسرے عذابوں کو نظر انداز کر کے انہی کو دیکھا جائے تو وہ آنکھوں والوں کی آنکھیں کھولنے کے لئے کافی ہے۔ انسائیکلوپیڈیا میں تین صدیوں کے دنیا کے بڑے بڑے زلزلوں کی فہرست اور تعداد اموات دی ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس وقت کے زلزلوں کی نسبت وہ کس قدر حقیر تھے۔“ اس کے بعد صاحبزادہ صاحب تین صدیوں کے زلزلوں اور مرزا قادیانی کی زندگی کے ٢٦ سالہ زلزلوں کا بلحاظ ملک و سنہ و تعداد مقابلہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ ”اس گنتی کو دیکھو کہ پہلے دوسو نوے سال میں تین لاکھ تیرہ ہزار اموات زلزلہ سے ہوئی ہیں اور گیارہ زلزلے آئے ہیں اور ان ٢٦ سال میں چار لاکھ تین ہزار اموات ہوئی ہیں اور دس زلزلے آئے ہیں گویا ایک لاکھ کے قریب ان سے زیادہ (یعنی سخت زلزلہ) اور اس کے بعد اٹلی کا زلزلہ جو ١٩١٤ء میں آیا ہے اور ترکی کا زلزلہ شامل کر لیا جائے تو قریباً ایک لاکھ اموات اور دو زلزلے اور زیادہ ہو جاتے ہیں۔ پس غور کرو کہ تین سو سال میں زلازل جس قدر دنیا میں آئے تھے ان کی اموات کی تعداد زیادہ ہے اور قلیل عرصہ میں بہت سے زلزلے آئے ہیں۔ حضرت صاحب کے دعوے سے پہلے تین سو سال کے زلزلوں کی اموات سے سات ہزار آدمی زیادہ مرے ہیں۔“

لیجئے حضرات! اب تو آپ کو معلوم ہو گیا کہ جناب صاحبزادہ صاحب اس بات سے

١٥

صفحہ ٥٣٦

: کس قدر خوش ہیں کہ تین سو سال میں بھی اس قدر نقصان جان نہیں ہوا اور دنیا پر اس قدر تباہی نہیں آئی کہ جس قدر مرزا قادیانی کی بابرکت زندگی کے صرف چار سال میں دنیا پر سخت سے سخت تباہیاں آئیں اور کثرت سے مخلوق خدا ہلاک ہوئی کیونکہ پہلے تین سو سال میں تو تین لاکھ تیرہ ہزار اموات ہوئیں اور مرزا قادیانی کی چار سالہ مقدس مسیحانہ زندگی میں تین لاکھ ٢٠ ہزار آدمی مرے ہیں یہ کیا اچھے مسیح ہیں۔ افسوس صد افسوس کہ صاحبزادہ صاحب خلق خدا کے زیادہ مرنے پر کس قدر خوش ہیں اور اسی نحوست اور تباہی کو مرزا قادیانی کی صداقت کا معیار قرار دیا جاتا ہے۔

اس مختصر رسالہ میں اتنی گنجائش نہیں کہ اس امر پر بحث کریں کہ زلازل کا آنا کسی شخص کی صداقت کی دلیل نہیں ہو سکتا۔ کیونکہ اس سے قبل گزشتہ صدیوں میں ایسے ایسے عظیم الشان زلزلے اور حادثات وقوع میں آچکے ہیں کہ جن کے مقابلہ میں اس زمانہ کے زلزلوں کی کوئی ہستی ہی نہیں۔ انشاء اللہ اس موضوع پر کسی آئندہ ٹریکٹ میں مفصل بحث کریں گے۔

سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر زلازل ہی کا آنا مرزا قادیانی کی صداقت کا معیار ہے تو پھر صاحبزادہ صاحب اس جھوٹی پیش گوئی کو موجودہ جنگ اور زار روس کی معزولی پر کیوں چسپاں کر رہے ہیں اور پھر ساتھ ہی ایک یہ بھی سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر صاحبزادہ نے زلازل اموات ہی کا مقابلہ کرنا تھا تو ہندوستان کے ہر ایک شہر کا غیر ممالک کے شہروں سے مقابلہ کیا جاتا۔ اس مقابلہ میں تو ہندوستان صرف ١٥ ہزار اموات ہی پیش کر سکتا ہے۔

افسوس ہے کہ صاحبزادہ صاحب نے قہری نشان والا ٹریکٹ لکھ کر مرزا قادیانی کی نبوت کاذبہ اور زلزلہ والی پیش گوئی کی اور بھی زیادہ تضحیک و رسوائی کرائی ہے۔

لاہور کے مرزائی ہمارے ٹریکٹ کا لوہا مان گئے ہیں اور مولوی محمد علی ایم اے ہمارے ٹریکٹ کا آج تک کوئی جواب نہیں دے سکے۔ جس سے صاف پایا جاتا ہے کہ وہ دل میں تو مان گئے ہیں کہ مرزا قادیانی سخت جھوٹے تھے اور ان کی زلزلہ والی پیش گوئی ہرگز پوری نہیں ہوئی۔ خدا وہ دن جلد لائے کہ مولوی محمد علی صاحب مرزا قادیانی کی مریدی سے تائب ہو کر علانیہ مسلمان ہو جائیں۔

اخیر میں میں جناب صاحبزادہ صاحب سے اس محنت کی داد چاہتا ہوں کہ میں نے مرزا قادیانی کی جھوٹی پیش گوئی کا کذب ثابت کرنے کے لئے کیسی سچی تلاش سے کام لیا ہے۔

١٦